Top banner image

مقدمہ بہاولپور جلد سوم

آج سے تقریباً ایک صدی قبل دارالعلوم دیوبند کے فاضل حضرت مولانا الٰہی بخش کی دختر محترمہ غلام عائشہ کا نکاح مسمّی عبدالرزاق ولد جان محمد سے ہوا۔ اس وقت منکوحہ نابالغ تھی۔ اس کے بلوغ ورخصتی سے قبل ناکح عبدالرزاق، قادیانی ہو گیا یہ خاندان اس وقت ضلع بہاول پور کا رہائشی تھا۔ بالغ ہونے پر ۲۴؍جولائی۱۹۲۶ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پورکی عدالت میں محترمہ غلام عائشہ کی طرف سے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ بہت سارے مراحل طے کرنے کے بعد ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو جاکر جج محمد اکبر خان کی عدالت عالیہ سے قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ صادرہوا۔

حق وباطل کاعظیم معرکہ

مقدمہ مرزائیہ بہاول پور۱۹۳۵ء

عالی جناب جج محمد اکبر خان صاحب بی۔اے،ایل۔ایل۔بی

ڈسٹرکٹ جج بہاول پور

نے مرزائیت کو ارتداد قرار دے کر مسلمہ کا نکاح مرزائی سے فسخ فرمایا

جواب الجواب حضرت مولاناابوالوفاصاحب مختارمسماۃ غلام عائشہ مدعیہ و

فیصلہ مصدرہ ۷؍فروری۱۹۳۵ جس میں

جناب محمداکبرخان صاحب بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی ڈسٹرکٹ جج بہاول پور

نے مرزائیت کوارتدادقراردے کر مسلمہ کانکاح مرزائی سے فسخ فرمایا

جلد سوم

ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : روداد مقدمہ مرزائیہ بہاول پور ۱۹۳۵ء (جلدسوم)
صفحات : ۵۴۴
قیمت : ۳۵۰ روپے
اشاعت اوّل : اکتوبر ۱۹۸۸ء / ربیع الاوّل ۱۴۰۹ھ
اشاعت دوم : اپریل ۲۰۰۶ء / ربیع الاوّل ۱۴۲۷ھ
اشاعت سوم : نومبر ۲۰۲۰ء / ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ
مطبع : طیب شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
2
  1. (۲۱) فبأی حدیث بعدہ یؤمنون

    ۲۰۷

  2. مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ

    ۲۰۸

  3. (۴) قرآن گالیوں سے پرہے

    ۲۰۹

  4. استدعا

    ۲۱۱

  5. وجوہات تکفیر وترتیب شہادت

    ۲۱۲

  6. بہتان

    ۲۱۳

  7. اصل حقیقت

    ۲۱۳

  8. تنقیح مبحث

    ۲۱۴

  9. مرزا غلام احمد کے نزدیک وحی نبوۃ کے معنی

    ۲۱۴

  10. اقراری ڈگری

    ۲۱۵

  11. تبرعاً تفصیلی جواب بھی پیش کرتاہوں

    ۲۱۶

  12. نتائج مختار مدعاعلیہ کاجواب

    ۲۱۸

  13. جوابات مرتبہ

    ۲۱۸

  14. دلائل انسداد وحی نبوت بعد خاتم النبیﷺ

    ۲۱۹

  15. اقوال سلف صالحین ومسلم بزرگان دین

    ۲۲۰

  16. حضرت مولانا گنگوہی پر بہتان

    ۲۲۲

  17. دلائل بقاء وحی غیر تشریع از روئے قرآن شریف

    ۲۲۳

  18. مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ اور ان کا جواب

    ۲۲۹

  19. دلائل بقاء وحی از احادیث

    ۲۳۰

  20. عقیدہ سلف صالحین بقاء وحی غیرتشریعی کے خلاف نہیں

    ۲۳۳

  21. وحی نبوت ورسالت مطلقاً منقطع ہے؟

    ۲۳۴

  22. فرشتہ وحی آنحضرتﷺ کے بعد کسی کے قلب پر وحی لے کر نہیں اتر سکتا

    ۲۳۵

  23. مبشرات یعنی الہام اور رویاء صالحہ کے سوا کوئی بھی قسم وحی کی باقی نہیں

    ۲۳۵

  24. مبشرات والا شخص نبی ہرگز نہیں ہوسکتا

    ۲۳۵

  25. اس کے جواب کے متعلق مدعاعلیہ کی تاویلات

    ۲۳۶

  26. اس میں دو امر قابل تحقیق ہیں

    ۲۳۸

10
  1. مجدد الف ثانی کا فیصلہ اقوال بزرگان دین کے متعلق

    ۲۳۸

  2. مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ

    ۲۴۰

  3. مطلق الہام کی چند صورتیں

    ۲۴۱

  4. ساتواں حوالہ حجج الکرامۃ

    ۲۴۲

  5. خلاصہ بحث

    ۲۴۳

  6. (۶) مرزا صاحب کے نزدیک صرف تشریعی وحی بند ہے

    ۲۴۳

  7. (۷) کیا مسیح موعود کے نزدیک آپ کی وحی قرآنی وحی کے برابرہے

    ۲۴۴

  8. ختم نبوت

    ۲۴۵

  9. دوسری وجہ تکفیر کا رد … جماعت احمدیہ حضورa کو خاتم النّبیین یقین کرتی ہے

    ۲۴۵

  10. اصل معاملہ

    ۲۴۵

  11. جمیع مسلمان بعد حضرتa ایک نبی کا آنا مانتے ہیں

    ۲۴۶

  12. خلاصہ استدلال مختار مدعاعلیہ

    ۲۴۷

  13. اس کا ثبوت ملاحظہ ہو

    ۲۴۷

  14. احادیث

    ۲۴۹

  15. خاتم النّبیین سے کیا مراد ہے؟، آنحضرتﷺ لفظ خاتم النّبیین کے معنی کیا سمجھے؟

    ۲۵۱

  16. مرزاصاحب کی اس پر مہر تصدیق

    ۲۵۲

  17. مختار مدعاعلیہ کے استدلال کا خلاصہ

    ۲۵۲

  18. حدیث کی تصحیح

    ۲۵۳

  19. اس کے متعلق مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ

    ۲۵۴

  20. خلاصہ تاویلات

    ۲۵۴

  21. مفصل ومرتب جواب

    ۲۵۴

  22. تاویلات مختار مدعاعلیہ

    ۲۵۹

  23. مختار مدعاعلیہ کی رکیک تاویل اور صحابہ کرامi کی شان میں گستاخی

    ۲۶۲

  24. جو میں نے پیش کیا ہے دراصل یہی حق ہے

    ۲۶۴

  25. عبارت رسالہ آخری نبی

    ۲۶۴

11
  1. بیت اللہ کی توہین

    ۳۸۵

  2. حج کی توہین

    ۳۸۹

  3. مقبرہ بہشتی

    ۳۸۹

  4. کیا تکفیر وجہ ارتداد وفسخ نکاح ہوسکتی ہے

    ۳۹۰

  5. کفرکا فتویٰ

    ۳۹۰

  6. مرزا صاحب کا منکر شیطان ہے

    ۳۹۰

  7. مرزا صاحب کی بیعت میں نہ داخل ہونے والا جہنمی ہے

    ۳۹۱

  8. خلیفہ محمود صاحب کاتمام مسلمانوں کو کافر دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ

    ۳۹۱

  9. جو بھی مرزا صاحب کو نہیں مانتا اور بیعت میں نہیں وہ پکا کافر ہے

    ۳۹۱

  10. مختار مدعاعلیہ کی تاویلات کا خلاصہ

    ۳۹۱

  11. کیا غیر احمدی یعنی مسلمان اہل کتاب نہیں

    ۳۹۳

  12. کیا مدعیہ مشرکہ ہے

    ۳۹۴

  13. علاوہ اختلاف عقائد کے بھی نکاح فسخ ہونا چاہئے

    ۳۹۴

  14. (۱)تمام اہل اسلام کافر خارج از دائرہ اسلام ہیں

    ۳۹۴

  15. (۲)دینی معاملات میں کوئی بھی اتحاد نہیں

    ۳۹۴

  16. (۳) آپس میں اصولی اختلاف بھی ہے اور فروعی بھی

    ۳۹۴

  17. (۴)کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں

    ۳۹۴

  18. (۵) غیر احمدی کے بچہ کا بھی جنازہ مت پڑھو

    ۳۹۵

  19. (۶)مسلمانوں سے رشتہ وناطہ جائز نہیں

    ۳۹۵

  20. (۷)غیر احمدی مسلمان ہندو اور عیسائی کی طرح کافر ہیں اس لئے انہیں لڑکی نہ دو

    ۳۹۵

  21. (۸)مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنا

    ۳۹۵

  22. (۹)مخالفین کو سولی پر لٹکانا

    ۳۹۵

  23. (۱۰)ساری دنیا کو جب تک پورے طور پر احمدی نہ ہو دشمن سمجھیں گے

    ۳۹۵

  24. (۱۱) ظاہری محبت کا اظہار صرف مسلمانوں کو شکار کرنے کے واسطے ہے

    ۳۹۵

  25. (۱۲)تمام مسلمانوں کی جان ومال وایمان سے عزیز ترین ہستی کی توہین

    ۳۹۶

15
  1. (۱۳)مرزا صاحب اورa میں (عیاذا ب اللہ ) ذرا برابر فرق نہیں

    ۳۹۶

  2. مرزا صاحب کے خلیفہ کی سرور کائناتa سے انتہائی دشمنی

    ۳۹۶

  3. حوالہ جات مذکورہ بالا کی تصدیق وتوثیق

    ۳۹۶

  4. بہر حال نکاح فسخ ہوناچاہئے

    ۳۹۸

  5. احمدی شریعت اسلامیہ کے پابندہیں

    ۳۹۸

  6. اصولی اختلاف

    ۴۰۲

  7. کیا مدعاعلیہ اور مدعیہ کا علیحدہ علیحدہ مذہب ہے

    ۴۰۲

  8. مرتد کے معنوں میں تاویل

    ۴۰۴

  9. مختار مدعیہ کے نزدیک فسخ نکاح کی ایک اور وجہ

    ۴۰۴

  10. فسخ نکاح کی ایک اور وجہ

    ۴۰۶

  11. خلاصہ تاویلات

    ۴۰۶

  12. گواہان مدعاعلیہ پر تنقید کا جواب

    ۴۰۷

  13. خلاصہ تنقید

    ۴۰۷

  14. خلاصہ تاویلات

    ۴۰۸

  15. (۲) دربار معلی کی توہین

    ۴۰۹

  16. خلاصہ تاویل مختار مدعاعلیہ

    ۴۰۹

  17. (۳) گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ … معلومات پر بحث

    ۴۱۰

  18. خلاصہ تاویلات مختار مدعاعلیہ

    ۴۱۱

  19. تفصیلاً گواہ مدعیہ نمبر۱ کی صفائی

    ۴۱۲

  20. گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے جوابات میں تعارض کا رد

    ۴۱۳

  21. گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے علم کے متعلق اعتراضات کا جواب

    ۴۱۵

  22. اس سلسلہ کے لاجواب امور جن کا کوئی تذکرہ نہ کیا

    ۴۱۶

  23. گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ پر تبصرہ کا جواب

    ۴۱۶

  24. مختاران مدعیہ کی صریح غلط بیانیاں

    ۴۱۹

  25. خلاصہ اعتراضات

    ۴۱۹

16

جواب الجواب از

حضرت مولانا شاہجہان پوری

مختار مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ

مدخلہ ۲۸ اپریل لغایت ۱۰ مئی ۱۹۳۴

19

عدالت عظمیٰ ریاست بہاولپور سے مقدمے کی واپسی پر جب از سر نو تحقیقات شروئی ہوئی تو مسماۃ غلام عائشہ کی جانب سے مختلف اوقات میں اکابرین نے بطور مختار مدعیہ پیرویٔ مقدمہ کی۔ ۱۹۳۳ء میں جب فریق ثانی کی شہادت شروع ہوئی تو ہندوستان کے شہرہ ٔ آفاق رأس المتکلمین حضرت مولانا ابوالوفا صاحب بطور خاص دیوبند سے بہاولپور تشریف لائے۔ آپ کو فن مناظرہ میں یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ نے بحیثیت مختارمدعیہ تین برس عدالت میں پیروی مقدمہ فرمائی۔

جلال الدین شمس کی تحریری بحث کانہایت جامع اور مدلل جواب الجواب قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں پیش فرمایا جس کے بارے میں علماء ربانی نے تحریر فرمایاہے: ’’تردید مرزائیت کے موضوع پر لکھی گئی علم وعرفان کی یہ عظیم دستاویز اسلامی تاریخ میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔‘‘

ادارہ!

20

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مخدوم ومکرم حضرت مولانا اللہ وسایا صاحبزید مجدکم العالی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہامید ہے کہ حضرت والا بخیر ہوں گے۔

راقم سطور بھی بحمد اللہ بعافیت ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ رب العزت حضرت والا کا سایہ پوری دنیا کے خدام تحفظ ختم نبوت کے سروں پر تادیر قائم رکھے۔ آمین!

حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب شاہجہانپوری کی سوانح اور حالات زندگی پر اس سے قبل دوبار مضمون بھیجا گیا۔ لیکن اس میں کچھ تشنگی باقی رہ گئی تھی۔ اس لئے اب نئی ترتیب اور اضافہ کے ساتھ تیسری بار اسی مضمون کو ارسال کیا جارہا ہے۔ پورے ملک میں (بوجہ کرونا وائرس) سخت لاک ڈاؤن اور کسی سے بھی رابطہ میں دشواریوں کے سبب معلومات جمع کرنے اور مواد اکٹھا کرنے میں کافی وقت لگ گیا۔ امید ہے کہ حضرت والا اس تاخیر کو دامن عفو میں جگہ دیں گے۔ ہر ممکنہ کوشش کر کے بحمد اللہ اس موضوع پر تحقیقی مواد جمع کر دیا گیا ہے۔ اس میں حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب سے متعلق جو احوال وکوائف درج کئے گئے ہیں وہ مآخذ اصلیہ اور چشم دید افراد کی تحریرات واقوال پر مبنی ہیں۔ اگرچہ موضوع کا حق تو اداء نہیں ہو پایا ہے۔ کیونکہ وہ قدرے وقت طلب کام ہے۔ تاہم جو کچھ ہو گیا ہے اس سے امید ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے اس فقید المثال مجاہد کے سوانحی خاکہ میں پڑھنے والوں کو وہ تشنگی نہ رہے گی جو اس سے پہلے تھی۔

حضرت والا کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ حضرت مرحوم پر پورے ہندوستان میں کسی نے کچھ نہیں لکھا ہے۔ بے شمار اہل قلم سے رابطہ کیا گیا۔ سب نے ایک ہی بات بتائی اور جس کسی نے لکھا بھی تو تحفظ ختم نبوت کی خدمات اور فرقہائے باطلہ کے رد وتعاقب کے تناظر میں کچھ نہیں لکھا گیا ہے۔ اللہ جزائے خیر دے حضرت والا کو کہ آپ نے اس گمنام مجاہد کی سوانح پر توجہ فرمائی۔ اسی لئے سارے کام پس پشت ڈال کر اس خدمت کو انجام دیا گیا ہے تاکہ کل میدان قیامت میں جب ہم خدام تحفظ ختم نبوت کا نبی پاکa کے اس عاشق بے مثال سے سامنا ہو تو کم ازکم عذر خواہی کے لئے ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سہی‘‘ کچھ تو ہاتھ میں رہے۔

تاریخی اوراق پلٹنے سے ثبوت تو یہاں تک مل جانے کی امید ہے کہ یہ خالص تحفظ ختم نبوت کے آدمی تھے جن کی پرورش علامہ کشمیری جیسی نابغہ روزگار ہستیوں نے کی تھی اور مذکورہ خوبیوں کے ساتھ علمی صلاحیت میں پختگی کے سبب دارالعلوم کی تاریخ میں افراز ساز ومردم گر شخصیت حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی کے بھی نور نظر رہے۔ تقسیم ہند سے پہلے حضرت کا شمار تحفظ ختم نبوت کے صف اوّل میں ہی نہیں بلکہ اماموں میں ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ اسی ذوق سلیم کی بناء پر تقسیم ہند کے بعد بھی حضرت کے کارناموں کا محور ختم نبوت پر کسی بھی زاویہ سے حملہ کرنے والے فرقہائے باطلہ کا رد وتعاقب دکھائی دیتا ہے۔ قادیانیت کی نجاست جب موجودہ ہندوستان سے سمٹ کر دوسرے علاقوں میں چلی گئی تو اس کے بعد بھی حضرت نے نام بنام تمام فتنوں کی ناک میں نکیل ڈالنے کا کام کیا۔ ۱۹۴۲ء سے لے کر ۱۹۵۰ء تک حضرت کی صلاحیت سیاسی مسائل میں الجھی رہی۔ ۱۹۵۰ء تا۱۹۷۴ء ملکی حالات جب کچھ سازگار ہوئے اور قادیانیت یہاں معدوم سمجھی جانے لگی اور واقعی ان دنوں میں قادیانیوں کی کیفیت کچھ اسی قسم کی تھی تو حضرت کا تمام تر رخ خطابت ووعظ کی جانب مڑ گیا۔ پھر بھی جب بھی کہیں قادیانیت کا شتر بے مہار دکھائی دیتا ہے تو حضرت یہیں سے اس کے خلاف مچلتے دِکھ رہے ہیں۔ لیکن تاریخ نویسوں کے قلم سے حضرت کو تقریر وخطابت کے عنوان سے اس قدر شہرت ملی کہ بقیہ صفات محمودہ دب کر رہ گئی ہیں۔ بندہ کی کوشش ہو گی کہ زبانی سے زیادہ تحریری ثبوت وشواہد جمع کر کے ان شاء اللہ ! مزید مواد پیش کرے گا جو ممکن ہے کہ کتاب کی صورت بن جائے۔ اب خدا کرے کہ یہ قدیم ریکارڈ دستیاب ہو جائے۔ مرکز التراث الاسلامی سے ماسٹر محمد احمد وومولانا شہباز اختر سیوانی صاحبان سلام مسنون پیش کرتے ہیں۔

دعاگو: شاہ عالم گورکھپوری، دیوبند

۱۶؍رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ، مطابق ۱۰؍مئی ۲۰۲۰ء

21

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تحفظ ختم نبوت کے بے باک وبے لوث مجاہد خطیب زمانہ حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد!

غیر منقسم ہندوستان کے مشہور عالم دین، مقبول خاص وعام خطیب، تحفظ ختم نبوت کے بے باک مجاہد حضرت مولانا ابوالوفاء عارف صاحب شاہجہانپوری کا شمار حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے معتمد علیہ تلامذہ میں ہوتا ہے۔ آپ کے والد کا نام نامی جناب محمد حسین صاحب ہے جو لکھنؤ سے قریب میں واقع ضلع ’’سیتاپور‘‘ کے ایک قصبہ ’’لہرپور‘‘ میں متوسط درجہ کے تجارت پیشہ اور دین دار اور علم دوست لوگوں میں سے تھے۔ مولانا ابوالوفاء صاحب کی پیدائش ۱۹۱۰ء میں محلہ شیخ ٹولہ، قصبہ لہرپور، ضلع سیتاپور میں ہی ہوئی تھی اور یہی آپ کا آبائی وطن تھا۔ لیکن دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد میں محلہ تلہرزئی شہر شاہجہانپور میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی اور پھر شہر شاہجہانپور میں مستقل قیام کی وجہ سے ’’شاہجہانپوری‘‘ سے مشہور ہو گئے۔ انتقال ۶؍فروری ۱۹۸۰ء میں اپنے مکان واقع محلہ تلہرزئی شاہجہانپور میں ہوا اور اپنے مکان کے سامنے قبرستان جنگلہ میں مدفون ہیں۔ ’’اللہم وسع قبرہ واجعل الجنۃ مثواہ‘‘

تعلیم کا آغاز

حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب شاہجہانپوری نے ابتدائی تعلیم اپنی جائے پیدائش قصبہ لہرپور کے مدرسہ رکنیہ میں حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند میں محفوظ تعلیمی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی تعلیم کے بعد اس زمانہ کی مشہور علمی ودینی درسگاہ مدرسہ عالیہ ریاست رامپور میں متوسطات تک کی تعلیم پائی اور ۱۳سال کی عمر میں نہائی تعلیم کے لئے شوال ۱۳۴۰ھ مطابق جون ۱۹۲۲ء میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوکر شعبان ۱۳۴۱ھ مطابق مارچ ۱۹۲۳ء میں دارالعلوم سے فارغ ہوئے۔

آپ کے تعلیمی ریکارڈ میں لکھا ہوا ہے کہ آپ کا نام ’’ابوالوفاء علی احمد ولد محمد حسین‘‘ ہے اور داخلہ نمبر ۳۵۶۴، شمار نمبر۸۰ ہے۔ ماہ شوال ۱۳۴۰ھ مطابق جون ۱۹۲۲ء بوقت داخلہ ۱۳سال کے تھے اور برادری کے اعتبار سے شیخ تھے۔ معاشی اعتبار سے والد صاحب تجارت پیشہ تھے۔ حلیہ کے بابت لکھا ہے کہ موصوف اس وقت متوسط قامت، فراخ پیشانی، فراخ ابرو، رنگ گندمی، گول چہرہ، لاغر اندام تھے۔ مدرسہ عالیہ ریاست رامپور سے بیضاوی شریف، شمس بازغہ، مسلم الثبوت، حماسہ، ہدایہ آخرین پڑھ کر آئے اور دارالعلوم دیوبند میں دورۂ کامل میں داخلہ لیا۔

(بحوالہ رجسٹر داخلہ طلباء دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور، شوال ۱۳۴۰ھ تا رمضان ۱۳۴۱ھ)

سند فضیلت وفراغت

یہ عجیب اتفاق ہے کہ راقم سطور آج جب کہ ۸؍رمضان ۱۴۴۱ھ، مطابق ۲؍مئی ۲۰۲۰ء یوم شنبہ میں حضرت ممدوح کا سوانحی خاکہ مرتب کر رہا ہے۔ حضرت کی فراغت کے پورے ایک سو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ آپ کی فراغت سے متعلق دارالعلوم دیوبند کے دفتر تعلیمات سے موصولہ ریکارڈ میں درج ہے کہ: ’’۱۲؍شعبان ۱۳۴۱ھ، مطابق ۳۰؍مارچ ۱۹۲۳ء کا امتحان سالانہ سے فراغت کے بعد سند لے کر گھر واپس ہوئے۔‘‘

(بحوالہ رجسٹر داخلہ طلباء دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور، شوال ۱۳۴۰ھ تا رمضان ۱۳۴۱ھ)

آپ کے اساتذہ میں نابغۂ روزگار ہستیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ آپ کے تقریری وتحریری امتحان لینے والوں میں حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند، حضرت مفتی عزیزالرحمن صاحب مفتی اوّل دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا حکیم

22

محمد حسن صاحب، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب چاندپوری، حضرت مولانا اعزاز علی صاحب وغیرہم ہیں اور انہی سے آپ نے تعلیم بھی پائی ہے۔ آپ کی تعلیمی لیاقت اور حدیث فہمی میں ذہانت ورسائی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۱۴سال کی عمر میں نہ صرف یہ کہ اپنی پوری جماعت میں آپ نے اوّل پوزیشن حاصل کی بلکہ بیشتر کتب میں اعلیٰ نمبر(۵۰) سے اوپر اعزازی نمبرات بھی حاصل کئے۔ دارالعلوم دیوبند کے ریکارڈ میں محفوظ کتابوں کے نمبرات حسب ذیل ہیں: بخاری شریف(۵۲)، ترمذی(۵۲)، مسلم شریف(۵۱)، نسائی(۵۱)، شمائل ترمذی(۵۱)، مؤطا امام مالک(۵۱)، مؤطا امام محمد(۵۱)، ابوداؤد(۵۰)، طحاوی(۵۰)، ابن ماجہ(۴۷)

(بحوالہ روئیداد دارالعلوم دیوبند مطبوعہ ۱۳۴۲ھ، مطابق ۱۹۲۴ء)

حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب کا اپنے شہر کے علماء سے بھی گہرا ربط رہا۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ ثانی (متوفی ۱۹۷۹ء) کے گھر بھی بغرض ملاقات ومشورہ تشریف لے جاتے رہتے تھے۔ اسی مناسبت سے حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادے مولانا محمد اکرام اللہ صاحب قاسمی، حضرت ممدوح کے چشم دید کتابی خاکہ میں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ممدوح ’’گداز بدن، معتدل الاعضاء، گندمی رنگ مائل بہ سفیدی، سفید نورانی مسنون ہلکی داڑھی، چہرے پر کمانی دار عینک، نرم گفتار ورفتار‘‘ جیسی خوبیوں کے مالک تھے۔ ایک دانت سونے کے تار سے بندھا رکھا تھا جو دوران گفتگو چمکتا تھا۔ انتقال تک اکابر کے وضع پر باقی رہتے ہوئے مدرسہ قیومیہ شاہجہانپور کے صدر مدرس رہے۔ حضرت مفتی کفایت اللہ ثانی کے بڑے صاحبزادے، جناب مولانا انعام اللہ صاحب (جنہیں حضرت تھانوی کی خدمت کا بھی شرف حاصل ہے اور حضرت موصوف ابھی ماشاء اللہ بعمر ۹۲سال مراد آباد میں باحیات ہیں) نے بتایا کہ ایک زمانہ تک حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب نے کرایہ کے مکان میں زندگی گزاری اور کرایہ کے مکان کا انتظام کرنے والے حضرت مفتی کفایت اللہ ثانی ہوتے تھے، پھر اخیر میں ضلع بلیا کے رہنے والے آپ کے ایک بہی خواہ منشی محمد عثمان نے اپنے اثرورسوخ سے محلہ تلہرزئی میں کسٹوڈین سے فروخت ہونے والے ایک پرانے طرز کے مکان کا تقریباً سات ہزار روپے میں سودا کر دیا۔ جس میں آپ نے اپنی حیات مستعار گزاری۔

آپ کے رفقاء درس میں حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی صاحب دیوبندی سابق رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا سید اختر حسین صاحب دیوبندی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا عبد اللہ ملتانی، مولانا عبدالحلیم ملتانی، مولانا محمد قاسم مظفرگڑھی، مولانا محمد صدیق بلوچستانی، مولانا محمد شعیب ہزاروی، مولانا شمس القمر پشاوری، مولانا امیر حمزہ کامل پوری وغیرہ جیسے قابل قدر علماء کے نام ملتے ہیں جو دینی اور ملی خدمات میں اپنی اپنی جگہ مینارۂ نور ومشعل راہ کی حیثیت سے متعارف ہیں۔ آپ کے رفقاء درس کی کل تعداد ۵۶ ہے۔

تدریسی زندگی

دارالعلوم دیوبند میں معین مدرس کی حیثیت سے آج بھی آپ کی تدریسی خدمات کا شہرہ ہے۔ اس کے علاوہ آپ تاحین حیات، مدرسہ قیومیہ شاہجہانپور میں بحیثیت صدر مدرس خدمات انجام دیتے رہے۔ معتمد اور مستند ذرائع سے راقم سطور کو معلوم ہوا کہ آپ کو جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد کا مہتمم نامزد کیاگیا اور باضابطہ تحریر بھی جاری کر دی گئی تھی۔ لیکن حضرت نے بوجہ ضعف واعذار معذرت فرمائی اور ایک بڑے ادارے کے اہتمام جیسے باوقار عہدہ کو قبول نہ فرما کر مدرسہ قیومہ سے ہی وابستہ رہے اور وعظ وخطابت کو خلق خدا میں اپنی فیض رسانی کا ذریعہ بنایا۔ راقم سطور کی تحقیق پر دارالعلوم دیوبندکے بعض علیاء درجہ کے اساتذہ نے بتایا کہ آپ ایک عرصہ تک دارالعلوم دیوبند میں معین المدرس کی حیثیت سے استاذ رہے۔ لیکن فن خطابت اور مناظرہ سے شغف کی وجہ سے دارالعلوم کی تدریسی خدمات سے سبکدوش ہو گئے۔

23

چونکہ دارالعلوم میں معین المدرس کا ریکارڈ محفوظ نہیں رکھا جاتا۔ اس لئے کوئی تحریری دستاویز اس سلسلے میں تاہنوز دستیاب نہیں ہو سکا۔ دور حاضر کے مشہور مؤرخ ووقائع نگار مولانا اسیراد روی مدظلہ اپنی ایک کتاب ’’کاروان رفتہ‘‘ میں حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب سے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ’’مولانا ابوالوفاء صاحب شاہجہانپوری اپنے دور کے بے مثال خطیب اور زبردست مناظر تھے۔ انہوں نے آدھی صدی تک سیرت نبوی کے موضوع پر دلکش پاکیزہ لب ولہجہ اور اپنی شیریں زبان میں عالمانہ تقریریں کیں۔ روایات صحیحہ سے سرمو تجاوز ممکن نہ تھا۔ مسلمانوں کا کوئی اہم اور بڑا جلسہ ان کی شرکت کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا تھا۔ آپ کا اپنا ایک مخصوص اور خوبصورت انداز بیان تھا۔ ہندوستان کے بہت سے واعظین نے اس کو نقل کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوئے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور علامہ انور شاہ کشمیری کے مخصوص اور قابل اعتماد تلامذہ میں تھے۔ فراغت کے بعد دارالعلوم میں استاذ بھی رہے۔ لیکن قدرت نے ان کی فطرت میں صحرا نوردی لکھ دی تھی۔ اس لئے وہ تقریر وخطابت کے بادشاہ بن کر ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کرتے رہے۔ قادیانیوں سے بہت سے مناظرے کئے۔ آپ جمعیۃ علماء ہند کے اہم رہنماؤں میں تھے۔ برطانوی حکومت کے خلاف ان کی تقریروں نے قیدوبند کی بھی راہ دکھائی۔ لیکن ان کے پائے ثبات میں کوئی جنبش نہیں آئی۔ شعروشاعری سے بھی آپ کو دلچسپی تھی۔ عارف آپ کا تخلص تھا۔ صرف نعت پاک کہتے تھے اور سیرۃ النبیﷺ کے جلسوں میں جب پڑھی جاتی تھی تو ایک سماں بندھ جاتا تھا۔‘‘

(کاروان رفتہ ص۱۶)

یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب دارالعلوم دیوبند میں مدرس نہیں بلکہ معین مدرس رہے ہیں۔ ابتدائی دور میں ذی استعداد طلباء کو اساتذہ اور بطور خاص حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی صاحب نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، اپنی صوابدید پر روک لیا کرتے تھے تاکہ کسی بیماری یا اور کسی عذر کی بناء پر غیرحاضر اساتذہ کے اسباق وہ پڑھا دیا کریں۔ پھر بعد میں مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند نے اس کو اپنے ضابطہ میں شامل کر لیا۔ لیکن اس وقت ایسے مدرسین کا باضابطہ کوئی تحریری ریکارڈ دارالعلوم میں نہیں رکھا جاتا تھا۔ اس طرح طلباء کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی تھی اور اساتذہ کی نگرانی میں ایک ایسی استعداد ان میں پروان چڑھتی تھی کہ بوقت ضرورت ان کو آگے چل کر دارالعلوم میں بطور مستقل اساتذہ کے بلالیا جاتا تھا۔ حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب انہی خوش بختوں میں ہیں۔ اس لئے ان کا کوئی ریکارڈ بحیثیت استاذ کے دارالعلوم دیوبند میں محفوظ نہیں ہے۔

راقم سطور نے کتاب کاروان رفتہ کے مصنف سے مولانا منظور الحسن صاحب قاسمی ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ادری ضلع مؤ کے ذریعہ باضابطہ اس کی تحقیق کی اور براہ راست بات بھی کی تو حضرت مصنف نے یہ وضاحت فرمائی کہ اپنی تحریر کا کوئی مستقل ریکارڈ ان کے پاس نہیں ہے۔ کسی شنیدہ واقعہ کی بناء پر ایسا لکھ دیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح رہے کہ کاروان رفتہ میں تاریخ وفات بھی صحیح نہیں درج ہے۔

تاریخ ساز مقدمہ بہاول پور میں شرکت

آپ کا شمار حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے خصوصی اور ان معتمد علیہ شاگردوں میں ہوتا ہے جن کو حضرت علامہ نے مرزائیت کے تابوت میں کیل ٹھونکنے کے لئے تیار کیا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تحفظ ختم نبوت کی تاریخ میں بے مثال اور تاریخ ساز مقدمہ (۱۹۲۶ء تا ۷؍فروری ۱۹۳۵ء) عدالت عالیہ ’’بہاول پور‘‘ میں دائر، جن مخلص اور بے لوث علماء نے اپنا خون جگر دے کر مقدمہ کی پیروی کی۔ ان میں اہل اسلام اور علمائے دیوبند کے ترجمان کی حیثیت سے حضرت علامہ کشمیری صاحب کے ہمراہ حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب کو بھی شرکت کا شرف حاصل ہوا۔

24

۷؍محرم الحرام ۱۳۵۲ھ، مطابق ۲؍مئی ۱۹۳۳ء میں حضرت علامہ کشمیری کے انتقال کے بعد آپ نے مختار مدعیہ کی حیثیت سے ۱۹۳۳ء سے ۱۹۳۵ء تین برس تک بنفس نفیس مقدمہ کی پیروی فرمائی اور اس میں شاندار اور تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ ’’روئیداد مقدمہ بہاول پور‘‘ کے نام سے تین جلدوں پر مشتمل مطبوعہ ذخیرے میں آپ کا بیان اور قادیانیوںکے جواب کا جواب الجواب آج بھی آپ کے علمی شاہکار کا ایک نادر باب ہے۔ کتاب کی تقریظات سے حضرت ممدوح سے متعلق چند سطریں بطور نمونہ درج کی جاتی ہیں جس سے قارئین مقالہ کو بہت کچھ تاریخی حقائق معلوم ہوں گے۔

کتاب ’’روئیداد مقدمہ بہاول پور‘‘ کے ناشر ادارہ، اسلامک فاؤنڈیشن لاہور کے رکن مجلس عاملہ جناب میر عبدالماجد سید نے حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے لکھا ہے: ’’یہاں یہ عرض کرنا خلاف حقیقت نہ ہو گا کہ آج کے پرآشوب دور میں ماضی کے جن علماء وفضلاء واکابرین کے اقوال کو بطور سند پیش کیا جاتا ہے ان میں استاذ الاساتذہ شیخ المحدثین امام العصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری، شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، علامۃ الدہر فہامۃ العصر حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی اور شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری جیسے مشاہیر شامل ہیں جنہوں نے بہ نفس نفیس عدالت میں پیش ہو کر اپنی شہادتیں قلمبند کرائیں اور فریق ثانی کی شہادت پر براہین ودلائل سے ایسی باطل شکن جرح فرمائی جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل وفریب کے تمام پردوں کو پارہ پارہ کر کے فرقہ ضالہ کا ارتداد پورے عالم میں آشکارہ کر دیا۔‘‘

(روئیداد مقدمہ بہاول پور ص۹)

’’مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ کی جانب سے علامۃ العصر، اسوۃ البصر، قدوۃ الخلف حضرت سید مولانا انور شاہ کشمیری قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم، عالم نبیل وفاضل جلیل حضرت مفتی محمد شفیع، علامۃ الدہر فہامۃ العصر حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی، رئیس المناظرین ورأس المتکلمین حضرت سید محمد مرتضیٰ حسن چاندپوری، فاضل جلیل حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حسین کولوتارڑوی، جامع علوم وفنون حضرت مولانا نجم الدین اور شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری نے بہ نفیس نفیس عدالت میں پیش ہو کر قرآن پاک، احادیث متواترہ اور اجماع امت کی روشنی میں براہین ودلائل سے مرزاقادیانی اور اس کے متبعین کے کفر وارتداد کو روزروشن کی طرح آشکارہ کیا۔ جب کہ عبدالرزاق (مرزائی) مدعا علیہ کی جانب سے مرزائی جماعت کے صف اوّل کے مبلغین (مرزائی پنڈت) جلال الدین شمس وغلام احمد نے پیروی مقدمہ کی۔‘‘

(روئیداد مقدمہ بہاول پور ص۱۴)

اسلامک فاؤنڈیشن کے سرپرست اور متکلم اسلام حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے خلف الرشید حضرت مولانا عبدالمالک شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور اپنے پیش لفظ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’مرزائی مدعا علیہ کی حمایت کے لئے قادیانیوں کا پورا سرمایہ ان کی حمایت اور انگریزی سرکار کی سرپرستی بڑی وزنی چیز تھی اور عالم اسباب میں توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ مدعی مسلمان خاتون اپنے دعویٰ میں کامیاب قرار دی جاسکے۔ لیکن حضرت شیخ الجامعہ نے مدعیہ کی طرف سے شہادت اور اس کے مؤقف کی حمایت تثبیت کے لئے دارالعلوم دیوبند کے اکابر علماء کو دعوت دی کہ وہ بہاول پور تشریف لا کر مقدمہ کی پیروی کریں۔ اس صورتحال پر شیخ الاسلام حضرت علامہ انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاندپوری، حضرت مولانا نجم الدین، مولانا ابوالوفاء اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مفتی دارالعلوم دیوبند، بہاول پور تشریف لائے۔‘‘

(روئیداد مقدمہ بہاول پور ص۲۵)

25

اسی طرح مخدوم العلماء والصلحاء حضرت خواجہ خان محمد صاحب نقشبندی امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے اپنی تحریر میں اس مقدمہ میں پیروی کے لئے عوام وخواص کی جانب سے علمائے دیوبند کو منتخب کئے جانے پر روشنی ڈالی ہے۔ حضرت فرماتے ہیں: ’’لیکن اس مقدمہ کی پیروی اور امت محمدیہ کی طرف سے نمائندگی کے لئے سب کی نگاہ انتخاب دارالعلوم دیوبند کے فرزند شیخ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیری پر پڑی۔ مولانا غلام محمد کی دعوت پر اپنے تمام تر پروگرام منسوخ کر کے مولانا محمد انور شاہ کشمیری بہاول پور تشریف لائے۔ ان کے تشریف لانے سے پورے ہندوستان کی توجہ اس مقدمہ کی طرف مبذول ہو گئی۔ بہاول پور میں علم کی موسم بہار شروع ہو گئی۔ اس سے مرزائیت کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔ انہوں نے بھی ان حضرات علماء کی آئینی گرفت اور احتسابی شکنجہ سے بچنے کے لئے ہزاروں جتن کئے۔ مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد حسین کولوتارڑوی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوری، مولانا نجم الدین، مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری اور مولانا محمد انور شاہ کشمیری کے ایمان افروز اور باطل شکن بیانات ہوئے۔ مرزائیت بوکھلا اٹھی۔ ان دنوں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری پر اللہ رب العزت کے جلال اور حضور سرور کائناتa کے جمال کا خاص پرتو تھا۔ وہ جلال وجمال کا حسین امتزاج تھے۔ جمال میں آکر قرآن وسنت کے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوار جھوم اٹھتے اور جلال میں آکر مرزائیت کو للکارتے تو کفر کے ایوانوں پر زلزلہ طاری ہو جاتا۔ مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری نے اس مقدمہ میں مختار مدعیہ (مرحومہ عائشہ بنت مولانا الٰہی بخش) کے طور پر کام کیا۔‘‘

(روئیداد مقدمہ ص۳۱)

’’عدالت عظمیٰ ریاست بہاول پور سے مقدمے کی واپسی پر جب ازسرنو تحقیقات شروع ہوئی تو مسماۃ غلام عائشہ کی جانب سے مختلف اوقات میں مختلف اکابرین نے بطور مدعیہ پیروی مقدمہ کی۔ ۱۹۳۳ء میں جب فریق ثانی کی شہادت شروع ہوئی تو ہندوستان کے شہرۂ آفاق رأس المتکلمین حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب بطور خاص دیوبند سے بہاول پور تشریف لائے۔ آپ کو فن مناظرہ میں یدطولی حاصل تھا۔ آپ نے بحیثیت مختار مدعیہ تین برس عدالت میں پیروی مقدمہ فرمائی۔‘‘

(ازادارہ ۱۲۵۳)

نمونے کی ان سطروں میں مستند اور معتبر اکابر علمائے امت نے ’’شہرۂ آفاق، رئیس المتکلمین‘‘ وغیرہ جن وقیع الفاظ میں آپ کا ذکر خیر کیا ہے اس سے آپ کا علمی مقام اور آپ کی بلند پایہ خدمات کا اندازہ لگانا قارئین کے لئے اب مشکل نہیں ہو گا۔ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء میں جج محمد اکبر صاحب نے اس مقدمہ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں سنایا۔

حضرت مولانا کو اپنے وطن سے ہزاروں کلومیٹر دور موجودہ پاکستان میں ملتان کے قریب بہاول پور میں قائم اس مقدمے سے کس قدر گہرا لگاؤ تھا اور آپ نے اس کے لئے کیا کیا قربانیاں دی ہیں؟ اس کے بھی بڑے گہرے نقوش تاریخ نے اپنے سینوں میں محفوظ رکھے ہیں۔ اگر قارئین مضمون اکتاہٹ نہ محسوس کریں تو ایک تاریخی دستاویز اس قربانی سے متعلق بھی پیش کرتا چلوں۔ جس میں آپ دیکھیں گے کہ مقدمہ کے دوران حضرت مولانا مدرسہ قیومیہ شاہجہانپور کے صدر المدرسین تھے اور ادارے کا پورا نظم ونسق سال بھر کے لئے مالیہ کی فراہمی وغیرہ امور حضرت پر ہی موقوف تھے۔ لیکن جیسے ہی اس مقدمے میں حضرت والا کی ضرورت محسوس کی گئی، بلاتؤقف میدان عمل میں آپ نے اپنی پوری توانائی جھونک دی۔ بلکہ مدرسہ کو بھی ماتحتوں کے حوالے کر کے کس استغنائی کیفیت سے مقدمے کی پیروی میں مشغول رہے۔ اس کا پتہ حسب ذیل اشتہار سے لگائیے جو سہ روزہ الجمعیۃ دہلی میں شائع کیاگیا ہے۔

26

چونکہ اہل نظر اس اشتہار کے مشمولات سے بہت کچھ نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ اس لئے راقم سطور اشتہار کو من وعن نقل کر کے اس پر کسی تبصرہ سے گریز کرتا ہے۔ البتہ اس جانب ضرور توجہ دلانا چاہتا ہے کہ یہ اشتہار مشہور زمانہ درسگاہ جامعہ عباسیہ بہاول پور کے شیخ الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی جیسی نابغۂ روزگار علمی ہستی کی جانب سے ہے، جنہوں نے مقدمہ میں حضرت مولانا ابوالوفاء کی مصروفیات کے پیش نظر کہ کہیں موصوف کے مدرسہ کو نقصان نہ پہنچ جائے، مدرسہ کی اعانت کے لئے ازخود اشتہار شائع فرمایا ہے۔ بلکہ اپنے جملہ متعلقین کو بھی اس کے شائع کرنے کا پابند بناتے نظر آرہے ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا یہ انوکھا اشتہار بلاشبہ تحفظ ختم نبوت کے خدام کے لئے ایک تاریخی دستاویز ہے اور قربان جائیے کہ تحفظ ختم نبوت کی خدمت میں کیا قابل صد رشک نصیبہ پایا۔ حضرت مولانا ابوالوفاء نے اور تحفظ ختم نبوت کی خدمت لینے میں کیا قابل صد فخر قدردانی کا حق ادا کیا۔ حضرت شیخ الجامعہ نے کہ اپنے مابعد والوں کے لئے ایک سبق آموز تاریخی مثال قائم کر گئے۔ باری تعالیٰ ان مخلصین پر رحمت برسائے اور اپنے کرم سے ہم خوردوں کو بھی اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

  1. نظر من در دو جہاں باعزت و تمکین باد

    ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

اب ملاحظہ فرمائیے اشتہار:

مدرسہ قیومیہ شاہجہانپور … مسلمانوں کی خدمت میں ایک اپیل

’’مدرسہ قیومیہ اگرچہ ہم سے تقریباً ایک ہزار میل پر واقع ہے۔ مگر اس کے فیوض سے پنجاب بھی بہت کچھ مستفیض ہے۔ اس مدرسہ کی مذہبی، تعلیمی وتبلیغی خدمات اور باطل کے استیصال اور اہل حق کی تائید میں مساعی غالباً ہندوستان وپنجاب کے کسی حصہ میں مخفی نہیں۔‘‘

مشہور تاریخی مقدمہ بہاول پور میں جو مرزائیوں اور مسلمانوں کے درمیان معرکۃ الآراء چل رہا ہے اس میں علاوہ دیگر اکابرین علماء ہند کے حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب نعمانی صدر مدرس وپرنسپل مدرسہ قیومیہ بالخصوص قابل ذکر ہیں جو ایک سال سے تقریباً اس مقدمہ میں اپنی بے لوث خدمات سے تمام مسلمانان ہند وعلماء کرام کی نیابت کا فرض باحسن وجوہ ادا کر رہے ہیں اور اکتوبر سے تو مسلسل ہر ماہ کا بڑا حصہ یہیں اسی سلسلے میں گزرا۔ آپ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مرد خدا علم دین وقانون کی دونوں خدمتیں بیک وقت حسبۃ اللہ ادا کر رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ بطور معین ناظم مدرسہ قیومیہ مولانا محمد قاسم صاحب بھی ہیں۔

بانی مدرسہ کے انتقال کے بعد اس مدرسہ کی آمدنی کا دارومدار حضرات اہل خیر رنگون وبرہماں (موجودہ برما Myanmar) کی اعانت پر تھا جو رمضان میں ناظم مدرسہ خود جاکر لے آتے تھے یا کبھی کچھ اعانت باشندگان مصوری نے کر دی ہے۔ اس کے سواء کوئی مستقل چندہ نہیں۔ چونکہ اس مرتبہ یہ حضرات اس اسلامی خدمت اور سید المرسلین خاتم النّبیینa کی حفاظت ناموس میں سرگرم ہیں اور غالباً اس کے واسطے کوئی بھی سعی نہیں کر سکتے۔ پس میں حضور سرکار دوعالمa کے شیدائیوں اور تمام اہل خیر باشندگان پنجاب وہندوستان خصوصاً حضرات رنگون سے پرزور حسبۃ ﷲ اپیل کرتا ہوں کہ اس کی اہمیت کا خیال فرماتے ہوئے اس کی طرف دست اعانت دراز فرمائیں اور اسی بابرکت ماہ میں اس کی اس قدر اعانت فرمائیں کہ اگلے سال یہ چشمہ علم وعمل چلتا رہے اور دشمنوں کی شماتت کا موقع نہ ملے۔ دیگر جرائد اسلامیان ہند اور برہما خصوصاً اخبار ’’شیررنگون‘‘ سے عرض ہے کہ اسے شائع فرمائیں اور اپنے نوٹ بھی اس کے متعلق لکھ کر اسلامیان ہند اور علماء کرام پر احسان فرمائیں۔

27

نوٹ: ترسیل زر بنام حاجی صدیق احمد سائیکل مرچنٹ شاہجہانپور مہتمم مالیات مدرسہ قیومیہ ہونی چاہئے۔

غلام محمد گھوٹوی شیخ الجامعہ بہاول پور

(سہ روزہ الجمعیۃ دہلی ج۱۹ ش۱ ص۸، یوم دوشنبہ ۱۴؍رمضان المبارک ۱۳۵۲ھ، مطابق یکم؍جنوری ۱۹۳۴ء، محفوظات مرکز التراث الاسلامی نمبر۱۹۳۴-۱۷)

دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت مبلغ تقرر

دارالعلوم دیوبند کے محافظ خانہ سے موصولہ دستاویزات کے مطابق دارالعلوم دیوبند میں جب مستقل طور پر شعبۂ تبلیغ کا قیام عمل میں لایا گیا تو باضابطہ پہلے آپ سے دیوبند میں اس خدمت کے لئے تشریف آوری کی رائے معلوم کی گئی۔ جب آپ دیوبند میں قیام پذیر رہنے پر آمادہ ہوئے تو پھر آپ ہی کو اس شعبہ کا مبلغ اور ناظم بنایا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی مبلغین کا تقرر ہوا کرتا تھا۔ لیکن ان کی تبلیغ مساعی کا نظام شعبۂ تنظیم وترقی کے ماتحت ہوتا تھا۔ ملک میں اسلامی عقائد وتعلیمات اور مسلک دیوبند کی توسیع واشاعت کے لئے دارالعلوم دیوبند کے ارباب حل وعقد نے جب ضرورت محسوس کی تو شعبۂ تبلیغ کو مستقل طور پر قائم کر کے کثیر تعداد میں ذی استعداد اور فن مناظرہ وغیرہ میں مہارت رکھنے والے علماء کا بحیثیت مبلغ تقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس خدمت میں وسعت دینے کے لئے باضابطہ دارالعلوم دیوبند نے حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری سے رابطہ کیا اور حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند کے حکم نامہ کے مطابق ۳؍ذیقعد ۱۳۶۰ھ مطابق ۲۲؍نومبر ۱۹۴۱ء میں موصوف کا بحیثیت مبلغ وناظم شعبۂ تبلیغ تقرر عمل میں آیا۔

دارالعلوم دیوبند میں موصوف کے تقرر کے موقع پر دفتر اہتمام سے جو فرائض تفویض کئے گئے ان کی تصویب وتائید بحیثیت صدر مہتمم حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی اور بحیثیت صدر المدرسین حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے بھی فرمائی۔ تقرر نامے پر ان دونوں اکابر کی دستی تائیدات ثبت ہیں۔ نیز اسی موقع سے ان اکابر نے شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند اور حضرات مبلغین کے لئے ۱۸؍اصول وضع فرمائے تاکہ اس شعبہ کی افادیت وکارکردگی کو مثالی بنایا جاسکے۔

دارالعلوم دیوبند کی مطبوعہ روئیداد سالانہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نگرانی میں چار علماء کرام بحیثیت مبلغ دارالعلوم میں خدمات انجام دیتے رہے۔ (۱)مولانا ابوالوفاء مبلغ وناظم شعبہ کی حیثیت سے، (۲)جناب مولانا عبدالجبار ابوہری مبلغ، (۳)مولانا عتیق الرحمن آروی معین مبلغ، (۴)مولانا شاہ علی بستوی سفیر ومبلغ کی حیثیت سے خالص تبلیغی اسفار پر مامور تھے۔

ان اکابر کی خدمات کے سلسلہ میں مطبوعہ روئیداد سالانہ میں اختصار کے ساتھ دفتر اہتمام دارالعلوم سے جو رپورٹ درج ہے وہ حسب ذیل ہے۔ ’’تبلیغ خدمات کو زیادہ وسیع اور منظم کرنے کے لئے اس سال شعبۂ تبلیغ کو ایک مستقل ناظم کے ماتحت کردیا گیا ہے اور مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری کی خدمات اس شعبہ کو کامیاب بنانے کے لئے بعہدۂ ناظم حاصل کر لی گئی ہیں۔ مولانا عبدالجبار ابوہری کی خدمات بھی اسی سال شعبۂ تبلیغ کو حاصل ہوئی ہیں۔ اس سال حضرات مبلغین نے ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً دوسو(۲۰۰) تقریریں کیں اور اپنے مواعظ میں اعمال صالحہ کی ترغیب دی۔ افعال قبیحہ سے مجتنب رہنے کی ہدایت کی اور مذاہب باطلہ کا رد کیا۔‘‘

(روئیداد سالانہ دارالعلوم دیوبند ص۷، بابت ۱۳۶۰ھ)

اس کے بعد اگلے سال کی کارکردگی سے متعلق مرقوم ہے کہ: ’’۱۳۶۱ھ، مطابق ۱۹۴۲ء میں دارالعلوم دیوبند کے چار لائق مبلغوں نے ناظم شعبہ تبلیغ کی رہنمائی میں اور نگرانی میں وسیع پیمانے پر تبلیغی خدمات انجام دیں۔ ایک سال کی مختصر مدت میں ان حضرات نے (۴۶۷) مقامات کا سفر کر کے (۶۲۲) تقریریں کیں اور اپنے مواعظ میں اعمال صالحہ کی ترغیب دی۔ افعال قبیحہ سے مجتنب رہنے کی ہدایت

28

کی اور مذاہب باطلہ کا رد کیا۔ الحمدﷲ! کہ ان کی تبلیغی سرگرمیاں بہت نتیجہ خیز رہیں اور عام مسلمانوں کی اصلاح کے علاوہ چار غیرمسلم مشرف باسلام ہوئے۔فالحمد ﷲ علیٰ ذالک!‘‘

(روئیداد سالانہ دارالعلوم دیوبند ص۷، بابت ۱۳۶۱ھ)

بلاشبہ روئیداد مختصر ہے لیکن اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تبلیغ کی قابل قدر افادیت تھی اور اس کے کارہائے نمایاں سے عوام وخواص سبھی کو زبردست فائدہ پہنچ رہا تھا۔ یہ حضرات مبلغین، اصلاحی وتربیتی بیانات کے ساتھ ساتھ ملک کے طول وعرض میں باطل فرقوں کے ردوتعاقب میں بھی بھرپور سرگرم عمل رہا کرتے تھے اور ان میں حضرت مولانا ابوالوفاء کا ایک نمایاں مقام تھا۔

حضرت مولانا کی ایک دستی تحریر شعبۂ تبلیغ کے مراسلہ نمبر۹۴۸، مجریہ ۲۱؍ذیقعدہ ۱۳۶۱ھ، مطابق ۳۰؍نومبر ۱۹۴۲ء سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا ابوالوفاء کا قیام کسی وجہ سے زیادہ دنوں نہ رہ سکا۔ سال بھر کے بعد یہ عارضی تقرر آگے نہ بڑھا اور آپ اپنے وطن واپس ہو گئے۔ حضرت مولانا کی دستی تحریر اور اس پر دفتر اہتمام کی کارروائی کے بعد کی صورتحال ادم تحریر راقم سطور کو دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ان شاء اللہ ! دستیاب ہونے پر اس کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

وعظ وخطابت کے میدان میں

اس گوہر یکتا میں خالق کائنات اللہ رب العزت نے علمی اور عملی وقار واعتبار کے ساتھ ایک خاص قسم کی استغنائی صفت بھی ودیعت کر رکھی تھی۔ باوجود اس کے کہ آپ کو وعظ وخطابت سے ایک خاص شغف تھا اور اسی خدمت کو اپنے لئے ذریعہ نجات سمجھ کر اس سے وابستہ رہتے تھے۔ اپنے فکر وفن میں حد درجہ خلوص وللہیت کا اثر اس قدر غالب تھا کہ تدریسی خدمات وماحولیات میں مدارج علیاء طے کرنے اور مناصب جلیلہ پر فائز ہونے کے شوق سے کوسوں دور رہتے تھے۔ چنانچہ عوام وخواص میں آپ کی تبلیغی مساعی اور ان کی افادیت کا نہ صرف یہ کہ زمانہ معترف ہے بلکہ آج بھی اہل علم اور علمائے ربانی، دل کی گہرائیوں سے آپ کو خراج عقیدت ومحبت پیش کرتے ہیں۔ شدھی سنگھٹن کی ارتدادی تحریک میں مخالفین کو دلائل وبراہین سے قائل کرنا، قادیانیت جیسے زہریلے فتنے سے زندگی بھر نبردآزماں رہنا اور نبی پاکa کے عشق ومحبت میں بے لوث تحفظ ختم نبوت کی خدمات سے وابستگی، بدعات وخرافات سے ملت اسلامیہ کو بچانا اور سنت نبویﷺ پر عمل رہنے کی اعلانیہ دعوت وتلقین، باطل کی خرمن گاہوں پر اسلامی دلائل وبراہین کی گولہ باری، مسلک اہل السنۃ والجماعۃ مکتب فکر دیوبند کی ترویج واشاعت اور نت نئے درپیش ملکی وملی مسائل میں اکابر علمائے دیوبند کے مشن سے والہانہ وابستگی وغیرہ خدمات کے باب میں آپ کی جو نمایاں مساعی جمیلہ ہیں وہ ایک مستقل باب کی حیثیت سے ایک مستقل کتاب کی متقاضی ہیں جس کے ثبوت وشواہد تحریری اور زبانی آج بھی دستیاب ہیں۔ لیکن مضمون کی طوالت کے خوف سے راقم سطور ان سے یہاں صرف نظر کرنے پر مجبور ہے۔

فرقہائے باطلہ سے حق بات منوانے کے لئے فن مناظرہ میں خداداد صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا کو اللہ تعالیٰ نے مقبول ومفید انداز بیان سے بھی خوب خوب نوازا تھا اور سیرت نبویﷺ اور معراج النبیﷺ کے موضوع پر بیان کرنے کا خاص ملکہ حاصل تھا اور آپ کا شمار ہندوستان کے چوٹی کے مقررین میں ہوتا تھا۔ جوانی کے زمانے میں آپ کے وعظ میں گھن گرج کا پہلو غالب رہتا اور مجال کیا، جو کسی سے مرعوب ہوں۔ آپ کے بیانات کے سامعین کا تأثر یہ ہے کہ آپ کے لب ولہجہ میں شاہجہانپوری اور سیتاپوری لہجے کا غالب عنصر تھا۔ لیکن سلاست وروانی اور برجستگی، جملوں کی ادائیگی میں صفائی اور جذب اس قدر ہوتا تھا کہ عمر کے اخیر حصے میں بھی آپ کا بیان کسی بھی خطہ اور کسی بھی علاقہ کے علمائے وقت بھی بڑی دلچسپی سے سنتے اور آپ کے علمی عرق ریزیوں سے استفادہ کرتے تھے۔ جب آپ کرسی

29

خطابت پر جلوہ افروز ہوتے تو بحر ذخار کی طرح بغیر کسی تلاطم کے بے تکلف کئی کئی گھنٹے انتہائی شستہ انداز میں تقریر کرتے چلے جاتے۔ انتہائی پروقار سماں ہوتا جس میں سامعین محو حیرت آپ کو دیکھتے رہتے۔ یہ وہ دور تھا جس میں خطیب زمانہ امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، حکیم الاسلام قاری محمد طیب، سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی جیسے حضرات موجود تھے۔ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ شاہجہانپوری ثم دہلوی کا بیان بھی واعظانہ انداز میں سیرت النبیﷺ پر ہی ہوتا تھا۔ اسی لئے پورے ملک میں آپ کی یکساں مقبولیت تھی اور آپ کی شرکت جلسوں کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ آپ کے برادر نسبتی حضرت مولانا محمد قاسم بھی آپ کے نقش قدم پر سیرت النبیﷺ کے بلند پایہ خطیب مانے جاتے تھے۔

اکابر علمائے دیوبند کی طرح آپ نے بھی ہندوستان کی آزادی میں نمایاں اور سرفروشانہ کردار ادا کیا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور دیگر اکابر کے شانہ بشانہ ہندوستان کو آزاد کرانے میں آپ کی بڑی قربانیاں ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند سے بھی گہری وابستگی رہی اور جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے آپ کی خدمات کا ایک طویل باب ہے۔

۱۹۴۸ء کا سال غیرمنقسم ہندوستان کے لئے اپنے اندر کیا کیا بلاخیز داستانیں رکھتا ہے۔ اس سے تقریباً سبھی لوگ واقف ہوں گے۔ ان حالات میں ممبئی میں زیرصدارت شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی جمعیۃ علمائے ہند کا پندرھواں اجلاس عام منعقد ہوا، جس میں ملک وملت کے مسائل کو لے کر جو تجاویز پاس ہوئیں ان کو روبہ عمل لانے کے لئے جن بالغ نظر اور موضوع پردسترس رکھنے والے اہل علم کی باضابطہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، ان میں نمایاں نام حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری کا بھی ملتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے اجلاس عام کی تجویز نمبر اور اراکین کمیٹی کے اسماء گرامی۔

’’جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس مرکزی وصوبائی حکومتوں کی ان کوششوں کو بنظر استحسان دیکھتا ہے جو تعلیم کو عام کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ لیکن یہ اجلاس اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے دینی تعلیم ضروری ہے۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ابتدائی تعلیم کی تعمیم کے لئے جو بھی تدبیریں اختیار کی جائیں ان میں اس امر کا لحاظ رکھا جائے کہ مسلمان طلباء کے لئے ساتھ ہی ساتھ دینی تعلیم کے حصول کے مواقع باقی رہیں اور دینی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو جائے۔ اجلاس ہذا مندرجہ ذیل حضرات کی ایک کمیٹی منتخب کرتا ہے تاکہ وہ ذمہ دار اور متعلقہ ارکان حکومت سے اس مقصد کے لئے ضروری تبادلۂ خیال کر کے مناسب صورتیں اختیار کریں۔‘‘

ارکان کمیٹی کے نام حسب ذیل ہیں: (۱)مولانا عبدالحلیم صدیقی، (۲)مولانا مفتی عتیق الرحمن، (۳)مولانا شفیق الرحمن قدوائی، (۴)مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری، (۵)مولانا بشیراحمد کھٹوری، (۶)مولانا محمد میاں ناظم جمعیۃ علمائے ہند۔

(دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام ۱۹۴۸ء تا ۲۰۰۳ء ص۳۹)

جمعیۃ علماء سے حضرت موصوف کی طویل عرصہ تک وابستگی اور متعلقہ خدمات کا شمار ایک مستقل باب کا متقاضی ہے۔ اس کے لئے زیرقلم مضمون میں زیادہ جگہ لینے کی گنجائش اس لئے نہیں کہ اختصار دراختصار سے اس عنوان کا حق ادا نہیں ہوسکتا تاہم مذکورہ اقتباس سے یہ اندازہ لگانا کسی کے لئے مشکل نہیں رہا کہ ملک وملت کے اس متحدہ ومتفقہ پلیٹ فارم سے آپ کی خدمات نہایت مقبول ولائق صد تحسین رہی ہیں۔ بلکہ اپنی عمر عزیز کا بڑا قیمتی وقت آپ نے اس تنظیم کی آبیاری میں کھپایا ہے۔

شاہجہانپور کے علماء کی تاریخ ’’سرزمین شاہجہانپور کے علمائے فحول‘‘ میں مصنف نے لکھا ہے۔ نیز اس کی تائید آپ کے پوتے جناب ضمیر احمد صاحب نے بھی کی ہے کہ جب حکومت ہند نے تحریکات آزادی کے سلسلہ میں آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے وظیفہ کی

30

پیشکش کی تو مولانا مرحوم نے دوٹوک اور بڑاانوکھا جواب اس وقت کی وزیراعظم ’’اندراگاندھی‘‘ کو دیا کہ میں نے تیرے لئے کچھ نہیں کیا جو کچھ کیا اپنی قوم اور اپنے ملک کے لئے کیا ہے تو اس کا صلہ میں تم سے نہیں چاہتا۔

فرقہائے باطلہ کے ردوتعاقب میں انجمن اظہار حق کا قیام

دور تحریک خلافت کے ختم ہوتے ہی برصغیر میں کفر وارتداد کی آگ ایک دم بھڑک اٹھی جس سے کوئی شہر، قصبہ اور قریہ محفوظ نہ رہ سکا۔ چنانچہ شہر شاہجہانپور کے اطراف میں بھی ارتدادی تحریکوں کی ریشہ دوانیاں ہونے لگیں اور یہاں طرفہ یہ تھا کہ علاوہ بیرونی حملوں کے اندرونی حملوں نے مسلمانوں کا ایمان مزید خطرہ میں ڈال دیا۔ غیرمسلم قوتوں سے شہ پا کر قادیانی جماعت نے بھی اپنے ارتدادی مشن کا مستقل جال بچھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ دیکھتے ہی دیکھتے فضاء کچھ ایسی بننے لگی کہ جس سے خیال ہونے لگا کہ تھورے ہی عرصہ میں شاہجہانپور اور اس کے اطراف میں قادیانی ہی قادیانی نظر آئیں گے۔ شاہجہانپور میں اس وقت تک ارتدادی تحریکات اور بالخصوص قادیانی فتنہ کے سدباب کے لئے کوئی مستقل انجمن موجود نہیں تھی۔ کچھ علماء اور مخلص کارکنان حسن اتفاق سے جمع ہو گئے، جنہوں نے دفاع اسلام کی متواتر اور کامیاب کوششیں کیں جن سے شہرواطراف شہر میں آریہ سماجی اور قادیانیت کا فتنہ کچھ کم ہونے لگا۔ ان علماء کے اخلاص اور حسن کارکردگی کو دیکھ کر اللہ کے بعض مخصوص بندوں نے شیرازہ کو منظم کرنے کی سعی کی اور سب کو جوڑ کر ایک انجمن کی بنیاد رکھی گئی جو آج ’’اصلاح المسلمین‘‘ کے مبارک نام سے متعارف ہے۔ مگر اس وقت اس انجمن کا نام ’’انجمن اظہار حق‘‘ تھا۔

انجمن کے عظیم کارناموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان ۱۳۴۵ھ، مطابق مارچ ۱۹۲۷ء میں جب جلال آباد کے اطراف موہن پور وغیرہ میں شدھی تحریک کا زور ہوا اور مسلمانوں کی غفلت کے سبب زبردست ارتداد کا سیلاب آیا تو ’’انجمن اظہار حق‘‘ نے اپنے کارکنان میں سے چار علماء کو جو تعطیل رمضان کے باعث اپنے وطن میں تھے دوردراز سے بلا کر ارتداد زدہ علاقوں میں روانہ کئے۔ ماشاء اللہ ! ان حضرات کی مساعی کامیاب رہیں۔ یوں سمجھئے کہ ہزاروں مسلمانوں کا ایمان بچ گیا۔ انجمن کے فرستادہ مخصوص علماء نے شہر کے اور اس کے اطراف نیز جلال آباد، پوایاں، تلہر وغیرہ میں تبلیغ ووعظ کے واسطے چھوٹے چھوٹے دورے کئے جس سے بہت نفع پہنچا۔

’’رنگیلا رسول‘‘ کے مقدمہ کے دوران حضرت مولانا ابوالوفاء کے شہر شاہجہانپور اور تحصیل پوایاں، تلہر، جلال آباد وغیرہ کی اکثر مساجد میں تقریریں ہوا کرتی تھیں۔ آپ نے بیانات کے ذریعہ مسلمانوں میں صحیح جذبات پیدا کر کے ان کے اقتصادی حالات درست کرانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس دوران آپ کے دست حق پرست پر بہت سے غیرمسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے جن کے نام برابر اخبارات میں شائع ہوتے رہے اور بعضوں کو اپنے مصارف سے چھوٹی چھوٹی تجارت، پان وغیرہ کی دکان کا بھی انتظام کرادیا۔

(خلاصہ دو سالہ روئیداد انجمن اصلاح المسلمین شاہجہانپور مؤرخہ ۱۲؍اگست ۱۹۲۸ء)

یہی وہ خوش نصیب انجمن ہے جس کا نام ’’انجمن‘‘ تھا۔ لیکن کام تمام کا تمام تحفظ ختم نبوت کا تھا۔ اس انجمن نے شاہجہانپور میں قادیانیوں سے مقابلہ، مباحثہ اور ان کے خلاف سینہ سپر رہنا اپنے مقاصد اصلیہ میں شامل کر رکھا تھا۔ بڑے بڑے علماء کو اس موضوع پر خطاب کی دعوت دیتے۔ محلہ تارین بہادر گنج میں مناظر اسلام محدث کبیر مولانا بدر عالم میرٹھی جیسے اکابر کے معرکۃ الآراء خطابات اس کی نگرانی میں ہوئے۔ اسی طرح نوری مسجد محلہ تارین ٹکلی کے متعلق قادیانیوں کی جانب سے دائر کردہ مشہور مقدمہ کی پیروی اسی انجمن کے عہدہ داروں نے شروع کی اور اس میں کامیابی کا ایسا ریکارڈ قائم کیا کہ جسے زمانہ کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ اس فتح نے شاہجہانپور سے قادیانی فتنہ کا

31

خاتمہ کر دیا۔ بحمد اللہ ! اس کا ریکارڈ ’’مرکز التراث الاسلامی دیوبند‘‘ کے پاس محفوظ ہے۔ اس مقدمہ کی تفصیلی روئیداد کے لئے ملاحظہ فرمائیے: ’’تحفظ ختم نبوت کے مثالی سپوت متکلم اسلام حضرت مفتی عبدالغنی پٹیالوی ثم شاہجہانپوری‘‘ مطبوعہ مرکز التراث الاسلامی دیوبند اور ’’انکشاف حقیقت‘‘ مرتبہ جناب مولانا اکرام اللہ قاسمی صاحب مطبوعہ شاہجہانپور۔

مضمون کی طوالت کا احساس راقم سطور کو ستائے جارہا ہے۔ لیکن میدان قلم کے باذوق احباب جانتے ہیں کہ ثبوت وشواہد کی زبان اپنے اندر الگ ہی ایک چاشنی اور جذب رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں چونکہ مذکورہ انجمن کی مطبوعہ روئیداد تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اس میں تحفظ ختم نبوت وردقادیانیت سے متعلق کئی تاریخی خدمات کے ثبوت وشواہد بھی پوشیدہ ہیں۔ اس مناسب سے وقت کا تقاضا یہ ہے کہ محض خلاصہ لکھنے پر اکتفاء نہ کر کے اس کے اقتباسات سے بھی قارئین مضمون کو روشناس کرایا جائے۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ راقم سطور پر اگر کسی کو تاریخ کشید کرنے کا وہم وگمان ہو گا تو وہ بھی دور ہو جائے گا۔ ان فوائد کے پیش نظر ملاحظہ فرمائیے۔ روئیداد کے مرتب جناب حکیم محمد علی انصاری صاحب مرحوم کا تحریر کردہ متن موصوف لکھتے ہیں: ’’زمانہ کے حالات اور تجربات نے ہمیں بتلا دیا ہے اور طول وعرض ہند کے اندر جن تبلیغی انجمنوں نے میدان ارتداد میں کام کیا ہے ان کی روئیداد اس امر پر مشعر ہیں۔ نیز قائدین اور مبلغین عظام کی اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ عارضی اور ہنگامی تبلیغ کے بجائے ٹھوس مستقل اور تدریجی تعلیم ہمیشہ مفید مؤثر اور کامیاب ہوتی ہے۔ کسی محل ارتداد میں کسی واعظ اور مبلغ کا پہنچ کر تقاریر اور مناظروں کا کرنا ممکن ہے کہ وقتی طور پر مفید اور کامیاب ہوا اور اس وقت فوری اثرات ہمارے لئے کارآمد ہوں۔ مگر جونہی یہ اثرات رفع ہوں گے حقیقی مقاصد بھی دور ہوتے جائیں گے۔ اس کے برعکس کسی گاؤں میں ایک معلم ہم بھیجتے ہیں جو وہاں کے بچوں کو ضروریات دین سکھاتا ہے اور اوقات فرصت میں ان کے ضعفاء اور جوانوں کے اعمال واخلاق کی بھی اصلاح کرتا ہے تو وہ بیک وقت ہمارے واسطے معلم، امام، مناظر اور مولوی کا کام دیتا ہے اور بالخصوص جب کہ اس کے قول وپند، اس کے اعمال کے مطابق ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انجمن نے اپنی توجہ دیہاتی مکاتب کی طرف زیادہ رکھی ہے۔ اب میں انجمن کی دو سال کے کاموں پر مختصر تبصرہ کرتا ہوں۔

۲… محلہ تارین بہادر گنج میں مولانا بدرعالم صاحب میرٹھی (مناظر اسلام) کی ایک معرکۃ الآراء تقریر محاسن اسلام اور محامد سردار دوعالمa اور دیگر مقامی ضروریات پر ہوئی۔ اس کے علاوہ مختلف جلسے مختلف مساجد وغیرہ میں کئے گئے۔

۳… مدتوں سے ایک مقدمہ محلہ تارین ٹکلی کی مسجد کے متعلق قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان تھا۔ اس کی پیروی انجمن کے عہدہ داروں نے شروع کی اور اس میں اس قدر سعی بلیغ کی جسے اہل شاہجہانپور کبھی فراموش نہیں کر سکتے اور جس کی عظیم الشان کامیابی کی مسرت اب تک مسلمانوں کے دلوں سے زائل نہیں ہوئی۔ اس فتح نے شاہجہانپور سے گویا قادیانی فتنہ کا خاتمہ کر دیا اور ایک حد تک انجمن سبکدوش ہوکر سماجی فتنہ کی روک تھام اور مسلمانوں کی عام اصلاح کی جانب یکسوئی سے متوجہ ہو سکی اور اس وقت سے نئے انتخاب میں اس کا نام اصلاح المسلمین رکھا گیا۔

32

۴… اسی مقدمہ کے دوران میں ایک بیوہ کو انجمن سے بصیغہ تالیف قلوب وظیفہ دے کر ارتداد سے بچایا اور اس کے عقد کا انتظام کیا۔

۵… گزشتہ سے سابق رمضان (۱۳۴۵ھ، مطابق جولائی ۱۹۲۶ء ناقل) کے اوّل عشرہ میں جلال آباد کے اطراف موہن پور وغیرہ میں بڑی شان سے شدھی کا پرچار ہوا اور زبردست ارتداد کا سیلاب آیا۔ انجمن نے اپنے کارکنان کو دوردراز سے بلا کر (جو تعطیلوں میں اپنے وطن میں تھے) موقعہ واردات پرچار اشخاص روانہ کئے۔ الحمدﷲ! ان کی مساعی کامیاب رہیں اور ان کی اور دیگر حضرات کی کوششوں سے امید سے بہت زیادہ نفع پہنچا۔ سمجھئے کہ ہزاروں مسلمانوں کا ایمان بچ گیا۔

۶… انجمن مخصوص کارکنوں نے شہر شاہجہانپور کے اطراف نیز جلال آباد وپوایاں وتلہر وغیرہ میں تبلیغ وتفتیش کے واسطے چھوٹے چھوٹے دورہ کئے جس سے بہت کچھ ٹھوس نفع پہنچا۔

۷… رنگیلا رسول کے مقدمہ کے سلسلے میں شاہجہانپور کی اکثر مساجد میں تقریریں کراکر مسلمانوں میں صحیح جذبات پیدا کر کے ان کی اقتصادی حالت درست کرائی۔ بکری کے گوشت وغیرہ کی اکثر اسلامی دوکانیں اور مسلمانوں سے خرید وفروخت کے جذبات بہت کچھ اراکین انجمن کی سعی کا نتیجہ ہیں۔

۸… اس دوران میں بہت سے غیرمسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے جن کے نام برابر اخباروں میں شائع ہوتے رہے۔ بعضوں کو اپنے مصارف سے پان سگریٹ وغیرہ کی دکانیں بھی کرادیں۔

۹… شہباز نگر میں تبلیغی حیلہ سے قادیانیوں نے قدم جمائے اور پھر مسلمانوں کو فیصلہ کن مناظرہ کا چیلنج دیا جس پر ایک کثیر تعداد کے ایمان وارتداد کا دارومدار تھا۔ انجمن نے فوراً مناظر روانہ کئے مگر قادیانیوں نے فرار کو قرار پر ترجیح دی۔ وہاں ضروری تقریریں کر کے واپس آئے اور یوں بہت مسلمانوں کے ایمان سلامت رہے۔

۱۰… جمعیۃ تبلیغ الاسلام صوبہ کی ایک درخواست پر نومسلموں کی تعلیم کے واسطے قیمت چرم قربانی سے ایک کافی رقم روانہ کی۔

۱۱… اہل قرآن نے بذریعہ اخبارات ورسائل شاہجہانپور میں پروپیگنڈا شروع کیا تھا۔ اس کی مقامی اخبارات میں تردید کی اور اس سے مسلمانوں کو خبردار کردیا۔

۱۲… مخالفین ومترددین سے تبادلہ خیال کے واسطے انجمن نے برابر ایک جماعت تیار رکھی اور اس سے بہت کچھ اصلاح ہوئی۔

۱۳… ہماری قابل ذکر خدمت یہ ہے کہ موضع نودیہ تحصیل پوایاں میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے واسطے ایک مدرسہ جاری کیا جو اس وقت تک قائم ہے۔ اس مدرسہ میں تقریباً ۲۵بچے تعلیم پاتے ہیں۔ اوقات تعلیم کے علاوہ مدرس صاحب وعظ ونصیحت اور مسلمانوں کی عام اصلاح میں اپنا وقت گزارتے ہیں اور گاؤں کی مسجد میں امامت بھی کرتے ہیں۔ اس مدرسہ سے ہماری بہت کچھ امیدیں وابستہ ہیں۔ خدا ان کو جلد پورا کرے۔

۱۴… اراکین انجمن کی سعی سے موضع لودیپور میں تین آدمیوں نے قادیانیت سے توبہ کرتے ہوئے تجدید ایمان کی اور مجمع عام کے سامنے توبہ کرتے ہوئے گاؤں کی مسجد میں اس کی دستخطی تحریر لکھ دی جو اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔

عرضداشت

آخر میں میری گزارش جناب سے ہے کہ یہ کام جواب تک انجمن نے کئے ہیں صرف انبار سے یکمشت ہے۔ ابھی اس کے سامنے مقاصد اور اغراض کی کثرت ہے۔ شہر میں مختلف تبلیغی وتنظیمی کاموں کے علاوہ دیہات میں مکاتب کا قیام نہایت ضروری ہے۔ مگر کیا میں پوچھ

33

سکتا ہوں کہ ہماری موجودہ حالت کب تک اور کس قدر کفالت کر سکے گی؟ میں آپ کے جذبات ملی وقومی سے پرزور مرافعہ کرتا ہوں کہ آپ جلد اس کی دستگیری فرمائیے۔ ورنہ ہم اور آپ، سب خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ امداد کی بہتر صورت یہ ہے کہ آپ فوراً رکنیت قبول فرمائیں اور کثرت سے رکن بن جائیں۔

ہماری کفایت شعاری

ہماری کفایت شعاری اور مصارف میں احتیاط کا اندازہ اس طرح سے کیا جاسکتا ہے کہ اب تک کے دفتر کے واسطے کوئی مکان حاصل نہیں کیاگیا ہے اور ہمارے ذاتی مکانات اس کے دفتر کا کام دے رہے ہیں۔ انجمن کا کوئی تنخواہ دار ملازم سوائے ایک چپڑاسی کے نہیں ہے جس کی تنخواہ صرف آٹھ روپیہ ماہوار مقرر ہے۔ یہ جگہ بھی کچھ دنوں ہی سے بڑھائی گئی ہے۔ ورنہ بیشتر انجمن کے ارکان تمام دفتری کام خود انجام دیتے تھے۔ اگرچہ ہم امید کرتے ہیں کہ ان کو اس قدر تکلیف نہ دی جائے گی۔ اب ملاحظہ فرمائیے کہ تمام سال ماسبق کا دفتری خرچ صرف اٹھارہ روپے پندرہ آنہ ہوا۔ اس میں تنخواہ چپڑاسی پندرہ روپیہ سوا تین آنہ کے علاوہ دوسرے سامان خطوط کے ٹکٹ اور اجرت اعلانات وغیرہ پر خرچ ہوئے۔

انجمن کے قویٰ اور جوارح

سخت ناسپاسی ہو گی اگر میں جناب مولوی ابوالوفاء صاحب صدر مدرس قیومیہ شاہجہانپور وجناب حاجی ڈاکٹر نثار احمد خان صاحب باڑوزوئی وجناب مولوی طفیل احمد صاحب باڑوزوئی وجناب مولوی محمد کفایت اللہ صاحب مدرس مدرسہ سعیدیہ شاہجہانپور اور اس قسم کے دوسرے بزرگوں کی خدمات کا تعارف نہ کراؤں۔ یہ وہ دردمند مخلصین ہستیاں ہیں جنہوں نے اس انجمن کی بناء وتشکیل کے وقت سے تاایں دم انجمن کی بڑی بڑی خدمات کی ہیں۔ آئندہ شاید دوسرے کام کرنے والے بھی آئیں اور ممکن ہے کہ ان سے زیادہ کام کریں۔ مگر تقدم اور (بحالت کسمپرسی) انجمن کی امداد کا تفوق صرف انہیں کو حاصل ہے۔ مختصراً یہ کہ یہی حضرات بانیان انجمن ہیں اور یہی اس کو ترقی دینے والے ہیں۔

(دوسالہ روئیداد انجمن اصلاح المسلمین شاہجہانپور بابت ۱۳۴۵ھ، ۱۳۴۶ھ پیش کردہ بموقع جلسہ سالانہ منعقدہ ۲۵؍صفر ۱۳۴۷ھ مطابق ۱۲؍اگست ۱۹۲۸ء ص۴،۵،۷، محفوظات مرکز التراث الاسلامی دیوبند نمبر ۶۳۳ٹی۔کے۔این)

یاد رہے کہ شاہجہانپور میں کچھ قبیلے افغانستان سے آئے ہوئے آباد ہیں۔ اسی لئے شہر کے بعض مقامات اور مضافات میں آباد قصبات کے نام افغانی قبائل کے نام سے آج بھی موسوم ہیں۔ اردو میں لکھنے کا انداز وہی سوسال پرانا ہے۔ لیکن اس میں مقصد کی بہت سی تاریخ پنہاں ہے۔ ان مخلصین کے کام کرنے کا انداز اور جفاکشی دیکھئے اور یہ بھی دیکھئے کہ حفاظت دین کے لئے کسی کے تعاون پر ہی منحصر نہیں بلکہ اپنے جیب خاص سے صرفہ کر کے عوام کا دین بچانے کا دیوبندی مزاج کس آب وتاب سے جھلک رہا ہے۔ اپنے کام میں مخلص ہونے کا سرٹیفکیٹ ابنائے زمانہ دے رہے ہیں بلکہ شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ نیز یہاں سے اس بات کا بھی ثبوت مل رہا ہے کہ ماضی میں ہمارے اکابر تحفظ ختم نبوت کی خدمت کو باضابطہ ممبری اور رکنیت پر موقوف رکھتے تھے اور ممبران ہی سے اخراجات پورے کئے جاتے تھے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب کو صرف فتنۂ قادیانیت ہی نہیں بلکہ رسوم وبدعات اور لامذہبیت کے ردوتعاقب میں بھی یدطولیٰ حاصل تھا جس کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ مضمون کی طوالت کے خوف سے اس عنوان پر تحریری مواد سے صرف نظر کرتے ہوئے چند زندہ وزبانی

34

تأثرات سے قارئین کو روشناس کرایا جاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے متعدد اساتذہ نے بتایا کہ حضرت مولانا اگرچہ دارالعلوم دیوبند کے باضابطہ ملازم نہیں تھے لیکن ہر جگہ دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ہی کی حیثیت سے متعارف تھے۔

چنانچہ حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی مدظلہ استاذ الاساتذہ دارالعلوم دیوبند نے بتایا کہ ایک دفعہ قصبہ گنگوہ میں ذہنی وفکری آوارگی میں مبتلا ہونے والے ایک فرقہ کے متأثرین سے مناظرہ کی ضرورت پڑی تو حضرت مدنی نے مولانا ابوالوفاء صاحب کو گنگوہ بھیجا اور بذات خود بھی اس مناظرے میں شریک رہے۔ راقم سطور کے استاذ محترم حضرت مولانا محمد اقبال فائق قاسمی صاحب مدظلہ مہتمم جامعہ عربیہ تاج العلوم لچھمی پور گنگرائی ضلع مہراج گنج نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت مولانا شبیراحمد صاحب مفتاحی مہتمم جامعہ صادقیہ مہراج گنج نے اہل بدعت کے مشہورومعروف عالم کو مناظرہ کے لئے موضع گبڑوا میں دعوت دی۔ مناظرہ کے سامعین وناظرین کی ایک بڑی تعداد قرب وجوار کے مسلم گاؤں رامپور بلڈیہا، سسواں بازار، کھیم پپرا، لچھمی پور گنگرائی وغیرہ سے وہاں جمع ہو گئی۔ چشم دید گواہوں کا بیان ہے کہ ترجمان اہل بدعت نے راہ فرار اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ جب کہ مولانا ابوالوفاء صاحب کا اگلے روز بھی اعلانیہ بیان ہوا۔ آپ کا شہرۂ اس علاقہ میں آج بھی قائم ہے اور اس علاقہ کے ایک مشہور گاؤں نٹوا، متصل مہراج گنج میں آپ کے دست مبارک سے ایک وسیع وعریض مسجد کی بنیاد آپ کی یادگار ہے۔ حضرت مولانا کے قدردان اور اس مسجد کے بڑے معاونین میں موضع ’’کھیم پپرا‘‘ کے جناب محمد عثمان صاحب اور جناب لیاقت علی صاحب منصوری رہے ہیں جن کا خانوادہ جناب شفاعت علی صاحب ابن لیاقت علی منصوری، جناب ماسٹر محمد اختر، رحمت علی، شمشیر علی وغیرہ پر مشتمل آج بھی شادوآباد ودینی خدمات سے وابستہ ہے۔

اسی طرح جناب مولانا محمد اسلام قاسمی صاحب مہتمم مدرسۃ الصفۃ للبنات سون پپری کا بیان ہے۔ اس علاقہ میں باطل فرقوں کی ریشہ دوانیوں سے عوام کو جب بھی بچانے کی اور مناظرے کی ضرورت محسوس ہوتی، حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب کو دعوت دی جاتی رہی ہے اور وہ مسلک علمائے دیوبند کے ترجمان کی حیثیت سے ہمیشہ تشریف لاتے رہے ہیں۔ اسی طرح مولانا ہدایت اللہ قاسمی ناظم تنظیم رابطہ مدارس عربیہ وعلمائے ضلع مہراج گنج وصدر مدرس جامعہ عربیہ سیوا نگر حیدرآباد کا باوثوق بیان ہے کہ اس وقت کے بافیض عالم دین حضرت مولانا صوفی مجیب اللہ کی دعوت پر حضرت مولانا ابوالوفاء کا مدرسہ اشرف العلوم کرتھیا اور مدرسہ بیت العلوم بیرواچندن ضلع مہراج گنج (متصل نیپال) میں بارہا آمد ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بدعات وخرافات سے زیادہ متأثر تھا۔ لیکن حضرت ممدوح کی باربار آمد نے اس پورے علاقے کو صحیح الفکر اسلامی عقائد ودیوبندی مسلک کا ایسا گڑھ بنادیا کہ اس کے فیوض وبرکات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ جب کہ یہ علاقہ ہندوستان ونیپال کے درمیان بارڈر کا وہ حصہ ہے جہاں اس زمانے میں بمشکل ہی کسی عالم دین اور وہ بھی اس پایۂ کے کسی مبلغ دین کی آمدورفت ہوتی تھی۔

دارالعلوم دیوبند کے اجلاس صدسالہ ۱۹۸۰ء کے موقع پر روزنامہ الجمعیۃ دہلی نے جو خصوصی شمارہ شائع کیا اس میں ایک مضمون نگار جناب مفتی عزیزالرحمن صاحب بجنوری، بعنوان ’’دارالعلوم دیوبند فتنوں کے مقابلہ میں‘‘ لکھتے ہیں: ’’بریلویت کا کھل کر اور میدان میں آکر مقابلہ کرنے والے سب سے اوّل بزرگ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری خلیفہ حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہی ہیں۔ انہوں نے اہل بدعت سے سب سے پہلا مناظرہ بہاول پور میں ۱۲۹۷ھ میں کیا۔ جس میں حضرت مولانا خلیل احمد کے علاوہ حضرت شیخ الہند، مولانا صدیق احمد، مولانا مراد احمد شریک تھے۔ اہل بدعت کو اس میں شکست ہوئی۔ ردبدعت میں حضرت گنگوہی کے ارشاد کے بموجب سب سے پہلی کتاب حضرت مولانا خلیل احمد نے لکھی جس کا نام ’’ہدایت الرشید‘‘ ہے۔ اس کے بعد ’’المہند علی المفند‘‘ تحریر فرمائی۔ ان کے بعد

35

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے بہت کتابیں تحریر فرمائیں۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس بارے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ میلاد اکبر وغیرہ میں حلقہ دیوبند کے خلاف بریلوی حضرات نے علماء حرمین سے فتاوی حاصل کئے تھے۔ لیکن حضرت قدس سرہ نے اس بارے میں علماء حرمین کا بہت ذہن صاف کیا اور ایک وقت وہ آیا کہ جب بریلوی حضرات کو حرمین میں دوبارہ نماز جماعت سے ادا کرنے پر باہر نکالا گیا۔ حضرت مدنی کی کتاب ’’الشہاب الثاقب‘‘ بہت عمدہ کتاب ہے۔ ان کے علاوہ حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوری، حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری، مولانا محمد یونس بگھروی نے گجرات اور مہاراشٹر کے علاقہ میں نمایاں خدمات انجام دیں ہیں۔‘‘

(روزنامہ الجمعیۃ دہلی، دارالعلوم دیوبند نمبر مؤرخہ ۲۶؍مارچ ۱۹۸۰ء ص۱۲۰، محفوظات مرکز التراث الاسلامی دیوبند اخبار نمبر۱۷، موصولہ از حکیم محمد سعید سینٹرل لائبریری ہمدرد دہلی)

واضح رہے کہ مفتی عزیزالرحمن بجنوری کے بارے میں راقم نے دارالعلوم دیوبند کے ایک متحرک فاضل جناب مولانا محمد عرفان شیرکوٹی بجنوری سے وضاحت چاہی تو موصوف نے بتایا کہ مفتی صاحب (ولادت:۱۹۲۵ء، وفات:۲۰۰۴ء) قصبہ نہٹور کے رہنے والے اور حضرت مدنی کے خلفاء میں سے تھے۔ نیز بہت ساری کتابوں کے مصنف بھی رہے ہیں۔

مذکورہ بالا اقتباس میں جن اکابر شخصیات کا ذکر آرہا ہے ان سے زمانہ متعارف ہے۔ البتہ ان کے درمیان ’’مولانا محمد یونس بگھروی‘‘ کے نام سے جو ذکر آرہا ہے بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ یہ وہی بزرگ ہیں جن کے موجودہ ’’بنگلہ دیش‘‘ میں فرقہائے باطلہ کے ردوتعاقب میں زبردست کارنامے ہیں۔ خدا معلوم آپ کے مساعی جمیلہ کی سنہری تاریخ کو وہاں کوئی جاننے اور بتانے والا ہے یا نہیں۔ جو آج بھی تاریخ کے اوراق پارینہ میں محفوظ ودستیاب ہے۔ حضرت موصوف کا وطن اصلی دیوبند سے قریب ضلع مظفرنگر (یو۔پی) میں قصبہ ’’بگھرا‘‘ ہے اور یہیں مدفون بھی ہیں۔ لیکن اشاعت دین کی لگن میں اپنے وطن سے کئی ہزار کلومیٹر دور برہمن باریہ کے علاقے میں اپنی پوری توانائی صرف کر دی اور اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کو نبی پاکa کی خواب میں ایک مرتبہ زیارت نصیب ہوئی جس میں نبیa نے ’’برہمن باریہ‘‘ میں قادیانی فتنہ کی نشاندہی فرماتے ہوئے وہاں کام کرنے اور مسلمانوں کے دین وایمان کو بچانے کی طرف توجہ دلائی تو اس غیبی بشارت پر جگہ کا نام معلوم کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور مرزائیوں کے ردوتعاقب میں ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جو آج بھی جامعہ یونسیہ کے نام سے جاری ہے اور علاقے کا مرکزی ادارہ ہے۔ برہمن باریہ میں مسلمانوں کی غفلت اور خاموشی کا فائدہ اٹھا کر مرزائیوں نے پورے علاقہ کو ارتداد کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مولانا محمد یونس بگھراوی کی محنتوں نے اس علاقے کو فتنۂ قادیانیت سے پاک کیا۔ باری تعالیٰ تحفظ ختم نبوت کے اس موفق الخیر سپاہی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین!

نعت النبیﷺ کے میدان میں

حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب کو باری تعالیٰ نے جن خوبیوں سے نوازا تھا ان میں سے ایک صفت، باذوق نعت گوئی بھی ہے جو شرعی دائرے میں رہتے ہوئے افراط وتفریط سے پاک نبیa کے شان اقدس میں ہے۔ آپ اپنا تخلص ’’عارف‘‘ رکھتے تھے۔ حضرت مولانا کو جس طرح بیان سیرت اور دیگر علوم وفنون میں یدطولی حاصل تھا اسی طرح آپ کی شاعری میں بھی پڑھنے والوں کو تمام تر شعری کیفیات وتأثرات ملیں گے۔ آپ کی تحریر کردہ نعتوں میں درست عقائد کے ساتھ رسول اکرمﷺ کی سیرت طیبہ، آپa کا پیغام صلح وامن، اخوت ومساوات، بلند حوصلگی، کسر نفسی، فراخ دلی اور علی ظرفی وغیرہ خوبیوں کا بھی ثبوت ملے گا اور نبی پاکa سے حقیقی عشق

36

ومحبت کے جلوے بھی نظر آئیں گے۔ انداز بیان کا والہانہ پن، مترنم بحریں ملیں گی۔ حضرت مولانا کا نعتیہ مجموعہ ’’صدائے عارف‘‘ کے نام سے آپ کی حیات مبارکہ میں ہی زیور طبع سے آراستہ ہو چکا تھا، جس کے مرتب آپ کے سفر وحضر کے رفیق جناب ساجد صاحب لکھنوی ہیں۔ بطور مثال حضرت کا ایک نعتیہ کلام پیش کیا جاتا ہے۔

مرضیٔ مصطفیﷺ

  1. جسے رفعتیں بھی نہ پاسکیں وہ نبی کی رفعت تام ہے

    جو زوال سے نہیں آشنا وہ انہی کا بدر تمام ہے

  2. جو ہے رمز راز حیات کا جو ہے نغمہ ساز حیات کا

    وہ نبی حق پر درود ہے وہ حبیب حق پہ سلام ہے

  3. ہے قیام حکم وہ دیں اگر ہے قعود ان کی جو ہو رضا

    بجز ان کی مرضیٔ پاک کے نہ قعود ہے نہ قیام ہے

  4. بخدا ہے مرضیٔ مصطفی جسے حق کہے ہے مری رضا

    جسے وحی حق کہے خود خدا وہ انہی کا پاک کلام ہے

  5. وہ حبیب خالق دو جہاں وہی کنہ محفل کن فکاں

    وہ نبی حق وہ رسول ہے وہی انبیاء کا امام ہے

  6. جو نگاہ لطف کرم اٹھے تو خزاں بھی موسم گل بنے

    جو نظر پھرے تو یہ فصل گل بھی خزاں کا ایک پیام ہے

  7. بخدا خدا تو نہیں ہیں وہ مگر اتنے حق سے قریب ہیں

    جہاں وہم بھی نہ پہنچ سکے وہ بلند ان کا مقام ہے

  8. کہیں حشر میں شہ انبیاء کہ کدھر ہے عارف روسیاہ

    اسے لاؤ دامن عفو میں وہ ازل سے میرا غلام ہے

(صدائے عارف ص۸، مطبوعہ مکتبہ دین وادب کچا احاطہ لکھنؤ)

وفات وتدفین

علمی قلمی اور زبانی خداداد صلاحیتوں کے ذریعہ عمر بھر تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیتے ہوئے بالآخر تحفظ ختم نبوت کے بے باک وبے لوث مجاہد ۶؍فروری ۱۹۸۰ء میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ لیجئے! ہم بھی پڑھیں اور آپ بھی پڑھئے: ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ بوقت انتقال تین لڑکے اور دو لڑکیاں پسماندگان میں چھوڑیں۔ آج بھی الحمدﷲ! آپ کے احفاد میں دین حق سے وابستگی اور علم دین سے تعلق باقی ہے۔ زہدواتقاء کے ساتھ آپ نے بڑی خوشگوار زندگی پائی۔ اخیر عمر میں چند ماہ علیل رہے۔ اس دوران بھی علماء اور اہل علم کا ایک بڑا طبقہ ملاقاتیوں میں آپ سے رجوع کرتا رہتا تھا۔ ابھی چار سال قبل جب حضرت کے دولت کدے پر راقم سطور کو حاضری کا موقع ملا تو اسی مکان میں جس میں حضرت قیام پذیر رہے۔ اہل خاندان سے دادا محترم کی خدمات دینی کے بہت سے واقعات سننے کو ملے۔ آپ اقرباء میں سے مولانا رعایت علی صاحب شاہجہانپوری فاضل دارالعلوم دیوبند تقسیم ہند کے موقع پر پاکستان منتقل ہو گئے اور غالباً دارالعلوم کراچی میں وہ کامیاب استاذ رہے۔ جب کہ دو حقیقی بھائی مولانا شریف احمد قاسمی، جناب نیاز احمد صاحب اور تین بہنیں ہندوستان میں ہی شادوآباد رہے۔

انتقال کے بعد بہت سے مشہور زمانہ سیاسی اور غیرسیاسی، علمی ودینی شخصیات نے جنازہ میں شرکت کی۔ مکان کے سامنے ہی واقع قبرستان ’’جنگلہ‘‘ میں ۷؍فروری ۱۹۸۰ء کی عصرومغرب کے درمیان تدفین عمل میں آئی۔ بہت سے ماہناموں اور روزناموں میں تعزیتی مضامین وپیغامات شائع ہوئے۔ ان میں سے اکابر علمائے دیوبند کی لگائی ہوئی صحافتی پود اور مستند ومعتبر روزنامہ الجمعیۃ دہلی میں اسی طرح کی ایک مطبوعہ خبر درج کرنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

آفتاب علم وعمل ہو گیا۔ مولانا ابوالوفاء رحلت فرماگئے

37

صدر محترم اور ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کا اظہار تعزیت، ایصال ثواب

نئی دہلی: ۸؍فروری ہندوستان کے طول وعرض میں مسلمانوں میں یہ خبر انتہائی حزن والم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ ایک اور آفتاب علم وعمل غروب ہو گیا۔ یہ اندوہناک سانحہ ہے کہ طوطیٔ ہند حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری رحلت فرما گئے۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون! حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب ایک طویل عرصہ سے صاحب فراش تھے۔ بالآخر ۶؍فروری ۱۹۸۰ء کو صبح نو بج کر ۴۵منٹ پر آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ ۷؍فروری کو شاہجہانپور میں جسے آپ نے ایک عرصہ ہوا اپنا وطن بنالیا تھا۔ تدفین عمل میں آئی۔ حضرت مولانا لہرپور ضلع سیتاپور میں پیدا ہوئے تھے۔ کئی برس مدرسہ قیومیہ میں استاد رہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے کئی سال تک نائب صدر رہے۔ اخیر تک مجلس عاملہ کے رکن تھے۔ آپ نے تحریک خلافت اور جمعیۃ علماء ہند کی دیگر تحریکات میں جن میں مدح صحابہ شامل ہے حصہ لیا۔ آپ مجلس احرار سے بھی وابستہ رہے۔ آپ خطیب بے بدل تھے۔ سیرت مقدسہ پر اس زمانہ میں آپ سے بہتر تقریر کرنے والا کوئی اور نہیں تھا۔ تقریر میں اشعار بے ساختہ استعمال کرتے تھے۔ آپ کے انتقال سے علمی، دینی اور ملی صفوں میں جو خلاء پیدا ہو گیا ہے اسے مدتوں بہت شدت سے محسوس کیا جائے گا اور اس کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔

جمعیۃ علماء ہند کے حلقوں میں حضرت مولانا کے انتقال پر انتہائی رنج وغم کا اظہار کیا گیا اور ادارہ الجمعیۃ بھی دعاگو ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقامات سے نوازے۔

(روزنامہ الجمعیۃ جلد۲۵، شمارہ نمبر۳۸، مؤرخہ ۲۰؍ربیع الاوّل ۱۴۰۰ھ م:۹؍فروری ۱۹۸۰ء، محفوظات مرکز التراث الاسلامی دیوبند اخبار نمبر۱۹۸۰ء- ۱۷)

اخیر میں ممنون ہوں اپنے کرم فرما مخدوم مکرم حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ کا کہ حضرت نے تحفظ ختم نبوت کے ایک فقید المثال مجاہد پر کچھ لکھنے کی تحریک فرمائی اور مضمون مکمل ہونے تک برابر حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ نیز اسم بامسمی جناب حافظ ابرار احمد صاحب حیدرآبادی مدظلہ رکن مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی (مقیم حال ابوظہبی) جناب مولانا اکرام اللہ صاحب قاسمی ابن حضرت مفتی کفایت اللہ ثانی ومولانا محمد عثمان صاحب شاہجہانپوری، جناب الحاج ریاض احمد صاحب منصوری، مولانا کامران احمد قاسمی ابن الحاج محمد عرفان صاحب قصبہ محمدی لکھیم پور اور مرکز التراث اسلامی دیوبند کے کارکنان جناب محمد احمد صاحب، مولانا شہباز اختر کا بھی کہ ان حضرات نے ہندوستان میں لاک ڈاؤن سخت ہونے کے باوجود اس مضمون کا مواد فراہم کرنے میں مخلصانہ کردار ادا کیا۔فجزاہم اللہ خیراً وصلی اللہ علیٰ خاتم النّبیین والمرسلین محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین!

(مولانا) شاہ عالم گورکھپوری

استاذ ونائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند

۱۴؍رمضان المبارک یوم جمعہ ۱۴۴۱ھ، مطابق ۸؍مئی ۲۰۲۰ء

38

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ایمان واسلام

الحمد ﷲ وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ وافضل الصلوٰۃ واکملہا علی حبیبہ سیدالوریٰ وعلیٰ اٰلہٖ اصحابہٖ مصابیح الدجیٰ۔ امابعد!

تمہید

الحمدﷲ کہ مختارمدعاعلیہ (جلال الدین شمس قادیانی) باوجود اتنی لاطائل بحث تودرکنار اس کے قریب بھی نہ پہنچا۔ اس نے عاجز آکرجواب میں دیدہ دانستہ محض لاجواب ہونے کی وجہ سے وہ پوائنٹ ہی بچالیا۔ جن پر بحث مبنی تھی۔ باوجود اس کے میں بحول اللہ وقوتہ کے دعویٰ کے ساتھ علی الوجہ البصیرۃ کہہ سکتاہوں کہ اگر اس طولانی بے معنی بحث کواس کی خاطر کوئی نیک طینت اوررحم دل انسان اعلیٰ پایہ کی خدانخواستہ بحث ہی مان لے پھر بھی مرزا صاحب اورمرزائیوں کاکفر وارتداد اس قدراٹل ہے کہ وہ بدستور قائم رہتاہے اورکوئی بھی عنوان تک بدلنا نہیں پڑتا، کیونکہ ہماری بحث کا بحمد اللہ کوئی بھی ہیڈنگ ایسانہیں جس میں ایک دوتین بلکہ متعدد حوالے ایسے لاجواب نہ رہے ہوں، جن کا جواب توکجاذکرواشارہ تک دیدہ دانستہ ترک کرکے مختارمدعاعلیہ اپنے عجز اوران کی لاجوابی کااقرارنہ کرچکاہو (اورچونکہ شہادت کی طرح بحث بھی جماعت (قادیانی) کی مرتبہ ہے۔ لہٰذا تمام جماعت کے نزدیک) پس مرزا صاحب اور مرزائیوں کا کفروارتداد لاجواب واٹل ہے بجائے کسی جواب کے اگر میں ان لاجواب حوالوں کو جمع کروں توبھی میری بحث ان شاء اللہ تعالیٰ بدستور اٹل ولاجواب رہے گی (مثلاًبحث کے ہیڈنگ لاالہ الا اللہ کا پہلا نمبر الوہیۃ… الخ!) جس کا کوئی ہیڈنگ بھی ان شاء اللہ بدلنا نہیں پڑے گا اور میری بحث کو لاجواب ہونا ہی تھا۔ کیونکہ آقائے کائنات محمدرسول اللہ ﷺ سے کٹنے والوں، ان کے مقدس ناموس پر حملہ کرنے والوں اللہ تعالیٰ کے محبوبa کے باغیوں کوکوئی تاویل، کوئی آڑ، کائنات عالم کاکوئی ذرہ پناہ نہیں دے سکتا:

  1. کچھ اس طرح سے کیا میں نے شکوہ والحاح

    نگاہیں جھک گئیں ان سے نہ کچھ جواب بنا

میں ان شاء اللہ العزیز! درمیان میں ان لاجواب باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخر میں ان کی ایک مکمل لسٹ دوں گا، جومرزا صاحب اور مرزائیوں کے کفروارتداد کی ان شاء اللہ تعالیٰ تاقیامت باقی رہنے والی دستاویز ہوگی۔

اصل جواب الجواب

اس اجمالی تمہید کے بعد کسی مفصل جواب کی حاجت نہ تھی۔ مگر صرف دنیا پر اس جماعت کا دجل وفریب آشکارا کرنے کے واسطے کچھ اختصار سے عرض کرتاہوں۔

مختارمدعاعلیہ کے افتتاحی کلمات

’’مبادی بحث بعد میں ہوںگے آج میں اس سوال کولیتاہوں کہ مختارمدعیہ نے عقائد مدعاعلیہ پر اعتراض کیاہے۔ حالانکہ مدعاعلیہ نے جواب دعویٰ میں صاف طور پر بیان کردیاتھا کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘

یہ فرمانا کہ مبادی بعد میں آئیں گے، عجیب الٹی منطق ہے کون نہیں جانتا کہ مبادی مقاصد کے بعد نہیں آتے۔ ہاں! قادیان کی الٹی گنگا کاہمیں علم نہیں۔ باقی مدعاعلیہ کااقراراسلام درست مگر ساتھ ہی مدعاعلیہ کو اپنی مرزائیت(احمدیت) اورمرزا کی نبوت اوروحی کابھی تو

39

اقرارہے۔ گویاوہ تمام کفریات جوخاصہ مرزائیت واحمدیت ہیں اورجن سے مرزا صاحب کی کتب بھری ہیں مدعاعلیہ کے ایمانیات کاجزو اعظم ہیں:

  1. زاہدا تسبیح میں زنار کا ڈورا نہ ڈال

    یا برہمن کی طرف ہو یا مسلمان کی طرف

مرزائیت سے توبہ کر ڈالنے پرمحمد رسول اللہ ﷺ کا آغوش اس کے لئے کھلاہے اور ہم غلاموں کی آنکھیں بھی اس کے لئے فرش راہ ہیں۔

جواب بحث

اپنا اورمرزا صاحب کا ایمان واسلام ثابت کرنے کے واسطے جس قدرآیات واحادیث واقوال فقہاء ومتکلمین وعبارات مرزا صاحب پیش کی ہیں۔ یہ وہی شہادت کا گزراہوا مجروح سبق(بے حیائی سے) مکرردہرایاگیاہے جس کا دندان شکن جواب ۱۸؍اکتوبر ۱۹۳۳ء کی بحث میں مکمل دیاچکاجس کے لاجواب ہونے کا یہی ثبوت کافی ہے کہ مختارمدعاعلیہ باوجود دعویٰ ہمہ دانی اوراس ادّعاء کے کہ اس کے پاس مختارمدعیہ کی بحث لفظ بلفظ لکھی ہے۔ مخصوص بنیادی پوائنٹ میں سے ایک حرف کجااشارہ تک نہیں کیا۔ ملاحظہ ہوعدالت کے واسطے اس کے مکررنمبر۴ کا بالاختصار اعادہ کرتاہوں۔

۱… ہم بھی مانتے ہیں کہ مرزا صاحب کے اسلامی عقائد بھی تھے۔ ورنہ مادرزادکافرکہاجاتامرتدکاحکم نہ لگتا۔

۲… ان آیات: ’’اٰمن الرسول (البقرۃ:۲۸۵)‘‘ وغیرہ اوراحادیث: ’’بنی الاسلام‘‘ وغیرہ نیز کتب فقہ وعقائد میں جس قدرایمان کے ارکان مذکور ہیں یہ ضروری توہیں، مگر ایمان کے واسطے کافی نہیں۔ ان کے باوجود بھی انسان سجدہ صنم، تحلیل خمر (نیز دیگرکفریات) یابقول مرزائیاں مرزا صاحب کے انکار یاان کی بیعت میں داخل نہ ہونے سے کافر ہوسکتاہے۔ ملاحظہ ہو(جرح گواہ نمبر۱ یکم،۷؍مارچ ۱۹۳۳ء) لہٰذا باوجود بفرض محال ان تمام ایمانیات کے ہمارے قائم کردہ اورخصوصاً لاجواب کفریات کی وجہ سے بچ نہیں سکتے۔ نہ ایمان واسلام قیامت تک کسی طرح ثابت کرسکتے ہیں۔

۳… باقی مرزا صاحب کی عبارت اور دعاوی یہ صرف زبانی ادّعا ء اور محض مغالطہ ہے جو کہ بحث میں مفصل بتایاجاچکاہے اوربقدرضرورت مختصراً آگے عرض ہوگا۔ یہ قابل ملاحظہ ہے کہ ادّعاء ایمان کے ساتھ حضورa کے نبی آخر الزمان ہونے کا انکار، جہاد جیسے عظیم الشان مسئلہ کوخراب بتاکے محض رضاجوئی برٹش گورنمنٹ کے لئے دین سے اخراج،چندہ ماہواری کی جدید زکوٰۃ کااضافہ، دسمبر کے جلسہ کوحقیقی اوراصلی حج قراردینا، باری تعالیٰ اورسرکاردوعالمa کے بتائے ہوئے حشرونشر کاانکار اورفلاسفہ کی پیروی، اپنے تمام نہ ماننے والے مسلمانوں کی تکفیر وتذلیل بلکہ بیعت میں تأمل کرنے والے تک کوپکاکافر بتانا، باری تعالیٰ کی توہین، اس کے تقدس وجلال پریہود ونصاریٰ اورمشرکین جیسے ناپاک حملے، کشفی طور پر اس سے عیاذاً ب اللہ ! ہمسری کا دعویٰ، تمام انبیاء اولوالعزم حتیٰ کہ سیدالانبیاء کی ہمسری بلکہ برتری کادعویٰ سب کی منہ بھرکے توہین وتذلیل(العیاذب اللہ ) اہل بیت رسول اللہ ﷺ خصوصاً سیدناعلی مرتضیٰq، سیدناامام حسینq ولخت جگر رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمۃ الزہراt کی زہرہ گداز ناقابل برداشت گندی توہین، خلفاء راشدینi، صحابہ کرامi، ائمہ دین تمام اقطاب وابدال، غوث، اولیاء اللہ سب سے برتری کادعویٰ بلکہ دل کھول کرتوہین، کتاب اللہ پر صرف اپنی خرافات وحی کی طرح ایمان رکھنا، احادیث نبویہ جو اپنی تراشیدہ وحی کے خلاف ہوں کو ردی کی طرح پھینکنا، اپنے مقبرہ کو بہشتی مقبرہ بنانا، حرم نبوی اورخصوصی القاب نیز

40

اپنی بیویوں کو امہات المومنین کے القاب استعمال کرکے منہ چڑہانا، کون سا وہ کفرہے جو مرزا صاحب یامرزائیوں نے ترک کردیاہے:

  1. تم گریباں میں منہ ڈال کے خود ہی سوچو

    ہم اگر کچھ بھی کہیں گے تو شکایت ہو گی

شیطان لعین ایک کفریہ اورایک نبی کی توہین کرکے ہمیشہ کے لئے مردود بارگاہ ہوجائے اوریہ بزرگ سب کچھ کریں اور پھرمقرب کے مقرب:

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است

۴… یہ تمام امورایمانیہ حقیقتاً اورمعناً بدرجہ اتم مدعیہ اوراس کے ہم عقیدہ تمام دنیاکے مسلمانوں میں موجود ہیں،پھربھی مرزا صاحب کی بیعت میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے خواہ بچاروں نے ان کا نام تک نہ سناہو۔ کافردائرہ اسلام سے خارج بلکہ پکے کافرہیں۔ یہ تمام امورایمانیہ باوجود کوئی کفرنہ ہونے کے صرف مرزا کی بیعت میں تأمل ہونے سے کافر ہونے سے نہ بچاسکیں اور مرزائی سینکڑوں کفریات کے باوجود انہی امور سے پکے مسلمان رہیں کچھ تو شرم چاہئے:

  1. حیا و شرم جو ملتی کہیں زمانہ میں

    تو ہم بھی لیتے کسی اپنے مہربان کے لئے

مختارمدعیہ کے جواب کی آڑ میں مختارمدعاعلیہ کی مغالطہ دہی کی ناکام کوشش

مختارمدعیہ کے ہیڈنگ کے تحت یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مختارمدعیہ کا یہ مغالطہ ہے کہ یہ پیش کردہ کتب دعویٰ نبوت سے پہلے کی ہیں۔ ملخصاً۔ یہ محض مختارمدعاعلیہ کا بوجہ جواب نہ بن سکنے کے مغالطہ ہے۔ کیونکہ میری بحث میں یہ نہیں کہ۱۹۰۱ء کے بعداسلامی عقائد کانام ہی نہ لیا،بلکہ یہ ہے کہ پھریہ لمبے لمبے زور دار دعویٰ ذرااس کے بعد پھیکے پڑگئے اور یہ بلندآہنگی باقی نہ رہی بلکہ آخرتک مرزا صاحب مغالطہ آمیز عبارتیں بولتے رہے اوربعد نبی کریمa کے مدعیان نبوت کاذب کی خاصیت لازماً یہی ہے کہ وہ دجل سے کام لیں۔ جیسا کہ ہمارے آقاءa کا ارشادہے اور مرزاصاحب نے خود دجال کی یہی تعریف کی ہے کہ وہ خلط ملط کرے ملاحظہ ہو (تبلیغ رسالت ج۳ ص۲۰۰، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۳۱) ’’دجال کے لئے ضروری ہے کہ نبی برحق کا تابع ہوکر پھر سچ کے ساتھ باطل ملاوے… اگرحق محض پرزیادت کی جائے تواس زیادت کانام عربی زبان میں دجل ہے اوراس کے مرتکب کانام دجال ہے اورچونکہ آئندہ کوئی نیانبی نہیں آسکتا۔ اس لئے پہلے نبی کے تابع جب دجل کاکام کریں گے تووہی دجال کہلائیں گے۔‘‘

میری بحث کے اصل الفاظ ملاحظہ ہوں۔

۱… ’’یہ تمام بڑھ چڑھ کے ادّعاء اسلام اس وقت تھا۔ جب ادّعاء نبوت کا سودادماغ میں نہ تھا اورہرقسم کے مدعی نبوت پرلعنت بھیجتے تھے اورکسی قسم کے نبی کاآناخاتم النّبیین کے منافی اور ’’لانبی بعدی‘‘ میں تخصیص وتاویل شرارت قراردیتے تھے اور عیسیٰm کا نبی ہوکرآنا مجازی بتاتے تھے۔‘‘ ملاحظہ ہو (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳، حقیقت النّبوۃ ص۸۹، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۳، سراج منیرص۳، خزائن ج۱۲ ص۵، حمامۃ البشری ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰) اس کے بعد یہ بلند آہنگی نہ رہی۔ باقی۲۴؍اگست۱۹۳۲ء کی جرح سے گواہ مدعیہ نمبر۲ کاایک فقرہ لینا کہ: ’’ازالہ اوہام کی تالیف تک مرزا صاحب مسلمان تھے۔‘‘ یہ مغالطہ دینا چاہاہے کہ اس کے بعد بس کفر ہی کفرفرماتے رہے اوریوں ازالہ اوہام جو۱۸۹۱ء کاہے۔ اس کے بعداسلام کادعویٰ پیش کیاہے۔ محض بے سود حیلہ ہے۔ اس کے بعد بھی اسلامی نمائش فرماتے رہے ہیں۔ ۱۹۰۱ء کے بعدکے صرف۔

۲… حوالہ کشتی نوح اورمواہب الرحمن ہیں جس میں الفاظ توخوش آئندہیں۔ مگر معانی بدل بدل کرالحاد اوربے دینی کی بنیادیں ڈال

41

رہے ہیں اور اس سے بھی ان کا کفر وارتداد ہی ثابت ہوتاہے۔ ملاحظہ ہو: اصل بحث۸،۱۰اکتوبر۱۹۳۳ء جہاں اس کا مفصل جواب ہے۔ مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ: ’’ہمارااستدلال جب غلط ہوتاکہ ۱۹۰۱ء کے بعد ان کی تردید مختارمدعیہ دکھاتااور وہ نہ کرسکا۔‘‘ ماشاء اللہ جناب دیدہ ودانستہ چشم پوشی فرماکر تجاہل عارفانہ اختیارکریں اس کا کیاعلاج۔ میں نے لاالہ الا اللہ ومحمدرسول اللہ (a) کی ہیڈنگ نیز دوسرے کفریات کے حوالے مثلاً (لیکچر سیالکوٹ۱۹۰۴ء، براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۹۰۵ء، حقیقت الوحی۱۹۰۷ء، البدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء) تک کے حوالے پیش کئے ہیں جونہ صرف ۱۹۰۱ء کے بعد کے ہیں۔ بلکہ انتقال سے دوماہ قبل تک کے ہیں۔ نیز خلیفہ محمودصاحب کے کفریات کے حوالے بھی درج ہیں، مگر آپ دیدہ دانستہ جواب نہ بن سکنے کی وجہ سے ٹال ہی جائیں اس کا کیا علاج۔ مختارمدعاعلیہ نے حقیقت الوحی اورچشمہ معرفت سے دوتین حوالہ اسلامی عقائد کے پڑھ دئیے ہیں اور سمجھ گئے کہ دنیا اس سے مغالطہ کھا جائے گی۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مؤمن کی فراست غضب کی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کفریہ عقائد بھی انہیں کتابوں کے ملاحظہ فرماویں جو میں نے بحث ابتدائی حصوں میں دئیے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ حق ملتبس کرنے کی ایک شکل ہے اور یہ وہی فرض ادّعاء اسلامی کا شہد ہے جس میں کفر وارتداد لازہرملاکے مسلمانوں کا ایمان غارت کیاجاتاہے۔ جواب تویہ تھا کہ ۱۹۰۱ء کے بعد قبل جیسے بلندآہنگی کے اسلامی دعویٰ پیش کرتے ہوئے ان کفریات کی تردید کھلے ہوئے غیرمشتبہ لفظوں میں بعد کی کتب سے پیش کرتے مگر یہ کیونکر ہوسکتاتھا۔ محمدرسول اللہ ﷺ کے باغیوں اورکفرواسلام دونوں کشتیوں پرسوار ہونے والوں کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی کوئی اورپناہ کیونکر ملے۔ قرآن پاک پڑھئے:’’ان الذین اٰمنوا ثم کفروا ثم اٰمنوا ثم کفروا ثم ازدادو اکفراً لم یکن اللہ لیغفرلہم ولا لیہدیہم سبیلا (النساء:۱۳۷)‘‘ ترجمہ : بے شک جولوگ ایمان لائے پھرکفر کیاپھرایمان لائے پھرکفرکیاپھرکفرمیں اضافہ ہی کرتے رہے۔ اللہ ان کی مغفرۃ نہیں کرے گااور نہ انہیں سیدھا راستہ دکھائے گا۔

باقی مختارمدعاعلیہ کایہ کہنا کہ: ’’حقیقت الوحی سے جوکمال نادانی سے مختارمدعیہ نے حوالے خلاف توحید سمجھ کر پیش کئے ہیں۔ اکثر ان میں سے براہین احمدیہ میں موجود ہیں۔ جب کہ گواہان مدعیہ ومختاران مدعیہ کے نزدیک مرزا صاحب مسلمان تھے۔‘‘ کچھ الٹاسیدھا ہی جواب دے کر نادان فرماتے تواچھا تھا۔ اب جواب سے عاجز آکرمنہ چڑھانے کومخول پراترآئے اور سچ ہے جب جواب کسی سے نہیں بنتاتو ایسی ہی باتیں کیا کرتاہے۔ اللہ انہیں ہدایت دے اورسلیقہ کی گفتگو کی توفیق۔ یقینا ایک دو قرآن پاک کی آیات براہین احمدیہ میں بھی ہیں۔ مگر وہاں یہ پتہ نہیں دیا کہ یہ قرآن کی آیات نہیں، بلکہ میرے الہامات ہیں اوران سے سرکار دوعالمa مراد نہیں، بلکہ میں مراد ہوں، مسلمان بچارے یہ سمجھتے رہے کہ یہ قرآنی آیات آریوں اور عیسائیوں کو جواب دینے کے لئے منتخب کی گئی ہیں، جن پر جب بعد کودلائل مبنی ہوں گے اور یہی انہیں باور کراکے ہزاروں کا ان سے چندہ وصول کرلیا۔ بعد میں بھی اربعین اورحقیقت الوحی ۱۹۰۷ء وغیرہ میں آکر جب نبوت سے پردہ اٹھا۔ مرزا صاحب کے الہام بن گئے اورپہلے تو مصداق باری تعالیٰ حضورa اوربعض صحابہ کبار تھے اور اب وہ سب آیات صرف مرزا صاحب کے واسطے بن گئیں اور ہونابھی تھا۔ کیونکہ حضورa کے بعد اگر دعویدار نبوت دجل نہ کرے توہمارے آقاءa کی پیش گوئی پرحرف آجائے، جن کی شان گرامی میں ابوجہل وابولہب جیسا دشمن بھی ’’ماجربناعلیک کذباً‘‘ کے مستانہ قصائد پڑھ رہے ہیں۔

البدر اوراخبارعام کے مغالطہ کاجواب

قو ل مختارمدعاعلیہ۔

’’اورمختارمدعیہ کایہ کہنا کہ مدعیہ کی طرف سے بدر۵؍مارچ۱۹۰۸ء کاحوالہ پیش کیاگیاجس میں دعویٰ نبوت کا ذکرہے۔ لیکن مدعاعلیہ کی طرف سے اس کے بعد کوئی تحریر پیش نہیں کی گئی، صریح جھوٹ ہے، کیونکر مدعاعلیہ کی طرف سے اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کا حوالہ پیش کیاگیاہے اور وہ ایک خط ہے جو آپ نے ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کو اپنی وفات سے تین روز قبل ایڈیٹر اخبارعام کے نام تحریرفرمایا… الخ!‘‘

42

جھوٹ کہناتوآسان ہے مگرسچ صادق ومصدوق نبیa کے غلاموں کی طرف نسبت کرکے ثابت کرنا دشوار ہے۔ مختارمدعیہ کادعویٰ تواس وقت جھوٹاہوسکتاتھا کہ اس نے اخبار بدر۱۹۰۸ء ۵؍مارچ سے جویہ حوالہ پیش کیا کہ: ’’ ہم خدا کے حکم سے نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

مختارمدعاعلیہ اخبارعام سے اس سے رجوع اورانکار ثابت کردیتے کہ میں اب دعویٰ نبوت ورسالت سے باز آتاہوں۔ میری غلطی یادماغی خلل کانتیجہ دعویٰ نبوت تھا۔ پھرہم بھی مرزا صاحب کو اسلامی لفظوں سے یاد کرتے۔ آج مختارمدعاعلیہ یاان کے ہم عقیدہ اس کفریہ عقیدہ سے تائب ہوجائیں۔ پھر تومسلمانوں اورحضورa کے غلام اپنی آنکھیں فرش راہ کرتے نظرآئیں گے۔

مختار مدعاعلیہ نے یا غور نہ فرمایا۔ دیدہ دانستہ مسلمانوں کو سیدھا سادہ سمجھ کر اخبارعام کا خط نقل کردیا کہ شائع ہونے پر عوام بھڑکیں گے نہیں صرف ہیڈنگ سے مغالطہ کھاجائیںگے۔ اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ ایک خط عدالت عالیہ میں پیش کررہاہے، جہاں وہ ہرطرح پرکھا جائے گا۔ اس خط میں دعویٰ نبوت سے دست برداری یااس پر توبہ وندامت تودرکنار اسی عظیم الشان کفریہ کا… بار بار نہ صرف اقرارہے بلکہ اسی پر اس وقت تک باقی رہنے کو فرمایا جاتاہے جب تک دنیاسے گزریں۔ اس خط کے فقرات ذیل ملاحظہ ہوں۔

’’میں اپنے تئیں نبی کہلاتاہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۹۷)

’’اس نے میرا نام نبی رکھاہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۹۷)

’’سوجس خدا کے حکم کے مطابق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکارکروں تو گنہگارہوگیا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۹۷)

’’اورجس حالت میں خدا میرانام نبی رکھتاہے، تومیں کیونکرانکارکرسکتاہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۹۷)

’’میں اس پرقائم ہوں اس وقت تک کہ دنیا سے گزرجاؤں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۹۷)

’’میں نبی ہوں اور امتی بھی ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۹۸)

’’مرزا صاحب نے آخروقت بھی ہماری ہی تائید کی نہ مختارمدعاعلیہ کی، اسے نہ پیش فرماتے تو شاید اچھاہوتا:

  1. صداقت چھپ نہیں سکتی ہے آخر کھل ہی جاتی ہے

    زلیخا نے کیا پاک دامن ماہ کنعاں کا

یہ کہنا کہ میں ایک ایسانبی ہوں، ویسا نہیں،بے سود ہے۔ کیونکہ قرآن واحادیث وکتب عقائد کے دلائل قاطعہ سے ثابت ہوچکاکہ ہرقسم کا دعویٰ نبوت ظلی ہویابروزی مستقل ہویاتابع شریعت ہویانہ حضورa کے بعداعظم ترین کفریات سے ہے۔ علاوہ بریں کہ مرزا صاحب کا یہ فرمانا کہ میری نبوت کا معنی کثرت مکالمہ وغیرہ ہیں۔ یہ بھی وہی مغالطہ دہی ہے۔ جب کہ خود ہی فرماچکے ہیں کہ سواصاحب شریعت نبی کے اور کسی ملہم وغیرہ کے انکار سے کفرلازم نہیں آتانہ صاحب شریعت نبی کے شریعت کے علاوہ کسی کامنکرکافرہوتاہے۔ اس کے بعد اپنے منکرین کومحض انکار کی بناء پر کھلے بندھن کافر بھی بناگئے۔ گویا کہ اپنے ہی اقرار سے مرزا صاحب شرعی بنی بن گئے:

مدعی لاکھ پر بھاری ہے شہادت تیری

(ابوالوفاء)

یہ باربار کہنا کہ میں قرآن کے خلاف نہیں، اسلام کے خلاف نہیں، میری گردن اسی جوئے کے نیچے ہے۔ باوجودیکہ وہ جواء کب کااتارپھینکا تمام دین کوبرباد کردیا۔ اللہ ورسولa سے علم بغاوت بلندکرچکے۔ نہ صرف لغوبلکہ مضحکہ خیزہے۔

اس ہیڈنگ کے لاجواب پوائنٹ۔

43

ابتداء حصہ کے تینوں نمبرجس کا ہیڈنگ تفریق اسلام مدعیہ ومدعاعلیہ جس میں تفصیل سے یہ بتایا گیا کہ مدعیہ یقینامسلمان ہے اور مدعاعلیہ کے کفر میں شک نہیں۔ ملاحظہ ہوں الفاظ نوٹس بحث مختارمدعیہ۔

اسلام کا سنگ بنیاد

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ رمرزائیوں کا ایمان نہیں لا الہ الا اللہ اس سلسلہ میں مختارمدعاعلیہ نے جس تحیّرکااظہارکیاہے اوران عیوب پر جن لغوطرق سے پردہ ڈالنے کی لغو کوشش کی ہے، اس کو بے نقاب کرنے سے قبل یہ عرض کروں کہ میرا یہ دعویٰ کہ مرزا صاحب اورکسی مرزا ئی کاجب تک وہ مرزا صاحب کومسلمان سمجھے نہ لا الہ الا اللہ اصل اصول ایمان پرایمان ہے نہ کبھی ہوسکتاہے۔ بدستوراٹل قائم ہے۔ شائع ہونے پرکوئی ان سے حسن ظن رکھنے والاآنکھیں بند کرکے ان کی ساری مغالطہ آمیز رکیک تاویلات خدانخواستہ عقل ودانش کاخون کرتے ہوئے صحیح ودرست بھی تسلیم کرے، پھربھی تمام بنیادی حوالے جن پر اس دعویٰ کامدار ہے، ایسے لاجواب ہیں کہ ان کا جواب بھی مختارمدعاعلیہ نے دیدہ دانستہ نام تک نہ لیا۔ اس ہیڈنگ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں جوکہ عدالت عالیہ کی نظرعالی میں پوشیدہ نہیں۔

(۱)

تاویلات رکیکہ کی حقیقت

رایتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت انّنی ہو

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴)

تمام نمبرچھوڑ کر لا الہ الا اللہ کے ہیڈنگ کے تحت کے بارہویں نمبر کا جو کفریہ بعنوان ادّعاء عینیت باری تعالیٰ عقیدہ نقل کیاگیاہے۔ سب سے پہلے اس کے واسطے ایک طول طویل عبارت سپرد قلم فرمائی ہے جس کاخلاصہ سات امور ہیں۔

۱… مرزا صاحب نے اس سے یہ کبھی نہیں سمجھا کہ آپ خدابن گئے؟

۲… نہ کبھی آپ نے خدائی کا دعویٰ کیا۔

۳… ان کا عقیدہ نہیں بلکہ رؤیاہے۔

۴… اس میں ہے کہ خواب ہی میں، میں نے یقین کیا کہ خداہوں۔

۵… اس سے خداکااظہار مقصود نہیں، بلکہ کشف کااظہارہے۔

۶… جوخواب میں دیکھاجائے اسے حقیقت پرمحمول کرناضروری نہیں۔

۷… تقریباً آٹھ حوالے قطع وبرید کرکے احادیث وصوفیاء کرام کے بے محل اور بے جوڑ بطورنظیرنقل کئے ہیں۔

نمبروار مفصل جواب عرض ہے

جواب:

۱… ’’مرزا صاحب نے اس سے یہ کبھی نہ سمجھا کہ آپ خدابن گئے ہیں۔‘‘ اورکیسے سمجھتے تیقنت اننی ہوخود فرمارہے ہیں کہ میں نے یقین کرلیاہے کہ میںہوبہوخداہوں۔ (بطور جملہ معترضہ)

44

۲… ’’اورنہ کبھی آپ نے خدائی کا دعویٰ کیا۔‘‘

جواب آخر تک اسی ذہن میں رہے۔ مختارمدعاعلیہ کو تقلید میں نظر آئے تو اس کا ذمہ دارکون ہے۔ ’’آئینہ کمالات‘‘ جو فروری۱۸۹۳ء کی تصنیف ہے اس کے بعد ’’لیکچر سیالکوٹ‘‘ جو۱۹۰۴ء (ص۳۴، خزائن ۲۰ ص۲۲۹) کاہے۔ ہندوؤں کے لئے خداکا اوتار بن رہے ہیں۔ اس آئینہ کمالات کے بعد کی (کتاب البریۃ ص۷۶، خزائن ج۱۳ ص۱۰۲) میں الہام موجود ہے… خداتیرے اندراترآیا۔ خطبہ الہامیہ میں بھی اپنی خدائی پرقائم (ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۶) اور حقیقت الوحی کی تصنیف تک جو۱۵؍مئی۱۹۰۷ء ایک سال قبل وفات ہے مالک ’’کن فیکون‘‘ بنے بیٹھے ہیں۔ (ص۷۵، خزائن ج۲۲ ص۷۸) تفصیل کے واسطے میری بحث جہاں کفریات کا شمار کرایا ہے، ملاحظہ ہو۔ جب ہی تو وہ (تریاق القلوب ص س، خزائن ج۱۵ ص۴۹۷) پر نئے خدانئی زمین نئے آسمان ماننے کی دعوت دے رہے ہیں وہ اسی کشف کی تفصیل ہے۔ کیونکہ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۵، خزائن ج۵ ص۵۶۵) میں خود خدابن کرایک جدید نظام نیا آسمان نئی زمین تیارکی ہے۔ پھر (تریاق القلوب۱۸۹۹ء ص س، خزائن ج۱۵ ص۴۹۷) پر فرماتے ہیں: ’’نئی زندگی ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ایک نیا یقین پیدانہ ہواورکبھی نیا یقین پیدا نہیں ہوسکتا جب تک موسیٰ اورمسیح اورابراہیم اوریعقوب اورمحمدa کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں۔ نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدانیا ہو، یقین نیاہو، نشان نئے ہوں۔‘‘

اگر مرزاصاحب اور ان کے یہ زمین آسمان مراد نہ ہوں تو جدید نہ ہوں گے۔ ہمارا خدا قدیم وازلی زمین وآسمان پر ہے۔ اب تو مرزا صاحب کی خود شہادت ہے۔ اب تو انکار نہ ہو گا۔

  1. جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے

    کیا لطف جو غیر پردہ کھولے

۳… ’’ان کا عقیدہ نہیں بلکہ رؤیاہے۔‘‘

جواب یہ مختارمدعاعلیہ کا اختراع ہے وہ خود توترجمہ رؤیانہیں فرماتے، بلکہ فرماتے ہیں:’’اورمیں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا۔‘‘

( کتاب البریۃ ص۷۸،خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

نیز لفظ: ’’تیقنت اننی ہو‘‘ کہ میں نے یقین کرلیا کہ میں خداہی ہوں… سے کھلے لفظوں میں اپنی رائے اورعقیدہ کااظہارکردیاہے۔ پھر اور عقیدہ کس چیز کا نام ہے۔ نیز اپنے کشوف اور الہامات کے متعلق جن کا نام وحی رکھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ مجھے ان پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ قرآن پاک اورتورات وانجیل پر… الخ!

۴… ’’اس میں ہے کہ خواب ہی میں میں نے یقین کیاکہ خداہوں۔‘‘

جواب محض غلط ہے کوئی لفظ ایسا نہیں جس کا ترجمہ ہوکہ خواب ہی میں میں نے یقین کیا ایساہوتاتو لفظ فیہ کا اضافہ کرتے۔

۵… ’’اس سے خدائی کااظہار مقصودنہیں بلکہ کشف کااظہار ہے۔‘‘

جواب یہ شاید مختارمدعاعلیہ کو کشف سے معلوم ہواہوگا۔ ورنہ وہ تو فرماررہے ہیں کہ میں یقین کئے ہوئے ہوں کہ خود خداہوں ’’تیقنت اننی ہو‘‘ الفاظ کا زور اورٹھاٹھ توملاحظہ فرمائیں۔

۶… ’’جوخواب میں دیکھا جائے اسے حقیقت پرمحمول کیاجاناضروری نہیں۔‘‘

جواب مگر ممکن توہے اورجب وہ خود اسے حقیقت سمجھ رہے ہیں کہ میں نے یقین کرلیاہے کہ خود خداہوں پھرکوئی کیاکرے۔ وہ توخود اپنے ناطق فیصلہ سے تمام تاویلات کابیڑاغرق کرگئے۔ ہاں! اگردوسرے کفریات اس کے مؤیدنہ ہوتے توممکن تھا کہ ہم بھی ان تاویلات کوبادل ناخواستہ منظورکرتے یاکوئی اورمحمل تلاش کرتے مگر کفرآشکاراہونے کے بعد تاویل کاامکان ہی نہ رہا۔

45

۷… (نظائر پیش کردہ کی اصل تصویر)

نوٹ: یہ تقریباً تمام وہ حوالے ہیں جو مسل پرنہیں آئے اور باوجود اکثرثبوت طلب اورقابل جرح ہونے کے شہادت میں بچاکرخلاف قانون نظائر کی آڑ لے کر پیش کئے گئے ہیں۔ حالانکہ نظیر وہ ہوسکتی ہے کہ فریقین نیزعدالت کو اس کا قابل اعتبارہونا مسلم ہو۔ ہاں! اس کے منطبق وغیرمنطبق ناطق وصامت ہونے میں کوئی کلام کیا جاسکے۔

آڑجوبھی بنائی جائے دراصل یہ ایک جدید شہادت ہے۔ مگر جب کہ یہ ریکارڈ میں ہے (گوعدالت اس کی پابند نہیں نہ عدالت کے لائق التفات ایسی غیرذمہ دار چیزیں ہوسکتی ہیں) تواس کا جواب بھی تبرعاً پیش ہے۔

۱… حضرت یوسفm کاخواب میں گیارہ ستارے اورچاند وسورج کو اپناسجدہ کرتے دیکھنا… الخ! نتیجہ یہ نکالا(توکیا درحقیقت خدائی کا دعویٰ کردیا) اوراس میں یہ مقدمہ لگادیا کہ سورج وچاند صرف خداہی کو سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ سبحان اللہ ! اتنی دورخواب تک پہنچے اور فرشتوں نے آدمm کو سجدہ کیاتھا اور فرشتے خداکے سواء کسی اور کوسجدہ نہیں کرسکتے۔ لہٰذا (عیاذاً ب اللہ ) آپ کے نزدیک وہ خداہوجائیں گے۔

نیز بعد کے واقعہ کو کیوں نہ لیا کہ ان کے گیارہ بھائیوںاورماں باپ نے سجدہ کیا۔ یہ خواب اس واقعہ سے بالکل بے ربط وغیرمتعلق ہے۔ نہ اس میں انہوں نے اپنے آپ کو خدادیکھا، نہ خدائی کا یقین کیا، نہ زمین وآسمان تیارکئے، نہ آسمان دنیا پر ستارے چمکائے۔ ہاں! چاند، سورج، ستاروں کو اپنے سامنے جھکتا اوراپنے آپ کوان کا قبلہ ضروردیکھا۔ چنانچہ اس کے بعد ان کے یازدہ بھائیوں اورہردو والدین نے اللہ کے حکم سے انہیں قبلہ بناکرخدا کاسجدہ شکراداکیا۔ جیسے ملائکہ نے حضرت آدمm کی وساطت سے اشیاء غیر معلومہ کاعلم حاصل کرکے خدا کے حکم سے حضرت آدمm کو قبلہ بنا کر خدا کاسجدہ شکراداکیاتھا۔

کیاکوئی کہہ سکتاہے کہ ملائکہ یا سیدنا حضرت یعقوبm اوران کے صاحبزادہ عیاذاً ب اللہ غیر اللہ کو سجدہ کرکے مشرک ہوگئے۔ حالانکہ یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ غیر اللہ کوسجدہ کرنا حرام وشرک ہے۔ سجدہ صرف خالق کو ہوسکتاہے۔ جیسا کہ قرآن واحادیث میں مصرح ہے۔

یہ ایسا ہی ہے کہ کعبہ کوکوئی سجدہ کی وجہ سے مسجود سمجھے۔ حالانکہ کعبہ کی طرف خداکوسجدہ ہوتاہے۔ رہی یہ بات کہ پھراور کسی کی طرف کیوں سجدہ نہیں کرتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قبلہ کی نامزدگی اپنی رائے پرنہیں بلکہ خداکے انتخاب پرہے۔

یہ مذکورہ بالاتفسیر اپنی رائے سے نہیں بلکہ اکابردین صحابہ وتابعین وعلماء راسخین سے ماخوذ ہے۔

۲… حضورa کے کنگن پہننے کا خواب آپa نے اسے اسی وقت براسمجھا اورپھوک کراڑادیا۔ ملاحظہ ہواصل حدیث:

بخلاف مرزا صاحب کے کہ اس پرڈٹے رہے اور ’’تیقنت اننی ہو‘‘ سے اپنی خدائی کے یقین ہونے کا نقارہ بجاتے رہے۔ مختارمدعاعلیہ اورمرزائیوں کے اپنے جذبات کے لحاظ سے بلکہ ہم غلامان سرورکائناتa کا لحاظ کرتے ہوئے شرم چاہئے تھا کہ مرزا صاحب کا مقابلہ اوران کی مثال سید الاوّلین والآخرین کو پیش جذبات کرے جن کی نظیر نہ مخلوقات عالم میں ہوئی نہ ہوسکے نہ قدرت نے ویسا بنایا نہ بنائے، خدااپنی خدائی میں یکتاوبے مثل اور حضورa محبوب خدائی میں بے مثل وبے نظیر۔ کہاں مرزا صاحب اورکہاں محبوب رب العالمینa۔

  1. چراغ مردہ کجا نور آفتاب کجا

    بہ بین تفاوت رہ از کجا است تا بکجا

(ابوالوفاء )

اس سے یقینا مسلمانوں کے جذبات سخت مجروح ہوئے ہیں۔

۳… حوالہ ارشاد رحمانی۔

46

۱… جدید ثبوت طلب غیر مسلم حوالہ ہے۔

۲… حضرت مولانافضل الرحمن صاحب کے حالات زندگی بعد میں مرتب کی گئی۔

۳… آپ کو معلوم نہیں ان کے مریدوں سے پوچھئے کہ اس کتاب کے متعلق ان کی کیارائے ہے۔

۴… مولانامحمدعلی صاحب کودیوبندیوں کا مسلم مقتداء ہونا جو تحریرفرمایااس کا کیا ثبوت، ابھی انہیں انتقال ہوئے کے دن ہوئے۔ وہ تودیوبندی بھی نہیں۔ جرح میں بلا کسی گواہ یافریق سے منوائے مسلم کرکے کسی کو عدالت میں پیش کرنا خلاف قانون ہے۔

تبرعاً جواب

یہ استدلال صوفیاء کی اصطلاح سے ناواقفیت پرمبنی نہیں۔ صوفیاء کے وہاں جب لفظ مادرکا بولتے ہیں اس سے خاک مراد لیتے ہیں اور جب پد ر کا لفظ بولتے ہیں تواس سے روح۔ کیونکہ خاک سفلی ہے اور روح علوی۔ جفت ہونے سے مراد اپنی آپ کو خاک میں مٹانا تاکہ پوشیدہ جوہرنمودار ہوجائیں جس طرح فرمایاگیاہے:

  1. در بہاراں کے شود سر سبز سنگ

    خاک شو تا گل بروید رنگ رنگ

دانہ جب خاک میں ملے تو شگوفہ نکلے

یہ محل تفصیل نہیں ورنہ عرض کرتا۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوں کتب صوفیائے کرام واصطلاحات التصوف التعرف وغیرہ۔ یہاں کے لائق مختارمدعا علیہ کی پیش کردہ ارشاد رحمانی کے حوالے کاایک فقرہ جواسی جگہ وہ غلطی سے نقل کرلیاگیا۔ ورنہ عادت توقطع وبرید کی پیش کرتاہوں۔

صوفیاء نے لکھاہے کہ: تاازمادرخودجفت نشودوبرادرخودنکشد کامل نشود… الخ!

اس قسم کی صوفیہ کے ہاں سینکڑوں اصطلاحات ہیں۔ مثلاً: درزی، خمر، یادحا، صنم، بتکدہ، میخانہ، قتل حیس وغیرہ۔ باقی اس سے بھی مرزا صاحب کا جواب جس میں اپنی خدائی کا یقین کئے بیٹھے ہیں، حل نہ ہوا۔ یہ صوفیہ کی مثالیں آپ فضول لے رہے ہیں۔ مرزاصاحب تواس کے ساتھ فرماتے ہیں: ’’ہماری مراد اس واقعہ سے یہ نہیں جیسا کہ وحدۃ الوجود کی کتب (یعنی تصوف) میں لی جاتی ہے… الخ!

(آئینہ کمالات ص۵۵۶، خزائن ج۵ ص۵۵۶)

انہوں نے تصوف کی تمام مثالیں غیر متعلق قراردیں اور آپ پیش فرمارہے ہیں: ’’توجیہ القول بمالایرضیٰ بہ قائلہ‘‘

۴… ’’رأیت ربی فی صورت شاب امرد… الخ!‘‘

(یواقیت ج۲ ص۱۶۳)

اس کوعلامہ ابن جوزی جیسے جلیل القدر محدثین اور امام جرح وتعدیل موضوع یا ضعیف بتاتے ہیں۔ جس سے عقائد میں اسناد درست نہیں۔ باوجود اس کے یہ کبھی نہ دیکھا کہ خود خداہوں اور یہ کبھی نہ فرمایا کہ میں نے اپنے خدا ہونے کا یقین کرلیا۔ باقی پھر اس کامطلب کیاہے توجہاں سے یہ حدیث نقل کی ہے، وہیں یواقیت والجواہر میں لکھاہے۔ ملاحظہ فرمالیں۔ تمام غیرمتعلق امور یہاں مفصل ذکرنہیں ہوسکتے۔

۵… حضرت اقدس عبدالکریم جیلی قدس سرہ العزیز کی انسان کامل کا حوالہ۔

چونکہ مقربان بارگاہ الٰہی بھی اللہ تعالیٰ اوراس کے محبوبa کے ناموس اوران کی عظمت وجلال کے صحیح معنی میں محافظ ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ ورسولa کے باغیوں کوان کے دامن میں بھی پناہ نہیں مل سکتی۔ اس حوالہ میں ترجمہ بھی غلط کیا۔ ترجمہ میں درمیان سے ایک سطر مغالطہ دینے کے واسطے حذف کردی۔ پیچھے سے بھی قطع وبرید کیا۔ پھر بھی یہ ان کی کرامت ہے کہ کچھ پلے نہ پڑا۔

47

آخری نتیجہ یہ نکالاہے کہ یہ کشف مرزا صاحب کے اس کشف سے ( یعنی کشف میں دیکھا کہ میں خداہوں اوریقین کرچکاہوں کہ میں وہی خداہوں) جس پر مختارمدعیہ نے یہ اعتراض کیاہے، بالکل ہی مطابق ہے۔ میں عدالت کی توجہ عالیہ خصوصیت سے اس کی طرف مبذول کراتاہوں کہ مرزا صاحب کا یہ کشف اورعبدالکریم جیلی کی عبارت کا ترجمہ وہی سہی جو مختارمدعاعلیہ نے پیش کیاہے۔ مقابلہ فرمالیں اورپھر ’’بالکل ہی مطابق ہے۔‘‘ جیسے مغالطہ کی دادیں مرزا صاحب نے خدا ہونا دیکھا اور یقین بھی کرچکے۔ زمین وآسمان بھی خود بنائے اور ’’ولقد زینا السمآء الدنیا بمصابیح‘‘ کا نعرہ مستانہ بھی لگایا۔ وغیرہ وغیرہ!

اوربخلاف اس کے یہاں اس بزرگ کاعجز وانکسار ملاحظہ ہو۔ خصوصی فقرات از ترجمہ مختارمدعاعلیہ۔

۱… جب مجھ پر یہ تجلی ہوئی تومیں نے گھنٹی کی آواز سنی۔

۲… میں ایک بلنددرخت میں لٹکے ہوئے چیتھڑے کی طرح ہوگیا۔

۳… میں ظاہرمیں سوائے چمکوں اور گرجوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھتاتھا۔

۴… اوربادل انوار برسارہاتھا اور سمندرآگ میں موجیں مار رہاتھا۔

۵… اورآسمان وزمین ایک دوسرے میں داخل ہوکرمل گئے۔

۶… اورمیں سخت اندھیروں میں ہوگیا۔

۷… یہاں تک کہ حضرت عزت وجلال کے خیمے مجھ پر لگائے گئے۔

اس جگہ درمیان سے ایک شعر کا ترجمہ جس سے پردہ فاش ہوتاتھا اڑاکے لکھا۔

۸… پس اس وقت اشیاء صاف ہوئیں اور بادل جودھواں ساتھا صاف ہوگیا۔

۹… آواز دی گئی کہ اے آسمان زمین… الخ!

ملاحظہ ہو: اس میں کسی جگہ خدا ہونا اوریقین کیا دیکھنا یاخدائی کا دعویٰ کیا یاخود زمین وآسمان پیدا کئے۔ یہاں تواپنے آپ کو چیتھڑے کی طرح فرمارہے ہیں اوربجائے قول مرزا صاحب ’’میں نے زمین وآسمان پیداکئے۔‘‘ یہ بیچارے فرمارہے ہیں: ’’پس اس وقت اشیاء پیداہوئیں اوربادل جودھواں تھا صاف ہوگیا۔‘‘ آواز دی گئی اے آسمان اور زمین۔

اس جماعت کی خذلان کاراز یہی ہے کہ بزرگان دین اور پاکان خدا پرزبان درازی اوربہتان طرازی سے باز نہیں آتی:

  1. چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد

    ملیش اندر طعنۂ پاکاں کند

ترجمہ کی ایک فاش غلطی

اصل الفاظ: ’’فلم تزل القدرۃ تخترع لی ماہوالاقوی فالاقوی وتخترق لی ماہوی لاہوی فالاہوی‘‘

ترجمہ مرزائیاں: ’’پس قدرت میرے لئے اقوی سے اقوی چیز بناتی اورمحبوب سے محبوب چیزوں کو بیان کرتی۔‘‘

صحیح ترجمہ: پس قدرت قوی سے قوی انوکھے معاملات مجھ سے کرتی گئی اور میری خاطر محبوب سے محبوب پردے اٹھاتی گئی۔ دونوں کا فرق ملاحظہ ہو۔

کیونکہ باری تعالیٰ نے باوجود کمال ظاہرہونے سے ہزاروں جلال وجمال کے انواروتجلیات کے اپنے پر پردے ڈال رکھے ہیں:

  1. بے حجابی یہ کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار

    اس پہ گھونگھٹ یہ کہ صورت آج تک دیکھی نہیں

48

دوسراغلط ترجمہ

اصل عبارت: ’’الی ان اضرب الجلال علی سرادق المتعال‘‘

ترجمہ مدعاعلیہ: ’’یہاں تک کہ حضرت عزت جلال کے خیمے مجھ پر لگائے گئے۔‘‘

صحیح ترجمہ: ’’یہاں تک کہ اللہ کے جلال نے بزرگی کے خیمے مجھ پر نصب کردئیے۔‘‘

کہاں اللہ کے خیمے اورکہاں بزرگی کے خیمے۔ اس کے بعد کی عبارت کا ترجمہ دیدہ ودانستہ چھوڑا: ’’ففتق فی النظرالاعلی رتق الید الیمنی‘‘ اوپرنظرکرنے سے ایک داہنا ہاتھ نمودارہوا۔ پس اس وقت چیزیں پیداکی گئیں۔ اگر اس فقرہ کا ترجمہ نقل کردیتے تو سارارازفاش ہوجاتا کہ خالق کااوپر سے ید قدرت تھا جس کو ید یمنی کہاجاتاہے۔ ’’کلتا یدی الرحمن الیمنی‘‘ مختارمدعاعلیہ نے اپنی طرح ہرایک کو صوفیاء کرام کی عبارت سے ناواقف سمجھاہے۔ جب تک صوفیاء کرام کی عظمت کما حقہ دل میں نہ ہو، ان کی عبارت کا مطلب کسی پرمنکشف ہی نہیں ہوسکتا۔

مرزا صاحب توکہہ رہے ہیں کہ ہماری مراد صوفیہ کی کتب والی نہیں اور آپ یہ نظائر پیش کرتے ہیں۔ سبحان اللہ !

۶… اس کے بعد ایک نیاحوالہ سوانح احمدی سے جوسید احمدصاحب بریلوی کی تاریخ ہے اور جسے مولانااسماعیل صاحب شہید دہلوی کی طرف منسوب کیاجاتاہے جس میں مندرجہ ذیل خیانتیں کیں۔

۱… ’’دیوبندیوں کے مقتداء جناب مولانامحمداسماعیل شہید۔‘‘

جواب: الف… حالانکہ کسی دیوبندی کے سلسلہ اساتذہ وتلامذہ میں ان کا وجود تک نہیں۔ البتہ ان کے والد بزرگواروغیرہ مثلاً شاہ ولی اللہ صاحب وشاہ عبدالرحیم صاحب وغیرہ ضرورہیں۔

ب… جب تک شہادت میں مسلم یامقتداء ہونانہ منوالیں توپھریوں کہنا قانوناً درست نہیں۔

ج… معلوم ہے کہ وہ بھی منجملہ علماء کے ایک عالم ہیں قرآن وحدیث آثارصحابہ اقوال ائمہ کے مقابل ان کا قول حجت نہیں۔

۲… اس مسئلہ کے نقل کرنے میں اوّل واخیر کی عبارت قطع کردی جس سے اصل مسئلہ پرروشنی پڑتی تھی اور موضوع بحث کا پتہ چلتاہے۔

۳… یہ مسئلہ وحدۃ الوجود اورفناء بقاء مسلم مکرایک غیرذمہ دارانہ تاریخی رسالہ کاحوالہ اس شدومد سے کفروارتداد اورایمانیات وعقائد کے سلسلہ میں پیش کردیا۔ جس سلسلہ میں مختارمدعاعلیہ وگواہان تسلیم کریں، قطعیات کا اعتبارہواحادیث احاد تک معتبرنہیں۔

۴… سوانح احمدی کے اثبات کے سلسلہ میں مختارمدعاعلیہ کو علماء کی رائے کا پتہ نہیں ورنہ اس کا ذکرنہ کرتا، ملاحظہ ہو: ’’التنفید الجدید علی تصانیف الشہید‘‘ مصنفہ مولاناحافظ عبدالشکور صاحب مرزا پوری۔

اصل جواب: اوراگرمختارمدعاعلیہ کی خاطر یہ حوالہ بالکل قطعی فرض کرلیں توبھی اس کا مدعا اس سے حل نہیں ہوسکتا۔ یہاں پرحضرت مولانا شہید مقام فناء بقاء، مقام محبت اور وحدۃ الوجود کا وہ انتہائی درجہ بیان فرمارہے ہیں کہ جہاں ’’سیرالی اللہ متناہی ختم ہوکرسیرفی اللہ ‘‘ غیرمتناہی ابدالآباد تک کے لئے شروع ہوجاتی ہے اور انسان اس وحدت محبت کے بے کیف دریاناپیداکنار میں غوطہ مارنے لگتاہے اور پھر: ’’انا الحق سبحانی ما اعظم شانی لیس فی جبّتی سوی اللہ ‘‘وغیرہ کے نعرہ مستانہ لگائے جاتے ہیں اور:

من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو

زبان پر ہوتاہے۔ اس وقت نہ انہیں اپناہوش ہوتاہے نہ دنیا ومافیہاکا، نہ جنت کا شوق نہ دوزخ کا کھٹکا، نہ نماز کاپتہ نہ روزے کی اطلاع۔ بس ’’انا اللہ الحق‘‘ بلکہ آخر میں انابھی ختم ہوجاتاہے اور حق ہی حق رہ جاتاہے:

خود زدی بانگ انا الحق خود سر دار آمدی

49

اس کی تفصیل کے واسطے ’’التعرف الشہود فی وحدۃ الوجود‘‘ وغیرہ متقدمین کے رسائل ملاحظہ فرمائیں یہ ذوقی چیزیں ہیں پلیٹ فارموں پرکہنے سننے کی نہیں:

  1. مصلحت نیست کہ از پردہ بروں افتدراز

    ورنہ درمحفل رنداں خبرے نیست کہ نیست

یہ ذوقی امور ہیں نہ ان کا کوئی نصاب ہے نہ کسی سعی کا نتیجہ یہ صرف مولیٰ کی دین اوران کے انتخاب کانتیجہ ہے۔

  1. عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب

    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے

آج بھی جن پر نظر ہوجاتی ہے یہی ہوتاہے کہ انہیں سوائے اس کے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا۔

  1. کچھ نہیں دیکھا ہے جب سے تو نظر آیا مجھے

    جس طرف دیکھا مقام ہو نظر آیا

یہ عدالت ہے اور عدالتی مسل ہے یاران طریقت اوراہل ذوق کی محفل ہوتی تو مقام فناء وبقاء پر کیف اورطرب انگیز نظارے پیش کئے جاتے یہاں تویہی کہہ کے پشیمان ہوں کہ کوئی عتاب ہوجائے۔

  1. بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

    بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

عبارت پیش کردہ سے اس امر کے شواہد کے مقام فناء وبقاء یعنی وحدۃ الوجود اور صوفیاء کرام کے اناالحق وغیرہ کا یہاں فلسفہ بیان ہورہاہے۔

فقرات ذیل ملاحظہ ہوں:

۱… ’’خلعت مکالمہ اورسرورحاصل ہوتاہے۔‘‘

۲… ’’اوراس کی وحشت انس سے بدل جاتی ہے۔‘‘

۳… ’’مقام فنا وبقاء کے پردہ اخفاء سے ظاہر ہوجاتے ہیں۔‘‘

۴… ’’اس وقت دریائے وحدت میں ڈوب کر اس کی عجب حالت ہوجاتی ہے۔‘‘

۵… ’’اورکلمہ ’’انا الحق‘‘ اور ’’لیس فی جبّتی سو اللہ ‘‘ کہنے لگتاہے۔‘‘

اس کے بعد اس مسئلہ کو قرآن واحادیث اورفلسفہ سے ثابت کرکے فرماتے ہیں۔

۶… ’’مگر یہ بات بہت باریک اورمسئلہ نہایت نازک ہے۔ اس کے پیچھے پڑنا نہیں چاہئے۔‘‘ الخ

مگر یہاں مدعاعلیہ کے واسطے یہ کسی طرح مفید نہیں بلکہ محض بے سود ہے۔ کیونکہ یہاں وحدت الوجود کا ذکرہے اورمرزا صاحب اپنے دعویٰ خدائی کے ساتھ اسی کشف میں فرمادیا کہ: ’’ہماری مراد اس واقعہ سے یہ نہیں۔ جیسا کہ وحدت الوجود کی کتب میں مراد لی جاتی ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۶، خزائن ج۵ ص۵۶۶)

ایسی غیرمتعلق مثالوں سے جسے مرزا صاحب خود تسلیم نہیں کرتے بلاوجہ مختارمدعاعلیہ نے اپنا اور عدالت کا وقت رائیگاں کرکے مقدمہ کو طول دیاتاکہ دنیا کے سامنے یہ کہہ سکے اتنے صفحات کی بحث پیش کی ہے۔

۷… اسی مذکورہ بالااصول پر تذکرۃ الاولیاء سے جو حوالہ وحدت الوجود کے سلسلہ کانقل کیاہے ہرگز چسپاں نہیں۔ ملاحظہ ہو: جو شخص حق میں محو ہوجاتاہے وہ حقیقت میں سرتاپاحق ہی ہوجاتاہے اور اگر وہ آدمی خود نہ رہے اور سب حق ہی دیکھے تو یہ عجب نہیں ہوتا۔

نوٹ: یہاں یہ عبارت کاٹ کرلی تاکہ اصل مسئلہ منکشف نہ ہو۔نیز اس کتاب کی نسبت حضرت سیدالطائفہ شیخ فریدالدین عطار کی طرف

50

تو ضرور ہے مگر صوفیاء کرام کے نزدیک اس میں دشمنان صوفیہ نے کمی زیادتی بھی کرڈالی ہے اوربلا کسی خارجی شہادت کے بکّلہٖ قابل اعتماد نہ رہی۔ اسی لئے تو مدعاعلیہ کی طرف سے شہادت میں پیش نہ کی گئی۔

۸… خزائن الاسرار کانیاحوالہ جس میں ہے کہ آنحضرتﷺ عین اللہ تھے… الخ!

یہ ایک فصوص الحکم کی نہایت غیرمعتبرشرح ہے جس سے یہ حوالہ نقل کیاگیاہے۔ اس کے غیرمسلم ہونے کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ قرآن پاک حضورa کوعبد اللہ اوررسول بتائے۔ حضورa آخروقت تک نزع کے عالم میں تمام صحابہﷺ کو وصیت فرمائی کہ دیکھو مجھے حدسے نہ بڑھانا، اللہ یااس کا بیٹا نہ سمجھنا۔ ’’انمااناعبدہ ورسولہ‘‘ اذان ونماز میں رسول اللہ اورعبدہ ورسولہ لازم کیاجائے اورحضورa کو باوجود سلامتی ہوش وحواس عین اللہ بتائیں اورناسمجھی سے اسے قرآن سے ثابت کریں اورمسلم ماننے پریہ وہی وحدت الوجود ہے جو مرزا صاحب کو مسلم نہیں۔ کیونکہ محی الدین ابن عربی فرقہ وجودیہ کے موجد ہیں اور تمام ان کے شراح وحدۃ الوجودی ہیں۔ اس کے بعد حکمت اس خواب کی مدعاعلیہ کی طرف سے پیش کی گئی ہے کہ اس مقدمہ میں جواسلام وکفر کا مسئلہ درپیش ہے۔ صرف اس کا جواب دینے کے لئے یہ رؤیاتھا تاکہ معلوم ہوجائے کہ مرزا صاحب صراط مستقیم پرہیں اور علامہ عبدالغنی نابلسی کی کتاب (تعطیرالانام ج۱ ص۱) سے ایک تعبیر نقل کی ہے: ’’من رای کانہ صار الحق سبحانہ وتعالیٰ اہتدی الی صراط مستقیم‘‘

جواب یہ ہے کہ:

۱… اوّلاً یہ ایک کشف ہے محض خواب نہیں۔ مرزا صاحب خود فرماتے ہیں: ’’میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ …الخ!

(کتاب البریہ ص۷۸، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

اوریہ کشف کاتعبیر نامہ نہیں بلکہ خواب کاہے۔

۲… کشف کی تعبیر صوفیاء کرام دیاکرتے ہیں۔ چنانچہ وہ اسے محض شیطانی خواب اورگمراہی بتاتے ہیں، جس پر یقین کرنے سے ان کے نزدیک کفرسے بھی بدترہوگا۔ ملاحظہ ہو آپ کی مسلم کتاب یواقیت اورمسلم بزرگ علامہ عبدالوہاب شعرانی کی (یواقیت ج۱۰ ص۱۲۰) ’’اعلم ان… الی… اطال ذلک‘‘ جس کا خلاصہ یہ کہ رو یت باری تعالیٰ خواب میں بھی دنیا کے اندر سوائے سیدالمرسلینa اورکسی کو نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ خواب میں بھی کسی صورت اورمثال پر ہوگی اور وہ بے مثال وبے نظیرہے۔ کیونکہ وہ رب العالمین ہے فرماتاہے: ’’لا تضربوا ﷲ الامثال لیس کمثلہ شیٔ ولم یکن لہ کفواً احد‘‘ آخری فیصلہ یہ کہ جو خدا کویوں دیکھے اور خیال کرے کہ وہ الہ ہے: ’’فذالک من ارادۃ الشیطان واغوائہٖ تضلیلہ وہو مشبہ یعتقدہ کذالک فی الیقظہ‘‘ یعنی یاتو یہ شیطانی وسوسہ اس کے بہکانے اورگمراہ کرنے کے واسطے ہے یا درحقیقت وہ خداکے جسم وصورت کامعتقد ہے، جسے وہ یوں دیکھ رہاہے ملاحظہ ہو۔

صوفیاء کرام اسے شیطانی شرکت قراردیتے ہیں۔

۳… جس کسی بزرگ کو ایسا کشف ہوا، انہوں نے اسے شیطانی ہی قراردیا ملاحظہ ہو۔ گواہ مدعیہ کے مسلم حضرت علامہ امام عبدالوہاب شعرانی (یواقیت ج۱ ص۱۲۸ مبحث۲۲) ’’قال الشیخ عبدالقادر…الی…انتہی‘‘ خلاصہ یہ کہ سیدالطائفہ حضرت شاہ عبدالقادرجیلانی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے عظیم الشان نوردیکھا جس نے آسمان کے کنارے بھردئیے ہیں۔ اس سے ایک صورت نمودار ہوئی اورمجھے پکارا۔ اے عبدالقادر ’’اناربک‘‘ فرماتے ہیں: میں نے کہا۔ ذلیل ہواے لعین۔ پس وہ عظیم الشان نور یکدم اندھیرابن گیا اوروہ صورت دھواں بن کر وہ لعین مجھ سے کہنے لگا کہ عبدالقادر چونکہ آپ کو اپنے رب کے احکام اوراپنے مرتبے کی سمجھ تھی۔ اس لئے بچ نکلے۔ میں نے اس قسم کے واقعہ سے ستر سے زائد اہل طریق صوفیاء کرام کوگمراہ کر کے چھوڑا… الخ!

51

حضورa ایسے بے سرتاپا امور کو شیطانی وسوسہ قراردیتے ہیں نہ کہ قابل تعبیر خواب۔ مشکوٰۃ، کتاب الرؤیا، حدیث، خواب قابل تعبیر کب ہے اور کب وسوسہ ہے۔ ملخص! قرآن پاک میں بھی اس قسم کے خوابوں کا لقب اضغاث احلام پراگندہ غیر قابل تعبیرخواب ہے۔

نوٹ: یہ بھی واضح رہے کہ عبدالغنی نابلسی کوئی فن تعبیر کے امام نہیں۔ ابن سیرین جواس فن کے امام ہیں جنہوں نے یہ علم صدیق اکبرq سے اور انہوں نے سیدالمرسلینa سے حاصل کیا۔ ان کی کتاب التعبیر کا دیباچہ ملاحظہ ہو اوریہ اس قسم کے خواب سب شیطانی وسوسہ ہیں۔ جن پر یقین نہ کرناچاہئے نہ کسی سے بیان کرنا۔

نیز (دافع البلاء، الوصیت، کشتی نوح) وغیرہ سے عقیدہ توحید نقل کرنا بالکل بے سود ہے۔ اس کے بعد اوراس کے ساتھ اور اس سے قبل تمام مشرکانہ عقائد واحوال موجودہیں جن میں سے ایک سے بھی رجوع منقول نہیں۔ البتہ اس امر(یعنی اس کایقین کہ میں خداہوں) سے تویہ صاف لفظوں میں غیرمشتبہ طور پر پیش کردو، ہم یہ کفر واپس لے لیں گے۔ ہمیں ان سے کوئی ذاتی نزاع ہے نہیں۔ صرف باری تعالیٰ، اس کے حبیب پاکa، اولوالعزم انبیاء کرامؑ، صحابہ واہل بیت عظامi اورخاصان خدا، نیز مذہب اسلام کی توہین ودشمنی کاباعث ہے۔ جب تک اس سے توبہ نہ کرلیں، مرتد اوراسلام سے خارج ہیں۔

(۲)

جواب خالق ارض والسمٰوات کا دعویٰ

اس جواب میں بھی حسب عادت عدالت کو مغالطہ کی ناکام سعی کی گئی ہے اور گو اس سے سابق پر مفصل جواب عرض کرچکاہوں اس کے جواب کی ضرورت نہیں۔ مگرچونکہ اس پرنمبر۲ کا ہیڈنگ قائم کرکے مختارمدعاعلیہ نے ایک لمبی بحث کی ہے جس سے یہ چاہتاہے کہ پہلی بحث ذہن سے نکل جائے۔ اس لئے مختصراً جواب عرض ہے کہ وجہ تکفیر صرف خالق ارض والسماء کوعلیحدہ کرکے اگر گواہ مدعیہ نمبر۳ قراردیتاتو شاید یہ لایعنی تقریر کچھ باربط توضرورہوجاتی۔ یہاں تو دعویٰ خدائی کے مضبوط کرنے کے لئے ایک قرینہ بنایاہے۔ یعنی دعویٰ خدائی اور اس پر یقین کرکے خلق ارض وسماء کا دعویٰ اس خدائی دعویٰ کواورپکا کرکے ایسا کفر ثابت کرتاہے کہ جس کاجواب ہی ناممکن ہے اس کی تائید میں مختارمدعاعلیہ ہی کی ہی پیش کردہ عبارت ملاحظہ ہو: ’’اگر کوئی شخص خدائی کا دعویٰ اوراپنے آپ کوخالق جانے وہ اسلام سے مرتد ہوجاتا ہے۔ ملاحظہ ہو کہ منشاء اعتراض اوروجہ ارتداد صرف خالق ہونا نہیں، بلکہ خدائی کا دعویٰ اوراپنے کو خالق جاننا۔ مختارمدعاعلیہ محض مغالطہ کے طور پر صرف خالق زمین وآسمان لے اڑا اوردور از کار عقل میں نہ آنے والی تاویلات کرلیں۔

(ابوالوفاء)

باقی یہ کہنا کہ اس کا ترجمہ خواب ہے۔ جیسا کہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے بھی کیاہے، محض لغوہے۔ کیونکہ وہ توترجمہ لغوی لکھوایاہے۔ مگر مراد توترجمہ ہوگا جومتکلم مرزا صاحب نے خود کیا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے کشف میں دیکھا۔

(کتاب البریہ ص۷۸، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

نیز ’’وتیقنت اننی ہو‘‘ خارج میں خداہونے کا یقین کربیٹھے۔ اعتراض تویقین کرنے کے بعد پیدا ہوا ورنہ اگر وہ اس خواب کواضغاث احلام پراگندہ خواب اوراس کشف کوشیطانی وسوسہ قراردیتے۔ جیسا کہ حضرت سید الطائفہ شیخ عبدالقادرجیلانی نے کیا، توپھر اعتراض بھی نہ تھا۔ آج اگرمختارمدعاعلیہ یا مدعاعلیہ اس کا اقرار کرے کہ یہ شیطانی وسوسہ تھا۔ اس پر اعتراض نہ رہے گا۔ ہمیں کسی کو خواہ مخواہ کافر توبنانا نہیں۔ مگرجب کہ اسے وحی ربانی اورمثل قرآن کے منزہ اورقابل ایمان سمجھا جاتاہے توہزار تاویل کریں اور مجلدات اس پر لکھ ڈالیں کفروارتداد ٹل نہیں سکتا:

  1. سچ ہے حکیم کام نہ نکلے بناؤ سے

    بیڑا کبھی نہ پار ہو کاغذ کی ناؤ سے

52

اس کے بعد مختارمدعاعلیہ نے اس کا تفصیلی جواب دینے کے واسطے تین نمبرقائم کئے ہیں:

۱… کیا خواب میں آپ نے موجودہ زمین وآسمان بنانے کا ذکر کیا۔

۲… اگرنئے آسمان وزمین بنانے کا ذکرہے تو اس سے کیامراد ہے۔

۳… کیا آپ اپنے آپ کو موجودہ زمین وآسمان کا خالق سمجھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کو۔

جوابات: پہلے کا جواب یہ ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو عین اللہ عین خدا مان لیاتو نئے آسمان وزمین بنائیں یاوہی مٹاکے پیدا کریں یاازل میں پہنچ کر ابتداً پیدا کریں۔ ایک ہی جیسا ہے کہ اپنی تصریح کے مطابق اوّلاً عین خدابنتے ہیں جس پر یقین کامل ہے۔ پھرآسمان وزمین بنائے جاتے ہیں۔ پس اس کی ذات میں بھی شرک کیا اور افعال میں شرک اورنئے آسمان وزمین مانتے ہیں تو شرک دوبالاہوجاتاہے۔ کیونکہ اس کامطلب تویہ ہوا کہ خداکے مقابل خود خدابن گئے اوراس نظام اورزمین وآسمان اورآدم کے مقابل اپنانیا نظام نئی زمین کابنا کر کھڑا کیا اورنیا آسمان نئی زمین بنا کے جو خدانے فرمایاخودبھی بول اٹھے کہ: ’’ولقد زینا السمآء الدنیا بمصابیح (الملک:۵)‘‘ پھرآدمm کو سلالۃ طین سے بنایا۔ بنانے کی قدرت اپنے اندرمحسوس کی۔

دوسرے نمبر میں یہ کہنا کہ اس سے مراد یہ ہے اور وہ ہے اوردوسری مرزا کی کتب کاحوالہ سب بے سود ہے۔ کیونکہ انسان کا اصول ہے کہ جب گرفت میں آجاتا ہے تو تاویلیں کرتا پھرتا ہے۔ کفار مکہ بھی بتوں کو خدا سمجھتے ہوئے عبادت کرتے تھے اور جب گرفت میں آ جاتے تو کہتے ہیں کہ: ’’ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفیٰ (الزمر:۳)‘‘ ہم تو صرف انہیں خداتک رسائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ عیسائی بھی دیکھو تثلیث کی التثلیث فی التوحید وبالعکس تینوں ایک ہیں۔ تین ایک کی تاویل کرتے ہیں اور مطلب بناتے ہیں توکیا وہ بھی موحد ہوجائیں گے؟ نیز عیسائی رب وابن کی بھی تاویلات کرتے ہیں۔ باقی تویہاںبنیاد اعتراض اوّلاً دعویٰ خدائی اوراس کا یقین اورپھرزمین وآسمان اورآدم وانسان کو پیدا کرنا وہی الفاظ جوخدائے قدوس نے خلق کے بعد یااسی وقت استعمال فرمائے استعمال کرنا اور عیاذاً ب اللہ خداکے مدمقابل ہوکر اس کا منہ چڑھاتاہے۔ لہٰذا یہ تاویلیں محض بے کار ہیں۔ جب تک یہ خدائی کے دعویٰ کا کشف جوبنائے اعتراض ہے۔ شیطانی نہ ماناجائے اور اس کی یقین سے مرزا صاحب کا رجوع اورغیرمشتبہ الفاظ میں مرنے سے قبل توبہ نہ دکھائی جائے بات بنانے کے واسطے تاویلیں تواورکفر وارتداد کومضبوط کریں گی۔ قرآن پاک پڑھئے: ’’یحلفون ب اللہ ما قالوا ولقد قالوا کلمۃ الکفر… الخ! (التوبۃ:۷۴)‘‘

فرعون نے بھی ’’اناربکم الاعلیٰ‘‘ کہامگر خلق زمین آسمان چاند و سورج کا دعویٰ نہ کیا اور جب موسیٰ نے اپنے ایک مخالف خدا کاان صفات سے تعارف کرایاتولاجواب رہ گیا۔ مگر چودھویں صدی کے مدعی نبوت اوراس کے متبعین پرحیرت ہے کہ اتنی بدیہی البطلان چیز پرجمے ہوئے کمال مضبوطی سے تاویلات رکیکہ کررہے ہیں:

  1. آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

    محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

ہاں! اگر مرزا صاحب یہ نہ فرما دیتے کہ میں وحدۃ الوجود اورصوفیاء کرام کی اصطلاح پرنہیں کہہ رہا توہم ’’ہمہ اوست‘‘ پرضرور

53

نیک نیتی سے محمول کرلیتے۔ مگر انہوں نے تو کفر کے وہ مضبوط ستون قائم کئے ہیں کہ ساری عمر مرزائی کوشش کریں کفر دفع نہیں کرسکتے۔ باقی مثنوی صبح امید سے علامہ شبلی کے یہ اشعار:

بحث مدعاعلیہ: ان کے متعلق یہ ہے کہ یہ وہی قدیمی عادت ہے کہ جب قرآن اورحدیث نیز کسی معقول دلیل سے یابزرگوں کے قول سے مرزا صاحب کا ثبوت نہیں ہوتا تو انگریزی تعلیم یافتہ اڈیٹران اخبار، شعراء زبان کی آڑ بن جاتی ہے۔

میں عدالت پر یہ بات واضح کردینا چاہتاہوں کہ کشف والہام رؤیاء صالحہ وحی وغیرہ کا ذکرہے وہ کشف وحی جس کے متعلق یہ کہ:

  1. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

یہ کسی شاعر کے شاعرانہ تخیل کی آڑ کافی نہیں۔ نیز علامہ شبلی کے کلام میں نئے آسمان وزمین کی پیدائش کاکوئی تذکرہ نہیں بلکہ اسی قدیمی چرخ کی نئی اداؤں اورسیاروں کی نئی چمک اورفلک کے موسمی بہار نہ بدلنے کومجازاً نئی صورت زمین وزمان پیش کررہی ہے۔

آسمان فضاء کے تکدر وصفائی اورتغیرات کو شعراء برابر زمین وآسمان کہاکرتے ہیں۔

نظامی فرماتے ہیں:

  1. زستم ستوران دراں پہن دشت

    زمین شش شد و آسمان گشت ہشت

کوکب:

  1. بام پر چڑھ کے ابر کو دیکھا

    ایک نیا آسمان نظر آیا

باقی اس کشف کے آخری الفاظ (آئینہ کمالات ص۵۶۶، خزائن ج۵ ص۵۶۶) سے جو الفاظ نقل کرکے اس کی شرح بتانا چاہاہے وہ محض مغالطہ ہے۔ کیونکہ بنیاد اعتراض ’’رأیتنی فی المقام عین اللہ وتیقنت اننی ہو‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴) کہ اوّلاً دعویٰ خدائی اور اس کا یقین تام جب تک اس سے تائب نہ ہوں کوئی تاویل قبول نہیں۔ (زمین وآسمان کے قلابے ملاتے رہیں)

باقی مختارمدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’بس شاید مختارمدعیہ کا اس تشریح کو عمداً نظرانداز کرکے عدالت کو مغالطہ دینا اس کو ثقہ شاہد کی حیثیت سے بالکل گرادیتاہے کہ اس کے فہم کاقصورہے۔ منشا ء اعتراض ہی یہ نہیں۔ بلکہ دعویٰ خدائی کا اورپھر زمین وآسمان پیدا کرنا۔ یہ تشریح دعویٰ خدائی اور اس کے یقین سے غیرمتعلق ہے۔‘‘

رہ گئی ثقہ شاہد کی حیثیت اس کے واسطے میری بحث کا ہیڈنگ گواہان مدعاعلیہ کا پوزیشن ملاحظہ فرمائیں اورمولانامرتضیٰ حسن صاحب کی بحث سے کاپی خیانات تاکہ مدعاعلیہ کے گواہوں کی حیثیت اورعدم ثقہ ہونا واضح ہوجائے۔

باقی تیسرے نمبر کے سلسلہ میں یہ ثابت کرنا کہ مرزا صاحب نے دوسری کتابوں میں خدا کو خالق ارض وسما ماناہے۔ محض بے کارہے۔ کیونکہ ان بزرگوارکی عادت ہی دورخی باتوں کی ہے۔ کیاحمامۃ البشریٰ میں مدعیٔ نبوت پر لعنت نہیں بھیجی اور دعویٰ نبوت کو کفرنہیں بتایا اور جولوگ مرزا صاحب کی نبی کہتے ہیں انہیں دجال قرار نہیں دیا۔

پھر اس کے خلاف بھی سب کچھ کہا۔ مثیل مسیح کا دعویٰ بھی ہے انکار بھی۔ پوری تفصیل میری بحث سے ملاحظہ فرمائیں۔ اس کی ایک لسٹ درج ہے ان مغالطہ آمیز اورمتعارض مخلوط باتوں سے ایماندار ہونا کجا مرزا صاحب کے معیار پردجال ہونالازم آئے گا۔ ملاحظہ ہو تبلیغ رسالت۔

54

(۳)

اللہ تعالیٰ کو تیندوے سے تشبیہ

(توضیح مرام ص۷۵، خزائن ج۳ ص۹۰)

مختارمدعاعلیہ کا یہ جواب سراسرمغالطہ ہے۔ تیندوے سے تشبیہ کا اعتراض نہیں نہ تمثیل سے اس کا کوئی علاقہ ہے۔ عقیدہ تثلیث کا ہیڈنگ نمبر۶ ہے اور یہ ہیڈنگ عقیدہ جسمیت نمبر۷ کے تحت میں ہے۔ محل اعتراض صرف ابتدائی حصہ ہے: ’’اس وجود اعظم کے بے شمار ہاتھ بے شمار پیرہیں عرض طول رکھتاہے۔‘‘

اورخصوصیت سے آخری فقرہ ’’عرض وطول رکھتاہے‘‘ قابل غور ہے۔ کیونکہ عرض طول خدا کی شان کے سراسرخلاف اورخواص جسمیت سے ہے۔ اس کے متعلق مختارمدعاعلیہ نے باوجود طول لاطائل بحث کرنے کے ایک حرف نہ کہا اورگویا اس الزام کواپنے اس روّیہ سے لاجواب تسلیم کرلیا۔ لہٰذا غیرمتعلق امور کا جواب دینا ہمار ا منصب نہیں نہ عدالت ہی اتنا وقت دے سکتی ہے۔ ورنہ اس جواب کی ہرسطر اپنے اندر ایک انوکھا مغالطہ رکھتی ہے جواہل فہم پر مخفی نہیں۔

(۴)

ربناعاج

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۵، خزائن ج۱ ص۶۶۲ حاشیہ درحاشیہ نمبر۴)

مختارمدعاعلیہ نے اس کے جواب میں لاجواب ہوکراپنی طرف سے منگھڑت استدلال گھڑکر جواب کی لاحاصل سعی کی کہ: ’’مختارمدعیہ نے اس الہام کے متعلق کہاہے کہ اس سے شرک فی الصفات لازم آتاہے اور اس امر کے لئے ایک فارسی شعرپڑھ کر یہ ظاہر کیاہے کہ لفظ بتوں کے لئے مستعمل ہوتاہے اور یہ لفظ فارسی ہے۔ الیٰ آخرۃ! حالانکہ مختارمدعیہ کے بحث میں یہ دوسرے نمبر کے ہیڈنگ کے تحت میں بیان کیاگیاہے جس کا عنوان شرک فی الاسم نمبر۲ ہے۔

اوربحث یہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات واسماء سب لاشریک ہیں اور ہونے چاہئیں۔ مرزا صاحب نے اپنی طرف سے خدا کا ایک یہ اسم تراشاہے جوناجائز اور شرک فی الاسم کے مرادف ہے اورمرزا صاحب کا یہ کہنا کہ اس کے معنی اب تک معلوم نہیں ہوئے۔ لغوحیلہ ہے۔ کیونکہ توفی اورخلت وغیرہ کے معنی کے واسطے سینکڑوں لغات دیکھی جاتی تھیں۔ اس کے واسطے ایک لغت بھی نہ دیکھی۔ عربی میں یہ لفظ ہاتھی دانت کے واسطے صرف حقیقت استعمال ہواہے اور اگرعربی کی توفیق نہ ہوئی تھی توبوستان کا شعر:

  1. بتے دیدم از عاج در سومنات

    مرصع چودر جاہلیت منات

پڑھ لیاہوتا۔ یہاں بھی اسی عربی ہاتھی دانت کے معنی میں مستعمل ہے… الخ!

نہ اس میں اس لفظ کو فارسی بتایاہے نہ شرک فی الصفات ثابت کیاہے۔ ہمارا مدعاتوبہرطورحاصل ہے۔ یہ لفظ فارسی بنائیے یاعربی، مہمل ہویابامعنیٰ، مشتق ہویاجامد۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پربلاشارع سے ثبوت کے بولناجائز نہیں۔ کیونکہ باری تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔ جب تک شرع میں اس کی استعمال کی تصریح نہ ہوہرگز جائز نہیں اور بالخصوص اسماء صفاتیہ میں تو کسی کواختلاف نہیں اور یہ مسئلہ کہ اسماء باری تعالیٰ توقیفی ہیں کوئی فروعی مسئلہ نہیں بلکہ اعتقادی مسئلہ ہے۔ ملاحظہ ہوگواہان مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ (باب اسماء توقیفی) ہیں۔ امام

55

عبدالوہاب شعرانی کا ارشاد: ’’المبحث الخامس عشر فی وجوب اعتقاد ان اسماء اللہ تعالیٰ توقیفیۃ فلایجوز لنا ان نطلق علی اللہ تعالیٰ اسماً الا ان ورد فی الشرع‘‘

(الیواقیت والجواہر ج۱ ص۷۳)

یعنی پندرہویں بحث اس بیان میں کہ اعتقاد اس امر کا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت کوئی بھی اسم استعمال کرناجائز نہیں جب تک وہ شرع میں ثابت نہ ہو۔ پھر اسے مدلل بیان کیا ہے اوراسی ضمن میں ’’وﷲ الاسمآء الحسنیٰ‘‘ کی یہ تفسیر کی ہے کہ: یعنی ’’الواردۃفی الکتاب والسنۃ‘‘ یعنی خداتعالیٰ کوا نہیں اسماء حسنیٰ سے پکارو جو کتاب وسنۃ میں آئے ہیں۔

لہٰذا شرک فی الاسم بدستور باقی رہا اور یہ استدلال بھی لاجواب ہی رہا۔ اس کے بعد مختارمدعاعلیہ نے اس کے عربی سے مآخذ نکال کر چاہاہے۔ مگر اوّلاً تویہ گزارش ہے کہ مرزا صاحب تو لکھتے ہیں کہ معنی معلوم نہ ہوئے اور گواہ اس میں معنی ڈال رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ آپ کے پیش کردہ معنی جب درست ہوں گے کہ یہ بالتشدیدہو۔ عاج یاعاج ٍ داعٍ کی طرح ہو۔ حالانکہ اس کی کوئی تصریح نہیں۔ بلکہ ظاہر عاج ہے جو جامد بمعنیٰ ہاتھی دانت ہے اور کوئی بھی معنی کیجئے۔ اس کا اطلاق بلااذن شرع درست ہی نہیں اور شرک فی الاسم کا اعتراض خصوصاً جب کہ اسے عربی مانیں اوربھی اٹل ہے۔

(۵)

انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی

(اربعین ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۳۸۲)

یہاں بھی نقل استدلال میں مغالطہ دیاہے اس کا عنوان ادّعاء یکتائیت ہے۔ یہاں ہرگز یہ ثابت نہیں کیاگیا کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو توحید وتفرید میں شریک کیا۔ یہاں تک یہ لاطائل جواب قابل توجیہ ہو۔ یہاں توصرف یہ ثابت کرناہے کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو بمنزلۃ اللہ کی توحید وتفرید کے قراردیتے ہیں۔ یعنی جس طرح اس کی توحید وتفرید یکتاہے۔ مرزا صاحب بھی یکتا ہیں۔ پھر صرف اس کو توپیش نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی اس کے مؤید اور قرائن ہیں۔ مثلاً:’’انت منی بمنزلۃ لایعلمہا الخلق‘‘

(اربعین نمبر۳، خزائن ج۱۷ ص۳۸۲)

تومجھ سے سے ایسے مرتبے پرہے کہ ساری مخلوق اسے نہیں جان سکتی۔ نیز مرزا صاحب کی اربعین نمبر۴ کی تشریح جو لوگوں کی گرفت کے بعد گھڑی ہے اور بھی قباحت دوبالا ہوجاتی ہے۔ کیونکہ خدا کی توحید وتفرید اس کی ذات سے غیر نہیں بلکہ عین ہے تو لازم آئے گاکہ مرزا صاحب عین ذات باری کی طرح ہوجائیں۔ پھر بڑا سوال تویہ ہے کہ اگر مخلوق کے واسطے یہ استعمال جائز تھا تو کسی اورنبی حتیٰ کہ سیدالمرسلینa کو نہ فرمایا۔

تینوں فقروں کو (اربعین نمبر۳، ص۲۵) جس حوالہ سے پیش کیاہے۔ ملاحظہ فرمائیں جوواضح قرینہ ہے۔

۱… ’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘
۲… ’’انت منی بمنزلۃ عرشی‘‘
۳… ’’انت منی بمنزلۃ لا یعلمہا الخلق‘‘

اس سے صاف واضح ہے کہ اپنی صرف یکتائی بلکہ وہ مرتبہ ثابت کررہے ہیں جومخلوقات کے علم سے بالاتر ہے۔ یہ خدائی تک پہنچنے کا تیرا زینہ ہے۔ بتدریج دعویٰ کیاہے۔ جیسا کہ ان کی عادت دوسرے دعاوی میں ہے۔

56

باقی مرزا صاحب کی کتب میں توحید کے تذکرے بھی ہیں اورشرک کے بھی ان کی عادت ہی متضاد بیانی کی ہے جس کے نمونہ کے لئے بحث میں ایک لسٹ دے چکاہوں۔ نیز جوجرح مفصل مذکورہیں۔

(۶)

انت اسمی الاعلیٰ

یہ الہام بھی (اربعین نمبر۳ ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۳۸۲) سے نقل کیاہے۔ مرزا صاحب نے خود ہی اس کا ترجمہ کیاہے کہ اور تومیرا سب سے بڑانام ہے جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ مرزا غلام احمد، اللہ کاسب سے بڑانام ہے۔ یعنی اسم ذات اللہ سے بھی بڑا۔ پس جوشخص اپنا نام خدا کے تمام ناموں حتیٰ کہ اللہ سے بڑا سمجھے۔ لاالہ ال اللہ پرکیا ایمان رکھ سکتاہے؟

باقی یہاں اسم اعظم وغیرہ کاکوئی ذکرنہیں جس کے لئے مختارمدعاعلیہ نے تریاق القلوب کی تشریح پیش کرکے مغالطہ دینے کی ناجائز سعی کی ہے۔ ان مغالطوں سے جواب نہیں ہوتا اورنہ اسے کوئی عقل مند جواب قراردے سکتاہے۔ الحمدﷲ! کہ اب تک مختارمدعاعلیہ نے ہمارے پیش کردہ پوائنٹ میں سے ایک کو بھی چھواء نہیں اور ان شاء اللہ نہ کبھی ان کا جواب دے سکتاہے۔

(۷)

انت منی بمنزلۃ لایعلمہاالخلق

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۵۹)

یہ فقرہ ادّعاء یکتائیت نمبر۳ انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی کی تائید میں ذکر کیا گیا ہے۔ مستقل کوئی عنوان نہیں دیدہ دانستہ ٹکڑے ٹکڑے کرکے مختارمدعاعلیہ نے غیر مرتب جواب دینا شروع کیاہے تاکہ اصل مدعاخبط ہوجائے اوریوں مغالطہ کی تکمیل ہوسکے۔ حالانکہ یہ ناممکن ہے۔ خود مرزا صاحب کا ترجمہ آپ نے نقل کیاہے کہ: ’’مجھ سے تو وہ مقام و مرتبہ رکھتاہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔‘‘ (اربعین) اوراس کے ساتھ یہ ترجمہ بھی ملالیجئے کہ: ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید وتفرید‘‘ پھریکتائی کے ادّعاء کے ثبوت میں کونسی کمی رہ جاتی ہے اورجوشخص اپنے آپ کو خدا کی توحید کی طرح سمجھتاہو وہ بھی کلمہ توحید لاالہ الا اللہ پرایمان دارشمار ہوتوپھر کافرکون ہوگا۔

بریں عقل ودانش بباید گریست

(۸)

انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون

(براہین پنجم ص۹۵،خزائن ج۲۱،ص۱۲۴)

یہ ایک کھلاہوا شرک تھا اور اس کے بعد ناممکن تھا کہ مرزا صاحب کا ایمان لاالہ الا اللہ پر ہوسکے۔ اس لئے حسب عادت اس کو رلانے اوراس میں دیدہ ودانستہ مغالطہ ڈالنے کی ناکام کوشش مختارمدعاعلیہ نے ختم کرلی۔ مگر الحمدﷲ! جواب توکیا ہوتا نامرادی ہی رہی۔

مختارمدعیہ نے عدالت کے روبرویہ الہام شرک فی الامر کے تحت میںپیش کیاہے اورمدار اعتراض انما امرک ہے۔ یعنی کسی امر کی سوائے اس کے کوئی شان نہ ہونا کہ جب بھی وہ کسی چیز کا ہوناچاہے اور کہے کہ: ’’ہو پس وہ فی الفور ہوجائے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص

57

خصوصیت ہے۔ اس میں کوئی نبی، ولی، مرسل، ملائکہ شریک نہیں۔ کسی کو شریک ماننا ’’شرک فی الامر والتکوین‘‘ ہے۔ ’’قال اللہ تعالیٰ الا لہ الخلق والامر (الاعراف:۵۴)‘‘ پیدا کرنا اور امر کا مالک ہونا صرف اس کی شان ہے۔ ’’انما امرہ اذ اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون (یٰسین:۸۲)‘‘ اور اس آیت اوراس کے ترجمہ ومطلب کا مختص ہونا ذات الٰہی کے ساتھ جواب بحث میں مختارمدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے۔ وہ لکھتاہے کہ: ’’کن فیکون‘‘ کے کامل اختیارات کہ جس بات کاارادہ کرے وہ فی الفور ہوجائے۔ صرف خداہی کو حاصل ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: (یعنی مرزا صاحب) ’’حکم اس کا(یعنی خداکا) اس سے زیادہ نہیں کہ جب کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتاہے اور کہتاہے ہو۔پس ساتھ ہی ہوجاتی ہے۔ پس وہ ذات پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہرایک چیز کی بادشاہی ہے۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۷، خزائن ج۶ ص۱۰۱)

جب کہ اس آیت کامضمون وترجمہ باری تعالیٰ سے مختص رہا تو یہی مضمون کسی اور کے واسطے کیونکر استعمال ہوسکتاہے۔

چنانچہ اسی اقرار کرانے کو یہ صرف خداہی کی شان ہے سب سے پہلے استفتاء سے یہ پیش کیا۔ ’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘ (استفتاء ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۷۱۴) یہی معہ ترجمہ اس سے قبل (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) پربھی ہے۔ اس سے پہلے براہین احمدیہ وغیرہ میں بھی یہاں گواہ مدعاعلیہ نیز مختارمدعاعلیہ نے اسے شرک توتسلیم کرلیاہے۔ صرف اپنی طرف سے یہ (ناجائز) تاویل کرتاہے کہ اس سے مرزا صاحب مراد نہیں۔ بلکہ خداتعالیٰ مراد ہے اور ضمیر(ک) خطاب خداتعالیٰ کی طرف ہے ملاحظہ ہوں الفاظ کہ: ’’یہ خطاب اللہ تعالیٰ کوہے۔‘‘ اوریہ بالکل صحیح تھا۔ چنانچہ وہاں الہامات کی وہی ترتیب ہے جو (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)میں ہے۔ الی قولہ: ’’توجس بات کا ارادہ کرتاہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہوجاتی ہے۔ اس سے صاف ظاہرہے کہ اس میں جوضمائر خطاب ہیں وہ جناب الٰہی کے متعلق ہیں… الخ!‘‘ اس کا شرک اور مختص بجناب الٰہی ہونا مابہ النزاع نہیں بلکہ اس کی شرح یہ کی جاتی ہے کہ اس سے مرزا صاحب مراد نہیں بلکہ اس ضمیر سے خودباری تعالیٰ مراد ہیں۔

مرزا صاحب کی براہین احمدیہ حصہ پنجم جس کو مرزا صاحب نے ان تمام قابل اعتراضات الہامات ونشانوں کی تشریح کے لئے لکھی ہے۔ اس میں تشریح وتصریح فرماتے ہیں کہ اس الہام میں میں خود مراد ہوں اور یہ خدائے تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پرنازل ہواہے۔ ملاحظہ ہو (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴) اب جب مصنف نے خود اس الہام کی شرح کرلی اور اس کے ساتھ مختص کرلیا اور ضمیرخطاب سے اپنے آپ ہی مراد لے لیا۔

نیز گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ نے بھی بجواب جرح ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء تسلیم کرلیاکہ: ’’لیکن اس الہام میں مرزا صاحب کوخطاب ہے۔‘‘

پس ثابت ہوگیا کہ وہ خصوصیت الٰہی جو صرف اسی کو زیبا ہے جس کی تعبیر ’’انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون‘‘ یا ’’انما امرنا… الخ!‘‘ ضمیر غائب یامتکلم سے خدانے اپنی کامل اختیار کے اظہار کے لئے قرآن پاک میں اختیار فرمایاجسے گواہ اورمختارمدعاعلیہ نے بھی استفتاء کے اندرضمیر خطاب سے بھی خداتعالیٰ کے ساتھ مختص قراردیا اور مرزا صاحب کو شرک سے بچانے کے لئے جھوٹی تاویل کی۔

مگر مرزا صاحب نے بتصریح اپنے واسطے ثابت کرکے ایسا اٹل اقراری شرک تسلیم کیاہے جس کا جواب قیامت کی صبح تک مرزا صاحب یاکسی مرزائی سے ناممکن ہے۔ اس سے یہ امر بھی معلوم ہوگیا کہ ہمارا اعتراض اسی استفتاء یا حقیقت الوحی اور براہین یاجہاں بھی یہ الہام ہے اس پر ہی ہے۔

58

مختارمدعاعلیہ یااس کے شاہد کی انوکھی طبع زاد تاویل کو باطل کرنے کے واسطے پیش کی ہے تاکہ ’’توجیہ القول بمالایرضیٰ بہ قائلہ‘‘ مدعی سست وگواہ چست کا نظارہ ہوجائے اور دنیا سمجھ لے کہ اس بحث کاابتدائی حصہ کس قدر بامعنی ہے۔

اولیاء اللہ پرصریح بہتان

باقی اولیاء اللہ اورمقربان باری تعالیٰ (ہماراحشران کے ساتھ فرمائیں) کبھی کن کہیں اور وہ چیز باذن یابحکم الٰہی ہوجائے۔ یاکوئی نبی مردہ کوقم باذن اللہ کہے اور وہ زندہ ہوجائے وہ بطور کرامت یااعجاز کے احیاناً ہے دائمی نہیں۔ نہ یہ معنی ہیں کہ اب اس امر کے سواء اس کے کوئی معنی نہیں کہ جب ہی وہ کسی چیز کوچاہے ہوجائے اور کہے کہ ہوجا۔ پس وہ فی الفور ہوجائے۔‘‘

’’انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون (یٰسین:۸۲)‘‘

اوریہ کامل اختیار کہ اس کے امر کے سواء اس کے کوئی معنی نہ ہوخداہی کے لائق ہے۔ کوئی اس میں اس کا شریک وسہیم نہیں۔ بدقسمتی سے مختارمدعاعلیہ کو بلکہ مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ بحث کے مندرجہ ذیل کوٹیشن(Quotation)ملاحظہ ہوں:

۱… کہ کن فیکون کے ایسے کامل اختیارات کہ جس بات کا ارادہ کرے وہ فی الفور ہوجائے صرف خدا ہی کو حاصل ہے… الخ!

(جنگ مقدس ص۱۷، خزائن ج۶ ص۱۰۱)

۲… یاد رکھنا چاہئے کہ جو تکوین کشتگان محبت الٰہی سے صادر ہوتی ہے۔ اس میں اورخداتعالیٰ کی تکوین میں فرق ہے۔ ایسے انسان کا کن کہنا ہمیشہ نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ جیسا کہ خداتعالیٰ کا… الخ!

۳… اور ’’اذا ارادت شیئاً‘‘ سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ بروقت مقربان بارگاہ الٰہی کو یہ مقام دیا جاتا ہے۔

۴… پس اسی طرح کامل انسان کا کن دائمی طور پر نتیجہ نہیں کرتا بلکہ… الخ!

اس کامل طور پر اوردائمی کے مقام حاصل ہونے کی تعبیر بتصریح مرزا صاحب اور مختار مدعاعلیہ ’’انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون‘‘ ہے۔ ملاحظہ ہوکوٹیشن (Quotation)بحوالہ (جنگ مقدس ص۱۷، خزائن ج۶ ص۱۰۱) مکمل ’’انما امرہ‘‘ یا ’’انماامرنا‘‘ یا ’’انما امرک‘‘ کے اضافہ کے صرف کسی کے کن کہنے سے کسی چیز کا کبھی ہونا دائمی اختیار تکوین اور مقام تکوین حاصل کرنا نہیں کہلاتا۔ بلکہ ’’انما امرک اذا اردت شیئاً‘‘ کے صرف اتنا لفظ ہوگا کہ: ’’تقول للشیٔ کن فیکون‘‘

خلاصہ یہ کہ اعتراض صرف ان الفاظ اوراس کامل اختیار پر ہے جو ’’انما امرک اذا اردت شیئاً‘‘ میں جو خداکے ساتھ مختص ہے۔ ’’قال اللہ تعالیٰ انما امرہ… الخ!‘‘ ’’انما امرنا اذا اردنا شیئاً ان تقول لہ کن فیکون (قرآن حکیم)‘‘

پس مرزا صاحب کی عبارت والہام میں بعینہٖ وہ تعبیرہے کہ ’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۳۸۳)

مگر حضرت سید الطائفہ شیخ عبدالقادرجیلانیq ( اللہ ہمیں ان کے طریقے پر چلائے) کی عبارت میں متفقہ قابل اعتراض دائمی اورکامل مقام تکوین پر دلالت کرنے والے خداتعالیٰ کے ساتھ مخصوص منفرد فقرہ ’’انما امرک اذا اردت شیئاً‘‘ کا کہیں پتہ ونشان نہیں۔ وہاں صرف بطور کرامت کبھی کسی کے لئے صرفتقول للشیٔ کن فیکون ہے۔

(فتوح الغیب مقالہ ۱۳)

اسی طرح (حکم الاشراق مطبوعہ ایران ص۷) کی جوطول لاطائل عبارت پڑھی۔ اس میں کہیں بھی ’’انما امرک اذا اردت شیئاً‘‘کا شائبہ تک نہیں۔ اس میں صرف یہ لفظ ہے: ’’پس وہ خداکے نور کو نفس اشارہ کرتاہے۔ پس وہ چیز اشارہ سے موجود ہوجاتی ہے۔‘‘

کسی کے اشارہ سے مخصوص حال میں بطور کرامت کسی چیز کا ہوجانا اورچیز ہے اور یہ کامل اختیار دائمی ملنا کہ ’’انما امرک اذا اردت

59

شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘ اور بات ہے۔ ان مقدس ومقربان الٰہی کی عبارت سے یہ مطلب سمجھنا مدعاعلیہ کی قلت درائیت کی کھلی نشانی ہے اور اولیاء اللہ کو بلاوجہ ہدف ملامت بنا کر اپنی عاقبت بگاڑنا ہے اور وعید ’’من عاد لی ولیاً فقد اذنتہ بالحرب‘‘ کا مصداق بن کر دنیا وآخرت کادائمی خسران خریدنا ہے:

  1. چو بشنوی سخن اہل دل مگو کہ خطاء است

    سخن شناس نئہٖ دلبرا خطا اینجاست

مگر ایسی جماعت سے کیا بعید ہے جو حضرت سید الطائفہ کو عیاذاً ب اللہ مرزا صاحب کے مقابل اس قدرذلیل سمجھتے ہوں کہ:

  1. سرمہ چشم تیری خاک قدم بنوائے

    غوث الاعظم شہ جیلان رسول قدنی

(الفضل قادیان مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء ج۱۰ نمبر۳۰ ص۱،۲)

رسول مدنی کے وزن پر مرزا صاحب رسول قدنی ہیں اوران کا یہ مرتبہ ہے کہ حضرت غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر محی الدین جیلانیq مرزا صاحب کے پیر کی خاک سرمہ کی طرح آنکھوں میں لگاتے ہیں۔ استغفر اللہ ! باقی رہا ہمارا عقیدہ توبالفاظ آقائے کائناتa یہ ہے کہرب مغبر مدفوعٍ بالابواب لواقسم علی اللہ لابرہ۔

سعدی:

  1. خاک ساران جہاں رابحقارت منگر

    توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

  2. در بہاراں کے شود سر سبز سنگ

    خاک شو تاگل بروید رنگ رنگ

  3. مردان خدا خدا نباشند

    لیکن زخدا جدا نہ باشند

نوٹ: عدالت کی توجہ اس طرف بھی مبذول کررہاہوں کہ فتوح الغیب کا حوالہ جدید ہے اورحکیم الاشتراق مطبوعہ ایران نئے حوالہ کے ساتھ چھپی ہے کہ مطالبہ کے وقت نہ کتاب دکھا سکے نہ مصنف کانام۔

انبیاء کرامؑ پربہتان

حضرت موسیٰm اور سرکار دوعالمa کے کچھ معجزات بھی اسی مرزا صاحب کے شرک کی تائید میں نقل کئے ہیں۔ العیاذب اللہ ثم العیاذب اللہ ! کہاں معجزات جواپنے اختیاری نہیں بلکہ باذن اللہ ہوتے ہیں۔ ’’قال اللہ تعالیٰ ماکان لنبیٍ ان یاتی بایٰتہٖ الاباذن اللہ ‘‘ اور کہاں مالک امر وارادہ کن فیکون ہونا۔ لنّبیً یہ صرف اسی کی دلیل ہے کہ جب کوئی گندا سے گندا عقیدہ یاالہام یا واقعہ مرزا صاحب کا پیش کیا جاتاہے تو فوراً وہ کسی نبی اور خصوصیت سے مسلمانوں کی غیرت اور تاجدار مدینہa کے جذبہ غلامی کو مجروح کرنے کے واسطے آقائے دوجہاں ہمارے ماں باپ ان پر قربان ہوں پر اسے چسپاں کرتے ہیں۔ مگر بادب ہم یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اپنے آقاa کی توہین ہرگز برداشت نہیں کرسکتے:

  1. جو جان چاہو توجان لے لو جومال مانگو تو مال دیں گے

    مگر یہ ہم سے نہ ہوسکے گا نبی کا جاہ و جلال دیں گے

اوراگر احتیاط نہ ہوتی تونتائج کے خود ذمہ دار ہیں۔

ہم اس کے متعلق صرف اتنا واضح کردینا چاہتے ہیں کہ تمام اولیاء اللہ مقربان الٰہی، قطب، غوث، ابدال، اولعزم انبیاء کرامؑ حتیٰ کہ اللہ کے پیارے حبیب سیدالاوّلین والآخرین، خاتم النّبیین، رحمۃً للعالمینa سے ہزاروں بلکہ بے شمار خرق عادات، کرامات، معجزات صادر ہوئے۔ جس کے مخلوق سے جو کہا وہی ہوا۔ پھر بھی خدائے تعالیٰ نے کسی نبی، رسول، ولی، قطب، غوث کو یہ نہ فرمایا کہ: ’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘

60

ساری دنیا میں ایک نظیر نہیں مل سکتی کہ: ’’انما امر ک اذا اردت شیئاً… الخ!‘‘ خدا کے سوا کسی کے واسطے استعمال ہواہو یا خدا نے کسی کے واسطے کسی الہام یا کتاب یا صحیفہ میں فرمایاہو۔ یہ ایسا کھلا ہوا شرک اورکفرہے کہ اگر ایک بھی کفریہ نہ ہوتوبھی صرف یہ ہی ایک وجہ ان کے لاالہ الا اللہ پرایمان نہ ہونے کی آفتاب سے زیادہ روشن وبیّن دلیل ہے۔ ان اقوال والہامات کے بعد دعویٰ اسلام کیونکر باور ہوسکتاہے۔

  1. ہر گزم باور نمی آید زروئے اعتقاد

    ایز ہمہ ہاگفتن وایز ہمہ داشتن

شیطان اوردجال نے بھی اپنے لئے یہ امر پسندنہ کیا کہ یہ الہام تراشے کہ خدانے مجھے فرمایا: ’’انما امرک… الخ!‘‘

’’فاعتبرؤیااولی الابصار‘‘

(مدعاعلیہ کی قابلیت)

ایک جگہ اسی بحث میں یہ بتایا ہے کہ یہ قضیہ شرطیہ کلیہ نہیں ہے۔ بلکہ مہملہ ہے جو فقرہ میں جزیہ کے ہوتاہے اور اکمال شرح مسلم کے حوالہ سے ’’اذا احب اللہ عبداً… الخ!‘‘ کی عبارت سے استدلال کیاہے اوّلاًیہ خوش فہمی ملاحظہ ہوکر جملہ ’’انما امرک‘‘ پر اعتراض ہے نہ کہ صرف ’’اذا اردت‘‘ پر اورمثال صرف ’’اذا احب‘‘ کی ہے۔ دوسرے اس سے واضح ہوگیا کہ منطق اور فقہ میںبھی وہی مغالطہ دیا جو مذہب میں کیونکہ ہمارے مدارس عربیہ کا ادنی طالب علم مبتدی بھی جانتاہے کہ اذا سے قبل انما آنے سے کلیہ بن جاتاہے اور ایک نظیر بھی اس کے مہملہ ہونے کی نہیں مل سکتی۔ فیا… للعجب ولضیعۃ الادب۔

نیز منطق کا کوئی ابتدائی رسالہ صغریٰ، مرقات بھی دیکھی جاتی تو معلوم ہوجاتا کہ قضیہ مہملہ محصورہ طبعیہ وغیرہ اس قضیہ کے اقسام ہیں۔ جن کا موضوع کلی ہو اور بیان موضوع امرک جزئی اورشخصی ہے یہ مہملہ میں مندرج بھی نہیں ہوسکتا۔

(۹)

مرزا صاحب کا خداکے مانند ہونا

مختارمدعاعلیہ کے جواب کا خلاصہ۔

۱… اس پیش گوئی کا ذکرکرتے ہوئے مرزا صاحب یہ نہیں فرماتے کہ میں خدا کی مثل ہوں۔

۲… آپ کو (تحفہ گولڑویہ ص۱۰۷ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۷۵) میں خدا نے آدم کی مثل کہاہے اورحدیث میں ’’ان اللہ خلق آدم علی صورتہ‘‘ہے۔ یعنی اللہ نے آدمm کو اپنی شکل پر پیدا کیا۔ لہٰذا مرزا صاحب گویاکہ خدا کے مشابہ ہوگئے۔ کیونکہ مرزا صاحب آدمm کے مثل ہیں اور وہ اللہ کی شکل پر پیدا ہوئے ہیں۔

۳… میکائیل کے معنی چونکہ خداکے مانند ہیں۔ اس لئے تمام مسلمان جو قرآن شریف کی رو سے میکائیل فرشتہ پر ایمان رکھتے ہیں اوراس کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ مشرک قرارپائیں گے۔

۴… پیش گوئیوں میں آنحضرتﷺ کاآنا خدا کاآنا قراردیاگیا۔ چنانچہ (استثناء ۳۳) کی پیش گوئی کہ خدافاران پر ظاہر ہوا۔ آنحضرتﷺ پر لگائی گئی ہے۔ چنانچہ مختارمدعیہ کے مقبول ومسلم مسلمان سرسیدالخ وغیرہ وغیرہ نے لیاہے۔ (مقبول ومسلم کا لفظ خلاف ضابطہ ہے)

61

جواب:

۱… اوّل کا جواب یہ ہے کہ مختارمدعاعلیہ کے پیش کردہ الفاظ کہ: ’’میں خدا کے مثل ہوں۔‘‘

اگر مرزا صاحب نے نہیں فرمائے تو یہ ان سے پوچھیں یہاں تومطلب واضح ہے کہ: ’’اوردانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرانام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خداکے مانند… الخ!‘‘

(حاشیہ اربعین نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳)

اب مرزا صاحب اپنا نام دانیال کے حوالہ سے میکائیل بتاتے ہیں اور اس کا معنی خود ہی خدا کے مانند کہتے ہیں جس سے صاف ظاہرہے کہ خود کوخدا کے مانند ہونا بہت پسند ہے بلکہ دعویٰ ہے۔

رہا یہ امر کہ میکائیل کے معنی عبرانی میں یہ ہیں۔ اس کے واسطے سے گزارش ہے کہ نہ تو مرزا صاحب عبرانی جانتے تھے۔ نہ مختارمدعاعلیہ عبرانی کجامرزا صاحب باوجودیکہ سلطان القلم اپنی جماعت میں مسلم ہیں اور اردو یہ کہ: ’’ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۱۳۲) اور عربی بالخصوص قصیدہ اعجازیہ کے علاوہ بے شمار صرفی،نحوی غلطیوں کے یہ ہے۔

’’واماحسین فاذکرو دشت کربلا… الخ!‘‘ (قصیدیہ اعجازیہ ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱) وعلیٰ ہٰذالقیاس اورزبانیں۔ چونکہ مجھے غیرمتعلق امور مختارمدعاعلیہ کی طرح ذکر کرکے طول دینا نہیں ورنہ کئی جزو اسی پر ہوسکتے ہیں۔

البتہ مختامدعاعلیہ نے ایک حوالہ اقرب الموارد کا پیش کردیاہے جس کی حقیقت واضح کرناہے۔

جواب یہ ہے کہ کسی مسلمان باایمان کا حوالہ پیش کرتے توہم بھی دیکھتے۔ ایک متعصب عیسائی کا جدید حوالہ پیش کردیا۔ کیونکہ یہ عیسائی کی تصنیف ہے۔ ملاحظہ ہو (التفعاء القنوع بماہو مطبوع ص۳۲۹) اوریہ اصول گواہان مدعاعلیہ کو مسلم ہے کہ لغت زبانی محاورات کانام ہے۔ لغت اور ڈکشنری کی کتابیں چونکہ اپنے اپنے عقائد کے تحت میں لکھی جاتی ہیں۔ لہٰذا جب تک کوئی مسلم شعر، محاورہ وغیرہ کاحوالہ پیش نہ ہوصرف کسی لغوی کا لکھنا معتبرنہیں۔ ملاحظہ ہوجرح گواہ نمبر۱، مؤرخہ ۸؍مارچ… اوریہاں کوئی شعر وغیرہ کی سند نہیں لہٰذا لغووباطل ہے۔

نیز یہودو نصاریٰ نے اس قسم کے تشابہ الفاظ خدا،ابن، اب وغیرہ کا عبرانی سے ترجمہ کرنے میں اپنے تخیل فاسد کی بناء پر سخت دھوکہ کھایاہے اوران کی انتہاء اکثرانہیں لوگوں پر ہے جن کا معنوں کے ہیر پھیر سے گمراہ کرنااورکلام الٰہی میں تحریف کرنا ایک پسندیدہ شغل اورمحبوب شیوہ تھا۔ (ملاحظہ ہو بیضاوی ص۱۱۲) ’’یحرفون الکلم من مواضعہ… الخ!‘‘ معہ تفسیر۔

بخلاف اس کے مسلمانوں نے ہرگز یہ معنی قبول نہیں کئے۔ بلکہ عبرانی صحیح معنی لئے۔ کثرت حوالہ جات موجب طوالت ہیں۔ میں صرف اسی کتاب سے حوالہ دیتاہوں جسے مختار مدعاعلیہ بار بار بڑے القاب اورشدومد سے پیش کرتارہاہے کہ میکائیل کے معنی عبید اللہ کے ہیں۔ بلکہ اصول باندھاکہ جس کے آخرلفظ ایل ہو اس سے مراد خدا کا بندہ ہی ہوگا اورقول بھی ایسے مسلم بزرگ کاہے جوتمام امت میں حبرالامت حضورa کے عم زادہ ابن عباسq جن کے متعلق ’’اللہم علمہ الکتاب والحکمۃ‘‘ کی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب سمجھنے کے احق ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر اتقان ج۲ ص۱۴۱) ’’اخرج ابن جریر من طرق عکرمۃ عن ابن عباس قال جبریل عبد اللہ ومیکائیل عبید اللہ وکل اسم فیہ اہل فہوعبید اللہ … الخ!‘‘ یعنی ابن عباسq فرماتے ہیں کہ جبرئیل کے معنی عبد اللہ اور میکائیل کے معنی عبید اللہ ہیں۔ لہٰذا یہ معنی مرزا صاحب اورمختاران مدعاعلیہ کی ناواقفی یا مغالطہ پرمبنی ہیں ورنہ خدا کے کلام میں میکائیل کے ہرگز یہ معنی نہیں بلکہ عبید اللہ کے ہیں۔ یعنی خدا کا ادنیٰ بندہ اس سے نمبر۳ کا بھی جواب معلوم ہوگیاکہ تمام مسلمان باتباع حضرت سیدنا ابن عباسq وائمہ دین بزرگان اسلام میکائیل بمعنی خدا کا ادنیٰ بندہ قرآنی روسے سمجھ کر ایمان رکھتے ہیں۔

62

البتہ بعض لوگ عیسائیوں کے اتباع میں میکائیل کو خدا کی مانند یاخدا سے بھی بڑھ کر سمجھیں تو کچھ تعجب نہیں۔ ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ میکائیل کجا مخلوقات میں کوئی بھی حتیٰ کہ اشرف المخلوقات، باعث الکل، سید الکلa بھی خداکے مثل نہیں۔ ’’لیس کمثلہٖ شیٔ (الشوریٰ:۱۱) فلاتضربوا ﷲ الامثال (النحل:۷۴) قالa لاتطرونی کما اطرت الیہود والنصاریٰ(الحدیث)‘‘ آپa نے یہود ونصاریٰ کی طرح مبالغہ مدح کو وصال کے وقت تک سختی سے روکاہے۔

جواب:

۲… تحفہ گولڑویہ کا حوالہ ایڈیشن اوّل کا جوختم اور نایاب ہوچکاصرف مختارمدعاعلیہ کو تنگ کرنے کے واسطے دیاگیا۔ اب ہم وہ ایڈیشن کہاں سے لائیں اور باوجود تلاش کے اس موجودہ ایڈیشن میں اس کے قریب قریب بھی نہ ملا۔ مگر ہم ان کی خاطر تسلیم کرکے جواب دیتے ہیں کہ مثیل آدم ہونے سے خدا کے مثل کیونکر ہوگئے اور اگر اپنے اس الہام سے خدا کے مثل سمجھتے ہیں تو اوراچھا ہے یہی ہمارا مدعاہے۔ ملاحظہ ہو جو بھی الہام تراشتے ہیں وہ مشرکانہ۔

باقی رہا حدیث: ’’ان اللہ خلق اٰدم علی صورتہ‘‘ ہمارے آقاومولیٰ، تاجدارمحبوب کردگارa کا ارشاد ہے۔ ہمارے سرآنکھوں پر مگر یہ دامن حضورa جیسے آقا سے کٹ کر غلاموں سے جوڑنے والے کو پناہ نہیں دے سکتا۔

کاش کسی محدث کی کفش برداری کا فخر حاصل ہوتا تو اس کی نورانیت سمجھ میں آتی۔ یہ اللہ کے محبوبa کاکلام ہے جو تمام مخلوق کے بادشاہوں کابادشاہ ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام مشہورہے۔ اس حدیث پاک صاحب لولاکa کی ایمان بخش تحقیق توبعد میں پیش ہوگی۔ اوّلاًان بزرگ کا حوالہ پیش کرتاہوں جن کی محض کرامت سے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ انہیں مسلم مان گیاہے۔ حالانکہ ان کے نزدیک مطلقاً مسلم صرف مرزا صاحب اوران کے ہردو خلفاء ہیں۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۱ یکم؍ مارچ۱۹۳۳ء جس میں ابن عربی، مجدد الف ثانی، امام عبدالوہاب شعرانی وغیرہ کے متعلق پوچھا گیا تو کہا کہ ہاں! مسلم بزرگ ہیں۔ (کتاب الیواقیت والجواہر ج۱ ص۱۱۸) مصنفہ حضرت العلام امام عبدالوہاب شعرانی۔ ’’فان فی الحدیث تافافہم‘‘ یعنی حدیث میں ہے کہ خدانے ہرایک مخلوق کا ایک نقشہ عرش کی ساق میں قبل پیدائش کھینچا جس صورت پر اسے پیدا کرنا تھا۔ پھر آدمm کو اسی صورت پر جواپنی پہلی کھینچی ہوئی تھی کو پیداکیا۔ اسی طرف حضورa کے اس ارشاد گرامی میں ارشادہے کہ: ’’ان اللہ خلق اٰدم علی صورتہ یاعلیٰ صورۃ الرحمن‘‘ یعنی آدم کو اللہ نے اسی صورت پر پیدا کیا جس کو عرش یالوح میں قبل پیدائش آدمm کھینچی تھی۔ ورنہ باری تعالیٰ وتقدس کی کوئی صورت ہی نہیں۔ کیونکہ وہ تمام مخلوق سے جدا گانہ ویگانہ ہیں۔ ’’تعالیٰ اللہ عما یقول الظالمون علواً کبیراً‘‘ پس آدمm خدا کی صورت پر نہیں بلکہ اس کی تجویز کی ہوئی صورت پر پیدا ہوئے پھر بعض شراح حدیث نے ضمیر آدمm کی طرف پھیری ہے۔ یعنی آدمm کوآدم کی صورت پرپیداکیا جو کہ ان کے شایان شان تھی اور تمام مخلوق سے ممتاز۔

مگر اہل اللہ کی یہی رائے ہے کہ اللہ نے آدمm کو اپنی صورت پرپیدا کیا جس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ اپنی مرغوب وپسندیدہ وبرگزیدہ شکل پر اور فرماتے ہیں کہ جب ہی تو خواب میں باری تعالیٰ کی زیارت سوائے انسانی شکل کے اور کسی شکل میں نہیںہوتی۔ حالانکہ درحقیقت ان کی کوئی بھی شکل نہیں۔ نیز اپنی طرف باری تعالیٰ انسانی اعضاء کا نام بوجہ محبوب ہونے کے منسوب کرتاہے۔ حالانکہ ان کی ذات اس قسم کے اعضاء اوران کی مشابہت وکیفیت سے پاک ہے۔’’قال اللہ تعالیٰ ویبقیٰ وجہ ربک (الرحمن:۲۷) ید اللہ فوق ایدیہم (فتح:۱۰) یوم یکشف عن ساق (القلم:۴۲)‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

63

جن پر ہماراایمان بلاتفصیل کیفیت ہے۔ کیونکہ ان کی شان ’’لانظیرلہ ولامثال لہ۔ ولاضد ولاند۔ سبحانہ مااعظم شانہ لایجد ولایتصور‘‘ہے۔

چونکہ یہاں اس کا زیادہ تعلق نہیں ہے۔ اس لئے طول نہیں دیتا صرف یہ کہہ کر ختم کرتاہوں کہ:

  1. مصلحت نیست کہ ازپردہ بروں افتد راز

    ورنہ در محفل رندان خبرے نیست کہ نیست

جواب:

۴… باقی پیش گوئی میں خداکافاران پراترنا اوّلاً انجیلی اصطلاح میں خدا وخداوند کا لفظ برابر نبی کے معنی میں مستعمل ہے اور ترجمہ میں وہی تحریف معنوی متحقق ہے۔

فاران پرخدا کے اترنے سے اس کی وہ تجلیات خاصہ اترنامراد ہیں جوکسی نبی کے وجود سے اترتی ہیں۔

جیسا کہ کوئی کہے کوہ طور پر خدا اترا یہ ہرگز مراد نہیں وہ نبی خدایاخدا جیسا ہوگیا نہ کسی نے یہ مطلب مشرکانہ لیا۔ انہیں پیش کردہ حوالہ جات کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔ مطلب بالکل واضح ہے۔ بے جاضدکاکوئی علاج نہیں۔ ’’من یرد اللہ بہ خیراً یفقہ فی الدین‘‘

پس مرزا صاحب کا خداکے مانند ہونے کا خیال بھی گویالاجواب اورمسلم ہونے کے قریب لاجواب ہے۔ کیونکہ جو اس مشرکانہ بات کے واسطے اڑیں ڈھونڈی تھیں اور تلاش کی تھیں۔ وہ سب بحمد اللہ بے نقاب ہوگئیں۔ باقی مرزا صاحب کے دوسرے عقائداور تعارض باتیں نقل کر کے صفائی بے سود ہے۔

(لاجواب) ’’انانبشرک بغلام مظہرالحق والعلا وکان اللہ نزل من السماء‘‘

( آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۸، خزائن ج۵ ص۵۷۸)

مختارمدعاعلیہ نے دراصل میرا مفہوم ہی نہ سمجھا یا حسب عادت اپنے لفظوں میں اعتراض نقل کرکے جواب دے ڈالا۔ بہرحال میرا یہ اعتراض بالکل لاجواب اسی قسم کاہے جوبحث کے جواب میں لاجواب ہونے کی وجہ سے نظرانداز کردیاگیاہے۔ مختارمدعیہ کی بحث میں یہ الہام ’’عقیدہ مثلیت کے تحت میں مذکورہے اور نوٹس میں اسی ہیڈنگ عقیدہ مثلیت کے تحت میں اوّلاً اس سے ماقبل کاحوالہ اربعین ہے اور پھریہ حوالہ۔

اعتراض یہ ہے کہ یہ کہنا: ’’انانبشرک… الخ!‘‘ یعنی ہم تجھے ایک ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو حق وبزرگی کو ظاہر کرنے والا ہوگا۔ گویاہوبہو خداآسمان سے اترآیا۔ خدا کے ساتھ غیرخدا کو اس کے ہوبہو قراردینا ہے جو کھلا ہوا شرک بلکہ شرک عظیم ہے۔ منشاء اعتراض کان اللہ کا تشبیہی لفظ ہے جوکمال تشبیہ یعنی کسی کے ہوبہو وہی ہونے پر دلالت کرتاہے نہ کہ لفظ نزل اور نزول باری کی کیفیت ومعنی پر۔ مختارمدعاعلیہ نے اسی اعتراض لفظ کانتشبیہ بلیغ سے آنکھیں بند کرکے لفظ نزول کے معنی شروع کردئیے کہ نزول سے مراد رحمت خداوندی کانزول یاجلال وتجلی وغیرہ ہے اوراس کے واسطے تبلیغ رسالت، آئینہ کمالات، مشکوٰۃ، حاشیہ مشکوٰۃ کے پانچ حوالے نقل کئے۔ مگر یہ نہ ہوسکا۔ کان کی تشبیہ کا اعتراض کہ وہ بیٹا ایسا ہوگا جیسے ہوبہو خدا آسمان سے آگیا۔ مرزا صاحب سے اٹھا سکتے یا اس کے متعلق کوئی بھی حوالہ دیتے۔ گویا مختارمدعاعلیہ نے مرزا صاحب پر اس کفر کوبلاچون وچراتسلیم کرلیا:

  1. کچھ اس ادا سے کیا میں نے شکوۂ الحاد

    نگاہیں جھک گئیں ان کو نہ کچھ جواب آیا

نوٹ:

چونکہ نزول کی بحث غیرمتعلق تھی، اس لئے اس کے متعلق مفصل ضرورت نہیں۔ اگر تفصیل منظور ہوتوفتح الباری وعمدۃ القاری شرح بخاری نیزنووی شرح مسلم ملاحظہ فرمائی جائے۔

64

(۱۰)

(لاجواب) متعلقہ نشان نمبر۱۰۶

(حقیقت الوحی ص۲۵۵، خزائن ج۲۲ ص۲۶۷)

اس میں بھی اسی قدیمی مغالطہ سے کام لیاہے کہ اعتراض کچھ، اور جواب کچھ۔ یہ نشان بھی عقیدہ جسمیت کے ہیڈنگ کے تحت میں پیش کیاگیاتھا اوربتلایاتھا کہ مرزا صاحب اوران کے مرید خدا کی ذات وصفات میں جسمیت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اصل نشان نمبر۱۰۶ کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔

نشان نمبر۱۰۶:

’’ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خداتعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیش گوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خداتعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیرکسی تأمل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا۔ جیسا کہ جب قلم پرزیادہ روشنائی آجاتی ہے تو اسی طرح پرجھاڑ دیتے ہیں اورپھر دستخط کردئیے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اسی وقت میاں عبد اللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہاتھا کہ اس کے روبروغیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اوراس کی ٹوپی پر بھی گرے اورعجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اورقلم کے جھاڑنے کاایک ہی وقت تھا ایک سیکنڈ کابھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا۔ کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کامعاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کوروحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کرسکتا۔ اسی طرح خدانیست سے ہست کرسکتاہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبد اللہ سنوری کو سنایا اوراس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبد اللہ جواس رویت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا اوراس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا۔ جواب تک اس کے پاس موجودہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۵۵، خزائن ج۲۲ ص۲۶۷) محل اعتراض خط کشیدہ الفاظ ہیں خدا کو خواب یاکشف میں دیکھنا محل اعتراض نہیں۔ بلکہ یہ کہ سرخی سے دستخط کرنا اور صرف یہ بھی نہیں بلکہ روشنائی چھڑکنا اور روشنائی کا کپڑے پرگرنا۔ پھر اس کپڑے پر عالم بیداری میں روشنائی کا باقی رہنا اور پھر اسے تبرک بنا کر اس عقیدت سے رکھنا کہ یہ خداکے قلم کی روشنائی ہے اور صرف خواب نہ سمجھنا۔ لاحول ولاقوۃ الاب اللہ اعتراض تو تھا یہ اس کا جواب لاجواب سمجھ کر بالکل نظر انداز کردیا اور جواب یہ دے رہے ہیں کہ: ’’بطورتمثیل خدائے تعالیٰ کوخواب میں دیکھنا ہرگز قابل اعتراض نہیں۔‘‘ پھر اس کی تائید میں بحرالمعانی اورسوانح مولانانانوتوی۔ دوجدید کتابوں کے حوالے درج کئے ہیں جونہ مسل پرہیں نہ عدالت کے سامنے آئے۔ مطالبہ پربھی پیش نہ ہوئے۔ جواب یہاں خواب میں دیکھنے پر اعتراض کیاہے اعتراض توروشنائی چھڑکنے اور کپڑے پرپڑنے اور باقی رہنے اورتبرک بناکر اس اعتقاد سے رکھنے پر کہ یہ خداہی کی روشنائی پڑی ہے۔ اس پرہے جس کے ایک حرف کا ہی جواب نہ دیا بلکہ زبان پربھی نہ لائے اور اسے بھی بالکل لاجواب مان لیا۔ درمیان میں اپنی عادت کے مطابق علماء دیوبند کثرہم اللہ تعالیٰ سوادہم اوران کی جماعت پر ذاتیات کے حملے کئے ہیں۔ جنہیں عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔ پھرغیرمتعلق،نزول کے حوالہ مشکوٰۃ، ترمذی،مسلم، ابن ماجہ نیز رویت کے متعلق بحرالرائق، یواقیت، بحرالمعانی کے پڑھے۔ جن کے متعلق اپنی اپنی جگہ پر آئے گا۔ مگر ان کا مقصد ان غیر متعلق اوراکثر جدید مسل کے باہر خلاف قانون حوالوں کی بھرمار سے مقدمہ اورمسل کو طول دینا اور مدعیہ کو بلاوجہ تنگ کرنا تھا۔ فالی اللہ المشتکی!

65

(۱۱)

انت منی بمنزلۃ ولدی

خلاصہ استدلال مختارمدعاعلیہ۔ یہ غلط نتیجہ نکالاگیاہے کہ مرزا صاحب نے خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ اصل ملاحظہ ہو۔۱۸؍دسمبر۱۹۳۳ء

جواباً گزارش ہے کہ میرا استدلال توڑ موڑ کراپنے الفاظ کے رنگ میں ڈھال لیاتاکہ جواب ضابطہ کادے کر لوگوں کوحسب عادت مغالطہ میں ڈال سکے۔ حالانکہ یہ بھی انہیں اعتراضات میں سے ہے جس کا جواب تاقیامت ناممکن ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

اوراس شرکیہ بلکہ عظیم الشان ناقابل عفو جرم سے جب تک مرزا صاحب کی تو بہ ورجوع غیرمشتبہ الفاظ میں نہ پیش کریں کوئی بھی تاویل کام نہیں دے سکتی۔

مختارمدعیہ کے استدلال کا خلاصہ

اوّلاً میں نے اس بحث میں بطور تمہید جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔ ۳؍مارچ سے تین آیات:

۱… ’’قل ہو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احد (الاخلاص:۱تا۴)‘‘

۲… ’’تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ہداً ان دعوا للرحمن ولداً وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا (مریم:۹۰تا۹۲)‘‘

۳… ’’وقالوا اتخذ الرحمن ولدا لقدجئتم شیئاً ادّا (مریم:۸۸، ۸۹)‘‘

نقل کی ہیںاورترجمہ بھی گواہ نمبر۱ ہی کا پیش کیاہے۔ اوّل کا ترجمہ نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ دوسری کا ملاحظہ ہو: ’’قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائیں اور پہاڑ گرپڑیں۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے خدا سے رحمان کے لئے بیٹا پکارا۔ حالانکہ رحمن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ بیٹا بنائے۔‘‘

تیسری کاترجمہ بھی واضح ہے۔

پھر یہ عرض کیاگیا ہے کہ گفتگو صرف اس میں ہے کہ خدا کی شان گرامی میں لفظ ولد استعمال جائز نہیں لفظ طفل وغیرہ میں بحث نہیں کیونکہ ولد تین طورسے استعمال ہوتاہے۔

۱… خداتعالیٰ عیاذاًب اللہ واقعی ولد جنے اسے پہلی آیت نے منع کیا اور توحید کے منافی ٹھہرایا۔

۲… واقعی جنانہیں مگر خارج سے منہ بولا بیٹا مجازاً بنا کے ولد اور بمنزلۃ ولد لفظ استعمال کیا اس کو آیت نمبر۳ نے روک دیا اور شان کبریائی کے خلاف اورمنافی توحید قراردیا۔

۳… نہ خدا نے ولد جنا نہ خارج سے مجاز کسی کو بمنزلۃ ولد کے بنایا۔ بلکہ کسی معنی سے کسی نے خدا کی طرف نسبت ولد کی گوتاویلاً مجازاً صحیح اس کو بھی نہایت شدومد سے آیت نمبر۲ نے باطل قراردیا۔ گویا لفظ ولد کے استعمال کی خدا نسبت جس قدربھی صورتیں ہوسکتی تھیں، انہیں باطل اورعظیم الشان قراردیا جس کا اقرارگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ جرح ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء میں کرچکا ہے۔ جیسا کہ جرح میں انہیں آیات کے بعد اقرارکیاہے کہ: ’’یہ آیات جامع ہیں ان تمام اقسام ولد کو جوجائز نہیں نسبت کرنا ان کا خدا کی طرف۔‘‘

66

اس کے بعد’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘’’تومجھ سے بمنزلۃ میرے فرزند کے ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹) پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ خواہ خدا نے جنا ہو یا نہ، حقیقی معنی ہوں یا مجازی صرف یہ نسبت لفظ ولد کی گوزبانی ہو اعتقاداً نہ ہو ہرگز برداشت نہیں ہوسکتی اور کبھی بھی ایمان قائم نہیں رہ سکتا بلکہ اس نسبت میں گومجازی ہوزیادہ احتمال گمراہی بندگان خدا کاہے۔ اس لئے اسے اوربھی شدومد سے قرآن حکیم نے ذکر فرمایا: ’’تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ہداً ان دعوا للرحمن ولداً (مریم: ۹۰تا۹۲)‘‘

اوریہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ بالا تینوں استعمال یا کسی طرح یہ لفظ ولد آج تک کسی مسلمان کسی عالم، ولی، ابدال، قطب، غوث، نبی، رسول حتیٰ کہ خاتم الانبیاء نے باوجود حبیب خدا ہونے کے نہ اپنے لئے نہ کسی اور کے لئے استعمال کیا۔ بلکہ تمام عمر تردید فرمائی۔ خداتعالیٰ نے اپنے کسی پیارے حتیٰ کہ حبیب پاک، صاحب لولاکa جس سے زائد کوئی اللہ کا پیارا نہیں ہوسکتا۔ خود بھی فرماتے ہیں: ’’انا اکرم ولد بنی آدم ولافخر‘‘

جن کے کما ل پیارو تقرب کا نظارہ شب معراج کے نقشہ سے فرمائیں۔ خدا نے آپ کے واسطے بھی بمنزلۃ ولدی کا لفظ نہ فرمایا۔

دعویٰ یہ تھا کہ لفظ ولد کی نسبت ایک محاورہ بھی گومجازاً ہومسلم یا غیر مسلم کا ہو آدمm سے قیامت تک کسی سے دکھادیں۔ مگربحمد اللہ ! نہ دکھا سکے۔ لہٰذا لاجواب ہے۔

اسی وقت میں نے یہ پوزیشن صاف کردی تھی کہ طفل وغیرہ الفاظ میں گفتگو نہیں کہ مثنوی سے:

اولیاء اطفال حق اند اے پسر

یا اور اسی قسم کے الفاظ کے محاورہ پیش کروائے جائیں۔ مگر پھر بھی ان کی آڑ لی اور مندرجہ ذیل تاویلات رکیکہ کیں بھی عدالت خود جواب بحث اصل بحث سے ملا کر ملاحظہ فرمائے۔

کہیں ایک استعمال بھی لفظ ولد کا فرضی ہی نکل آئے تو ہمارا استدلال باطل ورنہ باوجود صفحہ کے صفحہ سیاہ کرنے کے یہ اعتراض بھی بالکل لاجواب ہی رہے گا۔ کیونکہ منشاء اعتراض کو ہاتھ بھی نہ لگایا جواب کیا دے سکتے۔

خلاصہ تاویلات

۱…’’فاذکروا اللہ کذکرکم اٰبآء کم (البقرۃ:۲۰۰)‘‘ مجازی طور پر اب معنی باپ کے قائم مقام رکھ کر اسے باپوں کی طرح یاد کرنے کا حکم فرمایا ہے تو یاد کرنے والوں کو استعارہ کے رنگ میں ولد اور ابن کے قائم مقام نہ ہونے کی کیا وجہ۔

۲… مرزا صاحب نے استعارہ کے رنگ میںاسے بمعنی طفل استعمال کیا ہے اوراطفال حق کے الفاظ اولیاء کے حق میں استعمال ہوئے ہیں۔

۳… کوئی کسی کواخی اورولد احتراماً کہہ دے تو اس کا وارث نہ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ ولد احتراماً وتقرباً بولتے ہیں۔ ( یواقیت)

۴… فوزالکبیر شاہ ولی اللہ صاحب ازالہ اوہام مولانارحمۃ اللہ صاحب مہاجر مکی سے لفظ ابن کے مجازی استعمال بمعنی عزیز نقل کیا۔

۵… مولانامحمدقاسم صاحب نانوتوی سے بحوالہ حجۃ الاسلام نقل کیا کہ جیسے رعیت کے لوگ اپنے حاکموں اوربادشاہوں کو بوجہ مزید التفات ماں باپ کہہ دیا کرتے ہیں۔ ایسی ہی اگر گاہ بگاہ (کسی حالت میں) کسی بزرگ نے خداتعالیٰ کو باپ کہہ دیا تواس کے بھی یہی معنی ہوں گے کہ خدائے تعالیٰ ان پر مہربان ہے نہ حقیقی ابوت ونبوت… الخ!

اوّلاً مجھے جواب کیا اس کی طرف توجہ کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ایک حوالہ میں بھی لفظ ولد جس میں گفتگو ہے استعمال ہی نہیں اور نہ ساری دنیائے اسلام میں ایک نظیر مل سکتی ہے۔ کسی بزرگ نے سکر اورجذب کے حال میں بلا اختیار بھی اسے استعمال نہ فرمایا۔

67

جیسا کہ عدالت حوالہ جات بالاسے ملاحظہ فرماسکتی ہے۔

پھربھی چونکہ دوسرے رنگ میں ان بزرگوں کے ( اللہ ہمارا اور آپ کا حشران کے ساتھ فرمائے) دامن تقدیری کہ مرزا صاحب کی آڑ لے کر آلودہ کرنے کی سعی کی گئی ہے اورباری تعالیٰ نے بزرگوں کی ناموس کے حفاظت کرنے والے کے لئے میدان حشر میں حفاظت ناموس کازبردست وعدہ فرمایاہے۔ اس تقرب وثواب کی نیت سے جواب عرض ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرماکر ذخیرۂ آخرت فرمائیں۔

جوابات مرتب

۱… پہلی آیت سے یہ مراد لینا کہ استعارہ کے رنگ میں خداتعالیٰ کا ذکرکرنے والے ولد ہوگئے۔ صرف مختارمدعاعلیہ کی خوش فہمی ہے عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ کہیں دور کابھی اس سے تعلق نہیں۔ ترجمہ آیت اور مطلب کسی بھی مترجم قرآن اوراردو تفسیر سے دیکھ لیاجائے تاکہ اس ترجمہ اور مطلب کی خیانت بھی واضح ہوجائے۔

واقعہ صرف اس قدر ہے کہ اہل مکہ ایام جاہلیت میں مکہ معظمہ کے مخصوص مقامات پر بڑے شدومد بڑے فخرومباہات کے ساتھ اپنے آباؤاجداد کے محامد ومناقب ذکرکیاکرتے تھے۔ اللہ نے یہ حکم فرمایا کہ جس طرح تم شدومد سے اپنے آباؤ اجداد کا ذکرکرتے تھے۔ بجائے اس کے اس اہتمام سے اللہ کا ذکرکرو۔ بلکہ اس سے زائد شدومد سے ’’فاذکرو اللہ کذکرکم اٰبآء کم او اشد ذکراً‘‘ مختارمدعاعلیہ نے دیدہ ودانستہ آیت کا آخری ٹکڑا کاٹ کر نقل کیا تاکہ مغالطہ دے سکے اوراصل حقیقت بے نقاب نہ ہو۔ تقریباً اکثر حوالے ایسے ہی بے ربط قطع وبرید سے پر کئے گئے ہیں۔ جیسا کہ بحث میں گزرچکا۔

۲… نمبر۴ میں لفظ طفل یا اطفال یاا بن بمعنی عزیز استعمال ہونے سے لفظ ولد کا استعمال جو ولادت اور تولد کے معنی کو مشعر تھے، ہر گز ثابت نہیں ہوسکتا۔ نہ ہمارے مدعاپر اس سے کوئی زد آتی ہے۔

پھر بھی لفظ ولد، طفل، ابن کا فرق پیش کرتاہوں۔ لفظ ولد لغت میں جننے کے معنی میں آتاہے۔ چنداں حوالہ درکار نہیں۔ ولادت یا تولد کے محاورہ سے ہے۔ اسی وجہ سے کسی طور پر خدا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔

(الف) اور لفظ طفل طفولت سے ماخوذ ہے جس کے اصل معنی جننا نہیں، بلکہ ناز پروردہ کے ہیں۔ ملاحظہ محاورہ ’’طَفُلَ طُفالۃً وطُفُولۃً‘‘ نرم وناز پرورہ گروید۔(منتہی الارب)

پس طفل بمعنی ناز پر وردہ اولیاء اللہ کے حق میں مستعمل ہے جس میں جننے کی طرف لغوی بھی اشارہ نہیں اورکون اولیاء اللہ کے ناز پروردہ بارگاہ ایزدی ہونے سے انکار کرسکتاہے۔ ان کے ناز پر وردہ مسلم کرنے کے واسطے ان کے حالات وتذکروں کا مطالعہ بہ نیت تقرب کر کے دیکھا جائے کہ دل نور اور سرور سے کس قدر معمور ہوتاہے۔ میں تو اختصاراً آیتیں اورحدیثیں تبرکاً بلاترجمہ نقل کرتاہوں۔

۱… ’’الا ان اولیآء اللہ لاخوف علیہم ولاہم یحزنون (یونس:۶۲)‘‘

۲… ’’ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملآئکۃ ان لا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون (حم السجدۃ:۳۰)‘‘

۱… ’’(قالa) من عاد لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب (الحدیث القدسی مشکوٰۃ)‘‘
۲… ’’رب مغبر مدفوع بالابواب لواقسم علی اللہ لابرہ (مشکوٰۃ، ترمذی)‘‘

بس مختصراً اتنا کافی ہے ورنہ مقربان الٰہی کے تذکروں کو توزمین وآسمان کے دفاتر بھی کافی نہ ہوں گے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہم ورضوا عنہ:

  1. طوفان نوحm لانے سے اے چشم فائدہ

    دو اشک بھی بہت ہیں جو کچھ فائدہ کریں

68

(ب) ابن جس کی اصل بنو یا بنی ہے جو بناسے ماخوذہے جس کے معنی کسی چیز کے بنانے یا اس کے ہم معنی کے ہیں۔ بیٹا بھی باپ کی مجازی ساخت ہے۔ لہٰذا اس کی طرف منسوب ہوا اور یہ ابن یا بنت کا لفظ ولادت اورجننے کے معنی میں لغت عرب میں ملنا دشوار ہے۔ بخلاف اس کے نہ صرف عربی بلکہ اردو فارسی میں بھی کثرت سے دوسرے معنی میں مستعمل ہے۔ ملاحظہ ابن الوقت، ابناء الزمان، ابن الارض، ایک قسم کی ترکاری ہے، بنت الکرم، بنت الرز، شراب، نبات الدہر، حوادث زمانہ، نبات الفکر اشعار، نبات اللیل حوادث وغیرہ وغیرہ۔ ملاحظہ ہو قاموس لسان العرب، تاج العروس وغیرہ۔

ایک ضمنی اعتراض کا جواب

رہا یہ کہ عیسیٰm کے لئے ابن اللہ کہنے والے کافر ٹھہرائے گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو انہیں ولد کہتے ہیں اوران کا مذہب واصطلاح متعین ہے کہ ولد کی نسبت وہ جائز سمجھے ہیں۔ لہٰذا اس قرینہ سے ان کا لفظ ابن بمعنی ولد مراد ہوکر کفر ہوجائے گا۔ جیسے کہ مرزا صاحب استعمال اورخدا کی طرف نسبت جائز سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ان کا لفظ ابن استعمال کرنا بھی سراسر کفرہوگا۔ بخلاف ان مسلمانوں کے جو ولد کی نسبت خدا کی طرف کسی طرح بھی جائز نہیں سمجھتے۔ اگر کسی حال میں لفظ ابن استعمال کر جاتیں۔ گو ایسا کرتے نہیں تو بمعنی عزیز ومخلوق لیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ مراد متکلم خارجی قرائن سے متعین ہے۔ مگر لفظ ولد میں جو صریح ہے کوئی قرینہ درکار نہیں۔ قرینہ کنایات وغیرہ میں درکار ہوتا ہے۔

پانچویں تاویل کا جواب

حضرت حجۃ الاسلام مولانامحمدقاسم صاحب نانوتوی کا حوالہ اس سے بالکل غیر متعلق ہے۔ اس میں توصرف اس قدر ہے کہ اگر کوئی ولی مقرب بارگاہ جس پر اللہ تعالیٰ کی مخصوص نظر عنایت ہو اور اس خصوصی التفات کی وجہ سے کبھی کسی مخصوص حال اورسکر میں خدا کی نسبت لفظ اب استعمال کرجائے تو اسے کفر نہ سمجھو۔ نہ حقیقی معنی مراد لو، دیکھو تمہارے بول وچال میں بوجہ کثرت التفات بادشاہ وسلطان کو کہہ دیتے کہ تم ہمارے ماں باپ ہو یعنی بڑے مہربان۔ اسی طرح اسے سمجھو۔

یہاں کہیں لفظ ولد کا جو مابہ النزاع ہے پتہ تک نہیں۔ پس ثابت ہوگیا کہ یہ محاورہ بہ تصریح قرآن اور بہ اجماع امت کفرو شرک وباطل ہے۔ اس کا کوئی جواب اور کوئی تاویل بھی نہیں ہوسکتی۔ اللہ ہدایت اور توفیق توبہ مرحمت فرمائے۔ باقی اس میں ہماری اورفریق کی نسبت جوتیز کلامی ہے۔ اس کا جواب صرف اس قدر ہے کہ اللہ انہیں ہدایت اور شریفانہ اخلاق کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ (ابوالوفاء)

نوٹ: یہ بھی یاد رہے کہ ایسے الفاظ خدا کی نسبت استعمال کرنا جن پر شریعت شاہد نہ ہو زندقہ سے خالی نہیں اور نہ صرف علماء ظواہر کی رائے ہے بلکہ سید الطائفہ غوث اعظم سید عبدالقادر جیلانیq جو امام الصوفیہ اور ان کے پیشواء ہیں فرماتے ہیں۔ ’’کل حقیقۃ لاتشہد لہا الشریعۃ فہی زندقتہ‘‘ جس حقیقت پر شریعت شاہد نہ ہو چھپا ارتداد والحادہے۔ فتوح الغیب مقالہ نمبر۱۰ یہ اصول ملحوظ خاطر رہے دوسرے مقامات پر بھی کارآمد ہے۔ (ابوالوفاء)

(۱۲)

اسمع ولدی

اس کو چونکہ جرح میں صاف کرلیاتھا اور یہ حوالہ (البشریٰ ص۶۹) عدالت نے نوٹ نہیں کیا تھا۔ بحث کے وقت مختارمدعاعلیہ خود ہی کہتے تھے کہ اسے بھی پیش کرو۔ مدعیہ کے مختاراور عدالت نے کہا کہ جب وہ کوئی نہیں توکیوں پیش کیا جائے اور ادھر سے پیش نہ ہوا۔ پھر بھی مختارمدعاعلیہ نے محض طول دینے کے لئے کہ وقت گزاری ہو بلاوجہ اسے بھی لکھ دیا۔

69

ہم صرف ان کی تسلی کے لئے نہ کہ جواب کے طور پر کہتے ہیں کہ یہ بھی مختارمدعاعلیہ کا مغالطہ ہے یہ تو کہتے رہے کہ مؤلف نے اس کے خلاف اعلان شائع کردیاہے۔ مگر باوجود شدید مطالبہ کے جرح میں پیش نہ کرسکے کہ جرح سے اس کی حقیقت کھل جاتی اور خود بابومنظورالٰہی نے آخری ایڈیشن میں جوحال میں شائع ہواہے۔ ایک صحت نامہ دیاہے اس میں بھی اس کی اصلاح نہیں۔ اب یہ کہنا کہ اصل منقول عنہ میں نہیں یہ بھی زیادہ قابل لحاظ نہیں مختلف ایڈیشنوں میں الفاظ کا ہیرپھیر بھی ممکن ہے۔ جرح میں شہادت کے وقت پیش کرتے تو معلوم ہوتا جو لوگ مسلمانوں کی مسلم کتابوں میں قطع وبرید کریں۔ ان کا اپنے گھر کی کتابوں میں کیا اعتبار کہ محمودی قادیانی پارٹی مرزا صاحب کے تصانیف وعقائد میں روز تبدیلیاں کرتی رہتی ہے۔ عدالت چاہے تو میں خود مہیا کر کے پیش کرسکتاہوں اور یہ کتاب لاہوری جماعت کے آدمی کی مرتب کی ہوئی ہے۔

پھر یہ بھی ہوسکتاکہ جب ہماری طرف سے مناظروں اورمقدمات میں گرفت ہوئی اور اعتراض ہواتو اس سے پروپیگنڈا کے واسطے کوئی تحریر شائع کرادی ہو وہ ہمیشہ حجت نہیں۔ ہم نے تو کتاب پیش کی ہے۔

نیز جرح میں گواہان مدعاعلیہ نے یہ کہہ کر اس البشریٰ کو ٹال دیا کہ جب تک اصل کتاب منقول عنہ سے نہ پیش ہو ہم پرحجت نہیں اور خود کتنے حوالے اسی سے بحث میں پیش کئے جو معائنہ مثل سے واضح ہوں گے۔

(۱۳)

اخطی واصیب

خلاصہ استدلال مختارمدعاعلیہ (۴) امور ہیں۔

۱… مرزا صاحب کی یہ نیت نہیں ظاہر معنی مراد نہیں ہے۔

۲… اس کا تشریحی نوٹ نیچے لکھاہے۔

۳… حدیث میں لفظ تردد خدانے استعمال ہے۔

۴… مرزا صاحب کے الہام میں ان ربی لا یغل ولدینی ولا یخفی علی اللہ خافیہ۔ وانہ یعلم الرو اخفی…الخ! وغیرہ بھی موجود ہیں جو خدا کے قدس وتنزہ پر دال ہیں۔

جواب: میری غرض یہ نہیں کہ کیا مراد لیا مطلب تویہ ہے کہ خداتعالیٰ کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کرنا جوکسی بعید یااپنے ظاہری معنی سے اس کی شان گھٹاتے اور شایان شان نہ ہوں ہرگز جائز نہیں بلکہ سراسر توہین اوراس کی جلال توحید کے خلاف ہے۔

مرزا صاحب یا مختارمدعاعلیہ کی نسبت کیسی تاویلی معنی سے لفظ خطاوغلطی کومنسوب کیا جائے توچراغ پاہو جائیں اور جوابات دیں۔ مگر خدا کی طرف منسوب کر کے تاویلیں نکالیں۔ پھر جس اصل مذہب اس کے اس قدر مندرجہ بالا صریح اورلاجواب کفریات سے واضح ہوچکاہے۔ اس کے لئے تو کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ مختارمدعاعلیہ نے اس ہیڈنگ کا حوالہ اس ہیڈنگ کے تحت اوراس کا اس کے تحت خلط ملط کرکے اسی لئے جواب دیاہے تاکہ میری قائم کردہ ترتیب میں جو صریح قرائن ہیں وہ مختلط ہو کرعدالت کی توجہ سے اوجھل ہوجائیں اور وہ مغالطہ دہی میں کامیاب ہوسکیں۔ بہرحال میرا یہ اعتراض بھی صرف لفظ خطا کی خدا کی طرف نسبت کرنے پرتھا۔ جوبھی نیت ہو صریح لفظ اورتوہین میں نیت کا اعتبار نہیں۔

70

اس کا جواب تو یہ تھا کہ کسی آسمانی کتاب وصحیفہ وکسی حدیث یا بزرگ یا ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے استعمال میں دکھادیتے کہ اس نے خدا تعالیٰ کی نسبت لفظ خاطی یا خطا کا استعمال کیاہے اور میں عدالت کو یقین دلاتاہوں کہ کہیں بھی خدا کی طرف خطا کی نسبت سوائے مرزائی لٹریچر کے نہیں مل سکتی۔ کیونکہ ایسے جاہ جلال ’’فقال لمایرید علام الغیوب‘‘ کی نسبت کوئی ایسا شخص جو اپنے آپ کو بندہ کہتا ہو اور اسے مالک سمجھتاہو کیونکر کرسکتاہے۔

اورپھر یہ کہے کہ یہ خدا کا الہام ہے ایسے الہام رحمانی نہیں بلکہ شیطانی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ فتوحات وغیرہ میں مذکور ہیں ان کو حکایتہ نقل کرنے سے ہی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ ’’حاش اللہ عیاذاً ب اللہ ۔ ثم عیاذاً ب اللہ ‘‘

خدا بھی خطا کرنے لگ جائے تو صواب پھر کون کرے گا۔ ہمارے نزدیک تو نبی بھی معصوم اور ولی بھی محفوظ ہوتاہے۔ جب کہ اس لفظ خطاء کی نسبت جو صراحۃً تنقیص جلال توحید ہے۔ ایک محاورہ بھی نہ پیش ہوسکا تو گو اور بہت سے غیر متعلق حوالوں سے کاغذ سیاہ کیا ہو یہ اعتراض بھی لاجواب ہی رہا۔ یہاں نیت اورمراد پر اعتراض ہی نہ تھا۔ بلکہ استعمال لفظ پرتھا جو بدستور قائم ہے۔

تاویلات رکیکہ پرایک سرسری نظر

گو اس توضیح کے بعد ہمیں مدعاعلیہ کی پیش کردہ تاویلات کی طرف توجہ کرنے کی بھی ضرورت نہ تھی۔ مگر اس کے شائع ہونے پرکوئی ناسمجھ انسان مغالطہ میں پڑجائے۔ اس لئے اس کی حقیقت بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے۔ پس مختصراً یہ گزارش ہے۔ (ابوالوفاء)

تاویل مختارمدعاعلیہ

۱… اس کا تشریحی نوٹ نیچے لکھاہے۔

جواب: نوٹ کے ابتدائی الفاظ میں: ’’اس وحی الٰہی کے ظاہری الفاظ یہ معنی رکھتے ہیں کہ میں خطاء بھی کروں گا اور صواب بھی۔‘‘ پھر تردد کی مثال دے کر لکھتے ہیں کہ: ’’اسی طرح یہ وحی الٰہی کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتاہے اور کبھی پورا ہوجاتاہے اس کے یہ معنی ہیں کہ میں کبھی انہی تقدیر وارادہ کو منسوخ کردیتاہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہے ہوتاہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

عبارت بالا کے خط کشیدہ الفاظ خصوصیت سے قابل توجہ ہیں۔

ہمارا اعتراض ان الفاظ کی نسبت اور ظاہری معنی پر ہے جو مرزا صاحب کو بھی مسلم ہیں کہ: ’’میںخطاء بھی کروں گا۔‘‘یا یہ کہ: ’’کبھی میرا ارادہ خطاء ہوجاتاہے اور کبھی پورا ہوتاہے۔‘‘

باقی جو تاویل کی ہے وہ خود ایک مستقل کفر اور عظیم الشان کفرہے۔ اوّلاً الفاظ مکرر ملاحظہ ہوں۔

کبھی میں اپنی تقدیر وارادہ کو منسوخ کردیتاہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔‘‘

تفصیل کفریات

۱… پہلا کفر اس میں یہ ہے کہ خدا کے ارادہ کو منسوخ اور ایسا ماناہے کہ کبھی نہیں بھی ہوتاہے۔ حالانکہ یہ صریح نص قرآن کے خلاف اور سراسرکفرہے۔ ’’قال اللہ تعالیٰ: انماامرہ اذااراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون‘‘کہ اس کے امر کا یہ حال ہے کہ جب بھی کبھی کسی چیز کا ارادہ بصورت کن کرتاہے وہ چیز فی الفور ہوجاتی ہے۔

یعنی اس کے ارادہ اورچیز کے ہونے میں کوئی وقفہ ہی نہیں ہوتا کہ منسوخ یا کبھی نہ پورا ہونے کا احتمال ہو اور یہ مطلب کہ ارادہ کے ساتھ ہی فی الفور ہوجانا یواقیت والجواہر میں جوان کے بھی مسلم امام عبدالوہاب شعرانی کی ہے موجود ہے۔ مزید برآں مرزا صاحب کو بھی یہ مسلّم ہے اس آیت کا ترجمہ مندرجہ (جنگ مقدس ص۱۸، خزائن ج۶ ص۱۰۱) ملاحظہ ہو: ’’حکم اس کا(یعنی خدا کا) اس سے زیادہ نہیں کہ جب کسی

71

چیز کے ہونے کا ارادہ کرتاہے اور کہتاہے ہوجا پس ساتھ ہی وہ ہوجاتی ہے۔‘‘

مختارمدعاعلیہ نے بھی بحث ’’انما امرک… الخ!‘‘ کے تحت میں ماناہے کہ خدا کے کن وارادہ ہمیشہ متنج ہوتاہے۔ پس یہ مانا کہ کبھی اس کا ارادہ پورا نہیں ہوتا کھلا ہوا کفرہے۔

۲… دوسرا کفر اس میں یہ ہے کہ: ’’کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہاہوتاہے۔‘‘ یہ ماننا کہ کبھی اس کا ارادہ جیسا چاہاہوتاہے اور کبھی جیسا چاہانہیں ہوتامسلم کفرہے۔ یہ تو انسان کاحال ہے۔ جیسا چاہو کبھی ہو کبھی نہ ہو خدا تو وہ ہے کہ جب بھی جو چاہے جیسا چاہے فی الفور ویسا ہی ہو یہی معنی ان اللہ علی کل شیٔ قدیرکے ہیں۔ قدیر کہتے ہی اسے ہیں جوچاہے جیسا چاہے ویسا ہی ہمیشہ ہواگر ہمیشہ نہ ہو یا ویسانہ ہو تو قدیر کا لفظ استعمال نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یہ صفت مختصر باری تعالیٰ ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر بیضاوی تحت آیت: ’’ان اللہ علی کل شیٔ قدیر۔ والقادروہو الذی ان شاء افعل وان لم یشاء لم یفعل والقدیر الفعال لما یشاء وعلی مایشاء ولذلک فلما یوصف بہ غیرالباری تعالیٰ‘‘ یعنی قدیر جو فعال ہے کہ جوچاہے اور جیسا چاہے کرے اس لئے غیرخدا کی یہ صفت نہیں ہوسکتی۔

۳… تیسرا کفر… یہ کہ خدا کا ارادہ منسوخ اور نہ ہو نے والاکہا حالانکہ ارادہ منسوخ ہی نہیں ہوسکتا۔ نسخ صرف وقتی احکام کے اپنے وقت پرختم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ جیسے آج کل کی اصطلاح میں ہنگامی آرڈیننس کہا جاتاہے۔ نسخ صرف احکام میں ہوتاہے اختیار قدرت،ارادۃ، عقائد وذات، صفات باری تعالیٰ میں ماننا کفرہے۔ ملاحظہ ہو۔ معنی نسخ وحکم نسخ کے واسطے بیضاوی تحت آیت: ’’ماننسخ من آیۃٍ… الخ!‘‘ اور بیان نسخ شرح عقائد شرح مواقف وشرح مقاصد وغیرہ۔

۴… چوتھا کفر آیت: ’’انما امرک اذااراد… الخ!‘‘ کے مفہوم کی مخالفت اعتقادی۔

۵… پانچواں کفر صفت قدیر کاانکار۔

لفظ تردد کی آڑ

اس لفظ اورلفظ خطاء میں بڑا فرق ہے تردد صرف تأمل کانام ہے اور یہ توہین کے حق میں ایسا صریح نہیں۔ جیسا کہ لفظ خطاکہ ایسی صریح توہین پر دال ہے کہ انسان کے واسطے بھی اگراس نے ارتکاب خطاء نہیں کیا۔ اس کا استعمال کیاجرم ہے کہ بخلاف کسی معاملہ میں تردد وتأمل۔

باقی اس حدیث کی شرح کا یہ موقع نہیں۔ اس کی شرح کے واسطے اس کے تحت۔ فتح الباری وعمدۃ القاری شرح بخاری علامہ حافظ ابن حجرمکی وعلامہ حافظ بدرالدین عینی یا نووی شرح مسلم ملاحظہ فرمائیں۔ اگر اس میں کوئی لفظ خطاء یا اس کا ہم معنی ہوتاتوزیادہ تفصیل کی جاتی۔

مرزا صاحب کے بعض الہام بطورشرح

باقی مرزا صاحب کے یہ الہام: ’’ان ربی لایضل ولاینسیٰ۔ لایخفیٰ علی اللہ خافیہ۔ انہ یعلم السرواخفی… الخ!‘‘ جو(اربعین نمبر۲ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۳۸۴، البشریٰ ج۱ ص۳۳، البشریٰ ج۲ ص۵۸) سے پیش کئے تو یہ تو قرآن پاک کی آیات ہیں جو بطور الہام مرزا صاحب مکرر نقل کرتے ہیں اس سے ان کے عقیدہ کو کیا تعلق۔

(۱۴)

الارض والسمآء معک کما ہومعی

خلاصہ جواب مختارمدعاعلیہ

۱… ’’ہو اس تاویل سے واحد ہے کہ اس کا ترجمہ مخلوق ہے۔‘‘

(سراج منیرص۷۴، خزائن ج۱۲ ص۸۳)

72

۲… ’’ہو کی خبرواحد بتاویل مافی السمٰوٰت والارض ہے۔‘‘

(براہین حصہ چہارم ص۴۸۷، خزائن ج۱ ص۵۷۹)

’’گواہ مدعیہ نمبر۱ نے اس الہام سے مرزا صاحب پر یہ بہتان باندھاہے کہ گویا مرزا صاحب نے اس الہام سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرح حاضروناظر جاناہے۔ حالانکہ نہ تو مرزا صاحب کاعقیدہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کو… الخ!‘‘

۳… اس الہام کا وہ مطلب ہے جو (براہین حصہ پنجم ص۶۱، خزائن ج۲۱ ص۷۸) پرہے۔

۴… اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین وآسمان سے آپ کی صداقت کے نشانات ظاہر ہوئے:

آسمان بارد نشان الوقت مے گوید زمین… الخ! تونے طاعون کو بھی بھیجا میری نصرت… الخ!

۵… ’’اس قسم کی معیت سے شرک مراد لیا حد درجہ کی نادانی ہے۔ کیونکہ اگر اس سے شرک لازم آیاتو جو خدا کی معیت کا مدعی ہو زیادہ مشرک ہوناچاہئے۔‘‘ الخ (آیات)

۶… ’’مشابہت تامہ مراد نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ صداقت کے نشان ہیں۔‘‘

۷… ’’اس میں حاضرو ناظر ہونا مراد لینا بعید از عقل نہیں بلکہ پرلے درجہ کی جہالت کا مظاہرہ کرناہے۔‘‘

جواب:

۱… یہ گواہ نمبر۱ مدعیہ کا ہرگز استدلال نہیں۔ عدالت خود گواہ نمبر۱ مدعیہ کا بیان ملاحظہ فرمائے۔ وہاں اس تقریر کانام ونشان بھی نہیں۔

اوردراصل جو اس سے استدلال کیا گیاہے اور بحث میں متعدد مرتبہ تذکرہ آیا وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ جس طرح اپنی ذات میں یکتاہے۔ ان ہی صفات اور تمام امور میں۔ پس کسی چیز کی خدا سے تشبیہ دینا خواہ وہ کسی قسم کی تشبیہ ہوموہم تنقیص وشرک ہے اور دوسرے مشرکانہ عقائد کی روشنی اورمتکلم کے دیگر اقوال کے قرینہ سے یہ بھی ایک مشرکانہ عقیدہ ہوجائے گا۔

اس الہام میں کہ:’’الارض والسماء معک کماہو معی‘‘ یعنی زمین و آسمان تمہارے (یعنی مرزا صاحب کے) ساتھ ویسے ہی ہیں جیسے کہ وہ میرے ساتھ۔

کسی قسم کی معیت ہو خواہ علمی خواہ کوئی اور، جس طرح خدا کے ساتھ کوئی چیز ہے، اسی طرح کسی اور سے معیت ثابت کرنا خدا کے ساتھ شرک نہیں تو توحید کا کون سا حصہ ہے۔

مفصل جواب تاویلات

۲… مختارمدعاعلیہ نے اوّلاً ضمیر’’ہو‘‘ کی بحث کی کہ مخلوق مراد ہے… الخ!

جواب: جواب خواہ مخلوق مراد ہو یا ہر ایک زمین وآسمان اعتراض تشبیہ کا کہ خدا جیسی معیت کو بدستور باقی اورشرک ثابت کرنے کو کافی ووافی ہے۔

۳… (براہین حصہ پنجم ص۶۱، خزائن ج۲۱ ص۷۸) پر عدالت خود ملاحظہ فرمالے۔ اس الہام کا کوئی مطلب بیان نہیں کیاگیا۔ اس سے استنباط بھی نہیں ہوسکتا البتہ مختارمدعاعلیہ کی خوش عقیدگی سے یہ مطلب اگر نکلتاہو تو وہ نہ کسی پرحجت ہے نہ مرزا صاحب کی مراد۔

۴… یہ کہنا کہ اس سے مراد صداقت کے نشان ہیں اور چند مثالیں دینا محض غلط ہیں۔ یہ تمام صداقت کی مثالیں محض غلط اور جھوٹ اورخداتعالیٰ پر افتراء ہیں۔ مرزا صاحب کی صداقت کا ایک نشان بھی مدۃ العمر صداقت کی کسوٹی پر نہ اترا موضوع بحث نہیں۔ ورنہ مفصل عرض کرتا۔ نیز اس کھلے ہوئے مشرکانہ عقیدہ سے مراد صداقت کا نشان قراردینا صرف مختارمدعاعلیہ کی ذاتی اورغلط رائی ہے یہ تو ایسا مشرکانہ قول ہے کہ اسلام میں ہم کیا ہمارے باپ دادانے نہ سنا ہوگا۔

73

یہ صداقت کی دلیل ضرورہیںمگر مرزا صاحب کی نہیں بلکہ ہمارے آقاومولیٰ سید المرسلینa کی۔ کیونکہ حضورa نے ایسی باتیں کرنا دجال وکذاب کی نشانی قراردیاہے ارشاد ہے کہ: ’’لاتقوم الساعۃ حتی تبعث دجالون کذابون یأتونکم من الاحادیث مالم تسمعو انتم ولاآباء کم فایاکم وایاہم لایضلونکم ولایفتنونکم (ترمذی شریف، مسلم شریف)‘‘ یعنی قیامت نہیں آسکتی جب تک اس قسم کے دجال وکذاب نہ اٹھیں کہ تمہیں وہ باتیں کہیں جوتم نے اسلام میں سنیں اور نہ تمہارے آباء نے پس ان سے بالکل علیحدہ رہنا۔ دیکھو تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ پھنسائیں۔ اس سے مختارمدعاعلیہ خود فیصلہ کرے کہ کیا مطلب ہے۔

۵… مختارمدعاعلیہ کا اس میں سخت کلامی کے بعد یہ ارشاد ہے کہ اگر معیت آسمان وزمین سے شرک ہوا تو جس سے خدا کی معیت ہو وہ بھی مشرک ہوگا۔

جواب: یہاں معیت کااعتراض ہی نہیںبلکہ تشبیہ کا ہے کہ جیسی خدا کی معیت ہے ویسی کسی کی نہیں ہوسکتی اور مرزا صاحب کا الہام ہے کہ زمین وآسمان تیرے ساتھ ہیں جیسے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ یہ ’’لیس کمثلہ شیٔ‘‘ کی ایک تائیدی کڑی ہے اور وہاں تمام قرائن بھی مجتمع ہیں۔ اسے کاٹ کے علیحدہ جواب ہی اس لئے دیاگیاتاکہ خلط ہوسکے اور مغالطہ کا موقع مل جائے۔

۶… تاویل قول مختارمدعاعلیہ ’’مشابہت تامہ مراد نہیں بلکہ صداقت کے نشان مراد ہیں… الخ!‘‘

جواب: مشابہت تو تسلیم ہی کرلی جو موجب شرک ہے۔ خواہ تامہ ہو یاناقصہ خدا کے ساتھ مخلوق کسی طور پر مشابہت نہیں رکھتی۔ تامہ کا توشاید کفارکوبھی خطرہ نہ گزرا ہو۔ ناقصہ کی وجہ سے وہ بھی مشرک ہیں۔ ورنہ کوئی کافر اپنے معبودان باطل کو خدا کے مشابہ تام نہیں مانتا۔

باقی میں بتاچکا کہ یہ صداقت کا نشان یا اس کی طرف اشارہ نہیں بلکہ دجال وکذاب ہونے کی نشانی ہے۔ جواب تو بن نہ سکا مختارمدعاعلیہ نے الفاظ ذیل میں اپنا دل ٹھنڈا کرلیا کہ: ’’یہ مطلب مراد لینا حد درجہ کی نادانی پرلے درجہ کی جہالت کا مظاہرہے۔‘‘ جس پر ہم کچھ عرض نہیں کرتے۔ یہ ان کی تیز کلامی ہمارے سر آنکھوں پر۔

(ابوالوفاء)

(۱۵)

اصلی واصوم اسہروانام

(البشری ج۲ ص۷۹)

خلاصہ جواب مختارمدعاعلیہ ملاحظہ ہو۔ مختارمدعیہ نے اس الہام پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی صفات منسوب کی گئی ہیں جو خدا کی شان کے بالکل مخالف ہیں اور آیت: ’’لاتاخذہٗ سنۃ ولانوم‘‘ کے مخالف ہیں اور یہ بھی اس کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ پہلے حصہ میں مذکورہ امور خداتعالیٰ کے متعلق نہیں بلکہ ملہم کی شان کا اظہار کررہے ہیں اور دوسراحصہ خداتعالیٰ کے متعلق ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ اپنی تجلی کے نور سے تجھ میں دکھلاؤں گااور تجھے وہ نعمت دوں گا جو ہمیشہ رہے گی۔ تحقیق خداان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ کرتے ہیں۔ اس دوسرے حصہ میں جن انعامات کا ذکر کیاگیاہے، اس کی وجہ پہلے حصہ الہام میں ملہم کی حالت ذکر کرکے بیان کی گئی ہے کہ آپ شریعت اسلامیہ کے پابند اورآنحضرتﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

جواب: جواب البشری کا حوالہ مذکور عدالت کے حضور پیش ہے۔ یہ حوالہ الہامات ۱۹۰۳ء کے ہیڈنگ کے تحت درج ہے اوراس کا نمبر۲۳۹ہے۔ اصل عبارت معہ ترجمہ البشری درج ہے اپنا ترجمہ بھی نہیں۔

74

’’اصلی واصوم اسہر وانام واجعل لک انوارالقدوم واعطیک مایدوم ان اللہ مع الذین اتقوا‘‘ (ترجمہ) میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوںگا۔ جاگتاہوں اور سوتاہوں اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطاء کروں گا اور وہ چیزتجھے دوں گاجوتیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ (البشری ج۲ ص۷۹) ملاحظہ ہو یہ خدا کا الہام ہے۔ مرزا صاحب مخاطب ہیں، خداتعالیٰ متکلم۔ پھر کس قدر دلیری ہے ایسی کھلی ہوئی چیز میں یہ کہنا کہ ایک حصہ سے مرزا صاحب کی حالت مراد ہے اور وہ متکلم ہیں اور ایک سے خدامراد ہے۔ اصل یہ ہے کہ چونکہ مرزا صاحب خدا کی جسمیت کے قائل ہیں۔ جیسا کہ بحوالہ توضیح مرام گزرچکاکہ: ’’اس وجود اعظم کے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیر ہیں۔عرض طول رکھتاہے… الخ!‘‘

جس کا مختار مدعاعلیہ نے یہ تک جواب نہ دیا کہ یہ غلط ہے اس کے بعد غیر متعلق فقروں کی تاویلیں کیں۔ مگر ان کا کچھ بھی جواب نہ ہوسکا۔ لہٰذا مرزا صاحب چونکہ خدا کے جسم وحدوث کے قائل ہیں۔ اسی تخیل پر خدا ن سے یہ بھی کہتاہے کہ: ’’ میں سوتاہوں اور جاگتاہوں۔‘‘

(البشریٰ بحوالہ مذکور بالا)

اورخدا کے واسطے سونا کجا اونگھ بھی ناممکن ہے۔ اس کی توحید کا ایک جزو اعظم منصوص مصرح یہ عقیدہ ہے کہ: ’’ اللہ لاالہ الاہو الحی القیوم لاتاخذہ سنۃ ولانوم… الخ! (البقرۃ:۲۵۵)‘‘

اورجس صفت سے خداتعالیٰ اپنی پاکی کا صراحۃً اظہار کرے اور اپنے واسطے تنقیص اور عیب ٹھہرائے اسے حقیقۃً یامجازاً وتاویلاً کسی طرح اس کی طرف منسوب کرنا اس کی توہین اور شرک اورلاالہ الا اللہ کی توحید کے بالکل خلاف ہے۔ خدا کی شایان شان جو چیز نہ ہو، اسے صرف اس کی طرف منسوب کرنا ہی کفر ہے۔ عقیدہ ہویانہ ملاحظہ ہو جرح گوعاہ مدعاعلیہ نمبر۱۔ مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء بحوالہ (فتاویٰ عالمگیری ج۲ ص۴۰۸) کہ: ’’وہ شخص کافر ہوگا جو خداتعالیٰ کو ایسی چیز سے موصوف کرے جو اس کی شان کے لائق نہیں یا خدا کے نام کے ساتھ ہنسی کرے یا بیٹا بنائے یا بیوی بنائے یا اسے جہل کی طرف نسبت یا عجز کی طرف نسبت کرے اور نقص کی طرف… الخ!‘‘

اور لاالہ الا اللہ کے نوٹس کے ملاحظہ سے معلوم ہوگا کہ مرزا صاحب نے مذکورہ بالا کفریات سے نہ صرف ایک دو بلکہ ان سب کا مع شیٔ زائد ارتکاب فرمایاہے۔ اس الہام کا یہ مطلب لینا کہ: ’’آ پ شریعۃ اسلامیہ کے پابند اور آنحضرتﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔‘‘ کس قدر مضحکہ خیز اور بے ربط تاویل ہے۔ الہام مع انہیں کے ترجمہ کے اوپردرج ہے۔ ملاحظہ فرمالیا جاوے۔ اس کی تائید میں مختارمدعاعلیہ نے مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہے کہ: ’’آنحضرتﷺ کو ان اشخاص کی باتیں پہنچیں جن میں سے ایک نے کہا کہ میں ساری رات خدا کی عبادت ہی کرتارہوں گا اور سوؤں گا نہیں اوردوسرے نے یہ کہاتھا کہ میں کبھی نکاح نہیں کروں گا اور ایک نے یہ کہاتھا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا تو آپ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ دیکھو میں تم سے زیادہ متقی اورخداتعالیٰ سے ڈرنے والاہوں، میں نے نکاح بھی کیاہے اور روزے بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتاہوں اورنماز بھی پڑھتاہوں اور سوتابھی ہوں۔ پس تمہیں میری سنت پر چلناچاہئے۔‘‘

(بخاری کتاب النکاح ج۳ ص۳۲)

تواس بات کا الہام کہ پہلے حصہ میں ملہم کی زبان پر ذکرکیاگیاہے (ایں راہ کہ تومے روی بترکستان است) کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتاہوں اور جاگتاہوں اور سوتابھی ہوں۔ یعنی میں خدائی کا دعویدار نہیں ہوں۔ بلکہ آنحضرتﷺ کے نقش قدم پرچلنے والاہوں اور ایک مسلمان بندہ ہوں۔

جواب: میں حیران ہوں اور غالباً عدالت کو بھی تحیّر ہوگا کہ گفتگو تو یہ ہے کہ خداتعالیٰ مرزا صاحب پر ۳؍فروری ۱۹۰۳ء کو یہ الہام فرماتاہے کہ: ’’میں جاگتاہوں اور سوتاہوں‘‘ اورجواب میں مختارمدعاعلیہ یہ حدیث پیش کرتاہے کہ حضورa نے صحابہﷺ کو فرمایا کہ میں روزے

75

رکھتاہوں اور افطار بھی کرتاہوں اور نماز بھی پڑھتاہوں۔ تمہیں میری سنت پر چلناچاہئے۔ اصل ضروری عبارت حدیث ملاحظہ ہو: ’’توآپ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ دیکھو کہ میں تم سے زیادہ متقی اور خدا تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، میں نے نکاح بھی کیا ہے اور روزے بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتاہوں اور نماز بھی پڑھتاہوں اور سوتابھی ہوں پس تمہیں میری سنت پر چلناچاہئے۔‘‘

اس میں کس جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضورa کو الہام فرمایا کہ: ’’میں سوتابھی ہوں جاگتابھی ہوں‘‘ اس میں توآپ صحابہ کو خطبہ یعنی وعظ فرمارہے ہیں کہ میں یہ افعال کرتاہوں۔ باوجودیکہ تم سے زائد خدا کا خوف رکھتاہوں تم میری سنت پر چلو اور رہبانیت اختیار مت کرو۔ اس کا کوئی بھی جواب گوغیر معقول ہی ہو مختارمدعاعلیہ کے پاس نہیں ہے۔ ادھر ادھر کی بے ربط باتیں اور کبھی کچھ پیش کرتاہے جوخود اس کی پراگندگی خاطر اور تحیّر کا نمونہ ہیں۔ مختارمدعاعلیہ نے غالباً خود اس جواب کی لغویت کا خیال فرمایا اور ایک اس سے زیادہ بے معنی اپنی طرف سے جواب اورپیش کیا کہ: ’’یہاں قل محذوف ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد جگہوں میں قل محذوف ہوتاہے۔ سورۃ فاتحہ بھی انہیں میں سے ہے۔‘‘

جواب: یہ وہی قدیمی عادت ہے جو اعتراض مرزا صاحب پر ہو وہ سرکار دوعالمa پر اورجو ان کے الہام یا وحی پر ہو قرآن پاک جیسی بے مثل وبے نظیر خدا کی پاک اورآخری اور ہمیشہ رہنے والی کتاب پر کردیاجاتاہے۔ اللہ انہیں ہدایت اور سمجھ دے تاکہ یہ بلا وجہ مسلمانوں کا دل نہ دکھائیں۔

اچھا جواب یہ ہے کہ ’’قل‘‘ کے محذوف ہونے کی کیا دلیل ہے؟ کہیں مرزا صاحب نے فرمایا کہ یہاں ’’قل‘‘ محذوف ہے۔ پھر یہ ایک ہی الہام میں نصف حصہ کے واسطے ’’قل‘‘ محذوف اور مرزا صاحب کا کلام اورنصف میں ’’قل‘‘ نہیں، خدا کا کلام۔ آخرکچھ تو لگتی ہوئی تاویل ہونی چاہئے۔ سورۃ میں دیکھ لو اگر ’’قل‘‘ محذوف ہے تو ساتوں آیتوں میں یوں ہی اورجہاں جہاں ہے یہ تو نہیں کہ آدھے ٹکڑے کا قائل اورآدھے کا اور اور پھر کوئی قرینہ نہیں۔ بخلاف اس کے مرزا صاحب کا اصل عقیدہ ہے کہ خدا کے بے شمار ہاتھ پیر ہیں، طول وعرض بھی رکھتاہے جسے مختارمدعاعلیہ بھی لاجواب تسلیم کرچکاہے اور ایک حرف بھی جواب نہ دیا کھلا ہوا قرینہ ہے کہ وہ ضرور خداتعالیٰ کو مجسم سمجھتے ہیں اورسونا جاگنا خدا ہی کا مرادہے۔ البشریٰ سے الہام مذکور مع ترجمہ بغور ملاحظہ فرمایا جائے۔ کوئی بھی تاویل کار گرنہیں اورکھلاہوا کفرہے۔

مختارمدعاعلیہ جب کہ مختار مدعیہ کے اعتراض سے لاجواب رہا تو اس نے گواہ مدعیہ نمبرالف پر ایک بے معنی اعتراض کردیا تاکہ ان کی شہادت جو نہایت معتبر ومعزز اورجرح سے سالم ہے۔ یوںہی مخدوش ہوجائے۔ اصل الفاظ ملاحظہ ہوں: ’’جیسے مختارمدعیہ نے ملہم کے صریح اقوال کے خلاف الہام کا مطلب لے کر عدالت کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ویسے ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ مدعیہ کے چار گواہوں کے علاوہ دو گواہوں میں سے نمبرالف نے عدالت کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے اور اس الہام کے لئے (البشریٰ ج۲ ص۷۹) کا حوالہ دے کر یہ مطلب لکھوایاہے اور جس طرح میں قدیم ازلی ہوں۔ اسی طرح میں نے تیرے لئے ازلیت کے انوار کردئیے ہیں اور توبھی ازلی ہے۔ حالانکہ نہ یہ الہام کا مطلب ہے اور نہ ہی البشریٰ میں یہ ترجمہ لکھاہے۔ اس میں اس فقرہ کا یہ ترجمہ درج ہے اور تیرے لئے… تا… اختیار کرتے ہیں۔ کیا ایسے گواہ جو بات کو اپنی طرف سے بنا کر دوسرے کی طرف منسوب کرنے سے نہیں ڈرتے وہ اس قابل ہیں کہ ان کی شہادت قبول کی جائے۔‘‘

اس میں عدالت کو یہ مغالطہ دینا چاہاہے کہ انہوں نے یہ ترجمہ البشریٰ سے لکھاہے اور یہ غلط ہے۔ البشریٰ کا ترجمہ اس کے مغائر ہے۔

جواب: اوّلاً یہ ترجمہ نہیں بلکہ اپنا استنباط اورمطلب ہے جو مختارمدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے۔ ملاحظہ ہو کوٹیشن مذکورہ بالا کا ابتدائی حصہ۔

76

جواب: اوّلاً یہ ترجمہ نہیں بلکہ اپنا استنباط اورمطلب ہے جو مختارمدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے۔ ملاحظہ ہو کوٹیشن مذکورہ بالا کا ابتدائی حصہ۔

صرف البشریٰ سے الہام کاحوالہ ہے نہ ترجمہ کا اور مطلب یعنی اپنا استنباط لکھوایاہے نہ ترجمہ۔ لہٰذا اعتراض ہی لغوہے۔

نیز البشریٰ کا ترجمہ نہ تو مرزا صاحب کا ہے نہ کسی معتبر عربی دان کا پھر اگر وہ خود صحیح ترجمہ اس عربی کا کردیں تو کون سی قباحت ہے۔

یہ ترجمہ مؤلف البشریٰ بابومنظورالٰہی کا ہے جس کے متعلق مختارمدعاعلیہ نے ۱۸؍دسمبر کی بحث میں ’’اسمع ولدی‘‘ کے تحت میں یہ لکھاکہ: ’’اس کے مؤلف بابو منظورالٰہی ملازم محکمہ تار ریلوے نے دیباچہ میں لکھ دیاہے کہ وہ کوئی عربی دان نہیں۔‘‘

پس ایک جاہل آدمی کا ترجمہ کس عربی دان عالم پر کیا حجت تھا وہ غلط تھا۔ اپنا صحیح ترجمہ مطلب خیز پیش کردیا یہ اور گواہ کے علم وفضل ودیانت کی دلیل ہے کہ غلط ترجمہ پر بنیاد نہ رکھی بلکہ صحیح پیش کردیا۔ اسے مختار مدعاعلیہ مغالطہ سمجھ کر گواہ کو ناقابل اعتبار کہے یا مختارمدعیہ اور گواہ مذکور کے واسطے ناشائستہ الفاظ استعمال کرے۔ اس کی خوشی، عدالت کو نہ اس سے مغالطہ ہوسکتاہے اور نہ بے لوث غیرمجروح شہادت اس طرح مجروح ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد مرزا صاحب کا مسلمانوں جیسا عقیدہ براہین وغیرہ سے خدا کے متعلق نقل کیاہے۔ اس کا اصولی جواب یہ ہے کہ وہ عقیدہ ابتدائی ہے۔ جب دعویٰ نبوت اور یہ تمام کفریات نہ تھے۔ کیونکہ براہین تو بڑی مقدم کتاب ہے جب تک تمام مسلمان اسی کے ساتھ تھے اور بقول مختارمدعاعلیہ مرزا صاحب کے دشمن اورمرتد مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی بھی مداح ہے اور ان کا ریویو اس پر موجودہے۔ یہ الہام ۱۹۰۳ء کاہے۔ اس کے بعد کا کوئی حوالہ اس کے خلاف یا تردید کا نہ پیش کرسکے۔ لہٰذا یہ بھی لاجواب کفررہا۔

(۱۶)

اعطیت صفۃ الاحیاء والافناء من الرب الفعال

(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۶،۵۵)

خلاصہ استدلال مختارمدعاعلیہ۔

۱… مرزا صاحب کے مذکورہ بالاالہام سے مختارمدعیہ نے یہ غلط استدلال کیا کہ مرزا صاحب نے اس قول سے اپنے آپ کو خدائے تعالیٰ کی صفت محی وممیت میں شریک ماناہے۔

۲… پھر مختار مدعیہ پر حسب عادت بہت ناراضی اور تیز کلامی کا اظہار فرما کے لفظ: ’’اعطیت من الرب الفعال‘‘ کا اپنی مراد پر قرینہ بتانا چاہاہے اور یہ بھی فرمارہے ہیں کہ مختار مدعیہ نے مغالطہ کے واسطے لفظ: ’’من الرب الفعال‘‘ نہیں ذکرکیا۔

جواب: اس جواب میں بھی ہمارے اعتراض کو اپنے الفاظ میں غلط نقل کیا۔ اعتراض یہ ہے کہ کسی کا خدا کے اذن سے بطور معجزہ وکرامت مردہ زندہ کرنا اورچیزہے اور مارنے جلانے کی صفت اورقدرت حاصل ہوجانا اور چیز ہے یہ توہوسکتاہے اور ہواہے کہ انبیاء اولیاء نے باذن الٰہی بعض مرتبہ مردہ زندہ کیا مگر دائمی صفت مارنے، جلانے کی نہ دی گئی تھی کہ جب چاہیں ماریں جب چاہیں جلائیں۔

پیداکرنا،رزق واولاد د ینا، مارنا،جلانایہ وہ صفات ہیں کہ یہ اتفاق اہل سنت والجماعت غیر اللہ میں بطورصفت کے نہ ذاتی ہوسکتے نہ عطائی۔

باذن اللہ کسی کے ہاتھ پر مردہ زندہ ہوجائے۔ مگر اس صفت کے مالک نہیں کردئیے جاتے کہ اللہ نے یہ صفت دے دی۔ جب چاہیں اختیارسے کام لیں۔ جیسے کہ صفت بنائی عطاء فرمائی، جب چاہیں اس سے دیکھیں۔ صفت سماعت بخشی،جب چاہیں سنیں۔

77

صفت ملنا وہی کہلاتاہے کہ ملنے کے بعد استعمال کا ہر وقت ہرطرح مجاز ہو اور معجزہ میں اختیارکو کوئی دخل نہیں۔ یہاں ’’قال اللہ تعالیٰ وماکان لرسول ان یأتی بایۃ الا باذن اللہ (الرعد:۳۸)‘‘

پس مرزا صاحب کا یہ فرمانا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مارنے جلانے احیاء وافناء کی صفت عطافرمائی ہے۔ سراسر کھلا ہوامشرک ہے۔ یہ صفت صفات مختصہ باری تعالیٰ سے ہے کسی کو عطاء نہیں ہوسکتی۔ قرآن پاک میں تصریح موجودہے۔ ’’ہوالذی یحیی ویمیت (المؤمن:۶۸)‘‘ صرف اللہ ہی کی شان مارنا، جلانا ہے۔ تمام کتب عقائد اس سے پرہیں کہ یہ اور اس قسم کے صفات مختص بذات باری تعالیٰ ہیں۔ پس مرزا صاحب اپنے آپ کو اس صفت میں خداکا شریک مان کر لاالہ الا اللہ پر مؤمن نہ رہے۔

۲… اوریہ کہنا سراسر افتراء ہے کہ مختارمدعیہ نے لفظ: ’’من الرب الفعال‘‘ حذف کرکے پیش کیاہے۔ کیونکہ اوّلاً تومیرے نوٹوں میں موجودہے۔ نیز جرح میں کل نوٹ کرایاگیا اور بحث میں اصل کتاب سے اس دعویٰ کے ساتھ پیش ہوا کہ اگر شبہ ہو دیکھ لیں۔ باقی جواب ماسبق سے واضح ہوگیا کہ لفظ: ’’اعطیت‘‘ اور ’’من الرب الفعال‘‘ کی آڑ شرک سے بچانہیں سکتی۔ کیونکہ یہ صفت ذاتی توکسی کو کیا ہوتی۔ عطائی بھی یہ صفت اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دی۔

جنہوں نے مردہ زندہ کئے سنگریزوں نے جن کاکلمہ پڑھا استن حنانہ جن کے واسطے سسکیاں بھر کر رویا،انہوں نے بھی نہ فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے صفت احیاء واماتۃ وافناء دی ہے اور تمام انبیاءm، صحابہ کرامi، ائمہ دین، صوفیائے کرام، ابدال، قطب، غوث، کسی سے ایک نظیربھی پیش نہ کرسکے نہ پیش کی جاسکتی ہے۔

اللہ کے پاک بندے اس سے مبرّا ومنزّہ ہیں۔ باقی تاویلیں خواہ خطبہ الہامیہ سے ہوں یا کہیں اور سے محض لغو ہیں۔

(۱۷)

نئی زندگی نیا خدا

(تریاق القلوب ص س، خزائن ج۱۵ ص۴۹۷)

اس کاکچھ بھی جواب مختارمدعاعلیہ پیش نہ کرسکا۔ اصل الفاظ جواب مختارمدعاعلیہ یہ ہیں۔ اس عبارت سے مختارمدعیہ نے یہ نتیجہ نکالاہے کہ مرزا صاحب (نعوذب اللہ ) خداتعالیٰ کومتغیر ومتبدل مانتے ہیں اور یہ بھی مختار مدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب خداتعالیٰ کو ازلی وابدی غیر متبدل مانتے ہیں اور نیاخدا ہونے سے ہرگز آپ کی یہ مراد نہیں ہے کہ خدا پرانا ہوگیاتھا اوراب نیا ہوگیا۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جب انسان خدا کی طرف جھکتاہے اور ایک نیا رنگ عبودیت کا اختیار کرتاہے جس کو نئی زندگی سے تعبیر کیاگیاہے تو خداتعالیٰ اس پرنئے رنگ سے تجلی فرماتاہے اور بندہ سے اس کا معاملہ ایک نیا معاملہ ہوتاہے… الخ! مختارمدعاعلیہ نے یہ اپنی طرف سے ایک معنی باہر سے ڈالے ہیں جن کا وہاں کہیں پتہ نہیں، نہ کوئی خارجی سیاق وسباق میں نام ونشان ہے۔ نہ مختارمدعاعلیہ اس کے جواب میں کوئی دلیل پیش کرسکا نہ پیش کرسکتاتھا۔ مرزا صاحب کی عبارت اس شرکیہ میں بالکل واضح اورغیرمشتبہ ہے۔ نیز دوسرے کفریات سے ملا کر توعظیم الشان کفرہوجاتاہے جس سے مخلوق کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔

اصل عبارت ملاحظہ ہو: ’’نئی زندگی ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ ایک نیا یقین پیدا نہ ہو اور کبھی نیا یقین پیدا نہیں ہوسکتا۔ جب تک موسیٰm اور مسیحm اورابراہیمm اور یعقوبm اورمحمدمصطفیﷺ کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں۔ نئی زندگی انہیں کو ملتی ہے جن کا خدانیا ہو،یقین نیا ہو،نشان نئے ہوں اوردوسرے تمام لوگ قصوں اور کہانیوں کے جال میں گرفتار ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص س، خزائن ج۱۵ ص۴۹۷)

78

باقی اللہ کے متعلق مرزا صاحب کو خوش عقیدگی جو کشتی نوح اور اشتہار ملحقہ شہادت القرآن سے پیش کی ہے اور اس سے اس کی شرح چاہی ہے۔ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ مرزا صاحب کی عادت ہی کھلے ہوئے متعارضات اوراختلاف بیانی کی ہے۔ محض بے سود ہے۔ جوشخص برابر متعارض کلام بولتاہو، اس کا ایک کلام دوسرے کی شرح نہیں ہوا کرتا۔ (نمونہ ملاحظہ ہو)

متعارض اقوال:

ایک قول مسیح موعودومثیل مسیح کے متعلق:

۱… ’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں، جس کے بارہ میں خداتعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵)

نبوت مسیح موعود:

۲… ’’وہ ابن مریم آنے والاہے کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۹۲، خزائن ج۳ ص۲۴۹)

مسیح کا امتحان:

۱… ’’یہ ظاہرہے کہ مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں آگئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)

مہدی کے متعلق:

الف… ’’اور وہ آخری مہدی جوتنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اوراس آسمانی مائدہ کو نئے سرے سے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا، تقدیرالٰہی میں مقررکیاگیاتھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریمa نے دی تھی، وہ میں ہی ہوں۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۲، خزائن ج۲۰ ص۳،۴)

ب… ’’میں خدا سے وحی پاکر کہتاہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اس حدیث کے جو کنزالعمال میں درج ہے۔ بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں اورحضرت فاطمہt نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازلہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۳ حاشیہ، ضمیمہ حقیقۃ النّبوۃ حصہ اوّل ص۲۶۹، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۹)

دعویٰ مہدیت ونبوت:

الف… ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ مہدیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیاگیاہے۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۶)

ب… ’’وماکان لی ان ادعی النّبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم الکافرین‘‘ اور یہ مجھے کہاں پہنچتاہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہوجاؤں اور قوم کافر ین سے جاکر مل جاؤں… یہ کیونکر ممکن ہے کہ مسلمان ہو کر نبوت کا ادّعاء کروں۔

(حمامۃ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷ )

ج… ’’اورخدا کی پناہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دوجہان محمدa کو خاتم النّبیین بنادیا، میں نبوت کا مدعی بنا۔‘‘

(حمامۃ البشری ص۸۳، خزائن ج۷ ص۳۰۲)

د… ’’میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں، لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کو سمجھنے میں غلطی کی۔‘‘

(حمامۃ البشری ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۶)

و… ’’بعد ختم المرسلین میں کسی دوسرے مدعی رسالت و نبوت کو کاذب وکافر جانتاہوں… وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور حضرت محمدa پر ختم ہوگئی۔‘‘

(اشتہار۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰)

79

ہ… ’’ان پر واضح ہوکہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۶ ص۲،۳، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۹۷)

تکفیر مسلمین:

۱… ’’یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کوکافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے، جو خداتعالیٰ کی طرف سے شریعت اوراحکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعۃ کے ماسواء جس قدرملہم اورمحدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘

(تریاق القلوب حاشیہ ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

پہلے قول کا متعارض

۱… ’’اس عاجز نے جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

۱… ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پرختم ہوگیا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ مثیل میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔‘‘

(ازالہ ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

۲… ’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتاہے۔ اس کا حدیثوں سے یہ نشان دیاگیاکہ وہ نبی ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)

۲… ’’حضرت عیسیٰ کو امتی قراردینا ایک کفرہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴)

الف… ’’میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمۃ وعترتی وغیرہ ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۱۸۵، گواہ نمبر۲ ص۱۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۶)

نوٹ:

مرزا نے یہ تفنن اس لئے کیا کہ کم فہم لوگ ابتداً مرید ہوجائیں اور ہندوستان کی ذہنیت پیر کے متعلق یہ ہے کہ کم پیر من خس است الخ۔ اعتقاد من بس است پھر جو چاہا سنوایا۔

۱… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ رسول ونبی ہیں۔‘‘

(اخبار بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

۲… ’’نبی کانام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیاہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

۳… ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)

نوٹ: باقی حوالوں کے لئے شیخ الجامعہ گواہ مدعیہ نمبرالف کا بیان ملاحظہ ہوں۔

۴… ’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے… ہم پر کئی سال سے وحی نازل ہورہی ہے… اس لئے ہم نبی ہیں۔‘‘

(بدر۵؍مارچ۱۹۰۸، حقیقۃ النبوۃ ص۲۷۲، انوار العلوم ج۲ ص۵۸۳، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۸)

مگر باوجود اس شدومد کے خصوصاً ۱۹۰۷ء کے بعد کھلا ہوا دعویٰ نبوت ہے۔

تکفیر مسلمین

۱… ’’خدا نے میرے اوپر ایمان لانے کے واسطے تاکید کی، میرا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

80

۲… ’’بہرحال خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہرایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

۳… ’’خط بنام عبدالحکیم مرتد۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

۴… ’’ہمارا فرض ہے کہ غیراحمدی کو مسلمان نہ سمجھیں۔‘‘

(انوارخلافت ص۹۰، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۸)

۵… ’’سوم یہ کہ کل مسلمان جوحضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہ ہوئے۔ خواہ انہوں نے ان کانام تک نہ سناہو وہ کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰)

لہٰذا یہ بطور کلیہ کے ملاحظہ عدالت کے لئے پیش ہے کہ جس کی عادت اس قسم کی خلاف بیانی کی ہو، اس کی عبارات ایک دوسری کی شرح نہیں ہوسکتیں اورمختارمدعاعلیہ نے جودو راز کار بے ربط اور بلاقرینہ کچھ اس قسم کے متعارضات میں تاویلات کرکے تطبیق کی شکل نکالی ہے۔ وہ محض لاحاصل اوربے معنی ہے۔ جیسا کہ اپنی جگہ پر آئے گا اور عدالت خود مسل سے ملاحظہ فرماسکتی ہے۔

(۱۸)

متشابہات

قول مختارمدعاعلیہ:

ان اعتراضات کا جواب دینے کے بعد جو مختارمدعیہ نے اس امر کے ثبوت میں پیش کئے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مانتے اور خداتعالیٰ کی طرف ایسی صفات منسوب کرتے ہیں جو ان کے شان کے شایان نہیں۔ میں یہ بتانا چاہتاہوں کہ الٰہی کلام ہمیشہ دوقسم کا ہوتاہے ایک محکم دوسرا متشابہ اورخداتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتاہے: ’’الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغآء الفتنۃ (آل عمران:۷)‘‘ جن کے دلوں میں زیغ اور کجروی کا مادہ ہوتاہے۔ وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتاہے کہ فتنہ برپا ہو اور لوگ حق سے منحرف ہوجائیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں بھی دونوں قسم کا کلام پایاجاتاہے اوربعض کوتہ اندیش متشابہات کو ظاہری مضمون میں لے کر جادہ مستقیم سے منحرف ہو گئے اور خداتعالیٰ کو بھی ایک مجسم چیز کی طرح سمجھنے اوراس کے لئے ہاتھ آنکھیں وغیرہ ماننے لگے اور یہ سمجھا کہ واقعی عرش پر وہ ایک بادشاہ کی طرح بیٹھا ہواہے۔ لیکن سمجھ دار اور عارفان الٰہی نے ایسے کلمات کو محکمات کے تابع کیا اوران کے ایسے معنی کئے جو محکمات کے مخالف نہ تھے۔‘‘

جواب: عبارت مذکورہ بالا کے خط کشیدہ الفاظ خصوصیت سے قابل ملاحظہ ہیں جس میں اصول ٹھہرایاہے کہ: ’’کلام الٰہی ہمیشہ دو قسم کا ہوتاہے، ایک محکم دوسرامتشابہ۔‘‘

مگر واضح رہے کہ یہ اصول مرزا صاحب کے کلام پر اس وقت چسپاں ہوگا کہ ان کے تمام کلام یا الہامات کو الٰہی کلام اورالہام تسلیم کر لیا جائے اور انہیں دعویٰ نبوت میں سچا اور ان کے الہامات وحی الٰہی مان لیں۔ حالانکہ یہ چیز خود مابہ النزاع ہے ہم تو یہ سارے اقوال والہامات یا تو خود ساختہ مانتے ہیں یا وساوس شیطانی۔ وہ ہرگز کلام الٰہی نہیں ہوسکتے۔ تائیدی نمونہ ملاحظہ ہو۔

۱… ’’یعنی یہ الہام ہوا تھا کہ عورت کی چال ’’ایلی ایلی لما سبقتنی بریت اذاکففت عن بنی اسرائیل‘‘

(مکاشفات ص۵۰، البشریٰ ج۲ ص۱۰۷)

۲… ’’ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۳۲، نقل از بدر ج۶نمبر۳۱ ص۴)

81

۳… ’’غلام احمد کی جے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۳۲)

۴… ’’یریدون ان یروا طمثک(یعنی وہ تیرا حیض دیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں) اس الہام کی تشریح خود مرزا صاحب کی زبانی اس طرح ہے۔ بابوالٰہی بخش چاہتاہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی یا ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خداتعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیاہے۔ جو بمنزلۃ اطفال اللہ کے ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)

۵… ’’ہو شعناً نسعاً‘‘ (یہ الہام شاید عبرانی ہے جس کے معنی نہیں کھلے)

(البشریٰ ج۱ ص۴۳، نقل از بدر ج۲ نمبر۱۶، مطبوعہ ۸؍مئی ۱۹۰۳ ء از حضرت مسیح موعود)

۶… ’’پبرلیشن عمر براطوس یا بلاطوس۔‘‘

نوٹ: آخری لفظ بڑا لموس ہے یا بلا لموس ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا۔ اس جگہ برا لموس اور پرلیشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اورکس زبان کے یہ لفظ ہیں۔

(البشری ج۱ ص۵۱، نقل از مکتوب احمدیہ ج۱ ص۶۸)

۷… ’’غثم غثم غثم لہ دفع الیہ من مالہ دفعتہٗ دیاگیااس کو مال اس کا اچانک۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۵۰، نقل از الحکم ج۲ نمبر۲۶،۲۷)

۸… ’’آئی۔لو۔یو‘‘ (ترجمہ میں تم سے محبت رکھتاہوں)

’’میں تم سے محبت رکھتاہوں‘‘

(A) I love you

’’میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ‘‘

(B) I am with you

’’میں تمہاری مدد کروں گا۔‘‘

(C) I shall help you

’’میں کر سکتاہوں، جو چاہوںگا۔‘‘

(D) I can what i will do

’’ہم کرسکتے ہیں جوچاہیں گے۔‘‘

(E) We can what we will do

’’یہ میرا دشمن ہے۔‘‘

(F) This is my enemy.

ان الہامات کے نزول کے وقت ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سرپر کھڑا ہوا بول رہاہے۔

(البشریٰ ج۱ ص۱۷، نقل از براہین احمدیہ ج۴ ص۴۸۰، خزائن ج۱ ص۵۷۱،۵۷۲)

۹… ’’خاکسار پیپرمنٹ‘‘

(کشف نمبر۱۵، الحکم ج۱ نمبر۷، البشریٰ ج۲ ص۹۴)

۱۰… ’’ورڈ اینڈ ٹو گرلس‘‘ (ترجمہ الہامی) ایک کلام اور دو لڑکیاں۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۰۶)

۱۱… ’’کلیسا کی طاقت کا نسخہ‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۴، بدر ج۱۹ص۲)

۱۲… ’’اب تک پیچھا نہیں چھوڑتی‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۴، کشف نمبر۲۲۹)

۱۳… ’’کمترین کا بیڑا غرق ہوگیا‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۱)

۱۴… ’’امین الملک جے سنگھ بہادر‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۸)

۱۵… ’’خیر۔‘‘

(کشف نمبر ۲۳۹، بدر ج۲ نمبر۳۸ ص۳، البشری ج۲ ص۱۱۹)

۱۶…

  1. آنکہ گوید ابن مریم چوں شدی

    ہست او غافل ز راز ایزدی

82
  1. آں خدائے قادر و رب العباد

    در براہین نام من مریم نہاد

  2. مدتے بودم برنگ مریمی

    دست نادادہ نہ پیران زمی

  3. ہمچو بکرے یافتم نشوونما

    از رفیق راہ حق نا آشنا

  4. بعد ازاں آن قادر رب المجید

    روح عیسیٰ اندران مریم و دمید

  5. پس بہ نقش رنگ دیگر شد عیاں

    زاو زاں مریم مسیح ابن زماں

  6. زیں سبب شد ابن مریم نام من

    زانکہ مریم بود اول گام من

  7. بعد ازاں از نفخ حق عیسیٰ شدم

    شدز جائے مریمی برتر قدم

  8. ایں ہمہ گفت است رب العالمین

    گرنمے دانی براہین را ببین

(حقیقت الوحی ص۳۳۹، خزائن ج۲۲ ص۳۵۲)

۱۷… برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔

(حقیقت الوحی ص۹۷، خزائن ج۲۲ ص۱۰۱)

پس ہر عقل مند یہ سمجھ سکتاہے کہ یہ بے سروپا کلام ہرگز الہام الٰہی یا کلام ربانی نہیں ہوسکتا۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بھی دعویٰ سرے سے غلط ہے کہ ہر الٰہی کلام دوقسم کا ہوتاہے۔ محکم ومتشابہ۔ بلکہ یہ صرف قرآن حکیم کی خصوصیت ہے۔ جیسا کہ مختارمدعاعلیہ کی پیش کردہ آیت ہی سے واضح ہے جس کے ابتدائی اورآخری حصہ کو صرف اسی مغالطہ دہی کے واسطے کاٹ کر پیش کیاہے۔ ابتدائی حصہ ملاحظہ ہو:’’ہوالذی انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات ہن ام الکتاب واخر متشابہات (آل عمران:۷)‘‘

اسی اللہ نے آپ پر قرآن اتارا جس میں کچھ آیات، محکمات ہیں جو اصل اصول کتاب ہیں اور کچھ متشابہات۔ اس میں تصریح ہے کہ یہ تقسیم صرف قرآنی آیات کی ہے۔ حتیٰ کہ تورات وانجیل کی بھی نہیں۔ یہاں تک مرزا صاحب کے کلام کے واسطے گنجائش نکالی جائے۔

دوسرے اصطلاح قرآنی میں متشابہ وہ ہیں جو اللہ اوراس کے حبیب پاکa کے درمیان گفتگو کے لئے رموز واشارات ہیں۔ جنہیں کسی اور کے سمجھانے کو نہیں اتارا۔ ان کاحکم یہ بتایا کہ علماء بھی اس میں غوروخوض نہ کریں، بلکہ بلاتأمل اسے خدا کی طرف سے سمجھ کر بلا تاویل کی فکر کے اس پر ایمان لے آئیں۔ جیسے: ’’حٰمعٓسقٓ (الشوریٰ:۱،۲) کٰھٰیٰعٓصٓ (مریم:۱)‘‘ استویٰ علی العرش… الخ! وغیرہ

حالانکہ مرزا صاحب کا کلام نہ قرآن منزل علی سیدنامحمدa نہ اس پر بلا تأمل ایمان لانا اورتاویل تک نہ کرنا ضروری ہے۔

خود مختارمدعاعلیہ بھی اس میں تاویلات کر کے یہ ثابت کررہاہے کہ یہ متشابہات نہیں۔ کیونکہ اسی آیت پیش کردہ کا آخری حصہ جسے اسی مغالطہ کے لئے قطع کر دیاہے کہ:’’وما یعلم تاویلہ الا اللہ (آل عمران:۷)‘‘متشابہات کی تاویل کوئی بھی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور علماء راسخین بھی خدا کی طرف سے مان کر اس پر آمنا کہتے ہیں۔ پس یہ متشابہات نہ ہوئے۔

یہ کہنا بھی سراسر لغو ہے کہ یہ مرزا صاحب کا کلام متشابہات سے ہے اور جن کے دلوں میں زیغ اور کجروی کا مادہ ہوتاہے وہ فتنہ برپا کرنے کے واسطے اس کے پیچھے پڑتے ہیں… الخ!

کیونکہ اگر اس جیسے کھلے ہوئے کفریات اور لاجواب مشرکانہ خیالات کسی کو کفر سے بچا سکتے ہیں تو مختار مدعاعلیہ کے اصول پر فرعون ونمرود، ابولہب بلکہ شیطان لعین کے کلام کو بھی متشابہات میں مان کر عین ایمان کلمات بتانے پڑیں گے۔ فرعون کا اناربکم الاعلیٰ، نمرود کا انااحیٖ وامیت، ابولہب کاتباً لک، یہود کا السام علیکم، شیطان لعین کا اناخیرمنہ… الخ!

83

کیا یہ اسی اصول کے کلمات نہیں کہ تاویل ہوسکے۔ بلکہ مرزا صاحب کے کلام سے اس میں زیادہ آسانی سے تاویل ہوسکتی ہے۔

اوّل دونوں نمبر: اناربکم الاعلیٰ، انااحیٖ وامیت کے مقابل مرزا صاحب کا انت اسمی الاعلیٰ اور اعطیت صفۃ الاحیاء والافناء من الرب الفعال کا مقابلہ کرکے تاویلیں دیکھ لی جائیں۔ اگر یہ کہیں کہ مذکورہ بالا اشخاص کا کفر دوسرے ادّلہ سے متفق علیہ ہے تو مرزا صاحب کو دنیا اسلام کا کونسا فرقہ مسلمان مان رہاہے۔ عرب ہوں یا عجم، ہندوستان ہو یا افغانستان، مصرہو یاشام، غیرمقلد ہویامقلد، حنفی ہو یاشافعی، مالکی ہو یاحنبلی، صوفیہ کا گروہ ہو یاعلماء ظواہر کا، دیوبندی ہوں یا بریلوی، اہل سنت والجماعت ہوں یا شیعہ حضرات یااہل قرآن۔ غرض کوئی ان کا کفر واضح ہونے کے بعد انہیں مسلمان نہیں سمجھتا۔

اور اس قدر آفتاب سے زیادہ روشن وو اضح کفریات کے بعد یہ مجمل اور متشابہ کفریات بھی مختار مدعاعلیہ کے اسی تراشیدہ اصول کے تحت کفر ہی پر محمول ہوں گے،نہ اسلام پر اور متشابہات کا محکمات پر محمول کرنا متفقہ اصول قراردیاہے اور ہم نے بھی اوّلاً بنیادی طور پر محکمات سے کفر ثابت کرکے تائید میں ان گول مول الہامات کو پیش کیاہے۔ اصل بنیاد کب ہیں، دیکھئے کلمہ لاالہ الا اللہ کی تحت میں سب سے اوّل ’’والوہیتہ تتموج فی بنیادی اصول ہے کہ اس کی الوہیت میرے اندر موجزن ہے۔‘‘ اورجن میں الوہیت ہو وہ الہ کہلائے گا اور جس میں ربوبیت ہو وہ رب۔پھر جب کوئی شخص اپنے کو بھی الہ مانے اورمنوائے اور لاالہ الا اللہ بھی پڑھے، ایک مرتبہ کیا کروڑ مرتبہ، ہرگزایمان دار نہیںہوسکتا۔ کیونکہ لاالہ الا اللہ میں صرف ایک اللہ الہ ہے اور یہاں نہ بھی الہ ہے۔ نیز اس کے سارے مریدین جن میں مدعاعلیہ عبدالرزاق بھی ہے۔ ان کے اس قول پر کہ الوہیتہ تتموج فی ایمان رکھتے ہیں۔ یعنی لاالہ الا اللہ بظاہر پڑھ کر بظاہر الوہیت کا حصہ صرف خداتعالیٰ میں مانتے ہیں۔ مگر مرزا صاحب کے اندر بھی الوہیت کے معتقدہیں۔ پس جب کہ خدا کے سوا کسی ایک میںبھی الوہیتہ مان لی تو کلمہ توحید پر جس کا مطلب صرف ایک خدا ہی کے اندر الوہیت منحصر کرناتھا ہرگزہرگز ایمان دار نہ رہے۔ اس سے زائد کیا وضاحت چاہتے ہیں اور اس سے زائد محکم کیا ہوگا کہ اور وں کا الٹا سیدھا ربط بے ربط جواب تو دیا، مگر اس کے جواب کا باوجود سینکڑوں صفحات سیاہ کرنے کے نام تک نہ لیا:

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن شاہ کنعان کا

قول مختارمدعاعلیہ:

’’اورآنحضرتﷺ کی اتباع میں کاملین امت محمدیہ کو متشابہات ورثہ میں ملے جن پر خشک ملّاؤں نے جہالت ونادانی سے اعتراضات کئے اوران کے موردوں کو کافر ومرتد و واجب القتل ٹھہرایا… الخ!‘‘

تمام علماء کرام حتیٰ کہ علمائے حرمین شریفین کثرہم اللہ تعالیٰ سوادہم اورتمام صوفیاء کرام اور بلا استثناء تمام فرق اسلامیہ نے مرزا صاحب اوران کے اذناب واتباع ومریدین ومعتقدین کو بلکہ ان کفریات پر مطلع ہونے کے بعد، مرزا صاحب کو مسلمان سمجھنے والوں کو بھی کافر ومرتد قراردیاہے۔

اب مختارمدعاعلیہ کی خوشی جی چاہے، انہیں خشک ملّا، جاہل ونادان کہے یا اس سے بڑھ کر کوئی گالی دے۔ جب کہ ان کے مقتداء نے تمام انبیاء کرام حتیٰ کہ سید الرسل فخرکلa، اہل بیت کرامi وصحابہﷺ کو سب کچھ ان کہی کہہ ڈالی تو ان سے یہ کوئی غیر متوقع نہیں۔ حضورa کے بعد مدعیان نبوت اور ان کی امت کا یہ شیوہ ہی ہونا تھا۔ ورنہ ہمارے آقاومولیٰa کا ارشاد یاتونکم من الاحادیث مالم تسمعوا انتم ولا اٰباء کم کیونکر ہوتا اگر یہ نہ کرتے تو حضورa صادق ومصدوق کی یہ پیش گوئی غلط ہوجاتی اور دین درہم برہم ہوجاتا۔ العیاذب اللہ ! صدق اللہ ورسولہa۔

84

قول مختارمدعاعلیہ:

’’امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں۔ قرآن مجید میں متشابہات مثل ید التواء … تا … صحو(ہوش) میں تھے۔

(مقامات امام ربانی ص۵۰)

اگر مختار مدعیہ کی طرز استدلال صحیح سمجھی جائے تو امام ربانی کی اس منقولہ حدیث سے خدا کا مجسم ہونا اس سے بہت بڑھ کر ثابت ہوسکتاہے۔ جیسا کہ مختارمدعیہ نے مرزا صاحب کے متشابہات الہامات سے آپ کے منشاء اور کھلی کھلی تشریحات کے خلاف معنی لے کر ثابت کرناچاہاہے۔ کیونکہ اس میں ضحک اللہ کے لفظ ہیں جس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہنسا اورمختار مدعیہ کی طرز استدلال کے لحاظ سے ہنسنے کے لئے ان چیزوں کی جن سے ہنسنے کا فعل منحصر ہے۔ یعنی رخسار اور لب وغیرہ کی ضرورت ہے اورجس میں یہ چیزیں پائی جائیں۔ اس کے مجسم ہونے میں کیا کلام ہوسکتاہے۔

جواب یہ مختار مدعاعلیہ کا اپنا اختراع ہے کہ اس حدیث میں ضحک کے معنی ہنسنے کے ہیں جس کے واسطے لب ودندان منہ درکار ہے۔

یہاں ضحک کے معنی کسی نے ہنسنے کے نہیں کئے کسی حدیث یا تصوف کی کتاب حتیٰ کہ مسلم ومقبول امام عبدالوہاب شعرانی کی کتاب یواقیت کو دیکھتا تو بھی یہ بہتان نہ باندھ سکتا اور اگر کچھ توفیق نہ ہوئی تھی تو کسی ڈکشنری لغت کی کتاب ضحک کے معنی دیکھ لیتا کہ اس کے حقیقی معنی راضی ہونے اور قبول کرنے کے ہیں اور یہی راضی ہونے کے معنی حدیث میں مراد ہیں کہ اللہ راضی وخوش ہوا۔ ملاحظہ ہو: ’’منتہی الارب‘‘

’’ضحک ضحکاً بالفتح وضحکاً بالکسروکسرتین… راضی شد وقبول کرد‘‘

یوں ہی متعدد محاورات تاج العروس ولسان العرب میں موجود ہیں جو مرزا صاحب کی بھی مسلم لغات ہیں۔ ملاحظہ ہوجرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

اس حدیث نبوی جس میں خدا کی طرف نسبت ضحک ہے جس سے مختارمدعاعلیہ الزاماً خدا کا مجسم ہونا ثابت کررہاہے اور مرزا صاحب کی غیر مسئول لاجواب عبارت کہ: ’’اس وجود اعظم کے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیرہیں، طول وعرض رکھتاہے۔‘‘ دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے وہاں ضحک ہے جس کے معنی اصل لغت میں راضی وقبول کرنے کے ہیں اور یہاں صراحۃً نہ صرف ہاتھ پاؤں، بلکہ طول وعرض جو بالاتفاق جس کے لوازم ہیں۔ موجود ہیں جن کی کوئی جھوٹی سچی الٹی سیدھی ربط وبے ربط تاویل مختارمدعاعلیہ سے بھی نہ بن پڑی اوراس کانام تک نہ لیا اوراس سے اگلے فقرات کی شرح شروع کردی۔

یہ چیزیں صرف فریق مدعیہ کے جذبات کو مجروح کرنے کے واسطے معرض بیان بلکہ ریکارڈ مسل پر لائی گئیں کہ جو جو اعتراضات مدعیہ کی طرف سے ہمارے رسول قدنی پر کئے جائیں گے وہ سب ان کے رسول تاجدار مدنیa پر دہرا کے دل ٹھنڈا کرلیں گے۔

ہم عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ اس قسم کے امور باوجودیکہ ہمارے واسطے انتہائی صبر شکن اور ناقابل برداشت رہے۔ مگر ہم نے خدا جانے کیوںکر برداشت کیا اور سوائے عدالت کی توجہ مبذول کرانے کے کوئی احتجاج روانہ رکھا:

  1. وائے ناکامی الفت ہائے محرومی عشق

    غیر سے کرنی پڑی ہے التجا تیرے لئے

باقی مجدد صاحب کی عبارت کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔ بالکل عبارت بے غبار ہے کوئی ان کی تائید نہیں۔ محض اپنی طبیعت سے بہتان باندھاہے۔ رہی حدیث: ’’ان اللہ خلق اٰدم علی صورتہ‘‘ اس کا مفصل جواب اوپر بحوالہ انہیں کے مسلم امام عبدالوہاب شعرانی کی زبانی (الیواقیت والجواہر ج۱ ص۱۱۸) سے گزرچکاہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

85

قول مختارمدعاعلیہ:

’’یہ سب امور موجب کفر وارتداد ہیں اور حضرت مجدد الف ثانی کی تحریر میں یہ بھی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو مدینہ کی گلیوں میں ایک بے ریش نوجوان کی شکل میں دیکھا اور اس نے اپنا ہاتھ میرے شانوں پررکھا اور میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی اور یہ تمام باتیں بھی مختار مدعیہ کی عجیب وغریب مگر خلاف اہل اسلام طرز استدلال کے رو سے خدا کو مجسم ٹھہراتے ہیں۔ چونکہ بے ریش نوجوان اوراس کا ہاتھ اوراس کی ٹھنڈک وغیرہ امور تجسم کو چاہتے ہیں اور صرف مجدد الف ثانی ہی کو جنہوں نے یہ حدیث نقل کیاہے۔ نعوذب اللہ ! مشرک وکافرمرتد نہیں ٹھہراتے۔ بلکہ نعوذب اللہ ! دور دور اور بہت دور تک نوبت پہنچائی ہے۔ دیوبندی مولوی بظاہر تو مجدد الف ثانی کو بڑی شدومد سے اپنا قبلہ وکعبہ بتلاتے ہیں۔ مگر جب دوسروں کو کافر کہنے کا شوق زور کرتاہے تو ان پر ہاتھ صاف کرجاتے ہیں۔‘‘

اس میں جس قدر سوقیانہ لہجہ اور تیز کلامی ہے وہ عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ یہ جوابات کس جذبہ عداوت کے تحت میں دئیے گئے ہیں اوران کی اصولاً کیا حیثیت ہے، میں اصل مدعایعنی حدیث۔ میں نے مدینہ کی گلیوں میں اللہ تعالیٰ کو ایک بے ریش نوجوان کی صورت میں دیکھا… الخ! کا جواب پیش کرتاہوں جس سے مختارمدعاعلیہ خدا کا مجسم ہونا نکالناچاہتاہے۔

جواب: اوّلاً اس حدیث کو تمام مسلم ائمہ جرح وتعدیل جیسے امام یحییٰ ابن سعید قطان جو جرح وتعدیل کے امام ہیں اورابن معین وغیرہ اس حدیث کو مختلف طرق سے مجروح بتاتے ہیں۔ بلکہ علامہ ابن جوزی تو اسے موضوع قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں کتب رجال نیز تذکرۃ الموضوعات۔ ملاعلی قاری وغیرہ اور مجروح حدیث تو مختارمدعاعلیہ بلکہ مرزا صاحب کے نزدیک بھی ناقابل اعتبار ہے (ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۱، مؤرخہ ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء) حدیث بشرطیکہ جرح سے خالی ہو معتبر ہوگی۔

(ازالہ ص۳۳۱، خزائن ج۳ ص۲۱۶)

نیز عقائد میں اگر مجروح نہ بھی ہو تو بھی قطعیات کا اعتبار ہے اور متواترات کا اعلیٰ درجہ کی صحیح احادتک معتبر نہیں۔ چہ جائے احاد مجروح۔

(ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ونمبر۲نیز جرح گواہ نمبر۱، مؤرخہ ۸؍مارچ۱۹۳۳ء)

صرف جلال الدین سیوطی جن کو ان کے زمانہ کے علماء اور معلم ائمہ علامہ سبکی وغیرہ حاطب لیل رطب ویابس جمع کرنے والا قراردیتے ہیں اورمحمدطاہر صاحب مجمع البحار تصحیح کرتے ہیں اور یہ دونوں حضرات امام جرح وتعدیل نہیں اور ہر فن میں صرف اسی فن کے اہل اورامام کی رائے معتبر ہوتی ہے جو مرزا صاحب اور گواہ مدعاعلیہ کوبھی مسلم ہے۔ (ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۱، مؤرخہ ۸؍مارچ۱۹۳۳ء) باقی صاحب تذکرۃ الموضوعات کا ابوزرعہ سے حدیث ابن عباس کی تصحیح نقل کرنا تو اوّل تو وہ اور حدیث ہے۔ دوسری اسی میں یہ بھی اسی جگہ منقول ہے کہ راٰہ بفوادہٖ کہ یہ دل اور قلب کا دیکھنا مراد ہے نہ آنکھوں کا۔ حتیٰ کہ مجسم ہونا لازم ہے۔

اسی تذکرہ میں مطلب حدیث یہ لکھاہے: ’’حدیث اگر خواب میں دیکھنے پرمحمول ہو تو کوئی اشکال ہی نہیں اور اگر بیداری پر محمول کریں تو ہمارے استاد کمال الدین ابن ہمام کا ارشاد ہے کہ یہ خدا کا دیکھنا نہیں بلکہ حجاب صورۃ کا دیکھنا ہے جو باری تعالیٰ کے حجابات سے ہے۔ اصل عبارت :’’والحدیث ان حمل علی رویتہٖ المنام فلا اشکال وان حمل علی الیقظۃ فاجاب استاذنا کمال الدین ابن ہمام بان ہذا حجاب الصورۃ… الخ!

