عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں
تعارفِ کتاب
عرض مؤلف
اپریل ۲۰۱۶ء میں ’’چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ‘‘ کے نام پر تین جلدوں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شعبہ نشرواشاعت سے کتاب شائع ہوئی۔ اس کی پہلی جلد میں عالمی مجلس کے مرکزی امراء، نائب امراء، مرکزی نظمائے اعلیٰ، مرکزی صدر المبلغین، مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین اور مبلغین حضرات پر مشتمل ایک سواٹھارہ(۱۱۸) حضرات کا تذکرہ شامل اشاعت تھا اور یہ ایک جلد پانچ صدبارہ(۵۱۲) صفحات پر محیط تھی۔ تینوں جلدیں نو سو چوالیس(۹۴۴) حضرات کے تذکرہ پر مشتمل تھیں اور ان کے کل صفحات سولہ سو بہتر(۱۶۷۲) تھے۔ پہلی جلد کا اشاریہ حروف تہجی کے اعتبار سے الف سے یاء تک علیحدہ تھا اور دوسری دونوں جلدوں کا اشاریہ ایک ساتھ تسلسل کے ساتھ الف سے یاء پر مشتمل تھا۔ گویا من وجہ جلد اوّل علیحدہ تھی جو صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کے تذکرہ پر مشتمل تھی اور من وجہ یہ کتاب کا پہلا حصہ تھی۔
کتاب کے چھپ کر آنے پر معلوم ہوا کہ (۱)مناظر اسلام، یادگار زمانہ، نامور شخصیت جن کا سب سے پہلے ’’فتویٰ تکفیر قادیان‘‘ میں فتویٰ شامل تھا حضرت مولانا رحمت االلہ کیرانویؒ (۲)سب سے پہلے جنہوں نے ملعون قادیان مرزاقادیانی کی جنم بھومی قادیان میں جاکر جماعتی سطح پر قادیانوں کے خلاف کام کرنے کی داغ بیل ڈالی تھی۔ رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ (۳)قادیان میں مجلس احرار اسلام کل ہند کے شعبہ تبلیغ کی ٹیم فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ، مولانا رحمت االلہ مہاجرؒ، مولانا عبدالکریم مباہلہؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، جناب ماسٹر تاج الدین انصاریؒ اور دیگر وغیرہم کے ساتھ ہراوّل دستہ میں شامل کام کرنے والے مولانا عنایت االلہ چشتی مرحوم اور (۴)ہمارے مخدوم استاذ القراء حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتیؒ جنہوں نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں قیدوبند کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔ ایسے حضرات کا تذکرہ کتاب میں شامل ہونے سے رہ گیا ہے تو چوتھی جلد کی فوری اشاعت کا داعیہ شدت سے پیدا ہوا۔ اعلان کیاگیا کہ رفقاء ’’ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ‘‘ میں مزید شامل حضرات کے تذکرے بھجوائیں۔ بعض حضرات نے محض کتاب میں شامل حضرات کے تذکرہ میں شمولیت کی خاطر بعض حضرات کے تذکرے بھجوائے۔ بعض مختصر اور بعض تفصیلی تھے۔ بعض بہ تکلف شامل کئے گئے تھے۔ ان سب پر نظرثانی یا کانٹ چھانٹ یا حذف وترمیم کے تقاضا کو پورا کیا کہ اس کے بغیر چارہ نہ تھا۔ بعض دوستوں نے بہت مدد کی۔ مثلاً مولانا توصیف احمد (مبلغ حیدرآباد)، مولانا محمد علی صدیقی مرحوم (میرپورخاص)، مولانا خبیب احمد (ٹوبہ ٹیک سنگھ)،مولانا عبدالحکیم نعمانی (چیچہ وطنی)، جناب عزیزالرحمن رحمانی (ملتان)، مولانا محمد وسیم اسلم (ملتان)، مولانا عبدالعزیز لاشاری (تونسہ شریف)، جناب اورنگ زیب اعوان (ہری پور)، جناب ڈاکٹر عمر فاروق احرار (تلہ گنگ)، جناب اعجاز احمد (ایبٹ آباد)۔ ان حضرات نے بہت سارے نئے حضرات کے تذکرے بھجوائے جس نے جو بھجوایا انہی کے نام سے شامل اشاعت کیا۔ کہیں بھجوانے والے کا نام رہ گیا ہو تو االلہتعالیٰ معاف فرمائیں۔
