عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں

کتاب

تعارفِ کتاب

نامِ کتاب
قادیانی تفاسیر کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ
مصنف
ڈاکٹر محمد عمران
ناشر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان
زبان
اردو
طباعت
01-06-2016
صفحات
353

الحمد اللہ وکفٰی وسلام علٰے عبادہ الذین اصطفٰے۔ اما بعد!

اللہ رب العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام سے سلسلہ نبوت کا آغاز فرمایا۔ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے۔ ان سب کے آخر پر رحمت عالمa کو آخری نبی کے طور پر مبعوث فرمایا۔ ان تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہتعالیٰ نے اپنی وحی سے بھی سرفراز فرمایا۔ بعض انبیاء علیہم السلام کو کتابیں بھی دی گئیں۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد عربیa اللہ رب العزت کے آخری نبی ہیں تو آپa کی ذات اقدس پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید بھی اللہ رب العزت کی آسمانی کتابوں میں سے آخری آسمانی کتاب ہے۔ قرآن مجید جہاں آخری کتاب ہے وہاں اس کو ہر قسم کی تحریف لفظی سے بھی حق تعالیٰ نے محفوظ فرمایا ہے اور یہ اس کا اعجاز ہے۔ قرآن مجید لاریب سچی کتاب ہے۔ نیک بخت اور بدنصیب لوگوں کے لئے اس کو معیار قرار دیا۔ فرمایا کہ ’’یضلون بہ کثیراً ویہدی بہ کثیرا (القرآن)‘‘ کہ بدنصیب قرآن مجید سے کجی کا راستہ نکال لیں گے اور خوش نصیب قرآن مجید سے حق کی راہ پائیں گے۔ ’’یضلون بہ کیثرا‘‘ قرآن مجید کو آڑ بنا کر تحریف معنوی اور تاویل باطل سے لوگوں کو راہ حق سے پھیر دینا۔ انہیں گمراہی کے راستہ پر چلانے والوں میں ایک بدنصیب مرزائے قادیان بھی تھا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی تاویل فاسد اور تحریف باطل سے وہ گمراہی کا راستہ اختیار کیا کہ گزشتہ صدیوں کے تمام محرفین ومبطلین کو مات کر گیا۔ مثلاً آج تک چودہ صدیوں کے مفسرین کا اس پر اتفاق واجماع ہے کہ قرآن مجید میں بدر کے تذکرہ سے مراد جنگ بدر ہے۔ مگر مرزاقادیانی نے کہا کہ بدر سے بدر کامل یعنی چودھویں صدی مراد ہے اور میں چودھویں صدی کا بدر کامل ہوں۔ اب یہ معنی چودہ صدیوں کے کسی مفسر نے نہیں کئے۔ مرزاقادیانی نے اپنے غلط دعاوی کو بزعم خود ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید میں تحریف کرنے میں قطعاً عار محسوس نہ کی۔ مرزاقادیانی نے قرآن مجید سے کھیلنے اور تحریف کے راستہ پر سرپٹ دوڑنے کا اتنا خطرناک کھیل کھیلا کہ اپنے پورے پیروکاروں کو اسی راستہ پر لگا گیا۔ تحریف قرآن مجید کرنے میں ہر قادیانی باون گزا ہے۔ جس نے جو چاہا قرآن مجید کا مفہوم ومعنی بدل دیا اور اس تحریف میں ذرہ برابر لحاظ نہ کیا کہ دنیا کیا کہے گی۔ مثلاً قرآنی آیت ’’وبالآخرۃ ہم یؤقنون‘‘ کا آج تک تمام مفسرین یہی ترجمہ کرتے آئے کہ آخرت سے مراد قیامت ہے۔ حتیٰ کہ مرزاقادیانی، حکیم نورالدین ایسی مہا قادیانی قیادت نے بھی یہی ترجمہ کیا کہ اس سے مراد قیامت ہے۔ لیکن قادیانی جماعت کے دوسرے چیف گرو مرزامحمود قادیانی نے کہا کہ اس سے مراد آخری وحی ہے اور وہ مرزاقادیانی کی وحی ہے۔ اب مرزامحمود کے بعد ابھی حال ہی میں اس کے بیٹے مرزاطاہر قادیانی نے ترجمہ کیا۔ اس نے بھی آخرت سے مراد قیامت لیا ہے۔ گویا اوّل وآخر کے تمام قادیانی ’’وبالآخرۃ‘‘ کے قرآنی الفاظ سے مراد قیامت لیتے ہیں۔ لیکن مرزا محمود، قرآن مجید میں تحریف معنوی ڈھٹائی سے کرتے ہوئے ذرہ لحاظ محسوس نہیں کرتا اور مرزاقادیانی کی نبوت کو قرآن مجید سے ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ چاہے اوّل وآخر کے تمام قادیانی اس کے مردود معنی کو قبول نہ کریں۔ لیکن وہ اس تحریف میں ڈٹا ہوا ہے۔ ان دو مثالوں سے یہ عرض کرنا مقصود تھا کہ قارئین! احساس فرمائیں کہ کس طرح قادیانیوں نے قرآن مجید کو بازیچہ اطفال بنایا۔ جس قادیانی کے منہ جو آیا کہہ دیا۔ تحریف میں ذرہ ہچکچاہٹ محسوس نہ کی کہ یکسر چودہ صدیوں کے مفسرین کے راستہ سے علیحدہ راستہ اختیار کیا۔ حضور نبی کریمa کا ارشاد گرامی ہے کہ: ’’میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو اس علم کو حاصل کریں گے جس کے ذریعے حد سے تجاوز کرنے والوں کی تاویل کو، باطل کرنے والوں کے دعویٰ کو اور جاہلوں کی تحریف کو دور کریں گے۔‘‘ (السنن الکبریٰ بیہقی ج۱۰ ص۳۵۴، مشکوٰۃ شریف کتاب العلم ص۳۶) اس حدیث نبویa کے مصداق خوش نصیب حضرات میں سے ایک ہمارے انتہائی مکرم ومحترم جناب ڈاکٹر محمد عمران صاحب ہیں۔ انہوں نے اس پر بھرپور ریسرچ (Resurch) کی۔ وہ ملک بھر میں دیوانہ وار پھرے۔ لائبریریوں سے، ان کے منتظمین سے، اپنی گرانقدر ریسرچ کے لئے جو ملا وہ حاصل کیا۔ قادیانیوں کی سوسال قبل کی ان نام نہاد تفسیروں کو جمع کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ اس میں بھی وہ کامیاب ہوئے۔ پھر ان تمام سے تحریفات کو چن چن کر علیحدہ کیا۔ ان کو پھر اہل اسلام کی تفاسیر سے ملایا۔ اہل اسلام اور قادیانی تفاسیر میں جو فرق نظر آیا، وہ واضح کیا۔ یوں انہوں نے مرزاقادیانی سے لے کر کفیلہ خانم تک کے قادیانیوں کی چودہ نام نہاد مفسرین کی تفاسیر پر ریسرچ کی اور چمکتے دمکتے واضح فرق کو نمایاں طور پر اس کتاب میں پیش کیا کہ جہاں کہیں سے آپ دیکھیں گے قادیانی ایک ایک تحریف آپ کے سامنے آجائے گی۔ اس کتاب میں: ۱… مرزاقادیانی کی ۵۵ تحریفات ۲… حکیم نورالدین بھیروی کی ۲۰ ؍؍ ؍؍ ۳… مولوی میر محمد سعید کی ۳۳ ؍؍ ؍؍ ۴… مولوی غلام حسن نیازی کی ۲۷ ؍؍ ؍؍ ۵… ڈاکٹر بشارت احمد کی ۱۱ ؍؍ ؍؍ ۶… محمد علی لاہوری کی ۲۳ ؍؍ ؍؍ ۷… مرزابشیرالدین محمود احمد کی ۷۳ ؍؍ ؍؍ ۸… مولوی عبداللطیف بہاولپوری کی ۱۲ ؍؍ ؍؍ ۹… ملک غلام فرید کی ۱۱ ؍؍ ؍؍ ۱۰… شیخ عبدالرحمن مصری کی ۰۱ ؍؍ ؍؍ ۱۱… پیر صلاح الدین کی ۰۸ ؍؍ ؍؍ ۱۲… مرزاطاہر احمد کی ۱۵ ؍؍ ؍؍ ۱۳… پیر معین الدین کی ۱۹ ؍؍ ؍؍ ۱۴… کفیلہ خانم کی ۱۸ ؍؍ ؍؍ باطل گروہ قادیانی جماعت کی جہالت آمیز تحریفات قرآنی کو اس کتاب میں اتنا جمع کیاگیا ہے۔ اتنا ردقادیانیت کے لٹریچر میں اس عنوان پر پہلے کہیں مواد موجود نہیں تھا، جتنا اس کتاب میں آپ کو ملے گا۔ مجھے جہاں انتہائی تأسف ہے کہ میں اس کتاب کو پورے طور پر نہیں پڑھ پایا۔ اتنی زیادہ تسلی ہے کہ ہمارے حضرت مولانا غلام رسول صاحب دین پوری نے اس کتاب کو مکمل پڑھا ہے۔ ان شاء اللہ! یہ جامع چیز اس عنوان پر آج تک امت کی تحقیقات کا نچوڑ اور آئینہ ہے۔ قادیانی لوگوں نے قرآن مجید میں کیا تحریف معنوی کی؟ اس کا جواب یہ کتاب ہے۔ پڑھئے کہ پڑھنے کی چیز ہے۔ حق تعالیٰ ہم سب کو اس سے فائدہ اٹھانے اور قادیانی فتنہ سے باخبر رہنے کی توفیق رفیق فرمائیں۔ آمین! خوشی ہے کہ یہ گرانقدر سرمایہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شائع کر رہی ہے۔ والسلام!

والسلام! محتاج دعا: (فقیر) اللہ وسایا، ملتان ۱۷؍رمضان ۱۴۳۷ھ، بمطابق ۲۳؍جون ۲۰۱۶ء

اہم مضامین کتاب

تعارف قادیانیت
مرزا غلام احمد کی تفسیر’’تفسیر‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تفسیر’’حقائق الفرقان‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تفسیر’’اوضح القرآن مسمیٰ بہ تفسیر احمدی‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تفسیر’’حسن بیان‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تفسیر’’انوارالقرآن‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تفسیر’’بیان القرآن‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تفسیر’’تفسیر کبیر و تفسیر صغیر‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
چار قرآنی سورتوں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
ملک غلام فرید کی تفسیر’’The Holy Quran کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ
تفسیر’’تفسیر سورہ اعلیٰ‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