عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

احتساب قادیانیت جلد 9

احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت (۹)
مصنف : حضرت مولاناثناء اللہ امرتسریؒ
صفحات : ۵۶۰
مطبع : طیب شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور
طبع اوّل : فروری ۲۰۰۳ء
طبع دوم : اکتوبر ۲۰۲۲ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ احتساب قادیانیت جلد نہم

نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ خاتم النبیین۔ اما بعد!

محض اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق و احسان اور فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد نہم قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ جلد نہم بھی جلد ہشتم کی طرح مناظر اسلام، مشہور اہل حدیث رہنما، فاتح قادیان، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رسائل پر مشتمل ہے۔ ان دونوں جلدوں (جلد نمبر۸ و ۹) میں مولانا مرحوم کے رسائل جمع ہوگئے ہیں۔فلحمدللہ!

احتساب قادیانیت جلد دہم کے لئے اعلان کیا گیا تھا کہ: مرزا قادیانی کے قصیدہ عربی کے جواب میں امت محمدیہ کے جن حضرات نے قصائد لکھے تھے وہ جلد دہم میں جمع کئے جائیں گے۔ قصیدہ جوابیہ جو حضرت مولانا قاضی ظفر دین صاحب مرحوم نے عربی میں تحریر کیا تھا اس کی مکمل قسطیں تاحال نہیں مل سکیں۔

یہ قصیدہ ۱۱جنوری تا ۲۸ مارچ ۱۹۰۷ء کے اخبار اہل حدیث امرتسر میں شائع ہوا تھا۔ جن حضرات کے پاس مذکورہ اخبار ہوں وہ مہربانی فرماکر تعاون فرمائیں۔ ان کو جمع کرنا اور ترجمہ کرنا خاصہ دشوار کام ہے۔ رفقاء تعاون فرمائیں۔ اس کے بغیر جلد دہم کی تیاری مشکل یا التواء میں پڑسکتی ہے۔ اس لئے آپ حضرات ہماری مشکل کا احساس فرمائیں اور ان قسطوں کے حصول و جمع میں ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں۔ امید ہے کہ توجہ کی جائے گی۔

فقیر: اللہ وسایا

خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

۷؍ذی الحجہ۱۴۲۳ھ

3

مباحثہ دکن

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

5

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ والصلٰوۃ والسلام علی عبادہ الذین اصطفی!

مباحثہ ہذا پر علماء کرام کی آراء

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور شیخ عبدالرحمن صاحب احمدی میں جو مناظرہ بتاریخ ۳۱؍جنوری ۱۹۲۳ء سکندرآباد میں ہوا۔ زمرۂ سامعین میں ہم لوگ بھی شریک تھے۔ دونوں فریق کی گفتگو سننے کے بعد ہم لوگ جس نتیجہ تک پہنچے ہیں وہ حسب ذیل ہے۔

بحث اس میں تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے الہامی دعویٰ میں سچے تھے یا نہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کی حسب ذیل عبارت پیش کی:

’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔‘‘

(انجام آتھم ص۳۱ حاشیہ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

اس کے مرزا قادیانی نے اپنا آخری فیصلہ ان لفظوں میں درج کیا ہے کہ:

’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘ (ایضاً)

مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے بعد یہ بیان دیا:

۱… داماد احمد بیگ (مسمی بہ سلطان احمد) اس وقت تک زندہ ہے۔

۲… مرزا غلام احمد قادیانی کی موت آچکی۔

احمدی جماعت نے ان کے اس بیان کو تسلیم کیا۔ اس لئے ہم لوگ نہایت آسانی کے ساتھ اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ مرزا قادیانی اپنے قول کے موافق جھوٹے ہیں اوریہی مولوی ثناء اللہ صاحب کا دعویٰ تھا۔ اگرچہ اس کے بعد احمدی مناظر نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ بجائے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خود مرزا قادیانی کے اقوال ویقینیات کی تردید میں مصروف تھے۔ مثلاً مرزا قادیانی اپنی پیش گوئیوں کے متعلق یہ یقین رکھتے تھے کہ:

’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

6

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے تمہید میں ان کے اس نظریہ کا ذکر بھی کردیا تھا لیکن احمدی مناظر نے خدا جانے کیوں اس کی تردید کی۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں ’’پیش گوئی اصل چیز نہیں۔‘‘

مرزا قادیانی تو پیش گوئی کو سب سے بڑھ کر محک امتحان خیال کرتے تھے لیکن ان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پیش گوئی سے کھرے کھوٹے کا امتیاز مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ان کے الفاظ یہ ہیں:

’’پیش گوئی کا ایسا پورا ہونا جس سے غیب کا پردہ اٹھ جائے ناممکن ہے۔‘‘

حتی کہ سب سے بڑھ کر محک امتحان کو انہوں نے متشابہات میں داخل کردیا اسی طرح مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو ’’تقدیر مبرم‘‘ قرار دیا تھا۔ لیکن ان کے وکیل نے اسے مشروط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ قطع نظر اس سے کہ یہ خود مرزا قادیانی کی تردید تھی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے جب شرائط کی تشریح پوچھی تو انہوں نے ایسی عبارتیں پیش کیں جن سے کسی اور شرط کا بالکل پتہ نہیں چلتا اور زبردستی وہ مرزا قادیانی کی بعض عبارتوں سے شرط پیدا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عبارت اس سے اباء (انکار) کررہی تھی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر اسے ’’تقدیر مبرم‘‘ بھی مان لیا جائے۔ تب بھی اس کا ٹلنا مشکل نہیں۔ ثبوت میں انہوں نے مجدد الف ثانیؒ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’تقدیر مبرم‘‘ کی ایک قسم ٹل سکتی ہے۔ عبارت مانگی گئی تو انہوں نے دینے سے انکار کیا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہاں تک کہ اگر یہ عبارت مجدد صاحبؒ کے کلام میں نکل آوے تو میں اپنے تمام دعوئوں سے باز آجائوں گا۔ لیکن اس پر بھی ان کو انکار پر اصرار رہا اور واقعہ بھی یہی ہے کہ مجدد صاحبؒ کے کلاموں میں ہم لوگوں کے نزدیک بھی ایسی کوئی عبارت نہیں ہے۔ من ادّعی فعلیہ البیان!

علاوہ اس کے گفتگو سے بھی یہ بات غیر متعلق تھی۔ سوال تو یہ ہے کہ سلطان محمد کی موت کے ساتھ مرزا قادیانی کی صداقت وابستہ تھی۔ جب وہ نہ مرا تو ان کی صداقت بھی قطعی ہوا ہوگئی۔ ہم لوگوں کو اس پر سخت حیرت ہوئی کہ جب سلطان محمد مرزا قادیانی کی دھمکیوں سےاعراض کرکے ان کی منکوحہ آسمانی پر قابض رہا اور ان کے الہام کے مقابلہ میں اس نے استقلال کے ساتھ احمد بیگ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھا تو پھر اس کے توبہ کے کیا معنی ہوسکتے

7

ہیں۔ لیکن جب خط دیکھا گیا تو اس میں سلطان محمد نے کچھ بھی نہیں لکھا تھا نہ اس نے مرزا قادیانی کو ’’نبی‘‘ مانا ہے، نہ’’مسیح‘‘، نہ ’’مہدی‘‘ کچھ بھی نہیں بلکہ اس نے یہ جملہ لکھ کر کہ: ’’پہلے بھی جو خیال کرتا تھا وہی اب سمجھتا ہوں‘‘ خط کے الفاظ میں ایک دوسرے معنی پیدا کردئیے۔ مثلاً اس نے مرزا قادیانی کو شریف النفس، نیک وغیرہ الفاظ سے یاد کیاہے اور کہتا ہے ان کو ہمیشہ یہی سمجھتا رہا ہوں تو اب سوال یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی سے نکاح کرنے کے وقت اور مرزا قادیانی کی دھمکیوں کے بعد نکاح کو قائم رکھنے کے وقت کیا وہ مرزا قادیانی کو اس معنی میں نیک سمجھتا تھا۔ جس کے معنی سے مرزائی سمجھتے ہیں؟ کس قدر عجیب ہے کہ ایک شخص کسی کو موت کی بد دعا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد تیری بیوی سے میں نکاح کروں گا اور ایسے شخص کو نیک شریف بھی خیال کرتا ہو۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ بیان کہ اس خط میں تعریضی چوٹیں ہیں بالکل صحیح ہے اور ان الفاظ کے وہی معنی ہیں جو اس شعر میں ہیں:

  1. بڑے پاک وطن بڑے صاف دل

    ریاض آپ کو کچھ ہم ہی جانتے ہیں

بہرحال اگر مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو مبرم نہیں بلکہ مشروط بھی مان لیا جائے یا مبرم کے ٹل جانے کو بھی بفرض محال تسلیم کر لیا جائے اور اخیر میں پھر اس خط کو بھی سلطان محمد کا صحیح خط سمجھ لیا جائے۔ اگرچہ اس کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا۔ پھر بھی توبہ کا ثبوت نہیں ملتا اور ہر حالت میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا فیصلہ ’’قضی الرجل علی نفسہ‘‘(مرزا قادیانی اپنا فیصلہ خود کرکے دنیا سے تشریف لے گئے ہیں) بالکل صحیح ہے۔ الہام کا دعویٰ خود مرزا قادیانی نے کیا تھا۔ حجت انہی کی بات ہوسکتی ہے دوسروں کو اس میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

دستخط:حکیم مقصود علی خان۔...دستخط:محمد عبدالقدیر صدیقی پروفیسر جامعہ عثمانیہ۔

دستخط:محمد عبدالواسع پروفیسر کلیہ جامعہ عثمانیہ۔ ۔۔۔دستخط:عبدالحئی پروفیسر جامعہ عثمانیہ۔

مناظر احسن گیلانی پروفیسر کلیہ عثمانیہ۔...ابوالفدا نور محمد مدرس مدرسہ دینیات سرکار عالی۔

سید محمد بادشاہ قادری۔...مولوی محمد بن ابراہیم دہلوی۔

مولوی محمد امین پنجابی۔...مولوی الہ داد خاں۔

مفتی عبداللطیف پروفیسر جامعہ عثمانیہ۔...حکیم شیخ احمد۔

8

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علی النبی وآلہ الکریم!

عرصہ سے ممالک محروسہ سرکار عالی (حیدر آباد دکن وغیرہ اضلاع) میں قادیانی مذہب کی تحریک بڑے زور سے پھیل رہی تھی جس کی وجہ سے دیندار طبقہ مسلمانوں میں سخت پریشانی تھی۔ کیوں کہ سیٹھ الہ دین مرحوم سوداگر سکندرآباد کے بڑے بیٹے عبد اللہ الٰہ دین نے قادیانی مذہب قبول کرکے اس کی اشاعت شروع کردی تو خود ان کے بھائیوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ اب ضرورت محسوس ہوئی کہ قادیانی مذہب کے متعلق فیصلہ کن مقابلہ کیا جائے۔ اس خدمت جلیلہ کے لئے دور دراز ملک پنجاب میں نظر پڑی تو حضرت مولانا ابووفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری شیر پنجاب فاتح قادیان کو تکلیف دی گئی۔

جناب ممدوح مع مولانا محمد صاحب دہلوی اور مولوی محمد امین صاحب امرتسری کے ۱۶؍جنوری ۱۹۲۳ء وارد سکندرآباد دکن ہوئے۔ پہلی تقریر آپ صاحبوں کی ۱۹؍جنوری ۱۹۲۳ء کو سکندرآباد ہی میں ہوئی۔ جس میں سکندرآباد اور بلدہ حیدرآباد دکے لوگ بکثرت شریک تھے۔ مولانا فاتح قادیان کی تقریری کا تمام علاقہ میں ایک غلغلہ بلند ہوا۔ حیدرآباد میں کئی جگہ وعظ کے جلسے ہوئے جن میں مولانا محمد صاحب دہلوی اور مولوی محمد امین صاحب امرتسری کی تقریر عموماً توحید وسنت پر ہوتی اور مولانا فاتح قادیان کی تقریر کا اکثر حصہ قادیانی مذہب کے متعلق ہوتا۔ مولانا موصوف کا طرز بیان عجیب دلفریب ہے۔ مرزا قادیانی کی کتابیں تو گویا آپ کو حفظ ہیں ہر بات میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے حوالہ موجود۔ ان وعظوں کے اثر سے قادیانی جماعت بہت گھبرائی تو عبد اللہ الٰہ دین قادیانی نے قادیان سے مرزائی عالموں کو بلایا اور مباحثہ کی بابت تحریک ہوئی۔

انجمن اہل حدیث سکندرآباد سے ان کی خط وکتابت ہورہی تھی۔ جس میں مباحثہ کے بعد مباہلہ کا ذکر بھی آتا تھا۔ انجمن اہل حدیث نے لکھا کہ ہم شرعی مباہلہ کے لئے بھی تیار ہیں۔ ایک روز الٰہ دین صاحب کے بنگلہ پر چاروں بھائیوں نے مع بعض دیگر اصحاب کے ایک مجلس منعقد کی۔ جس میں مباہلہ کا ذکر بھی آیا تو قادیانی جماعت نے کہا مولانا ثناء اللہ ہم سے مباہلہ کریں تو سال تک خدائی فیصلہ ہوجائے گا۔ مولانا موصوف نے فرمایا کہ سال کی

9

مدت کا ثبوت قرآن میں یا حدیث میں نہیں۔ بلکہ حدیث شریف میں تو یہ ثابت ہے کہ مباہلہ کنندگان میں سے جو کاذب ہوتا اس پرفوراً اثر ہوتا اور اس کی ساری قوم ایک سال تک تباہ ہوجاتی۔ قادیانی جماعت نے انکار کیا کہ اس حدیث سے فوراً نزول عذاب کا ثبوت نہیں ہوتا۔ مولانا فاتح نے فرمایا کہ اس حدیث کے معنی کسی اچھے عالم سے معلوم کئے جائیں۔ بعد ردّوکد کے دوسرے روز چار بھائیوں میں سے خان صاحب احمد الٰہ دین (قادیانی) نے مولانا مناظر احسن صاحب پروفیسر عثمانیہ کالج پر حسن ظن ظاہر کیا۔ چنانچہ وہ عبارت عثمانیہ کالج کے علماء کی خدمت میں پیش کی گئی جو مع جواب درج ذیل ہے۔

سوال: علماء کرام مندرجہ ذیل عبارت کا کیا مطلب بیان فرماتے ہیں؟

’’قال والذی نفسی بیدہ ان العذاب قد تدلی علی اہل نجران ولو یلاعنوا لمسخوا قردۃ وخنازیر ولاضطر علیہم والوادی ناراً ولا استاصل اللہ نجران واہلہ حتی الطیر علی الشجر ولما حال الحول علی النصاری کلہم حتی ہلکو (معالم التنزیل ج۱ ص۱۶۴ مطبوعہ بمبئی)‘‘

اس عبارت سے موجودہ ملاعنین کاذبین پر فوری اثر پہنچنا چاہئے یا بالتراخی؟

الجواب: اس عبارت سے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ ملاعنین پر اثر مباہلہ فوراً بلا مہلت ہوتا۔

عبداللطیف پروفیسر۔۔۔محمد عبدالقدیر صدیقی

محمد عبدالواسع پروفیسر ..۔مناظر احسن گیلانی پروفیسر

خدا کا شکر ہے کہ بجائے ایک عالم کے چار علماء نے عبارت کے معنی وہی بتائے جو مولانا فاتح کہتے تھے تاہم فریق ثانی نے ان معنی کو تسلیم نہ کیا۔ مگر مباحثہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے مواعظ کے جلسوں میں بار بار فرماتے رہے کہ میں چاہتا ہوں کہ قادیانیوں سے ہمارا مناظرہ فیصلہ کن ہو جس کی صورت یہ بتائی کہ سرکار عالی خلد اللہ ملکہ فریقین کی گفتگو سن کر سرکاری فیصلہ فرمائیں جو اسلامی دنیا میں کار آمد ہو۔ اس کے متعلق کارروائی ہو ہی رہی تھی کہ ان چار بھائیوں کی خواہش سے ایک مختصر سا مباحثہ ان کے مکان پر تجویز ہوا جس کی روئیداد درج ذیل ہے۔

مجلس مباحثہ میں جو حضرات علماء کرام تشریف فرما تھے ان کے اسماء گرامی مع ان کی

10

تصدیقات کے اول درج ہوچکے ہیں۔ مباحثہ شروع ہونے سے پہلے جو واقعات اور اضطرابی حرکات جماعت احمدیہ سے ظاہر ہوئیں۔ ان کو بیان کیا جائے تو طول ہوگا۔ اس لئے ہم ان سب کو چھوڑتے ہیں اور اصل بات کو پیش ناظرین کرتے ہیں۔ قرار پایا تھا کہ جلسہ کے انتظام کے لئے سید ہمایوں مرزا بیرسٹر حیدرآباد صدر ہوں۔ صدر صاحب کے فیصلہ سے مولانا فاتح کو پہلا وقت ۲۰منٹ تحریر پرچہ کے لئے دیا گیا۔ موصوف نے ۱۵ منٹ میں پرچہ پورا کردیا۔ چنانچہ پرچہ اول یہ ہے:

پرچہ اول … منجانب مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری

جناب مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ’’میں خدا کی طرف سے الہام پاتا ہوں، ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئیوں سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات ص۲۸۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

(شہادت القرآن ص۸۰) پر جناب موصوف نے ایک پیش گوئی مسلمانوں کے لئے خاص کی ہے جس کے کئی حصے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’(۱)مرزا حمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی معیاد کے اندر فوت ہو، (۲) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو، (۳) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو…، (۴) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہوجائے وغیرہ۔‘‘

(شہادت القرآن ص۸۱ خزائن ج۶ ص۳۷۶)

یعنی داماد مرزا احمد بیگ کی موت کے متعلق اسی حوالہ میں کہا ہے کہ’’ اس کی میعاد ۲۱؍ستمبر ۱۸۹۳ء ہے قریباً گیارہ مہینہ باقی رہ گئی ہے‘‘

(شہادت القرآن ص۸۰، خزائن ج۶ ص۳۷۵)

جو اگست ۱۸۹۴ء کو ختم ہوتی ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق مرزا سلطان محمد داماد مرزا احمد بیگ اگست ۱۸۹۴ء کے بعد بقید حیات دنیا میں نہیں رہ سکتا تھا۔ جب وہ اس مدت کے بعد بھی زندہ رہا تو جناب مرزا قادیانی نے آخری ایگریمنٹ (اقرار نامہ) ان لفظوں میں شائع کیا۔

’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور

11

اگر میں سچا ہوں تو خداتعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور اتھم کی پیش گوئی پوری ہوگی۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص۳۱ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

(ہمیں ان دونوں کے پورا ہونے پر بھی اعتراض ہے)

یہ عبارت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ مرزا سلطان محمد یعنی اس لڑکی کا خاوند جس سے مرزا قادیانی نے الہامی نکاح کا دعویٰ کیا تھا وہ اگر مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرے تو جناب مرزا قادیانی کے دعویٰ الہام ورسالت وغیرہ بقول ان کے جھوٹے ہوں گے اس کا نام جناب مرزا قادیانی نے تقدیر مبرم رکھا ہے یعنی ان ٹل فیصلہ الٰہی۔

(انجام اتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱، ص ایضاً)

اسی کتاب کے (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴) پر اس دعویٰ کو دوسرے لفظوں میں یوں شائع کیا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی (متعلقہ مرزا احمد بیگ) کی دوسری جزء پوری نہ ہوئی (یعنی داماد مرزا احمد بیگ مسمی سلطان محمد ناکح محمدی بیگم ساکن پٹی فوت نہ ہوا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴ خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

سلطان محمد مذکورہ اگست ۱۸۹۴ء تک نہ مرا بلکہ وہ آج تک بعد انتقال جناب مرزا قادیانی زندہ ہے۔ حالاں کہ اس اثناء میں وہ جنگ عظیم کے دوران فرانس بھی گیا جہاں اس کی گدی میں گولی لگ کر سر سے نکل گئی۔ مگر زندہ رہا اور آج تک بھی زندہ ہے اور اس کی اولاد بھی بہ کثرت آج تک خدا کے فضل سے موجود ہے۔ شریعت اسلامیہ کی تعلیم کا مفہوم ہے ’’یؤخذ المرء باقرارہ‘‘ یعنی انسان اپنے اقرار پر ماخوذ ہوتا ہے۔ حضرت مرزا قادیانی نے اقرار کیا نہ صرف کیا بلکہ شائع کیا کہ مرزا سلطان محمد کا مرنا میری زندگی میں ان ٹل فیصلہ الٰہی ہے یہ بھی فرمایا اگر وہ میری زندگی میں نہ مرتے تو میں جھوٹا بلکہ یہ بھی صاف اقرار کیا کہ میں اس صورت میں یعنی مرزا سلطان محمد کے نہ مرنے کی صورت میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ جس صورت میں جناب مرزا قادیانی کا یہ اقرار ہے اور الہامی اعلان ہے۔ اب پبلک فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنے دعوے میں کہاں تک سچے تھے۔ ’’قضی الرجل علٰی نفسہ‘‘ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری مناظر محمدی سکندرآباد دکن

دستخط:ہمایوں مرزا صدر جلسہ

مؤلف: اس پرچہ کا مضمون بالکل صاف ہے۔ حضرت مولانا فاتح قادیان کی تقریر کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ مختصر مضمون اس پرچہ کا دو لفظوں میں ہے کہ خود مرزا قادیانی کے اقرار اور اعلان کے مطابق مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔ اب فریق ثانی کا جواب ملاحظہ ہو۔

12

پرچہ اول … منجانب مولوی شیخ عبدالرحمن صاحب احمدی مناظر

اشہدان لا الٰہ الّا اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ واشہدان محمد عبدہٗ ورسولہٗ!

جناب مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی ایک پیش گوئی پر یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئی۔ پیشتر اس کے کہ میں اس پیش گوئی کے متعلق جواب دوں ضروری سمجھتا ہوں کہ مختصر طور پر پابندیٔ وقت پیش گوئیوں کے سمجھنے کے متعلق جو اصل قرآن شریف واحادیث صحیحہ سے معلوم ہوئے ہیں عرض کردوں۔یاد رہے کہ پیش گوئی کوئی اصل چیز نہیں ہے۔ اصل چیز انبیاءo کی صداقت ہے اور ان کی اس غرض کا پورا ہونا ہے جس غرض کے لئے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں اور وہ غرض خدائے تعالیٰ اور اس کی تمام صفات پر کامل ایمان پیدا ہونا ہے۔ پیش گوئی یا کوئی اور دلیل صحیح انبیاء کی صداقت کو ظاہر کرنے والی وہ اس اصل کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ اصل چوں کہ ایمان ہے اور ایمان کے متعلق شریعت نے قرار دیا ہے کہ وہ ایمان بالغیب ہے اس لئے کوئی دلیل ایسی نہیں ہوسکتی کہ وہ غیب کے پردہ کو اٹھا دے اور پیش گوئی چوں کہ دلائل میں سے ایک دلیل ہے اس لئے اس پیش گوئی کا پورا ہونا جس سے غیب کا پردہ اٹھ جائے ناکافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تمام انبیاءo کی پیش گوئیوں کے متعلق لوگوں کو ابتلا آتے رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے حضرت رسولکریمﷺ کی وفات پر یہ فرمایا کہ اللہ کی قسم نبی کریمﷺ فوت نہیں ہوئے اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ میرے دل میں سوائے اس کے کوئی خیال نہیں گزرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور بھیجے گا اور پھر آپﷺ منافقوں کے ہاتھ کاٹیں گے۔

(درمنثور بحوالہ بخاری ونسائی ج۲ ص۸۱)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ یہ سمجھتے تھے کہ نبی کریمﷺ خود منافقوں کے ہاتھ کاٹیں گے۔ مگر ایسا وقوع میں نہ آیا۔ اسی طرح جب نبی کریمﷺ کو یہ بتایا گیا کہ آپ خانہ کعبہ کا طواف فرمائیں گے۔ آپﷺ نے اسی وقت صحابہ کو سفر کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام صحابہ کرامؓ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں مقام حدیبیہ پر کفار مکہ نے آکر روکا اور ایک معاہدہ فریقین کے درمیان قرار پایا جس کی رو سے مسلمانوں کو مدینہ طیبہ کی طرف لوٹنا پڑا۔ اس پر تمام صحابہ ؓ کو شک پیدا ہوا اور حضرت عمرؓ نے حضرت نبی کریمﷺ سے دریافت کیا کہ کیا آپﷺ خدا کے رسول نہیں ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں خدا کا

13

رسول ہوں تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ کیا آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ خانہ کعبہ کا طواف کریں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ ہاں کہا تھا مگر یہ نہ کہا تھا کہ اس سال کریں۔ صحابہ ؓ کو اس سال حج نہ ہونے کی وجہ سے اس قدر ابتلاء آیا کہ رسول کریمﷺ نے ان کو حکم دیا کہ قربانیاں ذبح کردو اور سر منڈوا لو تو لکھا ہے کہ ایک صحابیؓ بھی اس حکم کی تعمیل میں نہ اٹھا۔ یہاں تک کہ آپ نے تین بار فرمایا۔ (فتح الباری ج۵ ص۲۵۵، ۲۵۴) مگر کسی نے تعمیل نہ کی۔

یہ ابتلا اس لئے آیا کہ یہ سمجھا گیا تھا کہ پیش گوئی اسی طور پر پوری ہونی چاہئے جس طرح کہی جائے یا حضورﷺ نے جس طرح سمجھا ہے۔ پس پیش گوئیوں کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس میں محکمات بھی ہوتی ہیں اور متشابہات بھی۔ یعنی بعض ایسی پیش گوئیاں ہوتی ہیں۔ جو کئی حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ بعض اوقات نبی ایک معنی سمجھتا ہے لیکن اس کے لحاظ سے پوری نہیں ہوتیں اس سبب سے لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں۔

حضرت (مرزا قادیانی) کی یہ پیش گوئی بھی اسی طرح کی پیش گوئیوں میں سے ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی بہت سی پیش گوئیاں ایسی بھی ہیں جو بیّن طور پر پوری ہوئی ہیں۔ اگر مجھے موقع دیا گیا تو میں ان شاء اللہ ! ان کو پیش کروں گا فی الحال چوں کہ مجھے ایسی پیش گوئی کے متعلق بیان کرنا ہے جو متشابہات میں سے ہے اور جس کے متعلق فریق ثانی نے اعتراض کیا ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ پیش گوئیوں کی غرض کیا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں ’’وما نرسل بالاٰیت الا تخویفا‘‘ ہم نشان نہیں بھیجا کرتے ہیں۔ مگر ڈرانے کے لئے۔ پھر فرماتے ہیں ’’فاخذناہم بالباساء والضراء لعلہم یتضرعون‘‘ہم لوگوں کو دکھوں اور بیماریوں سے پکڑتے ہیں تاکہ وہ ہمارے حضور عاجزی وگریہ وزاری کریں۔

ان دونوں آیتوں سے البتہ یہ پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غرض ایسی پیش گوئیوں سے جن میں کسی پر عذاب نازل ہونے کا ذکر ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ ضروراس کو مورد عذاب ہی بنایا جائے بلکہ اصل منشاء الٰہی خوف پیدا کرنا ہوتا ہے اور توبہ واستغفار کی طرف توجہ دلانی ہوتی ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت جہاں شدید العقاب ہے۔ یعنی عذاب دینے والاوہاں ’’غافرالذنب وقابل التوب‘‘بھی ہے یعنی گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا۔ اس بات کی تصدیق کی اللہ تعالیٰ عذاب کو چھوڑ بھی دیتا ہے ۔ اس آیت سے بھی

14

ہوتی ہے ’’رحمتی وسعت کل شیٔ‘‘یعنی میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ پس اگر انسان آپ اعمال میں تغیر کرلے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو پکڑ لیتی ہے اور حدیث شریف میں بھی آتا ہے ’’لا یرد القضاء الا بالدعاء‘‘خدا کی قضا یعنی تقدیر کو نہیں ٹلا سکتی ہے مگر دعا۔ ان چند باتوں کے بعد میں اصل اعتراض کی طرف آتا ہوں۔ مرزا احمد بیگ اور ان کے داماد کے متعلق پیش گوئی کی جو غرض تھی وہ حضرت مرزا قادیانی کے ان الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس پیش گوئی کی یہ بنیاد نہ تھی کہ خواہ مخواہ مرزا احمد بیگ کی بیٹی کی درخواست کی گئی تھی بلکہ بنیاد یہ تھی کہ فریق ثانی جن میںمرزا احمد بیگ بھی ایک تھا۔ اس عاجز کے قریبی رشتہ دار مگر دین کے مخالف تھے۔ خداتعالیٰ نے چاہا کہ ان پر اپنی حجت پوری کرے تو اس نے نشان دکھلانے میں وہ پہلو اختیار کیا جس کا ان تمام بے دین قرابتیوں پر اثر پڑتا تھا۔ اس اصلی غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل الفاظ کو بھی زیر نظر رکھا جائے۔

’’خدائے تعالیٰ نے اپنے الہام پاک سے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں تو وہ تمام نحوستیں آپ کی اس رشتہ سے دور کر دے گا اور آپ کو آفات سے محفوظ رکھ کر برکت پر برکت دے گا۔‘‘

۴… ’’اگر یہ رشتہ وقوع میں نہ آیا تو آپ کے لئے دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا اور اس کا انجام درد اور تکلیف اور موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف برکت اور موت کے ایسے ہیں کہ جن کو آزمانے کے بعد میرا صدق اور کذب معلوم ہوسکتا ہے۔ آپ جس طرح چاہو آزما لو۔‘‘

(پرچہ افشاں ۱۰؍مئی ۱۸۸۸ء)

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اپنا صدق وکذب بتلانا منظور تھا۔ فریق مخالف نے حضور کے صدق وکذب کو پرکھنے کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی لڑکی کی شادی نہ کی۔ اگر اس کے نتیجہ میں ان پر تکالیف اور موت نہ آتی تو اب تک پیش گوئی جھوٹی نکلتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر لڑکی کی شادی دوسری جگہ ہونی تھی کہ مرزا احمد بیگ یعنی لڑکی کا والد حسب پیش گوئی چار ماہ کے اندر ہلاک ہوگیا اور اس کے ساتھ اس کی دو بہنیں اور اس کی ساس جو اس پیش گوئی میں روک پیدا کرنے والی تھیں، فوت ہوگئیں اور احمد بیگ کا ایک لڑکا بھی ہلاک ہوا۔ اس قدر زبردست تباہی نے اس خاندان پر ایک سخت ہیبت وارد کی اور اس بھیانک اور خوفناک نظارہ کو دیکھ کر ان لوگوں کے دلوں میں توبہ اور خشیت کا خیال پیدا ہوا اور قرآن شریف کی آیت

15

کے ماتحت کہ ہم نشان خوف اور تضرع پیدا کرنے کے لئے بھیجتے ہیں۔ ان کے خوف کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ جو گناہ بخشنے والا توبہ قبول کرنے والا اور بڑی وسیع رحمت والا ہے اس نے ان پر رحم کیا۔

(پانچ منٹ اور دئیے گئے)

چنانچہ ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی خدمت میں بیعت کے خطوط لکھنے شروع کئے اور خاندان کے بہت سے لوگ احمدی ہوئے اور پیش گوئی میں یہ شرط محفوظ تھی۔ چنانچہ پیش گوئی کے الفاظ یہ تھے ’’رأیت ہذاالمرأۃ اثرالبکاء علی وجہہا فقلت ایتہا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک والمصیبۃ نازلۃ علیک‘‘یعنی میں نے اس عورت کو دیکھا کہ رونے کے نشان اس کے چہرے پر ہیں۔ میں نے کہا! اے عورت توبہ کر توبہ، کیوں کہ مصیبت تیری لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر آنے والی ہے اور تجھ پر بھی آنے والی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے احمد بیگ کے داماد کے متعلق اور اس لڑکی کے نکاح میں آنے کے متعلق (ایام الصلح ص۹۰، خزائن ج۱۴، ص۳۲۷ حاشیہ) ’’یہ پیش گوئی بھی مشروط بہ شرائط تھی اور ضرور ہے کہ اس وقت تک اس کا دوسرا حصہ (یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت اور لڑکی کا نکاح میں آنا) معرض توقف میں رہے۔ جب تک کہ خداتعالیٰ کی نظر میں اسباب نقض شرائط کے جمع ہوں۔‘‘ یعنی جب احمد بیگ کا داماد اس شرط کو توڑ دے۔ یعنی اپنی توبہ اور رجوع سے باز آجائے تو پھر ضرور مرے گا اور لڑکی نکاح میں آجائے گی۔ لیکن اگر وہ خشیۃ اللہ پر قائم رہا تو ایسا نہیں ہوگا۔ چنانچہ اس بات کا ثبوت کہ احمد بیگ کا داماد خشیۃ اللہ پر قائم رہا۔ یہ ہے خط:

السلام علیکم! نوازش نامہ آپ کا پہنچا، یاد آوری کا مشکور ہوں۔ میں جناب مرزا جی صاحب مرحوم کو نیک بزرگ شریف النفس اسلام کا خدمت گزار خدا یاد پہلے بھی اور اب بھی خیال کررہا ہوں۔ مجھے ان کے مریدوں سے کسی قسم کی مخالفت نہیں ہے بلکہ افسوس کرتا ہوں کہ چند ایک امورات کی وجہ سے ان کی زندگی میں ان کا شرف حاصل نہ کرسکا۔

نیاز مند سلطان محمد

یہ خط حضرت مرزا قادیانی کی زندگی کے بعد لکھا گیا ہے۔

دستخط:عبدالرحمن احمدی مناظر۔۔۔دستخط:سید ہمایوں مرزا پریذیڈنٹ جلسہ

۳۱؍جنوری ۱۹۲۳ء ختم ۱۰بج کر ۵منٹ پر۔

نوٹ: ناظرین اس سارے مضمون میں احمدی مناظر نے ایک لفظ کا جواب بھی دیا؟ مولانا فاتح قادیان مناظر اسلام کی تقریر کا سارا مدار مرزا قادیانی کی بتائی ہوئی تقدیر

16

مبرم پر تھا۔ تقدیر مبرم کے معنی صاف ہیں۔ قضاء ان ٹل یعنی نہ ٹلنے والا حکم الٰہی۔ پھر جس کو خود ملہم اور صاحب الہام ان ٹل کہے۔ وہ کیوں کر ٹل جائے؟ اس کا جواب کچھ نہیں آیا بہرحال مولانا کا پرچہ دوم ملاحظہ کریں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

منجانب مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان امرتسری

(۱۰بج کر ۲۰ منٹ پر شروع ہوا)

لاحول ولا قوۃ الّا ب اللہ العلیّ العظیم! شیخ عبدالرحمن صاحب احمدی مناظر نے اپنے پرچہ میں جو کچھ تحریر کرایا وہ مرزا قادیانی کی تصریحات کے بالکل برخلاف ہے۔ میں اصل فریق اس بحث میں مرزا قادیانی کو سمجھتا ہوں۔ مناظر کو ایک وکیل کی پوزیشن سے زیادہ نہیں دے سکتا۔ آپ نے پیش گوئی کو ایمان بالغیب کہا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ’’پیش گوئی سے صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ دوسرے کے لئے بطور دلیل کے کام آسکے‘‘ …

’’پیش گوئی میں تو وہ امور پیش کرنے چاہئیں جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور پہچان سکے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۲۱، ۱۲۲ خزائن ج۱۷ ص۳۰۱)

شیخ عبدالرحمن صاحب احمدی مناظر کو دراصل خلط مبحث ہوگیا ہے، اس لئے میرے سوال کو نکاح کے ساتھ ملا دیا ہے۔ میں نے دانستہ اس لڑکی کے نکاح کو نہیں چھیڑتا تھا بلکہ صرف سلطان محمد والا حصہ لیا تھا۔ آپ نے عجیب دورنگی اپنے پرچہ میں دکھائی ہے جو اہل علم کے لئے قابل عبرت ہے۔ آپ اس پیش گوئی کو متشابہ بتلاتے ہیں۔ پھر اس کے معنی کی تشریح بھی کرتے ہیں اور شرط شروط بیان کرتے ہیں۔ ’’ہل ہذا الا تہافۃ قبیح وتناقض صریح‘‘میں مطلب کی کہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کے اصلی عربی الفاظ اس کے متعلق یہ ہیں:

’’فالہمنی ربی وقال ساریہم آیۃ من انفسہم واخبرنی وقال اننی ساجعل بنتا من بناتہم آیۃ لہم فسماہا وقال انہا ستجعل ثیبۃ ویموت بعلہا وابوہا الٰی ثلٰث سنۃ من یوم النکاح ثم نردہا الیک بعد موتہما ولایکون احدہما من العاصمین‘‘

(کرامات الصادقین سرورق ص اخیر خزائن ج۷ ص۱۶۲)

یعنی خدا نے مجھے الہام سے کہا کہ ان لوگوں کی ایک لڑکی تیرے لئے نشان بنائوں

17

گا۔ جس کا نام بھی لیا، فرمایا کہ وہ لڑکی بیوہ کی جائے گی اور اس کا خاوند اور باپ نکاح کے دن سے تین سال تک مرجائیں گے۔ پھر فرمایا کہ ’’کان اصل المقصود الاہلاک‘‘(انجام آتھم ص۲۱۶ خزائن ج۱۱ ص ایضاً) یعنی اصل مقصود پیش گوئی سے مانعین کوہلاک کرنا مار ڈالنا ہے۔ مرزا قادیانی کا الہام ہے ’’شاتان تذبحان‘‘دوبکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے (جو آسمانی منکوحہ کا باپ تھا) دوسری بکری سے اس کا داماد ہے… فرماتے ہیں دو بکریوں کے ذبح ہونے کی پیش گوئی اس کے باپ اور اس کے داماد کی طرف اشارہ ہے جو آج سے سترہ سال پیشتر براہین احمدیہ میں شائع ہوچکی ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۷ خزائن ج۱۱ ص۳۴۱)

میرے مخاطب نے حضرت عمرؓ اور حدیبیہ کا جو واقعہ بیان کیا ہے شکر ہے کہ اس کا جواب خود ہی دے دیا۔ (یعنی آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہوجائے گا۔ مؤلف) حضرت عمرؓ کو آں حضرتa کے انتقال پر جو خیال زندگی کا پیدا ہوا تھا وہ از راہ محبت تھا نہ از راہ پیش گوئی۔ حدیبیہ میں حضرت عمرؓ کے سوال کا جواب دربار رسالت سے مل گیا اور حضرت عمرؓ خاموش ہوگئے بلکہ اس جواب سے ایسے شرمندہ ہوئے، فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کئی کام خیرات کے کئے۔ تاکہ میری یہ غلطی خدا کے ہاں رفع ہوجائے۔ یہ فقرہ بھی اسی جگہ لکھا ہے جو احمدی مناظر نے (کتاب) پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ قرآن شریف میں اس پیش گوئی کے متعلق صاف فیصلہ ہے ’’لقد صدق اللہ رسولہ الرؤیا بالحق‘‘ یعنی خدا نے اپنے نبی کا خواب سچا کردیا۔ اس فیصلہ الٰہی کے بعد کسی کا حق نہیں کہ وہ اس پیش گوئی کو خلط یا متشبہ کہہ سکے ورنہ قرآن کا انکار کرنا ہوگا۔ مجھے حیرت ہے کہ احمدی مناظر نے اپنے بیان میں اتنے تناقض اور تضاد کیوں اختیار کئے پہلے تو پیش گوئی کو ایمان بالغیب کے تحت لاتے ہیں اور آگے چل کر کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی کئی ایک پیش گوئیاں بیّن طور پر ظاہر ہوئیں کیا وہ ایمان بالغیب کے ماتحت نہ ہوں گی؟ ذرا سوچ سمجھ کر بات کیجئے اور کم سے کم یہ خیال کرکے کہئے کہ سامنے کون ہے:

  1. سنبھل کے رکھیو قدم دشت خار میں مجنوں

    کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

میرے اس جواب میں بہت سے حوالے موجود اور غیر موجود دئیے گئے جن کو

18

جواب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا مدار دلیل ایک ہی لفظ ہے یعنی ’’تقدیر مبرم‘‘ جس کے معنی نہ ٹلنے والا حکم الٰہی۔ غیر مشروط ناقابل اپیل، ناقابل استبرداد، مبرم اسم مفعول کا صیغہ ہے ابرام سے، ابرام کے معنی مضبوط کرنا قرآن شریف میں ہے ’’ام ابرموا امراً فانّا مبرمون‘‘ اگر مبرم تقدیر بھی کسی ایک آدھ چٹھی لکھنے سے ٹل جائے تو وہ مبرم کیا ہوئی؟ مرزا سلطان محمد کا خط جو پیش کیا گیا ہے وہ خود غیر مصدقہ ہے اس کے باریک نکتہ کو احمدیہ جماعت نہیں پہنچی۔ وہ کس بلاغت سے احمدیہ فریق پر چوٹ کرتا ہے وہ کہتا ہے مجھے مرزا قادیانی کی تقدیر مبرم کا شکار ہونا چاہئے تھا، مگر نہ ہوا۔

لہٰذا ضروری ہے کہ میں اس خط کی تشریح کردوں۔ اس خط میں جو یہ لکھا ہے کہ چند امورات کی وجہ سے شرف حاصل نہ کرسکا۔ اس کے ان امورسے مراد وہی بڑا امر ہے جس کامرزا قادیانی کو ساری عمر صدمہ رہا۔ میں اس صدمہ کا ذکر نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہ پیش گوئی دوسری ہے۔ بہرحال میں اپنی تقریر کا خاتمہ اس پر کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے سلطان محمد کا مرنا اپنی زندگی میں تقدیر مبرم یعنی ان ٹل قرار دیا اور اس کے نہ مرنے کواپنے جھوٹے ہونے کی علامت قرار دیا۔ حالاں کہ آج تک وہ مع ایک درجن بچوں اور بیوی موصوفہ کے زندہ موجود ہے میں اس شعر پر اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں:

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

میں اخیر میں مرزا قادیانی کے ابتدائی اشتہار سے ایک فقرہ سناتا ہوں جو جولائی ۱۸۸۸ء کا ہے۔ مرزا قادیانی اس میں فرماتے ہیں کہ ’’وہ لڑکی جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱، ص۱۵۸)

’’نکاح لڑکی کا ۷؍اپریل ۱۸۹۳ء کو ہوا‘‘

(کتاب دافع الوساوس ص۲۸۰ خزائن ج۵ ص ایضاً)

مجھے بھی حضرت مرزا قادیانی کے اس نازک موقع پر بسا اوقات رحم آیا اور احمدی جماعت کے اضطراب پر تو میں رات دن پریشان رہتا ہوں کہ الٰہی تیرے نام سے ایک اللہ کا بندہ اظہار کرتا ہے اور اسے تقدیر مبرم قرار دیتا ہے۔ تیرے پاس کیا کمی تھی جہاں تیرے حکم سے رات دن ہزاروں لاکھوں انسان مرتے رہتے ہیں، سلطان محمد کو بھی مار ڈالتا۔ مجھے خدا کی طرف سے القائی جواب ملتا ہے ’’انّی اعلم مالاتعلمون‘‘ میں اپنے مخاطب کو اور دیگر حضرات

19

(حاضرین) اور علم اور خشیت الٰہی کا واسطہ دے کر تقدیر مبرم کے لفظ پر توجہ دلاتا ہوں۔ فقط!

دستخط: ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری مناظر از جانب فریق محمدیہ۔

دستخط: سید ہمایوں مرزا پریذیڈنٹ جلسہ

(ختم ۱۰بج کر ۴۰ منٹ پر)

مؤلف: اس پرچہ کا مضمون ہمارے نوٹ کا محتاج نہیں صاف ہے کہ تقدیر مبرم کے ماتحت مرزا سلطان محمد کو مرزا قادیانی سے پہلے مرجانا چاہئے تھا، مگر مرا نہیں۔

جواب منجانب شیخ عبدالرحمن صاحب مناظر جماعت احمدیہ پرچہ دوم

(وقت ۱۱بج ۱۰منٹ)

مجھے افسوس ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے میری تقریر سمجھنے کی کوشش نہ کی اور باوجود اس کے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ میرے کلام میں تناقض ہے۔ مولوی صاحب مجھے کہتے ہیں کہ یہ خیال رکھ کر تقریر کرنا سامنے کون بیٹھا ہے۔ سو جناب! مولوی صاحب کو یاد رہے کہ میں اپنے سامنے اپنا شکار سمجھتا ہوں (جو مرزا قادیانی کا شکاری ہو وہ آپ کا شکار کیسے ہوسکتا ہے؟ مؤلف) مولوی صاحب کا بڑا زور اس بات پر ہے کہ سلطان محمد کیوں فوت نہ ہوا۔ میں نے قرآن شریف کی آیات کے حوالوں سے اس بات کو ثابت کیا تھا کہ وہ عذاب کی پیش گوئیاں تضرع اور رجوع سے ٹل جایا کرتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس شخص کو معاف کرکے عذاب کو ہٹا لیتا ہے اور ان پیش گوئیوں کی صرف اتنی ہی غرض ہوتی ہے۔ ان آیات کا قطعاًمولوی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا اور ان کے ماتحت میں نے ثابت کیا تھا کہ مرزا سلطان محمد نے خشیۃ اللہ کو اپنے دل میں داخل کیا اور وہ حضرت مرزا قادیانی کو بجائے کاذب اور مکار خیال کرنے کے خدا پرست اور نیک اور بزرگ یقین کرنے لگ پڑا۔ جس کے ثبوت میں میں نے اس کا خط پیش کیا تھا۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ خط غیر مصدقہ ہے اس رسالہ میں اس خط کا فوٹو دیا ہوا ہے جس کو ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے۔ اگرچہ خط غیر مصدقہ تھا تو کیوں مرزا سلطان محمد سے اس وقت تک اس کی تردید نہیں کرائی یا خود اس شخص نے اس کی تردید نہیں کی۔

باقی مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ چند امورات میں نکاح کا امر داخل ہے خارج از بحث بات ہے مجھے اس خط کے پیش کرنے سے صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ وہ شخص پیش گوئی

20

کے وقوع کے بعد ڈرا اور حضرت مرزا قادیانی کے متعلق اس کو یقین ہوگیا کہ آپ خدا پرست اور بزرگ انسان ہیں۔ اگر کوئی کہے رجوع سے تو یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ شخص بیعت میں داخل ہوجائے تو اس کے جواب میں قرآن شریف کی یہ آیت مدنظر رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کا ذکر کرکے فرمایا ہے ’’مانریہم من آیۃ الا ہی اکبر من اختہا واخذناہم بالعذاب لعلہم یرجعون‘‘یعنی ہم نہیں دکھاتے ان کو کوئی نشان مگر وہ پہلے نشان سے بڑا ہوتا ہے اور ہم نے ان کو عذاب سے پکڑ لیا تاکہ وہ رجوع کریں۔ اس کے بعد رجوع کا نقشہ کھینچا گیا ہے وہ ان الفاظ میں ہے ’’وقالوا یایہا الساحر ادع لنا ربک بما عہد عندک اننا لہمتدون فلمّا کشفنا عنہم العذاب اذاہم ینقضون‘‘ یعنی انہوں نے موسیٰ کو کہا کہ اے جادوگر تو ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر۔

یہ ہے ان کا رجوع، اس رجوع پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان سے عذاب ہٹا دیا جب اتنے سے رجوع پر بھی عذاب ہٹ سکتا ہے تو مرزا سلطان محمد صاحب کے اس قدر عظیم الشان رجوع پر کیوں عذاب نہیں ہٹ سکتا۔ جب کہ اس کے باقی عام رشتہ دار یعنی لڑکی کی والدہ اور اس کی لڑکیاں اور اس کے داماد اس کے اور رشتہ دار احمدی ہوچکے ہیں۱؎ اور اس خاندان کا سب سے بڑا سردار مرزا محمود بیگ صاحب بھی بیعت میں داخل ہوگئے ہیں۔ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی ہوتی تو سب سے پہلا اثر اس خاندان پر پڑنا چاہئے تھا مگر عجیب بات ہے کہ وہ سارا خاندان۲؎ تو احمدی ہوجاتا ہے اور دوسرے لوگ انکار کررہے ہیں میں نے ایام الصلح کے حوالہ سے بتایا تھا کہ یہ پیش گوئی بعض شرائط کے ساتھ معلق تھی۔ اس حوالہ پر جناب مولوی صاحب نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پھر میں نے اس شرط کے متعلق الہام بھی بتلایا تھا، اس کی بھی کوئی تردید نہیں کی گئی۔ مولوی صاحب نے سب سے بڑا زور ’’تقدیر مبرم‘‘ کے لفظ پر دیا ہے۔ مگر افسوس مولوی صاحب نے اس کے بعد کی چند سطریں چھوڑ دی ہیں۔ میں ان کو پڑھ دیتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں:

۱؎ثبوت دربطن قائل۔ (مؤلف)

۲؎سارے خاندان سے کیا کام، دیکھنا تویہ ہے کہ خود مرزا سلطان محمد کا کیا حال ہے کیا اس نے توبہ کی ہے؟ کیا اس نے اپنی بیوی مرزا قادیانی کی منکوحہ کو چھوڑا بھی؟ پھر خالی خولی خشیۃ سے کیا فائدہ؟ (مؤلف)

21

’’فیصلہ تو آسان ہے، احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خداتعالیٰ مقرر کرے۔ اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں (انجام آتھم ص۳۲، خزائن ج۱۱، ص ۳۲ درحاشیہ) اگر یہ بات اٹل تھی تو حضرت مرزا قادیانی یہ کیوں فرماتے کہ تکذیب کرنے پر عذاب آسکتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ پھر ’’تقدیر مبرم‘‘ کیا ہوئی تو یاد رہے کہ تقدیر مبرم نہ قرآن شریف کی اصطلاح ہے نہ حدیث کی۔ یہ صوفیاء کرام کی اصطلاح ہے۔ پس ہمیں صوفیاء کرام ہی کی کتب سے اس کے معنی تلاش کرنے پڑیں گے۔ امام مجدد صاحب الف ثانی سرہندیؒ اپنے (مکتوبات ۲۷۰ ج اوّل ص۲۲۴) پر فرماتے ہیں کہ :

تقدیر مبرم کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو ٹل جایا کرتی ہے اور اس کی تائید میں حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ کا قول لائے ہیں۔ اس کے مطابق حضرت مسیح موعود (مرزاقادیا نی) بھی فرماتے ہیں کہ: ’’مومن کامل کا خداتعالیٰ کے نزدیک بڑا درجہ اور مرتبہ ہوتا ہے اور اس کی خاطر سے اور اس کی تضرع ودعا سے بڑے بڑے پیچیدہ کام درست کئے جاتے ہیں اور بعض ایسی تقدیریں بھی جو تقدیر مبرم کے مشابہ ہوں بدلائی بھی جاتی ہیں۔‘‘

(آسمانی فیصلہ ص۹، خزائن ج۴، ص۳۲۴)

پس خلاصہ کلام یہ ہوا کہ مرزا سلطان محمد صاحب کی وفات شرطی تھی۔ اگر وہ خشیۃ اللہ کو چھوڑ دیتا تو ضرور اس کی موت ہوجاتی۔ مگر چوں کہ اس نے خشیتہ اللہ سے کام لیا۔ حتی کہ اس کی یہ خشیۃ اللہ حضرت مرزا قادیانی کی وفات کے بعد بھی دور نہ ہوئی اور اس کو حضرت مرزا قادیانی کی تکذیب کی قطعاً جرأت نہیں ہوسکی۔ پس ایسی حالت میں خداتعالیٰ کی طرف سے عذاب کا آنا قانون الٰہی کے بالکل خلاف تھا۔ جناب مولوی صاحب نے میرے بیان پر جو اعتراض کئے ہیں وقت کے ختم ہونے کے خیال سے مفصل جواب نہیں دے سکتا۔ مگر اتنا عرض کر دیتا ہوں کہ جو صاحب بھی میری پہلی تقریر کو غور سے پڑھیں گے اسی میں ان کے جواب پائیں گے۔ مولوی صاحب نے کہا ہے کہ اصل پیش گوئی مانعین کو ہلاک کرنا تھا۔ میں نے پہلے ہی بتلا دیا ہے کہ تمام مانعین ہلاک کر دئیے گئے تھے (بڑا مانع نکاح تو مرزا سلطان محمد ہے جس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ مؤلف) مولوی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ میں ان کی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کو نشان بنا دوں گا۔ سو یہ پیش گوئی واقع میں پوری ہوگئی۔ ان کی لڑکی زبردست نشان بنی اور اس لڑکی کی وجہ سے مطابق پیش گوئی سخت تباہی آئی اور جو باقی بچے ان

22

کو ہدایت نصیب ہوئی۔ باقی اس کا بیوہ بن جانا یہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ مشروط تھا سلطان محمد کی وفات کے ساتھ اور سلطان محمد نے رجوع کیا اس لئے وہ قانون اور قرآن شریف کی تعلیم کے ماتحت بیوہ نہیں ہوسکتی تھی۔ پس میں اپنی تقریر کو بوجہ ختم ہونے وقت کے ختم کر دیتا ہوں۔

دستخط:عبدالرحمن احمد ...دستخط:سید ہمایوں مرزا پریذیڈنٹ جلسہ ۳۱؍جنوری ۱۹۲۳ء

مؤلف: اس تحریر کے سنانے کے وقت عجیب نظارہ تھا۔ مولانا فاتح قادیان نے اعلان کردیا کہ اگر مجدد صاحب کی کتاب میں یہ مضمون ہو کہ تقدیر مبرم بھی ٹل جاتی ہے تو میں اپنا دعویٰ واپس لے لوں گا۔ لائیے کتاب دکھائیے۔ مگر فریق ثانی نے کتاب نہ دکھائی۔ کیوں کہ اس میں یہ نہیں لکھا کہ تقدیر مبرم بدل جاتی ہے۔ بلکہ یہ لکھا ہے کہ: ’’ بعض دفعہ اولیاء اللہ اپنے کشفوں میں کسی امر کو تقدیر مبرم جان جاتے ہیں۔ حالاں کہ وہ مبرم نہیں ہوتا اس لئے وہ دعا یا صدقہ سے ٹل جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ اصل تقدیر مبرم بھی ٹل جاتی ہے۔‘‘ احمدی مناظر کی چالاکی قابل داد ہے کہ آپ خود بھی تقدیر مبرم کے ٹل جانے کے قائل نہیں ہوئے۔ اس لئے بڑی ہوشیاری سے مشابہ تقدیر مبرم کہتے ہیں اللہ اللہ کس قدر کمزوری ہے کہ خود صاحب الہام بلکہ نبی بلکہ رسول تو اتنا پرزور دعویٰ کریں کہ سلطان محمد کا مجھ سے پہلے مرنا تقدیرمبرم ہے۔ یہ بھی کہیں کہ مجھ سے پہلے نہ مرے تو میں جھوٹا۔ مگر احمدی مناظر کہتے ہیں کہ یہ تقدیر باوجود مبرم ہونے کے ٹل گئی۔ حالاں کہ قرآن مجید میں خداتعالیٰ فرماتا ہےِِ ’’لاتبدیل لکلمات اللہ ‘‘خدا کے حکم تبدیل نہیں ہوسکتے۔

مباحثہ دو روز ٹھہراتا تھا۔ دوسرے روز فریق ثانی نے انکار کردیا۔ خط پر خط لکھا، نہ آئے۔ آخر یہ لکھا گیا کہ سامنے نہ آئو تو اپنے اپنے مکان میں سے پرچہ لکھ بھیجو۔ اس پر بھی راضی نہ ہوئے تو تیسرا پرچہ بتاریخ ۲۲؍فروری ۱۹۲۳ء صبح کے ۹بجے عبد اللہ الہ دین قادیانی کو بھیج کر لکھا گیا کہ آج مغرب تک جواب کا انتظار ہوگا۔ وہ پرچہ انہوں نے واپس کرکے لکھا کہ شیخ عبدالرحمن صاحب کو حیدرآباد (ہیں وہاں) بھیج دیں۔ ان کے اس لکھنے پر پرچہ مذکور بذریعہ ڈاک مکتوب الیہ کو بھیجا گیا تھا جو یہاں درج ہے۔

پرچہ نمبر۳ منجانب مولانا مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری مناظر محمدی

شیخ عبدالرحمن صاحب! ’’راستی موجب رضائے خدا است‘‘ یہ ایک سنہرا مصرع

23

ہے جس کی پابندی ہر ایک انسان پر فرض ہے۔ میں اس کی پابندی میں آپ کے سامنے آپ کے نبی، رسول، پیشوا، مسیح موعود، حضرت مرزا قادیانی کا کلام مختلف مقامات سے رکھ دیتا ہوں۔ ایک تو وہی (انجام آتھم ص۳۱ خزائن ج۱۱ ص ایضاً) سے کہ مرزا سلطان محمد کا مرزا قادیانی سے پہلے مرنا تقدیر مبرم ہے۔‘‘ دوسرا کرامات الصادقین کے (سرورق ص اخیر خزائن ج۷ ص۱۶۲) سے جس کا ترجمہ یوں ہے ’’سلطان محمد یوم نکاح سے تین سال میں مر جائے گا اس کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے ’’لاتبدیل لکمات اللہ ‘‘یعنی خدا کے احکام نہیں بدلا کرتے‘‘ چوں کہ آپ نے مرزا سلطان محمد کی پیش گوئی اور نکاح والی پیش گوئی دونوں کو ملا دیا ہے۔ کیوں کہ ایام الصلح کے جس مقام کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہاں نکاح کا ذکر ہے۔ اس لئے میں ان دونوں پیش گوئیوں کے الفاظ ایک جا کرکے باانصاف ناظرین کو توجہ دلاتا ہوں۔

۱… (انجام آتھم ص۳۱ خزائن ج۱۱ ص ایضاً) جس میں لکھا ہے ’’مرزا سلطان محمد کا مرزا قادیانی سے پہلے مرنا تقدیر مبرم (ان ٹل) ہے۔

۲… (کرامات الصادقین سرورق اخیر ص ل خزائن ج۷ ص۱۶۲) پر مرزا سلطان محمد کا مرنا اور اس کی بیوی کا بیوہ ہونا اور مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا تین دعوے کئے گئے ہیں اور ان تینوں دعوئوں کو مدلل کیا گیا ہے۔ اس الہامی عبارت ’’لاتبدیل لکلمات اللہ ‘‘یعنی خدا کے حکموں میں تبدیلی نہیں ہوسکتی، سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ تینوں دعوے غیر متبدل ہیں۔

(انجام آتھم ص۲۲۳ خزائن ج۱۱ ص ایضاً) کا حوالہ یہ ہے’’بل الامر قائم علی حالہ ولا یردہ احد باحتیالہ والقدر قدر مبرم من عند الرب العظیم‘‘یعنی یہ کام (نکاح مرزا) ہوکر رہے گا کوئی اس کو نہیں روک سکے گا۔ یہ خدائی تقدیر مبرم ہے۔ آپ نے تقدیر مبرم کو قابل تبدیل بنانے کی کوشش کی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ آپ اس میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ یہ کوشش آپ کی مرزا قادیانی کی تصریحات کے خلاف ہے۔ آئیے ذرا خدا کا خوف دل میں رکھ کر اور یہ جان کر کہ ایک دن اس کے سامنے حاضری ہے۔ جس کی شان یہ ہے’’لایعذب عذابہ احد ولایوثق وثاقہ احد‘‘مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل غور سے پڑھیں جو یہ ہے:

’’نفس پیش گوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز (مرزا قادیانی) کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیوں کہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ

24

فقرہ موجود ہے کہ:’’لاتبدیل لکلمات اللہ ‘‘یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگرٹل جائے تو خداتعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘

(اشتہار ۶ستمبر۱۸۹۴ء مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)

یہ ہیں تقدیر مبرم کے معنی اور مراد جو مرزا قادیانی نے خود بیان فرما دی ہے۔ پس ان ساری عبارتوںکو ملا کر مندرجہ ذیل نتیجہ غور سے سنئے۔

محمدی بیگم کا نکاح مرزا میں آنا موقوف ہے۔ مرزا سلطان محمد کی موت پر۔ قاعدہ اصولی ہے ’’مقدمۃ الواجب واجب‘‘نکاح جب اٹل ٹھہرا تو سلطان محمد کی موت بھی مرزا قادیانی کی زندگی میں ضرور ہی اٹل ٹھہری چوں کہ محمدی بیگم کا بعد انتقال اپنے خاوند سلطان محمد سلمہ اللہ کے بیوہ ہو کرنکاح مرزا میں آنا ضروری تھا جو نہیں ہوا۔ اس لئے میں آپ کو اس خدائے علیم کے نام کا واسطہ دے کر حوالہ جات مذکورہ کے بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴ خزائن ج۱۱ ص۳۳۸) پر توجہ دلاتاہوں جس میں مرزا سلطان محمد کی موت نہ آنے پر مرزا قادیانی نے اپنے حق میں تمام مخلوق سے بدترین بننے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ میں حیران ہوں کہ ایسی خصوصیات صریحہ کے ہوتے ہوئے آپ (انجام آتھم ص۳۲، خزائن ج۱۱، ص۳۲ حاشیہ) کی عبارت کیوں پیش کرتے ہیں۔ جس میں مرزا سلطان محمد کی اڑھائی سالہ معیاد گزر جانے کا جواب ہے وہ میری پیش کردہ عبارت تقدیر مبرم سے بے تعلق ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سلطان محمد کی بابت مرزا قادیانی کی پیش گوئی دو صورتوں میں ہے۔ ایک اڑھائی سالہ جس کی میعاد اگست ۱۸۹۴ء کو ختم ہونے پر اعتراضات شروع ہوئے تو آپ نے اس کو اندازی پیش گوئی قرار دے کر التواء میں پڑ جانے کا اعلان کیا۔ اس التواء کی وجہ سلطان محمد کا خوف بتلایا اور اسی پر اس کو قسم کھانے کا صفحہ مذکور پر ذکر کیا ہے۔ مجھے اس پیش گوئی اور اس کے التوا سے اس وقت بحث نہیں ہے۔ دوسری صورت اس پیش گوئی کی یہ ہے جس کی عبارت میں نے نقل کی ہے کہ وہ تقدیر مبرم یعنی مرزا قادیانی کی زندگی میں اس کا مرنا ضروری ہے جس کی دنوں یا مہینوں یا سالوں سے تحدید نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ وہ مرزا قادیانی ہی کی زندگی میں مرے گا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ محمدی بیگم (خدا اس کو صدمہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے) مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق نکاح ثانی سے مرزا قادیانی کی منکوحہ بنے گی جو نہ بنی اور نہ سلطان محمد مرزا قادیانی کی زندگی میں بلکہ آج تک فوت نہ ہوا۔ ان صحیح واقعات سے چشم پوشی کرکے جو شخص یا جماعت مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو سچا سمجھے میںان کے حق میں

25

بجز اس کے کیا کہہ سکتا ہوں۔ ’’ما لہٰولاء القوم لایکادون یفقہون حدیثا‘‘ اور اس شعر کے سوا میں کیا کہہ سکتا ہوں:

  1. الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے

    دے آدمی کو موت پر یہ بد ادا نہ دے

اطلاع: اس پرچہ کا جواب آج ۲۵؍فروری ۱۹۲۳ء تک نہیں آیا۔ ناظرین پرچوں کو ملاحظہ کر کے حق وباطل میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔ آمین!

خاکسار مرزا محمود علی بیگ

سیکرٹری انجمن اہل حدیث سکندر آباد دکن

مرقوم ۲۵؍فروری ۱۹۲۳ء

قادیانیوں کے ہتھکنڈے اور ان کا جواب

ناظرین کرام! پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اور ان کی امت کے دعوے اور عقائد یہ ہیں کہ جو شخص مرزا قادیانی کو نبی، رسول، مسیح موعود، مہدی مسعود، امام الزمان اور مجدد وغیرہ نہیں مانتا وہ کافر ہے اور اس کے پیچھے کسی مرزائی کی نماز درست نہیں۔ چاہے مرزا قادیانی کا منکر کیسا ہی عالم، دین دار، موحد اور متبع سنت ہو وہ کافر کا کافر ہی رہے گا اور جہنم میں جائے گا۔ قادیانی امت نے دنیا بھر کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا رکھا ہے۔ عام مسلمان جب مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے اور الہامات اور غلط پیش گوئیوں کا انکار کرتے اور ان ہی کی کتابوں سے ان کا جھوٹ ثابت کرتے ہیں تو قادیانی لوگ تنگ آکر دوباتیں پیش کیا کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ مباہلہ کر لو جس میں دونوں فریق (محمدی اور احمدی) جھوٹے پر لعنت کریں۔ پھر دیکھو سال تک کیا ہوتا ہے۔ اس کا جواب مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب شیر پنجاب فاتح قادیان نے یہ دیا ہے کہ سال بھر کی مدت کسی روایت میں نہیں بلکہ تفسیر معالم التنزیل سے دکھایا کہ مباہلہ کی دعوت دینے والے کا اثر فریق ثانی پر فوراً ہونا چاہئے۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:’’ولو یلاعنوا لمسخوا (الحدیث) (معالم ج۱ ص۱۶۴)‘‘یعنی مباہلہ کرنے والے اگر مباہلہ کرتے توفوراً مسخ کئے جاتے۔ کیوں کہ ’’لو‘‘ حرف شرط ہے اور شرط کی جزا متصل ہوتی ہے۔ پس جب کبھی قادیانی لوگ مباہلہ کی دعوت دیںتو ہمارے برادران اسلام ان سے لکھوالیں کہ مباہلہ ہوتے ہی ہم پر اثر نہ ہوا تو قادیانی

26

جھوٹے ہوں گے اور مرزائی مذہب سے تائب ہوں گے۔ تائب نہ ہونے کی صورت میں اتنی رقم بطور تاوان ادا کریں گے بلکہ اقرار نامہ کے ساتھ ہی رقم تاوان کسی امانت دار کے پاس رکھوا لیں۔

دوسرا ہتھکنڈا ان کا یہ ہے، کہتے ہیں کہ آئو قسم کھائو کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر ایک سال تک موت یا عذاب آئے اس کا جواب مولانا فاتح نے جو دیا ہے وہ مسلمان بھائیوں کے یاد رکھنے کے لئے درج ذیل ہے۔

قادیانی جماعت کو جواب

ملخص از اشتہار مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری فاتح قادیان بزمانہ ورود حیدرآباد دکن۔

(مؤرخہ ۶؍فروری ۱۹۲۳ء)

برادران اسلام! میں جب سے آیا ہوں میری تقریریں آپ نے سنیں۔ آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ قادیانی مذہب کے جواب میں میں اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتا۔ میں تو صرف ان کے نبی رسول قادیان کے الفاظ سنا دیتا ہوں۔ اس پر بھی میرے عنایت فرما قادیانی لوگ خفا ہیں۔ چنانچہ جب عبد اللہ الہ دین صاحب احمدی سوداگر سکندرآباد نے ایک اشتہار دیا ہے جس میں موصوف نے لکھا ہے کہ مولوی ثناء اللہ تکذیب مرزا قادیانی پر ہماری پیش کردہ عبارت میں حلف اٹھائیں تو ہم ان کو مبلغ پانچ سو روپیہ انعام دیں گے۔ اس عبارت میں سوائے طول فضول کے کچھ فائدہ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں حلف اٹھائوں کہ مرزا قادیانی دعویٰ مسیحیت وغیرہ میں جھوٹے تھے۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو ایک سال کے اندر ہلاک ہوجائوں۔ وغیرہ

میں جلسہ ۵؍فروری ۱۹۲۳ء میں اعلان کر چکا ہوں کہ میں عبد اللہ الہ دین (قادیانی) کے الفاظ میں حلف اٹھانے کو تیار ہوں مبلغ پانچ سو روپیہ پہلے انعام لے لوں گا۔ لیکن ایک سال تک میں زندہ سلامت رہا تو یقینا احمدیوں کے نزدیک بھی سچا ثابت ہوں گا۔ پس عبد اللہ الٰہ دین صاحب اور میاں محمود احمد قادیانی (خلیفہ قادیان) تحریر کر دیں کہ بعد سال ہم آپ کو سچا جان کر بحکم قرآن شریف’کونوا مع الصادقین‘‘ مرزا قادیانی کا مذہب چھوڑ کر مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ ہوکر تبلیغ کریں گے اور دونوں یا کوئی ایک ایسا نہ کریں گے کہ تو دس ہزار روپیہ انعامی رقم مولوی ثناء اللہ کو دیں گے۔ اگر خیال ہو کہ عبد اللہ الٰہ دین

27

صاحب اس عہد کے ذمہ دار اس لئے ہوں گے کہ انہوں نے اشتہار دیا خلیفہ قادیانی کیوں عہد لکھیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسی مضمون کا ایک اشتہار منشی قاسم علی سہ صدی قادیانی نے دیا تھا تو اس پر لکھا تھا بحکم خلیفہ صاحب قادیان۔ چوں کہ حیدرآبادی اشتہار کا مضمون دراصل وہی مضمون ہے نیز خلیفہ قادیان سب کی جڑ بنیاد ہے۔ اس لئے دونوں سے عہد لیا جائے گا۔

اطلاع عام

مولانا امرتسری مدظلہ العالی کا مذکورہ بالا جواب سن کر قادیانی امت چوکڑی بھول گئی اور ہوش میں آکر خاموش بیٹھ گئی اور آئندہ بھی امید نہیں کہ مولانا کے تجویز کردہ شرائط کو قبول کرکے کوئی قادیانی میدان میں آسکے:

  1. تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے

    وہ ساری شیخی جاتی رہی دو گھڑی کے بعد

برادران اسلام سے توقع کی جاتی ہے کہ قادیانی لوگ جب کبھی سر اٹھائیں گے تو ان سے بطریق مذکورہ بالا اقرار نامہ لکھوا لیا کریں گے تا اس جھوٹے نبی اور اس کے فرقہ باطلہ کی پوری قلعی کھل جائے۔

خاکسار

سیکرٹری (جماعت اہل حدیث سکندرآباد حیدرآباد دکن)

قادیانی مباحثہ دکن کا اثر

اخبار رہبر دکن مؤرخہ ۳؍رجب ۱۳۴۱ھ میں غلام صمدانی خان صاحب ساکن پل قدیم حیدرآباد نے اپنے اور اپنے ۹متعلقین کے قادیانی مذہب سے تائب ہونے کی اطلاع درج کرائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے مولانا ثناء اللہ صاحب کے وعظوں اور خصوصاً سکندرآباد کے مناظر کے اثر سے قادیانی مذہب کو ترک کردیا۔ آپ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر قادیانی مذہب سچے اصول پر قائم ہوا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے یہ لوگ دب جاتے۔ میں نے دیکھا کہ حضرات احمدی کی مناظرے کے روز عجیب حالت تھی کوئی گفتگو ان کی قرینہ کی نہ تھی۔

مذکورہ بالا دس حضرات کے علاوہ شیخ حسین صاحب ضلع میدک اور مزمل اللہ صاحب اور محمود علی صاحب حیدرآبادی وغیرہ کے قادیانی مذہب سے تائب ہونے کی اطلاعیں اخبار مذکور میں درج ہوئی ہیں۔ الحمدللہ! (مؤلف)

28

شہادات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

29

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ والصلٰوۃ والسلام علی عبادہ الذین اصطفی!

پنجاب کے ضلع گورداس پور کے قصبہ قادیان میں ایک صاحب مرزا غلام احمد پیدا ہوئے ہیں۔ جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جن احادیث میں حضرت عیسیٰؑ کے قبل قیامت دنیا میں آنے کا ذکر ہے ان سے مراد میں ہوں، یعنی میں عیسیٰ موعود ہوں۔

ان کے اس دعوے کی تردید میں خاکسار کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں، جن میں زیادہ تر توجہ مرزا قادیانی کی ان پیش گوئیوں پر ہے جو موصوف نے اپنی صداقت کے اظہار کے لئے وحی اور الہام کے نام سے کی ہیں۔

اس لئے میرے بعض مخلص دوستوں نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ ایسی بھی کوئی کتاب لکھوں جس میں دلائل حدیثیہ سے بھی گفتگو ہو یعنی ان احادیث کا ذکر بھی ہو جن میں حضرت عیسیٰ موعود کا آنا مذکور ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کچھ ہو تو مضائقہ نہیں۔

اس لئے اس مختصر رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعوے کی تردید میں تین طرح کی شہادات ناظرین ملاحظہ فرمائیں گے:

۱… احادیث صحیحہ سے۔

۲… مرزا قادیانی کی (نام نہاد) وحی والہام سے۔

۳… مرزا قادیانی کے اپنے معیار اور اقوال سے۔

امید ہے کہ ناظرین اس رسالہ کو اس بحث میں اچھوتا پائیں گے اور مقدور بھر اس کی اشاعت کرکے خدمت دین بجا لائیں گے۔

’’ربّنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم‘‘

ابوالوفا ثناء اللہ ملقب بہ فاتح قادیان

صفر ۱۳۱۲ھ مطابق اکتوبر ۱۹۲۳ء

30

دعویٰ مرزا قادیانی

جناب مرزا قادیانی کا دعویٰ خود انہی کے الفاظ میں نقل کرنا مناسب ہے، گو آپ کا دعویٰ اس قدر مشہور ومعروف ہے کہ کسی کو مجال انکار نہیں، گو ان کے دعویٰ نبوت ورسالت وغیرہ کے متعلق ان کی امت میں اختلاف ہے لیکن ان کے دعویٰ مسیحیت کی بابت اختلاف نہیں۔ تاہم ہم انہی کے الفاظ میں ان کا دعویٰ سناتے ہیں، فرماتے ہیں:’وکنت اظن بعد ہذہ التسمیۃ ان المسیح الموعود خارج وما کنت اظن انہ انا حتی ظہر السر المخفی الذی اخفاہ اللہ علی کثیر من عبادہ ابتلاء من عندہ وسمانی ربی عیسٰی ابن مریم فی الالہام من عندہ وقال یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّ ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الٰی یوم القیامۃ انّاجعلناک عیسٰی ابن مریم وانت منی بمنزلۃ لا یعلمہا الخلق وانت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی وانک الیوم لدینا مکین امین۔ فہذا ہوالدعویٰ الذی یجادلنی قومی فیہ ویحسبوننی من المرتدین۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۷، خزائن ج۷ ص ۱۸۴)

’’خدا نے میرا نام متوکل رکھا، میں بعد اس کے بھی سمجھتا رہا کہ مسیح موعود آئے گا اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں ہی ہوں گا، یہاں تک کہ مخفی بھید مجھ پر کھل گیا، جو بہت سے لوگوں پر نہیں کھلا اور میرے پروردگار نے اپنے الہام میں میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا اور فرمایا اے عیسیٰ! ہم (خدا) نے تجھے عیسیٰ بن مریم کیا اور تو مجھ سے ایسے مقام میں ہے کہ مخلوق اس کو نہیں جانتی اور تو (مرزا) میرے نزدیک میری توحید اور وحدت کے رتبے میں ہے اور تو آج ہمارے نزدیک بڑی عزت والا ہے۔ پس یہی (مسیح موعود ہونے کا) دعویٰ ہے جس میں مسلمان قوم مجھ سے جھگڑتی ہے اور مجھ کو مرتد جانتی ہے۔‘‘

یہ عبارت صاف لفظوں میں مرزا قادیانی کا دعویٰ بتا رہی ہے کہ آپ اس بات کے مدعی تھے کہ احادیث میں جن عیسیٰ موعود کی بابت خبر آئی ہے کہ وہ دنیا میں قریب قیامت کے ظاہر ہوں گے وہ میں ہوں۔

یہ بھی اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ مسلمان مرزا قادیانی سے اس دعوے میں بحث اور نزاع کرتے ہیں، یعنی وہ آپ کو عیسیٰ موعودوغیرہ نہیں مانتے۔ اصلی نزاع یہی

31

ہے، اس کے سوا باقی کوئی ہے تو فرعی۔ یہ ہے مرزا قادیانی کے دعوے کی تقریر جو انہی کے الفاظ میں نقل کی گئی ہے۔

نوٹ: امت (مرزائیہ) مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت موعودہ کے اثبات سے عاجز ہو کر کبھی وفات عیسیٰ پر بحث کرنے لگ جاتی ہے، کبھی دجال اور اس کے گدھے کی بابت ادھر ادھر کی بات شروع کر دیتی ہے جس سے اصل مقصد دور ہوجاتا ہے۔ اس لئے فریقین مسلمان اور قادیانی بانصاف سے امید ہے کہ مرزا قادیانی کے اس بیان کو غور سے پڑھ کر بس اسی (دعوے مسیحیت موعودہ) پر مدار بحث رکھا کریں گے۔

ناظرین سے درخواست

اس کتاب کو اوّل سے آخر تک بغور دیکھیں گے تو بہت سی نئی معلومات پائیں گے۔ اس لئے مصنف کی درخواست ہے کہ اوّل سے آخر تک بغور ملاحظہ فرمائیں۔ (مصنف)

باب اوّل … متعلق احادیث

چوں کہ عیسیٰ موعود کا منصب اور تشریف آوری حدیثوں سے ثابت ہے۔ اس لئے ہم چند حدیثوں سے شہادت نقل کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان حدیثوں کے مطابق جناب مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں؟

پہلی شہادت

سب سے پہلے بخاریؒ ومسلمؒ کی متفق علیہ حدیث ہے جس کے الفاظ مع ترجمہ یہ ہیں:

’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیراً من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃ فاقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الّا لیؤمنن بہ قبل موتہ الآیۃ متفق علیہ (بخاری ج۱ ص۴۹۰ باب نزول عیسٰی بن مریم مسلم ج۱ ص۸۷ باب نزول عیسٰی بن مریم مشکوٰۃ شریف ص۴۷۹ باب نزول عیسیٰؑ)‘‘
32

ترجمہ: ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: قسم ہے اللہ پاک کی! بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہوکر تم میں اتریںگے، پھر وہ عیسائیوں کی صلیب کو (جس کو وہ پوجتے ہیں اسے) توڑ دیں گے اور خنزیر (جو خلاف حکم شریعت عیسائی کھاتے ہیں اس) کو قتل کرائیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے اسے موقوف کر دیں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا، لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال ومتاع سے اچھا معلوم ہوگا۔ (حدیث کے یہ الفاظ سن کر) ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ تم اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید میں چاہتے ہو تو آیت پڑھ لو: ’’ان من اہل الکتاب‘‘ آخر تک، (اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے اترتے وقت کل اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے)

یہ حدیث اپنا مطلب بتانے میں کسی شرح کی محتاج نہیں۔ صاف لفظوں میںسیدنا حضرت عیسیٰ موعودکو منصف حاکم یعنی بادشاہ قرار دیا ہے اور مرزا قادیانی کو یہ وصف حاصل نہ تھا۔ چنانچہ آگے اس کا ذکر آتا ہے۔

دوسری شہادت

دوسری شہادت اس سے بھی زیادہ صاف اور فیصلہ کن ہے، جو صحیح مسلم میں مروی ہے:’’عن النّبیa والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً او لیثنینہما (مسلم ج۱ ص۴۰۸ باب جواز التمتع فی الحج والقران مسلم)‘‘

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسیح موعود فج الروحاء سے (جو مکہ مدینہ کے درمیان جگہ ہے۔ نووی شرح مسلم) حج کا احرام باندھیں گے۔‘‘

یہ حدیث حضرت مسیح موعود کی تشریف آوری کے بعد ان کے حج کرنے اور ان کے احرام باندھنے کے لئے مقام کی بھی تعیین کرتی ہے۔ مرزا قادیانی کی بابت تو یہ بلا اختلاف مسلمہ ہے کہ وہ حج کو نہیں گئے۔ مقام معین سے احرام باندھنا تو کجا۔ حیرت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت نے اور حدیثوں کے جوابات دینے پر تو توجہ کی، چاہے کسی قسم کی ہو مگر اس حدیث کا نام بھی ان کی تحریرات میں ہم نے نہیں دیکھا۔ حالاں کہ اخبار اہل حدیث مؤرخہ ۵؍شوال (یکم جون ۱۹۲۳ء) میں یہ حدیث نقل کرکے جواب طلب کیا گیا تھا۔

33

تیسری شہادت

تیسری شہادت وہ ہے جسے مرزا قادیانی نے خود بھی نقل کیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:’’قال رسول ﷲa ینزل عیسٰی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسٰی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوۃ باب نزول عیسٰی ص۴۸۰)‘‘

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ زمین کی طرف اتریں گے، پھر فوت ہوکر میرے مقبرہ میں میرے ساتھ دفن ہوں گے، پھر میں (رسول اللہ ﷺ) اور حضرت عیسیٰ ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے، جب کہ ہم ابوبکر وعمر(r) کے درمیان ہوں گے۔‘‘

اس حدیث سے صاف ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ موعود کا انتقال مدینہ طیبہ میں ہوگا۔ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے خود اپنے استدلال میں لیا ہوا ہے۔ اس میں جو حضرت عیسیٰ موعود کے تزوج (نکاح) کا ذکر ہے۔ اس کی نسبت مرزا قادیانی نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ ان پر صادق آئے۔

ناظرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ جناب موصوف نے ایک نکاح کی بابت الہامی پیش گوئی فرمائی تھی، جس کو اعجازی نکاح کہتے تھے۔ جناب ممدوح لکھتے ہیں کہ یہ نکاح جو حضرت عیسیٰ ابن مریم موعود کا مذکورہ حدیث میں آیا ہے، اس سے وہی اعجازی نکاح مراد ہے جس کی بابت میں نے پیش گوئی کی ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ کے اپنے الفاظ یہ ہیں:’’انہ یتزوج وذلک ایماء الی آیۃ یظہر عند تزوجہ من ید القدرۃ وارادۃ حضرۃ الوتر وقد ذکرناہا مفصلا فی کتابنا التبلیغ والتحفۃ واثبتنا فیہما ان ہذہ الایۃ سیظہر علی یدی۔‘‘

(حمامۃ البشری ص۲۶ خزائن ج۷ ص۲۰۸)

ترجمہ: حضرت عیسیٰ موعود نکاح کریں گے، یہ اس نشان کی طرف اشارہ ہے جو اس کے نکاح کے موقع پر قادر کی قدرت سے ظاہر ہوگا اور ہم نے اس نشان کو مفصل اپنی دو کتابوں تبلیغ اور تحفہ میں ذکر کیا ہوا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ یہ نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا۔‘‘

یعنی (مرزا قادیانی یہ کہنا چاہتا ہے کہ) یہ نکاح وہی ہے جو میرا ہوگا۔ تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ اس کو دوسری کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں یوں لکھتے ہیں:

34

’’اس پیش گوئی (یعنی میرے نکاح) کی تصدیق کے لئے رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ’’یتزوج ویولدلہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ ا ب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں، کیوں کہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے، اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵۳ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۳۳۷)

یہ عبارت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو اس حدیث کی تسلیم سے انکار نہیں بلکہ اس کو اپنی دلیل میں لایا کرتے تھے۔ اس لئے ہم بھی اس حدیث سے استدلال کرنے کا حق رکھتے ہیں جو یوں ہے کہ: ’’چوں کہ مرزا قادیانی مدینہ شریف میں فوت ہوکر روضہ مقدسہ میں دفن نہیں ہوئے، اس لئے وہ عیسیٰ موعود نہیں۔‘‘

الحمدللہ! کہ از روئے احادیث شریفہ ہم نے ثابت کردیا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت موعودہ کا صحیح نہیں:

  1. آنکس کہ بقرآن وخبر از نرہی

    اینست جوابش کہ جوابش ندہی

احادیث اس مضمون کی بکثرت ہیں (علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ مطبوعہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان میں ۱۲۰؍احادیث وآثار جمع کئے ہیں۔مرتب)مگر ہم نے بہ نیت اختصار بطور نمونہ انہی تین حدیثوں پر اکتفا کیا۔ کیوں کہ ماننے والے کے لئے یہ بھی کافی سے زیادہ ہیں۔ نہ ماننے والے کو بہت بھی کچھ نہیں:

  1. اگر صد باب حکمت پیش ناداں

    بخوانی آیدش بازیچہ گردش

مختصر مضمون احادیث ثلاثہ

تینوں حدیثوں کا مختصر مضمون تین فقروں میں ہے:

۱… حضرت عیسیٰؑ حاکمانہ صورت میں آئیں گے۔

۲… حضرت عیسیٰ حج کریں گے، ان کے احرام کی جگہ کا نام فج الروحاء ہے۔

35

۳… حضرت عیسیٰ موعودؑ نکاح کرکے پینتالیس سال دنیا میں زندہ رہیں گے۔

ان تینوں مضامین کے لحاظ سے مرزا قادیانی کے حق میں نتیجہ صاف ہے کہ:

’’مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ موعود نہ تھے۔‘‘

مختصر بات ہو مضمون مطول ہووے

تتمہ باب اول

شاید کسی صاحب کو خیال ہو کہ جو الفاظ حضرت عیسیٰ موعودؑ کی بابت آئے، ان سے ان کی حقیقت مراد نہیں بلکہ مجاز مراد ہے۔ مثلاً بقول ان کے عیسیٰ مسیح سے خاص حضرت عیسیٰ مراد نہیں بلکہ مثل عیسیٰ مراد ہے یا ’’عدل حکم‘‘ سے ظاہری حاکم مراد نہیں بلکہ روحانی مراد ہے۔ غرض یہ کہ ان جملہ اوصاف مسیحیہ میں سے جو وصف جناب مرزا قادیانی میں نہیں پایا جاتا اس سے مجازی وصف مراد ہے۔

اس کا جواب بالکل آسان ہے علماء بلاغت کا قانون ہے کہ مجاز وہاں مراد لی جاتی ہے جہاں حقیقت محال ہو۔

(ملاحظہ ہو مطول بحث حقیقت مجاز)

اب ہم دکھاتے ہیں کہ ان الفاظ کی حقیقت کی بابت جو حضرت عیسیٰ موعودؑ کے حق میں آئے ہیں۔ مرزا قادیانی کیا کہتے ہے؟ کیا ان کی حقیقت کو محال جانتے ہیں یا ممکن؟ پس مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل کو بغور ملاحظہ کریں۔ فرماتے ہیں:

’’بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں، کیوں کہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب یہ حال ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہوجائے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۰۰ خزائن ج۳ ص۱۹۷، ۱۹۸)

اس عبارت میں مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ حقیقت مسیحیت محال نہیں بلکہ ممکن ہے۔ یہ بھی تسلیم ہے کہ ان کی حقیقت حکومت ظاہر یہ ہے، جو مجھ میں نہیں۔ پس جب حقیقت ممکنہ ہے تو امکان حقیقت کے وقت مجاز کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے۔ فافہم:

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا

36

گو مرزا قادیانی کے اقرار کے بعد کسی شہادت کی حاجت نہیں، تاہم ایک گواہ ایسا پیش کیا جاتا ہے جس کی توثیق جناب مرزا قادیانی نے خود اعلیٰ درجہ کی، کی ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’ان (حکیم نورالدین بھیروی) کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے، میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔ میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جاں نثار پایا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۷۷ خزائن ج۳ ص۵۲۰)

یہی حکیم صاحب ہیں جو مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد خلیفہ اول قادیان ہوئے۔ وہی حکیم نورالدین صاحب اصولی طور پر ہماری تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہر جگہ تاویلات وتمثیلات سے استعارات وکنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد، منافق، بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لاسکتا ہے، اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ، ایک خط کا جوااب ص۸ خزائن ۳ ص۶۳۱)

پس ثابت ہوا کہ چوں کہ عیسیٰ موعودؑ کا اپنی اصل حقیقت کے ساتھ آنا ممکن ہے، لہٰذا مرزا قادیانی عیسیٰ موعود نہیں ہیں۔ الحمدللہ!

دوسرا باب

مرزا قادیانی کے الہامات سے مرزاقادیانی کے برخلاف شہادات

مرزا قادیانی کے الہامات تو بکثرت ہیں، جن میں امور غیبیہ کا دعویٰ کرکے انہیں اپنی صداقت کی شہادات بنایا ہے، ان سب کو دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ملاحظہ کریں۔ اس مختصر رسالہ میں ہم چند الہامات پیش کرتے ہیں:

پہلا الہام … چوتھی شہادت

مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے لئے ایک پیش گوئی فرمائی تھی، جو دراصل دو حصوں پر منقسم ہو کر دو پیش گوئیاں تھیں۔ ان دونوں پیش گوئیوں کی وجہ یہ پیش آئی تھی کہ مرزا قادیانی نے اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک نو عمر لڑکی سے نکاح کا پیغام دیا۔ جس کی بابت لکھتے ہیں:’’حدیثۃ السن عذراء وکنت حینئذ جاوزت الخمسین‘‘ یعنی وہ لڑکی ابھی چھوکری ہے اور میں پچاس سال سے زیادہ ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۴ خزائن ج۵ ص ایضاً)

37

اس لڑکی کے والد نے رشتہ کرنے سے انکار کردیا تو مرزا قادیانی نے اعلان پر اعلان جاری کرنے شروع کردئیے کہ خدا نے مجھے بذریعہ الہام فرمایا ہے کہ اگر یہ لڑکی کسی اور جگہ بیاہی گئی تو تین سال کے عرصہ میں اس کا خاوند مر جائے گا اور وہ بیوہ ہوکر میرے ساتھ بیاہی جائے گی۔

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

’’اس خدائے قادروحکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گااور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے حصہ پائو گے جو اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال میں فوت ہوجائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘

پھر ان دونوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے جو یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو، جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی، ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنادے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے:’’کذبوا باٰیاتنا وکانوا بہا یستہزء ون فسیکفیکہم اللہ ویردہا الیک لاتبدیل لکلمات اللہ انّ ربک فعال لما یرید۔ انت معی وانا معک عسٰی ان یبعثک ربک مقاماً محموداً‘‘ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کوجھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کررہے تھے۔ سو خداتعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے، جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مدد گار ہوگا اور انجام کار اس کی لڑکی اس کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہوجاتا ہے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا کہ جس میں تیری

38

تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اول میں احمق ونادان لوگ بدباطنی وبدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدائے تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔‘‘ (آج تک تو جیسی ہوئی ہے نمایاں ہے۔ مصنف)

خاکسار غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۷، ۱۵۸)

یہ عبارت مرزا غلام احمد قادیانی کی ہے۔ اس میں مسماۃ مذکورہ کو خطبہ نکاح کے بعد دھمکی دی ہے اور دھمکی بھی معمولی نہیں بلکہ بیوہ ہونے کی، پھر اس کے بعد اصل مقصود کی یعنی اپنے نکاح میں آنے کی۔

اس پیش گوئی نے مرزائی امت کو سخت پریشان کر رکھا ہے، کوئی کچھ کہتا ہے، کوئی کچھ فرماتا ہے۔ ان سب کا جواب دینے سے مرزا قادیانی نے ہم کو سبکدوش فرما دیا ہے کیوں کہ وہ بذات خود اس پیش گوئی کے متعلق ایک اعلان دے چکے ہیں جس کے سامنے غیر کی چل نہیں سکتی۔ امت مرزائیہ اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر مرزا قادیانی کا فرمان سنیں۔ موصوف کہتے ہیں: ’’نفس پیش گوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز (مرزا) کے نکاح میں آنا، یہ تقدیر مبرم (اٹل) ہے، جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیوں کہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے ’’لاتبدیل لکلمات اللہ ‘‘یعنی میری ( اللہ کی) یہ بات نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خداتعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘

(اشتہار ۶ستمبر ۱۸۹۴ء مندرجہ کتاب تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۵ مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)

ناظرین! اس سے بڑھ کر بھی کوئی صاف گوئی ہوگی؟ جو مرزا قادیانی نے اس عبارت میں فرمائی ہے۔ بات بھی صحیح ہے کہ خدا جس امر کی بابت خبر دے، پھر اس کی تاکید کے لئے ’’لا تبدیل‘‘ فرمائے؟ پھر وہ تبدیل ہوجائے تو خدائی کلام کے جھوٹ ہونے میں کچھ شک رہتا ہے؟

خدا جزائے خیر دے مرزا قادیانی کو جنہوں نے ایسی صاف گوئی کرکے ہمیں اپنی امت کی بے جا تاویلوں سے چھڑایا۔ ’’عاملہم اللہ بماہم اہلہ‘‘

اب سوال یہ ہے کہ یہ نکاح مرزا قادیانی سے ہوگیا؟ آہ! اس کا جواب بڑی

39

حسرت اور افسوس کے ساتھ نفی میں دیا جاتا ہے کہ تا حیات مرزا قادیانی کا نکاح نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کے دن بیچارے اس حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ اب ان کی قبر سے گویا یہ آواز آتی ہے:

  1. جدا ہوںیار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

    ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

اس پیش گوئی کو مفصل دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ اور ’’نکاح مرزا‘‘ملاحظہ کریں۔ (جوکہ احتساب قادیانیت کی آٹھویں جلد میں شامل ہیں: مرتب)

دوسرا الہام … پانچویں شہادت

پانچویں شہادت جو دراصل اسی پیش گوئی کے لئے بطور تمہید کے تھی، یوں ہے کہ اس لڑکی کا خاوند یعنی جس شخص سے وہ لڑکی باوجود پیغام مرزا قادیانی کے بیاہی گئی تھی، جس کا نام مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور ہے۔ اس کے حق میں اسی پہلی پیش گوئی میں فرما چکے ہیں کہ روز نکاح سے اڑھائی سال میں مر جائے گا۔ اس کی بابت یہ امر اظہار کرنا ضروری ہے کہ نکاح کس تاریخ کو ہوا؟ اور اس کی آخری مدت حیات کیا تھی؟ اور وہ اس مدت میں مرا یا نہیں؟

پس واضح ہو کہ نکاح مذکور حسب اطلاع خود مرزا قادیانی ۷؍اپریل ۱۸۹۲ء کو ہوا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۰ خزائن ج۵ ص ایضاً)

اس حساب سے ۶؍اکتوبر کا دن مرزا سلطان محمدکی زندگی کا آخری روز ہوتا مگر وہ آج (اکتوبر ۱۹۲۳ء) تک زندہ ہے۔ ( ۱۹۴۸ء میں فوت ہوا۔ مرتب) حالاں کہ اس عرصہ میں وہ فرانس کی جنگ عظیم میں بھی شریک ہوا، جس میں اس کے سر میں گولی بھی لگی مگر وہ زندہ رہا۔ جب اکتوبر ۱۸۹۴ء گزر گیا اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا اور مخالفوں نے طعن وتشنیع کرنی شروع کی تو مرزا غلام احمد قادیانی نے ان کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ایک آخری اعلان شائع فرمایا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ(مرزا سلطان محمد ناکح منکوحہ) کی تقدیر مبرم (اٹل) ہے، اس کی انتظار کرواور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘

(رسالہ انجام آتھم حاشیہ ص۳۱ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص ایضاً)

بس یہ آخری فیصلہ تھا جو خدا کے فضل سے ہوا بھی آخری کہ مرزا قادیانی خود تو مئی

40

۱۹۰۸ء میں فوت ہوگئے اور ان کا رقیب، جس کی موت کی پیش گوئی تقدیر مبرم کی صورت میں کرتے تھے، ان کی دعا سے آج (اکتوبر۱۹۲۳ء) تک زندہ ہے۔ سچ ہے:

  1. مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

    آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

تیسرا الہام … چھٹی شہادت

یوں تو مرزا قادیانی کے الہامات اتنے ہیں کہ شمار بھی مشکل ہے لیکن ہم شہادت میں ان کو پیش کرتے ہیں جو بطور تحدی (دعوت) کے انہوں نے پیش کئے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ میری پیش گوئیوں سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ بعض پیش گوئیاں ایسی ہوں کہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک عظیم الشان نشان ہو جیسا کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ وغیرہ کتابوں کی یہ پیش گوئیاں کہ میں تجھے اسی (۸۰) برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گااور مخالفوں کے ہر ایک الزام سے تجھے بری کر وں گا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳ حاشیہ خزائن ج۱۵ ص۱۵۲)

یہ عبارت مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر کی بابت پیش گوئی ہے کہ اسّی سال کے ارد گرد ہوگی۔ اسی پیش گوئی کو دوسری کتاب میں، جو اس کے بعد چھپی ہے، بہت اچھے لفظوں میں آپ نے صاف کردیا، فرماتے ہیں:

’’جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر (۷۴) اور چھیاسی (۸۶) کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج پنجم ص۹۷ خزائن ۲۱ ص۲۵۹)

بہت خوب! آخری مدت تو متعین ہوگئی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش کب کی ہے؟ شکر ہے کہ اس کے متعلق بھی ہمیں دماغ سوزی کی ضرورت نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے ہم کو اس تکلیف سے سبکدوش فرما دیا ہے۔ چنانچہ آپ کا کلام ہے کہ:

’’چودہویں صدی کے شروع ہوتے وقت میری عمر چالیس سال کی تھی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶۸ خزائن ج۱۵ ص۲۸۳)

چنانچہ یہ عبارت مرزا قادیانی کی کتاب ہذا سے مزید تفصیل سے آگے آتی ہے۔ اس کے علاوہ فیصلہ کن شہادت بھی ہمارے پاس ہے جو مرزا قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نورالدین نے مرزا قادیانی کی زندگی میں شائع کی تھی۔ حکیم صاحب موصوف نے مرزا

41

قادیانی کی پیدائش سے اکسٹھ سالوں تک کا نقشہ یوں دیا ہے کہ پیدائش ۱۸۴۰ء بتا کر ۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر ۶۹ سال بتائی ہے۔

(رسالہ ’’نورالدین‘‘ ص۱۷۰، ۱۷۱ مصنف نورالدین)

پیدائش کا معاملہ صاف ہوگیا۔ رہا انتقال کا واقعہ، سو یہ تو بالکل صاف ہے کہ:

’’مرزا قادیانی نے ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو انتقال کیا ہے۔‘‘

(تحفہ شہزادہ ویلز ص۶۲ مصنفہ مرزا محمود خلیفہ قادیان)

ناظرین! خود مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین خلیفہ اول قادیان کی شہادت سے مرزا قادیانی کی عمر بمشکل ۶۹ سال تک پہنچتی ہے۔ حالاں کہ آپ بوحی الٰہی فیصلہ کرچکے ہیں کہ میری عمر چوہتر سے چھیاسی سال کے درمیان ہوگی۔

مرزائی دوستو! خدا کو حاضر ناظر جان کر بحکم الٰہی مثنیٰ وفرادیٰ ہو کر سوچو کہ یہ کیا بات ہے؟ جس بات کو مرزاقادیانی وحی الٰہی جتا کر بطور ثبوت پیش کرتے ہیں، وہی غلط ثابت ہوتی ہے۔ گویا مرزا قادیانی بزبان حال کہتے ہیں:

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

تتمہ: اس مذکورہ عبارت میں مرزا قادیانی نے یہ بھی ایک ضمنی پیش گوئی فرما دی ہے کہ:

’’مخالفوں کے ہر ایک الزام سے تجھے بری کروں گا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳ حاشیہ خزائن ج۱۵ ص۱۵۲)

اور الزام تو رہے بجائے خود، خود پر یہ الزام عمر کا بھی بحال رہا۔ سچ ہے:

  1. یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا

    میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

ساتویں شہادت (اقوال مرزائیہ سے)

مرزا قادیانی کی تردید کے لئے خود اس کے اپنے اقوال سے اس کی تردید کا معاملہ خدا کے فضل سے اتنا آسان ہے کہ کسی بیرونی شہادت کی حاجت نہیں بلکہ خود ان کے اپنے بیانات ہی ایسے ہیں کہ ان کے مخالف کو بہت کچھ مفید ہوسکتے ہیں۔ عدالتی اور شرعی طریق پر مدعاعلیہ کا اپنا بیان جس قدر کار آمد ہوتا ہے، دوسرے گواہوں کا نہیں۔ اس لئے عدالتی طریق ہے کہ مدعی چاہے تو اپنے مدعا علیہ سے بحیثیت گواہ کے بیان لے سکتا ہے۔ اس بیان میں مدعا علیہ اگر اقرار کر جائے تو دوسرے گواہوں کی نسبت بہت مفید ہوتا ہے۔

42

ٹھیک اسی طرح بفضلہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے اپنے بیانات اتنے مفید ہیں کہ بیرونی شہادت اتنی مفید نہیں، کیوں مدعاعلیہ کے بیان کے متعلق یہ مثل ہے، جو بہت صحیح ہے:

’’قضی الرجل علٰی نفسہ‘‘ترجمہ: آدمی نے خود اپنے اوپر ڈگری کر لی۔

پس اس اصول کے ماتحت ہم مرزا قادیانی کے اقوال بطور شہادت پیش کرتے ہیں، جن سے ہمارا دعویٰ (تکذیب مرزا) بآسانی ثابت ہوسکے۔

پہلا بیان… مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

’’تیسری مشابہت حضرت عیسیٰؑ سے میری یہ ہے کہ وہ ظاہر نہیں ہوئے جب تک حضرت موسیٰ کی وفات پر چودہویں صدی کا ظہور نہیں ہوا۔ ایسا ہی میں بھی آنحضرتﷺکی ہجرت سے چودہویں صدی کے سر پر مبعوث ہوا ہوں۔‘‘

(رسالہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۷۱ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۰۹)

اس بیان کی تردید: مرزا قادیانی اپنی دوسری کتاب میں یوں لکھتے ہیں:

’’اور منجملہ ان علامات کے جو اس عاجز (مرزا) کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں پائی جاتی ہیں، وہ خدمات خاصہ ہیں جو اس عاجز (مرزا) کو مسیح ابن مریم کی خدمات کے رنگ پر سپرد کی گئی ہیں، کیوں کہ مسیح اس وقت یہودیوں میں آیا تھا کہ جب توریت کا مغز اور بطن یہودیوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا تھا اور وہ زمانہ حضرت موسیٰ سے چوداں (یہ سلطان القلم کی اردو ہے مصنف) سوبرس بعد تھا کہ جب مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا۔ پس ایسے ہی زمانہ میں یہ عاجز (مرزا) آیا کہ جب قرآن کریم کا مغز اور بطن مسلمانوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا اور یہ زمانہ بھی حضرت مثیل (یعنی آنحضرتﷺ مصنف) موسیٰ کے وقت سے اسی زمانہ کے قریب قریب گزر چکا تھا جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان میں زمانہ تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۹۲، ۲۹۳ خزائن ج۳ ص۴۷۳)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے درمیانی زمانہ کو چودہ سو برس سے کچھ زیادہ قرار دیا ہے، کیوں کہ چودہ سو برس بعد کا لفظ چودہ سو پر زیادتی چاہتا ہے، عیسائیوں، یہودیوں کی شہادت اس بارے میں ۱۴۵۱ ہے۔ (دیکھو تقدیس اللغات)

حالانکہ پہلے بیان میں تیرہ سو برس ختم ہوکر چودھویں صدی کے سر پر آنا لکھا ہے۔

43

اس دوسرے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ایک سو سال قبل از وقت تشریف لے آئے۔ کیوں کہ اس بیان کے مطابق مسیح موعود کی تشریف آوری کا وقت چودہ سو سال کے بعد ہے اور آپ چودہویں صدی کے شروع میں آئے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ آپ ایک سو سال سے بھی کچھ پہلے تشریف لے آئے ہیں۔ لہٰذا سردست تشریف لے جائیے۔ ہم آپ پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔

دوسری تردید: مذکورہ بالا تردیدی بیان کے علاوہ مرزا قادیانی کا ایک دوسرا بیان ایسا ہی صاف ہے جو ان دونوں کے مخالف ہے۔ آپ ایک جگہ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ پیش گوئیوں میں ہمیشہ ابہام ہوتا ہے، صاف اور مفصل بیان نہیں ہوتا۔ کیوں کہ پیش گوئیوں میں سننے والوں کا امتحان (ابتلاء) کرنا منظور ہوتا ہے۔ چنانچہ توریت میں آنحضرتﷺ کے حق میں پیش گوئی اسی قسم کی مبہم ہے، جس میں وقت، ملک اور نام نہیں بتایا گیا۔ اگر خداتعالیٰ کو ابتلاء خلق اللہ کا منظور نہ ہوتا اور ہر طرح سے کھلے کھلے طور پر پیش گوئی کا بیان کرنا ارادہ الٰہی ہوتا تو پھر اس طرح پر بیان کرنا چاہئے تھا کہ:

’’اے موسیٰ! میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں بنی اسماعیل میں سے ایک نبی پیدا کروں گا جس کا نام محمدﷺہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۷۸ خزائن ج۳ ص۲۴۱)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے صاف تسلیم کیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد سرور کائناتﷺ پوری اکیس صدیاں گزار کر بائیسویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔

مرزائی دوستو! عبارت مرزا کو پھر غور سے پڑھو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اور سرور کائناتﷺ کا درمیانی زمانہ کتنا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت عیسوی سن کے حساب سے ۲۲؍اپریل ۵۷۱ء کو ہوئی اور بعثت (رسالت) ۱۲؍فروری ۶۱۰ء کو ہوئی تھی۔ یہ چھ سوسال اکیس صدیوں سے نکال دیں تو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا درمیانی زمانہ پندرہ سو سال رہتا ہے۔

پس نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ہی بیان کے مطابق مقررہ وقت پر نہیں آئے بلکہ بہت پہلے تشریف لے آئے ہیں۔ لہٰذا آپ عیسیٰ موعود نہیں۔ غالباً اسی لئے قبل از تکمیل کار تشریف لے گئے:

ایسا جانا تھا تو جانا! تمہیں کیا تھا آنا

44

آٹھویں شہادت … اقبالی بیان مرزا قادیانی

مرزا قادیانی نے اپنا مسیح موعود ہونا ایک اور طریق سے بھی ثابت کیا ہے۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ دنیا کی ساری عمر سات ہزار سال ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’بالاتفاق تمام احادیث کے رو سے عمر دنیا کل سات ہزار برس قرار پایا تھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۹۳ خزائن ج۱۷ ص۲۴۷)

اور بقول مرزا قادیانی کے آنحضرتﷺ پانچویں ہزار میں پیدا ہوئے ہیں اور مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں پیدا ہونا مقرر تھا۔ اپنے اس دعوے کو وہ اس آیت سے ثابت کرتے ہیں جو سورۂ جمعہ میں ہے: ’’واٰخرین منہم لمّا یلحقوا بہم‘‘ پھر فرماتے ہیں کہ بس میں چوں کہ چھٹے ہزار سال میں پیدا ہوا ہوں، لہٰذا میں مسیح موعود ہوں۔ اب سنئے آپ کے اپنے الفاظ، جناب موصوف فرماتے ہیں:

’’ہمارے نبیﷺ کے دو بعث ہیں اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ ’’واٰخرین منہم لمّا یلحقوا بہم‘‘ہے، تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس امت کا آخری گروہ یعنی مسیح موعود کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے اور صحابہ ؓ کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرتﷺ سے فیض اور ہدایت پائیں گے۔ پس جب کہ یہ امر نص صریح قرآن شریف سے ثابت ہوا کہ جیسا کہ آنحضرتﷺ کا فیض صحابہ پر جاری ہوا۔ ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا تو اس صورت میں آنحضرتﷺ کا ایک اور بعث ماننا پڑا جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا اور اس تقریر سے یہ بات بپایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ آنحضرتﷺ کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرتﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا، جو مسیح موعود اور مہدی موعود کے ظہور سے پورا ہوا۔ غرض جب کہ آنحضرتﷺ کے دو بعث ہوئے تو جو بعض حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرتﷺ ہزار ششم کے آخیر میں مبعوث ہوئے تھے، اس سے بعث دوم مراد ہے جو نص قطعی آیت کریمہ ’’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ نادان مولوی جن کے ہاتھ میں صرف پوست ہی پوست ہے، حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی انتظار کررہے ہیں۔ مگر قرآن شریف ہمارے نبیﷺ کے دوبارہ آنے کی بشارت دیتا ہے کیوں کہ افاضہ بغیر

45

بعث غیر ممکن ہے اور بعث بغیر زندگی کے غیر ممکن ہے اور حاصل اس آیت کریمہ یعنی ’’واٰخرین منہم‘‘کا یہی ہے کہ دنیا میں زندہ رسول ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفیﷺ جو ہزار ششم میں بھی مبعوث ہوکر ایسا ہی افاضہ کرے گا جیسا کہ وہ ہزار پنجم میں افاضہ کرتا ہے تھا اور مبعوث ہونے کے اس جگہ یہی معنی ہیں کہ جب ہزار ششم آئے گا اور مہدی موعود اس کے آخر میں ظاہر ہوگا تو گو بظاہر مہدی معہود کے توسط سے دنیا کو ہدایت ہوگی۔ لیکن دراصل آنحضرتﷺ کی قوت قدسی نئے سرے سے اصلاح عالم کی طرف ایسی سرگرمی سے توجہ کرے گی کہ گویا آنحضرتﷺ دوبارہ مبعوث ہو کر دنیا میں آگئے ہیں۔ یعنی معنی اس آیت کے ہیں کہ ’’واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ پس یہ خبر جو آنحضرتﷺ کی بعث دوم کے متعلق ہے جس کے ساتھ یہ شرط ہے کہ وہ بعث ہزار ششم کے اخیر پر ہوگا، اسی حدیث سے اس بات کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ مہدی معہود اور مسیح موعود جو مظہر تجلیات محمدیہ ہے جس پر آنحضرتﷺ کا بعث دوم موقوف ہے، وہ چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو کیوں کہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۹۴،۹۵ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۴۸ تا ۲۵۰)

اس عبارت کا مطلب ناظرین کے فہم عالی سے قریب کرنے کو اتنی تشریح کی ضرورت ہے کہ بقول مرزا قادیانی آنحضرتﷺ کا دو دفعہ نبی ہو کر ظاہر ہونا مقدر تھا۔ ایک تو اس وقت جب آپ بصورت محمد مکہ معظمہ میں ظہور پذیر ہوئے۔ دوم اس وقت جب بشکل مرزا قادیانی بہ عہدۂ عیسیٰ موعود قادیان میں رونق افروز ہوئے۔ پہلی صورت میں آپ کا نام محمد تھا، دوسری میں احمد۔ محمدی صورت جلالی تھی یعنی جنگی اور احمدی صورت جمالی یعنی صلح جو ہے۔ چنانچہ اس کتاب کے دوسرے مقام پر مرزا قادیانی نے اس مضمون کو منجمانہ تقریر میں یوں لکھا ہے فرماتے ہیں:

’’آنحضرتﷺ کے بعث اول کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا مگر بعث دوم جس کی طرف آیہ کریمہ ’’واٰخرین منہم لمّا یلحقوا بہم‘‘ میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے جیسا کہ آیت’’ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘اسی کی طرف اشارہ کررہی ہے اور اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مہدی معہود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے۔ جب مبعوث ہوگا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے۔ اس مجازی

46

احمد کے پیرایہ میں ہو کر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی۔ یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرتﷺ کا شریک۱؎ ہوں اور اس پر نادان مولویوں نے جیسا کہ ان کی ہمیشہ سے عادت ہے، شور مچایا تھا۔ حالاں کہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ اس پیش گوئی کا زیروزبر ہوجاتا ہے۔ بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جو نعوذب اللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے۔ لہٰذا جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرتﷺ کے دو بعث ہیں (۱)ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفّار رحمآء بینہم‘‘ (۲)دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے ’’ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۶ خزائن ج۱۷ ص۲۵۳، ۲۵۴)

گو اس عبارت کا مطلب صاف ہے تاہم اس کی مزید تشریح کے لئے مرزا قادیانی اس عبارت پر حاشیہ لکھتے ہیں جو یوں ہے: ’’یہ باریک بھید یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرتﷺ کی بعث دوم میں تجلی اعظم جو اکمل اور اتم ہے وہ صرف اسم احمد کی تجلی ہے۔ کیوں کہ بعث دوم آخر ہزار ششم میں ہے اور ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے جو کہ کوکب ششم منجملہ خنّس کنّس ہے اور اس ستارہ کی یہ تاثیر ہے کہ مامورین کو خونریزی سے منع کرتا اور عقل اور دانش اور مواد استدلال کو بڑھاتا ہے۔ اس لئے اگرچہ یہ بات حق ہے کہ اس بعث دوم میں بھی اسم محمد کی تجلی سے جو جلالی تجلی ہے اور جمالی تجلی کے ساتھ شامل ہے مگر وہ جلالی تجلی بھی روحانی طور پر ہو کر جمالی رنگ کے مشابہ ہوگئی ہے۔ کیوں کہ اس وقت جلالی تجلی کی تاثیر قہر سیفی نہیں بلکہ قہر استدلالی ہے۔ وجہ یہ کہ اس وقت کے مبعوث پرتوہ ستارہ مشتری ہے نہ پرتوہ مریخ۔ اسی وجہ سے بار بار اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ ہزار ششم فقط اسم احمد کا مظہر اتم ہے جو جمالی تجلی کو چاہتا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۹۶ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۵۳)

۱؎شریک نہیں بلکہ اصل مصداق تھا۔ (دیکھو ازالہ اوہام ص۶۷۳ خزائن ج۳ ص۴۶۳) مصنف

47

اب تو یہ مضمون صاف ہوگیا کہ مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ عیسیٰ موعود دنیا کی عمر سے چھٹے ہزار سال میں آئیں گے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ چھٹا ہزار کہاں تک ہے۔ ہم مرزا قادیانی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس عقدہ کا حل بھی خود فرمادیا۔ آپ فرماتے ہیں:

’’آنحضرتﷺ حضرت آدمؑ سے قمری حساب کی رو سے (۴۷۳۹) چار ہزار سات سو انتالیس برس بعد میں مبعوث ہوئے ہیں اور شمسی حساب کے رو سے چار ہزار پانچ سو اٹھانوے برس بعد۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۹۲ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۴۷)

اب مطلع صاف ہے۔ پس ہجرت سے پہلے تیرہ سال آنحضرتﷺ مکہ معظمہ میں رہے۔ اس حساب سے پورے تیرہ سو ہجری ہونے کے وقت آنحضرتﷺ کا سنہ نبوت ۱۳۱۳ھ ہوتا ہے۔ یہ عدد قمری حساب سے ۴۷۳۹ میں ملائیں تو تیرہویں صدی کے آخری پر دنیا کی عمر چھ ہزار باون سال ہوتی ہے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ جناب مرزا قادیانی کس سنہ میں مسیح موعود کے عہدے پر مبعوث (فائز) ہوئے۔ اس کے متعلق بھی ہمیں کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں بلکہ خود مدعاعلیہ کا بیان ہمارے پاس ہے آپ لکھتے ہیں:

’’یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خداتعالیٰ نے الہام کے ذریعے سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے اور یہ اس طرح اشارہ تھا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶۸ خزائن ج۱۵ ص۲۸۳)

یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی چودھویں صدی کے شروع میں چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر مسیحیت پر مامور ہوئے تھے۔ اسی مضمون کو دوسری کتاب میں مزید وضاحت سے لکھتے ہیں:

’’مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں

48

بلکہ میرے۱؎ دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵، ۱۸۶ خزائن ج۳ ص۱۸۹، ۱۹۰)

اس عبارت میں پہلی عبارت کی مزید تشریح ہے کہ کسی غبی سے غبی کو بھی شک نہیں رہتا کہ مرزا قادیانی کی بعث چھٹا ہزار ختم ہوکر ساتویں ہزار میں سے باون سال گزر کر ہوئی۔ لہٰذا بقول آپ کے آپ مسیح موعود نہیں۔

ایک اور طرح سے: ہمارے گزشتہ بیان سے (جو درحقیقت مرزا قادیانی کا ذاتی بیان ہے) ساتویں ہزار کے باون سال گزرنے پر مرزا قادیانی مبعوث ہوئے ہیں جو ان کے ’’لیٹ‘‘ پہنچنے کی وجہ سے موجب ’’فیل‘‘ کے ہے۔ اب ایک اور حساب سے بھی مرزا قادیانی کا لیٹ ہونا ثابت کرتے ہیں۔ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ: ’’میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۹۵ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۵۲)

بہت خوب! اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ چھٹا ہزار مرزا قادیانی کی گیارہ سال کی عمر پوری ہونے تک ختم ہوگیا۔ مگر گیارہ سال کی عمر میں تو مبعوث نہ ہوئے ہوں گے۔ بلکہ بالغ ہوکر بلکہ بحکم ’’بلغ اربعین سنۃ‘‘ چالیس سال کو پہنچ کر مسیحیت کے درجے پر مبعوث (مامور) ہوئے تو بھی ساتویں ہزار میں چلے گئے جو خلاف وقت مقرر کے ہے۔

نوٹ: مرزا قادیانی اپنی تحریرات میں خود قمری حساب پر بنا کررہے ہیں۔ یہاں تک فرما چکے ہیں کہ: ’’میں چھٹے ہزار میں سے گیارہ سال رہتے میں پیدا ہوا تھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۵ حاشیہ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۵۲)

اس لئے کسی ان کے حالی موالی کو یہ حق نہیں کہ وہ شمسی حساب سے چھ ہزار کا شمار کرے۔ کیوں کہ ان کا ایسا کرنا ہم کو نہیں بلکہ ان کو مضر ہوگا اس لئے کہ شمسی حساب سے چھ ہزار

۱؎اہل علم اہل انصاف اس ’’بلکہ‘‘ کو ملاحظہ کریں، نام تو ہے غلام احمد۔ چنانچہ قصبہ میں ہم نام کی نفی کرتے ہوئے صرف ’’غلام احمد‘‘ ہی لکھتے ہیں مگر جب ترقی کرکے دنیا بھر کی نفی کرتے ہیں تو نام کے ساتھ مقامی نسبت کو بھی داخل کرکے ’’غلام احمد قادیانی‘‘ پورا نام بتاتے ہیں۔ سچ ہے: (مصنف)

  1. ایں کرامت ولی ماچہ عجب

    گربہ شا شید گفت باراں شد

49

سال ۲۰۱۲ عیسوی میں پورے ہوں گے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کی پیدائش ۱۲۱۰ء میں ہونی چاہئے حالاں کہ وہ ۱۹۰۸ء میں انتقال بھی کر گئے۔ (شاید بروزی طور پر دوبارہ آئیں)

ناظرین! یہ ہیں وہ دلائل جن کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشرطیکہ متقی ہو جس وقت ان تمام دلائل میں غور کرے گا تو اس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں (مرزا) خدا کی طرف سے ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۲ خزائن ج۱۷ ص۲۶۴)

کچھ شک نہیں کہ ہم بھی انہی دلائل کی شہادت سے اس مرحلہ پر پہنچے ہیں کہ:

  1. ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن اے ذوق!

    اس نے دیکھے ہی نہیں ناز ونزاکت والے

نویں شہادت … حرمین شریفین کے درمیان ریل

سلطان عبدالحمید خان مرحوم نے اسلامی دنیا میں تحریک کی تھی کہ حاجیوں کی تکلیف دور کرنے کے لئے حجاز (مکہ مدینہ) میں ریل بنائی جائے۔ چنانچہ مسلمانان دنیا نے اس تحریک کو قومی کام جان کر بطیب خاطر چندہ بھی دیا۔ چنانچہ ریل مذکوردمشق سے چل کر مدینہ طیبہ تک پہنچ گئی۔ آمدورفت بھی مدینہ منورہ تک شروع ہوگئی۔ اس وقت کے جوش کو دیکھ کر قرین قیاس بلکہ یقین تھا کہ چند ہی روز میں ریل مکہ معظمہ سے گزر کر بندرگاہ جدہ تک آنے والی ہے۔ اتنے میں مرزا قادیانی نے اعلان کردیا کہ یہ ریل میری صداقت کی دلیل ہوگی۔ کیوں کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے’واذا العشار عطلت‘‘ یعنی اونٹ بیکار ہوجائیں گے۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ مسیح موعود کے آنے کے وقت مکہ مدینہ میں ریل بن کر اونٹوں کی سواری بند ہوجائے گی۔ چنانچہ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ ’’لیترکن القلاص فلا یسعی علیہا‘‘ یعنی اونٹ چھوڑ دئیے جائیں گے ان پر سواری نہ کی جائے گی۔ یہ بھی مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ پس حجاز میں ریل بننے سے میرے دعوے کا ثبوت ہوتا ہے۔ اس تشریح کے مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ سنئے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہوگئے اور پیش گوئی آیت کریمہ ’’واذالعشار عطلت‘‘پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث ’’ولیترکن القلاص

50

فلا یسعی علیہا‘‘ نے اپنی پوری پوری چمک دکھلا دی۔ یہاں تک کہ عرب وعجم کے اڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے۔ یہی اس کی پیش گوئی کا ظہور ہے جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲ خزائن ج۱۹ ص۱۰۸)

اس سال ۱۹۲۳ء کے حاجی بھی شہادت دیتے ہیں کہ حرمین (مکہ مدینہ) کے درمیان اونٹوں پر سفر کرکے آئے ہیں۔ ہم حیران تھے کہ تمام مسلمانان دنیا کی ضرورت کے مطابق ریل کا انتظام ہوا۔ بہت سا حصہ اس کا بھی بن گیا مگر عین موقع پر:

دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا

مدینہ شریف پہنچ کر ریل کی تیاری رک گئی۔ نہ بانی تحریک عبدالحمید خان رہے نہ وہاں ترکی سلطنت رہی۔ غرض:

آں قدح بشکست وآں ساقی نماند

آخر مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ کیا ہوئی۔ ظاہری اسباب تودرحقیقت باطنی حکمت کی تکمیل کے لئے ہوا کرتے ہیں۔ غور کرنے سے ہماری سمجھ میں یہی رمز آئی کہ چوں کہ مرزا قادیانی نے اس ریل کو اپنے غلط دعوے کی دلیل میں پیش کیا تھا، خدائی حکمت نے ریل کو بند کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ مرزا قادیانی اس بیان کی رو سے بھی غلطی پر ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانان دنیا کی ضروریات سفر کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی تکذیب کرانا خدا کے نزدیک زیادہ اہم ہے۔ سچ ہے۔و اللہ یعلم وانتم لا تعلمون!

(یاد رہے کہ ریل کے چلنے کے لئے مرزا نے تین سال کی میعاد بتائی تھی۔ اس میعاد میں ریل جاری نہ ہوئی۔ مرزا کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔ فقیر)

دسویں شہادت … قطعی فیصلہ

’’انّ فی ذالک لاٰیات لاولی النّہٰی‘‘

قرآن میں ارشاد ہے: ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (الصف:۹)‘‘‘‘ خدا نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو سارے مذاہب پر غالب کرے۔‘‘

51

اس آیت کی تفسیر کے طور پر مرزا غلام احمد قادیانی اپنی مایۂ ناز کتاب ’’براہین احمدیہ حصہ چہارم‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طورپر حضرت مسیح کے حق میںپیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گااور جب حضرت مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ ص۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج۱ حاشیہ ص۵۹۳)

اس جگہ جناب موصوف نے مسیح موعود کے لئے آیت موصوفہ سے یہ بات بتائی کہ وہ باسیاست یعنی ظاہری حکومت کے ساتھ آئیں گے (بہت خوب) مگر جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ خود کیا تو باوجود سیاست اور حکومت حاصل نہ ہونے کے آپ نے اس آیت پر قبضہ رکھا اور اپنے ہی حق میں اس کو چسپاں کیا۔ وہ بیان ایسا لطیف ہے کہ ہم ناظرین سے اس کو بغور پڑھنے کے لئے سفارش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’چوں کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرتﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیوں کہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا۔ کیوں کہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہوجائیں۔ زمانۂ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرتﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو، جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیوں کہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک

52

کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے۔ یعنی ایک عالم گیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چوں کہ وہ عالم گیر غلبہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو، اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالم گیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۲، ۸۳ خزائن ج۲۳ ص۹۰، ۹۱)

اس عبارت کی تشریح یہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی زمانہ محمدی کی ابتداء رسالت محمدیہa سے ہوئی۔ پھر وہی زمانہ ممتد ہوکر مسیح موعود کے زمانہ تک ایک ہی رہا۔ اس زمانہ کے ایک سرے پر آنحضرتﷺ ہیں تو دوسرے سرے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں۔ زمانہ محمدی سے اسلام شروع ہوکر زمانہ مسیح موعود میں تکمیل کو پہنچ جائے گی۔ یعنی دنیا کی کل قومیں مسلمان ہوکر ایک واحد اسلامی قوم (مسلمان) بن جائے گی چوں کہ یہ سب کام مسیح موعود کی معرفت ہوگا اس لئے آیت ’’ہوالذی ارسل‘‘ مسیح موعود (مرزا) کے حق میں چسپاں ہے۔ بہت خوب!

اب سوال یہ ہے کہ کیا مسیح موعود (مرزا) کے زمانہ میں یہ نتیجہ پیدا ہوگیا؟ بترتیب غور کرنے کے لئے ہم مسیح موعود (مرزا) کے گھر سے چلتے ہیں۔

کیا قادیان کے کل ہندو مسلمان ہوگئے؟ کیا قادیان کے ضلع گورداس پور کے کل غیر مسلم اسلام میں آگئے؟ کیا پنجاب کے کل منکرین اسلام قائل اسلام بن گئے؟ کیا ہندوستان میںاسلامی وحدت پیدا ہوگئی؟ ہندوستان سے باہر چلو۔ کیا انگلستان، فرانس، جرمنی، وغیرہ ممالک یورپ اسلام قبول کر گئے؟ یا افریقہ اور امریکہ کے سب لوگ مسلمان ہوگئے؟ اگر سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو ہمارا یقین ہونا چاہئے کہ حضرت مرزا مسیح موعود ہیں اور اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو…۔

قادیانی دوستو! ﷲ فی اللہ ! غور کرکے بتائو کہ مرزا قادیانی کون ہیں؟ ہمیں افسوس ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اس فرض کی ادائیگی میں بہت قاصر رہے اور بغیر ادا کئے فرض (اشاعت) کے جلدی چل دئیے:

کیا آگ لینے آئے گے کیا آئے کیا چلے؟

53

فتنہ ارتداد اور سنگھٹن کا ذکر :

(ہندو سنگھٹن کے معنی ہندوئوں کا اتحاد۔ مصنف)

کفر اور مخالف کا زور جیساق کہ اب ہے مرزا قادیانی کے زمانہ میں نہ تھا۔ خود ہندوستان کو دیکھئے کہیں فتنہ ارتداد ہے تو کہیں سنگھٹن۔ خطرہ ہے کہ کوئی مرزائی دوست گھبرا کر جلدی میں نہ کہہ دیں کہ فتنہ ارتداد میں ہم نے یہ خدمت کی وہ کی۔ اس لئے ہم خادمان اسلام ہیں اور ہمارا پیشوا سچا ہے۔

جواب: بات کو ذرا سوچ سمجھ کر منہ سے نکالنا چاہئے۔ سنئے! فتنہ ارتداد کیا ہے؟ اور اس کی تہ میں کیا ہے؟ ہم سے پوچھو تو یہ بھی مرزا قادیانی کے دعوے کی قدرتی تردید ہے۔ کیوں کہ مرزا قادیانی تو کہتے تھے میرے زمانہ میں کل کفری قومیں مٹ کر ایک اسلامی وحدت پر آجائیں گی۔ مگر واقعہ یہ ہوا کہ غیر مسلموں اور اسلام کے دشمنوں نے یہاں تک غلبہ کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ داخل ہوکر ایک وحدت اسلامی پیدا کرتے۔ کلہ گوؤں کو داخل کفر کرکے ہندو سنگھٹن بنا رہے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کے دعوے کی بہت کافی تردید ہوتی ہے کہ آئے تھے اسلامی وحدت پیدا کرنے اور ہو گئی ہندو سنگھٹن۔

نوشدارو نے کیا کیا اثر سم پیدا

آخری التماس

ناظرین! آپ شہادت دے سکتے ہیں کہ ہم نے مرزا قادیانی کے دعوے کی تکذیب پر جو شہادات عشرہ پیش کی ہیں۔ ایسی ہیں کہ ہر ایک منصف مزاج ان کو تسلیم کرے گا۔ اس لئے امید ہے کہ احمدی دوست بھی ان سے مستفید ہوں گے۔

اعلان عام

اور اگر وہ اس کو قبول کرنے کی بجائے جواب دینے کی کوشش کریں تو میں ان کی محنت کی قدر کرنے کو ’’ایک ہزار روپیہ کا انعام دوں گا۔‘‘

قادیانی دوستو! جواب کا ارادہ کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ مخاطب کون ہے؟

’’ستعلم لیلی ایّ دین تداینت وایّ عزیم فی التقاضی عزیمہا‘‘

نوٹ: مرزا کا آخری فیصلہ کے نام سے اشتہار رسالہ ہذا کا حصہ تھا۔ مگر چوں کہ وہ رسالہ فاتح قادیان میں شامل ہے۔ اس لئے یہاں سے اسے حذف کر دیا گیا۔ (مرتب)

54

نکات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

55

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نکات مرزا

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

ناظرین کو معلوم ہوگا کہ پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ذمہ بے حساب عہدے لے رکھے تھے۔ مجدد، مہدی، مسیح، کرشن وغیرہ ان سب کے ثبوت ہیں، ان کے پاس دو قسم کے دلائل تھے۔ ایک لفظی، دوسرے روحانی۔ لفظی دلائل آیت واحادیث سے تھے، جن کی حقیقت معلوم ہے۔ روحانی دلائل دو قسموں پر تھے: (اوّل) الہامات ربانی متضمن پیش گوئیاں (دوم) قرآنی معارف اور نکات۔

جس طرح کہ مرزا قادیانی پر بحیثیت مدعی ان تینوں قسموں کے دلائل بیان کرنا فرض تھا، اسی طرح ان کے منکروں کا بھی فرض تھا کہ وہ تینوں قسم کے دلائل سنیں اور غور کرکے صحیح ہونے کی صورت میں قبول کریں یا غلط ہونے کی صورت میں رد کریں۔ چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ مرزا قادیانی کے دلائل قرآنیہ اور حدیثیہ کے جواب میں بھی ہماری تحریرات شائع ہوئی ہیں اور الہامات کے متعلق بھی کئی ایک رسائل مطبوع ہیں۔ آج ہم تیسری قسم ’’نکات قرآنیہ مرزائیہ‘‘ ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

اس کی وجہ کیا ہوئی؟: مارچ ۱۹۲۵ء میں حسب معمول قادیان میں اسلامیہ جلسہ ہوا۔ جس میں علماء دیوبند مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب وغیرہ بھی شریک تھے۔ مولوی صاحبان موصوف نے اثناء تقریر میں مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ پر بھی چھینٹا ڈالا۔ بالفاظ دیگر مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ سے انکار کیا۔ اس پر اخبار الفضل مؤرخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۲۵ء میں خلیفہ صاحب قادیاں کی ایک تقریر شائع ہوئی جس کے دو حصے تھے۔ ایک مرزا غلام احمد (پنجابی نبی) کے بیان کردہ معارف کا، دوسرا خود خلیفہ قادیان (میاں محمود احمد صاحب) کا چیلنج۔ پہلے حصے کے متعلق ان کے الفاظ یہ ہیں:

دیوبندیوں کا چیلنج منظور: ’’اگر وہ (دیوبندی) لوگ اپنی اس بات پر مضبوط اور قائم ہیں اور اس کی صداقت کا معیار قرار دینے کے لئے تیار ہیں تو اس بات کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کی کتابوں میں سے وہ حقائق اور معارف پیش کروں جو ان

56

مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ پہلی کتابوں میں قرآن کریم سے اخذ کرکے بیان کئے ہیں۔ کہہ دینے کو تو انہوں نے کہہ دیا کہ مرزا قادیانی نے کوئی معارف بیان نہیں کئے اور جو کئے وہ سرقہ ہیں۔ پچھلی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اگر اس بات پر ثابت قدم رہیں اور اس کو سچائی کا معیار سمجھیں تو اس کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی کتب سے ایسے قرآنی حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ حضرت مسیح موعود (مرزا سے) سے پہلے کسی نے لکھے ہیں۔ مگر دیوبندی مولوی صاحبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن کریم میں وہ معارف ہیں جو پہلی کتب میں نہیں ہیں۔ پس حضرت مرزا قادیانی کے دعوے کے پرکھنے سے پہلے ہمیں جدت وکثرت کا معیار قائم کر لینا چاہئے اور اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ غیر احمدی علماء مل کر قرآن کے وہ معارف بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دوگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی) نے لکھے ہیں اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے؟ پہلے مفسرین ومصنفین نے بھی نہیں لکھے۔ اگر میں کم سے کم دوگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان معارف قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کریں اور اس کے بعد میں اس پر جرح کروں گا۔ جس کے لئے مجھے چھ ماہ (ڈیڑھ سال) کی مدت ملے گی۔ اس مدت میں جس قدر باتیں ان کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں، ان کو پیش کروں گا۔ اگر ثالث فیصلہ دیں کہ وہ باتیں واقع میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ ان کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا۔ جس میں ایسے معارف قرآنیہ ہوں جو پہلی کتب میں نہیں پائے جاتے۔ اس کے بعد چھ ماہ (دوسال) کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ مسیح موعود کی کتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پر لکھوں گا جو پہلے کسی اسلامی مصنف نے نہیں لکھے اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ (اڑھائی سال) کی مدت دی جائے گی کہ وہ اس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کرلیں، اس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ ان کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ آیا میرے بیان کردہ معارف قرآنیہ، جو حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے کئے گئے ہوں گے اور جو پہلی کسی کتاب

57

میں موجود نہ ہوں گے، ان علماء کے ان معارف قرآنیہ سے کم از کم دوگنے ہیں یا نہیں؟ جو انہوں نے قرآن کریم سے ماخوذ کئے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں۔ اگر میں ایسے دوگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں۔ لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ حضرت مسیح موعود کا دعویٰ منجانب اللہ تھا۔‘‘

(الفضل ۱۶؍جولائی ۱۹۲۵ء)

اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے معارف کا فیصلہ کم سے کم تین سال کے بعد ہوسکے گا۔ چوں کہ یہ ایک فضول طول عمل تھا، اس لئے کسی نے اس پر توجہ نہ کی۔ البتہ خلیفہ قادیان کی تقریر کا دوسرا حصہ قابل التفات ہوسکتا تھا، جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’اگر مولوی صاحب (دیوبندی) اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں حضرت مسیح موعود کا ادنیٰ خادم ہوں، میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کرلیں اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اس عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے؟ اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے؟‘‘

(خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ قادیاں الفضل ۱۶؍جولائی ۱۹۲۵ء)

اس چیلنج کا جواب میں، میں نے صاف لفظوں میں قبولیت لکھی (یعنی اس چیلنج کو قبول کیا) جو یہ ہے:

ہم اس چیلنج کی منظوری دیتے ہیں: بلاتکلف ہم کو یہ صورت منظور ہے۔ پس آپ اسی… میں تشریف لے آئیں، جس میں مرزا قادیانی نے امرتسر میں مباہلہ کیا تھا۔ میں آپ کی تقرر تاریخ اور جواب باصواب کا منتظر ہوں۔ پس سنئے:

  1. ہم وہ نہیں کہ دور سے دعویٰ کیا کریں

    ہم وہ نہیں کہ دون کی بیٹھے لیا کریں

  2. اپنا تو یہ ہے قول آئے ہیں آئیے

    دعویٰ اگر کیا ہے تو کچھ کر دکھائیے

58

(میں ہوں مرزا قادیانی نبی کا پرانا باوفاء)

(ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری ہفت روزہ اخبار اہل حدیث مؤرخہ ۲۱؍اگست ۱۹۲۴ء)

اس صاف منظوری کے جواب میں روزنامہ الفضل مؤرخہ ۱۳؍نومبر ۱۹۲۵ء میں لکھا کہ مجھے دیوبندیوں سے وکالت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ (خلیفہ قادیان) امرتسر میں نہیں آتے تو سنئے:’’آپ بتراضی فریقین کوئی تاریخ مقرر کرکے بٹالہ (مشرقی پنجاب ہندوستان) کی جامع مسجد میں آجائیں، جہاں آٹھ ۸ بجے صبح سے بارہ۱۲بجے تک مجلس ہوگی، جس میں، میں (ثناء اللہ ) اور آپ (خلیفہ قادیاں) تفسیر القرآن لکھیں گے۔ اسی طرح سے کہ مجھ سے اور آپ سے قریب دس دس گز تک کوئی آدمی نہ بیٹھے گا۔ ہمارے ہاتھ میں صرف سادہ بے ترجمہ قرآن اور سادہ کاغذ اور آزاد قلم (انڈیپنڈنٹ) ہوگا۔‘‘

(اخبار اہل حدیث ۱۳؍نومبر ۱۹۲۵ء)

اتنی واضح اور صاف قبولیت (چیلنج) پر بھی خلیفہ صاحب معارف نمائی کو نہ نکلے بلکہ اخبار الفضل ۲۵؍دسمبر ۱۹۲۵ء میں حیلے حوالے بناتے رہے۔ لہٰذا ضرورت ہوئی کہ مرزا قادیانی کے نکات اور معارف قرآنیہ کا نمونہ پبلک کو دکھایا جائے تاکہ اپنے پرائے کو پورا یقین حاصل ہوجائے کہ واقعی مرزا قادیانی قرآن اور شریعت کے نکات جدیدہ کیسے بیان کیا کرتے تھے؟

’’تعرف الاشیاء باضدادہا‘‘یہ ایک عربی کا مقبول مقولہ ہے، اس کا مطلب بہت صحیح ہے کہ چیزوں کی پرکھ ان کے مقابلہ سے ہوتی ہے، اس لئے مرزا قادیانی کے مدمقابل مولوی عبد اللہ چکڑالوی بانی فرقہ چکڑالویہ (اہل قرآن) کے چند معارف جدیدہ بھی ہم بتادیں گے جو واقعی اس قابل ہوں گے کہ پہلی کسی کتاب میں نہ ملیں گے تاکہ مرزا قادیانی کو مخاطب کرکے ہمیں یہ کہنے کا موقع حاصل ہو:

  1. مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے

    آئینہ دیکھئے گا ذرہ برابر دیکھ بھال کر

یوں تو مرزا قادیانی کی کل تصنیفات ’’نکات‘‘ سے پر ہیں مگر ہم بطور نمونہ دس نکات نذر ناظرین کریں گے تاکہ ناظرین کو ’’نکات مرزا‘‘ کا نمونہ مل جائے اور وقت بھی کم خرچ ہو:

  1. مختصر بات ہو مضمون مطول ہوئے

    دہن وزلف کا مذکور مسلسل ہوئے

59

نکات مرزا

نکتہ نمبر۱:… مرزا قادیانی نے ایک کتاب تفسیر سورۂ فاتحہ کی لکھی ہے جس کا نام ہے ’’اعجاز مسیح‘‘ یعنی (بزعم خود) مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے وہ تفسیر معجزے سے لکھی ہے۔ اس لئے اسی میں کے بہت سے نکات عجیبہ قابل دیدوشنید ہوں گے۔ لہٰذا ہم سب سے پہلے اسی سے شروع کرتے ہیں:

موصوف نے اعوذب اللہ سے نکتہ سنجی شروع کی ہے۔ فرماتے ہیں ’’شیطان الرجیم‘‘سے مراد ’’دجال‘‘ ہے چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’فحاصل الکلام ان الذی یقال لہ الشیطان الرجیم ہوالدجال اللئیم‘‘

(اعجاز المسیح ص۸۳ خزائن ج۱۸ ص۸۵)

’’یعنی جس کو شیطان رجیم کہتے ہیں وہ دجال لعین ہے۔‘‘

ناظرین! اس دجال سے مراد مرزا جی کی اصطلاح میں عیسائیوں کے پادری لوگ ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘میں اس دجال کی بابت مفصل فرماتے ہیں: ’’اب اس تحقیق سے ظاہر ہوگیا کہ جیسے مثیل مسیح کو مسیح ابن مریم کہا گیا۔ اس امر کو نظر میں رکھ کر کہ اس نے مسیح ابن مریم کی روحانیت کو لیا اور مسیح کے وجود کو باطنی طور پر قائم کیا۔ ایسا ہی وہ دجال جو آنحضرت a کے زمانہ میں فوت ہوچکا ہے اس کی ظل اور مثال نے اس آخری زمانہ میں اس کی جگہ لی اور گرجا سے نکل کر مشارق ومغارب میں پھیل گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۸۵ خزائن ج۳ ص۳۶۰، ۳۶۱)

’’پادریوں کی دجالیت کی نظیر ہرگز ہم کو نہیں ملے گی۔ انہوں نے ایک موہومی اور فرضی مسیح اپنی نظر کے سامنے رکھا ہوا ہے جو بقول ان کے زندہ ہے اور خدائی کا دعویٰ کررہا ہے۔ سو حضرت مسیح ابن مریم نے خدائی دعویٰ ہرگزنہیں کیا۔ یہ لوگ خود اس کی طرف سے وکیل بن کر خدائی کا دعویٰ کررہے ہیں اور اس دعویٰ کے سرسبز کرنے کے لئے کیا کچھ انہوں نے تحریفیں نہیں کیں اور کیا کچھ تلبیس کے کام استعمال میں نہیں لائے اورمکہ مدینہ چھوڑ کر اور کون سی جگہ ہے جہاں یہ لوگ نہیں پہنچے۔ کیا کوئی دھوکہ دینے کا کام یا گمراہ کرنے کا منصوبہ یا بہکانے کا کوئی طریقہ ایسا بھی ہے جو ان سے ظہور میں نہیں آیا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ یہ لوگ اپنے دجالانہ منصوبوں کی وجہ سے ایک عالم پر دائرہ کی طرح محیط ہوگئے؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۸۹ خزائن ج۳ ص۳۶۲، ۳۶۳)

60

’’دیکھو کہ اکیس ۲۱ سال میں ان لوگوں نے اپنے پرتلبیس خیالات کے پھیلانے کے لئے سات کروڑ سے کچھ زیادہ کتابیں مفت تقسیم کی ہیں تاکہ کسی طرح لوگ اسلام سے دست بردار ہوجائیں اور حضرت مسیح کو خدا مان لیا جائے۔ اللہ اکبر! اگر اب بھی ہماری قوم کی نظر میں یہ لوگ اول درجہ کے دجال نہیںاور ان کے الزام کے لئے ایک سچے مسیح کی ضرورت نہیں تو پھر اس قوم کا کیا حال ہوگا؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۹۳خزائن ج۳ ص۳۶۵)

’’لہٰذا اس بات پر قطع اور یقین کرنا چاہئے کہ وہ مسیح ودجال جو گرجا سے نکلنے والا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے سحر کے مقابل پر معجزہ کی ضرورت تھی اور اگر انکار ہے توپھر زمانہ گزشتہ کے دجالین میں سے ان کی نظیر پیش کرو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۹۵ خزائن ج۳ ص۳۶۶)

اسی دجال کے قتل کرنے کو مسیح موعود (مرزا قادیانی خود بدولت) تشریف لائے۔ چنانچہ فرماتے ہیں (عربی اور فارسی دونوں مرزا قادیانی کی ہیں):

’’ولا یقتل الدجال الا بالحربۃ السماویۃ ای بفضل من اللہ لا بالطاقۃ البشریۃ فلا حرب ولا ضرب ولکن امر نازل من الحضرۃ الاحدیۃ وکان ہذا الدجال یبعث بعض ذراریہ فی کل مائۃ من مئین لیضل المؤمنین والموحدین والصالحین والقائمین علی الحق والطالبین ویہد مبانی الدین ویجعل صحف اللہ عضین وکان وعد من اللہ انہ یقتل فی آخر الزمان ویغلب الصلاح علی الطلاح والطغیان وتبدل الارض ویتوب اکثر الناس الی الرحمن وتشرق الارض بنور ربہا وتخرج القلوب من ظلمات الشیطان فہذا ہو موت الباطل وموت الدجال وقتل ہذا الثعبان ام یقولون انہ رجل یقتل فی وقت من الاوقات کلا بل ہو شیطان رجیم ابوالسّیّئات یرجم فی آخرالزمان بازالۃ الجہلات واستیصال الخزعبیلات وعد حق من اللہ الرحیم کما اشیر فی قولہ الشیطان الرجیم فقد تمت کلمۃ ربنا صدقا وعدلا فی ہذہ الایام ونظر اللہ الی الاسلام بعد ما عنت بہ البلایا والاٰلام۔ فانزل مسیحہ لقتل الخناس وقطع ہذا الخصام وما سمی الشیطان رجیما الا علٰی طریق انباء الغیب فان الرجم ہو القتل من غیر الریب ولما کان القدر قد جری فی قتل ہذا الدجال عند نزول

61

مسیح اللہ ذی الجلال اخبر اللہ من قبل ہذہ الواقعۃ تسلیۃ وتبشیراً لقوم یخافون ایام الضلال۔ دجال را کسے نتواند کشت مگر بحربہ سماوی۔ اے بفضل الٰہی غلبہ بروخواہد شد نہ بطاقت بشری۔ پس نہ جنگ خواہد شد نہ زدوکوب۔ مگر امرے است از خداتعالیٰ وبود ایںدجال کہ بعض ذریات خود را در ہر صدی مامورمے کرد تا مومناں وموحداں وصالحاں واہل حق وطالبان حق را گمراہ کند وتاکہ بنیاد ہائے دین را بشکند وکتاب الٰہی را پارہ پارہ کند ووعدۂ خداتعالیٰ ایں بود کہ دجال در آخر زمانہ قتل کردہ خواہد شد ونیکی بر فساد وگمراہی غالب خواہد گردید وزمین دیگر خواہد شد ومردم سوئے خدا رجوع خواہند کرد وزمین بنور پروردگار خود روشن کردہ خواہد شد۔ ودل ہا از تاریکی ہابروں خواہند آمد۔ پس ہمیں است موت باطل وموت دجال وقتل ایں اژدہائے بزرگ۔ آیا مردم ایں می گویند کہ دجال انسانے است کہ دروقتے ازاوقات قتل کردہ خواہد شد۔ ہرگز نیست بلکہ او شیطان کشتنی است پدربدیہا کہ در اخر زمانہ بدور کردن امور باطلہ کشتہ خواہد شد وعد حق است از خداتعالیٰ۔ چنانچہ در کلمہ شیطان رجیم سوئے او اشارہ شدہ۔ پس کلمہ رب ما از روئے راستی وعدل دریں روز بظہور رسید ونظر کرد سوئے اسلام۔ بعد زاں کہ نازل شد بروبلاہاودردہا۔ پس مسیح خود را برائے قتل ابلیس نازل کرد۔ تاقطع خصومت کند ونام شیطان از بہر ہمیں رجیم داشتہ شد کہ وعدہ قتل او بود چرا کہ معنی رجم قتل است بے شک وشبہ وچوں کہ تقدیر چنیں رفتہ بود کہ دجال در زمانہ مسیح قتل خواہد شد (بیاض) خبر داد خداتعالیٰ ازیں واقعہ برائے بشارت قومے کہ از روز ہائے ضلالت مے ترسند۔‘‘

(اعجاز المسیح از ص۸۴ تا ۸۷ خزائن ج۱۸ ص۸۶ تا۸۹)

خلاصہ

اس عبارت کا اردو میں خلاصہ یہ ہے کہ دجال موعود جس کا نام شیطان رجیم ہے، اس سے مراد پادریوں کا گروہ ہے۔ ’’مسیح موعود‘‘ (مرزا قادیانی) آسمانی حربہ اور دلائل قویہ سے اس کو قتل کر ڈالے گا۔ خدا کی تقدیر میں یوں ہی لکھا تھا کہ اس دجال کا قتل مسیح موعود کے نازل ہونے سے ہوگا وغیرہ۔ مگر افسوس کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تشریف لائے اور لے بھی گئے۔ مگر دجال ہنوز اپنے کام میں مشغول بلکہ پہلے سے زیادہ مستعد ہے۔

نکتہ نمبر۲: … سورہ فاتحہ کی پہلی آیت الحمدللہ کی تفسیر میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’والیہ اشار فی قولہ تعالٰی لہ الحمد فی الاولٰی والآخرۃ فاومأ
62

فیہ الی احمدین وجعلہما من نعمائہ الکاثرہ فالاول منہما احمدن المصطفی ورسولنا المجتبٰی والثانی احمد آخرالزمان الذی سمّی مسیحا ومہدیا من اللہ المنان وقد استنبطت ہذہ النکتۃ من قولہ الحمدللہ رب العالمین فلیتدبر من کان من المتدبّرین۔ و سوئے ایں اشارہ کردہ است در قول او تعالیٰ کہ او را حمد است در اول و آخر پس اشارت کرد سوئے دو احمد وگردانید آں ہر دو را از جملہ نعمتہائے بسیار۔ پس اول از وشان احمد مصطفی ونبی ما برگزیدہ است ودوم احمد آخرالزمان است آں کہ نام او مسیح ومہدی است از خدائے منان ومستنبط مے شود ایں نکتہ از قول او الحمدللہ رب العالمین پس باید کہ تدبر کند ہر چہ تدبر کنندہ باشد۔‘‘

(اعجاز المسیح ص۱۳۴، ۱۳۵ خزائن ج۱۸ ص۱۳۸، ۱۳۹)

مطلب اس عبارت کا بھی یہ ہے کہ ’’الحمدللہ‘‘ کے علاوہ ’’لہ الحمد فی الاولٰی والآخرہ‘‘ بھی قرآن مجید میں آیا ہے، اس میں پہلی حمد سے مراد حضرت احمد مصطفیﷺ ہیں۔ دوسری حمد سے مراد غلام احمد (جو بعد میں صرف احمد رہ گیا تھا) کی طرف اشارہ ہے اور یہ نکتہ مرزا قادیانی نے ’’الحمدللہ‘‘ سے استنباط کیا ہے (جل جلالہ) سچ ہے:

  1. غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو

    رسول حق باستحکام مرزا

علمائے کرام کی کیا مجال ہے جو یہ نکتہ کسی سابق تفسیر میں دکھا سکیں۔

نکتہ نمبر۳: … مرزا قادیانی اپنی اسی کتاب ’’اعجاز المسیح‘‘ میں ’’مالک یوم الدین‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’وسمّی زمان المسیح الموعود یوم الدین لانہ زمان یحیٰی فیہ الدین وتحشرالناس لیقبلوا بالیقین۔ ونام زمانہ مسیح یوم الدین نہادہ شد چرا کہ او زمانے است کہ در ودین زندہ خواہد شد‘‘

مطلب اس کا بھی صرف اپنی مسیحیت کا استنباط ہے، یعنی مسیح موعود (مرزا) کے زمانے کا نام یوم الدین ہے کیوں کہ اس زمانہ میں دین اسلام زندہ ہوجائے گا۔

ناظرین! مسیح موعود (مرزا قادیانی) آئے اور تشریف لے گئے۔ مگر دین اسلام کی حالت جو ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، کہ نہ اس کی ظاہری شان وشوکت رہی، نہ عمل رہا۔ ظاہری شوکت کا اندازہ تو خود اسی سے ہوسکتا ہے کہ (مرزا قادیانی) سے پہلے جتنے ممالک پر اسلامی حکومت تھی وہ آج نہیں۔ بصرہ سے لے کر خدا کی مقدس سر زمین بیت المقدس تک

63

ہزاروں میل، طرابلس، عرب کا بہت سا حصہ، افریقہ کا سارا اسلامی حصہ اسلامی جھنڈے سے باہر ہوگیا۔ عملی حالت کسی سے مخفی نہیں۔ ہندوستان کی مجموعی اسلامی آبادی میں فی ہزار بھی ایک نہ ہوگا جو دین کی باتیں جانتا اور پابندی کرتا ہو۔ ہمارا بیان تو مخالفانہ کہا جائے گا۔ اس لئے ہم قادیانی اخبارات کا بیان درج کرتے ہیں جو مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی کافی تردید ہے:

  1. یا الٰہی رحم کر اب حال پر اسلام کے

    رہ گئے مومن زمانہ میں فقط اک نام کے

  2. تارک صوم وصلوٰۃ وپردہ وقرآن ہیں

    نا خلف کیسے ہوئے اس دور میں اسلام کے

  3. حامیان دین نے مسلم کو کافر کردیا

    کافرستان بن گئے جو ملک تھے اسلام کے

  4. ہیں مسلماں نام کے لیکن یہودی کام کے

    آشنائے کفر ہیں نا آشنا اسلام کے

  5. مصطفی کامل سا لیڈ جب ملے احرار کو

    مل کے باہم کیوں نہ ناچیں مردوزن اسلام کے

  6. تو ہوا ہم سے خفا جب ہم ہوئے تجھ سے جدا

    ہے یہی اس کی جزا دن آگئے آلام کے

  7. یا الٰہی! پھر وہی باد بہاری چل پڑے

    جس سے ہوں پھر سے ہرے سوکھے شجر اسلام کے

(اخبار فاروق ۲۰؍دسمبر ۱۹۲۵ء ص اوّل)

نکتہ نمبر۴:… مرزا قادیانی’’ایّاک نعبد وایّاک نستعین‘‘ سے نکتہ سنجی فرماتے ہیں: ’’ثم حث الناس علی العبادۃ بقولہ ایّاک نعبد وایّاک نستعین ففی ہذہ اشارۃ الی ان العابد فی الحقیقۃ ہو الذی یحمدہ حق الحمدۃ فحاصل ہذا الدعاء والمسئلۃ ان یجعل اللہ احمد کل من تصدی للعبادۃ وعلٰی ہٰذا کان من الواجبات ان یکون احمد فی آخر ہٰذہ الامۃ علٰی قدماحمد الاوّل الذی ہو سید الکائنات لیفہم ان الدعاء استجیب من حضرۃ مستجیب الدعوات‘‘

’’باز ترغیب داد مردم را بر عبادت بقول او ’’ایّاک نعبد وایّاک نستعین‘‘پس دریں اشارہ است کہ عابد در حقیقت ہماں شخص است کہ تعریف خداتعالیٰ کند چناں کہ حق است۔ پس حاصل ایں دعا ودرخواست ایں ست کہ خدا عبادت کنندہ را احمد بگرداند وبنائً علیہ واجب بود کہ در آخر امت احمدے پیدا شود بر قدم آں احمد کہ او سید کائنات است تا فہمیدہ شود کہ ایں دعا کہ در سورہ فاتحہ کردہ شد در حضرت احدیت قبول شدہ است۔‘‘

(اعجاز المسیح ص۱۶۳، ۱۶۴ خزائن ج۱۸ ص۱۶۷، ۱۶۸)

64

خلاصہ

دعا تو مانگیں حضرت صدیق اکبرؓ سے لے کر علماء دیوبند تک ساری امت اور احمد بنیں اکیلے مرزا قادیانی۔ باقی دعا گو کیوں محروم رہیں؟ آہ! کیا سچ ہے:

  1. جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہوں رقیب جدا

    ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

نکتہ نمبر۵:… قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’لقد نصرکم اللہ ببدروانتم اذلّۃ‘‘خدا نے تم مسلمانوں کی بدر میں مدد کی جب تم بہت کمزور تھے۔

یہ آیت مبارکہ اپنا مطلب صاف بتا رہی ہے کہ جنگ بدر کے متعلق ہے۔ مسلمان اس جنگ میں کل ۳۱۳نفر تھے، جن کے پاس اسلحہ جنگ بھی کافی نہ تھا، کفار کی بکثرت مسلح فوج تھی۔ اس وقت خدا نے مسلمانوں کو فتح دی۔

مرزا قادیانی اس آیت سے نکتہ لطیفہ اپنے متعلق نکالتے ہیں:

’’وقد اشار الیہ القرآن فی قولہ لقد نصرکم اللہ ببدروانتم اذلۃ وان القرآن ذوالوجوہ کما لا یخفی علی العلماء الاجلہ فالمعنی الثانی لہذہ الایۃ فی ہذا المقام ان اللہ ینصرالمؤمنین بظہور المسیح الٰی مئین تشابہ عدتہا ایام البدر التام والمؤمنون اذلۃ فی تلک الایام فانظر الٰی ہذہ الایۃ کیف تشیر الٰی ضعف الاسلام ثم تشیر الٰی کون ہلالہ بدراً فی اجل مسمی من اللہ العلام کما ہو مفہوم من لفظ البدر فالحمدللہ علٰی ہذاالافضال والانعام‘‘

’’واشارت کرد قرآن سوئے ایں معنی درقول او کہ خدا مدد شما کرد در بدر وشما ذلیل بودید وقرآن ذوالوجوہ است چنانچہ برعلماء بزرگ پوشیدہ نیست پس معنی ثانی ایں آیت دریں مقام کہ خدا مدد مؤمناں بظہور مسیح تآں صدی ہا خواہد کرد کہ شمار آں بدر تام را مشابہت دارد ومؤمناں دراں زمانہ ذلیل خواہند بود۔ پس بنگر سوئے ایں آیت چگونہ اشارت مے کند سوئے ضعف اسلام۔ باز اشارت مے کند سوئے ایں کہ آں ہلاک در آخر بدر خواہد شد وباز اشارت میکند سوئے وقت ظہور مسیح کہ صدی چہار دہم است۔ چنانچہ از لفظ بدر مفہوم مے شود پس حمد خدا را بریں فضل ونعمت دادن۔‘‘

(اعجاز المسیح ص۱۸۳، ۱۸۴ خزائن ج۱۸ ص۱۸۷، ۱۸۸)

65

مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ بدر کے چودہ سو عدد ہیں۔ چودہویں صدی میں خدا مسیح موعود (مرزا) کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ چنانچہ میرے (مرزا کے) آنے سے اسلام کا ہلال بدر ہوگیا۔ ’’جل جلالہ‘‘

اگر کسی کو اسلام کی ترقی معلوم نہ ہو تو وہ قادیان میں جا کر دیکھ لے۔ کیوں؟:

  1. بیا در بزم رنداں تا بہ بینی عالم دیگر

    بہشت دیگر وابلیس دیگر آدم دیگر

نکتہ نمبر۶: سورہ فاتحہ کی تفسیر کے خاتمہ پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’وحاصل ما قلنا فی ہذا الباب ان الفاتحۃتبشر بکون المسیح من ہذہ الامۃ فضلاً من رب الارباب‘‘

’’ودریں باب ہر چہ گفتیم حاصل آں ایں است کہ سورۃ فاتحہ بشارت مے دہد بہ مسیح از ہمیں امت۔‘‘

(اعجاز المسیح ص۱۸۴، خزائن ج۱۸ ص۱۸۸)

حضرات ناظرین کرام! گزشتہ مفسرین کرام میں امام مسلمؒ اور امام رازیؒ بڑے نکتہ سنج ہوئے ہیں۔ امام ممدوح نے سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھی ہے جو مطبوعہ مصر (۱۵۸) صفحات پر ختم ہے۔ امام مسلمؒ وہ نکتہ سنج ہیں کہ امام رازی مرحوم جیسے حکیم امت ان کے حق میں فرماتے ہیں::’’ہو حسن الکلام فی التفسیر کثیر الغوص علی اللطائف والدقائق۔‘‘

(تفسیر کبیر ج۲ ص۴۶۶ زیر آیت آیتک الاتکلم الناس)

مگر ہمارے پنجابی نبی اور مسیح موعود (مرزا) کی نکتہ سنجی کو وہ نہیں پہنچ سکے:

کیا علماء دیوبند ایسے نکتے کسی سابقہ تفسیر میں دکھا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ان کے منہ سے بھی مجبوراً یہ نکل جائے گا:

  1. نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری دلفریبی کو

    بہت سے ہوچکے ہیں اگرچہ تم سے دلرباپہلے

لطیفہ: عرصہ ہوا مولوی ڈپٹی نذیر احمد صاحب مترجم قرآن دہلوی انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسہ میں تقریر کررہے تھے اثناء تقریر میں یہ ذکر کیا گیا کہ ہر فرقہ قرآن ہی سے دلیل لیتا ہے۔ ذرہ مرزا قادیانی کو تو پوچھئے وہ کہیں گے آدہا قرآن میرے ہی حق میں اترا ہے۔

اس وقت تو ہم سامعین نے ڈپٹی صاحب موصوف کے اس مقولہ کو بذلہ سنجی پر محمول کیا مگر بعد کے واقعات اور مرزا قادیانی کی تصنیفات نے اس کو صحیح ثابت کردیا بلکہ مرزا قادیانی نے

66

آدھے قرآن ہی پر قبضہ نہیں رکھا۔ وہ یہاں تک ترقی کر گئے فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۴ خزائن ج۲۲ ص۸۷)

نکتہ نمبر۷: … قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’اذالشمس کورت واذا النجوم انکدرت واذا الجبال سیرت واذا العشار عطلت واذا الوحوش حشرت واذا البحار سجرت واذا النفوس زوجت واذا الموء ودۃ سئلت بایّ ذنب قتلت واذالجنۃ ازلفت علمت نفس مآ احضرت (تکویر:۱تا۱۴)‘‘

اس سورۃ میں خداوندتعالیٰ نے قیامت سے پہلے کے چند واقعات بتا کر ارشاد فرمایا ہے کہ جب یہ واقعات ہو جائیں گے تو اس وقت ہر نفس کو اپنے کئے اعمال معلوم ہوجائیں گے۔ چنانچہ ان آیتوں کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

’’جب کہ سورج کی روشنی لپیٹ دی جائے گی اور جب کہ تاروں کی روشنی جاتی رہے گی اور جب کہ پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب کہ گابھن اونٹیاں بے کار ہوجائیں گی اور جب کہ جانور جمع کئے جائیں گے اور جب کہ دریائوں میں آگ لگائی جائے گی اور جب کہ (نیک وبد) نفسوں کے جوڑے ملائے جائیں گے اور جب کہ زندہ دفن کی ہوئی (لڑکی) سے سوال کیا جائے گا کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی اور جب کہ نامہ اعمال پھیلائے جائیں گے اور جب کہ آسمان اپنے مقام سے کھینچ لیا جائے گا اور جب کہ دوزخ بھڑکائی جائے گی اور جب کہ جنت قریب کر دی جائے گی تو ہر نفس جان لے گا کہ وہ (کیا) کیا لے کر آیا ہے۔‘‘

ان آیات کا ترجمہ ہی صاف بتا رہا ہے کہ مقصود ان سے یہ بتانا ہے کہ جب یہ واقعات ظاہر ہوں گے اس یوم الجزا (روز قیامت) ہوگا۔ ان آیات میں جو لفظ ’’اذاالعشار عطلت‘‘ہے اس کی تفسیر میں مرزا قادیانی نکتہ سنجی فرماتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’اور یاد رہے کہ اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرتﷺ نے یہ بھی خبر دی جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا ’’ولیترکن القلاص فلا یسعٰی علیہا‘‘ یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنی کی سواری موقوف ہوجائے گی۔ پس کوئی ان پر سوار ہو کر ان کو نہیں دوڑائے گا اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا کہ اس کے نکلنے سے اونٹوں کے دوڑانے کی حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے

67

بڑی سواری اونٹ ہی ہے جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہوسکتے ہیں۔ اور بڑے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمناً آجاتا ہے۔ پس حاصل مطلب یہ تھا کہ اس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آجائے گی جیسا کہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریباً وہ تمام کام جو اونٹ کرتے تھے، اب ریلیں کر رہی ہیں۔ پس اس سے زیادہ تر صاف اور منکشف اور کیا پیش گوئی ہوگی۔ چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے ’’واذا العشار عطلت‘‘ یعنی آخری زمانہ وہ ہے کہ جب اونٹنی بیکار ہوجائے گی۔ یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں اور چوں کہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے، اس سے یقینا یہ استدلال کرنا چاہئے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کا حال بتلا رہی ہے اور اجمالاً مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر لوگ باوجود ان آیات بیّنات کے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں۔ ان پیش گوئیوں کی نسبت شک کرتے ہیں۔ اب منصفین سوچ لیں کہ ایسی پیش گوئیوں کی نسبت جن کی غیبی باتیں پوری ہوتی آنکھ سے دیکھی گئیں شک کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟

(شہادت القرآن ص۱۲، ۱۳ خزائن ج۶ ص۳۰۸،۳۰۹)

ناظرین! یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ اونٹوں کی جگہ ریل کا بن جانا خاص عرب میں مراد ہے اسی لئے جناب مرزا قادیانی نے ملک عرب کا نام بھی لیا ہے۔ اس کی مزید توضیح دوسری کتاب میں موصوف نے فرما دی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔ مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہوگئے اور پیش گوئی آیت کریمہ ’’واذا العشار عطلت‘‘ پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث ’’ولیترکن القلاص فلا یسعی علیہا‘‘نے اپنی پوری چمک دکھا دی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل طیار ہورہی ہے یہی اس پیش گوئی کا ظہور ہے جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے کی گئی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲ خزائن ج۱۹ ص۱۰۸)

قادیانی دوستو! مرزا قادیانی کی اس نکتہ سنجی کو اور کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو اس کے

68

قائل ہیں کہ یہ نکتہ خدا نے ان سے لکھوایا ہے۔ کیوں؟ تاکہ آپ لوگ مرزا قادیانی کی مسیحیت موعودہ کو اس نکتہ سے جانچیں کہ مسیح موعود کی علامت یہ ہے کہ ملک عرب خاص کر حجاز میں ریل جاری ہو کر اونٹ بے کار ہوجائیں گے۔ پس جب تک عرب اور حجاز میں اونٹ چلتے ہیں آپ لوگوں کا حق نہیں کہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود سمجھیں۔ ورنہ خود مرزا قادیانی کے ارشاد کے خلاف ہوگا۔ کیا خوب:

  1. الجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں

    لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا

نکتہ نمبر۸: … قرآن شریف میں ایک بدترین قوم کا ذکر آیا ہے جس کا نام ’’یاجوج ماجوج‘‘ہے جن کے حق میں فرمایا:’’انّ یاجوج وماجوج مفسدون فی الارض (کہف:۹۴)‘‘یعنی یاجوج ماجوج ملک میں فساد کرنے والے ہیں۔

مرزا قادیانی کی نکتہ سنجی نگاہ میں یہ دونوں قومیں روس اور انگریز ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں:’’فانّ یاجوج وماجوج ہم النصاریٰ من الروسوالاقوام البرطانیۃ‘‘یعنی یاجوج ماجوج عیسائی قومیں روس اور انگریز ہیں۔

(حمامۃ البشری ص۲۸ خزائن ج۷ حاشیہ ص۲۰۹، ۲۱۰)

چوں کہ یہ نکتہ انگریزوں اور انگریزی حکومت کو بدترین قوم بناتا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اپنی معمولی دور اندیش نگاہ سے اس کا انتظام یہ کیا کہ فوراً سے پیشتر انگریزی حکومت کی وفاداری کا اعلان فرما دیا۔ ملاحظہ ہو: ’’ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہوسکیںاور ان کی حالت میں ضعف رہا۔ لیکن خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی جیسا کہ سورۂ کہف میں فرماتا ہے۔ ’’وترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض‘‘یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کرکے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خداتعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔چوں کہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں اس لئے ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت(یعنی روسی انگریزی جنگ میں) انگریزوں کی فتح ہو۔ کیوں کہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۰۸،۵۰۹ خزائن ج۳ ص۳۷۳)

69

یہی معنی ہیں:

  1. حلف عدو سے قسم مجھ سے کھائی جاتی ہے

    الگ ہر ایک سے چاہت بتائی جاتی ہے

نکتہ نمبر۹: … گزشتہ نکات تو قرآنی معارف اور نکات کا نمونہ ہیں۔ مناسب ہے کہ ایک نکتہ نکات حدیثیہ کا نمونہ بھی بتائیں۔ تاکہ ناظرین مرزا قادیانی کو منکر حدیث نہ قرار دیں بلکہ وہ قائل حدیث تھے۔ اس لئے ان کی عارفانہ نگاہ نے حدیثی نکتہ آفرینی میں بھی کمی نہیں کی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل حدیث میں بے مثل نکتہ آفرینی کا ثبوت دیا۔

ترمذی میں حضرت مسیح موعودm کے نزول کی بابت حدیث یوں آئی ہے: ’’فبینما ہو کذٰلک اذہبط عیسٰی بن مریم بشرقی دمشق عند المنارۃ البیضاء بین مہروذتین واضعاً یدہ علی اجنحۃ ملکین‘‘(ترمذی باب ما جاء فی فتنۃ الدجال ج۲ ص۴۷)

اس حدیث میں مسیح موعود کا شہر دمشق کے سفید منارہ کے قریب اترنے کا ذکر ہے اور جب مرزا قادیانی خود مسیح موعود بننے کے مدعی تھے حالاں کہ آپ قادیاں میں اترے اور دمشق کو خواب میں بھی نہ دیکھا تھا اس لئے اپنی معمولی نکتہ سنجی سے دمشق کے لفظ سے نکتہ استنباط کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رو سے مسیح ہے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔ کیوں کہ دمشق پایہ تخت یزید ہوچکا ہے اور یزیدیوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزارہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے۔ وہ دمشق ہی ہے اور یزیدیوںکو ان یہودیوں سے بہت مشابہت ہے۔ جو حضرت مسیح کے وقت میں تھی۔ ایسا ہی حضرت امام حسینb کو بھی اپنی مظلومانہ زندگی کی رو سے سے حضرت مسیح سے غائت درجہ کی مماثلت ہے۔ پس مسیح کا دمشق میں اترنا صاف دلالت کرتا ہے کہ کوئی مثیل مسیح جو حسین سے بھی بوجہ مشابہت ان دونوں بزرگوں کی مماثلت۱؎ رکھتا

۱؎ یہ مرزا قادیانی کی ابتدائی حالت ہے کہ ان دونوں بزرگوں سے مماثلت پر کفایت کی ہے۔ چند روز بعد جو ترقی کی تھی تو فضیلت کے مدعی ہوگئے تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیوں کہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے…اس امت کا مسیح موعود (مرزا) پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳ خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

70

ہے۔ یزیدیوں کی تنبیہ اور ملزم کرنے کے لئے جو مثیل یہود میں اترے گا اور ظاہر ہے کہ یزیدی الطبع لوگ یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہ دراصل یہودی ہیں۔ اس لئے دمشق کا لفظ صاف طور پر بیان کررہا ہے کہ مسیح جو اترنے والا ہے وہ بھی دراصل مسیح نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ یزیدی لوگ مثیل یہود ہیں ایسا ہی مسیح جو اترنے والا ہے وہ بھی مثیل مسیح ہے اور حسینی الفطرت ہے۔ یہ نکتہ ایک نہایت لطیف نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے صاف طور پر کھل جاتا ہے کہ دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے چوں کہ امام حسین کا مظلومانہ واقعہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت اور وقعت رکھتا ہے اور یہ واقعہ حضرت مسیح کے واقعہ سے ایسا ہمرنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں کلام نہیں ہوگی۔ اس لئے خداتعالیٰ نے چاہا کہ آنے والے زمانہ کو بھی اس کی عظمت سے اور مسیحی مشابہت سے متنبہ کرے۔ اس وجہ سے دمشق کا لفظ بطور استعارہ لیا گیا۔ تاکہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آجائے جس میں لخت جگر رسول اللہ ﷺ حضرت مسیح کی طرح کمال درجہ کے ظلم اور جورو جفا کی راہ سے دمشقی اشقیاء کے محاصرہ میں آکر قتل کئے گئے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اس دمشق کو جس سے ایسے پرظلم احکام نکلے تھے اور جس میں ایسے سنگ دل اور سیاہ درون لوگ پیدا ہوگئے تھے، اس غرض سے نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل مسیح دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈکوارٹر ہوگا۔ کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدائے تعالیٰ لعنت کی جگہوں پر برکت کے مکانات بناتا رہا ہے۔ اس استعارہ کو خدائے تعالیٰ نے اس لئے اختیار کیا کہ تاکہ پڑھنے والے دو فائدہ اس سے حاصل کریں۔ ایک یہ کہ امام مظلوم حسینb کا درد ناک واقعہ شہادت جس کی دمشق کے لفظ میں بطور پیش گوئی اشارہ کی طرف پر حدیث نبوی میں خبر دی گئی ہے۔ اس کی عظمت اور وقعت دلوں پر کھل جائے۔ دوسرے یہ کہ تا یقینی طور پر معلوم کر جاویں کہ جیسے دمشق میں رہنے والے دراصل یہودی نہیں تھے۔ مگر یہودیوں کے کام انہوں نے کئے۔ ایسا ہی جو مسیح اترنے والا ہے دراصل مسیح نہیں ہے مگر مسیح کی روحانی حالت کا مثیل ہے اور اس جگہ بغیر اس شخص کے کہ جس کے دل میں واقعہ حسین کی وہ عظمت نہ ہو جو ہونی چاہئے۔ ہر ایک شخص اس دمشقی خصوصیت کو جو ہم نے بیان کی ہے بکمال انشراح ضرور قبول کرلے گا اور حضرت مسیح کو جو امام حسینb سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ بھی استعارہ در استعارہ

71

ہے۔ جس کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ اب پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیاں بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں۔ دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔ مثلاً ایک بہادر انسان کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور شیر نام رکھتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ شیر کی طرح اس کے پنجے ہوں اور ایسی ہی بدن پر پشم ہو اور ایک دم بھی ہو بلکہ صرف صفت شجاعت کے لحاظ سے ایسا اطلاق ہوجاتا ہے اور عام طور پر جمیع انواع استعارات میں یہی قاعدہ ہے۔ سو خداتعالیٰ نے اسی عام قاعدہ کے موافق اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارے میں قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ ’’اخرج من الیزیدیون‘‘ یعنی اس میں یزیدی لوگ۱؎ پیدا کئے گئے ہیں۔ اب اگرچہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسی کام تصریح سے خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہوجائے۔ مگر خداتعایٰ خون جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ یزیدی الطبع ہیں۔ یعنی اکثر وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں وہ اپنی فطرت میں یزیدی لوگوں کی فطرت سے مشآبہ ہیں اور یہ بھی مدت سے الہام ہوچکا ہے ’’انّا انزلناہ قریباً من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وکان وعد اللہ مفعولا‘‘ یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب۲؎ اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ اس الہام پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خداتعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص۶۷ تا ۷۳ خزائن ج۳ حاشیہ ص۱۳۶ تا ۱۳۹)

۱؎مرزائی فاضلو! ترجمہ صحیح ہے؟ (مصنف)

۲؎قریب اترا تو قادیانی کیوں ہوا؟ (مصنف)

72

ناظرین کرام! کیا اچھا نکتہ ہے۔ ہے کوئی جو اس نکتہ کا حوالہ کسی سابقہ تفسیر یا شرح حدیث میں دکھا سکے؟ کہاں دمشق۔ کہاں قادیاں۔ کہاں یہودی، کہاں یزیدی اور کہاں بے چارے ساکنان قادیاں۔ کیا ٹھیک ہے:

  1. چہ خوش گفت ست سعدی در زلیخا

    الا یا ایہا الساقی ادر کأساً ونالہا

نکتہ نمبر۱۰:… (الحاد کی بنیادی) حافظ شیرازی مرحوم کا شعر ہے:

  1. بمئے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوئد

    کہ سالک بے خبر نبود ز راہ ورسم منزلہا

اس شعر کے غلط معنی کی سند پر ملحد فقیر اپنے مریدوں کو خلاف شرع باتیں بتا کر گمراہ کیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے باوجود مسیح موعود، مہدی مسعود اور مصلح اعظم اسلام ہونے کے ان گمراہ کنندوں کی تائید کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

’’شرعی والہامی امور الگ الگ رہتے ہیں۔ اس لئے کشفی یا الہامی امور کو شریعت کے تابع نہیں رکھنا چاہئے۔ وحی الٰہی کا معاملہ اور ہی رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی ایک دو نظیریں نہیں بلکہ ہزاروں نظائر موجود ہیں۔ بعض وقت ملہم کو الہام کی رو سے ایسے احکام بتلائے جاتے ہیں کہ شریعت کی رو سے ان کی بجا آوری درست نہیں ہوتی۔ مگر ملہم کا یہ فرض ہوتا ہے کہ ان کی بجا آوری میں ہمہ تن مصروف رہے۔ ورنہ گناہگار ہوگا۔ حالاں کہ شریعت اسے گناہگار نہیں ٹھہراتی۔ یہ تمام باتیں من لدنا علماً کے ماتحت ہوتی ہیں۔ ایک جاہل بے بصیرت بے شک اسے خلاف شریعت قرار دے گا۔ مگر یہ اس کی اپنی جہالت وکور باطنی ہے کہ ان باتوں کو خلاف شریعت سمجھے۔ دراصل اہل باطن کے لئے وہ بھی ایک شریعت ہوتی ہے جس کی بجا آوری ان پر فرض ہوتی ہے۔ ابتداء دنیا سے یہ باتیں دوش بدوش چلی آتی ہیں۔‘‘

(مفہوم ملفوظات ج۶ ص۱۱،۱۲، اخبار الحکم ۲۴؍جون ۱۹۰۳ء مندرجہ خزینۃ العرفان ص۵۸۲)

ناظرین! کیا اچھا عارفانہ نکتہ ہے جس کو ہر ایک ملحد زندیق سامنے رکھ کر خلاف شرع امور کو رواج دے سکتا ہے۔

حضرات! یہ ہیں مسیح موعود اور اسلام کے مصلح اعظم اور ان کے معارف اور نکات۔ آہ!

