عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں
تعارفِ کتاب
تحریک ختم نبوت — دس جلدوں پر مشتمل ایک مستند تاریخی دستاویز
عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے، اور ہر دور میں امتِ مسلمہ نے اس عقیدے کے تحفظ کے لیے علمی، دعوتی، آئینی اور عوامی سطح پر بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔ برصغیر میں فتنۂ قادیانیت کے ظہور کے بعد علماءِ اسلام اور دینی جماعتوں نے اس باطل فتنے کے تعاقب اور تحفظِ ختم نبوت کے لیے مسلسل جدوجہد کی، جس میں مجلس احرار اسلام اور بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔
سن 1934ء میں منعقد ہونے والی مجلس احرار اسلام کل ہند کی تاریخی ختم نبوت کانفرنس، قادیان سے شروع ہونے والی اس منظم تحریک نے کئی اہم مراحل طے کیے۔ اس عظیم جدوجہد میں علمی و فکری خدمات، عوامی بیداری، ملک گیر تحریکات، تاریخی کانفرنسیں، پارلیمانی اقدامات، عدالتی معرکے اور آئینی کامیابیاں شامل ہیں، جنہوں نے برصغیر کی دینی و قومی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے۔
اس پوری تاریخ کو مستند دستاویزی صورت میں محفوظ کرنے کی سعادت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حصے میں آئی۔ ابتدا میں مختلف ادوار پر الگ الگ کتابیں شائع کی گئیں، جن میں تحریک ختم نبوت 1953ء، تحریک ختم نبوت 1974ء (جلد اول و دوم) اور تحریک ختم نبوت 1984ء نمایاں ہیں۔ بعد ازاں اس ضرورت کو محسوس کیا گیا کہ 1934ء سے دسمبر 2019ء تک تحفظِ ختم نبوت کی پوری جدوجہد کو ایک مربوط، مسلسل اور جامع تاریخی سلسلے کی صورت میں مرتب کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ عظیم سرمایہ محفوظ رہے۔
اسی مقصد کے تحت "تحریک ختم نبوت" کے عنوان سے دس جلدوں پر مشتمل یہ تاریخی مجموعہ مرتب کیا گیا، جس میں مختلف ادوار کی تحریکات، اہم واقعات، تاریخی دستاویزات، قراردادیں، تقاریر، عدالتی و پارلیمانی کارروائیاں، اکابر علماء کی خدمات اور تحفظِ ختم نبوت کے لیے کی جانے والی مسلسل جدوجہد کو مستند حوالوں کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔
اس دس جلدی مجموعے کی ترتیب درج ذیل ہے:
جلد اول: 1934ء تا 1953ء
جلد دوم: 1954ء تا ابتداء 1974ء
جلد سوم: 29 مئی 1974ء تا 7 ستمبر 1974ء
جلد چہارم: 8 ستمبر 1974ء تا 31 دسمبر 1985ء
جلد پنجم: 1986ء تا 1991ء
جلد ششم: 1992ء تا 1997ء
جلد ہفتم: 1998ء تا 2003ء
جلد ہشتم: 2004ء تا 2010ء
جلد نہم: 2011ء تا 2016ء
جلد دہم: 2017ء تا دسمبر 2019ء
یہ مجموعہ محض تاریخی واقعات کا بیان نہیں بلکہ تحفظِ ختم نبوت کی اس مسلسل جدوجہد کا مستند ریکارڈ ہے جس میں علماءِ حق، دینی جماعتوں، کارکنانِ ختم نبوت اور ملتِ اسلامیہ نے ہر دور میں اپنے ایمان، عزم اور قربانیوں کا ناقابلِ فراموش ثبوت پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عظیم علمی و تاریخی خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے امتِ مسلمہ کے لیے نافع بنائے، اور ہمیں عقیدۂ ختم نبوت پر کامل ایمان، استقامت اور اس کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