(تذکرۃ الموضوعات مصری ص۱۲)

اورمختارمدعاعلیہ کے یہی مسلم امام ابن عربی، عبدالوہاب شعرانی بھی اسی طرح فرماتے ہیں کہ یہ خدا کی صورت نہیںدیکھی۔ بلکہ اس کے آئینہ جلال میں خود اپنا نقشہ دیکھا۔ جیسے کہ آئینہ میں ہوا کرتاہے کہ وہ اپنی صورت ہوتی ہے نہ آئینہ۔ ملاحظہ ہو:

(یواقیت والجواہر ج۱ ص۱۲۳)

86

اصل عبارت:’’فان قلت فاذن مارای العبد الا صورۃ نفسہ فی مراٰۃ معرفۃ الحق وما رای الحق حقیقۃ قلت نعم وہو کذالک فحکمہ الانسان الذی رای وجہہ فی المراٰۃ المحسوسۃ فانہ یری صورۃ نفسہ حاجۃ لہ عن مشہود جرم المراٰۃ‘‘

اوّلاً مرزا صاحب کے کلام پر جو ہمارا اعتراض تھا وہ رسول اللہ ﷺ پر اور مجدد صاحب وغیرہ پر دہرایا۔ پھر وہی اعتراض خدائے قدوس اور اس کے پاکیزہ کلام پر چسپاں کرنے کے واسطے مندرجہ ذیل آیات پیش کرکے وہی اعتراض دہرایاہے۔

آیات:’’استویٰ علی العرش (الاعراف:۵۴) یحمل عرش ربک فوقہ یومئذ ثمانیہ (الحاقہ:۱۷) یداہ مبسوطتان (المائدۃ:۶۴)‘‘

ان آیات کی تفسیر چونکہ یہاں سے غیرمتعلق ہے اور طول طویل ہے جس کی عدالت کی جانب سے اجازت نہیں۔ جنہیں دیکھناہو تفسیر بیضاوی، تفسیر کشاف، تفسیر ابن عربی، تفسیر کبیر ملاحظہ فرمائیں۔

باقی مختارمدعاعلیہ کا یہ حوالہ بالکل مفیدنہیں کیونکہ ہم نے مرزا صاحب کی صریح کلام کو بنیاد قراردیاہے۔ (الوہیۃ تتموج نے) اورطول وعرض رکھتاہے۔ وغیرہ وغیرہ! لہٰذا اس قسم کے متشابہات کی آڑ ہی بے کار ہے۔ اسی پر اہتزلہ العرش وغیرہ کو قیاس فرما لیں۔ قول مختارمدعاعلیہ: آخرمیں اتنا کہہ دینا ضروری ہے کہ مرزا صاحب کے الہامات میںبھی محکم اور متشابہ دونوں قسم کاکلام ہے اور یہ کوئی قابل اعتراض امر نہیں۔ حسب قاعدہ متشابہ کو محکم کے تابع کرناچاہئے۔ یعنی ملہم کے متشابہ الہام کے معنی… خود بیان کردئیے ہوں تو کسی دوسرے کو حق نہیں پہنچ سکتاکہ وہ ان مضمون کے خلاف کوئی اور معنی نکالے۔ متشابہ الہام تو الہام ہے کسی مبہم یا ذوالوجوہ عبارت کے معنی بھی منشاء متکلم کے خلاف نہیں نکالے جاسکتے اور یہ وہ اصل ہے جس سے دنیا میں کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ حتیٰ کہ دیوبندیوں کے ابن شیرخدا علی المرتضیٰ سابق ناظم دارالعلوم دیوبند مختار مدعیہ نمبر۲ بھی بضرب دہل اس کی تصدیق وتائید کا اعلان فرمارہے ہیں۔ چنانچہ مولوی احمدرضا خان کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں کہ: ’’اب اپنی طرف سے خلاف منشاء متکلم کلام کے معنی تجویز فرماتے ہیں۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون!‘‘

(السحاب المدرار ص۴۳)

’’علاوہ ازیں تصنیف رامصنف نیکو کندبیان جب مصنف خود فرماتے ہیں کہ میرا مطلب یہ ہے تو اب کسی کو چون وچراکی گنجائش کیاہے۔‘‘

(السحاب المدرار ص۵۵)

اور مفتی دیوبند مولوی محمدشفیع گواہ مدعیہ نمبر۱ نے بھی ۲۰؍اگست کو جرح کے جواب میں اس اصل کو تسلیم کیاہے کہ: ’’اگر مختلف اقوال مذکور ہوں تو مبہم قول مفصل اقوال کی طرف راجع کیا جائے گا۔‘‘

الجواب: اسی مسلمہ متفقہ اصول پر ہم بھی مرزا صاحب کی کلام کی تاویلات جو مختارمدعاعلیہ نے کیں، ناقابل التفات سمجھتے ہیں اور اس کے الہامات کا مطلب والوہیۃ تتموج فیہا اور طول وعرض رکھتا۔ وغیرہ وغیرہ!

لاجواب اور صریح اقوال کی روشنی میں مراد لے کر کفر کا حکم لگاتے ہیں۔ورنہ خواہ مخواہ ہمیں کوئی ان سے ذاتی عناد نہیں کہ کافر بنائیں اور عاقبت خراب کریں۔ یہ ضرور ہے کہ کافر کو کافر نہ سمجھنا اور اس کے کفرپرراضی رہ کر دنیا کو مغالطہ میں رکھنا یہ بھی کفر اور رضائے بالکفر ہے۔

نوٹ: آخر میں یہ بھی گزارش کردوں کہ یہ بلاوجہ متشابہات کی بحث صرف اس لئے چھیڑی گئی کہ ہمارے جذبات مجروح ہوں۔ کیونکہ اس سے صاف واضح ہے کہ مرزا صاحب حضورa کی طرح اوران کاکلام قرآن پاک کی طرح ہے اور مرزا صاحب کا بھی یہی مذہب:

87
  1. آنچہ من بشنوم ز وحی خدا

    بخدا پاک دانمش زخطا

  2. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

(درثمین فارسی، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اگر حسن ظن کو مختار مدعاعلیہ کی نسبت ہم کام میں لائیں، گواب اس کا کوئی موقعہ نہیں۔ تویہ عرض کردیں کہ مختار مدعاعلیہ کو یہ بحث چھیڑنے میں مغالطہ ہوگیاہے کہ اس نے مرزا صاحب کو حضور کی طرح اوران کی کلام کو قرآن پاک کی طرح سمجھ لیاہے۔ ورنہ کبھی وہ حکم جو ’’ہوالذی انزل الیک الکتاب منہ اٰیات محکمات… الخ! (آل عمران:۷)‘‘ میں ہے جو صراحۃً صرف کتاب اللہ قرآن حکیم سے مختص ہے۔ مرزا صاحب کی کلام پر چسپاں نہ کرتا۔

اب میں اپنے لاجواب حوالوں کو جو اس ہیڈنگ میں ہیں۔ حسب وعدہ فہرست اپنے جواب کی تائید وتکمیل کے لئے عرض کرتاہوں کہ باوجود اس طول طویل دور از کارتاویلات کے ہمارا مدعابدستور ثابت رہا کہ مرزا صاحب اوران کے متبعین خواہ کتنی ہی مرتبہ لاالہ الا اللہ نمائشی زبان پر لائیں، مگر ان عقائد کفریہ منافی توحید کے ہوتے ہوئے لاالہ الا اللہ پر کسی طرح ان کا ایمان ثابت نہیں ہوسکتا۔ لاالہ الا اللہ کے خلاف بالکل لاجواب حوالے جن کاتذکرہ تک نہ کیا۔ تمہیداً جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء وگواہ نمبر۲، ۲۶؍مارچ۱۹۳۳ء۔

۱… ادّعائے الوہیت: والوہیۃ تتموج فی اور اس کی الوہیت مجھ میںموجزن ہے۔

۲… تمہید عینیت: انت منی وانا منک

(دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

۳… عقیدہ جسمیت: اس وجود اعظم کے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیرہیں، عرض وطول رکھتاہے۔

(توضیح المرام ص۷۵، خزائن ج۳ ص۹۰)

۴… تحسین وتاویل عقیدہ تثلیث: ان دونوں محبتوں کے کمال سے… اس کانام پاک تثلیث ہے اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن اللہ کے ہے۔

(توضیح مرام ص ۲۲، خزائن ج۳ ص۶۲)

۵… شرم دامن گیر ہونا: لیکن تعجب کہ کیسے بڑے ادب سے خدا نے مجھ کو پکارا ہے کہ مرزا نہیں کہا بلکہ مرزا صاحب کہا ہے… اور پھر دوسرا تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ میری طرف سے یہ درخواست تھی کہ الہام میں میرا نام ظاہر کیاجائے۔ مگرپھر بھی خداکو میرا نام لینے سے شرم دامن گیرہوگئی اورشرم کے غلبہ نے میرانام زبان پر لانے سے اس کو روک دیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۵۶، خزائن ج۲۲ ص۳۶۹)

۶… صیاد کے ساتھ تشبیہ: ’’اب سے پہلے خدا خاموش بیٹھا رہا اور اسی طرح بیٹھا رہا جس طرح صیاد، دجال کے نیچے دانہ ڈال کر بیٹھتاہے۔‘‘

(تقریر مرزا محمود کادیانی تقدیر الٰہی ص۲۹، انوارالعلوم ج۴ ص۴۸۲)

۷… تنقیص امر باری تعالیٰ: ’’یتم امرک ولایتم امری‘‘ وہ لاجواب حوالے جن کا جوابی بحث میں تذکرہ ہے۔ مگر اعتراضی پوائنٹ نظر انداز کیاگیا۔

۱… شرک فی الاسم: ’’اغفروارحم من السماء ربنا عاج‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۵۵،۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۲)

۲… ادّعائے یکتائی: ’’انت بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘

(اربعین نمبر۳ حاشیہ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰)

۳… شرک فی الامر: ’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘ (استفتاء ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۷۱۴) وجرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء۔ ’’لیکن اس الہام میں مرزا صاحب کو خطاب ہے۔‘‘

88

۴… عقیدہ تثلیث: ’’انا نبشرک بغلام مظہر الحق والعلاء کأن اللہ نزل من السماء‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۸، خزائن ج۵ ص۵۷۸) منشاء۔ اعتراض کأن کی تثلیث وتشبیہ ہے۔

۵… عقیدہ جسمیت: ’’روشنائی چھڑکنے والانشان۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۵۵، خزائن ج۲۲ ص۲۶۷)

۶… نسبت ولایت: ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)

۷… عقیدہ ابوت: ’’ان اللہ یبشرک بغلام مظہرالحق والعلا کان اللہ نزل من السمآء‘‘

(آئینہ کمالا ت اسلام ص۵۷۸، خزائن ج۵ ص۵۷۸)

۸… خطاء و صواب کی نسبت: ’’انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

۹… خدا کا اسم اعلیٰ ہونا: ’’انت اسمی الاعلیٰ‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳)

۱۰… استعمال لفظ خواب وبیداری: ’’اسہروانام سوتابھی ہوں جاگتابھی۔‘‘

(البشری ج۲ ص۷۹)

۱۱… نیا خدا: بحوالہ (تریاق القلوب ص س، خزائن ج۱۵ ص۴۹۷) جو گزرچکا ہے۔

۱۲… صفتہ الاحیاء والافناء۔ ’’اعطیت صفتہ الاحیاء والافناء من الرب الفعال‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۵،۵۶)

مختارمدعاعلیہ نے سینکڑوں تائید کے نام پر اوراس کی آڑ لے کر تائیدی حوالے پیش کئے ہیں اور میں صرف ایک حوالہ اس جواب کی تائید میں پیش کرتاہوں جس سے حضرت باری تعالیٰ جل وعلاء شانہ کی نسبت مرزا صاحب کا نظریہ واضح ہوجائے گا اور تمام ان کے اجمالی الہامات کفریہ کے حل کرنے کو معیار ہوگا۔ نیز اس کے متعلق میرا یہ دعویٰ ہے کہ ایسا کشف اور عظیم الشان کفر یہ کسی کے وہم وگمان میں نہ ہوگا۔

(۱۹)

’’کشف مرزا صاحب: ایک مرتبہ کشف کی حالت آپ پر طاری ہوئی گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ نے طاقت رجولیت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘

(کشف مرزا صاحب منقول از اسلامی قربانی ص۱۱، قاضی یار محمدصاحب بی۔اے پلیڈر)

قاضی یار محمد صاحب مرزا صاحب کے مرید خاص ہیں اور مرید کی شہادت باقرار مرزا غلام احمد صاحب، پیر کے حق میں سب سے زائد معتبرہے۔ ملاحظہ ہو۔

(حقیقت الوحی)

  1. آنچہ من بشنوم ز وحی خدا

    بخدا پاک دانمش زخطا

  2. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

ایسا شخص اگر ایک نہیں ایک کروڑ بلکہ بے شمار مرتبہ لاالہ الا اللہ پڑھے۔ ہرگز ہرگز ایمان دار اور کلمہ توحید کا قائل اوراس پر مومن شمار نہیں ہوسکتا۔ ورنہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ شیطان لعین بھی عیاذاً ب اللہ ! کلمہ گو مسلمان ہے۔ کیونکہ اس کا صرف ایک کفریہ ہے اورعدالت خود مقابلہ کرے کہ ان کی نسبت کس قدر ہلکا اور کتنی آسانی سے قابل تاویل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے متبعین کو ایمان کی توفیق عطاء فرمائے۔

استدعا

یہ حصہ ثابت ہونے کے بعد کہ مرزا صاحب اوران کے متبعین جن میں مدعاعلیہ بھی منسلک ہے۔ ایمان کے بنیادی اور سب سے زیادہ ضروری جزو کلمہ لاالہ الا اللہ پر ایمان نہیں مقدمہ بحق مدعیہ ڈگری ہونا چاہئے۔ گوکسی اور چیز کا جواب نہ دیا جائے اورنہ کوئی اورکفریہ

89

عقیدہ ثابت کیا جائے۔ بلکہ لاالہ الا اللہ پر ایمان نہ ہونے کی صورت میں گوتمام ایمانیات اس میں مکمل اور متفقہ طور پر موجود ہوں پھر بھی کافر ومرتد ہی رہے گا اور مدعاعلیہ کو اپنے مرزائی احمدی ہونے کا اقرار ہی ہے۔ پس مدعاعلیہ باقرارخود مرزائی ہے اور مرزائیت سے لاالہ الا اللہ پر کسی طرح ایمان نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا اس سے نہ صرف ارتداد بلکہ کھلا ہوا متفقہ ارتداد لازم آیا۔

جس سے یقینا نکاح فسخ ہوناچاہئے، کیونکہ ارتداد فسخ نکاح کاحکم ہونا نہ صرف فقہ حنفی کا مسلم قانون ہے بلکہ محمڈن لاء کابھی اور گواہان مدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ یکم؍ مارچ کے الفاظ اگر مرتد ہوجائے تو عام فتویٰ بھی ہے کہ نکاح فسخ ہوجائے گا۔

اورملاحظہ ہوں الفاظ گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ بجواب جرح ۲۱؍مارچ ’’مرتد ہونے سے تعامل یہ ہے کہ نکاح فسخ سمجھا جائے گا۔ تعامل سے تمام مسلمانوں کا تعامل مرادہے۔‘‘

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

’’ف اللہ الحمد حمداً کثیراً وصلی اللہ علیٰ حبیبہٖ وصحبہ وسلم تسلیماً کثیراً‘‘ کلمہ توحید کے جز اوّل لاالہ الا اللہ کا جواب ختم ہوا۔

کلمۂ توحید دوسراحصہ، محمدرسول اللہ ﷺ

قول مختارمدعاعلیہ:

’’مختارمدعیہ نے کلمہ کے دوسرے جزو یعنی محمدرسول اللہ سے بھی مرزا صاحب کو اسی طرح منکر قراردیناچاہاہے اور اس امر میں بھی عدالت کو اسی طرح مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے جس طرح کہ پہلے کی تھی اوراس لغوو باطل امر کو ثابت کرنے کے لئے نعوذب اللہ ! آپ کلمہ کے جزو دوم کے بھی منکر ہیں جوبحث اس نے عدالت کے سامنے کی ہے۔ وہ اس کی پہلی بحث سے بھی زیادہ مخدوش ولغوہے۔‘‘

الجواب: پہلے کی بحث کا جواب مفصل عدالت کے سامنے آچکا اور واضح ہوچکا کہ مختارمدعاعلیہ نے کس قدر حوالہ لاجواب چھوڑ دئیے اور سوائے ایک حوالے کے کسی میں بھی مختارمدعیہ کے اعتراض کو ہاتھ نہ لگایا اور ادھر ادھر کے مسل کے خلاف غیرمتعلق امور سے بحث کے حجم میں زیادتی کی اور وہ ایک حوالہ بھی جس کابزعم خود جواب دیاہے وہ جواب اس کے اور مرزا صاحب کے مسلمات کی رو سے بالکل لغوو باطل ومخدوش ہے جو قابل التفات بھی نہیں۔ کیونکہ خود مصنف کی تصریحات اس کے خلاف موجودہیں۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’قبل اس کے کہ میں اس کے ایک ایک الہام متعلق علیحدہ علیحدہ کلام کروں، عدالت سے اس طرف توجہ مبذول کرنے کی خصوصیت سے درخواست کرتاہوں کہ کسی شخص کا عقیدہ اس کے صاف الفاظ سے معلوم کیا جاسکتاہے نہ کہ اس کے مخالفوں کے ان معانی سے جو انہوں نے اس کی کسی متشابہ یا مجمل ومبہم عبارت سے اس کی منشاء کے خلاف نکالے ہوں۔ خاص کر ایسی حالت میں کہ اس شخص کے کفرواسلام کامسئلہ زیربحث ہو۔‘‘

الجواب: اسی اصول کے تحت میں نے اصل بحث کی بنیاد متکلم کی نہایت واضح اورمصر ح قول پر رکھی تھی جو اس کی نیت پر برہان قاطع تھا اورجس کا جوابی بحث میں جواب کجا مختارمدعاعلیہ نے نام تک نہ لیا۔ جیسا کہ مفصل اوپر گزر چکاہے۔ اب دوسرے حصہ میں بھی ان شاء اللہ ! وہی ملاحظہ میں آئے گا۔

کفرواسلام کے نازک مسئلہ کی بنیاد ہم نے تو معتبر مسلم کتب اور مرزا صاحب کے قطعیات پر رکھی تھی۔ بخلاف مختارمدعاعلیہ کے کہ

90

اس نے غیر مسلم خلاف واقع غیر کاتب شدہ زید عمروبکر کے رسائل وقصہ کہانیوں پر رکھی ہے:

ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا

قول مختار مدعاعلیہ:

لیکن مختارمدعیہ نے نہ تو پہلی جزو کے متعلق مرزا صاحب کی کوئی ایسی عبارت پیش کی ہے جس کے صاف الفاظ سے انکار توحید باری تعالیٰ موجود ہو اور نہ دوسری جزو کے متعلق کوئی ایسی صاف عبارت پیش کی ہے جس کے صاف الفاظ سے انکار رسالت نکلتاہو۔ بلکہ متشابہ الہامات تشریحات ملہم کے خلاف مفہوم لے کر اس سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ نعوذب اللہ ! آپ کو کلمہ کی دونوں جزوں سے انکارہے… الخ!

الجواب: انکار توحید اور لا الہ الا اللہ کا اس سے صاف کیا ہوگا کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ الوہیت صرف اللہ ہی میں ہے نہ کسی اورمخلوق میں اور مرزا صاحب اپنے اندر سر تاپا الوہیت کا صاف اعلان فرمارہے ہیں: ’’والوہیۃ تتموج فیہ‘‘ جس کا مختارمدعاعلیہ کے پاس کچھ بھی جواب نہ تھا اوراس کانام تک نہ لیا۔ باقی لاجواب حوالہ اوپر گزرچکے ہیں،ملاحظہ ہوں۔

اسی طرح ثانی جزو کے متعلق تھا مگرچونکہ مختارمدعاعلیہ مرزا صاحب کو تقلیداً نبی اور معصوم اورتمام انبیاء سے افضل مان چکاہے۔ بلکہ اس کا ذریعہ معاش ہی یہ ہے کہ دنیا کو مرزا صاحب کی خانہ ساز نبوت اور یہ تمام کفریات منوائے۔ اسے میری بحث میں صراحت بوجہ تعصب نظرہی نہیں آسکتی۔ مگر غیر متعصب وغیر جانبدار منصف مزاج کے واسطے آفتاب سے زائد روشن عبارات ہیں۔ جن کی موجودگی میں مرزا صاحب اور مرزائیوں کے کفر وارتداد میں شبہ کرنا بھی ایمانی خطرہ سے خالی نہیں ہے۔

اس مذکورہ تقریر کے بعد مختارمدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’مختارمدعیہ کو کوئی صریح حوالہ نہ ملا۔ اس کے خلاف حوالے ہیں بے شمار عبارتیں ہیں۔ عدالت کو مغالطہ دیاگیاہے۔ یہ متشابہات ہیں۔‘‘ یہ سب اپنے اوراپنے متبعین کو خوش کرنے کو ممکن ہیں کافی ہوں، مگر دلائل وبراہین کے میدان میں یہ خطابت کے الفاظ محض بے سود وبیکار ہیں۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’کیونکہ کفر کا فتویٰ دینے کے لئے ضروری ہے کہ جس پر فتویٰ دیا جائے۔ اس کا قول صراحت کے ساتھ موجب کفر ہو متشابہ، مبہم، ذوالوجوہ عبارت پر کسی طرح کفر کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا۔‘‘

جواب: ہماری جانب سے بحمد اللہ ! بالکل صاف صاف واضح عبارات پیش کی گئی ہیں جن کے مقابلہ میں ایک ایسے شخص کا جو کسی شخص یا جماعت کا اسی کے جاوبجا پروپیگنڈے کے لئے ملازم؟ اپنے آقا یا جس جماعت کا ملازم ہے۔ اس کی طرف سے تاویلات اورکھلی ہوئی تصریحات کو متشابہ اور مبہم قراردینا چاہے، تعجب نہیں وہ معذور ومجبور ہے۔ مدعاعلیہ ایک بھی گواہ یا مختار جماعت مرزائیہ کا غیر تنخواہ دار پیش کرتا تو شاید قابل التفات بھی ہوتا۔ ان کی شہادتیں قانوناً جو وقعت رکھتی ہیں وہ عدالت پر پوشیدہ نہیں۔

باقی رہا یہ قول کہ: ’’کفر کا فتویٰ دینے کے لئے یہ ضروری ہے جس پر فتویٰ دیا جائے اس کا قول صراحت کے ساتھ موجب کفرہو‘‘ کیا مختارمدعاعلیہ یہ بتانے پر قادر ہوسکا کہ اس کے خلیفہ برحق ثانی یعنی جناب مرزا محمود صاحب قادیانی کا یہ فتویٰ ’’سوم یہ کہ کل مسلمان جوحضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کانام بھی نہیں سنا، وہ کافراور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتاہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰)

’’جولوگ مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتے خواہ آپ کو راست باز ہی منہ سے کیوں نہ کہتے ہوں، وہ پکے کافر ہیں۔ عدالت خود غور فرمائے کہ یہ فتویٰ کس صریح عبارت پر دیاگیاہے اور اس کی رو سے چالیس کروڑ مسلمان عرب وعجم، علماء،صوفیاء ومشائخ، سلاطین

91

ونوابان اسلام جوبھی مرزا کو رسول نہیں مانتا یا بیعت میں شامل نہ ہوا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافرہوا۔‘‘

اورمرزا صاحب نے خود اپنے تمام نہ ماننے والوں کو جہنمی قراردیاہے۔

ایسی صورت میں مختارمدعاعلیہ کو چاہئے تھا کہ اس قسم کی رکیک تاویلات کی آڑ تلاش نہ کرتا اور اگر ان تاویلات میں ذرہ برابر صداقت کا شائبہ تھا تو اسے اسی اصول کے تحت میں کہ کفر اور المکفرین ضروری، جیسا کہ گواہان مدعاعلیہ کو بلکہ مرزا صاحب کو بھی مسلم بلکہ مسلمہ فریقین ہے۔ مرزا صاحب اور خلیفہ محمود کے کفر اور ارتداد کا اقرارکرکے ثابت ہوجانا چاہئے تھا۔

ہداہ اللہ الیٰ سبیل الاسلام

مختارمدعاعلیہ اس کے بعد کچھ جرح گواہ مدعیہ کے بے ربط حوالہ جن کا جواب اوپر گزرچکاہے۔ لکھ کے فرماتے ہیں: ’’چونکہ مختارمدعیہ کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ مرزا صاحب کے متشابہ الہامات اورمجمل عبارات کے جو معنی اس نے خود گھڑے ہیں وہ آپ کی منشاء وتصریحات کے بالکل خلاف ہیں اور صرف خلاف نہیں، بلکہ ان کے خلاف آپ کی بہت سی عبارتیں موجود ہیں۔ اس لئے اس نے مرزا صاحب کی متناقض باتیں ہونے پر بڑازور دیاہے اور کہا ہے کہ ہر امر کے متعلق مرزا صاحب کے کلام میں تناقض موجود ہے اور کوئی ایسا قول نہیں جس کے خلاف دوسرا قول موجود نہ ہو۔ لیکن یہ اس کا سراسر مغالطہ ہے اور اس سے اس کا مقصود یہ ہے کہ مرزا صاحب کے متشابہ الہامات ومجمل اقوال کے غلط جو معنی اس نے گھڑے ہیں، وہ صحیح قرارپائیں اور آپ کے جو اقوال اس کے ان گڑھے ہوئے غلط معنی کے خلاف پیش کئے جاویں وہ متناقض ومتعارض تصور ہوکر نظر انداز ہوجائیں۔ حضرت مسیح موعود کے کلام میں درحقیقت کوئی تناقض وتعارض نہیں ہے۔‘‘

جواب: اب مختارمدعاعلیہ کو یہ جواب بالکل ہی مفید نہیں ہوسکتا۔ جب کہ بنیاد اعتراض پرہینڈنگ کے صریح اور غیر مشتبہ الفاظ پر ہے اور میں اوپر مجمل ومتشابہ کے متعلق عنوان متشابہات کے تحت میں اس آڑ کی حقیقت اچھی طرح آشکارا کرچکاہوں۔ ایسی صریح واضح عبارات کے ہوتے کسی جگہ کی عبارت سے اس کے خلاف مختارمدعاعلیہ کا استنباط ناقابل عفو ہے اور پھر یہ اصول قراردیا ہے کہ چونکہ مرزا صاحب کی عادت ابتداء سے متعارض ومتفاوت اقوال ودعاوی کی ہے اور جیسا موقع دیکھا ویسا ہی کہہ دیا۔ مسلمان، سنی، شیعہ،عیسائیوں کے واسطے مسیح موعودو مہدی مسعود، آریوں، ہندوؤں کے واسطے گوپال سری کرشن مہاراج، آریوں کے بادشاہ، سکھوں کے لئے جے سنگھ بہادر، جو نبی ماننے سے گھبرائیں۔ ان کے واسطے محدث، ومجدد، مبلغ اسلام جیسے لاہوری پارٹی جو غیرتشریعی مانیں۔ جیسے قادیانی پارٹی کے لوگ ان کے واسطے غیر تشریعی اورجو مستقل صاحب کتاب، صاحب شریعت بدین وقبلہ جدیدہ وکلمہ جدیدہ پر تیار ہوجائیں، ان کے واسطے مرزا صاحب کی وحی وکتاب اللہ ناسخ قرآن اوران کی شریعت حضورa کی شریعت کو ناسخ بجائے کعبۃ اللہ کے قادیان قبلہ اور اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ بجائے کلمہ ٔ توحیدلا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے مرزا صاحب کا جدید کلمہ لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ موجود۔ جیسا کہ مرزائیوں کے تیسرے فرقہ اروپی کے سلسلہ میں خود بانی فرقہ ظہور الدین اروپی مرزائی کے حوالہ سے اوپر آچکاہے۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۲، ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء ایسے شخص کی ایک عبارت دوسری عبارت کی شرح نہیں بن سکتی۔ بلکہ اس کا کفر اور کفار کے کفروں سے خطرناک ومخدوش ہوگا۔ اس کی وضاحت معہ لسٹ متعارضات اوپر مستقل گزرچکی۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’مرزا صاحب کے کلام میں درحقیقت کوئی تناقض وتعارض نہیں ہے۔ آپ کا ہر قول اپنے محل میں چسپاں اوراپنے مقام پر بالکل درست ہے۔ جیسا کہ اس بحث میں ظاہر ہوگا۔‘‘

جواب: بحث سے توتعارض نہ اٹھ سکا۔ جیسا کہ جواب الجواب سے واضح ہوچکا اور آگے آئے گا۔ البتہ مختارمدعاعلیہ کے اس قول

92

اوراصول سے گواہان مدعیہ پر جو تعارض کا الزام تھا۔ اس کا جواب انہیں الفاظ کو دہراکر عدالت کے سامنے پیش ہے۔

قول: ’’گواہان مدعیہ کے کلام میں درحقیقت کوئی تناقض وتعارض نہیں ہے۔ ان کا ہر قول اپنے محل میں چسپاں اوراپنے مقام پر بالکل درست ہے۔ جیسا کہ اسی بحث میں ظاہر ہوگا۔‘‘ ان شاء اللہ تعالیٰ!

تفصیل جواب

۱… آنحضرتﷺ آخری نبی نہیں۔

خلاصہ استدلال مختارمدعاعلیہ معہ جواب:

۱… مختارمدعیہ نے پہلا مغالطہ یہ دیا ہے کہ آخری نبی ہونا آنحضرتﷺ کے خصوصیات میں سے ہے؟

جواب: گویا مختارمدعاعلیہ نے تسلیم کر لیا کہ آخری نبی ہونا حضورa کے خصوصیات سے نہیں۔ بلکہ مختارمدعیہ کا مغالطہ ہے۔ یہی دراصل خصوصیت آخری نبی ہونے کا انکارہے جو علاوہ مستقل کفرہونے کے گواہ نمبر۱، مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح کے جواب سے عین ذات نبوت کی انکار کے مرادف ہے۔ الفاظ ملاحظہ ہوں: ’’خصوصیات نبویہ پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ انکار خصوصیات انکار ذات ہے۔‘‘ جرح ۲مارچ۱۹۳۳ء۔

اب ہمارے ذمہ صرف یہ بات رہ جاتی ہے کہ دلائل سے یہ ثابت کردیں کہ آخری نبی کا مفہوم اور لفظ آخرنبی، آخر الانبیاء وغیرہ آپa کے خصوصیات سے ہے۔ کسی اور نبی کے واسطے قرآن وحدیث صحابہ کرام وائمہ فقہاء عظام کی عبارت میں یہ استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ جب ہی ہوا آپ ہیa کے واسطے ہوا۔ یہی معنی کسی سے کسی لفظ یا معنی کے مختص ہونے کے ہیں۔

تفصیل دلائل

مفہوم آخری نبی کا مختص بذات سرکار دوعالمa ہونا۔

آیات:

۱… ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘

۲… ’’قل یٰآیہاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف:۱۵۸)‘‘

۳… ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک (البقرۃ:۴)‘‘

۴… ’’واذاخذ اللہ میثاق النّبیین (آل عمران:۸۱)‘‘

۵… ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائدۃ:۳)‘‘

۶… ’’فان تنازعتم فی شیٔ فردوہ الی اللہ والرسول (النساء:۵۹)‘‘

۷… ’’وما ارسلناک الاکآفۃ للناس بشیراونذیرا (سباء:۲۸)‘‘

ان پر تفصیلی تقریر کے واسطے ملاحظہ ہو۔ شہادت گواہ مدعیہ نمبرالف ونمبر۳،نمبر۶۔ نیز بحث مختارمدعیہ۔

میں نے صرف سات آیات کے حوالہ پر اکتفاء کی جو مسل پر مفصل موجود ہیں اوران میں ان کا یہی مطلب ثابت کرنے کو نہ صرف صحابہ کرامi اور ائمہ دین کے اقوال پیش کئے ہیں۔ بلکہ مرزا صاحب کے صحابی خاص محمدعلی صاحب ایم۔اے احمدی کی بھی یہی تفسیر درج ہے جو غیراحمدی ہونے کے الزام سے بری ہیں۔ اگر میں چاہوں تو بحمد اللہ ! صریح کم از کم (۱۰۰) آیات پیش کرسکتاہوں۔ تفصیل کے واسطے

93

ملاحظہ ہو رسالہ ختم نبوت فی القرآن مؤلف مولانامحمدشفیع صاحب اور یہ سو(۱۰۰) بھی نمونہ ہوں گی۔ ورنہ تمام قرآن شریف اسی سے پرہے۔ اس مفہوم پر شہادتوں میں احادیث متواترہ کا دعویٰ غیر مجروح گزرچکا۔ معہ دلیل اورگواہ نمبر۳ نے دو سے سے زائد عدد کی تعداد ظاہر کی ہے جس پر بھی کوئی جرح نہیں اور (۷) حدیث اعلیٰ صحیح متصل مرفوع نمونۃً شہادت میں پیش کی جاچکی ہیں جن کی صحت پر کوئی کلام نہ ہوسکا۔ ملاحظہ ہو شہادات گواہان مدعیہ اور بالخصوص نمبرالف ونمبر۱و۳و۴۔

اجماع واقوال صحابہﷺ

صدیق اکبرq واجماع صحابہ مدلل گواہان مدعیہ خصوصاً گواہ نمبر۱،۲،۳ میں گزرا۔ تفصیل کے واسطے آیت خاتم النّبیین کے تحت میں ابن جریر ملاحظہ ہو(۶۴) سے زائد آثار صحابہ نقل ہیں۔

(۲۶)

آثار سلف صالحین

(ملاحظہ ہو شہادت گواہان مدعیہ)

فیصلہ مفسرین (۱۵) حوالہ شہادت گواہان مدعیہ ملاحظہ ہو۔

ائمہ لغت

قاموس، مجمع البحار، مفردات امام راغب(جیسی کوئی کتاب قرآنی لغات میں بقول علامہ سیوطی) روئے زمین پر نہیں۔ بحر المحیط، منتہی الارب، منجد کے حوالے گواہان مدعیہ نے شہادتوں میں پیش کئے اور دو(۲) اہم حوالہ لسان العرب اور تاج العروس کے بحوالہ آخری نبی مؤلفہ محمدعلی صاحب ایم۔اے جو مسل پر آچکے ہیں اور یہ وہ دونوں کتابیں ہیں کہ مرزا صاحب کو یہ مسلم ہیں۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۶؍مارچ۱۹۳۳ء۔ تاج العروس، خاتم النّبیین الخ ای آخرہم یعنی خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی ہیں۔

۲… لسان العرب میں وخاتم النّبیین الی اٰخرہم قال وقد قرأ خاتمیعنی خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی ہیں اور خاتِم کی جگہ خاتَم بھی پڑھا گیا ہے۔

(آخری نبی: محمدعلی ایم۔اے ص۳)

فیصلہ ائمہ مجتہدین

۱… بحرالرائق۔ مسلمہ فریقین۔ ملاحظہ ہوجرح گواہ نمبر۱،۷؍مارچ ۱۹۳۳ء۔

۲… شرح اشباہ۔

۳… شرح فقہ اکبرملا علی قاری۔

۴… فتاویٰ عالمگیری۔

۵… فتاویٰ ابن حجر مکی۔

۶… رد المختار۔

۷… اشباہ والنظائر۔

ایک پچھلے حوالہ کی اصل عبارت بطور نمونہ معہ ترجمہ پیش ہے۔

94
’’اذالم یعرف ان محمداًa آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من ضروریات الدین‘‘

یعنی اگر کسی نے رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہ مانا تو وہ مسلمان نہیں۔ کیونکہ آپ کا آخر نبی ہونا اوران کا ماننا ضروریات دین سے ہے۔‘‘ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو شہادت گواہان مدعیہ وبحث مختارمدعیہ اس حوالہ میں آخری نبی ہونا نہ صرف خصوصیات نبویہa سے ہے۔ بلکہ ضروریات دین سے ہے۔ جس کا نہ ماننے والا متفقہ کافرہے۔

حوالہ جات لفظ آخری نبی یا آخر الانبیاء کی تخصیص کے متعلق احادیث صحیحہ۔

۱… ’’قال النّبیa انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم‘‘

(صحیح مسلم کتاب الفضائل شہادت گواہ مدعیہ نمبر۴)

۲… ’’فی حدیث المعراج قال تعالیٰ… جعلتک اول النّبیین خلقاً وآخرہم بعثاً‘‘

(ابونعیم خصائص کبریٰ ج۲،ص۱۹۶)

۳… ’’کنت اول النّبیین فی الخلق واٰخرہم فی البعث‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۳)

۴… ’’کنت اول النّبیین فی الخلق واٰخرہم فی البعث‘‘

(کنز)

۵… ’’انااٰخرالانبیاء ومسجدی اٰخرمساجد الانبیاء‘‘

(کنز)

یہ وہی پانچوں لا جواب حوالے ہیں جو بحث میں اور شہادتوں میں آچکے اور باوجود ان کے اس قدرواضح ہونے کے مختار مدعاعلیہ یا اس کے گواہان نہ مجروح کرسکے نہ کچھ جواب دیا۔ اس کے علاوہ ابن ماجہ کا ایک حوالہ آخر الانبیاء کے لفظ کا تھا۔ اس کے بعض راویوں کے متعلق بعض محدثین کے اقوال گو وہ قول فیصل نہ ہوں نہ ہی وہ مسلم ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال ہوں قطع برید کرکے پیش کیا جس کے مدمقابل بڑے بڑے ائمہ اور ماہرین فن جرح وتعدیل کی رائے موجود ہے۔ ان راویوں کو معتبر ٹھہرارہے ہیں اور بقول مرزا صاحب ہر فن میں اس کے ماہر کی شہادت معتبر ہوتی ہے۔

(برکات الدعاء ص۱۲حاشیہ، خزائن ج۶ ص۱۵)

نیز جرح گواہ مدعاعلیہ:

اوّلاًتویہ حدیث مجروح نہیں روایوں کی توثیق موجودہے۔ جیسا کہ اپنی جگہ پر آئے گا۔ دوسرے اس مخصوص سند کی حدیث ابن ماجہ کو اگر کوئی مختارمدعاعلیہ کی خاطر نظر انداز ہی کردے۔ پھر بھی مذکورہ بالا چار اعلیٰ درجہ کی صحیح حدیثیں( جس میں مسلم شریف جیسی اعلیٰ پایہ کتاب کی بھی حدیث ہے جو صحیحین میں شمار ہے جس کی احادیث جرح وتعدیل کی محتاج نہیں) موجود ہیں جو نہ اشارۃً وکنایۃً بلکہ صریح واضح الفاظ میں حضورa کی خصوصیت مطلقاً بلا کسی تفصیل وتقید کے آخری نبی یا آخر الانبیاء کے ساتھ کر رہی ہیں اور جمع معرف باللام کی طرف مصاف ہونے سے تقید کا دروازہ ہی بند ہوجاتاہے۔

یہ کہنا کہ یہ احادیث احاد ہیں بالکل ناواقفی ہے۔ بلکہ یہاں تواتر ثابت ہے۔ گواہان مدعاعلیہ اورخود مرزا صاحب کے مسلم رئیس المفسرین حضرت علامہ حافظ ابن جریر طبری کا فیصلہ ملاحظہ ہو کہ: ’’وبذالک وردت الاحادیث المتواترۃ عن رسول اللہ ﷺ‘‘ (شہادت گواہان مدعیہ) یہی نقل حافظ ابن کثیر سے بھی موجود ہے۔

اب ایک طرف صرف مختارمدعاعلیہ کا یہ قول ہے کہ یہ احادیث احاد ہیں۔ باوجود یکہ وہ حافظ حدیث اور امام حدیث بلکہ کسی مسلم درس گاہ کا سند یافتہ بھی نہیں۔

دوسری طرف ایک نہیں دو مسلم ائمہ حدیث و تفسیر بلکہ حافظ حدیث علامہ ابن کثیر وعلامہ ابن جریر طبری کا فیصلہ ہے۔

95

کہ اس بات میںر سول اللہ ﷺ سے متواتر احادیث جلیل القدر صحابہ سے مروی ہیں۔ عدالت خود ہی توازن فرمالے کہ مختارمدعاعلیہ عدالت کو کس قدر مغالطہ دیناچاہتاہے یہ کوئی نئے حوالے نہیں تقریباً کل مدعیہ کے شاہدوں نے پیش کیاہے۔ بحث میں متعدد مرتبہ پیش کیاگیا۔ اسے لاجواب کہے کہ جواب بحث میں تذکرہ تک نہ آیا۔ (ف اللہ الحمد)

صحابہ کرام کی تصریحات

مفصل اور کثیر التعداد حوالے گواہان مدعاعلیہ اورمرزا صاحب کے مسلم رئیس المفسرین حافظ ابن جریر (طبری کی تفسیر ج۲۲ ص۱۱) میں صرف ایک نمونتہً نقل کرتا ہوں۔

۱… عن قتادہq قال ولکن رسول اللہ و خاتم النّبیین ای اٰخرہم یعنی خاتم النّبیین کے معنی تمام نبیوں سے آخری ہیں۔

ائمہ مفسرین

(۱)مسلمہ فریقین رئیس المفسرین امام ابن جریر طبری ج۲۲تفسیر ابن جریر۔ (۲)حافظ حدیث امام التفسیر علامہ ابن کثیر ج۸۔ (۳)ابن کثیر ج سوم۔ (۴)ابن کثیر ج چہارم۔ (۵)تفسیر کبیر ج۲،۶۔ (۶)تفسیربیضاوی۔ (۷)تفسیر کشاف۔ (۸)تفسیر روح المعانی۔ (۹)تفسیر ابی السعود۔ (۱۰)تفسیر در منثور۔

میں نے انہیں حوالوں پر اکتفاء کیا جو شہادت مدعیہ کی طرف سے مسل پر آچکے ہیں۔ ورنہ جدید حوالے بے شمار موجود ہیں۔

ائمہ لغت

اوپر لسان العرب وتاج العروس کے حوالہ سے گز ر چکاکہ خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں اور بھی سات حوالے وہیں ذکرہیں تفصیل انکی اپنی جگہ پر آئے گی۔ نیز گواہان مدعیہ کے بیان میں موجود ہے۔

اجماع امت

’’اجتمعت الامۃ علی حمل ہذا الکلام علی ظاہرہ من دون تاویل وتخصیص… الخ!‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ بلا تاویل وتخصیص اس کے ظاہری معنی (یعنی آخری نبیa) مراد ہیں اور بلاشک واشتباہ اس کا منکر قطعاً وسمعاً کافر ہے۔ یہ مضمون شرح فقہ اکبر ملاعلی قاری وغیرہ میں موجود ہے۔ (شفاء علامہ قاضی عیاض ج۲) ملاحظہ ہو۔

شہادت گواہان مدعیہ :

فیصلہ ائمہ عقائد

(۱)اوّل الانبیاء اٰدم واٰخرہم محمدa

(شرح عقائد ص۹۹)

یعنی پہلا نبی آدمm اور تمام نبیوں کے آخری محمدa ہیں۔

(۲)مواہب لدنیہ (۳)صبح الاعشی (۴)عقیدہ طحاوی (۵)غنیۃ الطالبین (۶)شرح فقہ اکبر (۷)کتاب الفصل (۸)نسیم الریاض (۹)الصارم المسلول (۱۰)الملل والنحل (۱۱)شفاء قاضی عیاض (۱۲)شرح شفاملا علی قاری ج۲،۳،۴۔

تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو شہادت گواہان مدعیہ وبحث مختارمدعیہ۔

96

فیصلہ ائمہ مجتہدین

اگر کوئی شخص محمدa کو تمام نبیوں کا آخری نبی نہ سمجھے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے۔ (۱)الاشباہ والنظائر (۲)شرح فقہ اکبر (۳)شرح اشباہ (۴)فتاویٰ ہندیہ (۵)بحرالرائق جومسلمہ فریقین ہے (۶)درمختار۔

تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہو شہادت گواہان مدعیہ وبحث مختارمدعیہ۔

فیصلہ صوفیائے کرام

۱… محی الدین ابن عربی سید الطائفہ۔

۲… علامہ امام عبدالوہاب شعرانی یواقیت ج۲ مبحث ۳۵ ص۱۲۵۔

۳… سیدالطائفہ غوث اعظم حضرت سیدشاہ عبدالقادرجیلانی جو تینوں حضرات کے مسلمۂ فریقین ہیں۔ ملاحظہ ہوجرح گواہ نمبر۱ یکم؍مارچ۱۹۳۳ء۔

۴… انسان کامل یہ بھی مسلمۂ فریقین ہے۔ اس کے علاوہ اوربھی حوالے ہیں۔ تفصیل کے واسطے شہادت گواہان مدعیہ وبحث مختارمدعیہ ملاحظہ ہو۔

شہادت قطب الوقت حضرت خواجہ غلام فرید صاحب

اس کے آخر میں مسلمہ فریقین شہرہ آفاق صاحب علم وفضل وتقدس بزرگ کی شہادت پیش ہے۔ جو بقول گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ بھی ہزار ہاشہادتوں سے زیادہ باعظمت شہادت ہے۔ کیونکہ یہ اس مرد خدا نے اداکی ہے، جو صلحائے روزگار اورواصلان کرد گار میں سے ہے۔ پنجاب کے علاوہ اس کی جلالت شان ہندوستان میں بھی مسلم ہے۔ ریاست بہاولپور کے رعایا اور راعی کے دلوں میں اس کی بزرگی اورتقدس کا اثرکالنقش فی الحجر ہے جو ہزہائینس نواب صاحب بہادر فرمانروائے بہاولپور اورآنحضور (جج صاحب) کے بھی واجب التعظیم ہیں۔ ان کے اپنے قلم کی لکھی ہوئی متبرک کتاب نسخۂ شریفہ فوائد فریدی ص۱۲ ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہے کہ ’’سلسلہ نبوت آدمm سے شروع ہوکر حضرت محمدمصطفیﷺ پر ختم ہوگیا۔ سب سے پہلے نبی آدم صفی اللہ اور سب سے آخری محمدرسول اللہ ﷺ ہیں۔‘‘

ممکن ہے کہ مختارمدعاعلیہ کی وہ توجیہ جسے اس نے بحث میں بار بار دہرایاہے۔ کوئی یہاں منطبق کرے کہ مرزائیوں کے اصول پر ممکن ہے حضورa پر (عیاذاب اللہ ) آخری نبی کی حقیقت موبمو منکشف نہ ہوئی ہو۔ بوجہ کوئی نظیر نہ ہونے کے جیسے کہ دجال وغیرہ کی نیز صحابہ برابر ان کے اصول پر غلطی کرتے ہیں (عیاذاًب اللہ ) ائمہ دین وصوفیائے کرام کو بقول مرزا صاحب وہ حصہ کثیر وحی الٰہی ومکالمہ ومخاطبہ کا عطانہیں ہواتھا جو مرزا صاحب کو عطاء ہوا۔ بس آخری نبی کی حقیقت صرف مرزا صاحب پر منکشف ہوئی کہ یہ حضورa کی خصوصیت نہیں یا اس میں یہ قید اور یہ تخصیص اوران معنی کا اضافہ ہوناچاہئے۔ نیز مرزا صاحب کے زمانہ میں اوران کے بعد جوان کی بیعت میں شامل نہیں وہ سب کافراورپکے کافر ہیں اور کافر کی شہادت معتبرنہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کے مسلم کسی شخص کی شہادت ہونی چاہئے۔ پس مرزا صاحب کے خاص الخاص مرید بلکہ صحابی کی شہادت پیش کرتے ہیں جسے احمدی ہونے کے ساتھ مرزا صاحب کے صحابی اور ایک بڑے فرقہ کے امیر ہونے کا فخر حاصل ہے۔ میری مراد امیر جماعت احمدیہ محمدعلی صاحب ایم۔اے ہیں۔ ملاحظہ رسالہ ’’آخری نبی‘‘ کے مندرجہ ذیل اقتباسات اور یہ حوالہ بھی نیا نہیں۔ (آخری نبی ص۱) رسالہ مسل میں درج ہے۔

۱… اگر آنحضرتﷺ مطابق تعلیم قرآن وحدیث آخری نبی ہیں تو آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ سوائے اس کے کہ بطور مجاز یا

97

استعارہ کوئی اس لفظ کو استعمال کرے اور اگر کوئی قطعی شہادت نہ ملے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں اور آپa کے بعد باب نبوت مسدودہے تو بلاشبہ کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا۔ ہمارے سامنے سوال نہایت مختصر ہے جس کو حل کرناہے۔ یعنی یہ تومیرا اورمیاں صاحب (مرزا محمود) دونوں کا ایمان ہے کہ قرآن کریم میںخاتم النّبیین کا لفظ آنحضرتﷺ کے متعلق آیاہے۔ بحث صرف اس قدرہے کہ ان الفاظ کے معنی کیا ہیں۔ میاں صاحب کے نزدیک خاتم النّبیین کے معنی ہیں وہ شخص جس کے اتباع سے آئندہ نبی بنا کریں گے۔ میرے نزدیک اس کے معنی ہیں آخری نبی۔ میاں صاحب نے دعویٰ سے بیان کیا ہے کہ جو معنی وہ کرتے ہیں، وہ لغت میں لکھے ہوئے ہیں اور جس طرح وہ معنی کرتے ہیں۔ اسی طرح لکھے ہوئے مابہ النزاع خاتم النّبیین کے معنی ہیں۔ یعنی وہ الفاظ کی کوئی تاویل قطعاً نہیں کرتے اورآخری نبی لغت میں معنی نہیں۔ چنانچہ ان کے بیان کے الفاظ ان کے اخبار الفضل میں شائع شدہ بیان کے مطابق یہ ہیں۔ ہمیشہ سے اس کے یہ معنی لئے جاتے ہیں۔ ہم اس کی تعبیر نہیں کرتے۔ بلکہ یہ معنی لغت کے ہیں۔ بعض لوگ خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی بھی کرتے ہیں، مگر لغت میںاس کے معنی آخری نبی کے نہیں۔ (الفضل ۲۶،۲۹؍جون۱۹۳۳ء) اب میں لغت میں سے میاں صاحب کی نئی تفسیر کی رو سے محاورہ عرب ہی مراد لے لیتاہوں تویہ تو میاں صاحب نے بھی مان لیا کہ وہ اپنے معنی محاورہ عرب میں بغیرکسی تاویل کے صفائی سے لکھے ہوئے بتادیں گے اور بالمقابل میرا بھی یہ دعویٰ ہے کہ جو معنی میں کرتاہوں۔ وہ میں محاورہ عرب میں صفائی سے لکھے ہوئے بتادوں گا۔ اوّل میں اپنے حصہ کو لیتاہوں اور لغت تین طرح پر میں دکھادوں گا کہ محاورۂ عرب کے رو سے خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی ہیں۔ یعنی اوّل اس طرح کہ خود ان الفاظ خاتم النّبیین کے معنی لغت یا محاورۂ عرب کی کتابوں میں آخری نبی لکھے ہیں۔ دوسرے اس طرح پر کہ عرب نے خاتم القوم کا محاورۂ عربی کی کتابوںمیں آخری نبی لکھے ہیں۔ دوسرے اس طرح پرخاتم القوم کا محاورہ جس کے مطابق خاتم النّبیین ہے۔ صرف ایک ہی یعنی آخر القوم میں بولا جاتا تھا۔ تیسرے اس طرح پر کہ لفظ خاتم بمعنی آخری، عرب میں استعمال ہوتاتھا۔ میاں صاحب نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ لغت عرب کا بہت ساعلم ہمیں کتب لغت کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتاہے۔‘‘

(رسالہ آخری نبی ص۲)

پھر کے اس کے بعد (ص۵،۶،۷) پر متعدد عربی، انگریزی ہے۔ مستند لغت کے حوالے نقل کرکے (ص۸) پر ابن حبان کا قول نقل فرماتے ہیں کہ:

۳… ’’من ذہب الی ان النّبوۃ مکتسبۃ لاینقطع… فہوزندیق یجب قتلہ‘‘

’’اورجوشخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ نبوت اکتسابی ہے جو منقطع نہیں ہوئی ہے تو وہ زندیق ہے جس کا قتل واجب ہے۔ پس خاتم النّبیین کے معنی وہ بھی آخری نبی کرتاہے نہ کچھ اور یہ میاں صاحب کی خوش فہمی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خاتم کے معنی مہر لے کر کچھ اور معنی خاتم النّبیین کے بن جاتے ہیں۔‘‘

(ص۸)

’’اب اس قدر لغت اور تفاسیر کی شہادت خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی ہونے پر ہوتے ہوئے۔ کس قدر جرأت ہے کہ ایک شخص یہ کہہ دے کہ لغت میں یہ معنی خاتم النّبیین کے نہیں اور یہ سب لوگ عقیدتاً ایک بات کو ماننے لگے پیچھے معنی بنائے۔‘‘

(ص۹)

پھر بہت سی اسی مضمون پر صحاح کی احادیث پیش کرکے فرماتے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنی تائید میں صرف ایک حدیث پیش کی ہے۔ اس کا عنوان یوں قائم کیاہے: ’’اس اجماع کے خلاف رسول کریم کی آواز۔ کیا تعجب نہیں کہ چالیس حدیثوں میں میاں صاحب کے کان کے پردہ پر رسول کریمa کی کوئی آواز نہ پڑی اور اعلیٰ پایہ کی حدیثوں کی طرف ایک لمحہ کے لئے بھی توجہ نہ کی اور ایک حدیث کی آواز انہوں نے سن لی۔ یہ رسول کریم کی آواز نہیں یہ اپنے نفس کی آواز ہے۔ میاں صاحب ان تنکا دیکھنے والوں میں سے ہیں جن کو شہتیرنظر نہیں آیا کرتا جو ہاتھی کو نگل جاتے اورمکھی پرگھبراتے ہیں۔ بھلا اگر رسول کریم کی آواز کی میاں صاحب کو کوئی پروا تھی تو اس قدرکھلی آوازوں

98

کی کیا پروا کی، جن میں باربار یہ کہاگیاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی صورت میں نبی نہیں ہونہیں ہوسکتا۔ اس شخص کی مثال ہے جس نے کہاتھا کہ قرآن شریف کے اوامر میں سے مجھے ’’کلوا واشربوا‘‘ یاد ہے اور نہیوں میں سے ’’لا تقربوا الصلوٰۃ‘‘ اگر چالیس حدیثوں کی کھلی شہادت کو ایک حدیث رد کرسکتی ہے جس پر بلحاظ مضمون اوربلحاظ روایت دونوں طرح جرح ہوئی ہے توشاید ہمارے میاں صاحب کل کو قرآن شریف کو بھی غیر محفوظ مانیں گے۔‘‘

(آخری نبی ص۱۳،۱۴)

پھر تمام ان دلائل کا مفصل جواب دے کرجومرزائی پیش کیاکرتے ہیں۔ آخر میں فرماتے ہیں: ’’خلاصہ اس بحث کا یہ ہے کہ میاں صاحب نے کہا تھا کہ خاتم النّبیین کے معنی لغت میں آخری نبی نہیں اورجومعنی وہ خود کرتے ہیں… یعنی ایسا نبی جس کے اتباع سے نبی بنا کریں گے، وہ صراحت سے اوربلا تاویل لغت میں موجود ہیں۔ مگر میں نے لغت کی قریباً سب کتابوں سے احادیث اور اقوال ائمہ سے دکھایاہے کہ وہ سب کے سب خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کرتے ہیں اور یہی معنی حضرت مسیح موعود بھی کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے اپنی معنی پر ایک ٹوٹی ہوئی سند بھی پیش نہیں کی۔ نہ لغت کا محاورہ پیش کیا نہ ہی حضرت مسیح موعود کا قول کہ خاتم النّبیین کے معنی ہیں ایسا نبی جس کے اتباع سے آئندہ نبی بنا کریں گے۔ خاتم کے معنی مہر ہوں یا آخری، خاتم النّبیین کے معنی دونوں صورتوں میں آخری نبی ہیں۔ اب یا تو میاں صاحب اپنے معنی کسی حدیث سے ثابت کریں یا کم از کم ائمہ دین کے اقوال سے ہی دکھادیں کہ لغت عرب میں یہ محاورہ تھا کہ وہ خاتم القوم کے معنی کیا کرتے تھے۔ ایسا شخص جس کے اتباع سے قوم بنے اور ایک قوم کا آخری شخص اس کے معنی نہ کرتے تھے صرف اسی صورت میں وہ اپنے بیان میں سچے ٹھہر سکتے ہیں اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسی بحث سے مسئلہ نبوت کا فیصلہ ہوجاتاہے۔ کیونکہ اگر خاتم النّبیین سے مراد آخری نبی ہے توپھر حضرت مسیح موعود کی نبوت کا مسئلہ خود بخود طے ہوجاتاہے۔ ’’آخری نبی کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔‘‘ (آخری نبی ص۴۸) ہماری عدالت سے استدعاہے کہ اس سلسلہ میں رسالہ مذکورہ کو ملاحظہ فرما کر لیاجائے۔

ان قطعی اور مسلم دلائل کے بعد مختارمدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’جانناچاہئے قرآن مجید واحادیث کی رو سے آنحضرa کا جن معنوں کی رو سے آخری نبی ہونا ثابت ہے ان معنوں کے لحاظ سے آپ نے کبھی آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے سے انکار نہیں کیا… الخ!‘‘

نہ صرف لغو بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ بہرحال یہ تو مان لیا کہ انکار آخری نبی کا ضرور ہے مگر اس معنی سے نہیں جو قرآن وحدیث میں ہیں۔

مگر میں نے مفصل قرآن حدیث ودیگر مستند دلائل قاطعہ سے ثابت کردیا کہ معنی کی کوئی تفصیل نہیں۔ آخری نبی کا انکار مطلقاً کفرہے۔ مرزا صاحب بھی قبل دعویٰ نبوت فرماتے تھے: ’’اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجودہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)

پھر مختارمدعاعلیہ نے ایک عبارت (کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳،۱۴) کے حوالہ سے ’’نوع انسان کے لئے … تا… کے لئے زندہ ہے۔‘‘ نقل کی اورخلاف عادت مغالطہ کے لئے صرف حوالہ نقل کیا۔ حالانکہ غیر متعلق طویل عبارتیں نقل کرتارہاہے اور اس حوالہ سے اس امر کے ثابت کرنے کاارادہ کیاہے کہ مرزا صاحب حضورa کے آخری نبی ہونے کے قائل ہیں۔

اوّلاً جواب کے لئے اصل عبارت (کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳،۱۴) سے نقل ہے۔ ’’نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں۔ مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں، مگر محمدمصطفیﷺ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اوراس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی۔ بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتاہے کہ خدا سچ ہے اورمحمدa اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے

99

ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہاکہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کودنیا میں بھیجا، جس کاآنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔‘‘

اب عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ اس میں بجائے حضورa کے آخری نبی ماننے کے اس کے خلاف تصریح موجود ہے۔ کیونکہ حضورa کے بعد اپنے آپ کو مسیح موعود مانتے ہیں جوبقول مرزا صاحب نبی بھی ہوگا، گوغیرتشریعی ہو۔

اور اس نتیجہ کے طور پر ممکن تھا کہ کوئی دور از کار تاویل کرکے اس کا مطلب یہ بناتا کہ اس سے مراد بھی ہے کہ حضورa آخری نبی ہیں۔ مگر مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت اور مرتے وقت تک اسی پر قائم رہنے نے تاویل کا دروازہ بندکردیا۔ ملاحظہ ہو۔

( البدرمؤرخہ ۵؍مارچ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

’’ہم خدا کے حکم کے مطابق نبی ہیں اور رسول‘‘

نیز خط مندرجہ اخبارعام ۲۶؍مئی۱۹۰۸ء (مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۹۷) جو ۲۳؍مئی کو اپنی وفات سے تین یوم قبل لکھاہے۔

’’میں اپنے تئیں نبی کہلاتاہوں۔‘‘

’’سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘‘

’’اور جس حالت میں خدا میرانام نبی رکھتاہے تو میں کیوں انکار کرسکتاہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزرجاؤں۔‘‘

اب خواہ وہ کسی معنی سے ہو جب کہ مرزا صاحب خود بھی نبی ہیں تو حضورa مطلقاً تمام نبیوں میں آخری مبعوث ہونے والے نبی نہ رہے جو بدلائل سابقہ آپ کی خصوصیات اورضروریات دین میں سے ہے جس کا منکراجماعاً کافرہے۔

اورخصوصیت کا انکار بعینہٖ اس کا انکار ہے۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ مدعاعلیہ مارچ۱۹۳۳ء۔

پس بعد انکار خصوصیت محمدیہ جس سے بتسلیم گواہ انکار محمدرسول اللہ ﷺ لازم آتاہے۔ کلمہ کے جزو اخیر محمدرسول اللہ ﷺ پر ایمان کیوں کر ثابت رہ سکتاہے۔ پھر یہ ثابت کرنے کے لئے محمدرسول اللہ ﷺ کو مرزا صاحب آخری نبی مانتے ہیں۔ مختارمدعاعلیہ نے حسب ذیل اشعار (براہین احمدیہ حصہ اوّل ص۱۲، خزائن ج۱ ص۲۰) سے پیش کئے ہیں۔

  1. اوّل آدم آخر شاں احمد است

    اے خنک آنکس کہ بندہ آخرے

دوسراارشاد:

  1. احمد آخر زمان کو دین راجائے فخر

    آخریں را مقتداء و ملجا و کہف و حصار

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۴، خزائن ج۵ ص۲۴)

جواب: یہاں احمد کوآخرزمان بتلایاہے اور احمد سے خود مرزا صاحب مراد ہیں۔ چنانچہ نہ صرف یہاں بلکہ ’’ومبشرابرسول یأتی من بعداسمہ احمد‘‘ میں بھی جو خصوصیت محمدیہa سے ہے۔ محمدکی طرح احمد بھی ایک نام ہے۔ مرزا صاحب کو حقیقی مصداق بنایاجاتاہے اور مرزا صاحب کا نام احمدبتلاتے ہیں نہ کہ رسول اللہ ﷺ کا۔ ملاحظہ ہو: ’’پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یا آنحضرتﷺ کا اور کیا سورۂ صف کی آیت جس میں ایک رسول جس کا نام احمد ہوگا بشارت دی گئی ہے۔ آنحضرتﷺ کے متعلق یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔ اسمہ احمد کی پیش گوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہیں۔

100

میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمدآپ ہی ہیں۔ لیکن اس کے خلاف کہاجاتاہے کہ احمدنام رسول کریمa کا ہے اور آپ کے سواء کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتاہوں۔ میرا یقین بڑھتا جاتاہے اور میں ایمان رکھتاہوں کہ احمد کاجو لفظ قرآن کریم میں آیاہے وہ حضرت مسیح موعود کے متعلق ہے۔ میں اس بات کے ثبوت میں اپنے پاس خدا کے فضل سے دلائل رکھتاہوں اور تمام دنیا کے عالموں اور فاضلوں کے سامنے بیان کرنے کے لئے تیارہوں۔ حتیٰ کہ میں انعام رکھنے کے لئے بھی تیار ہوں۔ اگر کوئی میرے دلائل کو غلط ثابت کردے۔‘‘

(انوار خلافت ص۱۸، انوار العلوم ج۳ ص۸۳،۸۴)

اس تصریح کے بعد کسی جواب کی حاجت ہی نہیں۔ کیونکہ احمد آخرزمان سے خود مرزا صاحب مراد ہیں۔ چنانچہ اپنے مرید خاص شاہزادہ عبدالمجید صاحب اپنی شان کا ایک قصیدہ نقل کرتے ہیں جس کے دوشعر یہ ہیں:

  1. طور جلال خدا عرش بریں دلت

    نور جمال خدا صورتت اے رہنما

  2. امت احمد کہ بود بستہ جورو جفا

    احمد آخر زمان کرد زبندش رہا

(ایام الصلح ص۱۳۲، خزائن ج۱۴ ص۳۷۵)

مرزا صاحب کے احمدآخر زمان ہونے کی صاف تصریح ہے اگر کوئی سمجھے کہ پہلے شعر میں:

اوّل آدم آخر شان احمد است

(براہین احمدیہ حصہ اوّل ص۱۲، خزائن ج۱ ص۲۰)

میں آدمm سے احمد تک کا ذکرہے تو جواب ہے کہ مرزا صاحب آدم بھی ہیں اور احمدبھی۔ نیز دین کی تکمیل بھی اپنے پر مانتے ہیں۔ لہٰذا آخر وہی ہوئے۔ ملاحظہ قول مرزا صاحب:

  1. آدمم نیز احمد مختار

    در برم جامۂ ہمہ ابرار

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

  1. روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک

    میرے آنے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(درثمین ص۱۴۳، براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۳، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

بلکہ صحیح تو یہ ہے کہ مرزا صاحب اور مرزا ئیوں کا محمدرسول اللہ کہنا جب کہ مرزا صاحب خود محمداوررسول بھی ہیں۔ زیادہ قابل اعتبار نہیں۔ ملاحظہ ہو

(درثمین ص۱۳۱، براہین احمد پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳)

  1. میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

نیز آیت: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘ کے مصداق بھی مرزا صاحب ہیں۔ جیسا کہ آگے آرہاہے۔ پس جو خود محمدرسول اللہ بن بیٹھے، اس کا ایمان ’’لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ پر کیا؟ پھر آئینہ کمالات کا جو حوالہ چالاکی سے مختصر پیش کیاہے۔’’مگر وجود ملائک اور ان کے منصبی خدمات کے ماننے کے بعد اس قدر تو ضرور دریافت کرلے گی کہ ان کا کوئی فعل عبث اور بیہودہ طور پر نہیں۔ اس اقرار کے بعد اگرچہ عقل مفصلاً تساقط شہب کی ان اغراض کو دریافت نہ کرسکے جو ملائک کے ارادہ اورضمیر میں ہیں۔ لیکن اس قدر اجمالی طور پر توضرور سمجھ جائے گی کہ بے شک اس فعل کے لئے بھی مثل اور افعال ملائکہ پر وہ اغراض ومقاصد ہیں۔ پس وہ بوجہ اس کے کہ ادراک تفصیلی سے عاجز ہے۔ اس تفصیل کے لئے کسی اور ذریعہ کی محتاج ہوگی جوحدود عقل سے بڑھ کرہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام ہے جو اسی غرض سے انسان کو دیاگیاہے تاانسان کو ان معارف اورحقائق تک پہنچادے کہ جن تک مجرد عقل پہنچانہیں سکتی اور وہ اسرار دقیقہ

101

اس پر کھولے جو عقل کے ذریعہ سے کھل نہیں سکتے اور وحی سے مراد ہماری وحی قرآن ہے جس نے ہم پر یہ عقیدہ کھولا یا کہ اسقاط شہب سے ملائکہ کی غرض رجم شیاطین ہے۔

ملاحظہ ہو اس میں کہیں آخری نبی کی نبوت کی کوئی بحث ہی نہیں نہ معلوم مختار مدعاعلیہ نے یہ حوالہ کس عالم سے نقل کیاہے۔

پھر یہ بیکار حوالے ذکرکرنے کے بعد ۱۹۰۱ء کے بعد کے۳ حوالے بزعم خود مختارمدعیہ کی مغالطہ اندازی الم نشرح کرنے واسطے پیش کئے ہیں۔

اوراسی مغالطہ اندازی سے مختصر نقل کئے ہیں تاکہ اصل مدعاکا پتہ نہ چلے۔

۱… (حقیقت الوحی ص ۴۴، خزائن ج۲۲ ص۴۷) اور تمام نبیوں نے جو بنی اسرائیل میں آتے رہے۔ اس پیش گوئی کے یہی معنی سمجھتے تھے کہ وہ آخر الزمان نبی اسرائیل سے پیدا ہوگا… الخ!

جواب: اس میں تو اپنا عقیدہ مرزا صاحب نے نبی آخرالزمان کے متعلق نقل نہیں کیا۔ بلکہ تمام ان نبیوں کا عقیدہ اور سمجھنا مذکورہے جو نبی اسرائیل میں آتے رہے۔ مرزا صاحب نے محمدa کو نبی آخر الزمان کہا ہو۔ اس کا ایک حوالہ کہیں نہیں مل سکتا۔ کیونکہ پھر خود مرزا صاحب کیسے نبی کاذب بن سکیں گے؟

۲… ’’سو تقویٰ کے دائرہ سے باہر قدم مت رکھو کیا جیسا کہ یہود نے اوران کے نبیوں نے سمجھا تھا۔ آخری نبی بنی اسرائیل میں سے آئے گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۴۶، خزائن ج۲۲ ص۴۹)

یہاں بھی اپنی رائے کچھ نہیں بلکہ یہودیوں اور ان کے نبیوں کے الفاظ میں آخری نبی کا لفظ ہے۔ مرزا تو اس کے منکر ہی رہے اور مرتے وقت تک نبی بنے رہے۔

۳… ’’اورسب کے آخر حضرت محمدمصطفیﷺکو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیرالرسل ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۱، خزائن ج۲۲ ص۱۴۵)

اس میں لفظ آخری نبی تو نہیں مگر یہ ہے کہ سب سے آخر محمدa کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیرالرسل ہے۔ اس سے استنباط بھی آخری نبی نہیں ہوسکتا جب کہ آپa کے بعد مرزا صاحب کرسی نبوت ورسالت پر رونق افروز ہیں اور نہ صرف نبی بلکہ تمام انبیاء سابقین کے ہم پلہ بلکہ بڑھ کر ہیں۔

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

  2. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام رامرا بہ تمام

مختارمدعاعلیہ نے اس کے بعد اور سب احادیث مسلم وکنز العمال وغیرہ ترک کرکے ایک مخصوص سند کی ابن ماجہ کی حدیث پر غیرمسلم جرح نقل کی جس کے متعلق میں اوپر کہہ آیاہوں اور مفصل آگے ختم نبوت کی بحث میں آئے گا۔

مختلف معنی سے جو آخر میں بے سود تاویلیں کی ہیں وہ اوپر کے دلائل سے لغو ثابت ہوچکیں۔ لہٰذا مکرر اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

قول مختارمدعاعلیہ:

مختارمدعیہ اپنے مسلمہ عالم کا قول پڑھے مولوی خلیل احمد صاحب لکھتے ہیں: ’’اعتقادیات میں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے نہ کہ ظنیات کا… الخ!‘‘

(براہین قاطعہ ص۸۹)

(نوٹ مسلمہ عالم) ’’کا لفظ خلاف قانون ہے۔ کہیں مسل میں پتہ نہیں۔ اسی اصول پر ہم نے خصوصیت محمدیہ لفظ آخری نبی اور اس کے مفہوم کے ساتھ قرآن پاک، احادیث قطعیہ متواترہ، اقوال صحابہ، ائمہ مفسرین، صوفیاء کرام، حضرت خواجہ غلام فرید صاحب حتیٰ کہ

102

مرزا صاحب کے صحابی خاص الخاص جناب محمدعلی صاحب ایم۔اے امیرجماعت احمدیہ سے پیش کردیا۔ بلکہ شاید مختارمدعاعلیہ آپ کو معلوم نہ ہو کہ محمدa کا نبی آخر الزمان ہونا نہ صرف قرآن پاک بلکہ کتب متقدمہ کا مصرح مسلم مسئلہ ہے۔ ملاحظہ ہو تورات مقدس۔‘‘

’’جو شخص آخر الزمان نبی کو نہیں مانے گا، میں اس سے مطالبہ کروں گا۔ (تورات استثناء باب ۱۸) ترجمہ میں شک ہو تومرزا صاحب کی گواہی پیش ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۳۱، خزائن ج۲۲ ص ۱۳۴) اب تو آخری نبی یا آخر الزمان نبی کی خصوصیت قرآن وحدیث، کتب سابقہ سماویہ سب سے ثابت ہوچکی اور اس سے انکار کے بعد کسی طرح محمدرسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں ہوسکتا۔ اس پر مختارمدعاعلیہ کا یہ قول کہ: ’’اورمختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہان مدعاعلیہ نے جرح کے جواب میں آنحضرتﷺ کی خصوصیات پر ایمان لانا ضروری ماناہے۔ یہ ایک مغالطہ ہے۔ گواہان مدعاعلیہ میں سے کسی نے نہیں کہا کہ جو خصوصیات نہ تو قرآن مجید سے ثابت ہیں اور نہ کسی حدیث متواتر سے بلکہ گواہان نے اپنی طرف سے چند مفروضات گھڑ کر ان کانام خصوصیات رکھ لیاہے۔ ان پر بھی ایمان لانا ضروریات دین میں سے شمارکیاجائے۔‘‘

نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ محض مغالطہ ہے جو کہ عدالت پر پوشید نہیں۔ کیونکہ یہ خصوصیت اور تمام خصوصیات قرآن پاک، احادیث، اقوال صحابہ وائمہ بلکہ اجماع امت سے ثابت ہیں۔ پس ان کاانکار تو متفقہ کفرہوگا۔

(۲)

خاتم النّبیین کے معنی

قول مختارمدعاعلیہ:

’’مختارمدعیہ نے مرزا صاحب کے کلمہ کے دوسرے جزو کے انکار کی دوسری وجہ یہ بیان کی ہے کہ مرزا صاحب خاتم النّبیین کے منکرہیں۔‘‘

جواب: مختارمدعاعلیہ نے یہ وجہ محض اپنی طرف سے تراشی ہے۔ خاتم النّبیین کے متعلق اس موقعہ پر کچھ نہیں پیش کیاگیا بلکہ آخری نبی کے لفظ اور اس کے مفہوم کے متعلق تھا جو اوپر کے ہیڈنگ کے تحت مفصل گزرچکا۔ مگر اب ہم اس کی خاطر اس کے متعلق بھی بہت ہی مختصر عرض کرتے ہیں۔

مختار مدعا علیہ نے بیانات کا حوالہ دے کر یہ فرمایاہے کہ: ’’مرزا صاحب اور آپ کی جماعت آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کو بصدق دل یقین کرتے ہیں۔‘‘

جواب: خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی میں گفتگو ہے نہ کہ صرف لفظ خاتم النّبیین میں۔ اصل بات یہ ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے پہل جب تک کہ مرزا صاحب کی نبوت سے پردہ نہ اٹھا تھا۔ جب بھی مرزا صاحب حضورa کو خاتم النّبیین فرماتے تھے اور بیعت کے الفاظ میں بھی تھااور بعد کو بھی آخر تک خاتم النّبیین کالفظ مغالطہ آمیز فرماتے رہے۔ لیکن معنی بدل ڈالے اور پہلے مطلقاً اہل سنت کی طرح تھا اور اب معنی کفریہ رکھ لئے۔ کیونکہ ۱۹۰۱ء سے پہلے اس کے معنی مسلمانوں کے مطابق یہ کرتے رہے۔ ملاحظہ ہوں اصل الفاظ مرزا صاحب:

۱… ’’اورجیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کومانتاہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمدمصطفیﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتاہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰)

حضرت قبلہ عالم خواجہ غلام فرید صاحب وقدس سرہ کوبھی۱۹۰۱ء سے پہلے خط لکھاہے جس میں مصرع ہے کہ:

103

ہر نبوۃ را بروشد اختتام

(سراج منیر ص ز، خزائن ج۱۲ ص۹۵)

۲… ’’ہمارے نبیa کا خاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسیٰm کی موت کو ہی چاہتاہے۔ کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی دوسرانبی آجائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہوسکتاہے اور اگر فرض بھی کرلیں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہوکر آئیں گے تو شان نبوت توان سے منقطع نہیںہوگی۔ گوامتیوں کی طرح وہ شریعت اسلام کی پابندی بھی کریں۔ مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت وہ خداتعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں دنیا میں وہ نبی ہوں گے تووہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاءﷺ کے بعد ایک نبی دنیا میں آگیا اور اس میں آنحضرتﷺ کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا توکہیں ذکر نہیں۔ لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکرہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اورحدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کرکے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیاجائے اورخاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا اور بعد اس کے جووحی نبوت منقطع ہوچکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کردیاجائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگئی۔‘‘

خصوصیت سے خط کشیدہ الفاظ ملاحظہ ہوں۔

۳… ’’کیف مالی ان ادعی النّبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

ترجمہ: ’’مجھے یہ کب حق پہنچتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے نکل کر کافروں میں مل جاؤں۔‘‘

۴… ’’اورآنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتاہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتاہوں کہ ہمارے نبی کریمa خاتم الانبیاء ہیں اورآنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا، نیا ہو یا پرانا۔‘‘

(نشان آسمانی ص۲۸، خزائن ج۴ ص۳۹۰، ۳۰؍جون ۱۸۹۲ء بحوالہ حقیقت النّبوت ص۹۳ حصہ اوّل، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۵)

اب ۱۹۰۱ء کے بعد کے حوالے ملاحظہ ہوں۔

اب اپنی نبوت سے پردہ اٹھ چکاہے۔ اب بجائے اس کے کہ:

ہر نبوت رابروشد اختتام اور کسی قسم کا نیا یا پرانا نبی آنا خاتم النّبیین کے منافی ہے۔ اگر اور مگر اور قیودات و تاویلات کا اضافہ ہے۔ گو لفظ تووہی خوش آئند مغالطہ آمیز خاتم النّبیین ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں: ’’ونؤمن بانہ خاتم الانبیاء لانبی بعدہ الا الذی‘‘

(مواہب الرحمن ص۶۶،۶۷، ۱۹۰۳ء، خزائن ج۱۹ ص۲۸۵)

’’یعنی ہم ایمان لاتے ہیں کہ محمدa خاتم الانبیاء ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ مگر وہ جو آپ کا فیض یافتہ ہو۔ ملاحظہ ہوکہ یا تو ’’لانبی بعدی‘‘ مطلق تھا۔ کسی قسم کی تخصیص شرارت اورقرآن وحدیث کے خلاف بے دینی تھی۔ جیسا کہ (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) پرہے یا اب تخصیص شرارت نہ رہی اورایک ’’مگر‘‘ لگاکے تخصیص خلاف حدیث وقرآن کردی کہ آپ سے فیض یافتہ امتی نبی آسکتاہے۔

اس کے نتیجے کا تشریعی نوٹ مرزا صاحب کے خلیفہ ثانی کا جن پر گواہان مدعاعلیہ کا ایمان ہے۔ (حقیقت النّبوۃ ص۹۷، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۸) سے ملاحظہ ہو۔

104

۳… ’’تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں۔ یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اورجواس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۳۲۴، خزائن ج۲۳ ص۳۴۰، حقیقت النّبوۃ ص۸۵، انوارالعلوم ج۲ ص۴۲۱) اس قسم کے صدہا حوالہ موجود ہیں۔ جس کو تفصیل منظور ہو وہ حقیقت النّبوت مرزا محمود صاحب کے ہیڈنگ۔ ’’۱۹۰۱ء کے بعد کے حوالہ جات‘‘ کے تحت ص۹۷ سے ص۱۱۸ تک ملاحظہ فرمائیں۔

خلاصہ جواب یہ کہ لفظ خاتم النّبیین کا اقرار تو آخر تک ہے مگر ۱۹۰۱ء سے پہلے حسب قول گواہ مسلمان تھے تو اسلامی معنی بھی ہیں۔ جیسا کہ (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳، نشان آسمانی ص۲۸، خزائن ج۴ ص۳۹۰، دین الحق ص۲۷، ازالہ ص۳۱۰) پر تصریح ہے۔ بعد ۱۹۰۱ء اوّل تو صرف لفظ ہی استعمال میں ہے۔ جیسا کہ فارم بیعت پیش کردہ گواہ مدعاعلیہ منسلک مسل سے واضح ہے اور اگر معنی کہیں کچھ کئے تو یا وہ اسی دجل کے ساتھ گول مول اوراگر وضاحت کی کبھی ہمت کی تو وہی کفریہ معنی بیان کئے ہیں۔ جو کھلا ہو ا انکار بلکہ موجب مزید توہین ہے۔ ملاحظہ ہو (استفتاء عربی ص۲۳) وسرکار دوعالم، تاجدار مدینہa کی تصدیقیہ مغالطہ دہی ضروری تھا۔ کیونکہ ہمارے آقاو مولیٰ کی پیش گوئی میں تمام اپنے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو دجال وکذاب بتایاگیاہے۔ آنحضورa کے بعد دعویٰ دار نبوت اگر ایسا مغالطہ نہ کرے، توعیاذاً ب اللہ صادق ومصدوق حبیب خداa کی صداقت پر حرف آجائے، جو متفقہ فریقین محال وناممکن ہے۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’اوراس کے جو معنی قرآن مجید اور آنحضرتﷺ صحابہﷺ اورائمہ اورلغت عرب کی رو سے ثابت ہوتے ہیں۔ ان پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

جواب: محض غلط اور مغالطہ ہے۔ مرزا صاحب کے قائم کردہ معنی کہ جس کی کامل پیروی واتباع سے نبی بنا کریں جس کی اتباع نبی تراش ہو، نہ کسی ایک آیت میں صراحۃً کجا اشارۃً وکنایتہ نہیں نہ کسی ایک حدیث میں گو ضعیف سے ضعیف سہی، نہ کسی مسلم امام کے معتبر قول میں، نہ کسی لغت کی کتاب یا محاورہ عرب میں پائے جاتے ہیں۔

بخلاف اس کے ہمارے پیش کردہ معنی کہ آپa خاتم النّبیین اور آخری نبی تمام نبیوں سے پیچھے آنے والے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتانہ آپ کے بعد اب یہ منصب نبوت کسی کو عطاء ہوگا۔ تقریباً یک صد آیات دو سو سے زیادہ احادیث حوالہ گواہ مدعیہ نمبر۳، ۶۴ سے زائد آثار صحابہ،۲۶ اقوال سلف صالحین، دس عظیم الشان مفسرین کے فیصلہ، آٹھ نہایت ہی مستند لغات، تقریباً چھ نہایت ہی معتبر کتب فقہ پر متعدد حوالہ، صوفیائے کرام مرزا صاحب کے بھی فیصلہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے پیش کرکے روز روشن کی طرح واضح کردیاگیا کہ خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی جس کے بعد کسی قسم کا نبی نہ بن سکے اور اسلامی سلطنت ہو تو بفرمان رسول اکرم بتصریح امام محی الدین ابن عربی قابل گردن زدنی ہے جو وہ اس شریعت کے متبع ہو یا مخالف ملاحظہ ہو۔

(یواقیت ج۲، مبحث۳۵ ص۳۸)

’’سواء وافق شرعنا اوخالف فان کان مکلفا ضربنا عنقہ والاصفحنا عنہ صفحا‘‘

مفصل بیانات گواہان مدعیہ میں گزر چکا اور آگے اپنی جگہ پر ان شاء اللہ آئے گا۔

(۳)

معراج جسمانی کا انکار

قول مختارمدعاعلیہ:

مختارمدعیہ نے مرزا صاحب اور اس کی جماعت کے کلمہ جزو ثانی سے منکر ہونے کی ایک وجہ یہ قراردی ہے کہ وہ معراج جسمانی کے منکرہیں اورتمام اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ آپ کو عرش تک معراج جسمانی ہوئی تھی جس میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ دوسری معراجوں کا یہاں

105

ذکر نہیں۔ اگر کوئی اپنے یا کسی اور کے لئے معراج مانے تو شرک فی الرسالۃ ہوگا اور مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں لکھاہے کہ یہ آنحضرتﷺ کا ایک کشف تھا اورایسے مکشوف میں خود مؤلف بھی صاحب تجربہ ہے۔ اس قول سے ظاہرہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے لئے ایک نہیں بلکہ کئی معراج ثابت کئے ہیں اور آنحضرتﷺ کی معراج جسمانی کا انکار کیاہے۔اس لئے آپ کلمہ کی ثانی جزو کے منکر ہوئے۔ کیونکہ معراج نبوی رسول اللہ ﷺ کے خصوصیات میں سے ہے اور اس انکار کی وجہ سے کافر ومرتد ہوئے۔ لہٰذا مدعیہ کا نکاح فسخ ہونا چاہئے۔

الجواب: حسب عادت یہاں مختارمدعاعلیہ نے مسئلہ کو جو خلط ملط کرنے کی سعی کی ہے اور جس تمہید پر یہ اعتراض مبنی تھا۔ اسے دیدہ ودانستہ ماسبق کی طرح نظر انداز کردیا۔

بیان یہ کیاگیا تھا کہ آقا ومولیٰ سید الاوّلین والآخرینa باری تعالیٰ کے محبوب اور تمام مخلوق کمالات کے منبع ومخرج بتصریح ’’انا قاسم و اللہ یعطی‘‘ نیز تمام کمالات میں بے نظیر وبے مثال ہیں۔ قدرت نے ان کمالات کانہ کوئی پیدا کیانہ آئندہ کبھی پیدا کرے گا۔ تمام مخلوق جن وانس، اولیاء وابدال، غوث واقطاب اولوالعزم انبیاء کرام بلکہ مقربین کی بے حدوبے شمار تعداد بمصداق ’’لا یعلم جنود ربک الاہو‘‘ سب کے تمام کمالات ایک پلے میں رکھے جائیں اور محبوب خداa کی شان محبوبیت نہیں، بلکہ اس کا ایک ذرہ ایک پلہ میں رکھا جائے تو یہی ایک ذرہ شان محبوبیت سے بڑھ کر ہوگا۔ بلکہ یہ تمام مذکورہ بالا اولیاء اور ملائکہ مقربین انبیاء کرامؑ ان کے مرتبہ عالی کو کیا پہنچتے۔ ان کا وہم وگمان بھی وہاں تک رسائی نہیں کرسکتا۔ بلکہ جہاں تک اس سید کل فخر کل فی الکلa کے اللہ تعالیٰ نے قدم اورنعلین شریفین پہنچائے ہیں، کسی کا سر بھی نہیں پہنچتا۔ جبرئیلm بھی باوجود انتہائی اوراعلیٰ تقرب کے ہم رکابی میں ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر رک جاتے ہیں۔ پھر وہی محبوب خداa تنہا اللہ کی رحمت کی معیت میں وہاں تک جاتے ہیں جس کو دنیا والے یوں تعبیر کرتے ہیں کہ:

  1. کس ندانست کہ منزل گہہ دلدار کجا است

    ایں قدر ہست کہ بانگے بز…می آید

مگر دراصل ہمارے لفظوں میں اس کی تعبیر ہی ناممکن ہے۔ ’’ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی فاوحیٰ الی عبدہ ما اوحی (النجم:۸تا۱۰)‘‘

  1. سچ کہو ان آنکھوں سے کوئی اور بھی دیکھا

    پایا ہے کسی اور نبی نے بھی یہ رتبہ

  2. بتلا تو سر عرش بریں کون ہے پہنچا

    البدر سے زینت تری وہ عرش معلا

جو رہے ترا نقش کف پائے محمد

باری تعالیٰ بھی وحدہ لا شریک لہ اور حبیب رب العالمینa بھی وحدہ لاشریک لہ فرق یہ ہے کہ باری تعالیٰ اپنی خدائی میں وحدہ لاشریک اور سرکار دوعالمa محبوب خدا ہونے میں وحدہ لاشریک۔ نہ ان کی خدائی میں کوئی شریک وسہیم، نہ ان کی شان محبوبیت وکمالات میں کوئی شریک، ان کی الوہیت میں شریک ماننا شرک فی الالوہیۃ ہے۔ محبوب خداa کی شان وکمال محبوبیت میں کسی کو شریک مانناشرک فی الرسالۃ ہے۔ شرک فی الالوہیۃ کے بعد جیسا کہ مرزا صاحب نے کہا لاالہ الا اللہ کلمہ کے پہلے جز وپر ایمان ناممکن ہے۔ شرک فی الرسالۃ کے بعد (جسے مرزا صاحب نے نہ چھوڑا) کلمہ کے دوسرے حصہ محمدرسول اللہ ﷺ پر ایمان ہرگز نصیب نہیں ہوسکتا۔

پھر یہ بتلایاتھا کہ چونکہ مسئلہ معراج جسمانی نہایت طویل الذیل ہے۔ اس لئے میں اس وقت اسے نہیں چھیڑتا اور وہ تو سرسید کی بھی سمجھ میں نہ آیا اورکشفی رنگ کا سمجھتے رہے۔ مگر ایسا کشف جو نہ کسی نبی کو ہوا نہ ولی کو نہ کسی کو ہوسکے۔ لیکن مرزا صاحب نے یہ کیا کہ کشف بتا کہ یہ کہہ گئے کہ: ’’اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔‘‘ یہ عبارت کھلی ہوئی شان رسالت ومحبوبیت کے شرک پر دال ہے اور شرک فی الرسالت کے بعد محمدرسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں رہ سکتا۔ ہر نبی کو کسی نہ کسی رنگ میں معراج ہوئی ہے۔ کسی کو آگ کے بھڑکتے

106

ہوئے شعلوں میں، کسی کو کوہ طور پر، کسی کشتی میں، کسی کو چاہ کنعان میں اور کسی کو شکم ماہی میں اور وہ سب بیداری اورجسم کی حالت میںتھی۔ مگر ہمارے آقاو مولیٰa کو جسم اقدس کے ساتھ عرش اعظم پرہوئی۔ اس میں آپ کا کوئی بھی شریک وسہیم نہیں اور کشف مان کر بھی اس جیسا کسی کو کشف ناممکن ہے۔

پس اعتراض صرف تشبیہ پر تھا۔ مسئلہ کو طوالت کی وجہ سے نظر انداز کردیاتھا اور بناء اعتراض صرف یہ فقرہ کہ: ’’اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔‘‘ قراردیاتھا۔

پھر بھی مختار مدعاعلیہ نے باوجود شدید احتجاج غیر متعلق ہونے کے اصرار کو پورا مسئلہ طول وطویل تقریباً پندرہ صفحات پر سپرد قلم کیاہے جس کی بناء پر ہم بھی مفصل جواب دینے پر مجبور ہوئے۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’مختارمدعیہ کے اس اعتراض میں تین باتیں قابل غور ہیں۔ (الف)کیا رسول اللہ ﷺکو معراج جسمانی ہوئی۔ (ب)اورکیاصحابہ اورائمہ سلف صالحین اور تمام اہل سنت معراج جسمانی کے قائل تھے۔ اس کا مفصل جواب تو آگے آئے گا۔ اجمالاً پہلے حصہ الف کہ کیا رسول اللہ ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی تھی۔‘‘

جواب: مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ امام عبدالوہاب شعرانی اور ابن عربی کے حوالہ سے پیش کرتاہوں جنہیں مختار مدعاعلیہ جواب جرح مارچ۱۹۳۳ء میں مسلم مان چکاہے۔

’’قال الشیخ وکان ہذا الاسراء بجسمہ الشریف ولو کان الاسراء بروحہٖa ویکون رؤیا راٰہا کما یری النائم فی نومہ وانکر ہ من قریش ولا نازعہ فیہ وانما انکروا علیہ کونہ اعلمہم ان الاسراء کان بجسمہ الشریف فی تلک المواطن التی دخلہا کلہا (فان قلت) فکم کانت اسرا أنہa (فالجواب) کما قالہ الشیخ فی الباب الرابع عشر وثلثمائۃ انہا کانت اربعۃ وثلاثین مرۃ واحدۃ بجسمہ والباقی بروحہ رؤیا راہا قال ومما یدلک علی ان الاسراء لیلۃ فرض الصلوٰۃ کان بالجسم ماورد فی بعض طرق الحدیث انہa استوحش لما زج بہ فی النور ولم یر معہ احداً اذالارواح لا توصف بالوحشۃ ولا بالستیحاش قال وکذالک مما یدل علی ان الاسراء کان بجسمہ ما وقع لہ من العطش فا ن الارواح المجردۃ لاتعطش‘‘

(یواقیت ج۲ ص۳۵)

امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ معراج جس میں نماز پنجگانہ فرض ہوئی۔ حضورa کو جسم سمیت ہوئی اور اگرصرف روحانی اور ایک کشف یاخواب ہوتا۔ جیسا کہ لوگ نیند میں دیکھتے ہیں تو کوئی بھی قریش میں سے انکار کرکے نہ جھگڑتا۔ بلکہ ان کاانکار صرف اس بناء پر تھا کہ وہ ان تمام مقامات (فرش سے عرش تک) آپ کا رات میں جانا جسمانی یقین کرتے تھے۔

پھر تعداد معراج کا سوال کرکے شیخ محی الدین عربی کا فیصلہ فتوحات کے ص۳۱۴ با ب سے یہ نقل کیاہے کہ حضورa کو چونتیس(۳۴) معراجیں ہوئی ہیں۔ ایک صرف جسمانی اورباقی روحانی اورکشفی۔ پھر فرمایا کہ وہ معراج کہ جس میں پنجگانہ نماز فرض ہوئی، جسمانی ہے اور منجملہ دیگر دلائل جسمانی کے اس کے جسمانی ہونے پر ایک دلیل ہے کہ حدیث میں استوحش کا لفظ بھی آتاہے کہ حضورa کو توحش ہوا۔ حالانکہ ارواح توحش کے ساتھ متصف نہیں کی جاتی۔ یوں ہے ایک اس کے جسمانی ہونے کی دلیل منجملہ اور ادّلہ کے یہ ہے کہ آپ کو پیاس لاحق ہوئی اور صرف روح کو کبھی پیاس نہیں لگ سکتی۔‘‘ معلوم ہوا کہ یقینا یہ معراج جسمانی تھی۔

ایسے واضح اورکھلے ہوئے مسلمہ بزرگ کی شہادت کے بعد سرسید اور سید سلیمان ندوی ومولوی ثناء اللہ امرتسری کی آڑ نہایت لغو

107

اور ناقابل التفات ہے۔ خصوصاً جب کہ مسل پر ان کا تذکرہ تک نہیں اور عدالت تومسل کی پابندہے۔

دوسرے حصہ کے جواب کہ اور کیا صحابہ اور ائمہ سلف اورتمام علماء اہل سنت معراج جسمانی کے قائل تھے۔

مفصل جواب تو آگے آئے گا۔ صرف دو حوالے نقل کئے جاتے ہیں جس سے واضح ہوگا کہ اس معراج کے جسمانی ہونے پر تمام سلف وخلف کا اتفاق ہے۔

۱… امام المحدثین حافظ بدرالدین عینی فرماتے ہیں: ’’وجمہور السلف والخلف علیٰ ان الاسراء کان ببدنہ وروحہa‘‘ کہ تمام اگلے پچھلے سلف وخلف کا اتفاق ہے کہ یہ معراج جسم اور روح دونوں سمیت تھی، نہ صرف روحانی۔

(عمدۃ القاری شرح بخاری شریف باب الاسراء )

۲… قاضی القضاۃ ابوالفضل عباس ابن عمرو کا فیصلہ: ’’ذہب معظم السلف والمسلمین الی انہ اسراء بالجسد وفی الیقظۃ وہذا ہو الحق وہوقول ابن عباس وجابر وانس وحذیفۃ وعمر وابوہریرۃ ومالک ابن صعصعۃ وابی حیۃ البدری… الخ!‘‘ (شفاء شریف قاضی عیاض معہ شرح شفا ملا علی قاری) یعنی جمہور سلف صالحین، یعنی صحابہ وتابعین وجمہور مسلمین کا یہی عقیدہ ہے کہ آنحضرتﷺ کو بحالت بیداری اسی جسم کے ساتھ معراج ہوئی اور یہی حق ہے اوریہی مذہب حضرت ابن عباس اور جابر اور حذیفہ اورحضرت عمر فاروق اور ابوہریرہi اور مالک ابن صعصعہ اور ابوحیہ البدری اور ابن مسعود اور ضحاک وسعید ابن جبیر اور قتادہ اورسعید ابن مسیب اور ابن شہاب اور ابن زید اور حسن بصری اور ابراہیم اور مسروق اور مجاہد اور عکرمہ اورابن جریج اور ابن جریر طبری اور امام احمد بن حنبلi اور مسلمین کی جماعت عظیمہ کا یہی عقیدہ ہے۔ یوں ہی فقہاء ائمہ مجتہدین ومحدثین ومتکلمین ومفسرین کا مذہب ہے… الخ!‘‘

اتنا زیادہ واضح فیصلہ اور ان ائمہ اور اکابر کو چھوڑ کر سید سلیمان ندوی و مولوی ثناء اللہ امرتسری وسر سید کی پیروی کرنا جن میں سرے سے بعض معجزات اور کرامات کے قائل نہیں اور بعض تقلید ائمہ سلاسل اولیاء اللہ کے بلکہ نیچری یا وہابی ہیں، کہاں تک زیباہے۔ ہمارے مسلم بھی صحابہ وائمہ سلف صالحین ہیں۔ سید سلیمان ندوی ومولوی ثناء اللہ امرتسری، سرسید علی گڑھی ہمارے مسلم بزرگ نہیں۔ نہ مسل پر انکا کوئی تذکرہ آیانہ مختارمدعیہ نے جرح میں پوچھا: ہاں! ممکن ہے کہ مختارمدعاعلیہ کے مسلم ہوں کہ ان کے قول سے سند لاتاہے۔ تفصیل آگے اپنی جگہ ان شاء اللہ آئے گی۔

قول مختارمدعاعلیہ:

۲… ’’کیا پہلے انبیاء میں سے یا اولیاء امت میں سے کسی کو آنحضرتﷺ کی طرح معراج ہوئی۔‘‘

جواب: اس طرح پر ہرگز نہیں ہوسکتی نہ کسی کو ہوئی آدمm سے عیسیٰm تک کسی کو ویسی مانیں توبھی شریک فی الرسالۃ لازم آئے گا۔ جیسا کہ میری تمہیدی تحریر سے واضح ہے۔ مختارمدعاعلیہ ہی ایک حوالہ نہ پیش کرسکے اور جو مغالطہ دیاہے، وہ آگ اپنے مقام پر آئے گا۔

قول مختار مدعاعلیہ:

۳… ’’کیا مرزا صاحب نے یہ لکھا ہے کہ مجھے آنحضرتﷺ کی معراج کی طرح معراج ہوئی۔‘‘

جواب: یقینا لکھاہے۔ مختار مدعاعلیہ کو ان کے تنخواہ دار ہونے یا ان کے امتی وپیرو ہونے کی وجہ سے نہ نظر آوے۔ اس میں میرا کیا قصورہے۔ حوالہ مکرر پیش ہے۔

’’سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہ تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا… میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اس کو سمجھتاہوں، بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفی اوراجلی ہوتی

108

ہے اوراس قسم کے کشفوں میں اپنے آپ کو صاحب تجربہ فرمارہے ہیں۔

(ازالہ ص۴۸ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۲۶)

ملاحظہ ہو کر معراج جسمانی کو کشف قرار دے کے اسی قسم یعنی معراجی کشفوںمیں اپنے آپ کو صاحب تجربہ فرمارہے ہیں۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’پہلی بات کے متعلق خود مختار مدعیہ نے سرسید احمد خان صاحب کو مسلمان سمجھتے ہوئے اور ان کے نام کے ساتھ علیہ الرحمۃ کا فقرہ استعمال کرتے ہوئے جو بزرگان دین کے لئے استعمال کیا جاتاہے، اقرارکیاہے کہ وہ آنحضرتﷺ کے معراج جسمانی کے منکرتھے اور اسے رؤیا مانتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں صریح طور پر لکھاہے۔ اگر ہماری یہ رائے صحیح نہ ہو اور ابن عباس نے عین کا لفظ رؤیا کے ساتھ اسی مقصد سے بولاہے کہ رؤیا سے رؤیت یا تعین فی الیقظۃ مراد ہے تو وہ بھی منجملہ اس گروہ کے ہوں گے جو معراج فی الیقظۃ کے قائل ہوئے ہیں۔ مگر ہم اس گروہ میں نہیں جو واقعہ معراج کو حالت خواب میں تسلیم نہیں کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک خواب میں ماننا لازم ہے (تفسیر سرسید ص۱۰۷) جب مختارمدعیہ کے نزدیک سرسیداحمدخان معراج جسمانی کے منکرہوکر صرف مسلمان نہیں۔ بلکہ ایک بزرگ مسلمان ہیں جو خطاب علیہ الرحمۃ کے مستحق ہیں تو وہ اسی بناپر کسی اور کو دائرہ اسلام سے خارج اور کلمہ شہادتین کے منکر کس طرح قرار دے سکتاتھا۔ ہمیں تو اس تفریق وتخالف کی اس کے سواء اور کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ مرزا صاحب نے جو مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیاہے اور قدیم نوشتوں کی بنا پر ضروری تھا کہ زمانہ کے مولوی حسد اور تعصب کی وجہ سے انہیں کافر ومرتد کہتے ہیں… الخ!‘‘

یہ پچھلے لفظ حسب ضابطہ مسل سے کاٹنے کے لائق ہیں۔ میں خصوصیت سے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کراتاہوں۔

الجواب: جواب میں کوئی اور دلیل جیسے کہ میں نے دلائل قاطعہ پیش کئے ہیں نہ پیش کرسکا۔ صرف سرسیداحمدصاحب ( اللہ اس پر رحم کرے) ان کی غلط فہمی اور مختارمدعاعلیہ کا ان کے لئے علیہ الرحمۃ کے استعمال کرنے کو دلیل سمجھ لیا۔ مگر مختارمدعاعلیہ کو واضح ہوناچاہئے کہ یہ دلیل نہ قرآن کی ہے، نہ حدیث کی، نہ اقوال سلف، نہ ائمہ ہدای کی۔

سرسید احمدصاحب ہرگز کوئی مذہبی پیشوا نہیں، بلکہ ایک دنیا دار نیچری خیال کے آدمی ہیں جو معراج جسمانی معجزات انبیاء اور کرامات اولیاء اللہ ، وجود ملائکہ جن شیاطین، پل صراط کتنے امور ہیں جن میں تاویلات کرتے ہیں اور صحابہ کرام اور عام مسلمین کی طرح قائل نہیں۔ پس سرسید کی تحقیق دینی معاملہ میں اوران کی تفسیر اللہ کی مراد بیان کرنے میں محض غلط اپنی ذاتی رائے کسی پر حجت نہیں۔ باقی علیہ الرحمۃ کا لفظ مسلم بزرگان دین کے ساتھ مختص نہیں۔ ہرشخص اپنے والد، استاد، اپنے بزرگ زندہ کو صاحب وغیرہ اورمدظلہ دام برکاتہ اور مردہ کو مرحوم اور رحمۃ اللہ ، علیہ الرحمۃ کہتاہے۔ اسی طرح علیہ الرحمۃ اور رحمۃ اللہ بھی عربی زبان میں مرحوم ہی کے معنی میں مستعمل ہوتاہے۔ ایک ذرہ کا فرق نہیں۔

اوّل تو سرسید احمد نے آخری عمر میں ان تمام خلاف شرع عقائد سے رجوع کرلیاہے اوران تاویلات پر ندامت ومعذرت پیش کی ہے جس کے واسطے تصفیۃ العقائد حضرت مولانامحمدقاسم صاحب نانوتوی جس میں ان کی خط وکتابت کا اکثر حصہ چھپا ہے اور امیر الروایات امیر شاہ خان صاحب کی ملاحظہ فرمائی جائے اور میں نے اپنے مستند اکابر سے بھی ان کے رجوع کی معتبر روایات سنی ہے۔ لہٰذامجھے حق ہے کہ انہیں مسلمان سمجھ کر مرحوم اور اس قسم کے لفظ سے یاد کروں۔ مگرمسلمان ہونا اورچیز ہے اور مسلم ہونا ا ور۔ یوں اگر مرزا صاحب کی ان کفریات سے کوئی توبہ اوراس سے رجوع مختار مدعاعلیہ دکھا دیتا تو ہم مرزا صاحب کو بھی مرحوم، علیہ الرحمۃ وغیرہ اسلامی نام والقاب سے یاد کرتے۔

دوسرے یہ کہ سر سید احمدصاحب مرحوم کی سمجھ میں نہ آیا اور اپنی غلط فہمی سے معراج جسمانی کے قائلین سے علیحدہ ہوگئے۔ مگر کسی قسم کی گستاخی یا شرک فی الرسالۃ کا ارتکاب نہ کیا۔ جیسا کہ ان کی دوسری تصانیف تقاریر احمدیہ وغیرہ سے واضح ہے۔

109

نیز یہ عبارت ضرور ملاحظہ ہو اور خصوصیت سے طرز خطاب میں لحاظ ادب۔

کس قدر تہذیب اور ادب سے لکھ رہے ہیں اورمرزا صاحب کی گستاخی بارگاہ نبوۃ کی ملاحظہ ہو۔

’’ہماری یہ رائے صحیح نہ ہو اور ابن عباس نے عین کا لفظ رؤیا کے ساتھ اسی مقصد سے بولاہے کہ رؤیا سے رؤیت یا تعین فی الیقظہ مرادہے تو وہ بھی منجملہ اس گروہ کے ہوں گے جو معراج فی الیقظہ کے قائل ہوئے ہیں۔ مگر ہم اس گروہ میں ہیں جو واقعہ معراج کوحالت خواب میں تسلیم کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک خواب میں ماننا لازم ہے۔ (تفسیر سرسید ص۱۰۷) کس قدر تہذیب اورادب سے لکھ رہے ہیں اور مرزا صاحب کی عبارت ملاحظہ ہو۔

سیر معراج جسم کثیف کے ساتھ نہ تھا تااس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔

(ازالہ اوہام ص۴۸، خزائن ج۳ ص۱۲۶)

معراج پاک جیسے کشفوں میں بارہا صاحب تجربہ بنانا کس قدر کھلی ہوئی گستاخی ناقابل عفو جرم ہے۔ پس میں نے عرض کیا کہ مدار اعتراض اس مشارکت پرہے۔ صرف جسمانی اور روحانی پر نہیں اور سرسید کو یہ نہیں سوجھا بلکہ وہ تو آپa کے کمالات کا کوئی ثانی وشریک وسہیم نہیں سمجھتے۔ ان کی دوسری تصانیف ومضامین ملاحظہ ہوں۔

لہٰذا مرزا صاحب اس توہین اور شرکت فی الرسالۃ اوراس کے توبہ نہ کرنے کی وجہ سے لاالہ الا اللہ کے دوسرے حصہ محمدرسول اللہ پرایمان دار نہ رہے۔ بخلاف سرسید صاحب کے اتنی کہ اوّلاً کوئی گستاخی نہیں۔ دوسرے آخر میں ان سب سے رجوع کیا ہواہے۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’دوسری بات کے لئے مناسب سمجھتا ہوں کہ فریق مخالف کے ایک مسلم عالم کی تحقیق بیان کردوں۔ علامہ سید سلیمان ندوی (سیرۃ النبی ج۴ ص۲۹۳) میں بذیل عنوان… الخ!‘‘

الجواب: مختارمدعاعلیہ نے کذب بیانی کی حد کردی۔ سید سلیمان صاحب ندوی فریق مدعاعلیہ کے نزدیک مسلم عالم ہونا، ایسا سفید جھوٹ ہے جس کی نظیر تمام عالم میں نہ ملے گی۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ سید صاحب کا تذکرہ تک تمام کارروائی مقدمہ میں مسل پر نہیں، نہ دیوبندی ہیں کہ اس آڑ میں تاویل کرکے کام نکالا جائے۔ بلکہ دیوبندیوں سے ان مسائل میں ان کے اور ان کے استاد شبلی صاحب کے اختلافات مشہور ہیں۔ تفصیل کے لئے القاسم دور جدید اور العرف الشذی علی الترمذی اور تقریرات بخاری حضرت سید انورشاہ صاحب ملاحظہ ہوں۔

پس ان کی آڑ فریق مدعاعلیہ پر حجت نہیں۔ مرزائیوں کی مسلم ہوں ہمیں اعتراض نہیں۔ ہم اس کا جواب پیش کرتے ہیں۔ مختار مدعاعلیہ نے (سیرت النبی ج۴) کی عبارت (ص۲۹۳ ص۳۰۶) تک تقریباً ۱۴صفحہ کی نقل کی ہے جس کی غرض محض طول دیناہے۔ میں ان کے استدلال کا خلاصہ چھوٹے چھوٹے فقروں میں نقل کرکے مختصر جواب اوّلاً پیش کرتاہوں۔ تفصیلی جواب آگے آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

۱… خلاصہ دلیل ’’وماجعلنا الرؤیا التی اریناک الافتنۃ للناس (بنی اسرائیل:۶۰)‘‘ اور رؤیا عام طور سے خواب کے معنی میں ہوتاہے… الخ!

رؤیا کے معنی کی بحث بعد میں آتی ہے۔ یہاں تو بہ تسلیم سید صاحب رؤیا عین میں ہے۔ یعنی خواب نہیں بلکہ مشاہدہ ہے۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف باب المعراج۔

’’عن ابن عباس ہی رؤیا عین اریہا رسول اللہ ﷺ لیلۃ اسریٰ‘‘
110

یعنی حضرت ابن عباسq فرماتے ہیں کہ رؤیا سے خواب کے معنی مراد نہیں بلکہ رؤیا سے رؤیت عین یعنی مشاہدہ بصری مرادہے۔

اورابن عباس علاوہ حبر امت اورصحابی خاص رسول اللہ ﷺ اور اعلم الناس بالتفسیر القرآن ہونے کے مختار مدعا علیہ کے نبی مرزا صاحب کے داہنے بازو اورمسلم صحابی مولوی محمداحسن۱؎ صاحب امروہی کے اصول پر ایسے مسلم ہیں کہ ان کے مقابل کسی مسیح موعود ومہدی مسعود کی بات معتبر نہیں۔ چونکہ یہ بالاتفاق قریش ہیں اور قریش کے متعلق ارشاد ہے۔

اب خلاصہ تفسیر سورۃ قریش کا یہ ہوا کہ قریش بالضرور تمام دینیات میں متبوع اور مقتداء ہیں کہ الفضل للمتقدم اور سائر امت مرحومہ ان کے تابع ہے۔ خواہ امت میں کوئی خلیفہ رسول کا ہو یا امام ہو یا مجدد ہویا مہدی ہویا مسیح موعود… الخ!

(الفرقان مولوی احسن امروہی ص۸)

اب اس کے بعد مختارمدعاعلیہ کو مرزا صاحب کا بھی ان کے مقابل حوالہ نہ دینا چاہئے۔ چہ جائے کہ سید سلیمان ندوی اور مولوی ثناء اللہ امرتسری وسر سیدوغیرہ۔

’’صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند ابن حنبل اورحدیث کی دیگر کتابوں میں جن میں معراج کے مسلسل اور تفصیلی واقعات درج ہیں۔ ان سب کو ایک ساتھ پیش نظر رکھنے سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ ان روایتوں کے الفاظ یا خواب وبیداری دونوں پہلوؤں میں سے خاموش ہیں۔ یعنی ان میں مطلقاً اس کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ خواب تھا یا بیداری اور یا یہ کہ ان میں خواب منام اور رؤیا کی تصریح ہے۔ بخاری ومسلم ومسند احمد بن حنبل میں حضرت ابوبکرq کی جو روایت ہے اورحضرت انسq کی اسی روایت میں جو شریک کے واسطہ سے یہ تصریح تمام مذکور ہے کہ یہ واقعہ آنکھوں کے خواب اور دل کی بیداری کی حالت میں پیش آیا۔‘‘

(عبارت سیر ت النبی)

الجواب: چونکہ سید صاحب نیز شبلی صاحب صرف مؤرخ تھے، محدث نہ تھے۔ اس لئے احادیث اور تطبیق میں سخت غلطیاں کی ہیں۔ خود اسی سیرۃ النبی میں بخاری شریف کی حدیث بدر پر ناواقفی سے بدر صغریٰ کو بدر کبریٰ پر قیاس کرکے تنقید وتبصرہ کرکے انکار کردیاہے جس پر محدثین نے گرفت کی ہے اور بھی احادیث کے متعلق غلطیاں کی ہیں جس کے واسطے تقریر بخاری شریف حضرت سید انور شاہ صاحب ملاحظہ ہو۔

(جدید حوالہ)

یہی دیکھ لیا جائے کہ راوی شریک کی روایت کو معیار اور مدار ٹھہرایاہے۔ حالانکہ اس حدیث کے متعلق حضرت علامہ محمدامام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں:’’قد جاء فی روایۃ شریک فی ہذا الکتاب اوہام انکر علیہ العلماء قد بینہ مسلم علیٰ ذلک بقولہ فقدم وآخر وزاد ونقص منہا قولہ… الخ!‘‘

(شرح مسلم نووی ص۹۱)

یعنی معراج کی روایت جو شریک نے کی ہے۔ اس میں بہت اوہام ہیں جن پر علماء کے سخت اعتراض ہیں۔ امام مسلم نے مسلم شریف میں اس پر تنبیہ کی ہے کہ ان بزرگ نے اسی روایت میں تقدیم وتاخیر اورکمی زیادتی کر ڈالی ہے۔ پھر آگے تفصیل میں یہ تمام امور انہیں غلطیوں میں شمار کئے ہیں جن میں سید صاحب معیار حل احادیث فرمارہے ہیں۔‘‘ اس سے ملاحظہ فرمالیں کہ جس حدیث میں محدثین اوہام بتائیں اسی کو معیار قراردینے والا حدیث کے متعلق کیا فیصلے دے سکے گا۔

۱؎ ان کی توثیق مرزا صاحب ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ: ’’مولوی صاحب موصوف اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص ومحبت اور تعلق روحانی رکھتے ہیں۔ ان کی تالیفات کے دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ایک اعلیٰ لیاقت کے آدمی اور علوم عربیہ میں فاضل ہیں۔ بالخصوص علم حدیث میں ان کی نظر بہت محیط اور عمیق معلوم ہوتی ہے۔(ازالہ اوہام ص۷۸۵، خزائن ج۲ ص۵۲۴)

111

جوا ب: اب ان متعارض احادیث کی تطبیق مجھ سے سنئے۔ حضورسرکاردوعالمa کو ۳۴ معراجیں ہوئی ہیں جن میں ایک معراج جسمانی ہے جس میں نماز پنجگانہ فرض ہوئی۔ باقی (۳۳)روحانی ہیں۔ پس جن روایات میں فاستقیظ وغیرہ کے الفاظ ہیں۔ روحانی یا منامی پر دلالت کرنے والے ہیں۔ گوسطح ظاہری ایک جیسی اورروایات میں الفاظ راویوں کے متشابہ اور مختلط ہوگئے ہوں اور جہاں جہاں جسمانی کی تصریح کی ہے وہ سب اسی ایک معراج جسمانی کے متعلق ہے جس پر قریش نے انکار کیا اور ابوجہل تکذیب کرکے ابوجہل اور سیدنا ابوبکر تصدیق کرکے صدیق اکبر بنے۔ یہ اپنی توجیہہ نہیں بلکہ مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ علامہ عبدالوہاب شعرانی اور امام الصوفیہ محی الدین ابن عربی کی ہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب یواقیت والجواہر ج۲ ص۳۵، مبحث ۳۴) حوالہ اوپر مفصل نقل ہوچکا۔

تعجب ہے کہ مرزا صاحب کے الہام واقوال کی تطبیق کے واسطے بڑی بڑی نادرالوجود کتب تلاش کی جائیں اور سرکار دوعالم، سید الاوّلین والآخرین، محبوب رب العالمینa کی عظمت وجلال باقی رکھنے اورناموس نبویﷺ کی حفاظت کے واسطے اپنے مسلم بلکہ مسلمہ فریقین بزرگ کی کتاب تک نظر انداز کردی جائے۔ ’’فیا حسرتاہ‘‘ اس مختصر تقریر سے احادیث حضرت ابوبکرq، انس بن مالکq، مالک ابن صعصۃ الانصاریq وغیرہ کے جس قدر حوالے مسند احمد، بخاری وغیرہ میں آئے تھے سب کا جواب آگیا۔ تفصیل آگے آئے گی۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ)

قول سید سلیمان ندوی بحوالہ مختارمدعاعلیہ: ’’دلائل بیہقی میں ایک روایت ہے جس میں ابوسعید خدریq کے واسطے سے یہ بیان کیاگیاہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میں عشاء کے وقت خانہ کعبہ میں سورہاتھا۔ ایک آنے والا (جبرئیل) آیا اور اس نے مجھے آکر اٹھایا اور میں اٹھا اوراس کے بعد واقعہ معراج کی تفصیل ہے۔ لیکن اس کا دوسرا راوی ہی جوتھا دروغ گو اور ناقابل اعتبار ہے اوراس میں جو منکر اور غرائب امور بیان کئے گئے ہیں وہ سرتاپا لغو ہیں۔‘‘

جواب: اس کے راوی کو دروغ گو اور ناقابل اعتبار کہنا ایک شخص کی رائے ہے۔ کسی امام جرح وتعدیل کا فیصلہ نہیں۔ دوسرے محدثین کے نزدیک وہ راوی قابل اعتبارہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال وغیرہ! جہاں اس راوی کے متعلق تمام اقوال توثیق وتعدیل منقول ہیں۔پھر دوسرے صحیح صریح احادیث اس کی مؤید ہیں۔ چونکہ اس روایت سے صریح سید صاحب کے مدعا کے خلاف نکلتاتھا کہ: ’’جبرئیل نے مجھے آکر بیدار کیا اور میں اٹھا۔‘‘ اس لئے اسے مجروح قراردیا اوراس سے زیادہ مناکیر جس روایت شریک راوی میں تھے اسے حل احادیث کا معیار بناگئے سچ ہے: ’’حبک الشیٔ یعمی ویصم‘‘ باقی اس میں معراج کے واقعات کو غرائب امور اورسر تاپا لغو بتانا یہ وہی نیچریت ہے کہ عقل میں نہ آئے تو ان سے انکار کرنے لگے اور ایک اصولی ہمارا اور ان کا یہ بھی اختلاف ہے کہ ان کے نزدیک درایت وعقل، روایت ونقل پر مقدم ہے (جو اصول یورپ کی تاریخ نویسی کاہے) اورہمارے نزدیک صحیح نقل سے ثابت ہوجائے خواہ ہماری ناقص عقل میں آئے یا نہ آئے اسے درست مانیں گے۔ کیونکہ روایت نقل صحیح درایت وعقل کی کسوٹی پرمقدم اورافضل ہے۔

قول سید صاحب: ’’ابن اسحاق نے سیرۃ میں اورابن جریر طبری نے تفسیر سورۃ اسراء میں حضرت حسن بصری سے اس قسم کی روایت کی ہے کہ میں سورہاتھا کہ جبرئیل نے پاؤں ہلا کر مجھے اٹھایا… الخ! لیکن اس کا سلسلہ حسن بصری سے آگے نہیں بڑھتا۔‘‘

جواب: سید صاحب کو معلوم نہیں کہ جس سے جو سلسلہ آگے نہیں بڑھتا اس کے واسطے حضرت حسن بصری نے قاعدہ باندھاہے کہ میں جہاں کہیں یہ کہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا۔ وہاں مراد یہ ہے کہ یہ روایت بواسطہ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ ہے میں ایسے زمانہ میں ہوں کہ ان کانام نامی زبان پر نہیں لاسکتا۔ (مراد زمانہ حجاج ظالم ہے جو حضرت علیq کے نام لینے پر قتل کرتاتھا) ملاحظہ ہو۔

(خلاصۃ التہذیب ص۷۷، حاشیہ اور اتحاف الفرقہ بوصل الخرقہ للسیوطی ص۲)

112

پس اصل سند یوں رہی کہ مدار سلسلہ صوفیاء کرام حضرت حسن بصری روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام الاولیاء مولاعلی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے اور وہ روایت کرتے ہیں۔ فخر دوعالمa سے اب اس سے صحیح سند اور کیا ہوسکتی ہے۔ کوئی علم حدیث سے واقف نہ ہو، اس کا کیا علاج۔

قول سید صاحب بحوالہ مختارمدعاعلیہ: ’’بہرحال جیسا کہ پہلے ہم نے لکھاہے کہ صحیح روایتوں میں یا مطلق خواب وبیداری کی تفصیل نہیں اور یا خواب وبیداری کی درمیانی حالت کی تصریح ہے۔ سیرت ابن ہشام اور تفسیر ابن جریری طبری میں محمدبن اسحاق کے واسطہ سے حضرت عائشہؓ اور حضرت معاویہؓ سے دو روایتیں ہیں جن میں یہ تصریح ہے کہ یہ بزرگوار معراج کو روحانی اور رؤیا صادقہ کہتے ہیں۔ (ص۲۹۳،۲۹۶) پھر لکھتے ہیں کہ حافظ ابن قیم نے زاد المعاد میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں رد کیاہے… تا… الحسن البصری ونحو ذالک… الخ!

حضرت عائشہؓ ومعاویہؓ سے یہ نقل کیاہے کہ دونوں نے کہا ہے کہ معراج میں آپ کی روح لے جائی گئی اور آپ کا جسم گویا نہیں گیا۔ یعنی وہ اسی دنیاپر اپنی جگہ پرموجود تھا اور حسن بصریq سے بھی اس قسم کی روایت کی ہے۔‘‘

الجواب: چونکہ سید صاحب کی عقل میں معراج کا واقعہ نہیں آتا۔ اس لئے جو بھی روایت کے نام سے صحیح غلط ملے۔ مگر ان کے مدعا کے لئے ٹھیک ہو وہ ان کے قائم کردہ عقلی معیار پرصحیح ہوجائے گا۔

مذکورہ بالا عبارت میں حضرت عائشہؓ کا قول کہ:’’مافقدت جسد رسول اللہ ﷺ لیلۃ المعراج‘‘ کہ شب معراج آپa کا جسم اطہر میں نے گم نہ کیا۔ یعنی بستر پر موجودتھا اوریوں ہی قول حضرت معاویہؓ اور حسن بصری نقل کرتاہوں۔ مفصل جواب ملاحظہ ہو۔

قول سیدہ عائشہؓ:

مرزا صاحب نے بھی ازالہ اوہام میں معراج جسمانی پر اور تمام صحابہ کرامi کااتفاق نقل کیاہے اور صرف حضرت عائشہؓ کو مستثنیٰ کرتے ہیں۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو کہ: ’’باوجود کہ آنحضرتﷺ کے رفع جسمی کے بارہ میں کہ وہ جسم سمیت معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔ لیکن حضرت عائشہؓ اس بات کوتسلیم نہیں کرتیں۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۸۹، خزائن ج۳ ص۲۴۷،۲۴۸)

دوسرا حوالہ: ’’اور مولوی صاحب کو معلوم ہوگا کہ خلاف اجماع صحابہ حضرت صدیقہؓ جناب رسول اللہ ﷺ کی معراج کے دونوں ٹکڑوں کی نسبت یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آنحضرتﷺ جس کے ساتھ بیت المقدس پر گئے نہ آسمان پر، بلکہ وہ ایک رؤیا صالحہ تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۹۳،۲۹۴، خزائن ج۳ ص۲۵۰)

ان دونوں عبارتوں میں مرزا صاحب معراج جسمانی یعنی جسم سمیت آسمان پر جانے کے متعلق تمام صحابہ کا اعتقاد اوران کا متفقہ مجمع علیہ مسئلہ ثابت فرمارہے ہیں۔ صرف جناب صدیقہؓ کے قول کا سہارا لے رہے ہیں۔ پس اگر میں نے عقلی ونقلی درایت وروایت سے ان کا بے بنیاد ہونا ثابت کردیا تو مرزا صاحب کے اقرار سے بھی اجماع صحابہ ہوجائے گا جس سے ایک مستثنیٰ نہیں اور بالاتفاق اجماع صحابہ قطعی حجۃ اوراس کا منکر بلاشبہ کافرہے۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ یکم؍ مارچ ۱۹۳۳ء

حدیث عائشہؓ:

باعتبار سند اور روایت تنقید کے یہ حدیث بالکل غلط بلکہ موضوع اور گھڑی ہوئی، ناقابل اعتبارہے۔

113
’’وحدیثہا ہذا لیس بالثابت عنہا لما فی متنہ من العلۃ القادمۃ وفی سندہ من انقطاع را ومجہول وقال ابن دحیہ فی التنویر انہ حدیث موضوع علیہا وقال فی معراجہ الصغر قال امام الشافعیۃ ابوالعباس ابن شریح ہذا حدیث لایصح وانما وضع رداً الحدیث الصحیح… وکان المعراج للجسد الروح جمیعا‘‘

(زرقانی شرح مواہب مقصد ۵ج۶ ص۴)

اس حدیث عائشہؓ کو لکھ کر زرقانی شارح مواہب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت صدیقہؓ سے ہرگز ثابت نہیں۔ اس کا متن بھی سخت معلول ناقابل اعتبارہے اور سند بھی۔ سند میں ایک راوی کا درمیان سے پتہ نہیں۔ (کہ دیندار تھا یا بے دین) ایک مجہول راوی ہے۔ (نہیں معلوم معتبرہے یا غیر معتبر) امام ابن دحیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث یقینا موضوع اورگھڑی ہوئی ہے۔ امام شافعیہ امام ابوالعباس ابن شریح فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بالکل غلط ہے اور صرف معراج جسمانی کی اعلیٰ صحیح حدیثوں کو رد کرنے کی غرض سے وضع کی گئی ہے۔ بہرحال معراج جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوئی۔

(زرقانی ج۲ ص۴)

اتنے بڑے بڑے مسلم ائمہ حدیث کا یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت عائشہ کی حدیث ان سے ثابت ہی نہیں، صرف بے دینوں کی اختراع وایجادہے۔

صحیح حدیث حضرت عائشہؓ اس کے خلاف ہے

’’اخر ج الحاکم وصحیح ابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل عن عائشہؓ قالت لما اسرے بالنّبیa الی المسجد الاقصیٰ اصبح یحدث الناس بذالک فارتد ناس فمن کانوا اٰمنوا بہ وصدقوہ وسعوا بذالک الی ابی بکر… قال نعم انی اصدقہ بما ہو ابعد من ذالک اصدقہ بخبرالسماء فی عددہ او روحیۃ فذلک سمی ابوبکر الصدیق‘‘

(درمنثور ابن کثیر ج۲ ص۳۸)

حضرت عائشہؓ سے باسناد صحیح حاکم ابن مردویہ بیہقی نے روایت کیا کہ جب معراج کی صبح آنحضرتﷺ نے یہ واقعہ معراج ذکر فرمایا تو بہت سے لوگ(باورنہ کرتے) مرتد ہوگئے اور حضرت ابوبکرq کے پاس دوڑ کر پہنچے کہ تمہارے دوست (یعنی آنحضرتﷺ یہ کہتے ہیں)… (آخر میں ہے کہ ) صدیق اکبرq نے فرمایا میں اس کی تصدیق کرتاہوں۔ کیونکہ جب میں اس سے زیادہ مستبعد اور عقل میں نہ آنے والی آسمانی چیزوں کی تصدیق کرتاہوں تو اس کی تصدیق کیوں نہ کروںاس پر آپ کو صدیق کا لقب بارگاہ نبوت سے عطاء ہوا۔

(ابن کثیر ج۶ ص۳۸)

ملاحظہ ہوکہ اگر خواب ہی تھا اور معراج جسمانی نہ تھی تو بہت سے مسلمانوں نے مستبعد سمجھ کر ارتداد کیوں اختیار کیا اور صدیق اکبرq نے تصدیق میں کیا انوکھی بات کی جس پر صدیق کاخطاب ملا۔

حضرت صدیقہ سے بہت سی روایتیں صحیح معراج جسمانی کی ہیں جن کے ذکر میں طوالت ہے۔ میں زرقانی کے فیصلہ پر اکتفاء کرتاہوں۔ کیونکہ وہ ارباب نقل میں نہایت معتبر امام ہیں۔ ان کی نقل پر کسی کو لب کشائی کا موقع نہیں۔

امام زرقانی کا فیصلہ

’’بل الذی یدل علیہ صحیح قولہا انہ بجسدہ الشریف لانکار ہا رویۃ ربہ رویتہٗ عین ولوکانت عندہا مناما لم تنکرہ‘‘یعنی حضرت سیدہ صدیقہؓ کا صحیح قول یہی ہے کہ معراج پاک جسم شریف کے ساتھ ہوئی۔ کیونکہ وہ حضورa

114

کے رویۃ عینی باری تعالیٰ میں اختلاف رکھتی ہیں۔ اگر ان کے نزدیک معراج روحانی یا خواب تھا تو اختلاف رویۃ کی کوئی بھی وجہ نہ تھی۔

(زرقانی شرح مواہب ج۶ ص۴)

درایۃ حدیث عائشہ پر تنقید

عقل ودرایۃ کے لحاظ سے بھی ان کا یہ ارشاد کہ شب معراج جسم اطہر کو میں نے ٹٹولا تو بستر پر ملا ہرگز قابل قبول نہیں۔ کیونکہ اس معراج کے وقت جنابہ صدیقہؓ کی عمر شریف بقول ملا علی قاری (۳) ماہ اور بہ تحقیق صحیح ایک سال کے اندر ہی تھی۔ جس وقت نہ تو یہ شعور ممکن ہے نہ حضورa کے یہاں ان کا شب گزارنا کیونکہ چھ(۶) سال کی عمر میں ان کا پیغام دیاگیا اور نکاح ہوا اور مدینہ منورہ جاکر ہجرت کے بعد نو(۹) سال کی عمر میں انہوں نے حضورa کے گھر قدم رنجہ فرمایا۔ لہٰذا یقینا یہ واقعہ کسی نے اپنے طور پر خلاف واقعہ بنایاہے۔

امور تنقیح طلب

۱… معراج کا سنہ کیاتھا۔

۲… جنابہ صدیقہؓ کی عمر اس وقت کیا تھی۔

۳… حضورa کے گھر اوّل اوّل کہاں اور کس سنہ میں تشریف لے گئیں اور محرم راز بنیں۔

جواب وثبوت

اوّل کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ تعین سنہ معراج میں چودہ(۱۴) کے قریب قابل لحاظ اقوال ہیں اور کافی اختلاف۔

تفصیل:

۱… قبل نبوت (روایتہٗ شریک)

۲… نبوت کے ۱۵ماہ بعد۔

۳… نبوت کے تین سال بعد، قول ابن اسحاق۔

۴… نبوت کے پانچ سال بعد،قول امام زہری۔

۵… مکہ اور قبائل میں اسلام شائع ہوچکاتھا۔ (ابن اسحاق)

۶… ہجرت سے ۶ ماہ قبل، ۸ماہ، ۱۱ماہ، ۱۲ماہ، ۱۴ماہ، ۱۵ماہ، ۱۷ ماہ، ۱۸ ماہ قبل۔ آٹھ اقول یہ ہیں۔ پس تیرہ(۱۳) تو یہ ہوئے۔ (۱۴) ۳ سال قبل۔

فیصلہ

باوجود اس اختلاف کے مسئلہ کمزور نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جانچنے کا صحیح معیار موجود ہے۔ یہ غلط ہے کہ اختلاف کسی مسئلہ کو کمزور کرتاہے۔ بلکہ اکثر پرکھنے اور پڑتال کا موقع نکل آتاہے اور حق واضح سے واضح تر ہوجاتاہے۔ ورنہ ناقابل التفات اختلاف تووجود باری تعالیٰ، نبوت رسالت، جنت دوزخ، قیامت سب ہی میں ہے۔

پہلی روایت شریک بالکل غیر معتبر ہے۔ خصوصاً ان کایہ فیصلہ کہ معراج پاک آپ کے نبی ہونے سے قبل ہوئی۔

(نووی شرح مسلم ص۹۱)

115

دوسرا اور تیسرا قول بھی روایتہ ودرایتہ نہیں آگے معلوم ہوگا۔ (نیز ملاحظہ ہو نووی ص۱۹ چھٹے قول سے چودہویں تک) علاوہ روایتہ کمزور ہوں اس لئے بھی ناقابل قبول ہیں کہ محدثین میں کسی کو بھی اس امر میں اختلاف نہیں کہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰt نے آپ کے ساتھ نماز پنجگانہ فرض ہونے کے بعد پڑھی ہے اور ان کی وفات ہجرت سے تین بلکہ پانچ سال قبل ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو۔

(نوووی ص۱۹)

پس اب صرف قول سالم رہ جاتے ہیں۔

۱… نبوت کے پانچ سال بعد قول زہری۔

۲… اسلام مکہ اورقبائل میں پھیلنے کے بعد اور دونوں کا ماحاصل ایک ہی ہے۔ کیونکہ تین سال تو تبلیغ کا زیادہ موقع ہی نہ تھا۔ آپ معہ اہل وعیال شعب ابی طالب میں محصور تھے اور آپ کا مکمل بائیکاٹ تھا۔ چوتھے سال سے تبلیغ کافی شروع ہوئی اور پانچویں سال اکثر قبائل میں اسلام پہنچ گیا۔

فیصلہ

امام زہری کے صحیح قول کے موافق معراج نمبر۵ نبوی یعنی نبوت کے پانچ سال بعد ہوئی۔

پیدائش حضرت عائشہؓ

ام المؤمنین حضرت صدیقہؓ کی ولادت ۴نبوی کے بعد یعنی پانچویں سال نبوت کے ہے۔ ملاحظہ ہو (زرقانی بروایۃ طبقات ابن سعد) نیز اس کی تصریح سیرۃ النبی شبلی میں یہی ہے۔ جو خود مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ ہے۔

پس سنہ معراج اور ولادت عائشہ صدیقہؓ ایک ہی یعنی پانچواں سال نبوت ۵نبوی رہا۔ اب عدالت خود ہی غور فرمائے کہ چند ماہ کی بچی جن کا ہنوز کوئی دربار رسالت سے خصوصی تعلق نہیں نہ وہاں شب باشی ہے نہ کچھ سمجھ مگر فرمارہے ہیں کہ معراج کی شب میں نے جسم مبارک کو بستر ہی پر پایا۔ پس یہ قول روایۃ اور درایت کسی طرح بھی درست نہیں۔ لہٰذا فیصلہ یہ رہا کہ تمام صحابہ کا بہ تسلیم مرزا صاحب یہی عقیدہ اور اسی پر اجماع رہا کہ معراج جسمانی یعنی جسم سمیت آسمان پر جانا ہوا۔ اب تواس کے منکر کا کفر بلاشبہ واختلاف ثابت ہوگیا۔

ایک اور گزارش

اگر باوجود ناقابل قبول ہونے کے اس قول کو کوئی تسلیم بھی کرلے توپھر اس معراج جسمانی کے سوا کوئی اور (۳۳) روحانی معراجوں میں ہوگی۔ کیونکہ اس قول وتحقیق کے لائق وہ ہجرت کے بعد ہوئیں۔ اس وقت روحانی معراجیں متعدد ہوئی ہیں۔

حضرت صدیقہؓ کے مقابل ان کے والد بزرگوار کا صحیح فیصلہ

تعجب ہے کہ مرزائی یا دوسرے منکرین معراج ایک موضوع قول چند ماہ کی بچی کا لے کر آڑ پکڑتے اور اسے حجت بناتے ہیں۔ مگر خاندان قریش کے رکن رکین تمام امت سے افضل، صاحب رسول اللہ ﷺ فی الغار جنابہ صدیقہؓ کے والد بزرگوار حضرت صدیق اکبرq کے صاف اور صریح قول کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو درمنثور بحوالہ سابق۔

’’اخرج البزاز وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویۃ والبیہقی فی الدلائل وصححہ عن شداد ابن اوس قلنا یا رسول اللہ کیف اسری بک… الیٰ ان قال ابوبکر یا رسول اللہ این کنت لیلۃ قدر التمستک فی

116

مکانک… الخ!‘‘یعنی شداد ابن اوس سے باسناد صحیح مروی ہے کہ شب معراج کی صبح تذکرہ میں حضرت ابوبکرq نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ یارسول اللہ میں نے آپ کو رات بہت تلاش کیا، مگر حضور(بسترپر) نہ ملے اس پر فرمایا کہ مجھے رات معراج ہوئی… الخ!

(درمنثور ابن کثیرج۶ ص۲۱)

(شفاء قاضی عیاض ص۸۷) پرہے:’’عن ابی بکر بروایۃ شداد بن اوس انہ قال للنبیa لیلۃ اسری بہ طلبتک یا رسول اللہ ﷺ البارحۃ فی مکانک فلم اجدک فاجابہ ان جبرئیل حملہ الی المسجد الاقصیٰ… الخ!‘‘

یعنی صدیق اکبرq نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں نے شب گزشتہ حضورکو حضور کی جگہ پر تلاش کیا۔ آپ موجود نہ تھے۔ ارشاد فرمایا کہ مجھے جبرئیل بیت المقدس اورآسمان پر لے گئے تھے… الخ!‘‘

(شفا شریف ص۸۷)

ملاحظہ فرمائیں اتنی وضاحت ترک کرکے موضوعات کو حجت بنانا بے دینی نہیں تواور کیا ہے۔ یہ فیصلہ صدیق اکبرq۔ مختارمدعاعلیہ بلکہ تمام مرزائیوں کو مسلم ہوناچاہئے۔ کیونکہ صدیق اکبرq نہ صرف قریشی بلکہ مایہ نازقریش اوربعد آنحضرتﷺ سب امت سے افضل ہیں۔

اورقریش کے متعلق ان کے مسلم بزرگ جن کی شان میں مرزا صاحب یوں رطب اللسان ہیں۔ ’’حبی فی اللہ مولوی سید محمداحسن صاحب امروہی مہتمم مصارف ریاست بھوپال۔ مولوی صاحب موصوف اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص ومحبت اور تعلق روحانی رکھتے ہیں۔ ان کی تالیفات کے دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ایک اعلیٰ لیاقت کے آدمی اور علوم عربیہ میں فاضل ہیں۔ بالخصوص علم حدیث میں ان کی نظر بہت محیط اور عمیق معلوم ہوتی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک رسالہ اعلام الناس اس عاجز کی تائید دعویٰ میں بکمال متانت وخوش اسلوبی لکھاہے جس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ لیں گے کہ مولوی صاحب موصوف علوم دینیہ میں کس قدر محقق اور وسیع النظر اور مدقق آدمی ہیں۔ انہوں نے نہایت تحقیق اور خوش بیانی سے اپنے رسالہ میں کئی قسم کے معارف بھر دئیے ہیں۔ ناظرین اس کو ضرور دیکھو۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۸۵، خزائن ج۳ ص۵۲۴،۵۲۵)

فیصلہ مولوی احسن امروہی

’’قریش بالضرور تمام دینیات میں متبوع اور مقتداء ہیں کہ الفضل للمتقدم اور سائر امت مرحومہ ان کے تابع ہے۔ خواہ امت میں کوئی خلیفہ رسول کا ہو یا امام ہو یا مجدد ہو یا مہدی ہو یا مسیح موعود ہو۔‘‘

پس اس صدیقی فیصلہ کے مقابل مرزا صاحب کا قول بھی ناقابل التفات ہے۔ گو وہ بزعم خود مہدی ومسیح موعود کیوں نہ ہوں چہ جائے کہ سید سلیمان ندوی ومولوی ثناء اللہ وسر سید وغیرہ۔

تنقیح نمبردوم

اوپر کی تحقیق میں بحوالہ طبقات ابن سعد وزرقانی گزرچکاکہ حضرت عائشہؓ کی عمر بوقت معراج چندماہ کی تھی۔ مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔

تنقیح نمبرسوم

اوپر ثابت ہوچکا نیز مسلم ہے کہ حضرت صدیقہ کی رخصتی اورحضورa کے گھر آبادی ہجرت کے پہلے سال ہوئی۔ جب کہ ان کی عمر ۹ سال تھی اور جب ہی وہ آپ کی صحیح معنی میں محرم راز ہوئیں (تفصیل کے واسطے طبقات ابن سعد میں حضرت عائشہ کا تذکرہ ملاحظہ ہو)

117

حضرت معاویہؓ کے قول کا جواب

چونکہ مرزا صاحب نے اجماع صحابہ سے صرف حضرت عائشہؓ کو مستثنیٰ کیاتھا اس لئے اس کے جواب میں اتنی تفصیل کی گئی۔ باقی حضرت معاویہؓ کا معراج جسمانی پر عقیدہ ہونا مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ کیونکہ وہ جسم سمیت آسمان پر شب معراج جانے کا عقیدہ بلکہ حصر سے یہی عقیدہ سوائے حضرت عائشہؓ کے سب صحابہ کا نقل کرتے ہیں، بلکہ اجماع صحابہ بتایاہے۔ ملاحظہ ہو۔

(ازالہ اوہام ص۲۸۹، خزائن ج۳ ص۲۴۷،۲۴۸)

پس مرزا صاحب بھی حضرت معاویہؓ کو معراج جسمانی کے معتقدین کی فہرست میں منسلک کرتے ہیں۔ والفضل ماشہدت بہ الاعداء!

لہٰذا بجائے زیادہ تفصیل کے صرف اجمالاً اس قدر عرض ہے کہ اوّل تو یہ ان کا قول قابل اعتبار سندسے ثابت نہیں بلکہ مجروح اور ناقابل اعتبار ہے۔ دوسرے ۵نبوی تک تویہ ایمان نہ لائے تھے۔ بلکہ یہ تو ہجرت کے بہت بعد قریب فتح مکہ تقریباً ۱۴،۱۵سال واقعہ معراج کے بعد ایمان لاتے ہیں۔ پھر ان کی اس وقت کے متعلق شہادت کہ آپ کا جسم شب معراج بستر ہی پر تھا یا غلط یا سنی سنائی بات ہوگی۔ پھر صحیح ماننے پر یہ شہادت اسی معراج کے متعلق ہوسکتی ہے جو (۳۳) روحانی ہیں نہ کہ چونتیسویں جسمانی جیسا کہ یواقیت سے گزرچکاہے۔

شہادت حضرت ابی سفیانؓ

حضرت امیر معاویہؓ کا غیر ثابت شدہ ضعیف اور کمزور بلکہ موضوع قول تو لیا۔ حالانکہ مرزا صاحب کی تصریح کے بھی خلاف تھا۔ مگر ان کے والد بزرگوار کی نہایت صحیح شہادت جوہرقل شہنشاہ روم کے دربار میں باد شاہ کے حضور ی میں کی تھی۔ نظر انداز کردیا یہ کہاں کی دیانت ہے۔

ابن کثیر وغیرہ میں صحیح سند سے موجود ہے کہ ابوسفیانq ہرقل شاہ روم کے روبرو معراج جسمانی کا تذکرہ اس لئے کیا کہ وہ اسے مستبعد سمجھ کر متنفر ہوجائے گا۔ اس کے سرہانے بیت المقدس کا چابی بردار موجود تھا۔ اس نے کہا کہ میں اس کی تصدیق کرتاہوں۔ باد شاہ نے وجہ دریافت کی اس نے عرض کی کہ میں حسب دستور جو وقت اورتاریخ یہ بتارہے ہیں بیت المقدس کو مقفل کرنے لگا تو کواڑ بند نہ ہوئے۔ اعزہ سے مددلی کامیاب نہ ہوا۔ راجوں کو دکھایا معلوم ہوا کہ اس کا ایک پتھر نیچے سرک آیاہے بلا توڑنے دروازہ بند ہی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کھلا چھوڑ کر چلاگیا۔ صبح آیا تو آدمی کے آنے کے نشان تھے اور جس پتھر سے انبیاء سابقین اپنے جانور باندھا کرتے تھے۔ اس میں ایک مزید حلقہ کا اضافہ اور جانور بندھنے کا نشان تھا اور دروازہ بالکل درست، پتھر اپنی جگہ پر تھا جس سے میں نے یقین کیا کہ ضرور نبی آخرالزمان پیدا ہوچکے… الخ!

حسن بصری کے قول کے متعلق

حسن بصری کی طرف بھی انکار معراج جسمانی کی نسبت محض غلط وہ کسی روحانی معراج کا تذکرہ کرتے ہوں گے۔ گو اس قول کی سند بھی ناقابل التفات ہے۔ (شفاء قاضی عیاض ص۸۶) سے حوالہ نقل کرچکا جس میں حضرت حسن بصری کومعراج جسمانی بحالت بیداری میں ماننے والوں سے منسلک کیاہے۔ نیز ایک حدیث بھی ابن جریرq کے واسطے بسند حسن بصری یہاں واضح گزرچکی کہ معراج جسمانی تھا اور اس پر انقطاع کو جو اعتراض تھا، اس کا جواب بھی وہیں دے دیا کہ وہ حسن بصری حضرت علیq اور وہ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ کیونکہ جہاں وہ انقطاع کریں۔ وہاں حضرت علیq مراد ہوں گے۔

(خلاصۃ التہذیب حاشیہ ص۷۷)

118

حضرت حذیفہؓ کی طرف غلط نسبت

حضرت حذیفہ ابن یمانq کی طرف بھی انکار معراج جسمانی کی نسبت صحیح نہیں حضرت حذیفہ کی تصریح اجماع صحابہ کے بھی خلاف ہے۔ نیز اس نقل کی سند ناقابل اعتبارہے۔ کسی معتبر محدث نے تصحیح نہیں کی اور (شفاء قاضی عیاض ص۸۶) پر تصریح ہے کہ حذیفہ ابن یمانq معراج جسمانی بحالت بیداری کے قائل ہیں۔

نتیجہ

تقریر بالا سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ جن بزرگوں کی طرف انکار معراج جسمانی کی نسبت کی ہے۔ اوّلاً صحیح نہیں دوسرے روحانی (۳۳) معراجوں کے متعلق ہے جس میں ہماری گفتگو نہیں اس معراج جسمانی کے متعلق جس میں نماز پنجگانہ فرض ہوئی۔ کسی ایک کا بھی سلف صالحین صحابہ وتابعین سے اختلاف ثابت نہیں اور یہ مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔

لفظ رؤیا کی بحث

بلاوجہ اس آیت: ’’وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الّا فتنۃ للناس‘‘ کے تحت ایک حاشیہ کا اضافہ کرکے لفظ رؤیا کی بحث کا اضافہ کرلیا کہ رؤیا کے معنی خواب کے ہیں۔ پھر شہاب تسہیل البیان، مجمع البحار، حریری وغیرہ کے قطع برید کرکے کچھ حوالے نقل کئے ہیں۔

الجواب: ہمیں اس پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں جب کہ مخصوص اس آیت کے متعلق حضرت ابن عباسq کا فیصلہ موجودہے کہ یہ رؤیا عینی مشاہدہ معراج کاہے نہ روحانی منامی۔

(بخاری باب الاسراء فتح الباری ج۷ ص۱۷)

اورچونکہ ابن عباس علاوہ حبر امۃ اور قرآن کے متعلق تمام امت سے زائد واقف ہوسکے۔ بوجہ اس کے کہ قریشی ہیں۔ ایسے مسلم ہیں کہ ان کے مقابل دوسرے عالم شہاب حریری وغیرہ کی مہدی مسعود اورمسیح موعود کا فیصلہ بھی قابل اعتبار نہیں۔ ملاحظہ ہو۔

(الفرقان مولوی احسن صاحب امروہی ص۸)

پھر یہی تبرعاً صرف ایک حوالہ نہایت ہی مستند لغت سے جس میں معہ محاورہ اہل زبان لیاگیاہے پیش ہے۔

’’قال ابن بری وقد جاء الرؤیا فی الیقظۃ قال الراعی فکبر للرؤیا دہش فؤادہ وبشر نفساً کان قبل یلومہا… الخ!‘‘

(حوالہ لسان العرب ج۱۹ ص۹)

امام لغت ابن بری فرماتے ہیں کہ یقینا رؤیا بیداری کے مشاہدہ پربھی مستعمل ہے اور عرب کے مشہور مستند شاعر جاہلی راعی کا شعر سند میں پیش کیاہے… الخ!

اب یہ نہ صرف مستند ڈکشنری کا حوالہ ہے۔ بلکہ محاورہ عرب اور شعر بھی معتبر شاعر کا پیش ہے جس کوگواہان مدعاعلیہ بھی لغت اور معتبر لغت کہتے ہیں۔ ملاحظہ ہوبیان گواہان مدعاعلیہ وجرح مارچ ۱۹۳۳ء۔

ایک عظیم الشان مغالطہ اوراس کا جواب

علماء اسلام میں کم از کم ایک شخص توایسا ہے جو صوفی اورصاحب حال بھی ہے اور محدث متکلم بھی یعنی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی آپ نے حجتہ اللہ البالغہ میں معراج کی حقیقت ان الفاظ میں لکھی ہے: ’’واسریٰ بہ‘‘ سے لے کر ’’و اللہ اعلم‘‘ تک۔

ترجمہ: آپ کو معراج میں مسجد اقصیٰ پہنچایاگیا پھر سدرۃ المنتہیٰ اور جہاں خدا نے چاہا اور یہ تمام جسم مبارک کے لئے بے داری کی

119

حالت میں ہوا۔ لیکن اس مقام میں جو عالم مثال اور عالم ظاہر کے بیچ میں ہے اور جو دونوں عالموں کے احکام کا جامع ہے۔ اس لئے جسم پر روح کے احکام جاری ہوئے اور روح پر معاملات روحانی جسم کی صورت میں نمایاں ہوئے اور ان واقعات میں سے ہر واقعہ کی ایک تعبیر ظاہرہوئی اور اسی طرح پر واقعات حضرت حزقیل اور موسیٰm کے لئے ظاہر ہوئے تھے اور اولیاء امت کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ خدا کے نزدیک ان کے درجہ کی بلندی مثل اس حالت کے ہوتی ہے جو رؤیا میں ان کو معلوم ہوئی۔ ’’و اللہ اعلم‘‘ کتنا بڑا عظیم الشان مغالطہ اورحضرت شاہ صاحب پر سفید جھوٹ اوربدترین بہتان ہے جو ناواقفی سے نہیں بلکہ دیدہ ودانستہ لگایاگیاہے۔ اگرچہ ترجمہ میں خیانتیں بھی ہیں مگر میں مختارمدعاعلیہ ہی کا پیش کردہ ترجمہ حضرت شاہ صاحب کے دامن قدس کی صفائی کے واسطے پیش کرتاہوں۔

’’آپ کو معراج میں مسجد اقصیٰ پہنچایاگیا۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ اور جہاں خدا نے چاہا اور یہ تمام جسم مبارک کے لئے بیداری کی حالت میں ہوا۔‘‘

عدالت ملاحظہ فرمائے کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کتنے واضح الفاظ میں تصریح فرمارہے ہیں کہ یہ تمام (واقعہ) جسم مبارک کے لئے حالت بیداری میں ہوا نہ کہ کشف وخواب میں۔ پس کس قدر جرأت اور دیدہ دلیری ہے کہ ان کی طرف انکار معراج جسمانی کی نسبت کی جائے اور اتنے عظیم الشان مغالطہ کے بعد مختارمدعاعلیہ کی حیثیت عدالت پر پوشیدہ نہیں۔

’’حضرت شاہ صاحب قدس سرہ العزیز‘‘ لیکن سے و اللہ اعلم تک اپنے مذاق متعلق اس معراج جسمانی کا ایک فلسفہ صوفیانہ اصول پر بیان فرمارہے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ واقعہ عالم ظاہر اور عالم مثال کے درمیان کاہے جو مقام جامع کہلاتاہے۔ جہاں جسم پر ایسی لطافت طاری ہوجاتی ہے کہ اس پر روح کے احکام یعنی سرعۃ، حرکۃ، رفع الیٰ السماء وغیرہ جاری ہوسکتے ہیں۔ اس مقام میں اس جسم لطیف کی حرکت اور سرعۃ اور رفع الیٰ السماء وغیرہ کوئی مستبعد نہیں جس طرح روح کے متعلق یہ امور مستبعد نہیں۔

پھر ان امور کے جوآپ نے معائنہ فرمائے۔ نتائج فلسفیانہ بیان فرماتے ہیں جن کو مختارمدعاعلیہ یا وہ بزرگ جن سے اس نے نقل کیاہے۔ خوش فہمی سے تعبیر خواب سمجھ رہے ہیں۔ بعینہٖ یہی فلسفہ حافظ ابن قیم نے بھی بیان فرمایاہے۔

مولوی ثناء اللہ امرتسری کا حوالہ

مختارمدعاعلیہ نے (تفسیر ثنائی ج۵ ص۲۶) سے دوعبارتیں قطع وبرید کرکے نقل کی ہیں جس کے جواب میں اوّلاً یہ گزارش ہے کہ مولوی ثنا ء اللہ امرتسری مدعیہ یا اس کے فریق یا کسی دیوبندی عالم کے مستند ومسلم نہیں۔ بلکہ سخت اختلاف ہے اور نہ صرف فروعی امور میں بلکہ تقلید جیسے اہم مسئلہ میں یہاں تک اختلاف ہے کہ وہ ائمہ کرام کی تقلید کو شرک قرادیتے ہیں اور سیدنا امام اعظم امام ابوحنیفہ کی شان گرامی میں زبان درازی کرتے ہیں۔ ہمارے ان کے مناظرہ اختلافات اختلافی رسائل تمام پنجاب وہندوستان میں شائع وذائع ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بزرگ مرزائیوں کے مسلم ہوں۔ کیونکہ مرزا صاحب کا وہ مدمقابل تھے اورمرزا صاحب نے ان کے متعلق آخری فیصلہ میں اعلان کیاتھا کہ میرے اور ثناء اللہ میں یہ فیصلہ ہے کہ جھوٹا سچے کے آگے مرجائے گا۔ بہرحال ہم پر ان کا قول حجت نہیں، ان کی ذاتی رائے ہے۔

نیز اگر غور کیاجائے تو وہ بھی یہی فرماتے ہیں: ’’پس ان بزرگوں کے (یعنی شاہ ولی اللہ صاحب) کلام سے جو امر ثابت ہوتاہے خاکسار اسے مانتاہے۔‘‘ باقی آگے اس کی تعبیرات کا درست نہ ہونا یہ ان کی غلطی ہے۔ خود ان کی جماعت اہل حدیث نے اس تفسیر پر سخت تنقید وتبصرہ کیاہے اوراس سے ان کے ایمان میں شبہ کیاہے۔اس تنقیدی رسالہ کانام ’’انکار ثناء اللہ بجمیع اجزء اٰمنت ب اللہ ‘‘ ہے۔ پس جب ان کی جماعت کو وہ تفسیر خود مسلم نہیں تو ہم پر کیا حجت ہوگی۔

120

نیز مولوی ثناء اللہ صاحب کی اس مسئلہ پر سرخی وہیڈنگ وعنوان ملاحظہ ہو: ’’اسراء اورمعراج دو واقعہ الگ الگ ہیں اور یہ دونوں بے داری میں بجسدہ الشریف ہوئے ہیں۔‘‘

پس جب مصنف کا واضح مذہب اس ہیڈنگ سے معلوم ہوگیا تو عبارتیں قطع وبرید کرکے مدّعاکے خلاف نکالناصریح بہتان ہے۔ اصل یہ ہے کہ سر سید اور سلیمان ندوی مولوی ثناء اللہ سے اس کا جواب مرزا صاحب کی طرح نہ بن آیا اور مخالفین کے خوف سے تاویلیں کرنے لگے۔ جیسے کہ مرزا صاحب صاف منکر ہوکر توہین پراتر آئے۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’بہرحال اس تمام بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ سلف صالحین میں سے اکابر صحابہ وائمہ نے معراج کو اس جسم عنصری سے تسلیم نہیں کیا۔

الجواب: یہ محض غلط اور بہتان ہے۔ تفصیلاً جواب عرض کرچکا تمام صحابہ کا اتفاق عمدۃ القاری اور شفاء شریف سے پیش کرچکا۔

چار عادل شاہد اور پیش ہیں۔

۱… ابن کثیر ج۶،ص۴۱۔ ۲… نووی شرح مسلم ج۱،ص۹۱۔

۳… ابن جریر ج۱۵،ص۱۳۔ ۴… زاد المعاد ج۱،ص۲۰۳۔

علامہ عصر حافظ ابن کثیر اور امام نووی محدث اورامام ابن جریر طبری اور حضرت حافظ ابن قیم تصریح فرمارہے ہیں کہ معراج جسم اور روح دونوں سمیت ہوئی اور یہی مذہب تمام سلف صالحین اکابر صحابہ وائمہ متقدمین ومتأخرین کا نقل فرمایاہے جس کے بعد یہ رکیک تاویلات مختارمدعاعلیہ قابل التفات بھی نہیں۔

اورمرزا صاحب بھی سوائے حضرت عائشہؓ کے تمام صحابہ کا متفقہ اجماعی عقیدہ یہی نقل کرتے ہیں کہ معراج جسم سمیت ہوئی۔

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۸۹، خزائن ج۳ ص۲۴۷،۲۴۸)

حوالہ معہ اصل عبارت گزرچکا اور حضرت عائشہؓ کے قول کی بھی حقیقت واضح ہوچکی۔ پھر مختارمدعاعلیہ کا یہ قول مذکورہ بالا محض غلط اوربلادلیل ہے۔

انبیاء سابقین

دیگر انبیاء کی معراج روحانی جو (سیرۃ النبی ج۴ ص۲۷۱،۲۷۲) سے نقل کی وہ بالکل غیر متعلق ہے ہم خود علاوہ ایک معراج جسمانی کے اور آنحضرتﷺ کے واسطے بھی روحانی مانتے ہیں۔

مرزا صاحب کے دوسرے حوالے

حمامۃ البشریٰ وغیرہ سے جو حوالے مرزا صاحب کے گول مول ذوالوجوہ پیش کئے ہیں وہ بے سود ہیں۔ کیونکہ اس میں تو بعد خاتم النّبیین مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے اور دعویٰ نبوت کو کفر اور اپنے کو نبی ماننے والوں کو دجال کہتے ہیں اور پھر یہ سب امور جزو ایمان ہوگئے۔ لہٰذا اس کا کیا اعتبار میں نے تو صریح توہین اورانکار کا حوالہ ازالہ اوہام کا پیش کیاہے جو مختارمدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے۔ جب ہی تو وہ یہ بہتان انکار معراج جسمانی بزرگوں پر باندھ رہاہے۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز اجمیری

قول مختارمدعاعلیہ: ’’حضرت خواجہ معین الدین چشتی فرماتے ہیں:

121
  1. گر چو احمد درشب معراج وصل

    از حرم تاصواب اقصیٰ می روم

  2. از زمین تاسدرہ واز سدرہ بعرش

    بر براق برق آسا می روم

  3. از فلک بگذشت واز انس وملک

    از دنیٰ سوئے تدلیٰ می روم

  4. قاب قوسین است و او ادنیٰ حجاب

    بے حجب تاحق تعالیٰ می روم

(دیوان خواجہ معین الدین چشتی ص۴۵)

  1. نور حق ست آن مجسم گشتہ در ذات نبی

    ہمچو نور ماہ کز خورشید کرد ست اکتساب

  2. نقرہ خنگ چرخ را از مہ کشد زریں لگام

    درشب اسرا چو آرد پائے ہمت در رکاب

  3. سد ما اوحیٰ نگنجد درضمیر جبرئیل

    اسرار لدنی کے کند ام الکتاب

(دیوان معین ص۶، نیز ص۷ بھی ملاحظہ ہو)

  1. گر عروج جان معین بایدت بر نہ فلک

    در رکاب خواجہ لولاک می باید شدن

(دیوان معین ص۵۴)

باوجودیکہ یہ دیوان صرف حضرت خواجہ غریب نواز کی طرف منسوب ہے، ورنہ دراصل یہ ملّا معین الدین کاشفی مصنف معارج النّبوت کا ہے۔ جیسا کہ المعارف میں سید سلیمان ندوی نے اس پر کافی تنقید کی ہے۔ مگر میں اسے تسلیم کرکے جواب پیش کرتاہوں۔

الجواب: اس حوالہ کے نقل میں اگر مختارمدعاعلیہ خیانت وقطع وبرید نہ کرتا تو ہرگزیہ شبہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ بہرحال اس کا پہلا جواب یہ ہے۔

۱… خواجہ غریب نواز ’’ہمہ اوست‘‘ اور وحدۃ الوجود کے صوفی مشرب بزرگ ہیں۔ جس پر اسی دیوان کے مندرجہ ذیل اشعار دلیل ہیں:

  1. کسیکہ عاشق معشوق خویشتن ہمہ اوست

    حریف خلوت وساقی انجمن ہمہ اوست

  2. اگر بدیدہ تحقیق بنگری دانی

    کہ ناظر دل و منظور جان و تن ہمہ اوست

  3. اگر توخرقہ ہستی خویش پارہ کنی

    نظر کنی کہ دریں زیر پیراہن ہمہ اوست

  4. زجام عشق نہ منصور بیخود آمدد بس

    کہ دار نیز ہمی گفت بارسن ہمہ اوست

  5. مگو کہ کثرت اشیاء نقیض وحدت گشت

    تو درحقیقت اشیاء نظر فگن ہمہ اوست

  6. تعب نیست گر از اعتبار ما ومنست

    اعتبار گزر کن کہ ماومن ہمہ اوست

  7. من نمی گویم اناالحق یارمی گوید بگو

    چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو

(دیوان معین ص۱۳و۲۶)

زیادہ تفصیل کے واسطے دلیل العارفین ملاحظہ ہو۔

پس یہ ہمہ اوست اوروحدۃ الوجود کا رنگ جو منکر وبے خودی کاہے۔ اس میں جو بھی زبان پر جاری ہو وہ قابل مواخذہ نہیں جیسا کہ اسی میں دعویٰ انا الحق وغیرہ موجودہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ مختارمدعاعلیہ کے پیش کردہ اشعار دیوان پاک میں ’’قطعہ‘‘ کے ہیڈنگ کے تحت میں مندرج ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ قطعہ وہ اشعار کہلاتے ہیں جو سب مل کر ایک مضمون بنیں۔ اس میں قطع وبرید نہیں ہوسکتی۔ مگر مختارمدعاعلیہ کی خیانت ملاحظہ ہوکہ اس کا صرف آخری شعر باوجود قطعہ ہونے کے حذف کردیا اور باقی پیش کیا تاکہ مغالطہ دے سکے۔ حالانکہ وہ شعراصل معاملہ پر نہایت صفائی

122

سے روشنی ڈال رہاہے کہ یہ تمام کلمات عالم بے خودی کے ہیں۔ اصل کتاب ملاحظہ عدالت کے لئے پیش ہے تاکہ اصل بے ایمانی کا پتہ چل جائے۔ وہ شعر یہ ہے:

  1. من نمے دانم دریں بحر عمیق

    نشستہ ام استادہ ام یا میروم

کس قدر مدہوشی کی تصریح ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ یہ عالم بے خودی پرہے جس پر کوئی گرفت نہیں ہوسکتی اورمرزا صاحب وحدۃ الوجود وغیرہ کے خلاف ہیں۔ جیسا کہ گزرچکاہے۔ دوسرے شعر میں فرمارہے ہیں جس پر کوئی اعتراض ہی نہیں۔ عالم صحو وہوش میں معراج پاک کے متعلق یہ ارشاد ہے۔

قول مختارمدعاعلیہ:

’’تیسری بات کہ کیا مرزا صاحب نے آنحضرتﷺ کی معراج کی طرح کوئی معراجوں کا اپنے لئے دعویٰ کیاہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے اپنی کسی کتاب میں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے آنحضرتﷺ کی طرح معراج ہوئی اور جس عبارت سے غلط استدلال کرکے مختار مدعیہ نے مرزا صاحب پر یہ افتراء کیاہے۔ سیر معراج اس جسم کثیف (عنصری خاکی۔ شمس) … تا… مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔ (ازالہ اوہام حاشیہ ص۴۸، خزائن ج۳ ص۱۲۶) مختارمدعیہ نے اس حوالہ کو ایسے طریق پر پیش کیاہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ مرزا صاحب اپنے کشفوں کے مقابلہ پر معراج کو استخفاف کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ مختارمدعیہ کا دیدہ ودانستہ عدالت کو مغالطہ دینے کی کوشش کرناہے… الخ!‘‘

الجواب: یقینا معراج کو ایک کشف بنا کر اسی قسم کے کشفوں میں اپنے کو صاحب تجربہ کہنا مختار مدعاعلیہ کے نزدیک توہین نہ ہو۔ مسلمانوں کے نزدیک تو ناقابل برداشت توہین اور شرک فی الرسالت ہے جو صریح محمد رسول اللہ کے اقرار کے منافی ہے۔

مرزائیوں کے نزدیک تو کھلی ہوئی تنقیص وتشبہ بھی توہین نہیں۔ مرزائیوں کے ایک مشہور بزرگ ان کے آرگن رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان کے ایڈیٹر قاضی محمدظہور الدین صاحب اکمل فرماتے ہیں:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور بڑھ کر پہلے سے ہیں اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار البدرقادیان مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء ص۱۴)

پھر مختارمدعاعلیہ نے اس ازالہ اوہام کی بھی متنازعہ عبارت کی تاویل کی ہے اور حاشیہ میں اپنی طرف سے ذاتی وصفاتی کی تقسیم اورذاتی تشبیہ کی شرط لگاگئے۔ پھر آگے فرماتے ہیں اور مرزا صاحب کے اس قول کہ: ’’اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۴۸، خزائن ج۳ ص۱۲۶حاشیہ) یہ مراد نہیں کہ آپ کو ایسے ہی معراج ہوئی جیسے آنحضرتﷺ کو… الخ!

مطلب بالکل واضح ہے تاویل محض بے کارہے۔ عدالت اصل عبارت مکرر ملاحظہ فرمالیں کہ: ’’سیر معراج جسم کثیف کے ساتھ نہ تھا، بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کا کشف تھا… اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔‘‘ اوراس میں صرف کیا تاویل کریں گے مرزا صاحب تو اپنے آپ کو تمام صفات میں ان کا ظل اوربروز بتاتے ہیں اور العود احمد کے اصول پرپہلے سے بڑھ کر۔ جیسا کہ خطبہ الہامیہ وحقیقت النبوت کے حوالے سے آگے اپنے محل پر آئے گا جس میں مدلل اپنے کو آنحضرتﷺ سے افضل ثابت کیاہے۔ پھر مختار مدعاعلیہ نے کشف وبے داری کی تاویل اوراجلیٰ اور اصفیٰ کی بحث شروع کردی۔ مگر عالی جاہ! جو بھی سہی جسمانی نہ سہی کشفی اجلیٰ ہویا اصفیٰ واخفیٰ ہمارا اعتراض تو دراصل ’’اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے‘‘ پرہے جو بدستور شرک فی الرسالۃ کی بیّن دلیل لاجواب موجودہے جس کے ہوتے ہوئے۔ کلمہ کے دوسرے حصہ محمدرسول اللہ پر ایمان قیامت تک نصیب نہیں ہوسکتا۔

123

کیامعراج جسمانی کا منکر کافرہے

’’واجمعنا ان من انکر المعراج الی بیت المقدس یصیر کافراً ثم ہٰہنا ثلٰثۃ اشیاء الاسراء والمعراج والاعرج فاما الاسرآء من مکۃ الی بیت المقدس فہٰذا مما لاینکرہ المعتزلۃ ومن انکر یصیر کافراً لان ہذ ا ثبت بالنص… الخ!‘‘

(تمہید ابوالشکور ص۱۳)

یعنی ہم تمام اہل سنت کا اجماع ہے کہ جس نے معراج جسمانی کابیت المقدس تک کا انکارکیا وہ ضرور کافر ہوجائے گا۔ پھر یہاں تین امور ہیں۔ اسراء، معراج، اعرج، اسراء جومکہ سے بیت المقدس تک ہے۔ اس کا انکار تو معتزلہ بھی نہیں کرتے اور جو انکار کرے گا، کافر ہوگا۔ کیونکہ آیت قرآنی سے نصاً وصراحۃً ثابت ہے۔

۲… ’’وفی کتاب الخلاصۃ من انکر المعراج ینظر ان انکر المعراج فہو کافر… الخ!‘‘

(شرح فقہ اکبر ملاعلی قاری مطبع احمدی شاہدرہ)

تقریباً مضمون سابق کی طرح منکر معراج جسمانی پر کفر کا فتویٰ خلاصہ سے نقل کرکے اس پر دلائل پیش کئے ہیں۔ پس دو شاہد عادل امام شہادت کے لئے کافی ہیں:

  1. طوفان نوح لانے سے اے چشم فائدہ

    دو اشک بھی بہت ہیں جو کچھ فائدہ کریں

گو مسئلہ ایک حد تک اجمالی رنگ میں آچکا۔ مگر مختارمدعاعلیہ نے ایک فقرہ اورلگادیا کہ: ’’اور اگر معراج کے واقعات پر بھی غور کیاجائے۔ تو صاف ظاہر ہوتاہے کہ یہ عالم اعیان کاواقعہ نہیں ہوسکتا۔‘‘

الجواب: معراج پاک میں حضورa کا جسم شریف کے ساتھ بیت اللہ شریف سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں پر ہوتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ اورپھر عرش اورلامکان تک پہنچنا۔ مختارمدعاعلیہ کے نزدیک خلاف واقعہ ہے۔ اس کے نزدیک ہو ہی نہیں سکتا کہ سوائے کشف یا خواب کے عالم اعیان میں جسم کے ساتھ یہ واقعہ ہو۔

مگر مرزا صاحب کا ابن مریم بننے کے واسطے پہلے مریم کے رنگ میں پیدا ہوناپھر حاملہ ہونا پھر درد زہ کی شدت سے نو ماہ بعد تنے کھجور کے نیچے جانا اور پھر اپنے سے خود ہی پیدا ہوجانا اوریوں ان کا مریم اورابن مریم دونوں بن جانا قرین قیاس اورعقل سلیم کے بالکل مطابق ہے۔

(ملاحظہ ہو حقیقت الوحی نظم ص۳۳۹، خزائن ج۲۲ ص۳۵۲)

  1. آنکہ گوئد ابن مریم چوں شدی

    ہست او غافل زر از ایزدی

  2. آں خدائے قادر و رب العباد

    در براہین نام من مریم نہاد

  3. مدتے بودم برنگ مریمی

    دست نادادہ بہ پیران زمی

  4. ہمچو بکرمے یافتم نشو و نما

    از رفیق راہ حق ناآشنا

  5. بعد ازاں آن قادر و رب مجید

    روح عیسیٰ اندران مریم دمید

  6. پس بہ نفخش رنگ دیگر شد عیان

    از زان مریم مسیح ایں زمان

  7. زیں سبب شد ابن مریم نام من

    زانکہ مریم بود اول گام من

  8. بعد ازاں از نفخ حق عیسیٰ شدم

    شد زجائے مریمی برتر قدم

124
  1. ایں ہمہ گفت است رب العالمین

    گرنمیدانی براہین را بہ بین

  2. حکمت حق راز ہا دارد بسے

    نکتۂ مستورکم فہمد کسے

خیر ہمیں ان کے ذاتی عقائد سے اس وقت سروکارنہیں۔

معراج کے متعلق عقلی طور پر قابل غور امور

(۱)سرعتہ حرکتہ۔ (۲)ارتفاع جسم خاکی۔ (۳)کرہ نار وزمہریر یا زہریلی ہوا کا حائل ہونا۔ (۴)آسمان میں شگاف وخرق التیام کیونکر ہوسکتا ہے۔ (۵)شق صدر۔ (۶)رؤیت باری۔ (۷)رؤیت انبیاء۔ (۸)رؤیت جنت و دوزخ وغیرہ، تفصیل تو اس موقع پر ناممکن ہے۔ اجمالاً گزارش ہے کہ ان میں سے کوئی بھی امر ایسا نہیں کہ عقل سلیم کو اس کے باور کرنے میں تأمل ہو۔ بلکہ میں تو مذہب اسلام اور ان کے تمامی جزئیات کو بتصریح قرآنی فطرۃ اللہ اورعقل کے مطابق سمجھتاہوں۔ مگر فطری ہونے کے یہ معنی نہیں کہ انہیں صرف عقل سے ثابت کیا جاوے۔ ثابت تو وہ نقل ہی سے ہوں گے۔ البتہ سمجھے عقل سے جائیں گے اورعقل بھی ’’سلیم‘‘ کیونکہ ایک تو عقل فطری ہے اور ایک مخصوص ماحول سے متأثر سوسائٹی شرائع اوراحکام عقل فطری کے مطابق ہیں نہ سوسائٹی کے جس کا فرق واضح ہے۔ مثال سے واضح ہو۔

ایک بدوی کی عقل یہ ہے کہ: ’’البعیرۃ تدل علی البعیر والاثار علی المسیر… الخ!‘‘ کہ ایک مینگنی اونٹ کا اور قدم کے نشان قافلہ کا پتہ دیتے ہیں۔ پس یہ زمین وآسمان وغیرہ ایک علیم وخبیر کا پتہ کیوں نہ دیں گے اور ایک دہری کہتاہے کہ: ’’ان ہی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحییٰ وما یہلکنا الا الدہر‘‘ کہ خدا کئی نہیں۔ سب دہر وزمانہ وگردش زمانہ کے کرشمہ ہیں۔

اب گزارش یہ ہے کہ ایک کسی شئے کا امکان یعنی ہو سکتاہے اور ایک وقوع یعنی در حقیقت ہوئی بھی یانہ۔ عقلی دلیل تو صرف ہوسکنے پر قائم ہوسکتی ہے۔ باقی یہ امر کہ ہوتے بھی یا نہ صرف روایۃ اورنقل سے مل سکے گی۔

نمبروار مرتب اجمالی جواب

۱… ’’سرعتہ وحرکتہ‘‘ اس کے امکان میں کہ آن کی آن میں حضورa کا جسم مبارک فرش خاکی سے عرش تک کیونکر پہنچا۔ نہ فلسفہ قدیم یونان کی بناپر کوئی اشکال ہے اور نہ جدید سائنس کے اصول پر۔

فلسفہ قدیم یونانی

کیونکہ فلسفہ قدیم میں یہ امر مسلم ہے کہ جتنی دیر میں آفتاب کی ٹکیہ جرم شمس بتمامہٖ طلوع ہوتاہے۔ (جو چندمنٹ اور دقیقہ کا وقت ہے) اتنی دیر میں فلک الافلاک فلک اعظم جو اعظم ترین مخلوقات سے ہے۔ پانچ لاکھ پندرہ ہزار چھ سو(۵۱۵۶۰۰) فرسخ مسافت قطع کرتاہے جس کے (۱۵۵۸۸۰۰) پندرہ لاکھ اٹھاون ہزار آٹھ سو میل ہوئے۔ (روح المعانی ج۴ ص۴۷۱) پس اتنے بڑے تمام مخلوق سے وزنی جسم کی اس قدر سرعتہ حرکتہ مستبعد نہ ہو اور سید الاوّلین محبوب رب العالمینa کے جسم لطیف کو کثیف بنا کر سرعتہ حرکتہ کے استبعاد پر معراج جسمانی کو ناممکن اورکشف کہا جائے: بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوا لعجبیت

فلسفہ جدید اور سائنس

فلاسفہ جدید اور سائنس دانوں میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ ایک ساعتہ میں برق بجلی زمین کے گرد پانچ سو(۵۰۰) سو مرتبہ چکر لگا کے اپنی اصلی جگہ پر پہنچ جاتی ہے۔ پھر برق سوار کے متعلق کیا استبعاد ہے۔ مولانا گرامی فرماتے ہیں:

125
  1. قضا گیرد قدر گیرد ازل گیرد ابد گیرد

    رکا بش راعنا نش راعفانش را رکابش را

  2. سوار برق شد ماہے فلک آمد عناں گیرش

    رکابش بوسہ پازد ملک بوسہ رکابش را

یہ توان کے واسطے دو مثالیں اختصارً پیش کردیں جو عقلی دلیل کے دلدادہ ہیں باقی خدا پرستوں اورموحدین کے واسطے قرآن پاک کی صرف ایک آیت کافی ہے۔

’’قال الذی عندہ علم من الکتاب انا اٰتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راۂ مستقراً عندہ قال ہذا من فضل ربی لیبلونی اشکر ام اکفر ومن شکر فانما یشکرلنفسہ ومن کفر فان ربی غنی کریم (النمل:۶۰)‘‘

ملکہ بلقیس کے تخت منگانے کی سیدنا سلیمانm نے ضرورت محسوس فرمائی تو ایک جن نے دربار کے برخاست ہونے کا وقت نصف دن مانگا۔ مگر ان کے وزیر آصف ابن برخیا جنہیں خدا تعالیٰ کی کتاب کا علم تھا فرمایا کہ میں طرفتہ العین میں لاتاہوں اور پلک مارتے ہی وہ عظیم الشان تخت اقصاء میں سے ہزار ہا میل کی مسافت پر اقصائے شام میں لاپیش کردیا۔ ’’فسبحان اللہ ما اعظم شانہ ونور برہانہ‘‘ پس ایک خدا کا ادنیٰ بندہ تو صرف اس کانام لے کر یہ کر سکے اورمستبعد نہ ہومگر خود قدرت والا خدا کرے تو عقل میں نہ آئے۔ فوا عجباہ!

ارتفاع جسم خاکی

قمری حرکتہ کے فلاسفہ قدیم بھی قائل ہیں اور آج بھی مشاہدہ اور سائنس دان بلکہ اب تو کسی ہندوستانی کے واسطے بھی جائے تعجب نہیں۔ ہوائی جہاز خصوصاً وہ آر نمبر۱۰۱ جو تباہ ہوگیا۔ سترآدمیوں معہ ان کے ضروریات زمین سے اس قدر بلند صرف آگ پانی یا پٹرول کی اسٹیم سے ایک عاجز انسان لے جاسکے اور جسم خاکی بلکہ اجسام خاکیہ مرتفع کر دکھائے۔ مگر خدائے قادر وتوانا اپنی لازوال اوربے مثال قدرت کے کرشمہ سے اپنے حبیب پاک کے جسم لطیف کو زمین سے بلند نہ کرسکے اور اگر کوئی قائل ہوا تو مدعیان عقل اس پر تمسخر اڑائیں:

بریں عقل ودانش بباید گریست

اورہم مسلمانوں کے واسطے نہ جدید فلسفہ کی ضرورت، نہ قدیم کی، صرف قرآن پاک کی ایک آیت کافی ہے: ’’ولسلیمان الریح غدوہا شہر ورواحہا شہر (سبا:۱۲)‘‘ کہ حضرت سلیمان کے تابع ہوا کر دی تھی۔ ان کا تخت ہوا پر صبح کے قلیل ترین لمحہ میں ایک ماہ کی مسافت اورشام کے ٹائم میں ایک ماہ کی مسافت طے کرلیا کرتے تھے۔

کرّہ ناریہ یا زمہریہ یازہریلی ہوا کا حائل ہونا

۱… کون عقل مند نہیں جانتا کہ آگ کا جلنا، ٹھنڈک کا ضرر رسان ہونا ایک مخصوص وقت تک جسم کے اس میں رہنے پر منحصر ہے۔ ورنہ تنور میں باورچی روزانہ ہاتھ ڈالتاہے اور نکالتاہے مگر جلتا نہیں۔ پس مذکورہ بالا سرعتہ پر ضرر ناممکن ہے۔

۲… طب قدیم اورجدید میں ایسی دوائیں اورلباس ایجاد ہوچکے ہیں جن پر آگ اور سردی بلکہ بندوق کی گولی تک اثر نہیں کرتی۔ سروے کے ملازم ایک مخصوص لباس پہن کر برف کے پہاڑوں کی پیمائش کو وہاں تک جاتے ہیں جہاں آگ ٹھہر ہی نہیں سکتی۔ پس انسانی دوا اور لباس وایجاد توان حضرات کو روک لے مگر وہ جنت کا پانی جو خدا نے شب معراج غسل کو بھیجا اور وہ حلّہ نورانی جو زیب تن فرمانے کو جبرئیلm لائے تھے۔ اگر کرّہ نار اور زہریلی ہواؤں سے بچالیاگیا تو استعجاب کیاہے۔

۳… آگ کا کام جلانا اور ٹھنڈک زمہریر کا دکھ دینا ضرورہے۔ مگر یہ خاصیت ان کی اپنی خانہ زاد نہیں، بلکہ خداداد ہیں۔ پس جس طرح خزانہ شاہی کا پہریدار، سنتری خزانہ کی طرف رخ کرنے والے کو روکتاہے اور اصرار پر گولی کا نشانہ ضرور اورہمیشہ بناتاہے۔ مگر شاہی فرمان

126

یا شہنشاہ، وزیر اگر کسی کے ساتھ ہو توبجائے گولی کے نشانے کے آداب شاہی بجالاتاہے۔ پس اگر کسی کے پاس فرمان: ’’یا نارکونی برداً وسلاماً علی ابراہیم (الانبیاء:۶۹)‘‘اور کسی کے ہمراہ جبرئیل: ’’شدید القویٰ ذومرۃ (النجم:۶۵)‘‘ اور پروانہ راہ داری ہو اور آگ نہ جلائے یا سردی نہ ستائے، بلکہ وہ آرام مہیا کردے۔ اس پر تعجب کیاہے۔

اور ہم مسلمانوں کے واسطے آدم وحواء کا بنص قرآن اوپر سے اترنا صحف ابراہیم وموسیٰ کا صحیح وسالم کتابی رنگ میں آنا حضرت عیسیٰm پر مائدہ دسترخوان اترنا کافی ہے۔

آسمان کابیٹھنا اورجڑنا

قدیم فلاسفہ کے پاس سوائے اٹکل کے ایک بھی دلیل نہیں اور وہ اٹکل بھی ان کے پاس فرض طبع زاد تخییلی آسمان میں تو شاید نافذ ہو۔ اس خدائی آسمان سے بالکل الگ ہے اور سائنس نے تو آسمان کے وجود ہی سے انکار کردیاہے اورحد نظر کانام بتاتی ہے۔ ہمارے واسطے یہی کافی ہے۔ لم یفتح لہم الابواب السماء! کہ آسمان کے دروازے ہیں کھلتے اور بند ہوتے رہتے ہیں۔ آسمان بنانے والے کی رائے اور فیصلہ یہ کہ ہم نے دروازے اس میں رکھے نہیں اورعقلاء کی سمجھ میں بھی نہیں آتے اس کا کیا علاج؟

شق صدر

آج اس پر دلیل کی ضرورت ہی نہیں جب کہ فن جراحی کے محیر العقول کرشمے موجود ہیں، تنگی وقت ہے۔ مثالیں نہیں دیتا اور ہمارے لئے ایک آیت کافی ہے:’’انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون (یٰسین:۸۲)‘‘

جنت ودوزخ

دنیا میں اصول مسلم ہے کہ ہر مرکب کے مفردات کا علیحدہ گدام ہوتاہے اورایک شخص مرکب یا کسی معجون کو دیکھ کر سمجھ لیتاہے کہ علیحدہ علیحدہ اس کے اجزاء اپنی اپنی جگہ ضرور موجود ہیں۔ انسان کو اربعہ عناصر سے مرکب پاکر یہ فیصلہ دشوار نہیں کہ کائنات عالم میں کرّہ نار، کرّہ ہوا، کرّہ آب، کرّہ خاک علیحدہ علیحدہ بھی موجود ہیں۔

پس جب کہ دنیا اوراس محسوس عالم اور مخصوص دار میں رنج اورخوشی خارو گل اورسکھ اور دکھ، تندرستی وبیماری ساتھ ساتھ ہیں تو عقلاً کوئی ایسی جگہ ضرور ہونی چاہئے جہاں صرف پھول ہی پھول ہوں۔ خار کا پتہ نہ ہو، صرف تندرستی ہو اور مرض کا وجود نہ ہو۔ صرف خوشی آرام سکھ ہو، رنج تکلیف دکھ کا پتہ نہ ہو۔

اورایک جگہ اور مکان ایسا ہی ہوناچاہئے، جہاں صرف خار ہوں گل ناپید ہوں۔ صرف غم وتکلیف وبیماری ہو اور خوشی وآرام وتندرستی کا فقدان ہو۔ اوّل کانام اسلامی اصطلاح میں جنت، دوسرے کانام دوزخ ہے۔

ایک سوال اور اس کا جواب

اب کوئی سوال کرے کہ دکھاؤ کہاں ہیں پتہ دو، تو اس سے میں پوچھوں گا کہ یہ ہندوستان کا نقشہ ہے۔ اس میں مکہ، مدینہ، بغداد، کربلائے معلی، لندن، امریکہ، جاپان دکھاؤ۔ اگر یہ جواب ہوکہ وہ اس محدود نقشہ ہندوستان میں کہاں ملیں گے۔ وہ تو تمام دنیا کے نقشہ میں ہیں۔ سارے ربع مسکون کا نقشہ لاؤ دکھادیں گے۔ پس یہی گزارش میری بھی ہے کہ وہ آپ کے دنیوی نقشہ میں نہیں۔ بلکہ خدائی نقشہ میں ہیں۔ ساری خدائی کا نقشہ جبرئیل کی لائبریری سے لاؤ جنت دوزخ ان شاء اللہ انگلی رکھ کر بتادیں گے۔

127

ملائک وشیاطین

خدا نے دلائل کا ایک اصول سکھایاہے کہ: ’’وفی انفسکم افلا تبصرون‘‘ اپنے ہی نفسوں میں دلائل سو چو ایسے زریں اصول پر گزارش ہے کہ ہمارے اندر شرکی صلاحیت ہے اور خیر کی بھی، بھلائی اور نیکو کاری کی اور برائی اوربدکاری کی بھی۔ پس مذکورہ سابق اصول پر ایک مخلوق بھی ایسی ہونی ضروری ہے۔ جس میں صلاحیت صرف خیر اور بھلائی اور نیکو کاری کی ہو شر اوربرائی اور بدکاری ان سے سرزد نہ ہوسکے اورا یک ان کے برعکس مخلوق ہونی، اسی طرح ضروری ہے۔ اوّل کو ملک فرشتہ اور دوسرے کو شیاطین کہتے ہیں۔ باقی ہمارے واسطے قرآنی تصریحات جنت ودوزخ جن وانس ملک وشیاطین کافی ہیں۔ قرآن پاک کا مطالعہ فرمادیں۔ ’’فیہ تبیان لکل شیٔ‘‘ سب کچھ اس میں ہے۔

ایک اعتراض کا جواب

سوال یہ ہوگا کہ ہمیں دکھاؤ، میں عرض کروں گا کہ پانی اور ہوا کے جراثیم محسوسہ دکھا دو (جواب یہ ملے گا یہ جب تک امریکہ کا بناہوامخصوص پاور کے لینس کا چشمہ استعمال نہ کروگے۔ اسے نہ دیکھ سکو گے) پس گزارش یہ ہے کہ جن، ملک، شیاطین جب تک مخصوص پاور کا بنایا ہوا مدنی چشمہ صحابہ کرامi، اہل بیت عظامi، ائمہ دین، سید شاہ عبدالقادر جیلانی، خواجہ غریب نواز کے کار خانے سے حاصل کرکے نہ استعمال فرمائیں گے، انہیں مشاہدہ نہیں کرسکتے۔

اورہمارا ایمان تو مشاہدہ سے زیادہ ان کے خالق اوراس کے حبیبa کی شہادت پر ہے۔ ’’لوکشف الغناء لما ازددنا یقینا‘‘ مشاہدہ پر کوئی اضافہ نہ ہوگا۔ (رویت باری تعالیٰ)

یہ مسئلہ بہت ہی طویل ہے اور اختصار ناممکن ہے۔ اس لئے صرف کتاب (یواقیت والجواہر ج۱ ص۱۱۹، مبحث۲۲) کا حوالہ کافی سمجھتاہوں جو گواہ مدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے:

  1. کلام سرمدی بے نقل بشیند

    خداوند جہانرا بے جہت دید

رویت انبیاء

اوّلاً تو انبیاء کرام کے جسم محفوظ رہتے ہیں:’’قال النّبیa ان ﷲ حرم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیاء‘‘ (دارقطنی وغیرہ) کہ اللہ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کا کھانا حرام کردیا ہے۔ پس جسم کو دیکھنا کیامحال۔ نیز آج مسمریزم کی معمولی پریکٹس ہے تو انسان ارواح کو دیکھ لے اور ہم کلام ہوسکے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے مراقبہ کا یہ بھی اثر نہ ہو کہ انبیاء کی رویت وہم کلامی ہوجائے۔ نیز جب کہ وہ ذات گرامی باوجود انتہائی لطافت کے ملائک کو دیکھتے اور فرش خاک سے عرش پاک کا جلوہ دیکھتے ہوں۔ انبیاء کی ملاقات رویۃ میں کیا استبعادہے۔

دنیا میں مشاہدہ کہ کسی شہنشاہ کا کوئی معزز مہمان آئے تو اس کی تمام حکومت اور تمام عاملوں، تمام کارخانوں ومحکموں میں یک دم تعطیل کردی جاتی ہے تاکہ اس کا اکرام سب پر ہویدا ہوجائے۔ کاٹنے والی مشین نہیں کاٹتی۔ چلنے والی نہیں چلتی۔ پیسنے والی نہیں پیستی۔ جو کام پورا اور ادھورا جس جگہ ہو وہیں بند ہوجاتاہے اور تعطیل ختم ہونے پر وہیں سے یک دم شروع ہوجائے گا۔

باری تعالیٰ جیسا شہنشاہ مطلق اور سید الاوّلین والآخرین خاتم النّبیین جیسا حبیب پاک صاحب لولاکa معزز مہمان اگر تمام کارخانہ عالم یکدم تعطیل کرکے بند کردیاجائے۔ نہ آگ جلائے، نہ سردی ستائے، نہ ہوا رکے، نہ آسمان اور زمین یا چاند سورج، دن ورات، ساعات ولمحات زمانہ حرکت کریں تو کیا تعجب نہ توکوئی وقت لگناچاہئے، نہ کوئی گزند پہنچے گا۔ امکان ہے نہ کوئی اعتراض، مگر اللہ

128

بصیرت نہ دے۔ اس کا کیا علاج:

  1. تہی دستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل

    کہ خضر از آب حیوان تشنہ مے آرد سکندر را

نفس مسئلہ معراج پر ایک کلی عقلی دلیل

انسان کے دو جزو ہیں ایک جسم جس کی ترکیب اجزاء عنصریہ سے ہے اورجس کی بقاء بھی عنصری اشیاء سے متعلق ہے۔ دوسرا جزو روح ہے جس کی حقیقت سمجھنا تو دشوار ہے۔ ’’قل الروح من امر ربی‘‘ وہ مولیٰ کا ایک حکم ہے جس کا ہمیں کما حقہ علم نہیں۔ مگر اتنا مشاہدہ ہے کہ انسانی اعضاء کی شکم مادر میں تکمیل کے بعد ایک برقی طاقت اس کے اندر آکر اسے متحرک کردیتی ہے اوروہ زندہ کہلانے لگتاہے۔ اسی برقی اثر کا نام روح ہے۔ یہ ہے تو انسان زندہ ہے،ورنہ مردہ۔ تمام انسانی افعال کا منبع یہی روح ہے۔ یہ خارج ہوجائے توانسان بے کار مردہ سپرد زمین کے لائق بن جاتاہے۔ پس انسان دراصل روح ہے اورجسم اس کا ایک آلہ ہے۔ جیسے حرکت بظاہر تو انجن کرتاہے، مگرمحرک اسٹیم ہے۔ بلااسٹیم انجن ایک انچ حرکت نہیں کرسکتا اور اسٹیم سے ہی کام کرتاہے۔ اسی اسٹیم کا پاور جب زیادہ ہوجاتاہے تومسلم انجن لکڑی اور دھات کافی بوجھ اورکتنے انسانوں کو اٹھا کر ہوا پر اڑتاہوا نظر آتاہے۔

اسی طرح انسانی روحانیت کا سٹیم جب زیادہ تیز اور طاقت ور ہوجاتاہے۔’’یکاد زیتہا یضیء ولولم تمسسہ نارنور علی نور (النور:۳۵)‘‘ تو انسان کو اٹھا کر آسمان پر لے اڑتاہے جس چیز کو انسان جیسا عاجز وبے بس اپنی ناقص عقل اورمحدود فہم سے ایک محدود حد تک لے جاسکتاہے۔ اللہ تعالیٰ قادر وتوانا اپنی نامحدود قدرت اور لفظ کن کو کام میں لا کرغیر محدود جگہ تک پہنچا سکتاہے۔

جب انسان مثلاً لوہا لکڑی آدمی دومیل اڑالے جاتاہے تو کیا خدا کی قدرت میں دو کروڑ دوسنکھ دو ارب اور ’’وماقدرو اللہ حق قدرہ (الزمر:۶۷)‘‘ غیر متناہی مسافت پر لے جاتانہیں:

  1. اے برتر از خیال و قیاس و گمان وہم

    و از ہرچہ گفتہ اندشنیدیم و خواندہ ایم

  2. دفتر تمام گشت و بپایاں رسید عمر

    ما ہم چناں در اوّل وصف توماندہ ایم

وقوع پر دلیل شہادت

امکان یعنی ہو سکنا تو بحمد اللہ ثابت ہوگیا۔ صرف یہ باقی رہا کہ ہوا بھی یا نہ۔ اس کے واسطے معتبر وعینی شہادت پیش ہے۔ کیونکہ وقوع پر سوائے شہادت کے کوئی عقلی دلیل ہی ناممکن ہے۔

خدا کی شہادت اللہ شہید بینی وبینکم

سفر معراج کی تین منزلیں ہیں۔

۱… بیت اللہ الحرام مکہ سے بیت المقدس شام تک۔

۲… مسجد اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک۔

۳… سدرۃ المنتہیٰ سے لامکان اورتقرب خاص تک۔

خلاصہ جواب

پس جو شخص اپنے اندر الوہیۃ بتاتاہو اور خواہ الہ بنے، حالانکہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ جرح ۷؍مارچ میں تسلیم کرچکاہے کہ خدا کے سوا کسی میں الوہیۃ نہیں پائی جاسکتی اور یہ کہے کہ خدا نے مجھے یہ کہا کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے اور خدا ئے پاک کے نہ صرف بے شمار ہاتھ و پاؤں

129

بلکہ کھلے ہوئے مصرح لفظوں میں باری تعالیٰ میں طول وعرض کا قائل ہو اور بڑے فخرو بیاں سے یہ کہے کہ خدا کو میرا نام لینے سے شرم دامن گیر ہوئی اور شرم کے غلبہ نے میرا نام زبان پر لانے سے اس کو روک دیا جس کے خلیفہ یہ اعلان فرمائیں کہ مرزا صاحب کے آنے قبل خدا (عیاذب اللہ ) ناکام اسی طرح خاموش بیٹھا رہا۔ جیسا کہ صیاد جال بچھا کر بیٹھارہتاہے جوخدا پر یہ بہتان عظیم باندھے کہ اس نے مجھے فرمایا کہ تیرا کام پورا ہوگا اور میرا پورا نہ ہوگا جو خدا کا اپنی طرف سے نیانام خلاف شرع عاج تجویز کرکے شرک فی الاسلام کا مرتکب ہو۔ اپنے کو خدا کی توحید وتفرید کی طرح اس سے مقرب سمجھتاہو۔ خدا کے امر کا جو ’’انما امرہٗ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون (یٰسین:۸۲)‘‘ میں ہے شریک وسہیم ہو اور اپنے لئے خدا پریہ بہتان بادندھے کہ اس نے مجھے فرمایا کہ: ’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘ کہ اے مرزا صاحب آپ کا امر اس کے سواء نہیں کہ جب کبھی بھی آپ کسی چیز کا ارادہ کریں اور کن کہیں وہ ساتھ ہی فی الفور ہوجائے۔ جو اپنے کو یوں کہے کہ گویا یہ بیٹا کیا خدا ہو بہوآسمان سے اتر آیا۔جواپنی پیش گوئیوں پر کشفی حالت میں خدا سے دستخط کرائے اور زائد روشنائی چھڑکے جو عالم محسوس میں اس کے کرتے اور ٹوپی پر نمودار ہو اور پھر اس سرخ داغوں والے کرتے کو خداتعالیٰ شانہ کی روشنائی سے آلودہ سمجھ کر تبرک بنا کر رکھیں اور یوں خداکے مجسم ہونے کے عقیدہ کی تکمیل کر دکھائے۔ جو اپنے آپ کو فخر کے ساتھ اس بیٹے کا باپ سمجھے جو ہوبہو آسمان سے خدا ہو کر آیاہے جس کے الفاظوںمیں خدا کا یہ قول ہو کہ میں خطاء بھی کروں گا اور صواب بھی اور جو اپنے نام (غلام احمد) کو جو مشعر عبودیت بھی ہے۔ خدا کا سب سے بڑا نام قرار دے اور خدا کے ’’سبح اسم ربک الاعلیٰ (الاعلیٰ:۱)‘‘ کی طرح ’’انت اسمی اعلیٰ‘‘ کا قائل ہو جوخدا کی طرف بیداری وخواب کو منسوب کرے اور جو ایک نئے خدا کاقائل ہو اور اپنے اندرصفت اورقوۃ صلاحیۃ احیاء افناء کی بتائے، زمین وآسمان کی خلق پر اپنے کو قادر پائے اور وہ لفظ ولد جس کی خدا کی طرف نسبت کرنے سے بنص قرآن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے قریب ہوجائے، زمین شق ہونے لگے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہونے لگیں۔

لیکن فخر وبیان سے اپنی نسبت استعمال کرے اور اسی پر اکتفاء نہ ہو۔ بلکہ عیاذاً ب اللہ خداجانے کیا ہے۔ کیا دعاوی اور پھر ان وساوس پر یہ ناز ہو کہ یہ سب وحی والہام الٰہی ہیں۔ ’’ماینطق عن الہویٰ ان ہو الاوحی یوحیٰ (النجم:۳،۴)‘‘ کے مصداق ہیں، نہ صرف یہی بلکہ قرآن پاک کی طرح بلا فرق ایک ذرہ پاک ومنزہ اور قابل ایمان سمجھے۔

چونکہ معراج پاک کو تمام کائنات عالم، انسان جن وملک، زمین وآسمان کے واسطے آیت اورنشان بنایاتھا۔ لہٰذا پہلی منزل وہ رکھی جہاں تک وہاں مخاطب انسانوں کا تگ ودو اورجتنی ان کی دنیا تھی تاکہ اس کو وہ جانچ پڑتال سکیں اورآگے کو اسی پر قیاس کرلیں۔

دوسری منزل جن وملک کی جہاں تک رسائی اور سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ قراردی تاکہ وہ بھی گواہ ہوجائیں۔

تیسری منزل کا کسی کو علم نہ دیا کہ کیا ہوا،کیونکر ہوا، کیسے ہوا اور کیا سنا۔ عقل بھی متحیر وہم بھی خائب وخاسر بس صرف ’’اٰمنا ب اللہ ورسولہ‘‘ہے۔

پہلی منزل کے جسمانی ہونے پر قرآنی شہادت

’’قال اللہ تعالیٰ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا (بنی اسرائیل:۱)‘‘

تشریحی نوٹ: ’’سبحان ‘‘ کا لفظ اہم اور نادر واقعات پر مستعمل ہوتاہے، کوئی خواب وکشف ہوتاتو اس کی ضرورت نہ تھی مگر حوالہ ’’فالمسیح انما یکون عند الامور العظام فلوکان منا مالم یکن فیہ کبیر شیٔ ولم یکن مستعظما‘‘ (ابن کثیر ج۶ ص۴۱)

’’اسریٰ‘‘ اسراء کا لفظ سوائے جسمانی کے کشف یا نوم پر نہیں بولاجاتاہے۔

حوالہ ’’لانہ لایقال فی النوم اسریٰ… الخ! ‘‘

(شفا قاضی عیاض ص۵۴)

130

قرآن میں صرف اسی معنی میں مستعمل ہے۔ ’’فاسر باہلک’’ فاسربعبادی‘‘ مطہرنا بعبدہ‘‘ عبد صرف روح کو نہیں کہتے۔ بلکہ روح اورجسم کے مجموعہ کو کہتے ہیں اور بلا کسی دلیل شرعی کے مجازاً روح مراد لینا یہاں درست نہیں۔

ثبوت

’’فان العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد‘‘

(ابن کثیر ج۶ ص۴۱۶، ابن جریرج۱۵ ص۱۳)

قرآن میں جب بھی لفظ عبد بولاگیا، اس سے جسد مع الروح مراد لیاگیا۔

’’مثلہ مما نزلنا علیٰ عبدنا (البقرۃ:۲۳)‘‘، ’’واذکر عبدنا ایوب (صٓ:۴۱)‘‘، ’’عبداً شکورا (بنی اسرائیل:۳)‘‘، ’’انزل علی عبدہ الکتاب (الکہف:۱)‘‘، ’’نزل الفرقان علی عبدہ (الفرقان:۱)‘‘، ’’ان عبادی لیس لک علیہم سلطان (الحجر:۴۲)‘‘، ’’کونوا عباداً لی (آل عمران:۷۹)‘‘، ’’الاعبادک منہم المخلصین (صٓ:۸۳)‘‘، ’’وعد الرحمن عبادہ (مریم:۶۱)‘‘، ’’وعبادالرحمن الذین یمشون علی الارض (الفرقان:۶۳)‘‘، ’’فوجدا عبداًمن عبادنا (الکہف:۶۵)‘‘، ’’ارایت الذی ینہیٰ عبداً اذاصلی (العلق:۹،۱۰)‘‘، ’’انہ لما قام عبد اللہ (الجن:۱۹)‘‘

اورسینکڑوں مثالیں ہیں۔

ایک مغالہ کا جواب

مختارمدعاعلیہ نے عبد کے معنی روح کے لینے کے واسطے ’’فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ پڑھ کر مغالطہ دیاہے کہ نفس سے کہا جائے گا کہ بندوں کی ارواح سے ملجاؤ… الخ!

حالانکہ یہ محض مغالطہ ہے۔ یہاں بھی لفظ عبادی جسم مع الروح کے معنی میں مستعمل ہے اور یہ قول اس سے قیامت میں کہا جائے گا۔ جہاں جسم اور روح دونوں موجود ہوں گے۔ زیادہ توفیق نہ تھی۔ جلالین ہی دیکھ لی ہوتی۔ ’’ویقال لہا فی القیامۃ فا دخلی فی جملہ عبادی الصالحین وادخلی جنتی معہم‘‘ کہ یہ قیامت میں کہا جائے گا… الخ!

چونکہ مختارمدعاعلیہ اورخود مرزا صاحب بھی حشر اجساد کے منکر ہیں۔ اس لئے انہیں بھی نظر آیا۔ مگر مسلمانوں کے نزدیک حشر روح مع الجسد ہوگا۔ جیسا کہ آگے اپنے محل پر آئے گا۔ لہٰذا یہاں بھی عبد سے مع الجسد مراد ہوگا۔

ان تشریحی نوٹوں کی بجائے کسی تفصیلی تفسیر کا صرف صحیح ترجمہ پیش ہے۔

’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی بارکنا حولہ لنریہ من اٰیاتنا انہ ہو السمیع البصیر (بنی اسرائیل:۱)‘‘

تمام اعتراضات مشکوک وشبہات سے وہ ذات الٰہی مبرّا ومنزّہ ہے جس نے اپنے بندہ محمدa کو مع جسم کے بہت ہی قلیل حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی تاکہ اسے اپنے عجائبات قدرت دکھائے… الخ!

رسول اکرمﷺ صاحب واقعہ کی شہادت

بخاری ومسلم، ابن کثیر، ابن جریر، درمنثور، روح المعانی میں صحیح مرفوع متصل کافی تعداد میں احادیث اور اکثر صریح جسمانی ہونے کی منقول ہیں۔ چونکہ وہ مفصل اور طویل ہیں۔ لہٰذا حوالہ پر اکتفاء کرتاہوں اور بعض اوپر بقدر کفایت گزر چکی ہے۔

131

صاحب خانہ کی شہادت

’’روی الطبرانی عن ام ہانی قالت بات رسول اللہ ﷺ لیلۃ اسری بہ فی بیتی ففقدتہ من اللیل فامتنع منی النوم مخافۃ ان یکون عرض لہ بعض قریش فقال رسول اللہ ﷺ ان جبرئیل اتانی… الی ان قال وانا ارید ان اخرج الی قریش فاخبرہم بما رئیت فاخذت بثوبہ فقلت انی اذکرک اللہ تاتی قوماً یکذبونک وینکرون مقامتک فاخاف ان یسطوبک قالت فضرب ثوبہ من یدی ثم خرج الیہم فاتاہم وہم جلوس‘‘

(ابن کثیر ج۶ ص۳۹)

یعنی حضرت ام ہانیt جن کے گھر سے معراج ہوئی۔ فرماتی ہیں کہ شب معراج آنحضرتﷺ کو میں نے بستر پر نہ دیکھا۔ سخت پریشان ہوئی اور اس ڈر سے میری نیند اڑ گئی کہ مبادا قریش کی کوئی کارستانی ضرر رسانی ہو۔ حتیٰ کہ آپ تشریف لائے اور واقعہ بیان فرمایا اور فرمایا کہ میں یہ سب قریش کو کہنے جارہاہوں۔ میں نے دوڑ کر دامن پکڑ لیا اور خدا کی قسم دے کر عرض کی کہ ان سے نہ بیان فرمائیں۔ دشمن جھٹلائیں گے اور ناحق حملہ کریں گے۔ مگر حضورa دامن چھڑا کر باہر تشریف لے گئے اور حاضرین کو سارا واقعہ سنا دیا… الخ!

اتنی زبردست شہادت کے بعد کہ جن کے گھر میں معراج ہو وہ تو حضورa کو بستر پر نہ پائیں اورحضرت عائشہؓ کی طرف نسبت کرنا کہ میں نے بستر پر دیکھا جو اس وقت بقول ملّا علی قاری پیدا نہ ہوئی تھیں یا چند ماہ کی تھیں۔ کس قدر ظلم صریح ہے۔ فاعتبروا یااولی الابصار!

خاندانی شہادت

جب شب معراج بنی عبدالمطلب نے آپ کو بستر مبارک اور دولت کدہ پر نہ پایا تو مختلف جانب تلاش کو نکلے اور آپ کے شفیق چچا حضرت عباسq تو بے چینی میں وادی ذی طویٰ تک یا محمد یامحمد پکارتے پہنچے۔ آنحضرتﷺ جب تشریف لائے تو عدم موجودگی کا سبب بیان فرمایا کہ مجھ کو معراج ہوئی اور بیت المقدس وغیرہ گیاتھا۔

(روح المعانی ج۴ ص۴۶۹)

شفاء قاضی عیاض میں (ص۸۷) پر صدیق اکبرq کا بھی اسی کے قریب قریب واقعہ لکھا ہے۔

درمیانی سفر کی شہادت

قریش کو آنحضرتﷺ نے یہ بھی بتلایاتھا کہ تمہارا فلاں قافلہ فلاں مقام پر ملاتھا۔ ان کا اس رنگ کا ایک اونٹ بھاگ گیاتھا۔ اس کو میں نے فلاں جھاڑی کی فلاں طرف باندھ دیاتھا، جب قافلہ آئے دریافت کرنا۔

فلاں منزل پر فلاں ابن فلاں نے ایک کوزہ پانی سرد ہونے کو رکھا تھا، اسے پی کر میں نے الٹ کر رکھ دیا، تصدیق کرنا۔ پھر بیت المقدس وغیرہ کے نشانات بتائے اورقافلہ کی آمد کا وقت سب حرف بحرف صحیح اترا۔

(روح المعانی درمنثور، ابن جریر وغیرہ)

پہلی منزل کی آخری شہادت

بیت المقدس کے چابی بردار اور ابوسفیان کا واقعہ اوپر نقل کرچکاہوں جو ہرقل شاہ روم کے دربار میں پیش آیاتھا۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔

دوسری منزل کا ثبوت

چونکہ اس کا تعلق ملا اعلیٰ سے تھا۔ اس لئے ستارہ کی قسم کھا کر والنجم میں بیان فرمایا: ’’استویٰ وہو بالافق الاعلیٰ یاعند سدرۃ المنتہیٰ عندہا جنۃ الماوٰی۔ اذ یغشی السدرۃ ما یغشیٰ (النجم:۶تا۱۶)‘‘

132

ان ضمائر سے آنحضرتﷺ ہی مراد ہیں نہ کہ جبرئیلm۔ جیسا کہ بعض کا قول ہے۔ صرف ایک حوالہ پیش ہے۔

’’اخرج ابن مردویۃ عن انسq ان رسول اللہ ﷺ لما انتہیٰ الی سدرۃ المنتہیٰ رای فراش من ذہب یلوذبہا‘‘ (در منثور ج۴ ص۱۰۴) اسی طرح ج۱ص۴۶ پر بہت صریح حوالہ موجودہے۔

(ترجمہ) پھر آپ مسجد اقصیٰ سے شب معراج اوپر افق اعلیٰ تک پہنچے… اور پھر سدرۃ المنتہیٰ تک۔

تیسری منزل

’’ثم دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ۔ فاوحیٰ الیٰ عبدہ مااوحیٰ ماکذب الفؤاد ما رای افتمارونہ علی مایرٰی (النجم:۸تا۱۲)‘‘

(ترجمہ) کسی مترجم قرآن سے دیکھ لیا جائے۔

اس امر کے واسطے کہ اس سے مراد جبرئیل نہیں، بلکہ آنحضرتﷺ مراد ہیں۔ روایات خصوصاً ابن عباس کی (ابن جریرج۶، شفاء ص۴۸، روح المعانی ج۸ ص۶۵۵) وغیرہ سے ملاحظہ ہوں۔

خلاصہ

الحمدﷲ! دلائل وبراہین کی روشنی میں عقلی ونقلی قطعی دلائل سے واضح ہوگیا کہ آنحضرتﷺ کو یہ معراج جس میں نماز پنجگانہ فرض ہوئی۔ جسم اطہر کے ساتھ بیداری میں ہوئی ہے۔ یہی مذہب تمام صحابہﷺ، ائمہ وتابعین اورخلف وسلف صالحین کاہے جس کے منکر کا ایمان قابل اعتبار نہیں۔ نیز خصائص کبریٰ سیوطی ومواہب وغیرہ سے گزرچکا کہ یہ خصوصیات محمدیہa سے ہے۔ اس کو کسی کے واسطے ایسا ماننے والا مشرک فی الرسالۃ ہے اور کسی طرح اس کا ایمان کلمہ کی جزو ثانی محمدرسول اللہ پر صحیح معنی میں نہیں ہوسکتا۔ فالحمدﷲ اوّلاً واٰخرا وصلی اللہ علی حبیبہ دائما متوالیا!

معجزہ شق القمر

قول مختارمدعاعلیہ:

’’مختار مدعیہ نے مسیح موعود کے کلمہ کے جزو ثانی کے قائل نہ ہونے کے ثبوت میں آپ کا مندرجہ ذیل شعر پیش کیا ہے:

  1. لہ خسف القمر وان لی

    غسقا القمر ان المشرقان اتنکر

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنے لئے شق القمر کا معجزہ اقویٰ طور پر ثابت کیاہے اور آنحضرتﷺ کے لئے کمزور کرکے دکھایاہے اور اس لئے آنحضرتﷺ کی توہین لازم آتی ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کافر ہوئے اور دائرہ اسلام سے خارج ہوئے اور یہاں یہ تاویل نہیں چل سکتی کہ چاند گہن مراد ہے۔ میں دعویٰ سے کہتاہوں کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کبھی چاند گہن ہوا ہی نہیں۔‘‘

الجواب: مختارمدعاعلیہ اپنی عادت سے مجبور ہے کہ میرے اعتراض اور میری مراد کو اپنے لفظوں میں ڈھال کر کچھ نہ کچھ جواب دے اور یہی ایک قسم کا اقرار لاجوابی ہے۔ ورنہ وہ اس طور پر توڑ موڑ کر میرے مدعا کو ضبط نہ کرتا۔

جس طرح مسئلہ معراج جسمانی کو بلا وجہ طول دینے کے واسطے داخل کیاگیا۔ حالانکہ اعتراض صرف تقابل پرتھا کہ اصل مسئلہ اس وقت زیر نزاع نہیں جو بھی ہو یہاں صرف اس قدر بحث ہے کہ جو چیز سید الاوّلین والآخرینa کے واسطے ایک مرتبہ بدقت اقرارہے۔ وہ

133

اپنے واسطے کم از کم دوچند اور اس سے زائد زور دار ثابت کرنا مرزا صاحب کی ایک خاص عادت ہے۔

مسئلہ معراج جسمانی میں وہ پوائنٹ بچا کر جسمانی اور روحانی کی بحث چھیڑ دی اور یہاں بھی وہ پوائنٹ لاجواب سمجھ کر بدل دیا۔

اصل اعتراض صرف یہ ہے کہ مرزا صاحب نے حضورa کے معجزۂ شق القمر کو خسوف قمر بتایا جو اس کی ناقص اورگھٹیا تعبیر ہے اورپھر اسے آپa کا نشان ثابت کرکے اپنے واسطے اس جیسے آسمانی دو نشان یعنی خسوف قمر اور کسوف شمس،چاند اور سورج دونوں کا گہن لگنا قراردیا۔ اس مقابلہ میں سخت ترین توہین حضور سرور دو عالمa کی اور وہ معجزہ شق القمر جو قرآن اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ اس کا استخفاف کیا اور ایسے اہم معجزہ کو نہایت معمولی اور اپنے نشان کو کم کردکھایا۔

اس کے ثبوت میں مختار مدعیہ نے کوئی بحث ہی نہیں کی۔ بلکہ مرزا صاحب کا اصل شعر مرزا صاحب کے ترجمہ سے پیش کردیا جس میں کسی تاویل کی گنجائش بھی نہیں۔ مکرر ملاحظہ ہو:

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسقا القمران المشرقان اتنکر

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

ترجمہ: اس کے لئے (یعنی آنحضرتﷺ) خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا توانکار کرے گا۔

ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا صاحب آنحضرتﷺ کے لئے نشان صرف خسوف (یعنی چاند گہن) اور اپنے لئے چاند اور سورج دونوں کے گہن کا نشان قرار دے کر کس طرح ٹھاٹھ سے اس ذات گرامی کا مقابلہ کررہے ہیں جس کے مقابل باری تعالیٰ نے جن وانس، ملک اور کائنات عالم میں کوئی پیدا نہیں کیا اور قدرت نے نہ صرف زمانہ گزشتہ میں اس کی نظیر پیدا نہ کی بلکہ یہ امر یقین اورعقیدہ کے حد تک ثابت ہوچکاہے کہ آئندہ تاقیامت اس کی نظیر ناممکن ہے۔ مقابلہ اس سے تو اظہر من الشمس ہے۔ ممکن ہے کہ یہ قائل ہو کہ یہاں خسوف القمر سے شاید کوئی آپ کے زمانہ میں آپ کانشان چاند گہن ہوا ہو۔ اس کی طرف مرزا صاحب نے اشارہ کیا ہو اور درحقیقت شق القمر کا استخفاف نہ ہو۔

تو اوّلاً یہ گزارش ہے کہ وہ اعتراض تو بحالہٖ ہے کہ آنحضرتﷺ کے واسطے جس قسم کے ایک نشان کا قول ہے۔ اپنے واسطے اسی قسم کے دو چند بتائے جارہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ مرزا صاحب نے یہاں خسوف قمر سے معجزہ شق القمر ہی کو مراد لیاہے اور اسی کو استعارہ کی آڑ لے کر خسوف قمر یعنی چاند گہن سے تعبیر کررہے ہیں۔ تاکہ اس کی اہمیت لوگوں کی نگاہ میں کم ہوجاوے اور اپنا مقابلہ اچھی طرح ہوسکے۔ اس ثبوت میں بجائے کسی دلیل کے خود مختار مدعاعلیہ کے الفاظ اسی بحث سے نقل کرتاہوں۔

’’پس مرزا صاحب نے بھی خسوف کا لفظ شق القمر کے لئے بطوراستعارہ استعمال کیاہے۔‘‘

مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری

مذکورہ بالا تقریر سے اصل مدعااس طرح واضح ہے کہ کسی اور جواب کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ قابل اعتراض دو امر تھے۔

۱… معجزہ شق القمر اوراس کا معمولی کردکھانا۔

۲… آپ کے اس آسمانی نشان جیسے اپنے واسطے دو ثابت کرنا۔

پہلے کا ثبوت اس سے ہے کہ معجزہ شق القمر کو مرزا صاحب نے خسوف قمر یعنی چاند گہن کانام دے کر کس قدر معمولی کر دکھایاہے اورایسا استخفاف کیاہے۔ جس کی نظیر کفار مکہ میں بھی نہ ملے گی۔ انہوں نے بھی اس کو دیکھ کر خسوف قمر (یعنی چاند گہن) نہ بتایا بلکہ اسے جادو قراردیا۔ مگر مرزا صاحب نے سرے سے اس کی ماہیت ہی بدل دی اور ایسا معمولی روز مرہ کا خسوف قمر چاند گہن کے لفظ سے تعبیر کیا جس

134

سے کوئی استعجاب اور اعجاز شان ہی پیدا نہ ہو اور دونوں کو ایک ہی میں جمع کر دکھایا جو بہ نسبت اس کے نادر الوقوع اور شان اعجاز رکھتاہے۔ اس سے زائد توہین کیا ہوسکتی ہے۔ دوسرے کے متعلق صرف مرزا صاحب کا اپنا ترجمہ ملاحظہ ہو کہ: ’’اس کے لئے (یعنی آنحضرتﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔‘‘

(قصیدہ اعجازیہ ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

عدالت خود ملاحظہ فر مالے کہ آنحضرتﷺ کے واسطے صرف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور اپنے لئے خسوف قمر اور شمس چاند وسورج دونوںکا فرمارہے ہیں۔ یہ کھلی ہوئی توہین سرکار دو عالم، محبوب رب العالمینa کی ہے اور ایسی کہ جس کی کوئی اور مخالفت نہ کر سکا۔ جادو تو انہوں نے کہہ دیا۔ مگر کسی اور میں اس جیسا جادو ثابت کرے، اس کا استخفاف واستہزاء نہ کرسکے۔

میری مذکورہ بالا تقریر سے عدالت پر واضح ہوگیا ہوگا۔ میرا یہ اعتراض بھی بالکل ہی لاجواب ہے اور مختار مدعاعلیہ کا ادھر ادھر کی غیر متعلق باتیں لانا اوراس مخصوص پوائنٹ کو دیدہ ودانستہ ترک کردینا۔ دوسرے لفظوں میں اپنے عجز اوراس کے لاجواب ہونے کا کھلا ہوا اقرار ہے۔

مختارمدعاعلیہ کی غیر متعلق باتوں کا جواب

’’آخری حصہ کا جواب میں تو صرف اس… آنحضرتﷺ کے زمانہ میںکبھی چاند گہن ہوا نہیں۔ اس کو سمجھنا عقل مندوں کی قدرت سے باہرہے۔‘‘ اس میں صرف اپنے غصہ اورناراضگی کا ثبوت پیش کیاہے جس کا جواب سوائے دعا کے میری طرف سے کیا ہوسکتاہے۔ باقی میرا یہ دعویٰ کہ حضورa کے زمانہ میں کوئی نشان چاند گہن کا ظاہر نہیں ہوا۔ اس میں بھی معمولی تفسیر کرکے مطلب کو بگاڑاہے۔ اصل الفاظ یہ تھے کہ حضورa کے زمانہ میں کوئی نشان خسوف قمر (چاند گہن) کا محدثین کے نزدیک ثابت نہیں کہ نہ کسی حدیث کی کتاب میں مذکورہے۔ بخلاف اس کے سورج گہن کا واقعہ تمام کتب احادیث صحاح ستہ وغیرہ میں مذکور ہے۔ میرا وہ دعویٰ اب بھی بحمد اللہ ! بدستور لاجواب ہے، جواب جب ہوتا کہ کسی ایک حدیث یا کسی مسلم محدث کا قول پیش کردیتے۔ مگر یہ تاقیامت ناممکن ہے۔

کسی ایک محدث نے بھی خسوف قمر کو زمانہ بعثت آنحضرتﷺ میں ذکر نہیں کیا۔ اگر یہ خسوف قمر آپ کی بعثت کا کوئی نشان ہوتا۔ جیسا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔‘‘ تو کسی ضعیف سے ضعیف حدیث یا کسی محدث کے قول میں تو ہوتا۔

مختارمدعاعلیہ کی احادیث نبویہ یا سیر اسلامی پر اتنی نظر کب تھی کہ انہیں کوئی ایک حوالہ مل جاتا۔ میں حوالہ پیش کرتاہوں: ’’ولم یذکر احدا من المحدثین خسوف القمر فی عہد ہ… الخ!‘‘

کسی ایک محدث نے بھی آنحضرتﷺ کے زمانہ میں چاند گہن کا تذکرہ نہ کیا۔

(العرف الشذی علی الجامع الترمذی ص۲۵۶)

دعویٰ تو یہ تھا کہ اس کا نشان میں جیسا کہ مرزا صاحب بتارہے ہیں، ثابت نہیں۔ کیونکہ اتنا بڑا نشان ہو اور محدثین جنہوں نے استنجاء تک کے حالات جمع فرمائے ہیں۔ اس کو نظر انداز فرما جائیں۔ تو بحمد اللہ یہ تو روز روشن کی طرح واضح ہوگیا۔

مزید فائدہ کے طور پر یہ بھی ذکر کردوں کہ حدیث کی کتابیں تو اس تذکرہ سے خالی ہیں۔ علاوہ بریں کتب سیر میں بھی اس کا تذکرہ عام طورپر نہیں۔ باوجودیکہ وہ احادیث کی طرح قابل استناد نہیں ہوتیں۔ صرف سیرت ابن حبان میں ایک قول اس کا موجود ہے جس کو محدثین نے ناقابل اعتناء قراردے کر قبول تو کجا تذکرہ تک بھی نہ کیا۔

ماہر فن ریاضی محمود شاہ فرنساوی نے مستقل اس موضوع پر ایک رسالہ لکھاہے جس میں کسوف شمس کا ایک مرتبہ زمانہ نبویﷺ میں ہونا ضرور مذکور ہے مگر خسوف قمر کا اس میں بھی تذکرہ نہیں۔

(العرف الشذی ص۲۵۲)

135

بہر حال میرا یہ دعویٰ کہ چاند کے گہن کا نشان ظاہر ہوا بالکل لا جواب رہا۔ کیونکہ اگر نشان ہوتا تو محدثین عظام کیوں ذکر نہ کرتے۔ نشان تو خدا کی طرف سے اظہار ہی کے واسطے ہوتاہے۔ اس کا پوشیدہ رہنا باری تعالیٰ کے منشاء اور غرض اظہار نشان کے سراسر خلاف ہے۔ لہٰذا نشان ہونا تو کسی طرح ثابت نہ ہوسکا اور نشانوں سے ناواقفی نہ صرف مختار مدعاعلیہ کی ثابت ہوئی۔ بلکہ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مرزا صاحب بھی اس سے یکسر ناواقف ہیں۔

اصول ریاضی کی آڑ اس کا جواب

میرے مطالبہ کے مطابق مختار مدعاعلیہ جب کوئی ثبوت نہ لاسکا کسی حدیث کی مستند کتاب کا حوالہ نہ لاسکا تو یہ کہہ کر مسئلہ کو رلانا چاہا کہ علم ہیئت دورہ ارضی کے قانون اور طبیعیات کے خلاف ہے کہ آپ کے زمانہ میں خسوف قمر نہ ہو اور پھر اس کے ساتھ مختارمدعیہ کے حق میں گوہر افشانی فرمائی ہے۔

میں اس کا جواب اپنے لفظوں میں نہیں۔ بلکہ مرزا صاحب کے لفظوں میں پیش کرکے یہ عرض کروںگا کہ یہ تمام الفاظ مرزا صاحب کے واسطے پھر مکرر پڑھے جائیں۔

علم ہیئت وریاضی کے اصول کے متعلق مرزا صاحب کا نظریہ

’’اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے۔ یہ سراسر فضول باتیں ہیں۔‘‘

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۴۱، خزائن ج۲۳ ص۴۱۱)

’’پس یقینی طور پر معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیاہے اوراس کے مقابل پر یہ کہنا کہ یہ قواعد ہیئت کے مطابق نہیں۔ یہ عذارت بالکل فضول ہیں۔‘‘

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۴۲، خزائن ج۲۳ ص۴۱۱)

’’علاوہ اس کے علم ہیئت کی کس نے حد بست کر لی ہے۔ ہمیشہ نئے نئے عجائبات آسمانی ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کے بھید کچھ بھی سمجھ نہیں آتے۔‘‘

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۴۲، خزائن ج۲۳ ص۴۱۲)

پھر اس کے بعد دم دار ستارہ کے نشان کا تذکرہ لکھ کر فرماتے ہیں: ’’اب کوئی ہیئت دان بتلادے کہ یہ کیا ماجراتھا۔‘‘

( ص۴۳، خزائن ج۲۳ ص۴۱۲)

اب کیا مختار مدعاعلیہ یہ جرأت کرے گا کہ مرزا صاحب کو علم ہیئت اور طبیعیات اور دورہ ارضیہ کے قانون سے حد درجہ ناواقف اور غافل وغیرہ القاب دے۔

معلوم ہونا چاہئے کہ قواعد واقعات کے تابع ہوتے ہیں۔ واقعات اورمشاہدات کے بعد قانون رد ہوجایا کرتے ہیں۔ خواہ وہ قواعد طبیعیات کے ہوں یا فلکیات کے، بلکہ فلسفہ الٰہیات کے اکثر قواعد کلیہ جو خلاف شرع ہیں۔ ایک تخمینہ اوراٹکل سے زائد حیثیت نہیں رکھتے۔ اس کے بعد مختارمدعاعلیہ نے اپنی قابلیت کے اظہار کرنے اور مختار مدعیہ پر بد زبانی کرتے ہوئے ایک حوالہ روح المعانی کا پیش کیاہے۔ اس حوالہ میں اسی معجزہ شق القمر اور آیت: ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر‘‘ کے نزول کا تذکرہ ہے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ آپ کے زمانہ میں علاوہ اس معجزہ شق القمر کے کوئی اور نشان خسوف قمر چاند گہن کا ظاہر ہوا۔ اسی معجزہ شق القمر کو ایک راوی خسف القمر سے تعبیر کررہاہے جس کے متعلق وہ مفسر صاحب روح المعانی خود لکھ رہے ہیں کہ: ’’سیاق الخبر غریب‘‘ کہ اس حدیث کا سیاق غریب ناقابل قبول ہے۔ یعنی اوّلاً یہ روایت ہی درست نہیں اور اگر کسی حد تک مان لی جائے تو اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہوگا کہ معجزہ شق القمر چودھویں شب کا ظہور میں آیا۔ کیونکہ اکثر چاند گہن چودھویں کی شب کوہوتا رہتا ہے۔

136

اس میں کسی جگہ بھی مختار مدعاعلیہ کا مدعا یا مرزا غلام احمد صاحب کی تائید نہیں۔ محض مغالطہ ہے۔ اس سے غرض صرف اس قدر ہے کہ معجزہ شق القمر چودھویں شب کو واقع ہوا اور اس امر کی نہ یہاں کوئی بحث ہے نہ یہ مابہ النزاع ہے۔

بہتان عظیم

صاحب روح المعانی پر کس قدر عظیم الشان بہتان ہے کہ وہ مرزا صاحب کسی طرح معجزہ شق القمر کو خسوف قمر بتارہے ہیں۔ حالانکہ اس روایت کا سقم ثابت کرنے اور اس کی تاویل حسن پیش کرنے کے واسطے انہوں نے نقل کیاہے۔ ان کا اصل مذہب مختار مدعاعلیہ نے دیدہ ودانستہ پیش نہ کیا اور عبارت قطع وبرید کرکے پیش کردی اصل عبارت صاحب روح المعانی ملاحظہ ہو۔

۱… ’’انفصل بعضہ عن بعض فصار فرقتین وذلک علی عہد رسول اللہ قبل الہجرۃ بنحو خمس سنین فقد صح من روایۃ الشیخین وابن جریر عن انس ان اہل مکۃ سالوہ علیہ ان یریہم اٰیۃ فارادہم القمر شقتین حتی رأو حراء بینہما واخبر ابو نعیم من طریق الضحاک عن ابن عباس ان اخبار الیہود وسالوا ایتہٗ فارادہم اللہ تعالیٰ القمر قد انشق لا یعول علیہ۔ وفی الصحیحین وغیرہما من حدیث ابن مسعود انشق القمر علی عہد رسول اللہ ﷺ فقالت قریش ہذا سحر ابن ابی کبشۃ فقال رجل انتظروا مایاتیکم بہ السفار فان محمدا لایستطیع ان یسحر الناس کلہم فجاء السفار فاخبروہم بذالک۔ رواہ ابوداؤد والطیالسی وفی روایۃ البیہقی فسألوا السفار وقد قدموا من کل وجہ فقالوا رأیناہ فانزل اللہ تعالیٰ اقتربت الساعۃ وانشق القمر (القمر:۱)‘‘

(روح المعانی ج۹ پ ۲۷ ص۶۴)

یعنی اس چاند کا بعض حصہ بعض سے بالکل جدا ہو کر دو ٹکڑے ہوگیا اور یہ واقعہ (شق القمر) حضرت رسول کریمa کی ہجرت سے تقریباً پانچ سال قبل کاہے۔ شیخین اور ابن جریر نے حضرت انسq سے بسند صحیح یہ روایت بیان کی ہے کہ اہل مکہ نے آنحضرتﷺ سے ایک معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا، تو حضرت نے ان کو چاند دو ٹکڑے کر کے دکھایا۔ یہاں تک کہ انہوں نے غار حراء کو ان دوٹکڑوں کے درمیان دیکھا اور جو ابی نعیم نے ضحاک کی سند سے حضرت عباسq سے یہ روایت بیان کی ہے کہ علماء یہود نے آنحضرتﷺسے معجزہ مانگا یہ یہود کا سوال اور اس پر دکھانا معتبر نہیں اور صحیحین(بخاری ومسلم) وغیرہ میں حضرت ابن مسعودq کی حدیث سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ کے عہد مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا پہاڑ پر تھا اور دوسرا اس کے ورے تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو تم گواہ رہو اور ان کی حدیث سے یہ روایت بھی ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں جب چاند دو ٹکڑے ہوا تو قریش نے اس پر یہ کہا کہ یہ تو ابن ابی کبشہ (آنحضرتﷺ) کا سحر اور جادو ہے۔ ان میں سے ایک شخص گویا ہوا کہ ٹھہر جاؤ اور باہر والے قافلوں کا انتظار کرو۔ وہ اس کے متعلق کیا خبر دیتے ہیں۔ اس لئے کہ محمدa تمام دنیا کے لوگوں پر جادو کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جب باہر سے قافلے آئے تو انہوں نے اس کے متعلق انہیں خبردی اور تصدیق کی۔ اس حدیث کے راوی ابوداؤد طیالسی ہیں اور بیہقی کی ایک روایت میں آیا ہے کہ قریش نے باہر کے تمام اطراف وجوانب سے آنے والے قافلوں سے اس امر کے متعلق دریافت کیا اور ان تمام نے بھی جواب دیا کہ ہاں! ہم نے ایسا دیکھاہے تو اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ ’’اقتربت الساعۃ‘‘

’’والاحادیث الصحیحۃ فی الانشقاق کثیرۃ واختلف فی تواترہ فقیل ہو غیر متواتر فی شرح المواقف الشریفی انہ متواتر وہوالذی اختارہ العلامۃ السبکی قال فی شرحہ لمختصر ابن الحاجب الصحیح عندی ان انشقاق القمر متواتر منصوص علیہ فی القرآن روی فی الصحیحین وغیرہما من طرق شتی بحیث
137
لا یمتری فی تواترہ انتہیٰ باختصار‘‘
’’وقد جاء ت احادیثہ فی روایات صحیحۃ عن جماعۃ من الصحابۃ منہم علیq وانسq وا بن مسعودq وابن عباسq وغیرہم‘‘

(روح المعانی ج۹ پ ۲۷ ص۶۴)

یعنی انشقاق قمر کے متعلق بکثرت احادیث صحیحہ موجود ہیں، لیکن ان کے تواتر میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ احادیث صحیحہ غیر متواتر ہیں اور شرح مواقف شریفی میں ہے کہ وہ سب متواتر ہیں اور علامہ سبکی نے اس کوپسند کیاہے اور شرح مختصر ابن حاجب میں کہا ہے کہ میرے نزدیک صحیح اور مختار یہی ہے کہ معجزہ شق القمر متواتر احادیث سے ثابت ہے اور قرآن میں اس کی نص موجودہے اور صحیحین وغیرہ میں مختلف طرق سے اس کی روایات موجود ہیں اور یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس کے تواتر میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔

اوراحادیث صحیحہ میں صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے روایات صحیحہ موجود ہیں جن میں سے حضرت علی اور انس اور ابن مسعود اور ابن عباس(رضوان اللہ علیہم اجمعین) بھی ہیں۔

پس مذکورہ بالا روایات نے نہ صرف معجزہ شق القمر کی حقیقت واضح کی بلکہ ثابت ہوگیا کہ یہ اسی طرح نص قرآنی اور متواتر احادیث میں بھی موجودہے جس کے بعد شک کی گنجائش نہیں ورنہ ایمان بھی خطرہ میں ہوجائے گا۔

ایسی عظیم الشان شہادت کو مختارمدعاعلیہ نے خیانتہً نقل نہ کیا اور صاحب روح المعانی نے جس قول کو رد کرنے کے لئے نقل کیا تھا۔ اسے ان کا اصلی مذہب بتا کے ان پر بہتان عظیم باندھا اور اس میں ہی کتنے مغالطہ دئیے جس سے اس کی نقل مذاہب کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ بلا وجہ بزرگوں کی طرف خلاف واقعہ امور افترائً منسوب کر دیتاہے۔ جیسا کہ یہ خیانتیں متعدد مرتبہ عدالت کے روبر آچکیں۔

اس سے یہ امر بوضاحت ثابت ہوگیا کہ معجزہ شق القمر کوئی استعارہ یا نظر بندی وکرشمہ نہ تھا۔ بلکہ دراصل یہ ایک عظیم الشان کھلا ہوا معجزہ تھا کہ آپ نے درحقیقت چاند کے دو ٹکڑے کردئیے۔ اس طور پر ممتاز کہ کوہ ’’حراء‘‘ بھی اس کے درمیان میں آگیا۔ البتہ یہ ضرور علماء میں بحث جاری رہی ہے کہ آیا یہ معجزہ صرف آپ کی صداقت کا نشان ہے یا اس چاند کے پھٹنے اور جڑنے میں قرب قیامت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک کے الفاظ: ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر (القمر)‘‘ بتلارہے ہیں کہ قیامت قریب آگئی اورچاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس کے فلسفہ اور ہر دو حصہ آیت کریمہ کے ربط پر شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے اور امام غزالی نے تقریریں کی ہیںجس سے مختار مدعاعلیہ اور بعض دیگر مصنّفین اس مغالطہ کی سعی میں ہیں کہ دراصل معجزہ ہوا ہی نہیں۔ صرف نظر بندی تھی یا ان اکابرین کلام سے مناسبت نہیں اور غلط فہمی ہوگئی۔

شاہ ولی اللہ صاحب اورامام غزالی کے کلام کاخلاصہ صرف اس قدرہے کہ دنیا میں جب کوئی اجلاس قائم کیا جاتاہے اور اس کے تمام مراحل اختتام پذیر ہوجاتے ہیں جس ذات گرامی کے واسطے وہ محفل منعقد کی جاتی ہے۔ جب تشریف لے آئیں اور خطبہ صدارت بھی ہوجائے تو پھر گیس یا شمع کی لائٹ کم یا شق کردیتے ہیں تاکہ حاضرین کو اختتام جلسہ کا پتہ چل جائے اور معلوم ہوجائے کہ اب کوئی اورمقصد اورحالت منتظرہ نہیں سوائے اس کے یہ منتشرہ سامان مجتمع کرلیا جائے ورنہ اصل جلسہ ختم ہوچکا۔

باری تعالیٰ نے دنیا کے عظیم الشان اجلاس کو سجایا زمین کا فرش بچھایا، آسمان کا نیلگوں شامیانہ اس پر تانا، اسے مختلف رنگ کے چھوٹے بڑے قمقوں سے آراستہ وپیراستہ کیا۔ اس میں روشنی کے دو ہنڈے چاند وسورج روشن کئے۔ نیز تمام انتظامات کی تکمیل فرمائی۔ آدمm سے عیسیٰm تک انبیاء کرامؑ اس کے اعلان کے لئے بھیجے۔ انبیاءo کے ہمراہ دعوتی خطوط آسما نی صحائف کی شکل میں روانہ فرمائے، آخر میں وہ صدر الانبیاء اور بدر المرسلینa رونق افروز جلسہ ہوئے اورپیغام الٰہی اور خطبہ صدارت توحید و رسالت سب تک

138

پہنچا دیا اور جلسہ کی غرض وغایت اور تخلیق کائنات کی مصلحت پوری ہوچکی تو صدر کے ہاتھوں چاند کے دو ٹکڑے کرادئیے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اصل جلسہ ختم ہوچکا۔ اب صرف سامان منتشرہ کے مجتمع کرنے کا وقت ہے۔ اسی سے آنحضرتﷺ نے اپنی بعثت بھی قیامت کاپیش خیمہ قراردیاہے کہ: ’’انما بعثت انا والساعۃ کہاتین‘‘ یعنی میں اور قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ساتھ ساتھ ہیں۔ اس لئے باری تعالیٰ نے انشقاق قمر کے ساتھ اقتربت الساعۃ لگایا کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دوٹکڑے ہوگیا۔ اس فلسفہ اور حکمت بیان کرنے سے ان بزرگوں کی غرض معجزہ شق القمر کی اورتائید مزید ہے نہ کہ انکار۔ یہ محض مختار مدعاعلیہ کی خوش فہمی ہے۔

آراہم القمر فرقتین کا غلط مفہوم

اس حدیث کا یہ غلط مفہوم تھا کہ واقع میں دو ٹکڑے نہ ہوئے تھے بلکہ انہیں نظر آئے تھے۔ یعنی ایک قسم کی نظر بندی تھی۔ محض بے دینی اور معجزات کے انکار کا راستہ اختیار کرناہے۔ اس کے یہ معنی اور مفہوم ہرگز نہیں صاف اور صحیح ترجمہ یہ ہے کہ آپa نے اہل مکہ کو چاند دو ٹکڑے کر دکھایا۔ یعنی آپ کے اعجاز سے دو ٹکڑے ہوگئے اور انہوں نے دو ٹکڑے دیکھے۔ یہ ہرگز مراد نہیں کہ چاند سالم رہا اور نظر بندی کے طور پر صرف انہیں دو ٹکڑے نظر پڑے۔

کیونکہ انشقاق قمر کا مشاہدہ علاوہ عرب کے اطراف کے دور دراز ملکوں حتیٰ کہ ہندوستان کے ایک بڑے راجہ نے بھی کیا۔ واقعات کتب تواریخ میں موجود ہیں۔

مرزا صاحب اور معجزہ شق القمر

مرزا صاحب نے اس مسئلہ معجزہ شق القمر میں بھی حسب عادت اقرار وانکار کے دونوں مسلک اختیار کئے ہیں اور دجل کے معنی ہی یہی ہوتے ہیں کہ ذو معنی مشتبہ الفاظ بولے جائیں تاکہ دنیا گمراہ ہو:

  1. خدا بھی خوش رہے اور بت بھی راضی

    کوئی ایسا قرینہ چاہتا ہوں

کہ مصداق ہو مختار مدعاعلیہ نے تین حوالے پیش کئے ہیں۔

۱… سرمہ چشم آریہ۔ ۲… آئینہ کمالات اسلام۔ ۳… چشمہ معرفت۔

مگر غائر نظر سے معلوم ہوگا کہ ۱۹۰۱ء سے قبل جب تک کھلا ہوا، دعویٰ نبوت نہ تھا یا بقول مرزا محمود صاحب نبوت سے پردہ نہیں اٹھایا تھا۔ معجزہ شق القمر کا اقرار واثبات بڑے شدو مدسے اسلامی پیرایا میں ہے۔ مگر ۱۹۰۱ء کے بعد وہ بلند آہنگی کچھ پھیکی ہے اور اس میں انکار کی جھلک بھی موجودہے۔ چنانچہ سرمہ چشم آریہ مرزا صاحب کہ بہت پہلی کتاب ہے جس کا سنہ تالیف ستمبر۱۸۸۶ء ہے اس وقت تو مرزا صاحب حیاۃ عیسیٰm کے قائل تھے اور صرف آریہ وغیرہ کے مقابل مناظر اسلام کی حیثیت رکھتے تھے اور آئینہ کمالات اسلام فروری ۱۸۹۳ء کی کتاب ہے۔ اس میں معجزہ شق القمر بلا کسی دسیسہ کاری کے اسلامی رنگ میں بیان کررہے ہیں اور کفر کی بنیادیں جمارہے ہیں۔ مگر بہت ہی پوشیدہ۔ لیکن چشمہ معرفت جو بہت آخری کتاب ۱۹۰۸ء کی ہے۔ اس میں الفاظ تو اقراری بظاہر ہیں۔ لیکن تاویل کر کے اس سے گویا انکار ہی کردیا ہے۔ الفاظ ملاحظہ ہوں: ’’اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیاتھا جس کانام شق القمر رکھاگیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۳، خزائن ج۲۳ ص۲۳۲)

تمام تقریر کے بعد اس حقیقت پر پردہ ڈال دیا کہ کوئی امر تھا، اس کانام شق القمر رکھاگیا۔ دراصل چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا۔

آگے بات صاف کردی ہے کہ: ’’بعض نے یہ بھی لکھاہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف (چاند گہن) تھا جس کی قرآن شریف نے پہلے خبر دی تھی۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۳، خزائن ج۲۳ ص۲۳۲)

139

یہاں ایک قسم کا چاند گہن قرار دیا۔ گو بعض کی آڑ لی۔ پھر تاویل کا راستہ یوں نکالا کہ قرآنی آیات جو اس کے متعلق ہیں۔ ان میں پیش گوئی بتایا تاکہ بزعم خود انہیں استعارہ قرار دے کر تاویل کرسکیں اور دنیا کی آنکھوں میں اس طور پر دھول ڈالی جاسکے۔ چنانچہ اسی کے بعد آخری اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میںکردیا: ’’اور یہ آیتیں بطور پیش گوئیوں کے ہیں۔ اس صورت میں شق کا لفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا۔ کیونکہ خسوف قمر وکسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتاہے۔ گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہوجاتاہے ایک استعارہ ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۳، خزائن ج۲۳ ص۲۳۲)

عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ کس قدر صفائی سے معجزہ شق القمر کا آخر میں انکار کردیا کہ دراصل چاند گہن خسوف تھا اور خسوف میں گویا پوشیدہ حصہ پھٹ جاتاہے۔ اس لئے استعارہ کے طور پر لفظ شق القمر بول دیاگیاہے۔ ورنہ دراصل چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا۔

بحمد اللہ ! اس سے مرزا صاحب کا شق القمر کے معجزہ کا انکار صاف ہویدا ہوگیا۔ گو لفظ شق القمر بولتے ہیں۔ اسی معنی میں خسوف کا لفظ استعارۃً اپنے شعر میں آنحضرتﷺ کے حق میں معجزہ شق القمر کی اصلی کیفیت پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کیاگیاہے جس کا اعتراف مختار مدعاعلیہ کو بھی ہے۔ الفاظ ملاحظہ ہوں: ’’پس مرزا صاحب نے بھی خسوف کا لفظ شق القمر کے لئے بطور استعارہ استعمال کیاہے… الخ!‘‘

اب اس تقریر کے بعد میرا اعتراض بھی بالکل لا جواب رہا۔ کیونکہ مرزا صاحب نے اوّلاً اسلامی معجزہ شق القمر کو استعارہ قرار دے کر ایک قسم کا چاند گہن خسوف قرار دیا۔ پھر اپنے واسطے مد مقابل چاند اور سورج دونوں کا خسوف وکسوف نشان بتایا۔ پس ایک طرف تو معجزہ شق القمر کا استخفاف اور انکار ہے اور دوسری طرف مقابلہ کرکے آنحضرتﷺ کی توہین ہے اور ایسا استخفاف اور مقابلہ و توہین کرنے والا کبھی کلمہ کے دوسرے حصہ محمدرسول اللہ ﷺ پر ایمان دار نہیں ہوسکتا۔

سیاق وسباق کی تاویل

محض مغالطہ کے واسطے دو چار ماسبق اشعار نقل کردئیے۔ مگر جب عدالت غور کرے گی تو صاف معلوم ہوگا کہ وہ بھی محض ایک تاویل ہے جو ناقابل قبول ہے اور دراصل اس کفریہ مضمون کی تمہید ہے۔ کیونکہ اس میں اپنے آپ کو آنحضرتﷺ کی برگزیدہ آل قراردیا ہے جو سراسر اہل بیت رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے۔

’’اور میں محمدa کے مال کا وارث بنایاگیا ہوں۔ پس اس کی آپ برگزیدہ ہوں جس کو ورثہ پہنچے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۰، خزائن ج۱۹ ص۱۸۲)

آخر میں لکھتے ہیں: ’’پس وہ روشنی جو اس میں ہے مجھ میں چمک رہی ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

ماشا ء اللہ ثم ماشاء اللہ ہر گز اللہ کے محبوب کی روشنی کبھی اس قسم کے شخص میں نہیں چمک سکتی۔ اس متنازعہ شعر کے بعد پھر قرآن پاک کی عظمت وجلال پر ہاتھ ڈالاہے۔ کیونکہ کسی نبی پر آیا ہوا کلام اعجاز قرار نہیں دیاگیاہے۔ سوائے اس کلام ربانی کے جو اللہ کے آخری نبی سید المرسلینa پر اترا۔ مگر مرزا صاحب بڑے فخر سے اسی شعر کے متصل لکھتے ہیں:

  1. وکان کلام معجزا ایۃ لہ

    کذالک لی قول علی الکل یبہر

خود ہی ترجمہ کرتے ہیں کہ اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیاگیاہے جو سب پر غالب ہے۔

(قصیدہ اعجاز احمدیہ ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

عدالت خود ملاحظہ فرمالے کہ آنحضرتﷺ کی ہر صفت میںمشارکت اور مقابلہ کا جذبہ مدعی نبوت میں کس قدر موجود ہے اور کوئی بھی صفت نہیں جس میں اپنے آپ کو اللہ کے حبیب پاکa کا شریک اور سہیم قرار نہ دیں۔

140

مختارمدعاعلیہ کی سیاق وسباق سے تاویل عذر گناہ بدتر از گناہ سے زائد نہیں۔ بلکہ سیاق وسباق سے اوراس سے بڑھ کر توہین ثابت ہوتی ہے جس کا نمونہ ابھی اوپر عرض کرچکا۔

قول مختار مدعاعلیہ:

۱… اگر روایتوں میں یہ خبر نہ ہوتی کہ چاند اور سورج کا گہن مہدی موعود کی صداقت کی دلیل ہوگی تو وہ نشان کیونکر ہوسکتاتھا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے اپنی متعدد کتب میں اس پیش گوئی کا ذکر کرکے آنحضرتﷺ کی مدح وثنا کی ہے اور درود بھیجا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ چنانچہ آپ اپنی کتاب نور الحق حصہ دوم میں لکھتے ہیں۔ ترجمہ از اشعار عربی۔ تیرے پر جان قربان ہو، اے بہتر مخلوقات ہم نے تیری خبر کا نور اندھیرے میں دیکھا لیا۔ ہم نے سورج اور چاند کو دیکھ لیا۔ جیسا کہ تو نے اشارہ کیاتھا۔‘‘

۲… ’’اور یہ بھی واقع ہے کہ روایت میں مہدی موعود کی صداقت کا ایک نشان ماہ رمضان میں سورج چاند گہن قراردیاگیا اور وہ گہن تیرہ سو گیارہ میں وقوع پذیر ہوا۔‘‘

مختار مدعاعلیہ نے باوجود عدالت کے بار بار روکنے کے مرزا صاحب کی صداقت کا نیا مسئلہ یہاں چسپاں کر دیا۔ اس میں قابل غور دو امور ہیں۔

۱… کیا کسی صحیح حدیث میں مہدی کی یہ شناخت قرار دی گئی ہے۔

۲… کیا صرف مرزا صاحب کے زمانہ میں یہ ہوا، کہیں اور نہیں ہوا۔

الجواب:

۱… ان نشان کے ثبوت میں مرزا صاحب اور مرزائی صاحبان حدیث کا نام لے کر یہ ٹکڑا پیش کیا کرتے ہیں کہ حدیث دار قطنی جس کا ذکر کسوف خسوف ماہ رمضان کے بارہ میں آیاہے۔ اس کے الفاظ ہیں: ’’ان لمہدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموٰت والارض وینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنخسف الشمس فی النصف منہ‘‘

(ترجمہ) ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں جو ابتدائے پیدائش زمین وآسمان سے آج تک نہیں ہوئے۔ یعنی چاند گہن رمضان کی پہلی شب میں ہوگا اور سورج گہن اس کے نصف میں۔

الجواب:

۱… امام محمدباقر کا قول ہے اور وہ بھی ضعیف کہ اس کے دو راویوں عمر اور جابر جعفی کو اسمائے رجال میں کذاب اورواضع احادیث بیان کیاہے۔ اس کو حدیث قرار دینا درست نہیں۔ ورنہ رسول کریمa پر بہتان ہوگا۔

۲… الفاظ کے لحاظ سے بھی یہ قول درست نہیں، کیونکہ چاند گرہن پہلی رات کو نہیں ہوتا اور سورج گرہن نصف مہینہ میں۔ علاوہ اس کے ماہ رمضان کی ان تاریخوں میںباب اور بہاء اللہ کے زمانہ میں بھی رمضان میں کسوف وخسوف ہوا۔ جو ۱۲۶۷ھ میں دکھایا۔ (ملاحظہ ہو کتاب یوز آف دی گلوبس وکتاب کانا دجال مصنفہ مولوی عبدالحکیم ایم۔بی منقول از عمدۃ التنقیح حصہ دوم برہان صریح ص۶۲)

پس معلوم ہوا کہ یہ نشان حضورa کی طرف منسوب کرنا آنحضرتﷺ پر بہتان باندھناہے اوراس سے مرزا صاحب کی تصدیق کا کاذب ہونا لازم آتاہے۔

(عنوان نمبر ۵)

یہ نمبر( ۵)اثرک اللہ علی کل شیٔ اور نمبر(۶) آسمان سے کئی تخت اترنے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایاگیا اور نمبر

141

(۷) اتانی لم یؤت احدمن العالمین۔

یہ تینوں الہام مختار مدعیہ کے بحث میں ایک ہی عنوان اور ایک ہی ہیڈنگ کے تحت درج ہیں اور دراصل ان پر کوئی مستقل حکم نہیں، بلکہ مرزا صاحب کی تدریجی ترقی دکھانا منظور ہے۔

کہ شروع میں اپنے کو اولیاء اللہ اور صلحائے امت وا نبیائے اولعزم پر ترجیح دی اور پھر سید المرسلینa کے ہم پلہ اور ان کے خصوصیات میں شریک وسہیم بن بیٹھے اور تمام ان امتیازی خصوصیات میں اپنے کو شامل کرلیا جن میں نہ آدم کو شرکت کا فخر نصیب ہوا، نہ ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰo کو مختارمدعاعلیہ نے تینوںکو علیحدہ علیحدہ مستقل طور سے پیش کرکے اصل استدلال پوائنٹ سے پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے الفاظ میں ایک استدلال قائم کرکے ایک طول لاطائل غیر متعلق جواب دے ڈالا۔

اتنا تو مختار مدعاعلیہ کو بھی تسلیم ہے کہ ان الہامات میں مرزا صاحب اپنے آپ کو امت محمدیہa کے تمام اولیاء اللہ ، اقطاب، غوث وابدال پر فضیلت دیتے ہیں اور اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۷) پر مرزا صاحب بھی اس مضمون کو ان الفاظ میں ظاہر فرمارہے ہیں۔ ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اورجس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اللہ اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔‘‘

اولیاء اللہ اور اقطاب وابدال پر فضیلت اس میں مسلم ہے۔ انبیاء ماسبق پر فضیلت کا بار بار اعلان ہے:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم ز کسے

  2. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرا بتمام

  3. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست ولعین

(درثمین فارسی، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

پس مذکورہ بالا الہامات ثلاثہ کو میں نے ایک تمہید اور زینہ قرار دیاہے۔ سید المرسلینa کے صفات مخصوصہ میں شریک وسہیم بننے کاکہ اوّلاً اولیاء اللہ ، اقطاب وابدال پر فضیلت دی۔ پھر انبیاء سابقین پر بعد ازاں جب مریدین اور کورانہ تقلید کے مقلدین نے اسے تسلیم کرلیا تو سرور عالمa کے فضائل وکمالات تک رسائی کا دعویٰ کرنے لگے۔

(اس تدریجی ترقی کے ثبوت کے واسطے (حقیقت النّبوۃ ص۱۴۴،۱۴۵) ملاحظہ ہو)

لہٰذا جہاں تک میرے استدلال اور مدعا کا تعلق تھا وہ مختار مدعاعلیہ کو بھی خواہ دانستہ یا نادانستہ مسلم ہے اور مرزا صاحب کا یہی مسلک اور مذہب ہے۔ لہٰذا اس طولانی بے معنی بحث کے جواب کی بھی ہمیں حاجت نہیں۔ تاہم مختار مدعاعلیہ کے پیش کردہ استدلال کی بناء پر ہم کہنے کو تیار ہیں کہ ان الہامات ثلاثہ میں تمام انبیاء کرام حتیٰ کہ سید المرسلینa کی بھی توہین ہے۔ کیونکہ جب بھی کسی کی فضیلت بیان کی جائے تو وہ فضیلت اس کے ہم جنسوں پر ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی آدمی کہے کہ یہ گھوڑا سب سے منتخب ہے تو دنیا یہی سمجھتی ہے کہ گھوڑوں میں سب سے افضل ہے۔ آدمی اور دوسرے جانور اس میں شامل نہیں۔ بنی اسرائیل کو باری تعالیٰ فرمایا کہ: ’’اتاکم مالم یؤت احدا من العالمین یافضلتکم علی العالمین‘‘

چونکہ مخاطب بنی اسرائیل امتی ہیں۔ پس مطلب یہ ہوا کہ تمہارے زمانہ اور تم سے قبل کی امت پر اس قدر انعام نہیں کیا اور تم کو تمہارے زمانہ اورزمانہ گزشتہ کے تمام امتیوں پر فضیلت بخشی۔ البتہ اس میں انبیاء اور وہ امتیں جو اب تک پردہ عدم سے منصہ شہود پرنہیں آئیں، داخل نہیں۔ اگر کسی نبی کے حق میں یہ کہا جائے تو اس کے زمانہ اور اس سے قبل کے تمام انبیاء مراد ہوں گے۔ غیر انبیاء یا بعد کے انبیاء

142

بالذات اس میں شامل نہ ہوںگے۔

مرزا صاحب چونکہ بزعم خود نبی ہیں اور نبی کا امتی سے مقابلہ نہیں، بلکہ انبیاء سے ہے۔ چنانچہ انبیا سابقین پر مرزاصاحب برابر اپنے فضائل کی رجز خوانی کیا کرتے ہیں۔ پس مرزا صاحب کے ترجمہ کے مطابق الہام نمبر۵ ’’اثرک اللہ علی کل شیٔ‘‘ (تذکرہ ص۴۵۴، ۵۲۴، طبع چہارم) خدا نے تجھے ہر ایک چیز میں سے چن لیا۔ مرزا صاحب کا ہر چیز پر برگزیدہ ہونا ثابت ہوگیا۔ حالانکہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہرچیز پر برگزیدہ صرف ذات سرورکائناتa ہے اور اس چیز میں آپ کاکوئی بھی شریک اور سہیم نہیں۔ جو اپنے کو یا کسی اور کو تمام اشیاء سے برگزیدہ سمجھے، وہ یقینا سرور عالمa کا مقابلہ کرکے توہین کرتاہے اور آنحضرتﷺ کی برگزیدگی پر دھبہ لگاتاہے۔ جس کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ پر صحیح معنوں میں ایمان صادق نہیں ہوسکتا۔

اس کے ضمن میں بنی اسرائیل کے متعلق آیات کو استدلال میں پیش کرنا مناسب نہیں۔ وہاں تو امم سابقہ پرفضیلت دی جارہی ہے اور ان کا مقابلہ صرف امتیوں سے ہے اور یہاں مرزا صاحب خود نبی بن بیٹھے ہیں اور ہرچیز پر اپنی برگزیدگی کا قصیدہ پڑھ رہے ہیں۔ لہٰذا اس پر قیاس مع الفارق ہے۔

اس الہام کے ماسبق ومابعد کو قرینہ قرار دینا بھی لغو ہے۔ کیونکہ یہ کوئی مسلسل عبارت نہیں کہ سیاق وسباق سے اس کا تعلق ہو۔ بلکہ مختلف الہامات، مختلف اوقات کے اترے ہوئے۔ مختلف ومتضاد معانی رکھنے والے کس میں مرزا صاحب مراد اور کس میں ذات الٰہی۔ چنانچہ مختار مدعاعلیہ اخطیٰ واصیب کے تحت میں خود ہی پیش کرچکاہے کہ اس ایک الہام کے نصف حصہ میں ضمیر متکلم سے مرزا صاحب اور نصف آخر کے ضمیر متکلم سے ذات خداوندی مراد ہے۔ پس جب کہ ایک ہی جملہ کے سیاق وسباق کا ربط نہیں تو مختلف جملوں اور علیحدہ علیحدہ بے ربط فقروں اورعبارتوں کا سیاق وسباق کیا قائم ہوسکے گا۔

عدالت خود تمام الہامات کو ملاحظہ فرما کر میرے اس دعویٰ کی تصدیق کرسکتی ہے کہ وہاں کوئی مسلسل مربوط عبارت نہیں۔ بلکہ بے ربط علیحدہ علیحدہ فقرات مختلف الہامات بنا کے یکجا نقل کئے ہوئے ہیں۔

(عنوان نمبر۶)

’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایاگیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)

ظاہر ہے کہ آسمان سے نبوت کے تخت اترتے ہیں۔ نیز اگر مرزا صاحب مدعی ولایت ہوتے اور اپنے آپ کو صرف ولایت کا تخت نشین شمار کرتے تو ان تختوں سے ضرور ہم بھی ولایت ہی کے تخت مراد لیتے۔ مگر مرزا صاحب تو بزعم خود دعویدار نبوت ہیں اور گھٹیا یا مجازی نہیں۔ بلکہ بقول مرزا محمود صاحب قرآن نے جو معنی نبوت کے قرار دئیے ہیں۔ اس کے رو سے حضرت صاحب ہر گز مجازی نبی نہیں،بلکہ حقیقی اورگھٹیا نہیں بلکہ بڑھیا نبی ہیں۔ پس جب کہ مرزا صاحب تخت نشین نبوت ہیں تو یہ آسمانی تخت نبوت ہی مراد ہوں گے اور مطلب بالکل واضح ہے کہ آسمان سے نبوت کے تخت اترے مگر تیرا (یعنی مرزا صاحب) تخت سب تختوں سے اوپر بچھایاگیا۔ اس میں کسی تخت اور کسی نبی کی تخصیص نہیں اور جیسا کہ آگے معلوم ہوگا کہ مرزا صاحب آنحضرتﷺ کے فضائل خصوصی تک ہاتھ مارتے ہیں۔ پس بلا شبہ اس مرزا صاحب کے تراشیدہ الہام میں نہ صرف انبیاء سابقین بلکہ سید الاوّلین سرور عالم فخر بنی آدمa کی بھی توہین ہے جس کے بعد محمدرسول اللہ ﷺ پر ایمان خطرہ میں پڑ جاتاہے۔

اس کے مقابلہ میں مولوی منظور احمد صاحب سنبھلی کی سیف یمانی یا تقویۃ الایمان و عوارف المعارف سے حضرت سلطان الاولیاء خواجہ نظام الدین یا شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی آڑ لینابالکل بے سود ہے۔ کیونکہ وہاں مقابلہ خدا کے جلال وجبروت کاہے

143

اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی مخلوق خدا کے ہم پلہ نہیں۔ بلکہ سب اس کے سامنے سر نگوں ہیں۔ نبی یا ولی۔ ’’لن یستنکف المسیح ان یکون عبداً ﷲولا الملآئکۃ المقربون‘‘ حضرت مسیحm جنہیں ان کی قوم خدا یا خدا کا بیٹا اور ملائکہ جنہیں یہود، اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ خدا کی عبودیت سے منہ نہیں موڑتے۔ بلکہ اتنا ہی عجز و نیاز کا اعتراف کررہے ہیں۔ خود سید الاوّلین والآخرین، امام النّبیین، محبوب رب العالمینa بار بار ’’انما انا عبدہٗ ورسولہ‘‘ فرماتے رہے اور اس انتہائی عجز وانکساری ونیاز بارگاہ ایزدی میں پیش فرمارہے ہیں جس کی حد نہیں۔ بخلاف مرزا صاحب کے وہ چونکہ نبی ہیں اور بزعم باطل خود تخت نبوت پر متمکن ہیں۔ پس آسمانی تختوں سے تخت نبوت اور مرزا صاحب سے تخت کا سب سے بالا ہونے سے تمام انبیاء ماسبق اور ان کے تختوں کی کھلی ہوئی توہین ہے جس کی کوئی بھی تاویل نہیں ہوسکتی۔

پیران پیر، سید الطائفہ عبدالقادر جیلانی غوث زمان اور قطب وقت ہیں۔ ان کے ارشاد ’’قدمی ہذا علی رقبۃ کل ولی‘‘ میں ولی کی تصریح خود موجود ہے۔ نیزوہ خدانخواستہ دعویدار نبوت نہیں۔ بلکہ اولیاء امت سے ہیں۔ لہٰذا ان پر نہ کوئی اعتراض ہوسکتاہے، نہ باہر سے کوئی تخصیص کی گئی ہے۔ بخلاف مرزا صاحب کے کہ وہ مدعی نبوت ہیں اور ولی کی کوئی تصریح نہیں۔ بلکہ وہ تمام انبیاء سابقین پر اپنی فضیلت کے مدعی ہیں اوربصراحت فرما چکے ہیں:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم ز کسے

  2. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرا بتمام

  3. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست ولعین

( نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

( عنوان نمبر۷)

’’اتانی مالم یؤت احد من العالمین‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

مختار مدعاعلیہ نے وہی بنی اسرائیل کے متعلق جو فضیلت کی آیتیں ہیں۔ ان کی آڑ چاہی ہے۔ حالانکہ میں اوپر تفصیل سے عرض کر آیاہوں کہ ہر ایک کا مقابلہ اس کی ہم جنس وہم مسلک سے ہوگا۔ نبی کا نبی سے، امتی کا امتی سے۔ پس بنی اسرائیل یقینا اپنے زمانہ اور ماسبق کے امتیوں پر افضل ہیں۔ ہاں! جو امتیں اب تک معرض وجود میں نہیں آئیں۔ وہ اس سے مراد نہیں۔ اسی طرح مرزا صاحب چونکہ بزعم خود مدعی نبوت ہیں اور فرمارہے ہیں کہ مجھے اللہ نے وہ دیا جوکسی کو عالمین سے نہ دیا۔ مقابل پر انبیاء ہی مراد ہوں گے۔ ان کے زمانہ کے ہوں۔ (جیسا کہ آج کل تقریباً اٹھارہ مدعیان نبوت پنجاب میں موجود ہیں دو چار سے میں خود مل چکاہوں۔ اکثر سے خط وکتابت ہے۔ خود قادیان میں نور احمد کابلی مدعی نبوت موجودہے) یازمانہ سابقہ کے غرض یہ کہ انبیاء کرام پر فضیلت کا دعویٰ ہے اور اس سے مختار مدعاعلیہ نہ معلوم کیوں بچنا چاہتاہے۔ جب کہ مرزا صاحب خود بھی کھلے الفاظ میں فرماچکے ہیں:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم ز کسے

  2. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرا بتمام

  3. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست ولعین

( نزول المسیح ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

باقی رہا اگر یہ شبہ ہو کہ حضورa شاید اس سے مستثنیٰ ہوں تو اس کا ازالہ آگے کی تقریر سے ہوجائے گا کہ یہ تمام کفر وشرک کی عمارت آہستہ آہستہ قائم کی گئی ہے تاکہ لوگ بدک نہ جائیں۔ جیسا کہ مرزا محمود صاحب نے (حقیقت النبوۃ ص۱۴۴و۱۴۵، انوار العلوم) پر اس امر

144

کا صاف لفظوں میں اقرار کرلیاہے۔

’’اسی سنت قدیمہ کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے سلوک کیا اور آپ کی جماعت کو بہت سے ابتلاؤں سے بچا لیا۔ اگر آپ کو یک لخت مسیح کی وفات اور اپنی نبوت کے اعلان کرنے کاحکم ہوتا تو آپ کی جماعت کے لئے سخت مشکلات کا سامنا ہوتا… دس سال بعد وفات مسیح کے مسئلہ پر سے پردہ اٹھایا لیکن مسئلہ نبوت پر ایک پردہ پڑا رہا، تاکہ جماعت اپنے اندر ایک مضبوطی پیدا کرے۔‘‘

’’مرزا صاحب کا ترجمہ‘‘ اس میں بھی وہی عادت ہے۔ کبھی کچھ کبھی کچھ، کہیں مطلب کفریہ بیان کردیا۔ کہیں مجبور ہو کر اسلامی طرز کا اظہار کردیا اور یہ تو لازماً ہونا تھا۔ کیونکہ بتصریح ارشاد نبوی آنحضرتﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت دجال وکذاب ہوگا اورخود مرزا صاحب ہی دجل کا یہ معنی بتاتے ہیں کہ اس حدیث کے مفہوم کی تائید مندرجہ ذیل حوالہ سے ہوتی ہے۔

۱… ’’دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کا تابع ہوکر، پھر مسیح کے ساتھ باطل ملادے۔‘‘

۲… ’’اگر حق محض پرزیادت کی جائے تو اس کا نام عربی زبان میں دجل ہے اور اس کے مرتکب کانام دجال ہے اور چونکہ آئندہ کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے پہلے نبی کے تابع جب دجل کاکام کریں گے، تو وہی دجال کہلائیں گے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ص۲۰۰،ج سوم، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۳۱)

(عنوان نمبر۸)

علم نبوی میں مقابلہ

خلاصہ عبارت مرزا صاحب: ’’ابن مریم اوردجال اور یاجوج وماجوج کی حقیقت آنحضرتﷺ پر منکشف نہ ہوئی۔ چونکہ سامنے کوئی نمونہ نہ تھا اور اب مرزا صاحب پر وہ ہو بہو منکشف ہوگئی۔‘‘

(ازالہ کلاں ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)

یہ عبارت جس غرض سے پیش کی گئی ہے۔ اس سے مختار مدعاعلیہ کو بھی انکار نہیں۔ اسے یہ بھی مسلم ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ابن مریم، دجال، یاجوج وماجوج کی حقیقت ہو بہو منکشف نہ ہوئی اور کما حقہٗ اسے نہ سمجھے۔ بلکہ ان کی حقیقت سمجھنے میں اجتہادی غلطی رہی اور مرزا صاحب نے کما حقہ سمجھ لیا اور ان پر امور مذکورہ کی حقیقت منکشف ہوگئی۔

اب نزاع صرف مندرجہ ذیل امور میں ہے۔

۱… کیا یہ اجتہادی امور ہیں۔

۲… انبیاء سے اجتہادی امور میں غلطی ہوسکتی ہے۔

۳… ان امور میں اگر مرزا صاحب کا علم باوجود امتی ہونے کے رسول اللہ ﷺ پر بڑھ جائے تو آنحضرتﷺ کی کوئی تنقیص و توہین نہیں۔

الجواب:

۱… ابن مریم اور دجال ویاجوج وماجوج کا علم امور اعتقادیہ میں سے ہے نہ کہ اجتہادیہ میں سے۔ ہر مسلمان اس سے واقف ہے۔ علامات قیامت امور دینیہ ایمانیہ میں سے ہیں۔ تمام کتب عقائد میں امور اعتقاد، دینیہ ایمانیہ کے تحت مذکور ہیں۔ خود آنحضرتﷺ نے ان کا تذکرہ کرنے کے بعد آپ نے یہ تمام امور دین قرار دئیے ہیں کہ: ’’ہٰذا جبرئیل اتاکم یعلمکم دینکم… الخ!‘‘ او کما قالa کہ یہ جبرئیلm تھے، تمہیں دین سکھانے آئے تھے۔

اور تمام دنیا حتیٰ کہ مرزا صاحب کا بھی اتفاق ہے کہ امور دینیہ ایمانیہ میں انبیاء غلطی سے پاک ہوتے ہیں اور خطا کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا صاحب: ’’لیکن امور دینیہ میں اس خطاء کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کی تبلیغ میں منجانب اللہ بڑا اہتمام

145

ہوتاہے… الخ!‘‘

(ازالہ ص۶۹۰، خزائن ج۳ ص۴۷۲)

ابن مریم کے نزول وغیرہ میں مرزا صاحب اور مرزائیوں نے بہت کچھ لکھاہے۔ تعجب ہے کہ پھر اسے امور ایمانیہ میں قرار نہیں دیتے۔ میں اس کے واسطے گواہان اور مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ علامہ عبدالوہاب شعرانی کا فیصلہ پیش کرتاہوں کہ: ’’فقد ثبت نزولہ (الیٰ) والحق انہ رفع بجسدہ الی السماء والایمان بذالک واجب‘‘

(یواقیت ج۲ ص۱۳)

یعنی عیسیٰm کا نزول آسمان سے کتاب اور سنت سے ثابت ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ حق یہی ہے کہ عیسی ابن مریم اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔

لہٰذا یہ تمام مذکورہ امور دینیہ ایمانیہ ہیں جن میں نبی سے کسی قسم کی اجتہادی غلطی ناممکن ہے اور ان امورمیں کسی امتی کا علم نبی سے زائد ماننا کھلا ہوا کفر ہے۔ کیونکہ یہ امور غیبیہ سوائے وحی ربانی کے عقل سے معلوم ہی نہیں ہوسکتے اور نبی بلکہ سید الانبیاء اگر ان امور غیبیہ اور اس وحی کے سمجھنے میں غلطی کریں تو اصلاح پھر کون کرے گا؟ لہٰذا ان امور میں مرزا صاحب کاعلم رسو ل اللہ ﷺ سے زیادہ ماننے کے بعد کسی طرح محمدرسول اللہ کلمہ کے دوسرے حصہ پر ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔

۲… ’’انبیاء سے اجتہادی امور میں غلطی ہوسکتی ہے۔‘‘

اس سلسلہ میں بلا وجہ مختار مدعاعلیہ نے نبراس، فتوح الغیب، ہدیۃ الشیعہ، اشاعۃ السنۃ وغیرہ کے متعدد جدید اور قانوناً غیرمسلم حوالے پیش کئے۔

الجواب: پہلا جواب تو وہی ہے کہ جن امور میں یہاں گفتگو ہے۔ وہ امور دینیہ ایمانیہ ہیں جن میں خود مرزا صاحب کے نزدیک بھی غلطی ممکن نہیں ہے۔ دوسرے یہ فریقین کو مسلم ہے کہ انبیاء سے اگر خدانخواستہ اجتہادی لغزش ہو، تو وہ اس پر قائم نہیں رہتے، حفاظت الٰہی ان کو کسی غلطی پر باقی نہیں چھوڑتی۔ بلکہ منجانب اللہ انہیں اس پر متنبہ کر دیا جاتاہے۔ لہٰذا اس کو خدا نخواستہ یہ اجتہادی امور بھی ہوتے ہیں تو بھی وحی الٰہی اس میں متنبہ کرکے آنحضرتﷺ پر جس علم کو منکشف کرسکتی ہے۔ کسی امتی کو اتنا علم ہونا ناممکن ہے۔ بہرحال امور دینیہ ایمانیہ میں کسی طرح نبی کے علم پر کسی امتی کے علم کو فضیلت نہیں ہوسکتی۔

ایک مغالطہ کا جواب

یہ بھی مرزائیوں کا محض مغالطہ ہے کہ ابن مریم اور دجال یاجوج وماجوج کی حقیقت آنحضرتﷺ پر منکشف نہ ہوئی تھی اور مرزا صاحب پر منکشف ہوگئی۔ میں مرزا صاحب اور آنحضرتﷺ کی تحقیقات کو سامنے رکھ کر عدالت سے درخواست کروں گا کہ وہ خود توازن کر لے کہ مرزا صاحب یا مرزائیوں کے ادّعائے باطل میں ذرہ برابر صدق کا شائبہ نہیں۔

ابن مریم کے متعلق مرزا صاحب کی رائے

کہ خود مرزا صاحب اوّلاً مریم کے رنگ میں پیدا ہوئے۔ پھر ان میں عیسیٰm کا حمل قرار پایاہے۔ پھر تقریباً ۹ ماہ بعد درد زہ اٹھا اور تنہ کھجور کے نیچے لے گیا۔ پھر اپنے آپ سے خود ہی پیدا ہو گئے۔ لہٰذا وہ مریم بھی ہوئے اور ابن مریم بھی:

  1. آنکہ گوید ابن مریم چوں شدی

    ہست او غافل ز راز ایزدی

  2. آں خدائے قادر ورب العباد

    در براہین نام من مریم نہاد

  3. مدتے بودم برنگ مریمی

    دست نادادہ بہ پیران زمی

146
  1. ہمچو بکرے یافتم نشوونما

    از رفیق راہ حق نا آشنا

  2. بعد ازاں آن قادر رب المجید

    روح عیسیٰ اندران مریم دمید

  3. پس بہ نفخش رنگ دیگر شد عیاں

    زاد زاں مریم مسیح ایں زماں

  4. زیں سبب شد ابن مریم نام من

    زانکہ مریم بود اول گام من

  5. بعد ازاں از نفخ حق عیسیٰ شدم

    شد ز جائے مریمی برتر قدم

  6. ایں ہمہ گفت است رب العالمین

    گرنمیدانی براہین را ببین

  7. حکمت حق راز ہا دارد بسے

    نکتۂ مستور کم فہمد کسے

(حقیقت الوحی ص۳۳۹، خزائن ج۲۲ ص۳۵۲)

مختار مدعاعلیہ باوجود غیر متعلق ہونے کے اس بحث میں متعدد جگہ ابن مریم دجال یاجوج وماجوج وغیرہ کی پیش گوئی کے مرزا صاحب کے زمانہ میں وقوع اور ہوچکنے کی تصریح کی جس کی بناء پر ہم بھی مجبور تھے کہ ان ہر سہ امور کے متعلق اوران کے وقوع پر ایک مفصل بحث کریں اور عدالت کے سامنے ایک مکمل مرزا صاحب کے خیالات اور نبی کریمa کے ارشادات گرامی کا نقشہ پیش کردیں تا کہ عدالت خود توازن فرمالے۔ مگر چونکہ عدالت عالیہ کی رائے گرامی میں وقوع وغیرہ کی بحث غیر ضروری اور موضوع مقدمہ سے بالکل علیحدہ ہے۔ اس لئے میں عدالت کے حکم کی پابندی اور احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے جس قدر حصہ وقوع سے تعلق رکھتاتھا، حذف کررہاہوں۔

اب صرف اس حصہ کو لیتاہوں جو مرزا صاحب کی پیش کردہ اصل عبارت میں مصرح اور مابہ النزاع ہے۔

عالی جاہ! ہمارے آقاو مولیٰ، اعلم الاوّلین والآخرین پر مرزا صاحب کا یہ محض بہتان اور اتہام صریح ہے کہ ابن مریم، دجال یاجوج وماجوج کی موبمو حقیقت منکشف نہ ہوئی اور نہ وحی الٰہی نے اس کی عمیق تہ کا پتہ دیا۔ بلکہ امثلہ قریبہ اور متشاکل ومتشابہ چیزوں سے تفہم کی گئی۔ تفصیل کا موقع نہیں میرا دعویٰ ہے کہ کسی چیز کی وضاحت اور انکشاف تام کی جس قدر بھی صورتیں ممکن ہیں وہ صاف صاف واضح اور صریح الفاظ میں بیان فرمادیں۔

عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی تصریح فرمائی، ان کا حلیہ شریف درمیانہ قد، رنگ سفید سرخی مائل، بال دونوں شانوں تک بہت سیاہ اور چمکدار جیسے نہانے کے بعد ہوتے ہیں، گھونگرالے، عروہ بن مسعودq صحابی سے ملتی جلتی شکل، ان کی خوراک کی تصریح کہ لوبیا یا جو چیزیں آگ پر نہ لگیں وہ تناول فرمائیں گے۔ وقت نزول دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے سر پہ ایک طویل ٹوپی، جسم مبارک پر ذرہ، دونوں ہاتھ فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے، ہاتھ میں ایک چھوٹا نیزہ حربہ جس سے دجال کو قتل کریں گے جس کافر کو آپ کی سانس پہنچے گی وہ فوراً مرجائے گا۔ شہر دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ و گوشہ پر ان مسلمانوں کی جماعت میں اتریں گے، جو مسلمان مع مہدی علیہ الرضوان دجال سے لڑنے کو مجتمع ہوں گے جن کی تعداد آٹھ سو مرد اور چار سو مستورات کی ہوگی۔ وہ لوگ نماز کے واسطے صفیں درست کررہے ہوں۔ امام مہدی ان کے امام ہوں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان عیسیٰm کو امامت کے لئے بلائیں گے اور وہ انکار کریں گے۔ جب امام مہدی پیچھے ہٹنے لگیں گے تو حضرت عیسیٰ ان کی پشت پر ہاتھ رکھ کر انہیں کو امام بنائیں گے اور وہی نماز پڑھائیں گے۔ وہ نماز صبح کا وقت ہوگا۔ بعد نزول صرف چالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ ان کا نکاح حضرت شعیب کی قوم کے قبیلہ میں ہوگا جس سے اولاد بھی ہوگی۔ کسرصلیب وقتل خنزیر فرمائیں گے۔ نماز سے فارغ ہو کر دروازہ مسجد کھلوائیں گے جس کے پیچھے دجال ہوگا اور اس کے اعوان یہودیوں کے ساتھ جہاد کریں گے اور اسے باب لد پر قتل فرما کے اس کا خون اپنے نیزہ پر لوگوں کو دکھلائیں گے۔ کوئی شئے اسے پناہ نہ دے گی۔ درخت

147

وپتھر پکار کے کہے گا کہ ہمارے پیچھے یہودی چھپا ہے۔ اس وقت اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔ مال وزر لوگوں میں اتنا عام کردیں گے کہ کوئی قبول کرنے والا نہ رہے گا۔ مقام فج الروحاء میں جائیں گے۔ حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے۔ نبی کریمa کے مزار پاک پر جائیں گے اور سلام کریں گے اور آپ جواب سلام مرحمت فرمائیں گے۔ ہر قسم کی دینی ودنیاوی برکات نازل ہوں گی، سب کے دلوں سے بغض حسد وکینہ نکل جائے گا، ایک انار اتنا بڑا ہوگا کہ ایک جماعت کے لئے کافی ہوگا اور ایک بکری ایک قبیلہ کو۔ پھر نیش والے زہریلے جانوروں کا نیش نکال دیا جاوے گا۔ حتیٰ کہ سانپ کے منہ میں بھی ہاتھ ڈالنا ضرر رساں نہ ہوگا۔ شیر وانس، بھیڑ بکریاں مجتمع ہوجائیں گے۔ ساری زمین مسلمانوں سے یوں پر ہوگی جیسے پانی سے برتن، یہ برکات سال سال تک رہیں گے۔ قرب وفات لوگوں کو وصیت فرمائیں گے کہ میرے بعد مقصد نامی شخص کو خلیفہ بنائیں، اس کے بعد آپ وفات فرمائیں گے اور روضہ اقدس نبی کریمa میں مدفون ہوں گے، آپ کی چوتھی قبر ہوگی۔

پھر مقصد خلیفہ ہوگا جس کے تین سال بعد قرآن سینوں سے اٹھا لیا جائے گا اور قیامت نمودار ہوگی… الخ!

اس کے واسطے ملاحظہ ہو رسالہ ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ جس میں یہ تمام احادیث ۶۴ کے قریب مصرح موجود ہیں۔ میں نے نہایت اختصار سے اقتباس کیا۔ تعجب ہے کہ اس قدر انکشاف تام کو یہ کہنا کہ موبمو منکشف نہ ہو اور امثلہ قریبہ و متشابہات کے رنگ میں سمجھایاگیا اور مرزا صاحب خود ہی اپنے آپ کو مریم اورابن مریم فرماتے ہیں:

ببیں تفاوت رہ از کجا است تا بکجا

دجال

آنحضرتﷺ نے دجال کے متعلق تو یہاں تک فرمادیا کہ ہر نبی نے اس سے ڈرایا، مگر میں سب سے زیادہ وضاحت سے کہتاہوں۔ اگر میں ہوا تو خود تمہاری طرف سے مقابل ہوں گا۔ ورنہ ہر شخص خود سمجھ لے اور اللہ میری طرف سے معین ومددگار ہوگا۔ وہ ایک موعود شخص ہوگا (نہ کہ جماعت) شام وعراق کے درمیان ظاہر ہوگا۔ اس کی پیشانی پر’’کافر‘‘ بصورت ’’ک،ف،ر‘‘ لکھا ہوگا۔ وہ بائیں آنکھ سے کاناہوگا۔ اس کی آنکھ میں سخت ناخنہ ہوگا۔ تمام دنیا میں پھر جائے گا۔ کوئی جگہ باقی نہ رہے گی جسے وہ فتح نہ کرے۔ البتہ حرمین مکہ ومدینہ اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ حرمین کے ہر راستہ پر فرشتوں کا پہرہ ہوگا کہ دجال کو روکیں وہ حرمین کے باہر ظریف احمر میں (سنجہ) شور زمین کے ختم پر جاکر ٹھہرے گا۔ اس وقت مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے جس سے منافق مردو عورت مدینہ سے نکل کر دجال کے ہمراہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ ظاہری طور پر جنت ودوزخ ہوگی۔ مگر درحقیقت اس کی جنت دوزخ اور دوزخ جنت ہوگی۔ اس کے زمانہ میں ایک دن سال بھر کے برابر، دوسرا ایک ماہ اور تیسرا ایک ہفتہ کے برابر ہوگا۔ باقی ایام حسب دستور ہوں گے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا جس کے دونوں ہاتھوں کادرمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا۔ اس کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو لوگوں سے کلام کریں گے۔ جب وہ بادل کو کہے گا وہ پانی برسائے گا جب منع کردے گا، قحط ہوجائے گا۔ مادرزاد اندھے اور ابرص کو درست کردے گا۔ زمین کے پوشیدہ خزانے اس کے حکم سے باہر آکر اس کے پیچھے ہوجائیں گے۔

ایک نوجوان آدمی کو بلا کر تلوار سے دو ٹکڑے کر دے گا تو پھر اسے بلائے گا تو وہ صحیح سالم ہنستاہوا سامنے آجائے گا۔ اس کے ساتھ ستر۷۰ ہزار یہودی ہوں گے جن کے ساتھ جڑاؤ تلواریں ہوں گی۔ لوگوں کے تین فرقہ ہوجائیں گے۔ ایک دجال کا اتباع کرے گا۔ دوسرا اپنا کا کاشتکاری میں لگا رہے گااور تیسرا دریائے فرات کے کنارہ پر اس کے ساتھ ساتھ جہاد کرے گا۔

مسلمان شام کی بستیوںمیں جمع ہوکر ایک ابتدائی لشکر دجال کے پاس پہنچیں گے۔ اس لشکر میں ایک شخص ایک سرخ یا سیاہ یا سفید

148

گھوڑے پر سوار ہوگا اور یہ سارا لشکر شہید ہوجائے گا۔ ان میں سے ایک بھی واپس نہ آئے گا۔

دجال جب حضرت عیسیٰm کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا۔ جیسے نمک پانی میں اس وقت تمام یہودیوں کی شکست ہوگی۔ پھر عیسیٰm اسے باب لد پر قتل کرکے اپنے نیزہ پر اس کا خون دکھائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ!

عدالت ملاحظہ فرمائے اس انکشاف تام کو بخلاف مرزا صاحب کے کہ وہ فرماتے ہیں کہ: ’’مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈیوں کی طرح تمام دنیا میں پھیل گیاہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۹۲، خزائن ج۳ ص۳۶۶)

’’نصاریٰ کے علماء ہی بیشک دجال معہود ہیں۔‘‘

(حاشیہ حمامۃ البشریٰ ص۴۰، خزائن ج۷ ص۲۲۹)

یاجوج وماجوج

قرآن پاک میں ہی کافی ذکرہے۔ ’’ان یأجوج ومأجوج مفسدون‘‘ آنحضرتﷺفرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ یاجوج وماجوج کو نکالے گا جن کاسیلاب تمام عالم کو گھیرلے گا۔ اس وقت حضرت عیسیٰm تمام مسلمانوں کو کوہ طورپر جمع فرمائیں گے۔ یاجوج کا ابتدائی حصہ جب دریائے طبریہ پر گزرے گا تو دریا کے سب پانی کو پی کر صاف کر دے گا۔ اس وقت بوجہ قحط وغیرہ ایک راس بیل لوگوں کے لئے سو دینار سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت عیسیٰm یاجوج کے واسطے بددعا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گلے میں ایک گلٹی نکال دے گا جس سے سب کے سب دفعۃً مر جائیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰm مسلمانوں کو لے کر کوہ طور سے زمین پر اتریں گے۔ مگر تمام زمین یاجوج وماجوج کے مردوں سے بدبو دارہوگی۔ پھر بدبو کے دور ہونے کی خدا سے دعافرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جس سے تمام زمین دھل جائے گی۔ پھر زمین اصلی رنگ پر پھولوں اور پھلوں سے بھر جائے گی۔ وغیرہ وغیرہ! یہ سب مسلم شریف، مسند احمد، ابوداؤد، دارقطنی وغیر میں موجود ہے۔

اس قدر کشف تام آنحضرتﷺ کے ارشاد ومعلومات میں ہے۔ مگر مرزا صاحب کو نظر نہیں آتا اور خود آنحضرتﷺ پر اپنی اس تحقیقات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ: ’’یاجوج وماجوج سے مراد وہ نصاریٰ ہیں جو روس وبرطانیہ کی قوموں سے ہیں۔‘‘

اب عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ مرزا صاحب کا کس قدر صریح بہتان ہمارے آقاو مولیٰa پرتھا اور اس مقابلہ میں کس قدر صریح توہین تھی۔ جو کلمہ شریف پر ایمان کے سراسر منافی ہے۔

’’فبین ما ہو کذالک اذا اوحی اللہ الیٰ عیسی انی قد اخرجت عباداً لی لا یدان لاحد بقتالہم فحرز عبادی الی الطور وبعث اللہ یاجوج وماجوج وہم من کل حدب ینسلون فیمر اوائلہم علی بحیرۃ طبریۃ فیشربون ما فیہا و یمر اٰخرہم فیقول لقد کان بہٰذہ مرۃ ماء ثم یسیرون حتی ینتہوا الی جبل الخمر وہو جبل بیت المقدس فیقولون لقد قتلنا من فی الارض ہلم فلنقتل من فی السماء فیرمون بنشابہم الی السما ء فیرد اللہ علیہم نشابہم مخضوبۃ دما ویحصر نبی اللہ واصحابہ حتی یکون راس الثور لاحدہم خیرا من مائۃ دینار لاحد کم الیوم فیرغب نبی اللہ عیسی واصحابہ فیرسل اللہ علیہم النغف فی رقابہم فیصبحون فرسی کموت نفس واحدۃ ثم یہبط نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ الی الارض فلا یجدون فی الارض موضع شبر الاملأہ زہمہم ونتنہم فیرغب نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ الی اللہ فیرسل اللہ طیرا کاعناق البخت فتحملہم فتطرحہم حیث شاء اللہ وفی روایۃ تطرحہم بالنہبل ویستوقد المسلمون من قسیھم ونشابہم وجعا بہم سبع سنین ثم یرسل اللہ مطرا لا یکن منہ بیت مدر ولا وبر فیغسل الارض حتی یترکہا کا الزلفۃ… الخ!‘‘

(رواہ مسلم، مشکوٰۃ ص۴۷۳،۴۷۴)

149

(ترجمہ) نواس بن سمعان نے ایک لمبی حدیث میں فرمایاہے کہ ذکر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے… پس اسی اثناء میں کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰm کو مطلع فرمائیں گے کہ میں ایک ایسی مخلوق کو نکالوں گا جن کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ لہٰذا میرے ان بندوں کو تم طور کی طرف لے جاؤ اور یاجوج وماجوج کو نکالیں گے جو نہایت عجلت کے ساتھ ساری دنیا میں پھیل جائیں گے۔ اوّل حصہ ان کا جب بحیرہ طبریہ پر جو کئی میل کا لمبا دریاہے گزرے گا تو اس کا پانی پی لے گا۔ پھر پی لیں گے جو اس میں ہوگا اور اخیر ان کا جب وہاں سے گزرے گا تو کہے گا کہ کبھی یہاں پانی تھا۔ پھر چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جبل الخمر تک پہنچیں گے۔ وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے۔ پھر کہیں گے ہم نے تمام زمین والوں کو قتل کردیا آؤ آسمان والوں کو قتل کریں۔ پھر اپنے تیروں کو آسمان کی طرف ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے تیر خون آلودہ کرکے واپس لوٹائیں گے اور اللہ کا نبی اور اس کے اصحاب محصور کئے جائیں گے۔ حتیٰ کہ راس الثور ان کے نزدیک سو دینار سے زیادہ قیمتی ہوگا۔ پس اللہ کا نبی عیسیٰm اور اس کے اصحاب اللہ تعالیٰ کے جناب میں دعا کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان یاجوج وماجوج پر بخت کے جانور بھیج دیں گے۔ پس وہ (یاجوج) زمین پر مر کر گر پڑیں گے۔ جیسے ایک نفس کے موت۔

عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ ابن مریم، دجال، یاجوج وماجوج کی حقیقت کما حقہ کس قدر انکشاف تام سے ہوئی ہے۔ مرزا صاحب کجا، انبیاء اوالعزم نے بھی یوں بیان نہیں کی نہ اس قدر تفصیل کسی آسمانی کتاب میں پائی جاتی ہے۔ پھر بھی مرزا صاحب کا یہ بہتان کہ حضورa پر ابن مریم اور دجال ویاجوج وماجوج کی حقیقت موبمو منکشف نہ ہوئی۔ جیسی کہ مجھ (مرزا) پر ہوئی۔ اس قدر توہین عظیم ہے کہ جس کے بعد کسی طرح ایمان قائم نہیںرہ سکتا۔

قول مختار مدعاعلیہ:

’’ان امور میں اگر مرزا صاحب کا علم باوجود امتی ہونے کے نبی کریمa پر بڑھ جائے تو آنحضرتﷺ کی کوئی تنقیص وتوہین نہیں۔‘‘

الجواب: جب یہ ثابت ہوچکا کہ یہ علم علوم کمالیہ اور امور دینیہ ایمانیہ سے ہیں اور مرزا صاحب کے امتی تمام مسلمانوں کو انہیں امور سے اختلاف کی بناء پر کافر کہتے ہیں۔ پس ان اہم میں کسی شخص کو علمی فضیلت دینا اور اس کو علم پاک حضورa سے زیادہ قرار دینا عدالت خود ہی دونوں تحقیقوں میںتوازن کر کے رائے قائم کر سکتی ہے کہ مرزا صاحب کے خیالات محض مجنونانہ ہیں۔ ورنہ حضورa کے علم پر اپنے علم کو ترجیح نہ دیتے۔

یاجوج ماجوج، مرزا صاحب

’’یاجوج وماجوج سے مراد وہ نصاریٰ ہیں جو روس اور برطانیہ کی قوموں سے ہیں۔‘‘

(حاشیہ حمامۃ البشری ص۲۸، خزائن ج۷ ص۲۰۹،۲۱۰)

آنحضرتﷺ کی تحقیقات

یہ مسئلہ ایک حد تک قرآن پاک کی وحی الٰہی نے صاف کردیا ہے:’’کما قال اللہ تعالیٰ ان یأجوج ومأجوج مفسدون فی الارض فہل نجعل لک خرجاً علی ان تجعل بیننا وبینہم سداً۔ قال مامکنی فیہ ربی خیر فاعینونی بقوۃ واجعل بینکم وبینھم ردماًاٰتونی زبر الحدید حتی اذا ساویٰ بین الصدفین قال انفخوا حتی اذا جعلہ ناراً قال اتونی افرغ علیہ قطرا فما اسطاعوا ان یظہروہ ومااستطاعوالہ نقباً۔ قال ہٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکا وکان وعد ربی حقا (الکہف:۹۴تا۹۸)‘‘

ان آیات میں کس تفصیل سے یاجوج وماجوج کا تذکرہ ہے اور لوگوں کی درخواست پر ذی القرنین کا سد سکندری قائم کرنے

150

اوراس کے توڑنے یا سوراخ کرنے پر تاقرب قیامت قادر نہ ہونے اور پھر قرب قیامت اس سد سکندری ودیوار کے بحکم خدا وندی ٹوٹنے وغیرہ کا۔ اس سے عدالت اندازہ کرسکتی ہے کہ روس وبرطانیہ اور نصاریٰ کا وجود بھی نہ تھا جب سے یہ قومیں موجود ہیں اور یاجوج وماجوج کے نام سے موسوم ہیں اور قیامت کے قریب نکلیں گے۔

ارشاد نبویﷺ

۱… ’’عن حذیفۃ بن اسید الغفاری قال اطلع النبیﷺ علینا ونحن نتذاکر فقال ما تذکرون قال نذکر الساعۃ قال انہا لن تقوم حتی تروا قبلہا عشر آیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ وطلوع الشمس من مغربہا ونزول عیسیٰ بن مریم ویاجوج وماجوج… الخ ہما قبیلتان من ولد یافث من نوحm‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۷۲، باب العلامات بین یدی الساعۃ)

(ترجمہ) حذیفہ بن اسید غفاری سے مروی ہے کہ نبی کریمa ہم پر ظاہرہوئے اور ہم ذکرکررہے تھے تو فرمایا کہ کیا ذکر کر رہے ہو، عرض کیا کہ قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ وہ ہرگز نہ قائم ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے قبل دس نشان دیکھو گے۔ پس ذکر فرمایا دھواں اور دجال اور دابۃ الارض اور مغرب سے سورج کا نکلنا اور عیسیٰm بن مریم کا آسمان سے نازل ہونا اور یاجوج اورماجوج کا آنا… الخ!

بین السطور حاشیہ میں ان یاجوج وماجوج کا یافث ابن نوح کی اولاد سے ہونے کی تصریح ہے۔

۲… عن النواس بن سمعان (قال فی حدیث طویل) ذکر رسول اللہ ﷺ… کھلا ہوا کفرہے جس کی دنیا میں نظیر نہیں مل سکتی۔

ہمارا تو ایمان ہے کہ حضورa تمام علوم اوّلین وآخرین کے جامع ہیں۔ جیسا کہ فرماتے ہیں کہ: ’’اعطیت علم الاوّلین والاخرین‘‘ تمام وہ علوم جن کا تعلق کمالات سے تھا جن کی شان محبوبیت کے لئے ضرورت تھی ’’بتمامہا وبکمالہا‘‘ اللہ کے محبوبa میں مجتمع ہیں۔ تمام دنیا کے اولیاء، انبیاء وملائکہ اور دیگر کائنات عالم کا علم ایک پلّہ میں رکھ دیا جائے اور سید الانبیاء کا علم نہیں بلکہ ایک ذرہ علم محمدa سے ایک پلّہ میں رکھا جاوے تو پھر بھی آنحضرتﷺ کے علم کا پلّہ بھاری ہوگا۔ تمام انبیاء و اولیاء وملائکہ مقربین اس کا اندازہ کیا کر سکیں۔ کسی کا وہم وگمان بھی وہاں تک رسائی نہیں کرسکتا۔ حضرت امام بوصیری فرماتے ہیں۔

  1. ومن جودک الدنیا وضرتہا

    ومن علومک علم اللوح والقلم

لوح قلم کا علم ایک جھلک ہے۔ علم محبوب رب العالمینa کی پس کوئی مسلمان تو اس توہین کوپسند بلکہ برداشت نہیں کرسکتا۔ ہاں! مرزا صاحب کے متبعین کے نزدیک مرزا صاحب کی حضور اکرمﷺ پر علمی فوقیت میں کوئی توہین نہ ہو تو نہ سہی خطبہ الہامیہ ملاحظہ فرمائیں۔ وہ تو نبی کریمa اور ان کے دور کو ہلال اور اپنے بروزی رنگ کو بدر کامل قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ آگے بسلسلہ توہین ان شاء اللہ ! آئے گا۔

حضرت مولانا تھانوی اور مولانا سہانپوری پر اتہام

مرزا صاحب کی جماعت جب کہ نبی کریمa پر بہتان باندھنے میں تأمل نہیںکرتی تو بزرگان دین اور علماء ربانیین اس کی دست درازی سے کب بچ سکتے ہیں۔

چونکہ حفظ الایمان اور براہین قاطعہ کی مفصل بحث آگے جہاں پر حسام الحرمین اور بریلوی اور دیوبندیوں کا ذکر آئے گا آرہی

151

ہے۔ اس لئے تفصیلاً تو عرض نہیں کرتا، صرف مختار مدعاعلیہ کا قول نقل کرکے اجمالی جواب کی طرف اشارہ کرکے بہتان عظیم عدالت پہ واضح کرتاہوں۔

قول مختار مدعاعلیہ:

’’تعجب کی بات ہے کہ یہ اعتراض ان اشخاص نے کیا ہے جن کے مقتداء اور پیشواء آنحضرتﷺ کے متعلق یہ لکھ چکے ہیں پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید وعمرو بکر بلکہ ہر صبی اور مجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتاہے جو دوسرے پر مخفی ہے۔‘‘

(حفظ الایمان مصنفہ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ص۷)

مختار مدعاعلیہ نے تمام مبتداء وخبر استفتا سوال وجواب حذف کرکے درمیان سے ایک عبارت کاٹ کر جو وہ دوسرے کی حکایتہ نقل فرماتے ہیں کہ اگر بقول زید صحیح ہے۔ اپنی رائے اور عقیدہ نہیں، قطع وبرید کرکے پیش کیا اور اس سے اس ناجائز مغالطہ کی سعی کی کہ خدا نخواستہ حضرت مولانا تھانوی کا مذہب ہے۔ حالانکہ یہ ایک افتراء کا جواب ہے جس میں زید کا ایک عقیدہ نقل کیاگیاہے۔ وہ جواب میں فرماتے ہیں کہ اگر یہ قول زید صحیح ہو تو اس میں رسول اللہ ﷺ کی توہین لازم آئے گی۔ کیونکہ زید کے اس قول سے لازم آئے گا کہ یہ لفظ عالم الغیب معاذ اللہ ! جانوروں اورباولوں تک بولاجاسکے۔ حالانکہ یہ سراسر ناجائز وباطل ہے۔ وہ تو زید کے قول پر حکم لگا رہے ہیں اور اس باطل عقیدہ کو روک رہے ہیں اور مختار مدعاعلیہ عدالت کو یہ مغالطہ دے رہا ہے کہ انہوں نے حضورa کا علم جانوروں جیسا بتایا۔ اتنا سفید جھوٹ شاید ہی کوئی بول سکتاہو۔ مولوی احمد رضاخان صاحب بریلوی کو بھی ایسا مغالطہ ہوا جس پر خود مولانا تھانوی سے اس عبارت کے متعلق ایک سوال کیاگیا اور انہوں نے جواب مرحمت فرمایا۔

ہر دو سوال وجواب بجنسہٖ درج ذیل ہیں۔

بخدمت اقدس حضرت مولانا المولوی الحافظ الحاج الشاہ اشرف علی صاحب مدت فیوضکم العالیہ!

بعد سلام مسنون عرض ہے کہ مولوی احمد رضا خان بریلوی یہ بیان کرتے ہیں اور حسام الحرمین میں آپ کی نسبت لکھتے ہیں کہ آپ نے حفظ ایمان میں اس کی تصریح کی کہ غیب کی باتوں کا علم جیسے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ ایسا ہر بچے اور ہر پاگل بلکہ ہر جانور اور ہر چار پائے کو حاصل ہے۔ اس لئے امور ذیل دریافت طلب ہیں۔

۱… آیا آپ نے حفظ الایمان یا کسی کتاب میں ایسی تصریح کی ہے؟

۲… اگر تصریح نہیں تو بطریق لزوم بھی یہ مضمون آپ کی کسی عبارت سے نکل سکتاہے؟

۳… آیا ایسا مضمون آپ کی مراد ہے؟

۴… اگر آپ نے نہ ایسے مضمون کی تصریح فرمائی، نہ اشارہ مفاد عبارت ہے، نہ آپ کا مراد تو ایسے شخص کو جو یہ اعتقاد رکھے یا صراحۃً یا اشارۃً کہے اسے آپ مسلمان سمجھتے ہیں یا کافر… بینوا وتوجروا!

بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفاعنہ

الجواب: مشفق مکرم سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم! آپ کے خط کے جواب میں عرض کرتاہوں کہ:

۱… میں نے یہ خبیث مضمون کسی کتاب میں نہیں لکھا اور لکھنا تو درکنار میرے قلب میں بھی اس مضمون کا کبھی خطرہ نہیں گزرا۔

۲… میری کسی عبارت سے یہ مضمون لازم بھی نہیں آتا۔ چنانچہ اخیر میں عرض کروں گا۔

152

۳… جب میں اس مضمون کو خبیث سمجھتاہوں اور میرے دل میں بھی کبھی اس کا خطرہ نہیں گزرا۔ جیسا کہ اوپر معروض ہوا تو میری مراد کیسے ہوسکتا ہے۔

۴… جو شخص ایسا اعتقاد رکھے یا بلا اعتقاد صراحۃً یا اشارۃً یہ بات کہے۔ میں اس شخص کو خارج از اسلام سمجھتاہوں کہ وہ تکذیب کرتاہے۔ نصوص قطعیہ کی اور تنقیص کرتاہے۔ حضور سرور عالم فخر بنی آدمa کی۔ یہ تو جواب ہوا آپ کے سوالات کا۔ اب آخر میں اس جواب کی تتمیم کے لئے مناسب سمجھتاہوں کہ حفظ الایمان کی اس عبارت کی مزید توضیح کروں جس کی بنا پر مجھے تہمت لگائی گئی ہے۔ گو کہ وہ خود بھی بالکل واضح ہے۔

اوّل میں نے دعویٰ کیا ہے کہ علم غیب جو بلا واسطہ ہو وہ تو خاص ہے حق تعالیٰ کے ساتھ اور جو بواسطہ ہو وہ مخلوق کے لئے ہوسکتاہے۔ مگر اس سے مخلوق کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں اور اس دعویٰ پر دو دلیلیں قائم کی ہیں… الخ!‘‘ (اس کے آگے بڑی وضاحت اور صفائی سے بیان فرمایا ہے)

(بسطہ البنان ص۹،۱۰)

آخر کتاب میں فرماتے ہیں کہ: ’’بفضلہ تعالیٰ میرا اور میرے سب بزرگوں کا عقیدہ ہمیشہ سے آپa کے افضل المخلوقات فی جمیع الکمالات العلمیہ والعملیہ کے باب میں یہ ہے کہ :بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔

(ملاحظہ ہو حفظ الایمان وبسط البنان ص۱۵)

اس دیدہ ودانستہ بہتان کا جواب سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ: ’’افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد (المؤمن:۴۴)‘‘

قول مختار مدعاعلیہ:

’’اور لکھتے ہیں کہ شیطان اور ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی۔ فخر عالمa کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے (براہین قاطعہ مؤلفہ مولوی خلیل احمد انبیٹھوی، مصدقہ مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی ص۵۱) اس میں ابلیس لعین کا مقابلہ آنحضرتﷺ سے کرکے شیطان ملعون کا علم آنحضرتﷺ کے علم سے زیادہ بتلایاہے۔ کیا اس میں آنحضرتﷺ کی توہین نہیں ہے اور یہ عبارت سوء ادبی کی مشعر نہیں۔‘‘

’’یہاں اصل عبارت قطع وبرید کرکے حسب منشاء ایک کفریہ مضمون بنالیا ہے۔ اگر کل عبارت نقل کر دیتے تو یہ وہم وگمان بھی نہ ہوتا تفصیل تو آگے آئے گی۔ صرف اجمالاً گزارش ہے کہ یہ عبارت جہاں سے شروع ہے وہیں سے پیش کردوں۔ ایک سطر اوپر سے اگر یہ عبارت لی جائے تو معلوم ہوجائے کہ کس علم میں گفتگو ہے اور یہ اپنا عقیدہ ہے یا کسی اور کا۔‘‘

’’الحاصل غور کرناچاہئے کہ شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسد سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی، فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتاہے۔‘‘

(براہین قاطعہ ص ۵۱)

اصل یہ ہے کہ یہ کتاب براہین قاطعہ ایک اور کتاب انوار ساطعہ مؤلفہ مولوی عبدالسمیع صاحب رامپوری کی شرح ہے اور وہ علم رسول اللہ ﷺ کو محیط زمین اور گمراہی وغیرہ کا جو شیطانی علم سے متعلق ہے۔ یوں ثابت کرتے ہیں کہ جب یہ علم شیطان کو حاصل ہے جو کمترین خلائق ہے تو سرور عالمa جو افضل الخلائق ہیں انہیں کیوں نہ ہونا چاہئے۔ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب اس کفر وشرک سے انہیں منع فرمارہے ہیں کہ کونسی حماقت وجہالت ہے کہ اللہ کے محبوبa کا علم شیطان لعین جیسے دشمن خدا پر قیاس کیا جائے۔ پھر شیطان کو علم وجہ ارض کا شیطانی علم ہے جو نصوص سے ثابت ہے یہ شیطانی علم، حضورa کے واسطے صرف قیاس فاسد سے بلا کسی نص سے ثابت کرنا عظیم الشان کفر وشرک اور توہین نبوی ہے اورظاہر ہے کہ شیطانی علوم سے ذات گرامی سید المرسلینa پاک وصاف تھی۔ البتہ رحمانی علوم کے ذرہ

153

ذرہ کاعلم اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبa کو عطاء کیا ہے۔ بخلاف مرزا صاحب کے کہ وہ علوم دینیہ ایمانیہ میں اپنے کو حضورaسے افضل اور اعلیٰ جانتے ہیں۔ حالانکہ مرزا صاحب کجا کوئی بھی اوالعزم نبی مقرب فرشتہ ان علوم میں آپ سرور کائنات سے افضل کیا مساوی بھی نہیں ہوسکتا اور یہی عقیدہ ہے۔ مولاناخلیل احمد صاحب کا اسی (براہین قاطعہ ص۳) پر تحریر فرماتے ہیں۔ پس کوئی ادنیٰ مسلم بھی فخردو عالمa کے تقرب وشرف وکمالات میں کسی کو مماثل آپ کا نہیں جانتا۔

اس مخصوص عبارت کے اور اس بہتان عظیم کے متعلق حضرت مولانا سے خود دریافت فرمایاگیا ہے۔ سوال اور جو جواب مرحمت فرمایا بجنسہ درج ذیل ہے: ’’بخدمت شریف مخدوم مکرم جناب مولانا مولوی خلیل احمد صاحب مدرس اوّل مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور ساکن انبیٹھ دامت برکاتہم بعد عرض تحیۃ ماثورہ عرض ہے کہ مولوی احمد رضا خان بریلوی حسام الحرمین میں آپ کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے کتاب براہین قاطعہ میں تصریح کی کہ ابلیس کا علم نبیa سے زیادہ ہے۔ امور ذیل دریافت طلب ہیں۔‘‘

۱… کیا اس مضمون کی آپ نے براہین قاطعہ یا کسی دوسری کتاب میں تصریح فرمائی ہے۔

۲… اگر تصریح نہیں تو بطریق لزوم کے اشارۃً وکنایۃً بھی یہ مضمون آپ کی عبارت سے مفہوم ہوتاہے یا نہیں۔

۳… اگر یہ مضمون صراحۃً مفہوم نہیں ہوتا اور نہ لزوماً مفہوم ہوتاہے تو یہ معنی آپ نے مراد لئے ہیں یا نہیں۔

۴… اگر یہ مضمون آپ نے نہ صراحۃ بیان فرمایا نہ کنایۃً اشارۃً آپ کے کلام کو لازم نہ آپ کی مراد تو جوشخص ایسا اعتقاد رکھے یا کہے کہ سرور عالمa کے علم سے ابلیس کا علم زیادہ ہے۔ اس کو آپ مسلمان جانتے ہیں یا کافر۔

۵… جس عبارت کو خان صاحب براہین سے نقل کرتے ہیں اور اس مضمون مذکور کو اس کا مفاد صریحی بیان کرتے ہیں۔ اس عبارت کا صحیح مطلب کیاہے…بینوا وتوجروا۔

(بندہ محمدمرتضیٰ حسن عفی عنہ)

ملخص عبارات جواب حضرت مولانا خلیل احمدصاحب مدفیوضہم!