  1. دوست ہی دشمن جاں ہوگیا اپنا حافظ

    نوش دارو نے کیا، کیا اثر سم پیدا

73

نکتہ نمبر۱۱:… (ایجاد مرید) پنجابی میں ایک کہاوت ہے: ’’گرو جنہاندے پٹڑیں چیلے جانٹر شڑب‘‘

یعنی جن کے پیر تیز رو ہوں ان کے مرید ان سے بھی تیز چلنے والے ہوتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے نکتہ افرینی میں اپنے مریدوں کو بھی نکتہ آفرین بنا دیا۔ یہ نکتہ نمبر۱۱ ان کے مریدوں کی نکتہ آفرینی کی مثال ہے۔ ناظرین بغور پڑھیں۔

مرزا قادیانی کے ایک مرید مولوی عبد اللہ تیمار پوری دکنی ہیں۔ آپ نے بھی سورۂ فاتحہ کی الہامی تفسیر لکھی ہے۔ ہم نے ساری تفسیر کو پڑھا اس کے دیکھنے سے ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ صاحب لاہوت کی کہتے ہیں یا ناسوت کی۔ مگر ایک مقام سے ان کا نکتہ ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے ملا جو نقل کرتے ہیں۔ لیکن پہلے اس نکتہ کے مصنف کی عقیدت بحق مرزا قادیانی اور مصنف کا اعلیٰ درجہ انہی کے الفاظ میں بتاتے ہیں۔ مصنف صاحب شروع ہی میں لکھتے ہیں:

’’ناظرین! یہ وہی تفسیر کبیر (یعنی تیماپوری کی تصنیف) ہے جس کو حضرت اقدس مسیح موعود غلام احمد نے اپنے ایک رؤیا (خواب) میں دیکھا ہے۔ آپ کے ملفوظات کے سنہری چوغہ کو شیطان لوگوں کی نظروں سے غائب کرنے کے لئے بھاگا تھا۔ یہ خاکسار شیطان سے چھین کر واپس لایا ہے۔ اس کی تعبیر خود حضرت صاحب نے یہ کی ہے کہ وہ تفسیر ہمارے لئے موجب عزت وزینت ہوگی۔ الحمدللہ اس تفسیر مبارک سے حضور کی رؤیائے صادقہ روحانی وجسمانی طریق میں مجسم بن کر پوری ہوئی۔ یہ خاکپائے غلامان رسول اللہ آپ ہی کے اتباع کی برکت سے مردگی سے زندہ ہوکر ایک قاش عرفان الٰہی وعشق نبوت محمدی کی آپ ہی کے ہاتھوں سے کھایا ہے۔ جس کی خوشخبری براہین کے حاشیہ درحاشیہ ص۲۴۸ میں دی گئی ہے اور اس عاجز کی زندگی کے ساتھ دین اسلام کی تروتازگی وترقی منظور الٰہی ہے۔ میرے ذریعے سے حضرت مسیح موعود (مرزا) کی صداقت زور آور حملوں کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوگی۔‘‘

(تفسیر آسمانی سبعاً من المثانی مؤلفہ عبد اللہ تیماپوری ص الف)

اس کے بعد مصنف موصوف تفسیر سورۂ فاتحہ کے الفاظ ’’الرحمن الرحیم‘‘ سے نکتہ نکالتے ہیں جو مرزا قادیانی کے نکتہ سے کم نہیں بلکہ بڑا نقطہ ہے۔ فرماتے ہیں:

’’رحمان ورحیم یا بسم محمد واحمد۔ یہ ایک تخم کی دوپھانک ہیں۔ یہ دونوں شقوں کے

74

درمیان سے نور اللہ کا موڑ بذریعہ عشق نکلا۔ پھر نیاز کی زمین سے ناز کا درخت بلند ہوا۔ اس کی شاخیں آسمان میں جا لگیں۔ اس کی ایک شاخ وڈالی میں توحید کے خوش نما پھول لگے۔ یوں وحدت کثرت میں آکر اپنا جلوہ دکھائی اور امتداد زمانہ کی وجہ سے وحدت الوہیت کا تاج کثرت کے سر پر رکھا جاتاہے تو خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔ چوں کہ وہ ذات اپنی الوہیت میں شرکت کو پسند نہیں کرتی۔ لہٰذا اس کی اصلاح کے لئے مامور من اللہ آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ فی زمانہ حضرت مسیح ناصری کو خدا کے نادان بندوں نے اس کی خدائی میں شریک گردانا۔ ہمیشہ کے لئے مسیح کو زندہ مانا۔ حقیقی پرندوں کے پیدا کرنے والے، مردوں کو جلانے والے یقین کرلیا۔ اسی مشرکانہ عقیدہ کو مٹانے کے لئے اللہ پاک نے اپنے ایک برگزیدہ غلام احمد کو مسیح احمد بنا کے بھیجا۔ پھر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پھر وہی بادشاہ زمین وآسمان نے اس عاجز کو چن لیا تاکہ زور آور حملوں سے غلام احمد کی سچائی کو ظاہر کرے اور اس کے ذریعہ سے بذریعہ الہام ایک نور حق کے آنے کی پیش گوئی بھی سنائی جو اس عاجز کے وجود سے پوری ہوئی۔ وہ یہ ہے:

’’وجاء ک النور وہو افضل منک‘‘اور اس نور کی بزرگی میں بطور استعارہ یہ الہام نازل ہواہے۔ ’’کانّ اللہ نزل من السمآء‘‘ یہ مرتبہ خاتم ولایت محمدی کی طرف اشارہ ہے اورالہام ’’پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد‘‘ میں ظاہر ہونے والے راز کو کھولا ہے۔ غرض ایک وجہ سے مرتبہ احمدیت مرتبۂ محمدیت کا ظلّ ہے اور ایک وجہ سے مرتبۂ محمدیت مرتبۂ احمدیت کا ظلّ ہے۔‘‘

’’لہٰذا آپ (مرزا قادیانی ) خاتم ولایت احمدی ہوئے اور اس عاجز کے وجود سے یہ کشف مرتبہ ناز روحانی میں ظل رحمانی کے درجہ پر یوں پورا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح احمد از روئے تولد روحانی مظہر جمال تھے۔ آپ کے وجود میں جمال کا غلبہ زیادہ تھا اور جلال ان میں پوشیدہ تھا۔ اس معنی کو جمالی رنگ میں آپ کا تولد ہوا اور یہ عاجز آپ کے پیچھے اور ساتھ میں مرتبہ جلال اور جمال پر تولد پاکے خاتم ولایت محمدی ہوا ہے۔ اوّل بآخر نسبت دارد کا دورہ پورا ہوکر قدرت ثانی کا دوسرا دور، دور محمدی کا آغاز ہوا۔ یہ مرتبہ ظل رحمانی ہے۔ مرتبہ راز اللہ ہی اللہ ہے۔ خدا ہی جانے کیاسے کیا ہونے والا ہے۔‘‘ (بریلی میں پاگلوں کاعلاج ہونے والا ہے)

(تفسیر آسمانی سبعاً من المثانی حصہ اول ص۶۷، ۶۸، ۶۹)

75

ناظرین! یہ ہیں وہ نکات جدیدہ جن کی بنا پر مرزا قادیانی مجدد اور مسیح موعود بنتے تھے جن کی جدت سے کسی مسلمان کو انکار نہ ہونا چاہئے بلکہ صاف لفظوں میں کہہ دینا چاہئے کہ:

  1. نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ظلم کیشی کو

    بہت سے ہوچکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

حضرات کرام! ان سارے نکات کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کی سورہ فاتحہ بلکہ دیگر مقامات قرآن سے بھی مرزا قادیانی کی بابت پیش گوئی اور نبوت (بروز محمد) کی طرف اشارہ ہے۔ کیا خوب:

  1. خیال زاغ کو بلبل کی ہمسری کا ہے

    غلام زادے کو دعویٰ پیمبری کا ہے

تصویر کا دوسرا رخ

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مرزا قادیانی کی نکتہ آفرینی پر بہت فخر ہے کہ وہ قرآن مجید سے ایسے نکات نکالتے تھے کہ پہلی کتابوں میں ان کا نشان نہیں ملتا۔ ہم اصولاً ایسے نکات جدیدہ کے ماننے کے لئے تیار ہیں جو قرآن شریف سے استنباط ہوں خواہ پہلے کسی نے نہ لکھے ہوں مگر ایسے نکات ہوں کہ عربی عبارت قرآنی بقاعدہ زبان عربی ان کی متحمل ہو نہ کہ بالکل اجنبی محض بلکہ متضاد ہوں۔ مگر مرزا قادیانی اپنی جدت طرازی میں کسی اصول کے پابند نہ تھے بلکہ ان کو محض یہ منظور تھا کہ جس طرح ہو کوئی نئی بات بنائی جائے۔ جس کی مثالیں گذشتہ صفحات پر ہم دکھا آئے ہیں۔ چوںکہ ایسی ہی بے قاعدہ تجدید کرنے والا مرزائی اصطلاح میں مجدد ہوتا ہے اس لئے اس عنوان کے تحت ہم ایک ایسے شخض کو پیش کرتے ہیں جس کو مرزا قادیانی ملحد اور کیا نہیں کیا کہتے تھے۔ یعنی مولوی عبد اللہ چکڑالوی بانی فرقہ اہل قرآن لاہور جو حدیث نبوی کے منکر تھے اور صرف قرآن مجید کو وحی الٰہی جانتے تھے۔ حالاں کہ ان کے نکات اور معارف اپنی جدت میں مرزا قادیانی کے نکات سے کم نہیں۔ چنانچہ وہ بھی عشرۂ کاملہ کی صورت میں درج ذیل ہیں:

چکڑالویہ نکتہ نمبر۱:… قرآن شریف میںحضورﷺ کو ارشاد ہے: ’’اے نبی! تو کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے پیار کرتے ہو تو میری تابع داری کرو۔ خدا تم سے پیار کرے گا۔‘‘

اس آیت میں خاص صیغہ قل امر مخاطب کا ہے جس کے مخاطب خاص حضورﷺ ہیں مگر مولوی چکڑالوی نے اس میں عجیب جدت کی ہے لکھتے ہیں: ’’قل ان کنتم تحبون

76

اللہ فاتبعونی‘‘کہہ دے تو (اے صاحب قرآن) اگر تم رضا مندی چاہتے ہو اللہ تعالیٰ کی تو میرے موافقت صرف قرآن مجید ہی پر عمل درآمد رکھو۔

حاشیہ:… ’’پاس اس آیت میں ہرایک مسلمان قیامت تک قل کا مخاطب ومکلف ہے اور ہر ایک مؤمن مسلمان کو بقدر اپنی قدرت وطاقت کے قیامت تک یہ کہنا فرض ہے کہ اے عبادالرحمن میری موافقت کرو۔ یہاں کوئی قرینہ حالی یا مقالی ما قبل یا مابعد اشارۃً یا کنایۃً وہم وخیال تک میں بھی نہیں آسکتا کہ اس آیت کے مخاطب ومکلف خاص محمد رسول اللہ سلام علیہ ہی ہوں۔‘‘

(پ۳ قرآن معہ تفسیر چکڑالوی ص۱۳۶)

ناظرین! کیا یہ نکتہ جدیدہ نہیں؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر۲: … حضرت عیسیٰؑ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’اے عیسیٰ تو مٹی سے جانور بناتا تھا۔ پھر ان میں پھونکتا تھا۔ پھر وہ اڑنے والے جانور بن جاتے تھے۔‘‘ اس آیت کا ترجمہ چکڑالوی صاحب کرتے ہیں:

’’واذ تخلق من الطین کہیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیراً باذنی‘‘اور تحقیق اصلاح ودرست کرتا تھا تو اچھی طرح عبادالرحمن کی فطرت وخلقت کو مثل درست کرنے چار مخصوص شکاری پرندوں (باز، باشہ، شاہین، چرخ) کے مطابق ارشاد میری کتاب کے یعنی تو ایمانی روح (کتاب اللہ ) کا علم پہنچاتا تھا رجوع کرنے والی فطرت میں۔ پس وہ فرماں بردار ہوجاتی تھی۔ کتاب اللہ کی مثل فرماں بردار ہونے ان چاروں مخصوص شکاری پرندوں کے اور تو یہ سب کچھ کرتا تھا مطابق ارشاد کتاب میری کے۔‘‘

(ترجمہ چکڑالوی پ۷ ص۱۶)

مرزائی دوستو! داد دو…۔

چکڑالویہ نکتہ نمبر۳: … قرآن مجید میں ارشاد ہے:

’’ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ تو اپنا عصا دے مار پس وہ فوراً ہی ان (جادو گروں) کے بنائے ہوئے سانپ نگل رہا تھا۔‘‘

اس آیت کا ترجمہ مع تفسیر چکڑالوی صاحب درج ذیل ہے: ’’واوحینا الٰی موسٰی ان الق عصاک فاذا ہی تلقف ما یأفکون‘‘ پھر ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کی

77

طرف یہ کہ اب تو بیان کر اپنی نذرات کا ہر ایک مسئلہ۔ پس ناگاہ وہ ہر ایک مسئلہ ملیا میٹ کر گیا ان کے سارے باطل بیان کو۔‘‘

(سورہ اعراف پ۹ ص۹)

مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو؟ کیا یہ نکتہ جدیدہ نہیں؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر۴:… قرآن شریف میں مذکور ہے: ’’جس وقت حضرت موسیٰ پہاڑ پر آئے ان کے ہاتھ میں عصا تھا۔ خدا نے پوچھا اے موسیٰ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے جواب عرض کیا یہ میرا عصا ہے۔ حکم ہوا اسے پھینک دے۔ وغیرہ۔‘‘

اس آیت کا ترجمہ اور نکتہ چکڑالوی مجدد لکھتے ہیں: ’’وما تلک بیمینک یٰموسی قال ہی عصای اتوکّؤا علیہا واہش بہا علٰی غنمی ولی فیہا ماٰرب اخرٰی قال القہایٰموسی فالقٰہا فاذا ہی حیّۃ تسعٰی قال خذ ہا ولا تخف سنعیدہا سیرتہا الاولٰی واضمم یدک الٰی جناحک تخرج بیضاء من غیر سوء اٰیۃً اخرٰی لنریک من اٰیٰتنا الکبرٰی‘‘

’’جب کہ یہ ضروری اصول دین کے بیان ہوچکے تو پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ کیسے نظر آئے ہیں یہ عالی شان احکام میرے تیری مبارک سمجھ میں اے موسیٰ! اس نے عرض کیا کہ یہ ہر ایک مسئلہ میری نذرات کا ہے میں خود بھی پورا پورا عمل درآمد رسالت رکھوں گا ان پر اور ضرور ہی شائع وجاری کروں گا۔ میں یہ کل مسائل اپنے تابعداروں میں بھی۔ کیوں کہ ضرور ہی مجھ کو ان کے سبب سے طرح طرح کے فوائد ودرجات جنت الفردوس مرزوق وموہوب ہوں گے۔ ارشاد ہوا کہ ہاں اب جا کر تو سنا پڑھا اے موسیٰ۔ پس موسیٰ نے ان مسئلوں کے سنانے پڑھانے کی نسبت اپنے دل میں سوچا سمجھا کہ میں کس طرح جا کر بیان کروں گا۔ پس ناگاہ اس کو اپنے دل میں موہوم ہوئے وہ مسائل بڑے سانپ کی مانند جو کہ دوڑتا ہوا آرہا تھا فرمایا علیم بذات الصدور نے کہ جا عمل درآمد کر ان کی اشاعت اجرا میں اور ہرگز مت ڈر کسی سے ضرور ہی پھر دیویں گے ہم ان کو تیری پہلی اطمینان والی حالت ہی میں۔ پھر جب بشارت کے احکام صادر ہوئے تو ارشاد ہوا کہ پہلے مسائل نذرات کے بعد ان مسائل بشارت کو بھی جا کر سنانا اور پڑھانا کیوں کہ تمام حاضرین مجلس کو یہ مسائل بشارت ظاہر باہر طور پر بہت ہی خوش اور روشن نظر آئیں گی ہرگز ان سے ان کو ذرہ بھر بھی غصہ وجوش نہیں آئے گا۔

78

کیوں کہ یہ بشارت کے مسائل اور ہی ڈھنگ کے ہیں۔ آئندہ بھی ہمیشہ ہم پڑھاتے سکھاتے رہیں گے تجھ کو احکام جو کہ بہت ہی عظیم الشان وجلیل القدر ہوں گے۔‘‘

(سورہ طٰہٰ پ ۱۶ ص۱۹)

قادیانی ممبرو! انصاف سے دیکھو تو یہی ایک نکتہ صدی کا مجدد بننے کو کافی ہے۔ مگر تم ایسے بخیل ہو کہ سوائے اپنے مجدد کے کسی دوسرے کو کب ماننے لگے۔ لیکن دنیا تو دیکھ رہی ہے کہ جن نکات کی وجہ سے تم مرزا قادیانی کو مجدد اور مسیح موعود وغیرہ مان رہے ہو اسی قسم کے نکات جب دوسراکوئی شخص بھی بتا سکتا ہے تو پھر وہ کیوں مجدد نہ ہو۔ کیا یہ سچ ہے:

  1. یختلف الرزقان والشی ء واحد

    الی ان یری احسان ہذا لذا ذنباً

چکڑالویہ نکتہ نمبر۵: … مولوی عبد اللہ چکڑالوی اہل قرآن چوں کہ حدیث نبوی کے حجت شرعی ہونے سے منکر تھے۔ لہٰذا ان پر اعتراض ہوا کہ نمازوں کی رکعتیں دو، تین، چار قرآن مجید سے دکھائو تو آپ نے مندرجہ ذیل آیات سے یہ سوال حل کیا۔ وہ آیات مع ترجمہ یوں ہیں:

’’الحمدللہ فاطرالسمٰوٰات والارض جاعل الملٰئکۃ رسلاً اولی اجنحۃ مثنٰی وثلٰث وربٰع یزید فی الخلق ما یشآء ان اللہ علٰی کل شیٔ قدیر‘‘ تمام نمازیں قرآنی خالص واسطے رضا مندی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کیوں کہ وہ ہمیشہ پاک فطرت پیدا کرتا رہتا ہے تمام آسمانوں والے فرشتوں اور کل روئے زمین والے جن وانس کی اور بھیجتا رہا ہے، اپنے فرشتوں جبرائیلوں کو تمہاری طرف اپنی رسالت کتاب اللہ دے کرخصوصاً وہی لاتے تمہاری صلواتوں یعنی رکعاتوں کو ہمیشہ دو دو بار پڑھا کرو ہر صبح، جمعہ اور عیدین کو اور تین تین پڑھا کرو ہر شام کے وقت اور چار چار بار پڑھا کرو ہر ظہر عصر عشاء کو اس لئے کہ جبر نقصان کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے سے تمہاری تبدیل شدہ فطرت کا جس قدر کہ ہر ایک نمازی خود ہی چاہے خشوع خضوع کے ساتھ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر ایک ارادے پر ہمیشہ ہر طرح قادر رہتا ہے۔‘‘

(پ۲۲ سورۂ فاطر ص۲۷)

مرزائی دوستو! اللہ غور سے دیکھوتو پھڑک جائو۔ تمہارا دل مان جائے کہ نکتہ تو یہ ہے، مجدد تو یہ ہے اور تم بے ساختہ چکڑالوی کے حق میں یہ شعر پڑھو:

79
  1. حسین ہو مہ جبین ہو دل نشین ہو

    لقب جن کے ہیں اتنے وہ تمہیں ہو

چکڑالویہ نکتہ نمبر۶: … قران مجید میں حضرت یونسؑ کا ذکر ہے کہ وہ اپنیقوم سے بھاگ کر بھری بیڑی میں جا بیٹھے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی۔ آخر ان کو دریا میں کودنا پڑا۔ دریا میں ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ ان آیات کا مشرح ترجمہ چکڑالوی صاحب فرماتے ہیں:’’اذ ابق الی الفلک المشحون فساہم فکان من المدحضین فالتقمہ الحوت وہو ملیم فلولآ انّہ کان من المسبحین للبث فی بطنہ الٰی یوم یبعثون‘‘

’’تحقیق وہ اپنی قوم سے ناراض ہوکر جا سوار ہوا ایک بہت ہی بھری ہوئی کشتی پر پس ملاحظہ ومعائنہ طبی کیا کسی سرکاری حکیم نے کشتی والوں کا تو بہت سے لوگ بسبب کسی مرض وقواعد حفظان صحت وغیرہ کے اس کشتی سے اتار دئیے گئے۔ پس انہیں میں آپ کو بھی اتار دیا گیا۔ پھر چڑھا لیا اس کو ایک ماہی گیر نے اپنے چھوٹے سے مچھوے میں درآں حال کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے والا تھا اپنی قوم سے ناراض ہوکر چلے آنے پر پس اگر اس وقت وہ نہ ہوتا خالص قرآنی توبہ کرنے والوں میں سے تو ضرور ہی وہ رہ جاتا دریا ہی میں جہاں سے وہ روز قیامت تک نہ نکلتا۔‘‘

(سورۂ صافات پارہ ۲۳ ص۱۹)

کیا اچھا نکتہ ہے اور کیا اچھا ترجمہ ہے جو کسی عربی یا فارسی قاعدہ کا محتاج نہیں۔ … مرزائیو! کیا کہتے ہو؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر۷: … قرآن مجید میں ایمان داروں کو ارشاد ہے کہ اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھنا یعنی اللہ ورسول جب تک دین میں کوئی کام نہ بتا دیں۔ تم اسے دین کا کام نہ سمجھنا۔ مولوی چکڑالوی چوں کہ اتباع کے موقع پر رسول کے معنی قرآن کے کرتے ہیں اس لئے ان آیات کا ترجمہ بہت ہی عجیب کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’یٰآیہا الذین اٰمنوا لا تقدّموا بین یدی اللہ ورسولہ واتقوا اللہ انّ اللہ سمیع علیہم۔ اے قرآنی مومنو! ہرگز کبھی بھی پیش نہ کرو کسی غیر اللہ کی تقریر وتحریر کو اللہ تعالیٰ کے سامنے یعنی اس کے بھیجے ہوئے قرآن مجید کے آگے ضرور ہی ہمیشہ بچتے رہو، اس مخالفت کتاب اللہ سے۔ کیوں کہ تحقیق اللہ تمہاری تمام ظاہری ومخفی باتیں یکساں سننے والا اور تمہارے دلی خیالات کو بھی بہت ہی اچھی طرح جاننے والا ہے۔‘‘

(پ۲۶ سورۂ حجرات ص۲۶)

80

چکڑالویہ نکتہ نمبر۸: … قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ قیامت کی فنا کے وقت ملائکہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اور عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ اس آیت کا ترجمہ فرماتے ہیں: ’’والملک علٰی ارجآئہا ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمانیۃً‘‘

(پ۲۹ سورۃ الحاقہ ص۱۰)

اور آسمان کے پھٹ جانے کے وقت تمام فرشتے دوڑ جائیں گے اس کے کناروں کی طرف۔ پھر وہ سب کے سب فوراً فنا ہوجائیں گے اور کتاب اللہ پر پورا پورا عمل درآمد کرنے والے سب کے سب عباد الرحمن اس روز بلحاظ درجہ ومرتبہ آٹھ گروہ ہوں گے۔

چکڑالویہ نکتہ نمبر۹: … مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ نبوت محمدیہa سے پہلے فارس کی فوج ہاتھیوں پر سوار ہوکر کعبہ شریف کو گرانے آئی تھی خدا نے ان پر ابابیل بھیج کر ان کو تباہ کردیا۔ ان کو اصحاب الفیل کہا جاتا ہے۔ ان آیات کا چکڑالوی ترجمہ ملاحظہ ہو:

’’الم ترکیف فعل ربّک اصحاب الفیل الم یجعل کیدہم فی تضلیل وارسل علیہم طیراً ابابیل ترمیہم بحجارۃ من سجیل فجعلہم کعصف مأکول‘‘

(سورۃ الفیل پ ۳۰ص۴۴)

’’اے ہر ایک صاحب قرآن کیا نہیں دیکھتا رہتا تو ہمیشہ یہ کہ کس طرح ذلیل وحقیر کرتا رہتا ہے پروردگار تیرا کتاب اللہ کے بے خبر ونادان لوگوں کو جو کہ خود ہی اپنے تعصب مذہبی وہٹ دھرمی کے باعث بالکل سست عقل وضعیف الرائے خود ہی ہوجاتے ہیں اور کیا نہیں کر ڈالتا اللہ تعالیٰ ان کی بداندیشی وبدخواہی کو جو کہ قرآنی مؤمنوں کے حق میں کرتے رہتے ہیں، سراسر خسارہ دارین کا باعث۔ یعنی غلبہ دیتا ہے ان پر ضعیف وعاجز قرآنی مؤمنوں کو باوجود یکہ وہ ان کی نسبت مچھروں ومکھیوں کی طرح اور بالکل پریشان حال پراگندہ روزی پراگندہ دل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ آخرکار وہی عاجز مومن بھگادیتے ہیں۔ ان بڑے جاہ وجلال اور شان وشوکت والے کفار ومشرکین کو محض چھوٹے چھوٹے ذریعوں وسامانوں ہی سے جو کہ معمولی بیکار کنکروں کی طرح ہی ہوا کرتے ہیں۔ پس کر ڈالتا ہے ان بے فرمانوں کو اللہ تعالیٰ مویشیوں کے اس چارہ کی طرح جو کہ بسبب گندہ ہونے کے ان کے کھانے سے پیچھے بالکل بیکار ہی رہ جائے۔‘‘

81

مرزائی دوستو! اب تو مان جائو کہ مولوی چکڑالوی واقعی نکتہ آفرینی کی وجہ سے مجدد تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مرزا قادیانی کو نہ مانو۔ مگر جس وصف سے تم مرزا قادیانی کو مجدد اور مسیح موعود مانتے ہو اسی وصف میں اگر کوئی اور بھی شریک ہو تو اس لقب میں شریک کرنے سے تمہیں کون امر مانع ہے؟ پس اگر مرزا قادیانی مسیح موعود اور مجدد ہیں تو مولوی چکڑالوی کیوں نہیں؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر۱۰: … قرآن مجید کی سورۂ کوثر مشہور ہے۔ جس کا ترجمہ بھی مشہور ہے کہ خدا نے آنحضرتﷺ کو کوثر دیا اور حکم فرمایا کہ نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ مجدد چکڑالوی جو اس کا مطلب بتاتے ہیں وہ قابل شنید نہیں بلکہ لائق دید ہے۔ چنانچہ وہ یہ ہے:

’’انّا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر انّ شانئک ہوالابتر‘‘ اے ہر ایک صاحب قرآن تحقیق عطا فرمایا ہے ہم نے تجھ کو یہ کامل صفات، جامع کمالات، قرآن مجید۔ جس میں سعادت دارین ہے۔ پس تو ہمیشہ ہر ایک خالص قرآنی نماز ہی پڑھا کر خاص کر اپنے پروردگار ہی کی رضا مندی کے لئے خصوصاً اپنے وجود کے اونٹ (کان) کو ذبح (ذلیل وحقیر یعنی پکڑا) کر ہر تکبیر کے وقت کیوں کہ تحقیق ہر ایک مخالف تیرا تو اس قرآنی نماز سے خود بخود بالکل محروم وبے نصیب ہی رہتا ہے۔‘‘

(کوثر پ۳۰ ص۴۵)

ناظرین کرام! ہم نے آپ کا بہت سا وقت بے فائدہ کام میں لیا۔ کیوں کہ بلحاظ عقیدہ نہ تو آپ نکات مرزا کے قائل ہوں گے نہ معارف چکڑالویہ کے معتقد۔ بلکہ درحقیقت اصل مطلب ہمارے لکھنے اور آپ کے پڑھنے کا صرف اتنا ہے کہ ایسے جدیدمدعیوں کی وہ دلیل دیکھیں جن پر ان کے دعویٰ کی بنیاد ہے۔ یعنی قرآن مجید سے معارف نمائی۔ سو ہم نے دکھایا اور آپ نے دیکھا۔ الحمدللہ ان سب کو کھوٹا پایا۔

مرزا کے مریدو! نکات مرزائیہ کے ساتھ ساتھ نکات چکڑالویہ بھی پڑھو اور ہمارے مندرجہ ذیل شعر کی تصدیق بھی کرو:

  1. آج دعویٰ ان کی یکتائی کا باطل ہوگیا

    رو برو ان کے جو آئینہ مقابل ہوگیا

خادم دین اللہ

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری مصنف تفسیر ثنائی وغیرہ

ماہ رجب المرجب ۱۳۴۵ھ

82

ہندوستان

کے دوریفارمر

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

83

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

ہرچہ گیرد علّتی علّت شود

کفر گیرد کا ملے ملّت شود

(یعنی پیریا گرو جو کام کریں۔ چیلے اور مرید بھی اسے کرتے ہیں)

اس مختصر سے ٹریکٹ (رسالہ) کے شائع کرنے سے ہماری دو غرضیں ہیں۔

۱… آج کل جو آریہ سماجوں کی تیز کلامی کا چرچہ عام ہے جس کے سلسلہ کی آخری دو کڑیاں کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ اور رسالہ ’’ورتمان‘‘ ہے۔ ہمارے اس ٹریکٹ سے معلوم ہوگاکہ آریہ سماجوں کی یہ سخت کلامی دراصل فارسی شعر مندرجہ بالا کے ماتحت ہے۔ یعنی جو کام ان کے گرو سوامی دیانند کر گئے ہیں۔ وہی کام یہ لوگ کرتے ہیں۔

۲… کہ تیز کلامی کرنے والے لوگوں کو تنبیہ کریں کہ یہ طریق پسندیدہ نہیں۔ ایران کا حکیم شاعر استاد صائب کہتا ہے:

دہن خویش بدشنام میا لاصائب

کایں زر قلب بہرکس کہ رہے باز دہد

{اپنے منہ کو بدکلامی سے گندہ نہ کر۔ کیوں کہ یہ کھوٹا پیسہ تو جس کو دے گا وہ تجھے واپس دے گا۔}

خادم دین اللہ

ابوالوفاء ثناء اللہ ، کفاہ اللہ ، امرتسر

ماہ صفر ۱۳۴۶ھ ، اگست ۱۹۲۷ء

84

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تمہید

قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے:’’قل لعبادی یقولوا الّتی ہی احسن انّ الشیطان ینزغ بینہم انّ الشیطان کان للانسان عدواً مبیناً (بنی اسرائیل:۵۳)‘‘

یعنی اے رسول(ﷺ) میرے بندوں کو کہہ دے کہ بات بہت ہی اچھی کہا کریں۔ سخت کلامی سے شیطان ان میں عداوت ڈلوائے گا۔ بیشک شیطان انسان کا صریح دشمن ہے۔

اخلاقی صورت میں ہر ایک حکیم اور مصلح یہی تعلیم دیتا ہے۔ ہماری کتاب کے دو ہیروئو میں سے سوامی دیانند کا قول ہے:

’’ہر جگہ اور ہر وقت انسان کو مناسب ہے کہ وہ شیریں کلامی کو کام میں لاوے۔ کسی اندھے کو ’’اے اندھے‘‘ کہہ کر پکارنا سچ تو ضرور ہے۔ لیکن سخت کلامی کے باعث ادہرم (بے دینی کا کام) ہے۔‘‘

(اپدیش منجری ص۲۰)

یہ تو ہے سوامی دیانند جی کا قول، مگر فعل کیا ہے۔ اس کا ثبوت دو طرح سے ہے۔ (۱)اجمالی، (۲) تفصیلی۔ اجمالی بیان سوامی جی کی سوانح عمری کلاں کے دیباچہ میں لالہ منشی رام جی (بعد سوامی شروہانند جی) نے خود لکھا ہے۔ جس کے اصلی الفاظ یہ ہیں:

’’ایک روز اثناء ویاکھیان (تقریر) میں شری سوامی جی مہاراج پورانوں کی اسمبہو (ناممکن) باتوں کا کھنڈن (رد) کرتے کرتے ان کے اخلاقی تعلیم کا کھنڈن کرنے لگے۔ اس وقت پادری سکاٹ، مسٹر ریڈ کلکٹر (ضلع بریلی) اور مسٹر ایڈورڈس صاحب کمشنر قسمت معہ پندرہ بیس صاحبان انگریز کے رو افراز تھے۔ سوامی جی نے پورانکوں کی پنچ کنواریوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک ایک کے وصف بیان کرنا شروع کئے اور پورانکوں (ہندوئوں) کی عقل پر افسوس کیا کہ دروپدی کو پانچ خصم کراکے اسے کماری قرار دینا اور اسی طرح کی کنتی۔ تارا مندودری وغیرہ کو کمارہ کہنا پورانکوں کی اخلاقی تعلیم کو ناقص ثابت کرنا ہے۔ سوامی جی کا طرز بیان ایسا پرمذاق تھا کہ سامعین تھکنے کا نام نہیں جانتے تھے۔

اس پر صاحب کلکٹر اور صاحب کمشنر وغیرہ انگریز ہنستے اور اظہار خوشی کرتے

85

رہے۔ لیکن اس مضمون کو ختم کرکے سوامی جی مہاراج بولے ’’پورانیوں (ہندئوں) کی تو یہ لیلا (حالت) ہے۔ اب کرانیوں کی لیلا سنو۔ یہ ایسے بھرشت (ناپاک) ہیں کہ کماری (کنواری) کے بیٹا پیدا ہونا بتلاتے اور پھر دوش (گناہ) سروگیہ شدہ سوروپ پرماتما (بے عیب خدا) پر لگاتے اور ایسا گھور باپ کرتے ہوئے تنک بھی لچت (ذرہ بھی شرمندہ) نہیں ہوتے۔ اتنا کہنا ہی تھا کہ صاحب کلکٹر اور صاحب کمشنر کے چہرے مارے غصے کے سرخ ہوگئے۔ لیکن سواجی جی کا دکھیان اسی زور شور سے جاری رہا۔ اس روز عیسائی مت کاویاکھیان کے خاتمہ تک کھنڈن کرتے رہے۔

دوسرے روز صبح کو ہی خزانچی لکھشمی نارائن کی صاحب کمشنر بہادر کی کوٹھی پر طلبی ہوئی۔ صاحب بہادر نے فرمایا کہ اپنے پنڈت صاحب کو کہہ دو کہ بہت سختی سے کام نہ لیا کریں۔ ہم عیسائی لوگ تو مہذب ہیں۔ ہم تو بحث مباحثہ میں سختی سے نہیں گھبراتے لیکن اگر جاہل ہندو اور مسلمان برا فروختہ ہوئے تو تمہارے پنڈت سوامی کے ویاکھیان بند ہوجائیں گے۔ خزانچی صاحب یہ پیغام سوامی جی کے پاس پہنچانے کا وعدہ کرکے واپس چلے آئے۔ لیکن سوامی جی تک یہ مضمون پہنچانے والا بہادر کہاں سے ملتا۔ کئی ایک ڈیہوڑی برداروں سے خزانچی جی نے استدعا کی لیکن کوئی بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ آخر کار چٹھی ایک ناستک(دھریہ) پر پڑی اور اس کا ذمہ ٹھہرایا گیا کہ وہ معاملہ پیش کر دیوے۔ خزانچی صاحب معہ اس ناستک اور چند ایک دیگر آدمیوں کے اندر کمرے کے پہنچے۔ جس پر ناستک نے صرف یہ کہہ کر (کہ خزانچی صاحب کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں صاحب کمشنر نے بلایا تھا) کنارہ کیا اور کل مصیبت گویا خزانچی صاحب کے سر پر ٹوٹ پڑی۔ اب خزانچی صاحب کہیں سر کھجلاتے ہیں، کہیں گلا صاف کرتے ہیں۔ آخر کار پانچ منٹ تک حیرت سے دیکھتے ہوئے سوامی جی نے فرمایا۔ بھئی تمہارا تو کوئی کام کرنے کا سمہ ہی نہیں ہے’’ اس لئے تم سمہ کی قیمت نہیں سمجھ سکتے۔ میرا سمہ امولیہ ہے۔ جو کچھ کہنا ہو کہہ دو۔‘‘ اس پر خزانچی صاحب بولے: ’’مہاراج! اگرسختی نہ کی جائے تو کیا حرج ہے۔ اس سے اثر بھی اچھا پڑتا ہے اور انگریزوں کو ناراض کرنا بھی اچھا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔‘‘ یہ باتیں اٹک اٹک کر بڑی مشکل سے خزانچی صاحب کے منہ سے نکلیں، اس پر مہاراج ہنسے اور فرمایا: ’’ارے! بات کیا تھی۔ جس کے لئے

86

گڑگڑاتا ہے اور ہمارا اتنا سمہ خراب کیا۔ صاحب نے کہا ہوگا کہ تمہارا پنڈت سخت بولتا ہے۔ ویاکھیان بند ہوجائیں گے۔یہ ہوگا۔ وہ ہوگا۔ ارے بھائی! میں ہوّا تو نہیں کہ تجھے کھالوں گا۔ اس نے تجھ سے کہا تو مجھ سے سیدھا کہہ دیتا۔ ویئرتھ اتنا سمہ (بے فائدہ اتنا وقت) کیوں گنوایا۔

(دیباچہ ص۶،۷)

اس اجمال ہی سے سوامی جی کا سبہائو اور طرز کلام معلوم ہوسکتا ہے۔ تاہم تفصیل کے لئے ناظرین حوالہ جات مندرجہ ذیل ملاحظہ فرمائیں۔

سوامی جی کی مخاطب چار قومیں تھیں۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور مسلمان۔ چینی بودھ وغیرہ ہندوئوں میں داخل ہیں۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے ثابت ہوگا کہ سوامی جی نے تیر کلام چلانے میں کسی قوم کا لحاظ نہیں کیا۔ بلکہ ہر ایک کو مساوی حق بخشا جس پر یہ کہنا بجا ہے:

  1. ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

    تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

ہندوئوں کے متعلق سوامی جی کی تیز کلامی

۱… ’’راجہ بھوج کے ڈیڑھ برس بعد ویشنومت کا آغاز ہوا۔ ایک سیٹھ کوپ نامی کنجرواں قوم میں پیدا ہوا تھا۔ اس سے یہ تھوڑا سا پھیلا۔ اس کے پیچھے منی داہن بھنگی خاندان میں پیدا شدہ۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش، باب ۱۱ فقرہ ۳۳)

۲… (ہندوئوں کے مہادیو بزرگ کی بابت) ’’واہ رے ماں سے شادی نہ کی اور ہمشیرہ سے کرلی۔ کیا اس کو جائز سمجھا جائے۔ پھر اندر وغیرہ کو پیدا کیا۔ برہما۔ وشنو۔ رودھ اور اندران کو پالکی کے اٹھانے والے کہار بنایا۔ اس قسم کے گپوڑے لمبے چوڑے طبع زاد لکھے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش ، باب ۱۱فقرہ ۳۳)

نوٹ: چوں کہ ستیارتھ پرکاش کئی مرتبہ چھپی ہے۔ اس کے صفحات باہمی مختلف ہیں۔ کسی ناظر کے پاس کوئی طبع ہوگی، کسی کے پاس کوئی۔ ہم نے ان کی آسانی کے لئے یہی مناسب سمجھا کہ ستیارتھ پرکاش کے باب اور فقرے کا نمبر بتایا جائے۔ (مصنف)

۳… ’’جیسے کوئی کسی کو چھلے۔ چڑاوے تو گھنٹہ لے اور انگوٹھا دکھاوے۔ اس کے آگے سے سب چیزیں لے کر آپ بھوگے۔ ویسے ہی لیلا (حالت) ان پجاریوں یعنی پوجا معنی نیک اعمال کے دشمنوں کی ہے۔ یہ لوگ چٹک مٹک جھلک بتوں کو بناٹھنا آپ ٹھگوں کی مانند

87

بیچارے بیوقوف غریبوں کا مال اڑا کر موج کرتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ۵۲)

۴… (بت خانوں کے متعلق) ’’پنڈے پوجاری اندر کھڑے رہتے ہیں۔ جب ایک طرف شمالے نے پردے کو کھینچا جھٹ بت آڑ میں آجاتا ہے۔ تب سب پنڈے اور پوجاری پکارتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۵۲)

’’تم بھینٹ کرو۔ تمہارے گناہ چھوٹ جائیں گے۔ اب زیارت ہوگی۔ جلدی کرو۔ وے بیچارے سادہ لوح آدمی دغا بازوں کے ہاتھ لٹ جاتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب۱۱ فقرہ ۵۸)

۵… (ہردوار کے ذکر میں) ’’پہاڑ کے اوپر سے پانی گرتا ہے۔ گئو کے منہ کی شکل ٹکہ لینے والوں نے بنائی ہوگی اور وہی پہاڑ پوپ کا بہشت ہے۔ وہاں اترکاشنی وغیرہ مقامات عابدوں کے لئے اچھی ہیں۔ لیکن وہ دوکانداروں کے لئے وہاں بھی دوکانداری ہے۔ دیوپریاگ پر ان کے گپوڑوں کی لیلا ہے۔ ایسی گپیں نہ ہانکیں تو وہاں کون جائے۔ وہاں مہنت پوجاری اور پنڈے آنکھ کے اندھے گانٹھ کے پوروں سے مال اڑا کر عیش وعشرت کرتے ہیں ویسے ہی بدری نارائن میں ٹھگ ودیا والے بہت سے بیٹھے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ۶۶)

۶… (بھاگوت کے ذکر میں) ’’واہ رے بھاگوت بنانے والے لال بھجکڑ کیا کہنا۔ تجھ کو ایسی جھوٹی باتیں لکھنے میں ذرا بھی حیا اور شرم نہ آئی۔ محض اندھا ہی بن گیا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ ص۷۴)

۷… (پنڈتوں کو مخاطب کرکے) ’’اس تمہارے سورگ سے یہی جہاں اچھا ہے۔ جس میں دھرم شالا ہیں لوگ دان دیتے ہیں۔ عزیز دوست اور ذات میں خوب دعوتیں ہوتی ہیں۔ اچھے اچھے کپڑے ملتے ہیں۔ تمہارے کہنے کے مطابق سورگ میں کچھ نہیں ملتا۔ ایسے بے رحم، کنجوس، کنگال سورگ میں پوپ (ہندو…) جی خراب ہوں۔ وہاں بھلے لوگوں کا کیا کام ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۸۱)

۸… (ہندوئوں کی مقدس کتب پرانوں کی بابت) ’’ایک دوسرے سے مخالفت کرانے والی یہ کتابیں ہیں۔ جن کا ماننا کسی عالم کا کام نہیں۔ بلکہ ان کو ماننا جہالت ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۸۷)

88

۹… (ہندو سادھوئوں کے ذکر میں) ’’یہ سب اوصاف غیر مہذب بے عقل گروگنڈوں (گپیوں) کے ہیں۔ سادھوئوں کے نہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۹۰)

۱۰… (ہندو پنڈتوں کے متعلق) ’’ان لوگوں نے اپنے پیٹ بھرنے اور دوسروں کی بھی عمر برباد کرنے کے لئے ایک پاکھنڈ کھڑا کیا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۱۰۰)

۱۱… ’’وید کے جاننے والے ایشور پر یقین رکھنے اور اس کو جاننے والے گورو کے پاس جاوے۔ ان پاکھنڈیوں (پنڈتوں) کے دام میں نہ پھنسے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۱۰۶)

۱۲… (ویشنو نانک پنتھ کبیر پنتھ وغیرہ مت کے متعلق) ’’یہ سب مذہب بے علمی سے پیدا ہوئے اور خلاف ہیں۔ جاہل کمینے اور وحشی لوگوں کو بہکا کر اپنے جال میں پھنسا کر اپنی مطلب براری کرتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۱۰۶)

۱۳… (ہندو پنڈتوں کے ذکر میں) ’’پوپ جی کے زبانی گپوڑوں میں ایودھیا بہشت کواڑ گئی۔ یہ گپوڑہ لفظوں کی صورت میں اڑتا پھرتا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱ فقرہ ۶۷)

جینیوں کے متعلق

۱۴… ’’جینیوں کے سوائے اور کون ہوں گے جو ان کے برابر متعصب۔ ہٹ دھرمی۔ ضدی اور علم سے بے بہرہ ہوں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۹۵)

۱۵… ’’جین مذہب سب کے ساتھ دشمنی کرنے، مخالفت رکھنے، مذمت کرنے، حسد وغیرہ رکھنے کے لئے برے کاموں کے سمندر میں ڈبانے والا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۹۶)

۱۶… ’’جینیوں کی مانند سنگدل۔ گمراہ۔ کمینہ اور مذمت کرنے والا اور بھولا ہوا کوئی بھی دوسرے مذہب والا نہ ہوگا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۹۸)

۱۷… ’’جس طرح جین مذہب غیروں کے کینہ رکھنے والا ہے۔ ایسا اور کوئی نہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۰۱)

۱۸… ’’الغرض یہ لوگ اپنے مذہب کی کتابوں مقولوں اور سادھوئوں وغیرہ کی ایسی بڑایا مارتے ہیں کہ گویا یہ جینی لوگ بھاٹوں کے بڑے بھائی ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۰۷)

۱۹… ’’اگر کوئی شخص حاسد اور کینہ ور بھی ہو۔ تاہم جینیوں سے بڑھ کر وہ بھی نہ ہوگا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۰۸)

89

۲۰… ’’اگر جینی لوگ طفلانہ عقل والے نہ ہوتے تو ایسی باتیں کیوں مان بیٹھے۔ جس طرح بازاری عورت اپنے سوائے اور کسی کی تعریف نہیں کرتی۔ اس طرح یہ بات بھی دکھائی دیتی ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۰۹)

۲۱… ’’یہ بات جینوں کی ہٹھ۔ تعصب اور بے علمی کا نتیجہ نہیں ہے تو کیا ہے؟‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۱۰)

۲۲… (جینیوں کو مخاطب کرکے) ’’واہ جی واہ! علم کے دشمنوں! تم نے یہی سمجھا ہوگا کہ ہماری جھوٹی باتوں کی کوئی تردید نہیں کرے گا۔ اسی لئے یہ خوف دلانے والے الفاظ لکھے ہیں۔ مگر یہ ناممکن ہے۔ اب تم کو کہاں تک سمجھاویں۔ تم تو جھوٹی مذمت اور دوسرے مذاہب سے مخالفت اور دشمنی کرنے پر ہی کمربستہ ہوکر اپنی مطلب برآری کرنے میں حلوا کھانے کی برابر (لذت) سمجھتے ہو۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۱۴)

۲۳… (جینیوں کے ذکر میں) ’’بھلا جاہلوں کو اپنے مذہب کے پھندے میں پھنسانے کی اس سے بڑھ کر دوسری کون سی بات ہوگی۔ ایسا بھونڈو (بے سمجھ) مذہب کون ہوگا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۱۵)

۲۴… ’’مورتی پوجا کا جتنا جھگڑا چلا ہے۔ وہ سب جینیوں کے گھر سے نکلا ہے اور پاکھنڈوں کی جڑ یہی چین مذہب ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۲ فقرہ ۱۹۹)

سکھوں کے متعلق سوامی جی کی تیز کلامی

۲۵… ’’نانک جی کا مدعا تو اچھا تھا۔ لیکن علمیت کچھ بھی نہیں تھی۔ ہاں زبان اس ملک کی جو کہ گائوں کی ہے۔ اس کو جانتے تھے۔ وید آدی شاستر اور سنسکرت کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ اگر جانتے ہوتے تو ’’نربھے کو نربھو‘‘ کیوں لکھتے اور اس کی مثال ان کا بنایا سنسکرتی ستوتر ہے۔ چاہتے تھے کہ میں سنسکرت میں بھی قدم رکھوں۔ لیکن بغیر پڑھے سنسکرت کیوں کر کیسے آسکتی ہے۔ عام گنواروں کے سامنے جنہوں نے سنسکرت کبھی سنی بھی نہیں تھی۔ سنسکرتی بنا کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئے۔ یہ بات اپنی بڑائی عزت اوراپنی شہرت کی خواہش کے بغیر کبھی نہ کرتے۔ ان کو اپنی شہرت کی خواہش ضرور تھی۔ نہیں تو جیسی زبان جانتے تھے کہتے رہتے اور یہ بھی کہہ دیتے کہ میں سنسکرت نہیں پڑھا۔ جب کچھ خود پسندی تھی تو عزت اور شہرت کے

90

لئے کچھ دمبھ بھی کیا ہوگا۔ اسی لئے ان کے گرنتھ میں جابجا ویدوں کی مذمت اور تعریف بھی ہے۔ کیوں کہ اگر ایسا نہ کرتے تو ان سے بھی کوئی وید کامعنی پوچھتا۔ جب نہ آتے تب عزت میں فرق آتا۔ اس لئے پہلے ہی اپنے چیلوں کے سامنے کہیں کہیں ویدوں کے خلاف کہتے تھے اور کہیں کہیں وید کے بارے میں اچھا بھی کہا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱فقرہ ۹۸)

۲۶… ’’سکھ بت پرستی تو نہیں کرتے۔ لیکن اس سے بڑھ کر گرنتھ (کتاب) کی پرستش کرتے ہیں۔ کیا یہ بت پرستی نہیںہے؟ کسی بے جان چیز کے سامنے سر جھکانا یا اس کی پرستش کرنی تمام بت پرستی ہے۔ جیسے پوجاری لوگ بت کا درشن کراتے اور نذریں لیتے۔ ویسے نانک پنتھی لوگ گرنتھ (کتاب) کی پرستش کراتے کراتے بھینٹ بھی لیتے ہیں۔ لیکن بت پرستی والے جتنی وید کی عزت کرتے ہیں اتنی یہ لوگ گرنتھ صاحب والے نہیں کرتے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۱فقرہ ۹۸)

عیسائیوں کے متعلق سوامی جی کی تیز کلامی

۲۷… ’’خدا جھوٹا اور بہکانے والا ٹھہرا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۷)

۲۸… ’’اگر ایسی باتوں کے کرنے والا انسان فریبی اور مکار ہوتا ہے تو خدا ویسا کیوں نہیں ہوا؟ کیوں کہ اگر کوئی دوسرے سے مکاری کرے گا تو وہ فریبی مکار کیوں نہ ہوگا؟ اور جن تینوں کو لعنت دی۔ وہ بلا قصور تھے تو پھر وہ خدا غیر منصف نہ ہوا؟ اور یہ لعنت خدا پر ہونی چاہئے تھی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۷)

۲۹… ’’انجیلی حاسد خدا نے سب کی زبان خلط ملط کرکے ستیاناس کردیا۔ اس نے یہ بڑا گناہ کیا۔ کیا یہ شیطان کے کام سے بھی برا کام نہیں ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۱۷)

۳۰… ’’تعجب ہے کہ کس جھوٹ اور مکروفریب کی برکت سے اولیا اور پیغمبر بن جاتے ہیں۔ جب ایسے عیسائیوں کے ہادیٔ دین ہوں۔ ان کے مذہب میں کیوں نہ گڑ بڑ مچے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳ فقرہ ۳۰)

۳۱… ’’خوب آدھی رات کو ڈاکو کی مانند بے رحم ہو کر انجیلی خدا نے لڑکے بالے، بوڑھے اور چوپایوں تک کو بلا قصور مار ڈالا اور اسے ذرا بھی ترس نہ آیا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۳۹)

۳۲… ’’خدا کا بیلوں کی قربانی لینا اور قربان گاہ پر لہو چھڑکنا یہ کیسی وحشیانہ اور ناشائستہ بات ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ۴۵ )

91

۳۳… ’’دھن ہو موسیٰ پیغمبر دھن ہے تمہارا خدا۔ جو کہ عورت بچے بوڑھے اور جانور وغیرہ کی جان لینے سے بھی باز نہیں رہتا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موسیٰ زنا کار (معاذ اللہ ) تھا۔ کیوں کہ اگر زنا کار نہ ہوتا تو باکرہ یعنی کنواری لڑکیوں کو اپنے لئے کیوں منگواتا اور ایسی بے رحمی اور زناکاری کا حکم کیوں دیتا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۵۴)

۳۴… (یسوع مسیح کی پیدائش کے متعلق) ’’ان باتوں کو کوئی عالم نہیں مان سکتا۔ ان باتوں کا ماننا بے علم، غیر مہذب آدمیوں کا کام ہے۔ شائستہ اور عالموں کا نہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ۶۰)

۳۵… ’’اگر یسوع اب آپ خود علم سے محروم اور بچوں کی سی عقل والا نہ ہوتا تو اوروں کو لڑکوں کی مانند بننے کی تعلیم کیوں دیتا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۷۵)

۳۶… ’’اس بات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ غصہ ور تھا اور اسے موسموں کا علم نہ تھا اور اس کی بے علم آدمیوں کی سی خصلت تھی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۷۸)

۳۷… ’’واہ عیسیٰ صاحب آپ نے کس علم سے بتایا کہ ستارے گر پڑیں گے اور آسمان کی کون سی فوج ہے جو گرجائے گی؟ اگر عیسیٰ تھوڑا بھی علم پڑھا ہوتا تو ضرور جان لیتا کہ یہ ستارے سب دنیا ہیں اور وہ کیوں کر گر سکتے ہیں۔ چوں کہ عیسیٰ بڑھئی کے گھر کا پیدا ہوا تھاہمیشہ لکڑی چیرنے چھیلنے کاٹنے اور جوڑنے کا کام کرتا رہا ہوگا۔ اسے اس جنگلی ملک میں جب پیغمبر بننے کا شوق پیدا ہوا۔ تب ایسی باتیں بنانے لگا۔ کتنی باتیں اس کے منہ سے اچھی بھی نکلیں لیکن بہت سی بری بھی ہیں۔ وہاں کے لوگ جنگلی تھے۔ اس کی باتوں یقین کر بیٹھے۔ جیسا آج کل یورپ ترقی کررہا ہے۔ اگر ایسا ہی وقت ہوتا تو اس کے معجزے کوئی بھی نہ مانتا۔ باوجود کسی قدر علم ہونے کے عیسائی لوگ اب بھی ہٹ دھرمی اور پیچیدگی کی معاملات کی وجہ سے اس ردی مذہب سے کنارہ کش ہو کر مکمل سچائی سے بھرے ہوئے وید مارگ کی طرف رجوع نہیں ہوتے۔ یہی ان میں نقص ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳فقرہ ۷۹)

’’بھلا ایسی بات بجز بے علم اور سادہ لوح کے کوئی بھی شائستہ آدمی کر سکتا ہے؟ عیسیٰ کی اس بات کو آج کل کے عیسائی خداوند کا کھانا کہتے ہیں۔ یہ بات کیسی بری ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳ فقرہ ۸۳)

92

۳۹… ’’واہ رے عیسائیوں کے پیشین گو خدا۔ خدا کے فرشتے۔ نرسنگے کی آواز قیامت کی لیلا محض لڑکوں کا کھیل معلوم ہوتا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳ فقرہ ۱۰۷)

۴۰… (عیسائیوں کے بہشت کے متعلق) ’’یہ گپواڑ پرانوں کے گپوڑوں کا بھی باپ ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۳ فقرہ ۱۲۷)

مسلمانوں کے متعلق ستیارتھ پرکاش

۴۱… (قرآن کی تعلیم) ’’کیا یہ شیطانی سے بڑھ کر شیطنت کا کام نہیں ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ۶)

۴۲… ’’خدائے تعالیٰ نے یہ تعلیم (قرآن) شیطان سے سیکھی ہوں گی۔ دیکھئے خدا کی کم علمی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ۱۱،۱۲)

۴۳… ’’جیسے خود غرض لوگ آج کل بھی جاہلوں (بے علموں) کے درمیان عالم بن جاتے ہیں۔ ویسے ہی اس زمانہ میں بھی (پیغمبر اسلام نے) فریب کیا ہوگا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ۱۴)

۴۴… ’’معجزے کی باتیں سب فضول ہیں اور سادہ لوح آدمیوں کے واسطے گھڑی گئی ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۹)

۴۵… ’’بھلا خدا کی راہ میں مرنے مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کیوں نہیں کہتے ہو کہ بات اپنا مطلب پورا کرنے کے لئے ہے۔ (یعنی) یہ لالچ دیں گے تو خوب لڑیں گے، لوٹ مار کرنے سے عیش وعشرت حاصل ہوگی۔ بعدازاں گلچھڑے اڑائیں گے۔ (پیغمبر اسلام نے) اپنی مطلب برآری کے لئے اس قسم کی باتیں گھڑی ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۳۱)

۴۶… (لڑائی کے ذکر میں) ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قرآن نہ تو خدا کا بنایا اور نہ کسی دیندار عالم کا بنایا ہوا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۴۰)

۴۷… ’’دیکھئے یہ لاعلمی کی بات ہے۔ آفتاب نہ مشرق سے مغرب اور نہ مغرب سے مشرق کبھی آتا جاتا ہے۔ اس سے تحقیق جانا جاتا ہے کہ قرآن کے مصنف کو علم ہیئت اور جغرافیہ بھی نہیں آتا تھا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۴۲)

۴۸… ’’واہ واہ جی دیکھو جی مسلمانوں کا خدا شعبدہ بازوں کی طرح کھیل کررہا ہے۔ عقل

93

مند لوگ ایسے خدا کو خیر باد کہہ کر کنارہ کشی کریں گے اور جاہل لوگ پھنسیں گے۔ اس سے بھلائی کے عوض برائی اس کے پلے پڑ گی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۴۳)

۴۹… (بہشت کے ذکر میں) ’’بھلا یہ بہشت ہے۔ یا طوائف خانہ۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۴۶)

۵۰… ’’دیکھئے محمد صاحب کی لیلا (کرتوت) کہ اگر تم میری طرف ہوگے تو خدا تمہاری طرف ہوگا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد صاحب کی نیت صاف نہیں تھی اور یہ ثابت ہوتا ہے۔ محمد صاحب نے اپنی مطلب براری کے لئے قرآن بنایا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۴۸)

۵۱… (فرشتوں کے نزول کے ذکر میں) ’’یہ صرف جاہلوں کو لالچ دے کر پھنسانے کا ڈھکوسلا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۵۱)

۵۲… ’’خدا بھی مسلمانوں کے ساتھ جھوٹی محبت میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۵۲)

۵۳… ’’(اسلامی) خدا اور شیطان میں کیا فرق رہا۔ ہاں اتنا فرق کہہ سکتے ہیں کہ خدا بڑا اور وہ چھوٹا شیطان۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۵۷)

۵۴… (جہاد کے ذکر میں) ’’ایسی تعلیم کنویں میں ڈالنی چاہئے، ایسی کتاب ایسے پیغمبر، ایسے خدا اور ایسے مذہب سے سوائے نقصان کے فائدہ کچھ بھی نہیں۔ ان کا نہ ہونا اچھا ہے۔ ایسے جاہلانہ مذہبوں سے علیحدہ رہ کر ویدوکت (ویدک مذہب) کے احکام کو تسلیم کرنا چاہئے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۵۸)

۵۵… ’’اب دیکھئے۔ خدا اور رسول کی تعصب کی باتیں۔ محمد صاحب وغیرہ سمجھتے تھے، اگر ہم خدا کے نام سے ایسی باتیں نہ لکھیں گے تو اپنا مذہب ترقی نہ پاوے گا اور مال نہ ملے گا۔ عیش وعشرت نصیب نہ ہوگی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی مطلب براری اور دوسروں کے کام بگاڑنے میں کامل استاد تھے۔ اسی وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ جھوٹ کے ماننے اور جھوٹ پر چلنے والے ہوں گے۔ نیکوکار عالم ان کی باتوں کو مستند نہیں مان سکتے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۵۹)

۵۶… ’’واہ جی واہ! مسلمانوں کی خدا کے گھر میں کچھ بھی دولت نہیں رہی ہوگی۔ اگر

94

ہوتی تو قرض کیوں مانگتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے نام سے محمد صاحب نے اپنا مطلب نکالا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۶۴)

۵۷… ’’جس طرح شیطان جس کو چاہتا ہے گنہگار بناتا ہے۔ ویسے ہی مسلمانوں کا خدا شیطان کا کام کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو بہشت اور دوزخ میں خدا ہی جائے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۶۵)

۵۸… (عصائے موسیٰ کے ذکر میں) ’’اس کے لکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ ایسی جھوٹی باتوں کو خدا اور محمد صاحب مانتے تھے۔ اگر ایسا ہے تو یہ دونوں عالم نہیں تھے یہ شعبدہ بازوں کی باتیں ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۷۲)

۵۹… (فرعون کے عذاب کے ذکر میں) ’’دیکھئے جیسا کہ کوئی پاکھنڈی کسی کو ڈرائے کہ ہم تجھ پر سانپوں کو مارنے کے واسطے چھوڑیں گے۔ ویسی ہی یہ بات ہے۔ بھلا جو ایسا متعصب ہے۔ ایک قوم کو غرق کردے اور دوسری کو پار اتارے وہ خدا دھرمی (غیر منصف) کیوں نہیں۔‘‘

۶۰… (جہاد کے ذکر میں) ’’واہ جی واہ! پیغمبر اور خدا خوب رحم دل ہیں۔ یہ سب فریب قرآن کے مصنف کا ہے۔ خدا کا نہیں۔ اگر خدا کا ہو تو ایسا خدا ہم سے دور رہے اور ہم اس سے دور رہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۷۳)

۶۱… ’’یہ قرآن خدا کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ کسی مکار فریبی کا بنایا ہوا ہوگا۔ نہیں تو ایسی فضول باتیں کیوں لکھی ہوتیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۷۸)

۶۲… ’’مسلمانوں کے خدا سے انصاف اور رحم وغیرہ نیک اوصاف دور بھاگتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۸۰)

۶۳… ’’ایسے (اسلام کے بتائے ہوئے) خدا کو ہماری طرف سے ہمیشہ تلانجلی (ترک) ہے۔ خدا کیا ہے ایک تماشہ گر ہے۔ واہ جی واہ! محمد صاحب آپ نے گوکلئے گو سائبوں کی ہمسری کرلی۔ واہ اللہ میاں آپ نے اچھی سوداگری جاری کی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب۱۴ فقرہ ۸۲)

۶۴… (استویٰ علی العرش کے ذکر میں) ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کو نہ جاننے والے وحشی لوگوں نے یہ کتاب بنائی ہوگی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴فقرہ ۸۸)

95

۶۵… (آسمان اور بادلوں کے ذکر میں) ’’مسلمانوں کا خدا علم طبعی کچھ بھی نہیں جانتا۔ اگر خدا بادلوں کا علم جانتا ہو تو آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ساتھ یہ کیوں نہ لکھا کہ زمین سے پانی اس پر چڑھایا۔ اس سے تحقیق ہوا کہ قرآن کا مصنف بادلوں کے علم کو بھی نہیں جانتا۔ اگر نیک وبد اعمال کے بغیر رنج وراحت دیتا ہے۔ وہ طرفدار غیر منصف اور جاہل مطلق ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ۹۴)

۶۶… ’’جب خدا گمراہ کرتا ہے تو خدا اور شیطان میں کیا فرق ہوا۔ جب کہ شیطان دوسروں کو گمراہ کرنے پر برا کہلاتا ہے تو خدا ہی ویسا ہی کام کرنے سے بڑا شیطان کیوں نہیں؟‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۹۵)

۶۷… ’’جب شیطان کو گمراہ کرنے والا خدا ہی ہے تو وہ بھی شیطان کا شیطان بڑا بھائی اور استاد کیوں نہیں؟‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۹۸)

۶۸… (مہر لگا دینے کے ذکر میں) ’’ایسی اندھا دھند کاروائی خدا کی بھی ہوتی ہے۔ البتہ بے عقل چھوکروں کی ہوا کرتی ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۰۱)

۶۹… ’’واہ جی واہ! جتنے حیرت انگیز نشان ہیں۔ ان میں سے ایک اونٹنی بھی خدا کے ہونے میں دلیل کا کام دیتے ہے۔ ایسے کو خدا کہنا صرف کم سمجھ آدمیوں کی باتیں ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۰۳)

۷۰… ’’قرآن کے مصنف کو جغرافیہ یا علم ہیئت نہیں آتا تھا۔ اگر آتا تو ایسی خلاف از علم باتیں کیوں لکھ دیتا۔ اس کتاب کے معتقد بھی بے علم ہیں۔ اگر صاحب علم ہوتے تو ایسی جھوٹی باتوں سے پر کتاب کو کیوں مانتے؟ ایسی کتاب کو وحشی لوگ ہی مان سکتے ہیں۔ عالم نہیں مانتے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۰۶)

۷۱… ’’یہ کتاب (قرآن) کلام ربانی نہیں ہوسکتی۔ البتہ کسی گمراہ کی بنائی ہوئی معلوم دیتی ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۱۲)

۷۲… ’’خدا اور مسلمان بڑے بت پرست اور پرانی (ہندو) اور جینی چھوٹے بت پرست ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۱۲)

۷۳… ’’مسلمان کا قرآن امن میں خلل انداز ہوکر غدر جھگڑا کرانے والا ہے۔ اس لئے

96

دیندار عالم لوگ اس کو نہیں مانتے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۱۶)

۷۴… (حضرت صالحmکی اونٹی کے ذکر میں) ’’اونٹنی کا نشان دینا صرف وحشی پن کا کام ہے نہ کہ خدا کا۔ اگر یہ کتاب (قرآن) کلام الٰہی ہوتی تو ایسی لغو باتیں اس میں نہ ہوتیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۱۸)

۷۵… ( اللہ کی تعریف کے ذکر میں) ’’اپنے ہی منہ سے اللہ آپ زبردست بنتا ہے اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا۔ جب شریف آدمی کا کام نہیں ہوسکتا تو خدا کا کیوں کر ہوسکتا ہے۔ شعبدہ بازی کی جھلک جتلا کر جنگلی آدمیوں کو قابو کرکے آپ جنگلوں کا خدا بن بیٹھا ہے۔ ایسی بات خدا کی کتاب میں ہرگز نہیں ہوسکتی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۱۹)

۷۶… (آسمان کی پیدائش کے ذکر میں)’’واہ صاحب! حکمت والے کتاب خوب ہے کہ جس میں بالکل علم کے خلاف آکاش کی پیدائش اور اس میں ستون لگانے اور زمین کو قائم رکھنے کے واسطے پہاڑ رکھنے کا ذکر ہے۔ تھوڑے علم والا بھی ایسی تحریر ہرگز نہیں کرسکتا۔ یہ تو سخت جہالت کی بات ہے۔ اس لئے یہ قرآن علم کی کتاب نہیں ہوسکتی۔ کیا یہ خلاف از علم بات نہیں ہے کشتی کو آدمی کلوں اور اوزاروں سے چلاتے ہیں یا خدا کی مہربانی سے۔ اگر لوہے یا پتھر کی کشتی بنا کر سمندر میں چلائی جائے تو خدا کا نشان ڈوب تو نہ جائے گا؟ یہ کتاب نہ کسی عالم اور نہ خدا کی بنائی ہوئی ہوسکتی ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۲۴)

۷۷… ’’واہ قرآن کے خدا اور پیغمبر آپ نے ایسے قرآن کو جس کے رو سے دوسرے کو نقصان پہنچا کر اپنی مطلب براری کی جائے بنایا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ محمد صاحب بڑے شہوت پرست تھے۔ اگر نہ ہوتے تو لے پالک بیٹے کی جورو کو اپنی جورو کیوں بناتے۔ طرفہ یہ کہ ایسی باتوں کے کرنے والے کا خدا بھی طرفدار بن گیا اور بے انصافی کو بھی انصاف قرار دیا۔ انسانوں میں وحشی سے وحشی انسان بھی بیٹے کی جورو کو چھوڑ دیتا ہے اور یہ کیا سخت غضب ہے کہ نبی کو شہوت رانی میں کچھ بھی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ بھلا کون عقل کا اندھا ہوگا جو اس قرآن کو خدا کا بنایا ہوا اور محمد صاحب کو پیغمبر اور قرآن کے بتلائے ہوئے خدا کو سچا خدا مان سکے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۲۷)

۷۸… دوزخی اپنے گمراہ کنندوں کے حق میں بد دعا کریں گے۔ سوامی جی نے سمجھا کہ بد

97

دعا پیغمبر کرتے ہیں۔ اس پر کہا،’’وہ کیسے موذی پیغمبر ہیں کہ خدا سے دوسروں کو دوگنا دکھ دینے کی دعا مانگتے ہیں۔ ان سے ان کی طرفداری، خود غرضی اور ظلم کا ثبوت ملتا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۲۸)

۷۹… (سورۂ یٰسین میں خدا کی صفت غالب پر) ’’اگر پیغمبر محمد صاحب سب پر غالب ہوتے تو سب سے زیادہ عالم اور نیک چلن کیوں نہ ہوتے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۳۰)

۸۰… ’’خدا بھی ادھرم (بے انصافی) کرنے والا اور شیطان کا ساتھی ثابت ہوتا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۳۳)

۸۱… ’’یہ قرآن، خدا اور مسلمان غدر مچانے۔ سب کو تکلیف دینے اور اپنا مطلب نکالنے والے ظالم ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۴۰)

۸۲… ’’دیکھئے مسلمانوں کے خدا کی کارسازی۔ دوسرے مذہب والوں سے لڑنے کے لئے پیغمبر اور مسلمانوں کو بھڑکاتا ہے۔ اسی واسطے مسلمان لوگ فساد کرنے میں کمربستہ رہتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۴۴)

۸۳… (آسمان کی طرف فرشتوں کے جانے کے ذکر پر) ’’ایسی ایسی باتوں کو سوائے وحشی لوگوں کے دوسرا کون مانے گا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۴۶)

۸۴… (بہشت کے غلمان خادموں کے ذکر پر) ’’کیا تعجب ہے کہ جو یہ سب سے برا فعل لڑکوں کے ساتھ بدمعاشی کرنا ہے۔ اس کی بنیاد یہی قرآن کا قول ہو۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۵۰)

۸۵… (تکویر شمس سورج سیاہ ہوجانے کے باب میں) ’’یہ بڑی نادانی اور جنگلی پن کی بات ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۵۲)

۸۶… (آسمان پھٹ جانے پر) ’’واہ جی قرآن کے مصنف فلاسفر آکاش آسمان کو کیوں کر کوئی پھاڑ سکے گا اور تاروں کو کیوں کر کوئی جھاڑ سکے گا اور دریا کیا لکڑی ہے جو چیر ڈالے گا اور قبریں کیا مردے ہیں جو زندہ کرسکے گا۔ یہ سب باتیں لڑکوں کی باتوں کی مانند ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۵۳)

۸۷… ’’مصنف قرآن نے جغرافیہ وعلم ہیئت کچھ بھی نہیں پڑھا تھا کیا وہ خدا کے پاس

98

سے ہے۔ اگر یہ قرآن اس کا تصنیف شدہ ہے تو خدا بھی علم ودلیل سے خارج لاعلم ہوگا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۲۵۴)

۸۸… (مجرموں کو پیشانی سے پکڑنے جانے کے ذکر میں) ’’اس ذلیل چپڑاسیوں کے گھسیٹنے کے کام سے بھی خدا نہ بچا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ فقرہ ۱۵۸)

۸۹… ’’یہ کتاب (قرآن) نہ خدا نہ عالم کی بنائی ہوئی نہ علم کی ہوسکتی ہے۔‘‘

(خاتمہ باب ۱۴)

نمونہ شیریں کلامی شری دیانند سوامی ختم ہوا۔ ناظرین! انہیں ملاحظہ فرما کر دوسرے حصہ پر چلیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود، مہدی معہود اور کرشن جی وغیرہ مقدس عہدوں پر ہونے کے مدعی تھے

ہمارے پنجاب کے ضلع گورداس پور میں بٹالہ اسٹیشن سے گیارہ میل خام سڑک پر قصبہ قادیان ہے۔ اس قصبہ میں مرزا قادیانی ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بہت کتابیں تصنیف فرمائیں۔ جن میں سے کئی ایک غیر مسلموں کے متعلق ہیں اور بہت سی مسلمانوں سے۔ ان کتابوں میں اپنے اپنے مخاطبوں (مسلموں اور غیرمسلموں) کو جب تیز کلامی سے مخاطب کیا تو مخالفوں کی طرف سے ان پر اعتراض ہوا کہ آپ سخت کلامی کیوں کرتے ہیں۔ تو آپ نے بجائے رک جانے کے اپنی سخت کلامی کی فلاسفی اور معقول حکمت اور فائدہ بنانے کو فرمایا اور خوب مفصل فرمایا۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’سخت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں۔ ایک تحریک ہوجاتی ہے۔ مثلاً ہندوئوں کی ایک قوم ایسی قوم ہے کہ اکثر ان میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر ان کو اپنی طرف سے چھیڑا نہ جائے تو وہ مداہنہ کے طور پر تمام عمر دوست بن کر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبیﷺ کی تعریف وتوصیف اور اس دین کے اولیاء کی مدح وثناء کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دل ان کے نہایت درجہ کے سیاہ اور سچائی سے دور ہوتے ہیں۔ ان کے روبروسچائی کو اس کی پوری مرارت اور تلخی کے ساتھ ظاہر

99

کرنا اس نتیجہ خیر کا منتج ہوتا ہے کہ اسی وقت ان کا مداہنہ دور ہوجاتا ہے اور بالجہر یعنی واشگاف اور اعلانیہ اپنے کفر اور کینہ کو بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ گویا ان کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کر جاتی ہے۔ سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کردیتی ہے۔ اگرچہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے۔ مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہی تحریک روبحق کرنے کے … پہلا زینہ ہے جب تک ایک مر ض کے مواد مخفی ہیں تب تک اس مرض کا کچھ علاج نہیں ہوسکتا۔ لیکن مواد کے ظہور کے وقت ہر ایک طور کی تدبیر ہوسکتی ہے۔ انبیاء نے جو سخت الفاظ استعمال کئے حقیقت میں ان کا مطلب تحریک ہی تھا۔ تاخلق اللہ میں ایک جوش پیدا ہوجائے اور خواب غفلت سے اس ٹھوکر کے ساتھ بیدار ہوجائیں اور دین کی طرف خوض اور فکر کی نگاہیں دوڑانا شروع کردیں اور اس راہ میں حرکت کریں۔ گو وہ مخالفانہ حرکت ہی سہی اور اپنے دلوں کا اہل حق کے دلوںکے ساتھ ایک تعلق پیدا کرلیں۔ گو وہ عدوّانہ ہی تعلق کیوں نہ ہو۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے:

’’فی قلوبہم مرض فزادہم اللہ مرضاً‘‘یقینا سمجھنا چاہئے کہ دین اسلام کو سچے دل سے ایک وہی لوگ قبول کریں گے جو بباعث سخت اور پرزور جگانے والی تحریکوں کے کتب دینیہ کے ورق گردانی میں لگ گئے ہیں اور جوش کے ساتھ اس راہ کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں۔ گو وہ قدم مخالفانہ ہی سہی۔ ہندوئوں کا وہ پہلا طریق ہمیں بہت مایوس کرنے والا تھا۔ جو اپنے دلوں میں وہ لوگت اس طرز کو زیادہ پسند کے لائق سمجھتے تھے کہ مسلمانوں سے کوئی مذہبی بات چیت نہیں کرنی چاہئے اور ہاں میں ہاں ملا کر گزارہ کر لینا چاہئے لیکن اب وہ مقابلہ پر آکر اور میدان میں کھڑے ہوکر ہمارے تیز ہتھیاروں کے نیچے آپڑے ہیں اور اس صید (شکار) قریب کی طرح ہوگئے ہیں۔ جس کا ایک ہی ضرب سے کام تمام ہوسکتا ہے۔ ان کی آہوانہ سرکشی سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ سو تم ان کے جوشوں سے گھبرا کر نومید مت ہو۔ کیوں کہ وہ اندر ہی اندر اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیاری کررہے ہیں اور اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آپہنچے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۹ تا ۳۲ خزائن ج۳ ص۱۱۷ تا ۱۱۹)

مرزا قادیانی نے گو اپنا مافی الضمیرظاہر کرنے میں زور بلاغت دکھایا، مگر خدا کی پاک کتاب (قرآن مجید ) نے سخت کلامی سے منع کیا ہے حکیم اور مصلح لوگ بھی یہی کہہ گئے ہیں:

100
  1. بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے

    ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے

چوں کہ مرزا قادیانی اپنی تلخ کلامی کو بڑی حکمت پر مبنی جانتے تھے اس لئے ناظرین ان کی تلخ کلامی کی طرح سنیں۔ آپ فرماتے ہیں:

عیسائیوں کے متعلق

۱… ’’(عیسائیوں نے) آپ (یسوع مسیح۱؎) کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ (یسوع مسیح) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام اور حرام کی اولاد بنیں۔ آپ (یسوع مسیح) کا یہ کہنا کہ میرے پیرو زہر کھائیں گے اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا۔ یہ بالکل جھوٹ نکلا۔ کیوں کہ آج کل زہر کے ذریعے سے یورپ میں بہت خود کشی ہورہی ہے۔ ہزارہا مرتے ہیں۔ ایک پادری خواہ کیسا ہی موٹا ہو۔ تین رتی اسٹرکنیا کھانے سے دو گھنٹے تک بآسانی مرسکتا ہے۔ یہ معجزہ کہاں گیا ایسا ہی آپ (یسوع مسیح) فرماتے ہیں کہ میرے پیرو پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اٹھ وہ اٹھ جائے گا۔ یہ کس قدر جھوٹ ہے۔ بھلا ایک پادری صرف بات سے ایک الٹی جوتی کو تو سیدھا کرکے تو دکھلائے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۶،۷ خزائن ج۱۱ ص۲۹۰، ۲۹۱)

۲… ’’آپ (یسوع مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہوجدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیرووں پر ملے۔ سمجھے والے سمجھ لیں۔ ایسا انسان

۱؎نوٹ: اس جگہ مرزا قادیانی نے یسوع نام لکھا ہے۔ مگر یسوع مسیح دراصل ایک ہی بزرگ ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔ اس لئے ہم نے اس جگہ دونوں نام یسوع مسیح لکھے ہیں۔ مؤلف

101

کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔ آپ (یسوع مسیح) وہی حضرت ہیں جنہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ابھی یہ تمام لوگ زندہ ہوں گے تو میں پھر واپس آجائوں گا۔ حالاں کہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ انیس نسلیں ان کے بعد بھی انیس صدیوں میں مرچکیں۔ مگر آپ اب تک تشریف نہ لائے۔ خود تو وفات پاچکے مگر اس جھوٹی پیش گوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر ہے۔ سو عیسائیوں کی یہ حماقت ہے کہ ایسی پیش گوئیوں پر ایمان لاویں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۷، ۸ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۹۱، ۲۹۲)

۳… ’’مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس (مسیح) پر ایک فضیلت ہے۔ کیوں کہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔‘‘

(دافع البلاء حاشیہ ص فرنٹ ٹائٹل، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

۴… ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰؑ۱؎ شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح حاشیہ ص۶۶ خزائن ج۱۹ ص۷۱)

۵… ’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰؑ کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۴ خزائن ج۱۹ ص۱۲۱)

۶… ’’غرض حضرت مسیح کا یہ اجتہاد غلط نکلا۔ اصل وحی صحیح ہوگی مگر سمجھنے میں غلطی کھائی۔ افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں، اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی مگر کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بہت سے اجتہادوں اور غلط پیش گوئیوں کی وجہ سے ان کی پیغمبری مشتبہ ہوگئی ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۵ خزائن ج۱۹ ص۱۳۵)

۱؎اس جگہ مرزا قادیانی نے صاف لفظوں میں عیسیٰ لکھ کر ساتھ اس کے علیہ السلام بھی لکھا ہے جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مراد حضرت عیسیٰ رسول اللہ ہی ہیں نہ کوئی اور۔

102

۷… ’’حضرت مسیح کے معجزات (عمل التراب) یعنی مسمریزم کے طریق سے تھے۔ ایسے عملوں سے کاملین پرہیز کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قومی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص۳۰۵، ۳۰۹ خزائن ج۳ حاشیہ ص۲۵۵، ۲۵۸)

  1. اینک منم کہ حسب بشارت آمدم

    عیسیٰ کجا ست تا بہ نہد پابہ منبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸ خزائن ج۳ ص۱۸۰)

ترجمہ: ’’میں (مرزا) حسب بشارت آگیا ہوں عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے منبر پر قدم رکھے۔‘‘

  1. کربلائے است سیر ہر آنم

    صد حسین است کہ در گریبانم

(نزول المسیح ص۹۹ خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

ترجمہ: ’’میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے سو (۱۰۰) حسین میری جیب میں ہیں۔‘‘

۱۰… ’’شتان ما بینی وبین حسینکم فانّی اؤیّد کل اٰن وانصر وامّا حسین فاذکرو دشت کربلا الٰی ہذہ الایام تبکون فانظروا وانّی بفضل اللہ فی حجر خالقی اربی واعصم من لیام تنمّروا‘‘ اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیوں کہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو اب تک روتے ہو۔ پس سوچ اور اور میں خدا کے فضل سے اس کی کنار عاطفت میں ہوں پرورش پارہا ہوں اور ہمیشہ کے لئے ان کے حملہ سے جو پلنگ صورت میں بچایا جاتا ہوں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۶۹ خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)

۱۱… ’’اے بدذات فرقہ مولویاں! تم کب تک حق کو چھپائو گے، کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت چھوڑ دو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ وہی عوام کالانعام کو پلایا۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص۲۱ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۱)

۱۲… (پیش گوئی متعلقہ موت پادری عبد اللہ آتھم کے کذب پر) ’’اصرار کرتا ہے تو وہی قسم کھاوے اگر محمد حسین بٹالوی اس خیال پر زور دے رہا ہے تو وہی میدان میں آوے اور مولوی احمد اللہ امرتسری یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے تو نہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنے تقویٰ دکھاویں۔ مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے۔ ہرگز نہیں۔ کیوں کہ یہ جھوٹے ہیںاور کتوں

103

کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۲۵ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۳۰۹)

۱۳… ’’سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں (مرزا سلطان محمد داماد مرزا احمد بیگ کی موت۔ آسمانی منکوحہ محمدی بیگم کا میرے نکاح آنا وغیرہ) پوری ہوجائیںگی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳ خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)

۱۴… (مولوی سعد اللہ لدھیانوی مرحوم کو مخاطب کرکے) ’’اے احمق، دل کے اندھے، دجال تو تو ہی ہے۔… دجال تیرا ہی نام ثابت ہوا یا کسی اور کا۔ حق سے لڑتا رہ۔ آخر اے مردار دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا۔ اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ سے لڑرہا ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار ص۱۲ مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۸، ۷۹)

۱۵… (پادری آتھم کی پیشین گوئی متعلقہ موت کی میعاد ختم ہونے کے موقعہ پر علماء اسلام کو مخاطب کرکے) ’’اے بے ایمانو! نیم عیسائیو، دجال کے ہمراہیو، اسلام کے دشمنو! کیا پیش گوئی کے دو پہلو نہیں تھے تو پھر کیا آتھم صاحب نے دوسرے پہلو رجوع الی الحق کے احتمال کو اپنے افعال اور اپنے اقوال سے آپ قوی نہیں کیا۔ کیا وہ نہیں ڈرتے رہے۔ کیا انہوں نے اپنی زبان سے ڈرنے کا اقرار نہیں کیا۔ پھر اگر وہ ڈر انسانی تلوار سے تھا نہ آسمانی تلوار سے تو اس شبہ کو مٹانے کے لئے کیوں قسم نہیں کھاتے۔ پھر جب کہ اس طرف سے ہزارہا روپیہ انعام کا وعدہ نقد کی طرح پا کر پھر بھی قسم سے انکار اور گریز ہے تو عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی، کیا تمہاری ایسی تیسی ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ ص۵ مجموعہ اشتہارات ج۲ حاشیہ ص۶۹، ۷۰)

۱۶… ’’اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ (پادری آتھم کے زندہ رہنے سے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی غلط اور) عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم وحیا کو کام میں نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے، انکار اور زبان درازی

104

سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے… ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔‘‘

(انوار الاسلام ص۳۰ خزائن ج۹ ص۳۱، ۳۲)

۱۷… ’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودّۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الّا ذرّیۃ البغایا الّذین ختم اللہ علٰی قلوبہم فہم لا یقبلون‘‘ ترجمہ: ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر بدکار رنڈیوں (زناکاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔‘‘

(آئینہ کمالات ص۵۴۷، ۵۴۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

۱۸… ’’مولانا شمس العلماء سید نذیرحسین (المعروف میاں صاحب) محدث دہلوی مرحوم کے حق میں لکھا ’’اس نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعادت مند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افتراء ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۴۵ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۱۹… حضرت میاں صاحب مرحوم کی وفات کی تاریخ مرزا قادیانی نے یوں لکھی ۔

’’مات ضال ہائماً‘‘ یعنی نذیر حسین گمراہی اور پریشانی میں مرگیا۔‘‘

(مواہب الرحمن ص۱۲۷ خزائن ج۱۹ ص۳۴۸)

۲۰… (موعود لڑکا پیدا نہ ہونے پر مخالفوں کو مخاطب کرکے کہا کہ) ’’واضح ہو کہ بعض مخالف ناخدا ترس جن کے دلوں کو زنگ، بخل، تعصب نے سیاہ کر رکھا ہے۔ ہمارے اشتہار مطبوعہ ۸؍اپریل۱۸۸۶ء کو یہودیوں کی طرح محرف ومبدل کرکے اور کچھ کے کچھ معنی بنا کر سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں تاکہ دھوکا دے کر ان کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی پیش گوئی تھی اس کا وقت گزر گیا اور وہ غلط نکلی۔ ہم اس کے جواب میں صرف ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘کہنا کافی سمجھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ہم افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور دیوثوں کو بباعث سخت درجہ

105

کے کینہ اور بخل اور تعصب کے اب کسی کی لعنت ملامت کا بھی کچھ خوف اور اندیشہ نہیں رہا اور جو شرم اور حیا اور خدا ترسی لازمۂ انسانیت ہے وہ سب نیک خصلتیں ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خداتعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۴مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۲۵)

۲۲… ’’ہزار لعنت کا رسہ ہمیشہ ان پادریوں کے گلے میں پڑ گیا جو علم عربی میں دخل رکھنے کا دم مارتے تھے۔‘‘

(اشتہارات انعامی ۳ ہزار ص۱۰ مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۷)

یہ بہت تھوڑا نمونہ ہے مرزا قادیانی کے کلمات ملفوظہ کا۔ گو مرزا قادیانی نے اس قسم کی سخت کلامی کے جواز بلکہ استحسان کے لئے بہت زور قلم دکھایا ہے جوکتاب ہذا پر پہلے نقل ہوچکا ہے۔ لیکن حق چوں کہ فطرت کی آواز ہے۔ اس لئے بقول ’’حق برزباں جاری گردد‘‘

جناب مرزا قادیانی نے خود ہی اس قسم کی سخت کلامی اور دل آزاری کی نسبت نہایت مستحسن رائے ظاہر فرمائی جو یہ ہے۔

’’تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے ان پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ بس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بد تر چھری نہیں۔‘‘

(خاتمہ چشمہ معرفت ص۱۵ خزائن ج۲۳ ص۳۸۶، ۳۸۷)

چوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ قول بمنزلہ اعتراف جرم کے ہے اس لئے ہم بھی ان کے حق میں ایک سفارشی شعر پڑھتے ہیں:

  1. بخشدے اس بت سفاک کو اے داور حشر

    خون خود مجھ میں نہ تھا خون کا دعویٰ جو کیا

حضرات ناظرین! یہ کتاب مناظرانہ رنگ میں نہیں ہے کہ مصنف اپنی قوت استدلالیہ سے نتیجہ پیدا کر کے آپ کے سامنے رکھے۔ بلکہ ایک تاریخی کتاب ہے۔ جس میں مصنف کا اتنا یہی فرض ہے کہ واقعات صحیحہ ناظرین کے سامنے رکھ کر نتیجہ ان کی رائے پر چھوڑ دے۔ سو میں (خاکسار مصنف) ان دونوں ریفامروں (سوامی جی اور مرزا جی) کے ملفوظات پیش کرکے یہ سوال کہ ’’ایسے تلخ گو ریفارمر ہوسکتے ہیں‘‘ آپ کے سامنے رکھ کر جواب کا منتظر ہوں۔

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری مصنف کتاب ہذا

اگست ۱۹۲۷ء

106

محمد قادیانی

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

107

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

ناظرین کو اعتراف ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات سے خاکسار کو خاص شغف ہے۔ اسی شغف کا نتیجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے متعلق میں نے متعدد کتب لکھی ہیں۔ جو ملک میں شائع ہوکر قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔

وجہ تصنیف ہذا

قادیانی جماعت مرزائیہ نے ۱۷؍جون ۱۹۲۸ء کو ہندوستان کے مختلف مقامات میں جلسے کرائے۔ جن میں آنحضرتﷺ کی سیرت اور حالات زندگی سنائے اور سنوائے۔ لاہوری جماعت مرزائیہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا طریقہ یہ بہت اچھا ہے اس لئے انہوں نے بھی اعلان کیا اور ربیع الاوّل ۱۳۴۷ھ کی بارہ وفات (۲۹ ؍اگست ۱۹۲۸ء) کے روز ایسے جلسے کرنے کا اشتہارات اخبارات میں دیا جو درج ذیل ہے۔

’’چودہویں صد سالہ سالگرہ‘‘

’’یوم میلاد النبیﷺ جو عام طور پر بارہ وفات کے نام سے مشہور ہے بعض مسلمان کچھ کچھ دلچسپی لیتے اور اپنے شہروں میں اس موقعہ پر جلسوں کا انتظام کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ جس طرح اور امور میں مسلمانوں میں جمود کی حالت ہے اس موقعہ پر بھی بیشتر شہروں میں بالکل خاموشی رہتی ہے اور علماء اور نیا تعلیم یافتہ طبقہ دونوں اس کی اہمیت سے غافل ہیں۔ ایسے مبارک دن کو یوں ہی گزار دینا اس نعمت کی ناشکری ہے۔ جو رحمۃ اللعالمین کے وجود سے دنیا میں ظاہر ہوئی۔ آپ کے احسانات نسل انسانی پر اس قدر ہیں کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کو مسلّم ہیں۔ دنیا میں کوئی مصلح ایسا نہیں ہوا جس نے تئیس سال کی قلیل مدت میں ایک عظیم الشان ملک کے ملک کو نہایت ہی ذلیل حالت سے اٹھا کر جسمانی، علمی اور اخلاقی فتوحات کے لحاظ سے بلند سے بلند مقام پر پہنچا دیا ہو۔ وہ قوم جس کی اصلاح یہودیوں اور عیسائیوں کی صدیوں کی کوشش

108

کچھ نہ کرسکی۔ حالاںکہ ان کی پشت پر حکومتیں اور سلطنتیں تھیں، ایک اکیلا انسان اٹھا اور ایک صدی کے چوتھائی عرصہ سے بھی کم میں اس ملک کی ایسی کایا پلٹ دی کہ دنیا ایسے انقلاب کا کوئی دوسرا نمونہ پیش کرنے سے عاجز ہے اور پھر نہ صرف یہ کہ اس ملک اور قوم کی اپنی حالت ہی تبدیل ہوئی بلکہ ان کے ذریعہ سے دوسری قوموں اور ملکوں میں اخلاق، تہذیب اور علم کی مشعل روشن ہوکر دنیا کے تاریک سے تاریک کونے منور ہوئے اور توحید الٰہی اور وحدت نسل انسانی کا غلغلہ دنیا میں بلند ہوا۔ آپ کی یہ کامیابی ایک ایسا زبردست اور بے نظیر واقعہ ہے کہ ’’انسائیکلوپیڈیا بری ٹینکا‘‘ میں آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ کامیاب مذہبی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ بہت سی بدیاں آپ کے وجود سے دنیا سے نابود ہوئیں اور نسل انسانی کا قدم ترقی کی شاہرہ پر تیز رفتاری سے اٹھا۔‘‘ الخ

(سیکرٹری احمدیہ اشاعت اسلام لاہور)

اس اشتہار کو دیکھ کر میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ جو کمالات اس اشتہارمیں آنحضرتﷺ کے دکھائے گئے ہیں بالکل صحیح ہیں۔ اس لئے انہی کو معیار صداقت اور محک امتحان مرزا قادیانی بنا کر قادیانی دعوے کا فیصلہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ مرزائی دعاوی کی تحقیق کرنے کے لئے کئی ایک معیار ہیں۔

۱… ان کی پیش گوئیاں

۲… ان کی صداقت کلام

۳… قرآن اور احادیث کی تصریحات وغیرہ۔

آج جو معیار ہم پیش کرتے ہیں وہ اچھوت ہے۔ اس میں ہم صرف اس معیار پر گفتگو کریں گے کہ مرزا قادیانی چوں کہ اپنے آپ کو بروز محمدﷺ کہا کرتے تھے۔ اسی لئے وہ محمد ثانی بنتے اور اپنی اتباع کو اصحاب محمد اولa میں داخل کرتے تھے۔‘‘

(ملاحظہ ہو خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص ۲۵۸، ۲۵۹)

لہٰذا دیکھنا ضروری ہے کہ محمد ثانی (قادیانی، معاذ اللہ ) کو محمد اولa کے کاموں سے کہاں تک مشابہت ہے؟ اسی اصطلاح پر ہم نے اس رسالہ کا نام ’’محمدقادیانی‘‘ تجویز کیا ہے۔ اس میں ہم دکھائیں گے کہ محمد اول (m) نے کیا کام کئے اور ان کے بروز محمد ثانی قادیانی نے کیا کئے تاکہ ان کاموں کی مطابقت یاعدم مطابقت سے مرزا قادیانی کے صدق

109

وکذب کا ثبوت ہوسکے۔ان ارید الّا الاصلاح وما توفیقی الّا ب اللہ !

ابوالوفاء ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسر

نومبر۱۹۲۸ء

محمد قادیانی کا دعویٰ بروز

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نسبت لکھتے ہیں:

’’فجعلنی اللہ اٰدم واعطانی کلما اعطیٰ لابی البشر وجلعنی بروز الخاتم النّبیین وسیدالمرسلین‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۶۷، خزائن ج۱۶ ص ۲۵۴)

’’خدا نے مجھ کوآدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں جو ابوالبشر آدم کو دی تھیں اور مجھ کو خاتم النّبیین اور سیدالمرسلین کا بروز بنایا۔‘‘

اسی کتاب کے دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:’’وانزل اللہ علیّ فیض ہذا الرسول (محمد) فاتمہ واکملہ وجذب الیٰ لطفہ وجودہ حتی صار وجودی وجودہ فمن دخل فی جماعتی دخل فی صحابۃ سیدی خیرالمرسلین وہذا ہو معنی وآخرین منہم۔خدا نے مجھ (مرزا) پر اس رسول کا فیض اتارا اور اس کو پورا اور مکمل کیا اور میری طرف اس رسول کا لطف اور جود پھیرا یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا۔ پس اب جو کوئی میری جماعت (احمدیہ) میں داخل ہوگا وہ میرے سردار خیرالمرسلین کے اصحاب میں داخل ہوجائے گا۔ یہی معنی ہیں ’’وآخرین منہم‘‘ کے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص ۲۵۸، ۲۵۹)

ان دونوں عبارتوں کا مطلب صاف ہے کہ مرزا قادیانی محمد اول (آں حضرتa) کی پوری تصویر بلکہ ہو بہو محمد ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس مضمون کو ایک اور کتاب میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ لکھا ہے جس کے الفاظ نقل کرنے سے پہلے ایک تمہیدی نوٹ کی ضرورت ہے۔

قرآن مجید میں سورہ جمعہ میں ارشاد ہے:’’ہوالذی بعث فی الامّیین رسولاً منہم یتلوا علیہم اٰیٰتہ ویزکیہم ویعلہم الکٰتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (الجمعہ:۲)‘‘

110

’’یعنی اللہ پاک نے اپنا رسول (a) ان پڑھ عربوں میں بھیجا۔ اللہ کے احکام ان کو سناتا ہے اور اپنی صحبت کے اثر سے ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں تھے۔‘‘

اس کے بعد فرمایا:’’وآخرین منہم لمّا یلحقوا بہم وہوالعزیز الحکیم (الجمعہ:۳)‘‘

’’ان عربوں کی سوا پچھلے لوگوں میں بھی یہی رسول (محمدﷺ) بھیجا ہے جو ابھی (پیچھے آنے والے ہیں اور) ان موجودہ لوگوں سے وہ نہیں ملے اور خدا بڑا غالب حکمت والا ہے۔‘‘

مرزا قادیانی کہتے ہیں ان آیتوں میں جو آنحضرتﷺ کی بابت فرمایا ہے کہ خدا نے آپ کو عربوں میں رسول کرکے بھیجا ہے، اس سے مراد تو حضور کی ذات خاص ہے اور جو فرمایا کہ پچھلے لوگوں میں بھی حضور کو بھیجا اس سے میری ذات خاص (مرزا خود بدولت) مراد ہے۔ یعنی میں بصورت مرزا محمد ثانی ہوں۔ اب آپ کے الفاظ سنئے فرماتے ہیں:

’’اس وقت حسب منطوق آیت ’’واٰخرین منہم لمّا یلحقوا بہم‘‘اور نیز حسب منطوق آیت ’’قل یا ایہا الناس انّی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘ آنحضرتﷺ کے دوسرے بعث (رسالت) کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوئوں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہوگئی تھی۔ آنحضرتﷺ کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کے لئے بدل وجان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لایئے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے۔ کیوں کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافہ ناس کے لئے آیا ہوں اور اب یہ وقت ہے کہ آپ ان تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کرسکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں۔ تب آنحضرتﷺ کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں۔ مگر میں ملک ہند میں آئوں گا۔ کیوں کہ جوش مذاہب واجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل ونحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدمؑ اسی جگہ نازل ہوا

111

تھا۔ پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے، اسی ملک میں اس کو آنا چاہئے تا آخر اور اول کا ایک ہی جگہ اجتماع ہوکر دائرہ پورا ہوجاوے اور چوں کہ آنحضرتﷺ کا حسب آیت ’’وآخرین منہم‘‘ دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا اس لئے آنحضرتﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تایہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہٖ آنحضرتﷺ کا ظہور تھا۔‘‘(یعنی خود مرزا قادیانی)

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱ خزائن ج۱۷ ص۲۶۲، ۲۶۳)

ایک مقام پر مرزا قادیانی نہایت لطیف پیرایہ میں اپنے آپ کو محل نزول روح محمدﷺ قرار دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ تو ناظرین کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود اور مہدی معہود دونوں عہدوں کے مدعی تھے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ امام مہدی کا نام محمد ہوگا اور مرزا قادیانی کا پیدائشی نام غلام احمد تھا۔ اس لئے آپ متصوفانہ ادّعا میں فرماتے ہیں:

’’وامّا الکلام الکلی فی ہذاالمقام فہو ان للانبیاء الذین ارتحلوا الی حظیرۃ القدس تدلیات الی الارض فی کل برہۃ من ازمنۃ یہیج اللہ تقاریبہا فیہا فاذا جاء وقت التدلی صرف اللہ اعینہم الی الدنیا فیجدون فیہا فسادا او ظلما ویرون الارض قد ملأت شرا وزوراً وشرکا وکفراً فاذا ظہر لاحد منہم ان تلک الشرور والمفاسد من بغی امتہ فیضطر روحہ اضطرارا شدیداً ویدعو اللہ ان ینزلہ علی الارض لیہیئی لہم من وعظہ رشداً فیخلق لہ اللہ نائباً لیشابہہ فی جوہرہ وینزل روحہ بتنزیل انعکاسی علی وجود ذالک النائب ویرث النائب اسمہ وعلمہ فیعمل علی وفق ارادتہ عملاً فہذا ہوالمراد من نزول ایلیا فی کتب الاوّلین ونزول عیسٰیm وظہور نبینا محمدﷺ فی المہدی خلقا وسیرۃً‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۴۳۹، ۴۴۰ خزائن ج۵ ص ایضاً)

’’یعنی قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو انبیاء اس دنیا سے کوچ کرگئے ہیں ان کے لئے ہر

112

زمانہ میں زمین کی طرف توجہات ہوتی ہیں جن میں خدا ان کو زمین کے واقعات پر متنبہ کرتا ہے۔ جب ان کی توجہ کا وقت آتا ہے تو خدا ان کی آنکھیں دنیا کی طرف پھیرتا ہے تو وہ اس میں فساد اور ظلم پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ زمین شرارت، جھوٹ، شرک اور کفر سے بھر گئی ہے۔ جب ان انبیاء میں سے کسی نبی پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شر اور فساد اس کی امت کی بغاوت سے ہے تو اس نبی کی روح پھڑکتی ہے اور اللہ سے دعا مانگتی ہے کہ مجھے زمین پر بھیجئے تاکہ میں ان لوگوں کو وعظ ونصیحت کے ذریعہ ہدایت کروں تو خداتعالیٰ اس نبی کا نائب پیدا کرتا ہے جو اس نبی کے اصل جوہر میں اس کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی روح اس نائب کے وجودپر عکسی طور سے اترتی ہے اور وہ نائب اس نبی کا نام اور علم وراثت میں لیتا ہے اور اس کے ارادے کے موافق عمل کرتا ہے۔ پہلی کتابوں میں ایلیا نبی کے اترنے سے یہی مراد ہے اور عیسیٰ کے اترنے سے بھی اور ہمارے نبیﷺ کے ظہور کرنے سے امام مہدی میں جو خلق اور سیرت میں ان (محمد رسول اللہ ﷺ) جیسا ہوگا۔‘‘

اس آخری اقتباس میں لطیف پیرایہ میں بتایا ہے کہ آنحضرتﷺ کی روح مبارک مجھ میں نزول عکسی فرما چکی ہے۔ حضور کا نام محمد اور علم معرفت میں نے وراثت میں پایا ہے۔ اس لئے آپ نے اپنے حق میں یہ شعر لکھا ہے:

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳ خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

آنحضرتﷺ کے کاموں میں سے صرف ایک کام میں مقابلہ

آج ہم نے جس کام کے کرنے کو قلم اٹھایا ہے، سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ندامت ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ کن دوہستیوں کے کاموں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جن کی بابت یہ کہنا بالکل بجا ہے:

شیر قالیں دگرست شیر نیستاں دگرست

تاہم چوں کہ ہماری نیت حق وباطل میں تمیز کرنے کی ہے اس لئے اس بظاہر ناپسندیدہ فعل کے عند اللہ پسندیدہ ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ انما الاعمال بالنیات!

آنحضرتﷺ کی زندگی کے کل کاموں میں مقابلہ دکھانا تو بہت طویل کام ہے

113

نیز ان کے ذکر میں ممکن ہے بعض امور پر مرزا قادیانی کے مریدوں کو بحث ہو اس لئے ہم ایسا نمایاں کام پیش کرتے ہیں جس میں کسی کو شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو۔

تمہید کار

دنیا میں ہر ایک اپنا پرایا سب متفق ہیں کہ آنحضرتﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب کا ملک جہالت، ضلالت، فسق وفجور کے علاوہ سیاسی حیثیت سے بھی کوئی وقعت نہ رکھتا تھا۔ چنانچہ خواجہ حالی مرحوم نے ابیات مندرجہ ذیل میں عرب اور اہل عرب کا نقشہ بتایا ہے:

  1. عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا

    جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا

  2. زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا

    نہ کشورستاں تھا نہ کشور کشا تھا

  3. تمدن کا اس پر پڑا تھا نہ سایا

    ترقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا

  4. کہیں آگ پجتی تھی واں بے محابا

    کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا

  5. بہت سے تھے تثلیث پردل سے شیدا

    بتوں کا عمل سو بسو جا بجا تھا

  6. کرشموں کا راہب کے تھا صید کوئی

    طلسموں میں کاہن کے تھا قید کوئی

  7. قبیلے قبیلے کا بت اک جدا تھا

    کسی کا ہبل تھا کسی کا صفا تھا

  8. یہ عزے پہ وہ نائلہ پر فدا تھا

    اسی طرح گھر گھر نیا ایک خدا تھا

  9. نہاں ابر ظلمت میں تھا مہر انور

    اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر

  10. چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ

    ہر ایک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ

  11. فسادون میں کٹتا تھا ان کا زمانہ

    نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ

  12. وہ تھے قتل وغارت میں چالاک ایسے

    درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے

  13. نہ ٹلتے تھے ہرگز جو اڑ بیٹھے تھے

    تو صدہا قبیلے بگڑ بیٹھے تھے

  14. بلند ایک ہوتا تھا گر واں شرارا

    تو اس سے بھڑک اٹھتا تھا ملک سارا

  15. وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی

    صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی

  16. قبیلوں کی کردی تھی جس نے صفائی

    تھی اک آگ ہر سو عرب میں لگائی

  17. نہ جھگڑا کوئی ملک ودولت کا تھا وہ

    کرشمہ ایک ان کی جہالت کا تھا وہ

  18. جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر

    تو خوف شماتت سے بے رحم مادر

114
  1. پھرے دیکھتی جب تھی شوہر کے تیور

    کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جا کر

  2. وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی

    جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی

  3. جؤا ان کی دن رات کی دل لگی تھی

    شراب ان کی گھٹی میں گویا پڑی تھی

  4. تعیش تھا غفلت تھی دیوانگی تھی

    غرض ہر طرح ان کی حالت بری تھی

  5. بہت اس طرح ان پہ گزری تھیں صدیاں

    کہ چھائی ہوئی نیکیوں پر تھیں بدیاں

مختصر یہ کہ عرب کا ملک ہر قسم کے تنزلات انسانیہ کا معدن بنا ہوا تھا۔ خدا سے ہٹ کر ہر ایک برائی ان میں موجود تھی۔ بڑی بات یہ کہ سیاسی دنیا میں ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ آنحضرتﷺ نے چند ایام کی محنت سے ان کو مٹی سے سونا بنایا۔ شیطان سے فرشتہ، وحشی سے متمدن۔ سب سے بڑی بات یہ کہ تختہ ٔ ذلت سے اٹھا کر تخت عزت پر بٹھا دیا۔ کون اس سے انکار کر سکتا ہے کہ آں حضورﷺ نے جب دنیا سے رحلت فرمائی تو عرب دین اور اخلاق کا مجسمہ نظر آتا تھا اور سیاسی حیثیت میں عرب کی حیثیت ایک بڑی معزز حکومت کی تھی۔ ہمارے اس دعوے کے دونوں جزئوں کو خواجہ حالی مرحوم نے کیا اچھا بتایا ہے۔ فرماتے ہیں:

  1. جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت

    ادا کرچکی فرض اپنا رسالت

  2. رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی حجت

    نبی نے کیا خلق سے قصد رحلت

  3. تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی

    کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی

  4. سب اسلام کے حکم بردار بندے

    سب اسلامیوں کے مددگار بندے

  5. خدا اور نبی کے وفادار بندے

    یتیموں کے رانڈوں کے غم خوار بندے

  6. رہ کفر وباطل سے بیزار سارے

    نشے میں مئے حق کے سرشار سارے

  7. جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے

    کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے

  8. سر احکام دیں پر جھکا دینے والے

    خدا کے لئے گھر لٹا دینے والے

  9. ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے

    فقط ایک اللہ سے ڈرنے والے

یہ تو ہے ان کی مذہبی اور اخلاقی کیفیت کا نقشہ، اب دیکھئے ان کی علمی اور سیاسی تصویر!

  1. گھٹا اک پہاڑوں سے بطحا کے اٹھی

    پڑی چار سو یک بیک دھوم جس کی

  2. کڑک اور دمک دور دور اس کی پہنچی

    جو ٹیکس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی

115
  1. رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی

    ہری ہوگئی ساری کھیتی خدا کی

  2. کیا امیوں نے جہاں میں اجالا

    ہوا جس سے اسلام کو بول بالا

  3. بتوں کو عرب اور عجم سے نکالا

    ہر ایک ڈوبتی نائو کو جا سنبھالا

  4. زمانے میں پھیلائی توحید مطلق

    لگی آنے گھر گھر سے آواز حق حق

  5. ہوا غلغلہ نیکیوں کا بدوں میں

    پڑی کھلبلی کفر کی سرحدوں میں

  6. ہوئی آتش افردہ آتش کدوں میں

    لگی خاک سی اڑنے سب معبدوں میں

  7. ہوا کعبہ آباد سب گھر اجڑ کر

    جمے ایک جا سارے دنگل بچھڑ کر

  8. لئے علم وفن ان سے نصرانیوں نے

    کیا کسب اخلاق روحانیوں نے

  9. ادب ان سے سیکھا صفاہانیوں نے

    کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے

  10. ہر ایک دل سے رشتہ جہالت کا توڑا

    کوئی گھر نہ دنیا میں تاریک چھوڑا

  11. ارسطو کے مردہ فنوں کو جلایا

    فلاطوں کو پھر زندہ کر کے دکھایا

  12. ہر ایک شہر وقریہ کو یوناں بنایا

    مزا علم وحکمت کا سب کو چکھایا

  13. کیا برطرف پردہ چشم جہاں سے

    جگایا زمانہ کو خواب گراں سے

  14. ہر اک میکدہ سے بھرا جا کے ساغر

    ہر اک گھاٹ سے آئے سیراب ہوکر

  15. گرے مثل پروانہ ہر روشنی پر

    گرہ میں لیا باندھ حکم پیمبر

  16. کہ حکمت کو اک گم شدہ لال سمجھو

    جہاں پائو اپنا اسے مال سمجھو

  17. ہر ایک علم کے فن کے جو یا ہوئے وہ

    ہر اک کام میں سب سے بالا ہوئے وہ

  18. فلاحت میں بے مثل و یکتا ہوئے وہ

    سیاحت میں مشہور دنیا ہوئے وہ

  19. ہر ایک ملک میں ان کی پھیلی عمارت

    ہر اک قوم نے ان سے سیکھی تجارت

  20. کیا جا کے آباد ہر ملک ویراں

    مہیا کئے سب کی راحت کے ساماں

  21. خطرناک تھے جو پہاڑ اور بیاباں

    انہیں کر دیا رشک صحن گلستاں

  22. بہار اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے

    یہ سب پود انہی کی لگائی ہوئی ہے

  23. یہ ہموار سڑکیں یہ راہیں مصفّا

    دو طرفہ برابر درختوں کا سایا

  24. نشان جا بجا میل وفرسخ کے برپا

    سر راہ کنویں اور سرائیں مہیا

116
  1. انہی کے ہیں سب نے یہ چربے اتارے

    اسی قافلہ کے نشان ہیں یہ سارے

  2. سدا ان کو مرغوب سیرو سفر تھا

    ہر اک براعظم میں ان کا گزر تھا

  3. تمام ان کا چھانا ہوا بحر وبر تھا

    جو لنکا میں ڈیرا تو بربر میں گھر تھا

  4. وہ گنتے تھے یکساں وطن اور سفر کو

    گھر اپنا سمجھتے تھے ہر دشت ودر کو

  5. جہاں کو ہے یاد ان کی رفتار اب تک

    کہ نقش قدم ہیں نمودار اب تک

  6. ہیں سیلون میں ان کے آثار اب تک

    انہیں رو رہا ہے ملیبار ابتک

  7. ہمالہ کو ہیں واقعات ان کے ازبر

    نشان ان کے باقی ہیں جبر الٹر پر

مختصر یہ کہ آنحضرتﷺ کی اصلاحات مذہبی اور اخلاقی کا کوئی منکر ہوتو ہو مگر اس امر سے کوئی منکر نہیں اور نہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مخاطب قوم کو اپنی زندگی ہی میں تختۂ ذلت سے اٹھا کر تخت عزت پر بٹھا دیا۔ گویا اس شعر کا مضمون سمجھا دیا:

  1. دل کس ادا سے لیتے ہو بتلا دیا کہ یوں

    آہن کو مقناطیس پہ دکھلا دیا کہ یوں

ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کامیابی کو کن لفظوں میں بیان کریں۔ کیوں کہ نہ اس کا کوئی منکر ہے نہ اس کی کوئی مثال ہے۔ یہ ایک کھلی صداقت ہے۔ حضورm کے ہر کام سے حتی کہ نبوت ورسالت بلکہ صداقت کلام سے بھی کوئی دشمن انکار کرسکتا ہے۔ مگر حضورﷺ کے اس کام سے انکار نہیں کرسکتا کہ حضورﷺ کو سیاسی حیثیت سے جو کامیابی ہوئی کسی نبی کو نہیں ہوئی۔

اللہم صلّ علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراہیم وعلٰی آل ابراہیم انّک حمید واجعلنا من اتّباعہٖ آمین!

محمد قادیانی کے کارہائے نمایاں

مرزا غلام احمد (محمد قادیانی) اپنی بعثت کے مقاصد یوں لکھے ہیں:

۱… ’’تمام دنیا میں اسلام ہی اسلام ہو کر وحدت قومی ہوجائے گی۔‘‘

(ملخص چشمہ معرفت ص۸۲، ۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۰، ۹۱)

۲… ’’مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہوجائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمانوں کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا۔‘‘

۳… ’’غیر معبود مسیح وغیرہ کی پوجا نہ رہے گی اور خدائے واحد کی عبادت ہوگی اور

117

عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے۔ دنیا اس کو بالکل بھول جائے، خدائے واحد کی عبادت ہو۔‘‘ وغیرہ۔

(مقولہ مرزا در اخبار الحکم ج۹ نمبر۲۵ مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۵ء ص۱۰ کالم۴)

یہ مقاصد کہاں تک پورے ہوئے۔ سردست ہمیں اس سے بحث نہیں۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ’’میں تمام دنیا کی اصلاح کے لئے آیا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۱ خزائن ج۲۲ ص۱۵۵)

اصلاح کہاں تک ہوئی؟ سب کو معلوم ہے کہ اور تو اور مسلمان بھی دن بدن فسق وفجور میں ترقی کررہے ہیں۔ مگر ہمارا موضوع اس وقت خاص ہے جو بالکل نمایاں ہے۔ وہ یہ کہ چاہئے تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی اپنے انتقال کرنے سے پہلے دیکھ لیتے کہ مسلمان یا کم سے کم ان کے اتباع مثل اتباع محمد اول (a) تختۂ ذلت سے اٹھ کر تخت عرب پر متمکن ہوگئے۔ اسی طرح ان کی اپنی حکومت ہوتی۔ ان کا سکہ رواں ہوتا۔ ان کے نام کے خطبے پڑھے جاتے۔ غرض سیاسی حیثیت میں ان کا وہی رتبہ ہوتا جو محمد اول(a) اور ان کے اتباع کو بتائید الٰہی حاصل ہوا تھا۔ مگر آہ! ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی اس بارے میں بالکل فیل نظر آتے ہیں۔ آپ کی سیاسی حیثیت ساری عمر اخیر دم تک یہ رہی کہ آپ انگریزی حکومت کے ماتحت رہے۔ نہ صرف ماتحت رہے بلکہ اس کی غلامی اور خدمت گزاری کو اپنا مقصد وحید ظاہر کرتے رہے۔ چنانچہ اس خدمت گزاری کو بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اورحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہوجائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیںان کے دلوں سے معدوم ہوجائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵ خزائن ج۱۵ ص۱۵۵، ۱۵۶)

ناظرین! ہمیں اس وقت نہ تو مرزا قادیانی کے اس شاعرانہ مبالغہ پر سوال ہے کہ آپ نے انگریزی حکومت کی خدمت گزاری میں اتنی کتابیں کوں سی لکھیں جن سے پچاس الماریاں

118

بھریں۔ نہ اس خدمت کے حسن وقبح پر بحث ہے۔ بلکہ سوال صرف یہ ہے کہ آپ محمد ثانی ہو کر محمد اول (m) کے مشابہ بنتے تھے۔ مگر آپ کا یہ کام آپ کے دعوے کی تکذیب کرتا ہے اور بس:

  1. آپ ہی اپنے ذرہ عدم وفا کو دیکھو

    ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

قرآن مجید میں مسلمانوں کو ارشاد ہے:

’’اطیعو اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم (نساء:۵۹)‘‘ اللہ کی تابع داری کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے حکومت والوں کی اطاعت کرو۔‘‘

اس آیت میں جو لفظ اولی الامر آیا ہے اس کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزی حکومت کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں۔‘‘

(ضرورت الامام ص۲۳ خزائن ج۱۳ ص۴۹۳)

یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی انگریزوں کی رعیت تھے اور رعیت ہونے پر قانع بلکہ خوش تھے اور اپنے اتباع کو انگریزی رعیت رہنے کی تاکید کرتے تھے۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ جنگ عظیم میں جب ترکوں کی اسلامی حکومت بغداد سے اٹھی اور انگریزی حکومت غالب آئی تو قادیانی اخبار میں مندرجہ ذیل نوٹ نکلا:

اسی کا نتیجہ ہے کہ جنگ عظیم میں جب ترکوں کی اسلامی حکومت بغداد سے اٹھی اور انگریزی حکومت غالب آئی تو قادیانی اخبار میں مندرجہ ذیل نوٹ نکلا:

’’میں اپنے احمدی بھائیوں کو جو ہر بات میں غور اور فکر کرنے کے عادی ہیں ایک مژدہ سناتا ہوں کہ بصرہ اور بغداد کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ہماری محسن گورنمنٹ کے لئے فتوحات کا دروازہ کھول دیا ہے، اس سے ہم احمدیوں کو معمولی خوشی حاصل نہیں ہوئی بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں برسوں کی خوشخبریاں جو الہامی کتابوں میں چھپی ہوئی تھیں آج ۱۳۳۵ھ میں وہ ظاہر ہوکر ہمارے سامنے آگئیں۔ اس بات سے میرے غیر احمدی بھائی ناراض ہوں گے لیکن اگر غور کریں تو اس میں ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔ کیوں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) جب دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت دجلہ فرات خشک ہوچکے تھے۔ یعنی وہ حقیقی اسلام کا پانی جس نے آسمان سے اتر کر ان ملکوں کوسیراب کیا تھا آسمان پر اٹھایا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت ’’وانّا علٰی ذہاب بہ لقادرون‘‘ میں اشارہ فرمایا اور حضرت اقدس اس کے متعلق (ازالہ اوہام ص۳۳۸) پر تحریر فرماتے ہیں:

’’اور آیت ’’وانّا علٰی ذہاب بہ لقادرون‘‘جس کے بحساب جمل ۱۲۷۴ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی سلخ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس میں نئے چاند کے نکلنے کی

119

اشارت چھپی ہوئی ہے۔ جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔ الغرض مدت کی پیش گوئیاں آج پوری ہورہی ہیں۔ ہمارے بھائیوں کو چاہئے کہ ان پر غور کریں۔ ’’فشکر اللہ کل الشکر علی ما امننا من کل خوف تحت ظل ہذہ الدولۃ البرطانیۃ المبارکۃ للضعفاء وکہف اللہ للفقراء والغربا وسوط اللہ علی کل عبد ذی الخیلا… اللہم فاجز ذالک الملک مناحیر جزائک وانصرہ علی اعدائہ اعدائک وادخلہ من کل شر فی ذراک وارزقہ من نعمائک واہل قبلہ وذراریہ الٰی دینک دین اسلام‘‘

(اخبار الفضل مؤرخہ ۱۰، ۱۳؍اپریل ۱۹۱۷ء ص۳،۴)

ناظرین! مرزا قادیانی کی خدمات خادمانہ متعلقہ حکومت برطانیہ پڑھ کر ان کا دعویٰ ایک بار پھر پڑھیں جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’جب کہ مجھ (مرزا) کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے اس وجہ سے کہ ہمارا آقا مخدوم (یعنی آنحضرتﷺ) تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ (اصلاح دنیا) کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۱ خزائن ج۲۲ ص۱۵۵)

انصاف: اس عبارت اور اس جیسی متحدیانہ عبارات کو دیکھ کر انصاف کی ضرورت ہے۔ کیا مرزا قادیانی ان دعاوی کو ثابت کرگئے؟ انصاف ناظرین پر چھوڑتے ہیں۔

ناظرین! کیا یہی وہ سیاسی غلبہ ہے جس کی بنا پر محمد قادیانی محمد اول (m) سے مشابہت دکھا سکتے ہیں؟

کیا اس واقعہ میں کسی اپنے پرائے کو شک ہے؟ کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ انتقال کے وقت شاہانہ حیثیت رکھتے تھے اور مرزا قادیانی (محمد ثانی) غلامی کا طوق زیب گلو کئے ہوئے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور حکومت برطانیہ کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں:

میں وہ نہیں ہوں کہ تجھ بت سے دل مرا پھر جائے

پھروں میں تجھ سے تو مجھ سے مرا خدا پھر جائے

قادیانی دوستو! اتنے بڑے دعاوی کا مدعی یوں بے نیل مرام چلاجائے تو اس کے حق میں یہ شعر صادق آئے گا یا نہیں؟

  1. کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا

    نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

120

ضمیمہ کتاب ہذا (مرزا غلام احمد قادیانی) کے دعاوی

مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

۱… ’’جاننا چاہئے کہ یہ کمالات متفرقہ اس امت میں جمع کرنے کا کیوں وعدہ دیا گیا؟ اس میں بھید یہ ہے کہ ہمارے نبیﷺ جامع کمالات متفرقہ ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’فبہداہم اقتدہ‘‘ یعنی تمام نبیوں کو جو ہدایتیں ملی تھیں ان سب کا اقتداء کر۔ پس ظاہر ہے کہ جو شخص ان تمام متفرق ہدایتوں کو اپنے اندر جمع کرے گا اس کا وجود ایک جامع وجود ہوجائے گا اور تمام نبیوں سے وہ افضل ہوگا …پس اس دعا کے سکھانے میں جو سورۂ فاتحہ میں (صراط الذین الخ) ہے۔ یہی راز ہے کہ تاکاملین امت جو نبی جامع الکمالات کے پیرو ہیں وہ بھی جامع الکمالات ہوجائیں۔ پس افسوس ہے ان لوگوں پر جو اس امت کو ایک مردہ امت خیال کرتے ہیں اور خدا تو جامع الکمالات ہونے کے لئے ان کو دعا سکھاتا ہے۔ مگر وہ محض مردہ رہنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میرے پر مسیح ابن مریم کی طرح وحی نازل ہوتی ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۶۶،۶۷ خزائن ج۲۰ ص۳۸۱)

اس اجمال کی تفصیل مرزا قادیانی نے یوں کی:

۲… ’’خدائے تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاءo کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحٰق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں دائود ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرتﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی حاشیہ ص۷۳ خزائن ج۲۲ ص۷۶)

  1. کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳ خزائن ج۲۱ ص۱۳۳)

۴… آپ کا یہ بھی قول ہے:’’دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے میں آدم ہوں،میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحٰق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں دائود ہوں، میں

121

عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد (a) ہوں یعنی بروزی طور پر۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۸۴، ۸۵ خزائن ج۲۲ ص۵۲۱)

  1. کر۱؎بلائے است سیر ہر آنم

    صد حسین است در گریبانم

  2. آدمم نیز احمد مختار

    در برم جامۂ ہمہ ابرار

  3. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام مرا بتمام

(نزول المسیح ص۹۹ خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

  1. منم۲؎ مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵، ص۱۳۴)

۷… ’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ کہ وہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہوجائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا (یسوع مسیح) نظر نہ آئے۔ دنیا اس کو بھول جائے اور خدائے واحد کی عبادت ہو۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان ج۹ نمبر۲۵، ۱۷جولائی ۱۹۰۵ء ص۱۰ کالم۴)

۸… ’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلائوں اور آنحضرت کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘(البدر ج۲ نمبر۲۹،ص۴، جولائی ۱۹۰۶ء ، ’’المہدی‘‘ نمبر۱ ص۴۳ از حکیم محمد حسین قادیانی، مکتوبات احمد ج۱، ص۴۹۸ مکتوب۲۹)

۱؎ ترجمہ: میں ہر آن کربلا میں سیر کرتا ہوں۔ سو امام حسین تو میری جیب میں ہیں۔ میں آدم ہوں حضرت احمد ہوں۔ تمام نیکیوں کے لباس میں ہوں۔ خدا نے جو پیالیاں ہر نبی کو دی ہیں۔ ان پیالیوں کا مجموعہ مجھے دیا ہے۔

۲؎ ترجمہ: میں زمانہ کا مسیح ہوں، میں موسیٰ کلیم اللہ ہوں۔ میں محمد ہوں، میں احمد برگزیدہ ہوں۔

122

نتیجہ: یہ دعاوی مرزا قادیانی کے اصلی الفاظ میں پیش کرکے ہم اپنے ناظرین سے عموماً اور احمدی احباب سے خصوصاً سوال کرتے ہیں کہ کیا مسلمان ایسے متقی بن گئے؟ کیا ان میں صداقت، دیانت، پاکبازی، اور راست گوئی وغیرہ صفات حسنہ سب پیدا ہوگئیں؟ کیا صلیب توڑی گئی؟ کیا عیسیٰ پرستی کا ستون گرگیا؟ کیا عیسائیوں کے معبود ’’یسوع مسیح‘‘ کو دنیا بھول گئی؟ کیا مشرق ومغرب دنیا میں اسلام پھیل گیا؟ کیا مرزا قادیانی مدعی ابھی مرے نہیں؟

ان سوالوں کا جواب صرف ایک ہی ہے جس سے کسی کو انکار نہیں کہ ’’عیسیٰ پرستی اور صلیب پرستی دن بدن بڑھ رہی ہے۔

ہمارا دعویٰ احمدیوں کو اگر غلط معلوم ہو تو وہ خود اپنا بیان سنیں۔ لاہور احمدی جماعت کا آرگن اخبار ’’پیغام صلح‘‘ لکھتا ہے:’’آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے ہندوستان میں عیسائیوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ آج پچاس لاکھ کے قریب ہے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ۶؍مارچ ۱۹۲۸ء)

اور سنئے:’’۱۹۲۷ء میں عیسائیوں نے ۱۹لاکھ ۸ ہزار نسخے ہندوستان کی مختلف زبانوں میں بائبل کے شائع کئے ہیں۔‘‘

(پیغام صلح ۱۳؍مارچ ۱۹۲۸ء)

اور مفصل سنئے اور دل لگا کر سنئے! آپ کو معلوم ہوگا کہ عیسیٰ پرستی کا ستون کہاں تک گرا ہے یا گڑا ہے۔ ’’پیغام صلح‘‘ بتاتا ہے:

مسیحی انجمنیں

’’اس وقت دنیا میں مسیحیت کی اشاعت کے لئے جو بڑی بڑی انجمنیں سرگرمی اور مستعدی سے کام کررہی ہیں ان کی تعداد سات سو ہے اور یہ صرف انگلیکن اور پراٹسٹنٹ سوسائیٹیاں ہیں۔ رومن کیتھولک کلیسا کی جمعیتیں ان کے علاوہ ہیں۔ ۱۹۲۳ء میں جن ممالک نے اول الذکر انجمنوں کو مالی امداد دی، ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔

امریکہ: ۹۷لاکھ ۳۶ہزار ۳سو۵۳پونڈ۔

کینیڈا: ۷لاکھ ۲۲ہزار ۹۴پونڈ۔

برطانی جماعتیں: ۲۷لاکھ ۶۹ ہزار ۳سو ۵۳ پونڈ۔

ناروے، سویڈن، ہالینڈ وسوئٹزر لینڈ: ۷لاکھ ۸۰ہزار ۹سو۲۰پونڈ۔

123

جرمنی: ۶ہزار ۳ سو۹۵پونڈ۔

میزان: ایک کروڑ ۴۱لاکھ ۱۴ہزار ۸ سو ۴۶پونڈ۔

’’یہ اعداد صاف بتا رہے ہیں کہ مسیحی جماعتوں کی منظم تبلیغی کوشش ایک ایسا سٹیم رولر ہے جو ان کی ترقی اور کامیابی کا راستہ تیار کررہاہے۔‘‘

(پیغام ۲۶؍اکتوبر ۱۹۲۸ء ص۱)

مرزائی دوستو! مذہب کا تعلق اس خدا کے ساتھ ہے جو دلوں کے مخفی حالات سے بھی واقف ہے جس کے سامنے زبان کی باتیں کام نہ آئیں گی بلکہ دل کے صحیح خیالات کام آئیں گے۔ ’’الّا من اتی اللہ بقلب سلیم‘‘

پس تم زبانی باتیں کرنے کی بجائے دل میں سوچو کہ محمد اول (a) نے جو واقعات اپنی زندگی میں ہونے کی خبریں دی تھیں وہ صاف صاف طور پر پورے ہوئے تو محمد (قادیانی) کے بتائے ہوئے پورے کیوں نہ ہوئے؟ حالاں کہ مرزا صاحب (محمد قادیانی) کا دعویٰ ہے کہ:

’’ اللہ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔ ’’محمد مفلح‘‘۔

(ملفوظات ج۷ ص۳۹۹، اخبار الحکم مؤرخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۰۵ء ص۳ کالم ۲)

مفلح کے معنی نجات یابندہ اور نجات دہندہ ہیں۔ مرزا قادیانی کے اسماء میں محمد مفلح کا مرکب نام ہونا اسی غرض سے ہوسکتا ہے کہ آپ بھی محمد اول (a) کی طرح مسلم قوم کو یا کم سے کم احمدیہ امت کو غیر حکومت کی غلامی سے آزادی دلاتے۔ مگر آہ! افسوس کچھ بھی نہ ہوا۔ جس پر ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اپنی قسمت پر روئیں یا مرزا قادیانی کی ناکام تشریف بری پر افسوس کریں۔ اس نامرادی اور ناکامی کا گلہ ہم کن لفظوں میں کریں۔ اس وقت ہمارے دل کو سخت صدمہ ہے۔ اس صدمہ کی حالت میں ہمارے قلت سے یہی شعر نکلتا ہے:

  1. کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا

    نامرادی میں ہواہے ترا آنا جانا

اس ٹریکٹ کا خاص موضوع اور اختصار تطویل سے مانع ہے۔

ورنہ با تو ماجراء داشتیم

وما علینا الا البلاغ المبین

خادم دین اللہ … ابوالوفاء ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسری

124

قادیانی حلف کی حقیقت

و

خدا کی قسم میں مرزا قادیانی کو

الہامی دعوٰی میں سچا نہیں مانتا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

125

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار ’’اہل حدیث‘‘ امرتسر مؤرخہ ۹؍فروری ۱۹۴۰ء میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ: ’’سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین صاحب نے اپنی کتاب میں اپنے اشتہارات کا تو ذکر کیا ہے مگر میرے جوابات کا ذکر نہیں کیا اس لئے رسالہ قادیانی حلف کی حقیقت کی خوب اشاعت کریں۔ اگر ختم ہوگیا ہو تو اس کو دوبارہ طبع کرا کر تقسیم کریں تاکہ سیٹھ عبد اللہ صاحب نے اپنی کتاب میں جو اخفائے حق سے کام لیا ہے اس کے مقابلہ میں اظہار حق ہوجائے۔‘‘

اخبار ’’اہل حدیث‘‘ امرتسر مؤرخہ ۹؍فروری ۱۹۴۰ء میں اسی حلف کی نسبت جو مضمون شائع ہوا ہے وہ بغرض آگاہی پبلک ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

چوہدری فتح محمد سیال ایم۔اے قادیانی، سیٹھ عبد اللہ الہٰ دین سکندرآبادی کا ذکر خیر

اوّل الذکر علم کی حیثیت سے مؤخر الذکر مالی انفاق کی وجہ سے قادیانی جماعت میں معزز ترین اشخاص میں سے ہیں۔ اس لئے ہم بھی ان کو اپنے مخاطبین میں داخل کرتے ہیں۔ آج ہم ان دونوں صاحبوں کی توجہ فرمان خداوندی کی طرف منعطف کراتے ہیں۔ ارشاد ہے:

۱…’’یوم لایغنی مولًی عن مولًی شیئاً‘‘(جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئے گا۔)

۲…’’ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم‘‘(اس دن سچوں کا ان کا سچ فائدہ دے گا)

یہ ہر دو فرمان خداوندی متلاشیٔ حق انسان کی ہدایت کے لئے کافی ہیں۔ کہنے کو تو ہر ایک فریق بلکہ ہر ایک شخص اپنے کو ان ارشادات کا پابند ظاہر کرتا ہے لیکن صرف کہہ دینا ہی کافی نہیں۔ اگر کافی ہوتا تو تیسرا ارشاد خداوندی ’’وعلی اللہ قصدالسبیل ومنہا جائرٌ‘‘ (سب مذاہب کا مقصود خدا رسی ہے۔ مگر ان میں سے بعض مذاہب ٹیڑھے ہیں)قرآن مجید میں وارد نہ ہوتا۔ اسی آخری آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مدعیان حق کا محض دعویٰ ہی کافی نہیں ہے۔ جب تک اس کے مطابق نہ ہو۔ پس ہم اس ارشاد کے ماتحت ان دونوں صاحبوں کی حق پسندی اور حق گوئی کو جانچنا چاہتے ہیں۔

126

چوہدری فتح محمد صاحب قادیانی حکومت میں ایک بڑے عہدے (نظارت اعلیٰ) پر ممتاز ہیں۔ کیا بلحاظ علم وفضل نظارت اعلیٰ کے ان کی نظر بہت وسیع ہونی چاہئے تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا اہم واقعہ ان کی نظر سے اوجھل رہا ہے۔ ہم یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ آیت ’’وعلٰی ابصارہم غشاوۃ‘‘نے اپنا جلوہ دکھایا ہے یا مصرع ’’بدو زد طمع دیدہ ہوشمند‘‘ نے اپنا اثر ڈالا ہے۔ بہرحال واقعات جو کچھ بھی ہیں ہم آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ آپ کا مضمون جو آپ نے قادیانی خلافت جوبلی کے جلسہ میں پڑھا تھا اور جو قادیانی اخباروں اور رسالوں میں بڑی عزت کے ساتھ درج ہوا ہے۔ اس کو اہل حدیث مؤرخہ ۸؍دسمبر ۱۹۴۹ء میں بروایت رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ نقل کرکے جواب دیا گیا تھا۔ اس جواب میں ایک فقرہ جس پر ساری گفتگو کا مدار تھا۔ آج اس کی مزید تشریح اس لئے کی جاتی ہے کہ چوہدری صاحب کا یہی مضمون ’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۱؍جنوری(۱۹۵۰ء) میں ہماری نظر سے گزرا ہے۔ اس بحث کا مرکزی نقطہ اصل میں یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا اشتہار آخری فیصلہ جو میرے متعلق شائع ہواہے۔ کس غرض سے تھا اور اس کا مطلب کیا ہے۔ ان دونوں سوالوں کا جواب مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں صاف ملتا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

’’اے اللہ ! مولوی ثناء اللہ نے مجھے بہت ستایا ہے وہ میرے قلعے کو منہدم کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کو میری طرف آنے سے روکتا ہے۔ اس لئے میں تیری درگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں سچا فیصلہ فرما۔ اس فیصلے کی صورت یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے اس کو سچے کی زندگی میں فوت کردے۔ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین (المشتہر: مرزا غلام احمد مسیح موعود ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء)‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹)

اس آخری فیصلے کا نتیجہ نمایاں ہے۔ عیاں راچہ بیاں کہ مرزا قادیانی کو انتقال کئے ہوئے آج بتیس سال ہونے کو ہیں مگر ان کا مخاطب آج تک زندہ ہے جو یہ سطور لکھ رہا ہے۔ چوں کہ یہ واقعہ بڑا اہم اور فیصلہ کن ہے۔ اس لئے جن لوگوں کے حق میں ارشاد خداوندی:

’’ان یروسبیل الرشد لایتخذوہ سبیلاً (اعراف:۱۴۶)‘‘وارد ہوا ہے۔ وہ لوگ بما تحت ارشاد ’’یبغونہا عوجا‘‘ اس صاف وشفاف فیصلے کو مکدر کرنے کی کوشش میں شروع سے لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے دو صاحب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ایک مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے لاہوری ہیں۔ دوسرے چوہدری فتح صاحب سیال ایم۔اے

127

قادیانی۔ ان کے علاوہ جو صاحب بھی ہوں وہ دوسرے درجہ پر ہمارے مخاطب ہیں۔ مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ ’’آیت اللہ ‘‘ میں اور چوہدری فتح محمد صاحب نے اپنی تقریر جلسہ سالانہ میں جو کچھ کہا ہے اس میں ایک امر پر دونوں متفق ہیں۔ وہ امر یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ۱۸۹۶ء میں جو کتا ب انجام آتھم لکھی تھی۔ اس میں چند علماء اور صوفیاء کو مباہلے کی دعوت دی تھی (اس کا انجام کیا ہوا یہ ایک الگ مضمون ہے) ان مدعوین میں میرا نام بھی تھا۔ ناظرین! اس واقعہ کو ذہن نشین کرکے چوہدری صاحب کے الفاظ سنیں:

’’مولوی ثناء اللہ صاحب کی لمبی عمر‘‘

’’آخر میں میں ایک اور بات کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو ہر فتنہ میں فتح عطا فرمائی ہے۔ گویا ابتدا میں بھی وسط میں بھی اور آخر زمانہ میں بھی فتح عطا کی۔ آخر میں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح بخشی وہ یہ ہے کہ ۱۸۹۷ء سے لے کر ۱۹۰۷ء تک بارہا حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ مگر وہ ہر بار اس سے بھاگتے اور پہلو تہی کرتے رہے اور قطعاً سامنے نہ آئے۔ مگر اب کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے میرے ساتھ مقابلہ کرنے کی وجہ سے وفات پائی ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ص۵، ۲۱؍جنوری ۱۹۴۰ء)

اہل حدیث: یہی مضمون مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے جس کا جواب مدلل بواقعات صحیحہ بارہا شائع ہوچکا ہے۔ ان دونوں صاحبوں کا مطلب یہ ہے کہ آخری فیصلے کا مضمون دراصل مباہلے کی دعوت تھی جو مولوی ثناء اللہ کے نہ ماننے سے منعقد نہ ہوا۔

جواب: جواب دینے سے پہلے ہم ایک عدالتی مثال پیش کرتے ہیں کہ کسی شخص (زید) نے بذریعہ وکیل عمر پر ایک صد روپے کا دعویٰ دائر کیا اور وکیل صاحب نے رقم لینے کی رسید مؤرخہ یکم جنوری پیش کی۔ مگر فریق مدعاعلیہ نے چپکے سے مدعی کی دستخطی رسید مؤرخہ یکم فروری پیش کردی جس میں یکم جنوری کے قرضہ کی وصولی کا اقرار مرقوم تھا۔ اس پر دعویٰ خارج ہوگیا۔ وکیل صاحب بدیں وجہ کہ مجھے حقیقت سے آگاہ نہ کیا۔ مدعی کو کوستے ہوئے کمرۂ عدالت سے باہر نکل آئے۔

ناظرین کرام! بعینہٖ یہی مثال ان دونوں وکیلوں کی ہے ہم بھی مدعی کی رسیدپیش کرتے ہیں۔ وہ قانونی وکیل تو شرمندہ ہوگیا تھا۔ دیکھیں کہ یہ مذہبی وکیل شرمندہ ہوتے ہیں

128

یا نہیں۔ اخبار ’’الحکم‘‘ قادیان مؤرخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء کے ص۱۹ پر ایک مضمون ہے جس کے الفاظ مع سرخی یہ ہیں کہ: ’’مباہلے کے واسطے مولوی ثناء اللہ امرتسری کا چیلنج منظور کیا گیا‘‘

’’حضرت اقدس (مرزا صاحب) نے پھر بھی اس (مولوی ثناء اللہ ) پر رحم کرکے فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو جب کہ ہماری کتاب حقیقت الوحی چھپ کر شائع ہوجائے۔ اس کتاب میں ہر قسم کے دلائل سلسلۂ حقہ کے ثبوت میں خلاصۃً بیان کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب مولوی ثناء اللہ کو بھیج دی جائے گی تاکہ وہ اس کو اوّل سے آخر تک بغور پڑھ لے۔ اس کتاب کے ساتھ ایک اشتہار بھی ہماری طرف سے شائع ہوگا جس میں ہم یہ ظاہر کردیں گے کہ ہم نے مولوی ثناء اللہ کے چیلنج کو منظور کر لیاہے۔‘‘

(الحکم ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء)

فخریہ تصدیق: مولوی اللہ دتہ جالندھری اس عبارت پر جس فخر کے ساتھ حاشیہ آرائی کرتا ہے وہ بھی قابل ملاحظہ ہے لکھتا ہے کہ: ’’گویا حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) اس صید لاغر۱؎ (ثناء اللہ ) کو چند روز کی مہلت دینا چاہتے تھے اور حقیقت الوحی کی طباعت کے بعد پر اسے ملتوی کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ عبارت بالا سے ظاہر ہے۔‘‘

(رسالہ تفہیمات ربانیہ ص۶۳۸ بار دوم)

ناظرین! اس پرافتخار عبارت کو ذہن میں رکھ کر چوہدری فتح محمد صاحب کی حق پوشی کا اندازہ کیجئے۔

مرزا قادیانی کے راسخ مریدو! میں بماتحت آیت ’’ان تقوموا ﷲ مثنٰی وفرادی‘‘خدائے علیم وخبیر کی جلالت کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ عبارت آپ لوگوں نے کبھی دیکھی ہے؟ اگر دیکھی ہے تو اس کا مطلب کیا سمجھا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی پوچھتا ہوں کہ کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء کو شائع ہوئی تھی اور دعائے آخری فیصلہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو…۔

غور کرو کہ دعائے آخری فیصلہ کو مباہلہ کیوں کر قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ مباہلہ کتاب حقیقت الوحی کی اشاعت (ماہ مئی ۱۹۰۷ء) کے بعد ہونا تھا۔ کیا قادیان میں ماہ اپریل ماہ مئی کے بعد آتا ہے۔ یہ ہے اس بحث کا مرکزی نقطہ۔ جسے قادیانی مناظر اس شریف قوم کی طرح چھپاتے رہتے ہیں جس نے دربار رسالت میں حکم رجم کو چھپایا تھا۔

۱؎ جانتے ہو شیخ سعدیؒ کیا کہتے ہیں:

  1. اسپ لاغر میاں بکار آید

    روز میداں نہ گود پرداری

129

احمدی دوستو!:

قریب ہے یار! روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا

خلاصہ کلام: چوہدری فتح محمد کا یہ کہنا کہ سلسلۂ مباہلہ ۱۸۹۷ء سے ۱۹۰۷ء تک جاری رہا اور آخری فیصلہ والا اشتہار اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی بالکل غلط اور دفع الوقتی پر مبنی ہے بلکہ مرزا قادیانی کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ اب ہم چوہدری صاحب سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو سچا کہیں یا مرزا قادیانی کو؟ مرزا قادیانی کو جھوٹا کہیں یا آپ کو؟ اس کا جواب دینا آپ کا کام ہے۔

نوٹ: ہم نے قادیانی اور لاہوری اتباع مرزا کو بارہا تنبیہ کی ہے کہ وہ ’’اہل حدیث‘‘ کو جواب دیتے ہوئے ذرا سوچ لیا کریں کہ سامنے کون ہے۔ یاد رکھیں ان کے سامنے وہی ہے۔ جس کا قول ہے:

  1. پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں

    جلا کے خاک نہ کردوں تو داغ نام نہیں

سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین سکندرآبادی: چوہدری فتح محمد کے بعد ہم سیٹھ صاحب کا ذکر کرتے ہیں۔ جنہوں نے ایک کتاب (بشارت رحمانیہ) لکھ کر یا لکھوا کر شائع کی ہے۔ جس کا ایک نسخہ ہمیں بھی بھیجا ہے (شکریہ) آپ مرزا قادیانی کے پکے مرید ہیں۔ آپ نے اپنی حسن نیت اور اخلاص کا ذکر اس کتاب میں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے قادیانی مذہب کی خدمت کے لئے تین لاکھ روپیہ خرچ کیا ہے۔ کیا ہوگا۔ مگر کاہے کو؟ مرزا قادیانی کا حلقہ مسیحیت وسیع کرنے کو سو اس کے متعلق آیت قرآنی سن رکھیں۔ جو اس قسم کے اخراجات کے لئے بدیں الفاظ وارد ہے:

’’فسینفقونہا ثم یکون علیہم حسرۃً ثم یغلبون (الانفال)‘‘ (منکرین حق اشاعت باطل میں خوب خرچ کریں گے۔ آخر کار یہ خرچ ان پر حسرت وافسوس کا موجب ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے)

ہاں آپ نے بھی باتباع سنت مرزا اخفائے حق سے کام لیا ہے۔ ۱۹۲۳ء کا واقعہ ہے کہ احباب دکن کی دعوت پر میں اور مولوی محمد صاحب دہلوی سکندرآبادی (حیدرآباد دکن) پہنچے وہاں مجالس وعظ میں قادیانی تردید کے مضامین بیان ہوتے رہے۔ ہر درجے کے

130

لوگ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتے تھے۔ جس سے مرزائی کیمپ میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ ایک تحریری مباحثہ بھی ہوا۔ جس کی روئیداد بصورت رسالہ مباحثہ دکن مطبوعہ مل سکتی ہے۔ اسی اثناء میں سیٹھ عبد اللہ الہ دین نے ایک انعامی اشتہار دیا۔ جس میں مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اپنے عقائد اور مرزا قادیانی کے کذب پر حلف اٹھائوں۔ اگر اس حلف کے بعد میں ایک سال تک زندہ رہوں تو وہ مجھے دس ہزار روپیہ انعام دیں گے۔ میں نے اس کے جواب میں وہیں بذریعہ اشتہار ان کو اطلاع دی اور اشتہار کا مسودہ ہزاروں کے مجمع میں پڑھ کر سنایا۔ جس کی صحت سب نے تسلیم کی۔ اس کا مضمون یہ تھا کہ:

میں سیٹھ عبد اللہ الہ دین کا مطالبہ پورا کرنے کو تیار ہوں۔ بشرطیکہ وہ مجھے دس ہزار روپیہ دینے کی بجائے منظوریٔ خلیفہ صاحب قادیان صرف یہ اقرار شائع کردیں کہ میں اگر حلف کے بعد ایک سال تک زندہ رہا تو سیٹھ صاحب مع خلیفہ صاحب مرزا قادیانی کو چھوڑ کر میرے ساتھ ہوجائیں گے۔ یہ بات اس لئے کہی گئی کہ ایک سال کے اندر مرجانے کی صورت میں اگر میں جھوٹا سمجھا جائوں تو کوئی وجہ نہیں کہ سال کے بعد زندہ رہنے کی حالت میں سچا نہ ٹھہروں۔

اس کے جواب میں زبانی پیغام آتے رہے کہ ہم حلف خوری کا صلہ دس ہزار روپیہ دیتے ہیں۔ میں جواباً کہتا رہا کہ میں دس ہزار پر لات مارتا ہوں صرف آپ کو چاہتا ہوں۔ غالباً اس وقت میرے ذہن میں یہ عارفانہ شعر تھا:

  1. دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی

    دیوانۂ تو ہر دو جہاں راچہ کند

سیٹھ عبد اللہ الہ دین نے اپنی کتاب میں اپنے اشتہارات کا ذکر تو کیا ہے مگر میرے جوابات کا ذکر نہیں کیا۔ یہ عادت اس شریف گروہ کی ہے جس کی بابت قرآن شریف کا ارشاد ہے ’’تبدونہا وتخفون کثیراً (الانعام:۹۱)‘‘ حالاں کہ یہ سارے اشتہارات مع میرے جوابات کے انجمن اہل حدیث سکندرآباد دکن کی طرف سے بصورت رسالہ شائع ہوچکے ہیں جس کا نام ہے ’’قادیانی حلف کی حقیقت‘‘

سیٹھ عبد اللہ صاحب! میں آپ کو حضرت لقمانm کی وعظ کے الفاظ سناتا ہوں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمائے تھے:

’’یا بنیّ انہا ان تک مثقال حبۃً من خردل فتکن فی صخرۃ او فی السمٰوات او فی الارض یأت بہا اللہ ۔ ان اللہ لطیف خبیر (لقمان: ۱۶)‘‘اے

131

بیٹے اگر رائی کے دانہ برابر کوئی چیز ہو جو کسی پتھر میں یا کہیں آسمان میں یا زمین میں چھپ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کردے گا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ بڑا باریک بیں اور خبردار ہے۔

سیٹھ صاحب!

  1. عجب مزا ہو کہ محشر میں ہم کریں شکوہ

    وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لئے

قادیانی حلف کی حقیقت بجواب اشتہار عبد اللہ الہ دین ’’صداقت احمدیت‘‘

ایک اشتہار بنام ’’صداقت احمدیت‘‘ عبد اللہ الٰہ دین صاحب کی جانب سے شروع ہوا ہے جس میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب شیر پنجاب، فاتح قادیان کے حلف۔ مباہلہ وغیرہ پر دروغ بیانی سے کام لیا گیا ہے۔ علاوہ اس کے اشتہار میں یہ مطالبات کئے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے متعلق صحیح بخاری میں لفظ (من السمآء) آسمان سے اترنے کا دکھائو تو ہزار روپیہ انعام پائو۔ دوم بحکم حدیث ہر صدی میں مجدد کا ہونا ضروری ہے اس صدی کا مجدد کون ہے بتائو؟

یہ وہی پرانا اشتہار ہے جو قادیانی جماعت کی جانب سے شائع ہوا تھا اور جس کا جواب انجمن اہل حدیث سکندرآباد کی طرف سے ۱۹۲۳ء میں دے دیا گیا۔ مگر پھر بھی اسی کا اعادہ کیا ہے۔ اب ہم بغرض آگاہی پبلک اصل واقعات کا اظہار کرتے ہیں جس سے بخوبی واقف ہوگا کہ قادیانی جماعت اپنے بیان اور اپنے وعدوں میں کہاں تک سچی ہے۔

قادیانی جماعت کی بددیانتی

انجمن اہل حدیث سکندرآباد دکن کی جانب سے جو اشتہار ’’قادیانی مذہب کی حقیقت‘‘ شائع ہواہے اس میں حضرت عیسیٰؑ کے آسمان سے اترنے کی حدیث کا حوالہ (صحیح بخاری اور کتاب الاسماء بیہقی سے) درج ہے مگر عبد اللہ الہٰ دین صاحب نے اپنے اشتہار میں صرف (صحیح بخاری) لکھ کر اپنی دیانت کا ثبوت اور مخلوق خدا کو دھوکہ دیا ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کا آسمان سے اترنا اور حدیث من السمآء کی بحث

صحیح بخاری میں ایک حدیث یوں آئی ہے ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘یہ الفاظ صحیح بخاری (ج۱ ص۴۹۰ باب نزول عیسیٰ ابن مریم) کے ہیں

132

اسی حدیث کو امام بیہقیؒ نے کتاب الاسماء والصفات (ص۳۰۱) میں اپنی سند سے روایت کیا ہے ’’کیف انتم اذا فیکم ابن مریم من السماء وامامکم منکم‘‘ یعنی جب مسیح موعود آسمان سے اتریں گے اور تمہارے امام امیرالمؤمنین تم میں سے ہوں گے اس وقت تم کیسے ہوگے۔ اس روایت میں (من السماء) کا لفظ آیا ہے جس کسی نے روایت مذکورہ لکھ کر صحیح بخاری کا حوالہ دیا ہوگا اس کی مراد وہی ہوگی جو محدثین کی ہوتی ہے جہاں وہ کسی روایت کو مختلف کتابوں سے نقل کرتے ہیں تو کہا کرتے ہیں کہ اصلہٗ فی البخاری یعنی اس روایت کی اصل بخاری میں ہے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ حرف بحرف بخاری میں ہے۔

ہم اس نزاع کی صورت آسان بتاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے نزول مسیح کی روایت اپنی کتاب (حمامۃ البشریٰ ص۸۸، ۸۹ خزائن ج۷ ص۳۱۲، ۳۱۳) میں دو جگہ لکھی ہے اور اس میں لفظ من السماء نہیں لکھا لیکن اصل روایت اصل کتاب میں دیکھیں تو مطلع صاف ہوسکتا ہے وہ روایت یوں ہے ’’قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول ینزل اخی عیسٰی ابن مریم علٰی جبل (کنز العمال ج۱۴ ص۶۱۸، ۶۱۹ حدیث نمبر۷۶۶،۳۹)‘‘ یعنی آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی عیسیٰؑ پہاڑ پر اتریں گے۔

یہ روایت مختصر کنزالعمال سے مرزا قادیانی نے لی ہے مختصر کنزالعمال، مسند امام احمدؒ کے حاشیہ پر مصر میں چھپی ہے اس کی چھٹی جلد ص۶۵ پر موجود ہے جس میں لفظ من السماء موجود ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی دیانت اور امانت نے ان کو اجازت نہیں دی کہ دل میں جگہ دینے کے لئے صحیح بخاری کی روایت پر حصر نہیں ہوتا بلکہ جہاں کہیں سے بھی کوئی صحیح روایت ملے وہ روایت قابل قبول ہے۔ قادیانیوں کے حق میں اس روایت کی صحت اور قبولیت کا ثبوت یہی کافی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کو معرض استدلال میں خود لیا ہے۔ بس پھر مسئلہ نزول مسیح من السماء تو صاف ہوگیا۔ صحیح بخاری کا جو حوالہ لکھا گیا ہے وہ اسی نیت سے لکھا گیا ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا۔

مجدد کے لئے دس ہزار روپیہ کا کاغذی اعلان

بے شک ایک غیر صحیح حدیث میں ہر صدی میں مجددین پیدا ہونے کا ذکر ہے مگر مجدد کے معنی کیا ہیں اصل سنت نبویہ کو رواج دینے والا اور ہر زمانہ کی بدعات جدیدہ کا مقابلہ

133

کرنے والا۔ مجدد میں کوئی فوق العادت وصف نہیں ہوتا۔ صرف اصول اسلام اور سنت نبیm کی تائید اور ترویج ان کا کام ہوتا ہے یعنی وہ خادم سنت نبویہ صحیحہ ہوتا ہے اور بس۱؎۔

ان معنی سے کیا عجب ہے کہ صوبہ بنگال میں مولانا ابوالکلام آزاد، صوبہ بہار میں مولانا محمد علی مونگیر اور صوبہ متحدہ میں علماء دیوبند بھی مجدد (خادم سنت) صوبہ پنجاب کے لئے بہت سے لوگ فرقہ جدیدہ بدعیہ قادیانیہ کے حق میں مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کو مجدد جانتے ہیں۔ چنانچہ مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی وغیرہ نے بہت دفعہ جلسوں میں اس امر کا اظہار بھی کیا ہے۔ کہئے آپ کی کیا رائے ہے؟ ہاں یہ تو ہم نے مشاہیر کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق ملک سے ہے ابھی وہ مجددین (خادمان سنت) باقی ہیں جن کا تعلق خاص خاص مقامات (شہر ہوں یا قصبے یا دیہات) سے ہے کیوں کہ بعض مجدد (خادم سنت نبویہ) ایسے بھی ہوں گے جن کا اثر ایک ہی گائوں میں ہوگا۔ مجدد کے لفظ میں وحدت شخصی نہیں بلکہ وحدت نوعی ہے اس میں تعدد ہوسکتا ہے۔ غور سے پڑھو ’’من یجددلہا دینہا‘‘اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہندوستان جیسے وسیع ملک میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مجدد اس وقت بھی ہیں جو اپنی علمی خدا داد لیاقت کے مطابق توحید وسنت کی خدمت اور اشاعت کرتے ہیں (کسے باشد) ہاں آپ کا یہ خیال ہوگا کہ ان لوگوں نے دعویٰ مجددیت کا نہیں کیا یہ ایک بڑی غلطی ہے۔ جماعت احمدیہ کی وہ احادیث کے الفاظ پر نظر نہیں کرتے بلکہ مرزا قادیانی کے الفاظ کو حدیث کا جزو بنا لیتے ہیں۔ اے صاحب!

