عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں
تعارفِ کتاب
عرض ناشر
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیv کے شاگرد رشید حضرت مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ تھے۔ دلاور ایک گاؤں ہے جو وزیرآباد ضلع گوجرانوالہ میں واقع ہے۔ اسی نسبت سے مولانا ابوالقاسم محمد رفیق صاحب دلاوری کہلاتے تھے۔ آپ لاہور جامع مسجد نیلاگنبد میں خطیب رہے۔ آپ اپنے زمانہ میں نامور اہل قلم تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، چوہدری افضل حق، آغاشورش کاشمیری، جوش ملیح آبادی، دیوان سنگھ مفتون، مولانا ظفر علی خان، مولانا غلام رسول مہر ایسے نامور اہل قلم سے کسی طرح کم نہ تھے بلکہ بعض وجوہ سے نمایاں شان لئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحریر کی عمدگی برمحل الفاظ کا استعمال قابل قدر اور لائق تقلید ہے۔ ان کی ہر تصنیف جہاں اردو ادب کا شاہکار ہے وہاں تحقیق ومعلومات کا بیش بہا خزینہ بھی ہے۔ مولانا کا قلم رواں اور سلیس ایسا کہ مشکل سے مشکل مسئلہ کو ادب کے پیرایہ میں ایسے ادا کرتے ہیں کہ بس کمال ہی کر دیتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی لائبریری میں آپ کی درج ذیل کتب محفوظ وموجود ہیں:
۱… عماد الدین: یہ کتاب ۱۹۵۸ء میں شائع ہوئی۔ نماز کے فضائل ومسائل کا مجموعہ ہے۔ آج سے نصف صدی قبل مدارس کے ابتدائی درجات میں شامل نصاب رہی۔ یہ کتاب سوال وجواب کے انداز پر مرتب کی گئی ہے۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور نے بڑے سائز کے ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل اسے شائع کیا۔
۲… سیرت کبریٰ: ۱۴؍نومبر ۱۹۵۱ء میں تالیف مکمل ہوئی۔ رحمت عالمﷺ کی سیرت طیبہ پر اردو میں اس سے بہترین کتاب فقیر راقم کی نظر سے نہیں گزری۔ اردو ادب کا کامل ومکمل نمونہ، معلومات کا انبار، سیرت طیبہ کا کوئی اہم واقعہ ایسا نہیں جو اس کتاب میں درج نہ ہو۔ ترتیب وتشکیل اور ادائیگی میں ادب واحترام کا وہ منظر کہ ہر جگہ مسحورکن نظارہ کا سماں لئے ہوئے ہے۔ دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ مکتبہ صدیقیہ ملتان سے شائع ہوئی۔ اب تک لیتھو پر چھپ رہی ہے۔ کاش! کوئی بندۂ خدا اسے کمپیوٹر پر عمدہ کاغذ ودیدہ زیب شائع کر کے عشق رسالت مآبﷺ کا ثبوت دے تو جہاں مصنف مرحوم کے لئے ثواب سے مزید راحت ملے، وہاں ناشر کے لئے ذخیرہ آخرت ثابت ہو۔
۳… شمائل کبریٰ: نومبر۱۹۶۲ء میں شائع ہوئی۔ یہ آپﷺ کے شمائل مبارکہ کا خوبصورت مرقع حسن ہے۔ آنحضرتﷺ کے اخلاق عظمیٰ پر محققانہ، مؤرخانہ، جدید و دلآویز اسلوب بیان اور نہایت اہم کتاب ہے۔ مولانا کی وفات کے بعد مولانا عبدالحکیم خان نشتر نے بعض ابواب کی تکمیل و اضافے اور مولانا غلام رسول مہر نے نظرثانی فرمائی۔ شیخ غلام علی لاہور نے شائع کی۔ ۵۱۸صفحات پر مشتمل ہے۔
۴… اصلاحات کبریٰ: ۶؍ستمبر ۱۹۵۶ء میں تالیف ہوئی۔ اس کے ٹائٹل پر مصنف مرحوم نے خود یہ تعارف لکھا ہے۔ ’’جس میں دکھایا گیا ہے کہ جن ایام آشوب میں ختم المرسلین حضرت احمد مجتبیٰa اس عالم ناسوت میں قدوم فرما ہوئے۔ اس وقت صفحۂ ہستی پر عموماً اور سرزمین عرب میں خصوصاً کیاکیا خرابیاں اور برائیاں رونما تھیں اور دنیا کے مصلح اعظمa نے ان کو کس طرح دور کیا اور ان میں کیا کیا اصلاحات فرمائیں۔‘‘