الجواب ومنہ الوصول الی الصواب۔ مولوی احمدرضاخان صاحب بریلوی نے جو بندہ پر یہ الزام لگایاہے بالکل بے اصل اور لغو ہے اور میرے اساتذہ ایسے شخص کو کافر ومرتد وملعون جانتے ہیں جو شیطان علیہ اللعن کیا کسی مخلوق کوبھی جناب سرورعالمa سے علم میں زیادہ کہے۔ چنانچہ (براہین قاطعہ ص۴) میں یہ عبارت موجود ہے۔ ’’پس کوئی ادنیٰ مسلم بھی فخر عالمa کے تقرب وشرف کمالات میں کسی کو مماثل آپ کا نہیں جانتا۔ انتہی!‘‘ خان صاحب بریلوی نے مجھ پر یہ محض اتہام لگایاہے۔ اس کا حساب روز جزا ہوگا۔ یہ کفریہ مضمون کہ شیطان علیہ اللعن کا علم نبیa سے زیادہ ہے۔ براہین کی کسی عبارت میں نہ صراحۃً ہے نہ کنایۃً۔

غرض خان صاحب بریلوی نے یہ محض اتہام اورکذب خالص بندہ کی طرف منسوب کیاہے۔ مجھ کو تو مدت العمر کبھی وسوسہ بھی اس کا نہیں ہوا کہ شیطان کیا کوئی ولی، فرشتہ آپa کے علوم کی برابری کر سکے۔ چہ جائیکہ علم میں زیادہ ہو۔ یہ عقیدہ جو خان صاحب نے بندہ کی طرف منسوب کیاہے کفر خالص ہے اس کا مطالبہ خان صاحب سے روز جزا ہوگا۔ میں اس سے بالکل بری ہوں اور پاک۔ ’’وکفیٰ ب اللہ شہیدا‘‘ اہل اسلام عبارات براہین کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔ مطلب صاف اور واضح ہے۔’’حررہ خلیل احمد وفقہ اللہ للتزودلغد‘‘

(قطع الوتین ص۹،۱۰)

عدالت ملاحظہ فرمائے کہ یہ کیسا جھوٹ اور اتہام ہے۔ ہم اس کے متعلق کیا لکھیں۔ عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ یہ کس قدر اتہام ہے۔ جو شخص جس عقیدہ کو کفر کہے، اس کو اس کے ذمہ مڑھ دیا جائے کس قدر ظلم صریح اور تکفیر کا شوق ہے۔ جر ح مدعاعلیہ گواہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۹؍مارچ۱۹۳۳ء

154

اب یہ مسئلہ واضح ہوگیا اور ثابت ہوگیا کہ یہ بہتان صرف اپنا عیب چھپانے کے لئے تھا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ہمارے اعتراض کا جواب کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ مرزا صاحب نے ان امور دینیہ میں ابن مریم اور دجال ویاجوج ماجوج کے متعلق حضورaکا علم اپنے علم سے کم اور اپنا رتبہ افضل بتا کر وہ عظیم الشان زہرہ گداز توہین کی ہے۔ جسے کوئی مسلمان بھی برداشت نہیں کرسکتا اور پھر اس کے بعد مدۃ العمر لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ پڑھتے رہیں۔ جب تک صاف لفظوں میں توبہ نہ کریں ایمان دار نہیں ہوسکتے۔

’’انا فتحنا لک فتحاً مبینا (الفتح:۱)‘‘

قول مختار مدعاعلیہ:

مختار مدعیہ نے (خطبہ الہامیہ ص۱۹۳)کی عبارت مندرجہ ذیل پیش کی ہے اور ظاہرہے کہ فتح مبین کے وقت سے لے کر … تا… سبحان الذی الایۃ اور اس نے اس سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ نعوذب اللہ ! مرزا صاحب نے آنحضرت کے فتح مبین کو نظر استخفاف سے دیکھاہے اور اپنی فتح کو بڑا بتایا ہے۔ حالانکہ یہ نتیجہ نکالنا سراسر باطل اور خلاف منشاء متکلم ہے جس فتح مبین کی طرف آپ نے مذکورہ بالا عبارت میں اشارہ کیا ہے، اس کے متعلق آنحضرتﷺ نے خبر دی تھی اور بزرگان امت محمدیہ بھی یہی مانتے چلے آئے ہیں اور خود مختار مدعیہ اور گواہان مدعیہ بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی کے زمانہ میں اسلام کو دوسرے مذاہب پر ایسی فتح اور غلبہ حاصل ہوگا جو پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوا۔ بلکہ ان کا تو یہ بھی عقیدہ ہے کہ مسیح اور مہدی دیگر مذاہب والوں سے سوائے اسلام کے اور کچھ قبول نہ کریں گے اور جو مسلمان نہیں ہوگا اسے تلوار کے گھاٹ اتاریں گے اور دنیا میں سوائے مذہب اسلام کے اور کوئی مذہب نہ ہوگا۔ اگرچہ ہمارے نزدیک دین کے مقابلہ میں جبر کرنا مذہب اسلام کی رو سے جائز نہیں ہے۔ لیکن اتنا ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام دلائل قاہرہ اور حجج باہرہ کی رو سے تمام ادیان پر غالب آئے گا اور جن ممالک میں اسلام کی تبلیغ واشاعت نہ ہوئی تھی، وہاں بھی شمس اسلامی طلوع کرے گا اور ظلمات میں زندگی بسر کرنے والوں کو بھی اپنی شعاعوں سے نورانی بنائے گا۔ حتیٰ کہ آہستہ آہستہ کرۂ معمور کے لوگ اسلام کو اختیار کرلیں گے اور دنیا میں دیگر مذاہب کے پیرو اتنی قلیل تعداد میں رہ جائیں گے کہ وہ معدوم کے حکم میں ہوگا۔‘‘

حسب عادۃ مختار مدعاعلیہ نے غیر متعلق اور لایعنی تاویلات سے طول دے کر وقت گزاری کی ہے اور اصل مسئلہ کو لاکر مطلب کو خبط کرنا چاہاہے۔ اس مسئلہ پر ہیڈنگ یہ تھا کہ: ’’اپنی فتح کو رسول اللہ ﷺ کی فتح پر ترجیح دینا۔‘‘ عدالت خود غور فرمائے کہ بلا کسی تاویل کے یہ مضمون مرزا صاحب کی عبارت اور ان کے ترجمہ سے واضح ہے اور جس کتاب کا حوالہ ہے یعنی خطبہ الہامیہ اس کا موضوع یہی ہے کہ اپنی فضیلت رسول اللہ ﷺ اور ان کے زمانہ پر ثابت کی جائے۔ اصل عبارت اوّلاً معہ مرزا صاحب کے ترجمہ کے ملاحظہ ہو۔

’’وقد مضی وقت فتح مبین فی زمن نبینا المصطفیٰ وبقی فتح آخر وہو اعظم واکبر واظہر من غلبۃ اولیٰ وقد ران وقتہ وقت المسیح الموعود من اللہ الرؤف الودود وارحم الراحمین والیہ اشار فی قولہ تعالیٰ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی بارکنا حولہ ففکر فی ہٰذہ الایۃ ولا غر کالغافلین‘‘

ترجمہ حسب ذیل ہے: ’’اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی اور وہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر کہ اس کا وقت مسیح الموعود کا وقت ہو اور اسی طرف خدائے تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے کہ ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ‘‘ اس آیت میں فکر کر اور غافلوں کی طرح مت گزر۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۹۳،۱۹۴، خزا ئن ج ۱۶ ص۲۸۸،۲۸۹)

155

اب عدالت خود ہی ملاحظہ فرماوے کہ مرزا صاحب کس فخر سے اپنے زمانہ کی فتح کو بزعم خود حضور کی اس فتح مبین پر ترجیح دے رہے ہیں جس کی شہادۃ باری تعالیٰ نے ’’انا فتحنا لک فتحامبینا (الفتح:۱)‘‘ دی اور ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم… الخ! (المائدۃ:۳)‘‘ سے اس کی رجسٹری کر دی اس فتح مبین کی عظیم الشان بشارت آدمm سے لے کر عیسیٰm تک کسی نبی کو میسر نہ ہوئی۔ حتیٰ کہ خود حضرت محمدa نے اس فتح کے وقت اعلان فرمایا کہ آج شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا کہ اللہ کے گھر میں اس کی پرستش کی جاوے۔ تعجب ہے کہ چودھویں صدی کے مدعی نبوت اور مکفر امت جس نے چالیس کروڑ پرستاران توحید اور غلامان سرور دو عالم فخر بنی آدمa کو یک لخت صرف اپنے نہ ماننے کی وجہ سے کافر دائرہ اسلام سے خارج کردیا۔ اپنے نہ ماننے والوں کو سور حرامی ولد الزنا بنایا۔ ان کی عفت مآب مستورات کو کتیاں بنایا، اسلامی توحید دنیا سے نابود کرنے اور شان رسالت محمدیہa کے مٹانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ علماء اسلام جو اس کی اس اسلام دشمنی کا پردہ بے نقاب کرتے ہیں، انہیں بد ذات فرقہ مولویاں اور گندے گندے خطابات عطاء کئے۔ غرض بجائے اسلام کی ترقی کے معدودے چند اپنے ہم نوا کفر نواز مسلمان باقی رکھ۔ باقی سب کو کافر اور بزعم خود دائرہ اسلام سے خارج کر دیا۔ اپنے زعم باطل میں اسلام اور خدا کے مشن کو شکست دی جو تیرہ سو سال میں کوئی بھی نہ دے سکا۔ اس پر ’’ستم ظریفی کہ سرور دوعالم فخر بنی آدمa کی فتح مبین پر میری فتح بہت زائد راجح اور غالب وظاہر ہے۔ پھر مبین تک قناعت نہ کی بلکہ اللہ پر بھی افتراء اور بہتان باندھ کر کفر کی تکمیل کر دی کہ میری اس فتح پر خدا نے ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام… الخ!‘‘ کی آیت میں اشارہ فرمایاہے۔ جو شخص مسلمان کے گھر پیدا ہوا وہ جانتا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضوراکرمa کے معراج جسمانی کا بیان ہے۔ چونکہ خود مرزا صاحب اس کے منکر ہیں۔ اس لئے اس آیت میں وہی توہین سرور دوعالمa کا اشارہ بتا رہے ہیں کہ میری فتح حضور اکرمﷺ کی فتح پر بہت زیادہ غالب وراجح ہے۔ اتنی واضح عبارت کے ہوتے ہوئے۔ مختار مدعاعلیہ کی طول لاطائل تاویلات قابل التفات ہی نہیں۔ علاوہ اس کے اس کا تو اقرار ہی ہے کہ مرزا صاحب کی فتح مبین حضور فخر دو عالمa کی فتح پر غالب و راجح ہی ہے۔ ہاں! یہ تاویل کررہاہے کہ مسیح کے زمانہ کا غلبہ سب کے نزدیک اس سے بڑھ کر ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ! حالانکہ یہ صریح مغالطہ ہے۔ آنحضرتﷺ کی فتح مبین اورآپ کے بابرکت زمانے سے بڑھ کر کوئی بابرکت اور فتح وعزت کا زمانہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ خود ہی فرمارہے ہیں: ’’خیر القرون قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم (بخاری شریف)‘‘ میرا زمانہ تمام قرنوں سے بہتر ہے۔ پھر وہ جو اس کے قریب آئے۔ پھر وہ جو اس کے بعد آئے بس۔

حضورa وخلفاء راشدین کا زمانہ وہ تھا کہ ربع مسکون کے مراکز پرپرچم اسلام لہراتا تھااور علاوہ دینی ترقیوں کے صاحب تخت وتاج تھے اور آج مسلمانوں اور اسلام پر جو مصائب وآلام ٹوٹ رہے ہیں۔ اس سے کوئی باخبر انسان ناواقف نہیں۔ جہاں سے کبھی اللہ اکبر کی صدائیں آتی تھیں، وہاں آج گرجا کے ناقوس کی آوازیں آرہی ہیں۔ مسجد ابا صوفیہ اور اسپین کے صرف حالات پڑھنے اور تو اورخود بزعم خود مسیح موعود نصاریٰ کے مٹانے اور پرچم اسلام لہرانے اور اسلام ہی دنیا میں پھیلانے آئے تھے۔ تمام پرستاران توحید کو اسلام سے بزعم خود خارج کر کے خود اور ان کے امتی نصاریٰ کے غلام بنے ہیںاور اس پر اس قدر نازاں ہیں کہ نصاریٰ کی تائید میں ستر الماریاں تصنیف کر کے بھر دی ہیں۔ جب بغداد شریف مسلمانوں سے نکل کر نصاریٰ کے قبضہ میں گیا تو اس پر چراغاں کیا اور مبارک باد، خوشیاںمنائیں۔ ملکہ معظمہ کو عیسائی سطوت پر مبارک باد کا عریضہ لکھا کہ: ’’یہ عریضہ مبارک باد ی اس شخص کی طرف سے ہے کہ جو یسوع مسیح کے نام پر ہر طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھوڑانے آیا ہے۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص۱، خزائن ج۱۲ ص۲۵۳)

156

’’جہاد جیسے پاکیزہ مسئلہ کو محض خوشنودی نصاریٰ اور گورنمنٹ برطانیہ کے واسطے خراب بتا کر ممنوع قرار دیا اور رسائل اس کے خلاف عربی وفارسی لکھ کر ممالک اسلامیہ میں صرف خوشنودی نصاریٰ کے لئے شائع کئے۔‘‘ ملاحظہ ہو (کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۷،۸) نصاریٰ کی حکومت کو اللہ کی رحمت اور اس زمانہ کو مذہبی لحاظ سے رسول اللہ ﷺ کے بابرکت زمانہ سے بڑھ کر بتایاجس کی تفصیل آگے اپنی جگہ آئے گی۔ غرض یہ کہ تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورa کا زمانہ اور پھر خلفاء راشدین کا زمانہ ہر لحاظ سے بالاتر ظاہری و باطنی فتوحات سے پر ہے۔ اس سے بڑھ کر ناممکن ہے ہاں حدیث میں ہے کہ خیر القرون کے بعد ایک زمانہ آنے والاہے کہ جس میں جھوٹ فریب شائع ہوجائے گا اور امانت کی جگہ خیانت رائج ہوگی۔ ’’ثم یاتی من بعدہم قوم یخونون ولا یوقنون (بخاری شریف)‘‘

پھر یہ درمیانی فتنے حضرت امام مہدی اور سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھوں پر اختتام پذیر ہوں گے۔ یہ آج تک کوئی بھی نہ سمجھا کہ ان کا زمانہ آنحضرتﷺ کے زمانہ اور ان کی فتوحات سرور عالمa کے فتوحات پر راجح ہوں گے یہ محض افتراء اور کذب خالص ہے۔

حضرت مولانااسماعیل شہید کی (منصب امامت ص۵۶) سے ٹکڑا کاٹ کر پیش کیا۔ علاوہ اس کے قطع برید میںبہت کچھ اصل مطلب سے فوت ہوگیا۔ پھر بھی اس میں کہیں اس منحوس مضمون کا پتہ نہیں کہ امام مہدی کا زمانہ یا ان کی فتح آنحضرتﷺ کے زمانہ کی فتح مبین پرراجح وغالب ہوگی۔ وہاں تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’ہو الذی ارسل رسولہٗ بالہدی و دین الحق… الخ! (الفتح:۲۸)‘‘میں غلبہ دین و اسلام کا وعدہ فرمایا تھا وہ آپ کے زمانہ میں وقوع پذیر ہوا۔ مگر یہ غلبہ ختم نہیں ہوا، بلکہ جاری رہا اور جاری رہے گا۔ جب تک دنیا ختم نہ ہو اور جب آخر زمانہ میں دنیا کے ختم ہونے پر امام مہدی ظہور فرماویں گے تو چونکہ دنیا تمام ہوچکی ہے۔ ان کے ہاتھوں یہ غلبہ بھی انجام کو پہنچ جائے گا۔

یہ مختار مدعاعلیہ کا اپنا اختراع ہے کہ ان پر اختتام ہوگا۔ لہٰذا وہ پڑھ گئے۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے: ’’یٰآیہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف:۱۵۸)‘‘حضرت مولانا شہید فرماتے ہیں کہ حضرت کی رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لئے عام ہے۔ حضرت نے اپنے زمانے میں خود بلا واسطہ تبلیغ کی۔ پھر اس تبلیغ رسالت کا سلسلہ یوماً فیوماً بڑھتا ہوا چلا گیا۔ گو بواسطہ خلفاء راشدین وائمہ مہدیین وعلماء ربانیین و اولیاء امت جاری رہا۔ یہاں تک کہ زمانے کے ختم ہونے پر امام مہدی آخر مبلغ اسلام پر سلسلہ تبلیغ ختم ہوگا۔ اس میں نہ معلوم کس طرح مختار مدعاعلیہ کو یہ نظر آیا کہ حضرت مولانا شہید امام مہدی کے زمانہ یا ان کی تبلیغ یا فتح کو رسول اللہ ﷺ کی فتح مبین سے بڑھ کر غالب اور راجح بتا رہے ہیں۔ محض اس مغالطہ کے لئے یہ عبارتیں نقل کردیں تاکہ اس مغالطہ سے لوگ سمجھ لیں کہ اور بزرگوں نے بھی ایسا ہی کیاہے۔ حالانکہ بزرگ اس بدیہی بات کے خلاف کو ئی منصف مزاج کا فر اور دشمن بھی لب کشائی نہ کر سکے۔

قول مختار مدعاعلیہ:

اگر مختار مدعاعلیہ یہ سمجھ لیتا کہ نبی کے اتباع کے ذریعہ جو فتوحات اور دین کی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں وہ دراصل اس نبی کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور اس میں اس نبی کی توہین نہیں۔ بلکہ تکریم واعزاز ہوتاہے، تو یہ اعتراض نہ کرتا۔

الجواب: اعتراض صرف فتوحات پر نہیں۔ گو فتوحات کیا ہوئیں، مرزا صاحب کے زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کی جو تذلیل ہوئی۔ تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیں۔ سوائے چند اپنے مریدین کے سب مسلمان کافر اور ولد الز نا، دائرہ اسلام سے خارج اور سور بنا دئیے گئے۔ بے گناہ بیگمات کتیاں قرار دی گئیں۔ کوئی خدا ورسول کی توہین نہیں جو ان دوست نما دشمنوں کے ہاتھوں عمل میں نہ آئی ہو۔ عیسائیوں کو گندی گالیاں دے کر مجبور کیا کہ باقی اسلام اور ازواج مطہرات پر وہ ناپاک حملے کریں۔ وغیرہ وغیرہ!

157

اعتراض تو صرف یہ ہے کہ کبھی کسی امتی کی فتح اس کے نبی سرور دوعالمa کے اس فتح مبین سے بڑھ سکتی ہے۔ جیسے باری تعالیٰ نے ’’انّا فتحالک فتحا مبینا (الفتح:۱)‘‘ کے شان دار الفاظ میں ذکر فرمایا۔

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے فتوحات ایک پلّہ میں رکھے جائیں اور یہ ’’انّا فتحنالک… الخ!‘‘ کی فتح مبین جس میں اللہ کا گھر ہمیشہ کے لئے بتوں اور شیطانی تسلط سے پاک کیاگیا۔ ایک پلّہ میں رکھا جائے تو وہی راجح اور غالب رہے گا۔ بلکہ آنحضرتﷺ کے فتوحات میں سے ادنیٰ درجہ کی فتح بھی تمام عالم کے فتوحات پر راجح اور غالب ہے۔ مگر جن کے قلب سے باری تعالیٰ سرور دو عالم کی عظمت سلب کر کے اس عظمت عظمیٰ ونعمت علیاء سے محروم کر دے وہ اس حقیقت کو کیا سمجھ سکتے ہیں۔ آخر ابوجہل وابولہب پر شان محبوبیت کو پوشیدہ ہے۔ خدا کا فیصلہ ہے کہ قیامت تک وارثان محمدی اور پیروان بولہبی کی جنگ جاری رہے گی۔

باقی (خطبہ الہامیہ ص۲۰۰، خزائن ج۱۶ ص۲۹۷) سے جو ایک ٹکڑا کاٹ کر پیش کیا ہے۔ میں عدالت کی توجہ اس طرف منعطف کرانا چاہتاہوں کہ وہ خود پورا صفحہ بلکہ ماقبل اور مابعدکو ملا کر ملاحظہ فرمائے کہ اس میں تعریف کجا اور توہین نکلے گی۔ پیش کردہ عبارت سے پہلے (ص۲۰۰) پر بھی یہی موجودہے۔ ’’اس لئے خدا کے نزدیک اس کا (یعنی مرزا غلام احمد صاحب کا) ظہور نبی مصطفی کا ظہور مانا گیاہے اور اس کا زمانہ رسول کریم کے زمانے معراجی کا منتہا اور خیر الوریٰ کی روحانی تجلی کا آخری سرا شمار کیاگیاہے۔‘‘ عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ مرزا صاحب نے اپنا ظہور بعینہٖ حضورa کا ظہور اور اپنا زمانہ خود حضورa کے زمانہ کا منتہا اور تجلیات کا آخری سرا قرار دیاہے۔ کیا اس سے اور بھی بڑھ کر کوئی فضیلت موجب توہین ہوگی۔ کہاں آنحضرتﷺ کا ظہور، کہاں مرزا غلام احمد صاحب اور کہاں ان کا زمانۂ معراج زمانی اور کہاں یہ چودہویں صدی، سوائے کفر و شرک کے اور کیا ہے؟ غرض یہ کہ عنوان بھی در حقیقت لا جواب ہے۔ گو غیر متعلق اس قدر باتیں مختار مدعاعلیہ نے پیش کردیں۔ مگر جب تک مرزا صاحب کا رجوع صاف لفظوں میں اس کفریہ عقیدہ سے پیش نہ کیا جاوے کسی تاویل سے مرزا صاحب کا ایمان محمد رسول اللہ پر ثابت نہیں ہوسکتا۔

آنحضرتﷺ کی خصوصیات

قول مختار مدعاعلیہ:

مختار مدعیہ نے مرزا صاحب کے مندرجہ ذیل دس الہامات کا ذکر کیاہے۔

۱… ’’ہو الذی ارسل رسولہٗ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

۲… ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘

۳… ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘

۴… ’’وما ارسلناک الارحمۃ للعالمین‘‘

۵… ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘

۶… ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ‘‘

۷… ’’وما رمیت اذر میت ولکن اللہ رمیٰ‘‘

۸… ’’ماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم‘‘

۹… ’’لولاک لما خلقت الافلاک (الحدیث)‘‘

۱۰… ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ‘‘

158

ان الہامات کے متعلق مختار مدعیہ نے یہ اعتراض کیا کہ ان میں جن مقامات اور مراتب کا ذکر ہے وہ آنحضرتﷺ کی خصوصیات ہیں اور جو ان خصوصیات کا انکار کرے۔ اس کا آنحضرتﷺ پر ایمان کیسا۔ وہ اگر ہزار مرتبہ بھی لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہے تو قابل قبول نہیں۔

سو ان تمام امور کا جواب گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے بیان میں مفصل مذکور ہے اور اس میں ائمہ اور اکابر اولیاء امت محمدیہ کے اقوال سے ثابت کیا گیا کہ اگر کسی پر ان آیات کا القاء ہو جن میں سے خاص آنحضرتﷺ کو خطاب ہو تو بطریق اعتبار یہ مطلب نکالا جائے گاکہ وہ مرتبہ بطریق وراثت جس لائق کہ ملہم ہے۔ علی حسب المنزلتہ اس کو نصیب ہوگا اور اس امر ونہی میں وہ آنحضرتﷺ کے حال میں شریک سمجھا جائے گا۔ اس لئے ملاحظہ ہو (بیان مطبوعہ گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ)

اوّلاً بیان مطبوعہ کوٹ نہیں جس کا حوالہ ہے۔ اکثر جگہ کاٹا گیاہے اور اس بحث میں اکثر حوالے اسی سے ہیں جو اصل ریکارڈ مسل میں نہیں۔ جیسا کہ آخر میں آئے گا۔

دوسرے مختار مدعاعلیہ نے حسب عادت مغالطہ کے لئے ان خصوصیات کے دلانے کی انتہائی کوشش کی ہے اور بلاوجہ قبل از وقت اس جگہ اس بحث کو اٹھا دیاہے کہ کسی کو قرآنی آیات الہام ہو سکتے ہیں یا نہ حالانکہ قرآنی آیات کا الہام ہونا اور امر ہے جس کی مفصل بحث اپنی جگہ پر آئے گی اور خصوصیات محمدیہa میں کسی غیر کو شریک مان کر نہ صرف خصوصیات محمدیہa بلکہ ان کے واسطے سے اصل ذات وشان محمدیہ اور ان کی رسالت کا انکار اور امر ہے۔ صرف مدعایہ ہے کہ ان آیات مثلاً: ’’انا اعطیناک الکوثر (الکوثر:۱) عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا (اسراء:۷۹) وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء:۱۰۷) لولاک لما خلقت الافلاک‘وغیرہ! کے مصداق صرف سیدا لانبیاء محبوب رب العالمینa ہیں اور یہ خصوصیات ہیں جن میں آپ کا شریک کائنات عالم میں کوئی نہیں نہ جبرئیل ومیکائیل اور نہ ملائکہ مقربین، نہ اولیاء اولوالعزم اور نہ انبیاءo۔ کسی کو شریک ماننا صرف شرک فی الرسالت نہیں بلکہ سرے سے آپ کی خصوصیات کا انکار کر کے آپ کی رسالت ہی کا انکار کرناہے جس کے بعد کوئی کتنی ہی مرتبہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ زبان پر لائے۔ کلمہ پر ایمان دار نہیں ہوسکتا۔

یہاں مندرجہ بالا امورتنقیح قابل بحث ہیں۔

۱… کیا کسی شخص کی خصوصیات کا انکار مستلزم اس کے انکار کوہے۔

۲… کیا مندرجہ بالا دس (۱۰ ) القابات وخطابات خصوصیات محمدیہa سے ہیں۔

۳… کیا مرزا صاحب کے علاوہ کسی نبی ولی فرشتہ نے اپنے کو ان آیات کا مخاطب اور ان القابات خصوصی میں کسی طور پر اپنے کو یا کسی کو شریک وسہیم ماناہے۔

الجوا ب:

۱… کیا کسی شخص کے خصوصیات کا انکار مستلزم اس کے انکار کو ہے۔ اس کے ثبوت میں میں نے تمہیدی طور پر گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۲؍مارچ۱۹۳۳ء کا حوالہ پیش کیا تھا کہ خصوصیات نبویہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور انکار خصوصیات انکار ذات ہے۔ اصل الفاظ ملاحظہ ہو۔ں ’’خصوصیات نبویہ پربھی ایمان لانا ضروری ہے، انکار خصوصیات انکار ذات ہے۔‘‘

(جرح گواہ نمبر۱، مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء)

بحمد اللہ ! یہ تنقیح ثابت اور مسلم ہے لہٰذا اس پر کسی دلیل کی حاجت نہیں۔

159

… کیا مندرجہ بالا دس القابات وخطابات خصوصیات محمدیہ سے ہیں۔‘‘ اصل بحث مخصوص لانا القابات اور انہیں خصوصی خطابات میں ہے نہ کہ ان کا وہ مفہوم جو اپنے الفاظ میں توڑموڑ کر ڈالاہے اور مخصوص ان امتیازی خصوصیات والقابات وخطابات کا مخاطب ومصداق صرف سید المرسلینa کا ہونا، ایسا بدیہی امر ہے کہ کسی مسلمان کے رو برو اس پر کسی دلیل کے قائم کرنے کی حاجت ہی نہیں۔ کون نہیں جانتا:’’لولاک لما خلقت الافلاک۔ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء:۱۰۷) انا اعطیناک الکوثر (الکوثر:۱) عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا(اسراء:۷۹)‘‘وغیرہ! صرف حضورa کو خطاب ہے اور حضور کے سواء اس خصوصی انداز میں کسی نبی یا ولی کو خطابات نہیں کئے گئے۔ مگر اس چودھویں صدی کے مدعیان نبوۃ کے دور کی ایک یہ بھی بوالعجبی ہے کہ ان بدیہات پر بھی دلائل پیش کرنے پڑتے ہیں۔

مختار مدعاعلیہ نے ادھر ادھر کی غیر متعلق باتیں لا کر معاملہ کو رولانے کی ناجائز سعی انتہا کو پہنچا دی۔ مگر بحمد اللہ ایک حوالہ ضعیف سے ضعیف بھی ایسا پیش نہ کرسکا جس میں مخصوص ان القابات وخطابات سے کسی اور نبی یا ولی کو خواہ بذریعہ الہام خاص ہی سے نوازا گیا ہے۔ کسی بزرگ کا اس مقام سے فیض حاصل کرنااس سے اپنے قلب کو منور کرنا اور چیز ہے، مگر ان خطابات والقابات مخصوصہ کا مصداق ومخاطب ہونا اور بات ہے۔ اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام بعض خدا کی صفت وقدرت سے فیض پاتے ہیں۔ بعض صفۃ خلق سے بعض صفۃ ترزیق سے، مگر وہ مصداق قدیر اور خالق اور رازق تونہیں ہوجاتے۔ بعض باری تعالیٰ کے مقام جلال سے وابستہ ہوتے ہیں۔ بعض صفۃ جمال سے مگر اللہ کے جلال وجمال کے مصداق یا اس کے شریک وسہیم نہیں کہلاتے نہ ان خدائی القابات کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مفصل بحث تو لقب کے تحت میں علیحدہ علیحدہ آئے گی۔ اس جگہ عموماً بحث میں مختار مدعاعلیہ نے غیر متعلق حوالوں سے مغالطہ دینا چاہاہے اوّلاً اسے بے نقاب کرتاہوں۔مختار مدعاعلیہ نے نتیجہ کے طور پر اپنے مطبوعہ بیان کے حوالے دے کر لکھاہے کہ ان صفحات میں اس امر کی تائید میں کہ مقام محمود وغیرہ مراتب میں اولیاء اللہ کو حصہ ہے اور اولیاء امت بھی بطریق وراثت اس میں آپ کے شریک ہوسکتے ہیں۔

الجواب: ان کے پیش کردہ حوالہ جات کی حقیقت تو آگے معلوم ہوجائے گی۔

اوّلاً صرف یہ گزارش ہے کہ ان مقامات سے اولیاء اللہ کو حصہ ملنا اور ان کا اس سے وابستہ ہو کر فیض حاصل کرنا اور چیز ہے اور ان القابات وخطابات کا مصداق ومخاطب ہونا اور امرہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کرچکاہوں۔ ان مقامات سے فیض حاصل کرنا ایسا ہی ہے، جیسے ذات محمدیہa سے فیض کاحصہ لینا ہے۔ مگر ذات محمدیہ سے فیض اور حصہ لینے والا عین محمدa تو نہیں ہوتا۔ اس طرح ان مقامات سے حصہ لینے والاان خطابات کا مستحق نہیں ہوسکتا۔

غالباً مختار مدعاعلیہ صوفیائے کرام کے مشاغل اور ذکر اور اشغال سے نابلد ہے۔ صوفیائے کرام کے بیان مختلف استعاروں کے لحاظ سے مختلف مراقبات سے تعلیم ہوتے ہیں، کوئی مقام فناء کا مراتب ہے، کوئی مقام جہاد کا، کوئی مقام ابراہیمی کا، کوئی موسوی کا، کوئی عیسوی کا، کوئی مقام محمود کا، کوئی مقام دنا فتدلیٰ کا اور ان سے حصہ ملنے کا یہ مطلب ہے کہ یہ مقامات سالک پر منکشف ہوجائیں اور ان کے خصوصی فیض سے اس کا قلب منور ہوجائے کہ ان خصوصی قرآنی امتیازی خطابات والقابات کے مستحق یا شریک وسہیم ہوں گے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل پانچ حوالہ مختار مدعاعلیہ نے پیش کئے ہیں۔ (۱)شرح مثنوی بحرالعلوم، (۲)ہدیہ مجددیہ، (۳)فتوح الغیب، (۴)دیوان معین، (۵)شرح فصوص الحکم۔ اس میں حوالہ نمبر۲ وہ ہے کہ جرح میں ہر دو گواہ نہ وہ کتاب پیش کرسکے، نہ اس کے مصنف کا نام، مذہب بتا سکے، نہ وہ کوئی مسلم قابل اعتماد کتاب ہے۔ اس کے مصنف ایک معمولی شخص وکیل احمد سکندر پوری ہیں۔

160

یونہی ہے حوالہ۳ بھی فصوص الحکم ایک غیر متعارف شرح کا حوالہ ہے صوفیائے کرام کے نزدیک دوسرے شروح کی طرح مسلم ومعتبر نہیں اور نہایت قطع وبرید سے پیش کیاہے۔ باوجود اس کے کسی ایک حوالہ میں یہ نہیںکہ ان مخصوص مذکورہ بالا القابات وخطابات سے اسی انداز پر کسی نبی یا ولی کو نوازا گیاہو۔ لہٰذا میرے یہ تمام اعتراضات بالکل بدستور لاجواب ہیں۔

تفصیلی جواب: حوالہ نمبر۱ شرح مثنوی مولانا روم

  1. پس در آورد کارگہ یعنی عدم

    تابہ بینی صنع وصانع رابہم

کی شرح میں مولانا عبدالعلی صاحب بحرالعلوم نے تحریر فرمایا ہے کہ ایک مقام فناء صفات کا ہے جو حدیث قرب النوافل میں بیان ہواہے کہ خدا بندے کا کان آنکھ ہوجاتاہے اور دوسرا مقام فنائے ذات ہے اور تیسرا مقام جمع الجمع وقاب قوسین اور مقام کمال ہے جیسا کہ آیت: ’’ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ (الفتح:۱۰)‘‘سے ظاہر ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں اور چوتھا مقام مقام احدیت جمع اور اس کو مقام ادنیٰ کہتے ہیں (یعنی خدا سے بہت ہی قریب) جو کہ آیت: ’’وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمیٰ (الانفال:۱۷)‘‘ میں بیان کیاگیاہے یہ لکھ کر فرماتے ہیں: ’’وایں مقام باصالت خاص بخاتم النّبیین است بوراثت وکمال متابعت واکمل اولیاء راازین حظے است (مثنوی دفتر دوم حاشیہ ص۷۷) کہ اگر یہ مقام اصل میں تو خاتم النّبیینa کے ساتھ خاص ہے۔ مگر بطور وراثت اورکمال پیروی آنحضرتﷺ کے اولیاء کو ان مقامات سے حصہ ملتاہے۔‘‘

(منقول دربیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱)

عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ اس میں مذکورہ بالا دس القابات وخطابات محمدیہ مثلاً: ’’لولاک لما خلقت الافلاک۔ انا اعطیناک الکوثر۔ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین۔ عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً‘‘ وغیرہ سے کسی ایک خطاب یا لقب کا مخاطب علاوہ ذات محمدیہa کسی کو نہیں بتایاگیا نہ کسی کو ان امتیازی خصوصیات مذکورہ میں شریک وسہیم مانا ہے۔ یہاں تو صوفیائے کرام کے مشاغل ومراقبات قرب خدا وندی کے مدارج ومقامات مثلاً فنافی الذات، وفنا فی الصفات اور مقام جمع الجمع جس کا دوسرا نام مقام کمال اور مقام احدیت جس کا دوسرا نام مقام ادنیٰ ہے۔ چار مقامات کا ذکر ہے۔

کون نہیں جانتا کہ سالک مقام ذات میں عین ذات باری اور مقام صفات میں عین صفت خداوندی، یوں ہی مقام احدیت میں اللہ واحد نہیں ہوجاتاہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان میں فنا ہو کر ان کی تہ اور حقیقت تک بقدر طاقت بشریہ رسائی کر لیتاہے۔ یا وحدۃ الوجود اور ہمہ اوست کے رنگ میں رنگ جاتاہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ یہ انتہائی تقرب کے مقام تک حقیقی اور اصلی رسائی تو محبوب دوعالمa کے سوا کسی کو میسر نہیں ہوسکتی۔ البتہ آپ کے خدام اور کامل اولیاء اللہ کو آپ کے صدقہ میں کچھ حصہ بقدر مراتب ان مقامات فنا در فناء سے ضرور مل جاتاہے۔ ورنہ اصل تقرب خدا وندی تو صرف محبوب خدا ہی کو حاصل ہے۔ اب اس بحث کو اصل مدعا یعنی خصوصی القابات میں مشارکت سے کس قدر ربط وتعلق ہے، اسے میں عدالت کے امتیاز خصوصی پر چھوڑتاہوں۔

حوالہ نمبر۲ ہدیہ مجددیہ:

’’وہو المقام المحمود الذی لایشارکہ فیہ لہ من الانبیاء والرسل والاولیآء امتہ‘‘ (ہدیہ مجددیہ ص۷)میں اوّلاً عرض کرچکا ہوں کہ ہدیہ مجددیہ ہماری غیر مسلم کتاب ہے اور اس خوف سے باوجود پیہم مطالبہ کے نہ کتاب پیش کرسکے اور نہ اس کے مصنف کا نام بتاسکے۔ پس ہم اگرچہ اس کے جواب کے مکلف نہیں۔ مگر صرف اس لئے کہ شاید شائع ہوئے پر بندگان خداکو اس سے مغالطہ ہو۔ جواب بھی عرض ہے۔

161

۱… ’’مقام، محمود‘‘ یعنی مرتبہ ستائش میں گفتگو نہیں، بلکہ گفتگو صرف اس میں ہے۔ آیت کریمہ: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محمودا (اسراء:۷۹)‘‘کا مصداق اور مخاطب کون ہے۔ مگر ہدیہ مجددیہ کی عبارت میں کوئی بتا نہیں سکتا کہ آیت مذکورہ کا مخاطب آنحضرتﷺ کے سواء کوئی نبی وولی ہوسکتاہے۔ بخلاف اس کے قرآن پاک واحادیث نبویہ میں اس کی تصریح موجود ہے کہ اس آیۃ کریمہ کا خطاب صرف نبی کریمa کو ہے اور یہ آپ کے ایسے خصوصیات میں سے ہے جس میں اوّلین وآخرین میں سے کوئی نبی یا ولی شریک نہیں ہوسکتا۔ قرآن حکیم:’’ومن اللیل فتہجد بہ نافلۃ لک عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محموداً (بنی اسرائیل:۷۹)‘‘یہ آیت اپنے سیاق وسباق کے رو سے آنحضرتﷺ کے ساتھ مختص ہے اور اس کا خطاب ہی صرف آپ ہی کو ہے۔ تمام قرآن پاک اور احادیث، آثار صحابہ، اقوال ائمہ اور بزرگان دین کے ارشادات میں کہیں اس خصوصی لقب اور آیت کا استعمال کسی اور نبی، ولی، فرشتہ کے واسطے نہیں کیاگیا۔

ہاں! مقام محمود کا مراقبہ صوفیا نے مانا ضرورہے۔ مگر وہ ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ مقام فنا اور مقام دنیٰ وغیرہ جس کا مدعا صرف اس قدر ہے کہ سالک پر اس کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور اس کے فیوض وبرکات کا اس کے آئینہ قلب پر انعکاس اور پرتو پڑتاہے اور یہی مطلب اولیاء اللہ کو مقام محمود سے حصہ ملنے کا ہے۔ ورنہ بتصریح قرآن حکیم یہ خطاب اور اس آیت کے مصداق نبی رحمت رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں، بلکہ اس میں کسی کو شریک وسہیم ماننا شرک فی الرسالۃ ہے جس کے بعد کلمہ شریف کے جزو ثانی پر ایمان ناممکن ہے اور ہدیہ مجددیہ میں باوجود غیر مسلم ہونے کے اس آیت کا خطاب اور اس کا مصداق نبی کریمa کے سوا کسی اور کو قرار نہیں دیا۔ جیسا کہ اوپر عرض کر چکاہوں۔ صرف مختار مدعاعلیہ نے مغالطہ دیاہے۔ اگر اس آیت کے خطاب اور اس کے مصداق میں کسی کو شریک مان لیا جاوے تو ان احادیث نبویہ کے خلاف ہوگا جو صحت وتسلیم میں اعلیٰ پایہ کی نہیں۔ ملاحظہ کے واسطے نمونۃً اس کے متعلق مختصر فیصلہ دربار رسالتa پیش ہے۔

مقام محمود کے متعلق سید الانبیاءﷺ کا فیصلہ

۱… ’’عن ابی ہریرۃ عن النّبیa فاکسی حلۃ من حلل الجنۃ ثم اقوم عن یمین العرش لیس احد من الخلاق یقوم لک مقام المحمود غیری‘‘ (ترمذی شریف ومشکوٰۃ شریف باب فضل النبیﷺ ص۴۱۵) اس حدیث کے تحت میں لمعات میں شیخ نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ مقام محمود ہے۔ پس صاف لفظوں میں واضح ہوگیاہے کہ اس موعود مقام محمود میں کوئی بھی مخلوق میں ایسا نہیں جو اس پر فائز ہوسکے۔ سوائے ایک ذات گرامی آنحضرتﷺ کے جو خاتم النّبیین ہیں۔

۲… بخاری شریف میں ایک باب پہلے باب: ’’قولہ عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محموداً‘‘ یعنی صرف اس آیت کا خطاب اور اس کا مصداق قائم اور مخصوص کرنے کے واسطے مستقل باب باندھا۔ پھر ایک طویل مفصل حدیث نقل فرمائی ہے جس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔ ’’یوم یبعثہ اللہ المقام المحمود‘‘ یعنی وہ دن ہوگا کہ جس دن اللہ صرف اپنے حبیب کو مقام محمود پر فائز فرما دے گا۔

(بخاری شریف ج۲ ص۶۸۶)

۳… بخاری ومسلم میں متفقہ احادیث موجود ہے جس میں مفصل شفاعت نبویہ کے ذکر کے بعد یہی آیت: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محمودا (بنی اسرائیل:۷۹)تلاوت فرماکر ارشاد ہے: ’’وہٰذا المقام الذی وعدہ ربکم‘‘

۴… دارمی شریف میں اس مقام محمود کی تعریف میں یہ لفظ موجودہیں۔ (باب الشفاعۃ مشکوٰۃ ص۴۰۰) ’’ثم اقوم عن یمین اللہ مقاما لیغبطن الاوّلون والآخرون‘‘ (مشکوٰۃ ص۴۹۳) یعنی مقام محمود خدا کے داہنے طرف ہے جو صرف مجھے ملے گا اور اس پر تمام اوّلین وآخرین، اگلے پچھلے بلا استثناء غبطہ اور رشک کریں گے۔

162

۵… اور اذان اور اس کی دعاء کی حدیث میں بھی مقام محمود کی تشریح اور صرف آنحضرتﷺ کے ساتھ تخصیص کی تصریح کی ہے۔

۵… اور اذان اور اس کی دعاء کی حدیث میں بھی مقام محمود کی تشریح اور صرف آنحضرتﷺ کے ساتھ تخصیص کی تصریح کی ہے۔

مرزا محمود صاحب خلیفہ قادیان کا فیصلہ

مختار مدعاعلیہ اور اس کے گواہوں کے نزدیک کتاب اللہ اور کتاب الرسول سب مرزا صاحب کے اور ان کے خلفاء کے تابع ہے اور ان کے مقابل دراصل کسی آئینہ یا حدیث کونہیں مان سکتے۔ ملاحظہ جرح گواہ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء۔ لیکن مرزا محمود صاحب کی تمام تصانیف پر میرا ایمان ہے اور وہ سب کی سب بلا استثناء مسلم ہیں۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء۔ لہٰذا میں ان کے خلیفہ ثانی کا فیصلہ پیش کرتاہوں۔ اگر اس آیت کریمہ کا خطاب اور اس کا وعدہ صرف آنحضرتﷺ کو ہے اور یہ حضور کو انعامات الٰہیہ میں سے ایک انعام عظیم ہے۔

’’کیونکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کا وہ مقام ہے جس کی نسبت خدا ئے تعالیٰ نے فرمایاہے: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً‘‘ اگر ہمارا رسول کریم سے اس عظیم الشان درجہ کے ذریعہ سے تعلق قائم ہو، جسے اللہ تعالیٰ نے مقام عظیم کے طور پر آپ کے لئے وعدہ فرمایاہے۔‘‘

(انوار خلافت ص۱۶، انوار العلوم ج۳ ص۸۱)

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

(اس سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے)

۱… آیت: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک… الخ!‘‘ میں وعدہ الٰہی صرف آنحضرت کے واسطے ہے۔

۲… یہ مقام محمود رسول کریمa کا بڑا مقام ہے۔

۳… یہ مقام محمود اللہ تعالیٰ نے آپa کے لئے بطور انعام عطاء فرمایا۔

نتیجہ

پس مختار مدعاعلیہ کے نزدیک قرآن وحدیث قابل اسناد ہوں یا نہ ہوں۔ ان کے خلیفہ دوم صاحب یعنی مرزا محمود صاحب کا فیصلہ بہرحال ناطق ہوگا۔ اس کے بالمقابل ہدیہ مجددیہ کجا کسی نبی یا ولی کا فیصلہ قابل التفات نہیں۔

لہٰذا ثابت ہوگیا کہ مقام محمود جس کا وعدہ ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محموداً‘‘ میں ہے۔ خصوصیات محمدیہ اور القاب مصطفی سے ایک ایسا امتیازی طغریٰ ہے جس میں کسی کی بھی شرکت نہیں ہوسکتی اور کسی کو اس کا مخاطب سمجھنا۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے اس آیت کو چسپاں کیاہے کہ خدا نے مجھے فرمایاکہ اے مرزا صاحب ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محموداً‘‘یہ ایسا کھلا ہوا شرک فی الرسالۃ و صریح توہین ہے جس کے بعد کلمہ شریک پر ایمان ممکن ہی نہیں۔

مختار مدعاعلیہ نے مغالطوں کی بہت سعی کی، مگر کسی ایک نبی وولی کجا، کسی عالم، صوفی کے قول سے بھی یہ پیش نہ کرسکا کہ اس نے اپنے یا کسی کے واسطے ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محمودا‘‘کا استعمال حقیقی یا مجازی، اصلی یا ظلی اور بروزی کی طرح بھی جائز رکھا اور گفتگو صرف لغوی معنی کے لحاظ سے مقام محمود، یعنی قابل ستائش مرتبہ نہیں بلکہ مخصوص اس آیت: ’’عسیٰ ان یبعثک… الخ!‘‘ میں ہے یا اس کے معنی’’اراد اللہ ان یبعثک ربک مقاماً محموداً‘‘میں۔ پس باوجود اس طویل تقریر کے مرزا صاحب کا کفر وارتداد دور نہ ہوسکا نہ ان کی بے ربط باتوں سے میری بحث کا کوئی بھی جواب ہوسکتاہے۔

۱… حوالہ شرح فصوص الحکم شیخ عبدالرزاق قاشانی کاہے۔ فلہ المقام المحمود!

(شرح فصوص الحکم مطبوعہ مصرص۵۳)

الجواب:

۱… اوّلاً یہ شرح کوئی معتبر شروح سے نہیں اور نہ ہی ہماری مسلم ہے۔

163

۲… خود مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ علامہ امام عبدالوہاب شعرانی جن سے زائد شیخ اکبر کا کلام کوئی سمجھ نہیں سکتا۔ نیز مرزا محمود صاحب خلیفہ قادیان مقام محمود آنحضرتﷺ کے خصوصیات سے بتا رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو

(یواقیت و انوار خلافت)

۳… مختار مدعاعلیہ اور گواہان مدعاعلیہ نے فلہ المقام المحمود کا ٹکڑا دیدہ ودانستہ کاٹاہے تاکہ بے ربط ہو کر مغالطہ کے لائق ہوسکے۔ ورنہ آیت: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک… الخ!‘‘ کا یہاں کوئی ذکر ہی نہیں، بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ امام مہدی کا ایک بڑا مرتبہ قابل تعریف ستائش ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آیت مذکورہ کا موعودہ مقام ان کو دیا جاسکتاہے۔ یا وہ بھی اس کے مخاطب ومصداق ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا یہ حوالہ یہاں بالکل بے ربط ہے۔ اس میں مابہ النزاع کے متعلق اشارہ تک نہیں۔

۴… حوالہ فتوح الغیب کا ہے۔ سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ انسان ترقی کرتے کرتے اس مقام پر ہوجاتاہے کہ وہ ہر رسول ونبی وصدیق کا وارث ہوجاتاہے۔

(فتوح الغیب مقالہ ۴۴،ص۲۳)

الجواب: گو یہ ترجمہ نہیں بلکہ حاصل مطلب اور یہ بھی ماقبل ومابعدسے بے ربط قطع وبرید اور خیانت سے پر ہے۔ تاہم مختار مدعاعلیہ کو ذرہ برابر مفید نہیں، بلکہ سمجھ میںنہیں آتا کہ مختار مدعاعلیہ نے یہ غیر متعلق حوالہ کیوں پیش کیا۔ یہاں نہ تو مقام محمود یا خصوصیات عشرہ کا ذکر ہے۔ نہ کسی خصوصیات سے کسی نبی یا ولی کی شرکت کا تذکرہ یہاں تو صرف اس قدر ہے کہ انسان تمام تعلقات غیر اللہ چھوڑ کر جب اللہ اور اس کے رسولa کا ہوجاتاہے تو انبیاء وصدیقین کا وارث ہوتاہے۔

اورظاہر ہے کہ نبی کی وراثت نہ تو دینار ودراہم میں ہے نہ کسی مقام کی مشارکت میں بلکہ وراثت انبیاء کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ نبیوں کے علوم سے فیضیاب ہو۔ اس پر سرکار مدینہa کی خود شہادت پیش کرتاہوں۔’’ان العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء ولم یورّثوا دیناراً ولا درہما وانما ورّثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر‘‘

(مسند احمد، ترمذی شریف، ابوداؤد شریف، ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰۃ کتاب العلم)

یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کی وراثت دینا ودرہم وغیرہ میں نہیں ہے ان کی وراثت صرف ایک علم میں ہے اور کسی شئے میں نہیں۔ بس جس نے ان کا علم حاصل کیا اس نے ان کی ورراثت کا بڑا حصہ حاصل کر لیا۔ یوں ہی بخاری شریف میں باغ فدک کے سلسلہ میں ہے کہ ہم انبیاء کے گروہ کی وراثت کسی دینار ودرہم میں نہیں جاری ہوتی، بلکہ صرف علمی وراثت ہے۔ علم کے سواء اور کسی شئے میں وراثت انبیاء ورسل جاری ہی نہیں ہوسکتی۔

پس حضرت شیخ الطائفہ سید عبدالقادر جیلانی کے ارشاد کہ ہر نبی ورسول کا وارث ہوجاتاہے۔ صرف اس قدر ہے کہ انبیاء ورسل کے علم سے بقدر مراتب حصہ پاتاہے اور ان کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہوتاہے۔

یہ کفریہ مطلب ہرگز نہیں جو مختار مدعاعلیہ لے کر عدالت کو مغالطہ دینا چاہتاہے کہ ان کے خصوصی مراتب میں شریک وسہیم ہوجاتاہے۔ ورنہ پھر ہر ولی کو سیدالرسل، فخر بنی آدم، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین، محبوب رب العالمین ماننا پڑے گا اور اسے مرزا صاحب کے مریدین تو تسلیم کریں گے۔ مگر کوئی مسلمان جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو کسی مقرب سے مقرب کو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی، محبوب خاص، سرداردوعالمa کا شریک وسہیم تسلیم نہیں کرسکتا۔ بلکہ اسے سخت ترین توہین بار گاہ رسالت کی خیال کرے گا۔

پانچواں حوالہ: (دیوان معین ص۷۴)

  1. ازیں حضیض دناء ت چو بگذری شاید

    کہ تا دنیٰ فتدلیٰ صعود خود بینی

164

الجواب: اس میں کہیں کوئی بھی اشارہ مابہ النزاع امور کی جانب نہیں اور یہ شعرمحض صوفیاء کرام کی اصطلاح سے ناواقفی کی بناء پریہاں مختار مدعاعلیہ نے نقل کردیا۔ ورنہ صوفیاء کرام کی اصطلاح میں مقام فناء اور بقاء کا آخری مقام دنا فتدلیٰ ہے اوراس پر صعود سے مراد دنیوی تعلقات کا انقطاع اور رب العزۃ سے تعلق کا انتہائی استوار ہوناہے۔ اس سے یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے عیاذاً ب اللہ ! شریک وسہیم ہوجاتے ہیں۔ اس کی مزید تشریح کے لئے ردیف الباء کی پہلی غزل ملاحظہ ہو۔

نیز حضرت خواجہ صاحب فرقہ وجودیہ ہمہ اوست سے تعلق رکھنے والے ہیں جس پر ان کے مندرجہ ذیل اشعار درج ہیں:

  1. کسیکہ عاشق ومعشوق خویشتن ہمہ اوست

    حریف خلوت ساقی انجمن ہمہ اوست

  2. اگر بدیدہ تحقیق بنگری دانی

    کہ ناظر دل و منظور جان و تن ہمہ اوست

  3. زجام عشق نہ منصور بیخود آمد و بس

    کہ دار نیز ہمے گفت کہ بار سن ہمہ اوست

ز اعتبار گزرکن کہ ماومن ہمہ اوست

(دیوان معین ص۱۳)

  1. من نمیگویم انا الحق یار میگوید بگو

    چوں نگویم چون مرا دلدار میگوید بگو

خواہ اس پیش کردہ شعر کی غزل کا مطلع ملاحظہ ہو۔

  1. اگر بچشم حقیقت وجود خود بینی

    قیام جملہ اشیاء ببود خود بینی

پیش کردہ شعر کے بعد تیسرا شعر ہے کہ:

  1. بہ بند دیدہ زاعیان کہ تاز عین عیان

    وجود دوست چوجان وجود خود بینی

اور مرزا صاحب صوفیاء کرام کے وحدۃ الوجود سے بالکل دور اور علیحدہ ہیں۔ بلکہ اسے اچھا ہی خیال نہیں کرتے اور اپنے خدائی دعویٰ کی بنیاد بھی اس پر رکھنا پسند نہیں کرتے۔ ملاحظہ ہو آئینہ کمالات اسلام۔ پس مرزا صاحب کے کلام کی تائید حضرت خواجہ غریب نواز کے کلام سے کرنا صرف خواجہ صاحب کے مشرب سے ناواقفی بلکہ خود مرزا صاحب کے مذہب سے بھی ناواقفی کا ثبوت ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ شعر بھی مختار مدعاعلیہ کے لئے مفید نہیں بلکہ مسئلہ متنازعہ سے بالکل بے ربط ہے۔

چھٹا حوالہ (کتاب الاثبات الالہام والبیعۃ ص۱۴۲،۱۴۳، مؤلفہ مولوی عبدالجبار غزنوی) ’’اگر الہام تا شریک سمجھا جائے گا۔‘‘

الجواب:

۱… مدعیہ اور اس کا گروہ مقلد حنفی ہے اور مولوی عبدالجبار غزنوی غیر مقلد وہابی بلکہ تقلید شخصی کے شرک سمجھنے والوںکے سرگردہ ہیں۔ لہٰذا ان کا کوئی حوالہ جب کہ ان سے اصولی اختلاف ہے ہم پر حجت نہیں جس طرح اسلامی قربانی یا اروپی تصانیف باوجود احمدی مصنف ہونے کے مختار مدعاعلیہ نے تسلیم نہ کیا۔

۲… مولوی عبدالجبار غزنوی کوئی بڑے عالم بھی نہیں۔ بلکہ اپنے زمانہ کے عالموں میں متوسط درجہ میں شمار ہیں۔

۳… قرآن پاک واحادیث واقوال بزرگان سے خصوصیت ثابت ہونے کے بعد مولوی عبدالجبار کا انکار محض لغو ہے۔

۴… مولوی عبدالجبار نے اس سلسلہ میں جو آیات نقل کی ہیں وہ خصوصی القاب کی حد کی نہیں۔ گو ضمیر خطاب مخصوص ہو۔ بخلاف ہماری پیش کردہ آیات: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء:۱۰۷) عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً (بنی اسرائیل:۷۹)‘‘ وغیرہ!

165

یہ آیات اور اس طرح خصوصی ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ وغیرہ خصوصی القاب ہیں۔ جب کہ دنیوی خطابات والقابات کسی دوسرے کے واسطے بتاویل استعمال کرنا بھی قانوناً جرم ہے تو خداوند تعالیٰ نے جو خطابات اپنے مخصوص حبیب، سید الانبیاء، فخر بنی آدم کو عطاء فرمائے ہیں، وہ کیونکر دوسرے کے لئے استعمال ہوسکیں گے۔

ساتواں حوالہ (فتوح الغیب مقالہ۲۸) ’’ثم ترفع الی الملک الاکبر فتخاطب بانک الیوم لدینا مکین امین‘‘ یعنی جب تو مرتبہ فناء میں کمال کو پہنچ جائے گا تو تیرا خدا کی طرف رفع کیا جائے گا اور خداتعالیٰ تجھے مخاطب کرے گاکہ: ’’انک الیوم لدینا مکین امین‘‘

الجواب: ’’انک الیوم لدینا مکین امین‘‘ کسی نبی کا خصوصی لقب خدا کا دیا ہوا نہیں بلکہ یہ وہ فقرہ ہے کہ عزیز مصر نے سیدنا یوسفm کو جیل سے بلا کر فرمایا تھا کہ: ’’انک الیوم لدینا مکین امین (یوسف:۵۴)‘‘ آج سے آپ میرے نزدیک باعزت اور امانت دار ہیں۔

پس نہ تو یہ باری تعالیٰ کا عطاء کیا ہوا خطاب ہے، نہ کوئی لقب نہ نبی کریمa کی خصوصیات سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ لہٰذا یہ حوالہ اس جگہ بالکل بے ربط ہے۔

آٹھواں حوالہ: (مقامات امام ربانی مطبوعہ دہلی ص۱۳۶)

’’مجدد الف ثانی کے سب سے چھوٹے فرزند حضرت شاہ محمدیحییٰ کے تولد سے پہلے حضرت مجدد صاحب کو الہام ہواتھا۔ ’’انا نبشرک بغلامٍ اسمہ یحییٰ‘‘ اسی رعایت سے ان کانام محمدیحییٰ ہوا۔

الجواب:

۱… مقامات امام ربانی غیر مسلم کتاب ہے جو نہ حضرت مجدد صاحب کی تالیف ہے نہ ان کے کسی مستند خلیفہ کی بلکہ ان کے سلسلہ کے ایک مرید کی کتاب ہے جس میں ان کے کچھ حالات قلم بند ہیں اور اہل سلسلہ کے نزدیک اس میں رطب ویابس امور بھی ہیں۔

۲… اس میں کوئی خصوصی لقب یا خطاب کسی دوسرے کے واسطے استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ جس طرح حضرت زکریاm کو ایک بیٹے کی بشارت دی گئی تھی۔ اس طرح حضرت مجدد صاحب کو بھی ایک بیٹے کی بشارت دی گئی اور بشارت کی مشارکت کا کوئی اعتراض نہیں۔ بلکہ خصوصی لقب اور خطاب کی شرکت کا سوال ہے۔ وہ اور انبیاء کے ساتھ نہیں بلکہ سید الانبیاءﷺ کے ساتھ۔ کیونکہ اور انبیاء کے ساتھ تو علماء امت محمدیہ کو بھی ایک قسم کا ارتباط حاصل ہے۔ جب کہ خود آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ پس یہ حوالہ بھی امر متنازع ہے، غیر متعلق ہے۔

نواں حوالہ: (علم الکتاب خواجہ میر درد ص۶۱)

’’الحمدﷲ الذی جعلنی حاکماً فی المؤمنین ببرکۃ المحمدیۃ الخالصۃ وقوۃ لنسبۃ التقریب مع اللہ ورسولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام وامرنی فی قلبی بالہام الخاص ان احکم بینہم من احکام اللہ تعالیٰ وادعہم الی الطریقۃ المحمدیۃ بما انزل اللہ فی کتابہ من ا لآیات التی ہی الشاہدات البینات علی حقیقتک ولا تتبع اہواء ہم واستقم کما امرت فان تولوا عن طریقتک الحق فقل حسبی اللہ ۔ انما یرید اللہ ان یصیبہم بما وعد ہ للفاسقین وان کثیرامن الناس لفاسقون۔ اوحکم الجاہلیۃ یبغون فی زمان یحکم اللہ بایاتہ ما یشاء حسب رضاء فی رسولہ محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام علیٰ لسان المحمدیین الخالصین ومن احسن من اللہ حکما لقوم

166

یوقنون واذا قیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ فی القرآن واسمعوا کیف اقتبس بالایات وابلغکم دعوتہ الحقۃ ما دعاکم احد الی الان علیٰ ہٰذا النہج المرضی وتعالوا الی رسولہ واختارواالمحمدیۃ الخالصۃ التی ہی الطریقۃ الحقہ قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ اٰباء نا من الطرق الاخر۔ اولو کان اباء ہم لا یعلمون شیئا ولا یہتدون ہٰذا ما امرنی اللہ ببیانہ وحکمنی ان احکم بہ بینکم فحکمت بحکمۃ بینکم بالقسط ان اللہ یحب المقسطین۔ وارانی ربی آیتہ الکبری واعطانی کلماتہ العلیا واتانی ہٰذا الکتاب ونادانی بالخطاب حیث قال لی یا خلیفۃ اللہ وبا آیاۃ اللہ انی شہدت بعبودتک فاشہد انت باالوہیتی وانک عبدی ومقبولی ومقبول رسولی، قلت یا رب اشہد ان لا الہ الا انت واشہد انک علی کل شیٔ شہید۔ انت الٰہی ومعبودی ولیس سواک مقصودی، اناعترۃ حبیبک وبضعۃ عند لیس بک وقال یا عبد اللہ ویا عارف ب اللہ انی جعلتک مظہراً جامعاً لکل ظہوری الیٰ۔ فاذہب بایاتی الیٰ کل مخلوقاتی ودعوتک من الجمع الالہٰی و الجمع المحمدی فمن اطاعک فقد اطاع اللہ والرسول قلت یا رب قبلت جمیع احکامک ودعوت الخلق الی دینک واسلامک فاہدہم الی والی ابی لاہدیہم الیک والی رسولک وانت تہدی من تشاء وقال یامورد الواردات ویا مصدر الآیات انا جعلناک ایۃ للناس لعلہم یرشدون ولکن اکثر الناس لا یعلمون قلت یا رب تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم وقال قل لوکانت الحقیقۃ زائدۃ مماکشفت علیّ لاظہرہا اللہ علیٰ لانہ تعالیٰ اکمل لی الدین واتم علی نعمتہ ورضی لی الاسلام دینا ولو کشف الغطاء ما ازددت یقینا ان ربی لذو فضل عظیم‘‘

(بحوالہ جرح ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)

اسی جرح میں گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے الفاظ ذیل بھی ملاحظہ ہوں۔ اس عبارت میں یہ فقرہ ہے: ’’واسمعو کیف اقتبس بالایات۔(ترجمہ ) سنو میں کس طرح آیات سے اقتباس کرتاہوں۔‘‘

الجواب: اس کے خط کشیدہ الفاظ ملاحظ ہوں۔ اس میں کہیں یہ نہیں کہ آیات ان پر نازل ہوئیں بلکہ یہ تصریح موجود ہے کہ: ’’واسموا کیف اقتبس بالایات‘‘ سنو میں کیسے (بے تکلف) آیات قرآنیہ کا اقتباس کرتاہوں اور اسی (علم الکتاب ص۳) پر خود ہی اقتباس کی یہ تعریف فرماتے ہیں کہ: ’’باید دانست کہ آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ رامندرج در عبارت آوردن والفاظ و معانی آنہا نرا بدیگر حروف مطالب ربط و ادن ویابعض کلمات ازاں نگاشتن وآنرا علامات واشارت برتمامش داشتن صنعت اقتباس است۔ ’’والاقتباس ہو ان یتضمن الکلام نظماً او نثراً شیئاً من القرآن اوالحدیث ودرکلام محقیقن وفصحا‘‘ می آید کسی کہ واقف علم فصاحت وبلاغت است می داند وازانجا کہ بنیاد معارف ومطالب محمدیان خالص برکلام اللہ واحادیث است ونور معرفت کہ ایشان مقتبس از مشکوٰۃ نبوۃ بہدایت ہادی علیم ورسول کریم اکثرجاہا عبارت این متن وشرح ہمیں قسم است کہ اظہار مطالب بکلام اللہ واحادیث رسول او بارتباط تمام بآن مقام کردہ شدہ ہٰذا من فضل ربی علی مااقتبس من کلامہ بلا تکلف وہو ہدانی الیٰ ہٰذ ا السبیل وذلک من آیاتہ الباہرۃ وتائیداتہ الظاہرۃ وان فی ذالک لایات لاولی النہٰی والسلام علی من اتبع الہدیٰ وچہ جائے اقتباس از کلام اقوال کہ او سبحانہ سادات محمدیہ را در تمام احوال شرف اقتباس واتباع وادہ است وہمان ذات پاک ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ کہ عموماً باعث ایجاد ہمہ موجودات امت خصوصاً نیز علت ہستی ووجود ایشان ظاہراً وباطناً افتادہ است وتصریح این معنی برائے آن کردہ شدہ تاکدام جاہل ناواقف از حقیقت تصرف در آیت وحدیث نہ فہمد۔ (جرح ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء) اس میں صاف تصریح ہے کہ کلام اللہ کے فقرہ اور

167

آیات بطور اقتباس کے اپنے کلام میں لائے ہیں۔ نیز (ص۶۴) پر واکتب الایات فی کتابک والقہ الی الناس ثم تول منہم بالتجاہل العارف فانظرنا ما ذا یرجعون ’’یعنی اور آیات کو اپنی کتاب میں لکھ اور اسے لوگوں کو پہنچا۔‘‘

پس یہ آیات ان پر مکرر نہیں اتریں بلکہ اللہ نے الہاماً یہ حکم فرمایا کہ قرآن کی آیات کا اقتباس کر کے اپنی کتاب میں لکھ کر لوگوں کو تبلیغ کرو۔

الجواب: اس سے مختار مدعاعلیہ یہ ثابت کرنا چاہتاہے کہ آیات قرآنیہ مکرر الہاماً بزرگان دین پر نازل ہیں اور اس میں وہ ہی مخاطب ہوا کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!

یہ بحث مفصل ان شاء اللہ تعالیٰ! وحی کے سلسلہ میں آئے گی۔ یہاں صرف اس قدر گزارش ہے کہ مختار مدعاعلیہ کا یہ دعویٰ کہ آیات مندرجہ علم الکتاب الہاماً مکرر ان پر نازل ہوئیں۔ محض حضرت خواجہ میر درد پر افتراء ہے اور بہتان ہے۔ جرح میں اس کے متعلق کا فی مواد ہے جو اپنی جگہ پر آئے گا اور بہت کچھ بحث ابتدائی میں پیش ہوچکا۔ یہاں انہیں دونوں پیش کردہ کوٹیشنوں سے یہ ثابت ہے کہ یہ آیات قرآن کی اتری ہوئی ہیں۔ قرآن ہی سے لے کر اقتباس کے طور پر یہاں مستعمل ہوئی ہیں، مکرر الہاماً نازل نہیں ہوئیں۔

پہلے کوٹیشن کے ابتدائی الفاظ: ’’ان احکم بینہم من احکام اللہ تعالیٰ وادعہم الی الطریقۃ المحمدیۃ بما انزل اللہ فی کتابہ من الآیات… الخ!‘‘

’’یعنی اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا کہ ان مسلمانوں میں اللہ کے احکام سے فیصلہ کیجئے اور طریقہ محمدیہa کی جانب انہیں ان آیات سے دعوت دیجئے جو اللہ نے اپنی کتاب (قرآن پاک) میں نازل فرمائی ہیں۔‘‘ ملاحظہ فرمائیں کس قدر صاف وصحیح عبارت ہے کہ جو قرآن پاک میں اتری ہیں ان کے ذریعہ سے دعوت طریقہ محمدیہ کی مسلمانوں کو دیجئے۔ یہ کہیں نہیں کہ الہاماً مکرر آپ پر آیات مندرجہ ذیل اترتی ہیں۔ بلکہ تصریح ہے کہ اپنے وعظ و دعوت میں وہ آیات استعمال کیجئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن میں اتاری ہیں۔ کس قدر عظیم الشان افتراء وبہتان ہے کہ مختار مدعاعلیہ کے پیش کردہ حوالہ میں یہ ابتدائی تمہید اور اس قدر واضح فیصلہ ہو اورپھر وہ اس عدالت کو مغالطہ دہی کی ناجائز سعی کرے۔ عدالت کے رو برو اس عظیم الشان کذب بیانی کے بعد اس کی گواہی یقینا ساقط الاعتبار ہونی چاہئے۔

اور مرزا صاحب بھی فرماتے ہیں: ’’جس کی ایک بات غلط ثابت ہوجائے۔ اس کی دوسری باتوں کا بھی اعتبار نہیں۔‘‘ ملاحظہ ہو:

(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

دوسرے حوالہ کے ابتداء میں ہے: ’’واکتب الآیات فی کتابک‘‘ قرآن کی آیتیں اپنی کتاب میں لکھو، پھر خدا کے ارشاد کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں: ’’قال اللہ تبارک وتعالیٰ (اکذبتم بأیاتی… الخ!)‘‘ یہ سب امور تصریح ہیں اس امر کی کہ وہی قرآنی آیات ہیں جنہیں بطور اقتباس کے موقع ومحل پر خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنے مضمون میں چسپاں کیا ہے اور خداتعالیٰ کے حکم سے انہوں نے یہ خدمت رشد وہدایت اختیار کی ہے نہ اپنی رائے سے۔

قول مختار مدعاعلیہ:

’’جن آیات قرآنیہ کے متعلق خواجہ نے امرنی فی قلبی بالہام الخاص کہا ہے تو اس سے مراد یہی ہے کہ خداتعالیٰ نے ان آیات کو آپ کے دل میں الہام کیا ہے۔ الخ!‘‘ کس قدر سفید جھوٹ ہے۔ امرنی فی قلبی بالہام الخاص کے آگے وہ الہام خاص بھی مذکور ہے۔ مختار مدعاعلیہ کے قیاس آرائی کی حاجت نہیں۔ ملاحظہ ہو:’’امرنی فی قلبی بالہام الخاص ان احکم بینہم من احکام اللہ تعالیٰ وادعہم الی الطریقۃ المحمدیۃ بما انزل اللہ فی کتابہ من الایات… الخ!‘‘یعنی میرے قلب میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ

168

نے یہ الہام فرمایاکہ ان لوگوں میں اللہ کے احکام سے فیصلہ کیجئے اور طریقہ محمدیہ کی طرف ان آیات کے ذریعہ سے دعوت دیجئے جو اللہ نے اپنی کتاب (قرآن پاک ) میں نازل فرمائی ہیں۔

وہ تو وضاحت فرمارہے ہیں کہ اللہ نے مجھے صرف یہ حکم الہام خاص سے فرمایا کہ قرآن میں جو میں نے آیتیں نازل کی ہیں۔ ان کی بندگان خدا میں دعوت وتبلیغ کیجئے اور مختار مدعاعلیہ یہ اٹکل ماررہاہے کہ: ’’اس سے مراد یہی ہے کہ خدا نے ان آیات کو آپ کے دل میں الہام کیاہے۔‘‘

اب یا تو دانستہ مغالطہ دیا یا سہو ہوگیا یا مختار مدعاعلیہ کو اس عبارت کا ترجمہ معلوم نہ تھا۔ غرض حضرت خواجہ میر درد کا دامن تقدس اس افتراء سے پاک ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے ایک فقرہ اور مغالطہ کے لئے نقل کیاہے:’’ولقد القی اللہ علی قلبی من آیات بینات مع انی لست بحافظ القرآن… الخ!‘‘

الجواب: یہ بھی مغالطہ ہے وہ محض یہ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ نے قرآن کی آیتیں یاد کرادیں۔ حالانکہ میں حافظ قرآن نہیں۔ پس میں ان کی دعوت و تبلیغ میں مصروف ہوگیا۔ اس کے حکم کے مطابق مصروف ہوگیا اور اب بلا تأمل آیات قرآنیہ اپنے مضمون میں استعمال کرتاہوں۔ زیادہ توضیح کے لئے (علم الکتاب ص۶۰،۳،۶۴،۶۵،۱۱) جرح گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء پر ملاحظہ ہو۔ غرض یہ کہ یہ حوالہ بھی محض بے سود اور کھلا ہوا مغالطہ ہے۔ مفصل بحث وحی والہام کے سلسلہ میں آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

۱…’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۱، خزائن ج۲۲ ص۷۴)

مختار مدعاعلیہ نے حسب عادت اپنے الفاظ میں میرا مدعا نقل کر کے مطلب خبط کرنے کی ناجائز سعی کی ہے۔ میں نے صرف یہ عرض کیا تھا کہ یہ مذکورہ بالا آیۃ صرف آنحضرتﷺ کے واسطے ہے نہ کسی اور نبی اور ولی کے نہ کسی کے واسطے اس کا ہونا ممکن ہے۔

میں نے اپنے دعویٰ کے دو حصے قرار دئیے تھے۔

الف… اس کا مصداق صرف آنحضرتﷺ ہیں نہ کوئی اور نبی وولی۔

ب… اس کا مفہوم یہ بتاتا ہے کہ اس کا مصداق اور کوئی کسی طرح نہیں ہوسکتا۔

دلیل

الف… بحث میں مفصل قرآن واحادیث واقوال بزرگان سے یہ تمام چیزیں مدلل کی گئی تھیں۔ چونکہ مجھے ان کا اعادہ منظور نہیں۔ لہٰذا صرف ایک آیت کے نقل پر اکتفاء کرتاہوں۔ قرآن پاک میں جہاں یہ آیت مذکورہ ہے اسی جگہ تصریح موجود ہے کہ اس کا مصداق صرف ذات گرامی سید المرسلینa ہیں۔ کیونکہ ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفیٰ ب اللہ شہیدا (الفتح:۲۸)‘‘ میں ایک رسول کو بھیجنے اور اس کے دین کاتمام ادیان سابقہ پر فوقیت اور سب کا ناسخ ہونے کا ذکر فرمایا۔ ممکن تھاکوئی ناواقف اس سے کوئی اور نبی ورسول یا ولی مراد لے لیتا۔ لہٰذا باری تعالیٰ نے اس کے متصل ہی اس کا مصداق نامزد فرما دیا کہ: ’’محمدرسول اللہ … الخ! (الفتح:۲۹)‘‘یعنی وہ رسول جن کی اور جن کے دین پاک کی اوپر مدح کی گئی ہے وہ محمد (a) اللہ کے رسول ہیں۔ پس اس آیت کا مصداق کسی طور پر کسی تاویل سے کسی اور کو قرار دینا علاوہ اس کے کہ آنحضرتﷺ کی خصوصیات میں شرکت اور حضورa کی سخت توہین ہے۔ اس نص قرآنی کا ہی انکار ہے جس میں نام پاک لے کر اس مصداق کی تعیین ہے۔ لہٰذا اس میں نہ صرف ایک بلکہ مستقل دو کفر ہیں۔

169

ب… اس امر کا کہ اس کا مصداق کوئی اور ہونا ناممکن ہے۔ یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہدایت یعنی شریعت اور مستقل دین کے ساتھ بھیجا جو تمام دینیوں کا نسخ کرنے والا ہے اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں اور مرزا صاحب کے امتیوں کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ حضورa کے بعد کوئی شریعت اور دین جو ماسبق کا ناسخ ہو، نہیں آسکتا۔ پس اگر اس کا مصداق کوئی حضورa کے بعد کا کسی طور پر لیا جائے تو لازم آئے گا کہ وہ صاحب شریعت ہو جائے اور اس کا دین ادیان سابقہ کا جس میں اسلام بھی شامل ہے، ناسخ قرار دیا جائے جو بالاتفاق کفر ہے۔ بہر حال اس آیت کا مصداق کسی اور کو ماننا نہ صرف ایک کفر بلکہ متعدد کفروں کو مستلزم ہے۔ مختار مدعاعلیہ کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں: ’’یہ قرآن مجید کی آیت ہے جس میں دین اسلام کے دیگر ادیان پر غلبہ کی طرف اشارہ پایا جاتاہے اور یہی آیت مرزا صاحب پر بذریعہ الہام نازل ہوئی… الخ!‘‘

گویا مختار مدعاعلیہ نے میرے مدعا کے اصول کو تسلیم کر لیا کہ اس آیت میں دین اسلام کے تمام ادیان پر غلبہ کی طرف اشارہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ دین لے کر سوائے نبی آخر الزمان، سید الانس والجانa کے کوئی اور نہیں بھیجا گیا، نہ کسی نبی کو یہ فخر حاصل ہے، نہ کسی ولی وفرشتہ کو۔ نیز اس کے مصداق کو قرآن پاک نے محمدرسول اللہ کہہ کے متعین فرما دیا۔

پر مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’اور یہی آیت مرزا صاحب پر بذریعہ الہام نازل ہوئی… الخ!‘‘ کھلا ہوا کفر کا اقرار ہے جو کسی تاویل سے ٹل نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ وہ آیت ہے کہ مرزا صاحب کجا کسی اور اولوالعزم نبی پر بھی نازل نہ ہوئی، بلکہ کسی اور نبی میں بھی اس کا نزول ماننا کفر ہے۔

(مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ)

ہدی اور دین حق کی مختار مدعاعلیہ نے کچھ خود تاویلیں تصنیف کیں اورکچھ مرزا صاحب سے نقل کیں۔ مگر ایسی آیت جس کا مصداق قرآن پاک نے خود متعین فرما دیا ہے کسی اور کو قرار دینا خواہ کسی تاویل سے ہو، نص قطعی کا کھلا ہوا انکار اور قرآن پاک کلام الٰہی کے ساتھ ٹھٹھا کرنا ہے، نہ صرف کفر بلکہ کفر علیٰ کفرہے اور اگر اس قسم کی تاویلات سے انسان خلاصی حاصل کرسکتاہے تو پھر عیاذاً ب اللہ ! کوئی قرآن پاک کی تمام آیات متعلقہ توحید وصفات باری تعالیٰ و متعلقہ رسالت وخصوصیات محمدa اپنے اوپر اسی تاویل سے چسپاں کرسکتاہے اور کسی قسم کا کفر نہ ہونا چاہئے۔ یوں توحید اور رسالت کا مسئلہ ہی دنیا سے ناپید ہوجائے گا۔ ہر شخص اپنے لئے خدائی صفات اور محمدیa القاب استعمال کرتا رہے گا۔ حالانکہ کوئی بھی مسلمان اس کے کفر وبغاوت ہونے میں متردد نہیں ہوسکتا۔

مختار مدعاعلیہ نے (اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۷) اور (سراج منیر ص۳۶، خزائن ج۱۲ ص۴۲) سے مرزا صاحب کی کچھ تاویلات نقل کی ہیںکہ: ’’خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔‘‘

میں عرض کر چکاہوں کہ قران نے اس آیت کا مصداق محمدرسول اللہ کو قرار دیا ہے جو نص قطعی سے ثابت ہے۔ مگر مرزا صاحب کہتے کہ: ’’آیت قرآنی الہامی پیرایہ میں اس عاجز کے حق میں ہے۔‘‘ بحوالہ سابق اب تو کسی جواب کی حاجت ہی نہیں، کیونکہ مرزا صاحب نے اسی قرآنی آیت کو اپنے حق میں مان لیا اور اپنے آپ کو اس کا مصداق ٹھہرایا۔ گویا الہامی پیرایہ میں سہی اور قرآن پاک کی نص قطعی ہے کہ یہ آیت ہر طرح سے صرف محمدرسول اللہ ﷺ کے حق میں ہے۔لہٰذا یہ اعترض بالکل لاجواب رہا اور الہامی پیرایہ کی آڑ ہر گز سود مند نہیں ہوسکتی۔

رسول کی تاویل مامور فرستادہ مبعوث سے کرنا اور دین سے اس کا غلبہ دلائل سے مراد لینا کہ تمام ملتیں دلائل بیّنہ کے ساتھ ہلاک ہوجائیں گی۔ وغیرہ وغیرہ! یہ سب عذر گناہ بدتر اس گناہ سے زائد وقعت نہیں رکھتا۔

نیز اصل اعتراض تو صرف اس قدر ہے کہ یہ آیت صرف آنحضرتﷺ کے حق میں ہے جو نص قرآنی سے ثابت ہے اور مرزا صاحب اپنے حق میں یہی آیت قرآنی فرمارہے ہیں۔

170

پس کوئی بھی تاویل کی جائے۔ جب تک اس آیت کی خصوصیت آنحضرتﷺ سے باقی ہے کسی اور کو مصداق ماننا ایسا اٹل کفر ہے جو زائل نہیں ہوسکتا اور خصوصیت کا انکار بالخصوص اس آیت کی خصوصیت مستقل ایک کفر ہے۔ کیونکہ یہاں خصوصیت نامزد کرکے نص قطعی سے ثابت ہے۔ کسی حدیث یا کسی بزرگ کے قول سے نہیں جس کے انکار کی گنجائش ہو۔

مرزا اور مختار مدعاعلیہ کے دو عظیم الشان بہتان

۱… مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’(اس آیت میں) وہی پیش گوئی ہے جو ابتدا سے اکثر علماء کرتے آئے ہیں کہ یہ مسیح موعود کے حق میں ہے… الخ!‘‘

محض افتراء اور جھوٹا بہتان ہے۔ کسی عالم ربانی نے یہ آیت یا اس کی پیش گوئی علاوہ رسول اللہ ﷺ کے مسیح موعود کے حق میں نہیں بتائی۔

۲… مختار مدعاعلیہ کہتا ہے کہ: ’’اس آیت کے متعلق تفسیروں میں بھی مذکور ہے کہ اس آیت کے حقیقی مصداق اور اظہار دین علی المخالفین مسیح موعود اور مہدی مسعود کے وقت میں ہوگا۔

یہ بھی محض جھوٹ اور افتراء ہے۔ کسی ایک اسلامی تفسیر میں یہ نہیں کہ اس آیت کا حقیقی مصداق مسیح موعود یا مہدی ہوں گے، بلکہ صرف آنحضرتﷺ حقیقی مصداق بنص قرآن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت مرزا صاحب کا یہ فیصلہ ملاحظہ فرمائے کہ: ’’ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘ ایک حوالہ (منصب امامت ص۵۶) نقل کیا ہے کہ:’’قال اللہ تعالیٰ ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (الصف:۹)‘‘ظاہر است کہ ابتدائے ظہور دین درزمان پیغمبرa بوقوع آمدہ واتمام آں از دست حضرت مہدی خواہد گردید۔‘‘

اس میں کہیں اشارہ تک نہیں کہ اس آیت کے حقیقی مصداق مہدی ہوں گے، بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ غلبہ دین آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ہوچکا اور یہ ختم نہیںہوا بلکہ مذہب اسلام برابر ترقی کرتا رہے گا اور چار دانگ عالم میں اس کی اشاعت ہوتی رہے گی۔ حتیٰ کہ جب تک دنیا ختم ہوگی اور اس امت کے آخری مبلغ امام مہدی ظاہر ہوں گے تو چونکہ دنیا ختم ہے۔ دین بھی ختم ہوگا اور جیسا کہ حدیث میں ہے جب تک روئے زمین پر کوئی ایک متنفس بھی اللہ کہنے والا ہے قیامت نہ آئے گی، جب تمام اہل خیر واہل اسلام ختم ہوجائیں گے اور دنیا میں صرف اشرار ناس باقی رہ جائیں گے۔ ان پر قیامت قائم ہوگی۔ ملاحظہ ہو

(مشکوٰۃ کتاب الفتن واشراط الساعۃ)

خلاصہ جواب

اس آیت کے حقیقی مصداق صرف محمدرسول اللہ ﷺ بنص قرآنی ہیں۔ کسی نے بھی کسی اور کو اس آیت کا مصداق قرار نہیں دیا، بلکہ کسی غیر کو اس کا مصداق بتانا کفر اور نص قطعی کا انکار اور نبی کریمa کے خصوصی مدارج میں شرک اور آنحضرتﷺ کی سخت ترین توہین ہے۔ مرزا صاحب صرف اپنے حق میں اس آیت قرآنی کو قرار دیتے ہیں ملاحظہ ہو: ’’اور مجھے بتلایاگیا ہے کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور توہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۲) ماشاء اللہ ! خدا تو صرف محمد رسول اللہ کو مصداق بنائے اور مرزا صرف تنہاء آپ کو۔ مختار مدعاعلیہ و دیگر اس کے ہم مذہب مرزا صاحب کو اس کا حقیقی مصداق بتاتے ہیں۔ لہٰذا مرزا صاحب اوران کی امت کے کفر میں کسی شک کی ذرہ بھر گنجائش نہیں۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ میرے اصلی پوائنٹ کو نظر انداز کر کے مختار مدعا علیہ نے اس کے جواب میں صرف غیر متعلق امور پر اکتفاء کیا۔ پس میرا یہ اعتراض بالکل لاجواب رہا جو مرزا صاحب کے کفر کے واسطے کافی ووافی ہے۔

171

(۲)

’’انا اعطیناک الکوثر‘‘

(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

اس آیت کریمہ اور ان الفاظ کا مصداق جو بھی لیا جائے۔ بلا اختلاف اس کے مخاطب صرف آنحضرتﷺ ہیں۔ کسی اور کو اس لقب سے نوازنا نبی کریمa کی سخت ترین توہین ہے۔

آنحضرتﷺ کی تفسیر

۱… ’’عن انسq انہa قال اتدرون ما الکوثر قلنا اللہ ورسولہ اعلم قال فانہ نہر وعدنی ربی ہو حوض ترد علیہ امتی یوم القیامۃ (مسلم)‘‘

(ترجمہ) حضرت انسq سے مروی ہے کہ حضورa نے فرمایا کہ کیا تمہیں کوثر کا پتہ ہے کہ کیا چیز ہے ہم نے عرض کی خدا اور اس کا رسول بہتر جانتاہے فرمایا وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایاہے وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت وارد ہوگی۔

۲… ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم انا اعطناک الکوثر۔ فی الاحادیث الصحاح ہو نہر فی الجنۃ علیہ خیر کثیر ترد علیہ امتی یوم القیامۃانیۃ عدد الکواکب… الخ!‘‘

(ترجمہ) تحقیق دیا ہم نے تجھ کو کوثر۔ احادیث صحیحہ میں ہے کہ وہ ایک نہر جنت میں ہے جس میں خیر کثیر ہے جس پر میری امت قیامت کے دن آئے گی جس کے برتن ستاروں کے شمار میں ہیں۔

اس سے ثابت ہوا کہ حوض، نہر، خیر کثیر سب کا حاصل ایک ہی ہے۔ کیونکہ اس حوض ونہر پر خیر کثیر فرماتے ہیں۔

ائمہ مفسرین کا فیصلہ

۱… تمام مفسرین نے کوثر کا مصداق وہی حوض کوثر اور نہر کو قرار دیا ہے اور جنہوں نے کوثر سے خیر کثیر مراد لیا ہے وہ یا تو وہی خیر کثیر مراد لیتے ہیں جو حوض کوثر ہے یا دیگر خصوصیات نبویہ کو بھی شامل کرتے ہیں۔ جیسے کہ کمالین میں خیر کثیر کی تفسیر کی ہے کہ: ’’من النّبوۃ والقرآن والشفاعۃ ونحوہما مما اعطیہ النّبیa من الفضائل الدنیویۃ والاخرویۃ‘‘ کہ خیر کثیر سے حضورa کی نبوت قرآن شفاعۃ وغیرہ وہ فضائل دنیویہ اور اخرویہ مراد ہیں جو صرف آنحضرتﷺ کو دیئے گئے ہیں۔ بہرحال اس آیت: ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ سے خطاب صرف آنحضرتﷺ کو ہے اور بس۔ خواہ بمعنی حوض کوثر ہو جیسا کہ متبادر اور احادیث اور تفسیر سے ثابت ہے یا خیرکثیر کے معنی میں ہو۔ کیونکہ امام المفسرین حضرت ابن عباسq خیر کثیر کی تفسیر میں یہی خصوصیات نبویہ میں قرار دیتے ہیں: ’’عن سعد بن جبیر عن ابن عباس قال الکوثر خیر الذی اعطاہ اللہ ‘‘ کہ کوثر سے وہی خیر کثیر مراد ہے جو صرف آنحضرتﷺ کو(بلا شرکت غیرے) عطاء فرمائی گئی تھی۔

پس جب کہ مرزا صاحب اسی آیت: ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ سے اپنے آپ کو مخاطب اور مصداق مان لیا خواہ وہ پھر از تاویل ہو، خصوصیت محمدیہ اور آپa کے خطاب امیتازی اور لقب خصوصی میں شرکت یقینا ثابت ہوگئی جو کھلا ہوا شرک فی الرسالۃ ہے اور جس کے بعد کسی طرح ایمان کلمہ کے جزو اخیر محمدرسول اللہ پر نہیں ہوسکتا۔ اب مختارمدعاعلیہ کی یہ تاویلات کہ مرزا صاحب نے کسی جگہ یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے حوض کوثر دیاگیا۔ بلکہ کثرت یا خیرکثیر مراد لی ہے… الخ! بے سود اور لغو ہیں۔ اعتراض کسی معنی خاص پر نہیں بلکہ صرف یہ ہے

172

کہ یہ خصوصی خطاب محمدیa ہے۔ اس میں کسی اور کی شرکت ایمانی کلمہ کے منافی ہے جس کا مختار مدعاعلیہ نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ پس یہ دوسرا نمبر بھی لاجواب رہا۔

قول مختار مدعاعلیہ :

’’یہ الہام براہین احمدیہ میں بھی موجود ہے۔ جب کہ آپ کو یہ مولوی مسلمان سمجھتے تھے… الخ!‘‘

وہاں صرف آیات نقل کی ہیں کہ یہ اسلام کی حقانیت کے دلائل ہیں نہ اس وقت دعویٰ نبوت ورسالت تھا نہ اس کا مصداق اپنے کو قراردیا تھا۔ مسلمان اس مغالطہ میں تھے کہ ان کے مصداق آنحضرتﷺ ہیں اور یہ رسالت محمدیہ کے دلائل ہیں۔ مگر جب نبوت سے مرزا صاحب نے پردہ اٹھایا اور اپنے کو محمد، احمد، رسول ونبی بنا کے ان کا مصداق قراردیا تو نہ صرف علماء بلکہ تمام مسلمان وفرق اسلامیہ، عرب وعجم کے ان کی تکفیر کرنے لگے اور خود مولوی محمدحسین بٹالوی جنہیں مختار مدعاعلیہ نے یہاں تائیداً پیش کیاہے، تکفیر میں پیش پیش ہوئے اور بھی وجوہات موجب تکفیر قرار دیں۔ ملاحظہ ہو (اشاعۃ السنۃ ج ۷،ص۸) ’’مرزا غلام احمد صاحب کادیانی زمانہ تالیف براہین احمدیہ کے پہلے آپ کی سوانح عمری کا میں تفصیلی علم نہیں رکھتا، مگر زمانہ تصنیف براہین سے جو جھوٹ بولنا، دھوکا دینا، آپ نے اختیار کیا ہے۔ خصوصاً ۱۸۸۶ء سے جب سے آپ نے الہامی بیٹا تولد ہونے کی پیش گوئی کی اور اس قسم کی اور پیش گوئیاں مشتہر کی ہیں علی الخصوص ۱۸۹۰ء سے جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ مشتہر کیا ہے۔ اس سے آپ کی کوئی تحریر، کوئی تقریر، کوئی خط، کوئی تصنیف خالی نہیں ہے۔ اس پر قیاس ہوسکتاہے کہ پہلے زمانہ میں خصوصاً امتحان مختاری میں فیل ہونے اور پھر عدالت میں سالہا سال اپنے مقدمات کرنے کے وقت آپ کا یہی حال رہا ہوگا۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ ج۱۵ ص۷،۸)

خلاصہ

اعتراض صرف ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ کے خطاب میں شرکت پر ہے۔ جب تک مرزا صاحب اس خطاب میں آپ کو شریک مانتے ہیں خواہ کوئی بھی معنی لیں شرک بالرسالۃ رہیں گے اور کلمۂ توحید پر ایمان نصیب نہیں ہوسکے گا۔

کیونکہ اوپر دلائل سے ثابت ہوچکا ہے کہ اس کا خطاب اور مصداق ہر معنی سے صرف آنحضرتﷺ ہیں نہ کوئی اور۔مگر مرزا صاحب اس کا مصداق صرف تنہاء اپنے آپ کو بتاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) کہ’’تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔‘‘ پس علاوہ شرک کے آنحضرتﷺ کے مصداق ہونے سے انکار ہے جو خلاف نص قرآن اور صریح کفرہے۔

(۳)

’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محموداً‘‘

قول مختارمدعاعلیہ:

’’مختار مدعیہ نے اس الہام سے بھی عدالت کو یہ مغالطہ دینا چاہاہے کہ گویا مسیح موعود نے اس آیت قرآنی کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرایاہے۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔ مختارمدعیہ نے (دافع البلاء ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷) کا حوالہ دیا ہے اور (ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۲۸) پر جو اس کا ترجمہ درج ہے: ’’وہ دانستہ نظر انداز کیا ہے جس پر درحقیقت کوئی اعتراص وارد نہیں ہوسکتا اور وہ یہ ہے وہ وقت قریب ہے کہ میں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری حمدوثنا کرے گی۔‘‘ مرزا صاحب نے یہ معنی کئے ہیں۔

اس میں بھی حسب عادۃ پہلو بدل کر جواب دینا چاہاہے۔ یہاں بھی معنی اور مطالب میں بحث واختلاف نہیں بلکہ بحث صرف اس

173

قدر ہے کہ یہ خطاب ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محموداً (بنی اسرائیل:۷۹)‘‘ صرف آنحضرتﷺ کو ہے اور اوپر عمومی بحث میں ہیڈنگ ’’آنحضرتﷺ کی خصوصیات‘‘ کے تحت میں مفصل گزر چکا کہ یہ خصوصی خطاب آیت مذکورہ صرف آنحضرتﷺ کے واسطے ہے۔ اس میں کوئی نبی وولی شریک نہیں، قرآن پاک کا سیاق وسباق بھی اس تخصیص کو ثابت کرتاہے۔ احادیث بخاری ومسلم ودیگر صحاح اس کی شہادت میں پیش کرچکاہوں کہ اس آیت کے مخاطب آنحضرتﷺ ہی ہیں اور یہ مقام موعود صرف ایک ہی شخص کو ملے گا، کوئی دوسرا حقدار وشریک وسہیم نہیں اور وہ صرف ذات گرامی سید الانبیاءﷺ ہے۔ احادیث نیز تفاسیر میں اس کی وجہ تسمیہ بھی مذکور ہے کہ جب آپ باری تعالیٰ کی دائیں جانب کھڑے ہوکر شفاعت کبریٰ فرمائیں گے جس سے تمام انبیاء سابقین انکار اور نفسی نفسی کہہ چکے ہوں گے۔ اس وقت آپ اس مقام شفاعت پر کھڑے ہوں گے۔ جسے مقام محمود کہتے ہیں اورتمام اوّلین وآخرین آپ کی حمد کریں گے اور یہی مراد وعدہ ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً‘‘ سے ہے۔ مرزا صاحب نے اس خصوصی مقام محمود اور اس آیت کے خطاب میں اپنے آپ کو بھی شامل کیا ہے جو کھلا ہوا شرک فی الرسالۃ اور توہین سرکارa اور منافی کلمہ توحید خصوصاً اس جزو ثانی، محمدرسول اللہ کے ہے۔

مرزا صاحب نے بعینہٖ یہ آیت: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً‘‘ اپنے اوپر چسپاں کی ہے جو ان کے شرک فی الرسالۃ ہونے کو کافی ہے۔ مختارمدعاعلیہ اس کا ترجمہ خود مرزا صاحب کا اسی (اعجاز احمدی ص۸، خزائن ج۱۸ ص ۲۲۸) سے یہ نقل کررہاہے کہ: ’’میں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری ثنا کرے گی۔‘‘ یہ بعینہٖ ترجمہ اسی آیت کا ہے خواہ مقام محمود کا لفظ نقل کیجئے یا کہیے کہ ایسے مقام پر کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری حمدو ثنا کرے گی۔‘‘ ایک ہی بات ہے۔ بہرحال اس ترجمہ کو آیت کافی نہیں۔ مرزا صاحب کی دنیا میں سوائے ان کے متعلق تمام دنیا نے تعریف نہ کی یوں ہی تو دنیا میں کسی نبی حتیٰ کہ سید الانبیاءﷺ کی تمام دنیا نے حمدوثنا نہ کی بہرحال آخرۃ ہی کی حمد وثنا مراد ہے اور وہی شفاعت کبریٰ کے وقت ہے۔ جب کہ آپ اس مقام شفاعۃ پر فائز ہوں گے اور تمام دنیا اوّلین اورآخرین ہر دروازہ سے مایوس ہوکر اس دروازہ پر آئیں گے اور آنحضرتﷺ بجائے نفسی نفسی کے انا لہاانا لہا کہ ہاں! میں اس کے واسطے ہوں اور یہی موعود مقام محمود ہے کہ: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً‘‘ جس میں کوئی بڑا سے بڑا نبی، ولی، مقرب فرشتہ شریک نہیں ہوئے۔ مرزا صاحب کے سواء کسی نے یہ آیت کسی طرح اپنے یا کسی اور پر چسپاں کی ہو یا اسے چسپاں کرنا جائز رکھا ہو۔ بس یہ اعتراض بھی بالکل لاجواب رہا اور جو کچھ بھی مختار مدعاعلیہ نے اس کے تحت لکھا یاکہا سب پہلو سے غیر متعلق۔

دو غیر متعلق وغیر مسلم حوالے اور ان کی حقیقت

اس سلسلہ میں مختار مدعاعلیہ نے دو غیر مسلم حوالے نقل کئے ہیں۔ پہلا حوالہ شرح فصوص الحکم کا ہے۔

مختار مدعاعلیہ وگواہان مدعیہ کے مسلم پیشوا شیخ عبدالرزاق قاشانی نے مہدی موعود کے لئے بھی مقام محمود تجویز کیا ہے۔چنانچہ شرح فصوص الحکم میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’فلہ المقام المحمود‘‘ کہ مہدی کے لئے مقام محمود ہے۔

(شرح فصوص الحکم مطبوعہ ص۵۳)

پہلا جھوٹ مختار مدعاعلیہ کا یہ ملاحظہ فرمائیں کہ عبدالرزاق قاشانی کو مختار وگواہان مدعیہ کامسلم پیشواء بتایا ہے۔ حالانکہ عدالت میں ریکارڈ موجود ہے کہ کسی ایک گواہ سے ان کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کا سوال نہیں ہوا۔ محض سفید جھوٹ عدالت کو مغالطہ دینے کے واسطے تصنیف کیا گیا۔ مختار مدعاعلیہ مسلم بتانا جوڈیشل اصول پر محض لغو ہے اور مختار مدعاعلیہ برابر اسے غیر مسلم بتاتا رہا، یہ بھی بہتان عظیم ہے۔

علاوہ غیرمسلم اوراس شرح کے غیر معتبر ہونے کے یہ حوالہ غیر متعلق ہے کیونکہ صرف لفظ مقام محمود بمعنی قابل ستائش مرتبہ مابہ النزاع نہیں، بلکہ آیت کریمہ: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً (بنی اسرائیل:۷۹)‘‘کے خطاب اور اس کے اپنے یا کسی اور پر چسپاں کرنے میں گفتگو ہے۔ یہاں اس کا تذکرہ تک نہیں۔ یہاں صرف اس قدر ہے کہ مہدی قابل تعریف خدمت انجام دیں گے۔

174

پس ان کے لئے قابل تعریف مرتبہ ہوگا یہ اور جزو ہے اور آنحضرتﷺ کا خصوصی خطاب ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً‘‘ میں اپنے آپ کو شریک کرنا اور اپنے اوپر سے اسے چسپاں کرنا دوسری چیز ہے اور مرزا صاحب اس پچھلے جرم کے مرتکب ہیں اور رسول پاکa کی پوری ہتک ہے۔

دوسرا حوالہ (ہدیہ مجددیہ ص۵۷۰) کا ہے کہ: ’’وہو المقام المحمود الذی لایشارکہ فیہ من الانبیاء والرسل الا اولیاء امتہ‘‘ اور مقام محمود میں آنحضرتﷺ کا انبیاء اور رسولوں سے کوئی شریک نہیں اور وارث نہیںمگر وہ اولیاء جو آپ کی امت سے ہوں… الخ!‘‘

الجواب:

۱… اوّلاً یہ کتاب غیر مسلم ہے ناقابل اعتبار ہے۔

۲… جرح کے وقت باوجود بار بار سوال کے نہ کتاب پیش کر سکے نہ مصنف کا نام ومسلک۔

۳… اس میں یہ بتایا کہ کوئی نبی اور رسول مقام محمود میں شریک نہیں سوائے ولی کے اور مرزا صاحب مدعی نبوت و رسالت ہیں۔ پس یا وہ نبی ورسول نہیں۔ یہ دعویٰ محض جھوٹ و افتراء ہے یا مقام محمود میں شریک نہیں۔ اس شرکت کا ادّعا بہتان عظیم ہے جس سے بڑھ کر بنص قرآن دنیا میں کوئی کفر نہیں ہوسکتا۔ ’’ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا (الانعام:۲۱)‘‘ مفتری علی اللہ سے بڑھ کر کوئی ظالم وکافر نہیں ہوسکتا۔

۴… اس ہدیہ مجددیہ کی عبارت میں جو اولیاء امت کو مقام محمود میں وارث بتایا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اولیاء اس مقام پر فائز یا اس میں داخل ہو جاتے ہیں، بلکہ وہ بطور سیر ان پر منکشف ہوتے ہیں۔ جیسے شاہی دربار کی کسی کو سیر کرائی جائے اور بتایا جائے کہ یہ شہنشاہ معظم کا مقام ہے۔ یہ وزیر اعظم کا یہ وائسرائے کا یہ خواص ومقربین شاہی کا، اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ یہ دیکھنے اور سیر کرنے والا اس مقام پر فائز ہوگیا۔ بلکہ صرف اس کا مشاہدہ کیا۔

ایک اصولی ضابطہ

یہ امر قابل لحاظ ہے کہ اولیاء اللہ ، انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں۔ مگر نبوۃ اور ہر دو شئے جو مقامات نبوۃ سے متعلق ہو اس کی وراثت صرف ان کا عکسی مشاہدہ ہے نہ ان میں دخول اور اس پر فائز ہونا بلکہ مقاما ت نبوت کو وہ ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی سمندر کے پانی میں ستاروں کا نظارہ کرے۔ بلا واسطہ اصلی نظارہ بھی محال ہے۔ بایزید بسطامی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سوئی کے سرے کے برابر مقام نبوۃ کو دیکھاتھا کہ جلنے کے قریب ہوگئے۔

اس ضابطہ کا حوالہ فریقین کے مسلم بزرگ شیخ عبدالوہاب شعرانی ومحی الدین ابن عربی کی کتاب سے پیش کرتاہوں۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مارچ۱۹۳۳ء۔

۱… ’’لا ذوق لنا فی مقام الانبیاء حتی نتکلم علیہ وانما نراہ کما تریٰ النجوم فی الماء کما سیاتی بسطہ فی مبحث الولایۃ‘‘

(یواقیت ص۱۹۷)

یعنی ہمیں نبیوں کے مقامات سے کوئی ذوق نہیں کہ ان پر بحث بھی کرسکیں۔ ہم تو انہیں صرف اسطور پر دیکھ سکتے ہیں جس طرح تم لوگ پانی میں ستاروں کا نظارہ کرتے ہو۔

۲… ’’وقال فی شرحہ لترجمان الاشراق اعلم ان مقام النّبی ممنوع لنا دخولہ وغایۃ معرفتنا بہ من طریق
175
الارث النظر الیہ کما ینظر من ہو فی اسفل الجنۃ الیٰ من ہو فی اعلیٰ علیین او کما ینظر اہل الارض الی الکواکب السمآء وقد بلغنا عن الشیخ ابی یزید انہ فتح لہ من مقام النّبوۃ قدر جزء ابرۃ تجلیا لادخولا تکاد ان یحرق‘‘

(یواقیت مبحث ۴۲ ص۲۲۱)

حضرت شیخ محی الدین ابن عربی سید الصوفیاء اپنی شرح ترجمان الاشراق میں ارقام فرماتے ہیں کہ جان لو کہ مقامات انبیاء میں ہمارا داخلہ بندہے۔ ہماری انتہائی پرواز ومعرفت وراثت کے طور پر صرف اس قدر ہے کہ انہیں اسطور پر دیکھ سکیں۔ جیسے کہ سب سے نیچے درجہ کا جنتی اعلیٰ علیین کو یا باشندگان زمین آسمانی ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ ہمیں خبر ملی کہ بایزید بسطامی پر تجلی کے طور پر سوئی کے سرے کے برابر نبوۃ کے مقامات سے انکشاف ہوا تھا۔ باوجودیکہ دخول نہ تھا۔ پھر بھی جلنے کے قریب ہوگئے تھے۔

اس سے مندرجہ ذیل امور مسلمہ ثابت ہوئے۔

۱… کوئی ولی باوجود رفعت شان کے مقامات انبیاء تک نہیں پہنچ سکتا۔

۲… وراثۃً صرف یہ ممکن ہے کہ اتنے فاصلہ سے نظارہ کرے، جیسے نیچے کا جنتی اعلیٰ علیین کا یازمین کا باشندہ آسمانی ستاروں کا۔

۳… دخول تو درکنار یہ نظارہ بھی انتہائی پرواز ہے۔ جس کی تاب بایزید بسطامی بھی باوجود اس جلالت شان کے نہ لاسکے، حالانکہ نظارہ صرف سوئی کے سرے کے برابر تھا۔

نتیجہ

مقام محمود بھی مقامات انبیاء بلکہ فخر الانبیاء سید المرسلینa کے خصوصی مقامات سے ہے۔ پس اگر کوئی ولی اس سے وراثۃً حصہ پاسکتاہے تو صرف اس قدر کہ اس کی انتہائی پرواز یہ ہوگی کہ اس کایوں نظارہ کرے جس طرح زمین والے آسمانی ستاروں کو دیکھتے ہیں۔ اس میں دخول اور اس پر فائز ہونا محال قطعی ہے اور مرزا صاحب نے اپنے پر آیت: ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘ چسپاں کرکے صریح کفر اورشرک فی الرسالۃ کیا ہے جس کے بعد کلمہ توحید پر ایمان نصیب ہی نہیں ہوسکتا۔

بہرحال یہ حوالہ باوجود غیر مسلم ہونے کے صرف اصطلاح صوفیاء سے ناواقفی پر مبنی تھا اور یہ اعتراض بھی سابقہ اعترضات کی طرح بالکل لاجواب ہے۔

(۴)

وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین

مختار مدعاعلیہ نے یہاں بھی دانستہ اعتراضی پہلو سے گریز کر کے غیر متعلق جواب دیا اور اپنے اس طرز سے اس کے لاجواب ہونے کو بھی تسلیم کرلیا۔

بحث نہ لفظ رحمۃ للعالمین میں ہے نہ رحمۃ اللہ ، رحمۃ عالم میں بلکہ اس آیت کریمہ: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کے خطاب اور مصداق میں ہے کہ یہ بعینہٖ آیت کسی اور پر چسپاں ہوسکتی ہے یا نہیں۔ ہم نے اصل بحث میں قرآن پاک کے سیاق وسباق نیز دیگر عقلی ونقلی دلائل سے یہ امر اچھی طرح سے واضح کر دیا ہے کہ: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ آنحضرتﷺ کے خصوصی خطاب اور اخص ترین مقام میں اس میں کوئی نبی و ولی ورسول وقطب آپ کا شریک وسہیم نہیں۔ نہ آج تک تیرہ سوسال میں کسی نے اس آیت کریمہ کو سوائے آنحضرتﷺ کے کسی نبی یا ولی یا اپنے اوپر چسپاں کیا جو بھی اس خصوصی خطاب میں اپنے آپ کو یا کسی کو شریک مانے یا

176

اس پر اس آیت کو چسپاں کرے وہ شرک فی الرسالۃ ہے اور آنحضرتﷺ کی ہتک کرنے والا اوران کے ناموس پاک پر حملہ کرنے والاہے کہ ایمان کسی طرح محمدرسول اللہ ﷺ پر نہیں ہوسکتا اور مرزا صاحب نے (حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۵) وغیرہ پر ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘کا خطاب اپنے کو بتاکے یہ آیت کریمہ اپنے اوپر چسپاں کی ہے۔ لہٰذا ان کا ایمان کبھی کلمہ توحید کے دوسرے حصہ پر نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ دلائل سے ثابت ہوچکا کہ پہلے حصہ پر بھی ان کا ایمان نہیں۔ آنحضرتﷺ کے ساتھ اس کی تخصیص مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ’’پھر دوسری جگہ کہا: ’’وما ارسلنا الا رحمۃ للعالمین‘‘ یعنی ہم نے کسی خاص قوم پر تجھے رحمت کرنے کے لئے تمہیں نہیں بھیجا۔ بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمۃ کی جائے۔ پس جیسا کہ خدا تمام جہان کا خداہے۔ ایسا ہی آنحضرتﷺ تمام جہاں کے لئے رسول ہیں اور تمام دنیاء کے لئے رحمت ہیں اور آپ کی ہمدردی تمام دنیا کے ساتھ ہے نہ کسی خاص قوم سے۔‘‘ (مضمون ملحقہ چشمہ معرفت ص۱۶،خزائن ج۲۳ ص۳۸۸) مختار مدعاعلیہ نے بھی اسے اوّلاً نقل کیاہے اور گویا تخصیص مان لی ہے۔ مگر تاویل یہ کرتاہے کہ: ’’مرزا صاحب کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے کا ہے اور پہلے علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مہدی بھی رسول کریمa کی طرح رحمۃ للعالمین ہوگا۔‘‘

اس کے ثبوت میں بجائے کسی مسلم حوالے کے دو جدید غیر مسلم حوالے پیش کئے ہیں۔ پہلا حوالہ اشاعۃ الاشراط الساعۃ کا ’’فالمہدی رحمۃ اللہ کما کان رسول اللہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین والمہدی یقضوا ثرہ ولا یخطی فلا بد ان یکون رحمۃ‘‘ یعنی مہدی خدا تعالیٰ کی رحمۃ ہے۔ جیسا کہ رسول کریمaخدا کی رحمت تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور مہدی آنحضرتﷺ نقش قدم پر چلے گا۔‘‘

الجواب:

۱… اوّلاً یہ سید محمدشریف کوئی مسلم عالم نہیں نہ ان کی کتاب مسلمات فریقین سے ہے۔

۲… یہ ان کی ذاتی رائے ہے جس کے ثبوت میں نہ کوئی آیت قرآنی ہے نہ حدیث نہ کسی امام کا قول نہ کسی بزرگ کا ارشاد نہ کسی فقیہ یا متکلم ومحدث ومفسر کا ارشاد اور ان کی رائے ہم پر یا کسی مسلمان پر حجۃ نہیں۔

۳… یہ مابہ النزاع سے غیر متعلق ہے۔ مہدی کا اللہ کی رحمۃ ہونے کا اس میں ذکر ہے۔ اللہ کی رحمۃ ہونااور شئے ہے اور ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کا مخاطب ہونا اور اس آیت کو چسپاں کرنا اور چیز ہے۔ اللہ کے تمام نیک بندے انبیاء، اولیاء سب دنیا پر اللہ کی رحمۃ ہیں۔ جیسے جھوٹے مدعیان نبوت اور بدکاروں اور دشمنان خدا دنیا کے لئے اللہ کی لعنت اور عذاب ہیں۔

مگر ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے آ پ کو رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر تمام عالموں کی رحمۃ کے لئے یعنی آپ صرف رحمۃ ہی ہیں اور سرتاپا رحمۃ ہیں۔ بخلاف انبیاء ورسل سابقین کے کہ وہ متبعین اوراحباب کے لئے رحمۃ تھے نہ مخالفین واعداء کے واسطے۔ کیونکہ ان کا تختہ الٹا جاتا تھا، زمین میں دھنسائے جاتے تھے، صورتیں مسخ کرکے خنزیر بندر بنائے جاتے تھے، پتھر برسائے جاتے تھے، انہیں صفحہ ہستی سے نیست ونابود کیا جاتا تھا۔ مگر ہمارے آقاa کا یہ طغرائے امتیاز ہے کہ دنیا میں قدم رکھا اور یہ تمام عذاب اور عالم گیر عقوبتیں آپ کی رحمۃ کے کرشمہ میں بند کردی گئیں۔ دنیوی عذاب سے آپ کے اصحاب بھی مامون رہے اور اعداء ابوجہل وابولہب وغیرہ بھی اور نبیوں میں رحمۃ کی بھی شان تھی اور عقوبت وعذاب کی بھی۔ مگر یہاں دنیوی لحاظ سے صرف رحمۃ ہی رحمۃ ہے اس لئے اور کسی نبی کو یہ خطاب عطاء نہ ہوا۔ بلکہ صرف مدنی تاجدار، سید الابرارa کو خطاب ہوا کہ: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ پس یہ وہ مخصوص لقب ہے جس کی تخصیص کسی دلیل کی محتاج نہیں۔ مسلمان کا بچہ بچہ واقف ہے کہ:’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘

177

صرف آنحضرتﷺ کا بلا شرکت غیرکے امتیازی لقب ہے جس لقب کو نہ آدمm حاصل کر سکے نہ نوح وابراہیم وموسیٰ وعیسیٰo نہ اولیاء اللہ بطور وراثت پاسکیں۔ اسے مرزا غلام احمد اپنے لئے استعمال کررہے ہیں:

  1. زور ہی کیا تھا جفائے باغباں دیکھا کئے

    آشیاں لٹتا رہا ہم بے زباں دیکھا کئے

’’یا لیتنی مت قبل ہٰذا وکنت نسیامنسیا (مریم:۲۳)‘‘

دوسرا حوالہ

’’لفظ رحمۃ للعالمین صفۃ خاصہ رسول اللہ ﷺ کی نہیں بلکہ دیگر انبیاء واولیاء ودیگر علماء ربانیین بھی موجب رحمت عالم کہتے ہیں۔ اگرچہ جناب رسول اللہ ﷺ سب میں اعلیٰ ہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے کے لئے اس لفظ کو بتاویل بولا جائے تو جائز ہے۔‘‘

(فتاویٰ رشیدیہ ج۲ ص۱۳)

الجواب:

۱… مولانارشید احمدصاحب گنگوہی کا بعض گواہوں کے سلسلہ اکابر میں ہونا اور بات ہے اور ان کی طرف منسوب شدہ ہرکتاب کے ہر جزو کا مسلم ہونا اور بات۔

۲… فتاویٰ رشیدیہ نہ حضرت مولاناگنگوہی کی تصنیف ہے نہ ان کے زمانہ میں جمع کی گئی نہ انہوں نے نظر ثانی کی۔

۳… فتاویٰ رشیدیہ میں کچھ فتاویٰ ہیں جن میں اکثر مولانا کے ہیں اور بہت سے دوسروں کے بھی۔ چنانچہ مولوی احمد رضاخان صاحب بریلوی کے بھی ان میں فتاویٰ ہیں اور مولوی لطف اللہ صاحب کے بھی۔

۴… ان کو جمع کر کے اوّلاً ایک غیر مقلد عزیز الدین مراد آبادی نے شائع کرایا ہے اور غیر مقلدین کو حضرت سے خصوصی عناد تھا۔

۵… اس پر کسی معتبر عالم نے نظر ثانی بھی نہیں کی نہ کوئی تصدیق وتوثیق۔

۶… ان میں اکثر فتاویٰ کے متعلق اکابر علماء دیوبند برابر فرماتے رہے ہیں کہ مولانا کے نہیں، بلکہ غلط ان کی طرف منسوب ہیں۔

۷… القاسم الرشید وغیرہ میں اس کے کل فتاویٰ نہ معتبر ہونے کا نوٹ بھی مل سکتاہے۔

۸… مولاناتصانیف کثیرہ کے مصنف ہیں۔ نیز ان کی احادیث کی تقاریر بھی چھپ چکی ہیں۔ ان کی کسی تحریر، تصنیف یا تلامذہ واصحاب کے نقل میں یہ مسئلہ موجود نہیں بلکہ اس کے خلاف نقلیں موجود ہیں۔

۹… مختار مدعاعلیہ نے اس عبارت کے نقل کرنے میں دیدہ ودانستہ خیانت کی اور اس کے اوپر لفظ الجواب تھا حذف کر دیا۔ تاکہ اس کا قبل سے رابطہ نہ معلوم ہوسکے۔

۱۰… یہ دراصل ایک مستفتی کے استفتاء کا جواب ہے جسے خیانۃًمختار مدعاعلیہ نے نقل کیا۔ حالانکہ تمام فتاویٰ مستفتی کے سوال کے استفتاء کے تابع اور اسی روشنی میں لکھے اور دیکھے جاتے ہیں۔

۱۱… میں اوپر عرض کر آیا ہوں کہ یہاں گفتگو رحمۃ للعالمین لفظ رحمۃ عالم وغیرہا میں نہیں بلکہ مسلم ہے کہ تمام انبیاء، اولیاء، بلکہ صلحاء امت موجب رحمت عالم ہیں۔ بلکہ بحث یہ ہے کہ یہ مخصوص خطاب اور یہ خاص آیت نمبر۱: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کس اور پر چسپاں ہوسکتی ہے یا نہیں۔ اس کا یہاں کوئی تذکرہ نہیں۔ لہٰذا یہ اس جگہ سے غیر متعلق ہے۔

۱۲… یہ فتویٰ بھی نظر غائر سے دیکھا جائے تو ہمارے دعویٰ کی تائید ہے۔ کیونکہ رسول کریمa رحمۃ عالم ہونے میں سب سے اعلیٰ اور تمام انبیاء و اولیاء کو آپ سے ادنیٰ فرما رہے اور ظاہر ہے کہ اعلیٰ کا خطاب اور خصوصی لقب ادنیٰ کو نہیں دیا جاسکتا: ’’وما ارسلناک الا

178

رحمۃ للعالمین‘‘ کا خطاب سوائے آنحضرتﷺ اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔

۱۳… آیت میں تو خطاب خاص ہے ہی لفظ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ بھی دراصل کسی کے لئے تجویز نہیں فرماتے ہیں بلکہ یوں فرمارہے ہیں: ’’کہ اگر دوسرے کے لئے بتاویل بولا جائے تو جائز ہے۔‘‘ بلا تاویل اصلی استعمال اس کا بھی جائز نہیں۔ تاویل کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس لفظ کا استعمال بھی رسول کریمa کے علاوہ کسی کے واسطے احتیاط کے سخت خلاف ہے۔

۱۴… اس میں تصریح لفظ رحمۃ للعالمین ’’دوسرے کے لئے اس لفظ ‘‘ بار بار اس مصنف کے لفظ کو دہرانا بھی بتا رہا ہے کہ اس کے اصلی معنی یا آیت کریمہ: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کو حضرت مولانا بھی مخصوص خطاب تسلیم فرما رہے ہیں۔ ورنہ باربار لفظ کا اعادہ نہ فرماتے اورہماری گفتگو صرف آیت: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کے خطاب اوراس کے کسی پر بلفظہ چسپاں کرنے میں ہے جس کی آدمm سے آج تک سوائے مرزا صاحب کے کسی مسلمان کے کلام میں ایک نظیر نہیں۔ گویا اس پر ایک قسم کا اجماع منعقد ہوچکاہے کہ یہ مخصوص خطاب ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ صرف آنحضرتﷺ کو ہے اور یہ آیت کسی پر چسپاں کرنا شرک فی الرسالۃ، منافی کلمہ توحید، موجب تنقیص شان محمدa ہے جس کے بعد مرزا صاحب کے کفر میں ذرہ برابر شبہ نہیں ہوسکتا۔ مذکورہ بالا تقریر سے اچھی طرح واضح ہوگیا کہ ہمارا یہ اعتراض بھی بالکل لاجواب ہے اور یہ دونوں حوالے علاوہ اس قدر شبہات اور قطعی نہ ہونے کے بالکل غیر متعلق ہیں اور مختار مدعاعلیہ نے دانستہ اعتراضی پہلو بچا کر جواب دیاہے جس میں دراصل اس کے لاجوابی کا بزبان حال اقرار ہے۔ ف اللہ الحمد!

نوٹ: یہ بھی واضح ہوچکا کہ کوئی بھی ترجمہ اور تاویل ہو اس آیت کا کسی غیر پر چسپاں کرنا ہی شرک فی الرسالۃ اور موجب تنقیص شان سید المرسلینa ہے۔ کیونکہ خصوصی القاب وخطابات کسی غیر کے واسطے بلفظہ استعمال کرنا گو کسی معنی میں ہوں جرم قرار دیا جاتاہے اور کسی طرح بھی جائز نہیں ہوسکتا۔

(۵)

’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘ جو کام مشرکین مکہ اور کسی بدترین یہودی اور آریہ نے نہیں کیا۔ اس پر چودھویں صدی کے مدعی نبوت نے کمر باندھ رکھی ہے اور خدا جانے ہمارے آقاء ومولیٰ سید المرسلینa سے مرزاصاحب کو دیرینہ عداوت ہے آپ کا کوئی بھی خصوصی کمال نہیں چھوڑتے جس پر بے باکی سے حملہ نہ کریں۔ کون دنیا میں وہ مسلمان ہے جو اس سے واقف نہیں کہ محبوبیت خدا وندی حاصل ہونا آنحضرتﷺ کی بعثت کے بعد سے صرف آنحضرتﷺ کی غلامی میں ہے اور اسلام کا بچہ بچہ واقف ہے کہ:’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘آنحضرتﷺ کو خصوصی خطاب ہے اس سے بھی اور کسی کو نہیں نوازا گیا۔ اس کو اپنے یا کسی اور پر چسپاں کرنا آنحضرتﷺ کی ہمسری کرنا اور موجب تنقیص و شرک فی الرسالۃ منافی کلمہ توحید ہے جس کے بعد ’’لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ پر ایمان نا ممکن ہے۔

قرآن پاک کی یہ آیت اور یہ خطاب ماقبل ومابعد سے تلاوت فرمائیں۔ نص قطعی سے اس خطاب کی تخصیص سرکار دو عالمa کے لئے ثابت ہے۔ مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’مختار مدعیہ کے اس الہام پر اعتراض کا بھی یہی جواب ہے کہ قرآن مجید میں اس آیت میں آنحضرتﷺ ہی مراد ہیں۔ لیکن اس الہام میں موجودہ زمانہ کے لوگوں کو خطاب ہے کہ وہ آپ کی پیروی کریں… الخ! ‘‘ محض لغو اور لچر عذر بلکہ عذر گناہ بد تر از گناہ ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نزول قرآن کے زمانہ میں تو یہ آنحضرتﷺ کے لئے مخصوص تھا۔ مگر مرزا کے الہامی زمانہ میں مخصوص نہ رہا۔ لاحول ولا قوۃ الا ب اللہ ! آنحضرتﷺ کی اتباع کا موجب محبوبیت الٰہی ہونا، ہمیشہ ہمیشہ کے

179

لئے قیامت تک ہے۔

یہ آیت کریمہ قرآن مجید میں ہو یا الہام میں، کسی اور پر چسپاں ہو ہی نہیں سکتی اور کیا کوئی الہام قرآن کے خلاف ہوسکتاہے۔ مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ قرآن میں یہ آنحضرتﷺ کے لئے مخصوص ہے۔ مگر یہ ہی بعینہٖ الہام میں اس کے خلاف مرزا صاحب کے لئے ہے۔ دراصل اس کا اقرار ہے کہ مرزا صاحب کے الہام، الٰہی الہام ہیں۔ کیونکہ فریقین کے مسلمہ بزرگ سید الطائفہ شیخ اکبر اور علامہ عبدالوہاب شعرانی (کبریت احمر فی علوم الشیخ الاکبر ص۱۱۹) پر اسے تفصیل س بیان کیا ہے، بلکہ الہام وکشف شریعۃ ظاہرہ یا نص کے مقابل کفر اور تلبیس شیطانی فرمایا ہے اور ایسے شخص کو اخسرین اعمالاً میں شمار کیا ہے۔

بہرحال یہ مخصوص خطاب اور یہ آیت کسی پر کسی طرح چسپاں ہونا جائز نہیں، نہ حضرت آدمm سے آج تک کسی آسمانی کتاب، کسی نبی کے قول، کسی صحابی، ولی، امام، بزرگ، عالم ربانی کے اشارات میں اس کا استعمال پایا جاتاہے۔ نہ مختار مدعاعلیہ کوئی ایک حوالہ اس آیت کے چسپاں کرنے کا کہیں سے پیش کرسکا۔ مختار مدعاعلیہ کا یہ قول کہ: ’’مرزا صاحب آنحضرتﷺ کی پیروی کر کے محبوبیت کے درجہ تک پہنچے ہیں۔ اس لئے آپ کی پیروی… الخ!‘‘

بالکل بدیہی البطلان ہے کیا سیدنا ابوبکرq جنہیں افضل امتی من امتی ابوبکرq او ’’لو کنت متخذا خلیلا غیر ربی لاخذت ابابکر خلیلا‘‘ کے گرانقدر اور بے مثل لقب سے نوازا گیا۔ آنحضرتﷺ کے پیرو اورمحبوب تھے۔ سیدنااسامہq کا تو لقب ہی حب النبیﷺ یعنی آنحضرتﷺ کا محبوب تھا۔ مگر کسی کو اس آیت کے خطاب میں کسی مسلمان نے شامل نہ کیا نہ یہ آیت کریمہ اس پر چسپاں کی۔ میردرد کا یہ حوالہ کہ ’’فمن اطاعک فقد اطاع اللہ ورسول… الخ!‘‘ (علم الکتاب ص۶۱)محض غیر متعلق یہاں نقل کردیا یہ کوئی قرآن کی آیت نہیں نہ اس میں کہیں نبی کریمa کے خطاب کی شرکۃ ہے۔ نہ آیت: ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘ کا تذکرہ ہے۔ نہیں معلوم مختار مدعاعلیہ نے کیوں یہ حوالہ یہاں نقل کردیا۔ کیونکہ بحث آیت:’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘میں تھی۔ اس کی نظر میںیایہی آیت کسی دوسرے پر چسپاں ہوتی یا اس جیسی دوسری یا محض آیت ہی ہوتی نہ اس جیسی۔

یہاں تو صرف یہ ہے کہ تم صرف قرآن وحدیث کی لوگوں میں تبلیغ کرو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم لوگوں تک پہنچاؤ، جو تمہارا کہنا مانے گا وہ اللہ اور رسول کا پیرو ہو جائے گا۔ یہ حوالہ محض بے ربط اور غیر متعلق ہے۔

گفتگو تو یہ ہے کہ یہ آیت یا اس کا مفہوم کہ آنحضرتﷺ کی اتباع محبوبیت خداوندی کا موجب ہے کسی پر چسپاں نہیں ہوسکتی، اس کے خلاف تمام دنیا میں ایک نظیر نہیں، نہ مختار مدعاعلیہ اس قدر جدو جہد کی ایک نظیر پیش کرسکے۔

دوسرا حوالہ اشاعۃ السنۃ مولوی محمدحسین بٹالوی غیر مقلد کا ہے کہ: ’’اس آیت کے معنی وہ (مؤلف براہین) یہی سمجھتے ہیں کہ یہ آیت آنحضرتﷺ کے خطاب میں ہے اور اس میں آنحضرت کا اتباع امت پر لازم کیاگیاہے اور جب انہی الفاظ میں (نہ قرآن میں) وہ اپنے آپ کو مخاطب سمجھتے ہیں اور اپنے اتباع سے اتباع آنحضرت قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ (ص۵۰۴) کتاب، ان الفاظ کا ترجمہ ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو یعنی اتباع رسول مقبول کرو…تا…خدا تم سے محبت کرے۔

(اشاعۃ السنۃ ج۷ ص۲۱۹)

الجواب:

۱… مولوی محمدحسین غیر مقلد ہیں اور مدعیہ نیز اس کا گروہ مقلد وحنفی لہٰذا مخالف کی رائے حجت نہیں، بلکہ یہ تو فریقین کو غیر مسلم ہیں۔

180

۲… مولوی صاحب موصوف شروع میں مغالطہ میں تھے بعد کو متنبہ ہوئے اور انہیں وجوہات سے مرزا صاحب کو کافر ومرتد قرار دیا۔ کیونکہ براہین کے وقت مرزا صاحب کا کفر مستور تھا بعد میں ہویدا ہوگیا۔

(ملاحظہ ہو اشاعۃ السنۃ ج۷ ص۲۱۹)

۳… اس جواب کا ماحصل بھی وہی ہے جو مختار مدعاعلیہ کا جس کا مفصل جواب عرض کرچکاہوں۔ پھر جب کہ اس آیت کو آنحضرتﷺ کے خطاب میں مان لیا تو تخصیص تو ثابت ہوہی گئی۔ اس کے بعد کسی طرح کسی پر چسپاں کرنا اس تخصیص کو باطل اور شرک فی الرسالۃ کرنا ہے بلکہ شان محبوبیتa کو گھٹاناہے جو سوائے مرزا صاحب اور مرزائیوں کے کسی کا شیوہ اور محبوب مشغلہ نہیں۔

۴… اس حوالہ میں بھی کسی آیت یا حدیث وتفسیر وفقہ کسی صحابہ امام بزرگ عالم کے قول سے اس کا ثبوت نہیں کہ یہ آیت کسی اور پر چسپاں ہوسکتی ہے یا کی گئی ہے۔ بلکہ جب تک وہ مرزا کے معتقد مرزائی تھے، مرزا ئیوں کی طرح تاویلیں کرتے تھے۔ جب اللہ نے توبہ ورجوع کی توفیق دی تو جس قدر تردیدو تکفیر کی ہے وہ دنیا پر واضح ہے۔ مولوی صاحب موصوف کے اسی رسالہ اشاعۃ السنۃ کے اگلے فائل ملاحظہ فرمائیں۔ مرزائیت کی جڑیں ہلا دیں ہیں اور مرزا صاحب اور ان کے متبعین کے دجل وفریب آشکارا کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ نمونہ ملاحظہ ہو ص۸عقائد باطلہ مخالف دین اسلام وادیان سابقہ کے علاوہ جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے کہ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جزو ہے۔ زمانہ تالیف براہین احمدیہ کے پہلے آپ کی سوانح عمری کا میں تفصیلی علم نہیں رکھتا۔ مگر زمانہ تصنیف براہین سے جو جھوٹ بولنا دھوکا دینا آپ نے اختیار کیا ہے۔ خصوصاً ۱۸۸۶ء سے جب سے آپ نے الہامی بیٹا تولد ہونے کی پیش گوئی کی اور اس قسم کی اور پیش گوئیاں مشتہر کی ہیں۔ علی الخصوص ۱۸۹۰ء سے جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ مشتہر کیاہے۔ اس سے آپ کی کوئی تحریر کوئی تقریر کوئی خط کوئی تصنیف خالی نہیں۔ اس پر قیاس ہوسکتاہے کہ پہلے زمانہ میں خصوصاً امتحان مختاری میں فیل ہونے اور پھر عدالت میں سالہا سال اپنے مقدمات کرنے کے وقت آپ کا یہی حال رہا ہوگا۔

(اشاعۃ السنۃ)

قول مختار مدعاعلیہ:

’’اور اس الہام میں مولویوں کی تکفیر کا رد بھی ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب (نشان آسمانی ص۳۵، خزائن ج۴ ص۳۹۸) میں اس الہام کو ذکر کر کے کہتے ہیں کہ منکر کافر ہوجاتاہے اور ایک طرف مولوی لوگ فتویٰ لکھ رہے ہیں کہ اس شخص کی ہم عقیدگی اور پیروی سے انسان کافر ہوجاتاہے اور ایک طرف خداتعالیٰ اپنے اس الہام پر متواتر زور دے رہاہے۔ یعنی مخالفین کو اس الہام میں جواب دیاگیاہے کہ یہ آنحضرتﷺ کا عاشق وصادق ہے اور اس کا شیدائی ہے۔ اس لئے اس کی پیروی اور اس کی تقلید انسان کو خدا کا محبوب بنادیتی ہے۔‘‘

الجواب: مولویوں کا رد نہیں بلکہ ان کی تائید ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب کے ذخیرہ کفریات میں اس سے ایک عدد کا اضافہ ہوگیا اورثابت ہوگیا کہ کبھی کبھی آنحضرتﷺ کی شان میں اچھے الفاظ استعمال کرنا محض مرزا صاحب کا دجل اور فریب ہے۔ ورنہ وہ اپنے لقب کو آنحضرتﷺ کا ہر خصوصیت میں ہمسر اور شریک وسہیم سمجھتے ہیں اور برابر ہتک وتوہین میں سر گرم رہتے ہیں۔ ان کے نمائشی ایمان واسلام کا کوئی اعتبار نہیں۔ دراصل جیسا کہ دلائل سے ثابت ہوچکا، مرزا صاحب اور مرزائیوں کا ایمان نہ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ پر ہے، نہ محمد رسول اللہ پر، نہ ایمان مجمل پر نہ مفصل پر۔ مرزا صاحب کی تقلید انسان کو خدا ورسول کا دشمن اور شیطان لعین کا دوست بناتی ہے۔ جیسا کہ مفصل گزرا اور آگے آرہاہے۔

خلاصہ

مخصوص اعتراضی پہلو کہ یہ آیت کسی پر چسپاں نہیں ہوسکتی اور اس خطاب میں مشارکت شرک فی الرسالۃ ہے۔ مختار مدعاعلیہ بالکل دانستہ نظر انداز کرگیا اور اس کی ایک نظیر مسلم وغیر مسلم نہ لاسکا۔ لہٰذا یہ اعتراض بھی بالکل لاجواب رہا۔

181

(۶)

وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمیٰ

یہاں بھی مختار مدعاعلیہ یہ کہہ کر اس کا بھی وہی جواب ہے جو ماسبق کا اعتراضی پہلو سے گریز کیا بحث صرف اس قدر ہے کہ یہ خصوصی خطاب آنحضرتﷺ کا امتیازی طغرائے افتخارہے۔ اس کا کسی اور پر چسپاں کرنا، موجب ہتک وتنقیص شان گرامی سید المرسلینa ہے اور شرک فی الرسالۃ کی یہ بھی ایک قسم ہے جس کے بعد کلمہ توحید پر ایمان باقی نہیں رہ سکتا۔

اس خطاب کو آدم سے آج تک نبی، صحابی،و لی،امام، بزرگ نے اپنے یا کسی کے لئے استعمال کرنا یا اسے چسپاں کر کے جائز نہ سمجھا۔ مختار مدعاعلیہ اس کی ایک نظیر بھی کسی غیر مسلم کتاب کی بھی نہ پیش کرسکا، بلکہ اس کی خصوصیت کا اعتراف مرزا صاحب کے الفاظ میں کر گیا کہ: ’’ہمارے سیدومولا سید الرسل حضرت خاتم الانبیاءﷺ نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعاء کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی۔ مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہوگئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔، اس معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں ارشاد فرماتاہے: ’’وما رمیت اذ رمیت… الخ!‘‘ یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا وہ تو نے نہیں پھینکا، بلکہ خداتعالیٰ نے پھینکا۔ یعنی در پردہ طاقت الٰہی کام کر گئی۔ انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔‘‘

لہٰذا یہ اعتراض بھی بالکل بے لوث جواب ہے۔ کیونکہ ہمارا اعتراض جیسا کہ ابھی ذکر کیا، صرف خطاب میں مشارکت اور اس آیت کے علاوہ آنحضرتﷺ کے کسی پر چسپاں کرنے کا تھا، جس کا جواب بن پڑا اور مختار مدعاعلیہ نے پہلو بچا کر استدلال ہی خبط کردیا کہ: ’’یہ اعتراض کہ آنحضرتﷺ کے معجزے کو اپنی طرف منسوب کرلیا، بالکل غلط اور محض بہتان ہے۔‘‘ یقینا بہتان ہے۔ کیونکہ میں نے یہ اعتراض ہی نہیں کیا۔ ہمارا دعویٰ تو یہ ہے کہ یہ آیت خصوصیات نبویہ سے ہے۔ جیسا کہ اصل بحث میں دلائل بیّنہ سے واضح کر آیاہوں اس کا آنحضرتﷺ کے علاوہ کسی پر چسپاں کرنا کسی معنی سے درست نہیں، بلکہ توہین نبوی ہے اور کسی مسلمان نے کسی تاویل سے حقیقتاً یا مجازاً اس کو کسی پر چسپاں کرنا روا نہیں سمجھا۔ مسلمانوں کے اعتراضات کے بعد مرزا صاحب کی یہ تشریح کہ: ’’اس سے اشارہ ان اشارات کی طرف معلوم ہوتاہے جو حال میں شامل ہورہے ہیں۔‘‘

(البشری ج۲ ص۹۷)

علاوہ مضحکہ انگیز ہونے کے اصل اعتراض یعنی آیت قرآنی کو جو خصوصیات محمدیہ سے تھی۔ مرزا صاحب نے اپنے اوپر چسپاں کیا اس کا جواب نہیں بن سکتا۔ جب تک کوئی نظیر اس کی عالم اسلامی سے پیش نہ کر یں یا کوئی آیت، حدیث، کسی صحابی، امام، بزرگ، عالم کا قول اس تاویل سے جواز استعمال کا پیش کریں۔

مزید برآں جس البشریٰ سے اسے نقل کیاہے اس میں بھی نقل کی خیانت موجود ہے۔ کیونکہ وہاں آیت کا وہی ترجمہ موجود ہے جوقرآنی آیت کا اسے درمیان سے دیدہ ودانستہ نظر انداز کردیا۔ اصل یوں ہے کہ: ’’۴۳،۳؍مئی ۱۹۰۵ء‘‘ وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمیٰ (ترجمہ) تو نے مٹھی خاک نہیں پھینکی تھی، مگر اللہ نے پھینکی تھی (تشریح) حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ اس سے اشارہ اشتہارات… الخ!‘‘ اب اس آیت کے اس ترجمہ کے بعد پھر کسی توجیہہ سے کسی پر چسپاں کرنا قباحت اور کفر کو دوبالا کردے گا۔ اس لئے مختار مدعاعلیہ نے (البشریٰ ج۲ ص۹۷) درمیان سے قطع وبرید کی خیانت کا ارتکاب کیا۔ بہرحال یہ اعتراض بھی ماسبق اعتراضات کی طرح بالکل لاجواب ہے۔ جواب کی طرف اشارہ تک نہیں، بلکہ جو تاویل کی اس سے اصل اعتراض اورمضبوط ہوگیا۔

182

(۷)

وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ

تمام مسلمان امم سابقہ کے مقابل نبی کریمa کے اس خصوصی امتیاز کو نہایت فخر ومباہات کے سات پیش کرتے چلے آئے ہیں کہ یہ فخر کسی ولی اور متبع کو کجا اولوالعزم انبیاء کرام صفی اللہ اور خلیل اللہ ، کلیم اللہ وروح اللہ علیہم لصلوٰۃ والسلام کو بھی میسر نہ ہوا کہ ان کی تمام گفتگو اللہ کی وحی ہو۔ حضرت مولانا رومی فرماتے ہیں:

  1. گفتۂ او گفتۂ اللہ بود

    گرچہ از خلقوم عبد اللہ بود

مرزا صاحب کو صبر نہ آیا اور اس عزت پر بھی حملہ کر ہی دیا اور اس میں بھی آنحضرتﷺ کا ہمسر بن بیٹھا اورکلمہ شریف پر ایمان سے ہاتھ دھویا۔

مختار مدعاعلیہ سے ان کفریات کا جواب بن نہیں آتا، ادھر ادھر کی لایعنی غیر متعلق تاویلات سے وقت پورا کرنے کی سعی کرتاہے اعتراض تو یہ ہے یہ آیت اخص ترین خصوصیات محمدیہ میں سے ہے۔ اس کا استعمال اور اس کو کسی پر چسپاں کرنا سخت ترین توہین اور شرک فی الرسالۃہے جس کے بعد کلمہ شریف کی جزو ثانی پر ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔ سیدنا آدم سے آج تک کسی نے اسے اپنے یا کسی نبی ولی پر چسپاں نہیں کیا۔ اگر کیا ہو تو ایک مثال غیر مسلم کتاب ہی سے دکھا دیں۔ مثال تو نہ ملی نہ جواب بن پڑا۔ یہ تاویل کر کے جان بچائی کہ: ’’مختارمدعیہ کا اس الہام پر وہی اعتراض ہے جو پہلے الہاموں پر کیا ہے۔ اس لئے ہماری طرف سے بھی یہی جواب ہے کہ قرآن مجید کی آیت کے مصداق تو آنحضرتﷺ ہی ہیں اور مرزا صاحب کے اس الہام سے یہ مراد ہے کہ آپ کے الہامات خداتعالیٰ کی طرف سے ہیں… الخ!‘‘

الجوا ب:

۱… یہ کہنا کہ یہ وہی اعتراض ہے اور وہی ہمارا جواب ہے کس قدر لغو ہے۔ اصل اعتراض سے جواب نہ بنا، یوں ٹال دیا۔ہم بھی اعتراض کرتے ہیں کہ جس طرح پہلے اعتراضات لا جواب ہیں۔ اسی طرح یہ بھی لاجواب ہے اور ان شاء اللہ العزیز! قیامت تک جواب ناممکن ہے۔

۲… یہ عجیب مضحکہ خیز جواب ہے کہ ’’ماینطق عن الہوٰی ان ہو الا وحی یوحیٰ‘‘ قرآن پاک میں جب مذکور ہو تو آنحضرتﷺ ہی مراد ہوں اور خصوصیات محمدیہa سے قرار پائے۔ مگر مرزا صاحب کی (اربعین نمبر۳ ص۳۷، خزائن ج۱۷ ص۴۲۷) پر بعینہٖ یہ آیت مرزا صاحب کی خصوصیت بن جائے۔

۳… جواب تو جب ہوسکتا ہے کہ کسی آیت یا حدیث یا صحابی ولی غوث کے کلام سے اس کی تخصیص باطل کردیں یا کسی اور کے واسطے جواز استعمال کی نظیر پیش کریں اور یہ ان شاء اللہ ! تا قیامت ناممکن ہے ان بے سود تاویلات سے کفر نہیں ٹل سکتا نہ آنحضرتﷺ کی توہین کا اس سے ازالہ ہوسکتاہے۔

قول مختار مدعاعلیہ:

’’چنانچہ آپ اس الہام کا ترجمہ پہلے ان دو الہاموں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ پس تم قرآن کریم کو چھوڑ کر کس حدیث پر چلوگے۔ ہم نے اس بندہ پر رحمۃ نازل کی ہے اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا، بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔ ‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۷، خزائن ج۱۷ ص۴۲۷)

183

صرف اس ترجمہ کو رلانے کے واسطے اس کے ساتھ دو الہام جو اس سے کچھ ربط نہ رکھتے تھے، ساتھ ترجمہ میں نقل کردئیے اور اس کے متصل بعد کا الہام جو مستقل ایک کفر تھا چھوڑ دیا۔’’دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ‘‘باوجود اس تمام فریب کے آیت: ’’ما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ‘‘کا وہی ترجمہ مرزا صاحب نے بھی کیا جو مسلمان کرتے ہیں کہ: ’’ یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم کہتے ہو خدا کی وحی ہے۔‘‘ اس ترجمہ سے بجائے کسی کے جواب کے اعتراض اور مضبوط ہوگیا۔ کیونکہ یہ خصوصی امتیاز اور یہ آیت کریمہ اسی ترجمہ کے ساتھ جو خصوصیات محمدیہ سے ہے۔ بلا کسی تاویل کے مرزا صاحب نے اپنے اوپر چسپاں کی اور اپنے کو سید المرسلینa کا ہمسر اور آپ کے کمالات وفضائل جو خصوصیات محمدیہ سے ہے بلا کسی تاویل کے مرزا صاحب نے اپنے اوپر چسپاں کی اور خصوصیت شریک وسہیم ٹھہرا دیا جس سے بڑھ کر کیا توہین ہوگی اور اس عظیم الشان شرک فی الرسالۃ کے بعد کلمہ شریف پر ایمان کیونکر میسر ہوسکتاہے۔

قول مختار مدعاعلیہ:

’’اور اس سے آنحضرتﷺ کی کوئی توہین لازم نہیں آتی، بلکہ آپ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے… الخ!‘‘ یہ محض غلط ہے اتنی بڑی توہین کو فضیلت سمجھنا صرف مختار مدعاعلیہ کی رائے ہے۔ ورنہ جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی ایمان کا شائبہ ہے، وہ بلا تاویل اسے توہین ہی خیال کرتاہے۔

پھر ایک غیر متعلق حوالہ (علم الکتاب ص۸۲) سے نقل کیا ہے: ’’الہام خاص آن ست کہ او سبحانہ بندگان خاص در حالت قرب مع اللہ بر قلوب ایشان بے دخل فکرو اندیشہ وبے متوسط حواس دیگر بالقاء رحمانی مے اندازد ودرناء نفوس ایشان کلمات بے صدائے خود میسر آید ولیکن اولیاء را ایں حالت دائم مے شود و ہیچ گاہ خود درمیان نمے باشند وآئنہ وار مرتبہ ’’ما ینطق عن الہویٰ‘‘ مے گروند وہمہ کلمات چنیں اے خاص الہامات الٰہی است وفاش از مشاہدہ وگاہ یا بعض اوقات بوساطت ملائکہ باواز وصوت ہم پیغام خود حق سبحانہ باولیاء خویش مے رساند دریں آواز سروش مے خواند واحساس این صدائے سروش گاہ بگوش ظاہری ہم کردہ مے شود واکثر ہمہ گوش باطن مے شود۔‘‘

اس میں کہیں بھی اس آیت کریمہ کا خطاب وتعلق کسی اور سے نہیں بتلایا نہ اس آیت کریمہ کو اپنے یا کسی اور پر اس مذکورہ ترجمہ سے چسپاں کیا ہے۔ اس میں تو صرف یہ الفاظ ہیں کہ: ’’وہیچ گاہ خود درمیان نمے باشند وآئنہ وار مرتبہ ما ینطق عن الہویٰ می گردند‘‘ یعنی جب کہ درمیان سے خودی اٹھ جاتی ہے تو آئینہ کی طرح مرتبہ (مقام) ماینطق عن الہویٰ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

اس کی تحقیق اوپر شیخ عربی کے الفاظ میں پیش کرچکاہوں کہ کوئی ولی مقامات نبوۃ سے کسی مقام پر فائز اور داخل نہیں ہوسکتا۔ اس میں دخول کی ہمیشہ کے لئے ممانعت ہے۔ وراثت کسی مرتبہ کے مشاہدہ کی انتہاء یہ ہے کہ جیسے زمین پرسے آسمان کے ستاروں کو دیکھیں اور میردرد کے لفظ ’’خود درمیان نمے باشد‘‘ اور لفظ ’’آئینہ دار‘‘ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال اس مرتبہ کا آئنہ دار مشاہدہ اور چیز ہے اور آیت: ’’ماینطق عن الہویٰ‘‘ کا مصداق ہونا اور بات ہے اور بحث صرف آیت کے کسی پر چسپاں ہونے میں بھی جس کی ایک نظیر بھی کسی غیر مسلم کتاب سے بھی نہ پیش کرسکے۔ لہٰذا یہ اعتراض بھی بدستور سابق لا جواب ہی رہا۔ اعتراضی پہلو کا تذکرہ تک نظر انداز کردیا جواب کیا دے سکتے ہیں۔

(۸)

وماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم

یہاں بھی مختار مدعاعلیہ نے وہی اصل اعتراض سے پہلو تہی کی روش اختیار کی ہے اور ہمارا اعتراض بدستور لاجواب ہے۔ اعترض تو صرف یہ ہے کہ مخصوص اور خصوصی لقب صرف نبی کریمa کو حاصل ہے کہ آپ کی ذات نہ صرف دوستوں، بلکہ دشمنوں کے واسطے بھی

184

رحمۃ ہے اور آپ رحمۃللعالمین کے ہوتے ہوئے باری تعالیٰ دشمنان نبوی وکفار مکہ پر بھی عذاب نہیں بھیجتا اور جب تک آپ ان میں رہیں عذاب سے مامون ومحفوظ رہیں گے۔

اس آیت کریمہ کا مصداق بنص قرآن اور سیاق وسباق نیز احادیث صحیحہ بلکہ اجماع امت کے صرف نبی کریمa ہیں۔ کسی آسمانی صحیفہ، حدیث، تفسیر، تاریک، صحابی، ولی، عالم کے اقوال واشارات میں اسے کسی اور پر چسپاں نہیں کیاگیا نہ مختار مدعاعلیہ باوجود انتہاء جدوجہد کے ایک غیر مسلم ضعیف سے ضعیف نقل پیش کرسکا۔ پس مرزا صاحب کا شرک فی الرسالۃ اور نبی کریمa کی ہمسری اور تنقیص وتوہین پورے طور پر واضح ہوگیا جس کے بعد کلمہ شریف پر ایمان محال قطعی ہے۔ پس اس میں قادیان کا اضافہ یا یہ تاویل کہ قرآن میں آیت سے اہل مکہ اور اس الہام میں قادیان کے باشندے مراد ہیں۔ محض بے سود اور اصل اعتراض سے غیر متعلق ہے۔ کیونکہ اعتراض کسی ترجمہ یا تاویل پر نہیں، بلکہ اس آیت کے کسی پر سوائے آنحضرتﷺ کے چسپاں کرنے پر تھا جو بدستور سابق بالکل لاجواب ہے بلکہ جواب کا اشارہ تک نہیں۔

(۹)

سبحان الذی اسریٰ بعبدہٖ… الخ!

’’اور پاک ذات وہی خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرایا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۸، خزائن ج۲۲ ص۸۱)

یہاں بھی وہی مغالطہ ہے ہر مسلمان واقف ہے کہ: ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ‘‘ کی خلعت فاخرہ صرف محبوب رب العالمینa کے خصوصیات سے ہے۔ آدمm سے آج تک کسی نبی، ولی کو اس سے نوازا نہ گیا۔

اس آیت کو کسی طرح اپنے یا کسی پر چسپاں کرنا بارگاہ رسالت کی سخت ترین توہین اور شرک فی الرسالۃ ہے جس کے بعدکلمہ شریف پر ایمان نہیں رہ سکتا۔ مگر مختار مدعاعیہ اس سے پہلو بچا کر بجائے اس کے کہ اس کے چسپاں اور استعمال کرنے یا عدم تخصیص کا کوئی ضعیف سے ضعیف حوالہ پیش کرتے یہ بے سود تاویل پیش کی کہ: ’’اس اعتراض کا بھی وہی جواب ہے کہ قرآن مجید میں جس اسریٰ کا ذکر ہے وہ آنحضرتﷺ کے ساتھ مختص ہے اور اس الہام میں جس اسریٰ کا ذکر ہے وہ اور ہے۔‘‘

خواہ جواب ہو یا نہ متعلق ہو یا غیر متعلق یہی الفاظ جواب کے واسطے پیش ہیں۔

عدالت خود توجہ فرمائے کہ جب یہ آیت: ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ… الخ!‘‘ باقرار مختار مدعلیہ آنحضرتﷺ کے ساتھ مختص ہے تو یہ تفصیل کہ قرآن میں مختص ہے اور حقیقت یا الہام میں نہیں محض لغو ہے۔ یہ خصوصی القاب دنیا جہان میں جہاں کہیں بھی جس رنگ میں ہوں آنحضرتﷺ سے مخصوص ہیں۔ ان کا کسی پر کسی طرح چسپاں کرنا درست نہیں، نہ ابتدائے آفرینش عالم سے آج تک الہاماً یا اختراعاً سوائے مرزا صاحب کے کسی نے چسپاں کئے ہیں۔ تمام مذہبی لٹریچر میں ایک نظیر موجود نہیں۔ اس کی تشریح (البشری ج۱ ص۲۸) سے یہ پیش کرنا کہ :

۵۳…’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً‘‘پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے وقت میں سیر کرایا یعنی ضلالت وگمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے معرفت اور یقین تک لدنی طور پر پہنچایا محض بے سود اور لغوہے۔

۱… اوّلاً اس لئے کہ یہ مرزا صاحب کی تشریح نہیں بلکہ بابو منظور الٰہی کلرک محکمہ تار کی تشریح اور ترجمہ جو مرزا صاحب کے ترجمہ حقیقت الوحی سے کچھ مغائر بھی ہے اور بابو منظور الٰہی اور ان کے ترجمہ کتاب کے غیر مسلم ہونے کو مختار مدعاعلیہ اور گواہان مدعاعلیہ اسمع ولدی کے تحت میں شدومد سے کہہ آئے ہیں۔

185

۲… جہاں مرزا صاحب کی تشریح ہوتی ہے۔ وہاں مؤلف لفظ تشریح یا مرزا صاحب کا اسم گرامی اضافہ کرتاہے۔ جیسا کہ اس کے مطالعہ سے واضح ہے۔

۳… یہ الہام (حقیقت الوحی ص۷۸، خزائن ج۲۲ ص۸۱) سے منقول ہے، وہاں یہ ترجمہ بھی نہیں نہ اس تشریح کا پتہ ہے۔

۴… کوئی بھی تاویل ہو اعتراض بدستور لاجواب ہے۔ کیونکہ اعتراض اس آیت کے چسپاں کرنے پر تھا۔ اس کا کچھ بھی جواب نہ ہوسکا۔

دوسرا حوالہ (براہین حصہ پنجم ص۸۵، خزائن ج۲۱ ص۱۱۲) کا پیش کیا ہے۔ ’’ایک ہی رات سے سیر کرانے سے مقصد یہ ہے کہ اس کی تمام تکمیل ایک ہی رات میں کردی اور صرف چار پہر میں اس کے سلوک کو کمال تک پہنچایا۔‘‘

اس تاویل سے بھی اعتراض آیت کریمہ کے چسپاں کرنے اور اپنے لقب کو اس خطاب میں شریک وسہیم کرنے کا بدستور باقی رہا۔ بلکہ نظر غائر سے دیکھا جائے تو مضبوط ہی ہوگیا۔ یہ راتوں رات انتہائی مدارج تک پرواز کرنا بھی آنحضرتﷺ کی شان ہے۔

۳… تیسرا ایک جدید بالکل غیر مسلم حوالہ (سوانح عمری امام ربانی مطبوعہ لاہور ص۱۱) کا پیش کیا۔ ’’جو کمالات اوروں کو سالہاسال سے پیش کرتے ہیں حضرت کو آناً فاناً بسیر محبوبی ومرادی حاصل ہوئے۔‘‘

الجواب:

۱… اوّلاً یہ کتاب غیر مسلم سوانح غیر معروف شخص محمدحسین ابن حکیم قادر بخش صاحب کی تالیف ہے۔ باب عقائد میں اس کا تذکرہ بھی بیکار ہے۔

۲… یہ ایک خوش عقیدہ مرید کا اپنے پیر کئے حق میں حسن ظن ہے۔ کسی پر کیا حجت۔

۳… حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کے معتبر سوانح حیات یا ان کی تالیفات میں اس کا پتہ تک نہیں۔

۴… اس غیر مسلم جدید حوالے سے بھی جواب نہیں ہوسکتا، کیونکہ جس آیت کی بحث ہے، یعنی ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا… الخ!‘‘اس کا یہاں تذکرہ اشارۃ وکنایۃ بھی نہیں محض غیر متعلق چیز ہے۔

یہاں توصرف اس قدر ہے کہ جو اوروں نے برسوں کی کوشش سے حاصل کئے وہ اللہ نے آپ پر تھوڑے وقت پر منکشف کر دئیے۔ یہاں آیت کریمہ یا اس کے کسی شخص پر چسپاں کرنے کا تذکرہ تک نہیں اتنی غیر متعلق باتوں کے باوجود اصلی اعتراض کو ہاتھ تک نہ لگایا اور وہ بدستور لاجواب رہا۔

(۱۰)

لولاک لما خلقت الافلاک

(ترجمہ مرزا) اگر میں تجھے (یعنی مرزا صاحب) پیدا نہ کرتا تو آسمان کو پیدا نہ کرتا۔

(حقیقت الوحی ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲)

اگرچہ باعتبار سند اس کے حدیث ہونے میں محدثین کو تأمل ہے۔ مگر اس پر تمام محدثین متکلمین مفسرین اور ائمہ وبزرگان دین سلف وخلف کا اتفاق ہے کہ سبب ایجاد عالم اور باعث تخلیق افلاک بلکہ تمام زمین وزمان، انس و جان، عرش وکرسی، لوح وقلم وتمام کائنات عالم صرف ذات گرامی سید المرسلینa ہے نہ کوئی اور مخلوق، ساری مخلوق تمام کائنات آپ کے صدقہ وطفیل پردہ عدم سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی۔ یہ فقرہ ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ سنداً جو بھی ہو یہاں اس کی سند زیر بحث نہیں صرف یہ گفتگو ہے کہ یہ خصوصی لقب آنحضرتﷺ کا ہے اور یہ اس تخصیص میں اس قدر مشہور ہے کہ صاحب لولاک سید لولاک بمنزلہ آپ کے اسم گرامی کے مستعمل ہے۔

186

مولانا گرامی فرماتے ہیں:

  1. بگیرم دامن آن سید لولاک در محشر

    کہ محشر بر نہ تابد تاب حسن بے حجابش را

  2. گرامی در قیامت آں نگاہ مغفرت خواہد

    کہ در آغوش گیرد جرمہائے بے حسابش را

خواہ سند کے لحاظ سے اسے حدیث نہ کہیں یا صحاح میں اس کا تذکرہ نہ ہومگر یہ لقب کسی اور پر چسپاں کرنا جب کہ یہ باتفاق مسلمین خصوصیات نبویہ سے ہے اور سیر کی کتب میں مذکور ہے۔ یقینا شرک فی الرسالۃ اور تنقیص بار گاہ رسالتa ہے جس کے بعد کلمہ توحید پر ایمان باقی نہیں رہ سکتا۔ اس فقرہ لولاک لما خلقت الافلاک کی تخصیص اور آنحضرتﷺ ہی کے اصلی مصداق ہونے کا اعتراف مختار مدعاعلیہ کو بھی ہے کیونکہ وہ لکھتاہے: ’’اصل مصداق لولاک لما خلقت الافلاک کا تو آنحضرتﷺ کا وجود باجود ہی ہے، کیونکہ آپ نوع انسانی کے جو کہ اشرف انواع مخلوقات ہے، اکمل واعلیٰ فرد ہیں جس پر کمال انسانی کا خاتمہ ہے۔‘‘ مگر پھر بھی مرزا صاحب کی ہمسری ومشارکت کے واسطے تین مندرجہ ذیل تاویلیں کی ہیں۔

۱… اس میں نئے آسمان وزمین جو نئے مصلح کے وقت پیدا ہوتے ہیں، مراد ہیں۔ جیسے (حقیقت الوحی ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲ حاشیہ) سے ثابت ہے یعنی مرزا صاحب روحانی آسمان سے علت غائی ہیں۔ (ملخصاً )

۲… اصلی مصداق لولاک لما خلقت الافلاک آنحضرتﷺ ہی ہیں، مگر ظلی طور پر مرزا صاحب بھی مصداق لولاک لما خلقت الافلاک ہیں۔

۳… حدیث نسائی ’’قتل المؤمن اعظم عند اللہ من زوال الدنیا اور ابن ماجہ لزوال الدنیا اہون عند اللہ من قتل مومن بغیر حق‘‘ کے حاشیہ سندھی میں یہ درج ہے کہ: ’’المراد بالمومن الکامل الذی یکون عارفاً ب اللہ تعالیٰ وصفاتہ فانہ المقصود من خلق العالم لکونہ مظہرالایات اللہ واسرارہ ما سواہ فی ہذاالعالم الحسی من السمٰوٰت والارض مقصود لاجلہ ومخلوق لیکون مسکنالہ ومحلا لتکفرہ مضار زوالہ اعظم من زوال التابع‘‘ (ابن ماجہ ج۲ ص۷۰ حاشیہ مصری) کہ حدیث میں مؤمن سے کامل مؤمن مراد ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے صفات کا عارف ہو۔ کیونکہ پیدائش عالم سے وہ ہی مقصود ہے۔ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کے آیات اور اسرار کا مظہر ہے اور اس کے علاوہ جو عالم محسوسات میں زمین وآسمان ہیں۔ اس کی خاطر ان کے بنانے کا مقصد کیاگیا اور اس لئے وہ پیدا کئے گئے تاکہ وہ کامل مؤمن کہا جائے، سکونت اور محل تفکر ہوں۔ لہٰذا کامل مؤمن کا زوال اعظم ہے تابع کے زوال سے۔‘‘

الجواب:

۱… پہلا دوسرا نمبر آپس میں متعارض ہیں۔ کیونکہ پہلے میں روحانی آسمان مراد ہے اور دوسرے میں یہی محسوس آسمان صرف ظلی وبروزی کا فرق ہے۔

۲… نیز پرانے آسمان مراد ہوں یا نئے خدا کے پیدا کئے ہوں یا بقول مرزا صاحب اپنے کشفی بنائے ہوئے تمام کائنات عالم کے علۃ غائی آنحضرتﷺ اور ان کا وجود باجود ہی ہے۔ نئے پرانے جسمانی روحانی کی تفصیل نہیں۔ یقینا آنحضرتﷺ ہر لحاظ سے مصداق ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ ہیں۔ کسی تاویل سے یہ لقب سیدنا آدمm سے آج تک کسی نبی، ولی، قطب، غوث نے اپنے یا کسی دوسے کے واسطے نہ جائز رکھا نہ استعمال کیا۔ اس کو کسی پر کسی طرح خواہ ظلی وبروزی طور پر کیوں نہ ہو۔ چسپاں کرنا شرک فی الرسالۃ موجب تنقیص سید المرسلینa اور منافی ایمان کلمہ توحید ہے۔

187

اعتراض صرف استعمال اور چسپاں کرنے پر ہے کسی مخصوص لحاظ، مخصوص معنی اور مخصوص تاویل پر نہیں، مختار مدعاعلیہ اعتراضی پہلو یہاں بھی نظر انداز کرگیا اور اس اعتراض کو بھی لاجواب چھوڑا۔

تیسری تاویل کا جواب

۱… یہ حدیث بیان سے بالکل غیر متعلق ہے۔ کیونکہ اس میں توصرف اس قدر ہے کہ کسی مؤمن کو ناحق قتل کرنا اللہ کے نزدیک دنیا زائل ہونے سے زیادہ بڑھ کر ہے۔

اور ظاہر ہے کہ تمام دنیا انسان اور انسان کامل مؤمن کی خادم اور وہ مخدوم ہے اور مخدوم کے مقابلے میں خادم کی حیثیت ہی کیا۔ ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

۲… حاشیہ سندی غیر مسلم جدید حوالہ ہے نہ وہ حاشیہ کسی مسلم محدث کا ہے کہ کسی پر حجۃ ہو۔

۳… اس میں کہیں بھی ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ کا خطاب مؤمن کامل یا کسی کے واسطے نہیں بتایا ہے۔ اس میں تو صرف مندرجہ ذیل امور مختار مدعاعلیہ کے اپنے من مانے ترجمہ سے نکلتے ہیں۔

۱… مؤمن کامل عارف ب اللہ تمام مخلوق میں مخلوق بالذات ہے۔ؤ

۲… عالم محسوسات زمین وآسمان اس لئے پیدا کئے گئے تاکہ وہ کامل مؤمن کی جائے سکونت اور محل تفکر ہوں۔

مؤمن کامل کی نفع رسانی اور محل سکونت اور جائے تفکر ہونا اور بات ہے اور کسی کا علت غائی مصداق ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ہونا کہ اگر اسے پیدا نہ کرتا تو آسمان پیدا نہ کرتا یہ اور چیز ہے۔ نفع اور سکونت میں انسان کے ساتھ حیوانات بھی شریک ہیں۔ ہاں! انسانی نفع مقصود بالذات ہے اور حیوانی مقصود بالطبع۔ یہ بات نہیں کہ اگر مومن کامل کو پیدا نہ کرتا تو افلاک ودنیا پیدا نہ کرتا، سب اسی کے صدقہ میں موجود ہوا۔

بلکہ یہ شان صرف سید بنی آدم، باعث ایجاد عالمa ہی کی ہے جن کو باری عز اسمہ نے فرمایا: ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ اورمختارمدعاعلیہ کو بھی آنحضرتﷺ ہی کو اصل مصداق ماننا پڑا۔ بہرحال مابہ النزاع سے اسے کوئی تعلق نہیں۔ نہ یہاں ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ کسی پر چسپاں ہے، نہ کسی کو علت غائی وجود افلاک قرار دیا ہے۔ صرف یہ ہے کہ زمین انسان کامل کے رہنے اور آسمان اس کے تفکر میں بھی مستعمل ہے۔ باقی پیدا وہ بھی صدقہ میں سید المرسلینa کے ہے بلکہ مؤمن کامل اور خود ایمان کاوجود بھی آنحضرتﷺ ہی کا صدقہ ہے۔ آنحضرتﷺ کو پیدا نہ کیا جاتا تو نہ صرف زمین وآسمان، بلکہ مؤمن اور ایمان، جنت ودوزخ، عرش وکرسی اور کائنات عالم کا ایک ذرہ بھی پیدا نہ ہوتا۔ مرزاصاحب کے متبعین مرزا صاحب کو باعث ایجاد عالم یا ایجاد افلاک مانتے ہیں، مسلمان توصرف اللہ کے محبوب اوّلین، خلق سید الاوّلین والآخرین کو مصداق ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ اور ’’لولاک لما خلقت الدنیا‘‘ مانتے ہیں اور کسی اور پر اسے چسپاں کرنا آنحضرتﷺ کی سخت ترین توہین اور شرک فی الرسالۃ اور منافی کلمۂ توحید بتاتے ہیں۔ جیسا کہ اصل بحث میں مدلل پیش کرچکاہوں۔

حضرت مولانارشید احمد صاحب گنگوہی پر بہتان

مختار مدعاعلیہ نے (فتاویٰ رشیدیہ ج۴ ص۱۴۰) سے ایک فتویٰ پیش کیا ہے جس میں اوّل ما خلق اللہ نوری وغیرہ بعضی احادیث کی صحت کے متعلق سوال کیا گیا تھا۔ مولانا جواب دیتے ہیں کہ: ’’یہ حدیثیں کتب صحاح میں موجود نہیں۔ مگر شیخ عبدالحق نے اوّل ماخلق

188

اللہ نوری کو نقل کیا ہے کہ اس کی کچھ اصل ہے۔‘‘

اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت مولانا اس کے منکر ہیں اور مؤمن نہیں محض بہتان ہے۔ یقینا یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ گو دوسری احادیث کی کتب میں ہے مگر سند کے لحاظ سے محدثین کو اس کے حدیث ہونے میں تأمل ہے۔ مگر مضمون پر سب متفق ہیں کہ افلاک اور تمام عالم صرف آنحضرتﷺ کے وجود باجود کا صدقہ ہے اور حدیث: ’’لولاک لما خلقت الدنیا‘‘جو اس مضمون کی مؤیدہے سنداً بھی درست ہے جس کی تصحیح علامہ ابن حجر مکی نے اپنے فتاویٰ میں کی ہے۔ بہرحال سند کی تو یہاں بحث ہی نہیں۔ حضرت مولانا گنگوہی یا کسی اور عالم نے مصداق ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ اور باعث ایجاد عالم وتخلیق سماوات کسی اور کو بتایا ہو تو پیش کریں، مگر ہر گز نہیں کرسکتے۔ ’’ولوکان بعضہم لبعض ظہیرا‘‘ بہرحال یہ اعتراض بھی بوجہ اس کے کہ اعتراضی پہلو نظر انداز کردیا جائے۔ بالکل لاجواب ہے۔ مفصل اصل بحث سے ملاحظہ فرمایا جاوے۔ اعادہ بخوف تطویل نہیں کرتا۔

عینیت کا دعویٰ

’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار‘‘

شرک دو قسم کا ہوتا ہے۔ شرک فی الذات اور شرک فی الصفات۔ مرزا صاحب اپنے آپ کو آنحضرتﷺ کے ایک ایک خصوصی صفات میں شرکت کا دعویٰ کرتے کرتے عین محمدa بن گئے۔ چنانچہ بحث میں اس کے واسطے مندرجہ ذیل حوالہ پیش کئے ہیں۔

۱…

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمدو احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

۲… ’’اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد واحمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت کا وجود قرار دیا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

۳… ’’پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی الٰہی ہے کہ: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیاہے اور رسول بھی۔‘‘

(ضمیمہ حقیقت النّبوۃ ص۲۶۲، ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

۴… حقیقت الوحی میں جہاں اپنے لئے سب نبیوں کے نام گنائے ہیں۔ وہاں محمد واحمد ہوں بھی موجود ہے اور ان کے مریدین نے انہیں عین محمد تسلیم بھی کر لیا، بلکہ ان سے بڑھ کر جیسا کہ قاضی ظہور الدین اکمل ایڈیٹر تشحیذ الاذہان لکھتے ہیں:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور بڑھ کر پہلے سے ہیں عزوشان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس کو اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبارالبدر ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶)

یہ جو کہیں کہیں ظل وبروز کے الفاظ اور حیلہ معلوم ہوتاہے۔ اسے خلیفہ محمود صاحب محض بے معنی صرف انکساری پر محمول کرتے ہیں ورنہ دراصل اس کی کچھ حقیقت نہیں۔ ملاحظہ ہو۔

۱… کتاب ہینڈبل بحوالہ الفضل ۲۶؍نومبر ۱۹۱۳ء کہ: ’’ہم جیسے خدا کی دوسری وحیوں میں حضرت اسماعیلm، حضرت عیسیٰm، حضرت ادریسm کو نبی پڑھتے ہیں۔ ایسی ہی خدا کی آخری وحی میں مسیح کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا بروزی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو ایک مجرم فرض کر کے اپنی برئیت کرنے لگیں بلکہ جیسے اور نبیوں کی

189

نبوت کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے دیتے ہیں۔‘‘ اس سے یہ امر ثابت ہوا کہ مرزا محمود کے نزدیک ظلی بروزی فرق وحی الٰہی نے نہیں کیا بلکہ خود مرزا صاحب کا تصنیف کردہ ہے اور اس کی بناء کوئی حقیقۃ واقعیہ نہیں ہے بلکہ محض انکساری وفروتنی ہے۔ جیسا کہ (ہینڈبل ص۳ سطر۸) پر ہے: ’’خدا نے صاف صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نہ کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریریں جن میں انکساری وفروتنی کا غلبہ ہے جو نبیوں کی شان ہے۔ اس کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے۔

اس سے واضح ہوگیا کہ ظلی وبروزی خدا کے کلام میں نہیں بلکہ خلاف واقع بھی ہے۔ صرف انکساری کے طور پر مرزا صاحب نے یہ کہہ دیا ہے۔

اب اس قسم کی واضح عینیت اور دعویٰ محمدرسول اللہ ہونے کے بعد کیونکر ایمان قائم رہ سکتاہے جو شخص اپنے آپ کو عین محمدرسول اللہ کہتا ہو اور آیت کریمہ: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار‘‘اپنے اوپر بعینہٖ چسپاں کرتاہو اور خود کو محمد رسول اللہ ﷺ سمجھتاہو۔

وہ کروڑ مرتبہلاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ پڑھے محمد رسول اللہ پر اس کا ایمان محال ہے۔ ہاں! اپنے اوپر ایمان دار ہو تو ہو یا ان دونوں محمدوں پر یکدم تو شرک فی الرسالۃ بلکہ شرک فی الذات رہا جو شرک فی الصفات سے بدرجہا بڑھ کر ہے اور سخت ترین ہے جو کسی دشمن خدا اور رسول نے نہیں کی اور اس کے بعد کلمہ پر ایمان بالکل نامسموع ہے۔

نیز جب کہ مرزا صاحب اور تمام ان کے متبعین صاحبان مرزا غلام احمدصاحب کو بھی محمدرسول اللہ سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں خدا نے یہ نام اس آیت: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘ میں مرزا صاحب کو دیا ہے تو جب وہ کلمہلا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ پڑھتے ہیں تو قابل سوال یہ امر ہے کہ اس محمدرسول اللہ سے مراد ان کے محمد رسول اللہ ہیں یا ہمارے آقا؟ اور ظاہر ہے کہ مرزا صاحب کا امتی، محمد رسول اللہ سے مرزا صاحب ہی کو مراد لے گا۔ لہٰذا کسی کا ایمان اس کلمہ پر نہیں ہوسکتا۔ جب تک مرزا صاحب محمدرسول اللہ ہونے سے انکار نہ کریں اور ان کے متبعین اس کے ماننے سے رجوع نہ کریں۔

۲… یہ بھی قباحت بحث میں پیش کرچکا ہوں کہ آیت: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘بنص قطعی بلکہ بہ شہادت خداوندی وکفیٰ ب اللہ شہیدا صرف آنحضرتﷺ کے واسطے بلا شرکت غیرے ہے، اسے مرزا صاحب کا اپنے اوپر چسپاں کرنا علاوہ دعویٰ عینیت نص قطعی کا انکار وشہادت خداوندی کی تکذیب ہے، جو نہ صرف ایک دو بلکہ بے شمار کفروں پرمشتمل ہے۔

۳… عین محمد اور انہی کا وجود ہونے میں مندرجہ ذیل کفریات ہیں:

۱… سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور دیگر ازواج مطہرات کی ہتک کہ جب عین محمدa ہیں توان سے کیا رشتہ رہا۔ (العیاذب اللہ )

۲… سیدہ فاطمہ زہراء سیدنا ابراہیم ودیگر اولاد کی ہتک جب عین محمد ہیں تو ان کے والد (عیاذاًب اللہ ) ٹھہریں گے۔

۳… سیدنا امام حسنq وامام حسینq کی توہین کہ ان کے نانا جان ہوئے۔ وغیرہ وغیرہ!

۴… تمام صحابہﷺ، اہل بیتi، اولیاء، اقطاب وابدال بلکہ تمام امۃ کی توہین، توہین انبیاء کے تحت میں یہ مفصل آئے گا۔

تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہو۔ بیان گواہ مدعیہ نمبر۴سلسلہ توہین انبیاء وتوہین نبی کریمa۔

مختارمدعا علیہ کی تاویلات رکیکہ کا جواب

اوّلاً یہ کہ کوئی بھی تاویل کریں اعتراض ہی لاجواب ہے۔ کیونکہ بنیاد یہاں بھی آیت کریمہ: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘کے اپنے اوپر چسپاں کرنے پر ہے جس کی جرأت کسی نبی، صحابی، ولی، قطب نے نہ کی، نہ کسی آسمانی صحیفہ احادیث تفسیر کلام

190

فقہ یا کسی غیر مستند کتاب ہی میں اس کی کوئی نظیر ہے نہ مختار مدعاعلیہ اس کی ایک نظیر پیش کرسکا۔ لہٰذا اصل اعتراض تو لاجواب ہی رہا اور بحمد اللہ ! اس ہینڈنگ میں ہر اعتراضی پہلو بچایا اور تمام اعتراض لاجواب اور اقراری کفر رہے۔

۲… مرزا صاحب کا دعویٰ عین محمدہونے کا مختار مدعاعلیہ اور اس کے گواہوں کو مسلم ہے۔ نیز ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘ کا مصداق بھی مرزا صاحب کو مانتے ہیں اور جواب میں صرف رکیک تاویلیں پیش کرتے ہیں۔

۱… آپ نے کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ میں جسمانی لحاظ سے وہی محمد ہوں جو آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے آئے تھے۔

۲… آپ فرماتے ہیں کہ میں ظلی اور بروزی طور پر وہی محمد ہوں۔

۳… خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ میرا تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افادہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمدa کو ملحوظ رکھ کر۔

۴… مشابہت کی وجہ سے محمد کہا گیا۔

الجواب:

۱… اوّل جسمانی وروحانی کسی طرح عین محمد بننا توہین نبویﷺ ہے، مگر مختار مدعاعلیہ کی خاطر مرزا صاحب نے یہ بھی تصریح فرمادی ہے کہ: ’’اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد واحمد رکھا اور مجھے آنحضرتﷺ کا وجود ہی قرار دیا۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲) فرمائیں عین محمد ہونے کے ساتھ اپنے کو آنحضرتﷺ کا وجود ہی قرار دے رہے ہیں۔ اس سے زائد کیا تصریح ہوگی۔

اب یہ مختار مدعاعلیہ کی رائے ہے کہ جن محمدa کی عینیت کا دعویٰ ہے وہ وہی ہیں جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے دنیا میں ان ظاہری آنکھوں کے سامنے جلوہ افروز تھے یا کوئی اور؟

۲… ظلی وبروزی کی تاویل کا پہلا جواب یہ ہے کہ اللہ کے محبوبa کی ذات گرامی اس قدر اعلیٰ وارفع ہے کہ ظلی وبروزی طور پر بھی اس بے مثیل ہستی کا کوئی مثیل اور ظل و بروز نہیں ہوسکتا نہ کسی طر ح اس کا عین بن سکتاہے۔ اسی طرح کہ اس کا وجود عین وجود محمدa ہوجائے۔ جیسا کہ مرزا صاحب ہیں آپ کی شان محبوبیت کی یکتائی کا تقاضاہے کہ کوئی ان کا شبیہ اور سہیم وشریک بھی نہ ہو۔ شیطان لعین ہر ایک کی شکل بن کر آسکتا ہے، مگر اللہ کے محبوب کی شکل خواب میں بھی نہیں بن سکتا۔ خود ارشاد فرماتے ہیں: ’’من راٰنی فی المنام فقد راٰنی فان الشیطان لا یترا بی ولا یتمثل بی اوکما قالa (بخاری شریف)‘‘ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے واقعی مجھی کو دیکھا۔ کیونکہ شیطان میرا نقشہ نہیں پاسکتا، نہ میری شکل بن سکتاہے۔

بہر حال کسی تاویل سے عینیت محمدیہ ہو اور اپنا وجود آنحضرتﷺ کا وجود قرار دیا جائے درست نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ بروز سے ہی کوئی مغائرت پیدا نہ ہوئی۔ جیسا کہ مرزا صاحب خود کہتے ہیں: ’’اور مجھے آنحضرتﷺ کا وجود ہی قرار دیا گیا بروز میں دوئی نہیں ہوتی۔‘‘

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۴)

۳… جواب یہ ہے کہ مرزا محمود صاحب جن پر گواہوں نے اپنا ایمان بتایا ہے اور جس کی تصانیف ان پر حجت ہیں، ظلی وبروزی کی تفصیل خدا کی وحی میں نہیں بتاتے بلکہ محض مرزا صاحب کی انکساری وفروتنی پر محمول کرتے ہیں۔ گویا اصل یہ واقعہ نہیں، بلکہ یہ آڑ ظلی وبروزی کی ہے۔ ورنہ دراصل وہ انکساری کے طور پر ہے۔ (ملاحظہ ہو حوالہ ہینڈبل سابقہ)

191

۴… یہ کہنا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ تمام فیوض کا واسطہ ہیں۔ اس لئے عینیت محمدی کا دعویٰ ہے، محض لغو ہے۔ کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ واسطہ اور ذی واسطہ غیرغیرہوتے ہیں اور آج تک کسی عقلمند نے واسطہ اور ذی واسطہ کی عینیت کا قول نہیں کیا۔

۵… مشابہت تامہ کی وجہ سے عین محمد کہاگیا ہو۔اوّلاً یہ تأویل لغو ہے۔ کیونکہ خود مرزا صاحب تصریح فرمارہے ہیں کہ خدا نے مجھے آنحضرتﷺ کا وجود ہی قرار دیا ہے اور ظہور الدین اکمل تو عین محمد اور پہلے سے بڑھ کر مانتے ہیں:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور بڑھ کر پہلے سے ہیں عز وشان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس کو اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار البدر ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء ص۱۴)

قاضی صاحب کا یہ عقیدہ مرزا صاحب کے کلام کی روشنی میں ہے۔ جیسا کہ اوّل بحث میں بحوالہ (خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹) گزر چکا کہ صرف عین محمد بلکہ پہلے سے کامل ہیں۔ عیاذاً ب اللہ ! دوسرے اللہ کے محبوب آنحضرتﷺ سے کسی کی مشابہت تامہ ماننا بھی کفر ہے۔ انتہائی پرواز مقربان بار گاہ الٰہی کی یہ ہے کہ ان کے مقامات وکمالات کا یوں نظارہ کریں۔ جیسے زمین والا آسمان کے ستارے کو دیکھتاہے۔ جیسے کہ فریقین کی مسلم کتاب الیواقیت والجواہر کے حوالہ سے پیش کرچکاہوں۔

بزرگان دین پر مختار مدعاعلیہ کا صریح بہتان

مختار مدعاعلیہ نے اس سلسلے میں تین حوالہ پیش کئے ہیں اور تینوں غیر مسلم پیش کئے ہیں:

۱… مقامات امام ربانی۔ ۲… شرح فصوص الحکم قاشانی۔ ۳… حاشیہ مثنوی بحرالعلوم۔

الجواب:

۱… مقامات امام ربانی سلسلہ مجددیہ کے ایک غیر معروف اور غیر مسلم شخص کی مرتب کردہ سوانح ہے جو حجۃ نہیں ہوسکتی۔ اس کا مؤلف نہ مفسر ہے نہ محدث نہ کوئی عالم نہ مسلم بزرگ نہ کتاب کی توثیق کسی بزرگ نے کی۔

عقائد اور ایسے نازک مرحلہ کفرو اسلام میں ان تصانیف کا ذکر ہی فضول ہے۔ خود گواہان مدعاعلیہ اپنے بیانوں اور جرح میں تسلیم کرچکے ہیں کہ عقائد میں قطعیات کا اعتبار ہے، نہ کہ ظنیات کا۔ احادیث صحیحہ جو احاد کے درجہ میں ہوں، ان کا بھی اعتبار نہیں۔ علاوہ بریں گفتگو تو یہ ہے کہ عین محمد کا دعویٰ صحیح ہے یا نہ اور ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘

علاوہ سرکار دوعالمa کسی اور پر چسپاں ہوسکتاہے یا کوئی اور اس کا مصداق کسی طرح ہوسکتاہے۔ اس کا اس حوالہ میں کہیں پتہ نہیں۔ اصل حوالہ ملاحظہ ہو: ’’حقیقت محمدی یامقام محمدی محبت ومحبوبیت ممتزجہ ذاتیہ حضرت رسول اکرمﷺ کا ہے۔ اس مقام میں تابع کو اپنے سے ایسی مشابہت ومناسبت پیدا ہوجاتی ہے کہ گویا تبعیت درمیان سے اٹھ گئی اور امتیاز تابع ومتبوع زائل ہوجاتاہے اور ایسا توہم ہوتاہے کہ گویا تابع ومتبوع ہر دو ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہیں۔ ہم آغوش ایک کنار اور ایک بستر ہیں۔ مگرتابع اپنے تئیں طفیلی اپنے متبوع کا جانتاہے۔ اس میں مندرجہ ذیل فقرات قابل لحاظ ہیں۔

۱… ’’حقیقت محمدی یامقام محبت ومحبوبیت ممتزجہ آنحضرتﷺ‘‘

۲… ’’اس مقام میں تابع کو اپنے متبوع سے ایسی مشابہت ومناسبت پیدا ہوجاتی ہے کہ گویا تبعیت درمیان سے اٹھ گئی۔‘‘ امتیاز تابع اور متبوع زائل ہوجاتاہے۔‘‘

۳… ’’ایسا متوہم ہوتاہے کہ گویا تابع ومتبوع ہر دو ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہیں‘‘ مگر تابع اپنے تئیں طفیلی اپنے متبوع کا جانتاہے۔‘‘

192

تفصیلی جواب

اوّلاً یہاں گفتگو حقیقت محمدیہ اور مقام محبت میں اس تعلق پر ہے جو آنحضرتﷺ کا خدا کے ساتھ ہے جس کا ثبوت پہلا فقرہ ’’حقیقت محمدی یا مقام محبت ومحبوبیت ممتزجہ آنحضرتﷺ‘‘ ہے اور وہ بھی وحدۃ الوجود کے طرز پر جس سے مرزا صاحب برأت ظاہر کرچکے ہیں۔

(ملاحظہ ہو آئینہ کمالات اسلام بہ حوالہ سابق)

یہاں کسی کا ذات محمدی یاوجود پاک محمدa میں شرکت کا تذکرہ تک نہیں جس کا مرزا صاحب کو دعویٰ ہے کہ: ’’خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد واحمد رکھا اور مجھے آنحضرتﷺکا وجود ہی قرار دیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

۲… یہاں عینیت کا ذکر تک ہی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک ایسی مناسبت ہوجاتی ہے کہ گویا تبعیت درمیان میں اٹھ گئی۔ ملاحظہ ہو فقرہ نمبر۲نہ یہ کہ تابع ومتبوع عین ہوں گے اور دعویٰ عینیت درست ہوگیا۔

۳… عینیت کی صاف تردید ہے، صرف اس قدر ہے کہ دونوں ہمکنار متوہم ہوتے ہیں۔ ملاحظہ ہو فقرہ نمبر۳ ’’ایسا متوہم ہوتاہے کہ گویا تابع ومتبوع ہر دو ایک ہی چشمہ سے پانی پی رہے ہیں۔ ہم آغوش محمل ایک کنار اور ایک بستر ہیں۔ یہ اور شیٔ ہے اور عینیت اور شیٔ۔‘‘

۴… اس کی صاف تصریح ہے کہ باوجود ہم کناری اور ہم بستری کے اور کمال اتصال معیت کے دعویٰ عینیت نہیں کرسکتا، بلکہ اپنے آپ کو اپنے متبوع کا طفیلی بنائے گا۔ ملاحظہ ہو فقرہ نمبر۴ مگر تابع اپنے تئیں طفیلی اپنے متبوع کا جانتاہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ نے اس حوالہ سے محض فریب دیا تھا اور دراصل یہ حوالہ ہمارا مؤید اور ان کی تمام تاویلات کا خاتمہ کرنے والاہے کہ انتہائے محبت واتصال میں بھی دعویٰ عینیت نہیں بلکہ متبوع طفیلی اپنے تابع کا رہے گا۔ ﷲالحمد!

  1. ہوا ہے کہ مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

دوسرا حوالہ شرح فصوص قاشانی کا ہے کہ: ’’مہدی کا باطن محمدa کا باطن ہوگا۔‘‘

(شرح فصوص مصری ص۵۴،۵۳)

اوّلاً یہ شارح مسلم ہیں نہ یہ شرح نہ کسی اہل طریقت نے اسے مسلم شروح سے شمار کیا نہ یہ ہم پر یا کسی پر حجۃ ہوسکتی ہے۔

۲… یہ حوالہ قطع وبرید کرکے پیش کیاگیا ہے اور صرف ایک فقرہ ورنہ کوئی مغالطہ نہ ہوتا۔ عدالت سیاق وسباق ملاحظہ فرمالے۔

۳… اس عینیت کے دعویٰ یا ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘ کے علاوہ محمدa کسی اور پرچسپاں ہونے کا ذکر تک نہیں۔ یہاں توصرف یہ ہے، مہدی اخلاق محمدی سے آراستہ ہوں گے باطن کا لفظ عام طور پر اخلاق وسیرت پر بولا جاتاہے اور یہ فقرہ دراصل شرح ہے۔ اس حدیث کی جو ابوداؤد میں حضرت علیq سے ہے کہ مہدی نبی کریمa کی سیرت اور اخلاق میں مشابہ ہوں گے نہ صورت میں ’’یشبہ فی الخلق لا یشبہ فی الخلق (ابوداؤد، مشکوٰۃ کتاب اشراط الساعۃ)‘‘

پس اس میں عینیت کا دعویٰ کجا عینیت کی زبردست تردید ہے اور اگر ان جزوی مشابہتوں سے دعویٰ عینیت کا جواز ہوتا تو تیرہ سوسال میں کوئی تو کرتا۔ حالانکہ ایک نظیر موجود نہیں کہ کسی نے عین محمدa ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔ہاں! خدائی کے جھوٹے دعوے دار اور وحدۃ الوجود کے رنگ میں سکر کی حالت میں انا الحق کہنے والے بزرگ بھی بہت ملیں گے، مگر عین محمد ہونے والے دستیاب نہیں ہوتے۔ یہ مرزا صاحب کا اختراع ہے۔

تیسرا حوالہ حاشیہ مثنوی بحرالعلوم حاشیہ نمبر۱۵ دفتر چہارم برشعر:

  1. گفت زیں سو بوئے یارے میرسد

    کاندریں رہ شہر یارے میر سد

الجواب: مولانا عبدالعلی فرنگی محلی لکھنوی نہ امام ہیں نہ محدث نہ متکلم نہ مفسر نہ فقیہ ایک منطقی اور فلسفی مشہور ہیں۔ کسی نے ان کا صوفیہ میں بھی

193

شمار نہیں کیا۔ ان کی رائے کسی پر کیا حجۃ ہوسکتی ہے۔ خصوصاً عقائد میں۔

۱… نہ مثنوی شریف میں کہیں عین محمد کا دعویٰ یا اس کا دور کا اشارہ ہے نہ کسی شرح میں نہ کسی قطب نے کبھی عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ خود بایزید بسطانی نے یہ کلمہ زبان سے نکالا، نہ کبھی کسی نے یہ ہوش میں کہا، نہ سکر میں۔

حاشیہ نمبر۱۵ پر مولاناعبدالعلی بحر العلوم صاحب لکھنوی لکھتے ہیں کہ چونکہ قطب کا قلب (یعنی باطن وسیرۃ) محمدa کے قلب (یعنی سیرۃ) پر ہوا کرتاہے اور جو کسی کے قلب (سیرۃ باطن) پر ہو وہ گویا وہی شخص ہوجاتاہے۔ پس بایزید بسطامی چونکہ قطب وقت ہیں (گویا) عین رسول اللہ ﷺ ہوئے۔

یہ مولانا عبدالعلی کی اپنی منطق ہے جس کا کوئی حوالہ کسی بزرگ کے کلام سے نہیں۔ لہٰذا قابل التفات بھی نہیں اور اصل مدعا ثابت نہیں کہ کسی نے عین محمدa ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘ اپنے یا کسی پر چسپاں کیا ہو یا کسی کو اس کا مصداق ٹھہرایاہو۔ بہرحال باوجود غیرمسلم ہونے کے یہ حوالے غیر متعلق بھی ہیں۔

۲… مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ عبارت اس ترتیب سے وہاں نہیں بلکہ یہ خیانۃً تقدیم وتاخیر اور قطع وبرید سے پیش کی گئی ہے۔ آخر میں مختار مدعا علیہ نے یہ کہا کہ: ’’تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو بیان گواہ نمبر۱۔ وہاں بھی یہی بعینہٖ تاویلات اور بھی حوالے ہیں۔ صرف مکتوبات کے دو اور حوالہ ہیں جس میں آنحضرتﷺ کا تعلق اورخصوصی اتصال محبت کا ذکر ہے۔ اس دعویٰ عینیت یامصداق آیت: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘ کا تذکرہ تک نہیں اور ایسی کھلی ہوئی خیانت اور قطع وبرید اس کے نقل میں کی ہے کہ اس پر انسانیت شرماتی ہے۔ چونکہ وہاں دو حوالہ توہین انبیاء کے سلسلہ میں درج ہیں۔ لہٰذا اسی ہیڈنگ کے تحت ان کا مفصل تذکرہ اور خیانت بتائی جائے گی۔ ان شاء اللہ ! غالباً اسی کمزوری کا خیال کرکے مقامات امام ربانی اور شرح فصوص اور حاشیہ مثنوی کے حوالہ کو یہاں مختار مدعاعلیہ نے ذکر کردیا اور ان دونوں حوالوں کا نام تک نہ لیا اورمحض مغالطہ دینے کے واسطے چند صفحات کا حوالہ دے دیا تاکہ لوگ مغالطہ میں رہیں۔ کچھ اور قوی مفصل دلائل ہوں گے۔ حالانکہ ان مذکورہ بالا تاویلات رکیکہ کے سواء وہاں کچھ بھی نہیں۔الفاظ تک تقریباً وہی مکرر نقل کئے ہیں۔

بہر حال عین محمد ہونے کا دعویٰ اور آیت: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ… الخ!‘‘ اپنے پر چسپاں کرنے کا کفر بدستور سابق لاجواب رہا۔ ایک ضابطہ کا بھی جواب نہ ہوسکا۔

(۱۲)

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

اس کا مفصل جواب الجواب عینیت کے ہیڈنگ کے تحت پیش کرچکاہوں۔ دعویٰ عینیت کی مذکورہ بالا تصریحات کے بعد تریاق القلوب کے دوسرے مجمل گول مول مغالطہ آمیز اشعار اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۹، خزائن ج۲۱ ص۱۱۶) کی مغالطہ آمیز وہ عبارت نہ اس کا جواب بن سکتی ہے، نہ اس کی تشریح، نہ اس کا اصل اعتراضی پہلو اور پیش کردہ پوائنٹ سے کسی قسم کا تعلق ہے۔ نیز اس شعر پر علیحدہ ؑ(۱۲) ڈالنا بھی اس لئے ہے۔ ورنہ عینیت کے دعویٰ کے تحت یہ مذکور ہے اور اسی نمبر کا حوالہ ہے۔

مرزا صاحب کا جواب

مختار مدعاعلیہ نے اس ہیڈنگ کے ماتحت ایک عمومی جواب کا رنگ دے کر پھر مکرر بحث کا اعادہ چاہاہے تاکہ اپنے مغالطہ کی تکمیل کر سکے۔ اس سلسلہ میں تین جواب نقل کئے ہیں۔

194

پہلے جواب میں (براہین احمدیہ ج۳، ۴) اور (ازالہ اوہام) کے چند وہ حوالہ پیش کئے ہیں جس میں وہی ظلی وبروزی واسطہ وذی واسطہ تابع ومتبوع کی تاویلیں ہیں جن کا مفصل جواب گزر چکا جن کا خود مختار مدعاعلیہ اس کا نتیجہ یہ نکالتاہے۔ ’’آپ پر ان انعامات کا نزول بابرکت متابعت مصطفیﷺ آپ کے مخدوم اور متبوع کے ہے اور آپ ان کے خادم اور تابع ہیں۔‘‘

مگر کبھی خادم عین مخدوم، تابع عین متبوع ورعایا، عین سلطان یا اس کے خصوصی امتیازی القاب میں شریک وسہیم نہیں ہوسکتا، نہ اس کے القابات اپنے اوپر اس لحاظ سے چسپاں کر سکتاہے۔

دوسرا جواب: مرزا صاحب نے اپنی کتاب (اربعین نمبر۲) اور انجام آتھم میں تحریر کرکے مخالفین کو مباہلہ اور بالمقابل دعاء کرنے کے لئے دعوت دی ہے۔ چنانچہ الہام:

’’الارض والسماء معک کماہو معی‘‘

(اربعین نمبر۲ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳، انجام آتھم ص۵۲، خزائن ج۱۱ ص۵۲)

’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳، انجام آتھم ص۵۱، خزائن ج۱۱ ص۵۱)

’’انت اسم الاعلیٰ‘‘

(اربعین نمبر۲ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۳۸۲)

’’انت منی… تا الخلق‘‘

(اربعین نمبر۲ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۳۸۰، انجام آتھم ص۵۱، خزائن ج۱۱ ص۵۱)

’’کان اللہ نزل من السماء‘‘

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

’’انا فتحنالک فتحاً مبینا‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۳۵۲، انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۵۸)

’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۳۵۲، انجام آتھم ص۵۱، خزائن ج۱۱ ص۵۱)

’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰)

’’قل ان کتنم تحبون اللہ ‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۳۳، خزائن ج ۱۷ ص۳۸۱، انجام آتھم ص۵۲، خزائن ج۱۱ ص۵۲)

’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ‘‘

(انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۵۳)

’’ماینطق عن الہویٰ‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

’’انا اعطیناک الکوثر‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۳۵، خزائن ج۱۷ ص۳۸۴، انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۵۸)

میں مندرج ہیں اور ان تمام الہامات پر مختار مدعیہ نے اعترض کیا ہے۔ ’’انجام آتھم میں مرزا صاحب نے یہ الہامات معہ دیگر الہامات لکھ کر… الخ!‘‘

یہ عجیب جواب رہا کہ مرزا صاحب نے یہ کفریات لکھ کر مخالفین کو مباہلہ اور بالمقابل بددعا کی دعوت دی ہے۔ لہٰذا یہ سب سچے مسلمان ہیں۔

اگرچہ مقابلہ ومباہلہ کی دعا وصداقت وغیرہ مقدمہ متنازعہ سے غیر متعلق ہے اور برابر عدالت کی طرف سے ممنوع قرار دئیے گئے ہیں۔ مگر چونکہ جوابی بے ضابطہ بحث میں ریکارڈ پر یہ آگیاہے۔ اس لئے نہایت مختصر جواب عرض ہے جن مخالفین کو دعوت مباہلہ ہے۔ اس میں مولوی ثناء اللہ امرتسری بھی ہیں جنہوں نے بطور فرض کہا: جو جھوٹا ہو اس کاانجام بد اس کے سامنے ہے۔

خود مرزا صاحب نے بھی اپنے تمام مخالفوں سے فرمایا تھا اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے بارے میں لکھا: ’’یا اللہ ! میں تیرے ہی تقدس کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔

195

اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ ’’ربنا افتح بیننا وبین قومنا… الخ!‘‘(بدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹) پھر کیا ہوا یہ کہ:

  1. لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

    کذب میں پکا تھا پہلے مرگیا

(از مباہلہ مرزا، ۱۱؍ستمبر۱۹۲۱ء)

مفصل بحث مولوی ثناء اللہ صاحب کے رسالہ فیصلہ مرزا میں موجود ہے۔

بہرحال مباہلہ اوربالمقابل دعاسے بھی بجائے ان کفریات کی تائید کے ان کی تردید اور مرزا صاحب کا مفتری علی اللہ اور کافر ومرتد ہونا ہی ثابت ہوا۔

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعان کا

محمدرسول اللہ ہیڈنگ کے لاجواب نمبر

۱… خصوصیات نبویہ پربھی ایمان لاناضروری ہے جرح گواہ نمبر۱ یکم؍ مارچ ۱۹۳۳ء انکار خصوصیات انکار ذات ہے… الخ!

(وہ نمبرجس میں مخصوص اعتراض پہلے نظرانداز کردیا)

۲… اسلامی عقیدہ آخری نبی سے انکار حوالہ کی چنداں حاجت نہیں۔

۳… معراج جسمانی کا انکار اور اپنے لئے اس جیسے متعدد ثابت کرنا سیر معراج جسم کثیف کے ساتھ نہ تھا، بلکہ اعلیٰ درجہ …تا…اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔

(ازالہ اوہام ص۹۹، خزائن ج۳ ص۱۵۴)

۴… شق القمر کو خسوف قمر کہہ کے اس سے دوبالا اپنے لئے بتایا:

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسا القمران المنیران اتنکر

(ترجمہ مرزا) اس کے یعنی آنحضرتﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب تو کیا انکار کرے گا۔

(قصیدیہ اعجازیہ ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

۵… اپنی فتح کو آنحضرتﷺ کی فتح پر ترجیح۔

’’اورظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریمa کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خداتعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۹۴، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸،۲۸۹)

تیسرا جواب: ’’براہین احمدیہ جب شائع ہوئی تو اس پر مولوی محمدحسین بٹالوی نے ریویو لکھا اور خلاصہ مطالب کتاب جس میں ایک عنوان مؤلف الہامات بھی ہے لکھ کر ان الفاظ میں اس کتاب براہین کی تعریف کی اور یہ عبارت صرف اس امر کے اثبات کے لئے پیش کرتاہوں کہ جو الہاما ت براہین احمدیہ میں درج ہیں، قابل اعتراض نہیں۔ کتاب کی توثیق مقصود نہیں۔یہ اس کتاب کا خلاصہ مطالب ہے۔ اب ہم اس پر اپنی رائے… تا…مزا بھی چکھادیا ہو۔‘‘ (اشاعۃ السنۃ ج۷ نمبر۶ ص۱۶۹) مؤلف براہین احمدیہ کے الہامات پر ایک دو مولویوں نے اعترض کئے تھے جن کا مولوی محمدحسین بٹالوی نے مفصل اور مدلل جواب دیا اور کہا کہ ایسے الہامات کا ہونا جائز ہے اور اسی کتاب میں یہ الہامات بھی مندرج ہیں جن پر مختار مدعیہ نے اعتراض کئے ہیں۔ چنانچہ البشریٰ میں بحوالہ براہین احمدیہ الہامات درج ہیں۔

196
۱… ’’الارض والسماء کماہو معی‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۱۸، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۸۷ حاشیہ درحاشیہ، خزائن ج۱ ص۵۷۹)

۲… ’’قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۲۲، خزائن ج۱ ص۶۲۳)

۳… ’’ربنا عاج‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۴۳، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۴حاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۶۲)

۴… ’’انت منی بمنزلۃ لایعلما الخلق‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۴۶، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۶۱، خزائن ج۱ ص۶۶۸حاشیہ درحاشیہ)

۵… ’’کان اللہ نزل من السماء‘‘ یہ الہام ۱۸۸۶ء کا ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۶، دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

۶… ’’انا فتحنالک فتحامبینا‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۳۷، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۲، خزائن ج۱ ص۲۶۷)

۷… ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۱۲، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۹، خزائن ج۱ ص۲۶۵)

۸… ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۳۸، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۷، خزائن ج۱ ص۶۱۷)

۹… ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘

(تاریخ نزول الہام ۱۸۸۸ء، البشریٰ ج۲ ص۱۰، دافع البلاء ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

۱۰… ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۳۰، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۶، خزائن ج۱ ص۶۰۳)

۱۱… ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۱۲، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۰)

۱۲… ’’وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمیٰ‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۱۲، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۹، خزائن ج۱ ص۲۶۵)

۱۳… ’’وماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۳۶، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۱، خزائن ج۱ ص۲۶۷)

۱۴… ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۲۸، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۰)

۱۵… ’’محمدرسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۳۷، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۶، خزائن ج۱ ص۶۱۶)

بلکہ ان کے علاوہ براہین میں اور بھی الہامات اس قبیل سے ہیں، جیسے ’’انک علی صراط مستقیم، فاصدع بما تومر‘‘ (البشریٰ ج۱ ص۲۷، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۴، خزائن ج۱ ص۵۹۹) ’’وانذر عشیرتک الاقربین‘‘ (تذکرہ ص۲۴۴،۳۷۱، طبع چہارم) وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس وقت ان الہامات کا نزول ہوسکتاہے اور ایسا ہونا قابل اعتراض نہیں۔

یہ جواب اگر نقل کرتے تو پھر کیا تھا۔ اس نے تو اور کفریات کی ایک مکمل لسٹ پیش کردی اور براہین احمدیہ وغیرہ کی تاویلات بیکار کردیں۔ کیونکہ یہی مولوی محمد حسین بٹالوی جنہوں نے تعریف کی ہے اور براہین کی گول مول تاویلات سے مغالطہ کھایاہے۔ جب انہیں دیگر کتب مرزا صاحب اور ان کے دعاوی سے حقیقت حال کا انکشاف ہوگیا تو سب سے پہلے مرزا صاحب کی انہیں کفریات کی بناء پر زبردست تکفیر کی ہے اور مرزا صاحب کے اتباع سے تائب ہو کر ان کا کفر وارتداد آخر وقت تک چار دانگ عالم میں شائع کرتے رہے ہیں۔

(اشاعۃ السنۃ ج۱۵ ص وج بحوالہ سابق وایک تا دس)

۶… دجال وابن مریم کے متعلق اپنا علم آنحضرتﷺ کے علم سے زیادہ بتانا اور آنحضرتﷺ کے علم پاک کی تنقیص وتوہین۔

(بحوالہ ازالہ اوہام ص۶۹۰،۶۹۳، خزائن ج۳ ص۴۷۲،۴۷۳)

۷… آنحضرتﷺ پر اپنی فضیلت کی تمہید اشرک اللہ علی کل شئی۔

۸… خدا نے تجھے ہر چیز میں سے چن لیا۔

197

۹… آسمان سے کئی تخت اترے پس تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔

(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)

۱۰… دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایاگیا۔

۱۱… ’’وآتانی لم یوت احداً من العالمین‘‘ تمام عالموں میں جو کمالات کسی کو نہ دئیے گئے وہ اللہ نے مجھے دیئے۔

(الخاتمہ استفتاء ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵)

مندرجہ ذیل خطابات خصوصی والقابات کو اپنے اوپر چسپاں کرنا اورآنحضرتﷺ کا شریک وسہیم ہونا۔ حالانکہ اوّلین وآخرین میں کسی نے اپنے یا کسی پر انہیں چسپاں نہیں کیا۔

۱۲… ’’وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمیٰ‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۰، خزائن ج۲۲ ص۷۳)

۱۳… ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۹، خزائن ج۲۲ ص۸۲)

۱۴… ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۸، خزائن ج۲۲ ص۸۱)

۱۵… ’’اور مجھے بتلایاگیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو بھی اس آیت کا مصداق ہے کہ ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۳)

۱۶… ’’عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘

(دافع البلاء ص۷، اربعین نمبر۳ ص۴۱، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

۱۷… ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۷۱۳)

۱۸… ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۲،۷۱۳)

۱۹… ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘

( حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۵، اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰)

۲۰… ’’وماینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

۲۱… ’’ماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم‘‘

(دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

۲۲…
  1. منم مسیح زمان و منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

۲۳… ’’پھر اس کتاب میں اسی مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے کہ: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

۲۴… ’’میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں محمدو احمدہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۳حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۶)

۲۵… ’’اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمدو احمد رکھا اور مجھے آنحضرتﷺ کا وجود ہی قرار دیا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

واضح رہے کہ یہ مرزا صاحب کی عادت اتفاقیہ نہیں بلکہ طریقہ مستمرہ ہے تلاش کرکے آنحضرتﷺ کی خصوصیات میں مداخلت اورآنحضرتﷺ کی توہین ان کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ اس کی تائید میں صرف حقیقت الوحی سے بحوالہ سابق اتنے الہامات اور تائیدی طور پر نمونۃً پیش کرتاہوں۔

۲۶… ’’قل انی امرت وانا اول المؤمنین‘‘
198
۲۷… ’’قل جآء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا‘‘
۲۸… ’’الرحمن علم القرآن‘‘
۲۹… ’’انا فتحنالک فتحا مبینا‘‘
۳۰… ’’یا شمس یا قمر انت منی وانا منک‘‘
۳۱… ’’داعیا الی اللہ وسراجا منیرا‘‘
۳۲… ’’ انک باعیننا‘‘ (خاص الخاص خصوصیت)
۳۳… ’’ دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ‘‘
۳۴… ’’ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ۔ ید اللہ فوق ایدیہم‘‘
۳۵… ’’قل انما انا بشرمثلکم یوحیٰ الیٰ انما الٰہکم الٰہ واحد‘‘
۳۶… ’’لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر‘‘ (خاص الخاص)
۳۷… ’’وعلمک مالم تکن تعلم‘‘
۳۸… ’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولا‘‘
۳۹… ’’یٰٓس۔ انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم۔ تنزیل العزیز الرحیم‘‘
۴۰… ’’الم نشرح لک صدرک‘‘

نتیجہ

پس جو شخص باوجود اقرار ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ خود محمدرسول اللہ بنے اور عین محمد کہے اور کہلائے آنحضرتﷺ کو آخری نبی نہ مانے آپ کے معراج جسمانی کا انکار کرکے اپنے واسطے بار ہا ثابت کرے۔ معجزہ شق القمر کو معمولی دکھا کے اس سے بڑھ کر اپنے لئے بتائے، اپنی فتح کو آنحضرتﷺ کی فتح مبین پر ترجیح دے، اپنا علم دینی امور میں آنحضرتﷺ پر زائد بتائے اور ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ خود بنے ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ اپنے کو سمجھے ’’ماینطق عن لہویٰ۔ عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘ اپنی شان میں ٹھہرائے۔ ’’سبحان الذی اسریٰ۔ دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین اوادنیٰ‘‘ مشارکت روا رکھے۔ ’’ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ‘‘ بھی اپنے اوپر چسپاں کرے۔ ’’انا فتحنالک فتحامبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر۔ وانک باعیننا۔ داعیا الی اللہ وسراجا منیرا۔ یٰٓس انک لمن المرسلین‘‘ جیسی ایک دو دفعہ نہیں تقریباً چالیس (۴۰) خصوصیات میں شریک وسہیم بن بیٹھے اور پھر بھی ان کاایمان کلمہ پر قائم رہے، کیونکر باور ہوسکتاہے۔ ہر مسلمان سمجھ سکتا ہے کہ ایسا شخص کروڑہا مرتبہ ’’لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ کا اقرار کرے۔ جب تک ان کفریات سے رجوع نہ کرے۔ ’’لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ پر ایمان ناممکن ہے۔

بحمد اللہ ! مرزا صاحب اور ان کے متبعین کا کلمۂ توحید ’’لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ پر ایمان نہ ہونا ۶۳ مرزا صاحب کے لاجواب دلائل وحوالوں سے ثابت ہوگیا جس کے فیصلہ کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔ یقینا مرزائیت اختیار کرنا کفر اور کھلا ہوا ارتداد ہے جس کے بعد نکاح یقینا منسوخ ہوجائے گا۔ جیسا کہ ابتدائی بحث میں تنقیحات کی روشنی میں مفصل پیش کر چکا ہوں۔ کلمہ توحید پر ایمان ہونے کا مسئلہ ختم ہوگیا۔

199

مرزا صاحب اور ان کے متبعین کا ایمان ایمان مجمل پر بھی نہیں

اٰمنت ب اللہ کما ہو باسمآئہ وصفاتہ وقبلت جمیع احکامہٖ

اس سلسلہ میں مفصل تقریباً ۱۲ دلائل پیش کرکے ابتدائی بحث میں ثابت کیاگیا کہ ایمان مجمل کے کسی حصہ پر مرزا صاحب اور ان کے مریدین کا ایمان نہیں ہے نہ جب تک اسے ترک نہ کریںہوسکتاہے۔ مختار مدعاعلیہ نے اس کے جواب کا اشارۃً وکنایۃً نام تک بھی نہ لیا۔ گویا تسلیم کر لیا کہ ایمان مجمل کے کسی حصہ پر مرزا صاحب کا ایمان نہیں۔ (ایمان مفصل پر مرزا صاحب اور ان کے امتیوں کا ایمان نہیں)

(ایمان مفصل منقول از از الہ اوہام ٹائٹل، خزائن ج۳ ص۱۰۲)

(۱) اٰمنت ب اللہ (۲) وملٰئکتہ (۳) وکتبہ (۴) ورسلہ (۵) والبعث بعدالموت۔

۱… اٰمنت ب اللہ ۔ مختار مدعاعلیہ نے یہاں اس سلسلہ میں کوئی جواب نہیں دیا، پہلے لاالہ الا اللہ کے سلسلہ کے جوابات میں اکتفاء کیا۔ پس ہم بھی عدالت کی ان متروک لاجواب سوالوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں جن کا جواب میں نام تک نہ آیا اور ان کے ہوتے ہوئے اٰمنت ب اللہ پر کسی طرح ایمان نہیں ہوسکتا۔

۲… وملٰئکۃ۔ ملائکہ پر ایمان کا یہ مطلب نہیں کہ زبان سے ملائکہ کہے ورنہ یہود بھی تو ملائکہ پر ایمان رکھتے تھے۔ مگر انہیں ان کی حقیقت کے خلاف بنات اللہ خدا کی بیٹیاں اور فلاسفہ بھی زبانی اقرار کر رکھے تھے۔ مگر کواکب اور سیارات کو ملائکہ قرار دیتے تھے۔ بلکہ ملائکہ کی اس حقیقت اور صفت پر ایمان لانا ضروری ہے جو قرآن پاک اور احادیث واصطلاح شرع میں موجود ہے۔

۳… قرآن پاک میں ملائکہ کے متعلق اس قدر آیات ہیں کہ ان کی حقیقت اور تصور شرعی بالکل ہویدا ہوجاتی ہے۔

اصل بحث میں کسی قدر تفصیل عرض کرچکاہوں۔ یہاں نمونۃً چند آیات پیش ہیں۔

۱… ’’تتنزّل علیہم الملٰٓئکۃ ان لّاتخافوا (حمٓ السجدۃ:۳۰)‘‘
۲… ’’تتنزّل الملٰٓئکۃ والروح فیہا باذن ربہم (القدر:۴)‘‘
۳… ’’علیہا ملئکۃ غلاظ شداد لایعصون اللہ ماامرہم ویفعلون مایؤمرون (التحریم:۶)‘‘
۴… ’’ومن عندہ لایستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون (الانبیاء:۱۹)‘‘
۵… ’’بل عباد مّکرمون (الانبیاء:۲۶)‘‘
۶… ’’واذ قلنا للملٰٓئکۃ السجدو ا لاٰدم (البقرۃ:۳۴)‘‘
۷… ’’واذ قال ربک للملٰٓئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرۃ:۳۰)‘‘
۸… ’’جاعل الملٰٓئکۃ رسلاً اولی اجنحۃ مثنیٰ وثلث ورباع (فاطر:۱)‘‘
۹… ’’وتری الملٰٓئکۃ حآفین من حول العرش یسبحون بحمد ربہ (الزمر:۷۵)‘‘
۱۰… ’’فالمدبرات امراً (النزعات:۵) تلک عشرۃ کاملۃ (البقرۃ:۱۹۶)‘‘

یہ صرف نمونہ ہے ورنہ بہت سی آیات مفصل موجود ہیں۔

شرعاً ملائکہ کی حقیقت

چونکہ ملائکہ کے وجود کی نسبت فلسفیانہ تاویلات اور حکیمانہ توجیہات بیان کی گئی ہیں اور تعلیم اسلام پر دساتیر و وید کی تعلیم کو ترجیح دی گئی ہے۔ ملائک کے فی الخارج وجود کا انکار کیا ہے اور وید اور دساتیر کے مذہب کے موافق ان کو ارواح کواکب بتلایا ہے ان کا چلنا، پھرنا،

200

زمین پر آنا محال کہاہے۔ اس لئے چند آیات واحادیث سے اس عقیدہ کی تکذیب وتردید کی جاتی ہے۔

۱… ’’ولمّا جآء ت وسلنا لوطا سیٓٔ بہم وضاق بہم ذرعا وقال ہٰذا یوم عصیب… تا… وامطرنا علیم حجارۃ من سجیل منضود (ہود:۷۷تا۸۲)‘‘

(ترجمہ) ’’جب ہمارے بھیجے ہوئے لوطm کے پاس آئے وہ ان کے آنے سے خفاء ہوا اور اپنے جی میں رک گیا اور بولا آج کا دن بڑا سخت ہے اور اس کے پاس اس کی قوم بے اختیار دوڑتی آئی یہ پہلے سے برے کام کرتے تھے۔ (حضرت لوط نے کہا) لوگو! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تم کو ان سے پاک تر ہیں۔ تم اللہ سے ڈرو اور مجھ کو میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی نیک راہ نہیں ہے (لوگوں نے کہا) تو جان چکاہے کہ ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ دعویٰ نہیں اور تجھ کو تو معلوم ہے جو کچھ ہم چاہتے ہیں(لوط نے کہا) اگر مجھ کو تمہارے سامنے زور ہوتا یا میں مضبوط جگہ میں ہوتا (توتم ایسا نہ کرسکتے) مہمان بولے: اے لوط! ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں یہ لوگ تجھ تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے۔ تم کچھ حصہ رات سے اپنے گھر والوں کو (اپنی عورت کے سوا) لے کر نکلو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے نہ دیکھے تیری عورت پر تو وہی کچھ آئے گا جو ان پر آئے گا۔ ہاں! ان کے وعدہ کاوقت صبح ہے۔ کیا صبح نزدیک نہیں؟ پس جب ہمارا حکم پہنچا ہم نے وہ بستی زیروزبر کردی اور اس پر تہ بتہ پتھریاں برسائیں۔‘‘

قوم لوط جیسے فسّاق فجّار کا ملائکہ کو جو متمثل بہ بشر تھے دیکھنا حضرت لوطm کا گھر گھیر لینا حضرت کی پریشانی فرشتوں کا حضرت کو اطمینان دلانا، اگلی صبح تمام بستی کو خراب وتباہ کردینا۔ کیا یہ سب کچھ ارواح کواکب کابیان ہے، روح تو حیوانات کو بھی نظر نہیں آتی، ان غیرمادی اجرام کی روح نے تمثل کیونکر حاصل کرلیا اور اگر فرشتے ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ (تو ضیح المرام ص ۳۴، خزائن ج۳ ص۶۸) تو یہ کون تھے جو یہ سب کرشمے لوط اور قوم لوط کو دکھلاگئے۔

۲… ’’ہل اتٰک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین (والذاریات:۲۴)‘‘

(ترجمہ) کیا تجھ کو ابراہیم کے عزت والے مہمانوں کی خبر پہنچی۔

حضرت ابراہیم کے گھر فرشتوں کا مہمان بن کر آنا خلیل الرحمن کا ان کے لئے کھانا تیار کرنا، فرشتوں کا نہ کھانا، بیٹے کی ولادت کا وعدہ اور بشارت خدا کی طرف سے دینا کیا یہ ارواح کواکب کانام اور کام ہے۔

’’اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم… مسّومین (آل عمران:۱۲۴،۱۲۵)‘‘ جب تو مومنوں کو کہنے لگا تم کو کفایت نہیں کہ تمہارا رب تم کو مدد بھیجے تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے ہوں۔ البتہ تم ٹھہر رہو اور پرہیز گاری کرو اور وہ اسی دم تم پر آویں تو مدد بھیجے تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو پلے ہوئے گھوڑوں پر ہوں۔

پہلے تین ہزار فرشتوں کی تعداد کا بتانا اور منزلین ان کی صفت لانا پھر پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ امداد کا کیا جانا اور مسّومین ان کی صفت بتلانا۔ کیا یہ سب ارواح کواکب میں کیا یہی وہ ارواح ہیں جن کو ذرہ بھر بھی جنبش نہیں۔

’’فارسلنا الیہا روحنا فتمثل لہا بشراً سویا (مریم:۱۷)‘‘ ترجمہ پھر ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اس کے سامنے بھر پور مرد بن کر کھڑا ہوا۔

غور کیجئے یہاں بھی کواکب ہی بھیجے گئے یا روح القدس پھر بھر پور مرد بن کر کون کھڑا ہوا تھا اور یہ جواب بھی کس نے دیا: ’’قال انما انا رسول ربک لاہب لک غلاماً زکیا (مریم:۱۹)‘‘ترجمہ اس نے کہا کہ میں تو تیرے خدا کا فرشتہ ہوں۔ اس لئے آیاہوں کہ تجھے ایک ستھرا لڑکا دے جاؤں۔

201

کیایہ سب روح کواکب کے ہی کرشمے ہیں جس کوذرہ بھر جنبش نہیں۔

اب احادیث کی طرف رجوع کیجئے اوّل اس حدیث کو لیجئے کہ ایک سائل آیا اس کی صورت وضع لباس صحابہ کو حیرت میں ڈال دینے والے تھے۔ اس نے اسلام اور ایمان کے متعلق سوال کئے اور چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’فانہ جبریل اتاکم یعلمکم دینکم‘‘ (ترجمہ) یہ حضرت جبرئیل تھے اس لئے آئے تھے کہ تم کو تمہارا دین سکھائیں۔ (رواہ بخاری، مسلم، ترمذی، ابی داؤد، ابن ماجہ) یاد رہے کہ اس کے راوی حضرت عمر فاروقq ہیں۔

۲… دوسری حدیث:’’عن ابن عباسq قال قال رسول اللہ ﷺ یوم بدر ہذا جبرئیل اخذ براس فراسہ علیہ ادات الحوب (رواہ البخاری)‘‘

(ترجمہ) بدر کے دن فرمایا یہ جبرئیل ہے جو سلاح جنگ پہنے گھوڑا پکڑے کھڑا ہے۔

مسلح ہوکر گھوڑے پر سوار ہوکر آنا روح کواکب کا کام ہے یا خداوند کے فرشتے کا۔ جبرئیلm کا گھوڑے پر چڑھ کر آنا جنود فرعون کا ان کو دیکھنا، سامری کا خاک نعل اسپ اٹھالینا، بائبل اور قرآن مجید میں بھی ہے۔ انکار کرنا آسان نہیں۔ احادیث صحیحہ اور بھی اس امر میں بے شمار مل سکتی ہیں۔ مثلاً دو روز تک جبرئیلm کا رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھوانا، رمضان میں رسول کریم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرنا، دحیہ صحابی کی شکل پر آنا، رسول کریم کا ام المؤمنین عائشہؓ یا صدیق اکبرq سے فرمانا کہ یہ جبرئیل ہے اور تم کو سلام پہنچاتاہے۔ وغیرہ وغیرہ!

سچے مسلمانوں کو لازم ہے کہ بمقابلہ ارشادات نبوی کے معتقدات محبوس کو صحیح خیال نہ کر بیٹھیں اور ادیان مختلفہ کی کتابیںن دیکھ کر گمراہ نہ ہوجائیں۔ میں صرف اسی عام جواب پر اکتفاء کرتاہوں جس میں تقریباً ان تمام تاویلات رکیکہ کا قرآنی الفاظ میں جواب ہے جو مختار مدعاعلیہ نے کی نہیں۔ فرشتوں کی ایک دو تعداد بھی نہیں، بلکہ بے شمار ہے۔ جیسا کہ حدیث مسلم میں ہے کہ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کی بوجہ کثرت دوبارہ باری نہیں آتی۔

’’قال النبیﷺ فی صفت بیت المعمور فاذاہو یدخلہ کل یوم سبعون ملکا لا یعودون الیہ‘‘

تفاسیر وکتب عقائد

تفاسیر اور کتب عقائد کے بعض حوالہ بحث کے وقت ذکر ہوچکے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ مختار مدعاعلیہ نے ان کے جواب کا تذکرہ تک نہ کیا۔ عقائد وتفسیر کی کتابوں میں ملائکہ کی شرعی مکمل صفت موجود ہے۔ میں اس وقت صرف ایک گواہ مدعاعلیہ اور مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ امام عبدالوہاب شعرانی کی سب سے مستند کتاب الیواقیت والجواہر کے حوالہ پر اکتفاء کرتاہوں۔ ملاحظہ ہو

(یواقیت والجواہر ج۲ ص۴۴، مبحث۳۹)

وہ سارا مبحث ہی ان کی شرعی مذکورہ بالا حقیقت اور ارواح کواکب کی تردید میں ہے۔

مرزا صاحب کا فرشتوں کے متعلق عقیدہ

۱… فرشتے نفوس فلکیہ اور ارواح کواکب کانام ہے۔

(ملخص توضیح المرام ص۳۳، خزائن ج۳ ص۶۷)

۲… جو کچھ ہوتاہے وہ سیارات سے ہوتاہے اور کچھ نہیں۔

(توضیح المرام ص۳۳،۳۴، خزائن ج۳ ص۶۸)

۳… جبرئیل نہ زمین پر آئے، نہ آتے ہیں۔

(توضیح المرام ص۶۸تا ۷۱، خزائن ج۳ ص۸۶تا۸۸ ملخص)

202

اصل اعتراض

اوّلاً ملائکہ کو نفوس فلکیہ اور ارواح کواکب ماننا بالکل شریعت کے خلاف ہے۔ البتہ یونانیوں اور وید پرستوں کا ضرور یہ عقیدہ ہے۔ دوسرے کواکب وسیارات سے تمام انتظامات منسلک کرنا۔ جیسا کہ مرزا صاحب فرماتے ہیں: ’’اور آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمان میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں، وہ کائنات الارض کی تکمیل وتربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں۔‘‘

(مشکوٰۃ باب المطر)

اوراحادیث میں بخاری ومسلم کی حدیث: ’’مطرنا بنوء کذا… الخ!‘‘ موجود ہے جس میں ان لوگوں کو باری تعالیٰ کی زبان پر کافرین ب اللہ قرار دیاگیاہے جو بارش ہونے کی نسبت ستارہ یا نچھتر کی طرف کرتے ہیں۔ نیز اس حدیث میں یہ بھی تصریح موجود ہے کہ جس نے ستاروں میں علاوہ تین امور کے کوئی اورتأثیر اور کام مانا اس نے اللہ پر زبردست افتراء کیا۔ (۱) زینت سماء دنیا (۲) رجوم شیاطین (۳) ہدایت راہ۔ پس ملائکہ کی یہ حقیقت شرعی کے سراسر خلاف ہے۔ لہٰذا ان عقائد کے ساتھ ایمان بالملائکہ نہیں ہوسکتا۔

مختار مدعاعلیہ کی تاویلات عقلیہ

خلاصہ تاویلات ایمان بالملائکہ

۱… مرزا صاحب کے سراج منیر، براہین احمدیہ، ایام الصلح، آئینہ کمالات، چشمہ معرفت کے چھ حوالے حمامۃ البشریٰ کے۔

۲… توضیح مرام سے چند گول مول حوالے تاویل کے لئے نقل کئے۔

۳… تفسیر عزیزی، یواقیت، تفسیر سرسید۔

جواب نمبر۱:

۱… یہ تقریباً کتب اس زمانہ کی ہیں۔ جب کہ مرزا صاحب کا کفر بہت کچھ مشہور تھا اور وہ بھی متضاد باتیں کرکے دنیا کو دھوکے میں رکھنے کی سعی کرتے تھے۔

۲… میں اصل بحث اوراس جواب الجواب میں مرزا صاحب کے متعارضات کی ایک لسٹ پیش کرچکاہوں اور ان کی یہ عادت ہی ہے۔ مطلقاً مدعی نبوۃ کو کافر بھی کہتے ہیں اور دعویٰ نبوۃ بھی کرتے ہیں۔ اپنے کو نبی کہنے والوں کو دجال بھی کہتے ہیں اور مسلمان بھی، مدعی نبوت پر لعنت بھی بھیجتے ہیں اور رحمت بھی۔ وغیرہ وغیرہ!

۳… میں نے صریح عبارت پیش کی ہے۔ اس کے جواب میں گول مول مجمل عبارات جواب اور تاویل کے واسطے کافی نہیں۔

۴… جس کو متناقض اور متعارض باتوں کی عادت ہو، اس کی ایک عبارت دوسری عبارت کی شرح نہیں بن سکتی۔

۵… کسی کا کفر وارتداد وقطعی دلائل اورصریح حوالہ جات سے واضح ہونے کے بعد اس قسم کی تاویلات قابل التفات بھی نہیں۔ زیادہ تفصیل کا وقت نہیں۔ اصل بحث کے حوالہ پر چھوڑتاہوں۔

جواب نمبر۲: توضیح مرام سے میں نے جو حوالہ پیش کیا ہے وہ نہایت صریح ہے اور مختار مدعاعلیہ نے جو حوالے پیش کئے ہیں۔ ان سے صرف اشارۃً یہ تاویل نکالنی چاہتاہے کہ تعلق ملائکہ کا ارواح سے اس قسم کا ہے۔ یا دراصل ملائکہ ارواح کواکب کا نام نہیں بلکہ روح یا جان کا لفظ صرف ان کے شدید تعلق کی وجہ سے استعمال کیاہے۔ وغیرہ وغیرہ!

203

مگر اہل بصیرت پر پوشیدہ نہیں کہ ملائکہ بھی امور غیبیہ میں سے ہیں۔ ان کی حقیقت ہم خود اپنی عقل سے نہیں قائم کرسکتے بلکہ شریعت غرّاء کی تعلیم کردہ حقیقت پر اکتفاء کرنا ہوگا اور بلا شبہ اب کوئی بھی تاویل کی جائے۔ مرزا صاحب نے وہ حقیقت شرعی بدل ڈالی۔ لہٰذا ان کا ایمان ملائکہ پر ہو نہیں سکتا۔ جب تک اس سے صاف الفاظ میں اوّلاً رجوع کرکے اس شریعت کی پیش کردہ تعریف پر قناعت نہ کریں۔ تفصیل بخوف تطویل نہیں کرتا عدالت ملاحظہ فرمائے۔

جواب نمبر۳:

۱… تفسیر عزیزی کا حوالہ۔ اس میں کہیں ارواح کواکب کو ملائکہ قرار نہیں دیا۔ مطلب بالکل واضح ہے۔ عدالت خود اصل کتاب سے ملاحظہ فرما سکتی ہے۔ نیز ملائکہ کی تفسیر بالکل شریعت کے مطابق ایک دو نہیں متعدد جگہ اسی تفسیر میں موجود ہے اور فلاسفہ وغیرہ کا رد ہے۔ بخوف تطویل عبارات نقل نہیں کرتا۔

۲… یواقیت کا حوالہ ج۲،ص۵۵، ایڈیشن نمبر۲ص۴۴، بحث۳۹۔

’’ان جمیع النجوم الی فقد استحق العزل‘‘

اس میں مختار مدعاعلیہ کے مفید مطلب کوئی بات نہیں۔ کیونکہ ملائکہ کا کواکب ونجوم وغیرہ پر مسلط ہونااور بات ہے اور ارواح کواکب ہونا اور چیز ہے مرزا صاحب تو نفوس فلکیہ اور ارواح کواکب کا نام ملائکہ بتاتے ہیں جس کی نفی صاف الفاظ میں اسی صفحہ کے اگلے صفحہ پر موجود ہے۔ ان آسمانی فرشتوں کی حقیقت وصفات شرعیہ بیان کر کے لکھتے ہیںکہ:’’قال الشیخ وہٰذا بخلاف ارواح الکواکب السماویہ فانما تنزل بالاسماء والبخورات واشباہ ذالک‘‘ (یواقیت ج۲ ص۴۵، بحث ۳۹) شیخ اکبر محی الدین ابن عربی مسلم گواہ مدعاعلیہ فرماتے ہیں کہ یہ ملائکہ ارواح کواکب سے بالکل خلاف ومتضاد حقیقت ہیں۔ کیونکہ ارواح کواکب اسماء وبخورات قابو آسکتی ہیں اور فرشتے کسی عمل سے قابو نہیں آسکتے… الخ! لہٰذا حضرت شیخ کا دامن قدس مرزا صاحب کی تائید سے پاک ہے یہ صرف مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ ہے۔

جواب نمبر۴: سرسید کی تفسیر مسلمانوں پر حجت نہیں اور اس قسم کے نیچری اور دہری عقائد کی بناء پر لوگ ان کے اسلام میں شبہ کرتے ہیں۔ مگر چونکہ ہمیں اپنے اکابر سے موثق طور پر معلوم ہوا ہے کہ وہ آخر عمر میں ان تمام بد عقیدگیوں سے تائب ہوئے تھے۔ اس لئے ہم انہیں اسلامی زمرہ میں شامل کرتے ہیں اور اسلامی القابات سے یاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کرچکاہوں۔ مرزا صاحب کی اگر تمام کفریات اور دعویٰ نبوت سے توبہ ثابت ہوجائے تو انہیں بھی ہم رحمۃ اللہ علیہ کہیں گے۔ کوئی ذاتی نزاع تو ہے نہیں۔

پس نتیجہ یہ نکلاکہ مرزا صاحب کا ایمان اسلامی ملائکہ پر نہیں اور ان کا عقیدہ کفریہ کی ایک بھی نظیر اسلامی لٹریچر میں نہیں ملتی محض مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ ہے۔

نزول ملائکہ

مختار مدعاعلیہ نے بلا وجہ اس بحث کو طول دیا۔ اختلاف اس قدر ہے کہ مرزا صاحب نزول جبرئیل اور ملائکہ کے سرے سے منکر ہیں اور صرف اثر اندازی بناتے ہیں۔

’’نزول کی اصل حقیقت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے۔ تو ضیح مرام سیارات کے نفوس نورانیہ کی تاثیرات کا نام نزول ملائکہ ہے۔‘‘

(توضیح مرام ص۳۹،۴۰، خزائن ج۳ ص۷۱ ملخصا)

204

’’نفوس فلکیہ، ارواح کواکب ملائکہ ایک ہی ہیں۔‘‘

(ملخصاً توضیح مرام ص۳۳، خزائن ج۳ ص۶۷)

عبارات بالا سے واضح ہے کہ ملائکہ کے حقیقی طور پر نزول کے مرزا صاحب صاف منکر ہیں اور انہیں سیارات یا نفوس فلکیہ اور ان کی اثر اندازی کانام نزول بتاتے ہیں۔ قرآن واحادیث سے ملائکہ کا نزول حقیقی پایا جاتاہے، نہ صرف اثر اندازی۔

۱…’’فتمثّل لہا بشرا سویا (مریم:۱۷)‘‘ انسان ہو کر ان کے سامنے آئے۔

۲… غار حرا میں وحی لے کر اترنا۔

۳… جبرئیلm کا کسی انسانی شکل اور دحیہ کلبی صحابی کی صورت میں حقیقت، نہ اثر اندازی کے طور پر اترنا اورصحابہ کا دیکھنا۔

(بخاری شریف)

۴… جبرئیلm کو اصلی صورت پر آنحضرتﷺ نے دو مرتبہ دیکھا۔

(مسلم)

۵… آنحضرتﷺ نے جبرئیلm کو دیکھا ان کے چھ سو بازو تھے۔

(بخاری ذکر الملائکہ)

۶… نزول کے متعلق، تفصیل اور اس کے اقسام کے واسطے مسلم فریقین کے بزرگ علامہ شیخ عبدالوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواہر مبحث (۳۹) ملاحظہ ہو۔

بہرحال خواہ انسانی شکل میں آئیں یا کسی اور اصلی ہو یا مثالی، یہاں صرف بحث اس قدر ہے کہ نزول حقیقی ہے۔ صرف اثر اندازی ارواح کواکب یا نفوس فلکیہ کا نام نہیں۔

مرزا صاحب کے اس ادّعاء پر باطل پر کہ نزول کی اصلی کیفیت صرف اثر اندازی کے طور ہے نہ واقعی طور پر۔

مختار مدعاعلیہ ایک حوالہ بھی اسلامی لٹریچر سے نہ پیش کرسکا، مثالی اور غیر مثالی شکل پر بحث کرتا رہا جو موضوع سے بالکل غیر متعلق ہے۔ تمام اہل اسلام نزول ملائکہ خواہ مثالی شکل ہو یا حقیقی واقعی طور پر مانتے ہیں اور یہی قرآن اور احادیث وکتب عقائد سے ثابت ہے۔

اور مرزا صاحب صرف اثر اندازی مانتے ہیں نہ واقعی نزول، پس نزول ملائکہ کا واقعی طور پر انکار کرکے یعنی مرزا نے اپنی کفریات میں ایک اور کفر کا اضافہ کیا۔

وکتبہ

نبی کریمa یا انبیاء سابقین پر وحی یا کتب منجانب اللہ نازل ہوئیں، وہ قطعی اور یقینی ہیں اور آنحضرتﷺ کے بعد چونکہ وحی نبوۃ کا بالاتفاق دروازہ بند ہے۔ لہٰذ یہ صورت وحی اگر کسی کو کچھ منکشف ہو وہ الہام ہی ہے اور وحی نبوۃ کی طرح قطعی نہیں۔ ملاحظہ ہو (الیواقیت والجواہر بیان وحی الہام) آگے وحی کے سلسلہ میں اس کی تفصیل آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! پس اگر آنحضرتﷺ کے بعد کوئی اپنی وحی والہام پر جس طرح ایمان رکھتاہے ویساہی ایمان اللہ کی منزلہ کتابوں پر بتائے یا ان میں سے کسی ایک کی بھی توہین کرے یا موہم تنقیص فقرات استعمال کرے۔ اس کا ایمان کسی طرح کتب الٰہیہ پر قابل اعتناء نہیں ہوسکتا۔ گوزبان سے کتنا ہی کہتا رہے۔

مرزا صاحب نے مذکورہ بالا امور کا ارتکاب کیا۔

ملاحظہ ہوں حوالہ جات ذیل۔

۱… ’’جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)

205

۲… ’’قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷)

۳…

  1. آنچہ من بشنوم ز وحی خدا

    بخدا پاک دانمش ز خطاء

  2. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

(درثمین ص۷۷، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

۴… مرزا صاحب کی عادت بد زبانی اور سخت کلامی کی تھی۔ چنانچہ جب مرزا صاحب سے لوگوں نے اس کی گرفت کی تو جواب یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اوّلاً یہاں واقعہ کچھ اس طرز کا ہوا۔ گالی نہیں۔ دوسرے اور اگر ہر ایک سخت اور آزاردہ وہ تقریر کو محض بوجہ اس کی مرارت اور تلخی اور ایذاء رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ ساراقرآن گالیوں سے پر ہے۔‘‘ (ازالہ بار پنجم ص۱۴، خزائن ج۳ ص۱۰۹) یہ وہی مرزا صاحب کی قدیمی عادت ہے کہ اپنی تمام غلطیاں قرآن پاک اور نبی کریمa کے ذمہ لگاتے ہیں۔ (العیاذب اللہ )

۵… قرآن پاک کے سواء کسی آسمانی وغیر آسمانی، الہامی یا غیر الہامی کتاب کے الفاظ تحدی کے واسطے پیش نہیں کئے گئے، یہ صرف قرآن پاک کی اخص الخاص امتیازی شان ہے کہ: ’’ان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فأتوا بسورۃ من مثلہ (البقرۃ:۲۳) قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یأتوا بمثل ہٰذا لقرآن لا یاتون بمثلہ ولوکان بعضہم لبعض ظہیرا (بنی اسرائیل:۸۸)‘‘

مگر مرزا صاحب نے اپنا قصیدہ اعجازیہ بطور تحدی اور مقابلہ کے قرآن کی طرح اعجاز قرار دے کر پیش کیا۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر مرزاصاحب اور ان کے مریدین کا ایمان وکتبہ پر نہیں ہوسکتا۔ مفصل ابتدائی بحث میں ملاحظہ ہو۔

مختارمدعاعلیہ کی تاویلات

خلاصہ تاویلات:

’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

۱… (تاویلات) چونکہ مجموعہ الہامات میں درج ہیں، لہٰذا میرے منہ سے خدا کا منہ مراد ہوگا۔

۲… اخبار البدر ۱۱؍جولائی ۱۸۹۵ء سے ایک تاویل۔

الجواب: مجموعہ الہامات میں درج ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام متکلم ضمیریں خدا ہی کی طرف ہوں۔ اسی مجموعہ الہامات سے نمونہ ملاحظہ ہو۔

۱… نحمدک ہم تیری تعریف کرتے ہیں۔

(حقیقت الوحی ص۹۴، خزائن ج۲۲ ص۹۷)

اس ضمیر سے خدا مراد نہیں۔

۲… ’’یا نبی اللہ کنت لا اعرفک‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۰، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴)

یہاں بھی ضمیر متکلم سے خدا مراد نہیں، مرزا صاحب خود یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ اے خدا کے نبی میں تجھے شناخت نہیں کرتاتھا۔

۳… ’’رب علمنی ماہو خیر عندک‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

۴… ’’ان ربی قوی قدیر‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۴، خزائن ج۲۲ ص۱۰۷)

۵… ’’انی صادق انی صادق وشہد اللہ لی‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۴، خزائن ج۲۲ ص۱۰۷)

206

(ترجمہ مرزا صاحب) میں صادق ہوں میں صادق ہوں اور خدا میری گواہی دے گا۔

۶… ’’ان امرت من الرحمن فاتونی‘‘(ترجمہ) میں خدا کی طرف سے خلیفہ کیا گیا ہوں، پس تم میری طرف آجاؤ۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)

۷…’’انی لاجد ریح یوسف… الخ!‘‘(ایضاً) اور مجھے گم گشتہ یوسف کی خوشبو لائی ہے۔ اگر تم یہ نہ کہو کہ یہ شخص بہک رہا ہے (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) کیا مختار مدعاعلیہ ان متکلم کے ضمائر سے بھی خدا مراد لے گا۔ اس لئے کہ یہ مجموعہ الہامات میں درج ہے۔

مختار مدعاعلیہ کا اقرار

مختار مدعاعلیہ اپنی بحث لاالہ کے ہیڈنگ کے تحت الہام نمبر۱۶ میں: ’’اصلی واصوم واسہر وانام واجعل لک انوار القدوم واعطیک یا یدوم… الخ!‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۰۳،۱۰۴، خزائن ج۲۲ ص۱۰۷) میں یہ تاویل کہ یہ مجموعہ الہام میں سے ہے۔ سب ضمیریں خدا کی طرف ہونا فراموش کرکے تسلیم کرلیا کہ پہلے حصہ میں متکلم ضمیریں ملہم کی طرف اس کی شان کے اظہار کے واسطے ہیں اور دوسرے میں خداکی طرف۔ لہٰذا اسی کے اقرار سے یہ تاویل غلط ہوگئی اور ہر معمولی اردو داں بھی اس کا مطلب سمجھ سکتاہے۔ ’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں‘‘ منہ سے مرزا صاحب کا منہ مراد ہے، نہ خداتعالیٰ کا۔ ورنہ اردو عبارت بالکل مختل ہوجائے گی۔ بہرحال یہ تاویل محض لغو اور بے سود بلکہ عجز کا اقرار ہے تاویل نمبر۲۔

الجواب: ہمارا اعتراض حقیقت الوحی کے الہام پر ہے جو ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء کی ہے اور جواب البدر ۱۱؍جولائی ۱۹۰۵ء سے عنایت ہو رہا ہے۔ سبحان اللہ !

(۲۱)

فبأی حدیث بعدہ یؤمنون

مختار مدعاعلیہ نے اس پر طول طویل تقریر کی، مگر اصل مدعی واعتراض کو ذکر تک نہ کیا۔ اعتراض صرف آیت سے نہ تھا، بلکہ اس کی تفسیر جامع البیان ومدارک سے نقل کی تھی کہ:’’مع انہ لاحدیث یساویہ او یداینہ فلا حدیث احسن بالایمان منہ جامع البیان معہ انہ معجزۃ باہرۃ من بین کتب سماویہ فبای کتاب بعدہ یومنون‘‘

(مدارک)

یعنی کوئی کتاب کوئی بات قرآن پاک کے مساوی اور ہم پلہ نہیں۔ نہ کوئی آسمانی کتاب اس جیسی معجزہ ہے۔ بس کسی کتاب پر اس جیسا اس کے بعد ایمان نہیں ہوسکتا۔

اور مرزاصاحب فرماتے ہیں: ’’مجھے میری وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن پر۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)

  1. آنچہ من بشنوم ز وحی خدا

    بخدا پاک دانمش ز خطاء

  2. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

(درثمین ص۷۷، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اس کے بعد جواب میں مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ مختار مدعیہ نے آیت تو پیش کردی۔ اس کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ حالانکہ میں نے اپنا مطلب نہیں بلکہ ائمہ مفسرین کا نقل کیا ہے۔ پھر خود تراشیدہ اپنی تفسیر اور لاطائل تاویلات کرنا کہ تشبیہ سے یہ مراد ہے منہ سے یہ مطلب ہے وہ

207

نہیں، محض بے سود اور ناقابل التفات ہیں۔ کیونکہ جب اصل پوائنٹ ہی چھوڑ دیا تو غیر متعلق امور کا جواب ہم سے متعلق نہیں۔ ہم نے تبرعاً جواب دیاہے ورنہ ہماری طرف سے غیر متعلق کہنا کافی تھا۔

جواب تو یہ ہوتا ہے کہ مرزا صاحب جیسی توہین آمیز عبارت کسی مسلمان کے کلام سے پیش کرتے صرف اپنی طرف سے اس واضح عبارت میں تاویلات پیش کرنا محض بے سودہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کرچکاہوں۔ مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب کی وحی قرآن کے بالکل موافق ہے۔ اس کا کوئی کلمہ بھی قرآنی تعلیم کے معارض نہیں۔ محض غلط بلکہ بالکل قرآن کے خلاف تحدی ہے۔ جب کہ اوپر نمونہ گزرچکاہے۔

جیسا کہ مختار مدعاعلیہ کو یہ مسلم ہے کہ:

۱… مرزا صاحب نے قصیدہ اعجازیہ کو بطور تحدی پیش کیا۔

۲… اورخطبہ الہامیہ کے ٹائٹل پر لفظ آیت لکھا اور یہ بھی کہ اس کے مثل کوئی نہیں لاسکتا۔

۳… خطبہ الہامیہ پر ہے: ’’وما کان لبشر ان ینطق بمثلی… الخ!‘‘ میری طرح کوئی بشر نہیں کہ یوں قلم برداشتہ عبارت لکھ سکے۔ پھر قرآن کے مقابلہ میں کونسی کسر اٹھا رکھی۔ کوئی آسمانی کتاب یوں مقابلہ کے چیلنج سے پیش نہ کی گئی۔ خواہ آنحضرتﷺ باوجودیکہ افص العرب تھے اور خود فرماتے ہیں: ’’انا افصح العرب والعجم ولا فخر‘‘ کبھی اپنا کلام یوں مقابلہ کے واسطے پیش نہ کیا یہ صرف حضرت آدمm سے قیامت تک قرآن ہی کی خصوصیت تھی، مگر مرزا صاحب نے اسے خاک میں ملادیا۔ مسلمان تو اسے توہین ہی سمجھتے ہیں۔ ہاں! مختار مدعاعلیہ کو توہین سمجھ میں نہیں آسکتی وہ معذور ہیں۔

مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ

مسئلہ واضح ہے جواب کی حاجت ہی نہ تھی مگر تبرعاً تاویلات کا خلاصہ پیش کرتاہوں تاکہ ان کی حقیقت معلوم ہوجائے۔

۱… اورجب آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ آپ کو عربی انشاء پردازی کا معجزہ جس میں آپ تمام دنیا کے آدمیوں پر غالب رہے اور عرب وعجم میں کوئی آپ کا مقابلہ نہ کرسکا اس لئے عطاء ہوا تھا…الخ!

الجواب: یہ بات کہ ان کو عربی انشاء پردازی کا معجزہ عطاء ہوا تھا اور عرب وعجم میں کوئی آپ کا مقابلہ نہ کرسکا، نہایت مضحکہ خیز ہے۔ قصیدہ اعجازیہ کی صرفی نحوی معانی کی غلطیاں علماء نے شائع کردی ہیں جس کو مبتدی طالب علم بھی نہیں کرسکتا۔ قصیدہ اعجازیہ کاصرف ایک شعر بحوالہ سابق ملاحظہ عدالت کے واسطے پیش ہے۔

  1. واما حسین فاذکروا دشت کربلا

    الیٰ ہذا الایام تبکون فانظروا

(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)

باقی یہ تاویل کہ قرآن کے حقائق ظاہر کرنے کو یہ معجزہ ملاتھا، محض لغو ہے۔ قرآن پاک کی ہمسری کسی لحاظ سے ہو توہین کلام الٰہی ہے اور قرآن کے حقائق وغیرہ کا حیلہ محض مغالطہ ہے۔

تاویل نمبر۲: اس سے اب تک لازم آنا بالکل باطل قطعاً ناقابل التفات ہے… الخ!

الجواب: جب کوئی مدلل جواب سے عاجز آجاتاہے تو یہی کہا کرتا ہے کہ بالکل باطل قطعاً ناقابل التفات ہے۔ اس کا ہمیں کوئی شکوہ نہیں۔

تاویل نمبر۳: اگر اس سے قرآن کی توہین ہے تو قرآن کو بھی توہین کا مرتکب ماننا پڑے گا… الخ!

208

الجواب:

۱… یہ وہی بات ہے کہ مرا صاحب نے کلام کا اعتراض قرآن پاک پر دہرایا۔

۲… اعتراض صرف لفظ آیت پر نہیں، بلکہ اس پر ہے کہ کوئی اس جیسا لانہیں سکتا۔

تاویل نمبر۴: ’’الہدی ولجنہ النور‘‘ وغیرہ سے تاویلات۔

الجواب: اپنی بلاغت قرآن کے بعد یا قبل جو کچھ انہیں تحدی اور مقابلہ میں اپنا کلام قرآن کی طرح پیش کرکے قرآن پاک کی خصوصیت پر جو جو زد ہے اس کا جواب نہیں ہوسکتا۔

(۴)

قرآن گالیوں سے پرہے

مختار مدعاعلیہ اپنی عادت کے مطابق اعتراض اور استدلال کا خلاصہ قطع وبرید کرکے نقل کرتاہے اور مختار مدعیہ کے ذمہ لگاتاہے۔

یہاں اس فقرہ مذکورہ بالا پر اعتراض نہیں بلکہ اعتراض یہ ہے کہ مرزا صاحب کی سخت کلامی جس کا نمونہ اوپر پیش کرچکاہوں اور آگے آئے گا۔ جب اعتراض کیا گیا تو فوراً اسے بیان واقعہ کہہ کے قرآن پاک کے ذمہ لگادیا کہ اگر یہ گالیاں جو بیان واقعہ ہیں گالیاں ٹھہریں تو قرآن پاک کو گالیوں سے پر ماننا پڑے گا۔

بس اعتراض صرف اس قدر ہے کہ مرزا صاحب کی فحش کلامی اور بدزبانی، حیاسوز کلمات کو اگر سب وشتم کو گالی کہا جائے تو بقول مرزا صاحب قرآن پاک کو گالیوں سے پر ماننا پڑے گا۔ یہ مقابلہ قرآن سے اپنی سخت کلامی کا ان دلائل اور دیگر حوالہ جات سے جو اوپر پیش ہوچکے ہیں۔ مرزا صاحب کے ایمان بالقرآن کو خطرہ میں ڈالتے ہیں اور ان امور کے بعد ایمان بکتبہ کا دعویٰ محض زبانی اور غلط ہے۔ عبارت کاٹ کے نہیں پیش کی کہ تاویل کافی ہوجائے نہ اتنے فقرہ پر صرف اعتراض ہے کہ قرآن گالیوں سے پر ہے۔ یہ تو مختار مدعاعلیہ کی تصنیف ہے۔ ہمارا اعتراض توپورے مضمون اور اپنی سخت کلامی کا قرآن پاک کے پاکیزہ طرز خطاب پر قیاس کرنے کا ہے جس کے جواب کی طرف مختار مدعاعلیہ نے اشارہ تک نہ کیا۔ غیر متعلق باتیں اور تیز کلامی کرکے صفحہ سیاہ کر ڈالا اور یہ اعتراضی پوائنٹ لاجواب کا لاجواب ہی رہا۔

باقی مرزا صاحب کا کشتی نوح اور مواہب الرحمن وغیرہ میں قرآن کے محامد بیان کرنا جواب کے لئے کافی نہیں۔ جب کہ صریح توہین لاجواب اوپر پیش ہوچکی اور مرزا صاحب کی چونکہ عادت ہی متعارض بولنے کی تھی۔ اس لئے ان کا ایک کلام دوسرے کی شرح کیا بن سکے گا۔ جیسا کہ اوپر مفصل عرض کرچکاہوں۔ بہرحال مرزاصاحب کا ایمان بکتبہ اسلامی اصول پر ثابت نہ ہوسکا۔

نوٹ: مختار مدعاعلیہ نے مضمون خبط کرکے اور مغالطہ کے واسطے توہین کے دونمبر (۵) بشارۃ اسم احمد اور(۶) حدیث کی توہین بے ربط توہین کے سلسلہ سے لے کر یہاں ایمان مفصل کے سلسلہ میں چھوڑ دیا ہے اور پھر اس کے بعد ورسلہ شروع کیا۔ میں یہ نمبر(۵) و(۶) اسی توہین کے سلسلہ میں ذکر کروں گا تاکہ یہ مضمون بے ربط نہ ہوجائے اور ایمان مفصل کے وکتبہ کے جواب کا ختم کرکے ورسلہ شروع کرتا ہوں۔

ورسلہ

مختار مدعاعلیہ نے ہماری پیش کردہ ایک دلیل کا بھی جواب نہ دیا بلکہ ذکر تک نہ کیا اور صرف اس کہنے پر اکتفاء کیا کہ مرزا صاحب اور آپ کے تمام پیرو۔ اللہ تعالیٰ کے تمام بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور اس زبانی اقرار کی تائید حقیقت الوحی،ا زالہ اوہام، چشمہ معرفت سے پیش کی کہ وہاں رسول بھیجنے یا ان پر ایمان لانے یا دیگر ایمانیات کا ذکر ہے۔ حالانکہ اعتراض یہ تھا کہ جو شخص انبیاء کرام

209

اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتاہے کہ:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بے

    من بعرفان نہ کمترم ز کسے

  2. آنچہ داد ست ہر نبی راجام

    داد آن جام را مرا بتمام

  3. زندہ باشد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیرانم

(نزول المسیح ص۹۹، ۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷، ۴۷۸)

  1. روضہ آدم کہ تھا نا مکمل اب تک

    میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار

( براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۴، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

  1. آدمم نیز احمد مختار

    در برم جامۂ ہمہ ابرار

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

  1. میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

( براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳)

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجا است تابنہد پا بہ منبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

ساتھ ہی یہ بھی کہے کہ یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں۔

تو وہ گو زبان سے ایمان بالرسل کا قائل ہو۔ مگر اس کا ایمان اللہ کے رسولوں پر نہیں ہوسکتا۔ مختار مدعاعلیہ نے بھی اسے لاجواب سمجھ کر یہاں نظر انداز کر دیا۔ کیونکہ مرزا صاحب کے ان کفریات اوردعاوی کے بعد ان کا ایمان بالرسل ثابت کرنا واقعی محال ہے۔ ورنہ کچھ اشارہ کنایہ حوالہ تو ہوتا۔ ف اللہ الحمد!

(والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ)

مرزا صاحب نے بھی ازالہ اوہام میں یہ دونوں فقرے اپنے ایمانیات کی فہرست سے خارج کردئیے۔ بس ان کے کسی امتی سے ان کے متعلق لب کشائی کی کیا توقع تھی۔ بہرحال اس سلسلہ کے تمام حوالے اعتراضات بھی لاجواب رہے۔

(والبعث بعد الموت)

اس سلسلہ میں جو پیش کیاتھا اس کا جواب کیا بن پڑتا اس کانام تک نہ لیاگویا بحث میں اس کا ذکر بھی نہ تھا اور دراصل مرزا صاحب کے متبعین اس عقیدہ کے اثبات میں سخت عاجز ہیں۔ کیونکہ ایک طرف مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ مرنے والا فوراً جنت یا دوزخ میں پہنچ جاتاہے اب اگر قیامت میں نفخ صور کی طلبی پر قبر سے اٹھیں تو جنت اور دوزخ کے بعد دخول خروج ماننا پڑے گاجو جائز نہیں۔ لہٰذا قبر سے مردے نہ اٹھیں گے بلکہ ترقی مدارج ہوگی۔

(ملخص ازالہ اوہام ص۳۴۴تا۳۴۸، خزائن ج۳ ص۲۷۵تا۲۷۸)

210

دوسری طرف نص قطعی قرآن حکیم میں موجود ہے کہ مردے قبروں سے قیامت میں اٹھیں گے۔

۱… ’’ونفخ فی الصور فاذاہم من الاجداث الی ربہم ینسلون (یٰس:۵۱)‘‘

۲… ’’وان اللہ یبعث من فی القبور (حج:۷)‘‘

۳… ’’اذاالقبور بعثرت (الانفطار:۴)‘‘

۴… ’’الا یظن اولئک انہم مبعوثون لیوم عظیم یوم یقوم الناس لرب العالمین (المطففین:۴تا۶)‘‘

۵… ’’ منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃ اخریٰ (طٰہٰ:۵۵)‘‘

مسلمانوں کا عقیدہ کہ قیامت کے دن مردے قبروں سے نکل کر حساب کتاب کے لئے میدان محشر میں جمع ہوںگے۔

’’ ونفخ فی الصور فاذاہم … ینسلون (یٰس:۵۱) قال من یحی العظام …تا…خلق علیم (یٰس:۷۸،۷۹) کما بدأنا اول… کنا فاعلین (الانبیاء:۱۰۴) کذلک یحی اللہ الموتیٰ (البقرۃ:۷۳) ان اللہ یبعث من فی القبور (الحج:۷) منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃ اخریٰ (طٰہٰ:۵۵) افلا یعلم اذا بعثر مافی القبور (العٰدیات:۹) اذ القبور بعثرت۔علمت نفس ماقدمت واخرت (الانفطار:۴،۵) یقولون ء انا لمردودون فی الحافرۃ۔ ء اذا کناعظاما نخرہ (النٰزعات:۱۰،۱۱) یوم ینفخ فی الصور فتاتون افواجا (النبا:۱۸) ونفخ فی الصور… لرب العالمین (الزمر:۶۸تا۷۵)‘‘ سے صاف ثابت ہے کسی تاویل کی حاجت نہیں۔ نیز ’’یٰآیتہا النفس المطمئنۃ… وادخلی فی جنتی (الفجر:۲۷تا۳۰) ونفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوٰت والارض… فادخلوہا خالدین (الزمر:۶۸تا۷۳) ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید… ذالک یوم الخلود (ق:۲۰تا۳۴)‘‘

نوٹ: (مشکوٰۃ شریف ص۴۸۲،۴۸۳،۴۸۷) پر مصرح احادیث صحیحہ لوگوں کے قبروں سے نکل کر محشر میں جمع ہونے وغیرہ کی مفصل موجود ہیں۔ بخوف طوالت ترک کی جاتی ہیں۔

ان آیات واحادیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن حساب کتاب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ رہیں گے۔ ’’ماہم بخارجین‘‘ اس موقع پر ہے ورنہ حضرت آدم وحوا جنت سے کیسے نکالے گئے۔ ہاں! قیامت سے پہلے دخول روحی تھا۔ اب جسمی ہوگا۔

لہٰذا مرزا صاحب کاایمان کسی تاویل سے بعث بعدالموت پر نہیں ہوسکتا اور مختار مدعاعلیہ کے سکوت نے اسے اور بھی مضبوط کردیا۔ پس ’’اٰمنت ب اللہ وملٰئکتہ وکتبہ‘‘ کے جواب نہ بن سکنے اور رسلہ کے جواب ناکافی اور والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ والبعث بعدا لموت کے تذکرہ تک نہ کرنے سے اچھی طرح واضح ہوگیا کہ جس طرح مرزا صاحب کا ایمان کلمۂ توحید اورایمان مجمل پر نہیں، اس طرح مرزا صاحب اور ان کے ماننے والوں کا ایمان مفصل اور اس کے کسی جز پر نہیں اور جب تک ہمارے پیش کردہ عقائد سے صاف لفظوں میں رجوع نہ کریں، قیامت تک ایمانیات کے کسی شعبہ کسی جزء پر ایمان نہیں ہوسکتا۔

استدعا

یہ وہ حوالہ جات تھے جو جرح میں گواہان مدعاعلیہ کو بھی مسلم ہیں۔ بس میں عدالت عالیہ کی توجہ اس بات کی طرف منعطف کرانا چاہتاہوں کہ علمی مباحث تو آگے آئیںگے۔ فیصلہ کے واسطے یہی حصہ کافی ووافی ہے۔

کیونکہ مدعاعلیہ کو اپنے احمدی ہونے کا اقرار ہے گواہ نمبر۱ نے یکم؍ مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں احمدی اور قادیانی اور مرزائی ایک ہی تسلیم کیا ہے۔

211

لہٰذا تنقیح نمبر۱ کے پہلا حصہ کو ’’کیا مدعاعلیہ نے مذہب قادیانی یا مرزائی اختیار کیا ہے۔‘‘بلاشبہ ثابت ہوگیا۔

تنقیح نمبر۱ کے دوسرے حصہ کہ کیا اس سے ارتداد لازم آتاہے۔

اس کے اثبات کے واسطے یہ کافی سے زائد ہے کہ مرزائیت اختیار کرنے سے نہ لاالہ الا اللہ پر ایمان قائم رہے، نہ محمد رسول پر، نہ ایمان مجملاٰمنت ب اللہ کما ہو باسمآئہ وصفاتہ وقبلت جمیع احکامہ پر، نہ ایمان مفصل اٰمنت ب اللہ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ والبعث بعد الموت پر۔

یہ ایمان کی بنیادیں اور اصول تھے۔ اس کے بعد ایمان کیا چیز ہے۔ پس مرزا صاحب کی اتباع اور کفرو ارتداد لازم وملزوم ہیں۔ پس تنقیح نمبر کا دوسرا حصہ بھی ثابت ہوگیا۔

باقی ارتداد سے فسخ نکاح ہونا جو دوسری تنقیح ہے وہ ہر دو گواہوں کو مسلم ہے کہ عام حکم اور تعامل فسخ نکاح کا ہے، جیسا کہ گزرچکا۔ پس اس صورت میں ڈگری بحق مدعیہ ہونی چاہئے۔ ’’لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ (ایمان مجمل ومفصل کی بحث ختم ہوگئی)

وجوہات تکفیر وترتیب شہادت

(۱)

دعویٰ وحی نبوت … بحث متعلقہ وحی

مختار مدعاعلیہ کی تمہیدی تقریر:

’’اس موضوع پر بحث کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گواہان مدعیہ نے مطلق ادّعائے وحی کو کفر قراردیاہے۔ چنانچہ گواہ نمبر۳ نے اپنے بیان میں لکھوایا ہے کہ ادّعاء وحی کفر ہے۔ اگرچہ مدعی نبوت نہ ہو اور اگر کوئی شخص مطلق وحی کا دعویٰ کرے خواہ نبوت کا مدعی نہ بھی ہو، تب بھی کافر ہے اور بنی آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے اور غیروں کے لئے کشف، الہام یا وحی لغوی ہوسکتی ہے اور وحی کی یہ تعریف کی ہے۔ فرشتہ بھیجا جائے، فلاں سے جاکر یہ کہہ دو اور اپنی تائید میں شرح شفاء کا حوالہ بھی پیش کیا ہے۔ لیکن باوجود اس کے مختارمدعیہ نے صرف وحی رسالت کو بند قرار دیا ہے۔ گو گواہ نمبر۳ کا بیان مختار مدعیہ کے اس دعویٰ کو باطل ثابت کرتاہے۔

نیز گواہ نمبر۱ نے ۲۱؍ اگست کو بجواب جرح تسلیم کیاہے کہ آیت: ’’ماکان لبشر‘‘ میں جو طرق وحی بیان کئے گئے ہیں وہ امت محمدیہ پر بند ہیں اور گواہ نمبرالف وب نے مطلق وحی کے بقاء سے یہ کہہ کر انکار کیاہے کہ وحی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ نبوت اور وحی لازمی ہے۔ اگر دوسری وحی آسکتی ہے تو ممکن ہوجائے گا کہ قرآن شریف کا کون ساحکم منسوخ ہوجائے۔‘‘

الجواب: مختار مدعاعلیہ کا یہ محض مغالطہ وفریب ہے۔ اس نے اپنی شہادت میں لکھوایا تھا کہ: ’’فریق دوم نے لکھوایا کہ ادّعاء وحی کفر ہے۔ آخری بحث میں میں نے اس کی یہ کذب بیانی بے نقاب کی اور گواہ نمبر۲ کی اصلی عبارت نقل کردی کہ وہ لکھوا رہے ہیں کہ: ’’ایسے ہی ادّعاء نبوت اور ادّعاء وحی نبوت بھی کفرہے۔‘‘ کتنی واضح عبارت میں وحی نبوت کی تصریح فرمارہے ہیں، مگر مختار مدعاعلیہ کو مطلق وحی نظر آتی ہے، اس کا کوئی علاج نہیں۔

اب جوابی بحث کے اس ابتدائی مذکورہ بالا حصہ میں مندرجہ ذیل الہامات پیش کئے ہیں اور اپنی مغالطہ دہی کا پورا پورا ثبوت بہم پہنچایاہے۔ میں عدالت کی سہولت کے لئے ایک کالم میں اس کا بہتان اور دوسرے میں اصل حقیقت پیش کرتاہوں۔

212

بہتان

۱… چنانچہ گواہ نمبر۳ نے اپنے بیان میں لکھوایا ہے کہ ادّعاء وحی کفر ہے اگرچہ مدعی نبوت نہ ہو۔

۲… اگر کوئی شخص مطلق وحی کا دعوی کرے خواہ نبوۃ کا مدعی نہ بھی ہوتب بھی کفرہے۔

۳… گواہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کیا ہے آیت ماکان لبشر میں جو طرق وحی بیان کئے ہیں وہ امۃ محمدیہ پر بند ہیں۔

۴… گواہ نمبر الف ونمبرب نے مطلق وحی کے بقاء سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ وحی نہیں ہوسکتی، کیونکہ نبوۃ ووحی لازمی چیز ہے… الخ!

اصل حقیقت

۱… محض بہتان ہے اصل عبارت یوں ہے: ’’ادّعاء وحی کفر ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کہے کہ نبوۃ آنحضرتﷺ کے بجائے مجھ پر وحی ہوتی ہے اور وہ قرآن کی طرح ہے تو وہ کافر ہے۔‘‘ ملاحظہ فرمائیںکہ گواہ نمبر۳ نے کس صفائی سے خود ہی معنی کرکے تفسیر کردی کہ ادّعاء اس کا کفرہے جو قرآن کی طرح (یعنی وحی نبوت) ہو۔ اس نے کہیں مطلق وحی نہیں کیا، نہ مطلق وحی کا لفظ ہے۔ بلکہ قرآن پاک جو مسلمہ فریقین وحی نبوت ہے۔ اس کی طرح جو اپنی وحی کا دعویٰ کرے وہ کافر۔

۲… پس گواہ نمبر۳ پر یہ بہتان ہے کہ اس نے مطلق وحی کے دعویٰ کو کفر بتایا، بلکہ وحی نبوت اور رسالت کو کفر بتایاہے جو قرآن کی طرح ہو۔ لہٰذا مختار مدعاعلیہ کے دعویٰ سے سر مو خلاف نہیںمحض افتراء ہے۔ یہ عبارت بھی پہلی عبارت سے متصل ہے اور مطلق کا لفظ ہر گز وہاں مذکور نہیں۔ مختار مدعاعلیہ کی تصنیف اور اس کا مغالطہ ہے۔ اس وحی نبوت کو جو قرآن کی طرح سمجھی جائے۔ گواہ نمبر۳ بیان کررہے ہیں،نہ وہاں لفظ مطلق وحی ہے نہ خواہ نبوت کا دعویٰ نہ ہو۔ اصل عبارت یہ ہے: اگر کوئی شخص کہے کہ نبوت آنحضرتﷺ کے بعدمجھ پر وحی ہوتی ہے اور وہ وحی قرآن کی طرح (یعنی وحی نبوت ورسالت ہے) تو وہ کافر ہے۔ اس کے کفر کے اثبات کے لئے تمام مذکورہ عبارات کافی ہیں۔ کیونکہ وحی (یعنی مذکورہ بالا ) لازم نبوت ہے۔ جو شخص اس (وحی نبوت مذکورہ ) کا مدعی ہو، اگرچہ بظاہر نبوۃ کا مدعی نہیں، مگر فی الحقیقت مدعی نبوت ہے۔ (کیونکہ وحی نبوت کا دعویٰ درپردہ نبوت کا دعویٰ ہے)

پس ثابت ہوگیاکہ مختار مدعاعلیہ نے گواہ نمبر۳ کا بیان اپنے لفظوں میں نقل کرکے اس پر افتراء کیا۔ ورنہ وہ دراصل دعویٰ وحی نبوۃ کی تکفیر کو کہہ رہے ہیں نہ مجازی ولغوی۔ کیونکہ اس وحی نبوت کو پیغمبروں کے ساتھ مخصوص کرکے لکھتے ہیں کہ: ’’غیروں کے لئے کشف والہام یا وحی لغوی ہوسکتی ہے۔‘‘ جب وحی لغوی کی غیروں کے واسطے صراحت فرماتے ہیں تو مطلق وحی کا دعویٰ کفر کیونکر لکھ سکتے ہیں۔

۳… بالکل صحیح ہے یہاں یہ آیت انبیاءo کے متعلق ہے اور اس آیت میں جو طرق مذکور ہیں، وہ اس کے شان نزول کے لحاظ سے وحی نبوت اور رسالت کے ہیں اور وحی نبوۃ کا تیرہ سو سال سے بند ہونا اور اس پر مہر لگ جانا تو مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ ان اقسام کی تخصیص بالانبیاء اور وحی رسالۃ ونبوۃ مراد ہونے کی دلیل درکار ہو تو بخاری شریف کی پہلی حدیث معہ شرح حافظ بدرالدین عینی ملاحظہ فرمائیں: ’’وفی الاصطلاح الشرع ہو کلام اللہ الی قولہ کما اوحیٰ ربک الی النحل (النحل:۶۸)‘‘

۴… محض دروغ بے فروغ ہے۔ اس کا رد شہادت مسل پر موجود ہے۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔ کہیں ’’مطلق وحی‘‘ کا لفظ نہیں، بلکہ وحی نبوۃ کے متعلق حکم دے رہے ہیں۔ لازم نبوت وحی نبوت ہوتی ہے نہ مطلق وحی۔ ورنہ ’’واحیٰ ربک الیٰ النحل‘‘ شہد کی مکھی کو بھی وحی ہوئی ہے وہ نبی نہیں ہوگی نہ وہ وحی نبوت ہے۔ گواہ نمبر الف نے تو اپنے بیان میں مرزا صاحب کے مدعی نبوت ہونے پر بہت سے دلائل وقرائن نقل کئے ہیں۔ علیٰ ہٰذا! گواہ نمبرب نے گواہ نمبر۲ کے یہ الفاظ ہیں: ’’ایسے ہی ادّعاء نبوت اور ادّعاء وحی نبوت بھی کفر ہے۔‘‘ بہر حال

213

بوضاحت ثابت ہوگیا کہ یہ محض مختار مدعا علیہ کا مغالطہ تھا۔ ورنہ گواہان مدعیہ نے بھی وہی بیان دیاہے جو مختار مدعاعلیہ نے بحث میں کہا کہ دعویٰ وحی نبوت ورسالت کفر ہے۔ مرزا صاحب اور ان کے متبعین اگر مغالطہ نہ دیں اصل بات یہ ہے کہ میری تمہید جو میں نے اس ہیڈنگ کے تحت مسئلہ کو تنقیح کرنے کے لئے پیش کی تھی وہ چونکہ لاجواب تھی۔ اس لئے اس اضطرابی اور بہتان طرازی کا ثبوت دیاگیا۔ ملاحظہ عدالت کے واسطے بلفظہ پیش کرتاہوں۔

تنقیح مبحث

کشف وا لہام، وحی تین علیحدہ علیحدہ امور ہیں جن کی تفصیل گواہان مدعیہ خصوصاً گواہ نمبر سوم حضرت سید محمدانور شاہ صاحب میں مفصل درج ہے۔ پھر ہر ایک کے لغوی واصطلاحی حقیقی ومجازی معنی میں شہد کی مکھی کو بھی لغوی ومجازی وحی کی گئی ہے۔ ’’قال اللہ تعالیٰ و اوحیٰ ربک الی النحل… الخ! (النحل:۶۸)‘‘ کہ تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی بھیجی۔ مگر حضور والا واقف ہیں کہ اس بحث میں شہد کی مکھی والی وحی یا اس قسم کے دیگر لغوی ومجازی اقسام وحی اور مجازی محاورات زیر بحث نہیں۔ بلکہ گفتگو صرف اس میں ہے کہ وحی نبوۃ بعد آنحضرتﷺ مسدود ہے اور اس کا مدعی کافر ہے۔ ملاحظہ ہو بیان گواہان مدعیہ خصوصاً بیان گواہ نمبر۲۔ یہاں اس کا یہ دعویٰ کہ ایسے ہی ادّعاء نبوت اور ادّعاء وحی نبوت بھی کفر ہے۔ بڑی تفصیل سے مدلل کیاگیاہے۔

پس تنقیح نمبر ایک یہ ہوئی کہ مطلق وحی کی بحث نہیں بلکہ دعویٰ وحی نبوت کفرہے۔

تنقیح دوم جو وحی انبیاء کرام پر جس خصوصی پیرایہ میں اترتی ہے وہ وحی نبوۃ کہلاتی ہے۔ وہ کسی اور پر نہیں اتر سکتی۔

بجائے اس کے کہ اس تنقیح کے اقسام بیان کرکے اسے طول دوں یہ زیادہ مسلم ہے کہ مرزا صاحب کی عبارت وحی نبوت کی مراد اور اس کی تنقیح میں پیش کروں تاکہ ان حضرات پر بھی حجت ہوسکے۔ جن پر سوائے مرزا صاحب اور ان کے دونوں خلفاء کے مطلق نہ قرآن حجت ہے، نہ حدیث، نہ فقہ، نہ کلام، نہ تفسیر، نہ اللہ کا کلام اور نہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان، نہ صحابہ کے فیصلے، نہ بزرگان دین کے اقوال نہ ائمہ دین کے استنباط بلکہ مرزا صاحب کی بات بنانے کے لئے سب کی تاویل کر لیتے ہیں اور سب پر اتہام لگانے میں تأمل نہیں کرتے۔

مرزا غلام احمد کے نزدیک وحی نبوۃ کے معنی

۱… ’’کیونکہ جس میں شان نبوت پاتے ہیں اس کی وحی بلاشبہ وحی نبوت ہے۔‘‘ (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) مسلم گواہ نمبر۱ونمبر۲ جرح مارچ۱۹۳۳ء۔

’’نبی کی وحی وحی نبوت کہلائے گی۔‘‘

(سراج منیر ص۴، خزائن ج ۱۲ ص۶)

۲… رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتاہے؟ (ازالہ اوہام ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱) بیان گواہ مدعیہ نمبر۲۔

۳… ’’ایک فقرہ بھی جبرئیل لائیں وہ بھی وحی نبوت ورسالت ہے جو بند ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱)گواہ مدعیہ نمبر۲۔

تنقیح سوم جو وحی بندوں پر حجت ہواور اس کی اتباع لازم ہو وہ تشریعی کہلاتی ہے یا جس میں نیاحکم ہو ملاحظہ ہو۔ جرح گواہ نمبر۱، مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۳۳ء۔

جس میں نئے احکام ہوں وہ تشریعی ہے۔

ہر نبی تشریعی ہوتاہے اور اس کی وحی خواہ پرانی وحی کیوں نہ ہو تشریعی اور لوگوں پر حجت ہوتی ہے۔ نیز کوئی نہ کوئی نیاحکم اس میں مستقلہ ضرور ہوتاہے خواہ صرف اپنی نبوت کے اعلان ہی کا۔ ملاحظہ ہوجر ح گواہ نمبر۱، مؤرخہ۷؍مارچ ۱۹۳۳ء۔

214

نیز ملاحظہ ہو: (ازالہ اوہام ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱) تھوڑا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ تفصیل کے لئے بیان گواہ مدعیہ نمبر۲ ملاحظہ ہو۔

مرزا صاحب کی عبارت اور تنقیح نمبر سوم کی رو سے وحی نبوت کی تعریف مندرجہ ذیل ہے۔

۶-الف جس میں شان نبوت ہو یا نبی ہو اس کی وحی وحی نبوت ہے۔

ب… بتوسط جبرئیل ہو خواہ ایک ہی فقرہ وحی نبوت ہے۔

ج… جو بندوں پر حجت ہو۔ ایضاً

د… جس کی اتباع لازم ہو۔ ً

ہ… جس میں نیا حکم ہو۔ ً

و… صرف اپنی نبوت کے اعلان ہی کا حکم ہو وہ بھی وحی نبوت بلکہ تشریعی ہے۔

یہ (۶) چھ صورتیں وحی نبوت ورسالت کی ہوئیں۔

اقراری ڈگری

ہمارے مدّعا کا جہاں تک تعلق ہے وہ نہ صرف مرزا صاحب کی امت کو بلکہ ان کے خود ساختہ صاحب نبی کو بھی مسلم ہے۔ کیونکہ ہمارا دعویٰ انسداد وحی نبوت ورسالت ہے اور وحی نبوت ورسالہ کا انسداد مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ ملاحظہ ہوں حوالہ جات مندرجہ ذیل۔

۱… ’’لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سول برس سے مہر لگ گئی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)

۲… ’’حالانکہ وحی نبوت آنحضرتﷺ کے بعد منقطع ہوچکی ہے۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۳۴، خزائن ج۷ ص۲۱۹)

اب اس تسلیم کے بعد کسی جدید استدلال اور بحث کی ضرورت ہی نہ تھی مگر پھربھی عوام کو مغالطہ سے بچانے کے واسطے اصل بحث میں میں نے تمام پیش کردہ آیات واحادیث واقوال کا مدلل جواب دیتے ہوئے ان کی خیانت اور قطع وبرید بے نقاب کردی تھی۔ اب جواب بحث میں بجائے ان کا کوئی معقول جواب دینے کے انہیں فرسودہ دلائل کا مکرر اعادہ کیا گیا ہے اور کہیں کہیں شرمناک خیانتیں اور تحریف ہے۔ اس لئے پھر مفصل جواب کی طرف رجوع کرتاہوں و رنہ ضرورت ہی نہ تھی۔ یہاں تک میرے دعویٰ کا تعلق ہے۔ مدعاعلیہ اور اس کے نبی اور گواہوں کو مسلم ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے مندرجہ ذیل ہیڈنگ قائم کئے ہیں۔

۱… کیا وحی انبیاءo کے ساتھ مخصوص ہے؟

۲… کیا آنحضرت کے بعد باب وحی غیرتشریعی مسدود ہے؟

۳… کیا قرآن مجید سے بقاء وحی پر کوئی دلیل نہیں؟

۴… کیا احادیث سے بقاء وحی غیر تشریعی پر کوئی دلیل نہیں؟

۵… کیا بقاء وحی غیر تشریعی عقیدہ سلف صالح کے خلاف ہے؟

۶… کیا مسیح موعود کے نزدیک ہر قسم کی وحی بند ہے؟

۷… کیا مسیح موعود اپنی وحی کو قرآنی وحی کے برابر قرار دیتے ہیں؟

215

(۱)

وحی انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں۔

اس سلسلہ میں بظاہر سات بے ربط وغیر متعلق آیات معانی اور مطالب بگاڑ کر تحریف معنوی کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔ مگر دراصل پانچ جن کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ یہ تمام آیات وحی لغوی یا الہام کے متعلق ہیں اور ہماری گفتگو وحی نبوت ووحی رسالت میں ہے۔ اس کی تخصیص کا دعویٰ ہے جو مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ مطلق وحی کی تخصیص کا نہ ہمارا دعویٰ ہے نہ ہم اس کے جواب کے مکلف ہیں۔

تبرعاً تفصیلی جواب بھی پیش کرتاہوں

آیت اوّل : ’’ما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا… الخ! (الشوریٰ:۵۱)‘‘ خلاصہ استدلال مدعاعلیہ۔ بشر نبی اور غیر نبی کو عام ہے۔ لہٰذا وحی انبیاء سے مخصوص نہیں۔

یہ بعینہٖ شہادت والا استدلال مکرر دہرایا ہے جس کا جواب مکمل اور مدلل ومفصل ابتدائی بحث میں دے چکا ہوں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں خدا کے انسان سے ہم کلام ہونے کے اقسام بیان کئے گئے ہیں۔ وحی نبوت کا انبیاء سے مخصوص ہونے کا ذکر تک نہیں اور اگر اس سے خارجی دلائل اور شان نزول کی روشنی میں وحی نبوت مراد ہوتو بشر سے نبی مراد ہوگا۔ جیسا کہ اس کے شان نزول سے ظاہر ہے اور نبی بھی بشر ہوتاہے۔ صرف وحی الٰہی نبی کا عام بشر کے افراد سے ممتاز کرتی ہے۔

’’قال اللہ تعالیٰ قل انما انا بشرمثلکم یوحیٰ الیّ… الخ! (الکہف:۱۱۰)‘‘

مختار مدعاعلیہ کا جواب یہ کہ لیکن مختار مدعیہ نے اس آیت میں بشر سے نبی مرادلیاہے۔ حالانکہ اس آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو بشر کو انبیاء کے ساتھ مخصوص کرے۔

بالکل قابل التفات نہیں کیونکہ جواب کی شق اوّل تو بہرحال مسلم رہی اور اس آیت کا غیر متعلق ہونا ثابت ہوگیا۔ بشر کی تخصیص نبی کے ساتھ شق ثانی پر ہے جب کہ وحی سے مراد وحی نبوت ہو۔ پس جس طرح وحی نبوت کی تخصیص بلحاظ شان نزول ہوگی۔ یوں ہی بشر سے نبی کی تعیین شان نزول سے ہے نہ کہ ظاہری الفاظ سے۔ ہاں! جب کہ مختار مدعاعلیہ وحی عام مراد لیتاہے نہ کہ وحی نبوت اور بحث وحی نبوت میں تھی نہ کہ الہام اوروحی مجازی ولغوی میں۔ پس اس آیت کا غیر متعلق وبے ربط ہونا، گویا اسے بھی مسلم ہے اور محض بحث کو طول دینے کے واسطے اسے پیش کیا ہے۔ ورنہ اس کا شافی اور اٹل جواب ابتدائی بحث میں گزر چکاہے۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۴۱۶،۴۱۷) سے مختار مدعاعلیہ کا یہ نقل کرنا کہ: ’’ان تمام طرق سے اولیاء امت کو بھی وحی ہوتی ہے اور نبی وولی کی وحی میں فرق ہے۔‘‘ ہماری تائید کرتاہے نہ کہ ہمارے خلاف کیونکہ جب یہ وحی اولیاء امت کو وحی کو بھی شامل ہے جو بالاتفاق بمعنی الہام ہے تو لا محالہ اس آیت میں لغوی وحی مراد ہوگی، نہ حقیقی اصطلاحی، نہ وحی نبوت۔ لہٰذا پھر غیر متعلق اور بے ربط رہی۔ مختار مدعاعلیہ نے چونکہ باقرار خود فتوحات کا کل مطالعہ نہیں کیا ہے۔ ورنہ ایسی فاش غلطی نہ کرتا۔ کیونکہ حضرت شیخ نے تصریح فرمائی ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد صرف الہام باقی ہے اور وحی بالکل مسدود وبند ہے۔

’’اعلم انا لنا من اللہ الالہام لا الوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ ﷺ‘‘

(فتوحات مکیہ ج۳ ص۳۰۳و۳۱۶)

216

یعنی جان لو کہ ہم کو اللہ کی جانب سے الہام ہوسکتا ہے نہ کہ وحی، کیونکہ وحی کا سلسلہ آنحضرتﷺ کی موت کے بعد یقینا بلا شبہ منقطع ہوچکاہے۔

(ج۲، باب۷۳ ص۳۱) پر تصریح فرما دی کہ آثار نبوت سے صرف مبشرات یعنی رؤیاء صالحہ باقی ہیں اور سب مسدود وختم ہوچکے ہیں۔ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے تو حضرت شیخ کی عبارت قطع وبرید کرکے بگاڑنا صرف مختار مدعاعلیہ کا شیوہ ہے جن کا مقصد مغالطہ کے سوا کچھ نہیں۔

دوسری آیت: ’’واوحینا الیٰ ام موسیٰ ان ارضعیہ… الخ! (القصص:۷)‘‘

خلاصہ استدلال، ام موسیٰ نبی نہ تھیں پھر بھی ایسی شاندار ان پر وحی ہوئی۔

الجواب: یہاں وحی شاندار اور غیرشاندار کا ذکر تک نہیں بلکہ وحی نبوت کے متعلق بحث ہے اور وحی نبوت اس میں مراد نہیں۔ جیسا کہ مختار مدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے کہ: ’’گواہ مدعاعلیہ کا مقصود اس آیت سے غیر انبیاء پر وحی کا نزول ثابت کرنا ہے۔ نہ وحی نبوت ملخصا۔‘‘

نیز اس آیت میں وحی بمعنی الہام ہے۔ جیسا کہ (جامع البیان علی ہامش جلالین ص۲۴۶) پرہے۔ ’’واوحینا الہمنا الیٰ ام موسیٰ‘‘ یعنی ’’اوحینا الہمنا‘‘ کے معنی میں ہے کہ ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا یوں ہی (جلالین ص۲۴۵) پر تصریح ہے کہ وحی بمعنی الہام ہے۔ پس جب یہاں الہام مراد ہے تو غیر متعلق ہونا اظہر من الشمس ہوگیا۔

تیسری آیت: ’’اذکر فی الکتاب مریم… الخ! (مریم:۱۶)‘‘

چوتھی آیت: ’’واذ قالت الملٰئکۃ یامریم ان اللہ یبشرک… الخ! (آل عمران:۴۵)‘‘

پانچویں آیت: ’’واذ قالت الملٰئکۃ یا مریم ان اللہ اصطفاک (آل عمران:۴۲)‘‘

خلاصہ استدلال۔ مریم نبی نہیں، پھر جبرئیلm پیغام لائے اور ان پر وحی ہوئی۔

الجواب: یہ بعینہٖ وہی استدلال ہے جو شہادت میں آچکا اور ابتدائے بحث میں اس کا غیر متعلق و بے ربط ہونا پیش کرچکا جس کے لاجوابی کا مختار مدعاعلیہ کو بھی اعتراف ہے۔ کیونکہ اس جواب کا ذکر تک نہیں کیا۔ میں مکرر اعادہ کر کے طول دینا نہیں چاہتا۔ عدالت خود ابتدائے بحث سے ملاحظہ فرمالے۔ یہاں صرف اس قدر کافی ہے کہ غیر انبیاء پر ہمیشہ وحی بمعنی الہام ہوتی ہے اور نزول جبرئیل نبی کریمa کے قبل غیرانبیاء پر بھی ہواہے گو بصورت الہام ہے۔ لہٰذا یہ آیت وحی نبوت کی تخصیص پر دلالت نہیں کرتی اور وحی بمعنی مجازی الہام وغیرہ کی تخصیص بلا نبی کے ہم ہی مدعی نہیں۔ لہٰذا یہ حوالہ محض بیکارہے۔

چھٹی آیت: ’’وامرأتہ قائمۃ فضحکت فبشرنا ہا باسحق… الخ! (ہود:۷۱)‘‘

الجواب: یہاں بھی وحی نبوت مراد نہیں بلکہ الہام ہے۔ جیسا کہ تفاسیر میں مصرح ہے اور مفصل جواب ابتدائی بحث میں دے چکاہوں جس کا جواب الجواب کیا ہوسکتا، نام تک نہیں لیاگیا اور اس کی لاجوابی کا زبان حال سے اعتراف ہی کرناپڑا۔

ساتویں آیت:’’قلنا یا ذالقرنین اما ان تعذب (الکہف:۸۶)‘‘

یہاں بھی شہادت کا مکرر استدلال دہرایا ہے۔ میں بھی ابتدائی بحث کے مدلل جواب کی طرف عدالت کی توجہ مبذول کراتاہوں جو حضرت ذوالقرنین کو نبی کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک تو یہ آیت انبیاء سے مخصوص ہے اور جو انہیں نبی نہیں کہتے ان کے نزدیک یہ الہام ہے۔ جیسا کہ علامہ سیوطی نے کہا ہے: ’’لم یکن نبیاً‘‘ پس انہوں نے یہ تفسیر کی ہے: ’’قلنا یا ذالقرنین بالہام‘‘ ہم نے ذوالقرنین سے بذریعہ الہام گفتگو کی (جلالین پ۱۶ ص۱۹۰، نظامی دہلی) لہٰذا یہ الہام ہوا اور گفتگو وحی بلکہ وحی نبوت میں ہے اور یہاں وحی نبوت کجا مطلق وحی کا

217

بھی لفظ نہیں۔ لہٰذا بالکل غیر متعلق ہے۔

مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ سکندر کے متعلق نبی وغیر نبی کا اختلاف مختار مدعیہ نے ابن جریر کی طرف منسوب کیا۔ محض افتراء اور بہتان ہے۔ میں نے صرف تفاسیر کا ذکر کیا ہے اور مختار مدعاعلیہ کے سوال پر تفسیر کبیر کا حوالہ بتایا تھا۔ تفسیر کبیر کا اسے بھی مسلم ہے۔ جلالین کا حوالہ پیش کردیاگیا۔

تفسیر ابن جریر کا حوالہ بتایا ہی نہیں گیا۔ جواب بن نہیں پڑتا۔ اس قسم کے لایعنی اور شرمناک بہتان وافتراء سے عہدہ برآری چاہتاہے۔

نتائج مختار مدعاعلیہ کاجواب

قول مختار مدعاعلیہ:

ان مذکورہ بالا آیات سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

۱… وحی انبیاءo سے مختص نہیں۔

۲… جن طریقوں سے اللہ تعالیٰ انبیاءo سے کلام کرتاہے۔ انہیں طریقوں سے غیر انبیاؤں اور اولیاؤں وغیرہ کے ساتھ ہم کلام ہوتاہے۔ جیسا کہ آیت نمبر ایک سے ظاہرہے۔

۳… فرشتوں کا نزول بھی غیر انبیاؤں پر ہوتاہے اور خداتعالیٰ اپنی بات فرشتوں کے ذریعہ پہنچاتاہے جیسا کہ آیت ۴،۵،۶ سے ظاہر ہے۔

جوابات مرتبہ

۱… بحث وحی نبوت میں ہے اس کا غیر انبیاء پر ہونا ثابت نہ ہوسکا۔

۲… اس آیت میں جب وحی نبوت مراد ہے تو انبیاء سے مخصوص ہے اور اولیاء کو وحی بمعنی الہام ہوتی ہے۔ یہ اس آیت کے تحت میں اگر داخل مانی جائے تو یہ ہم کلامی بمعنی وحی عام یعنی لغوی ہوگی جس کی یہاں بحث نہیں۔ یہاں صرف وحی نبوت کی تخصیص کا تذکرہ ہے۔ ورنہ شہد کی مکھی کوبھی وحی ہوتی ہے۔ ’’واوحیٰ ربک الی النحل (النحل:۶۸)‘‘ پس اس معنی میں انبیاء کے ساتھ کون عقل مند تخصیص کرسکتاہے۔

۳… یہ پیغام بھی گو بواسطہ ملائکہ ہو۔ مگر الہام ہے۔ جیسا کہ فتوحات میں مصرح ہے کہ الہام بواسطہ ملک بھی ہوتاہے۔ تفصیل کے واسطے فتوحات سے باب الہام کا بیان ملاحظہ ہو نیز اصل ابتدائی بحث میں۔

۴… یہ وحی نہیں بلکہ الہام ہے۔ چنانچہ آیت نمبر۴،۷ میں وحی کا لفظ بھی نہیں۔

۵… یہاں بھی الہام مراد ہے نہ وحی جیسا کہ مفصل اوپر عرض کر چکاہوں۔

(۲)

آنحضرتﷺ کے بعد باب وحی غیر تشریعی مسدود نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں مختار مدعاعلیہ نے دلائل انسداد وحی ثبوت کے جواب دینے کی لاحاصل سعی کی ہے جس کی حقیقت ابھی ان شاء اللہ آشکار ہوجائے گی۔

قول مختار مدعاعلیہ:

218

’’گواہان ومختاران مدعیہ نے ایک آیت یا حدیث بھی ایسی پیش نہیں کی کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی الٰہی بند ہونا ثابت ہوتاہو… الخ!‘‘

معلوم ہوتاہے کہ مختار مدعاعلیہ کے یہ مخصوص الفاظ ہیں جنہیں لا محالہ دہرانا ضروری ہے، خواہ موقعہ ہو یا نہ ہو۔ یہی الفاظ تقریباً شہادت میں تھے جن کا مکمل جواب۔

دلائل انسداد وحی نبوت بعد خاتم النبیﷺ

کا ہیڈنگ قائم کرکے دے چکاہوں۔ تفصیلی اعادہ کی ضرورت نہیں۔

پھر بھی مختار مدعاعلیہ کی طرف سے ثبوت کا مطالبہ ہے کہ ثابت ہو۔ جواباً گزارش ہے کہ جب یہ ثابت ہوچکا کہ جس میں شان نبوت باقی ہے۔ اس کی وحی بلا شبہ نبوت ہے۔ (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) نیز نبی کی وحی، وحی نبوت کہلائے گی۔ (سراج منیر ص۴، خزائن ج۱۲ ص۶) نیز وحی نبوت لوازم نبوت سے ہے۔

(گواہ نمبر۳ ص۵۳)

پس تمام وہ ادّلہ جو انقطاع نبوت بعد نبیناa یا ختم نبوت پر پیش کئے گئے وہ سب اس مسئلہ پر واضح دلیل ہیں۔ اسی لئے صرف ایک آیت کے اعادہ پر اکتفاء کی گئی جس پر مرزا صاحب کے متبعین نے یہ مغالطہ دیا کہ کوئی بھی آیت سوائے ایک آیت کے نہیں نہ کوئی حدیث۔ بس سنئے کہ علاوہ آیات کے خاتم النّبیین کے تحت مندرج ہیں۔

۱… ’’الذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک (البقرۃ:۴)‘‘

۲… ’’اوحی الی ہٰذ القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ (الانعام:۱۹)‘‘

۳… ’’تبارک الذی نزل الفرقان علیٰ عبدہ لیکون للعالمین نذیراً (الفرقان:۱)‘‘

نوٹ: (۱) قرآن میں بعد کے تصریح کی ساتھ وحی مطلق کا بھی کہیں ذکر نہیں۔ (جرح گواہ۲ ص۳۴)

۴… ’’ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک (الزمر:۶۵)‘‘

۵… ’’کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک (الشوریٰ:۳)‘‘

۶… ’’قولوا اٰمنا ب اللہ وما انزل الینا… تا… مسلمون (البقرۃ:۱۳۶)‘‘

۷… ’’الم تر الی الذین یزعمون… الی بہ (النساء:۶۰)‘‘

۸… ’’وما ارسلنا قبلک من المرسلین (الفرقان:۲۰)‘‘

اس کا ترجمہ ومطلب واستدلال وغیرہ بیانات گواہان مدعیہ اور بحث مختارمدعیہ سے ملاحظہ ہو۔ پھر مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ کوئی بھی آیت سوائے ایک آیت کے پیش نہ کی، محض مغالطہ ہے اس قدر آیات بینات شاہد ہیں۔ البتہ ہر ہیڈنگ کے نیچے مفصل مکرر نقل نہیں کی گئی،اکثر جگہ حوالوں پر اکتفاء کیا گیا ہے۔

نمونہ ملاحظہ ہو۔ (احادیث مفصل (۲۵) بلکہ دعویٰ امور حوالہ ۲۰۰ سے زائدکا)

۱… ’’عن عائشۃt عن النبیﷺ قال لایبقی بعدہٗ من النبوت شیٌ الا المبشرات۔ قالوا یا رسول اللہ مالمبشرات قال الرؤیا الصالحۃ یراہا المسلم اوتری لہ‘‘

(کنز العمال گواہ نمبر۳ ص۴۰)

۲… ’’عن عمران اناساً کانوا یواخذون بالوحی فی عہد رسول اللہ ﷺ وان الوحی قد انقطع‘‘

(بخاری ج۱ ص۲۶۰)

219
۳… ’’عن عمر لما قبض رسول اللہ ﷺ وارتدت العرب وقالو لا نؤدی زکوٰۃ وقال ابوبکر لو منعونی عقالاً لجاہدتہم علیہ وقلت یا خلیفۃ المسلمین… وقال اجبار فی الجاہلیۃ وخوار فی الاسلام انہ انقطع الوحی وتم الدین اینقص وانا حی‘‘

(مشکوٰۃ مناقب ابی بکرq ص۵۴۸ جرح گواہ نمبر۱ ص۴۶، نمبر۴ ص۵۱)

۴… ’’ عن انس بن مالک قالa ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت ولا رسول بعدی ولا نبی۔ قال شق ذالک علی الناس وقال ولکن المبشرات قالوا یا رسول اللہ وما المبشرات قال رؤیا الرجل المسلم وہو جزء من اجزاء النبوۃ… الخ!‘‘

(جرح گواہ نمبر۱ ص۵، ابن کثیر ج۸ ص۸۹،۹۰)

مفصل ترجمہ ومطلب بیانات اور بحث ابتداء میں ملاحظہ ہو۔ مختصر یہ کہ اس میں مندرجہ ذیل امور مصرح موجود ہیں۔

۱… نبوت کے لوازم وآثار واجزاء سے سوائے رویاء صالحہ کچھ بھی بعد نبی کریمa باقی نہیں۔

۲… ’’ان الوحی قد انقطع‘‘ وحی نبوت یقینا منقطع ہوچکی۔

۳… ’’انہ انقطع الوحی‘‘ یقینا معاملہ یہ ہے کہ وحی منقطع ہوچکی۔

۴… کوئی بھی نبوت ورسالت کا جزو سوائے مبشرات رویاء صالحہ باقی نہیں(نہ وحی نہ کچھ اور)۔

اقوال سلف صالحین ومسلم بزرگان دین

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ ومختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ شیخ ابن عربی کی تصریح ’’واعلم ان لنا من اللہ تعالیٰ الالہام لاالوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ ﷺ۔

(فتوحات ج۳ ص۳۱۶ باب۳۵۳)

(ترجمہ) جان لو ہمارے واسطے اللہ کی جانب سے صرف الہام ہوسکتاہے، وحی ہرگز نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ وحی کا سلسلہ نبی کریمa کی وفات سے بالکل منقطع ومسدود ہوچکا۔

نیز مسلمہ گواہان مدعاعلیہ ومختارمدعاعلیہ

۲… (علم الکتاب ص۱۱، حضرت خواجہ میر درد) اقسام وحی کہ آں نیز مثل الہام دوقسم است۔ یکے وحی عام کہ اصلاً بہیچ تخصیص ندارد ویکے وحی خاص کہ مخصوص بانبیاء است وبیان اقسام نہج اصول آں ومنقطع شدن کارخانہ وحی بعد خاتم الانبیاء ومن بعد عدم جواز اطلاق لفظ وحی بمعنی عامش نیز۔

(جرح گواہ نمبر۱،مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)

۳… ’’من اعتقد وحیابعد محمدa فقد کفر باجماع المسلمین‘‘

(فتاویٰ حدیثیہ علامہ ابن حجر مکی گواہ نمبر۱ ص۲۰)

۴… ’’وکذالک من ادعیٰ لہم انہ یوحیٰ الیہ وان لم یدعی النبوۃ فہئولآء کلہم کفار یکذبون النبیﷺ‘‘

(شفاء ج۲ ص۲۷۰،۲۷۱، گواہ نمبر۲ ص۶۹)

۵… وبحوالہ مذکورہ (نسیم الریاض ج۲ ص۵۰۲)

۶… شرح شفاء ص۵۱۹، ۵۲۰، گواہ نمبر۳ ص۴۶

غرض یہ کہ صرف دعویٰ وحی نبوت ہی چونکہ مستلزم نبوت ہے اس لئے اسے بھی کفر اور تکذیب نبی کریمa قرار دیاگیا۔ گو دعویٰ نبوت نہ ہو، جیسا کہ اوپر بحوالہ شفاء وشرح شفاء ملّا علی قاری ونسیم الریاض وغیرہا سے عبارات نقل کی گئی ہیں۔

زیادہ تفصیل بیانات گواہان مدعیہ نمبرالف ونمبر۲ ونمبر۳ ملاحظہ ہو۔

اتنے مفصل دلائل کے بعد یہ کہنا کہ کوئی آیت اور حدیث پیش نہ کی گئی، محض بد دیانتی ہے۔

220

مختار مدعاعلیہ نے بحث کی پیش کردہ آیات کا کوئی مکمل جواب ہی نہ دیا صرف یہ کہہ کر ٹالنا چاہاہے کہ وحی کا ذکر نہ ہونا اور بات ہے اور مسدود ہونا اور۔ حالانکہ میں نے مفصل عرض کیا تھا کہ یہاں صرف عدم ذکر نہیں، بلکہ باوجود اقتضاء مقام کے اس کا ترک ہے جو صراحتاً انسداد وحی پر بھی دال ہے۔ ورنہ ذکر قصداً ترک نہ کیا جاتا۔

صرف ایک آیت کا بے ربط جواب دیا ہے۔ گویا بحث کی پیش کردہ کل آیات سوائے ایک کے بالکل لاجواب ہیں اور احادیث واقوال سلف کل لاجواب ہیں۔

البتہ تین آیات گواہ نمبرب کے بیان سے لے کر کچھ غیر متعلق جواب کی لا حاصل سعی کی ہے۔ ان آیات کا جواب گو ناقابل التفات ہے۔ تاہم ہماری جانب سے مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ آشکار کرنے کے واسطے مفصل چاروں آیتوں کا جواب الجواب پیش ہے۔

۱… پہلی آیت: ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک (البقرۃ:۴)‘‘

خلاصہ تاویلات مختار مدعاعلیہ

جواب کیا ہوسکتا تھا جواب کانام رکھ کر تاولیں کی ہیں۔

۱… عدم ذکر عدم شیٔ کو مستلزم نہیں، پس یہ لازم نہ آیا کہ آپa کے بعد وحی نازل ہونے والی نہیں۔

۲… اس آیت میں وحی تشریعی کا ذکر ہے اور وحی تشریعی تو نہیں آسکتی۔ لیکن غیر تشریعی آسکتی ہے۔ جیسا کہ (یواقیت ج۲ ص۹۴) پر ہے: ’’انہ لم یجیٔ لنا خبر الٰہی ان بعد رسول اللہ ﷺ وحی تشریعی ابدا انما لنا وحی الہام قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحی الیک‘‘

۳… مسیح موعود پر وحی ہوگی لہٰذا اس آیت سے وحی بند کیوں کر ہوسکتی ہے۔

۴… اگر مطلق وحی مراد ہو تو بالآخرۃ سے آنحضرتﷺ کے بعد آنے والی وحی جو آپ کے بعد آنے والی نبوت یا رسالت کو مستلزم ہے مراد ہوگی۔ اس سے اسلوب بدل کر بالآخرۃ فرمایا… الخ!

الجواب:

۱… یہاں عدم ذکر نہیں بلکہ فہرست ایمانیات سے بالقصد خارج کرناہے جو صریح دلیل ہے کہ آپ کے بعد کوئی وحی نبوت نہیں ہوسکتی جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ ورنہ اسے فہرست ایمانی کا سلسلہ میں ترک نہ کیا جاتا۔ مقام ذکر میں بالقصد ترک اور عدم ذکر میں فرق ہے ترک میں نفی صراحتاً ہے اور عدم ذکر میں حکم مسکوت عنہ رہتاہے۔

۲… اس آیت میں صرف وحی نبوت کا ذکر ہے۔ کیونکہ ’’من قبلک‘‘ سے انبیاء مراد ہیں اورانبیاء پر وحی بتصریح مرزا صاحب وحی نبوت ہوتی ہے۔ اگر وحی تشریعی مراد لی جائے تو ’’ما انزل من قبلک‘‘ کاعموم باطل ہوجائے گا۔ نیز جو انبیاء ماسبق صاحب شریعت نہ تھے۔ ان کی وحی خارج ہوجائے گی۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ پس وحی نبوت خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی آنحضرتﷺ کے بعد بندہے۔ جو کچھ باقی ہے، وہ صرف الہام یا وحی مجازی۔ یہی تصریح یواقیت کے حوالہ میں پائی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ اصطلاح شرع کی وحی تو رسول اللہ ﷺ کے بعد بالکل بند ہے۔ صرف ہمارے لئے الہام ہے اور پھر اس کو ایک قرآنی آیت سے ثابت کیا ہے۔ یہ حوالہ تو ہماری تائیدہے نہ مختار مدعاعلیہ کی۔ اس میں لفظ تشریعی سے مغالطہ دیاگیاہے۔ حالانکہ اس کے مقابل باقی رہنے والی چیز صرف الہام ہے، جو مجازاً وحی کہلاسکتی ہے اور شیخ کی یہ مقرر شدہ مشہور اصطلاح ہے کہ وہ الہام کے مقابل وحی تشریعی سے وحی نبوت مراد لیتے ہیں کہ وحی نبوت مسدود ہے۔ صرف الہام باقی ہے اور یہی ہمارا مدعاہے۔ فتوحات ہی میں اس کی تصریح فرما دی ہے کہ:

221
’’اعلم ان لنا من اللہ الہام لا الوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ ﷺ‘‘

(فتوحات ج۳ باب۳۵۳ ص۳۱۶)

کہ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہم لوگوں کے واسطے صرف ایک الہام باقی ہے نہ کہ وحی۔ کیونکہ وحی کا سلسلہ آنحضرتﷺ کے پردہ فرمانے سے بالکل یقینا منقطع ومسدود ہوچکا۔

۳… مسیح موعود پر بھی الہام ہوگا نہ کہ وحی اورجہاں کہیں وحی کا لفظ آیاہے وہاں الہام ہی مراد ہے۔ جیسا کہ شروح مسلم میں مصرح موجود ہے اور مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ علامہ عبدالوہاب شعرانی اور امام محی الدین ابن عربی یواقیت وفتوحات میں نزول کے بیان میں تصریح فرمارہے ہیں۔

۴… ’’وبالاخرۃ ہم یوقنون‘‘ سے آخری وحی مراد لینا محض جہالت کا ثبوت دینا ہے۔ تیرہ سوسال میں آج تک کسی کا وہم گمان بھی نہ گیا کہ اس سے مرزا صاحب کی وحی آخری مراد ہے۔ خود نبی کریمa صحابہ کرامi، تابعین عظام، تمام مفسرین صالحین آخرۃ سے قیامت کا دن مراد لے رہے ہیں۔ مگر مرزا صاحب کی امت اس سے مرزا صاحب کی وحی مراد لیتی ہے:

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبیت

یہ کھلی ہوئی تحریف قرآن پاک ہے باقی تفصیل اصل ابتدائی بحث میں پیش کرچکاہوں، عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔

دوسری آیت: ’’قولوا اٰمنا ب اللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابراہیم واسماعیل واسحاق ویعقوب والاسباط ومااوتی موسیٰ وعیسیٰ وما اوتی النّبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم ونحن لہ مسلمون (البقرۃ:۱۳۶)‘‘

خلاصہ استدلال گواہ مدعیہ۔ مفصل تمام انبیاء سابقین کی وحی پر ایمان لانے کا ذکر فرمایا اور بعد آنحضرتﷺ کی وحی کو باوجود مقام ذکر ہونے کے ترک کردیا، جو تصریح اس امر کی ہے کہ آپ کے بعد کوئی وحی نبوت نہیں ہوسکتی جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ ورنہ فہرست ایمانیات سے وہ خارج نہ کی جاتی۔ بلکہ وحی نبوت کا سلسلہ ہی بند ہے۔

اس کا مختار مدعاعلیہ سے کچھ جواب نہ ہوسکا۔ صرف یہ کہہ دیا کہ جو پہلا جواب ہے وہی اس کا جواب ہے۔ لہٰذا میں بھی یہیگزارش کرتاہوں کہ پہلی آیت کے سلسلہ میں جو تاویلات رکیکہ کا جواب الجواب پیش ہوچکا، وہی یہاں بھی کافی ہے۔

تیسری آیت: ’’الم تر الی الذین یزعمون انہم اٰمنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (النساء:۶۰)‘‘

خلاصہ جواب : پہلا ہی جواب دہرا کے یہ کہہ دیا کہ مسیح موعود کی وحی چونکہ قرآن اورحدیث کے موافق ہے۔ لہٰذا ’’ما انزل من قبلک… الخ!‘‘ میں شمار ہوگی۔

الجواب: یہ جواب قابل غور ہے تو ’’ما انزل الیک وما انزل من قبلک‘‘ فرمایا کہ جو آپ پر اور آپ کے پہلے نازل ہوچکا ہے اور مختار مدعاعلیہ بعد کا نازل شدہ بھی اس میں شامل کررہاہے۔ گویا ان کے نزدیک خدا نے ’’ما انزل الیک وما انزل من قبلک‘‘ کا لفظ محض عبث اور بیکار ومہمل (عیاذاً ب اللہ ) استعمال کیا۔ مرزا صاحب کے متبعین مرزا صاحب کی تائید میں قرآن پاک اور سرکار دوعالمa پر بے باکی سے حملہ کرنے میں تأمل نہیں کرتے۔ یہ جواب تو اس قدر مہمل ہے کہ قابل التفات ہی نہیں۔ مفصل جواب آیت نمبر۱ کے جواب الجواب اور اصل بحث سے ملاحظہ ہو۔

حضرت مولانا گنگوہی پر بہتان

’’یہ بات بڑی دلچسپی سے دیکھے جانے کے قابل ہے کہ مختاران مدعیہ مرزا صاحب کی وحی کو بھی منزل من اللہ ماننے کو تیار نہیں اور

222

ان کے خاتم المحدثین مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی مجتہدین کے اجتہادات کو بھی منزل من اللہ تعالیٰ قرار دیتے ہیں۔‘‘

میں عدالت کی توجہ مختار مدعاعلیہ کے اس صریح بہتان کی طرف دلاتاہوں اور بجائے کسی جواب کے مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ عبارت نقل کئے دیتاہوں۔

استنباط مجتہدین بھی منزل من اللہ تعالیٰ ہیں۔ کیونکہ جو کچھ اشارات ودلالات نصوص سے مستخرج ہیں وہ عین حکم نص کا ہوتاہے۔ (سبیل الرشاد ص۳۶) ملاحظہ فرمائیں، کتنی صاحب تصریح ہے کہ چونکہ مجتہد نے اسی آیت سے جومنزل من اللہ ہے یہ حکم اشارۃً یا دلالۃً نکالا ہے۔ لہٰذا یہ حکم بھی اسی آیت کا ہے، نہ اس کا تراشیدہ اور طبع زاد اور کہاں یہ پاکیزہ حکم کہاں مرزا صاحب کی وحی نبوت اورا س کا جواب اور منزل من اللہ ہونا جس کا دروازہ بنص قطعی بند ہوچکا۔ جو دعویٰ کرے کافر ہوجائے۔ استنباطات واجتہادات مجتہدین بتصریح قرآن اورحدیث باقی ہیں۔ پس یہ مختار مدعاعلیہ کا افتراء اور محض مغالطہ ہے۔

چوتھی آیت: ’’وما ارسلنا قبلک من المرسلین (الفرقان:۲۰)‘‘

اس آیت کا جواب تو کچھ بن نہ آیا۔ عموم ترک کرکے شان نزول سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ حالانکہ یہی جواب ’’ماکان لبشر ان یکلمہ اللہ ‘‘ کا جب ہماری طرف سے دیاگیاتھا تو اس پر اعتراض تھا کہ اس کا عموم باطل ہورہاہے۔ یہی جواب ہم بھی پیش کرتے ہیں۔ اعتبار عموم الفاظ کا ہے نہ خصوصی مورد کا۔ بس یہ جواب بھی غیر متعلق ہے اور ہمارے استدلال کو مجروح نہیں کرتا۔ اصل استدلال شہادت گواہ نمبرب میں ملاحظہ ہو۔

پس یہ تمام آیات یقینا قطعی طور پر اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی بھی وحی تشریعی نہیں آئی ہے بلکہ کارخانہ وحی بعد آنحضرتﷺ منقطع ومسدود ہے۔ جیسا کہ انہیں اوران جیسی آیات سے بھی مطلب بزرگان دین نے استنباط کیا ہے، میں تائید میں صرف دو حوالہ گواہ اور مختار مدعاعلیہ کے مسلم پیش کرتاہوں۔

۱… (علم الکتب میر درد دہلوی ص۱۱)

’’اقسام وحی کہ آن نیز مثل الہام دوقسم است یکے وحی عام کہ بہیچ اصلاً تخصیص ندارد ویکے وحی خاص کہ مخصوص بانبیاء است وبیان اقسام نہج اصول آں ومنقطع شدن کارخانہ وحی بعد خاتم الانبیاء ومن بعد عدم جواز اطلاق لفظ وحی بمنی عامش نیز۔‘‘

(مسلم گواہ نمبر۱ونمبر۲)

پس بصراحت انقطاع وحی نبوت ثابت ہوگیابلکہ یہ بھی کہ باوجود کہ وحی یعنی الہام ہوسکتی ہے۔ مگر پھر بھی آنحضرتﷺ کے بعد لفظ وحی کا استعمال بھی کسی کے واسطے جائز نہیں۔

یہ وجہ تکفیر ایسے دلائل قطعیہ سے ثابت ہے جس کاجواب تاقیامت ناممکن ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

دلائل بقاء وحی غیر تشریع از روئے قرآن شریف

مختار مدعاعلیہ نے اس سلسلہ میں مکرر وہی آیات مع اسی طرز استدلال کے نقل کردی ہیں جو اس نے شہادت میں پیش کی تھیں۔ صرف ترتیب کو بدلاہے۔ حالانکہ ان کانہایت مکمل اور مفصل جواب ابتدائی بحث میں دیا جا چکاہے جس کی طرف ناتمام سا اشارہ کہیں کہیں خود کرتاہے۔ میں صرف اشارہ کے طور پر اس کی پیش کردہ آیات پر معمولی سا تبصرہ کر کے تفصیل ابتدائی بحث کے حوالہ پر چھوڑتاہوں۔

آیت اوّل:’’رفیع الدرجات ذوالعرش یلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ لینذر یوم التلاق (المؤمن:۱۵)‘‘

خلاصہ استدلال: اللہ تعالیٰ کا رفیع الدرجات ذوالعرش ہونا اور اس کے مبذول کا پایا جانا۔ نیز ضرورت انداز نزول وحی کی علت ہیں۔ پس

223

جب کہ یہ تینوں باتیں بعد نبی کریمa بھی موجود ہیں تو نزول وحی کے مسدود ہونے کے کیا معنی۔

روح سے صحیح یہ ہے کہ وحی مراد ہوگی، جیسا کہ جلالین اور تفسیر کبیر میں ہے۔

الجواب:

۱… یہ آیت بالکل اس مسئلہ سے غیر متعلق ہے کہ وحی غیر تشریعی باقی ہے۔ کیونکہ یہ آیت تو آنحضرتﷺ کے متعلق اتری ہے اور آپ پر وحی تشریعی ہوتی تھی۔ پس اس لئے وحی غیر تشریعی مراد لینا محض لغو ہے۔

۲… بیان نزول وحی کی علت نہیں بیان کی جاتی ہے، بلکہ ’’علیٰ من یشآء من عبادہ‘‘ کی علت پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ کفار مکہ کے ذہن میں نبوت کا معیار کثرت مال اور دنیوی جاہ وجلال تھا اور کہا کرتے تھے کہ: ’’اانزل علیہ الذکر من بیننا‘‘ ( کیا ہم سب میں سے اس پر وحی اور کتاب اتاری گئی) یعنی یہ شخص کیوں مستحق وحی ونبوت ہوگیا۔ ہم سب باوجود وجاہت وعزت ظاہری ومال ومنال کے کیوں محروم رہے۔ خدا نے جواب دیا کہ یہ چیزیں صرف ہماری نظر انتخاب پر ہیں، جسے چاہیں نواز دیں۔ تمہارے خود ساختہ معیار ناقابل التفات ہیں، کیونکہ یہ چیز کسبی نہیں بلکہ وہبی ہے۔ جابجا قرآن پاک میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ’’و اللہ یختص برحمتہ من یشآء‘‘ اللہ جسے چاہتاہے اپنی رحمت سے مختص کرتاہے۔ ’’ اللہ یعلم حیث یجعل رسالتہ‘‘ خدا جانتاہے کہ کسے رسول بنانا چاہئے کوئی اس کا معیار نصاب نہیں یہ صرف وہبی شیٔ ہے:

  1. ایں سعادت بزور بازو نیست

    گرنہ بخشد خدائے بخشندہ

وہبی ہونا گواہان مدعاعلیہ اور خود مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔

غرض یہ کہ یہاں صرف یلقی الروح۔ نزول کا مطلقاً ذکر نہیں، بلکہ اس کے ساتھ لفظ ’’علیٰ من یشآء من عبادہ‘‘ کا بھی ہے کہ نزول وحی کے واسطے اپنے جس بندہ کو چاہتاہے، منتخب کرتاہے۔ نبی بنانا اور مہبط وحی ٹھہرانا، اس کی نظر انتخاب پر موقوف ہے نہ کسی کسب پر۔ مختار مدعاعلیہ نے امور ثلاثہ صرف نزول وحی کی علت قرار دے کر عدالت کو مغالطہ دیا ہے۔ مگر دراصل یہ علت نظر انتخاب کی ہے نہ نزول وحی کی۔ جب کہ خود اس آیت اور دوسری آیات نیز تفاسیر میں مصرح موجود ہے۔ مفصل جواب کے لئے اصل بحث ملاحظہ ہو۔ اس کا جواب مختار مدعاعلیہ سے کچھ نہ بن سکا۔ صرف یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت انتخاب جس طرح پہلے موجودہے، اب بھی موجود ہے۔ جیسا کہ یلقی الروح کے مضارع سے معلوم ہوتاہے جو استمرار تجددی پر دلالت کرتاہے۔

الجواب: یہ محض مغالطہ ہے ورنہ یہی دلیل کوئی آدمی نزول قرآن وشریعت کے متعلق قائم کرے گا۔ یہ صفت قرآن اور شریعت یا مستقل نبی بھیجنے کی جس طرح اللہ میں پہلے موجود تھی، اب بھی موجود ہے اور جابجا ان سے اسم فاعل یا مضارع سے تعبیر کیاہے، جو استمرار تجددی پر دلالت کرتاہے۔ لہٰذا وحی تشریعی قرآن تشریعی نبی برابر قیامت تک آتے رہیں گے۔ حالانکہ یہ مختار مدعاعلیہ اور خود مرزا کو بھی مسلم نہیں اور یہی کہتے ہیں کہ شریعت کامل ہوچکی۔ قرآن کامل کتاب ہے۔ لہٰذا کسی شریعت اور کتاب کی ضرورت نہیں۔ ہمارا بھی یہی جواب ہے کہ وحی بھی کامل ہو چکی۔ اب کسی وحی کی ضرورت نہیں۔ قرآن اللہ کی آخری وحی ہے۔ اس کے بعد کوئی بھی وحی نہیں، بلکہ جو ہوگا الہام ہوگا۔ خواہ لفظ وحی استعمال ہو جس کے ثبوت میں، میں اس سے پہلے ہیڈنگ میں متعدد آیات اور صریح احادیث نیز مرزا صاحب کی تصریحات پیش کر آیاہوں۔

نیز مختار مدعاعلیہ اور گواہ مدعاعلیہ کے بھی دو مسلم پیشواء حضرت میر درد دہلوی اور شیخ ابن عربی کی تصریح پیش کر دی ہے۔ ثانی الذکر امام کی تصریح مکرر پیش کرتاہوں کہ: ’’اعلم ان لنا من اللہ الہام دون الوحی ان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ ﷺ‘‘

(فتوحات ج۳، باب۳۵۳ ص۳۱۶)

224

کہ خوب سمجھ لو ہمارے لئے خدا کی جانب سے صرف الہام ہے وحی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ وحی کا راستہ یقینا بعد وصال آنحضرتﷺ بالکل بند ہوچکا۔

اور میر درد کارخانہ وحی بند فرماتے ہیں۔ اس تصریح کے بعد مختار مدعاعلیہ کا (فتوحات ج۲ ص۴۱۷) سے اس آیت کے متعلق ایک حوالہ نقل کرنا محض مغالطہ ہے۔ وہاں تو حضرت شیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ وحی کی ایک غرض بشیر ونذیر ہونا بیان فرماتے ہیں اور مبشرات کا سلسلہ آثار نبوت سے باقی ہے، جو بصورت الہام یا رؤیاء صالحہ کے ہوتا رہتاہے۔ وحی اور نبوت مطلقاً مسدود ہے۔ چنانچہ اسی (فتوحات ج۲ ص۳۱) پر تصریح موجودہے: ’’فان المبشرات ھی التی ابقی اللہ لنا من آثار النبوت التی سد بابہا وانقطع اسبابہا‘‘ یعنی اللہ نے صرف مبشرات (رؤیاء صالحہ یا الہام) آثار نبوت سے ہمارے واسطے باقی رکھا ہے۔ باقی نبوت کا دروازہ اوراس کے تمام اسباب مسدود ومنقطع ہوچکے ہیں۔ یہی تصریح (ج۲ ص۶۹،۱۰۵، ۲۴، ۳۰۹، ۳۵۹، ۳۳۳، ۴۹۴، ۷۸۶، باب۷۳، ۴۶، ۸۸) وغیرہ میں کافی سے زائد موجود ہے یہ صرف مختار مدعاعلیہ کی قطع وبرید ہے۔ اس میں لفظ تشریع اور شرع وغیرہ سے مغالطہ دینا چاہاہے۔ حالانکہ اصل بحث میں، میں اس اصطلاح کے متعلق اسی فتوحات سے پیش کرچکاہوں کہ جو نبی ورسول ہوتاہے وہ مشرع اور صاحب شریعت ضرور ہوتاہے اور وحی انبیاء کے ساتھ مختص ہے جس کا انسداد ہو چکا۔ اولیاء کے واسطے صرف الہام ہے نہ وحی۔ یہ حوالہ گواہ نمبر۱، مؤرخہ۸؍مارچ گواہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۹؍مارچ ۱۹۳۳ء میں بجواب جرح تسلیم کر چکا ہے۔

نیز شیخ کی آخری تصنیف فصوص الحکم سے ۲۷؍مارچ۱۹۳۳ء کی جرح میں گواہ نمبر۲ تسلیم کرچکا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی مشرع یا مشرع لہ یعنی صاحب شریعت یا تابع شریعت متقدم نہیں بنایا جاسکتا۔ عیسیٰm نئے نبی نہ بنائے جائیں گے، بلکہ ان کا دعویٰ آپa سے پہلے ہوچکاہے۔ اس امت میں بحیثیت امتی اور مجدد نزول فرمائیں گے۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

دوسری آیت : ’’ینزل الملٰئکۃ بالروح علیٰ من یشآء من عبادہ (النحل:۲)‘‘

اس کا وہی استدلال اور وہی جواب ہے اس کے ترجمہ میں بھیجتاہے اور بھیجا کرے گا۔ مختار مدعاعلیہ کی تحریف ہے، مضارع دراصل حالیاً استقبال کے لئے آتا ہے۔ استمرار تجددی کبھی مجازی طور پر قرینہ صارفہ کی موجودگی میں لئے جاتے ہیں اور یہاں کوئی بھی قرینہ حقیقی معنی سے روکنے والا نہیں، بلکہ اس مجازی معنی کے روکنے کے لئے وہ تمام آیات واحادیث موجود ہیں جو میں پہلے سلسلہ ختم نبوت ووحی نبوت میں پیش کرچکا۔

بہر حال ان دنوں آیات سے آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیر تشریعی کا سلسلہ ثابت نہیں ہوسکتا جو بصراحت قرآن وحدیث بند ہو چکا۔ جو کچھ باقی ہے وہ صرف الہام یا وحی لغوی ومجازی ہے اور یہ آیتیں چونکہ آنحضرتﷺ پر نازل ہوئیں اور نبوت وحی تشریعی سے متعلق ہیں۔ پس اگر اس سے نزول وحی کا استمرار بقول مختار مدعاعلیہ لیا جائے تو وحی تشریعی بھی بند نہ ہو سکے گی۔ حالانکہ اس کا وہ بھی قائل نہیں۔

تیسری آیت:’’اذا سئلک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (البقرۃ:۱۸۶)‘‘

وہی شہادت والا استدلال مکرر دہرایا ہے۔

الجواب: اس بناء پر تو خدا کی ہم کلامی ہر کافر سے بھی ثابت ہوجائے گی۔ یہاں تو صحابہ کرام کے اس سوال کا جواب ہے کہ خدا قریب ہے، جسے ہم چپکے سے پکارا کریں یا بعید ہے کہ بلند آواز سے پکارنے کی حاجت ہے۔ جواب یہ مرحمت ہوتاہے کہ میں قریب ہوں دعاء کرنے والے کی دعاء قبول کرتاہوں یا پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتاہوں،جب جو پکارتایا دعاکرتاہے۔

اور پکارنے والی کی پکار کے جواب کا مطلب بھی قبولیت ہی ہے۔ جیسا کہ تمام تفاسیر میں مصرح ہے۔ یہاں وحی غیرتشریعی کے

225

بقاء کا تذکرہ بھی نہیں اور اگر مختار مدعاعلیہ کے مسلک پر لیا جائے تو بھی مدعا ثابت نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خدا کابندے کی پکار کا جواب دینا بصورت الہام بھی ہوتاہے اور بصورت وحی بھی۔ جب کہ اوپر دلائل قاطعہ سے ثابت ہوچکاہے کہ وحی بعد آنحضرتﷺ منقطع ہوچکی، صرف الہام باقی ہے۔ تو اب جواب بھی بصورت الہام نہ وحی۔ لہٰذا اصل مدعااس سے بھی ثابت نہ ہوسکا۔ مفصل ابتدائی بحث میں ملاحظہ ہو۔ اس ہمارے جواب کے لئے مختار مدعاعلیہ نے لاحاصل اور ناقابل التفات سعی کی ہے اور باوجودیکہ مطلب بگاڑ کر نقل کیا ہے۔ پھر بھی جواب نہ ہوسکا۔ عدالت خود مقابلہ کرلے۔

خواہ دعا قبول کرنے کے معنی ہوں، جیسا کہ عام مفسرین کا خیال ہے یا جواب دینے کے۔ جیسا کہ بعض کا بقاء، وحی غیر تشریعی کا ثبوت نہیں نکلتا۔ جب کہ اس کا بھی انسداد دلائل قطعیہ سے ثابت ہوچکا اور جواب کے لئے الہام کافی ہے، وحی کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ شیخ محی الدین ابن عربی کی تصریحات پیش کرچکاہوں۔ مختار مدعاعلیہ کا صرف ایک شق یعنی اجیب کے معنی دعا قبول کرنے کے لئے ہیں۔ لیکن اس پر عقل اٹکل سے بلا کسی سند کے احتمال قائم کرنا میرے مدلل بحث کے جواب کے لئے محض ناکافی اور ناقابل التفات ہے۔

نیز میں نے یہ بھی پیش کیا تھا کہ آج تک تیرہ سوسال میں کسی نے اس سے بقاء وحی کا استدلال کیا ہے؟ تو پیش کرے جس کے پیش کرنے سے عاجز رہا اور استدلال گویا لاجواب تسلیم کرلیا۔

چوتھی آیت:’’ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا (حمٓ السجدۃ:۳۰)‘‘

یہاں بھی جواب کی دو شقیں تھیں، ایک یہ کہ اس سے مراد نزول ملائکہ عند الموت ہے۔ جیسا کہ بعض مفسرین کی رائے ہے یا نزول ملائکہ مطلقاً ہے۔ جیسابعض فرماتے ہیں: دونوں صورتوں میں بقاء وحی پر اس سے استدلال صحیح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بحث تو وحی نبوت کے بقاء کے متعلق ہے۔ وحی مجازی یا وحی الہام کے بقاء کے تو ہم بھی منکر نہیں اور وحی نبوت کا انسداد خود مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ جیسا کہ گزرچکا۔

باقی یہ امر کہ الہام یا وحی مجازی وغیرہ میں نزول ملک بھی ہوتاہے۔ اس کا جواب اصل بحث میں مختار مدعاعلیہ اور گواہ مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ کے الفاظ میں دے چکاہوں کہ کبھی الہام ملک الہام کے ذریعہ سے ہوتاہے، کیونکہ تمام کارخانہ کائنات ملائکہ کے نظام سے وابستہ ہے۔ البتہ نزول وحی نبوت یا فرشتہ وحی کسی ایک دلیل سے بھی ثابت نہیں۔ مختار مدعاعلیہ نے بجائے کسی جواب کے عاجز آکر صرف یہ کہہ دیا کہ مختارمدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ مختار مدعیہ کا یہ قول کہ ایسا موت کے وقت ہوتاہے، ناقابل التفات ہے۔ حالانکہ نہ صرف اس آیت بلکہ متعدد آیات میں موت کے وقت نزول ملائکہ کا تذکرہ موجود ہے اور ہم کلامی بھی۔ ’’الم تکن ارض اللہ واسعۃ‘‘ اور اس آیت کے متعلق مفسرین نے یہ تصریح بھی فرمادی ہے۔ بہرحال اصل بحث کا جواب کجا اس شق کا بھی یہی جواب دیا کہ ناقابل التفات ہے اور دلیل کچھ نہ پیش کرسکے جس سے عدالت استدلال کی کمزوری خیال فرماسکتی ہے۔

پانچویں آیت: ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی (آل عمران:۳۱)‘‘

خلاصہ استدلال : اصل غرض تخلیق محبت الٰہی ہے اور بندہ اورخالق میں محبت و تعشق کا رشتہ ہونا چاہئے۔ وہ یا گفتار سے ہوگا یا دیدار سے۔ دیدار سے اس عالم میں ناممکن ہے۔ کیونکہ اس کی ذات وراء الوراء ہے۔ پس اگر وحی کا سلسلہ آنحضرتﷺ کے بعد مانا جائے تو گفتار بھی نہ رہی۔ پس محبت کیوں کر ہوسکتی ہے۔

الجواب:

۱… یہ بقاء وحی کا ایسا اچھوتا اور عجیب وغریب استدلال ہے جو ساڑھے تیرہ سوسال میں آنحضرتﷺ سے لے کر سوائے مرزا

226

صاحب کسی پر منکشف نہ ہوا۔

۲… اور زیادہ تعجب اس پر ہے کہ اپنی حالت پر خدا کو قیاس کیاگیا ہے۔ کیونکہ مخلوق کی محبت کا اظہار گفتگو اور دیدار کی شکل میں ہوتاہے۔ اسی پر قیاس کرکے خدا کی محبت کو بھی گفتار ودیدار کا پابند ٹھہرایا۔ حالانکہ تمام اسلاف ومفسرین خدائے تعالیٰ کی محبت کا یہ مطلب لیتے آئے ہیں کہ ایصال خیر اور فیوض برکات سے مالا مال کرنا بیضاوی شریف اور کشاف میں ضابطہ مقرر کیا ہے کہ محبت وغضب وغیرہ جو نفسانیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب کبھی بھی خدا کی نسبت استعمال ہوں گے، اس سے اس کے نفسانی مبادی مراد نہ ہوں گے۔ بلکہ اس کے نتائج انعام اور انتقام وغیرہ مراد لئے جائیں گے۔

۳… یہاں صرف مدعیان محبت الٰہی کے لئے یہ اعلان کیاگیاہے کہ وہ اگر دراصل محبت رکھتے ہیں تو اتباع نبوی اختیار کریں۔ خدا اس سے محبت کرے گا اور گناہ بخش دے گا۔ یہاں ابقاء وحی کا ذکر تک نہیں، بلکہ ’’یغفرلکم ذنوبکم… الخ!‘‘ خود اس کی شرح کررہاہے اور ہم کلامی کا ترجمہ یا تفسیر کسی ایک بزرگ عالم مفسر نے نہ کیا۔

نیز اس میں تو اتباع نبوی مدار محبت قرار دیاگیاہے۔ پس جتنے بھی متبع نبی کریمa ہیں خصوصاً گواہان مدعاعلیہ کے نزدیک مرزا محمود صاحب ان سب پر نزول وحی اور خدا سے ہم کلامی پر فخر ماننا ہوگا۔ حالانکہ مختار مدعاعلیہ اور اس کے فریق کو یہ مسلم نہیں۔

اگرچہ اس سے ہم کلامی مراد لینا قرآن پاک کی تحریف اور تفسیر بالرائے ہے مگر اگر بفرض محال کوئی تسلیم بھی کرلے تو بھی ابقاء وحی ثابت نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خدا کی ہم کلامی بصورت وحی اوربصورت الہام دونوں طرح ہوتی ہے اور اوپر دلائل سے واضح ہوچکا کہ بعد آنحضرتﷺ وحی کا دروازہ بند ہے۔ صرف الہام یا وحی مجازی ولغوی ہے۔ لہٰذا ہم کلامی بھی بصورت الہام یا وحی مجازی ہوگی۔ لہٰذا بقاء وحی نبوت کا ثبوت نہ ہوسکا۔ مفصل جواب بحث میں دے چکاہوں جس کا مختار مدعیہ سے کچھ بھی جواب نہ بن آیا اور صرف یہ کہہ کر ٹال دیا کہ مختار مدعاعلیہ نے اس پر یہ جرح کی ہے کہ پھر وحی نبوت صحابہ پر بھی ہونی چاہئے۔ حالانکہ بحث اس موقعہ پر یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیر تشریعی ہونی چاہئے۔

گزارش یہ ہے کہ اگر مختار مدعاعلیہ کی مراد وحی غیر تشریعی سے مجازی وحی بمعنی الہام اور اس وحی کے مراد ہے جو شہد کی مکھی کو بھی ہوسکتی ہے تو اس سے کسی کا انکار نہیں،نہ اس میں بحث ہے، جو قیامت تک جاری رہے گی اور وحی نبوت کا انسداد براہین قاطعہ اور دلائل واضحہ سے ثابت کرچکا۔ اس کا جواب کجا یہاں بھی مختار مدعاعلیہ نے تسلیم ہی کر لیا۔ لہٰذا یہ تمام دلائل غیر متعلق اور بے ربط ہیں اور ان میں وحی کا لفظ تک نہیں نہ کوئی اشارہ اور تاویلاً اگر کوئی دور از کار اشارہ ہے تو وہ الہام اور وحی مجازی کا ہوگا جو ہمیں مضر نہیں۔

چھٹی آیت: ’’ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الیٰ یوم القیامۃ… الخ! (الاحقاف:۵)‘‘

>خلاصہ استدلال: سچے خدا کی یہی نشانی قرار دی ہے کہ وہ پکار کا جواب دیتاہے۔ اس کا مدلل جواب ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں دیا جاچکا اور تیسری آیت کے تحت میں جواب الجواب کے سلسلہ میں بھی گزر چکا ہے۔ خواہ اس کے معنی قبولیت دعا کے لئے جائیں یا پکار جواب کے، بہر صورت مطلب ایک ہی ہے، یہ معنی نہیں کہ جس طرح انسان ایک دوسرے کی پکار کا جواب دیتاہے خدا بھی ویسا ہی جواب دے گا اور اگر کسی کو ویسا جواب نہ دے تو سچا خدا نہ رہے۔ انبیاء کرام کو خدا کا جواب بصورت وحی نبوت، اولیاء اللہ کو بصورت الہام، عام مومنین کوبصورت اجابت دعا وقبول رحمت وغیرہ ہوتاہے۔ چونکہ دلائل قطعیہ بلکہ مسلم فریقین سے بعد آنحضرتﷺ انسداد وحی ثابت ہوچکا۔ اب جواب کے یہ معنی لے کر یہی الہام مراد ہوسکتاہے نہ وحی۔ دوسرے یہاں یہ تو نہیں کہ ہر شخص کو ہر پکارنے والے کو بروقت جواب بصورت کلام

227

دیتارہتاہے۔ ورنہ ہم اور آپ بلکہ کفار تک برابر ہر روز خدا کو کسی نہ کسی رنگ میں ضرور پکارتے ہیں۔ حالانکہ ہم کلامی کا شرف میسر نہیں آتا۔ کیا مرزا صاحب کی جماعت خدا کو نہیں پکارتی۔ پھر کیا خدا ان سب سے ہم کلام ہوتا رہتاہے۔ یہاں تو صرف ان غیر ذی روح بتوں اور خدائے تعالیٰ کی امتیازی شان بتانا منظور ہے کہ خدائے تعالیٰ کی شان سمیع، بصیر ومجیب الدعوات ہے یہ شان بتوں کی نہیں۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خدا کو پکارو دیکھو ! ابھی جواب دے گا۔ ورنہ وہ سچا خدا نہیں۔ نعوذب اللہ من ذلک! پھر تفاسیر میں ہر دو معنی مصرح موجود ہیں۔

اس پر مختار مدعاعلیہ کا یہ فقرہ کہ مختار مدعیہ کے اس قسم کے اعتراضات سے علم قرآن سے اس کی محرومی ظاہر ہوتی ہے۔ عدالت کے امتیاز خصوصی کے حوالہ کرتاہوں۔ قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص دلائل کے جواب سے عاجز ہوجائے، اس قسم کی باتیں شروع کردیتاہے۔ دلائل کا جواب دلائل سے ہوسکتاہے نہ تیز کلامی سے۔

ساتویں آیت: ’’الم یروا انہ لایکلمہم (الاعراف:۱۴۸)‘‘

نیز اس کی تائید ی آیات۔

خلاصہ استدلال: بطلان الوہیت معبودان باطلہ پر عدم تکلم کو دلیل ٹھہرایاہے… الخ!