حدیث شریف میں دعویٰ کرنے کا ذکر نہیں آیا بلکہ خدمت اسلام کرنے کا ذکر آیا ہے۔ دعویٰ اگر شرط ہے تو سب سے پہلے جس بزرگ کو مجدد کہا گیا ہے یعنی خلیفہ عمربن عبدالعزیزؒ کو ان کا دعویٰ دکھائو بعد ازاں دوسری صدی میں امام شافعیؒ کو کہا گیا ہے ان کا دعویٰ سنائو۔ اسی طرح اوروں کا دعویٰ دکھائو پھر ہم سے دعویٰ کا سوال کرو۔

سنو! مجدد کے لئے یہ اصول ہے جو شیخ مرحوم نے لکھا ہے:

  1. ہنر بنما اگر داری نہ جوہر

    گل از خارست وابراہیم از آذر

مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کا جلسہ عام میں مرزا قادیانی کے کذب پر حلف اٹھانااور عبد اللہ الٰہ دین صاحب کے مجوزہ حلف نامہ پر دستخط کرنا: ماہ جنوری۱۹۲۳ء میں مولانا

۱؎دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی نے سید احمد بریلوی کو مجدد لکھا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص۶۳، خزائن ج۱۷ ص۱۹۴)

134

ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان سکندرآباد دکن تشریف لائے تھے اور مرزائیوں کی تردید میں بمقام سکندرآباد وحیدآباد دکن دھواں دھار تقریریں فرمانے لگے اس وقت قادیانیوں نے اشتہار شائع کیا کہ قادیانی کذب پر مولانا صاحب حلف اٹھاویں۔ انجمن اہل حدیث سکندرآباد دکن کی درخواست پر مولانا صاحب نے مندرجہ ذیل جواب دیا امید ہے کہ ناظرین کرام بڑی توجہ سے پڑھیں گے۔

قادیانی کذب پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں

برادران دکن! آپ حضرات نے میری کئی تقریریں قادیانی مشن پر سنیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت کا ہونا ان تقریروں کی پسندیدگی کی دلیل ہے۔ اس لئے آپ جان چکے ہوں گے کہ میں اپنی تقریری میں نہ کوئی بات اپنی طرف سے بناوٹ کی کہتا ہوں نہ کوئی کلمہ ہتک آمیز دل آزار بولتا ہوں۔ بفضلہ تعالیٰ ان تقریروں کا اثر سامعین پر بہت اچھا ہوا۔ اس اثر سے رنجیدہ خاطر ہوکر جماعت احمدیہ حیدرآباد وسکندرآباد وغیرہ نے بتوسط سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین صاحب ایک اشتہار دیا ہے جو آپ صاحبوں کی نظر سے گزرا ہوگا۔ اس اشتہار کا مختصر مضمون یہ ہے کہ ’’مولوی ثناء اللہ مرزا قادیانی کے کذب اور حضرت عیسیٰ m کی حیات پر قسم کھائے مدت ایک سال میں اپنے لئے عذاب مانگے وغیرہ توپانسو روپیہ ہم مولوی ثناء اللہ کو دیں گے۔‘‘

برادران! اس سے پہلے سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین صاحب نے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا تھا مجھے وہ اشتہار امرتسر میں ملا تو میں نے فوراً اپنے اخبار اہل حدیث امرتسر میں لکھا کہ مبلغ دس ہزار انعامی رقم پہلے مہاراجہ کشن پرشاد صاحب کے پاس جمع کرادو اور جواب کے فیصلے کے لئے منصف مقرر کرو اس کے جواب میں سیٹھ صاحب کی طرف سے ہم کو کوئی جواب نہ ملا بلکہ ایک اور اشتہار زرد رنگ کا ملا جس میں بجائے ہماری پیش کردہ تجویز منظو کرنے کے نئے سرے سے پھر دس ہزار کا انعام لکھا گیا۔ اس کا جواب بھی اہل حدیث میں دیا گیا جس کو انجمن اہل حدیث سکندرآباد نے بطور اشتہار حیدرآباد اور سکندرآباد وغیرہ میں شائع کیا۔ یہ تو ہے ان کی انعامی رقموں کی حقیقت کہ لدھیانہ کے واقعہ سے ڈر کر دس ہزار سے ایک دم پانچ سو پر آگئے۔ خدا معلوم دیتے ہوئے کہاں تک نیچے اتر آئیں گے۔ چوں کہ روپیہ لے کر حلف اٹھانے میں ان لوگوں سے ایک خطرہ بھی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ کہہ دیں گے کہ مولوی صاحب

135

نے روپیہ کی لالچ میں جھوٹی قسم کھائی ہے۔ اس لئے میں بغیر روپیہ کے قسم کھانے کو تیار ہوں جس کی صورت یہ ہے:

برادران دکن! جن صاحبوں نے ۱۶؍اسفندار ۱۳۳۲ف۔ ۱۹؍جنوری ۱۹۲۳ء مطابق ۳؍جمادی الثانی ۱۳۴۱ھ کو میری پہلی تقریر سکندرآباد میں سنی ہوگی ان کو یاد ہوگا کہ میں نے اس تقریر میںمرزا قادیانی کے کذب پر صاف لفظوں میں حلف اٹھائی تھی جو ایک بھلے آدمی ایمان کی تسلیم کے لئے کافی ہوسکتی ہے۔ مگر قادیانی جماعت نے اپنے اشتہار میں ایک اور قسم کھانے کی تحریک کی جس کی سزا کی مدت ایک سال تک رکھی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اگر ایک سال تک میں زندہ سلامت رہوں تو ان پر کیا اثر ہوگا اس لئے میں واضح الفاظ میں لکھتا ہوں کہ چوں کہ حلف پر انہوں نے سال تک میری زندگی کی حدلگائی ہے جو قرآن وحدیث میں تو ثابت نہیں مگر ان کی مسلمہ ہے اس لئے میں سال کے بعد تک اگر زندہ رہا تو مکرر قطعی طور پر ثابت ہوجائے گا کہ میں تکذیب مرزا میں ان کے نزدیک بھی سچا ہوں۔ پس اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اسی وقت قادیانی مذہب چھوڑ کر میری طرف تکذیب مرزا میں کمربستہ ہوجائیں۔ چوں کہ میرا مقابلہ دراصل مرزا قادیانی آنجہانی سے تھا ان کے بعد بحیثیت قائم مقام ان کے خلیفہ سے ہے اس لئے میں حق رکھتا ہوں کہ یہ شرط لگائوں کہ خلیفہ قادیان معہ اپنی انجمن احمدیہ کے ممبروں کے اس مضمون کی دستخطی تحریر مجھے دیں کہ: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مرزا قادیانی کی تکذیب اور حضرت عیسیٰؑ کی حیات پر قسم کھا کر سال تک قدرتی موت سے جس میں انسانی ہاتھوں کا دخل نہ ہو، بچ رہیں تو میں (میاں محمودخلیفہ ثانی قادیان) اور ممبران صدر انجمن احمدیہ مرزا قادیانی کا مذہب چھوڑ کر جمہور مسلمانوں میں مل کر مرزا قادیانی کی تکذیب کیا کریں گے اور اپنے کل مبلغوں کو بھی یہی حکم دیں گے۔‘‘

اس دستخطی تحریر میں اپنی پہلی قسموں (جو میں قادیان اور سکندرآباد وغیرہ میں کھا چکا ہوں ان کے) علاوہ نئے سرے سے کذب مرزا اور حیات عیسیٰؑ پر بحولہٖ وقوتہٖ قسم کھائوں گا ان شاء اللہ تعالیٰ مسلمان حیدرآباد بمقام مشیرآباد ۲۵؍جنوری کو جو جلسہ وعظ ہوا تھا اس میں ہزارہا مسلمانوں کے مشورے سے یہ مضمون پاس ہوکر شائع کیا جاتا ہے ورنہ میں تو احمدیوں کی حرکات اور حرکات کے مقصودات کو بھی جانتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے دعا کی تھی کہ ثناء اللہ

136

اور مجھ میں سے جو جھوٹا ہے خداوند اس کو سچے کی زندگی میں موت دے۔ چوںکہ وہ بڑے میاں تھے ان کی یہ دعا قبول ہوگئی جس کا اثر دور دور تک پہنچا۔ باوجود اس الٰہی فیصلہ کے ان لوگوں کا نئے سرے سے مجھے حلف دینا اس غرض سے ہے کہ سابق کے الٰہی فیصلہ سے اسلامی پبلک کو غفلت ہوجائے جس سے ان کی شرمندگی اور ندامت میں کمی واقع ہو:

من انداز قدت رامی شناسم

اس لئے اشتہار میں مجھ سے جدید حلف چاہتے ہیں اور ایک سال تک عتاب کی دھمکی دیتے ہیں تو میں بھی حق رکھتا ہوں کہ ان کی رقم پانسو تو ان کو واپس کروں مگر یہ شرط لکھا لوں کہ سال تک میری سلامتی کے بعد ان کا خلیفہ مع اپنی ساری جماعت قادیانی مذہب غلط جان کر بحکم ’’کونوا مع الصادقین‘‘ میرے ساتھ اشاعت اسلام کریں گے۔

ناظرین کرام! بس اب حلف کا دلوانا جو قادیانیوں نے تجویز کیا ہے خود ان کی منظوری پر موقوف ہے ہم اپنے اقرار کو پورا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ’’فلیشہد الثقلان انّی صادق‘‘

نوٹ: میری طرف سے یہی جواب ہوگا چاہے فریق ہزارہا بار بولیں میری طرف سے اس بارے میں یہ معقول شرط ہمیشہ پیش رہے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ جس کے انکار سے فریق ثانی کی حق پسندی اہل دکن پر بار بار روشن ہوجائے گی جیسی اہل پنجاب پر روشن ہے۔

اطلاع: گو میرے ذریعہ سے خدا نے اسلامی عقائد کو قادیانی نبوت پر ہمیشہ غالب رکھا ہے تاہم دکن کے مسلمانوں میں قادیانی مذہب کی وجہ سے جو تفرقہ عظیم ہورہا ہے میں اس کے رفع دفع کرنے کو ہر وقت تیار ہوں جس کی صورت یہی ہے کہ بتقرر منصف ایک باقاعدہ تحریری مباحثہ جو مع فیصلہ مسلمہ منصف شائع کیا جائے تاکہ ہم مسلمانوں سے یہ تفرقہ دور ہو۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔

ربنا افتح بیننا بالحق وانت خیرالفاتحین

ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری

مرقوم ۸؍جمادی الثانی ۱۳۴۱ھ ۲۶؍جنوری ۱۹۲۳ء

عبد اللہ الٰہ دین صاحب اپنے بھائیوں کو کہتے تھے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب صرف پبلک کو دھوکا دینے اور اپنی عزت قائم کرنے کے بظاہر مرزا قادیانی کی تردید کرتے ہیں لیکن دل میں ان پر اعتقاد رکھتے ہیں اور ان کو سچا مانتے ہیں اگر وہ مرزا قادیانی کو دل سے جھوٹا مانتے ہیں تو

137

مرزا قادیانی کے کذب پر قسم کھائیں۔ پھر دیکھئے سال کے اندر مر جائیں گے۔ مگر میں یقین سے کہتا ہوں کہ وہ مرزا قادیانی کے کذب پر ہرگز حلف نہ اٹھائیں گے۔ عبد اللہ الٰہ دین صاحب نے ایک معاہدہ باہمی کا مسودہ جو پہلے سے انہوں نے کر رکھا تھا ۱۷؍جنوری ۱۹۲۳ء کو تین بھائیوں کے روبرو پیش کیا فریقین میں جو معاہدہ ہوا اس کا مضمون معہ نام فریقین درج ذیل ہے:

فریق احمدی(مرزائی)۔ (۱)عبد اللہ الٰہ دین صاحب (۲)الہ دین ابراہیم صاحب (۳)جی ایم ابراہیم صاحب

فریق محمدی۔ (۱)خان صاحب احمد الہ دین صاحب (۲)غلام حسین الٰہ دین صاحب (۳)قاسم علی الٰہ دین صاحب

معاہدہ منجانب احمدی فریق

۱… جناب مرزا غلام احمد اس چودہویں صدی کے مجدد ہیں اور مسیح موعود اور مہدی ہیں اور نبی ہیں۔

۲… یہ عقیدہ احمدیوں کا ہے اور اس بارہ میں احمدیوں کے بڑے جناب مرزا محمود صاحب (خلیفہ قادیان) ہیں ان کو مرزا قادیانی کی صداقت کے بارہ میں منسلکہ حلف نامہ کے موافق قسم کے ساتھ دعا کرنا چاہئے۔

۳… اگر یہ خلیفہ قادیان اس موافق قسم کے ساتھ دعا کرنے کے لئے راضی نہ ہوئے تو مرزا قادیانی کے دعوے جھوٹے سمجھے جائیں گے اور احمدیوں کی طرف سے عبد اللہ الٰہ دین صاحب، جی۔ایم ابراہیم صاحب اور الٰہ دین ابراہیم صاحب احمدیت سے توبہ کرکے غیر احمدی ہوجانے کے لئے قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔

۴… اگر یہ خلیفہ قادیان اس طرح قسم کے ساتھ دعا کرنے کے لئے راضی ہوجائیں اور ان کے مخالف مولوی ثناء اللہ صاحب بھی قبول کریں تو ایک سال تک نتیجہ کا انتظار کریں۔ اگر مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان وفات پائیں اور مولوی ثناء اللہ حیات رہیں تو مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھ کر تینوں احمدی جن کے نام اوپر درج ہوئے ہیں۔ احمدیت سے توبہ کرکے غیر احمدی ہوجانے کے لئے خدا کی قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔

المرقوم ۱۷؍جنوری۱۹۲۳ء!

شرح دستخط عبد اللہ الہ دین…شرح دستخط جی ایم ابراہیم… شرح دستخط الٰہ دین ابراہیم

138

معاہدہ منجانب محمدی فریق

۱… جناب مرزا غلام احمد قادیانی چودہویں صدی کے مجدد ہیں نہ مسیح موعود اور نہ مہدی ہیں اور نہ نبی ہیں۔

۲… یہ عقیدہ غیر احمدیوں کا ہے اور اس بارہ میں غیر احمدیوں کے بڑے (جماعت اہل حدیث کے) جناب مولانا ثناء اللہ صاحب ہیں اور ان کو مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے بارہ میں منسلکہ حلف نامہ کے موافق قسم کے ساتھ دعا کرنا چاہئے۔

۳… اگر یہ مولانا ثناء اللہ صاحب اس موافق قسم کے ساتھ دعا کرنے کو راضی نہ ہوئے تو مرزا قادیانی کے دعوے سچے سمجھے جائیں گے اور غیر احمدیوں کی طرف سے خان صاحب احمد الٰہ دین، غلام حسین الٰہ دین اور قاسم علی الٰہ دین غیر احمدیت سے توبہ کرکے احمدی ہوجانے کے لئے قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔

۴… اگر یہ (مولوی ثناء اللہ صاحب) اس طرح قسم کے ساتھ دعا کرنے پر راضی ہوں اور ان کے مخالف مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) بھی راضی ہوجائیں تو ایک سال تک نتیجہ کا انتظار کریں۔ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب وفات پائیں اور مرزا محمود احمد صاحب حیات رہیں تو مرزا قادیانی کو سچے سمجھ کر ہم تینوں غیر احمدی بھائی جن کے نام اوپر درج ہوئے ہیں غیر احمدیت سے توبہ کرکے احمدی ہوجانے کے لئے خدا کی قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔

۵… اگر مولوی ثناء اللہ صاحب ایسی قسم نہ کھائیں تو تینوں بھائی ایک سال میں جتنے چاہیں اتنے عالموں کو مرزا محمود احمد صاحب کے مقابلہ میں کھڑا کر دیں گے اور ان کو قسم کھلائیں گے اور اگر ہم تینوں بھائی کسی کو کھڑا نہ کر سکیں تو خدا کی قسم کے ساتھ احمدی ہوجانے کا اقرار کرتے ہیں۔

المرقوم ۱۷؍جنوری ۱۹۲۳ء

شرح دستخط خان احمد الہ دین… شرح دستخط غلام حسین الہ دین… شرح دستخط قاسم علی الٰہ دین

عبد اللہ الٰہ دین صاحب کا مجوزہ تحریری حلف نامہ جس پر خلیفہ قادیان نے دستخط کرنے سے گریز کیا: عبد اللہ الٰہ دین صاحب نے اپنے تحریری معاہدہ کے ساتھ حلف نامہ عبارت خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد صاحب کے لئے پیش کی تھی بجنسہٖ درج ذیل ہے۔ آئندہ ناظرین کو معلوم ہوگا کہ ان کے خلیفہ قادیان نے اس عبارت کے موافق حلف نامہ لکھنے سے

139

گریز کیا اور اپنے الفاظ میں دوسرے ہی قسم کا حلف نامہ لکھ دیا اور اس میں بھی مدت اور عذاب کے تعین (یعنی مجھ پر ایک سال کے اندر موت وارد کر) کو اڑا دیا۔ یہ تعیین ہی حلف نامہ کی جان تھی۔

حلف نامہ کی احمدی عبارت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علی رسولہ الکریم!

حلفیہ عبارت حسب ذیل ہے:

’’میں مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح ثانی خداتعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ میں مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی ودلائل کو بغور دیکھا اور سنا اور سمجھا اور اکثر تصانیف ان کی میں نے مطالعہ کیں اور عبد اللہ الٰہ دین صاحب کا چیلنج انعامی دس ہزار روپیہ والا بھی بغور پڑھا میں نہایت وثوق اور کامل ایمان اور یقین سے یہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی ودلائل جو چودہویں صدی کے مجدد، امام وقت، مسیح موعود وامتی نبی ہونے کے ہیں وہ سب درست اور صحیح ہیں اور حضرت عیسیٰؑ وفات پا گئے ہیں اور وہ بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھائے نہیں گئے ہیں اور نہ اس جسم خاکی کے ساتھ وہ آسمان پر موجود ہیں اور نہ وہ آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔ میرا پکا ایمان ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی مسیح موعود اور مہدی مسعود وامتی نبی ہیں اور ان کے سب دعاوی ودلائل کتاب اللہ وصحیح احادیث کے ماتحت ہیں۔ اگر میرے یہ عقائد خداوندتعالیٰ کے نزدیک جھوٹے اور قرآن شریف وصحیح احادیث کے خلاف ہیں اور وہ درحقیقت مرزا غلام احمد صاحب اپنے تمام دعوئوں میں خداوندتعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں تو میں دعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا جو تمام روئے زمین کا مالک واحد اور ہر چیز کے ظاہر وباطن کا تجھے علم ہے، تمام قدرتیں تجھی کو حاصل ہیں تو قہار وغالب ومنتقم حقیقی ہے تو علیم وسمیع وبصیر ہے۔ اگر میں اپنے اس حلف نامہ میں محض ضد، تعصب، ہٹ دھرمی یا نافہمی سے کام لے رہا ہوں مجھے ایک سال کے اندر موت دے تاکہ لوگوں پر صاف ظاہر ہوجائے کہ میں ناحق پر تھا اور حق وراستی کا مقابلہ کررہا تھا جس کی پاداش میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا مجھے ملے۔ آمین، آمین، آمین!‘‘

140

حلف نامہ جس پر مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری نے دستخط کردئیے: مذکورہ بالا حلف نامہ کی عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصدیق اور تسلیم کے متعلق جو الفاظ موجود ہیں بخلاف اس کے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے لئے خان صاحب احمد الٰہ دین صاحب غلام حسین الٰہ دین صاحب اور قاسم علی الٰہ دین کی جانب سے جو حلف نامہ کی عبارت پیش کی گئی تھی جس میں مرزا قادیانی کی تکذیب اور انکار کے متعلق الفاظ تھے بجنسہٖ مولاناثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری نے مندرجہ ذیل حلف نامہ ۶؍فروری ۱۹۲۳ء کو لکھ دیا جو عبد اللہ الٰہ دین صاحب کے حوالہ کیا گیا تاکہ وہ اپنے خلیفہ قادیان مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب سے وہی حلف نامہ لکھوادیں۔

حلف نامہ تحریر کردہ مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

میں ثناء اللہ ایڈیٹراہل حدیث خدائے تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعاوی ودلائل کو بغور دیکھا اور سنا اور سمجھا اور اکثر تصانیف ان کی میں نے مطالعہ کیں اور عبد اللہ الٰہ دین کا چیلنج انعامی دس ہزار روپیہ والا بھی بغور پڑھا مگر نہایت وثوق اور کامل ایمان ویقین سے یہ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی تمام دعاوی ودلائل جو چودہویں صدی کے مجدد وامام وقت مسیح موعود وامتی نبی ہونے کے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور افترا ودھوکہ وفریب اور غلط تاویلات کی بنا پر ہیں۔ بر خلاف اس کے حضرت عیسیٰؑ وفات نہیں پائے بلکہ وہ بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور ہنوز اس خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے اور وہی مسیح موعود ہیں اور مہدیm کا ابھی ظہور نہیں ہوا۔ جب ہوگا تو وہ امام مہدی حسب ضرورت تلوار اور جہاد سے کام لیں گے۔ مرزا قادیانی نہ مجدد وقت ہیں نہ مہدی ہیں نہ مسیح موعود ہیں، نہ امتی نبی ہیں بلکہ ان غلط دعاوی کے سبب میں ان کو مفتری اور دجال سمجھتا ہوں۔ اگر میرے یہ عقائد خداتعالیٰ کے نزدیک جھوٹے اور قرآن اور صحیح احادیث کے خلاف ہیں اور مرزا غلام احمدقادیانی اپنے تمام دعوئوں میں خداتعالیٰ کے نزدیک سچے ہیں تو میں دعا

141

کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا جو تمام روئے زمین کا مالک واحد ہے اور ہر چیز کے ظاہر وباطن کا تجھے علم ہے تمام قدرتیں تجھی کو حاصل ہیں تو قہار و غالب منتقم حقیقی ہے تو علیم وقدیر وسمیع وبصیر ہے۔ اگر میں اپنے اس حلف میں محض ضد وتعصب یا ہٹ دھرمی یا نافہمی سے کام لے رہا ہوں تو تو مجھ پر ایک سال کے اندر موت وارد کر جس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو تا لوگوں پر صاف ظاہر ہوجائے کہ میں ناحق پر تھا اور حق وراستی کا مقابلہ کررہا تھا جس کی پاداش میں خداتعالیٰ کی طرف سے یہ سزا مجھے ملے۔ آمین، آمین،آمین!

سال۱؎ تمام ہو کر بھی میں زندہ رہا تو سچا سمجھا جائوں گا۔ خلیفہ قادیان اس کا اقرار کرے کہ بعد سال قادیانی مذہب سے تائب ہوکر بحکم خداوند ’’کونوا مع الصادقین‘‘میرے ساتھ قادیانی مذہب کی تردید کیا کریں۔ مفصل یہ بات میں پبلک جلسہ میں اور اشتہار مؤرخہ ۶؍فروری ۱۹۲۳ء میں ظاہر کرچکا ہوں۔ فقط

شرح دستخط بقلم خود

ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری

مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مذکورہ بالا تحریر کردہ حلف نامہ کے علاوہ دکن کے علمائے کرام نے بھی حسب منشاء محمدی فریق ۶؍مارچ ۱۹۲۳ء کو حلف نامہ لکھ دیا جو درج ذیل ہے۔

حلف نامہ تحریر کردہ علمائے کرام حیدرآباد دکن

ہم مقران خداتعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا بالاتفاق اظہار کرتے ہیں کہ احادیث صحیحہ میں جس عیسیٰ ابن مریمn اور حضرت مہدی موعود کے آنے کا تذکرہ ہے اس کے لحاظ سے ہم حلفیہ لکھتے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی نہیں ہے۔ اس بارہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے جتنے دعوے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور افتراء دھوکا اور فریب اور غلط تاویلات کی بنا پر ہیں اور وہ مسیح موعود اور مہدی موعود اور چودہویں صدی کے مجدد اور امام وقت امتی نبی ہرگز ہرگزنہیں ہیں۔ برخلاف اس کے حضرت عیسیٰؑ وفات نہیں پائے بلکہ وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور ہنوز زندہ موجود ہیں اور وہی قبل قیامت آسمان سے اتریں گے۔ اگر مرزا غلام احمد قادیانی درحقیقت اپنے تمام دعوئوں میں خداتعالیٰ کے نزدیک سچے ہیں تو اے قادر

۱؎یہ عبارت مولانا نے اپنی جانب سے بڑھائی ہے کیا اس کے مطابق خلیفہ صاحب اقرار کر سکتے ہیں؟ ہاں کرسکتے ہیں بشرطیکہ قادیانی مذہب سچا ہو۔

142

ذوالجلال خدا جو تمام زمین وآسمان کا واحد مالک ہے اور ہر چیز کی ظاہر وباطن کا تجھے علم ہے اور تمام قدرتیں تجھ ہی کو حاصل ہیں تو ہی قہار وجبار اور غالب اور منتقم حقیقی ہے اور تو ہی علیم وخبیر اور سمیع وبصیر ہے۔ پس ہم سب تجھ ہی سے دعا کرتے ہیں کہ ہم سب پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب اور ناحق مقابلہ کی وجہ سے ایک سال کے اندر ہی ایسی موت وارد کر کہ جس میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو اور یہ کہ ہم میں سے کوئی ایک بھی باقی ومحفوظ نہ رہے تاکہ لوگوں پر صاف ظاہر ہوجائے کہ ہم ناحق پر تھے اور حق وراستی کا مقابلہ کررہے تھے جس کی پاداش میں خداتعالیٰ کی طرف سے ہم سب کو یہ سزا ملی ہے اور اگر ہم میں سے کوئی ایک بھی باقی رہا تو ہم سب تیرے پاس سچے اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلیفہ ثانی مرزا میاں محمود جو ہماری قسم کے مدمقابل ہیں جیسا کہ ہمارا دعویٰ ہے جھوٹے مفتری کافر، دجال وخارج از اسلام ہیں۔ آمین، آمین!

عبد اللہ الٰہ دین صاحب اور ان کے تینوں بھائی صاحبان کے مابین یہ معاہدہ ہوا ہے کہ اگر علمائے غیر احمدی میں سے چند علماء مندرجہ بالا حلف نامہ پر دستخط کردیں گے تو اس کے مقابل مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان دوسرے حلف نامہ پر جس کا مسودہ علیحدہ ہے، دستخط کر دیں گے اس حلف نامہ کا نتیجہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر غیر احمدی دستخط کنندہ کل علماء میعاد کے اندر فوت ہوجاویں گے تو عبد اللہ الٰہ دین صاحب کے تینوں بھائی احمدی ہوجائیں گے اور اگر کل فوت نہ ہوں یا مرزا محمود احمد صاحب میعاد کے اندر فوت ہوجائے تو عبد اللہ الٰہ دین صاحب اور ان کے دونوں ماموں احمدیت سے توبہ کریں گے اور اگر دونوں فریق میں سے کوئی ایک بھی فوت نہ ہو یا غیر احمدی فریق میں سے کل فوت ہوں اور ایک بھی بچ رہے تب بھی عبد اللہ الٰہ دین صاحب اور ان کے دونوں ماموں احمدیت سے تائب ہوجائیں گے۔

اس معاہدہ کی بنا پر ہم سب اس معاہدہ کی شرائط کے تحت اس حلف نامہ پر بخوشی دستخط کرتے ہیں لیکن اس حلف نامہ کے دستخط کا نفاظ اس تاریخ سے سمجھا جائے گا جس روز مرزا محمود احمد صاحب کا دستخط شدہ حلف نامہ غلام حسین الٰہ دین صاحب کے قبضہ میں آجائے گا اور جس کی معیاد تاریخ ہذا سے زائد سے زائد ایک ماہ ہوگی۔

مرقوم ۶؍مارچ ۱۹۲۳ء

دستخط

مولوی عبدالحئی واعظ حیدرآبادی، مولوی حکیم مقصود علی خان صاحب مہتم شفاخانہ

143

یونانی، مولوی خدا داد خان صاحب، مولوی مناظر احسن گیلانی پروفیسر جامعہ عثمانیہ، مولوی ابوالفدا نور محمد صاحب صدر مدرس مدرسہ دینیات سرکار عالی، مولوی تاج الدین شاہ قادری، مولوی سید عبدالرئوف دہلوی، مولوی محمد عبدالغفور صاحب حیدرآبادی، مولوی محمد عبدالقدیر صاحب قادری صدیقی پروفیسر کلیہ جامعہ عثمانیہ شعبہ دینیات، مولوی محمد عبدالرحمن حیدرآبادی، مولوی محمد عمرحیدرآبادی، مولوی سید محمد بادشاہ الحسینی القادری واعظ مکہ مسجد حیدرآباد، مولوی سید حسین رائے بریلوی، مولوی سید ابراہیم مددگار پروفسیر جامعہ عثمانیہ، مولوی سید شاہ مصطفی قادری، مولوی نظام الدین قادری، مولوی عبداللطیف پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن۔

عبد اللہ الٰہ دین کا اپنے پیش کردہ خلیفہ قادیان سے دستخط حاصل کرنے میں ناکامیابی

مذکورہ بالا حلف ناموں کے مقابل عبد اللہ الٰہ دین صاحب احمدی سکندرآبادی نے قادیان پہنچ کر مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفہ قادیان سے جو حلف نامہ لکھوا کر اپنے محمدی بھائیوں کے پاس۱۸؍اپریل ۱۹۲۳ء کو پیش کیا اس کی نقل درج ذیل ہے۔ اس کے ملاحظہ سے ناظرین اندازہ فرما لیں گے کہ اس میں کس قدر کمزوی ہے اور لطف یہ کہ عبد اللہ الٰہ دین صاحب احمدی اپنے اقرار ومعاہدہ کے مطابق اپنی خود پیش کردہ عبارت میں خلیفہ قادیان کا حلف نامہ حاصل نہ کرسکے ان کو اور ان کے خلیفہ قادیان کو کیا مجبوری پیش آئی کہ عبد اللہ الٰہ دین صاحب کی ترتیب دی ہوئی عبارت حلف نامہ بالکل لاپتہ ہوگئی اس سے قادیانی کا فرار ثابت ہے۔

حلف نامہ تحریر کردہ خلیفہ قادیان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اعوذب اللہ من الشیطان الرجیم نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔

خدا کے فضل وکرم کے ساتھ۔ ہوالناصر!

خلیفۂ قادیان کا عبد اللہ الٰہ دین کے مرتب شدہ حلف نامہ پر دستخط کرنے کے بجائے دوسرا حلف نامہ لکھنا جو معاہدہ کے خلاف ہے: ’’میں مرزا بشیرالدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ تمام مخلوق کا نیک اور بد اس کے اختیار میں ہے اور وہ جس کو چاہے ترقی دے اور جسے چاہے زندہ کرے اور جسے چاہے مارے مؤکد بہ عذاب قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح

144

موعود اور مہدی مسعود کہتا ہوں اور اس پر مجھے کامل یقین ہے میرے نزدیک وہ اپنے دعویٰ میں سچے اور راست باز تھے اور خداتعالیٰ کی وحی کے مہبط تھے اور اس کے مامور اور مرسل تھے۔ اگر میں اپنے اس بیان میں جھوٹا ہوں یا اخفاء سے کام لیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا غضب مجھ پر نازل ہو اور وہ کوئی عبرت ناک سزا مجھے دے۔ اے خدا! تو اپنے بندوں پر رحم فرما اور ان پر حق کھول دے اور سچائی کے قبول کرنے کے لئے ان کے دلوں کو فراخ کردے۔‘‘

دستخط شرح خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ

ناظرین!انصاف فرمائیں کہ محمدی فریق نے معاہدہ کی پوری پابندی کی مگر احمدی فریق عبد اللہ الٰہ دین صاحب کو اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ (اول) ایک تو حلف نامہ کی تبدیلی کر دی۔ (دوم) اس میں سال کی مدت کا ذکر چھوڑ دیا۔ (سوم) موت کا نام تک نہیں لیا۔ ہائے افسوس! موت دوسروں کے حق میں کیسی آسان چیز ہے مگر اپنے لئے کیسی خوف ناک ہے کہ ذرا کوئی مخالف بولا تو اسے مباہلہ کا نوٹس دے دیا کہ آئو مباہلہ کر لو یہ بھی دھمکی ساتھ ہی ساتھ سنا کہ مباہلہ کے بعد سال تک ضرور مروگے مگر جب اپنے پروارد ہوئی تو موت کا نام تک نہیں لیا۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ’’ولن یتمنّوہ ابداً بما قدمت ایدیہم‘‘ خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد صاحب نے اپنا مذکورہ بالا حلف نامہ جس خط کے عبد اللہ الٰہ دین صاحب سکندرآبادی کے حوالہ کیا اس خط کی نقل بجنسہٖ ذیل میں درج کی جاتی ہے جس سے ہمارے بیان کی تصدیق ہوگی کہ لفظ مباہلہ قادیانی امت کا تکیہ کلام ہے۔

مکرمی سیٹھ صاحب ! السلام علیکم

یہ حلف لکھ کر میں بھیجتا ہوں حلف سے صرف اس امر کا پتہ لگ سکتا ہے کہ کوئی شخص لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتا اور جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔ اصل حقیقت کے انکشاف کے لئے مباہلہ ہوتا ہے۔ پس آپ یہ میری حلف ان لوگوں کے سامنے رکھ دیں اور ان سے کہہ دیں کہ اگر وہ پورا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر مباہلہ کریں اور اس کے لئے ہم یہاں سے بھی آدمی بھیج سکتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کو بھی اجازت دے سکتے ہیں جس طرح وہ چاہیں کردیں گے اور اگر دہلی میں آکر مباہلہ کرنا چاہیں تو میں خود وہاں جا کر ان لوگوں سے بشرطیکہ وہ اس حیثیت کے ہوں کہ ان کی ہلاکت حیدرآباد پر عام اثر پیدا کرنے والی ہو اور وہ اہل حدیث اور حنفی سب جماعتوں میں سے ہوں، مباہلہ کر سکتا ہوں۔

شرح دستخط خاکسار مرزا محمود احمد

145

ناظرین کرام! قادیانی امت کے دائو پیچ کو سمجھنا ہرکس وناکس کا کام نہیں۔ ان کے لئے فاتح قادیان مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری جیسا استاد چاہئے۔ خلیفہ قادیان کے تحریر کردہ حلف نامہ سے ناظرین پر واضح ہوگا کہ عبد اللہ الٰہ دین صاحب نے اپنے معاہدہ کی پابندی نہیں کی جب کہ ان کے خلیفہ نے پیش کردہ عبارت میں حلف نامہ نہیں لکھا اور پھر الفاظ ’’مجھ پر ایک سال کے اندر موت وارد کر‘‘ بھی حذف کر دئیے۔ جس کی وجہ سے ان کا حلف نامہ بالکل مہمل اور ناقابل قبول ہوگیا تو حسب اقرار عبد اللہ الہ دین، ابراہیم الٰہ دین اور جی۔ایم ابراہیم صاحبان کو چاہئے کہ قادیانی مذہب کو ترک کردیں اور مرزائیت سے تائب ہوکر سچے محمدی بن جائیں۔ عبد اللہ الٰہ دین صاحب وغیرہ احمدی عرصۂ دراز تک اس بات پر زور دیتے رہے کہ حق وباطل کے انکشاف کے لئے فریقین مجوزہ عبارت میں حلف نامہ لکھ دیں جس میں ایک سال کے اندر موت وارد ہونے کا ذکر ہو۔ اس کے مطابق محمدی فریق نے تو ایسے حلف نامہ کی تکمیل کرادی۔ مگر مرزائی فریق کو اس میں کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ خلیفہ قادیان نے اپنے حلف نامہ میں ایک سال کے اندر موت وارد ہونے کی عبارت لکھنے سے صاف گریز کیا جب کہ مرزائیوں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو انہیں چاہئے تھا کہ احمدیت (مرزائیت) سے توبہ کرتے بخلاف اس کے مباہلہ کی دعوت دے رہے ہیں۔ اگر اب بھی عبد اللہ الٰہ دین صاحب وغیرہ اپنے اقرار کے مطابق خلیفہ قادیان سے اپنی اپنی پیش کردہ عبارت میں حلف نامہ لکھوا دیں تو وہ سچے سمجھے جائیں گے ان کے قول وفعل پر اعتبار ہوسکے گا۔ البتہ اس کے بعد علمائے حیدرآباد مباہلہ پر بھی آمادہ ہوں گے کیوں کہ جب مرزائیوں نے حلف نامہ کے متعلق معاہدہ کی پابندی نہیں کی تو آئندہ کیسے یقین ہوسکتا ہے کہ وہ مباہلہ کے شرائط پر قائم رہیں گے۔ تجربہ سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ پہلو بدلا کرتے ہیں۔ آخر میں ہم یہ بھی عرض کئے دیتے ہیں کہ خلیفہ قادیان کے مندرجہ بالا خط کے مطابق نہ صرف حیدرآباد بلکہ دنیا بھر کے مشہور ومعروف علماء بھی جمع ہوکر خلیفہ قادیان یا مرزائی علماء کے مقابلہ میں مباہلہ کرلیں اور مدت معینہ میں کوئی اثر ظاہر نہ ہوا۔ یعنی کسی کی موت نہ آئے تو قادیانی امت اپنی خفت مٹانے کو فوراً یہ کہنے لگے گی کہ یہ لوگ دل میں ڈر گئے توبہ اور رجوع کیا اور خشیۃ اللہ کو اپنے دل میں داخل کیا اور درباطن مرزا قادیانی پر ایمان

146

لائے وغیرہ وغیرہ۔ جیسے کہ مرزا قادیانی آں جہانی نے اپنی منکوحہ آسمانی کے حقیقی شوہر مرزا سلطان محمد سلمہٗ اللہ اور پادری آتھم کے نسبت باتیں بنائی تھیں۔

  1. کوئی بھی بات مسیحا تری پوری نہ ہوئی

    یہی بس ہے تری پہچان رسول قدنی

قادیانی مباحثہ دکن

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ماہ جنوری ۱۹۲۳ء میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان سکندرآباد دکن تشریف لائے اور مرزائیوں کی تردید میں بمقام سکندرآباد وحیدرآباد دھواں دھار تقریریں فرمانے لگے۔ عبد اللہ الٰہ دین صاحب نے قادیان سے مولوی شیخ عبدالرحمن صاحب کو بلایا۔ تمام مسلمانان حیدرآباد سکندرآباد یہ چاہتے تھے کہ قادیانی مذہب کے متعلق فریقین کے علماء جلسہ عام میں مباحثہ کریں مگر سرکاری اجازت نہ ملنے سے لوگوں کی آرزو دل ہی دل میں رہ گئی۔ البتہ ۳۱؍جنوری ۱۹۲۳ء کو علائوالدین بلڈنگ میں ایک مختصر سے جلسہ میں بصدارت جناب ہمایوں مرزا صاحب بیرسٹر صرف ایک روز مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب اور مولوی شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی میں تحریری مباحثہ ہوا جس میں شیر پنجاب مولانا ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو جو انہوں نے محمدی بیگم منکوحہ آسمانی اور اس کے حقیقی شوہر مرزا سلطان محمد صاحب کی نسبت کی تھی غلط ثابت کردکھایا اس پیش گوئی کے غلط ہونے سے مرزا قادیانی کی نبوت بھی باطل ہوگئی۔ یہ مباحثہ انجمن ہذا کی جانب سے طبع ہوا ہے جو دفتر انجمن اہل حدیث سکندرآباد سے مفت مل سکتا ہے۔

اس مباحثہ میں جو علمائے کرام تشریف فرما تھے اور جنہوں نے اس کی نسبت جو رائے دی ہے وہ بجنسہٖ درج ذیل ہے:

مباحثہ ہذا پر علماء کرام کی رائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ والصلٰوۃ والسلام علٰی عبادۃ الذین اصطفٰی!

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور شیخ عبدالرحمن صاحب احمدی میں جو مناظرہ

147

بتاریخ ۳۱؍جنوری ۱۹۲۳ء سکندرآباد میں ہوا۔ زمرۂ سامعین میں ہم لوگ بھی شریک تھے۔ دونوں فریق کی گفتگو سننے کے بعد ہم لوگ جس نتیجہ تک پہنچے ہیں وہ حسب ذیل ہے۔

بحث اس میں تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے الہامی دعویٰ میں سچے تھے یا نہیں؟ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کی حسب ذیل عبارت پیش کی۔

’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص۳۱ خزائن ج۱۱ ص۳۱)

اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنا فیصلہ ان لفظوں میں درج کیا ہے کہ: ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘

(ایضاً)

مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے بعد یہ بیان دیا:

۱… داماد احمد بیگ (مسمی بہ سلطان احمد) اس وقت زندہ ہے۔

۲… مرزا غلام احمد قادیانی کو موت آچکی ہے۔

احمدی جماعت نے ان کے اس بیان کو تسلیم کیا۔ اس لئے ہم لوگ نہایت آسانی کے ساتھ اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ مرزا قادیانی اپنے قول کے موافق جھوٹے ہیں اور یہی مولوی ثناء اللہ صاحب کا دعویٰ تھا۔ اگرچہ اس کے بعد احمدی مناظر نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ بجائے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خود مرزا قادیانی کے اقوال ویقینیات کی تردید میں مصروف تھے۔ مثلاً مرزا قادیانی اپنی پیش گوئی کے متعلق یہ یقین رکھتے تھے کہ:

’’میری سچائی کے جانچنے کے لئے یہ میری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

مولوی ثناء اللہ صاحب نے تمہید میں ان کے اس نظریہ کا ذکر بھی کر دیا تھا لیکن احمدی مناظر نے خدا جانے کیوں اس کی تردید کی ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:’’پیش گوئی اصل چیز نہیں۔‘‘

مرزا قادیانی تو پیش گوئی کو سب سے بڑھ کر محک امتحان خیال کرتے تھے لیکن ان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پیش گوئی سے کھرے کھوٹے کا امتیاز مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’پیش گوئی کا ایسا پورا ہونا جس سے غیب کا پردہ اٹھ جائے ناممکن ہے۔‘‘

حتی کہ سب سے بڑھ کر محک امتحان کو انہوں نے متشابہات میں داخل کردیا۔ اسی

148

طرح مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو ’’تقدیر مبرم‘‘ قرار دیا تھا لیکن ان کے وکیل نے اسے مشروط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ قطع نظر اس سے کہ یہ خود مرزا قادیانی کی تردید تھی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے جب شرائط کی تشریح پوچھی تو انہوں نے ایسی عبارتیں پیش کیں جن سے کسی اور شرط کا بالکل پتہ نہیں چلتا اور زبردستی وہ مرزا قادیانی کی بعض عبارتوں سے شرط پیدا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عبارت اس سے اباء کررہی تھی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر اسے ’’تقدیر مبرم‘‘ بھی مان لیا جائے تب بھی اس کا ٹلنا مشکل نہیں۔ ثبوت میں انہوں نے مجدد الف ثانیؒ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’تقدیر مبرم‘‘ کی قسم ٹل سکتی ہے۔ عبارت مانگی گئی تو انہوں نے دینے سے انکار کیا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہاں تک کہا کہ اگر یہ عبارت مجدد صاحب کے کلام میں نکل آوے تو میں اپنے تمام دعوئوں سے باز آجائوں گا۔ لیکن اس پر بھی ان کو انکار پر اصرار رہا اور واقعہ بھی یہی ہے کہ مجدد صاحب کے کلاموں میں ہم لوگوں کے نزدیک بھی ایسی کوئی عبارت نہیں ہے۔من ادعی فعلیہ البیان!

علاوہ اس کے گفتگو سے بھی یہ بات غیر متعلق تھی۔ سوال تو یہ ہے کہ سلطان محمد کی موت کے ساتھ مرزا قادیانی کی صداقت وابستہ تھی، جب وہ نہ مرا تو ان کی صداقت بھی قطعی ہوا ہوگئی۔ ہم لوگوں کو اس پر سخت حیرت ہوئی کہ جب سلطان محمد مرزا قادیانی کی دھمکیوں سے اعراض کرکے ان کی منکوحہ آسمانی پر قابض رہا اور ان کے الہام کے مقابلہ اس نے استقلال کے ساتھ احمد بیگ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھا تو پھر اس کے توبہ کے کیا معنی ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب خط دیکھا گیا تو اس میں سلطان محمد نے کچھ بھی نہیں لکھا تھا نہ اس نے مرزا قادیانی کو ’’نبی مانا، نہ مسیح نہ مہدی‘‘ کچھ بھی نہیں بلکہ اس نے یہ جملہ لکھ کر کہ ’’پہلے بھی جو خیال کرتا تھا وہی اب سمجھتا ہوں‘‘ خط کے الفاظ میں ایک دوسرے معنی پیدا کردئیے۔ مثلاً اس نے مرزا قادیانی کو شریف النفس نیک وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے اور کہتا ہے ان کو ہمیشہ یہی سمجھتا رہا ہوں تو اب سوال یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی سے نکاح کرنے کے وقت اور مرزا قادیانی کی دھمکیوں کے بعد نکاح کو قائم رکھنے کے وقت کیا وہ مرزا قادیانی کو اس معنی میں نیک سمجھتا تھا جس معنی سے مرزائی سمجھتے ہیں؟ کس قدر عجیب ہے کہ ایک شخص کسی کو موت کی بددعا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد تیری بیوی سے میں نکاح کروں گا اور ایسے شخص کو نیک، شیخ بھی خیال کرتا ہو۔

149

مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ بیان کہ اس خط میں تعریضی چوٹیں ہیں بالکل صحیح ہے اور ان الفاظ کے وہی معنی ہیں جو اس شعر میں ہیں:

  1. بڑے پاک باطن بڑے صاف دل

    ریاض آپ کو کچھ ہم ہی جانتے ہیں

بہرحال اگر مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو مبرم نہیں بلکہ مشروط بھی مان لیا جائے یا مبرم کے ٹل جانے کو بھی بفرض محال تسلیم کر لیا جائے اور اخیر میں پھر اس خط کو بھی سلطان محمد کا صحیح سمجھ لیا جائے۔ اگرچہ اس کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا۔ پھر بھی توبہ کا ثبوت نہیں ملتا اور ہر حالت میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا فیصلہ ’’قضی الرجل علٰی نفسہ‘‘ (مرزا قادیانی اپنا فیصلہ خود کرکے دنیا سے تشریف لے گئے ہیں) بالکل صحیح ہے۔ الہام کا دعویٰ خود مرزا قادیانی نے کیا تھا۔ حجت انہی کی بات ہوسکتی ہے دوسرے کو اس میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

دستخط حکیم مقصود علی خان، دستخط محمد عبدالقدیر صدیقی پروفیسر جامعہ عثمانیہ، دستخط محمد عبدالواسع پروفیسر کلیہ جامعہ عثمانیہ، دستخط عبدالحئی پروفیسر جامعہ عثمانیہ، مناظر احسن گیلانی پروفیسر کلیہ عثمانیہ، ابوالفدا نور محمد مدرس مدرسہ دینیات سرکار عالی، سید محمد بادشاہ قادری، مولوی محمد بن ابراہیم دہلوی، مولوی محمد امین پنجابی، مولوی الٰہ داد خان، مفتی عبداللطیف پروفیسر جامعہ عثمانیہ حکیم شیخ احمد۔

خدا کی قسم میں مرزا قادیانی کو الہامی دعویٰ میں سچا نہیں مانتا

حسب تعلیم مرزا قادیانی جماعت کا دعویٰ ہے کہ : ’’مرزا قادیانی کی نبوت آنحضرت کی نبوت کا بروز ہے۔ بلکہ بشکل ثانی ہوبہو خود آنحضرتﷺ ہیں۔‘‘

(ملخص تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱ طبع اول خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)

اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ نبوت قادیان کے خدوخال بعینہٖ وہی ہوتے جو نبوت محمدیہ کے تھے مگر یہ جماعت یورپین ڈپلومیسی (عیاری) کی کچھ ایسی کوگر ہوگئی ہے کہ کسی اصول پر نہیں ٹھہرتی۔ آج ہم ان کی ایک خاص کارستانی کو ذرہ کھول کر بیان کرنا چاہتے ہیں جسے یہ لوگ ۱۹۲۳ء سے سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین سکندرآبادی کے نام سے شائع کررہے ہیں۔ اس کی ابتدا اس زمانہ سے ہوئی ہے جب میں حیدرآباد دکن گیا تھا۔ جہاں انہوں نے مجھ سے مرزا قادیانی کے کذب پر حلف اٹھانے کا شدید تقاضا کیا۔ چنانچہ ان کے مطالبۂ حلف پر میں نے

150

تحریری اور تقریری دونوں طرح سے حیدرآباد ہی میں دے دیا تھا۔ مگر قادیانی اور خاموشی؟

ضدان مفتریان ایّ تفرقٖ

آج کل انہوں نے پھر اس سلسلہ کو جاری کر رکھا ہے اس لئے میں بھی آج ذرہ تفصیل سے اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں امید ہے کہ قادیانی اہل قلم اپنے علم ودیانت سے کام لے کر ہمارے مضمون کا جواب شرعی دلائل کی روشنی میں دیں گے۔ پس وہ غور سے سنیں:

۱… مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں اور میں ان کا منکر۔ سلسلہ انبیاء میں سے کسی نبی خصوصاً سید الانبیاءo نے اپنے کسی منکر رسالت کو حلف نہیں دیا۔ منکرین رسالت کے الفاظ سادہ الفاظ میں قرآن میں منقول ہیں جیسا کہ ارشاد ہے:

۱…’’ویقول الذین کفروا لست مرسلاً (الرعد:۴۳)‘‘منکر کہتے ہیں کہ تم رسول نہیں ہو۔

۲…’’قالوا مآ انتم الّا بشرٌ مثلنا‘‘منکروں نے پیغمبروں سے کہا کہ تم ہمارے جیسے آدمی ہو۔

اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں جو منکرین کا انکار سادہ الفاظ میں بتا رہی ہیں۔ ایسے منکرین سے انبیاء اور ان کے اتباع نے کبھی قسم کا مطالبہ نہیں کیا۔

پھر تم کون ہو؟ منکر نبوت سے مطالبہ حلف کرنے والے کوئی دلیل تو پیش کرو۔ تاہم بطور ارخائے عنان (احساناً) ہم نے مرزا قادیانی کی تکذیب پر کئی بار حلف اٹھایا۔ سب سے پہلے قادیان میں بموقع جلسہ اسلامیہ ۱۹۲۱ء میں حلف اٹھایا۔ چنانچہ اخبارالفضل ۴ا؍اپریل ۱۹۲۱ء میں اس کا ذکر موجود ہے کہ: ’’مولوی ثناء اللہ نے قسم کھا کر کہا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ الہام میں جھوٹے ہیں۔‘‘

اس کے بعد میں نے اخبار اہل حدیث ۲۸؍اپریل ۱۹۲۶ء میں ایک حلفیہ مضمون لکھا۔ جس کو بصورت اشتہار بھی شائع کیا گیا۔ جس کی سرخی یہی تھی جو آج کے مضمون کی ہے۔ چوں کہ قادیانی جماعت اپنے اندر کا پول خوب جانتی ہے اس لئے وہ سمجھتی ہے کہ ہر ایک سچا مومن مرزا قادیانی کے کذب پر حلف اٹھالے گا اس لئے وہ اس کمزوری کو مضبوطی سے بدلنے کے لئے یہ پخ لگاتی ہے کہ حلف کے ساتھ ایک سال مدت کی شرط بھی لگائو یعنی میں (حلف اٹھانے والا) یہ بھی کہوں کہ میں اگر جھوٹا ہوں تو ایک سال کے اندر مر جائوں۔

151

سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین سکندرآبادی نے مجھ سے اسی قسم کے حلف کا مطالبہ کیا تھا۔ چوں کہ اس شرط کا ثبوت بھی شرع میں نہیں بلکہ یہ محض لغو اور دفع الوقتی ہے، اسی لئے میں نے اس شرط کی تکمیل کے طور پر مزید یہ شرط لگائی کہ: ’’میں تمہارے لفظوں میں حلف اٹھانے کو تیار ہوں بشرطیکہ تم (عبد اللہ ) اور خلیفہ قادیان یہ لکھ دو کہ حلف اٹھانے کے ایک سال بعد اگر میں (ثناء اللہ ) زندہ رہا تو تم دونوں مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھو گے۔‘‘ اس شرط کو انہوں نے منظور نہیں کیا۔

ناظرین کرام! اس مہذب جماعت (حواریان مسیح) سے کوئی پوچھے کہ تمہیں کس آسمانی کتاب یا زمینی عدالت اعلیٰ (ہائیکورٹ) سے یہ اختیارات مل گئے ہیں تم تو جو شرطیں چاہو لگاتے جائو مگر فریق ثانی کی کوئی بات بھی نہ سنو۔ چاہے وہ کتنی ہی معقول ہو۔

دیکھئے منکر رسالت کو حلف دینے کا ثبوت اگرچہ قرآن حدیث میں نہیں ملتا۔ مگر تمہاری خاطر ہم نے اس کو بھی مان لیا بلکہ پورا کردیا۔ اب جو تم لوگ ایک سال تک زندہ رہنے کی قید لگاتے ہو حالاں کہ اس کا ثبوت بھی شرع میں نہیں ملتا۔ مگر تمہاری خاطر ہم اسے بھی مان لیتے ہیں۔ لیکن ایک شرط کے ساتھ جو نہایت معقول اور مستحسن ہے وہ یہ ہے کہ اگر میری زندگی ایک سال سے تجاوز کرجائے تو تم لوگ اپنی جانب کو جھوٹا سمجھو گے۔ آئو میں تم کو اس کے ثبوت میں صحیح حدیث سے ایک واقعہ سنائوں۔ اگر راست گوئی اور راست پسندی کو تم لوگ اچھا سمجھتے ہو تو اس حدیث پر غور کرو۔ پس سنو اور دل کے کانوں سے پردہ اٹھا کر سنو اور اس دن کے خوف کو دل میں جگہ دے کر سنو جس کا نقشہ قرآن مجید ان الفاظ میں بتاتا ہے۔

’’یوم لایغنی مولی عن مولی شیئاً‘‘(جس دن کوئی دوست دوست کے کام نہ آئے گا)

واقعہ مذکورہ سورۂ روم کی آیت اوّل میں ہے۔ توجہ سے پڑھو جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’الٓمٓ غلبت الروم فیٓ ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین (الروم: ۱تا۴)‘‘

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ رومی مغلوب ہونے کے بعد بضع سالوں میں غالب آجائیں گے۔ بضع کا لفظ نو تک بولا جاتا ہے۔

ابوبکر صدیقb کو قریش نے کہا کہ بضع کی مدت کو متعین کرکے ہمارے ساتھ شرط لگائو۔ اگر اس مدت میں رومی غالب آگئے تو تو سچا ٹھہرے گا ورنہ شرط ہار کر جھوٹا قرار پائے گا۔

152

صدیق اکبرؓ نے اپنے فہم سے چھ سال کی مدت مقرر کردی جب رسول اللہ ﷺ نے یہ خبر سنی تو فرمایا کہ صدیق! تو جانتا ہے کہ تیری زبان میں لفظ بضع کا اطلاق نو (۹) تک ہوتا ہے پھر چھ سال کی مدت کیوں ٹھہرائی؟ چنانچہ نتیجہ یہی ہوا کہ رومی لوگ چھ سال کے عرصہ میں غالب نہ آئے۔ تب حضرت صدیقb نے اپنی شرط پوری کردی یعنی جو کچھ دینا مقرر کیا تھا دے دیا۔

اس حدیث سے ہمارا استدلال یوں ہے کہ میعاد مقررہ گزرنے پر صدیق اکبرؓ نے اپنی ہار مان لی اور جو شرط لگائی تھی وہ پوری کردی۔ گو آپ کے اس فعل سے قرآن مجید کی پیش گوئی پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔

قادیانی ممبرو! آئو اپنے معاملے کو اس حدیث پر پرکھو تم میری موت کے لئے ایک سال مدت کی قید لگاتے ہو میں اس میعاد کو منظور کرتا ہوں۔ مگر اتنا کہتا ہوں کہ ایک سال گزرنے کے بعد اگر میں ایک دن بھی زیادہ زندہ رہا تو تم لوگ بھی مرزا قادیانی کے دعوے کا کذب تسلیم کرلینا ورنہ اس حدیث کا جواب دو جو عملاً موقوف ہے اور علماً مرفوع ہے۔

یاد رکھو! اہل حدیث تمہاری بھول بھلیوں میں نہیں پھنسنے کا۔ اس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خلیفہ قادیان کو اس میں کیوں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں تمہارے طرز عمل کا کافی تجربہ ہے۔

چنانچہ اپریل ۱۹۱۲ء میں تم نے لدھیانہ میں ہمارے ساتھ انعامی مباحثہ کیا اور مسلمہ ثالثوں کے فیصلہ کے مطابق ہم نے تم سے انعام جیت لیا۔ مگر تم تو یہ کہہ کر پھر کھڑے ہوگئے کہ یہ کام منشی قاسم علی کا ذاتی فعل تھا جس کے متعلق اس نے خلیفہ صاحب سے اجازت حاصل نہیں کی تھی۔ اس لئے یہ ساری جماعت پر حجت نہیں ہوسکتا۔ ٹھیک اسی طرح اس حلف کے متعلق بھی تم یہی کہو گے کہ یہ فعل سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین کا ذاتی ہے ساری جماعت پر حجت کیوں کر ہوسکتا ہے؟

ہماری دریا دلی: ملاحظہ ہو کہ سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین اس حلف پر ہم کو ساڑھے دس ہزار روپیہ انعام دینے کا وعدہ دیتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ اگر ہم ان کے تجویز کردہ الفاظ میں حلف اٹھالیں تو وہ پانچ سو روپیہ ہم کو اسی وقت اور سال بھر تک زندہ رہنے کی صورت میں مزید دس ہزار روپیہ انعام دیں گے۔ مگر ہم اس دس ہزار بلکہ بیس ہزار پر بھی لات مارتے ہیں

153

کیوں کہ یہ لوگ اپنی حسب معمول درشت کلامی وسخت گوئی کے ماتحت یہی کہیں گے کہ علماء کا کیا ہے یہ لوگ تو پیسے کے مرید ہیں ان کو سچ اور جھوٹ سے کیا مطلب؟

اس لئے ہم محض اظہار حق کے لئے ان کے پیش کردہ الفاظ میں بھی حلف اٹھانے کو تیار ہیں بشرطیکہ سیٹھ عبد اللہ الٰہ دین ہمیں لکھ دیں کہ حلف اٹھا کر مولوی ثناء اللہ ایک سال کے بعد زندہ رہے تو میں قادیانی مذہب چھوڑ دوں گا اور خلیفہ قادیانی بحیثیت خلیفہ کم سے کم اجازتی دستخط کردیں کہ میں سیٹھ صاحب کے اس معاہدے کی اجازت دیتا ہوں اور اس کو جائز رکھتا ہوں۔

قادیانی ممبرو! انصاف سے بتائو کہ کیا شرط کی ہر دو جانب (نفی اور اثبات) ایک ہی اثر پیدا کرتی ہیں یعنی حلف اٹھانے کی صورت میں ایک سال کے اندر مر جائوں تو میں بھی جھوٹا ٹھہروں اور بحکم خدا ایک سال گزار کر زندہ رہوں تو بھی جھوٹا قرار دیا جائوں:

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں

    بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

حاجی عبد اللہ صاحب! مذہبی معاملے میں آخری تعلق خدا سے ہے جہاں بھول بھلیاں کام نہیں آئیں گی۔ سیدھی بات ہے کہ میں مرزا قادیانی کی نبوت اور منصب مسیحیت کامکذب ہوں اور اس تکذیب پر اپریل ۱۹۲۱ء سے حلف اٹھاتا چلا آتا ہوں اور آج اسی مضمون کی سرخی میں بھی میرا حلف موجود ہے۔ ان سب شرارتوں کی وجہ سے میں بقول آپ کے مورد عتاب الٰہی ہوں مگر واقعہ یہ ہے کہ میں بفضلہ تعالیٰ اب تک زندہ ہوں اور میرے مخاطب قادیانی نبی مرزا قادیانی کو باوجود مقابلہ کے طور پر میری موت کی پیش گوئی کرنے کے دنیا سے کوچ کئے ہوئے اکتیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے پھر کیا آپ لوگوں کو کسی مزید حلف کی ضرورت باقی ہے۔ اگر آپ جواب میں ہاں کہیں گے تو میری طرف سے یہی فرمان خداوندی سنا دینا کافی ہوگا:

’’انّ الذین حقّت علیہم کلمت ربّک لا یؤمنون (یونس:۹۶)‘‘

  1. نہیں وہ قول کا پکا ہمیشہ قول دے دے کر

    جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

(نوٹ) احباب اگر اس مضمون کو مفید سمجھیں تو اسے بکثرت شائع کرکے ثواب حاصل کریں۔ ’’انّ اللہ لایضیع اجرالمحسنین‘‘

خادم دین اللہ ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری

(منقول از اخبار اہل حدیث امرتسر ۲۹؍مارچ ۱۹۴۰ء ص۵،۶)

154

تعلیمات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

155

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً!

پہلے مجھے دیکھئے

دیباچہ

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی آج پنجاب میں خصوصاً اور ہند میں عموماً بلکہ بیرون ہند بھی زبان زد عام وخاص ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ میں مہدی مسعود اور مسیح موعود ہوں، خدا سے ہم کلام ہوں، نبی ہوں، رسول ہوں۔ اس کے سوا انہوں نے کوئی شرعی حکم ایجاد نہیں کیا بلکہ احکام شرعیہ سابقہ ہی پر عمل کرتے اور بتاتے رہے۔ ہاں! ساری عمر ان کی محض اپنی شخصیت منوانے میں گزری، یہی کہتے رہے کہ میری دعوت کا قبول کرنا ہر مسلمان بلکہ ہر انسان پر فرض ہے۔ چوں کہ انہوں نے سب دنیا کو اپنی طرف بلایا اور ایمان لانے کی دعوت دی۔ لہٰذا سب لوگوں نے ان کے دعویٰ کو جانچنے پر توجہ کی بہت سی کتابیں لکھیں، مباحثات کئے، کسی صاحب نے حیات مسیح پر کتابیں لکھیں، کسی نے آثار قیامت پر۔ خاکسار نے جو کچھ لکھا اس کا بیشتر حصہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کے متعلق ہے۔ یہ رسالہ بھی اسی قسم سے ہے۔ اس رسالہ میں پانچ ابواب ہیں۔ جن میں پانچ مضمون درج ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں:

(۱) صفات مرزا، (۲)اختلافات مرزا، (۳)کذبات مرزا،

(۴)نشانات مرزا ، (۵)اخلاق مرزا۔

ناظرین سے استدعا ہے کہ رسالہ ہذا کو پڑھ کر اپنے بھٹکے ہوئے انسانی برادران (مرزائیوں) کو صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کریں۔ وہ ضد کریں تو ان کے حق میں دعائے خیر کریں کہ خدا ان کو غلطی سے نکالے۔

نوٹ: مرزائی اخبار اور مرزائی لیڈر خاکسار کو اپنا بدترین دشمن لکھا اور کہا کرتے ہیں۔ میں اس کے جواب میں کہا کرتا ہوں۔ میں دشمن نہیں بلکہ مرزا قادیانی اور امت مرزائیہ کا آنریری مبلغ ہوں جو کلام مرزا کو ناواقفوں تک بے تنخواہ پہنچاتا ہوں۔

ناظرین اس رسالہ کو بغور پڑھ کر امید ہے میرے دعویٰ کی تصدیق کریں گے۔

156

’’ربّنا تقبل منّا انک انت السمیع العلیم‘‘ طباعت کے بعد اس رسالہ کا اثر عوام پر جتنا ہوا، اتنا ہی اتباع مرزا کو صدمہ ہوا۔ اس لئے انہوں نے اس کا جواب لکھا۔ جس کا نام ہے۔ ’’تجلیات رحمانیہ‘‘ مصنف کا نام ہے مولوی اللہ دتہ جالندھری مبلغ قادیان۔ طبع ثانی کتاب ہذا میں اس جواب کا جواب الجواب بھی دیا گیا ہے۔ ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں۔

احباب کرام! یہ رسالہ جملہ تصانیف متعلقہ مشن قادیان سے مفید تر ہے۔ آپ صاحبان بھی اس کو مفید پائیں تو اس کام میں حصہ لیں۔ جس کی صورت یہ ہے کہ آپ خود دیکھیں اور مرزا قادیانی کے مریدوں کو دکھائیں۔ ہمدردان اسلام سے بہت کچھ خیر کی امید ہے۔

والسلام! … ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسر محرم ۱۳۵۱ھ، مئی ۱۹۳۲ء

باب اوّل … صفات مرزا

۱… ’’میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جہاں تمام بلندیاں ختم ہیں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۶، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

۲… ’’میرا تخت سب تختوں سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۹ خزائن ج۲۲ ص۹۲)

۳… ’’میرے آنے سے پہلوں کے سورج ڈوب گئے۔‘‘

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص خ، خزائن ج۱۶ ص ۳۲۰)

۴… ’’میں خواب میں اللہ ہوگیا اور میں نے یقین کرلیا کہ میں واقعی اللہ ہوں… پھر میں نے آسمان بنایا اور زمین بنائی وغیرہ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۵… ’’خدا عرش پر میری تعریف کرتا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۵۵ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۶… ’’میں خدا کے نزدیک اس کی اولاد کے رتبہ میں ہوں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ حاشیہ ص۱۹ خزائن ج۱۷ ص۴۵۲)

۷… ’’میرے منکر مسلمان حرام زادے ہیں‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

۸… ’’مجھے مردوں کو زندہ کرنے کی اور زندوں کو مارنے کی قدرت دی گئی ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص ۵۶)

۹… ’’میری شان میں ہے: ’’وما ینطق عن الہوٰی‘‘ یعنی مرزا قادیانی خواہش سے نہیں بولتا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۶ خزائن ج۱۱ ص ۴۲۶)

157

۱۰…’’اعلموا ان فضل اللہ معی وان روح اللہ ینطق فی نفسی‘‘ جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے نفس میں بولتی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۷۶ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

باوجود ان دعاوی کے جن لوگوں نے مرزا قادیانی کے اقوال ملاحظہ کئے ہیں۔ وہ قرآنی اصول کی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں۔’’لوکان من عندغیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (نساء: ۸۲)‘‘جو کلام غیر خدا سے ہو اس میں بہت اختلاف ہوتے ہیں۔

پس مندرجہ ذیل اقوال مرزا ملاحظہ ہوں:

دوسرا باب … اختلافات مرزا

اس باب کے جواب میں مجیب نے جو علمی جوہر دکھائے ہیں۔ وہ اہل علم کے سننے اور دیکھنے کے قابل ہیں۔ مجیب نے اصولی جواب دو طرح دئیے ہیں۔

’’ایک یہ کہ جس طرح قرآن میں نسخ ہے۔ اسی طرح اقوال مرزا میں بھی نسخ ہوسکتا ہے۔‘‘

(تجلیات رحمانیہ ص۲۶، ۲۷)

فاضل مصنف کو غالباً دھوکہ لگا ہے۔ وہ جملہ خبریہ اور انشائیہ میں تمیز نہیں کرسکے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ نسخ احکام یا مناہی میں ہوتا ہے جو جمل انشائیہ ہوتے ہیں۔ جمل خبریہ میں اختلافات ہو تو نسخ نہیں کہا جاتا بلکہ دو میں سے ایک کو جھوٹ کہا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص کہے کہ کل ٹھک بارہ بجے بارش ہوئی تھی۔ پھر کہے ’’کل بارہ بجے بارش نہیں ہوئی تھی۔‘‘ یہ دو جملے خبریہ ہیں۔ یقینا ان کے اختلاف کا جواب نسخ سے نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ یقینا ماننا پڑے گا کہ دو کلاموں میں سے ایک جھوٹ ہے۔

ناظرین کرام! مجیب اللہ دتہ قادیانی یوں تو مولوی فاضل کا امتحان پاس کردہ ہیں مگر قادیانی قصر نبوت کی حفاظت کا کام بھی تو بہت مشکل ہے۔ اس لئے مجیب صاحب اگر جمل خبریہ اور انشائیہ میں تمیز کرنا بھول جائیں تو محل تعجب نہیں۔ اسی لئے وہ مرزا قادیانی کو مخاطب کرکے بزبان حال کہتے ہیں:

  1. ساحری کردد وچشم تووگرنہ زیں پیش

    بود ہشیار تر از تو دل دیوانہ ما

مجیب نے ایک جواب یہ بھی دیا ہے کہ ’’مرزا قادیانی کے اقوال میں اختلاف ہو تو ہو الہامات میں اختلاف نہیں۔‘‘

(ص۶۵)

158

جواب الجواب: ہم جانتے ہیں کہ ملہم کے ذاتی اقوال اور الہام الگ الگ ہوتے ہیں۔ ملہم کے ذاتی قول میں غلطی ممکن ہے۔ کیوں کہ ملہم پر ہر وقت وحی الٰہی نازل نہیں ہوتی۔ مگر مرزا قادیانی ایسے ملہم ہیں کہ ہر وقت اور ہر لحظہ روح القدس ان کے ساتھ رہتا تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:’’اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے… اور انوار دائمی اور استعانت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا یہی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۹۳، ۹۴ خزائن ج۵ حاشیہ ص ایضاً)

یہ تو ہوا مرزا قادیانی کا بربنائے تجربہ عام قانون۔ جس میں خود بھی داخل ہیں۔ اب ایک اور ثبوت سنئے۔ مرزا قادیانی تو اپنے پر روح القدس کو اس قدر متولی اور حاوی جانتے ہیں کہ عبارتی غلطی بھی ان سے نہیں ہوسکتی۔ فرماتے ہیں:’’یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں (مرزا) خاص طور پر خداتعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیوں کہ جب میں عربی یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۶ خزائن ج۱۸ ص۴۳۴)

ناظرین کرام! ایسا ملہم جو ہر وقت بلا فصل دائم روح القدس کی حفاظت میں ہو، جس کی حفاظت خدا اتنی کرے کہ عبارت بھی اسے خود بتائے۔ اس کی نسبت اقوال اور الہام میں فرق کرنا اس ملہم کی ہتک کرنا نہیں تو کیا ہے؟ اسی لئے ہم نے اقوال مرزا کے اختلاف پر آیت قرآنی’’لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا‘‘لکھی جس پر مجیب نے غور نہیں کیا۔ کیوں کہ دل پر بے جا محبت نے غلبہ کر رکھا ہے۔

۱… حضرت مسیحؑ دوبارہ خود آئیں گے

’’ہوالذی ارسل رسولہ باالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘(مسیح موعود کے دوبارہ آنے کا اعتراف)

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ ص۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج۱ حاشیہ ص۵۹۳)

159

اس کے خلاف ’’پس دنیا میں مسیح ابن مریم ہرگز نہیں آئے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۴ خزائن ج۳ ص۴۳۲)

حضرت مسیحؑ نہیں آئیں گے میں ہی مسیح موعود آگیا ہوں۔

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پا بہ منرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸ خزائن ج۳ ص۱۸۰)

مجیب نے اس کا جواب دیا کہ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔ اس کے بعد جو لکھا وہ تحقیقی لکھا۔

(ص۴۷، ۴۸)

جواب الجواب: مرزا قادیانی زمانہ تالیف براہین میں بھی مدعی مجددیت تھے، اسی تجدید میں انہوں نے براہین لکھی اور جناب مسیح کے متعلق جو کچھ لکھا وہ آیت مرقومہ سے استدلال کرکے لکھا نہ کہ رسمی اور شنیدی بلکہ تحقیقی اور تنقیدی علیٰ وجہ البصیرت لکھا۔

چنانچہ براہین کے اخیر میں لکھتے ہیں ’’یہ کتاب خدا مجھ سے لکھاتا ہے۔ یہ بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں اس قدر خدا کی حفاظت میں ہوں کہ ’’جب میں عربی یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۶ خزائن ج۱۸ ص۴۳۴)

معلوم ہوا کہ براہین کی عبارت بھی اسی اندر کی تعلیم کا نتیجہ ہے نہ کہ رسمی عقیدہ۔

مرزائی دوستو! کیا یہ دعویٰ مرزا قادیانی کا محض بور کے لڈو ہیں؟

۲… حضرت دائود کا تخت بحال کرنے آیا ہوں … قول مسیح

’’یسوع نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ میں دائود کے تخت کو قائم کرنے آیا ہوں اور اس طرح پر یہود کو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا کہ دیکھو میں تمہاری بادشاہی پھر دنیا میں قائم کرنے آیا ہوں اور رومی گورنمنٹ سے اب جلد تم آزاد ہوا چاہتے ہو۔ مگر وہ بات نہ ہوئی اور یسوع صاحب نے نہایت درجہ ذلت دیکھی۔ منہ پر تھوکا گیا اور آپ کے اس حصہ جسم پر کوڑے لگائے گئے جہاں مجرموں کو لگائے جاتے ہیں اور حوالات میں کیا گیا۔ پس یہودا اور بہت سے لوگوں نے بخوبی سمجھ لیا کہ اس شخص کی پیش گوئی صاف جھوٹی نکلی اور یہ خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۲ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

160

اس کے خلاف: ’’ایسا ہی حضرت عیسیٰؑ کو خدا نے خبر دی تھی کہ تو بادشاہ ہوگا۔ انہوں نے اس وحی الٰہی سے دنیا کی بادشاہی سمجھ لی اور اسی بنا پر حضرت عیسیٰ نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خرید لو مگر آخر معلوم ہوا کہ یہ حضرت عیسیٰ کی غلط فہمی تھی اور بادشاہت سے مراد آسمانی بادشاہت تھی نہ زمین کی بادشاہت۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۹، خزائن ج۲۱ ص۲۵۰)

نوٹ: پہلے بیان میں اس پیش گوئی کو یسوع کی بناوٹی بتا کر موجب ذلت بتائی۔ دوسرے میں خدا کی طرف سے بتا کر بتاویل پوری ہونے کی اطلاع دی۔ کیا خوب!

اس اختلاف کا جواب مجیب نے یہ دیا ہے کہ پہلا بیان عیسائیوں کے خیال پر ہے۔ دوسرا بیان واقعیت پر۔

(ص۴۹)

جواب الجواب: اس تاویل سے دونوں کلاموں کا مضمون کیا ہوا؟ یہ کہ عیسائیوں کے جس خیال پر ہنسی اڑائی تھی خود اسی کو واقعی جان کر تسلیم کرلیا۔ تعجب نہیں عیسائی آپ کا جواب سن کر مرزا قادیانی کو یہ مصرعہ نذر کریں:

خود غلط بود آں چہ تو پنداشتی

ممکن ہے اسی طرح مجیب بھی آئندہ کبھی اپنے عندیہ میں ہمارا بیان تسلیم کر لیں۔ (خدا وہ دن کرے۔)

۳… حضرت مسیح کی سخت کلامی

’’حضرت عیسیٰؑ نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولدالحرام تک کہہ دیا اور ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سے سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۱۱ خزائن ج۲۰ ص۳۴۶)

قادیانیو! سنتے ہو: ’’حضرت عیسیٰ اورm‘‘ اسلامی اصطلاح میں یہ لقب اس ذات کے ہیں جن کو روح اللہ ’’وجیہاً فی الدنیا والآخرۃ‘‘ کہا گیا ہے۔ اسی کے حق میں مرزا قادیانی کو یہ گوہر افشانی ہے۔

مزید کے لئے ہمارا رسالہ ’’ہندوستان کے دو ریفامر‘‘ دیکھئے۔

161

اس کے خلاف: ’’کبھی معالجہ کے طور پر سخت لفظ بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ لیکن اس استعمال کے وقت نہ ان کا دل جلتا ہے نہ طیش کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ نہ منہ پر جھاگ آتی ہے۔ ہاں! کبھی بناوٹی غصہ، رعب دکھلانے کے لئے ظاہر کردیتے ہیں اور دل آرام وانبساط اور سرور میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ حضرت عیسیٰؑ نے اکثر سخت لفظ اپنے مخاطبین کے حق میں استعمال کئے ہیں۔ جیسا کہ سور، کتے، بے ایمان، بدکار وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ نعوذب اللہ ! آپ اخلاق فاضلہ سے بے بہرہ تھے۔ کیوں کہ وہ توخود اخلاق سکھاتے اور نرمی کی تعلیم کرتے ہیں۔ بلکہ یہ لفظ جو اکثر آپ کے منہ پر جاری رہتے تھے۔ یہ غصہ کے جوش اور مجنونانہ طیش سے نہیں نکلتے تھے۔ بلکہ نہایت آرام اور ٹھنڈے دل سے اپنے محل پر یہ الفاظ چسپاں کئے جاتے تھے۔‘‘

(ضرورت الامام ص۷ خزائن ج۱۳ ص۴۷۷، ۴۷۸)

نوٹ: پہلے اقتباس میں حضرت عیسیٰؑ کے جس قول کی مذمت ہے دوسرے میں اسی کی تحسین ہے۔

مجیب نے یہاں بھی دو رنگی دکھائی ہے۔ کہتے ہیں حضرت مسیح کے قول پر اعتراض، عیسائی نقطہ نگاہ سے اور تحسین اسلامی عقیدے سے ہے۔ کیا مجدد اور مسیح موعود کی یہی شان ہے کہ اپنا مضمون دربطن رکھے، حالانکہ حضرت مسیح کا نام بھی اسلامی اصطلاح میں لکھا ہے یعنی حضرت عیسیٰؑ۔ اس معزز نام کے ساتھ برائی کو ملا کر ذکر کرنا مجیب کے جواب کو رد کرتا ہے۔ فافہم!

۴… یسوع مسیح نیک کیوں نہ کہلایا بدچلن تھا

’’یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال وچلن، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بدنتیجہ ہے۔‘‘

(ست بچن ص۱۷۲ خزائن ج۱۰ حاشیہ ص۲۹۶)

اس کے خلاف: ’’جس کو عیسائیوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ کسی نے اس کو کہا۔ اے نیک استاد! تو اس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے، نیک کوئی نہیں مگر خدا۔ یہی تمام اولیاء کا شعار رہا ہے۔ سب نے استغفار کو اپنا شعار قرار دیا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۷ خزائن ج۲۱ ص۲۷۱)

’’حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے کہ انہوں نے یہ بھی روانہ رکھا کہ کوئی ان کو نیک آدمی کہے۔‘‘

(مقدمہ براہین ص۱۰۴خزائن ج۱ حاشیہ ص۹۴)

162

نوٹ: پہلے حوالہ میں یہ فقرہ موجب مذمت بتایا۔ دوسرے اور تیسرے میں وہی فقرہ باعث مدح قرار دیا۔ اس جگہ بھی مجیب نے عیسائیوں کی پناہ لی۔

چنانچہ لکھا ہے ’’اس فقرہ (منقولہ ست بچن) پر عیسائی نقطہ خیال سے اعتراض ہے۔ دوسرے میں اسلامی نقطہ نگاہ۔‘‘

(ص۵۶)

جواب الجواب: کیا یہ جواب ہے یا تسلیم؟ کیا ایسا کرنے پر عیسائی پادری مرزا قادیانی کا مذاق نہ اڑائیں گے کہ بھلے آدمی جس کلام پر اعتراض کرتے ہو جب اپنی نظر سے دیکھتے ہو تو اسی کی احسن تاویل کرتے ہو۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیںہوتا کہ تمہارا اعتراض غیریت کی نظر سے ہے جو امانت اور دیانت کے خلاف ہے۔

۵… یسوع کا ذکر قرآن میں نہیں

’’مسلمانوں کو واضح رہے کہ خداتعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۹ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۹۳)

اس کے خلاف: ’’اسی وجہ سے خداتعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون‘‘ یعنی عیسیٰ کی مثال خداتعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے۔ کیوں کہ خدا نے آدم کو مٹی سے بناکر پھر کہا کہ تو زندہ ہوجا۔ پس وہ زندہ ہوگیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۱۸ خزائن ج۲۳ ص۲۲۷)

اس کا جواب بھی وہی دیا کہ جس یسوع کی طرف عیسائیوں نے بہت خرابیاں منسوب کر رکھی ہیں۔ اس کا ذکر قران میں نہیں اور عیسیٰ کا ذکر ہے۔’’یسوع اور عیسیٰ دو ذاتیں نہیں، ذات ایک ہی ہے۔ مگر ذات کی دو حیثیتیں ہیں۔‘‘

(ص۵۷)

جواب الجواب: معلوم ہوتا ہے مجیب جواب نہیں دیتا بلکہ فرض منصبی ادا کرتا ہے۔ کوئی پوچھے یہ کس نے کہا ہے کہ یسوع اور عیسیٰ دو ہیں یا ایک۔ ہمارا مدعا تو یہ ہے کہ دونوں جگہ یسوع کا نام ہے۔ ایک جگہ کہا ہے کہ یسوع کا ذکر قرآن شریف میں نہیں۔ دوسری جگہ آیت قرآنی یسوع پر لگا کر قرآن شریف میں مذکور بتایا ہے۔ یاللعجب! یہ اختلاف کیوں؟

جواب الجواب: معلوم ہوتا ہے مجیب جواب نہیں دیتا بلکہ فرض منصبی ادا کرتا ہے۔ کوئی پوچھے یہ کس نے کہا ہے کہ یسوع اور عیسیٰ دو ہیں یا ایک۔ ہمارا مدعا تو یہ ہے کہ دونوں جگہ یسوع کا نام ہے۔ ایک جگہ کہا ہے کہ یسوع کا ذکر قرآن شریف میں نہیں۔ دوسری جگہ آیت قرآنی یسوع پر لگا کر قرآن شریف میں مذکور بتایا ہے۔ یاللعجب! یہ اختلاف کیوں؟

۶… حضرت عیسیٰ علامت قیامت تھے

’’جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ تحقیق وہ،عیسیٰ

163

مسیح،قیامت کی علامت ہے۔ یہ نہیں کہا کہ آئندہ کو علامت ہوگا۔ پس یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ (مسیح) علامت قیامت کسی ایسی وجہ سے ہے جو اس کو اس وقت حاصل تھی۔ نہ یہ کہ آئندہ کسی وقت حاصل ہوگی اور وہ وجہ جو حاصل تھی۔ وہ اس کا بے باپ پیدا ہونا تھا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ یہودیوں میں ایک فرقہ تھا صدوقی۔ وہ قیامت کا منکر تھا۔ خدا نے بعض انبیاء کی معرفت ان کو خبر دی تھی کہ ایک لڑکا بلا باپ ان کی قوم میں پیدا ہوگا۔ وہ ان کے لئے قیامت کے وجود کی علامت ہوگا۔ اسی طرف خدا نے اس آیت ’’وانّہ لعلم للساعۃ‘‘میں اشارہ کیا ہے۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۹۰ خزائن ج۷ ص۳۱۶)

نوٹ: مطلب صاف ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰؑ کی بے باپ پیدائش علامت قیامت ہے۔

اس کے خلاف: ’’پھر (یہ علماء) کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ(m) کی نسبت ہے:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ جن لوگوں کی یہ قرآن دانی ہے ان سے ڈرنا چاہئے کہ نیم ملا خطرہ ایمان… کیسی بدبودار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ساعۃ سے قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ساعۃ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۱ خزائن ج۱۹ ص۱۲۹)

۷… حضرت مسیح نے الوہیت کا دعویٰ کیا

’’مسیح۱؎ کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھائو پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

( مکتوبات احمد جدید، ج۱، ص۱۸۹، مکتوب نمبر۹)

اس کے خلاف : ’’انہوں (مسیح) نے اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۴۳ خزائن ج۲۰ ص۲۳۶)

۱؎دوستو اس نام (مسیح) سے تمہارے وہ اوہام دور ہوگئے جو تم لوگ کہا کرتے ہو کہ مرزا نے جہاں جہاں برائی سے یاد کیا ہے وہ یسوع کو کیا ہے اور یسوع اسلامی نام نہیں۔ ذرا اس عبارت کو دیکھو اور اس کے ساتھ ایک اور حوالہ بھی ملا لو جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’حضرت عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔‘

(کشتی نوح ص۶۵ خزائن ج۱۹ ص۷۱)

اب بتائو کہ تمہارا ایمان ایسے قائل کے حق میں کیا فتویٰ دیتا ہے، ایمان سے کہنا ’’ایمان ہے تو سب کچھ۔‘‘

164

مجیب نے یہاں بھی وہی کہا ہے جو پہلے کہہ آئے ہیں کہ پہلا قول علیٰ زعم النصاریٰ ہے۔ یعنی عیسائیوں کا قول ہے کہ مسیح نے خدائی دعویٰ کیا تھا۔ مرزا قادیانی کا اپنا خیال نہیں۔ (ص۶۰) حالاں کہ مجیب نے بطور کلیہ کے یہ لکھا ہے:

’’لفظ مسیح اس حیثیت کی نمائندگی کرتا ہے جو اسلام نے پیش کی ہے اور لفظ یسوع اس حیثیت کا مظہر ہے جو عیسائیت پیش کرتی ہے۔‘‘

(ص۳۰)

پس اس تسلیم سے صاف معلوم ہوگیا کہ مرزا قادیانی پہلے قول میں بھی اس مسیح کا ذکر کرتے ہیں جو اسلام کی نمائندگی کرنے والا ہے۔ اس لئے مجیب کا جواب مرزا قادیانی کی تصریح کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں۔

۸… مسیح کی آمد کا وقت تیرہ سو سال بعد

’’مثیل ابن مریم، ابن مریم سے بڑھ کر اور وہ مسیح موعود نہ صرف مدت کے لحاظ سے تa کے بعد چودہویں صدی میں ظاہر ہوا جیسا کہ مسیح ابن مریم موسیٰ کے بعد چودہویں صدی میں ظاہر ہوا تھا۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۳ خزائن ج۱۹ ص۱۴)

اس کے خلاف: ’’اس لحاظ کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کا اس زمانہ میں ظہور کرنا ضروری ہو۔‘‘

(شہادت القرآن ص۶۹ خزائن ج۶ ص۳۶۵)

نوٹ: پہلے اقتباس میں چودہویں صدی میں لکھا۔ دوسرے میں چودہ سو سال کے بعد۔ یعنی پندرہویں صدی لکھا۔ چودہویں صدی میں اور ’’چودہ صدی کے بعد‘‘

ان دو میں جو فرق نہ جانے وہ بعد میں مسیح موعود اور مہدی مسعود بن جائے۔

لطیفہ: مرزا قادیانی چوں کہ چودہویں صدی ہجری کے شروع میں آئے تھے۔ حالاں کہ ان کو پندرھویں صدی میں آنا چاہئے۔ اس لئے آپ جلدی تشریف لے گئے۔ اب حسب وعدہ پندرہویں میں مکرر تشریف لاویں گے۔ خدا خیر کرے۔

مجیب نے یہاں جو کچھ بھی مرزا قادیانی کی تائید میں لکھا ہے وہ تائید نہیں تردید ہے۔ تردید بھی ایسی کہ کوئی مخالف بھی نہ کرے۔ ناظرین! ہمارے دعویٰ کا ثبوت سنیں:

مجیب نے ہمارے پیش کردہ حوالہ نمبر اوّل کو یہودی تاریخ بتایا اور حوالہ نمبر دو کو

165

عیسائی تاریخ کہہ کر بتایا کہ ’’حضرت مسیح موعود (مرزا) نے بکرات ومرات اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ حضرت مسیح (m) حضرت موسیٰؑ کی چودہویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے۔ (یہ بھی مجیب نے لکھا ہے کہ) ’’چودہ سو برس بعد ظاہر‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ چودہویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے۔ کیوں کہ حضرت (مرزا قادیانی) بھی مانتے تھے کہ حضرت مسیح چودہویں صدی میں ظاہر ہوئے۔‘‘

(ص۶۲)

ناظرین! خصوصاً مرزائی دوست اس عبارت کو خوب یاد رکھیں کہ مجیب نے مرزا قادیانی کا عندیہ اور اعتقاد یہ ظاہر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح (m) حضرت موسیٰؑ کے بعد تیرہویں صدی کے بعد چودہویں صدی کے اندر آئے تھے۔

اب اس کے خلاف سنئے۔ خلاف بھی ہمارا استنباطی نہیں بلکہ الہامی۔ جناب مرزا قادیانی اپنا الہامی فیصلہ خود فرماتے ہیں:

’’مجھ پر خداتعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ کھول دیا کہ حضرت مسیح ابن مریم بھی درحقیقت ایک ایمان کی تعلیم دینے والا تھا۔ جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد پیدا ہوا۔‘‘

(فتح اسلام حاشیہ ص۱۴، خزائن ج۳ حاشیہ ص۱۰)

مرزائی دوستو! ایمان سے بتائو۔ کوئی مرزائی تم میں ایسا ہے جو حضرت مرزا قادیانی کے الہام کے خلاف کوئی بات قبول کرے۔ ہمارا تو یقین ہے کہ تم لوگ ایسے مرزائی کو احمقی کہو گے، احمدی نہیں کہو گے۔ پھر یہ کیا جواب ہے جو تمہارے لائق وکیل اللہ دتہ قادیانی نے دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامی فیصلہ کے خلاف ہے یا نہیں۔ ذرہ انصاف سے کہیو خدا لگتی۔ کیا یہی کتاب ہے جس کی تعریف تمہارے اخبار بے حد کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے ہی دوست ہیں جن کی بابت حضرت شیخ سعدیؒ نے گویا مرزا قادیانی کو مخاطب کرکے کہا ہے:

  1. ترا اژدہا گر بود یار غار

    ازان بہ کہ جاہل بود غمگسار

اور سنئے: مجھے نے بڑا زور لگا کر ہمارے پہلے حوالے کو محض یہودیوں کا خیال بتایا ہے۔ حالاں کہ مرزا قادیانی خود اس کو بھی خدائی الہام بتاتے ہیں۔ غور سے سنئے فرماتے ہیں:

’’سلسلہ موسویہ کی آخری خلافت کے بارے میں تورات میں لکھا تھا کہ وہ سلسلہ مسیح موعود پر ختم ہوگا۔ یعنی اس مسیح پر جس کا یہودیوں کو وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اس سلسلہ کے آخر میں چودہ سو برس کی مدت کے سر پر آئے گا۔‘‘

(ایام الصلح اردو ص۵۲ خزائن ج۱۴ ص۲۸۴)

166

صاف اقرار ہے کہ یہودیوں کو خدا نے بتا دیا تھا کہ مسیح موعود (حضرت عیسیٰ مسیح) چودہویں صدی کے سرپر آئے گا۔ یہ مضمون اگرچہ یہودیوں کے حق میں الہامی تھا مگر مرزا قادیانی جیسے الہامی (مدعی الہام) شخص نے جب اس کی تصدیق کردی تو ان کے حق میں بھی الہامی ہوگیا۔ حالاں کہ اپنا الہام خود لکھ چکے ہیں کہ ’’حضرت مسیح بعد موسیٰ کے پندرہویں صدی میں آئے تھے۔‘‘ اب تو اللہ دتہ قادیانی کو بھی ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی سچے ملہم نہ تھے۔ کیوں کہ سچے الہاموں میں تعارض اور تحالف نہیں ہوتا۔

(ص۲۳)

پس ہمارا نتیجہ! صحیح رہا کہ مرزا قادیانی کو حضرت مسیح اوّل کی طرح پندرہویں صدی میں آنا چاہئے تھا اور وہ قبل از وقت چودہویں صدی کے اندر آگئے تھے۔ اسی لئے وہ جلدی چلے گئے۔ آئندہ پندرہویں میں تشریف لائیں گے تو جو لوگ زندہ ہوں گے۔ وہ مشرف بہ زیارت ہوں گے۔ سردست تو ہمارا قول یہی ہے کہ:

روئے گل سر ندیدم وبہار آخر شد

۹… اذ ماضی کے لئے ہوتا ہے

’’واذ قال اللہ یا عیسٰی ابن مریم أانت قلت للناس … الخ‘‘اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۲ خزائن ج۳ ص۴۲۵)

اس کے خلاف: ’’ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو، مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ونفخ فی الصور فاذاہم من الاجداث الٰی ربہم ینسلون‘‘اور جیسا کہ فرماتا ہے ’’واذا قال اللہ یا عیسٰی ابن مریم أانت قلت للناس اتخذونی وامّی الہین من دون اللہ قال اللہ ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶ خزائن ج۲۱ ص۱۵۹)

نوٹ: مباحث مرزائیہ میں وفات مسیح کا مسئلہ بھی پیش آیا کرتا ہے اور مرزائی مناظر وفات مسیح پر عموماً یہی آیت پیش کیا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے فیصلہ کردیا کہ یہ روز قیامت کی گفتگو ہے۔ پس اس آیت سے اس وقت وفات مسیح ثابت نہ ہوئی۔

167

مجیب اس جگہ بہت پریشان ہواہے۔ اسی لئے اس نے نہ مرزا قادیانی کا مطلب سمجھا نہ ہمارا اعتراض جانا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ’’… اذ…‘ ’از روئے قواعد نحویہ ماضی ہے اور قرآنی اسلوب سے روز قیامت مراد ہے۔‘‘

ہمارا مقصد یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک ہی آیت ’’اذ قال اللہ ‘‘ کو گزشتہ زمانہ (ماضی) سے لگایا ہے اور دوسرے حوالہ میں روز قیامت (مستقبل) سے ملایا ہے۔ یہی اختلاف محل اعتراض ہے۔ کیا مجدد اور مہدی اور مسیح قرآن مجید اسی طرح سمجھا سمجھا کرتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ وہ خود ہی نہیں سمجھے۔

۱۰… ایک شریر میں یسوع کی روح تھی

’’ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی لوگوں میں یہ مشہور کیا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۸۹)

یسوع کی روح مرزا قادیانی میں تھی

’’مجھے یسوع مسیح کے رنگ پیدا کیا تھا اور توارد طبعی کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی۔ اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص۲۰ خزائن ج۱۲ ص۲۷۲)

قادیانی دوستو! یسوع کی روح جس انسان میں ہو وہ شریر ہوجاتا ہے تو دوسرے قول کا قائل کون؟

  1. مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے

    آئینہ دیکئے گا ذرا دیکھ بھال کے

مجیب نے اس کے جواب میں لکھا ہے کہ:

’’پہلی عبارت میں یسوع کی اس حیثیت کا ذکر ہے جو اسے پادریوں نے دے رکھی ہے۔ دوسری میں اس عبارت کا تذکرہ ہے جواسے فی الواقع بلحاظ نبی اور رسول ہونے کے حاصل ہے۔ پہلی صورت قابل نفرت ہے اور دوسری صورت قابل رشک ہے۔‘‘

(ص۶۶)

جواب الجواب: ہم تو جانتے تھے مرزا قادیانی ہی کے کلام میں اختلاف ہوتا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ ہمارے فاضل مخاطب مصنف بھی ان (مرزاقادیانی) سے اس وصف میں فیض یاب ہیں۔ ابھی چند صفحات پہلے لکھ چکے ہیں:

168

’’مسیح اسلامی حیثیت کا نمائندہ ہے اور یسوع عیسائیت کا مظہر۔‘‘

(ص۲۰)

اس تقسیم سے صاف پایا جاتا ہے کہ یسوع نام بہمہ وجوہ (مرزا قادیانی کے نزدیک) شریرالنفس آدمی ہے۔ پھر ایسے نام کو اپنے حق میں کہنا اعتراف حقیقت ہے یا کیا؟

۱۱… مسیحی چڑیوں کا پرواز قرآن سے ثابت ہے

’’حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزے کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

اس کے خلاف ’’اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پروا کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۷ خزائن ج۳ حاشیہ ص۲۵۶، ۲۵۷)

مجیب نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جس پرواز کا انکار ہے وہ اصلی زندگی سے پرواز ہے اور جس کا اقرار ہے وہ غیر حقیقی اور عارضی ہے۔

(ص۷۶)

جواب الجواب: اس جگہ ہم علم منطق کے قاعدہ تناقض کے موافق مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ دکھاتے ہیں۔ پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ثابت ہے۔

’’پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ثابت نہیں۔‘‘

موضوع ایک، محمول ایک، نسبت ایک، وغیرہ ایک، جو اس کو بھی تناقض نہ کہے اس کا دماغ صحیح ہے یا مائوف۔ ناظرین خود فیصلہ کریں۔

۱۲… حضرت مسیح کی عمر۱۲۰ برس تھی

’’حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی ایک سو بیس برس کی عمر تھی۔ لیکن تمام یہود ونصاریٰ کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب کہ حضرت ممدوح کی عمر تینتیس برس کی تھی۔ اس دلیل سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے صلیب سے بفضلہ تعالیٰ نجات پا کر باقی عمر سیاحت میں گزاری تھی۔‘‘

(راز حقیقت حاشیہ ص۲،۳ خزائن ج۱۴ حاشیہ ص۱۵۴، ۱۵۵)

ایک سو پچیس برس تھی

’’حضرت مسیح صلیب سے نجات پاکر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے اور جیسا کہ اس جگہ شہزادہ نبی کا چبوترہ اب تک

169

گواہی دے رہا ہے وہ ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے۔ آخر کشمیر گئے اور کوہ سلیمان پر ایک مدت عبادت کرتے رہے اور سکھوں کے زمانے تک ان کی یادگار کا ایک کتبہ موجود تھا۔ آخر سری نگر میں ایک سو پچیس برس کی عمر میں وفات پائی۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج ہشتم ص۶ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۴۹)

ایک سو تریپن سال عمر پائی

’’تمام یہود ونصاریٰ کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا۔ جب کہ حضرت عیسیٰ کی عمر صرف تنتیس برس کی تھی۔‘‘

(راز حقیقت حاشیہ ص۳ خزائن ج۱۴ حاشیہ ص۱۵۵)

ایضاً ’’اور احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ (صلیب) کے بعد عیسیٰ ابن مریم نے ایک ایک سو بیس برس کی عمر پائی اور پھر فوت ہو کر خدا سے جا ملا۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۲۷ خزائن ج۲۰ص۲۹)

نوٹ: واقعہ صلیب تک ۳۳اور بعد واقعہ صلیب ایک سو بیس جملہ ایک سو تریپن ہوئے۔ پس عمر مسیح ۱۲۰، ۱۲۵، ۱۵۳ سال ہوئی۔

اس کا جواب مصنف نے ایسا دیا ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ فرض مفوضہ خلافت ادا کرتا ہے۔ ورنہ دل میں شاید ایسا نہ ہو۔ کہتے ہیں:

’’تذکرۃ الشہادتین میں یہ بتایا ہے کہ صلیب کے بعد بھی مسیحی زندہ رہے۔ اس عبارت کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ حضرت مسیح نے ۱۵۳ سال عمر پائی۔‘‘

(ص۶۹)

’’احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ (صلیب) کے بعد عیسیٰ بن مریم نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۲۷ خزائن ج۲۰ ص۲۹)

حضرات! اس عبارت میں ’’بعد ‘‘ کا لفظ ’’پائی ‘‘ کے متعلق ہے۔ یقینا یہی ہے۔ پس عبارت ہذا کے معنی اس عبارت کی طرح ہے: حکیم نور الدین (خلیفہ قادیان) نے بعد وفات مرزا قادیانی سات سال عمر پائی۔

کیا اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حکیم صاحب کی عمر ساری سات سال تھی۔ اگر

170

اس مثال میں یہ نہیں تو اس میںبھی نہیں۔ اس میں اگر سات سال بعد وفات کے مراد ہیں تو اس عبارت میں بھی ۱۲۰ سال بعد واقعہ صلیب کے مراد ہے۔ جو پہلی عمر ۳۳سال ملا کر ۱۵۳ ہوتے ہیں ’’ہذا ما ادعینا‘‘ اس کے سوا تاویل کرنا اس مصرع کا مصداق ہے ’’ولن یصلح العطار ما افسدالدھر‘‘

۱۳… کتب سابقہ سب محرف ہیں

’’جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۵۵ خزائن ج۲۳ ص۲۶۶)

اس کے خلاف: ’’یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف ومبدل ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن سے بے خبر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت حاشیہ ص۷۵ خزائن ج۲۳ ص ۸۳)

اس کے جواب میں بھی مجیب نے کمال دکھایا ہے۔ کہتے ہیں:

’’تورات انجیل کے محرف ہونے کا بایں معنی انکار ہے کہ ان میں کوئی بھی صداقت نہیں۔ بایں معنی اقرار ہے کہ ان میں جھوٹ ملائے گئے تھے۔‘‘

(ص۷۳)

ہم حیران ہیں کہ یہ لوگ اپنی جماعت کی آنکھوں میں کنکریاں دار مٹی کیوں ڈالتے ہیں۔ ایک غیرالہامی کی غلط بات کو سنوارنے کے لئے اتنا زور مارنا جو دانائوں کی نظر میں حالت اضطراری تک پہنچادے کہاں کی عقل مندی ہے۔ کیا کسی کتاب میں ایسی تحریر کبھی ہوئی بھی؟ جو مجیب کہتا ہے۔ مجیب نے اپنے دعویٰ پر مرزا قادیانی کی جو تحریر نقل کی ہے وہ خود مجیب کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اس میں یہ فقرہ بھی ہے:

’’سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرتﷺ کے زمانہ تک ردی کی طرح ہوچکی تھیں۔‘‘

(کتاب چشمہ معرفت ص۲۵۵ خزائن ج۲۶۶، مندرجہ تجلیات رحمانیہ ص۷۱، ۷۲)

بتائیے جو مضمون یا کتاب ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے یا پھینکنے کے لائق ہو اس کو کسی سند میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ جب وہ ایسی ردی ہوچکیں تو اب ان کی بابت اتنی دور از کار تاویل کرنا جو مجیب نے کی ہے۔ کیا مفید ہوسکتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ مجیب مع

171

اپنی پارٹی کے فرض منصبی (خدمت خلافت قادیان) ادا کرتے ہیں۔ تحقیق حق سے ان کو مطلب نہیں:

نظر اپنی اپنی پسند اپنی اپنی

۱۴… طاعون سے فرار کرنا منع ہے

’’چوں کہ شرعاً یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ علاقہ کے لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے ان تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقوں میں ہیں، منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں سے قادیان یا دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور دوسروں کو بھی روکیں اور اپنے مقامات سے نہ ہلیں۔‘‘

(اشتہار لنگر خانہ کا انتظام حاشیہ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۷)

اس کے خلاف: ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ وائسرائے اس تجویز کو پسند فرماتے ہیں کہ جب کسی گائوں یا شہر کے کسی محلہ میں طاعون پیدا ہو تو یہ بہترین علاج ہے کہ اس گائوں یا اس شہر کے محلہ کے لوگ جن کا محلہ طاعون سے آلودہ ہے فی الفور بلاتوقف اپنے اپنے مقام کو چھوڑ دیں اور باہر جنگل کسی ایسی زمین میں جو اس تاثیر سے پاک ہے۔ رہائش اختیار کریں۔ سو میں دلی یقین سے جانتا ہوں کہ یہ تجویز نہایت مناسب عمدہ ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔ عذاب کی جگہ سے بھاگنا انسان کی عقل مندی میں داخل ہے۔ تمام مریدوں کے لئے عام ہدایت۔‘‘

(مندرجہ ریویو قادیان ج۶ ش۹ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء ص۳۶۵)

نوٹ: اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ مرزا قادیانی حکم دیتے ہیں کہ مقام طاعون کو چھوڑ دو اور کسی محفوظ زمین پر جابسو۔ پہلی عبارت میں کہتے ہیں اپنے مقامات سے نہ ہلیں۔ دوسرے میں کہتے ہیں شہر چھوڑ دیں۔

مرزائی دوستو! یہ حدیث دیکھنے کے ہم بھی مشتاق ہیں تلاش کرکے بتائو۔

اس مقام پر مجیب نے بغیر تحقیق حق کے محض اپنا فرض منصبی (خدمت خلافت) ادا کیا ہے۔ لہٰذا اس نے بوجہ محبت مرزا، نہ ہماری منقولہ عبارتوں کو دیکھا ہے، نہ مرزا قادیانی کے

172

الفاظ پر غور کیا۔ اسی لئے ہم نے خلاف کی عبارت بہ نسبت سابق کے زیادہ درج کی ہے تاکہ سیاق وسباق نظر آجائے۔ مجیب کہتا ہے کہ طاعون زدہ علاقوں اور شہر میں فرق ہے۔ علاقہ سے مراد لیتا ہے مع حوالی شہر یا ’’ارازی دہ‘‘ کہتا ہے۔ جہاں منع ہے۔ اس سے مراد ہے کل علاقہ سے۔ یعنی آبادی مع اراضی سے مت نکلو اور جہاں حکم ہے۔ اس سے مراد ہے خاص مقام طاعون۔ یعنی آبادی۔ چنانچہ اس کی اپنی عبارت یہ ہے:

’’پہلی عبارت میں ’’طاعون زدہ علاقہ‘‘ ہے اور دوسری میں ’’اس شہر کو چھوڑ دیں‘‘ ہے۔ نیز پہلی عبارت میں دوسرے علاقہ میں جانے کی ممانعت ہے اور دوسری جگہ یہ نہیں کہا کہ دوسرے علاقوں میں چلے جائو۔ بلکہ میدان اور کھلی فضا میں جو شہر کی دیواروں سے باہر ہوچلے جانے کا حکم ہے۔‘‘

(ص۴۷)

جواب الجواب: ہم ناظرین کو زیادہ تکلیف دینا نہیں چاہتے۔ صرف اتنی توجہ دلاتے ہیں کہ پہلی عبارت جہاں ختم ہے۔ ان الفاظ پر نظر ڈالیں کہ ’’اپنے مقامات سے نہ ہلیں‘‘ ان مقامات سے مراد یقینا وہی جگہ ہے جن کو آبادی کہا جاتا ہے۔ جہاں وہ رہتے ہیں۔ دوسرا قول اس کے برخلاف ہے جس کے الفاظ ہیں: ’’بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں‘‘ بتائیں اس کا کیا جواب؟

نوٹ: ہمارے اس سوال کا جواب مجیب نے نہیں دیا کہ یہ حدیث کہاں ہے جس میں آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں طاعون پڑے تو اس شہر کو چھوڑ دو۔

قادیانی دوستو! تمہارے حدیث کا پتہ نہ دینے سے کیا ہمارا حق ہے کہ آئندہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’واضع حدیث‘‘ (حدیثیں گھڑنے والا) کا لقب بھی دیا کریں۔ اس کا فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ حدیث مطلوبہ کا پتہ نہ دینے سے تمہاری طرف سے اجازت سمجھی جائے گی۔

ناظرین کرام! یہ چند اختلافات بطور نمونہ دکھائے ہیں۔ ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان سراپا بے نظام ہوتا تھا۔ دریائے غازی (دریائے سندھ) خاں کی طرح جوش مارتا ہوا نہ بستی دیکھتا ہے نہ ویرانہ، بہتا ہی چلا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا دماغ ایسا مائوف تھا کہ اس میں حفظ کی طاقت نہ رہی تھی۔ مزید شہادت کی ضرورت ہو تو ہمارا شائع کردہ رسالہ ’’مراق مرزا‘‘ ملاحظہ کریں۔

مجیب ہماری اس رائے پر بھی خفا ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کے حق میں مائوف

173

الدماغ کیوں لکھا۔ افسوس ہے کہ یہاں بھی مجیب نے ہماری پوزیشن کو نہیں سمجھا۔ سنئے ہم مرزا قادیانی کے اقوال دکھا رہے ہیں اور انہی سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ نتیجہ بھی اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہی جو ایسے کلاموں سے مرزا قادیانی نے نکالا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

’’صاف ظاہر ہے کہ کسی سچیار (یہ لفظ قادیانی اردو میں آیا ہے۔ شاید الہام سے آیا ہو۔) اور عقل مند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اس کا کلام بے شک متناقض ہوجاتا ہے۔‘‘

(کتاب ست بچن ص۳۰ خزائن ج۱۰ ص۱۴۲)

ناظرین کرام! جس صورت میں ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض ہے۔ تناقض بھی ایسا کہ ان کی اتباع کی ساری کوشش سے بھی رفع نہ ہوسکا تو پھر ہماری رائے پر کیا ملال؟ ہم نہ مرزا قادیانی کے کلام میں اختلاف پیدا کریں نہ ان کو (از خود) پاگل کہیں۔ بلکہ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہی ہے جو وہ خود فرماگئے۔ انہی معنی میں ہم کہا کرتے ہیںکہ ہم قادیانی مسیح کے مبلغ ہیں۔ مخالف نہیں۔انما الاعمال باالنّیات!

تیسرا باب … کذبات مرزا

’’انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایات اللہ (النحل:۱۰۵)‘‘

ہمارے ہیرو (پنجابی مسیح) مرزا قادیانی کی اختلاف بیانی تو ناظرین نے سنی۔ اب ان کی غلط بیانیاں بھی ملاحظہ ہوں۔

کذب:۱… پیغمبروں نے میرے دیکھنے کی خواہش کی

’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۳ خزائن ج۱۷ ص۴۴۲)

نوٹ: جن پیغمبروں نے مرزا قادیانی کی زیارت کا شوق ظاہر کیا ہے۔ ان کے اسمائے گرامی سننے کے ہم بھی مشتاق ہیں۔ مجیب نے اس باب کے تین نمبروں (۱،۶،۹) کا مشترک جواب دیا ہے۔ مگر جواب میں باتباع مرزا کمال تدلیس سے کام لیا ہے۔ اس کے

174

الفاظ اس کے دلی ضعف کا حال بتاتے ہیں۔ قرآن مجید سے شہادت دی ہے کہ بہت سے انبیاء کا ذکر ہم کو نہیں بتایاگیا۔

’’اس سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب کا آج یہ مطالبہ کرنا کہ ان نبیوں کے اسماء گرامی بتائو۔ سراسر غلط مطالبہ ہے۔ ہاں مطلق وعدہ اور عمومی ذکر موجود ہے۔ چنانچہ صحاح ستہ میں یہ حدیث متعدد مرتبہ آئی ہے کہ دجال کے ذکر پر آنحضرتﷺ نے فرمایا:

’’انّی لانذرتکموہ ما من نبیاً لاوقد انذر قومہ ولقد انذرہ نوح قومہ‘‘ میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی نہیں گزرا مگر اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے۔

(مسلم ج۲ ص۳۹۹ ترمذی ج۲ ص۴۶ ، ابواب الفتن)

گویا سارے نبیوں نے بذریعہ وحی خبر پاکر اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے کہ اس کا فتنہ بہت بڑا ہے۔ اب یہ کس طرح ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو دجال کی تو خبر دے مگر دجال کے قاتل (حضرت مسیح موعود) کی خبر نہ دے۔ پس لازماً ماننا پڑے گا کہ تمام نبیوں کو مسیح موعود کی بھی خبر دی گئی تھی۔

چنانچہ آنحضرتﷺ نے مسلم شریف کی مشہور حدیث (بروایت نواس بن سمعان) میں حضرت مسیح موعودm کو اس کا قاتل قرار دیا ہے…۔

ان احادیث سے ظاہر ہے کہ دجال کی آمد سے ہر نبی ڈراتا آیا ہے اور دجال کا قاتل مسیح موعود ہے اور یہ تو واضح ہی ہے کہ دجال سے ڈرانے کے معنی یہی ہیں کہ اس کے مکرو دجل سے آگاہ کرکے اس سے بچنے کی ہدایت کرنا اور اس کے حشر کا بتانا منظور ہے اور اس بیان کے لئے مسیح موعود کا ذکر ایک جزو لاینفک ہے۔ چنانچہ کتب سابقہ موجودہ میں بھی جہاں دجال کا ذکر ہے۔ وہاں پر مسیح موعود کا بھی ذکر ساتھ موجود ہے۔ پس ان احادیث سے اشارۃً النص۱؎ کے طورپر ثابت ہے کہ ہر نبی نے مسیح موعود کے متعلق وعدہ کیا تھا۔ اگر مولوی ثناء اللہ تمام نبیوں کا انذار عن الدجال نام بنام دکھاویں گے تو ہم اسی جگہ سے نام بنام نبیوں کی طرف سے مسیح موعود کی بعثت کاوعدہ بھی دکھاویں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

(ص۸۳، ۸۴)

۱؎اشارۃالنص میں لفظی ترجمہ مفہوم ہوتا ہے ۔ یہاں یہ نہیں معلوم ہوتا۔ مجیب نے سنا سنائے حقیقت سے ناواقفی میں اشارۃ النص لکھ دیا۔ جیسے ان کے نبی (مرزا) سنے سنائے دلیل انّی اور لمّی لکھ گئے ہیں۔

(چشمہ معرفت ص۵۶ خزائن ج۲۳ ص۶۴)

175

جواب الجواب: ہم اس موقع پر متردد ہیں کہ مجیب کو دھوکہ خور کہیں یا دھوکہ دہ نام رکھیں۔ مناسب ہے کہ اصل حقیقت کھول کر اس کا فیصلہ ناظرین اور خود مجیب پر چھوڑ دیں۔ سنئے آنحضرتﷺ کے منہ سے سابقہ انبیاء کی تعلیم دو طرح سے ذکر ہوتی تھی۔ ایک بطور دلیل۔ دوم بطور تعلیم اعتقاد۔ اعتقاد متفرع ہوتا ہے ایمان پر۔ ایسی صورت میں ان سابقہ انبیاء کا جاننا ضروری نہیں۔ بلکہ فرمان نبوت محمدیہa کافی ہے۔ مثلاً ارشاد ہے ’’ولقد وصینا الذین اوتوا الکتاب من قبلکم وایاکم ان اتقو اللہ (النساء:۱۳۱)‘‘ یعنی ہم (خدا) نے تم سے پہلوں کو اور تم کو بھی یہی ہدایت کی ہے کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو۔

اس قسم کی تعلیم میں سابقہ انبیاء کرام کا یا قوموں کا ذکر دراصل تعلیم اعتقاد ہے۔ مخالفوں کے سامنے بطور دلیل وبرہان نہیں۔ اس لئے ایسے مواقع میں ان انبیاء کرام کا جاننا کہ کون کون تھے ضروری نہیں۔ لیکن جہاں کسی نبی کا قول بطور دلیل نقل ہو وہاں ان کا جاننا ضروری ہے۔ جیسے حضرت مسیح کا قول نقل ہے:

’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد۔ (الصف:۶)‘‘

اب یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ مرزا قادیانی نے سابقہ انبیاء کرام کا ذکر کس پیرائے میں کیا ہے۔ آیا بطور دلیل کیا ہے یا بطور تعلیم اعتقاد کہا ہے؟ اس کے لئے خود مرزا قادیانی کی عبارت کافی ہے۔ جو یہ ہے:

’’میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے سچا ماننے کے لئے ضروری تھے وہ سب دلائل تمہارے لئے مہیا کردئیے اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لئے نشان ظاہر کئے اور تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔ پس اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو اس قدر دلائل اس میں کبھی جمع نہ ہوسکتے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۶۲ خزائن ج۲۰ ص۶۴)

اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مخالفوں کے سامنے بطور دلیل صداقت سابقہ انبیاء کرام کا ذکر کرتے ہیں نہ بطور تعلیم عقیدہ۔ اس لئے ضروری ہے کہ مخالفوں کو ان انبیاء کرام کا اور ان کے اس فعل کا علم ہو تاکہ وہ اس علم کے بعد مرزا قادیانی پر ایمان لائیں۔

برخلاف اس کے مجیب نے جتنے حوالے نقل کئے ہیں۔ وہ سب بطور تعلیم اعتقاد ہیں۔ ان میں ایسا جاننا ضروری نہیں۔ کیوں کہ وہ ایمان پر متفرع نہیں۔

176

ناظرین! جو ان دو میں فرق نہ کرے وہ دھوکہ خور یا دھوکہ دہ ہے۔ اس کا فیصلہ آپ ہی فرما دیجئے۔

کذب: ۲… سو سال تک قیامت آئے گی

’’ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہوجانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آئے گی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۵۲ خزائن ج۳ ص۲۲۷)

نوٹ: آنحضرتﷺ کے زمانہ سے سو برس تک قیامت بتانے والی حدیث کو ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ امت مرزائیہ اس حدیث کا پتہ دے۔ ورنہ مشہور حدیث ’’من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ فی النار‘‘ سے خوف کریں۔

جو کوئی مجھ (رسول اللہ ﷺ) پر جھوٹ لگائے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔

اس کے جواب میں مجیب نے تسلیم کیا ہے کہ ’’یہاں قیامت کبریٰ مراد نہیں۔ بلکہ قیامت صغریٰ یعنی موجودہ قرن (طبقہ) کی قیامت۔‘‘

(ص۸۶)

جوا ب الجواب: اگر مرزا قادیانی ایسا لکھتے جو مجیب نے لکھا ہے تو ہم ان پر کذب کا الزام کیوں لگاتے۔ مگر انہوں نے تو یہ غضب کیا کہ یہ فقرہ لکھ مارا:

’’سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔‘‘

ہمیں تو یہ فکر ہوئی کہ منکرین اسلام مرزا قادیانی جیسے مسیح اور مہدی اور سلطان المتکلمین کا یہ بیان سن کر اسلام اور پیغمبر اسلام کی تکذیب پر اس بیان کو ایک زبردست دلیل نہ بنالیں اور کھلے لفظوں میں کہتے پھریں۔

دیکھو جی پیغمبر اسلام کی پیش گوئی کیسی جھوٹی نکلی کہ بجائے سو برس کے آج ساڑھے تیرہ سوسال ہوگئے قیامت نہ آئی۔ پھر اس کے کذب میں کیا شبہ؟ پھر ہم اس کے جواب میں کہتے پھرتے کہ: ’’اصل بیان میں کذب نہیں۔ اس کے ناقل میں کذب ہے۔ فافہم!‘‘

کذب:۳… ہذا خلیفۃ اللہ

’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں

177

آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کروہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی : ’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۴۱ خزائن ج۶ ص۳۳۷)

نوٹ: یہ حدیث بخاری میں نہیں۔ اتباع مرزا دکھائیں تو ہم مشکور ہوں گے۔ اس نمبر کے جواب میں بھی مجیب نے صاف صاف اقرار کیا ہے کہ ’’بخاری کے حوالہ کا ذکر صرف سبقت قلم ہے۔ اسے کذب قرار دینا ظلم ہے۔‘‘ شاباش! یوں چلا کرو۔

نوٹ: ہمارے پنجاب کے جاٹ کسی شخص کی تکذیب کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیتے ہیں ’’تمہاری بات جھوٹی ہے‘‘ یا ’’تم جھوٹ بکتے ہو‘‘ مگر لکھنوی نزاکت پسند اور لطافت گو کہا کرتے ہیں: ’’و اللہ میں افسوس کرتا ہوں کہ میں جناب کے ارشاد سے متفق نہیں۔‘‘ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کہ آپ کی بات جھوٹ ہے۔ قادیانی مجیب نے قادیان کے نمک کا لحاظ رکھ کر کیا لطافت سے کہا ہے ’’بخاری کا نام سبقت قلم ہے۔‘‘

اللہ اکبر! سبقت بھی دست مرزا کی نہیں، قلم مرزا کی۔ کسی عاشق نے کیا خوب کہا ہے:

  1. مجھے قتل کرکے وہ بھولا سا قاتل

    لگا کہنے کس کا یہ تازہ لہو ہے

  2. کسی نے کہا جس کا وہ سر پڑا ہے

    کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے

نوٹ: اگر مرزا قادیانی آں جہانی سے سبقت قلم ہوئی ہے تو ان کے اتباع اسے درست کردیں۔ مگر وہ بھی کیسے کریں ان کا تو اصول ہی یہ ہے:

  1. ما مریداں روبسوئے کعبہ چوں آریم چوں

    رو بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما

کذب: ۴… یخرج دجال

’’نسائی نے ابوہریرہؓ سے دجال کی صفت میں آنحضرتﷺ سے یہ حدیث لکھی ہے ’’یخرج اخرالزمان دجال یختلون الدنیا بالدین یلبسون للناس جلود الضأن السنتہم احلی من العسل وقلوبہم قلوب الذیاب یقول اللہ عزوجل ابی یغترون ام علی یجترؤون‘‘یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال نکلے گا۔ الخ

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۷۳ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۱۱)

178

نوٹ: یہ حدیث (دال) کے ساتھ (دجال کی صورت میں) حدیث شریف کی کسی کتاب میں نہیں البتہ (ر) کے ساتھ (رجال کی صورت میں) آئی ہے۔

اس نمبر میں مجیب نے جس کیفیت سے اپنی دیانت اور امانت کا جنازہ اٹھایا ہے قابل افسوس ہے۔ لکھا ہے: ’’گویا (گویا نہیں یقینا) صرف دجال اور رجال کے دال اور راء کا اختلاف ہے اور مولوی صاحب کا دعویٰ ہے کہ دال کے ساتھ دجال کی صورت میں یہ حدیث شریف کی کسی کتاب (کسی صحیح کتاب میں نہیں) میں نہیں۔ اس لئے ہم کتاب کا حوالہ لکھ دیتے ہیں۔

ملاحظہ ہو (کنزالعمال ج ۷ مطبوعہ دائرۃ المعارف نظامیہ حیدرآباد دکن ج سابع ص۸) ’’یخرج فی آخر الزمان دجال یختلون الدنیا بالدین یلبسون للناس جلود الضان… الخ۔ ن، عن ابی ہریرۃ‘‘قلمی نسخہ میں بھی دجال بالدال صاف طور پر لکھا ہوا ہے۔ مخدوم بیگ عفی عنہ مدرس مدرسہ نظامیہ۔‘‘ (ص۹۲) (خدا کی شان ہے چوں کہ مجیب نے مرزا قادیانی کے کذب کو صدق ثابت کرنے کا تہیہ کیا۔ اس لئے خدا نے اس کو بھی کذب سے آلودہ کیا۔ یعنی (ص۸) پر یہ روایت نہیں بلکہ (ص۱۷۴) پر ہے۔ مؤلف)

جواب الجواب: ہم جانتے ہیں اور اعتراض کرنے سے پہلے ہی جانتے تھے کہ کنزالعمال مطبوعہ حیدرآباد دکن میں یہ روایت ’’دال‘‘ کے ساتھ ہے۔ مگر یہ گمان ہم نہ کرتے تھے کہ کوئی قادیانی کذب کا اتنا حامی ہوگا جو اس دال کی حمایت بھی کرے گا۔ الی اللہ المشتکی سنئے! جس مطبوعہ کتاب سے آپ نے یہ روایت نقل کی ہے۔ اس کے چھاپنے والوں نے اس کتاب کے غلط ہونے کے حق میں خود اعتراف کیا ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں:

’’حیث ان النسخ المنقولۃ عنہا کثرت فیہا التصاحیف والاغلاط ولم نجد نسخۃ جمع الجوامع ولا الزیادات فلم نقدر علی التصحیح التام واملاء البیاضات التی ترکت فی الاصل فالمامول ممن قدر علی ذالک ان یکملہا ویصحہا ولا یجعلنا ہذا فلسہام الظعن ہذا والسلام! (ج۸ ص۳۵۰)‘‘

بتائیے! جس کتاب کا ناشر (پبلشر) اس کی صحت کا ذمہ دار نہ بنتا ہو آپ ایسی کتاب کو سند میں کیوں کر پیش کرتے ہیں؟ اور سنئے:

اسی کنزالعمال کا ملخص ’’مسند احمد‘‘ کے حاشیہ پر مصر میں چھپا ہے۔ یہ تو یقینی بات

179

ہے کہ مصر میں بہ نسبت ہندوستان کے تصحیح زیادہ ہوتی ہے۔ اس ملخص میں یہ حدیث درج اس میں رجال (بالراء) مرقوم ہے۔

(مسند احمد ج۶ ص۱۱)

علاوہ اس کے خود لفظ بتا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کی منقولہ عبارت غلط ہے۔ کیوں کہ دجال (بالدال) صیغہ مفرد ہے اس کے لئے صیغہ جمع (یختلون) نہیں آسکتا۔ اس بات کو ادنیٰ طالب علم بھی جانتے ہیں۔ لیکن خود غرضی کا برا ہو کہ وہ باخبر انسان کو بھی بے خبر کردیتی ہے۔

کذب: ۵… حضرت ابوہریرہؓ

’’تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابوہریرہؓ فہم قرآن میں ناقص تھا۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۳۴ خزائن ج۲۱ ص۴۱۰)

نوٹ: تفسیر ثنائی سے مراد اگر وہ تفسیر ہے جو علم کے لحاظ سے ثنائی (مصنفہ خاکسار ابوالوفا ثناء اللہ ) ہے تو صریح جھوٹ ہے اور اگر تفسیر ثنائی ہے مراد وہ ہے جو مصنف کے لحاظ سے ثنائی ہے۔ یعنی مصنفہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم موسومہ تفسیر مظہری ہے تو بھی جھوٹ ہے۔ اس میں بھی یہ فقرہ ہرگز نہیں۔ قادیانی دکھائی تو شکریہ لیں۔

اس کے جواب میں مجیب نے کمال باطل کوشی کی ہے۔ بہت سی ادھر ادھر کی کہتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ابوہریرہ کو ناقص فہم کہنے اور تفسیر ثنائی کی طرف نسبت کرنے سے الفاظ کا دعویٰ تو یہ کیا تھا بلکہ ایسی عبارتوں میں مفہوم مراد ہوتا ہے۔ تفسیر مظہری (ثنائی) میں حضرت ابوہریرہؓ کی اس تاویل کو ان کی ایک خطا قرار دیا گیا ہے۔‘‘

(ص۹۴)

مطلب یہ ہے کہ چوں کہ ایک جگہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم نے حضرت ابوہریرہؓ کی تفسیر سے اختلاف کیا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کو حق حاصل ہوگیا کہ حضرت ابوہریرہؓصحابی کو ناقص الفہم لکھ دیں۔ بہت خوب!

مرزائی دوستو! ذرہ ہوش سے سننا:

مرزا قادیانی نے سورہ مریم کی آیات متعلقہ ولادت حضرت مسیح سے یہ سمجھاہے کہ: ’’حضرت مسیح بے باپ پیدا ہوئے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۶۸ خزائن ج۱۷ ص۲۰۲حاشیہ)

ان کے راسخ الاعتقاد مرید محمد علی لاہوری اور ڈاکٹر بشارت احمد وغیرہ کہتے ہیں۔ یہ

180

خیال غلط ہے کہ بے باپ پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ باپ سے تولد ہوئے تھے۔ اس پر ہمارا حق ہے کہ ہم یہ لکھ دیں کہ ’’محمد علی لاہوری کہتے ہیں مرزا قادیانی قرآن فہمی میں ناقص الفہم تھے؟‘‘

مرزائیو! ؎ آنچہ بخود نہ پسندی بدیگراں ماپسند

کذب:۶… سارے نبیوں کی زبانی وعدہ

’’ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ج اول ص۵۱)

نوٹ: سارے نبیوں کے وعدہ کو ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

کذب:۷… میں خدا کی مانند ہوں

’’اور اس جگہ جو میری نسبت کلام الٰہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیاہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے، کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے۔ جیسا کہ نبیوں سے کیا۔ اس پررسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے۔ اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانیال اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آگیا ہے اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں، خدا کی مانند‘‘

(اربعین نمبر۳ حاشیہ ص۲۵ خزائن ج۱۷ ص۴۱۳)

اس کے جواب میں مجیب بڑا پریشان ہوا ہے جو کچھ کہا اس کا ملخص یہ ہے: ’’حدیث میں آنحضرتﷺ فرماتے ہیں ’’تخلقوا باخلاق اللہ ‘‘ اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو تو کیا اس آیت اور اس حدیث کا یہ منشاء ہے کہ خدا بن جائو۔ نہیں بلکہ علیٰ قدر مراتب مشابہت پیدا کرنا مراد ہے۔ اسی طرح دانیال کی پیش گوئی میں ہے۔ اس پر اعتراض کیسا؟

(ص۱۰۰)

جواب الجواب: تخلقوا والی حدیث شریف کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح خداتعالیٰ مخلوق پر رحیم ہے تم بھی حسب مقدور رحم کیا کرو۔ جس طرح خدا ستارالعیوب ہے تم بھی حتی المقدور پردہ پوشی کیا کرو۔ یہ تو نہیں کہ تم خدا کی مانند بن جائو۔ اچھا اگر کوئی شخص کسی مرزائی

181

عالم کو کہے تم بھی مرزا قادیانی کے اخلاق سیکھو تو کیا اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تم مرزا قادیانی کی طرح نبی، رسول، مہدی، مسیح، کرشن وغیرہ بن جائو؟ ہرگز نہیں پس ’’تخلقوا‘‘ کے معنی بھی یہ نہیں کہ خدا کی مانند بن جائو بلکہ یہ ہیں کہ خدا کی صفات میں سے حسب طاقت بشریہ بہرہ یاب ہو۔ نہ کہ خدائی کے مدعی بن بیٹھو۔

کذب: ۸… میں خواب میں اللہ ہوگیا

’’رائیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ہو‘‘میں نے خواب میں دیکھا میں (مرزا قادیانی) اللہ ہوں میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴ خزائن ج۵ ص ایضاً)

اس نمبر کے جواب میں مجیب نے ایک حدیث پیش کی ہے جس میں ذکر ہے کہ مومن جب نوافل بہت پڑھتا ہے تو خدا اس کے کان، آنکھ ہوجاتا ہے۔ اسی کے ساتھ مولانا اسماعیل شہید کا قول لکھا ہے کہ عشق الٰہی کے دریا میں تیرنے والا کبھی انالحق کہہ اٹھتا ہے کبھی ’’لیس فی جبتی سوی اللہ ‘‘کہتا ہے۔ اس سے نتیجہ نکالا ہے:

’’یہ ایک فناء الفناء کا مقام ہے۔ جس سے خشک زاہدوں کو کوئی نسبت نہیں۔‘‘

جواب الجواب: حدیث شریف کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ بندہ اپنے کانوں، آنکھوں اور ہاتھوں کو میرے کام میں لگا دیتا ہے۔ میری مرضی اس کی مرضی ہوتی ہے۔ اس سے یہ کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خدا بن جاتا ہے۔ مولانا شہید مرحوم نے بھی دراصل وہی کہا ہے جو حدیث کا مطلب ہے: ’’لیس فی جبتی‘‘ سے مراد دل ہے۔ یہ حضرت جنیدv کا قول ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے دل میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کوئی چیز نہیں،اٰمنا وصدقنا!

اناالحق کہنے کی صحیح تشریح یہ ہے کہ دراصل حکایت من الواجب ہوتی ہے۔ یعنی ’’قال اللہ انا الحق لا غیری‘‘بالکل صحیح ہے۔ ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی منہاج نبوت پر آنے کے مدعی ہیں۔ لیکن وہ ایسے الفاظ موہم شرک بولتے ہیں جو کسی نبی کے منہ سے نبی نہ نکلے ہوں۔ لطف یہ ہے کہ اسی حوالے کے قریب ہی یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے اسی حالت خدائی میں آسمان اور زمین بنا دئیے اور میں نے کہا اب ہم آدم کا سلسلہ پیدا کریں گے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۵ خزائن ج۵ ص ایضاً)

کیا یہ فناء الفناء ہے یا ادّعا بقا؟

182

کذب: ۹… تمام نبیوں نے میرے آنے کی خبریں دیں

’’میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے سچا ماننے کے لئے ضروری تھے۔ وہ سب دلائل تمہارے لئے مہیا کردئیے اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لئے نشان ظاہر کئے اور تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۶۲ خزائن ج۲۰ ص۶۴)

کذب: ۱۰… خدا قادیان میں

’’خدا قادیان میں نازل ہوگا۔‘‘

(البشریٰ حصہ اول ص۶۵، تذکرہ ص۳۵۸ طبع چہارم)

کذب: ۱۱… خدا خود اتر آئے گا

’’اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے ’’یوم یاتی ربّک فی ظلل من الغمام‘‘یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۴ خزائن ج۲۲ ص۱۵۸)

یہ آیت کون سے پارہ کی ہے؟

ناظرین کرام! یہ نمونہ ہے ورنہ مرزا قادیانی کے کذبات تو بے حساب ہیں۔ باب دوم اور سوم کو خوب یاد رکھئے۔ کیوں کہ:

  1. مرے محبوب کے دو ہی پتے ہیں

    کمر پتلی صراحی دار گردن

نمبر۱۰ کا جواب نہیں دیا۔ نمبر۱۱ کی بابت ادھر ادھر کی بتا کر مطلب کی بات اتنی کہی کہ ’’قادیان کو رحمت الٰہی اور انوار آسمانی کا مہبط بنایا گیا ہے۔ ایسا ہی نشانات کی کثرت نزول الرب کی ظاہری علامت ہے۔‘‘

(ص ۱۰۵)

مطلب یہ کہ ظاہر الفاظ مراد نہیں بلکہ تاویل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مجیب نے ہماری بات نہیں سمجھی۔ آپ پھر غور کریں۔ مرزا قادیانی کا قول ہے:

’’گویا خدا زمین پر خود اترے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے ’’یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام … الخ‘‘ اس عبارت میں دو کذب ہیں:

183

۱… بڑا بھاری کذب یہ ہے کہ جو الفاظ خداوندی کہہ کر نقل کئے ہیں یعنی ’’یوم یأتی‘‘یہ قرآن مجید میں نہیں ہیں۔

۲… دوسرا کذب یہ ہے کہ اس مکذوبہ آیت کو مکذوب مصداق پر لگایا یعنی اس کو اپنے حق میں چسپاں کیا ہے۔ حالاں کہ قرآن مجید میں اس کا ذکر ہی نہیں کہ خدا بادلوں میں آئے گا۔ مختصر یہ ہے کہ آیت جھوٹی بنائی، ایک کذب۔ اس کو اپنے حق میں لگایا، دوسرا کذب۔

ندامت: مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب کو صدق بنانے کے لئے مجیب نے بڑی جرأت کی۔ مگر اس جگہ اس سے یہ ہمت نہ ہوئی کہ ہماری مطلوبہ آیت قرآن مجید میں دکھا دیتے۔ حالاں کہ ہم نے اسی صفحہ پر تقاضا کیا تھا۔

جو مجیب نے پڑھا اور (حقیقت الوحی ص۱۵۴ خزائن ج۲۲ ص۱۵۸) سے عبارت نقل کی۔ مگر مکذوبہ آیت کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ باوجود اس کے کہتے ہیں ’’ہم جملہ اعتراضات سے فارغ ہوگئے۔‘‘

(ص۱۰۵)

آپ نے جو جواب دئیے۔ استاد غالب ان کی پہلے ہی تصدیق کر گئے ہیں:

  1. غالب تمہیں کہو کہ ملا ہے جواب کیا

    مانا کہ تم کہا کئے اور وہ سنا کئے

نوٹ: فاضل مجیب نے خوب لکھا ہے کہ: ’’مصنف تعلیمات مرزا نے ساری عمر کی کدوکاش کے باوجود جو تعداد (کذبات) درج کی وہ گیارہ ہے۔‘‘

(ص۸۰)

محدثین کے اصول پر کسی راوی کا حدیث میں ایک جھوٹ بھی ہمیشہ کے لئے باعث ذلت ہوتا ہے۔ آج کل کی عدالتوں میں بھی ایک ہی دفعہ کا جھوٹ باعث رسوائی ہے۔ مگر قادیانی عرف عام میں گیارہ کی تعداد بھی کم ہے۔ کیوں؟

پنجابی کہا کرتے ہیں ’’جاٹ کی پینتالیس پتیں ہوتی ہیں۔‘‘

یعنی جاٹ کی پینتالیس عزتیں ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک دو کے جانے سے اس کاکوئی خاص نقصان نہیں ہوتا۔

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک

ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے، کیا

اطلاع: ناظرین! یقین کیجئے یہ گیارہ کا عدد بطور مثال ہے۔ ان میں حصر نہیں۔

184

چوتھا باب … نشانات مرزا

اس باب میں وہ امور ذکر ہوں گے جن کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار بتا کر ملک کی عام زبان (اردو) میں شائع کئے ہیں۔ ہم ان کو بلا تاویل وتحریف اصلی صورت میں پیش کرتے ہیں:

۱…مسیح موعود کے وقت اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا

’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظرہ علی الدین کلہ‘‘یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ ص۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج۱ حاشیہ ص۵۹۳)

اس نمبر کا جواب الگ نہیں دیا کیونکہ اس میں جواب کی گنجائش نہیں، عبارت صاف ہے

۲… میرے زمانہ میں تمام اقوام ایک قوم مسلم ہوجائے گی

’’چوں کہ حضرتa کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرتﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیوں کہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا۔ کیوں کہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اسی لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہوجائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ پر ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرتﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو۔ جب تک وہ پیدا نہ ہولے۔ کیوں کہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف سے یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے ’’ہوالذی ارسل رسولہ

185

بالہدی ودین الحق لیظرہ علی الدین کلہ‘‘ یعنی خداوند وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے۔ یعنی ایک عالم گیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چوں کہ وہ عالم گیر غلبہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالم گیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۲، ۸۳ خزائن ج۲۳ ص۹۰، ۹۱)

نوٹ: ناظرین! کیا ایسا ہوگیا کہ تمام اقوام دنیا اس مدعی مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں ایک ہی قوم بن گئیں؟ فیصلہ باانصاف ناظرین کے ہاتھ ہے۔

اس کے جواب میں مجیب نے اتنا تو تسلیم کیا ہے کہ ’’مسیح موعود کے زمانہ میں وحدت مذہبی ہونی مقدر ہے۔‘‘

(ص۱۰۷)

مگر: ’’مسیح موعود (مرزا) کے زمانہ سے مراد تین سو سال ہے۔‘‘

(ص۱۱۰)

جس سے غرض مجیب بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بھی یہ ہے کہ موجودہ معترضین تین سو سال تک خاموش رہیں۔ بعد میں جو ہوگا دیکھے گا۔ ہم حیران ہیں کہ یہ لوگ مخلوق خدا کو اتنا کم عقل کیوں جانتے ہیں۔ یا خود اتنی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہیں۔ کیا کوئی پرائمری کا لڑکا بھی اس عبارت کا مطلب یہ سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت سے مراد تین سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ (جل جلالہ)

ناظرین کرام! ہماری منقولہ عبارت کا آخری فقرہ ملاحظہ کریں جو یہ ہے:

’’یہ عالم گیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

نوٹ: ناظرین! مزید توضیح کے لئے اسی باب کا نمبر۱۴ ملاکر پڑھیں تو مضمون بالکل واضح ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ !

۳… مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹ چھوڑ دئیے جائیں گے

’’یاد رہے کہ اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرتﷺ نے یہ بھی خبر دی ہے جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا’’لیترکن القلاص فلا یسعی علیہا‘‘یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنی کی سواری موقوف ہوجائے گی۔ پس کوئی ان پر سوار ہو کر ان کو نہیں دوڑائے گا اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا کہ اس کے نکلنے سے اونٹوں کے دوڑانے کی

186

حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے بڑی سواری اونٹ ہی ہے۔ جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہوسکتے ہیں اور بڑے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمناً آجاتا ہے۔ پس حاصل مطلب یہ تھا کہ اس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آجائے گی۔ جیسا کہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریباً تمام کام جو ا ونٹ کرتے تھے اب ریلیں کررہی ہیں۔ پس اس سے زیادہ صاف اور منکشف اور کیا پیش گوئی ہوگی۔ چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے: ’’واذالعشار عطلت‘‘یعنی آخری زمانہ وہ ہے جب کہ اونٹنی بے کار ہوجائے گی۔ یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں اور چوں کہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے۔ اس سے یقینا یہ استدلال کرنا چاہئے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کا حال بتلا رہی ہے اور اجمالاً مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر لوگ باوجود ان آیات بیّنات کے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں۔ ان پیش گوئیوں کی نسبت شک کرتے ہیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص۱۲، ۱۳ خزائن ج۶ ص۳۰۸، ۳۰۹)

۴… اس کی تائید میں

’’آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی ہے اور زمین نے بھی (میرے لئے گواہی دی) مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بے کار ہوگئے اور پیش گوئی آیت کریمہ ’’واذا العشار عطلت‘‘ پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث ’’ولیترکن القلاص فلا یسعی علیہا‘‘نے اپنی پوری پوری چمک دکھلا دی اور یہاں تک کہ عرب وعجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے۔ یہی اس پیش گوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میںان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲ خزائن ج۱۹ ص۱۰۸،۱۰۹)

قادیانی دوستو! کیا مکہ مدینہ کے درمیان مرزا قادیانی کی زندگی میں یا بعد ان کے آج تک ریل جاری ہوئی؟ کیا راجپوتانہ، بلوچستان، مارواڑ، سندھ، عرب، مصر اور سوڈان وغیرہ ممالک میں اونٹ بے کار ہوگئے؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے۔

187

اس نمبر کا جواب مجیب نے دیا ہے کہ اونٹنیاں ترک ہونے کی بابت:

’’احادیث میں کسی ملک کا نام نہیں آیا۔ عام پیش گوئی ہے۔ مسیح موعود (مرزا) نے بھی اس پیش گوئی کو مطلق ہی قرار دیا ہے کسی ملک سے مخصوص نہیں فرمایا… لہٰذا مولوی (ثناء اللہ ) صاحب کا مخصوص مقامات (مکہ، مدینہ وغیرہ) کے متعلق استفسار در حقیقت پیش گوئی کی حقیقت اور حضرت مسیح موعود (مرزا) کی عبارت سے ناواقفیت کی بنا پر ہے۔‘‘

(ص۱۱۱، ۱۱۲)

اس کے جواب میں: ہم مرزا قادیانی کی ایک طویل عبارت نقل کرتے ہیں جو فیصلہ کن ہے۔ ناظرین اسے بغور ملاحظہ کرکے اس فیصلہ پر بھی قادر ہوجائیں گے کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات سے کون ناواقف ہے اور کون محرف۔ بہرحال وہ عبارت یہ ہے۔ مرزا قادیانی اپنے حق میں آسمانی نشان کسوف وخسوف بیان کرکے لکھتے ہیں:

’’زمین کا نشان وہ ہے جس کی طرف یہ آیت کریمہ قرآن شریف کی یعنی ’’واذا العشار عطلت‘‘ اشارہ کرتی ہے جس کی تصدیق میں مسلم میں یہ حدیث موجود ہے ’’ویترکن القلاص فلا یسعٰی علیہا‘‘خسوف کسوف کا نشان تو کئی سارے ہوئے جو دو مرتبہ ظہور میں آگیا اور اونٹوں کے چھوڑے جانے اور نئی سواری کا استعمال اگرچہ بلاداسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آرہا ہے۔ لیکن یہ پیش گوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہوجائے گی۔ کیوں کہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور امید ہے کہ بہت جلد صرف چند سال تک یہ کام تمام ہوجائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے یک دفعہ بے کار ہوجائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلاد شام کے سفروں میں آجائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت کے سے ہورہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہوجاوے اور حاجی لوگ بجائے بدوئوں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔ بلکہ غالباً معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تھوڑی ہی مدت میں اونٹ کی سواری تمام دنیا میں سے اٹھ جائے گی اور یہ پیش گوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھے گی اور سچ تو یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی ریل کا تیار ہوجانا گویا تمام اسلامی

188

دنیا میں ریل کا پھر جانا ہے۔ کیوں اسلام کا مرکز مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہے… ذرا اس وقت کو سوچو کہ جب مکہ معظمہ سے کئی لاکھ آدمی ریل کی سواری میں ایک ہیئت مجموعی میں مدینہ کی طرف جائے گا یا مدینہ سے مکہ کی طرف آئے گا تو اس نئی طرز کے قافلہ میں عین اس حالت میں جس وقت کوئی اہل عرب یہ پڑھے گا کہ ’’واذا العشار عطلت‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ اونٹنیاں بے کار کی جائیں گی اور ایک حمل دار اونٹنی کا بھی قدر نہ رہے گا جو اہل عرب کے نزدیک بڑی قیمتی تھی اور یا جب کوئی حاجی ریل پر سوار ہوکر مدینہ کی طرف جاتا ہوا یہ حدیث پڑھے گا: ’’ویترکن القلاص فلا یسعیٰ علیہا‘‘یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بے کار کی جائیں گی اور ان پر کوئی سوار نہ ہوگا تو سننے والے اس پیش گوئی کو سن کر کس قدر وجد میں آئیں گے اور کس قدر ان کا ایمان قوی ہوگا۔ جس شخص کو عرب کی پرانی تاریخ سے کچھ واقفیت ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اونٹ اہل عرب کا بہت پرانا رفیق اور عربی زبان میں ہزار کے قریب اونٹ کا نام ہے اور اونٹ سے اس قدرقدیم تعلقات اہل عرب کے پائے جاتے ہیں کہ میرے خیال میں بیس ہزار کے قریب عربی زبان میں ایسا شعر ہوگا جس میں اونٹ کا ذکر ہے اور خداتعالیٰ خوب جانتا تھا کہ کسی پیش گوئی میں اونٹوں کے ایسے انقلاب عظیم کا ذکر کرنا اور اس سے بڑھ کر اہل عرب کے دلوں پر اثر ڈالنے کے لئے اور پیش گوئی کی عظمت ان کے طبیعتوں میں بٹھانے کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔ اسی وجہ سے یہ عظیم الشان پیش گوئی قرآن شریف میں ذکر کی گئی ہے۔ جس سے ہر ایک مومن کو خوشی سے اچھلنا چاہئے کہ خدا نے قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت جو مسیح موعود اور یاجوج ماجوج اور دجال کا زمانہ ہے۔ یہ خبر دی ہے کہ اس زمانہ میں یہ رفیق قدیم عرب کا یعنی اونٹ جس پر وہ مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے اور بلاد شام کی طرف تجارت کرتے تھے۔ ہمیشہ کے لئے ان سے الگ ہوجائے گا۔ سبحان اللہ ! کس قدر روشن پیش گوئی ہے۔ یہاں تک کہ دل چاہتا ہے کہ خوشی سے نعرے ماریں۔ کیوں کہ ہماری پیاری کتاب اللہ قرآن شریف کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے لئے یہ ایک ایسا نشان دنیا میں ظاہر ہوگیا ہے کہ نہ توریت میں ویسی بزرگ اور کھلی کھلی پیش گوئی پائی جاتی ہے اور نہ انجیل میں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب میں۔‘‘

(تحفہ گولڑیہ ص۶۴ خزائن ج۱۷ ص۱۹۶، ۱۹۷)

189

قادیانی دوستو سنتے ہو! تمہارے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے عرب کی خصوصیت کس طرح فرمائی ہے اور تمہارے قابل مصنف مجیب نے اس خصوصیت کو کیسے دکھایا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں:

؎ من چہ گویم وطنبورہ من چہ گوئد

۵… مسیح موعود بعد دعویٰ چالیس سال زندہ رہے گا

’’حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس تک دنیا میں رہے گا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲۷ خزائن ج۱۷ ص۳۱۱)

۶…مرزا قادیانی نے کب دعویٰ کیا

لطیفہ: ’’چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآیات بعد المأتین ہے۔ ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل کے نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو (۱۳۰۰) ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵، ۱۸۶ خزائن ج۳ ص۱۸۹،۱۹۰)

نوٹ: بفحوائے عبارت ہذا ۱۳۰۰ہجری مرزا قادیانی کی بعثت کا زمانہ ہے۔ انتقال آپ کا ربیع الثانی ۱۳۲۶ہجری مطابق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء میں ہوا۔ حساب لگا لیجئے۔ بعد دعویٰ ۲۶ سال رہے۔

ان دو نمبروں کے جواب میں مجیب بہت پریشان ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قلم اور دل میں سخت نزاع ہورہی ہے۔ آخر قلم چوں کہ ظاہری آلہ ہے۔ اس لئے ظاہری دبائو سے متاثر ہوکر روانی میں مندرجہ ذیل عبارت لکھ گیا:

’’حضرت مسیح موعود (مرزا) کو ۱۲۹۰ھ سے قبل ہی سلسلہ الہامات شروع ہوچکا

190

تھا۔ براہین احمدیہ کی اشاعت سے بھی قریباً چھ سات سال پیشتر کشوف رؤیا اور اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہورہا تھا اور ۱۲۹۰ھ کے آنے پر حضورm (مرزا قادیانی) ماموریت کے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوئے۔‘‘ جیسا کہ حضور نے خود تحریر فرمایا ہے ’’یہ عجیب امر ہے اور اس میں اس کو خداتعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خداتعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پا چکا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۰، خزائن ج۲۲، ص۲۰۸)

’’اس حساب سے سلسلہ الہام کی عمر چالیس سال ہوتی ہے اور اگر صرف ماموریت کے الہامات سے ہی ابتداء مانی جاوے تو بھی ۳۷ سال کے قریب بن جاتے ہیں اور عربی کے عام دستور کے مطابق کسروں کو حذف کرکے اسے اربعین (چالیس سال) کہنا بھی درست ہے۔ پس اگر براہین احمدیہ کے الہامات سے ہی دعویٰ کی ابتداء ہو توبہرصورت چالیس برس بن جاتے ہیں اور اعتراض کرنا غلطی ہے۔‘‘

(ص۱۱۵)

جواب الجواب: ہم نے ان لوگوں پر احسان کیا تھا کہ اصل مدت نہیں لکھی بلکہ زیادہ لکھی ہے۔ چوں کہ یہ لوگ ناسپاس ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اصل بات لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ادعاء کے مطابق ان کی عمر کے تین حصے ہیں:

(۱)کشف اور رئویا، (۲)ماموریت الٰہیہ، (۳)دعویٰ مسیحیت موعودہ۔

یہاں سوال دعویٰ مسیحیت موعودہ پر ہے۔ اسی کے متعلق حدیث مرقومہ آئی ہے۔

چنانچہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں:

’’مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس تک دنیا میں رہے گا۔‘‘

اس امر کی تحقیق کرنی ہو تو مرزا قادیانی کی تصنیفات دیکھئے۔ براہین احمدیہ جو ۱۲۹۷ھ میں چھپی اور ملک میں شائع ہوئی۔ اس میں تو مرزا قادیانی مسیح موعود حضرت عیسیٰ مسیحؑ کو مانتے ہیں۔

اس کے بعد سب سے پہلی کتاب جس میں مسیح موعود کا دعویٰ آپ نے کیا ہے ’’فتح اسلام‘‘ ہے۔ جس کے سرورق پر ۱۳۰۸ھ لکھا ہے۔ اس رسالہ کی اشاعت پر شور ہوا تو آپ نے اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے ’’ازالہ اوہام‘‘ طبع کرایا۔ جس پر۱۳۰۸ھ لکھا ہے۔

ان دو کتابوں سے پہلے کسی تحریر مرزا میں دعویٰ مسیحیت موعودہ نہیں ملتا۔ مرزا

191

قادیانی کا انتقال ۱۳۲۶ھ میں ہوا۔ اس تحقیق انیق سے مرزا آنجہانی بعد دعویٰ مسیحیت موعودہ صرف اٹھارہ سال دنیا میں رہے۔ حالاں کہ آپ کو چالیس سال تک رہنا چاہئے تھا۔

قادیانی مجیب نے جو حوالے نقل کئے وہ کشف اور الہام کے متعلق ہیں، دعویٰ مسیحیت کے متعلق نہیں ہیں۔ دعویٰ مسیحیت موعودہ ۱۳۰۸ھ میں کیا ہے۔ اس سے قبل نہیں۔ ہے تو دکھائو:

  1. گرز عشقت خبر ے ہست بگوائے واعظ

    ورنہ خاموش کہ ایں شور وفغاں چیزے نیست

۷…مسیح موعود کی وفات کا وقت ۱۳۳۵ہجری ہے

’’پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال تیرہ سو پینتیس برس لکھتا ہے جو خداتعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت یہاں فرمایا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۰ خزائن ج۲۲ ص۲۰۸)

۸…اس کی تشریح

’’دانی ایل نبی بتلاتا ہے کہ اس نبی آخرالزمان کے ظہور سے (جو محمد مصطفیﷺ ہے) جب بارہ سو نوے برس گزریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور تیرہ سو پینتیس (۱۳۳۵) ہجری تک اپنا کام چلائے گا۔ یعنی چودہویں صدی سے پینتیس برس برابر کام کرتا رہے گا۔ اب دیکھو اس پیش گوئی میں کس قدر تصریح سے مسیح موعود کا زمانہ چودہویں صدی قرار دی گئی۔ اب بتلائو۔ کیا اس سے انکار کرنا ایمان داری ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۱۱۷، خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۹۲)

نوٹ: مرزا قادیانی ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۸ء میں انتقال کر گئے۔

قادیانی دوستو! چھبیس اور پینتیس میں نو سالوں کا فرق ہے۔ پھر اتنی جلدی کیا تھی کہ مرزا قادیانی تشریف لے گئے۔ تم لوگوں نے عرض نہ کیا:

  1. آتے ہی کہتے ہو جانا جانا

    ایسا جانا تھا تو جاناں تمہیں کیا تھا آنا

ان نمبروں کے جواب میں جو مجیب نے اپنا ضعف دکھایا قابل رحم ہے۔ اس کی ساری کوشش یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے ظہور کو ذرہ اوپر کو کھینچ کر لے جائے۔ پھر ۱۳۲۶ھ ہی ۱۳۳۵ھ بن جائے گا۔ چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں:

192

’’دانیال کی پیش گوئی اور تحفہ گولڑیہ کے الفاظ میں اس مدت کی انتہا نبی آخر الزماں کے ظہور سے بتائی گئی ہے اور حضورm کا ظہور تاریخ ہجری سے تیرہ سال اور بعض کے نزدیک دس سال قبل ہوا تھا۔ اس لحاظ سے جب ۱۳۲۶ھ تھا تو آنحضرتﷺ کے ظہور پر ۳۳۵ برس بہرحال گزر چکے تھے۔ اندریں صورت تحفہ گولڑویہ کی عبارت میں لفظ ’’ہجری‘‘ عام طریق کے مطابق لکھا گیا ہے۔ وبس۔ اس توجیہ کی صورت میں ابتداء اس کشف سے ہوگی جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے براہین احمدیہ کی تصنیف اور اسلام کے احیاء کے متعلق ۱۸۶۴ء کے قریب دیکھا تھا۔‘‘

(ص۱۱۷، ۱۱۸)

جواب الجواب: اس نمبر میں ہمیں اس سے مطلب نہیں کہ مرزا قادیانی کا ظہور کب ہوا۔ ہمارا مطلب تو اس عبارت کو غلط ثابت کرنا ہے جو انہوں نے مسیح موعود کے کام کرتے رہنے کا انتہائی وقت ۱۳۳۵ھ لکھا ہے۔ ابتداء کی طرف چاہو جتنا کھینچ لو۔ انتہا اس کی ۱۳۳۵ھ پر ہونی چاہئے۔ حالاں کہ ۱۳۲۶ھ پر ہوئی۔ (یہی جھوٹ ہے)

۹… مسیح موعود حج کرے گا

’’آنحضرتﷺ نے آنے والے (مسیح) کو ایک امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے اس کو دیکھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۰۹ خزائن ج۳ ص۳۱۲)

نوٹ: صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ مسیح موعود حج کرے گا۔ مرزا قادیانی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔

۱۰…مسیح موعود کب حج کرے گا؟

’’ہمارا حج تو اس وقت ہوگا جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا … اور آخر دجال کا ایک گروہ ایمان لا کر حج کرے گا۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۶۹ خزائن ج۱۴ ص۴۱۶، ۴۱۷)

یعنی مسیح موعود (مرزا) دجال (قوم نصاریٰ) کو مسلمان کرکے ان کو ساتھ لے کر حج کریں گے۔

نوٹ: مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ حالاں کہ مسیح موعود کا حج کرنا لازمی ہے۔

193

جیسا کہ ان کو خود مسلم ہے۔ ہم بغرض تفہیم ایک الزام کو دو نمبروں میں بیان کرتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کی عبارات پر غور کرنے والے خوب غور کریں۔ مگر مجیب اپنے فرض (جواب دہی) کو جانتا ہے۔ حق کو پہنچاننا اس کے فرائض میں نہیں ہے۔ اس لئے وہ بے تامل ہمارے اعتراضات کو محض باتوں میں ٹال دیتا ہے۔

چنانچہ لکھتا ہے:’’احادیث میں جہاں مسیح موعود کے طواف خانہ کا ذکر ہے۔ اس سے مراد اشاعت دین ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے بھی یہی مراد لی ہے۔‘‘

(ص۱۲۰)

ناظرین!ﷲ غور کریں احادیث رسول پاکﷺ پر ہاتھ صاف کرنا ان کے بزرگ نے ان کو سکھایا ہے۔ اسی کا اثر ہے کہ اسی طرح اپنے بزرگ کے اقوال پر بھی ہاتھ صاف کرنے لگ گئے۔ کتنا ظلم ہے کہ ہم تو مرزا قادیانی کی تصریح دکھاتے ہیں کہ ایام الصلح میں مسیح موعود کا حج کرنا مانتے ہیں۔ ہاں! اس کا وقت وہ بتاتے ہیں جب عیسائی (دجال) مسلمان ہوکر مسیح کے ساتھ حج کو جائیں گے۔

بھلا اس فارسی عبارت کا ترجمہ کیا ہے:’’مارا وقتے حج راست وزیبا آید کہ دجال از کفر ودجل دست باز داشتہ ایماناً واخلاصاً در گرد کعبہ گردد۔‘‘

(ایام الصلح حوالہ مذکور)

بتائیے دجال (قوم نصاریٰ) کے اسلام کے بعد مرزا قادیانی کو حج کرنا مناسب اور موزوں تھا۔ پھر اس (حج) سے اشاعت اسلام کیسے مراد ہوئی۔ اشاعت اسلام کرنے سے تو دجال مسلمان ہوگا اور اس کے مسلمان ہوجانے کے بعد مرزا قادیانی کا حج کرنا تھا۔ کیا یہ تقدم الشئی علی نفسہ ہے یا تقدم المتاخر علی المتقدمنہیں ہے۔

اصل جواب: قادیانی دوستوں سے یہ تو امید نہیں کہ وہ شکر گزار ہوں تاہم بغیر امید شکریہ ہم اس سوال کا معقول جواب دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے:

دجال (قوم نصاریٰ) ایسی ضدی اور سڑی ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری کوشش پر بھی مسلمان نہ ہوئی تو کیا کرتے۔ آخر کار ان کو اسی ضد میں چھوڑ کر چلے گئے۔ (چیرز؟)

  1. ابھی آکر بیٹھے تھے

    ابھی دامن سنبھالا ہے

مجیب صاحب کی جرأت دیکھئے۔ مرزا قادیانی کے حج نہ کرنے کا عذر کس خوبی سے کرتے ہیں: ’’سیدنا مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر امن راہ نہ ہونے۔ صحت کی کمزوری کے

194

باعث نیز زادہ راہ بصورت نقد جمع نہ ہونے کی وجہ سے حج فرض نہ تھا۔ لہٰذا آپ کا حج نہ کرنا مورد اعترض نہیں۔‘‘

(ص۱۲۲)

جواب الجواب: ہم فاضل مخاطب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے جو عذر کیا اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو منظور تھا کہ مرزا قادیانی حج نہ کرکے عہدہ مسیحیت سے محروم رہیں۔

ناظرین! ہم جو بار بار لکھتے ہیں کہ مجیب جواب دینے میں اپنا فرض (نوکری) ادا کرتا ہے تحقیق حق سے اسے مطلب نہیں۔ تحقیق منظور ہوتی تو یہ سوچنا کہ جس صورت میں علم الٰہی میں مقدر ہے جس کا اظہار زبان رسالتa سے ہوچکا ہے کہ مسیح موعود حج کریں گے۔ یہاں تک کہ ان کے احرام کی جگہ (فج الروحاء) بھی بتا دی ہے۔ باوجود اس کے آج کل کے مدعی مسیحیت موعودہ اس سے محروم رہے۔ چاہے بیماری سے رہے یا بدامنی سے رہے۔ بہرحال محروم رہے۔ اس سے صاف ثابت ہوا کہ جس مسیح کے حق میں حج مقدر تھا، مرزا قادیانی وہ مسیح نہیں۔ وہ ہوتے تو قدرت خداوندی موانع حج کو خود ہی اٹھا دیتی اور مرزا قادیانی اسی معینہ جگہ سے احرام باندھ کر حج کرتے۔ پس ہمارا حق ہے ہم یہ کہیں کہ مجیب نے ہمارے دعویٰ کی تردید نہیں کی بلکہ تائید کی ہے۔ کیا خوب:

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا

قابل مجیب نے ایک فقرہ ایسا بھی لکھا ہے جو دراصل حدیث پر اعتراض ہے۔ لیکن درحقیقت وہ ان کے فہم کا قصور ہے۔ مجیب نے لکھا ہے کہ: ’’فج الروحاء میقات نہیں۔ مسیح اس جگہ سے احرام کس طرح باندھے گا۔ اس لئے یہ ایک کشف ہے۔‘‘

(ص۱۲۲)

جواب: ’’خرابی ساری یہ ہے کہ یہ لوگ جس قدر مرزا قادیانی کی کتابوں پر محنت کرتے ہیں احادیث نبویہ پر اتنی محنت کریں اور کسی واقف فن استاد سے پڑھیں تو حدیث فہمی میں دھکے نہ کھائیں۔‘‘

سنئے! میقات جتنے ہیں یہ ان لوگوں کے لئے جو ان سے باہر کے لوگ ہیں اور جو اندر ہوں وہ جہاں ہوں وہیں سے احرام باندھ لیں۔ مثلاً اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ میقات ہے تو کیا جو ذوالحلیفہ سے اندر مکہ کی جانب رہتے ہیں وہ بھی ذوالحلیفہ جا کر احرام باندھ کر آئیں؟ نہیں بلکہ وہ جہاں ہوں وہیں احرام باندھ لیں۔ حدیث شریف کے الفاظ کا

195

مقتضا یہ ہے کہ ایام حج میں حضرت مسیح موعود دورہ کرتے ہوئے فج الروحاء کے قریب ہوں گے۔ اس لئے وہیں سے احرام باندھ لیں گے۔ یہی شرعی حکم ہے۔فاندفع ما توہم!یوں تو ہر مخالف حدیث کو کشف بنا لینا اور کشف بنا کر اپنے منشاء کے موافق تاویل کرلینا قادیانیوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مگر سمجھ دار بھی دنیا میں موجود ہیں۔ الحمدللہ!

۱۱…آسمانی منکوحہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی

’’نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز (مرزاقادیانی) کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیوں کہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ: ’’لاتبدیل لکلمات اللہ ‘‘یعنی میری بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خداتعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘

(اشتہار ۱۶؍ستمبر مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۵ مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)

نوٹ: جناب مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی کی بابت کہا تھا کہ میرا اس سے نکاح آسمان پر ہوچکا ہے۔ اسی کی بابت فرماتے ہیں کہ’’ آسمانی منکوحہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱۶ خزائن ج۱۱ ص۲۱۶)

قادیانی دوستو! کیا یہ نشان پورا ہوا۔ ہم تمہاری تحریفات اور تاویلات نہیں سنیں گے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں نکاح ٹل جانے سے خدا کا کلام باطل ہوجائے گا۔ خدا کے کلام کو باطل کہنا کفر ہے۔ تمہاری مرضی!

مجیب نے یہاں وہ کمال کیا ہے جو قادیانی جماعت کے زوال کا باعث ہوگا۔ ان شاء اللہ لکھا ہے کہ یہ نکاح اس لئے نہ ہوا کہ سلطان محمد (ناکح منکوحہ آسمانی) نہ مرا۔ جب وہ مرا نہیں تو نکاح نہ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔ چنانچہ مجیب کے اصلی الفاظ یہ ہیں:

’’بے شک حضرت اقدس (مرزا) نے محمدی بیگم کا اپنے نکاح میں آنا ضروری بیان فرمایا ہے۔ اسے اٹل قرار دیا ہے۔ مگر کس صورت میں؟ جب کہ سلطان محمد کی موت واقع ہوجائے۔(دیکھو اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء بار دوم کرامات الصادقین) اگر یہ صورت پیدا ہوجاتی اور نکاح نہ ہوتا تو بے شک خدا کا کلام باطل ٹھہرتا۔ مگر جب سلطان محمد کی موت ہی واقع نہ ہوئی تو یہ اعتراض کرنا خلاف دیانت ہے۔‘‘

(ص۱۲۴)

196

مطلب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری روک سلطان محمد نے ڈالی جو مرا نہیں۔ ہم اس مضحکہ خیز جواب پر کیا لکھیں۔ و اللہ ! جب ہم اس جماعت کو بحیثیت متکلمین دیکھتے ہیں تو ہماری حیرت کی حد نہیں رہتی ۔ کیا متکلمین ایسی کچی باتیں کیا کرتے ہیں کہ سلطان محمد چوں کہ مرا نہیں، اس لئے خدائی حکم کو روک ہوگئی۔ سنئے! مرزا قادیانی نے اس قسم کے طفلانہ جوابات کو یوں رد کیا ہے ’’یرد بنت احمد الی بعد اہلاک المانعین‘‘(یعنی) خدا احمد بیگ کی لڑکی (آسمانی منکوحہ) کو بعد مار دینے مانعین کے میری طرف لائے گا۔

(انجام آتھم ص۲۱۶ خزائن ج۱۱ ص۲۱۶)

یہ ہے تمہاری سب باتوں کا جواب کہ مانعین کا مار دینا بھی خدا نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے اور مار کر آسمانی دلہن کو الہامی دلہا (مرزا قادیانی) کے پاس لانے کا وعدہ ہے۔

مرزائی دوستو! اللہ سے ڈر کر کہو ایسا ہوا کہ سب مانعین ہلاک ہو کر آسمانی منکوحہ مرزا قادیانی کے پاس آگئی ہو؟

آہ! مرزا قادیانی آخری لمحہ زندگی میں یہ شعر پڑھتے ہوئے رخصت ہوئے:

  1. پوچھے اگر وہ قاصد کہہ دیجئیو یہ صاف

    سینے میں دم ہے آنکھ ہے در پر لگی ہوئی

۱۲…آسمانی منکوحہ سے اولاد ہوگی

’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیوں کہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵۳ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۳۳۷)

نوٹ: ایمان سے کہو۔ ایسا ہوا؟

197

بعض قادیانی مناظر کہا کرتے ہیں نکاح تب ہوتا جب منکوحہ کا خاوند مرزا سلطان محمد ساکن پٹی (سلمہ اللہ ) مرتا جب وہی مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرا تو نکاح کیسے ہوتا۔ اس کا جواب بھی مرزا قادیانی کے کلام میں موجود ہے۔

۱۳…مرزا سلطان محمد میرے سامنے ضرور مرے گا

’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد مرزا (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص۳۱ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص ایضاً)

نوٹ: مرزا سلطان محمد (سلمہ) ابھی تک زندہ ہے۔

(۱۹۴۸ء میں فوت ہوا، فقیر: اللہ وسایا)

نمبر۱۲، ۱۳ کا جواب الجواب اسی میں آگیا۔ کیوں کہ اس پیش گوئی کو پورا ہونے میں جو مانع تھے جن میں مرزا سلطان محمد بھی سخت مانع ہے۔ ان سب کو ہلاک کرکے مرزا قادیانی کا گوہر مقصود حاصل کرانے کا خدا نے وعدہ کیا ہوا ہے جو پورا ہونا ضروری تھا مگر نہ ہوا۔

نتیجہ کیا؟ خاب من افتریٰ (مفتری نامراد رہتا ہے) سچ ہے:

  1. کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا

    نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

۱۴…میں تثلیث کی جگہ توحید پھیلائوں گا ورنہ جھوٹا کہلائوں گا

’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلائوں اور آنحضرتﷺ کی جلالت اور عظمت وشان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود ومہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ والسلام! فقط غلام احمد‘‘(البدر۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ص۴، ’’المہدی‘‘ نمبر۱ ص۴۳، از حکیم محمد حسین قادیانی، مکتوبات احمدج۱، ص۴۹۸، مکتوب ۲۹)

۱۵…اس کی تائید

’’دمشق کا ذکر اس حدیث میں جو مسلم نے بیان کی ہے۔ اس غرض سے ہے کہ تین

198

خدا بنانے کی تخم ریزی اول دمشق سے شروع ہوئی ہے اور مسیح موعود کا نزول اس غرض سے ہے کہ تاتین کے خیالات کو محو کرکے پھر ایک خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔‘‘

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ث مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۷، ۲۸۸)

۱۶… تائید مزید

’’(آںحضرتa نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا اور فرمایا کہ وہ ان کی صلیب کو توڑ دے گا۔‘‘

(شہادت القرآن ص۱۲، خزائن ج۶ ص۳۰۷)

مرزائی دوستو! مسیح موعود آیا اور چلا بھی گیا۔ تثلیث اور عیسائیت بجائے فنا ہونے کے ترقی پر ترقی کررہی ہے۔ کیا ہم اس پر یہ شعر مرزا قادیانی کی نذر نہ کریں:

  1. وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا

    تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

نمبر۱۴، ۱۵، ۱۶۔ ان ضروری نمبروں کا جواب مجیب نے ایسا دیا کہ نہ دینے سے برا۔ گویا اقرار کیا کہ آج تک تو یہ کام ہوئے نہیں۔ آئندہ تین سو سال تک ہوجائیں گے ’’تاتریاق از عراق آوردہ شد مارگزیدہ مردہ شود‘‘ چنانچہ مجیب کی اصلی عبارت یہ ہے:

’’اس قسم کے جملہ اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ سنت الٰہی اسی طرح پر واقعی ہوئی ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کو روحانی غلبہ تو فی الفور دے دیتا ہے۔ ان کے دشمن دلائل وبراہین کی رو سے عاجز وتہی دست ہوجاتے ہیں لیکن ظاہری غلبہ تدریجاً دیا کرتا ہے… سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کامیابی بھی اسی منہاج پر ہے۔ دلائل ومعقولات کا وہ ذخیرہ آپ نے پیدا کیا ہے کہ غیر احمدی بھی دشمنان اسلام کے مقابلہ میں اس سے کام لیتے ہیں اور ظاہری طور پر بھی احمدیت کو جو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی حاصل ہورہی ہے۔ یہ اس کی صداقت کا زبردست ثبوت ہے۔ عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹ چکا ہے اور تثلیث کا بت مسیحائے زماں کی ضرب کاری سے ریزہ ریزہ ہورہا ہے اور عیسائی دنیا خود ان عقائد کو نفرت سے ترک کررہی ہے اور احرار یورپ بھی تین کے خیالات کو چھوڑ کر توحید کی طرف آرہے ہیں۔ صلیب شکستہ ہوگئی۔ (شیخ چلی زندہ ہے) کیوں کہ ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح مصلوب نہ ہوئے تھے اور وہ دن دروازے پر کھڑے ہیں جب کہ عیسائی مذہب دنیا سے پورے طور پر مٹ جائے گا۔

199

مبارک ہیں وہ جو وقت کو شناخت کریں اور مسیحائے وقت کی آواز پر لبیک کہیں۔‘‘

(ص۱۳۰)

جواب الجواب! گو ہماری منقولہ عبارات میں یہ فقرات کافی ہیں۔

’’میں اس میدان میں کھڑا ہوں کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلائوں۔ وغیرہ‘‘

یہ واحد متکلم کا صیغہ اور مضمون کی ادائیگی بزمانہ حال ناظرین کے لئے غور طلب ہے کہ کیا یہ عبارت زمانہ حال کے لئے ہے یا آئندہ کے لئے؟ باوجود اس کے ایک اور عبارت مرزا قادیانی کی ہم دکھاتے ہیں جو تمام عذرات بار دہ کا مہلک جواب ہے۔ مرزا قادیانی اپنی مسیحیت کا زمانہ اور کام بتاتے ہیں:

(چشمہ معرفت ص۸۲، ۸۳ خزائن ج۲۳ ص۹۱)

ناظرین کرام! اس فیصلہ کن عبارت کو بغور دیکھیں کہ مرزا قادیانی اس میں اپنی خدمت خاصہ کا ذکر اپنی زندگی میں کیسے صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ وحدت اقوام مسیح موعود کے وقت میں ہوجائے گی۔ ملاحظہ ہو:’’یہ عالم گیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

اگر یہ کام تین سو سال تک ہونا ہوتا تو اس کو مسیح موعود کے وقت میں ہونا نہ کہا جاتا۔ نیز حاضرین سامعین کو اس سے تسلی کیسے ہوتی۔ یقینا اس کام کا تعلق حیات مرزا قادیانی سے ہے مگر واقعات نے ثابت کردیا کہ مرزا قادیانی کا یہ وعدہ معشوقانہ وعدے سے کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ جس کی بابت کہا گیا ہے:

  1. نہیں وہ قول کا پورا ہمیشہ قول دے دے کر

    جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

200

۱۷… نوٹ از مرتب احتساب قادیانیت جلد ہذا

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری نے یہاں پر مرزا قادیانی کا اشتہار جو مولانا موصوف کے متعلق ’’آخری فیصلہ‘‘ کے نام سے مرزا نے شائع کیا تھا اس رسالہ میں نقل فرمایا۔ چوں کہ وہ فاتح قادیان نامی رسالہ میں پہلے درج ہوچکا ہے۔ اس لئے تکرار کے باعث یہاں سے حذف کردیا گیا۔ البتہ اس پر مولانا نے جو تبصرہ کیا ہے وہ پیش خدمت ہے۔

(فقیر: مرتب)

یہ مضمون جماعت مرزائیہ کے لئے موت وحیات کا سوال ہے۔ مضمون تثلیث عیسائیوں کے حق میں اتنا مشکل نہیں جتنا ’’آخری فیصلہ‘‘ امت مرزا کے حق میں مشکل ترین ہے۔ اس مضمون پر جماعت مرزائیہ کے بحث کرنے کی مثال بالکل یہ ہے جو مکھی شہد میں پھنس جائے، جتنی وہ نکلنے میں کوشش کرتی ہے اتنی ہی اس میں پھنستی ہے۔

چنانچہ مجیب نے بھی اس میں بڑی محنت سے کام کیا ہے۔ ساری محنت کا نچوڑ یہ ہے کہ یہ محض دعا نہیں بلکہ دعاء مباہلہ ہے۔ چوں کہ مولوی ثناء اللہ کے انکار کرنے سے مباہلہ نہیں ہوا۔ اس لئے مولوی ثناء اللہ کی حیات شرعی حجت نہیں۔ مجیب کے الفاظ یہ ہیں:

’’میں ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء (مرزا قادیانی) کا اشتہار ۱۵؍اپریل دعاء مباہلہ تھا یک طرفہ دعا نہ تھی۔ اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب مباہلہ سے انکار کرکے بچ گئے ہیں۔‘‘

(ص۱۷۰)

اس کا مکمل اور جامع جواب یہ کافی ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں قادیان سے اس مضمون کا اعلان ہوچکا تھا کہ:

’’حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا) نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان کا ایک اشتہار دے دیا جس میں محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا گیا ہے نہ کہ مباہلہ کیا ہے۔‘‘

(اخبار بدر ۲۲؍اگست ۱۹۰۷ء ص۸)

چوں کہ دعاء مرزا کا اثر حق بجانب ہوا۔ یعنی جو فریق عند اللہ ناحق پر تھا وہی لقمہ موت ہوا تو جماعت مرزائیہ نے یہ حجت نکالی کہ یہ اشتہار محض دعا نہ تھا بلکہ دعاء مباہلہ تھا۔ ایسی حجتوں کے حق میں کہا گیا ہے: ’’مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلہ خود باید زد‘‘

201

باب پنجم … اخلاق مرزا

حسن خلق ہر شخص خاص کر ہر ریفارمر (مصلح) کے لئے ضروری ہے۔ انبیاء کرام چوں کہ دنیا کے سب لوگوں کے لئے راہنما اور نمونہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے اخلاق کریمہ بھی اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ نبی اسلام رسول اکرمa کی شان والا شان کی بابت تو صاف ارشاد ہے:

’’انک لعلٰی خلق عظیم (القلم:۴)‘‘اے رسول آپ خلق عظیم پر ہیں۔

ہماری تصنیف کے ہیرو (مرزا غلام احمد قادیانی) کا دعویٰ ہے کہ میں محمد ثانی ہوں۔ (معاذ اللہ ) اس لئے لازم تھا کہ آپ کے اخلاق اعلیٰ درجہ کے ہوتے۔ مگر افسوس ہے کہ ہم اس خصوص میں مرزا قادیانی کو بہت گرا ہوا پاتے ہیں۔ حسب روایت ہم خود کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ بلکہ مرزا قادیانی ہی سے حقیقت کہلوا دیتے ہیں۔ ناظرین بغور سنیں:

حسن خلق کے معیار بتانے میں اخلاق نویسوں کا اختلاف ہے۔ مسلمان مومن بالقرآن کے نزدیک وہی معیار صحیح ہے جو قرآن مجید نے فرمایا۔ ارشاد ہے ’’قل لعبادی یقولوا التی ہی احسن ان الشیطان ینزغ بینہم ان الشیطان کان للانسان عدواً مبیناً (بنی اسرائیل:۵۳)‘‘یعنی میرے بندو! ایسی بات کہا کرو کہ جو سب سے اچھی ہو۔ شیطان ہر وقت تم میں لڑائی کرانے پر آمادہ ہے۔ کیوں کہ وہ انسان کا صریح دشمن ہے۔ حسن خلق کی تعریف جو معلوم ہوتا ہے وہ ظاہر بلکہ اظہر ہے۔ مرزا قادیانی چوں کہ قائل اسلام اور بروزی نبوت محمدیہ کے مدعی تھے۔ ان کا حسن خلق اسی معیار پر پرکھنا چاہئے۔

نوٹ: ہر کہ ومہ جانتے ہیں کہ کسی انسان کا حلال زادہ یا حرامزادہ ہونا اس وقت سے ہوتا ہے جس وقت اس کے وجود کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں بشکل نطفہ رکھی جاتی ہے۔ وہ اگر باجازت شرعی ہے تو حلال زادہ ہے۔ بے اجازت ہے تو حرام زادہ۔ مگر مرزا قادیانی کا خلق یہ ہے کہ جو ان کو مانے وہ حلال زادہ جو نہ مانے وہ حرام زادہ۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

۱…’’کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الّا ذریۃ البغایا‘‘ یعنی سب مسلمان مجھے قبول کرتے اور میری دعوت کو مانتے ہیں۔ مگر زانیہ عورتوں کی اولاد یعنی حرام زادے نہیں مانتے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷، ۵۴۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

202

نتیجہ: صاف ہے کہ نہ ماننے والوں کی مائیں زانیہ ہیں اور وہ زنا زادے ہیں۔

سوال:اس حسن خلق سے قطع نظر ہمیں ایک سوال سوجھتا ہے۔ اتباع مرزا قادیانی اس پر غور کریں گے۔ ایک شخص بہت عرصہ تک مرزا غلام احمد قادیانی کا مخالف رہا۔ اتنا عرصہ وہ حرام زادہ رہا مگر بحکم ’’انقلاب‘‘ وہ بجائے منکر کے معتقد ہوگیا تو اب وہ حلال زادہ ہوجائے گا؟

عکس القضیہ: اس کے برعکس ایک شخص عرصہ تک معتقد رہا۔ آخر کار وہ تائب ہوکر منکر ہوگیا۔ جیسا ہوتا رہتا ہے تو اب وہ حلال زادہ سے منقلب ہوکر حرام زادہ ہوجائے گا؟ علمائے مرزائیہ! بیّنوا توجرو!