مجلس احرار اسلام کے مرکزی نائب امیر جناب سید محمد کفیل بخاری مدظلہ نے ماہنامہ ’’الاحرار‘‘ ملتان کی مکمل فائل مہیا کر دی۔ اس میں سے جن حضرات کی وفیات پر حضرت مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاری مرحوم نے تعزیتی نوٹ لکھے تھے وہ لئے گئے۔ یوں االلہتعالیٰ نے فضل وکرم اور احسان کا معاملہ فرمایا کہ سب سے بڑی ایک اور جلد تیار ہوگئی اور اس مضمون کی ابتداء میں مذکور چار حضرات میں سے اوّل کے تین حضرات پر جامع مقالے اس جلد میں جمع ہوگئے۔ قارئین یقین فرمائیے بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ کام کرنے والے کا اپنا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ بہت ہی مقبول عمل ہے۔ دلی خوشی سے اس توقع کا رحمت باری تعالیٰ کے صدقہ میں اظہار کرتا ہوں کہ یہ عمل بھی انہیں اعمال میں سے ہے۔ کتاب جلد چھپ جاتی لیکن فقیر کے تبلیغی لگاتار اسفار جو مہینہ بھر سے بھی زیادہ دورانئے پر مشتمل تھے اور دفتر مرکزیہ میں مہینہ مہینہ تک ٹک کر بیٹھنے کا موقعہ نہ مل پایا، ورنہ یہ کتاب پہلے منصہ شہود پر آجاتی۔ لیجئے! اب بھی ’’دیر آید درست آید‘‘ پر محمول فرمالیجئے تو مہربانی۔ اس کا نام علیحدہ سے ’’گلستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ‘‘ تجویز کیا ہے تاکہ جن کے پاس پہلی تین جلدیں نہ ہوں وہ اس کتاب کو نا مکمل نہ سمجھیں یا جن کے پاس یہ جلد نہ ہو وہ پہلے کی تین جلدوں کے سیٹ کو نامکمل نہ سمجھیں۔ مضامین اور شخصیات کے اعتبار سے ہر ایک جداجدا کتاب ہے۔ البتہ چونکہ موضوع اور مہنج ایک ہے اس لئے فہرست میں اس جلد کے نمبرات کو پہلی تین جلدوں سے آگے کے نمبرات سے شروع کیا ہے۔ اس وقت تک ان چاروں جلدوں میں پونے سترہ سو حضرات کا تذکرہ آگیا ہے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ عرض کروں کہ پوری قادیانیت نے مل کر زور لگایا کہ مرزاقادیان کی ملعونیت یعنی قادیانیت کی پشتیبانی کرنے والوں کے حالات جمع کریں وہ اتنے نہیں کر پائے جتنے ایک گنہگار، ظلوم وجہول پندرھویں صدی کے ایک فدائے ختم نبوت کے ہاتھوں ملعون قادیان کو دن میں تارے دکھانے والوں کے حالات یکجاء کرادئیے۔ اس پر االلہتعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالاتا ہوں اور اس عمل کو بھی محض توفیق ایزدی کا مرہون منت یقین کرتے ہوئے توقع نجات اور مغفرت کی بشارت سے اپنی طبیعت کو خوشیوں سے لبالب پاتا ہوں۔ مزید حضرات کے حالات جمع کرنے کے لئے فہرست بن گئی ہے۔ کوشش جاری ہے۔ ہو گا وہی جو االلہ رب العزت کو منظور ہے۔ خدا کرے کہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر سے قبل یہ کتاب چھپ جائے۔ وما ذالک علٰے االلہ بعزیز! لیجئے! مولانا عزیزالرحمن ثانی اب آپ کو االلہتعالیٰ شائع کرنے کی ہمت ارزاں فرمائیں۔ آمین! والسلام!