الجواب: ہم بھی تو یہ کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی صفت متکلم ہونا ہے، مگر اس کی یہ صفت ازلی وابدی ہے۔ جب کوئی مخاطب نہ تھا جب بھی وہ متکلم تھا، اب بھی ہے، جب کوئی نہ ہوگا توبھی رہے گا۔ اس کے تکلم کو اپنے اوپر قیاس کرنا ہی جہالت ہے اور متکلم بلا اصوات ولسان وتلفظ ہے اور اگر صرف معبود حق وباطل کی شناخت متکلم ہونا ہے تو جولوگ عیسیٰ وعزیرn کو خدا اور معبود سمجھتے تھے وہ مختار مدعاعلیہ کے نزدیک حق بجانب ہوں گے۔ کیونکہ وہ تو متکلم تھے۔ یہ محض تفسیر بالرائے کا نتیجہ ہے۔

یہاں کفار کی مزید حماقت کا ذکر ہے کہ علاوہ اور وجوہ کے دیکھو یہ ایسے کی پرستش کررہے ہیں جس سے خود افضل ہیں۔ وہ بات بھی نہیں کرسکتے نہ وہ انہیں راستہ بتا سکتے ہیں اور یہ خود بات کرنے اور راستہ بتانے پر قادر ہیں۔ پس یہ لوگ کس قدر احمق اور ظالم ہیں۔ یہاں کہیں ابقاء وحی کا اشارہ تک نہیں۔ مگر مختار مدعاعلیہ اسے قطعی دلیل قرار دے رہا ہے کہ خدا کی صفت متکلم ہر زمانہ میں جلوہ گر رہتی ہے۔ نہیں معلوم ان دنوں ان کے نزدیک کس سے ہم کلام ہے۔ عیاذاً ب اللہ ! خدا کی حقیقی ہم کلامی بصورت وحی نبوت تھی جس کا سلسلہ خدائے تعالیٰ نے خاتم النّبیینa کے بعد بند فرمادیا۔ جیسا کہ نصوص بیّنہ اور مسلم فریقین بزرگوں کی تصریحات سے پیش کرچکا۔ اب صرف الہام اور وحی مجازی باقی ہے۔ اس میں بحث نہیں۔ لہٰذا یہ آیت بھی بالکل غیر متعلق ہے اور دراصل اس کے ثبوت میں مختار مدعاعلیہ کے پاس ایک ضعیف سے ضعیف بھی دلیل نہیں۔ اس لئے غیر متعلق اور بے ربط دلائل پیش کررہاہے۔

آٹھویں آیت: ’’اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ:۵،۶)‘‘

اس کا استدلال عدالت خود اصل بحث سے ملاحظہ فرما لے۔ اگر یہی دلائل ابقاء وحی کے ہیں تو پھر انسداد وحی نبوت پر ’’الٓم‘‘ سے ’’والناس‘‘ تک ایک ایک فقرہ اور ایک ایک لفظ بصراحت دلالت کرتاہے۔ یہاں انبیاء اور صدیقین اورصلحاء کا سیدھا راستہ طلب کیا جارہا ہے کہ صراط مستقیم پر رہیں اور گمراہ نہ ہوں۔ مگر مختار مدعاعلیہ اس سے مرتبہ نبوت مراد لے رہا ہے اور اس سے ابقاء وحی ثابت کررہاہے۔ پس کیا قرآن میں جہاں اللہ کاراستہ طلب کیا گیا ہے، وہاں خداتعالیٰ کا دعویٰ اور شان الوہیت بھی آجائے گی۔ غالباً مرزا صاحب کا دعویٰ خدائی اور اپنے اندر الوہیت کی موجیں اس کے تحت ہوںگی۔ ’’لاحول ولا قوۃ الا ب اللہ ۔ نعوذ ب اللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا‘‘

نویں آیت: ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس (آل عمران:۱۱۰)‘‘

عدالت عالیہ یہ استدلال بھی اصل بحث مدعاعلیہ سے ملاحظہ فرمالے۔

228

خیر امۃ ہونے کی علت ظاہر ہے کہ خیر الرسل کے امتی ہیں۔ یہاں بھی علت کی تصریح ہے کہ: ’’اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتؤمنون ب اللہ (ایضاً)‘ کہ لوگوں کے واسطے شاہد بننا، امر بالمعروف، نہی عن المنکرکرنا اور اللہ پر ایمان لانا نیز اور بہت سی قرآن واحادیث میں خصوصیات مذکور ہیں۔ امم سابقہ پر ان کا گواہ ہونا ’’لتکونو ا شہدآء علی الناس (البقرۃ:۱۴۳)‘‘ سے ظاہر ہوتاہے۔ جنت میں بھی ان کااوّل داخل ہونا، وغیرہ وغیرہ! احادیث سے ثابت ہے۔ یہ بات کہ ان پر وحی نبوت ہوتی رہے یا انبیاء بنتے رہیں، جبھی تو خیر امۃ ہوں گے۔ محض مختار مدعاعلیہ کی تصنیف کردہ طبع زاد ہے۔ تیرہ سوسال میں ایک سطر نہ پیش کرسکتے ہیں۔ ان شاء اللہ ! باقی مریم اور ام موسیٰm کے واقعہ سے تائید اس میں اسلاف کے نقول پیش کرچکاہوں کہ وہ الہام تھا۔ الہام کے بقاء کا کوئی منکر نہیں۔ گفتگو بقاء وحی نبوت میں ہے۔ اس کی ایک ضعیف سے ضعیف دلیل بھی مختار مدعاعلیہ یا اس کا کوئی گواہ پیش نہ کرسکا۔ ف اللہ الحمد!

مختار مدعاعلیہ نے اپنی تائید میں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی سے یہ نقل کیا کہ چنانچہ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے یہی ثابت کرنے کے لئے کہ امت محمدیہ کے کاملین کو بذریعہ الہام غیب پر مطلع کیا جاتاہے۔ اس آیت سے دلیل پکڑی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ بعد تسلیم اس امر کے تاپیش کرنے کے (اشاعۃ السنۃ نمبر۷ ج۷ ص۲۰۵،۲۰۶) اس سے تو مختار مدعاعلیہ کا خانہ ساز استدلال ختم ہوگیا۔ کیونکہ خود کہہ رہا ہے کہ بذریعہ الہام غیب پر مطلع کیا جاتاہے اور بحث الہام میں نہیں وحی میں ہے۔ دونوںمیں فرق کے واسطے بیان گواہ مدعیہ نمبر۳ ملاحظہ فرمائیں۔

مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ اور ان کا جواب

میرے اس امر کے جواب میں کہ اس آیت سے تیرہ سوسال میں کسی نے بقاء وحی نہ سمجھا خود نبی کریمa صحابہ کرام، سلف صالحین بلکہ قرآنی تصریحات اس کے خلاف ہیں۔ مندرجہ ذیل تاویلات مختار مدعاعلیہ نے پیش کی ہیں۔

۱… تفاسیر کے بعض حوالے میں نے پیش کئے ہیں یہ محض جھوٹ ہے۔ اس کی تائید میں ایک حوالہ بھی نہیں کہ ا س سے کسی بقاء وحی پر استدلال کیا ہے۔

۲… قرآن کریم عربی زبان میں ہے اور اس کے مطابق اس کی تفسیر کی جاتی ہے اور جو تفسیر میں نے کی ہیں وہ قرآن، حدیث اور عربیت سے بالکل صحیح ہیں۔

الجواب: محض جھوٹ ہے۔ قرآن واحادیث اور اقوال صحابہ میں مصرح انقطاع وحی کی تصریح موجود ہے۔ جیسا کہ اوپر حوالہ نقل کرچکا اور اصل بحث میں آیات اور احادیث نیز اقوال صحابہ وبزرگان بلکہ ان کے بھی مسلم بزرگ علامہ محی الدین ابن عربی کے ایک دو نہیں متعدد حوالے صاف صاف غیر مشتبہ پیش کرچکا۔ پس یہ تفسیر علاوہ غیر منقول ہونے کے قرآن پاک، احادیث، اقوال صحابہ کرام کے بالکل خلاف اور متضاد ہے۔ ایسی تفسیر قطعاً تفسیر بالرائے اور حرام وناجائز بلکہ بتصریح حدیث حد کفر تک پہنچ جاتی ہے۔

۳… جو تفسیر قواعد عربیہ کے مطابق ہے گو کسی اور نے تفسیر نہ کی ہو تفسیر بالرائے نہ ہوگی۔

الجواب: مگر شرط یہ ہے کہ قرآن وحدیث واقوال صحابہ کے خلاف نہ ہو۔ جیسا کہ مرزا صاحب بھی برکات الدعاء میں تسلیم کرچکے ہیں اور یہ تفسیر قرآن وحدیث واقوال صحابہ کرام کے مخالف ہے۔ جیسا کہ اوپر ثابت ہوچکا۔

۴… (تحذیرالناس ص۴۰) کا حوالہ جس سے یہ ثابت کرنا چاہاہے کہ جو بھی قواعد عربیہ کے مطابق ہو، گو کوئی اسے نقل نہ کرے تفسیر بالرائے نہ ہوگی۔

الجواب: یہ محض مغالطہ ہے۔ اس سے بالکل متصل یہ فقرات ہیں۔ (ہاں! اگر انصاف ہو تو اس حدیث کے معنی میں عرض کرتاہوں) ہاں! نئے معنی نہیں قائم کئے، بلکہ عقلی ونقلی ہو یا کوئی قرینہ عقلی ونقلی ہواور پھر بقدر قوت دلیل وقرینہ کوئی شخص کسی احتمال کو راجح کہے ہرگز کفر نہیں۔ پس

229

مولانا نے اس تفسیر کو تفسیر بالرائے نہیں کیا ہے جس کی تائید حدیث یا عقلی اور نقلی قرائن سے کی ہے اور اس میں بھی نئے معنی نہیں قائم کئے بلکہ عقلی اور نقلی دلائل سے مختلف معنی سے ایک معنی کو ترجیح دے دی ہے۔

اور مختار مدعاعلیہ نے بلا دلیل و قرینہ جو طبع زاد تفسیر کی اور پھر خلاف تصریحات و آیات واحادیث واقوال صحابہ وسلف صالحین کی ہے۔ اس کے متعلق اس سے متصل (تحذیر الناس ص۴۱) پر یہ الفاظ ہیں کہ: ’’ہاں! جب نہ کوئی دلیل ہے نہ کوئی قرینہ تو پھر ترجیح احد الاحتمالات محض اپنی عقل نا رسا کا ڈھکوسلا ہے۔ اس کو تفسیر بالرائے اعنی تفسیر بالہویٰ اور تفسیر عند نفسہ کہہ سکتے ہیں۔‘‘ آگے چل کے نتیجہ کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں: (تحذیر الناس ص۴۲) ’’بالجملہ تفسیر بالرائے وہ ہے جو امر مجمل اور مفصل میں اصلاً نہ ہو، بلکہ اس امر میں کلام مجمل ساکت ہو اور مرتبہ تفسیر وتفصیل میں وہ امر داخل کیا جائے اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کا داخل کرنا تصرفات خیالی ہیں جو ہمارے عقول ناقصہ کاکام ہوتاہے۔‘‘

مختار مدعاعلیہ نے اسی اصول پر تفسیر کی ہے جو حضرت مولانا کی تصریح کے مطابق بھی تفسیر بالرائے اور ناجائز وحرام ہے۔ باقی خود جو تفسیر فرمائی ہے، اس کے متعلق اس سے متصل ارشاد ہے کہ: ’’باقی جو باتیں بوسیلہ کسی دلیل عقلی یا نقلی کے شامل کی جائیں اس کو اہل ظاہر گو تفسیر کہیں۔ پس حقیقت میں تفسیر نہیں ہوتیں، بلکہ دو کلاموں کے مضمونوں کو اکٹھا کردیا کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں وہ کوئی نئی تفسیر نہیں کررہے بلکہ قرآن واحادیث کے مختلف دو جگہ کے مضمونوں کو یکجاء کردیاہے۔ اس میں اپنے عقل ورائے کو دخل نہیں، بلکہ عقلی ونقلی دلیل کی روشنی میں ہے اور مختار مدعاعلیہ نے تو قرآن وحدیث واقوال صحابہ وسلف صالحین بلکہ اپنے مسلم بزرگوں کی تصریح کے خلاف محض اپنی رائے سے تفسیر کی جو قطعاً حرام ہے۔ میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ وہ (تحذیر الناس ص۴۰،۴۱،۴۲) ملاحظہ فر مالے تاکہ مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ اور افتراء اچھی طرح آشکار ہوجائے۔

مختار مدعاعلیہ نے میرے اس اعتراض کا کہ اس سے پھر وحی نبوت تشریعہ کا بقاء بھی لازم آئے گا۔ یہ جواب دیا ہے کہ دوسری آیات مثلاً خاتم النّبیین۔اکملت لکم دینکم (المائدۃ:۳) ومن یطع اللہ (النساء:۶۹)‘‘ وغیرہ سے وحی شریعت جدیدہ کا انسداد ثابت ہوتاہے۔

پس ہمارا بھی یہی جواب ہے کہ مذکورہ بالا آیات نیز انسداد وحی نبوت پر جس قدر آیات واحادیث صحیحہ واقوال بزرگان وسلف صالحین اوپر پیش کرچکاہوں، ان سے صراحتاً وحی نبوت کا انسداد ثابت ہوتاہے۔ خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ لہٰذا مکالمہ الٰہیہ صرف صورت الہام یا وحی مجازی ہوسکتا ہے۔ اس میں ہمیں بھی خلاف نہیں۔ بہرحال کسی ایک آیت سے وحی نبوت کا بقاء نہ ثابت ہوسکا۔ زائد سے زائد الہام کا بقاء ثابت ہوا وہ مدعاسے غیر متعلق ہے۔

دلائل بقاء وحی از احادیث

میں نے ابتدائی بحث میں ۲۵ سے زائد احادیث کا اس سلسلہ میں حوالہ دیا تھا کہ اس سے وحی نبوت کا انقطاع ثابت ہے۔ کیونکہ جس قدر احادیث انقطاع نبوت پر دلالت کرتی ہیں، وہ سب انقطاع وحی نبوت پر بلااختلاف دلالت کریں گی۔ کیونکہ یہ تو مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے کہ جس میں شان نبوت باقی اس کی وحی بلا شبہ وحی نبوت ہے۔ (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) نبی کی وحی، وحی نبوت کہلائے گی۔ (سراج منیر ص۴، خزائن ج۱۲ ص۶) اور لطف تو یہ ہے کہ جب تک مرزا صاحب نے نبوت کا صریح دعویٰ نہ کیا تھا۔ خود بھی اس مسئلہ میں ہمارے ہم نوا تھے۔ فرماتے ہیں کہ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) یہاں کوئی تفصیل تشریعی اور غیرتشریعی کی نہیں۔ حتیٰ کہ مختار مدعاعلیہ کی تاویلات قابل التفات ہوں۔

پھر میں نے صراحتاً انقطاع وحی نبوت کے سلسلہ میں (۴) صحیح احادیث کنز العمال، بخاری شریف، مشکوٰۃ شریف اور ابن جریر

230

سے پیش کیں، جو مسل سے پیش کی گئی تھیں۔ پہلی میں تصریح ہے کہ شعبہ ہائے نبوت سے صرف مبشرات باقی ہیں۔ دوسری میں ’’ان الوحی قد انقطع‘‘ کے الفاظ ہیں کہ وحی بعد آنحضرتﷺ یقینا منقطع ہوچکی۔ تیسری میں ’’انہ انقطع الوحی‘‘ کا لفظ ہے کہ واقعہ یہ ہے کہ وحی بعد زمانہ آنحضرتﷺ منقطع ہوچکی تھی۔ میں نے بھی تمام اجزاء نبوت سے صرف مبشرات کو باقی مانا ہے۔

پس ان صریح احادیث کے مقابل مختار مدعاعلیہ کا دو غیر متعلق حدیثیں ایک محدث والی اور ایک عیسیٰm پر وحی اترنے کی پیش کرنا، یہاں تک قابل قبول ہے۔ بہرحال میں باوجود کہ دونوں کا مدلل جواب اصل بحث میں پیش کرچکا ہوں۔ مگر اب جوابی بحث کی روشنی میں پیش کرتاہوں۔

حدیث اوّل: ’’واوحی اللہ الی عیسیٰm (مشکوٰۃ ومسلم)‘‘ اس حدیث کی تحریف کے لئے جو مرزا صاحب کی تاویلات نقل کی ہیں اس سے ہمیں سروکار نہیں۔ استدلال صرف یہ کیاگیاہے کہ مسیح موعود کو وحی ہوگی اور روح المعانی وحجج الکرامہ سے یہ پیش کیا ہے کہ یہ وحی بواسطہ جبرئیل ہوگی۔

الجواب: حضرت عیسیٰm پر وحی جو نازل ہوگی اس میں لفظ وحی ضرور ہے مگر بمعنی الہام نہ کہ وحی نبوت۔ چنانچہ مسلم کے شراح نے خود اس کی تشریح کردی ہے مگر وہ وحی بطور الہام کے ہوگی۔ خواہ وہ دل میں ڈالی جائے یا بواسطہ فرشتہ الہام ہو، جسے ملک الہام کہتے ہیں۔

میں اس جگہ صرف وہ حوالہ پیش کرتاہوں جو مسلمہ فریقین ہے اور اس بزرگ سے جنہیں گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ بھی تسلیم کرچکاہے۔ یعنی امام عبدالوہاب شعرانی اور امام محی الدین ابن عربی وہ تصریح فرمارہے ہیں کہ عیسیٰm امت محمدیہ کے آخری اور خاتم الولایۃ ہیں اور اگرچہ وہ اولوالعزم اور خواص رسل سے ہیں۔ مگربوجہ خصوصیت زمانہ کے وہ سرکار دوعالمa کا زمانہ ہے۔ ان کی نبوت ورسالت کا حکم زائل ہوجائے گا اور وہ اس منصب پر نہ ہوں گے۔ بلکہ ایک ولی ہو کر تشریف لائیں گے جن کی نبوت بلاحکم کے مطلق ہوگی اور ان پر شرع محمدیہa کا الہام اس طرح ہوگا۔ جیسا کہ اولیاء امت کو ہوتاہے۔ ملاحظہ ہو (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۹، مبحث۴۷) ’’ناقلا عن الفتوحات فاما خاتم الولایۃ علی الاطلاق فہو عیسیٰm فہو الولی الی قولہ ویلہم بشرع محمدa ویفہمہ علی وجہہ کا الاولیاء المحدثین فختمت النبوۃ بمحمد والولایۃ بعیسیٰ‘‘

ملاحظہ فرمائیں کس قدر تصریح ہے کہ ان پر امت محمدیہ کے اولیاء کی طرح الہام ہوگا اور وہ خاتم الاولیاء ہوں گے۔ جیسے نبوت آنحضرتﷺ پر ختم ہوگئی۔ کوئی آپa کے بعد نبی نہیں۔ یوں ہی اس امت کے آخری ولی حضرت عیسیٰ ہوں گے۔ میرے خیال میں اس تصریح کے بعد مختار مدعالیہ کو بھی لب کشائی کا موقعہ نہیں۔ کیونکہ الہام یا وحی مجازی کو ہم بھی بند نہیں بتاتے نہ لفظ وحی پر بحث ہے وہ تو شہد کی مکھی کے واسطے بھی مستعمل ہے۔ ’’واوحیٰ ربک الی النحل‘‘ بحث وحی نبوت میں ہے۔ وہ عیسیٰm پر نہ ہوگی۔ بلکہ وحی بمعنی الہام ہوگی۔ جیسے کہ اولیاء امت کو الہام ہوا کرتاہے۔ اس سے صریح عبارت ملاحظہ ہو۔ ’’انہ عیسیٰ لا یومنا الّا منّا ای بسنتنا فلہ الکشف اذا نزل والالہام کما لہٰذہ الامۃ‘‘یعنی ان کے نزول کے بعد انہیں اس امت کی طرح کشف والہام ہوگا۔ (فتوحات ج۳ باب۳۵۳ ص۲۳۸)(۳) نزول الہام بلا جبرئیل کے ہوں گے۔

الجواب: جبرئیل نہ آئیں گے۔ ملاحظہ ہو (یواقیت مبحث ۳۵ ص۸۸،۸۹)

مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ عیسیٰm پر جبرئیل وحی لائیں گے، محض غلط اور تحقیق کے خلاف ہے۔ اسے شاید اپنے گھر کا حال نہیں معلوم۔ ورنہ ایسا کبھی نہیں کہتا۔ مرزا صاحب کی تویہاں تک تصریح ہے۔ وحی کجا ایک فقرہ کہ پہلی شریعت پر عمل کرو یہ بھی جبرئیل نہیں لاسکتے۔ یہ بھی بند ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’وحی رسالت وہی ہے جو بتوسط جبرئیل ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

231

’’ایک فقرہ بھی جبرئیل لائیں وہ بھی وحی نبوت ورسالت ہے جو بند ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۲)

اب گو ہمیں ضرورت نہ تھی کہ حجج الکرامۃ یا روح المعانی کے متعلق کچھ عرض کریں، لیکن اتمام حجت کے واسطے گزارش ہے کہ:

حجج الکرامہ اوّلاً نہ ہماری مسلم کتاب ہے نہ اس کے مصنف۔ ہم مقلدین سے ہیں بلکہ ہمارا اور ان کا اصولی اختلاف ہے۔ ہم تقلید شخصی کو واجب کہتے ہیں وہ شرک تک بتاتے ہیں۔ حالانکہ ایک حنفی پر کسی اہل حدیث یا غیر مقلد کی ذاتی رائے، خصوصاً جب کہ وہ بزرگان سلف شیخ محی الدین ابن عربی وغیرہ کے بھی خلاف ہو حجۃ نہیں ہوسکتی۔ دوسرے یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ ان کے پاس اس کے ثبوت میں کوئی آیت یا حدیث یا قول صحابی نہیں۔ پس اس کی کوئی بھی وقعت نہیں ہوسکتی۔ ہمارے گواہوں نے نواب صدیق حسن خان مؤلف حجج الکرامہ کو مسلمان مانا ہے۔ مسلمان ہونا اور چیز ہے اور مسلم ہونا اور بات ہے۔ بہت سے مسلمان ہیں بلکہ عالم بھی، مگر وہ مسلم ومستند نہیں۔

مولاناگنگوہی نے انہیں مسلم کہیں نہیں لکھا۔ بلکہ انہیں رئیس عاملین بالحدیث لکھاہے۔ یعنی غیر مقلدین کے سرگروہ کیونکہ غیرمقلدین کو وہابی، اہل حدیث مدعیان عمل بالحدیث عامل حدیث وغیرہ کے لفظ سے یاد کیا کرتے ہیں۔ جیسے مرزائیوں کو قادیانی اوراحمدی کہتے ہیں۔ مطلب سب کا ایک ہی ہے۔ حضرت مولانا گنگوہی نے ان کے حوالے غیر مقلدین پر حجت قائم کرنے کے واسطے الزاماً دئیے ہیں۔ جیسے کہ ہم نے مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کے کتنے حوالہ دئیے ہیں تو کیا کوئی عقلمند اس سے سمجھ سکتاہے کہ مرزا صاحب اور ان کے خلفاء ہمیں مسلم ہیں۔ نیز مولانا گنگوہی کا مسلم ہونا بھی جوڈیشنل اصول سے مسل پر موجود نہیں۔ بہرحال نواب صدیق حسن خان صاحب اور وہ بھی اپنی ذاتی ہم بزرگوں کی تصریحات کے خلاف حجت نہیں، نہ مختار مدعاعلیہ کو اسے نقل کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ یہ تو ان کے نبی کی تصریح کے بھی خلاف ہے۔ باقی رہا حوالہ روح المعانی وہاں بھی ایک شخص ابن حجر ہیثمی کی ذاتی رائے ہے نہ وہ ہمارے مسلم ہیں نہ امام۔ وہ ہم پر حجت نہیں۔ روح المعانی کے فیصلہ کا مسلم ہونا اورچیز ہے اور اس میں کسی شخص کی ذاتی رائے نقل کی جائے اور وہ بھی ضعیف احادیث وائمہ کے خلاف اس کا حجت ہونا اور بات ہے۔ بہرحال اتنی آیات اور صحیح احادیث اور فیصلہ اسلاف بلکہ مرزا صاحب کی تائید کے باوجود نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالی اور ابن حجر ہیثمی جیسے غیر مسلّم اصحاب کی رائے کوئی بھی وقعت نہیں رکھتی نہ ہم پر حجت ہوسکتی ہے۔

باقی ہمارے نزدیک حدیث یقینا صحیح ہے۔ ہم تو مختار مدعاعلیہ پر بطور الزام حجت قائم کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اس حدیث کو صحیح نہیں مانا۔ ہم نے تو حدیث مان کر جواب دیا ہے کہ یہ وحی الہام ہے نہ وحی نبوت۔ جیسا کہ تمام شراح اور خصوصیات سے مختار مدعاعلیہ اور گواہان مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ امام ابن عربی نے تصریح فرمادی ہے۔

باقی اس جواب الجواب کی روشنی میں جو تاویلات رکیکہ اور جرح دو حوالوں کی قطع وبرید اور لایعنی طوالت دی گئی وہ ناقابل التفات ہے۔ عدالت خود مقابلہ فرمائے۔

دوسری حدیث: ’’ابی ابن کعب‘‘ (روح المعانی ج۷ ص۶۴)

یعنی اس نے پیچھے سے ایک بلند آواز سنی ’’اللہم لک الحمد… الخ!‘‘ پھر ابی بن کعب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ جبرئیلm تھے۔

الجواب: اس سے یہاں کوئی علاقہ نہیں نہ یہاں جبرئیل کسی صحابی پر وحی لے کر اترے نہ اس زمانہ میں نزول جبرئیل مسدود تھا۔ بلکہ صرف اس قدر ہے کہ ابی بن کعبq نے اپنے پیچھے سے اللہ کی حمد کرتے ہوئے کسی کی آواز سنی اور آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ وہ جبرئیل کی سنی تھی۔ اس کے بعد نبی کریمa بقاء وحی نبوت یا نزول جبرئیل کیونکر ثابت ہوا؟ ہاں! جبرئیل کی آواز سننا ثابت ہوا۔ اس میں کیا استعجاب ہے صحابہ نے تو دحیہ کلبی کی شکل پر باربار انہیں دربار رسالت میں حاضر باتیں کرتے دیکھاہے۔ ہاں! مرزا صاحب کے یہ خلاف ضرور ہے جو

232

فرماتے ہیں کہ جبرئیل کبھی زمین پر نازل نہیں ہوئے۔

تیسری حدیث: ’’محدث ہونے کی مشکوٰۃ وبخاری سے۔‘‘

الجواب: اس سے بھی وحی نبوت کا بقاء بعد آنحضرتﷺ ثابت نہ ہوسکا۔ کیونکہ محدث کی شرح خود گواہ مدعاعلیہ اور مختار مدعاعلیہ نے حدیث سے نقل کردی ہے کہ فرشتے اس کی زبان پر کلام کرتے ہیں۔ اس میں خدا کے ہم کلام ہونے کا ذکر نہیں ہے، نہ فرشتہ کے اتر کر وحی کرنے کا۔

مختار مدعاعلیہ نے اس کلام اور محدث کی تائید میں جو ملّا علی قاری کا قول نقل کیا، اس سے اپنا تمام کارخانہ استدلال ختم کردیا کہ: ’’ہو الملہم المبالغ فیہ الذی انتہیٰ ای درجۃ الانبیاء فی الہام‘‘

یعنی محدث سے مراد ہے جس پر الہام کیا جائے اور بہت مبالغہ سے جو الہام میں انبیاء کے درجہ کے قریب ہو جائے، اس میں تصریح ہے کہ اس پر الہام ہوگا نہ وحی اور گفتگو بقاء وحی میں ہے نہ الہام میں۔ شاید مختار مدعاعلیہ طول کی وجہ سے موضوع بحث فراموش کرگیا۔ ورنہ الہام کو وحی کے سلسلہ میں نقل نہ کرتا۔

ان دونوں بلکہ تینوں حدیثوں کا غیر متعلق ہونا ایسا اظہر من الشمس ہے کہ کسی شبہ کی بھی گنجائش نہیں۔ عدالت خود ملاحظہ فرمالے اور اصل بحث میں جو مدلل تقریر کی گئی تھی، اس کے جواب کی طرف اشارہ تک نہ کیاگیا۔ گویا مختار مدعاعلیہ نے اس کی لاجوابی اور اپنا عجز تسلیم کر لیا۔ ہماری پیش کردہ ۲۵؍احادیث کے حوالہ کو مغالطہ اور غلط بتانا مختار مدعاعلیہ کی ناواقفی کا بیّن ثبوت ہے۔ میں ابتداء میں عرض کر چکا کہ جس قدر احادیث ختم نبوت کے باب میں ہیں، ۲۵ کیا بلکہ اس سے بھی زائد وہ سب نبوت کے انسداد کی دلیل قطعی ہیں۔ کیونکہ نبی کو وحی بقول مرزا صاحب بہرحال وحی نبوت ہوتی ہے۔ اسی واسطے گواہوں نے مکرر باب وحی میں بالتفصیل نقل کی ضرورت نہ سمجھی۔ باقی بالتفصیل میں نے جو چار حدیثیں پیش کی تھیں جس میں صراحتاً وحی نبوت کے انسداد کی تصریح تھی، اس میں حدیث نمبر (۱) و(۴) کو مختار مدعاعلیہ نے بالکل لاجواب سمجھ کر نام تک نہ لیا اور نمبر(۲) و(۳) کا طبع زاد یہ جواب دے کر ٹال دیا کہ اس میں ’’ان الوحی قد انقطع‘‘ اور ’’انہ انقطع الوحی‘‘ سے وحی تشریعی مراد ہے۔ حالانکہ یہ تاویل محض بدیہی البطلان ہے اور صریح غیرمشتبہ الفاظ کو بلا دلیل موڑنا ہے۔ الف ولام جنسی ہے جس سے جنس وحی اور اس کی حقیقت کا نہایت زور دار الفاظ میں انقطاع بتایا جارہاہے۔ مجازی وحی والہام کا البتہ تذکرہ نہیں۔ پس مختار مدعاعلیہ کی یہ رکیکہ تاویل بالکل لغو اور الفاظ حدیث کی تحریف معنوی کے برابر ہے جو کسی طرح قابل التفات نہیں۔ ورنہ اگر تاویلات کا دروازہ اس قدر وسیع کھول دیا جائے تو دین سے امان اٹھ جائے گا اور صریح سے صریح چیز میں ملحدین کی طرح تاویل کرکے اس کی حقیقت بدل کر اسلام کا کفر اور کفر کا اسلام بن جائے گا۔ عیاذاً ب اللہ !

خلاصہ : اس بحث سے یہ تو وضاحت سے ثابت ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ یا گواہان مدعاعلیہ کے پاس قرآن وحدیث کی ایک دلیل بھی بقاء وحی نبوت پر نہیں، بلکہ محض تاویلات رکیکہ ہیںیا الہام اور وحی مجازی ولغوی کو ناواقفی سے وحی نبوت سمجھ لیا ہے۔ بخلاف گواہان مدعیہ کے کہ صریح آیات واحادیث انقطاع وحی پرپیش کی ہیں جن کا جواب باوجود انتہائی مغالطہ دہی کے ضابطہ کا بھی نہ ہوسکا۔ ف اللہ الحمد!

عدالت خود دلائل کو سامنے رکھ کر موازنہ فرمائے کہ دلائل اور حقانیت کدھر ہے اور محض تاویلات اور مغالطہ سے کون کام لے رہاہے۔

عقیدہ سلف صالحین بقاء وحی غیرتشریعی کے خلاف نہیں

اس جوابی سلسلہ میں اصل جواب سے عاجز آکر مختار مدعاعلیہ نے صرف مغالطہ سے کام لیا۔ میں نے صوفیاء کرام کی عبارات کے مطالب ان کی اپنی اصطلاح کی روسے پیش کئے تھے اور وہ بھی مسل سے کوئی نیا حوالہ نہ تھا۔ مگر اس نے گواہوں کا تحت اللفظ ترجمہ لے کر بحث سے ٹکرانا چاہا۔ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ترجمہ اور شیٔ ہے اور مطلب اور۔ ترجمہ سے بظاہر اکثر مراد متکلم مستور اور مجمل رہتی ہے۔

233

جب ہی تو تفسیر اور مطلب بیان کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ترجمہ کے ظاہری الفاظ اور اصطلاحی مراد وتفسیر میں تعارض سمجھنا خام خیال ہے۔چونکہ میری بیان کردہ اصطلاحات صوفیاء اور خود اصطلاحات شیخ اکبر مختار مدعاعلیہ نے اوّلاً تو نظر انداز کیا اور بعض کو اصل عبارت اور مطلب کے خلاف ہوا کہ قطع وبرید کرکے اصل پوائنٹ عدالت کے سامنے مشتبہ کرنے کی سعی کی ہے۔ اس لئے اوّلاً میں اس کے پیش کردہ حوالہ جات جن کا وہ حوالہ بیان گواہ نمبر۱ مدعیہ سے دے رہاہے، نقل کرکے ان کا اصل جواب مکرر نقل کرتاہوں تاکہ وہ خیانت اور مغالطہ عدالت کے نوٹس میں لایا جاسکے جو اس نے جواب بحث میں مختار مدعاعلیہ کے مطالب کے نقل میں روا رکھاہے اور پھر جوابی بحث کی تاویلات رکیکہ کو بے نقاب کرکے عدالت میں پیش کرتاہے۔

گواہان مدعاعلیہ نے اس سلسلہ میں متعلق وغیر متعلق کل (۸) حوالہ پیش کئے ہیں۔

(۱) فتوحات مکیہ (۲)مکتوب امام ربانی (۳) مثنوی عارف رومی (۴) منصب امامت مولانا شہید (۵) یواقیت کا حوالہ برائے شرح الہام ووحی (۶) روح المعانی (۷) حجج الکرامۃ (۸) یواقیت۔

پہلا حوالہ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۴۱۶،۴۱۷) ’’قال الشیخ اکبر بعد ذکر الایۃ ماکان لبشر ان یکلمہ اللہ … الخ! ہٰذا کلام موجود فی رجال اللہ من الاولیاء والذی اختص بہ النبیﷺ من ہذا دون الولی الوحی بالتشریعی‘‘

الجواب: اس حوالہ کے نقل کرنے میں گواہ مدعاعلیہ نے ایک زبردست شرمناک مغالطہ دیا اور حضرت شیخ کے لفظ تشریع کو ان کی اصطلاح کے خلاف محمول کرلیا۔ اسی لئے انہوں نے وصیت فرمائی ہے کہ تم پر میری کتب کا مطالعہ حرام ہے، جب تک میرے محرم راز نہ ہو۔ اس کی وجہ صرف گواہ کی حضرت شیخ کی کتب واصطلاحات سے ناواقفی ہے۔ جیسا کہ گواہ خود اقرار کرچکاہے کہ میں نے فتوحات کل نہیں دیکھی۔ مارچ ۱۹۳۳ء اور اصطلاحات تصوف میں کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا۔

اصل اصطلاح یہ ہے کہ اولیاء اللہ کو جو نبوت بمعنی لغوی بصورت ولایت ہوتی ہے اور جو وحی بمعنی عام مجازی ہوتی ہے جس کا حقیقی نام الہام ہے۔ اس کے مد مقابل اصطلاح شرع میں جو نبوت حقیقی ہے، اسے حضرت شیخ نبوت تشریع (یعنی شرعی نبوت) اوراس کی وحی نبوت ورسالت کو وحی تشریع کہتے ہیں۔ یہ مراد نہیں کہ جو شریعت جدیدہ لائے وہ نبی تشریعی ورنہ غیر تشریعی۔ صرف اپنی اور حضرت شیخ کی اصطلاح کو مختلط کرکے یہ مغالطہ دیا ہے۔ ثبوت کے واسطے اپنی (فتوحات ج۳) کے حوالہ ذیل میں ملاحظہ ہوں۔ جنہیں صرف مغالطہ دینے کے واسطے چھپایا گیا۔

نبوت تشریع یا نبوت شرائع سے مراد وہ حقیقی نبوت ہے جو اولیاء کو نہیں ہوسکتی۔

(فتوحات مکیہ ج۲ باب ۵۹ س۱۵ ص۲۵۸)

یعنی ہماری یہ خاص اصطلاح ہے کہ ہم نبوت شرائع یا تشریع بول کر وہ حقیقی اصطلاحی نبوت مراد لیتے ہیں جو اولیاء کو نہیں ہوسکتی۔ ولایت کے مد مقابل جو نبوت ہے۔ وہی نبوت حقیقہ اور نبوت تشریعہ اور نبوت شرائع وغیرہ سے نامزد کی جاتی ہے۔ تشریع کے معنی شریعت جدید وغیرہ یہ مرزا صاحب اور ان کے متبعین کی طبع زاد اصطلاح ہے۔ حضرت شیخ کا دامن اقدس اس سے پاک ہے۔

وحی نبوت ورسالت مطلقاً منقطع ہے؟

اسی پیش کردہ (فتوحات ج۲ باب ۵۵،۳ ص۲۵۳) پر تصریح موجود ہے کہ: ’’وانما انقطع الوحی الخاص بالرسل والتی من نزول الملک علی اذنہ وقلبہ وتحجیر اسم النبی والرسل… الخ!‘‘

یعنی وہ وحی نبوت ورسالت جو نبی ورسول کے ساتھ مختص ہے کہ فرشتہ اس کے گوش وقلب پر اترتاہے، منقطع ہوچکی اور نبی ورسول کا لفظی خطاب بھی روک دیاگیا۔ اب کسی کونہیں دیا جاسکتا۔ کس قدر وضاحت سے انقطاع وحی نبوت ورسالت کی تصریح فرمار ہے ہیں۔

234

فرشتہ وحی آنحضرتﷺ کے بعد کسی کے قلب پر وحی لے کر نہیں اتر سکتا

’’لان الملک لا ینزل بوحی علی قلب غیر نبی اصلاً‘‘کیونکہ فرشتہ وحی، وحی لے کر غیر نبی کے قلب پر ہرگز نہیں اترتا۔ اسی عبارت کے تتمہ پر نہ صرف نبوت بلکہ ادّعاء نبوت کا بھی انقطاع فرمارہے ہیں: ’’وادّعاء نبوت قد انقطعت‘‘ ہر قسم کی نبوت کا دعویٰ منقطع ہوچکا۔ (فتوحات ج۳ باب۱۱۰ س۲۳ ص۳۸) یہاں لفظ نبوت کیونکر رکھا۔ الف لام بھی داخل نہ کیا کہ تاویلات کا موقع ہو کہ کوئی خاص قسم کی نبوت مستقلہ وغیر مراد ہے۔ بلکہ نکرہ رکھا جو ہر قسم کی ظلی وبروزی نبوت کا خاتمہ کررہی ہے۔

مبشرات یعنی الہام اور رویاء صالحہ کے سوا کوئی بھی قسم وحی کی باقی نہیں

’’الا تنظر الی مبادی الوحی الالٰہی النبوی انما ہی المبشرات وہی التی بقیت فی الامۃ بعد انقطاع النبوۃ‘‘

(فتوحات ج۳ ب۱۱۰ س۲۱ ص۳۹)

کیا تو نہیں دیکھتا، مبادی وحی الٰہی نبوی کو جو مبشرات (یعنی اچھی خوابیںیا الہام ہیں) وہی صرف امت میں نبوت کے انقطاع کے بعد باقی ہیں اور بس۔

مبشرات والا شخص نبی ہرگز نہیں ہوسکتا

حضرت شیخ اسی (فتوحات ج۳ سوال ۱۷ ص۴۳۵) پر مبشرات کا ذکر کرکے فرماتے ہیں کہ:’’وہی جزء من اجزاء النبوۃ وان لم یکن صاحب المبشرۃ نبیاً فتظن لعموم رحمۃ اللہ فما تطلق النبوۃ الا من انتصب بالمجموع‘‘ یعنی مبشرات اجزاء نبوت کا ایک جزو ہیں۔ اگرچہ صاحب مبشرات نبی نہیں ہوتا۔ کیونکہ لفظ نبوت سوائے اس شخص کے جومجموعہ اجزاء سے متصف ہے، کسی پر بولا ہی نہیں جاسکتا۔

اسی (ج۳) میں تصریح موجود ہے کہ وحی مطلقاً مسدود ہے، صرف الہام باقی ہے۔

واعلم ان لنا من اللہ الالہام لا الوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ ﷺ وقد کان الوحی قبلہ ولم یجی خبر الہٰی بعد ہa وحیا لما قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک ولم یذکرو ا وحیا بعدہ وان لم یلزم ہذا وقد فی الخبر النبی الصادق فی عیسیٰm وقدکان ممن اوحیٰ الیہ قبل رسول اللہ ﷺ لا یعمل الا لسنتنا فلہ الکشف اذا نزل والہام کما لہٰذہ الامۃ ولا تخیل فی ہذا الہام انہ لیس بخبر الٰہی ماہو الامر کذالک بل ہو خبر الٰہی واخبار من اللہ للعبد علی ید ملک بقیت عن ہذہ الملہم وقد یلہم من وجہ الخاص بالرسول والنبی ویشہدالملک او یراہ رویۃ بصر عن مایوحیٰ الیہ وغیر الرسول یحس باثرہ ولا یراہ رویۃ بصرہ فیلہمہ اللہ ما شاء ان یلہمہ او یوتیہ من وجہ الخاص‘‘

(فتوحات ج۳ س۳۰ ص۲۳۸)

حضرت شیخ نے اس عبارت جزیلہ میں تمام تاویلات وشبہات کا خاتمہ کردیا اور غیر مشتبہ الفاظ میں مدعیہ کی تائید فرمادی اور اتفاق سے یہ بزرگ گواہ مدعاعلیہ کو بھی مسلم ہیں۔

(ترجمہ) خوب سمجھ لو ہمیں خدا کی طرف سے صرف الہام ہوسکتا ہے نہ کہ وحی۔ کیونکہ وحی کاسلسلہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے یقینا بلا شبہ منقطع ہوچکا۔ ہاں! آنحضرتﷺ سے قبل وحی آیا کرتی تھی اور کوئی ایک بھی خدا کی جانب سے اطلاع نہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد بھی وحی ہوسکتی ہے یا وحی ہے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمادیاکہ: ’’ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک‘‘ اور آپ کے

235

بعد کسی قسم کی وحی کا ذکر نہ فرمایا اور نہایت صحیح خبر نبوی صادق میں عیسیٰm کے متعلق ہے (جو ان لوگوں میں ہیں جن پر رسول اللہ ﷺ سے قبل وحی ہوچکی ہے)کہ وہ عیسیٰm صرف ہماری سنت پر عمل کریں گے۔ پس ان کے نزول کے بعد صرف ان پر کشف والہام ہوگا۔ جیسا کہ اس امت پر ہوتاہے۔ اس الہام میں یہ شبہ نہ ہے کہ یہ خداکی خبر ہی نہیں۔ یہ بات ہرگز نہیں بلکہ وہ خدا ہی کی خبر ہے۔ مگر فرشتہ الہام کی معرفت جو ملہم سے پوشیدہ ایک الہام کرتاہے اور کبھی مخصوص طور سے الہام ہوتاہے۔ پس رسول ونبی فرشتہ کو آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور غیر رسول اس کے اثر کو محسوس کرتا ہے، اسے دیکھتانہیں۔ پس اللہ تعالیٰ عیسیٰm پر جو چاہے گا، الہام کرے گا… الخ!

اس سے مندرجہ ذیل امور بوضاحت ثابت ہوگئے۔

۱… آنحضرتﷺ کے بعد وحی کے تمام سلسلے یک دم مسدود ہیں۔

۲… آپa کے بعد صرف کشف والہام باقی ہے اوربس۔

۳… کسی آسمانی خبر آیت میں آپa کے بعد کسی قسم کی وحی کا ذکر تک نہیں۔

۴… عیسیٰm پر نزول کشف اور الہام ہوگا۔

۵… کبھی الہام بھی بواسطہ فرشتہ الہام ہوتاہے۔

۶… الہام میں غیر رسول فرشتہ کو دیکھتا نہیں، نہ اس پرنزول حقیقی ہوتاہے، بلکہ اس کا اثر محسوس کرتاہے۔

۷… نبی رویت بصری سے فرشتہ وحی کو دیکھتاہے۔

اس سے بوضاحت ثابت ہوگیا کہ حضرت شیخ نے فتوحات ہی میں ان تمام اصطلاحات کی تصریح اور وضاحت فرمادی ہے۔

نیز اس امر کو بوضاحت فرمادیا ہے کہ وحی کا سلسلہ ہر طور سے منقطع ہوچکا ہے، صرف الہام اور کشف باقی ہے۔ اس کے بعد کوئی شخص حضرت شیخ کے دامن قدس پر بہتان لگائے کہ وہ بعد آنحضرتﷺ بقاء وحی کے قائل ہیں، تو صحیح نہ ہوگا۔

مختار مدعاعلیہ نے غضب تو یہ کیا کہ فتوحات کی یہ پیش کردہ عبارت بھی قطع وبرید کرکے پیش کی اور اسی سے متصل اگلا فقرہ ’’ولا یشرع الا نبی ولا یشرع الا رسول‘‘ کاٹ دیا جس میں اس کے مغالطہ کی حقیقت کھول دی ہے کہ تشریع کے وہ معنی نہیں جو وہ تصنیف کرتے ہیں بلکہ جو بھی نبی ورسول ہے وہ مشرع کہلاتاہے۔ گویا نبی و رسول کی وحی وحی باتشریع کہلاتی ہے۔ یعنی وحی نبوت ورسالت منقطع ہے۔

اگر کچھ باقی ہے تو الہام وکشف و اچھی خوابیں جیسا کہ ذکر ہوچکاہے۔ اس زبردست خیانت کے بعد عدالت خود فیصلہ فرماسکتی ہے کہ گواہان مدعاعلیہ کی شہادت کی جوڈیشنل حیثیت سے کیا وقعت ہے۔

نوٹ: میں نے ان حوالوں کے نقل کرنے میں بہت ہی اختصار سے کام لیا۔ ورنہ (ج۲و۳) میں ایسے صریح صریح حوالے سو سے زائد موجود ہیں۔ نیز اس اصطلاح کی شرح اور توضیح مطلب اور تصریح مراد کے واسطے بالقصد میں نے حضرت شیخ کی دیگر تصانیف اور اصطلاحات صوفیہ کے حوالوں سے کام نہیں لیا۔ بلکہ اسی پیش کردہ فتوحات بلکہ زیادہ تر اسی جلد کے آگے اور پیچھے سے پیش کیا تاکہ کسی تاویل اور عذر کا موقع نہ ہو اور عدالت پر ان کی خیانت اور مغالطہ اچھی طرح آشکارا ہوجائے۔ ف اللہ الحمد!

اس کے جواب کے متعلق مدعاعلیہ کی تاویلات

۱… کبھی تو کہہ دیا کہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے اس عبارت کابھی ترجمہ یہ کیا ہے… الخ!

۲… کبھی کہا کہ لفظ تشریح کی تشریح کے ساتھ فیحل ویحرم ویبیح وغیرہ الخ بھی ہے اور یہ مخصوص وحی ہوگی۔

۳… کبھی گواہ نمبر۳ کی جرح میں قطع وبرید کرکے عیسیٰm پر وحی نبوت ثابت کرنا چاہی۔

236

مگر میں نے جس قدر واضح عبارات پیش کردی ہیں، ان سے اس عبارت کی شرح اور شیخ کا مقصد اس قدر واضح ہوگیا ہے کہ مختار مدعاعلیہ کی ان تاویلات رکیکہ کی طرف کسی التفات ہی کی حاجت نہیں۔ ترجمہ عبارت کا وہی صحیح مگر مطلب تو وہی ہوگا جو حضرت شیخ نے اپنی زبان فیض ترجمان سے کیا۔ ہمارے شاہدوں نے شہادت میں شیخ کی مراد بالکل واضح کردی ہے۔ لہٰذا ترجمہ کو اس سے مراد کوئی تعارض نہیں۔

نمبر۲ میں مختار مدعاعلیہ نے حضرت شیخ کی عبارت میں قطع وبرید تو تسلیم کرلی۔ مگر آگے فیحل سے جو تصریح کی ہے، اس کی آڑ لے کر اپنے کفریات ثابت کرنا چاہتاہے۔ میں عدالت عالیہ پر واضح کردینا چاہتاہوں کہ: ’’الوحی بالتشریع‘‘ کی شرح کا جہاں تک تعلق ہے وہ ’’ولا یشرع الا نبی ولا یشرع الا رسول خاصۃ‘‘ پر ختم ہوچکی۔ آگے ’’فیحل ویحرم ویبیح‘‘ سے اس پر ایک قسم منجملہ اقسام وحی نبوت کے ہے۔ میں اوپر حوالے پیش کرچکا کہ وہ وحی کے تمام اقسام سوائے کشف اور الہام اور اچھی خوابوں کے سب بند ہیں اور تشریع کی اصطلاح خود شیخ کی زبان فیض ترجمان سے پیش کرچکا کہ اس سے مراد وحی نبوت ہے۔ خواہ جدیدہ احکام ہوں یا نہ۔ صرف اولیاء کے واسطے کشف والہام رؤیاء صالحہ باقی رہ گئے ہیں اور تمام اجزاء نبوت منقطع ہوچکے ہیں۔ پس مختارمدعاعلیہ کا یہ عذر صحیح نہیں۔

نمبر۳ میں نزول کے متعلق جو گواہ نمبر۳ کا ناتمام فقرہ اس کی مراد کے خلاف نقل کیا ہے وہ بھی ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ عیسیٰ چونکہ پہلے نبی ہوچکے ہیں ان پر وحی نبوت آچکی ہے۔ اب وہ اس امت میں بحیثیت ولی ہوں گے۔ ان پر وحی نہ ہوگی۔ گو لفظ وحی مجازاً بوجہ اس کے کہ وہ پہلے نبی تھے اوران پر وحی نبوت آتی تھی بولاجائے۔ مگر دراصل وہ الہام وکشف ہوگا۔ اس کی کافی توضیح حضرت شیخ کی عبارت سے پیش کرچکاہوں۔ بظاہر نبوت وحی ہونا اور چیز ہے اور درحقیقت وحی نبوت ہونا اور۔ بہرحال یہ تاویل بھی محض بے کار اور صرف لاجوابی کی پریشانی میں لکھی گئی ہے۔ ورنہ شاید کوئی عقل مندآدمی میرے مدلل اور واضح بیان پر یہ نہ کہتا۔ میں پھر مکرر عدالت کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراتاہوں کہ وہ میرا جواب ان تاویلات کو سامنے رکھ کر ملاحظہ فرمالے تاکہ حقیقت واضح ہوجائے کہ مختار مدعاعلیہ نے اس موقع پر کس قدر مغالطہ سے کام لیا ہے اور اس کی خیانت کس قدر واضح اور ناقابل معذرت ہے۔

دوسرا حوالہ مکتوبات (مکتوب نمبر۵۱ ج۲ ص۹۹) اس کا میں نے جو مفصل اور مکمل جواب دیا تھا۔ اس کی لاجوابی کا اندازہ عدالت اس سے لگا سکتی ہے کہ جواب میں بجائے کسی معقول بات کے مختار مدعاعلیہ تیز کلامی اور مخول پر اتر آیا۔ اصل الفاظ مختار مدعاعلیہ ملاحظہ ہوں۔

کیونکہ مختار مدعیہ نے تو اس حوالہ کو اپنے مدعاکا مثبت قرار دیا ہے۔ حالانکہ گواہ مدعیہ نمبر۳، مؤرخہ ۲۹؍اگست کو بجواب جرح کہہ چکا ہے کہ (مکتوبات امام ربانی ج۲ ص۹۹ مکتوب۵۱) میں جو لکھا گیاہے وہ کشفی یاا لہامی ہے جو حجت نہیں اور یہ ایسی صورت پیدا ہوگئی ہے کہ مختار مدعیہ اور گواہ مدعیہ دونوں کے لئے یہ کہنے کا موقع ہے:

  1. زخمی کرے مجھی کو میری آہ دل افسوس

    میرا ہی تیر میرے کلیجہ کے پار ہو

گواہ مدعیہ نے تو مکتوبات کے مذکورہ بالا حوالہ کو یہ کہہ کر کشفی یا الہامی ہے جو حجت قطعی نہیں اور مختار مدعیہ نے یہ کہنے کے بعد بھی کہ یہ ہمارے لئے مثبت مدعاہے، غلط توجہیہ کر کے ٹال دینا چاہاہے۔

اس طرز کلام کو عدالت ملاحظہ فرمائے۔ میں تو اصل مدعا اور مختار مدعاعلیہ کے مغالطہ پر صرف روشنی ڈالنا چاہتاہوں۔ مختار مدعا علیہ سمجھ بیٹھا ہے کہ گواہ مدعیہ اور مختار مدعیہ کے جواب میں تعارض ہے۔ حالانکہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ دو جواب ہیں۔ گواہ مدعیہ نمبر۳ نے تو یہ جواب دے دیا کہ کسی بزرگ کی ذاتی تحقیقات یا اس کا کشف والہام کوئی حجت شرعی نہیں۔ پس جب کہ مسئلہ قرآن وحدیث اور دیگر حجج شریعہ سے واضح ہوچکا تو یہ حوالہ ہمارے مدعا کو خراب نہیں کرسکتا۔

237

اس میں دو امر قابل تحقیق ہیں

۱… یہ کہ یہ مجدد صاحب کی ذاتی تحقیق ہے۔

۲… کسی کاقول وکشف والہام حجت نہیں۔

اوّل کا ثبوت اس مکتوب کے آخر میں موجود ہے کہ: ’’فافہم فان ہٰذا معرفۃ شریفۃ فلما تتکلم بہا احدا‘‘ سے سمجھ لو کیونکہ یہ عجیب نکتہ ومعرفتہ ہے۔ کوئی بھی اسے نہ کہے گا۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ ان کی ذات اور کشفی یا الہامی یا علم لدنی کی تحقیق ہے۔ دوسرے کا ثبوت مکتوبات ہی سے پیش کرتاہوں کسی بڑے سے بڑے بزرگ کی تحقیقات ذاتی شرع میں حجت نہیں۔

مجدد الف ثانی کا فیصلہ اقوال بزرگان دین کے متعلق

’’کلام محمد عربیm درکار است نہ کلامے محی الدین ابن عربی وصدرالدین مولوی و عبدالرزاق حماشی مارا بنص کار است نہ بنص فتوحات مدینہ از فتوحات مکیہ مستغنی ساختہ است (مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی حصہ دوم دفتر اوّل ص۱۰۰) یعنی حجت شریعہ کے لئے کلام محمدعربیa درکار ہے نہ محی الدین ابن عربی وصدر الدین مولوی وعبدالرزاق کاشانی ہمارا کام نص (شرعی)سے نہ فص (فصوص الحکم) سے فتوحات مدینہ (یعنی تعلیمات آقائے مدینہa) نے فتوحات مکیہ (یعنی تصنیف ابن عربی) سے بے نیاز کردیا ہے۔

حضرت مولانا فرماتے ہیں:

  1. نیست حجت ہیچ قول وفعل پیر

    قول حق او فعل احمد رابہ گیر

مکتوبات میں جابجا ملے گا کہ اس شریعت کے مرد میدان ابوحنیفہ اور ابویوسف ہیں نہ شبلی وجنید۔غرض یہ کہ پہلا جواب گواہ مدعیہ نے یہ دے دیا کہ یہ کوئی حجت شرعی نہیں۔ ان کی ذاتی کشفی تحقیقات ہے جو ظنی ہے اور عقائد میں قطعیات حجت ہوتے ہیں۔ مختار مدعاعلیہ کو شاید یاد نہیں رہا، وہ بحیثیت گواہ مارچ ۱۹۳۳ء کہہ چکاہے کہ باب عقائد میں ظنیت حتیٰ کہ احادیث احاد کا بھی اعتبار نہیں۔

دوسرا جواب میں نے پیش کیا ہے کہ اگر اسے ہم ایک قسم کی حجت ہی فرض کرلیں توبھی ہمارے مدعا کے خلاف نہیں بلکہ مؤید ہے۔ کیونکہ حضرت مجدد صاحب نے بلا واسطہ کلام الٰہی کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک انبیاء سے مختص ہے جسے وحی نبوت کہا جاتاہے اور وحی نبوت کی وہ ایک قسم ہے۔ دوسرا وہ جو اولیاء امت کو تبعیت ووراثت سے ہوتاہے جس کاانتہائی کمال یہ ہے کہ وہ محدث ہوجائے اور اوپر مختار مدعاعلیہ کے پیش کردہ حوالہ سے پیش کرچکاہوں کہ محدث پر وحی نہیں ہوتی، بلکہ کثرت سے خصوصی الہام ہوتاہے۔

میں مختار مدعاعلیہ کا پیش کردہ حوالہ معہ اسی کے ترجمہ کے پیش کرتاہوں۔ ’’الملہم المبالغ فیہ الذی انتہی ای درجۃ الانبیاء فی الہام‘‘یعنی محدث سے ایسا ملہم مراد ہے جو الہام میں انبیاء کے درجہ کو پہنچا ہوا ہو۔ پھر حضرت عمرq کو ان کاکامل فرد بتایاہے۔

(مرقات ج۵ ص۵۳۱)

اب عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ اس سے صرف اس کلام الٰہی کا بعد آنحضرتﷺ ہونا ثابت ہوا جو محدث پر ہوتاہے جو الہام کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ اس سے صرف الہام کا بقاء بعد آنحضرتﷺ ثابت ہوا۔ (خواہ نام الہام سے بڑھ کر ہو اور جداگانہ نام اصطلاحی کوئی کیوں نہ رکھے) اس سے بقاء وحی نبوت ثابت نہیں۔ پس یہ حوالہ صراحۃً ہمارے موافق اور مدعاعلیہ اوراس کے گواہان و مختار کے سراسر خلاف ہے۔ اس سے یہ بھی اچھی طرح واضح ہوگیا کہ گواہ مدعیہ اور مختار مدعیہ کے جواب میں کوئی بھی تعارض نہیں، بلکہ ایک جواب تقدیر عدم تسلیم اور ایک برتقدیر تسلیم ہے۔ اسے تعارض سوائے مختار مدعاعلیہ کے کوئی عقل مند نہیں سمجھتا۔ اس کا خلاصہ توصرف یہ ہے کہ اوّل تو یہ حوالہ

238

حجت ہی نہیں اور ان کی خاطر اگر حجت مان ہی لیں تو یہی ہمارے موافق اور ان کے سراسر خلاف ہے۔

تیسرا حوالہ : مثنوی عارف رومی کا ہے:

  1. خلق نفس از وسوسہ خالی شود

    مہمان وحی احبد لی شود

  2. نے نجوم است نہ رسل است نہ خواب

    وحی حق و اللہ اعلم بالصواب

  3. از پے روپوش عام درمیان

    وحی دل گویند آنرا صوفیان

(مثنوی شریف دفتر چہارم ص۱۵۱) مختار مدعاعلیہ نے صرف اس کے چوتھے مصرع سے مغالطہ دینا چاہاتھا کہ وحی باقی ہے۔ مگر اللہ بے شمار رحمتیں نازل فرمائے عارف رومی قدس سرہ العزیز پر کہ اگلے شعر اور چھٹے مصرعہ میں اصل حقیقت اور اپنی نیز صوفیاء کرام کی اصطلاح بتادی کہ:’’وحی دل گویند آنرا صوفیاں‘‘ کہ اس کانام اصطلاح تصوف میں وحی دل ہے اور بھی گزرچکا ہے کہ وحی دل اور الہام ایک ہی شیٔ ہے۔ کیونکہ الہام کے معنی در دل افگندن کے ہیں۔ مفصل اصل بحث سے ملاحظہ ہو۔ پس اس سے بقاء الہام بعد آنحضرتﷺ ثابت ہوا نہ بقاء وحی نبوت۔ پس یہ حوالہ بھی ہمارا مؤید ہوا اور مختار مدعاعلیہ کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے جواب کے لئے لب کشائی تک کی ہمت نہ ہوئی۔ف اللہ الحمد!

چوتھا حوالہ (منصب امامت ص۳۱، ۳۲) اس حوالہ کو بھی ماقبل ومابعد اوردرمیان سے قطع وبرید کرکے شرمناک خیانت سے پیش کیا ہے۔ میں اس سے اوّل وآخر ملا کر یوں نقل کرتاہوں جس سے ایک طرف تو اصل عبارت کا مطلب اور مختار مدعاعلیہ اور اس کے گواہوں کی خیانت آشکار ہوگی۔ دوسری طرف درمیان سے جو عبارت اڑادی ہے، وہ تمام ہی آیات ہیں جو مختار مدعاعلیہ نے بقاء وحی کے سلسلہ میں پیش کی ہیں۔ مگر حضرت مولانا شہید نے سب کو الہام قرار دیاہے جس سے تمام استدلال مختار مدعاعلیہ کا خورد برد ہوجاتاہے اور یہ وہی حضرت مولانا شہید ہیں جن کو گواہان مدعاعلیہ نے بھی مجدد تیرہویں صدی تسلیم کیاہے اور اپنی تائید میں (حجج الکرامہ ص۱۳۹) کا حوالہ بھی پیش کیا ہے۔ اصل عبارت منصب امامت ملاحظہ ہو۔

’’تنبیہ ثالث درمیان حقیقت بعثت باید دانست کہ انبیاءo مامورمی شوند بہ تبلیغ احکام بسوئی خواص وعوام ظاہرش ہمیں است کہ از جانب حق جل وعلا بطریق وحی یا الہام امر تبلیغ احکام بایشاں پر سد‘‘ پھر اس کی تفصیلات پانچویں تنبیہ پر ختم فرمائیں۔ دوسری قسم کی پہلی تنبیہ کا عنوان قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’تنبیہ اوّل درمیان آنکہ بعضے از بندگان مقبولین ہر چند منصب نبوت نمی دارند اما از کمالات مذکورہ نصیب فراخور استعداد خود میدارند۔‘‘ اس کے بعد ذکر محبوبیت برب العالمین وذکر عزت در ملائکہ وذکر ولایت وغیرہا کا ذکر کے لکھتے ہیں کہ: ’’اما ذکر ولایت اجمالاً من لدنا علماً‘‘ تک تقریباً دو صفحہ از (منصب امامت ص۳۰، ۳۱،۳۲) عبارت مذکورہ سے مندرجہ ذیل نتائج ثابت ہوئے۔

۱… انبیاء کرام کو بھی وحی ہوتی ہے اور الہام بھی۔

۲… چونکہ انبیاء کا الہام بھی قطعی ہوتاہے، لہٰذا وحی کہلاتی ہے۔ اس کا حکم بھی وحی ہوتاہے۔

۳… جو الہام غیر انبیا کو ہو وہ وحی نہیں ہوتا بلکہ تحدیث کہلاتاہے۔

۴… قرآن میںاس عام الہام کو بھی مجازاً وحی کہا گیاہے۔

۵… مطلق الہام کی چند صورتیں:

۱… بصورت کلام از پردہ غیب جیسے: ’’واذا اوحیت الی الحواریٖن۔ واوحینا الیٰ ام موسیٰ قلنا یاذالقرنین‘‘ یہ سب الہام وتحدیث ہے نہ کہ وحی نبوت۔

239

۲… یہی الہام بواسطہ ملک الہام ہوتاہے۔ جیسے تمام وہ آیات جو اس سلسلہ میں مختار مدعاعلیہ نے پیش کی ہیں۔

۳… کبھی اس الہام کا یہ طریقہ ہوتاہے کہ خود بخود صاحب الہام کے دل سے جوش مارتاہے۔

۴… اس میں سے جو قسم الہام کی انبیاء کرام کو ہوتی ہے، اسے نقش فی الروح کہتے ہیں اور جو اولیاء اللہ کو ہوتی ہے اسے نطق سکینہ کہتے ہیں۔

عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ کس قدر وضاحت کے ساتھ وحی والہام کی تقسیم فرمائی ہے اور وحی مطلقاً بمعنی وحی نبوت اور الہام کی وہ قسم جو وحی کہلاسکتی ہے۔ انبیاء کے ساتھ مختص کردی ہے۔ بعد کے واسطے کوئی سلسلہ وحی نہ چھوڑا۔ صرف الہام کے وہ اقسام جو اولیاء اللہ میں پائے جاتے ہیں اور تحدیث یا نطق سکینہ یا الہام وکشف سے نامزد کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ فتوحات سے مفصل پیش کرچکا باقی بتایاہے۔ پس اس سے بھی ہماری ہی تائید ہوئی، الہام باقی ہے نہ وحی، نہ الہام بمعنی وحی۔ لہٰذا بقاء وحی غیر تشریعی کی دلیل کا اس میں اشارہ تک نہیں۔ بلکہ اس کے خلاف تصریح ہے یہ صرف مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ تھا۔ عدالت خود اصل عبارت بلکہ اصل کتاب ملاحظہ فرمائے۔

مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ

’’واما ذکر ولایت اجمالاً فقد قال اللہ تعالیٰ الا ان اولیآء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون الذین اٰمنوا وکانوا یتقون لہم البشریٰ فی الحیوٰۃ الدنیا وفی الاخرۃ۔ وقال اللہ تعالیٰ ان اولیآء الا المتقون‘‘

واماذکر شعیب آن تفصیلاً پس باید دانست کہ ازان جملہ الہام است ہمیں الہام کہ بانبیاء اللہ ثابت است آنرا وحی میگونید۔ واگر بغیرایشان ثابت میشود ا ورا تحدیث میگونیدو گاہے۔ درکتاب اللہ مطلق الہام راخواہ بانبیاء اللہ ثابت است خواہ باولیاء اللہ وحی نامند وایں مطلق الہام گاہے درصورت کلام پردہ غیب ممکن لاریب نازل میگردد۔ ’’کما قال اللہ تعالیٰ اذ اوحیت الی الحواریٖن ان اٰمنوا بی وبرسولی وقال اللہ تعالیٰ واحینا الیٰ ام موسیٰ ا ن ارضعیہ واذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولا تخافی ولا تحزنی انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین۔ وقال اللہ تعالیٰ قلنا یا ذالقرنین اما ان تعذب واما تتخذ فیہم حسناً وقال النبیﷺ قد کان فیمن قبلکم من الامم محدثون فان یک فی امتی احد انہ عمر‘‘

وگاہی ہمیں الہام بواسطۂ ملک میشود ’’کما قال اللہ تعالیٰ واذکر فی الکتاب مریم اذانتبذت من اہلہا مکاناً شرقیاً فاتخذت من دونہم حجابا فارسلنا الیہا روحنا فتمثل لہا بشراً سویا قالت انی اعوذبالرحمن منک ان کنت تقیاً قال انما ان رسول ربک لاہب لک غلام زکیاً قالت انیٰ یکون لی غلام ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا قال کذالک قال ربک ہو علیّ ہیّن ولنجعلہ آیت للناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیاً وقال اللہ تعالیٰ واذ قالت الملآئکۃ یامریم ان اللہ اصطفاک وطہرک واصطفاک علی نسآء العالمین یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین وقال اللہ تعالیٰ اذ قالت الملآئکۃ یامریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ بن مریم وجیہاً فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین‘‘

وگاہے ہمیں الہام بہ ہمیں طریق واقع می شود کہ خود بخود از دل صاحب الہام کلامی جوش می زند وآں را برزبان می آرند وفی الحقیقۃ آن کلام رحمانی است بہ زبان او جاری گشتہ نہ کلام نفسانی این قسم الہام کہ بہ انبیاء اللہ می شود اور انفث فی الروع گونید ’’کما قال النبیﷺ الا ان روح القدس نفث فی روعی‘‘ اگر بہ نسبت اولیاء اللہ می شود اور انطق سکینہ میگونید چنانچہ صحابہ ذکر فرمودہ اند ’’ما کنا نعد ان السکینۃ تنطق علی لسان عمر وقلبہ‘‘ وبسیار قصص از مثال ایں از جناب فاروق اعظم مروی است واز جملہ اقسام الہام خوب است کہ کسی را از مقبولین عالی مقام درحالت منام برامرے از امور غیبیہ مطلع می فرمانید۔’’قال النبیﷺ لم یبق من النّبوۃ الا

240

المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤیا الصالحۃ یریہا المؤمن او تری لہ‘‘(واز عمدہ کمالات ولایت تعلیم غیبی است) ’’قال اللہ تعالیٰ وقال لہم نبیہم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا قالوا انی یکون لہ الملک علینا ونحن احق بالملک منہ ولم یوت سعۃ من المال قال ان اللہ اصطفیٰ علیکم وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم‘‘وظاہر است کہ طالوت نبی بہ بود ’’وقال اللہ تعالیٰ فوجدا عبدا من عبادنا اٰتیناہ رحمۃ من عندنا وعلمناہ من لدنا علما‘‘ (منصب امامت ص۳۰ تا ۳۲) عبارت مذکورہ سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

۱… انبیاء کرام کو بھی وحی ہوتی اور الہام بھی۔

۲… چونکہ انبیاء کا الہام بھی قطعی ہوتاہے لہٰذا وحی کہلاتی ہے۔ اس کا حکم بھی وحی کا ہوتاہے۔

۳… جو الہام غیر انبیاء کو ہو وہ وحی نہیں ہوتا۔ بلکہ تحدیث کہلاتاہے۔

۴… قرآن میں اس عام الہام کو بھی مجازاً وحی کہا گیاہے۔

مطلق الہام کی چند صورتیں

۱… بصورت کلام از پردہ غیب۔ جیسے ’’واوحینا الی الحواریٖن۔ واوحینا الی ام موسیٰ۔ وقلنا یا ذا لقرنین‘‘یہ سب الہام وتحدیث ہے نہ کہ وحی نبوت۔

۲… یہی الہام بواسطہ ملک الہام ہوتاہے۔ جیسے ’’فارسلنا الیہا روحنا۔ اذ قالت الملآئکۃ یا مریم‘‘وغیرہ! تما م وہ آیات جو مختار مدعاعلیہ نے پیش کی ہیں۔

۳… کبھی اس الہام کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ خودبخود صاحب الہام کے دل سے جوش مارتا ہے۔

۴… اس میں سے جو قسم الہام کی انبیاء کرامؑ کو ہوتی ہے. اسے نفث فی الروع کہتے ہیںاور جو اولیاء اللہ کو ہوتی ہے, اسے نطق سکینہ کہتے ہیں۔

عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ کس قدر وضاحت کے ساتھ وحی الہام کی تقسیم فرمائی ہے اور وحی مطلقا بمعنی وحی نبوت اورالہام کی وہ قسم جو وحی کہلاسکتی ہے۔ انبیاء کے ساتھ مخصوص کردی ہے. بعد کے واسطے کوئی سلسلہ وحی نہ چھوڑا۔ صرف الہام کے وہ اقسام جو اولیاء اللہ میں پائے جاتے ہیں اور تحدیث یا نطق سکینہ یا الہام وکشف سے نامزد کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ فتوحات سے مفصل پیش کر چکا باقی جو بتایاہے۔ پس اس سے بھی ہماری تائید ہوئی الہام باقی ہے نہ وحی، نہ الہام بمعنی وحی۔ لہٰذا بقاء وحی غیر تشریعی کی دلیل کی اس میں اشارہ تک نہیں۔ بلکہ اس کے خلاف تصریح ہے۔ یہ صرف مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ تھا۔ عدالت خود اصل عبارت بلکہ اصل کتاب ملاحظہ فرمائے۔

اس قدر واضح اور صریح عبارت کے متعلق مختار مدعاعلیہ کی مندرجہ ذیل تاویل کسی قدر بہتان وافتراء پر جرأت وجسارت ہے کہ: ’’مگر دونوں کے مسلم ومقتداء پیشواء جناب مولوی اسماعیل صاحب کا جوحوالہ گواہان مدعاعلیہ نے پیش کیا ہے، وہ ان دونوں کے خلاف اور احمدیوں کی تائید ہے۔‘‘

الجواب:

۱… مولانا شہید کا علم وفضل روشن ہے مگر مختار مدعاعلیہ انہیں مدعیہ یاگواہ مدعیہ یا مختار مدعیہ کا مسلم مقتداء و پیشواء جو لکھ رہا ہے یہ جوڈیشنل اصول پر درست نہیں۔ کوئی ایک سوال جرح میں ان کے متعلق نہیں آیا۔ اس پر عدالتی یہ نوٹ موجود ہے کہ فریق اوّل کو ان الفاظ پر یہ اعتراض ہے کہ یہ الفاظ انہوں نے تسلیم کئے۔ مختار مدعاعلیہ اس کا حوالہ مسل سے پیش کرے مگر وہ نہ پیش کرسکا۔

241

۲… اس کو احمدیوں کی تائید سمجھنا شاید بناء غلط فہمی ہو۔ ورنہ اس میں کہیں تائید کا اشارہ کنایہ تک نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کے آیتوں کا دعویٰ بقاء وحی غیر تشریعی ہے اور یہاں وحی مطلقاً بلکہ وہ الہام بھی جو بمعنی وحی انبیاء کرام کو ہوتاہے بند ہے۔ صرف الہام اور تحدیث ونطق سکینہ یا رؤیاء صالحہ باقی ہیں اور باقی تمام سلسلہ وحی منقطع ومسدود۔ پس اس سے اپنی تائید نکالنا مختار مدعاعلیہ کی خوش فہمی ہے۔ ورنہ مطلب واضح ہے۔

۵… پانچواں حوالہ تفسیر (روح المعانی ج۷ ص۶۵) اس میں ابن حجر ہیثمی کا قول نقل کیا ہے کہ عیسیٰ پر وحی وقت نزول بواسطہ جبرئیل ہوگی۔

الجواب: اس کا مکمل جواب اوپر گزر چکا مختار مدعاعلیہ حسب عادب ایک ایک چیز کو متعدد مرتبہ لا کر طول دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ابن حجر ہیثمی کی ذاتی رائے ہے جو قرآن وحدیث اور علماء سلف کے سراسر خلاف ہے جو کسی پر حجت نہیں۔ مسلمہ فریقین کے بزرگ امام محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ: ’’فلہ الکشف اذ نزل والالہام‘‘ کہ نزو ل کے بعد اس پر کشف والہام ہوگا نہ وحی۔ گو لفظ وحی کا مجازاً بمعنی الہام اس پر بولا جائے۔ پورا حوالہ اس سے قبل (فتوحات ج۳ ب۳۵۳ س۳ ص۲۳۸) سے نقل کرچکا ہوں۔

گواہ مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ امام شعرانی (یواقیت مبحث ۳۵ ص۱۸۸،۱۸۹) پر فتوحات سے نقل کرتے ہیں کہ: ’’وہٰذا باب الخلق بعد موتہ محمدa فلا یفتح لاحد الی یوم القیامۃ ولکن بقی للاوّلیاء وحی الالہام الی قولہ قال ولو ان الوحی علی لسان جبرئیلm کان باقیاً محمدa لکان عیسیٰm اذا نزل لا یحکم بشریعۃ محمدa وانما یحکم بشریعۃ ان یوحی الیہ جبرئیل الی قولہ اعلم ان الوحی لا ینزل بہ الملک علی غیر قلب النبی اصلاً‘‘

وحی کا بیان کرکے فرمایا کہ یہ دروازہ وحی نبوت بعد وفات محمدa بند ہوچکا۔ اب یہ قیامت تک کسی کے واسطے نہیں کھل سکتا۔ اولیاء کے واسطے صرف وحی الہام ہے نہ کوئی وحی۔ آگے تصریح فرمائی کہ اگر بواسطہ جبرئیل سلسلہ وحی بعد آنحضرتﷺ باقی ہوتا تو عیسیٰm بعد نزول شریعت محمدیہ کے کیوں پیرو ہوتے وہ اسی وحی کی اتباع کرتے جو جبرئیل لاتے۔ کتنی وضاحت سے امام شعرانی اور امام ابن عربی جو گواہ مدعاعلیہ کے بھی مسلم بزرگ ہیں۔ تصریح فرما رہے ہیں کہ عیسیٰm پر بعد نزول صرف کشف والہام بلا واسطہ جبرئیل ہوگا۔ وحی بواسطہ جبرئیل ہرگز نہ ہوگی۔

اس کے مقابل پر ابن حجر ہیثمی جیسے غیر مسلم شخص کی شخصی رائے پیش کرنا صرف مختار مدعاعلیہ کی رائے ہے اور تعجب تو اس پر ہے کہ اپنے نبی کے خلاف اس نے ابن حجر ہیثمی کو کیوں مان لیا۔ حالانکہ مرزا صاحب کے خلاف احادیث نبویہ بھی عیاذاً ب اللہ ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں اور خود مرزا صاحب (ازالہ اوہام ص۴۱۱، خزائن ج۳ ص۵۷۷) پر فرماتے ہیں کہ: ’’ایک فقرہ بھی جبرئیل لائیں وہ بھی وحی نبوت ورسالت ہے جو بند ہے۔‘‘ ملاحظہ فرمائیںوحی تو بڑی چیز ہے۔ ایک فقرہ لانے کو بھی ممانعت فرمارہے ہیں۔ اس سے علاوہ ہمارے جواب کی تکمیل کے مختار مدعاعلیہ کو خود مرزا صاحب کی کتب سے ناواقفی اچھی طرح واضح ہوگئی۔ بہرحال یہ حوالہ بھی مدعاعلیہ کے لئے مفید اور ہم پر حجت نہ ہوسکا۔

ساتواں حوالہ حجج الکرامۃ

کہ: ’’آرندہ وحی بسوی او جبرئیل باشد بلکہ ہمیں یقین دارم‘‘

الجواب: یہی ماسبق جواب بعینہٖ کافی ہے۔ تفصیل اوپر گزر چکی۔ نواب صدیق حسن خاص غیر مقلد کی ذاتی اور شخصی رائے کتاب اللہ اور کتاب الرسول اور مسلم بزرگان دین واسلام کے خلاف ہرگز حجۃ نہیں ہوسکتی، نہ وہ امام ہیں، نہ مسلم عالم، نہ ہمارے فرقہ کے، نہ مرزا صاحب کے۔ ان کا حوالہ بالکل غیر متعلق ہے۔ باقی گواہوں کا انہیں مسلمان کہنا یہ اور چیز ہے اور مسلم ہونا اوربات۔ دنیا میں ہزاروں مسلمان فاش غلطیاں کرنے والے فاسق وفاجر بھی ملیں گے اور جو مسلمان بھی ہیں۔ پھر انہیں مسلم کون مانتاہے۔

242

فتاویٰ رشیدیہ میں انہیں رئیس عاملین بالحدیث یعنی غیر مقلد بتا کے ان کے حوالے غیر مقلدین پر اتمام حجت کے لئے نقل کئے ہیں۔ اس سے ان کا مسلم ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ تمام مسلمان مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کے حوالے الزاماً نقل کرتے ہیں۔ کیا خلفاء یا مرزا صاحب کو تسلیم کرلیا۔ مفصل جواب اوپر دو مرتبہ عرض کر چکاہوں۔

آٹھواں حوالہ بھی پہلے حوالہ کا تتمہ وہی تشریع اور غیر تشریع کے متعلق یواقیت کا ہے جس کا جواب مکمل پہلے نمبر میں آچکا ہے اور اصل بحث میں جو جواب دیا تھا، مختار مدعاعلیہ نے اسے لا جواب سمجھ کر نام تک نہ لیا۔لہٰذا اسی کا حوالہ دے کر عدالت کی توجہ گرامی اصل بحث کی طرف مبذول کراتاہوں۔ اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو میں بھی مختار مدعاعلیہ کی طرح بار بار وہی عبارت دہراتا رہتا۔ ملاعلی قاری نے صرف اس حدیث کی باعتبار سند کے تردید کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’ان جبرئیل لا ینزل… الخ!‘‘ اس سے اس کا نواب صاحب کا مؤید ہونا نہیں پایا جاتا۔ نیز کسی کا قول نقل کرنا اور چیز ہے اور تائیدکرنا اور بات ہے۔ یہی مضمون کتاب الاشاعت کا ہے۔ غرض ایک ہی چیز ہے، مکرر نقل سے مکرر دلیل نہیں بن سکتا۔

خلاصہ بحث

مختار مدعاعلیہ اوراس کے گواہ ایک آیت یا ایک حدیث یا ایک کسی مسلم بزرگ کا قول نہ پیش کرسکے جس سے بقاء وحی غیر تشریعی آنحضرتﷺ سے ثابت ہوسکتا۔ ہاں! الہام کے بقاء کے متعلق حوالے نقل کئے، وہ ہمارے مؤید ہیں اور ان کے مخالف ہیں۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ وحی نبوت مطلقاً بند ہے۔ الہام،کشف، وحی مجازی، لغوی باقی ہے۔

بخلاف اس کے انسداد وحی نبوت پر ہم نے سات آیات خاتم النّبیین کی تفسیر سے اور آیات مفصل کل (۱۵) آیات اور(۲۵) مفصل اور چار صریح حدیثیں اسی سلسلہ کی نیز مسلم بزرگان دین کے فتوحات، یواقیت، علم الکتاب، فتاویٰ ابن حجرمکی، شفاء شریف، شرح شفاء ملّاعلی قاری، نسیم الریاض علامہ خفاجی وغیرہ سے متعدد صریح صریح لاجواب حوالے پیش کئے جس میں اکثر تو ایسے لاجواب ہیں، جن کا بحث میں مختار مدعاعلیہ نے نام تک نہ لیا اور بعضوں میں مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کی جس کی حقیقت جواب الجواب میں آشکار ہوگئی۔ بہر حال ہم نے یہ مسئلہ بحمد اللہ ۴۵،۵۰ دلیلوں سے روز روشن کی طرح واضح کردیا کہ آنحضرتﷺ کے بعدوحی نبوت کا سلسلہ منقطع ومسدود ہے۔ مرزا صاحب کے مریدین کے واسطے مرزا صاحب کی بھی سند پیش کر دی کہ جب تک دعویٰ نبوت صاف نہ تھا فرماتے ہیں کہ: ’’لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)

’’آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ نبوت کو ختم کردیاہے۔‘‘

(حمامۃ البشری ص۴۹، خزائن ج۷ ص۲۴۳)

(۶)

مرزا صاحب کے نزدیک صرف تشریعی وحی بند ہے

اس سلسلہ میں بلا وجہ (توضیح مرام، ازالہ اوہام، کشتی نوح، استفتاء پرانی تحریریں، براہین احمدیہ، حقیقت الوحی، مواہب الرحمن، آئینہ کمالات اسلام، ضمیمہ براہین ج۵، ایک غلطی کا ازالہ، چشمہ معرفت، سرمہ چشم آریہ، تتمہ حقیقت الوحی، الوصیۃ، تجلیات الٰہیہ) کے متعدد جدید حوالہ دے کر لاحاصل طول دیا اور یہ ثابت کرنا چاہاہے کہ جس وحی کو مرزا صاحب بند فرماتے ہیں۔ وہ وحی تشریعی ہے ورنہ مطلق وحی کا دعویٰ اور یہ کہ آپ کو وحی ہوتی ہے۔ مرزا صاحب نے اپنی کل کتب میں تقریباً لکھاہے۔

243

الجواب:

۱… اس سے ہمارا نقصان کیا گویا یہ تو اقراری کفر ہے۔

۲… مرزا صاحب کی عادۃ ہی متعارض اقوال کی ہے اور بھی کافی دلیل اس امر کی ہے کہ ان کے کشوف اور الہامات رحمانی نہیں۔ جیسا کہ شیخ نے فتوحات میں جا بجا لکھا ہے اور تائیدا میں ’’ولوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً‘‘پیش فرمایاہے۔

۳… ان عبارات میں یا وحی تشریعی اور غیر تشریعی کا ذکر ہے یا مطلق وحی کا۔ مگر میں نے وحی نبوت ورسالت کا انقطاع وانسداد مرزا صاحب کی عبارت سے پیش کیا ہے جو میرا دعویٰ تھا اور صریح عبارت پیش کی ہے۔

پھر ملاحظہ فرمائیں کہ:

۱… ’’کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے۔ اس کی وحی بلا شبہ وحی نبوت ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)

۲… ’’نبی کی وحی، وحی نبوت کہلائے گی۔‘‘

(سراج منیر ص۴،خزائن ج۱۲ص۶)

۳… ’’ایک فقرہ ہی جبرئیلm لائیں وہ بمعنی وحی نبوت ورسالت ہے جو بند ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۷۷،خزائن ج۳ ص۴۱۱)

۴… ’’لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی۔ کیا یہ مہر روشن وقت ٹوٹ جائے گی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)

ان واضح عبارات کی شرح ان گول مول عبارات سے ناممکن ہے۔

(۷)

کیا مسیح موعود کے نزدیک آپ کی وحی قرآنی وحی کے برابرہے

مذکورہ بالا حوالہ جات جو عنوان نمبر۲ میں درج کئے گئے وہ تو جب کے ہیں کہ اس وقت تک دعویٰ نبوت نہ تھا اور ختم نبوت کے مسئلہ میں مسلمانوں کے ہمنواء تھے۔ اس کے بعد دعویٰ نبوت بلکہ نبوت مستقلہ اور وحی وغیرہ کا کیا اور وحی بھی کوئی گھٹیا نہیں۔ بلکہ قرآن کے ہم پلّہ۔ اس کی طرح منزہ قابل ایمان لانے کے ملاحظہ ہو۔

۱… ’’جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ایمان ہے۔ جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)

  1. آنچہ من بشنوم زوحی خدا

    بخدا پاک دانمش زخطا

  2. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

(در ثمین فارسی ص۷۷، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اس کی تاویلات رکیکہ جو مختار مدعاعلیہ نے پیش کی ہیں یا مرزا صاحب کی دوسری مجمل عبارات الہدیٰ، نزول المسیح وغیرہا سے پیش کی ہیں۔ ان کے متعلق یہی گزارش ہے کہ وہ جواب نہیں ہوسکتیں۔ چونکہ مفصل بحث اوپر سلسلہ ایمانیات میں گزر چکی ہے۔ اس کا اعادہ نہیں کرتا۔ صرف حوالہ پر اکتفاء کرتاہوں اور عدالت کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراتاہوں کہ واضح عبارت کا حل مجمل اور محتمل المعنی عبارت سے نہیں ہوا کرتا۔ نیز جس شخص کی عادت متعارضات اور اختلاف گوئی کی ہو۔ اس کی ایک عبارت دوسری کی شرح نہیں بن سکتی۔

پہلی وجہ تکفیر یعنی دعویٰ وحی نبوت ختم ہوا۔

244

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ختم نبوت

دوسری وجہ تکفیر ختم نبوت کا انکار اور خاتم النّبیین کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا اور اپنے آپ کو تشریعی نبوت کا مدعی سمجھنا اور احکام شرعیہ میں تغیرّ وتبدّل کرنا۔

دوسری وجہ تکفیر کا رد

جماعت احمدیہ حضورa کو خاتم النّبیین یقین کرتی ہے

قول مختار مدعاعلیہ:

دوسری وجہ تکفیر فریق مخالف نے یہ بیان کی ہے کہ: ’’مرزا صاحب اور آپ کے معتقدین آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین کے منکر ہیں اور آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین یقین کرنا ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دینی سے کسی کا انکار کرے وہ کافرہے۔ لہٰذا مرزا صاحب اور ان کے متبعین کافر ہوئے۔‘‘

اس مدعا کے نقل میں اسی مدعا ومغالطہ سے کام لیا ہے۔ صرف خاتم النّبیین کا انکار نہیں۔ بلکہ خاتم النّبیین کا اسلامی معنی کے رو سے انکار ہے۔ جیسا کہ میںاصل بحث میں بوضاحت پیش کرچکاہوں جس کا جواب تو کجا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا اور یہی خاتم النّبیین بمعنی تمام نبیوں کے آخری نبی جس کے بعد کوئی نبی نہ بنایا جائے۔ ضروریات دین سے ہیں جس کے واسطے شہادت اور بحث میں حوالہ مندرجہ ذیل تفصیل سے پیش ہوچکے۔

۱… ’’اوّل الانبیاء آدم وآخرہم محمدa‘‘

(شرح عقائد ص۹۹)

۲… ’’اذ لم یعرف ان محمداًa آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من ضروریات الدین‘‘

(اشباہ والنظائر ص۲۹۶)

یہی تصریحات تقریباً ۱۵کتب سے جن میں (بحر الرائق ج۵ ص۱۳۰) بھی ہے جسے گواہ نمبر۱ نے بجواب جرح ۷؍مارچ ۱۹۳۳ء مسلم مانا ہے۔

پس خلاصہ یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ کا خاتم النّبیین بمعنی تمام نبیوں کا آخری ہونا ضروریات دین سے ہے اور اس کا منکر کافرہے اور ظاہرہے کہ مرزا صاحب آخر وقت تک اسی کفر پر قائم رہے اور ان کے امتی اس وقت تک اس کفر پر مصر ہیں۔ لہٰذا ان کے کفر میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔

مختار مدعاعلیہ نے اصل اعتراض کو نظر انداز کر کے لفظ خاتم النّبیین کا اقرار مرزا صاحب کی کتب ذیل سے پیش کیا ہے۔

(۱)انجام آتھم۔ (۲)الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۵ء۔ (۳)ازالہ اوہام۔ (۴)آئینہ کمالات۔ (۵)ایام الصلح۔ (۶)کرامات الصادقین۔ (۷)ایک غلطی کا ازالہ۔ (۸)مواہب الرحمن۔ (۹)حقیقت الوحی۔ (۱۰)استفتاء۔ نیز بیان گواہ نمبر۱۔

اصل معاملہ

بات یہ ہے کہ مرزا صاحب جب تک خود کھل کے نبی نہ بنے تھے اور وہ نبوت پر پردے ڈال رکھے تھے۔ اس وقت تک تو خاتم النّبیین کے لفظ کا بھی اقرارہے اور اسلامی معنی کا بھی ملاحظہ ہو۔

245

۱… (ایام الصلح ص۷۴، خزائن ج۱۴ ص۳۰۸) ’’ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ اور حدیث میں ہے: ’’لانبی بعدی‘‘ …تا اور اگر کوئی نبی نیایا پرانا آوے تو ہمارے نبیa کیونکر خاتم الانبیاء رہیں۔ ہاں! وحی ولایت ومکالمات الٰہیہ کا دروازہ بندنہیں۔‘‘

۲… (ایام الصلح اردو ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲)

۳… ’’مسیح کیونکر آسکتاتھا، وہ رسول تھا اور خاتم النّبیین کی دیوار اس کو آنے سے روکتی ہے۔ سو اس کے ہمرنگ آیا وہ رسول نہیں، مگر رسولوں کے مشابہ ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۲۲، خزائن ج۳ ص۳۸۰)

۴… ’’اکیسویں آیت: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ یعنی محمدa تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کررہی ہے کہ بعد ہمارے نبیa کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱)

۵… ’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیلm ملتاہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے، مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

۶… (حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)’’الا تعلم ان الرب الرحیم الیٰ قولہ وختم اللہ بہ النّبییون‘‘

۷… ’’اور سیدنا ومولاناحضرت محمدمصطفیﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کافر اور کاذب جانتاہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘

(اشتہار ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰،۲۳۱، حقیقت النبوۃ ص۸۹، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۳،۴۲۴)

۸… (آسمانی فیصلہ ص۳، خزائن ج۴ ص۳۱۲ ) وغیرہا وغیرہا۔

مگر یہ عقیدہ مسلمانوں کے مطابق ۱۹۰۱ء سے قبل تھا۔ اس کے بعد نبوت سے پردہ اٹھا اور خود نبی ورسول بلکہ تمام رسولوں سے اعلیٰ جس سے تمام رسول زندہ ہوگئے تو صرف لفظ خاتم النّبیین فرماتے رہے اور معنی بدل ڈالے۔ چنانچہ پیش کردہ حوالوں سے جو۱۹۰۱ء کے بعد کے ہیں۔ صرف لفظ خاتم النّبیین ضرورہے مگر اسلامی معنی جو ضروریات دینی سے ہے کہ ایسے آخری نبی جس کے بعدکسی قسم کا کوئی بھی نبی نہ بن سکے۔ ہرگز نہیں ہے۔

لہٰذا بلحاظ اسلامی معنی مرزا صاحب کا خاتم النّبیین سے منکر ہونا بدستور رہا۔ اس مغالطہ سے اس کا جواب نہ بن سکا۔ باقی تفصیل ان شاء اللہ تعالیٰ! آگے اپنی جگہ پر آئے گی۔

جمیع مسلمان بعد حضرتa ایک نبی کا آنا مانتے ہیں

اس ہیڈنگ میں بھی لفظوں کے ہیر پھیر کا ایک مغالطہ ہے جو آگے معلوم ہوگا۔ یہاں صرف یہ گزارش ہے کہ جمیع مسلمان حضرت عیسیٰm کے منتظر ضرور ہیں۔ مگر ایک مسلمان بھی آنحضرتﷺ کے بعد کسی کا نبی بنایا جانا یا کسی کو آپ کے بعد منصب نبوت عطاء ہونا جائز نہیں سمجھتا۔ بلکہ آپ کے بعد دعویٰ نبوت کو کفر سمجھنا اجماعی عقیدہ ہے۔ جیسا کہ اپنی جگہ پر آئے گا۔ پس کسی گزشتہ نبی کا بحیثیت امتی یا مجدد آنا اور چیزہے اور کسی کا منصب نبوت پر فائز ہونا اور۔ آنحضرتﷺ کے بعد دعویدار نبوت ہوکر نبی بننا اور معاملہ ہے ہر عقلمند دونوں کے فرق کو سمجھتاہے۔ مختار مدعاعلیہ بلا وجہ مغالطہ دینا چاہتاہے۔فاعتبرو یا اولی الابصار!

246

خلاصہ استدلال مختار مدعاعلیہ

اس ہیڈنگ کے تحت مختار مدعاعلیہ نے جو پیش کیا ہے۔ اس کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ اگر خاتم النّبیین کے معنی یہ ہوں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو یہ معنی تمام مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف ہیں۔ کیونکہ وہ آنحضرتﷺ کے بعد حضرت عیسیٰm کاآنا بحیثیت نبی کے مانتے ہیں اور گواہ مدعیہ نمبر۴ کی جرح سے تائید کی کہ حضرت عیسیٰm جب نازل ہوں گے تونبی ہوںگے۔ یوں ہی ملّاعلی قاری سے کہ جس نے یہ کہاکہ حضرت عیسیٰm مسلوب النّبوۃ ہو کر آئیں گے وہ کافر ہوگیا۔ کیونکہ نبی سے اس کی موت کے بعد بھی وصف نبوت زائل نہیں ہوتا۔ پس اگر خاتم النّبیین سے مراد ہر قسم کے نبی ہیں تو عیسیٰm بھی دوبارہ نہیں آسکتے۔

اگر کہو نئے کا آنا منع ہے، پرانے کا نہیں تو ہم بڑے ادب سے کہیں گے کہ اگر پرانے نبیوں کا استثناء ہوسکتا ہے تو نئے امتی غیرتشریعی کا بھی استثناء ہوسکتاہے۔ (ملخصاً بلفظہ)

خلاصہ

اس میں لفظی متعدد مغالطہ ہیں۔ وضاحت کے واسطے حسب ذیل عنوانات قائم کرتاہوں۔

۱… خاتم النّبیین کے معنی مسلمان کیا کرتے ہیں۔

۲… کیا مسلمان حضرت عیسیٰm کا آنا بحیثیت نبی کے مانتے ہیں۔

۳… کیا حضرت عیسیٰm مسلوب النّبوۃ ہوں گے۔

۴… کیاان پر وحی بواسطہ جبرئیل ہوگی۔

الجواب:

۱… خاتم النّبیین کے معنی مسلمان کیا کرتے ہیں۔

مختار مدعاعلیہ نے خاتم النّبیین کے جو یہ معنی مسلمانوں کی طرف منسوب کئے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ یہ محض مغالطہ ہے۔ بلکہ مسلمان یہ معنی کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ: ’’حضورسرور کائناتa تمام انبیاء ورسل اور نبوت ورسالت کے ختم کرنے والے اور آخر الانبیاء ہیں۔ آنحضرتﷺ کے بعد خدائے تعالیٰ کسی کو نبی نہیں بنائے گا نہ کسی کو آپ کے بعد منصب نبوت ورسالت عطاء کیا جاسکتاہے۔ باب نبوت ورسالت آئندہ مطلقاً مسدود ہے۔

اس کا ثبوت ملاحظہ ہو

۱… مرزا صاحب کے مسلم رئیس المفسرین فرماتے ہیں: ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین الذی ختم النبوۃ فطبع علیہا فلا تفتح بعدہ الی یو م القیامۃ‘‘یعنی آنحضرتﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔ جنہوں نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر اختتام لگ گئی۔ اب بات نبوت قیامت تک کسی کے واسطے نہ کھلے گا۔‘‘

۲… علامہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: ’’وقد اخبر اللہ تعالیٰ فی کتابہ ورسولa فی السنۃ المتواتر لانبی بعدی لیعلموا ان کل من ادعیٰ ہٰذا لمقام کذاب دجال مضل وضال… الخ!‘‘

(ابن کثیر ج۸ ص۹۱)

(ترجمہ) یعنی خدا نے اپنی کتاب اور نبی کریمa نے سنت متواترہ میں خبر دے دی کہ ’’لانبی بعدی‘‘ تاکہ معلوم ہوجاوے کہ جو بھی آپ کے بعد اس منصب کو پانے کا دعویٰ کرے۔ وہ کذاب، دجال، گمراہ کنندہ اور خود گمراہ ہے۔

247
۳… ’’ومعنی کونہ آخر الانبیاء وانہ لا نبی بعدی احد بعدہ۔ وعیسیٰ نبی قبلہ فحین ینزل ینزل عاملا علی شریعتہ محمدa مصلیا الی قبلتہ کانہ بعض امتہ‘‘

(تفسیر کشاف ج۲ ص۲۳۳، گواہ مدعیہ نمبر۱)

یعنی آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین و آخر الانبیاء کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں بنایا جائے گا اور حضرت عیسیٰm پہلے نبی بن چکے ہیں اور دعوائے قبل ہوچکاہے۔ پس وقت نزول شریعت محمدیہ پر عامل اور محمدی قبلہ کی سمت پر نماز ادا کریں گے۔ گویا آپ کی امت کے ایک فرد ہوںگے۔

۴… ’’ولا یقدح فیہ نزول عیسیٰ بعدہ فانہ اذا نزل کان علی دینہ مع ان لمراد منہ انہ اخر‘‘ یعنی خاتم النّبیین اور آخر الانبیاء کے معنی پر آپ کے بعد نزول عیسیٰ کی زد نہیں پڑ سکتی۔ کیونکہ وہ بعد نزول آپ کے ہی دین پر ہوں گے اور خاتم النّبیین کی یہ مراد ہے کہ آپ نبی بننے والوں اور منصب نبوت پانے والوں کے آخری نبی یعنی آپ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطاء نہیں ہوگا۔

(تفسیر بیضاوی ص۲۴، گواہ مدعیہ نمبر۱)

۵… ابی السعود میں اسی قسم کی تفصیل کے بعد ہے: ’’فان معنی قولہ خاتم النّبیین لانہ لا نبیاً احد بعدہ وعیسیٰ نبی قبلہ‘‘یعنی خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص خلعت نبوت سے نوازا نہ جائے گا اور حضرت عیسیٰm ان انبیاء سے ہیں کہ آپ کے قبل یہ خلعت عطاء کیا جا چکاہے۔

۶… ’’المراد بکونہ خاتم النّبیین انقطاع حدوث وصف النبوۃ فی احد من الثقلین بعد تحلیلہ بہا‘‘ پھر حضرت عیسیٰm کے نزول کا ذکر کر کے کہتے ہیں: ’’کان نبیا قبل تحلی نبیناa بالنبوۃ‘‘

(روح المعانی ج۹ ص۳۲، گواہ مدعیہ)

یعنی خاتم النّبیین سے مراد ثقلین جنس وانس میں حدوث وایجاد وصف نبوت کا انقطاع ہے۔ بعد اس کے کہ اس عالم میں آنحضرتﷺ خلعت نبوت سے سرفراز ہوچکے اور عیسیٰm کو تو یہ خلعت اس عالم میں ہمارے نبی کریمa سے قبل عطاء کی گئی۔

۷… اس سلسلہ میں گواہ مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ شیخ محمد محی الدین ابن عربی یہ فرماتے ہیں: ’’وادّعاء النبوۃ قد انقطعت‘‘

(فتوحات ج۳ ب۳۱۰ س۲۳ ص۳۸)

یعنی آنحضرتﷺ کے بعد ہر قسم کا دعویٰ نبوت یقینا منقطع ہوچکا۔

۸… خود مدعاعلیہ اور اس کے گواہان ومختاران کے نبی قبل دعویٰ نبوت مسلمانوں کے ہم نواہی تھے۔

’’ماکان اللہ ان یرسل نبیا بعد نبینا خاتم النّبیین وماکان یحدث سلسلۃ النبوت بعد انقطاعہا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۷۷، خزائن ج۵ ص۳۷۷)

یعنی ہمارے نبی کریم خاتم النّبیینm کے بعد اللہ تعالیٰ کسی نبی کو بنا کر نہیں بھیجے گا اور نہ سلسلہ نبوت بند ومنقطع ہونے کے بعد دوبارہ از سر نو ایجاد کرے گا۔

پس ثابت ہوگیا کہ مسلمان یہ نہیں کہتے کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ کوئی نبی نہیں آئے گا بلکہ یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی بنایانہیں جائے گا اور نہ سلسلہ نبوت بند ہونے کے بعد از سر نو جاری ہوگا اور نہ کوئی آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرے گا۔ بلکہ ہر مدعی نبوت بعد آنحضرت کے حسب ارشاد گرامی دجال وکذاب ہوگا۔

یہ محض مختار مدعاعلیہ کا کھلا ہوا مغالطہ اور افتراء وبہتان تھا۔

دوسری تنقیح کا جواب کہ کیا مسلمان حضرت عیسیٰm کا آنا بحیثیت نبی مانتے ہیں۔

248

یہ بھی ایک مغالطہ ہے اور سفید جھوٹ وافترا ہے۔ ان میں صفت نبوت ہونا اور چیز ہے۔ جیسا کہ گواہ نمبر۴ مدعیہ نے کہا کہ جب نازل ہوں گے، نبی ہوں گے۔ یعنی متصف بہ صفت نبوت اور منصب نبوت پر ہونا اور بحیثیت نبی کے ہونا اور چیز ہے۔

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰm نبی ہیں۔ آپ کو آنحضرتﷺ سے قبل اس عالم میں خلعت نبوت سے نوازا گیا۔ یہ صفت آپ کی بحال، مگر اس امت میں زمانہ نبوت آنحضرتﷺ کی عالمگیری کی وجہ بحیثیت نبی نہیں آئیں گے۔ بلکہ بحیثیت مجدد وخلیفہ رسول اللہ ﷺ اور امتی کے ہوں گے، منصب نبوت پر نہ ہوںگے۔

اور مرزا صاحب یا کسی اور امتی کو آپ کے بعد نبی ماننے سے بعد خاتم النّبیین کے نبی کا بننا اور از سر نو سلسلہ نبوت بند ومنقطع ہونے کے بعد کھلنا پایا جاتاہے۔ یہ بالاتفاق کفر ہے۔ ثبوت ملاحظہ ہو۔

احادیث

۱… ’’قال النّبیa کانت بنوا اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون۔‘‘

(بخاری شریف ج۱ ص۴۹۱، مسلم شریف ج۲ ص۲۶)

حضورa نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے جب بھی ایک نبی مرتا تھا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوتا تھا اور میرے بعد یقینا کوئی کسی قسم کا نبی نہیںبن سکتا۔ ہاں! خلفاء ہوں گے اور بکثرت ہوں گے۔

کس صفائی سے سلسلہ نبوت کو ہمیشہ کے لئے ہر طرح کے لئے ختم کرکے سلسلہ خلافت کو جاری فرمایا ہے۔

۲… ’’ابن عساکر قال النّبیa الا ان ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولارسول الا انہ خلیفی فی امتی من بعدی‘‘

حضورa فرماتے ہیں کہ خبر دار اور واقف ہوجاؤ کہ ابن مریم اور میرے درمیان نہ کوئی نبی غیر مستقل وغیر تشریعی ہے، نہ رسول مستقل صاحب شریعت ہے۔ یقینا ابن مریم میری امت میں میرے بعد صرف خلیفہ ہوں گے۔ یعنی بحیثیت نبی نہ ہوں گے بلکہ بحیثیت امتی وخلیفہ ہوں گے۔

(فتاویٰ ابن حجر مکی)

۳… عیسیٰ نبی اللہ کے بعد بحیثیت امتی آنے کا فیصلہ گواہ مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ امام شعرانی وامام ابن عربی کی زبان فیض ترجمان سے ’’عن الشیخ الاکبر قال فاما خاتم الولایۃ علی الاطلاق فہو عیسیٰm فہو الولی بالنبوۃ المطلقۃ فی زمان ہذہ الامۃ وقد حیل بینہ وبین التشریع والرسالۃ فینزل آخر الزمان وارثا وخاتم لا ولی بعدہ نبوۃ مطلقۃ کما ان محمداًa خاتم النّبوۃ لانبوۃ تشریع بعدہ فیعلم ان عیسیٰ ولوکان بعدہ ومن اولی العزم وخواص الرسل وقد زال حکم من ہذا المقام بحکم الزمان علیہ الذی ہو بغیرہ فیرسل ولیا ذالنبوۃ مطلقۃ ویلہم بشرع محمدa ویفہم لا علی وجہہ کا لا ولیاء والمحدثین فہو منا فہو سیدنا فکان آخر الانبیاء کما کان آدم اوّل من نبیافختمت النبوۃ بمحمد والولایۃ بعیسیٰ‘‘

(یواقیت ج۲ بحث۴۷ ص۷۹،۸۰)

یعنی بہرحال مطلقاً ہر قسم کی ولایت کا اختتام کرنے والے صرف حضرت عیسیٰm ہیں۔ پس وہ دل ہیںاس صفت نبوت کے ساتھ جس کی ڈیوٹی اور منصب اس امت کے زمانہ میں ختم ہوگا۔ پس وہ آخر زمانہ میں وارث نبی اور خاتم ولایت ہوکر اتریں گے جن کے بعد کوئی کسی قسم کا ولی نہ ہوسکے گا اور اس صفت نبوت پر ہوں گے جس کا حکم ونفاذ ومذہب ختم ہوچکا ہوگا۔ پس معلوم ہوا کہ عیسیٰm اگرچہ آپ کے بعد نبی ہوں گے اور اولوالعزم وخواص رسل سے ہیں۔ مگر ان کی نبوت کا حکم اور منصب زائل ہوچکاہے بوجہ زمانہ نبوۃ غیر۔ یعنی آنحضرتﷺ لہٰذا وہ متصف بصفت نبوت مطلقہ جس کازمانہ وحکم ختم ہوچکاہوگا اور اولیاء امت محمدیہ کی طرح ان پر شرع محمدی کا الہام ہوگا

249

اور اس امت کے اولیاء میں امتی ہوں گے اور ہم سب کے سردار ہوں گے۔ پس نبوت آنحضرتﷺپر ختم ہوچکی اور ولایت حضرت عیسیٰm پر ختم ہوگئی۔ مفصل حوالہ سلسلہ وحی والہام جس میں یہ مضمون بھی واضح کیا گیا ہے۔ (فتوحات ج۳ ب۳۵۳ س۳ ص۲۳۸) سے اوپر پیش کرچکا ہوں۔ ان حوالہ جات میں نہایت صفائی سے تصریح موجود ہے کہ عیسیٰ بحیثیت نبی نہ اتریں گے بلکہ بحیثیت ولی وامتی مجدد ہوں گے۔ ان پر شریعت محمدیہ کے متعلق الہام ہوگا۔ نیز یہ بھی وضاحت موجود ہے کہ ان میں پہلے کی عطاء شدہ نبوت ہی ہوگی۔ مسلوب النّبوۃ نہ ہوں گے۔ البتہ چونکہ زمانہ نبوت نبی آخر الزمان کا ہے۔ اس لئے اس نبوت کا حکم زائل شدہ ہوگا اور وہ منصب نبوت پر نہ ہوگا۔ کیونکہ حکم اور حکومت نبوت نبی آخرالزمان ہوگی۔ کوئی بھی نبی نیا نہیں بن سکتا، پرانا باوجود صفت نبوت کے منصب نبوت پر نہیں رہ سکتا۔

اس سے گواہ نمبر۳ کے فقرہ جرح حضرت عیسیٰm نازل ہوں گے تو نبی ہوں گے، کی بھی شرح ہوگئی۔ نبی تو ہوں گے، صفت نبوت ان سے سلب نہ ہوگی، مگر خصوصیت زمانہ نبوی کی وجہ سے اس کا حکم زائل ہوگا۔ وہ منصب اور ڈیوٹی نبوت پر نہ ہوںگے۔ بلکہ امتی ہوں گے اور خلیفہ ومجدد۔ نیز ملا علی قاری کے ارشاد کی بھی شرح ہوگئی کہ جو صفت نبوت سے انہیں مسلوب مانتا ہے وہ کافر ہے۔ کیونکہ مسلمان تو انہیں متصف بصفت نبوت مانتے ہیں۔ ہاں! منصب نبوت پر بوجہ خصوصیت زمانہ نہیں مانتے اور خاتم النّبیین کے معنی اس پیش کردہ عبارت کے آخر میں تو خود مسلمانوں کے موافق کررہے ہیں کہ:’’ومعناہ عند العلماء انہ لا یحدث بعدہ نبی‘‘ کہ علماء کے نزدیک ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نیا نبی بنایا نہ جائے گا یا نہ بنے گا۔ ’’لا یحدث‘‘ کا لفظ ہے جس کے معنی نیا بنانا یا نیا ایجاد کرنا ہوتاہے، اس کی نفی فرمارہے ہیں۔ اسی کے (ص۴۲۶) پر ہے: ’’فہوعلیہ السلام ان کان خلیفۃ فی الامۃ محمدیہ فہو رسول ونبی علی حالہ‘‘ یعنی اس مت میں صرف خلیفہ ہوں گے، ورنہ پہلی صفت نبوت بحال ہے۔

چونکہ اس سلب نبوت کے مسئلہ کو درمیان میں متعدد جگہ چھیڑا ہے۔ لہٰذا اس کو میں ایک محسوس مثال سے واضح کرتاہوں تاکہ نبی ہونے اور منصب نبوت کے حکم پر نہ ہونے کا فرق اچھی طرح واضح ہوجائے۔ ہر شخص واقف ہے کہ اگر کسی خصوصی کام یا اعانت کے واسطے سرکار نظام فرمانروائے دکن خلد اللہ ملکہ ہمارے سرکار فرمانروائے ریاست بہاول پو ر حفظہ اللہ ملکہ کے حدود مملکت میں تشریف لائیں تو ظاہر ہے کہ کوئی معاملہ پڑنے پر وہ یہیں کے قوانین کے پابند ہوں اور یہاں جو کام یا سرکاری اعانت فرمائیں گے تو یہیں کے قانون کے ماتحت ہوگی۔ باوجودیکہ وہ بدستور والی ریاست دکن ہیں اور صفت سلطانیہ ان سے مسلوب نہیں ہوئی۔ مگر منصب سلطنت اور اس کی ڈیوٹی وحکمرانی بوجہ حدود سلطنت غیر بمعنی ہمارے سرکار عالی جاہ جاری نہ ہوسکے گا۔ کیونکہ ملک اور یہاں کا زمانہ سلطنت دوسرے کا ہے۔ یوں ہی حضرت عیسیٰ نبی ہیں۔ ان کی صفت نبوت سلب نہیں کی گئی۔ مگرملک اور زمانہ سید المرسلین آقائے دوعالم نبی آخر الزمان کا ہے۔ پس ان کا مذہب نبوت نہ ہوگا۔ بلکہ تابع اور امتی اور مجدد اور معین شریعت وقوانین محمدa ہوں گے نہ سلب نبوت کا اعتراض ہوسکتا ہے اور نہ آپ کے بعد نبی ہونے کا، نہ نیا نبی بنے گانہ کوئی اور اس سے۔‘‘

۳… ’’تیسری تنقیح بھی کہ کیا حضرت عیسیٰm مسلوب النبوت ہوکر آئیں گے۔‘‘

بالکل صاف ہوگیا اور مدلل بلکہ مسلم حوالوں سے اس کا قطعی جواب ہوگیا۔

۴… چوتھی تنقیح کہ: ’’کیا انہیں وحی بواسطہ جبرئیل ہوگی۔‘‘

اس پر سلسلہ انسداد وحی نبوت بہت کچھ بحث ہوچکی ہے اور مسلم فریقین حوالے پیش کئے جاچکے ہیں۔ صرف مسلمہ فریقین بزرگ امام شعرانی وامام ابن عربی کے دو مختصر فقرہ اس میں سے مکرر نقل کرتاہوں: ’’فلہ الکشف اذا انزل والہام کما لہٰذالامۃ‘‘

(فتوحات ج۳ ص۲۳۸)

250

یعنی گو مجازاً لفظ وحی بولا جائے۔ مگر اس پر صرف کشف والہام نزول کے بعد ہوگا۔ جیسا کہ اولیاء امت محمدیہ پر ہوتاہے۔ ’’ولو ان الوحی علی لسان جبرئیل کان باقیاً بعد محمدa لکان عیسیٰ اذا نزل لا یحکم بشریعۃ محمدa وانما یحکم بشرع الذی یوحی بہ الیہ جبرئیل‘‘

(یواقیت مبحث ۳۵ ص۱۸۸،۱۸۹، منقول ازفتوحات باب۲۴)

اوپر سے یہ لکھ رہے ہیں کہ وحی نبوت کلیۃ گو بند ہوچکی۔ صرف الہام باقی ہے اور عیسیٰm پر بھی الہام ہی ہوگا اور اگر وحی بواسطہ جبرئیل بعد محمدa بالفرض باقی ہوتی تو عیسیٰm بعد نزول شریعت محمدیہ پر عمل نہ کرتے۔ بلکہ جبرئیلm کی لائی ہوئی وحی پر عمل پیرا ہوتے۔ پھر نہایت مفصل مدلل الہام عیسیٰm پر اور آنحضرتﷺ کے بعد انقطاع نزول وحی وجبرئیل پر بحث کی ہے۔

بحمد اللہ ! چاروں تنقیحین مدلل ثابت ہوگئیں اور مختار مدعاعلیہ کا مسلمانوں پر بہتان اور مغالطہ آشکارا ہوگیا۔

غالباً اسے اپنے ہاں کا پتہ نہیں کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے مرزا صاحب بھی حضرت عیسیٰm کے متعلق جو نبی اللہ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے متعلق مسلمانوں کی طرح عقیدہ رکھتے ہیں کہ مجازاً ہی حقیقی نہیں ملاحظہ ہو: ’’ایسے ہی وہ نبی کر کے پکارنا جو حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے آیا ہے وہ بھی اپنے حقیقی معنوں پر اطلاق نہیں پاتا۔ وہ علم ہے جو خدا نے مجھے دیاہے جس نے سمجھا ہو سمجھ لے۔‘‘ (سراج منیر ص۴، خزائن ج۱۲ ص۶)

ملاحظہ فرمائیں وہ بھی نزول کے وقت انہیں مجازی نبی باعتبار ماکان مانتے ہیں۔

خاتم النّبیین سے کیا مراد ہے؟

آنحضرتﷺ لفظ خاتم النّبیین کے معنی کیا سمجھے؟

اس سلسلہ میں ان کے پاس ایک حوالہ بھی نہیں کہ آنحضرتﷺ نے لفظ خاتم النّبیین کی تفسیر کسی ایسے مشتبہ لفظ میں کی ہو،جہاں مغالطہ کی گنجائش ہو۔ الگ سے ایک غیر متعلق با ربط حدیث جو خاتم النّبیین کی تفسیر کے سلسلہ میں آپ نے نہیں فرمایا اور نہ وہاں لفظ خاتم النّبیین ہے اور حدیث بھی سنداً متناً معناً قابل استناد نہیں، پیش کی ہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں حدیث لوعاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً کی بناء پر یہ ثابت کیا ہے کہ آنحضرتﷺ بھی خاتم النّبیین سے ہرقسم کی نبوت کا خاتمہ نہ سمجھے۔

الجواب: اس کی صحت وسقم ومطلب کی بحث آگے آرہی ہے۔ میں عدالت کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں کہ کس قدر مغالطہ اور حق پوشی ہے کہ جہاں حضرتa نے دراصل لفظ خاتم النّبیین کی تفسیر کی ہے اور اس کی مراد بتائی ہے۔ اسے پوشیدہ رکھ کر جہاں اس کی تفسیر سے دور کا تعلق بھی نہیں اسے پیش کیا جاتاہے۔

آنحضرتﷺ لفظ خاتم النّبیین سے کیا سمجھے اور مخصوص اسی لفظ کی کیا تفسیر فرمائی۔ یہ گواہان مدعاعلیہ کے بیان میں مفصل ہے۔ خلاصہ یہ ہے۔ آنحضرتﷺ کی تفسیر لفظ خاتم النّبیین۔

۱… ’’ابی ہریرۃq قال النّبیa انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ یعنی میں خاتم النّبیین ہوں میرے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔

(بخاری ومسلم)

۲… ’’لا تقوم الساعۃ حتی تبعث دجالون کذابون کلہم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘

(ابوداؤد وترمذی گواہ مدعیہ نمبر۲)

یعنی قیامت نہ آئے گی جب تک بہت سے دجال وکذاب نہ آئیں جن سب کا یہ دعویٰ وزعم ہوگا کہ وہ نبی ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ میرے بعد کسی قسم کا کوئی بھی نبی نہیں ہوسکتا۔

251

۳… (بخاری ج اوّل ص۵۰۱ اور مسلم ج۲ ص۲۴۸) پر ایک محل کی محسوس مثال سے اس کی حقیقت کو سمجھایا اور اپنے آپ کو خاتم النّبیین بمعنی اس نامکمل محل کی آخری اینٹ قرار دیا کہ: ’’فانا اللبنۃ وانا خاتم النّبیین‘‘

ملاحظہ فرمائیں کہ خاتم النّبیین کے لفظ سے آنحضرتﷺ ’’لا نبی بعدی‘‘ بلا کسی قسم کی تخصیص کے سمجھ رہے ہیں کہ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہ ہوگا۔ اب اگر کوئی تخصیص کرے تو یقینا وہ بقول مرزا صاحب بے دین وشریر ہوگا۔ ملاحظہ ہو

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)

مرزاصاحب کی اس پر مہر تصدیق

مرزا صاحب بھی ۱۹۰۱ء سے قبل جب کہ دعویٰ نبوت نہ تھا۔ یہی ’’لانبی بعدی‘‘ آنحضرتﷺ کی تفسیر اور اسی عمومی نفی کے معنی میں قرار دیتے تھے اور کسی قسم کی تخصیص کرنا شرارت بتاتے تھے۔ ملاحظہ ہو: ’’لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت ہے اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کرکے نصوص صریحہ وقرآن کو عمداً چھوڑ دیا جاوے اور خاتم النّبیین کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جاوے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہوچکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کردیا جاوے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)

اب کسی امتی کو حق نہیں کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں اس کے نبی تو نفی عام کہتے ہیں اور وہ کسی قسم کی تخصیص کرے۔ ’’یا لافتیٰ الّا علی لا سیف الا ذوالفقار یا اذا ہلک کسری فلاکسری بعدہ‘‘ وغیرہ! کی آڑ لے۔ ورنہ اپنے نبی کے فتویٰ کی روسے شریر گستاخ خیالات رکیکہ کی پیروی کرنے والا عمداً نصوص صریحہ قرآنیہ کو چھوڑنے والا ٹھہرے گا۔

۲… اب آنحضرتﷺ کے اس واضح فیصلہ اور کھلی ہوئی خاتم النّبیین کی تفسیر کے بعد اس سے روگردانی کرنا کسی مؤمن مسلمان کاکام نہیں بلکہ کافر اور گمراہ ہوگا جو اس فیصلہ سے رو گردانی کرے۔

’’قال اللہ تعالیٰ ماکان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ن یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالاً مبیناً (الاحزاب:۳۶)‘‘

حدیث:’’لوعاش ابراہیم لکا ن صدیقاً نبیاً‘‘

اگرچہ اس حدیث کا تفسیر لفظ خاتم النّبیین سے کوئی دور کا تعلق بھی نہیں۔ جیسے کہ اوپر عرض کرچکا۔ مگر مختار مدعاعلیہ کے پاس صرف یہی ایک مجروح اور ضعیف حدیث کے نام پر ہے جس کی وجہ سے نہ صرف صحیح بلکہ اصح الصحاح بخاری ومسلم نیز دیگر صحاح ستہ وغیرہ کی کثیرالتعداد صحیح اور واضح احادیث رد کی جاتی ہیں اور مرزا صاحب کی بے جاحمایت میں آنحضرتﷺ کے ارشادات صحیحہ واضحہ کی توہین اور غلط تاویلات کرکے تحریف کی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کے متعلق کچھ تفصیل سے گزارش کرتاہوں اور ان کے استدلال اور اپنے جواب کا خلاصہ عدالت کے اوّلاً ذہن نشین کراتاہوں تاکہ جوابی بحث کی تاویلات رکیکہ سمجھنے میں سہولت ہو اور واضح ہوجائے کہ جواب تو بن نہ آیا پہلو بچا کر مغالطہ دینے کی ناکام ولاحاصل سعی کی جو مدعی علم کی شایان شان نہ تھی۔

مختار مدعاعلیہ کے استدلال کا خلاصہ

’’لوعاش ابراہیم لکا صدیقانبیا‘‘

(ابن ماجہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱و۲)

252

۱… اگر نبوت ختم ہوچکی تھی تو اس میں فضیلت ہی کیا تھی، بلکہ لغو تھا۔ پھر بی۔اے، ایف۔اے، ایم۔اے کی مثالیں دیں۔ ملاحظہ ہو گواہ نمبر۱،۲ مدعاعلیہ۔

۲… نبی کی اولاد کا نبی ہونا ضروری نہیں، لہٰذا اسے نبوت کا اجراء بتانا تھا۔

۳… خدا کو ایسا ڈر تھا تو پیدا ہی نہ کرتا۔

حدیث کی تصحیح

۱… شہاب علی البیضاوی نے صحیح کہا۔

۲… ملّاعلی قاری نے موضوعات میں کہا۔

الجواب: ہمارے مفصل جواب کا خلاصہ یہ ہے۔ یہ حدیث باعتبار سند اور اصول حدیث کے ضعیف غیر قابل احتجاج، باعتبار متن اور الفاظ کے امکان کے واسطے نص قطعی نہیں، باعتبار صحیح معنی کے مرزا صاحب کے مریدین کے خلاف اور مسلمانوں کے موافق ہے۔

۱… سند حدیث: یہ حدیث دو طرح نقل کی جاتی ہے۔ ’’لو عاش ابراہم لکان صدیقاً نبیا‘‘ یہ تو بالکل حدیث ہی نہیں۔ علامہ شوکانی نے (فوائد مجموعہ فی بیان احادیث الموضوعہ ص۱۴۴) پر لکھا ہے کہ: ’’قال النووی ما روی عن بعض المتقدمین لو عاش ابراہیم فباطل وجسارۃ علی الغیب وقال ابن عبدالبر لا ادری ما ہذا ولد نوح غیر نبی‘‘

نووی فرماتے ہیں کہ بعض متقدمین سے جو لو عاش ابراہیم مروی ہے۔ یہ باطل ہے اور غیب پر جسارت ہے۔ ابن عبدالبر فرماتے ہیں: میں نہیں سمجھتا یہ کیا ہے، کیونکہ نوحm کا بیٹا نبی نہیں تھا۔ بہرحال ان الفاظ میں حدیث ہی نہیں۔ باقی روایت ابن ماجہ ’’لو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً‘‘

اس میں ایک راوی ابراہیم ابن عثمان ہے جس کے متعلق ائمہ جرح وتعدیل کا فیصلہ فن جرح وتعدیل کی مسلم کتاب میں حسب ذیل ہے۔

۱… میزان الاعتدال علامہ حافظ شمس الدین ذہبی یہ جرح کی کتاب ہے جسے ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں گواہ نمبر۱ تسلیم کرچکاہے کہ یہ فن جرح کی کتاب ہے۔ یہ راوی ثقہ (یعنی قابل اعتبار) نہیں۔ امام احمدبن حنبل نے فرمایا ضعیف ہے۔ امام بخاری نے اس سے سکوت اختیار کیا۔ امام مسلم فرماتے ہیں متروک الحدیث ہے جس کی حدیثیں ترک کردی گئیں۔ (تقریب التہذیب ص۱۴) میں بھی یحییٰ ابن معین فرماتے ہیں۔ متروک الحدیث۔ (۲) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۲۶۷) اس کے متعلق سخت جرح منقول ہے۔

۳… تہذیب التہذیب میں ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ راوی منکر حدیث ہے (جس کی بات ثقہ کے مقابل بالکل غیر معتبر ہے) امام نسائی فرماتے ہیں متروک الحدیث۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں کہ ضعیف الحدیث۔ ائمہ حدیث نے اس سے اعراض کیا ہے اور اس کی حدیثیں ترک کردی ہیں۔

۴… وہیں ابن ماجہ کے بین السطور میں لکھا ہے کہ: ’’یہ راوی ناقابل اعتبارہے۔‘‘

اب اما م بخاری، امام مسلم، امام جرح وتعدیل یحییٰ ابن معین، امام احمد ابن حنبل۔ امام بخاری امیر المومنین فی الحدیث فرماتے ہیں: امام ترمذی، امام ابوحاتم جیسے جلیل القدر ائمہ کے قطعی فیصلہ کے بعد ما وشما اور شہاب علی البیضاوی۔ جیسے لاکھ بلکہ کروڑ آدمی اس حدیث کو صحیح ثابت کرنا چاہیں، صحیح نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ مرزا صاحب کی (برکات الدعا حاشیہ ص۱۲، خزائن ج۶ ص۱۵) سے پیش کر چکا ہوں کہ: ’’ہر ایک فن میں اس کے ماہر کی شہادت معتبر ہوتی ہے۔‘‘ ملاحظہ ہو جرح ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء

253

اور امام یحییٰ ابن معین کا امام فن جرح وتعدیل اور بڑا محدث ہونا، میزان الاعتدال کا فن جرح وتعدیل کی کتاب ہونا گواہ نمبر۱ کو مسلم ہے۔ ملاحظہ ہو جرح ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء اور شہاب کے متعلق جب گواہ سے ۸؍ماچ ۱۹۳۳ء کو پوچھا گیا کہ وہ امام جرح وتعدیل یا محدث ہیں تو جواب دیا کہ مفسر ہیں، امام حدیث نہیں۔ لہٰذا ان کی رائے تفسیر میں قابل لحاظ ہوتو ہو، حدیث کے متعلق محض بیکار قابل رد ہے۔ خصوصاً ائمہ حدیث اور امام جرح وتعدیل کے فیصلہ کے مقابل۔ لہٰذا یہ حدیث نہ صرف مجروح بلکہ شدید ترین جروح سے پر ہے اور مجروح حدیث عقائد میں کجا، اعمال میں بھی حجت نہیں بلکہ غیر معتبر ہوتی ہے۔ مختار مدعاعلیہ کے اطمینان خاطر کے واسطے ان کے نبی کا فیصلہ پیش ہے کہ: ’’حدیث بشرطیکہ جرح سے خالی ہو معتبر ہوگی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰)

اور یہ حدیث جرح سے خالی نہیں۔ لہٰذا بالاتفاق غیر معتبر ہوگی۔

اس کے متعلق مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ

مختار مدعاعلیہ سے اس علمی بحث کا جواب ناممکن تھا۔ نہایت اضطراب کا اس کی تاویلات میں ثبوت دیا ہے۔

خلاصہ تاویلات

۱… میزان میں لکھا ہے کہ وہ قاضی تھے اور منصف قاضی بھی ہوں گے اور ایسا شخص قاضی کیسے ہوسکتاہے۔

۲… شعبہ نے ایک مخصوص روایت کی وجہ سے انہیں جھوٹا قرار دیا۔

۴… شعبہ کی تکذیب کا مصنف میزان الاعتدال نے خود رد کیا ہے۔

۵… ابن معین نے اس کا عادل ہونا یزید بن ہارون سے نقل کیاہے۔

۶… وہ قاضی تھے اور فیصلہ کرتے وقت کسی کی رعایت نہ کرتے ہوں گے اس لئے مخالفوں نے انہیں بدنام کیا۔

۷… اس حدیث کی تصحیح بڑے بڑے علماء نے کی ہے۔ جیسے شہاب علی البیضاوی۔

۸… مختار مدعیہ اصل میں شہاب سے ناواقف ہے۔ ان کا یہ نام ہے یہ تصانیف ہیں۔

۹… ملاعلی قاری نے (موضوعات کبیرص۵۹) پر لکھا ہے یہ حدیث موضوع نہیں، بلکہ صحیح ہے۔

۱۰… مرقات میں ملا علی قاری نے اس پر بحث کی ہے اور ابن حجر کا قول نووی کی تردید میں نقل کیا ہے۔

۱۱… ابن ابی اوفی کاقول اس کی صحت کی دلیل ہے۔

۱۲… ان ائمہ کو یقین نہیں جب ہی تو مختلف الفاظ کہے۔

الجواب: اجمالی جواب: عدالت خود مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ ملاحظہ فرمالے۔ کیا ان ائمہ محدثین اور امام جرح وتعدیل کے واضح فیصلوں کے بعد یہ تاویلات اور اٹکلیں جو مختار مدعاعلیہ نے پیش کی ہیں وہ ذرہ برابر بھی قابل التفات ہیں جن میں ایک ثبوت بھی اس کے معتبر ہونے کا کسی مسلم امام جرح وتعدیل سے نہ پیش کرسکا۔ گو لہجہ حسب عادت بہت ہی سخت اور درشت کیا۔

مفصل ومرتب جواب

۱… قاضی ہے اور عادل ہوں گے اور ایسا شخص کیسے عادل ہوسکتاہے۔

یہ عجیب وغریب مضحکہ خیز جواب ہے۔ قاضی ہونے سے توثیق کیا ہوگی۔ وہی علامہ ذہبی جنہوںنے قاضی ہونا لکھا ہے (اور عادل ہونا بھی مختار مدعاعلیہ کی طبع زاد تصنیف ہے) انہیں علامہ نے خود اور تمام بڑے بڑے اکابر ائمہ حدیث وجرح وتعدیل سے غیر ثقہ، متروک

254

الحدیث، ضعیف اور منکرالحدیث وغیرہ نقل کیاہے اور یہی قطعی فیصلہ قرار دیا ہے۔ کیا انہیں قاضی ہونامعلوم نہ تھا۔ پھر قاضی کیا قاضی بنانے والے حاکم اور سلطان تک غیر ثقہ ہوتے ہیں۔ کوئی ان میں سے کسی امام سے توثیق نقل کرتے تو تھا بھی یہ تو اور اپنے عجز اور پریشانی واضطراب کی دلیل ہے۔

۲… شعبہ نے ایک مخصوص روایت کی وجہ سے انہیں جھوٹا قرار دیا۔

الجواب: شعبہ سے ہم نے نقل نہیں کیا،نہ جھوٹا ہونا یہ ائمہ حدیث نقل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہا جاسکے کہ یہ شعبہ کی تقلید میں کہتے ہیں نہ شعبہ کے مقلد وپیرو ہیں۔ یہ ائمہ مستقل اپنی تحقیقات سے اسے ضعیف، منکر الحدیث، متروک وغیرہ لکھ رہے ہیں، نہ کسی مخصوص روایت کی وجہ سے بلکہ مطلقاً اور نقل کرنے والے امام یحییٰ ابن معین، امام احمدابن حنبل، امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی۔ وغیرہ! جیسے تعجب ہے کہ مختار مدعاعلیہ ان ائمہ کی تحقیق کی اصلاح کررہاہے۔

اورشاید انہیں بھی علم حدیث سے ناواقف بے بہرہ خیال کررہاہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ علم حدیث کی وہ مایہ ناز ہستیاں ہیں کہ جن کے متفقہ فیصلہ کے بعد تمام دنیا کے علماء مل کر اسے صحیح قابل اسناد ثابت نہ کرسکیں گے۔

۴… ابن معین نے اس کا عادل ہونا یزید بن ہارون سے نقل کیا ہے۔

الجواب: مگر نقل کرکے اسی کی تردید میں ان ائمہ اور اعیان علم حدیث کے فیصلے پیش کئے ہیں۔

مختار مدعاعلیہ کسی ناواقف کو مغالطہ دیتا تو تھا بھی اور کسی اجنبی نادر کتاب کا ہوتا تو شاید کامیاب ہوجاتا۔

اللہ اللہ یزید بن ہارون کا مقابلہ یحییٰ ابن معین، امام بخاری، امام مسلم اورامام احمدبن حنبل، امیر المومنین فی الحدیث وغیرہ سے بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست۔

۵… وہ قاضی ہیں اور فیصلہ کرتے وقت کسی کی رعایت نہ کرتے ہوں گے۔ اس لئے مخالفوں نے انہیں بدنام کیا۔

الجواب: اس قدر برا احتمال اور لغو تاویل ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ اوّل تو یہ مختار مدعاعلیہ کو خود ساختہ اٹکل ہے جو قابل اعتبار نہیں۔ دوسرے اس کے معنی نعوذب اللہ ! یہ ہوئے کہ امام بخاری اور امام مسلم اور امام یحییٰ بن معین،ا مام احمدبن حنبل امیر المومنین فی الحدیث، امام ترمذی، امام نسائی جیسے بزرگ بھی قابل اعتبار نہیں کہ انہوں نے محض ذاتی کاوش کی وجہ سے کہ وہ قاضی صاحب حق فیصلہ کرتے تھے۔ دشمنی سے انہیں بدنام کیا۔ اس میں صراحۃً ان کی دیانت اور امانت پر جو حملہ ہے وہ عدالت پر پوشیدہ نہیں۔ انہیں پتہ نہیں کہ وہ قاضی عادل ہی نہ تھے۔ اس وجہ سے محدثین نے انہیں غیر ثقہ کہا۔ غیر ثقہ کبھی عادل ہو ہی نہیں سکتا۔ نہ حق بجانب فیصلہ کرسکتاہے۔ یہ نمبر ۵جواب ایسا اچھوتا ہے کہ تیرہ سوسال بھی کسی مصنف مؤرخ کوتو کیا چکڑالویوں کو نہ سوجھا۔

۶… ابن عدی انہیں معتبر کہتے ہیں۔

(قابل مراجعت میزان الاعتدال ج۱ ص۳۰)

اسی جگہ میزان الاعتدال میں اس کی تردید میں تمام مسلم ائمہ حدیث اور ائمہ جرح وتعدیل امیر المومنین فی الحدیث جیسوں کا فیصلہ موجود ہے۔ اس قسم کے مغالطے یہاں کار آمد نہیں ہوسکتے۔ کہاں ابن عدی اور کہاں امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی امیر المومنین فی الحدیث امام احمدبن حنبل کے متعلق محدثین فرماتے ہیں کہ جیسے وہ کہہ دیں کہ یہ حدیث نہیں، وہ حدیث ہو ہی نہیں سکتی۔ ہم نے تو متفقہ فیصلہ پیش کیا ہے صرف کسی شخص کا قول نہیں۔

۷… اس حدیث کی تصحیح بڑے بڑے علماء نے کی ہے جیسے شہاب علی البیضاوی۔

255

الجواب: ماشاء اللہ شہاب علی البیضاوی بڑے محدث ہیں جن کے متعلق جب گواہ مدعاعلیہ سے ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں پوچھا گیا کہ شہاب کوئی امام جرح وتعدیل یا کوئی بڑے محدث ہیں تو جواب دیا کہ: ’’مفسر ہیں، امام نہیں۔‘‘

نہیں معلوم وہی گواہ نمبر۱ مختار ہونے کی حیثیت میں اپنا وہ اقرار کیوں بھول گیا۔ جب وہ مفسر ہیں، امام حدیث نہیں تو ان کا فیصلہ ائمہ حدیث اور ائمہ جرح وتعدیل امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، امام احمد بن حنبل جیسے بزرگوں کے مقابلہ میں کیا وقعت رکھتاہے۔ ایک شہاب کیا کروڑوں شہاب اور تمام مفسرین مل کر حدیث کے متعلق ایک فیصلہ دیں اور یہ ائمہ حدیث جو اس فن کے مسلم امام ہیں۔ اس کے خلاف کریں تو انہی کا فیصلہ ناطق ہوگا۔ غالباً مختار مدعاعلیہ یہ بھی بھول گیا ہے کہ خود ان کے نبی کا یہ فیصلہ ہے کہ ہر ایک فن میں اس شخص کی شہادت معتبر سمجھی جاتی ہے جو اس فن کا ماہر ہو۔

(برکات الدعا حاشیہ ص۱۲، خزائن ج۶ ص۱۵)

۸… اور غالباً مختار مدعاعلیہ اپنا بیان بھی فراموش کرچکاہے جس میں مفسرین کے متعلق ایک مستقل ہیڈنگ ہے کہ جس کے چند فقرات درج ذیل ہیں: ’’یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ مفسرین کے اقوال کو بلا سوچے سمجھے من وعن تسلیم کر لیا جائے اورجو کچھ وہ اپنے خیال وعقیدہ کے ماتحت لکھ گئے ہیں، اسے حرف بحرف مان لیا جائے۔‘‘

’’متقدمین کی تفسیریں عمدہ اور ردی دونوں باتوں سے پرہیں۔‘‘

’’پس مفسرین کے اقوال پر عقائد کی بنیاد رکھنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!‘‘

مگر چونکہ تنخواہ دارمرزا صاحب کے ملازم ہیں جب کہ ان کی طرف داری مفسرین کے غیر معتبر بنانے میں ہوئی۔ غیر معتبر کہہ دیا، معتبر کہتے طرف داری نکلتی تھی۔ اب یہ کہنے لگے نہ یہ صحیح نہ وہ۔

تعجب ہے کہ وہ مفسرہیں۔ ان کا مفسر ہونا مختار مدعاعلیہ اور گواہ کو بھی مسلم مگر تفسیر میں وہ ناقابل اعتبار اور باوجودیکہ امام حدیث نہیں۔ پھر بھی حدیث کے متعلق ان کی رائے تمام چوٹی کے ائمہ حدیث کے فیصلہ کے خلاف معتبر۔

۸… مختار مدعیہ اصل میں شہاب سے ناواقف ہے، اس کا یہ نام ہے یہ تصنیفیں ہیں۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ نے واقفیت کا کیا ثبوت دیا۔ ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں انہیں صرف مفسر ماناہے۔ امام حدیث نہ ہونے کی تصریح کردی ہے۔ اس کے بعد نام وپتہ سے کیا کام چلتاہے۔ جب کہ اسے بحیثیت گواہ اس فن میں ماہر ہونا مسلم ہے۔ پس ان کی رائے اس فن میں کیونکر معتبر ہوگی۔ خصوصاً ائمہ دین کے خلاف۔

۹… ملا علی قاری نے (موضوعات کبیرص ۵۹) پر لکھا کہ: ’’یہ حدیث موضوع نہیں بلکہ صحیح ہے۔‘‘

الجواب:

۱… مختار مدعاعلیہ نے اپنی جرح اور شہادت کو بالکل فراموش کردیاہے اور آج اس کے خلاف بحث کررہاہے۔ انہیں ملا علی کی نسبت ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء کو جرح میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا ملا علی قاری حافظ حدیث یا امام جرح وتعدیل ہیں۔ یہ تسلیم کرچکاہے کہ: ’’ملا علی قاری حافظ حدیث اصطلاحاً نہیں اور اصطلاحاً امام جرح وتعدیل کے بھی نہیں۔‘‘

پس حافظ حدیث اور ائمہ جرح وتعدیل کے مقابلے میں ان کی رائے کوئی بھی وقعت نہیں رکھتی۔

۲… ملاعلی قاری نے کہیں بھی موضوعات میں یہ نہیں کہاکہ یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ محض مختار مدعاعلیہ کا ان پر افتراء اور بہتان ہے۔ ان کی اصلی عبارت اس حدیث کے متعلق اسی صفحہ سے بعینہٖ وہی نقل کرتاہوں: ’’وقد اخرج ابن ماجہ وغیرہ من حدیث ابن عباس قال لما مات ابراہیم ابن النبیﷺ قال انہ لہ مرضعاً فی الجنۃ ولو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً ولوعاش لا عتقت

256

اخوالہ من القبط وما استرق قبطی الا ان فی سندہ ابا شیبہ ابرہیم بن عثمان الواسطی وہو ضعیف ولکن لہ طرق ثلاثۃ یقوی بعضہا ببعض‘‘

(ابن ماجہ )

یعنی ابن ماجہ اور اس کے علاوہ دوسروں نے ابن عباسq سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ لیکن اس کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان واسطا ہے جو ضعیف ہے۔ ہاں! اس کے تین طریقے ہیں جو بعض بعض سے مل کر فی الجملہ قوی ہوجائیں گے۔

ملاحظہ فرمائیں کہ نہ صرف ابن ماجہ بلکہ اس کے سوائے دوسری سندیں بحالہ ہیں اور اس لئے اخرج ابن ماجہ کے ساتھ وغیرہ کا لفظ اضافہ کیا کہ ابن ماجہ اور اس کے سوائے دوسروں نے جو حدیث نقل کی ہے۔ سب کی سند میں ابو شیبہ ابرہیم راوی ہے جو ضعیف ہے۔ صحیح یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ نہیں۔ آخر میں یہ فرمادیا کہ اس کے صرف تین طریقے ہیں جو سب مل کر فی الجملہ کچھ ہوں گے۔ یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ محض باطل اور موضوع خود ساختہ نہیں، باقی صحیح ہونا تو نہ نکلا۔ جب کہ ہر سند میں وہ ضعیف راوی موجود ہے اور اس کے ضعف کا ملّا علی قاری نے کوئی بھی جواب نہیں دیا اور نہ ہی اسے دفع کیا۔ ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء کو گواہ نمبر۱ نے بجواب جرح تسلیم کرلیاہے کہ اس کتاب میں راوی کے ضعف دفع کرنے کے متعلق کوئی بحث نہیں کی ہے۔ پھر وہ تینوں اخرج ابن ماجہ وغیرہ اور سب میں وہ ضعیف راوی موجود ہے۔ اس راوی کے علاوہ کوئی بھی اس کا طریقہ نہ موضوعات کبیر میں ہے نہ کہیں اور پتہ ہے۔ جیسا کہ گواہ نمبر۱نے ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء میں بجواب جرح خود تسلیم کیاہے۔

پس یہ مختار مدعاعلیہ کا اپنی شہادت اور جرح کے خلاف ملاّعلی قاری پر صریح بہتان اور افتراء ہے اور کہیں بھی انہوںنے غیرضعیف یا صحیح نہیں فرمایا۔

۱۰… مرقاۃ میں ملّا علی قاری نے اس پر بحث کی ہے اور ابن حجر کا قول نووی کی تردید میں نقل کیا ہے۔

وہاںمرقاۃ میں جس حدیث کی بحث ہے اور جسے امام نووی باطل قرار دے رہے ہیں۔ وہ یہ حدیث نہیں: ’’ولو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً‘‘ بلکہ وہ ان الفاظ کی حدیث ہے کہ: ’’لوکان ابراہیم حیا لکان نبیاً‘‘ صرف ان الفاظ کی حدیث پر بحث ہے۔ مکرر مرقاۃ کا مطالعہ فرمائیں۔ نیز انہیں الفاظ: ’’لو عاش ابراہیم لکان نبیاً‘‘ کے متعلق امام نووی سے (مرقاۃ موضوعات کبیر ص۵۸، فوائد مجموعہ ص۱۴۴) پر ہی منقول ہے کہ حدیث:’’لوعاش ابراہیم لکان نبیاً قال النووی فی تہذیبہ ہٰذا حدیث باطل وجسارت علی الکلام بالمغیبات مجاذفۃ وہجوم علی عظیم وقال ابن عبدالبر لا ادری ما ہٰذا‘‘ اس کے بعد ہے۔ قال ابن حجر ابن حجر مکی اس حدیث کے متعلق نووی کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ مگر ملّاعلی قاری ابن حجر مکی کی تردید اور نووی کی تائید کررہے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

مختار مدعاعلیہ اور اس کے گواہوں کی مسلم کتاب (موضوعات کبیر مجتبائی ص۵۸)

’’واما قول ابن حجر المکی فیعید جدا ان لایفہم الا مامان الجلیلان مثل ہذہ المقدمۃ… الخ!‘‘ کہ ابن حجر کی یہ تردید بہت ہی بعید از عقل ہے کہ اتنے بڑے بڑے امام، امام نووی اور امام ابن عبدالبر جیسے محدثین یہ معاملہ نہ سمجھیں۔ بہرحال ابن حجر کے قول کو موضوعات میں رد کیا ہے۔ نیز ثابت ماننے کے بعد ہی اس حدیث کے متعلق نہیں بلکہ وہ حدیث ہے کہ جس کو میں نے شروع بحث میں لکھا ہے۔ اس متنازعہ فیہ حدیث کے وہی تین طرق سب نے حتیٰ کہ ابن حجر نے نقل کئے ہیں اور سب میں وہی ضعیف راوی ہے اور حدیث کی تصحیح کسی امام نے نہیں کی۔ بہرحال یہ مغالطہ بھی بے سود رہا۔

۱۱… ابن ابی اوفی کا قول اس کی صحت کی دلیل ہے۔

257

الجواب: اسی جواب بحث میں اسی شبہ کے بعد تیسرے شبہ کا بیان ایک ہیڈنگ قائم کرکے خود مختار مدعاعلیہ نے لکھاہے کہ یہ فہم صحابی ہے اور علم حدیث سے واقف شخص پر مخفی نہیں کہ فہم صحابی حجت نہیںہے اور نہ ہی اس کا قول حجت ہوسکتاہے جب کہ اس کے مخالف صحابی کا قول موجود ہے۔ کیونکہ صحابی فہم قرآن اورحدیث میں غلطی کرسکتاہے۔

پس اس کے بعد مختار مدعاعلیہ کو ابن ابی اوفی کے قول کوصحت حدیث کی تائید بتانے کا کون ساحق رہتاہے۔ یہ محض بے سود ہے۔ دوسرے وہاں اس حدیث یا اس کے الفاظ تک کا پتہ نہیں۔ وہاں تو وہ ایک اپنی رائے اور اپنا فیصلہ فرمارہے ہیں۔ ملاحظہ ہو

(بخاری شریف ج۲ ص۹۱۴ ہاشمی)

’’حدثنا اسماعیل قال قلت لابن ابی اوفی ارئیت ابراہیم ابن النبیﷺ قال مات صغیراً ولوقضی ان یکون بعد محمدa نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ‘‘یعنی اسماعیل تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی صحابی سے پوچھا کہ آپ نے ابراہیم صاحبزادہ نبی کریمa کو دیکھا۔ فرمایا: ہاں! صغر سنی میں وہ فوت ہو گئے تھے اور اگر اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں بعد محمدa کسی بھی نبی کا ہوسکنا ہوتا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے، مگر فیصلہ یہ ہے کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ آپ کے بعد کوئی بھی کسی قسم نبی نہیں ہوسکتا۔

عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ یہاں اس حدیث: ’’لو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً‘‘ کا نام ونشان تک بھی نہیں۔ بلکہ تمام اس حدیث میں آنحضرتﷺ کو کچھ بھی فرمان منقول نہیں۔ یہ بھی مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ اور صریح بہتان ہے۔

۱۲… ان ائمہ کو بھی یقین نہیں جب ہی تو مختلف الفاظ لکھے۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ جو چاہے دیدہ ودانستہ الزام لگائے۔ یہ تاویل ہی مضحکہ خیز ہے ایک امام سے بھی متضاد امور منقول نہیں، نہ آپس میں کوئی تعارض ہے۔ مختلف عیوب ہیں۔ مختلف ائمہ نقل کرتے ہیں۔ جیسے کسی کے متعلق ایک کہے کہ جھوٹا ہے۔ دوسرا کہے دغا باز ہے۔ تیسرا کہے سود خور ہے۔ چوتھا کہے بے نمازی ہے۔ ان میں کوئی تعارض نہیں بلکہ وہ شخص اور بھی بے اعتبار ہوجائے گا۔

یوں ہی اس راوی کے متعلق ایک امام کی رائے ہے کہ وہ ثقہ نہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں: ضعیف ہے۔ امام مسلم متروک الحدیث، امام ترمذی منکر الحدیث کہتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!

پس اتنے محقق عیوب اور ضعف کے بعد وہ معتبر کیونکر ہوسکتاہے۔

بحمد اللہ ! ان تمام تاویلات رکیکہ کا جواب ہوگیا اور روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ حدیث نہایت مجروح ہے جو کسی طرح معتبر اور قابل استناد اور حجت نہیں۔ چہ جائے کہ صحیح احادیث کا مقابلہ اس سے کیا جاوے۔

یہ مختار مدعاعلیہ کے دوسرے شبہ کا جواب ہے جو سند کے متعلق تھا۔

حدیث مذکورہ بالا باعتبار متن اور الفاظ حدیث کے بھی اپنے مدعاکے اثبات میں نص قطعی نہیں۔ پس ایسی دور از کار تاویلات رکیکہ سے ایک محتمل وہ بھی غیر معقول اور خلاف منقول معنی لے کر قطعیات کے ذخیرہ اور نصوص کو کس طرح رد کیا جاسکتاہے اور صریح قطعی آیات واحادیث صحیحہ واضحہ اور اجماع خلف وسلف کے خلاف ایک جدید کفر کی اس ضعیف آڑ سے بنیاد ڈالنا کہاں کی دیانت ہے۔ اس حدیث سے مختار مدعا علیہ نے آنحضرتﷺ کے بعد قطعی طور پر امکان نبوت ثابت کرنا ہے۔ مگر اس کے متن میں لفظ (لو) موجود ہے اور اس کے قرآن پاک سے متعدد حوالہ پیش کرکے گواہ نمبر ۱ سے ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء میں سوال کیاگیاہے۔ وہ جواب دیتاہے کہ لو جس جگہ داخل ہوتاہے۔ اکثر وقوع نہیں ہوتا۔

258

اس طرح دوسرا گواہ بھی اس کے فرضی طور پر استعمال کو مؤیدہے۔ لہٰذا بیان ایک فرضی صورت ہے جس سے امکان یا وقوع مقصود نہیں۔ قرآن پاک اور احادیث میں اس کی مثالیں بکثرت ملیں گی اور اگر یہاں ’’لو عاش ابراہیم… الخ!‘‘ سے امکان نبوت کے بعد آنحضرتﷺ مختار مدعاعلیہ کے طرز پر لیا جاوے تو یہ آیت: ’’لوکان فیہما اٰلہۃ الا اللہ لفسدتا‘‘ میں خدا کے سواء اور دوسرے معبودان کا بھی امکان نکل آئے گا۔ اگر یہ عذر کیا جاوے کہ دوسرے دلائل توحید واضح اور قطعی موجود ہے تو ادھر بھی گزارش ہے کہ ختم نبوت کے دلائل قاطعہ اوربراہین ساطعہ اس قدر موجود ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے۔ ایک لمحہ کے واسطے کوئی مسلمان بعد آنحضرتﷺ امکان نبوت کا قائل نہیں ہوسکتا اور ایسے لفظ سے جو عموماً اور اکثر فرضی طور پر استعمال ہوتاہے۔ امکان کے معنی تمام قرآن وحدیث واجماع کے خلاف لینا درست نہ ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ محض فرضی ہے۔ امکان میں نص نہیں۔ بخلاف ’’لا نبی بعدی‘‘ وغیرہ کے جو امتناع کے واسطے نص قطعی ہیں اور مرزا صاحب کو بھی قبل دعویٰ مسلم ہیں۔ پس یہ امکان نبوت بعد آنحضرتﷺ کے کسی طرح دلیل نہیں ہوسکتی۔ مفصل اصل بحث ملاحظہ ہو۔

تاویلات مختار مدعاعلیہ

خلاصہ تاویلات جن کو پہلے شبہ کا جواب کا عنوان دے کر جوابی بحث میں لکھاہے۔ مندرجہ ذیل ہیں:

۱… یہ قاعدہ کلیہ نہیں۔ بلکہ جیسے ’’لو انہم صبرو الآیۃ لو عاش لاعتقت… الخ!‘‘ میں ہے۔

۲… مقام مدح میں محال اور ناممکن الوقوع شئے سے فضیلت کا اظہار عبث نہیں۔ جیسے ایک ایف۔اے پاس شدہ کی وفات پر کہا جائے کہ اگر یہ زندہ رہتا تو ضرور بی۔اے پاس کر لیتا۔ اس سے ہر عاقل وفرزانہ یہ سمجھے گا کہ بی۔اے کوئی درجہ ہے۔ جیسے وفات شدہ طالب علم بوجہ موت حاصل نہ کرسکا۔ نہ یہ کہ بی۔اے کوئی درجہ نہیں، اس کا حصول ناممکن ہے۔

۳… یہ کیا ضرورت ہے کہ نبی کی اولاد بھی ضرور نبی ہو کہ ان کی وفات کی علت نبی نہ ہوسکنا قرار دیا جاوے۔

۴… اگر یہی وجہ وفات کی تھی تو ان کو پہلے سے پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ جب کہ انہیں اس ڈر سے مارنا پڑا کہ کہیں نبی ہو جاوے۔

الجواب: اوّلاً ہم اس حدیث کو صحیح تسلیم ہی نہیں کرتے۔ یہ جواب تو آپ کے اصول پر صحیح تسلیم کر کے پیش کیا گیاہے تاکہ مغالطہ نہ ہو۔ دوسرے مفصل ومرتب جواب یہ ہے کہ تاویل نمبر۱ یہ قاعدہ کلیہ نہیں…الخ!

الجواب: کلیہ نہ سہی اکثر یہ تو مختار مدعاعلیہ کو بھی بحیثیت گواہ مدعاعلیہ مسلم ہے۔ لہٰذا جب کہ عدم امکان احتمال اکثر یہ پیدا ہوگیاتو یہ مدعاکے واسطے ناطق اور نص صریح نہ ہوا۔ کیونکہ یہاں تو احتمال اکثر ہی موجود ہے۔ ادنیٰ احتمال بھی استدلال کو باطل کردیتاہے کہ: ’’اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال‘‘ احتمال پیدا ہونے سے استدلال باطل ہوجاتاہے۔ پھر یہ احتمال نہ اکثر یہ احتمال ہے، بلکہ قرآن پاک، احادیث صحیحہ، اقوال سلف وخلف، بلکہ اجماع امت کی اس کے ساتھ تائید موجود ہے۔ پس ایک آدھی مثال میں وقوع بھی مان لیں تو بھی استدلال اور اثبات مدعی میں نص نہیں ہوسکتا۔ یہی ہمارا مدعا تھا جواب بن نہ آیا۔ مغالطہ دہی کی ناکام سعی شروع کردی۔

۲… مقام مدح میں محال اور ناممکن الحصول شیٔ سے فضیلت کا اظہار عبث ہے… الخ!

سبحان اللہ ! غالباً علم معانی وبلاغت کے خلاف دانستہ یہ بات مختار مدعاعلیہ نے کہہ دی ہے۔ اس میں نہ تو صرف مدح بلکہ کمال مدح ہے کہ ممدوح کے اندر وہ کمالات ودیعتہ تھے کہ اگر وہ زندہ رہتے تو سب کچھ انسانی فضائل حتیٰ کہ ناممکن حصول فضیلت بھی حاصل کرلیتے جس کا اب حاصل کرنا ناممکن ہے۔ مثال کے لئے اسی متنبی کا قول پیش ہے جس سے مختار مدعاعلیہ نے بحیثیت گواہ استناد کیاہے اور دلیل میں لایاہے:

  1. ولو طائر ذوحا فر قبلہا

    لطارت ولکنہا لم یطیر

259

کہ اگر ٹاپوں والا جانور اڑ سکتا تو یہ بھی گھوڑا اڑتا۔ مگر ٹاپوں والا اڑا نہیں کرتا۔ دیکھئے مقام مدح میں مبالغہ فی المدح کے واسطے ناممکن الحصول فضیلت پیش کی ہے۔

معانی کے کتب کامطالعہ فرمایا جائے۔ بے شمار امثلہ اس قسم کے موجود ہیں۔ بخوف طوالت ذکر نہیں کرتا۔ اسی قبیل سے آنحضرتﷺ کا فاروق اعظمq کی فضیلت میں ’’لوکان بعدی نبی لکان عمربن الخطاب‘‘ ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ حالانکہ ’’لانبی بعدی‘‘ سے ہر قسم کی نبوت ملنے کا دروزہ بند ہوچکاتھا۔ اس کے علاوہ قرآن وحدیث میں متعدد مثالیں موجود ہیں جنہیں بخوف طوالت ذکر نہیں کرتا اور نہ یہ جواب میری بحث کے مطالعہ کے بعد قابل التفات ہی رہتاہے۔

میں نے بعینہٖ اس جیسی ایک مثال شعر سے اور ایک مسلم فریقین صحیح حدیث پیش کردی ہے۔ باقی یہ کہنا کہ ایف۔اے پاس شدہ کی موت پر یہ کہا جائے کہ اگر وہ زندہ ہوتا تو ضرور بی۔اے پاس کرتا۔ اس لئے اس درجہ کے حصول کا امکان پایا جاتاہے۔

اوّلاً تو سابق جواب اس کے واسطے کافی ہے۔ مزید وضاحت کے واسطے مختصراً گزارش ہے کہ اس تعبیر میں اس کی استعداد بی۔اے پاس کر سکنے کا اعتراف ہے کہ اگر زندہ رہتا تو اس کی استعداد بی۔اے پاس کرنے کی تھی۔ ہاں! اگر کلاس ہی توڑ دی گئی اس میں اس کے کسب واستعداد کو کوئی دخل نہیں نہ اس کی فضیلت میں کوئی فرق آتاہے۔ جیسے کہ حضرت فاروق اعظمq میں کمالات نبوت بدرجہ اتم موجود تھے۔ اگر آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو فاروق اعظمq نبی ہوتے۔ ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب‘‘ مگر یہ کلاس ہی توڑ دی گئی۔ یہ دروازہ ہی ’’خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ اور ’’لا نبوۃ بعدی انقطعت النّبوۃ والرسالۃ‘‘ سے ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا۔ پس ’’لو عاش ابراہیم… الخ!‘‘ اگر بالفرض صحیح تسلیم کر لیا جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ کمالات نبوۃ ان میں موجود تھے۔ اگر وہ زندہ رہتے تو نبوت کے حق دار رہتے۔ یعنی اپنی استعداد کی وجہ سے۔ ہاں! انسداد باب نبوت اس کو ضرور مانع ہے۔ اس میں ان کے کمالات کی کوئی تنقیص نہیں۔ میرے خیال میں یہ جواب بہت کافی ہے اور دراصل میں نے اسے اصل بحث میں واضح کردیا تھا، مگر مختار مدعاعلیہ نے بلفظہ باوجود جواب ہوجانے کے شہادت سے پھر نقل کردیا۔ یہی قصہ تقریباً اور تمام مباحث میں کیا گیا ہے۔

۳… نبی کی اولادکا نبی ہونا کب ضروری ہے… الخ!

الجواب: یوں ہی مسلمان بھی کہتے ہیں کہ نبی کی امت سے نبی ہونا کب ضروری ہے، مگر مرزا صاحب کے مرید یہ جواب دیتے ہیں کہ پہلی امتوں میں نبی ہوئے ہیں۔ لہٰذا گو ضروری نہ ہوا۔ مگر ایک فضیلت ضرور ہے جس کا نہ ہونا ایک قسم کی تنقیص ہے۔ یہی جواب اس کا خیال فرمالیں کہ نبی کا بیٹانبی ہونا ضروری نہیں۔ مگر فضیلت ضرور ہے اور اسے مقام فضیلت میں خود آنحضرتﷺ نے بیان فرمایا ہے: ’’الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف ابن یعقوب ابن اسحاق ابن ابراہیم‘‘ مقام مدح میں نبی کا بیٹا ہونا مذکور ہے۔ (بخاری شریف)

پس گو نبی کے بیٹے کا نبی ہونا ضروری نہ سہی مگر اس میں فضیلت ضرور ہے کہ دیگر انبیاء کو یا ان کی اولاد کو یہ شرف ملے اور آنحضرتﷺ کو نہ مل سکے۔ مگر چونکہ آنحضرتﷺ خاتم النّبیین تھے اور باب نبوت آپ پر مسدود ہوچکا تھا۔ پس اس کی تلافی باری تعالیٰ نے یوں فرمائی کہ انہیں قبل سن نبوت وفات دے دی اور اپنے نبی پاکa کی زبانی ان کے کمالات نبوت سے متصف ہونے کا اعلان کرادیا کہ: ’’لو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیا‘‘ جس کی شرح مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ موضوعات کبیر میں اسی جگہ اسی صفحہ پر یوں موجود ہے جسے مختار مدعاعلیہ نیز گواہان مدعاعلیہ نے قطع وبرید کر کے مغالطہ دیا ہے۔

’’قولہ تعالیٰ ماکان محمد ابآاحد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین فانہ یوحی الیہ بانہ لم

260

یعش لہ ولد ولا یصل الی مبلغ الرجال فان ولدہ من صلبہ یقتضی ان یکون لہ قلب کما یقال الولد منزلا بعد ولو عاش وبلغ اربعین وصار نبیاً لزم ان لایکون نبیاً خاتم النّبیین‘‘

(موضوعات کبیر مجتبائی ص۵۸)

(ترجمہ) ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ کیونکہ یہ اس بات کی طرف مشیرہے کہ آنحضرتﷺ کا کوئی بھی لڑکا زندہ نہ رہا کہ مرد بالغ کی حیثیت تک پہنچتا۔ کیونکہ آپ کا صلبی بیٹا آپ کے قلب کا جو ہونا تھا۔ جیسا کہ الولد سرلابیہ کہتے ہیں اور اگر وہ زندہ رہتے اور چالیس سال تک پہنچتے اور نبی ہوتے تو لازم آتا کہ ہمارے نبیa خاتم النّبیین نہ رہیں… الخ!

پس اس عبارت سے جواب بالکل مکمل اور واضح ہوگیا خود مختار مدعاعلیہ اور اس کے گواہوں کی یہ مسلم اور پیش کردہ چیزہے۔ ف اللہ الحمد!

۴… اگر یہی وجہ تھی تو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ انہیں اس ڈر سے مارنا پڑا کہ نبی نہ ہوجائیں۔

الجواب:

۱… یہ خداتعالیٰ سے پوچھیں کہ انہیں کیا ڈر تھا اور کیوں پیدا کرکے اس وجہ سے مار ڈالا۔

۲… قرآن پاک میں حضرت موسیٰm اور خضر کے واقعہ میں ہے کہ ایک جگہ حضرت خضرq نے ایک نوجوان بچہ کو قتل کر ڈالا اور پھر بعد کو اس کا جواب یہ فرمایا کہ: ’’واما الغلام فکان ابواہ مؤمنین فخشینا ان یرہقہما طغیانا وکفراً (کہف:۸۰)‘‘ ملاحظہ فرمائیں کہ اس بچہ کو صرف اس وجہ سے قتل کیا کہ وہ بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو گمراہ اور کفر میں ملوث نہ کردے۔

یہی اعتراض اہل باطل شیطان اور دجال وغیرہ کی پیدائش پر کرتے ہیں:

  1. چو بشنوی سخن اہل دل بگو کہ خطا است

    سخن شناس نۂ دلبر این جا است

مختار مدعاعلیہ کو چاہئے کہ اس کا فائدہ آنحضرتﷺ کے کسی غلام سے پوچھ لے۔

اصل یہ ہے کہ آپ کے اولاد ذکور کے نہ ہونے پر کفار کا ایک طعنہ تھا کہ اولاد نرینہ جو ایک دنیوی بڑی برکت ہے۔ اس سے مدعی محبوبیت کیوں محروم ہے۔ اللہ نے اولاد نرینہ عطاء فرمائی۔ پھر ان کی وفات پر بھی طعنہ زن تھے کہ محبوب خدا کو یہ صدمہ کیونکر ہوا۔ پس اس کا جواب بار گاہ رسالت سے یہ دلوایا کہ:’’لو عاش ابرہیم لکان صدیقا نبیا‘‘

اور یہ بھی ایک نکتہ ہے اللہ کے راز ونیاز اور اسرار اللہ کے سواء مخلوق کی قدرت نہیں کہ سمجھ سکے اور نہ ہم ان علل ونکات وحکم کے مکلف ہیں۔ بحمد اللہ ! مکمل اس کا جواب ہوگیا اور اچھی طرح وضاحت ہوگئی۔ اس حدیث سے امکان نبوت یا خاتم النّبیین کے معنی مختار مدعاعلیہ کے استدلال کے مطابق سے لینا نہ صرف غلطی بلکہ آنحضرتﷺ پر افتراء ہے۔ (معناً بھی یہ حدیث مثبت مدعانہیں)

اس سلسلہ میں مفصل دلائل ابتدائی بحث میں پیش کر چکاہوں جن کا اعادہ نہیں کرتا۔

مختصر یہ ہے کہ اس حدیث کا مطلب جو مختار مدعاعلیہ پیش کرتا ہے وہ محض غلط ہے۔ کیونکہ وہ صحابہ کرام جو وقت وفات صاحبزادہ ابراہیم وہاں موجود تھے وہ بھی یہ مضمون نہ سمجھے۔ حالانکہ بالاتفاق صحابہ اذکیاء امت سے ہیں۔ بلکہ وہ بالکل اس مضمون کے خلاف اظہار فرمارہے ہیں۔ ملاحظہ ہو (بخاری ج۲ ص۹۱۴) ’’حدثنا اسماعیل… الخ!‘‘ وابن ماجہ یعنی اسماعیل تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی صحابی سے پوچھا کہ کیا آپ نے آنحضرتﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا تھا۔ فرمایا: ہاں! صغرسنی میں وہ فوت ہوگئے تھے اور اگر اللہ کے فیصلہ میں کسی کا نبی ہوسکنا بعد آنحضرتﷺ ہوتا تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے۔ مگر فیصلہ ’’لانبی بعدی‘‘ ہے کہ آپ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔

(بخاری شریف)

261

پس تمام صحابہ کے خلاف اس حدیث کا یہ غلط مطلب لینا کیونکر درست ہوگا۔

مختار مدعاعلیہ کی رکیک تاویل اور صحابہ کرامi کی شان میں گستاخی

(خلاصہ تاویلات)

۱… مخفی نہیں ہے کہ فہم صحابی حجت نہیں۔

۲… ابن ابی اوفی کا قول حجت نہیں، کیونکہ اس کے خلاف صحابی کا قول موجود ہے۔

۳… صحابی فہم القرآن اور حدیث میں غلطی کیا کرتے تھے (بعض امثلہ بزعم خود اس کے متعلق)

۴… قول عائشہؓ اس مفہوم کے خلاف موجود ہے۔

الجواب: اجمالاً۔ اوّلاً یہ گزارش ہے کہ اس کے یہ کہہ دینے سے کہ صحابہ فہم قرآن اور حدیث میں غلطی کرتے ہیں۔ اصل مدعا ثابت نہیں ہوسکتا، کیونکہ کوئی شخص اسے تسلیم بھی کرے تو اس سے کیا یہ ثابت ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ جو مطلب خود ساختہ امکان نبوت پیش کرتاہے جس کا مؤید تیرہ سو سال میں ایک متنفس بھی نہیں، وہ درست ہوجائے گا اور عیاذاً ب اللہ ! صحابہ تو مطلب بزعم خود مختار مدعاعلیہ قرآن وحدیث کو صحیح نہ سمجھتے ہیں۔ مختار مدعا علیہ کو کیا حق حاصل ہے کہ کہے کہ میں صحیح سمجھتا ہوں۔ نیز مختار مدعا علیہ تو بزعم اپنے نبی کے خود بھی صحابی ہے۔ کیونکہ وہ فرما گئے ہیں: ’’فمن دخل فی جماعتی دخل فی صحابۃ سید المرسلین‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸)

کہ جو میری جماعت میں شامل ہوا وہ سید المرسلینa کے صحابہ کرامi میں داخل ہوگیا۔ پس یہ بھی تو اسی غلطی کرنے والی جماعت میں شامل ہوگئے۔

۱… مخفی نہیں کہ فہم صحابی حجت نہیں۔

الجواب: یہاں اس بحث میں میں اس وقت نہیں الجھتا کہ فہم صحابی کہاں حجت ہے کہاں نہیں اور اس کے کیا معنی ہیں۔ میں تو یہ صرف گزارش کرتاہوں کہ قرآن پاک کی قطعی آیات احادیث مرفوعہ صحیحہ قطعیہ متواتر اجماع صحابہ بلکہ اجماع امت کے موافق یہ فہم ابن ابی اوفی صحابی ہے اور انہوں نے تائید میں اسی مسلم فریقین حدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ یا بعدہ کو پیش کیا ہے۔ پس اس کے رد کے معنی نہ صرف ان کی تحقیق بلکہ آنحضرتﷺ اور تمام صحابہ امت اور قرآن پاک کے رد کرنے کے ہیں۔

اورمختار مدعاعلیہ کا صرف یہ کہہ دینا کہ مخفی نہیں، کوئی دلیل تو نہیں۔ جب تک کوئی اپنا مؤید حوالہ قواعد اصول حدیث سے نہ پیش کریں اور وہ یہ نہ کرسکا۔

۲… نیز یہ مضمون کہ صاحبزادہ کی وفات بوجہ انسداد باب نبوت ہے۔ صرف انہیں سے منقول ہے۔ اس کے خلاف کوئی ایک صحابی کی آواز نہیں۔ پس ایسا غیر مختلف فیہ مضمون کیونکر حجت نہ ہوگا۔

مزید براں مختار مدعاعلیہ کا اپنا مطلب تو اپنی اثبات مدعامیں صریح اور حجت نہ رہا۔ لہٰذا یہ حدیث ان کے واسطے تمام صحیح احادیث کے خلاف اپنے معنی میں صریح اور حجت نہ بن سکی۔

۲… ابن ابی اوفی کا قول حجت نہیں ہے کیونکہ اس کے خلاف صحابی کا قول موجود ہے۔

الجواب: یہ مغالطہ دینے کے واسطے ہے۔ ورنہ کسی ایک صحابی سے اس بارہ میں اس مضمون کے خلاف ضعیف سے ضعیف اور موضوع تک روایت نہیں، نہ مختار مدعاعلیہ نے شہادت سے بحث تک پیش کی۔

262

۳… صحابی فہم قرآن وحدیث میں غلطی کرتے ہیں۔

الجواب: یہ محض غلط ہے۔ صحابہ اذکیاء امت سے ہیں اور احادیث ونزول قرآن کے عینی شاہد اور مختار مدعاعلیہ جس مثال سے مغالطہ دینا چاہتاہے وہ محض ناواقفی پر ہی ہے۔ نہ اس کا وہ مطلب ہے جو سمجھ رہا ہے۔ اس سے کسی نے قول صحابی کاحجت نہ ہونا نہ نکالا اور اگر ان کا قول حجت نہ رہے تو سارا دین ہاتھ سے جاتا ہے۔ کیونکہ تمام دین کے اوّلین مشاہد صرف صحابہ کرامi ہیں اور اصول ہے کہ جس بات کو غیر معتبر ثابت کرنا ہو تو اس کے گواہوں کو مجروح کر کے غیر معتبر ہونا ثابت ہوسکتاہے۔

۴… قول عائشہؓ اس مضمون کے خلاف موجود ہے۔

الجواب: محض جھوٹ اور افتراء اور بہتان ہے۔کہیں ذخیرہ حدیث میں حضرت صدیقہؓ کا ایک قول بھی اس مضمون مخصوص کے متعلق منقول ہی نہیں۔ چہ جائے کہ مخالف وموافق اگر مختار مدعاعلیہ اس سے ’’وقولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لا نبی بعدی‘‘ سمجھ رہا ہے تو یہ غلط ہے۔ وہاں تو اس مضمون کا پتہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں آنحضرتﷺ کے بعد نبی ہونا فیصل شدہ ہے نہ اس لئے صاحبزادہ ابراہیم کا انتقال ہوگیا ہے۔ بلکہ اس قول میں اس مضمون کا کوئی اشارہ بھی نہیں۔ نیز ان کا یہ قول صحیح سند سے ثابت بھی نہیں نہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میںیا صحاح ستہ وغیرہ میں اس کا وجود ہے نہ اس کے سوائے اس کے کوئی اور مطلب ہے کہ آپ کا لقب خاتم النّبیین خدا کا دیا ہواہے، وہی زبان سے کہو اور مقام مدح میں لا نبی کا لقب استعمال نہ کرو۔ کیونکہ خدائی الفاظ مخلوق کی تعبیر سے زیادہ جامع ہیں۔ اگر ’’لا نبی بعدی‘‘ میں صرف خاتمیت زمانی ہے توخاتم النّبیین میں ذاتی اور زمانی دونوں موجود ہیں۔ مفصل بحث اپنی جگہ پر ان شاء اللہ آئے گی۔

غرض یہ قول بالکل بے ربط اور غیر متعلق ہے۔ پھر یہ کہنا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو صحیح بخاری جیسی مستند ومعتبر کتاب میں ابن ابی اوفیq کا یہ فیصلہ نقل نہ کیا جاتا۔

الجواب: پس اس سے ثابت ہوگیا کہ اس اثر ابن ابی اوفی کا بھی جواب مختار مدعاعلیہ کے پاس نہیں ہے۔

اس کی تائید کے واسطے شہاب اور ملّا علی قاری گو وہ مدعاعلیہ کے نزدیک بھی امام حدیث یا جرح وتعدیل یا کم ازکم حافظ حدیث بھی نہیں۔ نیز قطع وبرید کر کے یہ مطلب ملّا علی قاری کی طرف منسوب کیاہے۔ ورنہ ان کا بھی صاف فیصلہ بالکل وہی ہے جو ابن ابی اوفی صحابی کا ہے۔

اصل عبارت ملاحظہ ہو: ’’ولو عاش وبلغ اربعین وصار نبیاً لزم ان لایکون نبیاً خاتم النّبیین‘‘

(موضوعات کبیر مجتبائی ص۵۸)

اگرصاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور چالیس سال کو پہنچتے اور نبی ہوتے تو لازم آتا کہ ہمارے نبی کریمa خاتم النّبیین نہیں۔ بالکل وہی مضمون ہے۔ جو صحابی نے نقل کیا۔ یہ حوالہ گزر چکا ہے۔

پس یہاں قطع وبرید کر کے صرف مختار مدعاعلیہ مغالطہ دے کر ایسے بزرگ پر بہتان باندھنا چاہتاہے کہ ورنہ نہ صرف اسی ایک رسالہ میں یہ ہے جس کا موضوع بحث بیان عقائد نہیں بلکہ شرح فقہ اکبر ملّا علی قاری جو عقائد میں ہے، نیز مرقات جو شرح حدیث ہے اس میں صاف تصریح ہے کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ اور ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معنی آخری نبی کے ہیں۔ آنحضرتﷺ کے بعد ہر قسم کا مدعی نبوت کافر ہے۔ ملاحظہ ہو حوالہ شرح فقہ اکبر پیش کردہ گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۵۔

نیز مرقات تحت شرح لانبی بعدی۔ مفصل حوالہ جات اپنے اپنے محل پر آئیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

263

جو میں نے پیش کیا ہے دراصل یہی حق ہے

ممکن ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ مرزا صاحب کی عداوت کی وجہ سے از راہ تعصب مسلمان یہ مطلب لیتے ہیں۔ اس لئے میں نہایت ہی معتبر ومستند احمدی کا حوالہ پیش کرتاہوں جس سے مختار مدعاعلیہ ہرگز انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ مرزا صاحب نے ان کی بے حد تعریف کی ہے اور کوئی معمولی وغیر مسلم نہیں نہ صرف احمدی بلکہ امیر جماعت احمدیہ جناب محمدعلی صاحب ایم۔اے۔

اپنی کتاب (آخری نبی ص۱۴ تاص۱۸) پر اسی حدیث کے متعلق باوجود مرزا صاحب پر ایمان لانے کے مندرجہ ذیل تحقیقات پیش فرماتے ہیں۔

عبارت رسالہ آخری نبی

’’اب میں میاں صاحب کی اس شہادت کو لیتاہوں۔ یہ ابن ماجہ کی حدیث ہے:’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً‘‘

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اس سے میاں صاحب کے خاتم النّبیین کے معنی حل ہوگئے۔ کیا اس حدیث نے بتا دیا کہ خاتم النّبیین سے مراد یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے اتباع سے لوگ نبی بنا کریں گے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس کے پیش کرنے سے کیا حاصل؟ انہیں تو اجماع کے خلاف رسول کریمa کی وہ آواز پیش کرنی چاہئے جو ان کے معنی کو صحیح ثابت کرے۔ دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ یہ روایت کوئی ایسی اعلیٰ پایہ کی نہیں۔ اوّل تو صرف ابن ماجہ کی روایت ہے اور کسی کتاب میں نہیں۔ دوسرے اس کے راویوں میں ابوشیبہ ابراہیم ہے جسے متروک الحدیث قرار دیا گیاہے۔ ایسی کمزور حدیث کو اس قدر اعلیٰ پایہ کی احادیث کی تردید میں پیش کرنا سخت جرأت ہے۔ تیسری بات قابل غور یہ ہے کہ اس حدیث سے مراد کیا ہے۔ اتنا تو میاں صاحب کو مسلم ہے کہ یہ فرض کے طور پر ہے۔ مگر میاں صاحب ایک قانون اپنے دماغ سے بنا کر سب سے پہلے اسے منوانا چاہتے ہیں۔ ’’جو بات اپنی ذات میں ناممکن ہو اس کو شرطیہ طور پر بھی نہیں کہہ سکتے۔‘‘ سب سے مشکل میاںصاحب کی تحریر کے جواب میں یہی ہوتی ہے کہ وہ بغیر کسی بات کے پروا کرنے کے قانون بناتے چلے جاتے ہیں۔ مریدوں کی کیاجرأت کہ دریافت کریں کہ یہ قانون کہاں لکھا ہواہے۔ بفرض محال یا بفرض بیسیوں دفعہ میاں صاحب اور ان کے مریدوں نے استعمال کیا ہوگا۔ مگر جب میاں صاحب نے کہہ دیا۔ جو بات نہ ہوتی ہو وہ شرطیہ طور پر بھی نہیںکہہ سکتے تو مریدین بھی دم بخود ہیں۔ مرید کی کیا مجال کہ سوال کرے۔ ’’قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم (الزمر:۱۳)‘‘ تو کیا قرآن شریف میں رسول اللہ ﷺ کےمتعلق ہے۔ کہہ دے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتاہوں تو کیا میاں صاحب کے نزدیک رسول کریمa کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا ہی ممکن نہ تھا۔ ’’لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر:۶۵)‘‘ اگر تو شرک کرے تو تیرا عمل حبط ہو جائے تو کیا آنحضرتﷺ کا شرک کرنا بھی ممکن تھا۔ ان کا ’’ن للرحمن ولد فانا اول العابدین (الزخرف:۸۱)‘‘ اگر رحمن کا بیٹا ہوتا تو خدا کا بیٹا ہونا بھی ممکن ہے اور سب سے بڑھ کر ’’لو کان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا‘‘ اگر (زمین وآسمان) دونوں میں سے سوائے خدا کے معبود ہوتے تو ان کا نظام بگڑ جاتا۔ تو کیا اور خدا ہونے بھی ممکن ہے۔ اس حدیث کے الفاظ بالکل اس آیت کے مطابق ہیں تو جیسے آیت میں یہ بتایا کہ جس طرح فساد کا ہونانا ممکن ہے۔ اسی طرح دو خدا ہونا بھی ناممکن ہے۔ اس طرح حدیث میں بتایا کہ جس طرح آنحضرتﷺ کے بعد نبی کا ہونا ناممکن ہے۔ اسی طرح خود ابراہیم کا زندہ رہنا ناممکن تھا۔ میاں اتنا ہی غور کر لیتے کہ یہ آنحضرتﷺ نے اس وقت فرمایا جب کہ حضرت ابراہیم فوت ہوچکے تھے۔ اگر حضرت ابراہیم کی زندگی میں ایسے لفظ فرماتے تو کہا جاسکتا تھا کہ: ’’لو‘‘ بمعنی ان و محض شرطیہ ہے۔ لیکن جب حدیث صاف بتاتی ہے کہ ابراہیم کی وفات کے بعد آپ نے فرمایا تو اس سے خود ظاہرہے

264

کہ اس وقت فرمایا جب یہ ثابت ہوچکا کہ ابراہیم کا زندہ رہنا ناممکن تھا۔ پس جب وہی ناممکن ہے تو ’’لوکان نبیاً‘‘ خود ناممکن ہوا اور میاں صاحب نے محض اس حدیث سے اپنا مطلب نکالنے کے لئے لو شرط کے لئے قرار دیاہے۔ حالانکہ ’’لو‘‘ امتناع کے لئے بھی آتاہے تو کیا معنی وہ لیں گے جس سے یہ حدیث بھی دوسری حدیثوں کے مطابق ہوجائے یا وہ جس سے اعلیٰ پایہ کی حدیثیں ردی کی ٹوکری میں پھینکنی پڑیں۔ چہارم ابن ماجہ نے اس روایت سے پیشتر عبد اللہ بن ابی اوفی کا اثر بیان کیا ہے۔

’’قال مات ہو صغیرہ لو قضی ان یکون بعد محمدa نبی لعاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ‘‘ یعنی (ابرہیم نے) وفات پائی اور وہ چھوٹا تھا اور اگر یہ مقدر ہوتا کہ محمدa کے بعد نبی ہو تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں جس سے معلوم ہوا کہ ابو شیبہ والی روایت میں الفاظ ٹھیک محفوظ نہیں رہے۔ اس دوسری روایت کو بخاری نے بھی لیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ صحیح یہی ہے۔ میاں صاحب خوب جانتے ہیں کہ احادیث قصص ایسی محفوظ نہیں۔ جیسی وہ احادیث جن کا تعلق عقائد واعمال سے ہے تو ایک متروک روای کی حدیث کو لے کر اس پر اس قدر زور دینا اور پھر کے معنی بھی بجائے دوسری احادیث کے مطابق کرنے کے ان کے خلاف نکالنا اجتہاد نہیں کہلا سکتا یہ غرض پرستی ہے۔ غلطی تو بلا شبہ ہر شخص کو لگ سکتی ہے اور اسی کا استدلال بھی غلط ہوسکتاہے۔ مگر یہاں عمداً چالیس احادیث کی شہادت کو چھپا کر سب اعلیٰ پایہ کی حدیث کو ایک متروک الحدیث راوی کی حدیث سے رد کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اجتہادی دیانت داری کے خلاف ہے۔ نووی جیسے امام نے اس حدیث کو جسارت کہا ہے اور ابن عبد اللہ نے اس کا انکار کیا ہے اور اس کا راوی متروک الحدیث ہے تو اوّل حدیث ایسی مجروح اور پھر اس کے معنی صاف کرنے کے لئے دوسری روایات موجود، جن میں صاف لفظ ہیں کہ اگر یہ مقدر ہوتا کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبی ہے تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا جس سے صاف معلوم ہوا کہ آپ کے بعد نبی نہیں ہوسکتا۔ بایں صرف ان کے خلاف بلکہ دوسری حدیث صحیحہ کے خلاف جو تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔ میاں صاحب نے اس کے معنی کرکے اپنی مطلب برآری کے لئے اخفاء حق سے کام لیا ہے۔ میں نے کہا ہے کہ حدیث مجروح ہے۔ اگر اسے صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو معنی صاف ہیں۔ یعنی نہ آنحضرتﷺ کے بعد نبی ہونا مقدر تھا نہ ابراہیم کا زندہ رہنا۔ اس معنی کی تائید میں بخاری اور خود ابن ماجہ کا اثر پیش کیاہے۔ اس کے صحیح ہونے پر قرآن شریف کی آیت: ’’لو کان فیہما اٰلہۃ الا اللہ لفسدتا‘‘ پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ لو امتناعی ہے۔ پھر اس ایک اکیلی حدیث کے معنی چالیس حدیثوں کے خلاف نہیں کئے جاسکتے۔ بلکہ اس معنی کے جو میاں صاحب کرتے ہیں بالکل خلاف دوسری حدیث پڑی ہوئی ہے۔ ’’لو کان بعدی نبی لکان عمر‘‘ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq ہوتا تو یہ کیونکر صحیح ہوسکتاہے کہ ایک طرف تو آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا اور دوسری طرف یہ فرمائیں کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا اگر ابراہیم زندہ رہ کر نبی ہوسکتا تھا تو حضرت عمرq باوجود زندہ رہنے کے نبی کیوںنہ ہوتے اوراگر یہ کہا جائے کہ نبوت بھی گدی کی طرح خاندانی ورثہ ہوتی ہے تو پھر آنحضرتﷺ نے حضرت عمرq کے متعلق یہ الفاظ کیوں استعمال فرمائے۔ پس ابراہیم کا زندہ رہنا اور نبی ہونا ممکن تھاتو حضرت عمرq جو زندہ رہے تو ضرور تھا کہ نبی ہوتے اور اس حدیث: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘ کو میاں صاحب نے صحیح تسلیم کرکے حسب ذیل جواب کبھی دیا تھا۔ جواب شاید یاد نہ ہو۔ اگر رسول کریمa کے بعد فوراً ہی آپ کی جماعت کو سنبھالنے کے لئے کسی نبی کی ضرورت ہوتی جس طرح حضرت موسیٰm کے بعد تھی تو حضرت عمرq ہی آپ کے بعد نبوت کے مقام پرترقی پاتے، لیکن چونکہ آپ ایک ایسی جماعت کو تیار کرکے رخصت ہونے والے تھے جو اپنی نیکی اور تقویٰ میں حضرت موسیٰm کی جماعت سے کئی درجہ زیادہ تھی اور مکمل تھی۔ اس لئے آپ کے بعد فوراً کسی نبی کی بعثت کی ضرورت نہ تھی۔

265

تو اب سوال یہ ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو وہ فوراً بعد نبی ہوتے جس کی بقول میاں صاحب ضرورت نہ تھی یا مسیح موعود کے بعد نبی بنتے۔ کیونکہ تیرہ سو سال تک کسی نبی کی ضرورت پیش نہ آئی تھی اس کا جواب غالباً یہ ہی دیا جائے گا کہ چونکہ آنحضرتﷺ کے فوراً بعد نبی کی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے ابراہیم فوت ہوگئے تو پھر یہ ماننے میں کیا مصیبت پیش آتی ہے کہ چونکہ آنحضرتﷺ کے بعد مطلق نبی کی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے فوت ہوگئے اور اگر اس حدیث سے امکان نبوت ہی نکلتاہے تو وہ فوراً بعد ہونے کا امکان ہے۔ مگر فوراً بعد کوئی نبی نہ ہوا۔ اب فیصلہ میاں صاحب خود کریں گے کہ جب کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبی کی ضرورت ہی نہ تھی تو آنحضرتﷺ نے یہ کیوں فرمایا۔ یہ تو حدیث کی شہادت ہے۔ میاں صاحب صرف ایک مجروح حدیث سے آنحضرتﷺ کے اپنے سارے اقوال کو جن کی صحت سے وہ بھی انکار نہیں کرسکے رد کرنا چاہتے ہیں۔ غرض آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے یا خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی ہونے کے خلاف میاں صاحب کے ہاتھ ایک تنکے کے وزن کے برابر بھی شہادت نہیں۔ مگر اس تنکے سے وہ اس پہاڑ کو اڑانا چاہتے ہیں جس پر اجماع امت کی بنیاد ہے اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس حدیث میں بھی وہ معنی خاتم النّبیین کے نہیں کئے گئے جو میاں صاحب کرتے ہیں تو اگر ایک مجروح حدیث میاں صاحب نے بہت سی صحیح احادیث کے خلاف پیش بھی کردی تو کیا اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ میاں صاحب حق بجانب ہیں۔ وہ تو اس وقت حق بجانب ہوں گے۔ جب چالیس نہ سہی، چار نہ سہی، ایک ہی حدیث اورحدیث نہ سہی، ایک ہی قول کسی صحابی کا پیش کردیں کہ خاتم النّبیین کے معنی ہیں وہ شخص جس کے اتباع سے آئندہ لوگ نبی بن جا یا کریں گے۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ وہ قیامت تک بھی کتابوں کی ورق گردانی کریں تو بھی ایک کمزور سے کمزور بلکہ موضوع حدیث تک بھی اپنے معنی کی تائید میں پیش نہیں کرسکتے اور جب تک وہ پہلے ایسی حدیث پیش نہیں کرتے۔ اس وقت تک ان کا اعلیٰ پایہ کی ایک دوسرے کی مؤید حدیثوں کو بعید از قیاس تاویلیں کرنا یا ان کی طرف توجہ تک نہ کرنا دین میں رخنہ اندازی ہے۔ پہلے آپ نے ساری نظارتوں کو اس قدر تلاش میں لگائیں کہ ایک حدیث کہیں سے خاتم النّبیین کے ان معنوں کو بیان کرنے والی نکال لاؤ جو انہوں نے ایجاد کئے ہیں اور پھر رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث کے مقابلے میں آئیں۔ ورنہ اپنے ایمان کی فکر کریں کہ اپنی رائے کے اتباع میں وہ رسول خدا کے الفاظ کو کس طرح عمداً پیٹھ کے پیچھے پھینک رہے ہیں۔‘‘

(محمد علی لاہوری کا اقتباس ختم ہوا)

خاتم النّبیین کے صحیح معنی

اس ہیڈنگ کے تحت مختار مدعاعلیہ نے اس مستند ومعتبر ومسلم علم لغات کے حوالہ مغالطہ دے کر بیکار ثابت کرنے کی لاحاصل سعی کی ہے جو اس امر میں نص قطعی تھی کہ اصل وحقیقی معنی خاتم کے خواہ بفتح التاء پڑھا جائے یا بالکسر آخر کے آتے ہیں اور خصوصیت سے اس لفظ خاتم النّبیین میں تمام ماہرین فن لغت کا فیصلہ قطعی ہے کہ اس کے معنی یہاں زینت یا مہر کے نہیں، بلکہ آخر الانبیاء کے ہیں اور ماہرین فن لغت کا فیصلہ معتبر ہوسکتاہے۔ نہ مختار مدعاعلیہ کی رائے خود مرزا صاحب تصریح فرماتے ہیں کہ: ’’ہر ایک فن میں اس کے ماہر کی شہادت معتبر ہوتی ہے۔‘‘

(حاشیہ برکات الدعا ص۱۲، خزائن ج۵ ص۱۵)

ائمہ لغت کے فیصلہ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل آٹھ (۸) لغت کے حوالہ پیش کئے گئے ہیں۔

(۱)قاموس۔ (۲)منتہی الارب۔ (۳)مجمع البحار۔ (۴)منجد۔ (۵)مفردات۔ (۶)محیط القطر اور یہ کتب مذکورہ گواہ نمبر ا کے سامنے ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء اور گواہ نمبر۲ کے سامنے ۲۷؍مارچ ۱۹۳۳ء میں پیش ہوچکی ہیں۔

البتہ مفردات امام راغب اصفہانی حرف گواہ نمبر۲ کے سامنے ۲۷؍ مارچ ۱۹۳۳ء کو پیش کی گئی اور اس کا یہ بھی اقرار موجود ہے کہ یہ صرف معانی قرآن کی لغت ہے۔

266

یہ وہی کتاب ہے جس کے متعلق علامہ جلال الدین سیوطی اتقان میں فرماتے ہیں کہ اس جیسی کتاب مفردات قرآن اور اس کے لغات میں روئے زمین پر نہیں لکھی گئی۔

ان تمام کتب میں یہ نہیں کہ صر ف خاتم یا خاتم کے معنی بتا دیئے ہوں۔ بلکہ ترجمہ کے ساتھ عرب کا محاورہ بھی پیش کررہاہے جس شرط کے لحاظ سے تمام کتب لغت معتبر ہیں۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ ۲۶؍مارچ ۱۹۳۳ء۔

’’بشرطیکہ وہ کسی لفظ کا ترجمہ کرتے وقت کسی عرب کے کلام یا محاورہ سے استشہاد پیش کریں اور بطور سند پیش کریں۔‘‘

اصل عبارت قاموس وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ سب میں خاتم القوم، خاتم القوم وغیرہ کے محاورہ پیش کر کے آخر کے معنی بتائے ہیں۔

ان کے ساتھ دو ایسے حوالہ بھی پیش ہیں جن کا مسلم ہونا مرزا صاحب اور گواہ مدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے۔ یعنی لسان العرب وتاج العروس ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ ۲۶؍مارچ ۱۹۳۳ء۔

’’ بڑی بڑی ڈکشنریاں لسان العرب وتاج العروس ہیں۔‘‘

دوسرے سوال کے جواب میں کہا کہ: ’’یہ کتابیں جس طرح مشہور زیادہ ہیں۔ اسی طرح معتبر بھی ہیں۔ کیونکہ یہ صحیح اور بڑی ہیں۔‘‘ گواہ مدعاعلیہ ۱۶؍مارچ۱۹۳۳ء۔

مرزا صاحب (منن الرحمن ص۷ حاشیہ ص۱۸، خزائن ج۹ ص۱۵۲) پر نہ صرف ان دونوں کتابوں کو معتبر بلکہ نہایت معتبر بتاتے ہیں۔

’’لسان العرب اور تاج العروس جو فقہ کہ نہایت معتبر کتابیں ہیں۔‘‘

پس ایسی مسلم ومعتبر کتب کے حوالہ کے بعد بھی گنجائش نہیں کہ اس میں تأمل کیا جائے۔

۱… لسان العرب میں خاتم کے معنی آخر کے لئے ہیں اور اس کے واسطے محاورہ عربی بھی پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو ’’ختام القوم وخاتَمہم وخاتِہم آخرہم وخاتم النّبیین ای آخرہم قال وقد قرأخاتم‘‘ (لسان العرب) یعنی ’’خاتم القوم وخاتَمہم وخاتِمہم‘‘کا محاورہ پیش کرکے یہ بتایا کہ خاتم بالکسر یا بالفتح جب بھی قوم یا جماعت کی طرف منسوب ہوگا تو اس محاورہ کی رو سے اس کے معنی آخر کے ہوں گے۔ اسی محاورہ کی رو سے خاتم النّبیین کے معنی بھی آخری نبی کے بتائے۔ کیونکہ یہاں بھی خواہ خاتم بالفتح ہو یا بالکسر جماعت کی جانب مضاف ہے۔

۲… تاج العروس ’’الخاتم آخر القوم، الخاتم وخاتم وخاتم النّبیین ای آخرہم‘‘

اس کے بعد گواہ مدعاعلیہ یا اس کے مختار کا یہ کہنا کہ خاتم بفتح التاء کے اصل معنی عربی زبان میں مہر ہے یا انگوٹھی کے ہیں۔ محض ادّعاء باطل ہے۔ کیونکہ خاتم کے اصل معنی آخر کے بھی ہیں۔ جیسا کہ لسان العرب اور تاج العروس کے حوالوں سے بھی ظاہر ہے۔

خلاصہ تاویلات مختار مدعاعلیہ

۱… خاتم کے معنی میں مضاف ومفرد کا فرق ناقابل التفات ہے۔

۲… مضاف کے معنی کے واسطے بھی مفرد کے معنی دیکھے جائیں گے۔

۳… گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست بہ جواب جرح کہا کہ لغت والوں نے تصریح کی ہے کہ خاتم بفتح التاء مہر کے معنی میں بھی ہے۔

۴… آپa مہر یا انگوٹھی نہیں بلکہ زینت واحاطہ وغیرہ وجہ شبہ ہے۔

۵… اورکمال کے اظہار کے لئے لغت عرب اور دوسری زبانوں میں خاتم وخاتم کا لفظ بکثرت مستعمل ہے اور پھر بک تختم الولایۃ اور : ’’فجع القریض بخاتم الشعراء‘‘ وفیات الاعیان سے پیش کیا ہے۔

267

۶… وجہ شبہ مہر بمعنی تصدیق ہو۔

۷… خاتم کے معنی علامہ کے بھی ہیں۔ حوالہ مجمع البحار وغیرہ۔

اگرچہ اوپر کی تحقیقات کے بعد ان تاویلات کی طرف توجہ بیکارہے۔ پھر بھی مختصر جواب ترتیب وار درج ہیں۔

جواب:

۱… مضاف ومفرد کا فرق اس لئے ضروری ہے تاکہ ایک مفرد کے متعدد حقیقی ومجازی معنی میں سے ایک کی تعیین ہوجائے۔ اسی تعیین کے واسطے لسان العرب وغیرہ میں محاورہ پیش کیا ہے اور تمام محاورات کے مطالعہ سے یہ امر واضح ہے کہ لفظ خاتم کے مفرد یا کسی دھا ت یا شخص کی طرف منسوب ہوکر انگوٹھی کے معنی دیتاہے۔ مگر قوم وجماعت کی طرف منسوب ہو کر حقیقتاً آخر کے معنی میںہوتاہے۔ مجازاً خاتم المحدثین وخاتم المفسرین وغیرہ! دوسرے معنی میں بھی مستعمل ہے۔

اور یہ بات کسی حوالہ کی محتاج نہیں کہ مجازی معنی وہاں معتبر ہوتے ہیں جہاں حقیقی معنی متعذر ہوں۔ مگر ظاہر ہے کہ حقیقی معنی متعذر نہیں، بلکہ ماہرین لغت کا فیصلہ موجود ہے کہ یہی آخر کے معنی یہاں مراد ہیں۔ جیسا کہ اوپر گزرا۔ اس کے مقابل مختار مدعاعلیہ کی تاویلات قابل التفات نہیں۔ کیونکہ اس کا شمار ماہرین لغت میں نہیں اور بقول مرزا صاحب ہر فن میں اس کے ماہر کی رائے معتبر سمجھی جاتی ہے۔ پس ائمہ لغت کے فیصلوں کے مقابل یہ تاویلات ہر گز قابل وقعت نہیں۔

۲… مضاف کے معنی کے واسطے بھی مفرد کے معنی دیکھے جائیں گے۔ یہ درست ہے مگر متعدد معانی سے ایک کی تعیین اضافت وغیرہ کے قرینہ سے ہوگی۔ جیسا کہ اوپر عرض کر چکا۔

۳… مختار مدعیہ نمبر۳ نے یہ نہیں کہا کہ صرف مہر کے معنی ہیں۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ مہر کے بھی معنی ہیں اور جب متعدد معانی ہوں تو محاورات وقرائن سے تعیین مراد کریں گے اور لسان العرب وتاج العروس وغیرہ میں محاورات وقرائن سے معانی کی تعیین کی گئی ہے کہ جب قوم یا جماعت کی طرف منسوب ہوتو حقیقی طور پر معنی آخری کے ہوتے ہیں۔

۴… نبی کریمa کو مہر وانگوٹھی کے معنی میں حقیقتاً مختار مدعاعلیہ بھی نہیں مانتا بلکہ زینت واحاطہ وغیرہ کے معنی میں مجازاً لیتاہے اور جب تک حقیقی معنی درست ہوسکتے ہوں، مجازی معنی کسی کے کلام میں نہیں لئے جاسکتے۔ چہ جائے کہ باری تعالیٰ کے کلام میں۔ یہاں مہرو انگوٹھی وتصدیق وزینت وغیرہ کے مجازی معنی جو مختار مدعاعلیہ لے رہا ہے کہ حدیث یا قول صحابہ میں نہیں بلکہ محض مفسرین کی ذاتی رائے ہے۔ جیسا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں تسلیم کیا ہے کہ خاتم النّبیین کے معنی جو زینت کے کئے ہیں۔ اس کے متعلق کسی صحابی کا قول میری نظر سے نہیں گزرا۔ البتہ مفسرین کا قول میری نظر سے گزرا ہے۔ خاتم کے معنی خاتم النّبیین میں مہر کے لینا صحابہ کی تفسیر سے مجھ تک نہیں پہنچے۔ بلکہ مفسرین کے اقوال ہیں۔ بخلاف آخر النّبیین کے معنی خود سید الانبیاءﷺ نے لیا ہے۔

’’انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم وانا آخر الانبیاء ومسجدی آخر المساجد الانبیاء وانا آخر النّبیین فی البعث وآخرہم فی الخلق‘‘ وغیرہ وغیرہ! جیسا کہ اوپر مفصل گزرچکے۔

بہرحال حقیقی معنی اور وہ معنی جو تمام ائمہ لغت نے لئے اور خود آنحضرتﷺ نے وہی معنی لئے، مختار مدعاعلیہ کی تاویلات رکیکہ کو باطل کرنے کے لئے کافی ہیں۔

۵… اظہار کمال کے واسطے خاتم کا لفظ یقینا مجازاً مستعمل ہوا ہے۔ غیر زبانوں میں یہاں استدلال فضول ہے۔ عربی کے بک تختم

268

الولایۃ میں توخاتم کا لفظ نہیں بلکہ تختم ہے اور شعر میں ضرور خاتم ہے۔ مگر مجازی معنی میں مستعمل ہے اور ہماری گفتگو اصلی اور حقیقی معنی میں ہے۔ لہٰذا اوّلاً تو یہ غیر متعلق ہے۔ دوسرے شاہد کے طور پر وہ محاورہ پیش کیا جاسکتاہے جو مسلم اہل زبان کا ہو۔ یہ شعر شعراء جاہلی یا اسلامی جن کا کلام بطور سند کے پیش ہوسکتاہے، ان میں سے کسی کا نہیں بلکہ ایک متأخر شاعر کا ہے۔ جو مؤلدین محدثین میں سے ہے اور اس کا قول حجت نہیں ہوسکتا۔

اس کا ثبوت کہ یہ شاعر مولدین محدثین میں سے ہے یہ کافی ہے کہ یہ شاعر جس بزرگ کا مرثیہ پڑھ رہا ہے۔ یعنی ابی تمام حبیب بن اوس طائی وہ خود مولد ین محدثین میں سے ہے۔ ان کاکلام ہی حجت وقابل استدلا ل نہیں۔ چہ جائے کہ جوان کے بعد ہو۔

۱… ملاحظہ ہو حاشیہ بیضاوی شہاب خفاجی جن کا معتبر ہونا گواہ ومختار مدعاعلیہ کو بھی مسلم ہے۔ (ملاحظہ ہو بحث لوعاش ابراہیم)

علامہ خفاجی شعراء کے طبقات جاہلی، مخضرمی، اسلامی مفصل لکھ کر فرماتے ہیں کہ: ’’المحدثون وہم من بعدہم کا بی تمام والبحتری ومتاخرون لمن حدث بعدہم من شعراء الحجاز والعراق لا یستدل بشعر ہولاء بالاتفاق‘‘

(بیضاوی مجتبائی ص۱۸۴)

یعنی محدثون اور وہ وہی شعراء ہیں جو طبقات مذکورہ کے بعد ہوئے۔ جیسے ابی تمام حبیب بن اوس طائی اور بحتری اور متأخرون جو ان کے بعد ہوئے۔شعراء حجازو عراق سے ان کے اشعار بالاتفاق استدلال وسند میں پیش نہیں ہوسکتے۔

۲… سید احمد ہاشمی نے تاریخ لغت پر ایک شہرۂ آفاق تصنیف لکھی ہے جس کانام جواہر الادب ہے۔ ادبیات وانشاء العرب کی ہے جس میں جلد ثانی کے شروح میں سند اور زبان کے محاورے معتبر اور غیرمعتبر وغیرہ نقل کئے ہیں۔ ملاحظہ ہو (ص۲۵۵ پھر ص۳۷۳ طبقات الشعراء) کا مستقل ہیڈنگ قائم کیاہے جس میں جاہلی، اسلامی، مخضرمی طبقات نقل کرکے چوتھے نمبر پر محدثین مولدین کا ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں:’’وہم الذین نشاء وزمن فساد العربیہ وامتزاج العرب بالعجم‘‘ یعنی محدثین اور مولدین وہ ہیں کہ جنہوں نے زبان کے خراب اور عربی وعجمی زبان کے اختلاط کے زمانہ میں پرورش پائی ہے۔ پس وہ زمانہ جس میں زبان اور محاورات میں فساد ہو چلا ہو۔ اس کے محاورات یا اس طبقہ کے کلام کاکیا اعتبار، نہ بطور شاہد کے پیش ہوسکتاہے نہ سند بن سکتاہے۔

۳… علامہ حسن چلپی (حاشیہ مطول ص۴۴۳ نمبر۷) پر شعراء کے طبقات مفصل نقل کرکے محدثین ومتأخرین کے متعلق فیصلہ فرماتے ہیں کہ:’’ولا استشہاد بکلامہم‘‘کہ ان کے کلام سے کسی محاوہ کا استشہاد نہیں ہوسکتا۔

پس مختار مدعاعلیہ کی تمام طول وطویل تاویلات وبحث کا صرف ایک یہ جواب ہے کہ نہ یہ شعر معتبر ہے نہ اس شاعر کے کلام سے استشہاد واستدلال کیا جاسکتاہے اور مختار مدعاعلیہ وگواہان مدعاعلیہ اس غیر مستند وغیر معتبر ناقابل استناد استشہاد شعر کے علاوہ کوئی بھی کسی معتبر ومستند جاہلی، مخضرمی، اسلامی شاعر کا حوالہ یا کوئی محاورہ عرب اپنی تائید میں نہیں لاسکے۔ بخلاف اس کے گواہان مختار مدعاعلیہ نے لغت کی مستند کتابوں اور مرزا صاحب کی مسلم و معتبر لغت لسان العرب وتاج العروس سے محاورہ عرب پیش کیا ہے جس کا کوئی بھی جواب مختار مدعاعلیہ کے پاس نہیں۔ ادھر ادھر کی بے ربط چیزوں سے وقت گزاری کی ہے جس کے جواب کے ہم مکلف نہیں۔

جب کہ یہ ثابت ہوچکا کہ یہ شعر اس لائق ہی نہیں کہ اس سے کلام عرب پر کوئی سند یا دلیل لائی جاسکے تو اس کے متعلق تمام بحث بیکار ولاطائل ہے اور اگر یہ لائق استشہاد بفرض محال ہوتا تو بھی یہ بجائے گواہان مدعاعلیہ یا مختار مدعاعلیہ کے مدعیہ اور اس کے گواہان ومختار کو مقید ہوتا۔ کیونکہ شاعر نے اس شعر میں خاتم الشعراء بمعنی آخر الشعراء مراد لیا ہے۔ گو ادّعاء ہی سہی جو ہمارا دعویٰ ہے۔ مہر یا کمال یا زینت

269

وغیرہ کے معنی ہرگز مراد نہیں لئے۔ اس قرینہ اور شاہد اس کا اگلا شعر ہے جو باوجودیکہ اس سے متصل اور معنوی تعلق رکھتا ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے ذکر نہ کیا تاکہ شاعر کی مراد واضح نہ ہو جائے۔ اگلا شعر ملاحظہ ہو:

ماتا معا فتجاورا فی حفرۃ وکذالک کانا قبل فی الاحیاء

ملاحظہ فرمائیں کہ کس قدر وضاحت سے شاعر کہہ رہا ہے کہ شعر اور حبیب شاعر دونوں ساتھ ہی ساتھ ہو کر ساتھ ہی ساتھ قبر میں سو رہے ہیں۔ یوں ہی ان کی موت سے پہلے دونوں زندوں میں تھے۔ گویا وہ شاعر ادائی طور سے حبیب ابن اوس طائی کو آخری شاعر تسلیم کررہا ہے کہ اس کی موت کے ساتھ شعر بھی مر کر اس کے ساتھ مدفون ہوگیا نہ شعررہا نہ کوئی شاعر بننے کا امکان۔ لہٰذا حبیب سب شعراء کے آخری شاعر رہے۔

اب یہ امر کہ شعر اس کے ساتھ مرا اور قبر میں دفن ہوا اور وہ آخری شاعر فی الواقع ہوا یا نہ، اس کے متعلق گزارش ہے کہ شاعرانہ ادّعاء ہے اور اس کے متعدد نظائر فارسی، اردو وشاعری میں بھی موجود ہیں۔ نظامی فرماتے ہیں:

  1. زسم ستو راں دراں پہن دشت

    زمیں شش شد وآسمان گشت ہشت

(وسیم فرماتے ہیں)

  1. تربت استاد پہ کندہ ہو یہ مصرع وسیم

    خانہ دیں بے نبی ملک معانی بے امیر

اس وجہ سے حضرت گنجوی فرماتے ہیں کہ :

  1. در شعر مپیچ کہ در فن او

    چو اکذب اوست احسن او

بہر حال شاعر نے خاتم الشعراء بھی بمعنی آخری شعراء اس جگہ پر استعمال کیا ہے۔ لہٰذا یہ بھی اگر مسلم ہوتا تو ہماری تائید تھا نہ کہ مختار مدعاعلیہ کی۔

آخر میں ہم اس سارے قصہ کو ختم کرنے کے واسطے مرزا صاحب کے متبعین اور مختار مدعاعلیہ کے مسلم اعجازی کلام کا محاورہ پیش کرتے ہیں اور محاورہ بھی تمام شرائط کا جامع کہ لفظ خاتم علاوہ لفظ ’’نبیین‘‘ کے جو مابہ النزاع ہے ایک اور لفظ کی طرف مضاف ہے اور یہ وہ لفظ بھی جمع مذکر سالم ہے۔ مگر معنی آخری کے ہیں۔ یعنی خطبہ الہامیہ جس کے متعلق مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ کسی بشر کو اس جیسے کلام کی طاقت نہیں اور یہ مجھے الہاماً سکھایاگیا ہے اور یہ میرا معجزہ ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ متعلق (خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۳۰۹)

’’کان عیسیٰ خاتم الخلفاء بلسلسۃ الکلیمیہ بہا کآخر اللبنۃ وخاتم المرسلین‘‘ (ایضاً) یعنی جیسے کہ عیسیٰm خاتم سلسلہ کلیمیہ کے تھے اور اس کے لئے مثل آخری زینت اور خاتم المرسلین یعنی آخری رسول تھے۔ ملاحظہ ہو کہ یہاں خاتم المرسلین بالکل خاتم النّبیین کی طرح ہے اور آخر النّبیین کے معنی میں مستعمل ہے اور اس عربی اعجازی کلامی میں جو مدعاعلیہ اور اس کے فریق کو بلا اختلاف مسلم ہے۔ اس کے بعد کسی اور محاورہ کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب جیسا کہ تمام مسلم لغات اور محاورات عرب سے خاتم بفتح التاء کے معنی اصلی ولغوی وحقیقی آخر کے پیش کرچکا اور مرزا صاحب کے اعجازی کلام سے اس کی تائید پیش کردی تو اس کے مجازی استعمال اور اس کے لئے چار وجہ شبہ جو پیش کی گئی ہیں ان کے جواب کی ضرورت نہ نہیں۔ نیز تقریر بالا سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ان دلائل وبراہین قاطعہ اورمسلم ومعتبر حوالوں کے بعد مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ زبان عربی میں خاتم بفتح التاء کا لفظ آخر کے معنی میں مستعمل نہیں ہوا… الخ! محض ادّعاء باطل اور دعویٰ بلا دلیل ناقابل التفات ہے۔

270

خاتم کے معنی آخرکے

قول مختار مدعاعلیہ:

مختار مدعاعلیہ نے صرف ایک حوالہ لسان العرب اور منتہی الارب سے پیش کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ خاتم القوم آخرہم لیکن جیسا کہ ہم نے محاورات اقوالات واستعمالات پیش کئے ہیں ایسے نہیں ہیں۔ کیونکہ مصنف نے اسے کسی ادیب کی طرف منسوب نہیں کیا۔

الجواب: عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے آٹھ حوالے پیش کئے ہیں جن میں دو لسان العرب اور تاج العروس کے وہ تھے جنہیں مرزا صاحب مسلم اور نہایت معتبر مان رہے ہیں۔ جیسا کہ جرح سے حوالہ گزرچکا ہے۔ مگر مختار مدعاعلیہ کو وہ صرف ایک حوالہ معلوم ہوتاہے۔ باوجود یکہ لسان العرب اور منتہی الارب دو کتابوں کے نام خود ہی لے رہا ہے۔ پھر یہ کہنا کہ جیسا کہ ہم نے محاورہ پیش کیا ہے۔ ویسا نہیں یہ لغو ہے۔ کیونکہ وہ تو محاورہ قابل استناد اور حجت ہی نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ مفصل گزرچکا یہ کہنا کہ یہ محاورہ تو ہے۔ مگر کسی ادیب کی طرف منسوب نہیں کیا گیا،محض لغو ہے۔ ڈکشنریوں اور لغت کی مستند کتابوں میں جو بھی محاورات نقل کئے ہیں وہ سب معتبر و مسلم اہل زبان کے ہوتے ہیں۔

ہر محاورہ کے واسطے ادیب کا نام پیش نہیں کیا جاتا۔ لسان العرب اور قاموس اور تاج العروس میں صرف محاورات ہی محاورات مندرج ہیں اور یہ التزام ہے کہ یہ تمام مسلم اہل زبان کے ہیں۔ آج تک کسی نے ایک محاورہ پر کلام نہیں کیا۔ ان کا صرف محاورہ نقل کرنا یا ’’یقال وقولہم‘‘ وغیرہ کہہ دینا اس کے مسلم اہل زبان کے محاورہ ہونے کا کفیل ہے۔ نام بنام محاورہ کے ساتھ ادباء واہل زبان کے نام کی ضرورت نہیں۔ نیز لغت کی ان مذکورہ کتب میں مولدین ومحدثین کے کلام کے محاورہ کو نہیں لیا گیا۔ یہاں تک اس پر کلام ہوسکے۔

ہاں! جہاں کہیں غریب اور وحشی الفاظ کی بحث آتی ہے۔ وہاں بوقت ضرورت شعروں کے ساتھ شعراء کے نام بھی پیش کئے جاتے ہیں۔

بہرحال ہم نے محاورات عرب پیش کردئیے جن کا مختار مدعاعلیہ کے پاس کوئی جواب نہیں اور ایک دو نہیں بلکہ متعدد اور مختار مدعاعلیہ ایک ہی معتبر محاورہ اپنے معانی کی تائید میں نہ لا سکا اور جب آخر کے معنی ثابت ہی ہوگئے تو لفظ آخر میں مندرجہ ذیل تاویلات کیں کہ: ’’لیکن بر تقدیر صحت میں کہتاہوں کہ یہ حوالہ بھی فریق مخالف کو مفید نہیں ہے۔ کیونکہ محاورات عرب میں ایسے مقام پر آخر کے معنی آخری فرد کے نہیں ہوتے بلکہ اشرف اور افضل ہیں۔‘‘

الجواب: پہلے تو یہ مطالبہ تھا کہ خاتم کے آخر معنی بتاؤ اور محاورہ پیش کرو اور جب متعدد حوالے پیش کردئیے تو اب یہ کہا جاتا ہے کہ آخر کے معنی افضل کے ہیں۔ حالانکہ لغت میں تصریح ہے کہ: ’’ومن کل شیٔ عاقبتہ وآخرتہ‘‘ ہر چیز کے انجام اور آخر کا یہ نام ہے کہ عدالت خود محاورات اصل کتب لغت سے ملاحظہ فرمائے۔ وہاں کوئی بھی تاویل نہیں ہوسکتی اور حقیقی طور پر خاتم آخر کے معنی میں مستعمل ہے۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ یہ ایک عجیب مضحکہ خیز تسلسل ہے۔ پہلے تو خاتم کے معنی آخر دکھانے پر زور تھا کہ کہیں لغت عرب میں آخرکے معنی میں نہیں آیا اور جب نہایت معتبر کتب لغت سے جنہیں مرزا صاحب بھی نہایت معتبر فرمارہے ہیں محاورات پیش کردئیے اور آخر کے معنی ثابت ہوچکے تو اب لفظ آخر کی بحث شروع کردی کہ اس کے معنی افضل کے ہیں۔ معلوم ہوا کہ تحقیق منظور نہیں بلکہ صرف طوالت مقصود ہے۔ پھر آخر کے معنی کی تحقیق کے لئے ایک حماسہ کا شعر پڑھ دیا:

  1. شری ودی وشکری من بعید

    لاخر غالب ابداً ربیع

پھر مولوی ذوالفقار علی صاحب دیوبندی سے اس کا ترجمہ نقل کیا کہ: ’’ربیع ابن زیاد نے میری دوستی اور شکر اور بیٹھے ایسے شخص کے لئے جو بنی غالب میں آخری یعنی ہمیشہ کے لئے عدیم المثال ہے خرید لیا۔‘‘ اور نتیجہ یہ نکالا کہ محاورات عرب میں ’’خاتم القوم آخرہم‘‘

271

کے معنی بھی اشرف اور افضل کے ہوںگے۔

الجواب: عدالت عالیہ خود ہی ملاحظہ فرمالے کہ یہ جواب کس قدر بے معنی ولغو ہے۔ اس اعتبار سے دنیا میں کسی لفظ کے کوئی بھی حقیقی معنی ثابت نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ لفظ کہیں نہ کہیں مجازی طور پر دوسرے مجازی معنی میں ضرور مستعمل ہوگا۔ پس اسی کو اس شرح بتا کے انہیں معنی پر ڈھال لیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ یہاں آخر اپنے حقیقی معنی میں گو ادّعاء سہی مستعمل ہے۔ محض مختار مدعاعلیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ چنانچہ اس کے پیش کردہ ترجمہ مولوی ذوالفقار علی صاحب کے آخری فقرہ ملاحظہ ہو کہ: ’’جو بنی غالب میں آخری معنی ہمیشہ کے لئے عدیم المثال ہے۔‘‘

پس جب کہ آخر بمعنی ہمیشہ کے لئے عدیم المثال ہوا اور کبھی اس کے بعد اس کی مثل نہ ہوسکا تو وہ آخری ہوا اور حقیقی آخری نہ کہ افضل واشرف کے معنی میں۔ البتہ شاعرانہ مبالغہ ضرور ہے اور یہ شعر میں ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ گزر چکا ہے۔

بہرحال لفظ خاتم محاورہ عرب میں حقیقی طور پر آخر کے معنی میں مستعمل ہونا بوضاحت ثابت ہوچکا اور تاویلات رکیکہ محض لغو اور بے سود رہیں۔ ایک بھی محاورہ ہمارے خلاف پیش نہ کرسکے۔ ہاں! اپنے طور پر جو چاہا معنی چسپاں کئے جو کوئی حجت نہیں۔

خصوصی استدعا

عالی جاہ! حضور والا نے غور فرمایا ہوگا کہ گفتگو اس امر میں ہے کہ نبی کریمa تمام نبیوں کے آخر ہیں۔ آپ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا۔ اس کے واسطے دنیا کی جس قدر تعبیرات ہوسکتی تھیں شریعت نے استعمال فرمائیں۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ فرمایا۔ ’’لانبی بعدی‘‘ فرمایا۔ محل کے ساتھ تشبیہ دے کر اپنے کو اس کی آخری اینٹ قرار دیا۔ یہ بھی واضح فرمایا کہ میرے بعد نبی نہیں بلکہ خلفاء ہوں گے۔ ’’وسیکون خلفاء‘‘، ’’انا آخر الانبیاء‘‘، ’’آخرہم فی البعث‘‘، ’’آخر ولدک من الانبیاء‘‘ کہ آدم کی اولاد میں آخری نبی، ’’انا آخر الانبیا ومسجدی آخر مساجد الانبیاء‘‘ میں آخری نبی اور میری مسجد نبیوں کی مسجدوں میں آخری مسجد۔ لفظ آخر بھی معہ مکمل تشریح کے فرمادیا۔

آخر اس کے سوا اس مضمون کو ادا کرنے کے واسطے دنیا کی وہ کون سی تعبیر ہوسکتی ہے اور کس طرح آپ کا سب نبیوں سے آخری نبی ہونے کا مفہوم ادا کیا جاسکتاہے۔ اتنا واضح اور روشن مسئلہ اس میں بھی اس قدر تاویلات رکیکہ کی ہیں۔ میں تو سمجھتاہوں کہ اتنی وضاحت کے بعد اگر کسی ایک تاویل کا بھی جواب نہ دیا جائے تو بھی بحمد اللہ ! مسئلہ کا جہاں تک تعلق ہے بالکل واضح ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی بھی کسی طرح کا نبی نہیں ہوسکتا ہے اور بیانات گواہان مدعیہ میں اس قدر حوالہ جات موجود ہیں کہ ان کے بعد کسی قسم کی تاویل قابل التفات نہیں ہوسکتی۔ کوئی بھی عرب کا محاورہ مذکورہ بالا مضمون کے ادا کرنے کا ایسا نہیں مل سکتا جو آنحضرتﷺ نے اس کے متعلق نہ فرمایا ہو۔ مگر کوئی انکار ہی کرتا جائے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔

خاتم النّبیین کے معنی کا ضروریات دین سے ہونا

خلاصہ قول مختار مدعاعلیہ:

گواہان مدعیہ کی طرح مختار مدعیہ نے بھی خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے جس کے بعد اور کوئی کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا۔ مجمع علیہ اور ضروریات دین سے بتایا ہے۔ حالانکہ کسی کے کہنے سے ضروریات دین سے نہیں بن سکتا بلکہ کسی چیز کے ضروریات دین ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ وہ امر قرآن مجید اور احادیث متواترہ سے بدرجہ غایت صحت کے ثابت ہو اور اجماع صحابہ سے بھی ثابت ہو۔ شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں: ضروریات دین وہ امور ہیں جو قرآن مجید اورحدیث مشہور اور اجماع متواتر سے ثابت ہوں۔

(شفاء العلیل)

272

الجواب: اس سلسلہ میں میرے ایک حوالہ پر تبصرہ کرکے اسے غلط ثابت نہ کرسکے میں نے خود اسے ضروریات دین سے نہیں کہا اور نہ یہ دعویٰ شہادت یا بحث میں بلا دلیل چھوڑا ہے بلکہ بحمد اللہ ! وہاں کافی دلائل پیش کئے ہیں اور اعیان نقل کی شہادتیں منقول ہیں۔ بحمد اللہ ! بالکل لاجواب رہی ہیں۔ اعادہ کی ضرورت نہیں بلکہ ایک ان میں سے بطور نمونہ کے پیش ہے۔ ’’اذا لم یعرف ان محمدa آخر الانبیا فلیس بمسلم لانہ من ضروریات الدین‘‘

(اشباہ والنظائر ص۲۹۶، گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳،۵)

یعنی آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین، آخر الانبیاء نہ ماننے والا مسلمان ہی نہیں کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے۔

پس میں نے ضروریات دین میں سے ہونے کی تصریح پیش کی ہے۔ اس کے مقابل نہ مختار مدعاعلیہ نے اس کی کوئی باسند حوالہ سے تردید پیش کی نہ اپنی تائید میں کہ یہ معنی ضروریات دین سے نہیں کوئی حوالہ پیش کیا، نہ اس پرکوئی حوالہ دے سکے کہ ان کے تصنیف کردہ معنی ضروریات دین سے ہیں۔ اب ایک معنی ضروریات دین کے واسطے قائم کئے ہیں اور شفاء العلیل کا حوالہ دیا ہے جس کا خلاصہ تین امور ہیں۔ جہاں وہ مجتمع ہوں وہ ضروریات دین سے ہے۔

۱… قرآن مجید سے ثابت ہو۔

۲… احادیث متواترہ یا مشہورہ سے۔

۳… اجماع صحابہ سے۔

جواباً گزارش ہے کہ جب میں مستند علماء اور ارباب نقول سے ضروریات دین ہونے کی تصریح پیش کردی تو ہمیں ضرورت نہ تھی کہ ہر جزو کا ثبوت پیش کریں۔ مگر محض اتمام حجت کے واسطے گزارش ہے کہ مختار مدعاعلیہ کے پیش کردہ ہر سہ امور کے معیار پر بھی بحمد اللہ ! ہمارے پیش کردہ معنی خاتم النّبیین ضروریات دین میں سے ہیں۔ تفصیلاً اصل بحث میں بیانات گواہان مدعیہ کے حوالہ سے یہ اپنے پیش کردہ معنی اوّلاً قرآن مجید سے پھر احادیث متواترہ مشہورہ سے پھر اجماع صحابہ وامت محمدیہ سے پیش کرچکاہوں جن کو بخوف طوالت مکرر نقل نہیں کرتا۔ صرف حوالے اس امر کے پیش کرتاہوں کہ ہماری طرف سے پیش کردہ معنی خاتم النّبیین مختار مدعاعلیہ کے ہر سہ معیار کے مطابق بھی ضروریات دین میں سے ہیں۔ حوالہ ملاحظہ ہو ایک جامع حوالہ۔

۱… ’’کونہa خاتم النّبیین ممانطقت بہ الکتاب وثبت بہ السنۃ واجتمعت علیہ الامۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر‘‘

(روح المعانی ج۸ ص۳۹، گواہ مدعیہ نمبر۲،۳،۴)

یعنی آنحضرتﷺ کا خاتم النّبیین اور آخری نبی ہونا قرآن مجید، احادیث رسول مقبولa اوراجماع امت سے ثابت ہے، اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر اور اگر مصر ہو تو اسلامی سلطنت میں قتل کیا جائے گا۔

عدالت خود ہی ملاحظہ فرمالے کہ ہر سہ اصول قائم ہوں وہ مختار مدعاعلیہ موجود ہیں۔

۱… قرآن مجید بحث میں متعدد آیات مدلل ومفصل آچکیں نیز حوالہ ماسبق کافی ہے۔

۲… احادیث متواترہ مشہورہ ’’وبذالک ورد احادیث المتواترہ عن رسول اللہ ﷺ‘‘

۳… اجماع صحابہ سے ’’من حدیث جماعۃ من الصحابۃ‘‘

(ابن کثیر ج۸ ص۸۹ گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳،۴،۵)

یعنی اس پر کہ معنی خاتم النّبیین یہ ہیں کہ جس کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہ بن سکے۔ احادیث متواترہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرامi کی جماعت سے آئی ہیں۔

273

نیز گواہ نمبر۱کے بیان میں صدیق اکبرq کے زمانہ میں اس پر اجماع ہونا بیان میں گزرچکا ہے۔ پس بحمد اللہ ! ہر پہلو سے اس مسئلہ کا ضروریات دین سے ہونا اور اس کے منکر کا کافر ہونا ثابت ہوگیا۔ اس کے بعد مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ یہ معنی قرآن مجید واحادیث متواترہ واجماع صحابہ سے ثابت نہیں محض لغو ہے۔ اس کے بعد یہ کہنا کہ بعض فرقہ اہل حدیث وغیرہ اس اجماع کو اجماع ہی نہیں کہتے… الخ! محض بیکار ولغوہے۔ بعض اہل حدیث نہ سمجھیں تمام مقلدین وائمہ دین تو سمجھتے ہیں اور امام مالک وغیرہ کے قول کے متعلق بحث میں مفصل گزر چکا آئندہ بھی ان شاء اللہ !بحث اجماع کے تحت میں آئے گا۔

پھر مولوی محمدحسین بٹالوی کا اجماع کے خلاف ایک حوالہ دیا ہے کہ ایک جماعت کا اتفاق ہے اجماع نہیں کہلاتا۔

اوّلاً مولوی محمدحسین بٹالوی غیر مقلد مسلم ہی نہیں نہ ائمہ کے مقابل ان کی ذاتی رائے قابل التفات ہے۔ دوسرے اس مسئلہ متنازعہ اور معنی خاتم النّبیین کے معاملے میں ایک جماعت کا اتفاق نہیں، بلکہ تمام صحابہ اور تمام امت کا اجماع ہے۔ جیسا کہ مختصراً ابھی عرض کرچکا اور مفصلاً بحث میں گزر چکا جس کاکوئی بھی جواب نہ ہوسکا۔

اس مسئلہ میں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی بھی اختلاف نہیں رکھتے۔ مرزا صاحب کی تردید کے سلسلہ میں (اشاعۃ السنۃ کے بھی پیش کردہ ۸،۹،۱۰ نمبر) ملاحظہ ہوں اور جن بزرگوں پر اس کی مخالفت کا الزام لگایا گیاتھا۔ اس کا محض مغالطہ اور بہتان صریح ہونا۔ بحث میںمدلل آچکا اور اپنی جگہ پر جواب الجواب میں بھی ان شاء اللہ تعالیٰ! مختصراً آئے گا۔

اس کے بعد مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’یہ معنی قطعاً ضروریات دینی سے نہیں ہوسکتے۔‘‘ محض دعویٰ بلا دلیل اور ناقابل التفات ہے اور بحمد اللہ ! ان معنی کا ضروریات دینی سے ہونا نہ صرف میرے پیش کردہ دلائل بلکہ ائمہ دین کی تصریحات سے مصرح ثابت ہے جس کی کوئی بھی تاویل نہیں ہوسکتی۔ نہ مختار مدعاعلیہ سے کوئی تاویل بن سکی۔

کیا تاویل کی وجہ سے کوئی کافر ہوسکتاہے

یہ وہی شہادت والا عنوان ہے جس کے ایک ایک حرف کا مدلل جواب بحث میں پیش کرچکا اور عدالت کی یاد داشت میں بھی موجود ہے۔ پھر بھی اسے انہیں الفاظ میں دلائل سے مکرر دہرایا گیا۔

مجھے مکرر جواب کی حاجت نہیں صرف یہ گزارش کر دوں کہ یہ امر زیر نزاع بھی نہیں کہ: ’’کیا تاویل سے کوئی کافر ہوسکتا ہے یا نہ۔‘‘ صرف تاویل پر بحث نہیں جس پر بلا وجہ طوالت دی۔ بلکہ بحث یہ ہے کہ ضروریات میں تاویل کرنے والا کیا کافر ہے؟ میں اس کے متعلق کہ ضروریات دینی میں تاویل سے کافر ہوجاتا ہے۔ متعدد حوالہ بحث میں شفاء شریف، رد المختار، سائرہ وغیرہ بیانات کے حوالہ سے پیش کرچکا۔ جن کا اعادہ نہیں کرتا۔ مفصل یہ بحث دیکھنا ہوتو کتاب ’’اکفار الملحدین فی ضروریات الدین‘‘ ملاحظہ فرمائیں جس کا موضوع ہی یہ ہے کہ ضروریات دینی میں تاویل ناجائز وکفر ہے۔

بہر حال یہ مسئلہ عمومی رنگ میں یہاں متعلق نہیں۔ بیان سے صرف اس قدر تعلق ہے کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی کہ آپa کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا۔ اس میں تاویل جائزہے یا نہ، اس پر مختار مدعاعلیہ نے ایک بھی حوالہ پیش نہ کیا۔ باوجودیکہ میں نے متعدد مصرح حوالہ بحث میں بیانات گواہان مدعیہ سے پیش کئے تھے۔ ایک نمونۃً پیش ہے کہ: ’’لانہa انہ خاتم النّبیین لا نبی بعدہ واخبر عن اللہ تعالیٰ انہ خاتم النّبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجتمعت الامۃ علی حمل ہذا الکلام علی ظاہرہ وان مفہومہ ہو المراد بہ دون تاویل وتخصیص فلا شک فی کفرہ ہؤلاء الطوائف کلہا قطعاً واجماعاً وسعماً‘‘

(شفاء شریف، قاضی عیاض ج۲ ص۱۷۱)

274

یعنی نبی کریمa نے خبر دی کہ میں ایسا خاتم النّبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا اور باری تعالیٰ نے اپنا خاتم النّبیین اور تمام لوگوں کی طرف رسول بن کر بھیجے جانے کی خبر دی اورتمام امت نے بلا استثناء اجماع کرلیا کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر محمول ہے اور اس کا یہی ظاہری مفہوم ( کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا) بلا کسی تاویل وتخصیص کے مراد ہے۔ پس (اس کے مخالف) ان تمام فرقوں کے کفر میں قطعاً اجماعاً وسمعاً ذرہ برابر شک نہیں۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے وہ معنی جو مدعیہ کی طرف سے پیش کئے گئے۔ ان میں کسی طرح کی بھی تاویل جائز نہیں۔ لہٰذا اب تاویل کی عمومی بحث کے لایعنی سلسلہ میں جانے کی ضرورت نہیں۔ مدّعابالکل واضح ہے اور مفصل جواب ابتدائی بحث میں موجود ہے۔ عدالت وہیں سے ملاحظہ فرمائے۔

مرزا صاحب کے نزدیک خاتم النّبیین کے معنی

اس سلسلہ میں مختار مدعاعلیہ نے تقریباً ۵صفحہ لکھے ہیں اور (الوصیت، حقیقت النبوۃ، الحکم، چشمہ معرفت، لیکچر سیالکوٹ، ایک غلطی کا ازالہ، اخبار عالم، چشمہ مسیحی، مواہب الرحمن، خطبہ الہامیہ، کشتی نوح، اربعین، تحفہ گولڑویہ، حقیقت الوحی، استفتاء وغیرہ وغیرہ) اکثر جدید حوالے پیش کرکے یہ ثابت کرنا چاہاہے کہ جہاں کہیں مرزا صاحب نے آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے سے یہ مراد لی ہے کہ آپ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں آسکتا۔ وہاں وہ نبی مراد ہیں جو مستقل صاحب شریعت ہو… الخ!

یہ محض مغالطہ دیا ہے۔ ۱۹۰۱ء سے پہلے تک مرزا صاحب کو اپنی نبوت کا پتہ ہی نہ تھا، نبوت پر پردہ ہی پڑا تھا۔ ملاحظہ ہو:

(حقیقت النبوۃ ص۱۴۴،۱۴۵)

’’اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان حکمتوں میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں پر رحم فرما کے اوران کے ایمانوں کو آہستہ آہستہ مضبوط کرنے کے لئے بعض باتوں کو رفتہ رفتہ ظاہر کرتاہے… اگر آپ کو یک لخت مسیح کی وفات اور اپنی نبوت کے اعلان کرنے کا حکم ہوتا تو آپ کی جماعت کے لئے سخت مشکلات کا سامنا ہوتا… اسی طرح آپ کو براہین کے زمانہ ہی میں نبی قرار دیا لیکن اس پر بھی ایک پردہ خفا ڈالے رکھا… اور پوشیدہ اس لئے رکھاتا متلاشیان صداقت پر حد سے زیادہ نہ بوجھ پڑ جائے۔ پھر دس سال بعد وفات مسیح کے مسئلہ پر سے پردہ اٹھا دیا۔ لیکن مسئلہ نبوت پر ایک پردہ پڑا رہا تاکہ جماعت اپنے اندر ایک مضبوطی پیدا کرلے۔ حتیٰ کہ ۱۹۰۱ء میں اس پردہ کو بھی اٹھا دیا اور حقیقت کھل گئی… الخ!

(حقیقت النبوۃ ص۱۴۴،۱۴۵، انوار العلوم ج۲ ص۴۶۵،۴۶۶)

پس ۱۹۰۱ء سے قبل تمام مسلمانوں کی طرح موافق قرآن وحدیث مرزا صاحب کا یہی عقیدہ تھا کہ آنحضرتﷺ خاتم النّبیین ہیں کہ آپ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا۔ نہ اس میں کوئی تخصیص واستثناء ہوسکتا ہے، نہ امکان تخصیص ہے۔ بلکہ خود مرزا صاحب نے تصریح فرمادی ہے کہ اس میں کسی قسم کی تخصیص واستثناء نہیں۔ ملاحظہ ہوں حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں:

۱… ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبیناa خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیانٍ واضحٍ للطالبین ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبیناa لجوزنا انفتاح باب النبوت بعد تغلیقہا وہٰذا خلف کما لایخفی علی المسلمین وکیف یجیٔ نبی بعد رسولناa وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النّبیین‘‘

(حمامۃ البشری ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)

(ترجمہ) ہم نے محمدa کو کسی مرد کا باپ نہیں بنایا۔ ہاں! وہ اللہ کا رسول اور نبیوں کا خاتم ہے۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء کہا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرتﷺ نے طالب علموں کے لئے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اگر ہم آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتاہے کہ وحی نبوت کے دروازہ کا

275

انفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی کیونکر آئے۔ حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ نبوت کو ختم کردیا ہے۔

۲… حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کو جو خط لکھا ہے اس میں یہ بھی ہے، ہر نبوت رابر وشد اختتام۔

۳… ’’آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آجائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے… لیکن ختم نبوت کا بہ کمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے… اور حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام… الخ!‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)

۴… ’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

۵… ’’اور یقین کامل سے جانتاہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتاہوں کہ ہمارے نبیa خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔‘‘

(نشان آسمانی ص۲۸، خزائن ج۴ ص۳۹۰)

’’ماکان اللہ ان یرسل نبیاً… الخ!‘‘ خدا کوئی بھی نبی بعد ہمارے نبی خاتم النّبیین کے نہیں بھیجے گا۔

(آئینہ کمالات ص۳۷۷، خزائن ج۵ ص۳۷۷)

عبارات مذکورہ بالا میں فقرات مندرجہ ذیل خصوصیت سے قابل لحاظ ہیں۔

۱… ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا۔

۲… آنحضرتﷺ نے تفسیر یہ کی ہے کہ: ’’میرے بعد کوئی بھی نبی نہیں۔‘‘

۳… آنحضرت کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں… الخ!

۴… آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی کیونکر آئے… الخ!

۵… ہر نبوت رابروشد اختتام۔

۶… آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی آجائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے۔

۷… پرانے یا نئے نبی کی تفریق شرارت اور لا نبی بعدی میں نفی عام ہے۔

۸… قرآن کریم بعد خاتم الانبیاء کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔

۹… خاتم الانبیاء کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا، نیا ہو یا پرانا۔

۱۰… خدا کوئی بھی نبی بعد ہمارے خاتم النّبیین کے نہیں بھیجے گا۔

اب عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ بلا استثنا عموم اور لفظ کسی اور نبی اور ہر نبوۃ غرض جس قدر بھی عموم کے لفظ ہوسکتے ہیں، سب ہی موجود ہیں۔ اس پر بھی مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ اس سے مراد صرف مستقل صاحب شریعت نبی نہیں، محض غلط اور بے معنی ہے۔ پھر جس پر گواہان مدعاعلیہ کا ایمان تھا کہ خلیفہ دوم صاحب وہ بھی ۱۹۰۱ء سے قبل تک وہی مانتے ہیں جو میں نے عرض کیا۔ لہٰذا مختار مدعاعلیہ کی یہ رکیک تاویل بالکل خلاف واقع اور ناقابل التفات ہے۔

انقطاع نبوت پر دوسری پیش کردہ آیات کا صحیح مطلب

دوسری آیت: ’’الیوم اکملت لکم دینکم (المائدۃ:۳)‘‘

276

خلاصہ جواب:

۱… اس آیت میں انقطاع نبوت کا ذکر نہیں، بلکہ اکمل دین و اتمام نعمت کا ہے۔

۲… اکمال دین وانقطاع نبوت لازم وملزوم نہیں، پہلے دین کی اشاعت کے لئے بھی نبی آتاہے۔

۳… اس سے صرف اتنا نکلتاہے کہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں آئے گا۔

۴… گواہان اور مختار مدعیہ خود حضرت عیسیٰm کے نبی ہونے کی حیثیت میں نزول کے قائل ہیں۔

۵… اگر دین کا مکمل ہونا کسی نبی کے آنے کو مانع ہے تو اسرائیلی نبی دین کی ترویج کے لئے کیوں آئے گا۔

الجواب علی ترتیب السوال

۱… اکمال دین اور اتمام نعمت سے مراد انقطاع نبوت ہی ہے۔ کیونکہ یہاں نعمت سے نعمت نبوت ہی مراد ہے۔ اس کی تائید میں قرآن وحدیث و دیگر اسلاف واخلاف کے اقوال سے بیان گواہ مدعیہ نمبرالف و۲،۳ میں مصرح موجود ہے جس پر ایک بھی اعتراض نہیں پڑتا۔ عدالت مسل سے ملاحظہ فرمائے۔

۲… اکمال دین واتمام نعمت وانقطاع نبوت یقینا لازم وملزوم ہیں۔ جب ہی تو جس پر یہ آیت اتاری اسی کو خاتم النّبیین قرار دیا۔ خود مختار مدعاعلیہ کو اس کا اسی تحت میں اعتراف ہے۔ لیکن آیت صرف محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے تو آپ خاتم النّبیین ہوئے۔ کیونکہ آپ نے کوئی حکمت اور کوئی ہدایت اور کوئی علم اور کوئی سرّ ایسا نہیں چھوڑا جس کی ضرورت ہو اور آپ نے نہ بتایا ہو۔

پہلا کوئی بھی دین کامل ومکمل نہ تھا، کسی میں افراط، کسی میں تفریط تھی۔ بہرحال ناقص تھے۔ اس لئے نبی آکر وحی الٰہی کی روشنی میں تبلیغ کرتا تھا اور یہ دین کامل ومکمل ہے جس کے بعد بقول صدیق اکبرq وحی منقطع ہے۔ ’’انہ تم الدین وانقطع الوحی‘‘ (بحوالہ سابق) پس کوئی بھی نبی نہیں آسکتا نہ ضرورت ہے۔ اشاعت و تبلیغ پہلے انبیاء کاکام تھا اور اب ہر عالم مسلمان ’’بلغوا عنی ولو آیۃ ولو حدیثا… الخ! اسی لئے اس امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح قرار دئیے گئے کہ جو کام بنی اسرائیل میں ترویج وتبلیغ دین انبیاء کرتے تھے وہ اس امت میں بوجہ ختم ہو جانے سلسلہ بعثت نبوت کے علماء ربانیین کریں گے۔ جیسا کہ آج تیرہ سو سال تک تعامل رہا۔

۳… اس سے ہر گز صاحب شریعت جدیدہ کا نہ آنا نہیں نکلتا۔ خیر یہ تو مان لیاکہ انقطاع نبوت نکلتاہے۔ گو صاحب شریعت جدیدہ سہی۔ اب گزارش ہے کہ اصل بحث اور بیان گواہان مدعیہ میں عموم پر قرآن وحدیث واقوال سلف سے حوالہ گزر چکے۔ اس کے مقابل مختار مدعاعلیہ کی بلا کسی قرینہ وثبوت کے محض ذاتی رائے کہ صاحب شریعت جدید ہ کا اسی سے انقطاع نکلتاہے۔ محض لغو وناقابل التفات ہے۔

۴… عیسیٰm کا منصب نبوت پر نازل ہونا کوئی بھی نہیں مانتا۔ ہاں! صفت نبوت ان سے مسلوب نہ ہوگی۔ مگر منصب نبوت اور اس کی ڈیوٹی نہ ہوگی۔ بلکہ امتی اور مجدد کی حیثیت میں ہوں گے جس کے مفصل حوالے فتاویٰ ابن حجر اور فتوحات مکیہ جووغیرہ سے گزر چکے اور احادیث کے سلسلہ میں بعض پر آئیں گے۔ گواہ مدعیہ نمبر۲،۳ نے جرح میں بھی اسے صاف کردیا ہے۔

۵… یہ کہنا کہ اگر دین کا مکمل ہونا کسی نبی کے آنے کو مانع ہے تو اس سے اسرائیلی نبی ترویج دین کے لئے کیوں آئے گا،محض مغالطہ ہے۔ کیونکہ اگر حضرت عیسیٰm بحیثیت نبی آئے تو یہ اعتراض تھا۔ وہ تو امتی اور مجدد ہونے کی شان سے آئیں گے۔ پس جیسے مجددین سے خاتم النّبیین پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یوں ہی ان کے آنے سے بھی کوئی خرابی نہ ہوگی۔ بلکہ اس میں اور شان نبوت محمدیہ کا اظہار ہے کہ آپ کی نبوت ایسی تام ہے کہ بنی اسرائیل کا جلیل القدر نبی بھی اس امت کے شمار میں آکر ایک امتی کی طرح تبلیغ دینی وترویج سنت نبویہa کرتاہے۔ باقی مفصل جواب کچھ اوپر بھی آچکا ہے۔ باقی سلسلہ احادیث میں آئے گا۔ عدالت پر یہ امر بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ

277

گواہان مدعیہ اور مختار مدعیہ نے اس آیت کا خاتم النّبیین کی تفسیر اور انقطاع نبوت پر دال ہونا، قرآن وحدیث اقوال سلف ائمہ ومفسرین سے مدلل ثابت کیا ہے۔ بخلاف مختار مدعاعلیہ کے کہ اس کا جواب محض احتمالات عقلیہ اور اپنے ذاتی خیالات اور تاویلات سے دینا چاہا ہے جو قابل التفات ہی نہیں۔ کیونکہ تفسیر با لرائے تو مرزا صاحب بھی جائز نہیں بتاتے۔ ملاحظہ ہو(برکات الدعا مرزا صاحب) آخیر میں مختار مدعاعلیہ نے ایک چھٹا نمبر ڈال کر اصل بات کا عنوان دے کر یہ کہا ہے کہ اکمال دین واتمام نعمت ہی چاہتاہے کہ آپ کی پیروی سے نبی بنیں اور اس پر بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر ا کا حوالہ دیا ہے۔

جواباً گزارش ہے کہ ان تخیّلات اور بلا دلیل تاویلات سے اعتقادیات کا ثبوت اور تفسیر کلام الٰہی تو ہو نہیں سکتی۔ اکمال دین یا اتمام نعمت کے معنی کسی نے آج تک نبی کریمa، صحابہ کرام، علماء سلف وخلف نے یہ نہ سمجھا۔ کتاب کی اتباع سے نبی بنتے رہیں گے۔ یہ محض دعویٰ بلا دلیل ہے اور تمام آیات ختم نبوت واحادیث صحیحہ واجماع امت واجماع صحابہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا قابل التفات نہیں۔ تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳،۴ وبحث مختار مدعیہ۔ اس کے بعد کتاب (انسان کامل سید عبدالکریم جیلی کی ایک عبارت ص۷۶) سے نقل کرکے مغالطہ دینا چاہاہے اور جس قدر امور اس سے بطور نتیجہ اخذ کئے ہیں۔ وہ سب محض مغالطہ ہیں بلکہ وہ تو یہاں بکمال تصریح ختم نبوت کو بیان فرمارہے ہیں اور آپ کے بعد وہ نبوت کا جواز ہی نہیں مانتے اورکوئی حکمت ہدایت اور علم باقی نہیں مانتے جس کے واسطے کوئی نبی آئے اور لفظ تشریع سے معنی غلط خلاف اصطلاح مصنف لے کر مغالطہ کی سعی کی ہے۔ تفصیل کے واسطے (انسان کامل ص۶۸) ملاحظہ ہو جو گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، ۲۸؍ مارچ ۱۹۳۳ء جرح میں پیش ہوچکا ہے۔ نیز یہ عبارت من جملہ دلائل ختم نبوت گواہ مدعیہ نمبر۲،۳ نے اپنے اصل بیان میں مفصل لیا ہے۔ وہیں سے ملاحظہ ہو جس کے بعد یہ مغالطہ بالکل صاف ہوجاتاہے۔

اس کے بعد مختار مدعاعلیہ نے آیت (۲) ’’وما ارسلناک الا کآفۃ للناس (سبا:۲۸)‘‘ (۳) ’’قل یٰآیھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف:۱۵۸) ولکل قوم ہاد (الرعد:۷)‘‘ نقل کی ہیں اور اپنے لفظوں میں ایک مطلب گواہان مختار مدعیہ کی طرف منسوب کر کے مندرجہ ذیل تاویلیں کی ہیں۔

۱… ان آیات میں آئندہ نبی آنے نہ آنے کا کوئی ذکر نہیں۔

۲… بتصریح حدیث اس میں عموم دعوت کا ذکر ہے۔

۳… جیسے حضرت موسیٰm بنی اسرائیل کے لئے نبی تھے۔ پھر بھی دوسرے نبی ان کے ماتحت آئے۔ یوں ہی آپ کی امت میں نبی کا آنا عمومیت دعوت کے منافی نہیں۔

۴… ’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولا (المزمل:۱۵)‘‘ کی رو سے آنحضرتﷺ جب مثیل موسیٰ ہوئے تو اس کی تکمیل کے لئے، جیسے ان کے بعد نبی آئے یہاں بھی آنا چاہئے اور چونکہ خاتم النّبیین بھی آپ کی صفت ہے۔ لہٰذا مستقل نہ ہوگا بلکہ آپ کے تابع ہوگا۔

الجواب: اجمالاً یہ گزارش ہے کہ عدالت ان آیات کا مدلل گواہ مدعیہ نمبر الف، ۲،۳،۴ کو سامنے رکھ کران جوابات اورمحض اٹکل کی تاویلات رکیکہ کا مقابلہ فرمائے کہ یہ تاویلات کس قدر بے ربط اور لاجوابی کا ثبوت ہیں۔

مرتب تفصیل جواب

۱… مدلل بیانات میں پیش ہوچکا کہ قیامت تک عمومیت دعوت وعموم رسالت مستلزم انقطاع نبوت کو ہے اور اس سے زائد تصریح نہیں ہوسکتی کہ آپ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں آسکتا۔ تفصیل کے واسطے بیان گواہ مدعیہ نمبرالف اور ان آیات کی تفسیر میں تفسیر ابن کثیر وابن جریر

278

ملاحظہ ہو۔ اکثر حوالے بیانات گواہان مدعیہ میں موجود ہیں۔

۲… جب کہ اس میں عموم دعوت تسلیم کر لیا تو انقطاع نبوت جو اس کا لازم ہے وہ بھی لازماً تسلیم کرنا ہوگا۔ کیونکہ قیامت تک تمام بنی نوع کے واسطے عموم دعوت اتمام نعمت کے بعد کوئی دوسرا نبی بن ہی نہیں سکتا۔

۳… حضرت موسیٰm کے بعد دوسرے نبی آنے پر نبی کریم خاتم النّبیینa کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ تمام بنی نوع کے لئے نہ تھے۔ نیز ان کی دعوت کا عموم نہیں تھا۔ ان پر تکمیل دین واتمام نعمت ہی یوں نہ ہوا۔ انہیں خاتم النّبیین بھی نہیں ٹھہرایا گیا، بخلاف سید المرسلین وخاتم النّبیینa کے۔ پس یہ قیاس مع الفارق محض لغو ہے۔ صرف عموم دعوت بنی اسرائیل کو نہ دیکھا جائے۔ بلکہ اس کے ساتھ دوسرے امور مذکور ہ بھی قابل لحاظ ہیں۔ جب ہی تو یہ آیات تائیداً پیش کی گئی ہیں، نہ مستقلاً۔

۴… خاتم النّبیین نے خود ہی مستقل کی تخصیص کردی۔ حالانکہ خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی جسے کے بعد کوئی بھی کسی طرح کا نبی ظلی وبروزی نہ اس کے مدلل ثابت ہوچکا۔ پس مثیل ہونا صرف اس امر میں ہے کہ جیسے وہ نبی تشریعی تھے۔ ایسے ہی آنحضرتﷺ بھی نبی تشریعی ہیں۔ چنانچہ اس آیت: ’’انا ارسلناالیکم‘‘ میں تمام ائمہ ومفسرین بلکہ گواہ ومختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ شیخ عبدالوہاب وامام محی الدین ابن عربی نے بھی تصریح فرمائی ہے۔ تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہوشہادت گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳۔

مختار مدعاعلیہ کی چند آیات کے متعلق عاجزی

اس کے بعد مختار مدعاعلیہ نے گواہ مدعیہ نمبر۱ کے بیان سے (۱) سراجاً منیراً (الاحزاب:۴۶) (۲) قل لئن اجتمعت الانس (بنی اسرائیل:۸۸) (۳) بالحق انزلناہ (بنی اسرائیل:۱۰۵) (۴) اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول (النساء:۵۹) (۵) میثاق النّبیین (آل عمران:۸۱) (۶) انا نحن نزلنا الذکر (الحجر:۹) یہ چھ آیات نقل کی ہیں مگر جواب کیا ہوسکتاتھا۔ اس کے بعد یہ فرماتے ہیں کسی آیت سے ایسی نبوت کا جس کے ہم قائل ہیں، انقطاع ثابت نہیں ہوا۔ وغیرہ وغیرہ!

محض تاویلات رکیکہ بلا کسی دلیل کے پیش کی ہیںجن کے دیکھنے سے ہر شخص اندازہ کرسکتاہے کہ مختار مدعاعلیہ کے پاس کچھ بھی ضابطہ کا بھی ان کے متعلق جواب نہیں۔ میں بجائے کسی تفصیلی کے جواب کے عدالت عالیہ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتاہوں کہ ان تاویلات کو بیان گواہ نمبرالف سے ملاکر ملاحظہ فرمالیں۔ وہاں کوئی مطلب اپنی عقل ورائے سے نہیں بیان کیاگیا، بلکہ مدلل نقل پیش کی گئی ہیں اوران تمام تاویلات کا سد باب کردیا ہے۔

پھر آخر میں مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’آنحضرتﷺ کی اولاد روحانی میں سے ایک فرد کو حضور کی پیروی کی برکت سے اگر مقام نبوت حاصل ہوجائے تو اس میں کون سا گناہ لازم آتاہے۔‘‘ محض لغو اور بیکار ہے گناہ کیا ساری دین کی عمارت ہی مسمار ہوجائے گی۔ اس میں قرآن پاک، احادیث نبویہ، تمام صحابہ کرام ائمہ دین کی مخالفت کے علاوہ نبی کریمa کی سخت توہین اور کفر عظیم ہے۔ تفصیل کے واسطے ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعیہ نمبر۲،۳ وبحث مختار مدعیہ۔

بحمد اللہ ! گواہ مدعیہ کی پیش کردہ تمام آیات بالکل لاجواب ہیں اور اپنے الفاظ میں اس کا مطلب ڈھال کر بھی مختار مدعاعلیہ جواب نہ دے سکا۔ عدالت جب بیانات کا مقابلہ وملاحظہ فرمائیں گے تو اصل حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

(آیات کا جواب الجواب ختم ہوا)

پیش کردہ احادیث کا صحیح مطلب

خلاصہ قول مختار مدعاعلیہ:

279

۱… گواہان مدعاعلیہ نے ان کے جوابات دئیے تھے مگر مختاران مدعیہ نے اس سے سکوت کرکے صحیح تسلیم کرلیا اور کوئی جواب نہ دیا۔

۲… مختار مدعیہ کا دو سو یا سترہ کہنا مغالطہ ہے، صرف تیرہ احادیث پیش کی ہیں۔

۳… ان تیرہ میں بھی بعض ضعیف ہیں۔

الجواب:

۱… جو قابل اعتناء جواب تھا، اس کا ایسا فیصلہ کن جواب الجواب دیاگیا تھا کہ اس کے بعد امید تھی کہ مختار مدعا علیہ اس کانام بھی یہ نہ لیتا۔ مگر تعجب ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ سکوت اختیار کیا اور صحیح تسلیم کر لیا۔ یہ ضرور ہے کہ تمام اعتراضات کا صرف ایک جامع جواب دیا تھا کہ ان تمام جوابات گواہان مدعاعلیہ کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ یا ’’لانبوت بعدی‘‘ وغیرہ میں نبوت تشریعی ومستقل وغیرہ کی تاویل ’’لافتی الّا علی فلا کسریٰ بعدہ لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب‘‘ وغیرہ سے کرتے ہیں۔ مگر غالباً انہوں نے مرزا صاحب کی تصانیف کا پورا مطالعہ نہیں کیا۔ وہ تو اس تخصیص کو شرارت اور گستاخی بتاتے ہیں اور ’’لا نبی بعدی‘‘ میں نفی عموم کے معنی میں لیتے ہیں اور اس کے واسطے (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) سے تقریباً سترہ(۱۷) سطریں پیش کی تھیں۔ اس کے بعد یہ گزارش کی تھی کہ اس حوالہ کے بعد غالباً مختار مدعاعلیہ ان جوابات کا مکرر نام بھی نہ لیں۔ کیونکہ ایک اجمالی جواب کافی ہے اور اگر پھر بھی وہ تاویلات رکیکہ دہرائیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! ان کی تشفی کے لائق مفصل ہر ایک کا جواب علیحدہ علیحدہ ہی پیش کردیا جائے گا۔ یہ حوالہ اسی سلسلہ میں بحث ابتدائی میں پیش کرچکاہوں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ سکوت اختیار کرکے صحیح تسلیم کر لیا محض جھوٹ اور افتراء خالص ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اسے جواب نہ خیال کریں۔ حالانکہ یہ جواب مرزا صاحب کے الفاظ میں ہے۔ یہ تو زیادہ قابل لحاظ ہوناچاہئے تھا۔

۳،۲… دوسو(۲۰۰) احادیث اس سلسلہ میں ہونے کاقول کثرت احادیث ہونے کے سلسلہ میں بحوالہ گواہ مدعیہ نمبر۳ پیش کیا گیا تھا، نہ یہ کہ دو سو(۲۰۰) احادیث پیش کی گئیں۔ عدالت ملاحظہ فرمالے اصل بحث کے وقت گواہ نمبر۳ کے اصل الفاظ پیش کئے تھے۔ سترہ (۱۷) کو مغالطہ اور صرف تیرہ(۱۳) پیش کردہ بتانا بالکل صحیح نہیں۔ ہاں! شاید اس سے مغالطہ لگ گیاہوکہ احادیث پیش شدہ کو میں نے مطلق حکم نبوت بعد آنحضرتﷺ علیحدہ اور تفسیر خاتم النّبیین کی علیحدہ اور جن میں آخر الانبیاء یا آخر النّبیین کی تصریح ہے۔ وہ علیحدہ ہیڈنگ کے تحت جمع کی تھیں اور کل اس سلسلہ کی بیانات گواہان مدعیہ اور جرح سے (۲۶) نقل کی تھیں میں صرف ان کا حوالہ بلا نقل دیتا ہوں۔

احادیث (۳) بروایت ابی ہریرہq (بخاری ومسلم وابوداؤدوترمذی) از بیان گواہ مدعیہ نمبرالف، ۱،۲،۳،۴۔

حدیث (۱) بروایت ابی حازمq ( بخاری ومسلم) بحوالہ گواہ مدعیہ نمبرالف،۲،۳،۴۔

حدیث (۱) بروایت سعد ابن وقاصq (بخاری، مسلم مشکوٰۃ، مرقات) بحوالہ گواہ نمبر۳،۴،الف۔

حدیث (۲) بروایت انس ابن مالکq (بخاری ومسلم وابن کثیر) بحوالہ نمبرالف،۴۔

حدیث (۱) بروایت جبیرابن مطعمq (مسلم شریف ج۲) بحوالہ گواہ مدعیہ نمبرالف۔

حدیث(۱) بروایت عبد اللہ ابن مسعودq(طبرانی شریف) بحوالہ گواہ مدعیہ نمبر۳۔

حدیث(۲) بروایت عائشہ صدیقہؓ (کنز العمال) بحوالہ گواہ مدعیہ نمبرالف وجرح گ مدعیہ نمبر۱،۲۔

حدیث(۱) بروایت ابی امامۃq (ابن ماجہ) بحوالہ گواہ الف و جرح گواہان مدعاعلیہ۔

احادیث(۱۴) بروایت مختلف صحابہﷺ (بخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وکنز) بحوالہ گواہ مدعیہ نمبرالف،۱،۲،۳،۴ وجرح گواہان مدعاعلیہ۔

280

یہ کل (۲۶) ہیں جو مفصل پیش کر چکا۔ مگر مختار مدعاعلیہ کو چونکہ (۱۳) کا جواب کچھ نہ کچھ دینا ہے۔ اس لئے اس نے تیرہ بتائیں اور بعض ضعیف بھی کہا۔ حالانکہ ضعف ثابت نہ کرسکا۔ اس کے علاوہ بھی بیانات گواہان مدعیہ میںاحادیث ہیں جن میں بعض کا مضمون مکرر تھا۔ گو احادیث جدا جدا ہیں۔ اس لئے بخوف طوالت بحث میں نہ دہرایاگیا تھا۔

پہلی حدیث کا جواب

’’قال لعلی انت منی منزلۃ الی قولہ لا نبی بعدی‘‘

خلاصہ جواب:

۱… بعد کے معنی غیر حاضری کے ہیں، یعنی متصل غزوہ تبوک میں جانے کے بعد زمانہ میں کوئی نبی نہیں یا تو نبی نہیں۔

۲… اگر بعدی کے معنی میری موت کے بعد کے لئے جائیں تو دونوں جملوں میں کوئی متعلق نہیں رہے گا۔ نہ تشبیہ درست ہوگی۔ کیونکہ ہارون حضرت موسیٰm سے پہلے وفات پاگئے تھے۔

جواب الجواب:

۱… اس میں شبہ نہیں کہ کبھی بعد کے معنی بعدیۃ متصلہ کے بھی آئے ہیں اور آیات پیش کردہ میں وہی سہی، مگر اس حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں وہ معنی مراد نہیں۔ کیونکہ یہاں اس تخصیص کا کوئی قرینہ نہیں اور حضرت علیq کا گوجزئیہ منقل ہے۔ مگر یہ قول: ’’لانبی بعدی‘‘ بمنزلہ ضابطہ کلیہ کے ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ ضابطہ کلیہ نہ صرف اس جگہ بلکہ آنحضرتﷺ نے متعدد جگہ استعمال فرمایا ہے۔ مثلاً: ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی وسیکون خلفاء‘‘ وغیرہ جہاں کسی قسم کی بعدیت متصلہ کے ساتھ تخصیص ناممکن ہے۔ نیز بعض روایات میں ’’لانبی بعدی‘‘ کے ساتھ وسیکون خلفاء بھی موجود ہے جو قطعی دلیل ہے کہ بعدی کے معنی بعدیت متصلہ کے نہیں، بلکہ مرنے کے بعد کے ہیں اور بعدیت متصلہ سے مقید کرنے میں عموم نفی سے جاتا رہتا ہے۔ حالانکہ (ایام الصلح ص۱۴۶) پر مرزا صاحب بھی فرماتے ہیں کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں نفی عام ہے۔ عدالت خود اس حدیث کو بیانات سے لے کر اس تاویل سے مقابلہ فرمائے۔

۲… ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معنی بعد فوت کے لینے ہی متعین ہیں جس پر دوسری روایت میں وسیکون خلفاء کا قرینہ واضحہ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی طرح خلافت بعد آنحضرتﷺ کی موت ہی کے ہوگی۔ اب یہ امر کہ دونوں جملوں کا تعلق وتشبیہ درست نہ ہوگی، یہ بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ مشبہ ومشبہ بہ میں بین مشارکت تامہ تمام اجزاء میں نہیں ہوا کرتی۔ بلکہ صرف وجہ شبہ میں ہوتی ہے۔ وہ موجودہے کہ جیسے کوہ طور پر موسیٰm نے جاتے وقت ہارونm کو خلیفہ چھوڑا تھا، میں تمہیں چھوڑتاہوں۔ تشبیہ صرف مطلب خلافت میں ہے۔ پس ہر دو جملوں کا تعلق اور تشبیہ بدستور قائم ہے۔ البتہ اس تشبیہ سے اس شبہ کا احتمال تھا کہ کوئی تشبیہ تام سمجھ کر حضرت علیq کو نبی نہ سمجھنے لگے یا وہ خود نبی نہ سمجھیں۔ ’’قال الہ لست نبیاً‘‘ نبی یا قاعدہ کلیہ ’’لا نبی بعدی‘‘ سے اسے دفع فرمادیا کہ چونکہ میرے بعد کوئی نبی ہونا وبننا نہیں۔ اس لئے صرف خلیفہ تو ہوا نبی ہونا ممکن نہیں۔ عدالت اصل بیان سے ملاحظہ فرمائے اس شبہ کا شائبہ تک نہیں۔ اگرچہ اس کے اخیر میں مدعاعلیہ نے اپنے بیان کا حوالہ دیا ہے۔ مگر وہاں اس سے زائد کوئی بات نہیں۔ سوائے توضیح امثلہ یا تطویل عبارت کے (علماء نے ’’لا نبی بعدی‘‘ کے کیا معنی کئے ہیں)

۱۲۔مختصر حوالہ جات مختار مدعاعلیہ

۱… اقتراب الساعۃ نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالی۔

281

۲… قول ملّا علی قاری بحوالہ اشاعت لا شراط الساعۃ للسید شریف بزرنجی۔

۳… دوسرے حوالوں کے واسطے بیان کا حوالہ دیاگیاہے۔

الجواب:

۱… اقتراب الساعۃ اور اس کے مصنف نواب صدیق حسن خان صاحب ہمارے مسلم نہیں۔ جیسا کہ مفصل اوپر گزرچکا ہے نیز گواہان مدعیہ نے جرح میں صاف کردیاہے۔

نیز یہ ان کی ذاتی رائے ہے جس پر کوئی سند نہیں بلکہ صریح احادیث کے خلاف ہے اور غیر مسلم ہے۔ پس ہم ان دونوں کے جواب کے مکلف نہ تھے۔ مگر عدالت غور فرمائے تو ان دونوں کا جواب ہماری طرف سے پیش ہوچکا۔ اسی طرح صاحب تکملہ مجمع البحار کہ ’’لانبی ینسخ شرعہ‘‘ بھی بعینہٖ یہی مطلب اور یہی واقعہ اور تقریباً انہیں الفاظ میں ادا فرمارہے ہیں اور اس کا جواب بعینہٖ اس کا جواب ہے۔ تکملہ کی ماقبل عبارت کا نئے سرے سے یہ شبہ پیدا ہوگیا، ورنہ ہر گز نہ ہوتا۔ یوں ہی اقتراب الساعۃ اور اشاعۃ کی عبارت اوپر سے ملاحظہ فرمائیں۔ مطلب بالکل واضح ہے۔ یہاں صرف نزول عیسیٰm کی بحث ہے جس پر مختلف اعتراضات وارد ہوتے ہیں جنہیں رفع کیا ہے اور حدیث: ’’لاوحی بعدی‘‘ کو سنداً مجروح قرار دیا اور صاحب تکملہ نے مغیث سے ایک اور حدیث نقل کی جس کے الفاظ یہ تھے ’’مغیث فی حدیث عیسیٰ انہ یقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویزید فی الحلال‘‘ یعنی عیسیٰ نازل ہوکر قتل خنزیر اور کسر صلیب فرمائیں گے اور حلال میں زیادتی فرمائیں گے۔ اب خیال تھا کہ حلال میں زیادتی تو جدید شریعت ہوگی۔ اس کا جواب دیا کہ مطلب یہ ہے کہ: ’’ای یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج ویولدلہ وکان لم یتزوج قبل رفع الی السمآء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فحینئذ یؤمن کل احد من اہل الکتاب للتیقن بانہ بشر‘‘ یعنی حال میں زیادتی سے کوئی نئی حلت کا ایجاد نہیں، بلکہ اپنے اعمال میں حلال یعنی نکاح کا اضافہ فرمائیں گے۔ اس طور پر شادی کریں گے اور اولاد ہوگی۔ کیونکہ قبل ’’رفع الی السماء‘‘ شادی نہ کی تھی۔ اب زمین پر اترنے کے بعد شادی فرماویں گے جس سے اہل کتاب ان کی بشریت کا یقین کرکے ان پر ایمان لائیں گے۔ (جو پہلے خدا سمجھتے یامخالف تھے)

پھر اسی نزول عیسیٰm پر قول حضرت عائشہؓ محمول فرمایاہے۔ اس کے بعد یہ لفظ ہے کہ ’’وہٰہنا لا ینافی حدیث لا نبی بعدی‘‘ کہ یہ حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ کے منافی نہ ہوا۔ کیونکہ اس زیادتی حلال سے تو شادی کرنا مراد ہے اور ’’لا نبی بعدی‘‘ کا مراد کسی نبی کا نہ آنا ہے جو شریعت محمدی کے لئے یہاں تو اسی کے مطابق عمل کیا۔ پس وہ نبی نہ بنے بلکہ عامل باشرع المحمدی رہے۔ عدالت خود اس خیانت کو ملاحظہ فرمائے کہ وہاں ’’لانہ‘‘ ارادہ ہے اور گواہ مدعاعلیہ نے لانہ کا لفظ کاٹ کر کے صرف ارادہ الخ سے عبارت لی۔ تاکہ ماقبل سے ربط نہ معلوم ہوسکے۔ پس اس قسم کے قطع وبرید کے حوالہ جات قابل التفات ہی نہیں۔ لہٰذا دراصل وہ عبارت اسلامی عقیدہ کے منافی نہیں۔ نیز وہ تو صرف نزول عیسیٰm من السما کے متعلق ہے اور جو اس کا قائل نہیں۔ ان سے کہنا ہی اس کا فضول ہے۔ اسی جگہ نبی تشریعی کی ’’اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ… الخ!‘‘ اور ’’لافتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار‘‘ وغیرہ سے بھی ہرگز درست نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ مرزا صاحب کی تحقیق سے بھی منافی ہے۔ جیسا کہ اصل بحث میں عرض کر چکاہوں کہ ان کے نزدیک بھی ’’لا نبی بعدی‘‘ میں نفی عموم کی ہے اور تخصیص کرنا شرارت ہے۔

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)

پھر یہ بھی ملاحظہ ہو کہ امثلہ مذکورہ یا ان جیسی اور چند مثالوں میں نفی کمال بھی تسلیم کر لیا جائے تو اس سے یہ کیونکر لازم آتاہے کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ میں نفی کمال ہی مراد ہے۔ کیا کسی ایک حدیث یا قول یا محاورہ میں نفی کمال مراد ہوجانا اس امر کو مستلزم ہے کہ سب جگہ یہی معنی

282

چلائے جائیں اور اگر یہ عام ضابطہ کلیہ بن گیا تو کوئی وجہ نہیں کہ: ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ یا ’’لا الہ الا ہو‘‘ یا ’’لاریب فیہ‘‘ ہر نفی کمال نہ لی جائے۔ کیونکہ جب یہی اجتہاد اور یہی قیاس ہو تو ایک بت پرست ہندو کہہ سکتاہے کہ: ’’لاالہ الا اللہ ‘‘ میں بھی نفی کمال ہے۔ یعنی کامل معبود سوائے اللہ کے کوئی نہیں۔ اگرچہ غیر مستقل اور غیر شارح معبود ہوسکتے ہیں اور یہی تمام بت پرستوں کا عقیدہ ہے۔ یوں ہی کوئی قرآن کا منکر کہہ سکتاہے کہ: ’’لاریب فیہ‘‘ میں یہی نفی کمال ہے۔ یعنی کامل ریب وشک قرآن میں نہیں۔ اگرچہ بعض اقسام ریب اور شک کے موجود ہے۔ اگر کسی دلیل سے اس مخالف بت پرست کو نفی کمال مراد لینے سے روکا جاسکتاہے تو وہی دلیل ہماری جانب سے بھی۔ ’’لانبی بعدی‘‘ میں نفی کامل مراد ہونے پر تصور فرما لیں۔ پس جب کہ تمام قرآن وحدیث و اقوال سلف حتیٰ کہ مرزا صاحب کے (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) کی تصریح سے ثابت ہوگیا کہ ’’لانبی بعدی‘‘ میں نفی عموم کی ہے اور تخصیص شرارت اور گستاخی ہے۔ پس یہ تاویلات یقینا بلکہ مسلم طور سے ناقابل التفات ہیں۔

ایک مغالطہ کا جواب

’’اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ‘‘ تخصیص کے لئے عجیب وغریب تقریر تصنیف کی ہے اور اس کا مدار اس پر ہے کہ کسریٰ اور قیصر خاص دوشخصوں کے نام نہیں۔ بلکہ ہر بادشاہ فارس کو کسریٰ اور شاہ روم کو قیصر کا لقب دیا جاتاہے۔

اور چونکہ ان دونوں ملکوں میں آنحضرتﷺ کے زمانہ سے اب تک کوئی نہ کوئی بادشاہ ہی ہوتے رہے ہیں۔ پس معنی یہ ہیں، اگرچہ باقی ہوں گے، مگر اسلام کے زیر نگیں۔ یوں ہی یہاں نبی تو آئیں گے مگر آنحضرتﷺ کے تابع۔

مگر یہ بناء فاسد علی الفاسد ہے۔ خود ایک مطلب تصنیف کیا اور اس پر بنیاد رکھ دی۔ یہ محض غلط ہے کہ کسریٰ وقیصر اب تک موجود ہیں۔ امام نووی شرح مسلم میں حضرت امام شافعی اور تمام علماء سے نقل فرماتے ہیں: ’’فلا کسری بالعراق ولا قیصر بالشام‘‘ یعنی ان دونوں اقلیموں میں ان کی سلطنت نہ رہے گی۔ چنانچہ بلا شک اس طرح ہوا کہ کسریٰ اور کسرویت کا تو بالکل خاتمہ ہوگیا اور قیصر نے ملک شام سے بھاگ کر کسی اور جگہ پناہ لی۔ غرض ان دونوں اقلیموں میں کسریٰ وقیصر نہ رہے۔ اس لئے سوال اس پر ہے خود یہ کہنا ہی غلط ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی میں مستعمل نہیں۔ حتیٰ کہ اس پر ’’لا نبی بعدی‘‘ کو قیاس فاسد کرکے تحریف کریں اور اگر تھوڑی دیر کے واسطے بفرض محال اس حدیث فلا کسریٰ میں کسی خارجی وجہ سے کوئی تخصیص مرزا صاحب کے متبعین کی طرح فرض کر لے تو اس سے یہ کب لازم آیا کہ ’’لانبی بعدی‘‘ میں بھی تخصیص کردی جائے۔ کیا کسی ایک حدیث کا کسی وجہ سے مؤل ہوجانا۔ اس کو مستلزم ہے کہ تمام احادیث صریح کو بگاڑ کر اس کے مطابق بنایا جائے۔

اور( ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) کی تصریح کے بعد مرزا صاحب کے مسلک پر بھی اس حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں تخصیص شرارت اور گستاخی ہے۔

یہ محض غلط ہے کہ ان احادیث کے جواب کا جواب ابتدائی بحث میں نہ آیا۔ کیونکہ ابتدائی بحث میں التزام تھا کہ جو چیز ایک مرتبہ جس سلسلہ میں گزر گئی۔ اعادہ کسی رنگ میں نہ کیا گیا۔

صوفیائے کرام کے حوالوں کی تشریح کے تحت اصل بیانات اور بحث میں شیخ محی الدین ابن عربی کے قول: ’’انما ارتفعت نبوۃ التشریع فہذا معنی لانبی بعدی‘‘اور ’’بل اذا کان یکون تحت حکم شرعی‘‘ کا مکمل جواب اور لفظ تشریع کی شرح وغیرہ ربط وتفصیل سے گزر چکی۔ اب یہ کہنا کہ اس کا جواب نہ ہوا صحیح نہیں اور چونکہ جواب الجواب میں بجائے کسی جواب کے کچھ کمی زیادتی اور

283

جوابی رنگ کے مکرر پیش کیا ہے۔ لہٰذا مختصر جواب بھی عرض کرتاہوں۔ اگرچہ اس اصول تحقیقی کے بعد ضرورت نہ تھی۔

اصولی تمہید

۱… عقائد میں قطعیات کتاب ’’ اللہ والرسول‘‘ یا بقول گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ وحی مرزا صاحب ہی معتبر ہے اور کچھ معتبر نہیں ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۲،۲۸؍مارچ ۱۹۳۳ء۔ لہٰذا نہ باب عقائد میں ان اقوال کے لانے کی ضرورت اور نہ جواب کی حاجت۔

۲… شریعت کے خلاف جو شیخ کی عبارت نظر آتی ہے، وہ ان کی نہیں بلکہ مدسوس اور خارج سے ملائی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو (یواقیت ص۷) ’’وجمیع ماعارض من کلامہ ظاہر ہو الشریعۃ وعلیہ الجمہور فہو مدسوس علیہ… الخ!‘‘ حضرت شیخ کا وہ قول جو ظاہر الشریعت اور جمہور کے مسلک کے خلاف ہے وہ ان کا نہیں بلکہ مدسوس اور خارج سے اضافہ ہے۔ یوں ہی دوسرے مسلم بزگوار (مجدد الف ثانی) (مکتوبات ج۴ دفتر اوّل ص۱۱۲) میں تصریح فرماتے ہیں۔ بوجہ خوف طوالت صرف حوالہ پر اکتفاء کرتاہوں۔ ملاحظہ ہو۔

از عجائب کار باراست شیخ محی الدین ابن عربی… تابمنہ اکرمہ۔ اس سے ناواقف کو مغالطہ سے بچانے کے لئے (شامی ج ص۲۹۴) سے پیش کی گیا تھا کہ شیخ محی الدین ابن عربی نے خود وصیت فرمائی ہے کہ: ’’نحن قوم یحرم النظر فی کتبنا‘‘ کہ ہماری کتب ہر شخص کو دیکھناٹھیک نہیں جس کا غلط مطلب کے لئے مختار مدعاعلیہ نے جو کچھ کہنا تھا کہا۔

اصل جواب الجواب: ہر شخص اور ہر فن کی ایک اصطلاح خاص ہوتی ہے۔ ’’لکل ان یصطلح‘‘ بھی مسلم ہے اور کسی کے اصطلاح کے خلاف مطلب لینا ہرگز درست نہیں۔ ملاحظہ ہو( جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ۲۶؍مارچ۱۹۳۳ء) نیز (یواقیت مسلمہ فریقین ص۱۱) ملاحظہ ہو۔

’’ولا یجوز الانکار علی القدم معرفتہ مصطلہم فی الفاظ ہم اذا رأینا بعد ذالک فی کلامہم مخالفاً للشریعۃ‘‘

یعنی صوفیاء کرام پر اعتراض جب تک ان کے خصوصی الفاظ کی اصطلاح سے واقف نہ ہوجائیں جائز نہیں۔ البتہ واقفیت اصطلاح کے بعد بھی اگر ظاہر شریعت کے خلاف ہے تو اسے پھینک دیں گے اور قبول نہ کریں گے اور گواہان مدعاعلیہ کا خود اقرار ہے کہ فصوص الحکم وفتوحات بالاستیعاب مطالعہ نہیں کیا اور اصطلاح صوفیہ میں کوئی بھی کتاب نہیں پڑھی۔ ملاحظہ (جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ۲۸؍مارچ ۱۹۳۳ء نمبر۱) پس انہیں عبارات میں مغالطہ لگنا کوئی تعجب کی بات نہیں صرف شیخ محی الدین ابن عربی کی اصطلاحات پر مستقل تصانیف میں من جملہ ان کے کبریت احمر فی علوم الشیخ الاکبر بھی ہے جس میں ان کی اصطلاحات نبوت ورسالت کے متعلق یہ ہے کہ: ’’اعلم ان النبوۃ ہی الاخبار عن شیٍٔ ساریۃ فی کل موجود عن اہل الکشف والوجود لکذا لا یطلق علی احد منہم اسم نبی ولا رسول الا علیٰ الملٰئکۃ الذین ہم الرسل فقط… ماصح‘‘ یعنی شیخ کی اصطلاحات میں لفظ نبوت کے معنی کسی چیز کی خبر دینا اور یہ نبوت تمام موجودات میںصوفیاء کرام کے نزدیک موجود وساری ہیں۔ مگر اسم نبی رسول اللہ سواء اس کے کسی پر نہ بولا جائے گا جس کو اصطلاح شرح میں نبی ورسول کہتے ہیں۔ ہاں! ملائکہ بھی ’’بوجہ رسالہ فیما بینہ تعالیٰ وبین الانبیاء رسول‘‘ کہلاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔ نبوت کے معنی مطلق خبر دینے کے کس قدر عام حیوانات کے اندر بھی مانتے ہیں۔ نیز اس کے مقابل تشریع بھی شریعت کی اصطلاح مراد لیتے ہیں۔ حضرت شیخ کے نزدیک رسالت بمعنی تبلیغ مستعمل ہے۔ ملاحظہ (فتوحات ج۲، باب۲۸) اور ولایت نبوت کے مقابل برابر فتوحات،فصوص الحکم میں مستعمل ہے۔البتہ لفظ رسول ونبی صرف اصطلاح شریعت کے نبی کو کہتے ہیں۔ یہی معنی تشریع کے ہیں کہ شرعی اصطلاح کا نبی ورسول نہ یہ کہ صاحب شریعت جدیدہ۔ ملاحظہ ہو (فتوحات مکیہ بحوالہ بیانات) ’’وہذا کلہ موجود فی رجال اللہ من الاولیاء والذی اختص بہ النّبی دون الولی والوحی التشریع ولا یشرع الا النّبی ولا یشرع الاالرسول کہ یہ کل مردان خدا اولیاء اللہ میں موجود ہیںاور وہ وحی جو سوا ولی کے نبی کے ساتھ مختص ہے۔ وحی الشرعی یعنی اصطلاحی وحی نبوت ہے اور جو نبی

284

ورسول ہے وہی مشرع ہے۔ ملاحظہ فرمائیں کہ تشریع یا شرع وہی اصطلاحی نبی رسول کو قرار دیا ہے جو اولیاء اللہ کے مقابل ہے نہ بمعنی صاحب شریعت جدیدہ۔ پس جہاں کہیں لفظ تشریع یا مشرع یا اس کے ہم معنی حضرت شیخ کی اصطلاح میں مستعمل ہے۔ اس سے اصطلاح شرع کا نبی مراد ہے نہ لغوی نبوت جو حیوانات تک میں مانتے ہیں۔

اب اس اصطلاح کے معلوم ہوجانے کے بعد پیش کردہ عبارات کا مطلب بالکل واضح ہے۔ کوئی اس کے حل کرنے میں دشواری نہیں۔

مزید برآں مختار مدعاعلیہ وگواہان مدعاعلیہ اگر حضرت شیخ کی عبارت قطع برید کرکے نہ پیش کرتے تو اس قدر مغالطہ کبھی نہ لگتا۔ صرف اس خیانت نقل سے یہ مغالطہ پیدا ہوا اور اس واسطے اس پیش کردہ فقرہ: ’’انما ارتفعت نبوۃ التشریع‘‘ کا ابتدائی لفظ: ’’ولہٰذا قلنا‘‘ کو کاٹ کر پیش کیا گیا تاکہ کوئی اس کا ماقبل سے ربط نہ سمجھ لے جس سے حضرت شیخ کا صحیح مسلک اس معاملہ میں معلوم اور واضح ہوجائے۔ اصل کل عبارت ملاحظہ ہو۔ ’’اوّل ما بدی بہ رسول اللہ ﷺ من الوحی الرویا فکان لا یری رؤیا الا اخرجت مثل فلق الصبح وہی التی ابقی اللہ علی المسلمین وہی من اجزاء النّبوۃ فما ارتفعت النّبوۃ بالکلیہ ولہذا قلنا انما ارتفعت النّبوۃ التشریعی فہٰذا معنی لا نبی بعدہ‘‘یعنی وحی جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر آئی تو وہ رؤیا تھی۔ پس آپ کوئی رؤیا (خواب) نہ دیکھتے مگر وہ صبح کی روشنی کی طرح سچا ہوتا تھا اور یہ ہی صرف سچے خواب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے باقی رکھاہے اور یہ اجزاء نبوت سے ہیں۔ اس لئے نبوت بکلی نہیں اٹھائی گئی اور اس لئے ہم نے کہا ہے کہ نبوت تشریعی (یعنی علاوہ خواب شریعت کی اصطلاح والی) اٹھائی گئی اور یہ ہی معنی ’’لا نبی بعدی‘‘ کے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیں کہ کس صفائی سے یہاں شیخ اکبر نے اجماعی مذہب کو اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ جو چیز باقی رہ گئی ہے، وہ رؤیا ہے اور اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہے اور پھر آگے لکھاہے: ’’اسم النّبی زال بعد رسول اللہ ‘‘ یعنی آنحضرتﷺ کے بعد کے نبی کانام زائل ہوگیا۔ یعنی اور کوئی شخص نبی بن کر نہیں کہلا سکتا۔ اسی سلسلہ میں دوسرے مقام پر لکھاہے: ’’مع ہٰذا الا یطلق اسم النّبوۃ ولا نبی الاعلیٰ المشرع خاصۃ‘‘یعنی نبوت اور نبی کے نام کا اطلاق سوائے مشرع یعنی سواء شرعی نبی کے اور کسی پر نہیں ہوتا۔

پس اصطلاح شریعت میں وہ ایسے لوگوں کو اولیاء اللہ ہی کہتے ہیں اور نبی کانام ان پر جائز نہیں سمجھتے اور پھر شیخ اکبر اس سے بھی زیادہ صفائی سے لکھتے ہیں: ’’وہٰذا کلّہ‘‘ یعنی یہ سب کچھ (وحی کا آنا) اللہ کے ان بندوںمیں پایا جاتاہے جو اولیاء اللہ میں سے ہیں اور وہ چیز جس سے نبی کو خاص کیا جاتاہے اور ولی سے ممتاز کیا جاتاہے، وہ شرعی اصطلاح کی وحی ہے۔ پس سواء نبی کے کوئی شارع نہیں ہوسکتا اور سواء رسول کے کوئی شارع نہیں ہوسکتا۔

پس ملاحظہ فرمائیں کس صفائی سے شیخ اکبر شارع اور نبی کو ایک قرار دیتے ہیں اور تشریع سخت کے مقابل پر ولایت کا ذکر کرکے تصریح فرمارہے ہیں کہ ولایت کے علاوہ ہرقسم کی نبوت نبوت تشریعی ہی ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے محض مطلب برآری کے لئے ان کے اقوال میں سے ایک ٹکڑا نقل کردیا اور جن اقوال میں سے وہ قول ان کا صاف ہوتا تھا اور ان کے اصل مذہب پر روشنی پڑتی تھی اسے کاٹ دیا۔ حضرت شیخ اکبر کے اس قسم کے بہت سے اقوال موجود ہیں جو جرح میں آچکے ہیں۔ اس وقت طوالت کی وجہ سے نقل نہیں کرتا، وہیں سے مفصل ملاحظہ فرمائے جائیں جو مخصوص اس عبارت سے متعلق ہیں۔ ان کا صرف اوّل وآخر پتہ کے لئے بطور حوالہ کے درج کرتاہوں۔

۱… ’’فہم ورثۃ الانبیاء… تا… لایکون مشرعاً‘‘

(بحوالہ فتوحات)

۲… ’’من حفظ القرآن فقد ادرجت النّبوۃ‘‘

(بحوالہ فتوحات)

۳… ’’وہذہ نبوۃ ساریۃ فی الحیوان… الخ!‘‘

(بحوالہ فتوحات)

285
۴… ’’وکذلک تنقطع فی الاخرۃ بعد دخول الجنۃ والنار نبوۃ التشریع لا نبوۃ العامۃ‘‘
۵… ’’ولذا کان یؤل بہ… تابین جنۃ‘‘

(یواقیت)

۶… ’’وادّعاء نبوۃ قد انقطعت… الخ!‘‘

کے ہر قسم کی (ظلی وبروزی مستقل وغیر مستقل) کا دعویٰ منقطع ہوچکا۔

اس مسئلہ کے متعلق شیخ اکبر کا آخری مصرح اور قطعی فیصلہ

حضرت شیخ اکبرمحی الدین ابن عربی اپنی سب سے آخری تصنیف فصوص الحکم میں تصریح فرماتے ہیں کہ: ’’اعلم ان الولایۃ… تا والسنتہ‘‘

(فصوص الحکم مع تاویل المحکم ص۴۲۷،۴۲۸ وجرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ۲۷؍مارچ ۱۹۳۳ء)

اس حوالہ میں مشرع اور مشرع لہ دونوں قسموںکے نبی کی تصریحاً نبی موجود ہے۔ یعنی نہ امتی نبی بن سکتا ہے، نہ غیر، نہ صاحب شریعت، نہ غیر صاحب شریعت بلکہ یہاں تک شیخ کے کلام میں تصریح موجود ہے کہ صرف اوامر ونواہی کا دعویٰ بھی بعد نبی کریمa گویا اصطلاح شرع کی نبوت کا دعویٰ ہے۔ ’’سواء وافق شرعنا اوخالف‘‘ خواہ ہماری شریعت کے موافق ہویا مخالف اور مستقل ہو یا غیرمستقل ’’فان کان مکلفا ضربنا عنقہ والا ضربنا عنہ صحفاً‘‘ کہ اگر وہ مجنون نہیں تو اس کی گردن مار دی جائے گی۔ ورنہ اس سے اعراض کیا جائے گا۔ یہ حوالہ بیانا ت اورجرح میں (یواقیت ج۲ مبحث۳۵ ص۴۸) پر موجود ہے۔ مفصل حوالہ جات ۲۹؍مارچ کی جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ سے ملاحظہ فرمالی جائے۔ اس کے بعد حضرت شیخ کی عبارت کو قطع وبرید کر کے ان کی طرف کسی عبارت کو منسوب کرکے یہ مطلب لینا کہ ان کے نزدیک امتی نبی آسکتا ہے اور صرف مستقل صاحب شریعت نبی کا آنا بند ہے جو ناسخ شریعت محمدیہ ہو۔ صریح ظلم اور بہتان عظیم ہے۔

دوسری حدیث

’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء… الخ!‘‘

خلاصہ تاویلات مختار مدعاعلیہ:

۱… بنی اسرائیل میں سیاسی وغیر سیاسی نبی ہوتے تھے۔ حضرت موسیٰm نے جس سیاست کو شروع کیا اسے ناقص چھوڑ کر وفات پاگئے۔ آپ نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد سیاست کے لئے نبی کی ضرورت نہیں بلکہ خلفاء ہر کام انجام دیں گے۔ اس میں یہ نہیں کہ امتی نبی نہ آئے گا۔

۲… بحوالہ بیان تاویل بعدیت متصلہ۔

الجواب:

۱… اس پہلے جواب کا مدار صرف یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں کہ امتی نبی نہ آئے گا۔ حالانکہ اس میں ’’وانہ لا نبی بعدی‘‘ موجود ہے جس میں باتفاق علماء ہر قسم امتی وغیر امتی، ظلی وبروزی نبی بننے کی نفی ہے اور لا نفی جنس نفی عموم ہی کے لئے حقیقتاً استعمال ہوتاہے۔ مرزا صاحب نے بھی ’’لا نبی بعدی‘‘ میں نفی عام مانا ہے۔ (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳)پس یہ تاویل محض بے سود ہے اور نہ صرف علماء وائمہ واسلاف بلکہ مرزا صاحب کی تصریح کے بھی خلاف ہے۔

۲… اس بیان کا بلا وجہ حوالہ دیا۔ اس میں بعدیت متصلہ بلا کسی قرینہ کے مراد لیا ہے۔ اس کا جواب اوپر گزر چکاہے کہ یہاں ہرگز

286

بعدیت متصلہ نہیں، ورنہ ضابطہ کلیہ نہ رہے گا اور عموم نفی باطل ہوجائے گی۔ نیز ’’وسیکون خلفاء‘‘ خود بتارہا ہے کہ یہ متصلہ نہیں تمام زمانہ بعد مراد ہے۔ تفصیل کے واسطے اصل حدیث معہ تشریح (بیان گواہ مدعیہ نمبرالف،۲،۳) ملاحظہ فرمالی جائے۔

تیسری حدیث ختم بی النّبوت کا جواب

خلاصہ تاویلا ت مختار مدعاعلیہ:

۱… اگر ختم کے معنی بھی لئے جائیں تو الف ولام تخصیص یا عہد کے لئے ہوگا۔ یعنی جو بالاستقلال نبی تھے، آپ کے فیض سے نبی بننے کی نفی نہیں۔

۲… حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے تفہیمات الٰہیہ میں یہ معنی کئے ہیں کہ آنحضرتﷺکے بعد ایسا کوئی نبی نہ ہوگا۔ جس کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے واسطے شارع بنائے۔

الجواب:

۱… اصل الف ولام تخصیص عہد کے واسطے نہیں بلکہ حقیقتاً جنس کے واسطے آتاہے۔ خصوصاً جب کہ مصادر پر داخل ہو۔ لہٰذا یہاں کسی طرح تخصیص جائز نہیں۔ نہ کسی شارح حدیث نے اس کی تخصیص کی۔ یہ محض مختار مدعاعلیہ کی ذاتی رائے ہے۔ تمام شراح حدیث نے تصریح فرمائی ہے کہ آنحضرتﷺ بلا تخصیص ہر قسم کی نبوت کو ختم کرنے والے ہیں۔ اکثر حوالے بیانات میں بسلسلہ ختم نبوت گزرچکے ہیں۔ اس کے خلاف معنی قرآن پاک اور صریح وصحیح احادیث کے بالکل معارض ہوںگے۔ لہٰذا وہ کسی طرح قبول نہیں ہوسکتے۔

۲… شاہ ولی اللہ صاحب نے ہر گز یہ مراد نہیں لیا۔ مختار مدعاعلیہ نے اپنی مرضی کا ترجمہ کردیا۔ وہاں لفظ یہ ہیں کہ: ’’ای لا یوجد من یامرہ الا سبحانہ بالتشریع علی الناس‘‘ جس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ ایسا کوئی نہ ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ امر فرمائے۔ لوگوں پر شریعت بیان فرمانے کا تشریع کے معنی لغت عرب میں صرف شریعت بیان ہی کرنے کے ہیں، نہ شارع بنانے کے ملاحظہ ہو۔

(منتہی الارب)

پس حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کا مطلب بالکل واضح ہے۔ اس کا تو احتمال ہی نہ تھا کہ کوئی صاحب شریعت نبی آئے، غیرصاحب شریعت جس کاکام صرف شریعت بیان کرنا ہو وہ بھی نبی نہیں آسکتا۔ یہ حوالہ تو صریح ہمارے موافق مؤید ہے۔ صرف مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کی یا اپنی اصطلاح میں غلط ترجمہ کرکے مطلب مختل کردیا تھا ورنہ مطلب بالکل واضح ہے۔

اور اگر بالفرض یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ اس کے معنی شارع بنانے کے ہیں بھی، ایک مغالطہ یہ رہ جاتا ہے کہ من کا لفظ عام تھا۔ اس کے معنی یوں کرنا کہ ایسا کوئی نبی نہ ہوگا۔ محض اپنی ایجاد ہے۔ ترجمہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ نہ پایا جائے گا وہ شخص جس کو خدا شارع بننے کا حکم کرے یا شارع یعنی نبی بنائے اور یہی ہم کہتے ہیں۔ باقی شارع نبی کا مرادف ہونا، علاوہ بدیہی ہونے کے فتوحات مکیہ سے بحث وحی میں پیش کرچکاہوں کہ: ’’لا یشرع الا النبی ولا یشرع الا الرسول خاصۃ‘‘ (فتوحات مکیہ بحوالہ سابق)یعنی شارع نبی غیر مستقل اور شارع رسول یعنی نبی مستقل ہوتاہے۔ پس شارع بمعنی نبی ہوا۔ مستقل صاحب شریعت ہو یا غیر مستقل۔

کیونکہ نبی کو بھی شارع بتایا اور رسول کو بھی اور فتوحا ت میں تصریح ہے کہ نبی بلا شریعت جدیدہ والے کو اور رسول صاحب شریعت جدیدہ کو کہتے ہیں۔

(فتوحات بحوالہ گزشتہ)

لہٰذا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی عبارت بالکل مسلمانوں کے مطابق ہے۔ کہیں مختار مدعاعلیہ کی تائید کا شبہ تک نہیں۔ اپنی طرف سے اس نے لفظ نبی اضافہ کرکے شبہ میں ڈالا تھا۔

287

چوتھی حدیث ان العاقب… الخ!

اس کے جواب میں صرف ’’لا نبی بعدی‘‘ کو مدرج اور راوی کا اضافہ بتایا ہے اور میں نے جو ترمذی سے پیش کیا تھا، اسے بحوالہ حاشیہ فتح الباری فظاہر الادراج سے رد کرناچاہاہے۔ حالانکہ یہ صرف مغالطہ ہے۔ ’’لا نبی بعدہ‘‘ ضرور راوی کا ہے اور (مسلم ج۲ ص۲۶۱ ) یا ترمذی کی ایک روایت میں ہے اور (ترمذی ج۲ ص۱۰۷) پر جو لفظ میں نے پیش کیا ہے کہ: ’’قال انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدی نبی‘‘ کہ میں عاقب ہوں اور خود ہی نبی کریمa عاقب کی تفسیر فرماتے ہیں کہ عاقب کے یہ معنی ہیں کہ میرے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی نہیں۔ لہٰذا میں عاقب بمعنی بالکل پچھلا نبی ہوں۔ اس کوکسی نے مدرج نہ بتایا بلکہ خود امام ترمذی اس حدیث کو نقل کرکے فرماتے ہیں کہ: ’’ہذا حدیث حسن صحیح‘‘ کہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔

پس نبی کریمa کی تفسیر کے بعد بخاری کے حاشیہ سے نقل کرکے اور تفسیر بنانا متکلم کی تصریح کے خلاف ہے۔ دوسرے وہاں(بخاری ج۲ ص۴۲۷ ) کے (حاشیہ نمبر۷) قسطلانی نے لغوی معنی اس کے نقل کئے ہیں۔ اسے تفسیر اور مراد متکلم قرار نہیں دیا۔ حتیٰ کہ اس تفسیر سے متعارض ہے اور آج تک کوئی بھی ترجمہ اور تفسیر میں تعارض نہ سمجھا گو الفاظ میں فرق ہو۔

پانچویں حدیث لم یبق من النبوّۃ الا المبشرات

اس کا جواب دیا کہ بہرحال نبوت کا ایک جزو مبشرات تو باقی ہے۔ پس نبوت باقی رہی اوراس کی تائید میں مولانا محمدحسن کی کتاب (کواکب دریہ ص۱۴۷،۱۴۸) سے پیش کی ہے۔

اس کے جواب ہی کی چنداں ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر بقائے نبوت سے صرف اچھی خوابیں دیکھنا مراد لیتے ہیں تو اس میں کسے اختلاف ہے۔ مگر میں اوپر بحوالہ فتوحات ویواقیت پیش کرچکاہوں۔ اس میں لفظ نبی اور رسول کا اطلاق یا دعویٰ نبوت کسی قسم کا جائز نہیں۔

کواکب دریہ باوجود غیر مسلم ہونے کے ہمارے خلاف نہیں۔ اس پیش کردہ عبارت کا آخری حصہ ملاحظہ فرمائیں۔ ’’وہ دو قسم کی ہے۔ ایک نبوت تشریعی جو ختم ہوگئی دوسری نبوت بمعنی خبر دادن ہے، اس کو مبشر کہتے ہیں۔ اپنے اقسام کے ساتھ جس میں رؤیاہے باقی ہے۔

(کواکب دری ص۱۴۸)

نبوت تشریعی کو بند اور نبوت لغوی بمعنی خبر دادن جس میں مبشرات ہیں۔ باقی بتاتے ہیں، اس میں کسے خلاف ہے۔ نبوت حقیقی تو باقی نہیں۔

چھٹی حدیث

’’انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم ومسجدی آخر المساجد‘‘

ایسی روایت سے ابن ماجہ اس کے دو راویوں کو تقریباً ایک صفحہ میں مجروح کرنے کی سعی کی ہے۔ حالانکہ کسی ایک دو کے کلام کرنے سے راوی مجروح نہیں ہوسکتا۔ ائمہ جرح وتعدیل کا آخری فیصلہ اس کی صحت کا ہے اور جو روایات ابن ماجہ کی مجروح ہیں۔ اس میں اسے شمار نہیں کرتے۔ مزید برآںروایت ابن ماجہ کے علاہ آخر انبیاء یا آخرہم کی اورحدیثیں بھی ہیں۔ مثلاً:

۱… ’’انا آخر الانبیاء وانتم آخرالامم‘‘

(مسلم شریف بحوالہ گواہ مدعیہ نمبر۱)

۲… ’’جعلتک آخر النّبیین‘‘

(کنزالعمال گ مدعیہ نمبر۱)

۳… ’’آخرہم فی البعث‘‘

(کنزالعمال گ مدعیہ نمبر۱، الف)

288

ان میں پہلی تو حدیث صحیح مسلم کی ہے جو بخاری کے ہم پلہ صحیحہ میں شمار ہے۔ دوسری دونوں کنزالعمال کی سند صحیح ہیں۔ پھر ہم نے آخر المساجد کی شرح اسی کنزالعمال کی دوسری روایت ’’انا آخر الانبیاء ومسجدی آخر مساجد الانبیاء‘‘ سے پیش کردیا تھا کہ پہلی روایت میں راوی نے اختصار سے کام لیا۔ ورنہ صحیح روایت یہ ہے کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد نبیوں کی تیار کردہ مساجد سے آخری ہے نہ کوئی نبی آسکتا نہ کوئی نبی کی مسجد بنے گی۔

یہ تمام احادیث لاجواب ہیں۔ صرف مخصوص ابی امامہ کی حدیث ابن ماجہ کو لے کر جرح نقل کی۔ اس سے کچھ لینا صحاح احادیث پر اثر نہیں پڑ سکتا۔

ساتویں حدیث

’’مثلی ومثل الانبیاء من قبلی… الخ!‘‘

اس کا کچھ بھی جواب نہ بن آیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو دو امر۔

۱… جیسے پہلے نبی آئے تھے ایسے نہ آئیں گے۔

۲… یہ کہ پہلے نبیوں سے اب کوئی باقی نہیں۔

حالانکہ یہ تخصیص محض تاویل ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی قرینہ تخصیص نہیں۔ آنحضرتﷺ تمام قصر نبوت کی اپنے آپ کو آخری اینٹ اور خاتم النّبیین قرار دیتے ہیں۔ وہ نبوت جس میں صاحب شریعت وغیرہ صاحب شریعت تشریعی وغیر تشریعی دونوں شامل ہیں، اس کی آخری اینٹ کے بعد کوئی بھی گنجائش نہیں۔ اصل استدلال ’’انا تلک اللبنۃ‘‘ آپa کی آخری اینٹ قصر نبوت کی ہونے سے جو بحالہ باقی ہے۔ (فتح الباری ج۶ ص۴۰۷) پر بھی اس کی تائید ہے کہ آپ نے انبیاء ونبوت اوران کے بعد وارشاد کو اس قول سے تشبیہ دی۔ وہاں کہیں بھی مستقل وغیر مستقل کی تفصیل نہیں اور محض ایک ٹکڑا نقل کرکے مغالطہ کی سعی کی گئی ہے اور اصل یہ ہے کہ یہ حدیث اس قدر قطعی اور صریح ہے کہ کوئی بھی تاویل ناممکن ہے۔ اصل حدیث معہ توضیح وتشریعی( بیان گواہ مدعیہ نمبرالف،۱،۲،۳ ) سے ملاحظہ فرمالی جائے۔

آٹھویں حدیث

’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘

کیونکہ اس سے انسداد نبوت پر خود مرزا صاحب نے استدلال کیاتھا اور وہی پیش کیا گیا تھا۔ جو ابی بحث میں کچھ جواب نہ ہوسکا اور یہ کہہ کر ٹالا۔ اس سے مرزا صاحب کی مراد وہی نبوت ہے جو مستقل طور پر براہ راست ہے اور تفصیل کے لئے بیان کا حوالہ دیا۔ حالانکہ نہ بیان کوئی جواب ہوسکا ہے اور نہ وہاں اصل حدیث معہ تشریح وتوضیح۔(بیان گواہ مدعیہ ص۲،الف) سے ملاحظہ ہو۔

نویں حدیث

’’سیکون فی امتی‘‘

اس کے جواب کے لئے بیان کا حوالہ دیا۔ مگر اس کا جواب الجواب مطلق بلا تفصیل محدود د جالوں اور قریباً من ثلاثین کے الفاظ سے دیا جاچکا ہے کہ تعداد نہیں بلکہ تقریباً اور اندازاً باشوکت مدعیان کاذب کا ذکر ہے۔ اب اس جوابی بحث میں اس میں… لے کر بات اور قابل غور ہے سے یہ نیا اضافہ کیا کہ تیس کا عدد معین فرمانا، اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی سچا ضرورہوگیا۔ یہ تاویل محض ناقابل قبول ہے۔ جب کہ اس تعداد سے زائد اور قریباً من ثلاثین وغیرہ کے الفاظ موجود ہیں کہ اسی تعداد میں محدود نہیں۔ یہ صرف اندازہ یاباشوکت مدعیان

289

کاذب کے لئے ہے۔ جیسا کہ اصل شہادتوں میں حوالوں سے گزرچکا اور گواہان مدعیہ نے جرح میں اس پر کافی روشنی ڈال دی ہے۔

اس کی تائید میں اکمال الاکمال سے ایک نہایت ضعیف حدیث بھی بحوالہ طبری نقل کی ہے جو محدثین کے نزدیک حدیث ہی نہیں اور ہم اسے اگر صحیح بھی مان لیں اور جرح وتعدیل میں نہ الجھیں تو بھی معنی کے لحاظ سے مدعاعلیہ کے مفید مدعانہیں ہے۔ کیونکہ الّا من شاء اللہ سے صرف نزول عیسیٰ بن مریم علیٰ نبیناn مستثنیٰ کیا جائے۔ وہ بحیثیت ایک مجدد امتی ہوں گے، بحیثیت نبی نہ ہوں گے۔ گوان میں صفت نبوت ورسالت سابقہ باقی ہو۔ مفصل اوپر گزرچکا اعادہ کی ضرورت نہیں۔

پھر مرزا صاحب کی (براہین حصہ پنجم ص۱۴۴،۱۴۶، خزائن ج۲۱ ص۳۱۱،۳۱۴) سے اس حدیث کے متعلق نقل کرنا محض بے سود ہے۔ وہ کیا حجت ہے جب کہ دعویٰ نبوت بلکہ اس سے پردہ اٹھنے کے بعد کی ہے۔ کیونکہ اس کا سن تالیف اپریل ۱۹۰۵ء ہے جب کہ تمام قرآن واحادیث کے معنی بدل کر تحریف کر چکے تھے۔

اپنے دعویٰ کے مطابق تیرہ احادیث پیش کی ہیں جن میں کل نو احادیث کی تاویل پیش کی جس کی حقیقت اوپر پیش کر چکاہوں۔ چار ان میں سے بھی لاجواب رہیں اور چونکہ پیش کردہ احادیث کل چھبیس ہیں، لہٰذا بقیہ تیرہ بھی لاجواب ہیں۔ پس سترہ احادیث تو ایسی لاجواب ہیں کہ جن کے جواب کا تذکرہ تک بھی نہیں کیا۔ ف اللہ الحمد!