مجیب نے اس موقعہ پر کمال ہوشیاری سے اخلاق مرزا قادیانی کی حمایت کی ہے۔ بجائے ندامت کے الٹا لکھتے ہیں: ’’نبی اہل دنیا کے سامنے جج کی حیثیت میں پیش ہوتا ہے کہ تاریکی کے فرزندوں پر فرد جرم لگانے سے پہلے ان کے جرموں سے ان کو آگاہ کرے۔‘‘

(ص۳۳)

مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی چوں کہ نبی تھے۔ اس لئے ان کا حق تھا کہ اپنے منکروں کو سخت سے سخت الفاظ سے یاد کریں۔ جیسے جج فرد جرم لگاتے وقت الفاظ بولتا ہے۔ ہم مانتے ہیں نبی ہو یا مصلح، افعال قبیحہ کو قبیح کہہ کر کرنے والوں کو تنبیہ کرتا ہے۔ مثلاً کافر، فاسق، فاجر، اصحاب النار وغیرہ الفاظ ان کے حق میں کہتا ہے۔ مگر ایسی طرح کہ سننے میں نہ مکروہ ہوتے ہیں، نہ کسی خاص شخص یا جماعت کے حق میں دل آزار، برخلاف مرزا قادیانی کے۔ ان کے الفاظ سنتے ہی ہر شخص کا ضمیر جوش میں آکر انتقام کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ مثلاً ’’اے بدذات فرقہ مولویاں۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

ناظرین! ایک طرف یہ مکروہ الفاظ رکھئے اور دوسری طرف وہ رکھئے جو مجیب نے (تجلیات رحمانیہ ص۱۳۴) پر قرآن مجید کے مختلف مقامات سے نقل کئے ہیں۔ مثلاً ’’قردۃ (بندر) خنازیر، حمر، زنیم، ولد الزنا، نجس، ناپاک، شرالبریہ، وغیرہ۔

(ص۱۳۴)

اس لئے ہم مثال کے طور پر وہی آیت سامنے رکھتے ہیں جس میں سخت سے سخت مکروہ الفاظ مجیب کو نظر آئے ہیں۔ ارشاد ہے: ’’ولا تطع کل حلّاف مہین۔ ہمّاز مشاء بنمیم۔ منّاع للخیر معتد اثیم۔ عتل م بعد ذٰلک زنیم (القلم:۱تا ۱۳)‘‘

خدا اپنے نبی کو اور نبی کی وساطت سے سب بندوں کو حکم دیتا ہے: ’’تم مت کہا مانا

203

کرو بڑے جھوٹے، نکتہ چین، چغل خور، مانع خیر، حد سے بڑھے ہوئے بد اعمال، متکبر اور نسل بدلنے والے کا۔‘‘

بتائیے اس میں کیا سختی ہے۔ یہ ہے اصل فرد جرم جو نبی بحیثیت جج لگایا کرتا ہے۔ یعنی ان فاعلوں کی صحبت سے منع کیا۔ لیکن دراصل ان افعال سے منع کرنا مقصود ہے۔ سنئے: کسی محلہ میں چند لوگ بدکار، بدمعاش، آوارہ گرد ہوں۔ وہاں کا نیک صالح بندہ اپنی اولاد کو یوں نصیحت کرے کہ ’’تم بدکاروں، آوارہ گردوں کی صحبت سے پرہیز کیا کرو۔‘‘ اس میں کیا خرابی اور کیا بداخلاقی؟ برخلاف اس کے اہل محلہ کو مخاطب کرکے یوں کہے:

’’اوبدذاتو، شریرو، خبیثو، جیسے تم خود خبیث ہو، ویسے میری اولاد کو بنانا چاہتے ہو۔‘‘

مرزا قادیانی کا قول ہے: ’’اے بدذات فرقہ مولویاں! تم کب تک حق کو چھپائو گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ ظالم مولویو! تم پر افسوس ہے کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

ناظرین کرام! یہ ہیں وہ شیریں الفاظ جن کو قادیانی خلافت کے تنخواہ دار جج کا فرد جرم قرار دیتے ہیں۔ ماشاء اللہ ! چشم بد دور!

لیکن معاف فرمائیے کیا ہم بھی ایک لفظ کی زیادتی کرکے یہی عبارت کہہ سکتے ہیں جو یوں ہے: ’’اے قادیانی بدذات فرقہ مولویاں تم تک حق چھپائو گے… الخ۔‘‘

مرزائی دوستو! یقینا یہ ترمیم تم کو بری معلوم ہوگی پھر کیا یہ صحیح نہیں ہے:

آنچہ بخوثد نہ پسندی بدیگراں مپسند

۱… لدھیانہ میں ایک شخص صاحب سعادت ازلیہ مولوی سعد اللہ نو مسلم تھے۔ جنہوں نے تمام گھر بار برادری چھوڑ کر اسلام قبول کرکے علم دین حاصل کیا اور تمام عمر توحید وسنت کے شوق اور اشاعت میں گزار دی۔ مگر مرزا قادیانی کے منکر تھے۔ مرزا قادیانی اسی مذکورہ اصول کے ماتحت ان کو مخاطب کرکے لکھتے ہیں:

  1. اٰذیتنی خبثاً فلست بصادق

    ان لم تمت بالخزی یابن بغاء

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۵ خزائن ج۲۲ ص۴۴۶)

’’تو نے مجھے تکلیف دی ہے اے زانیہ کے بیٹے (یعنی حرام زادے) اگر تو ذلت سے نہ مرا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘ (جل جلالہ)

204

اس خبیث لفظ (ذریۃ البغایا) نے امت مرزائیہ بہر دو صنف کو ایسا پریشان کر رکھا ہے کہ بہت ہی بہکی بہکی باتیں کہتے ہیں۔

میاں! صاف بات ہے کہہ دو مرزا قادیانی نے غصہ کی حالت میں لکھ دیا۔ اب جانے دو۔ یہ کیا ہے کہ اس کی تصحیح کرنے بیٹھے ہو کہ ذریۃ البغایا سے مراد شریر لوگ ہیں۔ مرکب اضافی مراد نہیں۔ جیسے ابن السبیل کے معنی ہیں مسافر وغیرہ۔

(ص۳۷)

ہاں جناب! ہر لفظ اپنے معنی میں مستقل حقیقت رکھتا ہے۔ الا جس کو اہل زبان مجازی شکل میں استعمال کریں۔ ابن السبیل کے معنی مسافر کے اہل زبان مراد لیتے ہیں۔ مگر ’’ذریۃ البغایا‘‘ کے معنی سوائے ’’حرام کاروں کی اولاد‘‘ کے اور مراد نہیں لیتے۔ لیتے ہیں تو دکھائو۔

مرزائی دوستو! ہم تمہارے ضمیر سے ایک سوال کرتے ہیں۔ خدا سے ڈر کر صحیح جواب دینا۔ جس طرح تم لوگ منکرین مرزا کو بوجہ انکار ذریۃ البغایا بمعنی شریر بدکار کہتے ہیں وہ بھی تم کو بوجہ اقرار مرزا کے ایسا مانتے ہیں تو کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارے مخالف یوں کہیں:

’’کل امرء لا یقبل دعوۃ المرزا الّا ذریۃ البغایا‘‘ یعنی ہر آدمی مرزا کی دعوت کو رد کرتا ہے سوائے ذریۃ البغایا کے۔ (وہ قبول کرتے ہیں)‘‘

اگر تم اس کو مکروہ سمجھتے ہو تو منکروں کو بھی مکروہ سمجھنے دو۔ ناحق جواب نویسی میں وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔

۳… اور سنئے ۱۸۹۵ء میں پادری آتھم کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی ختم ہونے پر مخالفوں نے مشہور کیا تو مرزا قادیانی نے ان کے حق میں احسن خلق کا اظہار کیا۔

’’جو شخص اپنی شرارت سے بار بار کہے گا (کہ پادری آتھم کے زندہ رہنے سے مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط اور عیسائیوں کی فتح ہوئی) اور کچھ شرم وحیا کو کام میں نہیں لائے گا اور بغیر اس کے کہ ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے … ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔‘‘(جل جلالہ)

(انوار الاسلام ص۳۰ خزائن ج۹ ص۳۱، ۳۲)

205

حلال زادہ اور حرام بننے کا کیا ہی اچھا طریقہ ہے۔

مرزائی دوستو! کسی مخالف مرزا کا بھی یہ حق ہے کہ وہ یوں کہے مرزائیو حلال زادہ بننا ہے تو اس رسالہ کو غور سے پڑھو۔ ہمارا خیال ہے کہ ایسا کہنے کا حق نہیں۔

اس نمبر میں مجیب نے کمال دلیری سے چراغ داشتہ جواب دیا ہے۔ پہلے تو یہ جھوٹ بلکہ افتراء علی الرسول کیا ہے کہ:

’’آنحضرتﷺ نے ولید نامی ایک شخص کو ولدالزنا قرار دیا ہے۔‘‘

(ص۱۴۱)

ہم اس کذب بلکہ افتراء کا جواب نہیں دے سکتے۔ ہاں! مطالبہ کرتے ہیں کہ الفاظ نبوی دکھائو جن میں ولید کو ولدالزنا قرار دیا ہو۔

دوسرے جواب میں اس سے بھی زیادہ دون کی لی ہے۔ لکھا ہے:

’’سعد اللہ ہندوئوں کا لڑکا تھا۔ ان کو اتقیا اور صلحا تو نہیں کہا جاسکتا تھا۔ پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے جو کچھ فرمایا بالکل بجا فرمایا۔‘‘

(ص۱۴۰)

ہائے جانب داری تیرا ستیاناس! کیا ہندو کے لڑکے کو ابن بغا (نسل بدکاراں) کہہ سکتے ہیں۔ اگر تم ہندوئوں کو نسل بدکاراں کہہ سکتے ہو تو ان کو تمہارے حق میں ایسا لکھنے سے کیا امر مانع ہے۔ پس اللہ سے ڈرو اور بے جما حمایت نہ کرو۔ میدان محشر میں یہ کچھ کام نہ آئے گا۔

  1. عجب مزا ہو کہ محشر میں ہم کریں شکوے

    وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لئے

۴… ’’مرزا قادیانی اپنے مخالفوں پر ناراضی کا اظہار ان لفظوں میں فرماتے ہیں:

  1. ان العدا صاروا خنازیر الفلا

    ونسائہم من دونہن الاکلب

’’میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔‘‘

(رسالہ نجم الہدیٰ ص۱۰ خزائن ج۱۴ ص۵۳)

آغا تلوار میان کن!

۵… ’’اپنے منکرین علماء اسلام چھوٹے اور بڑے سب کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں ’’اے بدذات فرقہ مولویاں، اے یہودی خصلت مولویو!‘‘

(انجام آتھم ص۲۱ خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

مرزا قادیانی کے حسن خلق کا ظہور کسی مخالفت یا عداوت پر موقوف نہ تھا بلکہ جدھر نظر عنایت ہوتی اس کو کوسنے لگ جاتے تھے۔ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی خاص شخص یا

206

اشخاص سے ناراضگی کی وجہ سے بدگو ہیں۔ مگر ایسا فرقہ یا شخص کوئی نہ ہوگا جو منصوص رسول کے حق میں بدزبان ہو۔ ہاں! مرزا قادیانی اس میں بھی یکتا ہیں۔

چنانچہ آپ کے جواہر ریزے یوں ہیں:

۶… ’’مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھائو، پئو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستا، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

( مکتوبات احمد جدید ج۱ ص۱۸۹، مکتوب۹)

۷… ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یاپرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح حاشیہ ص۶۶، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

ناظرین کرام! اس موقعہ پر ہم خاص اہل اسلام سے نہیں بلکہ ہر انسان سے انسانیت کی اپیل کرتے ہیں کہ کیا یہ حسن اخلاق ہے کہ ایک شخص جس نے ہمیں کچھ کہا نہیں۔ نہ ہماری بدگوئی کا جواب دے سکتا ہے۔ اس کو ایسے لفظوں سے یاد کیا جائے:

بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

۸… ’’حضرت عیسیٰؑ کو جناب مرزا قادیانی نے ہیجڑا بتایا ہے: ’’کیا تمہیں خبر نہیں کی مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے، ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیحؑ مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔ اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے ادھر ادھر نکل گئیں اور آخر ناگفتنی فسق وفجور تک نوبت پہنچی… مسیح نے اپنے نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی۔ مگر چوں کہ طبعی تقاضا تھا۔ اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے۔ اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ بن جانا، ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آکر آہ وفغاں کرنا اور برسوں دیوثیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا۔ یہ کس بات کا نتیجہ ہے۔ کیا اس مقدس مطہر مزکی نبی امیa کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک

207

سے آپ معترض ہیں۔ یہ نتیجہ ہے اور ممالک اسلامیہ میں یہ تعفن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالفت فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۸، مکتوبات احمد جدید ج۱ ص۱۹۲، ۱۹۳، مکتوب نمبر۲۹)

نوٹ: ناظرین ملاحظہ کریں جس جرأت سے حضرت مسیحؑ کو ہیجڑا اور ناکارہ کہا ہے۔ (الی اللہ المشتکی)

نمبر۶،۷، ۸۔ ان سب نمبروں کو مجیب نے یکجا کرکے گلے سے اتار دیا ہے۔ سب کے جواب میں ایک ہی لفظ کافی جانا ہے کہ ’’ہر سہ حوالہ جات عیسائیوں کے مسلمات اور ان کی کتب سے اخذ کردہ نتائج ہیں۔‘‘

(ص۱۴۸)

ناظرین کرام! پس دیکھ لیجئے کہ مرزا قادیانی نے مسیح کو مسیح کے نام سے یاد کیا ہے یا یسوع کے نام سے۔ ایک دفعہ اس کفریہ عبارت کو پھر پڑھ دیجئے یا سن لیجئے۔

’’مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھائو، پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد… الخ۔‘‘

علاوہ اس کے ہم پوچھتے ہیں کہ یہ کس عیسائی کا مسلمہ ہے کہ: ’’مسیح کھائو، پیو، شرابی، کبابی، نہ زاہد نہ عابد تھا۔‘‘

مسیحی ممبرو! کیا قادیانی مجیب سچ کہتا ہے؟

  1. تمہیں تقصیر اس بات کی جو ہے میری خطا لگتی

    ارے لوگو! ذرہ انصاف سے کہیو خدا لگتی

حقیقت یہ ہے کہ ایک غلطی کو ثابت کرنے کے لئے آدمی بہت سی غلطیاں کر جاتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے۔ مرزا قادیانی کی بے بس طبیعت سے ایسے مکروہ اور ناشائستہ الفاظ نکل گئے۔ اب یہ لوگ ان کی اصلاح کرنے بیٹھیں تو یہی جواب ملے گا:

’’لن یصلح العطار ما افسدالدھر‘‘

الحمدللہ! ہم جواب الجواب سے فارغ ہوگئے۔ ف اللہ الحمد!

ناظرین کرام! یہ نمونہ ہے مرزا قادیانی کے حسن اخلاق کا جو صاحب مفصل دیکھنا چاہیں۔ وہ ہمارا رسالہ ’’ہندوستان‘‘ کے دو ریفارمر‘‘ ملاحظہ کریں۔ جس میں سوامی دیانند اور مرزا قادیانی کے اخلاق حسنہ مساوی دکھائے گئے ہیں۔

نوٹ: یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی کے مخالفوں نے بھی مرزا قادیانی کے حق میں سخت وسست الفاظ لکھے۔ مگر ان کا ایسا لکھنا مرزا قادیانی کے لکھنے کو جائز نہیں کرسکتا۔ اس لئے

208

کہ مرزا قادیانی منجانب اللہ مصلح بن کر آئے تھے اور لوگوں کی یہ حیثیت نہیں۔ بیمار کی ریس طبیب کرے تو طبیب نہیں۔ علاوہ اس کے دنیا میں موجودہ لوگوں نے تو جو کہا وہ سنا۔ مگر حضرت عیسیٰؑ نے مرزا قادیانی کو کچھ نہیں کہا تھا۔ ان پر کیوں ایسے تیر پھینکے۔ کیا اس لئے کہ ان کو اپنا رقیب جانتے تھے؟

انصاف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی یا کسی اور صاحب کی ساری عمر کی نیکی ایک پلڑے میں اور حضرت عیسیٰ مسیحؑ کے حق میں مرقومہ بدگوئی دوسرے پلڑے میں رکھیجائے گی تو یہ دوسرا پلڑا بحکم شریعت بہت جھکنے والا ثابت ہوگا۔

عذر بارد: حسن عقیدت ایک چیز ہے۔ بعض اوقات حق وباطل میں امتیاز کرنے کا ملکہ چھین لیتی ہے۔ مرزا قادیانی کے معتقد کہا کرتے ہیں کہ ہمارے حضرت صاحب نے اس عیسیٰ مسیح کو برا نہیں کہا جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے بلکہ اس کو کہا ہے جس کی نسبت عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ اپنی الوہیت اور تثلیت کی تعلیم دے گئے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے جو حوالے نقل کئے ہیں۔ ان میں تین لفظ خاص قابل غور ہیں۔ عیسیٰ، مسیح اور m یہ تینوں اسلامی اصطلاح کے لفظ ہیں۔ انہی ناموںسے برا کہاگیا۔ علاوہ اس کے قرآن مجیدمیں یہ بھی ایک اخلاقی سبق ہے: ’’لاتسبوالذین یدعون من دون اللہ فیسبو اللہ عدواً بغیر علم (الانعام:۱۰۸)‘‘یعنی جن لوگوں کو غیر مسلم پکارتے ہیں تم مسلم لوگ ان کو برا نہ کہا کرو۔ ورنہ ضد اور جہالت سے وہ خدا کو برا کہیں گے۔‘‘

فرض کر لیں کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ مسیح مسلمہ اسلام رسول کو برا نہیں کہا بلکہ عیسائیوں کے مصنوعی معبود کو برا کہا ہے تو بھی بحکم آیت مرقومہ ناجائز فعل ہے۔

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کو مصلح سمجھ کر اخلاق میں ان کی ریس کرنے کا خیال نہ کریں۔ بلکہ قرآن مجید کے احکام کی تعمیل کریں اور اس بات کا خیال رکھیں جو استاد صاحب مرحوم نے کہا ہے:

  1. بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے

    ہے کہ گنبد کی صدا جیسا کہے ویسی سنے

التماس! امید ہے ناظرین اس رسالہ کو خود دیکھ کر مرزا قادیانی کے اتباع کو ضرور دکھائیں گے اور ہر ایک حوالہ کا جواب ان سے طلب کریں گے۔و اللہ المؤفق!

ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری (ملقب بہ فاتح قادیان)

209

چورن کا اشتہار… قابل ملاحظہ اخبار

چورن فروشوں کا دستور ہے کہ بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنے چورن کی بابت ایسا پر زور اعلان کرتے ہیں کہ ساری بیماریوں کی شفا اسی میں بتا دیتے ہیں۔ امت مرزائیہ کی بھی یہی عادت ہے۔ کوئی کیسی ہی زٹل تحریر جو ہمارے جواب میں نکلے۔ بس اس کی تعریف کرتے ہوئے چورن فروشوں کو مات کر دیں گے۔ اسی کتاب (تجلیات رحمانیہ) کی بابت جس کے جواب سے ہم فارغ ہوئے ہیں۔ خلیفہ قادیانی نے بھی بڑی تعریف کی۔ (الفضل ۴؍جنوری ۱۹۳۲ء ص۵) اس کے بعد دیگر چورن فروشوں نے تو کمال ہی کردیا۔

چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’مولوی اللہ دتہ قادیانی نے ایسے پختہ اور قوی دلائل دئیے ہیں جو مولوی ثناء اللہ کی پھکڑ بازیوں کو جو ان کی تمام تحریرات میں حضرت مسیح موعود کے برخلاف ملتی ہیں۔ اس طرح تار عنکبوت کی طرح بکھیر کر رکھ دیا ہے جس کا جواب مولوی ثناء اللہ امرتسریؒ سے اب تک نہ بنا ہے نہ بنائے بنے گا۔ اگرچہ ان کے دوسرے مدد گار روح الخبث اور کج رفتار بھی کیوں نہ مولوی صاحب کی پیٹھ ٹھونکیں ’’لوکان بعضاً لبعضہ ظہیراً‘‘اور بارہ دلائل مولوی اللہ دتہ قادیانی کی طرف سے ایسے دئیے گئے ہیں جن کی طرف مولوی صاحب نے رخ تک نہیں کیا۔ کیا یہ ان کی عاجزی کا ثبوت نہیں ہے۔ اگر نہیں تو ذرا ان کا نمبروار جواب تو دے کر بتائیں۔ دیدہ بائد!

  1. نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

    یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

(فاروق ۲۸؍مارچ ۳۲ء ص۸)

جواب: ناظرین! اس چورنی اشتہار کی صداقت کتاب اور جواب کتاب سے ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ ہمارا تو عقیدہ ہے۔ قادیانی اور جواب؟

ًٍٍضدان مفترقان ای تفرق

(ابوالوفاء)

کیسا تصرف الٰہی دیکھئے

چوں کہ غرض فاسد کے لئے آیت بے موقع لکھی ہے۔ اس لئے تصرف الٰہی سے صحیح لکھنے کی توفیق نہیں ملی۔ صحیح یوں ہے: ’’ولو کان بعضہم لبعض ظہیراً‘‘جو لکھا ہے آیت تو کجا عربی عبارت بھی صحیح نہیں۔ (مصنف) !!

210

فیصلہ مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

211

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

دیباچہ

نحمدہٗ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

’’مرزا غلام احمد قادیانی ۱۲۶۱ھ میں پیدا ہوئے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶۸ خزائن ج۱۵ ص۲۸۳)

اور ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے۔ جوانی میں آپ کچہری سیالکوٹ میں پندرہ روپے کے محرر مقرر ہوئے تھے۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص۴۳، ۴۴روایت نمبر۴۹)

بعد ازاں آپ نے تصنیف پر توجہ کی تو اس حالت میں آپ الہام کے مدعی ہوئے۔ یہاں تک کہ ۱۳۰۸ھ میں آپ نے اعلان کیا کہ احادیث شریفہ میں جس مسیح موعود اور مہدی کے آنے کی خبر آئی ہے وہ میں ہوں۔

چوں کہ مسیح موعود کے حق میں نبی اور رسول کا لقب بھی آیا ہے تو آپ نے اپنے حق میں نبی کا لقب بھی اختیار کیا۔

آپ نے اپنی مسیحیت موعودہ ثابت کرنے کے لئے دو طریق اختیار کئے۔ ایک نقلی، دوسرا الہامی۔ نقلی سے مراد یہ ہے کہ آیات اور احادیث سے اس طرح استدلال کیا کہ ’’حضرت عیسیٰؑ چوں کہ فوت ہوچکے ہیں وہ دوبارہ دنیا میں نہ آئیں گے۔ اس لئے جس مسیح موعود کے آنے کی خبر ہے وہ مثیل مسیح ہے جو میں ہوں اور جو مسیح موعود کے ظہور کا مقام دمشق آیا ہے اس سے مراد قادیان ہے۔‘‘

(ملخص ازالہ اوہام حاشیہ ص۶۶، ۶۷ خزائن ج۳ حاشیہ ص۱۳۵، ۱۳۶)

الہامی طریق سے یہ مراد ہے کہ آپ نے اپنے دعوے کے اثبات میں کئی ایک الہام شائع کئے جن میں آئندہ زمانہ کے متعلق خبریں تھیں، جن کی بابت کہا کہ یہ خبریں مجھے خدا نے بتائی ہیں جن کا ظہور میری سچائی کا ثبوت ہے۔ (جو افسوس پوری نہ ہوئیں) اسی ضمن میں کئی ایک مسائل میں علماء اسلام سے انہوں نے اختلاف کیا۔ علماء اسلام نے ان کے جواب میں بکثرت کتابیں لکھیں۔ خاکسار نے بھی کئی ایک کتابیں ان کے جواب میں شائع کیں۔ جن میں ان کے دونوں طریقوں پر کافی بحث کی گئی۔ کتابوں کے علاوہ اپنے اخبار

212

’’اہل حدیث‘‘ میں سالہا سال تک ان کا تعاقب کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ایک اعلان شائع کیا جس کا نام ہے:’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘

اس اشتہار میں انہوں نے خدا سے بڑی عاجزی اور الحاح سے دعا کی کہ ہم دونوں (مرزا اور ثناء اللہ ) میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے۔ اس کے بعد وہ جلدی ایک سال ایک ماہ کے بعد اپنی دعا سے فوت ہوکر سارا فیصلہ کر گئے۔ اس آسمانی فیصلہ پر بھی ان کے اتباع سے مذاکرہ ہوتا رہا۔ آخر انہوں نے اعلان کیا کہ مولوی ثناء اللہ کا دعویٰ اعلان مذکور سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ اگر وہ بفیصلۂ ثالث جیت جائیں تو ہم ان کو مبلغ تین سو روپیہ انعام دیں گے۔

چنانچہ مباحثہ بمقام لدھیانہ ہوا جس کا انجام یہ ہوا کہ مبلغ تین سو روپیہ خاکسار نے ان سے وصول کرلیا۔ لہ الحمد!

ہندوستانی تو مرزا قادیانی کے حالات اور مقالات سے خوب واقف ہیں مگر عرب اور دیگر بلاد اسلامیہ کے لوگ بوجہ نہ جاننے اردو زبان کے ان کے حالات اور جوابات سے واقف نہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ گر سمجھا تھا کہ بیرون ہند اردو جاننے والے نہیں ہیں، انہوں نے اپنے متعلق عربی میں کتابیں شائع کیں جو عربی ممالک میں پہنچیں تو ان ممالک کے علماء نے حالات دریافت کئے۔ موصوف کے مفصل حالات اور مباحثات تو بہت طول چاہتے ہیں۔ اس لئے بحکم عربی مثل شائقین کے لئے ان سب میں سے آخری فیصلہ کے متعلق یہ رسالہ اردو اور عربی میں شائع کیا گیا۔

اللہ سے ڈرنے والے منصف مزاج محققین سے امید ہے کہ اس مختصر رسالہ کو بنظر غور وانصاف ملاحظہ فرمائیں گے۔ ربّنا تقبّل منّا انک انت السمیع العلیم!

خادم دین اللہ ابوالوفا ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسر پنجاب

جنوری ۱۹۳۱ء

دعاوی مرزا

۱ … ’’مسیح موعود ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۶ خزائن ج۳ ص۱۸۰)

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجا ست تا بنہد پابمنبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸ خزائن ج۳ ص۱۸۰)

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

213

۴… خدا نے مرزا جی کو فرمایا: ’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۹ خزائن ج۲۲ ص۹۲)

۵… مرزا قادیانی فرماتے ہیں:’’خدا کے عظیم الشان نشان بارش کی طرح میرے پر اتر رہے ہیں اور غیب کی باتیں میرے پر کھل رہی ہیں۔ ہزارہا دعائیں اب تک قبول ہوچکی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶ خزائن ج۱۵ ص۱۴۰)

۶… خدا نے مجھے کہا: ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۹ ج۲۲ ص۱۰۲)

۷… خدا نے مجھے کہا: ’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۵ خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)

۸… مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’خدا نے مجھے کہا ’انت اسمی الاعلٰی‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۴ خزائن ج۱۷ ص۴۲۳)

۹… مرزا قادیانی کا قول ہے: ’’مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ… میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں اور سورج ہوں جس کو دشمنی اور کینے کا دھواں چھپا نہیں سکتا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۹، ۲۰، خزائن ج۱۶ ص ۵۲)

۱۰… مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ:’’مجھے خدا کی طرف سے دنیا کوفنا کرنے اور پیدا کرنے کی طاقت دی گئی ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۱، خزائن ج ۱۶ ص ۵۶)

۱۱… ’’میں خاتم الاولیاء ہوں میرے بعد کوئی ولی نہ ہوگا مگر وہ مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۵ خزائن ج۱۶ ص ۷۰)

۱۲… مرزا قادیانی فرماتے ہیں ’’یہ میرا قدم ایک ایسے منار پر ہے جو اس پر ہر بلندی ختم کی گئی۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص ۷۰)

۱۳… مرزا جی کہتے ہیں: ’’جو کوئی میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت وہ میرے سردار خیرالمرسلین(a) کے صحابہ میں داخل ہوگیا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶، ص۲۵۸، ۲۵۹)

حدیث شریف میں آنحضرتﷺ نے اپنے حق میں فرمایا ہے کہ قصر نبوت کی میں آخری اینٹ ہوں۔ مرزا قادیانی اپنے حق میں لکھتے ہیں:

214

۱۴… ’’پس اے ناظرین میں وہی آخری اینٹ ہوں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۱۲، خزائن ج۱۶ ص ۱۷۸)

  1. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرا بتمام

یہ دعاوی سب کے سب اعلیٰ مراتب کے ہیں لیکن ہیں تو انسانی درجہ کے، اب ہم مرزا قادیانی کا ایک مقولہ پیش کرتے ہیں جس سے ان کی شان انسانیت سے ارفع معلوم ہوتی ہے، فرمایا:

۱۱۶… ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہو بہو اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴ خزائن ج۵ ص ایضاً)

مرزا قادیانی کے دعوے تو اور بھی ہیں۔ ہمیں ان حوالہ جات سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ مرزا قادیانی نے جو ہمارے ساتھ فیصلہ کے لئے دعا شائع کی تھی اس کی قبولیت یقینی ہے۔ کیوں کہ مرزا قادیانی ایسے رفیع الشان ہونے کے مدعی تھے کہ آپ کی دعا بھی معمولی کسی مریض یا حاجت مند کے لئے نہیں بلکہ حق اور باطل، اہل حق اور اہل باطل میںفیصلہ کرانے کے لئے کافی تھی۔ اس کا قبول ہونا ضروری ہے۔

پس مذکورہ بالا حوالہ جات کو ملحوظ رکھ کر مرزا قادیانی کا دعائیہ اشتہار ملاحظہ کریں جو نیچے درج ہے:

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم! یستنبئونک احق ہو۔ قل ای وربّی انہ لحق۔

’’بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب! السلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے،میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کرکے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں ان تہمتوں اور ان الفاظ

215

سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایساہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہوجائوں گا۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی ہی میں ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔

پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیروقدیر جو علیم وخبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ امین یارب العالمین! میں ان کے ہاتھوں سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوئوں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت ’’لاتقف مالیس لک بہ علم‘‘پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور

216

کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت کذاب، مفسد ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین! ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرالفاتحین۔ آمین!

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

الراقم: عبد اللہ الصمد میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ وایّد

مرقومہ یکم ربیع الاوّل ۱۳۲۵ھ مطابق ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸، ۵۷۹)

ناظرین! اس اشتہار کو مکرر ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے اس میں میرے ذمہ بھی کوئی کام رکھا ہے؟ نہیں، محض دعا کے ذریعہ خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔‘‘ اس فقرہ کے بعد اخیر اشتہار میں آپ نے صاف لکھا ہے کہ: ’’اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

پس اشتہار کی اندرونی شہادت سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس دعا کے متعلق میرا کام کچھ نہیں، نہ میرا اقرار قبولیت کے لئے شرط ہے نہ انکار باعث ردّ۔ بلکہ جو کچھ ہے وہ دعا مرزا قادیانی ہے اور بس۔ یہ تو ہے اشتہار کا نفس مضمون اب ہم بتاتے ہیں کہ اس دعا کے قبول ہونے کا کیا قرینہ ہے۔

پہلا قرینہ: یہ ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں: ’’مجھے بارہا خداتعالیٰ مخاطب کرکے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں۔‘‘

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر۵ ص۴ خزائن ج۱۵ ص۵۱۵)

نیز فرمایا: خدا کی طرف سے مجھے الہام ہوا:’’میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء (برادری) کے متعلق نہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳۸ خزائن ج۱۵ ص۲۱۰)

217

دوسرا قرینہ: جو خاص اس دعا سے تعلق رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ ہیں: ’’ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے۔ یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں۔‘‘

(البدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء ملفوظات ج۹ ص۲۶۸)

پس مرزا قادیانی کی اس دعا میں مرزا قادیانی کی شخصیت اور مرتبت کے علاوہ مرزا قادیانی کا الہام ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ ملا لیا جائے تو ذرہ بھر اس میں شک نہیں رہتا کہ مرزا قادیانی کی یہ دعا اللہ کے نزدیک مقبول تھی۔ چنانچہ وہ اس دعا کے مطابق ربیع الاوّل ۱۳۲۶ھ موافق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرض ہیضہ سے انتقال کر گئے۔

حضرت نوحm اور مرزا قادیان

گو بعد مذکورہ ثبوت (اقرار مرزا اور الہام مرزا وغیرہ) کے کسی چیز کی ضرورت نہیں تاہم بطور مثال ہم حضرت نوحm کا واقعہ پیش کرتے ہیں:

حضرات انبیاء میں حضرت نوحm کو ہم نے اس لئے منتخب کیا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:’’براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خداتعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے ’’ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انہم مغرقون‘‘ یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۶ خزائن ج۲۱ ص۱۱۳)

ایک مقام پر لکھا ہے: ’’مجھے بارہا خداتعالیٰ مخاطب کرکے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے میں تیری دعا سنوں گا۔ سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں ’’ربّ انّی مغلوب‘‘

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر۵ ص۴ خزائن ج۱۵ ص۵۱۵)

چونکہ مرزا قادیانی نے دعا کے موقع پر حضرت نوحm سے اپنی مشابہت بتائی ہے اس لئے ہم نے بھی عنوان بالا میں مرزا قادیانی کے ساتھ حضرت نوحm کو لکھ کر ناظرین کرام خصوصاً پیروان مرزا قادیانی کو توجہ دلائی ہے۔ پس وہ سنیں:

حضرت نوح کی دعا کی طرف کچھ تو مرزا قادیانی نے منقولہ اقتباس میں اشارہ کیا

218

ہے اور کچھ الفاظ ہم نقل کرتے ہیں۔ حضرت ممدوح کی دعا اور اس کا انجام قرآن مجید میں مذکور ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:’’قال نوح رب انہم عصونی واتبعوا من لم یزدہ مالہ وولدہ الا خسارا ومکروا مکراً کبّارا وقالوا لا تذرنّ الٰہتکم ولا تذرنّ ودّا ولا سواعاً ولا یغوث و یعوق ونسراً وقد اضلوّا کثیراً ولا تزد الظالمین الا خساراً ومکروا مکراً کباراً ولا تزد الظالمین الّا ضلالاً ممّا خطیئٰتہم اغرقوا فادخلوا ناراً فلم یجدوالہم من دون اللہ انصاراً وقال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیّاراً (نوح: ۲۱تا ۲۶)‘‘

نوح نے (ہماری جناب) میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہا نہ مانا اور ان (نابکاروں) کے کہنے پر چلے جن کو ان کے مال اوران کی اولاد نے (فائدہ کی جگہ الٹا) اور نقصان ہی پہنچایا اور انہوں نے (میرے ساتھ) بڑے بڑے فریب کئے اور (ایک دوسرے کو) بہکایا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ودّ (بت) کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اوریعوق اور نسر کو اور (یہ لوگ ایسی ایسی باتیں سمجھا سمجھا کر) بہتیروں کو گمراہ کر چکے ہیں اور ایسا کر کہ ان ظالموں کی گمراہی روز بروز بڑھتی ہی چلی جائے (کہ آخر کار مستوجب عذاب ہوں چنانچہ) اپنی ہی شرارتوں کی وجہ سے غرق کر دئیے گئے (اور) پھر دوزخ میں ڈاخل دئیے گئے اور خدا کے سوا کوئی مددگار بھی ان کو بہم نہ پہنچے اور نوح نے (ان کے حق میں یہ بھی بد) دعا کی کہ اے میرے پروردگار (ان) کافروں میں سے (کسی متفس کو بھی زندہ) نہ چھوڑ (کہ) روئے زمین پر رستا بستا (نظر آئے)۔‘‘

ان آیات قرآنیہ میں ’’مما خطیئٰتہم‘‘سے انصاراً تک دعا کا نتیجہ ہے یعنی حضرت نوحm نے قوم کی بے فرمانی سے رنجیدہ خاطر ہوکر ان کے حق میں بددعا کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غرق کئے گئے اور ان کی وہی حالت ہوئی جو مرزا قادیانی نے قرآن کی آیت میں بتائی ہے کہ خدا نے حضرت نوح کو فرمایا ’’میں ان کو غرق کروں گا۔‘‘

ناظرین! اس دعا کو مرزا قادیانی کی دعا کے سامنے رکھ کر پڑھیں تو دونوں دعائوں کا مضمون ایک ہی پائیں گے کہ اہل کفر واہل باطل کو ہلاک کر۔ نتیجہ بھی دونوں کا واحد ہوا کہ اہل باطل اہل حق کے سامنے ہلاک ہوگیا۔ ’’ف اللہ عاقبۃ الامور۔ لہ الحمد‘‘خدا کی بڑی شان ہے جو زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے۔

219

اعذار اتباع مرزا

معاملہ کتنا ہی صاف ہو مگر حجتی آدمی ہر بات میں حجت پیدا کرسکتا ہے۔ انبیائے کرامo کی زمانہ میں کیسی صفائی سے نشانات نمودار ہوتے تھے جن کو قرآن شریف میں بیّنات اور بصائر کے نام سے موسوم کیا گیا تاہم منکرین کا قول تھا کہ: ’’یہ قدیم جادو ہے۔‘‘

اسی طرح مرزا قادیانی کا معاملہ ان کی دعا سے طے ہوگیا۔ تاہم ان کے اتباع نے عذر تراشے اور مجھے مباحثے کا چیلنج دیا۔ میں نے آسمانی فیصلہ کو کافی جان کر چند روز خاموشی اختیار کی تو فتح یاب ہونے پر بعد فیصلہ ثالث تین صد روپیہ انعام کا وعدہ کیا جو میرے کہنے پر جناب مولوی محمد حسن صاحب مرحوم رئیس لدھیانہ (پنجاب) کے پاس امانت رکھوا دئیے گئے اور مباحثہ ۱۵؍اپریل ۱۹۱۲ء بمقام لدھیانہ مقرر ہوا۔ روئیداد مباحثہ الگ رسالہ ’’فاتح قادیاں‘‘ کے نام سے مطبوع ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بفیصلۂ مسلمہ ثالث غیر مسلم سردار بچن سنگھ جی پلیڈر کے فیصلہ سے میں مظفر ومنصور ہوا اور سہ صد کے بیس پونڈ میں نے وصول کئے۔ لہ الحمد!

اب تو آسمانی فیصلے کے ساتھ زمینی فیصلہ بھی متفق ہوگیا اس کا نتیجہ چاہئے تھا کہ یہ ہوتا کہ اتباع مرزا تائب ہوکر سنت نبویہ علٰی صاحبہاالصلوٰۃ والتحیۃ کے متبع ہوکر سیدھے سادھے مسلمان ہوجاتے۔ مگر مرزائی اور خموشی ’’ضدان متفرقان ای تفرق‘‘

انہوں نے اس فیصلے کو بھی جھٹلایا اور اپنی طرف سے عذرات تلک شائع کئے۔

عذر اوّل: یہ کیا گیا کہ یہ دعا محض دعا نہ تھی بلکہ مباہلہ تھی یعنی مرزا قادیانی نے اس دعا کے ذریعہ مولوی ثناء اللہ کو دعوت دی تھی کہ تم بھی اسی طرح کہو تاکہ مباہلہ ہو کر فیصلہ ہو جائے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اور مولوی ثناء اللہ میں عرصہ سے مباہلہ کی بابت مکاتبت ہورہی تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ان کو کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں بشمول علماء کرام دعوت مباہلہ دی تھی۔

اس کے بعد اس کے متعلق چھیڑ چھاڑ ہوتی رہی جس کی آخری کڑی یہ اشتہار ’’آخری فیصلہ‘‘ ہے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری متبع مرزا کے الفاظ یہ ہیں:

’’مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل قسم کھانے سے انکار کیا یہاں تک لکھ دیا کہ میں تمہاری قسم کا اعتبار نہیں کرتا تو پھر آپ نے اس اشتہار میں جس کا عنوان ہے’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بجائے قسم کھانے کے بالمقابل دعا کے ذریعہ فیصلہ کرنے کی طرف بلایا۔‘‘

(آیت اللہ مصنفہ مولوی محمد علی ص۱۶)

220

یہ بھی کہا گیا کہ مولوی ثناء اللہ نے خود بھی اس دعا کا نام مباہلہ رکھا تھا، چنانچہ ان کے رسالہ مرقع قادیانی میں ان کے الفاظ یہ ہیں:’’ناظرین آگاہ ہوں گے کہ قادیانی کرشن نے ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا۔‘‘

(مرقع قادیانی جون ۱۹۰۸ء ص ۱۸)

پس یہ دعا جب محض دعا نہیں بلکہ دعاء مباہلہ ہے اور مولوی ثناء اللہ نے اس کے جواب میں نہ دعا کی نہ آمین کہی بلکہ اس سے انکار کردیا اس لئے یہ مباہلہ منعقد نہ ہوا۔ پس یہ دعا سند اور حجت نہ ہوئی۔

اس کا جواب: یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ مباہلہ باب ’’مفاعلہ‘‘ جانبین سے ہوتا ہے یعنی دونوں فریق مقابلہ میں دعا کرتے ہیں مگر باب مفاعلہ کبھی ایک جانب سے بھی آتا ہے جیسے عربی میں مثال ہے ’’عاقبت اللص‘‘ میں نے چور کو سزا دی۔ حالاں کہ عاقبت مفاعلہ سے ہے۔

میں نے جہاں اس دعا کو مباہلہ لکھا ہے اس کی دو وجہیں ہیں ایک تو اسی مقام میں مذکور ہے جسے اتباع مرزا نقل نہیں کرتے نہ لکھتے ہیں۔ ساری عبارت یوں ہے:’’مرزا قادیانی کو میرے حق میں دعا کئے ہوئے (جس کو وہ اور ان کے دام افتادہ مباہلہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں) آج کامل ایک سال سے کچھ زیادہ گزر چکے ہیں۔‘‘

(حوالہ ایضاً ص۱۹)

پس میرا اس دعا کو ’’مباہلہ‘‘ لکھنا ایک تو مقابلۃً الزامی تھا۔ دوم ’’مفاعلہ‘‘ کے معنی ثانی یعنی جانب واحد کی دعا ہے جس کی مثال خود مرزا قادیانی کی کتب میں بکثرت ملتی ہے۔

مولوی غلام دستگیر مرحوم قصوری نے مرزا قادیانی کے حق میں یہ دعا کی تھی: ’’یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع البحار الانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدیٔ کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا ویسا ہی دعا والتجا اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے (جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے) مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبۃ النصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا ’’فقطع دابرالقوم الذین ظلموا والحمدللہ رب العالمین انک علٰی کل شیٔ قدیروبالاجابۃ جدیر آمین‘‘

(فتح رحمانی ص۲۶، ۲۷)

یہ دعا محض ایک جانب سے ہے۔ دونوں جانب سے نہیں تاہم اس کو مرزا قادیانی ’’مباہلہ‘‘ کہتے ہیں۔ آپ کے یہ الفاظ ہیں: ’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنے طور پر مجھ

221

سے مباہلہ کیا اور اپنی کتاب میں دعا کی کہ جو کاذب ہے خدا اس کو ہلاک کرے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۲۸ خزائن ج۲۲ ص۲۳۹)

برادران! جس طرح حضرت یوسفm کے مقدمہ میں فریق مدعی کے گھر سے ایک شاہد گزرا تھا۔ جس پر مقدمہ بحق یوسف فیصلہ ہوا تھا، میرے مقدمہ میں بھی مرزا قادیانی کے گھر کا ایک معتبر گواہ اس کا صاحبزادہ موجودہ خلیفۂ قادیان میرا گواہ ہے۔ جنہوں نے میری عبارت میں مباہلہ بمعنی جانبین سمجھ کر میری سخت تردید کی ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں:

’’حضرت اقدس (مرزا) کی وفات کے بعد ثناء اللہ نے ایک اشتہار دیا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ مرزا بوجہ میرے ساتھ مباہلہ کرنے کے ہلاک ہوا اور میری زندگی ہی میں فوت ہوگیا۔ یہ شخص اپنی معمولی شوخی کے مطابق اس دعا کا نام مباہلہ رکھتا ہے جس کا انکار بھی کرچکا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت اقدس کے برخلاف مضمون لکھتا ہوا لکھتا ہے کہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مباہلہ پر قسمیں کھائیں۔ پھر اسی مضمون میں آگے چل کر لکھتا ہے قسم اور ہے اور مباہلہ اور ہے۔ قسم کو مباہلہ کہنا آپ (مرزا) جیسے ہی راست گوئوں کا کام ہے۔ اور کسی کا نہیں۔ اب ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ نے جب خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ مقابلہ پر قسمیں کھانے کا نام مباہلہ ہے اور اس کے سوا کسی اور بات کو مباہلہ قرار دینا راست گوئی کے خلاف ہے اور بالکل جھوٹ ہے تو ا ب اس کا اس دعا کو جو کہ حضرت صاحب (مرزا) نے شائع کی تھی مباہلہ قرار دینا افتراء نہیں تو اور کیا ہے۔ اس دعا میں نہ تو حضرت صاحب نے قسم کھائی ہے نہ ثناء اللہ نے۔ پھر باوجود اس کے اس کو مباہلہ قرار دینا خود اسی فیصلہ کے مطابق اس کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ پس ناظرین کو چاہئے کہ وہ اس کے مکر اور فریب میں نہ آئیں۔‘‘

(محمود ، در تشحیذ الاذہان ج۳ نمبر۶،۷ ص۲۸۴)

ناظرین کرام! اس گھر کے شاہد کی شہادت سے صاف عیاں ہے کہ آخری فیصلہ محض دعا سے چاہا گیا تھا، مباہلہ سے نہیں۔

شہادت مرزا: اب میں بیرونی شہادت سے فراغت حاصل کرکے خود مرزا قادیانی کا بیان پیش کرتا ہوں:

بیان اوّل: خود یہی اشتہار مرزا موجود ہے کیوں کہ سارے اشتہار میں ایک لفظ بھی مباہلہ یا مباہلہ کے معنی کا نہیں بلکہ صاف لکھا ہے کہ: ’’محض دعا سے فیصلہ چاہا گیا‘‘

222

یہ کافی سے زیادہ ثبوت ہے کہ یہ درخواست محض دعا تھی مباہلہ نہ تھا۔

دوسرا بیان: مرزا قادیانی کو میں نے ایک خط لکھا تھا جس کے جواب میں ان کے مامور محرر ڈاک نے خط لکھا اور قادیانی اخبار بدر میں انہوں نے چھپوا بھی دیا جو یہ ہے:

(نقل خط بنام مولوی ثناء اللہ صاحب)

’’آپ کا رجسٹری شدہ کارڈ مرسلہ۳؍جون ۱۹۰۷ء حضرت مسیح موعود (مرزا) کی خدمت میں پہنچا جس میں آپ نے ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اخبار بدر کا حوالہ دے کر کتاب حقیقت الوحی کا ایک نسخہ مانگا ہے اس کے جواب میں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کی طرف حقیقت الوحی بھیجنے کا ارادہ اس وقت ظاہر کیا گیا تھا جب کہ آپ کو مباہلہ کے واسطے لکھا گیا تھا تاکہ مباہلہ سے پہلے آپ کتاب پڑھ لیتے مگر چوں کہ آپ نے اپنے واسطے تعیّن عذاب کی خواہش ظاہر کی اور بغیر اس کے مباہلہ سے انکار کرکے اپنے لئے فرار کی ایک راہ نکالی۔ اس واسطے مشیّت ایزدی سے آپ کو دوسری راہ سے پکڑا اور حضرت حجۃ اللہ (مرزا) کے قلب میں آپ کے واسطے ایک دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔ اس واسطے مباہلہ کے ساتھ جو اور شروط تھے وہ سب کے سب بوجہ نا قرار پانے مباہلہ کے منسوخ ہوئے۔ لہٰذا آپ کی طرف کتاب بھیجنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔‘‘

(خادم مسیح موعود، محمد صادق عفی عنہ قادیان ۵؍مئی ۱۹۰۷ء)

اس میں بھی صاف مذکور ہے کہ سلسلہ مباہلہ ختم ہوکر مرزا قادیانی نے خدا کے القا سے یہ دعا کی تھی۔ اس کو مباہلہ سے جوڑنا مرزا قادیانی کی اس تصریح کے خلاف ہے۔

تیسرا بیان مرزا: مرزا قادیانی کی زندگی میں اخبار بدر قادیاں میں ایک مضمون نکلا تھا جس میں یہ الفاظ درج تھے:

’’حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا صاحب ) نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان کا ایک اشتہار دے دیا جس میں محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا گیا ہے نہ کہ مباہلہ کیا گیا۔‘‘

(اخبار بدر ۲۲؍اگست ۱۹۰۷ء ص۸ کالم ۱)

اصول حدیث کی شہادت:اصول حدیث میں یہ مسئلہ مصرح ہے کہ جو فعل یا قول حضورﷺ کے سامنے ہوا ہو اورحضورﷺ نے اس پر خاموشی فرمائی ہو اس کو بھی حدیث مرفوع تقریری (حدیث رسول) نام رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں قادیانی اخبار میں ایک مضمون چھپے اور مرزا قادیانی اس پر خاموش رہیں تو بحکم اصول مذکور یہ بیان بھی بیان مرزا کہا جائے گا۔

223

چوتھا بیان: مولوی احسن امروہی جو مرزا قادیانی کے فرشتہ تھے فرماتے ہیں: ’’سلمنا کہ حضرت اقدس نے محض دعا کے طور پر فیصلہ چاہا تھا لیکن اس خط میں صاف لکھا ہوا ہے کہ یہ دعا کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں ہے۔ اس دعا کے وحی اور الہام نہ ہونے کا ابوالوفاء صاحب کو بھی اقرار ہے۔ آگے رہی صرف دعا بغیر وحی اور الہام کے۔ سو حضرت اقدس کا یہ دعا کرنا آپ کی صداقت کی بڑی پکی دلیل ہے۔ اگر آپ کو اپنے منجانب اللہ ہونے کا قطعی طور پر یقین کامل نہ ہوتا تو ایسے الفاظ سے دعا کیوں کرتے جو اس خط میں مذکور ہیں اور ایسی دعائیں تو حضرت سید المرسلین اور خاتم النّبیین کی بھی قبول نہیں ہوئی ہیں ’’کما قال اللہ تعالٰی لیس لک من الامر شیٔ‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۷ نمبر۶،۷ بابت جون وجولائی ۱۹۰۸ء ص۲۳۸)

میں کہتا ہوں جس دعا کو رسول اللہ ﷺ نے موجب فیصلہ قرار دیا ہو اور خدا نے اس کی قبولیت کا الہام کیا ہو وہ قبول نہ ہوئی ہو، اس کی مثال یا نظیر کوئی نہیں۔ سچے ہو تو دکھائو۔ مرزا قادیانی کا الہام قبولیت کا درجہ پاچکا جیسا کہ پہلے ہم عرض کر آئے۔

بہرحال وجوہ مذکورہ سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ محض دعا کے ذریعہ تھا مباہلہ سے نہیں تھا۔ میں نے جو اس کو مباہلہ لکھا تھا وہ الزاماً لکھا تھا۔ نیز اس کے معنی یکطرفہ دعا کے تھے۔ جانبین سے مباہلہ کے نہ تھے۔ جیسا کہ مفصل ہم بتا چکے ہیں اور شہادتیں بھی پیش کرچکے ہیں۔ فالحمدللہ!

دوسرا عذر: یہ کرتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ نے یہ دعا سن کر منظور نہیں کی۔ بلکہ اپنے اخبار ا’’اہل حدیث‘‘ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء میں صاف لکھا کہ مجھے یہ صورت منظور نہیں نہ کوئی دانا اسے قبول کر سکتا ہے۔

اس کا جواب: مرزا قادیانی کے ایک مرید بلکہ (علیٰ قولہ) خلیفہ موعود مولوی عبد اللہ تیماپوری (دکن) نے بہت اچھا منصفانہ جواب دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’جواب دیا جاتا ہے ثناء اللہ نے اس دعا کو منظور نہیں کیا۔ کیا مظلوم۱؎ کی دعا قبول ہونے کے لئے ظالم کی رضا مندی شرط ہوا کرتی ہے۔‘‘ (ہرگز نہیں)

(کتاب میزان حشر۔ مصنفہ مولوی عبد اللہ تیماپوری ص۱۱)

۱؎ مظلوم سے مراد آپ کی مرزا قادیانی ہیں اور ظالم سے یہ خاکسار ہے۔ (مصنف)

224

میں کہتا ہوں میں نے کسی نیت سے انکار کیا لیکن میرے انکار کا نتیجہ یہ کیوں ہوا کہ عزرائیل بجائے میرے، مرزا قادیانی کے پاس چلا جائے بحالیکہ مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں صاف لکھا ہے:’’مولوی ثناء اللہ جو چاہیں لکھیں، اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

تنبیہ: ناظرین کرام! ایک بات ابھی آپ کی توجہ میں لانی باقی ہے وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اشتہار کی ابتدا اور انتہا ملاحظہ فرمائیں۔ شروع میں آیت لکھی ہے:

’’یستنبئونک احقٌ ہو قل ای وربّی انّہ لحق‘‘

یہ قرآن مجید کی آیت ہے اس کا ترجمہ یہ ہے ’’اے محمد (رسول اللہ ﷺ) آپ سے پوچھتے ہیں یہ قرآن سچ ہے آپ کہئے خدا کی قسم یہ سچ ہے۔‘‘

اس آیت کو مرزا قادیانی نے یہاں محض اس لئے لکھا کہ یہ میری دعا خدا کی طرف سے حق اور فیصلہ کن ہے۔ آخر اشتہار کی دعا یہ ہے:

’’ربّنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرالفاتحین‘‘

یہ دعا شعیبm کی ہے جو مرزا قادیانی نے اہل حق اور اہل باطل میں فیصلہ ہونے کے لئے کی ہے جس کے جواب میں خدا نے الہام فرمایا تھا:’’اجیب دعوۃ الداع‘‘(میں دعا کرنے والی کی دعا قبول کروں گا)۔‘‘

(ملفوظات ج۹ ص۲۶۸)

وہ ابھی منتظر ہیں

امت مرزائیہ اپنے کمال اعتقاد سے ابھی یہ بات دل میں بٹھائے ہوئے ہے کہ مولوی ثناء اللہ حسب دعا مرزا مرے گا۔ چنانچہ حکیم نورالدین خلیفہ اول قادیان کے زمانہ میں رسالہ ریویو قادیان میں حسرت بھرا مضمون نکلا تھا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں:

’’ہم تو اس بات کو اب بھی مانتے ہیں کہ حضرت (مرزا) صاحب کی بد دعا اس کے حق میں منظور ہوئی اور وہ اس کا نتیجہ بھی ان شاء اللہ ! دیکھ لے گا۔‘‘(محمد علی حال امیر جماعت لاہور ایڈیٹر ریویو نمبر ۷ ج ۷ ص۲۹۸ باب جون جولائی ۱۹۰۸ء)

اس حوالے سے بالوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ آخری فیصلہ والا اعلان محض دعا تھا، مباہلہ نہ تھا اور وہ دعا ضرور قبول ہوئی۔ مگر نتیجہ وہی نکلا جو خدا کے علم میں تھا یعنی…

’’کاذب صادق کی حیات میں مر گیا۔‘‘

225

باوجود اس کے امت مرزا کو ابھی انتظار ہے تو اس کا جواب وہی ہے جو قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’یتربصّ بکم الدوائر علیہم دائرۃ السوء (توبہ: ۹۸)‘‘فالحمدللہ رب العالمین!سچ ہے:

  1. لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

    قول کا پکا تھا پہلے مر گیا

ناکامی مرزا

مرزا قادیانی نے دعوے تو بڑے لمبے چوڑے کئے۔ مگر اپنا آنا جس کام کے لئے بتایا تھا اس کام میں کامیاب نہ ہوئے۔ وہ کام کیا تھے بغیر تاویل وتحریف کے انہی کے الفاظ میں ہم بتاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے صاف لفظوں میں بتایا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں تمام قومیں ایک اسلامی قوم ہوجائیں گی۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’چوں کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرتﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیوں کہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا۔ کیوں کہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اس زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا، اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہوجائیں۔زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اس امت میں سے ایک نائب مقرر کیا… جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرتﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیوں کہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۲، ۸۳ خزائن ج۲۳ ص۹۰، ۹۱)

اس عبارت میں گو بصیغۂ غائب مضمون ادا کیا ہے لیکن مراد اس سے ذات خاص (مرزا قادیانی) ہے، اس مضمون کے بتانے کو خود آپ ہی کے الفاظ پیش ہیں، آپ فرماتے ہیں:

’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت

226

پر قائم ہوجائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے… اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آوے۔ دنیا اس کو بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔‘‘

( الحکم ج۹ نمبر۲۵، ۱۷؍جولائی ۱۹۰۵ء ، جمادی الاوّل ۱۳۲۳ھ ص۱۰)

ان عبارتوں کے ملانے سے مضمون صاف ہوجاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے وقت دنیا میں اسلام ہی اسلام دین ہوگا باقی سب مٹ جائیں گے۔

ان حوالہ جات کی تکمیل کے لئے ایک حوالہ اور ناقابل دید وشنید ہے:

’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ج چہارم حاشیہ ص۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج۱ حاشیہ ص۵۹۳)

ان حوالہ جات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت دنیا میں اسلام ہی اسلام دین ہوگا۔ وگرہیچ۔ اسلام بھی زمانۂ صحابہ کے اسلام کا مثیل اور اگر یہ نہ ہو تو اس کا نتیجہ بھی مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں: ’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہ ہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلائوں اور آنحضرتﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ بس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود ومہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘(البدر ج۲ نمبر۲۹ ص۴،مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء، ’’المہدی‘‘ نمبر۱ ص۴۳ ، مکتوبات احمدج۱، ص۴۹۸، مکتوب ۲۹)

سوال قابل غور: کیا ایسا ہوا؟ اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ کفر پر اسلام غالب ہونے کی بجائے کفر اسلامی بلا پر غالب آرہا ہے نہ صرف بلاد اسلامیہ پر بلکہ قلوب پر بھی کفر کا غلبہ ہورہا ہے۔ مسلمانوں میں فسق وفجور شرک اور کفر دین بن رہا ہے۔ بہت سے

227

فرزندان اسلام داخل کفر ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں ذلت اور مسکنت ان پر غالب آرہی ہے، خدا کی پناہ۔ حالاں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود بن کر آئے اور آکر چلے بھی گئے۔ ایسی حالت میں کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ واقعات صحیحہ کی بنا پر ہم تو اس نتیجہ پر پہنچے ہیں:

  1. کوئی بھی کام مسیحا تیرا پورا نہ ہوا

    نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا

انّ فی ذالک لعبرۃ لاولی الابصار!

ضمیمہ

مرزا قادیانی نے اپنی علامت صدق میں ایک علامت ایسی بتائی ہے جس کے ساتھ دنیائے اسلام کو تعلق ہے۔ وہ مکہ، مدینہ (زاد اللہ شرفہما) کے درمیان ریل کا جاری ہونا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔ مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بے کار ہوگئے اور پیش گوئی آیت کریمہ ’’واذالعشار عطلت‘‘پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث’’ولیترکن القلاص فلا یسعٰی علیہا‘‘نے اپنی پوری پوری چمک دکھلا دی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس پیش گوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔‘‘

ناظرین خصوصاً حضرات حجاج! کیا آپ نے سنا یا سفر حجاز میں دیکھا کہ سفر حج میں اونٹ بیکار ہوگئے اور ریل وہاں جاری ہے؟ (ہرگز ہرگز نہیں) پس جس شخص نے کہا تھا کہ مکہ اور مدینہ میں ریل کا جاری ہونا میری صداقت کی علامت ہے، جب وہ علامت نہ پائی گئی تو وہ کون ہوا؟ بحالیکہ وہ آج سے ۲۲سال پہلے فوت ہوچکا اور ریل آج تک بھی نہیں پائی گئی اور مدعی آیا اور چلا گیا۔ افسوس!

الی اللہ المشتکی علی ما یقولون فآخردعوانا ان الحمدللہرب العالمین وصلی اللہ علی رسولہ واٰلہ واصحابہ اجمعین۔

انا الخادم لدین اللہ ابوالوفاء ثناء اللہ من بلدہ امرتسر ۱۳۴۹ھ

228

تفسیر نویسی

کا چیلنج اور فرار

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

229

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے ایک نظر ادھر بھی

’’فتنہ قادیانیت اور مولاناثناء اللہ امرتسری‘‘ کے مصنف نے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی ردقادیانیت پر تصانیف کی فہرست میں ’’قادیانی تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار‘‘ کے متعلق تحریر کیا ہے کہ:

’’پہلے یہ مضمون کی صورت میں اہل حدیث امرتسر کی اشاعت ۱۳؍فروری اور ۳؍اپریل ۱۹۳۱ء کے دو شماروں میں شائع ہوا۔ بعد میں رسالہ کی شکل میں ان مضامین کا شائع کردیا گیا۔‘‘ افسوس کہ ہمیں رسالہ تو میسر نہ آیا۔ البتہ محولہ دونوں شمارے دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی لائبریری سے مل گئے۔

وہاں سے یہ مضمون لے کر شامل اشاعت کرنے پر رب کریم کے کرم کے سامنے سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے نوازیں۔ آمین بحرمۃ النبی الامّی الکریم!

والسلام … فقیر: اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جناب مرزا قادیانی متوفی کو یہ خاص ملکہ حاصل تھا کہ ایک جہت سے جب وہ عام رائے اپنے خلاف پاتے تو لوگوں کی توجہ دوسری طرف پھیرنے کی کوشش کرتے۔

جن دنوں پیر صاحب گولڑہ نے مرزا قادیانی کے برخلاف آواز اٹھائی تو مرزا قادیانی نے ۱۹۰۰ء میں ان کو اور ان کے ساتھ مجھ خاکسار اور دیگر علماء کو بالمقابل تفسیر نویسی کا نوٹس دیا۔ جس کے چند جملے یہ تھے:

’’ہم دونوں (مرزا قادیانی اور پیر صاحب) قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک قرآنی سورہ لے کر عربی فصیح بلیغ میں اس کی ایسی تفسیر لکھیں جو قرآنی علوم اور حقائق اور معارف پر مشتمل ہو… فریقین کا اختیار ہوگا کہ اپنی تسلی کے لئے ایک دوسرے کی بخوبی تلاشی لے لیں تاکہ کوئی پوشیدہ کتاب ساتھ نہ ہوگا… ہرگز اختیار نہ ہوگا کہ کوئی فریق اپنے پاس کوئی کتاب

230

رکھے یا کسی مددگار کو پاس بٹھائے (تالی) … میں بہرحال اس مقابلے کے لئے جو محض بالمقابل عربی تفسیر لکھنے میں ہوگا لاہور میں اپنے تئیں پہنچائوں گا(مقدم)۔‘‘(اشتہار ’’پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے توجہ دلانے کے لئے آخری اپیل‘‘ ۲۸؍اگست ۱۹۰۰ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴۹)

اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ پیر صاحب گولڑہ، خاکسار اور دیگر علماء اسلام لاہور پہنچ گئے اور مرزا قادیانی تشریف نہ لائے۔ شاہی مسجد میں جلسہ ہوا، شوخ مزاجوں نے نظمیں پڑھیں۔ جن میں ایک شعر یہ بھی تھا:

  1. بنایا آڑ کیوں … کا چرخہ

    نکل! دیکھیں تیری تفسیر دانی

پیرا نمبر۲: یہ زمانہ گزرا۔ اس کے بعد میاں محمود خلف مرزا قادیانی خلیفہ ثانی قادیان کا دور آیا تو آپ کے حاشیہ نشینوں نے حق الخدمت ادا کرنے کو قادیانی اخبار ’’الفضل‘‘ ۱۶؍جولائی ۱۹۲۵ء میں علماء دیوبند کو بالمقابل تفسیر نویسی کا نوٹس دیا تو ہماری غیرت نے تقاضا کیا کہ ہمارے ہوتے ہوئے قادیان کی توجہ اور طرف کیوں؟

  1. جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف

    او کشتۂ ستم تری غیرت کہاںگئی

اس کے جواب میں ہم نے لکھا:

’’ہم بالمقابل تفسیر نویسی کے لئے تیار ہیں۔‘‘

(اہل حدیث ۲۱؍اگست ۱۹۲۵ء)

الفضل اس کے جواب میں بولا کہ ہمارا خطاب دیوبندیوں کو ہے۔ مولوی ثناء اللہ کیوں دخل دیتا ہے۔ پہلے وہ دیوبندیوں سے وکالت نامہ حاصل کرے۔ اگر وہ مخاطب بنتا ہے تو قادیان میں آکر تفسیر لکھے۔‘‘

(الفضل ج۱۳ نمبر۲۹ ص۵، کالم نمبر۳، مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۲۵ء)

اس کے جواب میں ہم نے اہل حدیث (۲۵؍ستمبر ۱۹۲۵ء) میں لکھا کہ:

’’تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیوبندی ہیں۔ ہمیں وکالت نامہ کی حاجت نہیں۔‘‘

اس کے بعد اہل حدیث ۱۳؍نومبر ۱۹۲۵ء میں ہم نے فیصلہ کن جواب دیا جو یہ ہے:

’’سنو جی! ہم زیادہ باتیں کرنا نہیں چاہتے اس لئے آخری اعلان کرکے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ ناظرین! پبلک کو حقیقت معلوم ہوگئی ہے۔ اب اصل بات سنو۔

آپ بتراضیٔ فریقین کوئی تاریخ مقرر کرکے بٹالہ (قادیان سے صرف گیارہ میل) کی جامع مسجد میں آجائیں۔ جہاں آٹھ بجے صبح سے ۱۲بجے تک مجلس ہوگی۔ جس میں

231

میں اور آپ (خلیفہ قادیان) تفسیر القرآن لکھیں گے۔ اس طرح سے کہ مجھ سے اور آپ سے قریب دس دس گز تک کوئی آدمی نہ بیٹھے گا۔ ہمارے ہاتھ میں صرف سادہ بے ترجمہ قرآن اور سادہ کاغذ اور آزاد قلم (انڈی پنڈنٹ) ہوگا۔

آپ کو اختیار ہوگا ایک رکوع لیجئے دو لیجئے تین لیجئے۔ مریدوں کے حرج کا اندیشہ ہے تو ان کو منع کر دیجئے کہ وہ ہرگز آپ کو ایسے امتحان میں دیکھنے نہ آئیں۔ ہاں میں ہمدردانہ بات آپ کو سمجھا دوں کہ اس مقابل کے لئے آنے سے پہلے اپنے رکن اعظم مولوی سرور شاہ صاحب سے ضرور مشورہ کر لیں کیوں کہ:

  1. سنبھل کے رکھیو قدم دشت خار میں مجنوں

    کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

اس صاف جواب اور سیدھے جواب کے جواب الجواب میں ’’الفضل‘‘ نے پھر وہی رونا رویا کہ: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب جو ہمارے پہلے چیلنج کے مخاطب نہ تھے۔ اس بحث میں آن کودے، ہم نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ دیوبندیوں سے قائم مقامی کی سند لیں جو ہمارے اصل مخاطب ہیں۔ مگر افسوس کہ اس میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔‘‘

اصل بات کا جواب یوں دیا:

’’ہمارے ہاتھ میں صرف سادہ بے ترجمہ قرآن اور سادہ کاغذ اور آزاد قلم ہوگا۔‘‘

’’بے شک یہ طریق مقابلہ اس وقت درست ہوسکتا تھا جب یہ دیکھنا ہوتا کہ زید عربی پڑھا ہوا ہے یا بکر۔ لیکن ہر عقل مند انسان جو ہمارے پہلے مضامین پڑھ چکا ہے اور دیوبندیوں کے اشتہار کو دیکھ چکا ہے، وہ سمجھ سکتا ہے کہ مقابلہ اس امر میں نہیں ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ عربی جانتے ہیں یا نہیں یا غیر احمدی مولوی عربی جانتے ہیں یا نہیں۔ بلکہ فیصلہ اس امر کا کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیر احمدی مولویوں پر ایسے علوم ظاہر کرتا ہے جو پہلی کتب میں نہیں یا حضرت مسیح موعود کے اوپر اس نے ایسے علوم ظاہر کئے ہیں اور جن کے ذریعہ آپ کی جماعت میں بھی یہ طاقت ہے کہ قرآن کریم کے نئے علوم اور معارف ظاہر کرسکے۔ اس فیصلہ کے لئے بے ترجمہ قرآن کے کیا معنی؟ اور دوسری کسی کتاب کے نہ ہونے کا کیا مطلب؟‘‘

(الفضل قادیان ۲۵؍دسمبر ۱۹۲۵ء)

ناظرین! غور فرمائیں خلیفہ قادیان کے والد مرزا قادیانی نے پیر صاحب گولڑہ

232

کے سامنے کیسی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے عربی کی شرط لگائی اور بے یارومددگار تلاشی دے کر بے کتاب عربی میں تفسیر لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

مگر ان کے جانشین جو ان کے علوم کے وارث ہیں، عربی دانی کو شرط نہیں مانتے۔ نہ قادیان چھوڑ کر کسی دوسرے مقام میں آتے ہیں۔

تو آخر کار یہ شعر پڑھ کر دوسرا پیرا گرام بھی بند کیا گیا:

  1. تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے

    وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

تیسرا پیرا گراف: عرصہ دراز اور مدت مدید کے بعد ۲۸؍مارچ ۱۹۳۰ء کو پھر ایک آواز آئی۔ الفضل نے قصر خلاف کا اشارہ پاکر مندرجہ ذیل الفاظ لکھے:

’’حضرت امام جماعت احمدیہ (میاں محمود) اپنے زمانہ کے سب سے بڑے پاک باز اور خداتعالیٰ کے مقرب ثابت ہوتے ہیں (بشہادت اخبار مباہلہ) کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضور کو قرآن مجید کا ایسا علم عطا کیا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ چنانچہ حضور بارہا اس بارے میں چیلنج دے چکے ہیں اور حال میں بھی ایک تقریر میں موجودہ زمانہ کے علماء کے ذکر میں فرمایا کہ میں نے کئی بار چیلنج دیا ہے کہ قرعہ ڈال کر قرآن مجید کا کوئی مقام نکال لو۔ اگر یہ نہیں تو جس مقام پر تم کو زیادہ عبور ہو، بلکہ یہاں تک کہ تم ایک مقام پر جتنا عرصہ چاہو غور کر لو اور مجھے وہ نہ بتائو پھر میرے مقابلہ میں آکر تفسیر لکھو، دنیا فوراً دیکھ لے گی کہ علوم کے دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا ان پر۔‘‘

(الفضل ج۱۷ نمبر۷۵ ص۵، کالم نمبر۱، مورخہ۲۸؍مارچ ۱۹۳۰ء)

پیر کہے اور مرید تائید نہ کریں ناممکن ہے۔ چنانچہ پیر صاحب کی تائید میں ایک مضمون الفضل (۲۳؍مئی ۱۹۳۰ء) میں نکلا جس میں چند سوقیانہ الفاظ یہ تھے:’’یہ کام (تفسیر نویسی) آسان نہیں۔ ورنہ انور شاہ دیوبندی، مولوی ثناء اللہ ، پیر مہرعلی شاہ گولڑوی اور دیگر کبائر کیوں صمٌ بکمٌ کے مصداق بن رہے ہیں۔‘‘

(الفضل ۲۳؍مئی ۱۹۳۰ء)

اسی دعوت ثانیہ کی تحریک پر مولوی نورالٰہی (نور) گھرجاکھی کی ایک مرزائی دوست سے اس بارے میں مکاتبت ہوئی جس پر مجھے توجہ دلائی گئی تو میں نے ان کی چٹھی اہل حدیث ۲۳؍مئی ۱۹۳۰ء میں درج کر کے نیچے لکھا کہ:

233

’’پہلے بھی خلیفہ قادیان نے دیوبندیوں کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا تھا۔ جس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیوبندی ہیں۔ پس ایک سادہ قرآن شریف لے کر بٹالہ کی جامع مسجد میں آکر بالمقابل تفسیر لکھئے۔ جس کے جواب میں آج تک ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کر گئے۔ گزشتہ را صلوٰۃ اب سہی، ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں صرف یہ کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لے کر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا اور تفسیر اور معارف کے لئے ضروری ہوگا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں بس۔ (ابولوفاء)‘‘

اس کے بعد اہل حدیث ۶؍۲۷؍جون ۱۹۳۰ء میں بھی اسی مضمون کی یاد دہانی کی گئی۔ اس پر الفضل (ج۱۸ نمبر۱۰ ص۲، کالم نمبر۳، مورخہ ۲۲جولائی ۱۹۳۰ء) میں ایک نوٹ نکلا جو یہ ہے: ’’چند روز ہوئے مولوی ثناء اللہ نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایّدہ اللہ بنصرہ العزیز کے مقابلہ میں تفسیر نویسی پر آمادگی کا ذکر اپنے اخبار میں کیا تھا۔ اس سلسلہ میں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے شملہ سے اطلاع دی ہے کہ پچھلے مضامین کے حوالے نکلوائے جارہے ہیں اور ان شاء اللہ العزیز جلدی ہی مولوی صاحب کے مضمون کا جواب لکھا جائے گا۔‘‘

اہلحدیث: ’’لکھا جائے گا‘‘ کا فقرہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اب ہم قادیان پر چوتھی مرتبہ فتح بیّن پائیں گے۔ ان شاء اللہ !

۱… مرزا قادیانی نے مجھے قادیان پہنچ کر گفتگو کرنے کی دعوت دی میں ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء کو قادیان پہنچا مرزا قادیانی نہ نکلے۔ ایک فتح۔

۲… مرزا قادیانی متوفی نے آخری فیصلہ کا اشتہار دیا کہ مرزا اور مولوی ثناء اللہ میں جھوٹا پہلے مرے گا، وہ مرگئے۔ دوسری فتح۔

۳… مرزا قادیانی کے مریدوں نے اس مضمون پر انعامی مباحثہ کرکے تین سوروپیہ ہم کو جزیہ دیا۔ تیسری فتح۔ انہی فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔

مگراس اعلان کے بعد ایسے خاموش ہوئے کہ ہمیں خیال گزرا کہ قادیانی وعدہ بھی معشوقانہ وعدہ سے کم نہیں۔

مریدان باصفا اگرچہ اپنی صفائی میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں لیکن دفتروں میں یا شہروں اور دیہات میں فریق مخالف کی چھیڑ چھاڑ سے تنگ آ کر اپنی آہ وبکا قصر خلافت میں

234

بھیجتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اس امر میں بھی ایسا ہی ہوا تو خلیفہ قادیان نے بڑی اہمیت سے سالانہ جلسہ قادیان میں ایک طویل تقریر کی جو بعد انتظار بسیار الفضل (۳۱؍جنوری ۱۹۳۱ء) میں چھپ کر آئی جو درج ذیل ہے:

’’اس سال جب میں شملہ جانے لگا تو مجھے معلوم ہوا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل تفسیر نویسی کے متعلق ایک مضمون شائع کیا ہے۔ روانگی کے وقت وہ مضمون مجھے ملا۔ شملہ میں چوں کہ اور بہت کام تھا اس لئے میں اس مضمون کی طرف توجہ نہ کرسکا… اب میں اصل بحث کو لیتا ہوں۔ ۷؍مارچ ۱۹۳۰ء کے ’’الفضل‘‘ میں میرا ایک مکالمہ ایک غیر احمدی مولوی سے جو بڑے سیّاح تھے اور انہوں نے دنیا کے بڑے حصہ کا چکر لگایا تھا، شائع ہوا۔ آخر انہوں نے بیعت کرلی اور حیدرآباد میں جا کر فوت ہوگئے۔ انہوں نے مجھ سے کئی سوالات کئے تھے جن کے میں نے جواب دئیے۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے پوچھا کیا علماء اندھے ہیں جو ایسی واضح دلائل کو نہیں مانتے۔ اس کے جواب میں میں نے جو کچھ کہا وہ الفضل (۷؍مارچ ۱۹۳۰ء) میں ان الفاظ میں شائع ہوا ہے…۔

الفضل میں اس مکالمہ کے شائع ہونے پر غالباً بعض لوگوں کی تحریک پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا: ’’پہلے بھی خلیفہ قادیان نے دیوبندیوں کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا تھا جس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیوبندی ہیں پس ایک سادہ قرآن شریف لے کر بٹالہ کی جامع مسجد میں آکر بالمقابل تفسیر لکھئے جس کے جواب میں آج تک ہاں نہ پہنچی۔ بلکہ انکار کر گئے۔ گذشتہ راصلوٰۃ۔ اب سہی۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں صرف یہ کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لے کر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا اور تفسیر اور معارف کے لئے ضروری ہوگا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں۔ بس‘‘ (اہل حدیث ۲۳؍مئی ۱۹۳۰ء) اس تحریر سے یہ امور ثابت ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے تفسیر نویسی کے متعلق میرا وہ چیلنج منظور کرلیا تھا جو میں نے دیوبندیوں کو دیا تھا۔ دوم یہ کہ باوجود ان کے قبول کرلینے کے میری طرف سے ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کردیا۔ پہلی بات کہ مولوی صاحب نے چیلنج منظور کر لیا تھا خود ان کی اپنی بات سے رد ہوجاتی ہے وہ چیلنج منظور نہیں کرتے بلکہ ایک نیا چیلنج دیتے ہیں۔ چنانچہ باوجود یہ لکھنے کہ ان کی طرف سے کوئی شرط

235

نہیں پھر شرطیں پیش کرتے ہیں۔حالاںکہ۱؎ شرطیں پیش کرنے کا حق چیلنج دینے والے کا ہوتا ہے۔ چیلنج منظور کرنے والا کا نہیں ہوتا۔ چیلنج منظور کرنے والا یہ تو کہہ سکتا ہے کہ جو شرائط پیش کی گئی ہیں وہ معقول نہیں غلط ہیں۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنی طرف سے یہ شرطیں پیش کرتا ہوں… مولوی صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ ان کو جواب نہ دیا گیا تھا اور ہماری طرف سے خاموشی رہی۔ یہ بھی درست نہیں۔ ان کو جواب دیا گیا تھا۔ چنانچہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۲۵ء کے ’’الفضل‘‘ میں میری منظوری سے ایک مضمون شائع کیا گیا۲؎۔ میرا اصل چیلنج جو اس وقت دیا تھا اور جو اب بھی قائم ہے۔ ۱۶؍جولائی ۱۹۲۵ء کے الفضل میں شائع ہوچکا ہے اور وہ یہ ہے۔ غیر احمدی علماء مل کر قرآن کریم کے وہ معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔ پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود (مرزا) نے لکھے ہیں اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے، پہلے مفسرین ومصنفین نے بھی نہیں لکھے۔ اگر میں کم سے کم دگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں۔ یہ وہ چیلنج ہے جو دیوبندی مولوی کو دیا گیا تھا۔ جس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا تھا کہ میں بھی دیوبند کا پڑھا ہوا ہوں۔ میں اسے منظور کرتا ہوں۔ لیکن کہتے ہیں سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لے کر الگ الگ ایک دوسرے سامنے بیٹھنا ہوگا۔ میں کہتا ہوں ترجمہ یا بے ترجمہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں، معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب کی عقل میں اتنی کمی آگئی ہے۳؎ کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے میرے متعدد

۱؎ ہم نے شرطوں کی نفی کی ہے شرط نہیں لگائی۔ ہم نے تو یہ کہا تھا کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم لے کر آجائو۔ اس بیان کو شرط کہنا قادیانی دماغ والوں کا کام ہے۔ (اہل حدیث)

۲؎ آپ نے ہمارے انکار کہنے کا مطلب نہیں سمجھا۔ یادانستہ مریدوں کو سمجھنے سے مانع ہوئے ہیں۔ آپ نے ۲۷؍اکتوبر ۱۹۲۵ء کو جو لکھا تھا اس کا جوا ب اہل حدیث ۱۳؍نومبر۱۹۲۵ء میں دیا گیا تھا جس کو الفضل ۲۵؍دسمبر ۱۹۲۵ء میں نقل کرکے وہ لکھا جو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ جس کا شروع ’’بے شک‘‘ سے ہے اور خاتمہ ’’کیا مطلب‘‘ پر ہے۔ اس عبارت سے ہر ایک دانا انکار بلکہ فرار ہی سمجھے گا۔ پس آپ کا ۲۷؍اکتوبر کا حوالہ دے کر انکار سے انکار کرنا غلط ہے۔

۳؎ بلکہ باپ کے مراق سے مراقی ہوگئے ہیں۔(دیکھو رسالہ مراق مرزا ص۶)

236

مضامین اور کتابیں پڑھی ہوں گی۔ مخالفین پر میری تحریروں کا رعب بھی جانتے ہیں۔ مگر۱۱؎ خیال کرتے ہیں کہ جب میرے ہاتھ میں بے ترجمہ قرآن آیا تو بس میں ان کے مقابلہ میں رہ جائوں گا۔ گویا جو کچھ میری طرف سے شائع ہوتا ہے وہ مولوی صاحب لکھ کر مجھے بھیج دیا کرتے ہیں اور میں اپنی طرف سے اسے شائع کر دیتا ہوں۔مولوی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے میری طرف سے یہ چیلنج نہیں کہ میں بڑا عالم ہوں۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے تو اس کے لئے ایسی بات پیش کر دینا جو اس کی ذاتی قابلیت کی نفی کرتی ہو۔ اس کے دعویٰ کو رد کرسکتی ہے۔ مگر جو یہ کہتا ہو کہ مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی چیز پیش کرے جس میں خدائے تعالیٰ کی تائید شامل ہو … میں نے اردو میں ترجمہ کرنے کا چیلنج نہیں دیا۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تفسیروں وغیرہ کے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ زیربحث یہ امر تھا کہ تفسیر لکھنے والے کی تفسیر میں کچھ ایسے معارف ہوں جو پہلی کتابوں میں نہ ہوں۔ مگر میں تفسیروں کاحافظ نہیں ہوں۔ پھر ان تفسیروں کو دیکھے بغیر یہ کس طرح پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں بات ان میں آئی ہے یا نہیں آئی۔ اسی طرح قرآن کریم کی کلید کی بھی ضرورت ہوگی۔ کیوں کہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں قرآن کریم کا حافظ ہوں۔ اس لئے قرآن کریم کی کلید کی ضرورت ہوگی۔ وہ مضمون جو میرے ذہن میں ہوتا ہے وہ دوسروں کو معلوم نہیں ہوتا مگر ساری آیت مجھے یاد نہیں ہوتی۔مولوی صاحب نے یہ شرط لگائی ہے کہ تفسیر اور معارف کے لئے ضروری ہوگا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں۔ مگر یہ صاف بات ہے اور ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔ ورنہ مثلاً قرآن کریم میں جو ذالک الکتاب آیا ہے۔ میں کتاب کے معنی کپڑا لکھوں تو ہر شخص سمجھے گا کہ یہ غلط ہے۔ پھر اس شرط کے پیش کے نے کی ضرورت ہی کیا ہے۔۲؎اگر علوم عربیہ کے خلاف کوئی بات ہوگی تو وہ تو فوراً رد ہوجائے گی۔ مولوی صاحب کی کی تحریر میں ایک اور بھی لطیفہ ہے۔ وہ ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ اور کوئی کتاب پاس نہ ہو جس

۱؎ ہم تو مانتے ہیں مگر پیغامی لاہور نہیں مانتے۔

۲؎ جن کے بڑے میاں نے ’’دمشق‘‘ کے معنی ’’قادیان‘‘ کئے ہوں ان سے کیا تعجب کہ کتاب کے معنی کپڑے کے کر دیں۔ (اہلحدیث)

237

سے مراد ان کی تفاسیر ہیں اور دوسری طرف یہ شرط لگاتے ہیں کہ صرف سادہ یعنی بے ترجمہ قرآن ہو۔ گویا ان کے نزدیک اگر میرے پاس سادہ قرآن ہوا تو میں کچھ نہ لکھ سکوں گا۔ کیوں کہ قرآن کریم عربی میں ہے اور میں عربی نہیں جانتا۔ لیکن ساتھ ہی ان کے خیال میں میرے پاس رازی کی تفسیر نہیں ہونی چاہئے تا ایسا نہ کہ میں اس کے مطالب نہ چرا لوں۔۱؎مولوی صاحب کی اس بات سے ظاہر ہے کہ جب خدا کسی کی عقل مار دیتا ہے تو وہ عام بے وقوفوں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ کیا کوئی شخص یہ خیال کرسکتا ہے کہ جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتا وہ رازی اور ابن حبان کے مطالب کو سمجھ لے گا اور ان کی تفاسیر سے مضمون چرائے گا۔ اگر مولوی صاحب کی عقل میں یہ بات آگئی ہے تو گو یہ انتہائی درجہ کی احمقانہ بات ہے۔ میں یہ شرط اپنے چیلنج میں اور بڑھا دیتا ہوں کہ کوئی اردو کی کتاب نہ رکھنی ہوگی اور نہ ترجمہ والا قرآن ہوگا۔ غرض اگر انہوں نے میرا چیلنج منظور کر لیا ہے تو آئیں معارف لکھیں۔ ان کا خرچ ہم دیں گے۔ اب میں چند کی شرط بھی نہیں رکھتا تمام کے تمام نکات ایسے ہوں گے جو کسی پہلی کتاب میں نہ ہوں گے اور ان تفسیروں میں تو یقینا نہ ہوں گے جو پاس رکھی جائیں گی وہ صرف اس لئے رکھی جائیں گی کہ تا معلوم ہو مفسرین نے کیا لکھا ہے تاہم ان کی لکھی ہوئیباتوں میں نہ پڑیں۔‘‘

(الفضل ج۱۸ نمبر۸۹ ص۵ تا۳، ۳۱؍جنوری ۱۹۳۱ء)

اہل حدیث: اس سارے مضمون کا خلاصہ دو فقرے ہیں۔

۱… یہ کہ میاں محمود صاحب تفسیر نویسی کے وقت عربی تفسیریں اور کلید قرآن ساتھ رکھیں گے۔

۲… اور معارف جو بتاویں گے وہ اپنے باپ مرزا قادیانی کی تحریرات سے بتاویں گے۔

پہلے فقرے کا جواب تو خود مرزا قادیانی متوفی کی تحریر سے ملنا ہے جو بوقت تفسیر نویسی جامہ تلاشی دینے اور لینے کی شرط لگا چکے ہیں۔

دوسرا فقرہ آپ کی اصل لیاقت کا کافی اظہار کرتا ہے۔

ناظرین! ایک مرتبہ پھر (الفضل ج۱۷، نمبر۷۵ ص۵، کالم نمبر۱، مورخہ۲۸؍مارچ ۱۹۳۰ء) کی عبارت ملاحظہ فرمائیں، کس زور اور کیسی تعلّی سے دون کی لیتے ہیں۔

۱؎ پہلے بھی نہ، پھر بھی نہ… کیسی لطیف زبان ہے۔ (اہل حدیث)

238

’’ اللہ تعالیٰ نے حضور (خلیفہ قادیان) کو قرآن کو ایسا علم عطا کیا ہے کہ کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔‘‘

کیا وہ علم یہی ہے کہ جو باوا جی نے کہا بیٹا جی نے ’’درنقل چہ عقل‘‘ کہہ کر نقل کردیا۔ ارے جناب آپ کے والد ماجد کے معارف کے نمونے تو ہم بھی رسالہ ’’نکات مرزا‘‘ میں دکھا چکے ہیں۔ بلکہ ان معارف کی وجہ سے ہم اس شعر پر ایمان بھی لاچکے ہیں:

  1. نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ظلم کیشی کو

    بہت سے ہوچکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

کیسا افسوس کا مقام ہے کہ سالانہ جلسہ میں ہزاروں کے مجمع میں یہ تقریر کی پھر مہینہ بھر اس تقریر کو مانجھ کر شائع کیا جس میں دنیا بھر کے علماء اسلام کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا گیا ہے۔

آخر بات نکلی تو یہ کہ:’’میں معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لکھے ہیں۔‘‘

مرزا قادیانی کے مریدو! ہم تم سے یہ نہیں کہتے کہ تم مرزا قادیانی کوچھوڑ دو یہ تو تمہاری مرضی پر موقوف ہے ’’من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر‘‘ ہاں یہ کہنا تو ہمارا حق ہے اور ماننا تمہارا فرض ہے کہ ’’خلیفہ قادیان کا دعویٰ قرآن دانی کاتھا۔ اس دعوے کا ثبوت ان کی لیاقت سے ہونا چاہئے۔‘‘

معارف رکھنا: والد کی تفسیر کو اپنی لیاقت بتانا آریوں کے نیوگ کے مشابہ ہے۔

بعد اللتیّا والّتی: مختصر یہ ہے کہ آپ سادہ قرآن لے کر میرے مقرر کردہ مقام بٹالہ میں یا اپنے والد کے مقرر کردہ مقام لاہور میں آکر کسی محفوظ مکان میں بالمقابل عربی میں تفسیر لکھیں، عربی میں نہ لکھ سکیں تو اردو بھی منظور کرسکتا ہوں۔

کتاب کلید قرآن کی بھی اجازت دے دوں گا۔ بس اب زیادہ باتیں نہ کریں ایسا نہ ہو کہ مجھے یہ کہنے کا موقع ملے:

  1. نہیں وہ قول کا پکا، ہمیشہ قول دے دے کر

    جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

آپ کا بہی خواہ … ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری

(اخبار اہل حدیث امرتسر ۱۳؍فروری ۱۹۳۱ء ص۱۵ تا ۱۸)

239

وہی تفسیر نویسی کا ولولہ

پھر دوبارہ عشق کا دل میں اثر پیدا ہوا

ناظرین کو یاد ہوگا کہ اہل حدیث مؤرخہ ۱۳؍فروری ۱۹۳۱ء میں قادیانی خلیفہ کے بالمقابل تفسیر نویسی کے متعلق ایک بسیط مضمون لکھا گیا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

’’مرزا قادیانی متوفی کی شروط پر تفسیر لکھی جائے یعنی کوئی کتاب ساتھ نہ ہو۔ تفسیر عربی میں ہو، تفسیر میں وہ معارف بیان ہوں جو پہلے کسی نے نہ لکھے ہوں۔ وغیرہ

مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان تو خاموش رہ سکتا ہے مگر مریدین نہیں رہنے دیتے۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ:

’’(ہمارا محمود) دنیا کے اسیروں کا رستگاربنا۔ قوموں کا سردار کہلایا اور خاص وعام کا مرجع بن گیا۔ ہر ہاتھ جو ہمارے آقا فضل عمر ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے خلاف اٹھا شل ہوگیا۔ ہر انسان جس نے آپ کو گرانا چاہا خود گرگیا اور ہر وہ جس نے آپ کو ذلیل کرنا چاہا نہایت بری طرح ذلیل ورسوا ہوکر رہا۔ جنہیں اپنے علم پر ناز تھا وہ آپ کے مقابل پر جاہل ثابت ہوئے۔ جنہیں حسن تدابیر پر گھمنڈ تھا وہ آپ کے سامنے طفل مکتب ثابت ہوئے۔ خدا نے آپ کو ظاہری اور باطنی علوم سے پر کیا۔ آپ کو مسیح پاک کا سچا جانشین ثابت کیا اور آپ کے ہاتھوں پر اسلام کی فتح کو مقدر کردیا اور آج وہ دن ہے جب کہ وہ اولوالعزم محمود شوکت وظفر کا جھنڈا لئے بصد عزوشان خلیفہ مانا جاتا ہے۔ خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ خلیفہ کا لقب کسی اور کو بھی ملے قدرت خداوندی نے سب کو نیچے گرا کر اسی کو جو برحق خلیفہ تھا دنیا میں رکھا۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۸، نمبر۱۰۶، ص۷، کالم نمبر۳، مورخہ۱۴؍مارچ ۱۹۳۱ء)

اہل حدیث: ہم اس کے جواب میں کیوں بولیں کیوں کہ یہ سب اشارات لاہوری پارٹی کی طرف ہیں۔ چنانچہ آگے اس کا نام بھی آجاتا ہے۔ ہاں ہم اتنا ہی کہتے ہیں:

پیراں نمے پرند ومریداں ہمے پرانند

اس لئے مریدوں کی تحریک سے خلیفہ قادیانی متحرک ہوئے۔ مگر حرکت ایسی کی کہ اس سے سکون اچھا تھا۔ اخبار الفضل قادیان ۲۱؍مارچ میں ایک طویل مضمون نکلا ہے جس میں نہ ’’ہاں‘‘ کا پتہ چلتا ہے نہ ’’ناں‘‘ کا بلکہ اس شعر کا مصداق ہے:

240
  1. مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج

    بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

آپ کی تحریر کے الفاظ یہ ہیں: ’’میرا دعویٰ نہیں کہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب سے زیادہ عربی جانتا ہوں۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ احمدیہ جماعت معارف قرآنیہ کے جاننے میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے فیض سے اور مطابق آیت ’’لایمسہ الا المطہرون‘‘سب دوسرے لوگوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ کسی شخص کا کسی دوسرے سے کسی امر میں بڑھا ہوا ہونا تائید الٰہی کا ثبوت نہیں ہوتا بلکہ مؤید من اللہ ہونے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ سب قوم یا سب دنیا سے بڑھا ہوا ہو۔ پس مولوی صاحب کا عربی تفسیر لکھنے کا چیلنج مجھے دینا یا میرا انہیں دینا محض حماقت ہوگا جب تک کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعویٰ نہ ہو کہ وہ خداتعالیٰ کی تائید سے سب دنیا سے زیادہ فصیح عربی لکھ سکتا ہے اور مجھے یہ دعویٰ نہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں مولویصاحب کو بھی باوجود لاف زنی کی عادت کے ایسا دعویٰ نہیں ہے۔ پس جس امر میں ہم میں سے کوئی اپنے مؤید من اللہ ہونے کا مدعی نہیں۔ اس میں مقابلہ سوائے پہلوانی کے اور کیا معنی رکھتا ہے اور مولوی صاحب گو اپنے آپ کو اپنی قومیت اور اپنے شہر کی نسبت سے پہلوان خیال کرتے ہوں، میں اپنے لئے خالی پہلوانی والے زور کو ہتک سمجھتا ہوں اور صرف ایسے ہی مقابلہ کے لئے تیار ہوں جس سے اسلام اور سلسلہ کی سچائی ثابت ہوتی ہو۔ لیکن اگر میرا خیال مولوی صاحب کی نسبت درست نہیں بلکہ انہیں عربی تصنیف یا بے نظیر ترجمہ کرنے کا دعویٰ ہے تو وہ یہ چیلنج شائع کردیں کہ خداتعالیٰ کی طرف سے مجھے عربی زبان میں ایسی فصاحت عطا ہوئی ہے۔ جس کی نظیر اس زمانہ میں موجود نہیں یا قرآن کریم کے اردو ترجمہ کے لئے خاص کمال عطا ہوا ہے۔ پھر ان کی اس فرعونیت کے لئے خداتعالیٰ کے فضل سے ایک موسیٰ ضرور کھڑا ہوجائے گا اور شاید اس میں خداتعالیٰ کوئی نیا نشان ہی دکھاوے۔‘‘

خاکسار مرزا محمود احمد

اہل حدیث: اس ساری لذیذ عبارت کا ملخص یہ ہے کہ خلیفہ صاحب عربی میں تفسیر لکھنا نہیں چاہتے۔ بہت خوب ہم بھی آپ کو عربی نویسی کے لئے مجبور نہیں کرتے۔ آپ اردو میں لکھیں، مگر لکھیں گے کیا؟ وہی جو والد صاحب مکرم آیات قرآنیہ میں تحریف کر گئے ہیں۔ آپ اس تحریف کی تشریح کریں گے۔ چنانچہ الفضل مذکور میں ایڈیٹر کا نوٹ ہے جس کی خلیفہ نے تصدیق کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

241

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے معارف

’’سمجھ میں نہیں آتا اس قدر جہالت کے اظہار کی مولوی صاحب کو کیا ضرورت پیش آئی۔ ان کے نزدیک وہ معارف قرآنیہ بیان کرنا جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لکھے ہیں معمولی بات ہوگی لیکن جماعت احمدیہ خوب جانتی ہے اور خدا کے فضل سے تجربہ رکھتی ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ان حقائق اور معارف کی جو تشریح وتوضیح فرماتے ہیں وہ بجائے خود فہم قرآن کا بہت بڑا ثبوت ہے اور یہ جماعت احمدیہ میں روحانیت اور تعلق ب اللہ کے لحاظ سے آپ کے سب سے بلند مقام رکھنے کا ثبوت ہے۔ اگر یہ کوئی ایسی ہی آسان بات ہوتی تو غیر مبایعین کے امیر صاحب جنہیں ’’حضرت مرزا قادیانی کے علوم کا وارث‘‘ ہونے کا دعویٰ بھی ہے۔ کیوں نہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مخالفین کو معارف قرآن میں مقابلہ کرنے کا چیلنج دیتے۔ کیا مولوی صاحب نے ان کی طرف سے کبھی چیلنج سنا ہے۔ ان کا چیلنج دینا تو الگ رہا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود) خود ان کو چیلنج دے چکے ہیں۔ جسے آج تک منظور کرنے کی انہیں ہمت نہیں ہوئی۔ پس وہ معارف اور حقائق جن کا اشارہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی کتب میں پایا جاتا ہے انہیں تفصیل وتشریح کے ساتھ بیان کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کے سچے جانشین کی اصلی علامت ہے۔‘‘

(الفضل ۲۱؍مارچ ۱۹۳۱ء)

اہل حدیث: اب بھی کسی کو خیال ہو کہ قادیان میں علم خاص کر علم مناظرہ ہے تو وہ اس اقتباس کو پڑھ کر اپنے خیال کی اصلاح کرے۔

اے جناب! مرزا قادیانی متوفی کے معارف کی تشریح کرکے ان کا جانشین ثابت کرنے کا موقع وہ ہے جب آپ کا مقابلہ لاہوری مرزائیوں سے ہو۔ چنانچہ آپ نے ان پر چوٹ بھی کی ہے ہمارے سامنے اس مدعا کو ثابت کرنے کے لئے تفسیر نویسی کرنا بالکل بے کار ہے۔ لیجئے ہم آپ کو ان کا قائم مقام اور جانشین ہونے کا اعلان کئے دیتے ہیں۔ کیا ہم آپ کے سوا عبدالبہاء کو بہاء اللہ کا قائم مقام نہیں مانتے؟ ایسا ہی آپ کو مانتے ہیں۔

ناظرین کرام! غور سے پڑھئے۔ اس مقابلہ کی انتہا یہ ہے کہ ’’خلیفہ قادیان

242

ہمارے سامنے معارف مرزائیہ کی تشریح فرمائیں گے اور ہم براہ راست قرآن سے معارف بتائیں گے۔ یعنی خلیفہ قادیان اپنی لیاقت سے معارف قرآنیہ نہیں بتائیں گے بلکہ (بما تحت اصول نیوگ) والد ماجد کے بتائے ہوئے کو مشروح بتائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ کے والد ماجد کے معارف کو جب ہم تحریفات قرآنیہ نام رکھتے ہیں تو آپ کی تشریحات کا نام کیا رکھیں گے؟

ناظرین! ذرا ٹھہریئے ہم آپ کو معارف مرزا اور تشریح خلیفہ کی ایک مثال بتائیں۔ بڑے مرزا قادیانی نے لیکچر سیالکوٹ میں لکھا ہے کہ ’’دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اس کے بعد دنیا کا خاتمہ ہے۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۵، خزائن ج۲۰ ص۲۰۷)

لائق بیٹے صاحب اس کی تشریح کرتے ہیں جو قابل دید وشنید ہے:

’’بعض نے غلطی سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی تحریروں سے یہ سمجھ لیا ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ حالاں کہ یہ تو ایک دور کا اندازہ ہے جس طرح سات دنوں کا ایک دور ہے۔ کیا آٹھویں دن قیامت آجایا کرتی ہے؟ نہیں بلکہ ہر جمعہ کے بعد ساتھ ہی ہفتہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ تو ایک دور ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے جس قیامت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے وہ قیامت مراد نہیں جس کے بعد فنا آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے سات ہزار سال کا ذکر فرمایا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ تعجب نہیں کہ اور ملکوں کے آدم کوئی اور ہوں۔ ممکن ہے کہ افریقہ کے لوگ اس آدم کی نسل سے نہ ہوں جس کی نسل سے ہم ہیں۔ اسی طرح یورپ کے لوگ کسی اور آدم کی اولاد ہوں۔ غرض جہاں آپ نے آدم کا ذکر کیا ہے وہاں اس آدم کا ذکر مراد ہے جس کی موجودہ نسل پائی جاتی ہے۔ پس آپ کا بصورت امکان مختلف آدموں کا تسلیم کرنا بتاتا ہے کہ جب آپ دنیا کی عمر سات ہزار سال بتاتے ہیں اور اس کے بعد قیامت بتاتے ہیں تو اس قیامت کے اور قیامت مراد ہے۔ اس سے مراد اس دنیا کی نسل کا ایک دور ہے جو ختم ہوگا اور آپ پہلے دور کے خاتمہ پر آئے۔

میرا اپنا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس دور کے خاتم اور اگلے دور کے آدم بھی آپ ہی ہیں۔ کیوں کہ پہلا دور سات ہزار سال کا آپ پر ختم ہوا اور

243

اگلا دور آپ سے شروع ہوا۔ اس لئے آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’جری اللہ فی حلل الانبیا‘‘اس کے یہی معنی ہیں کہ آپ آئندہ نبیوں کے حلّوں میں آئے ہیں جس طرح پہلے انبیاء کے ابتدائی نقطہ حضرت آدمؑ تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) جو اس زمانہ کے آدم ہیں۔ آئندہ آنے والے انبیاء کے ابتدائی نقطہ ہیں۔‘‘

(ضمیمہ اخبارالفضل ج۱۵، نمبر۶۴، کالم نمبر۱، ۲؍مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۲۸ء)

اہل حدیث: کیسی مرزائی منطق ہے اور کیسی اچھی تشریح ہے۔ ناظرین سن لیں اس تشریح سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی متوفی اس اینٹ کی طرح تھے جو دو دیواروں میں مشترک ہوتی ہے۔ یعنی یوں کونے کی اینٹ کی طرح پہلے دور کے خاتم بھی آپ اور دوسرے دور کے بابا آدم بھی آپ۔ (جل جلالہ) اب انبیاء کرام حضرات شیث، الیاس، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور سب سے اخیر محمدm مرزا قادیانی متوفی کی اولاد سے پیدا ہوں گے۔ غالباً ابھی تو شیث کا زمانہ ہے۔ بقول مرزا قادیانی چالیس صدیوں کے بعد اس دور کے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوں گے۔ پھر ابھی سے ان کو کلمہ اسلام لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں داخل کرنے کی ضرورت کیا۔

پس قادیانی امت کا پہلا فرض یہ ہے کہ اس کلمۂ اسلام کی ترمیم کرے اور اس ترمیم کرنے میں ڈرے نہیں بلکہ صاف کہہ دے۔

  1. نہ پیرویٔ قیس نہ فرہاد کریں گے

    ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

ہم ایسے معارف سننے کے لئے خلیفہ سے مقابلہ کریں تو دانایان ملک ہم کو یہ نہ کہیں گے کہ آپ نے ’’کوہ کندن وکاہ بر آوردن‘‘ کی مثال سچی کر دکھائی؟

پس اے احمدی دوستو! سن رکھو ’’اہل حدیث‘‘ اور علماء کی طرح تمہارا بے قدر نہیں ہے کہ تمہاری آواز کو (ہواء شتر) جان کر خاموش رہے بلکہ تمہارا دل سے قدردان ہے۔ پس سیدھے ہو کر چلو اور بٹالہ، امرتسر، یا لاہور میں آجائو اور سادہ قرآن شریف لے کر ہمارے سامنے تفسیر القرآن لکھو۔ لو ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ حسب خواہش خود کلید قرآن واردو تفسیرات سابقہ بھی ساتھ رکھو، مگر وقت محدود ہوگا:

تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

اہل حدیث امرتسر … ۳؍اپریل ۱۹۳۱ء

244

علم کلام مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

245

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انتم شہداء ﷲ

رسالہ علم کلام مرزا پر علمائے کرام کی رائیں

کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا؟

حضرت مولانا غلام مصطفی صاحب مفتی احناف امرتسر زاد مجدہ

’’اما بعد! انی طالعت ہذہ الرسالۃ المؤلفۃ للمولوی ثناء اللہ الامرتسری فوجدتہا قالعۃ منارۃ المتنبی من اصلہ واثبت ان علم کلام المرزا لیس الا مجموعۃ الاوہام انہ لا یسمن ولا یغنی من جوع لدی ذوالافہام فمن حسنہ فقد وقع فی الورطۃ الظلماء وحسب السراب الماء فجزی اللہ مؤلف الرسالۃ خیرالجزاء‘‘میں نے اس رسالہ کا مطالعہ کیا میں نے اس کو مرزا کے قلعہ کو گرانے والاپایا۔ مؤلف نے ثابت کیا ہے کہ مرزا کا علم کلام محض اوہام کا مجموعہ ہے اور وہ کچھ بھی کام نہیں دیتا جو اس کی تعریف کرے۔ وہ سخت اندھیرے میں گرتا ہے اور سراب کو پانی جانتا ہے۔ خدا مؤلف رسالہ کو اچھا بدلہ دے۔

جناب مولانا احمد اللہ صاحب مدرس اول دارالحدیث رحمانیہ دہلی

اما بعد! میں نے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ مؤلفہ جامع الفضائل والفواضل مکرم مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب بغور مطالعہ کیا۔ بحمد اللہ خوب رسالہ ہے۔ فرقہ مرزائیہ کے اصول کو بیخ وبن سے قلع قمع کردیا ہے۔ آب زر سے یہ رسالہ لکھنے کے لائق ہے۔ اللہ سبحانہ موصوف کی سعی کو قبول فرمائے وذخیرہ آخرت ہو۔جزاہ اللہ احسن الجزاء!

مرزا قادیانی اور فرقہ قادیانیہ باعتبار عقائدو اقرار مشابہ فرقہ آریہ وفلاسفہ کے ہیں۔ شریعت الٰہی سے ان کو کچھ نسبت نہیں۔ مذہب اشاعرہ سے ان کو بہت ہی بعد ہے اور اثبات نبوت میں مشابہ عیسائیوں کے ہیں، بلکہ کفر میں ان سے زائد اور فرعون ونمرود کے ہم پلہ ہیں اور اقرار تثلیثی ہیں۔ اثبات توحید واثبات نبوت واثبات کتب سماوی میں بالکلیہ فیل ہیں۔ دجل، کذب، خدع، مکر، تحریفیت ان کا اصل اصول ہے۔ سب وشتم میں اہل حق کے

246

متعلق ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس فرقہ مرتد اسلام سے کنارہ رہنا چاہئے۔ آخرت کی بہبودی اسی میں ہے۔والسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین!

(حررہ احمد اللہ غفرلہ مدرس مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی)

جناب مولانا مولوی ابوالمسیح احمد دین صاحب سیالکوٹیؒ

مترجم انگریزی فیصلہ مرزا، فرقہ ناجیہ، سیرت محمدیہ ومصنف لائف آف دی پرافٹ (انگریزی)

امّا بعد!رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ مصنفہ جناب مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری اوّل سے آخر تک بغور پڑھا۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے علم کلام کا واقعی فوٹو ہے۔ میری ذاتی قدیم رائے کا صحیح ترجمان اور بہترین رہنمائے اہل ایمان ہے۔ جناب مولانا ممدوح مدظلہٗ نے اس کتاب کی تصنیف سے اسلامی دنیا پر بڑا احسان کیا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ الہام کی طرح ان کے علم کلام کے ادّعا کو بھی طشت از بام کردیا۔ مجموعہ بابئل میں ایک کتاب آستر کی ہے۔ کہنے کو تو وہ صحیفہ آسمانی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ ایک لڑکی کا قصہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کا نام پاک ایک بار بھی مذکور نہیں۔ یہی حال مرزا قادیانی آں جہانی کی تصانیف کا ہے کہ ان میں بڑے زور وشور سے صداقت اسلام اور حقیقت قرآن کے معارف ونکات کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ لیکن دلیل ونکتہ کی تلاش کرو تو ندارد۔ مثلاً مرزا قادیانی کی مایۂ ناز کتاب کا نام تو ہے براہین احمدیہ جس میں تین سو دلائل صداقت اسلام ونبوت محمدیہ کے لکھنے کا ذکر کرکے مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ لیکن جو کچھ اس میں لکھا وہ فضولیات وتعلّیات کا طومار ہے۔ علم نظر واستدلال میں برہان ہی روح رواں ہے۔ مگر مرزا قادیانی کا کلام بلا برہان ہے۔ لہٰذا مردہ وبے جان ہے۔ سب وشتم، سخن سازی، وزبان درازی مرزا آنجہانی کے علم کلام کا مدار کار ہے اور خود ستائی وتعلّی ان کا پسندیدہ شعار۔ معلوم نہیں مرزا آنجہانی کے کان میں انا خیر کی ہوا کون پھونک گیا۔ خدا محفوظ رکھے۔ آمین!

جناب مولانا محمد ابراہیم صاحب میر فاضل سیالکوٹی سحبان الہند

مصنف شہادت القرآن وغیرہ!

مبسملا وحامداً ومصلیا!

رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ مؤلفہ جناب مولانا مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب فاضل

247

امرتسری فاتح قادیان پڑھا۔ جس میں جناب مولانا ممدوح نے مرزا قادیانی کو بحیثیت ایک مصنف کے پبلک کے سامنے پیش کیا ہے۔ رسالہ کیا ہے؟ چشم بد دور، ما شاء اللہ الشکور، اس سے دل میں سرور اور سینے میں نور پیدا ہوتا ہے۔ سطر سطر پر بے اختیار منہ سے مرحبا اور جزاک اللہ نکلتا ہے اور حضرت مولانا المکرم کے حق میں درازی عمر وعموم فیوض کی دعائیں عالم بالا سے ایک تار باندھ لیتی ہیں۔

حضرت مولانا ممدوح کی نظر مرزائی لٹریچر پر جیسی کچھ ہے۔ وہ محتاج بیان تعریف نہیں۔ ہم اس جگہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مولانا صاحب نے جس پیرائے سے مرزا قادیانی کو اس کتاب میں پیش کیا ہے وہ بالکل اچھوتا ہے اور پھر لطف یہ کہ جس پیرائے میں اسے نبھایا ہے۔ وہ نہایت دلچسپ اور خاص تعریف کے قابل ہے۔ جس سے قدرت نے جناب مولانا موصوف کو خصوصیت سے بہرہ اندوز کیا ہے۔ مرزا قادیانی کی مایہ ناز کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ ہے جو بالخصوص نہایت تحدی ودعویٰ سے صداقت اسلام کی حمایت میں مخالفین اسلام کے مقابلہ میں لکھی گئی ہے۔ مولانا موصوف مدظلہ نے شروع سے آخر تک اس کا تاروپود الگ الگ کرکے دکھا دیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ اس کتاب کا نام براہین رکھنا بالکل ’’برعکس نہند نام زنگی کافور‘‘ کا معاملہ ہے اور کہ اس میں فضول طوالت وتکرار ہے جس میں بجائے اس کے کہ بموجب اقرار خود اسلام وقرآن کو من عند اللہ ثابت کیا جاتا، اپنے ہی ملہم ہونے کے دعاوی ہیں اور بس۔

خاکسار کی عمر کا بیشتر حصہ اپنی مذہبی کتب کے علاوہ کتب غیر مذاہب خصوصاً قادیانی لٹریچر کے مطالعہ میں گزرا ہے۔ اس لئے علیٰ وجہ البصیرت، بلا تعصب وعناد، بشہادت خداوندتعالیٰ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی علوم عربیہ (شرعیہ وعقلیہ) کے ہر شعبہ میں ناقص تھے۔ کسی سے تو پورے ناواقف تھے اور کسی میں ادھورے تھے جو شخص باور نہ کرے وہ علوم مدوّنہ کے کسی شعبے میں مرزا قادیانی کے کمال کا دعویٰ کرے۔ وہ اس میں ان کے اپنے کلام میں سے کچھ پیش کرے۔ خاکسار خدا کے فضل سے اس میں مرزا قادیانی کا ناقص العلم ہونا اسی فن کی تصریحات سے ثابت ومبرہن کر دے گا۔

اس امر کو حضرت مولانا صاحب فاتح قادیان نے ایسا صاف کر دکھایا ہے کہ رسالہ

248

’’علم کلام مرزا‘‘ کے مطالعہ کے بعد مرزا قادیانی کی کم بضاعتی کسی سمجھ دار انصاف پسند سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ خدائے تعالیٰ حضرت مولاناکی اس خدمت کو قبول فرمائے اور آپ کو اجر جزیل عطا کرے اور مسلمانوں کو اس سے نفع عظیم وجمیل بخشے۔ آمین!

خاکسار ابوتمیم محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

جناب مکرم مولانا احمد علی صاحب ناظم انجمن خدام الدین لاہور

امابعد! محترم المقام رئیس المناظرین الفاضل الاجل جامع المنقولات والمعقولات الملقب بہ شیر پنجاب اعنی الحضرت مولانا ثناء اللہ مدظلہ کا وجود مسعود اس دور ابتلاء وافتنان میں مغتنمات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں میدان جہاد باللسان میں ایک بہت بڑا رتبہ عطا فرمایا ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان بھر میں اس فن میں ان کی نظیرکم ملے گی۔ اس فن میں وہ اس قدر ید طولیٰ رکھتے ہیں کہ مدعی نبوت (مرزا غلام احمد قادیانی) کے الہام ووحی کا مقابلہ بھی اپنی خداداد قابلیت سے ایسا کیا کہ فاتح قادیان کہلائے اور اس فرقہ دائرہ اسلام سے باجماع امت مسلمہ خارج کے دعویٰ باطلہ کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیا۔

حال ہی میں انہوں نے ایک کتاب تصنیف فرمائی ہے جس کا نام ’’علم کلام مرزا‘‘ تجویز کیا ہے جسے کئی مقامات سے میں نے بغور مطالعہ کیا ہے۔ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی قابلیت کو علم کلام کے اصول پر پرکھا ہے۔ اس میں مولانا ممدوح نے مرزا قادیانی کی قابلیت کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ یہ کتاب ایک ایسا منتر ہے۔ جس کے پڑھنے کے بعد کوئی شخص اس متنبی قادیان کے سحر میں نہیں پھنس سکتا۔ اللہ تعالیٰ حضرت ممدوح کو اس خدمت اسلام کی جزائے خیر عطا فرمائے اور مسلمانوں کو اس کی برکت سے قادیانی کے دام تزویر سے بچائے اور مولانا کو ا س کے صلہ میں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!

العارض! احقر الانام احمد علی عفی عنہ

جناب مولانا محمد ابوالقاسم صاحب (سیف ) بنارسی

الحمدللہ وکفٰی والصلوۃ علی اہلہا اما بعد!

قرآن مجید نے جو صرف مذہبی کتاب ہی نہیں بلکہ علمی کتاب بھی ہے اور ہر علم کے

249

اصول اس میں موجود ہیں۔ تعلیم امور دینیہ کے ساتھ ساتھ اصول مناظرہ وطریق کلام کی بھی تعلیم دی ہے۔ قیاس کے صناعات خمسہ میں سے برہان وخطابیات اور جدل کو بتفاوت مدارج قبول کیا ہے اور شعروسفسطہ سے یکلخت گریز فرمایا ہے۔

چنانچہ سورہ نحل میں ارشاد ہے ’’ادع الٰی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ہی احسن۔ (النحل:۱۲۵)‘‘

(یعنی بلا اپنے رب کے دین کی طرف محکم دلائل (برہان) سے اور موعظہ حسنہ (خطابیات) سے اور مجادلہ کر اچھے طریق سے)

یعنی اس میں مغالطہ اور سفسطہ نہ ہو اور وہم کی پیروی نہ ہو جس کو شعر کہتے ہیں۔ جس کی نفی صراحۃً موجود ہے’’وما علّمناہ الشعر وما ینبغی لہ (یٰسین:۶۹)‘‘ حکم مجادلہ کے ساتھ قید احسن نے بتایا ہے کہ سفسطہ اور شعر مذموم ہیں خاص کر امور مذہبی میں۔ایک اور جگہ فرمایا:

’’ولا تجادلوا اہل الکتاب الّا بالتی ہی احسن (عنکبوت: ۴۶)‘‘

اس آیت میں بھی وہی تعلیم مذہبی مبلغوں اور متکلموں کو دی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ متکلمین کی بحث کو ہمیشہ سفسطہ اور کلام شعراء سے پاک وصاف ہونا چاہئے۔ اس کے برخلاف پنجابی متنبی (مرزا قادیانی) کی تصنیفات کا مطالعہ کیجئے تو برہان وخطابیات اور مجادلہ حسنہ کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا۔ یعنی قرآن پاک کا جو طرز تکلم وتعلیم ہے اس کے یکسر خلاف۔ قرآن کے نزدیک جو مذموم ومتروک ہے وہ قادیانی متکلم کے ہاں معمول ومقبول اور جو قرآن کا معمول ومقبول ہے۔ وہ وہاں متروک۔

اس چیز کو نہایت وضاحت سے حضرت الاستاذ الافاضل حجۃ المتکلمین صفوۃ المناظرین حضرت مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب شیر پنجاب وفاتح قادیان نے اپنی اس جدید التالیف کتاب ’’علم کلام مرزا‘‘ میں بیان فرمایا ہے اور خوب بیان فرمایا ہے۔ف اللہ درہ علی اللہ اجرہ!

مولانا ممدوح کا زور بیان اور ہر فن میں ان کا کمال مسلم ہے۔ بیک وقت ہر مخالف کا فوری اور مسکت جواب دیتے ہیں۔ ایک طرف اہل بدعت بہرصنف کا الزامی وتحقیقی جواب لکھ رہے ہیں تو دوسری طرف شیعہ وروافض کی تردید فرما رہے ہیں۔ ایک طرف مرزائی

250

قادیانی ولاہوری کے خرافات کا ابطال فرماتے ہیں تو دوسری طرف اہل قرآن چکڑالوی وغیر چکڑالوی کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ ایک طرف عیسائیوں کا دفعیہ فرما رہے ہیں تو دوسری طرف آریوں، بابیوں اور بہائیوں کا قلع قمع کررہے ہیں۔ ایسے جامع شخص اسلام میں کم پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو عمر نوح عطا فرمائے اور ان کی ہمت واستقلال، ان کے ارادہ وعزم اور ان کے علم وفہم میں برکت اور ترقی دے اور ہمارے سروں پر آپ کا سایہ دیر تک قائم رکھے:

ایں دعا از من وازجملہ جہاں آمیں باد

عبدہ محمد ابوالقاسم بنارسی

جناب مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند

الحمدللہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفی! مرزا غلام احمد قادیانی کے مختلف الاذان دعاوی کاذبہ پر علماء اسلام کافی روشنی ڈال چکے ہیں۔ ان کی خانہ ساز نبوت، مجددیت، محدثیت، امامت وغیرہ کا پوری طرح پردہ فاش ہوچکا ہے۔ تاہم اس متنبی پنجاب کی چھپی ہوئی اور بہت سی خفی روباہ بازیاں پردہ خفا میں رہ گئی تھیں۔ ان کو سامنے لا کر قوت سے کچلنے کے لئے شیر پنجاب کو کہ انہوں نے جہاں بہت سے پہلوئوں سے متنبی پنجا ب کو تابدروازہ پہنچایا وہیں مرزا قادیانی کے انوکھے علم کلام پر بھی کافی کلام کرکے اس کی قلعی کھول دی اور رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ تصنیف فرما کر واضح کردیا کہ مرزائی اصطلاح میں علم کلام معقول استدلالات کے بجائے سب وشتم طعنہ زنی اور شاعرانہ طریق پر اظہار غیظ کا نام ہے۔ رسالہ جہاں جہاں سے بھی احقر نے پڑھا نہایت سلیس عام فہم اور اپنے موضوع پر حاوی ہے۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ ! رہروان جادہ تحقیق کے حق میں مشعل ہدایت اور حیرانوان کے لئے شفائے صدر ثابت ہوگا۔ والحمدللہ اوّلاً وآخرا!

جناب مولانا ابن شیر خدا مولوی مرتضیٰ حسن صاحب (دیوبندی)

باسمہ تعالٰی حامداً ومصلیاً ومسلما!

’’علم کلام مرزا‘‘ مصنفہ مولوی ابوالوفاء صاحب میرے خیال میں اپنے موضوع

251

میں بالکل نیا ہے۔ اس رسالہ کی ضرورت تھی۔ اس کو مولوی صاحب نے پورا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عنایت فرماوے۔ طالب حق اگر اسے پڑھے تو ان شاء اللہ ! اسے مفید ہوگا۔ بوجہ عجلت کے میں نے ابھی تک کل رسالہ نہیں دیکھا۔ مگر جن مقامات کو دیکھا بہت اچھا ہے۔ مسلمان اور طالبین حق اس کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔

وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین!

مولانا سید سلیمان صاحب ندوی مدیر رسالہ معارف اعظم گڑھ

مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کا یہ رسالہ میں نے پڑھا۔ موصوف کو مرزا قادیانی کی کتابوں اور رسالوں پر جو عبور حاصل ہے۔ وہ محتاج بیان نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جس کو مرزا قادیانی کا علم کلام کہا جاتا ہے۔ اگر وہ موجود بھی ہو تو وہ سراسر لفاظی، ضلع جگت، خطابت اور محرف تاویلات پر مبنی ہے اور ان کے کلام کا بہترین نمونہ براہین احمدیہ ہے۔ جس میں سینکڑوں صفحات کے بعد بھی یہ حال ہے کہ ’’مدعا عنقاء ہے اپنے عالم تحریر کا‘‘ مصنف سے شکایت ہے تو یہ کہ یہ اپنے موضوع پر بہت مختصر ہے۔

(سید سلیمان ندوی)

جناب مولانا غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ عباسیہ بہاول پور

میں نے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ کا بتمامہ کا مطالعہ کیا۔ رسالہ ہذا اپنے باب میں بے نظیر ہے۔ مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب ایڈیٹر اہل حدیث امرتسر مصنف رسالہ ہذا کو فرقہ مرزائیہ کی تردید میں جو قوت خداداد حاصل ہے۔ یہ رسالہ اس کا مظہر اتم ہے۔

اتباع مرزا کو مرزاقادیانی کی اس حیثیت (متکلم) پر بہت ناز ہے۔ مولانا ممدوح الصدر نے اس رسالہ میں اس حیثیت (متکلم) کی ایسی قلعی کھولی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مبادیات علم کلام سے بھی ناواقف تھے۔ بالخصوص عالم کے قدم نوعی کا عقیدہ تو مرزا قادیانی کو بجا طور پر فرقہ آریہ میں داخل کررہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی سعی مقبول فرمائے اور رسالہ ہذا سے اپنی خلق کو نفع بخشے۔فانہ علٰی ما یشاء قدیر!

مولانا حکیم محمد عالم صاحب آسی

شیر پنجاب مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ میں خواص مرزا

252

کے چند نمونے دکھائے ہیں۔ سب سے اوّل براہین احمدیہ کا حال لکھا ہے کہ کس طرح تین سو دلائل دینے کا وعدہ کیا اور کس طرح تئیس سال تک بھی پورا نہ کیا۔ رسالہ ہذا میں مولانا نے کرشن قادیانی کے تمام حلقہ بگوشوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے۔ مسلمانوں کو مولوی صاحب موصوف کی اس جاں فشانی کی قدر کرنی چاہئے۔ ایک دفعہ یہ کتاب ضرور مطالعہ کرکے مستفید ہونا چاہئے۔

(مولانا محمد عالم آسی مصنف رسالہ ’’کاویہ‘‘ مدرس مدرسہ اسلامیہ امرتسر)

مولانا عبدالعزیز صاحب ساکن قلعہ میہاں سنگھ ضلع گجرانوالہ

رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ مؤلفہ مولوی ثناء اللہ امرتسری، میں نے اوّل سے آخر تک پڑھا۔ مولوی صاحب مذکور نے جو کچھ اس میں لکھا ہے نہایت صحیح ہے۔ واقعی مرزا قادیانی آں جہانی علم کلام سے ناواقف تھے۔ بلکہ صرفی نحوی غلطیاں بھی آپ سے سرزد ہوجاتیں۔

مولوی عبدالرحیم فیروز پوری مبلغ اہل حدیث کانفرنس دہلی

میں نے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ مصنفہ حضرت مولانا المکرم ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب بغور دیکھا ہے۔ اپنے موضوع میں نہایت عمدہ چیز ہے۔

حضرت مولانا سردار اہل حدیثمتعنا اللہ بطول حیاتہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات وپیش گوئیوں کے متعلق متعدد رسالہ جات تصنیف فرمائے ہیں۔ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات کی خوب قلعی کھولی ہے۔ امت مرزائی ہمیشہ سے اس بات پر فخر کرتی رہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی فن تصنیف وعلم مناظرہ میں ایک بے نظیر شخص تھے۔ خدا جزائے خیر دے حضرت مولانا صاحب ممدوح کو، جنہوں نے رسالہ ہذا تصنیف فرما کر مرزائیوں کے اس دعویٰ کو بھی غلط ثابت کردیا۔

پس اس رسالہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مرزا قادیانی جیسے الہامات میں فیل ثابت ہوچکے ہیں۔ ویسے ہی فن تصنیف وتالیف میں ناکام رہے ہیں۔ خاکسار نے قبل ازیں اس موضوع پر کوئی رسالہ نہیں دیکھا۔ مرزائی مباحث سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اس تحفہ بے بہا کو اپنے پاس محفوظ رکھیں اور اس کی اشاعت میں سعی بلیغ فرمائیں۔

253

جناب مولوی محمد امین صاحب امرتسری مبلغ اسلام

رسالہ موسومہ بہ ’’علم کلام مرزا‘‘ جو مصنفہ فاتح قادیان سردار اہل حدیث حضرت مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب متع اللہ المسلمین بطول حیاتہ کا ہے جن کا خداتعالیٰ نے جملہ مذاہب باطلہ کی استیصال (تردید) اور مذہب حقہ (اسلام) کی تائید ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔ مرزا قادیانی کی مایہ ناز خدمات اسلام اور علم مناظرہ (علم کلام) کا پول کھول کر ملک پر بڑا احسان کیا ہے اور بتا دیا ہے کہ مرزا قادیانی کو ئی جامع مصنف نہ تھے۔ امام فن تو کجا! رسالہ مذکورہ کو جو کوئی بھی بنظر انصاف دیکھے گا وہ مرزا قادیانی کے حق میں وہی رائے رکھے گا جو میں نے ظاہر کی ہے۔ اس لئے رسالہ مذکورہ کا ہر خواندہ شخص کے گھر میں ہونا ضروری ہے ’’ﷲ درہٗ وعلی اللہ اجرہٗ‘‘ اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کا سایہ ہم پر تادیر رکھے۔

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمیں باد

(رقمہ محمد امین عفی عنہ امرتسری)

منشی محمد عبد اللہ صاحب معمار مضمون نگار امرتسری

مرزا قادیانی ے جس قدر بلند بانگ سے متعدد دعاوی کرتے ہوئے اپنی صداقت کو مختلف دلائل، پیش گوئیوں، پس گوئیوں، نشانات والہامات وغیرہ سے ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔ ان سب کی چھان بین، تنقید وتردید میں علمائے کرام بالخصوص اس مرد خدا فاتح قادیان شیر پنجاب حضرت مولانا ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری نے نمایاں حصہ لیا کہ ہر پہلو سے اس بت ضلالت کو اپنی خداداد علمیت کے تیروں سے چھلنی کردیا۔ مگر ایک پہلو پر آج تک توجہ نہ فرمائی تھی جو بزعم اتباع مرزا ایسا انوکھا تھا کہ سنین ماضیہ میں علمائے عظام میں سے کوئی بھی اس رتبہ کو نہ پہنچا۔ خدا کا شکر ہے کہ حضرت مولانا ممدوح نے مرزائیوں کے اس ’’باعث افتخار‘‘ وصف کی طرف توجہ فرمائی اور رسالہ زیر تقریظ ’’علم کلام مرزا‘‘ کے ذریعہ اس پر وہ گولہ باری کی کہ الامان والحفیظ! مرزا قادیانی کے مبلغ علم بحیثیت فن مناظرہ وموجد علم کلام وواضع اصول کلام کا خوب قلع قمع کیا اور دلائل قاطعہ وبراہین ساطعہ سے مہر نیمروز کیطرح ثابت کردیا کہ مرزا قادیانی اس پہلو میں بھی محض طبل بلند بانگ تھے۔ مرزا قادیانی کی

254

تحریرات جس قدر اس رسالہ میں نقل ہوئی ہیں ان سے جتنا کچھ تعجب ہوتا ہے۔ خواجہ کمال الدین صاحب لاہوری کی تحریر اس سے بھی زیادہ باعث استعجاب ہے جو باوجود ایک راسخ مرزائی ہونے کے تحریرات مرشد خود سے ناواقف ہیں۔ دیکھئے اصول احمدیہ ص۷۷ میں سے اصول نمبر۱۰ خواجہ صاحب نے ’’مجدد کامل‘‘ ص۱۱۶ پر کس فخر سے لکھا ہے کہ:

’’عیسائیت کے خلاف جو دسواں اصول مرزا قادیانی نے ایجاد کیا۔ وہ نہ صرف اپنی نوعیت میں نیا ہے بلکہ اس نے اس مذہب (عیسائی) کا خاتمہ ہی کردیا۔‘‘

وہ یہ ہے: ’’مذہب کلیسوی کی کوئی تعلیم کا ایک امر بھی ایسا نہیں جو قدیمی کفار کے مذہب سے مسروقہ نہ ہو۔‘‘

یوں تو خواجہ صاحب نے اس اصول کو بڑے طمطراق سے پیش کیا۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ مرزا قادیانی نے اس کے نیچے اسلام کو گرانے کو بم کا گولہ رکھا ہوا ہے۔ خواجہ صاحب بغور ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی رقم طراز ہیں: ’’ماسوا … اس کے جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے وہ تعلیم ویدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح لاہور ص۱۰ خزائن ج۲۳ ص۴۴۵)

خواجہ صاحب انصاف فرمائیں کہ آپ کے پیش کردہ اصول کی رو سے ان الفاظ مندرجہ ’’پیغام صلح‘‘ سے آپ کے پیرومرشد نے جملہ مخالفین اسلام کے ہاتھ ایک تیز کلہاڑی دی ہے یا نہیں؟

ناظرین کرام! یہ ایک مثال ہے مرزائی علم کلام کی اور اس جیسی بلکہ اس سے بڑھ چڑھ کر بیسیوں مثالیں اس رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ میں موجود ہیں۔ لہٰذا میں تمام اسلامی انجمنوں اور اصحاب ثروت وامراء ملت کی خدمت میں بزور گزارش کروں گا کہ آپ اس رسالہ کو اپنوں بے گانوں میں مفت تقسیم فرمائیں۔

بالآخر اس تازہ احسان کو زیر نظر رکھ کر جو مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب نے جملہ اہل اسلام پر کیا ہے حضرت موصوف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔فجزاہ اللہ تعالٰی عنیوعن سائرالمسلمین الٰی یوم الدین والحمدللہرب العالمین!

255

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمد اللہ ونستعینہ ونصلی علی النبی واٰلہ!

علم کلام مرزا

پہلے مجھے دیکھئے

جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو ہندوستانی پبلک جانتی ہے آپ کا دعویٰ مجموعہ کمالات کا ہے، عالم، محدث، مجدد، نبی، رسول، کرشن، مسیح موعود اور مہدی مسعود۔ ان کے علاوہ سلطان القلم، رئیس المتکلمین، شعر مندرجہ ذیل انہی کاہے:

  1. آدمم نیز احمد مختار

    در برم جامہ ہمہ ابرار

اس لئے علمائے اسلام بلکہ غیر اسلام نے بھی آپ کی شخصیت پر ہر طرف سے نگاہ ڈالی۔ خاکسار نے بھی آپ کی شخصیت کو قرآن وحدیث سے جانچا۔ آپ کے الہامات اور کشوف سے بھی پرکھا۔ یہاں تک کہ آپ کے سوانح عمری کے متعلق کتاب ’’تاریخ مرزا‘‘ بھی لکھی۔ باوجود کافی ذخیرہ ہوجانے کے ایک حیثیت کا تقاضا رہ گیا۔ یعنی مرزا قادیانی کو بحیثیت منصف اور متکلم کے دکھایا جائے۔ کیوں کہ احمدی جماعت مرزا قادیانی کی شخصیت کو دنیا میں بحیثیت مصنف اور متکلم کے بھی ایسی حیثیت کا دکھاتی ہے جس سے ان کی مسیحیت موعودہ ثابت ہو۔ چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد مرزائی کا قول ہے:

خدا کا پہلوان مذہبی دنگل کے بیچ میں

’’کسی شخص کو اس بات سے انکار ہوسکتا ہے کہ آج مذہبی تحریکوں کا اکھاڑہ جس نمایاں طریق پر ملک ہندوستان ہے وہ دنیا کا کوئی ملک نہیں اور ہندوستان میں پنجاب کے صوبہ نے اس امر میں جس قدر حصہ لیا ہے اور کسی صوبہ نے نہیں لیا۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں ہوسکتا۔ یورپ اور امریکہ مذہب کو چھوڑ رہا ہے۔ افریقہ ابھی وحشت سے نہیں نکلا۔ ایشیا میں عرب، روم اور شام تک خاموش ہے تو اور کسی کا ذکر ہی کیا ہے۔ یہ واقعات ہیں جن کا انکار کرنا صداقت کا انکار کرنا ہے۔ پھر اسلام کا خادم اگر کوئی اس زمانہ میں پیدا ہوسکتا تھا اور وہ جری اللہ یعنی خدا کے پہلوان کی حیثیت سے اگر اس مذہبی دنگل میں کوئی پارٹ ادا کرنے

256

کے لئے خدا کی مشیت کے نیچے مامور ہوسکتا تھا تو اس کا مولد ومسکن پنجاب ہونا چاہئے تھا اور ایسا ہی ہوا۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کا ظہور پنجاب میں خدا کے پہلوان کو عین دنگل کے بیچ میں ثابت کرتا ہے۔‘‘

(پیغام صلح ۷، جون ۱۹۳۲ء ص۵)

پس ہم بھی اس کتاب میں مرزا قادیانی کو بحیثیت علم کلام کے جانچتے ہیں۔

نوٹ: مرزا قادیانی کے علم کلام کو ان کے اتباع تو بہت اونچا دکھاتے ہیں۔ مگر وہ خود اپنے ’’علم کلام‘‘ کو الہامی درجہ سے بہت کم جانتے تھے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ علم کلام درجہ الہام سے بہت کم رتبہ ہے۔ اس لئے کہ علم کلام انسانی فہم وذکاء کا درجہ ہے جس میں ہر طرح غلطی کا امکان ہے اور الہام خدائی تعلیم ہے جس میں غلطی بالکل مرتفع ۔ جس کی شان ہے’’علمناہ من لدنا علما‘‘

اس لئے مرزا قادیانی نے جون ۱۸۹۳ء میں ڈپٹی آتھم عیسائی سے بڑا زور دار پندرہ روزہ مباحثہ کرکے آخر میں لکھا۔

’’آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کرسکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کررہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص حق پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیش گوئی ظہور میں آوے گی، بعض اندھے سوجھاکے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے … میں حیران تھا کہ اس بحث میں مجھے کیوں آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اسی نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خداتعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میںنہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیا کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر

257

ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین وآسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘

(جنگ مقدس ص۲۰۹، ۲۱۰ خزائن ج۶ ص۲۹۱ تا ۲۹۳)

اس اقتباس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی ملہم کا درجہ مناظر سے بلند تر ہے اور یہ کہ مرزا قادیانی خود بھی اپنے مناظرہ اور علم کلام کو چنداں بلند پایہ نہ جانتے تھے۔ بلکہ اس بڑے مباحثے کو بھی معمولی مباحثوں کی طرح جو معمولی مناظر کرتے پھرتے ہیں قرار دیتے تھے۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کا دعویٰ الہام جانچ لینے کے بعد کسی مزید کوشش کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن چوں کہ ان کے اتباع مرزا قادیانی کی ہر ایک حیثیت کو ان کی مسیحیت موعودہ پر دلیل جانتے ہیں اور ان کی متکلمانہ حیثیت سے بھی ان کی مسیحیت منواتے ہیں۔ اس لئے ضرورت ہوئی کہ مرزا قادیانی کو بحیثیت ایک مصنف اور متکلم کے بھی دیکھا جائے کہ کس رتبے کے تھے۔

ہماری رائے کا خلاصہ

یہ ہے کہ مرزا موصوف بحیثیت فن تصنیف بہت معمولی مصنف تھے اور علم کلام میں تو آپ کو کوئی بڑا نمایاں حصہ نہ تھا۔ کیوں کہ آپ ان اصحابہ سے تھے جن کا قول ہے:

  1. پائے استدلالیاں چوبیں بود

    پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود

(براہین احمدیہ ص۵۶۲ خزائن ج۱ ص۶۷۲)

ہمارا یہ دعویٰ اتباع مرزا کو مکروہ معلوم ہوگا۔ مگر محض دعویٰ سن کر تردید پر کمر بستہ ہوجانا اور دلیل سے نہ سوال کرنا نہ دلیل پر غور کرنا بھی علم کلام میں نقصان علم کی علامت ہے۔ اتباع مرزا اگر ہمارے دعویٰ کو سن کر کتاب ہذا نہ دیکھیں گے تو وہ سمجھ رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا فرعونی فعل سے بھی گرا ہوا ہوگا۔ جس نے حضرت موسیٰؑ کا دعویٰ رسالت سن کر دلیل طلب کی تھی ’’ان کنت جئت بایۃ فأت بہا (اعراف: ۱۰۶)‘‘

اس لئے ناظرین کتاب ہذا اتباع مرزا ہوں یا اعداء مرزا۔ سب کا فرض ہے کہ اس کتاب میں پیش کردہ واقعات پر نظر کریں۔ اپنی محبت یا عداوت کو دخل نہ دیں۔

التماس: علمائے اسلام بالخصوص علمائے کلام اور طلباء اس رسالہ میں مخاطب اوّل ہیں۔

(ابوالوفاء ثناء اللہ )

258

تمہید

علم کلام: اس علم کا نام ہے جس میں عقائد اسلامیہ کی تصحیح اور خیالات کفریہ کی تردید دلائل عقلیہ کے ساتھ۔ یعنی عقلی طریق سے کی جاتی ہے۔ علم منطق اور فلسفہ وغیرہ علوم عقلیہ اس علم کے خادم ہیں۔ علم کلام کے جاننے اور برتنے والے کو متکلم کہتے ہیں اور اس گروہ کا نام متکلمین ہے۔ امام غزالیؒ اور رازیؒ، شیخ ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہ ؒ وغیرہ اسی گروہ کے معزز ارکان ہیں۔

علمائے منطق نے طریقہ کلام اور مواد کلام وغیرہ سب لکھا ہے۔ ہم بغرض اختصار بہت مختصر سی کتاب سے نقل کرتے ہیں:

’’القیاس اما برہانی یتالف من الیقینیات واما جدلی یتالف من المشہورات والمسلمات واما خطابی یتالف من المقبولات والمظنونات واما شعری یتالف من المخیلات واما سفسطی یتالف من الوہمیات والمتشابہات‘‘

(تہذیب المنطق)

’’قیاس(۱) … یا برہانی ہوتا ہے جو یقینیات سے مرکب ہوتا ہے۔ (۲)… یا جدلی ہوتا ہے جو مشہورات اور مسلمات سے مرکب ہوتا ہے۔ (۳)… یا خطابی ہوتا ہے جو مقبولات اور مظنونات سے مرکب ہوتا ہے۔ (۴)… یا شعری ہوتا ہے جو محض خیالی امور سے مرکب ہوتا ہے۔ (۵)… یا سفسطی ہوتا ہے جو محض وہمیات سے مرکب ہوتا ہے۔‘‘

ان میں سے ہر ایک کی مثال درج ذیل ہے۔ مثلاً:

۱… دنیا متغیر ہے اور جو چیز متغیر ہے وہ حادث ہے۔

۲… یہ بات سچی ہے اور سچی بات اچھی ہے۔

۳… (جو شخص حدیث کو سند جانتا ہے اس کے سامنے کہنا) یہ حکم حدیث کا ہے اور جو حکم حدیث کا ہے وہ صحیح ہے۔

۴… میرا محبوب سورج ہے۔ سورج کی طرف دیکھا نہیں جانتا۔ اسی بنا پر یہ شعر ہے:

وہ نہ آئیں شب وعدہ تو تعجب کیا ہے

رات کو کس نے ہے خورشید درخشاں دیکھا

۵… یہ لڑکا دیوار پر چل رہا ہے۔ جو دیوار پر چلے وہ گر پڑتا ہے۔

259

اہل منطق ان اقسام کو صناعات خمسہ کہتے ہیں۔ ان میں سے اعلیٰ درجہ برہان کا ہے جو یقینی دلیل ہے باقی یقینی نہیں۔ شعری صنعت سے مراد نظم نہیں بلکہ محض شاعرانہ خیالات اور تلازمات مراد ہیں۔ شاعر ایک خیال ذہن میں باندھ لیتا ہے پھر اس کے تلازم لاتا ہے۔ مثلاً اردو شاعر نے اپنے معشوق کی کم گوئی کی وجہ سے اس کے منہ کو جزو لا یتجزی مان لیا۔ یعنی وہ چیز جو کسی طرح تقسیم نہیں ہوسکتی۔ پھر اس کا تلازم بتانے کو کہتا ہے:

  1. تقسیم جزو لا یتجزی کی ہوگئی

    سہواً سخن جو ان کے دہن سے نکل گیا

ایسے شعر کو بہت موزوں کہتے ہیں۔ فن شعر میں شعر کی خوبی صداقت پرنہیں ہوتی بلکہ خیال اور خیال کے تلازم پر ہوتی ہے۔ اہل کلام جس مضمون کو غلط اور بے ثبوت کہنا چاہتے ہیں۔ اس کی نسبت کہا کرتے ہیں: ’’یہ شعری ہے۔‘‘

ناظرین! ان صناعات خمسہ کو یاد رکھیں اور ہماری معروضات کو غور سے سنیں۔ مرزا قادیانی نے ان مواد میں سے کس مادہ کو اختیار کیا؟ ہمارا خیال ہے کہ جناب مرزا غلام احمد علوم عقلیہ کلامیہ سے بالکل اجنبی تھے۔ اس لئے ان سے ان کی پابندی نہ ہوسکی۔

مرزا قادیانی کی تصانیف کس صنعت سے ہیں۔ اس بات کا بتانا اس رسالہ کا موضوع ہے۔ ہاں مجمل طور پر اس تمہید میں یہ بتانا بھی مفید ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اہل منطق کی ان صناعات خمسہ کے علاوہ ایک جدید صنعت بھی ایجاد کی تھی۔ جس کا نام ’’صنعت دشنام‘‘ ہے یعنی مخاطب یا اس کے واجب العزت بزرگوں کو ایسے سب وشتم سے یاد کرتے کہ وہ سن کر تاب گفتگو نہ لاسکتا اور اس کی خاموشی کو مرزا قادیانی اور اس کے اتباع اپنی فتح قرار دیتے۔ ہمارے اس دعوے کا ثبوت اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان کے ایک طویل مضمون سے ملتا ہے جو خاص اسی غرض کے لئے لکھا گیا ہے۔ جس کا عنوان بھی اسی غرض کے اظہار کے لئے موزوں ہے۔ وہ یہ ہے:’’حضرت مسیح موعود کے علم کلام کی شاندار فتح حضرت عیسیٰ اور یسوع (مسیح) کی حقیقت‘‘۔

’’آج سے نصف صدی پیشتر جب کہ مسیحی مشنری سر زمین ہند پر پوری قوت سے حملہ آور ہورہے تھے۔ انہوں نے اسلام اور سید المعصومین حضرت محمد مصطفیﷺ کےبرخلاف طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا تھا۔ ترغیب وترہیب کے تمام طریقے اور مکروفریب کی سب اقسام استعمال کررہے تھے۔ اسلام سے بدظن کرنے کے لئے سید الانبیاء کو گالیاں دی جاتی تھیں۔ گندی کتابیں اور سب وشتم سے لبریز پمفلٹ شائع کئے جارہے تھے کہ غیرت

260

خداوندی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے گلستان احمد کی نگہبانی اور آپ کی عزت کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزا) کو مبعوث فرمایا۔ آپ دشمنان اسلام کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور اپنی بعثت کا مقصد ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

  1. جانم فدا شود برہ دین مصطفی

    اینست کام دل اگر آید میسرم

خدا کا برگزیدہ (مرز) اپنے اس بلند مقصد کو نہایت کامیابی سے پورا کرکے اپنے محبوب حقیقی کے پاس چلا گیا۔ اس کی تصانیف پر نظر کرنے سے بآسانی معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ ایک درد مند اور سوختہ دل لے کر آیا تھا۔ رسول کریمﷺ پر دشمنوں کے پیہم تیروں اور ناقابل برداشت بدزبانیوں نے اس کے قلب کو پاش پاش کردیا۔ وہ اپنے محبوب کے لئے غیور تھا اور اس کا سچا عاشق تھا۔ اس لئے اس کی بے چینی اور دل نگاری قیاس سے بالا تھی۔ لیکن اس کا سوزوگداز کار گر ثابت ہوا۔ اس کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ وہ اس دنیا سے تب گیا جب اپنے تمام دشمنوں پر اس بارہ میں بھی اتمام حجت کرچکا تھا… آخری ایام میں نہایت پر شوکت کلام رعب وہیبت سے لبریز الفاظ اور جلالی۱؎شان میں فتح نصیب جرنیل کی طرح یہ کہتے ہوئے پاتے ہیں: ’’ اب کوئی پادری تو میرے سامنے لائو جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرتﷺ نے کوئی پیش گوئی نہیں کی۔ یاد رکھو کہ وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گزر گیا۔ اب وہ زمانہ آگیا ہے جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئیں جس کے نام کی بے عزتی کی گئی۔ جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتابیں۲؎اس زمانہ میں لکھ کر شائع کردیں۔ وہی سچا اور سچوں کا سردار ہے۔ اس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا ہے۔ مگر آخر اسی رسول کو تاج عزت پہنایا۔ اس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدا مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے اور جس پر خدا کے عیبوں اور نشانوں کا دروازہ کھولا گیا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۷۴ خزائن ج۲۲ ص۲۸۶)

نشان نمائی میں دعوت مقابلہ اور آسمانی تائیدات میں معجزانہ تحدی ایک فیصلہ کن امر تھا اور نشانات سماویہ کی بارشیں سلام کی زندگی اور بانیٔ اسلامm کی حیات جاوید کا قطعی

۱؎ احمد اور جلالی؟

۲؎ اتنی کتابیں آپ نے دیکھیں یا سنیں یا الہام ہوا؟

261

اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ اس میدان میں مخالفین اسلام آریوں اور عیسائیوں نے۱؎جو ذلت اور شکست اٹھائی وہ ایک ظاہر وباہر امر ہے۔ ان سطور میں مجھے اس سے بحث کرنا مطلوب نہیں بلکہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعود (مرزا) نے دجالی فتنہ کو پاش پاش کرنے کے لئے جو علم کلام اختیار فرمایا ہے کس قدر کامیاب اور کتنا زود اثر ثابت ہوا۔ میری مراد حضور (مرزا) کے اس طریق خطاب سے ہے جو آپ نے پادریوں کے جواب میں یسوع مسیح کی حقیقت آشکارا کرنے کے لئے اختیار فرمایا اور جس پر بعض مسلمان کہلانے والے بھی اپنی نافہمی سے معترض ہوئے اور اسے توہین مسیح قرار دینے لگے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے پادریوں کے تمام حملوں کا فرداً فرداً جواب دینے کے بعد قرآن پاک کی روشنی میں اور سلف صالح کے طریق عمل کے مطابق بائبل کی رو سے یسوع مسیح کی حقیقت اس طرح واضح طور پر پیش کی کہ پادریوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تند اور ہولناک سیلاب جو پادریوں کی بدزبانی کا امڈا چلا آیارہا تھا۔ رک گیا اور یہی مقصود تھا۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۹، نمبر۱۰۶، ص۵، کالم ۱تا۳، مورخہ۶؍مارچ ۱۹۳۲ء)

مصنف: اس طویل مضمون کا مفہوم واضح ہے کہ مرزا قادیانی نے یسوع کو بحیثیت صفات مزعومہ نصاریٰ کے بہت کچھ برا بھلا کہا۔ کیوں کہا؟ اس لئے کہ عیسائیوں نے ہمارے نبیﷺ کو برا کہا تھا۔

نوٹ: ناظرین، خصوصاً علماء کلام غور فرمائیں کہ یہ طریق کلام کہاں تک صحیح ہے؟ کہ براکہیں عیسائی اور مرزا غلام احمد قادیانی اس کے جواب میں برا کہیں یسوع مسیح کو۔ شاید انہی معنی میں کہا گیا ہے:

  1. محتسب خم شکست ومن سراو

    سن بالسن الجروح قصاص

ہم اس مضمون کا جواب نہیں دیتے بلکہ ناظرین کے سامنے وہ الفاظ رکھ دیتے ہیں جو مرزا قادیانی نے یسوع مسیح کے حق میں لکھے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ (نقل کفر)

۱؎ ۶؍ستمبر کو؟ جس کی بابت مولوی سعد اللہ مرحوم نے لکھا تھا:

  1. غضب تھی تجھ پے ستم گر چھٹی ستمبر کی

    نہ دیکھی تو نے نکل کر نہ چھٹی ستمبر کی

262

’’آپ (یسوع) کا خاندان بھی نہایت پاک ومطہرہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۷ خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

نوٹ: اس اقتباس میں ’’یسوع‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔ دوسرے میں اسلامی نام ’’مسیح‘‘ کے ساتھ کوسا ہے جو یہ ہے:

’’مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھائو پیو، شرابی ، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج سوم ص۲۳، ۲۴مکتوبات احمد ج۱، ص۱۸۹، مکتوب نمبر۹)

اسی طرح مخالف علماء اسلام کے حق میں بھی اظہار غیظ وغضب کیا۔ چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں:’’ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷ ، ۵۴۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

(ہرمسلمان مجھ کو محبت کی نظر سے دیکھتااور مجھے قبول کرتا اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ لیکن زنا کار عورتوں کی اولاد نہیں مانتی۔)

اس کے ساتھ علماء سلام کو مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی یاد کیا ہے:

’’اے بد ذات فرقہ مولویاں! تم کب تک حق کو چھپائو گے؟ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۱)

نوٹ:مرزا قادیانی کے اس قسم کے الفاظ کا مجموعہ دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ ’’ہندوستان کے دو ریفارمر‘‘ دیکھئے!

شروع مقصد

مرزا قادیانی کی زندگی کے دو حصے ہیں (۱)زمانہ براہین احمدیہ تک۔ (۲)زمانہ

263

دعویٰ مسیحیت سے انجام تک۔ ان دو زمانوں میں مرزا قادیانی کا علم کلام بھی دو طرح پر ہے:

الف: خطاب بکفار متعلق اسلام۔

ب: خطاب باہل اسلام وغیرہ متعلق دعویٰ مسیحیت خود۔ یعنی براہین احمدیہ کی چار جلدوں تک مرزا قادیانی کا خطاب کفار کی طرف تھا۔ براہین احمدیہ کے بعد اہل اسلام کی طرف ہوا۔ بلکہ یوں کہئے کہ سارا زور اپنی مسیحیت کے اثبات میں لگا دیا۔ اس لئے ہم بھی اپنی کتاب کے تین باب بناتے ہیں۔ اوّل: خطاب کفار۔ دوم:خطا ب علماء اسلام۔ سوم: مرزا قادیانی کے قواعد مخصوصہ۔

ا ب رہی یہ بات کہ مرزا قادیانی کی کون سی کتاب کفار کے خطاب میں ہے اور کون کون سی علماء اسلام کے خطاب میں۔ سو اس کی تلاش سے ہم بے فکر ہیں۔ کیوں کہ مرزا قادیانی نے تصریح کے ساتھ ہم کو اس تلاش سے مستغنی کردیا۔ چنانچہ لکھا ہے:

’’ہندوئوں کے مقابل میں نے کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ اور ’’سرمہ چشم آریہ۱؎‘‘اور ’’آریہ دھرم۲؎‘‘ ایسی کتابیں تالیف کیں۔‘‘

’’عیسائیوں کی نسبت جو اتمام حجت کیا گیا وہ بھی دو قسم پر ہے۔ ایک کتابیں ہیں جو میں نے عیسائیوں کے خیالات کے رد میں تالیف کیں۔ جیسا کہ براہین احمدیہ، نورالحق اور کشف الغطاء وغیرہ۔ دوسرے وہ نشان جو عیسائیوں پر حجت پوری کرنے کے لئے میں نے دکھلائے ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۹، خزائن ج۱۵ ص ۲۳۶)

ان دونوں اقتباسوں میں ’’براہین احمدیہ‘‘ مشترک کتاب ہے۔ گو یہ بات ناقابل تردید ہے کہ مرزا قادیانی کی ہر کتاب بلکہ ہر تحریر میں اپنا ذاتی حصہ ضرور ہوتا ہے یعنی اپنے دعویٰ الہام مجددیت، مسیحیت وغیرہ کا ذکر کرنا لازمی ہوتا ہے۔ براہین احمدیہ بھی اس قانون کلی سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ براہین بمقابلہ غیرمسلمین لکھی گئی ہے۔ جماعت مرزائیہ کو اس پر ضرورت سے زیادہ فخر ہے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب مرزائی لاہوری لکھتے ہیں:

’’قرآن کریم کی صداقت پر دلائل کا مجموعہ‘‘

۱؎ یہ ایک آریہ سے مباحثہ ہے جسے بنا سنوار کر چھاپا۔

۲؎ یہ کتاب نیوگ کا ایک ناول ہے جسے علم کلام میں لینا کلام کی ہتک کرنا ہے۔

264

’’سب سے پہلی کتاب جو آپ (مرزا) نے لکھی جو براہین احمدیہ کے نام سے مشہور ہے۔ جو صرف قرآن کریم کی صداقت پر دلائل کا مجموعہ ہے اور انہی دلائل کے ذریعہ سے ہر ایک مذہب پر اتمام حجت کیا ہے۔ چنانچہ اس کا پورا نام ہے:

’’البراہین الاحمدیہ علٰی حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ‘‘

(مقالہ محمد علی مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ۷؍جون ۱۹۳۲ء)

اس کتاب کا اشتہار جس کو اس کتاب کی جلد اول بنایا گیا دیکھنے سے دل پر عجب اثر ہوتا ہے: ’’میں (مرزا غلام احمد قادیانی) جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں۔ یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفیﷺ سے منکر ہیں۔ اتماماً للحجۃ شائع کرکے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے ان سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارہ حقیقت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاءa اسی کتاب مقدس سے اخذ کرکے تحریر کی ہیں۔ اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کرکے دکھلاوے یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کرسکے تو نصف ان سے یا ثلث ان سے یا ربع ان سے یا خمس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبروار توڑ دے تو ان سے سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کردیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آگیا۔ میں مشتہر ایسے مجیب کو بلاعذرے وحیلتے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض ودخل دے دوں گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۷ تا ۲۶ خزائن ج۱ ص۲۴ تا ۲۸)

اس عالی شان پروگرام والی کتاب پر علماء کرام اور پیروان اسلام کیوں فریفتہ نہ ہوتے۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے علماء ۱؎اور رؤساء کو جناب مصنف سے حسن ظن پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ کتاب مذکور کی تعریف میں یہ بھی فرمایا۔

’’ہم (مرزا غلام احمد قادیانی) نے صدہا طرح کا ظہور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت

۱؎ مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم نے اسی حسن ظن میں ریویو براہین احمدیہ لکھا تھا۔ ہکذا قال لنا مولانا المرحوم!