۵… سیرت ذوالنورینؓ: سیدنا عثمان بن عفانؓ کی سیرت پر اپنے وقت کی سب سے بہترین کتاب ہے۔ جس کی دو جلدیں پونے نو سو صفحات پر مشتمل ہیں یہ کتاب ۱۱؍جنوری ۱۹۵۷ء کو مؤلف نے مکمل کی۔
۶… بالتوضیح عن رکعات التراویح: یہ ۱۴؍اپریل ۱۹۵۲ء کو مکمل ہوئی۔ اس کے صفحات ۱۴۴ ہیں اور بیس رکعات تراویح پر مکمل ومدلل مباحث پر مشتمل ہے۔
۷… ائمہ تلبیس: یہ کتاب ۴؍جنوری ۱۹۳۷ء کو مصنف نے مکمل فرمائی۔ مصنف اس کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں: ’’ائمہ تلبیس یا غارت گران ایمان‘‘ ان مشہور دجالوں کی سوانح ہے جنہوں نے عہد رسالت سے لے کر آج تک الوہیت، نبوت، مسیحیت، مہدویت اور اس قسم کے دوسرے جھوٹے دعوے کر کے ملت حنیفی میں رخنہ اندازیاں کیں اور اسلام کے حق میں مارہائے آستین ثابت ہوئے۔‘‘ اس کتاب کو بارہا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر نے شائع کیا، جو کمپیوٹر ایڈیشن کے ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اسی کتاب کو ’’جھوٹے نبی‘‘ کے نام سے اب ادارہ نگارشات لاہور نے بھی شائع کیا ہے۔
۸… رئیس قادیان: مدعی نبوت ومسیحیت مرزاغلام قادیانی کے مستند اور صحیح حالات پر مشتمل یہ کتاب ہے۔ نومبر ۱۹۳۸ء کو مصنف مرحوم نے لکھی۔ اب اسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کمپیوٹر ایڈیشن پر شائع کیا جو پونے سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔
۹… مدعیان مذبوح یعنی ایمان کے ڈاکو: یہ کتاب مصنف مرحوم نے ۶؍جولائی ۱۹۵۶ء کو مکمل کی جو بڑے سائز کے ۱۴۴؍صفحات پر مشتمل ہے۔ کتب خانہ صدیقیہ ملتان نے اسے شائع کیا۔ مصنف مرحوم نے اس کا تعارف خود یہ لکھا ہے: ’’مال وزر کے ڈاکوؤں کے حالات تو روزمرہ پڑھتے ہیں۔ ایمان کے ڈاکوؤں کی حکایات بھی مطالعہ فرمائیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آپ نے اگر بصیرت سے کام لیا تو فتنہ گروں کو فوراً پہچان لیں گے اور اپنے ایمان کو اس دور فتن میں محفوظ کر سکیں گے۔‘‘
مصنف مرحوم ۱۸۸۳ء میں پیدا ہوئے۔ جنوری ۱۹۶۰ء میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کی پہلی تصنیف ائمہ تلبیس ہے۔ پھر اس کے بعد زندگی بھر آپ ردقادیانیت پر لکھتے رہے۔ جیسا کہ ایمان کے ڈاکو اور رئیس قادیان وغیرہ سے ظاہر ہے۔ ان نو کتب کے علاوہ آپ کی ایک کتاب:
۱۰… سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ: کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ اس کتاب کی تلاش کے لئے ربع صدی سے تگ ودو جاری تھی۔ ’’الصدیق ملتان‘‘ بھی اسی غرض سے جمع کیاگیا کہ شاید اس میں یہ کتاب بالاقساط شائع ہوئی ہو، لیکن مایوسی ہوئی۔ چنانچہ ’’لولاک‘‘ مارچ ۲۰۱۹ء کے کلمتہ الیوم میں لکھا تھا کہ شاید یہ کتاب سرے سے شائع ہی نہیں ہوئی۔ قارئین یہ سن کر خوشی محسوس کریں گے کہ ادھر ہماری طرف سے مایوسی کا اظہار ہوا اور ادھر قدرت کردگار نے اپنی رحمت بے پایاں کی موسلا دھار بارش برسادی۔ ۲۶؍مارچ ۲۰۱۹ء منگل کو پشاور مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما الحاج عنایت علی صاحب کا فون آیا کہ یہ کتاب مل گئی ہے۔ اگلے دن آپ نے وٹس ایپ کے ذریعہ اس کا ٹائٹل بھی بھجوا دیا۔ ۲۹؍مارچ ۲۰۱۹ء جمعۃ المبارک کے روز حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اس کتاب کا فوٹو لے کر راولپنڈی تشریف لائے اور فقیر کو ممنون احسان فرمایا۔ مولانا عبدالرحیم صاحب فارغ التحصیل عالم دین ایک سکول میں ٹیچر اور دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور میں کمپیوٹر کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کی طرف سے کتاب کیا ملی، ربع صدی سے قابل تلاش ایک خزانہ یکایک جھولی میں موجود پایا۔ اس سے کتنی خوشی ہوئی اس کا سوائے اہل ذوق کے اور کون اندازہ کر سکتے ہیں۔
قارئین کرام! آج یہ سطور تحریر کرتے وقت مؤلف مولانا رفیق دلاوری مرحوم کی ان کتابوں کو جو مجلس کی لائبریری میں موجود ہیں، دیکھنا ہوا تو مزید ایک کتاب:
۱۱… سوانح کربلا: کا بھی ذکر ملا۔ مصنف مرحوم کی دس کتب کا تعارف اوپر درج ہے۔ گیارھویں کتاب ’’سوانح کربلا‘‘ کی تلاش میں مدد کی درخواست ہے۔ مصنف مرحوم کی مزید کون کون سی تصنیفات ہیں؟ ان گیارہ کتب کے علاوہ کسی کو مزید کتب معلوم ہوں تو ان کی نشان دہی وتلاش میں مدد فرمائیں۔ واجرکم علٰی اللہ تعالٰی!
کتاب ’’سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا‘‘ اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ مصنف نے اتنے اعتدال کے ساتھ مسلک حقہ کو بیان فرمایا کہ جیسے سونے کی تول تول رہے ہوں۔ کتاب رفض وخوارج کے مزعومہ خیالات سے یکساں مبّرأ ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ سیدہ دو جہاںp کے احترام اور مقام کا مظہر ہے۔ فقیر کی درخواست پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کی کمپیوٹر اشاعت کا بیڑا اٹھایا جو رحمت عالمﷺ اور سیدہ دو جہاںؓ سے محبت کے رشتوں کی مزید پختگی کا باعث ہوگا۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی پیدائش سے وفات تک کے حالات کو مصنف ایسے طور پر لے چلے ہیں کہ قاری کتاب کا ہاتھ پکڑ کر گویا یہ سفر کرادیا ہے۔ فَلْحَمْدُ لِلّٰہِ!
پھر ہر موقعہ وواقعہ سے امت کی بچیوں، بیٹیوں کو جو سبق ملتا ہے ایک خاتون اسلام کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی مبارک سے کیا سبق ملتا ہے۔ موقعہ بموقعہ اس کا استحضار۔ دختران اسلام کو اس کتاب کے پڑھنے کے بعد دیگر کتابوں اور مسائل سے مستغنی کر دیتا ہے۔ یہ کتاب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی کی دلآویز جامع ومستند دستاویز ہے۔ قریباً اس کی اشاعت اوّل کے پون صدی بعد اس کتاب کا ملنا اور طبع ہو جانا مصنف مرحوم کی روح کی تسکین، ناشرین کے لئے باعث نجات اور قارئین کے لئے باعث سعادت دارین ہے۔ اس کے ساتھ ایک ضمیمہ بھی مصنف ہی کا ساتھ شائع کیا ہے۔ اس کی وہاں پر صراحت بھی کر دی گئی ہے۔ وہاں ملاحظہ کر لی جائے۔ والسلام!