(۱۳)

اجماع کی بحث

مختار مدعاعلیہ کی جوابی تقریر کاخلاصہ :

۱… ان معنی پر نہ صحابہ کا اجماع ہوا نہ ان کے بعدثابت ہے۔

۲… ہم نے علماء کے اقوال سے اس کے خلاف ثابت کیا۔

۳… ایسے مسائل جو فہم واجتہاد سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس کے متعلق تمام امت کے اجماع کا دعویٰ بلادلیل ہے۔

۴… سوائے اجماع صحابہ کے باقی کا انکار کفر نہیں۔

۵… لایختلف فیہ الاثنان سے اجماع ثابت نہیں ہوتا۔

۶… (گواہ مدعیہ نمبر۳ ) نے۲۸؍اگست کو اصول حنفیہ اجماع صحابہ کے منکر کو کافراورما بعد کے منکر کو فاسق ومبتدع بتایاہے۔

۷… کتاب الابانۃ میں ’’اجتمعت الامۃ علی ان اللہ عزوجل رفع عیسیٰ الی السماء‘‘ ہی پر امام مالک نے ان کی وفات کی تصریح فرمائی ہے۔ (اور گواہ مدعیہ نمبر۳) مؤرخہ ۲۹؍اگست کی جرح میں اس کے خلاف کوئی قول نہ پیش کرسکا۔ اسی طرح اور بھی اکابر نے عیسیٰm کی وفات کو تسلیم کیا ہے۔

۸… امام رازی کے قول کا جواب فواتح الرحموت سے دیاگیا۔ حالانکہ اسی پیش کردہ کتاب کے حاشیہ میں رازی کے قول کی تائید موجود ہے۔

۹… مرزا صاحب نے (شہادت القرآن) میں تواتر معنوی کا ذکر نہیں کیا۔

الجواب:

۱… محض غلط ہے میں صحابہ اور تمام امت کا اجماع پیش کرچکا۔ ملاحظہ ہو بحث مختار مدعیہ ہیڈنگ ’’اجماع امت جہاں (شفاء قاضی عیاض ج۲ ص۲۷۱،۳۶۴، بحوالہ گواہ نمبر ۳) ’’لانہ اخبرنا اجماعاً سمعاً‘‘ نیز حوالہ (روح المعانی ج۸ ص۳۹)’’مما نطقت بہ

290

الکتاب… الخ!‘‘ وغیرہ وغیرہ!

۲… ہرگز کسی ایک عالم کے قول سے اس کے خلاف ثابت نہ کرسکے۔ ہاں! قطع وبرید اور اوّل وآخر ودرمیان میں عبارتیں تراش کرکے غلط ترجمہ کر کے خلاف تصریح اور مراد متکلم کچھ حوالے پیش کئے تھے جن کا مدلل جواب اور خیانتوں پر تنبیہ پیش ہوچکی۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔

۳… یہ مسئلہ فہم واجتہاد سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ عقائد اور ضروریات دین سے ہے۔ اس معنی کے انکار واقرار پر کفر واسلام کا دارومدار ہے۔ جیسا کہ اشباہ وغیرہ کے حوالہ گواہان مدعیہ کے بیان میں اپنی جگہ پر گزر چکے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

۴… یہ بھی غلط ہے بلکہ اس کے سواء بھی اگر کسی منصوص شیٔ پر اجماع ہو تو وہ بھی قطعی ہوتاہے جس کے منکر کا وہی حکم ہے۔ یہ بھی بحوالہ (نور الانوار ص۲۲۱) ’حکمہ فی الاصل… الخ!‘‘ و(ص۲۲۰) ’’کونہ من الصحابہ او العترت لا یشرط… الخ!‘‘ اصل بحث میں بسلسلہ اجماع گزر چکا کسی اعادہ کی ضرورت نہیں۔

۵… ’’لا یختلف فیہ اثنان‘‘ باوجودیکہ اجماع کے الفاظ میں سے علماء کو مسلم ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اس میں اختلاف نہیں رکھتا۔ لیکن ہم نے تو اسے مدار نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ تصریح ’’اجتمعت الامۃ‘‘ کی کہ تمام امت صحابہ سے آج تک اجماع ہے۔ بحوالہ (شفاء وروح المعانی وابن کثیر ) وغیرہ نقل کیا۔ اس لفظ ’’ویختلف فیہ اثنان‘‘ میں تأمل ہو تو اسے ترک کردیا جائے۔ صریح لفظ ’’وعلیہ الاجماع‘‘ واجتمعت الامۃ میں تو کسی قسم کی تاویل ہی ناممکن ہے اور نقل بھی ائمہ دین کی ہے۔

۶… گواہ مدعیہ نمبر۳ نے جن بعد والے اجماع کے منکر کو فاسق ومبتدع بتایا ہے، وہی اجماع ہے جو غیر منصوص شیٔ پر ہو۔ نیز اس مسئلہ متنازعہ میں تو صحابہ کرامi اور تمام ائمہ وامت کا اجماع ہے۔ لہٰذا یہ بحث ہی فضول ہے۔

۷… کتاب الابانۃ سے حوالہ کہ حضرت عیسیٰm کے زندہ آسمان پر اٹھانے کے متعلق تمام امت (صحابہ وائمہ مسلمین) کا اجماع ہے۔ اس کی تردید میں جو امام مالک کا قول نقل کیاوہ محض غلط ہے۔ امام مالک ہر گز وفات کے قائل نہیں۔ اسی جگہ اکمال میں ابن رشد سے منقول ہے یعنی ’’بموتہ خروجہ من عالم الارض الی عالم السماء‘‘ (اکمال ص۲۶۵) یعنی اس لفظ سے مراد یہ ہے کہ وہ عالم ارض سے عالم سماء کی طرف منتقل ہوگئے۔وفات ہرگز مراد نہیں۔ یہ کہنا کہ گواہ نمبر۳ مدعیہ جرح میں اس کے خلاف نہ پیش کرسکا، محض افتراء ہے۔ اسی وقت حضرت شاہ صاحب نے وہی اکمال لے کر اور ایک ورق الٹ کر (ص۲۶۶،۲۶۸) سے تصریح امام مالک حیات عیسیٰ اور ان کے نزول کی پیش فرمادی تھی اور اسی عتبیہ کے حوالے سے اوّل وآخر ملاحظہ ہو۔ ’’وفی العتبیۃ قال مالک بینا الناس تا لاہل الارض‘‘ (ص۲۶۶) وایضاً ’’وقد تقدم تافاذا عیسیٰ قد نزل‘‘

عدالت خود جرح سے ملاحظہ فرمائے تاکہ غلط بیانی معلوم ہوجائے۔ یہ کہنا کہ اس طرح اور بھی اکابر نے وفات مسیح تسلیم کیا ہے۔ محض غلط ہے۔ کسی ایک نے بھی تسلیم نہیں کیا۔ صرف قطع وبرید والہام ہے۔ موضوع بحث نہیں۔ ورنہ تمام حوالہ جات موجود ہیں۔ (ملاحظہ ہو تلخیص الجیر ص۳۱۹، فتح البیان ج۲ ص۳۴۴، بحر المحیط ج۲ ص۴۷۳، نہر الماد ج۲ ص۴۷۳، جیز ص۵۴)

اور مختار مدعاعلیہ اور گواہان مدعیہ کے مسلم بزرگ امام شعرانی کی (یواقیت ج۱ ص۱۳۰) جس میں مفصل تمام صحابہ وائمہ مسلمین سے تصریح ہے کہ عیسیٰm زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور کوئی ایک مسلمان بھی خلاف نہیں۔

۸… امام رازی کا قول جہاں مسلم الثبوت میں نقل ہے۔ وہیں علامہ بحر العلوم نے اس کی تردید نقل فرمادی ہے کہ وہ صحیح نہیں بلکہ غلط نسبت ہے۔ اس پر مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ اس کے حاشیہ میں تائید قول امام رازی موجود ہے، محض غلط اور ناقابل التفات ہے۔ مطالبہ کیا، پیش نہ

291

کرسکے، مطبع دریافت کیا، بتا نہ سکے صرف یہ کہتے رہے کہ جو کتاب مختار مدعیہ نے پیش کی تھی اسی کے حاشیہ میں ہے۔ حالانکہ بار بار کہاگیا کہ وہ معریٰ تھی۔ اس پر کوئی حاشیہ نہ تھا۔ مگر پھر بھی یہی کہتے رہے اور حوالہ نہ پیش کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ یونہی فرضی اور غیر معتبر بات ہے۔

۹… یہ کہنا کہ مرزا صاحب نے شہادت القرآن میں تواتر معنوی ذکر نہیں کیا یہ بھی غلط ہے۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔ خصوصاً فقرات ذیل: ’’تو اور بھی اس تواتر کی قوت اور طاقت ثابت ہوتی ہے۔‘‘

’’اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸)

’’ان کی قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت نبوت اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔‘‘ (شہادت القرآن ص۵، خزائن ج۶ ص۱۰۳) اور یہ ایک حدیث نزول عیسیٰm کے تواتر معنوی کے متعلق ہے۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔

(۱۴)

(مسیلمہ کذاب وغیرہ کے قتال کی وجہ)

(۱۵)

(اسلامی باد شاہوں کے فیصلے)

(۱۶)

(مسیلمہ کذاب نے کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا)

اس کا کوئی بھی جواب سوائے حوالہ شہادت گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے نہ پیش کرسکا۔ ہم بھی اس کے متعلق گواہان مدعیہ اور بحث مختار مدعیہ کے حوالہ پر اکتفاء کرتے ہیں تاکہ طوالت اور تکرار نہ ہو۔ نیز ملاحظہ ہوجرح (گواہان مدعیہ، خصوصاً گواہ نمبر۳، گواہ مدعیہ نمبر۳) کی جرح سے ایک فقرہ نقل کیا کہ اس نے احکام میں تغیر وتبدل کیا تھا۔ حالانکہ وہ تغیر اس قسم کا ہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے کیا یہ بھی وہی تصریح ہے۔ اصل کل جواب ملاحظہ فرما لیا جائے تاکہ مطلب واضح ہوجائے کہ وہ مستقل نبوت کا دعویدار نہیں تھا بلکہ اتباع میں اور اذان میں ’’اشہد ان محمداً رسول اللہ ‘‘ ہی کہلواتا تھا۔ نیز ملاحظہ ہو۔

(جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء نمبر۲، مؤرخہ۲۸؍مارچ ۱۹۳۳ء)

(۱۷)

(علماء نے کس قسم کی نبوت کو بند سمجھاہے)

خلاصہ تاویلات۔

۱… مفسرین کے اقوال نقل کئے ہیں جو حجت نہیں، مفسرین تو کجا رہے، صحابہﷺ کا فہم بھی حجت نہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوتی رہی ہیں۔

۲… پھر تقلید کے خلاف کچھ حوالے عقدا لجید سے نقل کئے ہیں۔

۳… آخر میں یہ کہ اگر مفسرین کے اقوال کا نمونہ دیکھنا ہو تو ملاحظہ ہو۔

(بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱)

الجواب: اصل جواب اور بحث سے گریز کرکے غیر متعلق باتیں اٹھا دیں۔ میں بوجہ خوف طوالت کے مفصل جواب اس وقت پیش کرنا نہیں چاہتا۔ اجمالاً مرتب جواب نہایت ہی اختصار سے عرض ہے۔

292

درج کی ہیں، جن کا کوئی بھی جواب نہیں دیا۔ اصل میری بحث اور بیانات گواہان مدعیہ سے عدالت خود ملاحظہ فرمالے۔ نیز اکثر مفسرین کے وہ حوالے نقل کئے ہیں کہ جن کی صحت میں کسی کو بھی کلام نہیں۔ خصوصاً ابن جیریر طبری جنہیں مرزا صاحب نے بھی رئیس المفسرین مانا ہے اور ابن کثیر جن کے حوالے مرزا صاحب نے بھی بڑے وثوق سے دئیے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔ (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۸، خزائن ج۵ ص۱۶۸) اور (جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۸؍مارچ ۱۹۳۳ء) جس کا مفصل حوالہ ابتدائی بحث میں دے چکا ہوں۔ مرزا صاحب خود اس تاویل کے خلاف تصریح فرمارہے ہیں۔

۲… ایسے بڑے بڑے علماء اور ارباب بصیرت توفی کے معنی آسمان پر اٹھانا بیان کررہے ہیں تو پھر کسی کی کیا حقیقت وسرمایہ ہے کہ اس تفسیر کو توڑ سکے۔

(اربعین نمبر۳ ص۸ ملخصاً، خزائن ج۱۷ ص۳۹۳)

جو ان تفاسیر کو نہ مانے وہ در حقیقت اس بات کا قائل ہے کہ گویاائمہ مفسرین نے نادانی سے ایسی تفسیر کی نعوذب اللہ منہ۔

(اربعین نمبر۳ ص۳ملخصاً، خزائن ج۱۷ ص۳۸۸)

باقی یہ کہنا کہ صحابہﷺ سے غلطیاں ہوتی رہی ہیں۔ یہ اگرچہ پچھلے مباحث اور بیانات میں صاف ظاہر ہوچکا ہے۔ زیادہ ضروررت نہیں۔ پھر بھی برتقدیر تسلیم گزارش ہے کہ دینی امور خصوصاً ایمانیات وعقائد میں کسی ایک شخص نے بھی صحابہ کرامi کو غلطی پر نہ کہا۔ بلکہ آنحضرتﷺ نے ان کا اختلاف بھی اختلاف صحابتی رحمۃ سے رحمت فرمایا اور ہرصحابی کے ہدایت پر ہونے کی تصریح اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم کلہم علی ہدی سے فرمادی۔ پس اس مسئلہ نبوت وختم نبوت میں ان کی تحقیقات کے متعلق خصوصاً جب کہ وہ بالکل قرآن پاک و احادیث صحیحہ صریح کے موافق ہے۔ نیز سب کا اجماع بھی ہے۔ ایک شخص کی رائے بھی نہیں۔ کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ تقلید کو رانہ کا سوال یہاں بے محل ہے۔ نہ مسئلہ تقلید زیر نزاع ہے۔ ورنہ اصل حوالہ جات پیش کردہ کی تشریح ودیگر حوالہ جات پیش کرتا۔ یہاں تو اس قدر گزارش ہے کہ وہ تقلید بلا دلیل قرآن واحادیث واجماع کے صریح خلاف کے متعلق ہے،جو جاہلانہ تقلید ہے جس کی مذمت علماء نے کی ہے اور یہاں تقلید محمود کا ذکر ہے جو ان مسائل کے متعلق ہے جو قرآن پاک واحادیث وائمہ ہدیٰ واجماع صحابہ ومسلمین کے سر موخلاف نہیں۔ اس لئے نمبر۲ کا بھی جواب ہوگیا۔

مختار مدعاعلیہ کی صریح غلط بیانی

اگر مفسرین کے اقوال کا نمونہ دیکھنا منظورہو تو ملاحظہ ہو(بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱)جو بیان عدالت میں داخل ہواہے۔ اس میں اقوال کا نمونہ داخل نہیں۔ سب کاٹ دیاگیا ہے۔ پھر بھی گواہ مدعاعلیہ نے یہاں غلط بیانی کی اور مغالط کے طور پر بیان کا حوالہ دے دیا۔ یوں ہی متعدد جگہ غیر داخل شدہ بحث کا حوالہ دیا ہے جو ریکارڈ مسل پر نہیں۔ گو مطبوعہ کاپی بھی ہے۔

پہلا حوالہ

(ابن کثیر ج۸ ص۹۱،۹۲) اس کا کچھ بھی جواب نہ ہوسکا۔ ایک تاویل کرکے صرف یہ کہہ دیا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ حافظ ابن کثیر کے نزدیک ایسے انبیاء کی آمد ممتنع ہے جو مسیلمہ واسود عنسی کی طرح ہوں جو جھوٹے یا فاسق یا فاجر وغیرہ ہوں اور پھر مرزا صاحب کی صداقت پر بحث شروع کی۔

جس پر یہ عدالتی نوٹ موجود ہے کہ: ’’مگر اس حوالہ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا جو مختار بیان کرتاہے۔ مرزا صاحب کی صداقت کا سوال چونکہ مقدمہ زیر بحث میں نہیں لایاگیا۔ اس لئے یہ حوالہ خارج از بحث کیا جاتاہے۔‘‘

293

بس ہمیں بھی اس پر کسی بحث کی ضرورت نہیں۔ عدالت خود اس ابن کثیر کے حوالہ کو بیان(گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳،ص۴) پر ملاحظہ فرمالے۔ کوئی بھی اس میں تاویل کی گنجائش نہیں اور ضمناً کسی ایک مثال کے دینے سے وہ مسئلہ اسی میں منحصر نہیں ہوجاتا۔

اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی صداقت کے متعلق( اشاعۃ السنۃ ج۷ ص۹) سے براہین کا ریویو نقل کیاہے۔ اس کے جواب کے واسطے بھی اشاعۃ السنۃ سے میرا پیش کردہ مولوی محمدحسین صاحب کا خط مرزا صاحب کے نام ملاحظہ فرمالیا جائے۔

دوسراحوالہ

(روح المعانی ج۷ ص۶۵) ’’وکونہa خاتم النّبیین‘‘

خلاصہ تاویل:

۱… ضمیر کا مرجع یا خاتم النّبیین ہے یا آنحضرتﷺ۔ پس اس کے معنی یہ ہوں گے جو ایسی نبوت کا دعویٰ کرے جس کی وجہ سے وہ کہے کہ میں آنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین نہیں مانتا یا آنحضرتﷺ کے خلاف دعویٰ نبوت کرے وہ کافر ہوگا۔

۱لجواب: عدالت خود اس حوالہ کو (گواہ مدعیہ نمبرالف،۱،۲،۳) کے بیان سے ملاحظہ فرمالے۔ اوّلاً خاتم النّبیین کے معنی بیان فرماتے ہیںکہ ہر قسم کے نبیوں کے آخری نبی بعد اس کے اس معنی سے خاتم النّبیین ہونا کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کی تصریحات اور اجماع امت کے موافق بن کر حکم لگایاہے کہ اس کے خلاف دعویٰ کرنے والاکافر ہوگا اوراگر اصرار کرے تو قتل کیا جائے گا۔ مرجع ضمیر خاتم النّبیین بمعنی مذکور ہے۔ نہ صرف لفظ خاتم النّبیین یا آنحضرتﷺ اور ہر قسم کے دعویٰ نبوت سے انکار خاتم النّبیین کے منافی ہے۔ کسی قسم کی تخصیص نہیں۔ جیسا کہ اوپر گزرچکا۔

تیسرا حوالہ

(شرح شفاء ملّا علی قاری ج۲ ص۵۱۸،۵۱۹) خلاصہ تاویلات مختار مدعاعلیہ۔

۱… اس میں مسیلمہ، اسود عنسی اور قبائل یہود کی مثالیں ہیں۔ پس مستقل اور حقیقی نبوت ناسخ شریعت کے دعویٰ کا کفر ہونا مراد ہوگا۔

۲… اخیر عبارت میں کھولاہے کہ اگر اس سے حقیقی مراد لیں۔ ورنہ مجازی نبوت کفر کا موجب نہیں ہوتی۔

۳… مرزا صاحب مجازی کے مدعی ہیں۔ جیسا کہ (ضمیمہ حقیقت الوحی ص۶۵، خزائن ج۲۲ ص۶۸۹) اور(انجام آتھم ص۲۷،۲۸، خزائن ج۱۱ ص۲۷،۲۸) اور (سراج منیر ص۲،۳، خزائن ج۱۲ ص۵) میں نیز بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

الجواب:

۱… یہ تخصیص تاویل محض بے محل ہے۔ عدالت خود اس حوالہ کو بیان (گواہ مدعیہ نمبر۲،۳ ) سے ملاحظہ فرمالے کسی قسم کی تخصیص کا احتمال ہی نہیں۔ وہاں تو حکم مطلق دعوے دار نبوت کے واسطے ہے، خواہ صاحب شریعت ہویا نہ۔ کسی ایک مثال سے وہ قاعدہ کلیہ اسی جزئی میں منحصر نہیں ہوجاتا۔

۲… ہم بھی کہتے ہیں کہ مجازی نبوت بھی مبشرات وغیرہ جس میں کوئی کسی قسم کا دعویٰ نبوت نہیں ہوتا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: ’’من حفظ القرآن فقد ادرج النبوت بین جنبہ‘‘ جس نے حفظ قرآن کیا اس نے نبوت اپنے سینے میں بھر لی یا لغوی معنی نبوت کے بمعنی خبر دادن جسے شیخ اکبر نے حیوانات میں بھی مانا ہے کہ وہی ساریۃ فی الحیوانات اسے کوئی بھی کفر نہیں کہتا۔

۳… باقی مرزا صاحب کی مختلف عبارات کوئی ۱۸۹۸ء کی کسی اور سن کی جو مختلف پیش کرکے یہ چاہاہے کہ وہ مجازی نبوت کے مدعی نہیں۔

294

حالانکہ ان کے حقیقی ادّعاء نبوت پر (گواہ مدعیہ نمبرالف) نے بہت سے حوالہ اور (گواہ مدعیہ نمبر۲) نے مختلف واضح تصریحات پیش کردی ہیں۔ ان متعارض عبارات اورا ختلاف کا فیصلہ ہم مرزا صاحب کے خلیفہ دوم جناب مرزا محمود صاحب پہ رکھتے ہیں جن پر گواہان مدعاعلیہ کا ایمان ہے۔

فیصلہ مرزا محمود صاحب

’’پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں، بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘ (حقیقت النّبوت ص۱۷۴، انوار العلوم ج۲ ص۴۹۳) نیز ملاحظہ ہو کتاب مذکور (۶۱،۶۴،۱۸۸،۲۳۷) ملاحظہ فرمائیں۔ کس صفائی سے وہ مجازی کی نفی اور حقیقی کی تصریح فرمارہے ہیں۔ البتہ محمد علی صاحب ایم۔اے اس کے خلاف ہیں جو انہیں مسلم نہیں اور اسی وجہ سے ان کے ساتھ اصولی اختلاف بتاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مختار مدعاعلیہ نے صرف تین حوالوں(۱) ابن کثیر (۲)روح المعانی (۳) شرح شفاء میں کچھ تاویل کی جس کا حال اوپر معلوم ہوچکا۔ باقی اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حوالے بالکل لاجواب رہے، تذکرہ تک نہ کیا۔

(۱) ابن جریر طبری (۲) ابن اثیر (۳) ابن کثیر (۴) تفسیر کبیرج۶ (۵) بیضاوی شریف (۶) ابی السعود (۷) شفاء قاضی عیاض ج۲ ص۲۷۱ (۸) شرح فقہ اکبر (۹)شرح عقائد (۱۰) مواہب لدنیہ (۱۱) صبح الاعشی (۱۲) عقیدہ طحاوی (۱۳)غنیۃ الطالبین (۱۴) تاریخ الخلفاء (۱۵)کتاب الفصل (۱۶) نسیم الریاض (۱۷) الصارم المسلول (۱۸) ملل والنحل (۱۹) یواقیت مبحث ۳۵ (۲۰)انسان کامل ج۱ ص۷۹ (۲۱) اشباہ والنظائر (۲۲) شرح حموی لاشباہ (۲۳) عالمگیری (۲۴) بحر الرائق (۲۵) رد المختار۔ ملاحظہ ہوں بیانات گواہان مدعیہ۔

یہ پچیس حوالے لاجواب ہیں جن میں ابن جریر مسلمہ فریقین رئیس المفسرین اور یواقیت وبحرالرائق مسلمہ فریقین کتاب ہے۔ نیز غنیۃ الطالبین بھی مسلم بزرگ کی ہے۔

نوٹ: حضرت مولانامحمد قاسم صاحب نانوتوی کی تحذیر الناس کا حوالہ کئی مرتبہ بحث میں مختلف رنگ میں دے کر کہیں تطویل اور کہیں اختصار سے لایاگیاہے۔ مفصل جواب تو حسام الحرمین اور دیوبندیوں وبریلویوں کی بحث کے سلسلہ میں آئے گا۔ یہاںمختصراً یہ گزارش کردوںکہ یہ مولانا پر محض افتراء ہے۔ مختلف مقامات سے غیر مرتب فقرہ کاٹ کر یہ کفریہ بنایاگیاہے، ورنہ ختم نبوت زمانی کی کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا نبی ہو، اس حوالے کے آگے پیچھے موجود ہے۔ بعض فقرات ملاحظہ ہوں۔

اسی پیش کردہ (ص۳) کی عبارت بنائے خاتمیت … تا… ہوجاتی۔

سو اگر اطلاق… تا… جیسا کہ اس کا منکر کافر ہے، ایسا ہی اس کا منکر کافر ہوگا۔ (ص۱۰) اور خاتمیت زمانی بھی ہاتھ سے نہیں جاتی۔ جرح گواہان مدعیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔

مصنف نے خود اپنی شرح اس کتاب کی کی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’اپنا دین وایمان ہے بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تأمل کرے اسے کافر سمجھتاہوں۔‘‘

(مناظرہ عجیبہ ص۱۰۳، گلزار ابراہیم مراد آباد)

(گواہ مدعاعلیہ نے ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء) کی جرح میں تسلیم کیا ہے کہ مخالف کے قول سے اگر صحیح ہو تائید ہوسکتی ہے اور پھر یہ مندرجہ ذیل تائید بھی جرح میں کوٹ کردی گئی ہے۔

تائید از محمد علی صاحب ایم۔اے (جرح گواہ مدعاعلیہ ۸؍مارچ)

چھٹی شہادت مولوی محمد قاسم نانوتوی کی ہے…تا… نہ مانتے تھے۔

(آخری نبی ص۲۶،۲۷)

نتیجہ یہ نکالا ہے کہ: ’’ایسے شخص کے متعلق یہ کہنا کہ وہ آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے کا قائل نہیں پرلے درجہ کی حق پوشی ہے… تا… یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ آنحضرتﷺ کو آخری نبی نہ مانتے تھے (ص۲۷) ملاحظہ ہوجرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،

295

مؤرخہ۸؍مارچ ۱۹۳۳ءاور تعجب یہ ہے کہ یہ رسالہ کل ۴۲ صفحات کا ہے اور اس پر اعتراض وہ شخص قطع وبرید کرکے پیش کررہا ہے جس نے کل تحذیر الناس نہیں پڑھی بلکہ اکثرحصہ پڑھاہے۔ ملاحظہ ہو۔ (جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ۸؍مارچ ۱۹۳۳) اب نتیجہ عدالت خود اخذ فرمالے مفصل ابتدائی بحث میں پیش کرچکا۔

(۱۸)

(علماء کے نزدیک رسول ونبی کی تعریف)

اس سلسلہ میں علماء کے پیش کردہ معانی میں مغالطہ دینے کی سعی کی ہے اور کچھ قطع برید بھی یہاں کوئی خاص ایسی چیز نہیں پیش کی جو لائق جواب ہو۔ شرح فقہ اکبر وغیرہ سے یہ تعریف بیانات گواہ مدعیہ میں مفصل موجود ہے جس کے بعد کوئی بھی تاویل کی گنجائش نہیں رہتی۔ بخود طوالت مکرر حوالہ کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا۔

(۱۹)

(ظل وبروزی)

اس سلسلہ میں صرف گواہ مدعاعلیہ کے بیان کا حوالہ دیا ہے۔ میں بھی گواہ (مدعیہ نمبر۲،۳) کے حوالہ پر قناعت کرتاہوں جہاں پوری مکمل بحث ہے، جس میں کوئی بھی تاویل نہیں ہوسکی۔ نہ اس پر کسی اضافہ کی ضرورت ہے۔

پھر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب قدس سرہ العزیز (اشارات فریدی حصہ دوم کے حوالہ ص۱۱۰تا۱۱۲) نقل کئے ہیں۔ مگر یہ بروز بمعنی خبر دینا جس کے مرزا صاحب قائل ہیں۔ عدالت خود بیانات گواہان مدعیہ مرزا صاحب کی عبارت سے اس کا مقابلہ فرمالے۔ بلکہ وہ رنگ ہمہ اوست ووحدت الوجود میں ہے جس کے مرزا صاحب قائل نہیں۔ نیز ظل اللہ وغیرہ جواب جرح گواہان مدعیہ میں موجود ہے۔

(۲۰)

(کیا مرزا صاحب تناسخ کے بھی قائل تھے)

یہ بحث میں نہ آیاتھا اور عدالت نے اسے خارج بھی کرادیا تھا۔ لہٰذا اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

(۲۱)

(کیا مرزا صاحب نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا)

اوّلاً تقریباً (۱۴) مختلف حوالوں سے اس کے خلاف مرزاصاحب کا مسلک ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔ مگر کسی تصریح کے بعد مبہم عبارت اس پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ نیز چونکہ مرزا صاحب کی عادت ہی متعارض اقوال کی ہے۔ لہٰذا حسب ضابطہ سابق ایک دوسرے کی شرح نہیں ہوسکتے۔ اس مسئلہ کی زیادہ وضاحت بیان (گواہ مدعیہ نمبر۲ )و (بحث مختار مدعاعلیہ نمبر۲) یعنی مولاناسید محمدمرتضیٰ صاحب سے ملاحظہ فرمالیا جاوے کہ یہ دعویٰ اس قدر مصرح ہے کسی بھی تاویل کی گنجائش نہیں۔ چوتھے حوالہ کے جواب میں (منصب امامت ص۶۳،۶۴) پیش کیاہے اور حضرت مولاناشہید کو تیرہویں صدی کا مجدد (بحوالہ حجج الکرامۃ ص۱۴۷) بتایا۔ لیکن وہاں امام وقت کی اطاعت کا بیان ہے نہ کسی دعوے دار نبوت کے تعلیم کے مدار نجات ہونے کا یہ اس سے بالکل ہی تعلق نہیں رکھتا۔ عدالت یہ عبارت اصل بیان (گواہ مدعیہ نمبر۶) سے مقابلہ فرمالے۔ دونوں میں کوئی اختلاف نہیں۔

296

آٹھویں حوالہ کے سلسلہ میں فتاویٰ رشیدیہ وفتح المبین سے بعض اسلامی فرقوں کے اشخاص کے پیچھے نماز ناجائز یا مکروہ ہونے کا فتویٰ کا ذکرکیاہے۔

جواب یہ ہے کہ طغری کے معنی کوئی نیا حکم نکالنا نہیں بلکہ قرآن وحدیث وفقہ کی تصریحات نقل کرکے حکم ثابت کرنا ہے۔ بخلاف مرزا صاحب کے کہ انہوں نے قرآن وحدیث کے اور ائمہ دین کی تصریح کے خلاف ایک نیا حکم جو صرف انہیں کو بتایا گیا اور حلت وحرمت سے متعلق ہے۔ فرمارہے ہیںیہ اضافہ شریعت محمدیہ پر ہے۔ اس کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تم پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر ومکذب یا مردود کے پیچھے نماز پڑھو۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۲۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷)

بیان (گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳) ملاحظہ فرمائیں۔ شریعت کا کوئی سابقہ ثابت شدہ فتویٰ نہیں دے رہے ہیں۔ بلکہ مستقل خد اسے نماز حرام ہونے کے حکم کی اطلاع کا اعلان فرمارہے ہیں۔ یہ حرمت کا حکم براہ راست خدا سے جدید حکم نہیں تو اور کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ملا لیا جاوے کہ مرزا صاحب کا مندرجہ ذیل قول کہاں تک درست ہے۔ ’’ہم نہ شریعت میں کچھ بڑھاتے ہیں اور نہ کچھ کم کرتے ہیں۔ ایک ذرہ کی کمی بیشی نہیں کرتے۔‘‘

(نور الحق حصہ اوّل ص۵، خزائن ج۸ ص۷)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ عبارت خلاف حقیقت واقع ہے۔

(مسئلہ جہاد)

خلاصہ تاویلات:

۱… یہ حکم ان کا خود نہیں بلکہ آنحضرتﷺ کا ہے جو مسیح موعود کے حکم میں فرمایا کہ جب وہ آئے گا تو دینی جنگ کا خاتمہ کردے گا۔

۲… کچھ مسلمانوں کے عقیدہ پر اعتراض کیاہے۔

۳… چونکہ اس زمانہ میں موجبات جہاد نہ ہوں گے۔ اس لئے قطعاً جہاد کو حرام قرار دیا۔ (اعجاز احمدی) کا حوالہ مولوی محمدحسین بٹالوی کی تردید پر محمول کرلیا۔ (حقیقت المہدی، تحفہ گولڑویہ) کو وقت گزرنے پر محمول کیا۔

۴… ہم نہیں کہتے کہ حکم جہاد بالسیف قرآن میں نہیںیا تھا اور اب منسوخ ہوگیا۔

۵… جہاد سیفی کی حقیقت اوروقت وجوب قرآن وحدیث سے بتایاہے۔

(مرتب تفصیلی جواب)

۱… آنحضرتﷺ کا ہرگز یہ حکم نہیں کہ مسیح موعود آتے ہی دینی جنگوں کا خاتمہ کردے گا۔ بلکہ جہاد بالسیف اور قتال کو قیامت تک باقی رکھاہے اور آخر مقاتل جہاد بالسیف کرنے والا مسیح موعود کو قرار دیاہے جو دجال سے قتال بالسیف کریں گے۔ وہ احادیث جن میں قیامت تک جہاد کے باقی رہنے کا حکم ہے۔

۱… ’’الجہاد ماضٍ الی یوم القیامۃ‘‘ جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔

۲… ’’من یبرح ہذا الدین قائماً یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتی تقوم الساعۃ‘‘

(مسلم مشکوٰۃ شریف ص۴۶۳)

ہمیشہ یہ دین قائم رہے گااور ایک مسلمانوں کی جماعت اس دین کے لئے (قتال) یعنی جہاد بالسیف کرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔

ملاحظہ فرمائیں لفظ قتال کی تصریح ہر جہاد کا یہی لفظ نہیں کہ جہاد بالنفس وغیرہ کی تاویل کارگر ہو۔

297

۱… ’’لاتزال طائفۃ من امتی یقاتلون علی الحق ظاہرین علی نادرہم حتی یقاتل اٰخرہم المسیح الدجال‘‘ (ابوداؤد، مشکوٰۃ ص۲۶۵) ایک گروہ میری امت کا ہمیشہ دینی لڑایاں کرتا اور حق پر قائم رہے گا اور تمام مخالفین پر غالب رہے گا۔ یہاں تک کہ آخری شخص یعنی مسیح موعوددجال سے (قتال) دینی لڑائی کرے گا۔

۲… ’’عن ابی ہریرۃq… فیقاتل الناس علی الاسلام تا فیصلی علیہ المسلمین‘‘

(ابوداؤد)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰm کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ تم میں اتریں گے۔ جب ان کو دیکھو تو پہچان لو قد ان کا درمیانہ ہوگا۔ رنگ سرخ سفید اور لباس زردی مائل۔ گویا ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے پانی ٹپکتا ہوگا۔ وہ اسلام کے لئے لوگوں کے لئے لڑیں گے۔ کسر صلیب اور قتل خنزیر کریں گے اور جزیہ نہ قبول کریں گے۔ ان کے زمانہ میں خدا تمام مذاہب کو محو کردے گا۔ وہ دجال کو ہلاک کریں گے… الخ! خصوصیت سے ’’فیقاتل الناس علی الاسلام‘‘ کہ لوگوں سے دینی لڑائی کریں گے۔ قابل غور ہے اور مختار مدعاعلیہ کی کذب بیانی کی صاف تردید ہے کہ: ’’حدیثوں میں ہے کہ مسیح موعود دینی لڑائیوںکا خاتمہ کریں گے۔‘‘

البتہ جب دنیا میں صرف اسلام رہ جائے گا، کوئی اور ملت نہ ہوگی تو ضرور جہاد نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ لوگ موجود نہیں جن پر جہاد کیا جاسکے۔ ایک روایت بھی ایسی نہیں کہ مسیح آتے ہی دینی جنگوں کا خاتمہ کردیں گے۔

۲… مسلمانوں کے عقیدہ پر جو اعتراض کیا ہے۔ چونکہ اس کا ثبوت احادیث سے ہوچکا۔ اب جواب ترکی بترکی نہیں دیتا۔ عدالت خود ان کی سخت کلامی پر غور فرمائے۔

۳… موجبات جہاد کفار اورا مام کا ہونانیز قدرت ہے۔ کفا ر تو موجود ہی نہیں۔ امام ہونے کے مرزا صاحب خود ہی مدعی ہیں۔ باقی رہی قدرت وہ کبھی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ نہ ہونے کے حکم پر عمل نہ ہوسکنا اور چیز ہے۔ مگر نہ ہونے پر حکم ہمیشہ کے لئے بند کردیا اور کہنا کہ: ’’اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص۱۴، خزائن ج۱۷ ص۱۵) پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کردیاگیا۔ (اربعین نمبر۴ ص۱۵ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳) دین میں کھلا ہوا ایک نیاحکم خلاف شرع مستزاد کرتاہے جو بالاتفاق کفرہے۔ پھر(نمبر۴،۵،۶) میں یہ کہنا کہ مولوی محمدحسین کی تردید کے لئے یا وقت گزرنے پر محمول ہے۔

اور ہم نہیں کہتے کہ حکم جہاد بالسیف قرآن میں نہیں یا تھا اور اب منسوخ ہوگیا۔ مرزا صاحب کی مندرجہ ذیل تصریحات کے بعد بالکل ناقابل التفات ہے۔

۱… ’’بل صارت ہذہ الامر کشریعتہ نسخت تااقیم مقام ہذا اتمام الحجۃ بالدلائل واضحہ… الخ!‘‘ یعنی جہاد بالسیف کا حکم شریعۃ منسوخہ اور طریقہ متبدلہ کی طرح ہوگیا۔ اب جنگ ومحاربہ کی حاجت نہیں۔ اس کے قائم مقام دلائل واضح اور دعاوی کا براہین صحیحہ سے ثابت کرنا قرار دیا گیا۔‘‘

(حقیقت المہدی ص۲۵، خزائن ج۱۴ ص۴۶۱)

ملاحظہ فرمائیں کہ کس وضاحت سے حکم جہاد سیفی ہمیشہ کے لئے منسوخ کرکے دلائل کو ان کے قائم مقام کررہے ہیں اور لطف یہ کہ لفظ بھی ’’نسخت‘‘ منسوخ ہونے کا استعمال فرمایاہے۔ اس سے تو صراحۃً مدعی صاحب شریعت جدیدہ ناسخ شریعت محمدیہ ہوگئے۔

۲… ’’دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیاہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے… الخ!‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اورجہاد ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۱۵) نئے حکم لانے کی کیسی صاف تصریح ہے۔ یہ نہیں کہ شریعت میں کوئی حکم ہے جسے سناتاہوں۔

298

۳… ’’مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کردیاگیا۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۱۵ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۴۴۳) مختار مدعاعلیہ تو اس کی علت نبی کریمa کی پیش گوئی وغیرہ بتاتاہے۔ مگر خود مرزا صاحب اس کی غرض صرف اعانت گورنمنٹ برطانیہ اور ان کی خوشنودی قرار دیتے ہیں۔

ملاحظہ ہوں حوالہ جات ذیل

۱… ’’یہ بات تو بہت اچھی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کی جائے اور جہاد کے خراب مسئلہ کے خیال کو دلوںسے ہٹایاجائے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۴، خزائن ج۱۹ ص۱۴۴)

۲… ’’جوکچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اورجہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک… تا اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی۔‘‘

(کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۷)

ملاحظہ ہو جہادی خیالات روکنے کی اشاعت اورخصوصاً ممالک اسلام میں اس کی غرض مرزا صاحب صرف گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیرخواہی قرار دے رہے ہیں۔ مختار مدعاعلیہ جو چاہے تاویل کرے۔ مرزا صاحب نے تمام تاویلات کا دروازہ بند کردیاہے۔ عدالت خود ہی ملاحظہ فرمالے۔ بخوف طوالت اسے طول نہیں دیتا۔

۷… جہاد کی تین قسمیں : جہاد اکبر،جہاد کبیر، جہاد اصغر کرنا اور پھر حدیث: ’’الکلمۃ حق عند سلطان جائر الجہاد الاکبر‘‘ مشکوٰۃ کے حوالے سے پڑھنا جو کہ ان الفاظ میں ثابت ہی نہیں اور ایک ضعیف حدیث (روح المعانی ج۱ ص۱۹۰) سے لانا اورپھر’’رجعنا من جہاد الاصغر الی جہاد الاکبر‘‘ والی حدیث بلاکسی حوالے کے لے آنا۔ حالانکہ حدیث سے معمولی سا تعلق رکھنے والابھی جانتاہے کہ یہ حدیث موضوع ہے اور اس کا موضوع ہونا تقریباً شہرت کی حد کو پہنچ چکاہے۔

پھر کسی شخص کے واسطے بعض حالات مخصوصہ میں جب کہ اس کے واسطے جہاد فرض عین نہ تھا بلکہ کفایہ تھا۔ اس پر فرض عین یعنی خدمت والدین کو ترجیح دینے سے غلط تقسیم جو مختار مدعاعلیہ نے قائم کرکے جس کو آنحضرتﷺ اسلام کی چوٹی قرار دیں۔ ’’وذروۃ سنامہ الجہاد‘‘(مسلم) کم درجہ بتایا ہے اور ایک مکی آیت سے جو حکم جہاد بالسیف سے پہلے نازل ہوئی اور آیت سیف نے ان سب کا حکم ختم کرکے جو نیا حکم قیامت تک کے واسطے قائم کیا ہے اسے چھپانے کی سعی کرنا اسلام کے اصول پر ایک ایسا زبردست حملہ ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ احادیث صحاح کا اس کے متعلق ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ملاحظہ ہو مشکوٰۃ شریف (کتاب الجہاد) اور قرآن پاک اور احادیث صحیحہ میں اس جہاد بالسیف سے بڑھ کر کوئی بھی عبادت وریاضت ایسی کیا اس کے قریب ہی قرار نہ دی گئی اور ایمان کا مدار ہی اسے قرار دیا گیا۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں مجھے تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں دینی لڑائی کرتاہوا قتل کیا جاؤں۔ پھر زندہ ہوں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں… الخ!

(بخاری ومسلم )

نیز فرمایا کہ: ’’الجنۃ تحت خلال السیوف‘‘ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے۔ یہ حدیث حضرت ابی موسیٰ اشعری نے جب بیان فرمائی کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے۔ فوراً ایک معمولی ہیئت کا آدمی اٹھا اور پوچھا کہ: ’’انت سمعتہ من رسول اللہ ﷺ‘‘ تم نے یہ حدیث حضورa سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں! یہ سنتے ہی تلوار اٹھائی اور میان کو توڑ کر لوگوں کو آخری سلام کیا اور اسی راہ سے جہاد کر کے جنت جا پہنچا۔ (مسلم شریف) میں احادیث کے طویل ذخیرہ کو چھوڑ کر قرآن پاک کی روشنی میں جو مختار مدعا علیہ کے نزدیک احادیث صحیحہ متواترہ پر بھی راجح ہے، اس مسئلہ کو واضح کرتا ہوں۔

299

قرآن پاک اور جہاد بالسیف

جہاد فی سبیل اللہ بہت سی زبانیں تو اس کے ذکر ہی سے گنگ ہیں۔ شیاطین الانس کا خوف ان کے رگ وپے میں اس درجہ اثر کئے ہوئے کہ وہاں اللہ کے خوف کے لئے جگہ نہیں۔ ’’یخشون الناس کخشیۃ اللہ او اشد خشیۃ (النساء:۷۷)‘‘ اور جنہیں ابھی بولنے کی طاقت حاصل ہے وہ اسے جہاد بالنفس پر محمول کرتے ہیں اور ’’ورجعنا من جہاد الاصغر الی جہاد الاکبر‘‘ کی غلط اور موضوع حدیث سے ان کا نفس خادع تمسک واعتصام کرتا ہے۔ گویا ابلیس نے ان علماء سوء کو اپنے اعمال شیطانی کے لئے ایک آلہ بنا لیا ہے اور جس طرح چاہتاہے، ان سے کام لیتاہے۔ لیکن قرآن حکیم نے صاف صاف اعلان کردیا کہ : ’’ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفاً کانہم بنیان مرصوص (صف:۴)‘‘

بے شک خدا ن لوگوں کو محبوب رکھتا جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک دیوار ہیں جس میں سیسہ پلایا گیا ہے۔ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے جن لوگوںسے تمام تعلقات وروابط منقطع کئے گئے وہ تین جلیل القدر صحابہ تھے جو کاہلی کی بناء پر جنگ تبوک میں شامل نہ ہوئے۔

’’وعلی الثلٰثۃ الذین خلّفوا حتی اذاضاقت علیہم الارض بما رحبت وضاقت علیہم انفسہم وظنوا ان لاملجاء من اللہ الا الیہ ثم تاب علیہم لیتوبوا ان اللہ ہوا التواب الرحیم (التوبۃ:۱۱۸)‘‘ اور ان تین پر بھی جو بانتظار امر خداوندی ملتوی رکھے گئے تھے۔ یہاں تک جب زمین باوجود فراخی ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ اپنی جان سے بھی تنگ آگئے اور سمجھ گئے کہ خدا کی گرفت سے اس کے سواء اور کہیں پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان کی توبہ قبول کر لی تاکہ وہ آئندہ کے لئے توبہ کئے رہیں۔ بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

جو لوگ جہاد میں شریک نہ ہوں، ان کی نسبت فرمایا کہ نہ صرف یہی مصیبتوں اور تکلیفوں کا نشانہ بنیں گے بلکہ ان کی وجہ تمام قوم مبتلائے آلام ہوگی۔

’’واتقوا فتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خآصۃ واعلموا ان اللہ شدید العقاب (الانفال:۲۵)‘‘اور اس بلاء سے ڈرتے رہو جو خاص کر انہیں لوگوں پہ نازل نہیںہوگی جنہوں نے تم میں سے سرتابی کی ہے۔ بلکہ سب اس کی زد میں آجاؤ گے اور جانتے رہو کہ اللہ کی مار بہت بری ہے۔

جس طرح ہر شخص اپنی انفرادی زندگی کے بقاء وقیام کے لئے ہر قسم کی جدوجہد کرتاہے، ٹھیک اسی طرح قرآن حکیم نے تمام مسلمانوں پر حیات اجتماعی کے قائم ودائم رکھنے کے لئے جہاد کو الزم اللوازم قراردیا۔

’’واعدوالہم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدو اللہ وعدوکم (الانفال:۶۰)‘‘ اور سپاہیانہ قوت اور گھوڑوں کے باندھے رکھنے سے جہاں تک تم سے ہوسکے، کافروں کے لئے سازوسامان مہیا کئے رہو کہ ایسا کرلینے سے اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر اپنی دھاک بٹھائے رکھو گے۔

پھر نبوت کے اعمال مہمہ میں سب سے اشرف واعلیٰ مقام اسے نوازش کیا گیا۔

’’یٰآیہاالنّبی حرض المؤمنین علی القتال (الانفال:۶۵)‘ اے نبی مسلمانوں کو جنگ وقتال کے لئے ابھارو۔

عالم الغیب والسرائر کو اس امر کی اطلاع تھی کہ آخری زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تر زندگی بطالت وبد عملی اور جبن ونامراد کی تصویر ہوگی۔ جہاد فی سبیل اللہ سے بچنے کے لئے طرح طرح کے حیلے تراش کر نفس خادع کے فریب میں مبتلاہوجائیں گے اور قتال فی سبیل الحق

300

والحریۃ ترک کردیں گے۔ اس لئے سورۃ توبہ میں ان کے ایک ایک عذر لنگ کو بیان کیا۔ ہر ایک کی حقیقت آشکارا کردی اور بتایا کہ تمہیں کسی طرح بھی اس فرض اہم واقدم سے نجات نہیں مل سکتی۔ یہ فوجی خدمت ہر مسلم مرد وعورت، امیروغریب، بادشاہ وفقیر، آقاء وغلام پر لازمی ہے اور ا س سے کسی کو حق استثناء حاصل نہیں۔ ہم اس وقت صرف اشارات پر اکتفاء کرتے ہیں۔ تفصیل کا مقام دوسرا ہے۔

الف… مخالفین ومعاندین اسلام نے اپنی مجتمع قوت سے اسلامی حکومت کو تاخت وتاراج کرنا شروع کردیا ہے۔ مسلمانوںکے تمام بلاد وامصار تباہ وبرباد ہورہے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ حمیّت مذہبی کی وجہ سے مسلمان مقابلہ کے لئے نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ دشمنان دین فوراً اپنے مواعید کاذبہ کا اعلان کردیتے ہیں کہ فرزندان اسلام کے تمام حقوق کی حفظ ونگہداشت کی جائے گی۔ ان کے مقدس مقامات کا احترام کیا جائے گا اور ان کے مذہبی وسیاسی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت روا نہ رکھی جائے گی۔ اس قسم کی دل فریب باتیں سن کر اکثر حیلہ جو طبیعتیں پکار اٹھتی ہیں کہ ایسے لوگوں سے جنگ کرنا حد درجہ کی سفاہت وبد اخلاقی ہے۔ یہ تو پیکر فرشتگی وملوکیت ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ان پر اعتماد کرنا جہل ونادانی ہے۔ وہ اپنے وعدے پورا نہ کریں گے۔

’’ماکان للمشرکین ان یعمروا مسٰجد اللہ شٰہدین علیٰ انفسہم بالکفر (التوبۃ:۱۷)‘ مشرکوں کو کوئی حق نہیں کہ اللہ کی مسجدیں آباد رکھیں اور اپنے اوپر کفر کی گواہی بھی دیتے جائیں۔

ب… مسلمان اپنے گھروں میں نیک کام کرتے ہیں۔ علماء کرام قرآن وحدیث کے درس میں مصروف ہیں۔ گروہ صوفیہ خانقاہوں میں اللہ اللہ کے نعرے لگاتاہے کہ تزکیہ نفس حاصل ہو۔ ہزاروں لاکھوں انسان ہیں جو ان سے اپنی تشنگی کو دور کرتے اور سیراب ہوکر گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یہ لوگ ان اعمال صالحہ کو پیش کرکے اپنے آپ کو قتال فی سبیل اللہ سے مستثنیٰ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن لسان الٰہی انہیں ظالم قرار دیتی ہے۔

’’اجعلتم سقایۃ الحآج وعمارۃ المسجد الحرام کمن اٰمن ب اللہ والیوم الاخر وجاہد فی سبیل اللہ لایستوٗن عند اللہ و اللہ لایہدی القوم الظالمین (توبۃ:۱۹)‘‘ کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور خانہ کعبہ کے آباد رکھنے کو اس شخص کی خدمتوں جیسا سمجھ لیا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاتا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرتاہے۔ اللہ کے نزدیک تو یہ برابر نہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔

حضرت عبد اللہ بن مبارک نے اپنے سال کو چارحصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ تین ماہ تجارت کرتے تھے، تین ماہ درس حدیث میں مصروف رہتے، تین مہینوں میں حج کرتے اور باقی ایام جہاد فی سبیل اللہ میں صرف کرتے۔ انہوں نے حضرت فضیل بن عیاض کو خط بھیجا جو اس وقت بیت اللہ میں معتکف تھے اور حضرت عبد اللہ مصروف جہاد۔ اس خط کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔

  1. یاعابد الحرمین لو ابصرتنا

    لعلمت انک بالعباد تلعب

فضیل روپڑے اور کہا ابو عبدالرحمن سچ کہتاہے۔

ج… دنیاوی ضرورتیں ماںباپ کی محبت، رشتہ داروں کی خبر گیری، مساکین وغرباء کی اعانت اور زمین وجائیداد کی حفاظت ان میں سے ایک چیز بھی جنگ سے مستثنیٰ نہیں کرسکتی۔

’’قل ان کان اٰبآؤ کم وابنآؤکم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم واموال ن اقترفتموہا وتجارۃ تخشون کسادہا ومسٰکن ترضونہا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجہاد فی سبیلہ فتربصوا حتیٰ یأتی اللہ بامرہٖ و اللہ لا یہدی القوم الفٰسقین (التوبۃ:۲۴)‘‘

301

کہہ دو اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، کنبہ دار مال جو تم نے کمائے ہیں، سوداگری جس کے مندا پڑ جانے کا تم کو اندیشہ اور مکانات جن کو تمہارا جی چاہتاہے، اللہ اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تم کو زیادہ عزیز ہوں تو صبر کرو۔ یہاں تک کہ جو کچھ خدا کو کرنا ہے وہ تمہارے سامنے لا موجود کرے اور اللہ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو سرتابی کریں۔

د… قلت تعداد، فقدان اسباب اور ضعف ظاہری کی بناء پر جہاد کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔

’’لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلن تغن عنکم شیئاً وضاقت علیکم الارض بمارحبت ثم ولیتم مدبرین (التوبۃ:۲۵)‘‘ اللہ بہت سے موقع پر تمہاری مدد کرچکا اور حنین کے دن جب کہ تمہاری کثرت نے تم کو مغرور کردیا تھا تو وہ تمہارے کچھ کام بھی نہ آئی اور زمین باجود وسعت کے لگی تم پر تنگی کرنے پھر تم پیٹھ پھیر کربھاگ نکلے۔

ہ… تاجرانہ تعلقات اورملازمت کے روابط کی بناء پر کسی قوم سے جنگ کو ملتوی نہیں کیا جاسکتا اور یہ خیال نہ ہو کہ اس سے علیحدگی اختیار کرنے پر آمدنی کے تمام ذرائع مسدود ہوجائیں گے۔

’’یٰآیہا الذین آمنو انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا (التوبۃ:۲۸)‘‘ مسلمانو! مشرک تو گندے ہیں تو اس برس کے بعد حرمت والی مسجد کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں اور اگر ان کے ساتھ لین دین بند ہوجانے سے تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا۔

پس ان تمام آیات نے واضح کردیا کہ جب تک آنکھوں میں بصارت ہے، کان سن سکتے ہیں، ناک سونگھ سکتی ہے، زبان میں قوت گویائی، ہاتھوں میں پکڑنے کی طاقت اور پاؤں میں چلنے کی قابلیت ہے، ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جہاد کی تیاری کرے۔ تمام محبتوں اور چاہتوں پر اس کی شیفتگی ووارفتگی غالب رہے۔ اسی کا سودا سر میں ہو اوراسی کی زنجیر پاؤں میں ہو کہ یہی احب الاعمال الی اللہ ہے۔ یہی سنام الاسلام ہے۔ یہی عصا رہ ایمان اور مغز عبادت ہے۔

’’وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ ہو اجتباکم وماجعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراہیم ہو سماکم المسلمین من قبل وفی ہٰذا لیکون الرسول شہیداً علیکم وتکونوا شہدآء علی الناس فاقیموا الصلوٰۃ واٰتوا الزکوۃ واعتصموا ب اللہ ہو مولٰکم فنعم المولیٰ ونعم النصیر (الحج:۷۸)‘اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو حق جہاد کرنے کا ہے۔ اس نے تم کو تمام انبیاء کی قوموں سے برگزیدگی اور امتیاز کے لئے چن لیا۔ پھر جو دین تم کو دیاگیا ہے وہ ایک ایسی شریعت فطری ہے جس میں تمہارے لئے کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔ ملت تمہارے وارث اعلیٰ خلیل اللہ کی ہے اور اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ گزشتہ زمانوں میں بھی اور اس میں بھی تاکہ رسول تمہارے لئے اور تم تمام عالم کی ہدایت اور نجات کے لئے شاہد ہو۔ پس اللہ تعالیٰ کے رشتہ کو مضبوط پکڑو جان ومال دونوں کو اس کی عبادت میں لٹا دو۔ وہی تمہارا آقاء اورمالک ہے اور پھر جس کا خدا مالک ہو، اس کا کیا اچھا مالک ہے اور کیا قوی مددگار۔

احادیث نے اس کی اہمیت کو اور زیادہ کھول کر بیان کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’والذی نفس محمد بیدہ لوددت ان اقتل فی سبیل اللہ ثم احییٰ ثم اقتل ثم احییٰ ثم اقتل ثم احییٰ ثم اقتل‘‘خدا کی قسم میں چاہتاہوں کہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر دوبارہ زندہ ہوجاؤں۔ پھر شہادت کا درجہ حاصل کرکے زندہ کیا جاؤں۔ پھر شہید ہو کر زندہ ہوں پھر قتل کیا جاؤں۔

دوسری حدیث میں ہے:’’رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا ومافیہا‘‘ایک دن اللہ کے راستہ میں چوکیداری

302

کرنی بہتر ہے۔ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے جس شخص نے جہاد کا ایک لمحہ کے لئے بھی ارادہ نہ کیا ہو اوراسی حالت میں مرگیاہو، اس کی نسبت فرمایا کہ وہ منافق کی موت مراہے۔

’’ومن مات ولم یغزوا ولم یحدث بہ نفسہ مات علی شبعۃ من نفاق‘‘ جو شخص مرگیا نہ تو اس نے اپنی زندگی میں کبھی جہاد کیا اور نہ اس کے کرنے کا ارادہ ہی دل میں پیدا ہوا وہ نفاق کی موت مرا۔

ایک موقعہ پر یوں ارشاد ہوا:’’ان ابواب الجنۃ تحت ظلال السیوف‘‘جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ کے نیچے ہیں۔ پھر اس کی کوئی بھی حد قائم نہ فرمائی۔

’’وقاتلوہم حتیٰ لاتکون فنتنۃ ویکون الدین کلہ ﷲ (الانفال:۳۹)‘‘ان سے برابر مذہبی جنگ جاری رکھو جب تک فتنوں کا استیصال اور تمام دین اللہ کے واسطے نہ ہوجائے۔ ’’الجہاد ماض الیٰ یوم القیامۃ‘‘ قیامت تک جہاد باقی رہنے والی چیز ہے اور آخری مذہبی لڑائی مسیح موعود کے ہاتھوں ہوگی۔ شرائط کے کسی وقت فقدان کی وجہ سے بالفعل اس پر عمل نہ ہونا اور چیز ہے، مگر جہاد کے (عیاذاًب اللہ ) بقول مرزا صاحب خراب مسئلہ کو گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کے واسطے قربان کرنا اور صرف سچی خیر خواہی گورنمنٹ کے واسطے اعلان کرنا کہ میں ایک حکم خدا سے لے کر آیا ہوں اور یہ کہ اب سے دینی لڑائیوں کا خاتمہ ہے۔ باری تعالیٰ سے کھلی ہوئی بغاوت کا اعلان ہے جسے اللہ اور اس کا رسولa ہمیشہ قیامت تک باقی رکھیں۔ اس کاخاتمہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے کہ کہے اب یہ حکم جہاد شریعت منسوخ ہوگیا۔ قرآن پاک کی قطعی آیات اور سرکار دوعالمa کی احادیث اب چودھویں صدی کے ایک شخص کے حکم سے منسوخ قرار پائیں۔ اس سے زائد کوئی کفر یہ ناممکن ہے۔ کسی عذر سے کسی حکم پر کسی زمانہ میں عمل نہ ہوسکنا اور امر ہے اور اس سے انکار کرکے اسے ختم یا منسوخ کردینا اور چیز ہے۔ عمل نہ کرناکفر نہیں مگر بدلنا انکار ومنسوخ کرنا صریح کفر ہے جس کے بعد ایمان ممکن ہی نہیں۔

جہاد بالسیف کب واجب ہوتاہے

اس سلسلہ میں مکی زندگی اور مکی منسوخ آیات اوربعض صحابہ کے اقوال سے جو اس کی خانہ جنگی سے متعلق تھے۔ غلط نتائج اخذ کئے ہیں اور جہاد کو صرف دفاعی قرار دیا ہے۔ حالانکہ جہادکی دونوں قسمیں قرآن پاک واحادیث میں مصرح موجود ہیں۔ مدافعانہ بھی اور جارحانہ بھی ایک قسم کو مستقلاً حذف کردینا بھی دین میں کمی کرنا ہے۔تفصیل کا موقع نہیں کہ تمام شرائط اور ان کی نوعیت پر روشنی ڈالی جائے۔ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جب شرائط نہ ہوں تو بالفعل ضروری نہیں، مگر اس کی ہمیشہ کے لئے منسوخی وخاتمہ کااعلان کیونکر درست ہوسکتا ہے؟ کیا کسی شخص پر یا جماعت پر بوجہ عدم استطاعت حج فرض نہ ہونے سے تمام دنیا کے واسطے مسئلہ حج کے خاتمہ کا اعلان وحکم کیا جاسکتا ہے؟ پھر اگر ہندوستان میں مجبوری تھی تو اس مسئلہ جہاد کے خاتمہ کا اعلان بلاد عرب وشام اسلامی ممالک میں انہیں جہاد سے روکنے کے واسطے رسائل کثیرہ کی اشاعت کی کیا غرض تھی؟ مختار مدعاعلیہ کوئی بھی تاویل کریں مرزا صاحب (کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۷) پر صاف اعلان فرمارہے ہیں کہ کوئی بھی غرض ممالک اسلامیہ میں اس کے روکنے اور خاتمہ کے اعلان کے سوائے خوشنودی وسچی خیر خواہی گورنمنٹ برطانیہ کی ہرگز نہ تھی۔ (ملخصاً)

بزرگان دین پر بہتان عظیم

پھر حضرت مولانا محمداسماعیل شہید اور ان کے پیر حضرت سید احمد بریلوی پر یہ بہتان باندھا ہے کہ ان کا مذہب بھی مرزا صاحب کی طرح تھا۔ ماشاء اللہ ان کا رسالہ جہادیہ و حیات طیبہ ملاحظہ ہو۔

303

اور سوانح احمدیہ سے ان کا ایک خطبہ بلکہ ایک دو فقرات نقل کئے ہیں۔ عدالت خود اسے ملاحظہ فرمائے۔ نقل عبارت میں طول ہوگا کہ کیسا کھلا ہوا بہتان عظیم ہے۔ اس میں تو سراسر اس کے خلاف ہے۔ وہ جب سکھوں سے جہاد کرنے کے واسطے نکلے تو اعلان فرمادیا کہ کسی اسلامی بادشاہ یا موجودہ سلطنت سے ہمارا نزاع نہیں۔ صرف سکھوں سے اس وقت جہاد کرنا ہے۔

اس میں جب کہ وہ خود جہاد بالسیف میں مصروف ہیں تو جہاد کے مسئلہ کو خراب اور اس کے ہمیشہ کے لئے خاتمہ اور منسوخی کا کیونکر اعلان فرماسکتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے کیا۔ البتہ ایک وقت میں تمام دنیا سے جہاد نہ کیا۔ اس سلسلہ میں بلا وجہ گورنمنٹ برطانیہ کے محامد اور ان کا سایہ رحمن ہونا بھی زیر بحث لایاگیا ہے اور باوجود یکہ بحث کے وقت احتجاج کے ساتھ میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ میں ایک لسٹ اس کے مظالم اور مداخلت فی الدین کرنے کی دوں گا کہ سرکار دوعالمa کے مذہب پاک پر کیسے اور اس قدر عظیم الشان حملے کئے ہیں۔ مگر چونکہ عدالت کی اجازت اس قسم کے غیر متعلق امور کے تذکرہ کی نہیں۔ اس لئے احترام عدالت کے لحاظ سے ترک کرتاہوں۔

بہرحال اس مسئلہ جہاد کے خاتمہ کرنے میں مرزا صاحب نے خود دین میں کمی زیادتی کی۔ اس کا جواب تاقیامت ناممکن ہے۔ عدالت خود ہمارے پیش کردہ حوالہ جات (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص۵، خزائن ج۱۷ ص۱۵) میں سے ملاحظہ فرمائے۔

تیسری وجہ تکفیر (دعویٰ نبوت)

اس سلسلہ میں مدعیہ کی جانب سے کوئی بھی ثبوت اس ہیڈنگ کے تحت پیش نہیں کرنا ہے۔ کیونکہ بوضاحت بسلسلہ ختم نبوت قرآن پاک، احادیث نبویہ صحیحہ، اقوال صحابہ، قرآنیہ سلف صالحین سے کثیر التعداد حوالے اور تقریباً (۵۰) سے زائد بالکل لاجواب جن کے جواب میں تذکرہ تک نہ آیا گزرچکے جن کا اعادہ نہیں کرتا اور ان سے صراحۃً ثابت ہوگیا کہ کسی قسم کا ظلی، بروزی نبوت کا دعویٰ بعد خاتم النّبیین اور آخر الانبیاء باجماع امت کفر اور قطعی کفر ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے اس سلسلہ میں وہی شہادت کی پیش کردہ آیات اسی طرز استدلال سے اور وہی کچھ معتبر اور غیر معتبر احادیث الفاظ ومعنی میں تحریف وتاویل کرکے دہرادیں جن کا غیر متعلق اور سرے سے بے ربط اور موضوع سے دور اشارۃً وکنایۃً بھی مثبت مدعانہ ہونا اصل بحث میں ثابت کرچکا ہوں۔ اب گو کچھ زائد کہنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس کی جوابی بحث کی روشنی میں نہایت اختصار سے گزارش کرتاہوں۔

قرآن مجید سے امکان نبوت پر دلائل

بحوالہ بیان (گواہ مدعاعلیہ نمبر۱) (۱) ’’یٰبنی آدم… الخ! (الاعراف:۳۱)‘‘ (۲) ’’ اللہ یصطفی… الخ! (الحج:۷۵)‘‘ (۳)’’اذکروا نعمۃ اللہ … الخ! (الاحزاب:۹)‘‘ (۴) ’’ظہر الفساد… الخ! (الروم:۴۱)‘‘ (۵)’’صراط الذین انعمت علیہم‘‘ بحوالہ (گواہ مدعاعلیہ نمبر۲) (۶) ’’واذ ابتلیٰ ابراہیم (البقرۃ:۱۲۴)‘‘ (۷)آیت میثاق (۸) ’’ومن یطع اللہ والرسول (النساء:۶۹)‘‘ (۹) ’’ماکان اللہ لیذر (آل عمران:۱۷۹)‘‘ (۱۰) ’’کلا ہدینا (الانعام:۸۴)‘‘ (۱۱)آیت استخلاف (۱۲) ’’وسیق الذین کفرو الیٰ جہنم زمراً (الزمر:۷۱)‘‘

ان سب کا مدلل جواب اصل بحث میں پیش کرچکا ہوں اورعدالت نے اس پر نوٹ بھی قائم فرمائے تھے۔ ان میں سے صرف چند آیات نمبر(۱)، (۲)، (۵)، (۶)،(۸)،(۱۱) کا جواب بحث میں تذکرہ کیا اور پوری چھ یعنی نصف درجن کے جواب کا ذکر تک نہ کیا اور ان کا جواب صحیح تسلیم کر لیا۔ لہٰذا اب اس سلسلہ میں صرف چھ آیات ان کے پاس ہیں جن کے جواب کو جوابی بحث میں لانے اور میرے

304

جواب میں مغالطہ کی سعی کی ہے جس کی حقیقت پر مرتب ومفصل مگر نہایت ہی اختصار سے روشنی ڈالتاہے۔

مختار مدعاعلیہ کی تاویلات کا خلاصہ

۱… اس آیت میں خطاب حضرت آدمm کے وقت کے بنی آدم کو ہونا جن کے واسطے مختار مدعیہ نے ابن جریر کی روایت پیش کی ہے۔ سیاق وسباق کے خلاف ہے۔

۲… سیاق وسباق سے وہی ثابت ہوتاہے جو گواہان مدعیہ نے کیاہے۔

۳… اس سے پہلے آیت: ’’یٰبنی آدم خذوزینتکم (الاعراف:۳۱)‘‘ ہے جس کا شان نزول کفار مکہ ہیں۔

۴… اور بعد کی بھی آیات ہمارے معنوں کو مؤید ہیں۔ ’’قال ادخلوا فی… الخ! (الاعراف:۳۸)‘‘

۵… یہ کہنا غلط ہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے اس پرکوئی حوالہ نہیں دیا بلکہ حوالہ اتقان کا موجود ہے۔

۶… روایت ابن جریر میں آدم اور ذریت آدم دونوں کا ذکر ہے اور آیت میں صرف بنی آدم کا۔

۷… قرآن میں حکایت عن الماضی کا اشارہ تک نہیں۔

۸… عبدالرحمن بن زیاد اوربیاج ضعیف ہیں جو روایت ابن جریر میں ہیں۔

۹… اقوال تابعین ومفسرین حجت نہیں۔ حوالہ اتقان، ابن خلدون۔

۱۰… مرزا صاحب نے ابن جریر کو رئیس المفسرین کیوں کہا۔

۱۱… ’’یا بنی آدم یا ایہا الناس‘‘ کے فرق کا جواب۔

۱۲… ہدیۃ الشیعہ۔

۱۳… نسخ احکام میں ہوتاہے نہ اخبار میں۔

۱۴… امّا کی بحث۔

الجواب:

۱… ہرگز سیاق وسباق اس کے خلاف نہیں۔ میں نے اوّلاً اس کے عموم خطاب کو سیاق وسباق اوراسلوب قرآن سے اصل بحث میں ثابت کیا ہے اور قرآن پاک سے ثابت کیا ہے کہ ہر جگہ یا بنی آدم سے اولاد آدم مراد ہوتی ہے۔ جیسا کہ اصل الفاظ کا مدعاہے اور جب بھی کہیں تخصیص پیدا ہوتی ہے، وہ مجازاً خارجی قرائن یا شان نزول وغیرہ کے لحاظ سے۔ ورنہ اصل الفاظ کی وضع ہی عموم کے واسطے ہے۔ ملاحظہ ہو بحث مختار مدعیہ۔

۲… یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ جیسا کہ ماقبل سے مستفاد ہوتاہے اور آگے آرہاہے۔

۳… اس پہلی آیت میں ’’یٰبنی آدم خذوا زینتکم… الخ! (الاعراف:۳۱)‘‘ میں خطاب عام اولاد کو ہے اور تخصیص خارج سے شان نزول کی مدد سے جو پیش کی ہے وہ اصل عموم الفاظ کو باطل نہیں کرتی۔ کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہوتاہے نہ خصوصی مورد کا۔ تعجب ہے کہ دوسرا شان نزول پیش کرے تو اسی ضابطہ سے مختار مدعاعلیہ اسے مسترد کردیتاہے اور اپنے لئے اسی سے دلیل لاتاہے۔ مفصل ابتدائی بحث میں پیش کرچکاہوں۔ پس معلوم ہوا کہ اس آیت میں ’’یا بنی آدم… الخ!‘‘ سے عام اولاد آدم بلا تخصیص امت محمدیہ یا زمانہ محمدیہ کے لوگوں کے مراد ہیں۔ البتہ حکم اس قسم کا ہے کہ ختم نہیں ہوا۔ اب تک اس امت میں موجود ہے۔ پس یہ ماسبق کی آیت خلاف ہمارے مدعاکے نہ ہوئی بلکہ اسی کو مؤید رہی۔

305

۴… مابعد ایک آیت بھی مختار مدعاعلیہ کے معنی کی مؤید نہیں بلکہ تائید کا اشارہ تک نہیں۔ دراصل مختار مدعیہ کے پیش کردہ معنی سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ کیونکہ پیش کردہ آیت میں ازل کا ذکر تھا اور اس میں ابدو آخرۃ یا قیامت ووقت دخول جنت کا، وہ حکایت حال ماضیہ تھی، یہ حکایت حال۔ آیت دوسرے سیاق وسباق کی فکر مختار مدعاعلیہ کو فضول ہے۔ جب کہ وہ خود اقرار ی ہے کہ: ’’اورحضرت آدم کا واقعہ ضمنی طور پر درمیان میں آیاہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ اس میں ضمناً جملے معترضہ بھی ہیں جن کا ماقبل ومابعد سیاق وسباق سے حل کرنا اسی کے قول کے مطابق نہیںہوسکتا۔ ورنہ میں نے تواس کا حل مختصر یہاں اور مفصل اصل بحث میں پیش کردیا ہے۔ نیز گواہان مدعیہ نے بجواب جرح بھی اسے ایک حد تک صاف کردیاہے۔

۵… یقینا یہ کہنا صحیح ہے کہ مختار مدعاعلیہ نے اس پر کوئی بھی دلیل پیش نہیں کی اور ہمارے اس قول کو کوئی بھی غلط ثابت نہیں کرسکتا۔ مختار مدعاعلیہ کی یہ غلط بیانی ہے کہ اس نے آیت متنازعہ کے متعلق اتقان کا حوالہ پیش کیا۔ بلکہ ماقبل کی آیت: ’’خذوا زینتکم‘‘ کے متعلق اتقان کا حوالہ پیش کیا تھا اور اسی پچھلی آیت کے تحت سے ایک ضابطہ عام نقل کیا تھا۔ مگر اس کا غیر متعلق ہونا اچھی طرح ابتدائی بحث میں واضح کرچکاہوں اور واقعہ صرف اس قد رہے کہ ایک عام قاعدہ کی اتقان میں ایک مثال دی ہے۔ یہ ہرگز نہیں کہ اس آیت متنازعہ میں یا جہاں بھی یہ لفظ آئے یہی مطلب ہوتاہے۔ ملاحظہ ہو۔

(اتقان ص۱۹۴)

۶… جس طرح روایت ابن جریر میں حضرت آدم اور اس کی ذریت دونوں کا ذکر ہے۔ یوں ہی آیت میں اولاد آدم معہ آدم کے مراد ہیں اور ایسا قرآن پاک میں جا بجا ہے۔ ’’اعملوا اٰل داؤد شکرا… الخ! (السباء:۱۳) ادخلوا اٰل فرعون اشد العذاب… الخ! (غافر:۴۶)‘‘یہاں آل داؤد میں داؤد اور آل فرعون میں فرعون بھی بالاتفاق شامل ہے۔ اسی طرح اس متنازعہ آیت میں بھی بنی آدم کے ساتھ آدمm بھی شامل ہیں اور یہ خاص اس کلام بلاغت نظام کا اسلوب ادا ہے جسے (کشاف وبیضاوی اور اعجاز القرآن) میں مفصل بیان کیاہے۔ یہاں موقع تفصیل کا نہیں کہ عرض کیا جائے۔

۷… قرآن میں حکایت حال ماضی کا اشارہ کیا تصریح موجود ہے۔ کیونکہ یہ آیت گویا قدرے تفصیل ہے: ’’فاما یاتینکم منی ہدیً فمن تبع ہدای فلاخوف علیہم ولاہم یحزنون (البقرۃ:۳۸)‘‘کی اور یہ بہرحال سلسلہ ہدایت واتیان رسل شروع ہونے سے پہلے کی ہونا چاہئے۔ ورنہ رسول آچکنے کے بعد اس کا کہنا ہی محض عبث وفضول ہوگا۔

جسے ذرہ سی بھی قرآن دانی سے مناسبت ہے۔ وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ سلسلہ ارسال رسل وانزال کتب سے قبل کی یہ باری تعالیٰ کی اولاد آدم کو وصیت ہے۔ اس سے انہیں آدمm کے قصہ اور ان کے جنت سے خروج کے متصل بیان کیا تاکہ معلوم ہو کہ یہ بھی اسی ازل کا واقعہ ہے اور یہ کل بطور حکایت حال ماضیہ بیان ہواہے اور ایسی مثالیں حکایت حالی ماضیہ کی قرآن پاک میں متعدد موجود ہیں۔

۸… مختار مدعیہ کی پیش کردہ روایت ابن جریر کے دونوں راوی عبدالرحمن ابن زیاد اور ہیاج ہرگز ضعیف نہیں، نہ ان کے ضعف کا فیصلہ ہے۔ صرف ایک قول ان کے متعلق بلا سبب وعلت بیان کئے ضرور منقول ہے۔ مگر اس قسم کی جرح اصولاً ناقابل اعتبارہے۔ ملاحظہ ہو( الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل ص۷)’ القول الاول انہ یقبل التعدیل من غیر ذکر سببہ… واما الجرح فانہ لایقبل الا مفسراً بیّناً بسبب الجراح… الخ!‘‘ یعنی پہلا قول یہ ہے کہ کسی کی تعدیل وتوثیق تو بلا اظہار سبب ہوسکتی ہے۔ مگر کسی پر جرح قبول نہیں ہوسکتی۔ جب تک اس کا سبب واضح طور پر بیان نہ کیا جائے۔

306

ابن صلاح نے اپنے مقدمہ میں اسی قول کو ائمہ اور حفاظ وناقدین وماہرین حدیث بخاری ومسلم وغیرہ کا مذہب قرار دیا ہے اورحافظ زین الدین عراقی نے اسی قول کو صحیح اور مشہور فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’وقد اکتفیٰ ابن الصلاح فی مقدمتہ علی القول الاول من ہذہ الا قوال وقال ذکر الخطیب الحافظ انہ مذہب الائمہ من حفاظ الحدیث ونقادہ مثل البخاری ومسلم ‘‘، ’’وقال الزین العراقی فی الشرح الالفیۃ فی القول الاول انہ صحیح المشہور‘‘

(کتاب مذکور ص۷)

پس اس قسم کی جرح مبہم ہرگز ہمارے راویوں کی بتصریح ماہرین فن جرح مجروح نہیں کرسکتی۔ مزید برآںاسی میزان الاعتدال میں دونوں راویوں کی کافی توثیق موجود ہے جسے مختار مدعاعلیہ نے ظاہر نہ کیا ملاحظہ ہو۔ حافظ شمس الدین ذہبی اس عبدالرحمن ابن زیاد کو قاضی افریقہ اور عبد صالح فرماتے ہیں۔ اما م بخاری اسے قوی فرماتے ہیں۔ ابوداؤدامام احمد بن صالح سے نقل کرتے ہیں کہ اس کی حدیث حجت ہے۔ یہی ابن قطان جن سے مختار مدعاعلیہ نے یہ غیر ثابت شدہ قول کے ان کے متعلق نقل کیا۔ صحیح ان سے وہ ہے جو امام بخاری کے استاد وامام اسحاق ابن راہویہ نقل فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ ابن سعید قطان سے سنا کہ عبدالرحمن ابن زیاد ثقہ (معتبر) ہے اور ضعیف ہیں۔ ’’وقال اسحاق ابن راہویہ سمعت یحییٰ بن سعید بقول عبدالرحمن ابن زیاد ثقہ‘‘ (میزان الاعتدال طبع ہند ج۲ ص۹۴) باقی رہا ہیاج ابن بسطام خراسانی یہ تابعی ہیں۔ حضرت انس کو دیکھنے کی بھی روایت کی ہے۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں کہ: ’’ان کی احادیث لکھنے کے لائق ہیں۔‘‘ سعیدبن بنا فرماتے ہیں میں نے ہیاج سے زائد کوئی فصیح نہیں دیکھا اور بغداد انہوں نے درس حدیث دیا جس میں ایک لاکھ آدمی مجتمع ہوگئے اور احادیث ان کی لکھیں۔ مالک ابن سلیمان فرماتے ہیں کہ ہیاج ابن بسطام اعلم الناس بہت ہی بڑا عالم بہت بڑا بردبار، بڑا فقیہ، بڑا شجاع، بڑا سخی ورحیم تھا۔

(ملاحظہ ہو میزان الاعتدال طبع اہندی ج۲ ص۵۵۵)

اس سے زیادہ اور توثیق اور کیا چاہئے۔ یحییٰ ابن سعید اللہ اس کے معاملہ میں متردد ہیں۔ ایک مرتبہ اسے ضعیف کہہ گئے اور ایک مرتبہ ’’لیس بشیٔ‘‘ کہہ دیا۔ یعنی ’’قال مرۃ لیس بشیٔ‘‘ جس کو مختار مدعاعلیہ نے غلطی سے مرۃ کو مژہ کوئی نام سمجھ کر ترجمہ کردیا کہ مژہ نے کہا ہے کہ وہ کچھ چیز نہیں۔ حالانکہ کہ مژۃ کسی کانام نہیں۔ وہاں مرۃ کا لفظ ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ یحییٰ نے کبھی یہ کہا کہ ’’لیس بشیٔ‘‘ غرض ان کے تردد سے راوی میں ضعف پیدا نہیں جب کہ ایسی تقویت وتوثیق موجود ہے۔ (ملاحظہ ص۵۵۵) لہٰذا ابن جریر کی سند بالکل صحیح بے اعتبارہے۔ نیزجس تابعی سے یہ روایت ہے۔ یعنی ابی یسار سلمی وہ بالاتفاق ثقہ نہایت معتبر ہے۔ جیسا کہ کتب رجال میں موجود ہے۔

۹… اب تابعین کے متعلق کسی بحث کی ضرورت نہیں۔ جب کہ وہ تابعی جس سے ہم نے نقل کیا ہے۔ ابی یسار سلمی معتبر ہے۔ صرف یہ گزارش کردوں کہ مختار مدعاعلیہ نے (فتح البیان ص۷) جو شعبہ کا حوالہ نقل کیا ہے وہ محض غلط ہے۔ وہاں کوئی موجود نہیں۔ نہ اس کے آگے پیچھے ہے۔بلکہ تابعین کی ان کے طبقات کے لحاظ سے توثیق موجود ہے۔

تفسیروں کے متعلق جو اتقان کا حوالہ نقل کیاہے۔ اس میں شرمناک خیانت ہے۔ حوالہ کے قبل لفظ قال کوحذف کردیاور آخر سے وفیہ نظر کو حذف کردیا۔ یہ دوسرے کا قول نقل کرکے تردید فرمارہے ہیں۔

اور سوائے بعض مخصوص تفاسیر کے مستند معتبر خصوصاً یہ ابن جریر وغیرہا کی اسی اتقان میں شدومد کے سات توثیق ہے اور خصوصیت سے اس ابن جریر کو نہایت ہی معتبر فرمار ہے ہیں اور ائمہ دین سے نقول پیش کی ہیں۔ملاحظہ ہو (اتقان طبقات المفسرین ج۲ ص۱۸۹) باقی رہا حوالہ ابن خلدون اس میں بھی خیانت ہے جو اصل بحث میں پیش کرچکا ہوں۔ بیان میں اس کے الفاظ یہ دئیے ہیں: ’’تفاسیر المتقدمین مملوۃ بالغث والسمین‘‘یہ الفاظ ہر دو بیانوں حتیٰ کہ مطبوعہ کاپی میں قول ابن خلدون کرکے موجود ہیں۔ حالانکہ متعدد ایڈیشن بحث میں پیش کر کے دکھا چکا ہوں کہ یہ کہیں نہیں۔

307

ہاں! یہ ضرور ہے کہ: ’’لا ان کتبہم واقوالہم تشتمل‘‘ اس کے متعلق گزارش ہے کہ ابن خلدون مفسر اور مذہبی امام نہیں۔ بلکہ مؤرخ ہیں ملاحظہ ہو۔ (جرح گواہ مدعاعلیہ مؤرخہ ۷؍مارچ ) اور یہ ہے مسلم کہ ہر فن میں اسی کے ماہر کی رائے معتبر ہوتی ہے۔ جیسیے کہ گزرچکا ہے۔ پھر مفسرین نے رطب دیا بس اقوال تردید کے واسطے نقل کئے ہیں تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔ ان کی تائید نہیں کرتے اوراس سے اس کتاب کا پوزیشن خراب ومخدوش نہیں ہوتا۔ ملاحظہ ہو (جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،مؤرخہ ۷؍مارچ۱۹۹۳ء) اس کی ایک مثال ابتدائی بحث میں (تفسیر خازن ج۳ ص۲۲۵) تحت آیت:’’لقد ہمت… الخ! (یوسف:۲۴)‘‘ سے پیش کی ہے۔ علاوہ اس کے ابن خلدون کی یہ رائے صرف قصص وحکایت میں ہے۔ احکام واعمال وعقائد خود اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو( مقدمہ ابن خلدون ص۳۸۳) یعنی پیش کردہ حوالے کا آخری حصہ جسے گواہان مدعاعلیہ نے دانستہ نقل نہ کیا۔

۱۰… مرزا صاحب نے ابن جریر کو رئیس المفسرین کسی تقلید میں نہیں کہا بلکہ خود اپنی تحقیق ہے اور حوالہ (فتح البیان ج۱ص۱۰) کا حوالہ مغالطہ ہے، وہاں رئیس المفسرین کا… لفظ نہیں۔ ہاں! بڑے بڑے ائمہ سے اس کی تو ثیق منقول ہیں۔ قال النووی ’’اجمعت الامۃ لم یصنف مثل تفسیر الطبری‘‘ امام نووی فرماتے ہیں امت کا اجماع ہے کہ تفسیر ابن جریر کے مثال کوئی بھی تفسیر تصنیف نہ ہوئی۔ ابی حامداسفرائنی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ملک چین تک صرف تفسیر ابن جریر کے حصول کے واسطے سفر کرے توکم ہے۔

(فتح البیان ج۱ ص۱۰)

پس اس سے تو ہماری تائید ہوئی۔ کیونکہ ہمارا حوالہ اسی مسلم ومعتبر کتاب کا ہے جس کو امت نے معتبر وقابل ماناہے اور جس کے متعلق مرزا صاحب بھی رئیس المفسرین لکھتے ہیں اوراس کے قول سے دلیل لاتے ہیں۔ باقی یہ کہنا کہ پہلے قرآن سے مرزا صاحب نے حل کرکے تائیدپیش کی ہے۔ ہم نے بھی پہلے الفاظ قرآنی اورسیاق وسباق سے پیش کرکے یہ نقلی تائید پیش کی ہے۔ لہٰذا یہ بالاتفاق قبول ہونی چاہئے۔

۱۱… ’’یا بنی آدم‘‘ سے اصل یہی ہے کہ عام اولاد آدم بلا تخصیص امت محمدیہ اور ’’یٰٓایہا الذین اٰمنوا‘‘ سے صرف مومنین امت اور ’’یٰٓایہا الذین کفروا‘‘ سے کفار مکہ اور خطاب میں ’’یٰٓایہاالناس‘‘ آتاہے، اسے اصل بحث میں قرآنی امثلہ سے واضح کرچکاہوں۔ عدالت خود مقابلہ فرمائے کہ اس کا کوئی بھی جواب نہ ہوگا۔ صرف الفاظ بدلائے ہیں۔

۱۲… ہدیۃ الشیعہ کا حوالہ جوڈیشل اصول پر غیر مسلم اور جدید ہے۔ نیز وہاں اس آیت کا اس تخصیص میں انحصار کاکوئی بھی ذکر نہیں، عدالت خود اصل حوالہ ملاحظہ فرمائے۔

۱۳… بیان نسخ اخبار کاکوئی معاملہ نہیں نسخ کی بحث ہے جسے بلاوجہ یہاں چھیڑا جاوے۔ یہاں توصرف اس قدر ہے کہ اولاد آدم سے خدا نے رسول بھیجنے کا روز ازل سے وعدہ فرمایاتھا۔ رسول بھیج کر وہ وعدہ پورا فرما دیا۔ اگر رسول نہ بھیجتا تو خلاف وعدہ خلافی ہوتا۔

اس میں یہ وعدہ ہی نہ تھا کہ قیامت تک آتے رہیں گے۔ یہاں تک خاتم النّبیین کو ناسخ بنانا پڑے۔ وہ وعدہ علیحدہ پورا ہوگیا اور یہ حکم علیحدہ ختم نبوت اور انسداد سلسلہ نبوت باب نبوت علیحدہ رہا۔ نسخ سے کوئی علاقہ ہی نہیں۔ اگر وہاں استمرار کا تذکرہ ہوتا تو ضرور یہ نسخ کہلاتا۔

۱۴… لفظ امّا کی بحث بلا وجہ چھیڑ ی۔ یہ صرف اس لئے ہے کہ امّا جب کسی مضارع پر داخل ہوتاہے تو اس سے صرف استقبال مراد ہوتاہے۔ استمرار کے واسطے نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس آیت سے صرف بنی آدم سے ازل میں رسول آئندہ بھیجنے کا وعدہ نکلا۔ ہمیشہ قیامت تک بھیجتے رہنے کا ثابت نہ ہوا۔ اس کاکوئی جواب نہ دیا۔ دوسری غیر متعلق لفظی بحث چھیڑ دی۔

بحمد اللہ ! ثابت ہوچکا کہ اس آیت کے متعلق جو تاویلات مختار مدعاعلیہ نے میری بحث پر کی ہیں، ان میں کوئی قوت نہ تھی اور اصل بحث کے اعتراضات استدلال پر لاجواب ہی رہے۔

308

نوٹ: یہ بھی واضح رہے کہ میں نے اپنے دعویٰ پر (روح المعانی ج۳ ص۹۹) کا حوالہ پیش کیا ہے کہ اس جگہ بنی آدم سے تمام انسان مراد ہیں۔ امت محمدیہ کی تخصیص نہیں اور یہ لاجواب رہا۔

دوسری آیت: ’’انی جاعلک للناس اماما (البقرۃ:۱۲۴)‘‘

اس سے استدلال ہی بے ربط تھا جسے آج تک کوئی بھی سلف وخلف نہ سمجھا۔ یہ کسی جواب ہی کے قابل نہ تھا اور جو کچھ کہ اصل بحث میں اس پرکر چکا ہوں وہ کافی سے زائد ہے۔ اب مختصراً دو چار لفظ جواب الجواب کے سلسلہ میں عرض کرتاہوں۔

خلاصہ تاویل مختار مدعاعلیہ

۱… اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی نسل میں نبی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ وعدہ اس وقت تک پورا ہوتا رہے گا جب تک ظالم نہ ہوں۔ پس یا سب کو ظالم مانو یا نبوت کا امکان۔

۲… مختار مدعیہ کا یہ کہنا کہ ذریت کا لفظ عربی زبان نہیں صرف جسمانی نسل پر بولاجاتا ہے غلط ہے۔ لغت عرب کا حوالہ چھوڑ کر (ہدیۃ الشیعہ ص۳۰۴) دیکھو۔

۳… مرزا صاحب بلاریب ابراہیمی نسل سے ہیں۔

(استفتاء ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳)

جواب الجواب:

جواب ہو نہ سکا۔ ٹالنا چاہا ہے۔

۱… ابراہیمی نسل سے وعدہ بصیغہ اسم فاعل کے تھا جو استقبال کے معنی میں ہے وہ پورا ہوا۔ اس میں کہیں استمرار کا پتہ نہیں کہ ہمیشہ پورا ہوتا رہے گا۔ جب تک وہ ظالم نہ ہوجائیں۔ یہ استمرار کے معنی صرف مختار مدعاعلیہ کے طبع زاد ہیں جس پر کوئی ایک حوالہ نہیں اور استقبال کے معنی آج تک سلف وخلف لیتے چلے آئے ہیں۔ اب نہ آل ابراہیم کوئی ظالم ماننا پڑتاہے نہ اجراء نبوت بعد نبیناa کا کفریہ عقیدہ لازم آتاہے اور اگر مختار مدعاعلیہ کے طرز پر استمرار ہوتو ساڑھے تیرہ سو سال تک آل ابرہیم کو عیاذاً ب اللہ ! ظالم ماننا پڑے گا جس میں تمام فتن رونما ہوئے۔ مگر نبی نہ بنائے گئے۔ حالانکہ ابراہیمی نسل میں اب تک کسی قدر صحابہﷺ، ائمہ قطب، ابدال، غوث، صلحائے امت گزرے۔ یہ محض لغو تاویل ہے۔ اسلاف نے اس کے خلاف تصریحیں کی ہیں۔ غرض استمراری معنی محض تفسیر بالرائے ہے جو حرام قطعی ہے۔

۲… یقینا ذریت کا لفظ عربی زبان میں صرف جسمانی ذریت پر بولا جاتاہے اور انسان کی نسل وفرزندان پر اطلاق پاتاہے۔ لغت کی معتبر کتب اس تصریح سے پر ہیں۔ قرآن واحادیث ومحاورات عرب میں سینکڑوں حوالے موجود ہیں۔ مختار مدعاعلیہ باوجود اس قدر اس معاملہ میں تعلی کے عربی لٹریچر سے ایک بھی مسلم وغیر مسلم حوالہ نہ پیش کرسکا اور اپنے عجز کا ان الفاظ میں اعتراف کیا کہ: ’’یہاں پر لغت عرب کے حوالے چھوڑتاہوں۔ بانی مدرسہ دیوبند کی ہدیۃ الشیعہ پیش کرتاہوں۔‘‘

واضح رہے کہ ہدیۃ الشیعہ اردو کی کتاب ہے۔ اردو محاورات میں مجازاً ذریت نہ معلوم کس قدر معنوں پر آتاہے۔ عربی لغت میں عربی کا ایک بھی محاورہ نہ مل سکا اور میرا دعویٰ بحمد اللہ ! لا جواب رہا۔ مفصل اصل بحث سے ملاحظہ ہو۔

۳… مرزا صاحب کا بنی فارس یا اولاد فاطمہt سے ہونا کوئی علم الانساب کے اصول پر نہیں بلکہ ان کاکشفی والہامی ہے جو کسی پر حجت نہیں۔ ہاں! ان کے نسب نامہ میں ہے کہ وہ مغل ہیں۔ مگر مرزا صاحب اس کی تردید فرماتے ہیں کہ اللہ نے میرے پر وحی بھیجی کہ میرے آباء اقوام ترکیہ میں سے نہیں۔

(استفتاء ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳)

پس اب نسب نامہ کی تحقیق کی ضرورت ہی نہیں، جب کہ اب تک مغل فارس یا بنی فاطمہt ہونا ہی طے نہ ہوا، اورسب کا سب خلاف نسب نامہ مشہور کشفی رہا اور اصل نسب نامہ کو مرزا صاحب کے الہام اور وحی الٰہی نے بزعم ان کے غلط ثابت کردیا۔

309

انساب کی کتاب سے مرزا صاحب کا قابل اعتماد ابراہیمی نسل ہونا ثابت نہیں۔ باقی اصل میں اس کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ جب کہ نہ اس آیت کا یہ مطلب ہے نہ کسی نبی کے آنے کا امکان ہے۔ قطعی دلائل سے ثابت ہوچکا۔ بہرحال عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ ہماری بحث کا کوئی بھی جواب نہ ہوا۔

خلاصہ تاویلات

تیسری آیت:’’ اللہ یصطفی… الخ! (الحج:۷۵)‘‘

۱… یصطفی میں حال اور استقبال دونوں مراد لینے پر جو مختار مدعیہ نے اعتراض کیا ہے، اس کے لئے (منجد اور جرح گواہ مدعیہ نمبر۱) کا حوالہ پیش ہے۔

۲… مشترک کے دونوں معنی یکدم لے سکتے ہیں۔ جیسا کہ رأیت عینہ میں لیتے ہیں۔

۳… چونکہ اس آیت میں یہ صیغہ خدا کے واسطے مستعمل ہے۔ لہٰذا استمرار ہی کے معنی موزوں ہوں گے۔

الجواب:

۱… میرا اعتراض دونوں حال واستقبال کے معنی یکدم حقیقتاً مراد لینے پر تھا اور بتایا تھا کہ اسے اصطلاح میں عموم مشترک کہتے ہیں اور یہ ناجائز ہے۔ اس کے واسطے لاعموم لہ ای المشترک کہ عموم مشترک نہیں ہوسکتا۔ (نورالانوار ص۸۴، جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء) سے پیش کیاتھا جو بالکل لاجواب رہا۔

البتہ (منجد اور گواہ مدعیہ نمبر۱) کی جرح سے پیش کیا کہ مضارع وہ فعل ہے کہ حال واستقبال دونوں پر دلالت کرے۔ مگر میرا اعتراض مضارع کے اس معنی یا دلالت پر نہیں، بلکہ حقیقتاً ایک ہی استعمال میں بطور عدم مشترک مراد ہونے پر ہے اور وہ بحمد اللہ ! لاجواب ہے۔ اس کا کوئی جواب نہیں۔ مفصل اصل بحث میں ملاحظہ فرمائیں۔

۲… رأیت عینہ، اپنی طرف سے مثال گھڑ کر میرا پیش کردہ حوالہ (نورالانوار ص۸۴) عموم مشترک کا نہیں توڑ سکتے۔ بہرحال ایک ہی معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ بحث میں بیان کرچکا۔

۳… مضارع میں استمراری معنی حقیقی نہیں بلکہ مجازی ہیں اور یہاں کوئی قرینہ صارفہ مجبور نہیں کرتا کہ خواہ مخواہ کفریہ مضمون بنانے کے واسطے حقیقی معنی کو چھوڑکر مجازی لئے جائیں۔ بلکہ اس کے نہ مرادہونے پر قرائن ہیں، جو بحث میں پیش کرچکا اور خدا کی طرف نسبت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ استمرار مراد ہو۔ بلکہ حال یا استقبال ہی مراد ہوتاہے۔ تمام قرآن پاک میں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں اور مختار مدعاعلیہ کے ادّعاء کی ایک بھی نہیں مل سکتی۔ میں نے (خازن ج۵ ص۲۳) سے اس کا شان نزول پیش کرکے عرض کیا تھا کہ یہاں اجراء نبوت وغیرہ کا کوئی بھی تذکرہ نہیں۔ صرف اہل مکہ کے اس اعتراض کا جواب دینا ہے کہ اللہ نے بشر جو ہم جیسا تھا رسول کیسے بنالیا۔ جواب مرحمت فرمایا گیا کہ: ’’ اللہ یصطفی من الملائکۃ… الخ! (ایضاً)‘‘ کہ یہ کسبی نہیں کہ کوئی معیا رہو بلکہ اللہ کے نظر وانتخاب پر موقوف ہے جسے چاہے برگزیدہ کرے۔ وہ ملائکہ کو بھی رسالت کے واسطے چنتاہے اور لوگوں سے بھی۔ چنانچہ چنا اور پھر جب چاہا یہ سلسلہ خاتم النّبیین سے بند فرمادیا کوئی محل اعترض نہیں۔ اس کا کوئی بھی جواب نہ ہوسکا اور اصل اعتراض لا جواب رہی رہا۔

چوتھی آیت:’’اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ:۵،۶)‘‘

اس کے جواب میں مختار مدعاعلیہ سے کچھ بھی نہ ہوسکا او ر محض یہ تاویل کی کہ۔

310

۱… (ایام الصلح) سے جو اسی آیت کے جواب میں تائید پیش کی گئی وہ گواہان مدعاعلیہ کے معنی کے متضاد نہیں۔ کیونکہ اس میں اور نبوت کا انکار ہے اور گواہان مدعاعلیہ اور قسم کی ثابت کرتے ہیں۔

۲… (کشتی نوح )میں( ایام الصلح) کے خلاف مضمون ہے۔

۳… جو ترجمہ آیت پیش کیاہے اس دعا کے مفہوم سے مطابق ہے جو اس آیت میں ہے۔

الجواب:

۱… (ایام الصلح) میں مطلقاً انکار ہے اور یہ کتاب اس زمانہ کی ہے، جب کہ دعویٰ نبوت کا وہم وگمان بھی مرزا صاحب کو نہ تھا، بلکہ نبوت پر پردہ پڑا تھا۔ کیونکہ اس کا سن تالیف یکم؍جنوری۱۸۹۹ء ہے۔ عدالت خود (ایام الصلح) کی عبارت سے میرے جواب کا مقابلہ فرمالے۔ تفصیل اصل بحث میں ہے۔

۲… (کشتی نوح) ۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کی دعویٰ نبوت اور نبوت سے پردہ اٹھنے کے بعد کی ہے۔ لہٰذا اس سے اس کا تعلق نہیں۔ اس وقت تو تمام آیات واحادیث میں تحریفات کرچکے تھے۔

۳… آیت: ’’اہدنا الصراط المستقیم (الفاتحہ:۵)‘‘کا یہ ترجمہ کہ: ’’ہمیں ان لوگوں سے بنا جن پر تیرا انعام ہوا۔‘‘ محض تحریف اور غلط ہے اور یہ کہنا کہ بلا اس معنی کے یہ دعا نہ ہوگی، یہ بھی غلط ہے۔ دعا ماننے پر بھی صحیح معنی یہ ہوں گے۔ ’’ہمیں ان لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا۔‘‘ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ یا اس کے گواہان اپنی مطلب برآری کے واسطے کس قدر غلط تاویلات اورترجمہ میں تحریف کر لیتے ہیں اور اپنے زعم کے مطابق اپنے کو نبی بنانے کی روزانہ دعا کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔

باقی جو اصل جوابات اس آیت کے بحث میں دئیے تھے ان کانام تک نہ لیا اور وہ لاجواب ہی رہے۔

خلاصہ تاویل

پانچویں آیت:’’ومن یطع اللہ والرسو ل… الخ! (النساء:۶۹)‘‘

۱… مختار مدعاعلیہ نے معیّت سے نبی ہونا مراد لینے پر بخاری سے قول نبی کریمa وقت وصال مع الذین انعم علیہم اور حدیث التاجر الصدوق یحشر مع الانبیاء پیش کی اور اگر غور سے دیکھی جائیںتو ہمارے موافق ہیں۔

۲… اس آیت سے یہ مرادکہ نبیوں کے ساتھ ہوں گے نبی نہ ہوںگے… الخ! کوئی عقل مند انسان ماننے کے لئے تیار نہیں۔

۳… ’’توفنا مع الابرار (آل عمران:۱۹۳)‘‘ اور ’’فاکتبنا مع الشاہدین (آل عمران:۵۳)‘‘ وغیرہ میں مع بمعنی من ہے کہ ہمیں ان کے زمرے سے کردے۔

۴… خدا کی معیّت کی آیاتوں کو اس پر قیاس کرنا درست نہیں۔

الجواب:

۱… اس استعمال سے صرف میں نے یہ بتایا ہے کہ اگر نبی بننا مراد ہوتا تو اسے بطور تحصیل حاصل استعمال نہ فرماتے، نیز اسی اصول پر ہر تاجر صدوق نبی بن جاتا یا بن سکتا۔ حالانکہ یہ مراد نہیں۔ تفصیل اصل بحث سے ملاحظہ ہو۔ اس سے لاجواب ہو کر ادھر ادھر رلانا شروع کردیا۔

۲… یہ کہنا کہ اس آیت سے یہ مراد لینا کہ نبیوں کے ساتھ ہوں گے، نبی نہ ہوںگے… الخ! کوئی عقل مند انسان ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اس کا جواب عدالت کے امتیاز خصوصی پر چھوڑتاہوں اور صرف یہ گزارش کرتاہوں کہ آج تک نبی کریمa، صحابہ کرامi، ائمہ وبزرگان دین، سلف وخلف تویہی معنی کرتے چلے آئے۔ اب مختار مدعاعلیہ انہیں جو چاہے کہے اور جو چاہے سمجھے، میں نے تو اس کا شان

311

نزول اورصحابہ سے روایت مرزا صاحب کے رئیس المفسرین (ابن جریر ج۲۲ ص۱۲وج۱ ص۵۹) سے پیش کردی تھی جسے لاجواب سمجھ کر جواب میں ذکر تک نہ کیا۔ اصل بحث ملاحظہ ہو خود نبی کریمa نے بھی یہی مراد سمجھا۔ (بخاری ج۲ ص۶۶۰) اصل بحث ملاحظہ ہو، ان درجوں کا وجود دوسری آیت سے پیش کیا تھا۔ اس کا بھی کچھ جواب نہ دیا۔ بہرحال یہ بھی لاجواب رہا۔

۳… ان امثلہ میں مع بمعنی مجازاً مراد ہونے سے یہ کب لازم آیا کہ ہر جگہ یہی مراد ہو۔ چنانچہ جن لوگوں نے ان امثلہ میں یہ معنی لئے ہیں وہ بھی آیات متنازعہ سے یہ مراد نہیں لیتے۔

۴… خدا کی معیّت پر قیاس نہیں کرتا، بلکہ ان امثلہ سے اگر مع کے واسطے یہ قاعدہ کلیہ بنا لیا جائے۔ جیسا کہ گواہان مدعاعلیہ نے بنا لیا ہے توان کے زعم باطل پر ہر انسان کا خدا بننا یا خدا بننے کی دعا کرنا لازم آئے گا۔ جواب نہ ہوسکا مغالطہ کی سعی کی۔ باقی اصل جو جواب تھا، اس کا ذکر تک نہ کیا۔ اس آیت میں مع سے معیت بمعنی رفاقت مراد ہے اور اس کا ثبوت اسی آیت کا آخری حصہ مصرح موجود ہے کہ ’’وحسن اولٰٓئک رفیقا (النساء:۶۹)‘‘ یہ انبیاء وصدیقین وصلحاء اچھے رفیق ہیں۔ اس سے بنص قرآن اس استدلال کا خاتمہ ہوجاتاہے۔ اس کا جوابی بحث میں اشارہ تک نہیں۔ عدالت خود اصل بحث سے ملاحظہ فرمائے۔ معلوم ہوا کہ یہ جواب بالکل لا جواب ہے کوئی تاویل بھی ممکن نہیں۔

چھٹی آیت استخلاف

خلاصہ تاویلات:

۱… اس سلسلہ میں جو بحث مختار مدعیہ نے کی ہے وہ قابل التفات ہے۔

۲… گواہ مدعاعلیہ نے خلافت روحانی اور جسمانی دونوں پر چسپاں کی ہے بخلاف مختار مدعاعلیہ کے۔

۳… صرف صحابہ میں منحصر کرنا عموم الفاظ قرآنی کو باطل کرتاہے اور چند امثلہ۔

۴… جسمانی بادشاہت تو غیر مؤمنین اور غیر صلحاء کو بھی مل جاتی ہے۔

۵… تفسیر کبیر کے دو حوالے۔

الجواب: دراصل اس بحث کا کچھ بھی جواب نہیں۔ عدالت اصل بحث کو اس سے مقابلہ فرمائے۔

۱… الحمدﷲ! کہ جواب کے قابل التفات نہ ہونے تو مختار مدعاعلیہ نے اعتراف کرلیا۔

۲… یہ غلط ہے کہ مختار مدعاعلیہ نے بھی خلافت سے روحانی اورجسمانی کے دونوں مراد لی ہیں۔ البتہ روحانی سے نبی ہونا نہیں بلکہ وارث علوم نبویہ ہونا مراد لیاہے۔ جیسا کہ بیٹا باپ کا خلیفہ یا مرید پیر کا ہوتاہے۔ نیز سلطنت ظاہری ولیمکننہم فی الارض سے مراد لیاہے اور اس پر صریح صریح قرآنی آیات پیش کی ہیں جن کا کوئی بھی جواب نہ ہوسکا۔ اصل بحث سے ملاحظہ ہو۔

۳… صرف صحابہ میں منحصر کرنا بھی عموم الفاظ کو باطل نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہاں عموم نہیں، بلکہ منکم سے خود ہی تخصیص فرمادی ہے اور تمام امت، ائمہ سلف وخلف آج تک اسے صحابہ کرام کے فضائل وخصوصیات سے شمار کرتی رہی ہے۔

۴… صرف جسمانی بادشاہت نہیں بلکہ روحانی اور وراثت علمی بھی ہمراہ ہے اب کوئی اعتراض نہ رہا۔

۵… تفسیر کبیر کے دونوں حوالے یہاں سے غیر متعلق ہیں اوریہاںا نہیں لگانے سے تفسیر بالآیات جو میں نے پیش کی ہے، بالکل باطل ہوجائے گی۔ نیز امام رازی نے بھی اس آیت کو اسی معنی اور صحابہ کرام پر محمول کیا ہے۔ نیز کسی مطلب کے صریح آیات اور احادیث سے متعین ہونے کے بعد اس کے مخالف کسی کا قول معتبر نہ ہونا مسلمہ فریقین متفقہ مسئلہ ہے۔ پس یہ قطعاً پیش ہی نہیں ہوسکے۔ بہرحال اس کے

312

قابل التفات ہونے کا اعتراف ہے اور تاویل جو کی ہے۔ وہ ظاہر ہے جو کچھ بھی ہے عدالت خود ہی اصل بحث سامنے رکھ کر ملاحظہ فرمائے۔ باقی آیات کا جواب لاجواب رہا۔

احادیث سے امکان نبوت کا ثبوت

میں نے اس کا تفصیلاً ایک ایک حدیث کا علیحدہ علیحدہ جواب دیا تھا اورحدیث نواس بن سمعان جس میں نبی اللہ کا لفظ ہے، اس کی تضعیف (ازالہ اوہام ص۵۷۲، خزائن ج۳ ص۴۰۹) سے اور نبی اللہ سے مجازاً نبی ہونا (سراج منیر ص۳، خزائن ج۱۲ ص۵) سے پیش کیا تھا۔ جس سے اجراء نبوت کوئی لازم نہیں آتا۔ اب یہ کہنا کہ مرزا صاحب کا یہ منشاء نہیں بلکہ وہ ہے۔ عدالت خود اصل سے ملاحظہ فرمالے مطلب واضح ہے۔

حدیث محدث والی میں بخاری شریف کے اندر تصریح ہے ’’من غیر ان یکونوا انبیاء… الخ!‘‘ کہ محدث نبی نہ ہوں گے۔ لہٰذا اس سے بھی اجراء نبوت نہ ثابت ہوا۔ ’’ابوبکر خیر الناس بعدی الا ان یکون نبی‘‘ (کنزالعمال) اوّلاً تو کنزالعمال میں ’’لا ان یکون نبیا‘‘ بھی ہے کہ ابوبکر نبی نہ ہوں گے۔ باوجود افضل الناس ہونے کے یہ صحیح ہے اور ایسے بکثرت محاورات ملیں گے۔

مرزا مظہر جان جانان کی مدح میں کہاگیا ہے کوئی آج اس کے برابر نہیں۔

وہ سب کچھ ہے۔ الا پیغمبر نہیں۔ باقی کے واسطے بیان گواہ مدعاعلیہ کا حوالہ دیا ہے۔ میں بھی اپنی اصل بحث کے حوالہ پر اکتفاء کرتاہوں۔ بحمد اللہ ! ایک دلیل سے بھی اجراء نبوت ثابت نہ ہوسکا۔ ف اللہ الحمد!

ختم نبوت ودعویٰ نبوت کا مسئلہ ختم ہوا۔

تیسری وجہ تکفیر کا اثبات وجواب الجواب

انکار حشر اجساد ونفخ صور

گواہان مدعیہ نے بیان کیا تھا کہ مرزا صاحب حشر اجساد اور نفخ صور کے منکر ہیں۔ حالانکہ بیسیوں آیات اور احادیث کثیرہ سے یہ بات قطعاً ثابت اور امت کا مسلم عقیدہ ہے جس کا جواب مدعاعلیہ نے یہ دیا ہے کہ مرزا صاحب ہرگز ان امور کے منکر نہیں اور مختلف حوالہ جات ان امور کے متعلق پیش کئے ہیں کہ مرزا صاحب ان امور کو پیش کرتے اور مانتے ہیں۔

مختار مدعاعلیہ اور(گواہ نمبر۱) مدعاعلیہ کے بیان وبحث سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ فی الواقع حشر اجساد اور نفخ صور کا انکار کرنے والا قرآن واسلام کا مکذب اور مخالف اور کافر ہے۔ لیکن وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ مرزا صاحب ان امور کے منکر ہیں۔ بلکہ وہ مرزا صاحب کو ان امور کا معتقد اور مقر جانتاہے۔ لہٰذا اس وجہ کی بناء پر کافر ومرتد نہیں ہیں۔

مختار مدعیہ کی طرف سے اس کا جواب الجواب یہ ہے کہ گو مرزا صاحب نے بعض مقامات میں ان امور کا اقرار کیا ہے۔ لیکن وہ اقرار محض لفظی اور اجمالی ہے اور جہاں انکار ہے، وہ نہایت بسط اور تفصیل سے بیان کیاگیاہے جس کے بعد اقرار کی حیثیت محض لفظی رہ جاتی ہے نہ حقیقی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ منافقین کے حق میں فرماتے ہیں: ’’اذاجآء ک المنافقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ و اللہ یعلم انک لرسولہ و اللہ لیشہد ان المنافقین لکاذبون اتخذوا ایمانہم جنہ فصدو ا عن سبیل اللہ انہم سآء ماکانوا یعملون (المنافقون:۱،۲)‘‘ نیز اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ: ’’ومن الناس من یقول اٰمنا ب اللہ وبالیوم الاٰخر وماہم بمؤمنین یخٰدعون اللہ والذین اٰمنوا وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون فی قلوبہم مرض (البقرۃ:۸تا۱۰)‘‘

313

ماحصل ان آیات مبارکہ کا یہ ہے کہ کسی شخص کا اقرار جب کہ اس کی حالت قطعی طور پر یا اس کا قول یقینا انکار پر دلالت کرتاہو۔ کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ بس مرزا صاحب نے جب کہ وہ باتیں نہایت بسط اور تفصیل سے لکھ دیں جن سے لازمی اور ضروری طور پر حشر اجساد کا انکار یعنی قبروں سے مردوں کا میدان محشر میں جانا غلط ثابت ہوتاہے تو اب ان کے اقرار اسی قسم کے ہوں گے۔ جیسے کہ منافقین کے ادّعاء اسلام ورسالت وایمان ہیں جو محض بے سود ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دئیے گئے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم کی محوّلہ بالا آیات اور ان کی مثل اور آیات سے ظاہر ہے۔

تفصیل وتوضیح

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مرزا صاحب نے یہ اعتقاد پیدا وایجاد کیاہے کہ انسان مرنے کے بعد فی الفور جنت یا جہنم میں پہنچ جاتاہے۔ خواہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قویٰ کے ساتھ داخل جنت وجہنم ہو۔ (جیسے اعلیٰ درجہ کے لوگ صدیق، شہید، انبیاء جو سارے وجود اور قویٰ کے ساتھ داخل جنت ہوجاتے ہیں اور ان کے مقابل بڑے بڑے کافر جہنم میں سارے وجود اور قویٰ سے داخل جہنم ہوجاتے ہیں) یا محض اس کے لئے جنت ودوزخ کی طرف سے کھڑکی کھول دی جائے۔ جیساعامہ مؤمنین کے لئے جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے یا ان کے مقابل عامہ کفا رکے لئے دوزخ کی جانب سے۔ جیسا کہ مرزا صاحب کی کتاب (ازالہ اوہام ص۳۶۰،۳۶۱، خزائن ج۳ ص۲۸۴،۲۸۵) کی اس عبارت سے ظاہر ہے جس کو گواہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں پیش کیاتھا۔

نیز مرزا صاحب کی کتاب(حمامۃ البشری ص۵۵، خزائن ج۷ ص۲۵۳) میں ہے: ’’وقد علمت آنفاً ان اہل الجنۃ والسعیر یدخلون مقامیہما بعدموتہم من غیر مکث ولا ینظرون القیامۃ وقال رسول اللہ ﷺ من مات فقد قامت قیامتہ‘‘

یعنی تجھے ابھی معلوم ہوچکا ہے کہ اہل جنت ودوزخ اپنے مرنے کے بعد بلاتأخیر اپنی اپنی جگہ میں داخل ہوجاتے ہیں اور وہ قیامت کو دیکھیںگے بھی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو مرگیا اس کی قیامت ہوگئی۔ (۲) جو لوگ سارے وجود اور تمام قوتوں کے ساتھ جنت یا جہنم میں سردست نہیں جاتے وہ بھی یوم الحشر اور یوم الحساب سے پہلے پہلے ترقی کرتے کرتے ادنیٰ درجہ سے اعلیٰ درجہ میں آجاتے ہیں اور صدیقوں اور شہیدوں کی طرح سارے وجود اور تمام قویٰ کے ساتھ بہشت میں ہی داخل ہوجاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (گواہ نمبر۱ محوّلہ عبارت ازالہ اوہام ص۳۶۱، خزائن ج۳ ص۲۸۵) عبارت۔ ’’ ہاں! جب اس درجہ سے ترقی کرتاہے تو ادنی سے اعلیٰ میں آجاتاہے۔ اس ترقی کی ایک یہ بھی صورت ہے تا آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ شہیدوں اورصدیقوں کی طرح سارے وجود اور تمام قویٰ کے ساتھ وہ بہشت میںبھی داخل ہوجاتاہے۔ (ازالہ اوہام ص۳۶۰،۳۶۱، خزائن ج۳ ص۲۸۵) اور (ص۳۶۴، خزائن ج۳ ص۲۸۷) میں ہے: ’’اب ہماری اس تقریر سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ بہشت میں داخل ہونے کے ایسے زبردست اسباب موجود ہیں کہ تقریباً تمام مؤمنین یوم الحساب سے پہلے اس میں پورے طورپر داخل ہوجائیں گے اور یوم الحساب ان کو بہشت سے خارج نہیں کرے گا۔‘‘

(۳۶۱ و۳۶۲،خزائن ج۳ ص۲۸۵) میں اس بات کی تشریح وتوضیح کی گئی ہے جو ایک ذرہ بھی ایمان وعمل والے انسان کو یوم الحساب سے پہلے صدیقوں اور شہیدوں کی طرح سارے وجود اور قویٰ کے ساتھ بہشت میں داخل کردیتے ہیں۔ اس کتاب (ازالہ اوہام ) میں تو ادنیٰ مؤمنوں کے لئے بتدریج یوم الحساب سے پہلے داخل بہشت ہونا ماناگیاہے۔ لیکن (حمامۃ البشری ص۵۵، خزائن ج۷ ص۲۵۳) کی محولہ بالا عبارت میں بلا تأخیر اہل جنت اور اہل دوزخ کا اپنے مقام پر پہنچ جانا تسلیم کیاہے جو بظاہر تدریج کے مخالف ہے۔ لیکن ہماری اس سے کوئی غرض وابستہ نہیں۔ مرزا صاحب نے یہ بھی بیان نہیں کیا کہ اہل دوزخ کی ادنیٰ درجہ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کیونکر ہوتی ہے۔ لیکن یہ معمولی بات ہے جس طرح ادنیٰ مؤمن کی ترقی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی ترقی الیٰ اقصیٰ مراتب جہنم کے اسباب بھی ہوسکتے ہیں۔

314

بہرحال مرزا صاحب نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ کوئی بہشتی اور کوئی دوزخی بہشت یا دوزخ سے نکالانہیں جاتا۔ خواہ کسی درجہ میں ہو۔ ہاں! ادنیٰ درجہ سے اعلیٰ درجہ کی طرف ترقی کرجاتاہے۔ ملاحظہ ہو (ازالہ اوہام ص۳۶۰، خزائن ج۳ ص۲۸۴،۲۸۵) ’’اب حاصل کلام یہ ہے (سے) تو ادنیٰ درجہ سے اعلیٰ درجہ میں آجاتاہے۔(تک)‘‘ اب جب کہ تمام لوگ یوم الحساب سے پہلے اپنے سارے وجود اور تمامی قویٰ کے ساتھ یا جنت میںہوںگے یا جہنم میں اور بموجب عقیدہ مرزا صاحب کوئی آدمی بہشت اور دوزخ سے نکالا نہیں جاسکتا تو اس سے لازمی اورضروری طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ حشر اجساد باطل ہے۔ یعنی مردے قبروں سے اٹھ کر میدان حساب میں جسمانی طور پر نہ جائیں گے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے صاف تصریح کردی ہے کہ میدان حساب میں روحانی طور پرلوگ جائیں گے۔ ملاحظہ ہو (ازالہ اوہام ص۳۶۵، خزائن ج۳ ص۲۸۷) بسلسلہ عبارت محولہ (گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ) کھڑکی کی مثال سے سمجھ لینا چاہئے۔ (سے) اسی طرح روحانی طور پر بہشتی میدان حساب میں بھی ہوں گے اور بہشت میں بھی ہوں گے۔

مرزا صاحب نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا کہ حشر روحانی کی تصریح کی ہو، بلکہ اس سے بڑھ کر قیامت کے دن حضور رب العالمین میں جسمانی طور پر حاضر ہونے کو یا بالفاظ دیگر حشرجسمانی کو یہود یا نہ خیال قرار دیا اور تمام امت کو یہودی سرشت قرار دیا جو آج تک حشر جسمانی کی معتقد چلی آتی ہے۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص۳۵۰،۳۵۱، خزائن ج۳ ص۲۷۹) ملاحظہ ہو اور قیامت کے دن بحضور رب العالمین ان کا حاضر ہونا، ان کو بہشت سے نہیں نکالتا۔ (سے) گویا جہنمی لوگوں کو نئے سرے سے جہنم میں داخل کرے گی۔

مرزا صاحب نے اس مقام پر تصریح کردی ہے کہ یوم الحساب میں بھی جنتی جنت میں ہی ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں۔ صرف بہشتیوں پر رحم الٰہی کی تجلی ہوگی اور دوزخیوں پر قہر الٰہی کی تجلی ہوگی اور اس طرح پر جنت والوں کو جنت سے نئے رنگ میں دکھلایاجائے گا اور دوزخیوں کو دوزخ نئی شکل میں اور یوم الحساب کے بعد جنت ودوزخ میں داخل ہونے کی یہی حقیقت ہے۔ اسی (حمامۃ البشریٰ ص۵۴، خزائن ج۷ ص۲۵۱) میں ہے:’’فیمثل اللہ الجنۃ فی اعین اہلہا بصورۃ ماراء تہا اعینہم قط کما وعد فی کتاب للمسلمین فیکون لہم ذالک الیوم یوم المسرۃ العظمیٰ والسعادۃ الکبریٰ فیدخلونہا فرحین اٰمنین‘‘

’’وکذالک تمثل جہنم فی اعین اہلہا فی صورۃ یفجعہم رؤیتہا‘‘

یہاں سے مرزا صاحب کا یہ اعتقاد ثابت ہوا کہ یوم الحساب کے بعد جنت اور دوزخ میں داخل ہونا صرف تمثلی اور محض دکھلاوا ہے اور تحصیل حاصل۔ جیسا سینما کا کھیل۔ مرزا صاحب کے اس عقیدہ سے اسلام کے اس مسلمہ عقیدہ کا انکار لازم آتاہے جو نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ بعض مؤمن اپنے فسق وفجور کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے جو اپنے اعمال کی سزا بھگت کر یا شفاعت سید المرسلینa ودیگر انبیاءo یا شفاعت صالحین سے یامحض رحم رب العالمین سے دوزخ سے نجات پاکر داخل جنت ہوںگے۔ کیونکہ بموجب عقیدہ فاسدہ مرزاصاحب دوزخ سے کوئی خارج نہیں ہوسکتا۔

نیز اصحاب اعراف کا بھی انکار ہوگیا جو نصوص قطعیہ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔ یہ بات بھی مخفی نہ رہے کہ مرزا صاحب نے یہ عقیدہ محض کسی غلط فہمی سے ایجاد نہیں کیا اور نہ وہ اس کے ملحدانہ نتائج سے بے خبر تھے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ اس سے اسلامی عقائد میں سخت انقلاب پیدا ہوگا اور معتقدات اسلامیہ زیروزبر ہوجائیں گے۔ لیکن چونکہ ان کی ایک خاص غرض اس عقیدہ سے وابستہ تھی اس کے لئے انہوں نے نصوص قرآن واحادیث کی کچھ پروانہ کی اور یہ عقیدہ تراش لیا کہ جنتی لوگ مرنے کے بعد اور جہنمی فوراً جنت اور جہنم میں چلے جاتے ہیں اور پھر وہ کبھی اس سے نکل نہیں سکتے اور اس پر بعض آیات اور احادیث کی غلط تاویل کرکے استشہاد واستدلال کیا اور یہ

315

ظاہر کیا ہے کہ گویا وہ اسلام اور مسلمانوںپر قرآن کی باہمی مخالف آیتوں میں تطبیق اور توفیق دے کر تعارض کو دور کرکے احسان کررہے ہیں۔ گواہ مختار مدعاعلیہ نے بھی اپنے جدید امام کی تقلید کرتے ہوئے اس کفریہ عقیدہ کا ہمیں احسان جتلایاہے۔

مختار مدعاعلیہ اپنے جواب بحث میں کہتا ہے کہ (مرزا صاحب نے) جو آیات اور احادیث ان مسائل کے متعلق پائی جاتی ہیں۔ ملحدین کے اعتراض کو ملحوظ رکھ کر ان میں تطبیق فرمائی ہے تو یہ تقریر جو ازالہ اوہام میں بیان ہوئی ہے تو وہ ان مختلف حدیثوں اور آیات کی تطبیق میں ہے۔ پھر مختار مدعاعلیہ نے چند آیات اور احادیث ذکرکرکے کہاہے کہ: ’’پس اگر کوئی شخص مرنے کے بعد جنت اور دوزخ میں داخل نہیں ہوتا تو مختار مدعیہ ان آیات اور اپنے عقیدہ میں کہ مردے قبروں سے اٹھیں گے، تطبیق کرکے دکھائیں۔‘‘

مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ آیات واحادیث جن کی باہمی تطبیق کے لئے اس نے تحدی اور چیلنج کیا ہے یہ ہیں۔

۱… ’’اغرقوا فادخلوا ناراً (نوح:۲۵)‘‘ کہ نوح کے مخالف غرق کئے گئے پھر انہیں آگ میں داخل کردیا۔

۲… ’’النار یعرضون علیہا غدوا وعشیا (المؤمن:۴۶)‘‘ کہ فرعون صبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن ہم حکم کریں گے کہ فرعون کو اشدا لعذاب میں ڈالو۔

۳… ’’یٰایتہاالنفس المطمئنہ ارجعی (الفجر:۲۷،۲۸)‘‘ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ جو نفس خدا کی طرف تسلی پاگیا ہو اسے دیگر بندگان الٰہی کے ساتھ جنت میںداخل ہونے کا حکم دیا جاتاہے اور اس طرح ایک مؤمن کو بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے۔

۴… چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ: ’’قیل ادخل الجنۃ قال یالیت قومی یعلمون (یٰس:۲۶)‘‘ اسے کہاگیا کہ تو جنت میں داخل ہوجا۔

۵… آنحضرتﷺ نے جہنم کو دیکھا تو اس میں اکثر عورتیں تھیں تو جنت کودیکھاا وراس میں اکثر ضعیف تھے۔

۶… شہداء کے متعلق قرآن میں وارد ہے کہ ان کو مردے مت کہو: ’’بل احیآء عند ربہم یرزقون (آل عمران:۱۶۹)‘‘ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں رزق کھاتے ہیں۔ پھر (کتاب الفصل ج۳ ص۱۳۴) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ابن حزم کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے نص کے طور پر بیان کیا ہے کہ شہداء کے ارواح جنت میں ہیں اور اسی طرح انبیاء کے ارواح بھی بلا شک جنت میں ہیں۔ یہ تھیں وہ مشکلات جن کی بناء پر مرزا صاحب نے سینکڑوں آیات اور احادیث سے ثابت شدہ عقائد حشر اجساد یعنی مردوں کا قبروں سے اٹھنا اور یوم الحساب کے احوال واہوال اور واقعات بعث حشر،وزن اعمال وغیرہ کا انکار کردیا اور مختار مدعاعلیہ کہتا ہے کہ ان آیات واحادیث کے درمیان اوراپنے عقیدہ قبروں سے مردوں کے اٹھنے کے درمیان تطبیق کرکے دکھاؤ۔ گویا مختارصاحب کے نزدیک ان میں تطبیق محال ہے۔ اس لئے انہوں نے مردوں کے قبروں سے اٹھنے کا انکار کردیا ہے جس کا دوسرانام حشر اجساد ہے۔ ’’یا بعث من فی القبور‘‘ مختارمدعاعلیہ نے اپنی مجبوری ظاہر کردی جس نے ان کو حشر اجساد کا منکر بنایا ہے اور اضطراری طور پر وہ بات انہوں نے مان لی جو ہم منوانا چاہتے تھے اور وہ بڑے اصرار سے انکار کررہے تھے۔ مرزا اپنی کتابوںمیں اور مختار مدعاعلیہ نے جواب اور بحث میں آیات واحادیث مذکورہ کی دستاویز سے یہ ثابت کرنا چاہاہے کہ جو انسان مرتاہے وہ فی الفور جنت یا جہنم میں چلا جاتاہے اور مختار مدعاعلیہ نے ان آیات اور عقیدہ حشر اجساد یعنی مردوں کا قبروں سے اٹھانے کے درمیان تطبیق کا مطالبہ کیا جو ہم بفضلہ وتوفیقہ تعالیٰ پورا کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ان آیات واحادیث بلکہ کسی آیت وحدیث سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ ہر انسان مرنے کے بعد فی الفور جنت یا جہنم میں چلا جاتاہے۔ بلکہ دخول جنت یا جہنم، بعث حشر، وزن اعمال، حساب کتاب کے بعد ہوگا۔ البتہ دار دنیا اور یوم البعث کے درمیان

316

فی زمانہ میں جس کا نام برزخ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’من ورآء ہم برزخ الیٰ یوم یبعثون (المؤمنون:۱۰۰)‘‘ حسب مراتب ثواب یاعذاب ہوتاہے۔ قرآن سے بھی یہ باث ثابت ہوتی ہے اوراحادیث میں اس کی بہت تصریح اور تفصیل آتی ہے۔ نیک انسان جنت کی خوش ہوا، روح وریحان وغیرہ سے متمتع ہوتاہے اور جنت کی طرف سے اس کے لئے کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ بد انسان دوزخ وغیرہ کی تکلیف پاتاہے اور دوزخ کی طرف سے اس کے لئے کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ ماسواء اس کے احادیث میں بہت تفصیل ہے۔ شہداء کے لئے زیادہ خصوصیت سے مذکور ہوا کہ ان کی ارواح جنت میں جا کر متمتع ہوتی ہیں۔ سید المرسلینa کو تو اس دار دنیا میں ہوتے ہوئے بھی سیر جنت سے مانع نہ تھا، بلکہ واقع میں جیسا کہ احادیث میں مصرح ہے۔ لیکن ان امور میں کس طرح قیاس وگمان کو دخل نہیں جو نصوص سے ثابت ہو، اس کا ماننا ضروری ہے۔ یہ بھی آیا ہے: ’’القبر روضۃ من ریاض الجنۃ او حفرۃ من حفر النیران‘‘ لیکن یہ باغ اور آگ کا گڑھا محض برزخی اور عارضی ہے جو یو م البعث والحشر پر ختم ہوجائے گانہ وہ جنت جو یوم الحساب کے بعد عطاء ہوگا جس سے کوئی نکالا نہ جائے گا جس کا نام دارالسلام بھی ہے۔ جس میں ادنیٰ آدمی کو زمین وآسمان کی وسعت کے مطابق حصہ دیا جائے گا جس کے بعد اندوہ ورنج کانام نہ رہے گا۔ علی قلب بشر جس کی نسبت حدیث قدسی میں ہے: ’’اعددت لعبادی الصالحین مالاعین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر‘‘ جس میں سے اہل کبائر مؤمن نکالے جائیں گے اور کفار لا یقضیٰ علیہم فیموتوا ولا یخفف عنہم من عذابہا کے ماتحت وہیں رہیں گے۔

(والتفصیل کثیرۃ فی القرآن والاحادیث)

اس تمہید کے بعد گزارش ہے کہ مختار مدعاعلیہ نے آیت نمبر۱ پیش کی ہے: ’’نوحm کے مخالف غرق کئے گئے اور انہیں آگ میں داخل کردیا۔‘‘ اس میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو اسلامی عقیدہ ’’بعث من فی القبور‘‘ اور حشرا جساد کے مخالف ہو۔ بظاہر معلوم ہوتاہے کہ اس نے نارسے جہنم سمجھ لیا ہے اور عام کو بلاوجہ خاص قرار دے کر اپنا دلی شوق پورا کرلیا ہے اور خواہ مخواہ قرآن کریم میں تعارض پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ سعی بالکل بے سود ہے۔ کیونکہ نارا کا لفظ نار آخرت اور جہنم کے لئے مخصوص نہیں بلکہ دنیا اور نار برزخ سب کو شامل ہے۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ اس سے نار آخرت اور جہنم مراد لے کہ حشر اجساد کے قطعی اور محکم عقیدہ سے اس کو ٹکرایا جائے۔ کیوں نہ اس سے مراد نار برزخ اور عذاب قبر لیا جائے اور اگر بالفرض نار آخرت اور جہنم بھی مراد لیا جائے تو بھی توجیہ بخوبی ہوسکتی ہے اور حشر اجساد سے قطعاً کوئی زحمت نہیں ہوتی۔ کیونکہ امور مستقبلہ کو جن کا وقوع قطعی اور یقینی ہو، عموماً قرآن کریم بصیغہ ماضی بیان کرتا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ قرآن کریم کے اس قسم کے محاروں سے کسی کو ان کا انکار نہیں ہوگا اور نہ ہی مختار مدعاعلیہ ان کا انکار کرسکتے ہیں۔ تاہم مزید تسلی واطمینان کے لئے کچھ مثالیں پیش کرتاہوں۔ ’’فوقاہم اللہ شر ذالک الیوم ولقاہم نضرۃ وسرورا وجزاہم بما صبروا جنۃ وحریرا (الدھر:۱۱،۱۲)‘‘

اس جگہ تین صیغہ ماضی کے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے امور مستقبلہ کو جو یوم الآخرۃ میں پیش کرنے والے ہیں یقینی اور قطعی الوقوع ہونے کی وجہ سے بصیغہ ماضی ذکر فرمایاہے۔ اسی طرح ان سے اگلی آیات ہیں: ’’وحلّوا اساور من فضۃ وسقاہم ربہم شراباً طہورا‘‘ میں صیغہ ماضی استعمال ہواہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان ابرار اور نیکوں کی جزاء کا بیان کیا ہے جو دنیا میں نیک کام ایفاء نذر اور مساکین کو طعام دینا وغیرہ اعمال صالحہ کرتے ہیں اور قیامت کے خوفناک دن سے ڈرتے ہیں۔ صرف مردوں کا ذکر نہیں بلکہ جو عہد نبوی میں تھے یا بعد میں ہوئے اور ہوں گے، ان سب کے ثواب کو جو آئندہ ان کو ملنے والا ہے، بصیغہ ماضی بیان کیاگیا ہے۔ تفسیر بیضاوی میں ’’فادخلوا نارا‘‘ کے ماتحت لکھا ہے: ’’المراد عذاب القبر‘‘ یعنی اس ادخال نار سے مراد عذاب قبر ہے۔ یعنی برزخی نارمراد

317

ہے۔ پھر دوسرا احتمال ذکر کرکے اس کی بھی توجیہ کردی ہے۔ ’’اوعذاب الاخرۃ والتعقیب لعدم الاعتداد بما بین الاغراق والادخال اولادہ المسبب کالمتعقب لسبب وان تراخی عنہ لفقد شرط الوجود مانع لغیرٍ‘‘ یا عذاب آخرت مراد ہے۔ اسی صورت میں تعقیب یعنی اغراق کے پیچھے ادخال نار کا ذکر اس وجہ سے ہے کہ درمیانی زمانہ برزخی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ سبب موجود ہونے کے بعد وجود سبب گو وہ کسی شرط کے نہ موجود ہونے یا کسی مانع کی وجہ سے پیچھے آئے بمنزلہ متتعقب ہی کے ہے۔ کمالین حاشیہ جلالین میں ہے: ’’المراد بادخالہم النار ادخالہم فیہا فی البرزخ قال الضحاک یغرقون فیہا من جانب ویحرقون فیہا من جانب وقال مقاتل فادخلوا ناراً فی اللہ اخرۃ والتعقیب علی ذالک لعدم الاعتداد وبما بین الاغراق والادخال کانہ نومۃ‘‘ یعنی ان کو آگ میں داخل کرنے سے برزخ کی آگ میں داخل کرنا مراد (جیساکہ) ضحاک نے کہا ہے کہ وہ ایک طرف غرق کئے جاتے تھے، دوسری طرف جلائے جاتے تھے۔ مقاتل نے کہا ہے کہ نار آخرت مراد ہے۔ اس صورت میں تعقب اغراق اور ادخال نار کے درمیانی زمانہ کے اعتبار نہ کرنے سے اور نظر انداز کردینے کی وجہ سے ہے۔ گویا وہ ایک نیند ہے۔ میں کہتاہوں کہ صاحب کمالین کا یہ قول کہ گویا وہ ایک نیند ہے بالکل صحیح ہے۔ کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ قبروں سے نکلنے کے بعد لوگ یہی کہیں گے۔ ’’یاویلنا من بعثنا من مرقدنا (یٰس)‘‘ اے افسو س ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کس نے جگا دیا۔ پھر خود ہی کہیں یا انہیں کہا جائے۔’’ہٰذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون‘‘

مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہے کہ نار سے مراد نار برزخ ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اور نہ کوئی ایسا لفظ ہے جس سے ہم نار جہنم مراد لینے پر مجبور ہوجائیں اور اگر نار آخرت اور عذاب جہنم بھی مراد لیا جائے تو بھی بلا تکلف توجیہ ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ مفسرین کے حوالہ سے ہم نے بیان کیا ہے اور امور مستقبلہ میں ماضی کا استعمال کلام اللہ میں بکثرت ہے۔ لہٰذا عقیدہ اہل اسلام ’’بعث من فی القبور‘‘ یا حشر اجساد سے اس کا کوئی تعارض وتزاحم نہیں ہے اور مرزا صاحب کا اس تعارض وتزاحم کا بہانہ سے کفریہ عقیدہ کا تراشنا ا لحاد اور ہوس خام ہے۔

دوسرا اشکال اور اس کاحل

آیت جس کو مختار مدعاعلیہ نے اسلام کے قطعی عقیدہ کے متعارض سمجھ کر اس کی تطبیق کا مطالبہ کیا ہے، وہ ہے جو عذاب فرعون اور فرعونیوں کے متعلق سورۃ مؤمن میں ہے: ’’النار یعرضون علیہا غدواوعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا اٰل فرعون اشد العذاب (المؤمن:۴۶)‘‘

اس کے ماقبل ہے: ’’فوقاہ اللہ سیئات مامکروہ وحاق باٰل فرعون سوٓء العذاب الناریعرضون… الخ!‘‘ یعنی مؤمن آل فرعون کو تو اللہ تعالیٰ نے ان کے برے منصوبوں سے بچالیا اورآل فرعون پر برا عذاب نازل ہوا (غرق کئے گئے پھر) صبح اگلے پہر اور پچھلے پہر آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔ (تو کہا جائے گا) کہ آل فرعون کو سخت عذاب (یعنی جہنم ) میں داخل کردو۔

علماء نے اس آیت سے عذاب قبر ثابت کیا ہے جو بالکل ظاہر ہے۔ کیونکہ یہاں کے مختلف وقتوں میں مختلف قسم کے عذابوں کا ذکر ہے ایک غرق ہونے کے بعد قیامت تک اگلے پچھلے پہر آگ پر پیش ہونے کا جو نسبتاً اخف العذاب ہے۔ دوسرا قیامت کے بعد اشدالعذاب میں داخل ہونے کا جس سے مراد دخول جہنم ہے۔

اگلے پچھلے پہر آگ پر پیش ہونا عذاب قبر ہے جو قیامت سے پہلے ہے۔ اس کی نسبت بخاری، مسلم، ترمذی میں بھی حدیثیں موجود ہیں جو اٰل فرعون کے علاوہ اس کی عمومیت پر دلالت کرتی ہیں۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف باب اثبات عذاب القبر میں بخاری مسلم کی متفق علیہ

318

حدیث عبد اللہ بن عمرq سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی مرتاہے تو اگلے پچھلے پہر ٹھکانا اس کو دکھایا جاتاہے۔ اگر جنتی ہے تو جنت سے اور اگر دوزخی ہو تو دوزخ سے اور اسے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ یہاں تک کہ تجھ کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اٹھائے۔

مشکوٰۃ کے اسی باب کی دوسری فصل میں ترمذی کی ایک حدیث ابوہریرہq سے مروی ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ دو فرشتے منکرونکیر نامی قبر میں سوال کرتے ہیں۔ اس کے بعد صحیح جواب دینے والے مؤمن کی قبر فراخ کردی جاتی۔ اس میں روشنی کی جاتی ہے اور اسے کہا جاتا کہ تو شادی شدہ کی طرح راحت سے سوجا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن ) اس کو اٹھائے اور اس کے برخلاف کافر کو عذاب ہوتاہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اٹھا کھڑے کرے۔

یہ حدیثیں اور آیت محولہ بالاتفاق عذاب کی مثبت ہیں۔ ان سے یہ بھی ثابت ہوا عذاب قبر کے بعد یوم البعث ہوگا جس کی تفصیل اور آیات واحادیث میں آئی ہے۔ سورۂ یاسین:۵۱ میں ہے: ’’ونفخ فی الصور فاذاہم من الاجداث الیٰ ربہم ینسلون‘‘ یعنی قرنا پھونکا جائے گا تو مردے قبروں سے اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ سورۂ قمر:۷ میں ’’یخرجون من الاجداث کانہم جراد منتشر‘‘ قبروں سے اس طرح نکلیں گے۔ گویا وہ پراگندہ ٹڈی دل ہیں۔ اس مضمون کی بہت آیتیں قرآن کریم میں ہیں جن کا ماحصل یہی ہے کہ نفخ صور کے بعد مردے قبروں سے نکل کر میدان عدالت رب العالمین میں حاضر ہوں گے اور محولہ بالا آیات اور حدیثوں سے یہ بات قطعاً ثابت ہوگئی کہ عذاب قبر یا برزخی عذاب جو اشدا لعذاب آخرت کے مقابلہ بالکل خفیف ہے اور اسی طرح ثواب ختم ہو کر یوم البعث ہوگا اور مردے قبروں سے نکل کر حاضر عدالت رب العالمین ہوں گے۔

الغرض یہ آیت سربسر ہمارے مذہب کی مثبت ہے اور مرزاصاحب کے عقیدہ کفریہ اور انکار حشر اجساد کی بیخ کنی کررہی ہے۔ مرزا صاحب کا تو یہ مذہب تھا کہ ہر انسان مرنے کے بعد فوراً جنت یا جہنم میںچلا جاتا ہے۔ پھر اس سے نکل نہیں سکتا۔ بڑے سرکش کافر اپنے سارے وجود اور تمام قویٰ کے ساتھ داخل جہنم ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس آیت نے ثابت کر دیا کہ سب سے بڑا کافر فرعون اور فرعونی بھی قیامت کے دن داخل جہنم اور اشد العذاب ہوں گے۔ برزخ میں صرف اگلے پچھلے پہر آگ پر پیش ہوتے ہیں۔ یعنی عذاب القبر میں مبتلا ہیں اور جب احادیث محولہ بالا اور دیگر آیات جن کو کا ذکر محض نمونہ ومثال کے طور کیا گیا۔ اس آیت سے ملا کر یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو بشرطیکہ انسان بالکل انصاف وایمان سے خالی نہ ہو۔ قطعاً ویقینا سمجھ لے گا کہ عذاب قبر وبرزخ کے بعد حشراجسادوبالکل حق اورعین الحق ہے اور مرزا کا مذہب قطعاً باطل ہے۔

باوجود ایسی کھلی صاف اور واضح نص کے مختار مدعاعلیہ کا اس کو اپنے موافق اور ہمارے مخالف سمجھ کر تطبیق کے لئے تحدّی کرنا سخت حیرت انگیز ہے۔ لیکن ہم ان کو ایک طرح سے معذور سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان کاکام محض یہ ہے کہ جو کچھ مرزا صاحب کہہ گئے ہیں، وہی کہے چلے جائیں۔ خواہ وہ بداہۃً باطل ہو اور علمی خود داری اس کے کہنے سے صراحۃً روکتی ہو۔

(۳)

’’یٰٓایتہا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (الفجر:۲۷تا۳۰)‘‘

اس آیت میں حشر اجساد اور ’’بعث من فی القبور‘‘ کے خلاف اور متعارض کوئی لفظ نہیں ہے۔ مختار مدعاعلیہ کو مرزا صاحب کی تقلید کی وجہ سے وہم ہوتاہے کہ ہر نفس مطمئنہ کو مرنے کے وقت یہ حکم دیا جاتاہے کہ فوراً بلا تؤقف جنت میں داخل ہوجا اور جنت سے نکلنا محال۔ لہٰذا حشر وبعث اجساد محال۔ لیکن اوّل تو اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ یہ حکم دخول جنت بوقت موت دیا جاتا ہے۔ بلکہ سیاق

319

آیت سے ثابت ہوتاہے کہ یہ قیامت کو ہوگا اوراگر اس کوبھی بالفرض مان لیا جائے کہ یہ حکم بوقت موت ہی ہے تو یہ کیونکر ثابت ہوا کہ اس سے مراد وہی جنت ہے جس میں دخول بعد الحساب ہوگا اور جس سے نکلنا محال ہے۔ ممکن کہ اس سے بحکم حدیث مصطفویہa: ’’القبر روضۃ من ریاض الجنۃ‘‘ روضہ یعنی جنت قبر ہی مراد ہے۔ اس صورت میں بھی یہ آیت حشر وبعث اجساد کے مخالف نہیںہوسکتی۔ کیونکہ اس جنت سے ضرور ضرور قیامت کے دن نکلنا پڑے گا اور اگر بالکل ہی ارخاء عنان کر کے یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ وہی جنت مراد ہے جس سے کوئی نہ نکلے گا جس میں دخول کے بعد بعث وحشر اجساد ناممکن ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ فی الفور بلا تراضی ومہلت داخل ہونے کا حکم ہے۔ تب تک اسلامی قطعی عقیدہ بعث وحشر اجساد سے یہ آیت متارض نہیں ہوسکتی اور آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جو اس امر کو قطعاً ثابت کرے۔ لہٰذااسی صورت میں بھی ممکن ہے کہ یہ محض اذن اور بشارت دخول جنت ہے اور جنت میں داخل ہونے کا تحقق اور وقوع اپنے وقت اور شرائط حشر وبعث وحساب کے بعد ہوگا۔

غرض اتنے احتمالا ت کے ہوتے ہوئے اسی آیت کو عقیدہ بعث وحشر کے خلاف پیش کرنا جس کو نصوص محکمہ قرآن وحدیث قطعاً ویقینا ثابت کرتی ہیں۔ نفس امّارہ کی پیروی ہے۔ ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ حکم دخول جنت قیامت کو ہوگا۔ اس سے پہلے قیامت ہی کا ذکر ہے: ’’کلّا اذادکت الارض دکا دکا وجآء ربک والملک صفاصفا وجیٓ ء یومئذٍ بجہنم یومئذٍ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری یقول یالیتنی قدمت لحیاتی (الفجر:۲۱تا۲۴)‘‘یہ سب قیامت کا ذکر ہے۔ اس کے بعد عذاب قبر کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا: ’’فیومئذٍ لایعذب عذابہ احد ولایوثق وثاقہ احد (الفجر:۲۵،۲۶)‘‘ اس دن یعنی قیامت کے دن میں عذاب کافر کے بعد اسی سلسلہ میں حسب اسلوب اللہ تعالیٰ جو مؤمن اور کافر کا بالمقابل ذکرکرتاہے۔ قرآن حکیم نے نفس مطمئنہ کا ذکر فرمایا اور اس کو دخول جنت اور عباد اللہ الصالحین کی شمولیت کا حکم دیا گیا۔پس یہ بھی قیامت کے دن سے ہی متعلق ہے۔ اب معاملہ بالکل صاف ہے اور کسی صورت میں بھی ہمارے مخالف اور متعارض نہیں۔

چوتھی آیت

مختار مدعاعلیہ نے چوتھی آیت یہ پیش کی ہے اور کہا ہے اور’’اسی طرح ایک مؤمن کو بلا تؤقف بہشت میں جگہ ملتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’قیل ادخل الجنۃ قال یالیت قومی یعلمون (یٰس:۲۶)‘‘ اسے کہاگیا کہ تو جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ اس کا جواب بھی وہی ہے جو اس سے پہلے ’’فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (الفجر:۲۹،۳۰)‘‘ میں مذکور ہوا۔ علاوہ براں جس شخص کو اس آیت میں ذکر ہے۔ اگر وہ شہید ہے تو شہداء بالخصوص ماذون دخول جنت ہوتے ہیں۔ پس امر دخول جنت بشارت واکرام اور اذن کے لئے ہے۔ نیز ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ امور مابعد الموت میں قیاس وگمان سے کوئی بات ثابت نہیں کی جاسکتی جس قدر نص سے ثابت اتنا مسلم لیکن زیادتی ناقابل تسلیم ہے۔ پس اس سے یہ خیال کرلینا کہ ہر شخص بلا تؤقف جنت میں چلا جاتاہے، قطعاً نارواہے۔

نیز شہداء کا داخل جنت ہونا یوم الحساب کے بعد داخل ہونے کی طرح نہیں ہوسکتا۔ البتہ ان کو جنت میں سیروتمتع کا اذن حاصل ہے اور یوم الحساب کے بعد وراثت اور سکونت ہوگی۔’’تلک الجنۃ التی اورثتموہا بما کتنم تعملون‘‘ اور( حج )میں ہے: ’’والذین ہاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا اوماتوا لیرزقنہم اللہ رزقاً حسناً وان اللہ ہو خیرالرازقین لیدخلنہم مدخلایرضونہ وان اللہ لعلیم حلیم‘‘اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوتاہے۔ مہاجرین شہید شدہ لوگوں کو یا جو اپنی موت سے بغیر قتل کے مرچکے ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ ان کے پسندیدہ مقام یعنی جنت میں زمانہ مستقبل میں فرمائے گانہ کہ ان کو داخل کردیا ہے۔ ماضی کا صیغہ نہیں ہے بلکہ قطعاً صیغہ استقبال ہے۔ شہداء اور انبیاء سب کے سب میدان حساب میں بعث وحشر کے بعد حاضر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’نفخ فی الصور

320

فصعق من فی السمٰوٰت ومن فی الارض الّا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذاہم قیام ینظرون واشرقت الارض بنور ربہا ووضع الکتاب وجایْٓ بالنّبیین والشہدآء وقضی بینہم بالحق (زمر:۶۸،۶۹)‘‘ ماحصل یہ ہے کہ نفخہ ثانیہ کے بعد انبیاء اور شہداء بھی قضاء رب العالمین کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ پھر فیصلہ الٰہی کے بعد دوزخی دوزخ کی طرف اور جنتی جنت کی طرف چلائے جائیں گے۔ جیسا کہ ان سے بعد کی آیات میں مذکور ہے۔ غرض بعث وحشر ایک ایسی ضروری اور لابدی چیز ہے جس سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہوگا۔ معلوم نہیں کہ ایسی صاف اور قطعی چیز کے انکار کے لئے کیوں حیلے حوالے کئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم نے جس صفائی اور تفصیل سے اس مسئلہ کو بیان کی اس میں کسی شک وتاویل کی گنجائش نہیں۔ اس ضمن میں نمبر۶ کا جواب بھی ہوگیا جو مختار مدعاعلیہ نے شہداء کے متعلق بیان کیا ہے۔ غرض یہ امور بھی کسی طرح اسلامی مسلم عقیدہ کے مزاحم اور متارض نہیں ہوسکتے۔

یہ جواب جو مذکورہوا، اس صورت میں ہے کہ اس شخص کو شہید مانا جائے۔ لیکن قرآن کریم سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ قرآن کریم سے تو ثابت ہوتاہے کہ بحالت حیات ہی اس کو دخول جنت کا حکم دے دیاگیا تھا۔

چنانچہ ارشاد ہوتاہے: ’’انی اٰمنت بربکم فاسمعون قیل ادخل الجنۃ‘‘ یعنی اس شخص نے اپنی قوم کو وعظ ونصیحت کی رسولوں کا اتباع کرو اورشرک سے بیزاری کا اظہار کیا اور یہ کہا کہ میں اپنے رب پر ایمان لاتاہوں تو اس سے کہا گیا۔ جنت میں داخل ہوجا، یہاں سے تو اس شخص کا زندہ ہونا معلوم ہوتاہے اور بحالت زندگی ہی اس کو بشارت اور اکرام کے طور پر کہا گیا اور دخول جنت کا حکم سنادیاگیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسی وقت زندہ جنت میں چلا جا۔ بلکہ یہ مطلب ہوگا کہ اپنے وقت پر جنت میں چلے جانا۔ تیرے جنتی ہونے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

اسی طرح سورہ مرسلات:۲۹ میں مکذبین کوحکم دیاگیا۔ ’’انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون‘‘ یعنی جس عذاب کو تم جھٹلاتے تھے، اس کی طرف چلو۔ حالانکہ مکذبین کے ساتھ فوت شدہ کی کوئی قید نہیں، بلکہ ’’الم نخلقکم من مآء مہین‘‘ کے خطاب سے جو ماقبل میں ہے ان کا زندہ ہونا مفہوم ہوتاہے۔

الغرض اللہ تعالیٰ امور مستقبلہ کو جن کا وقوع اس کے علم میں قطعی ہوتاہے۔ وقوع شدہ کی طرح بیان فرمادیتاہے اور ان کا حکم فی الحال دے دیتاہے۔ اگرچہ ان کا وقوع مابعد میں اپنے وقت معین پر ہونے والاہو۔

نمبر۵ کا جواب:

۱… اسی طرح سید المرسلینa بھی اپنے اس علم قطعی کی بناء پر جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کیا گیا، امور مستقبلہ ان کو بصورت وقوع دکھائے گئے۔ ان مستقبلات کو ایسے الفاظ میں بیان فرمادیتے تھے جو وقوع پر دلالت کرتے ہیں اورا ن سے بظاہر یہ معلوم ہواہے کہ یہ باتیں گویا واقع ہوچکی ہیں۔ لیکن دراصل ایسا سمجھنے والا صریح غلطی کرتاہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب اور مختار مدعاعلیہ نے کی ہے۔ مختار مذکور کہتے ہیں کہ: ’’آنحضرتﷺ نے جہنم کو دیکھا تو اس میں اکثر عورتیں تھیں اور جنت کو دیکھا تو اس میں اکثر ضعیف تھے۔‘‘ اس سے اس نے یہ سمجھ لیا کہ مرنے والے فوراً جنت اور جہنم میں پہنچ گئے۔ اب حشروبعث کیونکر ممکن ہے۔ لیکن مرنے والے تو درکنار آنحضرتﷺ نے تو زندوں کو بھی جنت میں دیکھا ہے۔ حالانکہ وہ اس دنیا میں موجود تھے۔ ملاحظہ ہو (مشکوٰۃ ص۵۶۲، باب مناقب عثمانq) آنحضرتﷺ نے جبل ثبیر سے فرمایا اے ثبیر! ٹھہر جا۔ کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ یعنی حضرات عمرو عثمانq ان کو شہید فرمایا۔ حالانکہ وہ برسوں زندہ رہ کر شہید ہوئے۔

321

۲… (مشکوٰۃ ص۵۶۶) ’’ابوبکرq فی الجنۃ وعمرq فی الجنۃ وعثمانq فی الجنۃ وعلیq فی الجنۃو وطلحہq فی الجنۃ والزبیرq فی الجنۃو عبدالرحمن بن عوفq فی الجنۃ و سعدبن ابی وقاصq فی الجنۃ وسعید بن زیدq فی الجنۃ وابوعبیدہ بن الجراحq فی الجنۃ‘‘ یعنی آنحضرتﷺ نے ان دس بزرگوں کی نسبت فرمایا کہ وہ جنت میں ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ جنت میں جائیں گے۔ بلکہ جملہ اسمیہ کے ساتھ ذکر فرمایا جو استمرار اور ثبوت پر دلالت کرتاہے۔

۳… (مشکوٰۃ ص۵۴۴) طلحہ بن عبید اللہ q کی نسبت فرمایا جس نے زمین پر شہید کو چلتا پھرتا دیکھنا ہو وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔

۴… (مشکوٰۃ ص۵۶۶) حضرت علیq روایت کرتے ہیں کہ میرے کانوں نے آنحضرتﷺ کے منہ مبارک سے سنا کہ آپ فرماتے تھے، طلحہ اور زبیر جنت میںد ونوں پڑوسی ہیں۔ اس میں کوئی صیغہ استقبال کا نہیں، بلکہ امرمستقبل کو بصورت وقوع بیان فرمایا۔

۵… (مشکوٰۃ ص۱۱۶) آنحضرتﷺ نے بلالq کو فرمایا میں نے جنت میں اپنے آگے تمہاری جوتیوں کی آواز سنی۔

۶… (مشکوٰۃ ص۵۷۴) جابرq روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو جنت دکھایا گیا تو ابوطلحہq کی عورت کو دیکھا اور اپنے آگے آہٹ سنی تو ناگاہ بلالq موجود تھا۔

ان احادیث سے جو بطور نمونہ بیان کی گئی ہیں۔ ثابت ہوگیا کہ آنحضرتﷺ نے ان لوگوں کا جنت میں ہونا بیان کیا جو ہنوز زندہ تھے۔ نیز ان لوگوں کو جو زندہ تھے جنت میں ان کی آہٹ سنی ان کو دیکھا۔

اس سے مختار مدعاعلیہ کے اس استدلال کا جواب ہوگیا جو اس نے آنحضرتﷺ کے جنت ونار کو دیکھنے اور اس کہنے سے کہ: ’’دوزخ میں اکثر عورتیں تھیں اور جنت میں اکثر ضعیف لوگ تھے۔‘‘ سے کیا تھا کہ انسان مر کر فی الفور جنت یا جہنم میں چلا جاتاہے اور اس حدیث کو اسلامی عقیدہ بعث وحشر اجساد کے متعارض سمجھ کر ہم سے تطبیق کا متحدیانہ مطالبہ کیا تھا۔ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کی طرف سے اس عقیدہ کے اختیار کرنے کا یہ عذر بیان کیا تھا کہ انہوں نے قرآن کریم اور احادیث میں ان مسائل کے متعلق جو تعارض پایا جاتاتھا اور ملحدین اس پر معترض ہوتے تھے۔ اس تعارض کو دور کرنے کے لئے یہ وجہ تطبیق پیدا کی ہے۔ گویا یہ ایک خالص اسلامی خدمت ہے اور اسلام اور مسلمانوں پربہت بھاری احسان ہے۔ لیکن یہ بات سراسر غلط ہے اور اصل بات یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اس مسئلہ میں جو الحاد کا دروازہ کھولا ہے وہ محض خود غرضی اور نفس امارہ کی پیروی کے لئے کھولاہے۔ ورنہ نہ کوئی ملحدین کا اعتراض نہ تعارض۔ جیسا کہ ہمارے بیان سے ثابت ہوچکاہے۔

اصل بات یہ ہے کہ مرزا صاحب نے جب مورد وحی الٰہی اور مامور من اللہ ہونے کے مختلف دعاوی کئے تو اس وقت من جملہ ان دعاوی کے یہ دعویٰ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو مسیح بن مریم بنا دیا ہے۔ چنانچہ آپ کا الہام ہے کہ: ’’انا جعلناک المسیح ابن مریم‘‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی تصریح کردی ہے کہ میں بوجہ مشابہت روحانی کے مسیح ابن مریم ہوں اور مسیح علیٰ نبیناm دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ جیسا کہ ( براہین احمدیہ ص۴۹۸، خزائن ج۱ ص۵۹۳، براہین احمدیہ ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱، براہین احمدیہ ص۳۶۱ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۴۳۱) پر اس بات کا صاف اقرار ہے۔ مرزا صاحب بارہ سال تک اس عقیدہ پر رہے اور خداتعالیٰ نے آپ کو اس عقیدہ سے نہ روکا اور نہ اس غلطی پر متنبہ کیا۔ بارہ سال گزرنے پر بقول مرزا صاحب اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کیا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے مطابق تو آیا ہے: ’’وکان امر اللہ مفعولا‘‘ یہ اردو عربی کا مجموعہ الہام (ازالہ اوہام ص۵۶۱،۵۶۲، خزائن ج۳ ص۴۰۲)میں ہے۔

322

اب مرزا صاحب نے وفات مسیحm کے دلائل دھڑا دھڑ قرآن سے پیش کرنے شروع کردئیے اور جب بزعم خود وفات مسیحm ثابت کرچکے تو ایک شبہ دل میں گزرا کہ اگر کسی نے یہ کہہ دیا کہ مسیحm فوت شدہ ہی مان لئے جائیں تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عزیرm کی طرح زندہ کرکے دوبارہ دنیا میں بھیج دے۔ اس ناکہ بندی کے لئے مرزا صاحب نے یہ عقیدہ اختراع کیا کہ انسان مر کر فی الفور جنت یا جہنم میں چلا جاتاہے اور وہاں سے نکلنا محال ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰm دوبارہ نہیں آسکتے۔ یہ ہے علت غائی اس عقیدہ کے اختراع کی نہ ملحدین کا جواب اور تطبیق۔ جیسا کہ مختار مدعاعلیہ نے بیان کیا اور غلط بیانی اور دھوکا دہی کا ارتکاب کیا اور آیت کریمہ: ’’ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا‘‘ کا اپنے آپ کو مصداق بنایا۔

مرزا صاحب کے اس اختراعی اور ملحدانہ عقیدہ کی علت غائی جو ہم نے بیان کی ہے۔ اسی مضمون کے سباق میں موجود ہے جس کا مختار مدعاعلیہ نے بیان وبحث میں حوالہ دیا ہے۔ مرزا صاحب (ازالہ اوہام ص۳۴۸،۳۴۹، خزائن ج۳ ص۲۷۸) پر لکھتے ہیں: ’’اب ظاہر ہے کہ جب مسیح فوت ہوچکا تو اب وہ موت کے بعد آنہیں سکتا۔‘‘ پھر اسی (ص۳۴۹، خزائن ج۳ ص۲۷۸) پر لکھتے ہیں: ’’ماسواء اس کے مسیح ابن مریم جس کی روح اٹھائی گئی بر طبق آیہ کریمہ:’’یٰٓایتہا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ جنت میں داخل ہوچکے۔ اب کیونکر وہ اس غم کدہ میں آجائیں۔‘‘ پھر (ازالہ اوہام ص۳۵۱، ۳۵۲، خزائن ج۳ ص۲۸۰) پر لکھتے ہیں: ’’سوال مسیح کے دوبارہ آنے کے ابطال میں جو یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ مسیح کا فوت ہونا ثابت ہے اور ہر ایک مؤمن راست باز مرنے کے بعد بہشت میں داخل ہو جاتاہے اور ہر ایک جو بہشت میں داخل ہوجاتاہے۔ وہ برطبق آیت: ’’وماہم منہا بمخرجین‘‘ ہمیشہ رہنے کا بہشت میں حق رکھتا ہے۔ یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔‘‘

ان حوالہ جات سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ اس خبیث عقیدہ کے ایجاد کی علت غائی خود غرضی اور اپنے غلط دعویٰ مسیحیت کی حفاظت اور بزعم خود حضرت مسیح علیٰ نبیناm کی دوبارہ آمد کا ابطال ہے نہ ملحدین کے اعتراضات کا جواب اور رفع تعارض آیات واحادیث اب ایک بات قابل غور باقی ہے کہ ممکن ہے یہ عقیدہ مرزا صاحب نے غلطی سے اختیار کیا ہو جس سے بعث وحشر ونشر، میزان حساب وغیرہ اورا ن کی ان تفاصیل کا جن سے کتاب اللہ اور کتب احادیث رسول اللہ ﷺ مملوو مشحون ہیں اور جن پر مستقل ابواب محدثین نے قائم کرکے ہر ایک باب میں بہت بڑا ذخیرہ احادیث کا رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے اور اہل اسلام کا سلف سے خلف تک مسلسل عقیدہ چلا آتاہے، انکار لازم آتاہے اور مرزا صاحب کو اس لزوم اور خرابی کا علم نہ ہو اور اس فساد عظیم کی طرف توجہ منعطف نہ ہوئی ہو اور یہ کفر عمداً نہ کیا گیا ہو۔ ایسی حالت میں معذور قرار دے کر ان کی تضلیل وتکفیر سے اعراض کیا جائے تو بہتر ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب نے یہ سب کچھ سمجھ کر جان بوجھ کر عمداً محض خود غرضی سے کیا ہے اور نہ اس قسم کا اختراع جس سے معتقدات اسلامیہ قطعیہ پر انقلاب عظیم اور انکار لازم آتاہو قابل عفو اغماض ہوسکتاہے۔ خصوصاً جس حالت میں مرزا صاحب ہیں کہ باوجود متنبہ ہونے کے اسی عقیدپر اصرار کرتے ہیں اور اس کو طرح طرح کے مغالطوں سے ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں اور اپنے انتہائی استکبار سے سینکڑوں آیات واحادیث سے جو امور قطعاً ویقینا ثابت ہیں، ان سب کو ٹھکراتے ہیں۔ مرزا صاحب کو اپنے اختراعی عقیدہ کی سب خرابیاں معلوم ہیں۔ لیکن وہ خود غرضی اور اتباع ہوااور تکبر کی وجہ سے معتقدات اسلامیہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے اور اپنی ہٹ اورانکار پر بدستور قائم رہتے ہیں۔ بلکہ اس ملحدانہ عقیدہ کے اثبات میں اپنے جدوجہد وسعی کا کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھتے۔ چنانچہ مرزا صاحب (ازالہ اوہام بضمن ص۳۵۱،۳۵۲، خزائن ج۳ ص۲۸۰) پر ایک سوال لکھتے ہیں: ’’سوال مسیح کے دوبارہ آنے کے ابطال میں جو یہ دلیل پیش کی گئی ہے مسیح کا

323

فوت ہونا ثابت ہے اور ہر ایک مؤمن راست باز مرنے کے بعد بہشت میں داخل ہوجاتاہے اور ہر ایک جو بہشت میں داخل ہوجاتاہے وہ بر طبق آیت: ’’وماہم منہا بمخرجین‘‘ ہمیشہ رہنے کا بہشت میں حق رکھتا ہے۔ یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتاہے کہ وہ قصہ صحیح نہ ہو جو عزیر نبی کی نسبت قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ سو برس تک مرا رہا اور پھر خداتعالیٰ نے اس کو زندہ کیا وجہ یہ برطبق قاعدہ مفروضہ بالا زندہ ہونے سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ بہشت سے خارج کیا گیا۔ ایسا ہی اس آیت کو ظاہر پر حمل کرنے سے مردوں کا قبروں سے جی اٹھنا اور میدان حساب میں رب العالمین کے حضور میں آنا، یہ سب باتیں اس آیت کے ایسے معنی کرنے سے کہ راست باز انسان مرنے کے بعد بہشت میں بلا توقف داخل ہوجاتاہے اور پھر اس میں سے کبھی نہیں نکلتا، باطل ہوجاتے ہیں اور مسلّمات عقیدہ اسلام میں ایک سخت انقلاب پیدا ہوجاتاہے۔‘‘

اس سوال سے ظاہر ہے کہ مرزا صاحب کو اپنے عقیدہ مخترعہ کے تمام مفاسد معلوم تھے کہ اس سے مسلمات عقیدہ اسلام میں ایک سخت انقلاب پیدا ہوجاتاہے جس کی تفصیل کسی قدر بیان ہوئی کہ سینکڑوں آیات واحادیث کا انکار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مرزا صاحب اپنے عقیدہ سے تائب نہیںہوتے، رجوع نہیں کرتے اور اپنی حقیر غرض کی خاطر نہایت بے پروائی سے معتقدات اور مسلّمات اسلام کو ٹھکراتے ہوئے بزبان حال یہ شعر پڑھ دیتے ہیں:

  1. ہم تو مانیں گے وہی جس میں ہو مطلب کا نشان

    باقی سب لغو ہے اور فضول حدیث اور قرآن

(العیاذ ب اللہ )

اس سوال کے جواب میں مرزا صاحب نے اسی ملحدانہ عقیدہ پر اصرار کیا اور انہیں آیات اور احادیث کو پیش کیا جو مختار مدعاعلیہ نمبر۱ نے اپنے بیان اور بحث میں پیش کی ہیں جن کا جواب بقدر ضرورت ہم دے چکے ہیں اور مرزا صاحب اور مختارصاحب کے مغالطوں اور استدلال کی کیفیت واضح ہوچکی ہے۔ بہرحال مرزا صاحب نے اپنا وہی عقیدہ قائم رکھا اور تحریف معنوی قرآن شریف میں کرکے بزعم خود اس کو ثابت کیا اور نصوص محکمہ قطعیہ قرآن وحدیث کی تحریف کرکے بہت بڑے الحاد کا دروازہ کھول دیا۔ اس پر یہ ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ ہم سب کچھ مانتے ہیں۔ حشراجساد مانتے ہیں۔ یوم الحساب مانتے ہیں، یہ مانتے ہیں، وہ مانتے ہیں۔ ’’صدق اللہ تعالیٰ ومن الناس من یقول اٰمنا ب اللہ وبالیوم الاخر وماہم بمؤمنین یخٰدعون اللہ والذین اٰمنو ا (البقرۃ:۸،۹)‘‘ اسی طرح مرزا صاحب سب کچھ مانتے ہیں اور در حقیقت کچھ بھی نہیں مانتے۔ لفظ مسلم لیکن معنی ومفہوم کا انکار جب کسی چیز کے لوازم کا انکار صاف صاف ہوتو ملزوم کا انکار خود بخود ہوجائے گا۔ بھلا جب حشرا جساد ہوگا تو اس کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ اس کے لوازم کیا ہیں؟ کیا اس کے سواء کوئی صورت متصور ہوسکتی ہے کہ انسان جہاں ہوں جس حالت میں ہوں، درندہ کھاگیاہو، جل کر راکھ ہوگیاہو، دریا میں ڈوب مرا ہو، اس کے ذرات ہوا میں ہوں، مٹی کی قبر میں ہوں، چونے کی قبر میں ہوں: ’’کما بدأنا اوّل خلق نعیدہ (الانبیاء:۱۰۴)‘‘کے ارشاد خداوندی کے ماتحت نفخہ ثانیہ کے وقت کھڑے ہوجائیں گے۔ جیسا کہ ارشاد حق سبحانہٗ ہے:’’ثم نفخ فیہ اخریٰ فاذاہم قیام ینظرون (زمر:۶۸)‘‘ پھر جراد منتشر کی طرح پکارنے والے کی آواز پر محشر کی طرف روانہ ہوں۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ’’یخرجون من الاجداث کانہم جراد منتشر مہطعین الی الداع یقول الکافرون ہذا یوم عسر (قمر:۷،۸) واشرقت الارض بنورربہا ووضع الکتاب وجیٓ ء بالنّبیین والشہدآء وقضی بینہم بالحق وہم لا یظلمون، ووفیت کل نفس ماوہو اعلم بما یفعلون، وسیق الذین کفروا الیٰ جہنم زمرا (زمر:۶۹تا۷۱) ونفخ فی الصور فاذاہم من الاجداث الی

324

ربہم ینسلون (یٰس:۵۱) وعرضوا علیٰ ربک صفا لقد جئتمونا کما خلقناکم اوّل مرۃ بل زعمتم ان لن نجعل لکم موعداً ووضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یٰویلتنا ما لہٰذا الکتاب لایغادر صغیرۃ ولاکبیرۃ الا احصاہا ووجدوا ماعملوا حاضراً ولا یظلم ربک احداً (کہف:۴۸،۴۹)‘‘

سینکڑوں آیات قرآن مجید کا مقتضیٰ بغیر ان کے کیونکر پورا ہوسکتاہے کہ انسان اپنے اپنے مقام قبروں سے نکل کر میدان حساب میں رب العالمین کے حضور میں پیش ہوں لیکن مرزا صاحب کسی کو دوزخ اور بہشت سے نکلنے نہیں دیتے، بلکہ ان تمام واقعات یوم الحساب کو یہ کہہ کر ختم کردیتے ہیں کہ جنتیوں پر جنت میں ہی رحم کی تجلی اور دوزخیوں پردوزخ میں قہری تجلی ہوکر قصہ ختم ہوجائے گا۔ عرش رب العالمین کا آنا ’’وجآء ربک والملک صفاً صفاً وعرضوا علی ربک صفا‘‘ بلا ترجمان حساب ہونا وغیرہ مسلّمات عقیدہ اسلام یہ سب یہودیت۔ الغرض مرزا صاحب تمام لوازم بعث وحشر نشر وغیرہ واقعات مسلمہ قطعیہ کے منکر اور اپنے ملحدانہ عقیدہ پرجس سے قرآن کریم کے اکثر حصہ اور بے شمار احادیث صحیحہ مسلمہ آنحضرتﷺ کا انکار لازم آتاہے۔ قطعاً اسلام سے خارج ہیں اور تاویلات رکیکہ باطلہ جو سراسر تحریف ہیں، ان کو اس کفر سے پناہ نہیں دی سکتیں اوراس میں کچھ شک نہیں کہ مرزا صاحب عملی طور پر صاف صاف انکار کرتے ہیں۔

نفخ صور

مرزا صاحب کی کتابوں کے حوالہ سے ثابت کیا گیا تھا کہ وہ نفخ صور کے منکر ہیں اور قرآن میں جو نفخ صور کا ذکر ہے۔ اس سے مسیح موعود مراد لیتے ہیں۔ مختار مدعاعلیہ نے جواب میں کہا ہے کہ مرزا صاحب نے نفخ صور کا انکار نہیں کیا بلکہ (بمعنی متعارف اہل اسلام) وہ نفخ صور کے قائل ہیں اور اس پر دو حوالے شہادت القرآن سے پیش کئے۔ ایک (ص۲۵، خزائن ج۶ ص۳۲۰) سے جس میں مرزا صاحب نے سورۃ زمر کی آیت: ’’ونفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوٰت ومن فی الارض الا ماشآء اللہ ‘‘ (قرآن میں من شاء اللہ ماشاء اللہ نہیں) ’’ثم نفخ فیہ اخریٰ فاذاہم قیام ینظرون‘‘ کے ماتحت نفخ صور کی دو قسمیں، نفخ اضلال ونفخ ہدایت قرار دی ہیں۔ اس جگہ مرزا صاحب نے دو باتیں لکھی ہیں۔ ایک یہ آیتیں ذوی الوجوہ ہیں۔ دوسرے یہ کہ مسیح موعود کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیاگیا ہے۔ مختار مدعاعلیہ کی یہ غرض ہے کہ مرزا صاحب نے جن آیتوں کو ذوی الوجوہ قرار دے کر دونوں عالم سے متعلق کیا ہے تو اس میں نفخ صور بمعنی متعارف کا جس سے قیامت واقع ہوگی۔ اقرار ہوگیا تو گویا نفخ صور سے ایک ہی کلام میں بیک وقت دو معنی مراد ہوئے۔ حقیقی نفخ صور اور مجازی نفخ صور یعنی مسیح موعود، لیکن یہ بات عربیت کے رو سے ممنوع ہے کہ ایک کلام کے بیک وقت حقیقی اور مجازی معنی معاً مراد لئے جائیں۔ نیز مرزا صاحب کا ذوی الوجوہ کہنا بھی ذوی الوجوہ ہے۔ اسی کتاب شہادت القرآن کے (ص۱۶ ) حاشیہ سے معلوم ہوتاہے کہ اغلباً مرزا صاحب کی یہ غرض ہے کہ ان آیتوں کا ایک حصہ تو اس عالم سے متعلق ہے جس میں نفخ صور کا ذکر ہے اور اس سے مراد مسیح موعود ہے اورا س بات کی اس سے بھی تائید ہوتی ہے کہ مرزا صاحب نے اسی جگہ کہا ہے مسیح موعود کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیاگیا ہے۔ یہاں علی العموم کلام الٰہی میں نفخ صور کو مسیح موعود کے لئے استعارہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ فلاں آیت میں استعارہ اور فلاں میں حقیقی معنی نفخ صور مزیدد برآں یہ کہ نفخ صور کی صرف دو قسمیں اسی مقام پر بیان کی ہیں۔

۱… نفخ اضلال۔ ۲… اور نفخ ہدایت۔

صور متعارف اسلامی کانام تک نہیں لیا۔ اگر مرزا صاحب اس کے قائل ہوتے تو لازم تھا کہ جب انہوں نے نفخ صور سے مراد نفخ اضلال اور نفخ ہدایت کی تفصیل کی تھی جو اس عالم سے متعلق ہے تو نفخ صور جو اس عالم سے متعلق تھا۔ اس کا بھی بیان کردیتے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ان آیتوں کے ذوی الوجوہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ان کا بعض حصہ نفخ صور وغیرہ کا تو اس عالم سے تعلق رکھتا ہے اور بعض دوسرا

325

آخرت سے۔ کیونکہ وہ کسی طور پر اس عالم پر منطبق نہیںہوسکتا۔ وہ حصہ یہ ہے: ’’ووضع الکتاب وجیٓ ء بالنّیین والشہدآء وقضی بینہم بالحق ووفیت کل نفس ماکسبت وہم لا یظلمون وسیق الذین کفروا الیٰ جہنم (زمر)‘‘چنانچہ یہی بات مرزا صاحب نے (شہادت القرآن حاشیہ ص۱۶، خزائن ج۶ ص۳۱۱) میں آیت: ’’ونفخ فی الصور فجمعنا ہم جمعاً وعرضنا جہنم یومئذ للکافرین عرضان الذین کانت اعینم فی غطآء عن ذکری وکانوا لایستطیعون سمعاً‘‘کے متعلق لکھی ہے۔ ’’ان آیات میں کسی کم تجربہ آدمی کو یہ شبہ نہ گزرا… بلکہ قیامت کو ہوگا۔‘‘

دوسرا حوالہ مرزا صاحب کو نفخ صور کا قائل ثابت کرنے کے لئے(شہادت القرآن ص۶۴، خزائن ج۶ ص۳۶۱) سے پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے: ’’کیونکہ نفخ صور جسمانی احیاء اور اماتت تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ روحانی احیاء اور اماتت بھی نفخ صور کے ذریعہ سے ہی ہوتاہے۔‘‘ مختار مدعاعلیہ نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مرزا صاحب نے جسمانی احیاء واماتت کو نفخ صور کے ذریعہ سے چونکہ مان لیا ہے۔ لہٰذا نفخ صور بمعنی متعارف اسلام کا اقرارہوگیا۔ لیکن اس میں بھی اس امر کی کوئی تصریح نہیں کی گئی کہ احیاء اور اماتت اخروی بھی نفخ صور سے ہوگی۔ احیاء واماتت جسمانی تو دنیا میں بھی ہورہاہے اور ہوتا رہے گا۔ بحث تو آخری احیاء اماتت میںہے جس کی کوئی تصریح مرزا صاحب سے نہیں منقو ل ہوئی۔ برخلاف اس کے انکار منصوص ہے۔ اسی ص پر چندسطر اس سے پہلے لکھتے ہیں: ’’نفخ صور سے مراد قیامت نہیں ہے۔‘‘ اور عبارت محولہ مختار مدعاعلیہ سے اگلی سطر میں لکھتے ہیں: ’’اور جیسا قرآن میں نسخ سے کسی مجدد کا بھیجنا مراد ہے۔‘‘ اس طرح (ص۲۵، خزائن ج۶ ص۳۲۰) میں ہے: ’’بارھویں علامت مسیح موعود کا پیدا ہونا جس کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کی گیا ہے۔‘‘ ان حوالوں سے صاف ثابت ہوتاہے کہ مرزاصاحب نفخ صور سے جو قرآن میں آیاہے۔ مسیح موعود یا مجدد ہی مراد لیتے ہیں۔ لیکن نفخ صور کے معنی متعارف کی کسی جگہ تصریح نہیں کرتے۔

مختار مدعاعلیہ نے تسلیم کیا ہے کہ: ’’ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعاً‘‘ میں مرزا صاحب نے مسیح موعود مراد لیاہے اور تسلیم کر لیا ہے کہ بلحاظ سباق وسیاق یہ قیامت کا واقعہ نہیں ہے۔ لیکن ہم نے مذکورہ بالاحوالوں سے دکھادیاہے کہ مرزا صاحب علی العموم نفخ صور سے جوقرآن میں آیاہے۔ مسیح موعود بتاتے ہیں: اس آیت میں تو وہ بھی مان گئے کہ قیامت کا نفخ صور مراد نہیں۔ وجہ یہ بیان کی کہ سباق وسیاق قیامت مراد لینے سے مانع ہے۔ مگر یہ سراسر غلط ہے، بلکہ سیاق آیت نفخ صور اخروی کو متعین کررہاہے۔ ملاحظہ ہو: ث’’ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعاً وعرضنا جہنم یومئذً للکافرین عرضان الذین کانت اعینہم فی غطآء عن ذکری وکانوا لا یستطیعون سمعاً‘‘ یعنی صور پھونکا جائے گا اورہم لوگوں کو اکٹھا کریں گے اور اس دن (یعنی قرنا پھونک کر اکٹھا کرنے کے دن) جہنم کو کافروں کے سامنے کریں گے… الخ! پس یہ نص قطعی ہے کہ اس جگہ نفخ صور سے مراد قیامت کا آناہے، نہ مسیح موعود وغیرہ۔

توہین انبیاء

  1. آنچہ داداست ہر نبی راجام

    داد آں جام را مرابتمام

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

مرزا صاحب کی تعلّی اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ ان کی نظر میں ہر انسان دنیا کا ان کو اپنے سے نیچے نظر آتاہے۔ تفاخر ذاتی کے کلمات ان سے ایسے سر زد ہوتے ہیں کہ انبیاء اولی العزم پر اپنے آپ کو برتر قرار دیتے ہیں۔ شوخی اور گستاخی اس قدر ہے کہ انبیاء کی توہین کو مستلزم ہے۔ یہ اشعار جو مختار مدعیہ کی طرف سے بیانوں اور بحث میں پیش کئے گئے۔ اگر ان کو تاویل تخصیص سے الگ کرکے خالی الذہن ہو کر یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو ایک منصف انسان یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتاہے کہ مرزا صاحب انبیاءo سے اپنے آپ کو برتر ثابت کررہے ہیں اور

326

دوسرے انبیاء کی توہین اور استخفاف ہورہاہے۔ مختار مدعیہ نے مرزا صاحب کے اس شعر کا یہ مطلب بیان کیا تھا کہ مرزا صاحب ہر ایک نبی کے جام کے حصول کے مدعی ہیں جس میں آنحضرتﷺ بھی شامل ہیں تو گویا مرزا صاحب تمام کمالات انبیاءo کے جامع ہوئے۔ اس سے تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوئی۔

مختار مدعاعلیہ کہتا ہے کہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی کو اپنی معرفت کا جام پلایا بطفیل آنحضرتﷺ مجھے بھی پلایا۔ اس میں نہ افضیلت کا ادّعاء ہے نہ دوسرے انبیاء کی توہین و استخفاف۔ اگر ان کو ادّعاء افضلیت ہوتا تو یہ کیوں کہتے کہ:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

یعنی میں عرفان میں کسی نبی سے کم نہیں، بلکہ یوں کہتے ہیں میں ان سے بہت بڑھا ہواہوں۔ نیز یہ بھی نہ کہتے کہ:

  1. وارث مصطفی شدم بیقین

    شدہ رنگین برنگ یا حسین

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اوراسی نظم میں یہ کیوں فرماتے:

  1. لیک آئینہ ام ز رب غنی

    از پئے صورت مہ مدنی

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

شعر کا مطلب شعر کے الفاظ کے عموم کو ملحوظ رکھ کر دیکھنا چاہئے۔ دوسرے شعر جو مختار مدعاعلیہ نے بیان کئے ہیں۔ وہ شعر کی شرح نہیں ہیں اور نہ کسی کو تخصیص کا کوئی حق حاصل ہے۔ لہٰذا اگر ان کو اس کی شرح بھی قرار دیا جائے تو چنداں فائدہ نہیں اصل شعر کا مفہوم کیا ہے۔

اس شعر میں الفاظ۔ آنچہ۔ ہرنبی اور جام۔ بتمام قابل غور ہیں۔ یہ سب الفاظ عموم اور استغراق پر دلالت کرتے ہیں۔ جام سے کیا مراد ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد انعامات حق سبحانہ ہیں۔ آنچہ کا لفظ عام ہے اور ہر نبی تمام انبیاء کو شامل تو معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو انعام کسی نبی کو بخشا وہ سب مجھ کو بھی بخشے، آدمm کو عرفان ونبوت کا انعام دیا، نوحm کو جو کچھ بخشا وہ بھی مجھے بخشا، ابراہیم کو مزید برآں خلت کا انعام بخشا وہ بھی مجھے دیا گیا۔ موسیٰm پر نبوت تشریعی کا اور کلیم اللہ ہونے کا انعام ملا تو وہ مجھے ملا۔ علیٰ ہذا لقیاس! تمام انبیاءo حتیٰ کہ سید الانبیاءﷺ کو نبوت تشریعی ابدی ناسخ جمیع شرائع سابقہ اورختم نبوت کا انعام بخشا گیاوہ بھی سب مجھ کو دیا گیا۔ ان کمالات اور انعامات کے ما سواء۔ مرزا صاحب کو کچھ ذاتی کمالات اور انعامات بھی عطاء کئے گئے جو سید الانبیاa کو میسر نہ ہوئے اور نہ سہی تو یہی انعام دیکھ لو جو مختار مدعاعلیہ نے (چشمہ معرفت ص۸۲،۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۰،۹۱) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتﷺ کو تکمیل اشاعت کے سامان نہ دئیے گئے اور مرزا صاحب کو وہ بھی حاصل ہوگئے تو مرزا صاحب چونکہ بقول خود جامع جمیع کمالات انبیاء معہ اپنے کمالات خاصہ کے ہیں۔ لہٰذا وہ بحکم قاعدہ الکل اعظم الجزء سے افضل برتر اور اعلیٰ ہوئے۔ یہی معنی ہیں مرزا صاحب کے اس شعر کے:

  1. زندہ شد ہر نبی بہ آمد نم

    ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

ہر رسول کا لفظ تمام رسولوں کو شامل ہے۔ سید الانبیاءﷺ بھی اس میں داخل ہیں۔ مرزا صاحب کا پیراہن اتنا وسیع ہے کہ تمام رسول اس کے اندر سما جاتے ہیں اور وہ سب کو محیط ہے۔ظاہر ہے کہ محیط محاط سے بڑا ہوتاہے اور یہی معنی ہیں۔ مرزا صاحب کے اس الہام

327

کے کہ آسمان سے بہت سے تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایاگیا جس کی مختار مدعاعلیہ یہ تاویل کرتے ہیں۔ یہ یہاں اولیاء امت کے تخت مراد ہیں لیکن مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کی اس تاویل سے سخت توہین کی ہے کیونکہ اس نے مرزا صاحب کو مقام نبوت سے گراد یا اور مقام ولایت میں ان کے لئے تخت بچھایا۔ اگر وہ نبی ہیں تو ان کاتخت مقام نبوت میں ہوگا اور سب سے اونچا اور اگر وہ نبی نہیں ہیں۔ دعویٰ نبوت باطل اور افتراء ہے تو مقام ولایت میں بھی جگہ نہیں مل سکتی۔ پھر مقام دجالین میں وہ تخت بچھایا جائے گااور سب سے اونچا۔

مختار مدعاعلیہ کے پیش کردہ اشعار میں تمام انبیاء کے ساتھ ہمسری کا دعویٰ ہے اور:

  1. لیک آئینہ ام ز رب غنی

    از پئے صورت مہ مدنی

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

میں آنحضرتﷺ سے برابری کا ادّعاء اس کی تفصیل آئندہ آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

  1. آدمم نیز احمد مختار

    دربرم جامہ ہمہ ابرار

(نزول المسیح ص۹۹،خزائن ج۱۸،ص۴۷۸)

اس شعر میں انبیاء کا اوّل وآخر بیان کرکے تمام انبیاء کے صفات وکمالات کا مجموعہ ہونے کا نعرہ لگایاگیاہے۔ جامہ ہمہ ابرار سے ظاہر کے کپڑے تو مراد نہیں ہوسکتے۔ صفات وکمالات ہی مراد ہوں گے۔ گویا مرزا صاحب تمام انبیاء کے کمالات کو بغل میں دبائے پھرتے ہیں۔ اسی طرح جس طرح سو حسینq گربیان میں:

  1. کربلا ہست سیر ہر آنم

    صد حسین است درگریبانم

الغرض یہ شعر بھی تقریباً انہیں اشعار سابقہ کی طرح ہے اور اس پر وہی کلام ہے جو ان پرتھا۔

  1. زندہ شد ہر نبی بہ آمد نم

    ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

کے جواب کی نسبت مختار مدعاعلیہ نے بیان میں گواہ نمبر۱ کا حوالہ دیا ہے۔ خلاصہ جواب جو بیان میں ہے یہ ہے کہ مرزا صاحب کے آنے سے ہر نبی اس وجہ سے زندہ ہوگیا کہ اس الحاد اور دہریت کے زمانہ میں اکثر لوگوں نے انبیاء کی نبوتوں کا انکار کردیاتھا اور انبیاء کو مکار فریبی اور دعویٰ میں جھوٹا جانتے تھے اور جولوگ انبیاء کی وحی اور نبوت کے قائل تھے۔ ان سے استہزاء اور ہنسی کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ پھر وحی کا ثبوت دیا اور بتادیا کہ جس طرح میں اس بندہ سے مکالمہ کرتاہوں اور یہ اپنے دعوی میںسچا ہے۔ اسی طرح پہلے انبیاء بھی صادق تھے۔ پس مرزا صاحب کا سچا ہونا گویا ان تمام انبیاء کا صادق ہونا ہے۔ گواہ نے کہا ہے کہ اس شعر میں مرزا صاحب نے اس لطیف مضمون کو ادا کیا۔

لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ حسب زعم مختار مدعاعلیہ مرزاصاحب کا یہ لطیف مضمون واقعہ کے مطابق ہے یا مخالف و برعکس۔ کیا مرزا صاحب کی نبوت کے دلائل ونشانات ایسے ہیں جن سے نبوت کا وقار جو کھویا جاچکاتھا از سر نو قائم ہو جائے۔ کیا منکرین نبوت انبیاء اور مستہزئین مرزا صاحب کے معجزات کو دیکھ کر مرعوب ہوگئے؟ کیا دہریت الحاد اور لامذہبی دنیا میں سے اٹھ گئی ہے؟ کیامرزا صاحب کی نبوت کی روشنی نے منکرین کی آنکھوں کو خیر ہ کردیا ہے؟ اگر جواب نفی میںہے اور یقینا نفی میں ہے اور معاملہ بالکل برعکس ہے اور تمام مفاسد مذکورہ آگے بہت بڑھ گئے ہیں۔ الحاد دہریت اور لامذہبی کی وباء عام پھیل گئی جو یورپ سے بڑھ کر ہندوستان میں مذہب پر حملہ آور ہورہی

328

ہے۔ اسی طرح دیگر ممالک میں دن بد ن لامذہبی کا مرض پھیل رہاہے۔ روس نے قانونی طورپر مذہب کو ملک بدرکردیاہے۔ لا مذہبیت اور بہیمیت ملکی قانون ہوگیا ہے تو ان واقعات کی موجودگی میں یہ کتنی فضول اور بیہودہ لاف زنی ہے کہ مرزا صاحب کے آنے سے تمام انبیا کی صداقت کے دلائل پیدا ہوگئے بلکہ حق یہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے کئی ایسے دلوں سے بھی احترام نبوت اٹھ گیا ہے جو نبوت کو ایک جلیل القدر منصب خدا وندی جانتے تھے اور اکثر غیر مسلم بھی ایسے تھے جن کے دل پر اسلام کا اور نبوت آنحضرت کا رعب تقدس اور وقار تھا۔ لیکن مرزا صاحب نے آکر وہ سب دور کردیا مرزا صاحب نے اعجاز معجزات کے بلند بانگ دعاوی کئے۔ ہندوؤں، عیسائیوں کو اور مسلمانوں کو مخاطب کرکے بڑی تحدی سے پیش گوئیاں کیں۔ کیونکہ لے دے کر یہی آپ کے پاس سرمایہ اعجاز تھا۔ لیکن وہ جھوٹی نکلیں تو مرزا صاحب لایعنی تاویلوں اور عذرات لنگ سے ان کی مرمت کرنی چاہی، لیکن ہندو مسلمان عیسائی سب نے مرزا صاحب کو ان معجزات میں جھوٹا جانا۔ یہاں تک کہ مرزاصاحب کی بدولت آریوں اور عیسائیوں نے اسلام کا مضحکہ اڑایا۔ مسٹر عبد اللہ آتھم کی پیش گوئی اس کی زندہ مثال ہے۔ محمدی بیگم کی پیش گوئی مرزا صاحب کے معجزات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کا اور مرزا صاحب کا الہام جنگ اور مرزا صاحب کی ہلاکت کی نبوت کی عظمت کو قائم کرنے والا ہے۔ اگر مرزا صاحب نبی تسلیم کر لئے جائیں، نہیں ہرگز نہیں۔ پس اگر مرزا صاحب ہی انبیاء کے محیی اور ممیت ہیں تو پھر موت ہی متیقن ہے۔ نہ حیات اس صورت میں مرزا صاحب کے لیے یہ کہنا ہی موزوں ہوگا۔ مردہ شد ہر نبی بآمدنم!(العیاذ ب اللہ )

یہ تاویل اور مضمون لطیف سراسر باطل ہے اور اصل بات وہی ہے جواوپر بیان کرچکے کہ مرزا صاحب نے اس شعر اور اس کے ہم مثل اور اشعار میں انبیاء سے افضل اور برتر ہونے کا دعویٰ اور انبیاء کی تحقیر اور توہین کی ہے۔

  1. روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک

    میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۳، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

مختار مدعاعلیہ نے اس شعر کا یہ مطلب بیان کیا کہ مرزا صاحب کی مراد اس سے صرف یہ ہے کہ وہ شخص جس کا آخری زمانہ میں آنا مقدر تھا اور جس کی آمد پر تکمیل اشاعت اسلام موقوف تھی، وہ میں ہوں اور میرے آنے سے وہ بات پوری ہوگئی۔ یہ بھی کہا ہے کہ روضہ آدم سے مراد نسل انسانی ہے اور مرزا صاحب اور آپ کی جماعت کے ذریعہ سے دنیا کی تمام قومیں دین اسلام کو قبول کرلیں گی۔ اس شعر کا یہ مطلب جو بیان کیا گیا ہے، شعرکے الفاظ سے تو سمجھا نہیں جاتا۔ کیونکہ نہ اس میں اسلام کا نام نہ اشاعت وتکمیل کا ذکر۔ روضہ آدم سے نسل انسانی مراد ہے جس کو مختار مدعاعلیہ نے تسلیم کیا۔ افراد انسانی اس باغ کے درخت مرزا صاحب بھی اس باغ کے درخت اور زید، عمر، بکر، مسلم، غیر مسلم، سعید، شقی بھی مرزا صاحب کی طرح اس باغ کے درخت جو اپنے اپنے وقت پر اس باغ میں پیدا ہورہے ہیں۔ مرزا صاحب کے وقت بھی، پہلے بھی اور بعد بھی۔

پہلے مصرعہ کے معنی توصاف ہیں ہر ایک فرد انسانی نسل انسانی کے باغ میں اضافہ کرکے تکمیل کررہاہے۔ لیکن دوسرے مصرعہ کا مطلب صاف نہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ مرزا صاحب کے آنے سے وہ باغ بجملہ برگ وبار مکمل ہوگیا۔ کیا اب کوئی انسان پیدا نہ ہوگا اور نسل انسانی منقطع ہوگئی اور آپ آخری انسان ہیں۔ یہ بات تو بداہۃً باطل ہے۔ لہٰذا اس کی تخصیص ضروری ٹھہری تاکہ مطلب شعر کا بن سکے۔ اس سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ مرزا صاحب باغ انسانی کی خاص قسم کے مکمل اور آخری درخت ہیں جو اشرف اور اعلیٰ قسم ہے اور چونکہ مرزا صاحب مدعی نبوت ہیں۔ لہٰذا وہ قسم بھی معین ہوگئی۔ اب اس شعر کے وہ معنی ہوئے جو صحیح حدیث میں قصر نبوت کی مثال میں

329

آنحضرتﷺ نے بیان فرمایاہے کہ میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں۔ ’’ختمت بی البنیان وختم بی النّبیون‘‘ میرے ساتھ عمارت ختم ہوگئی اور نبی میرے ساتھ ختم ہوگئے۔ لیکن مرزا صاحب کے نزدیک یہ حدیث غلط۔ کیونکہ مرزا صاحب کے ادّعاء کے مطابق باغ نبوت کے آخری درخت اور مکمل مرزا صاحب ہیں نہ آنحضرتﷺ۔ یہ بھی ظاہرہے کہ افضلیت اس آخریت کے لوازم میں سے ہے جو آخر ہوگا وہ افضل بھی ضرور ہوگا۔ اس طرح پر مرزا صاحب بزعم خود افضل النّبیین اور خاتم النّبیین بنے۔(العیاذب اللہ )

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

مدعاعلیہ کے مختار صاحب کہتے ہیں کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنا مقام بیان کیا ہے کہ میں بروزی طور مسیح، موسیٰ اور محمدواحمد ہوں، کسی نبی کی توہین نہیں ہے۔ اس کا جواب ان شاء اللہ آئندہ آئے گا۔ آدمم نیز احمدمختار الخ کا جواب بھی اوپر ہوچکا ہے۔ نیز میں کبھی آدم کبھی موسیٰ الخ کا جواب بھی ضمناً آگیا۔

ادّعاء عینیت

مختار مدعاعلیہ نے کہا ہے کہ گواہان مدعیہ نے مرزا صاحب پر یہ الزام لگایا تھا کہ مرزا صاحب نے عین محمد ہونے کا دعویٰ کرکے آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے اور گواہان مدعاعلیہ نے جواب دیا تھا کہ مرزا صاحب نے جسمانی طور سے محمدہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ بلحاظ روحانیت کے مرزا صاحب کا وجود آنحضرتﷺ کے وجود سے علیحدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ عبارت ایک (ایک غلطی کا ازالہ) سے ظاہرہے۔

پھر کہا ہے کہ مختار مدعیہ کو وہ اعتراض جو اس نے اتحاد کی بناء پر کیا ہے (کہ اگر ایک روح تھی تو تناسخ لازم آیا، ورنہ نہیںتو مرزا صاحب کی روح اگر نبی تھی تو ختم نبوت ٹوٹ گئی۔ اگرآنحضرتﷺ کی روح نبی تھی مرزا صاحب کی نبوت ثابت نہ ہوئی) ہمارے جواب پر وارد نہیں ہوسکتا۔ اس لئے میں گواہان مدعاعلیہ کے جواب کی طرف اشارہ کردینے پر اکتفاء کرتاہوں۔

اتحاد روحانیت کے دعویٰ پر جو اعتراض مختار مدعیہ کی طرف سے کیا گیا ہے وہ اٹل ہے اور لاجواب۔ گواہان مدعاعلیہ کا بیان اس کا جواب نہیں ہوسکتا اور نہ ہی جواب البحث میں کوئی جواب مختار مدعاعلیہ نے دیا ہے۔ بلکہ بیان کا حوالہ دے کر پہلو تہی کی ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے کہا ہے کہ مرزا صاحب نے(۱) عین محمد کے الفاظ اپنے لئے نہیں فرمائے۔ (۲) صرف یہ کہا ہے کہ مجھے بروزی طور پر محمداور احمد کا نام دیا گیا۔ میرے اور آنحضرتﷺ کے درمیان استاد وشاگرد کی نسبت ہے اور ظل اور اصل کی۔

پھر (تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳) کی عبارت کا حوالہ دیا ہے جو گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے بیان مطبوعہ میں بھی ہے۔

’’آنحضرتﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام اور احمد اس کو عطاء کیا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہٖ آنحضرتﷺ کا ظہورتھا۔‘‘

اس کے بعد کہا ہے (جواب البحث میں) پس حضرت مسیح موعود نے حقیقی طور پر محمدa ہونے کا جو آج سے چودہ سو بر س قبل تشریف لائے تھے ہر گز دعویٰ نہیں کیا۔

اس پر وہی اعترض وارد ہوتاہے کہ اگر مرزا صاحب وہ حقیقی محمد نہیں جو آج سے بقول مختار مدعاعلیہ چودہ سو برس قبل تشریف لائے تھے اور وہ محض بروزی اور نام نہاد محمد واحمد تھے جو جس غرض کے لئے یہ ہیرا پھیر اور دعاوی بے دلیل کئے تھے وہ باطل ہوگئے۔ کیونکہ مرزا صاحب کا الگ وجود ہوا اور ختم نبوت ٹوٹ گئی۔ کیونکہ یہ مہر توٹوٹنے سے اسی صورت میں محفوظ رہ سکتی ہے کہ کوئی غیر نبی نہ ہو اور محمد کی نبوت محمد کے پاس ہی رہےa اور یہ اسی صورت میں ممکن اور متصور ہے کہ مرزا صاحب اور آنحضرتﷺ میں عینیت اور اتحاد ہو اور دوئی کاشائبہ

330

نہ رہ جائے تو بہرحال یا مہر ٹوٹ جائے گی یا عینیت محض ہوگی یا مرزا صاحب نبی نہ ہوں گے اور یہ تینوں باتیں ناممکن اور مختار مدعاعلیہ کے نزدیک محال ہیں۔ دو تو اس کے مذہب کے نزدیک محال، تیسری عینیت کا اس کو انکار۔

لیکن اب ہم یہ ظاہر کرتے ہیںکہ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے مذہب کو بیان کرنے میں دیانت کو ملحوظ نہیں رکھامعلوم ہوتاہے کہ مرزا صاحب کے ادّعاء عینیت سے جو توہین وکفر اوراستحالہ لازم ہوتاہے۔ اس کے خطرات کو وہ برداشت نہیں کرسکتا اور ان کے جواب سے سبکدوش ہونا درحقیقت ناممکن ہے اور بغیر اثبات عینیت دونوں چیزیں، یعنی مرزا صاحب کی نبوت اور حفاظت مہر نبوت ممکن نہیں۔ اسی لئے مرزا صاحب نے اثبات عینیت کے لئے (جو درحقیقت بداہت عقلی اور شرعی سے باطل ہے) بڑے بڑے فضول ادّعاء کئے ہیں اور کفر پر کفر کا ارتکاب کرتے چلے گئے ہیں جن کو مختار مدعاعلیہ نے بھی انکار کرکے ملیامیٹ کردیاہے۔

مرزا صاحب کی تصریحات عینیت

۱… کیونکہ میں بارہا بتلاچکاہوں کہ میں بموجب آیت: ’’واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں(تا) مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیاہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

۲… ’’اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد…ہوں کیونکہ (۳) محمدa کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی محمدa ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرتﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات نبوت میرے آئینہ ظلیّت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(بحوالہ صدر)

۳… ’’لیکن آنحضرتﷺ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کے نام کا وارث، اس کے خلق کا وارث، اس کے علم کا وارث، اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائے گا۔‘‘

(بحوالہ صدر)

۴… ’’کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہوسکتی۔ جب تک یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنی اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔‘‘

(بحوالہ صدر)

۵… ’’تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنی اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ نام بھی ایک ہوجاتاہے۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے، دو محمد اور دو احمد نہیںہوگئے۔ اسی طرح بروزی طور نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النّبیین کی مہر ٹوٹ گئی۔ کیونکہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں۔ اس طرح پر تو محمد کے نام کی نبوت محمدa تک ہی محدود رہی۔ تمام انبیاءo کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی۔‘‘

(بحوالہ صدر)

۶… ’’غرض خاتم النّبیین کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرتﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزا ر دفعہ بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کابھی اظہار کریں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۴)

۷… ’’اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرتﷺ کا وجود ہے… اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا، وہ میں ہوں… ایک بروزی محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا، سو وہ ظاہرہوگیا۔‘‘

(بحوالہ صدر)

۸… مورد بروز حکم نفی وجود کا رکھتا ہے۔

331

۹… ’’اب اس تمام تحریرسے مطلب یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں۔ یہ شخص نبی یارسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں۔ میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں۔ نہ نبی ہوں نہ رسول۔ ہاں! میں اس طور سے نبی اور رسول ہوں جس طور سے ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتاہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں۔ وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے باربار میرانام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں۔ بلکہ محمدمصطفیﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرانام محمد اور احمدہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس رہی۔ (k)‘‘

(بحوالہ صدر)

یہ اقتباسات بالا صرف ایک غلطی کے ازالہ کے ہیں۔ اب دو ایک اقتباس خطبہ الہامیہ کے ملاحظہ ہوں۔

۱… ’’وانزل علی فیض ہذا الرسول فاتمہ واکملہ وجذب الی لطفہ وجودہ حتی صار وجودی وجودہ… ومن فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رایٰ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم کا فیض مجھ پر نازل فرمایا۔ پس اس کو پوررا پورا اور کامل بنایا اور میری طرف اس نبی کریم کے لطف اور وجود کو یہاں تک کھینچا کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا۔ پس جو میری جماعت میں داخل ہوتاہے وہ سیدی خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوگیا۔ پس جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتاہے۔ اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچاناہے۔ (سطر اخیر سوا لفظ پس کے مرزا صاحب کاا پنا ترجمہ ہے۔ مرزا صاحب نے پس کی جگہ اور لکھا ہے۔ لہٰذا وہی سمجھا جائے)

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸، ۲۵۹)

اقتباسات مذکورہ بالا سے واضح ہے کہ مرزا صاحب اپنے وجود کو محمدمصطفیﷺ کا وجود قرار دیتے ہیں۔ غلام احمد جو مورد بروز ہے وہ حکم نفی میں اور معدوم ہے۔ ’’میرانفس درمیان نہیں، بلکہ محمدمصطفیﷺ ہے۔‘‘ غلام احمد بحیثیت غلام احمد نہ رسول ہے نہ نبی لیکن غلام احمد چونکہ محمدمصطفی، خاتم الانبیا اور جامع جمیع کمالات محمدیہ معہ نام اور روحانیت اور منصب نبوت کے ہے۔ اس حیثیت سے وہ نبی اللہ اور رسول اللہ ہے۔ لہٰذا محمد کی نبوت محمد کے پاس ہی رہی نہ کسی اور کے پاس۔ اگر محمد قدنی محمد مدنی نہ ہوتا کوئی اور الگ انسان ہوتا تو مہر خاتم النّبیین کی ٹوٹ جاتی جس کا ٹوٹنا ناممکن ہے۔ ملاحظہ ہو (اقتباس نمبر۶) لیکن یہاںتو یہ معاملہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے خود آکر اپنی نبوت اور جملہ کمالات کا اظہار کیا ہے۔ لہٰذا مہر خاتم النّبیین بھی محفوظ رہی اور محمد قدنی نبی بھی ہوگئے۔ کیونکہ وہ محمد مدنی ہی ہیں نہ کوئی اور الگ انسان۔ نعوذ ب اللہ من ذالک سبحانہ ہذا بہتان عظیم!

میں نے کسی قدر ترجمانی مرز صاحب کے خیال کی کردی۔ا گربوجہ عدم گنجائش وقت پوری نہیں کرسکا۔ لیکن اس سے ظاہر ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ نے کس قدر اخفاء سے کام لیا اور یہ کہہ دیا کہ مرزا صاحب نے تصریح کردی ہے کہ مجھے بروزی طور پر محمد واحمد کا نام دیا گیا ہے اور مرزا صاحب کی اور آنحضرتﷺ کی نسبت استادی وشاگردی کی ہے۔ لیکن اقتباسات بالاسے ظاہر ہوگیا کہ یہ سراسر خیانت اور کتمان واقعہ ہے۔

مرزا صاحب کی سیرت وسوانح عمری دنیا کے سامنے ہے۔ آپ کے افعال معاملات معتقدات معجزات آپ کی کتابوں سے عیاں آنجناب نے کنجروں کا مال لے کر کھایا اور اس کو حلال بتایا ملاحظہ ہو۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۰،۶۰۱، خزائن ج۵ ص۶۰۰،۶۰۱)

ان جملہ امور کے باوجود آپ محمدمصطفی ہیں اور آپ کے خلق روحانیت تام اور تمام کمالات کے جامع۔ ’’فالی اللہ المشتکی اگر کوئی سیاہ فام بد صورت کریہہ المنظر حبشی یہ کہے کہ میں حسن یوسفی رکھتاہوں اور میں اور یوسفm حسن میں برابر ہیں تو تب بھی اتنی توہین

332

بلحاظ حسن یوسفm کی نہیں ہوسکتی۔ جتنی اس حسن مجسمa کی قادیان سے کی گئی ہے۔ خیر اب ہم صبر کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ کر گزارش کرتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان کو یہ معاملہ بغور دیکھنا چاہئے۔

  1. وما انتاع اخی الدینا بناظرہ

    اذا ستوت عندہ الا نوار والظلم

یعنی کسی انسان کو نور اور اندھیرے جب یکساں نظر آئیں تو اس کو آنکھ سے کیا فائدہ۔

یہاں تک تو مرزا صاحب کی آنحضرتﷺ سے ہمسری اور عینیت کی بحث تھی۔ ابھی مرزا صاحب کے ارتقاء کی دو منزلیں باقی ہیں جو اس مضمون ’’سیدا لانبیاء اور مرزا صاحب‘‘ کے متعلق ہیں۔ لیکن قبل اس کے کہ میں ان کو ذکر میں لاؤں۔ ایک ضروری نتیجہ ان اقتباسات کا بیان کرتاہوں جس کو اس مقدمہ سے بنیادی تعلق ہے۔ یعنی مسئلہ ختم نبوت اور آیت خاتم النّبیین کی تفسیر مرزا صاحب نے ان اقتباسات میں جو ’’ایک غلطی کے ازالہ‘‘ سے پیش کئے ہیں۔ متعدد جگہ یہ تسلیم کیا ہے کہ محمدa کی نبوت محمدa کے پاس ہی رہی، کوئی الگ انسان دعویٰ نبوت کرے تو مہر ٹوٹ جاتی۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج ۱۸ ص۲۱۴) اقتباس نمبر۶ میں زیادہ واضح ہے کہ آنحضرتﷺ کی نبوت پر خاتم النّبیین کی مہر لگ چکی ہے۔ اس کا ٹوٹنا ناممکن ہے۔ نہ ٹوٹنے کی صرف یہ صورت ہے کہ خود آنحضرتﷺ بروزی طور پر تشریف لاکر اپنی نبوت کا اظہار کریں۔ ان اقتباسات کے ما سواء اس اشتہار ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں اور بھی کئی جگہ یہ مضمون ہے کہ خاتم النّبیین کی مہر ٹونٹی محال ہے۔ جس سے واضح اور صریح طور یہ ثابت ہوگیا کہ لفظ خاتم النّبیین کے معنی مرزا صاحب کے نزدیک یہی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس سے ختم نبوت اور اجراء نبوت کی بحث کا تو فیصلہ ہوگیا۔ف اللہ الحمد!

باقی رہی یہ بات کہ اگر آنحضرتﷺ بروزی طور پر خود تشریف لا کر اپنی نبوت کا اظہارفرماویں۔ جیسا کہ بزعم مرزا صاحب قادیان میں تشریف لا کر آپ نے اپنی نبوت کااظہار فرمایاہے تو مہر نہیں ٹوٹتی۔ یہ ایک الگ بحث ہے جس کے مرزا صاحب مدعی ہیں اور ہمیں اس کا اسی طرح انکار ہے۔ جیسا کہ مسئلہ تثلیث نصاریٰ اور تناسخ ہنود کا یہ مسئلہ عقلاً وشرعاً باطل ہے اور تثلیث کے گورکھ دھندے سے کسی طرح کم نہیں۔ ہماری طرف سے اس کا یہی جواب ہے۔ ’’ماتعبدون من دونہ الااسمآئً سمیتموہآ انتم واٰبآؤکم مآ انزل اللہ بہا من سلطٰن ان الحکم الا ﷲ امرالا تعبدون الا ایاہ ذالک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون (یوسف:۴۰)‘‘

جائے عبرت ہے کہ ایک وہ وقت تھا کہ مرزا صاحب کہتے تھے کہ آنحضرت کا بلحاظ فطرت۔ جیسا کہ ارفع مقام ہے۔ ایسا ہی خارجی طور پر بھی ارفع واعلیٰ مرتبہ وحی اور اعلیٰ وارفع مقام محبت کا آپ کو عطاء ہوا۔ یہ وہ مقام ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کانام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ ہے۔

(ملاحظہ ہو توضیح المرام ص۷۲،۷۳، خزائن ج۳ ص۸۸،۹۸،ایڈیشن دوم )

تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے (الی) وحدت تامہ ہے۔ لیکن اب آپ محمد مصطفی اور جامع جمیع کمالات محمدیہ مع نبوت ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ لیکن ابھی بس نہیں ہے۔ آنحضرتﷺ کی روحانیت سے اپنی روحانیت کو اکمل اور برتر ثابت کررہے ہیں۔(العیاذ ب اللہ )

تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء اور محمدمصطفی ہونے کا تو اوپر مذکور ہوچکا ہے۔ خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں کہ: ’’آنحضرتﷺ دو دفعہ مبعوث ہوئے ہیں۔ ایک دفعہ الف خامس یعنی پانچویں ہزار میں۔ دوسری دفعہ الف سادس کے اخیر میں۔ یعنی چھٹے ہزار مسیح موعود یعنی مرزا صاحب کے وجود میں۔ لیکن پانچویں ہزار میں آپ کی روحانیت کامل نہ تھی۔ بلکہ کمالات کی سیڑھیوں پر پہلا قدم تھا۔ پھر جب آپ چھٹے ہزار میں مسیح موعود بن کرآئے تو آپ کی روحانی قوتیں کمال کو پہنچ گئیں۔ جیسے چودہویں رات کا چاند ہوتاہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۷، خزائن ج۱۶ ص۲۶۶)

333
’’فکذٰلک طلعت روحانیۃ نبیناa فی الالف الخامس باجمال صفاتہا وماکان ذالک الزمان منتہی ترقیاتہا بل کانت قدما اولیٰ المعارج کمالاتہا ثم کملت وتجلت تلک الروحانیۃ فی آخر الالف السادس اعنی فی ہذالحین‘‘ (ص۱۸۰) ’’واعلم ان نبیناa کما بعث فی الالف الخامس کذالک بعث فی آخر الالف السادس باتخاذہ بروز المسیح الموعود وذالک ثابت بنص القرآن فلا سبیل الی الحجود‘‘ (ص۱۸۱، خزائن ج۱۶ ص۲۷۱) ’’ومن انکر من ان ابعث النبیﷺ یتعلق بالالف السادس کتحلفہ بالالف الخامس فقد انکر الحق ونص القرآن وصار من الظالمین بل الحق ان روحانیتہ کان فی آخر الالف السادس اعنی فی ہذہ الایام اشد واقویٰ واکمل من تلک الاعوام بل کالبدر التام‘‘

مرزا صاحب کے (خطبہ الہامیہ) کی یہ عبارتیں بالکل واضح اور صاف ہیں کہ آنحضرتﷺ کی روحانی قوتیں جب آپ پانچویں ہزار میں مکہ کے اندر مبعوث ہوئے۔ اجمالی اور ابتدائی تھیں، کامل نہ تھیں۔ بلکہ وہ کمالات کی سیڑھیوں پر پہلا قدم تھا۔ گویا اس وقت آپ کی روحانیت ہلال یعنی پہلی رات کے چاند کی مانند تھی۔ لیکن جب آنحضرتﷺ چھٹے ہزار کے اخیر میں مسیح موعود یعنی مرزا صاحب کے وجود میں قادیان کے اندر مبعوث ہوئے تو آپ کی روحانیت نہایت زبردست، بہت قوی اور اعلیٰ درجہ کے کمال پر پہنچ گئی۔ جیسے چودھویں رات کا چاند ہوتاہے جو اس کا انکار کرے وہ نص قرآن کا منکر ہے جس کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ محمد مکی مدنیa میں اوربزعم مرزا صاحب محمدقادیانی میں جس کو اہل دنیا مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں۔ ہلال اور بدر کی نسبت ہے۔ آنحضرتﷺ ہلال ہیں اور مرزا غلام احمد بدر یعنی چودہویں رات کا چاند۔تعالی اللہ عن ذلک علوا کبیرا!

اس مضمون کو مرزا صاحب کے ایک مشہور حواری نے جس کا نام قاضی اکمل ہے۔ اپنی ایک رباعی میں اس طرح پر نظم کردیاہے:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(البدر مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر۱۹۰۶ء ص۱۴)

مرزاصاحب کا آنحضرتﷺ اور قرآن پر ناپاک حملہ

یہاں تک تو مرزا صاحب کی ان شوخیوں کا ذکر تھا جو مرزا صاحب نے آنحضرتﷺ کے ساتھ ہمسری اور عینیت پھر بعد ازاں اپنی برتری اور افضلیت کے دعویٰ کرکے کی تھیں اور سید المرسلینa کی ذات گرامی کی نسبت یہ گستاخی کی تھی کہ معاذ اللہ آپ کی روحانیت کامل نہ تھی اور آیۃ کریمہ: ’’وانک لعلیٰ خلق عظیم (القلم:۴)‘‘ اور اسی قسم کی دوسری آیات قرآنیہ کی تکذیب کی تھی۔ لیکن بحکم آیۃ کریمہ: ’’ثم کان عاقبۃ الذین اسآء واالسوآی ان کذبوا باٰیات اللہ (الروم:۱۰)‘‘ یعنی پھر ان لوگوں کا انجام جنہوں نے (ایسی برائیاں کی تھیں یہ ہوا کہ انہوں نے آیات الٰہیہ کی تکذیب کی) ان گستاخیوں اور شوخیوں نے مرزا صاحب کو تکذیب آنحضرتﷺ اور قرآن تک پہنچا دیا جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا صاحب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ اصول موضوعہ میں سے مانتے ہیںکہ اکمل اور اصفی وحی پانے والوں پر جب خدا (حاشیہ:۱) کا کلام فصیح ولذیذ نازل ہوتاہے تو اس کے ساتھ ایک نور ہوتاہے جو بتلاتاہے کہ یہ یقینی امر ہے۔ ظنی نہیں ہے اور ایک ربانی چمک اس کے اندر ہوتی ہے اور کدورتوں سے پاک ہوتاہے۔

(حقیقت الوحی باب سوم ص۱۵، خزائن ج۲۲ ص۱۷، حاشیہ:۱، وحی الٰہی کی شناخت)

334

من جملہ ان علامات کے یہ بھی ہے (الی) کدورتوں سے پاک ہوتاہے۔

اس سے زیادہ صاف اس مسئلہ کو جو وحی الٰہی کا بنیادی اصول اور امتیازی نشان ومعیار ہے، کیا بیان کیا جائے۔

۲… مرزا صاحب نے اپنی کتاب (نزول المسیح )میں بکرات بیان کیا ہے۔ (نزول المسیح ص۸۶، خزائن ج۱۸ ص۴۶۴) پر لکھتے ہیں: ’’کیونکہ خدا کا کلام جس قوت اور برکت اور روشنی اور تاثیر اور لذت اور خدائی طاقت اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ دل پر نازل ہوتاہے۔ خود یقین دلادیتاہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں… الی… اس لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ ایسی وحی کے مورد کے دل میں شبہ پیدا ہوسکے۔ بلکہ وہ شبہ کو کفر سمجھتاہے اور اگر اس کوکوئی اور معجزہ نہ دیا جائے تو وہ اس وحی کو جو ان صفات پر مشتمل ہو بجائے خود معجزہ قرار دیتاہے۔‘‘

۳… خاص اپنی وحی کی شان میں مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (نزول المسیح ص۸۸، خزائن ج۱۸ ص۴۶۶) ’’اس سے زیادہ کوئی بد ذاتی نہیں ہوگی کہ میں یہ کہوں کہ وہ خدا کا کلام نہیں، میں اسی طرح اس کو خدا کا کلام جانتاہوں جس طرح میں یقین رکھتاہوں کہ زبان سے بولتاہوں اور کانوں سے سنتاہوں۔‘‘

۴… (ص۸۹، خزائن ج۱۸ ص۴۶۷) پر فرماتے ہیں ’’مگر ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ جس دل پر درحقیقت آفتاب وحی الٰہی تجلی فرماتاہے۔ اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہر گز نہیں رہتی۔ کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔‘‘

۵… (ص۱۱۴،۱۱۵، خزائن ج۱۸ ص۴۹۲،۴۹۳) پر فرماتے ہیں: ’’اگر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ پھر رحمانی الہام کی نشانی کیا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ اس کی کئی نشانیاں میں (۱) اوّل یہ کہ الٰہی طاقت اور برکت اس کے ساتھ ایسی ہوتی ہے کہ اگرچہ اس کے ساتھ دلائل ظاہر نہ ہوں، بڑے زور اورجوش سے بتلاتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوںاور ملہم کے دل کو ایسا اپنا مسخر بنا لیتی ہے کہ اگر اس کو آگ میں کھڑا کردیا جائے یا ایک بجلی اس پر پڑنے لگے وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ الہام شیطانی ہے یا حدیث النفس ہے یا شکی ہے یا ظنی ہے، بلکہ ہر دم اس کی روح بولتی ہے کہ یہ یقینی ہے اور خدا کاکلام ہے۔‘‘

یہ تو ہیں وحی الٰہی اور مورد وحی الٰہی کی شناخت کا طریقہ اور اس کی علامتیں کہ وہ مورد وحی کے نزدیک بوجہ اس نور اور قوت اور جوش اور الٰہی برکت اور روشنی اور تأثیر اور لذت اورخدائی قوت وغیرہ موت کے جو خدا کے کلام اور وحی کے ساتھ اترتے ہیں۔ اس کا کلام خدا اور وحی الٰہی ہونا ایسا بدیہی ہوتاہے۔ جیسا ہمارے نزدیک یہ بات بدیہی ہے کہ ہم کانوں سے سنتے، آنکھ سے دیکھتے اور زبان سے بولتے ہیں۔ صاحب وحی کے نزدیک اس میں شک کرنا کفرہے۔ اس کی روح ہر دم بولتی ہے۔ یہ خدا کا کلام یقینی بغیر کسی شک وشبہ کے ہے۔ اگر اس کو آگ میں کھڑا کیا جائے یا اس پر بجلی بھی گرنے لگے تو بھی وہ ا س کو ظنی یا شکی حدیث النفس یا الہام شیطانی نہیں کہہ سکتا۔

اگرچہ الہا م شیطانی اورحدیث النفس کی شناخت کا طریقہ اس مذکورہ بالا کلام مرزا صاحب سے خود بخود سمجھا جاتاہے کہ یہاں یہ علامات موجود نہ ہوں اور ملہم اور مورد وحی کو شبہ یاشک یاتردداس کلام کی نسبت پیدا ہوگیا ہو تو وہ وحی شیطانی ہوگی۔ لیکن اس استنباط کی بجائے مرزا صاحب کی تصریح ان کی عبارت میں پیش کردینا زیادہ موزوں ہے۔

(شیطانی الہام) اسی آخری حوالہ منقولہ کے (نزول المسیح ص۱۱۴، خزائن ج۱۸ ص۴۹۲) کے اوپر متصل لکھتے ہیں: ’’اس جگہ یہ نکتہ خوب توجہ سے یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جو الہامات ایسے کمزور اور ضعیف الاثر ہوں جو ملہم پر مشتبہ رہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے وہ درحقیقت شیطان کی طرف سے ہی ہوتے ہیں اور گمراہ ہے وہ شخص جو ان پر بھروسا کرتا ہے اور بدبخت ہے وہ شخص جو اس خطرناک ابتلاء میں ماخوذ ہے۔ کیونکہ شیطان اس سے بازی کرتاہے اور چاہتاہے کہ اس کو ہلاک کرے۔‘‘

335

۲… پھر (نزول المسیح ص۸۶، خزائن ج۱۸ ص۴۶۴) تحریر فرماتے ہیں: ’’اگر ایک کلام انسان سے یعنی ایک آواز اس کے دل پر پہنچے اوراس کی زبان پر جاری ہو اور اس کو شبہ باقی رہ جائے کہ شاید یہ شیطانی آواز ہے یا حدیث النفس ہے تو درحقیقت وہ شیطانی آواز ہوگی یا حدیث النفس ہوگی۔ کیونکہ (الی) بجائے خود ایک معجزہ قرار دیتاہے۔‘‘

مرزا صاحب ان منقولہ بالا عبارتوںمیں الہام شیطانی اور وحی الٰہی میں جو امتیاز قائم کیا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔ بالکل صاف اور واضح ہے لیکن باوجود ان اصول موضوعہ اور مسلمہ کے مرزا صاحب نے آنحضرتﷺ سید المرسلین کی شان عالی میں جو گستاخی کی ہے۔ اس کو بحالت مجبوری بادل ناخواستہ سو مرتبہ العیاذب اللہ ! کہتے ہوئے پیش کرتاہوں۔ نقل کفر کفر نباشد! چنانچہ مرزا صاحب (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۰، خزائن ج۲۲ ص۵۷۸) پر لکھتے ہیں: ’’آنحضرتﷺ کو دیکھا کہ جب آپ فر شتہ جبرئیل ظاہر ہوا تو آپ نے فی الفور یقین نہ کیا بلکہ حضرت خدیجہ کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ: ’’خشیت علی نفسی‘‘ یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت اندیشہ بڑا اندیشہ ہواہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو۔‘‘

جس واقعہ کی طرف مرزا صاحب نے اشارہ کیا ہے، اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس میں سورۂ اقراء کی یہ پانچ آیتیں نازل ہوئیں۔ ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقرأ وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم‘‘ یہ سب سے پہلا حصہ قرآن ہے جونازل ہوا۔ (علی الصحیح) اب مرزا صاحب کی اس تحریر کے رو سے سید المرسلینa کو اور قرآن کریم کی ان پہلی پانچ آیتوں کو مرزا صاحب کے مسلمہ مذکورہ بالا معیار کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو نتیجہ صاف ہے اور ناگفتہ بہ مرزا صاحب نے معاذ اللہ ! آنحضرتﷺ کو مورد الہام شیطانی اور قرآن کریم کو الہام شیطان قرار دیا۔ اس کے بعد تمام قرآن کریم کا یہی حکم ہوگا اور یہ بالکل ظاہرہے کہ جب صاحب قرآن ہی معاذ اللہ ! مورد وحی شیطانی ٹھہرا تو قرآن کی نہ صرف یہ پانچ پہلی آیتیں بلکہ کل کا کل الہام شیطانی ہے۔ اب ایک اور بات قابل غور ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب مرزا صاحب نے نہایت صفائی اور پوری تفصیل کے ساتھ وحی الٰہی اور شیطانی وحی میں مابہ الامتیاز بیان کردئیے تھے تو آنحضرتﷺ کی نسبت کیوں ایسی عبارت تحریر کی جس کا صاف اور کھلا کھلا نتیجہ یہ ہے کہ معاذ اللہ ! جس سے آنحضرتﷺ اور قرآن کریم کی قطعی طور پر تکذیب ہوتی ہے۔ شاید واقعات کی مجبوری ہوتو اس کا جواب یہی ہے جس کی طرف ہم اس مضمون کے ابتداء میں اشارہ کرآئے ہیں کہ مرزا صاحب کی ان شوخیوں اور گستاخیوں نے مرزا صاحب کو کھینچ کر اس مقام پر لاکھڑا کیا، جس کا ذکر اجمالاً ومثالاً اوپر گزر چکا ہے۔ ورنہ اس واقعہ میں جو ’’خشیت علیٰ نفسی‘‘ سے مرزا صاحب نے بیان کیا، ہر گز شک یا شیطانی مکر کا کوئی لفظ نہیں ہے۔ مرزا نے محض تکلف اور تحریف اور افتراء سے یہ معنی کئے اور بحکم آیۃ کریمہ: ’’قل من کان فی الضلالۃ فلیمدد لہ الرحمن مدا (مریم:۷۵)‘‘ وبحکم ’’نولہ ماتولیٰ ونصلہ جہنم (النساء:۱۱۵) ثم کان عاقبۃ الذین اسآء واالسوٓء ان کذبوا بآیات اللہ (الروم:۱۰)‘‘ ارتکاب کفر عظیم کی سزا پائی۔

آنحضرتﷺ نے جو خشیت علی نفسی یعنی مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے فرمایا وہ دو سبب سے تھا، ایک تو دفعۃً اور اچانک جبرئیل کا بڑی رعب دار صورت میں آکر آنحضرتﷺ کو تین دفعہ انتہائی مشقت کی حد تک بھینچنا اور دبانا جس سے آپ کو جسمانی طاقت پہنچی، یہاں تک کہ بوجہ جاڑا لگنے کے گھر جا کر فرمایا۔ زمّلونی زمّلونی دوسرے عظیم الشان بار نبوت کی وجہ سے دل میں فکر پیدا ہوا کہ و اللہ اعلم قوم کی طرف سے کیا کیا سلوک پیش آئیں گے۔ ایک طرف بشری ضعف جبلت اور کمزوریوں کا احساس غرض، ان مجموعہ امور سے اگر ’’خشیت علیٰ نفسی‘‘ فرمادیاتو یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ آخر حضرت موسیٰm بھی تو عین رب العالمین کے حضور اچانک عصاء کو سانپ کی صورت میں دیکھ کر بھاگ نکلے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ لوٹ آ اور نہ ڈر تو امن والوں سے ہے۔’’فلما راٰہا جآن ولیٰ مدبرا

336

ولم یعقب یاٰموسیٰ اقبل ولا تخف انک من الآمنین (القصص:۳۱)‘‘ پھر موسیٰm نے دوسرا خطرہ پیش کیا۔ ’’رب انی قتلت منہم نفسا فاخاف ان یقتلون (القصص:۳۳)‘‘ اے پروردگار میں نے ان کا ایک آدمی(غلطی سے) مار دیا تھا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ مجھے کہیں قتل نہ کردیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ صاف زبان ہے اس کو میرا مدد گار رسول بنادے مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰm کی تسلی فرمائی۔ جیسا کہ آگے اسی مقام پر مذکورہے۔ الغرض ابتدائً اندیشہ انبیاءo کو بتقضائے بشریت زیادہ ہوا کرتاہے۔ موسیٰm کے قصہ مذکورہ میں اس امر کی کافی توضیح ہے۔ آنحضرتﷺ نے بھی انہی اسباب کی بناء پر اندیشہ کا اظہار فرمایا نہ یہ کہ معاذ اللہ آپ نے جبرئیل کو شیطان اور آیات قرآن کو شیطانی الہام اور مکر خیال کیا ہو۔ اگر آنحضرتﷺکو ہی نعمت یقین وایمان حاصل نہ تھی تو بھلا اور کس کو ہوگی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’اٰمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون (البقرۃ:۲۸۵)‘‘ یعنی رسول ہر اس کلام پر ایمان لایا جو اس پر اس کے رب کی طرف سے اتاری گئی اور مؤمن بھی۔ لیکن مرزا صاحب کے نزدیک تو رسول کریم کو یقین یعنی ایمان حاصل نہ ہوا تو بھلا مؤمنوں کو کیونکر ہوگا۔ ’’نعوذ ب اللہ من الحوربعد الکور‘‘مرزا صاحب نے بڑا ظلم کیا کہ محض افتراء اور بہتان سے آنحضرتﷺ پر ناپاک حملہ کیا اور قرآن کی تکذیب اور اسلام کی بیخ کنی کاسامان اپنی کتابوں میں جمع کردیا اور محض جھوٹ اور افتراء پردازی کے طور پر یہ طوفان اٹھایا۔ ورنہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکاہے، حدیث میں اس کا ذکرنہیں اور اگر بالفرض کوئی ایسی روایت موجود بھی ہوتی جس کا صاف یہ مفہوم ہوتا تو ہو نصوص قطعیہ کے سامنے بالکل واجب الرد یا قابل تاویل ہوتی تو تاویل کی جاتی۔ خصوصاً جب کہ وہ اپنے الہام کے مخالف حدیثوں کو بھی ردی میں پھینک دیتے ہیں تو آنحضرتﷺ اور قرآن کریم کے ابطال پر جو حدیث دلالت کرتی ہو۔ اس کو بطریق اولیٰ باطل اور غلط سمجھ کر رد کر دینا چاہئے تھا۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی برعکس ہے کوئی حدیث بھی نہیںہے اور محض افتراء پردازی اور بہتان طرازی سے قرآن اور نبوت نبی کریم کے ابطال کی سعی کرکے اپنے کفر اور دشمن اسلام ہونے کی تصدیق کررہے ہیں۔ مرزا صاحب اپنے الہاموں کی نسبت لکھتے ہیں کہ: ’’اس سے زیادہ کوئی بدذاتی نہیں ہوگی کہ میں یہ کہوں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔‘‘ اپنی مزعومہ الہاموں پر یہ وثوق اور ان کو کلام خدا نہ کہنا بہت بڑی بد ذاتی ہے تو رسول کریمa کی نسبت یہ کہنا کہ ان کو جبرئیل اور کلام الٰہی کی نسبت یقین نہ تھا اور شیطانی مکر کا اندیشہ ہوگیا تھا۔ کتنی بڑی بھاری بد ذاتی ہوگی۔

الغرض مرزا صاحب نے اپنی تحریروں کے رو سے اسلام کی بیخ کنی کا پورا مواد بہم پہنچا دیا ہے۔ دشمنان اسلام اگر ان دستاویزوں کی بناء پر اسلام پر حملہ آور ہوں تو کتنی بڑی بھاری مصیبت کا سامنا ہو، بجز اس کے کیا جواب ہوسکتا ہے کہ مرزا صاحب کی تحریر غلط ہے، کفرہے، افتراء اور بہتان ہے اور درحقیقت ہے بھی سراسر بہتان کفر اورقر آن اور بانیٔ اسلامa کی شان مقدس پرناپاک اور خطرناک حملہ۔اعاذن اللہ عن امثال ذالک!

حقیقی خاتم

مختار مدعاعلیہ نے کہا ہے مختار مدعیہ نے (خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص ۳۰۹) کے حوالہ سے ایک یہ اعتراض کیاہے کہ مرزا صاحب نے اپنے متعلق کہا ہے کہ میں حقیقی خاتم اور رسول مقبولa کو بھی قرآن مجید میں خاتم النّبیین کہا گیا ہے۔ حقیقت کے مقابلہ میں مجاز ہوتاہے تو گویا آنحضرتﷺ مجازی خاتم النّبیین ٹھہرے اور یہ صریح کفر اولحاد ہے۔

اس کے جواب میں مختار مدعا علیہ نے کہا ہے کہ یہ الزام محض افتراء اور بہتان ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب نے کہیں اپنے آپ کو حقیقی خاتم النّبیین نہیں کہا اور نہ آنحضرتﷺ کو مجازی خاتم النّبیین کہا ہے۔

337

۱… اس انکار کے بعد خود مانتا ہے کہ جو ختمیت مرزا صاحب کو حاصل ہے، وہ بلحاظ وراثت کے ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۳۱۰)

۲… مرزا صاحب کی بعثت بروزی طور پر آنحضرتﷺ کی بعثت ہے۔

(ایضاً)

۳… مرزا صاحب کو جو ختمیت حاصل ہے وہ ختمیت ولایت ہے نہ ختمیت نبوت۔

۴… مرزا صاحب کو آنحضرتﷺ کے اتباع سے حاصل ہے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۴، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

خیر ختمیت وراثت سے حاصل ہو، اتباع سے ہو، بروز سے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ ختمیت نبوت ہے یا ولایت اور حقیقی ہے یا مجازی۔ اگر ثابت ہوجائے کہ وہ ختمیت نبوت کے ہے اور حقیقی ہے تو مختار مدعیہ کا الزام صحیح ہوگا۔ افتراء اور بہتان نہ ہوگا اور مرزا صاحب کا دعویٰ حقیقی خاتم النّبیین کرنا ثابت ہوجائے گا۔ اس صورت میں مرزا صاحب کا کفر و الحاد مختار مدعاعلیہ کو ماننا پڑے گا۔ کیونکہ اس نے محض انکار کیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ یہ کفر نہیں جس سے معلوم ہوگیا کہ وہ بھی اس کو کفر اور الحاد جانتاہے۔

اس میں شک نہیں کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو خاتم الاولیاء اور خاتم الخلفاء بھی کہتے ہیں۔ لیکن یہ خاتم الانبیاء ہونے کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علی نبیناk کو بھی تو خاتم الخلفاء سلسلہ بنی اسرائیل کہا ہے۔ لیکن وہ اس سلسلہ کے خاتم الانبیاء بھی ہیں۔ مرزا صاحب نے خود ان کو انبیاء بنی اسرائیل کا خاتم کہا ہے۔ غرض اس جگہ خلافت اور نبوت میں تضاد نہیں ہے۔ بلکہ تقریباً مترادف ہیں۔ آخر مرزا صاحب کا دعویٰ بھی تو نبوت کا ہے اور خلیفہ ہونے کا یہی۔ پس خاتم الاولیاء یا خاتم الخلفاء کہنے سے خاتم الانبیاء ہونے کی نفی نہیں ہوجاتی۔

اس میں تو کچھ شک نہیں کہ مرزا صاحب نے اپنے کو خاتم الانبیاء کہا ہے خواہ بروزی طور پرہو۔ ملاحظہ (ایک غلطی کاازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲) ’’کیونکہ میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ’’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ میں بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔‘‘

اب رہی یہ بات کہ ختمیت حقیقیہ کا بھی دعویٰ کیا ہے یا نہیں؟ تو اب ہم اسی عبارت کو دیکھتے ہیں جس عبارت کو مختار مدعاعلیہ اور مختار مدعیہ نے پیش کیاہے۔ مختار مدعاعلیہ کی محولہ عبارت بھی صحیح ہے: ’’وقد ختمت النّبوۃ علیٰ نبیناa‘‘ (خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۳۱۰) لیکن مدعیہ کے مختارکو کچھ مضر نہیں۔ اس نے کب اس کا انکار کیا ہے۔ کیونکہ اس میں حقیقت کی تصریح نہیں۔ مختار مدعیہ کی پیش کردہ عبارت میں جو مرزا صاحب کے متعلق ہے اور اس سطر کے ایک سطر چھوڑ کر بعدہے۔ ختمیت حقیقیہ کا لفظ موجود ہے: ’’فان الختمیۃ الحقیقیۃ کانت مقدرۃً فی الالف السادس الذی ہو یوم سادس من ایام الرحمن لیشابہ ابا البشر من کان ہو خاتم نوع الانسان‘‘ (ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۳۱۰)یعنی پس ختمیت حقیقیہ چھٹے ہزار میں (یعنی عہد مرزا صاحب) کے لئے مقدر تھی جوا یام رحمن کا چھٹا دن ہے تاکہ ابوالبشر(آدمm) کے ساتھ وہ شخص جو نوع انسان کا خاتم ہے، (یعنی مرزا صاحب) مشابہ ہوجائے۔

پس اب معاملہ بالکل صاف ہے۔ مرزا صاحب نے آنحضرتﷺ کے لئے ختم نبوت کا اقرار کیا۔ لیکن اس کے ساتھ حقیقت کی صفت بیان نہیں کی۔ اپنے آپ کو خاتم الانبیاء کہتے ہیں اور بالمقابل اپنی ختمیت کو ختمیت حقیقت کے ساتھ موصوف کیا اور یہی مختار مدعیہ کا دعویٰ تھا کہ حقیقی کے بالمقابل چونکہ مجازی ہوتی ہے۔ اس لئے آنحضرتﷺ کی ختم نبوت مجازی ہوئی اور یہ کفرو الحاد ہے۔

’’مختار مدعاعلیہ نے ایک یہ عذر بھی بیان کیا ہے کہ نیز آپ نے اپنی بعثت کو بروزی طور پر آنحضرتﷺ کی بعثت قرار دیاہے۔‘‘

338

یہ درست ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی بعثت کو آنحضرتﷺ کی بعثت قرار دیا ہے اور اپنے وجود کو آنحضرتﷺ کا وجود قرار دیا ہے اور تمام کمالات محمدیہ معہ نبوت اورختم نبوت کے حصول کا اپنے لئے دعویٰ کیا ہے۔ باوجودیکہ یہ تمام دعاوی باطل اور سراسر کفر ہیں۔ لیکن تاہم مرزا صاحب کے خیال کی بناء پر اس کو مسلم رکھتے ہوئے اگر مرزا صاحب اپنے لئے مقابلۃً کوئی زائد فضیلت بھی ثابت کریں تو فاضل اور مفضول کے مفہوم اضافی کو ملحوظ رکھتے ہوئے فاضل کی افضلیت مفضول کی طرف نہیں لوٹے گی۔ کیونکہ اس صورت میں فاضلیت اور مفضولیت کا مفہوم ہی باطل ہوجاتاہے جس طرح مرزا صاحب نے (تریا ق القلوب ص۱۵۵، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷) میں لکھا ہے کہ: ’’حضرت ابراہیم نے اڑہائی ہزار برس کے بعد عبد اللہ پسر عبدالمطلب کے گھر جنم لیا۔‘‘ (آئینہ کمالات ص۳۴۳،خزائن ج۵،ص۳۴۳) میں آنحضرتﷺ کو مسیحm کا ظہور قرار دیا ہے تو کیا آنحضرتﷺ کے کمالات خاصہ سید المرسلین، خاتم النّبیین وغیرہ حضرت ابراہیم اور حضرت مسیحm کے کمالات کہلائیں گے اور رسول اللہ ﷺ ان سے افضل نہ ہوںگے۔ اگر آپ افضل ہیں تو بعینہٖ اس طرح مرزا صاحب نے بھی اپنی فضیلت آنحضرتﷺ پر ثابت کی ہے جو محال اور سراسر محال ہے۔ پس اس صورت میں آنحضرتﷺ کو صرف خاتم النّبیین ماننا اور اپنے آپ کو ختمیت حقیقیہ کا مصداق قرار دینا یا بالفاظ حقیقی خاتم النّبیین بالمقابل ٹھہرانا صاف توہین اور کفرہے۔

سید المرسلینa اور تمام انبیاء کی عملاً توہین

مرزا صاحب کی ان شوخیوں اور گستاخیوں نے جن کا ذکر کسی قدر اوپر گزر چکاہے۔ دشمنان اسلام کو اس قدر دلیر کردیا ہے کہ جب وہ مرزا صاحب کے معتقدات دعاوی مرزا صاحب کے اخلاقی نمونہ اور معجزات کو ان کی کتابوں میں اور ان کے مشن کی تحریروں کو پڑھتے ہیں اور ان کو سراسر حیلہ بازی، چالاکی دروغ گوئی مکاری معاملات اور اخلاق کی کجروی کا واقعات کی روشنی میں قطعی ثبوت ملتاہے اور سا تھ ہی مرزا صاحب کے ان دعاوی کو دیکھتے ہیں کہ آپ تمام انبیاء کے بروز اور ان کی صفات کاملہ کے مظہر اور جامع ہیں۔ تمام نبوتوں کی مرمت اور شکست وریخت کرنے آئے ہیں۔ آپ محمدی آئینہ ہیں اور بروز محمد اور مظہر روحانیت محمد ہیں۔ بلکہ وہ روحانیت جو اصلی محمدa کے زمانہ میں ہلال کی طرح بالکل کمزور اور ادنیٰ حالت میں تھی۔ اس بروز یعنی مرزا صاحب کی ذات میں بدر بن کر پوری آب وتاب سے جلوہ گر اور تاباں ہوئی ہے اور مرزا صاحب کے اس شعر کو پڑھتے ہیں۔

  1. زندہ شد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

تو وہ اسلامی تصنیفات مصنفات تاریخ وسیرت کو چھوڑ چھوڑ کر مرزا صاحب کے احوال مقالات مصنفات اور مشن کی تحریروں کو اسلام قرار دے کر اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور آنحضرتﷺ کی تعلیم سیرت مقدسہ معجزات اور خلق عظیم کو اور آپ کی نبوت اور جملہ انبیاء کی شان اور نبوت کو مرزا صاحب کی شان اور نبوت پر قیاس کرکے اسی حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جس سے مرزا صاحب کی نبوت کو انہوں نے بالکل قریب سے دیکھا ہے۔ اگرچہ بعض دشمن اسلام پہلے بھی محض تعصب کی وجہ سے اسلام پر معترض ہوتے رہے۔ ان کو جواب دندان شکن بآسانی دئیے جاتے۔ مگر اب اسلام کے دشمنوں کو مرزا صاحب اوران کے مشن کی تحریری اور عملی حالات سے بہت بڑی طاقت اور دلیری ہوگئی ہے۔ بتلائیے اگر نبوت انبیاء سابقین خصوصاً سید المرسلینa کی نبوت اور معجزات آنحضرتﷺ اور ان کے اخلاق قدسیہ اور سوانح زندگی کا معیار مرزا صاحب کی سوانح حیات اور معجزات کو قرار دیا جائے تو دشمنان اسلام کو مسلمان منہ دکھانے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی دشمن یہ اعتراض کرے کہ مرزا صاحب نے جو تمام الانبیاء کے بروز ہیں اور ان کے زندہ کرنے والے۔ کنجروں کا مال بھی لے کر کھایاہے اورآئینہ کمالات کے اخیر میں اس قسم کے مالوں کوحلال اورجائز ثابت کرنے کے لئے شریعت اسلامی میں ایک نئے حکم کا اضافہ فرمایاہے کہ نافرمان

339

آدمی کا مال وجان اس کے ملک سے نکل کر مالک حقیقی کے قبضہ میں آجاتا ہے اور مالک حقیقی کو اختیار ہے کہ اس کو ویسے ہی ہلاک کردے یا کسی رسول کے واسطہ سے یہ تجلی قہری نازل فرمائے۔ اصل عبارت آئینہ کمالات کی ملاحظہ ہو۔ ’’اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام حقوق پر خداتعالیٰ کا حق غالب ہے اور ہر ایک جسم روح اور مال اسی کی ملک ہے۔ پھر جب انسان نافرمان ہوجاتا ہے تو اس کی ملک اصل مالک کی طرف عود کرتی ہے۔ پھر اس مالک کو اختیار ہوتاہے کہ چاہے تو بلا توسط رسل نافرمانوں کے مالوں کو تلف کرے اور ان کی جانوں کو معرض عدم میں پہنچادے یا کسی رسول کے واسطے سے یہ تجلی قہری فرمائے بات ایک ہی ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۱، خزائن ج۵ ص۶۰۱)

اب اگر دشمن اسلام یہ اعتراض کرے کہ قرآن کا تویہ حکم ہے: ’’یٰٓاالرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا (المؤمنون:۵۱)‘‘یعنی اے رسولو! پاکیزہ مال کھاؤ اور نیک کام کرو تو معلوم ہوا کہ چونکہ مرزا صاحب نے جو تمام انبیاء کا بروز ہیں اور ان کی شان تقد س کو زندہ کرنے والے کنجروں کی اجرت زناوغیرہ کی کمائی کھائی ہے۔ لہٰذا وہ بھی پاکیزہ اور حلال طیب ہے اور تمام رسول اس قسم کی پاکیز ہ چیزیں کھایا کرتے تھے۔ نیز یہ معلوم بھی ہوگیا کہ زنابھی حلال ہے۔ (معاذ اللہ )

نیز یہ معلوم ہوگیا کہ مرزا صاحب کی شریعت میں ہندوستان کے اندر تمام ان مسلمانوں کا جو مرزا صاحب کو نہیں مانتے اور ایسا ہی دیگر نافرمان اقوام ہندوؤں عیسائیوں سکھوں وغیرہ کا قتل کردینا اور ان کے مالوں کو لوٹ لینا سب جائز ہے۔ جیسا کہ محولہ بالا مرزائی قانون کا صاف منشاء اور مفہوم ہے اور خدا نخواستہ مرزائیوں کو اگر قدرت حاصل ہوجائے تو اسی دستاویز سے اس حکم پر وہ عامل ہوں گے۔

مرزا صاحب کے شریعت کے یہ جدید احکام ہیں۔ اسلام کو ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن جب مرزا صاحب کو تمام انبیاء کا بروز اور بروزی محمد اور خاتم الانبیاء مان لیا جائے تو کسی کے سامنے آنکھ بھی نہیں اٹھا سکتے۔

مرزا صاحب کے تشریعی نبی ہونے کا یہ بیّن ثبوت ہے اور یہ دعویٰ سراسر غلط ہے جو زبانی وہ کرتے ہیں کہ ہم شریعت جدیدہ کے مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو کافر سمجھتے ہیں تو اب وہ خود اپنے اقرار سے بھی کافر ہوگئے۔

حوالہ مذکورہ بالا (آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۱، خزائن ج۵ ص۶۰۱) کی ضروری تشریح بھی لازم ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر ہمارا ذکر کردہ مدعاواضح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ کنجروں ونجروں کو تو اس عبارت محولہ میں کوئی نام نہیں ہے۔ لہٰذا اس کا شان نزول بیان کرنا ضروری ہے۔

مرزا صاحب کی عبارت محولہ بالا مولانا ابو سعید محمدحسین صاحب بٹالوی کے جواب میں ہے جس کو مرزا صاحب ’’قولہ‘‘ اور ’’اقول‘‘ کے عنوان قائم کرکے بیان کررہے ہیں۔ ’’قولہ‘‘ سے مولانا محمد حسین صاحب مرحوم کا اور ’’اقول‘‘ سے مرزا صاحب کا قول مراد ہے۔ مولانا ابوسعید محمدحسین صاحب مرحوم نے اپنے رسالہ (اشاعۃ السنۃ ج۱۵ نمبر۱) میں مرزا صاحب کی محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی کے متعلق پچاس سوالات جرح کئے ہیں جو دوسرے نمبر میں جا کر ختم ہوئے ہیں۔ ان میں چند سوالوں کے جواب مرزا صاحب نے دئیے ہیں۔

عبارت محولہ بالا مولانا موصوف کے آٹھویں سوال جرح کا جواب یہ جو (اشاعۃ السنۃ نمبر۱ ج۱۵ ص۴۶) پر بدیں عبارت ہے۔

(سوال ہشتم) ’’ایسا شخص اگر اکثر جھوٹ بھی بولتاہو۔ لوگوں کے مال ناجائز ذریعہ سے مارتاہو۔ ناجائز مال اجرت زنا وغیرہ کام میں لاتاہو، ظلم، ایذا رسانی، بے رحمی، بدخلقی، بد گوئی پر مصر ہو تو پھر بھی وہ اگر اس کی کوئی پیش گوئی سچی نکل آوے اس سچی پیش گوئی میں ملہم ولی محدث ومجدد اور خدا کا مخاطب ہوسکتاہے۔‘‘

اس کی مزید توضیح سوال (نمبر۴۴ میں ص۳۷) پر مولانا موصوف مرزا صاحب سے سوال کرتے ہیں: ’’سوال چہل وچہارم میاں الہ دیا ساکن انبالہ سے آپ نے اپنے ملازم فتح خان کی معرفت دو سو روپیہ یا کم وبیش منگوایا (۲) اور وہ کیا روپیہ تھا (۳)اور آیا وہ کس کام میں آپ نے صرف کیا؟‘‘

340

یہ الہ دیا کنجر تھا جس نے توبہ کی تھی۔ اس کا پہلا مال جو حرام کمائی اجرت زنا وغیرہ سے تھا مرزا صاحب نے منگوایا اور استعمال فرمایا۔ ان سوالات سے پہلے (نمبر۱۲ ج۱۴) میں مولانا موصوف میر ناصرنواب صاحب خسر مرزا صاحب کی ’’مثنوی درحالات مکاری اہل زمانہ‘‘ مندرجہ نمبر مذکور کے حاشیہ پر کرچکے ہیں جس میں انہوں نے جعلی پیروںخصوصاً مرزا صاحب کے حالات کا کسی قدر نقشہ کھینچاہے۔ چنانچہ میرناصر صاحب لکھتے ہیں۔

  1. بدمعاش اب نیک از حد بن گئے

    بو مسیلم آج احمد بن گئے

  2. عیسیٰ دوراں بنے دجال ہیں

    ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں

اسی مثنوی میں کچھ اوپر یہ شعر ہیں۔

  1. قرض سے ایک دفعہ ہو جائے نجات

    گو ملے صدقہ کہ مل جائے زکوٰۃ

  2. ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو

    رنڈیوں کا مال ہو یا بھانڈوں کا ہو

اس دوسرے مصرعہ کی تشریح مولانا موصوف نے حاشیہ پر یہ کی ہے۔ ’’جیسا کہ الہ دیا نامی تائب مرحوم کا روپیہ جو اسی قسم سے تھا کادیانی نے منگایا۔‘‘

غرض سوال ہشتم کا منشاء یہ ہے کہ مرزا صاحب نے الہ دیا کنجر انبالوی سے جس نے توبہ کی تھی، اجرت زنا کی کمائی کا سابقہ روپیہ اپنے ملازم فتح خان کی معرفت منگوایا اور استعمال فرمایا۔

مرزا صاحب نے اسی سوال ہشتم قولہ کے عنوان سے نقل کرکے اقول کہہ کر اس کا جواب دیا ہے اور اس کو عبارت محولہ بالا سے جائز ثابت کرکے نئی شریعت تعمیر کی ہے۔

مرزا صاحب نے اس سوال کو نقل کرنے میں عجب چالاکی کی ہے۔ تین چار سطر کی عبارت میں سے اوّل وآخر کو نقل کر کے بیچ میں سے چھوڑگئے ہیں تاکہ مرزا صاحب کی کتاب پڑھنے والے کو یہ پتہ نہ لگ سکے کہ مرزا صاحب پر اجرت زنا کا حرام مال کھانے کا الزام لگایا گیا ہے اور جب تک کسی کو اشاعۃ السنۃ کے اصل حوالے معلوم نہ ہوں۔ مرزا صاحب کا یہ فعل شنیع مخفی رہے۔ لیکن دراصل یہ بڑی خیانت اور پرلے درجہ کی بزدلی ہے۔

خیر اب تو سوال بھی واضح ہوگیا اور جواب بھی واضح۔ مرزا صاحب نے اس خبیث اور حرام مال اجرت زنا کھانے سے انکار نہیں کیا اور نہ کرسکتے تھے۔ ہاں! یہ کردیا اور ثابت کیا کہ یہ حلال ہے، طیب ہے لیکن رسولوں کو۔ پس اگر فی الواقعہ مرزا صاحب رسول مان لئے جائیں اور آنجناب کی رسالت ہی تمام رسولوں کے لئے میزان قراردی جائے تو نبوت اور رسالت ایک نہایت ہی ذلیل چیز ہوگی جس کوکوئی شریف انسان پسند نہیں کرسکتا۔

پس درحقیقت مرزا صاحب نے اپنی عملی اور اخلاقی اور اعتقادی حالت سے نبوت اور انبیاء کی سخت توہین کی ہے اور اس لحاظ سے بھی مرزا صاحب خارج از اسلام اور کافر ہیں۔

اس قسم کے کئی واقعات ہیں۔ لیکن بطور مشت نمونہ از خروارے اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔

مختار مدعاعلیہ نے ۹؍اکتوبر کی بحث میں کہا تھا کہ جب مرزا صاحب حضرت عیسیٰ کے نزول کو اسلام کی بربادی اور آنحضرتﷺ کی توہین خیال کرتے ہیں جو مرزا صاحب سے ان کے زعم کے مطابق گھٹیا نبی ہیں تو جو ان سے بڑھیا نبی ہیں۔ یعنی مرزا صاحب ان کی نبوت سے بطریق اولیٰ بہت زیادہ توہین آنحضرتﷺ کی اور بربادی اسلام متصور ہے۔

341

مختار مدعاعلیہ کہتاہے کہ یہ مغالطہ ہے فرق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰm کے آنے سے یا نبوت مستقلہ بعد آنحضرتﷺ ماننی پڑے گی جو ممتنع ہے یا حضرت عیسیٰm کا امتی ہونا اور یہ بھی محال ہے۔ کیونکہ امتی کا مفہوم یہ ہے کہ جو بغیر اتباع آنحضرتﷺ محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو اور قرآن اورآنحضرتﷺ کی پیروی سے اس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔

مختار مدعاعلیہ کا اور مرزا صاحب کا یہ استدلال اور فرق بالکل غلط ہے اور امتی کی یہ تعریف خود غرضی سے گھڑی گئی ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں نہ قرآن سے نہ حدیث میں اور نہ علماء اسلام میں بلکہ سراسر قرآن کریم اور تصریحات اکابر کے خلاف ہے۔

۱… مختاران مدعاعلیہ کے مسلم امام عبدالوہاب شعرانی (یواقیت والجواہر مبحث ۳۲) میں شیخ اکبر محیی الدین ابن عربی کا قول فتوحات مکیہ کے باب عاشر سے حدیث: ’’انا سید ولد آدم ولا فخر‘‘ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ آدمm سے لے کر آخر الرسل عیسیٰm تک تمام انبیاء سید ولد آدمa کے نائب ہیں۔ پھر اس پر یہ شہادت پیش کی ہے کہ جب حضرت عیسیٰm زمین پر نزول فرمائیں گے تو آنحضرتﷺ کی شریعت پر عامل ہوں گے جس سے صاف ثابت ہے کہ تمام انبیاء خصوصاً حضرت عیسیٰm آنحضرتﷺ کے نائب اور امتی ہیں۔ اس میں کوئی امتناع کسی قسم کا نہیں ہے۔

۲… صحیح حدیث میں آیا ہے کہ: ’’لوکان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی‘‘ اس سے ثابت ہوتاہے کہ ایک اولی العزم نبی بھی آنحضرتﷺ کا امتی اور متبع ہوسکتاہے۔ لہٰذا امتی کا جو مفہوم بیان کیاگیاہے قطعاً باطل ہے۔

۳… یہی امام عبدالوہاب شعرانی (یواقیت والجواہر ج۲ ص۶۳) پر شیخ اکبر قدس اللہ سرہ کا قول فتوحات کے باب الثالث والتسعین سے نقل فرماتے ہیں: ’’اعلم انہ لیس فی امۃ محمدa من ہو افضل من ابی بکرq غیر عیسیٰm وذالک انہ اذا نزل بین یدی الساعۃ لایحکم الابشرع محمدa فیکون لہ یوم القیامۃ حشر ان حشر فی زمرۃ الرسل بلواء الرسالۃ وحشر فی زمرۃ الاولیاء بلواء الولایۃ‘‘یعنی اس امت میں عیسیٰm کے سواء کوئی شخص حضرت ابوبکر صدیقq سے افضل نہیں ہے۔ کیونکہ عیسیٰm جب قیامت سے پہلے نازل ہوں گے تو شرع محمدa کے سواء کسی چیز پر عمل نہ کریں گے۔ پس قیامت کو ان کے دو حشر ہوں گے۔ ایک لواء رسالت کے ساتھ رسولوں کے زمرہ میں اور دوسرا حشر لواء ولایت کے ساتھ زمرہ اولیاء میں۔

ہمارا مقصود اس سے واضح ہے حاجت تشریح نہیں۔ شیخ اکبر قدس اللہ سرہ کے اور کئی حوالے ہیں لیکن یہی کافی ہیں۔

۴… اب مرزا صاحب کی سنئے! (حقیقت الوحی ص۱۳۰، خزائن ج۲۲ ص۱۳۳) پر آیت: ’’واذ اخذ اللہ میثاق النّبیین لما اٰتیتکم من کتاب‘‘ کے تحت لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں سے یہ عہدلیا تھا کہ جب آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا اس پر سب نے اقرار کیا (ملخصاً) اس سے ثابت ہوا کہ تمام رسول آنحضرتﷺ کی نبوت پر ایمان لاچکے ہیں۔ لہٰذ وہ امتی ہیں۔

۵… مرزا صاحب (حمامۃ البشریٰ ص۷۸، خزائن ج۷ ص۲۹۵) پر لکھتے ہیں: ’’وما اختلف اثنان من علماء ہذہ الامۃ فی ان الفضائل الضلیۃ التی توجد فی ہذہ الامۃ قد تفوق بعض الفضائل التی توجد فی الانبیآء بالاصالۃ ولذلک قیل ان الانبیاء السابقین کانوا ینظرون الی ہذہ الامۃ بعین الغبطۃ وتمنی اکثرہم ان یکونوا منہم فلولم یکن فی ہذہ الامۃ شیٔ من الفضائل التی لم توجد فی الانبیآء بنی اسرائیل فلم سألوا ربہم ان یجعلہم من ہذ الامۃ‘‘

یعنی بالاتفاق علماء امت کی رو سے ہے کہ اس امت میں بعض ظلی فضائل ایسے جو انبیاء بنی اسرائیل کے فضائل پر فوقیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ پہلے انبیاء اس امت کو غبطہ کی نظر سے دیکھتے تھے اور اکثر انبیاء نے یہ تمنا ظاہر کی ہے کہ کاش وہ اس امت سے

342

ہوتے۔ پس اگر اس امت میںکچھ ایسے فضائل نہ ہوتے جو انبیاء بنی اسرائیل میں موجود نہ تھے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے کیوں یہ سوال کیا کہ ان کو اس امت میں سے کردے۔

یہ عبارت واضح ہے اگر امتی کایہ مفہوم ہوتا کہ وہ بغیر اتباع قرآن وآنحضرتﷺ کے گمراہ اور بے دین اور ناقص محض ہو تو انبیاء بنی اسرائیل سابقین نے باوجود نبوت اور رسالت کیا اپنے آپ کو گمراہ اور بے دین اور ناقص ثابت کرنے کے لئے یہ دعا کی تھی؟

اور حسب اقرار وتسلیم مرزا صاحب انبیاءo نے جب کہ اپنے پروردگار سے یہ دعا کی ہے کہ ان کو آنحضرتﷺ کی اس عالم ظاہر میں امت بنادے۔ نیز تاکہ وہ میثاق انبیاء اور نصرت کا عہد اس دنیا میں ظاہر ہو تویہ کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ عام انبیاء کی دعا کو مسترد فرمادے۔ لہٰذا اس مستجیب الدعوات نے اپنی حکمت کے ماتحت اس کی یہ صورت اختیار فرمائی کہ ان سب کی طرف سے ایک ایسے نبی کو نمائندہ قرار دے کر عیاناً وشہوداً امتی اور مؤمن اور ناصر آنحضرتﷺ قرار دیا جس کے ساتھ آنحضرتﷺ کو کئی قسم کے مزید اختصاص تھے۔ جیسا کہ خود آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’وانی اولی الناس بعیسی ابن مریم لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ نازل‘‘یعنی میں سب سے قریب تر لوگوں سے ہوں۔ عیسیٰ بن مریم کے ساتھ (الحدیث) حدیث کی تشریح معہ اثبات اختصاص۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۵، خزائن ج۵ ص۳۵)

ما سواء اس کے حضرت عیسیٰm کو آنحضرتﷺ کے ساتھ حسب تصریح مرزا صاحب بیٹا ہونے کی نسبت بھی ہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے (سرمہ چشم آریہ ص۲۴۲، خزائن ج۲ ص۲۹۲) کے حاشیہ پر لکھا ہے: ’’سو حضرت مسیح نے ان نبیوں کو جو شریعت موسوی کی حمایت کے لئے ان سے پہلے آئے۔ تمثیلی طور پر قرب کے درجہ میں بطور نوکروں کے بیان کیا ہے اوپر اپنے لئے قرب کے دوم درجہ کااشارہ کرکے بیٹے کے لفظ سے اپنے اس مقام قرب کو ظاہر فرمایا ہے اور پھر تیسرا درجہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت ہے وہ شخص قرار دیا ہے جو بیٹے کے مارے جانے کے بعد آئے گا جو باغ کا مالک اور نوکروںکا آقا اور اس بیٹے کا باپ مجازی ہے۔ پھر اس حاشیہ کے حاشیہ (ص۲۴۲، خزائن ج۲ ص۲۹۲) میں لکھتے ہیں: ’’بعض آثار میں آیا ہے کہ حضرت مریم صدیقہ والدہ حضرت مسیحm عالم آخرت میں زوجہ مطہرہ آنحضرتﷺ کی ہوگی۔ یہ قول غالباً اسی مناسبت بیٹے اور باپ سے پیدا ہواہے کہ جب عالم تمثیل میں حضرت مسیحm آنحضرتﷺ کے بطور بیٹے کے ٹھہرے توان کی والدہ بطور زوجہ کے ہوئی۔ منہ‘‘

اس عبارت سے معلوم ہوگیاکہ حضرت عیسیٰm کا امتی ہونا تو درکنار آنحضرتﷺ کا حسب تصریح مجازی بیٹا ہونا بھی ثابت ہے۔ لہٰذا امتی کا وہ مفہوم جو مختار مدعاعلیہ نے بیان کیا ہے قطعاً باطل ہے۔

۶… اب قرآن شریف ملاحظہ ہو اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون الذین آتیناہم الکتاب من قبلہ ہم بہ یؤمنون واذا یتلی علیہم قالوا اٰمنا بہ انہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین اولٰٓئک یؤتون اجرہم مرتین بما صبروا (القصص:۵۱تا۵۴)‘‘ یعنی ہم نے پے درپے ان کے لئے اپنے کلام کو اتارا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جن لوگوں کو ان سے پہلے ہم نے کتاب دی، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔ ہم اس سے پہلے فرمانبردار تھے۔ ان لوگوں کو ان کے صبر کی وجہ سے دہراا جر دیا جائے گا۔ الخ!

اب بتلائیے وہ مؤمنین اہل کتاب جو قرآن کریم پر آنحضرتﷺ پر ایمان لائے اور امتی بنے۔ کیا وہ اس سے پہلے گمراہ بے دین اور ناقص تھے یا وہ مسلمین مؤمنین تھے اور امتی بن کے دہرے اجر کے مستحق بنے۔

۷… احادیث صحیح میں آیا جن کے حوالہ کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہر صاحب علم جانتا ہے کہ تین شخصوں کو دہرا اجر ملے گا۔

343

۱… وہ شخص جس نے کسی اپنی لونڈی کی تربیت کی اور عمدہ ادب سکھایا، پھر اس کو آزاد کرکے نکاح کرلیا۔

۲… وہ مؤمن اہل کتاب جو اپنی کتاب پر ایمان لایا(بعدہ) آنحضرتﷺ پر ایمان لایا۔

۳… وہ غلام جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اپنے مالک کی خیرخواہی کی۔

دلائل وشواہد مذکورہ بالا سے ثابت ہوگیا کہ امتی کا وہ مفہوم جو مختار مدعاعلیہ اور مرزا صاحب نے بیان کیا ہے غلط اور باطل اور اتباع ہوائے اور خود غرضی پر مبنی ہے۔ لہٰذا وجہ فرق جو مابین مرزا صاحب اور حضرت عیسیٰm دربارہ توہین وہتک آنحضرتﷺ بیان کی گئی تھی،باطل ہوگئی اور مختار مدعیہ کا الزام توہین آنحضرتﷺ جو مرزا صاحب کا مسلمہ کفر تھا قائم اور بدستور رہا۔

قول مختار مدعاعلیہ:

رہی یہ بات کہ مرزا صاحب نے عقیدہ حیات مسیح کو شرک عظیم قرار دیا ہے یہ ’’تسمیۃ الشیٔ بما یؤول الیہ‘‘ کی قسم سے ہے جس طرح انگور کو شراب سے تعبیر کیا گیا ہے اور چونکہ لاکھوں مسلمان اس عقیدہ کی وجہ سے عیسائی ہوگئے تھے۔ اس لئے مرزا صاحب نے اس عقید کو شرک عظیم قرار دیا ہے۔ یہ قول مختار مدعیہ کے اعتراض کو رفع نہیں کرسکتا۔ کیونکہ انگور کو شراب کہنا مجاز ہے جس کا قرینہ موجود ہے۔ کیونکہ عصر یعنی نچوڑنا انگور کی صفت ہے نہ شراب کی برخلاف مرزا صاحب کے اس قول کے کہ وہاں کوئی قرینہ معنی مجازی کا موجود نہیں۔ بلکہ شرک کوعظیم کہہ کر حقیقت کو اور محکم کیا گیا ہے۔ اسی طرح مرزا صاحب نے اپنی تحریروں میں اس کو مخلوق پرستی کا ستون کہہ کر ارادہ مجاز کے خلاف گویا ایک زبردست دلیل قائم کردی ہے۔

(الاستفتاء ص۴۷، خزائن ج۲۲ ص۶۷۰) پر کہتے ہیں: ’’و اللہ لن یجتمع حیات ہذا الدین وحیات ابن مریم‘‘ یعنی قسم ہے اللہ تعالیٰ کی دین اسلام کی زندگی اور ابن مریم کی زندگی ہرگز جمع نہ ہوں گی۔ دیکھئے کس تاکید شدید اور قسم کے ساتھ حیات مسیحm کو دین اسلام کی موت قرار دیا گیا ہے۔

اور(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۳۰، خزائن ج۲۱ ص۴۵۶) پر لکھتے ہیں کہ: ’’افسوس کہ اسلام بت پرستی سے بہت دور تھا، لیکن آخر کار اسلام میں بت پرستی کے رنگ میں یہ عقیدہ پیدا ہوگیا۔‘‘

غرض مرزا صاحب نے مندرجہ ذیل الفاظ سے عقیدہ حیات مسیحm کو ذکر کیاہے۔ شرک عظیم جو نیکیوں کو کھاجاتاہے۔ مخلوق پرستی کاستون، اسلام کی نقیض یااسلام کی موت، بت پرستی وغیرہ اب ظاہر ہے کہ یہاں ’’تسمیۃ الشیٔ بمایؤول الیہ‘‘ کی تاویل کار گر نہیں ہوسکتی۔

باقی رہا مختار مدعاعلیہ کا حضرت گنگوہی قدس اللہ سرہ کے فتویٰ اور حدیث مسلم سے استشہاد اور ان پر قیاس بالکل غلط اور قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ حضرت گنگوہی قدس اللہ سرہ نے زنار ڈالنے اور بت کو سجدہ کرنے والے کومشرک کہا ہے اور ریاکار یا اللہ کے سواء کسی اور کے نام پر قسم کھانے والے کو فاسق اور گنہگار کہاہے۔ گوان افعال کو بھی شرک کہا گیاہے۔ لیکن قابل تاویل اور شرک دون شرک کی قسم سے، لیکن مرزا صاحب نے شرک عظیم مخلوق پرستی بت پرستی نقیض اسلام کے اوصاف سے عقیدہ حیات مسیح کو متصف قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس کا مرتکب بقول مرزا صاحب وحسب فتویٰ گنگوہی قدس اللہ سرہ مشرک بت پرست ہوگا نہ قسم ادنی شرک کا مرتکب اور فاسق وگنہگار۔

اسی طرح حدیث مسلم ’’بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلوٰۃ‘‘ میں ترک صلوٰۃ کو شرک اور کفر نہیں کہا گیا بلکہ درمیانی حد کہا گیا ہے۔ پس یہاں تو منجر الی الشرک کی تاویل کی بھی حاجت نہ رہی۔ اس تاویل کی تب ضرورت ہوتی جب ترک صلوٰۃ کو شرک کہاجاتا۔

مختار مدعاعلیہ کا یہ قول کہ لاکھوںمسلمان اس عقیدہ حیات مسیحm کی وجہ سے عیسائی ہوگئے تھے۔ اس بناء پر مرزا صاحب نے

344

اس کو شرک قراردیا، بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ کیا ان لاکھوں عیسائی ہونے والوں نے اپنے ارتداد کی یہ وجہ بیان کی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ لوگ جو عیسائی ہوئے ہیں، بعض تو اصول مقدسہ اسلام سے ناواقفیت کی وجہ سے اور اکثر اور اغلب خواہشات اور حظوظ نفسانیہ کے استیفاء اور جیفۃ الدنیا کی خاطر عیسائی ہوئے ہیں، بلکہ پہلی قسم کے تو بالکل اقل قلیل اور الشاذ النادر کا لمعدوم کے حکم میں ہیں۔

اسی عقیدہ حیات مسیحm کے اسلام میں موجود ہوتے ہوئے، لاکھوں عیسائی اسلام میں داخل ہوئے اور ہوتے رہتے ہیں اور کئی بدنصیب اسلام کو ترک کرکے مرتد ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح کئی آدمی مرزائیت کو ترک کرکے عیسائی ہوگئے۔ خصوصاً جب کہ آتھم کی نسبت مرزا صاحب کی پیش گوئی غلط نکلی۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے بھی دبی زبان میں اسے انوار الاسلام میں تسلیم کر لیا ہے۔ کیا ان کے عیسائی ہونے کا باعث حیات مسیحm کا عقیدہ تھا؟

پس عقیدہ مذکورہ کو شرک عظیم قرار دینے کی جو وجہ گھڑی گئی ہے محض بہانہ غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ مرزا صاحب نے اس عقیدہ کو بت پرستی اور شرک عظیم قرار دے کر تمام امت کی عامۃً وخاصۃً توہین کی ہے نہ علماء اس توہین کی زد سے بچ سکتے ہیں، نہ اولیاء، نہ مجددین، نہ محدثین، نہ تابعین، نہ صحابہﷺ اور نہ ذات گرامی سید المرسلینa۔ مرزا صاحب نے نہ صرف توہین کی ہے۔ بلکہ سب کو مشرک قرار دے کر ایسے کفر کا ارتکاب کیا ہے جس کو اگر بغائر نظر دیکھا جائے تو رونگٹے بدن پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔

اس وقت حیات مسیحm کے دلائل وغیرہ سے بحث نہیں ہے۔ لیکن جہاں تک مسئلہ مذکورہ کا تعلق ہے۔ یہ ثابت کرنا ہمارے ذمہ لازم ہوگیا کہ آنحضرتﷺ صحابہﷺ اور تمام امت کا مذہب یہی تھا کہ حضرت عیسیٰm زندہ ہیں اور قیامت کے قریب دنیا میں آکر دجال کو قتل کریں گے۔

مرزا صاحب کا بھی بزعم خود ملہم ہونے کے بعد اور اللہ تعالیٰ سے قرآن شریف کے صحیح معنی پڑھ لینے کے باوجود بارہ سال کے لمبے عرصہ تک یہی عقیدہ تھا۔ اس عرصہ میں آپ نے اپنی اس کتاب میں جو بامر الٰہی آپ نے تصنیف فرمائی تھی، قرآن شریف اور اپنے الہام سے اس مسئلہ کو ثابت کیا کہ حضرت عیسیٰm دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور اپنی نسبت یہ دعویٰ کیا کہ میں مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہوں اور حضرت مسیحm پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔ ملاحظہ ہو (حاشیہ براہین احمدیہ ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) تحت الہام وآیت: ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (الیٰ) اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ براہین احمدیہ ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱تحت آیت: ’’والہام عسیٰ ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجعلنا جہنم للکافرین حصیرا‘‘(الیٰ) یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کررہاہے۔

مرزا صاحب کو یہ مسلم ہے بلکہ ان کی تصریح ہے کہ میں بارہ سال تک بعد الہام اسی عقیدہ پر تھا۔ چنانچہ اپنی کتاب (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) پر لکھتے ہیں: ’’پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے، تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ پس جب اس بارہ میں انتہاء تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا: ’’فاصدع بما تؤمر‘‘ یعنی جو تجھے حکم ہوتاہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے اور بہت سے نشان مجھے دئیے گئے اور میرے دل میں روز روشن کی طرح یقین بٹھا دیا گیا۔ تب میں نے لوگوں کو یہ پیغام پہنچادیا۔‘‘

مختار مدعاعلیہ نے اسی مضمون کو اپنے جواب بحث میں باختصار بیان کیا ہے اور آخر میں کہا ہے کہ مرزا صاحب کے اس رسمی عقیدہ

345

کے بعد جس پروہ تھے۔ جب خدا تعالیٰ نے ان پر حضرت عیسیٰm کا فوت ہونا ظاہر کردیا تو آپ نے لوگوں میں حضرت عیسیٰm کی وفات کا اعلان کردیا اور قرآن وحدیث سے ان کی وفات کے مسئلہ کو الم نشرح کردیا۔ مختار مدعاعلیہ کا اور مرزا صاحب کا یہ بیان کہ مرزا صاحب مسلمانوں کے رسمی عقیدہ پر تھے۔ سر تاپا غلط ہے، مرزا صاحب محض رسمی اور تقلیدی عقیدہ پر نہ تھے، بلکہ مرزا صاحب نے قرآن اور اپنے الہام کی روشنی میں اس عقیدہ کو اختیار کر رکھا تھا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کے منقولہ بالا حوالوں (ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) اور (ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱) سے ظاہر اورعیاں ہے۔

یہ بھی طرفہ تماشا ہے کہ بارہ برس تک تو قرآن وحدیث سے حیات عیسیٰm کو ثابت کرتے رہے اور معنی قرآن بھی اس وقت اللہ تعالیٰ کے پڑھائے ہوئے صحیح صحیح تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کی تیس آیتوں میں سے کسی آیت کے معنی میں یہ نہ فرمایا کہ اس آیت سے وفات مسیحm ثابت ہے اور نہ مرزا صاحب کو براہین احمدیہ میں حیات مسیحm کے اقرار کے بعد متنبہ کیا کہ یہ غلط ہے اور حق وفات مسیح کا عقیدہ ہے۔ جب بارہ برس گزر گئے تو خداتعالیٰ نے پے درپے متواتر الہام اس مضمون کے شروع کردئیے کہ حضرت عیسیٰm فوت ہوگئے ہیں۔ مرزا صاحب بھی پہلی بار تو ان الہاموں سے بہت گھبرا گئے ہوں گے۔ کیونکہ پہلا عقیدہ حیات مسیحm کا بھی مرزا صاحب کے ابتدائی الہام:’’الرحمن علم القرآن۔ لتنذر قوما ما انذر آباوہم ولتستبین سبیل المجرمین‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۹ حاشیہ درحاشیہ، خزائن ج۱ ص۲۶۵) کی بناء پر اللہ میاں کا تعلیم کردہ تھا۔ کیونکہ اس الہام کا ترجمہ براہین احمدیہ (حوالہ ایضاً) میں یہی مندرج ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ رحمن نے تمہیں قرآن مجید کے صحیح معنی پڑھادئیے ہیں… الخ! اور حیات مسیح کا عقیدہ قرآن اور الہام سے ہی ثابت کیا گیا تھا۔ اس لئے معاذ اللہ ! اللہ تعالیٰ کی اس تناقض بیانی سے تردد کا ہونا اور گھبراہٹ لازمی تھی۔ ایسی صوررت میں ایک دو یا پانچ سات بار کے الہام سے مرزا صاحب کو وفات مسیحm کا یقین کیونکر آسکتاتھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کو یہ تدارک کرنا پڑا کہ مرزا صاحب کو متواتر پے درپے بکثرت الہام کئے جو ایک بڑے مینہ سے مشابہ تھے اور وحی الٰہی اپنی روشن انتہاء تک پہنچ گئی اور ماسواء اس کے اور بہت سے نشان دئیے گے اور یقین کو مرزا صاحب کے دل میں روز کی طرح بٹھا دیاگیا تو مرزا صاحب بھی کسی قدر مطمئن ہوگئے۔

کثرت الہامات کا ذکر جو وفات مسیحm کے بارہ میں مرز اصاحب کو ہوئے۔ عبارت محولہ اعجاز احمدی کے علاوہ (حمامۃ البشری ص۱۳، خزائن ج۷ ص۱۹۱) پر بدیں الفاظ مرزا صاحب نے کیا ہے: ’’و اللہ ما قلت قولا فی وفات المسیح وعدم نزولہ وقیامی مقامہ الا بعد الہام المتواتر المتتابع النازل کالوبل وبعد مکاشفات صریحۃ بیّنۃ منیرۃ کفلق الصبح‘‘ یعنی قسم ہے اللہ کی کہ میں نے مسیح کی وفات اور دوبارہ نہ آنے اور میرے اس کا قائم مقام ہونے کا عقیدہ اختیار نہیں کیا۔ مگر ایسے الہاموں کے بعد جو متواتر پے درپے اور ایک بڑی بارش کی طرح مجھ پر اترنے والے تھے اور ایسے مکاشفات کے بعد جو صریح اور بالکل صاف اور صبح صادق کی طرح روشن تھے۔

اسی طرح حقیقت الوحی وغیرہ کتابوں میں بھی حوالے ہیں، لیکن یہ دو حوالے ہی کافی ہیں۔

حوالہ جات مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ وفات مسیحm کا عقیدہ مرزا صاحب کو الہامات نے تعلیم کیا ہے نہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ نے۔ مرزا صاحب اور ان کی جماعت اور مختار مدعاعلیہ کا یہ دعویٰ کہ مرزا صاحب نے اس کو قرآن وحدیث سے الم نشرح کردیا، صاف جھوٹ اور قرآن کریم اور حدیث پر سراسر بہتان ہے۔ اگر یہ مسئلہ قرآن کریم اور احادیث سے الم نشرح ہوتا تو اور امت کو جانے دو، مرزا صاحب کیوں قرآن کریم اور احادیث اور اپنے الہامات سے حیات مسیحm کو ثابت کرتے اور بارہ سال کے عرصہ دراز تک اس پر قائم رہتے۔ قرآن کریم اور الہامات کا ذکر اور ان سے حیات مسیحm کا اثبات تو بحوالہ براہین احمدیہ

346

ص۴۹۸،۴۹۹،خزائن ج۱ ص۵۹۳، براہین احمدیہ ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱ اوپرگزرچکاہے۔ احادیث سے اثبات کا ذکر جو مرزا صاحب نے کیا ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ آئے گا۔

(بحوالہ ازالہ اوہام و توضیح المرام وشہادت القران)

اس کے بعد جب مرزا صاحب کے خیالات نے پلٹا کھایا اور وفات مسیحm کا عقیدہ کسی ملہم کے الہام نے آپ کو تعلیم کیا تو اس وقت مرزاصاحب نے قرآن کریم کو اپنے خیالات کے سانچے میں ڈھالنا شروع کردیا اور بحکم: ’’یحرفون الکلم عن مواضعہ‘‘ قرآن کریم کی تیس آیتوں سے وفات مسیحm کے ثبوت کا دعویٰ کردیا۔ پس ایک حق پرست ایمان دار کے لئے تو مرزا صاحب کی یہ کارروائی سراسر باطل ہے اور اس امر کا بین ثبوت کہ مرزا صاحب قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو محض آلہ کار برآری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ جوں جوں مرزاصاحب کے خیالات پلٹتے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ہی قرآن اور حدیث کے معنی بھی پلٹے جاتے ہیں اور مختار مدعاعلیہ اس کو قرآن اور حدیث سے الم نشرح کرنا سمجھتا ہے جو ایک مضحکہ خیز خیال اور سراسر غلطی ہے اور مرزا صاحب کے قرآن پر ایمان نہ ہونے کا ایک بیّن ثبوت۔

یہاں تک تو مرزا صاحب کے رسمی عقیدہ نہ ہونے کا ذکر تھا۔ اب یہ ثابت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ سے لے کر آج تک تمام امت حیات مسیحm کی معتقد چلی آتی ہے اور وہ بفتویٰ مرزا صاحب سب کے سب مشرک ٹھہرے۔ معاذ اللہ ! میں اس وقت اسلامی کتب تفاسیر احادیث وغیرہ سے حوالے پیش کرنا اور دلائل عقیدہ حیات بیان کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ صرف مرزا صاحب کی کتابوں سے ثابت کروں گا کہ آنحضرتﷺ اور مسلمان اسی عقیدہ کے معتقد تھے۔

۱… مرزا صاحب اپنی کتاب توضیح المرام کے آغاز(ص۱،خزائن ج۳ ص۵۱) پر لکھتے ہیں جس کے ٹائٹل پر الہامی الہامی لکھا ہواہے۔ مسلمانوںاور عیسائیوں کا کسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ: ’’حضرت مسیح بن مریم اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔‘‘ میں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں اور نیزیہ بھی بیان کرچکاہوں کہ اس نزول سے مراد در حقیقت مسیح بن مریم کا نزول نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبردی ہے جس کا مصداق حسب اعلام والہام الٰہی بھی عاجز ہے۔‘‘

۲… اور اس کتاب کے (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۱) پر لکھتے ہیں: ’’اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں۔بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پرجانا تصور کیاگیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کررہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ انہیں کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔‘‘

۳… افسوس کہ اس صحیح اور واقعی امر کے سمجھنے میں غلط فہمی کر کے کوتہ اندیش لوگوں نے کس قدر بڑی غلطی کھائی جس کی وجہ سے وہ حدیثوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ تو سچ ہے کہ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی وفعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اورقرآن سے تصدیق یافتہ نہیں، یقین کامل کے مرتبہ پر مسلم نہیں ہوسکتا۔ لیکن وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات ابتداء سے اس پر اپنے عملی طریق سے قائم اور محافظ چلی آئی ہے۔ اس کو ظنی اور شکی کیونکر کہا جائے۔ ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پردادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہوگیا اور اپنے اصل مبداء تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے۔ اس میں تو ایک ذرہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل در آمد کو اوّل درجہ کے یقینیات میں سے یقین

347

کرے۔ پھر جب کہ ائمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ آنحضرتﷺ تک پہنچادیا تو پھر بھی ان پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔ اب اس تمہید کے بعد یہ بھی واضح ہوکہ مسیح موعود کے بارے میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے۔ وہ ایسی نہیں کہ جس کو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوںکی بناء پر لکھا ہو۔ بس بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے۔ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آتی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے۔ اسی قدر پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں۔ کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے اور ائمہ حدیث امام بخاری وغیرہ نے اس پیش گوئی کی نسبت اگر کوئی امر اپنی کوشش سے نکالاہے تو صرف یہی کہ جب اس کو کروڑ ہا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زد پایا تو اپنے قاعدہ کے موافق مسلمانوںکے اس قولی تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کرکے پیدا کیا اور روایت صحیح مرفوعہ متصلہ سے جن کا ایک ذخیرہ ان کی کتابوں میںپایا جاتاہے اسناد کو دکھایا۔

علاوہ اس کے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ ا گر نعوذب اللہ ! یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انہوں نے اس پر اتفاق کرلیا اور کس مجبوری نے ان کو اس پر آمادہ کیا تھا۔‘‘

(شہادت القرآن ص۸،۹، خزائن ج۶ ص۳۰۴،۳۰۵)

ان حوالہ جات سے مفصلہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

۱… مسلمانوں کا عقیدہ حیات عیسیٰm اور بعینہٖ ان کے نزول کا ہے نہ کسی مثیل مسیح کا جس کو اب مرزائی اصطلاح میں مسیح موعود سے تعبیر کیا جاتاہے۔

۲… یہ عقیدہ آنحضرت کے اقوال مقدسہ یعنی احادیث نبویہ سے پیدا ہواہے۔

۳… یہ عقیدہ ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلا آیا ہے اور تعامل اعتقادی کے طور پر سلسلہ بہ سلسلہ اپنے اصل مبدء تک اس کے آثار وانوار نظر آرہے ہیں۔

۴… جو امور سلسلہ اسناد کے ساتھ سلسلہ تعامل اعتقادی یا عملی سے ثابت ہوجائیں وہ اوّل درجہ کے یقینیات ہوتے ہیں۔ ان پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کاکام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی سے کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔

۵… مرزا صاحب اس عقیدہ کو اب الہام اور اعلام الٰہی سے غلط جانتے تھے۔

۶… پہلے مرزا صاحب بھی اس کو احادیث کی بناء پر صحیح مانتے تھے اور اسی عقیدہ کے معتقد تھے۔

نتیجہ نمبر۶ اگرچہ حوالہ جات سابقہ سے ثابت ہورہاہے۔ لیکن مزید توضیح کے لئے ایک حوالہ (ازالہ اوہام ص۱۹۸، خزائن ج۳ ص۱۹۶) سے نقل کیا جاتاہے مرزا صاحب لکھتے ہیں: ’’یہ عقیدہ جو براہین احمدیہ میں درج ہے صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔‘‘

اس عبارت سے صاف ثابت ہوگیا کہ مرزا صاحب کا عقیدہ حیات مسیح رسمی نہ تھا بلکہ احادیث نبویہ کی پیروی کا نتیجہ تھا اور پہلے ہم ثابت کر آئے ہیں کہ براہین میں اسی عقیدہ کو مرزا صاحب نے اپنے الہام اور قرآن سے ثابت کیا ہے۔ پس مرزا صاحب کا یہ عقیدہ قرآن وحدیث اور اپنے الہام کی بناء پر تھا۔

اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بقول مرزا غلام احمدصاحب اس کی اصل حقیقت کا انکشاف صرف مرزا صاحب پر ہواہے اور وہ بھی ان دعویٰ الہام کے بارہ برس بعد۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آنحضرتﷺ صحابہ کرامi اور تمام امت کا اعتقاد بزعم مرزا صاحب اصل حقیقت کے خلاف تھا۔ یعنی حیات مسیحm کا اور انہیں کے بعینہٖ نازل ہونے کا نہ کسی مثیل کا اور اسی بناء پر مرزا صاحب نے اسی کتاب ازالہ اوہام

348

ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳پر لکھ دیا کہ اگر آنحضرتﷺ پر ابن مریم وغیرہ وغیرہ کی اصل حقیقت نہ کھلی ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ (معنیً)

اس طرح مرزا صاحب نزول مسیح کی اصل حقیقت مرزا صاحب پر منکشف ہونے اور ان سے پہلے آنحضرتﷺ اور تمام امت پر مخفی رہنے کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہے ظاہر کرے اور مخفی کرے، اس کے ہر ایک فعل میں مصلحتیں حکمتیں اور امتحان ہوتے ہیں۔ لیکن اکثر آدمی اس بات کو جانتے نہیں۔ وہ شریعت کے ظاہر اور چھلکے کو تو جانتے ہیں اور اس کے مغزسے غافل ہیں اور جب ان پر سر حقیقت ظاہر کیا جاتاہے تو ان کی آنکھیں اس کو حقارت سے دیکھتی ہیں اور بدگمانی کرکے کافر ہوتے ہیں۔‘‘

اور کہتے ہیں: ’’ساری امت کسی طرح خطاء اور غلطی پر متفق اور ہم خیال ہوگئی اور ہم کیونکر یہ سمجھ لیں کہ وہ سب غلطی پر تھے اور تم حق پر ہو۔ ان پر افسوس ہو یہ کیوں اس بات کو نہیں جانتے مانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بات پر غالب ہے، جب وہ کسی بات کو چھپانے کا ارادہ کرے تو سمجھنے والے اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس کے سنن کو قرآن میں پڑھ کر غافل رہتے ہیں۔‘‘

’’کیا وہ اس بات کو نہیںجانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقربین انبیاء سے بعض باتوں کو پوشیدہ رکھتا ہے اور وہ اس اخفاء کی وجہ سے متحان کیے جاتے ہیں اور کسی امت کا حق نہیںہے کہ اپنے فہم میں انبیاء پر بڑھ جائے… تم خدا کے امتحان سے کیوں نہیں ڈرتے، کہیں نزول مسیح کی پیش گوئی تمہارے لئے فتنہ ہی نہ ہو۔‘‘ یہ ترجمہ ہے مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ (آئینہ کمالات اسلام ص۴۵۴،۴۵۵، خزائن ج۵ ص۴۵۴،۴۵۵) ’’یخفی مایشاء ویبدی وفی کل فعلہ مصالح وحکم وابتلات (الی) ولعل بنأ نزول المسیح یکون فتنۃ لکم‘‘

عبارت محوّلہ میں مرزا صاحب نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نزول مسیحm کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے ایک فتنہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا اور ساری امت اس کی اصل حقیقت کے سمجھنے میں غلطی پر تھی اور جب اللہ تعالیٰ مقربین انبیاء پر بھی بعض باتوں کی حقیقت کو مخفی رکھتا تو امت اپنے فہم اور سمجھ میں نبی سے کیونکر بڑھ سکتی ہے۔

پھر اسی کتاب آئینہ کمالات اسلام کے (ص۵۵۲،۵۵۳، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں: ’’فتضرعت فی حضرۃ اللہ تعالیٰ وطرحت بین یدیہ متمنیاً لکشف سرا نزول وکشف حقیقۃ الدجال (الی) فاخبرنی ربی ان النزول روحانی لاجسمانی‘‘یعنی میں نے خدا کے حضور میں تضرع کیا اور نزول مسیح کا سر اور حقیقت دجال کے انکشاف کی آروز میں خدا کے سامنے میں نے اپنے آپ کو گرادیا تاکہ مجھے علم الیقین اور عین الیقین حاصل ہو تو اللہ تعالیٰ کی عنایت میری تعلیم اور تفہیم کی طرف متوجہ ہوئی اور اس نے مجھے اپنی طرف سے الہام کیا اور تعلیم کیا کہ نزول مسیح کا اصل مفہوم صحیح ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مخفی رکھنے کا ارادہ کیا ہواتھا۔ پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مکر اور ابتلاء ان کے افہام پر غالب آگیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے منہ کو حقیقت روحانی کی طرف سے پھیر کر جسمانی خیال (یعنی نزول جسمانی) کی طرف متوجہ کردیا اور اسی پر قناعت کئے رہے اور یہ خبر ان کے پاس لکھی ہوئی اور قرناً بعد قرنٍ اسی طرح چھپی ہوئی چلی آئی، جس طرح دانہ بالی میں چھپاہوا ہوتاہے۔ یہاں تک کہ ہمارا یہ زمانہ آگیا اور اسلام کمزور ہوگیا۔ گناہ بڑھ گئے، عیسائی غالب ہوگئے اور انہوں نے ان عشاق پر جو حرمین کے شکار کی مانند تھے، حملہ کردیا اور ہم پر وہ مصیبتیں آئیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا اور زمین ہم پر تنگ ہوگئی اور ناصرین کو دیکھتے دیکھتے ہماری آنکھیں سوج گئیں تو (اب) اللہ تعالیٰ نے صداقت کی صبح کے ظاہر کرنے کا ارادہ کیا… اور مجھے یہ خبر دی کہ نزول روحانی ہے، جسمانی نہیں۔‘‘

خلاصہ کلام بالا یہ ہے کہ حقیقت نزول مسیحm کا اظہار اللہ تعالیٰ نے صرف مرزا صاحب پر کیا اور وہ بھی بڑے تضرع وزاری اور استکشاف حقیقت کی آرزو میں مرزا صاحب کے اپنے آپ کو حضور خداوندی میں ڈال دینے کے بعد اوراس سے پہلے قرون اسلام میں یہ خبر ایسی مخفی تھی جس طرح ایک دانہ بالی میں چھپا ہوتاہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو مخفی رکھنے کا ارادہ کر لیاہوا تھا

349

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مکر اور ابتلاء اور تقدیرکے ماتحت مسلمانوںکے منہ حقیقت روحانی نزول جسمانی کی طرف پھیر دئیے اور ان کو شرک اور جھوٹ کی اندھیری رات میں رکھا۔ جب مرزا صاحب کا زمانہ آیاتو صداقت کی صبح نمودار کردی۔ خیر یہ بات تو الگ رہی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے حبیبa اور اس کی امت کو اس تکلیف سے (معاذ اللہ ) گمراہ اور مشرک بنانے میں بقول مرزا صاحب کیا لطف تھا؟ لیکن یہ بات نہایت صفائی سے مرزا صاحب نے اس جگہ واضح کردی کہ آنحضرتﷺو صحابہ کرامi، تابعین،تبع تابعین، علماء، اولیاء، محدثین، مفسرین، مجددین، عوام وخواص امت سب مشرک بت پرست اور مخلوق پر ست تھے اور مرز اصاحب بھی باون سال کی عمر تک یعنی دعویٰ الہام کے بارہ برس تک مشرک تھے۔ مرزا صاحب کا یہ کفر بڑا عظیم الشان اور انتہائی درجہ کی توہین ہے۔

باقی رہا مختار مدعاعلیہ کا یہ قول کہ مرزا صاحب نے پہلے لوگوں کو قابل معافی قرار دیا ہے، یہ محض ابلہ فریبی اور طفل تسلی ہے۔ شرک اور بت پرستی قابل معانی نہیں۔ ’’ان اللہ لا یغفر ان یشکر بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء‘‘ اور فرمایا: ’’ومن یشرک ب اللہ فکانما خر من السمآء فتخطفہ الطیر او تہوی بہ الریح فی مکان سحیق (الحج)‘‘اور شرک سے مراد منجر الی الشرک لینے کا جواب اوپر آچکاہے۔

توہین مسیحm

پیش گوئیاں

قول مختا مدعاعلیہ :

اس جگہ مرزا صاحب کو ان لوگوں کا جواب منظور ہے جو انبیاء میں اجتہادی غلطی کو نہیں مانتے اور عیسائیوں کی تردید بھی ہے۔ مرزا صاحب حضرت عیسیٰm کی نبوت کو ثابت کررہے ہیںنہ کہ باطل ملخصاً۔

الجواب: مرزا صاحب نے ازالہ اوہام اور اعجاز احمدی میں جن کے حوالہ جات مذکور ہو چکے ہیں۔ حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں کو صاف صاف طور پر جھوٹی کہاہے اور انتہائی تحقیر اور استخفاف سے ان کو بطور طعن بیان کیا ہے اورا گرچہ اجتہاد کی غلطی کے الفاظ بھی کہتے جاتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ان کی تکذیب بھی اس زور وشور سے اور صفائی سے کرتے ہیں جو ان کو اجتہادی غلطی کی حدود میں رہنے نہیں دیتی۔ حضرت مسیحm کی نبوت کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ لیکن ضعیف اور کمزور پیرایہ میں اور ابطال نبوت کے دلائل بڑے زبردست اسلوب اور پرشوکت الفاظ میں بیان کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتاہے کہ اجتہادی غلطی کا بہانہ اور اقرار نبوت استہزاء اور تمسخر ہے۔ ملاحظہ ہو (ازالہ اوہام ص۵تا۸، خزائن ج۳ ص۱۰۵،۱۰۶) ’’اے نفسانی مولویو اور خشک زاہدو! تم پر افسوس (الی) لغزشیں پیش آگئیں۔‘‘

ظاہر ہے کہ اس عبارت میں علماء اسلام اور صوفیہ کرام مرزا صاحب کے مخاطب ہیں نہ عیسائی۔ بقول مرزا صاحب علماء اسلام نے مطالبہ کیا کہ اگر تم مسیح ہو تو معجزات مسیحی دکھاؤ جس کے جواب میں مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں۔ احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا اوراس کا ظہور ہوگا۔

۲… دوسرا جواب یہ دیتے ہیں کہ: ’’ماسواء اس کے اگر مسیح کے اصل کاموں کو ان حواشی سے الگ کرکے دیکھا جائے تو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق کو دور نہیں کرتا اور پیش گوئیوں کا حال اس سے زیادہ ابتر ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے مری پڑے گی،

350

لڑائیاں ہوں گی، قحط پڑیں گے اوراس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔ انہوں نے یہود ااسکریوطی کو بہشت کے بارہ تختوں میں سے ایک تخت دیا تھا جس سے وہ آخر محروم رہ گیا اور پطرس کو نہ صرف تخت بلکہ آسمان کی کنجیاں بھی دے دی تھیں اور بہشت کے دروازے کسی پر بند ہونے یا کھلنے اسی کے اختیار میں رکھے تھے۔ مگر پطرس جس آخری کلمہ کے ساتھ مسیح سے الوداع ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے مسیح کے روبرو مسیح پر لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر کہ میں اس شخص کو نہیں جانتا۔ ایسا اور بھی بہت سی پیش گوئیاں ہیں جو صحیح نہیں نکلیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶،۷، خزائن ج۳ ص۱۰۵،۱۰۶)

عبارت مسطور بالا سے دو باتیں صاف ثابت ہیں۔

۱… اوّل یہ کہ مرزا صاحب کے نزدیک یہ مطاعن عیسویہ جو اوپر بیان ہوئے، ثابت اور امور واقعیہ ہیں اور مرزا صاحب کا یہ عندیہ اور اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ کی پیش گوئیاں نہایت حقیر اور نکمی تھیں اور ان کے معجزات سے بھی زیادہ ابتر تھیں۔ مع ہذا وہ اکثرجھوٹ ثابت ہوئیں۔

۲… مرزا صاحب کی غرض ان مطاعن مذکورہ کے ذکر سے ان مسلمانوں کو جواب دینا ہے۔ بقول مرزا صاحب جو مرزا صاحب سے مسیحm کی طرح معجزہ نمائی کا مطالبہ کرتے تھے۔ عیسائیوں کو الزام دینا۔

پیش گوئیوں کی مزید کیفیت (اعجاز احمدی ص۵، خزائن ج۱۹ ص۱۱۱) پر اپنی پیش گوئیوں کی نسبت بیان کرتے ہیں۔ ’’ایک پیش گوئی بھی جھوٹی نہیں نکلی بلکہ تمام پیش گوئیاں صفائی سے پوری ہوگئیں… یہ تو میری پیش گوئیوں کی واقعی حقیقت ہے مگر جو اس یہودی فاضل نے حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں پر اعتراض کئے ہیں، وہ نہایت سخت اعتراض ہیں۔ بلکہ وہ ایسے سخت ہیں کہ ان کا تو ہمیں بھی جواب نہیں آتا اور اگر مولوی ثناء اللہ یا مولوی محمدحسین یا کوئی پادری صاحبوں میں سے ان اعتراضات کا جواب دے سکتے تو ہم ایک سو روپے نقد بطور انعام اس کے حوالہ کریں گے۔ خدا کہلا کر پیش گوئیوں کا یہ حال اس سے تو ہمیں بھی تعجب ہے۔ ایسی پیش گوئیوں پر تو نسخ بھی جاری نہیں ہوسکتا۔ تا یہ خیال کیا جائے کہ وہ منسوخ ہوگئی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰) ’’اور یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملہ اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔‘‘

اور(اعجاز احمدی ص۱۳،۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱) پر لکھتے ہیں: ’’غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قرار دیا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کرسکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں، عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں۔ مگر یہاں نبوت بھی ان کی ثابت نہیں ہوسکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰm کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کوئی زمین پرہے جو اس عقدہ کو حل کرسکے۔‘‘

ان حوالہ جات سے مفصلہ ذیل باتیں ثابت ہوئیں۔

۱… مرزا صاحب کی تمام پیش گوئیاں نہایت صفائی سے پوری ہوگئیں، ایک بھی جھوٹی نہیں ہوئی۔

۲… حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں پر یہودی فاضل کے واقعی ایسے سخت اعتراض ہیںجن کا جواب نہ مرزا صاحب دے سکتے ہیں، نہ کوئی اور علماء اسلام میں سے نہ کوئی عیسائی۔

351

۳… مرزا صاحب ان اٹل اور لاجواب اعتراض کا جواب دینے والے کو سوروپیہ انعام دیں گے۔ ساتھ ہی اس کے یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اپنی پیش گوئیاں کی نسبت آپ نے تحدی کی ہے۔ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب میری پیش گوئیوں کو جھوٹا ثابت کرے تو خدا کی قسم ہر پیش گوئی پر سوروپیہ انعام دوں گا۔ ملاحظہ ہو(اعجاز احمدی ص۱۱، خزائن ج۱۹ ص۱۱۷،۱۱۸) ’’اور مولوی ثناء اللہ نے موضع مد میں بحث کے وقت یہ بھی کہاتھا (الی) ثبوت ہمارے ذمہ ہوگا۔‘‘

۴… حضرت عیسیٰm کی نبوت پر کوئی دلیل نہیں۔

۵… حضرت عیسیٰm کی ابطال نبوت پر کئی دلیلیں موجود ہیں۔

۶… ہم ان کو نبی صرف اس وجہ سے مانتے ہیں کہ قرآن نے نبیوں کے دفتر میں ان کانام لکھ دیاہے۔

۷… ان مقامات محولہ بالا میں بھی مسلمان مخاطب ہیں۔ اگر کسی جگہ عیسائی کا ذکر ہے توتبعاً ہے اور محض ضمنی طور پر۔

عبارت (اعجاز احمدی ص۵، خزائن ج۱۹ ص۱۱۱) پر جو مرزا صاحب نے اس فاضل یہودی کے اعتراض کو لاجواب قرار دیاہے۔ یہ وہی اعتراضات ہیںجن کو (اعجاز احمدی ص۴،خزائن ج۱۹ ص۱۱۰) پر مرزا صاحب نے ذکر کیا ہے۔ یعنی تخت داؤد بہشت کے تختوں یہودا اسکریوطی اور پطرس وغیرہ کی پیش گوئیاںجس کا مختار مدعاعلیہ نے جواب البحث میں حوالہ دیا اور (اعجاز احمدی ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰) پر انہیں اعتراضات یہود کے بعد لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی نبوت کے ابطال پر کئی دلائل قائم ہیں۔ اسی طرح (اعجاز احمدی ص۱۳،۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱) پر انہی اعتراضات کی بناء پر حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں پر ماتم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی شخص اس عقدہ کو حل نہیں کرسکتا۔

اس بیان سے یہ امر بخوبی ثابت ہورہاہے کہ مرزا صاحب کے عندیہ اور عقیدہ میں فاضل یہودی کی بیان کردہ پیش گوئیاں درحقیقت حضرت عیسیٰm نے اسی صورت میں قطعاً اور یقینا کی تھیں اور صاف اورصریح طور پر جھوٹی نکلیں اور ان کا جواب محال اور ناممکن ہے۔

ازالہ اوہام کی عبارت سے بھی جس کا حوالہ اوپر گزر چکاہے۔ یہ بات صاف ہوگئی تھی کہ مرزا صاحب کا یہ عندیہ اور عقیدہ ہے اور انہی حالات کی بناء پر مرزاصاحب نے کہا تھا کہ حضرت عیسیٰm کی نبوت کے ابطال پر کئی دلیلیںموجودہیں اور نبوت کی کوئی دلیل ثابت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ مرزا صاحب نے اصولاً اس بات کو ماناہے کہ ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں باطل ہوجائیں۔ جیسا کہ مختار مدعاعلیہ نے بحوالہ (کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵) کہا تھا۔ لہٰذا ان حالات کی موجودگی میں اجتہادی غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیںرہتی۔کیونکہ حسب تصریح مرزا صاحب جب کہ خود مرزا صاحب اور دیگرانبیاءo حتیٰ کہ سید المرسلینa تک جب کہ اجتہادی غلطی کرسکتے ہیں تو حضرت مسیحm کی اجتہادی غلطی پر مرزا صاحب نے اس قدر طعن وتشنیع کیوں کہ اور فاضل یہودی یا شریر یہودی کی ہمنوائی اختیار کرکے اس کو لاجواب اور لاینحل عقدہ اوردلائل ابطال نبوت عیسیٰm کیوں قرار دیا۔ حالانکہ کسی اور نبی کی اجتہادی غلطی پر اس قدر سنگین الزام نہیں لگائے۔ بلکہ اس کو انبیاء کے حق میں جائز اور ایک معمولی امر قراردیاگیاہے۔

پس اسی اصول سے اس شریر یا فاضل یہودی کو جواب دیا جاسکتاہے کہ اوّل تو اسلام اور قرآن کے رو سے تم محرفین اور کذابین کے حوالوں اور کتابوںکاکوئی اعتبار ہی نہیں۔ مرزا صاحب مختار مدعاعلیہ کی محولہ عبارت (اعجاز احمدی ص۲۵، خزائن ج۱۹ ص۱۳۴) میں خود لکھتے ہیں: ’’جوبات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔‘‘

دوم یہ کہ اگر کوئی بات اس قسم کی بفرض محال والتسلیم ہوگی تو ایسی پیش گوئی ہوگی جو محتمل الوجوہ اور قابل تاویل ہوگی یا بدرجہ غایت غلطی اجتہاد لیکن مرزا صاحب کے حوالہ جات سابقہ سے معلوم ہوتاہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی عیسوی پیش گوئیوں میں موجود نہیں، نہ اجتہادی غلطی کی گنجائش نہ تاویل کی صورت اور نہ واقعات بیان کردہ یہود میں کذب اور جھوٹ کا شائبہ مرزا صاحب ان واقعات کو سچ اور

352

صحیح جان کر حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں کو ایسا صاف اور صریح اور قطعی طور پر جھوٹا سمجھتے ہیں کہ ان کی توجیہہ نہ مرزا صاحب سے ہوسکتی ہے، نہ روئے زمین پر کسی اور شخص سے اور مرزا صاحب کے عقیدہ میں حضرت عیسیٰm کی نبوت کے ابطال پر کئی ادّلہ قطعیہ موجود ہیں اور اثبات نبوت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کا بعض مواضع پر نہایت کمزور اسلوب اور دھیمی آواز میں اجتہادی غلطی کہنا محض ابلہ فریبی اور تمسخر اور استہزاء ہے۔ چنانچہ وہ عبارتیںجو مختار مدعاعلیہ نے (اعجاز احمدی ص۲۵،۲۶، خزائن ج۱۹ ص۱۳۵) سے نقل کی ہیں۔ نیز (اعجاز احمدی ص۲۴، خزائن ج۱۹ ص۱۳۳) کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ مرزا صاحب اجتہادی غلطی کا عذر بھی کرتے جاتے ہیں کہ اس سے نبوت میں خلل نہیں آتا اور ساتھ ساتھ طنز اور نبوت پر جرح وقدح بھی کرتے جاتے ہیں اور حوالہ جات سابقہ میں تو ابطال نبوت عیسیٰm کا پورا سامان اکھٹا کردیاہے۔

قول مختار مدعاعلیہ کہ مرزا صاحب کا قرآن کریم کے سہارے پرحضرت عیسیٰm کی نبوت کو تسلیم کرنا، ان کی توہین اور ہتک نہیں ہے۔ اس کو توہین سمجھنا مختارمدعیہ کاانوکھی طرز کا استدلال ہے، وغیرہ کا جواب یہ ہے کہ مختار مدعیہ کا یہ منشاء نہ ہے نہ ہوسکتاہے۔ کیونکہ تمام انبیاء سابقین کی نبوت پر ایمان لانے کا قرآن مجید نے ہی ہم کو حکم دیا ہے اور صرف اتنی بات کسی نبی کی توہین کا موجب نہیں ہوسکتی۔

ہاں! البتہ جس مخصوص انداز سے مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰm کی نبوت کو قرآن سے مانا ہے وہ نہ صرف ان کی توہین کا موجب ہے بلکہ قرآن کریم پر بھی ایک کھلا کھلا طعن ہے جس سے ایک مخالف اسلام اور قرآن نہایت آسانی سے حملہ آور ہوسکتاہے۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ (اعجاز احمدی ص۱۳،۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰،۱۲۱) دو جگہ پر جہاں مرزا صاحب نے اس مضمون کو بیان کیا ہے۔ وہ عبارتیں ہم نے اوپر نقل کر دی ہیں۔ ان کو بغور پڑھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰm کی نبوت کی نسبت مرزا صاحب نے وہاں دو متضاد باتیں جمع کردی ہیں۔

۱… ابطال نبوت مسیح کے دلائل کا اقرار۔

۲… قرآن مجید کا نبیوں کے دفتر میں ان کا نام لکھ دینا۔

اس صورت میں مرزا صاحب کو جو مشکل در پیش ہے۔ اس کا انداز ہ کچھ مشکل نہیں ہے۔ قرآن کریم کا صاف انکار بھی مشکل جس نے حضرت عیسیٰm کا نام نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔ ادھر حضرت عیسیٰm کی نبوت کے باطل ہونے پر دلائل لا جواب بھی موجود۔ بحکم قہر درویش بجان درویش چاروناچار نبوت عیسوی کا اقرار کردیا۔ لیکن نبوت کو باطل کرنے والے دلائل کا ذکر واقرار بھی بالمقابل ساتھ ہی ساتھ کررہے ہیں۔ بہرحال اس حالت کذائی میں حضرت عیسیٰm کی توہین، بلکہ انکار نبوت مصرح ہے اور اقرار ’’اتخذوا ایمانہم جنۃ‘‘ کا مصداق۔

اب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ جب بقول مرزا صاحب حضرت عیسیٰm کی نبوت کے ابطال و بطلان پر ایک نہ دو، کئی دلیلیں موجود ہیں تو اس حقیقت نفس الامری کے برخلاف قرآن کریم نے حضرت عیسیٰm کا نام نبیوں کے دفتر میں کیوں لکھ دیا۔ اس سے توقر آن مجید کی جرح وتعدیل کا کوئی اعتبار نہ رہا اور امان اٹھ گئی۔ قرآن مجید تو آئینہ حقائق تھا لیکن یہاں سے تو یہ معلوم ہوا کہ وہ ان لوگوں کو جن کی نبوت کے ابطال اور بطلان پر کئی ایک دلائل فی الواقعہ موجود ہیں۔ ان کو بھی ایک اولی العزم نبی اور برگزیدہ رسول صاحب کتاب قرار دیتاہے۔ اندریں صورت ا س کی کسی بات کا بھی اعتبار نہ رہا اور نہ وہ کتاب اللہ تسلیم کیا جاسکتاہے۔ ’’معاذ اللہ سبحانہ وتعالیٰ عما یصفون‘‘

غالباً اسی خیال سے مرزا صاحب نے (اعجاز احمدی ص۱۳،۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰) پر اظہار افسوس کیا ہے اور لکھا ہے: ’’غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قراردیا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں۔ کسی طرح ہم ان کو

353

دفع نہیں کرسکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کرلیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ عیسائی تو ان کی نبوت کو روتے ہیں۔ مگر یہاں نبوت بھی ثابت نہیں ہوسکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰm کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرسکے۔‘‘ اور (اعجاز احمدی ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰) ’’اور یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیاں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے یہ کہہ دیں ضرور عیسیٰm نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیاہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیںہوسکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیںاو ر یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔‘‘

اور اوپر ثابت کیا جاچکاہے کہ جویہودکے اعتراض ہیں۔ وہی مرزا صاحب کے اعتراض ہیں اور مرزا صاحب کا عندیہ اور عقیدہ اس امر میں ان کے موافق ومطابق ہے اور اسی خیال سے مرزا صاحب نبوت عیسویہ کے بطلان پر ادّلہ موجود ہونے کے باوجود قرآن مجید کے ان کی نبوت منوانے پر افسوس کررہے ہیں۔ پس ہمارا پیش کردہ سوال مذکورہ بالا مرزا صاحب کے خیال پر وہ عقدہ ہے جس کی نسبت بقول مرزا صاحب یہ کہنا صحیح ہے کہ آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرسکے اور غالباً مرزا صاحب کے کلام میں اسی عقدہ کی طرف اشارہ لفظ حصور و قصہ عطر وغیرہ ہے۔ مختار مدعیہ نے دافع البلاء کی عبارت کی بناء پر جو اعتراض مرزا صاحب پر قائم کیا تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰm کی توہین کی ہے۔

۱… اس کے جواب میں مختار مدعاعلیہ نے بہت کچھ طویل تحریر لکھی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ مرزا صاحب نے جو کچھ کہا ہے وہ عیسائیوں کے مسلمات کی بناء پر کہا ہے، نہ یہ کہ وہ ان کا اپنا عقیدہ تھا۔ یعنی کسی فاحشہ عورت کی ناپاک کمائی کے عطر کو مسیحm کا استعمال کرنا یا اپنے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھونا یا کسی بے تعلق جوان عورت کا مسیح کی خدمت کرنا، یہ باتیں یہودیوں اور عیسائیوں کے مسلمات سے ہیں، نہ کہ مرزا صاحب کا یہ عندیہ اور عقیدہ ہے اور یہ عیسائیوں کو الزام دینے کی خاطر سے بیان ہوئی ہیں۔ جیسا کہ لفظ ’’نہیں سنا گیا‘‘ اور ’’بعد میں بنایا گیا‘‘ سے مفہوم ہوتاہے۔

۲… مختار مدعاعلیہ کہتے ہیں اسلامی تعلیم میں ان باتوں کا نشان نہیں پایا جاتا۔

۳… مسلمان بھی اس الزام میں ملحوظ ہیں جو بغیر اکل وشرب ان کو زندہ مانتے ہیں اور بقول مرزا صاحب ان کے مخالف خدا کے مخالف نام کے مسلمان ہیں۔

لیکن ظاہرہے کہ وہ الزام جو مختار مدعیہ نے قائم کیا(کہ مرزا صاحب کا ان قصوں کو اورشراب پینے کو اس امر کا باعث قرار دیناکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قرآن میں حصور نام نہ رکھا اور حضرت یحییٰ کا نام حصور رکھا ثابت کرتاہے کہ مرز صاحب اور خدا کے نزدیک درحقیقت حضرت عیسیٰm میں یہ عیب موجود تھے) ان جوابوں سے رفع نہیں ہوسکتا۔ ملاحظہ ہو

(بحث مختار مدعیہ وبیان گواہان مدعیہ نمبر۲،۳)

مختار مدعاعلیہ نے حضرت مسیح کی شراب نوشی کا جو جواب دیا ہے کہ ان کی شریعت میں حلال تھی وہ بھی سست ہوگیا اور ثابت ہوگیا کہ در حقیقت ان کی شان کی نسبت یہ عیب اور قدح کی چیز تھی جو حصور کی صفت کے منافی تھی۔

مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کو بری ثابت کرنے کے لئے جو یہ کہا تھا کہ یہ واقعات اور قصے محض یہودیوں اور عیسائیوں کے نزدیک مسلم ہیں نہ مرزا صاحب کے نزدیک اوراسلامی تعلیم میں ان کا کوئی نشان نہیں۔ اس کی نسبت جواباً گزارش ہے کہ بے شک اسلامی تعلیم میں عصمت انبیاء کا عقیدہ مسلمہ ہے اور ایسے فواحشات سراسر منافی عصمت۔ لہٰذا یہ بالکل صحیح ہے کہ اسلامی تعلیم میں ان کا کوئی نشان نہیں۔ یہ کہنا کہ مرزا صاحب کایہ عندیہ اور عقیدہ نہیں ہے۔ سراسر غلط اور جھوٹ ہے۔ جیسا کہ مختار مدعیہ کی بحث اور گواہان مدعیہ کے بیانات

354

سے ثابت ہے اور دافع البلاء کی عبارت میں جو تکلف اور غلط تاویل مختار مدعاعلیہ نے کی ہے وہ کسی طرح صحیح نہیں اور نہ جواب مختار مدعیہ۔

اس کے ماسواء مختار مدعاعلیہ نے جو حوالہ (تریاق القلوب ص۱۴۲،۱۴۳، خزائن ج۱۵ ص۴۵۳ حاشیہ درحاشیہ) سے اپنے جوابات کی تائید وتقویت کے لئے پیش کیا ہے۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ عیوب وفواحش درحقیقت مسیحm میں موجود تھے اور مرزا صاحب کا یہی عقیدہ ہے اور مختار مدعاعلیہ کا یہ قول غلط اور جھوٹ ہے کہ مرزا صاحب کا یہ عقیدہ نہیں۔ محض عیسائی اور یہودیوں کے مسلمات ہیں بلکہ اس میں تو مرزا صاحب نے اورغضب ڈھایاہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ فواحش و عیوب مسیحm میں خداتعالیٰ کی تعلیم اور حکم سے تھے۔ ملاحظہ ہو حوالہ مذکورہ کی عبارت محولہ مختار مدعاعلیہ ’’ہرایک رسول یا نبی یا محدث یا مامور من اللہ جو دنیا میں آتاہے (الیٰ آخرہ) اور اسی بناء پر حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا طریق تعلیم عطاء کیا تھا…الخ!