265

اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا… اب ہر ایک مؤمن کے لئے خیال کرنے کے مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دلائل عقلی حقیقت قرآن شریف پر شائع ہوگئیں اور تمام مخالفین کے شبہات کو دفع اور دور کیا جائے گا۔ وہ کتاب کیسی کچھ بندگان خدا کو فائدہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ وجلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا۔‘‘

(دیباچہ براہین احمدیہ ص ب،د ، خزائن ج۱ ص۶۲، ۶۷)

اس عبارت میں جن دلائل کا ذکر کیا ہے ان کی کیفیت اور نوعیت بھی اسی کتاب میں آپ نے خود لکھی ہے۔ فرماتے ہیں:

’’دلائل سے کیا مراد ہے۔ پس بغرض تشریح اس فقرہ کے لکھا جاتا ہے جو دلائل اور براہین فرقان مجید کی کہ جن سے حقیت اس کلام پاک کی اور صدق رسالت آنحضرتﷺ کا ثابت ہوتا ہے دو قسم پر ہیں۔ اوّل وہ دلائل جو اس پاک کتاب اور آنحضرت کی صداقت پر اندرونی اور ذاتی شہادتیں ہیں۔ یعنی ایسے دلائل جو اسی مقدس کتاب کے کمالات ذاتیہ اور خود آنحضرت کی ہی خصال قدسیہ اور اخلاق مرضیہ اور صفات کاملہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ دوسری وہ دلائل جو بیرونی طور پر قرآن شریف اور آنحضرتﷺ کی سچائی پر شواہد قاطعہ ہیں۔ یعنی ایسے دلائل جو خارجی واقعات اور حادثات متواترہ مثبۃ سے لی گئی ہیں۔‘‘

(ص۳۳ تا ۳۸ براہین احمدیہ، خزائن ج۱ ص۳۱ تا ۳۳)

اس عبارت کو ناظرین سمجھ کر ذہن نشین رکھیں۔ اس کا مفہوم صاف ہے کہ جو دلائل مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھے ہیں۔ ان میں سے ایک قسم قرآن مجید کے اندر سے لئے گئے ہیں۔ دوسری قسم وہ دلائل ہیں جو خارجی واقعات سے لئے گئے ہیں۔ پھر ان دونوں قسموں کو دو قسموں پر منقسم کیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:

’’پھر ہر ایک ان دونوں قسموں کے دلائل سے دو قسم پر ہے۔ دلیل بسیط اور دلیل مرکب۔ دلیل بسیط وہ دلیل ہے جو اثبات حقیت قرآن شریف اور صدق رسالت آنحضرت کے لئے کسی اور امر کے الحاق اور انضمام کی محتاج نہیں اور دلیل مرکب وہ دلیل ہے جو اس کے تحقق دلالت کے لئے ایک ایسے کل مجموعہ کی ضرورت ہے کہ اگر من حیث الاجتماع اس پر نظر ڈالی جائے۔ یعنی نظر یکجائی سے اس کی تمام افراد کو دیکھا جائے تو وہ کل مجموعے ایک ایسی عالی حالت میں ہوں جو تحقق اس حالت کا تحقق حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت آنحضرت کو

266

مستلزم ہو اور جب اجزاء اس کی الگ الگ دیکھی جائیں تو یہ مرتبہ برہانیت کا جیسا کہ ان کو چاہئے حاصل نہ ہو۔‘‘

( براہین احمدیہ ص۳۸، ۴۴ خزائن ج۱ ص۳۳ تا ۳۶)

یہ عبارات پہلے بیان کی تشریح ہے۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ دونوں قسم کے دلائل درج کر دی گئی ہیں۔

(ناظرین اسے ذہن نشین رکھیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ مرزا قادیانی نے اس کتاب میں صناعات خمسہ مذکورہ میں سے برہان سے کام لینے کا ارادہ کیا ہے)

انہی پر زور دلائل کی تمہید کے لئے ایک فصل تجویز کی جس کے الفاظ یہ ہیں:

پہلی فصل: ’’ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی اور اندرونی شہادتیں ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۳۹ خزائن ج۱ ص۱۴۳)

اس عنوان کے نیچے یہ عبارت لکھی ہے:

’’قبل از تحریر براہین فصل ہذا کے چند ایسے امور کا بیان کرنا ضروری ہے جو دلائل آتیہ کے اکثر مطالب دریافت کرنے اور ان کیفیت اور ماہیت سمجھنے کے لئے قواعد کلیہ ہیں۔ چنانچہ ذیل میں وہ تمہیدیں لکھی جاتی ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۳۹ خزائن ج۱ ص۱۴۳)

یہ عبارت صاف مظہر ہے کہ اس فصل میں دلائل مذکور نہیں بلکہ تمہیدات مذکور ہیں۔ یہ فصل( ص۵۱۲ خزائن ج۱ ص۶۱۱) پر ختم ہوئی ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے:

باب اوّل: ’’ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۱۲ خزائن ج۱ ص۶۱۱)

اس عنوان کو دیکھ کر ناظرین ہمہ تن گوش بدل متوجہ ہوں گے کہ وہ دلائل قاہرہ سنیں اور دل کو مسرور کریں۔ مگر ان کی ساری امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کتاب ۵۶۲ صفحات پر ختم ہے۔ ان پچاس صفحات پر مرزا قادیانی نے چند آیات قرآنیہ اور ان کا صرف ترجمہ لکھا ہے اور بس۔ وہ آیات یہ ہیں:

’’ت اللہ لقد ارسلنا الٰی امم من قبلک فزین لہم الشیطان اعمالہم: (النحل:۶۳)‘‘

ان آیات کا ترجمہ کرنے کے بعد صرف اتنا بتایا کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تھے ملک کی حالت اس کی مقتضی تھی۔ اتنے پر کتاب کی چار جلدیں ختم ہوگئیں۔

267

ناظرین منتظر رہے کہ پانچویں جلد میں ہم ان دلائل قاہرہ سے مسرور اور محظوظ ہوں گے۔ مگر آہ! ان کی چشم انتظار اس عاشق مہجور کی طرح ۲۳سال تک نامراد رہی جس کا قول ہے:

نیند راتوں کی گئی دن کی گئیں آسائشیں

کیا سے کیا دکھلا رہا انتظار یار بھی

۲۳ سال کی مدت طویلہ کے بعد مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی پانچویں جلد لکھی جس میںاپنا مافی الضمیر ان لفظوں میں ظاہر کیا:

  1. بحمد اللہ کہ آخر ایں کتابم

    مکمل شد بفضل آں جنابم

اما بعد! واضح ہو کہ یہ براہین احمدیہ کا پانچواں حصہ ہے کہ جو اس دیباچہ کے بعد لکھا جائے گا۔ خداتعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے ایسا اتفاق ہوا کہ چار حصے اس کتاب کے چھپ کر پھر تخمیناً تئیس برس تک اس کتاب کا چھپنا ملتوی رہا اور عجیب تر یہ کہ اسی (۸۰) کے قریب اس مدت میں، میں نے کتابیں تالیف کیں جن میں سے بعض بڑے بڑے حجم کی تھیں۔ لیکن اس کتاب کی تکمیل کے لئے توجہ پیدا نہ ہوئی اور کئی مرتبہ دل میں یہ درد پیدا بھی ہوا کہ براہین احمدیہ کے ملتوی رہنے پر ایک زمانہ دراز گزر گیا مگر باوجود کوشش بلیغ اور باوجود اس کے کہ خریداروں کی طرف سے بھی کتاب کے مطالبہ کے لئے سخت الحاح ہوا اور اس مدت مدید اور اس قدر زمانہ التواء میں مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی اور بدزبانی کے گند سے حد سے زیادہ آلودہ تھے اور بوجہ امتداد مدت درحقیقت وہ دلوں میں پیدا ہوسکتے تھے۔ مگر پھر بھی قضا وقدر کے مصالح نے مجھے یہ توفیق نہ دی کہ میں اس کتاب کو پورا کرسکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ قضاوقدر درحقیقت ایک ایسی چیز ہے جس کے احاطہ سے باہر نکل جانا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے بلکہ اس بات کے تصور سے دل درد مند ہوجاتا ہے کہ بہت سے لوگ جو اس کتاب کے خریدار تھے۔ اس کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے گزر گئے۔ مگر جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں انسان تقدیر الٰہی کے ماتحت ہے۔ اگر خدا کا ارادہ انسان کے ارادہ کے مطابق نہ ہوتو انسان ہزار جدوجہد کرے اپنے ارادہ کو پورا نہیں کرسکتا۔ لیکن جب خدا کے ارادہ کا وقت آجاتا ہے تو وہی امور جو بہت مشکل نظر آتے تھے نہایت آسانی سے میسر آجاتے ہیں۔

اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چوں کہ خداتعالیٰ کے تمام کاموں میں حکمت

268

اور مصلحت ہوتی ہے تو اس عظیم الشان دینی خدمت کی کتاب میں جس میں اسلام کے تمام مخالفوں کا رد مقصود تھا کی حکمت تھی کہ وہ کتاب تخمیناً تئیس برس تک مکمل ہونے سے معرض التوا میں رہی۔ اس کا جواب خدا ہی بہتر جانتا ہے کوئی انسان اس کے تمام بھیدوں پر محیط نہیں ہوسکتا۔ مگر جہاں تک میرا خیال ہے وہ یہ ہے کہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے کہ جو شائع ہوچکے تھے وہ ایسے امور پر مشتمل تھے کہ جب تک وہ امور ظہور میں نہ آجاتے تب تک براہین احمدیہ کے ہر چہار حصہ کے دلائل مخفی اور مستور رہتے اور ضرور تھا کہ براہین احمدیہ کا لکھنا اس وقت تک ملتوی رہے جب تک کہ امتداد زمانہ سے وہ سربستہ امور کھل جائیںاور جو دلائل ان حصوں میں درج ہیں وہ ظاہر ہوجائیں۔ کیوں کہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حضوں میں جو خدا کا کلام یعنی اس کا الہام جابجا مستور ہے جو اس عاجز پر ہوا وہ اس بات کا محتاج تھا جو اس کی تشریح کی جائے اور نیز اس بات کا محتاج تھا کہ جو پیش گوئیاں اس میں درج ہیں ان کی سچائی لوگوں پر ظاہر ہوجائے۔ پس اس لئے خدائے حکیم وعلیم نے اس وقت تک براہین احمدیہ کا چھپنا ملتوی رکھا کہ جب تک وہ تمام پیش گوئیاں ظہور میں آگئیں۔

پس اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ وہ تعلیم کی رو سے ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہے اور کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

دوم: پھر دوسری قسم فتح کی جو اسلام میں پائی جاتی ہے جس میں کوئی مذہب اس کا شریک نہیں اور جو اس کی سچائی پر کامل طور پر مہر لگاتی ہے اس کی زندہ برکات اور معجزات ہیں جن سے دوسرے مذاہب بکلی محروم ہیں۔ یہ ایسے کامل نشان ہیں کہ ان کے ذریعہ سے نہ صرف اسلام دوسرے مذاہب پر فتح پاتا ہے بلکہ اپنی کامل روشنی دکھلا کر دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یاد رہے کہ پہلی دلیل اسلام کی سچائی کی جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یعنی کامل تعلیم وہ درحقیقت اس بات کے سمجھنے کے لئے کہ مذہب اسلام منجانب اللہ ہے۔ ایک کھلی کھلی دلیل نہیں ہے۔ کیوں کہ ایک متعصب منکر جس کی نظر باریک بین نہیں ہے کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ ایک کامل تعلیم بھی ہو اور پھر خداتعالیٰ کی طرف سے نہ ہو۔

پس اگرچہ یہ دلیل ایک دانا طالب حق کو بہت سے شکوک سے مخلصی دے کر یقین کے نزدیک کر دیتی ہے۔ لیکن تاہم جب تک دوسری دلیل مذکورہ بالا اس کے ساتھ منضم اور پیوستہ نہ ہو کمال یقین کے مینار تک نہیں پہنچا سکتی اور ان دونوں دلیلوں کے اجتماع سے سچے

269

مذہب کی روشنی کمال تک پہنچ جاتی ہے اور اگرچہ سچا مذہب ہزارہا آثار اور انوار اپنے اندر رکھتا ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں بغیر حاجت کسی اور دلیل کے طالب حق کے دل کو یقین کے پانی سے سیراب کر دیتی ہیں اور مکذبوں پر پورے طور پر اتمام حجت کرتی ہیں۔ اس لئے ان دو قسم کی دلیلوں کے موجود ہونے کے بعد کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہتی اور میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیت اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔

پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔ اگر میں کتاب براہین احمدیہ کے پورا کرنے میں جلدی کرتا تو ممکن نہ تھا کہ اس طریق سے اسلام کی حقانیت لوگوں پر ظاہر سکتا۔ کیوں کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں بہت سی پیش گوئیاں ہیں جو اسلام کی سچائی پر قوی دلیل ہیں۔ مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ خداتعالیٰ کے وہ موعودہ نشان کھلے کھلے طور پر دنیا پر ظاہر ہوتے، ہر ایک دانش مند سمجھ سکتا ہے کہ معجزات اور نشانوں کا لکھنا انسان کے اختیار میں نہیں اور دراصل یہی ایک بڑا ذریعہ سچے مذہب کی شناخت کا ہے کہ اس میں برکات اور معجزات پائے جائیں کیوں کہ جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ صرف کامل تعلیم کا ہونا سچے مذہب کے لئے پوری پوری اور کھلی کھلی علامت نہیں ہے جو تسلی کی انتہائی درجہ تک پہنچا سکے۔ سو میں ان شاء اللہ تعالیٰ یہی دونوں قسم کے دلائل اس کتاب میں لکھ کر اس کتاب کو پورا کروں گا۔ اگرچہ براہین احمدیہ کے گزشتہ حصوں میں نشانوں کے ظہور کا وعدہ دیا گیا تھا مگر میرے اختیار میں نہ تھا کہ کوئی نشان اپنی طاقت سے ظاہر کرسکتا اور کئی باتیں پہلے حصوں میں تھیں جن کی تشریح میری طاقت سے باہر تھی۔ لیکن جب تئیس برس کے بعد وہ وقت آگیا تو تمام سامان خداتعالیٰ کی طرف سے میسر آگئے اور موافق اس وعدہ کے جو براہین احمدیہ کے حصوں میں درج تھا۔ قرآن شریف کے معارف اور حقائق میرے پر کھولے گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’الرحمن علم القرآن‘‘ایسا ہی بڑے بڑے نشان ظاہر کئے گئے جو لوگ سچے دل سے خدا کے طالب ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ خدا کی معرفت خدا کے ذریعہ سے ہی میسر آسکتی ہے اور خدا کو خدا کے ساتھ ہی شناخت کرسکتے ہیں اور خدا اپنی حجت آپ ہی پوری کرسکتا ہے، انسان کے اختیار میں نہیں اور انسان کبھی کسی حیلہ سے گناہ سے بیزار ہوکر اس کا قرب حاصل نہیں کرسکتا جب کہ

270

معرفت کاملہ حاصل نہ ہو۔ اور اس جگہ کوئی کفارہ مفید نہیں اور کوئی طریق ایسا نہیں جو گناہ سے پاک کرسکے۔ بجز اس کامل معرفت کے جو کامل محبت اور کامل خوف کو پیدا کرتی ہے اور کامل محبت اور کامل خوف یہی دونوں چیزیں ہیں جو گناہ سے روکتی ہیں۔ کیوں کہ محبت اور خوف کی آگ جب بھڑکتی ہے تو گناہ کے خس وخاشاک کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے اور یہ پاک آگ اور گناہ کی گندی آگ دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتیں۔

غرض انسان نہ بدی سے رک سکتا ہے اور نہ محبت میں ترقی کرسکتا ہے جب تک کہ کامل معرفت اس کو نصیب نہ ہو اور کامل معرفت نہیں ملتی جب تک کہ انسان کو خداتعالیٰ کی طرف سے زندہ برکات اور معجزات نہ دئیے جائیں۔ یہی ایک ایسا ذریعہ سچے مذہب کی شناخت کا ہے کہ جو تمام مخالفوں کا منہ بند کر دیتا ہے اور ایسا مذہب جو مذکورہ بالا دونوں قسم کے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی ایسا مذہب کہ تعلیم اس کی ہر ایک پہلو سے کامل ہے جس میں کوئی فروگزاشت نہیں اور نیز یہ کہ خدانشانوں اور معجزات کے ذریعہ سے اس کی سچائی کی گواہی دیتا ہے۔ اس مذہب کو وہی شخص چھوڑتا ہے جو خداتعالیٰ کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتا اور روز آخرت پر چند روزہ زندگی اور قوم کے جھوٹے تعلقات کو مقدم کر لیتا ہے۔ وہ خدا جو آج بھی ایسا ہی قادر ہے جیسا کہ آج سے دس ہزار برس پہلے قادر تھا۔( ’’دنیا کی ساری عمر سات ہزار سال ہے۔‘‘)

(لیکچر سیالکوٹ ص۵ خزائن ج۲۰ ص۲۰۷)

اور اسی صورت سے ایمان حاصل ہوسکتا ہے کہ اس کی تازہ برکات اور تازہ معجزات اور قدرت کے تازہ کاموں پر علم حاصل ہو۔ ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ یہ وہ خدا نہیں ہے جو پہلے تھا یا اس میں وہ طاقتیں اب موجود نہیں جو پہلے تھیں۔ اس لئے ان لوگوں کا ایمان کچھ بھی چیز نہیں جو خدا کے تازہ برکات اور تازہ معجزات کے دیکھنے سے محروم ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس کی طاقتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں۔

بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ جو براہین احمدیہ کے بقیہ حصہ کے چھاپنے میںتئیس برس تک التواء رہا۔ یہ التواء بے معنی اور فضول نہ تھا بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اس وقت تک پنجم حصہ دنیا میں شائع نہ ہو جب تک کہ وہ تمام امور ظاہر ہوجائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیش گوئیاں ہیں۔ کیوں کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصے عظیم الشان پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور پنجم حصہ کا عظیم الشان مقصد یہی تھا کہ وہ موعودہ پیش گوئیاں ظہور

271

میں آجائیں اور یہ خدا کا ایک خاص نشان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے اس وقت تک مجھے زندہ رکھا۔ یہاں تک کہ وہ نشان ظہور میں آگئے تب وہ وقت آگیا کہ پنجم حصہ لکھا جائے اور اس حصہ پنجم کے وقت جو نصرت حق ظہور میں آئی ضرور تھا کہ بطور شکرگزاری کے اس کا ذکر کیا جاتا۔ سو اس امر کے اظہار کے لئے میں نے براہین احمدیہ کے پنجم حصہ کے لکھنے کے وقت جس کو درحقیقت اس کتاب کا نیا جنم کہنا چاہئے اس حصہ کا نام ’’نصرت الحق‘‘ بھی رکھ دیا تا وہ نام ہمیشہ کے لئے اس بات کا نشان ہو کہ باوجود صدہا عوائق اور موانع کے محض خداتعالیٰ کی نصرت اور مدد نے اس حصہ کو خلعت وجود بخشا۔ چنانچہ اس حصہ کے چند اوائل ورق کے ہر ایک صفحہ کے سر پر نصرۃ الحق لکھا گیا۔ مگر پھر اس خیال سے کہ تا یاد دلایا جائے کہ یہ وہی براہین احمدیہ ہے جس کے پہلے چار حصے طبع ہوچکے ہیں۔ بعد اس کے ہر ایک سر صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا۔ پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چوں کہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔‘‘

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱تا ۷ خزائن ج۲۱ ص۲تا ۹)

مرزائی دوستو! کیا اچھا شاعرانہ تخیل ہے، پچاس اور پانچ ایک ہی ہیں، محض صفر کا فرق ہے جسے اہل ہندسہ بھی بے حقیقت کہا کرتے ہیں مگر ہم اپنے مرزائی دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ تم نے کسی نے پچاس روپے لینے ہوں اور وہ پانچ دے کر مرزا قادیانی کا یہ قول پیش کرے کہ پچاس اور پانچ کے عددد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے جو حقیقت میں بے حقیقت ہے تو کیا تم لوگ پانچ پر کفایت کر جائو گے؟ ایمان سے سچ کہنا۔ ایمان ہے تو سب کچھ۔

چوں کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات ہماری تحقیق میں صناعات خمسہ میں سے صنعت شعری پر مبنی ہیں اس وجہ سے ناظرین کی تسلی کے لئے ہم بھی مرزا قادیانی کی وعدہ خلافی کا عذر شاعرانہ تخیل میں پیش کرتے ہیں۔

عرب کا مشہور منہ زور شاعر متنبی اپنی معشوقہ کے عدم ایفاء عہد پر معذرت کرتا ہے:

  1. اذا غدرت حسناء اوفت بعہدہا

    ومن عہدہا الا یدوم لہا عہد

(معشوقہ جب بے وفائی کرے تو سمجھو کہ اس نے وعدہ پورا کردیا۔ کیوں کہ اس کے وعدہ میں داخل ہے کہ وہ وعدہ وفا نہ کرے گی۔)

اسی شاعرانہ تخیل میں ہم بھی مرزا قادیانی کا عذر قبول کرتے ہیں اور یہ ماننے کو تیار

272

ہیں کہ پچاس اور پانچ میں کوئی فرق نہیں۔ دراصل پچاس کا عدد بھی پانچ ہے جیسے سو دراصل ایک ہے۔ فرق صرف صفر کا ہے جو بے حقیقت چیز ہے۔

مرزائی دوستو! ہم نے تمہارے مسیح موعود کا عذر تو قبول کرلیا بلکہ پبلک سے بھی منظور کروادیا۔ مگر آخر یہ شاعرانہ تخیل کب تک کام آئے گا۔ خطرہ ہے کوئی منچلا شاعر تخیل میں آپ لوگوں کی معرفت مرزا قادیانی کو یہ شعر نہ پہنچادے:

  1. وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا

    تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

براہین جلد پنجم

ہم بتا آئے ہیں کہ براہین احمدیہ ج چہارم کے (ص۵۱۲ خزائن ج۱ ص۶۱۱) پر مرزا قادیانی نے نہایت مسرت انگیز اعوان تجویز فرمایا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

باب اوّل: ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔‘‘

لیکن اس جلد میں اس بیان کو شروع بھی نہ کیا۔ گو جلد پنجم کے لکھنے اور شائع کرنے میں ۲۳سال کی مدت مدیدہ گزر گئی تاہم مصنف کو خیال ہونا چاہئے تھا کہ جس کتاب کی یہ جلد پنجم ہے اس کی چوتھی جلد میں جو مضمون چلا آرہا ہے۔ اسی کو پانچویں میں پورا کرنا چاہئے۔ حالانکہ جس اشتہار کے ذریعہ مسلمانوں کو روپیہ بھیجنے کی ترغیب دی ہے۔ اس میں یہ الفاظ بھی تھے۔

’’پہلے یہ کتاب (براہین) صرف تیس پینتیس جزو تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جزو تک بڑھا دی گئی اور دس روپے عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپے دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر ہوئی۔ مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق وتدقیق اور اتمام حجت کے تین سو جزو تک پہنچ گئی ہے۔‘‘

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالہ ج اول ص۲۴ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۲، ۳۳)

اس اشتہار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کتاب براہین احمدیہ تین سو جزو تک تیار ہوچکی تھی۔ جن میں سے چار جلدوں میں ۳۵جزو شائع ہوئے ہیں۔ باقی مسودہ بقدر ۲۶۵ جزو کو کیوں چھپا رکھا؟ یہاں تک کہ ۲۳ سالہ طویل مدت کے بعد پانچویں جلد شائع کی تو اس میں نہ اس وعدہ کا لحاظ رکھا نہ اس اعلان کے مطابق اس مسودہ کو شائع کیا۔ نہ یہ ظاہر کیا کہ وہ

273

مسودہ آگ کی نذر ہوگیا۔ باوجود ایسے واقعات کے چوں کہ ہم مرزا قادیانی کی تصنیفات کی نوعیت صنعت شعری جانتے ہیں۔ اس لئے بحکم مصرعہ:

’’کلام اللیل یمحوہ النہار‘‘ (رات کے وعدہ کو دن کا ظہور محو کر دیتا ہے)

پانچویں جلد میں سابقہ حصص کے مضامین بلکہ ڈیڑھ سو جزٔ مسودہ سب بھول گئے۔ ایسے بھولے کہ نہ ان کی غرض وغایت یاد رہی نہ ان کا آخری مضمون نہ آخری سرخی۔ سب کچھ ایسے بھولے جیسے ایک شاعر کا معشوق بھولا۔ جس کا ذکر یوں ہے:

  1. مجھے قتل کر کے وہ بھولا سا قاتل

    لگا کہنے کس کا یہ تازہ لہو ہے

  2. کسی نے کہا جس کا وہ سر پڑا ہے

    کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے

یوں معلوم ہوتا ہے کہ جلد پنجم شروع کرتے ہوئے چوتھی کو کھول کر بھی نہیں دیکھا۔ اس لئے چوتھی میں جس بات کو بطور اصول بزور بیان کیا پانچویں میں بزور اس کی تردید کی۔۱؎مثلاً پہلے لکھ چکے ہیں۔

’’جب کہ تصفیہ ہر ایک امر کے جائز یا ممتنع ہونے کا عقل ہی کے حکم پر موقوف ہے اور ممکن اور محال کی شناخت کرنے کے لئے عقل ہی معیار ہے، تو اس سے لازم آیا کہ حقیقت اصول نجات کی بھی عقل ہی سے ثابت کی جائے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ دوم، ص۸۸، خزائن ج۱ ص۷۶)

حصہ پنجم میں لکھتے ہیں:’’ظاہر ہے کہ محض عقلی دلائل مذہب کی سچائی کے لئے کامل شہادت نہیں ہوسکتے … محض عقلی دلائل سے تو خدائے تعالیٰ کا وجود بھی یقینی طور پر ثابت نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ کسی مذہب کی سچائی اس سے ثابت ہوجائے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۴۷، ۴۸ خزائن ج۲۱ ص۶۰، ۶۱)

ناظرین! مرزا قادیانی کی تصنیفات کو ہم اہل منطق کی صناعات خمسہ میں سے صنعت شعری بتا آئے ہیں۔ اس لئے آپ کے اقرار کے بعد اس انکار کو بھی صنعت شعری میں جگہ مل سکتی ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے:

  1. کیوں کر مجھے باور ہو کہ ایفا ہی کرو گے

    کیا وعدہ تمہیں کرکے مکرنا نہیں آتا

۱؎ اثر مراق۔

274

ہمارا بیان کیسا صاف ہے کہ برا ہین جلد پنجم میں مرزا قادیانی کو وہی مضمون شروع کرنا چاہئے تھا جس کی چوتھی جلد میں گویا بسم اللہ ہوئی تھی اور تین سو دلائل قاہرہ بالکل مرتب ہوچکے تھے۔ کیوں کہ مرزا قادیانی اعلان کر چکے تھے کہ:’’ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو تین سو براہین محکم دلائل عقلیہ پر مشتمل تالیف کیا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ۱ص ۳۸)

مگر افسوس کہ اس مضمون کو جو مسودہ کی صورت میں بالکل تیار تھا، چھوا بھی نہیں۔ ہاں ایک عنوان ایسا مقرر کیا جس سے گمان ہوسکتا تھا کہ نفس اسلام سے اس کو تعلق ہوگا۔ یعنی سرخی یوں مقرر کی۔

پہلا باب

’’معجزہ کی اصل حقیقت اور ضرورت کے بیان میں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۴۶ خزائن ج۲۱ ص۵۹)

اس باب میں جتنی کچھ تقریر فرمائی وہ اصولی ہے۔ مثلاً معجزہ کو مذہب کے لئے امتیازی نشان قرار دے کر لکھا: ’’غرض بغیر امتیازی نشان کے نہ مذہب حق اور مذہب باطل میں کوئی کھلا کھلا تفرقہ پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ایک راست باز اور مکار کے درمیان کوئی فرق بین ظاہر ہوسکتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۴۸، ۴۹ خزائن ج۲۱ ص۶۲)

باوجود قطع تعلق حصص سابقہ براہین احمدیہ کے ہم اسی پر کفایت کرتے۔ اگر اس اصول کو اسلام کی حقانیت کے لئے استعمال کیا جاتا۔ افسوس ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کو اپنی صداقت کے لئے تمہید بنایا اور دوسرے باب کو اپنے دعویٰ مسیحیت موعودہ کے اثبات میں پیش کیا۔ چنانچہ اس کا عنوان یہ ہے:

باب دوم: ان نشانوں کے بیان میں جو بذریعہ ان پیش گوئیوں کے ظاہر ہوئے جو آج سے پچیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھ کر شائع کی گئیں تھیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۱ خزائن ج۲۱ ص۶۵)

پھر اس باب میں اپنی پیش گوئیاں لکھی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اتباع مرزا اپنے ہر کام کو اسلام کی خدمت بلکہ اپنے وجود کو اسلام ہی کا نشان بتایا کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے موضوع کے پابند ہیں۔ ہم نے کتاب ہذا میں ’’علم کلام مرزا‘‘ کو دو حصوں میں

275

تقسیم کیا ہے۔ ایک میں ان دلائل کا ذکر ہے جو خالص اسلام کی صداقت پر مرزا قادیانی نے دئیے یا دینے کا دعویٰ یا وعدہ کیا۔ دوسری قسم وہ دلائل ہیں جو اپنی نبوت اور مسیحیت موعودہ کے اثبات کے لئے پیش کئے ہیں۔ براہین جلد پنجم کو ہم دوسری قسم سے جانتے ہیں۔ جیسا کہ اس کی تصریحات اور عبارات سے صاف نمایاں ہے۔

مرزائی دوستو! واقعات کے جواب میں منہ چڑھانا، برا منانا مفید نہیں تم ہمارے حوالہ جات کو اصل کتابوں میں دیکھو اور ہمارے سوال کا جواب دو:

سوال: کوئی مفسر سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کرے۔ پہلی جلد میں وہ پہلے نصف پارے تک پہنچے۔ اس کے بعد دوسری جلد میں اس کا فرض کیا ہے اسی سورۂ بقرہ کو پورا کرنا یا کوئی اور مضمون شروع کرنا؟

  1. میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر

    بندہ پرور! منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

براہین احمدیہ کی ظاہری کیفیت

مشہورہے کہ براہین احمدیہ پانچ جلدوں میں منقسم ہے۔ پانچویں جلد تو بے شک صورت اور سیرت میں الگ ہے۔ یعنی نہ اس کی تقطیع پہلی جلدوںسے ملتی ہے نہ مضمون۔ یہ ان سے الگ وہ اس سے جدا۔ اس کو ان سابقہ حصص کی نوع سے کہنا ایسا ہی غلط ہے جیسے گیہوں کو چاولوں کی قسم سے کہنا۔

مگر جو چار جلدیں ہم کو بتائی جاتی ہیں ان کی بھی عجیب حالت ہے کہ نہ پہلی کی ابتدا ملتی ہے نہ دوسری کا شروع، نہ تیسری کی ابتدا نہ چوتھی کا شروع۔ طبع اوّل میں تو یہ کچھ نہ تھا۔ اس کے بعد مریدوں نے اس بدصورتی کو دیکھ کر ۱۹۰۶ء میں اس کی اصلاح پر توجہ کی۔ مگر یہ اصلاح بھی قابل اصلاح ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ اصلاح شدہ کتاب کی فہرست یوں لکھی ہے:

حصہ اوّل: التماس ضروری از مؤلف

(براہین احمدیہ حصہ اول ص الف، خزائن ج۱ ص۵)

حصہ دوم: عرض ضروری بحالت مجبوری۔

(ص۸۳ خزائن ج۱ ص۵۹)

حالانکہ حصہ اوّل جو (ص۸۲) پر ختم ہوا بڑے بڑے حرفوں میں کتاب براہین احمدیہ کا مبالغہ آمیز محض اشتہار ہے جیسے بازار میں چورن فروش چورن کی تعریف میں بڑی لمبی چوڑی تقریریں کیا کرتے ہیں۔

276

اس کے ساتھ مریدوں نے یہ بدعت ایجاد کی کہ (ص۸۲ ص۸۳) کی درمیان میں چند اوراق مرزا قادیانی کی سوانح عمری کے درج کردئیے۔ حالانکہ کتاب کے درمیان میں ان کا لانا بالکل طہر متخلل سا معلوم ہوتا ہے۔ سوانح نگارنے کا شوق تھا تو کتاب کے شروع میں لگاتے۔ جس کا ترجمۃ المؤلف نام رکھتے۔ (ص۸۳ خزائن ج۱ ص۷۱) جسے حصہ دوم کا شروع بنایا گیا ہے۔ اس پر یہ عنوان لکھا ہے:

مقدمہ: اور اس میں کئی مقصد واجب الاظہار ہیں جو ذیل میں تحریر کئے جاتے ہیں۔

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کا شروع یہاں سے ہے۔ (ص۱۳۸ خزائن ج۱ ص۱۳۱) پر لکھا ہے:

تمت المقدمہ

مگر صفحات برابر جارہے ہیں۔ لیکن مریدوں نے یہاں دوسری جلد ختم کردی۔ اس کے آگے تیسری کا سرورق لگا دیا۔ (خزائن ج۱ ص۱۳۳) جس کے شروع میں لکھا:

پہلی فصل: ’’ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی اور اندرونی شہادتیں ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۱۳۹، خزائن ج۱ ص۱۴۳)

یہ فصل چلتی چلتی جب (ص۲۷۸ خزائن ج۱ ص۳۱۰) پر پہنچی تو مریدوں نے یہاں تیسری جلد ختم کر کے (ص۲۷۹ خزائن ج۱ ص۳۱۳) پر چوتھی جلد کا سرورق لگا دیا۔ حالانکہ نہ فصل ختم ہوئی نہ مضمون ختم ہوا۔ ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے (ص۲۷۸ ص۲۷۹) کی عبارت ہم لکھتے ہیں۔ جو یوں ہے: ’’جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں خدا کے خواص کا ضروری ہونا۔‘‘

(ص ۲۷۸ خزائن ج۱ ص۳۱۰)

(ص۲۷۹) ’’یعنی اس کی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا وغیرہ۔‘‘

(ص۲۷۹ خزائن ج۱ ص۳۲۳)

خیال فرمائیے ایسی بڑی نامور کتاب اور جلدوں کا خاتمہ اس طرح کہ کسی معمولی کتاب کی جلدیں بھی اس طرح ختم اور شروع نہیں ہوتیں۔ چہ خوش!

ہم نے براہین احمدیہ کی اس بے معنی تقسیم کو دیکھ کر بہت کوشش کی کہ اس کو صحیح صورت میں سمجھیں۔ افسوس کہ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ آخر بے ساختہ منہ سے نکلا:

277
  1. خشت اوّل چوں نہد معمار کج

    تا ثریا مے رود دیوار کج

مرزائی دوستو! یاد رکھو تمہاری کوشش سے براہین سنور نہیں سکتی ہے۔ کیوں؟

’’لن یصلح العطار ما افسد الدھر‘‘

نوٹ: مرزا قادیانی کے کلام منقولہ (صفحات گزشتہ) از (تریاق القلوب ص۴۹ خزائن ج۱۵ ص۲۳۶) میں جو عیسائیوں کو نشان دکھانے کا ذکر ہے۔ اس پر یہاں ہم بحث نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ وہ نشانات علم کلام میں داخل نہیں، بلکہ کمالات باطنیہ میں ہیں اور کمالات باطنیہ مرزائیہ کا مفصل ذکر ہم اپنی کتاب ’’الہامات مرزا‘‘ وغیرہ میں کرچکے ہیں۔ ناظرین وہاں پر ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی کی تصنیف بحیثیت حوالہ جات

متکلم اور مصنف خواہ کسی مذہب اور کسی اصول کا ہو اس کا فرض ہے کہ روایت میں غلط گو نہ ہو۔ یعنی جو حوالہ دے وہ صحیح ہو۔ اس کے مستخرجہ نتیجہ میں کسی کو اختلاف ہو تو، اس کے بتائے ہوئے حوالہ میں کسی کو کلام نہ ہو۔ ہمارے ملک کے نامور مصنف سرسید احمد خان مرحوم سے ہم کو بہت اختلاف ہے۔ مگر ہم ان کی نسبت یہ گمان نہیں کرسکتے کہ جو حوالہ وہ نقل کریں وہ غلط ہوگا۔ برخلاف اس کے مرزا قادیانی کے بیان کردہ حوالہ پر ہم کو اعتماد نہیں۔ کیوں؟ اس کی وجوہات ذیل میں درج ہیں۔

۱… مرزا قادیانی کے مخالف علماء اسلام میں ایک بزرگ مولوی غلام دستگیر قصوری مرحوم تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے رد میں ایک کتاب ’’فتح رحمانی‘‘ لکھی۔ اس میں مرزا قادیانی کے حق میں یوں دعا کی: ’’اللہم یا ذالجلال والاکرام یا مالک الملک‘‘جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحارالانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا۔ ویسا ہی دعا والتجا اس فقیر قصوری کان اللہ لہ کی سے (جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے) مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبہ نصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا’’فقطع دابرالقوم الذین ظلموا والحمدللہ رب العالمین انّک علٰی کل شیٔ قدیر وبالاجابۃ جدیر۔ آمین‘‘

(فتح رحمانی ص۲۶، ۲۷ مؤلفہ مولوی غلام دستگیر)

278

ناظرین! اس دعا کے الفاظ کو بغور دیکھیں کہ ان میں کسی طرح یہ مفہوم ہوتا ہے؟ کہ مرزا قادیانی اور مولوی صاحب میں سے جو جھوٹا ہوگا وہ پہلے مرے گا۔ بلکہ محض ایک مخلصانہ دعا ہے کہ مرزا قادیانی کے ساتھ دو میں سے ایک برتائو جو تجھے پسند ہوکر: (۱)توبہ کی توفیق دے۔ (۲)یا موت وارد کر۔

دوسرے ایک بزرگ مولوی اسماعیل مرحوم علی گڑھی تھے۔ انہوں نے بھی مرزا قادیانی کے رد میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ’’اعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح‘‘انہوں نے تو اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی یا اپنی موت کا ذکر تک نہیں کیا۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں متعدد جگہ یہ مضمون لکھا ہے۔

’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیوں کہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کرچکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح ان کی موت نے فیصلہ کردیا کہ کاذب کون تھا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۹ خزائن ج۱۷ ص۳۹۴)

کسی ادّعا اور کسی تحدّی سے ان مخالف علماء کے اقوال کو بطور دلیل کے پیش کیا ہے اور کس خوبی سے ان کے کلام سے اپنے دعویٰ مسیحیت کو ثابت کیا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کی کچھ نہیں۔ مولوی غلام دستگیر کی دعا کا یہ مطلب نہیں اور مولوی اسماعیل نے دعا کی ہی نہیں۔ غرض دونوں پر افتراء ہے۔ حالانکہ بطور دلیل کے لائے ہیں:

(۲) دوسرا ثبوت: مرزا قادیانی کو اس فن (تحریف) میں ایسا کمال تھا کہ اس فن کو غیروں سے مخصوص نہ رکھتے تھے بلکہ حسب موقع اپنے کلام میں بھی تحریف کردیتے۔

ناظرین! کتاب ’’جنگ مقدس‘‘ کی عبارت کتاب ہذا پر دیکھ چکے ہیں۔ ایک نظر پھر دیکھ جائیں۔ اس میں ایک فقرہ یہ بھی ملے گا۔

’’جو فریق عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے … وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۹، خزائن ج ۶ ص۲۹۲)

اس عبارت میں گو نام لے کر ڈپٹی آتھم عیسائی کی تعیین نہیں کی لیکن اوصاف ایسے بتائے ہیں جن سے تعیین ہوجائے۔ یعنی ’’عاجز انسان کو خدا بناتا ہے۔‘‘ یہ کام آتھم ہی کا تھا

279

کہ وہ حضرت مسیح کی الوہیت کا قائل تھا۔ چنانچہ اسی مسئلہ پر اس نے مرزا قادیانی سے مباحثہ کیا تھا۔ مرزا قادیانی عاجز انسان کو خدا بنانے والے نہ تھے۔ پس مطلب اس عبارت کا صاف ہے کہ ڈپٹی آتھم مناظر عیسائی پندرہ ماہ میں مر جائے گا۔ اس میں نہ کوئی ابہام ہے نہ اجمال۔ ہمارے اس دعوے کی تصدیق مرزا قادیانی نے خود کی ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ صاف لکھتے ہیں: ’’ناظرین! کو معلوم ہوگا کہ موت کی پیش گوئی اس (آتھم) کے حق میں کی گئی تھی اور اس پیش گوئی کی پندرہ مہینے میعاد تھی۔‘‘

(حاشیہ تریاق القلوب ص۵۴ خزائن ج۱۵ ص۲۴۹)

باوجود اس تعیین کر دینے کے ڈپٹی آتھم میعاد پندرہ ماہ گزار کے بجائے ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء کے ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء (انجام آتھم ص۱ خزائن ج۱۱ ص ایضاً) کو (۲۱ماہ بعد) مرا تو مرزا قادیانی نے اس کے دو جواب دئیے:

پہلے جواب میں اپنی ہی عبارت کو مکمل محرف کیا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ مجھ سے پہلے مرگیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۶ خزائن ج۱۹ ص۶)

ناظرین! اس عبارت کو پہلی عبارت کے ساتھ ملا کر ملاحظہ کریں تو آسمان زمین جتنا فرق پائیں گے۔ پہلی عبارت جو روئداد مناظرہ سے منقول ہے یوں ہے:

’’عاجز انسان کو خدا بنانے والا پندرہ ماہ کے عرصہ میں ہاویہ میں گرایا جائے گا۔‘‘

یہ عبارت اپنے مفہوم میں یہاں تک وسیع ہے کہ بالفرض مرزا قادیانی اس سے پہلے مرجاتے۔ مگر آتھم پندرہ ماہ کے اندر اندر مرتا تو بھی وہ عبارت صحیح ہوتی کوئی عقل مند عبارت فہم اس پر اعتراض نہ کرتا۔ کیوں کہ اس میں فریقین کے درمیان تقدم وتاخر کی نسبت نہیں۔

اس صاف عبارت میں مرزا قادیانی نے فریقین کے تقدم وتاخر کی نسبت پیدا کرکے عبارت کو اصل صورت سے محرف کرکے اپنی پیش گوئی کو تو صحیح کردیا ہوگا۔ مگر ساتھ ہی اس کے بحیثیت فن روایت اور فن تصنیف آپ قابل اعتماد نہ رہے۔

دوسرا جواب: آپ نے اس سے بھی عجیب دیا۔ اس میں بھی میعاد پندرہ ماہ تسلیم کی۔ مگر اس کی توجیہ یوں کی:’’اگر کسی کی نسبت یہ پیش گوئی ہو کہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہوجائے گا۔ پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیس مہینے میں مجذوم ہوجائے اور ناک اور تمام

280

گرجائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر کرنی چاہئے۔‘‘

(حقیقت الوحی حاشیہ ص۱۸۵خزائن ج۲۲ حاشیہ ص۱۹۳)

اصحاب فہم ﷲ غور کریں کہ اس عبارت کا مطلب کیا ہے۔ ہم تو یہ سمجھے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اصل عبارت مجبور کرتی ہے کہ میعاد پندرہ ماہ کا اعتراف کریں جو رہ رہ کر ان کے قلم سے نکلتا ہے لیکن اس کی توجیہ کرنے میں وسعت پیدا کرتے ہیں۔ جس سے اصل عبارت میں تحریف ہوجاتی ہے۔

نوٹ: اس موقعہ پر ہمیں نفس پیش گوئی کے صدق کذب سے بحث نہیں، اس کا محل رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ہے۔ یہاں ہمیں یہ دکھانا منظور ہے کہ مرزا قادیانی بحیثیت فن تصنیف معتبر مصنف نہ تھے۔ کیوں کہ وہ حوالہ جات منقولہ میں سخت تحریف کرتے تھے جو مصنف کو درجہ اعتبار سے گرانے کے لئے کافی سے زیادہ عیب ہے۔

۳… مرزا قادیانی کی نسبت ہم کیا گمان کریں حافظہ کمزور تھا؟ یا قلم محفوظ نہ تھا؟ ایک ہی واقعہ کو آپ متضاد الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ لطف یہ کہ وہ واقعہ بھی خود ان کے متعلق ہوتا۔ مثلاً: ڈپٹی آتھم کے متعلق آپ نے (بقول خود) سات اشتہار دئیے۔ آخری اشتہار ۳۰؍دسمبر ۱۸۹۵ء کو دیا تھا (انجام آتھم ص۱،۳ خزائن ج۱۱ ص ایضاً) اس پر لکھتے ہیں ’’وہ (آتھم) ہمارے آخری اشتہار سے جو اتمام حجت کی طرح تھا سات ماہ کے اندر فوت ہوگیا۔‘‘

(سراج منیر ص۶ خزائن ج۱۲ ص۸)

اسی واقعہ کو دوسری جگہ یوں لکھتے ہیں ’’آتھم میرے آخری اشتہار سے پندرہ مہینے کے اندر مرگیا۔‘‘(حاشیہ حقیقت الوحی ص۲۰۷ خزائن ج۲۲ حاشیہ ص۲۱۶) طرفہ یہ کہ آپ نے جس اشتہار کو ساتواں اشتہار کہا ہے جس کی بابت آپ نے لکھا ہے ’’یکے بعد دیگرے ہم نے سات اشتہار دئیے۔ ہمارے آخری اشتہار کی تاریخ ۳۰؍دسمبر ۱۸۹۵ء ہے۔‘‘ (انجام آتھم ص۳ خزائن ج ۱۱ ص۳ ملخص) اسی کے شروع میں لکھتے ہیں ’’یہ بات ناظرین کو معلوم ہے کہ ہم اس وقت تک پانچ اشتہار اس بارے میں نکال چکے ہیں۔‘‘(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ۴ ص۲۶ ، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۰۱) اس سے معلوم ہوا کہ اشتہار مذکور چھٹا نمبر ہے نہ کہ ساتواں؟

طرفہ پر طرہ: یہ کہ اسی واقعہ کو یوں بھی لکھتے ہیں کہ: ’’خدا نے بھی اسی (آتھم)

281

سے نرمی کی اور اس کے رجوع کی وجہ سے دو برس سے بھی کچھ زیادہ اور مہلت اس کو دے دی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۰۱ خزائن ج۱۵ ص۳۶۶)

پھر حقیقت الوحی میں اس مدت کو قلیل بنانے کو لکھا ہے:

’’چند ماہ کے بعد فوت ہوگیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۶ خزائن ج۲۲ ص۱۹۴)

ناظرین کرام! غور فرمائیں اصل میعاد پندرہ ماہ اور مہلت ۲۱ماہ جس کو مرزا قادیانی خود ہی دو برس سے زیادہ قرار دیں۔ کیا یہ سود اصل سے زیادہ نہیں؟

مرزائی دوستو! بتائو تمہارے نزدیک تلوّن مزاجی اور اختلاف بیانی کسی مصنف کو قابل مصنف بناتی ہے یا قابلیت سے گراتی ہے؟

(آتھم کے متعلق تفصیل ہمارے رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ میں دیکھو)

۴… مرزا قادیانی کو غلط حوالہ جات دینے میں اتنی دلیری تھی کہ وہ کسی مصنف کی عبارت یا خود اپنی عبارت کو تحریف کرنے پر کفایت نہ کرتے تھے، بلکہ پیغمبر خداa کے حق میں بھی حدیث بنا لیتے تھے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاًصحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ:’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۴۱ خزائن ج۶ ص۳۳۷)

حالانکہ یہ حدیث صحیح بخاری میں نہیں ہے۔ جو دکھائے انعام پائے۔

نوٹ: ہم اس موقع پر بحیثیت فن اسماء الرجال مرزا قادیانی کو واضع حدیث (جھوٹی حدیثیں بنانے والا) نہیں لکھنا چاہتے۔ کیوں کہ ایسا لکھنا ہمارے موضوع کتاب سے خارج ہے۔ ہماری غرض اس جگہ مرزا قادیانی کو فن تصنیف میں جانچنا ہے کہ متعبر اور حوالہ جات میں معتمد تھے یا نہیں۔ اس کا جواب ناظرین کی رائے پر چھوڑتے ہیں۔

نوٹ: مرزا قادیانی کی تصنیفات میں اس قسم کی مثالیں بکثرت ہیں۔ مگر ہم بغرض اختصار چند مثالوں پر کفایت کرتے ہیں۔ و اللہ اعلم!

282

مرزا قادیانی کا علم کلام اصول اشاعرہ پر مبنی ہے؟

’’علم کلام کے بڑے امام شیخ ابوالحسن اشعری ہوئے ہیں جو ۲۷۰ھ میں بمقام بصرہ پیدا ہوئے اور ۳۳۰ھ میں بعمر ۶۰ سال بغداد میں فوت ہوئے۔ انہوں نے اپنے علم کے زور سے فلاسفروں اور معتزلوں کا مقابلہ کیا۔ آج کتب عقائد کی درسی کتابوں میں انہی کے عقائد لکھے جاتے ہیں۔ امام غزالی، امام رازی وغیرہw انہی کے اصول پر تھے۔ ان کے اتباع کو اشاعرہ کہتے ہیں۔‘‘

ہماری تحقیق تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا علم کلام کسی سابق معتبر مذہب پر مبنی نہیں بلکہ محض اپنا ایجاد ہے۔ مگر ہم نے بعض اتباع مرزا کی تحریرات میں دیکھا ہے کہ مرزا قادیانی کا علم کلام اصول اشاعرہ پر مبنی تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد مرزائی لاہوری بھی لکھتے ہیں:

’’آپ (مرزا قادیانی) نے جس طریق پر اپنے علم کلام کی بنیاد رکھی وہ اشاعرہ کا طریق تھا اور سچ تو یہ ہے کہ بنیاد تو اشاعرہ پر رکھی۔ لیکن ایسی اعلیٰ اور انوکھی طرز میں اپنے علم کلام کو اٹھایا کہ اس کے آگے زمانہ حال کے فلسفہ اور سائنس کو سرتسلیم خم کرنا پڑا۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ۷جون ۱۹۳۲ء ص۶ کالم۳)

اس لئے ہم اس بات کی بھی پڑتا ل کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو مسائل کلامیہ لکھے ہیں ان کا نشان اشاعرہ کے عقائد میں ملتا ہے؟

سب سے اول ربط حادث بالمحدث کا مسئلہ ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ مخلوقات کو کیا تعلق ہے؟ اشاعرہ کا مذہب یہ ہے:

’’والعالم ای ما سوی اللہ تعالٰی من الموجودات بجمیع اجزائہ من السموٰات وما فیہا والارض وما علیہا محدث ای مخرج من العدم الی الوجود بمعنی انہ کان معدوماً فوجد خلافاً للفلاسفۃ حیث ذہبوا الی قدم السموات بموادہا وصورہا واشکالہا وقدم العناصر بمودہا وصورہا لکن بالنوع بمعنی انہا لم نخل قط عن صورۃ نعم اطلقوا القول بحدوث ما سوی اللہ تعالٰی لکن بمعنی الاحتیاج الی الغیر لابمعنی سبق العدم علیہ (شرح عقائد نسفی)‘‘
283

’’ اللہ کے سوا جو جو موجودات ہیں مع اپنی اجزاء کے آسمانوں سے زمین تک مع ان چیزوں کے جو ان میں ہیں عدم سے وجود میں لائے گئے ہیں۔ یہ عقیدہ فلاسفروں کے خلاف ہے۔ کیوں کہ وہ آسمان کے مواد صور اور اشکال کے قدیم ہونے کی طرف گئے ہیں۔ لیکن بالنوع یعنی قدیم بالنوع کے قائل ہیں۔ مطلب انکا یہ ہے کہ یہ آسمان کسی نہ کسی صورت سے مصور ہے یعنی کوئی ایسا نہیں آیا کہ آسمان پر کوئی نہ کوئی صورت وارد نہ ہو۔ فلاسفہ بھی ماسوی اللہ پر حادث کا لفظ بولتے ہیں۔ لیکن وہ حدوث بمعنی احتیاج بولتے ہیں وجود بعد عدم ان کی مراد نہیں۔‘‘

اس عبارت میں دونوں مذاہب کا بیان مصرح ہے، اشاعرہ کا بھی اور فلاسفہ کا بھی۔ اشاعرہ تو اللہ کے سوا ہر چیز کو حادث کہتے ہیں۔ فلاسفہ آسمانوں کو قدیم بالنوع کہتے ہیں۔ اب سنئے مرزا قادیانی قدیم بالنوع کے قائل ہیں۔

مرزائی علم کلام کا مسئلہ اوّل

یہ مسئلہ علم کلام میں سب سے اہم اور مقدم ہے۔ مرزا قادیانی کا علم کلام اس میں قابل غور ہے۔ مرزا قادیانی کے کلام میں دو لفظ آئے ہیں جن کو عام فہم کرنے کے لئے تھوڑی سی تشریح کی ضرورت ہے۔

قدیم! اس کو کہتے ہیں جو بے ابتدا (ازل سے) ہو۔ جیسے خدا۔ قدیم دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ایک ہی چیز بے ابتدا چلی آتی ہو۔ جیسے خدا کی ذات ۔ اس کو قدیم بالذات کہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک ہی چیز ایسی (بے ابتدا) نہ ہو مگر اس کا سلسلہ بے ابتدا ہو۔ جیسے آریوں کے نزدیک سلسلہ کائنات قدیم بالنوع ہے۔ یعنی گو دنیا کی ہر مرکب چیز مخلوق اور حادث ہے۔ لیکن سلسلہ قدیم ہے۔ یہ آریوں کا مذہب ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی آریوں کا مذہب پسند کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

’’چوں کہ خداتعالیٰ کی صفات کبھی معطل نہیں رہتیں۔ اس لئے خداتعالیٰ کی مخلوق میں قدامت نوعی پائی جاتی ہے۔ یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی نوع قدیم سے موجود چلی آئی ہے۔ مگر شخصی قدامت باطل ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۶۸ خزائن ج۲۳ ص۲۸۱)

یعنی خالق کے ساتھ مخلوق کا بھی کوئی نہ کوئی سلسلہ برابر چلا آیا ہے۔

284

ناظرین! غور فرمائیں فلاسفہ یونان نے تو صرف آسمان کو قدیم بالنوع کہا تھا۔ مرزا قادیانی نے عام کرکے دوسری مخلوق کو بھی قدیم بالنوع قرار دیا۔ اب بتائیے مرزا قادیانی کا علم کلام اصول اشاعرہ پر مبنی ہے یا فلاسفہ ملاحدہ کے خیال پر؟

نوٹ: مرزا قادیانی نے اسلام میں عقیدہ جدیدہ پیدا کرکے سب سے زیادہ اپنے جانشین بیٹے میاں محمود احمد خلیفہ حال قادیان کو پریشان کیا ہے۔ ناظرین ان کی پریشانی ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔

خلیفہ قادیان بخیال خود گمراہ لوگوں کی قسمیں شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ہم نے خلیفہ صاحب کی عبارت کو آسان کرنے کے فقرات میں تقسیم کرنے نمبر لگا دئیے ہیں۔ ناظرین بغور پڑھیں۔ ہو ذا ۔‘‘

۱… ’’پانچویں قسم کے وہ لوگ تھے جو خدا کی صفت خالقیت کو ایک زمانے تک محدود کرتے تھے۔ ان کو آپ (مرزا قادیانی) نے خداتعالیٰ کی صفت قیوم سے جواب دیا۔ فرمایا خداتعالیٰ کی صفات چاہتی ہیں کہ ان میں تعطل (بے عملی) نہ ہو بلکہ وہ ہمیشہ جاری رہیں۔ قیوم کے معنی قائم رکھنے والا اور یہ صفت تمام صفات پر حاوی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اسی بات پر خاص زور دیا ہے کہ خداتعالیٰ کی صفات میں تعطل نہیں ہوسکتا۔ آپ نے جو اصل پیش کیا اور جو تھیوری بیان کی وہ باقی دنیا سے مختلف ہے۔ (اس فقرے میں صفات خداوندی کے تعطل (بے عمل رہنے) سے انکار کیا ہے۔ بہت خوب)

۲… بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے فلاں وقت سے دنیا کو پیدا کیا۔ گویا اس سے قبل خدا بیکار تھا اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دنیا ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ گویا وہ خدا کی طرح ازلی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا دونوں باتیں غلط ہیں۔ یہ ماننا کہ کسی وقت خدا کی صفات میں تعطل تھا۔ خداتعالیٰ کی صفت قیوم کے خلاف ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ جب سے خداتعالیٰ ہے تب ہی سے دنیا چلی آئی ہے۔ خدا کی صفات کے خلاف۱؎ہے۔

۱؎ جو چیز معطل نہ ہو وہ برسر عمل ہوگی۔ یعنی غیر معطل اور عامل ہونا ایک ہی معنی ہیں۔

اس فقرے میں خدائی صفات مثل سابق غیر معطل کہہ کر دنیا کی قدامت اور ازلیت سے انکار کرنا متکلم کی شان کے خلاف ہے۔

285

۳… شاید بعض لوگ کہیں کہ دونوں باتیں کس طرح غلط ہوسکتی ہیں۔ دونوں میں سے ایک نہ ایک تو صحیح ہونی چاہئے۔ لیکن یہ ان کا خیال مادیات پر قیاس کرنے کے سبب سے ہوگا۔ اصل میں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو عقل انسانی سے بالا ہوتی ہیں اور عقل ان کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتی۔ دنیا کا پیدا ہونا چوں کہ انسانوں، جمادات بلکہ ذرات کی پیدائش سے بھی پہلے کا واقعہ ہے۔(یہ کس کا مذہب ہے؟) اس لئے انسانی عقل اس کو نہیں سمجھ سکتی۔ جو دو عقیدے لوگوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔

ان پر غور کرکے دیکھ لو کہ دونوں بالبداہت غلط نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ جب سے خدا ہے اسی وقت سے دنیا کا سلسلہ ہے تو پھر اسے دنیا کو بھی خداتعالیٰ کی طرح ازلی ماننا۱؎ پڑے گا اور اگر کوئی یہ کہے کہ پیدائش کا سلسلہ کروڑوں یا اربوں سالوں میں محدود ہے تو پھر اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خداتعالیٰ ازل سے نکما تھا۔ صرف چند کروڑ یا چند ارب سال سے وہ خالق بنا اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔

پس صحیح یہی ہے کہ اس امر کی پوری حقیقت کو انسان پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکتا۔ پھر آپ اور آپ کے والد کیا بیان کر بیٹھے؟ (مؤلف)

۴… اور سچائی ان دونوں دعوئوں کے درمیان درمیان میں ہے۔ یہ مسئلہ بھی اسی طرح محیرالعقول ہے۔ جس طرح کہ زمانہ اور جگہ کا مسئلہ ہے کہ ان دونوں چیزوں کو محدود یا غیر محدود ماننا دونوں ہی عقل کے خلاف نظر آتے ہیں۔ (جنہوں نے علم کلام اساتذہ سے پڑھا ہو۔ ان کے نزدیک خلاف عمل نہیں)

۵… حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس بحث کو یوں فیصلہ فرمایا ہے کہ نہ خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت کبھی معطل ہوئی اور نہ دنیا خدا کے ساتھ چلی آرہی ہے اور صداقت ان دونوں امور کے درمیان ہے اور اس کی تشریح آپ نے یہ فرمائی ہے کہ مخلوق کو قدامت

۱؎ آپ نے اور آپ کے والد نے صفات الٰہیہ کو غیر معطل کہا ہے۔ ملاحظہ ہو:

فقرہ اوّل تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے جس سے آپ یہاں منکر ہورہے ہیں: ’’ہل ہذا الا تہافت قبیح وتناقض صریح‘‘

286

نوعی حاصل ہے، گو قدامت ذاتی حاصل ہو۔ لیکن یہ سچ ہے کہ خداتعالیٰ ہمیشہ سے اپنی صفت خلق کو ظاہر کرتا چلا آیا۱؎ہے۔

۶… لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے قدامت نوعی کا بھی وہ مفہوم نہیں لیا جو دوسرے لوگ لیتے ہیں۔ جو یہ ہے کہ جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے۔ یہ ایک بیہودہ عقیدہ ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس کے قائل نہیں۔

۷… یہ کہنا کہ جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے۔ اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔ جو دونوں باطل ہیں۔ ایک تو یہ کہ خدا بھی ایک عرصہ سے ہے اور مخلوق بھی۔ کیوں کہ جب کا لفظ وقت کی طرف خواہ وہ کتنا ہی لمبا ہو اشارہ کرتا ہے اور ایسا عقیدہ بالکل باطل۔ دوسرے معنی اس جملہ کے یہ بنتے ہیں کہ مخلوق انہی معنوں میں ازلی ہے کہ جن معنوں میں خدا ہے اور یہ معنی بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں اور عقل کے بھی۔ خالق اور مخلوق ایک ہی معنوں میںازلی نہیں۲؎ہوسکتے۔ ضروری ہے کہ خالق کوتقدم حاصل ہو اور مخلوق کو تاخر۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے یہ کبھی نہیں لکھا کہ مخلوق بھی ازلی ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ مخلوق کو قدامت

۱؎ اس فقرے میں خلیفہ قادیان بے حد پریشان نظر آتے ہیں۔ باپ ایک طرف ہے اسلامی عقیدہ ایک طرف۔ اس لئے بزبان حال کہہ رہے ہیں’’دل بکہ کند اقتداء قبلہ یکے امام دو‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دنیا کے لفظ سے دھوکہ لگتا ہے۔ پس غور سے سنیں جب کہ بقول آپ کے والد صاحب کے خدا کی صفت خالقیت کبھی معطل (بے عمل) نہیں رہی تو جو کچھ بھی اس کے عمل کا معمول ہوگا وہ بحیثیت نوع اگر محدود الوقت ہے تو خدا کی صفت خالقیت اس سے پہلے معطل ماننی پڑے گی۔ جو آپ کو اور آپ کے والد کو منظور نہیں۔ پس مخلوق کا بصورت نوعی قدیم (ازل سے) ہونا آپ دونوں کو ماننا پڑے گا۔ آپ کا عندیہ بھی یہی ہے۔ لیکن اسلامی عقیدہ کی شنید اس کے اظہار سے مانع ہے۔ مگر مولوی عبدالحق کو مانع نہیں ہوئی جن کا قول آگے آتا ہے۔

۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ یہی ایک عقیدہ ہے جس کے حل کرنے میں باپ بیٹا حیران ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس قسم کے عقدے بغیر علم کلام باقاعدہ حاصل کرنے کے حل نہیں کرسکتے۔ ہاں صاحب! جو لوگ ازلیت نوعی کے قائل ہیں وہ بھی خالق ومخلوق میں ایک طرح کی ازلیت نہیں کہتے بلکہ بالذات اور بالغیر سے دونوں میں فرق کرتے ہیں۔ یعنی خدا کو ازلی اور قدیم بالذات کہتے ہیں اور معلول کو ازلی اور قدیم بالغیر نام رکھتے ہیں۔ دونوں میں تقدم وتاخر نہیں کہتے۔ مگر رتبہ علت کو مقدم مانتے ہیں اور معلول کو مؤخر۔ فافہم!

287

نوعی حاصل ہے اور قدامت اور ازلیت میں فرق ہے۔ غرض حضرت مسیح موعود (مرزا) کے نزدیک مخلوق کو قدامت نوعی تو حاصل، مگر ازلیت نہیں۱؎خالق مخلوق پر بہرحال مقدم ہے اور دور وحدت دور خلق سے پہلے ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خالق اور مخلوق کے اس تعلق کو سمجھنا کہ خالق کو ازلیت بھی اور دور وحدت کو تقدم بھی حاصل ہو اور مخلوق کو قدامت نوعی بھی حاصل ہو۔ انسانی عقل کے لئے مشکل ہے۔ لیکن صفات الٰہیہ پر غور کرنے سے یہی ایک عقیدہ ہے جو شان الٰہی کے مطابق نظر آتا ہے۔‘‘

(مسیح موعود کے کارنامے مؤلفہ میاں محمود احمد ص۳۹، ۴۰)

خلیفہ ولد مرزا قادیانی کے بیان کے بعد خلیفہ قادیانی کے ماموں مولوی میر اسحق صاحب نے ذرہ توضیح سے کام لیا ہے۔ چنانچہ صاف صاف لکھا ہے:

’’جاننا چاہئے کہ چوں کہ بعض ناواقف مناظر جو اسلام کی تعلیم سے کما حقہ واقفیت نہیں رکھتے سلسلہ کائنات کی ابتدأ مانتے ہیں اور خدا کی صفت خلق کا ایک خاص وقت سے کامشروع کرنا تسلیم کرتے ہیں۔ اس لئے … میں صاف لفظوں میں ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ عقیدہ نہایت غلط اور سخت فاحش غلط ہے اور قرآن مجید کے بالکل مخالف ہے۔ قرآن مجید صاف لفظوں میں فرماتا ہے ’’کل یوم ہوفی شان‘‘یعنی خدا کے خلق کرنے کوئی ابتداء نہیں بلکہ جب سے خدا ہے اور وہ ہمیشہ سے ہے۔ تب ہی سے وہ مخلوق پیدا کرتا چلا آیا ہے اور جب تک وہ رہے گا اور وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس وقت تک وہ مخلوق پیدا کرتا چلا جاوے گا۔ نہ خدا کے خلق کرنے کی ابتداء ہے نہ انتہاء، نہ کوئی پہلی مخلوق گزری ہے نہ کوئی آخری مخلوق پیدا ہوگی بلکہ ہر مخلوق سے پہلے مخلوق اور ہر مخلوق کے بعد مخلوق ہوگی اور یہ سلسلہ پرواہ سے انادی ہے … جس طرح آریہ ہر سر شٹی (دنیا) کو حادث مگر سر شٹیوں کے سلسلہ کو

۱؎ جس طرح آپ قدامت اور ازلیت میں فرق جانتے ہیں عرصہ ہوا ایک بزرگ بادنجان اور بورانی میں بہت فرق جانتے تھے۔ اسی کی تحقیق میں ان کی سو سال کی عمر ختم ہوگئی۔ سو سال بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ ددنوں بینگن کے نام ہیں تو انہوں نے صاف اقرار کیا:

پس از صد سال ایں معنی محقق شد بخاقانی...کہ بورانی ست بادنجان وباد نجان بورانی

آپ اس تحقیق میں لگے رہیں گے تو آپ کی ذہانت سے امید ہے آپ کو جلدی معلوم ہوجائے گا کہ قدیم اور ازلی ایک ہی چیز ہے۔ ہاں! اگر قدیم دو قسم بالذات اور بالغیر ہے تو ازلی بھی دو قسم بالذات اور بالغیر ہے۔

288

غیرحادث قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید مخلوق کے ہر فرد کو حادث مگر سلسلہ مخلوقات کو قدیم قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید کی رو سے کوئی مخلوق نہیں جو کہہ سکے کہ میں ہمیشہ سے ہوں اور کوئی مصنوع نہیں جو یہ دعویٰ کرے کہ میںقدیم سے ہوں۔ مگر سلسلہ مخلوقات ومصنوعات بے شک قدیم سے ہے۔‘‘

(حدوث روح ومادہ ص۲۴۴، ۲۴۵)

ان دو شہادتوں سے ثابت ہے کہ قدامت نوعی کو مرزا قادیانی کی طرف نسبت کرنا ہمارا افتراء نہیں بلکہ مرزا قادیانی اور ان کے اکابر اتباع نے یہی سمجھا ہے۔

ناظرین! سلسلہ کائنات کو قدیم بالنوع کہنا بعینہ آریوں کا عقیدہ ہے جیسا کہ مولوی اسحق صاحب کو مسلم ہے۔

(ملاحظہ ہو ستیارتھ پرکاش اردو طبع اول ص۵۴۴، ۷۴۵)

مرزائی دوستو! مرزا قادیانی کا اہل اسلام سے فصال اور آریوں سے وصال مقام افسوس ہے۔ ہم اس افسوس میں دل کو تسلی دینے کے لئے یہ شعر پڑھ لیتے ہیں:

  1. ہمارا ہوتا تو رہتا ہمارے سینہ میں

    یہ دل بنا ہے کسی چشم فتنہ زا کے لئے

نوٹ: ہماری غرض اس کتاب میں مرزا قادیانی کا علم کلام بتانا ہے۔ اس عقیدہ کا رد کرنا مقصد نہیں۔ جس کو رد دیکھنا منظور ہو وہ ہمارا رسالہ ’’اصول آریہ‘‘ ملاحظہ کرے۔

پاک تثلیث مرزا

(مسئلہ دوم)

نصاریٰ کا مذہب بابت تثلیث مشہور ہے کہ وہ خدا کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔ ایک میں تین اور تین میں ایک۔ یعنی توحید میں تثلیث اور تثلیث میں توحید۔ سب مسلمانوں کا مع اشعریہ کے یہ اعتقاد ہے کہ تثلیث فی التوحید اور توحید فی التثلیث غلط ہے۔ مرزا قادیانی اس کی تشریح فرماتے ہیں:

’’اگر یہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شئے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دلسوزی اور غم خواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ

289

بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے۔ ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اول بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہوکر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں۔ ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہوکر الٰہی محبت کے چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم شال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہوجاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔ سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جب کہ خداتعالیٰ اپنے ارادہ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو بارادہ الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے۔ ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے اس محبت کی بھری روح کو خدائے تعالیٰ کی روح سے جونافخ المحبت ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چوں کہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرہ امکان کو جو’’ہامکۃ الذات باطلۃ الحقیقۃ‘‘ہے۔ حضرت اللہ اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص۲۱، ۲۲ خزائن ج۳ ص۶۱ ، ۶۲)

ناظرین! کیسی خوبی سے پاک تثلیث کی تشریح کی ہے۔ چوں کہ خود بدولت حضرت مسیح کے مشابہ بنتے تھے۔ اس لئے خدا کا بیٹا ہونے کے وصف میں اپنے تئیں اس میں شریک کرنے کو لکھتے ہیں:

’’مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ ایسا ہی یہ وہ مقام عالیشان مقام ہے کہ گزشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیا اور اس کا آنا خدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔‘‘

(توضیح مرام ص۲۷ خزائن ج۳ ص۶۴)

اس اقتباس میں جو یہ لکھا ہے کہ گزشتہ نبیوں نے بطور استعارہ خدا کا آنا قرار دیا ہے وہ بھی خود بدولت مرزا قادیانی ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

290

’’میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۱؎: ’’یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام‘‘یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۴؍ قدیم ایڈیشن)

مرزائی دوستو! کیا یہ مسائل اشاعرہ کے مذہب میں ملتے ہیں؟ ذرہ سوچ کر دیانت، امانت اور خوف خدا سے جواب دینا۔

تیسرا مسئلہ

انبیاء کرامo کی تشریف آوری کی غرض وغایت خالص توحید کی تعلیم دینا ہے جو بنیاد ہے اسلام کی، اس لئے قرآن مجید میں بار بار حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کی شخصیت خاصہ کو بھی سامنے رکھ کر جملہ اختیارات الوہیت مسلوب کرکے محض بشریت دکھائی گئی۔

چنانچہ ارشاد ہے:

’’قل انّما انا بشر مثلکم یوحی الیّ انما الٰہکم الٰہ واحد۔ (کہف:۱۱۰)‘‘اے پیغمبر کہہ دو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں بشر ہوں میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہے۔

مگر مرزا قادیانی کے علم کلام میں خدائے واحد اور حضرت احمد میں فرق نہیں بلکہ دراصل دونوں ایک ہیں۔ چنانچہ آپ کا شعر ہے:

  1. شان احمد را کہ داند جز خداوند کریم

    آں چناں از خود جدا شد کزمیاں افتاد میم

(توضیح المرام ص۲۳ خزائن ج۳ ص۶۲)

(ترجمہ) ’’حضرت احمد کی شان خدا کے سوا کون جانتا ہے۔ وہ ایسے ہیں کہ اپنی ذات سے جدا ہوئے ہیں۔ درمیان میں میم آگئی ہے۔‘‘

یعنی احمد دراصل احد ہے۔ احد سے جدا ہوا تو درمیان میں میم آگئی۔ مرزا قادیانی نے ان دو شعروں سے یہ عقیدہ اخذ کیا ہے جو پنجاب کے جاہل فقیروں کا قول ہے۔

۱؎ یہ آیت قرآن میں نہیں۔

291

۱… ’’احد احمد وچ فرق نہ کوئی ذرا ایک میم مروڑی دا۔‘‘

  1. وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

    اتر پڑا وہ مدینے میں مصطفی ہوکر

ناظرین! اس مشرکانہ تعلیم پر کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو توحید سکھائی ہے پہلے نبیوں سے بڑھ کر ہے۔

چوتھا مسئلہ

خود اپنے حق میں الہام بتایا ’’انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘(حقیقت الوحی ص ۱۰۵ خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) یعنی اے مرزا تیرا اختیار ہے۔ جب کسی چیز کا تو ارادہ کرے تو اسے اتنا کہہ دے کہ موجود ہو جا۔ پس وہ ہوجائے گی۔‘‘

اس الہام کی گویا تشریح دوسرے مقام پر یوں کی ہے:

’’اعطیت صفۃ الافناء والاحیاء من الرب الفعال‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص ۵۵، ۵۶)

یعنی ’’مجھ (مرزا) کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھے ملی ہے۔‘‘ (یہ ترجمہ مرزا قادیانی کا خود کیا ہوا ہے)

مرزا ئی دوستو! کیا یہ مسائل بھی مذہب اشعری پر مبنی ہیں؟ یا بقول ڈاکٹر بشارت احمد مرزائی اس طرز کلام میں داخل ہیں جس کے سامنے زمانہ حال کے فلسفہ اور سائنس نے سرجھکایا ہوا ہے۔ (جل جلالہ)

ایسے متکلم اور ایسے علم کلام کو پڑھ کر بے ساختہ ز بان قلم سے نکلتا ہے:

  1. بت کریں آرزو خدائی کی

    شان ہے تیری کبریائی کی

دوسرا باب

مرزا قادیانی کا علم کلام متعلق اپنے دعویٰ مسیحیت ومہدیت

انصاف اور حق یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر کو اگر سو سال فرض کریں تو اس سو سال میں سے ایک سال بھی آپ کا خالص اسلام کی خدمت میں شاید ہی خرچ ہوا ہو۔ جس کتاب میں دیکھو اپنا حصہ داخل ہے ’’براہین احمدیہ‘‘ جس کو خالص اسلام کی تائید کا لقب دیا جاتا ہے۔ ناظرین اسے بھی بغور دیکھیں گے تو اکثریت اس کی ذات خاص کے لئے پاویں گے۔ بلکہ

292

مزید غور کریں گے تو اپنے آئندہ دعویٰ مسیحیت کے لئے اسی کو تمہید پاویں گے۔ حواشی تو قریباً سب کے سب الہامات اور بشارات مرزائیہ سے لبریز ہیں۔ لیکن بعد اس کے ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۸۹۱ء میں جب آپ نے کھلے لفظوں میں اپنی مسیحیت کا اعلان کیا تو ہمہ تن اس طرف متوجہ ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی کتاب خالص اسلام کی تائید میں نہیں لکھی۔

مقام حیرت ہے: کہ ’’تریاق القلوب‘‘ کی منقولہ عبارت گزشتہ صفحات میں رسالہ ’’کشف الغطاء‘‘ کو بھی اسلام کی تائید اور کفار کی تردید میں لکھا ہے۔ جس میں اپنی مسیحیت اور انگریزی اطاعت کے سوا کچھ ذکر ہی نہیں۔ چنانچہ اس کے سرورق کی عبارت ہم دکھاتے ہیں:

’’اے قادر خدا اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین!

کشف الغطاء یعنی : ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا رد جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔

اور یہ مؤلف ’’تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ، ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے باادب گزارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری وکرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔‘‘

(سرورق کشف الغطا خزائن ج۱۴ ص۱۷۷)

یہ عبارت رسالہ کا مضمون بتانے کو کافی سے زیادہ رہنما ہے۔ تاہم مزید روشنی کے لئے ہم اس کے دوسرے صفحے سے کچھ عبارت نقل کرتے ہیں جس سے مصنف کی غرض وغایت معلوم ہوجائے گی۔ لکھا ہے: ’’میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں۔‘‘

(کشف الغطا ء ص۲ خزائن ج۱۴ ص۱۷۹)

یہ عبارت مع عبارت سرورق بآواز بلند پکار رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو حکام کی ترچھی نظر سے کوئی بڑا سیاسی خطرہ تھا جس کے دفعیہ کے لئے یہ رسالہ لکھا۔ چنانچہ اصل مضمون

293

اس سے بھی واضح تر ہے۔ فرماتے ہیں:’’چوں کہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام میرزا غلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداس پورہ پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں۔ جوپنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدرآباد اور بمبئی اور مدراس اورملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔لہٰذا قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کر لیں۔‘‘

(کشف الغطا ص۲ خزائن ج۱۴ ص۱۷۹)

ناظرین! ہم یہ نہیں کہتے کہ انگریزی گورنمنٹ کی خوشامد اور منتیں نہ کریں۔ سو دفعہ کریں، سو کم ہو تو ہزار دفعہ کریں۔ ہم تو اس سے بھی منع نہیں کرتے کہ کلمہ شریف اس طرح پڑھا کریں۔ ’’لاالٰہ الّا اللہ جارج خلیفۃ اللہ ‘‘ ہاں! اتنا کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ کسی خطرے کو اپنے سے دفع کریں اور نام اسلام کی خدمت اور خیال کفار کا رکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں:

حافظا مے خورد رندی کن وخوش باش دلے

دام تزویر مکن چوں دگراں قرآن را

تتمہ کلام: کے طور یہ بتایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے انگریزوں اور انگریزی حکومت کی نسبت عجیب متضاد خیالات شائع کئے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:’’انّ یاجوج ومأجوج ہم النصاریٰ من الروس والاقوام البرطانیہ‘‘ (حمامۃ البشریٰ حاشیہ ص۲۸ خزائن ج۷ حاشیہ ص۲۰۹، ۲۱۰) ’’یعنی روسی اور انگریز قومی یاجوج وماجوج ہیں۔‘‘

یہاں تو انگریز اور روسیوں کو یاجوج ماجوج قرار دیا جو اسلامی اصطلاح میں بڑے شدید الکفر بھاری مفسدین کا نام ہے۔ مگر دوسرے ایک مقام میں یوں لکھا: ’’میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔‘‘

(رسالہ ضرورت الامام ص۲۳ خزائن ج۱۳ ص۴۹۳)

یعنی قرآن مجید میں جو (اولی الامر منکم) اپنے میں سے حکومت والوں کے حکم کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ انگریز اس آیت کے ماتحت ہمارے ’’اولی الامر‘‘ یعنی ہم میں سے صاحب حکومت ہیں۔

294

منطقی شکل کا نتیجہ منطقیہ

ان دونوں عبارتوں کو منطقی قاعدہ سے ملائیں تو صورت یوں ہوگی:

۱… احمدی برطانیہ قوم سے ہیں۔ کیوں کہ وہ مرزائیوں کے اولی الامر ہیں۔

۲… برطانیہ یاجوج ماجوج ہیں۔

نتیجہ یہ نکلا: ’’احمدی یاجوج ماجوج ہیں۔‘‘

اس نتیجہ پر علماء اسلام کے منہ سے یہ شعر بہت موزوں ہوگا:

  1. میرے پہلو سے گیا پالا ستم گر سے پڑا

    مل گئی اے دل! تجھے کفران نعمت کی سزا

غرض: رسالہ ’’کشف الغطاء‘‘ گورنمنٹ انگریزی کی خوشامد اور اپنی مسیحیت کے دعویٰ سے لبریز ہے۔ انگریزی خوشامد کے بعد اپنی نسبت جو لکھتے ہیں۔ اس کا نمونہ درج ذیل ہے:

’’مسیح موعود کا نام جو آسمان سے میرے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے معنی اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ مجھے تمام اخلاقی حالتوں میں خدائے قیوم نے حضرت مسیحؑ کا نمونہ ٹھہرایا ہے۔ تاامن اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو روحانی زندگی بخشوں۔ میں نے اس نام کے معنی یعنی مسیح موعود کے صرف آج ہی اس طور سے نہیں کئے بلکہ آج سے انیس برس پہلے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں بھی یہی معنی کئے ہیں۔ ممکن ہے کہ کئی لوگ میری ان باتوں پر ہنسیں یا مجھے پاگل اور دیوانہ قرار دیں۔ کیوں کہ یہ باتیں دنیا کی سمجھ سے بڑھ کر ہیں اور دنیا ان کو شناخت نہیں کرسکتی۔ خاص کر قدیم فرقوں کے مسلمان جن کے ایسی پیش گوئیوں کی نسبت خطرناک اصول ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے (قابل) لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظار ہے جو فاطمہ مادر حسین کی اولاد میں سے ہوگا اور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظار ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفان اسلام سے لڑائیاں کرے گا۔ مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں۔ ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے۔ جو نادانی اور دھوکہ سے مسلمانوں کے دلوں میں جما ہوا ہے اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں۔ غالباً عباسیوں کی سلطنت کے وقت

295

میں بنائی گئی ہیں اور صحیح اور راست صرف اس قدر ہے کہ ایک شخص عیسیٰؑ کے نام پر آنے والا بیان کیا گیا ہے کہ جو نہ لڑے گا اور نہ خون کرے گا اور غربت اور مسکینی اور حلم اور براہین شافیہ سے دلوں کو حق کی طرف پھیرے گا۔ سو خدا نے کھلے کھلے کلام اور نشانوں کے ساتھ مجھے خبر دی ہے کہ وہ شخض تو ہی ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے آسمانی نشان نازل کئے ہیں اور غیب کے بھید اور آنے والی باتیں میرے پر ظاہر فرمائیں ہیں اور وہ معارف مجھ کو عطا کئے ہیں کہ دنیا ان کو نہیں جانتی اور یہ میرا عقیدہ کہ کوئی خونی مہدی دنیا میں آنے والا نہیں تمام مسلمانوں سے الگ۱؎عقیدہ ہے۔‘‘

(کشف الغطا ص۱۲، ۱۳، خزائن ج۱۴ ص۱۹۲، ۱۹۳)

اس تمہید کے بعد ہم اس باب کا اصل مضمون شروع کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس باب میں تو کمال ہی کردیا۔ ہم حیران ہیں کہ اس باب میں آپ کے علم کلام کو صناعات خمسہ میں سے کس میں داخل کریں۔ کسی قسم کی کوئی دلیل، کوئی جدل، کوئی مغالطہ، کوئی مضمون شعری یا غیر شعری اس باب میں آپ نے نہیں چھوڑا۔ شروع میں آپ کے دعویٰ اور ثبوت کا ملخص یوں ہے۔

دعویٰ: ’’میں مسیح موعود ہوں۔‘‘

ثبوت: (مقدمہ اولیٰ) حضرت مسیحؑ فوت ہوگئے۔

(مقدمہ ثانیہ) مردے دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتے۔

(مقدمہ ثالثہ) پیش گوئیوں میں اکثر استعارات ہوتے ہیں۔

(ملخص از کتاب ازالہ اوہام ص۵۵۶ تا ۵۵۹، خزائن ج۳ ص۳۹۹ تا ۴۰۱)

ان سارے مقدمات کو سائل صحیح بھی مان لے تو بھی دعویٰ آپ کا ہنوز ثابت نہیں ہوسکتا۔ اس لئے مقدمہ رابعہ آپ نے یہ لگایا کہ مجھے الہام ہواہے:

’’جعلناک المسیح ابن مریم۔ہم (خدا) نے تجھ (مرزا) کو مسیح ابن مریم بنایا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۳ خزائن ج ۳ ص۴۶۳)

۱؎ آپ کی سب سے علیحدگی پر ایک شعر موزوں ہے:

ٹھاکر دواریں ٹھگ بسیں جتی چور مسیت

سب سے کنارے سادھو بسیں الٹی جن کی ریت

296

چونکہ سارا مدار اس چوتھے مقدمہ پر ہے اس لئے آپ نے اس کو کسی قدر مدلل بھی لکھا۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’اس سلسلہ کا خاتم باعتبار نسبت تامہ وہ مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے جو اس امت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہوگیا ہے اور فرمان ’’جعلناک المسیح ابن مریم‘‘نے اس کو درحقیقت وہی بنا دیا ہے ’’وکان اللہ علٰی کل شیٔ قدیراً‘‘اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیوں کہ محمد جلالی نام اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ مگر ہمارے نبیﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال وجمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد (مرزا قادیانی) جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۳ خزائن ج۳ ص۴۶۳)

اس اقتباس میں مبارک نام محمد کو جامع صفات جلال وجمال بتایا ہے اور اسم احمد کو فقط موصوف بجمال کہا ہے۔ جس کو منطقی اصطلاح میں تصور مع الحکم اور تصور ساذج سے مثال دے سکتے ہیں۔ یہ بات تو ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ تصور ساذج اور تصور مع الحکم باہمی قسیمین (متضاد) مفہوم ہیں۔ اس بیان کو ناظرین ذہن میں رکھیں اور مرزا قادیانی نے جو اس قول کی تشریح دوسری کتاب میں کی ہے وہ بغور پڑھیں۔ آپ فرماتے ہیں:

’’آنحضرتﷺ کے بعث اوّل کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا۔ یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا۔ مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ ’’وآخرین منہم لمّا یلحقوا بہم‘‘میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے جیسا کہ آیت ’’و مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ اسی کی طرف اشارہکررہی ہے اور اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مہدی معہود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے، جب مبعوث ہوگا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے۔ اس مجازی احمد کے پیرایہ میں ہوکر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی۔ یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرتﷺ کا شریک ہوں اور اس پر نادان مولویوں نے جیسا کہ ان کی ہمیشہ سے عادت ہے شور مچایا تھا۔

297

حالانکہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ اس پیش گوئی کا زیروزبر ہوجاتا ہے۔ بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جو نعوذب اللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے۔ لہٰذا جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر ایمان فرض ہے کہ آنحضرتﷺ کے دو بعث ہیں:

۱… ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے۔ جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘

۲… دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہٗ احمد‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۶ خزائن ج۱۷ ص ۲۵۳، ۲۵۴)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے اسم احمد میں اپنی شرکت بتائی ہے اور علماء پر اظہار خفگی فرمایا ہے کہ انہوں نے ہمارا مطلب نہیں سمجھا۔ حالانکہ علماء کی وجہ خفگی آپ نے نہیں سمجھی۔ علماء نے سمجھا کہ بقول آپ کے اسم احمد مجرد ہے تو بمنزلہ تصور ساذج یا بشرط لا کے درجہ میں ہے اور اسم محمد بمنزلہ تصور مع الحکم کے درجے میں۔ یہ تو ظاہرہے کہ تصور مع الحکم اور تصور ساذج دونوں ایک مادے میں جمع نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ رسول خداa نے اپنا نام احمد بھی بتایا۔ پھر یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ آنحضرت میں دونوں مراتب بشرط شیٔ اور بشرط لاشیٔ جمع ہوجائیں ’’ہل ہذا الا تہافت قبیح وتناقض صریح‘‘

اصل مدعا: مسیحیت موعودہ ہے۔ یہ چار جملے اس کے اثبات کی دلیل کے مقدمات ہیں۔ مرزا قادیانی نے خود اپنے دعوے مسیحیت کو صاف لفظوں میں لکھ کر کہا ہے کہ بس یہی ایک امر موجب انکار علماء ہوا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’وکنت اظن بعد ہذہ التسمیۃ ان المسیح الموعود خارج وما کنت اظن انہ انا حتی ظہر السر المخفی الذی اخفاہ اللہ علی کثیر من عبادہ ابتلاً من عندہ وسمانی ربی عیسٰی بن مریم فی الالہام من عندہ وقال یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّ ومطہرک من الذین کفروا وجاعل
298
الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ۔ انا جعلناک عیسٰی بن مریم وانت منی بمنزلۃ لا یعلمہا الخلق وانت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی وانک الیوم لدینا مکین امین۔ فہذا ہوالدعویٰ الذی یجادلنی قومی فیہ ویحسبوننی من المرتدین‘‘ (حمامۃ البشریٰ ص۷، خزائن ج۷ ص۱۸۳، ۱۸۴)

ترجمہ: میں سمجھتا رہا کہ اس نام (مسیح) رکھنے کے بعد بھی مسیح موعود ضرور آئے گا۔ میں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ میں ہی ہوں۔ یہاں تک کہ خدا کا بھید جو بہتوں پر مخفی رہا تھا مجھ پر ظاہر ہوا کہ میرے رب نے میرا نام عیسیٰ بن مریم اپنے ایک الہام میں رکھا۔ فرمایا ہم نے تجھے مسیح بن مریم کیا اور تو میرے نزدیک ایسے درجے میں ہے جس کو مخلوق نہیں جانتی اور تو میرے نزدیک میری توحید اور تفرید کے درجے میں ہے۔ پس یہی میرا دعویٰ ہے جس میں میری قوم مجھ سے جھگڑتی ہے اور مجھے مرتد سمجھتی ہے۔‘‘

پس اہل علم نظّار پر مخفی نہیں کہ جس مدعا کے اثبات کے لئے چار مقدمات ہوں سائل کو حق حاصل ہے کہ ان میں ہر ایک مقدمہ پر یا جس پر چاہے نقص یا منع وغیرہ کرے (کتاب رشیدیہ ملاحظہ ہو) اس میں مدعی کا حق نہیں کہ سائل کو مجبور یا تلقین کرے کہ میری دلیل کے فلاں مقدمہ پر بحث کر۔ (رشیدیہ) جب یہ حق نہیں کہ دلیل کے مقدمہ پر بحث کرنے کی درخواست کرے تو یہاں کہاں حق ہوسکتا ہے کہ کسی ایک مقدمہ کو اصل مبحث بنا کر سارا مدار اسی پر رکھے۔ مرزا قادیانی نے اور ان کے بعد ان کے اتباع نے علم کلام کے قواعد کو بالکل بالائے طاق رکھ کر صرف وفات مسیح کو مبحث قرار دے دیا۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

’’مسیح موعود کا دعویٰ اسی حالت میں گراں اور قابل احتیاط ہوتا کہ جب کہ اس دعویٰ کے ساتھ نعوذب اللہ کچھ دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔ اب جب کہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں صرف مابہ النزاع حیات مسیح اور وفات مسیح ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ اس مسئلہ کی درحقیقت ایک فرع ہے اور اس دعویٰ سے مراد کوئی عملی انقلاب نہیں اور نہ اسلامی اعتقادات پر اس کا کچھ مخالفانہ اثر ہے تو کیا اس دعویٰ کے تسلیم کرنے کے لئے کسی بڑے معجزہ یا کرامت کی حاجت ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۳۹ خزائن ج۵ ص ایضاً)

299

مرزا قادیانی نے تو جو کچھ کیا ان کا ختیار ہے۔ مگر ہم تو علم مناظرہ کے خلاف کریں گے۔ اس لئے ہم آپ کی دلیل پر مناظرانہ نظر کرتے ہیں:

(اول) سائل کا حق ہے کہ آپ کے چاروں مقدمات پر منع وارد کرے۔ یعنی یہ کہے کہ میں نہیں مانتا کہ حضرت مسیح فوت ہوچکے ہیں۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نہیں مانتا کہ مردے زندہ ہوکر دنیا میں نہیں آسکتے۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نہیں مانتا کہ پیش گوئیوں میں اکثر استعارات ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے میں نہیں مانتا کہ آپ ملہم اور خدا کے مخاطب ہیں۔

(دوسرا شخص)یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے آپ کی دلیل کے پہلے مقدمہ پر بحث نہیں (مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ وفات مسیح کا قائل ہے یا ہوگیا نہ آپ اسے مجبور کرسکتے ہیں کہ وفات تسلیم کر۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اس مقدمہ پر بحث کرنے سے اعراض کرتا ہے جو از روئے علم مناظرہ اس کا حق ہے) بلکہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ دوسرے مقدمہ کو بھی میں زیر بحث نہیں لاتا۔ مگر تیسرا خاص کر چوتھا مقدمہ مجھے مسلم نہیں۔ ان کو مبرہن کیجئے۔

(تیسرا سائل) کہہ سکتا ہے کہ میں آپ کی دلیل کے مقدمات ثلاثہ پر کوئی نظر نہیں کرتا میں تو چوتھے مقدمہ کو مدار کار جان کر آپ کی الہامی حیثیت پر بحث کرتا ہوں۔ کیوں کہ اگر آپ ملہم اور مخاطب الٰہی ثابت ہوجائیں تو پہلے تینوں مقدمات بلکہ آپ کے جملہ کلمات قابل قبول ہوں گے:

ہر کہ شک آرد کافر گردد

ناظرین کرام! کیا آپ لوگوں نے کبھی دیکھا کہ اتباع مرزا علم کلام کے اس مناظرانہ طریق سے کلام کرتے ہیں؟ نہیں بلکہ سوال ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی مسیحیت کا ثبوت دو۔ جواب ملتا ہے حضرت مسیح کی وفات پر بحث کرلو۔ کیسا بے اصولا پن ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس بے اصولے پن کا نام رکھتے ہیں اصولی بحث:

برعکس نہند نام زنگی کافو

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ خود مرزا قادیانی نے ان کو سکھایا ہے۔ پھر یہ کیوں نہ ایسا کریں۔ بقول:

  1. ما مریداں رو بسوئے کعبہ چوں آریم چوں

    رو بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما

300

نوٹ: ناظرین نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کے اثبات دعویٰ میں مقدمہ رابعہ کو بہت کچھ دخل ہے۔ بلکہ بغور دیکھیں تو مدار کل وہی ہے۔ اسی لئے مرزا قادیانی نے خود بھی مقدمہ رابعہ کو بہت اہم سمجھا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:

’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت ان چار مقدمات پر موقوف ہے۔ خاص کر مقدمہ رابعہ پر بہت کچھ مدار ہے۔فافہم فانہ مفید!

ایک آسان طرح سے فیصلہ

ہم ایک آسان طریق سے بھی مرزا قادیانی کی دلیل پر نظر کرتے ہیں:

علم معانی بیان کا قانون ہے کہ جب تک حقیقت ممکنہ ہو مجاز کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔ جس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص کہے ’’میں نے شیر دیکھا‘‘ شیر کا دیکھنا حقیقت ممکنہ ہے۔ اس لئے اس کی تاویل نہ ہوگی، بلکہ حقیقت ہی مراد لی جائے گی اور اگر یہ کہے کہ ’’میں نے شیر تلوار چلاتے دیکھا‘‘ تو یہاں حقیقت مراد نہ ہوگی کیوں کہ درندہ شیر تلوار نہیں چلایا کرتا۔ اس لئے یہاں شیر سے مراد بہادر آدمی ہوگا۔

اسی قانون کی تائید میں حکیم نورالدین خلیفہ اوّل قادیان کی شہادت بھی موجود ہے۔

نوٹ:حکیم نورالدین صاحب کی یہ تحریر مصدقہ مرزا قادیانی بھی ہے۔ کیوں کہ ان کی کتاب ازالہ اوہام کے ساتھ بطور ضمیمہ مبطوع ہے۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں:’’ہر جگہ تاویلات وتمثیلات سے، استعارات وکنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد منافق بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلام کو لاسکتا ہے۔ اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔‘‘

(خط ملحقہ ازالہ اوہام ص۸،۹ خزائن ج۳ ص۶۳۱)

یعنی الفاظ کی حقیقت کا خیال ہمیشہ رہنا چاہئے۔ تاوقتیکہ حقیقت ممکنہ ہے مجاز کی طرف رجوع نہیں ہونا چاہئے۔ اس قانون اور اس کی تائید کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کا اعتراف قابل غور ہے۔

301

’’ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیوں کہ یہ عاجز دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۰۰ خزائن ج۳ ص۱۹۷)

اسی تسلیم کی تائید فرماتے ہیں: ’’اس بات سے اس وقت انکار نہیں ہوا اور نہ اب انکار ہے کہ شاید پیش گوئیوں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی اور مسیح موعود بھی آئندہ کسی وقت پیدا ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶۱ خزائن ج۳ ص۲۳۱)

کیا فرماتے ہیں علماء نظّار کہ جب حقیقت ممکنہ ہے۔ یعنی مسیح موعود کا ظاہری نشانوں کے ساتھ آنا ممکن ہے تو پھر مجاز کی طرف رجوع کرکے مرزا قادیانی کو مجازی نشانات کے ساتھ مسیح موعود کیوں مانیں؟ پس حسب قاعدہ علم معانی سائل کہہ سکتا ہے کہ ہم آپ کے مقدمات اربعہ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کیوں کہ وہ سب مجاز کی طرف لے جارے ہیں۔ جس کی طرف جانا جائز نہیں۔ کیوں کہ پیش گوئی کے الفاظ کی حقیقت ممکن ہے۔فلا یجوز المصیر الی المجاز!

ایک اور طرح سے نظر

مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت موعودہ کی نسبت ایک فقرہ ایسا لکھ دیا ہے کہ کل نزاعات کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہم اس کے متعلق مرزا قادیانی کا جتنا شکریہ ادا کریں بجا ہے۔ مگر قبل نقل کرنے اس فقرے کے، مرزا قادیانی کی مایۂ ناز کتاب براہین احمدیہ سے ایک دو سطریں ہم نقل کرتے ہیں۔

آپ لکھتے ہیں:’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکساری اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درست کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۹ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳ خزائن ج۱ ص۵۹۳)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اظہار کیا ہے کہ میں اپنے کمالات روحانیہ میں حضرت مسیح کے مشابہ ہوں یہ اس زمانہ کا دعویٰ ہے جب مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ مسیحؑ کو

302

مسیح موعود جانتے تھے اور اپنے کو ان کا مشابہ یا مثیل۔ اب سنئے مندرجہ ذیل عبارت جو فیصلہ کن ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’اے برادران دین وعلماء شرع متین آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۰ خزائن ج۳ ص۱۹۲)

ناظرین! ازالہ اوہام مرزا قادیانی کی تصنیف اس زمانہ کی ہے جس زمانہ میں آپ نے مسیحیت موعودہ کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت بھی لکھتے ہیں کہ:

’’میں مسیح موعود کا مثیل ہوں۔ مگر کم عقل لوگ مجھ کو اصل مسیح موعود سمجھنے لگ گئے۔‘‘

قادیانی ممبرو! مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان کر کم عقل کیوں بنتے ہو۔ مانا کہ عشق میں آدمی کم عقل کیا بے عقل بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن آخر عقل تو ایک قابل قدر چیز ہے۔ کیا تم نے سنا نہیں: ؎ چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

باب سوم

مخصوص قادیانی علم کلام

کتاب ہذا میں ہم تیسرے باب کا ذکر کر آئے ہیں۔ اس باب میں ہم خواجہ کمال الدین لاہوری مرزائی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ’’احمدی علم کلام‘‘ کے نام سے ایک خاص عنوان مقرر کیا ہے۔ اس لئے ہم اسی کو سامنے رکھ کر ان مرزائی اصول کلام کی تحقیق کرتے ہیں جو بقول خواجہ صاحب مرزا قادیانی کی ایجاد ہیں۔

خواجہ صاحب نے اس اصول سے پہلے ایک عام اصول میں مرزا قادیانی اور سرسید احمد خان میں فرق بتایا ہے۔ آپ کے یہ الفاظ یہ ہیں:

’’حضرت مرزا قادیانی نے سرسید کے بالعکس راستہ اختیار کیا۔ آپ نے قرآن کریم کو تحویل سے بچایا۔ آپ نے ہر جگہ قرآن کریم کے لفظی معنی لئے۔ پھر اس کے برخلاف

303

جن غلط نظریات کو فلسفہ جدید نے پیش کیا۔ اسے عقلیہ طور پر توڑ کر قرآنی حقائق کا تفوّق ان پر ظاہر کیا۔‘‘

(مجدد کامل ص۱۰۹)

ہم بہت مشکور اور مسرور ہوتے اگر واقعہ بھی ایسا ہوتا۔ مگر نہایت افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی سرسید کی طرح الفاظ کی پابندی سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی مثالیں ہم پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیت ہے:’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔ (آل عمران: ۱۱۰)‘‘

’’تم مسلمان اچھی جماعت ہو جو لوگوں کے فائدے کے پیدا کئے گئے ہو۔‘‘

اس آیت میں ’’الناس‘‘ کا لفظ قابل غور ہے۔ مرزا غلام ااحمد قادیانی کو ضرورت تھی کہ اپنا دعویٰ مسیحیت قرآن سے ثابت کریں اور مسیحیت موعودہ کے زمانہ میں دجال کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے آپ نے اس آیت کی تفسیر ایسی خوبی سے فرمائی کہ قابل دید وشنید ہے۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’منجملہ ان دلائل کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ قرآن شریف کی یہ آیت ہے ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس‘‘ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم بہترین امت ہو جو اس لئے نکالی گئی ہو کہ تاتم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فرو کرکے اور ان کے شر کو دفع کرکے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچائو۔ واضح رہے کہ قرآن شریف میں ’’الناس‘‘ کا لفظ بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنی کرنا معصیت ہے چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنی دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے: ’’لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس‘‘یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میںاسرار وعجائبات پر ہیں۔ دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں… بہرحال آیت خیر امت کا لفظ الناس کے ساتھ مقابلہ ہوکر قطعی طور پر ثابت ہوگیا کہ الناس سے مراد دجال ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔

(تحفہ گولڑویہ ص ۲۰،۲۱ خزائن ج۱۷ ص۱۲۱، ۱۲۰)

خواجہ صاحب! کیا ’’الناس‘‘ کا اصل ترجمہ ’’دجال‘‘ ہے؟ اگر ہے تو پھر اس آیت کے کیا معنی ہوں گے۔ ’’اذا قیل لہم آمنو کما آمن الناس (بقرہ: ۱۱۳)‘‘ ایمان

304

لائو جیسے الناس ایمان لائے ہیں،بقول مرزا غلام احمد قادیانی معنی ہوئے کہ اے لوگو! تم بھی دجال کی طرح ایمان لائو۔ (جل جلالہ)

۲… دوسری مثال یہ ہے کہ سرسید احمد خان نے لکھا ہے کہ آیت ’’کونوا قردۃً خاسئین‘‘میں بندر سے مراد بد اخلاق انسان ہے نہ کہ مشہور حیوان۔ مرزا قادیانی بھی ایسا ہی کہتے ہیں: ’’اسلامی تعلیم سے ثابت ہے کہ ایک شخص جو اس دنیا میں زندہ موجود ہے۔ جب تک وہ تزکیہ نفس کرکے اپنا سلوک تمام نہ کرے اور پاک ریاضتوں سے گندے جذبات اپنے دل سے نکال نہ دیوے تب تک وہ کسی نہ کسی حیوان یا کیڑے مکوڑے سے مشابہ ہوتا ہے اور اہل باطن کشفی نظر سے معلوم کرجاتے ہیں کہ وہ اپنے کسی مقام نفس پرستی میں مثلا بیل سے مشابہ ہوتا ہے یا گدھے یا کتے سے یا کسی اور جانور سے اور اسی طرح نفس پرست انسان اسی زندگی میں ایک جون بدل کر دوسری جون میں آتا رہتا ہے۔ ایک جون کی زندگی سے مرتا ہے اور دوسری جون کی زندگی میں جنم لیتا ہے۔ اسی طرح اس زندگی میں ہزاروں موتیں اس پر آتی ہیں اور ہزارہا جونیں اختیار کرتا ہے اور آخیر پر اگر سعادت مند ہے تو حقیقی طور پر انسان کی جون اس کو ملتی ہے۔اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصہ میں فرمایا کہ وہ بندر بن گئے اور سور بن گئے۔ سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہوگئے تھے بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور سوروں کی طرح نفسانی جذبات ان میں پیدا ہوگئے تھے۔‘‘

(ست بچن ص۸۲، ۸۳ خزائن ج۱۰ ص۲۰۶، ۲۰۷)

خواجہ صاحب بتادین کہ ’’قردۃ‘‘ کے اصل معنی مرزا قادیانی نے بحال رکھے یا سرسید کی طرح چھوڑ دئیے؟

۳… اب ہم ایک مثال حدیث سے دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے ’’مسیح موعود دمشق میں نازل ہوں گے۔‘‘

(مسلم ج۲ ص۴۰۱ باب ذکر الدجال)

مرزا قادیانی چوں کہ مسیح موعود بنے اور نازل ہوئے قادیان میں تو آپ نے ’’دمشق‘‘ کے معنی میں تصرف کیا۔ چنانچہ آپ کے الفاظ ہیں:

’’واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور

305

یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں… خداتعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمادیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں ’’دمشق‘‘سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص۶۶، ۷۱ خزائن ج۳ ص۱۳۵، ۱۳۸)

ناظرین کرام! اگر ہم چاہیں تو مرزا قادیانی کی تحریرات سے ایسی مثالیں سینکڑوں تک گنادیں۔ مگر اس جگہ ان تینوں پر کفایت کرتے ہیں جن میں نصاب شہادت سے بھی ایک زیادہ ہے۔ مزید کے لئے ناظرین کو اپنے رسالہ ’’نکات مرزا‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ (جو احتساب کی اس جلد میں شامل ہے)

یہ تو ایک تمہیدی نوٹ ہے۔ خواجہ صاحب نے ’’قادیانی علم کلام‘‘ کا پہلا اصول یہ بتایا ہے: ’’سب سے اول ۱۸۹۳ء میں جناب مرزا صاحب نے ایک نہایت زبردست ہی نہیں بلکہ اچھوتا اصول قائم کیا۔ اس وقت آپ امرتسر میں عیسائی قوم کے ساتھ سرگرم مباحثہ تھے۔ آپ نے مباحثہ کے شروع میں فرمایا کہ خداتعالیٰ کی کتاب اگر کسی امر کی تعلیم کرے تو اس کے دلائل بھی خود دے۔ یعنی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں خود ہی دلائل دے۔ مثلاً گر خدا کی ہستی منوائے تو پھر اس کی ہستی کے دلائل بھی دے۔‘‘

(مجدد کامل ص۱۱۰)

جواب: بے شک مرزا قادیانی نے مباحثہ امرتسر میں ایسا کہا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ قرآن مجید میں یہ مزیت ہے۔ چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی اس دعوے کا ثبوت بھی قرآن مجید سے دیتے کیوں کہ یہ بھی تو ایک دعویٰ ہے۔ اس کا ثبوت دینا بھی قائل کے ذمہ ہے۔ یعنی قائل یہ بتائے کہ قرآن نے اپنے ایسا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ نہیں کہ ہم مسلمان بحکم:

پیران نمے پرند ومریداں ہمے پرانند

قرآن مجید کے سر تھوپیں:

مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں اس دعویٰ کا ثبوت قرآن شریف میں سے نہیں دیا۔ آج ہم مرزا قادیانی کی کمی پورا کرتے ہیں۔ ارشاد ہے:

’’شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس وبیّنات من الہدٰی والفرقان (بقرہ: ۱۸۵)‘‘ یعنی رمضان کے مہینے میں قرآن کا نزول شروع ہواہے جو لوگوں کے لئے ہدایت (احکام) اور ہدایت کے لئے دلائل ہیں اور فیصلہ۔‘‘

306

اس آیت میں قرآن مجید کو ہدایت اور ہدایت کے دلائل فرمایا ہے۔ یعنی جن باتوں کی قرآن ہدایت کرتا ہے ان پر دلائل بیّنات بھی دیتا ہے۔ پس یہ ہے وہ حیثیت جو قرآن شریف نے خود اپنی بتائی ہے۔

اتباع مرزا کہتے ہیں کہ گو قرآن مجید میں یہ ہے۔ لیکن اس کے اظہار کرنے کا فخر مرزا قادیانی کو ہے۔ کیوں کہ ان سے پہلے کسی نے یہ کلمہ نہیں دکھایا۔ بس اب اتنی سی بات قابل جواب رہ گئی۔ ہم اس کا جواب بہت آسانی سے دیتے ہیں۔ جس میں کسی قسم کا ایچ ایچ نہ ہو۔ عرصہ ہوا اخبار اہل حدیث میں بھی ہم شائع کرچکے ہیں۔ آج بھی بتائے دیتے ہیں۔

کئی صدیاں گزر گئیں کہ علامہ ابن رشد نے اس اصول پر تنبیہ کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:’’یظہر من غیر آیۃ من کتاب اللہ انہ دعا الناس فیہا الی التصدیق بوجود الباری بادلۃ عقلیۃ منصوص علیہا مثل قولہ تبارک وتعالٰی یاایہا الناس اعبدو ربکم الذی خلقکم والذین من قبلکم الآیہ ومثل قولہ تعالٰی افی اللہ شک فاطر السموات والارض من الآیت۔‘‘

(فلسفہ ابن رشد مطبوعہ مصر ص۲۵)

’’یعنی قرآن مجید کی کئی ایک آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن نے لوگوں کو خدا کے ماننے کی طرف بلایا عقلی دلائل منصوصہ کے ساتھ۔ جیسے فرمایا اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا اور فرمایا کیا اللہ کی شان میں تم کو شک ہے جو آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ہے ۔ وغیرہ بہت سی آیات ہیں۔‘‘

تشریح: پہلی آیت میں حکم عبادت کا دیا تو اس کی دلیل دی ’’جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا‘‘ دوسری آیت میں خدا کی شان میں شک کو ناجائز قرار دیا تو اس کی دلیل دی کہ ’’وہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے۔‘‘

ناظرین! اسی مختصر تنبیہ سے مرزا قادیانی نے وہ اصول اخذ کیا جو مباحثہ امرتسر میںپیش کیا۔ مگر چوں کہ دل میں تھا کہ میں اس اصول کا موجد بنوں اس لئے غلطی کھا گئے جس کی تفصیل معروض ہے۔

نقض اجمالی: علم مناظرہ نقض اجمالی اس کو کہتے ہیں جس میں سائل ثابت کردے

307

کہ مدعی کی دلیل سے بعض جگہ خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی پر نقض اجمالی وارد ہوتا ہے۔ علامہ ابن رشد پر نہیں۔ کیوں کہ مرزا قادیانی نے عام قانون بتایا ہے۔ جس کو خواجہ صاحب نے یوں بتایا ہے:

’’خدا کی کتاب اگر کسی امر کی تعلیم دے تو اس کے دلائل بھی خود دے۔‘‘

یہ ایک عام قانون کی صورت میں ہے۔ اس لئے اس پر نقض ہوگا کہ تورات، انجیل، زبور، بلکہ آپ کی مسلمہ الہامی کتاب وید میں یہ وصف نہیں تو آپ ان کتابوں کو کتاب اللہ کیوں مانتے ہیں؟ لیکن علامہ ابن رشد نے عام قانون کی شکل میں دعویٰ نہیں کیا بلکہ قرآن کی مزیت اور خصوصیت بیان کی ہے۔ اس لئے اس پر نقض وارد نہیں ہوسکتا۔ فافہم! پس اتباع مرزا کا اس پر فخر کرنا قصور نظر اور پیر پرستی ہے۔ واقعہ نہیں۔العلم عند اللہ !

دوسرا اصول: خواجہ صاحب نے مرزا قادیانی کے دوسرے اصول کی بابت لکھا ہے کہ: ’’مرزا قادیانی نے دوسرا اصول یہ باندھا کہ خدا کی کتاب وہی ہوسکتی ہے جس میں ہر ضرورت انسانی کا علاج ہو وہ سب فطری تقاضات کو سامنے رکھے اور انہیں پورا کرے۔

تیسرا اصول: ایک اور اصول مرزا قادیانی نے یہ باندھا کہ مذہب اگر تربیت انسانی کے لئے آتا ہے تو اس کتاب میں کل انسانی جذبات کی تربیت وتعدیل کا سامان ہو۔

چوتھا اصول: آپ نے فرمایا کہ مذہب الٰہیہ انہی جذبات کو اخلاق اور پھر روحانیات میں متشکل کرنے کا نام ہے۔ محض رسمیات کے مجموعہ کا نام مذہب نہیں۔

ہم حیران ہیں: کہ اتباع مرزا باوجود علم وعقل کے کیوں ایسی معمولی الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ امور جن کو خواجہ صاحب اصول ساختہ مرزا کی شکل میں بتاتے ہیں قرآن مجید کے کھلے الفاظ اور واضح صورت میں ملتے ہیں:

’’تفصیلاً لکل شیٔ مفصلاً مبین۔ فصلناہ علی علم کتاب مبین‘‘وغیرہ الفاظ مرات کرات قرآن مجید کے حق میں قرآن موجود ہیں اور واضح ترین لفظوں میں ہیں تو ان کو ایجاد مرزا کہنا کیا انصاف ہے؟ ان الفاظ قرآنیہ کے ماتحت اکابر مفسرین نے یہی معنی مراد لئے جو خواجہ صاحب کہتے ہیں۔ امام رازی،غزالی، ابن حزم، ابن تیمیہ، ابن رشد، شاہ ولی اللہ وغیرہw سب نے ان آیات کی تفسیر میں یہی لکھا ہے:

308

’’روحانیات میں متشکل کرنے‘‘ کے اظہار کے لئے ایک ہی آیت قرآنی کافی ہے جو یہ ہے: ’’ہوالذی بعث فی الامیین رسولاً منہم یتلوا علیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (الجمعۃ:۲)‘‘ یعنی خدا نے عرب کے بے علموں میں رسول بھیجا ہے وہ ان کو اللہ کے احکام سناتا ہے اور اس تعلیم کے ساتھ ان کو پاک کرتا ہے کتاب اور معرفت الٰہیہ ان کو سکھاتا ہے اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں تھے۔‘‘

خواجہ صاحب! یہ ہے وہ سب کچھ جس کو آپ نے مرزا قادیانی کا طرہ امتیاز بتایا ہے۔ ہاں سنئے! مرزا قادیانی اور آپ نے ان نمبروں کو اصولی شکل میں بتا کر اپنی اور باقی اتباع مرزا کی گردن پر بڑا بھاری بوجھ اٹھایا ہے۔ خداخیر کرے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ آپ لوگ اس بوجھ کی سختی سے دب جائیں گے اور سر نہ اٹھا سکیں گے۔ غور فرمائیے! مرزا قادیانی ویدوں کی بابت فرماتے ہیں اور اس مضمون کو آپ ہی شائع کیا تھا۔ یعنی کتاب ’’پیغام صلح‘‘ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

’’ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں … خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسانوں کا افتراء نہیں … ہم خدا سے ڈر کر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں۔‘‘

(کتاب پیغام صلح ص۲۳، ۲۵ خزائن ج۲۳ ص۴۵۳، ۴۵۴)

جب وید بھی خدا کا کلام اور الہام ہے اور سب لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا تھا تو اس اصول مرزا کے ماتحت اس میں بھی وہ سب اوصاف ہونے چاہئیں جو آپ نے الہامی کتاب کے لئے اصول مذکورہ میں بیان کئے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی ویدوں کے حق میں جو رائے رکھتے ہیں وہ یہ ہے۔ خواجہ صاحب اور اتباع مرزا غور سے سنیں۔ فرماتے ہیں:

’’وید نے انسان کی حالت پر رحم کرکے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیا بلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گناہ کے لئے بھی ایک لمبا اور ناپیدا کنار سلسلہ جونوں کا تیار کر رکھا ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۴۳ خزائن ج۲۳ ص۵۱)

ناظرین! ہم نے نہیں۔ آپ نے کوئی ایسا قابل مصنف اور لائق متکلم دیکھا جو

309

ایک طرف تو ایک نہیں کئی ایک اصول مقرر کرے۔ دوسری طرف خود ہی ان کے خلاف کرے؟ اگر نہیں دیکھا تو مرزا قادیانی کو دیکھ لیں۔

  1. مرے معشوق کے دو ہی پتے ہیں

    کم پتلی صراحی دار گرن

خواجہ صاحب! فرمائیے آریہ ان دونوں حوالوں کو لے کر آپ کے اور آپ کی کل جماعت لاہوریہ اور قادیانیہ کے سامنے آپ کے سلطان القلم رئیس المتکلمین کے یہ دو حوالے لے کر کھڑے ہوجائیں اور ان میں تطبیق کرنے کا سوال کریں تو آپ مع اپنی جماعت کے جواب دے سکتے ہیں؟ پہلے مجھے بتا دیجئے تاکہ میں بھی آپ کی تائید کرسکوں۔ آہ!

  1. بروز حشر گر پرسند خسرو راچرا کشتی

    چہ خواہی گفت قربانت شوم تامن ہماں گوئم

دعا: خدا کرے آریہ نہ سن پائیں۔

ناظرین! یہ ہیں ہمارے سلطان القلم کے اصول کلامیہ جن پر آج اتباع مرزا کو ناز ہے۔ غالباً انہیں معلوم نہیں کہ علم کلام کیا ہے اور علماء متکلمین کون تھے۔ اس لئے:

  1. ناز ہے گل کو نزاکت پر چمن میں اے ذوق

    اس نے دیکھے ہی نہیں نازو نزاکت والے

البتہ قرآن شریف نے جس پیرائے میں یہ دعویٰ کئے ہیں ان پر نقض اجمالی وارد نہیں ہوسکتا۔ جو مرزا قادیانی کی اصولی شکل پر ہوتا ہے۔ کیوں کہ قرآن مجید نے بطور خصوصیت اور مزیت کے یہ دعاوی کئے ہیں نہ بطور اصول کے۔ یعنی یہ کہا ہے کہ مجھ میں یہ امور پائے جاتے ہیں۔ یہ نہیں کہا کہ ہر الہامی کتاب میں یہ امور ہونے چاہئیں۔

اس کی مثال: علماء کی جماعت ایک جگہ جمع ہے جن میں بعض کا بیان ہے کہ ہم نے قرآن اور صحاح ستہ پڑھا ہے۔ ایک ان میں سے کہتا ہے کہ ’’میں نے صرف، نحو، اصول معقول، فلسفہ، معانی بیان، ادب اور قرآن، حدیث اور تفسیر سب پڑھی ہیں۔‘‘

اس پچھلے صاحب کا بیان اصولی نہیں بلکہ خصوصی ہے۔ یعنی یہ نہیں کہ ہر عالم کے لئے اتنے علوم کی ضرورت ہے۔ ایسا کہنے سے وہ عالم جنہوں نے اصول معقول، فلسفہ وغیرہ علوم نہیں پڑھے عالم کی صف سے نکل نہیں جائیں گے۔ ہاں اپنی مزیت بیان کرنے سے وہ عالم کی صفت سے نکلیں گے نہیں بلکہ اس کی مزیت ثابت ہوگی۔ مرزا قادیانی اور ان کے بعد خواجہ صاحب نے چوں کہ اس بیان کو اصول کی صورت میں بیان کیا ہے۔ اس لئے ان پر نقض

310

وارد ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے چوں کہ مزیت اور خصوصیت کی صورت میں دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے اس پر وارد نہیں ہوسکتا۔لہ الحمد!

ْْْ۵… ان اصول (۳،۴) کی تشریح میں حضرت مرزا (قادیانی) نے نبی کامل کے لئے یہ شرط لگادی کہ اس کی زندگی میں اس قسم کے موافق پیدا ہوجائیں کہ جن کے ماتحت یہ سارے اخلاق ظاہر ہوں والّا اخلاق منفیہ کچھ چیز نہیں یعنی اس قسم کا وعظ کرنا کہ فلاں فلاں چیز کرو یا نہ کرو، واعظ کے اخلاق منفیہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ لیکن حقیقی خلق یہ ہے کہ وہ اس سے ظہور بھی پائیں۔ مثلاً کسی انسان کے ارد گرد امور ناجائز کی تحریکات ہوں، اس میں بدی کرنے کی طاقت بھی ہو۔ وہ اس فعل بد کو دوسروں کی نگاہ سے چھپا بھی سکے۔ اس پر وہ بدی نہ کرے تو وہ باخلق سمجھا جائے گا۔ جیسے کہ حضرت یوسف نے ایک مصرعی عورت کے مقابل اپنی عصمت کو قائم رکھا۔ ایسا ہی مصیبت کے وقت غالب دشمن کے مقابل اسے زبانی معاف کر دینا کوئی خوبی نہیں۔ غصہ حقیقی اس ظاہر ہوتا ہے جب انسان کو اذیت پہنچے وہ اس اذیت پر صبر کرے۔ پھر اس پر وہ وقت بھی آجائے کہ جب اس کے دشمن اس کے قدموں میں ہوں۔ اس میں انتقام بھی ہو لیکن وہی معاف کردے۔ اس قسم کے خلق عظیم کا مظہر صرف حضرت خاتم النّبیینa ہی ہیں۔

(مجدد کامل ص۱۱۳، ۱۱۴)

جواب: ہم حیران ہیں کہ خواجہ صاحب اور دیگر اتباع مرزا پر محبت مرزا کتنی غالب ہے کہ خواجہ صاحب جیسے ہوشیار وکیل اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ یہ نمبر جس صورت میں (بقول خواجہ) نمبر ۳،۴ کی تشریح کی ہے تو اس پر نمبر۵ لگا کر اس کو مستقل کیوں بنایا یا خواہ مخواہ امتحان کی طرح نمبر زیادہ لینے کا شوق ہے؟ خیر اس فروگزاشت سے بھی ہم درگزر کرکے اصل غلطی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ امر ہر اہل علم متکلم پر واضح ہے کہ مناظر متکلم جب کبھی کوئی اصول قائم کرتا ہے تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ ہر طرف سے اسے محفوظ کرے کسی طرح اس پر نقض اجمالی یا تفصیلی یا معارضہ وارد نہ ہو۔ ہم نہایت حیرت سے دیکھتے ہیں کہ علم کلام کا یہ ابتدائی اصول نہ تو مرزا قادیانی نے کبھی ملحوظ رکھا نہ خواجہ صاحب نے اس کی پروا کی۔ مثلاً یہی نمبر۵ کا اصول (اگر اس کو مستقل اصول کہہ سکیں) ایسا منقوض ہے کہ کوئی بھی نہ ہوگا۔

311

مرزائی علم کلام کے جواب میں ہم قرآن وحدیث کو پیش کرنے کی ضرورت جانتے تو آج وہ حدیث پیش کرتے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’میں نے بعض انبیا ایسے بھی دیکھے ہیں جن کے ساتھ ایک ہی امتی تھا۔‘‘

بقول مرزا قادیانی اس اصول کے ماتحت ایسے نبی سچے نہ ہوئے لیکن ہم اتباع مرزا کو اس خاردار جنگل میں لے جانا نہیںچاہتے، بلکہ صاف اور سیدھا راستہ قادیان کا دکھاتے ہیں۔ پس وہ غور سے سنیں مرزا قادیانی عمل الترب (مسمریزم) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی ودماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جوروح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہوجاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص۳۱۰، ۳۱۱ خزائن ج۳ ص۲۵۸)

ناظرین کرام! اللہ غور کریں کہ اگر یہ اصول معیار صداقت ہے تو بقول مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ روح اللہ کلمۃ اللہ صادق نبی ہوئے یا کیا؟

حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور اتباع مرزا ہمیں معاف رکھیں ان کو اصول اور مزیت میں فرق معلوم نہیں۔ اس کی مثال ہم پہلے نمبر (دوم) میں دے آئے ہیں۔ یہاں بھی خواجہ صاحب کی شان کے لائق سناتے ہیں۔

وکیل کی تعریف یہ ہے جو قانون کے امتحان میں پاس ہوا ہو۔ مزیت یہ ہے کہ وہ قانون کے علاوہ دیگر علوم مذہبی یا لٹریری فنون سے بھی واقف ہو۔ پس اس تمثیل کے ماتحت ہم مانتے ہیں کہ جو کامیابی پیغمبر اسلامm کو ہوئی وہ کسی کو نہیں ہوئی۔ لیکن اس کو اصول صداقت یا اصول کلام کہنا جائز نہیں۔ مزیت بے شک ہے۔ ورنہ اس پر سخت نقض وارد ہوگا۔

۶… ’’مرزا قادیانی نے فرمایا کہ جسم سے کوئی الگ چیز روح نہیں بلکہ حیوانی جذبات

312

تعدیل میں آکر جب انسان کے نفس کو حالت مطمئنہ تک پہنچا دیتے ہیں تو اس حالت میں انسان کے اندر وہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کا نام روح ہے۔ روح کی پیدائش اخلاق فاضلہ سے ہوتی ہے جو بذات خود جذبات حیوانیہ سے پیدا ہوتے ہیں اور جذبات کی پیدائش جسم سے ہوتی ہے۔ گویا روح جسم کا ایک بالغ بچہ ہے۔ روح اور جسم کی بحث قدیم الایام سے اسلامی علم کلام میں چلی آتی ہے۔ لیکن قرآن کی تعلیم جیسا کہ سورۃ المؤمنون سے پایا جاتا ہے یہی ہے۔ مرزا قادیانی نے ان امور کو ضیافت طبع کے طور پر نہیں لکھا۔ بلکہ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس سے ایک طرف عیسائیت اور دوسری طرف تناسخ اور قدامت مادہ وغیرہ کی بنیاد تک ہل جاتی ہے۔ میں نے مفصل طور پر اپنی انگریزی تصنیفات میں یہ بحثیں کی ہیں۔‘‘

(مجدد کامل ص۱۱۴)

جواب: ہمیں اس اصول کی صحت یا غلطی سے سروکار نہیں۔ بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کی خصوصیات کی نفی کریں۔ پس سنئے! یہ خیال کہ روح جسم کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے۔ احادیث صحیحہ کے خلاف ہونے کے علاوہ مرزا قادیانی کا ایجاد کردہ عقیدہ نہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے مرزائی دوستوں کی خاطر ملحوظ رکھتے ہوئے ان کو پیچ دار راستوں سے نہیں لیجایا کرتے۔ بلکہ سیدھے راستے سے منزل (قادیان) پر پہنچا دیتے ہیں۔ یعنی حوالہ جات مرزائی لٹریچر ہی سے دیتے ہیں۔ پس خواجہ صاحب غور سے سنیں، لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی اپنی اردو تفسیر میں لکھتے ہیں:’’روح جسم کے ساتھ پیدا ہوتی ہے اور یہی مذہب اہل تحقیق کا ہے۔ جیسا کہ امام غزالی نے بھی لکھا ہے۔‘‘

(بیان القرآن ص۱۱۴۳)

قادیانی دوستو! فرمان خداوندی’’شہد شاہد من اہلہا (یوسف:۲۶)‘‘ کے ماتحت بتائو اس عقیدے کو ایجاد مرزا کہہ سکتے ہو؟ جس حال میں کہ صدیوں پیشتر امام غزالی بھی اسے نقل کرچکے ہیں۔ خواجہ صاحب! آپ جانتے ہیں دوسروں کے کام کو اپنی طرف لگا کر فخر کرنے والوں کے حق میں ’’کلام پاک‘‘ میں کیا ارشاد ہے:

’’یحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب (آل عمران: ۱۸۸)‘‘جو لوگ بے کئے کاموں پر تعریف چاہتے ہیں وہ عذاب سے نہ چھوٹیں گے۔

۷… بقول خواجہ کمال الدین، مرزا قادیانی نے احمدی علم کلام کا یہ اصول بتایا کہ:

313

’’انسان ایک پاک اور بالقویٰ مکمل فطرت لے کر آیا ہے۔ اس فطرت کی تربیت کے لئے مذہب اختیار کرتا ہے۔ یہ فطرت ناقص نہیں ہوتی۔ اس فلسفہ کی بنیاد تو آنحضرتﷺ کی مشہور حدیث ہے۔ لیکن یہ وہ فلسفہ ہے کہ جو مسئلہ گناہ ارثی کو باطل ٹھہرا کر عیسائیت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتا ہے۔ اسی طرح اس فلسفہ سے تناسخ کے عقیدے میں بھی تزلزل پیدا ہوجاتا ہے۔ جب ہر انسان فطرت سلیمہ لے کر دنیا میں آتا ہے تو سابق جنم کے تاثرات کہاں گئے۔ حضرت کے خدام نے فلسفہ کو بھی مفصل لکھا اور عیسائیت کے خلاف تو یہ ایک ایسا حربہ مغرب میں استعمال ہوا کہ اس کی ضرب نے کلیسیت کو چکنا چور کردیا۔ قربان جائوں حضرت خاتم النّبیین کے کہ کس طرح وہ عام فہم الفاظ اور ساتھ ہی سریع الفہم طریق پر ایک اصول تعلیم کرتا ہے جو مذاہب باطلہ کے مضبوط قلعوں کو توڑ دیتا ہے۔

(مجدد کامل ص۱۱۴)

جواب: ہم اپنے اعتقاد میں تو یہ عقیدہ صحیح جانتے ہیں مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کے خلاف لکھا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’اوّل خدا نے یہ چاہا ہے کہ انسان کو نشست وبرخاست اور کھانے پینے اور بات چیت اور تمام اقسام معاشرت کے طریق سکھلا کر اس کو وحشیانہ طریقوں سے نجات دیوے اور حیوانات کی مشابہت سے تمیز کلی بخش کر ایک ادنیٰ درجہ کی اخلاقی حالت جس کو ادب اور شائستگی کے نام سے موسوم کرسکتے ہیں، سکھلاوے۔ پھر انسان کی نیچرل عادات کو جن کو دوسرے لفظوں میں اخلاق رذیلہ کہہ سکتے ہیں، اعتدال پر لاوے تاوہ اعتدال پا کر اخلاق فاضلہ کے رنگ میں آجائیں۔‘‘

(اصول اسلام کی فلاسفی ص۹، خزائن ۱۰ ص۳۲۴)

اس اقتباس میں مرزا قادیانی نے نیچرل (فطری) طور پر انسان میں اخلاق رذیلہ کا وجود تسلیم کیا ہے۔ پھر فطرتی طور پر انسان مکمل پاک کیسے ہوا؟ اور سنئے فرماتے ہیں:

’’انسان کی فطرت میں قدیم سے ایک طرف تو ایک زہر رکھا گیا جو گناہوں کی طرف رغبت دیتا ہے اور دوسری طرف قدیم سے انسانی فطرت میں اس زہر کا تریاق رکھا ہے جو خدائے تعالیٰ کی محبت ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۷۶ خزائن ج۲۰ ص۳۹۰)

اس اقتباس میں بھی بدی کا تخم انسان میں فطری طور پر تسلیم کرکے مروجہ عیسائی مذہب کو قوت دی ہے۔ جو انسان کو موروثی گناہگار کہتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے سچ کہا ہے:

314

’’قربان جائوں خاتم النّبیین کے کس طرح وہ عام فہم الفاظ میں اصول تعلیم کرتا ہے‘‘

ساتھ ہی ہم مرزا قادیانی کی ہوشیاری کی بھی داد دیتے ہیں کہ کس طرح خاتم النّبیین کے تعلیم کردہ اصول اپنے اتباع کو بھلاتے ہیں کہ وہ باوجود عقل مند ہونے کے یہ کہتے رہ جاتے ہیں:

  1. ساحری کرد دو چشم تو وگرنہ زیں پیش

    بود ہشیار تر از تو دل دیوانہ ما

۸… ’’یہ امر بھی قرآن کا ہی تعلیم کردہ ہے اور میں نے تو اسے ایک فیصلہ کن دلیل کی شکل میں مغرب میں استعمال کیا۔ قرآن نے اس امر کو بہت ہی واضح طور پر لکھا ہے۔ لیکن مسلم طبائع اس سے کچھ ایسی اجنبی ہوگئیں کہ جب حضرت مرزا قادیانی نے اس بات کو پیغام صلح میں لکھا تو اس پر سخت مخالفت ہوئی۔ وہ یہ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم خدا کے ہادی یا رسول کی بعثت سے محروم نہیں رہی۔ ہر ایک قوم کو مذہب حقہ خدا کی طرف سے ملا۔ لیکن بعد میں انسانوں نے اختلاف پیدا کرلیا اور مذہب حق میں آمیزش کردی۔ اس اصول کو حضرت (مرزا قادیانی) نے اپنے وفات سے چند دن پہلے بیان کیا۔‘‘

(مجدد کامل ص۱۱۵)

جواب: قرآن مجید کے کھلے الفاظ میں ارشاد ہے:

’’ولکل قوم ہاد (رعد:۷)‘‘ ہر قوم کے لئے ہادی ہوئے ہیں۔

’’وان من امۃ الّا خلافیہا نذیر (فاطر:۲۴)‘‘ ہر قوم میں ڈرانے والے گزرے ہیں۔

ہم حیران ہیں کہ اس عقیدے کو قرآنی اصول جانیں یا مخصوص مرزائی قرار دیں۔ خواجہ صاحب کس دلیری سے سچ فرماتے ہیں کہ ’’قرآن کا تعلیم کردہ ہے‘‘ جناب! قرآن کے تعلیم کردہ عقائد کو مرزائی علم کلام میں درج کرنا ہے تو مندرجہ ذیل امور بھی مرزائی علم کلام میں درج فرما لیجئے۔

توحید مانو، رسالت پر ایمان لائو، نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، وغیرہ۔

تعجب ہے: خواجہ صاحب مرزائیت کے ذمہ دار وکیل اور مرزائی لٹریچر کے ماہر لکھتے ہیں: ’’حضرت (مرزا صاحب) نے وفات سے چند دن پہلے بیان کیا۔‘‘

حالانکہ یہ مضمون مرزا قادیانی نے،تحفہ قیصریہ کے ص۴،۵، خزائن ج۱۲، ص۲۵۶،۲۵۷،

315

پر لکھا ہے جو ۱۵؍جنوری ۱۹۰۴ء کو شائع ہوا تھا یعنی مرزا قادیانی کی وفات سے سوا چار سال پہلے۔ کیا سوا چار سال چند دن ہوتے ہیں؟ علاوہ اس کے ایک ایسے صحیح معقول اصول کو جو قرآن مجید کا تعلیم کردہ ہے۔ مرزا قادیانی کو ظاہر کرنے میں تامل کیوں رہا۔ (اپنی مسیحیت کی اشاعت سے فرصت نہ ہوگی۔)

۹… ’’مرزا قادیانی نے ایک موٹا گر یہ بتلایا کہ تم ہر ایک مذہب کے اصول کو علی وجہ التجرد نہ دیکھو بلکہ اس کی تنقیح وتجزیہ کرو۔ اس اصول کے اثر کو روزانہ اعمال پر دیکھو۔ پھر اگر دیکھو کہ اس کا نتیجہ کیا ہے۔ اگر کوئی اصول عملاً مفید ثابت ہو تو وہ قابل قبول ہے والّا وہ ماننے کے قابل نہیں۔ مثلاً مسئلہ تناسخ کے رو سے ہمارا ہر ایک عمل کسی گزشتہ عمل کے ماتحت ہوتا ہے۔ گویا جو بھی ہم کرتے ہیں وہ مشین کی طرح کرتے ہیں۔ ہم اس پر مجبور ہیں جو ہم سے ہوتا ہے۔ وہ پہلے ہی طے ہوچکا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم کوئی نئی نیکی نہ کرسکیں اور نہ بدی سے بچ سکتے ہیں۔ نہ کوئی نئی ترقی ہوسکتی ہے۔ کیوں کہ یہ سب کچھ پچھلے جنم کے آثار واظلال ہیں۔ مسئلہ کفارہ اسی طرح ہر خوبی وترقی کو روکتا ہے۔ مثلاً بیماریاں اگر کسی گزشتہ جنم کی بدعملی کا نتیجہ ہیں تو وہ اس بدی کے تناسب پر ہوکر رہیں گے۔ پھر کیوں علاج کیا جائے۔ کیوں علم طب کو فروغ دیا جائے۔ تناسخ کے ماننے پر اس قسم کا جمود ایک ضرورت منطقیہ ہے۔ اسی طرح جب کفارہ پر ہی منحصر ہے تو کسی حسن اعمال کی کیا ضرورت ہے۔ الغرض اس نویں اصول کے ماتحت ہمیں اسی عقیدہ کو تسلیم کرنا چاہئے جو عمل میں آکر مفید ثابت ہوسکتے۔‘‘

(مجدد کامل ص۱۱۵، ۱۱۶)

یہ اصول مرزا قادیانی کی کتب میں ہم کو نہیں ملا۔ باوجود اس کے ہم پوچھتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ بحالیکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو ترک لحم کی وجہ سے اپنے اندر بہت اچھا اثر پاتا ہے۔ ایک برہمو اور بہائی اپنے عقیدے میں (کہ سارے مذہب حق ہیں) بہت تسکین پاتا ہے۔

لطیفہ: مجھے ایک دفعہ لاہور کی دیوسماج (دہریہ پارٹی) کا ایک ممبر ریل گاڑی میں ملا باتوں باتوں میں اس نے کہا میں جب سے دیوسماجی ہوا ہوں، میرا من بڑے آرام اور تسکین میں ہے۔ میں کسی برائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اثر کا تعلق عقیدت سے ہے۔ مزید توضیح کے لئے ہم

316

خواجہ صاحب کو قادیانی جماعت سے مثال پیش کرتے ہیں جو مرزا قادیانی کو نبی، رسول وغیرہ سب کچھ مانتے ہیں۔ لیکن بعض ان میں ایسے ہیں کہ ان کی زندگی بھلی معلوم نہیں ہوتی ہے تو کیا ان کے حق میں بھی یہ اصول کام دے گا؟

معلوم نہیں خواجہ صاحب نے مسئلہ تناسخ کو اس ضمن میں کیوں ذکر کیا اور کیوں کر اس سے اس کا ابطال سمجھا۔ بحالیکہ آریہ دھرم میں تناسخ کی حقیقت وہی ہے جو پنڈت لیکھرام آریہ نے لکھی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’مسئلہ آواگون (تناسخ) کے رو سے دو قسم کے جسم مانے گئے ہیں۔ ایک کرم جونی، دوسری بھوگ جونی۔ کرم جونی میں کام کئے جاتے ہیں۔ بھوگ جونی میں کرموں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ جس جسم میں سمجھنے کی طاقت اور نیک وبد کرنے کی تمیز دی گئی ہے وہ کرم جونی اور جس جسم میں نہیں دی گئی وہ بھوگ جونی ہے۔ اس لحاظ سے انسان کرم جونی اور باقی بھوگ جانی ہیں۔‘‘

(کلیات آریہ مسافر حصہ اوّل ص۸۰ بحث ثبوت تناسخ)

دیکھئے: تناسخ والے انسانی جسم کی بابت کیا رائے دیتے ہیں۔ یعنی اس قیدی کی طرح جو ہر قسم کی سزا بھگت کر گھر میں آتا ہے۔ یہاں انسانی قالب میں وہ افعال کرنے میں فاعل مختار ہے۔

۱۰… خواجہ صاحب لکھتے ہیں:’’عیسائیت کے خلاف جو یہ دسواں اصول پیدا ہوا وہ نہ صرف اپنی نوعیت میں نیا ہی تھا بلکہ اس نے اس مذہب کا ہی خاتمہ کردیا۔ یہ بیان کیا گیا کہ مذہب کلیسوی کی کوئی تعلیم، کوئی عقیدہ، کوئی روایت، کوئی رسم، عبادت، حتی کہ مصطلحات کلیسیا تک بھی، سب میں ایک امر بھی ایسا نہیں جو قدیمی کفار کے مذاہب سے مسروقہ نہ ہو۔‘‘

(مجدد کامل ص۱۱۶)

جواب: اس حوالہ کا پتہ بھی مرزا قادیانی کی تحریرات میں نہیں ملا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اس کو اصول کلامیہ میں داخل بھی نہیں کرسکتے۔ بھلا اس کے جواب میں مخالف اگر یہ کہیں کہ اسلام کی ہر بات کا پہلی قوموں میں کہیں نہ کہیں پتہ ملتا ہے۔ حتی کہ مصطلحات کا بھی مثلاً صلوٰۃ، صوم، حج، زکوٰۃ یہ سب الفاظ عربیہ نزول قرآن اور آمدن اسلام سے پہلے تھے۔ اتباع مرزا کو اس کے جواب کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

ان اصول عشرہ کے بعد خواجہ صاحب نے ایک جامع جال بنایا ہے جس کی بابت یہ الفاظ ہیں:’’میں نے علم کلام بالا میں ایک خاص امر کا ذکر نہیں کیا۔ کیوں کہ بالواسطہ اسے مذہب

317

سے تعلق نہ تھا۔ لیکن بالفاظ مرزا قادیانی یہ وہ جال ہے جس میں چھوٹی بڑی سب مچھلیاں آجاتی ہیں۔ آپ نے دعویٰ کیا کہ عربی زبان سے کل زبانیں نکلی ہوئی ہیں۔‘‘

(مجدد کامل ص۱۱۶)

ہم جواب: کیادیں جب کہ خواجہ صاحب خود ہی لکھتے ہیں کہ ’’میں نے اس مضمون پر توجہ کی تو جماعت قادیانی نے قابل مضحکہ باتیں اختیار کیں۔‘‘ (۱۱۷) ہم افسوس کرتے ہیں کہ نہ مرزا قادیانی اس دعوے کو ثابت کرسکے نہ خواجہ صاحب کو جماعت مرزائیہ نے کرنے دیا۔ بلکہ مضحکہ اڑا دیا۔ سچ ہے:

  1. اہل جوہر کی وطن میں گر فلک کرتا قدر

    لعل کیوں اس رنگ میں آتے بدخشاں چھوڑکر

تتمہ: خواجہ صاحب نے جو اصول علم کلام بتائے ان کی حقیقت تو ناظرین سمجھ چکے۔ اب ہم مرزا قادیانی کے اصول بتاتے ہیں۔

علم مناظرہ میں ترتیب کلام یوں لکھی ہے:

’’مدعی اپنا دعویٰ بیان کرکے اس پر دلیل لائے۔ پھر سائل اس پر تین طریقوں میں سے ایک طرح سے سوال کرے۔ وغیرہ‘‘

(رشیدیہ ص۲۶)

یہ ہے وہ اصول مناظرہ جو ہر ایک قوم ہر ایک حکومت کے قانون میں مروج اور مسلم ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کے خلاف جو اصول مناظرہ قائم کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سائل پہلے تقریر کرے۔ چنانچہ مرزا قادیانی سوامی دیانند کو دعوت مناظرہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:’’اول تقریر کرنے کا حق ہمارا ہوگا کیوں کہ ہم معترض ہیں۔‘‘

(اشتہار ۱۰؍جون ۱۸۷۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج اول ص۷ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص۷)

محمدی مناظرین: مطلع رہیں کہ جہاں کہیں مرزائی مناظروں سے گفتگو ہو، اس اصول مرزا کے ماتحت پہلے تقریر کرنے کا حق مانگا کریں۔ کیوں کہ آپ معترض ہوں گے اور وہ مجیب۔وہ اسے منظور نہ کریں تو ان سے لکھوا لیا کریں کہ یہ اصول غلط ہے۔

ترک جہاد اور اطاعت انگریز

دوسرا اصول خاصہ جس کو مرزا قادیانی نے خود اصول سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا اظہار بالکل مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں موزوں ہے۔ جو یہ ہے:

’’خداتعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ

318

گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکرگزاری کی جائے۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کی اور ان میں تفصیل سے لکھا کہ کیوں کہ مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیوں کر آزادگی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزارہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقینا ہزارہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت ومریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیرخواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر وباطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیرخواہی سے بھراہوا ہے۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص۱۱، ۱۲ خزائن ج۱۲ ص۲۶۴، ۲۶۳)

ہم اس غلامانہ خوشامد کو علم کلام میں دکھاتے ہوئے شرماتے ہیں۔ مگر کیا کریں مرزا قادیانی ہاں سلطان المتکلمین نے خود اس کو اصول بتایا ہے۔ لہٰذا ہم بھی ایسا ہی کہتے ہیں اور اس اصول کو مکمل دکھانے کے لئے مرزا قادیانی کی ایک اور عبارت سامنے لاتے ہیں۔ جو یہ ہے:

’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکھٹی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہوجائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہوجائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵ خزائن ج۱۵ ص۱۵۵ ، ۱۵۶)

ناظرین کرام! ’’عمر کا اکثر حصہ‘‘ اور ’’پچاس الماریاں‘‘ یہ دو لفظ آپ کے قابل

319

غور ہیں۔ اتباع مرزا کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے قریب اسی (۸۰) کے کتابیں لکھیں ہیں۔

(اخبار پیغام صلح لاہور ۷؍اگست ۱۹۳۲ء ص۲)

بہت خوب! اسی کتابوں اور ان کے جملہ اشتہارات کو یک جا کرکے دیکھیں کہ ایک الماری بھی بھرتی ہے؟

چیلنج: مرزائی دوستو! آئو اسی سے اپنے ’’احمدی مسیح‘‘ کی صداقت کا اندازہ کرلو کہ ان کی جملہ تحریرات شائع شدہ سے کتنی الماریاں بھرتی ہیں؟ پھر ان میں اسلام کی خدمت میں کتنی اور اپنی مسیحیت کے اثبات میں کتنی؟ پھر گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کی تعلیم میں کتنی ہوتی ہیں؟ اس کے بعد فیصلہ آسان ہوگا کہ تمہارا ہیرو بحیثیت مصنف صادق القول متکلم ہے یا مبالغہ گو شاعر؟ حضرات! ہمارا شروع سے دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات صناعات خمسہ میں سے صنعت شعری پر مبنی ہیں۔ جس کا ثبوت ہم دیتے آئے ہیں۔ بطور مقطع غزل اخیر میں ان پچاس الماریوں کے مبالغہ کا بھی ہم شاعرانہ تخیل میں صحیح پاتے ہیں۔ جس کی مثال میں استاد داغ کا قول پیش کرنا کافی ہے:

  1. پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں

    جلا کے خاک نہ کردوں تو داغ نام نہیں

جیسے استاد داغ نے آسمان جلا دئیے ویسے ہی مرزا قادیانی نے پچاس الماریاں بھر دیں؟ (جل جلالہ)

مرزا قادیانی کی تصانیف پر ایک معزز شہادت

سرسید احمد خان مرحوم اپنے زمانہ کے نامور مصنف تھے، مرزا قادیانی کی تصنیفات کے حق میں فرماتے تھے:

’’تصنیفات مرزاصاحب قادیانی ایک ذرہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔‘‘

(مقولہ سرسید مندرجہ در آئینہ کمالات اسلام ص۲۳۰ خزائن ج۵ ص ایضاً حاشیہ)

معذرت: قادیانی دوستوں کو ہماری تحریر سے ملال پیدا ہو تو حوالہ جات منقولہ اصل کتب میں دیکھیں گے تو ان کا ملال دور ہوجائے گا۔ کیونکہ ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا بلکہ:

آنچہ استاد ازل گفت ہماں میگوئم

آخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین!

320

عجائبات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

321

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

علمائے کرام کی آراء زریں برسالہ عجائبات مرزا

مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹی

رسالہ ’’عجائبات مرزا‘‘ جناب مولانا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان نے تقریظ کے لئے ارسال فرمایا۔ مولانا ممدوح کی ذات گرامی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ ملک ہندوستان میں بے مثل جامع عالم ومناظر ہیں۔ بالخصوص قادیانی لٹریچر میں آپ کو بے نظیر قابلیت حاصل ہے۔ مولانا ممدوح نے اس کتاب کا نام ’’عجائبات مرزا‘‘ رکھنے میں عجب کمال دکھایا جو واقعی اسم بامسمّی ہے۔ مرزا قادیانی کی جو تحریریں اس کتاب میں زیر بحث لائی گئی ہیں وہ محض پریشان خیال اور خیالی تک بندیاں ہیں۔ معلوم نہیں مرزا قادیانی اپنا وقت ان تک بندیوں میں کیوں خرچ کرتے تھے۔ والسلام خیرختام!

جناب مولانا غلام محمد گھوٹوی شیخ الجامعہ عباسیہ بہاول پور

مولانا ثناء اللہ صاحب کا فضلاء ہند میں جو درجہ ہے وہ مزید تعارف کا محتاج نہیں۔

آپ ما شاء اللہ بہت بڑے اسلامی مناظر ہیں۔ تمام فریق کفار کے مذاہب پر آپ کو سیر حاصل عبور حاصل ہے۔ بالخصوص قادیانی اور اس کے اذناب کے دھوکہ دہ بیانات واستدلالات کی قلعی کھولنے میں آپ کو یکتائی کا درجہ ملا ہے۔ آپ نے ’’علم کلام مرزا‘‘ میں اور اس کے بعد ’’عجائبات مرزا‘‘ میں جو درحقیقت پہلی کتاب کا بہ تبدیل نام دوسرا حصہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دلائل کا بہترین جواب دیا ہے۔ اللہ رب العزت آپ کی عمر میں برکت دے اور آپ کے ان حسنات میں مزید اضافہ کی توفیق عطا فرمائے۔ میں نے ان ہر دو کتب کو پڑھا ہے یہ دونوں کتابیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں یاد کرلیں۔

(احقرالانام، غلام محمد گھوٹوی)

322

جناب مولانا احمد اللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ رحمانیہ دہلی

نحمد اللہ ونستعینہٗ ونصلی علٰی رسولہ اما بعد!

رسالہ ’’عجائبات مرزا‘‘ مؤلفہ مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری، رئیس المناظرین کا میں نے مطالعہ کیا۔ خوب ہی مکائد وہفوات متضادہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پسر محمود احمد کو واضح فرمایا۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ مولانا موصوف کی سعی کو مشکور فرمائے۔ یہ اکاذیب واساطیر باطلہ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں یا مالیخولیا ومسلوب العقل کے مزخرفات کا تودہ ہے۔ تعجب یہ ہے کہ پھر بھی مرسل من جانب اللہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اف لہ اور ان کے اتباع ایمان فروشی پر فریفتہ ہیں۔ خلق کے سامنے مکروفریب کا جال ڈال رکھا ہے۔ جس کا نتیجہ ’’یوم القیامۃ‘‘ خسران وعذاب دائمی ہے۔

(حررہ احمد اللہ غفرلہ مدرس مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی مؤرخہ ۲۴؍رمضان المبارک ۱۳۵۱ھ)

مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند

الحمدللہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی اما بعد!

رسالہ ’’عجائبات مرزا‘‘ جس کو شیر پنجاب مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری کی تصنیف ہونے کا شرف حاصل ہے۔ احقر کی نظر سے گزرا۔ یہ رسالہ متنبی قادیاں کے تہافت وتلبیس بیانی اور مصنف محترم کی صداقت معانی اور موشگافی کا آئینہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کو قرون وسنین کے بہت سے پیچیدہ حسابات لگا کر جوڑا تھا۔ لیکن ماشاء اللہ مصنف ممدوح کی ایک ہی ضرب نے دلیل کی ساری جمع تفریق باطل کردی۔ گو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خلف مرزا بشیر الدین محمود نے اس بہی کھاتہ کی جمع بندی کی تصحیح کرتے ہوئے ان فرضی حسابات کو برقرار رکھنے کی سعی کی ہے۔ مگر مصنف کے نکتہ رس قلم نے اس سارے سیاہے پر سیاہی پھیر دی اور حاصل حساب کچھ باقی نہ چھوڑا:

’’جزاہ اللہ عنا وعن جمیع المسلمین خیرالجزاء‘‘
323

رسالہ ہر اعتبار سے نافع اور قابل استفادہ ہے۔

وآخر دعوٰنا ان الحمدللہ رب العالمین!

(احقر محمد طیب غفرلہ مہتمم دارالعلوم دیوبند ۲۲؍رمضان المبارک ۱۳۵۱ھ)

مولانا محمد عالم مؤلف ’’کاویہ‘‘ مدرس اسلامیہ سکول امرتسر

مرزا قادیانی کو مائوف الدماغ نہ سمجھنا خود مائوف الدماغی کا اعتراف ہوگا جس کے ثبوت بہم پہنچانے کو حضرت مولانا شیر پنجاب کی اس تازہ تصنیف کے ہر دو حصوں ’’علم کلام مرزا‘‘ و ’’عجائبات مرزا‘‘ کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔ اس لئے ناظرین کا فرض ہے کہ مولانا کی ایسی تصانیف کو مطالعہ کرکے لطف اندوزا ہوا کریں’’و اللہ الموفق‘‘

(رقیمہ بندہ آسی مؤلف کاویہ عفاعنہ)

مولانا غلام مصطفی صاحب مفتی احناف امرتسر

الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علٰی من لانبی بعدہ!

مرزا قادیانی کو اپنے زور کلام پر بڑا ناز تھا۔ اس کا اذناب بھی اس کو ’’سلطان القلم‘‘ اور جدید علم کلام کا بانی قرار دیتے ہیں۔ لیکن فی الحقیقت مرزا کا کلام چند اوہام واختلافات کا مجموعہ ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ لکھ کر ایک اچھا کام کیا ہے۔ میں نے اس کا حصہ دوم (عجائبات مرزا) کے چیدہ چیدہ مقامات کا مطالعہ کیا۔ اس باب میں اس کو مفید پایا۔ حق تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو قادیانی مزخرفات سے محفوظ رکھے ’’بحرمۃ النبی الکریمm ‘‘!

(وانا احقرالوری غلام مصطفی الحنفی القاسمی الامرتسری عفاہ عنہ… ۲۹؍رمضان المبارک ۱۳۵۱ھ)

مولانا احمد علی صاحب شیرانوالہ دروازہ لاہور

’’عجائبات مرزا‘‘ مرتبہ امام المناظرین فخرالمتکلمین عمدۃ المحققین حضرت مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب مدظلہ امرتسری کو میں نے اوّل سے آخر تک غور سے

324

پڑھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے عمر دنیا کی تحقیق میں جو انوکھا ثبوت اپنی نبوت کا پیش کیا تھا۔ مولانا ممدوح نے اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی عبارات ہی سے تضاد ثابت کرکے اس تحقیق کی تکذیب اور انہی کے منہ سے ان کی نبوت مخترعہ کی تردید کرکے دکھائی ہے۔ چونکہ مرزا بشیرالدین محمود بھی اس استدلال میں اپنے والد صاحب کے ہمنوا ہیں۔ علاوہ اس کے خلیفہ صاحب نے اپنے والد (مرزا) کو دور جدید کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ حضرت مولانا نے ثابت کیا ہے کہ خلیفہ بشیرالدین محمود کے استدلال کی بناء پر مرزا قادیانی کی عمر ایک ہزار اکتیس سال ہوتی ہے۔ وذٰلک صریح البطلان! یہ فضل مولانا المکرم ہی کے حصہ میں ازل سے آیا ہے کہ ان کے قلم گوہر رقم کے نکات دور حاضر کے دجال کے دجل کے لئے عصاء موسیٰ کا کام دیتے ہیں۔ دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس خدمت عظمیٰ کو قبول فرمائے اور مولانا ممدوح کو مدت مدید تک دین مبین کے احیاء کے لئے سلامت رکھے۔ آمین!

(احقر الانام احمد علی عفی عنہ امیر انجمن خدام الدین)

مولانا ابوالقاسم صاحب سیف بنارسی

’’میں نے رسالہ ’’عجائبات مرزا‘‘ مصنف مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری پڑھا۔ قادیانی متنبی کی نسبت آپ کی مفید وپراز معلومات تصنیفات پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی باتیں محض مجنوں کی بڑ ہیں جو مسیح موعود کو کبھی دنیا کے چھٹے ہزار میں کہتا ہے اور کبھی ساتویں ہزار میں۔ حالانکہ دنیا کی عمر کی کوئی روایت یا اثر عندالمحدثین صحیح اور معتبر نہیں۔ اسی طرح عیسوی مذہب کو چوتھے ہزار میں پیدا ہونا بالکل نئی تاریخ یا یکسر غلط اور لغو ہے۔ آخر میں خلیفہ محمود کی جو تحریر منقول ہے۔ وہ اس مثل کی مصداق ہے ’’بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوڑے میاں سبحان اللہ !‘‘ باری تعالیٰ مصنف کے علم وفضل میں برکت دے کہ آپ کے ذریعہ سے ہم لوگ زمانہ حال کے دجاجلہ کے دجل وفریب سے واقف ہوجاتے ہیں۔ آپ کی محنت واقعی قابل داد ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزاء عنایت فرمائے۔‘‘

(محمد ابوالقاسم البارسی)

325

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انّکم لفی قول مختلف یؤفک عنہ من افک

عجائبات

پہلے مجھے دیکھئے

خدا کی شان ہے میں جب کبھی کوئی کتاب مرزا قادیانی متوفی کے خیالات کی تردید میں شائع کرتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں کہ قادیانی مباحث پر اب کسی اور کتاب کی ضرورت نہ ہوگی۔ مگر چند روز بعد ایک نیا مضمون دیکھتا ہوں تو جی میں آتا ہے کہ جو لطف میں نے اس سے پایا ہے پبلک کو بھی اس میں شریک کروں۔ چند روز کا واقعہ ہے کہ میں نے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ شائع کیا جس میں مرزا قادیانی کو بحیثیت مصنف اور متکلم کے پبلک میں پیش کیا وہ رسالہ اکبار علماء کو بہت پسند آیا۔ چنانچہ علماء کرام نے اس پر پرزور رائیں لکھیں ایک عنایت فرما نے تو اس کی تحسین میں یہاں تک لکھا کہ اس موضوع میں کچھ مزید بھی چاہئے۔ انہیں کے اشارے سے میرے دل میں ایک باب کا اضافہ ہوا جو آج ہدیہ ناظرین ہے۔ اس لحاظ سے اس رسالہ کو ’’علم کلام مرزا‘‘ کا دوسرا حصہ سمجھنا چاہئے۔ اس میں مرزا قادیانی کی صرف ایک دلیل پر بحث کی گئی ہے۔ جس کی بابت ان کا دعویٰ ہے کہ: ’’وہ میرے مسیح موعود ہونے پر کھلی دلالت کرتی ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱ خزائن ج۱۷ ص۲۶۴)

چونکہ مرزا نے اس بحث کو بطور مستدل کے پیش کیا ہے۔ اس لئے ’’علم کلام مرزا‘‘ میں اس کو جگہ مل سکتی ہے۔ اگر وہ اس کو خالص الہامی صورت میں رکھتے تو ہم بھی اس کو ’’علم کلام‘‘ میں نہ لاتے۔ بلکہ الہامات مرزا میں رکھتے۔

مزید لطف: کے لئے اسی باب کا ایک ضمیمہ لگایا گیا ہے جس میں میاں محمود احمد خلف مرزا قادیانی متوفی کے جواہر ریزی دکھائے گئے ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’الولد سرلابیہ‘‘ بالکل صحیح ہے۔

ابوالوفاء ثناء اللہ مصنف امرتسری

شوال ۱۳۵۱ھ فروری ۱۹۳۳ء

326

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عجائبات مرزا

دلچسپ قابل دید وشنید

مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت موعودہ پر مختلف قسم کی کئی ایک دلیلیں پیش کی ہیں۔ عقلی بھی اور نقلی بھی۔ آج جس دلیل پر ہم بحث کرنے کو ہیں یہ بڑی زبردست عقلی اور نقلی دلائل سے مرکب دلیل ہے۔ اس دلیل کا خلاصہ سنتے ہی سامع کو اس کی نسبت اعتماد ہوسکتا ہے۔ خلاصہ اس کا ہمارے الفاظ میں یہ ہے:

’’قرآن اور احادیث اور جملہ انبیاءo کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدمؑ سے قیامت تک دنیا کی عمر سات ہزار سال (بحساب قمری) ہے۔ کل انبیاء نے بتایا ہوا ہے کہ مسیح موعود دنیا کے چھٹے ہزار میں مامور اور مبعوث ہوکر اہل دنیا کو ضلالت اور بربادی سے بچائے گا۔ چنانچہ میں (مرزا) اسی چھٹے ہزار میں مبعوث ہوا ہوں۔‘‘

(عربی رسالہ ماالفرق بین آدم والمسیح الموعود خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص ۳۱۰)

مبنی گفتگو حضرت آدمؑ کی تاریخ پیدائش ہے جب کہ وہ تاریخی زمانہ سے پہلے کا واقعہ ہے تو اس کا علم کیسے ہو؟ سو مرزا قادیانی کے ہم شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس سے ہمیں سبکدوش فرمایا۔ چنانچہ لکھا ہے ’’آنحضرتﷺ حضرت آدمؑ سے قمری حساب۱؎کے رو سے چار ہزار سات سو انتالیس برس بعد میں مبعوث ہوئے ہیں۔‘‘

(کتاب تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۹۲ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۴۷)

پس اب سارے حساب میں آسانی ہوگئی۔ تیرہ سال اقامت مکہ کے ملائیں تو سنہ اوّل ہجری کو انسانی دنیا کی عمر چار ہزار سات سوباون سال ہوئے۔ ان میں دو سو اڑتالیس ملانے سے پورے پانچ ہزار ہوجائیں گے۔ یعنی ۲۴۸ھکو دنیا کی عمر پورے پانچ ہزار سال ہو

۱؎ یاد رہے خدا نے حساب قمری رکھا ہے۔(تتمہ کتاب حقیقت الوحی ص۲۵، خزائن ج۲۲ ص۴۵۷)

327

گئی تھی۔ اس کے بعد چھٹا ہزار چلا جو ۱۲۴۸ھ کو ختم ہوا۔ اب ہم مرزا قادیانی کا کلام یکے بعد دیگرے ناظرین کے سامنے اصل الفاظ میں پیش کئے دیتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے اس خصوص میں اپنے متعلق دو دعوے کئے ہیں۔ ایک! یہ کہ میں چھٹے ہزار میں مبعوث ہوا ہوں۔ دوم! میری بعثت دراصل آنحضرتﷺ کی بعثت ثانیہ ہے۔ اس بیان میں آپ کی تحریر بہت لطیف ہے۔ ناظرین بغور سنیں۔ فرماتے ہیں:

’’آنحضرتﷺ کے بعث اوّل کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا۔ یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا۔ مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ ’’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ میں اشارہ ہے۔ وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے۔ جیسا کہ آیت ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ اسی کی طرف اشارہ کررہی ہے اور اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مہدی معہود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے جب مبعوث ہوگا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے۔ اس مجازی احمد کے پیرائے میں ہوکر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی۔ یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرتﷺ کا شریک ہوں اور اس پر نادان مولویوں نے جیسا کہ ان کی ہمیشہ سے عادت ہے شور مچایا تھا۔ حالانکہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ اس پیش گوئی کا زیروزبر ہوجاتا ہے۔ بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے جو نعوذب اللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے۔ لہٰذا جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرتﷺ کے دو بعث ہیں:

۱… ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت’’محمدرسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینہم‘‘

۲… دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ۹۶ خزائن ج۱۷ ص ۲۵۴، ۲۵۳)

328

ناظرین کی تفہیم کے لئے تھوڑی سی تشریح کئے دیتے ہیں۔ قرآن شریف کی سورہ جمعہ میں یوں ارشاد ہے:

’’ہوالذی بعث فی الامّیین رسولاً منہم یتلوا علیہم آیاتہ ویزکّیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین وآخرین منہم لما یلحقوا بہم وہو العزیز الحکیم (جمعہ:۲)‘‘

ترجمہ: ’’خدا نے عرب کے ان پڑھوں میں رسول بھیجا جو خدا کے احکام ان کو سناتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔ تحقیق وہ اس سے پہلے گمراہ تھے اور جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ ان میں بھی یہی رسول بھیجا ہے۔‘‘

مرزا قادیانی کہتے ہیں: اس آیت میں آنحضرت کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک وہ جس کا تعلق الامیین یعنی عربوں سے ہے۔ دوسری بعثت وہ جس کا تعلق عجم یعنی ہندوستان وغیرہ سے ہے۔ یہ بعثت’’وآخرین منہم‘‘ سے نکلتی ہے۔ مطلب آیت کا یہ بتاتے ہیں کہ خدا نے آنحضرت کو پہلی بعثت کے وقت عربوں میں مبعوث کیا۔ دوسری میں سب دنیا خصوصاً ہندوستان میں کیا۔ اس دوسری بعثت میں خود تشریف نہیں لائے بلکہ (مرزا) کی شکل میں آپﷺ کی بعثت ہوئی ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ میں یہ تشریح پڑھئے۔ فرماتے ہیں: ’’اس وقت حسب منطوق آیت ’’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ اور نیز حسب منطوق آیت ’’قل یا ایہا الناس انّی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘آنحضرتﷺ کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تاراور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوئوں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہوگئی تھی۔ آنحضرتﷺ کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یارسول اللہ ﷺ ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کے لئے بدل وجان سرگرم ہیں۔ آپﷺ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے۔ کیونکہ آپﷺ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافہ ناس کے لئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ ان تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں۔ قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں۔

329

تب آنحضرتﷺ کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں مگر میں ملک ہند میں آئوں گا۔ کیوں کہ جوش مذاہب واجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل ونحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدمؑ اسی جگہ نازل ہوا تھا۔ پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اسی ملک میں اس کو آنا چاہئے تا آخر اور اوّل کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہوجائے اور چونکہ آنحضرتﷺ کا حسب آیت ’’وآخرین منہم‘‘دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا۔

اس لئے آنحضرتﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہٖ آنحضرتﷺ کا ظہور تھا۔ لیکن یہ امر کہ یہ دوسرا بعث کس زمانہ میں چاہئے تھا۔؟

اس کا یہ جواب ہے کہ چونکہ خدائے تعالیٰ کے کاموں میں تناسب واقع ہے اور ’’وضع شیٔ فی محلہ‘‘ اس کی عادت ہے جیسا کہ اس حکیم کے مفہوم کا مقتضا ہونا چاہئے اور نیز وہ بوجہ واحد ہونے کے وحدت کو پسند کرتا ہے۔ اس لئے اس نے یہی چاہا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآن خلقت آدم کی طرح چھٹے دن کی گئی۔ یعنی بروزجمعہ۱؎۔ ایسا ہی تکمیل اشاعت کا زمانہ بھی وہی ہو جو چھٹے دن سے مشابہ ہو۔ لہٰذا اس نے اسی بعث دوم کے لئے ہزارششم کو پسند فرمایا اور وسائل اشاعت بھی اسی ہزار ششم میں وسیع کئے گئے اور ہر ایک اشاعت کی راہ کھولی گئی۔ ہر ایک ملک کی طرف سفر آسان کئے گئے۔ جابجا مطبع جاری ہوگئے۔ ڈاک خانہ جات کا احسن انتظام ہوگیا اکثر لوگ ایک دوسرے کی زبان سے بھی واقف ہوگئے اور یہ امور ہزار پنجم میں ہرگز نہ تھے بلکہ اس ساٹھ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گزشتہ عمر کے دن ہیں۔ ان تمام اشاعت کے وسیلوں سے ملک خالی پڑا ہوا تھا اور جو کچھ ان میں سے موجود تھا وہ ناتمام اور کم قدر اور شاذ ونادر کے حکم میں تھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۱ خزائن ج۱۷ ص۲۶۲ تا ۲۶۴)

۱؎ جمعہ کو دنیا کا چھٹا روز کہنا عیسائی معمول ہے جو اتوار سے ہفتہ شروع کرتے ہیں۔ شرع اسلام میں جمعہ ساتواں دن ہے۔ کیوں کہ شرعی ہفتہ سینچر سے شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ عربی میں سینچر کو یوم السبت کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی عیسائیوں کے لئے عیسیٰ بن کر آئے، مگراصطلاحات میں ان کے موافق ہوگئے۔

330

ناظرین کرام! آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں جو چھٹے ہزار میں مبعوث ہوا ہوں۔ یہ میری بعثت درحقیقت آنحضرتﷺ کی بعثت ثانیہ ہے۔ اس لئے اس بعثت مرزائیہ سے انکار کرنے والے کو مرزا قادیانی قرآن شریف کا منکر قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:’’اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبیm کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۸۱ خزائن ج۱۶ ص ۲۷۱)

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی خود بعثت محمدیہa مبعوث ہوئے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ مرزا قادیانی کے اتباع بھی صحابہ کرامؓ کے درجہ پر فائز ہوں۔ چنانچہ آپ نے اس کی تصریح فرمادی ہے کہ: ’’جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت سردار خیرالمرسلینa کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی ’’آخرین منہم‘‘کے لفظ کے ہیں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص ۲۵۸، ۲۵۹)

لطیفہ: صحابہ کے بعد فضیلت میں دوسرا درجہ تابعین کا ہے۔ جنہوں نے صحابہ کرام کو دیکھا پس جن لوگوں نے مرزا قادیانی کو نہیں دیکھا وہ ان کے اتباع کو دیکھ کر تابعین بن سکتے ہیں۔ (مگر ایمان شرط ہے)

شیر قالیں دگراست شیر نیستاں دگراست

ناظرین! مرزا قادیانی نے چھٹے ہزار میں مبعوث ہونا پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’پھر (خدا نے) ارادہ فرمایا کہ پوشیدگیوں کو پورے طور پر ایک ہی شخص میں ظاہر کرے جو ان خصلتوں کا مظہر ہو۔ پس آدم کی روحانیت نے جامع کامل تجلی کے ساتھ جمعہ کے دن آخری ساعت میں تجلی فرمائی۔ یعنی اس دن جو چھ کا چھٹا ہے۔ اسی طرح ہمارے نبی کریمﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیرالرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خداتعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا۔ پس میں وہی

331

مظہر ہوں۔ پس ایمان لا اور کافروں سے مت ہو اور اگر چاہتا ہے تو اس خداتعالیٰ کے قول کو پڑھ:’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی‘‘آخر آیت تک۔ پس یہ اظہار کا وقت اور روحانیت کے ظہور کے کمال کا وقت ہے۔ اے مسلمانوں کی جماعت اور اسی لئے آثار میں آیا ہے کہ آنحضرتﷺ چھٹے ہزار میں مبعوث ہوئے۔ حالانکہ آنجناب کی بعثت قطعاً اور یقینا پانچویں ہزار میں تھی۔ پس بے شک یہ اشارہ ہے تجلی تام کے وقت کی طرف اور استیفاء مرام کی طرف اور روحانیت کے ظہور کے کمال کی طرف اور جہان میں محمدی فیوض کے موج مارنے کے دنوں کی طرف اور یہ چھٹے ہزار کا آخر ہے جو زمانہ کہ مسیح موعود کے اترنے کے لئے مقرر ہے۔ جیسا کہ انبیاء کی کتابوں سے سمجھا جاتا ہے اور یہ زمانہ یقینا خداتعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کے قدم رکھنے کی جگہ ہے۔ جیسا کہ آیت ’’وآخرین منہم‘‘اور پاک تحریروں کی دوسری آیتوں سے مفہوم ہوتا ہے۔ پس اگر تو عقل مند ہے تو فکر کر اور جان کہ ہمارے نبی کریمﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے اور یہ قرآن سے ثابت ہے اس میں انکار کی گنجائش نہیں اور بجز اندھوں کے کوئی اس معنی سے سر نہیں پھیرتا کیا ’’وآخرین منہم‘‘کی آیت میں فکر نہیں کرتے اور کس طرح’’منہم‘‘کے لفظ کا مفہوم متحقق ہو۔ اگر رسول کریم’’آخرین‘‘ میں موجود نہ ہوں جیسا کہ پہلوں میں موجود تھے۔ پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس کی تسلیم سے چارہ نہیں اور منکروں کے لئے بھاگنے کا راستہ بند ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۵ تا ۱۸۱، خزائن ج ۱۷ ص ۲۶۵ تا ۲۷۱)

اسی کی مزید تشریح بھی سنئے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ تکمیل ہدایت کا دن چھٹا دن تھا یعنی جمعہ۔ اس لئے رعایت تناسب کے لحاظ سے تکمیل اشاعت ہدایت کا دن بھی چھٹا دن ہی مقرر کیا گیا۔ یعنی آخر الف ششم جو خدا کے نزدیک دنیا کا چھٹا دن ہے۔ جیسا کہ اس وعدہ کی طرف آیت ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘شارہ فرما رہی ہے اور اس چھٹے دن میں آنحضرتﷺ کے خو اور رنگ پر ایک شخص جو مظہر تجلیات احمدیہ اور محمدیہ تھا مبعوث فرمایا گیا تا تکمیل اشاعت ہدایت فرقانی اس مظہر تام کے ذریعہ سے ہوجائے۔ غرض خداتعالیٰ کی حکمت کاملہ نے اس بات کا التزام فرمایا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآنی چھٹے دن ہوئی تھی۔ ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت قرآنی کے لئے الف ششم مقرر کیا گیا

332

جو بموجب نص قرآنی چھٹے دن کے حکم میں ہے اور جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآنی کا چھٹا دن جمعہ تھا ایسا ہی ہزار ششم میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے جمعہ کا مفہوم مخفی ہے۔ یعنی جیسا کہ جمعہ کا دوسرا حصہ تمام مسلمانوں کو ایک مسجد میں جمع کرتا ہے اور متفرق آئمہ کو معطل کرکے ایک ہی امام کا تابع کردیتا ہے اور تفرقہ کو درمیان سے اٹھا کر اجتماعی صورت مسلمانوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ یہی خاصیت الف ششم کے آخری حصہ میں ہے۔ یعنی وہ بھی اجتماع کو چاہتا ہے۔ اس لئے لکھا ہے کہ اس وقت اسم ہادی کا پرتو ایسے زور میں ہوگا کہ بہت دور افتادہ دلوں کو بھی خدا کی طرف کھینچ لائے گا اور اسی کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے ’’ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعا‘‘پس یہ جمع کا لفظ اسی روحانی جمعہ کی طرف اشارہ ہے۔

غرض آنحضرتﷺ کے دو بعث مقدر تھے۔ ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے۔ دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے اور یہ دونوں قسم کی تکمیل روز ششم سے وابستہ تھی تا خاتم الانبیاء کی مشابہت خاتم المخلوقات سے اتم اور اکمل طور پر ہوجائے اور تا دائرہ خلقت اپنے استدارت کاملہ کو پہنچ جائے۔ سو ایک تو وہ روز ششم تھا جس میں آیت ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘نازل ہوئی اور دوسرے وہ روز ششم ہے جس کی نسبت آیت ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘میں وعدہ تھا۔ یعنی آخری حصہ ہزار ششم اور اسلام میں جو روز ششم کو عید کا دن مقرر کیا گیا۔ یعنی جمعہ کو یہ بھی درحقیقت اسی کی طرف اشارہ ہے کہ روز ششم تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کا دن ہے۔ اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء تھے اور آپﷺ کی شریعت تمام دنیا کے لئے عام تھی اور آپ کی نسبت فرمایا گیا تھا ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ اور نیز آپﷺ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا’’قل یاایہاالناس انّی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘سو اگرچہ آنحضرتﷺ کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدمؑ سے حضرت عیسیٰؑ تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئی۔ لیکن مضمون آیت ’’’قل یآایہاالناس انّی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘ صرف آنحضرتﷺ کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہوسکا۔ کیوں کہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرتﷺ کے زندگی ہی میں تبلیغ قرآن ہوجاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اس وقت

333

تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کردئیے جائیں جو اس عاجز کی عمرکے ہیں تو ۱۲۵۷ھ تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا۔ بلکہ دور دور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے۔

غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! میں تم سب کی طرف رسول ہوں۔ عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہرگز تبلیغ نہیں ہوسکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیوں کہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں اور یہ دونوں امر اس وقت غیر ممکن تھے۔ لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا ’’ومن بلغ‘‘یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغ قرآنی ان تک نہیں پہنچی۔

ایسا ہی آیت ’’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ اس بات کو ظاہر کررہی تھی کہ گو آنحضرتﷺ کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہوگیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو منہم کا لفظ ہے۔ وہ ظاہر کررہا تھا کہ ایک شخص اس زمانہ میں جو تکمیل اشاعت کے لئے موزوں ہے مبعوث ہوگا جو آنحضرتﷺ کے رنگ میں ہوگا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۹، ۱۰۰ خزائن ج۱۷ ص۲۵۹ تا ۲۶۱)

ناظرین! ہم آپ کا وقت زیادہ لینا نہیں چاہتے ورنہ مرزا قادیانی نے کئی ایک کتابوں میں اس مضمون کو بار بار لکھا ہے کہ میں چھٹے ہزار میں مسیح موعود بن کر مبعوث ہوا ہوں۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی باوجود مکرر سہ کرر چھ ہزار رٹنے کے چھٹا ہزار ایسا بھول گئے کہ ہمیں یہ کہنے کا موقعہ ملا: ؎ کیا وعدہ تمہیں کرکے مکرنا نہیں آتا!