اس حوالہ میں مرزا صاحب نے صرف حضرت مسیحm کے لئے بلکہ ہر ایک نبی اور رسول اور مامور من اللہ کے لئے اصولی طور پر یہ سنت قرار دی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسے فواحش اور فسق وفجور کے ارتکاب کی تعلیم دیتاہے، جس سے شریر آدمی ان پر الزام لگا سکیں۔

معاذ اللہ سبحانہ وتعالیٰ عما یصفون!

مرزا صاحب کا یہ فلسفہ اسلامی فلسفہ اور قرآن کریم کی صاف تکذیب ہے اللہ تعالیٰ تو فرماتاہے: ’’قل ان اللہ لایامر بالفحشآء اتقولون علی اللہ مالاتعملون‘‘نیز فرماتاہے کہ:’’وینہیٰ عن الفحشآء والمنکر نیز فرماتاہے کہ:’’قل انما حرم ربی الفواحش ماظہر منہا ومابطن‘‘ یعنی کہہ دو اللہ بے حیائیوں کا حکم نہیں کرتا۔ کیا تم اللہ پر ان باتوں کا افتراء کرتے ہو جو تم جانتے ہی نہیں۔ یہی باقی آیات کا مفہوم ہے۔ لیکن مرزا صاحب نے ان آیات قرآنیہ کے صریح خلاف اللہ تعالیٰ کو صریح فواحش کی تعلیم دینے والا قرار دیا اور اس کو عادت اللہ قرار دیااور وہ ان لوگوں کے حق میں جن کو تمام دنیا کے لئے عملی نمونہ قرار دیا جاتاہے اور پھر یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ جب بقول مرزا صاحب ایسے فواحش کا ارتکاب انبیاء سے سرزد ہو تو ان پر الزام لگانے والے شریر اور خبیث کیونکر ہوئے۔ لیکن اس معمہ کو بھی ان شاء اللہ ہم حل کردیں گے۔

اب ہم اپنے بیان مذکورہ بالا کی مزید توضیح اور توثیق اور مرزا صاحب کے اس عقیدہ ٔ کفریہ کو الم نشرح کرنے کے لئے اسی کتاب تریاق القلوب کا حوالہ پیش کرتے ہیں جس کو مرزا صاحب نے زیادہ توضیح اور بسط سے بیان کیا اور اس کی امثلہ پیش کی ہیں اور اس فعل شنیع کا فلسفہ اور حکمت بیان کی ہے ملاحظہ ہو۔

مرزا صاحب کا (حاشیہ تریاق القلوب جو ص۱۲۳ سے شروع ہوکر ص۱۲۷، خزائن ج۱۵،ص۴۲۰،۴۲۴) تک پانچ صفحوں پر لکھا گیا ہے۔ اس حاشیہ میں مرزا صاحب نے چند باتیں لکھیں ہیں جن کا ماحصل یہ ہے۔

۱… ’’عظیم الشان انبیاء اور صدیقین سے ایسے کاموں کا سرزد ہونا جو اخلاقی حالتوں اور معاشرتی طریق میں قابل ملامت ہوں اور ان امور کا خضر کی طرح خدا کے علم اور حکم سے ہونا۔‘‘

۲… ’’وہ امور اس قسم کے بھی ہوتے ہیں، جن کو مال حرام کھانا، خون ناحق کرنا، جھوٹ بولنا، عہد شکنی، زنا کاری کے مال حرام کو استعمال کرنا۔ نامحرم حسین اور جوان عورت سے اپنے اعضاء کو ملانا وغیرہ سے موسوم کیاجاتاہے اور یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم اور اجازت سے ہوتی ہیں جس طرح۔‘‘

۳… ’’عیسیٰm کو اللہ تعالیٰ نے آخری باتوں کا اذن دیا۔‘‘

۴… ’’اس قسم کی چند اور مثالیں۔‘‘

355

۱… حضرت موسیٰm اور بنی اسرائیل کے قبضہ میں بے گناہ لوگوں کے مال اللہ تعالیٰ نے دئیے جو نہایت قابل شرم دروغ گوئی سے حاصل کئے گئے تھے اور عہد شکنی سے ہضم کئے گئے۔

۲… آنحضرتﷺ پر عیسائیوں کے الزامات۔

۳… حضرات شیخینi پر روافض کے الزامات در بارہ عفت ودیانت وامانت وغصب ونفاق۔

۴… اللہ تعالیٰ ایسا اس لئے کرتاہے تاکہ اپنے خاص مقبولوں اور محبوبوں کو بدبخت شتاب کاروں سے مخفی رکھے اور تاکہ وہ خبیث طبع انسانوں کا خبث ظاہر کرے اور شریروں کا امتحان ہو۔ ان تمام باتوں کا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب نے سراسر مغالطہ اور دھوکا دہی سے کام لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان امور کے حکم اور اذن کی نسبت کرنا افتراء ہے اور تعلیم اسلامی اور قرآن بلکہ جملہ ادیان کے خلاف۔ رہا خضر کا واقعہ تو اس کا تعلق تکوین سے ہے نہ تشریع اور شرائع سے اس پر انبیاء شرائع کے اعمال کو قیاس کرنا سراسر مغالطہ ہے یاناواقفی اور جہالت۔ انہوں نے تو حضرت موسیٰm سے پہلے ہی کہہ دیاتھا انک لن تستطیع معی صبراًیعنی میں اور کام پرہوں تو ااور کام پر یعنی تو بوجہ مامور بالشریعت ہونے کے میرے ساتھ نہیں رہ سکتا۔

آنحضرتﷺ حضرت موسیٰm حضرات شیخین (صدیق اکبرq اور فاروق اعظمq) کی مقدس ہستیوں میں ایسے افعال کا تسلیم کرنا، مرزا صاحب کی بڑی بے باکی اور جرأت ہے۔ علماء اسلا م اور اہل سنت والجماعت کی طرف سے متعصب اور ضدی مخالفین کو اس کے جوابات کما حقہ دئیے جاچکے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب نے تو اس جگہ عیسائیوں اور روافض کی فتح کا اقرار کرکے ہتھیار ڈال دئیے اور یہ کہہ کر دامن چھڑا لیا کہ ایسے افعال شنیعہ کا انبیاء اور اولیاء سے سرزد ہونا بحکم الٰہی ہوا ہی کرتاہے۔ گویا اعترضات مسلم اور جواب وہ جس کو کوئی معقول انسان کچھ وقعت نہ دے سکتا ہو۔ کیونکہ وہ قرآن کریم اور اسلام بلکہ تمام ادیان وشرائع سماویہ کو درہم برہم کرنے والا اوران کا مخالف اور مکذب ہے۔

بہرحال مرزا صاحب نے مسیحm کے قصہ کو تسلیم کر لیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے فاحشہ عورتوں کی حرام کمائی کے عطر وغیرہ کو استعمال فرماتے تھے اور جوان حسین نامحرم عورتوں کے اعضاء سے اپنے اعضاء ملایا کرتے تھے۔

بیان مذکورہ بالا سے ثابت ہوگیا کہ مرزا صاحب نے حضرت موسیٰm کو بھی دروغ گوئی عہد شکنی اور حرام خوری کا مرتکب قرار دیا ہے۔ کیونکہ ان واقعات کو تسلیم کر لیا ہے اورا ن کے نتائج مذکوہ بالا کو خود بیان کیا ہے اور جو جواب ہے وہ سراسر نامعقول اور بمنزلہ صفر کے ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب توہین عیسیٰm، توہین موسیٰm کے بالخصوص اور آنحضرتﷺ حضرات شیخین(ابوبکر صدیقq اور عمر فاروقq) اور تمام انبیاء اور اولیاء کی توہین کے بالعموم مرتکب ہوئے اور وہ اصول وضع کئے جس سے قرآن کریم اور اسلام کی تکذیب اور تخریب اور تمام ادیان حقّہ کا فضول اور لغو ہونا ثابت ہوتاہے۔ لہٰذا اس عظیم الشان کفر کا اندازہ قیاس سے باہر ہے جو کئی کفروں پر مشتمل ہے اور جس سے تعطل شرائع اور الحاد کے تمام دروازے کھل گئے۔

اب ہم حسب وعدہ یہ بیان کرناچاہتے ہیں کہ آخر مرزا صاحب کو اس عقیدہ ناشدنی اور کفر کی ضرورت پیش آئی جس کو انہوں نے اس صورت میں پیش کیا جس سے تمام کارخانہ شریعت ہی درہم برہم ہو جاتاہے۔ کیونکہ اگر ایسے فواحش اور کبائر کا ارتکاب انبیاء سے ظہور پذیر ہونا سنت اللہ میں داخل مانا جائے تو امتوں کا کیا حال۔

  1. گر ہمیں مکتب است وہمیں ملا

    کار طفلاں تمام خواہد شد

356

تو جواب اس کا یہ ہے کہ مرزا صاحب نے یہ سب کچھ خود غرضی سے کیا اور کہا ہے۔ ورنہ درحقیقت انبیاء ایسے فواحش سے مبرّاء اور معصوم ہیں۔ مرزا صاحب کی خود غرضی کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا صاحب سے باوجود ادّعاء مسیحیت، مہدیت، صدیقیت، نبوت وغیرہ مقامات عالیہ کے جن سے بڑھ کر کوئی بلندی متصور نہیں۔ چونکہ ایسے امور قطعاً سرزد ہوئے۔ اس لئے مرزا صاحب سے یہ تو نہ ہوسکا کہ وہ ان سے اپنا بری ہونا ثابت کرتے۔ ہاں! یہ اصول وضع کیا کہ تمام انبیاسے ایسے امور کا باذن الٰہی سرزد ہونا سنت اللہ میں داخل ہے۔ ایسے امور بہت سے ہیں جنہوں نے مرزا صاحب کو اس اصول کوا س اصول کی وضع پر مضطر اور مجبور کردیا۔ لیکن نمونۃً ومثالاً ہم صرف دو موٹی باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔

۱… اوّل یہ کہ مرزا صاحب نے انبالہ کے ایک شخص سے زنا وغیرہ کی حرام کمائی کا روپیہ منگوا کر استعمال کیا جس کا ثبوت (اشاعۃ السنۃ ج۱۵نمبر۱،۲) سے اور اس کے جواب سے جو مرزا صاحب نے اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۰،۶۰۱، خزائن ج۵ ص ایضاً) میں دیا ہے۔ مفصل اوپر گزرچکاہے۔ مرزا صاحب نے اس روپیہ کے کھانے سے انکار نہیں کیا۔ بلکہ ایک نیا قانون وضع کرکے اپنے تشریعی نبی ہونے کے دعویٰ کا عملی ثبوت پیش کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے نافرمان آدمی کا جان ومال خواہ وہ حربی نہ ہو، رسولوں کے لئے مباح ہے۔ اس خطرناک اور مخالف اسلام قانون کی تفصیل بھی کس قدر اوپر گزر چکی ہے۔

۲… دوسرے یہ کہ مرزا صاحب نے برخلاف واقعہ بیان کیا تھا کہ براہین احمدیہ تین سو جزء یعنی (۴۸۰۰) چار ہزار آٹھ سو صفحہ تک میں نے تالیف کر لی ہے اور تین سو مضبوط عقلی دلائل سے قرآن کریم اور آنحضرتﷺ کی نبوت کی حقیقت ثابت کی گئی ہے اور یہ کتاب مشتمل ہے۔ ایک مقدمہ اور ایک اشتہار اور چار فصل اورایک خاتمہ پر، لیکن مرزا صاحب کا یہ بیان محض جھوٹ تھا جس سے مسلمانوں کو فریب دے کر روپیہ جمع کرنا منظور تھا اور کتاب صرف تین سو جزء کے بجائے پینتیس (۳۵) یا سینتیس (۳۷) جزوء معہ اشتہار وغیرہ تھی جس میں تین فصل اور خاتمہ بھی ندارد ہے اور بجائے تین سو ادّلہ حقیّت کے تمہیدات اور الہامات اور پہلی دلیل پر ہی کتاب ختم ہوگئی ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے مولانا رحمت اللہ صاحب کی کتاب ازالہ اوہام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہوں نے بھی کسی پادری کے جواب میں اسی قسم کی عبارت لکھی ہے۔ جیسی دافع البلاء کی ہے۔کسی پادری نے اپنے رسالہ میں اس آیت سے تمسک کرکے حضرت یحییٰ کی فضیلت ثابت کی تھی اور آنحضرتﷺ پر طعن کیا تھا اور مولانا رحمت اللہ صاحب نے اس کو عیسائیوں کے ان مسلمات کی بناء پر وہ طعن انہیں پر لوٹادیا۔ پس اسی طرح مرزا صاحب نے کیا۔ ورنہ نہ مولانا رحمت اللہ صاحب ان مسیحی قصوں کی صداقت کے معتقد، نہ مرزا صاحب۔

جواباً گزارش ہے کہ مختار مدعاعلیہ کی یہ مماثلت اور عذر سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ مولانا رحمت اللہ صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ الزاماً فرمایا۔ جیسا کہ ان کی عبارت محوّلہ سے ظاہر نہ قرآن مجید سے تمسک اور استشہاد کرکے اور نہ وہ ان ناپاک قصوں کے معتقد۔ جیسا کہ مختار مدعاعلیہ کا اقرار ہے۔ نیز وہ عیسائی کا طعن کرنے کے بعد بتقاضائے غیرت اور ضرورت فرما رہے ہیں اوریہاں مرزا صاحب کے اندر یہ تینوں باتیں مفقود ہیں۔ لہٰذا یہ قیاس مختار مدعاعلیہ کا سراسر غلط ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے بہت سی عبارتیں مرزا صاحب کو بری ثابت کرنے کے لئے ان کی کتابوں سے نقل کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ:

۱… مرزا صاحب حضرت عیسیٰm کو نبی مانتے ہیں۔

۲… مرزا صاحب نے ان کی کوئی توہین کی نہیں۔

۳… ان کے حق میں جو طعن مرزا صاحب نے کئے ہیں وہ الزامی ہیں نہ ان کا اپنا عقیدہ۔

357

۴… مرزا صاحب نے کسی فرضی یسوع کوگالیاں دی ہیں اور ضرورتاً مناظرین ایسا کیا کرتے ہیں اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بھی یہ طریق بعض جگہ پر اختیار فرمایاہے۔ پہلی تین باتوں کا جواب تو اس کاجواب الجواب بحث مختار مدعیہ اور گواہان مدعیہ خصوصاً گواہ نمبر۲،۳ کے بیانات میں کافی ہوچکاہے۔ اسی طرح نمبر۴ کا جواب بھی بحوالہ صدر آچکا ہے۔ لیکن اس کی مزید توضیح کے لئے گزارش ہے کہ مرزا صاحب نے اگرچہ کئی مواضع میں یہ عذر بیان کیا ہے۔ لیکن ان کے طرز عمل سے ثابت ہوتاہے کہ یہ محض مسلمانوں کو دھوکا دے کر خاموش کرنے کا سامان ہے۔ ورنہ جو بدزبانی اور طعن وتشنیع (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۴تا۹، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸) تیسوع کے نام سے کی گئی اور جن واقعات کو اسباب اور دلائل بد زبانی قرار دیا گیا ہے۔ اکثر وہی واقعات دوسری جگہ پر مسیح اورعیسیٰ وغیرہ ناموں کی طرف منسوب کئے ہیں مثلاً پیش گوئیاں (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۴، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸) میں بنام یسوع جو پیش گوئیاں ہیں جن کی تذلیل اور توہین کرکے ان کو نادان اسرائیلی شریر اور مکاروغیرہ سے یاد کیاہے وہی بعینہٖ (ازالہ اوہام ص۶،۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶) میں مسیح کے نام بیان ہوئی ہیں اور ان کو ابتر قرار دیا ہے اور غلط کہاہے۔ بلکہ ازالہ میں اور زیادہ ہیں اور اعجاز احمدی میں بھی ان زائد کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اوپر جواب البحث میں مفصل مذکور ہوچکا ہے وہاں فرضی یسوع کا کوئی ذکرنہیں بلکہ مسیح یا عیسیٰm کا ذکرہے۔

معجزات کا ذکر جو یسوع کے نام سے (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۶،۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱) پر ہے کہ حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ تالاب کی مٹی کا معجزہ تھا نہ یسوع کا۔ یسوع کے ہاتھ میں سوا مکرو فریب کچھ نہ تھا۔ یہی مضمون انکار مسیح کے نام سے (ازالہ اوہام ص۶،۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶) میں موجود ہے۔ نیز (حاشیہ ص۳۲۱، خزائن ج۳ ص۲۶۳) میں اس کراماتی تالاب کا ذکر موجود اور اسی (ازالہ اوہام حاشیہ ص۲۹۵ تا۳۲۲، خزائن ج۳ ص۲۵۱تا۲۶۳) اٹھائیس صفحہ پر معجزات مسیحی کو عمل التراب مسمریزم لہو ولعب مکر وشعبدہ بازی قرار دیا گیاجس کا عشر عشیر بھی ضمیمہ انجام آتھم میں بنام یسوع نہیں ہوا۔

کنجریوں سے میلان صحبت حرام کمائی کاعطرجو (حاشیہ ضمیمہ ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱) بیان ہوا۔ اس سے کہیں زیادہ صاف دافع البلاء کے آخری (ص۲۲، خزائن ج۱۸ ص۲۴۲) اور (آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۰، خزائن ج۵ ص۶۰۰) اور (تریاق القلوب حاشیہ ص۱۲۴،و۱۲۷، خزائن ج۱۵ ص۴۲۴،۴۲۰) پرہے۔ بنام مسیح جس کو مرزا صاحب نے محقق اور صحیح ماناہے۔ پس مرزا صاحب اور مختار مدعاعلیہ کا یسوع کوفرضی کہنے کا افسانہ لغو اور فرض ہے اور محض مسلمانوں کو دھوکا دیناہے۔

رہ گئی یہ بات کہ مرزا صاحب نے کسی مناظرانہ ضرورت کے ماتحت یہ بدزبانی کی ہے تو یہ بھی بالکل غلط ہے۔ مختار مدعیہ نے تریاق القلوب کے حوالہ سے لکھاہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ یہ بدزبانی گورنمنٹ کے مصالح ملکی کی غرض سے وقوع میں آئی ہے۔ یہ بے شک مرزا صاحب کے کلام کا مفہوم ہے۔ اسی طرح ہم نے اس جواب میں مرزا صاحب کے ان مطاعن اور فواحش کی علت غائی واضح طور پر بیان کردی ہے جو مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰm کی طرف منسوب کئے ہیں۔ یعنی فاحشہ عورتوں کی حرام کمائی کا استعمال کرنا اور جوان حسین اور نامحرم عورتوں کے اعضاء سے اپنے اعضاء کو ملانا۔ (العیاذب اللہ )

حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں کی توہین استخفاف اور انتہائی بدزبانی کا باعث جو مرزا صاحب سے ضمیمہ انجام آتھم میں سرزد ہوئی یہ ہے کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی متعلقہ پادری عبد اللہ آتھم جب صاف طور پر جھوٹی نکلی جس پر مرزا صاحب نے بڑے زور وشور سے تحدی کرکے دنیا کو اس کا منتظر بنا رکھا تھا اور اس پر بصورت جھوٹی ہونے کے اپنے لئے بڑی بڑی شرطیں اور سزائیں تجویز کی ہوئی تھیں کہ مجھ کو روسیاہ کیا جائے گلے میں رسہ ڈالا جائے اور تمام بدکاروں اور لعینوں سے زیادہ بدکار اور لعنتی سمجھا جائے تو اس پر ہر مذہب وملت کے عوام وخواص نے اور خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں نے اشتہاروں اخباروں، رسالوں، نظموں وغیرہ سے مرزا صاحب کی بہت کچھ تواضع کی اور

358

ملامت اور تکذیب کی۔ چاروں طرف سے بوچھاڑیں مرزا صاحب پر پڑئیں جس پر مرزا صاحب نے مسلمانوں کو عموماً اور عیسائیوں کو خوب کوسا اور سب وشتم کو کمال تک پہنچایا۔ اسی تقریب سے مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰm پر بدزبانی کی۔ جو حوالہ جات گواہان ومختاران فریقین میں بحوالہ ضمیمہ انجام وغیرہ پیش ہوئی ہیں۔ انجام آتھم اور ضمیمہ انجام آتھم جو مرزا صاحب کی کتابیں ہیں۔ ان کا نام ہی ہمارے اس بیان کی تصدیق کررہاہے کہ اس بدزبانی کا باعث آتھم صاحب کی پیش گوئی ہے۔

اس کے علاوہ اس کی مزید تصدیق خاص اس حاشیہ میںموجود ہے جس میں یہ بدزبانی کی گئی ہے۔ ملاحظہ ہو شروع (حاشیہ ص۳) مرزا صاحب لکھتے ہیں: ’’ایک مردہ پرست فتح مسیح نام نے فتح پور تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور سے پھر اپنی بے حیائی کو دکھلا کر ایک گندہ اور بدزبانی سے بھرا ہوا خط لکھا ہے جس میں وہ پھر اپنی بے شرمی سے کام لے کر یہ ذکر بھی درمیان لاتاہے کہ آتھم کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔‘‘

اس کے بعد اپنی تحریروں کے حوالہ دے کر لکھتے ہیںکہ پیش گوئی پوری ہوگئی۔ بعد ازاں انتقاماً حضرت عیسیٰm پر کئی صفحات تک سب وشتم کرتے گئے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

(ص۴کا حاشیہ تا ص۹، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸،ص۲۹۲)

اور (حاشیہ ص۸، خزائن ج۱۱ ص۲۹۲) پر لکھتے ہیں: ’’سو عیسائیوں کی یہ حماقت ہے کہ ایسی (یعنی مسیحm کی) پیش گوئیوں پر تو ایمان لاویں اور آتھم کی پیش گوئی کی نسبت جو صاف اور صریح طور پر پوری ہوگئی، اب تک انہیں شک ہو۔‘‘ اور اسی صفحہ پر لکھتے ہیں: ’’یہ مردہ پرست لوگ کیسے جاہل اور خبیث طینت ہیں کہ سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے، فتح مسیح کو یاد رکھا چاہئے کہ آتھم تمام پادریوں کا منہ کالا کرکے قبر میں داخل ہوچکاہے۔ اب کالک کا ٹیکا عیسائیوں کی پیشانی سے اتر نہیں سکتا۔‘‘

نوٹ: مسٹر آتھم مرزا صاحب کی میعاد پیش گوئی (جو پندرہ ماہ تھی) تک نہیں مرے تھے۔

ان حوالہ جات اور بیان سابق سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہورہی ہے کہ مرزا صاحب نے جو بدزبانی حضرت عیسیٰm کی نسبت ضمیمہ انجام آتھم میں کی ہے۔ وہ محض نفسانی جوش اور اپنے ذاتی انتقام لینے کے لئے مرزا صاحب نے کی، نہ کسی اسلامی حمایت کی خاطر اور صحیح نیت سے البتہ مختار مدعاعلیہ نے جو اسی صفحہ سے مرز اصاحب کا جو حوالہ پیش کیا جس میں مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ فتح مسیح نے آنحضرتﷺ کو بھی گالیاں دی ہیں۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں اور نہ یہ مرزا صاحب کے کہنے سے قابل تسلیم ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب اپنی اغراض نفسانیہ پر پردہ ڈالنے کے لئے اسلام یا آنحضرتﷺ کے انتقام کا بہانہ کردیا کرتے ہیں۔ چنانچہ مسٹر عبد اللہ آتھم کی پیش گوئی مذکورہ بالا میںبھی آپ نے وطیرہ اختیار کیا تھا کہ پیش گوئی تو محض اپنے آپ کو معجزاتی ثابت کرنے کے لئے کی گئی تھی۔ لیکن جب وہ جھوٹی ہوگئی تو معیاد گزرنے کے بعد کہہ دیا کہ چونکہ مسٹر آتھم نے اپنی گستاخی سے توبہ کرلی تھی جو درحقیقت پیش گوئی کی بناء تھی۔ اس لئے موت کا عذاب بھی ٹل گیا اور ایک قصہ گھڑلیا کہ مسٹر آتھم نے آنحضرتﷺ کی نسبت ایک مکروہ سخت لفظ کا استعمال جو اپنی کسی کتاب میں کیا تھا اور میں نے اس کو عین پیش گوئی کے وقت کہہ دیا تھا کہ تمہاری موت کی پیش گوئی کی بناء پر یہ لفظ ہے تو اس نے اسی مجمع میں دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر زبان منہ سے نکالی اور کہا کہ میں نے یہ لفظ ہر گز نہیں لکھا ملاحظہ ہو حقیقت الوحی۔

میں کہتاہوں کہ اگر پیش گوئی کی بناء وہ خبیث لفظ ہوتا تو مرزا صاحب پندرہ ماہ تک بلکہ بعد میں بھی عرصہ دراز تک یہ کیوں لکھتے رہے کہ: ’’جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کررہاہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ پندرہ ماہ تک بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔‘‘ اور جب آتھم میعاد مذکور میں نہ مرا، بلکہ تقریباً دوسال بعد میں مرا تو مرزا صاحب کے لئے نہایت سہل بات تھی کہ مرزا صاحب یہ جواب دے کر تمام تکلیفوں اور تکلفات سے مخلصی حاصل کرلیتے کہ پیش گوئی کی بناء فلاں خبیث لفظ تھا جو آتھم نے کہا تھا اور ایام پیش گوئی میں ہی اس نے اس سے رجوع کر لیا تھا۔ لہٰذا پیش گوئی غلط نہ ہوئی، بلکہ شرط رجوع کے ماتحت سچی نکلی۔ پس یہ باتیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ مرزا

359

صاحب نے یہ افسانہ بطور حیلہ گھڑ لیا تھا۔ پھر اس پر مزید لطف یہ ہے کہ بقول مرزا صاحب آتھم نے اسی وقت یہ صاف کہہ دیا کہ میں نے یہ لفظ آنحضرتﷺ کی نسبت ہرگز نہیں کہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ مجھ پر افتراء کررہے ہیں اور لطف پر لطف یہ کہ مرزا صاحب نے اس تکذیب کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہ کر اپنے افتراء اور کذب بیانی کی تصدیق کردی۔

اس واقعہ سے ثابت ہوگیا کہ مرزا صاحب اپنی اغراض کے لئے عیسائیوں پر افتراء کردیا کرتے تھے کہ انہوں نے آنحضرتﷺ کو یہ گالی دی ہے کہ وہ کیا ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ فتح مسیح نے آنحضرتﷺ کو بھی کوئی گالی دی تھی، قابل اعتبار نہیں اور اصل وجہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوچکی کہ حضرت عیسیٰm پر جو زبان درازی مرزا صاحب نے ضمیمہ انجام آتھم میں کی محض جوش نفسانی سے کی ہے اور انتقام ذاتی ہی اس سے مقصود ومطلوب ہے۔

معجزات عیسیٰm کی تکذیب جو مرزا صاحب سے سرزد ہوئی ہے۔ اس کا باعث بھی اغراض ذاتیہ ہیں نہ تائید اسلام جس کا بیان کسی قدر اوپر گزرچکاہے جس کا ملخص یہ ہے۔ جب اہل اسلام کی طرف سے مرزا صاحب سے مطالبہ کیا گیا کہ تم جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو مسیحm کے سے معجزات تو دکھلاؤ جس کے جواب میں مرزا صاحب نے وہ جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔ ملاحظہ ہو(ازالہ اوہام ص۶،۷ حاشیہ، ص۲۹۵تا ۳۲۲، خزائن ج۳ ص۲۳۱تا ۲۶۳) اور مسیح کے پاس صرف عمل التراب مسمریزم شعبدہ بازی اور مکر وفریب وغیرہ ہی تھا۔

مرزا صاحب نے انکار معجزات مسیحm کا اور ان کی تحقیر اور استہزاء کا ایک یہ بھی جواب دیا ہے جس کو ہم (حمامۃ البشری ص۷۷، خزائن ج۷ ص۲۹۴) سے سامنے لاتے ہیں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں: ’’ومن اعتراضاتہم انہم قالوا ان ہٰذا الرجل یحقر معجزات المسیح ویستہزء بہا ویقول انہا لیست بشیٔ والواردات لا ری مثلہا بل اکبر منہا ولکنی اکرہ ولا اتوجہ الیہا کما الشایقین اما لجواب فاعلم یا اخی ان المعجزۃ لیس من فعل العباد بل من افعال اللہ تعالیٰ فما کان لرجل ان یقول انی افعل کذا وکذا باختیاری وارادتی وما یفعل انسان باختیارہ وارادتہ وتدبیرہ فہو فعل من افعال الانسان ولا نسمیۃ معجزۃ بل ہو مکیدۃ وسحر فافہم یا اخی زادک اللہ رشداً‘‘

یعنی ان مسلمانوںکے اعتراضوں میں سے مجھ پر ایک یہ اعتراض بھی ہے کہ کہتے ہیں یہ شخص معجزا ت مسیحm کی تحقیر کرتاہے اور ان سے استہزاء کرتاہے اور کہتاہے کہ اگر میں چاہوں تو اس طرح کے بلکہ اس سے بڑے بڑے معجزات بھی دکھا سکتا ہوں۔ لیکن میں انہیں ناپسند کرتاہوں اور شایقین کی طرح ان کی طرف توجہ نہیں کرتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ معجزہ انسانی فعل کا نام نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتاہے۔ پس کسی آدمی کا حق نہیں کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ میں اپنے اختیار اور ارادہ سے ایسا ایسا کرسکتاہوں(یعنی معجزہ دکھلا سکتاہوں) اور جس چیز کو انسان اپنے اختیار وارادہ اور تدبیر سے کرے وہ انسانی فعل ہوگا۔ اس کا نام ہم معجزہ نہیں رکھ سکتے۔ بلکہ وہ مکر یا جادو ہے۔ اے بھائی اس بات کو سمجھ لو خدا تجھ کو زیادہ ہدایت دیوے۔

ماحصل اس کا یہ ہوا کہ جو امور خارقہ مسیح سے سرزد ہوئے ہیں جن کو معجزات کے نام سے نامزد کیا جاتاہے اور میں نے ان کی نسبت لکھا ہے کہ اگر میں چاہوں تو ان سے بڑھ کر دکھا سکتاہوں۔ لیکن میں انہیں مکروہ جانتاہوں۔ وہ بسبب اس کے کہ انسانی تدبیروں اور حیلوں کا نتیجہ ہیں درحقیقت معجزات نہیں، بلکہ مکر اور جادو ہیں۔ معجزات تو خدا کا فعل ہوتے ہیں نہ انسان کا اس نکتہ کو خوب سمجھ لو خدا تمہیں زیادہ ہدایت دے۔

ہمارے اس بیان کی مزید تائید اور تصدیق کے لئے ملاحظہ ہوازالہ اوہام ص۶،۷، خزائن ج۳

360

ص۱۰۶وحاشیہ ص۳۲۱،۳۲۲، خزائن ج۳ ص۲۶۳ و ص۳۰۹، خزائن ج۳ ص۲۵۷و ضمیمہ انجام آتھم ص۶،۷حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱اور جو بیان مذکورہ بالا کو ان حوالہ جات سے ملا کر یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو صاف ثابت ہوتاہے کہ جہاں کہیں مرزا صاحب نے حضرت مسیحm کے حق میںمعجزہ کا ہونا تسلیم کیا ہے وہ صرف بمعنی عجوبہ ہے جو انسانی تدبیروں اور حیلہ گری سے پیدا ہوگیاتھا۔ یعنی عمل التراب مسمریزم یا تالاب کی مٹی کی تأثیر سے وہ درحقیقت معجزہ نہیں تھا، بلکہ شعبدہ بازی مکر اور قابل نفرت امر تھا اور حمامۃ البشریٰ کی عبارت محوّلہ بالا کی تعریف کے رو سے وہ مکر اور جادو تھا۔

ان توضیحات اور تصریحات کے بعد اب ہم قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ بڑے شدومد کے ساتھ وہ معجزات مسیحm کو بیان کرتاہے کہیں کہتا ہے:’’واٰتینا عیسیٰ ابن مریم البینٰت وایدناہ بروح القدس (البقرۃ:۸۷)‘‘ کہیں ارشاد ہوتاہے اور اس وقت ارشاد ہوتاہے جب کہ آپ کا وجود بھی دنیا میں نہیں تھا بلکہ آپ کی والدہ صدیقہ کو بطور بشارت کہا جاتا۔ ’’اذ قالت الملآئکۃ ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین ویکلم الناس فی المہد وکہلا ومن الصالحین قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر قال کذالک اللہ یخلق مایشآء اذاقضیٰ امرا فانما یقول لہ کن فیکون ویعلمہ الکتاب والحکمۃ والتورٰتہ والانجیل ورسولا الی بنی اسرآئیل انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابریٔ الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران:۴۵تا۴۹)‘‘

پھر ملاحظہ ہو کہ اوّلین وآخرین کے روبرو قیامت کے دن بھی کس شاندار صفائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان معجزات کا ذکر فرماتاہے:’’یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لاعلم لنا انک انت علام الغیوب اذ قال اللہ یعیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلا واذ علمتک الکتاب والحکمۃ والتورٰۃ والانجیل واذتخلق من الطین کہیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرابا ذنی وتبری الاکمہ ولابرص باذنی واذ تخرج الموتی باذنی واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہٰذا الا سحر مبین (المائدۃ:۱۰۹،۱۱۰)‘‘

اب ایک طرف مرزا صاحب کا عقیدہ جو اوپر مذکور ہوا، سامنے رکھ لیا جائے اور ایک طرف قرآن کریم کو پیش نظر رکھا جائے تو صاف معلوم ہوجائے گا کہ مرزا صاحب نے معجزات مسیح کا انکار تحقیر اور استہزاء کر کے اور ان کو سحر قرار دے کر ان کفار یہود کے زمرہ میں اپنے آپ کو داخل کرلیا ہے جن کا ذکر اس آخری آیت مائدہ میں ہے کہ (اے مسیح) جب تو ان کے پاس معجزات لے کر گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ صاف جادو ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے اپنے اس دعویٰ کے اثبات پر کہ کسی قوم کے غلط خیالات کی بناء پر کسی فرضی آدمی کو برا بھلا کہنا جائز ہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے یسوع فرضی سے سلوک کیا ہے۔ دو دلیلیں قرآن کریم سے پیش کرکے یہ ظاہر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ایسا یہ کیا ہے۔

لیکن مختار مذکورکی یہ سراسر غلط فہمی ہے یا اس نے عمداً مغالطہ کیا ہے۔ فرضی انسان پر طعن کرنے کی صورت تو یہ ہے کہ کسی قوم کے غلط خیالات کی بناء جو کسی انسان کی نسبت وہ رکھتے ہوں۔ ایک انسان کو ان سے متصف قرار دے کر جس کا وجود حقیقت میں نہیں ہے۔ پھر اس پر طعن کیا جائے۔ مثلاً عیسائیوں کا عقیدہ حضرت مسیحm کی نسبت الوہیت کا ہے۔ پس اگر کوئی شخص ان سے خطاب کرتاہواکہے کہ تمہارا مسیح چنیں چناں ہے اور دل میں اس باطل دعویٰ الوہیت کا مدعی کا ارادہ کرے اور شرط وغیرہ کا ذکر نہ کرے تو یہ ہوگا فرضی انسان پر طعن اور اگر وہ

361

اس شرط مفروضہ کو ذکر کرکے طعن کرے گو وہ نفس الامر میں محال ہو تو یہ اور صورت ہے۔ غرض کسی حکم کو شرط کے ساتھ مشروط کرکے ذکر کرنا اور چیز ہے اور بغیر شرط کے ذکر کرنا اور چیز ہے۔ پہلی کو یعنی ایک امر معدوم کو فرضی طور پر بطور شرط ذکر کر کے حکم لگانا تو اللہ تعالیٰ کے کلام میں پایا جاتاہے۔ لیکن اس سے نہ ہمیں انکار نہ مختار مذکور کو فائدہ اور دوسری صورت کا ذکر قرآن میں نہیں نہ مختار نے اس کی مثال پیش کی ہے۔ پہلی آیت جو مختار نے پیش کی ہے اس میں صاف شرط موجود ہے۔ ’’ومن یقل منہم (الآیۃ)‘‘ یعنی جو دعویٰ الوہیت ان میں سے کرے گا اس کو سراے جہنم ملے گی۔ یہ بالکل صاف بات ہے اور اس کی مثالیں قرآن میں بکثرت بلکہ عام محاورات میں آتی رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’’ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین (الزمر:۶۵)‘‘یعنی اے محمدa تیری طرف اور تجھ سے پہلے لوگوں کی طرف یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر شرک کرو گے تو تمہارے عمل باطل ہوجائیںگے اور خاسرین سے ہوجاؤ گے۔ اب ظاہر ہے کہ اس میں کسی قوم کے خیالات کا لحاظ نہیں کیا اور نہ کسی مسلمان کا خیال ہے کہ آپ سے شرک سرزد ہوا، لیکن ایک محال کو بطور شرط ذکرکے حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ آیت۔ مختار صاحب کو لازم تھا کہ مرزا صاحب کے دستور العمل کی طرح بغیر ذکر شرط کے کوئی آیت پیش کرتے جو قطعاً ناممکن ہے۔ پس اس آیت کے ذکر میں انہوں نے دھوکا کھایا ہے یا دھوکا دیاہے۔

دوسری آیت میں یہی غلطی مختار مدعاعلیہ نے کی ہے۔ اس میں بھی شرط کا صریح ذکر ہے۔ ’’ان اراد ان یہلک المسیح‘‘ یعنی اگر مسیح کو ہلاک کرنا چاہے یعنی مارنا چاہے۔ لہٰذا یہ آیت مختار مذکور کے مدعیٰ کے مطابق نہیں ہے۔ علاوہ برآں اس آیت کا ترجمہ بھی اس نے غلط کیا ہے اور اس میں اپنی طرف سے زیادتی کی ہے۔ ’’یہلک‘‘ کے معنی میں لکھاہے: ’’عذاب دے کر استیصال کرے۔‘‘ عذاب دے کر کسی لفظ کا ترجمہ نہیں اور ہلاک کرنے سے مراد موت دیناہے۔ جیسے دوسری جگہ یوسفm کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’حتی اذا ہلک (مؤمن:۳۴)‘‘ یعنی جس وقت وہ فوت ہوئے اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ عذاب دئیے گئے اور ان کا استیصال ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ:’’ ان امرء ہلک (نساء:۱۷۶) ‘‘ یعنی اگر کوئی آدم مرے تو اس کا ورثہ کا یہ حکم ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’’قل ارأیتم ان اہلکنی اللہ ومن معی او رحمنا فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم (ملک:۲۸)‘‘اے محمدa ان کافروں سے کہو بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو مار دیوے یا رحم کرے توکافروں کو عذاب الیم سے کون بچائے گا۔ مختار مدعاعلیہ کے معنی کے مطابق تو یہ مطلب ہوگا کہ مجھے اور صحابہﷺ کو عذاب کرکے استیصال کر دیوے۔ (معاذ اللہ ) کیا آنحضرتﷺکی نسبت بھی صحابہ کرامi الوہیت کا اعتقاد رکھتے تھے، جیسے عیسائی بہ نسبت عیسیٰm کے۔

الغرض مختار مدعاعلیہ نے جو کچھ قرآن کی طرف منسوب کیا ہے وہ سراسر مغالطہ ہے۔ علاوہ برآں جب کہ ہم نے دلائل واضحہ اور حوالہ جات صریحہ سے فرضی یسوع کے افسانہ کو ہی باطل کردیا ہے اورمختار مدعاعلیہ اور مرزا صاحب کے عذرات باطلہ کا بکلی استیصال کردیا ہے تو بالفرض اگر ان آیات سے یہ ثابت بھی ہوجاتا تو مدعا علیہ کو کچھ بھی مفید نہ ہوتا اور نہ ہمیں مضر۔ مختار مدعاعلیہ نے ۴؍مارچ ۱۹۳۴ء کی بحث میں لکھا ہے کہ ایسی باتیں جو کسی کے منشاء اور تصریحات کے خلاف استنباط کرکے کسی کے کلام سے نکالی جائیں۔ وہ لازم مذہب ہوتی ہیں نہ کہ مذہب ان کی بناء پر تکفیر نہ کرے اور مختار مدعیہ نے امانت اوردیانت کے خلاف مرزا صاحب کے کلام سے غلط استنباط کرکے الزامات کے قائم کئے ہیں۔ پھر اس کی پانچ نظیریں پیش کی ہیں لیکن ان پانچویں نظائر میں امورضروریہ کی نسبت ہم ثابت کرچکے ہیں کہ مختار مدعیہ کے استنباط بالکل صحیح اور درست ہیں اور بڑی صفائی سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب کا عقیدہ اکثرالزامات کے مطابق ہے اور بعض میں لزوم بیّن ہے اور ان کے متعلق مرزا صاحب کے اور مختار مدعاعلیہ کے عذر بالکل ناکافی اور محض حیلہ جوئی پر مبنی ہیں۔ مختار مدعیہ کی

362

بحث اور اس جواب البحث میں غور کرنے سے یہ بات بخوبی ظاہر ہوسکتی ہے۔ گواہ مدعیہ نمبر۱ کا جواب جرح کہ ملزم کی دیگر تصانیف کو بھی دیکھ کر اس کا عندیہ معلوم کرنا چاہئے جو مختار مدعاعلیہ نے حوالہ میں پیش کیا ہے وہ بھی کسی طرح ہمیں مضر نہیں۔ کیونکہ ہم نے تو کئی کئی کتابوں سے حوالہ باہم موافق پیش کرکے الزام قائم کئے ہیں اور بالخصوص اس مسئلہ متنازعہ توہین عیسیٰm میں تو مرزا صاحب کی تصریحات کا کافی ذخیرہ پیش کیا گیاہے۔

مختار مدعاعلیہ نے گزشتہ بزرگوں سے دو حوالے اس مضمون کے پیش کئے ہیں کہ صرف استنباط لازم مذہب نہیں ہوتا اور اس کی بناء پر کسی کی تکفیر جائز نہیں۔ ایک ابن حزم کی (کتاب الفصل ج۳ ص۲۵۰ ) اور دوسرا عبدالوہاب شعرانی کی (کتاب یواقیت والجواہر ج۲ ص۱۲۸) کا۔

اسی طرح گواہان مدعیہ کے حوالے پیش کئے ہیں۔ لیکن یہ حوالے کسی طرح اس کو مفید نہیں ہیں۔ چنانچہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ مرزا صاحب کی تکفیر اس قسم کے لزوم اور غلط استنباط پر ہرگز مبنی نہیں، بلکہ عموماً ان کی تصریحات پر ہے اور جہاں لزوم پر بناء ہے، وہاں لزوم غیر صریح نہیں ہے بلکہ بالکل بیّن اور بدیہی ہے جس پر مرزا صاحب کو علماء اسلام نے باربار تنبیہ کی اور لزوم کفر کو اظہر من الشمس کرکے اتمام حجت کو احسن اور اکمل طور پر پورا کردیا۔ لیکن مرزا صاحب نے محض ہٹ وعناد سے اس کو قبول نہ کیا، بلکہ اس پر بڑی سختی کے ساتھ اصرار کیا۔ مرزا صاحب پر جو اتمام حجت کیا گیا ہے وہ کسی طرح اس اتمام حجت سے کم نہیں جو کفار اور مشرکین پر کیا گیا۔ اگر فرق ہے تو یہ کہ جس طرح آنحضرتﷺ کے ہم عصر کفار کو معجزات نبوت دیکھنے کا موقعہ حاصل تھاوہ یہاں پر موجود نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل یہاں پر یہ رکھ دیا کہ مسلمانوں کے مقابل پر مرزا صاحب نے جو مباہلے وغیرہ کئے، اس میں ان کو ناکام ثابت کرکے معجزات کی مانند اپنی فعلی شہادت دے دی اور مرزا صاحب کو ان کی قطعی اور حتمی پیش گوئیوں میں ناکام رکھ کر ان کے کذب پر اپنی فعلی شہادت عیاں اور واضح کردی۔ پس اس حالت میں نہ ابن حزم کا قول تکفیر مرزا صاحب کے خلاف ہے نہ یواقیت کا حوالہ نہ کسی اور کا۔

علاوہ برآں ابن حزم اپنی اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ جو شخص کسی ایسی بات کا خلاف کرے جو اس کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے۔ یہ کہ بات خدا نے کہی ہے یا اس سے رسول نے کہی ہے خواہ وہ آنحضرتﷺ سے اجماع تواتر کی نقل یا خبر واحد کی نقل سے ثابت ہوئی تو پھر وہ شخص اس کے خلاف عقیدہ یا بد مذہبی وغیرہ اختیار کرتاہے وہ کافر ہے۔ ’’فوجب ان لایکفر الا بقول قالہ الا ان یخاف (الی) تکفیر مخالفتہ‘‘

(کتاب الفصل ج۳ ص۲۴۷)

اسی طرح مختار مدعاعلیہ کے حوالے سے پہلے لکھتے ہیں کہ جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ ابن مریمn کے سواء کسی اور نبی کا قائل ہو وہ کافر ہے جس کے کفر میں دو آدمی بھی آپس میں مخالف نہیں ہوئے۔ (ج۳ ص۲۴۹) اور ان کے بعدمحمدa (الی) بکل ہٰذا علی کل احداور اسی صفحہ میں اس سے ماقبل لکھتے ہیں کہ اگرکوئی شخص جہالت یا تاویل سے کفریہ قول کہے۔ پھر اس پر اتمام حجت کردیا جائے اور وہ عناد سے نہ مانے تو وہ کافرہے۔ اس پر احکام مرتد جاری ہوں گے اسی طرح فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ کا قول: ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ اور آنحضرتﷺ کا قول ’’لانبی بعدی‘‘ سن لینے کے بعد بھی کوئی مسلمان کس طرح آنحضرتﷺ کے بعد کسی کو نبی ثابت کرسکتاہے۔ سوائے عیسیٰ بن مریمn کے جن کو آخری زمانہ میں نازل ہونے کی احادیث صحیح مسندہ میں خبردی ہے۔ ’’ہٰذا ما سماعہم قول اللہ تعالیٰ ولکن الرسول اللہ وخاتم النّبیین (الیٰ) فی نزول عیسی ابن مریم فی آخر الزمان‘‘

(کتاب الفصل ج۴ ص۱۸۰)

گواہان مدعیہ نے اپنے بیانوں میں ابن حزم کے حوالے پیش کئے جن کی بناء پر تکفیر مرزا صاحب قادیانی لازمی ہے اور اس سے حوالہ مختار مدعاعلیہ کی حقیقت بھی ظاہر ہوگئی کہ اس سے مراد وہ لزوم ہے جس کا قائل کلمہ کفر کو علم نہ ہو۔ اگر علم ہو یا اس پر اتمام حجت ہوجائے تو

363

ایسا شخص ابن حزم کے نزدیک صاف کافرہے جس پر مرتدین کے احکام جاری ہوںگے۔

مختار مدعاعلیہ نے یواقیت سے جو حوالہ پیش کیاہے، اس میں سخت مغالطہ اور خیانت سے کام لیا ہے۔ آدھی بات کو نقل کردیا اور بقیہ کوجو اس کے مدعااور منشاء کو باطل کرتی تھی چھوڑ دیاہے اور ’’لا تقربوا الصلوٰۃ‘‘ کی مثال کو اپنے آپ پر منطبق کیاہے۔ ملاحظہ ہو حوالہ مذکورہ:’’قال الکمال (والصحیح ان لازم المذہب لیس بمذہب وانہ لا یکفر بمجرد الزوم) لان اللزوم وغیر الالتزام وقد وقع فی المواقف ما یقتضی تقییدہ بما اذا لم یعلم ذو المذہب اللزوم وبان اللازم کفر فانہ قال من یلزمہ الکفر ولایعلم بہ لیس بکافر انتہی ومفہومہ ان علمہ کفر لا لتزامہ ایاہ و اللہ اعلم انتہیٰ‘‘

مختار صاحب نے صرف اتنی عبارت نقل کردی جو بین القوسین ہے اور بقیہ کو ترک کردیا۔ کیونکہ ان کے مطلب کے مخالف اور ہماری مؤید تھی اور اس سے یہ امر صاف ہوجاتاہے کہ لزوم سے کفر نہ ہونے کا اور لازم مذہب کے مذہب نہ ہونے کا مطلب وہ نہیں ہے جس سے مختار صاحب کی غرض پوری ہوسکے۔ بلکہ مطلب یہ ہے اس لزوم سے کفر نہیں ہوتا جس لزوم کا اس صاحب قول ومذہب کو علم نہ ہو اور نہ اس لازم کے کفر ہونے کا علم ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو جان لینے کے بعد وہ لزوم نہیں رہ جاتا، بلکہ التزام ہوجاتاہے، جو بالاتفاق کفرہے۔

مختار مدعاعلیہ نے کمال کی، بقیہ عبارت چھوڑ دی جو اس نے علم عقائد کی مشہور کتاب مواقف کی پیش کی تھی جس سے اس کا مقصود یہ تھا کہ لزوم مجرد کا کفر نہ ہونا اسی وقت تک ہے، جب تک صاحب مذہب بے خبر ہو،لزوم کا علم ہوجانے کے بعد وہ التزام اور کفر بن جاتاہے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ مرزا صاحب پر جو الزامات قائم کئے گئے، وہ اسی قسم کے ہیں یا تو ان میں لزوم بیّن اور بدیہی ہے جس کا عدم علم قابل تسلیم نہیں یا اتمام حجت ہوکر مفید علم ہوکر التزام اور کفر ہوگئے ہیں اور اکثر وجوہ کفر تصریحات پر مبنی ہیں۔ لہٰذا مرزا صاحب بلا شک کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان پر مرتدین کے احکام نافذہوںگے وبس جو اجراء احکام ارتداد کو مانع نہیں ہوسکتا۔

یواقیت والجواہر میں سے کمال کے قول میں سے مؤقف کی جس عبارت کو مختار مدعاعلیہ نے بطور خیانت چھوڑ دیاتھا۔ وہی عبارت نبراس کے تعلیقات یعنی حواشی میں موجود ہے۔ نبراس میں ہے۔ ’’البحث الاوّل انہ تقرر فی الشرع ان التزام الکفر کفر لالزومہ ‘‘ یعنی التزام کفر کا کفرہے نہ کہ لزوم۔

(نبراس ص۱۹۹)

اس پر حاشیہ نمبر۱ میں ہے:’’کما صرح فی المواقف حیث قال من یلزمہ الکفر ولایعلم بہ فلیس بکافر‘‘اس کا مطلب حوالہ یواقیت میں گزرچکاہے۔

نبراس میں اس بحث کا جواب دو طرح دیاگیاہے۔چنانچہ لکھا ہے: ’’اجیب بوجہین احدہما ان النصاریٰ التزموہ بعد ماظہر بہم لزومہ‘‘یعنی نصاریٰ کے لزوم کفر کی جو بحث تھی کہ لزوم کفر تو عند الشرع کفر نہیں ہوتا۔ پھر وہ کافر کیونکر ہوگئے۔ اس کا جواب دو طرح پر ہے۔ ایک تو یہ کہ لزوم کفرکے ظہور ہوجانے کے بعد نصاریٰ نے اس کا التزام کرلیاہے۔ اس پر تعلیقات کے نمبرمیں ہے’’ولزوم الشیٔ مع العلم بہ التزام والتزام الکفر مع العلم بالکفر کفر‘‘ یعنی جب لزوم کا علم ہوجائے تو وہ التزام ہوجاتاہے اور التزام کفر مع العلم کفرہے۔

نبراس کا دوسرا جواب: ’’وثانیہا ان اللزوم البدیہی فی حکم الالتزام‘‘یعنی ایسا لزوم جو بالکل صاف اور بدیہی ہو التزام کے حکم میں داخل ہے۔

پس ان حوالہ جات علم کلام سے جو ہم نے پیش کئے ہیںاور مختار مدعاعلیہ نے پیش کئے ہیں یہ ثابت ہوگیا کہ وہ لزوم کفر تو کفر نہیں ہوتا جس کا پتہ صاحب مذہب کونہ ہو۔ اگر اس کو علم ہو یا اس پر لزوم کفر کو ظاہر کردیاجائے اور وہ ہٹ دھرمی اور عناد سے قبول نہ کرے یا لزوم

364

ہی بالکل صاف واضح اور بدیہی ہو تو ان صورتوں میں لزوم نہ رہے گا۔ بلکہ التزام ہوجائے گا اور التزام کفر بالاتفاق کفرہوتاہے۔ پس مرزا صاحب بناء بر بیانات گواہان مدعیہ بحث ومختار مدعیہ اور اس جواب البحث کے کفر کا التزام کرنے والے تھے۔ لہٰذا وہ بالاتفاق کافر ہیں۔ ان پر اور ان کے متبعین پر ارتداد کے احکام جاری ہوںگے۔

صحابہ کرامi

گواہان ومختار مدعیہ نے مرزا صاحب کے متعلق خود مرزا صاحب کے حوالہ جات ازالہ، اعجاز احمدی سے یہ ثابت کیا تھا کہ مرزا صاحب نے حضرت ابوہریرہq کو غبی وحضرت عبد اللہ بن مسعودq کو معمولی انسا ن جوش میں آکر غلطی کھانے والا کہاہے۔ اس کے جواب میں مختار مدعاعلیہ نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

۱… مرزا صاحب نے سرالخلافہ میں صحابہ کی تعریف کی ہے۔

۲… یہ الفاظ توہین کی نیت سے نہیں کہے۔

۳… غبی کا معنی نہ سمجھنے والاہے۔ نو ر الانوار واصول شاشی، فتاویٰ رشیدیہ، تفسیر مظہری کے حوالہ جات سے ثابت ہے کہ حضرت ابوہریرہq مجتہد صحابہ میں نہیں تھے۔

۴… مرزا صاحب نے ابن مسعودq کو معمولی انسان، نبیوں کے مقابلہ میں کہا ہے۔

۵… حضرت عباسq نے حضرت علیq کے حق میں سخت الفاظ استعمال کئے۔

الجواب: میں ہر ایک نمبر کا جواب ترتیب بالا کے مطابق عرض کرتاہوں۔

۱… مختار مدعاعلیہ نے ان توہینی الفاظ کو بحق صحابہ استعمال کرنا تسلیم کرلیا۔ مگر اس کو تعریفی کلمات کی وجہ سے دفع کرناچاہاجو دو وجہ سے غلط ہے۔

(وجہ اوّل) گویا مرزا صاحب نے حضرات صحابہ کی توہین اور تعریف دونوں کا ارتکاب کیا ہے جو ہمارے قائم کردہ الزام کے خلاف نہیں۔ کیونکہ نفسی توہین ثابت ہوگئی جو ہمارا مدعاتھا۔ باقی رہایہ کہ مرزا صاحب نے کہیں صحابہ کی تعریف بھی کی ہے۔ اوّلاً نہ ہمیں اس سے کوئی انکار ہے اور نہ یہ ہمارے مدعاء کے خلاف ہے۔ ثانیاً صحابہ جیسی واجب الاحترام جماعت کی شان میں گستاخی اور توہین کرنا پھر ان کی مدح سرائی بھی کرنا۔ ایک پکے مسلمان کی شان سے ایسا ہی بعید ہے۔ جیسا محض تحقیر وتوہین کرنا۔ مثلاً ایک بیٹا اپنے باپ کی تعریف میں ہزاروں جملے اور سینکڑوں قصیدے بھی کہتاہے۔ مگر ساتھ کبھی کبھی والد کے سامنے گستاخی بھی کرتاہے اور قبیح کلمات بھی بولتاہے تو کیاوہ بیٹا عقوق والد کی زد میں نہیں آئے گا یا ’’لا تقل لہما اف‘‘کا وعید اس کو شامل نہیںہوگا۔ یقینا ہوگا۔ علی ہذا مرزا صاحب باوجود صحابہ کی تعریف کرنے کے بھی ان توہینی کلمات کی وجہ سے توہین صحابہ کے مرتکب ہیں۔

(وجہ ثانی) توہین صحابہ اور تعریف صحابہ جمع کرنا گویا کہ حق کے ساتھ باطل کو ملاناہے جس کو مرزا صاحب دجال کی علامت بتلاتے ہیں۔ چنانچہ (تبلیغ رسالت ج۳ ص۲۰۰، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۳۱) میں لکھتے ہیں کہ: ’’دجال کے لئے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کا تابع ہوکر پھر سچ کے ساتھ باطل کو ملاوے۔‘‘

۲… مختار مدعاعلیہ نے تسلیم کرلیا کہ حضرت ابوہریرہq کو غبی اور حضرت ابن مسعودq کو معمولی انسان کہنا اگرچہ تو ہینی الفاظ ہیں۔ مگر مرزا صاحب نے توہین کی نیت سے نہیں کہے۔ باقی رہا یہ امر یہ کہ مرزا صاحب نے یہ کلمات کس نیت سے کہے۔ اس پر مرزا صاحب کی تصریح کی ضرورت تھی جو مختار مدعاعلیہ نے پیش نہیں کی۔ مختار مدعاعلیہ مرزا صاحب کی نیت جو امر مخفی اور اسرار قلب سے ہے کا مبین نہیں

365

ہوسکتا۔ خصوصاً احکام شریعت کی مدار ظاہرپر ہے۔ نیز یہ الفاظ مقام مدح میں استعمال نہیں کئے۔ بلکہ ان حضرات کے اقوال اور آراء کی تردید میں استعمال کئے ہیں جو توہین وتحقیر کا زبردست قرینہ ہے۔

۳… ایک ایسا جلیل القدر صحابی جس کی مرویات تمام صحابہ سے زیادہ ہوں۔ اس کو بات کا نہ سمجھنے والا کہنا کس قدر گستاخی اور جرأت ہے۔ بہرحال غبی توہین کا لفظ ہے جو مقام مدح میں کبھی استعمال نہیں ہوتا۔ تمام اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے۔ کسی مقتداء مہتداء کے متعلق اس لفظ کی استعمال نہیں ملے گی۔ کیونکہ غباوت کے مقابلہ میں فطانت ہے جس کے معنی زیر کی کے ہیں جو مقام مدح میںہے کتب لغت عربی کے حوالہ جات پیش کرتاہوں۔ (منتہی الارب ج۳ ص۲۹۷) میں ہے۔ ’’غبی کم فہم الغروق‘‘ (ص۲۲۷) میں ہے۔ ’’الغبی، الجاہل‘‘ (مصباح ص۴۴) میں ہے۔ ’’غبی عن الخبر ای جہلہ‘‘

ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ غبی کا معنی کم فہم اور جاہل ہے۔پس ایک جلیل القدر صحابی کو کم فہم اور جاہل کہنا کس قدر توہین اور گستاخی ہے۔

کیا مختار مدعاعلیہ اس لفظ کا استعمال خلیفہ اوّل اورثانی کے لئے جائز سمجھتاہے۔ جب وہ مرزا صاحب کے صحابہ کے حق میں اس لفظ کے استعمال کوناجائز اور موجب توہین سمجھتاہے توپھر حضورa کے صحابہ کے حق میں یہ لفظ کیوں توہین نہیں ہوگا۔

مختار مدعاعلیہ نے محض طول دینے کے لئے نہایت بے محل نور الانوار اور اصول شاشی و فتاویٰ رشیدیہ وتفسیر مظہری کے حوالہ جات پیش کئے ہیں۔ حالانکہ ان حوالہ جات میں حضرت ابوہریرہq کے متعلق غبی کا لفظ قطعاً استعمال نہیں ہوا اور نہ اس کا کوئی ادنیٰ شائبہ ملتاہے۔ ان حوالہ جات میں صرف اس قدر ذکرہے کہ حضرت ابوہریرہq مجتہد نہیں تھے۔ اصول شاشی کے الفاظ ہیں:’’القسم الثانی من الرواۃ ہم المعرفون بالحفظ والعدالۃ دون الاجتہاد والفتویٰ کابی ہریرۃ وانس بن مالک‘‘ (اصول شاشی ص۸۲) علیٰ ہذا! فتاویٰ رشیدیہ وتفسیر مظہری کے حوالہ جات کا بھی منشاء یہی ہے۔ نورالانوار کی دون الفقہ کا معنی بھی دون الاجتہاد ہے۔ حضرت ابوہریرہ کا متقدم فی الاجتہاد نہ ہونا ان کی کوئی توہین نہیں، مجتہد ہونا یا نہ ہونا متنازعہ فیہ نہیں۔ بحث لفظ غبی کے متعلق ہے جس کے معنی کم فہم اور جاہل کے ہیں۔ مختار مدعاعلیہ کے پیش کردہ حوالہ جات میں غبی کا لفظ قطعاً نہیں۔ سویہ الزام بھی لاجواب رہا۔ میں عدالت کی توجہ مختار مدعاعلیہ کے طریق استدلال کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں جو اس نے بے محل حوالہ جات کو پیش کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’یہ سب لوگ کافر اور مرتد تھے اور اپنے ان اقوال سے صحابہ کی توہین کے مرتکب ہوئے تھے یا نہیں۔‘‘

۴… بے شک حضرت ابن مسعودq نبی اور رسول نہیں۔ کیا جو شخص رسول اور نبی نہ ہو،اس کی توہین توہین نہیں کہلاتی اور کیا اس کو معمولی انسان کہہ کہ اپنی رائے کے مقابل اس کی رائے کو خطاء وار اور جوش نفسانی کا اثر کہہ کر ٹھکرانا، حضرات صحابہ کے جلالت شان اور علوّ مرتبت کے منافی نہیں۔ مختار مدعاعلیہ کے خلیفہ اوّل اور ثانی جو اس کے نزدیک بھی نبی نہیں۔ کیا ان کو معمولی انسا ن جوش نفسانی میں آکر خطاء وار کہنا، اس کے نزدیک ان کی توہین ہے یا نہ۔ نیز ازالہ اوہام کی جو عبارت پیش کی گئی ہے۔ اس میں مرزا صاحب حضرت ابن مسعود کے قول کی تردید کررہے ہیں۔ بناء تردید یہ ہے کہ حضرت ابن مسعودنے جو مباہلہ کی درخواست کی تھی۔ مرزا صاحب کے نزدیک اس میں سخت خطاء کی اور خطاء کاموجب محض جوش تھا اور ابن مسعود سے ایسا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ وہ معمولی انسان تھا، نبی اور رسول نہیں تھا۔ ملاحظہ ہو اصل عبارت (ازالہ اوہام ج۲ ص۵۹۶، خزائن ج۳ ص۴۲۲) مقام تردید میں ان الفاظ کا استعمال سواء توہین وتحقیر کے اور کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔ رسول خداa نے صحابہ کو نجوم ہدایت واہتداء قرار دیتے ہوئے فرمایا:’’اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ اور ان کی اقتداء کا حکم دیا۔ اگر ان کو یونہی معمولی انسان سمجھ کر ان کا تخطیہ کیا جائے اور اپنی رائے کے مقابلہ میں ابن مسعودq جیسے جلیل القدر مجتہد

366

صحابی کے قول کو ٹھکرایا جائے تو اسلامی اصول روایت ونقل پر کس قدر سنگین زد ہے اور اس میں شان صحابہ کی کس قدر توہین۔ ’’اعاذنا اللہ تعالیٰ من ذالک‘‘

قابل غور امر یہ ہے علماء اصول نے حضرات صحابہﷺ کے دو قسم مقرر کئے ہیں، ایک متقدم فی الاجتہاد جیسے حضرت ابن مسعودq، دوسرے غیر متقدم فی الاجتہاد جیسے حضرت ابی ہریرہq۔ مرزا صاحب نے دونوں قسم کے صحابہ پر ہاتھ صاف کیاہے۔ ابوہریرہq کو غبی کہا اور ابن مسعودq کو جوش میں خطاء کرنے والا بتایا۔

مختار مدعاعلیہ نے حضرت عباسq اور حضرت علیq کے طولانی قصہ کو بیان کرکے مرزا صاحب کے اس قائم کردہ اصول کی اور بھی توثیق کردی ہے۔ حالانکہ کتب عقائد میں تصریح کردی گئی ہے کہ مشاجرات صحابہ پر سکوت کرنا چاہئے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ اللہ اللہ فی اصحابی‘‘ یعنی میرے صحابہ پر نکتہ چینی کرنے کے معاملہ میں خدا سے ڈرنا اور سب سے زیادہ قابل غور یہ امر ہے کہ حضرات صحابہﷺ کا تخطیہ مرزا صاحب اس لئے کررہے ہیں کہ حضرت ابن مسعودq اور حضرت ابوہریرہq کا قول مرزاصاحب کی رائے کے خلاف ہے۔ مرزا صاحب کی رائے حق ہے۔ اسی کے مقابل حضرت ابوہریرہq کا قول غلط ہے۔ کیونکہ وہ غبی کم فہم اور جاہل ہے اور مرزا صاحب کی رائے صحیح ہے اور حضرت ابن مسعودq کا قول خطاء ہے۔ کیونکہ وہ ایک معمولی انسان ہے۔ اس نے جوش میں آکر خطا کی ہے۔

باقی رہا یہ امر کہ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے ان الفاظ ’’ نبی ورسول نہ تھا‘‘ کی آڑ لے کر مرزا صاحب کو توہین انبیاء کے الزام سے بچانا چاہاہے۔ یہ بھی اس کا مغالطہ ہے۔ کیونکہ صحابہ نجوم اہتداء اور واجب الاقتداء بنص صریح ہیں۔ افراد امت کے لئے ان کا احترام واجب اور ان کی اقتداء لازم ہے۔ پس ان کا نبی یا رسول نہ ہونا، ان کے استخفاف اور تحقیر کا متقاضی نہیں۔ اگر ایک زندیق کسی نبی کا استخفاف کرتے ہوئے یہ کہہ دے کہ آخر یہ بھی عام انسانوں کی طرح انسان ہیںخدا تو نہیں۔ کیا یہ آڑ اس کوکوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بحمد اللہ ! حضرت ابن مسعودq کی توہین کا الزام بھی لاجواب رہا۔ پھر براہین قاطعہ کا بے محل حوالہ دے کربے سود بحث کو لمبا کیاہے اور اس کی جسارت سے غلط استنباط کرکے حضورa کی ذات پاک کی نسبت جگر سوز اور روح فرسا الفاظ استعمال کئے ہیں۔ پھر نتیجہ ان الفاظ میں نکالا جب مختار مدعاعلیہ کے نزدیک ایسی باتوں سے بھی کفر وارتداد لازم آتاہے تو ان کا یہ فتویٰ اس زمانہ کے لوگوں تک نہیں، بلکہ بڑوں بڑوں تک پہنچے گا۔ مختار مدعاعلیہ کے اس بہانے نتیجہ کے جواب میں اس کے پیشواؤں کے کفریات صریحہ اور توہین انبیاء وصالحین کی ایک مکمل فہرست پیش کردیتا اور ایسے ہی الفاظ بھی استعمال کرتا جیسے کہ مختار مدعاعلیہ نے استعما ل کئے ہیں۔ مگر عدالت کے وقت کا احترام کرتے ہوئے مختار مدعاعلیہ کے طریق استدلال کی طرف توجہ دلانے پر اکتفاء کرتاہوں۔

توہین صحابہ کاالزام اور اس کا جواب

مختار مدعیہ: میں نے خطبہ الہامیہ کی یہ عبارت ’’جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا وہ درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔‘‘ (ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۹،۲۶۰) پیش کرکے ثابت کیاتھا کہ مرزا صاحب نے تمام صحابہ کی توہین کی ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے اس کے جواب میں وجوہ ذیل بیان کئے ہیں۔

۱… اکابر اسلام نے امام مہدی کو حضورa کی روحانیت کا بروز ماناہے۔ اس بروز روحانیت کے لحاظ سے امام مہدی کے اصحاب کو صحابہ میں داخل ہونے والا کہنا موجب توہین نہیں ہوسکتا۔

الجواب: یہ محض افتراء اور بہتان ہے۔ امام مہدی کا حضورa کی روحانیت کا بروز ہونا نہ قرآن میں ہے، نہ احادیث سے ثابت ہے، نہ ائمہ اہل بیت کاقول ہے، نہ ائمہ مجتہدین سے مصرح ہے، نہ سلف صالحین سے مروی ہے۔ یہی وجہ کہ مختار مدعاعلیہ اپنے استدلال کی تائید میں

367

ضعیف سے ضعیف بھی ایک قول نہیںپیش کرسکا اور یہ عقیدہ بلحاظ حقائق شرعیہ بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ یہ اجماعی عقیدہ سے ’’افضل البشربعد الانبیاء ابوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی‘‘ امام مہدی سے باجماع امت حضرت ابوبکر بلکہ تمام صحابہ افضل ہیں۔ اگر امام مہدی کے اصحاب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں داخل ہوسکتے تو حضرات صحابہ کے ملنے اور دیکھنے والے بطریق اولیٰ صحابہ میں شامل ہوں گے۔

مگر غالباً مرزا صاحب اور ان کی امت یہ فضیلت اپنی ہی جماعت کے لئے مختص سمجھتے ہیں اور بفرض محال امام مہدی کے اصحاب کے لئے یہ حکم مجازاً اگر ثابت ہوبھی جائے تو مرزا صاحب امام مہدی نہیں بن سکتے۔ کیونکہ اوّلاً تو مرزا صاحب امام مہدی کی آمد کی تمام احادیث کو ضعیف موضوع ناقابل حجۃ قرار دے چکے ہیں۔ چنانچہ(حقیقت المہدی ص۲۰، خزائن ج۱۴ ص۴۵۵) کو ملاحظہ کیا جائے۔

ثانیاً یہ کہ صحیح (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۵، خزائن ج۲۱ ص۳۵۶) میں مرزا صاحب اس مہدی ہونے سے انکار کرچکے ہیں جس کے متعلق احادیث میں ذکرہے۔ اس کانام (محمد) اور اس کے والد کانام حضورa کے نام مبارک اور آپ کے والد کے نام پر اور آل فاطمہ پر ہوگا۔

الغرض اوّلاً: بروز کا عقیدہ اسلامی عقیدہ نہیں۔ ثانیاً: امام مہدی کا حضورa کا بروز ہونا غیر صحیح اور مفاسد عدیدہ کا مستلزم ہے۔ ثالثاً: مرزا صاحب کا مہدی ہونابالکل غلط ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب کے نزدیک امام مہدی کے متعلق جس قدر احادیث ہیں سب ضعیف اور موضوع ہیں اور قابل حجت نہیں۔ رابعاً: احادیث سے جس مہدی کا جن صفات سے ثابت ہوناہے۔ اس سے مرزا صاحب انکار صریح کرچکے ہیں۔ لہٰذا بروز کی توجیہ سے مرزا صاحب کے اصحاب کاصحابہ میں داخل ہونا صحیح نہ ہوااور بدستور توہین صحابہ کا الزام باقی رہا۔ اگر بفرض محال بروز کا مسئلہ مان ہی لیا جائے تو اگر امام مہدی کے اصحاب بروز کے طور پرصحابہ میں داخل ہوسکتے ہیں تو پھر امام مہدی بھی بروز کے طور پر محمد رسول اللہ ﷺ ہوسکتے ہیں اور پھر امام مہدی کو خاتم المرسلین، سید الاوّلین والآخرین، رحمۃ للعالمین، صاحب شفاعت کبریٰ، صاحب معراج، سید ولد آدم، مخاطب ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ نبی صاحب شریعت، ناسخہ للشرائع، صاحب قرآن، ناسخ کتب سماویہ اور مبعوث الی الناس کا فۃ، مہبط نزول جبرئیلm کو ماننا پڑے گا۔ العیاذب اللہ اور کوئی بعید نہیں کہ مرزا صاحب کے متبعین اسی توجیہہ باطل کی وجہ سے مرزا صاحب کو ان صفات سے متصف سمجھتے ہوں اور مرزاصاحب کے الہامات اور دعاوی بھی اسی قسم کے ہیں۔

۲… مرزا صاحب کے قول:’’ومن دخلہ فی جماعتی… الخ!‘‘ کو حدیث: ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ پر قیاس کرکے مشابہات اور مماثلت لینا بوجوہ ذیل باطل ہے۔

الف… حدیث میں کاف حرف تشبیہ موجود ہے جو مشابہت اور مماثلت کے لئے موضوع ہے۔ مرزا صاحب کے قول میں حرف تشبیہ نہیں۔

ب… حدیث میں علماء امت کو انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔ علماء کوحضرات انبیاء کرام کے زمرہ میں داخل نہیں کیا گیااور مرزا صاحب کے قول میں تصریح موجود ہے کہ جو میری جماعت میں داخل ہوا وہ حضورa کے صحابہ میں داخل ہوگیا۔ یعنی صحابی ہوگیا۔مثلاً ایک طالب علم جب ہائی سکول بہاولپور میں داخل ہوگیا تو در حقیقت ہائی سکول کا طالب علم ہوگیا۔ نہ یہ کہ ہائی سکول کے طالب علموں سے اس کو کوئی مشابہت ہوگئی اور درحقیقت وہ ہائی سکول کا طالب علم نہیں ہوا۔

ج… خود مرزا صاحب کی تصریح موجود ہے کہ صحابہ کے بعض خواص خصوصی ایسے ہیں جن کو مرزا صاحب نہیں پاسکتے۔پھر ان کے متبعین مریدوں کی کیا شمار چنانچہ (ازالہ اوہام ص۱۳۸، خزائن ج۳ ص۱۷۰) میں ہے: ’’اورہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راست باز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرتﷺ سے مشرف ہوکر بطور ظل کے واقع ہیں اور ان میں بعض ایسے جزوی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہوسکتے۔‘‘

مولانا شیخ الہند صاحب کے شعر کا جواب حسام الحرمین وغیرہ کے حوالہ جات کے جواب میں دیا جائے گا۔

368

توہین اہل بیتi

مختار مدعاعلیہ سے توہین اہل بیت کے الزام کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوسکا کہ اس نے نہایت بے دردی سے آقائے دوجہاں، سرور انس وجان کی ذات والاصفات پر توہین کشتی نوح کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس تعلیم کو بحکم خدا وندی کشتی نوح قرار دینے سے اہل بیت کی توہین لازم آتی ہے تو اہل بیت کو کشتی نوح قرار دینے اہل کشتی نوح کی تو ضرور توہین لازم آئے گی۔ پس مختار مدعیہ کے طرز استدلال سے ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ فتویٰ کہاں جاکر لگتاہے۔

حضور سرور عالمa نے اپنی اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ: ’’الا ان مثل اہل بیتی کسفینۃ نوح من رکبہا نجاومن تخلف ہلک‘‘ (رواہ احمد) مرزا صاحب نے اپنی تعلیم کو کشتی نوح قرار دیا اور امت کی نجات کو اس سے وابستہ کردیا۔ جس کی وجہ سے مرزا صاحب پر اعتراض کیا گیا کہ مرزا صاحب خلاف تعلیم حضورa اپنی تعلیم کو کشی نجات قرار دیتے ہیں یا اس کے مقابل اپنی امت کے لئے دوسری کشتی نوح بتارہے ہیں۔ بہرنہج اہل بیت کی توہین کی ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے حضورa پر وہی الزام قائم کردیا کہ حضور نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دے کر اصل کشتی نوح کی توہین کی ہے۔

الجواب: حضورa صاحب شریعت نبی ہیں اور کون ومکان کے مالک ہیں۔ حضور جس چیز کو ذریعہ نجات قرار دیں اور جس کو تفصیل وتشریح قرار دیں مجازو مختار ہیں۔ صاحب شریعت کا معنی بھی یہی ہے کہ جدید احکام وشرائع لاسکتے ہیں۔ مگر مرزا صاحب ان کی جماعت کے زعم میں بھی صاحب شریعت نبی نہیں بلکہ وہ تمام احکام وشرائع میں حضورa کے تابع ہیں۔ پس خود مرزا صاحب اور اس کی جماعت کو اپنے اختراعی دعویٰ کی بنیاد پر بھی حضورa کی مقرر کردہ کشتی نجات کے خلاف کوئی اور کشتی نجات بنانے کا کوئی حق نہیں تھا۔ پس جب کہ انہوں نے اپنے ادّعا منصب سے تجاوز کرکے تعلیم نبویہ کے خلاف کشتی نجات اپنی تعلیم کو قرار دیا تو لابد اہل بیت کی توہین کا ارتکاب کیا۔ جس کا کوئی جواب مختار مدعاعلیہ سے نہ بن آیا تو حضورa پر اصل کشتی نوح کی توہین کا الزام ٹھہرا کر مسلمانوں کے قلوب کو مجروح کیا اور عدالت میں اسلام کی دشمنی اور حضورa کے جھوٹے دعویٰ غلامی کی حقیقت کو ظاہر کردیا۔

امام حسینq کی توہین

مختار مدعاعلیہ نے اس الزام واقعی کو دفع کرنے میں نہایت مغالطہ دہی اور فریب کاری سے کام لیا ہے اور چند غلط توجیہات کی ہیں۔

۱… اعجاز احمدی میں ان غالی شیعوں سے خطاب ہے۔

الجواب: یہ سراسر کذب اور دروغ ہے کہ اعجاز احمدی درحقیقت مناظرہ میں جو مولوی سرور شاہ صاحب کو مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مقابلہ میں شکست فاش نصیب ہوئی۔ اس کو چھپانے کے لئے مرزا صاحب نے یہ رسالہ لکھا ہے (اعجاز احمدی ص۱، خزائن ج۱۹ ص۱۰۷) میں موجود ہے۔ ’’ایھا الناظرون ارشدکم اللہ ‘‘ آپ صاحبان پر واضح ہو کہ اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ موضع مدضلع امرتسر میں باصرار منشی محمدیوسف صاحب کے میرے دو مخلص دوست ایک مباحثہ میں گئے۔ ہماری طرف سے مولوی محمدسرور صاحب مقرر ہوئے اور فریق ثانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو امرتسر سے طلب کرلیا۔‘‘ مرزا صاحب کی تصریح ناطق کہ اعجاز احمدی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے بالمقابل لکھی گئی ہے۔ ہاں! ٹائٹل پیچ پر مولوی ثناء اللہ صاحب، حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ صاحب، مولانا اصغر علی روحی صاحب کے علاوہ مولوی علی حائری صاحب شیعہ کانام بھی ہے۔ مگر تالیف وغیرہ کا سبب شیعہ نہیں۔ نیز جس شعر سے مرزا صاحب کے دعویٰ افضیلت سے توہین ثابت کی گئی ہے۔ اس شعر میں قطعاً مولوی علی الحائری صاحب مخاطب نہیں۔ کیونکہ اشعار کے حاشیہ پر علماء مخاطبین کے نام

369

علیحدہ علیحدہ لکھے گئے ہیں۔ تفصیل کا شعر ۴۳واں شعر ہے اور علی الحائری سے خطاب ۳۱۳ سے شروع ہوتاہے۔

۲… شیعہ کے مقابلہ میں جو کچھ لکھاگیاہو اس کو موجب توہین قرار دینا درست نہیں۔

الجواب: پاک اور مقدس ہستیوں کے حق میں گستاخی اور سخت کلامی کرنا خواہ کسی کے مقابلہ میں ہو توہین ہے۔ حقائق اشیاء اعتباری نہیں حقائق واقعیہ ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے لٹریچر کو بھی اچھی طرح نہیںدیکھا۔ ورنہ ایسا غلط جواب نہ دیتا۔ ملاحظہ ہو۔

(تبلیغ الحق اشتہار مرزاصاحب مجموعہ اشتہارات ج سوم ص۵۴۵)

۳… مولانامحمدقاسم صاحب دیوبندی نے شیعہ کے مقابلہ میں ایسے الفاظ استعمال کئے۔

الجواب: کلام اس میں ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے تئیں امام حسین سے بہتر قرار دے کر امام حسین کی توہین کی ہے۔ مولانا محمدقاسم صاحب نے اپنی فضیلت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا وہ ایک الزامی جوابات ہیں۔ جو اپنے قرائن سیاق وسباق وطرز استدلال وطریق بیان سے واضح طور پر دال ہیں کہ شیعہ مرویہ کے روایت واقوال کو بطور الزام پیش کیا گیا ہے نیز مولوی محمدقاسم صاحب احادا مت میں سے ایک ہیں نہ مدعی نبوت ہیں نہ مدعی مہدیت ان کے طریق استدلال پر مرزا صاحب کی غلطیوں کو قیاس کرنا کس قدر مضحکہ خیز ہے۔

۴… رہا فضیلت کا اعتراض تو ایک کی فضیلت سے دوسرے کی توہین کا نتیجہ نکالنا کسی طرح درست نہیں۔

الجواب: بے شک مفضول پر افضل کی فضیلت کا اظہار موجب توہین نہیں ہوتا۔ اسی اصول پر ان احادیث کا جواب ہے جن میں حضرت سرورکائناتa کی فضیلت تمام انبیاء پر بیان کی گئی ہے۔ ہاں! اگر مفضول کو افضل پر فضیلت دی جائے تو لامحالہ توہین ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی حضرت ابوبکرq سے افضل ہیں تو لابد اس میں حضرت ابوبکرq کی توہین ہے۔کیونکہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے اور احادیث صحاح سے ثابت ہے کہ امت محمدیہ میں سب سے افضل حضرت ابوبکرq ہیں۔ پھر یہ ایک اسلامی اصول ہے کہ غیر اصحابی صحابی کی فضیلت کو نہیں پاسکتا تو مرزا صاحب جو کہ غیر صحابی ہیں حضرت امام حسینq سے جو کہ قطعی بہشتی، سید شباب اہل الجنۃ اور صحابی ہیں۔ کسی طرح فضیلت پاسکتے ہیں۔ خصوصاً جب کہ مرزا صاحب بوجہ ادّعاء نبوت بحکم نبوی ’’سیکون فی امتی ثلاثون کذابون دجالون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النّبیین ولا نبی بعدی‘‘ خارج از دائرہ اسلام ہیں۔

۵… امام مہدی کے متعلق تو تمام اکابر علماء نے تسلیم کیا ہے کہ وہ صحابہ بلکہ بعض انبیاء سے بھی افضل ہیں۔ جیسے کہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے حجج الکرامہ میں محمدبن سیرین کا قول نقل کیاہے۔

الجواب: یہ مختار مدعاعلیہ کا عدالت میں صریح جھوٹ ہے۔ کیونکہ تمام امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکرq تمام امت میں افضل اعلیٰ ہیں۔ عقائد نسفی میں ہے۔ ’’افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر‘‘( شرح عقائد) کس قدر جسارت اور دروغ گوئی ہے کہ تمام اکابر علماء وصلحاء کی طرف سے یہ عقیدہ منسوب کیا جاتاہے۔ محض طوالت کے خوف سے حوالہ جات کو ترک کرتاہوں۔ مختار مدعاعلیہ نے حجج الکرامہ کے حوالہ سے محمدبن سیرین کا جو قول نقل کیاہے اس میں بھی کتمان حق کیا ہے۔ کیونکہ اسی کتاب کے اسی صفحہ پر اس کی تردید موجود ہے۔ ’’لیس المراد بہٰذالتفضیل الراجع الیٰ زیادۃ الثواب واقعۃ عند اللہ تعالیٰ فالاحادیث الصحاح والاجماع علیٰ ان ابابکر وعمر افضل الخلق بعد النّبیین والمرسلین…‘‘ یعنی اس سے مراد تفصیل جو بہ زیادت الثواب اور خداوند کی طرف بلندی مقام ہے، مراد نہیں۔ کیونکہ احادیث صحاح اور اجماع اس بات پر ہوچکا ہے کہ حضرت ابوبکر وعمر انبیاء اور مرسلین کے بعد سب سے افضل ہیں۔ پھر نواب صاحب چند سطور کے بعد لکھتے ہیں: ’’گویم کہ قول ابن سریرین اگرچہ سندش صحیح باشد واما نحن فیہ وقتے حجۃ است کہ ماخذان مشکوٰۃ نبوت است والا فلا۔‘‘

370

یعنی محمد بن سیرین کا قول خواہ اس کی سند صحیح کیونکہ نہ ہو، اس مسئلہ میں حجت اس وقت ہوتا جب مشکوٰۃ نبوت سے ماخوذ ہوتا، ورنہ تو نہیں۔ مختار مدعاعلیہ صرف ایک محمد بن سیرین کا قول جو کہ احادیث صحاح اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ اس کو تمام علماء، صلحاء، اولیاء، امت کی طرف منسوب کرتاہے۔ حالانکہ اس قول کی تردید وہیں موجود ہے جہاں سے یہ قول نقل کیاگیاہے۔ اوّلاً تو محمدبن سیرین کا قول صحیح نہیں۔ کیونکہ اجماع اور صحاح کے خلاف ہے۔ ثانیاً اگر فرض محال اس کو تسلیم کیا جائے تو بھی مرزا صاحب کی فضیلت امام حسینq سے ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ احادیث سے امام مہدی کا نام محمد اور ان کے والد کا نام عبد اللہ قوم سید، مقام پیدائش مدینہ طیبہ، مقام ظہور مکہ معظمہ ثابت ہے اور مرزا صاحب کا نام غلام احمدوالد کانام غلام مرتضیٰ، قوم مغل، مقام پیدائش وظہور قادیان ہے جو کسی طرح بھی مرزا صاحب پر منطبق نہیں ہوتے۔

۶… مرزا صاحب نے اعجاز احمدی اور آئینہ کمالات میں امام حسینq کی تعریف کی ہے۔

الجواب: مرزا صاحب کا امام حسینq کی تعریف کرنا پھر توہین کرنا بھی حق وباطل کو ملاناہے جو بقول مرزا صاحب دجال کی علامت ہے۔ ملاحظہ ہو۔

(تبلیغ رسالت ج سوم ص۳۰۰، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۳۱)

اگر واقعی مرزا صاحب کوحضرت امام حسینq کا احترام تھا تو پھر اس قدر تعلّیانہ دعویٰ اور ’’شتان بینی وبین حسین کم‘‘ کہنے کی کیاضرورت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنی تعلی اور فخر کے جوش میں اکابر امت بلکہ انبیاءo تک کی بھی توہین کرجاتے ہیں۔ پھر جب علماء اور عام مسلمانوں کی طرف سے مرزا صاحب پر نکتہ چینی ہوتی ہے تو وہ ان کی تعریف بھی کردیتے ہیں۔ آج ان کی امت مرزا صاحب کی اس حکمت عملی سے بے جا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ جہاں کسی کی توہین کا اعتراض ہو جھٹ مرزا صاحب کی کتابوں سے کوئی عبارت اس کے خلاف نقل کردیتے ہیں۔ کبھی خدا کے ان بندوں کو اس امر کے سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ اگر مرزا صاحب کو ان حضرات کا واقعی احترام اور ان کی عظمت تھی توپھر ان کے خلاف توہین الفاظ کہنے کی کیاحاجت تھی۔ کسی صحیح العقل انسان سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جس کو اپنا بزرگ اور واجب الاحترام سمجھتاہو اور اس کی مدح وستائش میں رطب اللسان ہو۔ مگر گاہے گاہے اس بزرگ محترم کے متعلق سخت نکتہ چینی کرے اور اس کی توہین وتحقیر میں بھی حصہ لے۔

۷… مختار مدعاعلیہ نے کربلائے است سیرہر آنم کی تین توجیہہ کی ہیں۔

الف… امام حسینq کی طرح مظلوم۔

ب… جماعت سے بعض لوگ مبتلا آلام ہوںگے۔

ج… واقعہ شہادت کی عظمت کا جتلانا مقصودہے۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ کی توجیہات قابل تعجب ہیں۔ مرزا صاحب نہایت تعلّی سے اپنی فضیلت وبرتری بیان کرتے ہیں اور حضرت امام حسینq کے ایثاراور عظیم الشان قربانی اور مظلومیت کی شہادت کی تحقیر کرتے ہیں اور اپنے مراتب ومدارج کو حضرت امام حسینq سے اعلیٰ اور افضل بتاتے ہوئے شتان بینی وبین حسین کہتے ہیں۔ میں یہاں صرف مرزا صاحب کے اشعار کا ترجمہ مرزا صاحب کے الفاظ میں پیش کرتاہوں، اس ترجمہ کی روشنی میں مختار مدعاعلیہ کی بے جا توجیہات کی حقیقت عدالت کے نزدیک واضح ہوجائے گی۔ ’’مجھ میں اور تمہارے حسینq میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسینq پس تم دشت کربلاء کو یاد کرلو اب تک روتے ہو۔ پس سوچ لو، میں حجت کاکشتہ ہوں، مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق بیّن اور ظاہرہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)

371

اولیاء کی توہین

۱… اگر مرزا صاحب کے اس شعر سے تمام اولیا ء کی توہین ہوتی ہے تو دین اسلام نے دیگر ادیان کو منسوخ کرکے ان سب ادیان کی توہین کی ہے۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ نے ہمارے قائم کردہ الزام توہین کی علت کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے یہ جواب دیا ہے کہ اگر مرزا صاحب کے قائم کردہ ارشاد وہدایت سے باقی تمام ارشاد وہدایت کے منسوخ ہونے سے توہین لازم آتی ہے تو اسلام نے بھی باقی ادیان کو منسوخ کرنے میں ان ادیان کی توہین کی ہے۔ گویا جس طرح اسلام کے باقی ادیان کو منسوخ کرنے سے ان ادیان کی توہین نہیں ہوئی۔ اسی طرح مرزا صاحب کے طرق فیوض وسبل ہدایت سے سابقین کے تمام طرق اور سبل کے منسوخ ہوجانے سے سابقین کی توہین نہیں ہوتی۔ گویا مختار مدعاعلیہ نے یہ تسلیم کرلیا کہ مرزا صاحب کا طرق اوّلین کے طرق کے لئے ایسا ہی ناسخ ہے۔ جیساکہ اسلام دیگر ادیان کے لئے۔ الحمدﷲ! مختار مدعاعلیہ نے اس سچائی کو کھلے الفاط میں ظاہر کردیا جس کو ابتداء سے پوشیدہ کرنا چاہتاہے۔ عدالت خود غور فرمائے کہ مختار مدعاعلیہ کے اس جواب میں ثابت ہوگیا کہ مرزا صاحب کی امت درحقیقت مرزا صاحب کی تعلیم اور طریق کو اوّلین کی تعلیم وطریق کے لئے ناسخ مانتی ہے۔

۲… چونکہ حضورa تمام انبیاء سے افضل ہیں، اس لئے گویا آپ نے تمام انبیاء کی توہین کی ہے۔

الجواب: سب سے پہلے میں عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتاہوں کہ مختار مدعاعلیہ مرزا صاحب کی برأت ثابت کرنے کے لئے کس بے دردی کے ساتھ میرے قائم کردہ وجوہ توہین کو حضورسرور عالمa کی طرف پھیر دیتاہے۔ گویا اس کوحضورa سے علاقہ تک نہیں۔ باقی رہا یہ امر کہ حضورa کا اپنی ذات کو دیگر انبیاءo سے افضل فرمانا ان انبیاءo کی توہین نہیں۔ کیونکہ افضل کی فضیلت کا بیان مفضول کی توہین نہیں ہوا کرتی اور حضورa کی افضیلت بدلائل قاطعہ وبراہین ساطعہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے جس میں ایک مسلمان کو بھی کلام نہیں۔ مگر مرزا صاحب کے لئے یہ وجہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ حضرت ابوبکر کی افضلیت تمام امت میں احادیث صحاح اور اجماع امت میں ثابت ہے اور اسلامیان عالم کا متفقہ اجماعی عقیدہ ہے کہ: ’’افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر‘‘ لہٰذا مرزا صاحب کے اس قسم کے دعاوی اخیار امت کی توہین کا موجب ہیں۔

۳… اگر مرزا صاحب کے شعر سے توہین لازم آتی ہے تو حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے اس شعر افلت شموس الاوّلین سے بھی توہین لازم آتی ہے۔

الجواب:

الف… حضرت پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی مدعی نبوت نہیں، بلکہ کبار اولیاء امت سے ہیں جو بہرحال کتاب وسنت کے تابع ہیں، نہ ان پر نزول جبرئیل ہوتاتھا اور نہ مہبط وحی الٰہی ہونے کے مدعی تھے، نہ کوئی نئی تعلیم جاری کی اور نہ کوئی نیا فرقہ قائم کیا اور نہ کوئی کشتی نجات بنائی۔ پس ان کے شعر میں شمسنا سے حقیقتاً مراد اسلام ہے۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے شموس یعنی ادیان منسوخ ہوگئے اور کہ ہمارا شمس یعنی اسلام کبھی غروب نہیں ہوگا۔ مرزا صاحب کے دعاوی اور ان کی تعلّیان اور تمام کارخانہ دگرگوں ہے۔ وہ نئی دنیا اور نیا آسمان اور نئی زمین نیاموسیٰ،نیا عیسیٰ، نیا محمدa حتیٰ کہ نیا خداتعالیٰ بنانے کے خواہاں ہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کے شعر کا مطلب بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ یا تو پہلی تعلیمیں منسوخ ہوگئیں یا یہ کہ اب موصل الی اللہ صرف مرزا صاحب کا ایجاد کردہ مذہب احمدیت ہے۔ چنانچہ مختار مدعاعلیہ نے اس پر تصریح کی ہے جو آگے عرض کرتاہوں۔

ب… حضرت سید عبدالقادر جیلانی ولی کامل تھے، مگر مدعی نبوت نہ تھے۔ صوفیاء کرام کی تصریحات کے مطابق سکر میں بعض کلمات اہل

372

اللہ کی زبان سے بے اختیار نکل جاتے ہیں تو ان کو پسند نہیں فرماتے۔ جیسا کہ کتب تصوف میں مصرح ہے اور چونکہ انبیاء کی بعثت مخلوقات کی ہدایت وارشاد کے لئے ہوتی ہے اور ان کا تقرب الی اللہ نہایت اعلیٰ اور موثق ہوتاہے اور ان کا قول وفعل قابل حجت ہوتاہے۔ اس لئے انبیاءo کے لئے کسی وقت بھی سکر نہیںہوتا۔ پس چونکہ مرزا صاحب مدعاعلیہ اور اس کے مختار کے نزدیک نبی ہیں۔لہٰذا مرزا صاحب کے لئے یہ عذر بھی نہیں ہوسکتا کہ سکر کی حالت میں ایسا کہا ہو۔ پس مرزا صاحب کے اس شعر کا قیاس حضرت پیر صاحب کے شعر اور قول پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

۴… مرزا صاحب کے شعر کاصرف یہ مطلب ہے کہ پہلے اولیاء وغیرہ نے جو طریق نکالے تھے وہ سب طرق اب بند کئے گئے ہیں۔ اب کوئی شخص ان طرق کے ذریعہ سے خداتعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب تک کہ وہ میرا طریق اختیار نہ کرے جو طریقہ میرے سید ومولیٰ محمدa کا تھا۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے شعر کا معنی کرکے ہمارے مقصد کی بکلی تائید وتوثیق کردی ہے۔ بحمد اللہ العلیم اس نے اس بات کو تسلیم کرلیا جو ہمارا دعویٰ یعنی مرزا صاحب سے اخیار امت و اکابر کے نزدیک جو خداتعالیٰ تک پہنچنے کے جو طریق اور ذریعے تھے، دو حال سے خالی نہ ہوئے یا تو وہ حضورa کے طریق کے مخالف تھے یا موافق۔ اگر موافق تھے تو ناحق ان ذرائع اور طرق کی بندش کا حکم دے کر اخیار امت کی توہین کی ہے، یا اگر پہلے بزرگوں کے طرق کے مخالف تھے تو اس سے بڑھ کر اکابر واخیار کی تحقیروتوہین اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ بغیر استثناء احدے خود بھی اور دیگر مسلمانوں کو بھی ایک ایسے طریق پر چلایا جو حضورa کا طریق نہ تھا۔ پھر اس میں کسی ایک کا استثناء نہیں۔ اوّلین رہنمایان اسلام حضرات صحابہ ہیں جنہوں نے صحرائے عرب سے نکل کر قیصر وکسریٰ کی مملکتوں کو پائمال کرکے لوگوں کو مشرف باسلام کیا اور دورہ افتادہ انسانوں کوخدا رسیدہ بنایا۔ پھر تابعین اور تبع تابعین کا دورہے جن کی مساعی سے اقصیٰ مشرق ومغرب کے لوگ مشرف بااسلام ہوکر خداتعالیٰ تک پہنچے اور پھر علماء امت اور ائمہ مجتہدین ہیں جنہوں نے کتاب وسنت کے حقائق ومعارف ومآرب کے ذریعہ سے قلوب کو منور کیا اور پھر اصحاب السلاسل اربعہ چشتیہ نقشبندیہ قادریہ وسہروردیہ ہیں جنہوں نے باتباع طریق محمدیہ لاکھوں کاملین اور واصلین الی اللہ بنائے جن میں مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ حضرت مجدد الف ثانی اور امام شعرانی وغیرہ حضرات ہیں۔ الغرض مرزا صاحب نے کوئی نیا طریق ارشاد وہدایت ایجاد کیا ہے جس پر سابقین کا عمل نہیں تھا اور جس کی وجہ سے پہلے مذاہب بند اور بے کار ہوگئے تو یہ نسخ شریعت محمدیہ ہے یا وہی طریق ارشاد وہدایت ہے جو حضورa سے مأثور ومنقول ہے اور جو نسلاً بعد نسلٍ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اصحاب شریعت وارباب طریقت کا معمول ومسلک رہاہے۔ پس اس صورت میں ان کے چشموں کو خشک کہنا اور ان کے طریق کو خداتعالیٰ کی طرف نہ پہنچانے والا سمجھنا اور خداتعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ صرف اپنے طریق ارشاد کو سمجھنا نہ صرف اخیار وابرار امت کی توہین ہے۔ بلکہ مفاسد عدیدہ کو مستلزم ہے۔ کیونکہ اس توجیہ پر یہ بھی لازم آتاہے کہ امت محمدیہ جو مرزا صاحب کے سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے وہ خداتعالیٰ کا تقرب اور وصول اللہ ہرگز نہیں پاسکتے اور ان کے تمام مجاہدے اور تمام اعمال صالحہ اور ان کا تقویٰ وطہارت اوران کا عرفان معرفت اور زہد وعبادت خداتعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ تعلیم کی پیروی وپابندی کے باوجود ذریعہ ہدایت ووسیلہ نجات نہ ہو، تاوقتیکہ ان اصول اور تعلیم کا اتباع نہ کیا جائے جو مرزا صاحب کی طبع زاد تعلیم ہے۔

۵… مجدد الف ثانی صاحب نے ہزار سال کے سرپر آنے والے مجدد کو صدی کے سر پر آنے والے مجدد پر اتنی فضیلت دی ہے، جتنی سو اور ہزار میں نسبت ہے تو گویا اس قول میں مجدد صاحب نے سابق مجددین کی توہین کی ہے۔

373

الجواب:

الف… مختار مدعاعلیہ نے اگرچہ حضرت مجدد صاحب کو مسلم بزرگ ماناہے۔ مگر اس کو اپنے مسلم بزرگ کا مقرر کردہ اصول بھی تسلیم نہیں ورنہ اس کو ماننا پڑے گا کہ مرزا صاحب نے (حقیقت الوحی ص۱۹۸، خزائن ج۲۲ ص۲۰۵) کے بیان میں بے شک توہین کی ہے۔ کیونکہ خود مرزا صاحب کا اقرار ہے اور مختار مدعاعلیہ کا عقیدہ ہے کہ مرزا صاحب چودہویں صدی کے مجددہیں اور حضرت مجدد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی ہیں۔ یعنی دوسرے ہزار سال کے آغاز پر مجدد ہورہے ہیں۔ چودہویں صدی کے مجدد یعنی مرزا صاحب اور دوسرے ہزار سال کے مجدد یعنی مجدد صاحب سرہندی کے درمیان حسب تصریح مجدد صاحب۱۰/۱ کی نسبت ہوگی۔ یعنی مجدد الف ثانی صاحب مرزا صاحب سے دس گنا افضل واکمل ہوںگے۔ پھر مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزرچکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ سراسر توہین وتحقیرہے جو ہمارا مدعاہے۔

ب… حضرت مجدد صاحب کے قول مجدد میں سابقین کی قطعاً توہین نہیں بلکہ توہین کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں۔ حضرت مجددصاحب کے قول کا معنی یہ ہے کہ ہزار سال کے سر پر جومجدد آتاہے وہ ان تمام مجددین سے دس گناا فضل ہوتاہے جو اس ہزار سال کے ہرصدی پر آتے ہیں۔ بالکل صحیح اور مسلم سن ہجری کے پہلے ہزار سال کی پہلی کا مجدد حضرت عمربن عبدالعزیز اموی ہیں۔ جیسا کہ نواب صدیق حسن صاحب نے حجج الکرامہ میں اور مرزا صاحب کی امت میں سے عبدالرحمن خادم نے اپنی پاکٹ بک میں لکھاہے۔ پس پہلے ہزار سال میں جس قدر مجددین صدی بصدی آئے ان سب سے حضرت عمر بن عبدالعزیز افضل ہیں۔ کیونکہ تابعی اور خیر القرون میں سے ہیں۔ پہلے ہزار اسلامی ختم ہونے پر دوسرے ہزار اسلامی کے پہلی صدی پر جو مجدد آیا وہ اس ہزار سال کے ان تمام مجددین سے افضل ہے جو اس ہزارسال کی ہر ایک صدی کے سر پر آتے رہیں گے۔

پس مجدد صاحب کے اس قول سے حضرت مجدد صاحب الف ثانی کی فضیلت صرف ان مجددین پر ثابت ہوگی جو ہزار ثانی کے ہر صدی کے سر پر آتے رہیںگے۔ پس مجدد صاحب کی فضیلت صرف آئندہ آنے والے مجددین پر ثابت ہوئی نہ پہلے ہزار سال کے مجددین پر۔ مجدد صاحب کے اس قول کے مطابق مرزا صاحب نے برتری اور فضیلت ظاہر کرکے مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگوں حضرت مجدد صاحب الف ثانی اور علامہ عبدالوہاب شعرانی وغیرہ کی توہین کی۔

اے بدذات فرقہ مولویان

مختار مدعاعلیہ نے اس الزام کے جواب میں اپنے نبی مرزا صاحب کی سنت پر عمل کرتے ہوئے علماء امت کے حق میں نہایت مغلظ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ہم اپنے پیغمبرa کے اس اسوہ حسنہ ’’لم یکن النّبی فاحشاً ولا متفاحشاً‘‘ اتباع کرتے ہوئے مختار مدعاعلیہ کی سخت کلامی بھی برداشت کرتے ہیں۔ چونکہ مختار مدعاعلیہ نے اس بحث کو بے جا طول دیا ہے اور اس قسم کا مغالطہ باربار دیا ہے۔ اس لئے مختار مدعاعلیہ کے مغالطہ کوظاہر کرنے اور اصل حقیقت کو دکھلانے کے لئے ذرا تفصیل سے عرض کرتاہوں۔

خلاصہ جواب مختار مدعاعلیہ:

۱… مرزا صاحب نے شرفاء وعلماء کو گالیاں نہیں دیں یہ گالیاں ان علماء کو دیں ہیں جن کا شیوہ خباثت وشرارت ہے۔

۲… مرزا صاحب کی یہ گالیاں ایسے علماء کو ہیں جن کے متعلق حدیث میں آیاہے کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا… الخ!

۳… شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنے وقت کے علماء کو یہود کا نمونہ بتلایاہے۔

۴… یہ گالیاں ان مولویوں کے حق میں ہیں جنہوں نے سخت مخالفت کی اور ان کی زبان درازی انتہاء کو پہنچ گئی اور فحش مضمون کے اشتہار دئیے۔

374

۵… مسیح اسرائیلی نے جس طرح اپنے وقت کے مولویوں اور فقیہوں کو سانپ اور سانپ کے بچے حرام کار وشریر کہا، اسی طرح مسیح محمدی نے اسی قسم خبیث فطرت ممسوح القلب، سیاہ باطن مولویوں کے حق میں یہ الفاظ اے بدذات فرقہ مولویان… الخ! استعمال کئے۔

۶… یہ الفاظ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی اور ان کے ہم مشرب مولویوں کے حق میں ہیں۔

۷… ان العدی صاروا…الخ! سے مراد وہ مولوی ہیں جنہوں نے مرزا صاحب کو گالی دیں جو خنزیر صفت ہیں۔

۸… کنزالعمال میں حدیث ہے کہ امت میں ایک خوف آئے گا۔ لوگ علماء کی طرف رجوع کریں گے تو وہ خنزیر اور بندر ہوچکے ہوںگے۔

۹… ایسے مولویوں سے مراد وہ مولوی ہیں جو نقول کے پابند ہوںگے۔

۱۰… اگر مرزاصاحب کی دشنام دہی گالی ہیں توقرآن میں بھی بہت سے گالیاں ہیں۔ ’’ذالک مثل الذین کذبوا بآیات اللہ … الخ!‘‘

۱۱… عورتوں سے جن کو کتیاں کہاہے وہ مراد جنہوں نے گالی دیں۔

الجواب: نمبروار ہر ایک شق کے جواب دینے سے پہلے ایک اجمالی جواب دیتاہوں کہ علماء وقت کو مرزا صاحب نے کیوں گالی دیں اور علماء وقت اور مرزا صاحب کی عداوت کیوں تھی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ تیرہ سوسال سے بنصوص قطعیہ کتاب وسنت واجماع امت اسلامیان عالم کا متفقہ عقیدہ تھا کہ حضورخاتم الانبیاء ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

اورحضورa نے فرمایا تھا کہ میری امت سے تیس دجال کذاب پیداہوں گے۔ ہر ایک کایہ دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس پیش گوئی کے مطابق کئی ایک مدعیان نبوت پیدا ہوئے۔ علماء امت نے ان کو کذاب ودجال قرار دیا۔ اسلامی حکومت نے ان سے جہاد کیا۔ آخر ان کو قتل کرکے فتنہ کو فرو کیا۔ مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کو کافر ودجال قراردیا۔ بحکم خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرq نے جہاد کیا اور قتل کیا علیٰ ہذا جب بھی کسی نے دعویٰ نبوت کیا، علماء نے اس کو دجال وکذاب کا فتویٰ دے کر اس کے قتل کاحکم دیا تاآنکہ مرزا صاحب نے انگریزی حکومت کے زیر سیایہ دعویٰ نبوت کیا۔ اسلامی حکومت نہیں تھی جو اس پراحکام شرعی جاری کرتی۔ صرف علماء امت موجود تھے جنہوں نے حیات دین متین کے لئے مرزا صاحب کو بروی حدیث: ’’سیکون فی امتی دجال وکذاب‘‘ کہا اور مرزا صاحب کے تمام دجل اور ان کے پردوں کو پارہ پارہ کیا۔ امت محمدیہ کو کفر وارتداد کے اس فتنہ عظیمہ سے بچانے کے لئے مرزا صاحب کو مناظروں میں شکستیں دیں اور ان کی تردید میں مستقل کتابیں لکھیں اور مرزا صاحب کی پیش گوئیوں کی فریب کاریوں کو آشکارا کیا۔ اس جہاد فی الدین میں حضرت مولانامحمدحسین صاحب بٹالوی نے نہایت گرانقدر خدمات اداکیں۔ مرزا صاحب کا جادوان کے منشاء اور تخیل کے مطابق نہ چل سکا اور مرزا صاحب کو یقین ہوگیا کہ اس فتنہ عظیمہ کی سرکوبی کے لئے علماء وقت نے ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ کاشان دکھایاہے جب تک طبقہ علماء موجود ہے۔ میری دعوت حسب منشاء اشاعت نہیں ہوسکتی اور علماء کا وجود میری قبولیت کے لئے سنگ راہ ہے توپھر کیاتھا کہ مرزا صاحب نے علماء امت اور بزرگان وقت کو نہایت غلیظ گالیاں دینی شروع کردیں۔

علماء کو گالیاں دینے کے تفصیلی جواب

مولوی الٰہی بخش صاحب نے اپنی کتاب عصاء موسیٰ میں مرزا صاحب کی گالیاں کو خوب حروف تہجی کی ترتیب سے جمع کردیاہے۔ اس کے لئے (عصاء موسیٰ ص۱۴۴،۱۴۵،۱۴۶) ملاحظہ کیاجائے۔ کتاب عصائے موسیٰ اب محاسبہ قادیانیت جلد اوّل میں شائع ہو گئی ہے۔ (مرتب) اب تفصیلاً ہر ایک شق کا جواب دیتاہوں۔

۱… یہ جواب بالکل مہمل وبے سود ہے پہلے شرافت اور خباثت کا ایک معیار مقرر کیاہوتا جس معیار پر تنقید کی جاتی کہ فلاں شریر ہے اور

375

فلاں شریف۔ شرافت نسب،شرافت علم،شرافت تقویٰ کے باکمال انسانوں کو مرزا صاحب نے سخت فحش گالی دی ہیں۔ مثلاً پیر سید مہرعلی شاہ صاحب گولڑوی، حضرت مولاناعبدالجبار صاحب غزنوی، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی، مولانا عبد اللہ صاحب ٹونکی ومولانا اصغرعلی صاحب روحی وغیرہ اکابر علماء اوربرگزیدہ بزرگوں کو گالی دینا اورپھر ان کو شریر کہنا کس قدر تعدی ہے۔ ان حضرات نے محض نصرت دین اور علاء حق اور محافظت احوال اسلام وبحکم نبوی ’’سیکون فی امتی ثلاثون… الخ!‘‘

مرزا صاحب پر فتویٰ تکفیر دیا جو محض اصول اسلام کے مطابق اور حکم شرعی کی پابندی تھی، ایسے علماء کے متعلق حضورa نے بشارت فرمائی تھی۔ ’’لا تزال طائفۃ من امتی… الخ!‘‘

۳… حضرت شاہ صاحب کا قول یقینا مرزا صاحب کے مخالف علماء پر چسپاں نہیں۔ کیونکہ اس وقت مرزا صاحب کا وجود اور دعویٰ اور نہ علماء کا ان کے متعلق فتویٰ تھا۔ ہاں! حضرت شاہ صاحب کا قول ان مولویوں کے متعلق ہے جو کہ کتاب وسنت کو چھوڑ کرآیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی تحریف کرکے اصول دین میں فتنہ ڈالتے ہیں۔ اب معاملہ بالکل صاف ہے ایک طرف تو وہ علماء جو آیات قرآنی اور احادیث نبویہ کا وہی معنی کرتے ہیں جو حضورa اور صحابہ کرام سے مروی ہیں اور اجماع امت سے ثابت ہیں اور اسی اصول اور روشنی میں مرزاصاحب کی تکفیر کرتے ہیں اور دوسری طرف مولوی صاحب ہیں جو تصریحات الٰہیہ اور تتصیفات نبویہ اور اقوال اجماعیہ کے خلاف مرزا صاحب کے ہمنواء ہوکر آیات واحادیث میں تحریف کرکے مرزا صاحب کی نبوت ثابت کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اسی لئے شاہ صاحب کے قول میں ایسے مولویوں کو یہودی صفت کہاگیاہے۔

۴… مرزا صاحب نے جس قدر علماء وصلحاء کو گالی دی ہیں۔ اس کا ہزارواں حصہ بھی کوئی عالم دین نہ دے سکتاہے۔

مرزا صاحب کو دجال وکذاب کہا مگر یہ وہ الفاظ ہیں جو حضورa کی زبان مبارک سے آپ کے بعد مدعی نبوت کے لئے صادر ہوئے ہیں۔ اس میں علماء کا کیا قصورہے۔ یہ ایک فتویٰ شرعی ہے۔ ہر ایک مسلمان ایسا کہنے کے لئے شرعاً مجبورہے۔

۵… یہ مرزا صاحب کا حضرت مسیحm پر بہتان ہے۔ انبیاءo اخلاق مرضیہ کامل سے متصف اور خلق اعلیٰ کا نمونہ ہوتے ہیں۔ اگر کسی انجیل میں ایسا لکھا ہواہے تو ہم اس کے مکلف نہیں۔ اس لئے کہ انجیل میں تحریف ہوچکی ہے جو مرزا صاحب کو بھی تسلیم ہے۔ قرآن وحدیث اور آثار صحابہ میں اس کا کوئی اصل نہیں، باقی رہا یہ کہ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے مخالف علماء کے حق میں خبیث فطرت ممسوح القلب اور سیہ باطن کے الفاظ استعمال کئے ہیں، ہم ان کو برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے مولیٰ اور آقاءa نے اس طریق گفتگو سے منع فرمایاہے۔

۶… حضرت مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی کی مرزا صاحب سے کوئی عداوت نہیں تھی۔ پہلے پہل جب مرزا صاحب نے اسلام کی خدمت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو مولانا محمدحسین صاحب نے ان کی تعریف وتوصیف کردی، جب رفتہ رفتہ مرزا صاحب اسلامی تعلیم سے دور ہوتے گئے تو مقدسین پر زبان درازی کی۔ مجدد ومہدی بنتے بنتے مسیح نبی رسول بنتے گئے توچاروناچار مولوی صاحب نے تمام اکابر وافاضل علماء ہند سے استفتاء کیا۔ سب نے بالاتفاق مرزا صاحب پر کفرکا فتویٰ دیا اور قرآن واحادیث صحابہ کرام، ائمہ عظام کے اقوال وآثار کی روشنی میں یہ فتویٰ مرتب ہوا۔ اس لئے ہماری گزارش ہے کہ اس فتویٰ کو جو ایک کتابی صورت میں ملاحظہ فرمائے تاکہ یہ تمام حقیقت واضح ہوجائے۔ اگر اس وقت کے علماء مرزا صاحب کی تکفیر نہ کرتے تو کیا ناموس اسلام کی خیانت اور روایات اسلامی کی حفاظت جہال اور بے علم لوگ کرتے کیا ادوار ماضیہ کے علماء وائمہ نے مدعیان نبوت کی تکذیب وتکفیر نہیں کی تھی۔ مرزا صاحب کے وقت کے علماء نے مرزا صاحب کی تکفیروتکذیب میں کوئی نیا کام نہیں کیا۔ مقام تعجب ہے کہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور عجلی وباب وبہاء اللہ مدعیان نبوت کو کافر کہنے والے

376

علماء تو ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ کا مصداق ہوئے اور چودھویں صدی کے مدعی نبوت مرزا صاحب کی تکفیر کرنے والے علماء بدترین خلائق ٹھہریں؟

۷… اوّلاً یہ سراسر بہتان اور افتراء ہے۔ کیونکہ مختار مدعاعلیہ نے اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا۔ محض دعویٰ بلادلیل ناقابل سماعت ہے۔ مرزا صاحب کی عادت تھی کہ وہ پہلے ایک قابل مواخذہ بات کردیتے۔ جب اعتراضات ہوتے افتراء کے طور اس کی ابتداء اور ان کی طرف منسوب کردیتے تھے۔ ہاں! مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا علماء نے بموجب فرمان نبوی ان کو کذاب ودجال ضرور کہا یا مرزا صاحب کی پیش گوئیوں پر نکتہ چینی کی۔ مرزا صاحب کے دلائل لاطائل کی حقیقت کھول کر رکھ دی تاکہ لوگ اس فتنہ والحاد سے بچ جائیں جس پر مرزا صاحب نے دلائل کا جواب دشنام دہی سے دیا جو ہر مفتری کا طریق کارہے۔

۸… مختار مدعاعلیہ نے کنزالعمال کی حدیث نقل کرکے مرزا صاحب کے مخالف علماء کو خنزیر اور بندر بتلایاہے۔ بندر اس لئے کہ نقل اتارنے کے عادی ہوں۔ یعنی لکیر کے فقیر اور پرانی روایات کے پابند ہوںگے اورخنزیر اس لئے، جواب سے عاجز ہوکر خنزیری صفات یعنی گالی دیں گے۔ یہ ہے مختار مدعاعیہ کا سلیقہ جو اس نے اپنے پیشواء مرزاصاحب سے وراثتاً پایاہے۔ اب میں حدیث کا جواب دیتاہوں اور مختار مدعاعلیہ کی غلط فہمی کا ازالہ کرکے ثابت کرتاہوں کہ مختار مدعاعلیہ نے ناحق اس حدیث کو مرزا صاحب کے مخالف علماء پر چسپاں کیاہے۔ حالانکہ یہ حدیث صاف طور پر ان مولویوں پر منطبق ہے جنہوں نے قرآن وحدیث میں تحریف کرکے مرزا صاحب کی تصدیق کی ہے کہ حضورa اخیر زمانہ کے متعلق پیش گوئی فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایک خوفناک فتنہ اٹھے گاجو اس فتنہ قادیانیہ کی طرف اشارہ ہے۔ ناواقف لوگ اپنے علاقہ کے مولویوں کی طرف اس فتنہ کی فریاد لے جائیں گے کہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اٹھیں ان میں بعض مولوی پہلے اس فتنہ میں مبتلاء ہوکربنی اسرائیل کے بعض مغضوب علیہم لوگوں کی طرح ممسوح ہوکرخنزیر وبندرہوچکے ہوں گے۔یعنی رسول خداa کا بتلایا صراط مستقیم چھوڑ کر اس فتنہ کو قبول کرکے ’’کونوا قردۃً خاسئین‘‘ کا مصداق ہوچکے ہوںگے اور لوگوں کو بھی اس فتنہ عظیمہ کی دعوت دیں گے یا معنی ہے کہ اس گروہ کے مولویوں میں بندروں کی نقل اور خنزیروں کی بے غیرتی پائی جائے گی۔ چنانچہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ اس فرقہ کے مولوی مرزا صاحب کی برأت کے لئے مختلف نقلیں اتارتے رہتے ہیں اور حاطب لیل ہوکر کہیں تورات کا قول، کہیں انجیل کے حوالے، کبھی جنم ساکہوں کی عبارتیں، کسی وقت صوفیاء کرام کے اقوال پیش کرتے ہیں تاکہ مرزا صاحب کی برأت کا سامان ہوجائے۔ اس فرقہ کے مولویوں کو مناظرہ واستدلال کے میدان میں جو روز اوّل سے شکستیں اور ذلتیں نصیب ہوتی رہی ہیں۔ متقضائے غیرت یہ تھا کہ کبھی نام نہ لیتے، مگر ہمارے آقاa نے ان کو خنزیر صفت بتلاء کر بطور پیش گوئی فرمایاتھا کہ ان میں غیرت نہیں ہوگی۔ یہ ہے حدیث کا مطلب جس کو مختار مدعاعلیہ نے غلط بیان کرکے مرزا صاحب کے مخالف علماء پر چسپاں کیا تھا۔ رسول خداa نے ان علماء کو بشارت دی ہے کہ جو اس فتنہ میں مبتلاء نہ ہوں گے اور صراط مستقیم پر قائم رہیں گے۔’’لا یزال طائفۃ من امتی… الخ!‘‘

۹… مختار مدعاعلیہ اپنے پیشواء سے کس قدر تنزل کرکے کہتاہے کہ اگر مرزا صاحب کی کلام میں گالیاں ہیں تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم میں گالیاں ہیں۔ ورنہ خود مرزا صاحب نے تو یہاں تک فرمادیاتھا کہ ماننا پڑے گا کہ قرآن گالیوں سے پرہے۔ پس ان ہر دو عبارات سے عدالت خود غور فرماسکتی ہے کہ ان لوگوں کا تعلق اسلام اور بانیٔ اسلام اور قانون اسلام یعنی قرآن کریم سے کس قدر ہے کہ اگر مرزا صاحب کی تعلیم پر اعتراض کیا جائے تو ویسا اعتراض اسلام پر کر دیتے ہیں۔ اگر الزام مرزا صاحب سے ثابت ہو تو اسی قسم کا اعتراض حضورa کی ذات اقدس پر کردیتے ہیں اور اگر کوئی اعتراض مرزا صاحب کی کلام پر وارد ہوتو ویسا ہی اعتراض قرآن حکیم پر عائد کردیتے ہیں۔ پھر لطف یہ کہ دعویٰ بھی موجود ہے۔ ’’مامسلمانیم از فضل خدا‘‘

377

۱۰… قرآن کی بیان کردہ مثال ’’ذالک مثل الذین کذبوا بآیات اللہ (الآیۃ)‘‘ بھی حرف بحرف مرزا صاحب کی جماعت کے مولویوں پر صادق آتی ہے۔ کیونکہ کتابیں پڑھنے کے بعد ان مولویوں نے اللہ تعالیٰ کے فرامین اور محمد مصطفیﷺ کے ارشاد وہدایت کو پس پشت ڈال کر ختم نبوت کا قرآنی اور نبوی اور اجماعی عقیدہ چھوڑ کر محض ہوائے نفس میں علم ربانی سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور پھر علماء ربانیین نے ان کے عقیدہ باطل کی تردید میں روز روشن کی طرح دلائل وبراہین قائم کردئیے۔ وہ صم بکم عم رہ کر ہدایت سے محروم رہے۔

۱۱… مختار مدعاعلیہ نے تو اس جواب میں کمال ہی کردیا۔ مرزا صاحب اپنے مخالفوں کو خنزیر کہتے ہیں اور ان کی بیویوں کو کتیاں۔ مگر مختار مدعاعلیہ کہتاہے کہ وہ عورتیں مراد ہیں۔ جو مرزا صاحب کو گالی دیتی ہیں۔ میں کہتاہوں کہ اوّلاً اس ملک کی عورتوں کو مشاجرات مذہبی کا علم بھی نہیںہوتا۔ اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ ان سب مخالفین کی عورتوں کو مرزا صاحب اور ان کے اپنے خاوندوں کے ذریعہ مخالفات مذہبی کاعلم بھی ہوگیا ہو تو یہ کہاں سے لازم آیا کہ مخالفوں کی عورتیں مرزا صاحب کو گالی بھی دیتی ہوں گی۔ پھر مرزا صاحب کا بلا استثناء مخالفوں کی عورتوں کو کتیاں کہنا کس قدر بلا وجہ الزام ہے۔

ذریۃ البغایا

مختاران مدعیہ نے لغت کے مستند اور معتبر کتب سے ثابت کرکے بتلایا کہ ذریۃ لبغایا کے معنی حرام کارعورتوں کے بیٹے کے ہیں۔ مرزا صاحب نے اپنے تمام مخالفوں کو جوان کے دعویٰ نبوت کی تصدیق نہیں کرتے اور اس دعویٰ میں ان کو جھوٹا مانتے ہیں۔ ان کو زنا کار عورتوں کی اولاد بتلایاہے۔حالانکہ کوئی شریف انسان اپنے کسی مخالف کو صرف اختلاف دعویٰ کی وجہ سے زانیہ عورت کی اولاد یا حرامزادے نہیں کہتا۔ کیونکہ مذہبی اختلاف کی بنیاد عقائد پرہے نہ مخالف کے نطفۂ حرام اور زانیہ عورت کے اولاد ہونے پر۔ مختاران مدعاعلیہ نے دیدہ ودانستہ اس حقیقت نفس الامری کو چھپانے کے لئے مرزا صاحب کے قول الّا ذریۃ البغایا کی چند رکیک توجیہیں کی ہیں۔ پہلے اس سے کہ میں ان توجہیات کا بطلان ثابت کروں، خود مرزا صاحب کے مصنفات سے بغی وبغیہ وبغایا۔ بمعنی زانیہ زناکار، بازاری حرام کار فاحشہ عورتیںپیش کرتاہوں۔ جہاں کہیں مرزا صاحب نے ان الفاظ کو استعمال کیا ہے۔ ان کا ترجمہ زنا کار حرام کار عورتیںکیاہے۔ میں مرزا صاحب کے صرف ایک رسالہ لجنۃ النور سے چودہ حوالے پیش کرتاہوں جس میں مرزا صاحب نے بغی وبغیۃ وبغایا جس کاترجمہ زنا کار، بدکار، بازاری عورتیں کیاہے۔ چنانچہ:

۱… (لجنۃ النور ص۳۱، خزائن ج۱۶ ص۳۷۱) میں ہے: ’’یسرون بتلک البغایا‘‘ جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے خود کیاہے، بلکہ ’’بدیدن زن ہائے زانیہ خوش مے شوند‘‘

۲… اور (لجنۃ النور ص۶۹، خزائن ج۱۶ ص۴۱۰) میں ہے: ’’ویجتراؤن کا لبغایا علی انواع الخبائث‘‘ جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے یہ کیاہے کہ ہم ’’چو زنان بازاری بر ہر نوع ناپاکی دلیری مے نمائند۔‘‘

۳… اور (لجنۃ النور ص ۸۵، خزائن ج۱۶ ص ۴۲۷) میں ہے:’’وقد تجتمع الیہم فی بعض لیالیہم بغایا السوق‘‘ جس کا ترجمہ خود مرزا صاحب نے یہ لکھا ہے: ’’وگاہے دربعض شب زنان بازاری مے آیند۔‘‘

۴… اور(لجنۃ النور ص۸۶، خزائن ج ۱۶ ص۴۲۸)میں ہے:’’یتزوجون البغایا‘‘جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے: ’’ودرنکاح خود مے آرند زنان بازاری را۔‘‘

۵… اور اسی صفحہ میں ہے:’’نعم یوجہ کالبغایا نوع من الجلادۃ‘‘ جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے یہ کیا ہے کہ: ’’بان ہمچو زنان بازاری قسمے از چالاکی درایشان یافتہ میشود۔‘‘

378

۶… (لجنۃ النور ص۸۸، خزائن ج۱۶ ص۴۳۰) میں ہے: ’’فان نطفۃ البغایا قد خامر اکثر ولد‘‘جس کا ترجمہ خود مرزا صاحب نے یہ لکھاہے: ’’چرا کہ نطفہ زنان بازاری باکثر بچگان مخلوط شدہ۔‘‘

۷… اور اسی صفحہ میں ہے: ’’ویتلون تلو البغایا وککاری الحانتہ‘‘ جس کا ترجمہ خود مرزا صاحب نے ’’وپس زنان فاسقہ ہمچو مستان شراب خانہ می روند۔‘‘

۸… اور (لجنۃ النور ص۸۹، خزائن ج۱۶ ص۴۳۱) نے یہ لکھا ہے کہ: ’’زنان فاحشہ ودجال درحیلہ جوئی وکار سازی مشابہت می دارند۔‘‘

۹… اور(لجنۃ النور ص۹۰، خزائن ج۱۶ ص۴۳۲) میں ہے:’’ان نساء دار ان کن بغایا‘‘ جس کاترجمہ مرزا صاحب نے یہ کیا ہے کہ اگر’’درخانہ زنان آن خانہ فاسقہ باشند‘‘

۱۰… اور (لجنۃ النور ۹۶، خزائن ج۱۶ ص۴۳۷) میں ’’وما اہلکہم الا البغایا‘‘ جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے خود یہ کیاہے: ’’ہلاک نہ کردایشانرا مگر زنان فاحشہ۔‘‘

۱۱… ’’وقد کثرت البغایا لشقوۃ الناس فی ہذاالزمان‘‘ جس کا ترجمہ یہ لکھا ہے: ’’وبرائے بد بختی مرد زنان فاحشہ دریں زمان بسیار شدہ اند۔‘‘

۱۲… اور (لجنۃ النور ص۹۶، خزائن ج۱۶ ص۴۳۷) میں ہے: ’’وربما تسقط بغی من کثرۃ الخمر فی وسط السوق وبرالزم‘‘جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے یہ لکھا ہے: ’’وبسا اوقات زن فاحشہ از کثرت شراب خوری در وسط بازار د گزر مردم بیہوش مے شود۔‘‘

۱۳… اور (لجنۃ النور ص۹۷، خزائن ج۱۶ ص۴۳۸) میں ہے: ’’ویبذل فی مداوات بغی جہد اسی‘‘جس کا مرزا صاحب نے یہ ترجمہ لکھاہے: ’’وخرچ مے کند درعلاج زنان فاحشہ کوشش طبیب۔‘‘

۱۴… اور (لجنۃ النور ص۱۱۸، خزائن ج۱۶ ص۴۶۰) میںہے:’’واشتغلوا من شرح الوقایۃ والہدایۃ الی العواہر والبغایا‘‘ جس کا ترجمہ مرزاصاحب نے یہ لکھا ہے کہ: ’’واز شرح وقایہ وہدایہ روتافتہ سوئے زنان بد کار۔‘‘

ہم نے مرزا صاحب کے ایک رسالہ سے چودہ حوالے ایسے پیش کردئیے ہیں جس میں مرزا صاحب نے بغیہ، بغی، بغایا کا ترجمہ زن ہائے بازاری، زن ہائے زانیہ، زن ہائے فاحشہ،زنان بدکارکیاہے۔

اب (آئینہ کمالات ص۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۸) کے لفظ ذریۃ البغایا کی تشریح اور تعین معنی میں مختار ان مدعاعلیہ کے پیشوا ء غلام احمد صاحب کے استعمالات اور محاورات اور بیان کردہ معنی سے صاف ظاہر ہے۔ مختاران مدعاعلیہ کو یقین صریح ہے کہ مرزا صاحب کی پچاس الماریاں ان محاوروں کی تشریح اوربیان معنی سے خالی ہیں۔ اگر مختاران مدعاعلیہ کو اپنے مقتداء مرزا غلام احمد صاحب کی کسی عبارت میں بغیہ اور بغایا کے وہ معنی ملتے جو مختاران مدعاعلیہ مرزا صاحب کے قول الذریۃ البغایا کے کرتے ہیں تو مرزا صاحب کی کسی ایک عبارت یااس کے ترجمہ سے دکھلاتے۔ حالانکہ ان کے پیشواء ومقتداء مرزا غلام احمدصاحب کو بغیہ اور بغایا، بغی زن فاحشہ، زنان بدکاری وغیرہ الفاظ لکھنے کا بکثرت اتفاق ہوا۔ چنانچہ صرف ایک رسالہ لجنۃ النورسے چودہ حوالے پیش کئے گئے ہیں، بلکہ ہم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے مصنفات سے چند ایسے حوالے پیش کرتے ہیں۔ مختاران مدعاعلیہ کے مسلم مقتداء وپیشواء مرزا غلام احمدصاحب قادیانی نے ذریۃ البغایا کے معنی یعنی اولاد حرام اور حرامزادے کے صریح الفاظ اپنے مخالفوں اور منکروں کے حق میں استعمال کئے ہیں۔ذریۃ البغایاکا معنی اولاد حرام اور حرامزادے کے متعلق مختاران مدعاعلیہ ناجائز حیلے کررہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ مرزا صاحب نے منکرین کے حق میں ذریۃ البغایا بمعنی اولاد حرام کے استعمال نہیں کیا۔ ہم نے ان کی تسکین کے لئے لجنۃ النور سے ۱۴ حوالے پیش کردئیے ہیں

379

کہ مرزا صاحب بغیہ اور بغایا کے معنی زنان بازاری اور زناکار، بدکار کرتے ہیں۔ اگر ان کی تسکین کے لئے کافی نہیں توا پنے مقتداء وپیشواء کے حوالہ جات ذیل پڑھ لیں کہ کس طرح اپنے مخالفوں اور منکروں کے حق میں ذریۃ البغایا کے مترادف الفاظ صریح کہتے ہیں۔

۱… ’’پھر بھی کوئی ہماری تکذیب کرے اور اس معیار کی طرف متوجہ نہ ہو اور ناحق سچائی پر پردہ ڈالناچاہے تو بے شک وہ حلال زادہ نہیں ہوگا۔‘‘

(انوار اسلام ص۲۹، خزائن ج۹ ص۳۱)

۲… ’’جو شخص اس فیصلہ کے خلاف بکواس کرے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔‘‘

(انوار اسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱)

۳… ’’اگر وہ ولد الحرام نہیں اور حلال زادہ ہیں تو اس مضمون کو پڑھ کر اس فیصلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔‘‘

(انوار اسلام ص۷۳، خزائن ج۹ ص۳۸)

۴… ’’اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں سے کون بلاتوقف اس فیصلہ کے لئے سعی کرتاہے اور کون ولدالحرام بننے کے لئے سعی کرتاہے۔‘‘

(انوار اسلام ص۳۷، خزائن ج۹ ص۳۹)

۵… ’’کہ اگر اب بھی کوئی مخالف مولوی یا کوئی عیسائی یا ہندو یا آریہ یا گیسووالہ سکھ ہماری اس فتح نمایاں کا قائل نہ ہوا تو اس کے لئے طریق یہ ہے کہ مسٹر عبد اللہ صاحب کو قسم مقدم الذکر کے کھانے پر آمادہ کرے … اور اگر ایسا نہ کرے تو سمجھا جائے گا کہ وہ شریف نہیں۔ اس کی فطرت میں خلل ہے۔ یہ نہایت صفائی کا فیصلہ اور کسی حلال زادہ کاکام نہیں جو بغیر رعایت اس فیصلہ کے ہم کو جھوٹا شکست خوردہ قرار دے۔‘‘

(مختصر تقریر متعلق فتح اسلام مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۴)

ان پنجگانہ حوالہ جات کے ملاحظہ کے بعد عدالت کے سامنے یہ امر بخوبی آجاتاہے کہ ذریۃ البغایا کے معنی وہی ہیںجو مختار مدعیہ اور گواہان مدعیہ نے بیان کئے ہیں اور مختاران مدعاعلیہ نے جو غلط اور لغو تاویلات بیان کئے ہیں وہ بالکل صحیح اور قابل اعتناء نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کی عادت مستمرہ ہے کہ جو شخص ان کی افترائی اور خود ساختہ باتوں کو تسلیم نہ کرے تو فوراً اس کو حرام زادہ اور ولد الزنا کہہ دیتے ہیں۔

باقی رہا مختاران مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ ابن الفاعلہ اور ابن الزانیہ وغیرہ بول کر اس سے بد خصلت انسان مراد ہوتاہے۔ اگر اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تاہم ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ کیونکہ ان کے مقتداء اور پیشواء کا استعمال کردہ لفظ ذریۃ البغایا ہے جس کے معنی زانیہ عورتوں کی اولاد کے ہیں اور اس لفظ البغایا کے استعمال کاکوئی محاورہ بمعنی بدخصلت انسان کے نہیں پیش کیا۔ متنازعہ فیہ لفظ ذریۃ البغایا ہے نہ ابن الفاعلہ اور ابن الزانیہ وغیرہ۔

علی ہذا متنبی کا یہ شعر:

  1. تنکرموتہم واناسہیل

    طلعت بموت اولاد الزناء

ان کو مفید نہیں، اس لئے مختاران مدعاعلیہ نے اس شعر کا غلط یہ ترجمہ کیا ہے: ’’یعنی اے علی بن اسحاق آپ حاسدوں اور چغل خوروں کی موت پر تعجب کرتے ہیں۔ حالانکہ سہیل ستارہ ہوں جوان حیوان سرشت بد باطنوں کے لئے طلوع ہوا ہوں۔‘‘

حالانکہ مولانا ذوالفقار علی صاحب نے تسہیل البیان شرح متنبی میں یہ ترجمہ کیاہے: ’’اور تو حاسدوں کی موت کا انکار کرتاہے۔ حالانکہ میں سہیل ہوں کہ میں بہائم اولاد الزناء کی موت لے کر آیاہوں۔‘‘

مختار مدعاعلیہ نے پہلے تسہیل البیان کا ترجمہ نہایت طمطراق سے پیش کیاتھا۔ اب چونکہ تسہیل البیان کا ترجمہ ان کے مدعاکی تردید کرتاہے۔ لہٰذا اس ترجمہ سے اعراض کرکے از خود ترجمہ کیا اور حیوان سرشت بد باطنوں کا لفظ از خود بڑھالیا جو تسہیل البیان کے ترجمہ کے بالکل

380

خلاف ہے۔ تسہیل البیان میں لکھا ہے: ’’اراد باولاد الزناء البھائم والعرب تقول اذا طلع سہیل وقع العرباء فی البہائم‘‘ یعنی اولاد الزناء سے مراد جانور ہیں اور عرب کہتے ہیں کہ جب سہیل ستارہ نکلتاہے تو جانوروں میں وباء پھیل جاتی ہے۔ یعنی جس طرح سہیل ستارہ کے طلوع سے اولاد الزناء یعنی جانوروں میں موت بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح میرا وجود حاسدوں کے لئے موت کا موجب ہے۔

مگر مختار مدعاعلیہ کی دلیری قابل دید ہے کہ عدالت کے سامنے دیوان متنبی جیسی مشہور عالم کتاب کے شعر کے معنی کے متعلق غلط بیانی کرکے دھوکا دینا چاہاہے۔

مختار مدعاعلیہ نے اپنے پیشواء اور مقتداء مرزا غلام احمد صاحب جس نے اسلام اور بانیٔ اسلام کی مقدس تعلیم اور روایات سے تمسخر کیا۔ اپنی خرافات اور ہزلیات کے بچاؤ کے لئے حضرت سرور عالمa کی مقدس زندگی کو نشانہ بنایا۔ تمام شعائر اسلام پر ہاتھ صاف کیا، جہاں کہیں مرزا صاحب کے فعل وقول پر اعتراض ہوا، فوراً بے دردی سے حضرت آقاء نامدار کی ذات بابرکات پرویسا حملہ کردیا ہے۔ حتیٰ کہ مرزا صاحب کے اس طریق جواب سے پادری بغلیں بجا رہے ہیں۔ چنانچہ پادری ایس۔ایم ۔پال مدیر اخبار نور افشاں نے کتاب معذرت نامہ مرزا لکھ کر عیسائیت کی بڑی خدمت کی ہے جو کچھ وہ اسلام اور بانیٔ اسلام اور قرآن حکیم کے متعلق برملا نہیں کہہ سکتے تھے وہ مرزاغلام احمد صاحب کے الفاظ میں کہہ گیاہے اور ساتھ ہی یہ لکھ دیاہے: ’’بالآخر اس قدر اور گزارش کی جاتی کہ اس کتاب کے جمع اور تالیف میں ہم نے اپنے آپ کو بالکل غیر جانب دار رکھا ہے اور اپنی طرف سے ایک جملہ بھی نہیں لکھاہے اور ہر قسم کے تصرف سے بالکل اجتناب کیاہے۔ اس لئے مسیحی مناظرین کی خدمت میں بھی یہی عرض ہے کہ اگر کبھی ان کو اس کتاب سے کام لینے کی ضرورت پڑجائے تو وہ اس کے حوالے پیش کریں کہ مرزا صاحب یا مرزا صاحب کا فلاں مرید یہ کہتاہے از خود ان اعتراضات کے پیش کرنے کی مطلق ضرور ت نہیں۔

مسلمان بھائیوں کی خدمت میں بھی یہ گزارش ہے کہ اگر ان کو اس کتاب کے جواب لکھنے کی ضرورت پڑجائے تو ہمارا ذکر مطلق درمیان نہ لایا جائے، کیونکہ ہم صرف حوالوں کے ذمہ دار ہیں نہ کسی اور امر کے، بلکہ براہ راست قادیانیوں کو خطاب کریں۔‘‘

(معذرت نامہ مرزا ص۱۰)

ارادہ تھا کہ پادری صاحب کے اس رسالہ کے اقتباسات بطور نمونہ پیش کردئیے جائیں۔ مگر اختصار کی خاطر اس رسالہ کے چند اقتباسات پیش کرتاہوں۔

۱۱… ’’معذرت سوم: آنحضرتﷺ کی پیش گوئیاں بھی غلط نکلیں۔

(ص۲۵)

۱۲… آنحضرت کی پیش گوئیوں کی غلطیاں مرزا کے مریدوں کے زبانی…

(ص۲۷)

۱۳… مرزا جی کی دشنام دہی کی معذرت کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پرہے…

(ص۴۱)

۱۵… قرآن وحدیث میں بھی تناقض ہے…

(ص۴۵)

۱۹… مرزا صاحب کے فرزند دلبند یعنی موجودہ قادیانی خلیفہ کی طرف سے معذرت کہ اگر مرزا صاحب نے اپنی پھوپھی کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آنحضرتﷺ نے بھی ایسا کیا۔

(ص۵۲)

۲۱… معذرت اوّل: اگر میری کلام میں سرقہ ہے تو قرآن میں بھی ہے…

(ص۵۶)

۲۲… معذرت دوم: قرآن میںبھی غلطیاں ہیں…

(ص۵۶)

۲۷… آنحضرت کی دعائیں قبول نہیں ہوئیں…

(ص۶۳)

۳۳… اگر مرزا صاحب مجنون تھے تو آنحضرت بھی محسور تھے…

(ص۶۸)

381

۳۳… اگر مرزا صاحب نے اپنی کوئی بات چھپائی تو آنحضرت نے بھی چھپائی…

(ص۶۹)

۳۴… اگر مرزا صاحب کی مراد پوری نہیں ہوئی تو آنحضرت کی مراد بھی پوری نہیں ہوئی۔

(ص۷۱)

۳۵… اگر مرزا صاحب کے الہامات میں غیر زبان الفاظ ہیں تو قرآن میں بھی ہیں۔‘‘

(ص۷۴)

اس فہرست کے مطالب پر نظر ڈالنے اور پادری صاحب کی گزارش محوّلہ بالا پر غور کرنے سے بالکل واضح ہے کہ مرزا صاحب اور اس کے مریدوں نے حضرت سرور عالمa اور آپ کی ذات پاک اور قرآن حکیم اور اسلام پر کس قدر ناپاک حملے صرف اس لئے کئے ہیں کہ مرزا صاحب کے ہزلیات پر جو اعتراض وارد ہوتے ہیں وہ حضورa اور اسلام اور قرآن پر واضح چسپاں کردئیے جائیں تاکہ کسی طرح مرزا صاحب کی برأت ہوجائے۔ پادری صاحب نے معذرت نامہ کی تمہید میں ایک خط نقل کیاہے جو لاہوری مرزائیوں کے اخبار پیغام صلح میں شائع ہواہے جس کا خاص حصہ ملاحظہ عدالت کے لئے پیش کرتاہوں: ’’جب کسی معترض نے مرزا صاحب کی خصلت یا قول یا فعل پر اعتراض کیا اور کوئی عیب یا نقص یابدی ان کی طرف منسوب کی تو (قادیان سے) اس کے جواب میں کبھی مرزا صاحب کی برأت یا صفائی نہیں بیان کی گئی، بلکہ یہ جواب دیاگیا کہ یہ باتیں رسول کریمaمیں اور قرآن میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایسے جوابوں سے کوئی امیدہے، سارے مسلمان جو اس کی حقیقت سے زیادہ واقف نہیں ہیں، مطمئن ہوجاتے ہوں گے، مگر غیر مسلمین کے لئے تو صرف مرزا صاحب ہی نہیں، بلکہ اسلام بھی سخت اعتراضوں کانشانہ بن گیا۔‘‘

(معذرت نامہ ص۱۰)

الحاصل مرزا صاحب اور ان کے مریدوں نے مرزا صاحب کے قابل اعتراض اور غلط افعال واقوال کے الزامات کے جواز اور برأت کے لئے حضرت سرور عالمa قرآن حکیم پرویسے سنگین حملے کردئیے۔

یہ نکتہ قابل توجہ ہے۔ اس تیرہ سوسال کے عرصہ میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں سے کسی ایک فرقہ یا فرد واحد نے اپنے فعل یا قول یا اپنے مقتداء مرشد واستاذ کے فعل وقول پر اعتراضات اور مخالفوں کی گرفت اور الزامات کو آنحضرتﷺ یا قرآن حکیم پر عائد کرکے حضور کی زندگی کو یا قرآن پاک کی تعلیم کو معرض طعن اور مورد الزام نہیں بنایا۔ ہاں! بعض پادریوں اور چند متعصب آریوں نے بے شک یہ طریق اختیار کیا مگر اس سے وہ نقصان متصور نہیں ہوسکتا جو مرزا صاحب اور جماعت مرزا صاحب کی تحریرات سے ہوتاہے۔ اوّلاً پادری اورآریہ مسلمانوں کے اشتعال سے خائف ہو کر اس بے باکی سے حملے نہیں کرسکتے۔ ثانیاً اگرچہ مرزائیوں کا تعلق اسلام سے ویسا ہے،جیسا عیسائیوں اور ہندوؤں کا اور عامۃالمسلمین کے حملوں کو بھی عیسائیوں اور ہندوؤں کے حملوں کی طرح اعداء کے حملے سمجھتے ہیں۔ مگر عیسائی اور آریہ ان حملوں کی وجہ سے خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور جو کچھ وہ اسلام اور بانیٔ اسلام کی ذات مقدس پر کھلے لفظوں اعتراض اور حملے نہ کرسکتے تھے وہ مرزا صاحب کے الفاظ میں کرکے اپنی اسلام کی دشمنی کا ثبوت دیتے ہیں۔

باقی رہا مختار مدعاعلیہ کا یہ دعویٰ اور اس کی ان کتابوں کو جن میں اسلام کی صداقت ظاہر کی گئی ہے۔ کس قدر لغو اور فضول ہے مرزا صاحب کی چھوٹی بڑی کتابیں اور رسالے تقریباً ۸۲ ہیں۔ ان تمام کتابوں اور رسالوں میں مرزا صاحب نے بلا ربط اور مناسبت جو کچھ لکھا وہ اپنی مجددیت، مہدویت، مسیحیت اور رسالت ونبوت کے ثبوت میں مختلف رنگ اور گوناگوں پینترے بدلے رفتہ رفتہ اسلام اور اسلامی روایات اور انبیاءo اور صالحین پر ہاتھ صاف کرتے گئے۔ مرزا صاحب کے دجل اور کذب کو ظاہر کرنے کے لئے علماء نے اپنا فریضہ ادا کیا تو گالی گلوچ پر اترآئے۔ اگر کسی نے اس بدخلقی پر اعتراض کیا تو جواب دیا کہ قرآن گالیوں سے پرہے۔ حضورa نے مخالفوں کو گالی دی تھیں۔ علماء نے ختم نبوت وغیرہ استدلال بالحدیث پیش کیا تو حدیث کو یہ کہہ کرردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہیں، جھوٹے اور جعلی معجزات اور نشانوںکا پلندہ تیار کیا۔

382

واقعات نے اس کو غلط ثابت کیا تو کہہ دیا کہ پہلے انبیاء کی پیش گوئیاں بھی غلط نکلی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی بعض الہامات کو صحیح نہیں سمجھا۔

محمدی بیگم اور عبد اللہ آتھم وغیرہ کی پیش گوئیاں جو بالکل صاف غلط ثابت ہوئیں، ان کی توجیہات وتاویلات میں سرتوڑ کوشش کی علماء اور اکابر امت کے سب وشتم میں پورا زور صرف کردیا اور ان کے اوراق سیاہ کرتے گئے اور ساتھ ہی اصول اورروایات اسلام کا انکار اور اپنی مدح سرائی اور اسلاف کا تخطیہ کرتے گئے۔ مرزا صاحب کے مصنفات، مثلاً: سراج منیر، نزول المسیح، تریاق القلوب، تحفہ گولڑویہ، اعجاز احمدی وغیرہ کو ملاحظہ کیا جائے۔ اسلام کی حقانیت اورحضورa کی رسالت اسلامی عقائد اور روایات کے ثبوت میں ایک دلیل ایک برہان بھی نہیں ملے گا۔ کہیں کہیں حضرت عیسیٰm کی ممات پر کچھ بیان ہوگا جس میں دلائل اور براہین کا رنگ نہیں، بلکہ اس اولوالعزم کی شان میں استہزاء وتمسخر کا پہلو قوی ہوگا۔ اللہ اکبر!

کس قدر عدل وانصاف سے عاری ہوا مختار مدعاعلیہ۔ مرزا صاحب کی کتابوں کو بھی اسلام کی صداقت پر تصنیفات کہتاہے۔ اگر ان کو اسلامی روایات کی تردید اور دشمنانہ تمسخر سے تعبیر کیا جائے تو زیبا ہے۔ اگر ان مصنفات میں کہیں کہیں حضورa کے متعلق کوئی مدح کا لفظ آتاہے تو وہ بھی آنحضرتﷺ کی سیرت مبارک اور اخلاق عالیہ اور تعلیم میں اور اس کے فلسفہ وحکمت پر بیان نہیں، بلکہ اس میں اپنی صفائی منوانے کے لئے فدائیت اور غلامی کادعویٰ کرکے حضورa کی عینیت وہمسری تک پہنچنا مقصود ہوتاہے اور بس۔

مرزا صاحب اور ان کے مریدوں کے مصنفات میں مذہب اسلام اور بانیٔ اسلام سے جو دشمنی کی گئی ہے اور عیسائیوں اور آریوں کو کھلے لفظوں میں حملے کرنے کا موقع دیاگیاہے وہ پادری ایس۔پال مدیر نور افشاں کی معذرت نامہ مرزا صاحب اوراس کے دیباچہ کے ملاحظہ سے ظاہرہے۔

پھر مختار مدعاعلیہ نے الذریۃ البغایا کی دوسری توجیہ یہ کی ہے کہ جو لوگ حضورa کو چھوڑ کر عیسیٰm کو باپ مانتے ہیں۔ اس لئے استعارۃً ان کو ذریۃ البغایا کہاگیا اور مسلمانوں پر جن کا اعتقاد حضورa کے متعلق یہ ہے کہ :

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

یہ الزام غلط عائد کیا۔ ’’اور آنحضرتﷺ جو امت کے حقیقی اور روحانی باپ ہیں انہیں چھوڑ کر حضرت عیسیٰm کو حضورa پر فضیلت دینا اور حضور کو چھوڑ کر ان کو اپنا باپ تسلیم کرناہے تو وہ بھی اس بدکار عورت کے مشابہ ہے۔ پس ایسے لوگوں کو استعارۃً ذریۃ البغایا قرار دیاجانا، بالکل درست ہے۔‘‘

یہ مختار مدعاعلیہ کی خیانت ہے کہ اس نے مسلمانوںپر ایک واجب الاحترازالزام لگایاہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کو حضورa پر فضیلت دیتے ہیں اور حضورa کو چھوڑ کر حضرت عیسیٰm کو باپ بناتے ہیں۔ ان ہذا الا بہتان عظیم! مگر بایں ہمہ مختار مدعاعلیہ نے بغایا کا معنی بدکار عورت تو تسلیم کرلیا ہے۔ لیکن محض فریب اور خدع کرکے مسلمانوں کو ذریۃ البغایا کہنے کی جواز کی وجہ حضورa کا چھوڑنا اور عیسیٰm کو ان پر فضیلت دینا بتلایاہے۔ حالانکہ مرزا صاحب نے ان لوگوں کو ذریۃ البغایا کہا جو مرزاکے دعویٰ کو نہ مانیں اور اس کی مہمل مصنفات کو بنظر محبت نہ دیکھے۔ اصل عبارت مرزا صاحب کی یہ ہے:’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفہا ویقلبنی ویصدق دعوتی الاذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبہم فہم لایقبلون‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷، ۵۴۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) جس کا ترجمہ لفظی یہ ہے: یہ کتابیں ہیں ان میں ہر ایک مسلمان محبت اور مودت کی آنکھ سے نظر کرے گا

383

اوران کے معارف سے نفع اٹھائے گا۔ مگر وہ زانیہ عورتوں کی اولاد جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے مہر مار دی ہے سو وہ قبول نہیں کریں گے۔

آئینہ کمالات کی اصل عبارت اور اس کے لفظی ترجمہ سے واضح ہے۔ مرزا صاحب نے ان تمام مسلمانوں کوذریۃ البغایا یعنی زانیہ عورتوں کی اولاد کہاہے جو مرزا صاحب کے دعاوی یعنی مہدی ہونا، مسیح ہونا، نبی ورسول ہونا عین محمدa ہونا نہیں مانتے۔

مسلمان اپنی دینی اور دنیاوی فلاح کی مدار حضورa کی غلامی سمجھتے ہیں۔ مگر مرزائی حضورa کی غلامی پر اکتفاء نہ کرکے مدارایمان اور مدار نجات مرزا صاحب کی غلامی سمجھتے ہیں۔ اس لئے مختار مدعاعلیہ کے استدلال پر استعارۃً مرزا صاحب کی امت کو ذریۃ البغایا کہنے کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ مگر مسلمان اس حقیقت الامری سے بخوبی واقف ہیں کہ جب سے مذہب اور تہذیب کاسنگ بنیاد رکھاگیاہے اور باہمی مشاجرات اور اختلافات کا سلسلہ شروع ہواہے۔ کسی مہذب اورشائستہ انسان نے اپنے مخالف کو اپنی بات منوانے کے لئے کبھی یہ نہیں کہا کہ جو میری بات نہ مانے گا اور میرے دعویٰ کو تسلیم نہ کرے گا وہ حرامزادہ ہے۔ ہاں! چھوٹے نادان بچے کھیلتے وقت ایک دوسرے کو ایسا کہہ دیتے ہیں۔ حضرات انبیاءo کی قابل اقتداء سیرت ان سفیہانہ حرکات سے مقدس ہوا کرتی ہے۔ یہ مرزا صاحب کے اخلاق کا نمونہ ہے۔ بایں ہمہ رسول اللہ ﷺ کی ہمسری اور عینیت کا دعویٰ ہے :

چہ نسبت خاک را بعالم پاک

مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب ان کتابوں کے متعلق (جن میں اسلام کی حقانیت اور حضورa کی فضیلت کا ذکرہے) فرماتے ہیں کہ: ’’ہر ایک مسلمان ان کو بنظر استحسان دیکھتاہے۔‘‘ یہ بالکل جھوٹ ہے اصل عبارت اوپر لکھی جاچکی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھے گا، مگر جو زانیہ عورتوں کی اولاد ہیں جن کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے (ایام الصلح ٹائٹل پیج، خزائن ج۱۴ ص۲۲۸) کی یہ عبارت: ’’ہماری اس کتاب میں اور رسالہ فریاد درد میں وہ نیک چلن پادری اور دوسرے عیسائی مخاطب نہیں جو اپنی شرافت ذاتی کی وجہ سے فضول گوئی اور بدگوئی سے کنارہ کرتے ہیں اور دل دکھانے والے لفظوں سے ہمیں دکھ نہیں دیتے اور نہ ہمارے نبیa کی توہین کرتے ہیں اور نہ ان کی کتابیں سخت گوئی اور توہین سے بھری ہوئی ہیں، ایسے لوگوں کو بلاشبہ ہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ ہماری ذاتیات پر بدگوئی سے حملہ کرتے یا ہمارے نبیa کی شان بزرگ میں توہین آمیز باتیں منہ پر لاتے ہیں اور اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔ سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں جو منہ پر بد زبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے۔‘‘

اور(لجنۃ النورص۶۷، خزائن ج۱۶ ص۴۰۹) کے ترجمہ کی یہ عبارت: ’’ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں نیک علماء کی ہتک سے اور شرفاء اور مہذب لوگوں پر اعتراض کرنے سے خواہ وہ مسلمانوں میں سے ہوں یا عیسائیوں یا آریوں میں سے بلکہ ہم ان تینوں اقوام کے لئے بیوقوفوں میں سے بھی صرف ان لوگوں کاذکرکرتے ہیں جو اپنی بدزبانی اور برائی ظاہر کرنے میں لوگوں میں مشہور ہوچکے ہیں۔ لیکن وہ جو اس قسم کی برائی سے بری ہے اور اپنی زبان کو روکتاہے، ہم بھلائی سے یاد کرتے ہیں اور بھائیوں کی طرح اس سے محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔‘‘

اور اسی طرح (الہدی ص۶۸، خزائن ج ۱۸ ص۳۱۴حاشیہ) کی عبارت: ’’ولیس کلامنا ہذا فی اخیارہم بل فی اشرارہم‘‘ یعنی ’’ہمارا ایسا کلام نیک علماء کے حق میں نہیں ہے بلکہ صرف شریروں کے حق میں ہے‘‘ نقل کر کے یہ دھوکا دینا چاہاہے کہ الذریۃ البغایا سے مراد وہی لوگ ہیں جو مرزا صاحب کے حق میں بدزبانی اور برائی ظاہر کرتے تھے اور اس کی تائید میں ’’ایام الصلح‘‘ اور ’’لجنۃ النور‘‘ اور ’’الہدی‘‘ کی عبارتیں پیش کردی ہیں۔ حاشا وکلا… ان عبارتوں کو اصل الزام کے دفع کرنے میں ادنیٰ تناسب بھی نہیں۔

اس عبارت میں مرزا صاحب کہتے ہیں ہر ایک مسلمان میری کتابوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھے گا اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرے

384

گا مگر حرامزادے لوگ جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگادی ہے۔

مرزا صاحب کی دشنام دہی کی علت مرزا صاحب کے دعویٰ کو نہ ماننا ہے اور اس کی تصدیق نہ کرناہے۔ اب مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں۔ پس وہ مسلمان (خواہ عالم ہوں یا جاہل ہو یا عربی یاعجمی) جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ مرزا صاحب کے اس بیان کے مطابق الذریۃ البغایا میں سے ہے۔

ازواج مطہراتؓ کی توہین

ہمارا اعتراض یہ تھا کہ امہات المومنین کا لقب صرف حضورسرورعالمa کی ازواج مطہرات کے لئے خاص ہے۔ دوسرے انبیاءo کی ازواج کو امہات المومنین نہیں کہاجاتا۔ مرزا صاحب کی امت، مرزا صاحب کی بیوی کو ام المومنین (جو لقب خصوصی ازواج مطہرات) کہہ کر ازاوج مطہرات کی توہین کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں مختار مدعا علیہ ایک بھی سند شرعی پیش نہ کرسکا۔ نہ کتاب سے، نہ حدیث سے، نہ کتب عقائدسے، نہ تصریحات فقہاء سے۔ محض اپنے قیاس سے ایک اختراعی نتیجہ پیش کیاہے کہ جب کہ ہر ایک نبی امت کے لئے باپ ہیں تو اس کی بیوی ضرور اس امت کی ماں ہوگی۔ حالانکہ یہ قیاس نہیں۔ حضرت لوطm اور حضرت نوحm کی بیویاں کافرہ تھیں۔ وہ کیونکر مومنین کی مائیں ہوسکتی ہیں۔ چونکہ حضورa کی ازواج کی تطہیر نص قرآنی سے ثابت تھی۔ اس لئے بنص قطعی قرآن حکیم ان کو امہات المومنین کہاگیا۔ لہٰذا اس خصوصیت کو عام کرکے اس ام المومنین کا لقب کسی دوسرے شخص کی بیوی کے لئے استعمال کرنا یقینا ازواج مطہرات کی توہین ہے۔ نیز صرف سوال یہ تھا کہ کسی نبی حتیٰ کہ حضرت آدم کی زوجہ مطہرہ ام بنی آدم کو بھی ام المومنین کا لقب عطاء نہ ہوا،اس کا کوئی بھی ایک نقل ضعیف سے ضعیف پیش کرکے جواب نہ دیا۔ لہٰذا توہین بہرحال قائم رہی۔

حضرت فاطمۃ الزہراءt کی توہین

مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کا واقعہ کشفی بیان کرکے حضرت پیرسید عبدالقادر جیلانی اورمولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی کے خوابوں کو الزاماً پیش کیاہے اور اس سے مرزا صاحب کے کشف کو خواب کا واقعہ قرار دینا کافی سمجھتاہے۔ حالانکہ مختار مدعاعلیہ کا یہ قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ یہ دونوں بزرگ نہ نبی ہیں اور نہ مدعی نبوت اور مرزا صاحب مدعی نبوت اور مختار مدعاعلیہ کے نزدیک نبی ہیں، نبیوں کے خواب وحی ہوتے ہیں اور وساوس شیطانی سے پاک۔ جیسا کہ خود مرزا صاحب( حمامۃ البشری ص ۱۳، خزائن ج۷ ص۱۹۰) میں لکھتے ہیں: ’’ولایخفی علیک ان رؤیا الانبیاء وحیی‘‘ اور (ازالہ اوہام ص۲۱۱، خزائن ج۳ ص۲۰۴) میں ہے۔ نبی کی خواب تو ایک قسم کی وحی ہوتی ہے اور اسلامی عقیدہ بھی یہی ہے۔ چنانچہ (روح المعانی پارہ ۱۶ ص۳۳) میں ہے: ’’ان رویاء الانبیاء والہاماتہم وحی‘‘ نیز گواہان مدعاعلیہ نے جرح میں بھی اسے تسلیم کرلیاہے۔ جب کہ مرزا صاحب مختار مدعاعلیہ کے نزدیک نبی ہیں اور نبی کی وحی الٰہی ہیں اور وحی دخل شیطانی سے پاک ہوتی ہے اور مرزا صاحب کا حضرت فاطمۃ الزہراt کی ران مبارک پر سر رکھنا مشاہدہ عینی سے بھی کہیں زیادہ قوی الثبوت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاءo کی خوابیں ایسے واقعات سے پاک ہوتی ہیں۔

بیت اللہ کی توہین

مرزا صاحب نے سرزمین قادیان کو ارض حرم قراردیاہے:

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص۵۶)

385

نیز مرزا صاحب کے بیت الفکر کو ’’من دخلہ کان آمنا‘‘ ماننا جس پر ہماری طرف سے یہ اعتراض ہوا کہ مرزا صاحب نے قادیان کو ارض حرم قرار دے کر بیت اللہ کی توہین کی ہے اور مختار مدعاعلیہ جواب جرح میں کہہ چکاہے کہ یہ ہمارا عقیدہ ہے اس کے جواب میں مختار مدعاعلیہ نے یہ بیان کیاہے۔

۱… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے جرح کے جواب میں ہرگز یہ نہیں کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے بلکہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ شعر مذکورہ مرزا صاحب کا ہے۔

الجواب: یہ مختار مدعاعلیہ کی غلط بیا نی ہے ورنہ جرح مارچ ۱۹۳۳ء کو اپنا عقیدہ ہونا تسلیم کرچکاہے۔ عدالت خود فرمائے یہ اس کا انکار بھی قابل تعجب ہے۔ ایک طرف مرزا صاحب کو نبی مانتاہے جس کا ہر قول وفعل حجت ہوتاہے۔ دوسری طرف مرزا صاحب کے صریح حکم کہ: ’’قادیان کی زمین ارض حرم ہے‘‘ پرعقیدہ ہونے سے انکار کیاہے۔ مرزا صاحب کی نبوت بھی ایک عجیب چیز ہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ قادیان کی زمین ارض حرم ہے، مگر ان کی امت کا ایک فرد یہ کہتاہے کہ میرا یہ عقیدہ نہیں۔

۲… ’’مرزا صاحب نے زمین قادیان کو ہجوم خلق کی وجہ سے ارض حرم کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔‘‘

الجواب: مختار مدعاعلیہ کا دیدہ ودانستہ یہ ایک مغالطہ ہے یا علوم عربیہ کی ناواقفی ہے۔ کیونکہ علماء عربیت نے تصریح کی ہے کہ تشبیہ میں عموماً حرف تشبیہ کا ہونا ضروری ہے اور مرزا صاحب کے شعر میں کوئی حرف تشبیہ نہیں۔

۳… یعنی جس طرح لوگ محض دین کی خاطر حج کے لئے ارض حرم ہجوم کرتے ہیں۔ یہاں بھی ہجوم کرنا دین ہی کے لئے ہے۔ کیونکہ اعلاء دین کے لئے تجویزیں سوچی جاتی ہیں۔ اسلام کی اور نبی کریمa کے فضائل بیان ہوتے ہیں۔

الجواب: بالکل غلط ہے قادیان میں خداتعالیٰ کی تعلیم اور رسول خداa کے ارشادات کی تحریف اسلامی روایات کی تکذیب، عقائد اسلامی کی تبطیل سکھلائی جاتی ہے۔ پھر سب سے زیادہ نقصان رساں پہلویہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر کیا جاتاہے۔ عیسائی اور آریہ جو اسلام کے دشمن ہیں وہ مشن قادیان کے کاموں سے بہت خوش ہیں اور مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے شکر گزار ہیں۔ عیسائیوں کے خیالات وافکار ذریۃ البغایا کے ضمن میں بیان کرچکاہوں۔ اب آریہ کی اخبار آریہ دھرم کا ایک حوالہ پیش کرتاہوں۔ ’’اسلامی عقائد کو متزلزل کرنے میں احمدیت نے آریہ سماج کو ایسی امداد دی ہے جو کام آریہ سماج صدیوں میں انجام دینے کے قابل ہوتا وہ احمدی جماعت کی جدوجہد نے برسو ں میں کر دکھایا۔ بہرحال آریہ سماج کو مرزا صاحب اور ان کے مقلد اور مرید مرزائیوں کا مشکورہونا چاہئے۔

(آریہ ویر ۲۲/۱۴؍مارچ ۱۹۳۲ء ص۱۴ کالم۱)

یہ ہے سرزمین قادیان کے کارنامے جس کو مختار مدعاعلیہ اعلائے دین کے تجاویز اور فضائل نبی کریمa کے بیان کرنے کا مرکز بتلارہاہے۔ قادیان وہ زمین ہے، جہاں کے مدعی نبوت نے رسول اللہ ﷺ کی عینیت کا دعویٰ کیا۔ حضورa کے ظہور کوہلال اور اپنے ظہور کو چودہویں کا چاند بتلایاہے۔ حضورa کی اجتہادی غلطیاں گنوائیں، مگر اپنی غلطیوں کی کوئی لسٹ نہیں۔ مرزا صاحب پر اعتراض کو حضورa کی ذات مقدس پر چسپاں کیا۔ قادیان کی زمین سے یہ آواز نہیں اٹھی:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور پہلے سے بڑھ کر اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار البدرقادیان مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء ص۱۴)

386

۴… اور کسی چیز کو کسی سے تشبیہ دینے سے مشبہ کی توہین نہیں ہوا کرتی، بلکہ مشبہ بہ سے اس کی فضیلت اور برتری ثابت ہوتی ہے۔

الجواب: اوّلاً مرزا صاحب کے شعر میں تشبیہ نہیں۔ کیونکہ تشبیہ کے لئے حرف تشبیہ کا ہونا شرط ہے جو یہاں مفقود ہے۔ ثانیاً قادیان میں جو ہجوم خلق ہوتاہے وہ اعلائے دین اور ذکر فضائل رسول مدنی نہیں ہوتا، بلکہ بنیاد کے اکھیڑنے اور رسول قدنی کی برتری کے لئے ہوتاہے۔

ثالثاً بفرض محال اگر مختار مدعاعلیہ کے زعم کے مطابق بھی مان لیا جائے تو کیا کسی وصف کے پائے جانے سے حقائق شرعیہ اور مصطلحات دینیہ کا اطلاق بھی ہوجاتاہے۔ انبیاء کو سچی خوابیں آتی ہیں۔ پس جس شخص کو سچی خوابیں آئیں کیامختار مدعاعلیہ اس کو بھی رسول اور نبی کہے گا جس کتاب میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسولk کا ذکر ہو۔ مختار مدعاعلیہ اس کو قرآن حکیم کہے گا اور ساتھ ہی یہ بھی کہے گا کہ سچی خواب دیکھنے والے شخص کو نبی کہنے اور اس کتاب کو قرآن کہنے میں انبیاء اور قرآن کی فضیلت وبرتری ثابت ہے۔ غالباً ہرگز نہیں کہے گا۔ یہ تو تمام جھوٹے مدعیان نبوت کو سلیقہ رہاہے کہ مصطلحات اسلامی کو ہمیشہ اپنے لئے ثابت کرتے رہتے ہیں۔

۵… لیکن بزرگان اسلام نے ایک شعر میں دل کو کعبہ بلکہ ہزار کعبہ سے بہتر بتایاہے مشہور شعر:

دل بدست آور کہ حج اکبر است… الخ!

الجواب: مختار مدعاعلیہ نے ایک شعرنقل کیا جس کو بزرگان دین واسلام کا شعر بتایاہے یہ کس قدر بدیہی مغالطہ ہے کہ یہ شعر بہرحال کسی ایک شاعر کا ہوگا نہ مجموعہ بزرگان اسلام نے مل کر یہ شعر بنایا ہوگا۔ محض دھوکا دینے اور اس شعر کو بلند پایہ ظاہر کرنے کی خاطر بزرگان اسلام کی طرف منسوب کردیاہے۔

یہ شعر اس قدر بے اصل ہے کہ کب مختار مدعاعلیہ نے اس شعر کو پیش کیا تو میرے سخت اصرار اور مطالبہ کے باوجود یہ نہ بتلاسکا کہ یہ کس شخص کا شعرہے اور کس کتاب میں ہے۔ پس ایک ایسے قول سے کہ نہ جس کے قائل کا پتہ ہے اور نہ کسی کتاب کا حوالہ ہے۔ استدلال کرنا کتناہی لغو ہے۔ احکام ومسائل اصول ودلائل سے ثابت ہوتے ہیں نہ زید وبکر کے اقوال سے۔

۲… بعض نے فرمایاکہ حقیقی کعبہ تو دل ہی ہے۔ چنانچہ علم الکتاب میں لکھاہے… الخ!

الجواب: یہ صرف ان کی کتب سے ناواقفی ہے۔ ان کی اصطلاح میں ہر مہبط تجلیات کعبہ کہلاتاہے یا کوہ طور مگر اسے مقام حج ’’من دخلہ کان آمنا‘‘ مصداق نہیں بناتے۔ بخلاف مرزا صاحب اور مرزا محمود صاحب کے کہ سالانہ جلسہ ہی کی حاضری حقیقی حج بتاتے ہیں۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔ پس یہ لوازم بتاتے ہیں کہ وہاں مجازی معنی شاعرانہ تخیل کی بناء پر مراد نہیں، بلکہ حقیقی مقابلہ ہے۔

مزید برآں اور تمام حرمین کے مقامات مقدسہ کے بھی نمونہ ونام بنا رکھے ہیں۔

۳… نیز جب کہ اس کے نزدیک قرآن مجید میں صرف بیت اللہ کو حرم قراردیاگیا ہے تو کیا رسول اللہ ﷺ کے مدینہ منورہ کو حرم قرار دینے سے بھی توہین حرم کعبہ لازم آتی ہے؟

الجواب: عدالت خود غور فرمائے کہ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب اور آنحضرتﷺ کے ساتھ شان ہمسری دکھلاتے ہوئے کس طریقہ سے کہہ دیا ہے کہ اگر مرز صاحب کے قادیان کو حرم بنانے سے توہین کعبہ لازم آتی ہے تو رسول اللہ ﷺ کے مدینہ منورہ کو حرم قرار دینے سے بھی کعبہ کی توہین لازم آتی ہے۔ گویا مرزا صاحب کا قادیان کو حرم قرار دینا ایسا ہے جیسا رسول اللہ ﷺ کا مدینہ منورہ کو حرم قرار دینا اگر حضورa کا فعل توہین ہے تو یہ بھی توہین ہوسکتاہے، ورنہ نہیں۔ مختار مدعاعلیہ کے اس جواب سے یہ ثابت ہوگیا کہ قادیان کا حرم ہونا بطور تشبیہاً نہیں، بلکہ علی سبیل الحقیقۃ ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے جو پہلے توجیہ کی تشبیہ کی تھی وہ غلط ہے۔ کیونکہ مدینہ منورہ کا حرم ہونا حقیقتاً ہے نہ تشبیہاً۔

387

جیسا کہ بخاری میں ہے آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ اے اللہ !حضرت ابراہیمm نے مکہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کو عیر وثور کے مابین حرم قرار دیتاہوں… الخ! (الحدیث)

نیز یہ ثابت ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ مرزا صاحب کو نبی تشریع مانتاہے کسی شہر یا زمین کو حرم قرار دینا ایک حکم شرعی ہے اور جس کی قرارداد سے کوئی نیا حکم شرعی ثابت ہوجائے۔ اس کولا بد نبی صاحب شریعت ماننا پڑے گا۔ ملاحظہ ہو (اربعین نمبر۴ ص۷،۸، خزائن ج۱۷ ص۴۳۶) ’’ اللہ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی مامور سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ مت بولو، زنانہ کرو، خون نہ کرو۔ ظاہر ہے ایسا بیان کرنابیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔‘‘

شریعت اسلامیہ میں ارض حرم صرف مکہ اور مدینہ منورہ ہیں۔ اب مرزا صاحب نے قادیان کی زمین کو بھی ارض حرم قرار دیاہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ حضورa صاحب شریعت رسول اور شارع ہیں۔ آپa کے تنصیص وتعّین سے احکام ثابت ہوتے ہیں۔ آپ کا قول وفعل اصول دین میں سے ایک اصل ہے جس سے احکام شرعیہ کا ثبوت ہوتاہے۔ آپ کا شان ’’ ما ینطق عن الہویٰ‘‘ ہے۔

۴… کیا مختار مدعیہ مولوی عبدالمالک صاحب پنشنر مشیر مال ریاست بہاولپور والد ماجد مولوی اختر علی صاحب منتظم آبادی کو بھی کافر ومرتد قرار دے گا، جنہوں نے جامع مسجد بہاولپور کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد کو مسجد اقصیٰ کی مثال اور کعبہ قرار دیاہے… الخ!

الجواب: مولوی اختر علی صاحب منتظم آبادی کے والد ماجد مولوی عبدالملک صاحب کے اشعار میں نہ کوئی کفر وارتداد کا کلمہ ہے اور نہ مختار مدعیہ کے نزدیک وہ کافر ومرتد ہیں۔ ہاں! مختار مدعاعلیہ اپنے مذہب اور اصول کو اور ا پنے رسول قدنی اور اپنے واجب الاطاعۃ خلیفہ ثانی مرزا محمود صاحب کی تصریحات کے مطابق مولوی صاحب ممدوح کو دیگر کروڑہا مسلمانوں کی طرح کافر سمجھنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ مولوی صاحب مرزا صاحب کو نہ نبی مانتے ہیں اور نہ اس کی بیعت میں داخل ہیں اور مرزا محمود صاحب (آئینہ صداقت ص۳۵) میں فرماتے ہیں: ’’ہر وہ مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوا، خواہ اس نے مسیح کانام تک بھی نہ سنا ہو، وہ کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ میں تسلیم کرتاہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔‘‘ پھر (ص۸۶ ) پر ’’پکا کافر‘‘ بتاتے ہیں۔

باقی رہا کہ اس مسجد کو مسجد اقصیٰ کی مثال اور کعبہ کہنا کوئی توہین نہیں۔ کیونکہ جس طرح کعبہ اور مسجد اقصیٰ کو بیت اللہ کہا جاتاہے، ایسا ہی تمام مساجد کو بیت اللہ اور خدا کا گھر بھی کہا جاتاہے۔ اس میں بیت اللہ کی کوئی توہین نہیں ہوتی۔ بخلاف زمین قادیان کے وہ زمین حرم نہیں ہوسکتی۔

حضرت شیخ الہند مرحوم کے اشعار کا جواب حوالہ جات حسام الحرمین وغیرہ کے سلسلہ میں دیا جائے گا اور معلوم ہوجائے کہ محض یہ مغالطہ ہی مغالطہ ہے۔

۵… مرزا صاحب کے الہام ’’من دخلہ کان آمنا‘‘سے جو مسجد مبارک کے متعلق ہے، حرم بیت اللہ کی خصوصیات میں کوئی نہیں… الخ!

الجواب: مرزا صاحب کا قادیان کی زمین کو ارض حرم قرار دینا، پھر ’’من دخلہ کان آمنا‘‘ کا الہام ایجاد کرنا، صاف طورپر ظاہر کررہاہے کہ مرزا صاحب قادیان کو مکہ معظمہ اور مسجد مبارک کو خانہ کعبہ قرار دیتے ہوئے نئی دنیا، نیا آسمان، نئی زمین، نیا موسیٰ، نیا عیسیٰ اور نیا محمدa حتیٰ کہ نیا خدا کے اصول پر نیا کعبہ اور نئی حرم بنارہے ہیں۔ باقی رہا یہ کہ مرزا صاحب سوء خاتمہ سے امن کی تصریح کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ قادیان زیرنگین حکومت انگیریزی تھا۔ اس کے سامنے مرزا صاحب کو اپنے الہامات کی قدر وقیمت بخوبی معلوم تھی کہ حکومت انگریزی کسی ایسے مجرم کو جو مسجد مبارک میں جاکر پناہ لے مواخذہ سے مامون نہیں چھوڑے گی۔ پھر کیوں مرزا صاحب اپنے الہام کی

388

ایسی تشریح کرتے جوقانون انگریزی کے مزاحم ہو۔ ہاں! مرزا صاحب کو ایسااقتدار حاصل ہوجاتا تو پھر اس الہام میں ہر طرح کی امن کا روح بھی پھونک دیتے۔

الغرض قادیان کی زمین کو ارض حرم قرار دینا پھر ’’من دخلہ کان آمنا‘‘ کا الہام ہونا یہ سب کچھ مکہ معظمہ اور مسجد الحرام سے استغناء حاصل کرنے کا سنگ بنیاد ہے جس سے یقینا ارض حرم اور بیت اللہ کی توہین ہوتی ہے۔

حج کی توہین

مختار مدعاعلیہ نے اس کے جواب میں چند وجوہ بیان کی ہیں جن کے حوالہ جات پیش کرکے علیحدہ علیحدہ جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ ان سب وجوہ کا محیط جواب یہ ہے کہ حج مصطلحات شرعیہ میں سے ایک لفظ ہے جس کے معنی بشرائط مخصوصہ، ایام مخصوصہ میں ارکان مخصوصہ کو امکنہ مخصوصہ میں ادا کرنا ہے۔ مصطلحات شرعیہ اپنے اپنے معنوں میں حقیقت ہوا کرتے ہیں۔ پس سالانہ جلسہ قادیان کو حج کہنا، گویا ایک مصطلح شرعی لفظ کو اس کے معنی میں استعمال کرنا ہے جس میں مصطلح معنی کی توہین ہے۔ خصوصاً جب کہ قادیان کی زمین ارض حرم قرار دی گئی اور مسجد مبارک کو مسجد الحرام کی طرح ’’من دخلہ کان آمنا‘‘ کا مصداق ٹھہرایاگیا ہو اور سالانہ جلسہ کو حج بلکہ حقیقی حج کہاگیاہوتواب حج کی توہین میں کیا کسر باقی رہی۔

کسی کانام محمدیا احمد یا اسماعیل رکھنا، اس میں توہین کا شائبہ تک نہیں۔ کیونکہ اعلام میں وضع جدید ہوتی ہے۔ جیسا کہ علوم عربیہ میں مصرح ہے۔

مقبرہ بہشتی

مختارمدعاعلیہ نے مقبرہ بہشتی کی ایجاد کے جواز میں حسب ذیل مغالطے دیئے ہیں۔ اوّل: یہ کہ مرزا صاحب نے وحی الٰہی پر یہ کہا کہ اس جگہ وہی دفن ہو جو اللہ تعالیٰ کے علم میں بہشتی ہوگا۔ دوم: حضرت مجدد صاحب کا قول کہ جو شخص میرے روضہ کی ایک مشت خاک اپنی قبر میں ڈالے اس کے نجات کے واسطے امید عظیم ہے۔ سوم: مجدد صاحب کے ایک گورستان میں جانے کی وجہ سے عذاب موقوف ہوگیا۔

(مقامات امام ربانی)

الجواب: مغالطہ اوّل مختار مدعاعلیہ کا موجب تعجب ہے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جو اس گورستان میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوجائے گا۔ گویا اس گورستان میں داخل ہونا بہشتی بننے کا کفیل ہے اور مختار مدعاعلیہ مرزا صاحب کے خلاف منشاء یہ بیان کررہاہے۔ جو بہشتی ہوگا اس گورستان میں دفن ہوگا۔ پھر لطف یہ کہ مرزا صاحب نے مقبرہ بہشتی کا داخلہ بیمہ کمپنی کے اصول پر رکھاہے کہ اس گورستان میں وہی دفن کیا جائے جو اپنی جائیداد کا ۱۰/۱ حصہ سلسلہ کی ملکیت میں منتقل کر دے اور پھر ضابطہ اس کے اور بھی شرائط ہیں۔ مگر اپنی اولاد مستثنیٰ ہے۔

اور پھر لطف یہ کہ مرزا صاحب خود اور ان کا خاندان اس ٹکٹ داخلہ کی فیس سے مستثنیٰ ہے۔ آج قادیان کے کاروبار کا اکثر دارومدار اسی قبرستان کی آمدنی پر چل رہاہے۔ حضورa نے روضہ اور منبر کے درمیانی حصہ کو بہشت فرمایا تھا۔ مرزا صاحب نے تمام گورستان کو بہشت قرار دے کر مقبرہ نبوی کی سخت توہین کی۔ اس کے احترام خصوصی کے مقابل اس سے کئی حصہ بڑا اور ٹکڑا زمین لے کرا س کے ہمسر بنایا۔

مغالطہ دوم یہ کہ مقامات امام ربانی کا حوالہ اس انداز میں نقل کیا، گویا مقامات امام ربانی مجدد صاحب کی تصنیف ہے۔ حالانکہ کسی اور شخص کی تصنیف ہے جو ارباب علم کے نزدیک معتبر نہیں اور خوش اعتقادی کا مجموعہ ہے۔ دوسرے غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ دونوں میں بڑا

389

کچھ زیادہ فرق ہے۔ مغالطہ سوم کو اصل جواب سے کوئی تعلق نہیں۔ اس میں تخفیف اور رفع عذاب کا ذکرہے۔ کسی قبرستان کے بہشتی ہونے کا کوئی ذکرنہیں۔ نیز یہ حوالہ بھی مقامات امام ربانی کا ہے جس کا حال اوپربیان ہوچکا۔

بہرحال اس توہین کا بھی کوئی معقول جواب نہ ہوسکا۔ صرف تاویلات پر اکتفاء کی گئی۔ مفصل اثبات توہین کے لئے ملاحظہ ہو بحث ابتدائی مختارمدعیہ۔

کیا تکفیر وجہ ارتداد وفسخ نکاح ہوسکتی ہے

تعجب ہے کہ بلا وجہ اس میں اس قدر طول طویل بحث شروع کردی۔ جب کہ گواہان مدعاعلیہ اور خود مرزا صاحب کو ’’احد المکفرین‘‘ کا کافر ہونا مسلم ہے۔

ملاحظہ ہوجرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء ’’جو مسلمان کی تکفیر کرتاہے۔ مگر وہ مسلمان کافر نہیں تو کفر عود کرتاہے۔‘‘

’’نیزگواہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء جس میں تکفیر سے عود کفرکاحدیث کی تائید سے اقرار کیاہے۔‘‘

نیز ملاحظہ ہو قول مرزا صاحب۔

اور یہ تو متفقہ مسئلہ ہے۔ بخاری ومسلم میں مصرح حدیث میں موجود ہے کہ: ’’من قال لاخیہ یا کافر‘‘ (الحدیث) وغیرہ کہ دوسرے کو کافر کہنے والا اگر وہ کافر نہیں تو یہ ضرور کافر ہوجاتاہے۔ اب ایک صورت تھی کہ اس کا جواب دیاجاتا کہ مرزا صاحب نے یا خلیفہ صاحب نے یہ نہیں لکھا یا کوئی معقول توجیہ کرتے۔ مگر بلا وجہ طویل بحث چھیڑ ی۔ لہٰذا مرزا صاحب اور ان کے خلیفہ کے مندرجہ ذیل عبارات کے بعد اس میں کوئی بھی شبہ نہیں رہ سکتا کہ تمام مسلمان روئے زمین اولیا، علماء، صلحاء، سلاطین اسلام سب بہ یک قلم ان کے نزدیک کافر ودائرہ اسلام سے خارج ہیں، پکے کافر شیطان اور جہنمی ہیں۔

کفرکا فتویٰ

’’بہرحال جب کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے۔ اس نے مجھے قبول نہیںکیا وہ مسلمان نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

’’کفر دو قسم پرہے… تابس۔ اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

اس عبارت کا مفہوم صاف ہے کہ مرزا صاحب کے منکر اسی قسم کے کافر ہیں جس قسم کے کافر حضرت نبی کریمa کے منکر ہیں۔ کیونکہ محولہ بالا دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

مرزا صاحب کا منکر شیطان ہے

اپنے بے شمار نشانات ظاہر وبیان کرکے لکھتے ہیں: ’’لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)

ملاحظہ فرمائیں کہ دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان جو مرزا صاحب کے نشانات یا ان کے مجدد ومسیح وغیرہ ہونے پر ایمان نہیں رکھتے اور نہیں مانتے وہ سب شیطان ہیں۔

390

مرزا صاحب کی بیعت میں نہ داخل ہونے والا جہنمی ہے

۱… ’’مجھے خدا کا الہام ہوا ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں نہ شامل ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا ورسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵)

۲… ’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور اور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتاہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲ حاشیہ)

اس میں تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو صرف اپنے نہ ماننے کی وجہ سے جہنمی قرار دے دیا۔

خلیفہ محمود صاحب کاتمام مسلمانوں کو کافر دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ

’’سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر دائر ہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتاہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰)

جو بھی مرزا صاحب کو نہیں مانتا اور بیعت میں نہیں وہ پکا کافر ہے

’’جو لوگ مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتے، خواہ آپ کو راست باز ہی منہ سے کیوں نہ کہتے ہوں، وہ پکے کافر ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۸۶، انوار العلوم ج۶ ص۱۵۱)

اب ملاحظہ فرمائیں کہ تمام روئے زمین کے چالیس کروڑ مسلمان، اولیاء، صوفیاء، علماء وسلاطین اسلام ونوابان سب بلا تأمل پکے کافر رہے اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے مؤرخہ ۱۲؍مارچ ۱۹۳۳ء میں کہہ دیا کہ چاہے وہ کروڑوں کیا سنکھوں ہوں۔ اب اس کے بعد جس قدر بھی تاویلات مختار مدعاعلیہ نے کی ہیں وہ سب اصولاً بالکل غیر متعلق اور طبع زاد ہوگئیں۔ مرزا صاحب اور خلیفہ دوم صاحب کی تصریحات نے ان کاخاتمہ کردیا۔ پس تمام دنیا کو کافر کہہ کر جو خود بتسلیم مرزا صاحب وگواہان مدعاعلیہ کافر اور مرتد ہوئے جس کے بعد فسخ نکاح تو مسلم مسئلہ ہے۔

مختار مدعاعلیہ کی تاویلات کا خلاصہ

۱… اگر تکفیر وجہ ارتداد اور فسخ نکاح ہوسکتی ہے تو تمام فرقہ ہائے اسلام ایک دوسرے کی تکفیر کرکے مرتد ہوجائیں گے… الخ!

۲… (منہاج السنۃ ج۳ ص۶۱) پر ہے کہ خوارج حضرت علیq کو بالاتفاق کافر کہتے تھے، مگر یہ ثابت نہیں کہ حضرت علی نے تکفیر کی وجہ سے انہیں مرتد قرار دیا ہو۔

۳… گواہ مدعیہ نمبر۱ نے مؤرخہ ۲۱؍اگست کو تسلیم کیا کہ جن ائمہ نے اس حدیث کی بناء پر کسی کو کافر کہا، ان کو کافر نہیں کہا جاسکتا۔

۴… گواہ مدعیہ نمبر۱ کا اقرار ہے کہ ہم مولوی احمد رضا خان صاحب کو کافر نہیں کہتے نہ کافر سمجھتے ہیں۔

۵… اوّل تو بحث نہیں کہ احمدی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں اور تصحیح بھی کرلیں تو محض تکفیر وجہ کفر وارتداد نہیں بنا سکتی۔

۶… آئینہ صداقت کی تاویلات مختلف عبارات سے۔

۷… میرا دشمن جہنمی ہے۔ اس پر حوالہ (منصب امامت ص۶۳،۶۴)

۸… مختار مدعیہ کا اس کو اس پر محمول کرنا کہ یہ وہ ہیں جو لوگ دعویٰ اسلام کا کرتے ہیں اور ان کا ایمان اور اسلام ظاہر اور کفر پوشیدہ اور دعویٰ کی تصدیق اسلامی شعائر سے کرتے ہیں۔ شریعت سے دست بردار نہیں درست نہیں۔ عبارت!

(منصب امامت ص۹۴)

391

۹… پس جب ان لوگوں سے بقول حضرت مولانا شہید معاملات جائز ہیں تو احمدی مردوں سے جو مسلمان ہوں گے، مدعی اور شریعت اسلامیہ سے دست بردار نہیں اور اپنے دعویٰ کی تصدیق اسلامی شعائر بجا لاکرکرتے ہیں۔ ان سے نکاح وغیرہ حرام کیوں قرار دیاجاتاہے۔

الجواب:

۱… جو فرقہ اسلام کے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں، اس کی بناء کوئی اصول کاا ختلاف نہیں بلکہ محض غلط فہمی ہے۔ مثلاً علماء بریلی اور علماء دیوبند کا متفقہ اصول ہے کہ ادنیٰ سی توہین نبی کریمa کفرہے۔ پھر بریلی کے علماء کو ایک عبارت سے غلط فہمی ہوئی اور اسی اصول پر فتویٰ کفر لگادیا۔ علماء دیوبند کو اطلاع ہوئی، انہوں نے انکار اور صفائی پیش کردی۔ بس صرف غلط فہمی ہے۔ ورنہ تکفیر کوئی بھی نہیں۔ برابر ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھتے۔ شادی بیاہ کے تعلقات قائم، جنازوں کی شرکت موجود کسی مسجد پر آج تک کوئی بھی مقدمہ نہ ہوا۔ بخلاف مرزا صاحب کے متبعین سے کتنے مقدمات ہوئے۔ شاہ جہان پور کی مسجد کا مقدمہ تو لاء جرنل الہ آباد میں چھپ کر نظیر بن چکاہے۔

پس تکفیر کرنے والا بوجہ غلط فہمی معذور ہے۔ کافر نہیں اور جس کی تکفیر کی وہ بوجہ خلاف واقعہ ہونے اور اس سے ملوث ہونے کی وجہ سے مسلمان ہے، کسی کا کفر لازم نہ آیا… صرف مغالطہ وغلط فہمی رہی۔

بخلاف مرزا صاحب کے متبعین کے ان کے ساتھ ہمارا اصولی اختلاف ہے۔ ان کے نزدیک بعد آنحضرتﷺ کے نبی ماننا جزو ایمان ہمارے نزدیک کفر خالص، ان کے نزدیک مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہونا ایمان، ہمارے نزدیک کفر۔ پس وہ ہمیں کافر کسی غلط فہمی پر نہیں کہتے، بلکہ اصولی اختلاف مرزا صاحب کے ماننے اور بیعت میں نہ شامل ہونے سے کافر خارج از اسلام اور پکا کافر سمجھتے ہیں۔ پس اگر ہم چالیس کروڑ مسلمانوں کے کفر کا فیصلہ ہوجائے تو ضرور مرزا صاحب کے متبعین تو بلا کسی غلط فہمی کے اصولاً انہیں باوجود مسلمان ہونے کے دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافرکہنے والے یقینا اور قطعاً کافر ومرتد ہوںگے جن کا نکاح مسلمہ طور پر فسخ ہونا چاہئے۔

۲… منہاج السنۃ کے حوالہ میں صرف یہ ہے کہ انہیں ثابت نہ ہوا کہ حضرت علیq نے اس وجہ سے انہیں مرتد قرار دیاہے۔ یہ بزرگ حنفی نہیں بلکہ حنبلی ہیں۔ ملاحظہ ہو (جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۱۲؍مارچ ۱۹۳۳ء) اور ان کی یہ ذاتی رائے ہے کہ ان سے اسلامی تعلقات قائم رہے۔ مگر (مسلم شریف ج۱، باب بیان الخوارج ص۳۳۰، ۳۴۳) میں صریح حدیث موجود ہے کہ انہیں مرتد قرار دے کر اور سخت ترین دشمن اسلام سمجھ کر حضرت علیq نے ان سے جہاد کیاہے۔ لہٰذا یہ حوالہ کچھ بھی مختار مدعاعلیہ کو مفید نہیں، کیونکہ صحیح مسلم میں ان سے جہاد ثابت ہے کیا مسلمانوں سے بھی جہاد ہوتاہے؟

۳… گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ’’ مولوی احمدرضاخان صاحب کو کافر نہیںسمجھتے۔‘‘ ضرور کہااسی کے ساتھ مندرجہ ذیل کوٹیشن بھی اسی تاریخ کی جرح اور سوالات مکرر کے ملاحظہ ہوں۔

اگر ’’کسی کی عبارت سے ضروریات دین کا انکار سمجھا جائے تو اس کو کافر کہنے والا معذور سمجھا جائے گا۔‘‘

’’جن لوگوں نے ضروریات دین سے انکار سمجھ کر کافر ٹھہرایا یہ مسلمان رہیں گے۔ گویہ فی نفسہ غلط ہو۔‘‘

’’لیکن تحقیقات میں غلطی ممکن بلکہ اکثر واقع ہے۔‘‘

’’احمدرضان خان صاحب کے اقوال کو کفر نہیں کہتے۔ ممکن ہے ان کا فتویٰ اس بناء پر ہو کہ دیوبند والوں نے کسی ضروریات دین کا انکار کیا۔ ہمارے نزدیک ان کا فرض تھا بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ ضروریات دین کے منکر کو کافر کہے، گو وہ تحقیق فی الواقع صحیح نہیں۔‘‘

’’تکفیر دیوبند والوں کی غلط فہمی اور مسلمہ اصول پر ہے جسے وہ بھی کفر کہتے ہیں اور برأت ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ اسی طرح حدیث: ’’من ترک الصلوٰۃ‘‘ کے ظاہری مفہوم سے کسی کو کافر کہنے کا حکم۔ پس یہ نمبر۳،۴ دونوں کا جواب ہوگیا۔ (سوالات مکرر)

392

۴،۵… تکفیر مسلمین بھی منجملہ وجوہ کفر کی ایک وجہ کفر ہے۔ جیسا کہ اوپر تمہید میں مسلمات سے پیش کرچکاہوں بلکہ اسے منجملہ وجوہ پنجگانہ کفریہ کے وجہ پنجم قرار دیاہے۔ اب تو مختار مدعاعلیہ کو ہی مسلم ہوناچاہئے۔

۶… آئینہ صداقت کی عبارت میں تاویلات ناممکن ہیں، عدالت میری پیش کردہ عبارات اصل کتاب سے ملاحظہ فرمائے، کہیں بھی کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں۔ یہ صرف مغالطہ ہے۔ جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکا۔

۷،۸… اوپربھی اس سے قبل یہ (منصب امامت ص۶۳،۶۴) کا حوالہ حل ہوچکاہے۔ وہاں کہیں بھی امام وقت کے نہ ماننے پر تکفیر اور کافر خارج از اسلام، پکا کافر، کافر، شیطان، جہنمی نہیں قرار دیا۔ عبارت کا مطلب بالکل واضح ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ فرمالیجئے۔ نیز مولانا شہید کا حوالہ بھی جوڈیشل اصولی پرغیر مسلم ہے۔

۹… مولانا شہید نے جن لوگوں سے تعلقات جائز رکھے ہیں، ان کا کفر پوشیدہ اور اسلام ظاہر تھا اور یہاں کفر اظہر من الشمس ہے۔ نیز وہ مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور یہاں اعلان ہے کہ: ’’ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ ہمیں ہندوؤں کی طرح سمجھ کر لڑکی نہ دیں۔ ہمارے بچہ تک کی نماز جنازہ حرام سمجھیں۔‘‘ پھر تمام ضروریات دین کا کھلا ہوا انکار اور کوئی کفریہ نہیں جسے نہ کرتے ہوں۔ پھر یہ ان پر کیونکر قیاس کئے جاسکتے ہیں۔ حضرت مولانا نے تو انہیں منافقین کی طرح قرار دیاہے۔ اصل بحث میں منصب امامت کی یہ تمام عبارات معہ اظہار خیانت پیش کرچکاہوں اعادہ نہیں کرتا۔

کیا غیر احمدی یعنی مسلمان اہل کتاب نہیں

یہاں اہل کتاب کا لفظ لغوی معنی کی حیثیت سے زیر بحث نہیں بلکہ گفتگو یہ ہے کہ باوجود اس امت میں نہ ہونے یا کافر ہونے کے نکاح کن اہل کتاب سے جائز ہے اور قرآن پاک نے لفظ اہل کتاب کن لوگوں کے واسطے استعمال کیاہے۔ اس لحاظ سے مسلمان ہر گز اہل کتاب نہیں بلکہ پہلی امتوں کے لوگ اہل کتاب کہلاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (جرح گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء) بجواب سوال اہل کتاب کسے کہتے ہیں: ’’قرآن سے پہلے جن قوموں کو کتاب کی صورت میں ہدایت دی گئی اور وہ اسی کتاب کو مانتے ہیں، وہ خدا کی طرف سے اتری ہیں۔ وہ اہل کتاب ہیں۔‘‘ اسی میں خصوصیت سے لفظ قرآن سے پہلے کا قابل غور ہے۔ پس مسلمان کسی طرح اہل کتاب کی تعریف میں نہیں آسکتے۔

نیز گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ قرآن میں اہل کتاب کا لفظ یہود ونصاریٰ پر استعمال ہواہے نہ مسلمانوں پر۔ (جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۷؍مارچ۱۹۳۳ء) الخ! پس مسلمان ان کے نزدیک بھی وہ اہل کتاب نہیں کہ جن کی لڑکیوں سے نکاح جائز ہوجائے، بلکہ کافر ہے اور کافرکی لڑکی سے نکاح جائز ہی نہیں۔ پس اس وجہ سے بھی ان کے مسلمات سے نکاح فسخ ہوناچاہئے۔

خلاصہ تاویلات:

۱… قرآن بھی تو کتاب ہے اور غیر محرف ہے۔ پس جب محرف کتاب والے اہل کتاب ہوئے تو مسلمان اہل کتاب کیوں نہ ہوں۔

۲… پس مسلمان کی لڑکیاں ہم اہل کتاب سمجھ کر لیتے ہیں۔ لہٰذا مدعی کا دعویٰ خارج ہوناچاہئے۔

الجواب:

۱… مسلمان کافر ومرتد ہونے کے بعد اہل کتاب نہیں رہتا جب کہ مسلمان اس کے نزدیک ایسا کافر ہے کہ اس کو لڑکی دینا یوں ہے جیسے ہندو کافر کو ملاحظہ ہو (ملائکۃ اللہ ص۴۶، انوار العلوم ج۵ ص۴۴۰) تو اسے صرف اپنی مطلب برآری اور ان کی لڑکیاں لینے کے واسطے اہل کتاب کیونکر قرار دے سکتے ہیں جب تک ان پر سے فتویٰ کفر واپس لینے کا اعلان نہ کریں۔ ان کے نزدیک اہل کتاب نہیں ہوسکتے۔

393

۲… کا جواب بھی ضرور نہیں۔ اوّل تو یہ اٹکل اور قیاس محض ہے۔ دوسرے گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ کا قول (جرح مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء) اس کی صاف تردید کررہاہے۔ لہٰذا یہ لڑکی کسی طرح ان کے نکاح میں نہیںرہ سکتی۔ وہ ان کے نزدیک کافر ہے تو بھی یہ اس کے نزدیک کافر ہیں تو بھی، کیونکہ مسلمان اور کافر میں سلسلہ ازدواج ناممکن ہے۔ ’’لاہن حل لہم ولاہم یحلون لہن (الایۃ)‘‘

کیا مدعیہ مشرکہ ہے

اس کا تعلق حیات مسیح سے تھا اور اس کے خارج کرنے پر عدالتی نوٹ موجود ہے۔ لہٰذا اس پر کچھ عرض نہیں کرتا۔

علاوہ اختلاف عقائد کے بھی نکاح فسخ ہونا چاہئے

اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل مسلم کش احکام مرزا صاحب اور ان کے متبعین کے پیش کئے گئے تھے۔

(۱)تمام اہل اسلام کافر خارج از دائرہ اسلام ہیں

۱… ’’سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہ ہوئے، خواہ انہوں نے ان کا نام بھی نہ سنا ہووہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتاہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰)

۲… ’’جو لوگ مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتے، خواہ آپ کو راست باز ہی منہ سے کیوں نہ کہتے ہوں وہ پکے کافر ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۸۶، انوار العلوم ج۶ ص۱۵۱)

۳… ’’لکھنؤ میں ایک آدمی سے ہم ملے جو بڑا عالم ہے۔ اس نے کہا کہ آپ لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں، میں یہ نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں، اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کررہے تھے۔ میں نے ان لوگوں کو کہاکہ آپ کہہ دیں کہ واقع میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں، یہ سن کر وہ حیران ساہوگیا۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۲، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۹،۱۵۰)

(۲)دینی معاملات میں کوئی بھی اتحاد نہیں

’’دنیا کے معاملات میں ہم دوسروں کے ساتھ ایک ہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں فرق ہے۔ اس میں ایک نہیں ہوسکتے اور سمجھدار آدمی اس کو خوب سمجھتے ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۲، انوار العلوم ج۳ ص۱۶۹)

(۳) آپس میں اصولی اختلاف بھی ہے اور فروعی بھی

’’احمدیوں اور غیر احمدیوں میں اصولی اختلاف ہے۔‘‘

(نہج المصلی ص۲۷۴)

(جرح گواہ مدعاعلیہ مؤرخہ یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء) ’’احمدی اور غیر احمدی میں اصولی اختلاف بھی ہے اور فروعی بھی۔‘‘

(جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۰؍مارچ ونمبر۱ مؤرخہ یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء)

(۴)کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں

’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۰، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۸)

394

’’غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۸۹، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۷)

(۵) غیر احمدی کے بچہ کا بھی جنازہ مت پڑھو

’’پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۳، انوار العلوم ج۳ ص۱۵۰)

(۶)مسلمانوں سے رشتہ وناطہ جائز نہیں

’’غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتاہے اور علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں تا اسی کے خیالات وا عتقادات کو اختیار کرلیتے ہیں اور اس طرح اپنے دین کو برباد کرلیتے ہیں۔‘‘

(برکات خلافت ص۷۳، انوار العلوم ج۲ ص۲۱۰)

’’حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کواپنی لڑکی نہ دے۔‘‘

(برکات خلافت ص۷۵، انوار العلوم ج۲ ص۲۱۱)

(۷)غیر احمدی مسلمان ہندو اور عیسائی کی طرح کافر ہیں اس لئے انہیں لڑکی نہ دو

’’جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتاہے، وہ یقینا حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیاکوئی غیراحمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کہ ہندو عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر تم سے اچھے رہے کہ کافر ہوکر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔‘‘

(ملائکۃ اللہ ص۴۶، انوار العلوم ج۵ ص۴۴۰)

جرح گوا مدعاعلیہ نمبر۱،مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء

(۸)مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنا

’’اب زمانہ بدل گیاہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیاتھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا، مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دے۔‘‘

(عرفان الٰہی ص۹۳،۹۴)

(۹)مخالفین کو سولی پر لٹکانا

’’خداتعالیٰ نے آپ کا نام عیسیٰ رکھا ہے تاکہ پہلے عیسیٰ کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایاتھا، مگر آپ (مرزا غلام احمد صاحب) اس زمانہ کے یہودی لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔‘‘

(تقدیر الٰہی ص۲۹)

(۱۰)ساری دنیا کو جب تک پورے طور پر احمدی نہ ہو دشمن سمجھیں گے

’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ جب تک ایک شخص خواہ ہم سے کتنی ہمدردی کرنے والا ہو، پورے طور پر احمدی نہیں ہوجاتا، وہ ہمارا دشمن، ہماری بھلائی کی صرف ایک صورت ہے، وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔‘‘

(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۲؍مارچ۱۹۳۳ء)

(۱۱) ظاہری محبت کا اظہار صرف مسلمانوں کو شکار کرنے کے واسطے ہے

’’شکاری (احمدی) کو کبھی غافل نہ ہونا چاہئے اور اس امر کا برابر خیال رکھنا چاہئے کہ شکاری (مسلمان) بھاگ نہ جائے یاہم پر

395

ہی حملہ نہ کردے۔‘‘

(خطبہ جمعہ خلیفہ دوم جرح مؤرخہ ۱۲؍مارچ ۱۹۳۳ء)

(۱۲)تمام مسلمانوں کی جان ومال وایمان سے عزیز ترین ہستی کی توہین

’’بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتاہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتاہے۔ حتیٰ کہ محمدa سے بھی بڑھ سکتاہے۔‘‘

(ڈائری خلیفہ قادیان الفضل مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)

’’ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو کھڑا کیا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص۱۱۳)

(۱۳)مرزا صاحب اورa میں (عیاذا ب اللہ ) ذرا برابر فرق نہیں

’’من فرّق بینی وبین المصطفی فما عرفنی وما راٰی‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۹)

اور جو شخص مجھ میں اور محمد مصطفیﷺ میں فرق سمجھتا ہے اس نے نہ مجھے دیکھا اور نہ مجھے پہچانا۔

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۹)

مرزا صاحب کے خلیفہ کی سرور کائناتa سے انتہائی دشمنی

’’مرزا صاحب بلحاظ ذہنی استعداد اورارتقاء حضورa سے فضیلت رکھتے ہیں۔‘‘

(قادیانی ریویو جون ۱۹۳۰ء)

دیگر حوالہ جات بسلسلہ ہیڈنگ محمدرسول اللہ ﷺ گزرچکے ہیں۔

مسلمان لڑکیاں اس کے نزدیک کتیوں سے بد تر ہیں۔

’’ہمارے دشمن جنگلوں کے سور ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔‘‘

(نجم الہدی ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳)

حوالہ جات مذکورہ بالا کی تصدیق وتوثیق

’’میرے نزدیک مرزا صاحب اور خلیفہ اور خلیفہ ثانی کے اقوال سند ہیں اور اس کے سواء میرے نزدیک کوئی اور شئے سند نہیں۔ گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے مرزا محمود صاحب اور ان کی تصانیف پر اپنا ایمان ہونا بتایا ہے۔

اب ان مذکورہ بالا اصولی وفروعی اسلام وکفر کے اختلاف اور رسولa کی دشمنی کے ہوتے ہوئے وہ لڑکی اس کے گھرکیونکر بس سکتی ہے۔ نماز اس کے ساتھ جائز نہیں وہ مرجائے تو جنازہ بھی نہ پڑھاجائے، اس جیتی کو موت کے گھاٹ اتارنے کے واسطے مرزا صاحب مبعوث ہوئے ہیں۔ انتہائی خلوص کے بعد بھی اسے دشمن سمجھنا ان کا اوّلین فرض، اسے سولی دینا، ان کا کار منصبی، وہ غریب ان کے گھر کتیوں سے بدتر رہے گی وہ دشمن ہے۔ جب تک پورے طور پر احمدی نہ ہوجائے۔ نیز اور اختلافات مذکورہ ان حالات میں دنیا کی کوئی بھی عدالت اس قسم کا نکاح باقی نہیں رکھ سکتی بلکہ فوراً اس کا فسخ کرانا ضروری ہوگا۔

مزید برآں یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ وہ لوگ اپنی لڑکیاں ہمیں ہندوؤں کی طرح سمجھ کر صرف اس لئے نہیں دیتے کہ لڑکیاں چونکہ کمزور طبع ہوتی ہیں۔ ان کے عقائد سے فطرۃً متأثر ہوکر دین برباد کرلیں گی۔ پھر مسلمانوں کی لڑکیاں کیوں طلب کرتے ہیں وہ غریب بھی یہی عذر مساویانہ رکھتے ہیں کہ یہ لوگ چونکہ کافر ومرتد اللہ اوراس کے رسول اللہ ﷺ، انبیاء کرام، صحابہ وائمہ واولیاء امت کے دشمن ہیں۔ پس ہماری لڑکیاں بھی ویسی ہی ہو جائیں گی۔ اس لحاظ سے سے بھی فسخ نکاح لازم ہے۔

396

خلاصہ تاویلات:

۱… مختار مدعیہ نے جس سادگی سے اس شبہ کا اظہار کیا ہے وہ قابل داد ہے۔ احمدیوں کے گھر سولی کھڑی ہوتی ہیں جہاں کوئی مسلمان عورت پہنچی انہوں نے سولی لٹکائی۔

۲… خلیفہ ثانی نے جس دشمنی کا ذکر فرمایاہے وہ وہی ہے جو مولوی لوگوں کی طرف سے ہورہی ہے… الخ!

۳… مختار مدعیہ کو مسلم ہے کہ ایک مسلمان بنص قرآن ایک یہودی عورت سے نکاح کرسکتاہے۔ حالانکہ یہود مسلمانوں اور اسلام سے اشد الناس عداوت رکھتے ہیں۔ پھر احمدی مردسے نکاح کیوں درست نہیں۔

۴… چونکہ اوّلاً بہر حال احمدی ہوگی۔ پس اس کی نماز جنازہ کا سوال پید نہیں ہوسکتا۔

۵… اگر اس قسم کے امور جو جواز شادی میں مانع ہوئے ہیں تو یہودی ونصرانی سے بھی رشتہ جائز ہوناچاہئے۔

۶… جب کہ یہودی اور نصرانی سے جائز ہے تو احمدی کی اسلامی فرقوں کی لڑکی سے کیوں جائز نہ ہوگی۔

۷… مرزا صاحب نے عورتوں کے ساتھ سلوک کرنے کا لکھاہے۔

(کشتی نوح ص۱۷، خزائن ج۱۹ ص۱۹)

الجواب:

۱… اس طرز خطاب کو عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے۔ باقی یہ امر تو واقعاتی شہادت سے متعلق رکھتاہے۔ کیا مستری حاجی محمدحسین صاحب بٹالوی شہید کی شہادت اس کے واسطے کافی نہیں۔ کیا وہ سینکڑوں اس قسم کے واقعات جو زمیندار اور مباہلہ کے فائل پر تمام دنیا میں طشت از بام ہوچکے ہیں اور ایک بھی تردید نہ کرسکے۔ اس تاویل کو باطل قرار نہیں دیتے۔ عدالت اجازت نہ دے گی۔ ورنہ تفصیلاً تمام حوالے خلیفہ محمود صاحب کے اس حکم پر عملدر آمد کے پیش کرسکتاہوں۔

۲… ہرگز مولوی لوگوں والی دشمنی کاوہاں ذکر نہیں۔ وہاں توصاف صاف لفظ ہیں کہ: ’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ جب تک ایک شخص خواہ ہم سے کتنی ہمدردی رکھنے والا ہو، پورے طور پر احمدی نہیں ہوجاتا، وہ ہمارا دشمن ہے۔‘‘ ملاحظہ فرمائیں انتہائی ہمدردی رکھنے والے کو بھی دشمن فرمارہے ہیں۔ جب تک پورے طور پر احمدی نہ ہوجائے۔ اس میں تو کسی تاویل کی گنجائش ہی نہیں۔ شاید یہ عبارت دیکھے بغیر مختار مدعاعلیہ نے یہ تاویل گھڑی ہو۔ ورنہ یہاں تو تمام تاویلات کا انہوں نے خود ہی سد باب کردیاہے۔

۳… دشمنان اسلام یہودیوں کی لڑکی لینامسلم ہے۔ مگر اپنی لڑکی انہیں دینا تو حرام قطعی ہے۔ پس اگر مرزا صاحب کے متبعین اپنی لڑکی مسلمانوں کو دینا چاہیں تو یہ عذر تاویل شاید ایک حد تک مفید ہو۔ یہاں تو دشمنان اسلام اور کافر ومرتد ہوکر مسلمان کی لڑکی لینا چاہتے ہیں جو بالاتفاق حرام ہے۔ مسلم لڑکی کسی مرتد، کافر کی کسی اہل کتاب یہودی ونصرانی کے نکاح میں بھی بالاتفاق نہیں جاسکتی۔ قطعاً حرام ہے۔

۴… اولاد کا احمدی ہونا ہی نکاح کے فسخ کو چاہتاہے کہ مسلمہ کے بطن کا بچہ کافرہوگا۔ یہ وجہ بھی مدعیہ کے فسخ نکاح کی ایک کڑی ہے۔ نیز مدعیہ کے جنازہ کی نماز اور مسلمانوں کی طرح تو بہرحال بتسلیم مختار مدعاعلیہ تجہیزو تکفین نہیں ہوسکتی۔ پس کس طرح اس کے گھر بس سکتی ہے جہاں اس کے جنازہ سے بھی کفار والا معاملہ کیا جائے گا اور بلا نمازجنازہ کافروں اور مرتدوں کی طرح وہ گڑھے میں ڈال دی جائے گی۔

۵… یہودی ونصرانی سے رشتہ صرف اسی قدر جائز ہے کہ ہم مسلمان ان کی لڑکی لے سکتے ہیں۔ باقی مسلمہ لڑکی اس کے نکاح میں دینا حرام قطعی ہے اور یہاں سوال مسلم لڑکی کا کافر کے نکاح میں باقی رکھنے کا ہے۔ نیز ابتداء سے کافر ہونے کا اور حکم ہے اور مرتد ہونے کااور۔ ایک مسلمہ کا شوہر اگر یہودی اور نصرانی نکاح کے بعد ہوجائے وہ نکاح بھی بالاجماع فسخ ہوگا بلکہ ایک مسلمہ منکوحہ لڑکی خدانخواستہ مرتد ہوکر

397

عیسائی ویہودی ہوجائے، اس کابھی نکاح فوراً فسخ ہوجائے گا۔ گواہ نمبر۲مدعاعلیہ کو بھی جرح میں مسلم ہے اور دنیا میں روز مرہ اس قسم کے کیس فیصل ہوتے رہتے ہیں۔ کتنے نظائر تو صرف جرنل الہ آباد میں موجود ہیں جس کے شوہر نے زائدتنگ کیا، وہ یہودی نصرانی ہوکر مرتد ہوگئی اور نکاح کے فسخ کا فیصلہ رہا۔

۶… نہ یہودی ونصرانی سے مسلمان لڑکی کا نکاح جائز ہے نہ مرزا صاحب کے کسی امتی سے وہ بھی فسخ ہوجائے اور یہ بھی، بلکہ چونکہ مرزا صاحب کے امتی مرتد ہیں۔ لہٰذا ان کی لڑکی بھی مسلمانوں کو لینا جائز نہیں۔ کیونکہ شریعت اسلامیہ میں مرتد سے رشتہ مناکحت کسی صورت پرقائم نہیں ہوسکتا۔ نہ پہلے کا، نہ بعد ارتداد باقی رہ سکتاہے بلکہ عند اللہ بلا قضاء قاضی فسخ ہوجاتاہے۔ جیسا کہ بیانات گواہان مدعیہ میں بصراحت مدلل معتبر حوالوں سے گزرچکا۔

۷… کشی نوح میں اس کی تصریح نہیں کہ مرز ا صاحب مسلمان لڑکیوں کے حق میں یہ فرماتے ہیں کہ سلوک کرنا چاہئے جن سے دشمنی یہاں تک ہے کہ وہ کتیوں سے بد تر ہیں۔ وہاں تو اپنی جماعت کا ذکر اور اپنی جماعت کو وصیت ہے اور اپنی جماعت کی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ یہ مسلمہ لڑکی تو کافر دائرہ اسلام سے خارج، بلکہ پکی کافرہ ودشمن اور موت کے گھاٹ اتارنے کے لائق ہے، جس کی نماز جنازہ تک نہیں پڑھ سکتے، جس سے کسی قسم کا دینی سلوک روا نہیں رکھتے، نہ رکھ سکتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (انوار خلافت ص۹۲، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۹)

نیز یہ لڑکی جب کہ اس شوہر کے نبی کو مرتد، کافر، دائرہ اسلام سے خارج، دجال وغیرہ سمجھتی ہے اور اس کا اعلان عرضی دعویٰ کی تصریح میں موجود ہے تو اس لڑکی کے ساتھ بھی کوئی باغیرت مرزا صاحب کا امتی کسی قسم کا سلوک کرسکتاہے۔ ایک امتی کے نبی کو یوں سمجھا جائے اور وہ اس سے مراعات حاصل کرے، کبھی عقل باور نہیں کرسکتی۔ پس کوئی اگر وجہ نہ بھی ہوتی تو بھی صرف یہ وجہ ہی تفریق وفسخ نکاح کی شرعاً اخلاقاً وقانوناً ثابت تھی اور نکاح ضرور فسخ ہوناچاہئے تھا۔

بہر حال نکاح فسخ ہوناچاہئے

گزشتہ ہیڈنگ کے ساتھ ہی میں نے ہیڈنگ پیش کیا تھا کہ یہ تو مسلم ہے کہ مدعیہ اور اس کا فریق مرزا صاحب اور ان کی امت کو کافر دائرہ اسلام سے خارج خیال کرتاہے اور ادھر مدعاعلیہ مرزا صاحب اور ان کے امتی تمام مسلمانوں کو بشمول مدعیہ اور اس کے فریق کو کافر خارج از اسلام بتاتے ہیں۔ اس صورت میں اگر مدعیہ اپنے دعویٰ تکفیر وارتداد میں سچی ہو تو فسخ نکاح ہوناچاہئے اور اگر مدعاعلیہ سچا ہے تو بھی فسخ نکاح ہوگا۔ کیونکہ ایک مسلمان کو کافربنانے کے بعد یہ خود کافر ومرتد ہوگئی جو موجب فسخ نکاح بالاتفاق ہے۔ یوں ہی اگر مدعاعلیہ اپنے ادّعاء میں جھوٹا ہے تو وہ اس طرح مسلمہ کی تکفیر کرکے مرتد ہوگیا۔ پھر بھی فسخ نکاح لازم ہے۔ کیونکہ ارتداد کا موجب فسخ نکاح ہونا مسلم ہے۔ اسی پر دونوں کے جھوٹے اور دونوں کے سچے ہونے کا حکم خیال فرمالیں۔ بہرحال مدعیہ اپنے دعویٰ میں سچی ہو یا مدعاعلیہ یوں ہی مدعاعلیہ جھوٹا ہو یا مدعیہ یا ہر دو سچے ہوں یا دونوں جھوٹے، بہرحال فسخ نکاح اور مقدمہ بحق مدعیہ ڈگری ہونا چاہئے۔

یہ دلیل نہایت واضح اور مقدمات مسلمہ پر مبنی تھی۔ اس کا جواب کجا مختارمدعاعلیہ نے تذکرہ تک نہ کیا اور گویا کہ اسے تسلیم کرلیا۔

احمدی شریعت اسلامیہ کے پابندہیں

میں نے یہ پیش کیا تھا کہ مرزا صاحب کے متبعین ایک طرف مسلمانوں کو کافر اہل کتاب بتاتے ہیں اورر دوسری طرف اپنی لڑکیوں کا نکاح اگر ان کا شوہر غیر احمدی ہوجائے تو بھی جائز وباقی مانتے ہیں۔ یہ اوّلاً صحیح نہیں۔ (کیونکہ مسلمانوں سے ان کی لڑکی کا نکاح اسی طرح ناجائز ہے جیسے ہندو کافر سے )ملاحظہ ہو۔

(ملائکۃ اللہ ص۴۶، انوار العلوم ج۵ ص۴۴۰)

398

نیز خود مدعاعلیہ نے اپنی ہمشیرہ کا دوسرا نکاح اس کے شوہر کے مسلمان ہونے کی وجہ سے بلا طلاق اپنی جماعت کے ایک ممبرسے کردیا جو مشہور ہے۔ نیز اس کا ضمنی تذکرہ جرح گواہان مدعاعلیہ متعلقہ تنقیح جدید میں آچکا ہے اور اگر یہ صحیح بھی تسلیم کرلیاجائے کہ وہ مسلمانوں کو باجود احمدی ہونے کے لڑکی دیتے یا بعد احمدی ہوجانے کے انہیں اہل کتاب سمجھ کر لڑکی کا نکاح فسخ نہیں کراتے ہیں تو شریعت محمدیہ میں ایک نئی شریعت جدیدہ کا اضافہ لازم آیا کہ ان کے گمان پر مسلمہ لڑکی کتابی کے نکاح میں دی گئی یا مرتد کے نکاح میں بعد ارتداد باقی رکھی گئی جو خلاف شریعت جدید حکم اور بالاتفاق کفرہے۔

اس کا کچھ بھی جواب نہ ہوسکا اور مندرجہ ذیل تاویلات کیں۔

خلاصہ تاویلات:

۱… مختار مدعیہ کا مغالطہ ہے۔ گواہان مدعاعلیہ نے بالکل نہیں کہا کہ احمدی لڑکی کا غیر احمدی سے نکاح جائز ہے بلکہ ناجائز بتایاہے۔ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،مؤرخہ یکم؍ مارچ۔

۲… ہمارے نزدیک نکاح جائز نہیں۔ اگر کوئی کردے تو فسخ نہ ہوگا۔

۳… جب کوئی اسلامی شریعت ہوتو شریعت کے مطابق فسخ ہوگا اور جہاں کوئی شریعت اسلامیہ قائم نہ ہو، وہاں رائج الوقت قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا اوراس کی رو سے فسخ نہ ہوگا۔

۴… اسلامی ریاست ہو تو اس کا قانون جاری ہوگا۔

۵… ایک اپنی طرف سے فرضی مثال خلاف فقہ حنفیہ حنفیوں کی طرف منسوب کرکے پیش کی۔

۶… گواہان مدعیہ کے نزدیک تو ان مسلمان فرقوں کا نکاح جنہیں وہ اپنے زعم میں کافر ومرتد خیال کرتے ہیں، باطل اور ان کی اولاد حرام کی اولاد ہوگی۔

(الکوکب الیمانی ٹائٹل پیج ص۷، ازالہ و انوار ص۵، فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۳۲)

۷… پس گواہان مدعیہ اوران کے ہم خیالوں کے نزدیک رافضی اور دیوبندیوں کے نزدیک رضاخانی اور رضاخانیوں کے نزدیک دیوبندی، مقلدوں کے نزدیک غیر مقلد وبالعکس نکاح باطل اور زنامحض ہے اور آج کل مسلمان فرقوں کا گزارہ ان کے نزدیک زنا پر ہی چل رہاہے اوران کی اولادیں بھی حرام کی اولادیں ہیں۔

۸… پھر ریاستی قانون پر یوں نکتہ چینی کی ہے کہ: ’’اگر ریاست مولویوں کی اس خاص شریعت کو جس کے بعض فتاووں کا اوپر ذکر کیا گیاہے، جاری کرنا چاہتی ہے تو اسے اختیار ہے۔ لیکن کسی مقدمہ پر اس قانون خاص کے جاری کرنے سے پہلے شرعاً وقانوناً وعقلاً یہ ضروری ہے کہ وہ اس قانون کو اپنی ریاست میں شائع کرے۔

۹… فقہ حنفی کی پابندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز میں ہم اس کے پابند ہیں، بہت ہمیں اختلاف ہے۔

الجواب:

۱… اوّلاً تویہ صحیح نہیں اس کے متعارض بھی اقوال جرح میں موجود ہیں۔ جیسا کہ متعارض گواہان کے سلسلہ میں عرض کیا تھا اور اگر تسلیم بھی کرلیں تو بھی ہمارا مدعاثابت ہے کہ جب ان کی لڑکی ہمارے نکاح میںچونکہ ہم ہندوؤں کی طرح ہیں، نہیں آسکتی تو ہماری لڑکی ان کے نکاح میں جب کہ وہ مرتد اور تمام کافروں سے بدترہیں، کیونکر رہ سکے گی۔ اس میں مغالطہ کوئی نہیں یہ میرے اعتراض کی پہلی شق ہے۔

۲… باوجود نکاح ناجائز وباطل ہونے کے فسخ نہ ہونا یہی تو شریعت جدیدہ کا ادّعاء ہے جس کا خود اعتراف ہے۔ شریعت کا تو حکم یہ ہے

399

کہ جو نکاح ناجائز حرام باطل ہے، وہ فسخ ہے، بلکہ وہ ہوا ہی نہیں اور یہ لوگ اسے باقی رکھتے ہیں۔ لہٰذا شریعت میں نئے حکم کا اضافہ ہوا جو بالاتفاق کفرہے اور یہ ایک متفقہ وجہ کفر باقرار گواہ و مختار مدعاعلیہ ثابت ہوگئی۔

۳… یہ کہنا کہ جہاں اسلامی شریعت ہو وہاں اس کے مطابق اور جہاں نہ ہو وہاں رائج الوقت قانون کے مطابق یہ بھی شریعت میں اضافہ ہے۔ دینی معاملات اور شرعی احکام کسی دنیوی قانون سے ترمیم نہیں ہوسکتے۔ نکاح کے بھی اسلامی پرسنل لاء ہیں۔ برٹش گورنمنٹ نے بھی شمار کیاہے اور وراثت طلاق ونکاح ووقف وغیرہ برٹش قانون سے مستثنیٰ اور شریعت محمدیہa اور فقہ حنفی کی روسے برٹش حدود میں ہونے کا معاہدہ و اعلان ہے اور محمڈن لاء میں بھی اس کی تصریح موجود ہے۔

پس نکاح کے معاملہ میں کسی اور قانون کے تحت فیصلہ چاہنا یقینا دین میں اضافہ اور ’’ومن لم یحکم بما انزال اللہ فاولٰٓئک ہم الکافرون‘‘کا مصداق اور کفرہے۔

۴… اسلامی ریاست کا اگر قانون مسلم ہے تو اسلامی سلطنتوں اور ریاستوں میں مرزا صاحب کے متبعین کا ارتداد بلکہ رجم اور ان کے فسخ نکاح کے فیصلہ ہوچکے ہیں۔ لہٰذا یہاں بھی حکم ارتداد اور فسخ نکاح ہونا چاہئے اور ملاحظہ ہو فیصلہ امیر امان اللہ خان وریاست پٹیالہ وغیرہ۔

۵… ان طبع زاد فرضی مثالوں سے کام نہیں چلتا۔ فقہ حنفی کی تصریحات اس کے خلاف موجود ہیں جس کے حوالے بیان گواہان مدعیہ اور جرح گواہان مدعاعلیہ میں متعدد پیش ہوچکے ہیں۔

۶… گواہان مدعیہ نے کسی مسلمان فرقہ یا شخص کو سوائے مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے مریدین کے کافر نہیں بتایا۔ نہ ان کے کفر کا کوئی فتویٰ دیا۔ اس کے متعلق گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳ کا اقرار جرح میں صاف صاف موجود ہے۔ نیز اپنے کافر کہنے والوں کی تکفیر بھی غلط فہمی پر مبنی کرکے انہیں بھی مسلمان اور معذور بتایاہے۔ ملاحظہ ہو

(جرح بر گواہ مدعیہ نمبر۱،۲)

ایسی تصریح کے بعد مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔

اس سلسلہ میں کوکب یمانی اور فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم کے غیر مسلم اور بالکل جدید دو تین حوالے بھی پیش کرکے مغالطہ کی سعی کی ہے۔ مگر عدالت ان رسائل کوخود ملاحظہ فرماسکتی ہے کہ محض مغالطہ کے سواء وہاں کچھ نہیں۔

کوکب یمانی حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب مدظلہ العالی کا ایک رسالہ ہے جس میں انہوں نے مولوی احمد رضا خان صاحب کو مخاطب کرکے لکھا ہے کہ جو یہ فرماتے ہیں کہ جو حضرت مولانا شہید کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر اور اس کا نکاح فسخ اور اولاد غیر ثابت النسب اس سے تو بڑی خرابی لازم آئے گی۔ کیونکہ آپ ہی اپنی کتاب تمہید ایمان اور کوکب الشہابیہ میں انہیں مسلمان مانتے ہیں۔ پھر اس مغالطہ سے آپ کے مسلمات کی بناء پر آپ کے نزدیک آپ اور آپ کے متبعین کا اور ان کے نکاح واولاد کا کیا حکم ہوگا۔ انہوں نے دوسرے رسالہ میں اس کی صفائی پیش کردی اور بناء غلط فہمی رفع ہوگئی۔ کبھی کسی عالم دیوبند نے کسی عالم بریلوی کو کافر نہیں کہا۔ نہ ان کے کفر کا فتویٰ دیا۔ غرض کوکب یمانی میں ان کے کفر کا فتویٰ نہیں بلکہ ان کے مسلمات پر ان سے استفسارہے۔ ملاحظہ ہوں کوٹیشن مندرجہ ذیل۔

’’خان صاحب ہی کے فتویٰ سے ثابت کیا گیاہے… تالازم آتاہے۔‘‘

(ٹائٹل پیج)

’’اور خوبی یہ ہے کہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں خان صاحب ہی کے فتویٰ کا حاصل ہے۔‘‘

(ٹائٹل پیج کوکب یمانی)

’’خان صاحب کے ایسے فتویٰ کے بعد۔‘‘

(ص۴)

’’خان صاحب اور ان کے معتقدین پر تو ان کے قول کے موافق۔‘‘

(ص۵)

400

’’مولوی احمدرضاخان صاحب اپنے ہی قول کے موافق۔‘‘

(ص۹)

’’اب اپنے ہی فرمان کے مطابق کافر ہوئے۔‘‘

(ص۱۰)

’’تو اپنے ہی فتویٰ کے مطابق کافر ہوئے۔ ‘‘

(ص۱۰)

’’تو اپنے ہی فتویٰ کے مطابق کافر ہوئے۔ ‘‘

(ص۱۳)

’’ہم نے تکفیر نہیں کی اور نہ ہمارا کام تکفیر اہل قبلہ ہے۔‘‘

(ص۲۲)

’’جو اوپر بیان ہوا ان امور کو تو فرمائیں کہ لازم آتے ہیں یا نہیں… اگر لازم نہیں تو خان صاحب بیان فرمائیں ہم اقرار کرلیں گے کہ خان صاحب سچے۔‘‘

(ص۲۲)

چنانچہ جب خان صاحب نے صفائی پیش کردی غلط فہمی ختم ہوگئی جس کا اقرار جرح میں موجود ہے کہ ہم کافر نہیں کہتے، بلکہ صرف غلط فہمی طرفین سے تھی۔

اب تصریحات کے بعد بھی اگر کوئی بہتان باندھے اور مغالطہ دے تو اس کا کیا علاج۔

مؤلف مذکورہ کے دوسرے رسائل سے بھی اس کے متعلق اطمینان کیا جاسکتاہے۔ کہیں بھی علماء بریلی کی تکفیر کا فتویٰ نہ ملے گا۔ باوجود یکہ سینکڑوں اختلافی رسائل لکھے۔

فتاویٰ رشیدیہ وہاں تو صرف یہ ہے کہ جس کے نزدیک رافضی کافر ہے یا ضرورت دین یا قرآن کا منکر یاتکفیر صحابہ کرنے والا ہے اس کے نزدیک سنی کا نکاح اس سے ناجائز ہوگا۔ وہاں کوئی فتویٰ اپنا نہیں دے رہے۔ فتویٰ کے متعلق دوسرے ان کے خود تصنیف کردہ رسائل اس سلسلہ میں ملاحظہ ہوں جہاں پوری تفصیل موجود ہے۔ غرض اس سے بھی مدعاثابت نہ ہوا۔

ازالۃ العارفین ختم نبوت کے منکر پر کفر کا فتویٰ (ص۵) پر درج ہے۔ اس سے کیا استدلال ہوسکتاہے وہ تو ہمارا مؤیدہے۔

یہ کہنا محض غلط بیانی ہے کہ مقلدین کے نزدیک غیر مقلدین اور غیر مقلدین کے نزدیک مقلدین کا نکاح باطل اور زناء محض ہے۔ ایک بھی تمام دنیا میں اس کے متعلق فتویٰ نہیں۔ وہاں تو صرف تقلید یا رفع یدین یا آمین بالجہر وغیرہ کا اختلاف ہے۔ کفر واسلام فسخ نکاح کا اختلاف ہی نہیں نہ اس کا کوئی فتویٰ نہ مقدمہ۔

اس کے بعد اس اوچھے طرز خطاب کو عدالت خود ملاحظہ فرمالے۔ ’’اورآج کل کے مسلمانوں کا گزارہ ان کے نزدیک زنا پر ہی چل رہاہے۔‘‘

آپس کی تکفیر اور اس کی غلط فہمی اور کسی کے کافر نہ ہونے کی مکمل تشریح ہیڈنگ ’’کیا تکفیر وجہ ارتداد وفسخ نکاح ہوسکتی ہے‘‘ کے تحت میں کرچکاہوں اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اس میں نمبر(۷) کا بھی جواب آگیا۔

۸… مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ: ’’اگر ریاست مولویوں کی اس خاص شریعت کو جس کے بعض فتاوؤں کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، جاری کرنا چاہتی ہے تو اس کے اختیار میں ہے۔ لیکن کسی مقدمہ پر اس قانون خاص کے جاری کرنے سے پہلے شرعاً عقلاً قانوناً یہ ضروری ہے کہ وہ اس قانون کو اپنی ریاست میں شائع کرے۔‘‘ محض لغوہے۔ ریاستی قانون سے نہ ہم واقف نہ ہمیں تبصرہ کا حق۔ مختار مدعاعلیہ جو چاہے اس پر نکتہ چینی کرے۔ ہمیں تو صرف یہ گزارش کرنا ہے کہ نہ اب یہاں فتوؤں پر دارومدار نہ کسی مولوی کی شریعت پر اب تو قرآن وحدیث وفقہ حنفی سے شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پیش کی گئی ہے اور اسلامی عدالت شریعت محمدیہ کی پابند ہے۔ خصوصاً نکاح وطلاق وغیرہ میں سوائے شریعت محمدیہ اور فقہ حنفی کے ریاست میں بھی کسی اور قانون پر مسلمانوں کے معاملہ میں عملدر آمد نہیں ہوسکتا۔ جب کہ برٹش حدود میں بھی یہ مسلم ہے۔ اس غلط پروپیگنڈا کی تردید میں گزارش ہے کہ:

401

جب کہ مرزا صاحب اور کے خلفاء کی تصریحات ہیں کہ جو مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے اور ان کی بیعت میں داخل نہیں۔ خواہ ان کانام بھی نہ سنا ہو، خواہ عمر بھر مدح سرائی کی ہو، کافر دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر شیطان اور جہنمی اور حرامی اور سور ہے۔

تواگر اس جماعت کو مسلمان مان لیا جائے اور ان کے اسلام کا کسی اسلامی ریاست میں فیصلہ کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام چالیس کروڑ مسلمان عرب وعجم صوفیاء اور علماء وسجادہ نشین ومخادیم سلاطین ونوابان وحکام سب کے سب کافر خارج ازاسلام جہنمی وغیرہ ہونے کا فیصلہ کردیاگیا جو کسی طرح مناسب نہیں۔

۹… فقہ حنفی کی پابندی کے اقرار کی توجیہہ محض فضول ہے۔ کیونکہ جب گواہ نمبر۲ نے ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء کو یہ تسلیم کرلیا کہ: ’’جہاں قرآن وحدیث میں مسئلہ مصرح نہ ہو، وہاں فقہ حنفی پر عمل کریں گے۔‘‘ اور اسی تاریخ یہ بھی تسلیم کرچکا کہ: ’’مسئلہ فسخ نکاح قرآن وحدیث کا مصرح نہیں۔‘‘ اور یہ بھی تسلیم ہے کہ فقہ حنفی کا متفقہ مسئلہ مرتد کے فسخ نکاح کا ہے تو اب اس تسلیم کے بعد تاویل اور اس سے گریز ناممکن ہے اور اس پر ہمیں مزید بحث کی ضرورت ہی نہیں۔

اصولی اختلاف

اس اصولی اختلاف کا حوالہ (نہج المصلی ص۲۷۷) سے اور اصولی وفروعی دونوں قسم کے اختلاف ہونے کی تصریح (گواہ مدعاعلیہ نمبر ۲ کی جرح۲؍مارچ ۱۹۳۳ء )سے پیش کرچکاہوں۔

اس کے بعد مندرجہ ذیل تاویلات کہ:

۱… مدعاعلیہ نے اپنے بیان میں یہ بتایا ہے کہ مسلمانوں ہوں اور کوئی عقیدہ اسلام کے خلاف نہیں۔

۲… اصولی اختلاف سے خلیفہ اوّل کی یہ مراد نہیں کہ نماز وروزہ وغیرہ میں اختلاف ہے۔

۳… گواہ مدعاعلیہ نے کہا تھا کہ ایک لحاظ سے فروعی اختلاف بھی ہوسکتاہے۔

الجواب:

۱… یہ دعویٰ مدعاعلیہ جب صحیح ہوتاہے کہ اس کا ایمان مرزا صاحب اور اس کے خلفاء پر نہ ہوتا۔ مگر ان پر ایمان لانے اور اس پر قائم رہنے کی حالت میں وہ اس کا پابند ہے اور یہ زبانی اقرار محض مغالطہ اور الفاظ بے معنی ہیں۔ جیسا کہ مفصل شہادت وبحث میں گزرچکا۔

۲… ہم کب کہتے ہیں کہ اس کی مراد نماز وروزہ کا اختلاف ہے، بلکہ اصل اصول دین توحید ورسالت واسلام وکفر کا اختلاف ہم بھی مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرزا صاحب کا ماننا ایمان نہ لاناکفر۔ ہمارے نزدیک نہ ماننا ایمان اور مرزا صاحب کا ماننا خالص کفرہے نہ معلوم یہ غلط فہمی مختار مدعاعلیہ کو کہاں سے لگی۔

۳… یہ تو گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے الفاط پیش کئے اور میں نے حوالہ (گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء ) سے دیاہے اور اس کے بجنسہٖ الفاظ بھی اوپر پیش ہوچکے ہیں۔ پس یہ تمام تاویلات لاطائل اور ناقابل التفات ہیں۔

کیا مدعاعلیہ اور مدعیہ کا علیحدہ علیحدہ مذہب ہے

تعجب ہے کہ مختار مدعاعلیہ کو اس میں بھی تأمل ہے اور تاویل کی سعی کرتاہے۔ حالانکہ دونوں میں اصولی وفروعی اختلاف ہے۔ مدعاعلیہ اپنے زعم میں مسلمان اور مدعیہ اس کے نزدیک پکے کافر وخارج از اسلام ہیں۔ نہ نماز اس کی جائز، نہ مناکحت۔ بخلاف مدعیہ کے کہ اس کامذہب اسی طرح مدعاعلیہ کو کافر ومرتداد قرار دیتاہے۔ نیز مدعیہ کے نزدیک مدار نجات نبی کریمa کی تعلیم ہے اور مدعاعلیہ کے

402

نزدیک مرزا صاحب کی تعلیم۔ مدعیہ کے نزدیک مرزاصاحب کا ماننا کفر، مدعاعلیہ کے نزدیک اسلام۔ اگرچہ زبان سے دونوں مدعی اسلام اور مقر پابندی قرآن وحدیث ہیں۔ مگر مدعیہ کے نزدیک وہی قرآن قابل عمل ہے، جو نبی کریمa لائے اور مدعاعلیہ کے نزدیک قرآن آسمان پر اٹھ گیا تھا۔ مرزا صاحب دوبارہ آسمان سے لائے۔ نبی کریمa کی احادیث صحیح کسی اور کی وحی والہام سے مدعیہ کے نزدیک رد نہیں ہوسکتی۔ مگر مدعاعلیہ کے نزدیک جو احادیث (اگرچہ صحیح ہوں)

مرزا صاحب کے وحی والہام کے خلاف ہیں وہ ردی کی طرح پھینک دی جائیں گی۔ مدعاعلیہ کے نزدیک قرآن پاک کا وہی مطلب صحیح اور قابل عمل وحجت ہے جو مرزا صاحب کے اسلام ومذہب کے مطابق ہو۔ یعنی جو مرزاصاحب اوراس کے دونوں خلفاء بیان کریں اور بس ملاحظہ جو (جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۳،۲۱،۲۷،۲۹؍مارچ ۱۹۳۳ء) نیز گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ کا جواب کہ مرزا صاحب کی وحی سب صحیح ہے مگر احادیث کل صحیح نہیں۔

مگر مدعیہ کا اسلام ومذہب یہ ہے کہ قرآن پاک کا وہی مطلب قابل ایمان وعمل ہے جو کہ نبی کریمa نے بیان فرمایا جو صحابہ کرام، اہل بیت عظام، ائمہ دین، اولیائے امت، علمائے ربانیین وبزرگان دین سمجھے اور کسی کا سمجھنا قابل اعتقاد وعمل نہیں۔

اس کے بعد مختار مدعاعلیہ کی تمام تاویلات کاخاتمہ ہوجاتاہے۔ پھر یہ کہتاہے کہ:

۱… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کا جرح میں یہ مطلب نہ تھا، بلکہ صرف حدیث کے قرآن سے مطابقت کے سوال کا جواب تھا۔

۲… بہرحال خلفاء کا فیصلہ ہمارے لئے درست اور قابل تسلیم ہے۔ آخر ہر شخص اپنے مقتداء اور امام کے فیصلہ کا پابند ہوگا۔

۳… علامہ محمدقاسم صاحب بانی دیوبند کا بھی یہی مذہب ہے جو گواہان مدعاعلیہ نے بیان کیا۔

الجواب: یہ محض تاویلات ناقابل التفات ہیں، کسی جواب ہی کی ضرورت نہیں۔ تاہم میں مختصراً جواب ترتیب وار عرض کرتاہوں۔

۱… میں نے اس سلسلہ میں جرح (گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ مؤرخہ ۲۱،۲۳،۲۷،۲۹؍مارچ ۱۹۳۳ء) کے جوابی فقرات پیش کئے ہیں اور مختار مدعاعلیہ گواہ نمبر۱ کے قول کو لے کر شرح کررہاہے۔ اسے وہاں کوئی خاص دلیل قرار نہیں دیاگیا۔ نیز جو جواب بطور ضابطہ کلیہ کے لکھایا جاتاہے وہ سوال تک ہی محدود نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا عام مفہوم معتبر اور مراد ہوتاہے۔

علاوہ بریں جب کہ حدیث وہ معتبر ہوئی جو قرآن کے مفہوم کے موافق ہو اور قرآن کا وہی مفہوم درست ہے جو مرزا صاحب یا ان کے خلفاء بیان کریںتو مطلب توپھر وہی ہوگیا کہ حدیث وہی معتبر ہوگی جو مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کے بیان کے موافق ہو اور قرآن میں اللہ کی بھی مراد وہی ہے جو ان ہر سہ اصحاب کے بیانوں میں ہے۔ بہرحال تمام دین کا دارومدار یہی صحابہ ثلاثہ ٹھہر ے اور بس۔

۲… بہرحال مختار مدعاعلیہ مرزا صاحب کے خلفاء ہی کا فیصلہ درست مانتاہے، کیونکہ وہ اس کے امام ہیں۔ پس مدعی کو بھی حق ہے کہ بہرحال فیصلہ نبی کریمa ان کے خلفاء راشدین، صحابہ وائمہ ہدیٰ وامام ابوحنیفہ کا فیصلہ درست مانے۔ کیونکہ وہ اس کے امام اور مقتداء ہیں۔ اس طور پر بھی دونوں کے مذہب کا فرق بکلی واضح رہا اور اتحاد کا دعویٰ باطل۔

۳… حضرت مولانا نانوتوی نے عیاذاً با اللہ کسی کتاب میںبھی اشارۃً وکنایۃً وہ مذہب نہیں لکھا جو گواہان مدعاعلیہ بیان کرتے ہیں، نہ ان کے نزدیک صحیح احادیث کسی امتی کی وحی یا الہام کے خلاف ہونے سے ردی کی طرح پھینک دینے کے لائق ہیں۔ وہ صرف حدیث پر روایۃً ودرایۃً تنقید کا ذکر فرمارہے ہیں اور شیعوں کے مقابل اہل سنت کا یہ اصول پیش کررہے ہیں کہ حدیث قرآن کے خلاف اہل سنت نہیں مانتے۔ نہ یہ کہ کسی کی وحی کے مخالف احادیث صحیحہ تک ردی کی طرح پھینکنے کو فرمارہے ہیں۔ مفصل توہین احادیث کے سلسلہ میں ملاحظہ فرمایا جائے۔

403

یہ محض حضرت مولانا پر بہتان اور مختار مدعاعلیہ کا صریح مغالطہ ہے۔

مرتد کے معنوں میں تاویل

اس کے بعد کچھ مرتد کے معنوں میں ترمیم کرکے مدعاعلیہ کا اقرار اسلام کو پیش کرکے اسے ارتداد سے بچانا چاہتے ہیں۔ مگر واضح رہے کہ ضروریات دین سے انکار اور مدعی نبوت بعد آنحضرتﷺ اور اس کے دعاوی والہامات کی تصدیق کے بعد ہزار زبان سے اقرار ہو۔ بہر حال شرح محمدی میں وہ مرتد اورکافر ہی ہوگا۔ جیسا کہ اوپر اصل بحث اور جوابی سلسلہ پر بیانات گواہان مدعیہ میں مفصل حوالے گزرچکے ہیں اور یہ مقدمہ مسل واپس ہونے کے بعد از روئے شرع شریف فیصل ہورہاہے۔ وہ قانونی نظائر جس میں مسلمان ہونے کے واسطے صرف زبان سے مسلمان کہنا کافی تھا وہ تمام اسلامی شعائر کا منکر اور کافروں سے بدتر کافر ہو، وہ قانون غیر متعلق کا مقدمہ کے اس دور میں کوئی علاقہ نہیں۔ نہ مسل کے واپس ہونے کے بعد پہلی کوئی کارروائی سوائے عرض دعویٰ وجواب دعویٰ وتنقیح کے حجت ہے۔

مختار مدعیہ کے نزدیک فسخ نکاح کی ایک اور وجہ

اس ہیڈنگ کے تحت لایعنی تاویلات سے اس نظیر کو مختارات مدعا علیہ رلانا چاہتاہے جو میں نے مدعاعلیہ کے ہی جناب مرزا غلام احمدصاحب کی کتاب (چشمہ معرفت ص۲۷۵،۲۷۶، خزائن ج۲۳ ص۲۸۸،۲۸۹) سے پیش کی تھی اور اسی قسم کی تاویل گواہان مدعاعلیہ نے جرح میں اس کے پیش ہونے کے بعد کی تھی۔ باوجودیکہ ان تاویلات کا جواب اصل ابتدائی بحث میں دے چکاہوں۔ مگر پھر بھی وہی ایک دوسرے رنگ میں پیش کردیں۔ لہٰذا اب دوسرے جوابی رنگ میں جواب بھی عرض ہے۔

مقدمات مسلمہ:

۱… مدعاعلیہ نے جو پہلے احمدی نہ تھا اور بعد نکاح اس نے احمدیت اختیار کی۔

۲… غیر احمدی سے احمدی یا احمدی سے غیر احمدی ہونا، دوسرا مذہب اختیار کرنا یا مذہب بدلنا کہا جاتاہے۔

(جرح گواہ نمبر۲مدعاعلیہ مؤرخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۳۳ء)

۳… ان دونوں مقدمات مسلم ہونے کے بعد میں نے مندرجہ ذیل نظیر مرزا صاحب کی کتاب چشمہ معرفت سے پیش کی تھی۔

’’جب عورت مرد کو ظالم پاوے یا وہ اس کو ناحق مارتا ہو یا اورطرح سے ناقابل برداشت بد سلوکی کرتا ہویا کسی اور وجہ ناموافقت ہو یا وہ مرد دراصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہوجائے جس کی وجہ سے عورت کو اس کے گھر میں آباد رہنا ناگوار ہوتو ان تمام حالتوں میں عورت یاا س کے ولی کو چاہئے کہ حاکم وقت کے پاس یہ شکایت کرے اور حکم وقت پر یہ لازم ہوگا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کردے اور نکاح کو توڑ دے۔ لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلاناضروری ہوگا کہ کیوں نہ اس کی عورت کو اس سے علیحدہ کیا جائے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۷۵،۲۷۶، خزائن ج۲۳ ص۲۸۸،۲۸۹)

جس کے بعد نتیجہ ظاہر ہے کوئی بھی تاویل ممکن نہیں جب کہ مدعاعلیہ نے احمدیت اختیار کرکے باقرار وتسلیم اپنے گواہ کے مذہب بدلایا اور مذہب بدلنے پر مزا صاحب بھی اس کی منکوحہ کو حاکم مجاز کے پاس درخواست فسخ نکاح کی اجازت دیتے ہیں اور حاکم مجاز کو ہدایت فرماتے ہیںکہ اس پر لازم ہے نکاح فسخ کردے۔

لہٰذا مقدمہ مرزا صاحب کے مسلک پر بھی بحق مدعیہ ہونا چاہئے اور نکاح فسخ، خلاصہ تاویلات ہٰذا۔

404

۱… مدعاعلیہ نے ان مضمون میں مذہب تبدیل نہیں کیا، بلکہ یہ معنی تو منصف احمد پور شرقیہ کے نتیجہ غلط اخذ کرنے سے پیدا ہوگئے۔ اس کی ۹؍فروری ۱۹۲۷ء کی درخواست ملاحظہ ہو۔

۲… مذہب کا لفظ اسلامی فرقوں اور دین دونوں کے معنی میں آتاہے، چند امثلہ۔

۳… مدعاعلیہ چونکہ اسلام پر قائم ہے اس لئے مقدمہ خارج ہوناچاہئے۔

۴… گواہ نے مذہب بدلنادین بدلنے کے معنی میں نہیں لیا، بلکہ مذہب کے معنی روش اور طریقہ کے ہیں۔ اس نے طریقہ بدلنے کے معنی میں لیاہے۔

۵… مرزا صاحب کی غرض مذہب بدلنے سے چشمہ معرفت میں وہ تبدیلی ہے جو اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین عیسوی وموسوی وغیرہ اختیار کرے۔ کیونکہ وہ کتاب ہی غیر مذاہب کے مقابلہ پرہے۔

الجواب: عدالت خود میری اصل بحث سے ان تاویلات کا مقابلہ فرمائے ایک بھی وہاں سے ربط نہیں رکھتی کہ ان سے اصل بحث کے مضمون پر کوئی زیادہ زد پڑتی ہے۔ تاہم جواب الجواب کے رنگ میں مختصراً ترتیب وار عرض کرتاہوںتاکہ مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ واضح ہوجائے۔

۱… مدعاعلیہ کے کسی خاص معنی یا لفظ تبدیل مذہب پر اس کی بناء نہیں قرار دی گئی وہ تو تائید تھی، بلکہ صرف اس کا احمدی ہونے کااقرار ہمارے مدعاکا مثبت اور اس پر وہ جواب دعویٰ سے اپنی آخری شہادت تک قائم رہا۔ لہٰذا ہمیں منصف احمد پورشرقیہ کے نتیجہ کی صحت وسقم اور اس کی ۹؍فروری۱۹۲۷ء کی درخواست سے کوئی سروکار نہیں۔ مقدمہ اولیٰ تو صرف یہ ہے کہ پہلے غیر احمدی تھا اوربعد نکاح احمدیت اختیار کرلیا۔

۲… مذہب کا لفظ جن معانی میں آتاہو اس سے غرض نہیں۔ یہاں اس نے جو مذہب ترک کیاہے وہ اس کے نزدیک دین واسلام ہی نہ تھا، بلکہ اس پر رہنا اسلام سے خروج اور کفر تھا اور اب احمدی ہونا دین اسلام ہے۔ لہٰذا یہاں اس کے نقطہ نظر سے صرف مسلک بدلنا نہیں، بلکہ دین بدلناہے۔

نیز اسلامی فرقوں کی تبدیلی میں جہاںلفظ مذہب استعمال ہوتاہے۔ جیسے حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی۔ وہاں اس میں کوئی اصولی اختلاف نہیں، بلکہ فروعی ہے اور ایک دوسرے کے پیچھے بلاکراہت نماز پڑھتے اور ایک دوسرے کو نہ صرف مسلمان بلکہ حق پر جانتے ہیں اوروہاں لفظ مذہب ان مذکورہ بالا قرائن کی وجہ سے مجازاً بمعنی مسلک بولاگیاہے۔ بخلاف احمدیت اور غیر احمدی مسلمانوں کے کہ یہاں اسلام وکفر کا فرق ہے۔ اصولی وفروعی دونوں قسم کے اختلافات مسلم، نہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز جائز نہ سلسلہ مناکحت۔ جیسا کہ تفصیلاً حوالوں سے اوپر گزرچکا۔ پس یہاں اگر لفظ مسلک بھی بولاجا تا تو مجازاً مذہب ودین بدلنے کے معنی میں لیاجاتا۔ چہ جائے کہ صاف مذہب بدلنے کا لفظ موجود ہے۔

۳… یہ فیصلہ قبل از وقت ہے کہ مدعاعلیہ اسلام پر قائم ہے۔ لہٰذا مقدمہ خارج ہوناچاہئے۔ اس کے اسلام وکفر وارتداد کا مسئلہ زیر بحث ہے، یہی تنقیح ہے۔ اس پر شہادت وبحث ہے۔ لہٰذا اس کا یہاں تذکرہ ہی فضول ہے۔ شہادت سے تو اس کا کفر ہی ثابت ہے۔مرزا صاحب کی اتباع کے بعد اس کے ارتداد وکفر میں شک وشبہ کی گنجائش ہی نہیں۔ جیسا کہ مدلل بیانات گواہان مدعیہ میں گزرچکا اور وہ تمام حوالے مرزا صاحب اور دیگر کتب کے جرح میں بھی پیش ہوچکے اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔

۴… گواہ نے ہر گز روش اور طریقہ بدلنے کے معنی میں نہیں لیا۔ ورنہ وہ اپنے معتقدات کی بناء پر لے سکتاہے۔ کیونکہ غیراحمدی ہونا اس کے نزدیک صریح کفر اور خروج از دائرہ اسلام، بلکہ پکا کفر ہے اور اس پر وہ اپنا ایمان زور دار لفظوں میں جرح آئینہ صداقت کے سلسلہ میں ۱۹۳۳ء میں بتاچکاہے۔ پھر طریقہ بدلنے کے معنی میں کیونکر ہوسکتاہے۔ طریقہ اور روش بدلنا وہاں ہوتاہے، جہاں دونوں اصولاًمتحد

405

ہوں۔ اسلام وکفر کا فرق نہ ہو۔ بعض جزئیات وفروع میں اختلاف ہو۔جیسے حنفی، شافعی، چشتی ونقشبندی کہ سب ایک دوسرے کے نزدیک مسلمان اور حق پر ہیں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز شادی بیان کا تعلق قائم۔ وغیرہ وغیرہ!

پس مختار مدعاعلیہ کی یہ توجیہہ گواہ کی مراد سے بالکل خلاف ہے۔ یہاں مذہب بدلنایوں ہے جیسے کہ یہودی ونصرانی یا ہندوہونا یا اس سے پھرنا۔ چنانچہ مسلمانوں کو عیسائی یہودی، ہندوؤں کی طرح اس نے خود بحوالہ (ملائکۃ اللہ ص۴۶) تسلیم کیاہے۔ لہٰذا ایمان مذہب بدلنا بمعنی دین بدلنے کے ہے نہ کہ روش اور طریقہ بدلنے کے معنی میں۔ واقعات اور گواہ نمبر۲ کا عقیدہ اس کی زبردست تردید کرنے کو کافی ہیں۔

۵… جو غرض مرزا صاحب کی چشمہ معرفت میں مذہب بدلنے کی مختار مدعاعلیہ بیان کرتاہے۔ اوّلاً اس کی طبع زاد ہے۔ وہاںکوئی بھی کسی قسم کاسیاق وسباق میں قرینہ نہیں اور یہ کہنا کہ وہ غیر مذاہب کے مقابلہ پر لکھی گئی ہے۔ بداہۃً غلط اور قرینہ نہیں۔ کیونکہ اس میں غیرمذاہب سے کچھ کم مسلمانوں کی تردید نہیں اور اگر بفرض محال ہم انہیں کے قول کو تسلیم کرلیں کہ وہ تبدیلی مراد ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر دوسرا دین عیسائی یہودی وغیرہ اختیار کرے تو بھی ہمارا مدعا اسی طرح ثابت ہے۔ کیونکہ غیر احمدی مسلمان ان حضرات اور ان کے خلفاء کے نزدیک یہودی نصرانی اور ہندوؤں کی طرح کافر ہیں۔ ملاحظہ ہو (ملائکۃ اللہ ص۴۶) اور اس کی تائید مرزا صاحب کے کلام سے لی گئی ہے۔ پس غیر احمدیوں اور احمدیوں میں ویسا ہی اختلاف رہا۔ جیسا کہ اسلام اور یہودیت ونصرانیت وہندویت میں۔ لہٰذا بہرحال تبدیلی مذہب کا لفظ واقعہ زیر بحث سے متعلق اور اس کے پورے طور حاوی رہا۔ لہٰذا اس کی روسے مسلمہ طور پر مرزا صاحب کے فیصلہ کے مطابق نکاح ضرور فسخ اور مقدمہ بحق مدعیہ ہوناچاہئے۔

فسخ نکاح کی ایک اور وجہ

اس سلسلہ میں مختار مدعاعلیہ نے میری ایک زبردست وجہ فسخ نکاح کو جو نہایت بدیہی اور واضح تھی، مخدوش کرناچاہاہے میں نے عرض کیاتھا کہ ابتدائی مرحلہ میں مقدمہ مدعیہ کے خلاف دو وجہوں سے ہوا۔ پہلا ممالک غیر کا فتویٰ نہیں پیش ہوسکا نمبر۲ دوسرے قانونی بعض نظائر موجود تھے۔ مگر اب جب کہ ممالک اسلامیہ کا ایک زبردست فتویٰ علماء حرمین مکہ ومدینہ کا ’’مسمی بحسام الحرمین‘‘ مختار مدعاعلیہ نے خود علماء دیوبند کی تکفیر کے سلسلہ میں پیش کردیا جس کے کہ شروع میں مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے متبعین کے معتقدات لئے ہیں اور اسی لین میں انہیں عقائد میں چونکہ علماء دیوبند کا تذکرہ تھا۔ لہٰذا ان پر بھی کفر آگیا۔ جب انہیں وہ غلط فہمی رفع ہوگئی اور اس کی تردید ہوگئی تو وہ فتویٰ واپس لے لیا جس کے لئے غایۃ المامول علامہ برزنجی مدنی کا پیش کیاتھا۔ بہرحال وہ فتویٰ مرزا صاحب کے حق میں اب تک باقی ہے اور خود مدعاعلیہ کے شاہد کا پیش کیا ہواہے اور نہ صرف ممالک اسلامی،بلکہ حجاز وحرمین کے مسلم علماء ومشائخ کا۔ دوسرا فتویٰ علماء شام کا جو گواہ مدعیہ نمبر۳ نے پیش کیا اور فیصلہ دربار میں یہ موجود ہے کہ کفر واسلام کا معاملہ علماء اسلام ہی حل کرسکتے ہیں۔ پس علماء حرمین وممالک اسلامیہ کے فیصلہ وفتویٰ کے بعد مرزا صاحب اور ان کے متبعین کا ارتداد بلا شبہ ثابت ہے۔ نیز علماء اسلام میں کوئی ایک مسلم عالم یا کوئی ایک اسلامی فرقہ بھی اس کے خلاف نہیں۔ دوسرے نظائر پیش کردہ کو فیصلہ دربار معلی نے غیر متعلق قرار دے دیا۔ ملاحظہ ہو فیصلہ دربار معلی پس اب یقینا نکاح فسخ اور مقدمہ بحق مدعیہ ڈگری ہوناچاہئے۔

خلاصہ تاویلات

۱… وہ شام کے علماء کا فتویٰ نہیں، بلکہ میرے ایک ٹریکٹ کا جواب ہے جو رشید قاسم نے لکھاہے اور وہ ایک تاجر ہے۔ اس کی قابلیت اور دماغی حالت معلوم کرنے کے واسطے یہی کافی ہے۔

406

۲… گواہ مدعیہ نمبر۳ سے جب جرح میں دریافت کیا تو رشید قاسم سے لاعلمی ظاہر کی۔

الجواب:

۱… یہ عجیب بات ہے کہ وہ فتویٰ نہیں ہے۔ کیونکہ رشید قاسم ایک تاجر آدمی ہیں اور تاجر عالم نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ تمام انبیاء حتیٰ کہ سید الانبیاa نے بھی تجارت کی۔ تاجر ہونا نہ نبوت کے منافی ہے، نہ خلافت ولایت کے، نہ علم وکمال وافتاء کے۔ باقی چونکہ انہوںنے ممالک اسلامیہ اور خصوصاً شام میں مرزا صاحب کے خلاف ایک بیداری پیدا کردی ہے اور ان کے مشن کو ان سے سخت صدمہ ہواہے۔ یہ ان کی دماغی حالت پر جو بھی تبصرہ کرے، بجاہے۔ بہرحال وہ ایک عالم کا فتویٰ ہے اور دوسرے علماء اس کے مؤید ہیں۔ وہ مفصل فتویٰ اور اس ترجمہ اخبار مدینہ بجنور اور اخبار زمیندار لاہور میں متعدد مرتبہ علماء شام کے فتویٰ کے ہیڈنگ سے شائع ہوچکاہے۔ اس کے نیچے دیگر علماء کے بھی دستخط ہیں۔

۲… گواہ مدعیہ نمبر۳ نے اپنی ذاتی ملاقات کا انکار کیا ہے۔ باقی ان کے علم وفضل کا کوئی انکار اوراس سے لاعلمی نہیں اور نہ کسی کی علمی شہرت معلوم کریں۔ اس سے بلا واسطہ ملاقات کی شرط ہے۔ ملاحظہ اصلی الفاظ (جرح گواہ نمبر۳، مؤرخہ ۲۹؍اگست ۱۹۳۳ء) اور اگر بالفرض مختار مدعاعلیہ کے یہ شبہات ہم صحیح تسلیم کرلیں گو صحیح نہیں۔ جیسا کہ ابھی عرض کر چکا ہوں تو بھی ہمارا صلی استدلال بحالہ موجود ہے۔ کیونکہ اوّلاً تو میں نے انہیں کا پیش کردہ فتویٰ علماء مکہ ومدینہ حسام الحرمین کو بناء استدلال بنایاہے۔ اس کا جواب بھی نہ دے سکے۔ بہرحال ایک فتویٰ نہ صرف علماء ممالک اسلامیہ بلکہ خیر البلاد حجاز کے مسلم علماء ومشائخ گواہ مدعاعلیہ کا پیش کردہ موجود اور لاجواب ومسلم ہے۔ پس فتویٰ ممالک اسلامیہ کا ثابت ہے اور نظائر قانونی بروئے فیصلہ دربار معلی غیر متعلق ہے۔ پس مقدمہ بحق مدعیہ یقینا ڈگری ہوناچاہئے۔

نوٹ: اس کے بعد حسام الحرمین اور علماء دیوبندوبریلی کا طولانی قصہ ہے جسے میں اخیر بحث میں جب کہ اپنے گواہوں پر سے اعتراضات دفع کروں گا۔ اس وقت لوں گا اور وہیں سے یہ دراصل متعلق بھی ہے۔

گواہان مدعاعلیہ پر تنقید کا جواب

اس سلسلہ میں جو میں نے مکمل لسٹ پیش کی تھی اس کے بعض نمبروں کی کچھ تاویلیں مختار مدعاعلیہ نے کرنی چاہی ہیں اور اکثر تو لاجواب اور گواہوں کے ناقابل اعتبار ثابت کرنے کو کافی ووافی ہیں۔ میں تاویلات کا خلاصہ لے کر نمبر وار جواب مگر نہایت ہی مختصر عرض کرتاہوں۔ ہاں! پہلے اپنے اصل اعتراضات اور تنقید کا خلاصہ بھی مختصر الفاظ میں پیش کردوں تاکہ بعد کو متعدد مرتبہ اسے نہ لانا پڑے۔

خلاصہ تنقید

یہ اصل فریقین کو مسلم ہے کہ کسی کامذہب دریافت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی تمام کتابوں کودیکھ کر حکم لگایاجائے۔ ملاحظہ ہو (بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱) عنوان علماء کفر کا فتویٰ۔ لہٰذا کوئی کسی سلسلہ کا تمام لٹریچر دیکھے بغیر اس کے اسلام کے متعلق اخیر فیصلہ نہیں دے سکتا۔ کیوں کہ اس کے اسلام کا پتہ تو جب چل سکتاہے۔ جب کہ اس کے تمام معتقدات کا علم ہو اور معلوم ہوجائے کہ اس کا کوئی بھی عقیدہ کفریہ اسلام کے خلاف نہیں۔ بخلاف کفر کا حکم لگانے کے واسطے اگر قطعی طور پر ایک کسی کا صریح وصاف کفریہ معلوم ہوجائے تو کفر کا حکم ان کفریات پر لگا سکتے ہیں۔ گو دیگر کفریات یا اس کے تمام معتقدات کا علم نہ ہو۔ کیونکہ اسلام تو مجموعہ اعتقادات کے بعد ثابت ہوگاا ور کفرکے واسطے ایک صریح وجہ بھی کافی۔ گو اور کسی چیز کا علم نہ ہو۔

407

مثلاً ایک شخص صراحۃً نماز کی فرضیت کا انکار یا قرآن کا انکار یا بت کو سجدہ کرے تو ہم صرف اسی پر حکم کفر لگا سکتے ہیں۔ گو دوسرے حالات کا ہمیں علم بھی نہ ہو۔ اسی اصول پر مرزا محمود صاحب نے تمام چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج۔ صرف مرزا صاحب کی بیعت میں داخل نہ ہونے سے قرار دیاہے۔ حالانکہ ان تمام مسلمانوں کے تمام معتقدات کاان کو پتہ بھی نہیں اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ جو سلسلہ احمدیت یا مذہب مرزائیت اور اس کے بانی ومتبعین کا اسلام ثابت کرنے کے واسطے پیش ہوا ہے۔ اس کا یکم؍مارچ۱۹۳۳ء بجواب جرح اقرار ہے کہ سلسلہ احمدیہ کے سب لٹریچر نظر سے نہیں گزرے جو اس وقت تک شائع ہوئے۔ اب اس معاملہ میں اس کی گواہی کاناقابل اعتبار ہونا بالکل واضح تھا۔ مگر اس میں بھی غیر متعلق تاویلات کیں۔

خلاصہ تاویلات

۱… گواہ مدعیہ کی جرح کی عبارت محرف کرکے پیش کی اور عدالت کومغالطہ دیا۔ اصل الفاظ یہ ہیں: سلسلہ احمدیہ کی طرف سے اس وقت تک جس قدر لٹریچر شائع ہوچکے ہیں وہ سب میری نظر سے نہیں گزرے۔

۲… اس سے دیگر مصنّفین کی تصانیف مرادہیں جن کا دیکھنا ضروری نہیں، نہ کتب مرزا صاحب۔

۳… مختار مدعیہ کا یہ کہنا کہ کسی کا کفر ثابت کرنے کے واسطے اس کی تمام تصانیف کا دیکھنا ضروری نہیںقطعاً باطل ہے۔ بلکہ مبہم وذوالوجوہ عبارات دوسری عبارات سے حل ہوں گی۔ نیز اس کے سیاق وسباق ودیگر تصانیف سے۔

۴… مختار مدعاعلیہ کا اصول گواہ مدعیہ نمبر اکے خلاف ہے۔ ملاحظہ ہو جرح ۲۰؍اگست ۱۹۳۳ء ایک مصنف کا جب تک ماقبل ومابعد معلوم نہ ہو اور اس کی دوسری تصانیف سے اس کا صحیح عقیدہ معلوم نہ کرلیا جائے۔

۵… اور واضح رہے کہ فتویٰ دینے کے بارہ میں گواہ مدعیہ نمبر۱ کا قول بہ نسبت مختار مدعاعلیہ کے قول کے زیادہ معتبر اور ماننے کے قابل ہے۔ کیونکہ گواہ مدعیہ نمبر۱ بقول اس کے دارالعلوم دیوبند کا مفتی ہے اور مختار مدعیہ ایک معمولی آدمی ہے جو کسی یونیورسٹی کا سند یافتہ نہیں۔

۶… پھر گواہ مدعیہ نمبر۱ کو بھی اس کی جرح سے ایک فقرہ سے مجروح کرنے کی سعی کی۔

الجواب:

۱… میں نے کوئی بھی عبارت محرف نہیں کی۔ عدالت کو خود ملاحظہ مسل کے وقت معلو م ہوجائے گا۔ میں نے وہاں بھی اصل عبارت پیش کی تھی۔ حوالہ یہ محض مغالطہ ہے۔

۲… یہ تاویل کہ سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر سے مرزا صاحب کے سوائے دوسرے مصنّفین کے مراد ہیں۔ محض غلط اور اب بحث ناقابل التفات ہے۔ گواہ اپنے الفاظ کا پابندہے۔ نیز کسی سلسلہ یا مذہب کے لٹریچر میں اس کے باقی سلسلہ کا لٹریچر سب سے مقدم آتاہے۔ لہٰذا یہ تخصیص علاوہ بے ربط ہونے کے تحقیق کے بھی خلاف ہے۔ پھر سلسلہ احمدیہ میں جس طر ح مرزا صاحب کی تصانیف قابل ایمان لانے کے ہیں۔ یوں ہی ان کے خلفاء کی۔ پس مرزا صاحب کے سواء مطلقاً دیگر تصانیف کا اخراج بھی نافع نہیں اور گواہ آئینہ صداقت مرزا محمود صاحب کے مطالعہ سے صراحۃً انکار کرچکاہے۔ بہرحال یہ تاویلیں فضول ہیں اور سلسلہ کی کل کتب یقینا اس نے نہیں پڑھیں۔ جیسا کہ جرح میں جا بجا آیاہے اور اس قدر لا علمی کے ساتھ اس سلسلہ کی صفائی کے گواہ ہر گز قابل نہیں ہوسکتے۔

۳… میں نے اس مسئلہ کو مدلل امثلہ سے بیان کیا ہے۔ کسی حاشیہ آرائی کا وہ محتاج نہیں۔ مصرح کفر ہونے کے لئے کل عقیدے یا کل کتب کے مطالعہ کی حاجت نہیں اور آنحضرتﷺ کے بعد مطلقاً دعویٰ نبوت یا آنحضرتﷺ کا مطلقاً آخرنبی ہونا، وغیرہ! ایسا مصرح ہے کہ کسی کتاب میں ۱۹۰۱ء کے بعد اس کے خلاف نہیں۔ وغیرہ ذلک! باقی مبہم عبارات کے حل کے لئے ضرور اس عبارت یا مخصوص اسی مسئلہ

408

کے متعلق اس شخص کی دیگر تصانیف دیکھنی ہوں گی۔ تمام دیگر مسائل کے متعلق اس کی تصانیف دیکھنا کوئی ضروری نہیں اور یہی مطلب صرف گواہ مدعیہ نمبر۱ کاہے۔ اصل بحث وجرح سے عدالت خود ملاحظہ فرمائے یہ تاویل محض بیکار ہے۔

خیر فتویٰ کے متعلق مولانا محمدشفیع صاحب گواہ مدعیہ نمبر۱ کو زیادہ معتبر اور ماننے کے لائق تسلیم کرلیا اور انہیں ہندوستان کی مرکزی درسگاہ کا مفتی بھی اس سے تو ہمارے گواہ کی توثیق ہے۔ بہرحال ان کا فتویٰ تکفیر مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے متعلق مذہبی نقطہ نگاہ سے مختار مدعاعلیہ کے نزدیک بھی سب سے زیادہ معتبر اور قابل ماننے کے ہوگا۔ باقی رہا مختار مدعیہ کا معاملہ وہ تو نہ گواہ ہے، نہ شاہد، نہ اس پر جرح۔ کہیں پر کوئی اثر ڈالے، اس کے متعلق یہ کہنا کہ اور مختار مدعیہ ایک معمولی آدمی ہے جو کسی یونیورسٹی کا سند یافتہ نہیں۔‘‘ یہ بھی اس کی عزت افزائی ہے۔ ورنہ مرزا صاحب تو ہم لوگوں کو بدذات فرقہ اور جنگلی سور اور نہ معلوم کیا کیا کہتے ہیں۔ ہمیں تو مختار مدعاعلیہ کا شکریہ ادا کرناچاہئے۔ آدمی تو مان لیا معمولی آدمی ہی سہی۔ہمیں کب برابر ہونے کا دعویٰ ہے۔ مرزا صاحب تو ابن مسعودq جیسے جلیل القدر صحابی کو فرماتے ہیں کہ ایک معمولی آدمی تھا۔ کسی یونیورسٹی کا سند یافتہ نہ ہونا معمولی آدمی ہونے کوکافی نہیں۔ نہ مختار مدعاعلیہ کے نبی کسی یونیورسٹی کے سند یافتہ تھے، نہ خلیفہ اوّل ودوم۔ البتہ یہ اس کی غلط بیانی یا ناواقفی ہے کہ مختار مدعیہ کسی یونیورسٹی کا سند یافتہ نہیں۔ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جس کے متعلق وہ کہہ رہاہے وہ منشی فاضل ومولوی فاضل الہ آباد یونیورسٹی ولکھنؤ یونیورسٹی وپنجاب یونیورسٹی تینوں جگہوں کاہے۔ اگر عدالت ضرورت محسوس فرمائے تو تمام سرٹیفکیٹ بھی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ میری غرض صرف مختار مدعاعلیہ کے اوچھے پن کا اختیار کرناہے۔ ورنہ وکیل پر تنقید کا کوئی اثر مؤکل یا کیس پر نہیں پڑتا۔ ہاں! اب یہ اصول تنقید مختار مدعاعلیہ کے متعلق نہ بحیثیت مختار بلکہ گواہ سلسلہ تنقید گواہان مدعاعلیہ ان شاء اللہ پیش کیا جائے گا۔

۴… کل کتب مرزا صاحب کی بالاستیعاب نہ دیکھنا اور چیز ہے اور عبارت کا سیاق وسباق نہ دیکھنا اور چیز۔ اس مغالطہ سے گواہ مجروح نہیں ہوسکتا۔ دوسرے گواہ مدعیہ نمبر۱ بحیثیت مفتی اسلام پیش ہواہے اور وہ شرعی مسائل کا دراصل شاہد ہے۔ اگر وہ یہ عبارات بھی نہ دیکھتا جب بھی اس کی ان متنازعہ مسائل ختم نبوت، وحی نبوت، توہین انبیاء، تکفیر امت، انکار حشر اجساد وغیرہ میں معتبر اور بقول مختار مدعاعلیہ قابل ماننے کے تھے۔ مرزا صاحب کی عبارات کے واسطے تو گواہ الف ونمبر۲،۳ پیش ہوئے ہیں جنہوں نے غالباً مرزا صاحب کے متبعین سے بہت زائد ان کی کتب کا مطالعہ کیاہے۔

(۲) دربار معلی کی توہین

یہ عدالت نے غیر متعلق قرار دے کر خارج کردیاہے۔ لہٰذا اس پر کچھ بحث کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس کے تحت دو امر اور پیش کئے ہیں۔ ایک تو اپنی صریح غلط بیانی کی تردید کرنے کی سعی کی ہے، دوسرے دو غیر مجروح شاہدوں پر فرضی یا ظلی وبروزی جرح قائم کی ہے۔ اس کے الفاظ کا خلاصہ لے کر جواب عرض کروں گا۔

خلاصہ تاویل مختار مدعاعلیہ

۱… یہ کہنا کہ فتویٰ کفر کی بنیاد صرف علماء کے اقوال پر رکھی گئی ہے۔ بجائے خود بالکل صحیح اور درست ہے۔

۲… شیخ الجامعہ صاحب نے جو دلائل پیش کئے تھے جب کہ مدعاعلیہ کی طرف سے ان کا جواب ہوگیا تو گویا علماء کے اقوال ہی رہ گئے۔

۳… گواہان مدعاعلیہ نے مدعاعلیہ کے ایمان اور اس کا عقیدہ قرآن مجید اور حدیث اور سلف کے موافق ثابت کردیاہے۔ لہٰذا مختار مدعیہ کا مذکورہ بالا اعتراض باطل ہے۔

409

۴… گواہ نمبر الف،ب کی شہادتوں میں وہی امور تھے جو دوسرے شاہدوں نے بیان کئے ہیں۔ دوسروں کی جرح گویا ان پرہے۔ لہٰذا وہ بھی مجروح باطل ناقابل التفات ہوگئیں۔

الجواب:

۱… یقینا یہ کہنا کہ اس جدید دور میں تکفیر کی بنیاد صرف علماء کے اقوال پر رکھی گئی۔‘‘

عدالت کے سامنے ایسی صریح غلط بیانی ہے کہ اس کے بعد اس گواہ کی گواہی قبول ہی نہیں ہوسکتی۔ عدالت خود مسل سے ملاحظہ فرمائے کہ کہیں کوئی بھی فتویٰ پیش نہیں کیا گیا۔ تذکرہ علماء شام کے فتویٰ کا صرف دو لفظوں میں ذکر ہے۔ باقی تمام مسائل آیات قرآنی احادیث نبویہ، آثار صحابہ وتابعین وائمہ فیصلہ متکلمین و اسلاف سے بوضاحت بلا کسی تاویل کے ثابت کئے گئے جس میں ہر اقسام سے تقریباً (۵۰) دلائل تو لاجواب ہیں جس کے جواب کااس میں عمومی وخصوصی کسی طور پر تذکرہ تک نہ آیا۔ پھر کیا یہ مذکورہ بالا اقوال کہ صرف بنا علماء کا فتویٰ ہے۔ محض دروغ اور غلط بیانی نہیں۔

۲… یہ کہنا کہ شیخ الجامعہ صاحب کے دلائل کا جواب دے دیا۔ بس گویا کہ صرف فتاویٰ رہ گئے۔ یہ کیسی بے ربط تاویل ہے۔ اس بناء پر تو یہ کہنا چاہئے کہ کوئی بھی دلیل نہیں رہی۔ کیونکہ یہاں پر فتویٰ کا پتہ ہی نہیں۔

نیز حضرت شیخ الجامعہ صاحب کے دلائل کا کوئی بھی جواب بن نہ سکا۔ جیسا کہ اوپر مفصل پیش کرچکا۔ علاوہ بریں سوائے ایک آدھ باتوں کے شیخ الجامعہ صاحب نے جو تمام گواہوں سے علیحدہ آیات واحادیث پیش کی تھیں، ان کا جواب کجا جوابی بحث میں تذکرہ یا اصولاً بھی تردید نہ آئی۔ لہٰذا ان کا بیان تو بہرحال لاجواب ہے۔ نہ وہ ٹوٹ سکتاہے اور نہ یہ مختار مدعاعلیہ کا صریح جھوٹ سچ ہوسکتاہے۔

۳… عدالت خود واقف ہے کہ گواہان مدعاعلیہ کا عقیدہ کہاں تک قرآن وحدیث واسلاف کے مطابق ثابت کرسکے۔ مدعاعلیہ کیا صرف مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کاا یمان توحید ورسالت اور ضروریات دین پر ثابت نہ ہوسکا۔ بس اصل اعتراض بحالہ موجود ہے۔

۴… شاید مختار مدعاعلیہ کو معلوم نہیں کہ بعض گواہوں کے مجروح ہونے سے دوسرے جرح سے سالم گواہ قانوناً مجروح نہیں ہوا کرتے۔ نہ اس قسم کی تاویلات کو کوئی جوڈیشنل حیثیت حاصل ہے۔

لہٰذا وہ دونوں شہادتیں بالکل جرح سے سالم ہیں اور اس طور پر کہ باوجود وقت دئیے جانے کے مدعاعلیہ نے جرح سے انکار کردیا۔

مزید برآں ان شہادتوں پر دیوبندی ہونے کا بھی اعتراض نہیں۔ پس جو ڈیشنل حیثیت سے وہ گواہان بہت ہی قابل وقعت ہیں۔ خصوصاً نمبرالف کا پوزیشن بھی ہائی پوزیشن ہے۔

(۳) گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ … معلومات پر بحث

اس سلسلہ میں من جملہ اور اعتراضات کے صرف میرے ایک اعتراض کی تاویل کرنے کی لاحاصل کوشش کی ہے۔

پیش کردہ کتب سے مختار مدعاعلیہ کی واقفیت

۱… فتوحات مکیہ کل نہیں دیکھی۔ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء

۲… شرح فقہ اکبر کا علم نہیں کسی کی ہے۔ ؍؍ ؍؍ ۷؍مارچ۱۹۳۳ء

۳… بحرالرائق کا اصول تکفیر معلوم نہیں۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍ ؍؍

۴… اشارات فریدی تمام کا مطالعہ نہیں کیا۔ ؍؍ ؍؍ ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء

410

۵… منصب امامت پوار نہیں پڑھا۔ ؍؍ ؍؍ ۱۲؍مارچ ۱۹۳۳ء

۶… مبسوط دیکھا ہی نہیں۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍ ؍؍

۷… ہدیہ مجددیہ کا مصنف نامعلوم۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍ ؍؍

۸… جامع الشواہد کا مصنف نامعلوم۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍ ؍؍

۹… بھونچال برلشکر دجال کا مصنف نامعلوم۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍ ؍؍

۱۰… تحذیر الناس کل مطالعہ نہیں کی بلکہ اکثر۔ ؍؍ ؍؍ ۸؍مارچ ۱۹۳۳ء

اس سے گواہ کی لاعلمی اور قابلیت نیز جو حوالے جس مسئلہ کے متعلق پیش کئے۔ ان کی حقیقت آشکارا تھی اور کسی تاویل کی حاجت بھی نہ تھی۔ مگر پھر بھی تاویلیں پیش کیں کہ ان سے گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ کی شہادت پر اثر نہیں پڑتا۔

خلاصہ تاویلات مختار مدعاعلیہ

۱… یہ خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ ۷؍مارچ۱۹۳۳ء کو گواہ نے یہ بھی کہا ہے کہ بحرالرائق میں یہ ہے کہ اکثر کے متعلق میں فتوے نہیں دیتا اور کسی کے کلام کا… الخ!

۲… فتوحات مکیہ اتنی ضخیم کتاب ہے کہ جس غرض کے واسطے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے اس کا مطالعہ کیا تھا۔ اس کے لئے کل پڑھنا ضروری نہ تھا۔

۳… دوسری کتب کے متعلق یہ ہے کہ ان کی جو عبارت پیش کی گئی۔ اس کے اندر اس کے خلاف کوئی عبارت نہیں جس سے اس کے مفہوم میں فرق آئے۔ لہٰذا بالاستیعاب پڑھنے کی ضرورت نہ تھی۔

۴… ہدیہ مجددیہ کے مصنف کانام اس وقت یاد نہ تھا۔ کتاب پر لکھاہواہے یہ بتایا تھا۔

۵… جامع الشواہد اور بھونچال برلشکر دجال کے مصنّفین کے متعلق ان کی کتابوں سے معلوم ہوسکے گا کہ مقلد تھے یا غیر مقلد گواہ مدعاعلیہ نمبر ۱ نے بھی یہ لفظ ۱۲؍مارچ کو کہے تھے نہ مختار مدعیہ کے پیش کردہ۔

۶… گواہ مدعیہ نمبر۱ جو مفتی دارالعلوم ہے، اسے بھی مندرجہ ذیل امور معلوم نہیں۔

الف… مجھے نہیں معلوم کہ دیوبندیوںنے سوائے قادیانیوں کے کسی کوکافر کہاہو۔

ب… مسیلمہ نہ نبوت مستقلہ کا مدعی تھا نہ اس نے کوئی شریعت اسلام کے مقابل قائم کی تھی نہ میرے علم میں قرآن کے مقابل کوئی آیات قائم کیں۔

ج… امام شافعی، احمد، بخاری، نسائی، سید عبدالقادر جیلانی، ابن عربی پر کفر کے فتویٰ کا مجھے علم نہیں۔

د… مسلم کے شارحین کو میں نہیں جانتا۔ مجھے نہیں معلوم محمدحسین صاحب بٹالوی نے کس سن میں فتویٰ دیا اور کس نے خاتم کے معنی خاتم النّبیین میں مہر کے لئے اور خاتم الاولیاء مرزا صاحب نے کہا ہے یا نہیں۔

الجواب: اجمالاً صرف اس قدر گزارش ہے کہ عدالت خود ان تاویلات کو ملاحظہ فرمائے کہ کیا کتب پیش کردہ سے ناواقفی کا الزام دفع ہوگیا۔ بلکہ اور اقرار ہوگیا۔ ہاں! اس کی حکمتیں مصالح بیان کیں کہ اس وجہ سے نہیں دیکھامگر جواب تو نہ ہوسکا۔ لاعلمی تو بحال رہی۔ مفصل جواب ترتیب وار۔

۱… بحرالرائق کا اصول تکفیر تو نہ معلوم ہوسکا۔ گو اور امور بتائے اس کے متعلق تو یہی اقرار ہے کہ: ’’بحرالرائق کے متعلق مجھے کوئی علم نہیں کہ اس کا کوئی اصول ہے یا نہ۔‘‘ جس کتاب سے فتاویٰ کفر نقل کئے، اس کے اصول تک کا پتہ نہیں۔ ایسے شخص کے نقل کا کیا اعتبار اور پھر

411

جو نتیجہ مرتب کیا وہ بوجہ اصول سے ناواقفی کے محض غلط خلاف واقعہ۔ جیسا کہ علماء وفتویٰ تکفیر کے تحت بحث میں پیش کرچکا۔

۲… اتنی ضخیم کتاب جب پڑھ نہیں سکتے تھے تو اس کا حوالہ اور غلط مطلب متکلم کی مراد کے خلاف پیش کرنے کی کیاضرورت تھی۔ نیز اس لئے کل کے مطالعہ کی ضرورت تھی کہ ان کی عادت ہے اپنی اصطلاحات مختلف ابواب میں معمولی سے تعلق سے بیان کرجاتے ہیں۔ پس جب تک کل پر عبور نہ ہو۔ ان کی عبارات کا مطلب بھی ان کی اصطلاح اور مسلک کے مطابق معلوم نہیں ہوسکتا۔ (اس سلسلہ میں کبریت ویواقیت سے اوپر حوالے پیش کرچکاہوں) بہرحال کسی وجہ سے لاعلمی وناواقفی کا اعتراض بحال ہی رہا۔

۳… جب بالاستیعاب کتاب ہی نہیں دیکھی تو کیا پتہ کہ اس میں کوئی عبارت اس کے متعلق یا اس کے خلاف ہے یا نہیں۔ علاوہ اس علت کے مہمل ہونے کے ناواقفی کا اقرار ہے۔

۴… کتاب پر لکھا ہویا نہ مصنف اور اس کے مسلک کی لاعلمی تو بہرحال اس کتاب سے ناواقفی کا ثبوت ہے۔

۵… یہ کہنا کہ کتاب پر لکھا ہوگا دیکھ لیا جائے کس خیال کے آدمی ہیں۔ اس سے زائد ناواقفی کیا ہوگی۔ پھر اس وقت کہاتھا کہ بحث میں پیش کریں گے۔ اس میں بھی باوجود مطالعہ کے نہ پیش کرسکے۔ نیز مختار مدعیہ نے غلط مفہوم یا الفاظ پیش نہیں کئے۔ عدالت خود مسل سے معائنہ فرمالے جہاں کہیں مفہوم جرح کا لیا ہے۔ وہاں بھی خلاف نہیں۔

۶… گواہ مدعیہ نمبر۱ پر فرضی اعتراض کرنے سے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کی جرح کی تو صفائی نہیں ہوسکتی۔

نیز گواہ مدعاعلیہ کی اپنی پیش کردہ کتب سے ناواقفی ثابت ہے جنہیں وہ خود شہادت میں استدلالی رنگ میں پیش کررہاہے۔ بخلاف گواہ مدعیہ نمبر۱ کے کہ اس کی لاعلمی غیر متعلق امور میں ہے جن کے جواب کا بھی وہ جوڈیشنل اصول اور ایکٹ شہادت کی رو سے مکلف نہ تھا۔

تفصیلاً گواہ مدعیہ نمبر۱ کی صفائی

الف… یہ بالکل صحیح ہے کہ علماء دیوبند نے سوائے مرزا صاحب اور ان کے متبعین کے کسی کو کافر کہا ہی نہیں۔ پس ایک غیر ثابت شدہ چیز کا علم کیونکر ہوسکتاہے۔ نیز اس کے علم کی مقدمہ اور شہادت کے سلسلہ میں ضرورت ہی کیا تھی، ایک غیر متعلق سوال تھا۔

ب… گواہ نے اپنے علم اور اپنی تحقیق کا جواب بالکل صحیح تحقیق کے مطابق جواب دیاہے اورگواہ اپنی ہی علم کی شہادت دیتاہے نہ کسی سنی سنائی۔ اس میں اعتراض ہی کیاہے۔

ج… ان بزرگوں پر کسی مسلم بزرگ نے فتویٰ کفر نہیں دیا۔ غیر ذمہ دارانہ فتاویٰ کفریہ کی مکمل لسٹ کا حفظ کب ضروری تھا۔

پھر یہ سوال بھی غیر متعلق تھا جس کا جواب اصولاً ان پر ضروری نہ تھا اور نہ اس کے واسطے پیش ہوئے تھے۔نہ ان بزرگوں کا کفر واسلام زیر بحث تھا اور جرح میں اس کی کافی تفصیل بھی دی ہے اور مستقل اس کے متعلق ایک اصول بھی بتلا دیا ہے جس کے بعد تفصیل جزئیات کی ضرورت ہی نہیں۔ عدالت خود جرح سے ملاحظہ فرمائے۔

و… مسلم کے متعدد شارحین ہیں اور سب غیر حنفی ہیں۔ پس حنفی مفتی کو ان سے کیا تعلق۔

نیز انہوں نے شرح مسلم سے کوئی حوالہ ہی نہیں دیا۔ حتیٰ کہ کتب پیش کردہ سے لا علمی یا ناواقفی ثابت ہو اور عالم جمیع ’’ماکان ومایکون‘‘ سوائے اللہ عالم الغیب والشہادات کے کوئی بھی نہیں۔ پھر یہ اعتراض کیاہے۔ فقہ حنفی اور شریعت اسلامیہ سے تو پورے واقف ہیں۔ ان کے قابل اعتبار اور ماننے کے لائق ہونے کا تو مختار مدعاعلیہ کو بھی اعتراف ہے۔

۵… محمدحسین بٹالوی کا فتویٰ نہ انہوں نے پیش کیا نہ اس کے معہ صفحہ بتانے کے مکلف نہ ان کے منصب وحیثیت پر اس سے کوئی زد۔ وہ ساری دنیا کے تو گماشتہ نہیں۔

412

خاتم کے معنی اس آیت میں مہر کے اسلاف نے جن پر اعتماد کیا جاسکے نہیں کئے۔ ہر کس وناکس کی تحقیقات کا تو کوئی مکلف نہیں۔ مرزا صاحب کے تمام لٹریچر کے حفظ کاان سے کیا تعلق تھا۔ جب کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر ۱ باوجود مبلغ جماعت ہونے کے تمام لٹریچر سے آج تک ناواقف ہے۔ اگر وہ یہ پیش کرتے اور حوالہ نہ بتا سکتے۔ جیسا کہ گواہان مدعاعلیہ نے کیا تو ضرور ان پر زد آتی۔ بہرحال یہ صرف مغالطہ تھا وہ بھی بحمد اللہ ! بالکل صاف ہوگیا۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے جوابات میں تعارض کا رد

(۱)

خلاصہ قول مختار مدعاعلیہ:

اجماع کے متعلق کہ پہلے یہ کہا کہ بلا استثناء تمام امت اجماع کرلے اور پھر اکابر اور بزرگ کا اجماع قرار دیا جواب یہ ہے کہ گواہ کے اصل الفاظ وہ نہیں بلکہ یہ ہیں۔ لہٰذا تعارض نہیں۔

الجواب: میں اس کے جواب میں جرح سے ہر دو عبارات نقل کرکے فیصلہ عدالت کی امتیازی رائے پر چھوڑتاہوں کسی منصوص مسئلہ پر تمام کی تمام امت بغیر استثناء کے اجماع کرے تو اس کی تسلیم ضروری ہے۔

(جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء)

پھر اس سے خلاف اس تاریخ میں یہ بھی کہا۔

ہمارے نزدیک اجماع امت وہ ہے کہ تمام امت کے بزرگ اور مسلمہ اکابر اس کو مانتے چلے آتے ہوں۔ جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ ۹؍مارچ۔ اوّل قول میں تمام کی تمام امت بلا استثناء اجماع کے لئے بتائی ہے اور دوسرے میں صرف امت کے مسلمہ بزرگ واکابر، تعارض ظاہرہے۔

(۲)

اصل اعتراض مؤرخہ ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء الجواب جرح کہا۔ (اشارات فریدی ج۳) خواجہ محمدبخش صاحب نے مولوی رکن الدین سے سبقاً سبقاً نہیں سنی۔

پھر ۱۲؍مارچ ۱۹۳۳ء سوالات مکرر کے جواب میں کہا کہ یہ صحیح نہیں بلکہ خواجہ غلام فرید صاحب نے سبقاًسبقاً سنی اور تصحیح کی ہے۔

حالانکہ یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء کو جواب جرح میں یہ تسلیم کرچکاہے کہ:

اشارات فریدی میں خواجہ صاحب کے اپنے اقوال ہیں جو ان کے بعد مرتب کئے گئے اور بعد وفات ہی شائع ہوئے۔ اب تعارض دفعہ ہی نہیں ہوسکتا۔ پہلے دونوں اقوال میں یہ تو صحیح کی تھی کہ میں نے خود ہی سوالات مکرر میں اصلاح وتصحیح کردی تھی۔ مگر مختار مدعیہ کی غرض دوسرے اور تیسرے کا تعارض ہے جو بدستور قائم ہے دفع نہ ہوسکا۔

(۳)

چندہ ادا نہ کرنے والا بیعت سے خارج ہے اور پھر بھی اسے احمدی مسلمان بتایاگیا۔ نظام جماعت سے خارج۔ حالانکہ (آئینہ صداقت ص۳۵، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰) سے تسلیم کرچکا جو بیعت نہیں کرتا وہ کافر دائرہ اسلام سے خارج۔ اس میں جو نظام جماعت اور احمدیت کا فرق قائم کرنا چاہا وہ باطل ہے۔ کیونکہ بیعت سے خارج ہونے کی مرزا صاحب تصریح فرماچکے ہیں۔ وہاں نظام جماعت وغیرہ کا کوئی پتہ

413

نہیں،یہ صرف اپنی تصنیف وایجاد ہے۔

(۴)

مسیح موعود نبی ہیں اور نبی مشرکانہ عقیدہ پر کبھی نہیں رہ سکتا۔ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء مگر پھر بھی مرزا صاحب باوجودیکہ براہین میں مسیح کہا جاچکاتھا۔ تیرہ سال تک برابر مسئلہ حیات مسیح کے مشرکانہ بلکہ شرک عظیم کے عقیدہ پر باقرار خود قائم رہے۔ اب اس کے جواب میں یہ کہنا کہ مسیح تو تھے اور وحی بھی آتی تھی اور مسیح موعود نبی بھی ہوتاہے۔ مگر اس وقت حقیقت نہ کھلی تھی۔ اس تاویل سے تعارض نہ اٹھا بدستور قائم رہا۔

(۵)

بخاری شریف میں احادیث مخالف قرآن غیر معتبر ہونے کا امکان (جرح) حالانکہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ الصحیح البخاری بتصریح مرزا صاحب گواہ کو مسلم، اس میں بھی قطعی وظنی وغیرہ کی تاویل وتفریق کی ہے اورسبیل الرشاد اور الحق لدھیانہ کا حوالہ دیاہے۔ مگرصرف تاویل ہی تاویل ہے۔ تعارض الفاظ کا قائم ہے۔

(۶)

گواہ نمبر۱: ’’اگر کوئی حکم بذریعہ جبرئیل بھی نازل ہو تو کوئی حرج نہیں۔۴؍مارچ ۱۹۳۳ء اور مرزا صاحب کا قول ہے۔‘‘

’’اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہوجاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے… الخ!‘‘

’’اور اگر یہ کہو کہ جو احکام نازل ہوں گے… الخ! ‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱)

اور اسی صفحہ میں ہے کہ: ’’اگر یہ کہو کہ مسیح کووحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر… الخ!‘‘

(ازالہ ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱)

اس کی تاویل عیسیٰm کی نبوت مستقل مان کر بھی درست نہیں۔ کیونکہ ان کا امتی ہوکر اترنا بھی ختم نبوت کے منافی (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲) پر بتایاہے اور ازالہ کے اسی صفحہ پر اس مضمون کی تصریح ہے کہ جبرئیل بھی آکر کہیں کہ پہلی شریعت پر عمل کرو۔ گو شریعت اور وحی جدیدہ نہ یہ بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ اس کے بعد وحی وغیرہ کی طول طویل تاویل سب بیکار ہوجاتی ہے اور کبریت احمر یا گواہ نے جن اولیاء پر بھی فرشتہ کو بتایاہے۔ اس کے فرشتہ وحی نہ ہونے کی تصریح کردی ہے۔ بلکہ وہ فرشتہ الہام ہے اور دونوں کا فرق بسلسلہ وحی یواقیت اور فتوحات سے پیش کرچکا۔ نیز علم الکتاب کے متعلق بھی اوپر مفصل بحث اور ان کی اصطلاح انہیں کی کتاب سے واضح پیش کرچکا اس سے۔

(۷)

کا بھی جواب ہوگیا اور معلوم ہوا کہ وحی قطعی اور الہام ظنی ہے۔ ایک جیسا مطلقاً نہیں ہوسکتا اور تعارض دفع نہ ہوسکا۔

(۸)

چونکہ نعمت اللہ شاہ ولی اللہ پر مرزا صاحب کی طرح کثرت سے امور غیبیہ کا اظہار نہیں ہوا۔ لہٰذا وہ نبی نہ ہوئے۔ یہ نبوت وہبی ہونے کے منافی ہے۔

ْ امور غیبیہ کو شرط بنا کے ناقابل التفات تاویل کی ہے۔ اصل تعارض اس سے دفع نہیں ہوسکتا۔

414

(۹)

اہل کتاب کی تعریف گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ ’’ کہ جن کو کتاب ملی حتیٰ کہ مسلمان بھی۷؍مارچ اور گواہ نمبر۲ نے کہا۔‘‘جنہیں مسلمانوں سے پہلے کتاب مل چکی… الخ! ۲۰؍مارچ ۱۹۳۳ء اس کی تاویل میںگواہ نمبر۴ کے سوالات مکرر سے یہ نقل کیا کہ: ’’مسلمان اہل کتاب ہیں۔‘‘

اس سے بجائے دفع تعارض کے اور زائد ہوگیا۔ بعض گواہ نمبر۴ سے خلاف ہونے کے اپنے قول کے بھی معارض ہے۔ لہٰذا دونوں میں سے ایک بھی قابل اعتبار نہ رہا۔

(۱۰)

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ عبد اللہ بن مسعودq بڑے جلیل القدر صحابی ہیں۔ مرزا صاحب ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں: ’’عبد اللہ بن مسعود ایک معمولی آدمی تھا۔‘‘ تطبیق یہ نکالی کہ گواہ کا قول باعتبار صحابی ہونے کے ہے اور مرزا صاحب کا قول مقابلہ میں رسول ونبی کے۔ مگر یہ تاویل قابل التفات نہیں، اس سے اقراری تعارض اٹھ نہیں سکتا۔

مولانا نانوتوی نے ہدیۃ الشیعہ میں معمولی آدمی کا تنقیحی کلمہ نہیں کہا، بلکہ صرف آدمی بتایاہے۔ بمعنی بشر وہ یعنی خدا نہیں۔ بہرحال تمام متعارضات بدستور ہیں۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے علم کے متعلق اعتراضات کا جواب

(۱)

قرآن میں ملائکہ کی تعریف سے گواہ کی لاعلمی حالانکہ وہاں موجودہے۔ اس کی تاویل یہ کی کہ اصل الفاظ گواہ کے اور ہیں اور ’’بل عباد مکرمون ‘‘ پر طویل بحث کی۔ اب چونکہ قرآن وحدیث سے ملائکہ کی تعریف گزرچکی۔ عدالت خود یہ تعارض اسی روشنی میں ملاحظہ فرمائے۔ یہ کہنا کہ قرآن میں ان کے کام مذکور ہیں۔ نہ تعریف غلط ہے، بلکہ تعریف موجود ہے۔ جیسا کہ مفصل آیات اوپر پیش ہوچکیں۔

(۲)

گواہ اہل سنت والجماعت وہ ہے کہ جو اپنے کو اہل سنت کہے، یہ غلط ہے۔ غنیۃ الطالبین میں ہے۔ اہل سنت والجماعت وہ ہیں جو سنت رسول اور طریقہ متفقہ صحابہ پر جو زمانہ خلفاء راشدین کا ہو اس پر قائم ہوں۔

تاویل یہ کہ گواہ سے سوال اہل سنت والجماعت کا تھا اور غنیۃ الطالبین میں صرف سنت وجماعت کی تعریف ہے، نہ اہل سنت والجماعت اس سے اور بھی علمیت پر روشنی پڑگئی۔ اسی پیش کردہ حوالے میں شروع ہی میں ہے۔

’’علی المسلم الکیس ان یتبع باہل السنۃ والجماعۃ‘‘ اور پھر انا لفظ تفسیر سے اہل سنت والجماعت کی تعریف علیحدہ علیحدہ دونوں لفظ کی شرح سے کی ہے۔ اس تاویل سے غنیۃ الطالبین سے لاعلمی اور اس میں خیانت ثابت ہوئی۔

(۳)

قول گواہ مدعاعلیہ: ’’جو بھی کسی حدیث کو واقعی طور پر قرآن کے موافق ہوناثابت کرے۔ اس کا قول مسلم ہے۔‘‘

مختار مدعیہ: ’’اگر یہی اصول ہے تو دین تو بازیچہ اطفال ہوجائے گا۔ اس کی تاویل میں خلاف واقعہ تعلّیاں اور ہدیۃ الشیعہ کا

415

قرآن کے حدیث پر راجح ہونے کا ایک حوالہ پیش کیا۔

مگر اعتراض یہ نہیں بلکہ اعتراض تو یہ ہے کہ اگر ہر کس وناکس کی توفیق وتطبیق سے قرآن وحدیث معتبرہوجائے تو دین ایک کھیل ہوجائے گا۔ وہ بدستور موجودہے۔

(۴)

گواہ نے صحیح احادیث کو جو وحی غیر متعلق ہیں۔ بتایاہے کہ قرآن کے معارض ہوسکتی ہیں۔ مگر مرزا صاحب کی تمام وحیاں قرآن کے مطابق مانتاہے اور اس کے مقابل حدیث رسول اللہ ﷺ کو ردی کی طرح پھینکتے ہیں۔

اس کی تاویل میں وہی حدیث: ’’فاعرضوا علی کتاب اللہ ‘‘ کی آڑ لی ہے جس کی پوری شرح آگے ان شاء اللہ ! آئے گی۔

(۵)

گواہ نے ’’ان من امۃ الا خلافیہا نذیر‘‘ کے عموم سے کرشن کو نبی ماناہے۔ پس اس عمومی اصول سے قرآن کے مطابق ’’ما اٰتاکم الرسول فخذوہ‘‘ کے لحاظ سے کوئی بھی حدیث قرآن کے معارض نہ ہوگی بلکہ اس آیت کے عموم کے تحت سراسر وہ قرآن ہی کا حکم ہوگا۔

اس کی تاویل میں نبوت کرشن کی غیر متعلق بحث شروع کردی اور معیار صحت احادیث کا سلسلہ شروع کردیا۔ حالانکہ بات صاف ہے کہ محدثین کے معیار پر جو صحیح حدیث ہو، اسے ہم اپنی عقل ناقص سے قرآن کے خلاف نہیں بتا سکتے۔ نیز بظاہر خلاف معلوم ہوپھر بھی بعد تسلیم صحت اس آیت کی رو سے موافق ہو جائے گی۔

اس سلسلہ کے لاجواب امور جن کا کوئی تذکرہ نہ کیا

۱… تمام جرح میں باوجود سوالات مختار مدعیہ اور سوال عدالت کے کفرواسلام کے معنی بتا نہ سکے اور اصطلاحاً صاف نہ ہوئے۔

۲… بخاری جیسی صحیح کتاب میں بھی قیود کا اضافہ (۲؍مارچ) حالانکہ مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کی کتب مسلم ہیں۔ (۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)

۳… ابن عربی کی فتوحات وفصوص الحکم کے قول کی تطبیق۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ پر تبصرہ کا جواب

(۱)

گواہ نمبر۲ ’’جو قرآن پڑھتاہے وہ قرآن حدیث میں تطابق کرسکتاہے۔

(۲۳؍مارچ ۱۹۳۳ء)

’’اور میرے نزدیک میرے واجب الاطاعت اماموں اور میری اپنی مطابقت مسلم ہے۔‘‘

’’میرے نزدیک مرزا صاحب اور ان کے دونوں خلفاء کی تحریرات ان کی اپنی کتابوں سے حجت ہیں کسی دوسرے کی نہیں… الخ!‘‘

(۲؍مارچ ۱۹۳۳ء)

اس کی جوابی تاویل میں یہ کہا ہے کہ ان میں کوئی تعارض نہیں اوربعض الفاظ محرف بتائے۔ مگر مختار مدعاعلیہ کو غالباً غلط فہمی ہوگی۔ اس پر تعارض کا اعتراض نہیں، بلکہ اعتراض یہ ہے کہ ان اقوال کا نتیجہ یہ نکلا کہ: ’’سوائے مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کے فیصلہ کے قرآن کے معنی اور حدیث واقوال ائمہ اور تمام کتب اسلامیہ کچھ بھی حجت نہیں۔ یعنی گواہ صرف مرزا صاحب کا نمائندہ ہے۔ یہ اعتراض بحالہ قائم رہا نہ تعارض وتناقض کا اعتراض تھا اور نہ تطبیق کی توجیہہ نافع ہوسکتی ہے۔‘‘

416

(۲)

گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ نے اپنے اصل بیان میں عنوان نمبر۳ کے ختم اور نمبر۴ سے کچھ قبل جو ضروریات دین کی تعریف کی ہے۔ کیونکہ ضروریات دین… تا یہ معنی ضروریات دین میں سے ہیں۔

اس پر اعتراض یہ تھا کہ یہ معنی علاوہ خود تراشیدہ ہونے کے اسلاف اور شریعت کی اصطلاح ’’ضرورت دین‘‘ سے گواہ کی نا واقفی کا بیّن ثبوت ہیں جس کے بعد وہ عالم دین کی حیثیت سے نکل جاتاہے اور اس کی علمی ومذہبی شہادت بے وقعت ہوجاتی ہے۔

(ملاحظہ ہو اصل بحث)

اس کا کوئی جواب نہ ہوسکا سوائے اس کے کہ جرح ۲۳؍مارچ سے نقل کردیا کہ اس نے ضروریات دین کی تعریف کی ہے۔

ضروریات دین … تا … حاصل ہے۔

(۲۳؍مارچ ۱۹۳۳ء)

اور پھر یہ کہا کہ اگر یہ غلط تھی تو پہلے لازم تھا کہ غلط ثابت کرتے۔

ہمیں اس کے جواب کی بھی حاجت نہیں۔ بیانات گواہان مدعیہ خصوصاً گواہ مدعیہ نمبر۳ میں ضروریات دین کی تعریف ائمہ دین کے حوالوں سے منقول ہے۔ عدالت اس تعریف سے خود مقابلہ فرمالے کہ تمام ائمہ کی تصریح کے خلاف اور علم سے کس قدر بعیدیہ بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ کی تعریف ضروریات دین ہے اور اس روز مرہ کے مسئلہ سے جب ناواقف ہے تو اس کا ان پیش کردہ مسائل میں کیا حال ہوگا۔ غالباً اسی وجہ سے مختار مدعاعلیہ نے اپنی بحث کو صرف گواہ مدعاعلیہ نمبر۱کے بیان پر مبنی کیا اور بیان گواہ نمبر۲ کو تقریباً بالکل نظر انداز کردیا۔ حالانکہ اس میں بہت سی جدید اور عجیب وغریب اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ سے اکثر متعارض امور ہیں جیسا کہ اپنی جگہ پر آئے گا۔

(۳)

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲: نبوت کے لغوی معنی خبردینا یعنی خدا کی طرف سے غیب کی اطلاع پاکر خبر دینا۔

(۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)

نیز اس کے ساتھ اس سے اگلا سوال وجواب ملاحظہ ہو۔

اس پر اعتراض یہ تھا کہ نہ یہ تعریف لغوی ہے اور نہ یہ اصطلاحی۔ پس معلوم ہوا کہ گواہ نمبر۲ لغوی اصطلاحی نبوت سے بھی ناواقف ہے۔ حالانکہ اکثر وبیشتر اس کی شہادت نبوت ہی کے متعلق ہے۔

اس کی تاویل میں منجد سے یہ حوالہ نقل کردیاکہ:’’النبوء ۃ والنبوء ۃ الاخبار عن الغیب او المستقبل بالہام من اللہ الاخبار عن اللہ وما یتعلق بہ تعالیٰ والنبی المخبرعن الغیب او المستقبل بالہام من اللہ ‘‘

حالانکہ یہ تاویل محض باطل ہے۔ اوّل یہ کتاب جیسا کہ جرح میں اقرار موجود ہے، عیسائیوں کی تالیف ہے اور انہوں نے دین عیسوی کے پروپیگنڈے کے واسطے اسلامی اصطلاحات میں بہت کچھ لغت کی آڑ لے کر تحریف کی ہے جس پر علمائے مصر نے ایک تبصرہ بھی شائع کیاہے۔ لہٰذا اس کاکوئی اعتبار نہیں اور نہ یہ علماء میں متعارف ومقبول ہے۔ مسلم کسی بھی لغت میں یہ نہیں اور نہ گواہ یا مختار مدعاعلیہ پیش کرسکے۔

نیز اس غلط تعریف سے بھی گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ کے الفاظ کا اثبات نہ ہوا جسے عدالت خود ہی ملاحظہ فرماسکتی ہے۔ بہرحال اعتراض بدستور قائم رہا۔

(۴)

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲علاوہ کتب مذکوہ جن سے گواہ نمبر۱ ناواقف تھا اور بھی متعدد کتب ضروریہ پیش کردہ مثلاً شرح شفاء بھی اس نے

417

نہیں پڑھی اور اکثر کے مصنّفین کے نام ومسلک سے واقف نہیں۔ پھر ان کے کلام کا اس ناواقفی سے کوئی ٹکڑاکاٹکڑا استدلال کرنا قابل التفات نہیں۔ اس کا کوئی جواب نہ ہوسکا۔ صرف پہلے جواب اور اسی بیکار تاویل پر حوالہ دے دیا۔

(۵)

گواہ مدعاعلیہ نمبر۴ نے خواجہ غلام فرید صاحب کے متعلق ابتدائی تعارف میں تو بہت کچھ القاب وآداب پیش کئے۔ مگر بجواب جرح کہا مسلم نہیں۔ پھر سوالات مکرر میں بتایا کہ خواجہ صاحب احمدی ہونے کے بعد سلسلہ کے دوسرے احمدیوں کی طرح ہوں گے۔

اس میں علاوہ تعارض کے خواجہ صاحب کی نسبت بھی ان کے ابتدائی الفاظ کا خلاف واقع ہونا معلوم ہوگیااور یہ بھی واضح ہوگیا کہ قطب الوقت حضرت خواجہ غلام فرید صاحب دراصل ان کی نگاہ میں معمولی دوسرے احمدیوں کی طرح ہیں وہ بھی جب کہ احمدی ہوجائیں۔ ورنہ بقول مرزا محمود صاحب جب تک کوئی مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہو اور نبی اور رسول انہیں نہ مانتا ہو۔ خواہ عمر بھر مدح سرائی کرے کافر ودائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر ہے۔

اور مرزا صاحب نے توحضرت خواجہ کو اپنی کتاب (انجام آتھم ص۳۸، خزائن ج۱۱ ص۳۲۲) میں اپنے مکفرین کی فہرست میں شمار کیاہے۔

اس کا جواب یہ دیاگیاکہ یہ بھی مختار مدعیہ کا ایک خلاف واقعہ قول ہے۔ گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’واجب الاطاعت ہونے کے لحاظ سے (خواجہ صاحب) مسلم بزرگ نہیں ہیں، ویسے مسلم بزرگ ہیں۔ جیسے سلسلہ احمدیہ کے اور سابقین احمدی حضرات میرے بزرگ ہیں۔‘‘ باوجودیکہ اس میں بھی قطع وبرید کی ہے۔ عدالت خود مسل سے ملاحظہ فرمائے۔ پھر بھی اعتراض تو وہی قائم رہا کہ واجب الاطاعت مسلم بزرگ نہیں۔ بلکہ دیگر احمدیوں کی طرح ہیں۔ بہرحال اعتراض رفع نہ ہوا۔

(۶)

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء کو بجواب جرح کہا کہ: ’’احمدیت سے ارتداد ظاہر کرنے والا اسلام سے مرتد نہیں۔ پھر سوالات مکرر کے جواب میں اس کے خلاف کہا کہ اسلام سے ارتداد اور احمدیت سے ارتداد بلحاظ ارتداد کے ایک ہی ہے، قطعاً کوئی فرق نہیں۔‘‘

یہ کھلا ہوا تعارض ہے جس کے بعد اس کی شہادت کی وقعت نہیں رہتی۔ اس کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں دیا کہ چونکہ اصل الفاظ جرح پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا اور کسی جواب کی ضرورت نہیں۔ محض مختار مدعیہ نے الفاظ کی تحریف سے مغالطہ دیاہے۔ عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے کہ جہاں کہیں خلاصہ یا نتیجہ لیاگیاہے، وہاں کوئی بھی اس کا اصل مفہوم نہیں بدلا اور اکثر توبعینہٖ الفاظ ہی لئے گئے ہیں۔ کہیں کہیں صرف طوالت سے بچنے کے واسطے زائد الفاظ حذف کرکے ضروری اور ملخص لئے گئے ہیں۔ بہرحال اس تعارض کا جواب نہیں ہوسکتا۔

(۹)

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے ۲۰؍مارچ ۱۹۳۳ء میں ہندوستان میں احمدی کا لفظ صرف مرزا صاحب کے متبعین کے واسطے مستعمل بتایا۔ پھر سوالات مکرر میں مولانارشیداحمد صاحب کا فرقہ بھی احمدی قرار دیا جو کھلا ہوا تعارض ہے۔

جواب میں اصل الفاظ نقل کئے اور دوسرا قول صرف فوائد فریدی کے متعلق قرار دیا، مگر جواب نہ ہوسکا۔ بہرحال ہندوستان میں دوسرا فرقہ بھی احمدی ثابت ہوگیا جو اوّل قول سے متعارض ہے۔ نیز خلاف واقع ہے جیسا کہ خواجہ صاحب کی شہادت کے سلسلہ میں القول الصحیح کے حوالہ سے پیش کرچکاکہ مولانا رشیداحمد صاحب کے مرید ہیں رشیدی کہلاتے ہیں، نہ احمدی۔ بہرحال اعتراض تعارض بحالہ ہے۔

418

(۱۰)

گواہ مدعاعلیہ نمبر۳ نے پھر۲۳؍مارچ۱۹۳۳ء کو کہا کہ خواجہ صاحب کی وفات کے قبل تریاق القلوب اور بیسیوں کتابیں شائع ہوچکی تھیں اور پھر مکرر بیان میں اس کے خلاف کہا کہ تریاق القلوب حضرت خواجہ صاحب کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔

اصل الفاظ جواب کے واسطے نقل کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ لوگوں کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ تریاق چھپ تو چکی تھی۔ مگر شائع نہیں ہوئی تھی۔

مگر عدالت خود الفاظ جواب جرح کے ملاحظہ فرمالے تعارض واضح ہے اور یہ تاویل بعدکی تصنیف ہے۔ ورنہ وہاںا س سے کوئی تعلق نہیں۔

مختاران مدعیہ کی صریح غلط بیانیاں

اس سلسلہ میں تقریباً (۱۰) نمبر قطع وبرید کرکے پیش کئے ہیں۔ اوّلاً یہاں اس سے کوئی زائد تعلق نہیں۔ کیونکہ مختار مقدمہ پر تنقید کا اثر اصل کیس پر نہیں پڑتا۔ البتہ گواہان مقدمہ پر تنقید ضرورقابل لحاظ ہوتی ہے۔ تاہم میں مختصراً اس کی حقیقت قریب پیش کرتاہوں۔

خلاصہ اعتراضات

۱… بحرالرائق کے اصول تکفیر نہ معلوم ہونے کا غلط الزام۔

۲… چندہ نہ دینے والے کے بیعت سے خارج ہونے اور احمدی ہونے کا تعارض۔

۳… لو کے متعلق گواہ نمبر۱ پر الزام کہ لو جس جگہ داخل ہوتاہے وقوع نہیں ہوتا۔ حالانکہ اس کی عبارت میں لفظ اکثر کاہے۔

۴… مختار مدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں کہا کہ تفاسیر میں انبیاء کی عصمت کے خلاف جو باتیں درج ہیں وہ تردید کے لئے ہیں، نہ تائید کے۔ یہ غلط ہے۔ جیسا کہ تفاسیر کے عنوان کے تحت آگے بیان کیاجائے گا۔

۵… ۱۰؍اکتوبر میں گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے متعلق کہا کہ اس نے ۹؍مارچ کو تسلیم کیا کہ خواجہ صاحب کے سامنے نبوت کا ذکر نہیں آیا۔ محدثین کا ذکر آیا یہ غلط ہے۔ گواہ کے یہ الفاظ ہیں، حضرت مرزا صاحب… الخ!

۶… یہ بھی مختار مدعیہ نے غلط بیانی کی کہ مرزا صاحب مسیلمہ کذاب سے بڑھ کرہیں، کیونکہ اس کا کوئی کلمہ نہ تھا اور مرزا صاحب کا ’’لاالہ الا اللہ احمد جری اللہ کلمہ ہے۔‘‘

حالانکہ سب جانتے ہیں کہ مرزا صاحب کا کوئی نیا کلمہ نہ تھا۔ پھر ازالہ اوہام اور انواراسلام وچشمہ معرفت کے حوالے پیش کئے ہیں۔

۷… ۱۰؍اکتوبر میں مختار مدعیہ نے یہ غلط بیانی کی کہ گواہان مدعاعلیہ نے عقائد کے متعلق جو حوالے دئیے ہیں وہ ۱۹۰۱ء کے قبل کے ہیں۔ حالانکہ مواہب الرحمن ۱۹۰۳ء اور کشتی نوح ۱۹۰۲ء کی ہے۔

۸… مختار مدعیہ نے ائمہ واکابر پر تکفیر کے فتاویٰ کا ذکر کرکے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں کہا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ۷؍مارچ کو تسلیم کیا کہ جس وجہ سے ان کی تکفیر کی گئی وہ ان وجوہات سے برأت کا اظہار کرتے رہے۔ حالانکہ اصل الفاظ یہ ہیں کہ: ’’باوجودیکہ… الخ!‘‘

جن کا مطلب یہ ہے کہ بعض سے برأت ظاہرکی اور کوئی صحیح تسلیم کرتے رہے… الخ!

یہ اس نے غلط بیانی کی۔

۹… مختار مدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں یہ غلط بیانی کی کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے نزدیک مرید کا قول مطلقاً پیر کے حق میں معتبر نہیں۔ اصل الفاظ گواہ کے یہ ہیں کہ ہر مرید کا بیان معتبر نہیں، بلکہ اس کی حیثیت اور مرتبہ دیکھا جائے گا۔

419

۱۰… ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں یہ غلط بیانی کی کہ گواہ نے کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جس سے ثابت ہو کہ ضروریات دین میں تاویل کرنے والے کو کافر نہیں کہاگیا۔ حالانکہ یہ گواہ مدعیہ نمبر۳ کی جرح اور(منہاج السنۃ ص۶۱،۶۲) اور بہ تسلیم حوالہ گواہ مدعیہ نمبر۳ کے خلاف ہے اور پھر بحرالرائق کا حوالہ بھی اسی سلسلہ میں نقل کیا۔

۱۱… مختار مدعیہ نے ۱۱؍اکتوبر کو یہ غلط کہا کہ: ’’اولیاء اللہ نے یہ کہیں نہیں کہا یا لکھا کہ ہم پر آیات نازل ہوئیں صرف علم الکتاب کا حوالہ پیش کیا تھا… الخ! حالانکہ گواہ مدعاعلیہ نے اثبات الہام والبیعۃ اور فتوح الغیب اور مقامات امام ربانی کے بھی حوالے پیش کئے تھے، یہ صریح غلط بیانی ہوئی۔

الجواب: اوّلاً یہ تمام مباحث اوپر جواب الجواب میں گزر چکے جن کے بعد یہ شبہات ہی نہیں پیدا ہوتے۔ پھر بھی مغالطہ دفع کرنے کے واسطے نہایت مختصراً جواب عرض ہے۔

۱… اس کا جواب اس سے قبل کے ہیڈنگ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ پر تنقید کے جواب ’’کے تحت میں مفصل گزرچکا۔ اب کسی جواب کی حاجت نہیں اور جو مغالطہ مختار مدعاعلیہ یہاں دینا چاہتاہے۔ وہی وہاں بھی دیاہے۔ بس وہی جواب کافی ہے۔‘‘

۲… اس کا بھی تعارض اس سے قبل کے ہیڈنگ میں ثابت کرچکا۔ لہٰذا غلط بیانی نہیں۔ بلکہ مختار مدعاعلیہ کا صرف مغالطہ ہے۔

۳… لفظ لو کے معنی گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ سے نقل کئے گئے تھے اور نمبر۱ کے اکثری نقل ہوئے تھے۔ غلط فہمی سے اسے غلط بیانی سمجھ لیا۔ عدالت اصل بحث سے ملاحظہ فرمائے۔

۴… یہ غلط بیانی نہیں بلکہ اس کا ثبوت (تفسیر خازن ج۳ ص۲۲۵) ہی سے پیش کیا تھا اور اسی عبارت کے متعلق جسے اس نے بیان مطبوعہ میں دی تھی۔ البتہ مختار مدعاعلیہ کی یہ صریح غلط بیانی ہے کہ یہ آگے تفاسیر کے عنوان کے بحث میں آئے گا۔ یہ اصل شہادت میں بھی مسل پر نہیں بلکہ مطبوعہ کاپی پر یہ مثالیں ہیں۔

۵… یہ مختار مدعاعلیہ کی غلط بیانی ہے۔ عدالت خود اصلی مسل سے الفاظ جرح ملاحظہ فرمائے، وہاں یہ شعر بھی درج ہے جو خواجہ صاحب کو مرزا صاحب نے ایک قصیدہ میں لکھا تھا:

ہر نبوت رابر وشد اختتام

نیز جب کہ ۱۹۰۱ء میں یہ پردہ نبوت سے اٹھا اور حضرت خواجہ صاحب کی وفات ۱۹۰۱ء سے قبل ہوئی۔ ملاحظہ ہو جرح گ۲،۳؍مارچ ۱۹۳۳ء اور دراصل تو نبوت کا دعویٰ صراحۃً انہیں پہنچ ہی کب سکتاہے۔

۶… عدالت خود اصل بحث سے ملاحظہ فرمائے۔ ظہیر الدین اروپی سے یہ نقل پیش کی ہے کہ وہ مرزا صاحب کا نیا کلمہ لا الہ الا اللہ احمدی جری اللہ پڑھتے اور قادیان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور اسے مرزا صاحب کی صریح عبارات اور الہامات سے اپنے رسائل میں ثابت کیاہے۔ اصل رسائل جر ح میں پیش ہوئے تھے۔ وہ بھی ایک مستقل پارٹی ہے۔ پس یہ اصل مختار مدعاعلیہ کی غلط بیانی اور مغالطہ ہے۔

نیز ازالہ اوہام اور انوار اسلام سے اس کے خلاف پیش کرنا خلاف ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب کا کلام متعارضات سے پرہے۔

۷… یہ صریح مختار مدعاعلیہ کی غلط بیانی ہے۔ میری بحث کے یہ الفاظ ہیں۔

یہ تمام بڑھ چڑھ کے ادّعاء اسلام اس وقت تک تھا جب ادّعائے نبوت کھل کے نہ تھا اور نبوت کے متعلق یہ خیال تھا کہ جو (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲) اور (آسمانی فیصلہ ص۴، خزائن ج۴ ص۳۱۳) و(سراج منیر ص۳،۴، خزائن ج۱۲ ص۶) وغیرہ وغیرہ میں موجود ہے۔ صرف دو کتابیں کشتی نوح ومواہب الرحمن دعویٰ کی وضاحت کے بعد کی ہیں۔ پھر ہر دو کایہ جواب دیا ہے کہ:

420

۱… یہ صرف الفاظ ہیں معانی متعارف مراد نہیں۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔

۲… نیز یہ خود بھی ان کا کفر ثابت کرتی ہیں۔

۳… اس کے بعد انتقال سے قبل بھی کفریہ دعویٰ موجود ہے۔ (البدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء نیز حقیقت الوحی ۱۹۰۸ء، لیکچر سیالکوٹ ۱۹۰۴ء، براہین پنجم ۱۹۰۵ء) میں کافی کفریہ عقائد موجود ہیں۔ ملاحظہ ہو بحث ابتدائی کا شروع حصہ۔ بس جب کہ میں نے خود ہی یہ کتب مستثنیٰ کردیں تو یہ مختار مدعاعلیہ کی صرف غلط بیانی ہوئی جس کا مختار مدعیہ کسی طرح ذمہ دار نہیں۔

۸… مطلب کی تاویل سے جواب نہیں ہوسکتا، عدالت خود مسل سے اصل عبارات ملاحظہ فرمائے تاکہ مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ واضح ہوجائے۔

۹… مختار مدعیہ نے خلاصہ پیش کیا تھا۔عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ وہ اصل الفاظ کے مفہوم کے سر مو خلاف نہیں۔ یہ بھی مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ ہے۔

۱۰… اس کا مفصل جواب جس سے یہ شہادت خود زائد ہوجاتے ہیں۔

’’کیا ضرورت دین کا منکر کافر ہے‘‘ کے تحت میں گزرچکاہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

۱۱… اس کا بھی جواب گزرچکااثبات والبیعۃ اور مقامات امام ربانی غیرمسلم ہیں۔ نیز ہمارے مخالف نہیں۔ فتوح الغیب میں یہ کہیں نہیں،صرف حضرت شیخ پر بہتان ہے۔صرف علم الکتاب سے مغالطہ دیاتھا۔ اس کا مکمل جواب دیا جاچکا اصل بحث میں بھی اور جواب الجواب میں بھی۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ وحی کے ہیڈنگ کے تحت عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔ اس کے بعد مختار مدعیہ کا قول بالکل صحیح ہے، کوئی بھی غلط بیان نہیں صرف مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ ہے۔ یا غلط فہمی ہے۔

الزام خیانت کا رد

خیانت ثابت کرنے کے واسطے مختار مدعیہ نے صرف تین حوالے تحذیر الناس، حجج الکرامہ اور بحرالرائق پیش کئے ہیں۔

الجواب: یہ محض مختار مدعاعلیہ کی غلط بیانی ہے۔علاوہ خیانات کی اس مفصل یاد داشت کے جو مختار مدعیہ نمبر۲ نے پیش کیں۔ مختار مدعیہ نمبر۱ نے تفسیر اتقان سے لفظ قال وکے ابتداء سے اور۔ ’’وفیہ نظر‘‘ انتہاء سے قطع کرکے اور ابن خلدون کی طرف سے غلط طور پر تفاسیر المتقدمین مملوۃ بالغث والسمین‘‘ کی نسبت غلط بیان کرکے جو وہاں نہیں۔ نیز فوائد کے مجموعہ حوالہ کی شرمناک خیانت پیش کی تھی جس کے جواب کا میں نے یہاں کوئی تذکرہ تک نہیں کیا۔

نیزشاید ہی کوئی حوالہ ہو جس کا ماقبل ومابعد باوجود ربط شدید کے نہ کاٹاہو۔

تحذیر الناس کا حوالہ

اس حوالہ میں خیانت کی بحث مفصل اس سے قبل بھی آچکی اوّل( ص۳ )کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ پھر( ص۱۰) کی تشریح جس میں صاف اپنے مسلک اور ختم نبوت زمانی کا مدلل اقرار اور منکر کو کافر بتایا چھوڑ کے (ص۲۸) کا درمیان سے ناتمام فقرہ جو لفظ بلکہ اگر یا سے شروع ہوتاہے لیا۔ یہ خیانت نہیں تو اورکیاہے۔

یہ کہنا کہ (ص۱۰ )کی عبارت (ص۲۸) کی تشریح کیسے ہوسکتی ہے، محض لغو ہے۔ کیونکہ جب خود مصنف نے (ص۱۰) پر اپنا صحیح مسلک بیان کردیا تو(ص۲۸ ) کی فرضی مثال سے اس کے مسلک اصلی اور صحیح کے خلاف استنباط کیونکر درست ہوگا۔ پھر یہ شرمناک خیانت نہیں تو اور

421

کیاہے۔ نیز اس سلسلہ میں اس کی شرح جو خود مصنف نے کی ہے۔ مناظرہ عجیبہ اس کا بھی حوالہ پیش ہوچکا۔

حجج الکرامہ کا حوالہ

۱… (حجج الکرامہ ص۲۳۲ ) سے گواہ مدعاعلیہ نے یہ ٹکڑا لیاہے کہ: ’’درحدیث ابن عمر سی است کذاب۔‘‘

اور اسی کے ساتھ جو اصل مدعاعلیہ سے متعلق ’’یازیادہ‘‘ کا لفظ تھا خیانتاًکاٹ دیا اس کا جواب یہ دیا کہ وہاں نقطہ ڈال دیا ہے۔ گزارش یہ ہے کہ صرف ایک لفظ کے واسطے نقطہ ڈالنا اور مقصود بالذات لفظ جو صرف ’’یازیادہ‘‘ ہے۔ نہ ذکر کرنا خیانت نہیں تواور کیاہے؟ پھر جو اس جگہ پھر مگر بحث دجال اور اسی کی سند کے متعلق شروع کردیاہے وہ غیر متعلق اور ماقبل گزرچکی ہے۔ لہٰذا اس کا ذکر ہی فضول ہے۔

۲… بالمقابل کا لفظ حجج الکرامہ کی عبارت میں اضافہ کرکے بلا کسی امیتازی نشان کے مختار مدعاعلیہ نے مغالطہ دیا۔

جواب یہ دیا کہ یہ ترجمہ بطور خلاصہ کے دیاتھا۔ حالانکہ عدالت خود ملاحظہ فرمائے وہاں ملخص وغیرہ کا کوئی لفظ نہیں نہ کوئی خلاصہ ترجمہ ہونے کا قرینہ ہے۔ یہ محض بعد کی تاویل ہے جو قابل قبول نہیں۔ بہرحال گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ کا اس خیانت کا تو جواب نہیں بن سکتا اور اصل مسئلہ اپنی جگہ پرگزرچکاہے۔

بحرالرائق کا حوالہ

گواہ مدعاعلیہ نے (بحرالرائق ج۵ ص۱۳۰ اورص۱۳۶) سے تو عبارتیں تکفیر کے سلسلہ کی نقل کیں۔ مگر درمیان میں جہاں اس کا اصول تھا اور حقیقت امر جس سے منکشف ہوتا تھا۔ (ص۱۳۴) حذف کردیا۔ اس شرمناک خیانت کا جواب باوجود طول طویل تاویلات کے نہ ہوسکا اور جواب جو پیش کیا جارہاہے۔ اس کی بناء پر اس کا تکفیر علماء کے سلسلہ میں بیان کرنا درست نہیں۔ زیادہ تفصیل تو اصل بحث میں گزرچکی ہے اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے بھی جرح میں صاف کردیاتھا۔ کسی کلمہ کا کفریہ ہونا اور بات ہے اور اس پر حکم کفر کا لگانااور امر ہے۔ غرض کہ یہ خیانت بھی اصل مسلک مصنف کا پوشیدہ رکھنے کے واسطے کی گئی جو کسی طرح روانہ تھی اور اس کے بعد شاہد، شاہد عادل نہیں رہ سکتا۔ اس سلسلہ میں مختار مدعیہ پر جس ناراضگی وخفگی کا اظہار فرمایاہے۔ وہ عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے۔

(۱۳)

تفسیروں کے متعلق

اس سلسلہ میں گواہان مدعاعلیہ کی مندرجہ ذیل خیانتیں پیش کی گئی تھیں۔

۱… علامہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں علم تفسیر کے عنوان کے ماتحت نہایت عمدہ رباعی لکھی ہے۔پھر کوٹیشن باقاعدہ دے کر لکھا کہ: ’’تفاسیر المتقدمین مملوۃ بالغث والسمین‘‘آگے تھا’’وہذاہ فی الحکایات‘‘ اسے بھی کاٹ دیا۔حالانکہ یہ پیش کردہ الفاظ بلکہ یہ مفہوم کسی نسخہ میں نہیں۔ بحث پر متعدد نسخہ پیش کئے ہیں۔

۲… اتقان کا حوالہ دوسرے کا قول روایۃً تردید کے لئے نقل کرکے تردید پیش کی ہے اور گواہ مدعاعلیہ نے اوّل سے لفظ ’’قال اورآخر سے فیہ نظر‘‘ حذف کرکے شرمناک خیانت کی ہے۔ پہلے کا یہ جواب دیا۔ گواہ نمبر۱ نے صرف مفہوم نقل کیاتھا نہ کہ الفاظ پھر رشیدیہ سے یہ نقل کی تعریف پیش کی ہے۔ مگر یہ سب بیکار ہیں۔ تاویلات میں باقاعدہ علامت اصل قول کے نقل کی دے کرمفہوم نقل نہیں کیا کرتے۔ نیز یہ مفہوم بھی غلط ہے، کیونکہ اس میں تو ہے کہ رطب ویابس سے پر ہیں اور وہاں ہے کہ ان پر مشتمل ہیں اور وہ بھی قصص ہیں، نہ احکام وغیرہ میں جسے قطع

422

وبرید کیاہے۔ بہرحال اس جواب سے خیانت کا جواب کیا ہوا۔ بلکہ پہلے اگر لفظی صرف خیانت تھی تو اب لفظی ومعنوی دونوں خیانتیں ہیں۔ جس کے بعد کسی طرح گواہ قابل شہادت نہیں کیونکہ عدالت کے روبرو غلط بیانی ثابت ہونے سے اس کی تمام شہادت ناقابل اعتبار ہوجاتی ہے۔ گواہ نمبر۲ پر یہ اعتراض نہیں، بلکہ اس پر دوسرا ہے جو اپنی جگہ پر ضمناً گزرچکا۔ یہ کہنا کہ تفاسیر میں خلاف عصمت انبیاء بہت سی باتیں گواہ مدعاعلیہ نے پیش کی تھیں اور مختار مدعیہ نے صرف ایک مثال اس میں لے کر سب پر ایک حکم لگایا۔ صریح غلط بیانی ہے۔ مسل سے عدالت ملاحظہ فرمائے۔ ایک بھی مثال نہیں سب کٹ چکی ہیں۔ ہاں! مطبوعہ کاپی پر ضرورہیں اور سب میں ہیں، خیانت کی ہے۔ مگر وہ زیربحث نہیں۔ عدالت جب بھی حکم فرمائے ان امثلہ کی خیانتیں تمام پیش کی جاسکتی ہیں۔ سب نے تردیداً وہ اقوال نقل کرکے روایتاً ودرایتاً باطل کیاہے۔

ابن جریر میں بھی اس کی تردید موجود ہے۔ چونکہ عدالت نے اپنے نوٹ سے اصل بیان میں اس سوال کو روک دیاہے۔ اس لئے نہیں پیش کرتا۔

یہ کہنا کہ ’’وفیہ نظر‘‘ اس کے بعد والے قول ابن جریر سے متعلق ہیں۔ محض غلط ہے۔ عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔ نیز ابتدا سے قال وکما قطع کرنا تسلیم کرلیاجو شرمناک خیانت ہے جس کے بعد شہادت قبول نہیںہوسکتی۔ اس کے بعد فوائد مجموعہ کا حوالہ تو نقل کیا۔ مگر مختار مدعیہ کی پیش کردہ اس خیانت کا کوئی جواب نہ دیا کہ اسی کے آگے یہ عبارت ہے۔

’’قال الخطابی وہذا محمول علی کتب مخصوصۃ… الخ!‘‘ سے کاٹاگیاہے۔ گویا یہ خیانت بھی مسلم ہے۔ بہرحال شہادت ناقابل قبول ہی رہی۔

آیت قرآنیہ کے ترجمہ میں خیانت کا الزام

۱… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے آیت: ’’فلماجآء تہم رسلہم بالبینات فرحوا بما عندہم من العلم وحاق بہم ماکانوا بہ یستہزء ون (المؤمن:۸۳)‘‘کا ترجمہ یہ کیا۔ ’’اور جب ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل لے کر آئے تو یہ لوگ اپنی لیاقت علمی پر نازاں ہوئے اور جس بات کی وہ ہنسی اڑاتے تھے۔ وہ ان پر الٹ پڑے۔‘‘ اور ترجمہ میں باوجود معمولی ترمیم کے بہرحال گزشتہ کا ایک واقعہ امم سابقہ کا ماناہے۔ پھر اس سے نتیجہ ایک ضابطہ بنا کر موجودہ علماء پر منطبق کرنے کے واسطے مفہوم میں یہ تحریف کی۔

’’پس ظاہر ہے کہ علماء ہمیشہ خدا کے فرستادوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے رہے اور ان کا علم ان کے لئے حجاب اکبر بن گیا۔ اس کے بعد جو بھی منہ میں آیا علماء کو کہا اور تفصیلی امثلہ تکفیر پیش کیں۔ وغیرہ وغیرہ!‘‘

پس اس آیت کے مطلب میں خیانت کی اور تکفیر علماء کی وجہ سے مرزا صاحب کو خدا کافرستادہ اور ان علماء کو جنہوں نے ان کے کفر وارتداد پر بندگان خدا کو مطلع کیاتھا۔ انہیں اس آیت کا مصداق بنایا۔ حالانکہ یہ آیت امم سابقہ مثل یہود ونصاریٰ کے حق میں ہے۔

اس کا جواب صرف یہ دیا کہ علماء پر کچھ اور فقرے کس دئیے اور یہود ونصاریٰ کے متعلق ہونے سے انکار کردیا۔ حالانکہ آیت کا سیاق وسباق اور صیغہ ماضی بتاتاہے کہ یہ امم سابقہ کے متعلق ہے۔ پھر بھی اسے اپنی رائے سے غلط معنی پہنانے تحریف معنوی ہے جو جائز نہیں۔

اور ’’بدذات فرقہ مولویان‘‘ کے تحت جس قسم کی موجودہ زمانہ کے علماء وصلحاء کے واسطے فقرات اور سخت کلامی و دشنام طرازی اختیار کی تھی۔ یہاں اس سے زائد کی ہے۔ ہمارا اصولی جواب نہایت نرم لہجہ میں پیش ہوچکا عدالت اسے خودہی ملاحظہ فرمائے۔ ہم مکرر نقل بھی نہیں کرتے۔ اس سلسلہ میں آیت: ’’صراط الذین انعمت علیہم‘‘ کا بھی ترجمہ تھا کہ ہمیں ان لوگوں سے بنا جن پر تو نے انعام کیا۔ یعنی نبی بنانے کی دعا کرنے کا حکم ہے۔ یہ سب تحریف کلام الٰہی ہے اس کا جوابی بحث میں کوئی تذکرہ تک نہیں کیا۔ یوں ہی اکثر آیات واحادیث واقوال سلف میں خود تراشیدہ ترجموں سے مغالطے دئیے ہیں۔

423

(۱۴)

مندرجہ ذیل کتب فریقین کوغیر مسلم ہیں

۱… حجج الکرامہ۔ ۲… اقتراب الساعۃ۔ ۳… فتح البیان۔

۴… جامع الشواہد۔ ۵… بھونچال برلشکر دجال۔ ۶… انوار احمدیہ۔

۷… حیات جاوید۔ ۸… ہدیہ مجددیہ۔ ۹… تفسیر صافی۔

۱۰… ابلیس۔

اس کے علاوہ اور بھی اس اس قسم کی ہیں۔ کیونکہ مقدمہ مرزا صاحب کے متبعین اور اہل سنت احناف میں ہے اور یہ کتب غیرمقلدین، نیچری یا رافضیوں کی ہیں۔ پس نہ حنفیوں کی مسلم ہوئیں، نہ مرزا صاحب کے متبعین پر، بلا وجہ ان کے حوالے دئیے۔ نیز مرزا صاحب کے متبعین توظاہری ادّعاء کے مطابق قرآن کے اور جو حدیث ان کے زعم میں ان کے اور مرزا صاحب کی وحی کے مطابق ہوں۔ نیز مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کی کتب کے سواء کچھ نہیں مانتے۔ جیسا کہ جرح میں باربار آچکاہے۔ پس یہ کتابیں صرف اس لئے کارآمد ہوسکتی تھیں کہ وہ فریق مدعیہ پر حجت ہوتیں اور اسے مسلم نہیں، نہ اس کے فرقہ کی ہیں۔ پس فریقین کو غیر مسلم ہیں۔

اس پر بلاوجہ غلط بیانی کا الزام دے کر مختار مدعاعلیہ نے بیکار تاویلیں کیں جو قابل التفات بھی نہیں۔نیز یہ کہا کہ شہاب وروح المعانی کے متعلق بھی یہی کہا۔ حالانکہ یہ مختار مدعاعلیہ کی صریح غلط بیانی ہے۔ بلکہ شہاب کے متعلق یہ کہا ہے: ’’ہمارے نزدیک وہ حاشیہ معتبر نہیں۔‘‘ نیز ایک مفسر کی رائے علم حدیث میں ماہرین فن کے مقابلہ پر بالاتفاق معتبر نہ ہوگی۔

روح المعانی کے متعلق ہرگز غیر مسلم یاغیر مسلمہ فریقین کا لفظ نہیں کہا گیا۔ ہاں! فتح البیان کے متعلق کہاگیا۔ شاید مختار مدعاعلیہ کو مغالطہ ہواہو۔

گواہ مدعیہ نے شہاب کے اس بیضاوی پر کے حاشیہ کاحوالہ نہیں دیا جو حاشیہ غیر معتبر ہے۔ بلکہ ان کی کتاب نسیم الریاض کا حوالہ دیاہے۔ اسے غیر معتبرنہیں کہاگیا۔ ایک مصنف کی تمام تصانیف ایک جیسی معتبر ہونا ضروری نہیں، امام بخاری کی کتاب صحیح بخاری جس پایہ کی ہے، اس طرح ان کی دوسری تصانیف تاریخ بخاری، ادب المفرد جزو قرأت خلف الامام وغیرہ نہیں۔ بلکہ اکثر حجت ہی نہیں۔ مختار مدعیہ نے حجج الکرامہ واقتراب الساعۃ وفتح البیان کے غیر مسلم ہونے کی وجہ یہ پیش کی تھی کہ ان کا مصنف غیر مقلد ہے جن سے کافی اختلاف مسئلہ تقلید وغیرہ میں یہاں تک کہ تقلید کو شرک تک کہتے ہیں۔ لہٰذا مدعیہ اور اس کے فریق مقلد پر مخالف کی کتب کیونکر حجت ہوں گے۔ مختار مدعاعلیہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ جب وہ اس فریق کو مشرک کہتے ہیں تو پھر فریق مدعیہ کو انہیں کافر بتانا چاہئے۔ حالانکہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے انہیں مسلمان ماناہے اور حجج الکرامۃ کی بعض عبارات کی تصدیق کی ہے کہ اس میں ہیں۔

نیز یہی حوالہ اقتراب الساعۃ میں بھی ہے اور ملّا علی قاری کا بھی نیز مولانا گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں ان کے حوالے دئیے ہیں۔ پھر مختار مدعیہ کو کیا حق ہے کہ انہیں تعصب اور غیر مقلدیت کی وجہ سے غیر مسلم بتائے۔

الجواب: باوجودیکہ یہ بات بار بارصاف ہوچکی مگر مکرر لارہے ہیں۔ یقینا ہمارا فریق سوائے مرزا صاحب اور ان کی امت کو جو قطعاً کافر ہیں کسی اور کو کافر نہیں کہتا بلکہ ان کے فتاویٰ غلط فہمی پر مبنی بتاتاہے۔ جیسا کہ اوپر گزرچکااور یہی گواہ نمبر۱ نے جرح میں بتایاہے۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ نمبر۱۔

424

مسلمان اس قدر تکفیر کے دلدادہ نہیں کہ صرف ایک شخص کی بیعت میں تأمل کی وجہ سے تمام چالیس کروڑ مسلمانوں کو بلا استثناء یک قلم دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنادیں۔ جیسے کہ مرز ا محمود صاحب خلیفہ قادیان نے کیا۔ (آئینہ صداقت ص۳۵وص۵۶، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰، ۱۲۷) باقی کسی کتاب کے متعلق یہ کہنا کہ اس میں فلاں چیز ہے، اس سے اس کا مسلم ہونا تو لازم نہ آیا۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ جرح میں جو کتب گواہان مدعاعلیہ کے سامنے پیش ہوئیں اور ان میں عبارت مسئولہ بتائی وہ سب ان کی مسلم ہوگئیں۔

نیز الساعۃ کب مسلم ہے اور ملّا علی قاری کا قول تو اسی حجج الکرامۃ سے نقل ہے جس کا وثوق کے ساتھ اعتماد نہیں۔ نواب صاحب بھی نقل حوالوں میں پختہ کار نہ تھے۔ ملاحظہ ہو

(تذکرۃ الراشد مولانا عبدالحئی)

فتاویٰ رشیدیہ میں حوالے ان غیر مقلدین پر حجت قائم کرنے کو نقل کئے گئے ہیں جو انہیں مانتے ہیں یہ کہیں نہیں کہ یہ ہمیں مسلم ہیں مفصل اپنی جگہ پر گزرچکا۔ بہرحال یہ کتب ہمیں تو مسلم نہیں اور نہ فریق ثانی تسلیم کررہاہے۔ بس فریقین کے غیر مسلم ہونے میں کیا شبہ ہوسکتاہے۔ یہ کہنا کہ جامع الشواہد، بھونچال برلشکر دجال، حیات جاوید، وغیرہ کے مسلم وغیرمسلم ہونے کا سوال بھی نہیں، اس سے تو اسی کی تکفیردکھاناہے۔ مگر جب تک متعدد مسلم کتب سے نہ دکھائیں۔ ان غیر ذمہ دار غیر مسلم رسائل کا اعتبار کیا۔ بہرحال جب کہ یہ ہمیں اور انہیں دونوں کو مسلم نہیں تو ان کا لانا ہی بے جا طوالت کے سواء کوئی سود مند نہیں۔

ہددیہ مجددیہ وانوار احمدیہ جن کے مصنف کانام جرح میںنہ بتاسکے نہ اصل کتاب پیش کرسکے۔ اب یہ کہا جارہاہے کہ ان کے غیرمسلم ہونے کی کوئی وجہ نہیں بیان کی۔ اس سے زائد کیا وجہ ہوگی کہ مدعیہ یا اس کے فریق کے کسی مسلم بزرگ کی نہیں، ایک غیر معروف شخص حکیم وکیل احمد سکندر پوری کی ہے جن کے حالات کا بھی پتہ نہیں۔ ہرکس وناکس کے رسائل تالیفات حجت ومسلم نہیں ہوسکتیں۔

مسلّم اور مسلمان کا فرق

مختار مدعیہ نے پیش کیا تھا کہ نواب صدیق حسن خان صاحب وغیرہ کے مسلمان ماننے سے ان کا مسلّم ہونا کیسے تسلیم ہوگیا۔ مسلمان اور مسلّم ہونے میں فرق ہے۔ کتنے مسلمان ہیں مگر مسلم نہیں۔ملاحظہ ہو محمدعلی صاحب ایم۔اے، خواجہ کمال الدین صاحب اوران کی جماعت مدعاعلیہ اور اس کے فریق کے نزدیک مسلمان تو ہیں۔ مگر مسلم نہیں۔ یوں ہی حنفیہ کے نزدیک غیر مقلدین وعلماء بریلوی وغیرہ مسلمان تو ہیں مگر مسلم نہیں۔

اس کے متعلق یہ کہنا کہ بحث صرف اسلام وکفر کی تھی۔ اس لئے مسلمان ہونے کاسوال کیا گیا۔ ورنہ جن کے متعلق دریافت کیاگیا وہ مسلم امام ہیں، محض غلط اور سراسر مغالطہ ہے۔ کبھی بھی نواب صدیق حسن خان صاحب غیر مقلد یا دوسرے ان جیسے مدعیہ یا اس کے فریق کے امام نہیں ہوسکتے۔ ورنہ مختار مدعاعلیہ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ محمدعلی صاحب ایم۔اے اور ظہیر الدین اروپی اس کے مسلم امام ہیں۔

یہ نظر یہ اتنا واضح تھا کہ کسی بحث کی ضرورت ہی نہ تھی۔ بلا وجہ تاویلات دیں، عدالت اصل بحث سے ملاحظہ فرمائے۔ ان تاویلات کے بعد بھی تقریباً اس سلسلہ کے آٹھ دس نمبر لا جواب رہے۔

گواہ مدعاعلیہ کی شہادت ہرگزقابل قبول نہیں

ہر دو گواہ مدعاعلیہ مرزا صاحب اور جماعت احمدیہ کی صفائی پیش کرنے کے واسطے پیش ہوئے ہیں۔ حالانکہ دونوں اس کے تنخواہ دار ملازم اور ایسی صفائی پیش کرنے اور ملک میں اسی پروپیگنڈہ کرنے کے نوکر ہیں۔ پس ایکٹ شہاد ت کے بموجب نوکر کی شہادت آقا کے حق میں مؤثر وقابل التفات نہیں۔ (ملاحظہ ہو جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء) یہ تنقید لاجواب اور بالکل ضابطہ کے مطابق۔ لہٰذا ان کی شہادت معتبر نہ ہونی چاہئے۔

425

نیز ہمارے بعض گواہوں کو دیوبندی خیال کے بتا کر کافر بنانا اور علماء اسلام جن کی شہادت کا حکم تھا۔ اس کے زمرہ سے خارج کرنا چاہاہے۔ حالانکہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں کسی ایک کو بھی دیوبندی خیال کا ثابت نہ کرسکا۔

نیز گواہ مدعیہ نمبر الف،۲،۴ کا تو دیوبندیاان کے علماء سے کسی قسم کا تعلق نہیں اور اوّل الذکر دو شہادتیں جرح سے بھی صاف ہیں۔ لہٰذا یقینا قابل لحاظ وقابل قبول ہیں۔

اور اوپر گزر چکا نیز اپنی جگہ پر آئے گا کہ بعض علماء دیوبند کے متعلق غلط فہمی سے بعض اشخاص نے انفرادی فتوے دئیے اور اکثر نے بعد اطلاع حقیقت حال واپس لے لئے۔ جیسا کہ غایۃ المامول وغیرہ سے پیش کرچکاہوں۔

اور تسلیم بھی کرلیا جائے کہ کسی کا ان پرفتویٰ کفرہے۔ لہٰذا وہ علماء اسلام نہ رہے۔ پس جب کہ کسی ایک دو کے انفرادی فتویٰ سے بھی علماء اسلام سے نکل سکتاہے تو گواہان مدعاعلیہ تمام دنیا کے اسلامی فرقوں شیعہ، مقلد، غیر مقلد، حنفی شافعی، مالکی، حنبلی، عرب وعجم کے متفقہ کفر کے فتویٰ کے بعد علماء اسلام کیونکر رہ سکتے ہیں۔

مختار مدعاعلیہ اور گواہان نے یہ بحث بے جا یہاں شروع کی۔

گواہان مدعیہ کی حیثیت کسی طرح مجروح نہیں۔ مگر گواہان مدعاعلیہ اور خصوصاً گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ کی شہادت تو اس قدر مجروح ہے کہ مختار مدعاعلیہ نے بھی اسے محسوس کیا اور اپنی بحث میں اکثر گواہ نمبر۱ کے حوالہ پر اکتفاء کی۔ نیز اس پر جرح کے ایک دو جواب غیر متعلق دے کر باقی تنقید کو گویا کہ لاجواب مان لیا۔ بس مدعاعلیہ کی طرف اصولاً صرف ایک ہی گواہ رہ گیا۔ اس کا بیان بھی سخت متعارض حوالے غلط، قطع وبرید، ترجموں میں شرمناک خیانتیں جس کے بعد شہادت کی کوئی بھی وقعت نہیں رہتی۔ عدالت خود مسل اور اصل بحث مختار مدعیہ سے ملاحظہ فرمائے۔

(۵)

بشارت احمد

مختار مدعیہ نے احمدa کا مصداق متعیّن کرنے کو غایۃ غلطی ہونے تک تسلیم کیاہے اور اس مصداق کے تعیین کو انکار آیت کے استلزام کا مضحکہ اڑایاہے۔ حالانکہ مختار مدعیہ کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ احمد سے مراد سید الاوّلین والآخرین سیدنا ومولانا محمدمصطفیﷺ خود قرآن کا مدلول ہے۔ چونکہ قرآن کو بیان فرمایا گیاہے وہ خود اپنی تفسیرہے اور اس لئے اس کو تفصیلاً ’’لکل شیٔ‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ قرآن شریف میں سورہ اعراف میں فرمایاہے: ’’الذین یتبعون الرسول النبی الامی‘‘ اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ جس نبی کی پیش گوئی انجیل میں کی گئی ہے وہ امی ہے۔ اب اس صورت میں وہ ذات البرکات والحسنات سید الکائنات علیہم افضل الصلوٰۃ واکمل التحیات ہی اس کا مصداق بن سکتی ہیں۔ کیونکہ وہی ایک شئے ہے جو باوجود امی ہونے کے ایک ٹھوکر سے کروڑوں فلسفی پیدا کرسکتے ہیں۔ جناب مرزا صاحب غلام احمدصاحب قادیان امی بالکل نہیں تھے۔ گل علی شیعہ کے شاگرد تھے۔ مولوی عالم خوب اہلمدی کرسکتے تھے، بلکہ بقول مرزائی صاحبان سلطان القلم تھے۔ ایک ایک موضوع پر پچاس پچاس الماریاں ان کی تصانیف کی ہوسکتی ہیں۔ ایسا شخص امی نہیں ہوسکتا۔

یاد رہے کہ عیسیٰm نے ایک ہی شخص کی پیش گوئی کی ہے۔ لہٰذا ان کی پیش گوئی سے اگر حضور مراد نہ ہوں گے تو قرآن کی تکذیب ہوگئی۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص اسمہ احمد کا مصداق کسی غیر کو بنائے گا وہ قرآن کا منکر ہوگا اور سورہ اعراف کا عین مخالف۔

مختار مدعاعلیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ مرزامحمود صاحب کا یہ مطلب نہیں تھا کہ مرزا صاحب بہرحال وبہرلحاظ مراد ہیں، بلکہ اصالۃً مرزا صاحب ظلاً وتبعاً حضور ہیں۔ بخلاصہ اوّلاً تو یہ امر خلاف واقع ہے۔ یہاں بشارت احمد سے عبارت نقل کرتے۔

426

اس سے صاف ثابت ہوتاہے کہ اس آیت کا مصداق بہرحال اور بہرلحاظ مرزا ہے۔ ثانیاً یہ غیر ممکن ہے۔ آیت میںاسمہ احمد واقع ہے۔ احمد کو علم اورجزئی حقیقی کہا جاتاہے اور علم کا موضوع لواحد بعینہٖ ہونا کافیہ خوانوں کے نزدیک بھی مسلم ہے۔ پس اگر اس سے مراد مرزاصاحب کو لیا جائے تو حضورمراد نہیں ہوتے اور اگر مراد حضور ہیں۔ جیسے کہ قرآن شریف کا صاف مدلول ہے تو مرزا صاحب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ احمد علم اور جزئی حقیقی ہے کلی نہیں۔

ثالثاً بلکہ مرزا صاحب کا نام احمد ہرگز نہیں غلام احمدہے۔

مختار مدعاعلیہ نے کہا کہ اگر لفظ احمد سورۃ صف میں مرزا غلام احمد صاحب کو مراد لیا جائے۔ جیسا کہ خلیفہ ثانی نے کہاہے تو اس سے اظہار آیت کا استدلال قابل مضحکہ ہے۔ غایت الامر فریق مخالف اس کو غلطی قرار دے سکتاہے۔ نیز خلیفہ ثانی نے یہ بالکل نہیں کہا کہ بہرحال اور بہرلحاظ سے اس سے مرزا غلام احمدصاحب مراد ہیں بلکہ اصالۃً تو مرزا صاحب مراد ہیں اور وصف کے لحاظ سے آپa مراد ہیں۔

دراصل مختار مدعاعیہ نے مختار مدعیہ کا مطلب نہیں سمجھا۔ مختار مدعیہ کی یہ غرض نہیں کہ کسی مبہم چیز کی تعیین اس کے انکار کو مستلزم ہے۔ بلکہ ان کی غرض یہ ہے۔ اس آیت میں بلحاظ سیاق حضورa مراد ہیں: قال اللہ تعالیٰ : ’’فلماجآء تہم بالبینات قالوا ہٰذا سحرمبین ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ الکذب وہو یدعیٰ الی الاسلام و اللہ لا یہدی القوم الظالمین یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواہہم و اللہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون ہو الذی ارسل رسولہ (الصف:۶تا۹)‘‘

ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰm کی بشارت کے بعد جب ان کے پاس احمد مبشر بہ تشریف لائے اور بینات اور دلائل واضح کے ساتھ تشریف تو لائے تو جن لوگوں کو اس بشارت کا علم حضرت عیسیٰm سے ہوچکاتھا۔ احمد مبشربہa کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ جادو ہے۔ ظاہر اور اللہ تعالیٰ پر بہتان اور افتراء باندھا کہ یہ بشارت متعلق ہے وہ کوئی ہے اور کون اس سے بڑا ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی عیسیٰm کی وساطت سے جس ذات مقدس کے لئے بشارت دی تھی، اس کو کسی دوسرے کے حق میں بتادے۔ حالانکہ وہ اسلام کی طرف دعوت دیاگیاہے اور اسلام ایک محقق اور سچا راہ ہے جس کا مدعی بشارت کا صحیح مصداق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ ظالمین کو جو وضع شیٔ فی غیر محلہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور بشارت کے اصلی مصداق کو ترک کرکے کسی غیر کو مصداق تراشے کبھی ہدایت نہیں دے گا۔ اس واسطے کہ وہ کوئی بھولے ہوئے نہیں، بلکہ وہ تو از روئے ہٹ دھرمی خواہش کرتے ہیں کہ اس بشارت کا مصداق دوسرا قرار دے کر اس اللہ تعالیٰ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں۔ یعنی یہ تفسیر مصداق بشارت محض قول ہونے پر منحصر ہے۔ اس کی کوئی اصلیت نہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو جو فاران سے ظاہر ہواہے، پورا کامل کرکے چھوڑگیا اور اس بشارت کے تصدیق کرنے والے پیدا ہوتے ہی رہیں گے۔ جیسے کہ بخاری کے دوسرے صفحہ والی روایت سے ثابت ہے کہ حضور پرنور کے زمانہ میں ہی رومہ کے بڑے اسقف نے علی الاعلان کہہ دیا کہ جس کی بشارت دی گئی، وہ آگیااور وہی پھر محمدa اگرچہ وہ لوگ جو کافروں میں حضورسرور دوعالمa کو بشارت کا مصداق بنانے میں کراہت محسوس کریں گے اور کھینچا تانی کرکے دوسروں کو مصداق بناتے پھریں گے، وہی (جس نے عیسیٰm پر بشارت محمدیہ نازل فرمائی ہے) تو ہے جس نے (اس بشارت کے مطابق) نیا رسول بھیجا۔ آہ! الغرض اس آیت کا سیاق دلالت صریح سے ثابت کررہاہے کہ اس بشارت کا مصداق آگیاہے اور اس کا مصداق کوئی دوسرا تجویز کرنا افتراء ہے اور سخت ظلم ہے اور جو لوگ دوسرا مصداق بشارت تلاش کرتے ہیں وہ کافر ہیں اورہٹ دھرمی سے ایسا کرتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ اس بشارت کا مصداق جو اللہ تعالیٰ نے متعین کیا ہے وہ ذات، ذات الحسنات والبرکات آقائے کائنات سیدنامحمدa ہیں۔ پس اب جو شخص کسی دوسرے کو مصداق قرار دیتاہے وہ اس آیت کا منکر ہے۔ کیونکہ حسب تعین خدا وندی اب کوئی دوسرا مراد تو ہو نہیں سکتا اور جو کسی آیت کے ایسے معنی کا انکار کرے جس

427

کا سیاق ہوتو اس کو بجز منکرآیت کے اور کیاکہا جاوے گا۔ گو منہ سے آیت کا ماننا تسلیم کرتاہو۔

قرآن شریف کو بالاستیعاب دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ عیسیٰm نے ایک ہی نبی کی بشارت دی ہے۔ بخلاف دیگر انبیاء کے انہوں نے متعدد انبیاء کی بشارتیں دی ہیں۔ ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعیہ نمبر۲۔

اورقرآن شریف میں سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ: ’’الذین یتبعون الرسول النبی الامی‘‘ اس سے پایاجاتاہے کہ انجیل میں جس نبی کی بشارت ہے وہ امی ہے اور رسول اور نبی بھی ہے اور تمام مخلوق میں فقط ایک ہستی ہے جو امی بھی ہے اور رسول بھی اور نبی۔ مگر مرزاصاحب بالکل امی نہیں تھے۔ وہ انبالہ کے ایک شیعہ عالم کے شاگرد تھے جس سے شرح جامی تک کتابیں پڑھی تھیں اور مولوی عالم پنجاب یونیورسٹی کا امتحان بھی دیا جس میں فیل ہوگئے۔ اہلمدی بھی کی تھی اور بقول مرید صاحبان سلطان القلم تھے اور بقول ذات شریف ایک ایک موضوع پر پچاس پچاس الماریاں تصانیف چھوڑ مرے ہیں۔ پس ظاہرہے کہ اس بشارت کو مرزا صاحب پر منطبق کرنا قرآن شریف کا انکار ہے جو اسے مبشر بہ نبی امی قرار دیتاہے اور اگر احادیث کو بھی دیکھا جائے تو عرباض بن ساریہ سے بخاری ومسلم میں ایسی روایات مل جائیں گی جن سے حضور کاارشاد ذیل ملتاہے۔

’’ساخبرکم باول امری دعوۃ ابراہیم وبشارۃ عیسیٰ ابن مریم (الحدیث)‘‘

پس معلوم ہوا کہ بشارت اسمہ احمد کا مصداق جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور خود مبشر بہa کے نزدیک حضور پر نورہیںa اور جوکوئی اس کا مصداق کسی دوسرے کو تجویز کرے۔ چاہے اس کانام احمد ہی کیوں نہ رکھ لیا جائے وہ قرآن شریف اور حضرت رسالت مآبa کے بتائے ہوئے معنی اور مصداق کے مخالف ہے۔ پس اس نے انکار آیت کیا اور یہی مختار مدعیہ کا مطلب ہے۔

رہا امر ثانی کہ خلیفہ ثانی کے نزدیک بہرحال اور بہرلحاظ مرزاصاحب مراد نہیں یہ بھی غلط ہے۔ میں جناب خلیفہ ثانی کی کتاب (القول الفصل ص۲۷،۲۸،۲۹) کی طرف توجہ عدالت مبذول کراتاہوں۔

حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو احمد لکھاہے اور لکھا کہ اصل مصداق پیش گوئی کا میں ہی ہوں۔ کیونکہ یہاںصرف احمد کی پیش گوئی ہے اور آنحضرتﷺ دونوں تھے۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ’’اور اس آنے والے کانام جو احمد رکھاگیاہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمدa جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی مضمون کے رو سے ایک ہی ہے۔ اس کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ مگر ہمارے نبیa فقط احمد ہی نہیں، بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع الجلال والجمال لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتاہے، بھیجاگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ج دوم ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

اسی طرح اعجاز المسیح میں لکھتے ہیں اورعیسیٰ نے ’’کزرع اخرج شطۂ الایہ میں آخرین منہم الی قولہ‘‘

(اعجاز المسیح ص۱۲۳،۱۲۴، خزائن ج۱۸ ص۱۲۷)

اس سے خلیفہ ثانی اور مرزا صاحب نے تسلیم کیاہے کہ آنحضرتﷺ مراد نہیں ہوسکتے اور بہرحال اوربہرلحاظ اس سے مراد مرزا صاحب ہیں۔

اور دو شخص اس سے مراد ہو بھی نہیں سکتے۔ اس واسطے کہ احمد علم ہے اور علم کی وضع ایک معین شخص کے لئے ہوتی ہے اور یہ نکرہ اور کلی نہیں۔ پس اگر اس سے دونوں شخص مراد لئے جائیں تو اسم کی وضع کا خلاف ہوگا۔ نیز آنکہ مرزا غلام احمدصاحب کا نام احمد ہرگز نہیں۔ ان کانام تو ان کے والدصاحب نے غلام احمد رکھاہے۔ اگر قرآن شریف میں اسمہ غلام احمد ہوتاتو پھر کوئی وجہ تھی اور مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ مرزا

428

صاحب احمد کے نام پربیعت لیتے تھے اور مرزا محمود کا یہ ادّعاء کہ خدانے آپ کانام احمد رکھا اور آپ نے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموںکے ساتھ ملایا۔ سب شاعرانہ باتیں ہیں۔ ان کو استدلال نہیں کہاجاتا۔ احمد کے نام پر بیعت لینا تو اس وقت شروع کیا جب کہ آپ نے اپنے آپ کو بشارت کا مصداق فرض کیا اور یہی دلیل ہے اس کے مصداق نہ ہونے کی۔ اس واسطے آیت میں اس کی بشارت دی گئی ہے جو احمد کے نام سے ابتدائً مسمی ہوگا۔ اس واسطے کہ اسمہ احمد جملہ اسمیہ ہے جو دوام پر دلالت کرتاہے۔

اور اگر حضور پر نورa پر ہی صادق آتاہے کہ حضورکانام آمنہ صدیقہ نے احمد رکھا اورعبدالمطلب نے محمدرکھا اور یہ کہنا کہ مرزا صاحب کانام احمد رکھا۔ اگر یہ مراد ہے کہ اس پیش گوئی میں میرا یہ نام ہے تو مصادرہ علی المطلوب ہے۔ اس پیش گوئی میں وہ شخص مراد ہے جس کانام کسی دوسری دلیل سے ثابت کیا جائے اور اگر اس بشارت کا مصداق ثابت کرنے کے لئے بشارت کو پیش کیا جائے تو یہ توقف الشی علی نفسہ ہوگا اور اگر کہیں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ نام رکھا ہے، یہ محض فرض ہی فرض ہے۔ اصلیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ آخر خلیفہ ثانی کے منہ سے سچ نکل ہی گیا، کہتے ہیں آپ کا نام۔ یعنی مرزا صاحب کا نام مرکب ہے اور اس کا ایک حصہ اور جزء احمدکا لفظ ہے جو اولاد کے ناموں کے ساتھ ملایاہے۔ معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کانام احمد نہیں۔ بلکہ یہ ایک جزء ہے۔ پس سارانام غلام احمدہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب (کتاب البریہ ص۱۳۴، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲) میں لکھتے ہیں: ’’میرانام غلام احمد والدکانام غلام مرتضیٰ ہے۔‘‘

الغرض مرزا صاحب اور اس کے خلیفہ ثانی مرزا محمود صاحب کا دعویٰ یہی ہے کہ اس بشارت میں مراد مرزا صاحب ہیں، حضورپرنورa نہیں۔

باقی انوار خلافت کے طویل طویل حوالے بلفظہ نقل کرکے بلا وجہ مسئلہ کو طول دیا اور بزعم خود اپنے اس پر ادّلہ پیش کئے۔ حالانکہ گفتگو اس قدر تھی کہ اس آیت: ’’مبشراً برسول‘‘ کا حقیقی مصداق اور احمد کے نام کا حقیقی مسمی مرزا صاحب ہیں یا رسول اکرم محمدرسول اللہ ﷺ؟ اس کو شروع میں مرزا صاحب نے تسلیم کرلیا کہ اس آیت کے حقیقی مصداق صرف مرزا صاحب ہیں، نہ رسول اللہ ﷺ اور احمد بھی نام رسول اللہ ﷺ کا نہیں، بلکہ مرزا صاحب کاہے۔

۱… پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کانام احمد تھا یا آنحضرتﷺ کا اور کیا سورہ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کانام احمد ہوگا بشارت دی گئی ہے۔ آنحضرتﷺ کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق، میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں۔ لیکن اس کے خلاف کہا جاتاہے کہ احمدنام رسول کریمa کاہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتاہوں، میرا یقین بڑھتا جاتاہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میںآیاہے وہ حضرت مسیح موعود کے متعلق ہی ہے۔

(ملاحظہ ہو: انوار خلافت ص۱۸، انوار العلوم ج۳ ص۸۳)

اور جب کہ ہم نے قرآن کو نص قطعی اور صحیح مرفوع متصل حدیث سے ثابت کردیا کہ صرف رسول اللہ ﷺ اس کے مصداق ہیں اور احمد،بخاری شریف وغیر ہ میں آپ ہی کے اسماء میں شمار ہے۔ پھر اس قول کے خلاف نصوص قرآنیہ وتصریحات سنت نبویہ موجود ہیں۔ پس اب اس کے کفر وارتداد ہونے میں کیسا شبہ رہ جاتاہے۔

(۹)

قرآن وحدیث اور وحی مسیح موعود

اس سلسلہ میں میں نے (اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰) کا حوالہ پیش کیاتھا۔ مختار مدعاعلیہ نے اس کی ایک غلط اور ناقابل توجیہہ

429

یہ کی ہے کہ یہ کلام ان احادیث کی بابت ہے جو مرزا صاحب کے دعویٰ کے متعلق ہیں، ان کی دو قسمیں بنا کر جو قرآن کے مطابق ہیں، ان کی تائید دعویٰ میں قبول کرتے ہیں اور جن کے متعلق ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے متعلق کہا ہے، وہ وہی احادیث ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ کا یہ جواب بالکل غلط اور خلاف تصریح مرزا صاحب ہے۔ کیونکہ شرع محمدیہ کے احکام ومسائل کے اصول میں سے اصل اوّل قرآن اور اصل دوم حدیث ہے۔ مگر مرزا صاحب کہتے ہیں: ’’اور ہم اس کے جواب میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں، بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

عبارت بالکل صاف اور واضح ہے کہ مرزا صاحب نے حدیث کو اصول وبنیاد میں سے خارج سمجھ کر حدیث کی توہین کی۔ نیز حدیث سے اپنی وحی کو مقدم سمجھ کر قرآن کے بعد اپنی وحی کو اصول دین میں اصل ثانی قرار دیا جس میں حدیث کی سخت توہین ہوئی۔ قرآن کے بعد مرزا صاحب کی وحی کا رتبہ رہا نہ حدیث کا اور نیز اس میں تشریح کا دعویٰ بھی پایا گیا۔ کیونکہ اصول دین میں مرزا صاحب کی وحی کا اضافہ ہو گیا، جو اصل جدید ہے۔ اصول شرعیہ میں کہیں اس کا ذکر تک نہیں۔ پھر مرزا صاحب حدیث کا درجہ اصول وبنیاد دین سے گرا کر اس کو محض تائید کا درجہ دیتے ہیں جس میں حدیث کی توہین ہے۔ اسی پر اکتفاء نہیں، بلکہ تائید کا رتبہ بھی اس وقت حاصل ہے کہ جب حدیث میں دو شرطیں پائی جائیں۔ اوّل یہ کہ قرآن کے مطابق ہو۔ دوم یہ کہ مرزا صاحب کی وحی کے بھی معارض نہ ہو۔ اگر حدیث مرزا صاحب کی وحی کے معارض ہو تو اگرچہ قرآن کے موافق بھی ہو تو بھی تائید کی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس میں حدیث کی سخت توہین ہے۔ پھر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ ظاہرہے کہ دوسری حدیثوں سے مراد وہ حدیثیں ہیں جو اوپر بیان کردہ شرطوں پر نہ ہوں۔ یعنی یا قرآن کے موافق نہ ہوں یا موافق تو ہوں مگر مرز ا صاحب کی وحی کے معارض ہوں، ان تمام حدیثوں کو مرزا صاحب ردی کی طرح پھینکتے ہیں۔ عدالت غور فرمائے کہ احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی کس قدر توہین ہے کہ صحت حدیث کا ایک یہ بھی اصل ہوا کہ مرزا صاحب کی وحی کے معارض نہ ہو، ورنہ پھینکنے کے قابل ہیں۔ اس سے زیادہ حدیث کی توہین کیا ہوسکتی ہے؟ مختار مدعاعلیہ مغالطہ دینے کے لئے دوسری حدیثوںسے وہ احادیث مراد لیتاہے جو قرآن کے مخالف ہیں۔ حالانکہ مرزا صاحب کی عبارت میں دوسری حدیثوں سے مراد وہ حدیثیں ہیں جو قسم اوّل کے مقابل ہیں اورقسم اوّل کی وہ حدیثیں ہیں جو نہ قرآن کے مخالف ہوں اور نہ مرزا صاحب کی وحی کے معارض ہوں۔ پر وہ احادیث جو صرف قرآن کے مخالف ہوں یا وہ احادیث قرآن کے موافق مگر مرزا صاحب کی وحی کے معارض ہیں، وہ سب قسم دوسری حدیثوں میں داخل ہیں۔ میں اپنے تئیں جواب کی صحت کے لئے مرزا صاحب کی اصل عبارت لکھ دیتاہوں۔ عدالت خود غور فرمالے گی کہ کس طرح حرف بحرف ہمارا دعویٰ مرزا صاحب سے ثابت ہے۔

’’اورہم اس کے جواب میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں، بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے اوپر نازل ہوئی۔ ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۰،۳۱، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

پھر مختار مدعاعلیہ ایک مغالطہ اور دیتاہے کہ مرزا صاحب کی وحی قرآن کے بالکل موافق ہے۔ ممکن ہے کہ مختار مدعاعلیہ کا ایسا اعتقاد ہو اور ایمان ہو جس کی کلام زیر بحث ہے۔ یعنی مرزا صاحب کا اعتقاد ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر مرزا صاحب اپنی وحی کو بالکل قرآن کے موافق سمجھتے تو تائیدی حدیثوں کے لئے دو شرطیں نہ لگاتے کہ قرآن کے موافق ہو اورمیری وحی کے معارض نہ ہو۔ اس قید کا فائدہ صرف یہ ہے کہ صرف قرآن کی موافقت کافی نہیں بلکہ اس کے علاوہ یہ بھی ضرور ہے کہ میری وحی کے معارض نہ ہو۔ یہ فائدہ اس وقت مرتب ہوسکتاہے جب کہ موافقت قرآن کے بعد بھی مرزا صاحب کی وحی معارض نہ ہونے کا احتمال باقی ہو اور یہ احتمال اس وقت پیدا ہوسکتا کہ جس

430

وقت موافقت اور تعارض کا اجتماع ممکن ہو۔

میں نے توہین حدیث کے سلسلہ میں (اعجاز احمدی ص۷۵، خزائن ج۱۹ ص۱۸۸) کی عبارت پیش کی جس کے جواب میں مختار مدعاعلیہ نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ ان حدیثوں کے متعلق ہے جو قرآن کے مخالف ہیں۔ مختار مدعاعلیہ کا یہ جواب نہ صرف غلط ہے بلکہ بدیہی البطلان ہے۔ کیونکہ منشاء توہین یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے علم کو احادیث نبویہ پر بدیں علت وجہ ترجیح قرار دیتے ہیں کہ ہم نے براہ راست خداوند حکیم سے حاصل کیا اور تمہاری حدیث مردوں سے مروی ہیں جو بہرحال ہمارے علم کی برابری نہیں کرسکتیں۔

اب مختار مدعاعلیہ کے مغالطہ پر غور فرمائیے کہ قرآن کی موافقت اور مخالفت کو دخل دے رہاہے۔ مرزا صاحب احادیث کی تحقیر اس بناء پر کررہے ہیں کہ وہ مردوں سے مروی ہیں۔ پس جس قدر سلسلہ احادیث موجود ہیں، خواہ قرآن کے موافق ہویا مخالف سب کا سب مرزا صاحب کے معیار امتیاز پر مرزا صاحب کے علم کے سامنے بے حقیقت ہیں۔ کیونکہ یہ سب ان لوگوں سے مرویات ہیں جو فوت ہوچکے ہیں۔ کیا مختار مدعاعلیہ کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ جو حدیثیں قرآن کے موافق ہیں فوت شدہ لوگوں سے مروی نہیں یا وہ مرزا صاحب کے الہامات و وحی سے زیادہ صحیح اور بلند مرتبہ ہیں۔ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ مرزا صاحب احادیث کو اپنے الہام ووحی کے مقابلہ میں بے اعتبار اور کم پایہ ثابت کررہے ہیں۔ خواہ قرآن کے موافق ہوں یا مخالف۔ جو احادیث نبویہ کی نہایت درجہ کی توہین وتحقیر ہے۔ پھر مختار مدعاعلیہ نے اپنے جواب کی تائید میں مرزا صاحب کی عبارت پیش کی ہے: ’’اے گمراہ کرنے والے! کیا تو قرآن کی شان سے انکار کرتاہے اور بجز قرآن کے ہمارے ہاتھ میں کیاہے۔‘‘

الجواب: مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ عبارت ہمارے مدّعاکی زبردست دلیل ہے کہ کیونکہ مرزا صاحب اس عبارت میں اصل دین صرف قرآن کو بتلارہے ہیں اور بجز قرآن کے سب چیز سے انکار کررہے ہیں۔ حالانکہ احادیث نبویہ اصول دین میں ایک اصل محکم ہے جس سے انکار الحاد زندقہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ما اٰتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا‘‘ مگر مرزا صاحب احادیث کو بے اصل اور بے اعتبار ثابت کرنے کے لئے برملا کہتے ہیں کہ بجز قرآن ہمارے ہاتھ کیا ہے۔ یہ سراسر احادیث نبویہ کی توہین، بلکہ ملحدانہ انکارہے۔اعاذنا اللہ تعالیٰ من ذالک! مختار مدعاعلیہ نے اپنی تائید میں مرزا صاحب کی یہ عبارت پیش کی ہے: ’’پس اے مخالفو! نقلوں کے ساتھ خوش ہوجاؤ اور بہتیری نقلیں اور حدیثیں دھوکا باز نے بنائی ہیں۔‘‘

سو مختار مدعاعلیہ کی عبارت بھی ہمارے مدّعاکی زبردست تائید ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب اپنے علم وبیان کے نقول کے قبول سے روکتے ہیں اور علت یہ بیان کرتے ہیں کہ بہترین حدیثیں موضوع ہیں۔ ہماراتعلق حکم سے ہے جو بالکل صاف ہے کہ نقول پر خوش نہ ہوں اور یہ حکم عام ہے۔ صحیح، موضوع، ضعیف وقوی تمام احادیث کو شامل ہے۔ بعض احادیث کے موضوع ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام نقول واحادیث قابل اعتبار نہیں۔ بہرحال مرزا صاحب نے یہ عام حکم کرکے احادیث کی سخت توہین کی ہے۔ پھر مختار مدعاعلیہ نے اپنی تائید میں مرزا صاحب کی یہ عبارت نقل کی ہے اور خداتعالیٰ کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔ پس خداتعالیٰ کی وحی کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔ بحمد اللہ ! مختار مدعاعلیہ کی پیش کردہ یہ عبارت نہایت صراحت سے توہین احادیث پر دال ہے۔ کیونکہ سرے سے ہمارادعویٰ یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی وحی کے مقابلہ حضورa کی احادیث کو کم درجہ ثابت کرکے احادیث نبویہ کی توہین کی ہے۔ اب تک مختار مدعاعلیہ ادھر ادھر کی توجیہات کرتارہا کہ ان احادیث سے مراد وہ احادیث ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں نہ احادیث صحیح، مگر مرزا صاحب کی اس عبارت نے مختار مدعاعلیہ کی تمام توجیہات کاخاتمہ کردیا۔ مرزا صاحب اپنی وحی کے مقابلہ میں تمام احادیث نبویہ کو کس شان وعظمت وجلال سے بے

431

سے بے حقیقت بتلاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو عبارت مرقومہ بالا۔

غالباً مختار مدعاعلیہ کو یہ ضرور احساس ہوا کہ یہ عبارت مختار مدعیہ کے الزام کی زبردست دلیل ہے۔ مگر وہ یہ آیت پیش کرکے مغالطہ دیناچاہتاہے۔ ’’فبای حدیث بعدہ یؤمنون‘‘ مگر اس کا جواب اس قدر بتلا دینا کافی ہے کہ حدیث سے مراد احادیث نہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی وکبیر وغیرہ۔

پھر مختار مدعاعلیہ نے ایک حوالہ پیش کیا کہ حضرت بایزید بسطامی نے ایسا فرمایاہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اوّلاً یہ قول غیر معتبرہے۔ ثانیاً نہ اس کو شہادت میں پیش کیا گیانہ جرح میں آیاہے۔ ثالثاً یہ حدیث صحیح علیکم بسنتی… الخ! کے خلاف ہے۔

رابعاً یہ حضرت بایزید پر افتراء ہے۔ جیسا کہ اقتصار میں لکھاہے: ’’شیخ الاسلام ابواسماعیل ہروی گفتہ بر بایزید دروغہا بستہ۔‘‘

خامساً اگر یہ صحیح بھی مان لیا جائے تو حضرت بایزید پر بسا اوقات حالت سکر طاری ہوتی تھی اور حالت سکر میں ایسے کلمات صادر ہوجاتے ہیں اور سکر کے زائل ہونے کے بعد استغفار فرماتے تھے۔ چنانچہ امام شعرانی طبقات کبریٰ میں لکھتے ہیں: ’’سئل ابوغیلی الجوزجانی عن الالفاظ امتی تحکی عن ابی یزید فقال رحمۃ اللہ ابویزید لہ حالہ ولعلہ بہا تکلم علی حد غلبۃ اوحال سکر‘‘

پھر مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کی متعدد کتب سے چند جدید حوالہ جات نقل کرکے بطور نتیجہ کے یہ بتلایاہے کہ جن احادیث کو رد کرنے کے لئے مرزا صاحب نے اعجاز احمدی میں کہا ہے، وہی حدیثیں ہیں جو مولوی محمدحسین بٹالوی وغیرہ قرآن مجید کے خلاف آپ کے دعویٰ مہدویت ومسیحیت کو باطل ثابت کرنے کے لئے پیش کرتے تھے۔ جن کا ظنی ہونا سب کو مسلم ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے اس قول میں نہ صرف احادیث کے رد کرنے کی توہین کے الزام کو تسلیم کرلیا، بلکہ اس غرض وغایت کو بھی بتلادیا کہ مرزا صاحب کو ردی کی طرح احادیث نبویہ کو پھینکنے کی ضرورت کیوں لاحق ہوئی تھی۔ یعنی مولانا محمدحسین صاحب بٹالوی نے مرزا صاحب کے دعاوی مہدویت ومسیحیت کے بطلان پر احادیث کو پیش کیا۔ چونکہ مرزا صاحب کا دعویٰ مہدویت ومسیحیت ان احادیث کی رد سے باطل ثابت ہوتاتھا۔ اس لئے مرزا صاحب نے ایسی احادیث کو ردی کی طرح پھینکنے کا حکم دیا۔ گویا مرزا صاحب کا یہ حکم صرف تو ہی نہیں، بلکہ خود غرضی اور اپنے دعاوی کی خاطر سے ہے۔ باقی رہا یہ امر کہ مولانا محمد حسین صاحب نے کن احادیث کو پیش کیا۔ یہ وہ احادیث ہیں جو صحاح ستہ میں مروی ہیں اور جیسے کہ علامہ شوکانی توضیح میں لکھتے ہیں۔

پھر مختار مدعاعلیہ نے تحفہ گولڑویہ کی چند احادیث کے مضامین بیان کئے ہیں جن میںدابۃ الارض وغیرہ کی بھی حدیثیں ہیں نامعلوم کہ مختار مدعاعلیہ دجال وغیرہ کی حدیثوں کو پیش کرکے کیا ثابت کرناچاہتاہے۔ غالباً وہ ان احادیث کو پیش کرکے ان کے الفاظ ظاہری معانی پر استعجاب اور بعید از عقل ہونا دکھلانا چاہتاہے۔ ’’مگر جو جماعت مرزا صاحب کے مریم ہونے پھر حاملہ ہونے پھر وضع حمل کے لئے جزع کی طرف جانے اور پھر مریم سے عیسیٰ پر ایمان رکھتی ہو۔‘‘ ان احادیث پر کیوں استعجاب ہوتاہے۔

پھر مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے وہ اقوال پیش کئے ہیں جن میں احادیث کی عظمت اور علو مرتبت بیان کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ مسئلہ میں یہی اختیار کیا جس کی مذمت ہے۔ اس کی مدح بھی موجود ہے جس کو صاف الفاظ میں بھی کہنا پڑتاہے۔

حدیث: ’’فاعرضوا علیٰ کتاب اللہ ‘‘

اعجاز احمدی میں مرزا صاحب نے ان احادیث کو ردی میں پھینکنے کا حکم دیا مرزا صاحب پر توہین احادیث کا الزام قائم کیا تو مختاران مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے حکم کی وجہ اصول کتب کی بیان کردہ ایک حدیث کو پیش کیا۔ جرح میں دریافت کیا گیا تو اس حدیث کو کتب

432

حدیث میںسے کسی کتاب کا حوالہ نہ دے سکے۔ سند دریافت کی گئی کوئی نہ بتلا سکے۔ مجموعہ الفوائد سے شوکانی کا یہ قول اس حدیث کے متعلق پیش کیا گیا۔ وضعتہ الزنادقۃ تو کوئی اس پر جواب نہ بن آیا۔ شوکانی نے اس حدیث کو موضوع زنادقہ کہا۔ یعنی اس پر مندرجہ ذیل جروح پیش کی گئیں۔

۱… یہ احادیث کی کتب میں مروی نہیں۔

۲… حدیث بلا سند ہے جو غیر معتبر اس پر عبد اللہ بن مبارک کا قول صحیح مسلم سے پیش کیا گیا۔

۳… شوکانی نے فوائد المجموعہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کو زنادقہ نے وضع کیاہے۔

۴… شوکانی نے فوائد میں کہا ہے یہ حدیث: قولہ تعالیٰ ما اٰتاکم الرسول‘‘ سے رد ہے۔

مختاران مدعاعلیہ سے کسی کا جواب نہ ہوسکا۔ اب بحث میں بجائے اس کے کہ ہمارے جروح کا جواب دیتے۔ ایک بے فائدہ بحث شروع کردی ہے اور ایسے اقوال پیش کئے گئے جو مسل پر نہیں آئے تاہم اس کا جواب بھی دیتے ہیں۔

اس بحث کا ایک جواب اجمالی عرض کیا جاتاہے کہ یہ حدیث اورا س قسم کی دیگر احادیث کا مفہوم خود اپنی تردید کرتاہے۔ کیونکہ پہلے ہم ان احادیث کو کتاب اللہ پر پیش کرتے ہیں۔ اگر کتاب اللہ کے موافق پڑیں گی تو لیں گے، ورنہ ان کو رد کر دیںگے۔ پس ان احادیث کو جب کتاب اللہ پر پیش کرتے ہیں تو مخالف ہوتی ہیں۔ کیونکہ کتاب اللہ کا ارشاد ہے۔ ’’ما اٰتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا‘‘یعنی جو کچھ حضورa فرمادیں اس کو مان لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔ کلمہ ما عام ہے جو ہر ایک امر کو شامل ہے۔ پس قرآن شریف کی یہ آیت ان احادیث کو رد کرتی ہے۔ جیسا کہ علامہ شوکانی نے فوائد المجموعہ میں تصریح کی ہے۔ پس ان احادیث کا رد ان ہی سے ہوگیا۔

تفصیلی جواب یہ ہے کہ حدیث صحیح اصول دین میں اصل کافی ہے۔ جس طرح قرآن سے احکام ثابت ہوتے ہیں، اسی طرح احادیث سے بھی احکام ثابت ہوتے ہیں اور جیسا کہ قرآن موجب علم وعمل ہے ویسا ہی احادیث۔ ابوداؤد میں حضرت مقدام سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا سن رکھو۔ مجھے قرآن دیاگیا ہے اور اس کے ساتھ ایک ایسی چیز جو اس کی مثل ہے۔ یعنی (حدیث) سن رکھو عنقریب ایک شخص پیٹ بھرا چھپر کھٹ پر بیٹھا یہ کہے گا کہ لوگو! تم (صرف) قرآن کو لازم پکڑو۔ اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ (یعنی جو حکم قرآن میں نہ ہو حدیث میں ہو اس کونہ مانو) حالانکہ جس چیز کو رسولa نے حرام کیا ہے۔ وہ ایسی ہی حرام ہے جو خدا نے حرام کی ہے۔ سن رکھو تمہارے لئے آبادی کے گدھے حلال نہیں اور نہ دانت کاٹنے والے درندہ اور نہ مسلمانوں کی امان وپناہ میں رہنے والے کافر کی کوئی گری ہوئی چیز۔ بجز اس حالت کے کہ وہ اس سے بے پرواہ ہو اور جو شخص کسی قوم کا مہمان ہو، ان پر لازم ہے کہ وہ اسے کھانے کو دیں۔ وہ نہ دیں تو اسے حق پہنچتاہے کہ وہ اپنے کھانے کے مقدار خود بخود ان کے مال سے لے لے۔‘‘

طیبی نے شرح مشکوٰۃ میں کہا: اس حدیث میں بڑی زجر وملامت ہے جو بڑے غصہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس شخص کے لئے جو صرف کتاب اللہ کو کافی سمجھ کر حدیث کے عمل سے بے پروا ہوجائے اور اس کا عمل ترک کردے۔ اس حدیث کو دارمی نے بھی نقل کیا ہے ا ور اس نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ حدیث کتاب کے اجمال وابہام کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

مرزا صاحب نے حق وباطل کو ملایاہے اور مرزا صاحب (تبلیغ رسالت ج۳ ص۳۰۰، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۳۱) میں دجال کی علامت قرار دیتے ہوئے بجز اس کے اور کوئی توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ اگر احادیث کا انکار قرآن کا انکارتھا تو پھر کس نے مرزا صاحب کو مجبور کیا کہ احادیث کو مردوں کی مرویات کہہ کر استخفاف کرتے اور کیوں نہ صاف الفاظ میں کہتے کہ قرآن کے سواء ہمارے ہاتھ کیاہے۔

433

پھر مختار مدعاعلیہ نے بے شمار ایسے حوالہ جات پیش کرکے بحث کو طول دیا ہے جن کا مسل میںذکر تک نہیں۔ جن میں اکثر کا مفہوم یہ ہے کہ مرزا صاحب ان احادیث کو چھوڑتے ہیں جو مرزا صاحب کی وحی کے خلاف ہیں اور بعض حوالہ جات میں ترک احادیث کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مرزا صاحب چونکہ مسیح موعود ہیںاور احادیث مسیح کوحکم قرار دیاگیاہے۔ پس مرزا صاحب کو اختیار ہے کہ جس کو لیں اور جس کو چاہیں رد کردیں۔ وغیرہ! ان حوالہ جات کا اجمالی جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب کا اپنی مزعومہ وحی کے مقابلہ میں احادیث نبویہ کا رد کرنا یہ حدیث نبویہ کی توہین ہے۔

مختار مدعاعلیہ نے اشراق الابصار کا حوالہ پیش کیاہے۔ اس میں نہایت سخت خیانت کی ہے۔ کیونکہ اوّل سے لفظ مع اور آخر سے ’’وہو من اوضع الموضوعات‘‘ کو کاٹ کر مغالطہ دیا۔ حالانکہ اشراق میں تصریح ہے کہ مدخل میں جو حدیث باسناد تحقیقی ہے۔ وہ سخت ترین موضوعات میں سے ہے۔ پھر مختار مدعاعلیہ نے چند احادیث نقل کردی ہیں جن کو اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے ہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ پھر مختار مدعاعلیہ نے محض اپنے خیال ووہم سے یہ جواب دینا چاہاہے کہ حدیث زنادقہ وضع کردہ نہیں ہوسکتی… الخ!

مختار مدعاعلیہ دیدہ ودانستہ مغالطہ دیتاہے۔ کیونکہ ہم نے اصول حدیث کے قواعد پر کبار محدثین کے اقوال سے اس حدیث کا موضوع ہونا ثابت کردیاہے۔ اس کا جواب یہ ہوسکتاہے کہ وہ ائمہ حدیث کے اقوال سے اس کی صحت پیش کرتا۔اس کو یقین تھا کہ ائمہ محدثین اس حدیث کو زنادقہ یعنی بے دینوں کی موضوع حدیث بتاتے ہیں۔ اب مختار مدعاعلیہ محض اپنی بات کرنا چاہتاہے کہ یہ حدیث زنادقہ کی موضوع نہیں ہوسکتی جو قطعاً ناقابل التفات ہے۔

ثانیاً مختار مدعاعلیہ کا قیاس ہی غلط ہے۔ کیونکہ جب کبھی اسلام میں فتنہ اٹھا تصریحات مصطفویہ اور ارشادات نبویہ سے بچنے کے لئے اسی حدیث کو آڑ بنایا معتزلہ کی دار ومدار یہی حدیث ہے۔ فرقہ نیچریہ کے خیالات اور آزادی کا سنگم یہی حدیث ہے۔ عبد اللہ چکڑالوی اسی کو پیش کرتے ہیں اور مرزا صاحب اسی حدیث کے سہارے اپنی مسیحیت اور نبوت کا سکہ رائج کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زنادقہ اور ملحدوں کا یہ اصول ہوچکاہے کہ احادیث اور آثار صحابہ کو بے حقیقت ثابت کرنے میں اس حدیث سے یوں فائدہ اٹھایا جاتاہے کہ قرآن حکیم کے ایک معنی از خود کئے جاتے ہیں اور اس کو قرآن کا متعین معنی فرض کئے جاتے ہیں۔ مگرپھر احادیث میں ان آیات کی جو تفسیر طرق صحیح سے ثابت ہوتی ہے۔ اس کا انکار اس لئے کرلیا جاتاہے کہ یہ حدیث قرآن کے مخالف ہے، اس لئے قابل قبول نہیں۔ اس حدیث سے نہ صرف حدیث صحیحہ کے انکار کا ارتکاب کیا جاتاہے۔ بلکہ اس کے ذریعہ قرآن کے معانی حسب منشاء کئے جاتے ہیں۔

مختار مدعاعلیہ نے اس حدیث کے بے سند ہونے کا ایک نہایت لغو جواب دیا ہے۔ چنانچہ لکھتاہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ جن کتب میں یہ حدیث آئی۔ آیا ان کے مصنفوں نے یہ حدیث وضع کرلی ہے یا فی الواقع اسے رسول کریم کی حدیث سمجھتے ہیں۔ مختار مدعیہ بھی یہی کہے گا کہ انہوں نے صحیح سمجھ کر یہ حدیث نقل کی ہے۔

الجواب: یہ جواب مختار مدعاعلیہ کی ناواقفیت اور کتب حدیث میں عدم بصیرت پر دال ہے۔ کیونکہ احادیث موضوعہ کے موضوع ہونے کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہ نقل کرنے والے اس کو موضوع سمجھیں اور وہ موضوع نہ سمجھیں تو صحیح ہوجائے۔ موضوع کی تعریف اور اس کے احکام کتب اصول حدیث میں مذکور ہیں جن کی بناء پر علماء محدثین اس حدیث کو موضوع قرار دے رہے ہیں۔ مختار مدعاعلیہ سے اگر کچھ ہوسکتاتھا تو اس کی توثیق وتصحیح کرتا۔ ان لوگوں کے اقوال کے برخلاف اکابر محدثین کے نقل پیش کرتا جو اس کو زنادقہ کی موضوع حدیث بتلاتے ہیں۔ نقول صحیح کا جواب نقول سے ہوتاہے نہ محض خیالات اور اوہام سے۔

اصول شاشی میں سے جو حضرت علی کا قول نقل کیاہے۔ اوّلاً تو وہ خود ہی بے سندہے۔ کتب احادیث کا حوالہ نہیں۔ ثانیاً عرض علی

434

الکتاب کا سوال وہاں پیداہوتا جہاں روایت منافق سے ہو۔

عمدۃ الحواشی حاشیہ اصول الشاشی سے جو جواب نقل کیا ہے وہ اس حدیث کی تصحیح نہیں کرتا۔ کیونکہ امام بخاری نے صحیح بخاری میں احادیث کی روایت میں جو صحت کا اہتمام کیا ہے وہ دیگر مصنفات میں نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں نہیں یہ مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ ہے یا نافہمی سے بخاری سے صحیح بخاری مراد لی ہے۔ علامہ تفتازانی نے تلویح میں اس حدیث کے متعلق بہت کلام کی ہے۔ ’’وقد طعن فیہ‘‘ (تلویح ص۲۲۹) میں ہے۔ مولانا بحرالعلوم شرح مسلم الثبوت میں لکھتے ہیںکہ صاحب سفر السعادۃ نے فرمایا کہ یہ حدیث سخت موضوعات سے ہے۔ شیخ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا ہے یہ حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جو گفتگو سے خالی نہیں۔ بعض محدثین نے کہاہے کہ اس کو زندیقوں نے وضع کیا۔ یعنی از خود بنالیا اور نیز یہ اس قول خداوندی کے مخالف… الخ!

علامہ ابن طاہر پٹنی صاحب مجمع البحار تذکرہ میں فرماتے ہیں کہ ان اصولیوں نے جو آنحضرتﷺ کایہ قول نقل کیاہے۔

مزی نے اس حدیث کی جس دوسری حدیث سے تائید ظاہری کی ہے۔ اوّلاً تو موضوعات کی کسی دوسری حدیث کی تائید سے صحیح نہیں ہوجاتیں۔ ثانیاًجس حدیث کو تائید میں پیش کیا جاتاہے اس کا حال پہلی حدیث سے اچھا نہیں۔

اس لئے تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ حدیث قرآن حکیم کے معانی کی تعیین اور وجوہات واختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ کیونکہ حدیث بمنزلہ خادم کے ہے۔ خدمت کرنا خادم کاکام ہے نہ کہ مخدوم کا۔

چنانچہ مختار مدعاعلیہ کے مسلم بزرگ شعرانی مسیح المبین میں لکھتے ہیں کہ امت محمدیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ حدیث قرآن مجید کی وجوہ مختلف کی فیصلہ کرنے والی ہے۔ نمبر۱: ’’اجتمعت الامۃ علی ان السنۃ قاضیۃ علی کتاب اللہ ‘‘ (سنن دارمی ص۷۷)

پھر مختار مدعاعلیہ نے میری جرح جو اس حدیث کی سند کے متعلق تھی، اس کا جواب اس طریق پر دیاہے کہ جس سے معلوم ہوتاہے کہ سند کوئی چیز نہیں اور ائمہ جرح وتعدیل کی تصریحات کا کوئی اعتبار نہیں۔ کسی جرح سے کوئی مجروح نہیں ہوا نہ کسی توثیق وتعدیل سے کسی کو قوت حاصل ہوتی ہے جس سے مختار مدعاعلیہ کا مطلب صاف ہے کہ امت نے جس چیز کو آج تک معیار صحۃ وضعف حدیث سمجھا وہ لغو ہے۔ گویا جرح وتعدیل کا سرے سے اعتبار نہیں۔ جو شخص جس حدیث کو اپنے مطابق پائے قبول کرلے اور جس کو خلاف پائے انکار کرلے، اس اصول پر مراتب حدیث اور اس کی تمیز بھی ناممکن ہوجائے۔

قیامت کے متعلق

مختار مدعیہ نے اس ہیڈنگ کے تحت دو آیتیں: ’’قل انما علمہا عند ربی… الخ!‘‘اور ’’ان ﷲ عندہ علم الساعۃ‘‘اور ایک مسلم اور بخاری کی متفق علیہ حدیث ’’فی خمس لا یعلمہن الا اللہ ‘‘سے یہ ثابت کیاتھا کہ قیامت کا علم صرف خدا ہی کوہے اور کسی کو نہیں۔ کیونکہ احادیث اور تفاسیر میں ’’استاثرہ اللہ ‘‘ کا لفظ آیاہے کہ اس کا علم صرف خدا نے اپنے واسطے تنہاء بلا شرکت غیر رکھاہے اور مرزا صاحب (لیکچر سیالکوٹ ص۸، خزائن ج۲۰ ص۲۰۹) پر اس کے خلاف یہ لکھتے ہیں کہ: ’’یہ صحیح نہیں ہے جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قیامت کا کسی کو علم نہیں۔‘‘ جس سے نصوص قطعیہ کا انکار اور قرآن سے لا علمی ظاہر ہورہی ہے۔ مختار مدعاعلیہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے عدالت کو مغالطہ دیناچاہاہے کہ مرزا صاحب کا اس سے مقصد جو مختار مدعیہ لے رہاہے وہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد مختار مدعاعلیہ نے اپنے لفظوں میں یہ بتایا کہ: ’’یہ صحیح نہیں کہ قیامت کا کسی وجہ سے بھی کسی کو علم نہیں بلکہ علامات وآثار قیامت کے ذریعہ سے ایک قسم کا علم حاصل ہوتاہے۔‘‘ جس سے یہ ثابت کرناچاہاہے کہ مرزا صاحب کا بھی یہی مقصدہے۔ حالانکہ عبارت (ص۸، خزائن ج۲۰ ص۲۰۹) کی بالکل صاف اور صریح ہے اور اسے یہ مقصد جو مختار مدعاعلیہ لے رہاہے بالکل نہیں نکلتا۔ مرزا صاحب صاف یہ فرمارہے ہیں کہ: ’’یہ صحیح نہیں ہے۔ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ

435

قیامت کا کسی کو علم نہیں

یہاں قیامت کے علم کے متعلق سوال ہے نہ علامات قیامت۔ قیامت سے علامات قیامت مراد لینا غلط ہے۔

ہاں!البتہ (لیکچر سیالکوٹ ص۹، خزائن ج۲۰ ص۲۱۰) پر ایک فقرہ اس قسم کا موجود ہے جس میں علامات قیامت ہیں۔ مگر وہ فقرہ اس کی شرح ہر گز نہیں بن سکتا۔ کیونکہ (ص۱۰ )پر لکھتے ہیں: ’’اسی طرح دنیا کے خاتمہ پر گو اب ہزار سال باقی ہے۔ لیکن اس گھڑی کی خبر نہیں۔ جب قیامت قائم ہوگی۔‘‘ خط کشیدہ جملہ گو اب ہزار سال باقی ہے قابل غور ہے کس صفائی کے سا تھ قیامت کی تعیین ہورہی ہے۔ اسی وجہ سے مختار مدعاعلیہ نے (ص ۹، خزائن ج۲۰ ص۲۱۰) کا تو حوالہ دیا مگر (ص۱۰، خزائن ج۲۰ ص۲۱۱) کو چھوڑ دیا جس سے اس کے جواب کی اصل حقیقت کا پردہ فاش ہوتاتھا۔ لہٰذا مختار مدعیہ کا یہ دعویٰ کہ مرزا صاحب قیامت کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ اس کا علم کسی کو نہیں (ص۲۰، خزائن ج۱۰ ص۲۱۱) کی اس عبارت سے کہ اب قیامت سے ہزار سال باقی ہے، بالکل واضح ہوجاتاہے اور یہ الزام کہ یہ عقیدہ نصوص قطعیہ کے خلاف ہے بحالہ باقی رہا۔

علاوہ ازیں اگر تھوڑی دیر کے لئے قول مختار مدعاعلیہ کوتسلیم ہی کرلیا جائے جب بھی اس کو مفید نہیں۔ کیونکہ اوّل تو نصوص قطعیہ قرآن اور حدیث سے جن علامات کا پتہ چلتا تھا۔ مثلاً خروج دجال، یاجوج وماجوج ونزول عیسیٰ بن مریم۔ وغیرہ وغیرہ! ان سب سے مرزا صاحب منکر ہیں اور دجال اور یاجوج وماجوج سے کبھی تو پادری اور کبھی قوم نصاریٰ اور کبھی روس اور برطانیہ کی توہین مراد لے رہے ہیں جو بعثت نبی کریمa سے پہلے موجود ہیں اور بعض خود ساختہ علامتیں جوخود بیان فرمارہے ہیں۔ مثلاً: ’’آخری زمانہ میں بکثرت نہریں جاری ہوں گی۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۹، خزائن ج۲۰ ص۲۱۰)

’’کتابیں بہت شائع ہوں گی جن میں اخبار شامل ہے۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۹، خزائن ج۲۰ ص۲۱۰)

’’اونٹ بیکار ہوجائیں گے۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۹، خزائن ج۲۰ ص۲۱۰)

ان علامات کو بیان کرنے کے بعد میں لکھتے ہیں اور ’’سوہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہمارے زمانہ میں پوری ہوگئیں۔‘‘

اور پھر اس کے بعد (لیکچر سیالکوٹ ص۱۰، خزائن ج۲۰ ص۲۱۱) پر اس کے متعلق لکھتے ہیں: ’’اسی طرح دنیا کے خاتمہ پر گو اب ہزار سال باقی ہے۔‘‘

تو اس میں علامات نصوص قطعیہ کا انکار اور خود ساختہ علامتوں کے پورا ہوجانے کے بعد قیامت کی تعیین ہزار سال کے ساتھ کررہے ہیں۔ اس سے بھی مختار مدعیہ کا اعتراض اور بھی قوی ہوجاتاہے اور جواب مختار مدعاعلیہ کو اور اس کی تاویل کی حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے۔

عقیدہ اوتار

اوتار کے متعلق بلا وجہ غیر مربوط جوابوں اور بے ربط دلائل سے طول دیا۔ حالانکہ معاملہ صرف اس قدرہے کہ اوتار کے معنی صرف یہ ہے کہ خدا کسی کے اندر اترآئے یا حلول کرے یا عبادت کرتے کرتے اس مرتبہ کو پہنچ جائے کہ خدا اس کے روپ میں نمودار ہو۔ وغیرہ وغیرہ!

یہ اہل ہنود کا اصطلاحی لفظ ہے اور اس کی تعریف ان کی مستند کتاب گیتا فارسی میں ہے۔

  1. چون بنیاد دین سست گرد بسے

    نمایئم خود رابشکلے کسے

مرزا صاحب نے اپنے آپ کو اہل ہنود و آریوں کے مقابلہ میں انہیں کی اصطلاح کے مطابق اوتار کہا ہے اوریہ اوتار کا عقیدہ اسلام میں کفریہ عقیدہ ہے۔ جیسا کہ اپنی جگہ پر موجود ہے۔

مرزا صاحب کے حوالے اپنے اوتار ہونے کے متعلق۔

۱… اوربرہمن خدا تیرے اندر اترآیا۔

(کتاب البریہ ص۷۶، خزائن ج۱۳ ص۱۰۲)

436

۲… برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔

(حقیقت الوحی ص۹۷، خزائن ج۲۲ ص۱۰۱)

۳… ایسا ہی میں ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں۔

(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)

کرشن کے متعلق (حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۳۲۱، لیکچر سیالکوٹ ص۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۹) کے حوالے اس سے زائد اس پر بحث کی ضرورت ہی نہیں۔

مرزا صاحب کے اقوال میں تعارض نہیں

قول مختار مدعاعلیہ کہ مختار مدعیہ نے مغالطہ سے کام لیا ہے اور مرزا صاحب کے کلام (ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲) کہ میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاہے جس کو کم فہم لوگوں نے مسیح موعود سمجھ لیاہے اور (تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵) کے دعویٰ مسیح موعود میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ کیونکہ ازالہ اوہام میں بھی مسیح موعود کا دعویٰ موجود ہے اور اس پر چار حوالے پیش کرکے کہا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے خیال کی بناء پر مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ نہ وہی مسیح ابن مریم۔ گویا مختار مدعاعلیہ کے خیال میں مسیح موعود ہونے کی نفی مرزا صاحب نے ان علماء کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے کی ہے جو مرزا صاحب کو اصلی عیسیٰ بن مریم صاحب انجیل ہونے کا مدعی سمجھ بیٹھے تھے۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ کی یہ توجیہہ بالکل غلط اور جھوٹ محض ہے جو اس نے خلاف واقعہ مسلمانوں کا اپنی طرف سے ایک خیال گھڑ کر مرزا صاحب کے تعارض کو رفع کرنے کے لئے ایجاد کی ہے۔ کیا اس امر کا کوئی ثبوت ہے کہ علماء مرزا صاحب کو اس امر کا مدعی سمجھتے تھے کہ آپ بعینہٖ وہی عیسیٰm جو انیس سوسال پہلے بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے۔ یہ تو بداہۃً باطل اور افتراء ہے۔ کسی نے بھی مرزا صاحب کا یہ دعویٰ نہیں سمجھا تھا۔ بلکہ علماء کا یہی خیال تھا کہ مرزا صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بوجہ مشابہت کیاہے اور اصلی عیسیٰm کو آپ فوت شدہ سمجھ کر اپنے آپ کو وہی مسیح موعود سمجھتے ہیں جس کے نزول کی خبر نصوص اسلامیہ میں دی گئی ہے۔ مرزا صاحب خود کئی جگہ لکھتے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص۶، خزائن ج۳ ص۱۰۵) پرہے کہ: ’’مشابہت کے لئے جو مسیح کی پہلی زندگی کے معجزات طلب کئے جاتے ہیں۔‘‘ اس سے صاف ثابت ہوگیا کہ علماء نے آپ کو اصلی عیسیٰ ابن مریم کا مدعی نہیں سمجھا، بلکہ بوجہ مشابہت مسیح موعود ہونے کا مدعی سمجھا تھا۔ لیکن مرزا صاحب نے یہاں پر اپنے مسیح موعود ہونے کا انکار کردیا اور مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاجس طرح کہ براہین میں دعویٰ تھا کہ میں صرف مثیل مسیح ہوں نہ کہ مسیح موعود۔

۱… مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ ازالہ میں بھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ موجود ہے۔ ہمیں اس سے کیا نقصان ہے، بلکہ ہم کہتے ہیں یک نہ شد دوشد۔ اثبات تعارض کے لئے تحفہ گولڑویہ تک جانے کی ضرورت بھی نہ رہی اور اسی کتاب میں تعارض ثابت ہوگیا۔ ہاں! البتہ تحفہ گولڑویہ کے زمانہ تک مرزا صاحب کبھی آگے کبھی پیچھے قدم رکھنے کے حدود سے گزر چکے تھے۔

۲… قول مختار مدعاعلیہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰm کے متعلق نہیں لکھا کہ وہ اس معنی کے لحاظ سے امتی ہیں جس معنی سے (براہین حصہ پنجم ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴) میں ان کو امتی قرار دینا کفر لکھاہے۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ کا یہ جواب ناکافی ہے جو مختار مدعیہ کے بیان کردہ تعارض کو رفع نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اس نے اس سے انکار نہیں کیا کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰm کو امتی قرار دیاہے جس سے تسلیم مفہوم ہوئی۔ اب رفع تعارض تو تب ہوتاکہ (ازالہ اوہام ص۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۶) میں مرزا صاحب کے حضرت عیسیٰm کو امتی قرار دینے کے یہ معنی ہیں اور ان کو امتی قرار دینا تو کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر اس کا یہ کہنا کہ ازالہ اوہام میں بھی ان کے امتی نہ ہونے کی تصریح کردی ہے اور یہ تعارض کو پختہ کرناہے نہ یہ کہ رفع تعارض۔

۳… قول مختار مدعاعلیہ:

437

مختار مدعیہ کا یہ تعارض کہ آنے والا ابن مریم نبی نہیں ہوگا۔جیسا کہ (ازالہ ص۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۶) میں ہے اور آنے والا مسیح نبی ہوگا۔ جیسا کہ (حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱) میں ہے یہ بھی مغالطہ ہے۔ کیونکہ جیسے حقیقت الوحی میں آنے والے کا نشان … ہوتاہے۔ ایسا ہی ازالہ اوہام میں ہے۔ پھر ازالہ اوہام کے دو حوالے پیش کئے ہیں۔ ایک (ص۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۶) کا، دوسرا (ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳) کا۔

الجواب: مختار مدعیہ نے کوئی مغالطہ نہیں دیا، بلکہ مختار مدعاعلیہ خود مغالطہ دے کر تعارض کو رفع کرناچاہتاہے جو ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ پہلے حوالہ میں جو مختار مدعاعلیہ نے پیش کیا اس میں اگر لفظ نبی اللہ موجود ہے۔ مگر مرزا صاحب نے خود اس کی تفسیر کردی ہے کہ اس سے نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے۔ بالفاظ دیگر محدثیت ہے نہ نبوت۔ لیکن حقیقت الوحی میں نبوت مراد ہے نہ محدثیت تو تعارض رفع نہ ہوا بلکہ بحال رہا۔ مختار مدعاعلیہ نے اپنے حوالے کا پورا مطلب نہ بیان کرکے دھوکادیاہے۔ اسی طرح حوالہ (ازالہ اوہام ص۷۰۱، خزائن ج۲۳ ص۴۷۸) میں بھی صاف تصریح کی گئی ہے کہ نبی اللہ سے مراد امتی ہے جو محدثیت کا درجہ رکھتاہو نہ نبی اللہ ۔ حقیقتاً جیسا کہ حقیقت الوحی میں مراد ہے اس حوالہ میں بھی مختار مدعاعلیہ نے دھوکادیاہے اور تعارض ویسے کا ویسا موجود ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ محدثیت نبوت سے نیچے اور لوگوں سے اوپر ایک برزخ کا سامقام ہے۔ (ازالہ اوہام ص۵۷۰، خزائن ج۳ ص۴۰۶) محدث نبی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ نبوت کے دروازے بندہوچکے ہیں۔ (حمامۃ البشریٰ ص۸۱،۸۲، خزائن ج۷ ص۳۰۰) میں ہے: ’’ولولم یکن سد باب النبوۃ لکان نبیاً بالفعل‘‘ یعنی اگر دروازہ نبوت بند نہ ہوگیا ہوتا تو محدث بھی نبی ہوجاتا۔

پس دعویٰ محدثیت سے جو ازالہ میں دعویٰ نبوت جو(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱) میں ہے، لازم نہیںآتا۔ چنانچہ مرزا صاحب اسی (ازالہ ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰) پر لکھتے ہیں: ’’سوال: رسالہ فتح اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیاہے۔‘‘

اما الجواب: دعویٰ نبوت نہیں بلکہ دعویٰ محدثیت ہے جو خداتعالیٰ کے حکم سے کیاگیاہے۔ (الیٰ) تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آگیا۔ غرض مختار مدعاعلیہ نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور تعارض بدستور ہے۔

۴… مختار مدعیہ کی طرف سے اعتراض تھا کہ مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں لکھاہے کہ نبوت کا دعویٰ نہیں اور(بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷) میں ہے کہ ہمارا دعویٰ ہے ہم نبی اور رسول ہیں۔

اس تعارض کا جواب مختار مدعاعلیہ نے یہ دیا ہے کوئی تعارض نہیں ہے۔ کیونکہ جہاں دعویٰ ہے کہ نبی ہیں وہاںنبوت غیر تشریعی مراد ہے اور جہاں نبوت کی نفی ہے، وہاں نبوت مستقلہ کی نفی ہے۔ پس کوئی تعارض نہ رہا اور جس قسم کی نبوت کا دعویٰ بدر میں کیاگیاہے۔ اس سے آپ نے کبھی انکار نہیں کیا۔ جیسا کہ آپ نے (ایک غلطی کاازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷) میں تصریح فرمادی ہے۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ اور مرزا صاحب نے ایک غلطی کا ازالہ میں جو کہا ہے سب جھوٹ ہے جس میں ایک ذرہ بھی سچ کا شائبہ نہیں ہے۔ مرزا صاحب ہمیشہ نبوت کا انکار کرتے رہے۔ البتہ محدثیت کا دعویٰ کرتے رہے جس کو وہ کبھی جزوی نبوت، مجازی نبوت اور کبھی شعبہ نبوت اور کبھی ناقص نبوت وغیرہ الفاظ سے تعبیر کرتے رہے اور نبوت حقیقی کا بلا تخصیص تشریعی غیر تشریعی اور مستقل غیر مستقل کے انکار کرتے رہے۔ اس قسم کے حوالے اس مقدمہ میں پیش ہوچکے۔ ابھی جو حوالے ازالہ اوہام وغیرہ کے گزرچکے ہیں۔ان میں سے صاف طور پر سمجھا جاتاہے کہ محدثیت اور چیزہے اور نبوت اورچیزہے۔ محدثیت کا مفہوم محدود ہے جو نبوت سے نیچے بطور برزخ کے ہے۔ مرزاصاحب نے یہ بھی تصریح کردی تھی کہ محدث اس امت میں کئی ہوئے من جملہ ان کے حضرت عمرq ہیں جن کی محدثیت کی نص آچکی ہے اور یہ بھی تصریح کردی کہ ختم نبوت کے بعد کوئی محدث نبی نہیں ہوسکتا۔ اگر باب نبوت بند نہ ہوگیا ہوتا تو حضرت عمرq بھی نبی ہوتے اور محدث کا نبی نہ

438

ہوسکنا بھی باب نبوت کے مسدود ہوجانے کے وجہ سے ہے۔

(حمامۃ البشری ص۸۱،۸۲، خزائن ج۷ ص۳۰۰)’’وانی و اللہ آمن ب اللہ ورسولہ (الی) من مکمن القوۃ الی خیر الفعل‘‘اور اس سے پہلے اسی (ص۸۱، خزائن ج۷ ص۳۰۰) پر لکھتے ہیں کہ میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ مقام تحدیث مقام نبوت سے مشابہ ہوتاہے (جس کا میں نے دعویٰ کیاہے) تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ شخص نبوت کا دعویٰ کرتاہے۔ یہ خالص جھوٹ ہے جس میں سچ کا شائبہ بھی نہیں اور نہ اس کی کوئی اصل ہے۔ انہوں نے محض میری تکفیر اور سب ولعن طعن کرانے کے لئے یہ جھوٹ گھڑ لیاہے۔ ملاحظہ ہو: ’’وانی کتبت فی بعض کتبی (الی) ویفرقوا بین المومنین‘‘

یہی مضمون (ص۲۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷) میں ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ مجھ کو کیا ہوگیا ہے کہ میں دعویٰ نبوت کروں اور اسلام سے بالکل نکل جاؤںاور کافروں میں مل جاؤں اور (ص۸۳، خزائن ج ۷ ص۳۰۲) میں ہے کہ اے بھائی خیال بھی نہ کر کہ میں نے کوئی ایسا کلمہ کہا ہے جس میں سے دعویٰ نبوت کی بو بھی آتی ہو۔’فلا تظن یا اخی (الی) راعۃ ادعأ النبوۃ‘‘

غرض مرزا صاحب کی کتابوں سے اگر انکار نبوت کے حوالے نقل کئے جائیں تو ایک کتاب تیار ہوجاتی ہے۔

جس میں کوئی تفریق اس بات کی موجود نہیں کہ میں مستقل نبوت یا تشریعی نبوت سے انکار کرتاہوں اور غیر مستقل اور غیر تشریعی کا مدعی ہوں۔ پس صرف اسی نبوت کا دعویٰ تھا جو محدثیت کے مرادف ہے۔ جس میں دوسرے محدث حضرت عمر وغیرہ بھی مرزا صاحب کے شریک ہیں۔ ایسی ہیر پھیر کرتے کرتے جب مرزا صاحب نے دیکھا کہ مرید ہر بات کو سہارنے اور سہنے لگ گئے ہیں تو جھٹ محدثیت سے اوپر نبوت حقیقی کا دعویٰ کردیا اور نبوت کے بند دروازے کو توڑ کر اندرجاگھسے۔ ایسے صاف اور صریح بے شمار دفعہ انکار کے بعد مرزا صاحب اور مختار صاحب کا یہ کہہ دینا کہ ہم نے کبھی نبوت حقیقی غیر تشریعی سے انکار نہیں کیا۔ وہ جھوٹ ہے۔ جس کی نظیر دینا میں تلاش کرنی عبث ہے اور مختار مدعیہ کا الزام تناقض بدستور قائم اور بحال ہے۔

قول مختار مدعاعلیہ:

مختار مدعیہ کا یہ کوئی نیا اعتراض نہیں کہ مرزا صاحب نے لوگوں کی برداشت کو دیکھ کر اپنے دعوؤں میں ترقی کی ہے۔ پہلے انبیاء پر بھی یہی اعتراض کیا گیا ہے۔

الجواب: یہ بالکل غلط ہے۔ پہلے انبیاء پر اس طرح کا اعتراض نہ کسی نے کیا اور نہ ہوسکتاہے۔ کیونکہ کوئی نبی تدریجاً نبی نہیں بنا۔ جیسا مرزا صاحب کہ پہلے جزوی نبی بنے، محدث بنے، ایک پہلو سے نبی، دوسرے سے امتی، مجازی نبی، پھر کلی نبی ہوئے۔ پہلے آدھے نبی تھے پھر سارے نبی بن گئے۔ مجازی سے حقیقی ہوگئے۔ وغیرہ وغیرہ! یہاں تک کہ عین محمد اور حقیقی طور پر خاتم النّبیین ہوگئے اور پہلے جن باتوں کو کفر جانتے تھے انہیں باتوں کا دعویٰ کرکے ان کو ایمان کہنے لگے۔

قول مختار مدعاعلیہ:

اور چونکہ انبیاء کو اپنی بڑائی کا کچھ خیال نہیں ہوتا۔ اس لئے وہ ان خطابات کو جو خداتعالیٰ کی طرف سے ان کو ملتے ہیں اپنے لئے استعمال کرنے میں نہایت احتیاط سے کام لیتے ہیں اور ہر پہلو پر غور کرتے ہیں اور ابتدا ء میں ڈرتے بھی ہیں کہ مبادا یہ ان کے نفس کا ہی دھوکا ہو۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ کا یہ قول بالکل غلط ہے اور سراسر افتراء اور کفر عظیم ہے اور یہ اصول جو اس نے وضع کیا ہے تمام کارخانہ نبوت کو درہم برہم کردیتاہے۔ کیونکہ اس سے صاف ثابت ہوتاہے کہ انبیاء کو اپنے دعویٰ نبوت اور خداتعالیٰ کے اس کلام پر جس سے ان کو نبی بنانے کی اطلاع دی جاتی ہے یقین نہیں ہوتا کہ یہ سچ مچ خداتعالیٰ کا کلام ہے۔ بلکہ ان کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ یہ نفس کا دھوکا ہے۔ نہ وحی رہی گویا

439

ان کو اتنی شناخت کی قوت نہیں ہوتی کہ وحی الٰہی اور دھوکہ نفس میں تمیز کرسکیں۔ اگر بقول مختار مدعاعلیہ یہ بات تسلیم کرلی جائے تو ہرایک وحی الٰہی پر جو ان کو ہوگی، یہی احتمال قائم ہوگا۔ جس سے وحی الٰہی کا شکی اورظنی ہونا ثابت ہوگیا اور انبیاءo کی کوئی وحی بھی بوجہ ظنی ہونے کے واجب الیقین والایمان نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’وان الظن لایغنی من الحق شیئا‘‘

یعنی ظن مفید یقین نہیں ہوسکتا۔ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کی ذات پر مختار مدعیہ کا اعتراض اٹھانے کے لئے تمام انبیاء پر ہاتھ صاف کردیا اور کارخانہ نبوت کو درہم برہم کردیا اور کفر عظیم کا ارتکاب کیا اور اس کے اس اصول سے تمام انبیاء کی نبوت کا ہی ابطال ہوگیا۔

ہم کہتے ہیں کہ یہ سراسر افتراء اور مخالف اور مکذب قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتاہے کہ:’’وماینطق عن الہویٰ ان ہوالاوحی یوحی (النجم)‘‘ اور فرماتاہے: ’’اٰمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون (البقرۃ:۲۸۵)‘‘ نیز فرماتاہے:’’فانہ یسئلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدالیعلم ان قد ابلغوا رسالات ربہم (جن:۲۷،۲۸)‘‘ جن کا صاف مفہوم یہ ہے کہ انبیاءo کی وحی میں خواہش نفسانی کو دخل نہیں ہوتا اور وہ ملائکہ کی حراست میں پہنچائی جاتی ہے اور انبیاء پر ایمان ہوتاہے۔ نہ شک وشبہ اور بقول مختار مدعاعلیہ اگر ان کو منصب نبوت پر ہی یقین نہیں ہوتا بلکہ نفس کے دھوکا ہونے کا ڈر ہوتاہے تو پھر بحکم :

  1. خشت اول چوں نہد معمار کج

    تا ثریا میرود دیوار کج

سارا نبوت کا کارخانہ ہی بے اعتبار ہوگیا۔

مختار مدعاعلیہ نے کوئی حوالہ کسی نبی کا اس بارہ میں پیش نہیں کیا کہ دیکھو اس کو اپنے نبی ہونے میں مرزا صاحب کی طرح پندرہ بیس سال تک تردد رہا۔نہ صرف تردد بلکہ اس کا انکار کرتارہا ہو۔ ہاں! صرف ایک مثال پیش کی ہے۔یعنی صرف سید المرسلین خاتم النّبیینa جس کا جواب آگے آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! لیکن ہم اس سے پہلے مرزا صاحب کے چند حوالے اس مضمون پر پیش کرتے ہیں کہ مختار مدعاعلیہ نے جو کچھ بیان کیا ہے۔ اگر اس کوصحیح تسلیم کرلیا جائے تو نبوت انبیاء باطل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ جس شخص کو نبوت ملتی ہے اور وہ وحی الٰہی کا مورد ہوتاہے تو اس کو مطلقاً کوئی تردد اور شک نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ شک کو کفر سمجھتاہے اور جس کو نفس یا شیطان کا دھوکا کا دل میں خیال وتردد ہو، وہ درحقیقت شیطانی وحی ہوتی ہے نہ وحی الٰہی۔

مرزا صاحب (نزول المسیح ص۸۶، خزائن ج۱۸ ص۴۶۴) پر لکھتے ہیں: ’’اگر ایک کلام انسان سنے یعنی اس کے دل پر پہنچے اوراس کی زبان پر جاری ہو اور اس کو شبہ باقی رہ جائے کہ شاید شیطانی آواز ہے یا حدیث النفس ہے تو درحقیقت وہ شیطانی آواز ہوگی یا حدیث النفس ہوگی۔ (الی) بجائے خود ایک معجزہ قرار دیتاہے۔‘‘

اسی حوالہ کے اندر ہے: ’’کیونکہ خدا کاکلام جس قوت اور روشنی اور تأثیر اور لذت اور خدائی طاقت اور چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ دل پر نازل ہوتاہے وہ خود یقین دلا دیتاہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔‘‘ اور اسی حوالہ میں ہے: ’’اس لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ ایسی وحی کے مورد کے دل میں شبہ پیدا ہوسکے۔ بلکہ وہ شبہ کوکفر سمجھتاہے۔‘‘

اس کے ساتھ ملاحظہ ہو (نزول المسیح ص۸۹، خزائن ج۱۸ ص۴۶۷) مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’مگر ابھی ہم لکھ چکے ہیں۔ (الی) کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔‘‘ اور (ص۱۱۴،۱۱۵، خزائن ج۱۸ ص۴۹۲) پرہے: ’’اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ پھر رحمانی الہام کی نشانی کیا ہے۔ (الی) کیونکہ شیطان اس سے بازی کرتاہے اور چاہتاہے کہ اس کو ہلاک کرے۔‘‘

خلاصہ: مطلب ان حوالہ جات کا یہ ہے کہ وحی الٰہی کے ساتھ ایک ایسی قوت اور نور اورلذت اور تأثیر وغیرہ وغیرہ ہوتی کہ مورد وحی کو اس کے منجانب اللہ ہونے کاکامل یقین ہوجاتاہے اور کسی قسم کا شک یا شبہ نفسانی یا شیطانی وسوسہ اس کے دل میں باقی نہیں رہ جاتا، بلکہ وہ ایسے

440

شبہ کو کفر سمجھتاہے۔

ان حوالہ جات کے بعد مختار مدعاعلیہ کے قائم کردہ اصول کا وہ نتیجہ جو ہم نے بیان کیا ہے۔ روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کی حمایت میں آکر تمام انبیاء کی نبوت کا ابطال اور قرآن کریم کی تکذیب کی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی کفر متصور نہیں ہوسکتا۔

قول مختار مدعاعلیہ:

چنانچہ تدریجی دعویٰ کی مثال خود آنحضرتﷺ کی ذات مبارک میں ہمیں ملتی ہے۔ سب سے پہلے جب آپ پر غار حراء میں فرشتہ کا ظہور ہوا اور اس نے آپ کو خوب بھینچا اور تین بار پڑھنے کے لئے کہا اور ’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘ کی وحی آپ پر نازل ہوئی تو آپ کاپنتے ہوئے دل کے ساتھ خدیجہt کے پاس آئے اور کپڑا اوڑھانے کے لئے ان سے ارشاد فرمایا اور جب کچھ تسلی ہوئی تو فرمایا: ’’ولقد خشیت علی نفسی‘‘

(بخاری ج۱ ص۳)

یعنی میں ڈرا میرے نفس کا دھوکہ نہ ہو یا اپنی جان کا خوف ہو… الخ!

الجواب: اس قول میں مختار مدعاعلیہ نے مندرجہ ذیل باتیں کہی ہیں:

۱… آنحضرتﷺ نے اپنی نبوت کا دعویٰ تدریجاً کیاہے۔

۲… آنحضرتﷺ کو جب جبرئیلm نے پہلی دفعہ غار حراء میں آکر تین دفعہ بھینچا اور قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں آنحضرتﷺ پر نازل ہوئیں تو حضورگھرتشریف فرماہوئے اور کاپنتے کاپنتے حضرت خدیجہt سے فرمایا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔

۳… پھر کچھ تسلی ہونے پر فرمایا کہ مجھے جو کچھ پیش آیا یعنی جبرئیل کا آنا اور قرآن کی آیتوں کا نازل ہونا یہ میرے نفس کا دھوکا ہی نہ ہو مجھے یہ اندیشہ اور ڈر ہے۔

۴… اس کے بعد خدیجہt آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جس نے آپ کو کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا تو آپ کو حقیقت حال معلو م ہوئی کہ درحقیقت یہ فرشتہ تھا اور وہ آیتیں وحی الٰہی تھیں۔

۵… لیکن پھر بھی آپ کو پورا یقین نہ آیا اور فترت الوحی کے زمانہ میں اپنے آپ کو پہاڑ کی چوٹیوں سے گرانے کا بار بار ارادہ کیا۔ لیکن ہر بار جبرائیل آکر تسلی دیتاتھا کہ اے محمدa تم اللہ کے سچے رسول ہو۔

۶… پھر آنحضرتﷺ کے ان واقعات کو بیان کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے اور اس کو رسول قراردیا ہے کہ انبیاء کو ابتدائً اپنے دعویٰ کی شناخت میں بڑی مشکلات ہوتی ہیں اور جب تک بارش کی طرح ان پر متواتر وحی نہ ہو، اپنے دعویٰ نبوت کی صحت کا ان کو یقین نہیں ہوتا۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ نے مرزا صاحب کے تدریجی دعوی کے لئے جو اصول وضع کیا تھا جس سے تمام انبیاء کی نبوتوں کا ابطال ایک لازمی امر ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔ اس کی مثال مختار مدعاعلیہ کو کہیں نہ ملی اور حضرت آدمm سے حضرت عیسیٰm تک کوئی نبی اس کو ایسا نہ ملا جس سے وہ اپنے اس کفریہ اصول کا ثبوت دیتا تو سیدا لمرسلین خاتم النّبیینa کی ذات گرامی کو اس نے بڑے تکلف اور افتراء کے ساتھ (معاذ اللہ ) اس لعنتی عقیدہ کی مثال قرار دیا۔گویا دنیا میں بقول اس کے یا مرزا صاحب تدریجا نبی بنے ہیں یا (معاذ اللہ ) آنحضرتﷺ۔ صحیح بخاری کی جس حدیث کی دستاویز سے اس نے یہ افتراء کیاہے اور اس کے فقرہ ’’ولقد خشیت علی نفسی‘‘ میں تحریف کرکے اس نے آنحضرتﷺ کی نبوت کا ابطال کی دلیل قائم کی ہے۔ یہ درحقیقت اس کی محض ذاتی رائے نہیں ہے۔ بلکہ یہ مرزا صاحب کا عقیدہ ہے جس کو اس نے مرزا صاحب کا متبع اوروکیل ہونے کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ مرزا صاحب اپنی کتابتتمہ حقیقت الوحی

441

ص۱۴۰، خزائن ج۲۲ ص۵۷۸پر لکھتے ہیں: ’’آنحضرتﷺ کو دیکھو کہ جب آپ پر فرشتہ جبرئیل ظاہر ہواتو آپ نے فی الفور یقین نہ کیا، بلکہ حضرت خدیجہ کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ: ’’خشیت علی نفسی‘‘ یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہواہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو۔‘‘

اس میں بھی وہی بات ہے جو مختار مدعاعلیہ نے کہی ہے۔ مختار صاحب نے نفس کا دھوکا کہا تھا۔ مرزا صاحب نے شیطانی مکر کہا۔حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کہ آنحضرتﷺ کو نہ اپنے نبی ہونے کا یقین تھا نہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے پر ایمان اور نہ جبرئیل کے فرشتہ اور ناموس الٰہی کا اعتبار۔ بلکہ نعوذب اللہ ! آپ کو یہ سب کچھ نفس اور شیطان کا دھوکا اور مکر معلوم ہوتا اور مرزا صاحب کے ان اصول اور معیار شناخت وحی کے لحاظ سے جو نزول المسیح کے مذکورہ بالا حوالوں سے ثابت ہیں، وہ درحقیقت سب کچھ شیطان کا مکر اور نفس کا دھوکا تھا اور آنحضرتﷺ معاذ اللہ ! مورد وحی شیطانی ہیں اور قرآن کریم الہام شیطانی ہے۔۔ (اعاذنا اللہ من ہٰذا)

مختار مدعاعلیہ نے جو ’’ولقد خشیت علی نفسی‘‘ کے معنی میں مرزا صاحب کی تقلید کرتے ہوئے جو تحریف کی ہے، وہ محض خود غرضی پر مبنی ہے۔ ورنہ حدیث کے الفاظ میں نہ شیطانی مکر کاذکر، نہ نفسانی دھوکا کا بیان۔ حاشا وکلا یہ وسوسہ آنحضرتﷺ کوہواہو۔

مختار مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ ورقہ بن نوفل سے آپ کو یہ پتہ چلا کہ در حقیقت یہ فرشتہ تھا، نہ شیطانی مکر۔ یہ بھی سراسر افتراء اورآنحضرتﷺ کی توہین اور تکذیب ہے۔ تعجب ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی ہدایت کے لئے قیامت تک کے لئے منتخب فرمایا اور جبرئیل کو بھیج کر قرآن اس پر اتاراجائے۔ اس کو تو پتہ نہ چلے کہ میں رسول ہوں اور یہ جبرئیل ہے اور یہ قرآن ہے اور ایک نصرانی کو پتہ چل جائے اور اس کے کہنے سے حقیقت حال کا آپ کو علم ہو۔ مختار مدعاعلیہ کے اس افتراء اور خواہش نفسانی کابھی حدیث میں کوئی وجود نہیں ہے۔

لیکن غضب تو یہ ہے کہ بقول مختار مدعاعلیہ ورقہ بن نوفل کے بیان سے حقیقت حال معلوم ہوجانے کے بعد بھی آنحضرتﷺ فترت الوحی کے ایک لمبے عرصہ میں پھر اسی شک اور تردد میں مبتلا ہوگئے۔ یہاں تک کہ جب جبرئیل نے بار بار آکر کہا: ’’یا محمد انک رسول اللہ حقا‘‘ کہ اے محمد آپ سچ مچ اللہ کے رسول ہیں تو آپ کو یقین آیا۔

ان افترأت کے بعد مختارمدعاعلیہ نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ انبیاءo کو اپنی نبوت کی صحت کا یقین اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک بارش کی طرح ان پر وحی نہ ہو۔

اب ہم حدیث کا بقدر ضرورت اصل مطلب بیان کرتے ہیں آنحضرتﷺ کو اپنی نبوت کا قطعاً اور یقینا علم ہوگیا تھا، نہ شیطانی مکرکا اندیشہ تھا، نہ نفسانی دھوکا کا اندیشہ۔ کیونکہ اس بارہ میں مرزا صاحب نے جو فرمایا ہے کہ وحی الٰہی بڑی قوت اور زور اور تأثیر اور لذت اور چمکتے ہوئے چہرے سے اس طرح نازل ہوتی ہے کہ مورد وحی کو یقین اور اطمینان سے بھر دیتی ہے اور وہ شک کو کفر سمجھتاہے۔ یہ بالکل درست ہے جس کو اللہ تعالیٰ نبی بنا کرجبرئیل کے ذریعہ سے ان پر اپنا نورانی کلام نازل فرماتاہے۔ اس کے دل میں ایک ضروری علم اس بات کاپیدا کردیاجاتاہے کہ جس سے اس کو قطعی یقین ہوجاتاہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ اوّل المؤمنین ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’اٰمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون‘‘ اس میں لفظ ما عام ہے۔ یعنی رسول اور مؤمن ہر اس چیز پر ایمان لائے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کی گئی۔ اگر بعض کلام الٰہی کی نسبت مدت تک اور اپنی نبوت میں ہی شک ہو جو منافی اور ضد ایمان ہے تو خداتعالیٰ کی قرآن کریم میں یہ نازل کردہ آیت جھوٹ اور خلاف واقعہ ہوگی اور یہ امر قطعاً محال ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ کی زبان سے قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے: ’’وانا اوّل المسلمین‘‘یعنی میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ مگر یہاں تو بقول مختار مدعاعلیہ ومرزا صاحب اوّل المؤمنین ورقہ بن نوفل ہوا اور معاذ اللہ ! آنحضرتﷺ اوّل الکافرین۔

442

پس ان اصول محکمہ قرآنیہ اور مصدقہ مرزا صاحب کے بعد حدیث: ’’ ولقد خشیت علی نفسی‘‘کے معنی بغیر کسی تکلف اور تاویل کے یہ ہیں کہ: ’’مجھے اپنی جان کا خوف ہورہاہے۔‘‘ باقی رہا یہ امر کہ کیا خوف تھا اور کس وجہ سے تھا، اس بات کی حدیث میں کوئی تصریح نہیں ہے۔ لیکن قرائن حالی اور مقالی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ خوف دو وجہ سے تھا۔ پہلی وجہ تو جسمانی تھی جو جبرئیل کے پر رعب وجلال شکل میں نمودار ہونے اور تین دفعہ بھینچنے اور انتہائی کلفت جسمانی کے پیدا ہوجانے سے ہوئی تھی، جس سے حضورa کو جاڑا لگ گیا اور گھر تشریف لاکر کپڑا اوڑھانے کا حکم دیا تھا۔ دوسری وجہ نبوت کی ذمہ داریوں کا احساس اور قوم کے انکار اور ایذاء رسانیوں کا نقشہ جو نبوت کے ساتھ ہی خیال مبارک میں آگیاتھا اور اس پر ضعف بشریت کا خیال دامن گیر تھا۔ غرض ان دونوں امور حسی اور قلبی کا مجموعہ آنحضرتﷺ کے اس قول کا باعث ہے، نہ شیطانی مکر اور نفسانی دھوکا کا اندیشہ۔ چنانچہ اس پر آنحضرتﷺ کوا م المؤمنین حضرت خدیجہt نے تسلی دی کہ معاذ اللہ ! آپ کوکوئی رسوائی نہ ہوگی۔ آپ میں یہ اوصاف حمیدہ اور مکارم اخلاق ہیں۔ پھر حضرت خدیجہt اظہار خوشی کے لئے ورقہ بن نوفل کے پاس آپ کو لے گئیں۔ کیونکہ وہ ایک پاک نفس انسان تھاتو اس نے آنحضرتﷺ سے کیفیت سن کر بطور تصدیق کہا کہ یہ سب سچ ہے اور یہ وہ ناموس ہے جو موسیٰm کے پاس آیاتھا۔ یہ ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہ کا قریبی رشتہ دار تھا اور نصرانی تھا۔ مختار مدعاعلیہ نے جو کہا ہے کہ آنحضرتﷺ کواصل حقیقت کا علم ورقہ سے ہوا، قطعاً غلط اور لغوہے۔ بلکہ اس واقعہ کے بیان کے لئے جانا اس کے اشد اور قریبی رشتہ داری کی وجہ سے تھا تاکہ وہ بھی اس نعمت خداوندی کی بشارت میں شریک ہو۔جیسا کہ عموماً یہ قاعدہ ہے کہ کسی نعمت کے حصول پر قریبیوں اور خیرخواہوں کو اطلاع دی جاتی ہے، تاکہ وہ بھی شریک خوشی ہوں۔ ورقہ بن نوفل کا قول خود اس بات پردلالت کرتاہے کہ آنحضرتﷺ کو اپنی نبوت کا اس وقت یقین تھا۔ چنانچہ اس نے کہا:’’یالیتنی اکون حیاً اذیخرجک قومک فقال رسول اللہ ﷺ اومخرجی ہم قال نعم لم یأت رجل قط بمثل ماجئت بہ… الخ!‘‘

یعنی ورقہ بن نوفل نے کہا: کاش! میں اس وقت زندہ ہوتا جس وقت تیری قوم تجھے نکال دے گی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا وہ مجھے گھر سے بھی نکال دیں گے تو اس نے کہا کہ جو کوئی تیری طرح (نبوت) لے کر آیا، اس سے دشمنی کی گئی اور اگر مجھے وہ دل مل گیا تو میں آپ کی پوری مدد کروںگا اور اس مکالمہ سے یہ بات بخوبی معلوم ہورہی ہے کہ آنحضرتﷺ جو خیال دن میں لے کر گئے تھے، وہ یقین نبوت تھا جس پر اس نے کہا جو شخص تیری مانند لے کر آیا۔ اس کے ساتھ عداوت ہوا ہی کرتی ہے۔ اگر آنحضرتﷺ کے دل میں معاذ اللہ ! کوئی نفسانی یا شیطانی وسوسہ ہوتاتو اس مکالمہ میں اس کا ضرور کوئی ذکرہوتا۔ لیکن یہاں جو ذکر ہوا، اس میں سے سراسر اس خیال مدعاعلیہ کے خلاف یقین اور ایمان آنحضرتﷺ کا پتہ ملتاہے۔

آنحضرتﷺ کو جو اندیشہ ہوا وہ اس کی صحیح تعبیر جو ہم نے کی وہ سراسر شان نبوت کے مطابق ہے اور اس قسم کا خوف اور اندیشہ حضرات انبیاءo کو ہونا ایک طبعی امرہے جس سے شان نبوت میں کوئی قدح لازم نہیں آتی۔ حضرت موسیٰm کا واقعہ جو قرآن کریم میں وارد ہوا جب کہ ان پر پہلے پہل تجلی رب العالمین ہوکر ان کو نبوت سے مشرف کیاگیا تو بھی اندیشہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کیا اور عصا کو دفعۃً سانپ بنا ہوا دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے اور بھاگ نکلے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے: ’’فلما راٰہا تہتز کانّہا جآن ولیٰ مدبراً ولم یعقب یٰموسیٰ اقبل ولا تخف انک من الآمنین‘‘پس یہ طبعی خوف تھا جو دفعۃً اور پہلی بار ایک غیر مالوف واقعہ سے پیش آیا اور موسیٰm بھاگ کھڑے ہوئے اور مڑکر بھی نہ دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ لوٹ آ اور مت ڈر تو امن والوں سے ہے۔ اسی طرح آنحضرتﷺ نے اگر جبرئیل کے بھینچنے سے جو انتہائی جسمانی مشقت اٹھائی جو موسیٰm کو پیش نہ آئی تھی اور اس وجہ سے ’’ولقد خشیت علی نفسی‘‘فرمایا ہو تو اس سے موسیٰm کے برخلاف بدگمانی اور شیطانی مکر اور نفسانی دھوکا پر محمول کرنا بالکل شرارت ہے۔

443

دوسری وجہ ’’خشیت علی نفسی‘‘ کی جو ہم نے بیان کی وہ بھی موسیٰm کی طرف سے اسی جگہ قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے۔ معجزہ عصاء اور ید بیضاء کے عطاء کرنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دونشانوں کے ساتھ فرعون اور فرعونیوں کی طرف جاؤ تو باوجود معجزات حضرت موسیٰ عرض کرتے ہیں کہ چونکہ میں نے ان کا ایک آدمی ماردیاتھا۔ مجھے ڈر ہے کہ مجھے قتل نہ کردیں جس پر اللہ تعالیٰ نے بطورتسلی فرمایا کہ ہرگز نہیںتم اور تمہارے تابعین غالب ہوں گے۔ پس جب کہ حضرت موسیٰm نے باوجود معجزات کے فرعون کی ایذاء قتل وغیرہ کا اندیشہ ظاہر کیا تو اگر آنحضرت نے اپنی قوم کی ایذا رسانیوں کے اندیشہ سے ولقد خشیت علی نفسی فرمایا ہے تو اس کو کیوں کسی غلط محمل پر حمل کیا جائے بلکہ آپ کا خشیت علی نفسی فرمانا اس امر کی بیّن دلیل ہے کہ آنحضرتﷺ کو اپنی نبوت کا کامل یقین ہوگیاتھا اور ان باتوں کو جو آپ کو اس منصب کی ادائیگی میں قوم کے نہ ماننے اور ایذاء رسانی کی قسم سے پیش آنے والی تھیںمدنظر رکھ کر ’’ولقد خشیت علی نفسی‘‘فرمادیا جس پر حضرت خدیجہt نے تسلی دی اور جن الفاظ میں آپ نے تسلی دی وہ بھی اسی امر کا صاف قرینہ ہے جو ہم نے بیان کیا۔ باقی رہاآنحضرتﷺ کا فترت الوحی یعنی زمانہ التوء میں پہاڑ پر جانا اور بے چینی وغیرہ جو معمر کی روایت میں ہے۔ بخاری نے اس کو باسناد بیان نہیں کیا، بلکہ حسب تصریح شرّاح حدیث حافظ ابن حجر اور قسطلانی وغیرہ یہ بلاغات زہری میں سے ہے اور موصول نہیں ہے اور نہآنحضرتﷺ کا قول۔ حالانکہ اس میں آنحضرتﷺ کے ارادہ کو ذکرکیاگیا ہے جو بغیر تصریح آپ کے قابل تسلیم نہیں اور آپ کی تصریح ندارد مع ہذا! جتناواقعہ عینی شہادت سے تعلق رکھتاہے، اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ کو وحی کے نہ آنے سے بے چینی اور کرب تھا اور اشتیاق بے حد زیادہ تھا جس کی وجہ سے آپ انہی پہاڑوں پر تشریف لے جاتے تھے تاکہ پھر وہی لذت نزول وحی حاصل ہو۔ پس یہ تو ایک بیّن دلیل اس امر کی ہے کہ آنحضرتﷺ کو کسی قسم کا کوئی خطرہ مکر شیطانی اور دھوکا نفس کا نہ تھا۔ جیسا کہ مختار مدعاعلیہ کا خیال فاسد ہے۔ اگر اس قسم کا خطرہ آپa کے قلب مقدس میں ہوتا تو آپa اس خطرہ کے مقام میں باربار کیوں جاتے۔ خطرہ کے مقام سے تو انسان بھاگتاہے نہ کہ اس کی طرف دوڑتاہے۔

بیان مذکوربالا سے ثابت ہوگیا کہ مختار مدعاعلیہ کا وہ اصول جو اس نے بڑے تکلف اور تحریف کرکے مرزا صاحب کی تقلید میں ایجاد کیاہے، اس سے آنحضرتﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کا بدیہی طور پر ابطال ہوتاہے اور درحقیقت اس حدیث میں جس کو اس نے اپنی دستاویز بنایاہے، یہ خبیث مضمون نہیں ہے۔ لیکن میں کہتاہوں کہ بفرض محال اگر اس میں یہ مضمون بھی ہوتا تو بھی مرزا صاحب کے اصول کے مطابق یہ لازم تھا کہ اس حدیث کو ردی کی ٹوکری میں مختار مدعاعلیہ اور مرزا صاحب پھینک دیتے۔ کیونکہ اس سے آنحضرتﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب لازم آتی ہے اور تکذیب بھی ایسی صاف۔ جیسا کہ آفتاب نیم روز اور جب کہ مرزا صاحب اپنے الہام کے مخالف جو حدیث ہو اس کو ردی میں ڈال دیتے ہیں تو قرآن کریم اور آنحضرتﷺ کی نبوت اور صداقت کے برخلاف حدیث کو کیوں نہ ردی میں پھینکا۔ بلکہ اس کو ایک اصل اصول قرار دیا اور نہایت تکلف اور انتہائی تکلف سے اپنی مطلب برآری کی تاکہ مرزا صاحب کی ذات سے وہ اٹل اعتراض دور ہوسکے جو مختار مدعیہ نے کیا۔ لیکن ایں خیال است ومحال است وجنوں وہ اعتراض ہر گز دفع نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ جس نے پندرہ بیس سال مامور من اللہ ہوکر دعویٰ نبوت کا انکار کیا ہو۔ بلکہ اس دعویٰ کو کفر قرار دیا ہو اور بیس برس کے بعد اسی کفر کو ایمان اور ایمان کو کفر قرار دیاہو۔ ’’وان فی ذالک لعبرۃ الاولی الالباب‘‘

قول مختار مدعاعلیہ:

دیکھنا چاہئے کہ اس کے بعد خداتعالیٰ نے کس حکمت سے آہستہ آہستہ آپ کو تبلیغ کرنے کے لئے ارشاد فرمایاہے۔ پھر آہستہ آہستہ تبلیغ کے آگے کچھ تفصیل کی ہے۔

444

الجواب: یہ بالکل بحث سے غیر متعلق ہے۔ کیونکہ بحث مرزا صاحب کے خاص تدریجی دعویٰ میں جس کی کیفیت اوپر مذکور ہوئی ہے۔ تدریجی تبلیغ میں بحث نہیں ہے۔ لیکن تدریجاً تبلیغ سے تدریجی دعویٰ کا نتیجہ اخذ کرنا، جیسا کہ مختار مدعاعلیہ نے کیا ہے اور کہا ہے مذکورہ بالا ترتیب سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے تدریجی طور پر اپنے رسول سے اپنا دعویٰ لوگوں تک پہنچانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ اس کی خوش فہمی ہے یا صریح مغالطہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے مرزا صاحب کی طرح یہ فرمایا تھا کہ بیس سال رسالت کا دعویٰ نہ کرو اور محدثیت کا دعویٰ کرو اور دعویٰ نبوت کو کفر کہو اور بیس سال کے بعد جو دعویٰ نبوت کرو اور جو نہ مانے اس کو کافر قرار دو، یا پہلے آدھے نبی بنو پھر تمام نبی بن جاؤ۔

مختار مدعاعلیہ نے اس کے بعد بعض حدیثیں پیش کی ہیں کہ پہلے آپ نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر بڑائی نہ دو۔ پھر فرمایا کہ اگر موسیٰm زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے اور آپ نے خاتم النّبیین ہونے کا دعویٰ کیا اور فرمایا کہ مجھے حضرت یونسm سے افضل نہ کہو۔ پھر تمام اوّلین وآخرین کا سردار ہونے کا دعویٰ کیا۔

جواباً گزارش ہے کہ یہ چیزیں مختار مدعاعلیہ کے تدریجی دعویٰ مرزا صاحب کو ثابت نہیں کرتیں اور نہ آپa نے کوئی ایسا دعویٰ کیا جس کو پہلے کفر قرار دیاہو۔

یونسm پر فضیلت نہ دو، کا حکم محض بطور تواضع کے تھا اور اس تعلیم کے لئے کہ مجھے بھی کہیں بعد میں عیسیٰm کی طرح غلو سے شان عبودیت اور نبوت سے بڑھایا نہ جائے اور تاکہ یونسm کے اس مواخذہ الٰہی کی وجہ سے جو مچھلی کے پیٹ میں جانے کی شکل میں ہوا ان کی تحقیر کا خیال غلط فہمی سے کسی کے دل میں نہ آنے پائے۔ اس لئے فرمایا کہ نفس نبوت کے لحاظ سے ہم دونوں یکساں ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلے آپ یونسm سے شان میں کم ہونے کے مدعی تھے، بعد میں زیادہ ہونے کے مدعی بنے۔

موسیٰm کا ایک خاص واقعہ ذکر کرکے فرمایا کہ مجھے ان پر فضیلت مت دو۔ یعنی اس خاص واقعہ مذکورہ میں ان کو فضیلت جزئی حاصل ہے اور دوسری حدیث میں اپنی فضیلت کلی کا بیان ہے اور یہ امر مسلم فریقین کہ مفضول کو فاضل پر فضیلت جزئی ہوسکتی ہے۔ پس کوئی نیا دعویٰ نہیں۔

خاتم النّبیین آپ ابتداء نبوت سے تھے۔ لیکن آپ نے فرمایا ہے کہ میں اللہ کے نزدیک اس وقت خاتم النّبیین تھا جب کہ آدمm اپنی مٹی میں تھے۔ البتہ اس کے قرآن میں نزول کا وقت مسئلہ متبنیٰ کے ابطال کے موقع پر علم الٰہی میں تھا۔ کیا آپ نے کبھی خاتم النّبیین ہونے سے انکار کیا تھا اور اپنے خاتم النّبیین ہونے کو کفر قرار دیاتھا تاکہ مرزا صاحب کے استدراجات پر اس سے دلیل پکڑی جائے۔ غرض مختار مدعاعلیہ کی یہ سب غیر متعلق اور بے ربط باتیں ہیں جن کو استدلال کے مقام میں پیش کرنا غلط فہمی ہے۔ مختار مدعیہ کا اعتراض اس سے دفع نہیں ہوسکتا۔

مختار مدعاعلیہ مرزا صاحب کے دعاوی مختلف اور متناقضہ کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: براہین احمدیہ میں آپ کو مثیل مسیح ہونے کا الہام ہوچکا تھا اور چونکہ آپ پر وفات مسیح کا مسئلہ منکشف نہ ہوا تھا۔ اس لئے آپ نے لکھ دیا کہ مسیحm زندہ ہیں۔

اور چونکہ نبی اور رسول کے معنی یہ سمجھے جاتے تھے جو نئی شریعت لائے یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرے اور آپ پر نبی ورسول کی تعریف صاد ق نہ آتی تھی۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے۔

لیکن جب آپ پر وفات مسیح کی حقیقت کا انکشاف ہوا اور معنی نبوت بھی بتلائے گئے جو آپ پر صادق آتے تھے تو آپ نے کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰm فوت ہوگئے اور میں محدث نہیں بلکہ نبی اور رسول ہوں۔

الجواب: بارہ برس تک تو آپ پر قرآن اورالہام سے اور احادیث واجماع سے یہ ثابت ہوتا رہا کہ حضرت عیسیٰm زندہ ہیں اور وہ مسیح موعود ہیں اور مثیل مسیح آپ جیسا کہ ہم ’’عقیدہ حیات مسیح شرک عظیم ہے‘‘ کی بحث کے جواب میں ثابت کرآئے ہیں۔ جب دیکھا کہ مرید

445

یہاں تک معتقد ہوچکے ہیں کہ بات مان جائیں گے تو کہہ دیا کہ مجھے الہام ہوگیا کہ مسیح ابن مریم رسول فوت ہوچکا ہے اور ہم مثیل مسیح نہیں، بلکہ مسیح موعود ہیں۔ غرض پہلے عقیدہ کا نقیض عقیدہ شائع کیا۔

اور بقول مختار مدعاعلیہ جب کہ درحقیقت مسیحm فوت ہوچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور رسول مرزا صاحب کو مسلمانوں کے غلط اور مشرکانہ عقیدہ سے کیوں نہ روکا۔ کیا اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کوبارہ برس تک مشرک بنا رکھا کوئی پرلطف مشغلہ تھا اور بحکم ’’لاینال عہدی الظالمین‘‘یعنی ظالم مشرک کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ مرزا صاحب کے ابطال نبوت پر دلیل قائم کرنے کے بعداس کو نبوت دے دے۔ خدا کے فعل میں یہ تناقض کیونکر جائز ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی شان ایسے اقوال اور افعال متناقضہ سے ارفع اور بلند ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مختار مدعاعلیہ کی توجیہہ باطل اور مختار مدعاعیہ کا اعتراض درست ہے۔

اسی طرح یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرے اور قسمیں کھا کھا کر کہے میں مجازی نبی ہوں، جزئی نبی ہوں، صرف محدث ہوں اور یہ بھی کہے کہ محدث نبی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ کہ نبوت کا دروازہ بند ہوچکاہے اورجودعویٰ نبوت کرے وہ کافر اور خارج از اسلام ہے۔ پندرہ بیس سال کا عرصہ دراز سے وہ یہی کہتا رہے۔ لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد وہ یہ کہہ دے کہ میں چونکہ یہ نہیں جانتا تھا کہ نبی کس کو کہتے ہیں۔ اس لئے میں نبوت کے دعویٰ سے انکار کرتارہاہوں۔ ورنہ میں تو بیس سال سے نبی ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے سے نبی بنا رکھا تھا۔ میں محدث نہیں تھا اور نہ دروازہ نبوت بند تھا۔ بلکہ وہ صاف چوپٹ کھلا تھا۔ عقل اور شرع ہرگز یہ باور نہیں کرسکتی کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے شخص کو نبی بنادے جویہ بھی نہیں جانتا کہ نبوت کیا چیز ہے۔ خدا نے تو اس کو نبی بنایا ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ میں دعویٰ نبوت کروں تو کافر ہوتاہوں، بلکہ میںتو محدث ہوں اور نہ عقل یہ باور کرسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو نبی بنا کر اس کو نبوت کا مفہوم بھی بیس سال تک نہ سمجھائے۔ لہٰذا مختار مدعاعلیہ کی یہ توجیہہ بالکل لغو اور باطل ہے اور مختار مدعیہ کا اعتراض بالکل درست ہے کہ مرزا صاحب مریدوں کی برداشت کے مطابق آگے آگے قدم بڑھائے چلے گئے۔ مرزا صاحب بقول خود پہلے اپنی نبوت کا انکار کرکے کافر ہوئے اور چونکہ کافر نبی نہیں ہوسکتا۔ بحکم ’’لا ینال عہدی الظالمین‘‘ اس لئے دوبارہ دعویٰ نبوت کرکے ڈبل کافر ہوئے اور تمام امت سید الابرار کی تکفیر کرکے مثلث کافر ہوئے۔

گواہان مدعیہ کی شہادتیں

اس ہیڈنگ کے تحت (۷)نمبر نقل کرکے مدعیہ کی گواہوں کوناقابل اعتبار ثابت کرنے کی لاحاصل سعی کی ہے جن کا خلاصہ کل چار(۴) امور ہیں۔

۱… مولویوں کی شہادت معتبر نہیں۔

۲… بعض بزعم خود تعارضات وکذب بیانی۔

۳… ان علماء پر خود فتویٰ کفر ہے، لہٰذا علماء اسلام ہوں۔

۴… ان کے خلاف خواجہ صاحب کی شہادت موجود ہے۔ مگر میں مختار مدعاعلیہ کے قائم کردہ قانونی نمبروں پر اسی ترتیب سے بحث کرتاہوں تاکہ عدالت عالیہ کو مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ تفصیلاً معلوم ہوجائے۔ گواہان مدعیہ کی عدم قبول شہادت کے وجوہات۔

وجہ اوّل: خلاصہ۔

۱… گواہان مدعیہ مرزا صاحب اور ان کی جماعت سے اظہاربغض وعناد کرتے رہے اور ان پر حکم کفر وارتداد لگایا۔ حالانکہ یہ عدالت کا حق تھا نہ ان کا۔

446

۲… ہدیہ مجددیہ سے مبسوط میں ہے کہ امام مالک کا یہ مذہب ہے کہ مخالف علماء کی شہادت قبول کرنا جائز نہیں۔

۳… مخالف علماء کی شہادت فاضل جج مدراس ہائی کورٹ احمدیوں کے خلاف مقدمہ مندرجہ عنوان ذیل میں قبول نہیں کی اور پھر انڈین کیسز سے وہ حوالہ اور کچھ عبارت نقل کی۔

الجواب:

۱… اگر امور متنازعہ جس کے واسطے شاہد پیش ہوئے تھے۔ اس کے سواء کوئی اور وجہ عناد ذاتی عداوت پہلے کی مقدمہ بازی توکئی اور دوسری رنجش نکل آئی تو ضرور اس سے ان شاہدوں اور ان کی شہادت پر زد آتی۔ مگر جب کہ یہ شاہد صرف مرزا صاحب اور ان کی جماعت کا کفر وارتداد قرآن وحدیث واقوال سلف سے ثابت کرنے کے واسطے پیش ہوئے ہیں۔ پس ان کا ان دلائل کو مرزا صاحب اور ان کے متبعین پر منطبق کرکے کفر وارتداد کا نتیجہ نکالنا نہ عدالت کے اختیارات میں مداخلت ہے نہ ان کا کسی سے بغض عناد کا اظہار ہے جو ان کی شہادت کو خراب کرسکے۔

بخلاف مرزا صاحب کی جماعت کے کہ ان کا شیوہ ہی حسد وعناد ہے۔ اس کے واسطے خود مرزا صاحب کی شہادت پیش کرتاہوں۔ ملاحظہ ہو اشتہار ملحقہ شہادت القرآن میں اوپر سے اپنی جماعت کا ذکر کرکے کہتے ہیں: ’’اخی مکرم! ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے کوئی خاص اہلیت اور شخصیت اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور للّٰہی محبت باہمی پیدا نہیں کی میں (مرزا صاحب) دیکھتاہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر گلہ ہوتاہے، بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کراتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفساتی بحثیں ہوتی ہیں۔‘‘

(اشتہار ملحقہ شہادت القرآن ص۲، خزائن ج ۶ ص۳۹۵)

’’بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ شخص اس کو اٹھانا چاہتاہے اور اگر نہیں اٹھتا چار پائی الٹا دیتاہے اور اس کونیچے گرادیتاہے۔ پھر دوسرا فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتاہے اور تمام بخارات نکالتاہے۔ یہ حالات ہیں جو میں اس مجمع میں مشاہدہ کرتاہوں تو دل کباب ہوتاہے اور جلتاہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو انسان آدم سے اچھا ہے۔‘‘

(اشتہار ملحقہ شہادت القرآن ص۳، خزائن ج ۶ ص۳۹۶)

پس گواہان مدعیہ کا تو بغض وعناد ثابت نہ ہوا، مگر گواہان مدعاعلیہ کا بے اعتبار ہونا ضرور ثابت ہے۔

نیز ان کی شہادت جماعت احمدیہ یا اس کے کسی ممبر کے حق میں اس لئے قبول نہیں کہ ان کے یہ گواہ ایک ممبر ہیں اور غیراحمدیوں کے خلاف اس لئے وقعت نہیں کہ ان کا فرض ہے کہ ساری دنیاکو دشمن سمجھیں جب تک کوئی احمدی نہ ہوجائے۔ گو کتنا ہی ہمدرد ہو۔ ملاحظہ ہو خطبہ۔

(خلیفہ محمود صاحب بحوالہ سابق)

لہٰذا ان گواہوں کی شہادت محض ناقابل التفات ہے۔

باقی ہدیہ مجددیہ کا حوالہ۔

۱… اوّلاً ہدیہ مجددیہ کوئی مسلّم کتاب ہی نہیں نہ جرح میں مطالبہ پر پیش کرسکے نہ مصنف کانام بتاسکے نہ اب تک اس کے مسلک سے واقفیت۔

۲… دوسرے اس میں جو مبسوط کا حوالہ ہے اسے گواہ مدعاعلیہ نے دیکھاہے نہ واقفیت ہے نہ یہ پتہ کہ اس میں یہ عبارت ہے بھی یانہیں۔

۳… دوسری کتب فقہ میں امام مالک سے اس کے خلاف روایات موجود ہیں اور علماء کی شہادتوں کو غیر اہل علم پر راجح مانتے ہیں۔

۴… یہ عقلاً بھی غیر معقول ہے کہ بلا استثناء تمام علماء کی شہادت نامقبول ہوپھر تو شہادت کے لئے جہالت بھی ایک شرط لگا دینی ہوگی اور

447

صرف جہّال کی شہادت قبول ہوا کرے گی۔

۵… یہ حکم صریح قرآن کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ وہاں علماء کے مدارج، علماء کا تذکرہ اور انہیں کو صرف خدا کا خوف خشیۃ رکھنے والاقرر دیاگیاہے۔

’’یرفع اللہ الذین آمنوامنکم…تا…والذین اوتوالعلم درجات‘‘
’’انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء‘‘

۶… احادیث کے بھی خلاف ہے: ’’فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم‘‘عالم کی عابد پر وہ فضیلت ہے جو میری تم میں ادنیٰ پر۔

۷… اگر امام مالک کے زمانہ کے علماء مراد ہوں تو یہ بھی غلط ہے۔ زمانہ تابعین اور بنص حدیث خیرالقرون ہے۔ اس زمانہ کے علماء کو مصابیح الہدی مستقل ہدایت قرار دیاگیاہے۔

۸… اور اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو بھی نہ فریق مدعیہ مالکی نہ عدالت نہ مدعاعلیہ۔ پس یہ حجت کس پرہوگا اور اگر صرف مسلمان امام کسی جماعت کاہونا حجت کے لئے کافی ہے تو محمدعلی صاحب ایم۔اے باوجود احمدی ہونے کے فریق مدعاعلیہ کو کیوں مسلّم نہیں۔

غرض یہ حوالہ کوئی بھی مدعیہ کے گواہوں کی شہادت کو ناقابل اعتبار نہیں ثابت کرسکتا۔ مفصل اصل بحث وجرح گواہان مدعاعلیہ میں موجودہے۔

۹… یہ مدارس ہائی کوٹ کی نظیر مقدمہ زیر سماعت سے بوجوہ ذیل غیر متعلق ہے۔

الف… یہ عدالت فوجداری کی ہے اور عدالت فوجداری کا فیصلہ عدالت دیوانی میں بطور حجت صرف بریت یا سزایابی ثابت کرنے کے لئے پڑھاجاسکتاہے۔ سوائے اس کے اور کسی کام کے لئے نہیں پڑھاجاسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جودلائل ووجوہ اور شہادت اس فوجداری کے مقدمہ میں ہوئی ہیں وہ دیوانی کے مقدمہ میں غیر متعلق سمجھی جاتی ہیں۔

ب… جوفیصلہ عدالت فوجداری میں ہوتاہے وہ مابین سرکار قبضہ ہند اور ملزم کے ہوتاہے اور عدالت دیوانی میں سرکار فریق نہیں ہوتی۔ اس لئے عدالت فوجداری کا فیصلہ درمیان ایک ہی فریق کے ہونا پایا نہیں جاتا نہ حجت میں پیش ہوسکتاہے۔

ج… جو تنقیحات عدالت فوجداری کے سامنے ہوتی ہیں اور جو طریقہ ان کے ثابت کرنے اور ان پر حکم کرنے کا ضابطہ فوجداری میں ہے وہ عدالت دیوانی کے سامنے نہیں ہوتا ہے۔ عدالت دیوانی کے سامنے تنقیحات بھی دوسری قسم کی ہوتی ہیں اور طریقہ تصفیہ تنقیحات بھی ضابطہ دیوانی کے مطابق ہوتاہے۔

مثال کے طور پر گزارش ہے ایک شخص نے عدالت فوجداری میں دوسرے شخص پر چوری کا دعویٰ کیا اور وہ دعویٰ خارج ہوگیا۔ اب اگر وہ دوسراشخص عدالت دیوانی میں پہلے شخص پر پرچہ کی نالش کرکے کچھ وصول کرنا چاہے تو اس کو عدالت دیوانی میں پوری شہادت اس بات کی پیش کرنا پڑے گی کہ جو دعویٰ اس کے خلاف پہلے شخص نے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ فیصلہ سے صرف اس کی بریت ثابت ہوگی۔ یہ ہرگز نہیں ثابت ہوسکتا کہ پہلے شخص کا دعویٰ جھوٹا تھا۔

ملاحظہ ہو (قانو ن شہادت امیرعلی مطبوعہ ۱۹۲۱ء ص۳۹۵تا۳۹۸) لہٰذا یہ نظیر بالکل غیر متعلق اور گواہان مدعیہ پر کسی طرح اثر انداز نہیں۔

وجہ دوم: خلاصہ۔

گواہان مدعیہ کے بیانات اصول مسائل میں ایک دوسرے سے متناقض ہیں۔

448

تناقض نمبر۱

گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست بجواب جرح کہا کہ: ’’عیسیٰ کو ہم پہلے نبی مانتے ہیں۔ اس کے سوا جو وحی ہے وہ وحی نبوت نہیں ہے۔ لفظ وحی کا اس پر اطلاق ہوگا۔‘‘ اس کے خلاف گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست بجواب جرح کہا وحی نبوت نہیں آئے گی نہ کسی نئے پر نہ پرانے پر۔

الجواب: یہ تناقض کوئی نہیں، صرف مختار مدعاعلیہ کی غلط فہمی سے پیدا ہوگیا۔ اس نے غالباً اس کے سواکے لفظ سے جملہ کو علیحدہ مانا اور لفظ سوا سے عیسیٰ کی وحی کے سواسمجھا۔ حالانکہ وہاں اس سے قبل وحی کا ذکر تک نہیں ہے۔ بلکہ صرف عیسیٰ کے نبی ہونے کا ذکر ہے۔ لفظ اس کے سوا کے معنی بغیر اس کے نہیں اور اس سے وہ وحی مراد ہے جس کو وحی نبوت قرار نہیں دیا، بلکہ صرف اطلاق لفظ وحی اس پر بتایاہے وہی عیسیٰm والی وحی ہے۔ کل پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ کو ہم پہلے نبی مانتے ہیں سوا اس کے بغیر اس کے کہ جو ان پر وحی ہو وہ وحی نبوت ہو (بلکہ) لفظ وحی کا (صرف) اس پر اطلاق ہوگا۔ لہٰذا گواہ نمبر۳ کا مطلب اور اس کی عبارت بالکل صاف ہے کہ عیسیٰm پہلے نبی تو ہیں مگر ان کی وحی نبوت نہیں اور بعض احادیث میں جو اس کی نسبت لفظ وحی ہے وہ صرف لفظ وحی کا اعجازاً اطلاق کیاگیاہے۔ ورنہ وہ دراصل بمعنی الہام ہے جیسا کہ وحی کے بیان اور نیز اسی جرح میں مصرح ہے اور یہی گواہ نمبر۴ بھی کہہ رہا ہے کہ وحی نبوت کسی پر نہ آئے گی نہ کسی نئے پر نہ پرانے پر۔ دونوں بعد آنحضرتﷺ وحی نبوت کا مطلقاًانسداد فرمارہے ہیں۔ پس تعارض کب ہے نہ آپس میں تعارض ہے نہ بیانات سے۔ یہ مختار مدعاعلیہ نے لفظ اس کے سوا کے غلط معنی لے کر تعارض کا مغالطہ دے دیاہے ورنہ یہاں تعارض کا شبہ تک نہیں۔

تناقض نمبر۲

گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۱۲؍اگست بجواب جرح تسلیم کیا کہ: ’’مسیح پر اگر کوئی جبرئیل کے نزول کا قائل ہو تو اس کو کافر نہیں کہا جاسکتا اور پھر حجج الکرامہ کی عبارت کی تردید نہیں کرتا۔ اس کے خلاف گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو کہا کہ جبرئیل وحی لے کر رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی شخص پر نازل نہیں ہوسکتے۔ حضرت عیسیٰm کے نزول کے وقت ان پر جبرئیلm نہ آئیں گے۔

الجواب: اس میں بھی تناقض کاکوئی احتمال تک نہیں۔ جو عقیدہ گواہ نمبر۴ نے بیان کیا بعینہٖ یہی گواہ نمبر۱ کا ہی عقیدہ ہے۔ جیسا کہ اس کے بیانات وجرح سے مصرح ہے۔ البتہ مختار مدعاعلیہ نے اس کی جرح کا جو ٹکڑا نقل کیا ہے اس سے وہ مغالطہ دے کر اسے گواہ کا عقیدہ قرار دیتاہے۔ حالانکہ اس میں وہ عقیدہ نہیں بتارہے، بلکہ یہ مسئلہ بتارہے ہیں کہ اگر کوئی عیسیٰm پر نزول جبرئیل کا قائل ہو توصرف اس وجہ سے وہ کافر نہ ہوگا (یہ نہیں کہ میں نزول جبرئیل کاقائل ہوں) کیونکہ لفظ وحی گو مجازاًصحیح حدیثوں میں آیاہے۔ لہٰذااس مغالطہ سے وہ معذور ہے اور اس اشتباہ کی وجہ سے وہ ضروریات دین کے ان قطعی شعبوں سے نہ رہا جن کا منکر کافر ہوجائے۔ جب تک دوسرے قرآئن متعین مراد کے نہ ہوں۔

اس کمزوری اور مثبت مدعانہ ہونے کا احساس مختار مدعاعلیہ کویہی ہوا کہ اس سے تو عقیدہ ثابت نہ ہوگا بلکہ یہ تو دوسرے کے متعلق فتویٰ بتارہے ہیں۔ لہٰذا مکمل مغالطہ کے لئے فوراً یہ اضافہ کیا کہ: ’’حجج الکرامہ کی عبارت ظاہر است… تانمے کنم کی تردید نہیں کرتا… الخ!‘‘

وہاں توتردید وتسلیم کا سوال ہی نہیں۔ صرف اس کتاب میںہونے کا سوال ہے۔ اسی کا اقرار نہ اس کی تسلیم کا سوال تھا نہ تردید کا نہ سوال ہوسکتاتھا۔ کیونکہ نواب صاحب پہلے سے معلوم ہے کہ ہمارے مسلّم نہیں۔ پھرہم پر ان کا قول کیوں حجت ہوسکتاہے۔ عدالت خود اصل جرح سے مقابلہ فرمائے۔ وہاں تسلیم وتردید کا کوئی سوال نہیں اورنہ گواہ نے اسے تسلیم کیا نہ اسے اپنا عقیدہ قرار دیا، بلکہ اس کے خلاف جرح اور اس کے بیان میں تصریح ہے۔ پس ہر دو گواہوں کا عقیدہ ایک ہی ہوا کہ بعد آنحضرتﷺ نزول جبرئیل نہ ہوگا۔ اب ان کا نہ ماننے والا کافر ہوگا یا نہ، یہ اور بحث ہے جیسا کہ بیان وحی میں گزرچکا۔

449

تناقض نمبر۳

گواہ مدعیہ نمبرب نے بیان میں لکھوایاہے کہ کتب لغت میں سے کوئی حوالہ ایسا نہیں ملتا کہ جس سے قطعاً ویقینا یہ ثابت ہوکہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے سوا اور بھی ہو سکتے ہیں۔ پس لغت وقواعد کی رو سے اس کے معنی آخر النّبیین ہی کے ہوتے ہیں۔

اس کے خلاف گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست بجواب جرح تسلیم کیا کہ لغت والوں نے تصریح کی ہے کہ ’’خاتم‘‘ بفتح التاء مہر کے معنوں میں بھی آتاہے۔

الجواب: عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ اس تعارض کے ثابت کرنے میں مختار مدعاعلیہ نے کس قدر شرمناک مغالطہ دیا ہے اور صریح غلط بیانی کی ہے۔ گواہ مدعیہ نمبرب تو پورے لفظ خاتم النّبیین کے معنی لغت سے صراحۃً صرف آخر النّبیین بتاتاہے اور گواہ مدعیہ نمبر۳ صرف لفظ خاتم مفرد کے معنی مہر کے بھی بتاتاہے۔ اس میں تعارض کب ہے۔ ہاں! دونوں لفظ خاتم مفرد کے معنی بتاتے یا دونوں اسی لفظ خاتم النّبیین کے معنی مختلف بتاتے تو تناقض بھی ہوسکتاتھا۔ یہاں پہلے قول کا موضوع اورہے اور دوسرے قول کا اور۔ ایک مضاف اور مخصوص لفظ کے معنی بتاتاہے دوسرا مفرد کے۔ اس اختلاف موضوع کے بعد تناقض کہاں رہا۔ تناقض کے واسطے آٹھ شرطیں ہیں جن میں وحدت موضوع بھی ہے۔

  1. درتناقض ہشت وحدت شرط دان

    وحدت موضوع ومحمول ومکان

  2. وحدت شرط واضافت جزو کل

    قوت وفعل است در آخر زمان

یہاں نہ وحدت موضوع نہ وحدت محمول نہ وحدت شرط پھرتناقض کیا۔

علاوہ اس کے مختار مدعاعلیہ نے گواہ مدعیہ نمبر۳ کے الفاظ بھی غلط نقل کئے ہیں۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں کہ: ’’لغت میں خاتم بمعنی مہر وآخر دونوں معنوں میں ہے۔‘‘

اس کے الفاظ بدل کر غلط بیانی کی ورنہ کوئی شبہ ہی نہیں تھا۔

تناقض نمبر۴

گواہ مدعیہ الف وب کا بیان ہے کہ وحی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ نبوت نہیں۔ کیونکہ وحی لازم نبوت ہے۔ اس کے خلاف گواہ مدعیہ نمبر۴ نے بجواب جرح ۲۴؍اگست تسلیم کیا کہ: ’’آنحضرتﷺ کے بعد مطلق وحی کے دعویٰ کو کفر نہیں کہا جاسکتا۔‘‘

گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کو یہ بھی تسلیم کیا کہ: ’’مسیح پر وحی نبوت ہوگی اور اس کے سوا جو وحی ہے وہ وحی نبوت نہیں۔‘‘

پھر گواہ مدعیہ نمبر۱ نے بحوالہ فتوحات اور نمبر۴،۳ نے کہا کہ: ’’آنحضرتﷺ کے بعد وحی ہوسکتی ہے۔‘‘

اور گواہ نمبر۴ نے کہا کہ: ’’مسیحm پرغیر تبلیغی وحی ہوگی۔‘‘

الجواب: گواہ الف وب و گواہ نمبر۴ کے قولوں میں کوئی تناقض نہیں، محض مغالطہ ہے۔ کیونکہ فریق اوّل یعنی نمبرالف وب نے جس وحی کی نفی کی ہے وہ وہی ہے جو لازمہ نبوت۔ یعنی وحی نبوت نہ مطلق وحی اور گواہ نمبر۳ صاف آنحضرتﷺ کے بعد مطلق وحی کے دعویٰ کا کفر نہ ہونا بتاتاہے نہ وحی نبوت کا۔ اگر دونوں مطلق وحی کے نہ ہونے یا دونوں وحی نبوت کے ہونے نہ ہونے میں اختلاف کرتے تو ضرور تناقض ہوتا۔ یہاں تو اوّل وحی نبوت کی نفی کرتا ہے اور دوم یعنی گواہ نمبر۲ مطلق وحی کا اثبات۔ پس کسی طرح بھی تناقض وتعارض کا شائبہ نہیں۔ محض مغالطہ ہے۔

یوں ہی گواہ مدعیہ نمبر۳سے ۲۹؍اگست کا جو فقرہ نقل کیا ہے کہ مسیح پروحی نبوت ہوگی اور اس کے سواء… الخ!

450

یہ محض غلط ہے یہ وہی فقرہ ہے جس کا حل تناقض نمبر۱ میں پیش کرچکا۔ عدالت مختار مدعاعلیہ کی اس خیانت کوخود ملاحظہ فرمائے کہ یہ ایک فقرہ تناقض نمبر۱ میں دوسرے الفاظ میں نقل کیا اور پھر اس نمبر۴ میں دوسرے الفاظ میں اور بات صرف اس قدر ہے کہ عیسیٰm نبی تو ہوں گے سوا اس کے کہ ان پر وحی نبوت ہوگی گو اطلاق لفظ وحی مجازاً ہو جیسا کہ مکمل تشریح تناقض نمبر۱ میں کرچکاہوں اب اس کا کوئی بھی تعارض گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳سے نہیں رہا۔ کیونکہ وہ بعد آنحضرتﷺ وحی نبوت نہیں بتلاتے بلکہ مطلق وحی کا ہوسکنا کہتے ہیں۔ یوں ہی گواہ نمبر۴ غیر تبلیغی وحی بتاتاہے جو بمعنی الہام ہے نہ کہ وحی نبوت جو تبلیغی وحقیقی ہوتی ہے۔ پس گواہوں کے بیانات وجرح اور ایک دوسرے میں ایک ذرہ برابر تعارض نہیں اور ایسے واضح ہیں کہ اگر جواب نہ دیا جائے تو بھی عدالت ملاحظہ کے وقت مختار مدعاعلیہ کا مغالطہ سمجھتی ہے۔

تناقض نمبر۵

گواہ نمبر ۲نے ۲۴؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ : ’’عیسیٰ رسول الیٰ بنی اسرائیل تھے اور ہیں نہ پہلے وہ ہماری طرف مبعوث ہوئے تھے نہ اب اور جب آئیں گے تو وہ منصب نبوت پر نہ ہوں گے۔‘‘

اس کے خلاف گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ: ’’حضرت عیسیٰm جب نازل ہوں گے تو وہ رسول ہوں گے اور ان کے نزول کے وقت جو شخص نہ مانے گا وہ مسلمان نہ ہوگا۔‘‘

الجواب: گواہ مدعیہ نمبر۲ بھی انہیں رسول بنی اسرائیل مانتے ہیں اور نمبر۴بھی۔ مسلوب النّبوۃ ورسالت کوئی بھی نہیں مانتا۔ یہ کہنا کہ یقینا کفر ہے۔ ہاں! منصب نبوت پر کسی کے نزدیک نہیں۔ پس وہ رسول بمعنی اس کے ہیں کہ رسالت سلب نہیں ہوئی اور امتی باعتبار اس موجودہ زمانہ کے بھی جو انہیں پہلے کا رسول نہ مانے یعنی مسلوب النّبوۃ کہے وہ یقینا کافر ہوگا مسلمان نہیں۔ جیسا کہ گواہ نمبر۴ نے کہا اور اب اس امت میں جو انہیں منصب نبوت یا رسالت پرمانے وہ ختم نبوت کے خلاف کہہ رہاہے۔ اس کے بھی اسلام کا اعتبار نہیں اور نبوت ومنصب نبوت یا رسالت ومنصب رسالت کا مفصل بیان اسی گواہ مدعیہ نمبر۲ نے بوضاحت اپنی شہادت میں خارجی امثلہ ودلائل واضح سے دیاہے۔ اس کے بعد تناقض خیال کرنا کھلا ہوا مغالطہ ہے۔ ہر گز کسی قسم کے تعارض کا شائبہ تک نہیں۔ نیز جرح کے نقل الفاظ میں بھی خیانت کی ہے۔ خصوصاً گواہ مدعیہ نمبر۴ کے اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’جب عیسیٰ بن مریم آئیں گے تو جو ان کو تسلیم نہ کرے گا وہ مسلمان نہیں، اب بھی اگر اس کوکوئی نہیں مانتا۔ ہم اسے مسلم نہیں مانتے۔‘‘

یہاں ان کے رسول وغیر رسول ہونے کا کوئی ذکر نہیں، اپنی طرف سے اضافہ کرکے مغالطہ دے دیاہے اور جہاں رسول ہونے کا ذکر ہے وہاں یہ الفاظ ہیں کہ: ’’رسول ہوں گے ان پر وحی نہ ہوگی۔‘‘

یہاں ان کے منکر کے کفر واسلام کا ذکر نہیں۔ بہرحال پیش کردہ وہ الفاظ جرح کے الفاظ نہیں۔ اپنی طرف سے حاشیہ لگا کر مغالطہ دیا اور تعارض وتناقض ثابت کرنے کی لاحاصل سعی کی۔ حالانکہ کسی طرح گواہان مدعیہ کی شہادتوں میں تناقض ثابت نہیں ہوسکتا اور باوجود اس قدر شرمناک خیانتوں کے مختار مدعاعلیہ کوئی ایک بھی تناقض نہ ثابت کرسکا۔

تناقض نمبر۶

گواہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ آیت: ’’ماکان لبشر‘‘ میں جو طرق بیان کئے گئے ہیں وہ امت محمدیہ پر بند ہیں۔

اس کے خلاف گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کیا کہ: ’’ام موسیٰ ومریم پر جو وحی ہوئی وہ قرآن کے بیان کردہ تین طرق میں داخل ہے۔‘‘

451

اور گواہ نمبر۲ کے نزدیک ’’وہ وحی جو وحی نبوت نہ ہو وہ امت محمدیہ کے افراد کو ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ حضرت مریم اور ام موسیٰ کو ہوئی کیونکہ وہ نبی نہ تھیں۔‘‘

اور یہی وحی گواہ مدعیہ نمبر۴ کے نزدیک آیت: ’’ماکان لبشر‘‘ کے طرق میں داخل ہے جو گواہ مدعیہ نمبر۱ کے قول کے بالکل خلاف ہے۔

الجواب: گواہ مدعیہ نمبر۱ نے مخصوص اسی آیت کے مذکورہ طرق جو اس میں خصوصیت سے مراد ہیں، مراد لئے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ آیت آنحضرتﷺ کے متعلق ہے اور اس میں وحی نبوت مراد ہے۔ پس وحی نبوت کے یہ طرق مذکورہ بند ہیں۔ اگر وحی بمعنی الہام ہوگو انہی طرق سے بظاہر کیوں نہ مسدود نہیں۔ اس کے واسطے اسی جرح کے مندرجہ ذیل کوٹیشن ملاحظہ ہوں۔

۱… رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی شرعی کا دروازہ بالکل منقطع ہے۔

۲… وحی شرع کسی قسم کی نہیں ہوسکتی کوئی الہام کانام وحی رکھ دے تو دوسری چیز ہے۔

۳… وحی بواسطہ فرشتہ وحی جو وحی کا فرشتہ لائے نہیں ہوسکتی۔ (نہ فرشتہ الہام والی)

پس گواہ مدعیہ نمبر۱ نے یہ طرق مذکورہ بہ پیرایہ وحی نبوت امت محمدیہ پر بند بتایاہے اور گواہ نمبر ۲،۳ نے ام موسیٰ وغیرہ پر جو وحی بتائی وہ بمعنی الہام بہ پیرایہ وحی الہام ان طرق سے باقی بتائی نہ وحی نبوت بہ پیرایہ وحی نبوت، پس کوئی بھی تعارض نہ ہوا۔ وحی نبوت طرق مذکورہ ثلاثہ سے بالاتفاق بند اور وحی الہام ہر طورسے جاری۔

گواہ مدعیہ نمبر۴ کا ہرگز کوئی تعارض وتناقض گواہ مدعیہ نمبر۱ کے ساتھ نہیں۔ یہ اس کے غلط الفاظ نقل کردئیے ہیں۔ اصل جرح کے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ بجواب سوال ’’اوحینا الی ام موسیٰ‘‘ وغیرہ کہ یہ وحی وہی ہے جسے الہام کہا جاتاہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے نحل کے لئے کہا ہے۔ یہ الہام انسان کے ساتھ مخصوص نہیں، غیر انسانوں کو بھی ہوسکتاہے۔ جیسے کہ سورۃ نحل کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے۔’’واوحیٰ ربک الی النحل… الخ!‘‘

اب عدالت خود ملاحظہ فرمائے کہ گواہ مدعیہ نمبر۱ وحی نبوت بہ پیرایہ وحی نبوت بطرق ثلاثہ مذکورہ بند بتاتاہے اور گواہ مدعیہ نمبر۴ وحی بمعنی الہام جو نحل کو بھی ہوسکتی ہے، باقی مانتاہے تناقض کدھر سے ہوا۔

بہرحال یہ تمام مختار مدعاعلیہ کی غلط بیانی یا غلط فہمی یا محض مغالطہ تھا۔ ورنہ بیانات گواہان مدعیہ بالکل تناقض سے پاک وصاف ہیں کہ کسی قسم سے مخدوش ومجروح نہیں۔ عدالت خود ہی ملاحظہ فرمائے۔ بخلاف اس کے کہ مختار مدعاعلیہ نے جو تناقض کا اعتراض گواہان مدعاعلیہ پر کیا تھا وہ بدستور قائم ہے اور اکثر کا توجواب میں تذکرہ تک نہیں تاویل کیا کرسکتے۔

گواہ مدعیہ کا خود اپنے بیان سے تعارض

اس سلسلہ میں صرف گواہ نمبر۱ و۲ و۳ کا حوالہ پیش کیا ہے۔

گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ حدیث: ’’من ترک الصلوٰۃ‘‘ میں امت یہ معنی سمجھتی ہے کہ کفر کا سا فعل کیایعنی عمداًنماز کا تارک، امت کے نزدیک کافر نہیں ہوگا۔ اس کے بعد پھر یہ اقرار کیا کہ بعض ائمہ برحق نے عمداًنماز کے تارک کو کافر قرار دے کر ان سے نکاح وغیرہ معاملات کوحرام قرار دیاہے۔

الجواب: اوّلاً یہ الفاظ جرح نہیں بلکہ قطع وبرید وروایت بامعنی ہے۔ وہاں علیحدہ علیحدہ مندرجہ ذیل فقرات ہیں۔

حدیث: ’’من ترک الصلوٰۃ‘‘میں مراد کفر جیسا فعل کیا۔

452

’’لیکن ائمہ نے کافر بھی کہاہے۔‘‘

کافر کہنے والے بھی امام برحق ومسلمان ہیں ان کے نزدیک فسخ نکاح بھی ہوگا۔

عدالت خود اصل الفاظ مسل سے ملاحظہ فرمائے۔

اس میں کسی قسم کا تعارض نہیں بلکہ خود مختار مدعاعلیہ کے پیش کردہ الفاظ بھی تسلیم کرکے تعارض نہیں۔ کیونکہ اگر پہلے قول میں تمام امت یا اجماع کا لفظ ہوتا تو کسی ایک امام برحق کا خلاف اس کے منافی تھا اور تناقض ہوجاتا وہاں تو صرف امت کا لفظ اور بعض امام کی رائے آگے ہے۔ یہاں تناقض کا شبہ تک نہیں محض مغالطہ ہے۔

گواہ مدعیہ نمبر۲

گواہ مدعیہ نمبر۲ نے اپنے بیان میں ۲۵؍اگست کو کہا کہ: ’’مسخ نسخ بروز وغیرہ یہ پانچوں اصطلاحیں آسمان دنیوی میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔‘‘

اور پھر ۲۹؍اگست بجواب جرح تسلیم کیا کہ:’’کونوا قردۃ خاسئین‘‘کے متعلق میرا عقیدہ ہے کہ مسخ ہوگئے تھے۔

الجواب: ان دونوں قولوں میں تناقض ثابت کرنا صرف مختار مدعاعلیہ کا حصہ ہے۔ ورنہ دنیا کا کوئی بھی عقل مند آدمی ان دونوں قولوں میں تناقض نہیں سمجھ سکتا۔ اوّل قول میں ان پانچ چیزوں کی اصطلاح کو دینی اصطلاح اور آسمانی ادیان میں ہونے سے انکار کیا ہے اور دوسرے میں ’’کونوا قردۃ خاسئین‘‘ کی تفسیر یہ بتائی ہے کہ واقعی ان کے چہرہ وغیرہ بدل گئے تھے۔ آیت میں تو مسخ کا لفظ بھی نہیں کہ مغالطہ ہی رفع ہو اور کہا جائے کہ آسمانی کتاب میں یہ اصطلاحی لفظ آگیا۔ صرف مخصوص الفاظ کی مخصوص اصطلاح سے آسمانی کتب وادیان میں ہونے سے انکار ہے۔ یہ معنی نہیں کہ اللہ نے دنیا میں کسی کو مسخ ہی نہیں کیا۔ یہاں کسی قسم کے تناقض کا شائبہ تک نہیں اور نہ کوئی احتمال مغالطہ تھا ۔خواہ مخواہ مغالطہ دیاگیا۔ پھر یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ گواہ کے بعینہٖ الفاظ نقل نہیں کئے گئے مفہوم لیاگیا۔ ورنہ مطلب بالکل صاف ہے۔

اب اس جواب الجواب سے بحمد اللہ ! اچھی طرح واضح ہوگیا کہ نہ گواہان مدعیہ کا تعارض ایک دوسرے گواہ سے ہے اور نہ ایک گواہ کہیں سے اپنے قول سے ٹکرایا ہے۔ بخلاف گواہان مدعاعلیہ کے کہ ان کے بیانات میں تو اب تک لاجواب متعدد ہر دو قسم کے تناقضات موجود ہیں جن کی کوئی تاویل نہ ہوسکی۔ جیسا کہ اوپر گزرچکا ہے۔ عدالت خود مسل ملاحظہ فرمائے۔ پس گواہان مدعاعلیہ کی شہادت یقینا ناقابل قبول ہے۔

وجہ سوم:

مرزا صاحب کی تمام کتب کا سوائے ان عبارات کے جن پر انہوں نے اعتراض کیا ہے، مطالعہ نہیں کیا… تا… لیکن گواہان مدعیہ جن کا ذکر آچکاہے معترف ہیں کہ انہوں نے مرزا صاحب کی کتابوں کا کما حقہ مطالعہ نہیں کیا… الخ!

الجواب: محض غلط ہے۔ ان الفاظ میں تو کسی کا جواب نہیں۔ نہ تمام گواہوں نے مرزا صاحب کی کتب کے کافی مطالعہ سے انکار کیا، بلکہ گواہ نمبر۴نے تو اس قدر مطالعہ بتایاہے کہ شاید مرزا صاحب کے متبعین سے زیادہ ہی ثابت ہو۔

صرف گواہ نمبر۱ نے ضروریہ مفہوم ادا کیا ہے مگر وہ بحیثیت مفتی اسلام مسائل شرعیہ کے شاہد ہیں۔ ان کو تمام کتب مرزا صاحب کا مطالعہ لازمی بھی نہیں۔

مرزا صاحب کے اقوال وعقائد کے شاہد دوسرے ہیں۔ انہوں نے خوب مرزا صاحب کی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ محض مغالطہ دینے کے واسطے تمام گواہوں کی طرف غلط خود بنا کے منسوب کردیا۔ بہرحال اس وجہ سے بھی گواہان مدعیہ کی شہادت مجروح نہیں۔

453

اصل الفاظ جرح گواہ مدعیہ نمبر۳،۴ سے ملاحظہ ہوں کہ ان کی کتب کے مطالعہ کو بتایاہے جس کا شما ر بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

حسام الحرمین وغیرہ

وجہ چہارم:

دربار معلی کے فیصلہ کی روسے علماء اسلام کی آراء حاصل کرنی چاہئیں اور یہ گواہ دیوبندی ہیں۔ ان پر حسام الحرمین اور علماء ہند کے کفر کے فتویٰ ہیں۔

الجواب: یہ محض جھوٹ اورغلط ہے۔ گواہ نمبرالف ونمبرب ونمبر۴ کا توکوئی بعید سا تعلق بھی علماء دیوبند سے نہیں اور نہ گواہان مدعاعلیہ کسی ایک کو ان کے علاوہ بھی دیوبندی خیال کا ثابت کرسکے۔ صرف گواہ نمبر۱ کو مفتی دیوبند ہونے کی وجہ سے دیوبندی خیال کا بتایا۔ ملاحظہ ہو جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲۔ اب میں اس فتویٰ حسام الحرمین اور ’’اشتہارتین سو علماء کے فتویٰ کی حقیقت پیش کرتاہوں۔

۱… اشتہار منسلکہ مسل عنوان ’’وہابیہ دیوبندیہ عقائد والوں کی نسبت تین سو علماء اہل سنت والجماعت کا فتویٰ جس کے معلن محمد ابراہیم بھاگل پوری ہیں۔‘‘

الجواب:

۱… اوّلاً جوڈیشنل اصول پریہ غیر مصدقہ ہے۔

۲… یہ دوران مقدمہ میں جعلی تیار کرایاگیا۔ اسی واسطے اس پر کوئی تاریخ طبع نہیں۔

۳… مطبع کی ہمارے پاس شہادتیں ہیں۔ عدالت کی طلبی پر پیش کرسکتاہوں۔ یہ دوران مقدمہ کاہے۔

۴… اس میں اکثر فرضی غیر متعارف نام ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کے انتقال کو دس بارہ سال ہوچکے ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کی عمر ابھی ۱۲سال سے زائد نہیں۔ طالب علم مبتدی ہیں۔

۵… علماء اہل سنت میں عبدالنبی بہاول پوری ورحیم بخش رضوی بہاول پور ی بھی ہیں جس سے عدالت اس کی حقیقت کا اندازہ فرمائے۔

۶… ان میں غلام احمد اختر احمدی کے دستخط بھی غلام احمد فریدی کے ساتھ ہیں جس طر ح وہ دستخط کیا کرتے ہیں۔

۷… عبدالعلیم شاہجہانپوری سے جو بدچلنی میں سزا یافتہ ہے۔

۸… خود شائع کنندہ سے بھی گواہ واقف نہ تھا جب مختار مدعیہ نے اس کی سزایابی کا حوالہ پیش کیا تو کہا کہ شاید وہی ہو۔

۹… اس کے حوالہ تقویۃ الایمان وغیر اصل کتاب سے جرح میں نہ ثابت کرسکے، بلکہ اس میں اس کے خلاف نکلا۔ بحث میں اصل کتاب سے دکھانے کو کہا تھا مگر اس کانام تک نہ لیا۔

۱۰… غرض عدالت خود ملاحظہ فرمائے یہ کسی طرح قابل اعتماد نہیں نہ قانوناً نہ شرعاً۔

باقی حسام الحرمین اس کے متعلق بحث میں مکمل جواب دے چکاہوں۔ اب صرف اس قدر گزارش ہے کہ میرے اس دعویٰ پر کہ یہ فتویٰ بعد اطلاع حقیقت حال علماء حرمین نے علماء دیوبند پر سے واپس لے لیا۔ صرف مرزا صاحب اور ان کی جماعت پر باقی ہے۔ دو کتابیں پیش کی گئی تھیں۔ ایک المہند دوسرے علامہ بزرنجی مدنی کی غایۃ المامول۔ پہلی میں تو ناقابل التفات تاویلات کیں اور ثانی کو بلا تامل قبول کرلیا جواب میں نام تک نہ لیا۔ پس یہ فتویٰ علماء دیوبند کے حق میں بہ تصریح غایۃ المامول علامہ بزرنجی کے جس کے آخر میں انہیں علماء کے دستخط سے واپس ہونا ثابت ہے۔ حسام الحرمین میں اوّلاً مولانا محمدقاسم صاحب نانوتوی کی ایک عبارت پیش کی گئی جو اس طور پر ان کی کتاب تحذیر الناس میں کہیں بھی موجود نہیں۔ نیز اس کا پہلا فقرہ (ص۲۸ )کا دوسرا (ص۳) کا اور تیسرا (ص۱۴) کا بے ربط قطع وبرید کرکے ایک

454

کفریہ مضمون بنایا جس کے خلاف اسی کتاب کے (ص۱۰) پر تصریح موجود ہے۔ بحث ختم نبوت میں اس پر بحث گزرچکی تفصیل کے واسطے شہاب ثاقب،السحاب المدرار ملاحظہ ہو۔

دوسرا اتہام خدا کے جھوٹے ماننے کا مولانا گنگوہی پرفرضی ہے کہ ان کا کہیں کوئی فتویٰ یا اس کا فوٹو نہ دیکھا۔ حالانکہ آپ کی مطبوعہ فتاویٰ رشیدیہ حصہ اوّل کے (ص۱۱۸) پر اس کی زبردست تردید موجود ہے اور قطع الوتین کے (ص۹) پر اس فتویٰ کے بے اصل بہتان ہونے کی ان کے اپنے خط سے تصریح موجود ہے۔

تیسرا حوالہ براہین قاطعہ کا چوتھا حفظ الایمان کا ہے جن کا بہتان اور مغالطہ (علم میں مقابلہ) کے عنوان کے تحت پیش کر چکا ہوں۔ مولانا شیخ الہند کے شعر میں لفظ ثانی بمعنی تابع اور دویم کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ حضرت حسانq نے آنحضرتﷺ کی فرمائش پر صدیق اکبرq کی شان میں پڑھا کہ۔

  1. وثانی اثنین فی الغار المنیف وقد

    طاف العدو بہ اذا الجبلا

  2. وکان حب رسول اللہ وقد علموا

    من البریۃ لم یعدل بہ رجلا

جس کی آنحضرتﷺ نے تائید فرمائی کہ:’’صدقت یا حسان ہو کما قلت‘‘

(درمنثور ج۳ ص۲۴۱)

پس یہاں مغالطہ صرف لفظ ثانی معنی مثل کے استعمال میں تھا وہ دفع ہوگیا کہ بمعنی تابع اور دویم کے مستعمل ومراد ہے۔

یوں ہی دوسرے اشعار بھی بے غبار ہیں، تنگی وقت کی وجہ سے ترک کرتاہوں۔ کیونکہ وہ کیس سے زیادہ متعلق نہیں۔ فتاویٰ رشیدیہ کے میلاد وغیرہ کی نسبت حوالہ جات چونکہ غیر متعلق ہیں۔ لہٰذا تفصیل کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ گزارش ہے کہ وہ سب قطع وبرید کرکے متکلم کی اسی کتاب کی تصریحات کے خلاف نقل کئے گئے ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوسیف یمانی۔ الحمدﷲ! کہ اس بہتان کا بھی بے بنیاد ہونا ثابت ہوگیا۔

گواہان مدعیہ کے صریح کذب

پنجم:

پھر خود گواہان مدعاعلیہ نیز اس کے مختارنے متعدد غلط بیانیاں کی تھیں۔ اس لئے فرضی اس پر پردہ ڈالنے کے واسطے فرضی کذب کے بہتان صریح کذب کا نام دے کر (۱۵) نقل کئے جن میں سے ایک نمبر (۱۵) عدالت نے کاٹ دیا۔ اب صرف (۱۴) نمبر رہے جن کا مرتب مختصر جواب پیش ہے۔ گو وہ زیادہ جواب کے لائق ہی نہ تھے۔ مگر بہرحال مغالطہ کا انکشاف ضروری ہے۔

پہلا کذب

گواہ مدعیہ نمبرالف نے کہا کہ مرزا صاحب نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو خالق جانا… الخ!

اور حوالہ (آئینہ کمالات ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴) کا دیا۔ حالانکہ وہیں ہے کہ یہ خواب ہے اور اس کی یہ تعبیر ہے۔ یہ صریح کذب ہے۔

الجواب: یہ صرف بہتان اور غلط بیانی ہے۔ اوپر ’’لاالہ الا اللہ ‘‘ کی ہیڈنگ کے تحت اس کا ثبوت مفصل گزرچکا۔ اس میں نہ صرف خدائی کا ذکر ہے بلکہ ’’تیقنت اننی ہو‘‘ بھی ہے کہ میں نے یقین کامل کرلیا کہ یقینا ہو بہو خداہوں۔ باقی یہ کہنا کہ وہیں اس کو خواب قرار دیاہے یہ بھی مغالطہ ہے۔ اوّلاً تو مرزا صاحب کاخواب بھی وحی ہے، جیسا کہ مسلمات سے گزرچکا۔

نیز مرزا صاحب نے خود اس کا ترجمہ (کتاب البریہ ص۷۸، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳) میں یہ کیا کہ: ’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا۔‘‘ بہرحال اس میں ایک حرف بھی جھوٹ نہیں۔ کشف وتعبیر وغیرہ کی تاویلات ومغالطہ سب نہایت بسط وتفصیل کے ساتھ جواب

455

الجواب کے ابتدائی اوراق میں گزرچکے۔ عدالت خود وہیں سے ملاحظہ فرمائے تمام تاویلات کا مرزا صاحب کی تصریحات سے خاتمہ کردیاگیاہے۔

دوسرا کذب

گواہ مدعیہ نمبرالف نے مرزا صاحب کی طرف بحوالہ (البشریٰ ج۲ ص۷۹) منسوب کیا ہے کہ خدا نے ان سے کہا کہ: ’’جس طرح میں قدیم وازلی ہوں۔ اس طرح تیرے لئے میں نے ازلیت کے انوار کردئیے ہیں اور تو ہی ازلی ہے۔‘‘ یہ عبارت البشریٰ میں نہیں۔

الجواب: یہ بھی محض بہتان ہے۔ اس کا مفصل جواب’’واصلی واصوم واسہر وانام‘‘ کے تحت گزرچکا اور یہ بھی بتلاچکا کہ گواہ نمبرالف نے وہاں کی عربی عبارت کا ترجمہ اپنے الفاظ میں کیا ہے۔ البشریٰ کا ترجمہ نقل نہیں کیا اور نہ وہ ترجمہ اردو مرزا صاحب کے متبعین کو مسلم ہے۔ خود مختار مدعاعلیہ بابو منظورالٰہی کو جو محکمہ تار کے کلرک ہیں عربی سے ناواقف بتایاہے۔ پس وہاں عربی الفاظ موجود ہیں۔ گواہ مدعیہ نمبرالف نے مطلب خیز ترجمہ کردیا، اس میں کذب کا شائبہ بھی نہیں۔ مفصل بحث اوپرگزرچکی وہیں سے ملاحظہ فرمائی جائے۔

تیسرا کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبرب نے بحوالہ توضیح المرام مرزا صاحب کی نسبت بیان کیا کہ مرزا صاحب ’’ملائکہ سیاروں کی روح کومانتے ہیں۔‘‘

الجواب: اب جب کہ بسلسلہ عنوان ملائکہ اس کے تمام حوالے پیش ہوچکے اور ثابت ہوچکا کہ مرزاصاحب کے نزدیک ملائکہ نفوس فلکیہ وارواح کواکب ہی کانام ہے۔ پس اب اس کی تصدیق کے واسطے کسی اورشیٔ کی ضرورت نہیں اورغالباً اب تو مختار مدعاعلیہ کا بھی غلط فہمی کا ازالہ ہوچکاہو۔

چوتھا کذب صریح

گواہ مدعیہ ب نے بحوالہ توضیح المرام یہ ظاہر کیا کہ مرزا صاحب کے نزدیک ’’دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ نجو م کی تأثیر سے ہورہاہے… الخ!

(ملخص ص۳۷،۳۸، خزائن ج۳ ص۷۰)

الجواب: یہ بھی غلط بیانی ہے۔ اس کی توضیح بھی بسلسلہ عنوان ملائکہ گزرچکی۔ ایک اورعبارت مرزا صاحب کی (توضیح المرام ص۳۸، خزائن ج۳ ص۷۰،۷۱) سے پیش کی ہے۔ ’’اورآج تک کسی نے اس امر میںاختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں وہ کائنات الارض کی تکمیل اور تربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں تاآسمانی کواکب کا دن رات پراثر پڑتاہے۔‘‘ غرض اس میں کذب کوئی نہیں۔

یہ دوسری بات ہے کہ مختار مدعاعلیہ اس میں کچھ تاویل کرے مگر تمام تاویلات کا مفصل جواب ہیڈنگ ملائکہ کے تحت پیش کرچکاہوں۔

پانچواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۱ بجواب جرح ۲۱؍اگست کو یہ جھوٹ بولا کہ: ’’مسیلمہ کذاب نبوت مستقلہ کا مدعی نہیں۔ اس نے اسلامی شریعت کے خلاف کوئی شریعت قائم نہیں کی… الخ!‘‘

الجواب: اس میں ایک حرف بھی غلط نہیں۔ وہ تو تابع یا شریک نبی بننا چاہتاتھا۔ یہی قرآن پڑھتا تھا، یہی نماز، یہی اذان تھی، یہی روزہ

456

وحج۔ اسی شریعت پر عمل ادّعاء معمولی ترمیمات اس سے زائد نہ تھیں جو مرزا صاحب نے کیں۔ بہرحال یہ صرف مغالطہ ہے۔ کوئی بھی کذب نہیں۔ باقی گواہ نمبر۳ اور حجج الکرامہ سے اس کے خلاف دکھانا اس کا جھوٹ ثابت نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اس میں متقدمین نے اختلاف کیاہے اور دونوں طرف اکابر ہیں اور اصول ہے جب اسلام میں کوئی مسئلہ مختلف فیہ ہوجائے تو اسلاف جیسے چاہیں عمل درآمد بنائیں۔ پس گواہ نمبر۱ نے اپنی تحقیق اپنے علم کے مطابق اور نمبر۳ نے اپنی تحقیق پیش کردی۔ نہ اس میں کوئی جھوٹ ہے نہ تعارض۔

چھٹا کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۱۲؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ: ’’ہم احمدرضان خان بریلوی کے فرقہ کو کافر نہیں کہتے۔ احمدرضاخان کو بھی کافر نہیں کہتے۔ اس کے کلام میں تاویل کرتے ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔

الجواب: جھوٹ جب ہوتا کہ اس کی یا اس کے کسی مسلم بزرگ کی تحریر وتقریر اس کے خلاف پیش کرتے۔ حالانکہ نہ پیش کرسکے۔ کوکب یمانی جو اس مرحلہ پر پیش کی تھی۔ اس کی غلط بیانی عیاں ہوچکی ہے کہ وہ ان سے ان کی مسلمات پر استفسار رہے نہ ان پر فتویٰ کفر۔ اس سے قبل مفصل گزرچکا وہیں سے ملاحظہ ہو۔ نیز حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی فیض آبادی کے شہاب ثاقب کے (ص۱۲۷) کا جو حوالہ دیا ہے، اس میں کہیں بھی ان کی تکفیر نہیں کی۔ ہاں! سختی سے جواب ضرور دیا اورا ن کی خیانتیں واضح کی ہیں۔

ساتواں کذب

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست بجواب جرح کہا کہ حدیث: ’’من ترک الصلوٰۃ متعمداً فقد کفر‘‘ یہ کہا کہ امت اس کے معنی یہ سمجھتی ہے کہ کفر کا سافعل کیا… الخ!

الجواب: اس کامفصل جواب متعارضات کے سلسلہ میں اس سے قبل گزرچکا، اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔ بہرحال یہ بھی قول سرتاپا صداقت ہے۔ کذب کا شائبہ تک نہیں بلکہ اسے کذب بتانا ہی ایک کھلی ہوئی کذ ب بیانی ہے۔

آٹھواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۲ نے بجواب جرح ۲۴؍اگست کو کہا کہ مرزا صاحب نے اپنی کسی کتا ب میں وحی کو جمع نہیں کیا اور نہ انہوں نے کسی خاص کتاب کو شریعت قرار دیا۔ لیکن ان کی جو وحی جس جس کتاب میں درج ہے وہ وحی شریعت جدیدہ ہے۔

الجواب: اس میں جھوٹ کیا ہے جب کہ اپنی تمام وحی کو قرآن پاک کی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر حوالوں سے گزرچکا تو اب شریعت جدیدہ ہونے میں کیا شک ہے۔

نیز اربعین کاحوالہ متعلقہ نبوت تشریعی کو بھی کہ: ’’سوچو شریعت کسے کہتے ہیں… الخ!‘‘(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) بھی اس سے ملالیا جائے تو صداقت اظہر من الشمس ہوجاتی ہے۔

نواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ۲۴؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ: ’’مرزا صاحب نے ازالہ اوہام کے بعد قرآن کو آخر الکتاب نہیں مانا۔‘‘

الجواب: اس میں جھوٹ ہی کیا ہے۔ اس کے بعد مدعی نبوت ووحی نبوت ہوئے اور اپنی وحی قرآن کی طرح ماننے لگے۔ پھر قرآن آخری وحی اور آخری کتاب کیونکر رہا؟

457

دسواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۳ نے مؤرخہ۲۹؍اگست بجواب جرح کہا کہ: ’’(مکتوبات ج۲ ص۹۹ مکتوب۵۱) میں جو کچھ لکھاہے وہ کشفی ہے یا الہامی۔‘‘

الجواب: یہ بالکل صحیح ہے۔ مختار مدعاعلیہ کی اس سے خود ناواقفی ہے۔ اوپر حوالہ پیش کرچکاہوں کہ یہی مکتوب جس جگہ ختم کیاہے۔ وہی فرمایاہے کہ یہ مجھے بطور علم لدنی سکھایاگیاہے جو صراحت ہے اس امر کی کہ یہ کشفی ہے۔ نیز کشفی کے اور بھی ثبوت اوپر جہاں یہ حوالہ آیاہے پیش کرچکاہوں۔ صرف اپنی ناواقفی سے دوسری تحقیق غلط اور کذب بتانا نامناسب امر ہے۔ نیز مختار مدعاعلیہ نے حوالہ آخر سے کاٹ کر نقل کیاتاکہ اصل حقیقت پوشیدہ رہے یہ بھی ایک خیانت ہے۔

گیارہواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۸؍اگست بجواب جرح (مسلم الثبوت ج۲ ص۱۹۵) پھر اس کا مفہوم اس سے نقل کیا اور تبصرہ یہ کیا کہ یہ مفہوم غلط ہے۔

الجواب: مختار مدعاعلیہ کی سمجھ میں نہ آئے یہ دوسری بات ہے۔ باقی مفہوم بالکل صحیح مراد متکلم کے موافق دوسری تصحیح کے مطابق ہے۔

بارہواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۸؍اگست کو بجواب عبارت (فقہ اکبر ص۱۴۷) کی عبارت ہے… الخ! یہ مفہوم صحیح نہیں۔

الجواب: یہ مفہوم بالکل صحیح ہے اور اگر مغالطہ دینا مقصود نہیں تو مختار مدعاعلیہ کی غلط فہمی ہے۔ یہ دوسری بات کہ اس کے نزدیک کفر واسلام کا کوئی اور معیار ہو۔ پھر خود جو مفہوم پیش کیا ہے، اس سے اس کی واقفیت کا بھی پتہ چلتاہے۔ کسی ایک ٹکڑے کو لے کر مطلب بیان کرنا اور بات ہے اور مصنف کے مسلک کا لحاظ کرتے ہوئے اس کا مفہوم ادا کرنا اور ہے۔

تیرہواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کوبجواب جرح حدیث علماء ہم… الخ!

الجواب: گواہ مدعیہ نمبر۴ نے جو مفہوم حدیث لکھایاہے وہ دیگر احادیث صحیح کی روشنی میں ہے اور وہی صحیح ودرست ہے۔ مگر مختار مدعاعلیہ اپنے تصنیف کردہ مطلب کو صحیح بتاتاہے، اسے اختیار ہے۔ مگر اسے جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ اسلاف کے مطابق وہی ہے۔ مفصل طوالت طلب ہے۔ لہٰذا ترک کرتاہوں عدالت خود ملاحظہ فرمائے۔

چودہواں کذب

گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست بجواب جرح کہا کہ (مکتوب ج دوم ص۱۰۷) میں جو لکھا ہے مکاشفہ ہے… الخ!

الجواب: اس کا جواب نمبر(۱۰) میں دے چکا۔ اس مکتوب کے آخر میں اس کی تشریح ہے کہ یہ ان کی خصوصیت علم لدنی اور کشفی سے ہے۔ آخر مکتوب کے لفظ حذف کرکے مختار مدعاعلیہ نے اوپر حوالہ پیش کیاہے جب کہ عرض کرچکا۔

غرض یہ کہ ایک بھی جھوٹ ثابت نہ ہوسکا اور بحمد اللہ ! گواہان مدعیہ کی شہادتیں بالکل بے لوث رہیں۔

وجہ ہفتم:

458

قطب الوقت حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی شہادت

اس سلسلہ میں مختار مدعاعلیہ نے وہی استدلال انہیں مصنوعی الفاظ کے ساتھ نمائشی حضرت خواجہ صاحب کے محامد ذکر کرتے ہوئے جس طرح شہادت میں اشارات فریدی کے بعض حوالے پیش کئے تھے یہاں بھی وہی پیش کئے۔

حالانکہ جرح میں جب کہ حضرت قبلہ خواجہ صاحب کے متعلق دریافت کیا گیا تو یہ جواب دیا کہ میرے واجب الاطاعت مسلم بزرگ نہیں اور احمدی (مرزائی) ہونے کے بعد دیگر احمدیوں (مرزائیوں) کی طرح ہوں گے۔ یعنی خدانخواستہ جب کہ ان کے متبعین یعنی مرزا صاحب کی امت میں رسول اکرمﷺ کی امت سے خارج ہو کر مل جائیں تو دوسرے احمدیوں کی طرح ہوسکیں گے۔

اور ظاہر ہے کہ حضرت خواجہ صاحب مرزا صاحب کی بیعت میں باوجود دعوت پہنچنے کے شامل نہ ہوئے۔ پس مرزا صاحب کا فتویٰ ان کے متعلق ان کے اس اصول سے معاذ اللہ ! یہ رہا کہ بہرحال جب کہ خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اوراس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور خداتعالیٰ کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے۔

(فتاویٰ احمدیہ ص۳۰۸)

حضرت خواجہ مرزامحمود قادیانی کی نگاہ میں

’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہ ہوئے، خواہ انہوں نے ان کا نام تک بھی نہ سنا ہو، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میںتسلیم کرتاہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰)

اور باقرار گواہان مدعاعلیہ حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ العزیز مرزا صاحب کی بیعت میں شامل نہ ہوئے۔ (باوجود بزعم فریق مدعاعلیہ حضرت قبلہ قدس سرہ العزیز بھی مرزامحمود صاحب کے نزدیک عیاذاً ب اللہ پکے کافر ہیں) ’’جو آپ کو رسول نہیں مانتا خواہ زبان سے کتنی ہی مدح سرائی کرتاہو وہ بھی پکّا کافر ہے۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۸۶، انوار العلوم ج۶ ص۱۵۱)

پس صرف اپنی مطلب برآری اورحکام ریاست کو فریق مدعیہ کی طرف سے بدظن کرنے کے واسطے یہ شہادت انہوں نے اس انداز میں پیش کی۔ حالانکہ ان کے متعلق ان کے اصولی وہی خیالات بلکہ اس سے بڑھ کر ہیں جو اوپر نقل ہوئے۔ بخلاف فریق مدعیہ کے وہ ان کو درحقیقت قطب وقت، شیخ طریقت اپنا مقتداء وپیشواء اور مسلم بزرگ تسلیم کرتاہے اور انہیں کی تصریح کے مطابق فرقہ احمدیہ کو فرقہ ناریہ یقین کرتاہے اور دنیا میں ان کا متبع اور آخرت میں ان کے ساتھ اپنے حشر کا متمنی ہے۔

مختار مدعیہ نے اس شہادت کے متعلق گواہان مدعاعلیہ کے مسلمہ اقرار واصول اور حقائق کی روشنی میں جو اس بر بحث کی تھی، اس کی مندرجہ ذیل تاویلات کیں۔

خلاصہ تاویلات:

۱… مختار مدعیہ نے حضرت خواجہ صاحب کے تقدس پر بے جا طعن کیا کہ آپ نے فیصلہ کے وقت کوئی تخصیص نہ کی تھی۔

۲… آپ نے کافر کہنے والوں کو غلطی پر بتایا جو بلا اعلیٰ درجہ کی تحقیق کے نہیں ہوسکتا۔

۳… مختار مدعیہ کا یہ کہنا کہ خط میں صرف مرزا غلام احمد لکھا نہ کہ مسیح موعود ومہدی مسعود یا کوئی اور ایسا لفظ نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ پھر بھی آپ کو اعزا لاحباب لکھا۔

۴… دیگر خطوط میں مجموعہ محاسن وغیرہ کے الفاظ ہیں۔

۵… مندرجہ ذیل الفاظ استعمال فرمائے ہیں: ’’واقف علی مقام تعظیمک قبل الرؤیۃ وماجرت کلمۃ علی لسانی

459

الخ معترف بصلاح الخ۔ موقن بانک من عباد اللہ الصالحین اوتیت الفضل… الخ!‘‘

’’مرزا صاحب مرد نیک وصالح است‘‘ نیک مرد کہ اہل سنت والجماعت است… الخ!

’’وتمام کلام او مملو… الخ!‘‘ مرزا صاحب میں مہدی وعیسیٰm ابن مریم کے اوصاف پائے جاتے ہیں… الخ!

۶… مندرجہ ذیل امور دال ہیں کہ مرزا صاحب کے متعلق بعد تحقیق فتویٰ دیا۔

۱… الفاظ مذکورہ بالا۔

۲… خلیفہ اوّل کی ملاقات اور مرزاصاحب کے متعلق گفتگو۔

۳… مرزا صاحب سے خط وکتابت جاری رہی جس میں اس کا ذکرہے۔

۴… لیکچر جلسہ اعظم کا پڑھنا۔

۵… مخالف علماء کاجانا اور ان کے وجوہات کفریہ کو کفر نہ سمجھنا اور علماء کو غلطی پر بتانا علی وقت… الخ!

(ص۱۷۸،ص۶۹،۷۰)

۶… عبارت مرزا غلام احمد قادیانی… الخ!

(ص۱۷۹)

۷… نور فراست سے بھی اولیاء صادق کو پہنچانتے ہیں۔

۸… انجام آتھم جو ۱۸۹۷ء میں شائع ہوئی اور اس میں دعاوی وچیلنج مباہلہ تھا وہ بھی آپ کو پہنچی۔

۹… کچھ قابل اعتراضات الہامات کا بھی اس میں جواب تھا۔

۱۰… مسیلمہ کے متعلق فرماتے ہیں۔

الف… کافر واکفر است۔

( اشارات فریدی ج۳ ص۱۰۹)

ب… ہفتاد فرقہ کہ مردود اندواہل نار۔

(فوائد فریدی ص۳۰)

۱۱… چوڑھے چمار کو عباد اللہ الصالحین فرمانے کا کوئی بھی ثبوت پیش نہ کیا۔

۱۲… مختار مدعیہ کو مسلم ہے کہ عباد اللہ الصالحین بھی ایک شہادت ہے۔ پھر خواجہ صاحب کی طرف کسی اور نے اس کی نسبت کیوں نہ شہادت دی۔

الجواب:

۱… یہ غلط اور محض جھوٹ ہے۔ بلکہ جس قدر ان کے سامنے تحقیق حکیم نور الدین صاحب یا مرزا صاحب کی کتاب انجام آتھم جس قدر بھی سنی، اس سے ہوئی۔ ان پر حکم نہ دیا۔ دیگر کفریات خصوصاً دعویٰ نبوت اور ختم نبوت کا انکار اور حقیقت الوحی کے ناقابل برداشت کفریات اس وقت نہ تھے اور نہ انہیں پہنچے۔

یہی کب ثابت ہے کہ یہ خط من وعن حضرت خواجہ صاحب کا ہے، بلکہ اغلب یہ ہے کہ ان کا نہیں بلکہ غلام احمد اختر احمدی کا اس میں اضافہ ہے اور جعل سازی۔ ورنہ حضرت صاحب ہرگز اپنے قلم مبارک کی تصنیف یعنی نسخہ مبارکہ فوائد فریدی میں احمدی فرقہ کو فرقہ مردودہ اور ناری وجہنمی قرار نہ دیتے۔

۲… ان دلائل کی روسے جو وہ پیش کرتے تھے، ضرور خاطی بتایا ہوگا۔ اس وقت ان کے تمام کفریات قطعیہ سامنے نہ تھے، صرف انجام آتھم کی توہین عیسیٰ تھی۔ اس پر مرزا صاحب کا اپنے بچاؤ کا ایک مصنوعی نوٹ بھی۔

پھر غلام احمد اختر نے نیز حکیم نورالدین صاحب نے ان کفریات کے خلاف واقع شہادت دی۔ حکم ظاہر پر دیاجاتاہے نہ کسی کے

460

باطن پر۔ علمائے اسلام نے بھی جب تک صرف وہی امر تھا، کفر میں احتیاط اور متفقہ فتویٰ نہ دیا۔ مگر بعد میں کفر بے نقاب ہونے کے خصوصاً ۱۹۰۱ء سے متفقہ تمام علماء ومشائخ نے تکفیر کی۔ اگر حضرت قبلہ قدس سرہ العزیز! اس عالم ظاہر میں رونق افروز ہوتے تو وہ بھی مرزا صاحب کو کافر بتاکر ناموس نبی کریمa کی حفاظت میں کافی سے زائد حصہ لیتے۔

۳… اب اس پر لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے اجزاء سب مفصل آرہے ہیں۔

۴… پس اگر نبی کریمa اور مقدس اسلام کی درحقیقت مرزا صاحب نے جس قدر توہین عظیم کی ہے اور تمام صحابہﷺ اور اہل بیت کرام اور اولیاء اللہ کو جو منہ میںآیا کہا ہے۔ حضرت قبلہ قدس سرہ کو پہنچتی تو مرزا صاحب کے فتویٰ تکفیر پر سب سے پہلے حضور قبلہ کے دستخط ہوتے اوران کے تمام متبعین کو اسی وقت نہ صرف ریاست بلکہ تمام ان کے حلقہ اثر سے شہر بدر کرایاجاتا۔ انہیں تو حکیم نور الدین صاحب نے خلاف واقع بیان اور مرزا صاحب نے اپنے قول: ہر نبوت را بروشد اختتام سے مغالطہ دیا ہے اور اگرچہ صاحب نسبت حضرات پر ایسے امور غیبیہ ہی منکشف ہوتے ہیں۔ مگر یہ ہر وقت لازمی اور اختیاری نہیں:

  1. گہے بر طارم اعلیٰ نشینم

    گہے بر پشت پائے خود نہ بینم

  2. مے شود پردۂ چشم پر کام گاہے

    دیدہ ام ہر دو صاحباں رابنگاہے گاہے

  3. منزلے عشق بسے دور است ولے

    مے شود جادۂ صد سالہ بگاہے گاہے

نیز مقربان بار گاہ اسرار الٰہیہ اور امور غیبیہ کو عوام پر واضح کرکے پردہ فاش نہیں کرتے۔ حکم ظاہری پر لگاتے ہیں تاکہ ناموس شرع پر کوئی حرف نہ آئے۔ پھر اس فرقہ احمدیہ کو مردود ناری بتانا اور مرزا صاحب کو کشف والہام میں خاطی ماننا اسی زمرہ سے ہے۔

۵… مرزا صاحب پسند کرتے یا نہ مگر مسیح موعود ومہدی مسعود مان کر صرف الیٰ مرزا صاحب غلام احمد بلا کسی القاب وآداب کے لکھنا کبھی عقل باور نہیں کرسکتی۔ معمولی معمولی انسانوں کو تو اعلیٰ القاب لکھے جائیں، مگر مسیح دوران ومہدی زمان کو کچھ نہیں۔ صرف مرزا غلام احمد صاحب معلوم ہوا کہ ان دعاوی کی تصدیق کا الزام محض بہتان ہے۔ بلکہ اغلب یہ ہے کہ ان تک یہ پہنچی ہی نہیں۔ کیونکہ بالاستیعاب کسی کتاب کا سننا یا دیکھنا ثابت ہی نہیں اور خود اپنی فوائد فریدی میں حضرت قبلہ قدس سرہ نو اللہ مرقدہ عیسیٰ ابن مریم کی حیات ونزول اور عیسیٰm اور مہدی علیہ الرضوان کو دو علیحدہ علیحدہ شخصیتیں اور مہدی کو آنحضرت کے محمد کے نام کے ہم نام ان کے والد کانام عبد اللہ اور والدہ آمنہ اہل بیت نبی کریمa سے ہونا بلکہ تمام اہل سنت والجماعت کے معتقدات مفصلاً اپنے عقائد کے سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں جس کے بعد ظاہر ہے۔ اگر یہ دعاوی اسے پہنچتے تو ہرگز مسیح موعود نہیں تسلیم کرتے بلکہ تکذیب وتکفیر میں سب سے پیش پیش ہوتے۔

۶،۷… اوّلاً یہ تمام الفاظ غلام احمد اختر احمدی یا ان کے دوست ملّا رکن الدین صاحب کے بڑھائے ہوئے ہیں جن سے حضرت قبلہ نور اللہ مرقدہ کا دامن اقدس پاک ہے اور آپ کے صاحبزادے خواجہ محمدبخش جب ان الفاظ پر مطلع ہوئے تو فرمایا اس سے رکن الدین نے اپنی عاقبت خراب کردی۔ وہ قلمی تحریرات اب تک ان کے خلفاء کے پاس ہیں۔ نیز وہ روایات ان کے متوسلین میں مشہور ہیں۔ ہم تحریرات پیش کرنا چاہتے تھے۔ عدالت نے حسب ضابطہ اجازت نہ دی، آج عدالت اجازت دے ہم پیش کرسکتے ہیں۔

نیز ان میں کوئی بھی لفظ ان کی نبوت وغیرہ کی تصدیق کے نہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل تمام حقیقت حال کی آپ کو اطلاع نہ دی گئی۔ ملّارکن الدین صاحب اور غلام احمد اختر نے مل ملا کر یہ سازشیں کیں۔

۸… ہرگزنہیں یہ امور تحقیق مکمل پر دلالت نہیں کرتے۔ الفاظ مذکورہ کے متعلق اوپر عرض کرچکا ہوں۔ مفصل ابتدائی بحث میں ملاحظہ ہو۔ حکیم صاحب کی ملاقات ہی اس امر کی دلیل ہے کہ اصل واقع پیش نہیں ہوا بلکہ حسن عقیدت اور صفائی کا حکیم صاحب نے اظہار فرمایا۔

461

حضرت صاحب نور اللہ قدسہ نے باور کرلیا اولیاء اللہ کے ایسے ہی وسیع اخلاق ہوتے ہیں۔ وہ دنیا داروں کی طرح امور میں کرید نہیں کرتے اور نہ اس کے مکلف ہیں۔ حضور قبلہ تو دنیا سے کنارہ کشی، مراقب ذات صفات تھے۔ انہیں ان امور سے شغف تھا اور مہلت ہی کب تھی۔ صوفیائے کرام کسی کو برا نہیں کہتے۔ حتیٰ کہ اپنے دشمن کو۔ ریاست کے باشندے بھی واقف ہیں کہ ان کے معاملات ان لوگوں کے ساتھ کیا رہے، جنہوں نے انہیں گالیاں دیں اور برا کہا۔ خط وکتابت اور تقریر جلسہ اعظم میں کوئی بھی کفریہ دعویٰ والہام نہیں خط وکتابت میں تو اسلامی عقیدہ: ہر نبوت رابر وشد اختتام سے مغالطہ دیا ہے۔ اس کے بعد پھر ہر نبوت کے عموم کو باطل قرار دے کر خود نبی اور انبیاء سابقین سے افضل اور سید الانبیاء کے ہم سر بلکہ کچھ بڑھ کر بن گئے ہیں۔

یوں ہی اس تقریر کے بعد اپنی کتب میں کوئی بھی کفر نہ چھوڑا جو نہ لکھا ہو۔ خصوصاً ۱۹۰۱ء کے بعد۔ مخالف علماء کے وجوہ کفر انجام آتھم کے نوٹ اور غلام احمد اختر اور حکیم نور الدین صاحب مغالطہ آمیز صفائی کے بعد یقینا قابل اعتماد نہ سمجھے ہوں گے۔ حضور قبلہ نور اللہ مرقدہ کا یہ سمجھنا اس وقت حق بجانب ہے اور اس وقت دیگر علماء کا بھی متفقہ فتویٰ نہ تھا اور نہ صرف اسی کتاب پر فتویٰ کفریہ ہے۔ اصل معاملہ تو ۱۹۰۱ء کے بعد جب نبوت سے پردہ اٹھا اور کھل کے تمام اپنی گول مول دعاوی والہامات کفریہ کی شرح کی اور دین کی بنیادوں پر زبردست ضرب کاری لگائی اور انبیاء کرام حتیٰ کہ سید الانبیاءﷺ اورتمام صحابہ، اہل بیت واولیاء اقطاب وابدال کی توہین کیں۔ اس وقت متفقہ عرب وعجم کے علماء ومشائخ غرض کہ تمام فرق اسلامیہ نے کافر بنایا اور آج روئے زمین پر کوئی بھی فرقہ انہیں مسلمان نہیں کہتا۔ بلکہ اسلام کا سب سے زیادہ دشمن انہیں کوشمار کرتاہے۔ اس سلسلہ کے دیگر امور کا بھی اس میں جواب آچکا۔

۹… انجام آتھم پہنچی ہو مگر اوّل سے آخر تک بالاستیعاب مطالعہ کا ثبوت نہیں، نہ کل کے سننے کا۔ نیز اس میں تمام دعاوی بھی نہیں ۱۹۰۱ء کے جب کہ تمام دعاوی کفریہ بے نقاب ہوئے۔ اس وقت جیسی کوئی کتاب نہ پہنچی اور نہ تھی اور علماء اسلام کا متفقہ فتویٰ کفر دعویٰ نبوت کے پورے اظہار کے بعد اور کثریات کے قطعی الثبوت ہوجانے پر ہواہے۔

۱۰… جب ہی تو مغالطہ ہوا اور کفر کافتویٰ نہ دیاگیا۔ ورنہ اس کے بعض الہامات حضور قبلہ قدس سرہ العزیز جیسے صاحب بصیرت کے فتویٰ کفر کے واسطے کافی ہوئے۔ اس میں پردہ ڈالنے کو کچھ غلط تاویلات مغالطہ آمیز بھی تھیں۔

۱۱… مسیلمہ کذاب کو جس طرح کافراکفر بتایا بوجہ دعویٰ نبوت کے اگر مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت پہنچتا تو انہیں بھی اسی طرح کافر اکفر بتاتے۔

ہفتاد فرقہ جنہیں مردود ناری بتایا،ان میں مدعاعلیہ کا فرقہ احمدیہ بھی توہے اور گواہ نمبر۲ کا جواب جرح کا اقرار ہے کہ ہندوستان میں فرقہ احمدیہ صرف مرزا صاحب ہی کا فرقہ ہے نہ کوئی اور۔

۱۲… چوڑھے چمار کے عباد اللہ الصالحین ہونے کا ثبوت بحمد اللہ ! ہمارے پاس قطعی اور تحریری موجود ہے اور ہم پیش کررہے تھے۔ عدلت نے حسب ضابطہ وقت گزرجانے کی وجہ سے اجازت نہ دی تھی، آج اگر بے ضاطہ اجازت ہوجائے تو ہم آج پیش کرسکتے ہیں۔

۱۳… یقینا عباد اللہ الصالحین اگر حضور قبلہ فرماتے تو سوائے ان سازشی حضرات اور خصوصاً غلام احمد اختر احمدی کے علاوہ کوئی ایک تو خلفاء ومریدین ومتوسلین میں تو شاید ہوتا۔ مگر ایک بھی نہیں بلکہ خلفاء اور خصوصاً صاحبزادہ تو اس کی وجہ سے ملّا (رکن الدین) صاحب کو فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی عاقبت خراب کرلی۔

نیز اگر حضور قبلہ انہیں مسیح ومہدی سمجھتے تو ہندوستان اور خصوصاً پنجاب اور بالخصوص حضرت کے متوسلین اس سے ناواقف رہتے یا وہ حضرت کی مخالفت کرتے، بلکہ سب کے سب اور سب سے پہلے خلفاء داخل سلسلہ ہوتے۔ مگر بحمد اللہ ! آج تک سوائے غلام اللہ اختر کے جو پہلے سے احمدی تھا ایک بھی احمدی نہ ہوا۔ معلوم ہوا کہ یہ سب سازشی کا رروائی تھی۔ حضور قبلہ کا دامن اقدس اس سے بالکل پاک ہے۔ ف اللہ الحمد!

462

بعض اعتراضات کے جواب کاجواب الجواب

۱… صرف انجام آتھم یا اس کے ضمیمہ میں خطوط کا شائع ہونا اور اس کی تائید صرف اسی سازشی کارروائی غلام احمد اختر پر منحصر ہونا، ان خطوط کے مشکوک ہونے پر کافی تھا۔ پھر کسی خلیفہ کی تائید نہ حاصل ہونا بلکہ اپنی مجلسوں میں زبردست تردید۔ حتیٰ کہ اسے ملّاصاحب کی بربادی عاقبت کا سبب بتانا، ایسے واضح امور تھے کہ جس کا جواب ہی ناممکن تھا۔

مختار مدعاعلیہ سے کوئی معقول تاویل بھی نہ بن سکی۔ صرف یہ کہہ کر ٹالا کہ اس سے کیا اگر کسی دوسرے نے نہ شائع کیا اور کسی نے تردید تو نہ کی۔ اوّلاً مرزا صاحب کی کتابیں کون مسلمان بلا ضرورت دیکھتاہے۔ پھر اشارات میں ان خطوط سے کسے دلچسپی ہوگی۔ نیز میں تو عرض کرچکا کہ خلفاء اور خصوصاً صاحبزادہ بھی بعد اطلاع اس سے اظہار بیزاری فرماتے رہے اور اسے ملّاصاحب کا افتراء اور سوء عاقبت کا سبب فرماتے رہے۔ آج بحمد اللہ ! چاچڑاں شریف کی گدی آباد ہے اور اس کے زیب سجادہ سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔

یہ کہنا کہ شائع کیوں نہ کیا، اس کا جواب یہ ہے کہ صوفیائے کرام کو اشاعت واشتہارات وطباعت کی فرصت نہیں ہوتی۔ وہ ہمہ وقت ذکر وشغل میں مشغول ہوتے ہیں اور ذکر وشغل میں مصروف رہتے ہیں۔ پھر زبانی اشاعت اتنی ہوچکی تھی کہ اشتہارات کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اسی کا تواثر ہے کہ ایک بھی خواجہ صاحب کا غلام، مرزا صاحب کے زمرہ میں نہ شامل ہوا، بلکہ سب کے سب تمام مسلمانوں کی طرح انہیں مرتد وکافر سمجھتے رہے اور سمجھتے ہیں۔ یہ کہنا کہ خواجہ صاحب کو یہ رسالہ وخطوط پہنچے آپ نے تردید نہ کی، یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اور موثق ثبوت سواء اس مشتبہ اشارات فریدی کے نہیں جس پر اعتماد ہوسکے۔ اگر تائید کرتے تو ایک توشاہد اور مؤید ہوتا۔

۲… مرزا صاحب کے کشف کو جب غلطی پر محمول فرماتے رہے تو یہ کہنا کہ انہوں نے تصدیق کی محض مغالطہ ہے اور کہنا کہ لوگوں کے سمجھانے کو کہا کہ زیادہ سے زیادہ خطاء کشف میں مان لو۔ اس سے زائد مضحکہ خیز ہے اور کیا یہ پھر کشف کی غلطی کے مطالب کی توضیح مکتوب وغیرہ سے سب بے کار ہے۔ مسیح موعود اور مہدی مانتے، پھر ان کے کشف جو بمنزلہ وحی کے تھا غلط اور خطاء بتاتے، ناممکن نہ تھا یہ سب بیکار تاویلیں ناقابل التفات ہیں۔

۳… اس کا جواب کہ مرزا صاحب کے آدمیوں نے سازشی طور پر خلاف واقعہ صفائی پیش کرکے حضور قبلہ قدس سرہ العزیز! کو مطمئن کردیا۔ کچھ نہ ہوسکا بلکہ غلط پروپیگنڈے کے طور پر تاویلیں کیں کہ اس سے تویہ قول بہرحال تسلیم ہی کرلیا۔ حالانکہ یہ جواب بر تقدیر تسلیم وبطور فرض محال تھا۔ ورنہ اس کا ثبوت ہی نہیں۔ جیسا مختصراً اوپر اور مفصل اصل بحث میں عرض کرچکا۔

یہ کہنا اس سے زائد ناقابل التفات ہے کہ اس میں حضور قبلہ پر حملہ ہے کہ آپ سے جو شخص جو بھی چاہتاتھا لکھا لیتاتھا اور صادق وکاذب میں فرق نہ کرتے تھے۔ یہ محض مہمل جواب ہے، بلکہ مختار مدعیہ کے قول کا ماحصل یہ ہے کہ خواجہ صاحب کے روبرو مرزا صاحب کے متعلقین ان کے خلیفہ اوّل یا ان کے معتقدین کی شہادتیں ان کی صفائی میں تھیں اور اس وقت اس کے خلاف کوئی مدلل آپ کے روبرو شہادت نہ گزرسکی۔ مولوی غلام دستگیر قصوری بناء تکفیر انجام آتھم کی عبارت کو قرار دیاتھا۔ وہاں توضیحی مرزا صاحب کا نوٹ موجود ہے اور یسوع کی توہین کی تاویل کی ہے۔ پس وہ تنہاء بلا کسی دوسرے خارجی شہادت کے تکفیر، جیسے اہم مسئلہ میں کافی وقابل اطمینان نہ تھا۔ پس فتویٰ کفر سے احتراز کیا، مگر انہیں بھی عباد اللہ الصالحین میں سے فرمادیا جو مرزا صاحب کے مکفر تھے۔ اس سے خواجہ صاحب کا صوفیانہ مسلک بھی واضح ہوگیا۔ ورنہ مسیح موعود اور مہدی مسعود کو کافر بتانے والے کو عباد اللہ الصالحین کہنے کے کیا معنی۔ عجیب بات مسیح موعود بھی عبد اللہ الصالحین سے اور ان کو کافر ماننے والے بھی عباد اللہ الصالحین میں؟ یقینا خواجہ صاحب کا دامن قدس اس سے پاک ہے۔ کبھی بھی وہ مرزا صاحب کو مسیح موعود اور مہدی نہیں مانتے تھے۔

463

۴… اس کا کوئی جواب ہی نہیں ہوسکتا کہ بعد تسلیم اس امر کے کہ خواجہ صاحب نے مسلمان ہی مانا، مگر قبل دعویٰ نبوت واظہار نبوت کے یعنی ۱۹۰۱ء سے پہلے جب کہ ان کو بھی یہی لکھاتھا کہ: ہر نبوت رابرو شد اختتام۔ ورنہ ان پر بھی وہ ہی فتویٰ ہوتا جو مسیلمہ مدعی نبوت پر بوجہ دعویٰ نبوت کے ارشاد فرمایا کہ : ’’کافر اکفر است‘‘ ملاحظہ ہو (اشارات فریدی ج۳ ص۱۰۹) لہٰذا مرزا صاحب اور تمام مدعیان نبوت بعد آنحضرتﷺ پر مرزا صاحب کا فتویٰ اس میں کافر اکفر ہونا موجود ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

اب یہ توجیہہ کہ اس قسم کا دعویٰ اور اس قسم کا یا الہامات میں ’’ہو الذی ارسل رسولہ… الخ!‘‘ بھی تھا۔ نیز ’’لاغلبن انا ورسلی… الخ!‘‘یا اور اسی قسم کے یہ سب بوجہ نبوت نہ ہونے کے مستور تھے اور دوسرے معانی پر محمول یا خطاء وغلطی پر۔ جیسا کہ اسی اشارات میں کشوف والہام میں خاطی قرار دیاہے، یہ سب تاویلات ہی فضول ہیں۔ جب نبوت پر پردہ پڑاتھا اور بالکل مسلمانوں کی طرح ہرقسم کے مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے اور ہر قسم کے امتی وغیر امتی نئے یا پرانے نبی کا آنا، بعد آنحضرتﷺ خاتم النّبیین کے منافی اور کفر بتاتے تھے۔ جیسا کہ ختم نبوت کی بحث میں مفصل گزرچکا۔

۵… مولوی رکن الدین صاحب سے غلام احمد اختر احمدی کا تعلق اور انہی کا مسودہ خطوط لکھنا تو مسلم ہے۔ اب یہ تاویل احتمالات کسی طور پر نافع نہیں، ثبوت بہرحال مشتبہ ہوگیا۔

۶… اس کا بھی کوئی جواب نہ ہوسکا، بلکہ تسلیم کرلیا کہ سوائے غلام احمد صاحب اختر کے اور کسی مرید، حتیٰ کہ خود ملّا رکن الدین بھی مرزا صاحب کی بیعت میں شامل نہ ہوئے۔ یہ کہہ دیا کہ یہود نے کب آنحضرتﷺ کو باوجود اپنے انبیاء کی خبر کے مانا، گویا یہ سب حضرات جو حضرت قبلہ کے مریدہیں جنہوں نے مرزا صاحب کی بیعت نہ کی یا تصدیق نہ کی۔ عیاذاً ب اللہ ! یہود کی طرح ہوئے۔

۷… خواجہ محمدبخش صاحب کا برادر دینی کہنا یقینا اس کی تمام تحریرات اور ہر قول وفعل کی تائید وتوثیق نہیں کرتا۔ بخلاف غلام احمد اختر کو اخویکم کہنا ملّا رکن الدین صاحب کا تعلق ضرور ثابت کرتا ہے۔ تعلق ہونا اور چیز ہے، غلام احمد اختر کو اخویکم کہنا وتوثیق اور شئے ہے۔

۸… خواجہ محمد بخش صاحب کی تقریظ میں کہیں بھی یہ نہیں کہ میں نے اسے از اوّل تا آخر کما حقہ مطالعہ کیا ہے، نہ عموماً تقریظات میں یہ ہوتاہے۔ معمولی نظر ڈال کر مؤلف کے اعتماد پر تصدیق وتقریظ لکھ دی جاتی ہے۔

باقی مریدوں کا طبع کے واسطے اصرار تو حضرت خواجہ صاحب کے ملفوظات کی وجہ سے تھا نہ مرزا صاحب تصدیق کی سازش کارروائی کے لئے۔

اس سے توثیق کیا ہوئی، مرزا صاحب کا قول اشارات حضرت خواجہ صاحب کی تصنیف ہے اور گواہان مدعاعلیہ کے بہ قول وہ ملّا رکن الدین صاحب کی ہے۔ اس تناقض پر کوئی معقول توجیہہ نہ پیش کرسکے، صرف تاویلات ناقابل التفات کیں۔

پھر گواہ کا کبھی یہ کہنا کہ خواجہ محمدبخش صاحب نے سبقاً سبقاً سنی اور پھر سوالات مکرر میں اس کی اصطلاح کہ نہیں خود خواجہ صاحب نے سنی دونوں غلط ہیں۔ کیونکہ گواہ نمبر۱ نے بجواب جرح ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء تسلیم کا ہے کہ اشارات مرتب ہی خواجہ صاحب کے بعد ہوئے اور طباعت واشاعت بھی۔

زیادہ تعجب تو یہ ہے کہ ملّارکن الدین صاحب یا غلام اختر صاحب احمدی کے اقوال تو قابل قبول بلا تأمل وشک وشبہ ہیں۔ مگرخود حضرت خواجہ صاحب کی تصنیف اشارات فریدی جس میں آنحضرتﷺ کو مطلقاً سب سے آخری نبی ہونا لکھا ہے اور تمام عقائد مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے خلاف اہل سنت والجماعت کے موافق لکھے ہیں اور اس کے (ص۲۹،۳۰)پر فرقہ احمدیہ کو مردود وناری فرقہ

464

بتایاہے۔ اس میں بے کار اور بے ربط تاویلات وشبہات نکالے جاتے ہیں۔اس کا صاف یہ مطلب ہے کہ جو اپنے مطلب کے موافق ہو وہ تو قبول، ورنہ رد اور ناقابل قبول۔ جس سے مرزا صاحب کی تصدیق ہو، وہ صحیح۔ خواہ سازشی اور فرضی ہی کیوں نہ ہو اور نہایت مستند ومعتبر بھی۔ اگر مرزا صاحب کی تصدیق نہ ہو تو غلط بلکہ احادیث صحیح تک ردّی کی طرح پھینکنے کے لائق۔

یہ کہنا کہ مرزا صاحب کے فرقہ کا نام فوائد فریدیہ کی تصنیف تک فرقہ احمدیہ نہ تھا۔ محض مغالطہ ہے اور اس کی تائید تریاق القلوب کے سنہ طباعت سے بھی کافی نہیں۔ کیونکہ زائد سے زائد بفرض تسلیم اس سے یہی ثابت ہوگا کہ گورنمنٹ میں اس نام کی مردم شماری کے لئے رجسٹرڈ کرنے کی درخواست بعد کو کی ہے مگر یہ نہیں کہ یہ نام ایجاد ہی اس سنہ سے ہوا بلکہ پہلے اور ہمیشہ سے ہندوستان میں نام صرف مرزا صاحب کے متبعین کے واسطے باقرار گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۰؍مارچ مخصوص ہے۔

نیز براہین احمدیہ جو سب سے پہلی کتاب ہے۔ اس کی نسبت بھی اس کا قرینہ مؤید ہے کہ جماعت کا نام بھی ابتداء سے ہی احمدیہ تھا۔ بہرحال گواہ کے اقرار کے بعد اب یہ تمام احتمالات بے معنی ہیں اور یقینا حضرت قبلہ مدظلہ تعالیٰ نے اس فرقہ یعنی فرقہ احمدیہ کو فرقہ مردود وناریہ قراردیاہے اور باقرار گواہ ہندوستان میں کوئی اس نام کا فرقہ ہی نہ تھا۔ مولانا رشید احمد صاحب کے متبعین رشیدیہ کے نام سے موسوم ہیں۔ جیسا القول الصحیح سے بحث میں پیش کرچکا۔

بہرحال یہ تمام تاویلیں محض بے سود رہیں۔

خلاصہ جواب الجواب متعلقہ شہادت حضرت خواجہ صاحب

اوّلاً یہ شہادت شہادتی اصول پر محقق اور ثابت نہیں بلکہ اغلب یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی نہیں۔ یقینا غلام احمداختر احمدی کی سازش ہے۔ جیسا کہ مفصل اصل بحث میں پیش کرچکاہوں۔ نیز مرزا صاحب کا ان کو مکفرین کی فہرست میں شمار کرنا، اس امر کو کافی ہے کہ خواجہ صاحب انہیں کافر سمجھتے تھے۔ دوسرے اس پر کسی خلیفہ یا مرید نے اعتماد نہ کیا، نہ مرزا صاحب سے وابستہ ہوئی، نہ تصدیق کی نہ بیعت۔

تیسرے یہ بھی ثابت نہیں کہ مرزا صاحب کی کوئی کتاب ’’من اوّلہ الاآخرہ‘‘ حضرت خواجہ صاحب نے دیکھی یاسنی ہو۔ چوتھے ان کے وصال کے بعد مرتب ہوئی۔ ملّارکن الدین جامع اشارات کی توثیق کے متعلق خواجہ صاحب سے کچھ منقول نہیں۔ پانچویں ان کے کلام کو طاقت بشری سے خارج بتایاہے جو خواجہ صاحب سے متصور نہیں۔ تمام مرزاصاحب کے دعاوی ومعتقدات خواجہ صاحب کی اپنی کتاب فوائد فریدی کے سراسر مخالف ہیں۔ بلکہ ان کے مخالف عقائدوں سے آخر تک موجود ہیں۔ نبوت، دجال، یاجوج وماجوج، نزول عیسیٰ وغیرہ میں مرزا صاحب کے خلاف اہل سنت کے موافق ہیں۔ جیسا کہ جرح میں حوالے پیش کرچکا۔

پھر خود فوائد فریدی میں احمدیوں کو فرقہ مردودہ اور ناریہ میں شمار کیا۔ جیسا کہ گواہوں کے مسلمات سے اصل بحث میں پیش کرچکا۔

ان دلائل وبراہین کی روشنی میں ان خطوط کی نسبت حضرت خواجہ صاحب کی طرف کرنا بہتان عظیم ہے۔

اور اگر بفرض تسلیم ہی کرلیں تو یہ اس وقت تھا، جب تک دعویٰ نبوت نہ تھا اور انہیں یہ لکھ بھیجا کہ ہر نبوت رابروشد اختتام۔ ورنہ بعد دعویٰ نبوت وہی مسیلمہ مدعی نبوت پر کافتویٰ اکفر کافر ہونے کا موجودہے کہ مرزا صاحب بھی مسیلمہ کی طرح کافرہیں۔ لہٰذا ایک طرف تو مدعاعلیہ اور اس کی جماعت کے دو مبلغ مرزا صاحب کو مسلمان اور ان کے فرقہ کو اسلامی فرقہ ثابت کررہے ہیں اور دوسروں کی طرف ایک خدا رسیدہ بزرگ اور تمام پنجاب وہندوستان کا مسلم تاجدار بہاولپور کے پیرومرشد حضرت خواجہ غلام فرید صاحب نور اللہ مرقدہ ہیں۔

465

جن کا احترام تمام ریاست کے راعی ورعایا پر ضروری ہے۔ وہ اپنی کتاب فوائد فریدی میں فرقہ احمدیہ کو مردود وناریہ اور مدعی نبوت مسئلہ جیسے کو گمراہ کافر فرمارہے ہیں۔ پس اس جماعت کے کفر وارتداد میں اب کون سا شبہ رہ جاتاہے۔

آخری گزارش

تنگی وقت اور تحدید کی وجہ سے اب کوئی جنرل جواب الجواب تمام جوابی بحث پر پیش نہیں کرسکتا اور نہ جدید حوالوں اور خیانتوں میں تیز کلامی کی فہرست پیش کرنا ممکن ہے۔ عدالت کو خود ہی ملاحظہ مسل کے وقت معلوم ہوجائے گا۔ دوران جواب میں اشارات کرتارہاہوں۔

استدعا

تنقیح اوّل کا حصہ اوّل مدعاعلیہ احمدی ہونا یا قادیانیت ومرزائیت اختیار کرنا تو اقراری ہے۔ حصہ دوم یعنی اس سے ارتداد وکفر کا لازم آناتمام تاویلات مختار مدعاعلیہ کا مدلل جواب دے کر اور مغالطوںکا انکشاف کرکے تقریباً دو سو سے زائد قطعی دلائل آیات قرآنیہ قطعی الدلات وقطعی المعنی والمراد اوراحادیث صحیحہ مشہورہ ومتواترہ واجماع صحابہ وائمہ وتمام امت واقوال سلف وخلف وعلماء صوفیہ واکابر سے مدلل ثابت کردیا کہ نہ صرف وجوہات پنجگانہ بلکہ اور بھی وجوہات کثیرہ سے مدعاعلیہ اور اس کے مقتداء وجماعت کافر مرتد دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

اب صرف تنقیح دوم باقی رہی کہ کیا اس سے فسخ نکاح لازم آتاہے؟ اس کے واسطے ہر دو گواہوں کا اقرار پیش کرچکاہوں کہ: ’’اگر مرتد ہوجائے تو عام حکم یہی ہے کہ نکاح فسخ ہوجائے گا۔‘‘

(جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۱، مؤرخہ یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء)

’’تعامل تمام مسلمانوں کا یہی ہے کہ ارتداد سے نکاح فسخ سمجھا جاتاہے۔‘‘

(جرح گواہ مدعاعلیہ نمبر۲، مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)

پس مقدمہ ہٰذا میں

نکاح مدعیہ کا فسخ اور مقدمہ بحق مدعیہ ڈگری ہونا چاہئے۔

’’واٰخر دعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العالمین، وصلی اللہ علی حبیبہ اوّلاً وآخراً دائماً متوالیاً علیٰ اٰلہٖ وصحبہٖ واولیاء امتہ اجمعین‘‘

(ابوالوفاء نعمانی عفاء اللہ عنہ، شاہجہانپوری)

۱۰؍ مئی پنجشنبہ۱۹۳۴ء

نوٹ: قارئین! فائنل پروف پڑھتے ہوئے اختتام سے چھ سطریں پہلے فقیر کے دل میں یہ داعیہ وارد ہوا کہ اگر اس کام اور مولانا ابوالوفاء نعمانی شاہجہانپوری کی تحریر سے کوئی تطابق ہو جائے تو فقیر کے اس کام کی عند اللہ قبولیت اور فقیر کی مغفرت کی امید کا باعث ہو گا۔ اس وقت میرے خیال میں صرف مہینہ کے توافق کی بات تھی۔ جب دیکھا تو تاریخ کا تطابق بھی ساتھ ہو گیا۔

قارئین! دوسرا عجیب وغریب توافق یہ سامنے آیا کہ مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری نے یہ بیان ۱۰؍مئی ۱۹۳۴ء کو عدالت میں جمع کر دیا۔ عدالت کا فیصلہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو صادر ہوا۔ مولانا ابوالوفاء کی تدفین بھی ۷؍فروری ۱۹۸۰ء کو ہوئی۔مالک ارض وسماء یا رب العالمین میرا آپ کی ذات کے متعلق یہی عقیدہ ہے کہ اگر آپ نے کام کی توفیق دی ہے۔ یہ تیری جناب میں عمل مقبول ہے تو میری نجات بھی فرما۔امین بحرمۃ النبی الامی الکریم خاتم النّبیین یا ارحم الراحمین!

فقیر: اللہ وسایا بہاول پوری

۱۶؍رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ، مطابق ۱۰؍مئی ۲۰۲۰ء یکشنبہ

466

فیصلہ

مقدمہ مرزائیہ بہاول پور مصدرہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء

جس میں جناب محمداکبرخان صاحب بی۔اے،ایل۔ایل۔بی

ڈسٹرکٹ جج بہاول پور نے مرزائیت کو ارتداد قرار دے کر

مسلمہ کا نکاح مرزائی سے فسخ فرمایا

467

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱۹۳۴ء کے اواخر میں جب کہ شہادت فریقین ختم ہوکر فیصلہ زیر غور تھا۔ جلال الدین شمس مختار مدعاعلیہ کی جانب سے ایک درخواست مؤرخہ ۴؍دسمبر۱۹۳۴ء بدیں مضمون پیش کی گئی کہ عبدالرزاق مدعاعلیہ مؤرخہ ۱۰؍نومبر۱۹۳۴ء کو فوت ہوگیا ہے۔ لہٰذا مقدمہ زیر بحث میں کسی تجویز کی ضرورت نہ ہے۔ مثل مقدمہ داخل دفتر کردی جائے۔

ایک طرف مرزائی جماعت کو اپنے دنیاوی اسباب پر بھروسا تھا تو دوسری جانب اہل ایمان کو مسبب الاسباب پر کأمل یقین۔ وہ چاہتے تھے کہ حق وباطل کے اس عظیم مقدمہ پر فیصلہ ہر صورت بحق یابرخلاف مدعاعلیہ ضرور صادر ہوناچاہئے۔

ابتداً مختاران مدعیہ نے عبدالرزاق کی اچانک موت کو تسلیم نہ کیا، لیکن جب بعد تحقیق موت کی تصدیق ہوگئی تو مختاران مدعیہ نے مستند قانونی حوالہ جات ونظائر پیش کرکے ثابت کیا کہ کسی ایک فریق کی موت واقع ہوجانے کی صورت میں بھی بروئے قانون مروجہ شرع شریف عدالت کے لئے لازم ہے کہ اس مرحلے پر اپنا فیصلہ صادر کرے۔

درخواست جلال الدین صاحب شمس مختار مدعاعلیہ

مؤرخہ ۴؍دسمبر ۱۹۳۴ء

جس میں تحریر کیاگیا کہ عبدالرزاق فوت ہوگیا ہے۔ لہٰذا اب مقدمہ ہذا میں کسی مزید کارروائی کی ضرورت نہ ہے۔

بعدالت ڈسٹرکٹ جج بہادربہاول پور

بمقدمہ غلام عائشہ بنام عبدالرزاق … زیر آرڈر ۲۲رول۔ ۱ ضابطہ دیوانی

جناب عالی!

مقدمہ مندرجہ عنوان میں مدعاعلیہ مؤرخہ۱۰؍نومبر ۱۹۳۴ء کو رحلت فرماگئے ہیں اور ان حالات میں مقدمہ مندرجہ عنوان میں کسی تجویز کی ضرورت نہیں رہتی۔ مدعیہ آزاد ہے کہ جہاں چاہے شادی کرے اور چونکہ مدعاعلیہ کو کبھی خلوت صحیحہ حاصل نہیں ہوئی۔ اس لئے عدت وغیرہ کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی مقدمہ ہذا کی اغراض کے لئے مدعاعلیہ کا کوئی قائم مقام قانون کی نگاہ میں مقررہوسکتا ہے اور ان حالات میں یہ بے معنی ہوگا کہ کوئی فیصلہ بحق مدعا علیہ یابرخلاف مدعاعلیہ صادر کیا جائے اور یہ قرین انصاف ہوگا کہ مسل مقدمہ داخل دفترفرمائی جائے۔

خاکسار: جلال الدین شمس

۴؍دسمبر ۱۹۳۴ء

468

درخواست ہائے مسماۃ غلام عائشہ

مؤرخہ ۲۰؍دسمبر ۱۹۳۴ء و۱۲؍جنوری ۱۹۳۵ء

جس میں قانونی حوالہ جات پیش کئے جاکر ثابت کیاگیا کہ

بروئے قانون عدالت فیصلہ سنانے کی مجاز ہی نہیں بلکہ پابندہے۔

بعدالت عالیہ ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر (ریاست بہاول پور)

مسماۃ عائشہ مدعیہ بنام عبدالرزاق مدعاعلیہ

دعوی تنسیخ نکاح ازیوم ارتداد

جناب عالی!

۱… من جانب مختار مدعاعلیہ ایک درخواست پیش ہوئی ہے کہ مدعا علیہ فوت ہوچکا ہے۔ جس پر عدالت نے مدعیہ کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ قانون پیش کرے کہ اس مرحلہ پر عدالت فیصلہ نہیں سنا سکتی یا سناسکتی ہے۔

۲… مختار مدعیہ نہایت ادب سے التماس کرتی ہے کہ عدالت زیر قاعدہ ۶آرڈر ۲۲ضابطہ دیوانی فیصلہ سناسکتی ہے۔ خواہ بنائے دعویٰ رہے یا نہ رہے اور استحقاق نالش قائم رہے یا نہ۔ گویہاں اس مقدمہ میں استحقاق نالش قائم ہے۔ دفعہ ماسبق آرڈر۲ میں قائم مقام کی ضرورت ہے لیکن اس قاعدہ ۶ میں قائم مقام کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو فیصلہ جات ۱۰۶، ۱۹۱۵ء پنجاب ریکارڈ۲۶جلد، مدراس صفحہ۱۰۱۔ الہ آباد سال ۱۹۳۳ء صفحہ ۱۱۱۔لاہور سال ۱۹۳۳ء صفحہ ۷۱۰ و آرڈر ۶ رول ۲۲ضابطہ دیوانی۔

۳… اس مقدمہ میں فیصلہ سنانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ مقدمہ ایک دفعہ عدالت ہائے ریاست ہذا سے مدعاعلیہ کے حق میں فیصلہ ہوچکا تھا۔ لیکن انتہائی عدالت نے وہ تمام فیصلہ جات اس لئے منسوخ کردئیے کہ یہ ایک شرعی معاملہ ہے۔ ریاست ہذا میں اسلامی ضابطہ کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے تھا۔ لہٰذا اب بموجب ضابطہ اسلامی مقدمہ کا فیصلہ کیا جائے۔

۴… اگر عدالت عالیہ مدعاعلیہ کو فوت تسلیم کرنے کی بناپر فیصلہ ملتوی کردے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ عدالت مدعیہ کے حقوق داد رسی عطائے خرچہ سے بھی انکارکرتی ہے۔

لہٰذا التماس ہے کہ بوجوہات بالا اس مقدمہ کالازماً فیصلہ سنایاجائے تاکہ مدعیہ کی داد رسی فرمائی جاوے۔ مؤرخہ ۳۰؍دسمبر ۱۹۳۴ء

عرضے

مسماۃ عائشہ بذریعہ حاجی محمود مختار خاص

نقل درخواست مختار مدعیہ مؤرخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۳۴ء

بہ محکمہ ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر

مسمات عائشہ بنام عبدالرزاق مدعاعلیہ

دعویٰ دلا پانے ڈگری استقراریہ فسخ نکاح فریقین بوجہ ارتداد شوہرم مدعاعلیہ از یوم ارتداد

469

جناب عالی!

بمقدمہ صدرقانون بحث طلب یہ ہے۔ بغرض تسلیم موت مدعاعلیہ فیصلہ عدالت سنا سکتی ہے یانہ۔

مختار مدعیہ حسب ذیل عرض کرتا ہے:

۱… یہ مسلمہ امر ہے کہ موت احد الفریقین بعد سماعت مقدمہ قبل از اجراء فیصلہ وقوع میں آئی ہے۔

اس کے متعلق قاعدہ نمبر۶آرڈر نمبر۲۲ ضابطہ دیوانی اس مرحلہ مقدمہ کے لئے خاص وضع کی گئی چنانچہ رپورٹ سلیکٹ کمیٹی کی جو مجموعہ ضابطہ دیوانی کی ترمیمات پر غورکرنے کے لئے مقرر ہوئی تھی۔ وہ تشریح کرتی ہے کہ واقعہ موت کو مقدمہ کے تصفیہ سے کچھ سروکار نہیں ہے۔ اس لئے اس آرڈر۲۲ کے متعلق جو رپورٹ کمیٹی نے کی ہے۔ وہ درخواست میں بعینہٖ حرف بحرف نقل کی جاتی ہے:

’’جو دفعات کہ قانون موجود میں مقدمہ کی سماعت کی نسبت ہیں، ان میں ہمارے نزدیک اہم تغیر کی ضرورت نہیں۔ مگر ہم نے اس صورت خاص کا بصراحت لکھ دینا ضروری سمجھا جبکہ کوئی فریق بعد سماعت مقدمہ مگر قبل اجراء فیصلہ کے فوت ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ اس واقعہ کو مقدمہ کے تصفیہ سے کچھ سروکار نہ رکھنا چاہئے۔ پس اس غرض سے ہم نے اس مضمون کی دفعہ داخل کردی کہ فیصلہ باوصف وفات فریق کے بھی سنایاجاسکے۔‘‘ (ملاحظہ ہو رپورٹ)

۲… آرڈر۲۲ کے متعلق ضابطہ دیوانی میں صاف درج ہے کہ آرڈر ہذا تغیرات بدوران دعویٰ سے متعلق ہے۔

استحقاق نالش یاعدم استحقاق نالش کی شرط دوران مقدمہ میں ہے ، اس لئے اگر استحقاق نالش قائم ہے تو بذریعہ قائم مقام کے مقدمہ کی سماعت جاری رہے۔ اگر استحقاق نالش قائم ہی نہیں۔ مقدمہ ختم ہوجاتا ہے اورقائم مقام کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔آرڈر۲۲ میں جس قدررول بجز رول۶ کے ہیں۔ متعلق دوران مقدمہ کے ہیں اور قاعدہ۶ میں صاف تحریرکیاگیاہے یہ قاعدہ جدید ہے جیسا کہ رپورٹ کمیٹی سلیکٹ نے ظاہر کیاہے(پس اس غرض سے ہم نے اس مضمون کی دفعہ داخل کردی) کہ وہ دفعہ۶ و۲۲ کی ہیں۔ اس رول نمبر۶ میں استحقاق نالش کی شرط کا نہیں ہے۔

۳… جو مقدمہ ہذا میں جبکہ موت مدعاعلیہ بعد سماعت مقدمہ قبل اصدار فیصلہ وقوع میںآئی ہے۔ استحقاق نالش کے قائم یاناقائم رہنے کا تعلق نہیں ہے۔ بوجوہات ذیل:

(الف) دعویٰ مدعیہ یہ ہے کہ مدعاعلیہ سال ۱۹۲۶ء میں مرتد ہوچکاہے۔ یوم ارتداد سے مدعیہ اس کی منکوحہ نہیں رہی۔ ڈگری استقرار یہ عدالت سے بھی طلب کرتی ہے کہ بباعث ارتداد مدعیہ اس کی منکوحہ نہیں رہی۔ ملاحظہ فقرہ نمبر۳،۴،۵ عرضی دعویٰ۔

(ب) شرعاً ارتداد طلاق فسخ نکاح وحرمت مظاہرہ ورضا وغیرہ کے متعلق مختلف نہیں۔ ارتداد کا یہ حکم ہے۔ ارتداد کے وقت نکاح بلاحکم قاضی خود بخود فسخ ہوجاتاہے اور دعویٰ فسخ نکاح خیار البلوغ وغیرہ میں فسخ نکاح حکم قاضی وقت سے ہوگی ارتداد میں عدت نہیں ہواکرتی۔ صرف ایک حیض استبراء ہواکرتاہے اور موت میں عدت ہے۔ مقدمہ ہذا میں اگر مدعاعلیہ دوران مقدمہ میں مرجاتا ہے۔ تاہم بھی مدعیہ کا استحقاق نالش قائم رہتا۔ کیونکہ مدعیہ کی داد رسی یہ ہے کہ وہ یوم ارتداد سے فیصلہ صادر فرمایا جاوے اور اگر ان نظائر سے تشفی نہ ہوتو مزید بحث کے لئے مسٹر خالد لطیف گا۔بہ صاحب بیر سٹرایٹ لاء پیش کئے جاسکتے ہیں جو آج چند مجبوریوں کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے۔

تحریر۶؍شوال المعظم۱۳۰۳ھ ۱۲؍جنوری۱۹۳۵ء

عرضے

محمود مختارخاص مدعیہ محمود بقلم خود

470

عدالت

میں نے نظائر پیش کردہ کو دیکھا ہے ان میں سے آل انڈیا رپورٹر ۱۹۲۷ء اودھ صفحہ ۵۶۱ کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ یہ قرار پایا جاسکتا ہے کہ صورت موجودہ میں واقعات پر فیصلہ صادر کیاجاسکتاہے۔ لہٰذا مختار مدعیہ کو مزید بحث کے لئے کسی قانون کے پیشہ ورشخص کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اصل ہذا شامل مسل ہو۔ مختار مدعیہ کوتاریخ فیصلہ سے بعد میں مطلع کیاجائے گا۔ ۱۲؍ جنوری۱۹۳۵ء دستخط: جج صاحب

عدالت

مختار مدعیہ کو مطلع کیاجاوے کہ وہ بقرار ۷؍فروری۱۹۳۵ء فیصلہ مقدمہ سننے کے لئے عدالت ہذا میں بمقام بہاول پور حاضر ہو۔ یکم؍ فروری ۱۹۳۵ء

دستخط: محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج

فاضل جج نے فریقین کے پیش کردہ قانونی حوالہ جات ونظائر کا پوری تحقیق سے جائزہ لینے کے بعد مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ کے مؤقف سے اتفاق فرماتے ہوئے ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو فیصلہ صادر فرماکر قراردیا کہ قرآن پاک، احادیث نبویہa اور قانون حکومت کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین اپنے عقائد اور اعمال کی بناء پر مسلمان نہیں بلکہ کافر اور خارج از اسلام ہیں۔

قارئین گرامی! اب ملاحظہ فرمائیے حق وباطل کے درمیان ۹سالہ قانونی جنگ کے نتیجہ میں صادر ہونے والا تاریخی عدالتی فیصلہ مؤرخہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء۔

مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش ذات ملانہ عمر۱۹؍۱۸سال سکنہ احمدپور شرقیہ

بمختاری الٰہی بخش ولد محمود ذات ملانہ ساکن احمدپور شرقیہ معلم مدرسۃ عربیہ۔

بنام

عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد ذات باجہ عمر ۲۳سال ساکن موضع مہند تحصیل احمد پور شرقیہ حال مقیم میلسی شہر گیج ریڈر سب ڈویژن انہار میلسی ضلع ملتان

دعویٰ دلا پانے ڈگری استقراریہ مشعر تنسیخ نکاح

فریقین بوجہ ارتداد شوہرم مدعاعلیہ

تجویز اخیر باجلاس عالی جناب محمداکبرخان صاحب بہادر بی۔اے، ایل ۔ایل۔بی

ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر

بمقدمہ مسمات غلام عائشہ مدعیہ بنام عبدالرزاق مدعاعلیہ

دعویٰ تنسیخ نکاح

یہ ایک خاص نوعیت اور اہمیت کا مقدمہ ہے جو سال ۱۹۲۶ء میں دائرہوکر ایک دفعہ انتہائی مراحل اپیل طے کرچکاہے اور سال ۱۹۳۲ء سے پھر ایک نئی شان اور نئے اسلوب سے ابتدائی حیثیت میں عدالت ہٰذا میں زیر سماعت چلاآیاہے۔ واقعات مختصراً یہ ہیں کہ مولوی الٰہی بخش والد مدعیہ اور مولوی عبدالرزاق مدعاعلیہ باہمی رشتہ دار ہیں اور ابتدائً یہ دونوں علاقہ ڈیرہ غازی خان میں رہتے تھے۔ عبدالرزاق کی ہمشیرہ مولوی الٰہی بخش سے بیاہی ہوئی تھی اور مولوی الٰہی بخش نے اپنی لڑکی مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ کا نکاح اس کے ایام نابالغی میں عبدالرزاق مدعاعلیہ سے کردیاتھا۔

471

یہ لڑکی اس کی ایک سابقہ بیوی کے بطن سے تھی اور اس کا نکاح وہیں فریقین کے ابتدائی مسکن پر ہواتھا۔ اس کے بعد مولوی الٰہی بخش وہاں سے ترک سکونت کرکے علاقہ ریاست ہذا میں چلاآیا اور سال ۱۹۱۷ء میں اس نے موضع مہند تحصیل احمدپور شرقیہ میں ایک زمیندار کے ہاں عربی تعلیم دینے پر ملازمت اختیار کرلی۔ مدعیہ کی طرف سے کہا جاتاہے کہ اس سے ایک سال کے بعد مدعاعلیہ بھی بمعہ اپنی والدہ اور دو ہمشیرگان کے وہاں سے ترک سکونت کرکے مولوی الٰہی بخش کے پاس موضع مہند میں آگیا اور اپنے کنبہ کو وہاں چھوڑ کر خود حصول معاش کے لئے مختلف مقامات پر پھرتارہا۔ دوران قیام موضع مہند میں اس نے اپنے سابقہ اعتقادات سے انحراف کرکے مرزائی مذہب اختیار کرلیا اور وہاں اپنے قادیانی، مرزائی ہونے کا اعلان بھی کرتارہا۔ اس کے بعد اس نے مولوی الٰہی بخش سے مدعیہ کے رخصتانہ کے متعلق استدعاکی تو اس نے یہ جواب دیا کہ جب تک وہ مرزائی مذہب ترک نہ کرے گا۔مدعیہ کا بازو اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ مدعاعلیہ کچھ عرصہ مدعیہ کے رخصتانہ کے درپے رہا۔ لیکن اسے یہی جواب دیاجاتارہا کہ اس کے مرزائی مذہب پر قائم رہنے کی صورت میں مدعیہ اس کے حوالے نہیں کی جاسکتی۔ جب اسے کامیابی کی امید نظر نہ آئی تو وہ پھر ریاست ہذا سے ترک سکونت کرکے علاقہ برٹش انڈیا میں چلا گیا اور حدود ریاست ہٰذا کے قریب علاقہ تحصیل لودھراں میں سکونت اختیار کرلی۔

ان سوالات پر کہ مدعاعلیہ نے حدود ریاست سے سکونت کب ترک کی اور اس نے مرزائی یا احمدی مذہب کہاں اور کب اختیار کیا؟ آگے بحث کی جائے گی۔ یہاں اب صرف یہ درج کیا جاتاہے کہ مدعیہ کے اس رخصتانہ کے سوال پر والد مدعیہ اور مدعاعلیہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور والد مدعیہ نے مدعیہ کی طرف سے بحیثیت اس کے مختار کے ۲۴؍جولائی ۱۹۲۶ء کو مدعاعلیہ کے خلاف یہ دعویٰ بدیں بیان دائر کیا کہ مدعیہ اب تک نابالغ رہی ہے۔ اب عرصہ دو سال سے بالغ ہوئی ہے۔ مدعاعلیہ ناکح مدعیہ نے مذہب اہل سنت والجماعت ترک کرکے قادیانی، مرزائی مذہب اختیار کرلیاہے اور اس وجہ سے وہ مرتد ہوگیاہے۔ اس کے مرتد ہوجانے کے باعث مدعیہ اب اس کی منکوحہ نہیں رہی۔ کیونکہ وہ شرعاً کافر ہوگیاہے اور بموجب احکام شرع شریف بوجہ ارتداد مدعاعلیہ مدعیہ مستحق انفراق زوجیت ہے۔ اس لئے ڈگری تنسیخ نکاح بحق مدعیہ صادر کی جائے اور یہ قرار دیا جائے کہ مدعیہ بوجہ مرزائی ہوجانے مدعاعلیہ کے اس کی منکوحہ جائز نہیں رہی اور نکاح مدعیہ بوجہ ارتداد مدعاعلیہ قائم نہیں رہا۔ مدعاعلیہ نے اس کے جواب میں یہ کہا ہے کہ اس نے کوئی مذہب تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ بلکہ وہ بدستور مسلمان اور احکام شرعی کا پورا پابندہے۔ احمدی کوئی علیحدہ مذہب نہیں نہ وہ مرزائی ہے نہ قادیانی۔ نکاح ہر صورت میں جائز اور قابل تکمیل ہے۔ عقائد احمدیہ کی وجہ سے جو صلاحیت مذہبی کی طرف رجوع دلاتے ہیں وہ مرتد نہیں ہوجاتا۔ عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاولپور، مدراس اور دیگر ہائی کورٹوں سے یہ امر فیصلہ پاچکاہے کہ جماعت احمدیہ کے مسلمان اصلاح یافتہ فرقہ میں سے ہیں، مرتد یا کافر نہیںہیں۔ دعویٰ ناجائز اور قابل اخراج ہے اور کہ بنائے دعویٰ بمقام مہند ریاست بہاولپور قائم نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ نہ فریقین کی وہاں سکونت رہی ہے اور نہ مدعا علیہ نے وہاں سرمیل کی کوئی تحریک کی۔ علاوہ ازیں کسی مقام پر سرمیل کی تحریک کئے جانے سے وہ مقام قانوناً بنائے دعویٰ تصور نہیں کیا جاسکتا۔ دعویٰ وہاں سماعت ہوناچاہئے، جہاں مدعاعلیہ کی مستقل سکونت ہو یا بناء دعویٰ پیدا ہوئی ہو۔ مقدمہ حال میں مدعاعلیہ کی مستقل سکونت چونکہ علاقہ ملتان میں ہے اور نکاح ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہوا تھا۔ اس لئے دعویٰ حدود ریاست ہذا میں سماعت نہیں ہوسکتا۔

یہ دعویٰ ابتداً منصفی احمد پور شرقیہ میں دائر ہوا تھا۔ منصف صاحب احمد پور شرقیہ نے فریقین کے مختصر سے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۴؍نومبر۱۹۲۶ء کو حسب ذیل امور تنقیح طلب قرار دئیے۔

۱… کیا مدعاعلیہ مذہب قادیانی یا مرزائیت اختیار کرچکاہے اور اس لئے ارتداد لازم آتاہے۔

472

۲… اگر تنقیح بالا بحق مدعیہ ثابت ہو تو کیا نکاح فیما بین فریقین قابل انفساخ ہے؟ ان تنقیحات کے ثبوت میں مدعیہ نے مدعاعلیہ کو عدالت مذکور میں بحیثیت گواہ خود پیش کیا تو مدعاعلیہ نے ۵؍دسمبر ۱۹۲۶ء کو یہ بیان کیا کہ یہ درست ہے کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود تسلیم کرتاہے اور ساتھ ہی انہیںنبی بھی مانتاہے۔ اس معنی میں کہ مرزا صاحب نبی کریمa (حضرت محمدمصطفیﷺ) کے تابعدار ہیں اور آپ کی شریعت کے پیرو ہیں اور آنحضرتﷺ کی غلامی کی وجہ سے آپ نبوت کے درجہ پر فائز ہوئے اور اس وقت تک اس کا یہی اعتقاد ہے۔ گویا وہ سلسلہ احمدیت میں منسلک ہوچکاہے۔ وہ مرزا صاحب کو ان معنوں میں نبی کہتا ہے، جن معنوں میں کہ قرآن کریم نبوت کو پیش کرتاہے۔ جیسا کہ دیگرانبیاءo ہیں کہ ان پر وحی اور الہام وارد ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو نبی تسلیم کرتاہے، اس لئے وہ یہ بھی مانتاہے کہ ان پر بمثل دیگر انبیاءo کے نزول ملائکہ وجبرئیلm ہوتاتھا۔

اس بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے منصف صاحب احمدپورشرقیہ نے ۲۰؍جنوری ۱۹۲۷ء کو یہ امر مزید تنقیح طلب قرار دیا کہ کیا اس اعتقاد کی صورت میں جو مدعاعلیہ نے بیان کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم کرتاہے۔ اس معنی میں کہ بمثل دیگر انبیاءo مرزا صاحب پر وحی اور الہام وارد ہوتے تھے۔ کوئی شخص مذہب اسلام میں شامل رہ سکتاہے؟ اور اس کا بار ثبوت مدعاعلیہ پر عائد کیا۔ اس کے بعد مدعاعلیہ نے ۱۹؍فروری ۱۹۲۷ء کو ایک درخواست پیش کی کہ سابقہ تاریخ پر اس نے بیان دیا تھا۔ اس میں اس نے اپنے اعتقادات مذہبی کو بخوبی واضح کردیاتھا۔ لیکن عدالت نے اس سے جو خلاصہ اخذ کیا ہے وہ اس کے اصلی اعتقاد مذہبی کے مغائرہے۔ چونکہ اعتقاد مذہبی کی غلط تعبیر سے مقدمہ پر کافی اثر پڑتاہے۔ اس لئے اپنے اعتقاد مذہبی کو من مدعاعلیہ ذیل میں بیان کرتاہے تاکہ غلط فہمی نہ رہے۔

میں خداوندتعالیٰ کو واحد لا شریک مانتاہوں۔ حضرت محمدمصطفیﷺ کو خاتم النّبیین تسلیم کرتاہوں۔ قرآن کو کامل الہامی کتاب مانتاہوں۔ کلمہ طیبہ پر میراایمان ہے اور حضرت محمد مصطفیﷺ کی برکت اور آپ کے توسط سے اور آپ کی شریعت مقدسہ کی اطاعت سے حضرت مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتاہوں۔ حضرت مرزا صاحب کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ بلکہ شریعت محمدی کے تابع اور اشاعت کرنے والے ہیں۔ ان پروحی اور الہام بابرکت حضرت نبیa وارد ہوتے تھے۔

اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی کہ جو امر تنقیح سابقہ تاریخ پر وضع کیا گیاہے وہ درست نہیں ہے۔ تنقیح بالفاظ ذیل وضع ہوناچاہئے کہ آیا مدعاعلیہ جس کا مذہبی اعتقاد یہ ہو جو کہ اوپر بیان کیا گیاہے مرتد ہے اور مسلمان نہیں ہے؟ اور اس کا ثبوت بذمہ مدعیہ عائد کیا جاوے، مگر عدالت نے اس درخواست پر کوئی التفات نہ کی اور اسے شامل مسل کردیا۔

اس کے بعد بحکم ۷؍مئی ۱۹۲۷ ء عدالت عالیہ چیف کورٹ یہ مقدمہ عدالت ہٰذا میں منتقل ہوا اور عدالت ہٰذا میں ۱۷؍دسمبر ۱۹۲۷ء کو مدعاعلیہ نے اپنے عقائد کی پھر ایک فہرست پیش کی جن کا ذکر مناسب جگہ پر کیا جائے گا۔

یہ مقدمہ عدالت ہٰذا سے بحکم ۲۱؍نومبر۱۹۲۸ء اس بناء پر خارج کیاگیا کہ عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاولپور سے اسی قسم کے ایک مقدمہ بعنوان مسماۃ جند وڈی بنام کریم بخش میں باتباع فیصلہ جات عدالت ہائے اعلیٰ مدراس، پٹنہ وپنجاب کے یہ قرار دیا جاچکاہے کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں نہ کہ اسلام سے باہر اور یہ کہ مرزائی مذہب اختیار کرنے سے کسی سنی عورت کا نکاح اس شخص کے ساتھ جو اس مذہب کو قبول کرلے فسخ نہیں ہوجاتا اور کہ مدعیہ کی طرف سے ان فیصلہ جات کے خلاف کوئی سند پیش نہیں کی گئی۔

عدالت ہذا کا یہ حکم برطبق اپیل عدالت عالیہ چیف کورٹ سے بحال رہا۔ لیکن اپیل ثانی پر عدالت معلی اجلاس خاص سے یہ قرار دیاگیا کہ عدالت ہذا سے فریقین کے پیش کردہ اسناد پر بحث کئے بغیر دعویٰ مدعیہ خارج کردیاگیاہے اور فاضل ججان چیف کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ تسلیم کیا ہے کہ پٹنہ وپنجاب ہائی کورٹوں کے فیصلہ جات مقدمہ ہذا میں حاوی نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ان میں غیر متعلق سوال زیر بحث

473

رہے ہیں۔ البتہ مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ مندرجہ ۷۱انڈین کیسز۶۶ میں سوال زیر بحث بجنسہ یہی تھا کہ آیا احمدی ہوجانے سے ارتداد واقع ہوتاہے یا نہ، لیکن ہم نے اس فیصلہ کو بغور مطالعہ کیا ہے۔ ہم فاضل ججان چیف کورٹ کی رائے سے اختلاف کرتے ہیں کہ فیصلہ مذکورہ بالا مکمل چھان بین سے طے پایاتھا۔ کیونکہ فاضل ججان مدراس ہائی کورٹ خود فیصلہ میں تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی خاص سند اس بات کی پیش نہیں کی گئی کہ فلاں فلاں اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور ان سے اس حدیا اس سے درجہ تک اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہوتاہے یا کن اسلامی عقائد کی پیروی یاکن عقائد کے نہ ماننے سے ارتداد واقع ہوتاہے۔ اس فیصلہ میں پھر فاضل ججان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سوال کو کہ آیا عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتاہے یا نہ۔ علماء اسلام بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اس لئے ہماری رائے میںفاضل ججان ہائی کورٹ کا فیصلہ سوال زیر بحث پر قطعی نہیں ہے اور ہمیں مقدمہ ہذا میں اس کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں۔

اس قرار داد کے ساتھ یہ مقدمہ اس ہدایت کے ساتھ واپس ہوا کہ گو مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کے بیان سے واضح ہوتاہے کہ اگر کسی شخص کا قادیانی عقائد کے مطابق یہ ایمان ہو کہ حضرت محمدa کے بعد کوئی اور نبی آیا اور اس پر وحی نازل ہوئی ہے تو ایسا شخص چونکہ ختم نبوت حضرت محمدa کا منکر ہے اور ختم نبوت اسلام کے ضروریات میں سے ہے۔ لہٰذا وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن ہم اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے شیخ الجامعہ صاحب کی رائے کو کافی نہیں سمجھتے۔ جب کہ دیگر ہندوستان کے بڑے بڑے علماء دین بھی اس رائے سے اتفاق نہ رکھتے ہوں۔ اس لئے مقدمہ مزید تحقیقات کا محتاج ہے اور مدعاعلیہ کو بھی موقع دینا چاہئے کہ شیخ الجامعہ صاحب کے بالمقابل اپنے دلائل پیش کرے۔

واپسی پر اس مقدمہ میں فریقین کے ہم مذہب اور ہم خیال اشخاص کی فرقہ بندی شروع ہوگئی اور تقریباً تمام ہندوستان میں اس کے متعلق ایک ہیجان پیدا ہوگیا اور طرفین سے ان کی جماعت کے بڑے بڑے علماء بطور مختاران فریقین وبطور گواہان پیش ہونے لگے۔ ان کے اس طرح میدان میں آنے سے قدرۃً یہ سوا ل عوام کے لئے جاذب توجہ بن گیا اور پبلک کو اس میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہوگئی اور ہر تاریخ سماعت پر لوگ جوق درجوق کمرہ عدالت میں آنے لگے۔ چنانچہ عوام کی اس دلچسپی اور مذہبی جوش کو مدنظر رکھتے ہوئے حفظ امن قائم رکھنے کی خاطر پولیس کی امداد کی ضرورت محسوس کی گئی اور عدالت ہذاکی تحریک پر صاحب بہادر کمشنرپولیس کی طرف سے ہر تاریخ پیشی پر پولیس کا خاطر خواہ انتظام کیا جاتارہا۔ امرمابہ النزاع حل وحرمت سے تعلق رکھنے کے علاوہ ضمناً چونکہ مدعاعلیہ کے ہم خیال جماعت کی تکفیر پر بھی مشتمل ہے۔ اس لئے طرفین کو اس مقدمہ میں کھلے دل سے اپنے دلائل سندات اور بحث ہائے تحریری وتقریری پیش کرنے کا کافی موقع دیاگیاہے۔ حتیٰ کہ مدعاعلیہ کی طرف سے ایک ایک گواہ کے بیان اور جرح پر بعض دفعہ مسلسل ایک ایک مہینہ بھی صرف ہواہے اور اس کی طرف سے جو بحث تحریری پیش ہوئی ہے وہ کئی سو ورق پر مشتمل ہے اور فیصلہ میں تعویق زیادہ ترمسل کے اس قدر ضخیم بن جانے کی وجہ سے بھی ہوئی ہے۔ دوران سماعت مقدمہ ہذا میں مدعاعلیہ نے مدعیہ اور اس کے والد مولوی الٰہی بخش کے خلاف ۲۳؍اگست ۱۹۳۲ء کو عدالت سب جج صاحب درجہ دوم ملتان میں دعویٰ اعادہ حقوق ان وشوئی دائر کرکے عدالت موصوف سے ان ہردو کے خلاف ۱۷؍جون ۱۹۳۳ء کو ڈگری یک طرفہ حاصل کرلی اور اس مقدمہ میں جب کہ شہادت فریقین ختم ہو کر مدعیہ کی طرف سے بحث بھی سماعت ہوچکی تھی۔ مدعاعلیہ کی طرف سے یہ عذر برپا کیا گیا کہ عدالت ہذا کو اختیار سماعت مقدمہ ہذا حاصل نہیں، کیونکہ بناء دعویٰ حدود ریاست ہذا میں پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی مدعاعلیہ کی رہائش عارضی یا مستقل ریاست ہذا کے اندر ہوئی ہے۔

دوسرا عدالت سرکار برطانیہ سے مدعاعلیہ کے حق میں ڈگری استقرار حق زوجیت برخلاف مدعیہ والٰہی بخش والدش کے صادر ہوچکی ہے۔ اس لئے بروئے دفعہ۱۱ ضابطہ دیوانی عدالت ہذا کو اس کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے اور کہ بموجب دفعات ۱۳،۱۴ضابطہ دیوانی

474

ڈگری مذکور قطعی ہوچکی ہے اوراس کے صادر ہونے کے بعد مقدمہ زیر سماعت عدالت ہذا نہیں چل سکتا۔

مدعاعلیہ کے ان عذرات کو بوجہ اس کے کہ وہ عدالت ہذا کے اختیار سماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ اہم سمجھا جاکر اس مقدمہ میں ۸؍نومبر۱۹۳۳ء کو حسب ذیل مزید تنقیحات ایزاد کی گئیں۔

۱… کیا مدعاعلیہ کی سکونت بوقت دائری دعویٰ ہذا حدود ضلع ہذا میں تھی یا یہ کہ بناء دعویٰ حدود ضلع ہذا میں پیدا ہوئی۔ اس لئے دعویٰ قابل سماعت عدالت ہذا ہے۔

۲… اگر تنقیح بالا بخلاف مدعیہ طے ہوتو کیا عدالت ہذا کے اختیار سماعت کا سوال اس مرحلہ پر جب کہ مقدمہ پہلے عدالت ہائے اعلیٰ تک پہنچ چکاہے اور مدعاعلیہ برابر پیروی کرتارہا ہے نہیں اٹھایاجاسکتا۔

۳… کیا ڈگری ملک غیر کی بناء پر جو بحق مدعاعلیہ برخلاف مدعیہ صادر ہوئی ہے۔ سماعت مقدمہ ہذا میں دفعات ۱۳،۱۴ ضابطہ دیوانی عارض نہیں ہیں۔ ان تنقیحات کے وضع کرنے سے قبل مدعاعلیہ کی طرف سے محکمہ معلی وزارت وزارت عدلیہ میں پیش گاہ حضور سرکار عالی دام اقبالہ وملکہ میں پیش کئے جانے کے لئے ایک درخواست مشتمل بر عذرات مذکورہ بالا موصول ہوئی جو بمراد غور عدالت ہذا میں بھجوا دی گئی۔ اس درخواست کے مطالعہ سے یہ ضروری خیال کیاگیاکہ مدعاعلیہ کی طرف سے بحث پیش ہونے سے قبل ان قانونی عذرات مذکورہ بالا کو طے کرلیا جائے۔ اس لئے ۳؍نومبر ۱۹۳۳ء کو فریقین کے نام نوٹس بایں اطلاع جاری کئے جانے کا حکم دیاگیاکہ وہ تاریخ مقررہ پر اپنے علماء کو ہمراہ نہ لائیں بلکہ خود حاضر ہوں، تاکہ ان قانونی سوالات پر غور کی جا کر انہیں طے کرلیا جائے۔ مدعیہ کی طرف سے عدالت ہذا کے اس حکم کی ناراضی سے محکمہ معلی اجلاس خاص میں درخواست نگرانی کی گئی ہے اور محکمہ معلی نے بحکم ۷؍نومبر ۱۹۳۳ء یہ قرار دیا کہ فریق مدعیہ پر تعمیل نوٹس درست نہیں ہوئی۔ لہٰذا یہ ہدایت کی گئی کہ سلسلہ بحث اور جدید امور کی دریافت کو ساتھ ساتھ جاری رکھا جائے اور اگر کسی فریق کے حق میں التواء مقدمہ ضروری خیال کیا جائے تو دوسرے فریق کو اس فریق سے مناسب ہرجانہ دلایا جائے۔ باتباع اس حکم کے فریقین کو جدید تنقیحات کے متعلق اپنا اپنا ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی اور مختاران مدعاعلیہ کو حکم دیاگیا کہ وہ اپنی طرف سے سلسلہ بحث کو بھی جاری رکھیں۔ اس کے بعد جب جدید تنقیحات مذکورہ بالا کے متعلق طرفین کی شہادت ہوچکی تو مدعاعلیہ نے پھر ۲؍جنوری ۱۹۳۴ء کو ایک درخواست کے ذریعہ یہ عذربرپا کیا کہ امور ذیل کو بھی زیر تنقیح لایا جائے۔

کہ کیا مدعاعلیہ کی وطنیت ریاست بہاولپور میں واقع ہے؟

اگر تنقیح بالا مدعیہ کے خلاف ثابت ہوتو پھر بھی عدالت ہذاکو اختیار سماعت حاصل ہے۔ اس درخواست کو اس بناء پر مسترد کیاگیا کہ مدعاعلیہ کی طرف سے اس قسم کا پہلے کوئی عذر نہیں اٹھایاگیا۔ حالانکہ وہ پہلے قانونی مشورہ حاصل کرکے پیروی کرتارہاہے۔ علاوہ ازیں جہاں تک اس جدید عذر کا قانونی پہلو ہے۔ اس کے متعلق وہ اپنی بحث کے وقت قانون پیش کرسکتاہے۔ واقعات کے لحاظ سے فریقین کی طرف سے مثل پر جو مواد لایا جاچکاہے۔ وہ اس سوال پر بھی بحث کرنے کے کافی ہے۔ لہٰذا کسی مزید تنقیح کے وضع کرنے کی ضرورت خیال نہیں کی جاتی۔

اس سے قبل دوران شہادت میں مدعاعلیہ کی طرف سے ایک حجت یہ بھی پیدا کی گئی تھی کہ مدعیہ بوقت ارجاع نالش نابالغ تھی۔ اس لئے اب اس سے خود دریافت ہوناچاہئے کہ وہ مقدمہ چلانا چاہتی ہے یا نہ۔ لہٰذا اس سوال کے متعلق بھی یکم؍ مارچ ۱۹۳۳ء کو ایک تنقیح بایں الفاظ وضع کیا گیا تھا کہ کیا مدعیہ بوقت ارجاع نالش نابالغ تھی اور اس کا بار ثبوت مدعاعلیہ پر عائد کیاگیا۔ کیونکہ مدعیہ کی طرف سے اسے بالغ ظاہر کیا جاکر بمختاری والدش دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں اس تنقیح کو بحکم ۲۹؍مارچ ۱۹۳۳ء خار ج کیاگیا۔کیونکہ قانوناً مدعاعلیہ کا

475

یہ عذر ناقابل پذیرائی تھا۔ ملاحظہ ہو(۷۴انڈین کیسز ص۳۰۹) اب ذیل میں دیگر قانونی سوالات پر بحث کی جاتی۔

مدعاعلیہ کا اہم عذر یہ ہے کہ اس نے کبھی حدود ریاست ہذا میں سکونت اختیار نہیں کی اور نہ ہی اس نے یہاں احمدی مذہب قبول کیاہے، بلکہ وہ ۵،۶سال تک شیخ واہ میں رہاہے۔ وہاں سے اس نے سال ۱۹۲۲ء میں ایک خط کے ذریعہ مرزا صاحب کے خلیفہ ثانی کے ساتھ بیعت کی تھی اور بیعت کرنے کے ۵،۶ ماہ بعد اس نے اپنے موجودہ مسکن واقعہ علاقہ لودھراں میں آکر سکونت اختیار کی۔ یہاں اس نے آکر ایک مکان تعمیر کرایااور اس وقت سے یہاں مقیم ہے۔

مدعیہ کی طرف سے کہا جاتاہے کہ مدعاعلیہ ضلع ڈیرہ غازی خان سے ترک سکونت کرنے کے بعد سیدھا مولوی الٰہی بخش والد مدعیہ کے پاس حدود ریاست ہذا میں آیا اور یہاں بود وباش شروع کی۔ مرزائی مذہب اس نے ایک شخص مولوی نظام الدین کی ترغیب پر قبول کیا جو موضع مہند مسکن والد مدعیہ کے قریب رہتاہے اور دعویٰ ہذا دائر ہونے کے بعد وہ حدود ریاست ہذا کے باہر چلا گیاہے۔ ان امور کے متعلق فریقین کی طرف سے جو شہادت پیش ہوئی ہے، اس سے حسب ذیل نتائج اخذہوتے ہیں۔

مدعاعلیہ کی یہ حجت درست نہیں پائی جاتی کہ وہ کبھی ریاست ہذا میں نہیں آیا، بلکہ مدعیہ کی پیش کردہ شہادت سے جس کی مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی خاطر خواہ تردید نہیں کی گئی۔ یہ ثابت ہے کہ مدعاعلیہ مولوی الٰہی بخش کے یہاں آنے کے بعد اپنے مسکن واقعہ علاقہ ضلع ڈیرہ غازی خان سے سیدھا حدود ریاست ہذا میں مولوی الٰہی بخش والد مدعیہ کے پاس آیا اور اپنی والدہ اور ہمشیرگان کو اس کے ہاں چھوڑ کر خود حصول معاش کے لئے حدود ریاست ہذا کے اندر مختلف مقامات پر پھرتا رہا اور کچھ عرصہ کے بعد پھر مولوی الٰہی بخش کے پاس آکر ٹھرتارہا۔ اس کے جب مدعیہ کے رخصتانہ کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ ترک سکونت کرکے یہاں سے چلا گیا اور غالباً صحیح یہی ہے کہ وہ مقدمہ ہذا دائر ہونے سے قبل ہی چلا گیا۔ کیونکہ خود مدعیہ نے عرضی دعویٰ میں اس کی سکونت بقام میلسی درج کرائی ہے۔ چنانچہ اس پتہ پر جب سمن جاری کیاگیا تو مختار مدعیہ نے پھر ۱۴؍اگست ۱۹۲۶ء کو منصفی احمدپور شرقیہ میں ایک درخواست پیش کی کہ مدعاعلیہ کی سکونت گو دعویٰ میں بمقام میلسی لکھی ہوئی ہے۔ لیکن اب مدعاعلیہ یہاں احمد پور شرقیہ میں موجود ہے۔ پھر تعمیل نہیں ہوسکے گی۔ اب اس پتہ پر سمن جاری کی جا کر تعمیل کرائی جائے۔ چنانچہ اسی روز عدالت سے سمن جاری کیا، جاکر مدعاعلیہ کی اطلاع یابی کرائی گئی۔ مدعاعلیہ کہتاہے کہ اسے وہاں دھوکہ سے بلوایاگیا۔ لیکن یہ سوال چنداں اہم نہیں۔ وہ چاہے جس طرح احمد پور شرقیہ میں آیا یہ امر واقعہ ہے کہ سمن پر اس کی اطلاع یابی وہاں کرائی گئی۔ اس سے پایاجاتاہے کہ دائری دعویٰ کے وقت اس کی رہائش حدود ریاست ہذا کے اندر نہ تھی۔ لہٰذا اس بناء پر مدعاعلیہ کی یہ حجت درست ہے کہ دائری دعوی کے وقت چونکہ حدود ریاست ہذا کے اندر اس کی عارضی یا مستقل سکونت نہ تھی۔ اس لئے یہاں اس کے خلاف دعویٰ دائر نہیں ہوسکتاتھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مدعیہ کی پھر یہ حجت ہے کہ مدعاعلیہ نے اپنا مذہب چونکہ حدود ریاست ہذا کے اندر تبدیل کیاہے۔ اس لئے اسے مدعاعلیہ کے تبدیل مذہب سے بناء دعویٰ پیدا ہوتی ہے اور اس لحاظ سے مدعاعلیہ کے خلاف یہاں دعویٰ درست طور پر دائر کیا گیاہے۔

مدعاعلیہ بیان کرتاہے کہ اس نے احمدی مذہب شیخ واہ ضلع ملتان میں قبول کیا تھا اور کہ ابتداً وہ ضلع ڈیرہ غازی خان سے شیخ واہ میں ہی گیاتھا۔ اس کی طرف سے بیعت کا ایک خط پیش کیا گیاہے۔ جو ڈاک خانہ دنیا پور سے ۲۱؍جنوری ۱۹۲۲ء کو خلیفہ صاحب ثانی کی خدمت میں بھجوایا گیا اور جس پر بغیر کسی ولدیت، قومیت کے صرف عبدالرزاق احمدی لکھاہواہے۔ اس سے یقینی طور پریہ اقرار نہیں دیا جا سکتا ہے کہ یہ خط اسی عبدالرزاق مدعاعلیہ کا تحریر شدہ ہے۔ شناخت خط کے بارہ میں مدعاعلیہ کی طرف سے دو گواہان پیش ہوئے ہیں جن میں ایک اللہ بخش بالکل نو عمر لڑکاہے۔ وہ بیان کرتاہے کہ وہ شیخ واہ میں مدعاعلیہ کے پاس پڑھا کرتاتھا۔ اس وقت وہ مدعاعلیہ کو لکھتا ہوا دیکھا کرتاتھا۔ شناخت خط کے بارہ میں پہلے تو اس نے یہ کہا یہ شاید وہ نہ پہچان سکے۔ لیکن پھر بیان کیا کہ وہ شناخت کرتاہے کہ خط مشمولہ مسل مدعاعلیہ کا تحریر

476

کردہ ہے۔ لیکن اوّل تو جس وقت یہ گواہ مدعاعلیہ کو لکھتا ہوا دیکھنا بیان کرتاہے۔ اس وقت خود اس کی اپنی عمر کوئی ۱۳،۱۴سال کے قریب ہوگی۔ غیر اغلب ہے کہ اس عمر میں اس نے مدعاعلیہ کی طرز تحریر کو بخوبی ذہن نشین کرلیاہو۔ دوسراوہ اس خط کی شناخت کے متعلق کوئی خاص وجوہات بیان نہیں کرسکا۔ علاوہ ازیں جب اس کی تذبذب بیانی کو مد نظر رکھا جائے تو اس کی شہادت بالکل ناقابل اعتبار ہوجاتی ہے۔ اسی طرح دوسرے گواہ کی شہادت بھی سرسری قسم کی ہے اور اس پر بھی پورا بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

مدعاعلیہ بیان کرتاہے کہ وہ شیخ واہ میں ۵،۶ سال رہا۔ لیکن وہاں کی سکونت ثابت کرنے کے لئے بھی اس کی طرف سے یہی اللہ بخش گواہ پیش ہواہے۔ دیگر گواہان صرف سماعی طور پر بیان کرتے ہیں کہ وہ لودھراں میں وہاں سے آیاتھا۔ لہٰذا اس ضمن میں مدعاعلیہ کی طرف سے مسل پر جومواد لایاگیاہے، اس سے یہ قرار دینا مشکل ہے کہ مدعاعلیہ اپنے موجودہ مسکن پر سکونت پذیرہونے سے قبل شیخ واہ میں رہتاتھا اور کہ اس نے احمدی مذہب بھی وہیں اختیار کیاتھا۔ اس کی طرف سے بیعت کا جو خط پیش کیا گیاہے۔ اس کے متعلق قابل اطمینان طریق پر یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وہ اسی عبدالرزاق مدعاعلیہ کا ہے۔ ان تمام واقعات سے یہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ مدعاعلیہ نے علاقہ لودھراں میں سکونت اختیار کرنے سے قبل جہاں پہلے سکونت اختیار کی ہوئی تھی۔ احمدی مذہب اس نے وہاں قبول کیا۔ مدعاعلیہ حسب ادّعا خود یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں رہا کہ اس کی یہ سابقہ سکونت شیخ واہ میں تھی۔ برعکس اس کے مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت ہے کہ مدعاعلیہ اپنی موجودہ سکونت اختیار کرنے سے قبل حدود ریاست ہذا میں سکونت پذیر تھا۔ اس لئے مدعاعلیہ کے اپنے بیان سے ہی یہ ثابت قرار دیا جاسکتاہے کہ اس نے احمدی مذہب حدود ریاست ہذا میں اختیار کیا اور اس کی تائید مدعیہ کی پیش کردہ شہادت سے بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ قرار دیا جاتاہے کہ مدعاعلیہ کا مذہب تبدیل کرنا چونکہ حدود ریاست ہذا کے اندر اس کی جائے سکونت موضع مہند میں وقوع میں آیاہے۔ اس لئے اس بناپر مدعیہ کو ضلع ہذا کے اندر بنائے دعویٰ پیدا ہوئی ہے۔ لہٰذا عدالت ہذا کو اس مقدمہ کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

مدعاعلیہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ اس کی چونکہ حدود ریاست ہذا کے اندر سکونت نہیں رہی۔ اس لئے عدالت ہذا کو اس کے خلاف سماعت مقدمہ ہذا کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ مدعیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیاہے کہ مدعاعلیہ نے گو ابتدائً یہ عذر اٹھایاتھا۔ لیکن بعد میں عدالت ہائے اپیل میں جاکر اس نے اسے ترک کردیا اور شروع سے لے کر اخیر تک وہ برابر اس کی پیروی کرتارہا۔ اس لئے سمجھا جائے گا کہ اس نے عدالت ہذا کے اختیار سماعت کو قبول کرلیاتھا۔ اس لئے اب وہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا۔ اس بارہ میں فیصلہ ۲۹ انڈین کیسز (ص۴۵۶) بطور سند پیش کیا گیاہے۔ اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا جاتاہے کہ اپیلیں چونکہ مدعیہ کی طرف سے ہوتی رہیں تھیں۔ اس لئے اسے اعتراض کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ علاوہ ازیں مقدمہ چونکہ دوبارہ ابتدائی حیثیت میں عدالت ہذا کے زیر سماعت آگیاہے۔ اس لئے وہ اس سوال پر عدالت کو متوجہ کرسکتاہے۔ مگر مدعاعلیہ کی یہ حجت درست معلوم نہیں ہوتی کہ اسے اپیل میں یہ عذر اٹھانے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ فیصلہ اس کے خلاف ہونا ممکن تھا۔ اس لئے اسے ہر پہلو سے اپنی جواب دہی کرنی چاہئے تھی اور گوکہ مقدمہ اب پھر ابتدائی حیثیت میں سماعت کیاگیاہے۔ تاہم اس مقدمہ کے سابقہ مراحل کی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور اگر اس حجت کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے توچونکہ اوپر یہ قرار دیا جاچکاہے کہ مدعاعلیہ کے تبدیل مذہب سے بناء دعویٰ حدود ریاست ہذا میں پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے اس سوال پر مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی اور عدالت ہذا سے مدعاعلیہ کے خلاف یہ دعویٰ درست طور پر سماعت کیاگیاہے۔

اس قرار داد سے ان تنقیحات میں سے پہلے دو کا جو ۸؍نومبر ۱۹۳۳ء کو وضع کی گئی تھیں، فیصلہ ہوجاتاہے۔ باقی تیسری تنقیح کے متعلق جو ڈگری ملک غیر کی بابت ہے۔ صرف یہ درج کردینا کافی ہے کہ عدالت صادر کنندہ ڈگری کے روبرو یہ سوال کہ مدعاعلیہ تبدیل مذہب کی وجہ سے مرتد ہوچکا ہے اور اس لئے مدعیہ اس کی منکوحہ نہیں رہی۔ زیر بحث نہیں آیا اور نہ ہی پایا جاتاہے کہ اس عدالت کو یہ جتلایاگیاکہ اس

477

نکاح کے بارہ میں مدعیہ کی طرف سے عدالت ہذا میں بھی مقدمہ دائر ہے۔ اس لئے سمجھا جائے گا کہ وہ فیصلہ صحیح واقعات پر صادر نہیں ہوا اور ڈگری دھوکے سے حاصل کی گئی۔ لہٰذا وہ ڈگری بروئے ضمن (ب) و (ہ) دفعہ ۱۳ ضابطہ دیوانی قطعی قرار نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح دفعہ ۱۱ضابطہ دیوانی کا اطلاق واقعات مقدمہ ہذا پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر قرار دیاگیاہے۔ ایک تو وہ ڈگری قطعی نہیں، دوسرا وہ کسی عدالت واقع اندرون حدودریاست ہذا کی صادر شدہ نہیں۔ اس لئے یہ تیسری تنقیح بھی بحق مدعیہ وبرخلاف مدعاعلیہ طے کی جاتی ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے اس امر پر زور دیاگیاہے کہ فریقین چونکہ درحقیقت اپنی شہریت اور وطنیت کے لحاظ سے برٹش انڈیا سے تعلق رکھنے والے ہیں اور والد مدعیہ نے خود یا اس کے کسی گواہ نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے برٹش شہریت اور وطنیت چھوڑ چکاہے۔ کیونکہ شہریت اور وطنیت کو ترک کرنے کے لئے لازمی ہے کہ یہ فعل علانیہ طور پر اور پبلک اظہار کے بعد قانونی حیثیت سے کیا جائے۔ اس لئے تا وقتیکہ یہ ثابت نہ ہو۔ ایسے نکاح متنازعہ کے متعلق قانون میں بین الاقوامی یہ ہے کہ وہ نکاح جو اس ملک کے قانون کے لحاظ سے جائز ہے، جہاں سے وہ منعقد ہوا وہ ساری دنیا میں جائز اور درست ہے اور کوئی دوسرے ملک کی عدالت اسے ناجائز قرار نہیں دے سکتی اور پھر ایسے نکاح کی تنسیخ کے متعلق بھی قانون بین الاقوامی یہ ہے کہ جس ملک میں ہر دو زوجین کو وطنیت حاصل ہو، صرف وہیں کی عدالت تنسیخ کا مقدمہ سن سکتی ہے اور اس قانون کی رو سے بیوی کی وطنیت وہی جگہ تصور ہوگی، جہاں خاوند کی وطنیت ہو۔

فریقین کی طرف سے جو شہادت پیش ہوئی ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ فریقین اپنی ابتدائی برطانوی شہریت ووطنیت پر قائم ہیں۔

گو حصول معاش کے لئے ایک فریق نے اپنی رہائش بہاول پور میں رکھی ہوئی ہے۔ مگر محض دوسری جگہ رہائش رکھنے سے اصل وطنیت کا ترک ہونا لازم نہیں آتا۔ مدعیہ کا نکاح علاقہ انگریزی میں ہوا۔ جہاں کہ مدعیہ کی بیان کردہ وجہ ارتداد کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس وجہ سے علاقہ انگریزی کے قانون کی رو سے یہ نکاح صحیح اور جائز ہے۔

لیکن مدعاعلیہ کی یہ حجت اس لئے وزن دار نہیں کہ اوّل تو یہ ثابت ہے کہ مولوی الٰہی بخش بہت مدت سے اپنے سابقہ مسکن سے ترک سکونت کرکے حدود ریاست ہذا میں رہائش پذیر ہے۔ اس کے کافی مدت کے بودوباش اور دیگر افعال سے یہ بخوبی اخذ ہوتاہے کہ وہ حدود ریاست ہذا میں مستقل سکونت اختیار کرچکاہے اور اس کا اپنے سابقہ مسکن پر واپس جانے کا ارادہ نہیں۔ کیونکہ اس بارہ میں جو شہادت پیش ہوئی ہے، اس سے پایا جاتاہے کہ علاقہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں اب اس کا اپنا کوئی گھر موجود نہیں۔ مدعیہ چونکہ اس وقت نابالغ تھی اور بطور زوجہ مدعاعلیہ کے حوالہ نہ کی گئی تھی۔ اس لئے اس کا اپنے والد کے ہمراہ یہاں چلے آنے اور اس کے ساتھ بود وباش رکھنے سے یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے بھی اب بمثیل اپنے والد کے یہاں کی وطنیت اختیار کرلی ہے۔ علاوہ ازیں یہ پایا جاتاہے کہ جب وہ بالغ ہوئی تو اس نے مدعاعلیہ کی زوجیت سے انکار کردیا اور یہ حجت کی کہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں اس کا جو نکاح مدعاعلیہ سے ہوا تھا وہ بوجہ ارتداد مدعاعلیہ قائم نہیں رہا۔ اس لئے کیونکر کہا جاسکتاہے کہ مدعیہ کی وطنیت بھی اب وہی شمار ہوگی جو کہ مدعاعلیہ نے اختیار کی ہوئی ہے۔ کیونکہ وہ وہاں نہ بطور زوجہ اس کے ساتھ آباد رہی اور نہ اب حقوق زوجیت کو تسلیم کرکے اس کے ساتھ وہاں آباد ہونے کو آمادہ ہے۔ اس لئے لامحالہ یہ قرار دینا پڑے گا کہ مدعیہ نے بھی اب یہی وطنیت اختیار کی ہوئی ہے اور اگر بفرض محال مدعاعلیہ کی اس حجت کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی مدعاعلیہ کامیاب نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس مقدمہ کی کارروائی یہاں بھی اس ضابطہ دیوانی کے تحت کی گئی ہے، جو علاقہ میں جاری ہے اور نکاح زیر بحث کا تصفیہ اسی شخصی قانون کے تحت کیا جارہا ہے کہ جس انگریزی کی روسے قانون مروجہ علاقہ انگریزی کی رو سے تصفیہ کئے جانے کی ہدایت ہے۔ یعنی بروئے شرح محمدی، اس لئے کیونکر کہا جاسکتاہے کہ ریاست ہذا کا قانون جس کے تحت مقدمہ ہذا میں کارروائی کی جارہی ہے وہ برٹش انڈیا کے قانون سے مختلف ہے۔ ہاں! قانون کی تعبیر کا سوال دوسراہے۔ کسی قانون کی تعبیر اس قانون کا جزو شمار نہیں ہوسکتی۔

478

اس لئے کسی عدالت کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی خاص قانون کی تعبیر وہی کرے جو دوسری عدالت نے کی ہے۔ تاوقتیکہ وہ اس کی ماتحت عدالت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی مسئلہ پر مختلف ہائی کورٹوں کی مختلف قرار دادیں پائی جاتی ہیں۔ مقدمہ حال میں عدالت معلی اجلاس خاص نے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ کو معاملہ زیر بحث کے متعلق قطعی نہ سمجھتے ہوئے قابل پیروی خیال نہیں کیا اور عدالت معلی کی یہ قرار داد قانوناً بالکل درست ہے۔ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ قانون بین الاقوامی کی اگر یہ سمجھا بھی جائے کہ وہ ریاست ہذا اور برٹش انڈیا کے مابین حاوی ہے۔ کوئی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ کیونکہ یہاں اسی قانون پر عمل کیا جارہاہے جو برٹش انڈیا میں مروج ہے اور اگر وطنیت کو ہی معیارسماعت دعویٰ قرار دیا جائے تو چونکہ مدعیہ کی وطنیت حدود ریاست ہذا کے اندر پائی جاتی ہے، اس لئے اس لحاظ سے بھی ریاست ہذا کی عدالتوں کو اس مقدمہ کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔ لہٰذا یہ مقدمہ عدالت ہذا میں درست طور رجوع ہو کرزیر سماعت لایاگیاہے۔

ان قانونی امور کو طے کرنے کے بعد اب اصل معاملہ مابہ النزاع کی طرف رجوع کیا جاتاہے اور قبل اس کہ اس سوال پر فریقین کی پیش کردہ شہادت اور دلائل پر بحث کی جائے، یہ سمجھنے کے لئے کہ قادیانی یا مرزائی یااحمدی مذہب کیا ہے اور مذہب اسلام کے ساتھ اس کا کیا لگاؤہے اور اس مذہب کو قبول کرنے والے کو کیوں مرتد سمجھا گیاہے، کچھ مختصر تمہید کی ضرورت ہے۔

یہ بات کچھ خلاف واقع نہ ہوگی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہر مذہب وملت کے نزدیک ابتدائے آفرینش اور وجود باری تعالیٰ کا علم کتب سماوی سے ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ تمام مذاہب کے متعلق یہ رائے صحیح نہ ہو تو کم از کم یہود ونصاریٰ اور مسلمانوں کے متعلق بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے مذاہب کی رو سے نہ صرف امور مذکورہ بالا کا علم کتب سماوی سے ہواہے۔ بلکہ ابتدائے آفرینش کے بارہ میں ان کی کتب سماوی کا قریباً قریباً باہمی اتفاق بھی ہے۔ اس بحث سے کچھ یہ دکھلانا بھی مقصود ہے کہ صرف مسلمان ہی ایک ایسی قوم نہیں جو کہ اپنی مذہبی کتاب قرآن مجید کو منزل من اللہ کہنے والی ہے۔ بلکہ اس قسم کا عقیدہ دیگر اقوام میں بھی پایاجاتاہے اور وہ بھی اپنے مذاہب کی بنیادی کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کے قائل ہیں۔ مسئلہ زیر بحث کا چونکہ صرف مسلمانوں سے تعلق ہے۔ اس لئے یہاں صرف ان کی آسمانی کتاب قرآن مجید کاہی ذکر کیا جاتاہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے پایا جاتاہے کہ خداوندتعالیٰ نے جب آدمm کو پیدا فرمایا تو انہیں ایک خاص درخت کے پھل کھانے سے منع فرمایاگیا۔ اس کے بعد جب آدمm نے غلطی سے اس پھل کو کھالیا تو ان کو باغ جنت سے بے دخل کردیاگیا اور شیطان کو بھی جس کی تر غیب پر انہوں نے وہ پھل کھایاتھا، وہاں سے نکالاگیا اور یہ ارشاد ہوا کہ: ’’قلنا اھبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ہدیً فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (البقرۃ)‘‘

نیچے جاؤ یہاں سے تم سب پھر اگر پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت توجوچلا میری ہدایت پر نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوںگے۔

باری تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت پھر اس کے رسولوں کے ذریعہ سے جو کہ انسانوں میں سے منتخب کئے جاتے ہیں، پہنچتی رہی۔ حتیٰ کہ رسولوں کا یہ سلسلہ حضرت محمدمصطفیﷺ تک جاری رہا۔ موسیٰm کے بعد آئندہ سلسلۂ رسالت جاری رہنے میں لوگوں میں اختلاف ہونے لگا اور عیسیٰm کے مبعوث ہونے پر جن لوگوں نے انہیں نہ مانا اور جو موسیٰm کی ہدایت پر قائم رہ وہ یہود کہلائے اور جنہوں نے عیسیٰm کو نبی تسلیم کر لیا اور نصاریٰ کہلائے اور ان کے بعد جب حضرت محمدمصطفیﷺ کو نبوت ملی تو انہیں جن لوگوںنے نبی تسلیم کرکے ان کی تعلیم پر چلنا شروع کیا وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ اب مدعیہ کی طرف سے یہ کہاجاتاہے کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعداور کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ ہاں! البتہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰm جو آسمان پر زندہ ہیں، آسمان سے نزول فرمائیں گے اور حضرت محمدمصطفیﷺ کی شریعت پر چل کر لوگوں کو راہ ہدایت دکھلائیں گے اور رسول اللہ کی شریعت پر چلنے

479

کی وجہ سے امتی نبی کہلائیں گے۔

اب انیسویں صدی کے اخیر میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو مدعاعلیہ کے پیشواء ہیں۔ ان روایات کی جو نزول عیسیٰm کے متعلق مسلمانوں میں مشہور چلی آتی تھیں، یہ تعبیر کی ہے کہ عیسیٰm جو مسیح ناصری تھے فوت ہوچکے ہیں۔ انہوں نے واپس نہیں آنا اور نہ ان کا واپس آنا بروئے آیات قرآنی ممکن ہے اور نہ وہ نبی ہوکر امتی ہوسکتے ہیں۔ بلکہ امتی نبی سے یہ مراد ہے کہ حضرت محمدمصطفیﷺ کے کمال اتباع اور فیض سے ان کے کسی امتی کو نبوت کا درجہ عطاء کیا جائے گا اور اس تعبیر کے ساتھ انہوں نے اس درجہ کا اپنے مختص ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس دعویٰ کی تائید میں فریق ثانی کی طرف سے جو دلائل اور سندات وغیرہ پیش کی گئی ہیں، ان پر آگے بحث کی جائے گی۔ اب صرف یہ دکھلانا مقصود ہے کہ جن لوگوں نے مرزا صاحب کے اس دعویٰ کو صحیح تسلیم کرکے ان کی تعلیم پر چلنا شروع کردیاہے، انہیں لوگ مرزا صاحب کے ساتھ اور ان کے مسکن قادیان کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے بعض اوقات مرزائی کہتے ہیں اور بعض اوقات قادیانی اور قادیانی مرزائی کہنے سے ایک اور تعبیر بھی لی جاتی ہے وہ یہ کہ مرزا صاحب کے متبعین کے دو فرقے ہیں۔ ایک لاہوری اور دوسرے قادیانی۔ لاہوری انہیں نبی نہیں مانتے، قادیانی انہیں نبی مانتے ہیں۔ اس لئے قادیانی مرزائی کہنے سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ وہ شخص جس کے متعلق یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، وہ مرزا صاحب کے ان متبعین میں سے ہیں جو انہیں نبی مانتے ہیں۔ مقدمہ ہذا میں مدعاعلیہ پر اسی مفہوم کے تحت یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

اس فرقہ کا تیسرا نام احمدی ہے جس کے متعلق فریق ثانی کی طرف سے کہا جاتاہے کہ اس جماعت کے امیر نے اپنی جماعت کے لئے تجویز کرکے گورنمنٹ سے اس جماعت کو موسوم کئے جانے کی منظوری حاصل کی ہوئی ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید کے بعد سند اور اعتبار کے لحاظ سے احادیث کا درجہ ہے جو حضرت رسول کریمa کے اقوال کا مجموعہ ہیں۔ اب مدعیہ کی طرف سے یہ کہاجاتاہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی رو سے حضرت محمدمصطفیﷺ خاتم النّبیین ہیں ان کے بعد اور نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ مرزا صاحب کے اعتقادات شرعاً درست نہیں ہیں۔ بلکہ کفر کی حد تک پہنچتے ہیں۔ اس لئے ان کو نبی تسلیم کرنے والا اور ان کی تعلیم پر چلنے والا بھی کافر ہے اور دائر اسلام سے خارج اور مرتد ہوجاتاہے اور کسی سنی عورت کا نکاح جو قبل از ارتداد اس کے ساتھ ہوا ہو، شرعاًقائم نہیں رہتا اور اس اصول کے تحت مدعیہ کا نکاح مدعاعلیہ کے قادیانی، مرزائی ہوجانے کی صورت میں اس کے ساتھ قائم نہیں رہا۔ لہٰذا ڈگر ی انفراق زوجیت دی جائے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے کہا جاتاہے کہ قادیانی مذہب، مذہب اسلام کے کوئی مغائر مذہب نہیں ہے بلکہ اس مذہب کے صحیح اصولوں کی صحیح تعبیر ہے۔ اس تعبیر کے مطابق عمل پیرا ہونے سے وہ خارج از اسلام نہیں ہوا۔ اس کا نکاح قائم ہے اور دعویٰ مدعیہ قابل اخراج ہے۔

چنانچہ فریقین نے اپنے اپنے اس ادّعا کے مطابق شہادت پیش کی ہے جس پر آگے بحث کی جائے گی۔ مقدمہ ہذا میں ابتدائی تنقیحات جن کا اوپر ذکر کیا جاچکاہے۔ چاہے جس شکل یا جن الفاظ میں وضع شدہ ہیں، ان کا نفس معاملہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کا مفہوم بھی ہے کہ کیا مدعاعلیہ نے قادیانی یا مرزائی مذہب اختیار کرلیاہے اورکیا اس مذہب میں داخل ہونے سے ارتداد واقع ہوجاتاہے اور کیا اس صورت میں مدعیہ کا نکاح فسخ سمجھا جائے گا۔ اس لئے ان تنقیحات کی ترمیم کے متعلق مدعاعلیہ کے عذرات کو وزن دار خیال نہیں کیا گیا۔ اس لئے ان تنقیحات کے الفاظ میں کسی ردو بدل کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور خصوصاً ان میں ترمیم کی ضرورت اس لئے بھی نہیں رہی کہ اگر مدعاعلیہ کے ادّعا کے مطابق یہی صورت تنقیحات قائم کی جائے تو مسل پر اس قدر مواد آچکاہے کہ اس کی رو سے اس صورت میں بھی بحث کی جاسکتی ہے۔ اس سوال پر اب چنداں بحث کی ضرورت نہیں رہی کہ آیا مدعاعلیہ قادیانی مرزائی ہے یا نہ۔ کیونکہ اس نے اپنے اعتقادات کی جو

480

فہرست پیش کی ہے، اس میں اس نے صاف طور پر درج کیا ہے کہ وہ حضرت مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتاہے اور ان پر وحی اور الہام ببرکت حضرت نبی کریمa وارد ہوتے تھے۔ اس لئے اس سے یہ قرار دیا جاسکتاہے کہ وہ مرزا صاحب کے قادیانی متبعین میں سے ہے۔ اب بحث طلب صرف یہ امر ہے کہ آیایہ عقیدہ کفریہ ہے اور اس عقیدہ کے رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جاسکتاہے؟

اس سلسلہ میں مدعیہ کی طرف چھ(۶) گواہان ذیل مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ عباسیہ بہاولپور، مولوی محمدحسین صاحب سکنہ گوجرانوالہ، مولوی محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند، مولوی مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری، سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری، مولوی نجم الدین صاحب پروفیسر اورنٹیل کالج لاہور پیش ہوئے ہیں اور مدعاعلیہ کی طرف سے دو گواہان مولوی جلال الدین صاحب شمس اور مولوی غلام احمدصاحب مجاہد پیش ہوئے ہیں۔ ہر دو گواہان قادیانی مبلغین میں سے ہیں۔ ان جملہ گواہان کی شہادتیں کئی معاملات شرعی پر مشتمل ہیں اور بہت طویل ہیں۔ ان کا اگر معمولی اختصار بھی یہاں درج کیا جائے تو اس سے نہ صرف فیصلہ کا حجم بڑھ جائے گا، بلکہ اصل معاملہ کے سمجھنے میں بھی الجھن پیدا ہوجائے گی۔ اس لئے ان شہادتوں سے جو اصول اور دلائل اخذ ہوتے ہیں وہ یہاں درج کئے جاتے ہیں اور زیادہ تر دربار معلی کی ہدایت کے مطابق ان شہادتوں کی رو سے یہ دیکھنا ہے کہ اسلام کے وہ کون سے بنیادی اصول ہیں کہ جن سے اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہوجاتاہے یا یہ کہ کن اسلامی عقائد کی پیروی نہ کرنے یا نہ ماننے سے ایک شخص مرتد سمجھا جاسکتاہے اور کہ کیا عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوجاتاہے یا نہ؟

مدعیہ کی طرف سے مذہب اسلام کے جو اہم اور بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں وہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں مفصل درج ہیں۔ یہاں ان کا مختصراً اعادہ کیا جاتاہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایمان کے معنی یہ ہیں کہ کسی کے قول کو اس کے اعتماد پر باور کرلیا جائے اور کہ غیب کی خبروں کو انبیاء کے اعتماد پر باور کرلینے کو ایمان کہتے ہیں اور حق شناسی یا منکر ہوجانے یا مکر جانے کو کفر کہتے ہیں۔ ہمارے دین کا ثبوت دو طرح سے ہے یا تو اتر سے یا خبر واحد سے تواتر اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز نبی کریم سے ایسی ثابت ہوئی ہو اور ہم تک علی الاتصال پہنچی ہو کہ اس میں خطاء کا احتمال نہ ہو۔ یہ تواتر چار قسم کا ہے۔ تواتر اسنادی، تواتر طبقہ، تواتر قدر مشترک اور تواتر توارث۔

تواتر اسنادی اسے کہا جاتاہے کہ جو صحابہ سے بسند صحیح مذکور ہو۔

تواتر طبقہ اسے کہتے ہیں کہ جب یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کس سے لیا، بلکہ یہی معلوم ہو کہ پچھلی نسل نے اگلی سے سیکھا۔ جیسا کہ قرآن مجید کا تواتر۔

تواتر قدر مشترک یہ ہے کہ حدیثیں کئی ایک خبر واحد آئی ہوں۔ اس میں قدر مشترک متفق علیہ حصہ وہ حاصل ہوا جو تواتر کو پہنچ گیا۔ مثلاً نبی کریمa کے معجزات جو کچھ تواتر ہیں اورکچھ خبر احادہیں۔ ان اخبار احاد میں اگر کوئی مضمون مشترک ملتاہے تو وہ قطعی ہوجاتاہے اس کی مزید تشریح مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ نے یہ کی ہے کہ بعض ایسی احادیث جو باعتبار معنی اور سند کے متواتر نہیں ہیں وہ باعتبار معنی کے متواتر ہوجاتی ہیں۔ اگر ان معنوں کو اتنی سندوں سے اور اتنے راویوں نے بیان کیا ہو کہ جن کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو۔