ناظرین! ہمارے پیش کردہ حوالہ جات بغور پڑھیں۔ مسیحیت کے دعویٰ کے متعلق سب سے پہلی کتاب مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام لکھی ہے۔ اس میں فرماتے ہیں:

لطیفہ! ’’چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو:’’الآیات بعد المأتین‘‘ہے ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرہویں صدی کے آواخر میں مسیح موعود کا

334

ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے ’’غلام احمد قادیانی‘‘ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کس شخص کا غلام احمد نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵ خزائن ج۳ ص۱۸۹، ۱۹۰)

اسی کی تائید میں ایک حوالہ اور پیش ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدائے تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آپہنچا۔ تب خداتعالیٰ نے الہام کے ذریعے سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے اور یہ اس طرح اشارہ تھا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ پھر اسی زمانہ میں خدا نے میرا نام عیسیٰ بھی رکھا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶۸ خزائن ج ۱۵ ص۲۸۳)

ناظرین! ورق الٹ کر اس رسالہ پر ملاحظہ فرمائیں جہاں ہم نے ثابت کیا ہے کہ حسب تصریح مرزا قادیانی انسانی دنیا کا چھٹا ہزار ۱۲۴۸ھ میں ختم ہوچکا۔ مگر مرزا قادیانی چودہویں صدی کے شروع میں مامور اور مبعوث ہوئے تو چھٹے ہزار میں کہاں ہوئے بلکہ ساتویں ہزار میں باون سال گزار کر مبعوث ہوئے۔

مرزائی دوستو! اپنا اعتقادی حصہ الگ کرکے اپنے رئیس المتکلمین کے علم کلام کو بحیثیت متکلم جانچو گے تو ہمارا قول صحیح پائو گے:

  1. ہم شیخ کی سنتے تھے مریدوں سے بزرگی

    جاکر کے جو دیکھا تو عمامہ کے سوا ہیچ

حضرات! اور سنئے، مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار برس میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۹۵ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۵۲)

غور فرمائیے کہ چھٹے ہزار میں سے کل گیارہ سال رہتے تھے تو ساتواں ہزار شروع ہونے تک مرزا قادیانی کی عمر کل گیارہ سال کی ہوگی۔ حالانکہ آپ فرما چکے ہیں کہ میں چالیس سال کی عمر میں مامور اور مبعوث ہوا۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ انتیس سال ساتویں ہزار میں سے لے کر آپ مبعوث ہوئے۔

335

اس پر طرفہ:یہ ہے کہ آپ تحفہ گولڑویہ مطبوعہ ۱۹۰۲ء مطابق ۱۳۲۰ھ میں فرماتے ہیں: ’’ہمارا یہ زمانہ (۱۳۲۰ھ) حضرت آدمؑ سے ہزار ششم پر واقع ہے۔ یعنی حضرت آدمؑ کی پیدائش سے یہ چھٹا ہزار جاتا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۱ خزائن ج۱۷ ص۲۴۵)

غور فرمائیے چھٹا ہزار ۱۲۴۸ھ میں ختم ہوگیا تاہم ۱۳۲۰ھ میں یعنی ۵۲+۲۰=۷۲ سال تک بھی وہی چھٹا ہزار جاری ہے۔ ابھی آگے بھی۔

اس طرفہ پر طرہ: یہ ہے کہ ۱۹۰۶ء مطابق ۱۳۲۴ھ کو مرزا قادیانی ایک عبارت تحریر فرماتے ہیں: ’’اب چھٹا ہزار آدم کی پیدائش سے آخر پر ہے۔ جس میں خدا کے سلسلہ کو فتح ہوگئی اور روشنی اور تاریکی میں یہ آخری جنگ ہے۔‘‘

(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب خزائن ج۲۰ ص۳۳۶ مؤرخہ یکم مارچ ۱۹۰۶ء مطابق محرم ۱۳۲۴ھ )

ْ مطلب یہ ہے۔ ۱۳۲۴ھ تک دنیا کی عمر کا چھٹا ہزار ختم نہیں ہوا، اور سنئے!فرماتے ہیں: ’’ضرور ہے کہ مہدی اور مسیح موعود جو مظہر تجلیات محمدیہ ہے جس پر آنحضرت کا بعث دوم موقوف ہے وہ چودہویں صدی کے سر پر ظاہر ہو۔ کیوں کہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ کلاں ص۹۵حاشیہ خزائن ج۱۷ ص۲۵۰)

ناظرین! مندرجہ ذیل اقتباسات پر غور فرمائیں:

۱… مرزا قادیانی چھٹے ہزار سے گیارہ سال رہتے پیدا ہوئے۔

۲… مرزا قادیانی چودھویں صدی کے سر پر چالیس سال کے تھے۔

۳… مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء مطابق ۱۳۲۶ھ میں فوت ہوئے۔

۴… چودہویں صدی ہزار ششم میں واقع ہے۔

نتیجہ: چونکہ چودہویں صدی ہزار ششم میں ہے۔ مرزا قادیانی اسی صدی میں فوت ہوئے اور گیارہ سال رہتے ہوئے پیدا ہوئے تھے۔ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی عمر گیارہ سال بھی پوری نہیں ہوئی۔ کیوں کہ بوقت انتقال مرزا ہزار ششم ابھی باقی تھا۔

حضرات! کتنا کمال ہے کہ اتنی تھوڑی سی عمر میں آپ نے علوم پڑھے۔ سیالکوٹ میں محرری کی۔ مختار عدالت کا امتحان دیا۔ مجدد بنے۔ مہدی بنے۔ مسیح بنے۔ کرشن بنے۔ غرض سب کچھ بنے۔ لیکن ہزارششم کے گیارہ سال ختم نہ ہوئے۔ کیا یہ کرامت نہیں:

  1. ایں کرامت ولی ما چہ عجب

    گربہ شاشید گفت باراں شد

336

ناظرین کرام! ہمارا گمان بلکہ یقین ہے کہ آپ لوگ مرزا قادیانی کے کلام بانظام سے اکتائے نہ ہوں گے۔ بلکہ ہماری طرح مسرور ومحظوظ ہوتے ہوں گے۔ ہاں! طوالت سے ملال ہونے پر استاد غالب کا یہ شعر پڑھتے ہیں:

  1. ملے تو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی

    عجیب چیز ہے یہ طول مدعا کے لئے

اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی باوجود بار بار رٹنے کے چھٹا ہزار بھول گئے۔ ایسے بھولے کہ مطلق یاد نہ رہا فرماتے ہیں:’’تمام نبیوں کی متفق علیہ تعلیم ہے کہ مسیح موعود ہزار ہفتم کے سر پر آئے گا۔ (جل جلالہ )‘‘

(لیکچر سیالکوٹ مطبوعہ ۱۹۰۴ء ص۸ خزائن ج۲۰ ص۲۰۹)

اس تشتت بال اور تہافت مقال پر بھی قادیان کے سلطان القلم فرماتے ہیں:

’’القصہ میری سچائی پر یہ ایک دلیل ہے کہ میں نبیوں کے مقرر کردہ ہزار (ششم یا ہفتم یا کوئی اور) میں ظاہر ہوا ہوں اور اگر اور کوئی بھی دلیل نہ ہوتی تو یہی ایک دلیل روشن تھی جو طالب حق کے لئے کافی تھی۔ کیوں کہ اگر اس کو رد کر دیا جائے تو خداتعالیٰ کی تمام کتابیں باطل ہوتی ہیں۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۸ خزائن ج ۲۰ ص۲۰۹)

اب ہم مرزا قادیانی کی فیصلہ کن عبارت پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ناظرین کو شالامار باغ کے دوسرے قطعہ کی سیر کرائیں گے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے اور ہدایت اور گمراہی کے لئے ہزار ہزار سال کے دور مقرر کئے ہیں۔ یعنی ایک وہ دور ہے جس میں ہدایت کا غلبہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ دور ہے جس میں ضلالت اور گمراہی کا غلبہ ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ خداتعالیٰ کی کتابوں میں یہ دونوں دور ہزار ہزار برس پر تقسیم کئے گئے ہیں۔ اول دور ہدایت کے غلبہ کا تھا۔ اس میں بت پرستی کا نام ونشان نہ تھا۔ جب یہ ہزار سال ختم ہوا تب دوسرے دور میں جو ہزار سال کا تھا۔ طرح طرح کی بت پرستیاں دنیا میں شروع ہوگئیں اور شرک کا بازار گرم ہوگیا اور ہر ایک ملک میں بت پرستی نے جگہ لے لی۔ پھر تیسرا دور جو ہزار سال کا تھا۔ اس میں توحید کی بنیاد ڈالی گئی اور جس قدر خدا نے چاہا دنیا میں توحید پھیل گئی۔ پھر ہزار چہارم کے دور میں ضلالت نمودار ہوئی اور اسی ہزار چہارم میں سخت درجہ پر بنی اسرائیل بگڑ گئے اور عیسائی مذہب تخم ریزی کے ساتھ ہی خشک ہوگیا اور اس کا پیدا ہونا اور مرنا گویا ایک ہی وقت میں ہوا۔ پھر ہزار پنجم کا دور آیا جو

337

ہدایت کا دور تھا۔ یہ وہ ہزار ہے جس میں ہمارے نبیﷺ مبعوث ہوئے اور خداتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے ہاتھ پر توحید کو دوبارہ دنیا میں قائم کیا۔ پس آپ کے منجانب اللہ ہونے پر یہی ایک زبردست دلیل ہے کہ آپ کا ظہور اس ہزار کے اندر ہوا جو روز ازل سے ہدایت کے لئے مقرر تھا اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خداتعالیٰ کی تمام کتابوں سے یہی نکلتا اور اسی دلیل سے میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس تقسیم کی رو سے ہزار ششم ضلالت کا ہزار ہے اور وہ ہزار ہجرت کی تیسری صدی کے بعد شروع ہوتا ہے اور چودہوی صدی کے سر تک ختم ہوتا ہے۔ اس ہزار ششم کے لوگوں کا نام آنحضرت نے فیج اعوج رکھا ہےاور ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں۔ چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخرالزماں اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو کیوں کہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۵،۶، خزائن ج۲۰ ص۲۰۷، ۲۰۸)

ناظرین! اس عبارت میں مرزا قادیانی نے تین دعوے کئے ہیں:

۱… عیسائی مذہب چوتھے ہزار میں پیدا ہوا اور اسی ہزار میں فنا ہوگیا۔

۲… دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ ہزار ششم گمراہی کا ہے۔

۳… تیسرا دعویٰ یہ ہے کہ ساتواں ہزار زمانہ مسیح موعود کا ہے۔

دعویٰ اوّل: کی بابت تو ہم تفصیل سے کہنا چاہتے ہیں۔ پس ناظرین غور سے سنیں:

مرزا قادیانی کا کتنا دعویٰ اور کتنی جرأت ہے لکھتے ہیں کہ عیسائی مذہب چوتھے ہزار میں تخم ریزی کے ساتھ ہی خشک ہوگیا۔ مرزا قادیانی کے جواب میں ہمیں کبھی منطقی فلسفی دلیل یا قرآن وحدیث سے استدلال کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ بلکہ مرزا قادیانی کا اپنا قول ہی ان کی تردید یا بالفاظ دیگر کتب کے لئے کافی ہوتا ہے۔

ناظرین غور فرمائیں: دنیا کی عمر کے ۴۷۳۹ میں آنحضرتﷺ پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش اپریل ۵۷۱ء کو ہوئی۔ قمری حساب سے تخمیناً سولہ سال اور بڑھا لیجئے تو ولادت نبویہ سے پانسو ستاسی سال پہلے حضرت مسیح کا زمانہ بالفاظ دیگر دین عیسوی کا زمانہ شروع ہوتا ہے اور یہ پانسو ستاسی سال دنیا کی عمر ۴۷۳۹ سے تفریق کریں تو پیدائش مسیح تک باقی ۴۱۵۲ سال دنیا کی عمر رہتی ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ دین عیسوی کی ابتدا ہی

338

پانچویں ہزار میں ہوئی اور طرح سے: ہم چونکہ مرزا قادیانی کے قائل اور مخاطب ہیں۔ اس لئے ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم مولانا شبلی وغیرہ کے مرہون منت ہوں۔ جب کہ مرزا قادیانی خود ہی فرماتے ہیں: ’’افضل البشر (محمدرسول اللہ ﷺ) جو مسیح سے چھ سو برس پیچھے آیا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۴۲ خزائن ج۵ ص ایضاً)

مرزا قادیانی کی خاطر سے ہم حضرت مسیح کی ایک سو بیس عمر بھی ملالیں تو سارا زمانہ سات سو بیس سال ہوتا ہے۔ ۷۳۹ میں سے سات سو بیس تفریق کرنے سے ۱۹ سال بچے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش دنیا کی عمر کے حساب سے بحسا ب مرزا قادیانی ۴۰۱۹ میں ہوئی۔ یعنی پانچویں ہزار میں مگر مرزا قادیانی دین عیسوی کو چوتھے ہزار میں پیدا کر کے فنا بھی کر چکے ہیں۔

عیسائی ممبرو! کہاں ہو؟ کیا کہتے ہو؟اب بھی قادیانی معجزہ پر ایمان لائو گے یا نہیں؟ کہ تمہیں ہونے سے پہلے ہی مرزا قادیانی نے مار دیا۔ یہی معنی ہیں۔

چلی ہے تیغ بل کرتی ہوئی زخم آئے ہیں ترچھے

نہ بول اٹھے کوئی یا رب کہ بانکا اس کا قاتل ہے

دوسرا دعویٰ: آپ کا عبارت منقولہ از چشمہ مسیحی کے خلاف ہے کیوں کہ مرزا قادیانی نے ۱۹۰۸ء میں انتقال کیا ہے اور عبارت مرقومہ ۱۹۰۶ء کی ہے جس میں ہزار ششم کو جاری مانا ہے تو کہنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کا سارا زمانہ ضلالت کا تھا۔ گمراہی میں پیدا ہوئے گمراہی میں چلے گئے۔

تیسرا دعویٰ: تو ساری پہلی عبارتوں کے خلاف ہے جن میں ہزار ششم میں بعثت بتائی ہے۔

مختصر یہ ہے کہ: مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت موعود پر بڑی زبردست دلیل یہ پیش کی ہے کہ ہم دنیا کی عمر سے ہزار ششم میں مبعوث ہوئے۔ حالانکہ ہزارششم انہی کے حساب سے ۱۲۴۸ھ کا ختم ہوچکا ہے۔ آپ اس سے بہت بعد مدعی مسیحیت موعودہ ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے پہلے بیان کر بھول کر ساتویں ہزار میں تشریف لے آئے۔ پھر اس پر بھی قائم نہ رہے۔ یہاں تک کہ ۱۹۰۶ء مطابق ۱۳۲۴ھ کو ہزار ششم کو لاموجود کیا۔

ناظرین! یہ وہ زبردست دلائل ہیں جن کے حق میں مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے

339

ہیں: ’’یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشرطیکہ متقی ہو جس وقت ان تمام دلائل میں غور کرے گا تو اس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۲ خزائن ج۱۷ ص ۲۶۴)

ہاں ہاں یہی ثبوت ہیں جن کی بناء پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’کوئی انسان نرا بے حیا نہ ہو تو اس کے لئے اس سے چارہ نہیں کہ میرے دعوے کو اسی طرح مان لے جیسا کہ اس نے آنحضرتﷺ کی نبوت کو مانا۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۳۸ خزائن ج۲۰ ص۴۰)

ہم نے مرزا قادیانی کی زبردست دلیل کے بیانات کو بڑی محنت سے یکجا کرکے ناظرین کے سامنے رکھ دیا۔ اب یہ ان کا کام ہے کہ (بقول مرزا) بے حیا بنیں یا بقول خدا ’’من یکفر باالطاغوت‘‘ کامل الایمان۔

ہم سے پوچھیں تو ہم مرزا قادیانی کے دعوے اور ان کے دلائل پر یہ شعر بہت موزوں پاتے ہیں۔ آہ!

  1. ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق

    اس نے دیکھے ہی نہیں نازو نزاکت والے

قادیانی دوستو! فلاسفہ اور متکلمین میں جن امور میں اختلاف ہے۔ ان میں سے ایک امر حدوث کائنات ہے۔ متکلمین کل ما سوی اللہ کو اور اس کے سلسلہ کو حادث بالزمان مانتے ہیں، فلاسفہ یونان چند امور کو قدیم بالزمان کہتے ہیں۔ لیکن کیا مجال کہ کوئی متکلم بحث کرتے ہوئے اپنے اصول کو بھول جائے۔ ہرگز نہیں، بلکہ خواب میں بھی وہ اپنے اصول کو نہیں بھولے گا۔ مگر آپ کا متکلم ہاں رئیس المتکلمین ہاں ہاں سلطان القلم کی یہ کیا حالت ہے کہ اپنی دلیل اور اپنے بیان کو یوں بھول جاتا ہے۔ جس طرح ایک شاعر نے اپنے معشوق کی شکایت کی ہے:

  1. مجھے قتل کرکے وہ بھولا سا قاتل

    لگا کہنے کس کا یہ تازہ لہو ہے

  2. کسی نے کہا جس کا وہ سر پڑا ہے

    کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے

خدائی فیصلہ! آئو ہم تمہیں ایسے اختلافات میں خدائی فیصلہ سنائیں قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (نساء:۸۲)‘‘(یعنی اگر قرآن کسی غیر اللہ کے پاس سے ہوتا تو لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے۔)

340

یہ آیت بتا رہی ہے کہ خدا کے کلام اور خدا کے انبیاءm کے الہامی کلام میں اختلاف نہیں ہوتا۔ پس جس کلام میں اختلاف ہو وہ الہامی یا خدا کی طرف سے نہیں اور جو کلام خدا کی طرف سے نہیں مگر متکلم اس کا اس کو خدا کی طرف سے کہتا ہے تو ایسا کہنے والا بڑا ظالم اور مفتری ہے۔سیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون۔ قادیانی ممبرو!

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خوں کیوں کر

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا

ضمیمہ عجائبات مرزا

الولد سرلابیہ

میاں محمود احمد خلف مرزا غلام احمد قادیانی خلیفہ قادیان کا علم کلام

مرزا غلام احمد قادیانی متوفی کے صاحبزادے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان علم وعرفان میں (بقول حاشیہ نشینان) اتنی ترقی کرچکے ہیں کہ بڑے میاں سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ آپ کی علمی ترقی کا ذکر حاشیہ نشینان دربار خلافت یوں اظہار کرتے ہیں:

’’حضرت امام جماعت احمدیہ (میاں محمود) اپنے زمانہ کے سب سے بڑے پاکباز اور خدائے تعالیٰ کے مقرب ثابت ہوئے۱؎ ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضور کو قرآن مجید کو ایسا علم عطا کیا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۲؎۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۱۷، نمبر۷۵، ص۵ کالم نمبر۱، مورخہ ۷مارچ ۱۹۳۰ء)

اس علمی کمال کے اظہار کے بعد آپ کے روحانی کمالات کا ذکر اس سے بھی عجیب تر ہے۔ آپ ایک دفعہ شملہ سے واپس آرہے تھے، چھائونی انبالہ پر ہر دوار پسنجر پر سوار ہونا تھا۔ ہر دوار پسنجر دریائے گنگا کے پل پر سے گزر کر آتا ہے۔ چند منٹ لیٹ ہوکر آیا جو معمولی بات ہے۔ حاشیہ نشینوں نے گاڑی کے لیٹ پہنچنے کو ایسی خوبی سے بیان کیا جو پڑھنے اور سننے والوں کے لئے اچھا خاصہ منٹوں تک ہنسی کا موقعہ بن جائے گا۔ لکھا ہے:

’’چونکہ آج ہردوار پسنجر پر مملکت روحانیہ کا سلطان ,,میاں بشیر الدین محمود خلیفہ

۱؎ بشہادت اخبار مباہلہ واخبار پیغام صلح؟

۲؎ الا وہی جس نے آپ کے باپ کا مقابلہ کیا۔

341

قادیان،، سوار ہونے والا تھا۔ اس لئے گاڑی کو ضرورت محسوس ہوئی کہ گنگا میں اشنان کرکے آئے۔ اس لئے وہ چند منٹ دیر کا عذر۱؎ کرتی ہوئی پہنچی۔‘‘

(الفضل ج۵، نمبر۳۰، ص۲، کالم نمبر۲، مورخہ۱۳؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)

دہلی کے شاعر استاد داغ مرحوم نے بھی ریل گاڑی کا مذاق اڑایا ہے۔ مگر وہ شاعرانہ تخیل میںصحیح ہے۔ کیا خوب مذاق ہے:

  1. منزل یار دور اتنی ہے

    ریل بھی جاتے چیخ اٹھتی ہے

لیکن قادیانی دربار اس سے بڑھ گیا۔ اس کے درباریوں نے ریل کو گنگا میں اشنان کرنے کے لئے اتارا پھر چڑھایا بھی۔ لطف یا کرامت یہ کہ کوئی مسافر (پسنجر) نہ گنگا میں ڈوبا نہ اس کے کپڑے بھیگے۔ اسی کو کہتے ہیں:

  1. ایں کرامت ولی ما چہ عجب

    گربہ شاشید گفت باراں شد

ہم کون جو خلیفہ قادیان کی اس کرامت کا انکار کریں۔ کریں تو لاہوری پارٹی کے سرگروہ کریں جن کو ان سے رقابت ہے۔ ہم تو واقعات سامنے رکھا کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ قادیان کی ایک تحریر متعلقہ عمر دنیا پیش کرتے ہیں۔ خلیفہ قادیان فرماتے ہیں:

’’حضرت مسیح موعود (مرزا) نے اس پر بہت زور دیا ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ جمعہ کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ بعض نے غلطی سے حضرت مسیح موعود کی تحریوں سے یہ سمجھ لیا کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ حالانکہ یہ تو ایک دور کا اندازہ ہے۔ جس طرح ساتھ دنوں کا ایک دور ہے۔ کیا آٹھویں دن قیامت آجایا کرتی ہے۔ نہیں بلکہ ہرجمعہ کے ساتھ ہی ہفتہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ تو ایک دور ہے حضرت مسیح موعود (مرزا) نے جس قیامت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس سے وہ قیامت مراد نہیں جس کے بعد فنا آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں حضرت مسیح (مرزا) نے سات ہزار سال کا ذکر فرمایا وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ تعجب نہیں کہ اور ملکوں کے آدم کوئی اور ہوں۔ ممکن ہے کہ افریقہ کے لوگ اس آدم کی نسل نہ ہوں جس کی نسل سے ہم ہیں۔ اسی طرح یورپ کے لوگ کسی اور آدم کی اولاد ہوں۔ غرض جہاں آپ نے آدم کا ذکر کیا ہے وہاں اس آدم کا ذکر مراد ہے جس کی موجود نسل پائی جاتی ہے۔ پس آپ کا بصورت امکان مختلف آدموں کا تسلیم کرنا بتاتا ہے کہ جب آپ دنیا کی عمر سات ہزار

۱ ؎ بذریعہ سیٹی۔

342

سال بتاتے ہیں اور اس کے بعد قیامت بتاتے ہیں تو اس قیامت سے مراد اس دنیا کی نسل کا ایک دور ہے جو ختم ہوگا اور آپ پہلے دور کے خاتمہ پر آئے۔ میرا اپنا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) اس دور کے خاتم ہیں اور اگلے دور کے آدم بھی آپ ہی ہیں۔ کیوں کہ پہلا دور سات ہزار سال کا آپ پر ختم ہوا اور اگلا دور آپ سے شروع ہوا۔ اسی لئے آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ اس کے یہی معنی ہیں کہ آپ آئندہ نبیوں کے حلوں میں آئے ہیں جس طرح پہلے انبیاء کے ابتدائی نقطہ حضرت آدمؑ تھے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود (مرزا) جو اس زمانہ کے آدم ہیں آئندہ آنے والے انبیاء کے ابتدائی نقطہ ہیں۔‘‘ (ضمیمہ الفضل قادیان ج۱۵، نمبر ۶۴، ص۴۹، کالم نمبر ۱، ۲ مورخہ۱۴؍فروری ۱۹۲۸ء)

قادیانی ممبرو! سنتے ہو! خلیفہ صاحب نے اس کلام میں دو دعوے کئے ہیں: (۱) ایک یہ کہ سات ہزار کے بعد قیامت نہیں آئے گی بلکہ سات ہزار سال ہفتہ کی طرح ایک دور ہے۔ (۲)دوسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ یہ سات ہزار دور مرزا قادیانی پر ختم ہوگیا۔ اس لئے دوسرے دور کے بابا آدم بھی مرزا قادیانی ہیں۔

ہمیں کیا ضرورت ہم انکار کریں۔ ہم تو مرزا قادیانی کو مانتے ہیںاور انہی کو جانتے ہیں۔ ناظرین! خلیفہ صاحب کے مرقومہ کلام کے نمبر دوم سے صحیح اور صاف دو نتیجے نکلتے ہیں۔ پس آپ غور سے سنیں:

الف: مرزا قادیانی (بقول خود) چھٹے ہزار سے گیارہ سال رہتے پیدا ہوئے اور بقول خلیفہ صاحب ساتویں ہزار پورا پاکر آٹھویں ہزار کے بابا آدم بھی آپ بنے۔ بغرض آسانی ہم فرض کرلیتے ہیں کہ آٹھویں ہزار میں سے بیس سال پائے ہوں گے۔ پس گیارہ چھٹے ہزار کے اور بیس سال آٹھویں ہزار میں سے مل کر اکتیس اور ایک ہزار ہفتم کامل مجموعہ ایک ہزار اکتیس سال مرزا قادیانی نے عمر پائی۔ (جل جلالہ)

ناظرین کرام! اس قسم کی الہامی تقریریں سن کر کوئی باور کرسکتا ہے کہ:

’’ملّا دوپیازہ کی یا ختم ہے؟‘‘

ب: دوسرا نتیجہ: نتیجہ اولیٰ سے بہت دلچسپ ہے کیونکہ بقول خلیفہ قادیان، مرزا متوفی جب دور جدید کے آدم ہیں تو اس میں کیا شک ہے کہ میاں محمود خلیفہ حضرت شیث کے درجہ پر ہوں گے جو اول اولاد تھے۔ حضرت آدمؑ کی ان کے بعد نسل مرزا میں سے مثل

343

سابق انبیاء کرام (حضرت نوح، صالح، ہود، ابراہیم، اسماعیل، اسحق، یعقوب، موسیٰ، ہارون، دائود، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، محمد) حسب ترتیب اپنے اپنے اوقات میں پیدا ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ گزشتہ آدم کے بیٹے حضرت شیث کے زمانہ میں کلمہ ’’لالہ الّا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘پڑھا جاتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ہر زمانہ میں یہی دستور رہا کہ ان کی اور ان سے پہلے انبیاء کی تصدیق ہوتی تھی۔ آئندہ پیدا ہونے والوں کی نہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں ’’لاالٰہ الّا اللہ موسٰی رسول اللہ ‘‘پڑھنے کا حکم تھا۔ ’’محمد رسول اللہ ‘‘ ان کے کلمہ میں جزء نہ تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قادیان میں بزمانہ شیث (میاں محمود) وہ کلمہ پڑھا جائے جس کا نبی (بقول خلیفہ) آئندہ نسل مرزاسے پیدا ہوگا۔ پس مناسب بلکہ انصاف ہے کہ قادیانی افراد و داعیان آج کل کلمہ اسلام ’’لاالہ الّا اللہ ‘‘کے ساتھ ’’محمد رسول اللہ ‘‘ ملانا چھوڑ دیں۔ جیسا کہ سابق شیث کے زمانہ میں تھا۔ مرزائی دوستو!

  1. مٹا نہ رہنے دے جھگڑے کو یار تو باقی

    رکے ہے ہاتھ ابھی ہے رگ گلو باقی

لطیفہ: کہتے ہیں کسی مولوی صاحب نے ایک مراثی کو ایک دستار عنایت کی۔ دستار شریف بہت پرانی بلکہ بوسیدہ تھی۔ میراثی نے لحاظ میں کچھ نہ کہا۔ قبول کرلی۔ مگر طبعی ظرافت کہاں خاموش ہو۔ صبح سویرے سر پر رکھے ہوئے حاضر مجلس ہوتے ہوئے زور زور سے سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! پڑھتا ہوا آیا۔ مولوی صاحب نے اس کا عمل خلاف معمول دیکھ کر پوچھا۔ میر صاحب! کیا بات ہے۔ آج تسبیحات بہت پڑھی جاتی ہیں؟ آداب بجا لا کر بولا!

حضور! کیا عرض کروں یہ دستار شریف ساری رات کلمہ شریف’’لاالہ الّا اللہ ‘‘پڑھتی رہی میں سنتا رہا۔ منتظر رہا کہ کلمہ شریف کا دوسرا جزء محمد رسول اللہ بھی ملاتی ہے۔ اس نے نہ ملایا۔ آخر میں نے کہا: اری! کلمہ پورا کرنے کو محمد رسول اللہ بھی ملا۔ اس نے ایسا جواب دیا کہ میں لاجواب ہوگیا۔ اس نے کہا میں تو محمد رسول اللہ سے پہلے کی ہوں۔ اس لئے میرے کلمہ میں ان کا دخل نہیں۔‘‘

میراثی مذکور کا مقصد تھا کہ یہ دستار بہت پرانی اور بیکار ہے۔ ہمارے خیال میں اس دستار شریف نے جو اصل الاصول سمجھا۔ وہ قادیانیوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ اس دور جدید میں جو نبی ابھی پیدا نہیں ہوا، اس کا کلمہ کیوں پڑھتے ہیں۔ جو جو پیدا ہوتا جائے گا اس کو داخل

344

کرتے جائیں۔ سردست کلمہ محمدیہ سے الگ ہوجائیں۔ جس سے ان کا اصول بھی صحیح رہے اور امت مسلمہ کے گلے شکایات بھی دور ہوجائیں۔ فریب خوردہ انسانو!

  1. نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ستم کیشی کو

    بہت سے ہوچکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

ناظرین! ان نتائج سے فارغ ہوکر ہم اصل مضمون پر توجہ کرتے ہیں۔ آپ بھی توجہ فرمائیے۔ خلیفہ قادیانی کا پہلا دعویٰ بھی اپنے والد مرزا قادیانی متوفی کے خلاف ہے۔ کیوں کہ مرزا قادیانی نے دنیا کی ساری عمر سات ہزار سال لکھی ہے۔ اس کے بعد فنا بلکہ قیامت بتائی ہے۔ مرزا قادیانی کا قول غور سے سنئے۔ فرماتے ہیں: ’’سورۃ والعصر کے اعداد سے بھی یہی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ آدم سے الف پنجم میں ظاہر ہوئے تھے اور اس حساب سے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ہزار ہفتم ہے جس بات کو خدا نے اپنی وحی سے ہم پر ظاہر کیا اس سے ہم انکار نہیں کرسکتے اور نہ ہم کوئی وجہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے پاک نبیوں کے متفق علیہ کلمہ سے انکار کریں۔ پھر جب کہ اس قدر ثبوت موجود ہے اور بلاشبہ احادیث اور قرآن شریف کی رو سے یہ آخری زمانہ ہے۔ پھر آخری ہزار ہونے میں شک رہا اور آخری ہزار کے سر پر مسیح موعود کا آنا ضروری ہے۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۹ خزائن ج۲۰ ص ۲۱۰)

مرزائی دوستو! اتنے سے تسلی نہ ہو اور خلیفہ کی حمایت میں تم کو تاویل کی سوجھے تو اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کا دوسرا قول پڑھئے جو یہ ہے: ’’یہ جو کہا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا کسی کو علم نہیں۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ کسی وجہ سے بھی علم نہیں۔ اگر یہی بات ہے تو پھر آثار قیامت جو قرآن شریف اور حدیث صحیح میں کہے گئے ہیں وہ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ ان کے ذریعے سے بھی قرب قیامت کا ایک علم حاصل ہوتا ہے۔ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا تھا کہ آخری زمانہ میں زمین پر بکثرت نہریں جاری ہوں گی۔ کتابیں بہت شائع ہوں گی۔ جن میں اخبار بھی شامل ہیں اور اونٹ بے کار ہوجائیں گے۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہمارے زمانہ میں پوری ہوگئیں اور اونٹوں کی جگہ ریل کے ذریعہ سے تجارت شروع ہوگئی۔ سو ہم نے سمجھ لیا کہ قیامت قریب ہے اور خود مدت ہوئی کہ خدا نے آیت ’’اقتربت الساعۃ‘‘ اور دوسری آیتوں میں قرب قیامت کی ہمیں خبر دے رکھی ہے۔ سو شریعت کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت کا وقوع ہر ایک پہلو سے پوشیدہ ہے۔ بلکہ تمام نبیآخری زمانہ کی علامتیں لکھتے آئے ہیں۔‘‘

345

الانصاف خیرالاوصاف! کا مقولہ قادیانی ممبروں کو بھی مسلم ہے تو وہ بتائیں کہ مرزا قادیانی کس قیامت کا ذکر کررہے ہیں؟ ہاں! اسی قیامت کا جس کی بابت ارشاد ہے ’’لایجلیہا لوقتہا الا ہو (اعراف: ۱۸۷)‘‘(اس قیامت کو خدا ہی ظاہر کرے گا) ہاں! اس قیامت کا ذکر کرتے ہیں جس کی بابت ارشاد ہے ’’قل انما علمہا عند اللہ (اعراف:۱۸۷)‘‘ (اس کا علم اللہ کے پاس ہے)

پس مرزا قادیانی کے نزدیک سات ہزار سال کے بعد یقینا قیامت ہے۔ جس کو فنا کہتے ہیں۔ اسی واسطے ہم کہا کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو احادیث مرزا میں ہمارا مقابلہ کرسکے جس کا ثبوت ہم بار ہا دے چکے ہیں۔ اس لئے مرزا متوفی کو ہم مخاطب کرکے کہا کرتے ہیں:

  1. مجھ سا مشتاق جہاں میں کوئی پائو گے نہیں

    گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر

ایک اور پہلو سے: اب ہم ایک اور طرح سے بتاتے ہیں کہ خلیفہ قادیان باوجود جوان ہونے کے ایسے ضعیف الحافظہ ہیں کہ نہ باپ کی یاد رکھیں نہ اپنی۔ یہ ہمارا بہت وزن دار دعویٰ ہے کہ ہم کہتے ہیں خلیفہ قادیان باپ کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی نسیان میں ان سے بڑھ گئے۔ بڑے میاں نے دنیا کی عمر سات ہزار برس لکھی۔ چھوٹے میاں نے سات ہزار تسلیم کیا۔ مگر چند روز کی ایک عبارت بھی ملاحظہ ہو۔ جس میں سات کی بجائے چھ ہزار رہ جاتے ہیں:

’’ایک صاحب نے (خلیفہ قادیان کی خدمت میں) عرض کیا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ دنیا کی عمر صرف چھ ہزار برس ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ (خلیفہ نے) فرمایا یہ عمر تو صرف موجودہ دور کی بیان کی جاتی ہے۔ ساری دنیا کی عمر تو نہیں۔ اس وقت تک ہزاروں آدم گزر چکے۔‘‘

( الفضل قادیان ج۱۸، نمبر۱۴۵، ص۵، کالم نمبر۳، مورخہ۱۶؍جون ۱۹۳۱ء)

ناظرین! سائل نے دنیا کی عمر چھ ہزار سال پیش کرکے سوال کیا، خلیفہ نے چھ ہزار تسلیم کرکے موجودہ دور کی مدت بتائی جس کو پہلے حوالے میں سات ہزار کہہ چکے ہیں۔ کیا سچ ہے:

  1. کیوں کر مجھے باور ہو کہ ایفا ہی کریں گے

    کیا وعدہ انہیں کرکے مکرنا نہیں آتا؟

ناظرین! ہم سے جہاں تک ہوسکا ہم نے اس باب میں معلومات فراہم کرنے میں بڑی محنت سے کام لیا۔ اب اس کو قبول کرنا آپ کا فرض ہے۔ و اللہ المؤفق!

346

ناقابل مصنف مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

347

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

مرزا قادیانی سب سے پہلے بحیثیت مصنف نمودار ہوئے تھے۔ پھر مجدد بنے۔ پھر ترقی کرکے مسیح موعود بنے۔ ان سب ترقیوں کے ساتھ ساتھ فن تصنیف میں بھی ترقی کرتے گئے۔ یہاں تک کہ آپ کو الہام کے ذریعہ سلطان القلم کا لقب ملا۔ (ریویو قادیان بابت اگست ۱۹۴۲ء) آپ کی مجددیت اور مسیحیت کی تنقید پر علماء کرام نے بکثرت کتابیں لکھیں۔ ہماری طرف سے بھی کئی ایک کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ البتہ مرزا قادیانی کے فن تصنیف پر کسی مصنف نے توجہ نہ کی تھی۔ حالانکہ یہ مضمون ضروری تھا۔ اس کے متعلق میں نے دو رسالے شائع کئے۔ ایک ’’علم کلام مرزا‘‘ دوسرا ’’عجائبات مرزا‘‘۔ مرزا قادیانی کے اتباع کو جواب دینے کی جرأت نہ ہوئی۔ ہاں! اس کا اثر ان کے دلوں پر یہ ہوا کہ مولوی اللہ دتہ صاحب جالندھری جو قادیانی مباحثات میں آج کل پیش پیش رہتے ہیں۔ رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ ہاتھ میں لے کر قادیان کے سالانہ جلسہ منعقدہ دسمبر ۱۹۴۳ء میں یوں گویا ہوئے کہ ’’مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو متکلمین کی اصطلاحات پر پرکھنا غلطی ہے۔ آپ نے اس کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ بلکہ آپ کو انبیاء کے طریق پر پرکھنا چاہئے۱؎

(الفضل قادیان ج۳۰، نمبر۳۰۱، ص۵، کالم نمبر۱ مورخہ ۳۰دسمبر ۱۹۴۲ء)

حالانکہ یہی مولوی صاحب ہیں جو رسالہ مذکورہ شائع ہونے سے پہلے بڑے لمبے چوڑے مضامین لکھا کرتے تھے۔ جن کے عنوانات کا نمونہ یہ ہے:

’’مسیح موعود (مرزا) کے علم کلام کی شاندار فتح۔‘‘

(مفصل در علم کلام مرزا)

مرزا قادیانی کو انبیاء کے طریق پر ہم نے جانچا اور خوب جانچا۔ مگر اتباع مرزا، مرزا قادیانی کی تصنیفات کو معجزانہ تصانیف کہہ کر ان کے دعاوی کی صحت پر بطور برہان پیش کیا کرتے ہیں۔ اس لئے اس حیثیت سے بھی ان کو جانچنا ضروری ہوا۔

۱؎ مرزا قادیانی اپنے آپ کو انبیاء کرام کے طریق پر شناخت کروانے سے انکار کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (مکتوبات احمدیہ ج پنجم نمبر چہارم ص۳۱، مکتوبات احمد جدید ج۲ ص۱۷۸، مکتوب نمبر۸) اس کے باوجود ہم نے مرزا قادیانی کو انبیاء کے طریق پر بھی خوب پرکھا ہے۔ رسالہ الہامات مرزا وغیرہ ملاحظہ ہو۔

348

اظہار واقعہ

ہم نے بغرض تحقیق اخبار ’’اہل حدیث‘‘ میں چیلنج دیا تھا کہ مرزا قادیانی قابل مصنف نہ تھے۔ مرزا قادیانی کے مرید چاہیں تو اس موضوع پر ہم سے مباحثہ کر لیں۔ مباحثہ اسی طریق سے ہوگا جس طریق سے مرزا قادیانی اور ڈپٹی آتھم عیسائی کے درمیان بمقام امرتسر مئی ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا۔ قادیانی رسالہ ’’ریویو‘‘ مباحثہ پر کچھ آمادہ ہوا۔ مگر بعد میں طریق مذکور پر بحث سے انکار کرکے میدان چھوڑ گیا۔ اس کی وجہ دراصل بقول شاعر یہ تھی کہ:

  1. نام میرا سن کے مجنوں کو جمائی آگئی

    بید مجنوں دیکھ کر انگڑائیاں لینے لگا

اس چیلنج اور جواب الجواب کا ذکر اخبار ’’اہل حدیث‘‘ مؤرخہ ۲۷؍فروری، ۳۰؍اپریل، ۲۹مئی، ۲۴جولائی، ۲۸؍اگست، ۳۰؍اکتوبر، ۳۰نومبر، ۱۸دسمبر ۱۹۴۲ء ، نیز اہل حدیث ۱۲جنوری ۱۹۴۳ء میں، اور رسالہ ’’ریویو‘‘ قادیان (بابت اپریل، مئی، جون، جولائی، اکتوبر، دسمبر) ۱۹۴۲ء نیز ریویو جنوری ۱۹۴۳ء میں ملتا ہے۔

اطلاع: رسالہ علم کلام مرزا اور عجائبات مرزا میں مرزا قادیانی کی تصانیف پر بالائی نظر کی گئی ہے۔ اس رسالہ میں ان کے استدلالات پر متکلمانہ طرز سے تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے جو بہت ضروری ہے۔

ناظرین سے عموماً اور اتباع مرزا سے خصوصاً درخواست ہے کہ وہ اس رسالہ کو دیکھنے سے پہلے مرزا قادیانی کی عداوت یا محبت سے الگ ہو کر محض متکلمانہ حیثیت سے مطالعہ کریں۔ اگر میرے کسی تعاقب میں غلطی پائیں تو از راہ کرم مجھے مطلع فرمائیں۔ میں شکریہ کے ساتھ قبول کروں گا: بر کریماں کارہا دشوار نیست

خاکسار ابوالوفاء ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسری … جمادی الاخری ۴۲ھ مطابق جون ۱۹۴۳ء

مرزا قادیانی کے مستدلات پر تنقید

دیباچہ کتاب ہذا میں لکھا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں دو حصے پہلے شائع ہوچکے ہیں۔ پہلا حصہ ’’علم کلام مرزا‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ دوسرا حصہ عجائبات مرزا، یہ اس کا تیسرا حصہ ہے۔ ناظرین ان تینوں حصوں میں نمایاں فرق پائیں گے۔

نوٹ: مرزا قادیانی کی تصنیفات میں چند کتابیں ایسی ہیں جو متکلمانہ طریق پر

349

خاص مخالفین اسلام کے خطاب میں لکھی گئی ہیں۔ ان کے نام ہی ان کا مضمون بتاتے ہیں۔ مثلاً ’’براہین احمدیہ، آئینہ کمالات اسلام، چشمہ معرفت‘‘وغیرہ۔

میں نے بھی اس کتاب میں انہی کتابوں پر نظر رکھی ہے۔ آپ کی باقی تصنیفات جو آپ کے دعویٰ مسیحیت وغیرہ کے متعلق ہیں۔ ان کا حال انہی کتب ثلاثہ سے معلوم ہوسکتا ہے۔ بحکم ’’قیاس کن زگلستان من بہار مرا‘‘۔ باوجود اس کے اگر ضرورت محسوس ہوئی تو دیگر کتب پر بھی تبصرہ کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ !

مکرر گزارش یہ رسالہ علم کلام کی حیثیت سے لکھا گیا ہے۔ یعنی علم منطق اور علم مناظرہ کے قواعد سے تصنیفات مرزا کو جانچا گیا ہے۔ اس رسالے کا اصل مقصد یہی ہے۔ مذہبی رنگ میں نکتہ چینی مقصود نہیں ہے۔ پس! عام ناظرین کو عموماً اور اتباع مرزا قادیانی کو خصوصاً چاہئے کہ وہ بھی اس رسالہ کو اسی حیثیت سے مطالعہ کریں۔ ہماری تحقیق میں مرزا قادیانی کی تصنیفات براہین سے لے کر آخیر تک سب کی سب علوم معقولہ کے خلاف ہیں۔

توہم اوّل: اگر کسی صاحب کو یہ وہم گزرے کہ تصنیفات مرزا خصوصاً براہین احمدیہ اگر واقعی معقولیت سے گری ہوئی ہیں تو اس زمانہ کے علماء نے ان کی تعریف کیوں کی تھی؟ اس وہم کا دفعیہ یوں ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کتاب کے فوائد ایسے کچھ دلفریب بتائے تھے جن کو سن کر ہر ایک ہمدرد اسلام گرویدہ ہوسکتا تھا۔ جس کی مثال آج کل کی اشتہاری دوائیں ہیںکہ ایک ہی دوا کے ایسے فوائد بتائے جاتے ہیں کہ ضرورت مند کو گمان ہوجاتا ہے کہ یہ دوا واقعی ہر ایک مرض کے لئے مفید ثابت ہوگی۔

ہم ناظرین کی اطلاع کے لئے وہ فوائد نقل کرتے ہیں۔ ناظرین ان فوائد کو دیکھ کر اپنے اندر جو اثر پائیں گے۔ اس سے اندازہ لگا سکیں گے کہ اس زمانہ کے نیک مسلمانوں پر اس تحریر کا کیا اچھا اثر ہوا ہوگا۔ وہ فوائد بالفاظ مرزا قادیانی یہ ہیں: ’’بالآخر بعد تحریر تمام مراتب ضروریہ کے اس بات کا واضح کرنا بھی اسی مقدمہ میں قرین مصلحت ہے جو کن کن قسموں کے فوائد پر یہ کتاب مشتمل ہے تا وہ لوگ جو حقانی صداقتوں کے جان لینے پر جان دیتے ہیں اپنے روحانی محبوب کی خوشخبری پاویں اور تا ان پر جو راستی کے بھوکے اور پیاسے ہیں اپنی دلی مراد کا راستہ ظاہر ہوجاوے۔ سو وہ فوائد چھ قسم کے ہیں۔ جو بہ تفصیل ذیل ہیں:

350

اوّل: اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں بلکہ وہ تمام صداقتیں کہ جن پر اصول علم دین کے مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس سے پڑھنے والوں کو ضروریات دین پر احاطہ ہوجاوے گا اور کسی مغوی اور بہکانے والے کے پیچ میں نہیں آئیں گے۔ بلکہ دوسروں کو وعظ ونصیحت اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل استاد اور ایک عیار رہبر بن جائیں گے۔

دوسرا: یہ فائدہ کہ یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے کہ جن کے دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہر ایک طالب حق پر ظاہر ہوگی۔ بجز اس شخص کے کہ بالکل اندھا اور تعصب کی سخت تاریکی میں مبتلا ہو۔

تیسرا: یہ فائدہ کہ جتنے ہمارے مخالف ہیں یہودی، عیسائی، مجوسی، آریہ، برہمو، بت پرست، دہریہ، طبعیہ اباحتی، لامذہب سب کے شبہات اور وساوس کا اس میں جواب ہے اور جواب بھی ایسا جواب کہ دروغ گو کو اس کے گھر تک پہنچایا گیا ہے اور پھر صرف رفع اعتراض پر کفایت نہیں کی گئی بلکہ یہ ثابت کرکے دکھلایا گیا ہے کہ جس امر کو مخالف ناقص الفہم نے جائے اعتراض سمجھا ہے۔ وہ حقیقت میں ایک ایسا امر ہے کہ جس سے تعلیم قرآنی کی دوسری کتابوں پر فضیلت اور ترجیح ثابت ہوتی ہے نہ کہ جائے اعتراض اور پھر وہ فضیلت بھی ایسے دلائل واضح سے ثابت کی گئی ہے کہ جس سے معترض خود معترض الیہ ٹھہر گیا ہے۔

چوتھا: یہ فائدہ جو اس میں بمقابلہ اصول اسلام کے مخالفین کے اصول پر بھی کمال تحقیق اور تدقیق سے عقلی طور پر بحث کی گئی ہے اور تمام وہ اصول اور عقائد ان کے جو صداقت سے خارج ہیں۔ بمقابلہ اصول حقہ قرآنی کے ان کی حقیقت باطلہ کو دکھلایا گیا ہے۔ کیونکہ قدر ہر یک جوہر بیش قیمت کا مقابلہ سے ہی معلوم ہوتا ہے۔

پانچواں: اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق اور معارف کلام ربانی کے معلوم ہوجاویں گے اور حکمت اور معرفت اس کتاب مقدس کی کہ جس کے نور روح افروز سے اسلام کی روشنی بھی سب پر منکشف ہوجائے گی۔ کیونکہ تمام وہ دلائل اور براہین جو اس میں لکھی گئی ہیں اور تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں وہ سب آیات

351

بینات قرآن شریف سے ہی لی گئی ہیں اور ہر ایک دلیل عقل وہی پیش کی گئی جو خدا نے اپنی کلام میں آپ پیش کی ہے اور اسی التزام کے باعث سے تقریباً باراں سیپارہ (نقل مطابق اصل) قرآن شریف کے اس کتاب میں اندراج پائے ہیں۔ پس حقیقت میں یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی بیان تفسیر ہے کہ جس کے مطالعہ سے ہر ایک صادق پر اپنے مولیٰ کریم کی بے مثل ومانند کتاب کا عالی مرتبہ مثل آفتاب عالمتاب کے روشن ہوگا۔

چھٹا: یہ فائدہ ہے جو اس کتاب کے مباحث کو نہایت متانت اور عمدگی سے قوانین استدلال کے مذاق پر مگر بہت آسان طور پر کمال خوبی اور موزونیت اور لطافت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ ایک ایسا طریقہ ہے کہ جو ترقی علوم اور پختگی فکر اور نظر کا ایک اعلیٰ ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ دلائل صحیح کے توغل اور استعمال سے قوت ذہنی بڑھتی ہے اور ادراک امور دقیقہ میں طاقت مدر کہ تیز ہوجاتی ہے اور بابعث ورزش براہین حقہ کے عقل سچائی پر ثبات اور قیام پکڑتی ہے اور ہر ایک امر متنازع کی اصلیت اور حقیقت دریافت کرنے کے لئے ایک ایسی کامل استعداد اور بزرگ ملکہ پیدا ہوجاتا ہے جو کہ تکمیل قوائے نظریہ کا موجب اور نفس ناطقہ انسان کے لئے ایک منزل اقصیٰ کا کمال ہے کہ جس پر تمام سعادت اور شرف نفس کا موقوف ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۳۵، ۱۳۸ خزائن ج۱ ص۱۲۸ تا ۱۳۱)

منقد: ناظرین یہ ہیں وہ فوائد جو ایک مومن مسلمان کو اس کتاب کی طرف مائل کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہیں۔ اسی لئے اس زمانہ کے مسلمانوں نے عموماً اور بعض علماء نے خصوصاً اس کتاب کی تعریف کی اور اس کی اشاعت میں مرزا قادیانی کی مدد کی۔ لیکن غور طلب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فوائد حاصل ہوئے بھی؟ اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ جب کہ موعودہ کتاب ہی وجود میں نہیں آئی تو اس کے فوائد کیسے حاصل ہوسکتے؟ رہی یہ بات کہ کتاب کیسے وجود میں نہیں آئی۔ حالانکہ براہین احمدیہ کے نام سے یہ کتاب فروخت ہورہی ہے۔ اس کا جواب ہم اپنے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ میں مفصل دے چکے ہیں، یہاں اجمالا عرض کرتے ہیں کہ ان تین سو براہین حقہ میں سے ایک برہان بھی شائع نہیں ہوئی، جس پر یہ کہنا بالکل بجا ہے:

  1. ہزار وعدوں میں گر ایک ہی وفا کرتے

    قسم خدا کی نہ ہم ان کو بے وفا کہتے

352

توہم دوم: دوسرا وہم یہ کیا جاتا ہے کہ مخالفوں نے اس کا جواب دے کر دس ہزار روپیہ انعام کیوں وصول نہیں کیا۔ جس کا اشتہار مرزا قادیانی نے دے رکھا تھا۔

اس کا شبہ کا جواب یہ ہے کہ جس حالت میں دلائل ظہور پذیر ہی نہیں ہوئے تو جواب کس چیز کا ہوتا؟ آج تک مخالفوں کی طرف سے یہ معقول مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ دلائل پیش کرو تو ہم غور کریں گے… پس ہم اس کتاب کے مصنف کو ان مواعید کی وجہ سے عرب کی محبوبہ سعاد کی مثل پاتے ہیں۔ جس کے عاشق صادق نے کہا ہے:

  1. کانت مواعید عرقوب لہا مثلاً

    مامواعیدہا الا الاباطیل

اظہار واقعہ: پنڈت لیکھ رام آریہ نے اس کتاب کے جواب میں جو (تکذیب براہین) لکھی تھی ہم اس کو بھی بحیثیت مصنف، پنڈت صاحب کی جلد بازی پر مبنی سمجھتے ہیں۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ مرزا قادیانی سے ان کی تین سو دلائل والی کتاب کا تقاضا کرتے اور جب تک مرزا قادیانی اپنی موعودہ کتاب شائع نہ کرتے۔ یہ شعر پڑھتے رہتے:

  1. مفت اٹھنے کے نہیں در سے تیرے یار کبھی

    ایک مطلب کے لئے باندھ کے اڑ بیٹھ گئے

۱ … اصل کتاب کی براہین پر تنقید

براہین احمدیہ مضامین کے لحاظ سے اصل میں دو حصوں پر منقسم ہے۔ ایک اصل کتاب ہے دوسرے حواشی۔ ان دونوں حصوں میں جو کچھ حشو وزوائد اور طول پر ملول اور تکرار بے شمار ملتا ہے۔ اسے ہم زیر بحث نہیں لاتے۔ ناظرین اسے خود دیکھ سکتے ہیں۔ اس جگہ ہم اصل مقصود کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے ہماری مراد مرزا قادیانی کی طرز تصنیف پر بحث کرنا ہے۔ جس سے کسی مصنف کی قابلیت یا عدم قابلیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ اصل کتاب کے شروع میں ایک مقدمہ لکھا جس میں چند مقاصد ہیں۔ علماء کی اصطلاح میں مقدمہ کتاب کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو مضمون کے لحاظ سے اصل کتاب سے جدا ہوتا ہے مگر اس میں کچھ مبادی ذکر کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ علم نحو اور علم منطق میں مقدمہ کو یوں بیان کیا جاتا ہے:

’’المقدمۃ فی المبادی التی یجب تقدیمہا علی المقاصد (ہدایت النحو وغیرہ)‘‘علم نحو میں مبادی کی مثال کلمہ کلام مفرد اور مرکب وغیرہ کی

353

تعریفات ہیں اور علم منطق میں دلالت کی تقسیم مطابقی تغمنی التزامی وغیرہ مبادی کی مثالیں ہیں۔ علم اقلیدس میں خط، نقطہ وغیرہ کی تعریف اور چند علوم متعارضہ بیان کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد مقاصد شروع ہوتے ہیں۔ کیونکہ مبادی مقاصد نہیں ہوتے اور مقاصد مبادی نہیں ہوتے۔ ان دونوں میں امتیاز ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے مقدمہ میں مقاصد لکھے ہیں۔ (براہین احمدیہ ص۸۳خزائن ج۱ ص ۷۱) جو اہل علم کی اصطلاح کے بالکل خلاف ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ جو کچھ لکھا ہے وہ مقاصد نہیں ہیں۔ گویا آپ نے دو غلطیاں کی ہیں۔ ایک تو مضمون مقدمہ کو مقاصد کہا ہے۔ دوسرے جو کچھ اس میں بیان کیا ہے وہ مقاصد نہیں ہیں۔ ہماری گفتگو اہل علم کی اصطلاح پر مبنی ہے۔ مرزا قادیانی یا ان کے مرید اگر اہل علم کی اصطلاحات کے پابند نہیں ہیں تو ہم بھی ان کی طرف سے یہ شعر پڑھ کر اس اعتراض کو ختم کر دیں گے:

  1. نہ پیروی قیس نہ فرہاد کریں گے

    ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

۲ … تمہیدات

مقدمہ ختم کرنے کے بعد آپ نے آٹھ تمہیدات لکھی ہیں جو پانسو گیارہ صفحات میں ختم ہوئی ہیں۔ ان تمہیدات کو مضمون کے لحاظ سے مبادی کہہ کر مقدمہ میں درج کرتے تو بجا ہوتا۔ مگر موصوف نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان کو مقدمہ سے بالکل الگ کردیا اور ان کی جگہ مقاصد کو دے دی۔ درس قرآن میں اس کی مثال یہ ہے کہ قاعدہ بغدادی میں پارہ عمّ کو داخل کردیا اور پارہ عمّ کو قاعدہ بغدادی کے حروف (الف، ب، ج ، د، وغیرہ) کی جگہ دے دی۔ ادنیٰ طالب علم بھی اس طرز عمل کو اس مصرع کا مصداق سمجھے گا: ؎ خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد!

تمہید اول: قرآن مجید آنے سے پہلے زمانے کے حالات ایسے خراب تھے جو کتاب اللہ کے نزول کے مقتضی تھے۔

تمہید دوم: وہ براہین جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔ چار قسم پر ہیں۔ ایک وہ امور جو محتاج الاصلاح سے ماخوذ ہیں۔ دوسرے وہ امور جو محتاج التکمیل سے ماخوذ ہیں۔ تیسرے وہ جو امور قدرتیہ سے ماخوذ ہیں۔ چوتھے وہ جو امور غیبیہ سے ماخوذ ہیں۔

(براہین ص۱۳۹ خزائن ج۱ ص۱۴۳)

تمہید سوم: جو چیز محض قدرت کاملہ خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس

354

کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو جو لفظاً اور معناً اسی کی طرف سے صادر ہو۔ اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے کہ کوئی مخلوق اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو۔

(براہین ص ۱۴۶ خزائن ج۱ ص۱۴۹)

تمہید چہارم: خداوندتعالیٰ کی تمام مصنوعات پر نظر کرنے سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ جو عجائب وغرائب اس نے اپنی مصنوعات میں رکھے ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ ایک تو عام فہم ہیں۔ دوسرے وہ امور ہیں جن مین دقت نظر درکار ہے۔

(براہین احمدیہ ص۳۸۱،۳۸۲ خزائن ج ۱ ص۴۵۶، ۴۵۷)

تمہید پنجم: جس معجزہ کو عقل شناخت کرکے اس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے وہ ان معجزات سے ہزارہا درجہ افضل ہوتا ہے جو صرف بطور کتھا یا قصہ کے مد منقولات میں بیان کئے جاتے ہیں۔

(براہین احمدیہ ص۴۲۸، ۴۲۹ خزائن ج۱ ص۵۱۱، ۵۱۲)

تمہید ششم: جس طرح محجوب الحقیقت معجزات، عقلی معجزات سے برابری نہیں کرسکتے۔ ایسا ہی پیش گوئیاں اور اخبار ازمنہ گزشتہ جو نجومیوں اور رمالوں اور کاہنوں اور مؤرخوں کے طریقہ بیان سے مشابہ ہیں۔ ان پیش گوئیوں اور اخبار غیبیہ سے مساوی نہیں ہوسکتیں کہ جو محض اخبار نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ قدرت الوہیت بھی شامل ہے۔

(براہین احمدیہ ص۴۶۷ خزائن ج۱ ص۵۵۸)

تمہید ہفتم: قرآن شریف میں جس قدر باریک صداقتیں علم دین کی اور علوم دقیقہ الٰہیات کے اور براہین قاطعہ اصول حقہ کے مع دیگر اسرار اور معارف کے مندرج ہیں۔ اگرچہ وہ تمام فی حد ذاتہا ایسے ہیں کہ قویٰ بشریہ ان کو بہ ہیئت مجموعی دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور کسی عاقل کی عقل ان کے دریافت کرنے کے لئے بطور خود سبقت نہیں کرسکتی۔ کیونکہ پہلے زمانوں پر نظر استقرائی ڈالنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ کوئی حکیم یا فیلسوف ان علوم ومعارف کا دریافت کرنے والا نہیں گزرا۔ (مخالف کے حق میں یہ تمہید خود متنازعہ ہے۔ مسلم نہیں۔ منقد) لیکن اس جگہ عجیب برعجیب اور بات ہے۔ یعنی یہ کہ وہ علوم اور معارف ایک ایسے امی کو عطا کئے گئے جو لکھنے پڑھنے سے ناآشنا محض تھا۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۷۰، ۴۷۱ خزائن ج۱ ص۵۶۱، ۵۶۲)

355

تمہید ہشتم: جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے وہ حقیقت میں اس نبی متبوع کا معجزہ ہوتا ہے جس کی وہ امت ہے اور یہ بدیہی اور ظاہر ہے۔

(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

منقد: ان تمہیدات ثمانیہ کو مقدمہ میں درج کرکے مبادی بنا دیا جاتا تو کچھ صحت ہو جاتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ خیر جو کچھ کیا ہے وہ ناظرین کے سامنے ہے۔ ان تمہیدات سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کتاب براہین احمدیہ نے جو تین سو دلائل بقول خود اس کتاب میں جمع کی ہیں۔ ان سے یہ امور مشمولہ تمہیدات ثابت ہوتے ہیں۔ مگر حیرت کا مقام ہے کہ ان تمہیدات کو اتنا طول دیا ہے کہ اصل مضمون کے لئے جگہ نہیں رہی۔ یعنی اصل کتاب کے(ص۱۳۹ سے ۵۱۲ خزائن ج۱ ص۱۴۳ سے ۶۱۰) تک ان تمہیدات کو جگہ دی گئی ہے اور (ص۵۱۲ خزائن ج۱ ص۶۱۱) پر جب اصل مضمون شروع کیا تو محض چند آیات کسی قدر تشریح کے ساتھ درج کرکے کتاب کو (ص۵۶۲ خزائن ج۱ ص۶۷۲) پرختم کردیا اور ایسا بے موقع ختم کیا کہ دیکھنے والے کے منہ سے بے ساختہ یہ مصرع نکلتا ہے:

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردی

لطف یہ ہے کہ ۲۳ سال تک انتظار کرانے کے بعد ایک اور کتاب شائع کی۔ بظاہر تو اس کا نام براہین حصہ پنجم رکھا۔ مگر حقیقتاً اس کو اصل کتاب سے نہ صوری تعلق نہ معنوی۔ حالانکہ (ص۹۳ ص۹۹) اور (۱۳۶ خزائن ج۱ ص۶۲، ۶۷، ۱۲۹) وغیرہ پر مکرر سہ کررلکھ چکے تھے کہ براہین کا مسودہ جس میں تین سو دلائل ہیں تیار ہوچکا ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ وہ کہاں گیا۔ نہ اپنے وعدے کی وفا کی نہ قیمت پیشگی ادا کرنے والوں کے تقاضا کی پروا کی۔ جس پر پیشگی قیمت ادا کرنے والوں کی زبان پر یہ شعر آنے لگا:

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک

ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا

۳ … طریق استدلال

مرزا قادیانی نے اس کتاب کے مقدمہ میں اپنا طریق استدلال بھی بتایا ہے کہ جو قابل دید وشنید ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی دلیل تمام نہیں ہوسکتی۔ جب تک فریق مخالف کا ذکر نہ کیاجائے۔ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں:

356

’’کامل تحقیقات اور باستیفاء بیان کرنا جمیع اصول حقہ اور ادلّہ کاملہ کا اسی پر موقوف ہے کہ ان سب ارباب مذاہب کا جو برخلاف اصول حقہ کے رائے اور اختلاف رکھتے ہیں۔ غلطی پر ہونا دکھلایا جائے۔ پس اس جہت سے اس کا ذکر کرنا اور ان کے شکوک کو رفع دفع کرنا ضروری اور واجب ہو اور خود ظاہر ہے کہ کوئی ثبوت بغیر دفع کرنے عذرات فریق ثانی کے کماحقہ اپنی صداقت کو نہیں پہنچتا۔ مثلاً جب ہم اثبات وجود صانع عالم کی بحث لکھیں تو تکمیل اس بحث کی اس بات پر موقوف ہوگی جو دہریہ یعنی منکرین وجود خالق کائنات کے ظنون فاسدہ کو دور کیا جائے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۸۳ خزائن ج۱ ص۷۱)

منقد: مرزا قادیانی کا یہ بیان عقلی اور نقلی دونوں طریق کے خلاف ہے۔ علماء منطق کے نزدیک بہترین دلیل برہان ہے جو یقینی مقدمات سے مرکب ہوتا ہے جس کی مثال یہ قیاس ہے ’’العالم مرکب وکل مرکب حادث نتیجۃ العالم حادث‘‘

اس دلیل کا نتیجہ بالکل صحیح ہے۔ حالانکہ اس میں کسی منکر کا ذکر نہیں ہے۔ برہان میں ضرورت نہیں ہوتی کہ کسی مخالف یا منکر کا ذکر کیا جائے۔ شائد آپ کو یاد نہیں رہا کہ آپ کی کتاب کا نام براہین ہے جو برہان کی جمع ہے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ دلیل میں مخالف کا ذکر ضروری ہوتا ہے۔ علم مناظرہ اور علم میزان کے صریح خلاف ہے۔ ہاں! ہم مانتے ہیں کہ جدلیات میں مخالف کا ذکر ضروری ہوتا ہے مگر براہین اس پر موقوف نہیں ہوتیں۔ مرزا قادیانی کا ایسا کہنا نقلی دلیل (قرآن مید) کے بھی خلاف ہے۔

قرآن شریف نے دہریوں کے رد میں بہت سے دلائل دئیے ہیں جو حقیقت براہین قطعیہ ہیں۔ مگر ان میں دہریوں کا نام تک نہیں ہے۔ چنانچہ ہم اس جگہ دو آیتیں درج کرتے ہیں جو یہ ہیں۔

’’ہوالذی جعل الشمس ضیاء والقمر نوراً وقدّرہ منازل لتعلموا عددالسنین والحساب ما خلق اللہ ذالک الا بالحق یفصل الآیات لقوم یعلمون ان فی اختلاف اللیل والنہار وما خلق اللہ فی السموات والارض لآیات لقوم یتقون‘‘(مختصر ترجمہ: چاند سورج کی پیدائش اور رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور دوسری مخلوق میں غور کرنے والوں کے لئے بہت سے دلائل ہیں) پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ اصول علم کلام عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔

357

۴ … عقل اور الہام

مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے متن اور حواشی میں ان دونوں لفظوں (عقل اور الہام) پر بڑی بحث کی ہے۔ ہم نے بھی اس بحث کو بڑے غور سے مطالعہ کیا اور جس قدر غور کیا مرزا قادیانی کے قلم کو خبط العشوا(کج رفتار) پایا۔ عرب میں جو اونٹنی کج رفتار سے چلا کرتی ہے اس کی رفتار کو خبط العشوا کہتے ہیں۔ چنانچہ معلقہ کا شعر ہے:

  1. رأیت المنایا خبط عشواء من تصب

    تمتہ ومن تخط یعمہ فیہرم

(شاعر کہتا ہے کہ میں موت کو کج رفتار اونٹی کی طرح دیکھتا ہوں جو کبھی کسی پر جا پڑتی ہے اور کبھی کسی پر) میں نے مرزا قادیانی کی تصنیفات میں ان کے قلم کو ایسی ہی اونٹنی جیسا پایا ہے ۔ جو اپنی چال میں بے قابو رہتی ہے۔ مرزاقادیانی کا قلم بھی لکھتے ہوئے بے قابو ہوجاتا ہے۔ اس حالت میں ان کو اجتماع ضدین یاارتفاع نقیضین کی بھی تمیز نہیں رہتی۔ اس عنوان کے ماتحت ہم اپنے اس دعویٰ کا ثبوت دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی ایک اصول وضع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’اگر کوئی کتاب مدعی الہام کی کسی ایسے امر کی تعلیم کرے کہ جس کے امتناع پر کھلی کھلی دلائل عقلیہ قائم ہوتی ہیں تو وہ امر ہر گز درست نہیں ٹھہرسکتا۔ بلکہ وہ کتاب ہی باطل یا محرف یا مبدل المعنی کہلائے گی کہ جس میں کوئی ایسا خلاف عقل امر لکھا گیا۔ پس جب کہ تصفیہ ہر ایک امر کے جائز یا ممتنع ہونے کا عقل ہی کے حکم پر موقوف ہے اور ممکن اور محال کی شناخت کرنے کے لئے عقل ہی معیار ہے تو اس سے لازم آیا کہ حقیت اصول نجات کی بھی عقل ہی سے ثابت کی جائے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۸۸ خزائن ج۱ ص۷۶)

ناظرین کے ذہن میں اس اقتباس کا مضمون آگیا ہوگا کہ بقول مرزا عقل کو الہام پر ترجیح ہے۔ بالفاظ دیگر الہامی تعلیم کو جانچنے کے لئے عقل ہی معیار ہے۔ اس کا خلاف بھی ملاحظہ کیجئے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:

’’اب ہم کہتے ہیں کہ وجود قدیم حضرت باری میں تب ہی دہریہ کو ایک قیاس پرست کے ساتھ نزاع کرنے کی گنجائش ہے کہ مخلوقات پر نظر کرنے سے واقعی شہادت صانع عالم پیدا نہیں ہوتی۔ یعنی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت ایک صانع عالم موجود ہے بلکہ صرف

358

اس قدر ظاہر ہوتا ہے کہ ہونا چاہئے اور اسی وجہ سے امر معرفت صانع عالم کا صرف قیاسی طور سے دہریہ پر مشتبہ ہوجاتا ہے۔ پس جس کے نزدیک معرفت الٰہی صرف مخلوقات کے ملاحظہ تک ہی ختم ہے اس کے پاس اس اقرار کرنے کا کوئی سامان موجود نہیں کہ خدا فی الواقعہ موجود ہے۔ بلکہ اس کے علم کا اندازہ صرف اس قدر ہے کہ ہونا چاہئے اور وہ بھی تب کہ جب دہریہ مذہب کی طرف نہ جھک جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ حکماء متقدمین میں سے محض قیاسی دلائل کے پابند رہے۔ انہوں نے بڑی بڑی غلطیاں کیں اور صدہا طرح کا اختلاف ڈال کر بغیر تصفیہ کرنے کے گزر گئے اور خاتمہ ان کا ایسی بے آرامی میں ہوا کہ ہزار شکوک اور ظنوں میں پڑ کر اکثر ان میں سے دہریے اور طبعی ملحد ہوکر مرے اور فلسفہ کے کاغذوں کی کشتی ان کو کنارہ تک نہ پہنچا سکی۔‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر۱۱ ص۱۵۰ تا ۱۵۱ خزائن ج۱ ص۱۵۵، ۱۵۶)

منقد: ناظرین کرام! اس عبارت کو بغور پڑھیں گے تو نتیجہ صاف پائیں گے کہ مرزا قادیانی نے عقل کو بہت کم درجہ میں رکھ کر اتنا گھٹایا ہے کہ وہ خدا کی ہستی کا ثبوت دینے سے بھی قاصر ہے۔ حالانکہ پہلے اسی عقل کو معیار بتا چکے ہیں اور یہ بات ہر اہل علم پر واضح ہے کہ معیار کا رتبہ ذی معیار (مثبت) سے اعلیٰ ہوتا ہے۔ کیونکہ مثبت کا حسن وقبح معیار ہی سے پرکھا جاتا ہے۔ اہل منطق نے منطقی قوانین کو استدلال کا معیار بتایا ہے۔ کیونکہ منطق کی تعریف یہ ہے: ’’آلۃ قانونیۃ تعصم مراعتہا الذہن عن الخطاء فی الفکر‘‘

(تہذیب منطق)

(یعنی علم منطق ایک ایسا علم ہے کہ اس کا لحاظ رکھنے سے انسان کے استدلال اور فکر میں غلطی نہیں ہوتی) اس کے خلاف اگر کوئی کہے کہ علم منطق کے قواعد سے استدلال صحیح حاصل نہیں ہوسکتا تو یہ علم منطق کی صریح توہین ہے۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ کلام الہام خداوندی کے بھی خلاف ہے۔ حالانکہ آپ الہام ہی کی تائید میں لکھ رہے ہیں۔ اس کیتفصیل ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید نے جن امور کا یقین دلایا ہے۔ ان سب کے لئے کلمہ طیبہ بطور عنوان مقرر کیا ہے۔ جس کے دو جز ہیں۔ پہلا جز ’’لاالٰہ الّا اللہ ‘‘ ہے۔ دوسرا جز ’’محمد رسول اللہ ‘‘پہلے جز کے اثبات کے لئے ارشاد ہے:

’’وہوالذی مدّ الارض وجعل فیہا رواسی وانہارا ومن کل الثمرات جعل فیہا زوجین اثنین یغشی الیل النہار ان فی ذالک لآیات لقوم یتفکرون (الرعد:۳)‘‘زمین کے پھیلانے پہاڑوں کے نصب کرنے دریائوں

359

کے جاری کرنے اور مختلف قسم کے پھلوں کے پیدا کرنے میں فکر کرنے والوں کے لئے بہت سے نشانات ہیں, دوسرے جز کے اثبات کے لئے ارشاد ہے:

’’قل انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموا ﷲ مثنی وفرادی ثم تتفکروا ما بصاحبکم من جنۃ۔ ان ہو الّا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید‘‘ (اے منکرو! تم اکیلے اکیلے یا دو دو مل کر غور کرو کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر) کو جنوں نہیں ہے بلکہ وہ سخت عذاب سے ڈراتے ہیں) ان دونوں آیتوں میںفکر کرنے والوں کو خاص توجہ دلائی گئی ہے کہ اپنے فکر سے مسئلہ الوہیت اور رسالت کو سمجھیں۔ فکر اگر غیر مفید فعل ہوتا۔ یعنی اس سے یقین کا درجہ حاصل نہ ہوسکتا تو کلام اللہ میں اس کو علم کا ذریعہ نہ بنایا جاتا۔ فکر کے معنی اہل منطق کے نزدیک یہ ہیں ’’ترتیب امور معلومۃ لاثبات المطلوب‘‘

پس! معلوم ہوا کہ خود الہامی کتاب نے فکر کو ذریعہ ایمان بتایا ہے۔ یعنی فکر ہی سے کلمہ اسلام کے دو جز ثابت ہوسکتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے جس امر (الہام) کی حمایت میں فکر اور قیاس کی تذلیل کی تھی اسی نے ان دونوں کو قوت دے کر تائید فرمادی۔ اب مرزا قادیانی عالم برزخ میں یہ شعر پڑھتے ہوں گے:

  1. ہم نے چاہا تھا کہ حاکم سے کریں گے فریاد

    حیف ہے وہ بھی تیرا چاہنے والا نکلا

ایک اور طرح سے

مرزا قادیانی کا فی الضمیریہ ہے کہ فکر وقیاس بغیر تائید الہام کے یقین کے درجہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ آپ کا یہ دعویٰ بھی بہت کمزور بلکہ منقوض ہے۔ آپ نے خیال نہیں فرمایا کہ الہام کے مخاطب دو قسم کے اشخاص ہوتے ہیں۔ ایک خود صاحب الہام۔ یعنی جس پر الہام نازل ہوتا ہے۔ دوسرے اس کے سننے والے۔ ملہم (صاحب الہام) کے حق میں تو آپ ایسا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن سننے والے تو اپنی عقل وفکر ہی سے کام لے کر یقین کا درجہ پائیں گے۔ ان کے فکر کی ترتیب یوں ہوگی کہ یہ ملہم ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ اس لئے اس نے الہام کا نام لے کر خدا پر افتراء نہیں کیا۔ چنانچہ شاہ نجاشی حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت عبد اللہ بن سلامb سے اسی قسم کا فکر منقول ہے۔ قرآن مجید کی آیت کریمہ:’’ثم تتفکروا‘‘ میں (جو اوپر مذکور ہوئی) اسی غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے۔ لطف یہ ہے کہ خود بھی کتاب ،،براہین احمدیہ کے ص۲۱۴،

360

۲۱۵، خزائن ج۱ ص۲۳۷، ۲۳۸،،پر دلیل انّی کو برہان قرار دیا ہے۔ دلیل انّی اس کو کہتے ہیں کہ اثر کے وجود سے مؤثر کا علم ہو۔ جیسے روشن دان سے دھوپ دیکھ کر سورج کا علم حاصل کیا جائے۔ یہ دلیل یقینیات کی قسم سے ہے۔ خود مرزائی قادیانی نے (چشمہ معرفت ص۵۶، خزائن ج۲۳ ص۶۴) پر اس دلیل کا ذکر کیا ہے۔

ْ۵ … الہامی کتاب اپنی دلیل خود بیان کرے

اس عنوان کا مطلب یہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی الہامی کتاب وہی ہوتی ہے جو خود ہی اپنا دعویٰ بیان کرے اور خود ہی دلائل دے۔ مرزا قادیانی نے اس اصول کو اپنی مختلف تصانیف میں بڑی رنگ آمیزی سے بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے اتباع مرزا قادیانی کے علم کلام یہ طرہ امتیاز بتاتے ہیں۔ ہم کئی مرتبہ بتا چکے ہیں کہ اس اصول کے موجد علامہ ابن رشد اندلسیؒ ہیں۔ ان کی کتاب فلسفہ ابن رشد میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ خیر ہمیں اس سے مطلب نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد مرزا قادیانی کے استدلال پر گفتگو کرنا ہے۔ علم کلام میں دلیل کے واسطے تقریب تام کا ہونا ضروری ہے اور تقریب تام کے معنی یہ ہیں کہ دلیل کے تمام مقدمات صحیح ہونے کے علاوہ دلیل اپنے تمام افراد کو جامع ہو اور غیر افراد کو مانع ہو۔ اگر جامع نہ ہوتو ایسی دلیل پر جو اعتراض وارد ہو، اس کو نقص اجمالی کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی اس دلیل پر نقض اجمالی صاف وارد ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ سابقہ الہامی کتب کو مانتے ہیں۔ حالانکہ ان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا۔ یہ بات مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ آپ کتب سابقہ کو ناقض کہتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو براہین کا حاشیہ نمبر۹ ص۱۰۹، ۱۱۰ خزائن ج۱ حاشیہ نمبر۹ ص۱۰۰، ۱۰۱) اس لئے آپ قرآن مجیدہی کو اس وصف سے موصوف مانتے ہیں۔ اس اصول کو قرآن مجید فضیلت یا خصوصیت میں بیان کرتے تو اچھا ہوتا۔ یعنی یوں لکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں یہ فضیلت یا خصوصیت ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کی دلیل بھی بیان کرتا ہے اور دوسری الہامی کتب اس وصف سے خالی ہیں تو ایسا کہنے سے نقص اجمالی وارد نہ ہوتا۔ لیکن سلطان القلم کو کون سمجھاتا۔

۶ … کلام الٰہی کا بے مثل ہونا ضروری ہے

مرزا قادیانی نے اس بات پر زور دیا ہے یا یوں کہئے کہ بطور دلیل پیش کیا ہے کہ

361

الہامی کتاب کا بے مثل ہونا بھی ضروری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو الہامی کتاب بے مثل نہ ہو یا بے مثل ہونے کی مدعی نہ ہو۔ وہ حقیقتاً الہامی کتاب نہیں ہے۔ یعنی بے مثل ہونا اس کی صداقت کی دلیل ہے۔ یہ دلیل بھی منقوض ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کے سوا کوئی الہامی کتاب بے مثل ہونے کی مدعی نہیں ہے۔ پھر وہ الہامی کتاب کیسے ہوسکتی ہے؟ اس نقض اجمالی کا جواب مرزا غلام احمد قادیانی نے کیوں نہیں دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقض ان کے خیال میں بھی نہیں آیا۔

۷ … نجات کے لئے یقین چاہئے

اس کی تشریح مرزا قایانی یوں کرتے ہیں ’’یقینی طور پر نجات کی امید یقین کامل پر اس لئے موقوف ہے کہ مدار نجات کا اس بات پر ہے کہ انسان اپنے مولیٰ کریم کی جانب کو تمام دنیا اور اس کے عیش وعشرت اور اس کے مال ومتاع اور اس کے تمام تعلقات پر یہاں تک کہ اپنے نفس پر بھی مقدم سمجھے اور کوئی محبت خدا کی محبت پر غالب ہونے نہ پائے۔‘‘

(براہین احمدیہ بقیہ حاشیہ نمبر۱۱ ص۱۴۹ خزائن ج۱ حاشیہ ص۱۵۳)

منقد: یہ دعویٰ اگر صاحب الہام کے لئے مخصوص ہے تو اعتراض نہیں۔ اگر آپ کی مراد عام ہے کہ صاحب الہام ہو یا غیر ہو تو منقوض ہے۔ کیونکہ تمام امت کو یہ درجہ حاصل نہیں ہے۔ اسی لئے قرآن مجید کی نص صریح میں ارشاد ہے ’’یظنون انہم ملاقوا ربہم‘‘(خدا سے ملنے کا ظن غالب رکھتے ہیں) ظن راجح خیال کا نام ہے جس کا درجہ یقین سے کم ہوتا ہے۔ اس پر بھی قرآن مجید نے نجات متفرع کی ہے۔

۸ … ایک سوال اور اس کا جواب

مرزا قادیانی نے (براہین احمدیہ ص۱۴۱ تا ۱۴۳ خزائن ج۱ ص۱۴۵ تا ۱۴۷) پر چند تمثیلیں لکھی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ واقعات اور مسائل دقیقہ فلسفیہ اور الہامیہ کو نہ جاننے والا، جاننے والے کی طرح بیان کردے تو ماننا پڑے گا کہ ایسے شخص کو امور غیبیہ پر اطلاع ملتی ہے۔ اس سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے باوجود ناخواندہ ہونے کے مسائل دقیقہ الہامیہ بتائے۔ جس سے معلوم ہوا آپﷺ پر خدا کی طرف سے الہام ہوتا تھا۔ اس مقام پر آپ نے ایک معترض کا سوال نقل کیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

362

’’شاید کوئی معترض اس تمہید پر یہ اعتراض کرے کہ ان سہل اور آسان منقولات کا بیان کرنا جو مذہبی کتابوں میں مدوّن اور مرقوم ہیں۔ بذریعہ سماعت بھی ممکن ہے۔ جس میں لکھا پڑھا ہونا کچھ ضروری نہیں۔ کیونکہ ناخواندہ آدمی کسی واقعہ کو کسی خواندہ آدمی سے سن کر بیان کرسکتا ہے۔ یہ کچھ مسائل دقیقہ علمیہ نہیں ہیں جن کا جاننا بغیر تعلم باقاعدہ کے محال ہو۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۴۳ خزائن ج۱ ص۱۴۷)

منقد: یہ اعتراض ایک ایسے شخص کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جو قرآن مجید کے سوا کسی اور الہامی کتاب کو مانتا ہو اور ایسے شخص کی طرف سے بھی جو خدا کو تو مانتا ہو۔ مگر کسی کتاب کو الہامی نہ مانتا ہو۔ اسی طرح ایسے شخص کی طرف سے بھی وارد ہوسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ کسی الہامی کتاب کو۔ یعنی دہریہ۔ یہ ہے اعتراض کی وسعت۔

اب مرزا قادیانی کا جواب سنئے! آپ نے جواب دیتے ہوئے معترض کو ایک خاص قسم میںمحدود کردیا ہے۔ اس لئے جواب ناقص ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں:

’’ایسے معترض سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تمہاری کتابوں میں کوئی ایسی باریک صداقتیں بھی ہیں یا نہیں جن کو بجز اعلیٰ درجہ کے عالم اور اجل فاضل کے ہر ایک شخص کا کام نہیں کہ دریافت کرسکے۔ بلکہ انہیں لوگوں کے ذہن ان کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ جنہوں نے زمانہ دراز تک ان کتابوں کے مطالعہ میں خون جگر کھایا ہے اور مکاتب علمیہ میں کامل استادوں سے پڑھا سیکھا ہے۔ پس اگر اس سوال کا یہ جواب دیں کہ ایسی اعلیٰ درجہ کیدقیق صداقتیں ہماری کتابوں میں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں تمام موٹی اور سرسری اور بے مغز باتیں بھری ہوئی ہیں۔ جن کو عوام الناس بھی ادنیٰ التفات سے معلوم کرسکتے ہیں اور جن پر ایک کم فہم لڑکا بھی سرسری نظر مار کر ان کی تہ تک پہنچ سکتا ہے اور جن کا جاننا کچھ فضیلت علمیہ میں داخل نہیں۔ بلکہ غائت کار مثل ان کتابوں کے ہیں۔ ان میں قصے کہانیاں لکھی جاتی ہیں یا جو محض اطفال اور عوام کے مطالعہ کے لئے بنائے جاتے ہیں تو افسوس ایسی گئی گزری کتابوں پر … لیکن اگر کسی قوم کی یہ رائے ہو کہ ان کی الہامی کتابوں میں باریک صداقتیں بھی ہیں جن پر احاطہ کرنا بجز ان اعلیٰ درجہ کے اہل علم لوگوں کے جن کی عمریں انہیں میں تدبر وتفکر کرتے کرتے فرسودہ ہوگئی ہیں اور جن میں ایسی صداقتیں بھی ہیں جن کی تہہ اور مغز تک وہی لوگ پہنچتے ہیں

363

جو نہایت درجہ کے زیرک اور عمیق الفکر اور راسخ فی العلم ہیں تو اس جواب سے خود ہمارا مطلب ثابت ہے۔ کیونکہ اگر ایک امی اور ناخواندہ آدمی ان حقائق دقیقہ کو ان کی کتابوں میں سے بیان کرے جن کو باقرار ان کے عوام اہل علم بھی بیان نہیں کرسکتے۔ صرف خواص کا کام ہے تو بلا شبہ بیان اس امی کا ثبوت اس بات کے کہ وہ امی ہے۔ امور غیبیہ میں داخل ہوگا اور یہی تمثیل سیوم کا مطلب ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۴۳ تا ۱۴۵ خزائن ج۱ ص۱۴۷ تا ۱۴۹)

منقد: ناظرین خود ملاحظہ فرمائیں! ہمارے اس دعویٰ میں کہ مرزا قادیانی نے معترض کے وسیع اعتراض کو تنگ کرکے جواب دیا ہے۔ کچھ شک ہے؟ سردست ہم اس پر بحث نہیں کرتے کہ یہ جواب صحیح ہے یا غلط؟ مگر اس میں شک نہیں کہ جواب کو محدود کردیا ہے اور ان اشخاص سے مخصوص کردیا ہے جو کسی کتاب کو الہامی مانتے ہوں۔ یہ امر قابل مصنف کی شان سے بعید ہے۔

مرزا قادیانی کے مریدو!

ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ ہماری تنقید کو مرزا قادیانی کی عقیدت مندی سے الگ ہو کر دیکھنا۔ اگر اسی عقیدت مندی میں مبتلا ہو کر دیکھو تو نتیجہ کچھ نہ تھا اور تمہارا طرز عمل اس شعر کا مصداق ہوگا:

  1. مجھے تو ہے منظور مجنوں کو لیلیٰ

    نظر اپنی اپنی پسند اپنی اپنی

۹ … مرزا قادیانی کا حسن کلام

جملہ معترضہ: یہاں پہنچ کر ہماری نظر مرزا قادیانی کی اس عبارت پر پڑی جو مرزا قادیانی کے حسن کلام کا نمونہ ہے۔ آپ کلام الٰہی کی فصاحت وبلاغت وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کے منکروں کو ایسی شیریں کلامی سے مخاطب کرتے ہیں جو اپنے اندر خاص کیفیت رکھتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ براہین احمدیہ اس زمانہ کی تصنیف ہے۔ جب کہ عوام اہل اسلام کی طرف سے مرزا قادیانی کی مخالفت نہیں ہوئی تھی۔ علماء اسلام کے خلاف آپ نے ابھی کوئی لفظ نہیں لکھا تھا اور غیرمسلموں کے برخلاف بھی اس وقت تک کوئی قابل ذکر تصنیف شائع نہ ہوئی تھی۔ اس کے باوجود آپ کی طبیعت کی تیزی ملاحظہ ہو کہ غیر مسلموں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: ’’غافلو اور عقل کے اندھو! کیا تمہارے نزدیک خدا کے کلام کی

364

فصاحت بلاغت مکھی کے پروں اور پائوں سے بھی درجہ میں کم تر اور خوبی میں فروتر ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۷۵ خزائن ج۱ ص۱۸۹، ۱۹۰)

اس کے بعد جب آپ نے علماء سے مخاطب شروع کی تو آپ کی طبیعت میں سختی اور کلام میں تیزی بہت بڑھ گئی۔ جس کا نمونہ یہ فقرہ ہے:

’’او بد ذات فرقہ مولویاں! تم کب تک حق کو چھپائو گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو پلایا۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص۲۱ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۱)

اس پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا:

  1. لگے ہو منہ چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

    زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

۱۰ … خاتمہ کتاب براہین احمدیہ

ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مطبوعہ براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ براہین احمدیہ جس میں تین سو دلائل حقیت قرآن اور صداقت نبوت محمدیہ پر دئیے گئے ہیں، ہم مکمل طور پر تصنیف کرچکے ہیں۔ (ص۹۳، ۹۹، ۱۳۶ خزائن ج۱ ص۶۲، ۶۷، ۱۲۹) وغیرہ ملاحظہ ہوں۔

اب حقیقت واقعہ سنئے! آپ کتاب ہذا کے (ص۵۱۲ خزائن ج۱ ص۶۱۱) پر لکھتے ہیں:

باب اوّل: ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔ اس کے بعد چند آیات مع ترجمہ لکھ کر (ص۵۶۲ خزائن ج۱ ص۶۷۲) پر کتاب کا خاتمہ ایسے ناپسندیدہ طریق پر کیا ہے جس پر کوئی قابل مصنف تو کیا معمولی مصنف بھی نہیں کرسکتا۔ مثلاً آپ لکھتے ہیں کہ ’’جیسے سوئی بغیر دھاگہ کے نکمی اور ناکارہ ہے اور کوئی کام سینے کا اس سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح عقل فلسفہ بغیر تائید خدا کی کلام کے متزلزل اور غیر مستحکم اور بے ثبات اور بے بنیاد ہے:

  1. پائے استدلالیاں چو بیں بود

    پائے چوبیں سخت بے تکمین بود

منقد: ناظرین غور کریں کہ آپ نے اپنی تصنیف کی کشتی کس طرح منجدھار میں چھوڑی ہے۔ جس پر یہ کہنا بجا ہے:

  1. درمیان قعر دریا تختہ بندم کردۂ

    بازمے گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش

365

حسب دستور یہ بھی نہیں لکھا کہ باقی مضمون آئندہ جلدوں میں شائع ہوگا۔ یہاں تک کہ اخیر میں ’’باقی دارد‘‘ بھی نہیں لکھا۔ اس کے تئیس سال کے بعد براہین کی پانچویں جلد شائع کی۔ اس کو صرف اپنی مسیحائی کے ذکر سے پرکردیا۔ چوتھی جلد کی انتہا کا کوئی ربط پانچویں جلد کی ابتدا کے ساتھ نہیں دکھایا ۔ اس کی تفصیل ہمارے رسالہ ’’علم کلام مرزا‘‘ میں مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک بے نظیر کتاب (براہین احمدیہ) شائع کرکے اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے جس پر بے ساختہ ہمارے منہ سے نکلتا ہے:

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں

    بندہ نواز آپ کسی کے خدا تو نہیں

ناظرین! ہم نے بطور اختصار چند نمونے پیش کئے ہیں۔ ورنہ قد بقی خبایا فی الزوایا (ابھی بہت سی باریک باتیں مخفی رہ گئیں۔)

  1. کبھی فرصت میں سن لینا

    بڑی ہے داستاں میری

خلیفہ قادیان اور امیر جماعت لاہور سے درخواست

آپ دونوں صاحب گو چند مسائل میں باہم مختلف ہیں۔ اسی لئے آئے دن ایک دوسرے کو مباحثہ کا چیلنج دیتے رہتے ہیں۔ مگر اس امر پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات خواص اور عوام کو مفید ہیں۔ اسی لئے قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتیں مرزا قادیانی کی کتب کو مکرر سہ کرر چھپوا کر شائع کررہی ہیں۔ آپ لوگوں کے اس فعل پر ہماری درخواست متفرع ہے کہ وہ براہین احمدیہ جس کا مسودہ مرزا قادیانی تیار کرچکے تھے اور جس کا ذکر مرزا قادیانی نے اس کتاب کے (ص۹۳ خزائن ج۱ ص۸۳) وغیرہ پر کیا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں جس کی عدم اشاعت کا اعتراف اور آئندہ اشاعت کا مژدہ مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات اسلام کے (ص۳۰۶) پر دیا ہوا ہے، سب کام چھوڑ کر سب سے پہلے اس کتاب کے مسودہ کو شائع کردیں تاکہ اسلام کی خدمت مکمل ہوجائے۔ جس کے لئے مرزا قادیانی مبعوث ہوئے تھے اور آپ نے اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اعلان کیا تھا کہ:

’’اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہوجائے گا۔‘‘

(اشتہار عرض ضروری ملحقہ براہین احمدیہ ص و، خزائن ج۱ ص۶۹)

366

اگر آپ لوگوں نے یہ اسلامی خدمت انجام دی اور ہمارا یقین ہے کہ نہیں دیں گے تو ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان متعلقہ تکمیل مسودہ کتاب حقیقت نہیں بلکہ شاعرانہ تخیل تھا۔ جس کی مثال عرب کے مشہور شاعر متنبی کے کلام میں ملتی ہے جو کہتا ہے کہ:

  1. انا صخرۃ الوادی اذا مازوحمت

    واذا نطقت فاننی الجوزا

تنقید آئینہ کمالات اسلام

اس کتاب کا نام اپنا مضمون بتانے کو کافی ہے کہ یہ کتاب اس غرض سے لکھی گئی ہے کہ اس میں اسلام کے کمالات بتائے جائیں۔ اس لئے ہم نے اس کو بڑے غور وفکر سے پڑھا۔ مگر افسوس ہے کہ ہمیں اس میں متکلمانہ طریق استدلال کی حیثیت سے کوئی کمال نظر نہیں آیا۔ ہاں اسلامی کمالات پیش کرنے کی بجائے آپ نے اپنے کمالات کا اظہار کیا ہے۔ بالفاظ دیگر اپنی مسیحیت موعودہ کا ڈھنڈورہ پیٹا ہے اور اسی کو اسلامی کمالات کا نمونہ قرار دیا ہے جو بالاختصار درج ذیل ہے:

۱ … صداقت اسلام پر دلیل

’’وہ خدا جس کے وجود پر ایمان ہے اس کی ہستی اور قدرت کے کچھ آثار بھی ظاہر ہوں۔ پہلے زمانہ کے نشان دوسرے زمانہ کے لئے کافی نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ خبرمعائنہ کی مانند نہیں ہوسکتی اور امتداد زمانہ سے خبریں ایک قصہ کے رنگ میں ہوجاتی ہیں۔ ہر ایک نئی صدی جو آتی ہے تو گویا ایک نئی دنیا شروع ہوتی ہے۔ اس لئے اسلام کا خدا جو سچا خدا ہے۔ ہر ایک نئی دنیا کے لئے نئے نشان دکھلاتا ہے اور ہر ایک صدی کے سر پر اور خاص کر ایسی صدی کے سر پر جو ایمان اور دیانت سے دور پڑ گئی ہے اور بہت سی تاریکیاں اپنے اندر رکھتی ہے ایک قائم مقام نبی کا پیدا کردیتا ہے۔ جس کے آئینہ فطرت میں نبی کی شکل ظاہر ہوتی ہے اور وہ قائم مقام نبی متبوع کے کمالات کو اپنے وجود کے توسط سے لوگوں کو دکھلاتا ہے اور تمام مخالفوں کو سچائی اور حقیقت نمائی اور پردہ دری کے رو سے ملزم کرتا ہے۔ سچائی کی رو سے اس طرح کہ وہ سچے نبی پر ایمان نہ لائے ہوں۔ وہ دکھلاتا ہے کہ وہ نبی سچا تھا اور اس کی سچائی پر آسمانی نشان یہ ہیں اور حقیقت نمائی کی رو سے اس طرح کہ اس نبی متبوع کے تمام مغلقات دین کا حل

367

کرکے دکھلا دیتا ہے اور تمام شبہات اور اعتراضات کا استیصال کر دیتا ہے اور پردہ دری کے رو سے اس طرح کہ وہ مخالفوں کے تمام پردے پھاڑ دیتا ہے اور دنیا کو دکھلا دیتا ہے کہ وہ کیسے بے وقوف اور معارف دین کو نہ سمجھنے والے اور غفلت اور جہالت اور تاریکی میں گرنے والے اور جناب الٰہی سے دور ومہجور ہیں۔ اس کمال کا آدمی ہمیشہ مکالمہ الٰہیہ کا خلعت پا کر آتا ہے اور ذکی اور مبارک اور مستجاب الدعوات ہوتا ہے اور نہایت صفائی سے ان باتوں کو ثابت کر کے دکھلا دیتا ہے کہ خدا ہے اور وہ قادر اور بصیر اور سمیع اور علیم اور مدبر بالارادہ ہے اور درحقیقت دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اہل اللہ سے خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ پس صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ آپ ہی معرفت الٰہیہ سے مالا مال ہے بلکہ اس کے زمانہ میں دنیا کاایمان عام طور پر دوسرا رنگ پکڑ لیتا ہے اور وہ تمام خوارق جن سے دنیا کے لوگ منکر تھے اور ان پر ہنستے تھے اور ان کو خلاف فلسفہ اور نیچر سمجھتے تھے یا اگر بہت نرمی کرتے تھے تو بطور ایک قصہ اور کہانی کے ان کو مانتے تھے۔ اب اس کے آنے سے اور اس کے عجائبات ظاہر ہونے سے نہ صرف قبول ہی کرتے ہیں بلکہ اپنی پہلی حالت پر روتے اور تأسف کرتے ہیں کہ وہ کیسی نادانی تھی جس کو ہم عقل مندی سمجھتے تھے اور وہ کیسی بے وقوفی تھی جس کو ہم علم اور حکمت اور قانون قدرت خیال کرتے تھے۔ غرض وہ خلق اللہ پر ایک شعلہ کی طرح گرتا ہے اور سب کو کم وبیش حسب استعدادات مختلفہ اپنے رنگ میں لے آتا ہے۔ اگرچہ وہ اوائل میں آزمایا جاتا اور تکالیف میں ڈالا جاتا ہے اور لوگ طرح طرح کے دکھ اس کو دیتے، طرح طرح کی باتیں اس کے حق میں کہتے ہیں اور انواع اقسام کے طریقوں سے اس ستاتے اور اس کی ذلت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن چونکہ وہ برہان حق اپنے ساتھ رکھتا ہے اس لئے آخر ان سب پر غالب آتا ہے اور اس کی سچائی کی کرنیں بڑے زور سے دنیا میں پھیلتی ہیں اور جب خداتعالیٰ دیکھتا ہے کہ زمین اس کی صداقت پر گواہی نہیں دیتی۔ تب آسمان والوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ گواہیں دی۔ سو اس کے لئے ایک روشن گواہی خوارق کے رنگ میں دعائوں کے قبول ہونے کے رنگ میں حقائق ومعارف کے رنگ میں آسمان سے اترتی ہے اور وہ گواہی بہروں اور گونگون اور اندھوں تک پہنچتی ہے اور بہتیرے ہیں جو اس وقت حق اور سچائی کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔ مگر مبارک وہ جو پہلے سے قبول کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کو بوجہ نیک ظن اور قوت ایمان کے

368

صدیقوں کی شان کا ایک حصہ ملتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔ اب اتمام حجت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اسی کے موافق جو ابھی میں نے ذکر کیا ہے۔ خداتعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راست بازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کرکے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۴۶ تا ۲۵۱ خزائن ج۵ ص ایضاً)

منقد: ناظرین کرام! اس سارے اقتباس کا مفہوم استدلال کی شکل میں اتنا ہے کہ اسلام اس لئے سچا مذہب ہے کہ اس میں باکمال انسان پیدا ہوتے آئے ہیں۔ اس زمانہ میں ان کی مثال میں ہوں۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت کی تنقید ہم اپنے متعدد رسائل الہامات مرزاوغیرہ میں کرچکے ہیں۔ یہاں ضرورت نہ تھی مگر چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مسیحیت کو اسلام کی صداقت پر بشکل استدلال پیش کیا ہے۔ اس لئے اس پر بحث کرنا اس کتاب کے موضوع میں آسکتا ہے۔ مذکورہ بالا دعویٰ کا معیار بھی آپ نے اسی کتاب میں بتایا ہوا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ’’ بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان (معیار) نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸ خزائن ج۵ ص۲۸۸)

منقد: ہم ایک پیش گوئی بطور مثال اسی کتاب سے پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی تھی کہ محمدی بیگم بنت احمد بیگ ہوشیار پوری میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ اس کو آپ نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ چنانچہ آپ کسی سائل کے جواب میں لکھتے ہیں کہ:

’’(یہ پیش گوئی) میرے صدق اور کذب کی شناخت کے لئے ایک کافی شہادت ہے۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ خداتعالیٰ کذاب اور مفتری کی مدد کرے۔ لیکن ساتھ اس کے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس پیش گوئی کے متعلق دو پیش گوئی اور ہیں جن کو میں اشتہار ۱۰؍جولائی

369

۱۸۸۸ء میں شائع کر چکا ہوں۔ جن کا مضمون یہی ہے کہ خداتعالیٰ اس عورت کو بیوہ کرکے میری طرف رد کرے گا۔ اب انصاف سے دیکھیں کہ نہ کوئی انسان اپنی حیات پر اعتماد کرسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی نسبت دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا یا فلاں وقت تک مرجائے گا۔ مگر میری اس پیش گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعویٰ ہیں۔

اوّل: نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔

دوم: نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔

سوم: پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔

چہارم: اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔

پنجم: اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔

ششم: پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۲۴، ۳۲۵ خزائن ج۵ ص ایضاً)

منقد: گو یہ عبارت مرزا قادیانی کا مافی الضمیر بتانے کے لئے کافی ہے۔ تاہم مزید توضیح کے لئے ہم ایک اور کتاب کی عبارت بھی پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں بھی اس پیش گوئی کا ذکرکرکے مدینہ منورہ زادہا اللہ شرفاً کے دربار میں گویا اس کی رجسٹری کرادی ہے۔ چنانچہ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں:

’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ’’یتزوج ویولدلہ‘‘یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۳۳۷)

منقد: اس موقع پر ہم بصد مسرت اظہار کرتے ہیں کہ مسمات محترمہ اور اس کا خاوند

370

ماہ اپریل ۱۹۴۴ء تک بحکم خدا دونوں زندہ ہیں۔ نہ مسمات مذکورہ کا خاوند فوت ہوا اور نہ خود بیوہ ہوکر مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی۔ بلکہ مرزا قادیانی خود ہی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو عدم آباد تشریف لے گئے۔ جس پر آج ۳۵ سال گزر گئے ہیں۔ اس موقع پر یہ کہنا ہمارا حق ہے کہ مرزاقادیانی نے جس دلیل کو اپنی صداقت پر پیش کیا ہے اسی کو ہم بطور معارضہ ان کی تکذیب پر پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ عدم تزوج بزبان رسالت مرزا قادیانی کی پوری تکذیب ہے سچ ہے:

  1. حباب بحر کر دیکھو یہ کیسا سر اٹھاتا ہے

    تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے

پس! باصطلاح علم کلام مرزا قادیانی کے استدلال میں تقریب تام نہ پائی گئی جو ناقابل مصنف ہونے کا ثبوت ہے۔

۲ … نشان طلب کرنا فاسقوں کا کام ہے

مرزا قادیانی نے باریک نظر سے ایک خاص نکتہ پیدا کیا ہے جسے انہوں نے اپنے خیال میں اسلام کی بڑی خدمت سمجھا ہے۔ آپ نے اس بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ’’کسی نبی سے نشان مانگنا بدکار لوگوں کا کام ہے اور نشان دیکھنے کے بعد ایمان مقبول نہیں ہے۔‘‘ اس بارے میں آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’ایمان اسی بات کا نام ہے جو بات پردہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرجحہ کے لحاظ سے قبول کیا جائے۔ یعنی اس قدر دیکھ لیا جائے کہ مثلاً صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں اور قرائن موجودہ ایک شخص کے صادق ہونے پر بہ نسبت اس کے کاذب ہونے کے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ تو ایمان کی حد ہے۔ لیکن اگر اس حد سے بڑھ کر کوئی شخص نشان طلب کرتا ہے تو وہ عند اللہ فاسق ہے اور اسی کے بارے میں اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ نشان دیکھنے کے بعد اس کو ایمان نفع نہیں دے گا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۳۴ خزائن ج۵ ص ایضاً)

منقد: اس بیان میں آپ کی کچھ ذاتی غرض بھی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی نبوت ورسالت کے مدعی تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی سے بھی نشان مانگتے تھے۔ جس کا پورا کرنا ان کے لئے مشکل تھا۔ اس لئے آپ نے اس تدبیر سے ان کو روک دیا۔ یہ مضمون آپ نے خود انجیل متی سے اخذ کیا ہے۔ جس میں یہ فقرہ مسیح کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ ’’آج کل کے حرام کار نشان مانگتے ہیں۔‘‘

(انجیل متی باب ۳۹ فقرہ ۱۲)

371

حالانکہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ مسیح کے حواریوں نے مائدہ کا نشان مانگا تھا اور ساحران فرعون، موسوی معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے جو خدا کے ہاں مقبول ہوا۔ ناظرین! یہ ہے مرزا قادیانی کا علم کلام جو نہ منقول سے ماخوذ ہے۔ نہ معقول کے مطابق ہے:

  1. نہ عارض نہ زلف دوتا دیکھتے ہیں

    خدا جانے وہ ان میں کیا دیکھتے ہیں

۳ … دعویٰ مجددیت پر دلیل

آپ نے اس کتاب میں صرف اپنی مجددیت پر دلائل دیئے ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل یہ وہی ہے کہ میں حدیث شریف کی رو سے چودھویں صدی کے سر پر مبعوث ہوا ہوں۔ اس لئے میں مجدد ہوں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’اوّل وہ پیش گوئی رسول اللہ ﷺ کی جو تواتر معنوی تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی کے سرپر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو دین کو پھر تازہ کردے گا اور اس کی کمزوریوں کو دور کرکے پھر اپنی اصلی طاقت اور قوت پر اس کو لے آوے گا۔ اس پیش گوئی کی رو سے ضرور تھا کہ کوئی شخص اس چودھویں صدی پر بھی خداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا اور موجودہ خرابیوں کی اصلاح کے لئے پیش قدمی دکھلاتا۔ سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا۔ اس سے پہلے صدہا اولیاء نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودہویں صدی کا مجدد مسیح موعود ہوگا اور احادیث صحیح نبویہ پکار پکار کہتی ہیں کہ تیرہویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔ پس کیا اس عاجز کا یہ دعویٰ اس وقت عین اپنے محل اور اپنے وقت پر نہیں ہے۔‘‘

ناظرین! یہ دلیل غلط ہے، کیونکہ آپ کی کتاب براہین احمدیہ ۱۲۹۷ھ میں طبع ہوئی تھی۔ اثنا تصنیف میں آپ نے اس کتاب کو جو اشتہار دیا تھا۔ ااس میں لکھا ہے کہ: ’’مصنف کو اس بات کو علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج اول ص۱۵ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۴)

منقد: اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی چودہویں صدی کے مجدد نہیں ہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ مجدد ہی نہیں ہیں۔ کیونکہ مجدد صادق ہر صدی کے شروع

372

میں آتا ہے اور جو شخص صدی کے اخیر میں مجددیت کا دعویٰ کرے اس کی تردید کے لئے خود اس کا دعویٰ ہی کافی ہے۔ اپنے دعویٰ مجددیت کے ثبوت میں لکھتے ہیں کہ:

’’اس زمانہ کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنا اور ان کے فلسفہ کو جو مخالف قرآن ہے دلائل قویہ کے ساتھ توڑنا اور ان پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے۔ کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں اسلام کے لئے جو بغیر تائید الٰہی دور نہیں ہوسکتی۔ عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں۔ جن کے دور کرنے کے لئے ضرور تھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی آوے اور جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا۔ حضرت مسیح کی روح ان افترائوں کی وجہ سے جو ان پر اس زمانہ میں کئے گئے۔ اپنے مثالی نزول کے لئے شدت جوش میں تھی… سو خداتعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ وعدہ پورا ہو جو پہلے سے کیا گیا تھا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۱ خزائن ج۵ ص ۳۴۱)

اس دعویٰ کی تائید میں آپ کی ایک ڈائری بھی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ مسیحی مذہب کو ملیا میٹ کردینا میرا فرض ہے۔ چنانچہ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں:

’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلائوں اور آنحضرتﷺ کی جلالت اور عظمت وشان دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(اخبار البدر قادیان ۱۹؍ جولائی ۱۹۰۶ء، مکتوبات احمد جدید ج۱، ص۴۹۸، مکتوب نمبر۲۹)

منقد: واقعات سے بڑھ کر کوئی شہادت نہیں ہوسکتی۔ واقعہ یہ ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں مرزا قادیانی نے عیسائیوں کا شمار پانچ لاکھ لکھا ہے۔

(اشتہار عرض ضروری ملحقہ براہین احمدیہ حصہ دوم ص ’’و‘‘، خزائن ج۱ ص۶۹)

آج یہ شمار کہاں تک پہنچا ہے؟ اس بارے میں عیسائی رسالہ ’’المائدہ‘‘ ملاحظہ ہو۔ جس میں لکھا ہے کہ: ’’جدید مردم شماری ۱۹۴۱ء کی رو سے ہماری تعداد ایک کروڑ ہے۔‘‘

(المائدہ لاہور بابت اگست ۱۹۴۲ء ص۲)

پس! نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ اور دلیل میں تقریب تام نہیں ہے۔

373

جو ایک لائق متکلم کی شان سے بعید ہے۔ اگر اتباع مرزا قادیانی میں کوئی صاحب یوں کہیں کہ ہمارے حضرت صاحب نے عیسائی مذہب کا ستون یوں توڑا ہے کہ مسیح کو مردہ ثابت کردیا ہے کہ توہم کہیں گے کہ مسیح کی بابت تو انجیل میں ہی لکھا ہے کہ اس نے چلا کر جان دی (انجیل متی اخیر) پس مرزا قادیانی نے اگر قرآنی دلائل سے مسیح کی وفات ثابت کی ہے تو آپ سے پہلے سرسید احمد علی گڑھی بھی کرچکے ہیں۔ اس لئے بحکم الفضل للمتقدم یہ فضیلت سرسید کو حاصل ہے اور بقول مرزا قادیانی مجدد ہونے کے بھی وہی حقدار ہیں مگر وہ بھی چونکہ شروع صدی میں نہیں آئے۔ اس لئے ان کے اتباع بھی اگر دعویٰ کریں تو غلط ہے۔

۴… مسلمان کسی غیر مسلم سے میرا مقابلہ کرائیں

مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت پر یہ دلیل بھی پیش کی ہے:

’’یہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اور میری نسبت شک رکھتے ہیں۔ کیوں اس زمانہ کے کسی پادری سے میرا مقابلہ نہیں کراتے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

اس بیان کو مرزا نے بطور دلیل پیش کیا ہے اس لئے اس پر نظر کرنا ہمارا حق ہے۔

غیرت خداوندی: مرزا قادیانی کی کتاب آئینہ کمالات اسلام فروری ۱۸۹۳ء میں چھپی ہے۔ جس میں مرزا قادیانی نے بڑی تعلّی سے اپنے آپ کو مناظرانہ رنگ میں پیش کرکے مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ میرا مباحثہ کسی پادری سے کیوں نہیں کراتے۔ خدا کی غیرت دیکھئے کہ جوں ہی یہ کتاب شائع ہوئی۔ ایک معمولی شخص (محمد بخش پاندہ) کے ذریعہ سے عیسائیوں کے ساتھ مباحثہ کی تحریک اٹھی۔ شدہ شدہ اسی سال مئی ۱۸۹۳ء میں بمقام امرتسر عیسائی سے مرزا قادیانی کا مباحثہ ٹھن گیا۔ جو پندرہ روز تک جاری رہا۔ جس کے آخر میں اپنا کمال ظاہر کرنے کو آپ یوں گویا ہوئے کہ:

’’میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خداتعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میںنہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ

374

ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۲، ۲۹۳)

منقد: اس بیان کی تنقید کرنے کی ضرورت نہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ آپ کا مدمقابل مسیحی مناظر ڈپٹی آتھم عیسائی جس کی بابت آپ نے ۵؍جون ۱۸۹۳ء کو پیش گوئی کی تھی کہ وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ جس کی انتہائی تاریخ ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء تھی۔ وہ پندرہ ماہ کی مقررہ مدت گزار کر بلکہ ۲۳ماہ ۲۲دن مزید زندہ رہ کر ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو فوت ہوا۔

(کتاب انجام آتھم ص۱، خزائن ج۱۱ ص ۱)

ناظرین! یہ ہے مرزا قادیانی کا متکلمانہ استدلال اور روحانی طاقت کا نمونہ باقی کو بھی اسی پر قیاس کر لیجئے۔ ’’قیاس کن زگلستان من بہار مرا‘‘

نوٹ:اس مضمون کو ہم مرزا قادیانی کے ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں کہ ’’مدعی کاذب کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۲۶، خزائن ۵ ص ایضاً)

سچ ہے:

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

تنقید بر چشمہ معرفت

اس کتاب پر ہم نے خاص طور پر نظر ڈالی۔ کیوں یہ آریوں کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ متکلمانہ طرز پر استدلال کا ثبوت اس میں بہت کم ملتا ہے۔ جو کچھ ملتا ہے نفی کے قریب ہے۔ ساری کتاب میں دعویٰ پر دعویٰ اور بیان پر بیان پایا جاتا ہے۔ استدلال کی شکل نہیں ہے۔ ایسی کتاب مریدوں کے حق میں تو مفید ہوسکتی ہے مگر مخالف اس کو بجوئے نیرزد (بے فائدہ چیز) کا مصداق سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے۔ اس کتاب کے شروع میں آپ نے ایک اشتہار لکھا ہے۔ جس میں دعویٰ کیا ہے کہ میں نے دلائل قرآن حدیث اور مباہلوں سے اپنی مسیحیت ثابت کردی۔ اس مقام پر آپ نے چند اشخاص کا نام بھی لیا ہے جن کے ساتھ مرزا قادیانی نے بزعم خویش مباہلہ کیا تھا اور وہ آپ کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں:

375

’’پہلے میں نے صاف صاف ادلّہ کتاب اللہ اور حدیث سے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا مگر قوم نے دانستہ ان دلائل سے منہ پھیر لیا اور پھر میرے خدا نے بہت سے آسمانی نشان میری تائید میں دکھلائے مگر قوم نے ان سے بھی کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور پھر ان میں سے کئی لوگ مباہلہ کے لئے اٹھے اور بعض نے علاوہ مباہلہ کے الہام کا دعویٰ کرکے یہ پیش گوئی کی کہ فلاں سال یا کچھ مدت تک ان کی زندگی میں ہی یہ عاجز ہلاک ہوجائے گا۔ مگر آخر کار وہ میری زندگی میں خود ہلاک ہوگئے…۔

کہاں ہے مولوی غلام دستگیر جس نے اپنی کتاب فیض رحمانی میں میری ہلاکت کے لئے بد دعا کی تھی اور مجھے مقابل پر رکھ کر جھوٹے کی موت چاہی تھی؟ کہاں ہے مولوی چراغ دین جموں والا جس نے الہام کے دعویٰ سے میری موت کی خبر دی تھی اور مجھ سے مباہلہ کیا تھا۔ کہاں ہے فقیر مرزاجو اپنے مریدوں کی ایک بڑی جماعت رکھتا تھا۔ جس نے بڑے زور شور سے میری موت کی خبر دی تھی کہ یہ شخص مفتری ہے۔ آئندہ رمضان تک میری زندگی میں ہلاک ہوجائے گا۔ لیکن جب رمضان آیا تو پھر آپ ہی طاعون سے ہلاک ہوگیا۔ کہاں ہے سعد اللہ لدھیانوی جس نے مجھ سے مباہلہ کیا تھا اور میری موت کی خبر دی تھی۔ آخر میری زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہوگیا۔ کہاں ہے مولوی محی الدین لکھوکے والا جس نے مجھے فرعون قرار دے کر اپنی زندگی میں ہی میری موت کی خبر دی تھی اور میری تباہی کی نسبت کئی اور الہام شائع کئے تھے۔ آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی دنیا سے گزر گیا۔ کہاں ہے بابو الٰہی بخش صاحب مؤلف عصائے موسیٰ اکونٹنٹ لاہور، جس نے اپنے تئیں موسیٰ قرار دے کر مجھے فرعون قرار دیا تھا اور میری نسبت اپنی زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہونے کی پیش گوئی کی تھی اور میری تباہی کی نسبت اور بھی بہت سی پیش گوئیاں کی تھیں۔ آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی اپنی کتاب عصائے موسیٰ پر جھوٹ اور افتراء کا داغ لگا کر طاعون کی موت سے بصد حسرت مرا۔‘‘

(اشتہار چشمہ معرفت خزائن ج۲۳ ص۲،۳)

منقد: ان اصحاب میں سے کسی کے ساتھ آپ کا حقیقی مباہلہ نہیں ہوا۔ کیونکہ حقیقی مباہلہ کی تعریف جو ہمارے اور مرزا قادیانی کے درمیان مسلم ہے۔ وہ یہ ہے کہ ’’فریقین بالمقابل دعا کریں۔‘‘

(اربعین نمبر۲، ص۲۸، خزائن ج۱۷ ص۳۷۶، ۳۷۷)

376

مذکورہ اصحاب میں سے کسی کے ساتھ ان معنی کی رو سے مرزا قادیانی کا مباہلہ نہیں ہوا۔ ہاں! جس بزرگ سے ہوا۔ آپ نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ وہ ہیں صوفی عبدالحق غزنوی مرحوم جن سے مباہلہ کرنے کو آپ استخارہ کرکے امرتسر آئے اور عیدگاہ بیرون دروازہ رام باغ میں مئی ۱۸۹۳ء میں آپ نے بالمقابل مباہلہ کیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ آپ پہلے مرگئے تھے اور صوفی صاحب بہت عرصہ بعد فوت ہوئے۔ (جس کے بہت سے گواہ موجود ہیں) اس لئے آپ کی یہ دلیل ناقص بلکہ انقص ہے۔ باقی رہا قرآن اور حدیث سے ثبوت اس کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ قرآن مجید سے تو کیا ہی ثبوت ہوگا وہ تو سارا ہی آپ کی تکذیب سے پر ہے۔ ایک حدیث بھی سن لیجئے۔ مسیح موعود کے حق میں آنحضرتﷺ نے قسمیہ فرمایا ہے کہ وہ مقام: ’’فج الروحا‘‘ سے حج اور عمرے کا احرام باندھیں گے۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’عن ابی ہریرۃ قال والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحا حاجّاً او معتمراً (صحیح مسلم ج اول ص۴۰۸ باب جواز التمتع فی الحج والقران)‘‘اس حدیث کے ماتحت آپ نے نہ حج کیا، نہ عمرہ کیا اور نہ احرام باندھا۔ ساری عمر یہی کہتے رہے کہ میرے لئے راستے کا امن نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے مسیح موعود ہوتے تو آپ کے لئے امن ہوجاتا۔ تاکہ آنحضرتﷺ کی قسمیہ پیش گوئی سچی ثابت ہوتی۔ پس! بقول آپ کے جب کہ آپ کے حق میں امن نہیں تھا تو معلوم ہوا کہ اس حدیث کی روشنی میں آپ سچے مسیح موعود نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ کا یہ بیان آپ کے دعویٰ کے مبطل ہے۔

۲… تردید تناسخ

آریوں کے عقیدہ تناسخ کی تردید جو کہ ابطال وید کرتے ہوئے آپ نے یہ بڑی دلیل پیش کی ہے کہ کسی آریہ کی موجودہ بیوی پچھلے جون (جنم) میں شاید اس کی ماںبہن ہو۔ چنانچہ آپ کے شستہ الفاظ یہ ہیں:

’’تناسخ کے عقیدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرمیشر پاکیزگی کی راہوں پر چلانا نہیں چاہتا۔ کیونکہ تناسخی جنم کے ساتھ کوئی فہرست پرمیشر نہیں بھیجتا جس سے معلوم ہو کہ دوبارہ آنے والی روح فلاں شخص کی ماں ہے اور فلاں شخص کی دادی اور فلاں شخص کی بہن اور اس طرح پر محض پرمیشر کی لاپروائی کی وجہ سے لوگ دھوکہ کھا کر حرام کاری میں پڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ جس

377

مرد کی کسی عورت سے شادی ہوئی اور شادی سے ایک مدت دراز پہلے اس کی ماں اور دادی اور ہمشیرہ مرچکی ہیں تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جس عورت سے شادی کی گئی ہے۔ شاید وہ اس کی ماں ہی ہو یا دادی ہو یا ہمشیرہ ہو اور معلوم ہوتا ہے کی ایسی حرام کاری پھیلنے کی پرمیشر کو کچھ پروا نہیں۔ بلکہ وہ عمداً چاہتا ہے کہ ناپاکی دنیا میں پھیلے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۴ خزائن ج۲۳ ص۴۲)

منقد: مرزا قادیانی نے اس اعتراض میں علم منطق کا خلاف کیا ہے۔ علم منطق کا قانون بتانے سے پہلے یہ بتانا مفید ہوگا کہ ہر قوم میں نکاح کا رشتہ موت یا طلاق تک رہتا ہے۔ بااصطلاح منطق اس کو قضیہ مشروطہ عامہ کہنا چاہئے۔ اس قضیہ میں وصف اٹھ جانے سے حکم بدل جاتا ہے۔ اہل منطق اس قضیہ کی مثال یوں دیا کرتے ہیں:

’’الکتاب متحرک الاصابع مادام کاتباً‘‘ (کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں جب تک وہ کاتب ہے) جب کتابت کا فعل ختم ہوجائے تو حرکت ضروری نہیں ہے۔ اسلامی شریعت میں اس کی واضح مثال ملتی ہے کہ منکوحہ عورت کو اپنے خاوند سے پردہ نہیں ہے۔ لیکن طلاق ہوجانے کے بعد جب نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو پردہ بھی لازم ہوجاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق آریہ کہہ سکتے ہیں کہ والدین اور اولاد وغیرہ کا تعلق موت تک ہے۔ اس کے بعد نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر قضیہ مشروط عامہ ہے جس طرح اسلام میں نکاح کا تعلق موت یا طلاق تک ہے۔ پس! آپ کا سارا استدلال تار عنکبوت سے زیادہ کمزور ہے۔

۳ … وید پر شرک پھیلانے کا الزام

آپ نے بڑے حوصلہ سے وید پر یہ الزام لگایا ہے کہ یہ شرک کی تعلیم دیتا ہے ۔ آپ اس دعویٰ پر کوئی وید منتر لکھ دیتے تو ہم اسے دیکھتے کہ وہ آپ کے دعویٰ کا مثبت ہے یا نہیں۔ لیکن جو دلیل آپ نے پیش کی ہے۔ وہ ایسی خام ہے کہ اس کا نام ’’مضحکۃ الصبیان‘‘(بچوں کا کھلونا) رکھا جائے تو بالکل موزوں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ نے وید نہ سنسکرت میں پڑھے نہ ہندی میں۔ بلکہ شاید اردو میں بھی نہیں دیکھے۔ محض سنی سنائی باتوں سے کام لیتے رہے۔ اس لئے اس بارے میں آپ کے اقوال بھی مختلف ہیں۔ چنانچہ اسی کتاب میں وید کی تعلیم کے متعلق آپ لکھتے ہیں کہ:

۱… ’’اگر وید جل کی پوجا کی ہدایت نہ کرتا تو گنگا مائی کے پوجنے والے کیوں پیدا

378

ہوجاتے۔ ہردوار وغیرہ مقامات کے بڑے بڑے میلوں پر جا کر دیکھنا چاہئے کہ کس صدق اور کس ارادت سے کئی لاکھ ہندو گنگا کی پوجا کرتے ہیں اور گنگا کے لاکھوں برہمنوں کا ان کے چڑہاؤوں پر گزارہ ہے اور گنگا سے انواع اقسام کی مرادیں مانگی جاتی ہیں اور یہ سب لوگ وید کے پیرو کہلاتے ہیں۔ اگر وہ وید کے ماننے والے نہ ہوتے تو ہندو مذہب میں شمار نہ کئے جاتے۔ اب بھی ایک بڑا حصہ ہندوئوں کا گنگا کو پرمیشر کرکے مانتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ قدیم رسم ہے کہ پہلا بچہ اپنا گنگامائی کی نذر کیا جاتا تھا۔ جس کو ’’جل پروا‘‘ کہتے ہیں۔ اس طرح پر نہایت بے رحمی سے گنگا میں ڈال کر اس کو ہلاک کر دیتے تھے۔ مگر گورنمنٹ انگریزی نے اپنے خاص حکم سے اس بد رسم کو دور کردیا اور لاکھوں جانوں کو ہلاکت سے بچایا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۷ خزائن ج۲۳ ص۴۵)

منقد: ناظرین! اس اقتباس کا مطلب صاف ہے کہ مرزا قادیانی ہندوئوں کی گمراہی (گنگا پرستی وغیرہ) کا باعث وید کی تعلیم کو قرار دیتے ہیں۔ اب اس کی تردید سنئے۔ آپ فرماتے ہیں:

۲… ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ درحقیقت یہی ویدوں کی تعلیم ہے۔ بلکہ ہر ایک جگہ جو ہم اس رسالہ میں ایسا کریں گے تو اس سے مراد یہی ہے کہ غلطی سے یہی تعلیم ویدوں کی سمجھی گئی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس پر حاشئے چڑھائے گئے۔ یہاں تک کہ مخلوق پرستی اصل مذہب آریہ ورت کا قرار دیا گیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۷ خزائن ج۲۳ ص۴۵)

منقد: اس میں ویدک کی تعلیم کو شرک سے خالی ٹھہرا کر ویدوں کی بریت ظاہر کی گئی ہے۔ اب تیسرا اقتباس اس کے خلاف ملاحظہ ہو۔

۳… ’’یہ فتنہ جو آریوں میں مخلوق پرستی کا پیدا ہوا، دراصل تمام الزام اس کا وید کی تعلیم پر ہے۔ کیونکہ جب رگو وید اور دوسرے ویدوں میں صریح اور کھلے طور پر آتش پرستی اور آب پرستی اور آفتاب پرستی اور ماہتاب پرستی وغیرہ مخلوق پرستیوں کا ذکر ہے تو پھر جن لوگوں نے یہی تعلیم وید کی سمجھ لی۔ ان کا کیاقصور ہے؟ اگر ویدوں میں صاف اور صریح لفظوں میں مخلوق پرستی کی ممانعت ہوتی توویدوں کے ماننے والے اور پڑھنے پڑھانے والے پنڈت کیوں مخلوق پرستی میں گرفتار ہوجاتے اور کیوں بڑے بڑے پنڈت جن کو ویدکنٹھ تھے۔ اس بلا میں پھنس جاتے

379

اور کیوں ہندو لوگ بت شکن بادشاہوں کے جانی دشمن بن جاتے اور کیوں وہ لڑائیاں ہوتیں جو سلطان محمود غزنوی کے مقابل سومنات سے بت کی حمایت کے لئے ہندو راجائوں نے کیں اور باہمی لڑائیوں سے خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ یہ تمام گمراہ فرقے اور بت پرستی کے حامی در حقیقت وید سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۷، ۳۸ خزائن ج۲۳ ص۴۵، ۴۶)

ناظرین! یہ عبارت اپنا مضمون بتانے میں صاف ہے کہ ہندوئوں کی مخلوق پرستی ویدوں کے سر تھوپی گئی ہے۔ اب اس کی بھی تردید سنئے! آپ پیغام صلح میں لکھتے ہیں کہ:

۴… ’’ہم خدا سے ڈر کر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور جو کچھ اس کی تعلیم میں غلطیاں ہیں۔ وہ وید کے بھاشکاروں (شارحین) کی غلطیاں سمجھتے ہیں۔‘‘

(کتاب پیغام صلح ص۲۵ خزائن ج۲۳ ص۴۵۴)

۵… اس کے خلاف بھی سنئے: ’’وید نے انسان کی حالت رحم کرکے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیا۔ بلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گناہ کے لئے ایک لمبا اور ناپید اکنار سلسلہ جونوں کا تیار کر رکھا ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۴۳ خزائن ج۲۳ ص۵۱)

منقد: ناظرین کرام! ایسا شخص بھی علم کلام کی رو سے قابل مصنف کہلا سکتا ہے جس کے اقوال اتنے مختلف ہوں جتنے کہ مرزا قادیانی کے آپ نے ملاحظہ کئے ہیں۔ اس کے باوجود (بقول اس برتے پہ تتا پانی) آپ سلطان القلم اور رئیس المتکلمین بھی ہیں۔ سچ ہے:

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق

اس نے دیکھے ہی نہیں ناز ونزاکت والے

۴ … وید اور خدا کی ہستی

مندرجہ ذیل اقتباس میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ویدوں سے خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں ملتا۔ کیونکہ خدا روح اور مادے کا خالق نہیں ہے۔ اس بارے میں آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’افسوس وید نے ایک ایسا حلیہ پرمیشر کا دکھلایا ہے کہ گویا ہر ایک عیب اور غضب اور کینہ وری اور بے رحمی میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ نہ قدرت کامل، نہ رحم، نہ اخلاق، نہ اپنے وجود کا پتہ دے سکا کہ میں موجود ہوں۔ کیونکہ اس کے وجود کا پتہ یا تو اس کی خالقیت سے ملتا تا

380

مصنوع کو دیکھ کر صانع کو شناخت کیا جاتا۔ مگر بموجب تعلیم وید کے وہ ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کنندہ نہیں۱؎ اور یا اس کے وجود کا پتہ اس کے تازہ نشانوں اور معجزات سے ملتا۔ سو وہ نشانوں کے دکھلانے پر قادر نہیں۔ پس درحقیقت آریوں کا ایسے پرمیشر پر احسان ہے کہ باوجود یہ کہ اس نے کوئی ثبوت اپنی ہستی کا نہیں دیا۔ پھر بھی اس کو مانتے ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۵۱ خزائن ج۲۳ ص۵۹)

منقد: مرزا قادیانی کا یہ بیان بھی علم منطق کے خلاف ہے۔ اگرچہ آریہ لوگ روح اور مادہ کو قدیم مانتے ہیں۔ مگر ان سے مرکب چیز کو قدیم نہیں کہتے۔ مادہ کے اجزاء باہم ترکیب پاکر عناصر اربعہ بنتے ہیں۔ مادہ اور ارواح کی ترکیب سے کل حیوانات (انسان وغیرہ) بنتے ہیں۔ اہل منطق کا مشہور قیاس ہے کہ: ’’العالم مرکب وکل مرکب حادث فاالعالم حادث فلہ محدث‘‘

پس جب عالم مرکب ہے اور ہر مرکب حادث ہے تو بقول اہل منطق اس کے لئے محدث (پیدا کنندہ) کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے ویدوں یا آریوں کے روح مادہ کو قدیم کہنے سے خدا کی ہستی کا انکار لازم نہیں آتا۔ کیونکہ از روئے مقولہ معقولہ… مرکبات کو ترکیب دینے والا یا وجود میں لانے والا کوئی ہونا چاہئے۔ پس وہی خط ہے۔ ایسی حالت میں وید پر یہ الزام لگانا کہ اس نے خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیا۔ بالکل غلط ہے اور علم منطق سے ناواقفی کی دلیل ہے۔

۵ … مرزا قادیانی کے کمال علمی کی مثال

منطقی اصطلاح میں دلیل دو قسم کی ہوتی ہے۔ انّی اور لمّی۔ دلیل انّی اس کو کہتے ہیں جس میں معلول سے ذات کا علم حاصل ہو۔ جیسے مخلوق سے خالق کا علم حاصل ہوتا ہے اور حرارت بدن سے بخار کا علم اور دلیل لمّی اس کو کہتے ہیں جس میں علت سے معلول کا علم حاصل ہو۔ جیسے روشن دان میں سورج دیکھنے سے دھوپ کا علم حاصل ہوتاہے۔ اب مرزا قادیانی کا

۱؎ الفضل مؤرخہ ۸؍جون ۱۹۴۳ء میں ملک فضل حسین کے نام سے ایک مضمون نکلا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ویدوں میں کہیں نہیں ملتا کہ روح مادہ قدیم ہے اس قادیانی مضمون نگار نے قادیانی ہونے کے باوجود مرزا قادیانی کی تردید کردی۔ (افسوس)

381

علم کلام ملاحظہ ہو۔ آپ فرماتے ہیں: ’’اب جاننا چاہئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک لمّی اور لمّی دلیل اس کو کہتے ہیں کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگالیں۔ جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا اور دوسری دلیل کی قسم انّی ہے اور انّی اس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے ہم دلیل کی طرف انتقال کریں۔ جیسا کہ ہم ایک شخص کو شدید تپ میں مبتلا پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ اس میں ایک تیز صفرا موجود ہے۔ جس سے تپ چڑھ گیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۵۵، ۵۶ خزائن ج ۲۳ ص۶۳، ۶۴)

منقد: اس اقتباس پر ہم کئی وجوہ سے نظر کرتے ہیں:

دونوں تعریفوں میں مرزا قادیانی نے مدلول کا لفظ بولا ہے۔ جس سے دونوں تعریفیں غلط ہوگئی ہیں۔ کیونکہ مدلول اس کو کہتے ہیں جس کو ثابت کیا جائے اور دلیل اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ثابت کیا جائے۔ دلیل انّی اور لمّی ہیں دونوں چیزیںمدلول بھی ہوتی ہیں اور دلیل بھی۔ مثلاً آپ کا یہ کہنا کہ دلیل لمّی اس کو کہتے ہیں کہ: ’’دلیل سے مدلول کا پتہ لگائیں‘‘ یہ تعریف دلیل انّی پر بھی صادق آتی ہے۔ کیونکہ اس میں بھی دلیل ہی سے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ مثلاً مخلوق سے خالق کا علم حاصل کرنے میں مخلوق دلیل ہے اور خالق مدلول ہے۔ اسی لئے دنیائے جہاں کو عالم کہا جاتا ہے جو اسم آلہ کا صیغہ ہے۔ (فصول اکبری وغیرہ) اس کے معنی ہیں ’’مایعلم بہ الصانع‘‘اس لئے دلیل لمّی کی تعریف منقوض ہے۔ اسی طرح دلیل انّی کی تعریف بھی غلط ہے۔ بقول مرزا قادیانی دلیل انّی اس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے دلیل کی طرف انتقال کریں۔ یہ تعریف فی نفسہ غلط ہے۔ ہم بتا آئے ہیں کہ مدلول اس کو کہتے ہیں جس کو ثابت کیا جائے۔ چاہے وہ علت ہو یا معلول۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی جو علمی اصطلاحات نہ جاننے کی وجہ سے غلطی کھا گئے ہیں۔ اسی لئے وہ مدلول اور معلول کو مترادف سمجھتے ہیں۔ دلیل اور علت کو ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ دلیل لمّی میں دلیل علت ہوتی ہے اور مدلول معلوم ہوتا ہے اور دلیل انّی میں اس کے برعکس دلیل معلول ہوتی ہے اور مدلول علت ہوتا ہے جیسے حدوث عالم میں عالم دلیل ہے اور خالق مدلول ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ علوم عقلیہ سے ناواقف تھے۔ جس کا ثبوت اس مثال کے علاوہ مرزا قادیانی کا وہ قول ہے جو کتاب سرمہ چشم آریہ میں آپ نے بڑے زور سے لکھا ہے کہ: ’’قضیہ

382

دائمہ مطلقہ قضیہ ضروریہ مطلقہ سے اخص ہوتا ہے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۹۹ خزائن ج۲ ص۱۴۷)

اسی لئے آپ دلیل لمّی اور انّی کی تعریفیں غلط کر گئے۔ اس پر بھی آپ کو دعویٰ ہے کہ میں سلطان القلم ہوں۔ سچ ہے:

  1. بت کریں آرزو خدائی کی

    شان ہے تیری کبرائی کی

اس مقام کا دوسرا اقتباس یہ ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

’’اس جگہ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں پیش کریں گے۔ سو پہلے ہم لمّی دلیل ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان کے جسم کا جسمانی اور روحانی نظام ایک ہی قانون قدرت کے ماتحت ہے۔ پس اگر ہم انسان کے جسمانی حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ خداوند کریم نے جس قدر انسان کے جسم کو خواہشیں لگا دی ہیں۔ ان کے پورا کرنے کے لئے بھی سامان مہیا کئے ہیں۔ چنانچہ انسان کا جسم بباعث بھوک کے اناج کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ ایسا ہی انسان بباعث پیاس پانی کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے کنوئیں اور چشمے اور نہریں پیدا کردئیے ہیں۔ اسی طرح انسان اپنی بصارت سے کام لینے کے لئے آفتاب یا کسی اور روشنی کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے خدا نے آسمان پر سورج اور زمین پر دوسری اقسام کی روشنی پیدا کردی ہے اور انسان اس ضرورت کے لئے کہ سانس لے اور نیز اس ضرورت کے لئے کہ کسی دوسرے کی آواز کو سن سکے، ہوا کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے خدا نے ہوا پیدا کردی ہے۔ ایسا ہی انسان بقائے نسل کے لئے اپنے جوڑے کا محتاج تھا۔ سو خدا نے مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد پیدا کردیا ہے۔ غرض خداتعالیٰ نے جو جو خواہشیں انسانی جسم کو لگا دی ہیں۔ ان کے لئے تمام سامان بھی پیدا کردیا ہے۔ پس اب سوچنا چاہئے کہ جب کہ انسانی جسم کو باوجود اس کے فانی ہونے کے تمام اس کی خواہشوں کا سامان دیا گیا ہے تو انسان کی روح کو جو دائمی اور ابدی محبت اور معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کی گئی ہے کس قدر اس کی پاک خواہشوں کے سامان دئیے گئے ہوں گے۔ سو وہی سامان خدا کی وحی ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۵۶ خزائن ج۲۳ ص۶۴)

منقد: اہل علم حضرات غور فرمائیں۔ اس اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح

383

خداتعالیٰ نے جسمانی ضروریات کا انتظام کیا ہے۔ اسی طرح روحانی ضرورتوں کا بندوبست بھی کیا ہے۔ پس یہ تمثیل ہے۔ دلیل لمّی نہیں ہے۔ ورنہ کوئی صاحب ہمیں بتائیں کہ اس میں علت کیا ہے اور معلول کیا؟ کچھ بھی نہیں بلکہ تمثیل ہے اور تمثیل کو دلیل لمّی یا انّی کہنا انہی لوگوں کا کام ہے جو کہتے ہیں کہ دمشق سے مراد قادیان ہے۔

تنبیہ: مرزا قادیانی میں ایک کمال تھا جس کا ہمیں بھی اعتراف ہے کہ وہ طول کلامی میں اتنے بڑھ جاتے تھے کہ ناواقف سامع کو ان کے اصل مدعا اور حشو وزوائد میں تمیز نہیں رہتی تھی بلکہ بعض دفعہ وہ خود بھی اصل مقصود بھول جاتے تھے۔ مثلاً آپ نے مذکورہ اقتباس کے شروع میں لکھا ہے کہ:’’اس جگہ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں (انّی اور لمّی) پیش کریں گے۔ پہلے ہم دلیل لمّی ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں۔‘‘ (ایضاً)

آپ کو چاہئے تھا کہ آپ دلیل لمّی کے بعد دلیل انّی سے بھی کام لیتے۔ مگر افسوس ہے کہ ہمیں (ص۵۶ سے ۸۷ ) تک دلیل انّی کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ ہاں! تحریر میں طوالت کی وجہ سے دل فریبی ضرور ہے۔ جس کی تمنا استاد غالب نے بھی کی ہے جو کہتے ہیں:

ملے تو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی

عجیب چیز ہے یہ طول مدعا کے لئے

درخواست: مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے کوئی صاحب ہمیں مرزا قادیانی کی پیش کردہ دلیل انّی کا پتہ بتائیں تو ہم ان کے بہت مشکور ہوں گے۔

۶ … مرزا قادیانی کی غلط گوئی بلکہ فحش گوئی

ہم نہایت افسوس سے اظہار کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے علم کلام میں ایک خاص وصف تھا کہ وہ غلط گوئی کے علاوہ فحش گوئی سے بھی اپنے مخاطب کو ساکت کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ آپ کی یہ عادت مخالفین اسلام کے علاوہ علماء اسلام کے حق میں بھی برابر نظر آتی ہے۔ ہمیں اپنے موضوع سے نکل جانے کا اندیشہ ہے ورنہ ہم بہت سی مثالیں پیش کرسکتے تھے۔ تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ ’’ہندوستان کے دو ریفارمر‘‘ ملاحظہ ہو۔ جس میں مرزا قادیانی اور سوامی دیانند بانی آریہ سماج کی خوش کلامیوں کا نمونہ دکھایا گیا ہے۔ سردست ہم

384

اسی کتاب (چشمہ معرفت) سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں: ’’جو کچھ وید نے اپنا فلسفہ اور علم طبعی ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے کہ ہندوئوں کے پرمیشر کو ایک انسان کا فرزند قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اندر آریوں کا پرمیشر کشلیا کا بیٹا ہے اور نیز یہ کہ عناصر اور اجرام سماویہ سب پرمیشر ہی ہیں اور نیز وہ تعلیم دیتا ہے کہ ان تمام چیزوں سے مرادیں مانگی جائیں اور نیز یہ تعلیم جو نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ہے۔ یعنی یہ کہ پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ (سمجھنے والے سمجھ لیں)‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۰۶ خزائن ج۲۳ ص۱۱۴)

منقد: اس اقتباس میں مرزا قادیانی نے کئی ایک دعاوی غلط کئے ہیں اور فحش نویسی سے کام لیا ہے۔ تفصیل ملاحظہ ہو:

’’پہلی غلطی تو یہ کی ہے کہ اس کتاب میں آپ کا خطاب آریوں سے ہے اور ذکر ہندوئوں کا لے بیٹھے اور ہندوستان کا ہر ایک چھوٹا بڑا جانتا ہے کہ اس بارے میں آریوں اور ہندوئوں کا سخت اختلاف ہے۔ کوئی آریہ کشلیا کے بیٹے کو پرمیشر نہیں مانتا اور نہ عناصر کو خدا جانتا ہے۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہندو بھی اس بات کے قائل نہیں ہیں۔ کیونکہ عناصر مرکب ہیں اور ہر مرکب حادث ہوتا ہے۔ البتہ ہندو لوگ اوتار کا عقیدہ بیشک رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاں اوتار کی تشریح یہ ہے کہ کسی انسان کے ساتھ پرمیشور کا خاص تعلق ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ انسان پرمیشور کا مظہر اتم بن جاتا ہے۔ باالفاظ دیگر اس بارے میں مرزا قادیانی بھی ہندوئوں کے ہم عقیدہ ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:’’رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ہو‘‘(میں نے خواب میں اپنے کو خدا دیکھا۔ پس میں نے یقین کرلیا کہ میں وہی ہوں۔)

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴ خزائن ج۵ ص ایضاً)

ناف سے دس انگل نیچے والی چیز کو پرمیشور کوئی بھی نہیں کہتا۔ اللہ رے دعویٰ مسیحیت اور یہ فحش گوئی۔

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں

    بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

۷ … مرزا قادیانی کے حوالوں کی کیفیت اور گرفت کی کمزوری

مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ آپ حوالہ دیتے ہوئے احتیاط نہیں کرتے تھے۔

385

یہاں تک کہ قرآن مجید کی آیات بھی غلط لکھ دیتے۱؎ تھے۔ ناظرین! مندرجہ ذیل اقتباس بغور پڑھیں گے تو سلطان القلم کا زور قلم ملاحظہ کریں گے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:

’’جب ہم نے وید کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ درحقیقت وید کے پرمیشر نے کئی جگہ وید میں جھوٹ بولا ہے۔ چنانچہ وید کا یہ صریح جھوٹ ہے جو پنڈت دیانند اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں وید کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جب روح بدن سے نکلتی ہے تو وہ اکاش میں پہنچ کر پھر رات کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اس گھاس کو کوئی کھا لیتا ہے تو وہ روح نطفہ کی شکل میں ہوکر عورت کے اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب بتلائو کہ اس سے زیادہ کون سا جھوٹ ہوگا کہ روح کو ایک جسمانی چیز بنا دیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۱۴ خزائن ج۲۳ ص۱۲۲)

منقد: مرزا قادیانی نے یہ مضمون اس کتاب میں متعد جگہ لکھا ہے:

ملاحظ ہو (چشمہ معرفت ص۱۴۲، ۱۲۸، ۱۲۹ خزائن ج۲۳ ص۱۳۰، ۱۳۶، ۱۳۷)

اس اقتباس میں وید کے پرمیشور پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ جھوٹ کے مرتکب خود ہوئے ہیں۔ اس کا ثبوت دینا ہمارے ذمہ ہے۔

مرزا قادیانی نے ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور پنجاب میں ماسٹر مرلی دھر آریہ سے مباحثہ کیا تھا۔ جس میں وہ حوالہ پیش کیا تھا (جس کی تفصیل آگے آتی ہے) جب یہ مباحثہمطبوع ہو کر شائع ہوا تو پنڈت لیکھرام آریہ مصنف نے اپنی کتاب ’’نسخہ خبط احمدیہ‘‘ پر بڑی سختی سے اس حوالے کا مطالبہ کیا۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’ہم مرزا قادیانی کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اس کا ثبوت دیں کہ یہ ستیارتھ پرکاش میں کہاں ہے کہ روح اوس کی طرح زمین پر کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے۔‘‘

(نسخہ خبط احمدیہ ص۲۶۳)

شکایت بجا ہے: یہاں پہنچ کر ہم پنڈت لیکھرام کی شکایت کرنے سے بھی نہیں رک سکتے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کے مزاج شناس ہونے کے باوجود مرزا قادیانی کے اس فعل کو قرآن مجید کی تعلیم کا اثر بتایا ہے۔ چنانچہ پنڈت جی کے دلآزار الفاظ یہ ہیں:

۱؎ مثال کے طور پر یہ آیت ہے ’’یوم یأتی ربّک فی ظلل من الغمام‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۵۴ طبع قدیم) استدلال بھی انہی الفاظ سے کیا ہے۔

386

’’ناظرین خود ہی انصاف کریں کہ قرآنی تعلیم کی برکت سے حضرت (مرزا قادیانی)نے کس قدر چالاکی کی۔ اور کیا ہی الہامی تائید سے اصل عبارت کو راستی سے صحیح صحیح نقل کیا ہے۔‘‘

(نسخہ خبط احمدیہ ص۲۶۳)

منقد: پنڈت لیکھ رام کی اس تحریر کو جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کا فعل قرآن مجید کی ہدایت کے ماتحت بتایا گیا ہے۔ ہر ایک آریہ (بشرطیکہ اپنے چوتھے اصول کو ملحوظ رکھے) ناپسند کرے گا۔ ناظرین! مرزا قادیانی نے اس مباحثے کا ذکر اپنی اسی کتاب (چشمہ معرفت) میں یوں کیا ہے:

’’مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ بمقام ہوشیار پور مجھے ایک آریہ مرلیدھر نام سے مباحثہ کا اتفاق ہوا، اور میں نے اس کے آگے یہی بات پیش کی کہ دیانند کا یہ قول کہ روح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پرپڑتی ہے اور اس کو کئی شخص کھا لیتا ہے تو روح اس ساگ کے ساتھ ہی اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سراسر باطل قول ہے اور اس سے روح کا دو ٹکڑا ہونا لازم آتا ہے اور اس تقریر میں، میں نے ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دیا جو دیانند کی ایک کتاب ہے۔ تب مرلیدھر نے ستیارتھ پرکاش پیش کی کہ کہاں اس میں ایسا لکھا ہے۔ تب میرے دل میں خیال گزرا کہ ضرور اس شخص نے کوئی چالاکی کی ہے جو یہ کتاب پیش کرتا ہے۔ میں نے وعدہ کیا کہ چونکہ میں ناگری نہیں پڑھ سکتا۔ اس لئے بعد میں تلاش کرکے وہ موقعہ اپنی کتاب میں لکھ دوں گا۔ پھر میں قادیان آیا اور ایک برہمو صاحب کو جو نیک طبع اور بے تعصب تھے اور ان کا نام نوبین چندر تھا۔ میں نے ان کی طرف ایک خط لکھا کہ کیا آپ مجھے بتلا سکتے ہیں کہ ایسا مضمون ستیارتھ پرکاش کے کس موقعہ پر ہے۔ ان کا جواب آیا کہ یہ مضمون ستیارتھ پرکاش میں موجود ہے۔ مگر یہ آریہ لوگ بڑے چالاک اور افتراء پرداز ہیں۔ انہوں نے پہلی کتاب جس میں یہ مضمون تھا تلف کردی ہے اور نئی کتاب چھپوائی ہے اور اس میں سے یہ مضمون نکال دیا ہے اور لکھا کہ وہ پہلی کتاب میرے پاس موجود ہے۔ مگر اب میں لاہور سے جانے والا ہوں اور میں نے تمام کتابیں وطن کی طرف بھیج دی ہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بیس دن کے اندر ستیارتھ پرکاش کے اس مقام کی نقل کرکے بھیج دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے وعدہ کے موافق اس مقام کی نقل بھیج دی اور میں نے اس کو اپنی کتاب سرمہ

387

چشم آریہ میں درج کردیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۱۸، ۱۱۹ خزائن ج۲۳ ص۱۲۶، ۱۲۷)

منقد: مرزا قادیانی نے اپنے حسب وعدہ سرمہ چشم آریہ میں (طبع اوّل کے بعد) اس کا حوالہ یوں نقل کیا ہے۔

’’اب ہم ستیارتھ پرکاش کا وہ مقام لکھتے ہیں جس کے لکھنے کا ماسٹر مرلیدھر کو وعدہ دیا گیا تھا اور وہ یہ ہے۔ ستیارتھ پرکاش ۱۸۷۵ء آٹھواں سمولاس ۲۶۳ سوال: جنم اور موت وغیرہ کس طرح سے ہوتے ہیں؟ جواب: لنگ شریر، یعنی جسم دقیق (روح) اور ستھول شریر جسم کثیف باہم مل کر جب ظاہر ہوتے ہیں تب اس کا نام جنم۔ یعنی پیدائش ہوتا ہے اور دونوں کی علیحدگی سے غائب ہوجانے کو موت کہتے ہیں۔ سو اس طرح سے ہوتا ہے کہ روح اپنے اعمال کے نتائج سے گردش کرتی اور اپنے افعال کی تاثیر سے گھومتے ہوئے پانی، کسی اناج یا ہوا میں ملتی ہے۔ پھر جب وہ پانی یا کسی بوٹے وغیرہ کے ساتھ مل جاتی ہے تو جیسے جس کے افعال کا اثر یعنی جتنا جس کو سکھ یا دکھ ہونا ضروری ہے خدا کے حکم کے موافق ویسی جگہ اور ویسے ہی جسم میں مل کے شکم مادر میں داخل ہوتی ہے۔ پھر جب حیوان یا انسان میں وہ غذا کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے جسم کے حصہ کی کشش سے اس کا جسم بنتا ہے۔ اس طریقہ سے جو پرمیشر نے مقرر کر رکھا ہے۔ روح نکلنے کے بعد آفتاب کی کرنوں کے ساتھ اوپر کو کھینچی جاتی ہے اور پھر چاند کے نور کے ساتھ (اوس کی طرح) زمین پر کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے۔ پھر بموجب طریقہ مذکورہ بالا جسم اختیار کرتی ہے۔‘‘

(حاشیہ سرمہ چشم آریہ ص۷۳، ۷۴ خزائن ج۲ ص ۱۲۱، ۱۲۲)

منقد: ہر چند مرزا قادیانی نے کسی برہمو دوست سے امداد لے کر حوالہ بتانے میں سبکدوشی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر ہمارے خیال میں سبکدوشی حاصل نہیں ہوئی بلکہ مزید ذمہ داری بڑھ گئی۔ مرزا قادیانی کے پاس تو ستیارتھ پرکاش ۱۸۷۵ء کی تھی ہی نہیں اور نہ وہ ہندی پڑھ سکتے تھے۔ جس کا ان کو اعتراف ہے۔ ہاں ہم خدا کے فضل سے ہندی پڑھ سکتے ہیں اور ہندی کی اصل کتاب ستیارتھ پرکاش ۱۸۷۵ء ہمارے پاس ہے۔ اس لئے ہم اس کی ہندی عبارت مع اردو ترجمہ ناظرین کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

اردو ترجمہ: روح اور جسم کی ملاوٹ سے ظاہر ہونا۔ اس کا نام پیدائش ہے اور روح وجسم کا علیحدہ ہوکر غائب ہوجانا اس کا نام موت ہے۔ جو اس طرح ہوتا ہے کہ روح

388

اپنے اعمال کی وجہ سے گھومتی ہوئی پانی یا کسی جڑی بوٹی یا ہوا میں ملتی ہے۔ پھر جیسا جس کے افعال کا اثر۔ یعنی سکھ دکھ جتنا جس کو ہونا ضروری ہے پرمیشور کے حکم کے مطابق ویسی جگہ اور ویسے ہی جسم میں مل کر شکم میں داخل ہوجاتی ہے… روح جسم سے نکل کر باہر کی ہوا میں مل جاتی ہے۔ پھر ہوا کے ساتھ ادھر ادھر گھومتی ہے۔ کبھی سورج کی کرنوں کے ساتھ اونچے اور چاند کی کرنوں کے ساتھ نیچے آجاتی ہے۔ یعنی ہوا کے ساتھ اوپر نیچے اور درمیان میں رہتی ہے۔‘‘

(ترجمہ ہندی ستیارتھ پرکاش مطبوعہ ۱۸۷۵ء)

منقد: ناظرین میں سے جو صاحب ہندی پڑھے ہوئے ہوں۔ وہ خود دیکھ لیں۔ جو نہیں پڑھے ہوئے وہ ہندی دانوں سے اردو ترجمہ کی تصدیق کروا کر ہمیں بتائیں کہ مرزا قادیانی نے جو دعویٰ کیا تھا کہ روح اوس کی طرح کسی بوٹی پر گرتی ہے (جس کا مطالبہ پنڈت لیکھ رام نے کیا تھا) مرزا قادیانی اس سے سبکدوش ہوگئے؟ ہرگز نہیں ہوئے۔ (حاشا وکلّا)

پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس حوالہ میں غلطی ہی نہیں کی بلکہ بہت ہی جرأت اور دیدہ دلیری سے کام لیا ہے جو ایک قابل مصنف کی شان سے بہت بعید ہے۔

مرزا قادیانی نے یہ الزام آریوں پر کئی جگہ لگایا ہے۔ جس کی مثال تاریخ تصنیف میں نہیں ملتی۔ مرزا جی کے مریدو!:

  1. قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

    پر تیرے عہد سے پہلے تو یہ دستور نہ تھا

اس کے علاوہ: مرزا قادیانی کی جرأت ملاحظہ ہو کہ سوامی دیانند کی تحریر کی غلطی کی وجہ سے ویدوں کو اور ویدوں کے پرمیشر کو جھوٹا کہا (قرآن مجید نے ایسے فعل کو نہایت مذموم قرار دے کر ارشاد فرمایا ہے:’’انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون بآیات اللہ ‘‘ یعنی جھوٹ افتراء کرنا بے ایمان لوگوں کا کام ہے) بلکہ اس کتاب میں بہت کچھ تحقیر آمیز الفاظ میں ویدوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں:

۱… ’’الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ جس میں یہ مذکور ہو کہ روح بدن سے نکل کر پھر شبنم کی طرح گھاس پات پر پڑتی ہے اور دو ٹکڑے ہو کر مرد اور عورت کے اندر چلی جاتی ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۳۰، ۱۳۱ خزائن ج۲۳ ص۱۳۸، ۱۳۹)

۲… ’’غرض اسی وجہ سے مضمون پڑھنے والے (آریہ) نے اس نشانی کا ذکر نہیں کیا

389

کہ یہ وید کا بیان ایک غلط بیان ہے۔ غالباً اس کو یہ بات سوجھ گئی ہے کہ اس نشانی کے پیش کرنے سے وید کا تمام تاروپود جھوٹ کا مجموعہ ثابت ہوگا اور نہ صرف جھوٹ بلکہ اس کی جہالت اور ناواقفیت بھی ثابت ہوگی کہ ایسا خدا کے قانون قدرت سے بے خبر ہے کہ روح کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر نازل کرتا ہے۔ حالانکہ گھاس پات کے مادہ کے اندر خود کیڑے موجود ہیں۔ ان پر کون سی شبنم پڑی تھی۔ اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ زمین کے سب نباتات جمادات حیوانات کیڑوں سے بھرے ہوئے ہیں اور زمینی مادہ کے سب کچھ اندر ہے، اوپر سے کچھ نہیں آتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۳۲ خزائن ج۲۳ ص۱۴۰)

۳… ’’کیا وید کے رشیوں کے معدہ اور دماغ اور دوسرے اعضاء میں کیڑے نہیں تھے اور مرد اور عورت کی منی بھی کیڑوں سے خالی نہیں اور زمین پر یا زمین کے نیچے کون سا ایسا مادہ ہے جو کیڑوں سے خالی ہے۔ آریوں کو خیال کرنا چاہئے تاکہ کب اور کس راہ سے ان پر شبنمی روح پڑ گئی۔ آخر جھوٹ کی کوئی حد ہے۔ لیکن وید تو جھوٹ بولنے میں حد سے بڑھ گیا اور اس نے خدا کے بدیہی اور محسوس ومشہور اور قدیم قانون قدرت کو ایسا ہاتھ سے پھینک دیا جیسا کہ کوئی ایک کاغذ کو ٹکڑے کرکے پھینک دے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۳۲ خزائن ج۲۳ ص۱۴۰)

منقد: ناظرین کرام! جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر نے اپنی کتاب ’’میری جدوجہد‘‘ میں لکھا ہے کہ جھوٹ کو باور کرانے کا طریق یہی ہے کہ بار بار اس کا ذکر کیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ آخر کار، باور کر لیں گے۔ ہم نے سمجھا تھا کہ اس تجویز کا موجد ہٹلر ہے لیکن مرزا قادیانی کی تصنیفات دیکھ کر ہماری رائے بدل گئی۔ اب ہم اس رائے پر مضبوطی سے قائم ہوگئے ہیں کہ اس تجویز کا اوّل مرتکب عامل مرزا قادیانی ہی ہیں جو جھوٹ کو باور کرانے کے لئے اس کو بار بار دہرایا کرتے تھے۔ یہ تو ایک ہی مثال ہے۔ ہم نے آپ کی تصنیفات میں ایسی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں۔ جن کے ذکر کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ آپ نے سوامی دیانند کی کتاب ’’ستیارتھ‘‘ کا حوالہ دیا ہے جو بجائے خود غلط ہے۔ پھر اس غلطی کو ویدوں کے سر تھوپ دیا ہے۔ حالانکہ سوامی دیانند نے اگر ایسا کہا ہے تو ویدوں کے حوالہ سے نہیں کہا۔ پھر خواہ مخواہ ویدوں کی تحقیر کرنا اور مذاق اڑانا کسی قابل مصنف کا کام نہیں ہوسکتا۔ مرزا قادیانی:

  1. ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا

    یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا

390

۸ … عقیدہ قدامت نوعی

آریوں کا عقیدہ ہے کہ روح اور مادہ قدیم ہے۔ مرزا قادیانی نے اس عقیدہ کا تو خوب مذاق اڑایا ہے۔ مگر خود اپنا عقیدہ جو بتایا ہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ پر مذاق ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ مخلوق کے افراد تو یقینا حادث ہیں۔ خواہ وہ کسی نوع کے ہوں۔ مگر سلسلہ نوع قدیم ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’خدا کی صفات خالقیت، رازقیت وغیرہ سب قدیم ہیں۔ حادث نہیں ہیں۔ پس خداتعالیٰ کی صفات قریمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ ایک کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف نے ہمیں سکھایاہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۶۰ خزائن ج۲۳ ص۱۶۸)

ایضاً: اس مضمون کی تکمیل مرزا نے اسی کتاب میں دوسری جگہ یوں کی ہے: ’’خدا کی صفت افناء اور اہلاک بھی ہمیشہ اپنا کام کرتی چلی آتی ہے۔ وہ بھی کبھی معطل نہیں ہوتی۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۶۸ خزائن ج۲۳ ص۲۸۱)

ناظرین! اس تکمیل کی تشکیل قادیان کے ممتاز عالم مولوی میر محمد اسحاق صاحب جو موجودہ خلیفہ قادیان کے ماموں ہیں۔ مرزا قادیانی کی تعلیم کے ماتحت یوں کرتے ہیں:

’’جب سے خدا ہے تب ہی سے وہ مخلوق پیدا کرتا چلا آیا ہے اور جب تک وہ رہے گا اور ہمیشہ رہے گا۔ اس وقت تک وہ مخلوق کو پیدا کرتا چلا جائے گا۔ نہ خدا کے پیدا کرنے کی ابتداء ہے، نہ انتہا۔‘‘

(کتاب حدوث روح ومادہ ص۲۴۴)

منقد: مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا اقتباس میں کئی ایک غلطیاں ہیں جن تفصیل یہ ہے:

اوّل: کسی موصوف کی صفات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک اضطراری دوسری اختیاری۔ اضطراری صفت وہ ہوتی ہے جسے موصوف روک نہ سکے۔ جیسے سورج کی صفت روشنی اور آگ کی صفت حرارت وغیرہ۔ اختیاری صفت وہ ہوتی ہے جسے موصوف اپنے حسب منشاء جاری کرسکتا ہے یا روک سکتا ہے۔ جیسے کاتب کا لکھنا یا متکلم کا بولنا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ خداتعالیٰ کی صفات کس قسم کی ہیں۔ اضطراری ہیں یا اختیاری؟ اسلامی شریعت کے

391

علاوہ عقل سلیم بھی شہادت دیتی ہے کہ خدا کی صفات اضطراری نہیں ہیں بلکہ اختیاری ہیں۔ خود مرزا قادیانی خدا کو ’’مدبر بالارادہ مانتے ہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات ص۲۴۸ خزائن ج۵ ص ایضاً)

سب سے بڑا ثبوت جو ہر ایک سمجھ سکتا ہے۔ یہ ہے کہ بظاہر خداتعالیٰ کی بعض صفات میں تضاد بلکہ تناقض ہے۔ مثلاً احیاء (زندہ رکھنا) اور اہلاک (مار ڈالنا) اگر یہ دونوں صفتیں باوجود قدامت اضطراری ہوتی تو مخلوقات کی کیا حالت ہوتی؟ اگر احیا کا اثر ہوتا تو سب چیزیں موجود ہوجاتیں۔ اگر افناء کا اثر ہوتا تو کوئی چیز وجود پذیر نہ ہوتی۔ (معلوم ہوا کہ ذات باری کی یہ صفات اختیاری ہیں)

دوسری غلطی: علم منطق کا اصول ہے کہ کلی طبعی کا وجود خارجی اس کے افراد میں ہوتا ہے:’’والحق ان وجود الطبعی، بمعنی وجود اشخاصہ‘‘ (تہذیب منطق) پس نوع بحیثیت نوع ایک کلی طبعی ہے۔ اس کا خارجی وجود کسی فرد کے ضمن میں ہوگا۔ وہ فرد چونکہ مرکب ہوگا۔ اس لئے بحکم ’’کل مرکب حادث‘‘ وہ حادث ہوکا پھر قدامت نوعی کا وجود کیسے محقق ہوگا۔

تیسری غلطی: مرزا قادیانی مادہ کو حادث مانتے ہیں اور مادہ اولیٰ سے عناصر بنتے ہیں اور عناصر کی ترکیب سے موالید ثلاثہ بنتے ہیں جس نوع کا مادہ حادث ہے۔ وہ نوع قدیم کیسے ہوسکتی ہے؟

چوتھی غلطی: مرزا قادیانی کا مسلمہ ہے کہ مادہ ہر حالت میں حادث ہے اور آریوں کا عقیدہ ہے کہ مادہ حالت اولیٰ میں قدیم ہے مگر بصورت عناصر مرکب ہونے کی وجہ سے حادث ہے۔ اس لئے پرمیشور (خدا) کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی آریوں کو الزام دیتے ہیں کہ تمہارے عقیدہ (قدامت مادہ وغیرہ) کی رو سے خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں ملتا۔ آریہ ان کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہمارے عقیدہ وقدامت مادہ کی وجہ سے خدا کا ہستی کا ثبوت نہیں ملتا تو تمہارے عقیدہ قدامت نوعی سے بھی نہیں مل سکتا۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق مرکب کی ترکیب اگر خالق کے وجود کی مثبت نہیں ہے تو آپ کے عقیدہ کی رو سے کیسے مثبت ہوگی؟

مرزا قادیانی کا کمال

موصوف کی تصنیفات میں ہم نے یہ کمال دیکھا ہے کہ وہ اپنی بہت سی باتوں کی

392

تردید خود ہی کر جاتے ہیں۔ ان کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی جو دراصل تصرف قدرت ہے۔ چنانچہ اسی مسئلہ کے متعلق آپ فرماتے ہیں: ’’ابتداء میں خدا کی صفت وحدت کا دور تھا… یہ دو ر قدیم اور غیر متناہی ہے۔ بہر حال صفت وحدت کے دور کو دوسری صفات پر تقدم زمانی (حاصل) ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۶۳ خزائن ج۲۳ ص۲۷۵)

منقد: اہل قلم غور فرمائیں کہ جس صورت میں مرزا قادیانی کو مسلم ہے کہ وحدت الٰہی کو دوسری صفات پر تقدم زمانی حاصل ہے تو مخلوقات کے لئے قدامت نوعی کہاں رہی؟ سچ ہے:

  1. الجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں

    لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

۹… خدا کہاں سے پیدا ہوا

مرزا قادیانی نے آریوں سے یہ عجیب سوال کیا ہے کہ خدا کہاں سے پیدا ہوا؟ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’آریوں کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ خدا کی بے انتہا قدرتوں اور بے انتہا اسرار کو اپنے نہایت محدود علم کے پیمانہ سے ناپتے ہیں اور جو باتیں انسان کے لئے غیر ممکن ہیں۔ وہ خدا کے نزدیک بھی غیر ممکن ٹھہراتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کا اعتراض ہے کہ روحیں کہاں سے پیدا ہوئیں اور مادہ کہاں سے پیدا ہوا۔ تعجب کہ وہ پہلے کیوں اس سوال کو حل نہیں کرتے کہ خدا کہاں سے اور کس طرح پیدا ہوا؟ جب کہ اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ خدا کی قدرتیں ناپیداکنار ہیں اور اس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور ہمارے مشاہدات اس کے گواہ ہیں تو پھر یہ بیہودہ مطنق خداتعالیٰ کی قدرت کی نسبت کیوں استعمال کی جاتی ہے؟‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۶۱ خزائن ج۲۳ ص۱۶۹)

منقد: یہ سوال سن کر ہماری حیرت کی حد نہیں رہی کہ ہم مرزا قادیانی کی نسبت کیا رائے قائم کریں۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اگر زندہ ہوتے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوکر بادب پوچھتے کہ جناب! آپ کا یہ سوال آریوں پر اس صورت میں وارد ہوسکتا تھا۔ جب کہ روح مادہ اور خدا کی حقیقت فریقین میں یکساں مسلم ہوتی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ آپ روح مادہ کو مخلوق وحادث مانتے ہیں اور آریہ ان کو غیر مخلوق اور قدیم کہتے ہیں۔ مگر خدا کی ذات کو دونوں فریق قدیم مانتے ہیں۔ اس لئے آریہ آپ کے عقیدہ حدوث روح ومادہ کی بنا

393

پر آپ سے پوچھتے ہیں کہ خدا نے ان چیزوں کو کس چیز سے پیدا کیا۔ آپ اس کا جواب کسی اور طریق سے دیتے تو اچھا ہوتا۔ لیکن یہ کیا غضب کیا کہ الٹا ان پر سوال کردیا کہ خدا کہاں سے پیدا ہوا؟ کیا آریہ لوگ خدا کو مخلوق مانتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ پھر ان پر یہ سوال کیوں وارد کیا گیا؟

لطیفہ: ایک مولوی صاحب نے کسی دیہاتی بے نماز کو نماز کا وعظ فرمایا۔ دیہاتی نے کہا کہ مولوی صاحب پہلے یہ سوال تو حل کردیجئے کہ آپ نے اپنے بیٹے کی شادی میں جو دعوت کی تھی تو کھانے میں نمک زیادہ کیوں ڈالا تھا۔ مولوی صاحب نے بڑے تعجب سے کہا کہ میری نصیحت سے اس بات کا کیا تعلق؟ دیہاتی نے جواب دیا کہ تعلق ہو یا نہ ہو یوں ہی بات سے بات نکل آتی ہے۔

۱۰ … مرزا قادیانی کی معقولیت یا نسیان؟

آپ نے اس کتاب میں ایک عجیب اصول لکھا ہے کہ: ’’یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۰۹ خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)

منقد: اس کے برعکس آپ براہین احمدیہ میں اپنا انگریزی الہام آئی لو یو! آئی شل گو یو لارج پارٹی آف اسلام(i Love you! Shall give you larege party of islam) درج کرکے لکھ چکے ہیں کہ میں اس کا ترجمہ نہیں جانتا۔ اصل الفاظ یہ ہیں ’’چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں ہے اور نہ اس کے پورے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لئے بغیر معنی کے لکھا گیا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۵۷، خزائن ج۱ ص۶۶۴ حاشیہ در حاشیہ)

ناظرین! اگر الہام کے وقت کوئی انگریزی دان نہیں تھا تو کاپی لکھتے وقت مل جاتا یا کتاب کی طباعت کے وقت مل سکتا تھا۔ یہ کتاب امرتسر میں چھپی ہے۔ جہاں اس زمانہ میں بھی سینکڑوں انگریزی دان موجود تھے۔ جانے دیجئے کہ انگریزی دان موجود تھے یا نہیں۔

بہرحال الہام کے مخاطب (مرزا قادیانی) انگریزی دان نہیں تھے۔ تاہم الہام ان کو انگریزی میں ہوا۔ بقول مرزا اس کے ایک وجہ تو الہام کی بیہودگی ہے۔ دوسری وجہ بقول شاعر:

شوخ من ترکی ومن ترکی نمے دانم

394

۱۱ … پنڈت لیکھ رام کی موت سے وید کی تکذیب

مرزا قادیانی اور ان کے حواری لیکھ رام کے قتل کے واقعہ کو بہت بڑا معجزہ بتایا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس واقعہ کو ویدوں کی تکذیب پر بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اس رسالہ میں ہماری غرض مرزا کے استدلالات پر بحث کرنا ہے۔ ان کے عقائد اور الہامات سے تعرض کرنا نہیں ہے۔ چونکہ مرزا نے اس واقعہ (قتل لیکھ رام) کو تکذیب وید پر بطور دلیل کے پیش کیا ہے۔ اس لئے اس پر بحث کرنا اس رسالہ کے موضوع میں آسکتا ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں نے لیکھ رام کے قتل ہونے کا الہام شائع کیا تھا۔ بلکہ تاریخ بھی بتا دی تھی۔ اس کے متعلق آپ لکھتے ہیں کہ:’’کیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الٰہی ہونا یہ خارق عادت امر نہیں ہے۔ پس جب کہ لیکھ رام کی موت نے اس بات کو ثابت کردیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانون کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانون قدرت دریا برد ہوگیا۔ اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۲ خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

منقد: اس اقتباس کو ہم اپنے لفظوں میں دلیل کی شکل میں پیش کریں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ بقول آریہ قضیہ سالبہ کلیہ کے طور پر ویدوں کے بعد الہام کا نزول بند ہے۔ مجھ مرزا کو پنڈت لیکھرام کے قتل کے متعلق جو الہام ہوا تھا وہ سچا ہوگیا۔ لہٰذا میرا یہ الہام بصورت موجبہ جزیہ کے ویدوں کے سالبہ کلیہ کی نقیض بن کر ابطال وید کا موجب ہوا۔

ناظرین! یہ ہے ہمارے لفظوں میں مرزا قادیانی کے استدلال کی منطقیانہ تقریر۔ اب اس کا جواب سنئے:

لیکھ رام کے متعلق مرزا قادیانی نے جو پیش گوئی کی تھی۔ وہ اس کے قتل یا موت کی نہ تھی بلکہ خارق عادت عذاب کی تھی۔ ہمارے اس دعویٰ کا ثبوت اس معاہدہ سے ہوسکتا ہے جو پنڈت لیکھرام اور مرزا قادیانی کے درمیان پیش گوئی کے خاتمہ کے متعلق ہوا تھا۔ جسے خود مرزا قادیانی نے بھی شائع کیا تھا۔ آپ کے الفاظ میں معاہدہ مذکور کی عبارت یہ ہے:

395

’’وہ معاہدہ جو نشانوں کے دیکھنے کے لئے اس راقم (مرزا) اور لیکھ رام کے مابین تحریر پایا تھا … اس معاہدے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی پیش گوئی لیکھ رام کو بتلائی جائے اور وہ سچی نہ ہو تو وہ ہندو مذہب کی سچائی کی دلیل ہوگی اور فریق پیش گوئی کرنے والے پر لازم ہوگا کہ آریہ مذہب کو اختیار کرے یا تین سو ساٹھ روپیہ لیکھ رام کو دے دے … اور اگر پیش گوئی کرنے والا سچا نکلے تو اسلام کی سچائی۱؎کی یہ دلیل ہوگی اور پنڈت لیکھرام پر یہ واجب ہوگا کہ مذہب اسلام قبول کرے۔ پھر اس کے بعد وہ پیش گوئی بتلائی گئی جس کی رو سے ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو لیکھ رام کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔‘‘

(استفتاء ص۹ خزائن ج۱۲ ص۱۱۷)

ناظرین کرام! یہ معاہدہ صاف بتا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کی الہامی پیش گوئی کا وقوع ایسے طریق پر ہونا چاہئے تھا کہ پنڈت لیکھ رام اسلام قبول کرسکتا۔ یعنی زندہ رہتا۔ پس اس کا مر جانا یا مارا جاناپیش گوئی کی تصدیق نہیں بلکہ تکذیب کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے لئے اسلام قبول کرنے کا موقع ہی نہ رہا۔ یہ ہے مرزا قادیانی کا استدلال اور ہماری طرف سے اس کا ابطال۔ اس پیش گوئی کی تفصیل ہمارے رسالہ ’’لیکھ رام اور مرزا‘‘ میں ملاحظہ ہو۔

۱۲ … نیستی سے ہستی کا ثبوت

فلاسفہ یونان اور براہم ہند پیدائش دنیا کے سلسلہ میں قدامت مادہ کے قائل رہے ہیں۔ یعنی وہ نیستی سے ہستی نہیں مانتے۔ موجودہ آریہ لوگ بھی انہی کے ہم خیال ہیں کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی۔ مرزا قادیانی ان سب کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’جب سے خدا نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب درعجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء اور لایدرک ہیں۔ تب سے میں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں پکے کافر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہریہ خیال کرتا ہوں۔ میرا خود ذاتی مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خداتعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ ان کو نیستی سے

۱؎ کیسی غلط شرط ہے۔ مرزا قادیانی کی یا کسی اور ملہم کی پیش گوئی غلط ہونے سے یہ نتیجہ تو نکل سکتا ہے کہ پیش گوئی کرنے والا جھوٹا ہے۔ لیکن اس سے یہ ثابت کرنا یا اسے تسلیم کرنا کہ ہندو مذہب سچا ہے کسی قابل مصنف کا کام نہیں۔ مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو!