تواتر توارث اسے کہتے ہیں کہ نسل نے نسل سے لیا ہو اور یہ تواتر اس طرح سے ہے کہ بیٹے نے باپ سے لیا اور باپ نے اپنے باپ سے۔ ان جملہ اقسام کے تواتر کا انکار کفر ہے۔ اگر تواترات کے انکار کو کفر نہ کہا جائے تو اسلام کی کوئی حقیقت نہیں رہتی۔ ان متواترات میں تاویل کرنا مطلب بگاڑنا، کفر صریح ہے اور متواترات کو تاویل سے پلٹنابھی کفرہے۔ کفر کبھی قولی ہوتاہے اور کبھی فعلی مثلاً کوئی شخص ساری عمر نماز پڑھتارہے اور ۳۰سال کے بعد ایک بت کے آگے سجدہ کردے تو کفر فعلی ہے۔ کفر قولی یہ ہے کوئی شخض یہ کہہ دے کہ خدا کے ساتھ صفتوں میں یا فعل میں کوئی شریک ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی کفر قولی ہے کہ رسول اللہ ﷺ (حضرت محمد مصطفی) کے بعد کوئی اور نیا پیغمبر آئے

481

گا۔ کیونکہ تواتر توارث کی ذیل میں ساری امت اس علم میں شریک رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اورکوئی نبی نہیں آئے گا۔

اسی طرح کوئی شخص اگر اپنے مساوی سے کہہ دے کہ ’’کلمہ بکا‘‘تو وہ کوئی چیز نہیں۔ استاد اور باپ سے کہے تو اسے عاق کہتے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو کفر صریح ہے۔

نبوت کے ختم ہونے کے بارے میں ہمارے پاس کوئی دو سو حدیثیں ہیں۔ قرآن مجید اور اجماع بالفعل ہے اور ہر نسل اگلی نے پچھلی سے اس کو لیا ہے اور کوئی مسلمان جو اسلام سے تعلق رکھتاہے وہ اس عقیدہ سے غافل نہیں رہا۔ اس عقیدہ کی تحریف کرنا اور اس سے انحراف کرنا صریح کفرہے۔ اسلام ہے شناخت مسلمانوں کی اور مسلمانوں کے اشخاص شناخت ہیں اسلام کی۔ اگر اجماع کو درمیان میں سے اٹھا دیاجائے تو دین سے وہ گیا۔

جو دین محمدیa کا اقرار نہ کرے اسے کافر کہتے ہیں جسے اندر سے اعتقاد نہ ہو زبان سے کہتاہو اسے منافق کہتے ہیں۔ جو زبان سے اقرار کرتاہو لیکن دین کی حقیقت بدلتاہو، اسے زندیق کہتے ہیں اور وہ پہلی دو قسموں سے زیادہ شدید کافرہے۔

ارتداد کا معنی یہ ہیں کہ دین اسلام سے ایک مسلمان کلمہ کفر کہہ کر اور ضروریات ومتواترات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرکے خارج ہوجائے گا اور ایمان یہ ہے۔ سرور عالم حضرت محمدمصطفیﷺ جس چیز کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت بدیہات اسلام سے ہے اور ہر مسلمان خاص وعام اسے جانتے ہیں، اس کی تصدیق کرنا۔

ضروریات دین وہ چیز ہیں کہ جن کو خواص وعوام پہچانیں کہ یہ دین سے ہیں۔ جیسے اعتقاد توحید کا رسالت کا اور پانچ نمازوں کا اور مثل ان کے اور چیز یں۔

شریعت کے اگر کسی لفظ کو بحال رکھا جاکر اس کی حقیقت کو بدل دیا جائے اور وہ معاملہ متواترات سے ہوتو وہ کفر صریح ہے۔ کفر وایمان کی اس شرعی حقیقت کے بیان کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک مسلمان بعض قسم کے افعال یا اقوال کی وجہ سے کافر اور خارج از اسلام ہوجاتاہے۔

ختم نبوت کا عقیدہ بایں معنی کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کے بعد کسی کو عہدہ نبوت نہ دیا جائے گا۔ بغیر کسی تاویل اور تخصیص کے ان اجماعی عقائد میں سے ہے جو اسلام کے اصولی عقائد میں سے سمجھایاگیاہے اور آنحضرتﷺ کے عہد سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلٍ ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتاہے۔

اور یہ مسئلہ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور احادیث متواتر المعنی سے اور قطعی اجماع امت سے روز روشن کی طرح ثابت ہے اور اس کا منکر قطعاً کافر ماناگیاہے اورکوئی تاویل وتخصیص اس میں قبول نہیں کی گئی۔ اس میں اگر کوئی تاویل وتخصیص نکالی جائے تو وہ شخص ضروریات دین میں تاویل کرنے کی وجہ سے منکر ضروریات دین سمجھا جائے گا۔

یہ اصول ہیں جن کے تحت میں اور بھی ایسے بہت سے فروع موجود ہیں جو مستقل موجبات کفر ہوسکتے ہیں۔

فریق ثانی کی طرف سے یہ کہا جاتاہے کہ ایمان یہ ہے اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور بعد الموت پر اور تقدیر پر یقین رکھا جائے اور اسلام گواہی دیتاہے اس بات کی کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور محمدa اس کے رسول ہیں اور نماز کا ادا کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ شریف کا حج ادا کرنا اگر استطاعت ہو اور جو شخص زبان سے ’’لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘ کہے اور دل سے اس کے مطالب کی تصدیق کرے تو ایسا شخص یقینی طور پر مؤمن ہے۔ اگر چہ وہ فرائض اور محرمات سے بے خبر ہو اور اسلام کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرائض اور محرمات بیان کئے ہیں کہ بعض اشیاء حلال اور بعض حرام ہیں۔

482

ان پر بلا کسی اعتراض کے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا جائے اور جو شخص ان اعمال صالحہ کا پابند ہو کہ جو قرآن مجید میں ایک مؤمن کا طغرائے امیتاز قرار دئیے گئے ہیں، وہ شخص مومن اور مسلمان ہے۔

یہ باتیں ایسی ہیں کہ جو ارکان اسلام سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کے جزو ایمان ہونے میں فریق مدعیہ کو بھی کوئی کلام نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا ان باتوں پر فریق ثانی کا عقیدہ ان اصولوں کے تحت جو فریق مدعیہ کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ ویسا ہی ہے، جیسا کہ دیگر عام مسلمانوں کا یا کہ اس سے مختلف۔ کیونکہ مدعیہ کی طرف سے کہا جاتاہے کہ جو شخص عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن وحدیث کے اتباع کادعویٰ بھی کرے۔ لیکن ان کی ایسی تاویل اور تحریف کر دے کہ جس سے ان کے حقائق بدل جائیں تو وہ مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔

مدعیہ کی طرف سے دین اسلام کے ثبوت کے متعلق جو بنیادی اصول اور قواعد بیان کئے گئے ہیں۔ ان کا مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیاگیا۔ حالانکہ تو اتر اور اجماع کے اصولوں کو خود ان کے پیشواء مرزا غلام احمد نے بھی تسلیم کیاہے۔

چنانچہ وہ اپنی کتاب (ایام الصلح ص۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳) میں لکھتے ہیں کہ وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا ٰفرض ہے۔ ایک دوسری کتاب (انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص۱۴۴) میں لکھتے ہیں کہ: ’’جوشخص اس شریعت پر مقدار ایک ذرہ کے زیادتی کرے یا اس میں کمی کرے یا کسی عقیدہ اجماعیہ کا انکار کرے۔ اس پر اللہ کی لعنت اور ملائکہ کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت۔ یہ میرا اعتقاد ہے۔‘‘ اور کتاب (ازالۃ الاوہام ص۵۵۶، خزائن ج۳ ص۳۹۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’تواتر کی جو بات ہے وہ غلط نہیں ٹھہرائی جاسکتی اور تواتر اگر غیر قوموں کا بھی ہو تو وہ بھی قبول کیا جائے گا۔‘‘ مدعیہ کے گواہان کے بیان کردہ اصول اور قواعد کے مقابلہ میں مدعاعلیہ کے گواہان نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ علماء اور ائمہ کی اندھی تقلید نہایت مذموم ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ پہلے علماء جو کچھ تفسیروں میں لکھ گئے ہیں ہم آنکھ بند کرکے ان پر ایمان لے آئیں۔ بلکہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے فتاویٰ اور اقوال کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ اور عقل سلیم کی کسوٹی پر پرکھیں اور جو قرآن اور سنت سے صحیح ثابت ہو، اسے اختیار کریں اور مخالف کو چھوڑ دیں کہ جو شخص کسی حدیث کو یا قول کو قرآن مجید کے واقعی طور پر خلاف ثابت کر دے تو اس کا قول معتبر ہوگا اور یہ کہ اگر کوئی شخص کسی فن کا امام ہو یا نہ ہو،اگر کوئی بات کسی دلیل کے ساتھ ثابت کردے تو وہ مان لی جائے گی۔ صحابہ بھی تفسیر میں غلطی کرتے تھے۔ یہ بیان مولوی جلال الدین صاحب شمس گواہ مدعاعلیہ کا ہے۔ اس کا دوسرا گواہ بیان کرتاہے کہ کوئی شخص جو کلام کرتاہے، اس کلام کے معنی وہی بہتر سمجھتاہے اور اس کلام کے معنی جو وہ بیان کرے گا یا تاویل کرے گاوہی مقدم ہوگی اور کہ گواہ مذکور کے نزدیک قرآن مجید کے سواء اور کوئی چیز مسلم نہیں۔ سوائے اس کے کہ جو قرآن مجید سے تطابق رکھتی ہو اور جو قرآن شریف کو پڑھتاہے وہ خود تطابق کرسکتاہے اور میرے لئے قرآن شریف کی مطابقت دیکھنے کے لئے میرے واجب الاطاعت اماموں کی بیان فرمودہ مطابقت یا میری اپنی مطابقت مسلم ہے اور کہ ہر وہ بات جس کی تائید قرآن شریف سے نہیں ہوتی اور قرآن شریف کی تصدیق یا فتہ احادیث نبویہ سے بھی جس کلام کی تصدیق نہیں ہوتی یا اماموں کے ایسے اقوال کہ جن اقوال کی تصدیق قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ اور مصنّفین کی کتابین جن کی تصدیق قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی وہ مجھ پر حجت نہیں ہیں اور کہ قرآن کی تفسیر کے لئے کسی خاص شخص کی تعیین نہیں کہ وہ جو معنی کرے گا۔ خواہ وہ کیسے ہی ہوں، اس کو مانا جائے اور اس کے خلاف معنی کو رد کیا جائے۔ اگر صحابہ سے کوئی صحیح تفسیر ثابت ہوجائے جس کے خلاف قرآن کی کوئی تصریح نہ ہو اور صحیح مرفوع متصل حدیثوں کی بھی تصریح نہ ہو۔زبان عربی کی بھی کوئی تصریح ان معنوں کے خلاف نہ ہو۔ وہ بہرحال مقدم ہوگی اور اس کے خلاف معنی کرنے والے کو محض اس لئے کہ وہ ان معنوں کے خلاف کررہاہے۔ خاطی نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ قرآنی تصریح کے خلاف معنی نہ کئے جائیں۔ صحابہ کرام کی طرف منسوب شدہ بات کہ انہو ں نے کی ہے یا کہی ہے یاتحقیق کی ہے۔ اگر قرآن شریف کے مطابق ہے تو قابل قبول ہے۔ اگر صحابہ

483

کرامi کی طرف منسوب شدہ بات کو ثابت شدہ اس لحاظ سے کہا جاتاہے کہ ان تک روایت پہنچتی ہے تو اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر کسی غیر صحابی کی تحقیق بشرطیکہ قرآن شریف کی صحیح نصوص کے مطابق ہو، عربی زبان کی سند ساتھ رکھتی ہو۔ دیگر احادیث میں بھی تائید رکھتی ہو تو صحابی کی تحقیق سے مقدم ہے۔ ان شرائط کے بغیر اگر کوئی غیر صحابی کوئی تحقیق پیش کرتاہے۔ اگر وہ پیش کرنے والا خدا کی طرف سے ملہم اور مامور نہیں ہے کہ جس کی وحی والہام کی تصدیق قرآن پاک کی تصریحات سے ہوچکی ہو۔ بلکہ عام شخص ہے تو اس کی ذاتی رائے اوپر کی شرائط سے علیحدہ کرکے صحابی کی بیان کردہ تصریح سے سننے والے اور ماننے والے کے اختیار پر ہوگی کہ اسے راجح سمجھے یا نہ سمجھے۔ کسی حدیث کو قرآن کی مطابقت میں صحیح قرار دینے والا خود مختار ہے کہ وہ اپنے استدلال کی رو سے اسے مطابق قرار دے یا تصریح کے لحاظ سے مطابق قرار دے۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ہر دو فریق کے بیان کردہ اصولوں میں سے معقولیت کس میں ہے۔ ایک تو اپنے دین کی بنیاد چند منظم اصولوں پر کہ جن کو قدامت کی قوت حاصل ہے۔ قائم کرکے اسے بطور ایک ضابطہ اور قانون کے پیش کرتاہے۔ دوسرا اسے ایک کھلونا بنا کر ہر کس وناکس کے ہاتھ میں دے دیتاہے اور بجائے اس کے کہ دین کو ایک مستقل لائحہ عمل سمجھا جائے۔ اسے ہر لمحہ وہر آن تغیر تبدل کا متحمل قرار دیتے ہوئے۔ ایک بازیچۂ اطفال بنا دیتاہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک ہر شخص اس بات کا اہل اور مجاز ہوسکتاہے کہ وہ جب چاہے بلا روک ٹوک اپنے اجتہاد کی بناء پر ایک نیا رستہ نکال کر اس پر چلنا شروع کردے اور نہ کسی صحابی، نہ کسی امام، نہ کسی بزرگ، نہ کسی دوسرے ماہر فن کی کوئی پرواہ کرے۔ بلکہ شارع کے جس قول کو وہ درست سمجھے اور اس کا معنی جو وہ قرار دے۔ اس کے مطابق عمل کرے اور اگر اسے کوئی گرفت کرے تو فوراً اپنے قول کی کوئی تاویل گھڑکر پیش کردے اورچونکہ وہ تاویل مقدم سمجھی جائے گی۔ اس لئے کوئی بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا اور وہ بیچارہ گرفت کرنے والا منہ کی کھا کر چپ ہوجائے گا۔ اس اصول کے تحت نہ صرف کسی دین کی بلکہ کسی قانون کی کوئی حقیقت نہیں رہتی، کیونکہ اس قسم کی وسعت ہر اس ضابطہ میں کہ جس کا اجراء بطور قانون مقصود ہو متصور ہوسکتی ہے اور اس صورت میں اس پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوسکتا اوروہ محض لفظ ہی لفظ رہ جاتاہے۔

اگر ان اصولوں کو جو فریق ثانی کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں بروئے کار لا یا جائے تو دین نہ صرف دین کہلائے جانے کا ہی مستحق نہیں رہتا۔ بلکہ ایک مضحکہ انگیزچیز بن جاتاہے اور بجائے اس کے کہ اس میں کوئی یکسانیت پیدا کی جاسکے ہر شخص انفرادی حیثیت سے اپنی منشاء کے مطابق اپنے لئے ایک علیحدہ دین بنا سکے گا۔

مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بھی واضح ہوجاتاہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل دین اسلام جن باتوںپر قائم تھا۔ اب کوئی ان کی اصلیت اور بنا نہیں رہی اور اب بناء صرف مرزا صاحب اور ان کے خلفا ء کے اقوال وعقائد پر ہی ہے۔ کیونکہ فریق ثانی کے نزدیک اب ان اصحاب کے سواء نہ کسی پہلے صحابی کی، نہ امام کی، نہ بزرگ کی کوئی بات مقدم ہے اور صحیح ہے، بلکہ جو کچھ مرزا صاحب اور ان کے خلفاء نے کہا ہے اور لکھا ہے وہی درست ہے اور ان کی کتابوں کے سواء اور کوئی کتاب حجت نہیں ہے۔ اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ مرزا صاحب کا دین اس دین اسلام سے مختلف ہے جو مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل مسلمان سمجھتے آئے ہیں۔ اس لئے مدعیہ کی طرف سے بجا طور پر کہا گیا ہے کہ مذہب کے لحاظ سے ہر دو فریق میں قانون کا اختلاف ہے اور مدعیہ کی طرف سے بھی یہ تسلیم کیا گیاہے کہ ان کے درمیان اصولی اختلاف بھی ہے اور فروعی بھی اور سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ بیان کرتے ہیں کہ احمدی مذہب والے نے مہمات دین کے بہت سے اصولوں کو تبدیل کردیاہے اور بہت سے اسماء کا مسمی بدل دیاہے۔ آگے ظاہر ہوجائے گا کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔

اب وہ عقائد بیان کئے جاتے ہیں کہ جن کی بناء پر فریق ثانی کی نسبت یہ کہا جاتاہے کہ وہ مرتد اور کافر ہے۔ اس ضمن میں اہم

484

وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو نبی مانتاہے۔ اس لئے یہ دکھانا پڑے گا کہ مرزا صاحب کے اعتقادات کیسے ہیں اور کیا وہ نبی ہوسکتے ہیں یا نہ اور ان کو نبی ماننے سے کیا قباحت لازم آتی ہے اور کیا ان کے اقوال ایسے ہیں کہ ان کی بناء پر انہیں مسلمان قرار نہیں دیاجاسکتا۔ اس لئے ان کے اتباع سے مدعاعلیہ کوبھی مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔

سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے ان اصولوں کے تحت جو ان کے بیان کے حوالہ سے اوپر بیان کئے جاچکے ہیں چھ(۶) وجوہات ایسی بیان کی ہیں کہ جن کی بناء پر ان کے نزدیک مرزا صاحب باجماع امت کافر اور مرتد قرار دئیے جاسکتے ہیں اور جن کی وجہ سے ان کی رائے میں ہندوستان کے تمام اسلامی فرقے باوجود سخت اختلاف خیال اور اختلاف مشرب کے ان کے کفر وارتداد اور ان کے متبعین کے کفر وارتداد پر متفق ہیں۔

۱… ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف اور جس مذہب میں سلسلہ نبوت منقطع ہو، اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔

۲… دعویٰ نبوت مطلقہ وتشریعہ۔

۳… دعویٰ وحی اور اپنی وحی کو قرآن کے برابر قرار دینا۔

۴… حضرت عیسیٰm کی توہین۔

۵… آنحضرتﷺکی توہین۔

۶… ساری امت کو بجز اپنے متبعین کے کافر کہنا۔

تقریباً یہی وجوہات دیگر گواہان مدعیہ نے بھی بیان کی ہیں۔ اب ذیل میں حسب بیانات گواہان مذکوران وجوہات کی تشریح درج کی جاتی ہے۔

امور نمبر۱تا۳ ایک ہی نوعیت کے ہیں۔ لہٰذا ان پر جو بحث کی گئی ہے وہ یکجا درج کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں مرزا صاحب کے حسب ذیل اقوال پر جو ان کی مطبوعہ کتب میں موجود ہیں۔ اعتراض کیا گیاہے۔

۱… ’’اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت، وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو اس کو جزوی فضیلت قرار دیتاتھا۔ مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳)

۲… ’’الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیا گیا کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

۳… ’’مجھے اپنی وحی پر ویسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ توراۃ، انجیل اور قرآن مجید پر اور کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں گا۔‘‘

(اربعین نمبر۴، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)

۴… ’’میں اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتاہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتاہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

۵… ’’ہاں نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ حقیقت النّبوت ص۲۷۲، انوار العلوم ج۲ ص۵۸۲)

۶… ’’اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کرکے ہلاک ہوتاہے کہ نہ کہ مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بلادلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ

485

شریعت کی قید نہیں لگائی۔ ماسواء اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’’ان ہذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراہیم وموسیٰ‘‘یعنی قرآن تعلیم توراۃ میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امرو نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر تورات اور قرآن مجید میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)

۷… اس کتاب کے (حاشیہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) پر لکھتے ہیں: ’’کیونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہیں اور نہی بھی اورشریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جومیرے پر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیاہے۔ جیسا کہ ایک الہام کی یہ عبارت ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہہ اس کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اورہماری وحی سے بناء جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیاہے اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایاہے جس کی آنکھیں ہوںدیکھے جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

۸… ’’نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کیا گیا۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع ہو۔بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتاہے کہ اس امت کو آنحضرتﷺ کے بعد قیامت تک مکالمات الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیاجائے۔ وہ دین، دین نہیں، نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خداتعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہوسکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتاہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی۔ اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدائی آواز ہے یا شیطان کی۔ سوا یسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۳۸، ۱۳۹، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

۹… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۱۰… ’’اور مجھے بتلایاگیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے: ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ… الخ!‘‘

(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

۱۱… ’’میں صرف پنجاب کے لئے ہی مبعوث نہیں ہواہوں، بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے، ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔‘‘

(حاشیہ حقیقت الوحی ص۱۹۳، خزائن ج۲۲ ص۲۰۰)

۱۲… ’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے سواء جس قدر ملہم، محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان اعلیٰ رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘

(حاشیہ تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

(حقیقت الوحی ص ۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص ۱۰۶حاشیہ) پر عبارت ذیل جاء نی آئیل واشار کے تحت ایک نوٹ ہے جس میں لکھا ہے کہ

486

’’اس جگہ آئیل خداتعالیٰ نے جبرئیل کا نام رکھاہے۔ اس لئے بار بار رجوع کرتاہے۔‘‘

۱۴… ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزرچکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کانام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

۱۵… ’’حسب تصریح قرآن کریم رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔‘‘

(ازالہ الاوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)

۱۶… ’’ایک وحی بالفاظ ذیل درج ہے۔ محمدرسول اللہ اس کے متعلق لکھتے ہی کہ اس وحی میں میرا نام محمدرکھاگیااور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

۱۷… (حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰) پر لکھتے ہیں کہ: ’’مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔ وہ قیامت تک باقی رہے گی۔‘‘

۱۸… کتاب (حق الیقین ص۱۰۲) پر مرزا صاحب کا یہ قول نقل کیا گیاہے کہ علماء کو نبوت کا مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ قرآن کریم میں جو خاتم النّبیین کا لفظ آیاہے جس پر الف لام پڑے ہیں۔ اس سے بھی صاف معلوم ہوتاہے کہ شریعت لانے والی نبوت اب بند ہوچکی ہے۔ پس اگر کوئی نئی شریعت کا مدعی ہوگا وہ کافرہے۔‘‘

ان حوالہ جات سے جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں وہ بالفاظ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب اور مرزا محمود صاحب اور ان کے تمام متبعین کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت تشریعی کا دروازہ بند ہے۔آپ کے بعد جو نبوت تشریعی کا دعویٰ کرے وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ قول نمبر۶ میں مرزا صاحب نے اپنی تشریعی نبوت کا کھلے الفاظ میں دعویٰ کیاہے اور اس میں چند باتوں کی تشریح مرزا صاحب نے خود فرمائی۔ ایک یہ کہ شریعت کیا چیز ہے جس کی وحی میں امر یا نہی ہو، جس نے اپنی امت کے لئے کوئی قانون مقرر کیاہو، وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ یہ تعریف کرکے مرزا صاحب اپنا صاحب شریعت ہونا ثابت کرتے ہیں۔اس لئے مرزا صاحب اپنے اقرار سے خود کافر ہوگئے۔ مرزا صاحب نے یہ بھی صاف فرمادیاہے کہ وحی میں جو حکم ہویا نہی ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ حکم نیا ہو۔ بلکہ اگر پہلی شریعت کا بھی حکم اس کے پاس بذریعہ وحی کے آئے تو بھی یہ صاحب شریعت ہونے کے لئے کافی ہے۔ مرزا صاحب نے اپنی بہت سے وحی وہ بیان کی ہے جو کہ آیات قرآنی ہیں۔ اس لئے وہ بھی مرزا صاحب کی شریعت ہوگئی۔ مرزا صاحب نے اس شبہ کا بھی جواب دے دیا کہ صاحب شریعت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کی شریعت میں نئے احکام ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایاہے کہ یہ قرآن پہلی کتابوں میں بھی ہے۔ ابراہیم اور موسیٰn کے صحیفوں میں بھی۔ اب اگر شریعت جدید کے لئے یہ ضروری ہو کہ اس نبی کی شریعت اور وحی اور کتاب میں سب نئے احکام ہوں تو لازم آتاہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی صاحب شریعت نہ ہوں۔ کیونکہ قرآن میں سارے احکام نئے نہیں۔اس کلام کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء اور رسول اللہ ﷺ صاحب شریعت نبی ہیں۔ ویسے ہی مرزا صاحب بھی صاحب شریعت نبی ہیں۔

مرزاصاحب نے یہ بھی صاف کردیا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ شریعت کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام اوامر ونواہی اس شریعت اورکتاب اور وحی میں پورے پورے بیان ہونے چاہئیںتو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ تمام احکام تورات اور قرآن مجید میں بھی مذکور نہیں۔ اگر

487

تمام احکام قرآن مجید میں مذکور ہوتے تو پھر اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگر کوئی مدعی نبوت ایک امر ونہی کا بھی دعویٰ کرے۔ اگرچہ وہ امر ونہی پرانی ہو تو وہ نبی صاحب شریعت کہلایا جائے گا اوراس میں اور رسول اللہ میں بایں معنی کچھ فرق نہیں کہ یہ دونوں صاحب شریعت ہیں۔

یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ اگر کسی نبی کو خدا کا بھی حکم آوے کہ تجھ کو ہم نے نبی کرکے بھیجا ہے اور تو لوگوں پر اس حکم کی تبلیغ کر اور جو کوئی اس حکم کو نہ مانے گا وہ کافر ہے، تو وہ نبی بھی صاحب شریعت اور نبی تشریعی ہوگیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ جو نبی حقیقی ہے اور جو نبی شرعی ہے، اس کے لئے نبی تشریعی ہونا ضروری ہے۔ اس لئے مرزا صاحب اپنی تحریر اور اس اقرار کے مطابق کافر ہوئے۔ اس کے علاوہ مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میری کشتی کو کشتی نوح قرار دیاگیاہے۔ جو اس میں ہوگا وہ نجات پائے گا اور جو ایسا نہ ہوگا وہ ہلاک ہوگا۔ یہ مرزا صاحب کی شریعت کا نیا حکم ہے، جس نے شریعت محمدیہ کو منسوخ کیا۔ مرزا صاحب نے ایک نیا حکم یہ بھی دیا ہے کہ ان کی عورتوں کا نکاح غیر احمدیوں سے جائز نہیں۔ یہ بھی حکم شریعت محمدیہ کے خلاف ہے۔

(یہ نتیجہ بحوالہ کتاب انوار خلافت مرتبہ مرزا محمود صاحب ص۹۳،۹۴، انوار العلوم ج۳ ص۱۵۰، ۱۵۱ سے اخذکیا گیاہے)

مرزا صاحب کی شریعت میں ایک نیا حکم اور یہ بھی ہے جو تمام اسلام کے خلاف ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے مریدوں سے چندہ کی تحریک فرما کر یہ حکم فرمایا ہے کہ جو کوئی چندہ تین ماہ تک ادا نہ کرے گا وہ میری بیعت سے خارج ہے اور بیعت سے خارج ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام سے خارج ہے اور کافر ہے۔ حالانکہ زکوٰۃ کے لئے بھی خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ اگر تین ماہ تک کوئی زکوٰۃ نہ دے تو وہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ یہ حوالہ مرزا صاحب کے ایک فرمان سے جو لوح ہدی میں قادیان سے ۵؍مارچ ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی دیاگیاہے۔ اس فرمان کے چیدہ چیدہ الفاظ حسب ذیل ہیں۔

’’مجھے خدا نے بتلایاہے کہ میری انہی سے پیوند ہے۔ یعنی وہی خدا کے دفترمیں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں… ہر ایک شخص جو مرید ہے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس پر کچھ ماہوار مقرر کردے… جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا… وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد وہ ا س سلسلہ میں نہیں رہ سکے گا… اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیاجائے گا۔‘‘

اس کے آگے گواہ مذکورہ آیت:’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ کے حوالہ سے بیان کرتاہے کہ یہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب کوئی نبی آ پ کے بعد نہیں تو کوئی رسول بھی آپ کے بعد بطریق اولیٰ نہیں۔ کیونکہ رسول نبی ہوتاہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو نبی ہو وہ رسول بھی ہو اور اس کی تائید میں احادیث متواترہ ہیں جن کو صحابہ کی ایک جماعت نے روایت کیاہے۔ ایسی احادیث کا انکار کرنے والا ویسا ہی کافرہے۔ جیسا کہ قرآن کا انکار کرنے والا۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ جو ختم نبوت کا انکار کرتاہے وہ قرآن کا منکر ہوکر بھی کافر ہوا۔ اس کی تائید میں انہوں نے چند ائمہ دین کے اقوال نقل کئے ہیں اور ان سے یہ دکھلانا چاہاہے کہ احادیث متواترہ میں یہ خبر درج ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں ہے اورکہ ہر وہ شخص جو آپ کے بعد اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور افتراء پرداز ہے۔ دجال اور گمراہ کرنے والاہے۔ اگرچہ شعبدہ بازی کرے۔ قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے اور کہ جو شخص دعویٰ نبوت کرے وہ کافرہے اور پھر ان حوالہ جات سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ یہ عقیدہ کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین ہیں یقینی ہے اور اجماعی ہے۔ کسی کا اس میںا ختلاف نہیں ہے۔ کتاب اور سنت سے ثابت ہے اور آپa کے بعد کوئی کسی قسم کی نبوت میں نبی نہ بنے گا۔ عیسیٰm کا آنا اس کا منافی نہیں۔ کیونکہ وہ پہلے نبی بن چکے ہیں۔ خاتم الانبیاء کے معنی بھی یہی ہیں کہ اپنے عموم سے کسی نبی کو نبوت آپa کے بعد نہیں مل سکتی۔

488

اس کی تائید میں چند دیگر آیات قرآنی اور احادیث بھی پیش کی گئی ہیں جن کی یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں اور ان کا حوالہ دیا جاکر یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ انکار ختم نبوت، کفر ادّعانبوت بھی کفر اور ادّعا ووحی بھی کفرہے۔ البتہ ایک حدیث کا یہاں حوالہ دینا ضروری معلوم ہوتاہے کہ جس پر آگے مدعاعلیہ کے جواب کے وقت بحث کی جائے گی وہ حدیث بایں مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری مثال اور ان انبیاء کی مثال جو مجھ سے پہلے تھے، اس شخص کی سی ہے کہ جس نے ایک مکان تعمیر کیا اور بہت اچھا اور بہت خوبصورت اس کو بنایا۔ مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہی۔ لوگ اس مکان کو دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کی جگہ خالی ہے۔ اس کو کیوں پر نہ کردیاگیا۔ سو میں ہوں وہ اینٹ اور میں ہوں خاتم النّبیین۔ اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ تعمیر بیت نبوت جو ابتدائے آفرنیش سے ہوئی تھی وہ بدوں سرور عالمa کے ناقص تھی۔ سرور عالم کے وجود باجود سے وہ مکمل ہوگئی اور بیت النبوت سے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ اب اگر کوئی اینٹ ہوگی تو وہ بیت النبوت سے نہیں ہوسکتی۔ اگر کوئی شخص مدعی نبوت ہوگا تو خدا نے جو نبوت کا گھر تعمیر کیا ہے وہ اس کا جزو نہیں ہوسکتی۔

مرزا صاحب کے قول نمبر۱۵ سے یہ استدلال کیا گیاہے کہ قرآن کریم سے صراحۃً یہ بات معلوم ہوئی کہ رسول اس کو کہتے ہیں۔ جس نے احکام وقواعد دین جبرئیلm کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ اگر مرزا صاحب نے احکام وقواعد اس ذریعہ سے حاصل نہیں کئے تو دعویٰ نبوت جھوٹ ہوا اور جھوٹا مدعی نبوت باتفاق کا فر ہوتاہے۔

مرزا صاحب کے قول نمبر۱۳ سے مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزا صاحب اپنے پر جبرئیلm کے نزول کے مدعی ہیں اور صرف دعویٰ پر ہی اکتفاء نہیں کیا، بلکہ اپنی شان نبوت ورسالت کا سکہ جمانے کے لئے تمام خصوصیات نبوت ولوازمات رسالت کو نہایت جزم اور وثوق کے ساتھ اپنی ذات کے لئے ثابت کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ جن خصوصیات کی وجہ سے انبیاءo کی جماعت دوسرے مقربان بارگاہ الٰہی سے ممتاز ہوسکتی ہے۔ انبیاءo پر بھی نزول جبرئیل ہوا کرتاہے اور ان کی وحی والہام قطعی ویقینی ہوا کرتے ہیں۔ اس طرح مرزا صاحب بھی اپنے وحی کو خدا کاکلام کہتے ہیں اور قرآن شریف کی طرح قطعی کہتے ہیں۔ یہ خصوصیات مذکورہ ایسی ہیں جوسوائے انبیاءo اصحاب شریعت کے اور کسی دوسرے مقرب بارگاہ الٰہی میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب حقیقی نبوت کے مدعی تھے اور اپنے آپ کو اس معنی میں نبی اور رسول ظاہر کرتے تھے جس معنی میں دوسرے انبیاءo کو نبی یا رسول کہاگیاہے۔

گواہان مدعیہ نے خود مرزا صاحب کی اپنی تحریرات سے بھی یہ دکھلایاہے کہ وہ خود قبل از دعویٰ نبوت یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور کہ آپ آخری نبی ہونے کے معنوں میں خاتم النّبیین ہیں۔ چنانچہ (ازالہ الاوہام ص۵۲۲، خزائن ج۳ ص۳۸۰) پر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ نبی کیونکر آسکتاہے اورخاتم النّبیین کی دیواریں اس کو آنے سے روکتی ہیں۔

آگے اس کتاب کے (ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) پر لکھتے ہیں: لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی؟

اور کتاب (حمامۃ البشری ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰) میں آیت: ’’ماکان محمد… خاتم النّبیین‘‘کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’ہمارے نبیa خاتم النّبیین ہیں۔ بغیر کسی استثناء کے اور ہمارے نبیa نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ہمارے نبیa کے بعد اگر ہم کسی نبی کے ظہور کے مجوز بنیں گے تو نبوت کا دروازہ بند ہونے کے بعد اس کو کھولنے کے قائل ہوجائیں گے اور یہ اللہ کے وعدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے نبیa کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا۔ حالانکہ آپa کے بعد وحی کا انقطاع ہوچکاہے

489

اور نبی آپa کے ساتھ ختم ہوچکے ہیں۔‘‘

پھر اس کتاب کے (ص۲۱، خزائن ج۷ ص۲۰۱) پر لکھتے ہیں کہ: ہزارہا سال گزرنے کے بعدکسی ایسی حالت کا انتظار کیا جاسکتاہے جس میں دین کی تکمیل ہو۔ اگر یہ مانا جائے تو دین کی تکمیل اور اس کے کمال سے فراغت کا سلسلہ بالکل غلط ہوجاتاہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ: ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘جھوٹی خبر ہوگئی اور خلاف واقع ہوگئی۔

اسی کتاب کے (ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷) کے حوالہ سے یہ دکھلایاگیاہے کہ مرزاصاحب بھی پہلے دعویٰ نبوت کو کفر سمجھتے تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤ اور قوم کافرین کے ساتھ مل جاؤں۔‘‘

(ازالہ الاوہام ص۵۸۳، خزائن ج۳ ص۴۱۴) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النّبیین کے بعد پھر جبرئیل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد ورفت شروع ہوجائے۔ ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون قرآن مجید سے توارد رکھتی ہو پیدا ہوجائے جو امر مستلزم محال ہے وہ محال ہوجاتاہے۔ ‘‘

لیکن اس کے بعد پھر (براہین احمدیہ پنجم ) میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ: ’’میں بھی تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی اعتقاد رکھتاتھا کہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا اورباوجود اس بات کے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسی رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰm کی طرف منسوب تھیں وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کردیں اور یہ فرمایا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ مگر پھر بھی میں متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصص سابقہ میں وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا اور شائع کردیا کہ حضرت عیسیٰm آسمان سے نازل ہوں گے اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں۔ جب تک کہ خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایاکہ عیسیٰm ابن مریم اسرائیلی تو فوت ہوچکا اور وہ واپس نہیں آئے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۵، خزائن ج۲۱ ص۱۱۱)

ایک اور جگہ کتاب (حقیقت النبوت ص۲۶۵،۲۶۶، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۶، ایک غلطی کا ازالہ ص۴،۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲) پر لکھتے ہیںکہ: ’’آنحضرتﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النّبیین تھے مجھے نبی اور رسول کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلاچکاہوں کہ میں بموجب آیت: ’’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘بروزی طور پر وہی خاتم النّبیین ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرانام محمد اور احمد رکھا اور مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیاہے۔ پس اس طور سے آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘ آگے (ص۶، خزائن ج۸ ص۲۱۵) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میںاور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔‘‘ پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی ہے اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست وپاء ہے کیونکہ نبوت پر مہرہے۔‘‘ ایک اور جگہ لکھا ہے کہ: ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیںوہ سب حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور ہم کو عطاء کئے گئے ہیں۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کے خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۳ ص۲۷۰)

اس عبارت سے یہ نتیجہ نکالاگیاہے کہ ظل اور بروز کے الفاظ محض الفاظ ہی الفاظ ہیں۔ مراد ان سے حقیقت کاملہ نبوت ہے۔

ان تصریحات سے مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ کا یہ استدلال ہے کہ مرزا صاحب نے قرآن حکیم کی آیات اور احادیث

490

نبوی سے اپنی نبوت کے لئے جو دلائل پیش کئے ہیں وہ محض لاطائل اور بے معنی سعی ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب براہین احمدیہ کے لکھتے وقت اور اس سے مدتوں پہلے اپنی قرآن دانی اور حکم فہمی کے مدعی تھے۔ اگر ان کو اس سے پہلے قرآن کی رو سے کسی نئے نبی کے آنے کا انکار تھا تو بعد میں قرآن کی کون سی آیت اتری یا نبی کریمa کی کون سی حدیث پیدا ہوئی جس کی بناء پر مرزا صاحب نے نبوت کا اعادہ کیا۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ کی آیت اور ’’الیوم اکملت لکم‘‘ کی آیت اس وقت بھی قرآن میں موجود تھیں۔ یہ ہر دو آیتیں قسم اخبار میں سے ہیں اور امر ونہی کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ادّعائے نسخ سے پناہ لے کر کوئی تاویل کی جائے تو اوامر ونواہی میں جاری ہوسکتی ہے۔ اخبار میںنہیں ہوسکتی۔ یہ مسئلہ تمام اہل اسلام کے نزدیک مسلمہ اور متفق علیہ ہے۔ پھر کیونکر از روئے قرآن یا حدیث اپنے کو ادّعا نبوت میں صادق کہہ سکتے ہیں۔

ختم نبوت کے معنی کو جیسا کہ عام عقیدہ ہے مرزا صاحب تسلیم کرتے ہیں اور اپنے کلام میں اس طرح اس کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن صرف اپنی خوش خیالی کو باقی رکھنے کے لئے بے محل اور خلاف محاورات عرب تاویل کرکے جان بچانے کی کوشش کی ہے۔

آگے وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے خاتم النّبیین کے بعد بروزی طور پر اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر خود انہی کے کلام سے ثابت ہوتاہے کہ جو شخص خاتم ہو، اس کا بروز بھی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ اپنی (تریاق القلوب ص۱۵۶، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷) حاشیہ پر لکھتے ہیں: ’’مگر مہدی معہود بروزات کے لحاظ سے بھی دنیا میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ وہ خاتم الاولاد ہے۔‘‘

اس کتاب کے اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ بعض اکابر اولیاء کے مکاشفات ہیں اور اگر احادیث نبویہ کو بغور دیکھا جائے تو بہت کچھ ان سے ان مکاشفات کو مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ قول اس حالت میں صحیح پڑتاہے۔ جب مہدی معہود اور مسیح موعود کو ایک ہی شخص مان لیا جائے۔‘‘ اس حوالہ سے مرزا صاحب کا بروزی اور ظلی نبی ہونے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوتاہے اور یہ ثابت ہے کہ حضرت محمدرسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین والمرسلین ہیں۔ آپ کے جو شخص اپنے لئے ادّعا نبوت کرلے یا کسی دوسرے کو نبی مانے تو وہ تمام اہل اسلام کے نزدیک کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ اس کی تائید کہ ظلی اور بروزی الفاظ محض الفاظ ہی ہیں اور کہ دراصل مرزا صاحب کی مراد حقیقی نبوت سے ہے۔ مرزا صاحب کے صاحبزادے بشیر محمود صاحب کی ایک تحریر سے ہوتی ہے جو اخبار الفضل مؤرخہ ۲۶؍نومبر ۱۹۱۳ء کے حوالہ سے مدعیہ کے گواہ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب نے نقل کی ہے اور جو باالفاظ ذیل ہے: ’’ہم جیسے خداتعالیٰ کی دوسری وحیوں میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریسm کو نبی پڑھتے ہیں۔ ایسے ہی خدا کے آخری وحی میں مسیح موعود کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو خود بخود ایک مجرم فرض کرکے اپنی بریت کرنے لگ جائیں، بلکہ جیسے اور نبیوں کی نبوت کا ثبوت ہم دیتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر۔ کیونکہ ہم چشم دید گواہ ہیں۔ مسیح موعود کی نبوت کاثبوت دے سکتے ہیں۔‘‘ پھر لکھا ہے کہ: ’’خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کانام نبی اور رسول رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نبی نہیں کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریریں جن میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے اس کو ان الہامات کے تحت کریں گے۔‘‘ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ مرزا صاحب نے یہ الفاظ انکساری اور تواضع کے طور پر لکھ دئیے ہیں۔ ورنہ ان کے معنی مراد نہیں ہیں۔ مرزا صاحب جہاں اپنے آپ کو بروزی یا ظلی یا مجازی نبی کہتے ہیں اس کا مطلب صرف حقیقی نبی سمجھنا چاہئے۔

اسی طرح خلیفہ دوم اخبار الفضل مؤرخہ ۲۹؍جون ۱۹۱۵ء ہینڈ بل ص ۳ کی سطر۱ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’مسیح موعود کو نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرتﷺ کو جو سید المرسلین وخاتم النّبیین ہیں امتی قرار دیناہے اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفرہے۔‘‘

491

ختم نبوت اور انقطاع وحی پر مولوی محمد حسین صاحب گواہ مدعیہ نے ایک اور دلیل پیش کی ہے وہ یہ کہ قرآن شریف پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں اور آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جس کی توجیہہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے آدمm سے وحی نبوت کے جاری ہونے کے سلسلہ کی خبر دی ہے۔ یہ ابتداء وحی اور آغاز وحی ہے۔ اس کے بعدہم نوحm کے زمانہ تک پہنچتے ہیں۔ قرآن شریف سے یہ پتہ لیتے ہیں کہ آیا سلسلہ نبوت جاری ہے یا نہ۔ جواب ملتا ہے کہ ہاں! جاری ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایاگیاہے: ’’ولقد ارسلنا نوحاً وابراہیم وجعلنا فی ذریتہم النبوۃ والکتاب (الحدید:۲۶)‘‘اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوحm کی ذریت میں سلسلہ نبوت جاری ہے اور ذریت ابراہیم میں بھی ابھی سلسلہ نبوت جاری ہے۔ دوسری بات اس سے یہ ثابت ہوئی کہ نبوت کا ظرف اور محل آل ابراہیم ہی ہے جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ اللہ عزاسمہ نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں دو شعبہ قرار دئیے ہیں۔ ایک ’’بنی اسحاق‘‘ جن میں پہلے نبوت کا سلسلہ جاری رہا اور بہت انبیاء ان میں آئے اور یہ سلسلہ حضرت عیسیٰm پر ختم ہوا، دوسرے ’’بنی اسماعیل‘‘ جن میں آنحضرتﷺ تک کوئی نبی نہ آیا۔ اس کے بعد موسیٰm کے زمانہ کی طرف نگاہ کی جائے تو قرآن شریف سے یہ معلوم ہوگا کہ حضرت موسیٰmکے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:’’ولقد اٰتینا موسیٰ الکتاب وقفینا من بعدہ بالرسل‘‘ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ موسیٰm کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے اور کئی ایک رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے۔ جیسا کہ لفظ ’’الرسل‘‘ سے ظاہرہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰm کا وقت آتاہے تو قرآن کریم سے سوال ہوتاہے کہ آیا بکثرت انبیاء ابھی آئیں گے؟ یا کیا ہوگا… توخداتعالیٰ ارشاد فرماتاہے:’’واذقال عیسیٰ بن مریم… الخ!‘‘خداوند سبحانہ تعالیٰ نے یہاں پر حضرت عیسیٰm کی زبان پر اسلوب جواب کو بالکل بدل دیاہے۔ حضرت عیسیٰm فرماتے ہیں کہ: ’’اے بنی اسرائیل! میں اللہ کا رسول تمہاری طرف ہو کر آیاہوں اور مجھے سے پہلے موسیٰm کی کتاب تورات جو خدا کی طرف سے ان کو عطائہوئی ہے، اس کی تصدیق کرتاہوں اور خوشخبری دیتاہوں ایک رسول کی کہ جو میرے بعد آئے گا۔ نام اس کا احمدہوگا۔ قرآن کریم نے اس سے پہلے رسل کے لفظ سے عام طور پر رسولوں کے آنے کی خبر دی تھی اور یہاں ایک خاص رسول کی خبر دے کر اس کے نام سے مشخص اور معین فرمایا۔ یہ اسلوب صاف اس بات پر دلالت کرتاہے کہ خداوند تعالیٰ احمدa پر نبوت کو ختم کررہاہے اور عام طور پر جو رسولوں کے آنے کا اسلوب تھا، اس کو بدل کر ایک خاص معین مشخص کے آنے کی اطلاع دیتاہے۔ اس کے بعد آنحضرتﷺ کا زمانہ آتاہے تو ہم قرآن سے پوچھتے ہیں کہ آنحضرت کے آنے کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے یا بندہوجاتاہے تو قرآن کریم فرماتاہے: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘یہ بات قابل غور ہے کہ خداوندتعالیٰ نے مختلف انبیاء کے زمانہ میں سلسلۂ نبوت جاری رہنے اور رسل کے آنے کی اطلاع دی اور آنحضرتﷺ پر آکر اس اطلاع کے برخلاف جو بصورت اجراء نبوت بمثل سابق ایسی اطلاع دی جانی ضروری تھی جیسا کہ پہلے دی گئی۔ ختم نبوت کا اعلان کردیا جس سے قطعاً اور یقینا یہ بات معلوم ہوئی کہ قرآن کریم مجموعی طور پر ختم نبوت کا اعلان کررہاہے۔

اس ضمن میں دو احادیث کا حوالہ جو گواہ مذکور نے دیاہے اور دیگر گواہان مدعیہ کے بیانات میں بھی موجودہے، دیا جانا ضروری معلوم ہوتاہے۔ کیونکہ فریق ثانی کے جواب میں یہ حدیثیں بحث طلب ہیں۔ ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں انبیاء آتے رہے۔ جب ایک نبی فوت ہوجاتا تو دوسرا نبی آجاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں اور خلیفہ ہوں گے۔ پس بہت ہوں گے۔

دوسری حدیث یہ ہے کہ جنگ تبوک پر جاتے ہوئے آپa نے حضرت علیq کو اہل بیت کی نگرانی کے لئے چھوڑا تو حضرت علیq نے عرض کیا کہ آپa مجھ کو عورتوں اور بچوںمیں چھوڑے جاتے ہیں تو آپa نے فرمایا کہ تو مجھ سے وہی نسبت رکھتاہے جو کہ ہارونm کو موسیٰm سے تھی۔ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اگر نبوت آنحضرتﷺ کے بعد تشریعی یا غیر تشریعی

492

جاری ہوتی تو حضرت علیq کو رسول اللہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کہہ کر اس وصف سے محروم نہ کرتے۔

گواہ مذکور نے قرآن مجید سے ختم نبوت کی ایک اور یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ سورہ آل عمران پارہ تیسرا کی آیت:’’اٰمنا ب اللہ وما انزل الیک… الخ!‘‘سے اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ جو کچھ انبیاءo پر وحی نازل کی گئی وہ زمانہ ماضی میں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں انہی انبیاء پر ایمان لانے کی ترغیب دی جوآنحضرتﷺ سے پہلے ہوچکے ہیں اور کسی ایسے نبی کے لئے ایمان لانے کی تاکید نہیں کی جو آپ کے بعد ہو۔ اگر کوئی نبی آنحضرتﷺ کے بعد آنے والا ہوتا تو ضرور اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ایمان لانے کی تاکید فرماتا۔

سورہ بقرہ کی ایک اور آیت:’’والذین یؤمنون بماانزل الیک… الخ!‘‘ میں بھی خدا وندتعالیٰ نے انہیں کو ہدایت پر قائم رہنے والا اور ’’مفلحون‘‘ فرمایاہے جو آنحضرتﷺ کی وحی پر اور آپa سے پہلے انبیاءo کی وحی پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور قرآن کریم نے یہ التزام کیاہے کہ ہر جگہ وحی کے ساتھ لفظ قبل کو ملایاہے تاکہ یہ بات ثابت ہو کہ آنحضرتﷺ سے پہلے وحی نبوت اور انبیاءo آئے ہیں۔ چنانچہ اس کی تائید میں مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے سورہ سبا پارہ نمبر۲۲ کی آیت: ’’وما ارسلناک الا کآفۃ للناس… الخ!‘‘ سے یہ استدلال کیا ہے کہ متقی بننے کے لئے صرف ان چار چیزوں کی ضرورت ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو وہ وحی ہے جو آنحضرتﷺ کی طرف نازل کی گئی۔ دوسری وہ جو آپ سے پہلے لوگوںپر نازل کی گئی۔ اگر آنحضرتﷺ کے بعد کسی وحی پر انسانوں کی نجات اور ارتقاء کی مدار ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے بھی یہاں ذکر فرمادیتا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا، معلوم ہوتاہے کہ کسی اور نئی بات کی یا نئی وحی کی متقی بننے کے لئے حاجت نہیں اور نہ ہی اس کے آنے پر یا اس کے ماننے پر انسانوں کی نجات کا دارومدارہے۔

ختم نبوت کے بارہ میں مرزا صاحب کی ایک اور تحریر بہت واضح ہے جس کا ذکر مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے۔ مرزا صاحب اپنی کتاب (ازالہ الاوہام ص۵۴۴، خزائن ج۳ ص۳۹۳) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النّبیین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔ اس سے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہوجائے گا یا قبول کرنا پڑے گا کہ خداتعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کرکے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔‘‘

اسی طرح (ص۵۷۶،۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱،۴۱۲) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خداتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آیا۔ بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتاہے جو اس پر بذریعہ جبرئیلm نازل ہوتی ہے۔ اب یہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور حضرت جبرئیل لگاتار آسمان سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم، صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے تو پھر بہرحال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہوجائے گی اور کبھی جبرئیل نازل نہ ہوں گے۔ بلکہ وہ مسلوب النبوت ہو کر امتیوں کی طرح بن جائیں گے۔ تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لائیں اور پھر چپ ہوجائیں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا بہت نازل ہونا برابرہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتاہے کہ اگر خداوندتعالیٰ صادق الوعدہے اور جو آیت خاتم النّبیین میں وعدہ دیاگیاہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیاگیاہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیاہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبیa کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘

493

اس سے مدعیہ کی طرف سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ مرزا صاحب نے اس کی تصریح کردی ہے کہ کوئی نبی مطیع یعنی امتی نہیں بن سکتا۔ بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتاہے جو اس پر بذریعہ جبرئیلm نازل ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مرزا صاحب نبی ہوئے تو انہوں نے اس وحی کی اتباع کی جو ان پر نازل ہوئی یا قرآن کی۔ اگر قرآن کی اتباع کی تب بھی مرزا صاحب کافر، کیونکہ ان کو اپنی وحی کی اتباع کرنی چاہئے تھی اور اگر اپنی وحی کی اتباع کی، تب بھی کافر، کیونکہ قرآن کو چھوڑا۔ کتاب ازالہ الاوہام مرزا صاحب کے دعویٰ کے کچھ عرصہ بعد تحریر ہوئی ہے اور اس وقت تک وہ خاتم النّبیین کے وہی معنی سمجھتے رہے جو ساری دنیا نے سمجھے اور ایک نبی کا آنا اور ایک دفعہ جبرئیلm کا اترنا اور ایک فقرہ کہنا کہ تم قرآن کا اتباع کرو۔ یہ سب چیزیں مرزا صاحب کے نزدیک ختم النبوت کے مخالف تھیں اور اس سے مہر نبوت ٹوٹتی تھی۔

ہر صدی میں کم ازکم ایک مجدد آتاہے، ان کا یہ فرض ہوتاہے کہ دنیا میں جو لوگوں سے غلطی ہوگئی ہے، اس پر لوگوں کو متنبہ کریں اور بالخصوص ایسے امور اور عقائد کی نسبت کہ جن سے انسان کافر ہوجائے۔ علاوہ ازیں امت میں بے شمار اولیاء، ابدال، اقطاب گزرے اور تمام صحابہ کرامi ان میں سے کسی نے خاتم النّبیین کے یہ معنی نہیں کئے جومرزا صاحب نے اب بیان کئے ہیں۔ اس لئے جو معنی ختم النبوت کے اب تجویز کئے ہیں جس کی بناء پر نبوت کا جاری رہنا اور وحی نبوت کا اری رہنا ضروری ہے اور جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ مذہب مرزاصاحب کے نزدیک لعنتی اور شیطانی مذہب کہلانے کا مستحق ہے۔

اس بناء پر اگر یہ معنی صحیح ہیں تو جب تک مرزا صاحب کا مذکورہ بالا عقیدہ رہا۔ مرزا صاحب بھی کافر ہوئے اور ان سے پہلے جتنے مسلمان اس عقیدہ پر گزرے وہ سب کے سب کافر ہوئے اور اگر مسلمانوں کا اور مرزا صاحب کا عقیدہ سابقہ صحیح تھا تو پھر لوگ تو مسلمان اور مرزا صاحب اس عقیدہ کے بدلنے کے بعد کافر ہوگئے۔ یہ نتائج مولوی مرتضیٰ حسن صاحب کے بیان سے اخذ ہوتے ہیں۔ آگے وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ جو امر مستلزم محال ہے وہ محال ہوتاہے۔ اس سے اگر مراد محال عقلی ہے تو اس کا اخفاء ناجائز ہے۔ بالخصوص تیرہ سو برس تک جب کہ صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین اور ائمہ فقہاء کہ جنہوں نے عقلی امور کی بال کی کھال نکال دی ہے اور اگر محال سے مراد شرعی ہے تو وہ بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ بالخصوص اتنے زمانہ تک اور اتنے علماء متبحرین پر اور مجددین پر اس سے ثابت ہوتاہے کہ مرزا صاحب کا اس کلام کے لکھنے تک یہی عقیدہ تھا کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ کوئی جدید یا قدیم نبی آہی نہیںسکتا۔ علمائے امت نے جو مسئلہ ختم النبوت پر اجماع بیان کیاہے اور جس آیت کے معنی لکھے ہیں اور وہ معنی مرزا صاحب کے مسلمات میں سے ہیں۔ وہی حق ہیں اور اب جو اس معنی سے انکار کرے وہ کافر اور بے شک کافرہے۔

ایک اور کتاب (حمامۃ البشری ص۱۹،۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰) پر مرزا صاحب نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ عیسیٰm کے نزول کے بارہ میں کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ اس کلام کو جو احادیث میں آیاہے۔ ظاہری پر حمل کرے۔ اس واسطے کہ یہ آیت: ’’ماکان محمد ابا احدا… الخ!‘‘ خاتم النّبیین کے مخالف ہے۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھاہے اور اس میں کسی کی استثناء نہیں کی اور پھر اس خاتم الانبیاء کی خود اپنے کلام میں تفصیل فرمائی۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ سے جو سمجھنے والوں کے لئے بیان واضح ہے اور اگر ہم یہ جائز رکھیںکہ آپ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا تو لازم آتاہے کہ دروازہ وحی نبوت کا بعد بند ہونے کے کھل جائے اور آپ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتاہے۔ حالانکہ وحی منقطع ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ تمام نبیوں کو ختم کردیاہے۔ کیا ہم اس کا اعتقاد رکھیں کہ حضرت عیسیٰm آئیں گے اور خاتم الانبیاء وہ بنے نہ ہمارے رسول مقبولa۔

494

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ مرزا صاحب نے اس میں اس بات کی تصریح کردی ہے کہ خاتم الانبیاء کی تفسیر بغیر کسی استثناء کے رسول اللہ ﷺ نے اس کلام میں فرمائی کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ اور معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کے نزدیک خاتم النّبیین کی تفسیر ’’لانبی بعدی‘‘ ہے اور خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں کسی نبی بروزی ظلی وغیرہ کی قید نہیں اور اب ’’لا نبی بعدی‘‘ کا یہ معنی لینے کہ اس سے مراد خاص وہ نبی ہے جو مستقل نبی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے الگ ہو کر اس نے نبوت حاصل کی ہو۔ کیونکہ یہ معنی مرزا صاحب کے نزدیک بھی غلط ہیں اور اب یہ معنی کرنے ہرگز قابل پذیرائی نہیں۔

مرزا صاحب خاتم کے یہ معنی کرتے ہیں کہ رسول کریم مہر ہیں اور آپ کے منظور کرنے سے نبی بنتے ہیں۔ کتاب (حقیقت النبوت ص۲۶۶ حصہ اوّل ضمیمہ نمبر۱، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۶) پر لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ میں ظلی طور پر محمدہوں۔ پس اس طورسے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدa کی نبوت محمدa تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمدa ہی نبی رہا، نہ کوئی اور۔ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ اس سے یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ میں آئینہ بن گیاہوں محمد رسول اللہ ﷺ کا اور مجھ میں تصویر اتر آئی ہے رسول کریم کی، اس سے مہر نبوت نہ ٹوٹی۔ یہ تمسخر ہے خدا اور خدا کے رسولa کے ساتھ۔

اب باقی ماندہ وجوہات تکفیر میں سے حضرت عیسیٰm کی توہین۔ آنحضرتﷺکی توہین اور دیگر انبیاءo کی توہین کے بارہ میں گواہان مدعیہ کے بیانات کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتاہے۔ اس ضمن میں مرزا غلام احمد صاحب کی حسب ذیل تحریروںپر اعتراض کیاگیاہے۔ مرزا صاحب اپنی کتاب (دافع البلاء ٹائٹل ۲، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰) پر لکھتے ہیں: ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتاتھا اور کبھی یہ نہیں سناگیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس پر عطر ملاتھا یا اپنے ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کو چھواء تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰm کانام ’’حصور‘‘ رکھا مگر مسیح کایہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۴، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸) پر لکھتے ہیں کہ: ’’پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی نام کیوں رکھا۔‘‘

آگے (حاشیہ ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔‘‘

اس صفحہ پر آگے کہتے ہیں کہ: ’’میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔‘‘

آگے ہے کہ: ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ) پر ہے کہ: ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

آگے لکھتے ہیں کہ: ’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگادے۔‘‘ آگے ہے کہ: ’’سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتاہے۔‘‘

495

یہ گالیاں یسوع کے نام لے کر ضمیمہ انجام اتھم میں درج کی گئی ہے۔ لیکن بیان کیا جاتاہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک یسوع اور مسیح ایک تھے۔ کیونکہ مرزا صاحب اپنی کتاب (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲) پر فرماتے ہیں کہ:’’ مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے۔‘‘

اسی طرح اپنی کتاب (کشتی نوح ص۶۵، خزائن ج۱۹ ص۷۱ حاشیہ) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب سے نقصان پہنچاہے، اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰm شراب پیا کرتے تھے، شاید کسی بیماری کی وجہ سے۔ اے مسلمانو! تمہارے نبیa تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹) پر ہے: ’’جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توراۃ میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا، ان کتابوں میں ان کا نام ونشان بھی نہیں پایا جاتا۔‘‘

(حاشیہ ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰) پر لکھتے ہیں: ’’اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب ’’طالمود‘‘ سے چرا کر لکھاہے اور پھر ایسا ظاہر کیاہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔‘‘

آگے ہے کہ آپ کے حقیقی بھائی آپ کی ان حرکات سے آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔‘‘

کتاب (ست بچن ص۱۷۱، خزائن ج۱۰ ص۲۹۵ حاشیہ) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیاتھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰) پر ہے کہ: ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

اس کتاب کے (ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱) پر ہے کہ: ’’آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی ایسی بیماریوں کا علاج کیا۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اس تالاب نے فیصلہ کردیا ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہواہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں ہے۔ بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھوں میں سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہ تھا۔‘‘

اسی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۹، خزائن ج۱۱ ص۲۹۳) پر آگے مسلمانوں کو مخاطب کرکے لکھتے ہیںکہ: ’’خداوند تعالیٰ نے قرآن شریف میں کوئی خبر نہیں دی کہ یسوع کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا کہ جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰm کانام ڈاکو اور بٹ مار رکھا اور آنے والے نبی کے مقدس وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلے مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔‘‘

اور کتاب (ست بچن ص۱۶۷، خزائن ج۱۰ ص۲۹۱) پر لکھتے ہیں: ’’اور بالخصوص یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے۔ ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا اور دلّالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱) پر ’’حضرت عیسیٰm کی تین پیشین گوئیوں کو غلط قرار دیاگیاہے۔‘‘

496

(ازالہ الاوہام ص۳۰۳،خزائن ج۳ص۲۵۴،۲۵۵) کے حاشیہ پر درج ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰm اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس سال تک نجاری کاکام کرتے رہے ہیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸) پر لکھتے ہیں کہ: ’’مریمp کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کرلیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیونکر نکاح کیاگیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں توڑا گیا اور تعداد ازواج کی کیوں بناء ڈالی گئی۔ مگر میں کہتاہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے۔ نہ قابل اعتراض۔

(ازالہ اوہام ص۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶) پر مرزا صاحب مولویوں کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ: ’’اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳) پر لکھتے ہیں کہ: ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کرہے اور اس نے اس دوسرے کانام غلام احمد رکھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کوان کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیاہے تو پھر یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ کہا جائے کہ کیوں تم اپنے تئیں مسیح ابن مریمn سے افضل قرار دیتے ہو۔‘‘

مولوی انورشاہ صاحب نے لفظ یسوع کی اصل یہ بتائی ہے کہ یہ دراصل عبرانی لفظ ہے اور عبرانی میں ایشوع بمعنی نجات دہندہ تھا۔ ایشوع سے یسوع بنا اور زبان عربی میں آکر لفظ عیسیٰ بنا اور یہ تعریب قرآن سے شروع نہیں ہوئی۔ بلکہ نزول قرآن سے پہلے عرب کے نصاریٰ عیسیٰm کو عیسیٰ ہی بولتے تھے۔

(ازالہ الاوہام ص۲۰۴حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵،۲۵۶) پر لکھتے ہیں: ’’ماسواء اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل ترب یعنی مسمریزمی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل ترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ظہور میں آتے رہتے ہیں۔ اگریہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو اللہ تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتاتھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے۔‘‘

ان عبارات سے یہ نتائج نکالے گئے ہیں کہ مرزا صاحب یہ بخوبی جانتے تھے۔ یسوع مسیح ایک ہی شخص ہے۔ جیسا کہ ان کی اپنی تحریرات سے ثابت ہوتاہے۔ اس لئے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے یسوع کے نام سے جو کچھ کہا ہے۔ اس سے عیسیٰm مراد نہیں۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ ان میں سے بعض فقرات عیسائی پادریوں کے جوابات میں الزامی صورت میں بیان کئے گئے ہیں تو یہ جواب بھی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ ان فقرات میں اس قسم کے الفاظ کہ’’حق بات یہ ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ الزامی جوابات نہیں ہوسکتے۔ بلکہ مرزا صاحب کی اپنی تحقیق کا نتیجہ شمار ہوں گے۔

نیز دافع البلاء کے حوالہ سے جو عبارت نقل کی گئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کے نزدیک بھی عیسیٰm کو ’’حصور‘‘ نہ کہنے کے لئے مذکورہ بالا قصے مانع تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی جو عالم الغیب ہے یہ بات محقق تھی کہ حضرت عیسیٰm میں یہ عیوب موجود ہیں۔ اس لئے اس کانام ’’حصور‘‘ نہ رکھا اور جو گالیاں مرزاصاحب نے پہلے انجام آتھم‘‘ میں عیسیٰm کو دی تھیں وہی یہاں مذکور ہیں۔

497

حضرت عیسیٰm کی پاکبازی اور راست گوئی کا ثبوت احادیث سے ملتاہے اور قرآن نے ان کی شان میں کہا ہے کہ: ’’وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین‘‘ رسولوں کو دنیا میں صرف اس لئے بھیجا جاتاہے کہ لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کی شان اطاعت کریں۔ مرزا صاحب نے عیسیٰm کے حق میں نہایت گستاخانہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ان کے معجزات کو مسمریزم کہاہے۔ حالانکہ مسمریزم اقسام سحر اور توجہ نفسانی کا ایک شعبہ ہے کہ جس کا کسی پاکباز نیک آدمی کے ساتھ اختصاص نہیں کیا جاسکتا، ہر بداخلاق بلکہ کافر تک اس کا عمل کرسکتاہے اور پھر ایسے معجزات کو جس کو قرآن کریم نے نہایت شان اور عظمت سے ذکر فرمایاہے۔ عمل ترب یا مسمریزم کہنا نہایت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ حضرت عیسیٰm سے جو معجزات ثابت کئے گئے ہیں ان کو آج تک تمام علمائے امت اور عامۃ المسلمین قبول کرتے رہے۔ مرزا صاحب نے ان کو مسمریزم وغیرہ کی طرف منسوب کرکے خواہ مخواہ ایک رخنہ اندازی فرمائی۔ ان کا عیسیٰm کی اس طرح توہین کرنی ایک وجہ کفر ہے۔

چنانچہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب (ضمیمہ چشمہ معرفت ص۱۸، خزائن ج۲۳ ص۳۸۹،۳۹۰) پرجو عبارت بالفاظ ذیل ’’شاید کسی صاحب کے دل میں یہ بھی خیال آوے… تا موجب نزول غضب الٰہی درج کی ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفرہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے اور کسی نبی کا اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔‘‘

اس کی تائید میں منجانب گواہان مدعیہ چند سندات، قرآن احادیث اور اقوال بزرگان پیش کئے گئے ہیں جن کی یہاں تفصیل درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف مختصراً یہ درج کیا جاتاہے کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ کہاہے کہ سب اورناسزا کہنا پیغمبروں کو اور طعن کہنا، سرچشمہ ہے جمیع انواع کفر کا اور مجموعہ ہے۔ جملہ گمراہیوں کا اور ہر کفر اس کی شاخ ہے اور کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرنا بھی کفرہے اور کہ امام احمد فرماتے ہیں کہ: جس نے ناسزا کہا نبی کریم کو یا تنقیص کی، مسلمان ہو یہ شخص یا کافر، سزا اس کی قتل ہے اور علماء نے کہا ہے کہ تعریض کرنا خدا کی سب کا، یا رسول کی سب کا ارتداد ہے اور موجب قتل ہے۔ آگے بیان کرتے ہیں کہ علماء نے جب توراۃ اورانجیل محرف سے کوئی چیز محرف نقل کی ہے۔ ان سے نتیجہ نکالاہے کہ یہ کتابیں تحریف شدہ ہیں۔ مرزا صاحب یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰm نالائق تھے۔ علماء کے طریق میں اور مرزا صاحب کے طریق میں کفر اور اسلام کا فرق ہے۔

مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے بیان کیا ہے کہ مرزاصاحب نے اپنے آپ کو یوسفm سے بھی افضل کہاہے اور کتاب(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰) پر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘ اور یہ کہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں۔

(کتاب ازالہ الاوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰) سے مرزا صاحب کا ایک اور شعر نقل کیاگیاہے جو بالفاظ ذیل ہے ؎

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم

مولوی انور شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن شریف نے یہود اور نصاریٰ کے عقائد کی بیخ کنی کی ہے اور ایک حرف موسیٰ وعیسیٰm کی ہتک کا اشارۃً یاکنایۃً نہیں فرمایا۔

اب اس عنوان توہین انبیاء کے دوسرے ہیڈنگ پر گواہان مدعیہ کے پیش کردہ دلائل بیان کئے جاتے ہیں۔

توہین انبیاء کے تحت گواہان مدعیہ نے یہ دکھلایا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ صرف عیسیٰm کی توہین کی ہے بلکہ حضورm کی بھی توہین کی ہے۔ بحوالہ کتاب (حقیقت النبوت ص۲۶۵،۲۶۶) مرزا صاحب کے اس قول سے کہ: ’’میں بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرانام محمد اور احمد رکھاہے اور مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیا۔ پس اس طور سے

498

آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ یہ نتیجہ نکالا گیاہے کہ مرزا صاحب کو نبوت ملنے سے خاتمیت محمدیہ میں فرق نہ آنے کے یہی معنی ہوسکتے ہیں کہ مرزا صاحب اور سرورعالمa ایک ہوں جو عقلاً اور نقلاً باطل ہے اور اگر رسول اللہ ﷺ بطریق تناسخ معاذ اللہ مرزا صاحب ہوئے۔ توتناسخ کفر اور اگر یہ معنی ہیں کہ سایہ ذی سایہ کا عین ہوتاہے تو یہ ایسی باطل بات ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ کسی شخص کاسایہ ذی سایہ نہیں ہوسکتا تو اب مرزا صاحب کا نبی ہونا رسول اللہ ﷺ کا نبی ہونا نہیں ہے۔ اگر بفرض محال یہ مان لیا جائے کہ سایہ اور ذی سایہ ایک ہوتاہے تو رسول اللہ ﷺ ظل اللہ ہیں اور اس طرح وہ نعوذب اللہ ! عین خدا ہیں اور مرزا صاحب عین محمدa ہیں تو اس سے صاف یہ نتیجہ ہے کہ مرزا صاحب عین خدا ہوئے۔ اگر ظل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ذی ظل کی کوئی صفت اس میں آجائے تو ایسی ظلیت تمام دنیا کو حاصل ہے۔ بہرحال مرزا صاحب کا دعویٰ اتحاد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ رسول اللہ ﷺ کی کھلی توہین ہے۔

مرزا صاحب کے اس قول سے کہ: ’’تمام کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں… نبی کریم کے ظل ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ بروزی اورظلی نبوت کوئی کم یا گھٹیا درجہ کی نبوت نہیں۔ کیونکہ ظل اور بروز کے لفظ سے یہ دھوکا پڑ سکتاتھا کہ مرزا صاحب کی مراد یہ ہوگی کہ آئینہ میں جیسے کسی شخص کا عکس پڑتاہے۔ اسی طرح مرزا صاحب میں بھی کمالات محمدیہ اور نبوت کا عکس پڑاہے۔ مگر مرزا صاحب نبی نہیں ہیں۔ اس واسطے کہ کسی شخص کا عکس جو آئینہ میں ہے۔ اس ذی عکس کی کوئی حقیقی صفت نہیں ہوسکتی۔ مرزا صاحب کی اس عبارت نے اس شبہ کو ایساصاف اور حل کردیاہے کہ شبہ کی گنجائش نہیں رہی اور مرزا صاحب کا لفظ ظل عکس اور بروز کا ہے۔ مگر مراد ہے۔ حقیقت کاملہ نبوت، کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ جتنے انبیاء گزرے ہیں وہ سب رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک صفت میں ظل تھے اور باوجود اس ایک صفت میں ظل ہونے کے وہ مستقل نبی صاحب شریعت تھے اور حقیقی نبی تھے اور مرزا صاحب تمام صفات میں ظل ہیں تو ثابت ہوگیا کہ مرزا صاحب تمام نبیوں سے بڑے تھے اور یہ ایک بہت بڑا کفرہے۔ مرزا صاحب باربار تحریر کرتے ہیں کہ پہلے نبیوں کی نبوت براہ راست اور میری نبوت فیض محمدی کا اثرہے۔ ان کا یہ قول بھی غلط ہوجاتاہے۔ اس واسطے کہ جب ہر ایک نبوت ان کے نزدیک آپa کا فیض تھا۔ اسی طرح مرزا صاحب کی نبوت بھی آپa کا فیض ہے۔ لہٰذا یہ فرق کرنا بھی باطل ہوا۔

مرزا صاحب کے ایک اور قول سے جو (تریاق القلوب حاشیہ ص۱۵۶، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷) سے نقل کیا گیاہے اور جو بالفاظ ذیل ہے۔

’’غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک ماناگیاہے کہ مراتب وجوددوریہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیم نے اپنی خو، طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑہائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبد اللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔‘‘ سید انورشاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ:

الف… اس قول سے یہ لازم آتاہے کہ سرور عالمa کوئی چیز نہیں رہتے اور آپa کا تشریف لانا بعینہٖ حضرت ابراہیمm کا تشریف لاناہے۔ گویا کہ ابراہیمm کے یہ دور ہیں۔ گویا اصل ابراہیمm رہے اور آئینہ رسول اللہ ﷺ ہوئے اور چونکہ ظل اور صاحب ظل میں مرزا صاحب کے نزدیک عینیت ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے کو عین محمد کہتے ہیں تو جب محمدa بروز ابراہیمm ہوئے تو عین ابراہیمm ہوئے۔ اس سے صاف لازم آتاہے کہ معاذ اللہ ! رسول اللہ ﷺ کا کوئی وجود بالاستقلال نہیں اور نہ ان کی نبوت کوئی مستقل شئے ہے۔

ب… رسول اللہ ﷺ ابراہیمm کے بروز ہوئے اور خاتم النّبیین آپ ہوئے کہ خاتم بروز اور ظل ہوتاہے۔ صاحب ظل اور اصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح مرزا صاحب آنحضرتﷺ کے بروز ہوئے تو خاتم النّبیین مرزا صاحب ہوئے نہ کہ آنحضرتﷺ۔

499

ج… جب رسول اللہ ﷺ حضرت ابراہیمm کے بروز ہوئے تو جملہ کمالات نبوت اگر مجتمع ہوں گے تو حضرت ابراہیم میں ہوں گے نہ کہ آنحضرتﷺ میں، یہ باطل اور بے معنی ہے۔

اس کے علاوہ یہ مضمون بھی فی نفسہٖ کہ آنحضرتﷺ حضرت ابراہیمm کے بروز ہوں اور ابراہیمm آنحضرتﷺ کے بروز ہوں، بے معنی اور فضول ہے۔ اسلام میں جنم کا عقیدہ کفرہے اور یہ ہے حقیقت مرزاصاحب کے نزدیک مجازی اور ظلی اور بروزی کی۔ رسول اللہ ﷺ کی توہین کے سلسلہ میں مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے حسب ذیل مزید واقعات بیان کئے ہیں۔

کسی کی توہین کرنے کے یہ معنی ہیں کہ یا تو اس میں کوئی عیب جسمانی ظاہر کیا جائے یا کسی بداخلاقی کے ساتھ اس کو متہم کیا جائے یا کسی کے لقب کو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسے سرفراز فرمایاہے، اس کا اپنے لئے دعویٰ کیا جائے یا کوئی ایسی چیز اس کے سامنے یااس کی شان میں کہی جائے جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ چنانچہ چند آیات قرآنی جن میں اللہ تعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ نے نبی پاک محمدa کو چند مراتب اور مقالات عالیہ سے مشرف فرمایا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے اوپر چسپاں کرے تو لامحالہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی سمجھی جائے گی۔ چنانچہ آیات ذیل:

۱… ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ… الخ! (بنی اسرائیل:۱)‘‘جس میں حضورa کے شان معراج کا ذکر فرمایاگیا۔

۲… ’’ثم دنا فتدلیٰ… الخ! (النجم:۸)‘‘جس میں کہ حضورa کے لئے جو قرب الٰہی جناب رب العزت سے حاصل ہوا تھا یابقول دیگر جبرئیلm سے ہوا ذکر ہواہے۔

۳… ’’انا فتحنا لک فتحا مبینا… الخ! (فتح:۱)‘‘

۴… ’’قل ان کنتم تحبون اللہ … الخ! (آل عمران:۳۲،۳۳)‘‘

۵… ’’انا اعطیناک الکوثر… الخ! (کوثر:۱)‘‘

مرزا صاحب نے اپنے اوپر نازل ہونی بیان کی ہیں اور مقام محمود کو بھی اپنے حق میں تجویز کیاہے اور ان اشعار میں جو آگے بیان کئے گئے ہیں کسی نبی کی استثناء نہیں کی گئی۔ ہمارے نبی کریم بھی انبیاء کی جماعت میں داخل ہیں۔ لفظ انبیاء کسی خاص نبی کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تمام پر حاوی اور مشتمل ہے۔ دوسرے شعر کے مصرع ثانی میں اپنی افضلیت کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔ (حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) پر لکھتے ہیں: ’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایاگیا۔‘‘ اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے۔

مرزا صاحب کتاب (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) پر لکھتے ہیں کہ: ’’مثلاً کوئی شریرالنفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبیa سے ظہور میں آئے۔‘‘

اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲) میں لکھتے ہیں کہ: ’’ان چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جودس لاکھ سے زائد ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پر خرق عادت ہیں۔‘‘

ان عبارات سے یہ نتیجہ نکالاگیاہے کہ رسول اللہ ﷺ کے معجزات کو تین ہزار قرار دینا اور اپنے معجزات دس لاکھ۔ کیونکہ معجزہ خرق عادت ہوتاہے۔ مرزا صاحب نے رسول اللہ ﷺ پر اپنی کتنی بڑی فضیلت بیان کی۔ اس قسم کی توہین کو توہین لزومی کہا گیاہے جس سے مراد یہ ہے کہ عبارت اس لئے نہیں لائی گئی کہ تنقیص کرے۔ مگر وہ عبارت صادق نہیں آتی۔ جب تک تنقیص موجود نہ ہو مذکورہ بالا عبارات میں اس قسم کی تنقیص پائی جاتی ہے۔

500

اس ضمن میں مرزا صاحب کا ایک قول (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴) سے نقل کیاگیاہے جو بالفاظ ذیل ہے: ’’ہاں! اگر یہی اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میںصرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتاہوں، بلکہ خدا کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔‘‘

کتاب (اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳) پر مرزا صاحب کا ایک شعرہے جو الفاط ذیل سے شروع ہوتا ہے: ’’لہ خسف القمر المنیر وان لی‘‘جس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج کا۔ اس میں شق القمر کے معجزہ کو چاند گرہن سے تعبیر کیاگیاہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی توہین اور شق القمر کا انکار ہے۔ زیادہ تر توہین لفظ ’’لہ‘‘ کے استعمال اور طرز خطاب سے اخذ کی جاتی ہے جس سے صاف طور پر تقابل دکھا کر اپنی فضیلت دکھلائی گئی ہے۔

اس طرح (خطبہ الہامیہ ص(ت)، خزائن ج۱۶ ص۳۱۲ حاشیہ سطرنمبر۲) کے مقولہ سے ظاہر کیا گیاہے کہ اس میں آدمm کی توہین کی گئی ہے اور اس میں جو یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ وعدہ قرآن میں لکھاہواہے کہ مسیح موعود شیطان کو شکست دے گا، یہ بالکل خلاف واقع جھوٹ ہے۔ قرآن شریف میں اس قسم کی کوئی آیت نہیں ہے۔

اشعار محولہ بیان مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ حسب ذیل ہیں:

  1. آنچہ داداست ہر نبی راجام

    داد آں جام رامرا بتمام

  2. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بہ عرفان نہ کمترم زکسے

  3. کم نیم زاں ہمہ بروے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست ولعین

(نزول المسیح ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)

اور جو مضمون ان اشعار میں ادا کیا گیاہے اس کے متعلق سید انور شاہ صاحب گواہ کی طرف سے کہا گیاہے کہ باہمی فضیلت کا باب انبیاء میں فرق مراتب کاہے اور جو پیغمبر افضل ہے وہ کسی قرینہ سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کسی دوسرے سے افضل ہے اور نبی کریمa نے اپنی امت کو یہ پہنچایاہے۔ مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس سے فوق متصور نہیں اور ایسی فضیلت دینا ایک پیغمبر کو اگرچہ واقعی ہو کہ جس میں دوسرے کی توہین لازم آتی ہو، کفر صریح ہے۔

چھٹی وجہ تکفیر میں مدعیہ کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ مرزا صاحب (ازالہ الاوہام ص۵۵۶، خزائن ج۳ ص۳۹۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’تواتر کی جو بات ہے وہ غلط نہیں ٹھہرائی جاسکتی اور تواتر اگر غیر قوموں کا ہو تو وہ بھی قبول کیا جائے گا۔‘‘ پھر اس کے ساتھ اگلے (ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰) پر جو کچھ لکھتے ہیں: اس سے یہ اخذہوتاہے کہ عیسیٰm کے دوبارہ تشریف لانے کی پیش گوئی ایسی متواتر پیشین گوئیوں سے ہے جو خیر القرون میں تمام ممالک اسلام میں پائی گئی تھی اور مسلمات میں سے سمجھی گئی اور یہ اوّل درجہ کی پیشین گوئی ہے جس کو سب نے قبول کرلیاتھا اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی اس کے ہم پہلو نہیں۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ مگر اس کے بعد جب مرزا صاحب کو اس پیشین گوئی کا انکار مطلوب ہوا تو انہوں نے یہ کہا کہ یہ بہت بے ادبی کی بات ہے کہ یہ کہا جائے کہ عیسیٰm نہیں مرے۔یہ نہیں ہے مگر شرک عظیم۔ یہ عقیدۂ حیات کا مسلمانوں میں نصرانیوں سے آیاہے۔ پھر اس عقیدہ کو نصاریٰ نے بہت مال خرچ کرکے مسلمانوں میں شائع کیا۔ شہروں میں اور گاؤں میں اس وجہ سے کہ ان میں کوئی شخص عقل مند نہ تھا اور پہلے مسلمانوں سے یہ قول نہیں صادر ہوا۔ مگر لغزش کے طور پر وہ لوگ معذر ہیں، اللہ کے نزدیک اس واسطے کہ وہ لوگ گنہگار تھے، مگر قصداً نہ تھے اور خطاء کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ سادہ

501

لوح آدمی تھے۔ اگر کوئی مجتہد خطاء کردے تو اللہ اس کی غلطی کو معاف بھی کرتاہے۔ ہاں! جن کے پاس امام آیا، حکم بینات کے ساتھ اور جس نے رشد کو گمراہی سے ظاہر کردیا اور پھر بھی انہوں نے اعتراض کیا وہ لوگ ماخوذ ہوں گے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ مرزا صاحب حیات عیسیٰm شرک نہیں بلکہ شرک عظیم فرماتے ہیں اور وعدہ الٰہی کے مطابق بمنشاء آیت: ’’ان اللہ لا یغفر ان یشرک… الخ!‘‘ شرک کا معاف ہونا قطعاً محال ہے۔ اس سے لازم آتاہے کہ مرزا صاحب کے اس قول کی بناء پر ساری امت گمراہ تھی اور ساری امت مشرک وکافر تھی اور جو شخص تمام امت کو گمراہ اور کافر کہے وہ خود کافر ہوتاہے۔ مرزا صاحب کے اس قول سے اسلام پر اتنا بڑا حملہ ہواہے کہ اسلام کی ایک ذرہ بھر وقعت نہیں رہ سکتی۔ جب کہ یہ ثابت بھی ہوگیا کہ یہ عقیدہ بطریق تواتر تمام ممالک اسلام میں پھیل گیاتھا اورسب نے قبول بھی کرلیا اور کسی چھوٹے بڑے کو اس کی برائی کی اطلاع نہ ہوئی۔ اگر مرزا صاحب تشریف نہ لاتے تو جیسے پہلی ساری امت معاذ اللہ ! شرک عظیم میں مبتلاتھی۔ آگے اسی طرح شرک عظیم میں مبتلا رہتی اور ممکن ہے کہ آئندہ کوئی اور شخص مجدد یا رسول اللہ ﷺ کا بروز بن کر ۲۰،۲۵ اور شرک ثابت کردے تو جب قرآن اور حدیث اور مسلمانوں کا ایسا مذہب ہے کہ شرک عظیم کا اس میں تیرہ سو برس تک پتہ نہ لگا تو پھر اس مذہب کا کیا اعتبار رہے گا۔

چنانچہ مرزا صاحب ایک اور (استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۴، خزائن ج۲۲ ص۶۶۶) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ جو شخص بالقصد اس کا خلاف کرے اور یہ کہے کہ عیسیٰm زندہ ہے۔ پس ان لوگوں میں سے ہے کہ جو قرآن کے کافر ہیں۔ ہاں! جو لوگ مجھ سے پہلے گزر گئے وہ اپنے اللہ کے نزدیک معذر ہیں۔‘‘

دوسری کتاب (دافع البلاء ص۱۵، خزائن ج۱۸ ص۲۳۵) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تا کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں۔ بڑی جانکاہی سے کوشش کررہے ہیں۔‘‘

(الفضل ج۳ نمبر۳ مؤرخہ ۲۹؍جون ۱۹۱۵ء ص۷) پردرج ہے: ’’پس ان معنوں میںمسیح موعود جو آنحضرتﷺ کی بعثت ثانی کے ظہور کا ذریعہ ہے۔ اس کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا گویا آنحضرتﷺ کی بعثت ثانی اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرناہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والاہے۔‘‘

اس ضمن میں مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے ایک وجہ کفر یہ بیان کی ہے کہ مرزاصاحب نے تمام مسلمانان عالم کو جو ان کی جماعت میں داخل نہیں خواہ وہ ان کو کافر کہیں یا نہ کہیں اور بقول خلیفہ ثانی ان کو دعوت پہنچے یا نہ، خارج از اسلام قرار دیاہے جو شخص تمام امت محمدیہ کو اسلام سے خارج کہتاہے وہ کس طرح خود کفر کی زد سے بچ سکے گا۔

ان وجوہ تکفیر کے علاوہ مرزا صاحب کے حسب ذیل اعتقادات بھی عامۃ المسلمین کے اعتقادات کے خلاف بیان کئے گئے ہیں۔

مرزا صاحب یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے معنی جو مسلمان اب تک سمجھتے تھے، اس معنی پر قیامت نہیں ہونے کی۔ قرآن میں جو نفخ صور آیاہے نہ اس سے یہ مراد ہے کہ واقعی کوئی نفخ صور ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ قیامت قائم ہوگی۔ بلکہ اس سے مراد مرزا صاحب کا تشریف لاناہے۔ قیامت کے متعلق جتنی آیات قرآن مجید میں ہیں اور جتنی احادیث میں ہیں، ان تمام امور کا انکار ہے۔ صرف لفظوں کا انکار نہیں۔ مگر جن معنوں سے قرآن اور حدیث قیامت کو بیان کرتے ہیں، ان چیزوں کا انکار ہے۔ مردوں کا قبروں سے اٹھنا جو بہت سی آیات میں مذکورہے، اس کا بھی انکارہے۔ وغیرہ وغیرہ!

مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ گواہ مدعیہ نے مرزا صاحب کے چند دیگر اقوال بھی خلاف شریعت بیان کئے ہیں جو حسب ذیل ہیں۔

502

مثلاً مرزا صاحب اپنی کتاب (آئینہ کمالات ص۵۶۴،۵۶۵، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ’’میں نے خواب میں اپنے آپ کو اللہ کا عین دیکھا اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور خدائی والوہیت میرے رگ وریشہ میں گھس گئی اور میں نے اس حالت میں دیکھا کہ ہم نیا نظام بنانا چاہتے ہیں۔ نئی زمین، نیا آسمان۔ پس پہلے میں نے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی تفریق وترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان کو مرتب کیا اور میں اپنے دل سے جانتاتھا کہ میں ان کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتاہوں۔ پھر میں نے سب سے قریبی آسمان کو پیدا کیا۔ پھر میں نے کہا کہ: ’’انا زینا السمآء الدنیا بمصابیح‘‘ پھرمیں نے کہا کہ ہم انسان کو کیچڑ میں سے پیدا کریں گے۔‘‘

اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مرزا صاحب نے الوہیت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو خالق جانا اور کوئی شخص جب خدائی دعویٰ کرے اور اپنے آپ کو خالق جانے تو وہ اسلام سے مرتد ہوجاتاہے۔

(حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج ۲۲ ص۸۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’خدا نے مجھے فرمایا کہ تو مجھے سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔‘‘

اسی کتاب (حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴) پر لکھتے ہیں کہ: ’’میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا، کبھی خطاء کروں گا، کبھی ثواب کو پہنچوں گا۔‘‘ اس سے خدا کو غلطی کرنے والا قرار دیاگیاہے۔

اسی کتاب کے (ص۷۵، خزائن ج۲۲ ص۷۸) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ جیسے زمین وآسمان میرے ساتھ ہیں اسی طرح وہ تیرے ساتھ بھی ہیں۔ اس سے مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کی طرح اپنے آپ کو حاضر وناظر جانا۔‘‘

اسی کتاب کے (ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ تو جس چیز کو بناناچاہے، پس ’’کن‘‘ کہہ دے وہ ہوجائے گی۔‘‘

(البشری ج دوم ص۷۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’میں نماز بھی پڑھتاہوں، روزے بھی رکھتاہوں، جاگتابھی ہوں اور سوتابھی ہوں جس طرح میں ازلی ہوں، اسی طرح تیرے لئے بھی میں نے ازلیت کے انوار کردئیے ہیں اور تو بھی ازلی ہے۔‘‘

(توضیح المرام کے ص۷۵، خزائن ج۳ص۹۰) پر لکھتے ہیں کہ: ’’قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے کہ جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض وطول رکھتاہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کاکام دے رہی ہیں۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب خداوندتعالیٰ کو تیندوے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ (کتاب ضمیمہ تریاق ص س، خزائن ج۱۵ ص۴۹۷) پر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’نئی زندگی ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی، جب تک ایک نیا یقین پیدا نہ ہو اور کبھی نیا یقین پیدا نہیں ہوسکتا جب تک مسیح اور ابراہیم اور یعقوب اور محمد مصطفیﷺ کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں، نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدا نیا ہو۔‘‘

اس سے مرزا صاحب نے خدا کو حادث بتلایا اور یہ عقائد وہ ہیں جو مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کے متعلق رکھے ہیں اور ان سے یقینا ایک مسلمان مرتد ہوجاتاہے۔

قرآن مجید کے متعلق مرزا صاحب کا عقیدہ حسب ذیل ہے۔

(حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷) پر لکھتے ہیں کہ: ’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ ان دلائل کے علاوہ مدعیہ کی طرف سے چند نظائر بمثل مسیلمہ کذاب وغیرہ کے بھی پیش کی گئی ہیں کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کیا تھا اور اس بناء پر انہیں قتل کیاگیا۔ ان کی زیادہ تفصیل درج کرنے کی ضرورت نہیں۔

اس تمام بحث سے جو اوپر بیان ہوئی۔ حسب ذیل نتائج برآمد کئے گئے ہیں۔

503

۱… مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت شرعیہ تشریعہ کیا جو باتفاق امت اور باتفاق مرزا صاحب کفرہے۔ مرزا صاحب نے اپنے کلام میں شریعت کی تشریح بھی کردی ہے۔

۲… مرزا صاحب نے اقرار فرمایاکہ خاتم النّبیین کے بعد مطلق نبوت منقطع ہے اور جو دعویٰ نبوت کرے وہ کافرہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت کیا اس لئے کافر ہوئے۔

۳… مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ خاتم النّبیین کے بعد کوئی نبی جدید یا قدیم نہیں آسکتا اور اس کو قرآن کا انکار کرنا بتلایاہے۔ لیکن پھر خود دعویٰ نبوت کیا۔

۴… مرزا صاحب نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں آسکتا۔ آپ کا خاتم الانبیاء ہونا، خاتم النّبیین اور ’’لانبی بعدی‘‘ سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد یہ کہا کہ جو ایسا کہے کہ آپ کے بعد نبوت نہیں آسکتی وہ خود کافرہے۔ اس لئے بھی مرزا صاحب کافر ہوئے۔

۵… مرزا صاحب نے جو از نبوت کو رسول اللہ ﷺ کے بعد کفر قرار دیاہے۔ اب مرزا صاحب اس نبوت کو فرض قرار دیتے ہیں۔ یہ اس سے بڑھ کر کفرہے۔

۶… مرزا صاحب دروازہ نبوت کو کھول کر اپنے ہی تک محدود نہیں رکھتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ قیامت تک کھلا رہے گا۔ اس وجہ سے بھی کافر ہوئے۔

۷… مرزا صاحب یہ نہیں کہتے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعدکوئی دوسرا نبی آئے گا۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ہزار بار محمدرسول اللہ ﷺ ہی خود بروز فرمائیں گے۔ گویا رسول اللہ ﷺ جیسے ہزاروں لوگ یا ہزاروں نبی اب واقع ہوسکتے ہیں۔ امکان ذاتی نہیں بلکہ امکان وقوعی ہے۔ پھر مرزا صاحب نے یہ کہا کہ سرور عالم کی ایک بعثت پہلے تھی۔ ایک بعثت ثانیہ ہوئی۔ اس کا حاصل تناسخ ہے جو تناسخ کا قائل ہے وہ کافرہے۔

۸… مرزاصاحب کہتے ہیں کہ میں عین محمدہوں۔ اس میں سرورعالم کی توہین ہے۔ اگر واقعی عین ہیں تو کھلا ہوا کفر۔ اگر عین محمدنہیںہیں تو ان کے بعد دوسرے نبی ہوئے اور ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی یہ اور وجہ کفرکی ہوئی۔

۹… مرزا صاحب نے دعویٰ وحی کیا اور ساتھ ہی دعویٰ وحی نبوت کیا جو کفرہے۔

۱۰… مرزا صاحب نے اس وحی کو قرآن، تورات اور انجیل کے برابر کہا۔ اس بناء پر قرآن آخر الکتب باقی نہیں رہتا یہ بھی وجہ کفرہے۔

۱۱… مرزاصاحب نے اپنے اقرار سے اور تمام علماء نے اس کی تصریح کی جو شخص کسی نبی کو گالی دے یا توہین، وہ کافرہے۔ مرزا صاحب نے عیسیٰm کی کئی وجوہ سے توہین کی، ہر توہین موجب کفرہے۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب نے آدمm کی، سرور عالم کی توہین کی۔ اس لئے بھی کافر ہوئے۔

۱۲… مرزاصاحب نے احکام شریعت کو بدلا۔ لہٰذا اس وجہ سے بھی مرزا صاحب پر کفر لازم آتاہے۔ مرزا صاحب فرمایا کہ کسی احمدی عورت کا غیر احمدی سے نکاح جائز نہیں۔ نیز یہ کہ کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ نیز فرمایا کہ: ’’پس یاد رکھو کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو (حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۶۴) مرزا صاحب نے فرمایاہے کہ: ’’جو مجھے نہ مانے وہ کافرہے۔‘‘

۱۳… مرزا صاحب نے نفخ صور کا انکار کیا، مردوں کے قبروں سے اٹھنے کا انکارہے جس طریق سے قیامت کی خبر قرآن اور حدیث میں ہوئی۔ ان سے بالکل انکارہے۔ صرف ظاہری الفاظ ہی رکھے۔ مگر معنی الٹ بیان کئے یہ وجوہ بھی مرزا صاحب کی تکفیر کے ہیں۔ لہٰذا ان

504

وجوہ پر کسی مسلمان مردوعورت کا کسی احمدی مردوعورت سے نکاح جائز نہیں۔ اگر نکاح ہوگیا اور نکاح کے بعد کوئی اس مذہب میں داخل ہوجائے تو نکاح فوراً فسخ ہوجائے گا۔

اور اپنے اس ادّعا کی تائید میں چند دیگر علماء کے فتاویٰ بھی پیش کئے گئے ہیں جو مسل کے ساتھ شامل ہیں اور سید انور شاہ صاحب گواہ نے مصر اورشام کے دو مطبوعہ فتوؤں کا حوالہ بھی اپنے بیان میں دیاہے۔

تحریری فتوے جو مسل پر لائے گئے ہیں حسب ذیل مقامات کے علماء ہیں۔ مکہ معظمہ، ریاست رام پور، دارالافتاء، ریاست بھوپال، ہمایوں(سندھ) بریلی، ڈابھیل، دہلی، سہارنپور، تھانہ بھون، ملتان، علماء کی فہرست میں شیخ عبد اللہ صاحب رئیس القضاۃ مکہ معظمہ، مفتی کفایت اللہ صاحب صدرجمعیۃ علماء ہند اور مولوی اشرف علی صاحب کے اسماء بھی ہیں۔

فریق ثانی کی طرف سے ان دلائل کا جو مرزا صاحب کی تکفیر کے متعلق مدعیہ کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔ تین طریق پر جواب دیاگیاہے۔

اوّل یہ کہ مرزا صاحب کی جن عبارات سے یہ دکھلایاگیاہے کہ ان سے ان کے عقائد کفریہ ظاہر ہوتے ہیں۔ ان عبارات کے ماسبق اور مابعد کی عبارات کو مدنظر نہیں رکھاگیا اور نہ ہی سیاق سباق عبارت کو زیر غور لایاگیاہے۔ اگر ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ان عبارات پر غور کیا جائے تو ان سے وہ نتائج اخذ نہیں ہوتے جو گواہان مدعیہ نے بیان کئے ہیں۔

دوسرا یہ کہ مرزا صاحب نے خود دیگر مقامات پر ان عبارات کی تشریح کردی ہے۔ اس لئے ان عبارات سے وہی مفہوم لیاجائے گا جوانہوں نے خود بیان کیا اور کہ دیگر مقامات پر ایسی عبارات بھی موجود ہیں کہ جن کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کہا جاسکتا کہ ان عبارات زیر اعتراض سے مرزا صاحب کا وہی مدعاتھا جو گواہان مدعیہ نے اخذ کیا۔

تیسرا یہ کہ مرزا صاحب کے اقوال زیر بحث میں سے بعض اقوال ایسے ہیں جو دیگر بزرگان دین سے بھی سرزد ہوئے۔ لیکن فریق مدعیہ کے نزدیک وہ بزرگان مسلمان تھے۔ اس لئے ان اقوال کی بناء پر مرزا صاحب کے خلاف کیونکر فتویٰ تکفیر لگایا جاسکتاہے۔ یہ تمام امور تشریح طلب ہیں اور اپنے اپنے موقعہ پر ان کی تفصیل بیان کی جائے گی اور وہاں ان کا پورا جواب بھی دیا جائے گا۔ یہاں ان کے متعلق مختصراً یہ درج کیا جاتاہے کہ عبارات زیر بحث میں سے بعض ایسی ہیں کہ جو اپنے اندر ایک مستقل مفہوم لئے ہوئے ہیں اور ان میں کوئی ایسا ابہام نہیں ہے کہ جو کسی تشریح یا توجیہہ کا محتاج ہو۔ اس لئے ایسی عبارات کے نہ ماسبق اور مابعد دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ سیاق وسباق معلوم کرنے کی۔ لہٰذا ان فقرات کی اپنی ترتیب سے ہی جو مفہوم اخذ ہوگا، وہی مراد لیا جائے گا۔

امر دوم کے متعلق اوّل تو مرزا صاحب کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ پایا جاتاہے کہ ان کے بہت سے اقوال میں تعارض ہے اور اس تعارض کو کسی صاف تشریح یا وضاحت سے رفع نہیں کیاگیا۔ دوسرا جیسا کہ اوپر درج کیا گیاہے۔ بعض عبارات فی نفسہٖ ایسے مستقل جملے ہیں کہ جو اپنے مفہوم کی خود وضاحت کررہے ہیں۔ اس لئے تاوقتیکہ یہ نہ دکھلایا جائے کہ یہ کلمات واپس لئے گئے۔ دیگر کلمات نہ ان کے قائم مقام تصور ہوسکتے ہیں اور نہ ان کی تشریح بن سکتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ ان اقوال کو ان اقوال کے تحت سمجھا جائے جو مرزا صاحب نے دوسری جگہ بیان کئے ہیں۔ کیونکہ وہ اقوال اقوال زیر بحث کو مسترد نہیں کرتے۔ بلکہ جیسا کہ مدعیہ کے گواہ سید انور شاہ صاحب نے بیان کیاہے۔ معلوم یہ ہوتاہے کہ روش مرزا نے عمداً اختیار کی۔ تاکہ نتیجہ گڑ بڑ رہے اور ان کو بوقت ضرورت مخلص اور مفر باقی رہے۔

امر سوم کے متعلق اوّل تو ان بزرگان کے اقوال بعینہٖ ان الفاظ میں نہیں جو مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں۔ دوسرا مقدمہ ہذا میں ان بزرگان کے مسلمان یا نہ مسلمان ہونے کا سوال زیر بحث نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دیگر حالات پیش نظر ہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کے

505

مقابلہ میں ان کے الفاظ پیش کرنا ایک سعی لاحاصل ہے۔

علاوہ ازیں سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ بیان کیاہے کہ صوفیاء کے ہاں ایک باب ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں جس کاحاصل یہ ہے۔ ان پر حالات گزرتے ہیں اور ان حالات میں کوئی کلمات ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں جو ظاہری قواعد پر چسپاں نہیں ہوتے اور بسا اوقات غلط راستہ لینے کا سبب ہوجاتے ہیں۔ صوفیاء کی تصریح ہے کہ ان پر کوئی عمل پیرا نہ ہو اور تصریحیں کرتے ہیں کہ جس پر یہ احوال نہ گزرے ہوں وہ ہماری کتاب کا مطالعہ نہ کرے۔ مجملاً ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص جو کسی حال کا مالک ہوتاہے۔ دوسرا خالی آدمی ضرور اس سے الجھ جائے گا۔ لیکن دین میں کسی زیادتی، کمی کے صوفیاء میں سے بھی کوئی قائل نہیں اور ایسے مدعی کو کافر بالاتفاق کہتے ہیں۔

فریق ثانی کی طرف سے مرزا صاحب کی کتابوں سے ان کے چند عقائد بیان کئے جاکر یہ ظاہر کیاگیاہے کہ قرآن مجید اور احادیث وفقہ کی رو سے جن باتوں کو ایک شخص کے مؤمن اور مسلمان ہونے کے لئے ضروری قرار دیاگیاہے وہ سب مرزا صاحب میں اور ان کی جماعت میں پائی جاتی ہیں اور وہ ان سب پر خلوص دل اور صمیم قلب سے یقین اور اعتقاد رکھتے ہیں اور جن اعمال صالحہ کے بجا لانے کا حکم دیاگیاہے وہ سب بجا لاتے ہیں اور ان کا دین وہی جو آنحضرتﷺ خدا کی طرف سے لائے اور وہ ایمان رکھتے ہیں کہ دین اسلام کے سواء اگرکوئی شخص کوئی اور دین اختیار کرے تو وہ عند اللہ ہرگز مقبول نہیں۔ گواہان مدعیہ نے انہیں کافر، مرتد، ضال اور خارج از اسلام قرار دیاہے اور ضروریات دین کا منکر ٹھہرایاہے۔ لیکن جن امور کی بناء پر انہوں نے کافر اور مرتدکہاہے، ان کا ضروریات دین سے ہونا قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اپنے فتویٰ تکفیر کی بناء بعض علماء کے اقوال پر رکھی ہے اور اس ضمن میں ان علماء کے طرز افتاء پر اعتراض کرتے ہوئے چندہ کتب فقہ کے حوالوں سے یہ دکھلایاگیاہے کہ اگر ان امور کو جو ان حوالہ جات میں درج ہیں، مد نظر رکھا جائے تو اس سے بڑے بڑے بزرگ اور تمام شیعہ اور وہ نئے تعلیم یافتہ نوجوان جو یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ اگر جنت میں ان موجودہ مولویوں نے جاناہے تو ہمیں ایسی جنت نہیں چاہئے اور وہ تمام مسلمان جو سرکاری دفتر میں ملازم ہیں اور اپنے ہندو یا عیسائی افسران کو تحائف دیتے ہیں کافر ہیں اور ان عورتوں کے لئے جو اپنے خاوندوں کی بدسلوکی سے تنگ ہیں اور ان کے عقد نکاح سے نکلنا چاہتی ہیں۔ یہ اچھی ترکیب بتلائی گئی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی عورت یہ کہہ دے کہ میں کافر ہوئی تو معاًوہ کافر ہوجائے گی اور اس کا نکاح فسخ ہوجائے گا اور وہ تمام مسلمان جو گاندھی ٹوپی یا ہیٹ لگاتے ہیں، کافر ہیں اور اس طرح وہ مسلمان بھی جو ہندو اور ا نگریز افسروں کو سلام کرتے ہیں اورا س طرح سکول اور کالجوں کے وہ مسلمان طلباء جو اپنے ہندو یا عیسائی استادوں کو تعظیماً سلام کرتے ہیں اور اس طرح ہزارہا وہ تعلیم یافتہ اشخاص جو مولویوں کی دقیانوسی باتوں پر جنہیں یہ لوگ علم اور دین خیال کرتے ہیں، ہنستے ہیں، کافر ہیں اور اسی طرح وہ مسلمان کو کسی غیر مسلم کو اس کے سوال کرنے پر کہ مجھ پر اسلام کی صداقت بیان کر کسی مولوی کے پاس برائے جواب لے جاتے ہیں کافر ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!

پس اگر ان علماء اور مولویوں کے کہنے پر کسی کوکافر بنایاجاسکتاہے تو مذکورہ بالا امور کے تحت تمام ایسے مسلمان جو اوپر بیان کئے گئے ہیں، کافر ہیں اور ان کا نکاح فسخ ہوناچاہئے۔ لیکن اصول مذکورہ بالا پر علماء کا موجودہ زمانہ میں عمل نہیں اور ان امور کو جو ان حوالہ جات میں درج ہیں، ضروریات دین میں سے سمجھاگیاہے اور ان کے منکر کو کافر اور مرتد کہاگیاہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیاگیاہے کہ گواہان مدعیہ نے اپنے بیانات کی تائید میں چند مفسرین کے اقوال نقل کئے ہیں۔ لیکن یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ مفسرین کے اقوال کو بلا سوچے سمجھے من وعن تسلیم کر لیا جائے اور جو کچھ وہ اپنے خیال وعقیدہ کے مطابق لکھ گئے، اسے حرف بحرف مان لیا جائے۔ اس لئے ہمیں حسب تعلیم قرآن مجید ضروری ہوا کہ ہم خود بھی قرآن مجید کی آیات میں غوروتدبر کریں اور تحقیق کے بعد جو اقرب الی الصواب ہو، اس کو اختیار کریں۔ پس مفسرین کے اقوال پر عقائد کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہے۔ علماء اور ائمہ کی اندھی تقلید نہایت مذموم ہے۔ پس یہ ضروری نہیں کہ پہلے علماء جو کچھ

506

تفسیروں میں لکھ گئے، ہم آنکھیں بند کرکے ان پر ایمان لے آئیں۔ بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان فتوؤں اور اقوال کو کتاب اللہ ،سنت رسول اللہ ﷺ اور عقل سلیم کی کسوٹی پر پرکھیں اور جو قرآن اور سنت سے صحیح ثابت ہو اسے اختیار کریں اور مخالف کو چھوڑ دیں اور امت کے ان علماء کے متعلق ہمارا مذہب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نیک نیتی سے جو باتیں موافق اور مخالف پائیں یا جو وہ سمجھ سکے وہ ہم تک پہنچائیں جس کے لئے وہ تمام ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔

اس کے آگے پھر وجوہات تکفیر کا جواب شروع ہوجاتاہے۔ اس لئے تحت میں اس بحث کا جواب درج کیا جاتاہے۔

مرزا صاحب کے عقائد کے متعلق سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے نہایت عمدہ جواب دیاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب چونکہ مادرزاد کافر نہ تھے اور ابتدائً ان کی تمام اسلامی عقائد پر نشوونماہوئی۔ اس لئے انہی کے وہ پابند تھے اور وہی کہے پھر تدریجاً ان سے الگ ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ آخری اقوال میں بہت سی ضروریات دین کے قطعاً مخالف ہوگئے۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے باطل اور جھوٹے دعوؤں کو رواج دینے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی کہ اسلامی عقائد کے الفاظ وہی قائم رکھے جو قرآن اور حدیث میں مذکور ہیں اور عام وخاص مسلمانوں کی زبانوں پر جاری ہیں۔ لیکن ان کے حقائق کو ایسا بدل دیا، جس سے بالکل ان عقائد کا انکار ہوگیا۔ اس لئے مرزا صاحب کی کتابوں سے ایسے اقوال پیش کرنا جن سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ بعض عقائد میں اہل سنت والجماعت کے ساتھ شریک ہیں۔ ان کے اقوال وافعال کفریہ کا کفارہ نہیں بن سکتے۔ جب تک اس کی تصریح نہ ہو کہ ان عقائد کی مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی اور پھر اس کی تصریح نہ ہو کہ جو عقائد کفریہ انہوں نے اختیار کئے تھے۔ ان سے توبہ کرچکے ہیں اور جب تک توبہ کی تصریح نہ ہو۔ چند عقائد اسلام کے الفاظ کتابوں میں لکھ کرکفر سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ زندیق اس کو کہا جاتاہے کہ جو عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن وحدیث کے اتباع کا دعویٰ کرے، لیکن اس کی ایسی تاویل اور تحریف کردے جن سے اس کے حقائق بدل جائیں۔ اس لئے جب تک اس کی تصریح نہ دکھلائی جائے کہ مرزا صاحب ختم نبوت اور انقطاع وحی کے ان معنی کے لحاظ سے قائل ہیں جس معنی سے کہ صحابہ، تابعین اورتمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اس وقت تک ان کی کسی ایسی عبارت کا مقابلہ میں پیش کرنا مفید نہیں ہوسکتا جس میں خاتم النّبیین کے الفاظ کا اقرار کیا۔ اسی طرح نزول مسیح وغیرہ عقائد کے الفاظ کا کسی جگہ اقرار کرلینا یا لکھ دینا بغیر تصریح مذکور کے ہرگز مفید نہیں ہے۔ خواہ وہ عبارت تصنیف میںمقدم ہو یا مؤخر۔

یہ بات ثابت ہوچکی کہ مرزا صاحب اپنی اخیر عمر تک دعویٰ نبوت پر قائم رہے اور اپنے کفریہ عقائد سے کوئی توبہ نہیں کی۔ علاوہ ازیں اگر یہ ثابت بھی نہ ہو تو کلمات کفریہ اور عقائد کفریہ کہنے اور لکھنے کے بعد اس وقت تک ان کو مسلمان نہیں کہہ سکتے جب تک ان کی طرف سے ان عقائد سے توبہ کرنے کا اعلان نہ پایا جائے اوریہ اعلان ان کی کسی کتاب یا تحریر سے ثابت نہیں پایاگیا۔

عدالت ہذا کی رائے میں مرزا صاحب کے عقائد کی بابت یہ جواب بہت جامع اور مدلل ہے اور گوکہ مختار مدعیہ نے اپنی بحث میں ان کے ہر عقیدہ پر تفصیلی بحث بھی کی ہے۔ لیکن اس کی موجوگی میں ان عقائد پر مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ مختار مدعیہ نے بحث کی ہے کہ مرزا صاحب کا خود کلمہ طیبہ پر بھی پورا ایمان نہ تھا۔ کیونکہ اس کلمہ پر اس صورت میں ہی مکمل ایمان تصور ہوسکتاہے۔ جب کہ خداوندتعالیٰ کی صفات اور رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات پر پورا ایمان ہو۔ مرزا صاحب کے بعض اقوال سے یہ پایا جاتاہے کہ انہوںنے اپنے اندر الوہیت کو مؤجزن پایا اور اپنے آپ میں خدائی طاقتیں اور صفتیں موجود دیکھیں اور اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات اور مدارج میں شریک بتلاتے ہیں اور انہیں خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کلمہ طیبہ پر انہیں لوازم کے تحت ایمان رکھتے ہیں۔ جیسا کہ دیگر مسلمان، اس لئے بھی انہیں مسلمان تصور نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن عدالت ہذا کی رائے میں ایسی تفصیلی بحث میںجانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کی تکفیر کا سوال مقدمہ ہذا میں

507

اصل سوال مابہ النزاع نہیں بلکہ ایک ضمنی سوال ہے۔ اصل سوال مدعاعلیہ کے ارتداد اور تکفیر کاہے۔ اس لئے مرزا صاحب کے اعتقادات کے متعلق صرف اس حد تک بحث کی ضرورت ہے جس حد تک کہ مدعاعلیہ کے خلاف امور مذکورہ بالا کے تصفیہ کے لئے روشنی پڑ سکتی ہے۔

علاوہ ازیں اگر اس بحث کو بفرض محال صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ دکھلاناپڑے گا کہ مدعاعلیہ کا کلمہ طیبہ پر بھی ویسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب کا اور اس کا حل مشکلات سے خالی نہیں ہوگا۔ کیونکہ مدعاعلیہ کی نیت کا اندازہ پورے طور پر نہیں لگایا جاسکتا۔

مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ جن امور کی بناء پر مرزا صاحب اور ان کی جماعت کو ضروریات دین کا منکر قرار دیاجاکر کافر اور مرتد کہاگیاہے۔ ان کا ضروریات دین سے ہونا، قرآن مجید یا احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں کیاگیا۔ معلوم ہوتاہے کہ مدعاعلیہ کی طرف سے یا تو مدعیہ کی پیش کردہ شہادت اور بحث کو بغور ذہن نشین نہیں رکھا گیا یا دیدہ دانستہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ گواہان مدعیہ نے بہت تکرار اور شد ومد کے ساتھ اور خود مرزا صاحب کے اپنے حوالوں سے یہ دکھلایاہے کہ رسول اللہ ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا عقیدہ بایں معنی کہ آپa کے بعدکوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ نص قرآن سے اور احادیث متواترہ سے اور اجماع امت سے ضروریات دین سے ہے اور اس کا انکار کفرہے اور اس کی تائید میں انہوں نے بہت سی آیات قرآن اور احادیث پیش کی ہیں کہ جن میں سے بعض کی صحت کے متعلق جیسا کہ آگے دکھلایا جائے گا۔ خود مدعاعلیہ کو بھی انکار نہیں۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کیونکر یہ کہاگیا ہے کہ انہوں نے قرآن یا حدیث سے اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ البتہ اگر یہ کہاجاتا کہ وہ ثبوت قوی نہیں تو کچھ بات بھی تھی۔ لیکن یہ کہنا بالکل خلاف واقع ہے کہ ان کی طرف سے قرآن اور احادیث سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیاگیا۔ مدعیہ کی طرف سے بیان کردہ وجوہات تکفیر اوپر درج کی جاچکی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض کے متعلق (گوکہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ آگے دکھلایاجائے گا) یہ کہا جاسکتاہے کہ وہ ضروریات دین سے نہیں ہے۔ مگر مسئلہ ختم نبوت کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ضروریات دین سے نہیں، ضروریات دین کی اگرچہ ایک وسیع اصطلاح ہے اور ممکن ہے کہ بعض علماء نے اس کے تحت میں اپنی دانست کے مطابق بہت سے ایسے امور بھی داخل کردئیے ہوں کہ جو بحث طلب ہوں۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل سے ہے۔ ضروریات دین کا مفہوم گواہان مدعیہ نے اپنے بیانات میں ظاہر کردیاہے جو اوپرگزرچکاہے۔ اگر اس اصطلاح کے لفظی معنی بھی مراد لئے جائیں تو ان الفاظ کا یہ مطلب ہوسکتاہے کہ وہ امور جو کسی دین میں داخل رہنے کے لئے ضروری ہوں اور جن کے نہ ماننے سے وہ شخص اس دین کا پیرو نہ سمجھا جاسکے۔ ضروریات دین سے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا خاتم النّبیین ماننا بایں معنی کہ آپ آخری نبی ہیں۔ مذہب اسلام میں داخل رہنے کے لئے ضروری اور لابدی ہے۔ کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی نبی مانا جائے تو مدعیہ اور اس کے گواہان کے نزدیک نہ یہ صرف نص قرآن اور احادیث متواترہ کا انکار ہوگا۔ بلکہ معمول بہ اس نئے نبی کی وحی ہوجائے گی نہ کہ قرآن، اور اس سے وہ شخص مذہب اسلام سے خارج ہوجائے گا اور یہ بات کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ماننا نہ صرف مسلمانوں کے نزدیک ان کے مذہب کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ بلکہ اس کی نظیر مذاہب میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً یہود اور نصاریٰ جن کے مذاہب کی تفریق محض اس بناء پر ہے کہ وہ اپنے اپنے پیشواؤں کے بعد اور کسی نبی کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس طرح مسلمانوں کا یہ عقیدہ چلا آیاہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نبی نہیں۔ اب اگر کوئی مسلمان کسی اور کو نبی مانے تو وہ مذہب اسلام کا پیرو نہیں سمجھا جائے گا۔ اس لئے ختم نبوت سے بڑھ کر اور کون سا مسئلہ ضروریات دین میں سے ہوسکتاہے۔ یہ آگے دکھلایاجائے گا کہ اس بارہ میں جو اسناد پیش کی گئی ہیں وہ کس فریق کی معتبر اور زیادہ وزن دار ہیں۔

یہاں میں یہ درج کرنا مناسب سمجھتاہوں کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان نبی کی حقیقت سے بھی ناآشنا ہیں۔ اس لئے بھی ان کے دلوں میں یہ مسئلہ گھر نہیں کرسکتا کہ مرزا صاحب کو نبی ماننے میں کیا قباحت ہوتی ہے کہ جس پر اس قدر چیخ وپکار کی جاری ہے۔ اس

508

لئے ضروری ہے کہ اس کی کچھ تھوڑی سے حقیقت بیان کردی جائے۔

مدعیہ کی طرف سے نبی کی کوئی تعریف بیان نہیں کی گئی۔ صرف یہ کہا گیاہے کہ نبوت ایک عہدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے برگزیدہ بندوں کو عطاء کیا جاتارہاہے اور نبی اور رسول میں فرق بیان کیاگیا ہے کہ ہررسول نبی ہوتاہے اور نبی کے لئے لازمی نہیں کہ وہ رسول بھی ہو۔ فریق ثانی نے بحوالہ (نبراس ص۸۹) بیان کیا ہے کہ رسول ایک انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ احکام شریعت کی تبلیغ کے لئے بھیجتاہے۔ بخلاف نبی کے کہ وہ عام ہے۔ کتاب لائے یا نہ لائے رسول کے لئے کتاب لانا شرط ہے۔ اسی طرح رسول کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ رسول وہ ہوتاہے کہ جوصاحب کتاب ہو یا شریعت سابقہ کے بعض احکام کو منسوخ کرے۔

یہ تعریفیں چونکہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے کافی نہ تھیں۔ اس لئے میںاس جستجومیں رہا کہ نبی یا رسول کی کوئی ایسی تعریف مل جائے جو تصریحات قرآن کی رو سے تمام لوازم نبوت پر حاوی ہو۔ اس سلسلہ میں مجھے مولانا محمود علی صاحب پروفیسر راندھیر کالج کی کتاب ’’دین وآئین‘‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے معترضین کے خیالات کو مد نظر رکھتے ہوئے نبوت کی حقیقت یہ بیان کی کہ: ’’جس شخص کے دل میں کوئی نیک تجویز بغیر ظاہری وسائل اور غور وفکر کے پیدا ہوں۔ ایسا شخص پیغمبر کہلاتاہے اور اس کے خیالات کو وحی سمجھا جاتاہے۔‘‘ لیکن یہ تعریف بھی مجھے دلچسپ معلوم نہ ہوئی۔ آخر کار ایک رسالہ میں ایک مضمون بعنوان میکائیلی اسلام از جناب چودھری غلام احمد صاحب پرویز میری نظر سے گزرا۔ اس میں انہوں نے مذہب اسلام کے متعلق آج کل کے روشن ضمیر طبقہ کے خیالات کی ترجمانی کی ہے اور پھر خود ہی اس کے حقائق بیان کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں نبوت کی جو حقیقت انہوں نے بیان کی ہے۔ میری رائے میں اس سے بہتر اور کوئی بیان نہیں کی جاسکتی اور میرے خیال میں فریقین میں سے کسی کو اس پر انکار بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے میں ان کے الفاظ میں ہی اس حقیقت کو بیان کرتاہوں، وہ لکھتے ہیں کہ: ’’آج کل کے معقولیت پسندوں کی جماعت کے نزدیک رسول کا تصور یہ ہے کہ ایک سیاسی لیڈر اور ایک مصلح قوم ہوتاہے۔ جو اپنی قوم کی نکبت اور زبوں حالی سے متأثر ہوکر انہیں فلاح وبہبود کی طرف بلاتاہے اور تھوڑے ہی دنوں میں ان کے اندر انضباط وایثار کی روح پھونک کر زمین کے بہترین خطوں کا ان کو مالک بنادیتاہے۔ اس کی حقیقت قوم کے ایک امیر کے قسم کی ہوتی ہے۔ جن کے ہر حکم کا اتباع اس لئے لازمی ہوتاہے کہ انحراف سے قوم کی اجتماعی قوت میں انتشار پیدا ہوجانے کا خطرہ ہوتاہے اور وہ دنیا وی نعمتیں جو اس کے حسن تدبیر سے حاصل ہوئی تھیں۔ ان کے چھن جانے کا احتمال ہوتاہے۔ اس کا حسن تدبر، عقل،حکمت ذہنی انسانی کے ارتقاء کی بہترین کڑی ہوتاہے۔ اس لئے وہ اپنے ماحول کا بہترین مفکر شمار کیا جاتاہے۔ کثرت ریاضت سے برائی کی قوتیں اس سے سلب ہو جاتی ہیں اور نیکی کی قوتیں نمایاں طور پر ابھر آتی ہیں۔ انہیں قوتوں کا نام ان کے نزدیک ابلیس اور ملائکہ ہے۔‘‘ اس کا جواب پھر انہوں نے بحوالہ آیات قرآنی یہ دیا ہے۔

کہ رسول بلاشبہ مصلح اور مدبر ملت ہوتاہے۔ لیکن اس کی حقیقت دنیاوی مصلحین اور مدبرین سے بالکل جداگانہ ہوتی ہے۔ دنیاوی مفکرین ومدبرین اپنے ماحول کی پیدا وار ہوتے ہیں اور ان کا فلسفہ اصلاح وبہبود ان کی اپنی پرواز فکر کا نتیجہ ہوتاہے کو جو کبھی صحیح اور کبھی غلط ہواہے۔ برعکس اس کے انبیاء کرام مامور من اللہ ہوتے ہیں اور ان کا سلسلہ اس دنیا میں خاص مشیت باری تعالیٰ کے ماتحت چلتاہے۔ وہ نہ اپنے ماحول سے متأثر اور نہ احوال وظروف کی پیدا وارہوتے ہیں۔ بلکہ ان کا انتخاب مملکت ایزدی سے ہوتاہے اور ان کا سرچشمۂ علوم وہدایت علم باری تعالیٰ سے ہوتاہے جس میں کسی سہوو خطاء کی گنجائش نہیں۔ ان کا سینہ علم لدنی سے معمور اور ان کا قلب تجلیات نور ازلی سے منور ہوتاہے۔

دنیاوی سیاست وتفکر صفت ہے جو اکتساباً حاصل ہوتی ہے اور مشق ومہارت سے یہ ملکہ بڑھتاہے۔ لیکن نبوت ایک موہبت ربانی

509

اور عطائے یزدانی ہے جس میں کسب ومشق کو کچھ دخل نہیں۔ قوم وامت کی ترقی ان کے بھی پیش نظر ہوتی ہے۔ لیکن سب سے مقدم اخلاق انسانی کی اصلاح مقصود ہوتی ہے۔ اس کا پیغام زمان ومکان کی قیود سے بالا ہوتاہے اور وہ تمام انسانوں کو راستہ دکھلانے والا اوران کا مطاع ہوتاہے۔ اس کی اطاعت میں خدا کی اطاعت اور اس کی معصیت خدا کی معصیت ہے اور جو لائحہ حیات اس کی وساطت سے دنیا کو ملتاہے۔ اس میں کوئی دنیاوی طاقت ردوبدل نہیں کرسکتی۔ بلکہ دنیا بھر کی عقول میں جہاں کہیں اختلاف ہو۔ اس کا فیصلہ بھی اس کی مشعل ہدایت سے ہوسکتاہے۔ ان کو خدائی پیغام ملائکہ کی وساطت سے ملتے ہیں جو اگرچہ عالم امر سے متعلق ہونے کی وجہ سے سرحد ادراک انسانی سے بالاتر ہیں۔ لیکن ان کا وجود محض انسان کی ملکوتی قوتیں نہیں ہیں۔

اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کو تسلیم کرنے سے کیا قباحت لازم آئے گی۔ تصریحات قرآنی کی رو سے نیا نبی مطاع ہوجائے گا۔ اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کی ہر بات کے آگے سرتسلیم خم کرنا پڑے گا۔ وہ جو حکم دے گا، اس کی تعمیل لازمی ہوگی۔ ورنہ اعمال کے حبط ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ اس کی شان میں ذرا بھر گستاخی نہیں کی جاسکے گی۔ بلکہ اس کے سامنے اونچا بولنا بھی گناہ ہوگا۔ اس کی اطاعت عین خدا کی اطاعت ہوگی اور اسے رو گردانی ایمان سے خارج ہونے کا باعث اور موجب عذاب الٰہی ہوگی۔

اس لئے مدعیہ کی طرف سے بحوالہ آیات قرآنی واحادیث یہ کہا گیاہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا اور اگر کوئی مسلمان کسی اور شخص کو نبی مانے تو دائرہ اسلام میں داخل نہیں رہ سکتا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کتب فقہ سے جن عبارات کاحوالہ دیا جاکر علماء کے طرز افتاء پر اعتراض کیاگیاہے۔ ان کے متعلق ایک تو خود مدعاعلیہ کے گواہان کا بیان ہے کہ فی زمانہ ان پر علماء کا عمل نہیں۔ دوسرا مدعیہ کی طرف سے ان حوالہ جات کے متعلق یہ کہا جاتاہے کہ وہ کلمات کفر ہیں نہ کہ فتاویٰ تکفیر۔کلمہ کفر اور چیز ہے اور فتویٰ کفراور چیز۔ کسی شخص پر ان کلمات کی بناء پر محض ان الفاظ کے استعمال سے ہی فتویٰ نہیں لگادیا جائے گا۔ بلکہ فتویٰ ان اصولوں کے تحت لگایا جائے گا جو اس غرض کے لئے مجوز ہیں۔

عدالت ہذا کی رائے میں مدعیہ کا یہ جواب وزن رکھتاہے۔ علاوہ ازیں علماء کے اقوال سند کے لحاظ سے وہ حیثیت نہیں رکھتے جو متواترات کی بیان کی گئی ہے۔ کلمات زیر بحث کو ریکارڈ پر لانے اور اپنے خیال کے مطابق ان کی تشریح کرنے سے گواہان مدعاعلیہ کا منشاء سوائے اس کے اور کوئی معلوم نہیںہوتا کہ مسئلہ زیر بحث کی نوعیت اور اہمیت کو خفیف کرکے دکھلایا جائے۔ حالانکہ مسئلہ نبوت کا ان مسائل سے کوئی تعلق نہیں جن پر اعتراض کیاگیاہے۔

اور غالباً وہ یہ چاہتے ہیں کہ عام لوگوں کے دلوں میں علماء کے متعلق ایک حقارت پیدا کی جاکر ان کے طرز افتاء کی مذمت ظاہر کی جائے اور ہر فرقہ اور ہر طبقہ کے لوگوں کے جذبات ان کے خلاف ابھارے جائیں اور موجودہ زمانہ کے روشن خیال طبقہ کی جو اپنے آپ کو ہر اصلاح کا علم بردار سمجھتاہے۔ ہمدردی حاصل کی جائے۔

مذہب کے متعلق فی زمانہ جو بے اعتنائی برتی جارہی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ قرآن مجید کے نزول کے زمانہ میںجو لوگ اس پر ایمان نہیں لائے تھے وہ اسے اضغاث احلام اور اساطیر الاوّلین کہا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ کہ مذہب کا جوا اپنی گردن سے نہیں نکال پھینکنا چاہتے گو وہ ان الفاظ کو اپنے منہ سے تو نکالنے کی تو جرأت نہیں کرتے۔ لیکن حقائق ومعارف قرآنی پر اپنے دل میں پورا یقین نہیں رکھتے اور بقول مولانا محمود علی صاحب یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ اسلام میں زمانہ کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ہے اور انقلاب حالات سے جو جدید ضرورتیں پیدا ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے اقوام عالم کو اپنی طرز روش میں تغیر وتبدل کرناپڑتاہے۔ اسلام ایسے انقلابوں

510

کے اندر اپنی روش کو بدل کر دوسری روش پر چلنے کی قابلیت نہیں رکھتا اور اس کے ماننے والے اپنے حالات کے اندر کوئی اصلاح یا ترمیم نہیں کرسکتے اور کسی تہذیب جدید کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

ان کے اس اعتراض کا جواب تو مولانا صاحب موصوف نے اپنی کتاب دین وآئین میں دے دیاہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکارنہیں۔ یہاں صرف یہ دکھلانا مقصودتھا کہ اس قسم کے خیالات آج کل عام ہیں اور چونکہ فریق مدعاعلیہ کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق اس طبقہ کے خیالات کی رو سے اسلام میں اصلاح کرنے کی کافی وسعت ہے۔ اس لئے مدعاعلیہ کی طرف سے علماء کے خلاف بدظنی پیدا کی جاکر اس طبقہ کے دل میں ان کے خلاف حقارت اور نفرت پیدا کرنے کی سعی کی گئی ہے اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ اس مقدمہ میں مدعیہ کی طرف سے جو علماء پیش ہوئے ہیں انہیں دقیانوسی خیالات کا پیرو اور مرض تکفیر میں متبلا دیکھلایاجاکر ان کی بیان کردہ وجوہات تکفیر کو تمسخر میں اڑا دیا جائے اور یہ دکھلایا جائے کہ ان کی بیان کردہ وجوہات تکفیر کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اور انہوں نے محض اس وجہ سے کہ جماعت احمدیہ کے اصول صلاحیت مذہبی کی طرف رجوع دلاتے ہیں۔ اپنی پرانی عادت سے مجبور ہو کر براہ بغض اور کینہ انہیں کافر کہاہے۔ ورنہ دراصل ان کا کوئی عقیدہ یا عمل کفر کی حد تک نہیں پہنچتا۔ حالانکہ مسئلہ زیر بحث ایسا نہیں کہ اسے اس طرح مذاق میں اڑادیا جائے میں یہ نہیں کہتا کہ علماء غلطی نہیں کرتے یا یہ کہ وہ انسانی کمزوریوں سے پاک ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی کسی رائے کو وقعت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے اور ان کی کسی بات پر کان نہ دھرا جائے۔ بلکہ چاہئے کہ ان کے اقوال پر ٹھنڈے دل سے غور کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ کہاں تک راستی پر ہیں۔ مسئلہ ختم نبوت کے بارہ میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے، وہ صداقت سے خالی نہیں۔

مدعاعلیہ کی طرف سے کتب تفاسیر کے حوالوں پر جو اعتراض کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق صرف یہ لکھ دینا کافی ہے کہ ان حوالوں کو نہ یہاںدرج کیاگیاہے اور نہ ہی اس فیصلہ کا انحصار ان حوالوں پر رکھاگیاہے اور سند کے اعتبار سے صرف قرآن مجید اور احادیث کو ہی معیار تصفیہ قرار دیاگیاہے اور یہ عمل اس لئے اختیار کرنا پڑا ہے کہ فریقین کی طرف سے اپنے اپنے ادّعا کی تائید میں بے شمار کتابیں جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے، پیش کی گئیں ہیں۔ مدعاعلیہ نے مدعیہ کی پیش کردہ کتب میں سے کسی کو بھی اپنے اوپر حجت تسلیم نہیں کیا۔ سوائے مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کی کتابوں کے اور اسے اپنے اعتقاد کے مطابق ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ جب وہ مرزا صاحب کو نبی مانتاہے تو اس کے لئے معمول بہ مرزا صاحب کی وحی کے سواء اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ اس کے لئے اس کا دوسری کتابوں کو بطورحجت تسلیم نہ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ باقی قرآن اور احادیث کے متعلق اس نے یہ روّیہ اختیار کئے رکھاہے کہ آیات قرآنی کا جو مفہوم مدعیہ کی طرف سے بیان کیا گیاہے، اس کے متعلق اس نے یا تو یہ بیان کیا ہے کہ وہ درست نہیں ہے یا اس کی کوئی اور تاویل کردی ہے اور احادیث کے بارہ میں بھی جو حدیث اس کے مفید مطلب تھی وہ تو لے لی اور جو اس کے خلاف تھی اس کی صحت کے متعلق یا تو اس نے انکار کردیاہے یا اس کی بھی کوئی تاویل کردی اور اس کا یہ عمل بھی مرزا صاحب کی تعلیم کے خلاف نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’جو حدیث میری وحی کے معارض ہے وہ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

اس کے علاوہ مدعاعلیہ نے جن دیگر مصنّفین کی کتابوں کے حوالے پیش کئے ہیں، ان کے متعلق بھی اس کا یہ ادّعاہے کہ وہ چونکہ مدعیہ کے ہم مذہب اشخاص کی تصنیف شدہ ہیں۔ اس نے انہیں مدعیہ کے خلاف بھی بطور حجت پیش کیاہے۔ اس کے لئے وہ کوئی حجت نہیں۔ اس لئے ان حوالوں پر بحث کرنی نہ صرف غیر ضروری خیال کی گئی ہے۔ بلکہ اسے مشکلات سے بھی خالی نہیں پایا گیا۔ کیونکہ فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف خیانت کے بھی الزام لگائے ہیں اور یہ بھی اعتراض کئے ہیں کہ بعض مصنّفین کی کتابیں انہیں مسلّم نہیں ہیں۔ اس لئے یہ طے کرنے کے لئے کہ کہاں تک خیانت ہوئی اور کس کس مصنف کی کتاب فریقین کے عقائد کے مطابق ہے اور آیا وہ فریقین کے مسلمات

511

میں سے بھی ہیں یا نہ اور کہ ان سے جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں وہ درست ہیں یا نہ اور کہ فریقین کو ان کی رائے کا پابند قرار دیاجاسکتاہے یانہ۔ بہت وقت وسیع مطالعہ اور کافی محنت کی ضرورت ہے اور پھر اس سے نتیجہ کے بھی پورے طور پر واضح اور عام فہم ہونے کی توقع نہیں۔ اس لئے ایک طرف قرآن مجید اور احادیث پر اور دوسری طرف مرزا صاحب اور ان کے خلفاء کی کتابوںپر حصر رکھا جا کر دیگر تمام حوالہ جات کو نظر انداز کردیاگیاہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ گواہان مدعیہ کایہ کہنا کہ ادّعا وحی کفرہے اور اگر کوئی شخص مطلق وحی کا دعویٰ کرے، خواہ نبوت کا مدعی نہ بھی ہو تو تب بھی وہ کافر ہے اور کہ نبی آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مختص ہے اور غیر کے لئے کشف، الہام یا وحی معنوی ہوسکتی ہے، درست نہیںہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی آیت: ’’وماکان لبشر… الخ! (الشوریٰ:۵۱)‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ صرف پیغمبروں کے ساتھ ہی ان تین طرق مندرجہ آیت مذکور سے کلام کرتاہے اور غیر پیغمبروں سے نہیں کرتا۔ بلکہ اس آیت میں بشر کا لفظ رکھا ہے جس میں نبی اورغیرنبی دونوں داخل ہیں۔

’’واوحینا الیٰ ام موسیٰ… الخ! (القصص:۷)‘‘ سے ظاہر ہوتاہے کہ اگر وحی صرف پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہوئی تو ام موسیٰ پر خدا کی طرف سے یہ وحی نازل نہ ہوتی۔

اس طرح: ’’فارسلنا الیہا روحنا… الخ! (مریم:۱۷) واذقالت الملائکۃ…مع الراکعین واذقالت الملائکۃ… مقربین (آل عمران:۴۲تا۴۵)‘‘ اور ’’قلنا یاذالقرنین… حسنا (کہف:۸۶)‘‘ کے حوالہ جات پیش کئے جا کر یہ دکھلایا گیاہے کہ:

۱… وحی انبیاء سے مخصوص نہیں بلکہ غیر انبیاء پر بھی وحی ہوسکتی ہے بلکہ ہوتی ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔

۲… جن طریقوں سے اللہ تعالیٰ، انبیاءo سے کلام کرتاہے، انہیں طریقوں سے غیر انبیاء یعنی اولیاء وغیرہ کے ساتھ بھی ہم کلام ہوتاہے۔ جیسا کہ آیت نمبر۱ سے ظاہر ہوتاہے۔

۳… فرشتوں کا نزول انبیاءo سے خاص نہیں۔ بعض اوقات غیر انبیاء پر بھی ایسی وحی نازل ہوجاتی ہے جس میں امرونہی ہوتے ہیں اور کہ غیر انبیاء کی وحی بھی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔

اس کے آگے مدعاعلیہ کے گواہ کا یہ بیان ہے کہ مدعیہ کے گواہان نے جو یہ کہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی پر وحی نہیں ہوسکتی۔ جو اس کا دعویٰ کرے، وہ کافر۔ اس کی انہوں نے قرآن مجید یا احادیث سے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ ہاں! صرف ایک گواہ نے بحوالہ آیت: ’’والذین یؤمنون… من قبلک (البقرۃ:۴)‘‘پیش کرکے کہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد بھی کوئی وحی نازل ہونی ہوتی تو اس آیت میں ضرور اس کا ذکر کردیاجاتا۔ چونکہ ذکر نہیں کیاگیا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ آپ کے بعد وحی نہیں ہوسکتی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں تشریعی وحی کا ذکر ہے اور چونکہ آنحضرتﷺ کے بعد ایسی وحی جو آپ کی شریعت کی ناسخ ہو، منقطع تھی۔ اس لئے اس کا ذکر کیاگیا۔ اس کی تائید میں پھر چند علماء کے اقوال نقل کئے جا کر یہ کہا گیاہے کہ علماء کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسی خبر نہیں آئی جس سے معلوم ہو کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی تشریعی ہوگی۔ بلکہ وحی الہام ہوگی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اکابر علماء لکھ چکے ہیں کہ مسیح موعود پر وحی ہوگی اور حدیث میں آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود پر خدا کی طرف سے وحی ہوگی۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ جو قرآن مجید پر ایمان رکھتاہے اور یہ تسلیم کرتاہے کہ مسیح موعود آئے گا توان پر وحی ہوگی تو اسے خدا کی طرف سے یقین کرے گا۔ پس اس لحاظ سے یہ آیت تشریعی وحی کے انقطاع پر دلالت کرتی ہے۔ غیر تشریعی وحی کے انقطاع پر دلالت نہیں کرتی۔ اس امر کی دلیل میں کہ

512

آنحضرتﷺ کے بعد غیر شریعت والی وحی ہوسکتی ہے اور آنحضرتﷺکے کامل متبعین پر اس کا دروازہ بند نہیں ہے۔ آیات ذیل:’’الم یروا انہ… سبیلاً (الاعراف:۱۴۸)‘‘ اور ’’افلا یرون… قولا (طہ:۸۹)‘‘کے حوالے دیا جاکر یہ کہاگیاہے کہ ان آیات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بندوں سے خدا کاکلام کرنا ضروری ہے۔ پس کیونکر مان لیا جائے کہ حرم کعبہ کا رب اور قرآن کے اتارنے والا خدا جوبچھڑے کی عبودیت اور الوہیت کا ابطال اس کے عدم تکلم کی وجہ سے کرتاہے۔ خود اپنے پیارے بندوں سے ویسا سلوک کرے۔ نیز آیت: ’’ومن اضل ممن … غافلون (احقاف:۵)‘‘سے یہ نتیجہ نکالاگیاہے کہ خداوندتعالیٰ اپنے بندوں کی پکار سنتا اور ان کو جواب دیتاہے اورآیت:’’قل ان کنتم تحبون اللہ … الخ! (آل عمران:۳۱)‘‘ سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ خدا اپنے بندوں سے پیار کرتاہے اور یہ بدیہی بات ہے کہ محب اپنے محبوب سے ہم کلام ہو اور اس کی باتیں سنے اور اپنی کہے۔ ورنہ عدم کلام نقص محبت پر دلیل ہوگا۔ کیونکہ محبوب کا کلام نہ کرنا دلیل ناراضگی ہے اور خدا جو اپنے بندوں پر ماں باپ سے بڑھ کر مہربان ہے۔ ضرور اپنے پیارے بندوں سے کلام کرتاہے اور کوئی وجہ نہیں کہ جب وہ اپنے پیاروں سے کلام کرتاتھا تواب نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت جو اس کی خدائی پر ایک اعلیٰ دلیل ہے۔ وہ اس کا متکلم ہونا ہے۔ پس یہ کس طرح ہوسکتاہے کہ اب قیامت تک اس صفت کا تعطل مان لیا جائے اور کہا جائے کہ اس کی صفت تکلم زائل ہوچکی۔ یعنی کہ وہ اب کسی سے کلام نہ کرے گا۔ تو اس کا سمیع ہونا کیونکر معلوم ہوگا۔ کہنے والے پھر بھی کہہ دیں گے کہ وہ پہلے سمیع تھا اور اب نہیں۔ اس کی تائید میں پھر یہ ایک دنیاوی مثال دی گئی ہے۔ اگرکوئی عاشق اپنے کسی محبوب کے دروازہ پر آہ وبکا اور گریہ وزاری کرتے ہوئے بے قراری کی حالت میں جائے مگر محبوب نہ دروازہ کھولے اور نہ اندر سے کوئی آواز آوے تو یقینا وہ عاشق ناامید ہوکر لوٹے گا اور خیال کرے گا کہ یا تو میرا محبوب مرچکا یا مجھے دھوکا دیاگیا۔ پس اس طرح اللہ تعالیٰ جس کا دیدار بوجہ اس کے وراء الوراء اور لطیف ہونے کے ہم نہیں کرسکتے۔ اگر وہ گفتار سے بھی اپنے عشاق کو تسلی نہیں دے سکتا تو آخر وہ ایک دن ناامید ہوکر اسے چھوڑ دیں گے۔ تعشق اور محبت کا مادہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیاگیاہے اور وہ ایسے محبوب کو جس کے دیدار اور گفتار سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے محروم سمجھے۔ اسے کبھی اپنے عشق کا محل نہیں ٹھہرایا۔ حقیقی عاشق اپنے محبوب سے ہم کلام ہونے کے لئے اپنے دل میں از حد تڑپ رکھتاہے اور اس کے کلام کو اپنے لئے تریاق اور آب حیات سمجھتاہے۔ پس وہ علیم خبیر ہستی جو انسانوں کے اندر احساسات جذبات کاپیدا کرنے والاہے۔ کس طرح اپنے عشاق کو اپنی ہم کلامی سے محروم رکھ سکتاہے اور اس کی تائید میں آیات ذیل:’’واذ ا سألک عبادی عنی فانی قریب… الخ! (البقرۃ:۱۸۶)‘‘ اور ’’ان الذین قالوا… تتنزل الملائکۃ (حم سجدہ:۳۰)‘پیش کی گئی ہیں۔ اس کے بعد پھر آیات: ’’رفیع الدرجات ذوالعرش… یوم التلاق (مؤمن:۱۵)‘‘ اور ’’تنزل الملائکۃ بالروح من امرہ علی من یشآء… فاتقون‘‘سے یہ استدلال کیاگیاہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو از منہ سابقہ میں اپنے وحی سے مشرف کرتارہاہے، آئندہ بھی کرے گا۔ کیونکہ آیت میں نزول وحی کا موجب اللہ تعالیٰ کا رفیع الدرجات و ذوالعرش ہوناہے اور ضرورت انداز قرار دیاگیاہے۔ پس جب کہ اللہ تعالیٰ اب بھی رفیع الدرجات اور ذوالعرش ہے۔ اس میں تغیر نہیں آیا اور لوگ بھی بلحاظ روحانیت مردہ ہوگئے تو پھر وحی کا انقطاع کیونکر مان لیا جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ: ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس… الخ! (آل عمران:۱۱۰)‘‘یعنی امت محمدیہ تمام امتوں سے بہتر ہے اور نعمت بھی اس پر پوری ہوچکی اور دعا بھی خدا نے ہمیں یہ سکھلائی کہ:’’صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ:۶)‘کہ اے خدا تو ہمیں اپنے پیارے اور مقرب بار گاہ بندوںیعنی انبیاء صدیقین اور شہداء اور صالحین کے راستہ پر چلا تو عقل سلیم کیونکر تسلیم کرسکتی ہے کہ امت محمدیہ جو سب امتوں سے بہتر ہو، لیکن انعامات الٰہیہ سے محروم ہو پہلی امتوں کے مردوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے عورتوںکو بھی اپنے کلام سے مشرف کیا اور ان پر فرشتے نازل ہوئے۔ لیکن امت محمدیہ کے بڑے سے بڑے درجہ کے مرد کو بھی یہ انعام نہ ملے۔ پس یہ کہنا کہ امت

513

مرحومہ پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہے اور خدا اس سے کلام نہیں کرتا تو پھر یہ خیرالامم کیسے ہوئی اور یہ کہنا غلطی ہے کہ خداتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے بعد جو تمام عالم کے لئے رحمت ہوکر آئے تھے۔ اس انعام کو لوگوں سے چھین لیاہے اور امت میں سے کسی ایک فرد کو بھی اپنے ہم کلام ہونے کے مبارک شرف سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیاہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کا پاک رسول اور اولیاء امت یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیضان الٰہی اس امت پر بند نہیں ہیں اور آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے پہلے قوم بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ باوجودیکہ وہ نبی نہ تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتاتھا۔ میری امت میں ایسے لوگوں میں اگر کوئی ہے تو عمرq ہے۔ دوسری روایت میں محدث کا لفظ آیاہے۔ صحابہ نے حضورa سے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ محدث سے کیا مراد ہے۔ حضورa نے فرمایا کہ فرشتے اس کی زبان پر کلام کرتے ہیں۔

اس کے بعد حضرت شیخ ابن عربی، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی اور مولانا روم کی کتابوں کے حوالوں سے یہ بیان کیا گیاہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ پایاجاتاہے کہ تمام اقسام وحی کی جو قرآن میں مذکور ہیں۔ خدا کے بندوں اولیاء سب میں پائی جاتی ہیں اور وحی جو نبی میں ہے وہ خاص ہے اور شریعت والی وحی ہے اور کہ جو وحی انبیاءo کو ہوتی ہے اور اس امت کے بعض کامل افراد کو بھی ہوتی ہے اور جیسا کہ مولانا روم نے کہا ہے ہوتی تو وہ وحی حق ہے۔ لیکن صوفیاء عام لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اسے وحی دل بھی کہہ دیتے ہیں اور کہ جن طرق سے انبیاءo کو وحی الہام ہوتاہے انہیں طرق سے اولیاء اللہ کو ہوتاہے۔ اگرچہ اصطلاحاً ان کانام رکھنے میں فرق کیاگیاہے اور یہ علماء کی اپنی اصطلاح ہے اور اصطلاح فرق مراتب کے لحاظ سے قرار پاگئی ہے کہ انبیاء کی وحی کو وحی اور اولیاء کی وحی کو الہام کہتے ہیں اور کہ ولی پر بھی وحی بواسطہ ملک ہوتی ہے اور مدعیہ کے اعتقاد کے مطابق عیسیٰm کے نزول پر ان پر وحی نازل ہوگی اور اس کے متعلق علماء کاجو قول ہے کہ وہ حضرت جبرئیلm کی زبان پر ہوگی اس کے آگے یہ کہاگیاہے کہ مرزا صاحب کی کتب سے جو یہ دکھلایاگیاہے کہ وہ بھی آنحضرتﷺ کے بعد سلسلہ وحی کو منقطع مانتے ہیں تو وہاں ان کی مراد وحی شریعت سے ہے نہ کہ دوسری وحی سے جسے وہ جاری سمجھتے ہیں۔ ان تصریحات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد ایسی وحی کہ جس میں نئے اوامر اور نواہی نہ ہوں جاری ہے اور جن علماء نے یہ کہاہے کہ آپ کے بعد وحی اور الہام کا سلسلہ بندہے تو اس سے مراد ایسی وحی ہے جو شریعت محمدیہ کے مخالف نئے اوامر ونواہی پر مشتمل ہو، نہ مطلق وحی جس کا امت محمدیہ میں باقی رہناقرآن مجید و حدیث وبزرگان دین کے اقوال سے ثابت ہے۔ اس کے آگے پھر دوسرا ہیڈنگ شروع ہوجاتاہے اس کے تحت میں اس بحث کا جواب درج کیاجاتاہے۔

مدعیہ کی طرف سے جس وحی کے متعلق یہ کہاگیاہے کہ اس کا ادّعا کفرہے۔ اس سے مراد وحی نبوت سے ہی ہے۔ فریق مدعیہ کے نزدیک وحی کا لفظ صرف انبیاء کے لئے ہی مختص ہے اور وہ اس امر کے قائل نہیں کہ جو وحی نبی کی ہوتی ہے وہ غیر انبیا کو بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئے اب مدعاعلیہ کے بحث سے ہی یہ طے کرنا ہے کہ آیا اس قسم کی وحی جو انبیاء کو ہوتی ہے، غیر انبیاء کو بھی ہوسکتی ہے یا نہ۔ اس کے متعلق جن آیات قرآنی کا حوالہ مدعاعلیہ کی طرف سے پیش کیاگیاہے۔ ان کے ظاہری الفاظ سے یہ پایا جاتاہے کہ حضرت ام موسیٰ پر وحی ہوئی، حضرت مریم پر فرشتے اترے اور ذو القرنین سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ لیکن اگر یہ نتیجہ محض ان الفاظ: ’’اوحینا، قالت الملائکۃ‘‘ اور ’’قلنا‘‘ کے استعمال سے اخذ کیا جاتاہے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ وحی کا لفظ قرآن مجید میں نہ صرف ذوی العقول کی بابت استعمال فرمایاگیاہے، بلکہ غیر ذوی العقول کی بابت بھی۔ جیسا کہ سورۂ نحل میں ہے کہ شہد کی مکھی کو وحی کی گئی۔ یہاں میرے خیال میں مدعاعلیہ کے نزدیک بھی وحی سے مراد وہ وحی نہیں ہوسکتی جو انبیاء کو ہوتی ہے۔ یہاں یقینا اس کے کوئی اور معنی بمثل فطرت میں داخل کرنا یا اسے سوجھانا کئے جائیں گے۔ اس طرح قرآن مجید میں وحی کا لفظ اور بھی کئی مقامات پر استعمال ہواہے جس کے سیاق وسباق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ وہاں

514

اس لفظ سے مراد اس قسم کی وحی ہے جو انبیاء کو ہوتی ہے اور غالباً اس شبہ کو زائل کرنے کے لئے حضورa کے متعلق قرآن مجید میں بتصریح یہ فرمایا گیاکہ ہم نے تیری طرف اس قسم کی وحی بھیجی ہے۔ جیسا کہ حضرت نوح، ابراہیم، اسحق، اسماعیل، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف بھیجی گئی۔ ’’انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح… زبورا (نساء:۱۶۳)‘‘ اس لئے ان مواقعات پر جہاں کہ لفظ وحی کے استعمال سے وحی نبوت کے معنی اخذ نہیں ہوسکتے۔ اس لفظ سے مراد جیسا کہ علماء نے لی ہے القاء کرنا یا دل میں ڈالنا ہی لی جائے گی۔ اسی طرح قرآن مجید میں ایک اور جگہ ہے:’’وان الشیطن لیوحون الیٰ اولیآء ہم (الانعام:۱۲۱)‘‘تو کیا یہاں بھی لفظ وحی کے استعمال سے وحی انبیا ء لی جاسکے گی۔

قرآن مجید میں اس قسم کے اور بھی کئی الفاظ ہیں کہ جن کے ظاہری معنی مراد نہیں لئے گئے۔ مثلاً فتنہ کا لفظ جس کے معنی عام طور پر آزمائش کے لئے گئے ہیں۔ اسی طرح اس کی سند بیان نہیں کی گئی کہ فرشتے ہر حال میں ذات باری کی طرف سے ہی بحیثیت رسول اترتے اور کلام کرتے رہے۔ ممکن ہے کہ نیک آدمیوں پر ان کا اترنا عام انتظامات کائنات کے سلسلہ میں ہو یا روحانی ترقی کے مدارج میں داخل ہو۔ اس لئے حضرت مریم پر فرشتوں کے اترنے سے یہ نتیجہ لازمی طور پر برآمد نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ غیر انبیاء سے اس طریق پر کلام کرتاہے، جیسا کہ انبیاء کے ساتھ۔ باقی رہی وہ آیات جو ذوالقرنین کے متعلق ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک وہ نبی تھے۔ اگر نبی تھے تو انہیں وحی نبوت ہوئی ہوگی اور اگر نبی نہ تھے توان کے متعلق محض لفظ قال کا استعمال عمومیت کے طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کافی نہیں کہ غیر انبیاء ساتھ بھی اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوسکتاہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت ام موسیٰ اور حضرت مریم کو ایسی ہی وحی ہوئی، جیسا کہ انبیاء کو ہوتی ہے تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ایسی وحی ہر غیر انبیاء کو ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ بیبیا ں پیغمبروں کی مائیں تھیں اور ان ہر دو پیغمبروں کے متعلق یہ خطرہ تھا کہ انہیںپیدا ہونے کے بعد ہلاک نہ کردیا جائے۔ اس لئے ان کی ماؤں کو تسکین دینے کے لئے اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی سے مشرف فرمادیا ہو توکوئی عجب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ واقعات حضورa کی بعثت سے قبل کے ہیں۔ ممکن ہے خاص حالات کے تحت خاص خاص اشخاص کے ساتھ ہم کلام ہونا مشیت ایزدی سے ضروری سمجھا گیاہو اور اس کی تائید خود مدعاعلیہ کی اپنی بحث سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ وہ کہتاہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ باوجودیکہ وہ نبی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے کلا م کرتاتھا۔ چنانچہ ذوالقرنین بھی اسی ذیل میں داخل سمجھے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد جب حضورa نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے سوائے مبشرات کے اور کچھ باقی نہیں تو پھر کیونکر کہا جاسکتاہے کہ غیر انبیاء کو بھی وہی وحی ہوتی ہے جو انبیاء کو ہوتی ہے۔ اس حدیث کو فریق مدعاعلیہ نے صحیح تسلیم کیاہے۔ لیکن اس کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ عام اشخاص کے متعلق ہے۔ خواص کے لئے نہیں۔ اگرخواص اس سے مستثنیٰ تھے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اس کی تصریح نہ فرمادیتے۔ یہ حدیث حضرت عائشہؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔

باقی رہے صوفیائے کرام کے اقوال اور تحریریں۔ ان کے متعلق ایک جواب تو اوپر سید انورشاہ صاحب کے بیان کے حوالہ سے دیا جاچکاہے کہ انہوں نے ان اشخاص کو جو ان کی اصطلاحات سے واقف نہ ہوں، اپنی کتابوں میں نظر کرنے سے منع فرمایاہے اور اس کا دوسرا جواب بھی شاہ صاحب مذکور کے الفاظ میں نقل کیا جاتاہے۔

وہ کہتے ہیں کہ صوفیائے کرام نے نبوت کو بمعنی لغوی لے کر مقسم بنایا اور اس کی تفسیر خدا سے اطلاع پانا، دوسرے کو اطلاع دینا کی اور اس کے نیچے انبیاءo اور اولیاء کرام دونوں کو داخل کیا اور نبوت کو دو قسم کردیا۔ نبوت شرعی اور نبوت غیر شرعی۔ نبوت شرعی کے نیچے وحی اور رسل دونوں درج کردئیے اور اب ان کے لئے نبوت غیر شرعی اولیاء کے کشف اور الہام کے لئے نکھر گیا اور مخصوص ہوگیا۔ صوفیائے کرام

515

کی تصریح ہے کہ کشف کے ذریعہ مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اسرارمعارف، مکاشف اس کا دائرہ ہیں اور تصریح فرماتے ہیں کہ ہمارا کشف دوسرے پر حجت نہیں۔ ہمارا کشف ہمارے لئے ہے۔ گواہ مذکور نے کشف الہام اور وحی کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ کشف اسے کہتے ہیں کہ کوئی پیرایہ آنکھوں سے دکھلایا جس کی مراد کشف والا خود نکالے۔ دل میں کچھ مضمون ڈال دیا اور سمجھا دیا جائے، یہ الہام ہے۔

خدا نے پیغام بھیجااپنے ضابطہ کا وہ وحی ہے اوروحی قطعی ہے اورکشف والہام ظنی ہیں۔ بنی نوع آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیروں کے لئے کشف یاالہام ہے یا معنوی وحی ہوسکتی ہے، شرعی نہیں۔

وحی کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کی جو تفریق مدعاعلیہ کی طرف سے کی گئی ہے۔ اس کی تائید میں اس نے سوائے اقوال بزرگان کے اور کوئی سند پیش نہیں کی اور ان اقوال کی گو مدعیہ کی طرف سے توجیہہ اور تشریح کی گئی ہے اور یہ دکھلایاگیاہے کہ ان بزرگان کی ان اقوال سے کیا مراد ہے اور ان کے دیگر صریح اقوال پیش کئے گئے ہیں کہ جن میں وہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی تسلیم کرتے ہیں اور آپa کے بعد کسی اور نبی کا آنا ممکن نہیں سمجھتے۔ لیکن ان پر اس لئے بحث کی ضرورت نہیں کہ وہ قرآن مجید اور احادیث کے مقابلہ میں کوئی حجت نہیں ہوسکتے اور مدعاعلیہ کی طرف سے جو اعتراض مدعیہ پر عائد کیاگیاتھا کہ اس نے وجوہات تکفیر کے ضروریات دین ہونے کے متعلق قرآن یا حدیث سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ وہ بدرجہ اولیٰ خود مدعاعلیہ پر وارد ہوتاہے کہ اس نے شرعی اور غیر شرعی وحی کی جو تقسیم کی ہے۔ اس کے متعلق کوئی ثبوت قرآن واحادیث سے پیش نہیں کیا۔ محض قیاسات سے ہی یہ کہاگیاکہ جس آیت کا حوالہ مدعیہ کی طرف سے دیاگیاہے کہ اس میں آئندہ وحی کا ذکر نہیں وہ شریعت والی وحی کے انقطاع پر دلالت کرتی ہے۔

مدعیہ کی طرف سے درست طور پر کہا گیاہے کہ صوفیائے کرام نے نبوت کی جو قسمیں بیان کی ہیں وہ ان کی اپنی قائم کردہ اصطلاحات کے مطابق ہیں۔ اس لئے ان کی قائم کردہ اصطلاحات کو عام امت کے مقابلہ میں حجت قرار دینا درست نہیں ہے۔ مسیح موعود پر وحی کا ہونا مستثنیات سے ہے جس کی استثناء خود حضورa نے کردی۔ اس سے وحی نبوت کے اجراء کا عمومیت کے ساتھ نتیجہ نکالنا ایک غلطی ہے۔

آیت:’’وما کان لبشر… الخ! (الشوریٰ:۵۱)‘‘میں بشر کے لفظ کے متعلق مدعیہ کی طرف سے کہاگیاہے کہ مراد انبیاءo سے ہے۔ لیکن اگر عام بشر بھی مراد لئے جائیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا بالعموم آدمیوں سے کلام کرتارہتاہے۔ بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ہمکلام ہونے کے طریق بتلائے ہیں۔ باقی کلام کا کرنایا نہ کرنا اس کی اپنی مشیت پر منحصر ہے۔ لہٰذا گواہان مدعیہ نے یہ درست کہا ہے کہ حضورa کے بعد وحی نبوت جاری ہوتی تو قرآن مجیدمیں ضرور اس کی صراحت فرمادی جاتی۔ کیونکہ اس پر امت کی فلاح کا دارومدار تھا۔ باقی مولانا روم کی کتاب مثنوی کے حوالے سے جو یہ بیان کیاگیاہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ اولیاء کو جو وحی ہوتی ہے وہ دراصل وحی حق ہوتی ہے اور اولیاء عام لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اسے وحی دل کہہ دیا کرتے ہیں۔ یہ ان کے شاعرانہ خیالات اور شاعر کی نیت میں جیسا کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے کہا ہے کہ منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا اور پھر جہاں انہوں نے وحی حق کے الفاظ لکھے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی ’’و اللہ اعلم بالصواب‘‘ کا جملہ بھی موجود ہے۔ اس سے ان کے مفہوم کا خود اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ (پارہ نمبر۹، رکوع نمبر۸ اور پارہ ۱۶،رکوع نمبر۱۳) کی آیات محولہ بالا سے بھی یہ استدلال درست نہیں کیا گیا کہ آنحضرتﷺ کے بعد غیر شریعت والی وحی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اوّل تو آیات اس زمانہ اور ان حالات سے تعلق رکھتی ہیں۔ جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے اور ان میں ان لوگوں کو خطاب ہے جو عبادت الٰہی سے ناآشنا اور غافل ہوں اور اب رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے بعد کسی ادنیٰ سے مسلمان کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہوسکتا کہ خداوندتعالیٰ سمیع بصیر اور علیم نہیں۔ باقی رہا اس کا آدمیوں سے کلام کرنا وہ اس کی مشیت پر منحصر ہے۔ اسے کسی کی آہ وبکا، فریاد وفغاں سے ہم کلام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ دنیاوی عاشق ومعشوق کی مثال عشق الٰہی پر نہایت ہی نازیبا طریق

516

پر عائد کی گئی۔ تاہم اس مثال کو بھی اگر مدنظر رکھاجائے تو رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ایسی ناقص نہیں کہ عاشقان الٰہی اگرفی الحقیقت وہ پورے معنوں میں عاشقان الٰہی بن چکے ہیں۔ خداوندتعالیٰ کے دروازہ سے ناامید ہوکر لوٹیں یا نعوذب اللہ ! یہ تصور کریں کہ ان کا محبوب مرچکا یا انہیں دھوکا دیاگیا۔ دنیاوی معشوق بھی اگر اپنے عاشق کی آہ وبکا سن کر اندر سے اسے کوئی تحفہ بھیج دے یا اس کی بات کو سن کر اس کا کوئی کام سرانجام کردے تو باوجود اس کے کہ وہ اس سے ہم کلام نہ ہو یا اپنا دیدار نہ کرائے۔ اس کا عاشق ضرور سمجھ لے گا کہ اس کامعشوق زندہ ہے اور اس سے محبت کرتاہے۔ دنیا میں عاشقان الٰہی کی تعداد حضورa کے بعد آج تک کوئی تھوڑی نہیں سمجھی جاسکتی اور ویسے تو ایسے عشاق نہ صرف مذہب اسلام میں بلکہ ہر مذہب میں سینکڑوں کی تعداد میں پائے جائیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہم کلام ہونے کا ذریعہ اس کے عشاق کے دل کی تڑپ ہی قرار دی جائے تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عرصہ میں ہر ایک عاشق سے نہ سہی، سوویں ہزارویں سے سہی، دس پندرہ بیس سال کے بعد نہ سہی، سو ہزار سال کے بعد سہی، کسی نہ کسی ایک سے تو ہم کلامی فرمائی ہوتی نہ یہ کہ تیرہ سو سال تک یکدم خاموشی اختیار کئے رکھنے کے بعد صرف ایک شخص سے ہم کلام ہونا منظور فرمایا گیا اور وہ بھی زیادہ تر پرانی تیرہ سو سال والی زبان میں گویا اب اس کے پاس الفاظ اور معانی کا ذخیرہ ختم ہوچکاہے۔ اگر نعوذب اللہ ! خدا کے پاس ہم کلامی کے لئے نہ کوئی اور نیا مواد ہے اور نہ نئے الفاظ تو پھر بچارے مولویوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں پرانی لکیر کا فقیر قرار دیا جاکر کوسا جاتاہے۔ کیونکہ انہوں نے خدا کے اس پرانے کلام کی تعبیر وہی کرنی ہے جو پہلے سے ہوتی آئی ہے۔

اگر عشاق کی تسلی محض گفتگو سے ہوتی اور وجود باری تعالیٰ کے علم کاذریعہ بھی یہی ہوتا کہ جب کبھی اس کا کوئی عاشق بے قراری کی حالت میں آہ وبکا کرتا ہوا اس کے دروازہ پر پہنچے تو اس کے لئے فوراً دروازہ کھل جائے تو اسلام صفحہ ہستی سے کبھی کا نابود ہوچکاہوتا۔ کیونکہ تیرہ سوسال کا زمانہ ایسا نہیں کہ عشاق نعوذب اللہ ! خداوندتعالیٰ کی اس بے اعتنائی کو دیکھ کر اس کے دروزاہ پر پڑے رہتے، بلکہ بقول گواہ مدعاعلیہ عرصہ سے ناامید ہوکر لوٹ چکے ہوتے اور پھر اس کی کیا گارنٹی ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ان عشاق سے ہی گفتگو کرتاہے کہ جو مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے سے نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں عشاق کی تسلی محض گفتگو سے نہیں ہوا کرتی۔ بلکہ جیسا کہ مدعاعلیہ کے گواہ نے بھی ظاہر کیاہے۔ دیدار یار ان کا مطمع نظر ہوتاہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ گفتگوئے یار سے بہرہ اندوز ہوں تو پھر کبھی اپنے عشق کی مستی میں قوم موسیٰ کی طرح ’’ارنا اللہ جہرۃً‘‘ کی رٹ لگانی شروع کردیں اور بجائے اس کے کہ دیدار یار سے لذت اندوز ہوں۔ اپنا بیڑہ بھی غرق کر بیٹھیں۔ شک نہیں کہ حقیقی عشاق کے دلوں میں ضرور اپنے محبوب کے متعلق ایک تڑپ ہوتی ہے۔ اس تڑپ کے فروکرنے کا علاج یہ نہیں کہ محبوب سے ہم کلامی ہو۔

باری عز اسمہ نے اپنے عشاق کی تڑپ فرو کرنے کا علاج خود ہی اپنے زندہ کلام قرآن پاک میں یہ فرمایا ہے: ’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرعد:۲۸)‘‘یعنی خدا کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور زیادہ اضطراب پیدا ہونے کی صورت میں فرمایا: ’’واذا سالک عبادی عنی فانی قریب… الخ! (البقرۃ:۱۸۶)‘‘

گواہ مدعاعلیہ نے اس آیت کو بقاوحی پر دلیل پکڑا ہے۔ لیکن وحی سے مراد اگر اس قسم کی استجابت لی جائے جو اس آیت میں مذکور ہے تو پھر خداوندتعالیٰ کا ہر فرد بشر کے ساتھ کلام کرنا ممکن ہوسکتاہے اور ہر شخص محل وحی بھی بن سکتاہے۔ اس قسم کے استدلال اختیار کرنے سے مذہب کی کوئی عظمت ووقعت ظاہر نہیں ہوسکتی اور نہ اس کی کوئی حقیقت منکشف کی جاسکتی ہے۔ گواہ مدعاعلیہ نے بیان کیا ہے کہ خدا کا کلام نہ کرنا غضب اور ناراضگی کی علامت ہے تو کیا اس سے سمجھا جائے گا کہ جن لوگوں سے پہلے خداوندتعالیٰ نے کلام نہیں کی۔ کیا ان سب پر خداوندتعالیٰ ناراض رہاہے اور وہ مورد عتاب الٰہی ہیں۔ استغفر اللہ !

517

بقاء وحی کے سلسلہ میں باقی ماندہ جن دو آیات (سورۂ مومن اور پارہ ۱۴، رکوع ۷) کا حوالہ دیاگیا ہے۔ ان سے بھی وحی کا جاری رہنا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ آیات مدعاعلیہ کی اپنی تقسیم کے مطابق وحی تشریعی ہی سے تعلق رکھتی ہیں۔ کیونکہ ان میں یہ مذکور ہے کہ جس شخص کو وحی کی جاتی ہے۔ اس کو یہ حکم دیا جاتاہے کہ وہ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرائے۔ اس لئے اس قسم کی وحی کو مدعاعلیہ کی اپنی تعریف کے مطابق وحی تشریعی ہی سمجھا جائے گا اور یہ سلسلہ مدعیہ کے ادّعا کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پرآکر ختم کردیا اور مدعاعلیہ کے نزدیک بھی اب تشریعی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے ان آیات سے وحی مطلق کے اجراء کا استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ باقی رہی مدعاعلیہ کی یہ حجت کہ اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اللہ ہمیں راہ مستقیم پر چلا اور ان لوگوں کی راہ پر چلا جن پر تونے اپنے انعام کئے ہیں اور پھر دوسری سورت میں اس کی تشریح فرمائی کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر خدا کا انعام ہوا۔ اس کے متعلق فرمایا کہ وہ نبی، صدیق، شہید اور صالح ہیں۔ اس سے یہ تلقین کی گئی کہ اللہ اور اس کے رسول محمد مصطفیﷺ کی پیروی سے یہ چاروں مراتب تم کو حسب حیثیت مل سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہیں ہوسکتا کہ امت محمدیہ تین مراتب کا تو انعام پائے اور چوتھے مرتبہ یعنی نبوت کا حصول اس کے لئے ناممکن ہو۔ حالانکہ اس سے پہلے امتوں نے اس انعام کو باربار حاصل کیا۔ پھر یہ خیر الامم کس طرح ہوئی اور نہیں کہا جاسکتا کہ امت مرحومہ پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہے اور آنحضرتﷺ کے بعد جو تمام عالم کے لئے رحمت ہوکر آئے۔ اس انعام کو لوگوں سے چھین لیاگیا۔

اس کا جواب مدعیہ کی طرف سے یہ دیاگیاہے کہ آیت: ’’من یطع اللہ ورسولہ… والصالحین‘‘میں الفاظ:’’مع الذین‘‘سے مراد رفاقت سے ہے نہ کہ عطائے درجہ سے۔ مدعاعلیہ کے اعتراض کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی کے علاوہ دیگر مدارج جو اس آیت میں مذکور ہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے مل سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ نبوت کا درجہ نہ مل سکے۔ اگر اس بحث کو بفرض محال صحیح تسلیم کرلیا جائے تو پھر اس سے یہ لازم آئے گا کہ نبوت ایک کسبی چیز ہے جو اتباع سنت اور ریاضت سے حاصل ہوسکتی ہے۔ حالانکہ قرآن شریف کی نصوص سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کسبی نہیں اور مرزا صاحب نے بھی اسے ماناہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب (ضمیمہ النبوت فی الاسلام ص۸۴) پر لکھتے ہیں کہ نبوت ایک صفت اصلی قائم ہے۔ نبی کی ذات کے ساتھ نہ وہ کسب سے حاصل ہو اور نہ کبھی سلب ہو۔ اگر نبوت حضورa کے اتباع سے حاصل ہوسکتی تھی تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ آج تک جس قدر اولیاء، ابدال، اقطاب گزرے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہ ہوتا۔ علاوہ ازیں اگر یہ سمجھا جائے کہ حضور کے کمال اتباع اور فیض سے یہ مرتبہ حاصل ہوسکتاہے اورحضور بھی اسے جائز سمجھتے تھے توضرور ہے کہ حضورa نے جہاں کئی دیگر مراتب اور مدارج کے حصول کے لئے اپنی امت کو ادعیہ اور اوراد کی تلقین فرمائی ہے اور وہاں اس مرتبہ کے لئے بھی کوئی دعا وغیرہ بھی تلقین فرماتے۔ تاکہ امت کے افراد کو اس کے حاصل کرنے میں کوئی آسانی میسر آتی۔ کیونکہ حضور کی شفقت سے یہ بعیدتھا کہ وہ امت کو اس قدر پریشانی اور محنت شاقہ میں ڈالتے کہ مدت مدید کی انتظار اور عبادات کے بعد صرف ایک ہی فرد کو جاکر یہ نعمت عطاء فرمائی۔ اگر کوئی دعا وغیرہ تلقین کرنا آپa کے نزدیک مناسب نہ تھا تو کم از کم اس کی صراحت تو فرمادیتے کہ تم کو یہ درجہ مل سکتاہے۔ تمہیں اس کے حصول کے متعلق کوشاں رہنا چاہئے۔ آپa نے نہ اس قسم کی کوئی صراحت فرمائی۔ نہ ہی اس کے لئے کوئی راستہ بتلایا۔ بلکہ یہی فرماتے رہے کہ ’’لا نبی بعدی وانا اٰخر انبیآء‘‘ وغیرہ گویا کہ امت کو نعوذب اللہ ! از دست دھوکے میں رکھتے رہے۔ تاکہ وہ کہیں یہ درجہ حاصل کرکے آپa کے مقابلہ میں نہ کھڑے ہوجائیں۔

بلکہ آپa کا رحمۃ للعالمین ہونا اس بات کا متقاضی تھا کہ آپ سابقہ انبیاء کے مقابلہ میں اپنی امت میں سے زیادہ انبیاء پیدا کرکے اپنے افضل الانبیاء ہونے کا ایک اعلیٰ اور بیّن ثبوت بہم پہنچاتے۔ لہٰذا قرآن شریف کی دیگر تصریحات کو مدنظر رکھتے ہوئے آیت محولہ بالا کا مفہوم یہی لیا جائے گا کہ وہ لوگ انبیاء کی رفاقت میں ہوں گے اور چونکہ مدعاعلیہ کو دنیاوی امثال کا بہت شوق ہے۔ اس لئے اس کی

518

مثال یہ ہو سکتی ہے کہ جیسے حکومت کسی شخص کو اس کی ذاتی وجاہت اور مرتبہ کے لحاظ سے اپنے دربار میں اپنے کسی ممتاز عہدہ دار کے ساتھ جگہ دے دے تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس شخص نے اس عہدہ دار کا رتبہ حاصل کرلیاہے یا یہ کہ وہ اس کا رتبہ حاصل کرنے کا اہل بنا دیاگیاہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ لوگ جن کی آیات ماسبق میں فضیلت بیان کی گئی ہے۔ انبیاء شہداء صدیقین اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔ اس لئے مدعاعلیہ کا یہ استدلال کوئی وقعت نہیں رکھتا کہ اگر امت محمدیہ کو نبوت کا درجہ نہ ملے تو وہ خیر الامم نہیں رہتی۔ اس کے خیر الامم ہونے کے لئے خدا نے اسے اور کئی مدارج عطاء فرمائے ہیں۔ قرآن مجید میں اسے اس بات کا محتاج نہیں رہنے دیا کہ وہ نبوت کو حضورa کی غلامی پر ترجیح دے۔ بلکہ بڑے بڑے جلیل القدر انبیاءo آپ کی امت میں داخل ہونے کے متمنی رہے ہیں۔ افسوس کہ قرآن کی تعلیم کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھاگیا۔ ورنہ یہ اعتراض نہ کیا جاتا۔

قرآن حکیم میں حیات انسانی کی پوری انتہاء واضح نہیں فرمائی گئی اور جیسا کہ چودھری غلام احمد صاحب پرویز مضمون محولہ بالا میں لکھتے ہیں: جنت بھی جو بالعموم منزل مقصود سمجھی جاتی ہے، درحقیقت اصل منزل مقصود نہیں بلکہ راستہ کا ایک خوش نما منظر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں جنتیوں کی اس دعاء سے ظاہر ہوتاہے۔ ’’یقولون ربنا اتمم لنا نورنا‘‘اس منتہی کو ایک راز رکھاگیا۔ نہ معلوم کہ حضور کے فیض سے امت کو کیا کچھ عطاء فرمایا جائے گا۔ لہٰذا مدعاعلیہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں رہا کہ جو وحی انبیاءo کو ہوتی ہے وہ اس وقت تک جاری ہے، بلکہ صرف الہام اور کشف وغیرہ باقی ہیں۔ جیسا کہ مدعیہ کاا دّعاہے اور ان کو لغوی طور وحی کہا جاسکتاہے۔

اس مقدمہ کے فیصلہ کا دارومدار زیادہ تر رسول اللہ ﷺ کے خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی ماننے کے عقیدہ پر ہی ہے۔ مدّعیہ کی طرف سے جیسا کہ اوپر درج کیاگیا۔ بحوالہ آیات قرآنی واحادیث واجماع امت یہ دکھلایاگیاہے کہ حضورm کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ بجز اس کے کہ اس کی استثناء حضورa نے خود کردی۔ یعنی حضرت عیسیٰm اور کہ مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل اور اب بھی سوائے مرزا صاحب کے پیروؤں کے دیگر جملہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضورa انبیاء کی تعداد اور بعثت کے لحاظ سے آخری نبی ہیں اور آپa کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی مسلمان کسی اور کو نبی مانے تو وہ کافر اور مرتد ہوجاتاہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے کہا جاتاہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کمال اتباع اور فیض سے نبوت کا مرتبہ عطاء ہوسکتاہے اور خاتم النّبیین کے معنی عام مسلمانوں کے اعتقاد کے خلاف یہ کرتاہے کہ اللہ جل شانہ نے آنحضرتﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپa کو اضافہ کمال کے لئے مہر عطاء کی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپa کا نام خاتم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپa کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپa کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور قرآن مجید کی جس آیت میں یہ الفاظ درج ہیں۔ اس کے معنی مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کئے گئے ہیں کہ اس آیت میں رسول اللہ کے بعد الفاظ خاتم النّبیین اس لئے لائے گئے کہ ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتاتھا۔ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ آپ بحیثیت رسول اپنی امت کے باپ ہیں۔ آپ کی دوسرے رسولوں پر کوئی فضیلت ظاہر نہ ہوتی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النّبیین فرماکر آپ کو دوسرے رسولوں سے ممتاز فرمادیا کہ اور نبی تو اپنی امت کے صرف مومنوں کے باپ تھے مگر آپ ایسے عظیم الشان اور جلیل القدر نبی ہیں کہ انبیاء کے بھی باپ ہیں۔ یعنی آپ کی اتباع اور توجہ روحانی کمالات نبوت بخشتی ہے اور اگر اس کے معنی آخر کے لئے جائیں، تو اس میں آپa کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔

اس تصریح سے اس حد تک تو مدعاعلیہ کی یہ توجیہہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کوچونکہ دیگر انبیاء سے حضورa کو افضل دکھلانا مقصود تھا۔ اس لئے الفاظ خاتم النّبیین استعمال فرمائے گئے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ محض لفظ خاتم کے استعمال سے آپa کا نبی تراش ہونا کس طرح مفہوم لے لیاگیاہے۔ کیونکہ اگر خاتم کے معنی مہر بھی کئے جائیں تو اس کے یہ معنی کرنے سے بھی آپ انبیاء سابقہ پر مہر ہیں۔ حضورa کی فضیلت

519

نمایاں ہوسکتی ہے اور محض یہ توجیہہ بھی کہ آپa انبیاء کے باپ ہیں۔ آپ کی فضیلت ظاہر کردینے کے لئے کافی ہے۔ پھر معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کے اس تفصیلی علاقہ ابوت سے آئندہ توالدانبیاء کا سلسلہ جاری ہونا کس طرح اخذ کیاگیا اور پھر تولد بھی صرف ایک نبی کا۔ اس میں شک نہیں کہ خاتم کے معنی مہر دیگر علماء نے بھی کئے ہیں اور حال ہی میں قرآن مجید کا جو ترجمہ مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی کا شائع ہواہے۔ اس میں بھی خاتم کے معنی درج ہیں اورخاتم النّبیین کے معنی انہوں نے یہ لکھے ہیں کہ مہر ہیں تمام نبیوں پر اور میری رائے میں سیاق سباق عبارت سے یہی معنی درست معلوم ہوتے ہیں۔ اس پر مدعاعلیہ کا یہ اعتراض ہوگا کہ پھر رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ہونا کہاں سے اخذ کیا جائے گا۔

اس کا جواب یہ ہے ایک تو رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ہونا، احادیث سے اور امت کے اجماعی عقیدہ سے اخذ کیاجائے گا۔ امت آج تک آپ کو آخری نبی سمجھتی آئی اور جیسا کہ مولوی مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ نے بیان کیا ہے آج تک جس قدر اولیاء، ابدال، اقطاب، مجتہدین مجدد ہوتے رہے ہیں۔ کسی نے اس عقیدہ کی تغلیظ نہیں کی۔ دوسرے مدعاعلیہ کو بھی اس سے انکار نہیں کہ خاتم کے معنی آخری بھی ہیں اور اس معنی پر امت کا اجماع چلا آیاہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے اس اجماع کی حقیقت کو توڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ مرزا صاحب کے دعویٰ سے قبل جمہور امت کا عقیدہ اس طرح چلا آیاہے۔ اس لئے ایک امر واقع کو غلط کہنا ایک بے جا حجت ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے لغت اور عربی زبان کے محاورات سے یہ دکھلایاگیاہے کہ لفظ خاتم جب ت کی زبر سے پڑھا جائے تو انگوٹھی یا مہر کے معنوں میں استعمال یا مہر کے معنوں میں استعمال ہوتاہے اور اگر زیر سے پڑھا جائے تو اس کے معنی ختم کرنے والا۔ دوسرا مہر لگانے والاہوتے ہیں اور خاتم کا لفظ کمال کے معنوں میں بکثرت استعمال ہوتاہے۔

اور کہ خاتم کے اصل معنی آخر کے نہیں ہیں۔ اگرآخر کا معنی بھی لئے جائیں تو پھر لازم معنی کہلائیں گے، نہ اصل معنی اور جب اصل معنی لئے جاسکتے ہیں تولازم معنی کیوں لئے جائیں۔ خاتم اگر کہیں آخرکے معنوں میں استعمال کیا جاتاہے تو لازم معنی لے کر کیا جاتاہے اور جب کہ قرآن مجید میں کوئی ایسا صریح قرینہ موجود نہیں، جو لازم معنی لینے پر ہی دلالت کرے تو اس کے باقی سب معنی چھوڑ کر صرف آخر کے معنی میں لینا کسی طرح صحیح نہیں۔ لیکن مقدمہ ہذا میں سوال زیر بحث عقیدہ سے تعلق رکھتاہے۔ الفاظ کے معنی یا مراد سے تعلق نہیں رکھتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عقیدہ کس معنی پر قائم ہوا۔ جب مدعاعلیہ کے نزدیک خاتم کے معنی آخر کے ہوسکتے ہیں اور عقیدہ بھی تیرہ سو سال تک اس پر قائم رہا ہے تو اب ان الفاظ پر بحث کرنا کہ ان کے معنی آخر کے نہیں، بلکہ مہر کے ہیں۔سوائے ایک علمی دلچسپی کے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں جوعلماء اس کے معنی قبل ازیں آخر کے کرتے آئے ہیں۔ ان کی نسبت نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس کی لغت یا اصل سے واقف نہ تھے۔ اس لئے اس لفظ کے معنی پر بحث لاحاصل ہے۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب بھی اپنے دعویٰ سے قبل خاتم النّبیین کے معنی آخری کرتے آئے ہیں۔ جیسا کہ مدّعیہ کے گواہان کے بیانات میں دکھلایا جاچکاہے۔ بعد کے معنی محض تاویلی ہیں اور اپنے دعویٰ کور نگ دینے کی خاطر کئے گئے ہیں اور اب مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہنا کہ مرزا صاحب نے جہاں جہاں آنحضرتﷺ کے بعد سلسلہ وحی کو منقطع ماناہے، وہاں ان کی مراد وحی شریعت سے ہے، نہ کہ دوسری وحی سے، درست نہیں ہے۔ کیونکہ جہاں انہوں نے وحی کو منقطع ماناہے، وہاں انہوں نے اس کی تصریح نہیں کی اور سیاق وسباق سے پتہ چلتاہے کہ وہ ہرقسم کی وحی کے انقطاع کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ ان کے یہ اقوال اس قسم کے ہیں جن کے متعلق کہ مدعاعلیہ کی بحث کے شروع میں فقرہ نمبر۲ میں تشریح کی گئی ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مستقل مفہوم لئے ہوئے ہیں۔ اس مرزا صاحب کے دیگر اقوال ان کی توضیح یا تشریح نہیں بن سکتے۔ اس قسم کے اقوال جن سے مرزا صاحب انقطاع وحی کے قائل پائے جاتے ہیں۔ گواہان مدعیہ کے بیانات میں مفصل درج ہیں جو اوپر درج کئے جاچکے ہیں۔

520

مدعاعلیہ کی طرف سے اس مسئلہ ختم نبوت کے متعلق پھر یہ کہا گیاہے کہ احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ نے آیت خاتم النّبیین کے نبوت کو بکلی مسدود نہیں سمجھا۔ جیسا کہ حدیث:’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیا‘‘سے ظاہر ہوتاہے۔ کیونکہ آیت: ’’خاتم النّبیین‘‘ کے نزول سے پانچ سال کے بعد حضورa نے یہ فرمایاہے۔ لیکن اوّل تو اس حدیث کے صحیح ہونے میں شبہ ہے جس کا اظہار خود گواہ مدعاعلیہ نے کردیاہے۔ دوسرا اس میں ’’لو‘‘ کا ایک شرطیہ لفظ موجود ہے اور قواعد عربی کی رو سے مدعاعلیہ کی طرف سے یہ تسلیم کیا گیاہے، جہاں لو داخل ہو وہاں وقوع نہیں ہوتا۔ تیسرا اس میں نبوت کی کوئی تفصیل نہیں کہ کیسی نبوت ہوگی۔ چوتھا نبوت کا امکان حضرت ابراہیم کی زندگی پر تھا، جب وہ وفات پاگئے، نبوت کا امکان بھی چلا گیا۔ اس سے کسی طرح بھی آئندہ نبوت جاری رہنے کا نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے حضرت عائشہؓ کا ایک قول ’’قولوا خاتم النّبیین ولا تقولو لا نبی بعدہ‘‘نقل کیا جاکر یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ اس قول سے ظاہرہے کہ وہ لوگ جو الفاظ ’’خاتم النّبیین‘‘ اور ’’لا نبی بعدی‘‘ سے یہ سمجھتے ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا، غلطی پر ہیں۔ اس ضمن میں پھر یہ کہا گیا ہے کہ دوسری شہادت حضرت علیq کی ہے جو یہ ہے کہ ایک دفعہ آپa کے صاحبزادے استاد کے پاس بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اتفاقاً حضرت علیq وہاں سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں کو خاتم النّبیین کا لفظ ت کی زبر سے پڑھاؤ۔ دوسری قرأت میں خاتم ت کی زیر سے بھی آیاہے۔ پس اگر حضرت علیq کے نزدیک ت کی زیر سے بھی خاتم کے معنی آخری نبی کے بنتے تھے تو آپ نے زیر کے پڑھانے سے منع کیوں کیا۔ کیونکہ زیر سے ختم کرنے کے معنی زیادہ واضح ہوجاتے تھے۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ دونوں میں آپ فرق سمجھتے تھے اور زیر پڑھانے سے آپ کو اس کا خطرہ تھا کہ کہیں بچوں کے ذہن میں نبوت کے متعلق خلاف عقیدہ نہ بیٹھ جائے۔

حضرت علیq کے متعلق جو حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ والی بیان کی گئی ہے اور جو مولوی محمدحسین صاحب گواہ مدعیہ کے حوالہ سے اوپر گزرچکی ہے۔ اسے مدعاعلیہ کی طرف سے صحیح ماناگیا ہے۔ مگر اس کی تاویل یہ کی گئی ہے کہ بعدی سے مراد یہاں موت کے بعد نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیاہے۔ بلکہ بعدی سے مراد جنگ تبوک کا عرصہ ہے۔ یعنی اس عرصہ میں آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور اس سلسلہ میں ایک اور حدیث کا حوالہ دیا جاکر یہ بیان کیا گیاہے کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ اے علیq تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے خلیفہ بنو۔ جیسے ہارون موسیٰ کے خلیفہ تھے۔ مگر ہاں! تم نبی نہیں ہوگے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیاہے کہ اس جملہ کے فرمانے کی ضرورت یہ تھی کہ حضرت علیq کو ہارونm سے مشابہت دی گئی۔ اس سے شبہ پڑ سکتاتھا کہ آپ ہارونm کی طرح نبی بھی ہوں گے۔ اس لئے آنحضرتﷺ نے وضاحت فرمادی کہ تم میرے بعد خلیفہ ہوگے۔ نبی نہیں ہوگے۔

تمام دلائل محض قیاسی ہیں اور کوئی علمی حیثیت نہیں رکھتے۔ ان کا جواب بھی قیاس ہوسکتاہے۔ حضرت علیq کے صاحبزادوں کا جو قصہ بیان کیاگیاہے ممکن ہے کہ حضرت علیq نے ت کی زیر سے اس لئے پڑھانا منع کیا ہو کہ زیر سے حضورa کی فضیلت کا پہلو پوری طرح سے ظاہر نہیں ہوتا اور زبر سے پڑھانے سے دونوں پہلو پوری طرح نمایاں ہوجاتے ہیں اور اگر یہ سمجھا جائے کہ اس وقت حضرت علیq کے ذہن میں یہ بات تھی کہ زیر سے پڑھانے سے نبوت منقطع ہونے کا مغالطہ پڑتاہے اور کہ ان کے نزدیک حضورa کے بعد نبوت جاری رہے گی تو جنگ تبوک کے موقعہ پر جب حضورa نے انہیں ہارونm سے تشبیہ دے کر یہ فرمایا تھا کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ تو وہ عرض کرسکتے تھے کہ حضور جب آپ مثل موسیٰm ٹھہرے اور میں مثل ہارونm تو میں بھی آپ کا چچا زاد بھائی ہوں۔ اس لئے آپ موسیٰm کی کیوں میرے حق میں دعا نہیں فرمادیتے کہ خدا مجھے بھی نبی بنادے اور باہمی مماثلت کی بناء پر کوئی عجب نہ تھا کہ حضورa کی دعا سے انہیں بھی نبوت کا مرتبہ عطاء فرمادیتا۔

521

یہ محض ایسے قیاسات ہیں کہ جو ظنیات کی حد تک بھی نہیں پہنچتے اور مذہب میںجیسا کہ خود مدعاعلیہ کی طرف سے تسلیم کیاگیاہے، قطعیات کا اعتبار ہوتاہے، نہ ظنیات یا قیاسات کا۔ باقی رہا حضرت عائشہؓ کا قول اس کے متعلق مدعیہ کی طرف سے تین جواب دئیے گئے ہیں۔ ایک تو یہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے کہنے سے چونکہ یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی بد عقیدہ شخص حضرت عیسیٰm کے نزول سے انکار نہ کردے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کہو، ’’لا نبی بعدی‘‘ نہ کہو۔ دوسرا یہ کہ خاتم النّبیین کے کہنے سے چونکہ دونوں مدعاحضورa کا آخری اور افضل ہونا ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ نہ کہو بلکہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کہو۔

تیسرا یہ کہا جاتاہے کہ حضرت عائشہؓ نے یہ حدیث خود روایت کی ہے کہ حضورa نے فرمایاکہ نبوت ختم ہوچکی ہے۔ سوائے اس کے اب مبشرات ہوں گے اور مبشرات کی تشریح آپ نے یہ فرمائی کہ اچھی خوابیں۔ اس لئے مدعیہ کی طرف سے یہ کہاجاتاہے کہ جب حضرت عائشہؓ کو خود اس حدیث کا علم تھا تو کس طرح کہا جاتاہے کہ انہوں نے ’’لا نبی بعدہ‘‘ کہنے سے اس لئے منع کیاکہ وہ آپ کے بعد نبوت کو جاری سمجھتی تھیں۔ یہ ایک بہت معقول جواب ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوںکو آپ نے منع کیاہوگا کہ وہ ’’لانبی بعدہ‘‘ نہ کہیں تو انہوں نے آخر کوئی وجہ تو دریافت کی ہوگی۔ کیونکہ اس سے شبہ پڑسکتاتھا کہ کیاآپ کے بعد نبوت جاری ہے جو وہ ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں۔ ایسی کوئی تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ اس لئے ان کے اس قول سے یہ کوئی دلیل نہیں پکڑی جاسکتی کہ وہ آپa کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری سمجھتی تھیں۔

اس سلسلہ میں پھر مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ یہ بھی واضح رہے کہ قرآن مجید میں الفاظ خاتم النّبیین ہیں، آخر النّبیین نہیں۔ آخر کچھ تو بھید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آخرالنّبیین نہیں کہا بلکہ خاتم النّبیین کہا۔

اس میں اوّل تو کوئی بھید نہیں پایا جاتا، کیونکہ آخرالنّبیین کا لفظ خاتم النّبیین کے مقابلہ میں زیادہ فصیح معلوم نہیں ہوتا اور قرآن مجید میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں ہوا جو غیر فصیح ہو۔ دوسرا اللہ تعالیٰ کو چونکہ حضورa کی دونوں فضیلتوں یعنی آپ کا آخر ہونا اور افضل ہونا دکھلانا مقصود تھیں۔ اس لئے خاتم النّبیین کا لفظ استعمال فرمایاگیا۔

اور اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں کوئی بھید رکھنا منظورتھا تو پھر اس بھید کاکیا حل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب قرآن مجید کو نور،ہدایت اور فرقان فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ رسولوں پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کرنے میں تمہاری فلاح ہے اور گزشتہ بہت سے انبیاء کی تفصیل بھی بیان فرمادی۔ لیکن آئندہ آنے والے نبیوں کے متعلق نہ کوئی صراحت فرمائی اور نہ یہ فرمایا کہ ان پر بھی ایمان لانا فرض ہوگا تو پھر قرآن کیونکر نور اور ہدایت ٹھہرا۔

مدعاعلیہ کے ایک گواہ کا بیان ہے کہ جس حدیث میں آخر الانبیاء کا لفظ آیاہے وہ خبر واحد ہے جو ظن کا مرتبہ رکھتی ہے اور عقائد میں ظنیات کام نہیں دیتے۔ لیکن افسوس کہ یہ کہتے وقت اسے شاید اپنے طریق استدلال پر نظر نہیں رہی کہ وہ کہاں تک قطعیات کی روسے بحث کررہاہے۔

اسی طرح اس نے ان احادیث کی بہت سے تاویلیں کی ہیں جن میں حضورa کے متعلق آخر کے الفاظ پائے جاتے ہیں اور عربی، فارسی، اردو شعراء اور مصنّفین کے اقوال کے حوالوں سے یہ دکھلایاہے کہ لفظ آخر اکثر بمعنی کمال استعمال ہوتاہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر درج کیاگیاہے۔ یہ تمام بحث ایک علمی دلچسپی کے سواء اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہاں بحث عقائد سے ہے نہ کہ الفاظ کے معنی سے اور چونکہ الفاظ زیر بحث سے حضورa کا آخری ہونا بھی پایاجاتاہے۔ اس لئے اس معنی پر ہی آج تک امت کا عقیدہ چلا آیاہے اور یہ عقیدہ جیسا کہ اوپر دکھلایاگیاہے۔ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اس لئے اس عقیدہ کو تبدیل کرانا۔ کسی ادیب، عالم، مفتی یا قاضی کاکام نہیں۔ بلکہ یہ عقیدہ سوائے اس شخص کے جو مامور من اللہ ہو اور کوئی تبدیلی نہیں کراسکتا۔ اس پر پیچھے کافی بحث ہوچکی ہے کہ آیا

522

مرزا صاحب نبی اور مامور من اللہ ہیں یا نہ اور آخیر نتیجہ میں بھی اس پر بحث کی جائے گی۔

مدعاعلیہ کی طرف سے شیخ محی الدین ابن عربی اور دیگر بزرگان کے اقوال نقل کئے جاکر یہ دکھلایاگیاہے کہ ان کے نزدیک بھی نبوت مرتفع ہونے سے یہ مراد ہے کہ شریعت والی نبوت مرتفع ہوگئی نہ کہ مقام نبوت اور کہ وہ حضور کے قول ’’لانبی بعدی‘‘ کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جو آپ کی شریعت کے خلاف ہو۔ بلکہ جب بھی ہوگا آپ کی شریعت کے ماتحت ہوگا۔

مدعیہ کی طرف سے ان اقوال کی توجیہیں بیان کی گئی ہیں اور ان بزرگان کے دیگر اقوال سے یہ دکھلایاگیاہے کہ وہ حضورa کے آخری نبی ہونے کے قائل تھے۔ لیکن قطع نظر اس کے یہ ممکن ہے کہ یہ اقوال لکھتے وقت حضرت عیسیٰm کا نزول ان لوگوں کے ذہن میں ہو اور اس لئے یہ کہا گیاہو کہ آپ کے بعد جب بھی کوئی نبی ہوگا وہ آپ کی شریعت کے ماتحت ہوگا۔ اس کا فیصلہ تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے پوری طرح کیا جاسکتاہے۔ ان حوالوں کو چونکہ اس فیصلہ میں بحث سے نظر انداز کردیاگیاہے۔ اس لئے ان پر زیادہ رائے زنی کی ضرورت نہیں اور اگر ان تحریرں کا مطلب مدعاعلیہ کے ادّعا کے مطابق صحیح تسلیم کرلیاجائے تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ ان کی ذاتی رائے ہے یا امت کا عقیدہ۔ اگر ان تحریروں کے بعد امت نے اپنا عقیدہ تبدیل نہیں کیا اور ان کا عقیدہ جوں کا توں رہا ہے اور اس میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا تو پھر یہ تحریریں ان کی ذاتی اور شخصی رائے کے سواء اور کوئی وقعت نہیں رکھتیں اور اگر ان کے یہ اقوال ان کا کشف بھی سمجھے جائیں تو بھی جیسا کہ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے کہا ہے دین کے معاملہ میں وہ دوسروں پر کوئی حجت نہیںہوسکتے۔ کیونکہ دینی معاملات میں سوائے نبی کی وحی کے اور کوئی بات قطعی نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی دوسری حدیث پر جس میں آپ نے بنی اسرائیل کے نبیوں کے متعلق کہا ہے کہ جب ان میں ایک نبی فوت ہوجاتاتھا تو فوراً اس کا خلیفہ نبی ہوتاتھا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کہاگیاہے کہ یہاں حضورa کی مراد بعدیت متصلہ ہے۔ یعنی آپ کے فوراً بعد ایسا نہیں ہوگا اور امت محمدیہ میں فوراً نبی کی ضرورت نہ ہوگی۔ لیکن اوّل تو اس حدیث کے یہ معنی تاویلی ہیں۔ دوسرا نہیں کہاجاسکتا کہ تیرہ سوسال کے عرصہ میں ایسا کوئی زمانہ نہیں آیا کہ جس میں نبی کی ضرورت محسوس نہ کی گئی ہو۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب کے لئے مدعاعلیہ جس قسم کی نبوت ثابت کرناچاہتاہے۔ اس کی اس معنی سے تائید نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کے نزدیک مرزا صاحب کو جو نبوت ملی وہ حضورa کے کمال اتباع اور فیض سے ملی ہے اور یہ پایا جاتاہے کہ حضورa کے زمانہ میں ہی حضرت عمرq حضورa کے ایسے متبعین میں سے تھے کہ جن کی زبان پر فرشتے کلام کرتے تھے اور ان کی بابت حضورa نے یہ بھی فرمایاکہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتاتو حضرت عمرqہوتے اور یہ بھی کہا کہ اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو حضرت عمرq مبعوث ہوتے تو کیا حضرت عمرq سے بڑھ کر اس وقت حضورa کے اتباع کے لحاظ سے کوئی شخص نبوت کا مستحق ہوسکتاتھا۔ لیکن مدعاعلیہ کی مذکورہ بالا صراحت کے مطابق وہ حضو رa کے بعد اس لئے نبی نہ بنے کہ اس وقت نبی کی ضرورت نہ تھی۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ حضورa کے اتباع سے نبوت ملنے کے ساتھ مشیت میں یہ بھی مقدر ہے کہ اس قسم کی نبوت اس وقت دی جائے، جس وقت کہ اس کی ضرورت ہو اور اس سے مدعاعلیہ کے اس اصول کی نفی ہوجاتی ہے کہ حضورa کے کمال اتباع اور فیض سے نبوت مل سکتی ہے۔ کیونکہ ایسا ہوتا تو ضرور ہے کہ حضرت عمرq کو نبوت عطاء ہوجاتی۔ کیونکہ وہ نہ صرف کامل متبعین میں سے تھے، بلکہ حضور کے خاص مورد الطاف تھے اور جیسا کہ حضورa کے الفاظ سے اخذ ہوتاہے۔ حضورa یہ چاہتے تھے کہ وہ نبی ہوں۔ لیکن چونکہ آپa کے بعد نبوت منقطع ہوچکی تھی۔ اس لئے آپa نے فرمایا کہ حضرت عمرq نبی نہیں ہوسکتے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے اس حدیث کو کہ میرے بعد اگر نبی ہوتا تو عمرq ہوتے۔ ضعیف کہا گیاہے اور پھر اس ضمن میں لفظ کے بعد بہت سے تاویلی معنی کئے گئے ہیں اور شاید اس لئے کہ یہ حدیث مدعاعلیہ کے منشاء کے بالکل مخالف تھی۔ حدیث کے الفاظ ایسے مبہم نہیں کہ ان

523

کے مفہوم کے لئے کسی تاویل کی ضرورت ہو، ان سے ہر شخص سمجھ سکتاہے کہ وہاں بعد سے کیا مراد ہے۔

ختم نبوت کے بارہ میں مدعیہ کی طرف سے جو حدیث بیت النبوت والی پیش کی گئی ہے۔ اس کے متعلق مدعا کی طرف سے یہ کہا گیاہے۔ اس میں من قبلی کے الفاظ ہیں اور ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ یہ مثال ان انبیاء کی نسبت سے ہے جو حضورa سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ آئندہ کسی نبی کے آنے یا نہ آنے کا،اس میں ذکر نہیں۔ لیکن یہ حجت اس لئے درست نہیں کہ اس حدیث میں نبوت کو ایک گھر سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس کی تکمیل کے سلسلہ میں یہ کہاگیاہے کہ وہ آپa کے وجود باجود سے قبل غیر مکمل تھا۔ آپ کے تشریف لانے پر مکمل ہوگیا۔ اگر آئندہ انبیاء کا سلسلہ جاری رہنا تسلیم کیا جائے تو پھر اس گھر کی تکمیل لازم نہیں آتی۔ یہ سمجھانے کے لئے کہ اب سلسلہ انبیاء میں سے اور کوئی باقی نہیں۔ نبوت کو ایک گھر سے تشبیہ دی گئی اور جیسا کہ گھرکی چنائی اینٹوں سے کی جاتی ہے۔ اس بیت نبوت کی چنائی انبیاء سے ہوئی اور جو ایک اینٹ اس گھر کی تکمیل کو ناقص بنائے ہوئے تھی۔ وہ حضورa کے تشریف لانے پر پوری ہوگئی۔ اس مثال سے یہ دکھلایاگیاہے کہ مشیت ایزدی میں جو تعداد انبیاء مقرر تھی۔ وہ آپ کے تشریف لانے سے پوری ہوچکی اور حضرت عیسیٰm کا دوبارہ آنا بھی یہ ظاہر کرتاہے کہ انبیاء کی تعداد میں اب کوئی عدد باقی نہیں رہا۔ اس لئے سابقہ اعداد میں سے ایک کو واپس لانا پڑاہے۔ اس پر مدعاعلیہ کی طرف سے یہ اعتراض کیاگیاہے کہ اگر عیسیٰm کا آنا تسلیم کیا جائے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ مکان کی تعمیر ادھوری رہ گئی۔ لیکن یہ حجت اس لئے قائم نہیں رہ سکتی کہ حضرت عیسیٰm اس مکان کی تعمیر میں پہلے شامل ہوکر اسے مکمل کرچکے ہیں اور نئے نبی اگر ابھی اور آنے باقی ہوں توپھر اس عمارت کی تعمیر مکمل نہیں سمجھی جاسکتی۔ اس کی تکمیل اس وقت سمجھی جائے گی جب تمام انبیاء ختم ہوچکیں۔ اس لئے اسے اس وقت میں مکمل سمجھا جائے گا۔ جب کہ تمام انبیاء کا سلسلہ ختم نہ ہونے، حضورa کا اس عمارت کو اپنی تشریف آوری سے مکمل فرمادینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے بعد تعداد انبیاء میں سے اور کچھ باقی نہیں۔ حضرت عیسیٰm کا آنا ایسا ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے تکمیل شدہ مکان میں سے کچھ اینٹیں اکھاڑ کر بشرط ضرورت دوسری جگہ لگا دے۔ اس پر یہ کہا جائے گا کہ اس نے اپنے مکان کو اکھیڑا،یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے مکان کو مکمل نہیں کیا۔ کیونکہ اس کی تکمیل پہلے ہوچکی تھی۔

مدعاعلیہ کی طرف سے کہا گیاہے کہ مرزا صاحب کا نبی ہونا، اس مکان کی تعمیر کا منافی نہیں۔ کیونکہ انہیں حضور کے فیض سے نبوت ملی ہے۔ اس لئے یہ نبوت اس مکان بیت النبوت کی تکمیل کا سلسلہ شمار ہوگی۔ ظاہر ہے کہ ایک مکمل چیز پر اگر کوئی اور زائد چیز بطور اضافہ شامل کی جائے تو اس سے دو ہی صورتیں پیدا ہوں گی۔ یا تو وہ زائد چیز اس کی زنیت کو بڑھا دے گی یا اسے بد زیب کردے گی۔ اب اگر مرزا صاحب کو بیت النبوت پر چسپاں کیا جائے، تو وہ یا تو اس کی زینت کو بڑھا ئیں گے، اسے بد زیب کریں گے۔ اگر سمجھا جائے کہ ان سے اس کی زینت بڑھے گی تو اس سے وہ افضل الانبیاء ہوجائیں گے، نہ کہ حضورa اور یہ بات ان کے اپنے عقیدہ کے بھی خلاف ہے۔ اب صاف ہے کہ ان کے اس بیت النبوت پر چسپاں ہونے سے دوسری ہی صورت پیدا ہوگی اور اس گھر کی تکمیل میں وہ زائد از ضرورت ہی رہیں گے۔ اس لئے اس حدیث سے جس کی صحت سے مدعاعلیہ کو بھی انکار نہیں۔ حضورa کا آخری نبی ہونا پوری طرح ثابت ہوجاتاہے۔ مدعیہ کی طرف سے ایک اور حدیث کا حوالہ دیاگیاہے کہ آپa نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو نبی خیال کرے گا۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپa کے بعد قیامت جو بھی دعویٰ نبوت کرے وہ ضرور جھوٹا ہے۔ کیونکہ آخر زمانہ میں آنے والے مسیح موعود کو خودحضور نے بھی نبی اللہ کے لقب سے ملقب فرمایاہے۔ دوسرا تیس کی تعیین بھی بتلارہی ہے کہ کوئی سچا بھی آسکتاہے۔ تیسرا اس حدیث کا مضمون آج سے قریباً پانچ سو برس پہلے پورا ہوچکاہے۔ کیونکہ ۳۰ دجال وکذاب گزرچکے ہیں۔ اس کا جواب ایک تو خود گواہ مدعاعلیہ نے ہی دے

524

دیاہے کہ اس کے علاوہ اور بھی حدیثیں ہیں کہ جس میں کذابوں کی تعداد کم وبیش ۷۰ تک بیان کی گئی ہے۔ اس لئے سمجھا جائے گا کہ حضور نے ۳۰ کی کوئی متعین تعداد بیان نہیں فرمائی۔ بلکہ اس قسم کے اعداد بیان کرنے سے حضورa کی مراد کذابوں کی کثرت بیان کرنے سے تھی۔ کیونکہ اگر مدعاعلیہ کی بحث کی رو سے یہ قرار دیا جاوے کہ ایسے کذابوں کی کثرت بیان کرنے سے تھی۔ کیونکہ اگر مدعاعلیہ کی بحث کی رو سے یہ قرار دیا جائے کہ ایسے کذابوں کی صحیح تعداد ۲۷ثابت ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو تیس کذاب اس سے قبل گزرنے بیان کئے جاتے ہیں، ان میں سے تین ضرور سچے ہوں گے۔ لیکن ایسا ثابت نہیں ہوتا اور ان باقی مانندہ تین کو بھی دنیا نے جھوٹا ہی سمجھا اور انہیں بھی کذابوں کی ذیل میں داخل کیا گیا۔ دوسرا مسیح موعود کے آنے کی استثناء خود حضورa نے فرمادی اور ساتھ ہی اس کا نام عیسیٰ ابن مریم بتلاکر اسے نام سے ہی مشخص فرمادیا۔ علاوہ ازیں اگر سچے نبی ہوسکتے تھے تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ جہاں حضورa نے جھوٹے نبیوں کی آمد اور ان کی تعداد کی اطلاع دی تھی۔ وہاں اس کی تصریح کیوں نہ فرمائی کہ اس کے بعد سچے نبی بھی آئیں گے اور اس قدر آئیں گے۔ ناممکن معلوم ہوتاہے کہ امت کو ایک گمراہی سے بچا کر دوسری گمراہی میں ڈال دیا جاتا اور انہیں جھوٹے اور سچے نبی میں تمیز کرنے کے لئے کوئی معیار نہ بتلایا جاتا۔ اس لئے یہ حدیث بھی مشیت ادّعا مدعیہ اور مدعاعلیہ کی حجت کے منافی ہے۔

لہٰذا اس تمام بحث سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ حضورa آخری نبی ہیں اور آپa کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد مدعا علیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ کاذب مدعیان نبوت کے جو حوالے مدعیہ کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں اور یہ کہاگیاہے کہ انہیں اس بناء پر قتل کیا گیا کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔ یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ صحابہ کا جنگ کرنا محض اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے بغاوت کی تھی اور اسلامی حکومت کا مقابلہ کرکے خود بادشاہ بننا چاہاتھا اور نبوت کے دعویٰ کو اس کے حصول کے لئے انہوں نے صرف ایک ذریعہ بنایاتھا۔ اگر مدعاعلیہ کا یہ ادّعا درست بھی سمجھ لیا جائے توچونکہ اس کے ساتھ ہی وہ بیان کرتاہے کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کو حصول حکومت کے لئے ایک ذریعہ بنایا تھا تو اس سے یہ نتیجہ بھی نکالاجاسکتاہے کہ جس بناء پر وہ اپنے آپ کو حکومت کا حق دار سمجھتے تھے، صحابہ نے اسے بھی نادرست سمجھاتھا۔ اگر صحابہ کے ذہن میں یہ ہوتا کہ حضورa کے بعد نبوت ہوسکتی ہے تو وہ ان کی نبوت کے متعلق پورا اطمینان کرتے اور اس کے بعد ان کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کرتے۔ خلافت ارضی جلیل القدر انبیاء کی نبوت کا ایک جزو لاینفک رہی ہے اور ممکن ہے کہ مذکورہ بالا مدعیان نبوت خلافت ارضی کو لوازمات نبوت میں سے سمجھتے ہوئے دعویٰ نبوت کے بعد اس کے لئے کوشاں ہوئے ہوں تو اس صورت میں صحابہ کا ان کے ساتھ جنگ کرنا دعویٰ نبوت کی بناء پر متصور ہوگا، نہ کہ بغاوت کی بناء پر۔ کیونکہ انہیں باغی مرتد اور کافر قرار دیاجاکر سمجھا گیا۔

اس سلسلہ میں مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں۔ مدعاعلیہ نے اپنی بحث میں آگے یہ دکھلایاہے کہ مرزا صاحب نے ظلی اور بروزی کی اصطلاحات یہ دکھلانے کے لئے قائم کی ہیں کہ جس قسم کی نبوت کے وہ مدعی ہیںوہ شریعت والی نبوت نہیں اور نہ اس سے قرآن مجید کا منسوخ ہونا لازم آتاہے۔ بلکہ آپ کا مطلب ان سے صرف یہ تھا کہ ان کو بلا واسطہ نبوت نہیں ملی۔ بلکہ آنحضرتﷺ کے اتباع اورآپa میں فنا ہوکر اور آپa کی غلامی میں یہ مرتبہ نبوت ملاہے۔ اس لئے اپنے آپ کو ظلی نبی لکھا تاکہ آئندہ لوگ نبی کا لفظ سن کر چونک نہ پڑیں اور اس ظلی وبروزی کے لفظ سے سمجھ لیں کہ آپ ویسے نبی نہیں جو معروف اصطلاح میںلئے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ کہ ہر ایک کمال آپ کو آنحضرتﷺ کے اتباع اور ذریعہ سے ملا ہے۔ آپ نے صرف اپنی نبوت کی حقیقت سمجھانے کے لئے ظلی، بروزی اور امتی نبی کی اصطلاحیں مقرر کیں تاکہ لوگ نبی کے لفظ سے دھوکہ نہ کھا جائیں اور اصطلاحوں کاقائم کرنا، ہر ایک کے لئے جائز ہے۔ بروز وغیرہ کے الفاظ صوفیاء نے بھی قائم کئے ہیں۔ مرزا صاحب تناسخ کے اس معنی میں جس معنی میں کہ اہل ہنود سمجھتے ہیں قائل نہ تھے۔ ان کے اس قول سے کہ حضرت ابراہیمm نے اپنی

525

خو، طبیعت اور مشابہت کے لحاظ سے عبدﷲ پسر عبدالمطلب کے گھر جنم لیا، سے یہ ،مراد نہیں کہ آنحضرتﷺ کی پیدائش حضرت ابراہیم ہی کی پیدائش تھی۔ چنانچہ انہوں نے (تریاق القلوب ص۱۵۵، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷ حاشیہ) پر وجود دوریہ کی تفسیر خود ہی بیان کی ہے اور تناسخ کے مسئلہ کا رد مرزا صاحب نے اپنی بہت سے کتابوں میں کیا ہے۔ مہدی موعود کی بروزی نبوت کے متعلق مولوی نجم الدین صاحب نے جو اعتراض کیا ہے۔ اس کے متعلق کہا گہاہے کہ اس نے اس حوالہ کے آگے کی عبارت نہیں پڑھی۔ اس میں خاتم الاولاد کا مطلب یہ ظاہر کیا گیاہے کہ اس کے خاتمہ کے بعد نسل انسان کوئی کامل فرزند پیدا نہیں کرے گا۔ باستثناء ان فرزندوں کے جو اس کی حیات میں ہوں۔

سوائے ظلی اور بروزی اصطلاحات کے باقی تمام بحث فروعی امور کے متعلق ہے جن کا امرمابہ النزاع پر چنداں کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن اس سے جواب میں اگر مدعیہ کی بحث کو جو اوپر بیان کی جاچکی ہے دیکھا جائے تو اس سے یہ نتیجہ درست طور برآمد ہوتاہے کہ ظلی اور بروزی اور امتی وغیرہ کی اصطلاحات محض الفاظ ہی الفاظ ہیں۔ دراصل مرزا صاحب کا دعویٰ حقیقی نبوت کے متعلق ہی تھا۔ جیسا کہ اس کی تشریح بعد میں ان کے خلیفہ ثانی کی تحریرمیں جس کا حوالہ اوپر گزر چکا کی گئی ہے۔ خلیفہ صاحب کی اس تحریر کے متعلق مدعاعلیہ نے ان کی ایک اور تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے مثال کے طور پر لکھا تھا کہ اگر حقیقی نبی کے یہ معنی کئے جائیںکہ وہ بناوٹی یا نقلی نبی نہ ہو تو ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود کو میں حقیقی نبی مانتاہوں۔ یعنی صادق اور منجانب اللہ اور غیر تشریعی نبی مانتاہوں۔ لیکن اس سے ان کی وہ تحریر جس کا حوالہ مدعیہ کی طرف سے دیاگیاہے، رد نہیں ہوئی۔ وہ تحریر بذاتہٖ ایسی ہے کہ جس سے خود ایک مستقل مفہوم پیدا ہوتاہے۔ اس میں انہوں نے مرزا صاحب کے حقیقی نبی ہونے کا ثبوت دینے کی بھی آمادگی ظاہر کی ہے اور پھر ساتھ ہی یہ کہا ہے کہ انہوں نے ظلی بروزی کے الفاظ محض بطور انکسار کے استعمال فرمائے ہیں اور کہ اس قسم کی فروتنی نبیوں کی شان میں داخل ہے۔ ان کے ان الفاظ کی مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی تردید نہیں کی گئی اور نہ ان کی کوئی تردید ہوسکتی ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے ایک اعلان میں یہ لکھا ہے کہ خدا نے مجھے آنحضرتﷺ کا وجود ہی قرار دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیمm کے بروزات کے سلسلہ میں مرزا صاحب کے جن اقوال کا حوالہ گواہان مدعیہ کے بیانات میں دیاگیاہے اور ان سے جو نتائج انہوں نے برآمد کئے ہیں اور جو ان کی بحث میںا وپر بیان کئے جاچکے ہیں۔ ان سے واقعی یہ اخذ ہوتاہے کہ مرزا صاحب اپنے ان اقوال میں حضرت ابراہیمm کا اس قسم کا جنم مراد لیتے ہیں کہ جو بطریق تناسخ سمجھا جاتاہے نہ کہ حضرت ابراہیمm کی خو، طبیعت اور دیگر خصائل کے ودیعت ہونے سے۔ ان سوالات پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ سوالات مرزا صاحب کی اپنی تکفیر سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ اس مقدمہ میں ایک ضمنی سوال ہے۔ اس لئے ان کے ایسے عقائد پر کہ جن پر مقدمہ ہذا کے تصفیہ کا زیادہ دارومدار نہیں ہے۔ تفصیلی بحث بلا ضرورت ہے۔

ذیل میں مدعاعلیہ کی طرف سے مدعیہ کے ان اعتراضات کا جواب درج کیا جاتاہے جو مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت تشریعہ کے متعلق عائد کئے گئے ہیں۔

اس کی طرف سے بیان کیاگیاہے کہ مرزا صاحب نے جہاں اپنے لئے رسول کا لفظ لکھا ہے۔ وہاں انہوں نے اس لفظ کے ساتھ کسی جگہ شریعت کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے صاف لکھا ہے کہ آسمان کے نیچے بجز فرقان حمید اور کوئی کتاب نہیں۔دعویٰ نبوت کے متعلق انہوںنے صاف کہا ہے کہ میں ان معنوں میں نبی ہوں کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کرکے اور اپنے لئے اس کانام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایاہے۔ رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اور جہاں انہوں نے یہ کہا ہے کہ مجھے نبی کا خطاب دیاگیا۔ وہاںآگے یہ الفاظ بھی ہیں۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلوسے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔

جہاں مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنی وحی پر اس طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح کہ قرآن اور دوسری وحیو ں پر۔ اس سے

526

ان کا صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ اخذ نہیں ہوتا بلکہ اس قسم کے اقوال سے یہ مراد ہے کہ آپ اپنی وحی کو منجانب اللہ اور اس کے دخل شیطانی اور خطاء سے پاک ومنزہ ہونے پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اس کا وہ اظہار کررہے ہیں اور یہ اس بات کو مستلزم نہیں کہ آپ صاحب شریعت ہونے کے مدعی ہیں۔

مرزا صاحب نے یہ نہیں کہا کہ میری وحی شرعی اور قرآن کی مثل ہے۔ مرزا صاحب کا اپنی وحی کو مدار نجات ٹھہرانا بھی ان کا مدعی نبوت تشریعہ ہونا ثابت نہیں کرتا۔ کیونکہ ان کی جو وحی اورتعلیم ہے، وہ وہی تعلیم ہے جو عین قرآ ن مجید اور اسلام کی ہے۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اب قرآن مجید کی اس تعلیم پر کاربند ہوکر وہی نجات پاسکتاہے جو آپ کے حلقہ بیعت میں داخل ہو، دوسرا نہیں۔ مرزا صاحب نے یہ نہیں فرمایا کہ میری وحی میں کوئی نئی شریعت ہے یا میری وحی ناسخ شریعت محمدیہ ہے۔ بلکہ فرمایا کہ شریعت محمدیہ کے ہی بعض ضروری احکام کی تجدید ہے۔ قرآن مجید کی بیسیوں آیتیں دوبارہ امت محمدیہ کے اولیاء اللہ پر نازل ہوئیں۔ اسی طرح مرزا صاحب پر قرآن مجید کے بہت سے اوامر ونواہی نازل ہوئے اور انہی کے متعلق مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔

مرزا صاحب کے قول نمبر۶ مذکورہ بالا کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اولیاء امت نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ شریعت محمدی کے اوامر ونواہی کا بطور تجدید کے کسی بزرگ پر نازل ہوجانا جائز ہے۔ صرف ایسے اوامر و نواہی کا جو شریعت محمدیہ کے مخالف ہوں اور آنحضرتﷺ کی پیروی کا نتیجہ نہ ہوں اترنا ممنوع ہے۔ اس قول میں مرزا صاحب نے شریعت کا لفظ صرف مخالفین کے مقابل پر بطور الزام استعمال کیاہے اور فرضی طور پر معترضین کو ملزم کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ یہ عذر بھی مخالفین کا باطل ہے۔ کیونکہ شریعت اوامر ونواہی کا نام ہے اور میرے الہامات میں امر اور نہی دونوں موجود ہیں۔

قول نمبر۱۲ کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس سے جو مرزا صاحب کے صاحب شریعت نبی ہونے کا استدلال کیا گیاہے۔ وہ درست نہیں۔کیونکہ اس جگہ انہوں نے صرف صاحب شریعت نبی، محدث اور ملہم کے انکار کا حکم بیان کیا ہے اور دوسرے انبیاء جو شریعت یا احکام جدیدہ نہیں لائے۔ ان کا حکم اس عبارت میں مذکور نہیں۔ اس سے گواہان مدعیہ نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ مرزا صاحب کی دوسری تحریروں کے مخالف ہے۔ کیونکہ دوسری جگہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں آنحضرتﷺ کے مقابلہ پر کھڑا ہوکر نبوت کا دعویٰ کرتاہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف میری مراد نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے اور دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اس وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتاہے اور اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا تو اس صورت میں، میں نہ صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اس پر پڑے گا۔

مرزا صاحب کے مدعی صاحب شریعت ہونے کی بابت مدعیہ کی طرف سے جو ان کے ماہواری چندہ دئیے جانے کے حکم کاحوالہ دیا جا کر بحث کی گئی ہے، اس کے متعلق مدعاعلیہ کا یہ جواب ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں اور نہ اس میں تعمیل نہ کرنے والے کے متعلق کافر، مرتد یا ملعون وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں بلکہ یہ حکم قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ پر بہت زور دیاہے۔ مرزا صاحب نے اس قرآنی تعلیم کے ماتحت فرمایا کہ ایسا شخص جو راہ خدا پر خرچ نہیں کرتا اور باوجود مقدرت ۳،۳ ماہ تک اس ربانی حکم سے غافل رہتاہے اور کچھ پرواہ نہیں کرتا تو اس کا سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں اور گواہان مدعیہ کا یہ کہنا کہ زکوٰۃ نہ دینےوالے کے متعلق ایسا حکم نہیں ہے، درست نہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیقq نے ان لوگوں کے متعلق جنہوںنے زکوٰۃ دینے سے انکار کیاتھا فرمایاکہ اللہ کی قسم کہ اگر انہوںنے ایک معمولی رسی بھی جس سے اونٹ باندھا جاتاہے اور جسے وہ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں ادا

527

کرتے تھے، روکی تو میں قتال کروںگا۔ دیکھئے کہ زکوٰۃ میں سے کچھ ادا نہ کرنے پر کتنی سخت سزا مقرر کی گئی۔ ان دلائل کے زیادہ تفصیلی جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ ان کو اگر گواہان مدعیہ کی پیش کردہ دلائل کی روشنی میں دیکھا جائے گا کہ تو ان کا ابطال خود بخود ہی ثابت ہوجائے گا۔ تاہم ان کے مختصراً جوابات درج کئے جاتے ہیں۔ رسول کی تعریف خود گواہ مدعاعلیہ نے یہ کی ہے کہ جو صاحب کتاب ہو اور نبی عام ہوتاہے چاہے کتاب لائے یا نہ لائے۔ اب مرزا صاحب کے اپنے آپ کو رسول کہنے سے یہی مراد لی جائے گی کہ وہ صاحب کتاب نبی ہیں۔ علاوہ ازیں جو وحی کہ دخل شیطانی سے منزہ قرار دی جائے تو وہ منجانب اللہ ہونے کی وجہ سے اسی طرح قطعی ہوگی۔ جیسا کہ دیگر انبیاء کی وحی۔ چنانچہ مرزا صاحب خود بھی فرماتے ہیں کہ اگر ان کی وحی کو جمع کیا جائے تو وہ کئی جزئیں بن جائے۔ اب اس قسم کی وحی اگر کتابی صورت میں نہ بھی لائی جائے تو بھی کتاب اللہ کہلائے گی۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اوامر و نواہی بیان کئے جاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی ایسی وحی جس میں شریعت محمدیہ کے اوامر ونواہی کی تجدید ہے، بہت تھوڑی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی جو دیگر وحی ہے۔ اس کی قطعیت کے لحاظ سے اس پر بھی اسی طرح ایمان لاناضروری ہوگا۔ جیسا کہ قرآن مجید پر اور وہ بھی شریعت کا جزو تصور ہوگی۔ اس لئے مرزا صاحب نے رسول کے لفظ کے ساتھ شریعت کا لفظ استعمال نہیں کیا تو بھی ان کی تصریحات سے یہی سمجھا جائے گا کہ وہ صاحب شریعت رسول ہیں چاہے وہ صاف الفاظ میں یہ کہیں یا نہ کہیں۔ ان کے دیگر اقوال جن میں انہوں نے اپنی نبوت کی تشریح کی ہے یا یہ کہا ہے کہ جدید شریعت نہیں لائے۔ ان اقوال کا کہ جن سے مذکورہ بالا نتائج اخذ ہوتے ہیں، رد نہیں بن سکتے، کیونکہ جیسا کہ شروع بحث میں دکھلایاگیا جو اقوال کہ اپنے اندر مستقل مفہوم لئے ہوئے ہیں۔ ان کے مطالب وہی سمجھے جائیں گے جو ان اقوال کی اپنی طرز بیان سے اخذ ہوتے ہیں اور تاوقتیکہ اس بات کی صراحت نہ ہو کہ وہ اقوال واپس لئے جاچکے ہیں۔ دیگر اقوال نہ ان کے قائم مقام بن سکتے ہیں اور نہ ان کی تشریح۔

مرزا صاحب چاہے یہ کہیں یا نہ کہیں کہ ان کی وحی شرعی اور قرآن کی شکل ہے۔ وہ جب اسے دخل شیطانی سے پاک سمجھتے ہیں اور دوسروں پر حجت قرار دے کر اسے مدار نجات ٹھہراتے ہیں اور اپنے نہ ماننے والے کو بھی کافر سمجھتے ہیں اور بقول گواہ مدعاعلیہ اب آئندہ کے لئے مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہونا بھی ضروری ہے تو پھر کیونکر کہا جاسکتاہے کہ ان کی وحی شرعی نہیں۔ خصوصاً جب کہ صاحب شریعت کی تعریف بھی خود مرزا صاحب یہ کرتے ہیں کہ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا اور پھر آگے یہ بھی کہتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ وہ اوامر ونواہی نئے ہوں۔ ان کی اس تعریف کی رو سے صاف قرار دیا جاسکتاہے کہ وہ اپنی وحی کو شرعی سمجھتے ہیں اور جب وہ شرعی وحی ہوئی تو اس پر ایمان لانا اسی طرح واجب ہوا۔ جیسا کہ قرآن مجید پر یہ ضرور ہے کہ قرآن مجید کی آیات کا نزول دیگر اولیاء اللہ پر بھی ہوتاہے۔ لیکن ان میں سے کسی نے ان کو اپنے اوپر چسپاں نہیں کیا اور نہ ان کو دوسروں پر بطور حجت پیش کیا ہے۔ اس لئے دیگر اولیاء اللہ کی مثال مرزا صاحب کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جاسکتی۔

قول نمبر۶ میں صاحب شریعت کے الفاظ مرزا صاحب کی طرف سے فرضی طور پر استعمال نہیں کئے گئے۔ جیسا کہ مدعاعلیہ کا ادّعا ہے، بلکہ بڑی شدومدسے صاحب شریعت کی تعریف کی جاکر اپنا صاحب شریعت ہونا دکھلایا گیاہے۔ اس قول کی عبارت پڑھنے سے معلوم ہوسکتاہے کہ وہاں صاحب شریعت کے الفاظ فرضی ہیں یا اصلی اس قول کی مزید تائید پھر قول نمبر۱۲ سے ہوتی ہے۔ اس قول کے مرزا صاحب کے دیگر اقوال متناقض ہونے کو خود گواہ مدعاعلیہ نے بھی ماناہے اور مرزا صاحب کے دیگر اقوال سے اس نقیض کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ قول بذاتہ کسی شرح کا محتاج نہیں اور اپنا مفہوم آپ ہی بیان کررہاہے۔ اس قول میں مرزا صاحب نے اپنی عظمت اور شان دکھلا کر یہ ثابت کیاہے کہ وہ صاحب شریعت نبی ہیں اور اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والوں کو وہ اس بناء پر کافر کہتے ہیں۔ یہ ان کی طرف سے ایک دوسری توجیہہ ہے کہ وہ اس شخص کو جو انہیں نہیں مانتا اس بناء پر کافر کہتے ہیں کہ وہ انہیں مفتری سمجھتاہے۔

528

اور چونکہ وہ مفتری نہیں ہیں۔ اس لئے وہ کفر اس پر لوٹتاہے۔

مرزا صاحب نے اپنی جماعت کو جو ماہواری چندہ دینے کا حکم دیاہے اور اس سلسلہ میں ان کی طرف سے جو فرمان شائع ہواہے اور جس کا حوالہ اوپر دیا جا چکاہے۔ اس کے ملاحظہ سے پایا جاتاہے کہ انہوں نے یہ حکم اللہ تعالیٰ سے مطلع ہوکر دیاہے۔ گویا یہ حکم دراصل ان کا حکم نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ چنانچہ گواہ مدعاعلیہ بھی تسلیم کرتاہے کہ یہ ایک ربانی حکم ہے اور اس ربانی حکم کی تعمیل نہ کرنے والے کو مرزا صاحب نے منافق کہا ہے۔ اب اگر مرزا صاحب نے صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ وہ مرتد اور ملعون ہے تو اس سے ان کے اس حکم کے نتیجہ پر کہ وہ منافق ہے کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔ کیونکہ منافق کو خداوندتعالیٰ نے کافروں کی ذیل میں شامل کیا ہے۔ بلکہ بہت بڑا کافر کہاہے۔ اس لئے قاصر کو سوائے اس کے کہ اسے مرتد اور ملعون سمجھا جائے اور کیا کہا جائے گا۔ کیونکہ اس کا بیعت سے خارج ہوجانا بھی مثل ارتداد ہے۔

اگر مرزا صاحب کے باوجود اسے منافق کہنے اور بیعت سے خارج کرنے کے گواہ مدعاعلیہ کے نزدیک پھر بھی وہ مسلمان رہتاہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ مرزا صاحب کو نبی اللہ نہیں مانتا۔ کیونکہ نبی کے حکم کی تعمیل عین خدا کی تعمیل ہوتی ہے اور اس کی ناراضگی موجب غضب الٰہی معلوم ہوتاہے کہ یہ حکم دیتے وقت مرزا صاحب نے بھی اپنے مرتبے کو پوری طرح مد نظر نہیں رکھا اور اپنی طاقت کے ساتھ خدا کی طاقت کو بھی شامل کرنے کے باوجود قاصر کو صرف یہی سزا دے سکتے ہیں کہ اسے سلسلہ بیعت سے خارج کردیا جائے گا۔ حالانکہ خدا نے نبی کی وہ شان بنائی ہے کہ اس کے حکم کی عدم تعمیل تو بجائے ماند اس کے آگے اونچا بولنے سے بھی تمام اعمال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتاہے اور عدم تعمیل احکام تو دین ودنیا میں کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ اس سلسلہ میں مدعیہ کی طرف سے یہ درست کہا گیاہے کہ زکوٰۃ کے متعلق بھی اس قسم کا کوئی شرعی حکم نہیں جس حکم کا حوالہ گواہ مدعاعلیہ نے دیاہے وہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ اوّل کاہے نہ کہ خدا اور اس کے رسول کا۔ گواہ مدعاعلیہ کا اس بارہ میں مرزا صاحب کا حضر ت ابوبکر صدیقq کے ساتھ مقابلہ کرنا مرزا صاحب کے مرتبہ کی ایک اور تنقیص ظاہر کرتاہے۔ ایک طرف تو وہ انہیں نبی مانتاہے اور پھر ان کے احکام کے مقابلہ میں ایک غیر نبی کے احکام پیش کرتاہے۔ یہ معمہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان لوگوں نے مرزا صاحب کو باوجود نبی ماننے کے ان کی کیا شان سمجھ رکھی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مرزا صاحب کا یہ حکم زکوٰۃ پر مستزاد ہونے کی وجہ سے ایک نیا حکم ہے اور اس بناء پر مرزا صاحب اپنی بیان کردہ تعریف کی رو سے بھی شرعی نبی ہوئے۔ ہر حکم انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نافذ ہونا بیان کیا گیاہے اور خود مدعاعلیہ کی طرف سے اسے ایک ربانی حکم ہونا ماناگیاہے اور پھر اس کی سزا بھی محض دنیاوی مقرر نہیں، بلکہ قاصر کو منافق قرار دیا جا کر اور مرتد بنایا جا کر اسے عذاب آخرت کا مستوجب قرار دیاگیاہے۔ تو ان حالات میں کیونکر کہا جاسکتاہے کہ یہ کوئی شرعی حکم نہیں، بلکہ محض انفاق فی سبیل اللہ میں ایک ترغیب ہے۔ اگر نبیوں کے احکام کی اس طرح تعبیر کی جانی لگے تو پھر نبی اور رسولوں کے احکام تو بجائے ماند احکام خداوندی کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہتی اور نبوت کا تمام سلسلہ ہی ایک بے معنی سی چیز دکھائی دینے لگتاہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کی ان تحریروں سے جن کا اوپر حوالہ دیاگیاہے۔ یہ نتیجہ درست طور پر اخذ کیاگیاہے کہ وہ صاحب شریعت نبی ہونے کے بھی دعوے دار ہیں۔ گو بعد میں انہوں نے اپنے اس دعویٰ میں کامیاب نہ ہونے کی صورت دیکھ کر اس پر زیادہ زور نہیں دیا اور اپنے ان اقوال کی جن سے ان کے صاحب شریعت نبی ہونے کے نتائج اخذ ہوتے، مختلف توجہیں شروع کردیں۔

اس کے بعد مدعاعلیہ کی طرف سے مرزا صاحب کے قیامت، نفخ صور اور حشر اجساد وغیرہ اعتقادات کے متعلق یہ کہاگیاہے کہ گواہان مدعیہ کی طرف سے ان عقائد کی نسبت جو اعتراضات وارد کئے گئے ہیں، وہ درست نہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب نے ان عقائد نسبت جو کچھ بیان کیا ہے وہ قرآن مجید اور احادیث کی رو سے درست ہے۔ ان عقائد کے متعلق زیادہ تفصیلی بحث کی ضرورت نہیں صرف یہ لکھ دینا کافی ہے کہ اگر مرزا صاحب کو نبی تسلیم نہ کیا جائے تو پھرتو ان عقائد کے متعلق ان کی رائے ایک ذاتی رائے تصور ہوگی اور اس سے اختلاف کیا جانا

529

ممکن ہوگا اور اگر انہیں نبی تسلیم کرلیا جائے تو پھران کی رائے تعلیم وحی کا نتیجہ شمار ہوکر قابل پابندی ہوگا اور اس صورت میں اس سے ذرا بھر اختلاف نہیں ہوسکے گا بلکہ اختلاف کرنے والا عاصی سمجھا جائے گا۔ ان کے نبی نہ ہونے کی صورت میں ان کے یہ عقائد امت کے خلاف ہونے کی وجہ سے تحقیق طلب ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس صورت میں ان کے خلاف فتویٰ کی صورت بھی بدل جائے۔ مگر ان کے مدعی نبوت ہونے کی حالت میں ان کے یہ عقائد جمہور امت کے عقائد کے خلاف ہونے کے باعث وجوہات تکفیر میں مزید اضافہ کا سبب بن سکیں گے۔

اب ذیل میں توہین انبیاء کے سلسلہ میں مدّعیہ کی طرف سے پیش کردہ دلائل کا جو جواب مدعاعلیہ کی طرف سے دیاگیاہے وہ درج کیا جاتاہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے کہا جاتاہے کہ مرزا صاحب نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ جو شخص اپنے آپ کو جن لوگوں سے مشابہت دیتاہے اور کہتاہے کہ میں بھی اس پاک گروہ کا ایک فرد ہوں۔ پھر کیونکر ان کی توہین کرسکتاہے، کیونکہ وہ توہین اس کی اپنی توہین ہوگی۔

اصول کے لحاظ سے تو یہ بات درست ہے، لیکن اس کا فیصلہ مرزا صاحب کے اقوال سے ہوتاہے۔ گواہان مدعیہ کے بیانات میں اس کی مفصل بحث پائی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا جاتاہے کہ مرزا صاحب کے جن اشعار کو باعث توہین قرار دیاگیاہے۔ اس سے کوئی توہین پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ مرزا صاحب کی ان اشعار سے مراد یہ ہے کہ جام عرفان الٰہی اور ایقان ہر نبی کو دیا گیاتھا اور خداوندتعالیٰ نے وہ پورے کا پورا مجھے بھی دیاہے اور کہ میں اپنی معرفت اور عرفان الٰہی میں اور اپنے یقین میںکسی نبی اور رسول سے کم نہیں ہوں اور یہ کمال جو مجھے حاصل ہواہے وہ آنحضرتﷺ کے اتباع سے بطریق وراثت ملاہے۔

مرزا صاحب پر یہ غلط اتہام لگایاگیاہے کہ انہوں نے آنحضرتﷺ کی بھی توہین کی ہے۔ بلکہ آپ کی کتب آنحضرتﷺ کی تعریف سے پرہے جن آیات قرآنیہ کے متعلق یہ کہا جاتاہے کہ مرزاصاحب نے اپنے اوپر چسپاں کی ہیں۔ ان کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی رئیس طائفہ اہل حدیث نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان آیات کا مورد نزول ومخاطب وہ ہیں،بلکہ ان کو کامل یقین اور صاف اقرار ہے کہ قرآن اور پہلی کتابوں میں ان آیات میں مخاطب ومراد وہی انبیاء ہیں جن کی طرف ان میں خطاب ہے اور ان کمالات کے محل وہی حضرات ہیں جن کو خداوند تعالیٰ نے ان کمال کا محل ٹھہرایاہے۔

لیکن یہ جواب اس وقت کے متعلق ہے جب تک کہ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کہا گیاہے کہ مرزا صاحب پر یہ الزام بھی غلط لگایاگیاہے کہ انہوں نے عین محمد ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ بلکہ انہوں نے اپنی کتابوں میں صاف کہا ہے کہ میں ان کا خادم ہوں اور وہ میرے مخدوم ہیں، میں ان کا ظل ہوں اور وہ اصل ہیں۔ میں آپ کی خدمت اور آپ کی شاگردی اور آپ کے اتباع میں اس قدر فناء ہوا ہوں کہ گویا میرا وجود آپ کے وجود سے بلحاظ روحانیت علیحدہ نہیں ہے اور بزرگان دین نے یہ لکھا ہے کہ انبیاءo کے کامل متبع بہ سبب کمال متابعت انہیں میں جذب ہوجاتے ہیں اور ان کے رنگ میں ایسے رنگین ہوتے ہیں کہ تابع اور متبوع یعنی نبی اور امتی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ سوائے اوّل آخر ہونے کے مرزا صاحب نے یہ نہیں کہا کہ میں عین محمدہوں، بلکہ بروزی طور پر فرمایاہے اور لکھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے منتخب کیا کہ جو خلق، ہمت، ہمدردی، خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور ظاہری طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطاء کیا۔ تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہٖ آنحضرتﷺ کا ظہور تھا۔ لیکن صوفیاء نے اس مقام کو غیبت کے لفظ سے تعبیر کیاہے۔ اس پر بھی مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس استدلال کو مدعیہ کے پیش کردہ استدلال کی روشنی میں دیکھا جاسکتاہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے آگے یہ کہاگیاہے کہ مرزا صاحب کے اس شعر سے کہ ’’لہٗ خسف القمر المنیر وان لی‘‘سے

530

آنحضرت کی توہین نہیں نکلتی۔ کیونکہ اگر مرزا صاحب کے لئے چاند اور سورج کا گرہن نشان ہوا تو وہ اس لئے کہ احادیث کی کتب میں سچے مہدی کی علامات میں سے یہ قرار دیاگیاہے۔ پس یہ نشان بھی آنحضرتﷺ کی طرف منسوب ہوگا۔ مگر مدعیہ کا استدلال اس پر نہیں کہ مرزا صاحب نے چاند گرہن کے نشان کو اپنے لئے تجویز کیاہے بلکہ اس کی طرف سے توہین کے مؤجب یہ بات سمجھی گئی ہے کہ اس شعر میں رسول اللہ ﷺ کے معجزہ شق القمر کا استخفاف کیاگیاہے۔ رسول اللہ ﷺ کے معجزات کے متعلق مدّعیہ کی طرف سے مرزا صاحب کے جن اقوال پر اعتراض کیاگیاہے۔ اس کا مدعاعلیہ کی طرف سے یہ جواب دیاگیاہے کہ مرزا صاحب نے دوسری کتاب میں جہاں آنحضرتﷺ کے تین ہزار معجزات بتلائے ہیں، وہاں اپنی پیش گوئیاں سو کے قریب لکھی ہیں اور آپ نے اپنے دس لاکھ نشانات بتلائے ہیں کہ اگر ویسے نشانات آنحضرتﷺ کے شمار کئے جائیں تو دس ارب سے بھی زیادہ ہوں۔

مدّعیہ کی طرف سے یہ کہاگیا ہے کہ چونکہ معجزہ خرق عادات ہوتاہے اور مرزا صاحب نے اپنے نشانات کے متعلق یہ کہاہے کہ وہ اوّل درجہ کے خرق عادت ہیں۔ اس لئے ان نشانات کو بھی معجزات ہی شمار کیا جائے گا۔ ہر دو فریق کے دلائل اس بارہ میں مسل پر موجود ہیں۔ ان سے نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ صداقت کس میں ہے۔ میں ان سوالات پر اس لئے بھی زیادہ بحث کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ یہ سوالات مرزا صاحب کی اپنی ذات کے متعلق ہیں اورامر مابہ النزاع سے ان کا بہت تھوڑا تعلق پایا جاتاہے۔ اس طرح مدعاعلیہ کا یہ ادّعا ہے کہ مرزا صاحب نے حضرت یوسف اور حضرت آدمm کی بھی کوئی توہین نہیں کی۔ اس کے بعد پھر اس کی طرف سے حضرت عیسیٰm کی توہین کے سلسلہ میں یہ دکھلایاگیاہے کہ مرزا صاحب نے جہاں عیسیٰm پر اپنی فضیلت بیان کی ہے۔ وہ آنحضرتﷺ کے متبع اور امتی ہونے کی وجہ سے کی ہے اور علماء خود مانتے چلے آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے بھی یہ خواہش کی تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے ہوں اور دوسرے شعراء اور صوفیاء کے اقوال سے یہ دکھلایاگیاہے کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے متبع ہونے کے باعث حضرت عیسیٰ پر اپنی فضیلت ظاہر کرتے آئے ہیں۔ مگر اسے توہین نہیں سمجھا گیا اور اس ضمن میں شیخ محمودحسن صاحب کے چند اشعار جو انہوں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے مرثیہ میں لکھے ہیں، درج کئے جا کر یہ بحث کی گئی ہے کہ ان اشعار سے انبیاء کی توہین نہیں ہوتی تو پھر مرزا صاحب کے اشعار سے کیونکر توہین اخذ کی جاتی ہے۔

اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے دیا ہے کہ جو مدعیہ اشعار ہوں وہ تحقیقی نہیں ہوتے۔ بلکہ بشر کی کلام میں اٹکل کے ہوتے ہیں اور شاعرانہ محاورہ نئی نوع کلام کی تسلیم کیا گیاہے۔ فرق اس میں یہ ہے کہ جو خدا کی کلام ہوگی تو وہ عقیدہ ہوگا اور تحقیقی ہوگی اور وہ کسی طرح اٹکل نہ ہوگی۔ حقیقت حال ہوگی نہ کم نہ بیش۔ بشر انتہائی حقیقت کو نہیں پہنچتا تخمینی لفظ کہتاہے اور دنیا نے اس کو تسلیم کیا ہے کہ شاعرانہ نوع تعبیر عام اطلاق الفاظ نہیں اور وہ تخمینہ پر عبارت کہہ دیتے ہیں جو آس پاس ہوتی ہے۔ ٹھیک حقیقت نہیں ہوتی اور خود شاعر کی نیت میں اور ضمیر میں منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا۔

جھوٹے اور شاعر میں یہ فرق ہے کہ جھوٹا کوشش کرتاہے کہ میری کلام کو لوگ سچ مان لیں اور شاعر کی اصلاً یہ کوشش نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ حاضرین بھی میرے اس کلام کو حقیقت پر نہیں سمجھیں گے۔ بلکہ اگر کوئی حقیقت پر سمجھے تو دوسرے وقت وہ اس کی اصلاح کے درپے ہوتاہے اور ایسے وقائع دنیا میں بہت پیش آچکے ہیں۔ مبالغہ شاعروں کے ہاں ہوتاہے اور یہ ایک قسم ہے کلام کی جو فنون علمیہ میں درج ہے اور اس مبالغہ کی حقیقت یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑا ادا کرنا اور بڑی چیز کو چھوٹا۔ بشرطیکہ نہ اعتقاد ہو اور نہ مخلوق کو منوانا ہو۔ پس اگر کوئی شخص کوئی ایسی چیز کہتاہے کہ جس سے مغالطہ پڑتاہے، نبوت کے باب میں اور وہ ساری کوشش اس میں خرچ کرتاہے۔ تو وہ اور جہاں کا ہے اور حضرت شاعر اور جہاں میں۔

531

چنانچہ مرزا صاحب اپنی کتاب (دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰) پر لکھتے ہیں کہ یہ باتیں شاعرانہ نہیں، بلکہ واقعی ہیں۔ علاوہ ازیں سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزا صاحب نے شاعری کا شیوہ کس طرح اختیار فرمایا اور کیوں انہیں اس معاملہ میں حضورa کی صفات علیہ سے بطور ظل کے حصہ نہ ملا۔ کیونکہ حضورa کے متعلق قرآن مجید کی سورہ یٰسین میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’وما علمنٰہ الشعر وما ینبغی لہ‘‘ اور سورۃ شعراء میں شعراء کی مذمت کی جا کر یہ فرمایاگیاہے کہ: ’’الم تر انہم… یفعلون‘‘اس حکم کے تحت میں تو مرزا صاحب کے نہ صرف وہ اقوال جو اشعار میں درج ہیں بلکہ کوئی قول بھی معتبر نہیں رہتا۔

مدّعیہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ مرزا صاحب نے حضرت مسیح کے معجزات کو مسمریزم کی قسم سے کہا ہے۔ مدعاعلیہ کی طرف سے یہ جواب دیاگیاہے کہ حضرت مسیح کے اعجازی خلق کو مانتاہوں۔ ہاں! اس بات کو نہیں مانتا کہ حضرت مسیح نے خداتعالیٰ کی طرح حقیقی طور پر کسی مردہ کو زندہ کیا یا حقیقی طور پر کسی پرندہ کو پیدا کیا۔ کیونکہ اگر حقیقی طور پر حضرت مسیحm کے مردہ کو زندہ کرنے یا پرندے پیدا کرنے کو تسلیم کیا جائے تو اسی سے خداتعالیٰ کی خلق اور اس کا احیاء مشتبہ ہوجائے گا اور عمل ترب کے متعلق وہ اپنے ایک الہام کے حوالہ سے یہ لکھتے ہیں کہ یہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔ آپ نے اس عمل کو اپنے لئے۔ اس لئے پسند نہ کیا کہ اس علمی زمانہ میں ایسے معجزات دکھلانے کی ضرورت نہ تھی اور حضرت مسیح کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے۔ باذن وحکم الٰہی اختیار کیاتھا، ورنہ انہیں بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔

اس جواب کے متعلق بھی مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔ ہر دو فریق کی طرف سے اس بارہ میں جو مواد پیش کیا گیا ہے وہ اوپر دکھلایا جاچکاہے۔ اس سے ہر دو کے دلائل کا موازنہ کیا جاسکتاہے۔

عیسیٰm کی توہین کے متعلق مرزا صاحب کے جو دیگر اقوال ان کی کتب (دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰) اور (ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۹۱) وغیرہ سے پیش کئے جاکر یہ دکھلایا گیاہے کہ ان میں بہت ہی سب وشتم درج ہے۔ ان کی بابت مدعا علیہ کی طرف سے یہ کہا گیاہے کہ ان میں عیسائی مخاطب ہیں اور ان اقوال میں ان لوگوں کے اعتقادات کے مطابق جو ان کی کتابوں میں درج ہیں، انہیں الزامی جواب دئیے گئے ہیں اور فن مناظرہ میں اس قسم کی روش عام طور پر اختیار کی جاتی ہے اور اس کی تائید میں مدعاعلیہ کی طرف سے دیگر علماء کے اقوال نقل کئے گئے ہیں۔ مرزا صاحب کے ان اقوال کو اگر سیاق وسباق عبارت سے ملا کر دیکھا جائے تو مدعاعلیہ کا یہ جواب حقیقت سے خالی معلوم نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں ان دشنام آمیز الفاظ کو سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے اپنی شہادت میں بسلسلہ توہین عیسیٰm بیان نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں موجب ارتداد مرزا صاحب میں اس قسم کی کوئی چیز پیش نہیں کرتا جس میں کہ مجھے نیت سے بحث کرنی پڑے۔ بلکہ میں نے اس چیز کو لیا ہے جسے انہوں نے قرآن کی تفسیر بنایاہے اور اسے حق کہا ہے اور جن چیزوں میں مجھے نیت کی تلاش رہتی وہ میں نے اپنی بحث سے خارج کر دئیے ہیں اور انہیں موجب ارتداد قرار نہیں دیا۔

میں نے مرزا صاحب کی نیت پر گرفت نہیں کی زبان پر کی ہے اور نہ ہی وجہ ارتداد میں تعریض کو لیا ہے بلکہ جس ہجو کو انہوں نے قرآن مجید سے مستند کیا اور اسے قرآن مجید کی تفسیر گردانا اور جس ہجو کو اپنی جانب سے حق کہا۔ وہ اسے وجہ ارتداد سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے مرزا صاحب کے حسب ذیل اقوال داخل کئے ہیں۔ ’’مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاںدیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔‘‘ اور کہا ہے کہ اس سے تعریض اور تصریح دونوں قسم کی توہین ظاہر ہوتی ہے اور یہ کہ: ’’عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے معجزہ نہیں ہوا۔‘‘ اس سے صریح عیسیٰm کی توہین ٹپکتی ہے۔ کیونکہ حق بات کے الفاظ سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ مرزا صاحب کے اپنے فیصلہ کے الفاظ ہیں۔ شاہ صاحب کی یہ رائے عین حق

532

شناسی پر مبنی ہے اور جن اقوال سے انہوں نے حضرت عیسیٰm کی توہین کا نتیجہ نکالا ہے۔ ان سے واقعی ان کی توہین اخذ ہوتی ہے۔ باقی رہا کسی نبی کا دوسرے نبی سے افضل ہونے کا سوال اس کے متعلق شاہ صاحب کے بیان کردہ حوالہ سے اوپر جواب دیا جا چکاہے۔

چھٹی وجہ تکفیر بیان کردہ گواہان مدعیہ کا مدعاعلیہ کی طرف سے یہ جواب دیاگیا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ تمام امت محمدیہ مشرک ہے۔ بلکہ جس عبارت کا حوالہ گواہان مدعیہ کی طرف سے دیا جا کر یہ نتیجہ نکالا گیاہے۔ اس کے ساتھ ہی مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ پہلے مسلمانوں سے یہ قول غلطی سے صادر ہواہے اور وہ لوگ خدا کے نزدیک معذور ہیں۔ کیونکہ انہوں نے عمداً غلطی نہیں کی اور انہوں نے حیات مسیح کے عقیدہ کو مبداء شرک یا منجر الی الشرک قرار دیاہے اور اس کو شرک عظیم کہنا باعتبار مایٔول الیہ کے ہے اور اس امر کو حق بلاغت میں مجاز مرسل سے شمار کیا گیاہے۔ اس ضمن میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ درج کیا جاتاہے کہ حیات عیسیٰ کے مسئلہ پرفریقین کوبحث کرنے سے روک دیا گیاہے۔ کیونکہ ان جس قسم کی حیات کے تمام مسلمان قائل ہیں وہ ادراک انسانی سے باہر ہے۔ اس لئے اسے امر واقع کے طور پر ثابت کرنا ایک لاحاصل سعی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ قرآن مجید کی رو سے اس ظاہر زندگی کے علاوہ ایک اور قسم کی زندگی بھی ہے جس کو انسانی فہم اور عقل احاطہ نہیں کرسکتے۔ جیسا کہ شہداء کے متعلق بیان کیاگیاہے کہ وہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور اس کے ہاں انہیں رزق ملتاہے۔ ملاحظہ ہو آیت: ’’لاتحسبن الذین قتلوا… من فضلہ (آل عمران:۱۶۹)‘‘

مدّعیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے ایک لفظ ذریۃ البغایا استعمال کرکے تمام مسلمانوں کو ولدا لزنا قرار دیاہے۔ اس کا جواب مدعاعلیہ کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ ذریۃ البغایا کے معنی وہ نہیں جو فریق مخالف نے لئے ہیں۔ کیونکہ ان معنوں کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ظاہر میں اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ ہدایت سے دور اور ناشائستہ آدمی جن کی حالت یہ ہے ان کے دلوں پر مہریں ہیں وہ انہیں قبول نہ کریں گے یا یہ کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو لوگوں کا پیشواء اور امام سمجھتے ہیں۔ یعنی مولوی لوگ جو کفر کے فتویٰ لے کر شہر بشہر پھرتے ہیں۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ بغایا کے معنی ہر اوّل کے بھی ہوتے ہیں۔ نیز بغایا مطلق عورتوں کو بھی کہتے ہیں چاہے وہ فاجر ہوں یا نہ ہوں۔ لیکن اس پر بھی زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔ اس لفظ کے استعمال اور طرز خطاب سے سمجھا جاسکتاہے کہ وہاں اس لفظ سے کیا مراد ہے۔

مرزا صاحب اپنے مکذبین اور منکرین کو کافر کہنے سے مدعیہ کی طرف جو انہیں کا فر کہا گیا ہے۔ اس کے متعلق مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیاہے کہ مرزا صاحب اپنے نہ ماننے والوں کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ جو شخص انہیں نہیں مانتا وہ انہیں مفتری قرار دے کر نہیں مانتا۔ اس لئے ان کی تکفیر کی وجہ سے وہ خود کافر بنتاہے۔ لیکن یہ کوئی معقول جواب نہیں۔ کیونکہ ایک شخص اگر واقعہ میں کافر ہو تو اسے کیوںکافر نہ کہا جائے۔ اس طرح تو کسی پر بھی کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا۔ کیونکہ اسے کافر کہنے والا خود کافر ہوجائے گا۔ مرزا صاحب کے سچے یا جھوٹے نبی ہونے کے متعلق اوپر بحث کی جاچکی ہے۔ لہٰذا ان دلائل کی رو سے اگر کوئی شخص ان کو کافر کہتاہے تو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خود پھر کیونکر کافر ہوجائے گا اور اگر بالفرض محال یہ رائے درست بھی ہو، تو پھر صرف ان لوگوں کو کافر کہنا چاہئے جو مرزا صاحب کو کاذب یا کافر کہیں جو ان کی نہ تکذیب کرتے ہیں ور نہ تکفیر انہیں کیوں کافر کہا جاتاہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ انہیں کافر کہنے کی یہ وجہ نہیں کہ وہ مرزا صاحب کو مفتری جان کر کافر کہتے ہیں۔ بلکہ اس کی وجہ خود مرزا صاحب نے اپنی کتاب (فتاویٰ احمدیہ ج اوّل،ص۲۷۰) پر یہ بیان کی ہے کہ’’کسی کا کوئی عمل میرے دعویٰ اور دلیلوں اور میرے پہنچاننے کے بغیر مفید نہیں ہوسکتا۔‘‘ پھر آگے اس کتاب کے (ص۲۷۱اور۳۰۸) پر لکھتے ہیں کہ: ’’بہرحال حکم خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ایک شخص کو جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘ ان عبارات سے صاف اخذ ہوتاہے کہ جو شخص مرزا صاحب کو نہیں مانتا خواہ ان کو کافر کہے یا نہ کہے وہ

533

مسلمان نہیں اور اس کا کوئی عمل بارہ گاہ الٰہی میں قبول نہیں ہے۔ مدعاعلیہ کے گواہان نے ریاست ہذا کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے اور یہ دکھلانے کے لئے کہ گواہان مدعیہ نے مرزا صاحب اور ان کے متبعین کے خلاف فتویٰ تکفیر محض اپنے بغض اور عناد کی بناء پر اور اپنے بزرگان کے اقتدار کا خوگر ہونے کی وجہ سے دیا ہے۔ ورنہ دراصل مرزا صاحب ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہیں ہیں۔ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کہ جن کا نہ صرف ریاست بہاولپور کا ایک حصہ معتقد اور مرید ہے۔ بلکہ جن کے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی بکثرت مرید پائے جاتے ہیں کہ ایک کتاب اشارات فریدی سے یہ دکھلایاہے کہ ان کے نزدیک مرزا صاحب کسی عقیدہ اہل سنت والجماعت اور ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہیں پائے جاتے، بلکہ آپ ان کے متعلق یہ لکھتے ہیں کہ وہ اپنے تمام اوقات خداتعالیٰ کی عبارت میں گزارتے ہیں اور حمایت دین پر کمر بستہ ہیں اور کہ علماء وقت تمام مذاہب باطلہ کو چھوڑ کر اس نیک آدمی کے پیچھے پڑ گئے ہیں جو اہل سنت والجماعت میں سے ہے اور صراط مستقیم پر قائم ہے۔

اور خواجہ صاحب کی اس تحریر پر بڑی شرح اوربسط سے بحث کی جاکر یہ دکھلایا گیا ہے کہ یہ الفاظ خواجہ صاحب کے اپنے ہی ہیں اور انہوں نے مرزا صاحب کی کتابیں دیکھنے کے بعد یہ رائے قائم کی تھی۔ مدعیہ کی طرف سے بھی اس کا مفصل جواب دیاگیاہے اور یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب کی جو کتابیں خواجہ صاحب نے اس وقت تک دیکھیں تھیں۔ ان میں مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت درج نہ تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب کی ایک تحریر سے جو آپ کی کتاب (انجام آتھم ص۳۶، خزائن ج۱۱ ص۳۲۰) پر درج ہے پایا جاتاہے کہ حضرت خواجہ صاحب بھی بعد میں مرزا صاحب کے مکفر اور مکذب ہو گئے تھے۔ مرزا صاحب اس تحریر میں لکھتے ہیں کہ اب ہم ان مولوی صاحبان کے نام ذیل میں لکھتے ہیں کہ جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں۔ مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر اور مکذب ہیں اور اس کے ساتھ مرزا صاحب نے ہر دو گروہوں کی فہرستیں دی ہیں۔ اس فرست میں میاں غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں علاقہ بہاولپور کانام بھی درج ہے۔

فریقین کی ان بحث ہائے کو مدنظر رکھتے ہوئے حسب ذیل نتائج اخذہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک مقدس اور نیک لوگوں کے گروں کانام صوفیاء ہے۔ ان صوفیاء کرام کو ذکر الٰہی عبادت اور ریاضت سے جو ذوق اور حظ حاصل ہوتاہے۔ اس میں ان پر تجلیات الٰہی وارد ہوتی ہیں اور ان کے قلب کی کچھ اس قسم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ جس سے وہ کچھ غیب کی خبروں پر مطلع ہوجاتے ہیں۔ اس کو وہ الہام یا کشف کہتے ہیں اور بعض صوفیائے کرام نے اسے مجازی طور پر وحی سے بھی تعبیر کیا ہے۔ یہ لوگ اپنے نبی کی تعلیم کے تحت عمل پیرا ہوتے ہیں۔ نبی مامور من اللہ ہوتاہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے براہ راست غیب کی خبروں کی اطلاع دی جاتی رہتی ہے اور اسے حکم ہوتاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچائے۔ انہیں قیامت کے دن سے ڈرائے اور آئندہ زندگی کے حالات سے مطلع کرے اور جس ذریعہ سے انہیں یہ اطلاع ہوتی ہے۔ اسے وحی کہا جاتاہے اور وحی کی یہ اصطلاح انبیاء کے لئے ہی مختص ہے۔ دوسری جگہ اگر یہ لفظ استعمال کیا جاتاہے کہ تو اس سے مجازی یا لغوی معنی لئے جاتے ہیں۔ انبیاء کو یہ وحی تین طریق پر ہوتی ہے یا تو اللہ تعالیٰ کوئی بات کسی نبی کے دل میں ڈال دیتاہے یا فرشتوں میں سے کوئی قاصد بھیج کر اس کے ذریعہ مطلع فرماتاہے یا پس پردہ خود کلام فرماتاہے۔ یہ وحی چونکہ دخل شیطانی سے منزہ ہوتی ہے۔ اس لئے اسے قطعی سمجھا جاتاہے اور اس کا نہ ماننا کفر ہے۔ اولیاء کا الہام یا کشف گو دخل شیطانی سے پاک بھی ہو، تاہم نہ وہ قطعی ہوتاہے اور نہ ہی دوسروں پر کوئی حجت ہوتاہے۔ بلکہ الہام اور کشف کے ذریعہ قرآن مجید کے معارف اور اسرار سمجھائے جاتے ہیں اور اس سلسلہ میں بعض اکابر صوفیائے کرام پر آیات قرآنی کا نزول بھی ہوتاہے۔ ان آیات کو وہ اپنے اوپر چسپاں نہیں کرتے، بلکہ جیسے کسی

534

سیاح کو دوران سیاحت میں اعلیٰ مقامات دکھلائے جائیں، اس طرح ان کو اعلیٰ مراتب روحانی کی سیر کرائی جاتی ہے۔

معلوم ہوتاہے کہ مرزا صاحب جب اس میدان میں گامزن ہوئے اور ان پر مکاشفات کا سلسلہ جاری ہونے لگا تو وہ اپنے آپ کو نہ سنبھال سکے اور صوفیائے کرام کی کتابوں میں وحی اور نبوت کے الفاظ موجود پا کر انہوں نے سابقہ اولیاء اللہ سے اپنا مرتبہ بلند دکھلانے کی خاطر اپنے لئے نبوت کی ایک اصطلاح تجویز فرمائی۔ جب لوگ یہ لفظ سن کر چونکنے لگے تو انہوں نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کرنا چاہا کہ تم گھبراتے کیوں ہو۔ آنحضرتﷺ کے اتباع سے جس مکالمہ اور مخاطبہ کے تم لوگ قائل ہو میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ یہ صرف لفظی نزاع ہے۔ سو ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کوئی اصطلاح مقرر کرے۔ گویا انہوں نے نبی کے لفظ کو برعکس اس کی اصل اور عام فہم مراد کے یہاں اصطلاحی طور پر کثرت مکالمہ اور مخاطبہ پر حاوی کیا اور یہ اصطلاح بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کی۔ اس کے بعد معلوم ہوتاہے کہ جب وہ اس لفظ کا استعمال کثرت سے اپنے متعلق کرنے لگے تو لوگ پھر چونکے۔ اس پر انہوں نے پھر یہ کہہ کہ انہیں خاموش کیا کہ میں کوئی اصلی نبی تو نہیں، بلکہ اس معنی میں کہ میں نے تمام کمال آنحضرتﷺ کے اتباع اور فیض سے حاصل کیاہے۔ ظلی اور بروزی نبی ہوں اور اس کے بعد انہوں نے ان آیات قرآنی کو جو شاید کسی اچھے وقت میں ان پر نازل ہوئی تھیں، اپنے اوپر چسپاں کرنا شروع کردیا اور شدہ شدہ تشریعی نبوت کے دعویٰ کا اظہار کردیا۔ لیکن صریح آیات قرآنی اور احادیث اور اقوال بزرگان سے جب انہیں اس میں کامیابی نظر نہ آئی تو انہوں نے اس دعویٰ کو ترک کرکے اپنا مقر نزول عیسیٰm کی احادیث میں جاتلاش کیا اور عیسیٰm کی وفات کو بذریعہ وحی ثابت کرکے یہ دکھلایا کہ ان احادیث کا اصل مفہوم یہ ہے کہ حضورa کی امت میں کسی شخص کو نبوت کا درجہ عطاء کیا جائے گا۔ نہ یہ کہ حضرت مسیح ناصری واپس آئیں گے۔ مدعاعلیہ کے ایک گواہ کے بیان سے یہ اخذ ہوتاہے اور نامعلوم اس نے بطور خود یا مرزا صاحب کی کسی تحریر کی رو سے یہ بیان دیا ہے کہ احادیث میں جو عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی خبر آئی ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ سے ایک اجتہادی غلطی ہوگئی ہے۔ چنانچہ وہ کہتاہے کہ بعض پیش گوئیاں ایسی ہوتی ہیں جو آئندہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن حقیقت ان کے ظہور کے وقت نمایاں ہوتی ہے اور اجتہادی غلطی پیش گوئیوں کے سمجھنے میں یعنی کیفیت تحقّق وقوع کے لحاظ سے ہر نبی سے ممکن ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی، اس کی مثال اس نے بخاری کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر یہ دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رؤیاء کی بناء پر یہ سمجھا کہ وہ حجر یمامہ کی طرف ہجرت فرمائیں گے۔ لیکن آپ جس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کرکے تشریف لے گئے تو اس وقت آپ پر اس پیش گوئی کی حقیقت کھلی کہ اس سے مراد مدینہ تھا اور کہ جب نبی سے اجتہادی غلطی ممکن ہوئی پیش گوئی کے پورا ہونے کے وقت اصل حقیقت پیش گوئی کی منکشف ہوجائے گی اور کہ امتی کو پیش گوئی کے تحقّق وقوع کا علم ہوجاتاہے۔ غرض مرزا صاحب نے سابقہ مراحل سے گزرنے کے بعد بڑھ چڑھ کر اپنے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ کا اظہار شروع کردیا اور نبوت کو پھر ایک ایسا گورکھ دھندہ بنا دیا کہ جو نہ تو لوگوں کی سمجھ میں آسکاہے اور نہ ہی ان کے اپنے متبعین جیسا کہ اوپر دکھلایا جاچکاہے۔ ان کے مرتبہ کو بخوبی سمجھ سکے ہیں۔ بلکہ خود خدا کو بھی نعوذب اللہ ! ان کے نبی بنانےمیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ جب خداوندتعالیٰ نے یہ محسوس فرمایا کہ نعوذب اللہ ! اس کے حبیب سے ایک اجتہادی غلطی ہوگئی ہے۔ اب ان کی آن رکھنے کے لئے اور مرزا صاحب کو نبوت کا مرتبہ عطاء فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بقول مرزا صاحب پہلے تو ان تمام پیش گوئیوں کو جو قرآن میں حضرت عیسیٰm کے متعلق تھیں۔ مرزا صاحب کی طرف پھیر دیا اور پھر انہیں کبھی مریمp بنایا اور کبھی عیسیٰm اور اس کے بعد بارش کی طرح وحی کرکے یہ جتلایا کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہوچکے ہیں۔ اب تم بلا خوف وخطر نبی ہونے کا دعویٰ کردو اور جہاں پہلے وہ’’فاستمع لما یوحی‘‘ اور’’یا ایہا المدثر قم فانذر‘‘کی تحکمانہ وحی کے ذریعہ سے نبیوں کو چوکنا کرکے اپنی طرف سے مامور فرمایا کرتاتھا۔ وہاں مرزا صاحب کے لئے اسے نعوذب اللہ ! مختلف حیل اختیار کرنے پڑے۔ مرزا صاحب کے اس طرز عمل سے نبی بننے سے یہ

535

بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نبوت کے عہدے ختم ہوچکے تھے۔ کیونکہ اس نے پہلے تو مرزا صاحب کے لئے نبوت کی اصطلاح تجویز فرمائی۔ پھر وہ جب اس سے خوش نہ ہوئے تو ان کو نبی کا خطاب عطاء فرمایا دیا۔ جیسا کہ نواب اور راجہ کے خطابات گورنمنٹ سے ان لوگوں کوبھی عطاء فرمائے جاتے ہیں جو صاحب ریاست نہ ہوں۔ لیکن جب مرزا صاحب کی اس سے بھی تشفی نہ ہوئی باوجودیکہ اللہ تعالیٰ انہیں یا ولدی بھی فرماچکاتھا اور اس خیال سے کہ رسول اللہ ﷺ کو چونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خاتم النّبیین کہہ چکاتھا، وہ بھی کسی دوسرے نبی کے بننے سے خفاء نہ ہوں۔ مرزا صاحب کو آپ کا ظل بنا دیا گیا اور آخر کار جب ان کی خوشی نبی بننے میں ہی دیکھی اور یہ بھی خیال آیا کہ حضرت عیسیٰm کو آخر زمانہ میں بھجوانے کا وعدہ ہوچکاہے تو انہیں مار کر مرزا صاحب کو نبی بنا دیا گیا۔ استغفر اللہ !

گواہ مدعاعلیہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی سے بھی اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے تو پھر اس کا کیا اعتبار ہے کہ مرزا صاحب سے یہ غلطی نہ ہوئی ہوگی۔ خصوصاً جب کہ مرزا صاحب رسول اللہ ﷺ کے ظل بھی ہیں۔ غیر اغلب ہے کہ اصل کی فطرت ظل کی فطرت پر اثر انداز نہ ہوئی ہو اور علاوہ ازیں مرزا صاحب اپنے اقرار کے مطابق آنحضرتﷺ سے زیادہ ذکی بھی نہیں پائے جاتے۔ کیونکہ خداوندتعالیٰ کی کئی سال کے متواتر وحی کے بعد انہوں نے یہ جا کر سمجھا کہ وہ نبی ہوچکے۔ اس لئے ممکن ہے کہ انہوں نے وحی الٰہی کا مفہوم غلط سمجھ کر دعویٰ نبوت کر دیا ہو۔ مرزا صاحب کی اپنی تصریحات سے یہ پایا جاتاہے کہ انہیں امتی ہونے کے وقت نزول مسیح کے متعلق وقوع کا علم نہیں ہوا، بلکہ جب ان کو نبوت کا خطاب مل چکا۔ اس کے بعد انہیں یہ جتلایا گیا کہ مسیح ناصری فوت ہوچکے ہیں۔ اس لئے مدعاعلیہ کے گواہ کا یہ کہنا کہ امتی کو وقوع کے وقت تحقّق وقوع کا علم ہوجاتاہے۔ مرزا صاحب کی اپنی تصریحات سے باطل ہوجاتاہے۔ گواہ مذکور نے رسول اللہ ﷺ کی جس حدیث کا حوالہ دے کر یہ کہا ہے، آپ سے اجتہادی غلطی کا وقوع ممکن ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے ہجرت کے وقت کوئی غلطی فرمائی۔ گواہ مذکور کی یہ حجت اس وقت صحیح ہوتی کہ جب آپ بجائے مدینہ کے حجر یمامہ کی طرف تشریف لے جاتے اور پھر وہاں سے مدینہ عالیہ کی طرف لوٹتے۔ وہاں جانے کے متعلق آپ کا صرف ایک خیال تھا جو وقوع میں نہ آیا اور اس رؤیا پر عمل اس طرح ہوا جس طرح مشیت ایزدی میں مقدر تھا۔ خود اس مثال سے یہ اخذ ہوتاہے کہ اگر نبی کو کسی طرح غلط فہمی ہوبھی جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے فوراً رفع کردیا جاتاہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ صدیوں تک وہ غلطی چلی جائے اور نہ خود نبی پر اور نہ اس کے کامل متبعین پر اس کا افشاء ہو۔ اس لئے یہ کہنا بڑی دیدہ دلیری ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نزول عیسیٰm کی پیش گوئی بیان کرنے میں اجتہادی غلطی ہوئی ہے۔

معلوم ہوتاہے کہ مرزا صاحب نے پھر اخیر عمر میں جا کر اپنے دعویٰ کی غلطی کو محسوس کیا اور پھر اصطلاحی نبوت کو ہی جا کر قائم کیا۔ جس سے انہوں نے اپنے دعویٰ کی ابتداء شروع کی تھی۔ جیسا کہ ان کے اس خط سے جو انہوں نے وفات سے دو تین یوم قبل اخبار عام کے ایڈیٹر کے نام لکھا تھا، ظاہر ہوتاہے۔ اس میں درج ہے کہ سو میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتاہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پاکر بکثرت پیش گوئی کرنے والاان تمام واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے بجا طور یہ کہا ہے کہ مرزا صاحب کی کتابیں دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہوجاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چندہی مسائل کا تکرار اور دور ہے۔ ایک ہی مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تفاوت اور تعارض پایا جاتاہے اور خود مرزا صاحب کی ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے کہ جس سے نتیجہ گڑ بڑ ہے اور ان کو بوقت ضرورت مخلصی اور مفر باقی رہے۔ چنانچہ کہیں وہ تو ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنی کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں ایسے عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰm کے نزول کو تمام امت محمدیہ کے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔

536

ختم نبوت کا عقیدہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکاہے۔ اسلام کے اہم اور بنیادی مسائل میں سے ہے اور خاتم النّبیین کے جو معنی مدعا علیہ کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں آیات قرآنی اور احادیث صحیح سے اس کی تائید نہیں ہوتی بلکہ اس کے صحیح معنی وہی ہیں جو گواہان مدعیہ نے بیان کئے ہیں۔ مدعاعلیہ کی طرف سے اس ضمن میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ حدیث ہے کہ قرآن شریف کی ہر آیت کے ایک ظاہری معنی ہیں اور ایک باطنی اور کہ تاویل کرنے والے کو کافر نہیں سمجھا گیا۔ اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے یہ دیا ہے کہ یہ حدیث قوی نہیں اور باوجود قوی نہ ہونے کے اس کی مراد میرے نزدیک صحیح ہے۔ اس حدیث میں لفظ بطن سے تو جو کچھ رسول اللہ ﷺ کے دل میں تھا وہ سب منکشف نہیں ہے۔ مجملاً ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن کی مراد وہ ہے کہ قواعد لغت اور عربیت سے اور ادّلہ شریعت سے علماء شریعت سمجھ لیں اور اس کے تحت میں قسمیں ہیں اور بطن سے یہ مراد ہے کہ حق تعالیٰ اپنے ممتاز بندوں کو ان حقائق سے سرفراز کردے اور بہتوں سے وہ خفی رہ جائیں۔ لیکن ایسا کوئی بطن جو مخالف ظاہر کے ہو اور قواعد شریعت رد کرتے ہوں، مقبول نہ ہوگا اور رد کیا جائے گا اور بعض اوقات باطنیت اور الحاد کی حد تک پہنچا دے گا۔ حاصل یہ ہے کہ ہم مکلف فرمانبردار بندے اپنے مقدور کے موافق ظاہر کی خدمت کریں اور بطن کو سپرد کریں خدا کے۔ تاویل کے متعلق ان کا یہ جواب ہے کہ اخبار احاد کی تاویل اگر کوئی شخص قواعد کے مطابق کرے تو اس کے قائل کو بدعتی نہیں کہیں گے۔ اگر قواعد کی رو سے صحیح نہیں تو وہ خاطی ہے۔ آیات قرآنی متواتر ہیں اور قرآن وحدیث جو نبی کریم سے ہم تک پہنچا اس کی دو جانبین ہیں۔ ایک ثبوت کی، دوسری دلالت کی ثبوت قرآن کا متواترہے۔ اس تواتر کا اگر کوئی انکار کرے تو پھر قرآن کے ثبوت کی اس کے پاس کوئی صورت نہیں اور ایسا ہی جو شخص تواتر کی صحت کا انکار کرے۔ اس نے دین ڈھا دیا۔ دوسری جانب دلالت ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ مطلب پر رہنمائی کرنا۔ دلالت قرآن کی کبھی قطعی ہوتی ہے اور کبھی ظنی۔ اگر اجماع ہوجائے صحابہ کا اس کی دلالت پر یا کوئی اور دلیل عقلی یا نقلی قائم ہوجائے کہ مدلول یہی ہے تو پھر وہ دلالت بھی قطعی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن سارا ’’بسم اللہ ‘‘ سے لے کر ’’والناس‘‘ تک قطعی الثبوت ہے۔ دلالت میں کہیں ظنیت ہے اور کہیں قطعیت لیکن قرآئن کے معنی سے دلالت بھی قطعی ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں تاویل اوامر ونواہی میں ہوسکتی ہے۔ اخبار میں نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ مدعیہ کے گواہ مولوی نجم الدین صاحب نے بیان کیا ہے، اس بحث سے یہ اخذ ہوتاہے کہ آیت خاتم النّبیین قطعی الدلالت ہے اور اس کے بطن کے معنی ایسے نہیں ہوسکتے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی سمجھنے کے منافی ہوں اور چونکہ یہ اجماعی عقیدہ ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا معنی سے انکار کفرہے۔ مدعاعلیہ کی طرف سے جو یہ کہا گیا ہے کہ تاویل کرنے والے کو کافر نہیں سمجھاگیا اور جن مسائل کی بناء پر اس نے ایسا کہاہے۔ وہ اس قبیل کے نہیں۔ جیسا کہ مسئلہ ختم نبوت۔ لہٰذا یہ قرار دیا جاتاہے کہ خاتم النّبیین کے جو معنی مدعیہ کی طرف سے کئے گئے ہیں اور اس معنی کے تحت جو عقیدہ ظاہر کیا گیاہے۔ اس عقیدہ سے انحراف وارتدد کی حد تک پہنچا ہے اور کہ آنحضرتﷺ کے بعد عہدہ نبوت اور وحی نبوت منقطع ہوچکے ہیں۔ مرزا صاحب صحیح اسلامی عقائد کی رو سے نبی نہیں ہوسکتے اور ان کے نبی نہ ہونے کی تائید میں ایک یہ امر بھی ہے کہ ان کے متبعین میں سے ایک گروہ جو لاہوری کہلاتے ہیں، انہیں نبی تسلیم نہیں کرتے۔ لہٰذا ان کے مخالف جملہ فرقوں کے نزدیک اور ان کے ایک موافق فرقہ کی رائے میں رسول اللہ ﷺ کا خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی ہونا ثابت ہے۔ اس لئے مرزا صاحب کی نبوت کا دعویٰ کسی حالت میں بھی درست نہیں۔ ظلی اور بروزی نبی اگر آنحضرتﷺ کے کمال اتباع سے ہونے ممکن ہوتے تو اس قسم کے نبی مرزا صاحب کے آنے سے قبل کئی آچکے ہوتے۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب کو درجہ کمال بھی اس وقت حاصل ہوسکتا تھا کہ اس قسم کے اور کئی نبی پیدا ہوچکے ہوتے۔ کیونکہ ہر جنس کا کمال اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے اور ناقص افراد موجود ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی لئے افضل انبیاء ہیں کہ سلسلہ رسالت اور نبوت میں دیگر انبیاء منسلک ہیں۔ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خاتم الاولیاء ظاہر کرکے یہ بیان کیا ہے کہ وہ ولایت ختم کرچکے۔ لیکن اس سے وہ ولی ہی شمار ہوں گے۔ نبی نہیں سمجھے جائیں گے۔ حضورa کے افاضہ روحانی سے اگر نبوت مل سکتی ہے تو ضرور ہے کہ ان سے قبل ایسے

537

نبی آتے کہ جن کے بعد انہیں درجہ کمال حاصل ہوتا۔ مدعیہ کی طرف سے یہ درست کہا گہاہے کہ ظلی اور بروزی کی اصطلاحیں دراصل الفاظ ہیں۔ ورنہ دراصل مرزا صاحب کی مراد اس سے اصل نبوت سے ہے۔ جیسا کہ اس کی تشریح بعد میں ان کے خلیفہ ثانی نے کی کچھ شک نہیں کہ یہ الفاظ مغالطہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی شرع میں اس قسم کے الفاظ پر کسی عقیدہ کا حصر ہے۔ مرزا صاحب نے یہ بیان کرکے کہ اس قسم کی نبوت قیامت تک جاری ہے، اسلام میں ایک فتنہ کی بنا ڈالی ہے اور ناممکن نہیں کہ ان کے بعد کوئی اور شخص دعویٰ نبوت کرے۔ ان کی کارگزاری کو بھی ملیا میٹ کردے۔ اس طرح مذہب سے امان اٹھ جائے گی اور سوائے اس کے وہ ایک کھیل اور تمسخر بن جائے، اس کی کوئی حقیقت بحیثیت دین کے قائم نہ رہے گی۔ اس لئے بھی رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ماننا علاوہ عقائد صحیح میں سے ہونے کے از بس ضروری ہے۔ مرزا صاحب رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔ اس لئے ان کا اسلام کے اس بنیادی مسئلہ سے انکار کفر کی حد تک پہنچاہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر عقائد بھی ان عقائد کے مطابق نہیں پائے جاتے جس کی آج تک امت مرحومہ پابند چلی آئی ہے۔ خداکا تصور اس نے تیندوے سے تشبیہ دے کر ایسا پیش کیا ہے کہ جو سراسر نص قرآنی کے خلاف ہے اور اس طرح یہ بیان کرکے کہ خدا خطاء بھی کرتاہے اور صواب بھی اور روزے بھی رکھتا ہے اور نماز پڑھتاہے۔ انہوں نے ایک ایسے عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ جو سراسر نصوص قرآنی کے خلاف ہے۔ انہوں نے آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کیاہے۔ جیسا کہ ایک آیت: ’’ہو الذی ارسل رسولہ… الخ!‘‘کے متعلق انہوں نے یہ کہا ہے کہ اس میں میراذکر ہے اور دوسرے الہام با لفاظ محمد رسول اللہ بیان کرکے یہ کہا ہے اس میں میرا نام محمد رکھاگیاہے اور رسول بھی۔ اس طرح اور کئی ایسی تصریحیں ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ وہ آیات قرآنی کو اپنے اوپر چسپاں کرتے تھے۔ اس سے بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین کا نتیجہ درست اخذ کیاگیا۔

اس طرح ان کے بعض اقوال سے حضرت عیسیٰm کی بھی توہین ظاہر ہوتی ہے اور حضرت مریم کی شان میں مرزا صاحب نے جو کچھ کہا ہے اور جن کا حوالہ شیخ الجامعہ صاحب گواہ مدعیہ کے بیان میں ہے اور جس کا مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیاگیا۔ اس سے قرآن شریف کی صریح آیات کی تکذیب ہوتی ہے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن سے سوائے مرزا صاحب کو کافر قرار دینے اور کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوتا۔

مدعاعلیہ کی طرف سے مرزا صاحب کی بعض کتب کے حوالے دئیے جاکر یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ اس کا جواب سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے خوب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیںکہ جب ایک جگہ کلمات توہین ثابت ہوگئے تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثناء خوانی بھی کی ہو تو وہ کفر سے نجات نہیں دلاسکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلمہ اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کا اتباع اور اطاعت گزاری کرے اور مدح وثناء کرتا رہے۔ لیکن کبھی کبھی اس کی سخت توہین بھی کردے تو کوئی انسان اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔

مدعاعلیہ کی طرف سے دیگر صوفیائے کرام کے بعض ایسے اقوال جو مرزا صاحب کے بعض اقوال کے مشابہ ہیں، بیان کئے جاکر یہ کہا گیا ہے کہ ان اقوال کی بناء پر پھر ان بزرگان کو کیونکر مسلمان سمجھا جاتاہے۔ اس کا جواب بالفاظ سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ درج کیا جاتاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اولیاء اللہ کو ان کی طہارت تقویٰ اور تقدس کی خبریں سن کر اور ان کے شواہد افعال و اعمال اور اخلاق سے تائید پاکر ولی مقبول تسلیم کرلیاہے اور قرائن اور نشانیوں سے جو خارج معبوث عنہ سے ہوں۔ یعنی انہی شطحیات سے ان کی ولایت ثابت نہ کرتی ہو۔ بلکہ ولایت کو ان کی خارج سے پأیہ ثبوت کو پہنچی ہو جو طریقہ ثبوت کا ہے۔ اس کے بعد کہ ہم نے کسی کی ولایت تسلیم کی اور ہم اس تسلیم میں صواب پر تھے تو اس کے بعد اگر کوئی کلمہ مغائر یا موہم ہمارے سامنے پڑتاہے تو ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی توجیہہ کریں اور محل نکالیں اور یہ کہ اس کا ٹھکانہ کیاہے۔ شطحیات کو ہی پہلے پیش کرنا اور اس پر دلالت کا جھمگٹ جمانا نافہم اور جاہل کاکام ہے۔ کسی شخص کی

538

راست بازی اگر جداگانہ تجارب سے اور جو طریقہ راست بازی ثابت کرنے کا ہے۔ ثابت ہوئی ہو تو پھر اگر کوئی کلمہ موہم اور مغالطہ میں ڈالنے والا اس کا سامنے آگیاتو منصف طبیعتوں کے ذہن اس کی توضیح کریں گے اور عمل نکالیں گے۔ یہ عاقل کا کام نہیں ہے کہ راست بازی کسی کی ثابت ہونے سے پیشتر وہی کلمات مغالطہ پیش کرکے مسلم الثبوت مقبولوں پر قیاس کرے اور کہے کہ فلاں نے ایسا کیا۔ فلاں نے ایسا کیا۔ اس کا جواب مختصر یہ ہوگا کہ فلاں کی راست بازی جدا گانہ اگر ہمیں کسی طریقہ اور دلیل سے معلوم ہے تو ہم محتاج توجیہہ ہوں گے اور اگر زیر بحث یہی کلمات ہیں اور اس سے پیشتر کچھ سامان خیر کا ہے ہی نہیں تو ہم یہ کھوٹی پونجی اس کے منہ پر ماریں گے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ علماء نے یہ کہا ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں اور کہ جو ’’لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘‘کہے اس کو بھی کافر کہنا درست نہیں۔ وغیرہ وغیرہ! ان شبہات کا جواب بھی شاہ صاحب گواہ مدعیہ نے خود دیاہے جو انہی کے الفاظ میں درج کیا جاتاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں بے علمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے۔ کیونکہ حسب تصریح و اتفاق علماء اہل قبلہ کے یہ معنی ہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے۔ چاہے سارے عقائد اسلام کاا نکار ہی کرے۔ قرآن مجید میں منافقین کو عام کفار سے زیادہ کافر ٹھہرایا گیاہے۔ حالانکہ وہ فقط قبلہ ہی کی طرف منہ ہی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ تمام ظاہری احکام اسلام اداکرتے تھے۔ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے کہ اتفاق کیا ضروریات دین پر اور یہ جو مسئلہ ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر نہیں، اس کی مراد یہ ہے کہ کافر نہیں ہوگا۔ جب تک کہ نشانی کفر کی اور علامتیں کفر کی اور کوئی چیز موجبات کفر میں سے نہ پائی گئی ہو۔

دوسرا شبہ یہ کہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تمام ارکان اسلام کے پابند اور تبلیغ اسلام میں کوشش کرنے والے ہیں، پھر ان کو کیسے کافر کہا جائے۔

اس کے جواب میں انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اس حدیث میںیہ تصریح ہے کہ یہ قوم جس کے متعلق آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ دین اسلام سے صاف نکل جائے گی اور ان کے قتل کرنے میں بڑا ثواب ہے۔ یہ لوگ نماز، روزے کے پابند ہوں گے۔ بلکہ ظاہری خشوع اور خضوع کی کیفیات بھی ایسی ہوں گی کہ ان کے نماز، روزے کے مقابلے میں مسلمان اپنے روزے کو بھی ہیچ سمجھیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب کہ بعض ضروریات دین کا انکار ان سے ثابت ہوا تو ان کی نماز، روزہ وغیرہ ان کو حکم کفر سے رہا نہ کرسکی۔

تیسرا شبہ یہ ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ فقہاء نے ایسے شخص کو مسلمان ہی کہا ہے جس کی کلام میں ۹۹ وجہ کفر کی موجود ہو اور صرف ایک وجہ اسلام کی، اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا منشاء بھی یہی ہے کہ بعض فقہاء کے الفاظ دیکھ لئے گئے اور اس کے معنی سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور ان کے وہ اقوال دیکھے جن میں صراحتاً بیان کیا گیا ہے کہ یہ حکم اپنے عموم پر نہیں، بلکہ اس وقت ہے جب کہ قائل کا صرف ایک کلام میں مفتی کے سامنے آئے اور قائل کا دوسرا حال معلوم نہ ہو اور نہ اس کے کلام میں کوئی ایسی تصریح ہو جس سے معنی کفر متعین ہوجائے تو ایسی حالت میں مفتی کا فرض ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط برتے اور اگر کوئی خفیف سے خفیف احتمال ایسا نکل سکے۔ جس کی بناء پر یہ کلام کلمہ کفر سے بچ جائے تو اس احتمال کو اختیار کرلے اور اس شخص کو کافر نہ کہے۔ لیکن اگر ایک شخص کا یہی کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات والفاظ مختلف موجود ہو جس کو دیکھ کر یہ یقین ہوجائے کہ یہی معنی معنی کفری مراد لیتاہے یا خود اپنے کلام میں معنی کفری کی تصریح کردے تو باجماع فقہاء اس کو ہر گز مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ قطعی طور پر ایسے شخص پر کفر کا حکم لگایا جائے گا۔

چوتھا شبہ یہ ہے کہ اگر کوئی کلمۂ کفر کسی تاویل کے ساتھ کہا جائے تو کفر کا حکم نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بھی تصریحات فقہاء سے ناواقفیت کا رکن ہے۔ حضرات فقہاء اور متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل اس کلام اور اس چیز میں مانع تکفیر ہوتی ہے جو ضروریات دین میں سے نہ ہو۔ لیکن ضروریات دین میں اگر کوئی تاویل کرے اور

539

اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی نیا معنی تراشے تو بلا شبہ اس کو کافر کہا جائے گا۔ اسے قرآن مجید نے الحاد اور حدیث نے اس کانام زندیق رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں جو مذہبی لٹریچر بدلے، یعنی الفاظ کی حقیقت بدل دے۔ مرزا صاحب نے جیسا کہ اوپر دکھلایا جا چکا ہے۔ بہت سے اسلامی عقائد کے حقائق بدل دئیے ہیں۔ گو ان کے الفاظ وہی رہنے دئیے ہیں۔ اس لئے ان کو حسب تصریحات مذکورہ بالا کافر ہی قرار دینا پڑے گا اور ان عقائد کے تحت ان کا اتباع کرنے والا بھی اس طرح ہی کافر سمجھا جائے گا۔

مدعاعلیہ کی طرف سے گواہان مدعیہ پر ایک یہ اعتراض بھی وارد کیا گیا ہے کہ وہ دیوبندی عقائد سے تعلق رکھنے والے ہیں اور علماء دیوبند کے خلاف فتویٰ تکفیر شائع ہوچکاہے۔ اس لئے ایک شخص جو خود کافر ہو وہ کس طرح دوسرے کے متعلق کفر کا فتویٰ دے سکتاہے۔

اس کا جواب مدعیہ کی طرف سے ایک تویہ دیاگیا ہے کہ اس کے تمام گواہان دیوبندی صاحبان نہیں ہیں۔ مثلاً شیخ الجامعہ صاحب، مولوی محمدحسین صاحب اور مولوی نجم الدین صاحب۔ دوسرا دیوبندی صاحبان کے خلاف فتویٰ تکفیر ایک غلط فہمی کی بناء پر دیا گیا تھا جو بعد میں واپس لیا جاچکا ہے۔ اگر یہ صحیح نہ بھی ہو تو بھی مدعاعلیہ کی حجت اس بناء پر صحیح نہیں کہ ان کی رائے کو بطور فتویٰ قبول نہیں کیا گیا۔ بلکہ ان کی پیش کردہ دلائل پر مدعاعلیہ کے پیش کردہ دلائل کے مقابلہ میں تنقید کی جائز رائے قائم کی گئی ہے۔ اس لئے چاہے وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ ان کی ذاتی رائے پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ بلکہ دیکھا گیا ہے کہ قرآن شریف اور احادیث کی رو سے کس فریق کے دلائل صحیح ہیں اور کس کے غلط۔ اس لئے ان کے خلاف اگر کوئی فتویٰ تکفیر ہو بھی تو اس معاملہ میں اثر انداز نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ مدعاعلیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ مدراس ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ قرار دیا تھا کہ اس سوال کو عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتاہے یا نہ۔ علماء اسلام ہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا علماء اسلام کی تحقیق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جن لوگوں نے اس مقدمہ میں شہادتیں دی ہیں اور اس پر فتویٰ کفر لگایاہے، وہ خود بھی مسلمان ہیں یا نہ اور اس طرح فیصلہ کرنے والے کا مسلمان ثابت ہونا بھی ضروری ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہر دو فریق کا ادّعاہے کہ وہ مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن چند اہم اور بنیادی مسائل کے متعلق ہر دو کا اختلاف ہے اور وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔ لہٰذا اس بارہ میں عام دنیاوی اصول کے مطابق رائے اس فرقہ کی غالب سمجھی جائے گی، جس میں اکثریت ہو۔ یہ اکثریت بحق مدعیہ پائی جاتی ہے۔ اس لئے فریق مدعیہ کی رائے ہی غالب رہے گی اور اسے مسلمان اور اقلیت کو کافر سمجھا جائے گا۔ لہٰذا اس قرار داد کے تحت مدعیہ کے کسی گواہ کے خارجی طور پر مسلمان ثابت کئے جانے کی ضرورت نہیں اور فیصلہ کنندہ بھی اس ذیل میں مسلمان شمار ہوگا۔ علاوہ ازیں مدعاعلیہ نے اپنی بحث میں جب مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ کو شرعاً درست تسلیم کر کے اپنے اوپر حجت مان لیا ہے تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ شرعاً عدالت ہذا کا فیصلہ اس پر حجت نہ ہوسکے۔

گواہان مدعیہ پر مدعاعلیہ کی طرف سے کنایۃً اور بھی کئی ذاتی حملے کئے گئے ہیں۔ مثلاً انہیں علماء سوء کہا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ہی ایسے مولویوں کو جو ذریۃ البغایا میں مخاطب ہیں۔ بندر اور سور کا لقب دیاہے اور دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ وہ آسمان کے نیچے سب سے بدتر مخلوق ہوں گے۔ لیکن ملاحظہ مثل سے ہر عقل مند آدمی اندازہ لگا سکتاہے کہ طرفین کے علماء میں سے ان احادیث کا صحیح مصداق کون ہیں۔

مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے سلسلہ میں ایک اور مسئلہ پر بھی مختصر بحث کی ضرورت ہے وہ یہ کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو اس لئے بھی نبی سمجھتے ہیں کہ انہیں مسیح موعود ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور مسیح موعود کو چونکہ احادیث میں نبی اللہ کہا گیا ہے۔ اس لئے مرزا صاحب نبی اللہ ہوئے۔ اس کے متعلق جیسا کہ اوپر دکھلایا گیا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ بن مریم ہی ہیں اور آخر زمانہ میں

540

وہی آسمان سے نزول فرمائیں گے اور وہ چونکہ پہلے سے نبی اللہ ہیں۔ اس لئے پھر بھی نبی اللہ ہوں گے۔ مگر وہ عمل شریعت محمدیہ پر کریں گے۔ اپنی شریعت پر نہیں چلیں گے۔ اس کی مثال مدعیہ کی طرف سے یہ دی گئی ہے کہ جیسے کسی دوسرے علاقہ کا گورنر، کسی دوسرے گورنرکے علاقہ میں چلا جائے تو وہاں اپنے عہدہ سے گو وہ گورنر شمار ہوگا۔ لیکن دوسرے گورنر کے علاقہ میں وہ اس گورنر کی حکومت کے تابع ہوکر رہے گا۔ اپنے علاقہ کے قوانین یا آئین پر عمل پیرا نہیں ہوسکے گا۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ چونکہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔ اس لئے قیامت تک آپ کی شریعت ہی نافذ رہے گی اور حضرت عیسیٰm اس شریعت کے تحت عمل پیرا ہوں گے۔

اس مثال سے حضرت عیسیٰm کا امتی نبی ہونا تو واضح ہوجاتاہے۔ لیکن آج کل کے تعلیم یافتہ لوگوں کو نزول مسیح کا عقیدہ بہت عجب معلوم ہوتاہے اور ان کے ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ کس طرح ایک شخص کئی ہزار سال کے بعد دنیا میں واپس آسکتاہے۔ شک نہیں کہ علوم جدیدہ کی روشنی میں یہ مسئلہ بہت کچھ قابل اعتراض معلوم ہوتاہے اور جیسا کہ مولانا محمود علی صاحب اپنی کتاب دین وآئین میں لکھتے ہیں۔ اس قسم کے اعتراضات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جواب دینے والے بالعموم یہ روش اختیار کرتے ہیں کہ جن قباحتوں کے چہرہ پر موجودہ مسلمات کا روغن قاز مل دیا جاتاہے، ان کو قباحت سمجھنے کے سواء کوئی چارہ کار نہیں دیکھتے اور جس جملہ کے ساتھ فلسفہ اور سائنس کا نقارہ بجتا ہوا سن پاتے ہیں، اپنے ہوش وحواس کو اس کے مقابلہ پر قائم رکھنے کی جرأت نہیں کرتے اور ایک مجرم کی طرح اپنی بریت کی یہی صورت دیکھتے ہیں کہ اپنے فعل کو دلیری کے ساتھ حق بجانب ثابت کرنے کی بجائے ہاتھ جوڑ کر اس کے ارتکاب سے انکار کریں اورمذہب کی حمایت میں صرف یہ کہہ کر دامن چھڑا ئیں کہ جس مسئلہ پر اعتراض ہے وہ اسلامی اصولوں میں داخل نہیں۔ مولانا موصوف آگے لکھتے ہیں، ایسے اعتراضوں کے ایسے جواب آج کل فیشن میں داخل ہیں اور جواب دینے والے گویا یقین کرلیتے ہیں کہ تہذیب جدید جس امر پر قبیح ہونے کا فتویٰ صادر کرتی ہے۔ اس میں کوئی حسن باقی نہ رہا ہوگا۔ ان کا بس چلتا ہے تو قرآن وحدیث پر ان دونوں سے جس طرح بن پڑتاہے۔ رہائی پانے کی سبیل نکال لیتے ہیں۔ اپنے ذاتی خیالات کو اسلام اور ایسے اسلام کو سب اعتراضوں سے پاک تصور کرلیتے ہیں۔

مسئلہ نزول مسیح بھی اسی قبیل کا ہے کہ جس پر اس قسم کے اعتراض وارد کئے جاتے ہیں۔ لیکن جو شخص قرآن پرا عتماد رکھتاہے اس سے پر یقین رکھنے میں کوئی تردد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن مجید میں ایک شخص کو سوسال کے بعد زندہ کرنے کا واقعہ موجود ہے۔ اسی طرح اصحاب کہف تین سو سال سے زائد عرصہ تک غار میں بحالت خواب پڑے رہے۔ اس لئے وہ امور اگر ذات باری کے لئے ناممکنات میں سے نہ تھے تو حضرت عیسیٰm کا دوبارہ دنیا میں بھیجنا بھی اس کے آگے کوئی مشکل نہیں۔

حضرت عیسیٰm کی پیدائش جس طرح غیر معمولی طریق پر ہوئی، اس طرح ان کے نزول کو بھی غیر معمولی طریق پر وقوع میں آنا تصور کیا جاسکتا ہے۔ باقی رہا اس پیش گوئی کی صداقت کا سوال، سو اس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر یہ پیش گوئی صحیح نہ ہوتی تو مرزا صاحب نے جہاں کئی دیگر متواترات کا انکار کیا تھا۔ وہاں اس کا بھی انکار فرما دیتے۔ لیکن وہ بھی اس کی صحت سے انکار نہیں کرسکے اور اس کی ممکن سے ممکن جو بھی تاویل ہوسکتی تھی وہ بیان کرنے میں انہوں نے کوئی دریغ نہیں کیا۔ لیکن اوپر بحث سے پایا جاتاہے کہ قرآن واحادیث کی رو سے وہ تاویل درست ثابت نہیں ہوئی اور سوائے اس کے کہ یہی عقیدہ رکھا جائے کہ اس پیش گوئی کی رو سے حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔ اس کا اور کوئی حل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے سواء آنحضرتﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس عقیدہ کو اگر قائم رکھا جائے تو جو لوگ حضرت عیسیٰm کے نزول کے وقت زندہ ہوں گے انہیں خود اس پیش گوئی کی تصدیق ہوجائے گی اور جو اس سے قبل فوت ہوں گے۔ خداوندتعالیٰ ان کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے گا کہ جو ان سے قبل اس عقیدہ پر وفات پاتے رہے۔ البتہ اس عقیدہ کو چھوڑنے والا ضرور گنہگار ہوگا۔ کیونکہ وہ حضورa کے فرمان کا مکذب سمجھا جائے گا۔

541

باقی رہا یہ سوال کہ آیا حضورa نے یہ فرمایابھی ہے یا نہ۔ کیونکہ شکی طبیعتیں یہ کہہ سکتی ہیں کہ احادیث کی تدوین چونکہ بہت مدت کے بعد ہوئی۔ اس لئے کیونکر پورے اطمینان سے یہ کہا جاسکتاہے کہ راویوں کو احادیث کے پورے الفاظ یاد رہے ہیں یا یہ کہ ان الفاظ سے رسول اللہ ﷺ کی مراد وہی تھی جو کہ ان راویوں نے سمجھی۔ اس کا جواب تو علماء ہی بہتر دے سکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا موٹا جواب یہ ہے کہ اگر یہ حدیث ہو صحیح اور ہم نے اس کا عقیدہ دیا چھوڑ تو قیامت کے دن ہم جواب دہ ہوں گے اور اگر یہ حدیث صحیح نہ بھی ہو تو اس پر محض ایک عقیدہ رکھنے سے جو قرآن کے کسی صورت میں بھی مخالف نہیں پایا جاتا، ہمارا کیا بگڑتاہے۔ لہٰذا بہرحال ہمیں اس پر عقیدہ رکھنا لازمی ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے ایک یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر حضرت عیسیٰm کا نزول مانا جائے تو اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے ایسا کوئی شخص اہلیت نہ رکھتا تھا کہ اسے لوگوں کی اصلاح کے لئے مامور فرمایا جاتا اور اس سے امت کی توہین لازم آئے گی۔

اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خداوندتعالیٰ کی طرف سے کسی شخص کا مامور ہونا، اس کے کسی استحقاق کی بناء پرنہیں ہوتا۔ دوسرا احادیث سے پتہ چلتاہے کہ اس وقت امت کی حالت بہت ابتر ہوگی۔ اس لئے ممکن ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی اس فرض کے سرانجام دینے کا اہل نہ پایا جائے۔ اس لئے مخلوق کی اصلاح کے لئے سابقہ انبیاؤں میں سے ہی ایک کو واپس لایا جانا ضروری سمجھا گیا ہو۔ یہ باتیں مشیت ایزدی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لئے ان میں کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔

ہمارے دلوں میں شکوک دراصل اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم ہدایت قرآنی پر پوری طرح پابند نہیں ہیں۔ اگر ہم تمام احکام ربانی پر عمل کریں تو اس حالت کے نتائج ہیں اعتراض کرنے والوں کو خاموش کردیتے ہیں اور جیسا کہ مولانا محمود علی صاحب نے اپنے ایک اور مضمون میں تحریر فرمایا ہے۔ جب تک مسلمان ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ‘‘ پر عمل عامل رہے۔ انہیں نہ خود کوئی تکلیف پیش آئی اور نہ دوسروں پر اثر ڈالنے کے لئے کسی دشواری کا سامنا ہوا اور جب قوم کی قوم ہی ایک رنگ میں رنگین ہو تو ایسا منظر شکوک کو غبار بنا کر اڑا دیتاہے اور اعتراض کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مگر افسوس! جیسا کہ مولانا اپنی کتاب محولہ بالا میں تحریر فرماتے ہیں کہ سب سے بڑی ضرورت بلکہ زندگی کا واحد مقصد آج کل یہ قرار پا گیا ہے کہ انسانی زندگی کی ہر ساعت اور ہر ثانیہ کے اندر تمام تر توجہ اس مادی سامان کے مہیا کرنے، اس کو کام میں لانے اور اس کے نتائج سے لطف اٹھانے پر مبذول رہے اور موجودہ زندگی کے بعد کوئی خیال اور اس کے لئے کسی عمل اور کسب کا کوئی ارادہ اور اس دنیا سے باہر کسی ہستی کے ساتھ تعلق رکھنے کا کوئی وہم بھی دل میں نہ آنے پائے اور اپنی تمام کوششوں کا محور اس دنیا کو اور یہاں کی چند روزہ زندگی کو سمجھنا صحیح اصول کار ہے۔ یہ حالت کیوں پیش آئی۔

اس کا جواب بھی مولانا محمود علی صاحب کی ایک تحریر سے دیا جاتاہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ’’قرآن کے پیش کرنے والے جو زبان سے کہتے ہیں وہ کرکے نہیں دکھلاتے اور وعظ ونصیحت میں فصاحت قرآنیہ پر انسانی طرز کلام کو ترجیح دے کر منطقی موشگافیوں اور شاعرانہ مبالغوں سے کام لیتے ہیں اور رہنمائی سے زیادہ اپنے فضل وکمال کی نمائش چاہتے ہیں۔ حالانکہ اہل ایمان پر نہ بحث نہ مناظرہ فرض ہے نہ منطقیانہ موشگافیوں اور فلسفیانہ معرکہ آرائیوں کی ضرورت۔ وہی روشنی ہدایت جو کلام الٰہی نے پیش کی ہے اس طرز ادا سے جو اس ہادی بر حق نے اختیار کی ہے، ہر عالم وجاہل تک پہنچا دینے کی ضرورت ہے۔ سب کا ہدایت پانا اور تمام مخلوق کا ایک راہ اختیار کرنا ممکن نہیں۔ ورنہ کلام الٰہی میں اب بھی وہی کشش ہے اور قرآن کریم کے اندر جذب قلوب کا وہی اثر غافل انسانوں کو خواب غفلت سے جگانے والا اور تشنہ گان

542

ہدایت کو شراب معرفت سے سیراب کرنے والا اگر ہے، تو صرف قرآن کریم اور اس کلام مبارک کا ایک ایک لفظ چشم بینا کو محو حیرت کرنے اور دل دانا کا دامن کھینچنے میں وہ تأثیر دکھاتاہے جو آئینہ پر جمال یار اور پرکاہ پر کہربا۔‘‘

مدعاعلیہ کی طرف سے اس بات پر بہت زور دیاگیا ہے کہ علماء وائمہ کی اندھی تقلید درست نہیں۔ یہ ٹھیک ہے۔ قرآن مجید میں ہر شخص کو خود بھی تدبر کرنا چاہئے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام قواعد ودیگر لوازمات کو جو معنی اخذ کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ پس پشت ڈال کر اپنی سمجھ پر چلنا شروع کردیا جائے۔ جیسا کہ خود مدعاعلیہ کے اپنے گواہان کے طرز عمل سے ظاہر ہوتاہے کہ ایک تو آیت: ’’وبالاخرۃ ہم یوقنون‘‘ کے یہ معنی کرتاہے کہ یوم آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور دوسرا آخرت کے معنی زمانہ آخر کی وحی بتلاتاہے۔ ذرا احمدی صاحبان خود بھی تو سوچیں کہ انہوں نے دین کو کیا مذاق بنا رکھا ہے۔ اس بحث کے بعد اب اصل معاملہ متنازعہ کو طے کرنے کے لئے یہ بتلانا ہے کہ اسلام کے وہ کون سے بنیادی اصول ہیں کہ جن سے اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہوجاتاہے یا یہ کہ کن اسلامی عقائد کی پیروی نہ کرنے سے ایک شخص مرتد سمجھا جا سکتاہے اور کہ عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتاہے یا نہ۔

اوپر کی تمام بحث سے یہ ثابت کیا جاچکاہے کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور کہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النّبیین بایں معنی نہ ماننے سے کہ آپ آخری نبی ہیں ارتداد واقع ہوجاتاہے اور کہ عقائد اسلام کی رو سے ایک شخص کلمہ کفر کہہ کر بھی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔مدعاعلیہ مرزا غلام احمد صاحب کو عقائد قادیانی کی رو سے نبی مانتاہے اور ان کی تعلیم کے مطابق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امت محمدیہ میں قیامت تک سلسلہ نبوت جاری ہے۔ یعنی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی تسلیم نہیں کرتا۔ آنحضرتﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو نیا نبی تسلیم کرنے سے جو قباحتیں لازم آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اوپر بیان کی جاچکی ہے۔ اس لئے مدعاعلیہ اس اجماعی عقیدہ امت سے منحرف ہونے کی وجہ سے مرتد سمجھا جائے گا اورا گر ارتداد کے معنی کسی مذہب کے اصولوں سے بکلی انحراف کے لئے جاویں تو بھی مدعا علیہ مرزاصاحب کو نبی ماننے سے ایک نئے مذہب کا پیرو سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے قرآن کی تفسیر اور معمول بہ مرزا صاحب کی وحی ہوگی نہ کہ احادیث واقوال فقہاء جن پر یہ اس وقت تک مذہب اسلام قائم چلا آیاہے اور جن میں سے بعض کے مستند ہونے کو خود مرزا صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے۔

علاوہ ازیں احمدی مذہب میں بعض احکام ایسے ہیں کہ جو شرع محمدی پر مستزاد ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں۔ مثلاً چندہ ماہواری کا دینا جیسا کہ اوپر دکھلایا گیاہے۔ زکوٰۃ پر ایک زائد حکم ہے۔ اس طرح غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنا کسی احمدی کی لڑکی غیر احمدی کو نکاح میں نہ دینا۔ کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا شرع محمدی کے خلاف اعمال ہیں۔

مدعاعلیہ کی طرف سے ان امور کی توجیہیں بیان کی گئی ہیں کہ وہ کیوں غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ کیوں ان کونکاح میں لڑکی نہیں دیتے اور کیوں ان کے پیچھے نماز نہیںپڑھتے۔ لیکن یہ توجیہیں اس لئے کار آمد نہیں کہ یہ امور ان کی پیشواؤں کے احکام میں مذکور ہیں۔ اس لئے وہ زن کے نقطۂ نگاہ سے شریعت کا جزو سمجھے جائیں گے جو کسی صورت میں بھی شرع محمدی کے موافق تصور نہیں ہوسکتے۔ اس کے ساتھ جب یہ دیکھا جائے کہ وہ تمام غیر احمدی کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے مذہب کو مذہب اسلام سے ایک جدا مذہب قرار دینے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں مدعاعلیہ کے گواہ مولوی جلال الدین شمس نے اپنے بیان میں مسیلمہ وغیرہ کاذب مدعیان نبوت کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے۔ اس سے یہ پایا جاتاہے کہ گواہ مذکورہ کے نزدیک دعویٰ نبوت کاذبہ ارتداد ہے اور کاذب مدعی نبوت کو جو مان لے وہ مرتد سمجھا جاتاہے۔

مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کیا گیاہے کہ مرزا صاحب کاذب مدعی نبوت ہیں۔ اس لئے مدعاعلیہ بھی مرزا صاحب کو نبی تسلیم

543

کرنے سے مرتد قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا ابتدائی تنقیحات جو ۴؍نومبر ۱۹۲۶ء کو عدالت منصفی احمد پور شرقیہ سے وضع کی گئی تھیں۔ بحق مدعیہ ثابت قرار دے جا کر یہ قرار دیا جاتاہے کہ مدعاعلیہ قادیانی عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد مدعاعلیہ سے فسخ ہوچکا ہے اور اگر مدعاعلیہ کے عقائد کو بحث مذکورہ بالا کی روشنی میں دیکھا جائے تو بھی مدعاعلیہ کے ادّعا کے مطابق مدعیہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی نہیں ہوسکتا اور کہ اس کے علاوہ جو دیگر عقائد مدعاعلیہ نے اپنے طرف منسوب کئے ہیں۔ وہ گو عام اسلامی عقائد کے مطابق ہیں۔ لیکن ان عقائد پر وہ انہیں معنوں میں عمل پیرا سمجھا جائے گا جو معنی مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں اور یہ معنی چونکہ ان معنوں کے مغائر ہیں جو جمہور امت آج تک لیتی آئی۔ اس لئے بھی وہ مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا ہے اور ہر دو صورتوں میں وہ مرتد ہی ہے اور مرتد کا نکاح چونکہ ارتداد سے فسخ ہوجاتاہے۔ لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدّعیہ صادر کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ ارتداد مدعا علیہ سے اس کی زوجہ نہیں رہی۔ مدّعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں مدعاعلیہ لینے کی حقدار ہوگی۔

اس ضمن میں مدعاعلیہ کی طرف سے ایک سوال یہ پیدا کیا گیا ہے کہ ہر دو فریق چونکہ قرآن مجید کو کتاب اللہ سمجھتے ہیں اور اہل کتاب کا نکاح جائز ہے۔ اس لئے بھی مدعیہ کا نکاح فسخ قرار نہیں دینا چاہئے۔ اس کے متعلق مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جب دونوں فریق ایک دوسرے کو مرتد سمجھتے ہیں تو ان کو اپنے اپنے عقائد کی رو سے بھی ان کا باہمی نکاح قائم نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے نہ کہ مردوں سے بھی۔ مدعیہ کے دعویٰ کے رو سے چونکہ مدعاعلیہ مرتد ہوچکا ہے۔ اس لئے اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے بھی اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ مدعیہ کی یہ حجت وزن دار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس بناء پر بھی وہ ڈگری پانے کی مستحق ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے اپنے حق میں چند نظائر قانونی کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ ان میں سے پٹنہ اور پنجاب ہائی کورٹ کے فیصلہ جات کو عدالت عالیہ چیف کورٹ نے پہلے واقعات مقدمہ ہذا پر حاوی نہیں سمجھا اور مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ کو عدالت معلی اجلاس خاص نے قابل پیروی قرار نہیں دیا۔ باقی رہا عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور کا فیصلہ بمقدمہ مسمات جند وڈی بنام کریم بخش اس کی کیفیت یہ ہے کہ یہ فیصلہ جناب مہتہ اودھو داس صاحب جج چیف کورٹ کے اجلاس سے صادر ہوا تھا اور اس مقدمہ کا صاحب موصوف نے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ پر ہی انحصار رکھتے ہوئے فیصلہ فرمایا تھا اور خود ان اختلافی مسائل پر جو فیصلہ مذکور میں درج تھے۔ کوئی محاکمہ نہیں فرمایاتھا۔ مقدمہ چونکہ بہت عرصہ سے دائر تھا۔ اس لئے صاحب موصوف نے اسے زیادہ عرصہ معرض تعویق میں رکھنا، پسند نہ فرما کر باتباع فیصلہ مذکور اسے طے فرما دیا۔ دربار معلی نے چونکہ اس فیصلہ کو قابل پابندی قرار نہیں دیا جس فیصلہ کی بناء پر کہ وہ فیصلہ صادر ہوا۔ اس لئے فیصلہ زیر بحث بھی قابل پابندی نہیں رہتا۔

فریقین میں سے مختار مدعیہ حاضر ہے۔ اسے حکم سنایا۔ مدعاعلیہ کارروائی مقدمہ ہذا ختم ہونے کے بعد جب کہ مقدمہ زیر غور تھا۔ فوت ہوگیاہے۔

اس کے خلاف یہ حکم زیر آرڈر ۲۲، رول ۶ ضابطہ دیوانی تصور ہوگا۔ پرچہ ڈگری مرتب کیا جائے اور مسل داخل دفتر ہو۔

۷؍فروری ۱۹۳۵ء مطابق ۳؍ذیقعدہ ۱۳۵۳ھ

بمقام بہاول پور

دستخط: محمداکبر ڈسٹرکٹ جج

ضلع بہاول نگر، ریاست بہاول پور

544