396

ہستی کہیں اور کوئی نام ان کا ہم رکھ نہیں سکتے… اس کی قدرت کا یہ راز ہے کہ وہ نیست سے ہست کرتا ہے۔ جیسا کہ اس بات پر ہزارہا نمونے ہماری نظر کے سامنے ہیں۔ بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کے پھل جیسے جیسے پکتے جاتے ہیں وہ پردار کیڑوں کی طرح بنتے جاتے ہیں اور بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے اور اس کی نظیریں ہزارہا ہیں نہ صرف ایک دو۔ پس اس جگہ بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ نیستی سے ہستی ہے اور یہ ایک ایسا راز قدرت ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۶۹ خزائن ج۲۳ ص۲۸۲، ۲۸۱)

منقد: ہم حیران ہیں کہ اس کو مخالف کے دعویٰ کی تردید کہیں یا تسلیم۔ مرزا قادیانی کے مریدوں کو اس پر خاص توجہ کرنی چاہئے۔ نہ بحیثیت مرید جس کا اصول ہو کہ:

  1. پیر من خس است

    اعتقاد من بس است

بلکہ ایک متحقق متکلم کی طرح سوچنا چاہئے۔ مرزا قادیانی نے جو مثالیں پیش کی ہیں ان میں نیستی سے ہستی کا ثبوت ملتا ہے یا ہستی سے ہستی کا؟ پھلوں وغیرہ میں کیڑے مہیا ہوناتو مادے کا ثبوت دے رہا رہے۔ آریہ کہہ سکتے ہیں کہ پھل وغیرہ تو بجائے خود کیڑوں کی پیدائش کے لئے مادہ کا حکم رکھتے ہیں۔ ہمارے خیال میں مرزا قادیانی بدن کی جوئوں اور چارپائی کے کھٹملوں کی مثالیں پیش کرتے تو مذکورہ بالا مثال سے اچھا ہوتا۔ گو یہ بھی اس شعر کا مصداق ہوتا:

لطیفہ: مذکورہ بالا اقتباس میں مرزا قادیانی فلاسفروں پر بہت خفا نظر آتے ہیں۔ چنانچہ آپ ان کا نام پکے کافر رکھتے ہیں۔ لیکن آگے چل کر آریوں کے اعتراض متعلقہ شیطان کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انسان کے دل میں دو قسم کے القا ہوتے ہیں۔ ایک نیک، دوسرا بد۔ نیک القا کی تحریک فرشتہ کی طرف سے ہوتی ہے اور بد القا کی تحریک شیطان کی طرف سے۔ پھر اپنی دلیل کی تائید یا پشتیبانی انہی پکے کافروں کے قول سے کرتے ہیں۔

چنانچہ آپ لکھتے ہیں ’’قدیم عقل مندوں اور فلاسفروں نے مان لیا ہے کہ القاء کا مسئلہ بیہودہ اور لغو نہیں ہے۔ بے شک انسان کے دل میں دو قسم کے القاء ہوتے ہیں۔ نیکی کا القاء اور بدی کا القاء۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۸۰، ۲۸۱ خزائن ج۲۳ ص۲۹۴)

397

منقد: مجھے خیال آتا ہے کہ یہ پکے کافر (فلاسفر) مرزا قادیانی کا یہ اقتباس دیکھ کر بڑے ترنم سے یہ شعر پڑھیں گے:

  1. وفا کے واسطے میری تلاش ہوتی ہے

    کوئی زمانہ میں جب دوسرا نہیں ملتا

۱۳ … اہل زمانہ کی حالت سے استدلال

مرزا قادیانی نے اس استدلال میں بہت طوال سے کام لیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عوام کی گمراہی کے علاوہ علماء اسلام اور امراء اسلام کی بداعمالیاں میرے مبعوث ہونے کے اسباب ہیں۔ میری پیش گوئیاں اور دعائیں اور مخالفین کے ساتھ میرے مباہلے میری صداقت کے نشانات ہیں۔ چنانچہ آپ کی طویل عبارت کو ہم بالاختصار چند نمبروں میں پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

۱… ’’عوام الناس میں جس قدر بد رسمیں پھیلی ہوئی ہیں جو مخلوق پرستی تک پہنچ گئی ہیں۔ ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض پیر پرستی میں اس قدر حد سے بڑھ گئے ہیں جو اپنے پیروئوں کو معبود قرار دے لیا ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۱ خزائن ج۲۳ ص ۳۲۶)

۲… ’’وہ لوگ جو پیر اور سجادہ نشین کہلاتے ہیں اکثر لوگوں میں ان میں سے بدعملی حد سے بڑھ گئی ہے اور وہ لوگ خداتعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ اپنی طرف بلاتے ہیں اور اکثر ان میں بڑے چالاک اور دین فروش ہوتے ہیں۔‘‘

(حوالہ مذکور)

۳… اکثر علماء کے کام ملونی سے خالی نہیں ہیں۔ وہ علوم نبویہ کے وارث کہلاتے ہیں۔ مگر ان پاک علوم کے خلاف کام کرتے ہیں۔ روحانیت اور اخلاص اور صدق وفا سے کچھ بھی ان کو خبر نہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۲ خزائن ج۲۳ ص۳۲۶)

۴… ’’اس زمانہ میں اسلام کے اکثر امراء کا حال سب سے بدتر ہے۔ وہ گویا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور فسق وفجور کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ دین سے وہ بالکل بے خبر اور تقویٰ سے خالی اور تکبر اور غرور سے بھرے ہوتے ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱ خزائن ج۲۳ ص۷ ۳۲)

۵… ’’یہ تو اس زمانہ کے اکثر مسلمانوں کا اندرونی حال ہے اور جو بیرونی مفاسد پھیل گئے ہیں۔ ان کا تو شمار کرنا مشکل ہے۔ اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر مسلمانوں میں ایک آدمی بھی

398

مرتد ہوجاتا تھا تو گویا قیامت برپا ہوجاتی تھی۔ مگر اب اس ملک میں مرتد مسلمان جو عیسائی ہوگئے جنہوں نے اور مذہب اختیار کرلیا ہے۔ وہ دو لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی ادنیٰ اور اعلیٰ قوموں میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جس میں سے ایک گروہ عیسائی نہ ہوگیا ہو۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۲، خزائن ج۲۳ ص۳۲۷)

۶… ’’اس زمانہ میں جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے خدا نے مجھے اصلاح کرنے کے لئے مامور کرکے بھیجا اور میرے ہاتھ پر نشان دکھلائے… جو معجزات مجھے دئیے گئے۔ بعض ان میں سے وہ پیش گوئیاں ہیں جو بڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ ان کو بیان کرسکے اور بعض دعائیں ہیں جو قبول ہو کر ان سے اطلاع دی گئی اور بعض بددعائیں ہیں جن کے ساتھ شریر دشمن ہلاک کئے گئے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۳ خزائن ج۲۳ ص۳۲۸)

منقد: اس تقریر کو بطریق استدلال یوں سمجھنا چاہئے کہ چونکہ اس زمانہ میں بے شمار مفاسد پیدا ہوگئے تھے جو اس امر کے متقاضی تھے کہ کوئی مصلح آئے جو ان خرابیوں کی اصلاح کرے۔ اس بنا پر خدا نے مجھے مصلح اعظم بنا کر بھیجا ہے… میرے دعویٰ کی صداقت پر میری پیش گوئیاں میری دعائیں اور میرے وہ مباہلے گواہ ہیں جن کے اثر سے میرے دشمن ہلاک ہوگئے۔‘‘

ناظرین! مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت پر اپنی پیش گوئیوں سے جو استدلال کیا ہے وہ صحیح ہے۔ آپ کی پیش گوئیوں میں سے تین اہم پیش گوئیاں اس ملک کی تین بڑی قوموں سے متعلق تھیں۔ پہلی پیش گوئی کا تعلق مسلمانوں سے تھا۔ دوسری پیش گوئی عیسائیوں کے متعلق تھی، یہ بھی غلط ثابت ہوئی۔ تیسری پیش گوئی ہندوئوں کے متعلق تھی۔ ان سب کا تذکرہ اس رسالہ میں ہوچکا ہے۔ ان کے علاوہ مرزا قادیانی کی کچھ اور پیش گوئیاں بھی ہیں۔ ان سب کا ذکر ہماری کتاب الہامات مرزا وغیرہ میں ملتا ہے۔ جس میں آپ کی تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔ مباہلہ والی دلیل بھی غلط ہے۔ کیونکہ مباہلے کی صحیح تعریف جو فریقین میں مسلم ہے بالفاظ مرزا قادیانی یہ ہے ’’مباہلہ کے معنی لغت اور نیز شرعی اصطلاح کی رو سے یہ ہیں کہ دو فریق مخالف ایک دوسرے کے لئے عذاب اور خدا کی لعنت چاہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۲ حاشیہ ص۲۶ خزائن ج۱۷ ص۳۷۷)

399

اس تعریف کے ماتحت مرزا قادیانی کا مباہلہ صرف ایک ہی شخص (صوفی عبدالحق غزنوی) کے ساتھ بمقام امرتسر ماہ مئی ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا۔ جس کے نتیجہ میں مرزا قادیانی صوفی صاحب سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ البتہ مسئلہ دعا خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ مگر افسوس ہے کہ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کی دعا کی قبولت سے منکر ہوجاتی ہے۔ سنئے! آپ کی اہم اور مشہور دعا ہم پیش کرتے ہیں جس کی قبولیت کے متعلق بقول مرزا قادیانی ان کو خدا کی طرف سے الہام بھی ہوا تھا۔ اس کی سرخی مرزا قادیانی کی قلم سے یوں مرقوم ہے:

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

اس سرخی کے نیچے قرآن مجید کی ایک آیت لکھی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’یستنبئونک احق ہو قل ای وربی انہ لحق‘‘ اس آیت سے آپ کا مقصود یہ بتاتا ہے کہ میں نے مولوی ثناء اللہ کے حق میں جو دعا کی ہے۔ وہ بحکم خدا ضرور پوری ہو کر رہے گی۔ اس دعا کا خلاصہ یہ ہے:

’’مولوی ثناء اللہ صاحب! تم نے مجھے دکھ دیا دور دراز ملکوں میں مجھے بدنام کیا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ پس میں دعا کرتا ہوں کہ اے قادر مطلق خدا! ہم دونوں میں سچا فیصلہ فرما۔ تیری نظر میں جو جھوٹا ہے۔ اس پر سچے کی زندگی میں موت وارد کر۔‘‘ مرزا غلام احمد مسیح موعود ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء۔

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸، ۵۷۹)

اس کے بعد کے مرزا قادیانی کو الہام ہوا:’’اجیب دعوۃ الداع‘‘

(اخبار بدر قادیان ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء ملفوظات ج۹ ص۲۶۸)

پس مرزا قادیانی کی یہی ایک دعا ہے جس کی بابت ہمارا عقیدہ ہے کہ ضرور قبول ہوئی۔ مگر جماعت قادیانی اس کی قبولیت سے انکاری ہے۔

المختصر ساری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نہ مسیح موعود تھے، نہ مجدد زمان، نہ صاحب الہام۔ یہاں تک کہ قابل مصنف بھی نہ تھے۔ باوجود اس کے ان کے اتباع محض اپنی قلبی شہادت سے ان کو مسیح موعود، مجدد اور تصنیف میں سلطان القلم سمجھتے ہیں۔

ابوالوفا ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسری

400

بہاءاللہ اور مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

401

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

مرزا غلام احمد قادیانی مدعیٔ مہدویت اور مسیحیت کے متعلق ہم نے بتائیدہٖ تعالیٰ بہت سی کتابیں لکھیں۔ جن کے بعد ہم خود سمجھتے ہیں کہ کسی جدید کتاب کی ضرورت نہیں۔ تاہم آج ہم نے اس مضمون پر قلم اٹھایا ہے … کیوں؟

اس لئے کہ ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ دراصل شیخ بہاء اللہ ایرانی کے دعوے کی کاپی (نقل) ہے۔ مگر اس کو مستقل کتاب کی صورت میں ثابت نہیں کیا۔ صرف ایک مختصر سا نوٹ اخبار ’’اہل حدیث‘‘ مؤرخہ ۱۶؍مئی ۱۹۲۴ء میں لکھا تھا۔ جس کی سرخی تھی ’’مامورین کی چاریاری‘‘ اس میں بتایا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی دراصل شیخ بہاء اللہ ایرانی کے پیرو تھے۔ اس رسالہ میں ذرہ وضاحت سے لکھتے ہیں۔

نوٹ: مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید کے مضامین آج کل بکثرت شائع ہوتے ہیں۔ لیکن اس کتاب کا مضمون اچھوتا ہے۔ آج تک کسی مصنف نے ان دو مدعیان کا وحدتی نقطہ نہیں بتایا۔ امید ہے ناظرین بھی اس مضمون کو اچھوتا پائیں گے اور اپنے پرائوں میں اس کو پہنچا کر شکریہ کا موقع دیں گے۔

خادم دین اللہ

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسر پنجاب

ربیع الاوّل ۱۳۵۲ھ، جولائی ۱۹۳۳ء

402

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تمہید

ناظرین کو آگاہ کرنے کے لئے شیخ بہاء اللہ ایرانی اور مرزا قادیانی کی مختصر سوانح عمری بتانا مفید ہوگا۔

شیخ بہاء اللہ کا اصلی نام مرزا حسین علی ہے۔ ملک ایران میں ضلع طہران کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ آپ سے پہلے سید علی محمد باب نے دعویٰ مہدی ہونے کا کیا تھا۔ پہلے دونوں شیعہ مذہب تھے۔ بعد دعویٰ بانیٔ دین جدید ہوگئے۔ باب ۱۸۴۹ء میں فوت ہوا۔ اس کے بعد ان کے اتباع کی حالت پریشان رہی۔ حکومت ایران سخت مخالف تھی۔ بہائی سوانح نگار لکھتا ہے: ’’۱۸۵۲ء سے انتظام پورے طور پر حضرت بہاء اللہ نے کرنا شروع کیا۔ اپنی جماعت پریشان یا تو شروع سے مفلس وناداریا تمام مال ومتاع لوٹ لیا گیا۔ اکثر خوف زدہ یا آگ سے یا دودھ سے جلے ہوئے۔ زیادہ تر کم علم۔ جوشیلے عالم اور مولوی خلاف۔ دولت وسلطنت خلاف۔ عام خلق میں بدنام۔ مطعون اور نجس مشہور۔ اپنے ملک اور وطن سے دور۔ کریں تو کیا کریں۔ بارہ سال صبر واستقلال سے کام کیا کہ پھر مصیبت ٹوٹی۔ نظر بندی میں سختی ہوئی۔ بالآخر جیل خانہ (بمقام مکہ زیر حکومت ترکیہ) میں ڈال دئیے گئے اور چوبیس سال تک قید رہے۔ ۱۸۹۲ء میں پچھتر سال کی عمر میں (بہاء اللہ نے) انتقال کیا۔‘‘

کچھ شک نہیں کہ آزادی کے زمانہ میں شیخ بہاء اللہ کو حکومت اور پبلک کی طرف سے سخت سے سخت تکالیف آئیں جن کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ آزاد رہنے سے مقید رہنا ان کے حق میں اچھا تھا۔

غرض چالیس سال تبلیغ رسالت خود کرکے دنیا چھوڑ گئے۔ ان کے بعد ان کا بیٹا عبدالبہاء آفندی جانشین ہوا۔ جس کی آخری شبیہ سرسید احمد خان مرحوم علی گڑھی کے مشابہ ہے۔ اس کے بعد بھی انتظام باقاعدہ چل رہا ہے۔

نوٹ:آج بھی بہائیوں کی جماعت کافی ہے۔ جو امریکہ، یورپ، ایران اور ہندوستان کے مختلف مقامات میں پھیلی ہوئی ہے۔

403

سوانح عمری مرزا قادیانی

مرزا قادیانی اپنی تحریر کے مطابق ۱۲۶۰ھ میں پیدا ہوئے۱؎ تھوڑی سی فارسی اور تھوڑی سی عربی کی صرف نحو پڑھی۔ ۲؎جوانی میں بمقام سیالکوٹ پندرہ روپے ماہوار پر محرر ہوئے۔ اسی اثناء میں قانونی مختاری کا امتحان دیا۔ اس میں فیل ہوئے۔ پھر تصنیف وتالیف پر متوجہ ہوئے۔ اسی اثناء میں الہامات کا اعلان کیا۔ یہاں تک کہ ۱۳۰۸ھ میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ۳؎ کیا۔ مگر نبوت سے منکر تھے۔ دن بدن ترقی کرتے کرتے ۱۹۰۱ء میں بذریعہ ایک اشتہار ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ اپنی نبوت کی تشریح فرمائی کہ براہ راست نہیں ہے بلکہ بہ برکت اتباع نبوت محمدیہ(a) مجھے نبوت ملی ہے۔ اس کے بعد ۱۳۲۶ھ مطابق مئی ۱۹۰۸ء میں ہیضہ۴؎ سے انتقال کر گئے۔

مفصل سوانح مرزا ہماری کتاب ’’تاریخ مرزا‘‘ (بشمولہ احتساب قادیانیت جلد۸) میں ملاحظہ ہوں۔

باب اوّل… دعویٰ رسالت

شیخ بہاء اللہ نے رسالت مستقلہ کا دعویٰ کیا تھا۔ جس کا ثبوت ان کی تحریرات سے مختلف الفاظ میں ملتا ہے۔ صاف الفاظ میں بلفظ ’’رسول‘‘ بہاء اللہ نے اپنے آپ کو خدا کی طرف سے مخاطب کیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

۱…’’یارسول یذکرک مالک الوجود‘‘(کتاب اقدس ص۵۳)

(اے رسول (بہاء اللہ ) اللہ تم کو یاد کرتا ہے)

۲… ناظرین جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں ایک خاص طرز خطاب ہے جو کسی دوسری الہامی کتاب میں نہیں۔ یعنی آںحضرتa کو بصیغۂ امر مخاطب کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کلام کا متکلم کوئی اور ہے اور آنحضرتﷺ بحیثیت رسالت اس کے مخاطب ہیں۔

۱؎ (تریاق القلوب ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳)

۲؎ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۳؎ (فتح اسلام ص۱۰،۱۱، خزائن ج۳ ص۸)

۴؎ (خطبات نوریہ حصہ دوم ص۲۶۵، ۲۶۸۔ حیات ناصر ص۱۴)

404

جیسے ’’قل‘‘ شیخ بہاء اللہ بھی اپنی کتاب میں اللہ کی طرف سے بصیغۂ ’’قل‘‘ مخاطب ہوتا ہے۔ منجملہ ان مقامات کے بطور مثال چند مقام یہ ہیں:

’’قل یا ملاء الامکان تا اللہ قد فتح باب السماء‘‘

(کتاب اقدس ص۵۶)

’’قل ہذا یوم بشر بہ محمد رسول اللہ ‘‘

(کتاب اقدس ص۵۷)

’’قل یا معشرالعلماء لم اعرضتم‘‘

(کتاب اقدس ص۵۹)

۳… شیخ بہاء اللہ کو علی اکبر کے نام سے خطاب ہے:

’’اے علی اکبر! لوگوں کو اپنے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کر۔ کہہ کہ اے بندو! اگر تم میں انصاف ہے تو اس امر کی تصدیق کرو۔‘‘

(تجلیات اردو ص۴)

۴… شیخ بہاء اللہ کے صاحبزادے (خلیفۂ اوّل) عبدالبہاء نے صاف لکھا ہے کہ: ’’بہاء اللہ کی رسالت مثل حضرات موسیٰ، عیسیٰ، محمدo مستقلہ تھی۔‘‘

(مفاوضہ عبدالبہاء ص۱۵۰)

نوٹ: اس مقام کی اصلی عبارت باب دوم کتاب ہذا میں درج ہوگی۔

دعویٰ رسالت مرزا قادیانی

اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بہاء اللہ کی مشکلات محسوس کرکے دعویٰ رسالت میں ان سے آسان راستہ اختیار کیا وہ یہ ہے: ’’میں (مرزا) مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کرکے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔‘‘

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰، ۲۱۱)

مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ میں (مرزا) رسالت محمدیہ کے اتباع سے رسول بنا ہوں۔ اس پر یہ سوال مقدر ہوا کہ اتباع رسالت محمدیہ میں تو پہلے لوگ زیادہ مضبوط اور راسخ تھے۔ پھر وہ رسول اور نبی کیوں نہ ہوئے؟ اس کا جواب مرزا قادیانی نے دیا ہے: ’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیا اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱ خزائن ج۲۲ ص۴۰۶، ۴۰۷)

ایک مقام پر اپنی نبوت ورسالت کی توضیح کرتے ہیں: ’’ہمارا (مرزا کا) دعویٰ ہے

405

کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے خداتعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷، اخبار بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء)

ناظرین کی آسانی کے لئے ہم ایک مثال دیتے ہیں:

حضرت موسیٰؑ اولوالعزم رسول تھے۔ جب ان کو خلعت رسالت سے سرفراز کیا گیا تو آپ نے دعا کی کہ خداوند! میرا بھائی مجھ سے زیادہ فصیح ہے اس کو بھی رسول بنائیے تاکہ ہم مل کر کام کریں۔ خدا کی طرف سے جواب ملا: ’’لقد اوتیت سؤلک یاموسٰی (طہ:۳۶)‘‘اے موسیٰ تمہارا سوال تم کو دیا گیا۔

اس مثال میں حضرت موسیٰ مستقل رسول ہیں اور حضرت ہارون ان کے طفیل رسول ہیں۔ مگر نتیجہ دونوں کا ایک ہے۔ جیسا حضرت موسیٰؑ کا انکار کفر ہے، حضرت ہارون کا انکار بھی کفر ہے۔

ٹھیک اسی طرح شیخ بہاء اللہ کا دعویٰ مثل موسیٰؑ مستقل رسول ہونے کا ہے اور مرزا قادیانی کا مثل ہارونm طفیلی ہونے کا ہے۔ مگر مرتبہ نبوت میں برابر ہیں۔ اسی لئے مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’میرا منکر مسلمان نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، ۱۶۴ حاشیہ خزائن ج۲۲ ص۱۶۷، ۱۶۸)

ان دونوں دعوئوں میں فرق

کچھ شک نہیں کہ بہاء اللہ کا دعویٰ رسالت مستقلہ کا تھا جس میں صاحب رسالت بحکم خدا احکام شریعہ بغیر اتباع شریعت سابقہ کے پہنچاتا ہے۔ مرزا قادیانی رسالت مستقلہ کے نہیں بلکہ (ابتدائً) رسالت تبعیہ کے مدعی تھے۔ کیوں کہ آپ نے دیکھا تھا کہ شیخ بہاء اللہ کو دعویٰ مستقلہ میں بہت تکلفات اور سخت تکالیف پیش آئیں۔ اس لئے آپ نے بغرض آسانی یہ درجہ ایجاد کرکے اپنے لئے اختیار کیا۔

شیخ بہاء اللہ کل انبیاء کرام کا موعود تھا

مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ میری بابت کل انبیاء سابقینo نے پیش گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ مرزا موصوف اس دعویٰ میں بھی شیخ ایرانی کے پس رو ہیں۔ شیخ ایرانی

406

لکھتے ہیں:’’قل یا ملاء الفرقان قد اتی الموعود الذی وعدتم بہ فی الکتاب اتقو اللہ ولا تتبعوا کل مشرک اثیم‘‘

(الواح مبارکہ عربیہ ص۲۳۵)

ترجمہ: اے جماعت قرآن والوں کی وہ موعود تمہارے پاس آگیا جس کا تم کو کتاب سماوی میں وعدہ دیا گیا تھا۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور کسی مشرک بدکار کا کہا نہ مانو۔

مرزا قادیانی اسی تتبع میں لکھتے ہیں: ’’میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشان ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ج اول ص۵۱)

ناظرین کرام! دونوں صاحبوں کو الفاظ سے قطع نظر کرکے اصل مضمون میں متحد پائیں گے کہ یہ دونوں صاحب مدعی ہیں کہ انبیاء سابقینo نے ہماری بابت وعدہ دیا ہوا ہے۔ (کیا اچھا ہو کہ ان دونوں صاحبوں کے اتباع ہم کو انبیاء سابقین کے وعدے دکھائیں تاکہ ہم بھی ان سے مستفید ہوں)

شیخ بہاء اللہ سب سے اعلیٰ اور افضل تھے

مرزا قادیانی نے از ہمہ اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ بھی دراصل بہاء اللہ سے حاصل کیا ہے۔ شیخ بہاء اللہ لکھتے ہیں: ’’ہذا یوم لو ادرکہ محمد رسول اللہ لقال قد عرفناک یا مقصود المرسلین ولو ادرلہ الخلیل لیضع وجہہ علی التراب خاضعاً ﷲ ربک ویقول قد اطمائن قلبی یا الٰہ من فی ملکوت السموات والارضین‘‘

(الواح مبارکہ عربیہ مصنفہ بہاء اللہ ص۹۴)

ترجمہ: یہ میرا وقت وہ زمانہ ہے اگر محمد رسول اللہ اسے پاتے تو (مجھے مخاطب کرکے) کہتے اے مقصود المرسلین ہم نے تجھے پہچان لیا اور اگر ابراہیم خلیل اللہ اسے پاتے تو اللہ کے سامنے عاجزی سے مٹی پر منہ رکھ کر کہتے کہ اے آسمان اور زمینوں کے معبود (اس بہاء اللہ کو دیکھ کر) میرا دل مطمئن ہوگیا۔‘‘

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے

’’آسمان سے کئی تخت اترے پر (اے مرزا) تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۹ خزائن ج۲۲ ص۹۲)

407

مضمون بالکل واضح ہے کہ مقربان میں سے تو (اے مرزا) سب سے اونچا ہے اسی دعوے کی مزید تشریح ایک اور مقام میں ملتی ہے جہاں لکھتے ہیں: ’’ان قدمی ہذہ علی منارۃ ختم علیہا کل رفعۃ‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص ۷۰)

’’یعنی میرا (مرزا قادیانی کا) قدم اس منارہ پر ہے جس پر ہر قسم کی بلندیاں ختم ہیں (یعنی سب میرے نیچے ہیں)‘‘

ناظرین! ان دونوں صاحبوں کے اختلاف الفاظ کو نظر انداز کرکے دیکھیں کہ قادیانی نبی، ایرانی رسول سے مضمون کیسے اخذ کرتا ہے۔

دعویٰ ربوبیت یا عکس ربوبیت اور لیلۃ القدر کی حقیقت

مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا کے آنے سے مراد میں ہوں۔ یہ دعویٰ بھی قادیانی نے مرزا ایرانی سے اخذ کیا ہے۔ ایرانی صاحب نے اس کے متعلق بالتصریح لکھا ہے۔ ان کی فارسی عبارت کا ترجمہ بہائیوں نے خود شائع کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’جو کوئی ان روشنی دینے والے ومقدس انوار اور روشن وچمکتے ہوئے آفتابوں سے فائز وموفق ہوجاتا ہے وہ گویا دیدار خدا حاصل کر لیتا ہے اور مدینہ حیات ابدی میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ دیدار قیامت کے سوا اور کسی وقت حاصل نہیں ہوسکتا۔ یعنی اس وقت جب کہ نفس اللہ اپنے مظہر کلی میں قیام کرتا ہے اور یہی اس قیامت کے معنی ہیں۔ جس کا ذکر سب کتابوں میں آیا ہے اور جس دن کی سب نے بشارت دی ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ کیا اس دن سے زیادہ کوئی دن بڑا برتر یا بزرگ خیال میں آسکتا ہے کہ انسان ایسے دن کو ہاتھ سے گنواتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے فیوض سے جو حضوریٔ رحمن سے ابرنیسان کی طرح جاری ہیں محروم رکھتا ہے۔

اب جب کہ اس پوری پوری دلیل سے ثابت ہوگیا کہ کوئی دن اس دن سے بڑا اور کوئی امر اس امر سے برتر نہیں اور باوجود ان تمام محکم وپکی دلیلوں کے جن سے کوئی عقل مند گریز نہیں کرسکتا اور کوئی عارف منکر نہیں ہوسکتا۔ انسان کیوں اہل وہم وگماں کے پیچھے لگ کر خود کو اس فضل اکبر سے مایوس کرتا ہے۔ کیا اس مشہور روایت کو نہیں سنا کہ فرمایا ہے ’’اذا قام القائم قامت القیامۃ‘‘اسی لئے ائمہ ہدیٰ اور ان نا مٹنے والے انور نے اس آیت کی تفسیر ’’ہل ینظرون الّا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام‘‘ جسے قیامت میں واقع

408

ہونے والے یقینی امور میں سے شمار کرتے ہیں۔ حضرت قائم (بہاء اللہ ) اس کے ظہور سے کی ہے۔ پس اے برادر قیامت کے معنوں کو سمجھ اور ان مردود لوگوں (مسلمانوں) کی باتوں سے کانوں کو پاک کر۔ اگر ذرا عوالم انقطاع میں قدم رکھے تو پکار اٹھے کہ اس دن سے بڑا دن اور اس قیامت سے بڑی قیامت کوئی نہیں۔ آج کے دن ایک عمل ہزارہا سال (مراد لیلۃ القدر) کے اعمال کے برابر ہے بلکہ اس تحدید سے خدا کی پناہ اس دن کا عمل جزائے محدود سے مقدس ہے۔ مگر یہ بیہودہ لوگ (مسلمان) قیامت ودیدار خدا کے معنی نہ سمجھنے کے باعث اس کے فیض سے بالکل پس پردہ ہورہے ہیں۔‘‘

(ایقان ص۱۸۳، تا ۱۸۵)

ناظرین! اس اقتباس میں شیخ بہاء اللہ نے چار دعوے کئے ہیں:

۱… ایک یہ کہ ’’یوم یقوم الناس لرب العالمین‘‘ سے مراد میرا زمانہ ہے۔

۲… دوسرا لقاء اللہ سے مراد میں ہوں۔

۳… تیسرا یہ کہ آیت خاتم النّبیین کی انتہا میرے زمانہ تک ہے۔

۴… چوتھا لیلۃ القدر کی تفسیر کہ وہ میرا زمانہ ہے۔

دوسری ایک کتاب میں بھی اپنے وجود کو لقاء اللہ قرار دے کر لکھتے ہیں:

’’تمام کتب الٰہی میں وعدہ لقاء صریحاً تھا اور ہے اور اس لقاء سے مقصود حق جل جلالہٗ کے مشرق آیات اور مطلع بیّنات اور مظہر اسماء حسنیٰ اور مصدر صفات علیا کی لقاء ہے۔ حق بذات خود و بنفس خود غیب ، منبع لایدرک ہے۔ پس لقاء سے مراد اس نفس کی لقاء ہے جو بندوں کے درمیان خدا کا قائم مقام (بہاء اللہ ) ہے اور اس کی بھی نظیر ومثال نہیں ہے۔‘‘

(لوح ابن ذنب ص۸۶۱)

نوٹ: خاتم النّبیین پر بحث آئندہ دوسرے باب میں آئے گی۔

مرزا قادیانی نے بھی کئی جگہ اسی قسم کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک مقام کے الفاظ یہ ہیں:

’’میرے (مرزا کے) وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا۱؎آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے ’’یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام‘‘ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۴، طبع قدیم)

۱؎ اس اردو کے ہم ذمہ دار نہیں۔ (مصنف)

409

ناظرین! بغور ملاحظہ کریں کہ مضمون دونوں صاحبوں کا ایک بلکہ دلیل میں آیت بھی ایک۔ فرق یہ ہے کہ ایرانی نے آیت صحیح لکھی مگر قادیانی نے غلط لکھی۔

نوٹ: قادیانی غلط نویسی کی ایک مثال نہیں، کئی ایک ہیں۔ جن کے ذکر کا موقع نہیں۔

لیلۃ القدر: کی بابت بھی مرزا قادیانی کے الفاظ درج ذیل ہیں۔ فرماتے ہیں:

’’بھائیو! یہ تو ضروری ہے کہ تاریکی پھیلنے کے وقت میں روشنی آسمان سے اترے۔ میں اسی مضمون میں بیان کر چکا ہوں کہ خداتعالیٰ سورۃ القدر میں بیان فرماتا ہے۔ بلکہ مؤمنین کو بشارت دیتا ہے کہ اس کا کلام اور اس کا نبی لیلۃ القدر میں آسمان سے اتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجدد جو خداتعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلۃ القدر میں ہی اترتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلۃ القدر اس ظلماتی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلۃ القدر رکھا گیا ہے مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے۔ نبی کی وفات یا اس کے روحانی قائم مقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گزر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے۔ تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی مصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخم ریزی ہوجاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لئے اندر ہی اندر تیار ہو رہتے ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے کہ ’’لیلۃ القدر خیرمن الف شہر‘‘یعنی اس لیلۃ القدر کے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اسّی ۸۰ برس کے بوڑھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کو نہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پالیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینہ سے بہتر ہے جو پہلے گزر چکے۔ کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اس لیلۃ القدر میں خداتعالیٰ کے فرشتے اور روح القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں۔ نہ عبث طور پر بلکہ اس لئے کہ تا مستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں۔ سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کے اٹھانے میں مشغول رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ظلمت غفلت دور ہوکر صبح ہدایت نمودار ہوجاتی ہے۔‘‘

(فتح اسلام ص۵۴، ۵۵ خزائن ج۳ ص۳۲، ۳۳)

410

دونوں صاحبوں کا مضمون دراصل ایک ہی ہے، الفاظ مختلف ہوں تو مضائقہ نہیں۔

مزید ترقی: مرزا قادیانی نے مزید ترقی کی ہے کہ آیت ’’والیوم الموعود وشاہد ومشہود‘‘ بھی اپنے حق میں لگائی ہے۔ اس مضمون کی ایک تحریر کسی دوسرے شخص کی طرف سے اپنے حق میں بطور تصدیق نقل کی ہے جو یہ ہے: ’’یوم الموعود یہی زمانہ ہے اور مشہود سے مراد حضرت امام الزماں مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں اور شاہد وہ لوگ ہیں جو خداتعالیٰ کی طرف سے جناب ممدوح کی صداقت پر گواہی دیں گے۔‘‘

(اعلان حق نمبر۱، ص۸ ملحقہ بحقیقت الوحی خزائن ج۲۲ ص۴۱۹ حاشیہ)

ناظرین غور فرمائیں یہ دونوں صاحبان متوازی خطوط کی طرح کہاں تک مساوی چل رہے ہیں اور کیا کیا رنگ دکھا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں:

  1. جذبۂ عشق بحدیست میان من وتو

    کہ رقیب آمد ونشناخت نشان من وتو

دعویٰ جامعیت انبیاء کرام

مرزا قادیانی نے کئی جگہ دعویٰ کیا ہے کہ میں انبیاء کرام کا جامع ہوں۔ یہ مضمون بھی دراصل شیخ بہاء اللہ ایرانی سے لیا ہے۔ ایرانی صاحب نے ایک نظریہ بتایا ہے کہ جملہ انبیاء کرام دراصل ایک ہیں۔ آدم، نوح الیٰ محمدo دراصل ایک ہی شخص ہے۔ اس لئے سب سے اخیر جو آئے وہ اپنے پہلوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ’’وما امرنا الّا واحدۃ‘‘پس جب امر واحد ہے تو امر کے ظاہر کرنے والے بھی واحد ہی ہوں گے۔ ایسی ہی دین کے اماموں ویقین کے چراغوں نے فرمایا ہے ’’اوّلنا محمد وآخرنا محمد واوسطنا محمد‘‘ مختصراً۔ یہ تو آں جناب کو معلوم ہوگیا کہ کل نبی امر اللہ کی ہیاکل ہیں جو مختلف لباسوں میں ظاہر ہوئی تھیں اور اگر آپ گہری نگاہ سے دیکھیں تو سب کو ایک ہی باغ میں بیٹھے، ایک ہی ہوا میں اڑتے، ایک ہی فرش پر جلوہ نما اور ایک حکم کے حکم دینے والے پائیں۔ یہ ہے ان جواہر وجود اور غیر محدود ان گنت آفتابوں کی یگانگت۔ پس اگر ان تقدیس کے مظاہر میں سے ایک فرمائے کہ میں کل نبیوں کی رجعت ہوں تو درست ہے اور اسی طرح ہر پچھلے ظہور کے لئے پہلے ظہور کی رجعت ثابت ہے۔ پس جب نبیوں کی رجعت آیتوں اور روایتوں سے ثابت ہوگئی تو ان کے اولیاء کی رجعت بھی ثابت ومحقق ہے اور یہ رجعت ایسی ظاہر ہے کہ دلیل وبرہان کی محتاج نہیں۔‘‘

(ایقان ص۱۹۷)

411

اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ہر پچھلے نبی میں پہلے نبی کی صفات رجوع کر آتی ہیں۔ کیوں کہ امر یعنی ہدایت ایک ہی ہے۔ پس پچھلا نبی پہلے نبی کی صفات کا جامع ہوتا ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ ہے کہ میں سب نبیوں کا موعود اور جامع ہوں۔

اب سنئے مرزا قادیانی کا دعویٰ، صاف فرماتے ہیں:

  1. میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳ خزائن ج۲۱ ص۱۳۳)

فارسی میں فرماتے ہیں:

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳ خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

یہ بھی فرماتے ہیں:

  1. آں چہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ۱۸ص۴۷۷)

ناظرین کرام! غور فرمائیے کہ ایرانی نے جو لکھا وہی مرزا قادیانی نے اپنے حق میں لیا کچھ کمی کی؟

جہاد کا حکم منسوخ

مرزا قادیانی نے منسوخیٔ جہاد کا اعلان کیا ہوا ہے۔ یہ بھی دراصل شیخ بہاء اللہ ایرانی سے اخذ کیا ہے۔ جس کے متعلق بہاء اللہ ایرانی کے الفاظ یہ ہیں:

’’پہلی بشارت جو اس ظہور اعظم (بہاء اللہ کے وجود) میں ام الکتاب سے جملہ اہل عالم کو عنایت ہوئی ہے وہ خداتعالیٰ کی اس کتاب سے جس کے ساتھ آسمان اور زمین والوں پر فضل کا دروازہ کھولا ہے جہاد کے حکم کو مٹانا ہے۔‘‘

(بشارت ص۱)

اس مضمون کو مرزا قادیانی نے بڑی اہمیت سے نظم میں شائع کیا ہے جس کے چند ابیات یہ ہیں:

دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ مسیح موعود کی طرف سے

  1. اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

  2. اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے

    دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

412
  1. اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے

    اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

  2. دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

    منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

  3. کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو

    جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو

  4. کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر

    کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

  5. فرما چکا ہے سید کونین مصطفیؐ

    عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التواء

  6. جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا

    جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا

  7. پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند

    کھیلیں گے بچے سانپوں سے بیخوف بیگزند

  8. یعنی وہ وقت امن کا ہوگا نہ جنگ کا

    بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر وتفنگ کا

  9. یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا

    وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا

  10. اک معجزہ کے طور سے یہ پیش گوئی ہے

    کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

  11. القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشان

    کر دے گا ختم آکے وہ دین کی لڑائیاں

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۶، ۲۷ خزائن ج۱۷ ص۷۷، ۷۸)

ناظرین کرام! ان دونوں صاحبان کا فتویٰ ملاحظہ کرکے فیصلہ دیں کہ قادیانی، ایرانی کے مقتدی ہیں یا ایرانی قادیانی کے؟ ہم سے پوچھیں ہم تو یہی کہیں گے کہ یہ دونوں متوازی خطوط کی طرح جارہے ہیں۔ ہاں زمانہ کے لحاظ سے کہا جائے گا’’الفضل للمتقدم‘‘ ہم دونوں صاحبوں کی کتابوں کا بڑی محنت سے مطالعہ کرکے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مرزا قادیانی شیخ بہاء اللہ ایرانی کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں:

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی

تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگر

ہم نے اختصار کی نیت سے قادیانی دوستوں کی خاطر چند اصولی امور میں دونوں صاحبوں کا اتحاد اور توافق بتایا ہے۔ ورنہ مضمون طویل ہے۔ قادیانی دوستو!

  1. اند کی با تو بگفتم وبدل ترسیدم

    کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار ست

باب دوم… دعویٰ رسالت بہائیہ پر بحث

ہمارا دعویٰ ہے کہ شیخ بہاء اللہ نے دعویٰ رسالت کیا۔ اس دعوے میں ہماری

413

حیثیت بالکل وہی ہے جو یہود ونصاریٰ کے درمیان اسلام کی ہے۔ یہود حضرت مسیحؑ کو برا کہتے ہیں، مسیحی ان کی شان میں غلو کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں صحیح تعلیم دیتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح شیخ بہاء اللہ کے حق میں مرزائیہ امت کہتی ہے کہ انہوں نے الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ بہائی گروہ کہتا ہے کہ وہ خدائی کے مدعی نہ تھے۔ ہاں مدعیٔ نبوت بھی نہ تھے بلکہ نبوت ورسالت سے بلند رتبہ کے تھے۔ جس کا نام ان کی اصطلاح میں نباء عظیم اور لقاء ربانی ہے۔

ان دو فرقوں (قادیانیوں اور بہائیوں) کے ایسا کہنے سے ان کی اغراض مختلفہ وابستہ ہیں۔

بہائی غرض:قرآن شریف میں جو آیت خاتم النّبیین آئی ہے وہ اپنے زور بیان سے ہر ایک اپنے پرائے کو دعویٰ نبوت کرنے یا سننے سے روکتی ہے۔ شیخ بہاء اللہ تو دعویٰ نبوت کرکے گزر گئے۔ لیکن اتباع پر اس آیت کا اثر گراں تھا۔ اس لئے انہوں نے خود یا باشارہ شیخ ایک تاویل سوچی کہ آیت بھی بحال رہے اور شیخ موصوف کا دعویٰ بھی زد سے محفوظ رہے۔ انہوں نے یہ کہا کہ سلسلۂ انبیاء تو بے شک ختم ہے جس کے آنحضرتﷺ خاتم ہیں۔ مگر شیخ بہاء اللہ اس سلسلہ کی کڑی نہیں بلکہ سلسلہ انبیاء کے مقصود ہیں۔ یعنی انبیاء کرام اسی لئے دنیا میں تشریف لائے تھے کہ لوگوں کو بتائیں کہ سلسلۂ نبوت ختم ہوکر مقصود سلسلہ (بہاء اللہ ) پیدا ہوگا۔ اس کی مثال ہمارے لفظوں میں یہ ہے کہ مکان کی سیڑھی کے درجے ختم ہوکر مکان کی چھت آتی ہے۔ چھت سیڑھی نہیں بلکہ سیڑھی سے مقصود ہے۔ اسی طرح سلسلۂ نبوت سے اصل مقصود بہاء اللہ تھا۔ چوں کہ مقصود کا درجہ مبادی سے افضل ہوتاہے۔ اس لئے انبیاء کرام کے درجوں سے (علیٰ زعمہم) بہاء اللہ کو بلند درجہ بھی بنا لیا۔ ناظرین! اب ان کی تقریر انہی کے الفاظ میں پڑھئے جو آگے نقل ہے۔ ایڈیٹر صاحب ’’کوکب ہند‘‘ دہلی (بہائی مذہب کا رسالہ) لکھتا ہے: ’’رسل فرستادہ وکتب نازل فرمودہ تاکہ بصراط مستقیم فائز شوند واز برائے عرفان نباء عظیم در یوم قیام مستعد گردند ’’لہ الحمد والمنۃ ولہ الفضل والعطاء والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدالعالم ومربی الامم (محمد) الذی بہ انتہت الرسالۃ والنبوۃ وعلٰی اٰلہ واصحابہ دائماً ابداً سرمداً‘‘

(کتاب فردوس مصنفہ بہاء اللہ ص۲۹۲، ۲۹۳)

نبوت ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی خبر دینے کے ہیں۔ نبی کے معنی خبر دہندہ۔ اصطلاح شریعت میں وحی الٰہی پاکر خدائی خبریں دینے والے کو ہی نبی کہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ

414

ہے کہ اس وحی یا خبر کا انتہائی مقصد کیا ہے؟ خدا اپنے کلام معجز نظام میں فرماتا ہے ’’رفیع الدرجات ذوالعرش یلقی الروح من امرہ علٰی من یشآء من عبادہ لینذر یوم التلاق‘‘خدا رفیع الدرجات اور صاحب عرش ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی وحی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ بندے یوم التلاق (یعنی خدا کی ملاقات کے دن) سے ڈرائیں۔ اس آیۂ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم امکان میں خدا نے اپنے جتنے بندوں پر وحی نازل فرمائی سب وحیوں کا مدعائے منتہا انذار یوم التلاق یعنی خدا کی ملاقات کے دن سے ڈرانا تھا۔ یہ ہے علت غائی دور نبوت کی اور اسی مرکز کے گرد جملہ کتب مقدسہ طواف کررہی ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی مقدس کتاب میں لکھا ہے ’’فاستعد لقآء الٰہک یا اسرائیل (عاموس۲:۱۴)‘‘اے بنی اسرائیل تو اپنے اللہ کی ملاقات کے لئے تیار ہوجااس بیان کی قرآن کریم بدیں الفاظ تصدیق فرماتا ہے:

’’ثم اٰتینا موسی الکتاب تماماً علی الذی احسن وتفصیلاً لکل شیٔ وہدی ورحمۃ لعلّہم بلقاء ربّہم یؤمنون (الانعام: ۱۵۴)‘‘ پھر ہم نے موسیٰ کو مکمل کتاب دی جو جملہ خوبیوں پر مشتمل تھی اور ہر شئے کی اس میں تفصیل تھی اور ہدایت ورحمت تھی کہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔‘‘

عہد عتیق میں ’’فاستعد للقآء الٰہک‘‘کے الفاظ ہیں اور قرآن کریم میںبطور تصدیق وتائید ’’لعلم بلقاء ربہم یومنون‘‘وارد ہے۔ مدعا اور مقصود وہی ہے جو آیہ مبارکہ ’’لینذر یوم التلاق‘‘ میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ تمام وحیاں اسی غرض سے نازل ہوئیں کہ لوگ خدا کی ملاقات کے دن کے لئے تیار ہوجائیں۔ انجیل کے تو نام سے ہی ظاہر ہے کہ وہ آسمانی بادشاہت کے آنے کی بشارت ہے اور اس میں خداوند کے آنے کے مضمون کو بکثرت بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ یوں ارشاد ہوتا ہے ’’توبہ کرو اور رجوع لائو تاکہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں اور اس طرح خداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں‘‘ انہی دنوں کے تیاری اور آمد آمد کا ذکر خدا نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کیا ہے جو دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں۔

(اعمال رسل باب ۳)

پھر قرآن مجید میں فرمایا: ’’یدبرالامریفصل الاٰیات لعلکم بلقاء ربکم توقنون (الرعد:۲)‘‘تدبیر کرتا ہے اس امر کی اور آیات کی تفصیل کرتا ہے تاکہ تم اپنے

415

رب کی ملاقات پر یقین کرو۔ یعنی شریعت قرآن کو اللہ تعالیٰ پھیلاتا ہے اور استوارو محکم کرتا ہے اور اس کی آیات کی تفصیل کرتا ہے تم خدا کی ملاقات پر یقین کرلو۔ اس نبأ عظیم کی نبوت سیدنا خاتم النّبیین پر اس لئے ختم ہوگئی کہ بذات خود ظہور نبأ عظیم کا وقت آپہنچا۔ انبیاء جس قدر نبوتیں کرتے تھے، ان سب کی بنیاد یا نبأ عظیم لقاء ربانی ہی تھی۔ چنانچہ سب انبیاء یکے بعد دیگرے اپنی اپنی امتوں کو لقائے ربانی کی خبریں دیتے رہے۔ یہ لقائے ربانی خدا کے مظہر ظہور کی لقاء ہے۔ کیوں کہ خدائے غیب تو بذاتہ لایدرک ہے۔ لقائے ربانی کا وقت جو کتب مقدسہ میں بتایا گیا ہے وہ چوں کہ نبوت محمد رسول اللہ کے بعد ہے۔ اس لئے نبوت یعنی اخبارات وبشارات کا دور جمال احمدی علیہ التحیۃ والثناء پر ختم ہوا اور آپ کے خاتم النّبیین ہونے کا اعلان کردیا گیا تاکہ سب لوگ جان لیں کہ اخبارات وبشارات کا وقت اختتام کو پہنچ گیا اور اب کسی نبی کے لئے نبوت کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ بلکہ دور نبوت میں جس کی نبوت کی جارہی تھی یا یوں کہو کہ جس غرض کے لئے دور نبوت کا آغاز ہوا تھا۔ وہی غرض اب آشکار ہوگئی۔ یعنی اب وہ موعود جلوہ گر ہوگا جس کے اہل تورات یہوداہ اور رب الافواج کے نام سے منتظر تھے۔ وہ موعود جسے مسیحی روح الحق، خداوند اور آسمانی باپ یا مسیح کی آمد ثانی کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ موعود جس کے ظہور کو فرقان مجید نے آمد خدا، آمد رب، ظہور رحمن قرار دے کر اپنی امت کو اس کا منتظر بنایا تھا۔ اب وہ ظہور فرما ہوگا اور جملہ کتب مقدسہ کی روح از سر نوتازہ ہوجائے گی۔ کیوں کہ تمام کتابیں اسی ظہور اعظم ونباء عظیم کا طواف کررہی تھیں۔ زمانۂ نبوت وبشارت ختم ہوا۔ جادۂ مقصود کا وقت آگیا۔ ’’ہذا یوم فیہ ظہرالنباء العظیم الذی بشربہ اللہ والنّبیون والمرسلون‘‘(مجموعہ الواح مبارکہ ص۲۰۳ مصنفہ بہاء اللہ ایرانی) یہ وہ دن ہے جس میں اس نباء عظیم کا ظہور ہوا جس کی بشارت خدا نے اور تمام انبیاء ومرسلین نے دی تھی۔‘‘

(کوکب ہند، مارچ ۱۹۳۲ء ص۶،۷)

مصنف: یہ ہے بہائیوں کی تاویل اور یہ ہے ان کا عقیدہ۔ اس بیان سے صاف پایا جاتا ہے کہ آیت خاتم النّبیین کا پرزور بیان بہائیوں کو بھی سرتابی کا موقع نہیں دیتا۔ اس لئے انہوں نے نبوت سے اوپر خدا کے نیچے ایک درجہ غیر معلوم تجویز کیا جو قابل لحاظ ہے۔

ان کے مقابل جماعت قادیانیہ نے دعویٰ کیا کہ بہاء اللہ دراصل مدعیٔ الوہیت تھا۔

416

قادیانیوں کی اس دعوے سے غرض

مرزا قادیانی نے خود اور قادیانی جماعت نے بعد ازاں مرزا قادیانی کی نبوت کے اثبات میں یہ دلیل پیش کی کہ کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے ۲۳ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ مرزا قادیانی بعد دعویٰ ۲۳سال تک زندہ رہے۔ ثابت ہوا کہ آپ سچے تھے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ شیخ بہاء اللہ دعویٰ نبوت کے بعد چالیس سال زندہ رہا۔ حالاں کہ وہ تمہارے نزدیک بھی دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے۔ اس کے جواب میں قادیانیوں نے عذر پیدا کیا کہ بہاء اللہ نے دعویٰ نبوت نہیں کیا بلکہ دعویٰ الوہیت کیا ہے۔ قادیانی جماعت کی طرف سے ایک رسالہ مستقل اس مضمون کا نکلا۔ خلیفۂ قادیان کا قول ہے: ’’بہاء اللہ مدعیٔ الوہیت تھا وہ اپنے کلام کو ہی خدا کا کلام قرار دیتا تھا۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۲۳ نمبر۵ مئی ۱۹۲۴ء ص۳۱)

یہ بھی کہتے ہیں کہ دعویٰ الوہیت کرنے والا مارا نہیں جاتا۔ اس لئے بہاء اللہ مارا نہ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں دعوے انہی اغراض پر مبنی ہیں جو ہم نے ذکر کیں۔ ہم چوں کہ بے غرض ہیں اس لئے خدا لگتی اصل بات پیش کرتے ہیں۔

ہم نے ایک دفعہ شیخ بہاء اللہ کو مدعیٔ نبوت لکھا تھا تو بہائی رسالہ ’’کوکب ہند‘‘ نے ہم کو اصلاحات بہائیہ سے ناواقف کہہ کر واقفی حاصل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ (کوکب بابت جنوری ۱۹۳۱ء ص۱۵) ہمارے ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی ڈانٹا تھا جو بہاء اللہ کو مدعیٔ الوہیت کہتے ہیں، جیسے اہل قادیان۔

چنانچہ لکھا ہے: ’’بعض لوگ جو اس دور جدید کی نئی اصطلاحات پر غور نہیں کرتے وہ حقیقت کے سمجھنے سے بے بہرہ نظر آتے ہیں۔ چنانچہ اہل قادیان نے بھی بہائی اصطلاحات کو نہیں سمجھا اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بہائی حضرت بہاء اللہ کو خدا سمجھتے ہیں۔ اس غلط بیانی کی مفصل ومدلل تردید بارہا کوکب میں کی جاچکی ہے۔ بلکہ خود حضرت بہاء اللہ نے اس نافہمی کی صاف صاف تردید فرمادی تھی۔ جیسا کہ کتا ب مقدس لوح ابن ذہب میں مفصل بیان ہے۔ کتاب مقدس تجلیات میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ ہم پر دعوے الوہیت کا الزام لگاتے ہیں وہ ظالم اور اوہام پرست ہیں۔ مگر اہل قادیان پھر وہی الزام لگانے میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف جناب مدیر اہل حدیث حضرت بہاء اللہ کی طرف دعویٰ الوہیت تو منسوب نہیں

417

کرتے۔ مگر اپنے قدیم دائرہ خیال میں مقیّد ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں کہ حضرت بہاء اللہ نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں ہے اور نہایت تفصیل وتوضیح سے اس خیال کی غلطی کوکب ہند میں دکھائی جاچکی ہے۔ لیکن افسوس کہ جیسے اہل قادیان حضرت بہاء اللہ کی طرف دعویٰ الوہیت منسوب کرنے میں ضد سے کام لے رہے ہیں اسی طرح مولانا ثناء اللہ صاحب حضرت بہاء اللہ کی طرف دعویٰ نبوت ورسالت منسوب کرنے پر اصرار بے جا کررہے ہیں۔‘‘

(کوکب ہند بابت مارچ ۱۹۳۱ء ص۹)

ناظرین! ہم بھی اس تصنیف میں قادیانیوں کی طرح کوئی ذاتی غرض پنہاں رکھتے تو ایڈیٹر صاحب کوکب کی تحریر کو بہانہ بنا کر شیخ بہاء اللہ کی نسبت وہی دعویٰ منسوب کرتے جو قادیانی کرتے ہیں کہ وہ مدعیٔ الوہیت تھا۔ مگر ہم تو اپنا نصب العین خدا کی رضا کو جانتے ہیں۔ اس لئے ایماناً واحتساباً کہتے ہیں کہ شیخ بہاء اللہ الوہیت کا مدعی نہ تھا بلکہ رسالت مستقلہ کا مدعی تھا۔ ہمارے اس دعویٰ پر بہت سے صریحہ غیر مأدّلہ دلائل ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے:

’’میں نے اپنے آپ کو خود ظاہر نہیں کیا بلکہ خدا نے جیسا چاہا مجھے ظاہر فرما دیا، یہ بات میری طرف سے نہیں بلکہ اسی غالب باخبر کی طرف سے ہے اسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں دنیا میں اس کے نام کی منادی کرو… اے میرے معبود میں نے تیرے ارادے کے لئے اپنا ارادہ اور تیری مشیت کے ظہور کے لئے اپنا منشاء ترک کردیا۔ تیری عزت کی قسم میں اپنے نفس اور اس کی بقاء کو نہیں چاہتا مگر اس لئے کہ تیرے امر کی خدمت پر قیام کروں۔ میں تیرا بندہ اور تیرے بندوں کا فرزند ہوں۔‘‘

(لوح ابن ذہب مصنفہ بہاء اللہ ص۹،۲۶، ۲۷)

اس کے علاوہ شیخ بہاء اللہ نے ایک دوسری کتاب میں لکھا ہے:

’’ت اللہ قد کنت راقداً ہزتنی نفخات الوحی وکنت صامتاانطقی ربک المقتدر القدیر‘‘

(الواح مبارکہ مصنفہ بہاء اللہ ص۲۳۴)

ترجمہ: ’’و اللہ میں (بہاء اللہ ) سو رہا تھا وحی کی پھونکوں نے مجھے ہلایا میں بالکل خاموش تھا۔ رب قدیرنے مجھے بلوایا۔‘‘

یہ عبارت دعویٰ الوہیت کی نفی اور دعویٰ رسالت کا اظہارکرنے میں کافی ہے۔ ان دو مدعیانہ بیانوں کے علاوہ شیخ بہاء اللہ اور خلیفۂ اوّل جو جماعت بہائیۂ میں بہت بڑی شخصیت کا مالک ہے۔ یعنی عبدالبہاء عباس آفندی لکھتا ہے: ’’کلیہ انبیاء دو قسم اند۔ قسمے نبی

418

بالاستقلانند ومتبوع وقسمے دیگر غیر مستقل وتابع۔ انبیاء مستقلہ اصحاب شریعتند ومؤسس دور جدید کہ از ظہورآناں عالم خلعت جدید پوشید وتاسیس دین جدید شود وکتاب جدید نازل گردد ودبدوں واسطہ اقتباس قبض از حقیقت الوہیت نمایند۔ نور انیتشاں نورانیت ذاتیہ است مانند آفتاب کہ بذاتہ لذاتہ روشن است وروشنائی از لوازم ذاتیۂ آن مقتبس از کوکبے دیگر نیست۔ ایں مطالع صبح احدیت منبع فیض اند و آئینہ ذات حقیقت وقسمے دیگراز انبیاء تابعند ومروج زیر افرع اند نہ مستقل اقتباس فیض از انبیاء مستقلہ نمایند واستفادہ نور ہدایت از نبوت کلیہ کنند مانند ماہ کہ بذاتہ لذاتہ روشن وساطع نہ ولی اقتباس انوار از آفتاب نماید۔ آں مظاہر نبوت کلیہ کہ بالاستقلال اشراق نمودہ اند مانند حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ، حضرت مسیح و حضرت محمدو حضرت اعلیٰ وجمال مبارک۔‘‘

(مفاوضات عبدالبہاء ص۱۱۴)

(ترجمہ) ’’یعنی کل انبیاء دو قسم پر ہیں۔ ایک قسم مستقل نبی ہیں۔ دوسرے غیر مستقل تابع۔ انبیاء مستقلہ صاحب شریعت ہیں جو نئی شریعت لاتے ہیں اور بغیر ذریعہ کے کسی دوسرے کے خدا سے فیض پاتے ہیں۔ ان کو نور آفتاب کی طرح بذاتہ روشن ہوتا ہے۔ دوسری قسم تابع ہوتے ہیں جو شریعت سابقہ کے رواج دینے والے ہوتے ہیں۔ مستقل انبیاء حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت مسیح اور حضرت محمدo اور حضرت بہاء اللہ ہیں۔‘‘

ایک اور شہادت

ایک اور شہادت پیش کرکے اس حصۂ مضمون کو ختم کرتے ہیں۔ ایڈیٹر صاحب ’’کوکب ہند‘‘ نے بڑے فخر سے اپنے آپ کو ماہر کتب بہائیہ لکھ کر ہم کو ناواقف بتایا ہے۔ اس لئے ہم اپنے نقصان علم کا اعتراف کرکے خود ایڈیٹر موصوف ہی کا کلام پیش کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں: ’’حضرت بہاء اللہ نے صاحب شریعت جدیدہ اور صاحب کتاب جدید ہونے کا دعویٰ کیا۔‘‘

(کوکب بابت فروری ۱۹۳۳ء ص۹)

ناظرین! اصطلاحات بہائیہ سے ہم واقف ہیں یا ایڈیٹر صاحب اس کا فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔ ہم صرف اتنا کہتے ہیں:

انہوں نے خوبرو شکلیں کبھی دیکھی نہیں شاید

جب وہ آئینہ دیکھیں گے تو ہم ان کو بتادیں گے

419

ہاں ہم مانتے ہیں کہ بہاء اللہ کی بعض عبارتوں سے لزوم دعویٰ الوہیت ہوتا ہے۔ لیکن کسی عبارت سے کسی مفہوم کا لزوم ہونا اس وقت قابل توجہ ہوتا ہے جب وہ متکلم کی تصریحات کے خلاف نہ ہو۔ شیخ بہاء اللہ دعویٰ الوہیت کو صاف لفظوں میں رد کرتا ہے۔ چنانچہ کہتا ہے:’’بعض کہتے ہیں یہ شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور بعض کا یہ قول ہے کہ اس خدا پر بہتان باندھا ہے۔ سو ان کی ہلاکت ہے اور وہ خدا کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘

(ترجمہ تجلیات مصنفہ بہاء اللہ ص۲)

اس عبارت میں دعویٰ الوہیت کو صاف لفظوں میں بہتان قرار دیا ہے۔

ناظرین! غور فرمائیں ہم نے اپنا دعویٰ باوجود دو گروہوں کی مخالفت کے ایسا ثابت کیا جیسا چودہویں رات میں چمکتا قمر۔

ایک آسان طریق سے:فاضل ایڈیٹر کوکب بہائیہ نے ہم کو مشورہ دیا ہے کہ پہلے اصطلاحات بہائیہ معلوم کریں پھر لکھیں۔ اس لئے بعد غور وفکر ہم انہی کے کلام سے نبوت بہاء اللہ دکھاتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:(صغریٰ) ’’یہ سچ ہے کہ حضرت بہاء اللہ کا دعویٰ تھا کہ میں مامور ہوں۔ مسیح موعود ہوں اور الہام وحی کا مورد ہوں۔‘‘

(کوکب مارچ ۱۹۳۱ء ص۹)

(کبری) ’’اصطلاح شریعت میں وحی الٰہی پاکر خدائی خبریںدینے والے کو ہی۱؎نبی کہتے ہیں۔‘‘

(کوکب مارچ ۱۹۳۲ء)

تہذیب قیاس: بہاء اللہ نے وحی پائی، جو وحی پائے وہی نبی ہے۔

نتیجہ: اہل علم کے سامنے ہے۔ سچ ہے:

نالہ کرنے سے میرا یار خفا ہوتا ہے

اب تو ایڈیٹر صاحب کوکب ہم کو بہائی لٹریچر اور اصطلاحات بہائیہ سے واقف مان جائیں گے۔ کیوں؟:

  1. نازک کلامیاں مری توڑیں عدوّ کا دل

    میں وہ بلا ہوں شیشے سے پتھر کو توڑ دوں

ان دونوں نبیوں کی نبوت کا ثبوت

ہم نے ان دونوں کی کتابوں میں یہ عجیب بات پائی ہے کہ یہ دونوں صاحب دعوے

۱؎ یہ ’’ہی‘‘ بھی خوب ہے۔ (مصنف)

420

میں متفق ہونے کے ساتھ ہی دلیل میں بھی متفق ہوتے ہیں۔ ان کی پیچیدہ باتوں کو ہم ذکر نہیں کرتے۔ صرف دلیلیں ان کی بیان کرتے ہیں۔ جو انہوں نے خود یا ان کی تعلیم سے ان کے اتباع نے بیان کی ہیں اور وہ دراصل ہیں بھی قابل غور اور لائق قدر۔

پہلی دلیل: (جو دراصل دلیل انّی ہے) یہ ہے کہ بہاء اللہ کی تشریف آوری سے دنیا میں تمام مذاہب مٹ کر ایک ہی ملت حقہ ہوجائے گی۔ تمام دنیا میں بد دینی مٹ کر دینداری، امانت، صلاحیت، ہرقسم کی نیکی اختیار کرکے لوگ نیک ہوجائیں گے۔ نفاق وشقاق کی بجائے محبت واتفاق پیدا ہوگا۔ وغیرہ۔

ہم اس دلیل کی دل سے قدر اور خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس کے متعلق عبدالبہاء عباس آفندی ولد شیخ بہاء اللہ کے الفاظ قابل دید وشنید ہیں:

’’جمیع ملل عالم منتظر دوظہور ہستند کہ ایں دو ظہور باید باہم باشد وکل موعود بآنند۔ یہود در تورات موعود برب الجنوب ومسیح ہستند ودر انجیل موعود برجوع مسیح وایلیا ہستند ودر شریعت محمدی موعود بمہدی ومسیح ہستند وہم چنیں زرد شتیاں وغیرہ۔ اگر تفصیل دہیم بطول انجامد۔ مقصد اینست کہ کل موعود بدوظہورند کہ پے درپے واقع شود واخبار نمودند کہ درایں دو ظہور جہان، جہان دیگر شود وعالم وجود تجدید گردد۔ وامکان خلعت جدید پوشد وعدل وحقانیت جہاں را احاطہ کند۔ وعداوت وبغضاء زائل شود وآںچہ کہ سبب جدائی میانہ قبائل وطوائف وملل است از میان رود وآںچہ کہ سبب اتحاد واتفاق یگانگی است بمیان آید۔ غافلاں بیدار شوند۔ کورہا بینا گردند۔ کرہاشنو اشوند۔گنگہا گویا گردند۔ مریضہا شفایابند۔ مردہا زندہ شوند۔ جنگ مبدل بصلح شود وکل مذاہب مذہب واحد گردد۔ جمیع بشریک خاندان شودویک دود دمان گردد۔ وجمیع قطعات عالم حکم یک قطعہ یا بدوا ادہامات جنسیہ وطنیہ وشخصیہ ولسانیہ وسیاسیہ جمیع محو وفانی شود۔ کل در ظل رب الجنود وبحیات ابدیہ فائز گردند‘‘

(مفاوضات عبدالبہاء ص۲۹، ۳۰)

’’ترجمہ: تمام اہل دنیا دو ظہوروں کے منتظر ہیں۔ یہ دو ظہور کل ادیان کے موعود ہیں۔ یہود کو تورات میں رب الجنود اور مسیح کا وعدہ تھا اور انجیل میں مسیح اور ایلیا کے آنے کا شریعت محمدیہ میں مہدی اور مسیح کا وعدہ ہے۔ اسی طرح زرد شتیوںوغیرہ کو بھی وعدہ ہے۔ اگر اس کی تفصیل میں جائیں تو طول ہوگا۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ دو ظہور موعود پے درپے ہوں

421

گے اور انبیاء نے بتایا ہے کہ ان دو موعودوں کے زمانہ میں دنیا برنگ دیگر ہوجائے گی۔ عدل اور سچائی اہل دنیا کو گھیرلے گی۔ عداوت اور کینہ اور بری عادتیں دور ہوجائیں گی اور جو امور قبائل اور قوموں میں باعث نفاق وشقاق ہیں سب دور ہوجائیں گے اور مکمل اتحاد اور اتفاق پیدا ہوجائے گا۔ غافل بیدار ہوں گے۔ گونگے بولیں گے۔ بیمار اچھے ہوجائیں گے۔مردے زندہ ہوں گے۔ جنگ مبدل بصلح ہوگی۔ عداوت محبت سے بدل جائے گی۔ اسباب نزاع وجدال سب دور ہوجائیں گے اور انسانوں کے لئے ہر قسم کی نیکی حاصل ہوگی۔ انسانی ملک فرشتوں کے ملک جیسا ہوجائے گا۔ کل مذاہب مٹ کر ایک دین ہوجائے گا۔ کل انسان ایک خاندان کی طرح ہوں گے۔ دنیا کے تمام علاقے ایک علاقہ کی طرح ہوجائیں گے۔ جنسی وطنی، شخصی لسانی اور سیاسی امتیاز سب دور ہوجائیں گے۔ رب الجنود (موعود) کے سایہ میں حیات ابدیہ پائیں گے۔‘‘

ناظرین! اس بیان کو محفوظ رکھیں اور مدعی ثانی مرزا قادیانی کا بیان بھی سنیں جو اسی مقصد کے لئے ہے۔ مرزا قادیانی نے زمانۂ تصنیف براہین احمدیہ میں مسیح موعود کے زمانہ کی برکات کا ذکر یوں کیا: ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظرہ علی الدین کلہ‘‘یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج۱ حاشیہ ص۵۹۳)

اس کے بعد جب اس عہدہ (مسیح موعود) کا چارج خود لیا تو اس رائے میں ترمیم نہیں کی بلکہ مزید توضیح فرمائی۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’چونکہ آنحضرتﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرتﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیوں کہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا۔ کیوں کہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب

422

قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانۂ محمدی کے سر پر آنحضرتﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا۱؎نہ ہولے۔ کیوں کہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چوں کہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۲، ۳۸ خزائن ج۲۳ ص۹۰،۹۱)

اس مضمون کی مزید تاکید کرنے کو ایک اعلان مرزا قادیانی نے شائع کیا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’میرا کام جس کے لئے اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلائوں اور آنحضرتﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہورمیں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ بس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود ومہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا۲؎ تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘

والسلام! غلام احمد

(البدر ج۲ نمبر۲۹ ص۴،۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء، رسالہ ’’المہدی‘‘ نمبر۱ ص۴۳، مکتوبات احمد جدید ج۱ ص۴۹۸، مکتوب نمبر۲۹)

۱؎ یہ لفظ یاد رہے۔ (مصنف)

۲؎ یہ لفظ سب کی تشریح کررہا ہے کہ سب کچھ مرزا قادیانی کی زندگی سے وابستہ ہے جو لوگ پہلو بچانے کی مسیح موعود تین سو سال تک کہتے ہیں وہ اپنے ناظرین کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی خود ایسا کہتے ہیں تو اپنے تناقض پیدا کرکے آیت کریمہ ’’لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (نساء: ۸۲)‘‘ خود آتے ہیں جو ہمارا عین مقصود ہے۔‘‘(مصنف)

423

حضرات! بامعان نظر دیکھئے کہ براہین احمدیہ کے زمانہ سے ۱۹۰۶ء (وفات سے دو سال قبل) تک مرزا قادیانی بھی ایک ہی بات کہتے گئے یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں کل ادیان مٹ کر ایک دین اسلام ہوجائے گا۔

ناظرین کرام! دونوں صاحبوں کی عبارتیں اپنا مدعا بتانے میں صاف ہیں کسی شرح یا تفسیر کی محتاج نہیں۔ مشرّح ہونے کے علاوہ مسرت انگیز بھی ہیں۔ کیوں کہ اس میں ساری دنیا سے مختلف مذاہب باطلہ کے مٹنے اور ملت حقہ اسلامیہ اور تہذیب اخلاق اور ترقی روحانی ہونے کی خوشخبری ہے۔

لیکن سوال یہ ہے: کیا ایسا ہوا بھی؟ آہ! اس کا جواب بہت دل شکن اور رنج دہ ہے اور لطف یہ کہ ایک اور صرف ایک ہی ہے جس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں کہ یہ صورت دنیا میں آج تک نہیں ہوئی بلکہ اس کی نقیض ترقی پر ہے۔ کفر، شرک، فسق، فجور، شراب خوری، زناکاری دیگر بداعمالی دنیا میں آج جس کثرت سے ہیں۔ ان مدعیان سے پہلے نہ تھیں۔ آج دنیا میں افعال قبیحہ جس معراج ترقی پر ہیں ان کو اس شعر میں بتانا کوئی مبالغہ نہیں:

  1. حرص وعداوت وحسد وکینہ وریا

    ایں جملہ شد حلال محبت حرام شد

اس مشاہدہ کے خلاف دعوے کرنا بداہت کا انکار کرنا ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ آج دنیا میں ظلم اور ظلمات کی اتنی ترقی ہے کہ یہ مقتضی ہے کہ کوئی مرد مصلح آئے جو اس حالت میں انقلاب پیدا کرے نہ یہ کہ ایسا مصلح پیدا ہو کر اس خرابی کو بدستور چھوڑ کر چلتا بنے اور ہم اس کو مصلح اعظم مان کر دن میں خوش ہوا کریں جیسے کوئی پیاسا پانی کے لفظ کو رٹا کرے اور سمجھے کہ میری پیاس بجھ جائے گی۔

ایں خیال است ومحال وجنون

ہمارے نزدیک یہی ایک (انّی) دلیل ہے جو ان دونوں صاحبوں کے دعاوی کے ابطال کرنے کو کافی ہے۔ حضرت مسیح کا قول ’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے‘‘ ہمارے دعوے کی تائید کرتا ہے۔

سچے مدعیa کی علامت سچی کتاب میں اس طرح آئی ہے:

’’اذا جآء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً فسبّح بحمد ربّک واستغفرہ انّہ کان توّاباً (النصر: اتا۳)‘‘اے محمد

424

رسول اللہ ﷺ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے گی اور تم دیکھو گے کہ لوگ جوق در جوق دین الٰہی میں داخل ہورہے ہیں تو پس تم (سفر آخرت کے لئے تیار ہوکر) خدا کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجانا اور خدا سے بخشش مانگنا۔ بے شک اللہ جھکنے والوں پر متوجہ ہونے والا ہے۔

یہ ایک ایسی علامت ہے کہ دنیا کا کوئی واقف ناواقف اس کی تکذیب نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ آنحضرتﷺ نے انتقال ایسے وقت میں فرمایا کہ آپ کے ارد گرد کی قومیں جوق درجوق داخل اسلام ہوگئیں جس کو مولانا حالی مرحوم نے یوں دکھایا ہے:

  1. وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی

    عرب کی زمین جس نے ساری ہلادی

  2. نئی اک لگن سب کے دل میں لگا دی

    اک آواز سے سوتی بستی جگا دی

  3. پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے

    کہ گونج اٹھے دشت وجبل نام حق سے

برخلاف اس کے یہ دونوں مدعیان تشریف لائے اور انہوں نے اپنی اپنی سچائی کا دنیا کو جو نشان بتایا وہ مذکور ہوا۔ لیکن ہوا کیا؟ وہی جو کسی شاعر نے کہا ہے:

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو نہ ہو

دوسری دلیل … پہلی کی تفصیل اور تحلیل: شیخ بہاء اللہ کے خلیفۂ اول عبدالبہاء آفندی نے یہ بیان کی ہے۔ دلیل اوّل کے بعد اس کی تفصیل جو کی ہے۔ وہ تفصیل گویا خود دلیل ہے جو دلیل اوّل سے زیادہ لطیف ہے۔

آپ کی اس دلیل یا تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت دانیال نے دو خبریں دی ہیں۔ ایک حضرت عیسیٰ مسیحؑ کے حق میں۔ دوسری شیخ بہاء اللہ کے حق میں۔ حضرت مسیح کے حق میں جو پیش گوئی ہے اس کی معیاد ۴۹۰سال ہے اور جو شیخ بہاء اللہ کے حق میں ہے اس کی میعاد ٹھیک دو ہزار تین سو سال(۲۳۰۰) ہوتے ہیں۔ جو شیخ بہاء اللہ کی پیدائش کا زمانہ ہے۔ یہ خلاصہ ہمارے لفظوں میں ہے۔ اب آفندی صاحب کے اپنے الفاظ سنئے جو ایرانی معشوق کی پیچ در پیچ زلف سے کم نہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

425

خراب گردد۔ ایں خبر از ظہور حضرت مسیح است وبدایت تاریخ ایں ہفتاد ہفتہ تجدید وتعمیر بیت المقدس است۔ ودرایں خصوص چہار فرمان از سہ پادشاہ بتعمیر بیت المقدس صادر شدہ۔ اول از کورش است کہ در ۵۳۶ قبل از میلاد (مسیح) صادر شد۔ وایں درکتاب عزراء درفصل اول مذکور است۔ فرمان ثانی بتجدید بنائے بیت المقدس از واریوس فارس است کہ در تاریخ ۵۱۹ قبل از میلاد صادر شد۔ وایں در فصل ششم عزراء مذکوراست۔ فرمان ثالث از را تحشستاسنہ سابع از حکومتش در تاریخ ۴۵۷ قبل از میلاد صادر شدہ۔ وایں درفصل ہفتم عزراء مذکور است۔ فرمان رابع از ارتحشستادرسہ ۴۴۴ قبل از میلاد صادر۔ ایں در فصل دوم نحمیاست۔ اما مقصد حضرت دانیال اثر ثالت است کہ ۴۵۷قبل از میلاد بود۔ ہفتاد ہفتہ۔ ۴۹۰ روز مے شود۔ ہر روزے بتصریح کتاب مقدس یک سال است۔ درتورات میفرمائد یوم رب یک سال است۔ پس ۴۹۰ روز ۴۹۰ سال شد۔ فرمان ثالث کہ از ارتحشستاست ۴۵۷ سال قبل از تولد مسیح بود۔ وحضرت مسیح وقت شہادت وصعود سی وسہ سال داشتند۔ سی وسہ را چوں بر پنجاہ وہفت ضم کنی ۴۹۰ مے شود کہ دانیال از ظہور حضرت مسیح خبر دادہ۔‘‘

(مفاوضات عبدالبہاء ص۳۰، ۳۱)

(ترجمہ) ’’اب کتب مقدسہ سے دو ظہوروں پر ہم دلائل دیتے ہیں۔ دلائل عقلیہ پہلے شائع ہوچکے ہیں۔ دانیال کی کتاب میں بیت المقدس کی تجدید عمارت سے حضرت مسیح کے یوم شہادت تک ستر ہفتے مقرر ہیں۔ شروع ان ستر ہفتوں کا تجدید تعمیر بیت المقدس سے ہے۔ اس خالص امر میں چار فرمان تین بادشاہوں کے وارد ہیں۔ پہلا حکم کورش ہے جو ۵۳۶قبل مسیح صادر ہوا تھا اور یہ کتاب عزراء کی پہلی فصل میں مذکور ہے۔ دوسرا فرمان وار یوس فارس ہے جو ۵۱۹قبل مسیح میں صادر ہوا۔ یہ حکم فصل ششم عزراء میں مذکور ہے۔ تیسرا فرمان ارتحشستا سے ہے جو ۴۵۷ قبل مسیح میں صادر ہوا تھا۔ یہ ساتویں فصل عزراء میں درج ہے۔ چوتھا فرمان ارتحشستا سے ۴۴۴قبل مسیح میں صادر ہوا تھا۔ یہ فصل دوم نحمیا میں ہے۔ ان چار فرمانوں میں سے حضرت دانیال کا مقصود تیسرا فرمان ہے جو ۴۵۷قبل مسیح میں صادر ہوا تھا۔ ستر ہفتے ۴۹۰دن ہوتے ہیں۔ ہرروز حسب تصریح تورات ایک سل ہے۔ پس ۴۹۰ روز ۴۹۰ سال ہوئے۔ فرمان ثالث جو ارتحشستاسے جاری ہوا ہے ۴۹۰سال قبل تولد مسیح میں ہوا تھا اور حضرت مسیح کا دنیا سے آسمان پر صعود۳۳سال کی عمر میں ہوا تھا جب ان ۳۳ کو ۴۵۷ سے ملائیں تو ۴۹۰ ہوتے ہیں جو دانیال نے حضرت مسیح کے ظہور کا وقت بتایا ہے۔‘‘

426

مصنف: اس کے بعد عبدالبہاء آفندی نے اپنے مقصد خاص پر توجہ کی ہے۔ یعنی شیخ بہاء اللہ کی صداقت کی دلیل بتانے لگے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

’’حال باثبات ظہور حضرت بہاء اللہ وحضرت اعلیٰ پردازیم وتابحال ادلّہ عقلی ذکر کردیم حال باید ادلہ نقلی ذکر کنیم ۔ در آیۂ سیزدہم فصل ہشتم از کتاب دانیال مے فرماید ومقدس متکلمیر اشنیدم دہم مقدس دیگرے را کہ از آں متلم مے پرسید کہ رویائے قربانی دائمی وعصیاں خراب کنندہ تابکے میرسد ومقام مقدس ولشکر پائمالی تسلیم کردہ خواہد شد۔ وبمن گفت کہ تابد وہزار وسہ صد شبانہ روز آنگاہ مقام مقدس مصفی خواہد گردید تاآں کہ میفرماید ایں رؤیا نسبت بزمان آخر دارد۔ یعنی ایں فلاکت وایں خرابیت وایں حقارت تاکے مے کشد۔ یعنی صبح ظہور کے است۔ پس گفت تا دوہزار وسہ صد شبانہ روز آنگاہ مقام مقدس مصفی خواہد شد۔ خلاصہ مقصد ایں جاست کہ دو ہزار وسہ صد سال تعیین میکند وبنص تورات ہر روزے یکسال است پس از تاریخ صد در فرمان ارتحشستابہ تجدید بنائے بیت المقدس تایوم ولادت حضرت مسیح۴۵۶سال است واز یوم ولادت حضرت مسیح تا یوم ظہور حضرت اعلاء ۱۸۴۴ء سنہ است۔ وچوں ۴۵۶ سال راضم بر ایں کنی دو ہزار وسہ صد سال مے شود۔ یعنی تعبیر رویائے دانیال در سنہ ۱۸۴۴ء میلادی واقع شد۔ وآں سنہ ظہور حضرت اعلیٰ بود بنص خود دانیال۔ ملاحظہ نمائید کہ بچہ صراحت سنہ ظہور را معین مے فرمائید۔‘‘

(مفاوضات عبدالبہاء ص۳۱،۳۲)

(ترجمہ) ’’اب ہم حضرت بہاء اللہ کے ظہور کے ثبوت میں نقلی دلائل پیش کرتے ہیں۔ کتاب دانیال کی فصل ہشتم کی تیرہویں آیت میں دانیال فرماتے ہیں۔ میں نے کسی مقدس بولنے والے سنا کہ دائمی قربانی اور خراب کرنے والے کی بے فرمانی کب تک پہنچے گی۔ مجھے اس نے کہا دو ہزار تین سو دنوں تک۔ وہ مقدس صاف ہوجائے گا۔ تورات کی تصریح سے ثابت ہے کہ ایک روز ایک سال ہوتا ہے۔ پس تاریخ صدور فرمان ارتحشستا برائے تجدید عمارت بیت المقدس سے یوم ولات تک ۴۵۶سال ہوتے ہیں اور یوم ولات مسیح سے ظہور بہاء اللہ تک ۱۸۴۴ء سنہ ہے۔ جب ۴۵۶سال کو دو ہزار تین سو سالوں میں ملائیں تو تعبیر خواب دانیال ۱۸۴۴ء میں پوری ہوئی اور وہ سنہ شیخ بہاء اللہ کے ظہور کا ہے۔ ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح صراحت سے ظہور کے سنہ کو معین فرماتا ہے۔‘‘

ناظرین کرام! دانیال کی عبارتیں دانیال ہی سمجھا ہوگا اس وقت ان کو سمجھنے والا کوئی

427

نہیں ہوگا۔ لیکن ہمیں اس سے چنداں سروکار نہیں۔ ہم تو بہائیوں کے وکیل (شیخ عبدالبہاء عباس آفندی) کے بیان پر توجہ رکھتے ہیں۔ آفندی صاحب نے حضرت مسیحؑ کے حق میں دانیال کے بتائے ہوئے ۴۹۰سال اس طرح پورے کئے کہ ان کی دنیاوی زندگی کے تینتیس ۳۳سال صعود تک ملا لئے۔ بہت اچھا کیا۔ لیکن جب شیخ بہاء اللہ پر اس کو چسپاں کیا تو ان کی مدت کو تولد تک ختم کردیا اور ان کی زندگی کے پچھترچھوڑ گئے۔ حالاں کہ دونوں کے حق میں لفظ (ظہور) ایک ہی ہے۔ غور کیجئے کس دلیری سے لکھا ہے کہ: ’’از یوم ولادت حضرت مسیح تا یوم ظہور حضرت اعلیٰ (بہاء اللہ )‘‘

پس چاہئے تھا کہ دانیال کی پہلی پیش گوئی متعلقہ مسیح ۴۹۰والی جس طریق سے پوری کی تھی، دوسری (متعلقہ بہاء اللہ ) بھی اسی طریق سے پوری کرتے۔ یہ نہ کرتے کہ حضرت مسیح کی متعلقہ پیش گوئی میں تو ان کی دنیاوی زندگی کے ایام بھی داخل کر لیتے اور بہاء اللہ والی میں یوم ولادت مراد لیتے اور ان کی عمر کے پچھترسال چھوڑ دیتے۔تلک اذاً قسمۃ ضیزیٰ!

پس انصاف یہ ہے کہ چوں کہ آپ نے پہلے بیان میں مسیح کی دنیاوی عمر ۳۳سال کو داخل کیا ہے تو دوسرے بیان میں بھی شیخ بہاء اللہ کی عمر کے پچھتر سال داخل کرکے بجائے دو ہزار تین سو کے دوہزار تین سو پچھتر سال کیئے۔ جس سے دانیال کی پیش گوئی پوری طرح غلط ہو اور اگر بہاء اللہ کے حق میں ان کی زندگی کے ایام نہیں ملاتے تو حضرت مسیح کے ایام بھی نہ ملائیے۔ جس سے دانیال کی پہلی پیش گوئی اچھی طرح غلط ثابت ہو کر دوسری کو بھی اعتبار سے گرادے۔

علاوہ اس کے آپ نے کمال کیا کہ ص۳۱ (مفاوضات) پر حضرت مسیح کے بیان میں قبل از میلادمسیح چار سو ستاون ۴۵۷سال لکھے ہیں۔ ص۳۲ پر ۴۵۶بتائے ہیں۔ کیا یہ سہو ونسیان ہے یا مقدس غلط بیانی۔

معذرت: ایک سال کی بھول چوک پر ہم گرفت نہ کرتے۔ لیکن چوں کہ آفندی صاحب نے لکھا ہے:’’ملاحظہ نمائید کہ بچہ صراحت سنہ ظہور را معیّن مے فرماید‘‘

اس لئے ہم ایک سال کی کمی بیشی کیا ایک روز کی بھی نہ چھوڑیں گے تاکہ صراحۃً بیان معلوم ہوجائے۔

صاف حساب: یہ ہے کہ بقول آپ کے ارتحشستا کے فرمان سے چار سو ستاون۴۵۷ سال بعد حضرت مسیح پیدا ہوئے۔ ۱۸۱۷ء میں بہاء اللہ پیدا ہوئے تو جملہ سنین بائیس سو

428

چوہتر (۲۲۷۴) ہوئے اور اگر حضرت مسیح کی دنیاوی زندگی کے ۳۳سال ملائیں تو بہاء اللہ کے پچھتر سال ملا کر دو ہزار تین سو انچاس (۲۳۴۹) سال ہوتے ہیں۔ غرض دونوں طرح سے دانیال کی پیش گوئی غلط ہے یا مسیح اور بہاء اللہ دونوں اس کے مصداق نہیں۔ بہرحال یہ اونٹ سیدھا نہیں بیٹھ سکتا:

  1. بنے کیوں کہ ہے سب کار الٹا

    ہم الٹے بات الٹی یار الٹا

حضرات! یہ تو ہوئی ایرانی مسیح کے متعلق پیش گوئی۔ اب سنئے قادیانی مسیح خود کیا فرماتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ ایرانی صاحب کا بیان عجیب ہے تو قادیانی حضرات کا عجیب تر۔ ناظرین ذرا دل لگا کر غور سے سنیں کیوں کہ یہ الہامیوں کی باتیں ہیں۔

مرزا قادیانی نے دانیال کی پیش گوئی اپنے حق میں لی ہے

ہمارے پنجابی مسیح مرزا قادیانی، ایرانی مسیح کے ایسے کچھ جائز وارث ہیں کہ ان کی ہر چیز پر بلا خوف قبضہ کرتے ہیں۔ چنانچہ دانیال کی پیش گوئی کے متعلق آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’دانیال نبی کی کتاب میں مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ وہی لکھا ہے جس میں خدا نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ اس وقت بہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور سفید کئے جائیں گے اور آزمائے جائیں گے، لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہیں سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے اور مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی۔ ایک ہزار دو سونوے (۱۲۹۰) دن ہوں گے۱؎ ۔ مبارک ہے وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس (۱۳۳۵) روز تک آتا ہے۔ اس پیش گوئی میں مسیح موعود کی خبر ہے۔ جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ سو دانیال نبی نے اس کا یہ نشان دیا ہے کہ اس وقت سے جو یہود اپنی رسم قربانی سوختنی کو چھوڑ دیں گے اور بدچلنیوں میں مبتلا ہوجائیں گے۔ ایک ہزار دوسو نوے(۱۲۹۰) سال ہوں گے جب مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ سو اس عاجز کے ظہور کا یہی وقت تھا۔ کیوں کہ میری کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ صرف چند سال بعد میرے مامور اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی ہے اور یہ عجیب امر

۱؎ دن سے مراد دانیال کی کتاب میں سال ہے اور اس جگہ وہ نبی ہجری سال کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اسلامی فتح اور غلبہ کا پہلا سال ہے۔ (حاشیہ از مرزا)

429

ہے اور میں اس کو خداتعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے (۱۲۹۰) ہجری میں خداتعالیٰ کی طرف سے یہ عاجزشرف مکالمہ ومخاطبہ پاچکا تھا۔ پھر سات سال بعد کتاب براہین احمدیہ جس میں میرا دعویٰ مسطور ہے تالیف ہوکر شائع کی گئی۔ جیسا کہ میری کتاب براہین احمدیہ کے سرورق پر یہ شعر لکھا ہواہے:

  1. از بس کہ یہ مغفرت کا دکھلاتی ہے راہ

    تاریخ بھی یا غفور نکلی۱؎واہ واہ

سو دانیال نبی کی کتاب میں جو ظہور مسیح موعود کے لئے بارہ سو نوے (۱۲۹۰) برس لکھے ہیں اس کتاب براہین احمدیہ میں جس میں میری طرف سے مامور اور منجانب اللہ ہونے کا اعلان ہے، صرف سات برس اس تاریخ سے زیادہ ہیں جس کی نسبت میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ مکالمات الٰہیہ کا سلسلہ ان سات برس سے پہلے کا ہے۔ یعنی بارہ سو نوے (۱۲۹۰) کا۔ پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال تیرہ سو پینتیس (۱۳۳۵) برس لکھتا ہے جو خداتعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت بیان فرمایا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۹، ۲۰۰ خزائن ج۲۲ ص۲۰۷، ۲۰۸)

مصنف: اس عبارت میں مرزا قادیانی نے دانیال کی عبارت سے دو مطلب نکالے ہیں جو دونوں اپنے پر منطبق کئے ہیں۔

۱… یہ کہ حسب پیش گوئی دانیال ۱۲۹۰ھ میں مامور ہوا۔

۲… دانیال کی پیش گوئی کے مطابق میں ۱۳۳۵ھ تک زندہ رہوں گا۔

پھر اس کی تائید کرنے کو اپنی عمر کے متعلق اپنا الہام بھی لکھا ہے کہ میں اپنے الہام کے مطابق بھی ۱۳۳۵ھ تک زندہ رہوں گا۔۲؎

۱؎ خدا ہمارے پنجابی شاعر اقبال اور ظفروغیرہ کو جزاء خیر دے جنہوں نے پنجاب کی لاج رکھ لی۔ ورنہ مرزا نے ایسے شعر لکھ کر اہل دہلی کا الزام صحیح کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی جو کہا کرتے ہیں:

ایک ہیں پنجابی دوسرے بے علم۔۔۔ شعر گوئی میں دکھا دیتے ہیں جوہر اپنا

۲؎ مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ میری عمر کم سے کم ۷۵سال ہوگی۔ (براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم ص۹۷ خزائن ج۲۱ ص۲۵۸) یہ بھی آپ کا قرار ہے کہ میری پیدائش ۱۲۶۰ھ میں ہوئی۔ (تریاق القلوب کلاں ص۶۸ خزائن ج۱۵ ص۲۸۳) اس حساب سے آپ کی عمر ۷۵ سال ٹھیک ۱۳۳۵ھ میں پوری ہونی تھی۔ مگر آپ ۹سال پہلے ۱۳۲۶ھ میں تشریف لے گئے (وہاں کچھ ضرورت ہوگی)۔ (مصنف)

430

اس عبارت کی مزید تشریح اور تائید ہم مرزا قادیانی کی ایک اور عبارت سے کرتے ہیں۔ آپ کتاب تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں: ’’دانیال نبی نے بتلایا ہے کہ اس نبی آخرالزمان کے ظہور سے (جو محمد مصطفیﷺہے) جب بارہ سو نوے (۱۲۹۰) برس گزریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور تیرہ سو پینتیس (۱۳۳۵ھ) تک اپنا کام چلائے گا۔ یعنی چودہویں صدی میں سے پینتیس برس برابر کام کرتا رہے گا۔ اب دیکھو اس پیش گوئی میں کس قدر تصریح سے مسیح موعود کا زمانہ چودہویں صدی قرار دی گئی ہے۔ اب بتلائو کیا اس سے انکار کرنا ایمانداری ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۱۱۷ خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۲۹۲)

مرزائی دوستو! اس پیش گوئی میں کس وضاحت سے مسیح موعود کا سنہ وفات ۱۳۳۵ھ قرار دیا ہے۔ پھر جو ۱۳۲۶ھ میں مر جائے گاسے مسیح موعود ماننا:

کہو جی کون دھرم ہے؟

مرزا قادیانی کا مزید کمال

ہمارے پنجابی مسیح نے دانیال کی پیش گوئی کے متعلق ایک خاص کمال کیا۔ جس میں یہود محرّفین تورات کو بھی شرمندہ ہونا پڑا۔ مرزا قادیانی نے کتاب تحفہ گولڑویہ میں دانیال کی کتاب کا باب بھی بتایا ہے اور عبارت عبرانی اور اس کا ترجمہ خود ساختہ اردو بھی نقل کیا ہے۔ ہم اس مرزائی ترجمہ کو مع ترجمہ مسلمہ نصاریٰ بائبل سے بالمقابل نقل کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین اندازہ لگا سکیں کہ چراغ بکف داشتہ کون جارہا ہے۔

مرزائی ترجمہ (دانیال باب۱۲)

’’اور اس وقت ہوگا مبعوث وہ جو خدا کی مانند ہے حاکم اعلیٰ وہ مبعوث ہوگا تیری قوم کی حمایت میں اور ہوگا زمانہ دشمنوں کا۔ ایسا زمانہ کہ نہ ہوا ہوگا امت کے ابتدا سے لے کر اس وقت تک اور اس وقت ایسا ہوگا کہ نجات پائے گا تیری قوم میں سے ہر ایک کہ پایا جائے گا لکھا ہوا کتاب میں اور بہت جو سست پڑے ہیں زمین کے اندر جاگ اٹھیں گے۔ یہ ہمیشہ کی زندگی کے واسطے اور یہ انکار اور ابدی لعنت کے واسطے اور اہل دانش چمکیں گے، مانند چمک آسمان کی اور صادقوں سے بہت ہوں گے مانند ستاروں کے ہمیشہ اور ہمیشہ اور تو اے دانیال پوشیدہ رکھ

431

ان باتوں کو اور سربمہر رکھ اس کتاب کو وقت آخر تک جب کہ لوگ زمین پر یشططو ہوں گے اور ادھر ادھر دوڑیں گے اور سیر کریں گے اور ملیں گے اور علم بہت بڑھ جائے گا اور نظر کی میں دانیال نے اور دیکھے دو اور کھڑے ہوں گے ایک اس طرف دریا کے اور دوسرا اس طرف دریا کے دریا اور کہا اس آدمی کو جس کا لباس لمبے تاگوں کا تھا جو کہ اوپر دریا کے پانی کے تھا۔

کب ہوگا انجام مصائب کا اور میں نے سنا اس آدمی کو جو لمبے تاگوں والا لباس پہنے تھا جو کہ اوپر پانیوں دریا کے تھا اور اس نے بلند کیا اپنا دایاں اور بایاں آسمان کی طرف اور قسم کھائی ابدی زندہ خدا کی کہ اس زمانہ کی مدت ہے دو زمانے ہیں اور ایک زمانہ کا حصہ اور یہ پورا ہوگا اور مقدس جماعت میں تفرقہ پڑے گا اور ان کا زور ٹوٹ جائے گا اور یہ سب باتیں پوری ہوں گی اور میں نے سنا پر نہ جانا اور میں نے کہا اے خداوند کیا ہے انجام ان سب باتوںکا اور کہا چلا جا دانیال کیوں کہ پوشیدہ رہیں گی اور سربمہر رہیں گی یہ باتیں وقت آخر تک بہتوں کا ابرا کیا جائے گا اور بہتوں کو سفید کیا جائے گا اور بہتوں کو آزمائش میں ڈالا جائے گا اور شریر شرارت سے شور وغوغا مچائیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا۔ پر اہل دانش سمجھ لیں گے اور اس وقت سے جب کہ دائمی قربانی موقوف ہوگی اور بتوں کو تباہ کیا جائے گا۔ اس وقت تک بارہ سو نوے دن ہوں گے۔

مبارک ہے جو انتظار کیا جائے گا اور اپنا کام محنت سے کرے گا تیرہ سو پینتیس روز تک اور تو چلا جا آخر تک اے دانیال اور آرام کر اور اپنے حصے پر اخیر پر کھڑا ہوگا خاموش ہوجائو، میرے آگے اے جزیرو امت از سر نو سرسبز ہوگی اور قوت پکڑے گی وے قریب پہنچیں گے۔ پھر سب ایک بات پر متفق ہوں گے۔ ہم قضیٰ (فیصلہ) کے قریب آئیں گے۔ کس نے مبعوث کیا مشرق کی طرف سے صادق۱؎کو اسے اپنے حضور میں بلایا دھر دیا اس کے منہ کے آگے قوموں کو اور بادشاہوںپر اسے حاکم کیا اس نے کردیا خاک کی مانند اس کی تلوار کو مانند بھوسے اڑتے ہوئے کی اس کی کمان کو۔ اس نے تعاقب کیا اور گزر گیا سلامت ایسی راہ سے

۱؎ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود جو آخری زمانہ میں پیدا ہوگا وہ مشرق میں یعنی ملک ہند میں ظاہر ہوگا۔ اگرچہ اس آیت میں تصریح نہیں کہ آیا پنجاب میں مبعوث ہوگا یا ہندوستان میں۔ مگر دوسرے مقامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پنجاب میں ہی مبعوث ہوگا۔ (مرزا)

432

جس پر کہ وہ اپنے پائوں پر نہیں چلا۔ کس نے یہ کام کیا اور اسے انجام دیا وہ جس نے ساری پشتوں کو ابتدا سے پڑھ سنایا۔ میں وہی پہلا خدا ہوں اور آخرین کے ساتھ ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۱۴ تا ۱۱۷ خزائن ج۱۷ ص۲۸۸ تا ۲۹۴)

بائیبلی ترجمہ: ’’اور اس وقت میکاایل وہ بڑا سردارجو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے، اٹھے گا اور ایسی تکلیف کا وقت ہوگا جو امت کی ابتدا سے لے کے اس وقت تک کبھی نہ ہوا تھا اور اس وقت تک تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہوگا رہائی پاوے گا اور ان میں سے بہتیرے جو زمین پر خاک میں سورہے ہیں جاگ اٹھیں گے۔ بعضے حیات ابدی کے لئے اور بعضے رسوائی اور ذلت ابدی کے لئے۔ پر اہل دانش فلک کی چمک کے مانند چمکیں گے اور وے جن کی کوشش سے بہتیرے صادق ہوگئے ستاروں کی مانند ابدالآباد تک۔ لیکن تو اے دانی ایل اب باتوں کو بند کر رکھ اور کتاب پر آخر کے وقت تک مہر کر رکھ۔ بہتیرے سراسر ملاحظہ کریں گے اور دانش زیادہ ہوگی اور میں دانی ایل نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ دو اور کھڑے تھے۔

ایک دریا کے کنارے کی اس طرف دوسرا دریا کے کنارے کی اس طرف اور ایک نے اس شخص سے جو کتان کا لباس پہنے تھا اور دریا کے پانیوں پر تھا پوچھا کہ یہ عجائب چیزیں کتنی مدت کے بعد انجام تک پہنچیں گی اور میں نے سنا کہ اس شخص نے جو کتانی پوشاک پہنے تھا جو دریا کے پانیوں پر تھا اپنا داہنا اور بایاں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اس کی جو ہمیشہ جیتا ہے قسم کھائی اور کہا کہ ایک مدت اور مدتوں اور آدھی مدت تک رہیں گی اور جب وہ پورا کر چکے گا اور مقدس لوگوں کا زور کھو دے گا۔ یہ سب چیزیں پوری ہوں گی اور میں نے تو سنا پر نہیں سمجھا۔ تب میں نے کہا اے میرے خداوند ان چیزوں کا انجام کیا ہوگا۔ اس نے کہا اے دانی ایل تو اپنی راہ چلا جا کہ یہ باتیں آخر کے وقت تک بندوسر بمہر رہیں گی اور بہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور سفید کئے جائیں گے اور آزمائے جائیں گے۔

لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے دن ہوں گے۔ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک

433

ہزار تین سو پینتیس (۱۳۳۵) روز تک آتا ہے۔ پر تو اپنی راہ چلا جا جب تک کہ وقت اخیر آوے کہ تو چین کرے گا اور اپنی میراث پر اخیر کے دنوں میں اٹھ کھڑا ہوگا۔‘‘

(بائبل دانیال نبی کی کتاب باب ۱۲)

ناظرین کرام! ہم نے نقل عبارت میں بخل نہیں کیا تو آپ پڑھنے میں کیوں دل تنگ ہوں گے۔ پڑھئے اور ضرور پڑھئے۔ پھر بتائیے کہ دانیال کے بارہویں باب کا مرزائی ترجمہ بائبل کے ترجمہ سے کچھ بھی تعلق رکھتا ہے؟ مرزا قادیانی کی ایسی صنعت کاری کے حق میں کہا گیا ہے:

  1. نہ پیرویٔ قیس نہ فرہاد کریں گے

    ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

قادیانی، بہائی دوستو! یہ چند سر دفتر دلیلیں تمہاری ہم نے دکھائی ہیں۔ باقی اگر کچھ ہے تو: ؎

قیاس کن ز گلستان من بہار مرا

دونوں مدعیان کی تیسری دلیل

مرزا قادیانی اپنی صداقت پر باوجود مخالفت کے اپنی کامیابی کو دلیل لایا کرتے تھے۔ یہ دلیل بھی دراصل بہائی لٹریچر سے ماخوذ ہے۔

عبدالبہاء آفندی شیخ بہاء اللہ کی صداقت پر عقلی دلیل لائے ہیں اور اس کی بہترین ولاجواب دلیل کہتے ہیں۔ آپ کے الفاظ مع ترجمہ درج ذیل ہیں:

’’یک برہان عقلی دیگر گویم واہل انصاف را ہمیں برہان کفایت است کہ ہیچ کس نمے تواند انکار کند وآن اینست کہ ایں شخص جلیل درسجن اعظم امرش رابلند کرد۔ ونورش باہر شد۔ وصیتش جہانگیر گشت۔ وآوازۂ بزرگواریش بشرق وغرب رسید۔ والیٔ یومنا ہذا چنیں امرے درعالم وجود واقع نہ شدہ اگر انصاف باشد والا بعضے از نفوس ہستند کہ اگر جمیع براہین عالم را بشنوند انصاف نہ دہند۔ مثلاً بکمال قوت ودل وملل مقاومت اور انتوانستند بکنند بلکہ فرداً وحیداً مبخوماً مظلوماً آں چہ خواست مجری داشت من معجزات جمال مبارک را ذکر نکنم شاید سامع گوید ایں روایت است ومتحمل الصدق والکذب۔‘‘

(مفاوضات عبدالبہاء ص۲۷، ۲۸)

(ترجمہ) ’یعنی (بہاءﷲ کی صداقت پر) ایک عقلی دلیل ہم سناتے ہیں۔ اہل انصاف کے لئے یہی دلیل کافی ہے۔ کیوں کہ اس دلیل کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ وہ دلیل یہ

434

ہے کہ اسی بزرگ شخص (بہاء اللہ ) نے قید خانہ میں اپنے دعوے کا اعلان کیا اور نور اس کا چمکا اور آواز اس کی جہانگیر ہوئی اور اس کی بزرگی کا شہرہ شرق وغرب میں پہنچا اور شروع دنیا سے آج تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ اگر انصاف ہو (تو غور کریں) ورنہ بعض لوگ عالم کی دلیل سنتے ہیں مگر انصاف نہیں کرتے۔ تمام حکومتیں اور تمام مذاہب اس (بہاء اللہ ) کا مقابلہ نہ کرسکے۔ بلکہ اس نے جیل میں مظلومی کی حالت میں اکیلے ہی جو چاہا جاری کیا۔ شیخ بہاء اللہ کے معجزات ذکر کروں تو سننے والا کہے گا کہ یہ ایک روایت ہے جس میں صدق وکذب کا احتمال ہے۔‘‘

(ص۲۷، ۲۸)

نقض اجمالی: آفندی صاحب نے اس دلیل کی بڑی تعریف کی ہے حالاں کہ یہ دلیل ایسی ہے کہ ان کا رقیب (قادیانی مسیح) بھی یہی پیش کرتا ہے۔ پھر کیوں نہ اس کو بھی صادق سمجھا جائے۔ غور سے سنیں مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’براہین احمدیہ میں یہ پیش گوئی ہے ’’یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواہہم و اللہ متمّ نورہ ولو کرہ الکافرون‘‘یعنی مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ نور خدا کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں مگر خدا اپنے نور کو پورا کرے گا۔ اگرچہ منکر لوگ کراہت ہی کریں۔ یہ اس وقت کی پیش گوئی ہے جب کہ کوئی مخالف نہ تھا بلکہ کوئی میرے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ پھر بعد اس کے حسب بیان پیش گوئی دنیا میں عزت کے ساتھ میری شہرت ہوئیاور ہزاروں نے مجھے قبول کیا۔ تب اس قدر مخالفت ہوئی کہ مکہ معظمہ سے اہل مکہ کے پاس خلاف واقعہ باتیں بیان کرکے میرے لئے کفر کے فتوے منگوائے گئے اور میری تکفیر کا دنیا میں ایک شور ڈالا گیا۔ قتل کے فتوے دئیے گئے۔ حکام کو اکسایا گیا۔ عام لوگوں کو مجھ سے اور میری جماعت سے بیزار کیا گیا۔ غرض ہر ایک طرح سے نابود کرنے کے لئے کوشش کی گئی۔ مگر خداتعالیٰ کی پیش گوئی کے مطابق یہ تمام مولوی اور ان کے ہم جنس اپنی کوششوں میں نامراد اور ناکام رہے۔ افسوس کس قدر مخالف اندھے ہیں ان پیش گوئیوں کی عظمت کو نہیں دیکھتے کہ کس زمانہ کی ہیں اور کس شوکت اور قدرت کے ساتھ پورئی ہوئیں۔ کیا بجز خداتعالیٰ کے کسی اور کا کام ہے۔ اگر ہے تو اس کی نظیر پیش کرو۔ نہیں سوچتے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا اور خدا کی

435

مرضی کے مخالف ہوتا تو وہ اپنی کوششوں میں نامراد نہ رہتے۔ کس نے ان کو نامراد رکھا؟ اسی خدا نے جو میرے ساتھ ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۳۰ خزائن ج۲۲ ص۲۴۱، ۲۴۲)

اتباع مرزا اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے باوجود مخالفت کے جماعت بنائی۔ ہم حیران ہیں کہ ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک یہی دلیل پیش کرتا ہے اور پھر ہر ایک دوسرے کی تکذیب بھی کرتا ہے۔ مثلاً بہائی حضرات جب یہ دلیل پیش کرتے ہیں تو قادیانی اس کو مان کر دعوے بہاء اللہ سے منکر رہتے ہیں اور قادیانی جب پیش کرتے تو بہائی ان کا منہ چڑاتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ یہ دلیل ایسی ہے کہ دونوں فریقوں کو خود مسلم نہیں۔

ہمارا جواب سنئے! ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ چند لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لینا صداقت کی علامت ہے۔ ہندوستان کے مسلموں اور غیر مسلموں میں اس کے خلاف بہت مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً: شاہی زمانے سیوا جی مرہٹہ کی مخالفت بلکہ داروگیر حکومت کی طرف سے کتنی ہوئی۔ کئی دفعہ گرفتار بھی ہوا۔ تاہم وہ اپنے ارادہ میں کامیاب ہوا۔

دوسرے درجے پر سوامی دیانند بانی آریہ سماج ہیں۔ ہندو قوم نے ان کی سخت ترین مخالفت کی لیکن سوامی جی نے ایک بڑی جماعت اپنے پیچھے لگا کر آریہ سماج قائم کرلی جو ہر طرح ان دونوں (بہائیوں اور مرزائیوں) سے طاقتور ہے۔

آگرہ میں رادھا سوامی نے باوجود مخالفت شدیدہ ہنود کے بڑی جماعت اپنے ساتھ ملا لی۔ جو تجارت، صنعت وحرفت کے علاوہ تبلیغی کام بھی کافی کرتے ہیں۔ لاہور میں دیوسماجی (دہریہ) ہیں جن کے گرو نے خدا کی غلامی سے آزاد ہونے کا پیغام لوگوں کو سنایا۔ مخالفت شدید ہوئی۔ تاہم ان کے ماننے والی ایک بڑی جماعت ہوگئی۔

سب سے بڑی مثال: سب سے بڑی مثال ہمارے سامنے آج گاندھی جی کی ہے۔ جو باوجود مصائب شدیدہ عدیدہ کے اپنے ارادے پر مضبوط ہیں اور ان کے اتباع بھی بکثرت نہ صرف موجود ہیں بلکہ مصائب جھیلتے ہیں۔

یہ تو بالاختصار غیر مسلموں کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں کہ مدعیان نے اپنی ان تھک

436

محنتوں سے بڑی بڑی جماعتیں اپنے ساتھ کر لیں۔ ہاں ہم مانتے کہ رسول اللہ a نے جو جماعت تیار کی تھی وہ ضرور صداقت کی دلیل تھی۔ کیوں کہ اس جماعت کی وجہ سے وہ پیش گوئی پوری ہوئی جو بتائی گئی تھی۔ غور سے سنئے: ’’اذا جآء نصر اللہ والفتح ورأیت النّاس یدخلون فی دین اللہ افواجاً فسبّح بحمدربک واستغفرہ انّہ کان توّاباً (النصر)‘‘ یعنی جب اللہ کی مدد اور نصرت آئے گی اور تو (اے رسول) دیکھے گا کہ لوگ دین الٰہی میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں تو تو اللہ کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہو جائیو۔

اس سورۂ میں پیش گوئی مرکب ہے دو اجزاء سے:

۱… فتح اور نصرت کے آنے سے۔

۲… لوگوں کے بکثرت داخل اسلام ہونے سے۔

پس رسول عربیa کے صدق کی دلیل یہ ہے کہ آپ کو باوجود مخالفت کے مؤمنوں کی جماعت مع کامیابی کے ملی۔ یعنی جو فرمایا تھا کہ ہماری مدد ہوگی ہم فاتح اور منصور ہوں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ ویسے ہی ہوئے۔ یہ نہیں کہ:

’’بتایا تھا ہمارے آنے سے مسلمان متقی بن جائیں گے اور تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔‘‘ (جیسا کہ ایرانی مسیح وقادیانی کہتے ہیں)

  1. پوچھا جو کل انجام ترقیٔ بشر

    یاروں سے کہا پیر مغاں نے ہنس کر

  2. باقی نہ رہے گا کوئی انسان میں عیب

    ہوجائیں گے چھل چھلا کے سب عیب ہنر

ان دونوں صاحبوں کا ادّعا ہم پہلے بتا آئے ہیں یہاں ایک حوالہ مرزا قادیانی کا مزید بتاتے ہیں جو فیصلہ کن ہے۔ ہمارے پنجابی مسیح اپنی تشریف آوری کے مقاصد بتاتے ہیں کہ :’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں:

۱… مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہوجائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ چاہتا ہے۔

۲… اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے۔ دنیا اس کو بھول جائے اور خدائے واحد کی عبادت ہو۔‘‘

(مقولہ مرزا، در اخبار الحکم قادیان ج۹، نمبر۲۵، ص۱۰، مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۵ء )

437

ناظرین کرام! یہ پیش گوئی ہے یا خواب پریشان جو دیکھنے والے اور سننے والے دونوں کو حیران کر رہا ہے اور وہ دنیا میں مسلمانوں کی بے دینی بدمذہبی اور بداخلاقی اور مسیحی لوگوں کی کثرت اور عیسیٰ مسیح کی عبادت روز افزوں زیادہ دیکھ کر بے ساختہ کہتا ہے:

ایں چہ مے بینم بہ بیدار یست یا رب یا بخواب

تاویل اور اس کا جواب

سچ تو یہ ہے کہ قادیان سے جو بھی تاویل آئے ہمیں تعجب نہیں ہوتا۔ کیوں کہ جب مقام نزول مسیح موعود ’’دمشق‘‘ سے مراد ’’قادیان‘‘ کہہ سکتے ہیں تو باقی امور میں کیا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ زمین کو آسمان کہیں یا آسمان کو زمین، سب جائز ہے۔ ہاں ناظرین کی اطلاع کے لئے ہم ان عبارات صریحہ کی تلاویلات بتاتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے اس کلام کا مطلب قادیان سے یہ بتایا گیا ہے کہ سارے مسلمان مراد نہیں، بلکہ اپنے مرید مراد ہیں۔ چنانچہ قادیانی اخبار ’’الفضل‘‘ کے الفاظ یہ ہیں:

پہلا جواب: اس اعتراض کا پہلا جواب یہ ہے کہ حضرت مرزا قادیانی نے یہ تو نہیں لکھا کہ میں ان مسلمانوں کو اعلیٰ درجہ کا متقی بنانے آیا ہوں جو میری پیروی نہ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح جسمانی طبیب اس شخص کے مرض کو دور کرسکتے ہیں جو ان کے پاس آئے، ان کی تشخیص کے مطابق نسخہ استعمال کرے اور پرہیز کرے۔ اسی طرح خدا کے انبیاء بھی جو روحانی طبیب ہوتے ہیں۔ اس شخص کی بیماری کو دور کرسکتے ہیں جو ان کے پاس علاج کرانے آئے اور ان کی ہدایات پر چلے اور حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ان لوگوں کو جنہوں نے آپ کی غلامی اختیار کی اتقاء کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچایا جس پر پہنچنے والوں کے لئے قرآن مجید میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ ان پر خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہامات نازل ہوتے ہیں۔ جیسے فرمایا:

’’ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقامو تتنزل علیہم الملائکۃ‘‘

(الفضل قادیان ج۲۱، نمبر۱۰، ص۷، کالم۲، ۳ مورخہ۲۳؍جولائی ۱۹۳۳ء)

جواب الجواب (۱): اس طرح تو ہر پیرخواہ مشرک ہو یا بدعتی کہہ سکتا ہے کہ میں

438

مسیح موعود ہوں۔ کیوں کہ جن لوگوں نے میرے ساتھ بیعت کی ہے وہ کامل مؤمن ہیں۔ میرے مسیح موعود ہونے کی یہی علامت اور یہی دلیل ہے اس کا جواب کیا؟

دوسرا جواب: دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ یہ امر مسلّمہ فریقین ہے کہ دنیا میں انبیاء کی آمد کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اہل دنیا کا خداتعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرائیں۔ مگر باوجود اس کے امر واقعہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مقابلہ میں وہ بمشکل معدودے چند لوگوں کا خدا سے تعلق پیدا کراسکتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم ان کو ناکام نہیں کہہ سکتے۔ ہاں اگر مولوی ثناء اللہ صاحب کے اعتراض کو درست تسلیم کیا جائے تو ان سب کو ناکام ماننا پڑتا ہے۔ خصوصاً حضرت مسیحؑ کو جن کے متعلق مولوی صاحب خود اپنی کتاب ’’جوابات نصاریٰ‘‘ ص۴،۵ پر لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمات الٰہیہ کا مقابلہ کرکے فیصلہ کر لو کہ دنیا میں مفوضہ خدمات میں کامیاب کون ہوا اور ناکام کون؟ یاد نہ ہو تو سنئے حضرت مسیح دنیا سے گئے تو صرف بارہ یا سولہ آدمی آپ کے فیض سے مستفیض تھے جن میں سے بھی بعض کمزور اور ضعیف الخیال۔ حضرت مسیح کی خدمات بمقابلہ خدمات محمدیہ ایسی ہیں کہ ان کو ناتمام اور نامکمل کہنا بھی ان کی عزت افزائی ہے۔ اگر حضرت مسیح ناصری باوجود اس ناکامی کے مولوی صاحب کے نزدیک خداتعالیٰ کے سچے نبی تھے تو پھر ان کے خیال کے مطابق حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی) کی ناکامی قابل اعتراض کیوں ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲۱، نمبر۱۰، ص۷، کالم۳ ، مورخہ ۲۳جولائی ۱۹۳۳ء)

جواب الجواب (۲): حضرت عیسیٰ مسیح نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا جو مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ ہمارا اعتراض عدم تکمیل تبلیغ پر نہیں۔ بلکہ حسب وعدہ عدم تبلیغ پر ہے۔ جس کو مجیب نے یا تو سمجھا نہیں یا دفع الوقتی کی ہے۔ ہمارے اعتراض کا مبنیٰ مشہور مقولہ ہے ’’یؤخذ المرء باقرارہ‘‘

تیسرا جواب: تیسرا جواب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی غرض بعثت یہ قرار دی گئی ہے کہ آپ تمام ادیان باطلہ پر دین الٰہی کو غالب کریں۔ چنانچہ فرمایا ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ اب مولوی صاحب ہی بتلائیں کہ کیا آپ کے اس اصل کے مطابق آنحضرتﷺ نے تمام ادیان باطلہ پر دین الٰہی

439

کو غالب کردیا۔ کیا بت پرست دنیا سے نابود ہوگئے یا دیگر مذاہب باطلہ مثلاً یہودیت عیسائیت وغیرہ ناپید ہوگئے۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی کا کام دنیا کے سامنے صداقت اور خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے ذرائع بیان کرنا ہوتا ہے اور جو لوگ ان کے بیان کردہ صداقت اور تقویٰ کے اصول پر چلتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو نہیں چلتے وہ گمراہی میں رہتے ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود نے دنیا کے سامنے اصول رکھ دئیے۔ جنہوں نے ان کو اختیار کیا وہ متقی بن گئے اور جنہوں نے انکار کیا وہ گمراہ۔‘‘

(الفضل ۲۳؍جولائی ۱۹۳۳ء ص۷)

جواب الجواب (۳): قادیانی مجیب کو قادیانی لٹریچر پر عبور ہوتا تو یہ جواب نہ دیتا۔ اس آیت کے متعلق ہم مرزا کا قول پہلے نقل کر آئے ہیں۔ اس آیت کے ماتحت تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرنا مرزا قادیانی نے اپنے حصہ میں لیا ہوا ہے۔ بلکہ اس مضمون کو ایسے پیرائے میں لکھا ہے جس سے معلوم ہو کہ اس آیت کی زندہ تفسیر مرزا قادیانی ہی ہیں۔ پھر اگر یہ تکمیل نہیں ہوئی تو اس کا الزام بھی مرزا قادیانی پر ہے کسی اور پر نہیں۔

نوٹ: یہاں بھی اصل اعتراض مرزا قادیانی کے اپنے قول پر ہے۔ آیت یا حدیث کے صحیح معنی پر نہیں۔ کیوں کہ آیت کے صحیح معنی تو یہ ہیں کہ خدا اسلام کو باقی کل ادیان پر غلبہ دے گا نہ کہ ’’اہل ادیان‘‘ پر۔ ان دو مفہوموں میں فرق سمجھنے کو ایک ہی مثال کافی ہے کہ:

’’آج ہم مسلمانوں پر انگریز غالب ہیں۔ مگر اسلام پر غالب نہیں بلکہ ان کے دین (مسیحیت) پر غالب ہے۔ کیا مجال کہ بمقابلہ اسلامی توحید کے تثلیث نصاریٰ ٹھہر سکے۔‘‘

بس اصل معنی یہی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس آیت کے جو معنی کئے ہیں کہ میری (مسیح موعود کی) وجہ سے اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ چوں کہ نہیں پھیلا۔ بس اس کا الزام مرزا قادیانی پر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وعدہ خلافی کا جواب مرزا اور اتباع مرزا سے کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ الّا اسی صورت میں جو عرب کے منہ زور شاعر متنبی نے اپنی محبوبہ کی وعدہ خلافی کا دیا ہے:

  1. اذا غدرت حسناء اوفت بعدہا

    ومن عہدہا الا یدوم لہا عہد

جس کا مضمون اردو شاعر نے یوں ادا کیا ہے:

  1. وہ نہ آئیں شب وعدہ تو تعجب کیا ہے

    رات کو کس نے ہے خورشید درخشاں دیکھا

440

مختصر یہ ہے کہ مرزا قادیانی جن مقاصد عالیہ کو لے کر آئے تھے ان میں بالکل ناکام رہے اور ناکام ہی واپس گئے۔ بالکل سچ ہے:

  1. کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا

    نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

باب سوم … شیخ بہاء اللہ کی تعلیمات مخصوصہ

اس سے پہلے دو بابوں میں دونوں مدعی شریک تھے۔ اس باب میں صرف بہاء اللہ کا ذکر ہوگا۔ چوں کہ شیخ بہاء اللہ مدعیٔ نبوت مستقلہ یعنی شارع شریعت تھے، اس لئے ضروری تھا کہ وہ احکام شرعیہ مستقلہ بیان کرتے اور اس بیان کرنے میں سابقہ شرائع بالخصوص قرآن مجید کے ماتحت نہیں بلکہ نبوت مستقلہ کے ماتحت اپنی شریعت کے احکام بیان کرتے ہیں۔

ضرورت ہے: چوں کہ احکام شرعیہ کا ذکر کیا جائے گا۔ لہٰذا ان احکام سے پہلے ایسے شارع کی حیثیت اور تشریف آوری کا مقصد بیان کرنا ضروری ہے تاکہ ناظرین اس حیثیت سے ان احکام کا اندازہ لگا سکیں۔

گوہم گزشتہ صفحات پر بہاء اللہ کی حیثیت موعودہ کا ذکر کرچکے ہیں تاہم احکام سے پہلے حاکم کی حیثیت کا ذکر ہونا مفید ہے۔

بہائی گروہ میں فضیلت مآب ابوالفضل محمد بن محمد رضا الجرفارقانی مصنف ’’الفرائد‘‘ بڑی شخصیت کے عالم ہیں۔ میدان علم کے واقف متکلم خوش کلام آپ اپنی کتاب ’’الفرائد‘‘ میں شیخ بہاء اللہ کی حیثیت بتانے کو لکھتے ہیں۔ اصل فارسی اور ترجمہ ملاحظہ ہو:

’’اعلم ایہا المناظر الجلیل ایدک اللہ بروح منہ‘‘ کہ اہل بہا را عقیدت ایں است کہ جمیع صحف الٰہیہ وکتب سماویہ کہ در عالم موجود است بر ایں بشارات عظیمہ ناطق ومتفق است کہ در آخرالزمان بسبب طلوع دو نیّر اعظم در سماء امر اللہ عالم رتبہ بلوغ یابد ودورۂ اوہام وخرافات طے شود وظلمت اختلافات دینیہ ومذہبیہ از عالم زائل گردد وجہان برکلمہ واحدہ ودین واحد استقرار یابد ضغائن کامہ در صدور محو شود وعداوت وبیگانگی امم بمحبت واخوت تبدیل یابدجنگ وجدال بروند بل آلات حرب باد دات کسب مبدل گردد۔ حقائق مودعہ در کتب ظہور یابد ومقاصد اصلیہ مستورہ دربطون آیات مکشوف گردد معارف

441

وعلوم تقدم پذیر دو انوار تمدن حقیقیہ کہ بلسان انبیاء بدیانت معبراست جمیع اقطار را منور فرماید نسیم رحمت بو زد وغمام عدل سایہ گسترد وامطار فضل بیارد وغبار ظلم وقتام ستم در جمیع اقطار عالم فرد نشیند وخلاصۃ القول سمٰوات ادیان مختلفہ منطوی گردد وجہان آرائشی نوگیرد وعظام رمیمۂ دین نشأۃ دجدیدہ وحیات بدیعہ پذیرد معنی ’’وتری الارض غیر الارض‘‘ آشکار شود وحقیقت ’’واشرقت الارض بنور ربہا‘‘ہویدا گردد وتفسیر ’’والامر یومئذﷲ‘‘ ظاہر آید وصیحۂ ’’اقترب للناس حسابہم وہم فی غفلۃ معرضون‘‘جہا را فرو گرفت۔ وحدیث شریف ’’انا علی نسم الساعۃ‘‘قلوب طلاب ہدایت را بقرب ورود ساعت وانقضائے دو ر ارباب ظلم وشرارت مطمئن ومستبشر ساخت وکتب والواح از بشارات وعلامات یوم اللہ مملو ومدوّن گشت دولہا بریں امید بہزار ودیست وشصت سال ہمے ارمید تاآنکہ آں نجم درّی الٰہی از افق فارق بتابید وشعلۂ نورانیہ نار حقیقیہ از شیراز برا فروخت وعلامت صبح صادق آشکارا گشت وصیحہ ظہور قائم موعود از جمیع بلاد ارتفاع یافت وندائے جانفزائے ’’بشری بشری صبح الہدی تنفس‘‘آفاق را احاطہ نمود… وبالجملہ پس اس شہادت آنحضرت و درود میعاد منصوص یوم اللہ یوم الملکوت فرار سید وآفتاب حقیقت طالع ونیّر عظمت مشرق گشت وجمال اقدس ابہی جل اسمہ لاعز الاعلیٰ برامر اللہ قیام فرمود۔

وموعود جمیع انبیاء ومرسلین وبشارات اولیا ومقربین بقیام مقدسش تحقق پذیرفت … وصیحہ ’’قد ظہر الموعود وتم الوعد‘‘ مسموع صغیر وکبیر وجلیل وحقیر گشت زلال حقائق از قلم مبارکش جریان یافت وانہار معارف از بیان مقدسش منہمر گشت مائدہ سماویہ کہ جمیع ملل برآن جمع توانند گشت بگسترد وشریعت مقدسہ کہ اصلاح عالم وتمدین امم جزبداں معقول ومتصور نیست تشریح فرمود کتاب مستطاب اقدس کہ تریاق اکبراست برائے دفع امراض عالم ومغناطیس اعظم است برائے جذب قلوب امم از قلم اعلیٰ نازل شد وشاہرہ مقدس کہ موعود انبیاء است ظاہر گشت۔‘‘

(الفرائد ص۸تا ۱۳)

(ترجمہ) ناظرین! اہل بہاء کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام کتب الٰہیہ یہ خوشخبری دینے میں متفق ہیں کہ اخیر زمانے میں دو نیّر طلوع کریں گے۔ دورۂ اوہام اور خیالات خام سب ختم ہوجائیں گے۔ دینی اور مذہبی اختلافات کا اندھیرا دنیا سے دور ہوجائے گا اور جہاں ایک

442

بات پر اور ایک دین پر سب لوگ پختہ ہوجائیں گے اور سینوں میں جو مخفی کینے ہوں گے سب دور ہوجائیں گے۔ قوموں کی عداوت اور بیگانگی محبت اور برادری سے مبدل ہوجائے گی۔ جنگ وجدل بند ہوجائیں گے بلکہ آلات جنگ آلات کسب سے بدل جائیں گے۔ کتابوں میں جو حقائق مخفی ہیں وہ ظاہر جائیں گے۔ مقاصد اصلیہ جو آیات میں مخفی ہیں سب ظاہر ہوجائیں گے۔ معارف اور علوم کھل جائیں گے اور انبیاء کی تعلیم میں جس دیانت کا ذکر ہے وہ تمام دنیا کو روشن کردے گی۔ رحمت کی ہوا چلے گی اور عدل کے بادل سایہ ڈالیں گے اور فضل کے بادل برسیں گے۔ ظلمت اور ظلم کا غبار تمام عالم میں بیٹھ جائے گا۔ حاصل کلام ادیان مختلفہ کے آسمان لپیٹ دئیے جائیں گے۔ جہاں نئی زینت پائے گا۔ دین کی گلی ہوئی ہڈیاں نئی خلقت اور حیات عجیبہ پائیں گی اور آیت ’’تری الارض غیرالارض‘‘ (تو دیکھے گا اس زمین کے بدلے میں دوسری زمین) کے معنی ظاہر ہوں گے اور آیت ’’اشرقت الارض بنور ربہا‘‘(زمین اللہ کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی) کی حقیقت واضح ہوگی اور آیت ’’والامر یومئذﷲ‘‘(اختیار اس روز سارا اللہ کو ہوگا) کی تفسیر ظاہر ہوجائے گی۔ (یہاں تک تو عام خوشخبری کا بیان ہے اس کے آگے خاص بہاء اللہ کی تشریف آوری کا ذکر ہے)

اور آیت ’’اقترب للناس حسابہم‘‘(لوگوں کا حساب نزدیک آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیر رہے ہیں) کی آواز نے جہان پر اثر ڈالا اور حدیث انا الخ نے طالبان ہدایت کو قرب قیامت اور ظلم وشرارت کے زور کا خاتمہ ہونے سے مطمئن اور مسرور کیا اور کتب الواح بشارات اور علامات یوم اللہ بھر گئیں اور لوگوں کے دل اس امید پر بارہ سو ساٹھ تک تسلی پاتے رہے یہاں تک کہ چمکتا ستارہ خداوندی نے فارس کے افق سے تائید الٰہی اور شعلہ نورانیہ کے ساتھ تارحقیقت کو روشن کیا اور علامت صبح صادق ظاہر ہوئی اور قائم موعود کے ظہور کی آواز تمام شہروں سے اٹھی اور جان افزا مژدہ بخش آواز نے تمام اطراف کو گھیر لیا۔

’’موعود۱؎ ظاہر ہوگیا‘‘ اور وعدہ پورا ہوگیا‘‘ کی آواز چھوٹے بڑے معزز غیر معزز سب نے سنی۔ اس (موعود بہاء اللہ ) کے مبارک قلم سے صاف حقائق رواں ہوئیں اور اس کے مقدس بیان کے معارف کی نہریں جاری ہوئیں اور اس (بہاء اللہ ) نے ایک ایسا آسمانی دسترخوان بچھایا جس پر تمام دین والے جمع ہوسکیں اور ایسی پاک شریعت جاری کی کہ عالم کی

۱؎ پہلے ستارہ کی تعیین صاف نہیں کہ دوسرا ستارہ شیخ بہاء اللہ کو قرار دے کر مصنف لکھتا ہے۔

443

اصلاح اور قوموں کی وحدت دینی بغیر اس شریعت کے معقول اور ممکن نہیں۔ (بہاء اللہ ) ’’کتاب اقدس‘‘ جو تمام جہان کی بیماریاں دور کرنے میں تریاق اکبر ہے اور قوموں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے مقناطیس اعظم ہے اور جس مقدس شاہراہ کا سب انبیاء کرام نے وعدہ دیا تھا وہ اس کتاب کے ذریعہ سے ظاہر ہوگیا۔‘‘

ناظرین کرام! اتنی بڑی شخصیت کا دعویدار سلسلہ انبیاء میں کوئی نہیں ہوا۔ ہوتا کیسے جب کہ یہ کسی نبی نے کہا ہی نہیں کہ میں اپنے سے پہلے نبیوں کا مقصود ہوں۔ ان میں سے ہر ایک یہی کہتا رہا کہ میں پہلے نبیوں کی روش پر ہوں۔ فبہداہم اقتدہ نص قطعی ہے۔

خیر ہم اس بحث کو چھوڑتے ہیں کہ سابقہ انبیاء کرام نے کیا دعویٰ کیا اور شیخ بہاء اللہ نے ان کے مخالف کیا یا موافق۔ بلکہ ہم یہاں دو باتوں کو سامنے رکھتے ہیں۔

اول: یہ کہ شیخ بہاء اللہ کی ’’کتاب اقدس‘‘ کی تعلیم کیا ہے؟

دوم: اس پر عمل کرکے سب ادیان ایک دین پر جمع ہوگئے؟

تعلیمات بہائیہ … عقائد بہائیہ۱؎

اصل الفاظ

۱… ’’یا معشرالعلماء اما تسمعون صریر قلمی الاعلیٰی واما ترون ہذہ الشمس المشرقۃ الابہٰی الی اعتکفتم علی اصنام اہوائکم دعوا الاوہام وتوجہوا الی اللہ (ص۱۳)۲؎ اے علماء کی جماعت کیا تم میرے اعلیٰ قسم کی آواز نہیں سنتے ہو کیا تم اس چمکتے روشن سورج کو نہیں دیکھتے ہو۔ تم لوگ کب تک اپنی خواہش کے بتوں پر جمے رہو گے۔ اوہام کو چھوڑا اور اللہ کی طرف متوجہ ہو۔

۲… ’’یامعشر العلماء ہل یقدر احد منکم ان یسبقنی فی میدان المکاشفۃ والعرفان او یحول فی میدان الحکمۃ والتبیان (ص۲۹)‘‘ اے جماعت علماء تم میں سے کوئی طاقت رکھتا ہے کہ میدان مکاشفہ اور عرفان میں مجھ سے آگے بڑھ سکے یا میدان حکمت اور بیان میں پھر سکے۔

۱؎ یہ تقسیم اور انتخاب ہماری محنت کا نتیجہ ے۔ شیخ بہاء اللہ نے سب مخلوط لکھا ہے۔

۲؎ یہ صفحات کتاب اقدس کے ہیں۔ (مصنف)

444

۳…’’ان عدۃ الشہور تسعۃ عشر شہراً فی کتاب اللہ (ص۳۴)‘‘ مہینوں کا شمار اللہ کی کتاب میں انیس مہینے ہے۔۱؎

۴…’’یا مہدی ان الکتاب علی ہیئۃ اسمی الاعظم ینطق بین العالم انہ لاالٰہ الا اناالعزیز الوہاب (ص۵۱)‘‘اے مہدی کتاب تیرے اسم اعظم کی صورت پر دنیامیں اظہار کرتی ہے کہ میں غالب وہاب ہی معبود ہوں۔

۵… ’’طوبی لک یا ہدی مما اقتلت الی اللہ مالک العرش والثری قل

۱؎ ہر مہینہ انیس روز کا ہے۔ ان مہینوں کے نام یہ ہیں:

  1. بہائی مہینوں کے نام

    تاریخ انگریزی

  2. بہاء

    ۲۱؍مارچ

  3. جلال

    ۹؍اپریل

  4. جمال

    ۲۸؍اپریل

  5. عظمت

    ۱۷؍مئی

  6. نور

    ۵؍جون

  7. رحمت

    ۲۴؍جون

  8. کلمات

    ۱۳؍جولائی

  9. اسماء

    یکم؍اگست

  10. کمال

    ۲۰؍اگست

  11. عزت

    ۸؍ستمبر

  12. مشیت

    ۲۷؍ستمبر

  13. علم

    ۱۶؍اکتوبر

  14. قدرت

    ۴؍نومبر

  15. قول

    ۲۳؍نومبر

  16. مسائل

    ۱۲؍دسمبر

  17. شرف

    ۳۱؍دسمبر

  18. سلطان

    ۱۹؍جنوری

  19. ملک

    ۷؍فروری

  20. ایام اعطا ۲۶فروری سے

    یکم مارچ تک

  21. علاء

    ۲مارچ

(رسالہ کوکب ہند، دہلی بابت جنوری ۱۹۳۳ء ص۱۰)

سوال یہ ہے کہ موسمی مہینوں کی تقسیم موسم کی بنا پر ہے۔ مثلاً ساون بادوں وغیرہ اور قمری مہینوں کی تقسیم قدرتی نشان (رویت ہلال) پر ہے۔ یہ بہائی تقسیم انیس مہینوں کی (ہر مہینہ انیس روز کا) کس بنا پر ہے؟ کیا ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو آسمان پر کوئی نشان نظر آتا ہے؟ یا موسم کی تبدیلی ہوتی ہے؟ اگر کچھ نہیں جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ نہیں تو پھر یہ ایجاد کیا اس شعر کی مصداق ہے؟

  1. نہ پیرویٔ قیس نہ فرہاد کریں گے

    ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

(مصنف)

445
یا ملأ الامکان ت اللہ قد فتح باب السمآء واتی مالک الاسماء علی ظل السحاب قل لک الحمد یا منزل الآیات (ص۵۶)‘‘

اے ہادی تجھے خوشخبری ہو اس وجہ سے کہ تو اللہ کی طرف متوجہ ہوا جو عرش اور تحت الثریٰ کا مالک ہے۔ آسمان کا دروازہ کھولا گیا اور آسمان کا مالک بادل کے سائے میں آیا تو کہہ سے اے آیات اتارنے والے تیری تعریف ہے۔

۶… ’’قل ہذا یوم بشر بہ محمد رسول اللہ من قبل ومن قبلہ الانجیل والزبور (ص۵۷)‘‘کہہ یہ زمانہ وہ ہے جو محمد رسول اللہ (a) نے پہلے جس کی خوشخبری دی تھی اور اس سے پہلے انجیل اور زبور نے۔۱؎

۷… ’’تمسکوا بالکتاب الاقدس الذی انزلہ الرحمن من جبروتہ الاقدس (ص۶۲)‘‘اس کتاب اقدس کو مضبوط پکڑ خدائے رحمن نے اپنے جبروت اقدس سے اسے اتارا ہے۔

۸… ’’ہذا کتاب انزلہ الوہاب اذاتی علی السحاب (ص۶۷)‘‘یہ کتاب اللہ وہاب نے اس وقت اتاری جب وہ بادل پر آیا تھا۔

۹… ’’یا عیسٰی افرح بما یذکرک مالک العرش والثری بعمر اللہ ہذا مقام لا یعادلہ شیٔ فی الارض (ص۷۱)‘‘اے عیسیٰ بسبب اس کے خوش ہو جو مالک العرش والثریٰ تجھے یاد کرتا ہے۔ قسم بخدا یہ مقام ایسا عالی ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اس کے برابر نہیں ہوسکتی۔

۱۰… ’’قل یا ملاء الفرقان قد اتی الرحمن بسلطان محمود۔ قل یا ملاء انجیل قد فتح باب السماء واتی من صعد الیہا وانہ ینادی فی البر والبحر ویشیر الکل بہذا الظہور الذی بہ نطق لسان العظمۃ قد اتی الوعد وہذا یوم الوعد وہذا ہو الموعود (ص۷۴)‘‘ تو کہہ اے قرآن والو! خدائے رحمن تمہارے پاس قابل تعریف غلبہ لایا ہے۔ اے انجیل والو! آسمان کا دروازہ کھل گیا ہے اور آگیا جو اس کی

۱؎ یہی دعویٰ مرزا قادیانی کا ہے کہ میری بابت سابقہ کتب میں پیش گوئی ہے۔ دونوں صاحبوں کے اتباع ایسی پیش گوئی ہمیں دکھائیں تو ہم مشکور ہوں گے۔ (مصنف)

446

طرف چڑھا تھا اور وہ بلاتا ہے خشکی اور تری میں اور سب کو اس ظہور کی خوشخبری دیتا ہے جس کو خدائی زبان نے ظاہر کیا ہے۔ وعدہ آگیا اور یہ یوم الوعد ہے اور یہی موعود ہے۔

۱۱… ’’قل ہذا یوم فیہ ظہرکل امر حکیم وہذا یوم ربح فیہ المقربون والمشرکون فی خسران مبین ہذا یوم ینادی اللہ بلسان العظمۃ یدع الکل الی صراطہ المستقیم قل ت اللہ قد ظہر ما ہوالمستور فی کتب اللہ رب العالمین (ص۷۵)‘‘تو کہہ یہ دن ہے جس میں ہر ایک باحکمت کام ظاہر ہوا ہے اور یہ دن ہے کہ اس میں مقربان خدا فائدہ اٹھائیں گے اور مشرک لوگ واضح نقصان پائیں گے۔ یہ دن ہے کہ خدا اپنی عظمت کی زبان کے ساتھ اس کی منادی کرتا ہے سب کو سیدھے راستہ کی طرف بلاتا ہے تو کہہ اللہ کی قسم ہے جو اللہ رب العالمین میں موعود لکھا تھا وہ ظاہر ہوگیا۔

۱۲… ’’انہ ہوالذی سمی فی التورات بیہوہ وفی الانجیل بروح القدس وفی الفرقان بالنبأ العظیم (ص۷۶)‘‘بے شک یہ وہی ہے جس کا نام تورات یہوہ۱؎اور انجیل میں روح القدس اور قرآن مجید میں (نبأ عظیم) بڑی خبر رکھا گیا ہے۔

۱۳… ’’قل سبحانک یا الٰہ الوجود من الغیب والشہود اسئلک بالاسم الذی بہ تزلزلت الارض (ص۸۶)‘‘ تو کہہ اے موجودات غائبہ اور حاضرہ کے معبود میں تیرے اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جس کے ساتھ زمین بھی ہل جاتی ہے۔

۱۴… ’’تا اللہ انی انا الصراط المستقیم واناالمیزان الذی بہ بوزن کل صغیروکبیر (ص۱۰۰)‘‘ قسم ہے خدا کی میں سیدھا رستہ ہوں اور میں وہ ترازو ہوں جس کے ساتھ چھوٹے بڑے اعمال تولے جائیں گے۔

۱۵… ’’قل الٰہی تعلم ماعندی ولا اعلم ما عندک اشہدان زمام العلم فی یمینک (ص۱۰۷)‘‘ تو کہہ اے میرے معبود جو میرے پاس ہے تو جانتا ہے اور جو تیرے پاس ہے میں نہیں جانتا علم کی باگ بے شک تیرے ہاتھ میں ہے۔

۱؎ تورات میں یہوہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور انجیل میں روح القدس بقول عیسائیاں تثلیث کا ایک اقنوم (حصہ) ہے اور قرآن مجید میں نبأ عظیم روز قیامت ہے۔ (مصنف)

447

۱۶… ’’والذی اعرض عن الامر انہ من اصحاب السعیر (ص۱۰۸)‘‘ جو اس دین (بہائی) سے منہ پھیرے بے شک وہ جہنمی ہے۔

۱۷… ’’ہذا یوم فیہ ظہرالکنز المخزون ومرت الجبال کمرالسحاب (ص۱۱۴)‘‘ یہ دن ہے جس میں مخفی خزانہ ظاہر ہوا اور پہاڑ مثل بادلوں کے چلے۔۱؎

۱۸… ’’انی انا السماء التی صعد الیہا ابن مریم (ص۱۵۷)‘‘ میں ہی وہ آسمان ہوں جس کی طرف مسیح ابن مریم چڑھا تھا۔۲؎

۱۹… ’’یا ایہاالجاہل اعلم ان العالم من اعترف بظہوری وشرب من بحر علمی وطار فی ہواء۳؎ حبی ونبذما سوائی واخذ ما نزل من ملکوت بیانی البدیع (ص۲۰۲)‘‘ اے جاہل انسان تو جان لے کہ میرے ظہور کا اعتراف کرے اور میرے علمی سمندر سے پئے اور میری محبت کی ہوا میں اڑے اور میرے سوا سب کو چھوڑ دے اور جو مجھ پر بدیع بیان نازل ہوا ہے اس کو قبول کرے۔ بس وہی عالم ہے۔

۱؎ قرآن شریف میں ایک آیت ہے: ’’تحسبہا جامدۃً وہی تمرّ مرّالسحاب: (النحل:۸۸)‘‘ قیامت کے پہلے حصہ میں تم میں پہاڑوں کو دیکھ کر سمجھو گے کہ ایک جا جمے ہوئے ہیں حالاں کہ وہ بادلوں کی طرح چلتے ہوں گے۔ چوں کہ شیخ بہاء اللہ اپنے آپ کو قیامت کہتا تھا۔ اس لئے قیامت کی علامت اپنے پر چسپاں کرلی۔

۲؎ نمبر۱۰ میں اپنے آپ کو آسمان پر چڑھنے والا بتایا اور اس نمبر۱۸ میں خود کو آسمان قرار دیا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے ایک جگہ لکھا میں مریم بنا پھر میں حاملہ ہوا، پھر مسیح موعود بنا۔ (کشتی نوح)

کیا خوب! ’’خود کوزہ، خود کوزہ گر خود گل کوزہ‘‘

ناظرین کرام! ’’کتاب اقدس‘‘ کو زمانہ حال کے حسب حال بہترین تعلیم کہہ کر قرآن مجید کی ناسخ کہا جاتا ہے۔ کیا ان عقائد کے لحاظ سے ان میں ایسی کوئی مزید خوبی ہے جو ناسخ قرآن ہوسکے۔ حالاں کہ خدا کی ذات اور صفات کے متعلق قرآن شریف نے جس تفصیل سے تعلیم دی ہے اس کو ملحوظ رکھ کر ’’کتاب مقدس‘‘ کو سامنے لانا بالکل اس مثال کے مشابہ ہے: ’’شیر قالین دگر است شیرنیستاں دگراست‘‘

لطف یہ ہے کہ ان لوگوں کا عام اعلان ہے:

’’اصول شریعت الٰہی ایک ہی ہیں وہ بدل نہیں سکتے۔‘‘ (کوکب ہند بابت اگست ۱۹۳۱ء ص۳۵)

۳؎ ’’ہوا‘‘ بمعنی ریح۔ عربی نہیں۔،مصنف

448

۲۰… ’’کذالک یعلمک من علم اٰدم الاسماء کلہا ان ربک ہوالمقتدر القدیر (ص۲۵۳)‘‘ اسی طرح سکھاتا ہی تجھ کو وہ خدا جس نے آدم کو سب نام سکھائے تیرا رب بڑی قدرت والا قدیر ہے۔

اعمال متعلقہ عبادت

۱… ’’توضؤا للصلوٰۃ امراً من اللہ الواحد المختار (ص۷)‘‘ نماز کے لئے وضو کیا کرو و اللہ واحد مختار کی طرف سے۔۱؎

۲… ’’قد فرض اللہ علیکم الصلٰوۃ تسع رکعات اذا اردتم الصلوٰۃ ولّوا وجوہکم شطری الاقدس المقام المقدس الذی جعلہ اللہ مطاف الملاء الاعلٰی (ص۳) ‘‘ اللہ نے تم پر ۹ (نو) رکعت نماز فرض کی ہیں۔ جب تم نماز پڑھنی چاہو منہ اپنا میرے مقام کی طرف پھیرا کرو۔ جس کو خدا نے ملاء اعلیٰ (یعنی فرشتوں) کے طواف کی جگہ بنایا ہے۔۲؎

۳… ’’قد فرض اللہ علیکم الصلوٰۃ والصوم من اوّل البلوغ من لم یجد الماء بذکر خمس مرات بسم اللہ الاظہر الاطہر (ص۴)‘‘‘‘ خدا نے تم پر نماز اور روزہ شروع وبلوغ سے فرض کیا ہے جو کوئی پانی نہ پائے وہ پانچ مرتبہ بسم اللہ الاظہرالاطہر پڑھ لیا کرے۔۳؎

۴… ’’قد عفونا عنکم صلوٰۃ الاٰیات اذا ظہرت اذکرو اللہ بالعظمۃ (ص۵)‘‘

۱؎ وضو کی تفصیل نہیں بتائی کون کون سا عضو دھونا چاہئے اور کس کس فعل سے وضو ٹوٹ کر جدید کرنا فرض ہے۔(مصنف)

۲؎ نہ تو رکعات کی تقسیم کی نہ تعداد صلوٰۃ بتائی نہ اوقات بتائے (نقص بیان) اپنی طرف منہ پھیرنے کا حکم دینا۔ پھر آپ ہی اس کو مقدس اور فرشتوں کا جائے طواف قرار دینا کتنا خلاف شان انبیائے کرام علیہم السلام ہے۔

۳؎ یہ نہیں بتایا کہ یہ ذکر صرف وضو کے قائم مقام ہے یا وضو اور نماز دونوں کے قائم مقام۔ (نقص بیان)مصنف!

449

ہم نے تم سے نشانات کی نماز معاف کردی جب وہ نشانات (مثل کسوف خسوف وغیرہ) ظاہر ہوں تو اللہ تعالیٰ کو بزرگی کے ساتھ یاد کیا کرو۔۱؎

۵… ’’کتب علیکم الصلوٰۃ فرادی قد رفع عنکم حکم الجماعۃ الا فی صلوٰۃ المیت (ص۵)‘‘ نماز اکیلے اکیلے پڑھنی تم پر فرض کی گئی ہے۔ جماعت کا حکم اٹھا دیا گیا مگر میت کی نماز (جنازہ)۲؎میں جماعت ہے۔

۶… ’’قد عفا اللہ عن النساء حین یجدن الدم الصوم والصلٰوۃ ولہم ان فیوضان ویسبحن خمساً وتسعین مرۃ من زوال الی زوال (ص۵)‘‘عورتیں جب خون (حیض) دیکھیں تو ان کو روزہ اور نماز معاف ہے اور وضو کرکے (آٹھ پہروں میں) زوال سے زوال تک پچانوے مرتبہ تسبیحیں پڑھا کریں۔۳؎

۷… ’’یا قلم الاعلٰی قل یا ملاء الانشاء قد کتبنا علیکم الصیام ایاما معدودات وجعلنا النیروز عیدالکم (ص۶)‘‘

۱؎ معافی بعد فرض یا وجوب کے ہوتی ہے حالاں کہ اسلام میں کسوف وخسوف کی نماز نہ فرض ہے، نہ واجب۔ پھر معافی کیا ہوئی۔ اگر سنت کی معافی ہے تو عفونا کی بجائے حرمنا یا کرّہناہونا چاہئے تھا۔ (مصنف)

۲؎ اسلام میں نماز باجماعت مقرر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ نیک وبد شریک ہو کر خدا کی عبادت کریں اور بصیغہ جمع ’’ایاک نعبد وایّاک نستعین‘‘ (ہم سب تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں) حضور خدا میں عرض کریں۔ اگر انمیں کوئی ایک بھی قبولیت کے لائق ہو تو باقی کے لئے بحکم ’’رشتہ واپس نہ دہد ہر کہ گوہر مے گیرد‘‘

قبولیت کی امید ہے۔ اس حکمت کے علاوہ نماز باجماعت متمدن زندگی گزارنے کی تعلیم دیتی ہے جو آج متمدن ممالک کا معراج کمال ہے ایسے باحکمت اور مفید ترین حکم کو اٹھا کر اکیلے اکیلے نماز پڑھنے کو ناسخ اور مفید کہنا اس شعر کا مصداق ہے:

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق...اس نے دیکھے ہی نہیں ناز ونزاکت والے

۳؎ اسلام میں حائضہ کو نماز معاف ہے اور وزہ ملتوی۔ شیخ بہاء اللہ نے دونوں معاف کردئیے۔ آٹھ پہروں میں پچانوے دفعہ تسبیحیں پڑھنے کا حکم دیا۔ مگر تفصیل نہیں بتائی۔ ایک دفعہ ساری پڑھ لے یا متفرق طور پر پڑھے۔ (مصنف)

450

اے قلم اعلیٰ کہہ اے گروہ انشاء تحقیق ہم نے تم پر چند دنوں کے روزے فرض کئے اور نوروز (ایرانی سال کا اول دن) تمہارے لئے عید مقرر کیا ہے۔۱؎

۸… ’’کفوا انفسکم عن الاکل والشرب من الطلوع الی الافول‘‘(روزے میں) کھانے پینے سے اپنے آپ کو طلوع سے غروب تک بند رکھو۔۲؎

۹… ’’قد حکم اللہ لمن استطاع حج البیت دون النساء (ص۱۰)‘‘ جو کوئی طاقت رکھے خدا نے اس پر حج البیت فرض کیا ہے۔ عورتوں پر نہیں۔۳؎

۱۰… ’’والذی تملک مائۃ مثقال من الذہب فلتسعۃ عشر مثقال ﷲ (ص۲۷)‘‘جو کوئی سو مثقال سونے کا مالک ہو اس پر ہر انیس مثقال پر ایک مثقال اللہ کے نام پر دینا فرض ہے۔۴؎

۱؎ ایام معدودات کا شمار اور تعیین نہیں کی۔ یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ ایام نوروز کے قریب متصل ہوں گے یا منفصل۔(مصنف)

۲؎ افول کا فاعل یقینا شمس ہے مگر طلوع ذو وجہین ہے اس کا فاعل اگر سورج ہوسکتا ہے تو صبح بھی ہوسکتی ہے۔ پہلی وجہ سے یہ معنی ہوں گے کہ سورج چڑھنے سے سورج کے ڈوبنے تک کھانے پینے سے بند رہو۔ دوسری وجہ سے یہ معنی ہوں گے کہ طلوع فجر سے۔ ان دونوں طلوعوں میں ڈیڑھ گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ بہرحال مقام تفصیل میں ابہام رکھنا نقص بیان ہے۔ قرآن مجید میں من الفجر آیا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ (مصنف)

۳؎ حج البیت میں ’’البیت‘‘ سے کیا مراد ہے۔ وہی بیت ہے جس کی طرف بوقت نماز منہ کرنے کا حکم ہے۔ (یعنی مکان بہاء اللہ ۔ دیکھو نمبر۲ باب ہذا) یا وہ البیت ہے جو قرآنی اصطلاح (ﷲعلی الناس حج البیت) میں البیت کہا گیا۔ بہرحال نقص بیان ہے عورتوں سے حج معاف کرنا بھی قابل غور ہے۔ جس صورت میں آج عورتیں حق ووٹ میں مساوات مانگتی ہیں اور لے بھی رہیں ہیں، اسلام نے بھی ان کو ہر کام میں مردوں کے ساتھ شریک رکھا ہے۔ (مصنف)

۴؎ یہ مسئلہ زکوٰۃ ہے۔ اس کا مفہوم ہے کہ مال کا انیسواں حصہ دینا چاہئے۔جو اسلامی زکوٰۃ (چالیسویں حصے) سے بہت زیادہ ناقابل عمل ہے۔ قرآن شریف میں ناسخ کی علامت بتائی ہے ’’نات بخیرمنہا او مثلہا‘‘ (منسوخ سے اچھا یا کم سے کم مثل) مگر یہاں ناسخ بحیثیت عمل کے بہت مشکل ہے۔ پھر وہ یونیورسل (تمام دنیا کے لئے قابل عمل) کیوں کر ہوا۔ لہ الحمد۔

ناظرین کرام! یہ احکام متعلقہ عبادت ہیں۔ قرآن شریف کی نسبت ان میں کیا خوبی ہے؟ اس کا فیصلہ ہم اہل علم اور اہل انصاب پر چھوڑتے ہیں۔(مصنف)

451

اعمال مدنیہ

ْ (احکام مدنیہ سے مراد وہ احکام ہیں جو متعدد آدمیوں سے تعلق رکھتے ہیں) (مصنف)

۱… ’’قد کتب علیکم النکاح۔ ایاکم ان تجاوزوا عن الاثنین والذی اقتنع بواحدۃ من الاماء استراحت نفسہ ونفسہا ومن اتخذ بکراً بخدمۃ لا باس علیہ (ص۱۸)‘‘

خدا نے تم پر نکاح کرنا فرض کیا ہے۔ خبردار دو سے زیادہ نہ کرنا۔ جو ایک لونڈی پر قناعت کرے اس شخص کا اور اس لونڈی کا (دونوں کا) نفس آرام پائے گا اور جو کوئی خدمت کے لئے کنواری رکھ لے اسے حرج نہیں۔۱؎

۲… ’’قد کتبنا المواریث منہا منہا قدر لذریاتکم من کتاب الطاء علی ؤ

۱؎ یہ حکم صریح قرآن کی مخالفت ہے۔ قرآن شریف نے تعدد ازواج کی اجازت اس شرط سے دی ہے کہ مرد کو طاقت ہو اور انصاف بھی کرے۔

ایک بیوی یا ایک لونڈی پر کفایت کرنے کا ارشاد قرآن شریف میں بھی ہے ’’فان خفتم الّا تعدلوا فواحدۃ او ماملکت ایمانکم (النساء:۳)‘‘

ہاں نکاح کو فرض کہنا اور اس کو تفصیل اور ضرورت اور وسعت سے مقید نہ کرنا بھی خلاف حکمت ہے۔ قرآن مجید نے ان سب باتوں کو ملحوظ رکھا ہے۔ ارشاد ہے:

’’ولیستعفف الذین لایجدون نکاحاً حتی یغنیہم اللہ من فضلہ (النور:۳۳)‘‘ (جو لوگ نکاح کا سامان نہیں پاتے (ازقسم مالی اور جسمانی طاقت) وہ بچے رہیں۔ جب تک خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کرے) اس آیت نے صاف رہنمائی کی ہے کہ مرد کو اس وقت نکاح کرنا چاہئے جب وہ طاقتور ہو اور اخراجات کا متحمل بھی ہو۔ بغیر طاقت اور بغیر ثروت کے نکاح کرنے سے وہی نقشہ ہوگا جو شیخ سعدی مرحوم نے بتایا ہے:

تہی پائے رفتن بہ از کفش تنگ...بلائے سفر بہ کہ در خانہ جنگ

پس بغیر ان قیود ضروریہ کے حکم دینا کہ نکاح کرنا تم پر فرض ہے ضلالت شان مصلحین ہے۔

ہاں کنواری لڑکی کو خدمت کے لئے رکھنے کی اجازت بھی معنی خیز ہے جس پر یہ شعر یاد آیا:

خلوت ہو اور رقیب نہ ہو یار سامنے... زاہد! تجھے قسم ہے جو تو ہو تو کیا کرے

452
عدد المقت وللازواج من کتاب الہاء علی عددالتاء والفاء وللاٰباء من کتاب الواء علی عددالتاء والکاف وللامہات من کتاب الواو علی عددالسمیع وللاخوان من کتاب الہاء عددالسین وللاخوات من کتاب الدال عددالراء والمیم وللمسلمین من کتاب الجیم عددالقاف والفاء۔ قد سمعنا ضجیج الذریات فی الاصلاب اذ ما نقصت مالہم ونقصًا عن الاخری من مات ولم یکن لہ ورثۃ ترجع الی بیت العدل یصرفوا امناء الرحمن فی الایتام والارامل وما ینتفعوا بہ جمیع الناس والذی لہ ذریۃ مالم یکن دونہا عما حدد فی الکتاب یرجع الثلثان مما ترکہ الی الذریۃ والثلث الی بیت العدل والذی لم یکن لہ من یرثہ وکان لہ ذوالقربی من ابناء الاخ والاخت وبناتہما فلہم الثلثان والا للاعمام والاخوال والعمات والخالات ان الذی مات فی ایام ولدہ ولہ ذریۃ الیک یرثون بالابیہم فی کتاب اللہ کل ذالک بعد اداء الحقوق والابون (ص۷،۸،۹)‘‘

ہم نے کتاب مواریث لکھی جو تمہاری اولاد کی قسمت میں ہے۔ کتاب الطاء اور عدد مقت (غصے) کے اور بیویوں کے لئے کتاب الہاء میں اوپر عدد تا اور فا کے اور باپوں کے لئے کتاب الراء سے اوپر عدد تا اور کاف کے اور مائوں کے لئے کتاب الواو سے اوپر عدد سمیع کے اور بہائیوں کے لئے کتاب الہاء اوپر عدد سین کے اور بہنوں کے لئے کتاب الدال سے عدد را اور میم کے برابر اور مسلمانوں کے لئے کتاب الجیم سے عدد قاف اور فاء کے۔ ہم نے بچوں کی چیخ اصلاب میں سنی (اذ ما نقصت مالہم ونقصاً عن الاخراس کا ترجمہ ہم نہیں کرسکتے) جو کوئی مرے اور اس کے وارث نہ ہوں ان کا ترکہ بیت العدل کی طرف جائے گا تاکہ حکام اس کو یتیموں، بیوگان اور رفاہ عام میں خرچ کریں اور (یہ زیر خط ترجمہ بہائی رسالہ ’’کوکب ہند‘‘) کے ایڈیٹر صاحب کا کیا ہوا ہے) جس کی اولاد ہو اور دوسرے وارث نہ ہوںجن کے حقوق کتاب اللہ میں مذکور ہیں تو دو ثلث ترکہ ذریت کو دیا جائے گا اور ایک ثلث بیت العدل میں پہنچا دیا جائے ۔

جس شخص کے وارث نہ اور اس کے قرابتی بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے، بھانجیاں ہوں

453

تو ان کو ترکہ میں سے دو ثلث ہوں گے۔ ورنہ چچائوں، ماموئوں اور خالائوں کا ہوگا اور جو شخص اپنے بچے کے ایام میں مر جائے اور اس کی اولاد ہو۔ وہ وارث ہوں گے اپنے باپ کے کل مال کے۔ یہ احکام بعد ادائے حقوق اور فرض کے ہیں۔۱؎

۳… ’’من احرق بیتاً متعمداً فاحرقوہ ومن قتل نفساً فاقتلوہ (ص۱۸)‘‘ جو کوئی دانستہ گھر جلائے تو اس کو جلا دو اور جو کسی جان کو قتل کرے اس کو قتل کردو۔۲؎

۴… ’’کتب اللہ لکل عبدا اراد الخررج من وطنہ ان یجعل میقاتا لصاحبتہ فی ایۃ مدۃ اراد ان اتی والا اعتذر بقدر حقیقی فلہ ان یخبر قرینہ ویکون فی غایۃ الجہد للرجوع الیہا وان فات الامر ان فلہا تسعۃ اشہر معدودات وبعد اکمالہالا باس علیہا فی اختیار الزوج (ص۱۹، ۲۰)‘‘ ہر بندہ جو اپنے وطن سے سفر کو نکلے خدا نے اس پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنی واپسی کی مدت مقرر کرے کہ کب آئے گا اور اگر سفر میں واقعی معذور ہو کر مجبور ہوجائے تو اپنی بیوی کو اطلاع دے اور واپسی کی کوشش کرے۔ اگر کچھ نہ کرے نہ وقت مقرر کرکے جائے اور نہ اطلاع دے تواس کی بیوی کو اختیار ہے کہ نو مہینے انتظار کرکے خاوند ثانی سے نکاح کرلے۔۳؎

۱؎ اس تقسیم کو شیخ بہاء اللہ یا ان کے خاص لوگ ہی سمجھے ہوںگے اس تقسیم میں جو اغلاق ہیں وہ اہل علم سے مخفی نہیں۔

ناظرین کرام اس عبارت کے ساتھ قرآن مجید کا ارشاد سامنے رکھ لیں جو چوتھے پارہ کے تیرہویں رکوع سے شروع ہوتا ہے۔ جس کا شروع یوں ہے ’’یوصیکم اللہ فی اولادکم الایہ‘‘ دونوں کو سامنے رکھ کر دیکھیں گے تو بے ساختہ منہ سے نکل جائے گا:

بس تنگ نہ کر ناصح نادان مجھے اتنا... یا چل کے دکھا دے دہن ایسا کمر ایسی

۲؎ گھر جلانے کی سزا میں انسان کو جلانا نہ صرف انبیاء کرام کی تعلیم کیخلاف ہے بلکہ آج تمام دول کے قوانین کے بھی مخالف ہے، کسی جان کے قتل کی سزا بھی تفصیل چاہتی ہے جو ہم نے نمبر۷ میں بیان کی ہے۔

۳؎ یہ ایک اخلاقی تمدنی حکم ہے۔ قرآن شریف نے اس مضمون کو اس سے اچھے لفظوں میں بیان کیا ہے۔ ارشاد ہے: ’’عاشروہن بالمعروف‘ ‘(عورتوں سے اچھی طرح برتائو کیا کرو)

نیز فرمایا ’’ولہنّ مثل الذی علیہنّ بالمعروف (البقرہ:۲۲۸)‘‘ (عورتوں کے خاوندوں پر اتنے حقوق ہیں جتنے خاوندوں کے ان پر ہیں)

454

۵… ’’قد حکم اللہ دفن الاموات فی البلور والاحجار والمخضعہ الاخشاب الصلبۃ اللطیفۃ ووضع الخواتم المنقوشۃ فی اصابعہم انہ لہو المقدرالعلیم (ص۳۴)‘‘ خداوندتعالیٰ نے مردوں کو بلور اور سخت پتھروں اور مضبوط نرم لکڑیوں میں دفن کرنے کا حکم دیا ہے اور منقوش انگھوٹھیاں جو انگلیوں میں ہوتی ہیں ان کو مردوں سے اتار لینے کا حکم دیا ہے۔ تحقیق وہ خدا مقدر علیم کل ہے۔۱؎

۶… ’’قد کتب علی السارق النفی والحبس وفی الثالث فاجلعوا فی جبینہ علامۃً یعرف بہا لئلا تقبلہ مدن اللہ ودیارہ (ص۱۴)‘‘ خدا نے چور کے حق میں جلا وطنی اور قید لکھی ہے اور تیسری مرتبہ (چوری کرے تو)اس کے ماتھے پر نشان لگائو جس کے ساتھ وہ پہچاناجائے تاکہ اس کو شہر اور دیار میں نہ رہنے دیں۔۲؎

۷… ’’قد جعلنا ثلث الدیات کلہا الی مقرالعدل (ص۱۶)‘‘ہم نے ہر دیت (خوں بہا) کا ثلث حکومت کے خزانے کے لئے مقرر کیا ہے۔۳؎

۱؎ قبر فنا کی جگہ ہے اس میں اتنی پختگی کا خیال کرنا کہ مردہ بلوری وغیرہ صندوق میں دفن کیا جائے محض نمائش اور فضول کام ہے۔ عارفان خدا نے تو دنیا کی ساری زندگی کو بھی ناقابل اعتماد قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:

حال دنیا را بپرسیدم من از فرزانۂ... گفت آں خواب است یا بادست یا افسانۂ

مگر شیخ بہاء اللہ (شاید یورپ کی تقلید سے) بلور کے صندوق میں دفنانے کا حکم دیتے ہیں جو تمام سلسلۂ رسالت ونبوت کے خلاف ہے۔ (مصنف)

۲؎ یہ عجیب ترتیب ہے۔ پہلی دفعہ (نفی) جلا وطنی کے بعد قید کیسے ہوگی۔ جس کو جلا وطن کیا گیا اس کو قید کیسے کریں گے۔ پھر تیسری مرتبہ اس پر کب آئے گی کہ اس کے ماتھے پر نشان لگائیں۔ معلوم ہوتا ہے شیخ بہاء اللہ کے دل میں یوں مضمون آیا کہ ’’پہلی دفعہ کچھ مدت قید کرو۔ دوسری مرتبہ نشان لگا کر نکال دو‘‘ مگر یہ کیا فلسفہ ہے کہ نشان اس لئے لگائو کہ دوسرے شہروں اور ملکوں والے اس چور کو اپنے ہاں رہنے نہ دیں۔ زمین پر جب اس کو جگہ نہ ملی تو کہاں رہے گا۔ اس سے بہتر تھا کہ اسے قتل کردینے کا حکم دیتے:

مٹا نہ رہنے دے جھگڑے کو یار تو باقی ۔۔۔ رکے ہے ہاتھ ابھی ہے رگ گلو باقی

۳؎ خون ناحق ہونے سے نقصان تو ہوا وارثان مقتول کا۔ دیت ان کے نقصان کا عوض ہے حکومت کو اس میں سے ثلث کیوں دیا جائے سوائے اس کے کہ حکومت ایران کو خوش کرنے کا ایک ذریعہ بنایا گیا ہے۔

455

۸… ’’من قتل نفسا خطاء فلہ دیۃ مسلمۃ الی اہلہا وہی مائۃ مثقال من الذہب (ص۴۹)‘‘ جو کسی جان کو بھول کر مارے تو سو (۱۰۰) مثقال وزن سونا مقتول کے ورثا کو دے۔۱؎

احکام شخصیہ

۱… ’’لاتحلقوا رؤسکم قد زینہا اللہ بالشعر (ص۱۴)‘‘‘‘ اپنے سر نہ منڈائو خدا نے بالوں کے ساتھ سروں کو مزین کیا ہے۔۲؎

۲… ’’من اراد ان یستعمل او اتی الذہب والفضۃ لا باس علیہ ایاکم ان تنغمس ایادیکم فی الصحاف والصحان (ص۱۴)‘‘ جو شخص سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا چاہئے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ہاں تھالیوں اور کٹوروں میں ہاتھ نہ ڈبویا کرو۔۳؎

۳… ’’قد رقم علیکم الضیافۃ فی کل شہر مرۃ واحدۃً ولو بالماء(ص۱۷)‘‘

۱؎ قرآن شریف میں جو اس صورت کی تفصیل ہے وہ اس میں نہیں۔ مقتول مومن ہو یا کافر۔ کافر معاہد ہو یا محارب۔ حربی قوم سے ہو مگر خود مومن ہو۔ ان سب صورتوں کو قرآن مجید نے مفصل بیان کیا ہے۔ مقتول مومن اسلامی ملک کا رہنے والا ہو یا کفرستان کا یا کافر معاہد قوم میں کا ہو تو ان سب صورتوں میں دیت ورثاء کو دی جائے گی اور ایک غلام آزاد کرنا ہوگا اور اگر حربی کافر ہے تو بوجہ حربہ ہونے کے کچھ نہیں۔

ناظرین قرآن شریف میں یہ تفصیل اور قرآن کو منسوخ کرنے والی کتاب میں وہ اجمال۔ دونوں میں بہتر کون؟ ناسخ کے لئے بہتر ہونا ضروری ہے۔ قرآن!

کیا جانے تجھ میں کیا ہے کہ لوٹے ہے تجھ پہ جی

یوں اور کیا جہاں میں کوئی حسین نہیں

۲؎ سر کے بال منڈانے سے منع کیا مگر داڑھی سے منع نہ کیا۔ حالاں کہ زینت کے لحاظ سے دونوں جگہوں کے بال برابر ہیں، بلکہ داڑھی کے بالوں میں ایک مزیت ہے کہ مرد کے لئے بلوغت اور مردانگی کی علامت ہے۔ سوسائٹی میں داخلہ کا سرٹیفکیٹ ہے۔ کیا یہ نقص بیان ہے یا یورپی فیشن کی تائید؟

و اللہ اعلم! (مصنف)

۳؎ چاندی سونے کے برتنوں کو استعمال کرنا اور ہاتھ نہ ڈبونا فاعل کی طاقت سے اور ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کوئی بہائی صاحب سمجھے ہوں تو ہمیں سمجھائیں۔ (مصنف)

456

خدا نے ہر مہینے میں تم پر ضیافت فرض کی ہے چاہے پانی سے ہو۔۱؎

۴… ’’اذا ارسلتم الجوارح الی الصید اذکرو اللہ اذا یحل ما امسکن لکم (ص۱۷)‘‘ جب تم شکاری جانوروں کو شکار کی طرف بھیجو تو اللہ کا نام بہت بہت یاد کیا کرو۔ پھر جو تمہارے لئے بچالیں وہ تم کو حلال ہے۔۲؎

۵… ’’قد کتب علیکم تقلیم الاظفار والدخول فی ماء محیط ہیاکلکم فی کل الاسبوع وتنظیف ابدانکم ادخلوا ماء بکراً والمستعمل منہ لا یجوز الدخول فیہ (ص۳۰)‘‘ اللہ نے تم پر حکم کیا ہے کہ ناخن کٹوائو اور محیط پانی میں اپنے جسموں کو ہر ہفتے داخل کرو اور اپنے بدنوں کو پاک صاف کیا کرو نئے پانی میں داخل ہوا کرو مستعمل میں داخل ہونا تم کو حلال نہیں۔۳؎

۶… ’’اغسلوا ارجلکم کل یوم فی الصیف وفی الشتاء کل ثلاثۃ ایام مرۃ واحدۃ (ص۱۴)‘‘ اپنے پیروں کو گرمی سردی ہر تین یوم میں ایک ایک مرتبہ دھویا کرو۔ ۴؎

۷… ’’قد حرم علیکم شرب الافیون (ص۵۰، ۱۲۷)‘‘ افیون کا پینا تم پر حرام کیا گیا ہے۔۵؎

۱؎ ہر مہینے میں احباب کی دعوت کرنا اس تعلیم کا مقابلہ کیا کرسکتا ہے جو قرآن مجید میں ارشاد ہے:’’تعاونوا علی البرّ والتقوی (المائدہ:۲)‘‘ (نیک کاموں پر ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرو)

۲؎ قرآن شریف کی یہی تعلیم ہے۔

۳؎ ناخن کٹوانا طبعی امر ہے اس سے کون انکار کرے۔ مگر غسل کے لئے پانی محیط ہونا ضروری ہے تو غسل خانہ میں بدن پر پانی ڈال کر غسل کرنا کافی نہ ہوگا۔ نئے پانی کی ضرورت ہے تو تالاب میں (چاہے امرتسر کا سنتوک سر ہو یا بھوپال کا تالاب ہو) نہانے سے اس حکم کی تعمیل نہ ہوسکے گی۔ کیا یہ حکم باحکمت ہے؟

۴؎ قرآن مجید میں ہر روز پانچ دفعہ بصورت وضو پیروں کو دھونے کا حکم ہے۔ ہاں اگر ملک سرد یاموسم سرد ہو تو موزے پہن کر آٹھ پہروں میں ایک دفعہ دھونا ضروری ہے۔ کیا بلحاظ نفاست قرآنی تعلیم افضل ہے یا بہائی؟

۵؎ افیون مخدر ہے منشّی نہیں تاہم اس کی تحریم پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ مگر شراب وغیرہ منشیات ومضرات کو ذکر نہ کرنا نقص بیان ہے۔(مصنف)

457

یاد دہانی

ہم نے اس باب میں بہائی تعلیم کا نمونہ دکھایا ہے۔ مگر اس نمونہ میں ان کے عربی کلام میں عربیت کی اغلاط نہیں بتائیں۔ کیوں کہ ان کی طرف سے ان سب اعتراضات کا جواب ایک ہی ہے کہ:

’’جمال مبارک ۱؎(بہاء اللہ )لسان عرب نخواندند۔‘‘

(مفاوضات عبدالبہاء ص۲۶)

اس لئے ہم نے اس پہلو سے چشم پوشی کی۔ مگر ناظرین کو اس عبارت کی طرف ایک دفعہ پھر توجہ دلاتے ہیں جس کو ہم مع ترجمہ نقل کرچکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

’’دور بہائی میں زمین نورانیت سے بھر جائے گی۔‘‘

سوال: انسان منہ سے باتیں تو بہت بنا سکتا ہے۔ مگر ہم منہ کا جواب نہیں پوچھتے بلکہ دل سے نکلا ہوا جواب پوچھتے ہیں۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے ’’کیا دور بہائی میں زمین نورانیت سے بھر گئی؟‘‘ اللہ اکبر! اس کا جواب یہی اور صرف یہی ایک ہوگا کہ نورانیت کی بجائے ظلم اور ظلمات سے بھرپور ہے۔ ایسی بھرپور ہے کہ مولانا حالی مرحوم کی رباعی کی صداقت میں کلام نہیں۔ جو یہ ہے:

  1. پوچھا جو کل انجام ترقیٔ بشر

    یاروں سے کہا پیر مغاں نے ہنس کر

  2. باقی نہ رہے گا کوئی انسان میں عیب

    ہوجائیں گے چھل چھلا کے سب عیب ہنر

اسی طرح حضرت مسیحؑ کا قول بھی صحیح ہے۔

’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘

یہی ایک صورت بہائی اور قادیانی دعوے کی چھان بین کے لئے کافی ہے۔

’’خیرالکلام ما قلّ ودلّ‘‘

مختصر بات ہو مضمون مطول ہووے

بہائی اور قادیانی دوستو!

کبھی فرصت میں سن لینا بڑی ہے داستاں میری

خادم دین اللہ ابوالوفا ثناء اللہ کفاہ اللہ

۱؎ شیخ بہاء اللہ نے عربی زبان نہیں پڑھی۔

نوٹ: بہائی تعلیم میں وضو میں پیر دھونے کا حکم معلوم نہیں ہوا۔ (مصنف)

458

اباطیل مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

459

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

آہ! نادر شاہ کہاں گیا؟

(از ’’اہل حدیث‘‘ ۲۳؍فروری ۱۹۳۴ء)

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔امابعد!

اس عنوان سے ایک مہمل سا الہام مرزا قادیانی کا شائع ہوا تھا جس کو امیر نادر خان مرحوم کی شہادت کے موقع پر نکال کر مرزا قادیانی کی صداقت کا ثبوت دیا گیا۔ امت مرزائیہ کے دونوں اخباروں نے اس پر خوب خوب حاشیے چڑھائے۔ ’’اہل حدیث‘‘ آج تک خاموش رہا دوسرے ضروری مضامین پر توجہ رہی۔ نیز اس پیش گوئی کو ہم نے ایسا مہمل سمجھا کہ کوئی عقل مند اس پر توجہ ہی نہ کرے گا۔ کیوں کہ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی ایسی بلکہ اس سے بھی واضح تر پیش گوئیوں کی ہنسی اڑائی ہوئی ہے۔ حضرت مسیح نے فرمایا تھا زلزلے آئیں گے۔ اس پر لکھتے ہیں یہ بھی کوئی پیش گوئی ہے کہ زلزلے آئیں گے کیا دنیا میں زلزلے آیا نہیں کرتے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۴ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۸۸)

حالانکہ حضرت مسیح کے کلام میں فقرہ تامہ مفیدہ بھی ہے اور مرزا قادیانی کے الہام میں فقرہ مفید بھی نہیں۔ باوجود اس کے قادیانی پریس نے اپنی عادت کے مطابق اس کو بہت پھیلایا۔ یہاں تک کہ خلیفۂ قادیان نے نادر شاہ والے الہام پر بڑا بسیط مضمون لکھا جس کو ٹریکٹ کی صورت میں بھی شائع کیا گیا اور قادیانی ’’الفضل‘‘ (۱۵؍فروری ۱۹۳۴ء) میں ہماری خاموشی کو صداقت پر مہر سمجھا۔ اس لئے آج ہمیں اس پر توجہ کرنی پڑی۔

خلیفۂ قادیان نے اس الہام کو پہلے بچہ سقہ کے واقعہ پر لگایا۔ پھر نادر خان مرحوم کے انتقال پر چسپاں کیا۔ یہ تو کیا غضب تو یہ کیا کہ بچہ سقہ ڈاکو اور اس کے تین سو ساتھیوں کو محض امان اللہ خان امیرکابل کی عداوت میں اصحاب بدر کی مانند قرار دیا۔ چنانچہ لکھا ہے:

’’کابل میں بدر کی جنگ کا نظارہ: خدا نے مسیح موعود (مرزا) کو اطلاع دے رکھی تھی اس کے مطابق بچہ سقہ کو ایک جماعت کے ساتھ جو تعداد میںاصحاب بدر کے مطابق

460

تھی یعنی کل تین سو سپاہی تھے۔ امان اللہ خان کے مقابلے کے لئے کھڑا کردیا اور پھر دوبارہ بدر کی جنگ کا نظارہ دنیا نے دیکھا۔ یعنی تین سو ناتجربہ کار اوربے سامان سپاہیوں نے ایک حکومت کا جو قلعوں میں محفوظ تھی تختہ الٹ دیا۔‘‘

(رسالہ ’’ایک تازہ نشان کا ظہور‘‘ ص۹۸)

مسلمانوں کے لئے کس قدر دل شکن تحریر ہے آہ! کس قدر خود غرضی پر مبنی اور جاہلانہ تقریر ہے کہ ڈاکوئوں اور سفّاکوں کی ٹولی کو اصحاب بدرi سے تشبیہ دی جائے اور ان کے ظالمانہ غلبہ کو فتح نبویہ کے ساتھ مشابہت دی جائے۔ لطف یہ ہے کہ یہ نہ سوچا کہ ان اصحاب بدر کو جس (نادر خان) نے قتل کرکے فنا کیا وہ کون ہوا۔ مومن یا کافر؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی امت کو مسلمانوں کے خیروشر سے کوئی واسطہ ہی نہیں بلکہ محض اپنے قدح کی خیر منانے سے مطلب ہے۔ اسی لئے بغداد کے سقوط پر جس وقت دنیا کے کل مسلمان رو رہے تھے ان کے دل میں سخت رنج ہورہا تھا۔ قادیان سے بڑی مسرت کا مضمون نکلا تھا جس میں انگریزی فتح پر اظہار مسرت کرنے کے علاوہ ترکوں کو بندر اور سؤر قرار دیا تھا۔

(الفضل قادیان،مورخہ۱۰؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)

اس سے آگے مطلب کو دیکھئے کہ اسی الہام (نادر شاہ) کو پہلے اس موقعہ پر لگایا گیا تھا۔ جب بچہ سقہ کو فنا کرکے نادر خان مرحوم نے کابل پر تصرف کیا تھا۔ چنانچہ خلیفہ صاحب لکھتے ہیں: ’’آہ! نادر شاہ: اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس پہلے واقعہ (بچہ سقہ) کے بعد نادر شاہ بادشاہ افغانستان کا ہوگا۔‘‘

(ایضاً ص۱۰)

بہت اچھا۔ معلوم ہوا کہ بچہ سقہ کے زمانے میں افغانستان کی حکومت کے لئے اہل کابل پکار رہے تھے ’’آہ! نادرشاہ کہاں گیا‘‘؟ یعنی وہ آئے اور بادشاہ بن کر حکومت کرے۔ چنانچہ نادرخان بادشاہ ہوگئے۔ پیش پوری ہوگئی۔ مگر اتنے پرکفایت کرتے تو ’’مرزائی‘‘ کیسے کہلاتے اور نادر خان مرحوم کی شہادت کے موقع پر کیوں کر بولتے؟ اس لئے انہوں نے بچہ سقہ پر چسپاں کرنے کے علاوہ مذکورہ الہام وسیع کرکے آگے بڑھایا۔ حتی کہ اسے شہادت نادر خان تک پہنچا کر لکھا کہ: ’’بادشاہ بننے کے بعد ایک آفت ناگہانی کے ذریعہ سے اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔ حتی کہ سب ملک (کابل کاملک مراد ہے یہ لفظ یاد رہے) چلّا اٹھا کہ آہ! نادر شاہ کہاں گیا۔‘‘

(ایضاً ص۱۱)

461

ایک اردو شاعر نے اپنے معشوق کو مشورہ دیا تھا کہ تم وصل سے انکار نہ کیا کرو بلکہ یوں کیا کرو:

  1. مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج

    بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

یہی مشورہ مرزا قادیانی کے الہام کنندہ نے ان کو دیا ہوا ہے کہ جو بات کرو ایسی کیا کرو کہ حسب موقع اس کے کئی معانی نکالے جاسکیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا الہام (آہ! نادرشاہ) اسی مشورے کے ماتحت ہر ایک پہلو پر چسپاں کیا جاتا ہے۔

’’غزنوی‘‘:ناظرین کرام! آپ مرزا کے اس گول مول الہام سے متعجب نہ ہوں۔ ان کی مشین میں اسی قسم کے الہام بہت ڈھلا کرتے تھے۔ اس کی مثال بلکہ اہمال میں اس سے بھی عجیب تر الہام ’’غزنوی‘‘ ہے۔

(تذکرہ ص۴۶۱ طبع چہارم، بدرج۶ نمبر۱۶، ۱۸؍ اپریل ۱۹۰۷ء)

کیسا فصیح اور کیسا بلیغ اور کیسا بامعنی الہام ہے ’’غزنوی‘‘ مبتدا خبر ’’مرگیا‘‘ صحیح ہے۔ ’’غزنوی‘‘ مبتدا خبر ’’پیدا ہوا‘‘ صحیح۔ ’’غزنوی‘‘ مبتدا خبر ’’بنگال میں وزیر ہوا‘‘ بالکل صحیح ہے۔ ’’غزنوی‘‘ مبتدا خبر ’’ہندوستان میں حملہ کرنے آیا تھا‘‘۔ کتب تاریخ گواہ ہیں۔ غزنوی مبتدا خبر امرتسر میں ایک خاندان ہے بالکل ٹھیک ہے۔ یہاں تک کہ غزنوی کی خبر ’’پر مقدمہ ہوگا‘‘ بھی درست ہے۔ چنانچہ مولوی اسماعیل غزنوی پر بمبئی میں مقدمہ چل رہا ہے جس کی پیشی ۳۰؍مارچ (۱۹۰۷ء) کو تھی۔ غرض دنیا میں جتنے واقعات ایسے ہوں جن کو کسی غزنوی سے تعلق ہو ان سب پر یہ الہام چسپاں کردیا جائے گا۔

ایک لطیف تردید: ہمارے لڑکپن کا واقعہ ہے۔ پنجاب میں ایک مکار واعظ پھرا کرتا تھا۔ اس کو بغدادی مولوی کہتے تھے۔ وعظ میں کہا کرتا تھا۔ لفظ وہابی اصل میں ’’واہ بی‘‘ ہے۔ اس کا قصہ یوں بیان کرتا کہ عبدالوہاب نجدی کی لڑکی کو ناجائز حمل ہوگیا تھا۔ محلے کی عورتوں نے اس کو دیکھ کر کہا واہ بی! واہ بی! یہ لوگ اس کی اولاد ہیں۔ جہلاء تو خوب ہنستے مگر ہم ان سے پوچھا کرتے کہ مولوی صاحب نجد میں اردو زبان ہے یا عربی؟ اگر یقینا عربی ہے تو پھر نجد کی عورتوں نے ’’واہ بی!‘‘ کیوں کر کہا؟ معلوم ہوا کہ یہ آپ کا من گھڑت افتراء ہے۔ ٹھیک اسی طرح نادرشاہ کی بے وقت شہادت پر سب سے پہلے دردناک آواز اہل کابل کی زبان سے نکلی ہوگی۔ ان کی زبان یقینا فارسی ہے اور مرزا قادیانی کا الہام،آہ!نادر شاہ

462

کہاں گیا‘‘اردو فقرہ ہے جو اہل کابل کا نہیں ہوسکتا۔ مرزا قادیانی کو فارسی میں بھی الہام ہوئے اور ہوسکتے تھے۔ پس اگر نادر خان (شاہ کابل) اس الہام سے مراد ہوتے تو الہام کے اصل الفاظ فارسی ہوتے تاکہ اہل کابل (خلیفہ صاحب نے خود لکھا ہے کہ سب ملک چلّا اٹھا، دیکھو نوٹ سابق) کی درد ناک آواز کی پوری ترجمانی کرسکتے۔ ہم حیران ہیں کہ سب سے پہلے تکلیف تو پہنچے اہل کابل کو مرزا قادیانی کا الہام کنندہ اس کی حکایت کرے اور زبان فارسی بھی جانتا ہو لیکن الہام کرے اردو میں؟ چہ خوش! یا یہ بات ہے:

شوخ من ترکی ومن ترکی نمے دانم

اس سے صاف ثابت ہے کہ اس الہام کو شاہ کابل کی وفات سے کوئی تعلق نہیں۔

اصول مرزا: قادیانی ممبرو! تم خلیفہ کا منہ دیکھتے ہو یہ تمہاری غلطی ہے ہم بڑے میاں مرزا متوفی کو ماننے والے ہیں۔ پس سنو! مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’پیش گوئی سے صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ و ہ دوسری کے لئے بطور دلیل کے کام آسکے لیکن جب ایک پیش گوئی خود دلیل کی محتاج ہے تو کس کام کی ہے… پیش گوئی میں تو وہ امور پیش کرنے چاہئیں جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور پہچان سکے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲۱، ۱۲۲ خزائن ج۱۷ ص۳۰۱)

سچ بتائو! ’’آہ نادر شاہ‘‘والی پیش گوئی اس معیار پر پوری اتر سکتی ہے؟ یاد رکھو جب تک ’’اہل حدیث‘‘ کے ہاتھ میں قلم ہے۔ ان شاء اللہ تم دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔

مختصر یہ کہ مرزا قادیانی نے جو الفاظ یسوع مسیح کی مجمل پیش گوئیوں کے حق میں لکھے ہیں وہ قابل غور ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

’’اس درماندہ (یسوع مسیح) انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے، قحط پڑیں گے، لڑائیاں ہوں گی۔ پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیش گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آیا کرتے، کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۴ خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۲۸۸)

463

ہمارا حق ہے … کہ ہم اسی عبارت کو ہو بہو مرزا قادیانی پر چسپاں کرنے کو یوں کہیں: ’’اس درماندہ انسان (ذیابطیس اور ہسٹریا اور مراق کے دماغی بیمار مرزا) کی پیش گوئیاں کی تھیں یہی کہ ’’غزنوی‘‘ اور ’’آہ نادر شاہ کہاں گیا‘‘ پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی پیش گوئیاں اس کی صداقت کی دلیل بنائیں اور بقول خود سچے کے سامنے جھوٹا ہوکر مرنے والے کو نبی بنا لیا۔‘‘

حلف مؤکد بعذاب کا تقاضا

بے حیائی تیرا آسرا … از ’’اہل حدیث‘‘ ۱۸؍مئی ۱۹۳۴ء

ہمارے مخاطب قادیانی دوست ایسے کچھ قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ ٹلتے ہی نہیں بڑے میاں اپنے اعلان کے موافق (کہ جھوٹا سچے سے پہلے مرے گا) انتقال کر گئے۔ جسے آج ربع صدی (۲۵سال) گزر چکی ہے۔ اس کے بعد یہ لوگ مباحثہ میں مغلوب ہوئے۔ تین صد جرمانہ دیا تاہم آج بھی اکڑ کر بڑے زور سے اعلان کررہے ہیں مولوی ثناء اللہ مؤکد بعذاب حلف اٹھائے تو دس ہزار بلکہ اکیس ہزار انعام لے۔ اس کے جواب میں کہا گیا بندۂ خدا جدید شریعت نہ بنائو۔ بلکہ شریعت محمدیہ میں دکھائو کہ منکر (کافر) پر حلف آتی ہے؟ اور حلف بھی مؤکد بعذاب بھلا ان باتوں کا جواب کیا دیں گے۔ پھر بھی ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارا مطالبہ ثابت کردیں تو ہم ان کو مبلغ ایک سو روپیہ نقد انعام دیں گے جو مسلمہ منصف کے فیصلے کے بعد ان کے حوالہ کیا جائے گا۔

آج جس مضمون پر ہم یہ نوٹ لکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم تقاضا کرتے ہیں کہ ہم تمہاری مطلوبہ حلف اٹھانے کو تیار ہیں بشرطیکہ تم خلیفہ قادیان سے اعلان کرادو کہ بعد حلف مولوی ثناء اللہ اگر ایک سال تک زندہ رہا تو دوسرے سال کے پہلے ہی روز میں (محمود احمد) اپنے والد کو دعویٰ مسیحیت میں جھوٹا جانوں گا۔ اس کے جواب میں ایک نئی پچ نکالی گئی ہے جس سے یقینا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ میرے مقابلے سے واقعی اتنا دوڑتے ہیں جتنا شیر کے مقابلے سے نہتا انسان بلکہ گیدڑ دوڑتا ہے۔ ناظرین بغور پڑھیں کہ جواب کیا دیتے ہیں اور کس عقل وفہم سے دیتے ہیں کہ:’’تم مولوی ثناء اللہ ۱؎ کم سے کم ۶۶ہزار اہل حدیثوں کے دستخط

464

کراکر ہم کو بھیج دیں کہ مولوی ثناء اللہ اگر ایک سال کے اندر مر گئے تو ہم سارے ۶۶ہزار اہل حدیث احمدی ہوجائیں گے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲۱، نمبر۱۳۰، ص۸، کالم ۳ مورخہ یکم؍مئی ۱۹۳۴ء)

مگر ان عقل مندوں نے یہ نہ سمجھا کہ ہم کن دو میں دخل دیتے ہیں اور کس سے ۶۶ہزار کا مطالبہ کرتے ہیں۔ او عقل مندو! سنو میں وہ شخص ہوں جس (اکیلے) کو تمہارا نبی مخاطب کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ’’آخری فیصلہ‘‘ کی پیش گوئی میں خاص اپنی اور صرف میری شخصیت کی موت کو مدار فیصلہ قرار دیا تھا کسی ایک بھی متنفس (اہل حدیث یا اہل اسلام) کا میرے ساتھ ضمیمہ نہیں لگایا۔ بس میں تو وہی ہوں اور میری حیثیت اب بھی وہی ہے جو پہلے تھی کہ بحکم (ان ابراہیم کان امۃ) میں وہی موجود ہوں جو پہلے تھا۔ دوسری طرف اس وقت وہ شخصیت نہیں رہی جو پہلے تھی۔ اس لئے بطور نیابت ان کے گدی نشین کو میں مخاطب کرکے وہی نسبت تسلیم کرتا ہوں جو پہلے ہم دونوں (مرزا اور ثناء اللہ ) میں تھی۔ اس کی یہ مثال بالکل صحیح ہے کہ ایڈورڈ بادشاہ انگلستان وہندوستان دوسرے بادشاہوں کے مخاطب ہوتے تھے۔ اب ان کے انتقال کے بعد بعینہٖ بلا کسی مزید شرط کے موجودہ بادشاہ حضور جارج پنجم ان کے قام مقام ہیں نہ کسی بادشاہ کی طرف سے کوئی مزید شرط ہوئی نہ ان کی طرف سے ہوئی بلکہ محض قائم مقامی کافی سمجھی گئی۔ ٹھیک اسی طرح بفضلہ تعالیٰ میری طرف سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس لئے میں تو اب بھی وہی ہوں جو پہلے تھا۔ چونکہ خلیفہ قادیانی پارٹی میرا اصل مخاطب نہیں رہا۔ اس لئے ان کا قائم مقام بغیر کسی شرط کی کمی بیشی کے میرا مخاطب سمجھا جائے گا۔ جوکوئی مزید شرط لگاتا ہے وہ ان دو باتوں میں سے ایک کا اعلان کرے تو جواب لے۔

۱… مرزا قادیانی بانی سلسلہ قادیانیہ نے غلطی کی جو مجھ سے ۶۶ہزار کے دستخط نہ مانگے۔

۲… میاں محمود کا درجہ اپنے باپ سے بڑا ہے اس لئے تمہاری (ثناء اللہ کی) شخصیت ان کے لئے کافی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کی تلافی کے لئے ۶۶ہزار اشخاص کے دستخطوں کا اقرار نامہ ہونا چاہئے۔

اگر ان صورتوں میں سے کوئی بھی منظور نہیں تو پھر ایسی پچ لگانے کا سبب سوائے بزدلی اور خوف قلبی کے کیا ہوسکتا ہے؟ سچ ہے: ؎ خود سوئے ماندید وحیا را بہانہ ساخت

۱؎ ۶۶ہزار کی تعداد اس لئے کہ بقول خود مرزائی ۶۶ہزار ہیں۔

465

پس قادیانی ممبرو! اپنے خلیفہ سے ہمارے مطالبہ کا اعلان کھلے کھلے الفاظ میں کرائو … ان عیدگاہ امرتسر میں آکر کافر (منکر) پر حلف کا ثبوت پیش کرو اور ساتھ ہی ہم سے حلف لے لو۔ دیکھو جلدی کرو، ایسا نہ ہو کہ لوگ کہنے لگ جائیں:

  1. مرزا نداشت تاب جدال ابوالوفا

    کنجے گرفت وترس خدا را بہانہ ساخت

زلزلہ بہار موعودہ قادیانی نہیں … از ’’اہل حدیث‘‘۲۵؍مئی ۱۹۳۴ء

ہمارے ناظرین خوب جانتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی آفت آئے یا کوئی بھی مصیبت انسانوں پر نازل ہو قادیانی پریس فوراً اس کو اپنی صداقت کی دلیل بنا لیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری تحقیق یہ ہے کہ ہم ہر ایک واقعہ میں ان تکذیب پاتے ہیں۔ جیسا کسی عارف خدا کا قول ہے:

  1. وفی کل شیٔ لہ اٰیۃ

    تدل علی انہ کاذب

یعنی ہمیں ہر چیز میں دلیل ملتی ہے کہ مدعی مسیحیت جھوٹا ہے۔

زلزلہ بہار نے بوجہ ہیبت اور خوفناک تباہی کے دنیا کی نظریں اپنی طرف پھیر لیں۔ امت مرزائیہ کی نظر بھی پھیر لی۔ مگر دونوں نظروں میں فرق ہے جیسے بحکم الٰہی کہیں کوئی مکان گر پڑے تو ہمدردان انسانیت بطور ہمدردی بھاگے جاتے ہیں، مگر لٹیرے سامان جمع کرنے کی خاطر دوڑے جاتے ہیں۔ زلزلہ بہار کے متعلق ’’اہل حدیث‘‘ ۲ اور ۱۶؍مارچ ۱۹۳۴ء رواں میں مفصل لکھا گیا تھا۔ جس میں ثابت کیا گیا تھا کہ زلزلہ بہار مرزا قادیانی کی تکذیب کے لئے کافی ہے۔ مگر مرزائی اور خاموشی؟ اجتماع ضدین کی طرح ناممکن ہے۔ چنانچہ ۲۹؍اپریل سنہ رواں کے الفضل میں ہمارے مضمون کا جواب نکلا ہے۔ جواب کیا ہے گویا جواب سے جواب ہے۔ ہم نے زلزلہ کے متعلق تین امور لکھے تھے:

۱… حسب تصریح مرزا قادیانی، زلزلہ ان کی زندگی میں آنا چاہئے تھا جو نہیں آیا۔

۲… حسب تصریح مرزا قادیانی، موسم بہار میں آنا چاہئے تھا جو نہیں آیا۔ برعکس اس کے ۱۵؍جنوری کو آیا جب کہ سخت سردی کا زمانہ ہوتا ہے۔

۳… حسب تصریح مرزا، زلزلہ موعودہ صبح کے وقت آنا چاہئے تھا جو نہیں آیا۔ بلکہ بعد دوپہر اڑھائی بجے آیا۔

466

یہ تینوں امور ایسے صاف اور صریح ہیں کہ نہ قیاس سے تعلق رکھتے ہیں نہ استنباط سے بلکہ مرزا قادیانی کی عبارات سے صاف صاف مفہوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ عبارت ہم محولہ بالا پرچوں میں نقل کر چکے ہیں۔ آج ہم مجیب کے مضمون کی روح اخذ کرکے جواب پیش کرنے سے پہلے اتنا کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے اعتقاد میں ایک ایسا دن آنے والا ہے جس کی شان میں وارد ہے: ’’یوم تبلی السرائر فمالہ من قوۃ ولا ناصر (الطارق:۹،۱۰)‘‘

اس روزسب بھید کھل جائیں گے پھر نہ کسی میں مدافعت کی قوت ہوگی نہ کوئی کسی کا مدد گار ہوگا۔ پس ہر ایک ناظر اس آیت کو سامنے رکھ کر ہمارا مضمون پڑھے۔ مجیب کے مضمون کی روح اتنی ہی ہے کہ: ’’مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں زلزلہ کے آنے کی خبر دی تھی۔

مگر بعد ازاں دعا کی تھی کہ:’’رب اخر وقت ہذا‘‘ اے خدا یہ زلزلہ کچھ پیچھے ڈال دے۔ پس بتاریخ ۲۸؍مارچ ۱۹۰۶ء آپ کو الہام ہوا ’’اخرہ اللہ الی وقت مسمی‘‘یعنی اللہ نے اس میں تاخیر ڈال دی ہے وقت مقررہ تک‘‘

(الفضل قادیان ج۲۱، نمبر ۱۲۹، ص۵، ۶مورخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۳۴ء)

عجیب اس دعا اور جواب سے نتیجہ نکالتا ہے کہ زلزلہ بہار ہے تو وہی موعودہ زلزلہ جو مرزا قادیانی کی زندگی میں آنا چاہئے تھا لیکن حسب دعا اور حسب قبولیت دعاء حیات مرزا سے پیچھے ڈالا گیا۔ بہت خوب!

اب ہمارا فرض ہے کہ حسب عادت خود مرزا قادیانی ہی کی تحریرات سے دکھائیں کہ زلزلۂ بہار موعودہ زلزلہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا جواب پڑھ کر ناظرین دو باتوں کا فیصلہ بآسانی کرلیں گے۔

۱… ’’اہل حدیث‘‘ کلام مرزا کو امت مرزا سے زیادہ جاننے والا ہے۔

۲… امت مرزائیہ اگر ہمارا پیش کردہ حوالہ جانتی ہے تو اس کو چھپانے سے کمال بددیانتی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

پس سنئے! مرزا قادیانی نے جس زلزلہ کے مؤخر ہونے کا اعلان کیا تھا اس کے متعلق کچھ اور بھی کہا تھا یعنی اس زلزلہ کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کے بطن سے ایک لڑکا بشیرالدولہ پیدا ہوگا۔ یہ ضروری شرط ہے

467

جب تک یہ لڑکا پیدا نہ ہو زلزلہ مؤخرہ نہ آئے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ محمدی بیگم مذکورہ کے بطن سے ایک لڑکی کے سوا کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا بلکہ وہ عرصہ کئی سال سے فوت ہوچکی ہے۔ ہمارے اس بیان کا ثبوت مرزا قادیانی کے الفاظ میں سنئے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

’’پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونۂ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے ظہور کے لئے ایک نشان ہوگا اس لئے اس کا نام بشیرالدولہ ہوگا۔ کیوں کہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کے لئے بشارت دے گا۔ اسی طرح اس کا نام عالم کباب ہوگا۔ کیوں کہ اگر لوگ توبہ نہیں کریں گے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز ہوگا۔ کیوں کہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کے لئے اور نام بھی ہوں گے۔ مگر بعد اس کے میں نے دعا کی کہ اس زلزلہ نمونۂ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ’’رب اخّر وقت ہذا۔ اخرہ اللہ الٰی وقت مسمی‘‘یعنی خدا نے دعا قبول کرکے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے اور یہ وحی الٰہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہوچکی ہے اور چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہوگئی اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔ لہٰذا پیر منظور محمد کے گھر میں ۱۷؍جولائی ۱۹۰۶ء کو بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دعا کی قبولت کا ایک نشان ہے اور نیز وحی الٰہی کی سچائی کا ایک نشان ہے جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہوچکی تھی۔ مگر یہ ضرور ہوگا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین نمونۂ قیامت زلزلے سے رکی رہے۔ جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو یاد رہے کہ یہ خداتعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کرکے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونۂ قیامت کی بہ نسبت تسلی دے دی کہ اس میں بموجب وعدہ اخرہ اللہ الی وقت مسمیابھی تاخیر ہے اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہوجاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامن گیر ہوتا کہ شاید وہ وقت آگیا اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ ہوتا اور اب تو تاخیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہوکر معیّن ہوگئی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۰حاشیہ خزائن ج۲۲ حاشیہ ص۱۰۳)

468

ناظرین کرام! غور فرمائیں کہ تحقیق اس کا نام ہے یا اس کا جو مرزائی مجیب کرتے ہیں کہ کلام مرزا بقول شخصے آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ کتربیونت کرکے خراب کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی نہیں سوچتے کہ سامنے کون ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ مرزا قادیانی عالم ارواح میں کسی کو ملیں تو یہی شکایت کرتے سنے جائیں گے کہ: ’’ہائے میری امت نے مجھے بدنام کیا‘‘

پس زلزلۂ مؤخرہ بوجہ نہ پائے جانے شرط کے بالکل غت ربود ہوگیا۔ کیوں کہ محمدی بیگم زوجہ پیر منظور محمد کے ہاں لڑکا پیدا نہ ہوا، یہاں تک کہ وہ خود دنیا سے کوچ کر گئی۔

قادیانی دوستو! کوئی ہے جو ہمارے پیش کردہ واقعات کی واقعات سے (نہ صرف زبان سے) تردید کرسکے۔ یاد رکھو:

  1. انا صخرۃ الوادی اذا مازوحمت

    واذا نطقت فاننی الجوزاء

محمدی بیگم کا آسمانی نکاح صحیح ہے اور اعتراض غلط

(از ’’اہل حدیث‘‘ ۲۵؍مئی ۱۹۳۴ء)

سچ تو یہ ہے کہ آسمانی نکاح والی پیش گوئی نے جماعت قادیانی کی کمر توڑ رکھی ہے جہاں مقابلہ ہوا، مخالفوں نے آسمانی نکاح پیش کردیا۔ آج ہم امت مرزائیہ کی مشکل حل کئے دیتے ہیں گو ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ شکر گزار نہ ہوں گے۔ لیکن ہمیں ان سے شکر گزاری کی تمنا نہیں بلکہ محض فرض کی ادائیگی مقصود ہے۔ مسئلہ شرعی تو یہ ہے کہ جس واقعہ کی دو معتبر گواہ شہادت دیں وہ صحیح سمجھا جائے۔ آج ہم اس قانون کی رو سے دو معتبر گواہ پیش کرتے ہیں جو جماعت قادیانی میں چوٹی کے بزرگ ہیں۔

پہلے بزرگ سے مراد ہماری لاہوری جماعت کے اعلیٰ رکن ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ہیں جو اس جماعت میں مصنف ہیں۔ قرآن مجید کے مدرس ہیں، پنشن یافتہ اسسٹنٹ سرجن ہیں۔ علاوہ بریں آپ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کے خسر ہونے کی وجہ سے بقول ’’فاروق‘‘ نانائے پیغامیہ ہیں۔ غرض آپ سی عزتوں کے مالک ہیں۔ آپ کی شہادت کا مضمون یہ ہے کہ محمدی بیگم سے مراد کوئی خاص عورت نہیں بلکہ مراد اقوام یورپ ہیں۔ مرزا قادیانی کا ان سے نکاح ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان کو مسلمان کرکے ان کی اولاد

469

کو خادمان اسلام بنایا جائے گا۔ چنانچہ آپ کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ’’سو ظاہر ہے کہ وہ آسمانی نکاح کسی شخصیت کے ساتھ نہ تھا بلکہ اس حقیقت کے ساتھ تھا جو محمدی بیگم کے نام کے اندر مضمر تھی اور مامور من اللہ کی شان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کا نکاح آسمان پر اگر کسی سے ہوگا تو وہ نکاح روحانی ہوگا اور کسی امت یا قوم سے ہوگا ایک معمولی عورت سے نہیں ہوسکتا۔ صحیح تعبیر کی طرف اس وقت ذہن منتقل نہ ہوا تو نہ سہی آج واقعات حقیقت کو ظاہر کررہے ہیں ہم ہر روز اسی دولہا کی برأت کو یورپ اور امریکہ میں چڑھتے دیکھتے ہیں۔ ایسی اعلیٰ شان کی محمدی بیگم کا تزوج جس خوش قسمت کے ساتھ، اس سے مطالبہ کرنا کہ فلاں عورت سے نکاح کیوں نہ ہوا (حالانکہ وہ مشروط بہ شرائط تھا) ویسا ہی ہے جیسے کسی کو کوئی سلطنت مل جائے اور لوگ اس سے مطالبہ کریں کہ تم نے تو کہا تھا کہ ہمیں ایک گھوڑا ملے گا وہ تو نہ ملا حالانکہ اس بڑے انعام کے سامنے ادنیٰ انعامات کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ بلکہ اسی کے ضمن میں آجاتے ہیں۔

پس محمدی بیگم سے مراد وہی حقیقت ہے جو اس نام میں مضمر ہے اور یہ آسمانی نکاح ازل سے مقدر تھا جس کا اشارہ قرآن کریم میں تھا جس کی پیش گوئی حدیث میں تھی اور جس کے متعلق خود حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

  1. چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی دادہ اند

    مصلحت را ابن مریم نام من نہادہ اند

اور یہی وہ محمدی بیگم ہے جس سے یتزوج ویولدلہٗ کے ماتحت معلوم ہوتا ہے کہ عالم کباب نے پیدا ہونا ہے۔ یعنی مسیحی قوموں میں سے جو لوگ مسلمان ہوں گے ان میں فیضان محمدی اور تعلق روحانی مسیح موعود (مرزا) سے کسی عظیم الشان انسان کو پیدا کرے گا۔‘‘

(پیغام صلح ۲؍جون ۱۹۲۴ء)

گو یہ ایک ہی شہادت ایسی ہے کہ نہ صرف کافی بلکہ اکفٰی ہے تاہم دوسری شہادت بھی ہم پیش کئے دیتے ہیں کیوں کہ درجے اور فضیلت میں یہ پہلی گواہی سے بڑی ہے۔ اس لئے کہ یہ شاید صاحب وحی نبی اور رسول ہیں۔ ان صاحب سے ہماری مراد مولوی فضل خان ساکن چنگا بنگیال ضلع راولپنڈی (پنجاب) ہیں۔ آپ مدعی ہیں کہ میں صاحب وحیٔ نبی ہوں آپ کا بیان ہے کہ:

’’محمدی بیگم کا نکاح حضرت مسیح موعود (مرزا) سے مؤرخہ یکم جون ۱۹۳۳ء کو

470

’’محمدی بیگم کا نکاح حضرت مسیح موعود (مرزا) سے مؤرخہ یکم جون ۱۹۳۳ء کو بہشت میں میرے روبرو ہوچکا۔‘‘ مقولہ مولوی فضل خان مرید مرزا جدید نبی از مقام چنگا بنگیال ضلع راولپنڈی۔ ماخوذ از رسالہ ’’میرے جنون کی داستان‘‘ مؤلفہ شیخ غلام احمد احمدی لاہوری (مدعیٔ الہام)

ناظرین کرام! ہم جانتے ہیں کہ علماء اور فقہا کو اس نکاح پر بہت اعتراض سوجھیں گے ان سب کا جواب ایک ہی ہے وہ یہ کہ یہ سب تمہاری اصطلاحات ہیں۔ امت مرزا ان بدعی اصطلاحات کی قائل نہیں کیوں کہ وہاں کی زندگی اور موت اور ہی ہے جس کا اس شعر میں ذکر ہے:

  1. بیا در بزم زنداں تابہ بینی عالم دیگر

    بہشت دیگر وابلیس دیگر آدم دیگر

پس ہم ان دونوں شہادتوں پر پورا وثوق رکھتے ہیں بلکہ اس بات پر بھی یقین لاتے ہیں کہ ’’ملّا دو پیادے کی نسل دنیا میں ابھی باقی ہے۔‘‘

مرزا قادیانی فیل … از اخبار ’’اہل حدیث‘‘۱۱؍مئی ۱۹۳۴ء

ہم سنتے ہیں کہ مرزا قادیانی باوجود کثرت مخالفت کے بڑے کامیاب ہوکر دنیا سے گئے تو ہمیں سخت تعجب ہوتا ہے۔ قادیانی لوگ مرزا کی کامیابی کا اظہار کرنے کے لئے بہت سے ہوائی قلعے بنایا کرتے ہیں مگر کبھی کبھی سچ ان کے منہ سے بھی نکل جاتا ہے۔ چنانچہ میاں محمود خلیفۂ قادیانی نے اپنی لائل پوری تقریر میں ایک بات بالکل سچ کہی ہے جو ہمارے مضمون کی بنیاد ہے۔ پس ناظرین اسے بغور پڑھیں۔

لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے پہلے مرزا قادیانی کے آنے کا مقصد خود ان کی زبانی سنیں اور غور سے سنیں۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ:

’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں مسلمانوں کے لئے یہ کہ

۱… اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہوجائیں۔ وہ ایسے سچے مسلمان ہوجائیں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔

۲… اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا (مسیحی) نظر نہ آوے دنیا اس کو بھول جائے اور خدائے واحد کی عبادت ہو۔‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۲۵ ص۱۰، ۱۷؍جولائی ۱۹۰۵ء)

نمبر دوم کا جواب تو عیسائی اخبارات نور افشان، المائدہ، النجاۃ وغیرہ دیں گے کہ

471

مسیح کی الوہیت دنیا سے اٹھ گئی یا ہنوز باقی ہے۔ بظاہر تو ترقی پذیر ہے۔ مگر ہماری غرض پہلے نمبر سے ہے۔ پس ناظرین نمبر اوّل کو پھر ایک دفعہ غور سے پڑھ کر ذہن نشین کرلیں اور مندرجہ ذیل بیان میاں محمود احمد کا پڑھیں جو انہوں نے لائل پور کے جلسہ میں فرمایا:

’’اپنے نفس کو ٹٹولو کیا آج کے مسلمان وہی ہیں جو رسول کریمﷺ پیدا کرنا چاہتے تھے۔ بحث اور ہارجیت کے خیال کو دل سے نکال کر ہر شخص اپنے گھر میں دروازے بند کر کے بیٹھے اور مخلّے بالطبع ہوکر غور کرے کیا میں وہی مسلمان ہوں جو محمد مصطفیﷺ پیدا کرنا چاہتے تھے اور پھر دیانت داری کے ساتھ اس کا نفس جو جواب دے وہ آکر مجھے بتائیے۔ پھر اپنے محلے والوں، اپنے ضلع اور صوبہ والوں کے متعلق یہی سوال کرے کہ کیا یہ وہی مسلمان ہیں جو رسول کریمﷺ بنانا چاہتے تھے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ سو میں سے سو کو یہی جواب ملے گا کہ ہرگز نہیں اور جب یہ حالت ہے تو مسلمان غیر مسلموں میں تبلیغ کیسے کرسکتے ہیں۔ آج ہی اس کا تجربہ کرلو۔ غیرمسلموں کے پاس جاکر تبلیغ کرو۔ ان میں سے ہر ایک یہی جواب دے گا کہ اگر یہی مسلمان ہیں جو اسلام پیدا کرنا چاہتا تھا تو ہم ان سے دور ہی اچھے ہیں۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲۱، نمبر۱۲۶، ص۷، کالم نمبر۲، مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۳۴ء)

ناظرین کرام! میاں محمود قادیانی کے اس بیان میں ذرہ بھی غلطی نہیں۔ بیشک آج کل کے مسلمان ایسے ہی ہیں کہ ان کے اسلام پر کفر فخر کرسکتا ہے نہ ان کے عقائد ٹھیک نہ انکے اعمال درست نہ ان کے معاملات صحیح نہ ان کے اخلاق معقول۔ مساجد ان سے خالی۔ قمار خانے اور جیل خانے ان سے بھرپور۔ کہاں تک مسلمان کی حالت کا نقشہ بتایا جائے۔ بہت بری حالت ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ میاں محمود صاحب نے یہ فقرات بالکل سچ کہے ہیں۔ پس…!

احمدی ممبرو! ذرہ سوچو۔ میدان محشر پر ایمان ہے تو اسے یاد کرکے غور کرو کہ مسلمان ہاں وہ مسلمان جن کا ذکر خلیفہ قادیان نے بہت مختصر لفظوں میں کیا ہے وہی ہیں جو خدا کے نزدیک مسلمان ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے سوال کا جواب دینا۔ کیا مرزا قادیانی اپنے مقاصد میں پاس ہوئے یا فیل؟

بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

472

مکالمہ احمدیہ

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

473

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وجۂ تالیف

الحمدلولیہ والصلوٰۃ علٰی اہلہا!

ناظرین کرام! اس رسالہ میں جماعت احمدیہ (مرزائیہ) کی دونوں (قادیانی اور لاہوری) جماعتوں کے باہمی مقالات درج کئے ہیں۔ اس سے ہمارا مقصود کی ہے؟ وہ سنئے!

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں مسلمانوں کو اعلیٰ درجے کا مسلمان بنانے آیا ہوں … اعتراض ہوا کہ ساری دنیا کے مسلمان بدستور بداعمال اور بداخلاق ہیں۔ جواب ملتا تھا کہ جنہوں نے مرزا قادیانی کو مانا ہے وہ پکے متقی مسلمان ہیں دوسرے لوگ بے نصیب۔ بہت خوب! پس سنئے!

۱… ان متقی اور پاکیزہ اخلاق (احمدی) لوگوں کے رویہ سے پبلک کو آگاہ کرنا ہمارا مقصود ہے تاکہ فریقین کا اور ان کے ساتھ ہمارا مقصود بھی حاصل ہوسکے۔

۲… چوں کہ جماعت احمدیہ (ہردوصنف) مناظر ہے، اس لئے سلسلہ ہذا کے پہلے حصہ میں ہم ان کی وہی گفتگو پبلک میں پہنچاتے ہیں، جو ان کے باہمی ایک مناظرہ ( بنام نبوت مرزا) کے متعلق ہے۔

۳… چوں کہ ایسے مضامین شائع کرنے سے ان کی غرض یہی تھی اور ہوتی ہے کہ ناظرین ان کو پڑھیں اور حالات پر مطلع ہوں مگر ان اخباروں میں شائع ہونے سے وہ غرض مکمل حاصل نہیں ہوئی۔

اوّل: اس لئے کہ ان کی اشاعت خاص حلقہ میں محدود ہے۔

دوم: اس لئے کہ اخباروں کی زندگی دراز نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہم نے ان فریقین کی تکمیل غرض کے لئے یہ سلسلہ جاری کیا ہے۔ امید ہے کہ احمدیت کے دونوں صنف بلکہ جملہ اصناف اس کام میں ہمارے شکرگزار ہوں گے۔ ناظرین ان کے اندرونی حالات سے بخوبی مطلع ہوکر مرتب کے لئے دعا کریں گے۔

ابوالوفاء ثناء اللہ جمادی الاوّل ۱۳۵۸ھ، جون ۱۹۳۹ء

474

مسئلہ نبوت کے متعلق ایک اور فیصلہ کن تحریر

مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی سچی گواہی

اہل پیغام کو تحریری اور تقریری مناظرہ کے لئے کھلا چیلنج (الفضل قادیان)

جماعت احمدیہ اور غیرمبایعین کے درمیان سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے متعلق اختلاف ہے۔ اس مسئلہ کے حل ہوجانے سے دیگر اختلافی مسائل مثلاً خلافت اور کفر واسلام کا بآسانی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مارچ ۱۹۱۴ء یعنی حضرت محمود کے خلیفۃ المسیح الثانی منتخب ہونے تک غیر مبایعین بھی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)۱؎کی نبوت کے بارہ میں وہی عقیدہ رکھتے تھے یا کم از کم ظاہر کرتے تھے جو ہمارا عقیدہ ہے ساری جماعت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)کے آنحضرتﷺ کے طفیل غیرتشریعی نبی ہونے کی قائل تھی اور آج بھی ہمارا یہی عقیدہ ہے۔ جناب مولوی محمد علی صاحب پریزیڈنٹ انجمن اشاعت اسلام لاہور (لاہوری، مرزائی) نے اپنی سابقہ تحریروں میں صاف طور پر لکھا ہے:

۱… ’’حضرت مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۴ ص۶۴ وج۶ ص۲۷۴)

۲… ’’حضرت مرزا قادیانی کو انبیاء سابقین کے معیار پر پرکھو۔‘‘

(ریویو ج۶ ص۲۷۶)

۳… ’’حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہندوستان کے مقدس نبی ہیں۔‘‘

(ریویو ج۶ ص۹۶)

علاوہ ازیں مولوی محمد علی صاحب اور جملہ وابستگان اخبار ’’پیغام صلح‘‘ نے دو مرتبہ حسب ذیل حلفیہ بیان شائع کیا:

۱… ’’ہم حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خادمین الاولین میں سے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی موعود (مرزا قادیانی) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘

(پیغام صلح ۷؍ستمبر ۱۹۱۳ء)

۲… ’’ہم حضرت مسیح موعود ومہدی معہود (مرزا قادیانی) کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور

۱؎ اتباع مرزا کی اصطلاح میں مسیح موعود سے مراد مرزا قادیانی ہیں، یہ اصطلاح یاد رہے! (مصنف)

475

نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے۔ اس سے کم وبیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریمﷺ اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی۔‘‘

(پیغام صلح ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء)

حضرات! ان واضح بیانات کے بعد آج غیر مبایعین کا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت سے قطعی انکار کرنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ بے شک پہلے ہم نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی تسلیم کیا اور اس کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب ہم اس سے کسی خاص مصلحت کے ماتحت رجوع کرتے ہیں تو شاید ہم ان سے زیادہ تعرض نہ کرتے۔ کیوں کہ ہر نبی کی وفات کے بعد ایک گروہ’’لم یزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتہم‘‘ (بخاری کتاب التفسیر) کا مصداق بنتا رہا ہے۔ لیکن مشکل تو یہ ہے کہ اہل پیغام اپنی رجعت قہقری کا اعتراف کرنے کی بجائے مخلوق خدا کو مغالطہ دینے کے لئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اہل قادیان نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی طرف دعویٰ نبوت از خود منسوب کردیا ہے۔ کیوں کہ بقول ان کے جماعت احمدیہ ۱۹۱۴ء تک یعنی ان کے قادیان چھوڑ کر لاہور جانے تک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کی منکر تھی۔

ہماری طرف سے اس اختلاف کے بائیس سالہ عرصہ میں ’’اہل پیغام‘‘ پر متعدد طریقوں سے اتمام حجت ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی سعید روحوں نے حق کی طرف رجوع کیا ہے۔ ’’اہل پیغام‘‘ میں دو قسم کے لوگ ہیں:

۱… وہ جنہیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے کلام کے لئے کوئی عظمت نہیں۔ جوں جوں سلسلہ احمدیہ کو ترقی حاصل ہورہی ہے۔ ان کا مرض اور لاعلاج ہورہا ہے۔

۲… وہ لوگ ہیں جو اپنی غلط فہمی یا کسی کے قولی یا فعلی مغالطہ دینے کے باعث دیانتدارانہ طور پر ان میں شامل ہیں۔ انہی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور جماعت سے ایک حد تک اخلاص ہے۔ اگر انہیں اپنی غلطی کا علم ہو جائے تو وہ سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔

میں ان سطور میں اسی دوسری قسم کے لوگوں سے خطاب کررہا ہوں۔ ان غلطی خوردہ بھائیوں سے درد مندانہ درخواست ہے کہ وہ اس مضمون کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔ بھائیو! سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وصال ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہوا۔ اس وقت تک جماعت میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ سب نے صدیق ثانی حضرت مولانا نورالدین اعظم

476

حضور(مرزا) کا پہلا خلیفہ تسلیم کیا۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔ ان دنوں بہشتی مقبرہ کے افسر جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہی تھے۔ جن کے متعلق غیرمبایعین کو بہت فخر رہا ہے اور جن کا قول ان کی نظر میں زبردست حجت ہے۔ مولوی محمد احسن امروہی نے رجسٹر بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود ،مرزا قادیانی کے نام کے سامنے کیفیت کے خانہ میں اپنے قلم سے مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہے: ’’حضور مسیح موعود اور مہدی معہود جو مصداق ’’یحدثہم بدرجاتہم فی الجنۃ‘‘کے تھے اور یہ مقبرہ بہشتی حضرت اقدس کو بموجب حدیث ’’لم یقبض نبی قط حتی یری اللہ مقعدہ فی الجنۃ‘‘یعنی کبھی کوئی نبی قبض روح نہیں کیا گیا یہاں تک کہ اس کی زندگی میں مقبرہ بہشتی اپنا وہ دیکھ لیتا ہے۔ لہٰذا اور دو نیم سال قبل وفات یہ مقبرہ حضور (مرزا) نے حالت کشف اور الہام میں دیکھ لیا تھا۔ لہٰذا اگرچہ وفات آپ کی لاہور میں ہوئی لیکن بحکم حدیث’’موت غربۃ شہادۃ‘‘کے اسی مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔‘‘

فقط محررہٗ ۲۷؍مئی ۱۹۰۸ء

عزیز بھائیو! اس عبارت کو بار بار پڑھو۔ یہ تمام نزاع کے لئے ایک فیصلہ کن تحریر ہے۔ دیکھئے مولوی صاحب موصوف نے کس صفائی سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی قرار دیا ہے اور سنت انبیاء کے مطابق آپ کو بہشتی مقبرہ کا دکھایا جانا ضروری بتایا ہے۔ اس تحریر سے بہشتی مقبرہ کی مقدس حیثیت بھی ظاہر ہے۔

یہ وہ عقیدہ ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق جماعت احمدیہ کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہ آج کون سی جماعت ہے جو اسی طریق اور اسی عقیدہ پر قائم ہے۔ جو جماعت احمدیہ کا عقیدہ تھا؟ اور کون سا گروہ ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پھر گیا اور اپنے عمل وعقیدہ میں جماعت احمدیہ کے مخالف چل رہا ہے… ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو اس تحریر کے متعلق کسی قسم کا شک ہو تو وہ ہر وقت رجسٹر ملاحظہ کرکے اپنا اطمینان کرسکتے ہیں۔ کیا ہم امید رکھیں کہ مولوی صاحب اور ان کے ساتھی تعصب اور بڑائی کے خیال سے علیحدہ ہوکر محض اللہ تعالیٰ کے لئے اس تحریر پر غور فرمائیں گے اور اپنے غلط رویہ سے توبہ کریں گے۔

بعض غیر مبایع اپنی تقریر وتحریر میں یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ ان سے مناظرہ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ حالاں کہ یہ محض جھوٹ ہے۔ کیوں کہ ہر دفعہ انہوں نے ہی مناظرہ سے فرار کی راہ اختیار کی ہے۔ لیکن ان کی اس غلط بیانی کے ازالہ

477

کے لئے ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کرلیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے۔

بالآخر ہم پھر اپنے غلطی خوردہ بھائیوں کو جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی فیصلہ کن تحریر کی طرف متوجہ کرتے اور ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کب تک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی شان کو کم کرنے میں کوشش کرتے رہیں گے؟

کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ آپ لوگ بھی دیگر اہل زمین کی طرح’’یانبی اللہ کنت لا اعرفک‘‘(حقیقت الوحی ص۱۰۰، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴) کا اقرار کریں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آپ کے پاس کوئی عذر باقی نہیں۔ خدا را موت کو یاد کریں اور سچائی کو قبول کرنے میں پس وپیش سے کام نہ لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق بخشے۔ آمین!

خاکسار مہتمم نشرواشاعت نظارت دعوۃ وتبلیغ قادیان

(الفضل قادیان ج۲۴، نمبر۶۵، ص۶، ۷، مورخہ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء)

قادیانی چیلنج منظور

خلیفہ صاحب مرد میدان بنیں (پیغام صلح لاہور)

’’مہتمم نشرواشاعت نظارت دعوت وتبلیغ قادیان کی طرف سے ایک مضمون اور ایک ٹریکٹ شائع ہوا ہے۔ جس کا عنوان ’’اہل پیغام کو تحریری اور تقریری مناظرہ کے لئے کھلا چیلنج‘‘ رکھا گیا ہے اور آخر پر کس ڈھٹائی سے جھوٹ بولا ہے کہ بعض غیرمبایع اپنی تقریر وتحریر میں یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ (یعنی قادیانیہ) ان سے مناظرہ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے۔ پھر نہایت دیدہ دلیری سے لکھا ہے کہ:

’’ان کی اس غلط بیانی کے ازالہ کے لئے ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کرلیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے چیلنج کو منظور کرے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲۴، نمبر۶۵ ص۷، کالم نمبر۲ مورخہ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء)

چوں کہ قادیانی جماعت اپنے آپ کو ایک منظم جماعت خیال کرتی ہے اور ہر مذہبی اور سیاسی تحریک کا منبع اپنے خلیفہ کو سمجھتی ہے۔ اس لئے ہمارا یقین ہے کہ یہ چیلنج بھی خلیفہ کے

478

ارشاد کے ماتحت دیا گیا ہوگا۔ قادیان کے ناظر دعوت وتبلیغ اور خود خلیفہ صاحب کو معلوم ہے کہ ۱۹۳۵ء کے شروع میں ہماری جماعت نے قادیان کے سرکردہ لوگوں سے اپیل کی تھی کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جو اختلاف ہے اس پر دونوں فریق کے امیر باہم بحث کرالیں اور یہ دیکھنے کے لئے کہ اس بحث میں کس فریق کے دلائل زیادہ وزنی ہیں۔ یہ تجویز کی تھی کہ بارہ آدمی بطور ثالث منتخب کرلئے جائیں۔ چار چار دونوں جماعتوں میں سے جنہیں ایک دوسرا فریق منتخب کرلے اور چار غیر از جماعت لوگوں میں سے جن میں سے دو ایک فریق اور دو دو سرا فریق منتخب کرلے اگر ان بارہ آدمیوں کی کثرت رائے ایک طرف ہوجائے تو بحث کے ساتھ ان کا فیصلہ بھی شائع کردیا جائے۔ ورنہ خالی مباحثہ شائع کردیا جائے۔

لیکن اس تجویز کا حشر جو قادیانیوں کی طرف سے ہوا، وہ اخباری دنیا سے پوشیدہ نہیں۔ بہرحال تب نہ سہی اب ہی سہی۔ ناظر صاحب اپنے خلیفہ صاحب کو اس مباحثہ کے لئے تیار کریں۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب ہر وقت اس کے لئے تیار ہیں۔ چوں کہ اس وقت بانیٔ اختلاف یعنی حضرت مولانا صاحب اور خلیفہ صاحب خود زندہ موجود ہیں اور ہر دوران مسائل پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ اس لئے وہمی باہمی مباحثہ کرکے اس اختلاف کو مٹا سکتے ہیں۔ خلیفہ صاحب کی طرف سے مباحثہ کی منظوری کا اعلان فوراً شائع ہونا چاہئے تاکہ باقی امور جلد طے ہوسکیں۔‘‘

(آنریری جائنٹ سیکرٹری پیغام صلح لاہور ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۶ء)

اہل پیغام کو تحریری وتقریری مناظرہ کا چیلنج

پرانی ’’ہوشیاری‘‘ کے مقابلہ میں ہمارا واضح جواب (الفضل قادیان)

’’ناظرین کو یاد ہوگا کہ الفضل (۱۵؍ستمبر) میں مضمون زیر عنوان ’’مسئلہ نبوت کے متعلق ایک اور فیصلہ کن تحریر‘‘ میں جہاں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی ایک نہایت واضح تحریر کا عکس پیش کیا تھا۔ وہاں بعض مغالطہ دینے والے اہل پیغام کے اس مغالطہ کا بھی ازالہ کیا تھا کہ جماعت احمدیہ ان سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں بحث کرنے سے پہلو تہی کرتی ہے۔ بالآخر ہم نے لکھا:

’’ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کرلیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے؟‘‘

479

توقع تھی کہ کم از کم اب کی مرتبہ ہی اہل پیغام سیدھے راستہ سے مناظرہ کے لئے میدان میں آئیں گے۔ مگر افسوس کہ یہ امید پوری نہ ہوئی۔ پھر وہی ’’بارہ آدمی بطور ثالث منتخب کرلئے جائیں‘‘ کی پرانی رام کہانی شروع کردی گئی ہے۔ گویا نہ بارہ آدمیوں کا انتخاب ہو اور نہ وہ مناظرہ کریں۔ پھر مزید برآں یہ کہ دوسری طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ (مرزا محمود) ہی بنفس نفیس مناظر ہوں۔ اس صورت حالات میں اہل پیغام کے ’’جائنٹ سیکرٹری‘‘ کا اپنے مقالہ کا عنوان ’’قادیانی چیلنج منظور‘‘ رکھنا کہاں تک انصاف پروری کہلا سکتا ہے؟اہل پیغام بتائیں کہ کیا حق پروری اسی کا نام ہے؟

ہمارا چیلنج ہے کہ ہم سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر تحریری اور تقریری مناظرہ کرلو۔ فریقین کے پرچے چھپ جائیں گے۔ مگر آپ ہیں کہ بارہ آدمیوں کا انتخاب ورد زبان بنا رہے ہیں۔ حالاں کہ خود ہی لکھتے ہیں کہ:

’’اگر ان بارہ آدمیوں کی کثرت رائے ایک طرف ہوجائے تو بحث کے ساتھ ان کا فیصلہ بھی شائع کردیا جائے ورنہ خالی مباحثہ شائع کردیا جائے۔‘‘

جب کہ پھر بھی اغلب ہے کہ خالی مباحثہ ہی شائع کرنا پڑے تو اس انتخابی قضیہ نامرضیہ کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیا کبھی مذاہب کا فیصلہ کثرت رائے سے بھی ہوا کرتا ہے؟ آپ کی تجویز کے مطابق چار احمدی، چار غیر مبایع اور چارغیر احمدی ہوں گے تو گویا درحقیقت آپ غیر احمدیوں کے ہی فیصلہ پر انحصار رکھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کی یہ تجویز نہایت ناموزون اور دینی بحث کی رو کے صریح منافی ہے۔ ہم ہرگز کسی ایسی تجویز کو ماننے کے لئے تیار نہیں جس سے عقائد کو بازیچہ ٔ اطفال بنا دیا جائے اور دینی معاملات کو فتح وشکست کے اعلان کا ذریعہ سمجھا جائے۔

ہاں دوسری بات کے متعلق ہماری طرف سے یہ واضح ترین اعلان ہے کہ محض اس بنا پر چوں کہ مولوی محمد علی لاہوری صاحب ایک انجمن کے پریذیڈنٹ ہیں ان کا حق ہے کہ وہ بجز حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کے کسی سے بحث نہ کریں۔ آپ کی تجویز سے ہمیں اتفاق نہیں ہے۔ کیوں کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ (مرزا محمود) کی جو پوزیشن ہے اور جس طرح لاکھوں انسان آپ کی اطاعت کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی مولوی صاحب کو حاصل نہیں۔ اگر ہم مولوی صاحب کی زیادہ سے زیادہ

480

عزت افزائی کریں تو انہیں صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ناظر صاحب اعلیٰ کی مانند سمجھا جاسکتا ہے۔ پس اس شرط کے لئے آپ نے جو بنیاد قائم کی ہے وہ محض غلط ہے۔ عجیب بات ہے کہ غیر مبایعین کے سیکرٹری نے جمعیۃ العلماء دہلی کے صدر مولوی کفایت اللہ صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی لاہوری صاحب کے آمادۂ بحث ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بلکہ صدر کیا جمعیۃ العلماء کے ہر ایسے نمائندہ سے بحث کے لئے آپ تیار ہیں جس کی فتح اور شکست جمعیۃ العلماء کی فتح اور شکست ہوگی۔

(ٹریکٹ ۲۱؍مئی ۱۹۳۵ء)

لیکن جماعت احمدیہ کے مقابلہ میں غیرمبایعین کے پریذیڈنٹ صاحب کو اپنی شان کا خاص خیال آجاتا ہے۔ آخر یہ دو پیمانے کیوں؟ کیا جن کے پاس مضبوط دلائل ہوا کرتے ہیں وہ آپ کی طرح ہی دو رنگی چال چلتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ مولوی محمد علی صاحب آخر وہی تو ہیں جنہوں نے آیت قرآنی’’ومن النخل من طلعہا قنوان دانیۃ‘‘ میں ’’قنوان‘‘ کا ’’تثنیہ اور جمع‘‘ لکھا ہے۔

(بیان القرآن ص۷۰۰)

بہرحال مولوی محمد علی صاحب کے کسی ’’جائنٹ سیکرٹری‘‘ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس بات پر ضد کرے کہ مولوی صاحب کے مقابلہ پر حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) ہی مناظر ہوں۔

میں اہل پیغام کے اس رویہ کی کجی کے ذکر کے بعد پوری ذمہ داری کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ بایں ہمہ اگر اہل پیغام مناظرہ کے لئے آمادہ ہوں اور منصفانہ شرائط منظور کرلیں تو انشاء اللہ یہ ایک فیصلہ کن مناظرہ ہوگا۔ خواہ اس میں مناظرہ کرنے والے خود سیدنا حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) ہوں یا آپ کا کوئی نمائدہ جیسا کہ دوسری طرف سے خواہ مولوی محمد علی صاحب خود مناظر ہوں یا ان کا کوئی نمائندہ۔ ہماری طرف سے شرائط حسب ذیل ہیں:

(۱)مضمون نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہوگا۔ (۲)مناظرہ تحریری ہوگا۔ خاتمہ پر فریقین کے مناظر خود پرچے پڑھ کر سنائیں گے اور وقت مقررہ کے اندر مناسب تشریح کرسکیں گے۔ (۳) ہر فریق کا مناظر اپنے فریق کا نمائندہ ہوگا۔ جس کے لئے اسے تحریری سند پیش کرنی ہوگی۔ (۴) جماعت احمدیہ کا مناظر مدعی ہوگا اور اس کے ذمہ اثبات نبوت مسیح موعود ہوگا اور غیر مبایعین کا مناظر معترض ہوگا۔ (۵) کل نو پرچے ہوں گے۔ پانچ مدعی کے اور چار معترض کے۔ پہلا اور آخری پرچہ مدعی کا ہوگا۔ (۶) ہر پرچہ ایک ایک گھنٹہ میں بالمقابل بیٹھ کر لکھا جائے گا۔ ہر پرچہ کے سنانے کے لئے بیس منٹ مقرر ہوں گے۔

481

آج ہم ایک مرتبہ پھر تفصیلی چیلنج دے کر غیر مبایعین کے چھوٹوں اور بڑوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس چیلنج کو منظور کرکے اپنی انصاف پسندی کا ثبوت دیں اور نبوت سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایک فیصلہ کن مناظرہ کرلیں۔

’’جائنٹ سیکرٹری‘‘ صاحب کا فرض ہے کہ جناب پریذیڈنٹ صاحب انجمن اشاعت اسلام سے مشورہ کے بعد جواب اثبات میں شائع کریں تاجگہ اور تاریخ وغیرہ کا جلد فیصلہ کیا جاسکے۔والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ!

خاکسار ابوالعطا اللہ دتہ جالندھری مہتمم نشرواشاعت نظارت دعوت وتبلیغ قادیان

(الفضل قادیان ج۲۴، نمبر۹۰، ص۵، کالم۱تا ۴، مورخہ۱۴؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)

امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت

(پیغام صلح لاہور)

قادیانی جماعت کو فیصلہ بحث کے لئے ہماری گزشتہ دعوت

احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سرکردہ احباب نے قریباً ڈیڑھ سال ہوا، قادیانی اصحاب کو مسئلہ تکفیر اور نبوت پر ایک فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت دی تھی۔ جس میں ہر دو فریق کے امیر بحث کرنے والے ہوں اور اس کے اثر کا اندازہ کرنے کے لئے یہ طریق پیش کیا تھا کہ جماعت لاہور، جماعت قادیان کے متعدد افراد کو اور جماعت قادیان جماعت لاہور کے اسی قدر افراد کو اس بحث پر اظہار رائے کے لئے چن لے۔ مگر اس کا جواب قادیان سے ایسے رنگ میں دیا گیا جو ایک مذہبی جماعت کی شان سے بہت بعید تھا۔

حجت کا موجودہ طرز نقصان رساں ہے

بایں ہمہ بحث کا سلسلہ دونوں جماعتوں کے افراد کی طرف سے برابر دونوں فریق کے اخباروں اور ٹریکٹوں میں چل رہا ہے جس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں سوائے اس کے کہ قوم کی وہ قوت جو بہتر کاموں پر لگ سکتی ہے ایک لاحاصل بحث پر خرچ ہورہی ہے اور اس بھی بڑھ کر یہ نقصان ہے کہ اہم دینی مسائل جن کو بڑے بڑے علماء بھی مشکل سے سمجھ سکتے ہیں بازیچۂ اطفال بنے ہوئے ہیں اور ہرکس وناکس یہ سمجھتا ہے کہ اسی کو مسئلہ نبوت کے حل کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

482

اخبار ’’الفضل‘‘ کا تازہ مضمون

آج مدت کے بعد ’’الفضل‘‘ کا ایک پرچہ (ج۲۴، نمبر۱۱۵، ص۴ مورخہ۱۲؍نومبر ۱۹۳۶ء ) میری نظر سے گزرا تو اس میں ایک عنوان تھا ’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلاف مولوی محمد علی صاحب کے قیاسات‘‘ جس میں میری اس صولی بحث کو جو میں نے کتاب ’’النبوت فی الاسلام‘‘ میں اس امر کے متعلق کی ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد حضرت جبرئیل کا وحی لانا ممتنع ہے ’’مسیح موعود کے خلاف‘‘ قرار دے کر یہ کہا گیا ہے کہ مجھے ’’مخالفت حق میں قرآن کی پروا ہے نہ نصوص صریحہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اور نہ حدیث شریف کی۔‘‘

قادیانی نتیجہ خیز بحث کی طرف نہیں آتے

افسوس ہے کہ جو کچھ کہا گیا ہے اس کی زد مجھ پر نہیں بلکہ خود اس شخص پر پڑتی ہے جسے زبانی دعویٰ سے تو یہ لوگ نبی بتاتے ہیں۔ لیکن آپ کی عزت ان کے دلوں میں یہ ہے کہ آپ کے کھلے ارشادات کو پس پشت پھینکا ہوا ہے۔ ساری بحث نبوت تو دو جملوں میں طے ہوجاتی ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود نے دوسرے مسلمانوں کا جنازہ جائز قرار دیا ہے تو آپ کے نزدیک وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہیں اور اگر آپ کو نہ ماننے والے مسلمان ہیں تو یقینا آپ کا دعویٰ نبوت کا نہیں۔ اس مختصر بحث کو اتنا طول دیا گیا ہے کہ ہزاروں صفحات لکھے جاچکے۔ مگر نتیجہ آج تک کچھ نہ نکلا اور نتیجہ خیز بحث کی طرف آج تک باوجود بار بار کے مطالبوں کے قادیانی جماعت ایک قدم اٹھانے کو تیار نہیں۔ ایسا نبی بنانے سے کیا فائدہ جس کی بات کی ہی پرواہ نہ کی جائے اور اگر آپ کے ارشاد قابل تعمیل ہیں تو نبوت کا مسئلہ حل شدہ ہے۔

قادیانی اصحاب کو تحریرات حضرت مسیح موعود کی ذرا پروا نہیں

جو کچھ قادیانی جماعت کی طرف سے ہورہا ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے الفضل کے محولہ مضمون کو لے لیا جائے۔ حضرت جبرئیلm کا آنحضرتﷺ کے بعد تاقیامت وحی نبوت لانے سے منع کیا جانا۔ میرا قیاس نہیں جیسا کہ مضمون نویس کا خیال ہے بلکہ حضرت مسیح موعود نے خود بار بار یہی لکھا ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے لکھا ہے قادیانی احباب کو حضرت مسیح موعود کی تحریروں کی ذرا بھر پروا نہیں اور وہ ان پر استہزاء تک کرجاتے ہیں اور پروا نہیں کرتے۔

483

معترض کے اعتراضات کی حقیقت

معترض نے جو کچھ میرے متعلق لکھا، وہ النبوۃ فی الاسلام کی تحریر کو نقل کرکے لکھا ہے۔ حالانکہ النبوۃ فی الاسلام کے (ص۴۰) پر اس موٹے عنوان کے نیچے ’’مسیح موعود کی شہادت کہ نبی بغیر نزول جبرئیل نہیں ہوسکتا اور امتی پر نزول جبرئیل بہ پیرایۂ وحی نہیں ہوسکتا۔‘‘ حضرت مسیح موعود کی ایک یا دو نہیں دس تحریریں نقل کی گئی ہیں۔ اخبار سب کا متحمل نہیں ایک یا دو حوالے کافی ہیں۔

میری تحریر: ’’مولوی صاحب اپنی تصنیف ’النبوت فی الاسلام‘‘ ایڈیشن دوم (ص۱۷) پر تحریر فرماتے ہیں ’’نبی اور غیر نبی کی وحی میں یہ فرق ہے کہ غیر نبی پر وحی جبرئیلm لے کر نہیں آتے… یہی حد فاصل ہے جو نبی اور غیر نبی کی وحی میں امتیاز قائم کرتی ہے۔‘‘

حضرت مسیح موعود کی شہادت: ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خداتعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النّبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبیﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۷۷، خزائن ج۳، ص۴۱۲)

افسوس ناک ریمارک: اس میری تحریر پر ذیل کے ریمارکس کئے گئے ہیں:

’’یہ عبارت دراصل ایک معمہ ہے جو نہ خود مولوی صاحب سے حل ہوا اور نہ کسی اور سے حل ہوگا۔ کیوں کہ مولوی صاحب کی یہ تحریر ایسی ہی حق سے دور ہے جیسی عقل کوے سے۔‘‘ مولوی صاحب کو مخالفت حق میں نہ قرآن کی پروا ہے نہ نصوص صریحہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اور نہ حدیث شریف کی۔ العیاذب اللہ ‘‘

معترض کی حضرت مسیح موعود پر زد

لیکن اگر میرے لفظ وہی ہیں جو حضرت مسیح موعود کے ہیں تو معترض خود سوچ لے کہ یہ زد کہاں پڑی ہے۔ عیسائیوں نے غلو کیا تو مجوزہ خدا کو نعوذب اللہ ملعون انسان بنایا۔ ہمارے قادیانی دوستوں کا غلو انہیں اسی پہلی قوم کے نقش قدم پر لے جارہا ہے۔

جناب خلیفہ قادیان فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں

جناب خلیفہ قادیان اگر چاہیں تو حضرت مسیح موعود کی اس تذلیل کو جو ان کے غالی

484

مریدوں کے ہاتھوں سے ہورہی ہے دور کرسکتے ہیں۔ میں اس شرط کو بھی جس کا ذکر ابتدا میں کیا ہے چھوڑتا ہوں۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ خود اپنی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں۔ اگر وہ اپنی زمینوں کے دیکھنے کے لئے سال میں ایک دو سفر سندھ کے کرسکتے ہیں تو ایک عظیم الشان دینی مسئلہ کے تصفیہ کے لئے کیوں دو قدم نہیں اٹھا سکتے اور اگر حضرت مسیح موعود مباحثات کے لئے نکلتے رہے ہیں تو ان کے ایک خلیفہ کی شان کیوں اس سے بلند تر ہے؟ بات تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود کی کھلی تحریروں کے خلاف وہ نبوت بنا رہے ہیں اور بحث کی طرف اس لئے رخ نہیں کرتے کہ ان باتوں کا جواب ان کے پاس کوئی نہیں۔ اگر ہے تو وہ ایک جنازے کے مسئلہ کو ہی صاف کردیں۔ اس کو صاف کرنے کا وعدہ انہوں نے دسمبر ۱۹۱۵ء میں کیا تھا۔ (دیکھو انوار خلافت ص۹۳، انوار العلوم ج۳ ص۱۵۰) مگر آج اکیس سال گزرنے کے بعد بھی اس پر ایک دفعہ قلم نہ اٹھایا۔‘‘

محمد علی (پیغام صلح ۱۹؍ نومبر ۱۹۳۶ء)

مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج مناظرہ منظور

حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) کی طرف سے خود بحث کرنے کا اعلان

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مباحثہ (الفضل قادیان)

مولوی محمد علی لاہوری صاحب اور ان کے رفقاء کو ’’خدا کے رسول کے تخت گاہ‘‘ سے علیحدہ ہوئے بائیس سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔ اس دوران میں انہوں نے ہر رنگ میں سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بلند شان یعنی منصب نبوت کو چھپانے کے لئے جہدوجہد کی۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کے اس طلسم کو باطل کرنے کے لئے دلائل وبراہین کا بہت بڑا انبار جمع ہوگیا ہے اور اہل دانش وبینش کی نظر میں ان لوگوں کی دورنگی اور غلط رویہ بالکل واضح ہوچکا ہے۔ گزشتہ دنوں جب کہ احرار نے جماعت احمدیہ کے خلاف یورش شروع کر رکھی تھی ہمارے غیر مبایع دوستوں کو یہ دور کی سوجھی کہ انہوں نے احرار کی گونہ تائید کے لئے ایک طرف تو جماعت احمدیہ کو نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) وغیرہ مسائل پر بحث کا چیلنج دے دیا اور دوسری طرف اس بحث میں فیصلہ کا انحصار لے دے کر چار غیر احمدی منصفوں پر رکھا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے نفس چیلنج کو قبول کرکے طریق فیصلہ کی

485

لغویت کو واضح کیا گیا۔ کیوں کہ اس طریق فیصلہ میں سراسر نقصانات ہیں اور نفع کوئی بھی نہیں۔ آخر ان کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی گئی…۔ میں نے ’’الفضل ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء‘‘ میں ایک مضمون ’’مسئلہ نبوت کے متعلق ایک اور فیصلہ کن تحریر‘‘ کے عنوان سے لکھا۔جس میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی ایک دستخطی تحریر کا عکس شائع کیا جو انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی وفات کے بعد معاً بہشتی مقبرہ کے رجسٹر میں اپنے قلم سے درج کیا اور جو حضور (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے متفق علیہا عقیدہ پر صریح دلالت کرتی ہے۔ مولوی محمد علی صاحب اس تحریر کی اصلیت کو خاموشی سے تسلیم کرچکے ہیں اور اگر انہیں شک ہو تو وہ ہروقت اس تحریر کو ملاحظہ کرکے اپنی تسلی کرسکتے ہیں۔ ہاں میں نے مندرجہ بالا مضمون کے آخر میں اہل پیغام کو بایں الفاظ چیلنج کیا تھا:

’’ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کرلیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے۔‘‘

اس چیلنج پر اہل پیغام کے جائنٹ سیکرٹری صاحب نے اپنے ساتھیوں کی تسلی کے لئے ’’قادیانی چیلنج منظور‘‘ کے عنوان سے ایک نوٹ شائع کیا۔ جس میں وہی غیر احمدی ثالثوں کی پرانی شرط کا اعادہ کیا اور کہا کہ مولوی محمد علی صاحب صرف حضرت امام جماعت احمدیہ قادیان سے ہی مناظرہ کریں گے۔ میں نے ان کی اس منظوری کی حقیقت اور ان شروط کی تغلیط دلائل کی رو سے ’’الفضل ۱۴؍اکتوبر ۱۹۳۶ء‘‘ میں مفصل شائع کرادی۔ میرے اس جواب پر ’’جائنٹ سیکرٹری صاحب‘‘ تو آج تک خاموش ہیں۔ البتہ ۱۹؍نومبر ۱۹۳۶ء کے ’’پیغام صلح‘‘ میں مولوی محمد علی لاہور صاحب کے قلم سے ایک مضمون ’’امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت‘‘ شائع ہوا ہے۔ چوں کہ میں نے لکھا تھا: ’’جائنٹ سیکرٹری صاحب کا فرض ہے کہ جناب پریذیڈنٹ صاحب انجمن اشاعت اسلام سے مشورہ کے بعد جواب اثبات میں شائع کریں تاجگہ اور تاریخ وغیرہ کا جلد فیصلہ کیا جاسکے۔‘‘

(الفضل ۱۴؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس مشورہ کا ہی نتیجہ ہے کہ خود مولوی صاحب نے مضمون لکھا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے ہمارے ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء والے چیلنج کو ’’احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سرکردہ احباب‘‘ کی ڈیڑھ سالہ دعوت

486

بحث سے بلاوجہ ملا کر فرمایا ہے: ’’یہ بحث کا سلسلہ دونوں جماعتوں کے افراد کی طرف سے برابر دونوں فریق کے اخباروں اور ٹریکٹوں میں چل رہا ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں۔‘‘

حالانکہ ہمارے ۱۵؍ستمبر والے چیلنج پر ۱۴؍اکتوبر کے بعد سے ’’سرکردہ احباب‘‘ کی طرف سے بالکل خاموشی ہے۔ وہ ہمارے چیلنج کو منظور کرکے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے عقیدہ پر بحث کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکے۔ ہاں اگر مولوی صاحب ’’پیغام صلح‘‘ کے مضامین اور انجمن اشاعت اسلام کے ٹریکٹس دربارہ نفی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو ’’بے نتیجہ‘‘ سمجھتے ہیں تو ہم ان کی تصدیق کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ان کو روک کیوں نہیں دیتے۔ بہرحال مولوی صاحب کا یہ ارشاد اگرتو چیلنج مناظرہ کے متعلق ہے تو آپ کا اولین فرض ہے اور اس صورت میں ہمارے جوابی مضامین خود بخود رک جائیں گے۔ ہم نے اہل پیغام کو ثالثوں والی انوکھی تجویز کے متعلق صاف لکھا تھا: ’’آپ کی تجویز کے مطابق چار احمدی، چار غیر مبایع اور چار غیر احمدی ہوں گے تو گویا درحقیقت آپ غیر احمدیوں کے ہی فیصلہ پر انحصار رکھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کی یہ تجویز نہایت ناموزوں اور دینی بحث کی روح کے صریح منافی ہے۔‘‘

اور ایسا ہی ہم نے جائنٹ سیکرٹری صاحب کی ضد (کہ مولوی محمد علی صاحب صرف حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) سے ہی بحث کریں گے اور کسی احمدی عالم سے بحث کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے) کا بھی ایسا جواب دیا تھا، جس پر انہیں لاجواب ہونا پڑا۔

اب مولوی محمد علی صاحب ہمارے بیان کی معقولیت کے پیش نظر تحریر فرماتے ہیں:

’’میں اس شرط کو بھی جس کا ذکر ابتدا میں کیا ہے چھوڑتا ہوں۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ سیدنا حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) بنصرہ العزیز خود اپنی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں۔‘‘

(پیغام صلح ۱۹؍نومبر ۱۹۳۶ء)

یقینا مولوی صاحب کی یہ خواہش بہت مبارک ہے اور اگر وہ اس بات پر قائم رہیں تو دنیا دیکھے گی کہ خدا کے برگزیدہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں اہل پیغام کے پاس محض سراب ہے۔ میں مولوی صاحب کو اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے آپ کے مضمون کا ذکر سیدنا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کے حضور کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’’میری طرف سے اعلان کردیں کہ میں خود مولوی محمدعلی صاحب سے

487

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کرلیں۔ بحث میں خود کروں گا۔ ان شاء اللہ !‘‘

پس میں یہ اعلان کرتا ہوا مولوی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اخبارات میں تصفیہ شروط کا سلسلہ جاری کرنے کی بجائے اپنی طرف سے بہت جلد دو نمائندے مقرر فرماویں۔ ایسا ہی حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) دو نمائندے مقرر فرماویں گے اور وہ مل کر مساوی شروط تاریخ اور جگہ وغیرہ امور کا فیصلہ کرکے اخبارات میں شائع کردیں اور خداتعالیٰ کے فضل ورحم کے ساتھ یہ بحث ہوجائے۔

مضمون بحث طے شدہ اور مسلمہ فریقین ہے۔ یعنی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس مضمون میں مولوی محمد علی صاحب چاہے غیر احمدیوں کے جنازہ کو دلیل بنائیں یا ان کے کفرواسلام کو۔ یہ ان کا حق ہوگا۔ مگر خدا را اس قسم کی غلط بیانی نہ کریں۔ جیسا کہ انہوں نے ’’انوار خلافت ص۹۳‘‘کے متعلق کی ہے۔ گویا کہ غیر احمدیوں کے جنازہ کا مسئلہ ابھی تک حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) نے صاف نہیں کیا۔ حالاں کہ اس جگہ تو یہ مسئلہ نہایت وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ وہاں پر صرف احباب جماعت کے لئے سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے اپنے عمل اور کھلے فتاویٰ کے بالمقابل بعض لوگوں کو بعض خاص صورتوں میں اجازت دینے سے پیدا شدہ بظاہر تعارض کی تطبیق کے ذکر کرنے کا وعدہ ہے نہ کہ اصل مسئلہ کو صاف نہیں کیا گیا۔ بہرحال اگر ہم چو قسم دلائل سے ہی مولوی صاحب نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ابطال کرنا چاہتے ہیں تو ان کو بحث کے دوران میں پیش کرسکتے ہیں۔ موضوع بحث نبوت سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہی ہوگا۔

مولوی صاحب! آپ پر سیدنا حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) کا سفر سندھ کیوں بوجھل بن رہا ہے۔ کیا ہم کبھی آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ تقریباً چھ ماہ ڈلہوزی کی کوٹھی میں تشریف رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہمارے نزدیک حضرت امیر المؤمنین (مرزا محمود) کا کسی سے دینی بحث کرنا آپ کی کسر شان نہیں۔ لیکن اگر ہر شخص یہی ضد کرنا شروع کردے کہ میں تو ان کے بغیر کسی سے بحث نہ کروں گا تو یقینا یہ طریق خلاف عقل اور ہمارے نظام میں حارج ہے۔ اس لئے اسے منظور نہیں کیا جاسکتا۔ اب آپ کی طرف سے اس ضد کو چھوڑ دیا گیا ہے اس لئے حضور نے نہایت خوشی سے خود بحث کرنے کا اعلان فرمایا ہے۔ جیسا

488

کہ ۱۹۱۵ء میں بھی حضور نے آپ سے خود بحث کرنے کا اعلان فرمایا اور لاہور میں کافی دیر تک انتظار کرتے رہے۔ مگر اس وقت بات آپ کی طرف سے رہ گئی تھی۔ ہاں یہ الزام آپ پر آتا ہے۔ کیوں کہ آپ کے ساتھی آپ کو جو ’’قنوان‘‘ کو ’’تثنیہ اور جمع‘‘ قرار دینے والے ہیں (بیان القرآن ص۷۰۰) اتنا اونچا کرتے ہیں کہ کسی احمدی عالم کے ساتھ آپ کا بحث کرنا جائز ہی نہیں سمجھتے۔ بالآخر میں مولوی محمد علی صاحب اور ان کے تمام ایسے ساتھیوں سے جن کے دلوں میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی عزت ہے خدا کے نام پر اپیل کرتاہوں کہ وہ اب اس موقع کو ضائع نہ کریں اور لاطائل اور لایعنی باتوں میں وقت نہ گنوائیں بہت جلد امور ضروریہ کے تصفیہ کے لئے تیار ہوجائیں تاکہ تاریخ بحث کا جلد اعلان کردیا جائے اور حق اپنی پوری شان میں ظاہر ہو۔ اے خدا تو ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلا۔ آمین!‘‘

خاکسار ابوالعطاء جالندھری

(الفضل قادیان ج۲۴، نمبر۱۴۰، ص۳، ۴ مورخہ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

مکتوب مفتوح بخدمت جناب مرزا بشیررالدین محمود احمد صاحب

(پیغام صلح)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مکرمی جناب میاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

میں نہایت درد دل سے آپ کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ مسئلہ تکفیر مسلمین اور مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے بارے میں جو اختلاف جماعت لاہور اور جماعت قادیان میں بائیس سال سے چلا آرہا ہے اور جس پر اخبارات، ٹریکٹوں، اشتہاروں، رسالوں، کتابوں میں بحثوں کی کوئی انتہا نہیں رہی۔

موجودہ طریق بحث یک طرفہ ہے: اس سے جماعت کو اور دوسرے لوگوں کو اب تک کوئی فائدہ اس لئے نہیں پہنچا کہ یہ سب بحث یک طرفہ ہے۔ دونوں جماعتوں کی تو بالخصوص یہ حالت ہے کہ ان کے سامنے ہر وقت سوال کا ایک پہلو آتا ہے اور دوسرے فریق کے دلائل سننے کا ان کو موقع نہیں ملتا اور عام طور پر مسلمان پبلک کی بھی یہی حالت ہے کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی فریق کے بیان کو دیکھ سکتے ہیں اور اس لئے جب وہ ایک فریق کے

489

بیان کو پڑھتے ہیں تو وہ اس سے کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے۔ اس لئے کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے پاس اس کا کچھ معقول جواب ہوگا۔

فیصلہ کے لئے جماعت لاہور کے عمائد کی تجویز

اس مشکل کو حل کرنے کے لئے قریباً دو سال کا عرصہ ہوا جماعت لاہور کے عمائد نے ایک تجویز جماعت قادیان کے عمائد کے سامنے پیش کی تھی کہ دونوں فریق کے امیر باہم ایک مباحثہ کریں۔ جس میں چند آدمی جماعت قادیان کے جماعت لاہور اور اسی قدر آدمی جماعت لاہور کے جماعت قادیان منتخب کرے اور مباحثہ کے آخر پر یہ سب آدمی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ممکن ہے ایک شخص کے دلائل سے دوسری جماعت کے بعض آدمی متاثر ہوجائیں تو فیصلہ کی ایک راہ نکل آئے مگر ان کی اس تجویز کو قبول نہ کیا گیا۔

دوسری تجویز: یہ خیال کرکے کہ شاید اس طرح فتح وشکست کا خیال حائل ہوجاتا ہو۔ ایک ماہ کے قریب ہوا میں نے خود اس شرط کو ترک کرکے یہ درخواست کی تھی کہ ویسے ہی میں اور آپ ایک جگہ جمع ہوکر ایک دوسرے کی باتوں کو سنیں اور پھر وہ تحریریں ایک جگہ شائع ہوجائیں تاکہ دونوں جماعتیں فریقین کے دلائل کا موازنہ کرسکیں اور مسلمان پبلک کے لئے بھی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی راہ نکل آئے۔ اس کا بھی کوئی جواب اب تک نہیں ملا۔

تیسری تجویز: یہ خیال کرکے کہ شاید آپ ایک جگہ جمع ہونے کی تکلیف کو برداشت کرنا پسند نہیں کرتے۔ میں اب ایک تیسری تجویز آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں آپ کو یہ تکلیف بھی نہ ہو اور مقصد بھی حاصل ہوجائے اور وہ یہ ہے کہ تحریری بحث دونوں اخبارات میں ہوتی رہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ تعداد صفحات یا الفاظ معین کردی جائے اور پرچوں کی تعداد بھی معیّن ہوجائے۔

اوّل مسئلہ تکفیر لے لیا جائے: آپ اپنا پرچہ لکھ کر میرے پاس بھیج دیں اس کے پہنچنے کی تاریخ سے سات دن کے اندر اندر میں اس کا اسی قدر لمبا جواب لکھ کر آپ کے پاس بھیج دوں اور یہ دونوں پرچے ایک ہی وقت میں دونوں اخباروں میں نکل جائیں یعنی ’’الفضل‘‘ اور ’’پیغام صلح‘‘ میں۔ پھر میرے پرچے کا جواب لکھ کر اسی طرح آپ سات دن

490

کے اندر اندر میرے پاس بھیج دیں اور میں اس کا جواب سات دن کے اندر اندر لکھ کر آپ کے پاس بھیج دوں اور پھر یہ دونوں پرچے دونوں اخبارات میں ایک ہی وقت میں چھپ جائیں۔ کل پرچوں کی تعداد اس مسئلہ میں چھ چھ ہو۔ اس کے بعد مسئلہ نبوت کو لے لیا جائے اور اس کے متعلق میں اپنا پرچہ آپ کے پاس بھیج دوں اور آپ اس کا جواب اسی وقت معینہ کے اندر اندر میرے پاس بھیج دیں اور جس طرح پہلے مسئلہ میں چھ چھ پرچے ہوں اسی طرح اس میں بھی چھ چھ پرچے ہوں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے اس طرح تھوڑی سی تکلیف اٹھا لینے سے مخلوق خدا ک بہت بھلا ہوگا اور شاید آئندہ یہ چھوٹی چھوٹی بحثیں جن سے آئے دن اخباروں کے اوراق بھرے رہتے ہیں بند ہوجائیں اور ان کی بجائے خدمت اسلام کا کوئی اور زیادہ مفید کام ہوجائے اور مسلمان بھی ان تحریروں کی بنا پر کم سے کم یہ فیصلہ تو کرسکیں کہ حضرت مسیح موعود کا اصل مذہب کیا تھا اور غلط فہمیاں دور ہوکر اگر خدا کو منظور ہو تو سلسلہ کے لئے دلوں میں محبت پیدا ہوجائے اور اشاعت وتبلیغ اسلام کا وہ کام جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود نے رکھی تھی پھر قوت پکڑے۔‘‘ خاکسار محمد علی!

(پیغام صلح لاہور ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

قادیانی جماعت کو فیصلہ کن مباحثہ کی دعوت

(پیغام صلح لاہور)

ذہنی غلامی، پیرپرستی نے بھی پیدا کی ہے۔ ایک پیر جو کہہ دیتا ہے مرید اسے آنکھیں بند کرکے قبول کرلیتے ہیں اور کبھی اس کی اچھائی برائی پر غور نہیں کرتے۔ اس کی بھی ایک مثال سن لیجئے۔ تقریباً دو سال کا عرصہ ہوا۔ ہماری جماعت کے اکابر نے قادیانی جماعت کے اکابر کو دعوت دی کہ مسئلہ تکفیر المسلمین اور مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعود کے متعلق جو اختلافات عرصہ سے دونوں جماعتوں میں چلا آرہا ہے اس کا فیصلہ کرنے کے لئے دونوں جماعتوں کے امیر باہم ایک مباحثہ کرلیں۔ جماعت قادیان جماعت لاہور میں سے چند آدمی منتخب کرلے اور اسی طرح جماعت لاہور قادیانی جماعت میں سے۔ ان کے علاوہ مساوی تعداد میں کچھ آدمی غیر از جماعت سے منتخب کر لئے جائیں۔ مباحثہ کے آخر پر سب منتخب آدمی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اس طرح امید ہے کہ فیصلہ کی کوئی راہ نکل آئے گی۔

491

قادیانی جماعت کی طویل خاموشی کے بعد ’’الفضل ‘‘ کا اعتراض

اس تجویز کے متعلق تقریباً ڈیڑھ سال تک خاموشی رہی۔ حال ہی میں مولانا محمد احسن صاحب مرحوم کی ایک تحریر بہشتی مقبرہ کے رجسٹر میں سے نکل آئی۔ اس پر قادیانی جماعت نے شور مچانا شروع کردیا اور ۱۴؍اکتوبر کے ’’الفضل‘‘ میں ایک مضمون شائع ہوا جو افسوس اس وقت جب کہ یہ شائع ہوا میری نظر سے نہ گزرا۔ اب گیارہ دسمبر کے ’’الفضل‘‘ کے مطالعہ کے بعد آج صبح مجھے اس کا علم ہوا اور گیارہ دسمبر کے پیغام صلح میں جناب میاں صاحب کے نام میرا جو مکتوب مفتوح شائع ہوا ہے وہ بھی میں نے ’’الفضل‘‘ کے ان دونوں پرچوں کو دیکھنے سے قبل ۲۱؍رمضان کو لکھا تھا۔ ۱۴؍اکتوبر کے ’’الفضل‘‘ میں ثالثوں کے طریق انتخاب پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ چار چار ثالث دونوں جماعتوں کے ہوں تو عملاً فیصلہ چار غیر از جماعت لوگوں کے ہاتھ میں رہا۔ لہٰذا یہ تجویز ناموزوں اور دینی بحث کی روح کے صریح منافی ہے۔ ۱۱؍دسمبر کے الفضل میں بھی انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے۔

ہم غیر از جماعت ثالثوں کی تجویز کو چھوڑتے ہیں

گو میں اس سے قبل اس خیال سے کہ کسی طرح مباحثہ ہوجائے۔ ثالثوں والی تجویز کو چھوڑ چکا ہوں لیکن اگر اعتراض یہی ہے تو پھر میں کہتا ہوں کہ ہم چار غیر از جماعت ثالثوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

جناب میاں صاحب کا اعلان: ۱۱؍دسمبر کے ’’الفضل‘‘ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جناب میاں صاحب نے فرمایا ہے کہ: ’’میری طرف سے اعلان کردیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کرلیں۔ بحث میں خود کروں گا۔ ان شاء اللہ !

(الفضل قادیان ج۲۴، نمبر۱۴۰، ص۴، کالم نمبر۱مورخہ ۱۱دسمبر۱۹۳۶ء)

اوّل مسئلہ تکفیر پر بحث ہونی چاہئے: اس اعلان سے مرید بے شک خوش ہوجائیں گے کہ خلیفہ صاحب مسئلہ نبوت پر بحث کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ لیکن افسوس میاں صاحب نے تکفیر کے مسئلہ کو چھوڑ دیا جو کہ اصل چیز ہے۔ میں تو لمبی چوڑی شرائط کا قائل نہیں ہوں

492

نہ ان کی ضرورت سمجھتا ہوں پہلے بھی میں نے یہی کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ اوّل بحث مسئلہ تکفیرالمسلمین پر ہونی چاہئے۔ کیوں کہ دونوں جماعتوں کا اختلاف اسی مسئلہ پر شروع ہوا تھا۔

مسئلہ تکفیر اختلاف کی اصل ہے نبوت اس کی فرع

تکفیر اختلاف کی اصل ہے اور مسئلہ نبوت اس کی فرع۔ ۱۹۱۲ء میں خواجہ صاحب مرحوم نے اعلان کیا کہ تمام کلمہ گو مسلمان ہیں اور تمام مسلمان کے درمیان اصولی رنگ میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے مقابل جناب میاں صاحب نے کہا کہ تمام ماموروں کا ماننا ضروری ہے جو بھی کسی مامور کو نہ مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یاد رہے کہ میاں صاحب نے یہ بات تمام ماموروں کے متعلق کہی ’’نبیوں‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ خیر اس بات سے جھگڑا شروع ہوا۔ قادیانی جماعت کو تکفیر کی حمایت کے لئے نبوت بنانی پڑی۔

ہمارا قادیانی جماعت سے اختلاف کن امور میں ہے؟

ہمارا اور قادیانی جماعت کا اختلاف کن باتوں پر ہے؟ میاں صاحب کہتے ہیں کہ:

۱… جو لوگ حضرت مرزا قادیانی کو نہیں مانتے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ خواہ انہوں نے آپ کا نام بھی نہ سنا ہو۔

۲… حضرت مرزا قادیانی فی الواقع نبی ہیں۔

۳… حضرت مرزا قادیانی اسمہ احمد کی پیش گوئی کے مصداق ہیں۔

قادیانی تکفیر پر مباحثہ سے کیوں اجتناب کرتے ہیں؟

ان باتوں کو سامنے رکھ کر ہر کوئی دیکھ اور سمجھ سکتا ہے کہ اختلاف کی اصل جڑ تکفیر ہے۔ آخر بات کیا ہے۔ قادیانی تکفیر کے مسئلہ پر تبادلہ خیالات سے کیوں ڈرتے ہیں؟ میں تو اس مسجد کے اندر اس مقام پر کھڑا ہو کر اعلان کرتا ہوں کہ اگر قادیان والے کہہ دیں کہ ہم مسلمانوں کی تکفیر کو چھوڑتے ہیں، تمام کلمہ گو مسلمان ہیں تو میں مسئلہ نبوت پر بحث کو آج چھوڑتا ہوں۔

مجازی رنگ میں نبوت: نبوت کو مجازی رنگ میں تو ہم بھی مانتے ہیں اور تمام اولیاء اللہ مانتے چلے آئے ہیں۔ خود حضرت مرزا قادیانی نے فرمایا کہ ’’سمیت نبیاً من اللہ علٰی طریق المجازۃ علٰی وجہ الحقیقۃ‘‘ یعنی خدا کی طرف سے میرا نام نبی مجاز

493

کے طور پر رکھا گیا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر یعنی محض اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلامی سے جو مجازی یا لغوی معنی میں نبوت سے ہمیں انکار نہیں۔ مگر یہ شرعی اصطلاح میں نبوت نہیں۔ ہم تو اس نبوت کی مخالفت کرتے ہیں جس کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ خود حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا دراصل دیگر مسلمانوں کے ساتھ بھی قادیانیوں کا یہی اصولی اختلاف ہے اور احمدیت کی مخالفت بھی اسی مسئلہ تکفیر کی وجہ سے زیادہ تر ہے۔

شرائط کیا ہوں؟ باقی رہیں شرائط۔ سو پرچوں اور وقت کے لحاظ سے فریقین کو مساوات حاصل ہو۔ مسئلہ تکفیر کو اوّل لیا جائے اور مسئلہ نبوت کو اس کے بعد۔ مسئلہ تکفیر پر اگر اختلاف ہے تو اس سے گریز کا کیا مطلب؟ یا یہ کہہ دیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے۔‘‘

(پیغام صلح لاہور ۱۵؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مباحثہ کا چیلنج

مولوی محمد علی صاحب لاہور بحث سے گریز کررہے ہیں، غیرمبایعین سے درخواست ہے کہ مولوی صاحب کو مناظرہ پر آمادہ کریں۔

(الفضل قادیان)

’’میں تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا تھا کہ میں مسئلہ نبوت میں مولوی محمد علی صاحب سے خود مباحثہ کرنے کو تیار ہوں۔ آپ ان سے شرطیں طے کریں۔ سو معقول شرائط جن میں کوئی لغویت اور کھیل کا پہلو نہ ہو، جب بھی طے ہوجائیں تو مجھے مولوی صاحب سے مباحثہ کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ الّا ان یشاء اللہ ۔ مباحثہ کی غرض اگر ایک جماعت تک حق کی آواز کا پہنچانا ہو تو اس میں مجھے عذر ہی کیا ہوسکتا ہے۔ عذر تو اسی صورت میں ہوتا ہے جب مباحثہ کو کھیل یا فساد کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘

والسلام خاکسار مرزا محمود احمد

توقع تھی کہ ہمارے مضمون ’’مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج مناظرہ منظور‘‘ مندرجہ اخبار ’’الفضل ۱۱؍دسمبر۱۹۳۶ء‘‘ کے بعد مولوی صاحب کوئی ایسی حیل وحجت نہ کریں گے جس سے ’’فیصلہ کن مناظرہ‘‘ کے وقوع میں التوا یا تعویق پیدا ہو۔ بات صاف تھی۔ ہم نے چیلنج کیا اورلکھا تھا: ’’ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں

494

میں جرأت ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کرلیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے؟

(الفضل ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء)

اس کے متعلق جائنٹ سیکرٹری غیرمبایعین نے ’’قادیانی چیلنج منظور‘‘ کے عنوان کے ماتحت ایک نوٹ شائع کیا (پیغام صلح ۱۹؍ستمبر۱۹۳۶ء) اور صرف دو باتوں یعنی بارہ ثالثوں والی شرط اور یہ کہ غیر مبایعین کی طرف سے بحث کرنے والے جناب مولوی محمد علی صاحب ہوں گے اور جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے سیدنا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کو پیش کیا اور لکھا ’’اپنے خلیفہ صاحب کوا س مباحثہ کے لئے تیار کریں۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب ہر وقت اس کے لئے تیار ہیں۔‘‘ گویا موضوع بحث نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو تسلیم کرلیا۔

جائنٹ سیکرٹری صاحب کے جواب میں میں نے ’’الفضل ۱۴؍اکتوبر ۱۹۳۶ء‘‘ میں یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ بہرحال مناظرہ فیصلہ کن ہوگا۔ خواہ فریقین کی طرف سے حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) اور جناب مولوی محمد علی صاحب مناظر ہوں یا ان کے نمائندے۔ ثالثوں والی شرط کی تغلیط کی تھی۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب نے اپنے قلم سے ’’پیغام صلح ۱۹؍نومبر ۱۹۳۶ء‘‘ میں امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ جس میں ثالثوں کی شرط جو چھوڑتے ہوئے فرمایا ’’صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ خود اپنی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں۔‘‘

نفس موضوع کے متعلق جناب مولوی محمد علی صاحب نے اسی مقالہ میں لکھا:

’’ساری بحث نبوت تو دو جملوں میں طے ہوجاتی ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود نے دوسرے مسلمانوں کا جنازہ جائز قرار دیا ہے تو آپ کے نزدیک وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہیں اور اگر آ پ کو نہ ماننے والے مسلمان ہیں تو یقینا آپ کا دعویٰ نبوت کا نہیں اور اگر آپ کے ارشادات قابل تعمیل ہیں تو نبوت کا مسئلہ حل شدہ ہے۔‘‘

(۱۹؍نومبر۱۹۳۶ء)

گویا موضوع مناظرہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہوگا۔ جسے حل کرنے کے لئے مولوی محمد علی صاحب مسئلہ کفرواسلام یا جنازہ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔

خاکسار نے مولوی محمد علی صاحب کے ۱۹؍نومبر والے مضمون کا ذکر حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) کی خدمت میں کیا۔ اس پر حضور نے فرمایا: ’’میری طرف سے

495

اعلان کردیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کرلیں۔ بحث میں خود کروں گا۔ ان شاء اللہ !‘‘

چنانچہ میں نے ’’الفضل ۱۱؍دسمبر‘‘ میں ’’مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج مناظرہ منظور‘‘ کے ماتحت یہ اعلان کردیا اور ساتھ ہی لکھ دیا۔

’’مضمون بحث طے شدہ اور مسلمہ فریقین ہے۔ یعنی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس مضمون میں مولوی محمد علی صاحب چاہے غیر احمدیوں کے جنازہ کو دلیل بنائیں یا ان کے کفرواسلام کو۔ یہ ان کا حق ہوگا۔‘‘

ان تحریرات کو پڑھ کر ہر عقل مند یقین کرے گا کہ اب صرف جگہ اور وقت اور طریق مناظرہ ایسی معمولی باتوں کا تصفیہ ہی باقی ہے جو بآسانی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ اسی لئے میں نے مولوی صاحب سے درخواست کی تھی کہ بہت جلد اپنی طرف سے دو نمائندے مقرر فرمائیں۔ جو حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح (مرزا محمود) کے تجویز فرمودہ دو نمائندوں سے مل کر فوراً ان امور کا تصفیہ کرلیں اور تاریخ مناظرہ کا اعلان کردیں۔

قارئین کرام! آپ یقینا حیران رہ جائیں گے جب آپ کو معلوم ہوگا کہ سیدنا حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) کے مندرجہ بالا اعلان سے جناب مولوی محمد علی صاحب کی تمام تعلیوں پر بجلی گر پڑی اور ان کی ساری شیخیاں کرکری ہوگئیں اور انہوں نے جو وطیرہ اختیار کیا ہے وہ سچ مچ ان کے شایان نہ تھا۔ میرے نزدیک دنیا کا کوئی معقول پسند انسان مولوی صاحب کے تازہ جواب کو بنظر استحسان نہیں دیکھ سکتا۔ بجائے معقولیت سے بحث کرنے کے آپ نے رجعت قہقہری اختیار کرلی ہے۔ ثالثوں کی شرط کے متعلق جناب کا تازہ ارشاد ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں: ’’میں خوشی سے بارہ کی بجائے آٹھ ہی آدمی تجویز کرتا ہوں اور چار غیر از جماعت آدمیوں کو ترک کردیتا ہوں۔‘‘

(پیغام صلح ۱۵؍دسمبر۱۹۳۶ء)

اور اس تجویز کا فائدہ بحث سے گریز کرنے کی بجائے یوں بیان فرمایا ہے ’’اس سے کم سے کم یہ معلوم ہوجائے گا کہ آیا کسی فریق کے دلائل اس قدر کمزور تو نہیں کہ خود ان کی اپنی جماعت کا کوئی فرد بھی ان سے مطمئن نہیں ہوسکتا۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تجویز مباحثہ کے ساتھ نہایت ضروری ہے۔‘‘ افسوس کہ مولوی صاحب ایم۔اے ہوکر اور ایک گروہ کے ’’امیر‘‘ کہلا کر ایسی

496

کچی بات کہنے سے نہیں جھجکتے اور انہیں ذرا خیال نہیں آیا کہ جس تجویز کے متعلق وہ خود لکھ چکے ہیں ’’میں اس شرط کو بھی جس کا ذکر ابتدا میں کیا ہے چھوڑتا ہوں۔‘‘

(پیغام صلح ۱۹؍نومبر۱۹۳۶ء)

ہاں جس تجویز کے متعلق وہ خود اپنے قلم سے تحریر کرچکے ہیں۔ یہ خیال کرکے کہ شاید اس طرح فتح وشکست کا خیال حال ہوجاتا ہو ایک ماہ کے قریب ہوا میں نے خود اس شرط کو ترک کرکے یہ درخواست کی تھی کہ ویسے ہی میں اور آپ ایک جگہ جمع ہوکر ایک دوسرے کی باتوں کو سنیں اور پھر وہ تحریریں ایک جگہ شائع ہوجائیں تاکہ دونوں جماعتیں فریقین کے دلائل کا موازنہ کرسکیں اور مسلمان پبلک کے لئے بھی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی راہ نکل آئے۔‘‘

(پیغام صلح ۱۱؍دسمبر۱۹۳۶ء)

آج حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) کے اعلان کے بعد پھر اسی تجویز کو پہلے سے بھی بھونڈی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ اگر مولوی صاحب اپنی مصلحت کے ماتحت اتنی موٹی بات بھی نہ سمجھنا چاہیں تو کیا دیگر تمام غیرمبایع دوستوں کے متعلق بھی ہمیں یہی خیال کرلینا چاہئے۔ بھائیو! خدارا انصاف سے کام لو۔

مولوی صاحب! اگر یہ تجویز اس لحاظ سے مباحثہ کے ساتھ نہایت ضروری تھی تو اس کے ترک کرنے کا آپ نے کیوں اعلان فرمایا اور اسے ’’فتح وشکست کے خیال‘‘ کا موجب کیوں قرار دیا اور اگر الفضل ۱۱؍دسمبر کے مضمون سے پیشتر آپ اس کے ترک کا اعلان کرچکے ہیں تو اب اس کی آڑ لینا کیوں کر جائز ہوسکتا ہے۔ میں آپ کو ناصحانہ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اب اس پر ضد نہ کریں ورنہ آپ کی معقولیت کے متعلق جن لوگوں کو خیال ہے ان کا خیال بھی بدل جائے گا۔ خدارا سوچیں اگر حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) کے لاکھوں اتباع میں سے کسی کو آپ کے عقائد پر اطمینان نہیں تو وہ حضور (مرزا محمود) کی بیعت سے علیحدہ ہوکر کیوں آپ کے ساتھ شامل نہیں ہوجاتا اور اگر آپ محض کسی خاص منافق کو ہی جو اندر سے آپ کے ساتھ ساز باز رکھتا ہے جیسا کہ مولوی عمرالدین صاحب کے مضمون مندرجہ (پیغام صلح مؤرخہ ۷؍دسمبرص۵ کالم اوّل) سے ظاہر ہے۔ ہماری جماعت میں سے ثالث منتخب کرنا چاہتے ہیں تو یہ امر نہ صرف آپ کی دیانت داری کے خلاف ہونا چاہئے بلکہ اس کا ہم پر ذرہ بھر اثر نہیں ہوسکتا۔ جو نادان بائیس سال یا کم وبیش تک ایک عقیدہ کی صحت کو نہ جان سکا یا وہ خبیث جو اتنا لمبا عرصہ منافقت سے کام لیتا رہا اس کو ثالثی کے لئے منتخب کرنا صرف مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ ہم از روئے انصاف اس طریق کو نہ اپنے لئے اور نہ ان کے لئے پسند کرتے ہیں۔

497

ہم نہایت واضح الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں کہ مولوی صاحب کی اب یہ تازہ ضروری تجویز غیراحمدیوں کو ثالث بنانے سے بھی بدتر ہے اور یقینا یہ مولوی صاحب کی طرف سے گریز کی راہ ہے۔ اگر ان کو جرأت ہے تو اس تحریری اور تقریری مباحثہ کے لئے قدم اٹھائیں۔ تحریریں چھپ کر ہر شخص کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گی اور ہر شخص بآسانی فیصلہ کرسکے گا۔ اس وقت متروکہ شرط کو ضروری قرار دینا محض ایک مغالطہ دہی کی کوشش ہے جس کا شکار شاید دنیا بھر کا کوئی عقل مند نہ ہوسکے۔ کیا ہم ان لوگوں سے جو غیر مبایعین میں سے انصاف کا دعویٰ کیا کرتے ہیں اپیل کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے جناب پریذیڈنٹ صاحب کو اس قسم کے تنکوں کا سہارا لینے کی بجائے میدان بحث میں آنے پر آمادہ کریں۔

حضرات! آپ پڑھ چکے ہیں کہ مضمون مناظرہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) مسلمہ فریقین ہے۔ ہم اس کے ثابت کرنے کے مدعی ہوں گے اور غیرمبایعین اس کے منکر ہوں گے اور انہیں حق ہوگا کہ جس دلیل کو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے خلاف استعمال کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ چاہیں تو کفرواسلام کو پیش کریں، چاہیں تو جنازہ کا مسئلہ لے لیں۔ حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) اپنے دلائل قاطعہ کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کے ہر اعتراض، ہرحجت اور ہر دلیل کا پورا پورا ابطال فرمائیں گے۔ لیکن آپ کی حیرت کی حد نہ رہے گی جب آپ کو معلوم ہوگا کہ اب مولوی صاحب نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث کرنے سے ہی پہلو تہی کررہے ہیں اور حیلوں بہانوں سے اس اصول بحث کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

۱… ’’افسوس میاں صاحب نے تکفیر کے مسئلہ کو چھوڑ دیا جو کہ اصل چیز ہے۔‘‘

۲… ’’تکفیر اختلاف کی اصل ہے اور مسئلہ نبوت اس کی فرع۔‘‘

۳… ’’اوّل تو بحث تکفیرالمسلمین پر ہونی چاہئے۔ مسئلہ تکفیر کو اوّل لیا جائے اور مسئلہ نبوت کو اس کے بعد۔‘‘

۴… ’’ان کے نزدیک وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ تو پھر یہی تو اصل مابہ النزاع ہے۔ اس کو ترک کرنے کا کیا مطلب؟‘‘

۵… ’’جب تک جناب میاں صاحب اپنے قلم سے صاف اس بات کا اعلان نہ کریں

498

کہ وہ ان دو سوالوں پر جو یہاں لکھے ہیں بحث کرنے کو تیار ہیں اس وقت تک کوئی شرائط کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

(پیغام صلح ۱۵؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

ناظرین کرام! جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کے ان پانچ فقرات کا مطلب نہایت واضح ہے۔

الف: آپ مجوزہ صورت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کے ساتھ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق فیصلہ کن بحث کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں اور نہ ہی اس کے لئے شرائط طے کرنے پر رضا مند۔ اس کے متعلق ہم کیا کرسکتے ہیں۔ ہمیں مولوی صاحب کو مجبور کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ہاں ان کے ساتھیوں میں سے کوئی جرأت کرکے ان سے یہ کہہ دے تو بہتر ہوگا کہ فرض کرو’’قادیانی‘‘ بقول آپ کے ’’تکفیرالمسلمین‘‘ پر بحث کرنے سے جی چراتے ہیں تو آپ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مناظرہ سے کیوں گریز کررہے ہیں۔ چلو اگر دو مضامین پر مباحثہ نہیں ہوتا تو ایک ہی سہی۔ اگر آپ نے اب مناظرہ نہ کیا تو قادیانی ہمیشہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث کا چیلنج دے کر ہمارا ناطقہ بند کردیا کریں گے۔ کیا کوئی غیر مبایع بھائی مولوی صاحب کو یہ معمولی سی بات سمجھا سکیں گے؟

ب: مولوی صاحب کہتے ہیں ’’مسئلہ تکفیر کو اوّل لیا جائے اور مسئلہ نبوت کو اس کے بعد۔‘‘ کیوں کہ جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو کیا دنیا کا کوئی دانا انسان کہہ سکتا ہے کہ مسئلہ تکفیر کو پہلے لیا جائے۔ کیوں کہ معقول طریق یہی ہے کہ پہلے اصل کی تحقیق ہوتی ہے۔ بعد ازاں فرع کی۔ اگر ہم منکرین حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں تو یہ عقیدہ تو حضور (مرزا قادیانی) کی نبوت پر متفرع ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت ثابت ہوجائے تو اس سے ثابت شدہ تمام نتائج کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ پس بہرحال مولوی صاحب کا ’’پہلے اور بعد‘‘ کا مطالبہ سراسر غلط اور ناواجب ہے۔ کیا مولوی صاحب اپنے اس مطالبہ کی غیرمعقولیت پر نظر ثانی فرمائیں گے؟

ج: کس سادگی سے فرماتے ہیں ’’تکفیر اختلاف کی اصل ہے اور مسئلہ نبوت اس کی فرع‘‘ بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ تکفیر کس کی تھی اور کیوں؟ یہ سراسر غلط ہے کہ تکفیر اختلاف کی اصل ہے۔ بلکہ جیسا کہ تاریخ سلسلہ جاننے والوں کو معلوم ہے مولوی محمد علی صاحب کے مرکز

499

سلسلہ سے منقطع ہونے کا باعث یہ مسائل نہیں۔ بلکہ خلافت اور انجمن وغیرہ مسائل ہیں۔ اگر مولوی صاحب کو جرأت ہے تو خاکسار انہیں اس بارہ میں بھی چیلنج کرتا ہے وہ ’’اسباب اختلاف‘‘ پر خود یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعہ مجھ سے تحریری وتقریری بحث کرلیں۔ کیا اختلاف کے اصل وجوہ کو چھپانے والے اس پر جرأت کرسکتے ہیں؟

د : افسوس مولوی صاحب نے سراسر غلط بیانی سے کام لے کر لکھ دیا کہ حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) نے تکفیر کے مسئلہ پر بحث کو چھوڑ دیا ہے۔ حالاں کہ ہم ’’الفضل ۱۱؍دسمبر‘‘ میں صاف طور پر لکھ چکے ہیں کہ ’’مولوی محمد علی صاحب چاہے غیر احمدیوں کے جنازہ کو دلیل بنائیں یا ان کے کفرواسلام کو۔ یہ ان کا حق ہوگا۔‘‘

پس ہم اس مسئلہ کو چھوڑ نہیں رہے۔ بلکہ جیسا کہ آپ نے پیغام صلح (۱۹؍نومبر) میں اسے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلاف بطور ایک دلیل پیش کیا ہے۔ ہم بھی آپ کو پورا حق دیتے ہیں کہ اس دلیل کو پورے زور کے ساتھ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مسئلہ میں پیش کرلیں۔ بایں ہمہ آپ کا محض اتہام کی راہ سے بعض نادان غیر احمدیوں کو خوش کرنے کی کوشش کرنا آپ کے مناسب نہ تھا۔ اگر آپ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نفی کرسکیں تو یقینا کفر واسلام کا مسئلہ خود بخود حل ہوجاتا ہے۔ پس آپ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں۔

آج بائیس سال کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث سے بچنے کے لئے جو ذریعہ اختیار فرمایا ہے وہ محض مغالطہ اور سراسر باطل ذریعہ ہے۔ آپ مسئلہ تکفیر کو ’’اصل‘‘ اور مسئلہ نبوت کو اس کی ’’فرع‘‘ قرار دیتے ہیں۔ آپ مسئلہ تکفیر کو ’’اصل چیز‘‘ قرار دیتے ہیں۔ آپ اسے ’’اصل مابہ النزاع‘‘ بتلاتے ہیں اور یہ تمام کارروائی اس لئے کی جارہی ہے کہ یہ عقیدہ نبوت حصرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث نہ کرنی پڑے۔ حالاں کہ قبل ازیں خود مولوی محمد علی صاحب اپنے قلم سے تحریر فرما چکے ہیں۔

۱… ’’ہمارے درمیان جو اختلاف مسائل ہے اس کی اصل جڑ مسئلہ نبوت ہے۔ اگر ہمارے احباب محض اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور سلسلہ کی خیرخواہی کو مدنظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیں تو اس کی راہ نہایت آسان ہے۔‘‘

(ٹریکٹ نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق مشتہرہ ۳؍فروری ۱۹۱۵ء ص۱۶)

500

۲… ’’میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس تقسیم میں حضرت مسیح موعود نے اپنی نبوت کو ہمیشہ اور ہر مرتبہ ابتدائے دعویٰ سے لے کر وفات تک قسم اوّل یعنی نبی کی نبوت میں نہیں رکھا بلکہ قسم دوم یعنی محدث کی نبوت میں رکھا ہے اور کوئی خصوصیت نبی کی نبوت والی اپنے لئے نہیں بتائی۔ اتنی بات کو اگر سمجھ لو تو مسئلہ کفر واسلام خود حل ہوجاتا ہے۔‘‘

(ٹریکٹ مذکورہ ص۱۷)

۳… ’’پھر اسی مسئلہ نبوت پر تکفیر اہل قبلہ کی بھی بنیاد ہے۔‘‘

(النبوۃ فی الاسلام دیباچہ ص۱)

۴… ’’میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں سلسلہ احمدیہ کے لئے دل میں سچا درد رکھتا ہوں اور جب تک میں نے یہ نہیں سمجھ لیا کہ میاں صاحب کی اس غلطی سے جو وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارے میں کررہے ہیں۔ سلسلہ کو ایک ہلاکت کا سامنا ہے۔ اس وقت تک ان کے خلاف قلم نہیں اٹھایا۔‘‘

(ٹریکٹ ۳؍فروری ۱۹۱۵ء ص۲)

۵… ’’میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آئو سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہوجائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ ہمارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔‘‘

(ٹریکٹ ۳؍فروری ۱۹۱۵ء ص۱)

معزز قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب کے تازہ ارشادات اور پہلے بیانات میں صریح تناقض ہے۔ یہ کیوں؟ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ غیر مبایعین اس گتھی کو سلجھاتے رہیں۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ مولوی صاحب کس طرح نبوت حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر بحث کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

بالآخر میں پھر کھلے طور پر اعلان کرتا ہوں کہ سیدنا حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) نے مجھے فرمایا ہے: ’’میری طرف سے اعلان کردیں کہ خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کرلیں۔ بحث میں خود کروں گا۔ ان شاء اللہ !‘‘

اس اعلان کے بارے میں مولوی صاحب نے حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کی دستخطی تحریر کی بھی خواہش کی تھی۔ سو میں نے اس مضمون کے ابتدا میں حضور کی اپنی دستخطی تحریر بھی پیش کردی ہے تاکہ مولوی صاحب کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مضمون پر اگر مولوی محمد علی صاحب تیار ہوں تو انہیں میدان میں نکلنا چاہئے اور اپنے تمام مزعومہ دلائل کو بحث میں پیش کرنا چاہئے۔ کیوں کہ اسی

501

مسئلہ پر سارے اختلاف عقائد کی بنیاد ہے اور اس کے حل ہوجانے سے دیگر مسائل خود بخود حل ہوجاتے ہیں۔ اگر جناب مولوی صاحب کو یہ بات منظور ہو تو نمائندوں کا تعین فرمائیں تاکہ باقی معمولی شرائط کا جلد تصفیہ ہوسکے۔ لیکن اگر ان کو اس کی جرأت نہیں تو صاف اعلان کرکے مخلوق کی ہدایت کا ذریعہ بنیں۔ میں جناب مولوی صاحب اور جملہ غیرمبایع بھائیوں سے مولوی صاحب ہی کے الفاظ میں درخواست کرتا ہوں کہ:

’’میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آئو۔ سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کرلو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہوجائے دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔‘‘

خاکسار ابوالعطاء جالندھری ۱۸؍دسمبر

(الفضل قادیان ج۲۴، نمبر۱۴۷، ص۳تا۵، مورخہ۲۰؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

فیصلہ کن مباحثہ کی دعوت کا قادیانی جواب

مسئلہ تکفیر پر بحث سے جناب خلیفۂ قادیان کا افسوسناک گریز (پیغام صلح لاہور)

قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ ۱۹۳۴ء کی ابتداء میں ہماری جماعت کے اکابر نے قادیانی حضرات کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ تکفیرالمسلمین اور نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مسائل پر جو ہم میں سب سے بڑی وجۂ اختلاف ہیں۔ دونوں جماعتوں کے امیر ایک فیصلہ کن تحریری مباحثہ کرلیں۔ فریقین کے دلائل وخیالات بیک وقت ویکجا شائع ہوں اور بارہ ثالث اس طریق پر مقرر کئے جائیں کہ ہم قادیانی حضرات میں سے چار ثالثوں کو منتخب کرلیں۔ اسی طرح وہ ہماری جماعت میں سے چار اور دو دو ثالث فریقین غیر از جماعت لوگوں میں سے منتخب کرلیں۔ بحث کے اختتام پر یہ ثالث اپنا فیصلہ دے دیں۔ تجویز بالکل سیدھی سادھی اور نہایت معقول تھی۔ لیکن افسوس جناب خلیفۂ قادیان اور ان کے سرکردہ مصاحبین نے اس دوستانہ مخلصانہ دعوت کا کوئی جواب نہ دیا۔ ہماری بار بار کی یاد دہانیاں بھی اس مہر سکوت کو نہ توڑ سکیں۔ لگاتار تقریباً پونے دو سال گزر گئے۔ مگر کئی بار یاد دہانی کے باوجود بھی نہ خلیفہ صاحب نے کچھ کہا نہ کسی مرید نے کہ ہم فلاں مسئلے پر بحث کرتے ہیں فلاں پر نہیں یا فلاں شرط میں یہ نقص ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے۔‘‘

(پیغام صلح لاہور ۲۱؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

502

جناب مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب قادیانی سے ایک درد مندانہ درخواست

(پیغام صلح لاہور)

مکرم معظم جناب میاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

گزشتہ ایک ماہ کے اندر میں نے دو دفعہ آپ کو ان دو مسائل پر بحث کے لئے مخاطب کیا جن پرہم دو فریق کے اندر چوتھائی صدی سے اختلاف چلا آتا ہے۔میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں مجھے مباحثات کا شوق نہیں۔ بلکہ اپنی جماعت کو بھی زیادہ مباحثات میں پڑنے سے روکتا ہوں۔ مجھے جس بات نے آپ کو خطاب کرنے پر آمادہ کیا وہ صرف اسی قدر ہے کہ اس وقت جو کچھ ہم دونوں فریق کی طاقت باہمی مباحثات پر ضائع ہورہی ہے وہ کسی بہتر مصرف پر لگے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آپ نے اس کی طرف اس قدر توجہ فرمائی کہ دو اختلافی مسائل سے ایک مسئلہ پر بحث کی آمادگی ظاہر کی۔ لیکن اس بات کا افسوس ہے کہ آپ کی طرف سے جو مولوی صاحب لکھ رہے ہیں انہوں نے اسے ابھی سے فتح وشکست کا سوال بنا لیا ہے۔ حالاں کہ اصل غرض یہ ہے کہ اختلافی مسائل پر آپ کے دلائل میری جماعت کے سامنے آجائیں اور میرے دلائل آپ کی جماعت کے سامنے آجائیں۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ وہ اختلافی مسائل میں سے ایک پر تو آپ بحث کی آمادگی ظاہر فرماتے ہیں۔ دوسرے سے کیوں انکار کرتے ہیں۔ تمام احمدی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ عقائد کے لحاظ سے جماعت قادیانی اور جماعت لاہور میں یا آپ میں یا مجھ میں دو باتوں پر اختلاف موجود ہے۔

۱… ہم لوگ ہر ایک کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ اس لئے جو کلمہ گو حضرت مسیح موعود کے دعوے کو نہیں مانتے انہیں بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک تمام کلمہ گو جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے گو انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

۲… ہمارے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کبھی دعویٰ نبوت نہیں کیا بلکہ اپنی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنے کو اپنے اوپر افتراء قرار دیا۔ ہاں مجاز کے طور پر یا لغوی معنی کے لحاظ سے اپنے لئے لفظ نبی استعمال کیا۔ آپ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو مدعی نبوت مانتے ہیں؟

503

اب آپ اس دوسرے مبحث کو قبول کرکے اس پر بحث کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن مبحث اول پر بحث کرنے سے انکار کررہے ہیں۔

(پیغام صلح لاہور ۲۳؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب لاہوری سے خدا کے نام پر اپیل

(الفضل قادیان)

جناب مولوی صاحب! آپ کا ٹریکٹ ’’ایک درد مندانہ درخواست‘‘ اور ’’پیغام صلح‘‘ ۲۱؍دسمبر کا مقالہ افتتاحیہ اس وقت میرے زیر نظر ہے۔ جماعت احمدیہ کے لئے نہایت خوشی کا مقام ہوتا اگر آپ از روئے دیانت وانصاف مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر سیدنا امیرالمؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کے ساتھ تحریری تقریری یا ہر دو قسم مناظرہ کے لئے مستعد ہوجاتے اور اس طرح بقول آپ کے ’’مسئلہ کفر واسلام خود حل ہوجاتا‘‘ لیکن افسوس کہ آپ نے اس پر کسی رنگ میں آمادگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ جناب اور ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کے غلط بیانات کی مفصل تردید بذریعہ اخبار الفضل کرنے سے پیشتر میں پھر ایک مرتبہ آپ سے اس خدا کے نام پر عاجزانہ درخواست کرتا ہوں۔ جس کے سامنے ہم سب کو مرنے کے بعد حاضر ہونا ہے کہ آپ اپنے مندرجہ ذیل الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت امام جماعت احمدیہ کے ساتھ اس بارہ میں جلد فیصلہ کن مناظرہ کرلیں۔ آپ کو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مکفرین ومکذبین کو مسلمان کہنے کے زیادہ فکر ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ خدا کے مقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی شان کو اصل رنگ میں ظاہر کیا جائے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲۴، نمبر۱۵۴، ص۹، کالم نمبر۱ تا۳ مورخہ۲۹؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

جناب خلیفہ صاحب قادیان سے خدا کے نام پر اپیل

(پیغام صلح لاہور)

فیصلہ کن مباحثہ کے متعلق ہمارے اور قادیانی حضرات کے درمیان جو معاملہ چل رہا ہے قارئین کرام اس کے متعلق تمام واقعات سے پوری طرح باخبر ہیں۔ شروع ۱۹۳۵ء میں ہماری جماعت کے سرکردہ اصحاب نے نہایت خلوص سے قادیانی اکابر کو دعوت دی کہ مسئلہ تکفیر اور مسئلہ نبوت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق جو ہم میں وجہ اختلاف ہیں دونوں جماعتوں کے امیروں کے درمیان تحریری مباحثہ ہوجائے اور اس کے لئے ہم نے نہایت معقول اور

504

مساوی شرائط پیش کیں۔ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ تک قادیانی حضرات خاموش رہے۔ گذشتہ ستمبر میں انہوں نے مولوی محمد احسن صاحب کی ایک تحریر کا سہارا لے کر کچھ حرکت کی اور مولوی اللہ دتہ صاحب قصر خلافت سے سند سفارت حاصل کرکے ’’الفضل‘‘ کے صفحات پر قادیانی تیوروں کے ساتھ نمودار ہوئے۔ آخر بہت ردوقدح کے بعد جناب خلیفہ صاحب نے مجبوراً مسئلہ نبوت پر بحث کے لئے آمادگی ظاہر فرمائی۔ لیکن مسئلہ تکفیر کے متعلق بدستور سکوت طاری رہا۔ اس پر ہم نے بھی ’’پیغام صلح‘‘ ۲۱؍دسمبر ۱۹۳۹ء میں چند معروضات پیش کیں اور حضرت امیر (محمد علی) نے جناب خلیفہ قادیانی کو مخاطب کرکے لکھا کہ: ’’عقائد کے لحاظ سے جماعت قادیانی اور جماعت لاہور میں یا آپ میں اور مجھ میں دو باتوں پر اختلاف موجود ہے۔

۱… ہم لوگ ہر ایک کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ اس لئے جو کلمہ گو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے دعوے کو نہیں مانتے انہیں بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک تمام کلمہ گو جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے گو انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہ سنا ہو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

۲… ہمارے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کبھی دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ بلکہ اپنی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنے کو اپنے اوپر افتراء قرار دیا۔ ہاں مجاز کے طور پر یا لغوی معنی کے لحاظ سے اپنے لئے لفظ نبی استعمال کیا۔ آپ حضرت مسیح موعود کی مدعی نبوت مانتے ہیں۔‘‘

(پیغام صلح لاہور۴؍جنوری ۱۹۳۷ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب سے فیصلہ کن مناظرہ کب اور کس طرح ہوگا؟

(الفضل قادیان)

جناب مولوی محمد علی صاحب کا خطاب جماعت احمدیہ سے:

’’میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آئو سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہوجائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ ہمارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حد تک ہم میں اتفاق بھی ہے اور اس اتفاق کے ساتھ کچھ اختلاف بھی ہے۔ جس قدر مسائل اختلافی ہم ہر دو فریق میں ہیں وہ اسی اختلاف مسئلہ نبوت سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘

(ٹریکٹ ’’نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق‘‘ ص۱)

505

سیدنا حضرت امیرالمؤمنین امام جماعت احمدیہ کا اعلان

’’میں نے مولوی ابوالعطاء سے کہا تھا کہ میں مسئلہ نبوت میں مولوی محمد علی سے خود مباحثہ کرنے کو تیار ہوں۔ آپ ان سے شرطیں طے کریں۔ سو معقول شرائط جن میں کوئی لغویت اور کھیل کا پہلو نہ ہو جب بھی طے ہوجائیں تو مجھے مولوی صاحب سے مباحثہ کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ الّا ان یشاء اللہ ! مباحثہ کی غرض اگر ایک جماعت تک حق کی آواز کا پہنچانا ہو تو اس میں مجھے عذر ہی کیا ہوسکتا ہے۔

(الفضل قادیان ج۲۵، نمبر۱۳، ص۵، کالم۱، ۲مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۷ء)

کیا اہل پیغام شرافت اور معقولیت سے شرائط طے نہ کریں گے؟

(الفضل قادیان)

سیدنا امیرالمؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود) نے خاکسار کو ارشاد فرمایا تھا کہ:

’’جناب مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مباحثہ تو میں خود کروں گا۔ ان شاء اللہ ! آپ ان سے شرطیں طے کریں۔‘‘ گویا حضور نے معقول اور مساوی شروط کے تصفیہ کے لئے خاکسار کو مقرر فرمایا۔ مگر جناب مولوی محمد علی صاحب نے اس مرحلہ کو مختصر کرنے کی بجائے طویل تر بنا دیا ہے اور مجبوراً ہمیں بھی مضمون لکھنے پڑے۔ لیکن اشتہار ’’جناب مولوی محمد علی صاحب سے خدا کے نام پر اپیل‘‘ نہایت مختصر اور فیصلہ کن تھا۔ اسے پڑھ کر جناب ایڈیٹر صاحب پیغام نے ایک سلسلہ دشنام مرتب فرمانے کے بعد لکھا ہے: ’’مولوی اللہ دتہ صاحب کی حرکت نہایت معاندانہ اور تکلیف دہ ہے۔ لیکن ہم انہیں ایک حد تک معذور سمجھتے ہیں۔ جناب خلیفہ صاحب نے ایک ایسی خدمت ان کے سپرد فرمائی ہے جسے شرافت ومعقولیت اور دیانت وصداقت کے ساتھ انجام نہیں دیاجاسکتا۔‘‘

(۴؍جنوری۱۹۳۷ء)

تا حال میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اہل پیغام سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مناظرہ کے لئے مساوی اور معقول شرائط کا تصفیہ شرافت ومعقولیت اور دیانت وصداقت کے ساتھ کیوں نہیں ہوسکتا؟ بے شک جناب مولوی محمد علی صاحب کا تکفیر کو پہلے مستقل موضوع بنانا معقولیت سے بالکل عاری ہے۔ جس کی گواہی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی دی ہے۔ لیکن ہم ہنوز مایوس نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں مولوی صاحب اس ضد کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ہاں اگر ’’پیغام صلح‘‘ کے نزدیک انہوں نے شرائط کے

506

شرافت ومعقولیت سے طے نہ کرنے کا عزم کا رکھا ہے۔ جیسا کہ ان الفاظ سے مترشح ہوتا ہے تو یہ ایک افسوسناک امر ہوگا۔ بہرحال آئندہ اس بیان کی حقیقت کھل جائے گی۔‘‘

خاکسار ابوالعطاء جالندھری!

(الفضل قادیان ج۲۵، نمبر۲۳، ص۲، کالم ۱، ۲مورخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۷ء)

فیصلہ کن مباحثہ سے جناب خلیفہ قادیان کا افسوسناک گریز

(پیغام صلح، لاہور)

جناب خلیفہ صاحب کی بے محل وتعجب انگیز خاموشی

افسوس جناب خلیفہ قادیان ہماری جماعت کی مخلصانہ دعوت کے جواب میں بدستور فیصلہ کن مباحثہ سے گریز فرما رہے ہیں اور مولوی اللہ دتہ صاحب صرف اپنی طویل نویسی کی عادت کو پورا کررہے ہیں۔ جناب خلیفہ صاحب بہت کچھ لکھ سکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن دو لفظ اس کے متعلق لکھنا یا بولنا پسند نہیں کرتے کہ آیا وہ ساٹھ کروڑ مسلمانوں کی تکفیر کے متعلق کوئی دلیل پیش کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ جب وہ مسئلہ نبوت پر بحث کی آمادگی ظاہر کرچکے ہیں تو اس دوسرے مسئلے پر جس سے انہوں نے اتحاد اسلام کی بنیادوں کو پاش پاش کیا ہے خود کیوں دو لفظ نہیں لکھ دیتے۔ اگر ان کی خود لکھنے میں کسر شان ہے تو کسی خطبہ میں ہی بیان کردیں کہ ہم ساٹھ کروڑ مسلمانوں کی تکفیر کرنے کے بعد اب اس کی تائید میں کوئی دلیل دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔ رسول اللہ ﷺ تو فرمائیں کہ ایک مسلمان کو بھی کافر کہا جائے تو کفر الٹ کر کہنے والے پر پڑتا ہے اور جناب خلیفہ صاحب ساٹھ کروڑ مسلمانوں کو ایک جنبش قلم سے کافر بنا دیں اور پھر اختلافی مسائل پر بحث کا ذکر آئے تو یہ مسئلہ ان کے نزدیک اس قابل ہی نہیں کہ اس کی تائید یا تردید میں کوئی دلیل دینے کی ضرورت ہو۔‘‘ الخ

(پیغام صلح ۳؍فروری ۱۹۳۷ء)

زیر تجویز مناظرہ کے متعلق ایک مفید تجویز

(الفضل قادیان)

احباب کو معلوم ہے کہ سیدنا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود)

507

نے بنفس نفیس جناب مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ کرنے کا اعلان فرمایا ہے۔ مگر مولوی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اس مسئلہ پر بحث میں رخنہ اندازی ہورہی ہے۔ اسی سلسلہ میںہمارے دوست مولوی مسیح الدین صاحب احمد نے جمرود سے حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) کی خدمت میں لکھا ہے:

’’مولوی محمد علی صاحب آف لاہور نے مناظرہ کا چیلنج دیا ہے۔ گو وہ ایسے مرد میدان تو معلوم نہیں ہوتے کہ وہ اس مناظرہ کے لئے تیار ہوں اور حضور سے مقابلہ کی جرأت کرسکیں صرف نمائشی چیلنج معلوم ہوتاہے۔ تاہم اگر وہ آمادہ ہوجائیں تو گو اس کے شرائط حضور اور حضور کے نمائندہ مجھ سے ہزار درجہ بہتر سمجھ سکتے اور تجویز کرسکتے ہیں۔ مگر جو ایک بات میری رائے میں ہے وہ پیش کرتا ہوں۔ مقام مناظرہ اگر لاہور مولوی صاحب پسند کریں تو احمدیہ جماعت کے قیام وطعام اور حفظ وامن کے وہ ذمہ دار ہوں اور جس قدر افراد بھی شمولیت کے لئے ہماری جماعت میں سے بیرون جات سے جائیں وہ سب کے ٹھہرنے اور کھانے کا انتظام کریں۔ کیوں کہ وہ ان کا مرکز ہے۔ لیکن اگر وہ معہ اپنے رفقاء قادیان آنا اور قادیان میں مناظرہ منظور کریں تو ان کی رہائش وخوراک اور حفظ امن کی ذمہ داری ہماری جماعت پر ہو۔ اسی طرح بھی ان کے بلند بانگ دعاوی دربارہ جماعت اور چندوں کی ترقی کا پول کھل جائے گا اور ان کی ہمت کا امتحان ہوگا۔ خدا کرے وہ اس امتحان کے لئے آمادہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمارے شامل حال ہو۔ صداقت احمدیت کا نور دنیا میں پھیلے۔ آمین‘‘

بلاشبہ جناب مولوی مسیح الدین صاحب کی یہ تجویز بہت مناسب ہے۔ کیا جناب مولوی محمد علی صاحب ایم ۔اے اس پر بھی غور فرمائیں گے؟

خاکسار ابوالعطاء جالندھری

(الفضل قادیان ج۲۵، نمبر۳۳، ص۲، کالم نمبر۲، مورخہ۱۰؍فروری ۱۹۳۹ء)

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ

(الفضل قادیان ۲۸؍فروری۱۹۳۷ء)

مقام خوشی ہے کہ اہل پیغام کی طرف سے ثالثوں کی فرسودہ تجویز کو واپس لے لیا گیا ہے۔ چنانچہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ کی اشاعت ۱۷؍جنوری ۱۹۳۷ء میں شائع شدہ مفصل مضمون دربارہ مناظرہ کا جو جواب جناب ایڈیٹر صاحب ’’پیغام صلح‘‘ نے لکھا ہے۔ اس میں

508

مولوی محمد علی صاحب کی اس تجویز پر ہمارے معقول اعتراضات کے جواب میں کامل مسکوت اختیار کیاگیا ہے بلکہ بظاہر اب تو یہ امکان بھی باقی نہیں کہ جس طرح جناب مولوی صاحب نے ایک مرتبہ اس تجویز کو واپس لے کر دوبارہ اسی کی آڑ لینی شروع کردی تھی۔ پھر کبھی اس نامعقول مطالبہ کو پیش کردیا جائے گا۔ کیوں کہ ایڈیٹر صاحب ’’پیغام‘‘ نے صاف لکھ دیا ہے: ’’کوئی ایسا جج نہیں جو مسئلہ نبوت پر بحث سن کر فیصلہ دے دے اور لوگ اس کے فیصلہ کو تسلیم کرلیں۔ سننے والوں کو خود فریقین کے دلائل کا موازنہ کرکے رائے قائم کرنی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جو اختلاف ہیں ان میں راستی پر کون ہے اور غلطی پر کون ہے۔ (۳فروری)

(الفضل قادیان ج۲۵، نمبر۴۴، ص۵، کالم نمبر۱، مورخہ ۲۳؍فروری ۱۹۳۷ء)

جناب خلیفہ قادیان سے مباحثہ کے متعلق فیصلہ کن گزارش

(پیغام صلح لاہور)

مولوی اللہ دتہ صاحب نے فیصلہ کن بحث کے متعلق مضمون شائع کیا ہے۔ جس کی ابتداء ہی ثالثوں والی شرط سے ہوئی ہے۔ قادیانی دوست ثالثوں والی شرط سے اس قدر گھبراتے ہیں کہ جونہی اس کا ذکر آیا۔ بس ہوش وخرد کے طوطے اڑ گئے۔ گزشتہ مضمون میں ’’پیغام صلح‘‘ نے ثالثوں والی شرط کا ذکر نہ کیا۔ کیوں کہ یہ بات پہلے متعدد بار دہرائی جاچکی تھی۔ مگر اس کی عدم موجودگی سے مولوی صاحب کی جان میں جان آئی کہ ’’دیکھو کہ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے یہ شرط بے معنی ہے۔‘‘ مگر ان کو یہ خیال رہے کہ ہماری یہ شرط بدستور قائم ہے۔ مولوی صاحب کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ پیغام صلح نے اگر یہ لکھا کہ ایسا کوئی جج نہیں ہوسکتا کہ جس کے فیصلہ کو فریقین تسلیم کرلیں گے تو اس سے یہ کس طرح واضح ہوا کہ ہم نے ثالثوں کی شرط کو چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے کبھی نہیں لکھا کہ ثالثوں کے فیصلہ کو فریقین تسلیم کرلیں۔ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور کسی ثالث کے فیصلے سے کوئی شخص اپنے مذہبی عقیدہ کو ترک نہیں کرسکتا۔ ہم ثالثوں کی شرط پر سختی سے قائم ہیں اور اس کی غرض صرف یہ ہے کہ واضح ہوجائے کہ کون سا فریق اس قدر زبردست دلائل رکھتا ہے کہ دوسرے فریق کے احباب کو بھی غلطی سے نکال کر اپنا ہم خیال بنا لیتا ہے۔ یعنی اگر چار دوست قادیان کے ہوں گے اور ان میں دوران بحث میں ایک یا دو ہمارے دلائل سے قائل ہو کر ہمارے حق میں فیصلہ دیں گے تو ہر

509

دو جماعتوں کے افراد اور دیگر مسلمانوں کو حق وصداقت کے پرکھنے اور دلائل کا اندازہ کرنے کا موقع مل جائے گا اور مقابلۃً بہت زیادہ لوگ حقیقت عقائد سے باخبر ہوجائیں گے۔

مولوی اللہ دتہ صاحب نے مناظرانہ پیش بندی کے طور پر کہا ہے کہ احمدی اب پھر ثالثوں والی شرط پر اصرار کریں گے۔ مگر مولوی صاحب ہم نے اسے چھوڑا ہی کب ہے۔ یہ تو آپ کی ’’حسن ظنی‘‘ ہے جو ایسا سمجھ رہے ہیں۔ مگر آپ ثالثوں والی تجویز سے گھبراتے کیوں ہیں اس لئے کہ میاں صاحب کو اپنے مریدوں کی ضعیف الاعتقادی کا یقین ہے۔ آپ کا اعتراض تو ایک ہی تھا کہ ہم کسی منافق کو جو آپ کی جماعت میں ہے ثالث تجویز کریں گے۔ اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں کہ جس کے متعلق یہ کہہ دیا جائے کہ وہ منافق ہے ہم اسے چھوڑ دیں گے اور اس کا نام بھی شائع نہیں کریں گے اور اگر اس بات کا ڈر ہے کہ اگر فیصلہ آپ کے خلاف ہوگیا تو اکثر لوگ ساتھ چھوڑ جائیں گے تو حق کی خاطر آخر مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہاں تو آپ پھر سن لیجئے کہ ثالثوں کی شرط قائم ہے۔‘‘

(پیغام صلح لاہور۳؍مارچ۱۹۳۷ء)

فیصلہ کن مناظرہ سے جماعت قادیان کا گریز

(پیغام صلح لاہور)

سیدنا حضرت امیر (محمد علی لاہوری) کے فیصلہ کن مناظرہ کے چیلنج کے جواب میں جناب خلیفہ صاحب قادیان کے وکیل مولوی اللہ دتہ صاحب جالندھری کا مسیح موعود کے دعویٰ نبوت پر بحث کے لئے اصرار اور مسئلہ تکفیر پر تبادلۂ خیالات سے بضد انکار فی الواقعہ تعجب انگیز ہے۔ اگر یہ کمزوری جناب خلیفہ صاحب سے رونما ہوتی تو ہماری جماعت انہیں ایک حد تک معذور سمجھتی۔ کیوں کہ ہم جناب مولوی صاحب کے افلاس دلائل اور کمی علم کو جانتے ہیں اور اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ یہ ہر دو مسائل میاں صاحب کے ہی اختراع کردہ ہیں اور سیدنا حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں ان کی کوئی سند نہیں۔ لیکن ایک مرید کا اپنی طرف سے وکالت کرکے اپنے پیر کو کسی مسئلہ پر بحث کرنے سے بچانے کی کوشش کرنا معاملہ کو سخت مشکوک اور مشتبہ بنا دیتا ہے۔

قادیانی مریدوں کا ’’واجب الاطاعت‘‘ پیر سے انحراف

ہر ایک مرید کی یہ ایک فطرتی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے پیر سے ہر مسئلہ کے متعلق زیادہ سے زیادہ روشنی حاصل کرے اور اس امر میں کوشش وسعی کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ

510

کرے مگر یہاں یہ عجیب معاملہ نظر آتا ہے کہ ایک مرید اپنے پیر کو ایک معرکۃ الآراء مسئلہ پر بحث کرنے سے بچانے کے لئے صفحے کے صفحے سیاہ کرتا ہے اور جماعت قادیان خاموش ہے۔ مریدوں کو تو یہ چاہئے تھا کہ اپنے ہر امر میں واجب الاطاعت امام کو جو انہیں ظلمات سے نور کی طرف لے جانے کا مدعی ہے مجبور کرتے ہیں کہ وہ صرف ان دو مسائل کی بحث پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ اسمہٗ احمد کی پیش گوئی پر بھی جس کے متعلق اس نے دنیا جہاںکے علماء فضلاء کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے بحث پر اصرار کرے۔ مسیح موعود کی تبدیلی عقیدہ اور غیر احمدیوں کے نماز جنازہ کے عدم جواز کو بھی الگ موضوع بنائے تاکہ ان کے اپنے دل بھی نور ایمان سے بھرپوجائیں اور ’’پیغامیوں‘‘ کی غلط فہمیوں اور شکوک کا بھی ازالہ ہوجائے۔ یا کم از کم ان پراتمام حجت ہی ہو جائے۔ اگر قادیانیوں کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابربھی نور ایمان ہے اور وہ ان ہر دو مسائل میں اپنے تئیں علیٰ وجہ البصیرت راستی پر سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے ان عقائد خصوصی کی تبلیغ کے موقع کو ایک نعمت خدا داد سمجھنا چاہئے اور اس نادر اور عظیم الشان موقع کو بے کار باتوں میں پڑ کر اپنے ہاتھ سے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

تلخ پیالہ کوٹالنے کی کوشش

ہم نے اکثر قادیانی دوستوں کو اس امر پر تأسف کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم نے قرآن کریم پر تھوڑے اعتراض کئے۔ کاش وہ اور زیادہ اعتراض کرتا تو قرآن اور زیادہ ظاہر ہوتا اور حضرت مسیح موعود کی زبان مبارک سے قرآن کریم کے اور زیادہ معارف سننے اور اپنے نور ایمان کو اور زیادہ تازہ کرنے کی سعادت ملتی۔ بلکہ بعض قادیانی دوست تو یہاں تک مبالغہ کیا کرتے ہیں کہ کاش عبد اللہ آتھم قرآن کریم کی ایک ایک آیت پر اعتراض کرتا تو اس طرح آج ہمارے ہاتھوں میں حضرت مسیح موعود کی اپنی لکھی ہوئی تفسیر ہوتی۔ مگر آج یہ الٹی گنگا بہتی نظر آتی ہے کہ ایک شخص جو اپنے علم وفضل کے لئے بین الاقوامی شہرت کا مالک ہے۔ میاں صاحب کو صرف دو مسئلوں کی دعوت دیتا ہے اور مریداسلام کے واحد ٹھیکہ دار ہر امر میں واجب الاطاعت امام کو اس تلخ پیالہ کو پینے سے بچانے کے لئے ہرقسم کے مکر وفریب اور دجل سے کام لے رہے ہیں تاکہ اس کی پردہ دری نہ ہو۔ فاعتبروا یاولی الابصار!

(پیغام صلح لاہور ۱۱؍مارچ ۱۹۳۷ء)

511

مولوی محمد علی صاحب مناظرہ سے گریز کررہے ہیں

(الفضل قادیان)

ہمارے مضامین کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب فیصلہ کن مناظرہ سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ کھلی تحریروں کے باوجود کبھی ثالثوں کی آڑ لی جاتی ہے کبھی کفر واسلام کو بچنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم ایک گزشتہ مضمون میں لکھ چکے ہیں کہ کفر و اسلام کے متعلق بحث کرنے کا حق صرف غیر احمدیوں کو ہے۔ اہل پیغام اس کا بار بار ذکر کرکے محض اپنی کمزوری کو چھپانا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقت نہایت واضح ہے۔ چنانچہ ہمیں مولوی حافظ گوہر دین صاحب مبلغ اہل حدیث کی حسب ذیل چٹھی حال میں موصول ہوئی ہے:

’’جب سے اخبار الفضل اور پیغام صلح میں قادیانی اور لاہوری احمدیوں کے فیصلہ کن مناظرہ کرنے کا سلسلہ جاری ہوا ہے، اس وقت سے ہم نے فریقین کے شائع شدہ بیانات کا مطالعہ کیا۔ آخر ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری اس مناظرہ سے گریز کر رہے ہیں۔ کیوں کہ مولوی صاحب نے اپنی سابقہ تحریروں میں صاف لکھا ہے کہ ہمارے درمیان جو اختلاف مسائل ہے اس کی اصل جڑ مسئلہ نبوت ہے۔ اس لئے ہم مولوی صاحب سے ان کی اپنی تحریروں کی بنا پر غیر جانبدارانہ جہت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا روّیہ ان کی کمزرویٔ عقائد کا پبلک پر پورا پورا اثر ڈال رہا ہے۔ مولوی صاحب کو چاہئے کہ مسئلہ نبوت پر قادیانیوں سے مناظرہ کرکے اپنے حق پر ہونے کا ثبوت دیں۔ دراصل کفرواسلام کا مسئلہ ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔ قادیانی نہ لاہوریوں کو کافر سمجھتے ہیں اور نہ لاہوری قادیانیوں کو کافر۔ اس لئے اس بحث میں پڑنا محض تضیع اوقات ہے۔ اس معاملہ میں ہم جانیں اور قادیانی۔ بہرحال اس مناظرہ کو پبلک اشتیاق کی نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ امید ہے کہ مولوی محمد علی صاحب جلد از جلد تصفیہ شرائط کرکے مسئلہ نبوت پر فیصلہ کن مناظرہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں گے۔ دیدہ باید۔

خادم حافظ گوہر دین مبلغ اہل حدیث درک ضلع گورداسپور

درحقیقت تمام عقل وسمجھ رکھنے والے اس بارہ میں وہی کہیں گے جو حافظ صاحب

512

نے کہا ہے۔ کہا ہم امید رکھیں کہ ہمارے غیر مبایع دوست اب بھی جناب مولوی محمد علی صاحب کو آمادہ کر سکیں گے کہ وہ اپنی تحریر کے مطابق نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق سیدنا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سے فیصلہ کن مناظرہ کریں۔ ‘‘

خاکسار ابوالعطاء جالندھری

(الفضل قادیان ج۲۵، نمبر۶۱، ص۸، کالم نمبر۱،۲ مورخہ۱۶؍مارچ ۱۹۳۷ء)

حق کا جادو سرچڑھ بولے (پیغام صلح)

سیدنا حضرت محمد علی صاحب (لاہوری) نے ۱۹؍نومبر ۱۹۳۶ء کے پیغام صلح میں ’’امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر سا نوٹ شائع کروایا… جس کے جواب میں جناب خلیفہ صاحب کی طرف سے قریباً ایک ماہ تک کوئی جواب شائع نہ ہوا۔ اس کے بعد حضرت ممدوح نے ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۶ء کے ’’پیغام صلح‘‘ میں مکتوب مفتوح بخدمت جناب مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب‘‘ لکھا۔ جس میں جناب خلیفہ صاحب قادیان کو مسئلہ تکفیر مسلمین اور نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن بحث کرنے کے لئے دوبارہ یاد دہانی کرائی۔

یہ مکتوب اخبار میں چھپ چکا تھا۔ جب ۱۱؍دسمبر۱۹۳۶ء کے الفضل میں مولوی اللہ دتہ صاحب کا ایک مضمون بطور مقالہ افتتاحیہ شائع ہوا۔ اس میں مضمون نگار نے لکھا کہ جناب خلیفہ صاحب نے ان سے ارشاد فرمایا ہے:

’’میری طرف سے اعلان کردیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کرلیں۔ بحث میں خود کروں گا۔‘‘

اس پر حضرت امیر (محمد علی لاہوری) نے ۱۵؍دسمبر ۱۹۳۶ء کے پیغام صلح میں تکفیر اور نبوت کے مسائل پر فیصلہ کن بحث کے عنوان کے ماتحت میں لکھا:

’’الفضل میں جو اعلان ہوا ہے اس میں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر بحث کا ذکر ہے اور مسئلہ تکفیر کا ذکر کوئی نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سہواً رہ گیا ہو۔ مگر مجھے ڈر ہے کہ جناب میاں صاحب مسئلہ تکفیر مسلمین پر بحث کرنے سے عمداً گریز فرما رہے ہیں۔ حالاں کہ انہیں خوب

513

معلوم ہے کہ دونوں فریق کا اختلاف پہلے اس مسئلہ تکفیر پر ہی ہوا اور مسئلہ نبوت کی بحث بعد میں شروع ہوئی۔ مسئلہ تکفیر مسلمین حضرت مولانا نورالدین (قادیانی) کی زندگی میں ہی دو گروہوں کا مبحث بن گیا تھا۔ اس کی وجہ سے ہم نے قادیان چھوڑا اور ہم تو آج بھی یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر جناب میاں صاحب مسلمانوں کی تکفیر کو چھوڑ دیں اور سب کلمہ گوئوں کو بروئے قرآن وحدیث وبروئے تحریرات حضرت مسیح موعود نہ اپنی ایجاد کردہ سیاسی تعریف کی رو سے مسلمان ہونا تسلیم کرلیں تو ہم مسئلہ نبوت پر ان کے ساتھ بحث کو آئندہ ترک کردیں گے۔ لیکن ان کے نزدیک وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو پھر یہی اصل مابہ النزاع ہے۔ اس کو ترک کرنے کا کیا مطلب؟ ہماری بحث ان باتوں پر ہوگی:

۱… کیا کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟

۲… کیا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے دعویٰ نبوت کیا؟ جب تک جناب میاں صاحب (مرزا محمود) اپنے قلم سے اس بات کا اعلان نہ کریں کہ وہ ان دو سوالوں پر جو یہاں لکھے ہیں بحث کرنے کو تیار ہیں اس وقت تک کوئی شرائط طے کرنے سے فائدہ نہیں۔‘‘

(پیغام صلح لاہور ۲۱؍جون ۱۹۳۷ء)

فیصلہ کن مناظرہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کا گریز

(الفضل قادیان ۱۴، ۱۶، ۲۳؍دسمبر۱۹۳۷ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبایعین نے تحریر فرمایا تھا:

۱… ’’ہمارے درمیان جو اختلاف مسائل ہے اس کی اصل جڑ مسئلہ نبوت ہے۔ اگر ہمارے احباب محض اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور سلسلہ کی خیرخواہی کو مدنظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیں تو اس کی راہ نہایت آسان ہے۔‘‘

۲… ’’میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آئو سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کرلو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہوجائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ ہمارے اختلاف

514

کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔‘‘

(ٹریکٹ نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق)

یہ واضح ، صاف اور کھلی تحریرات لکھنے کے بعد آج اگر مولوی محمد علی صاحب خود ہی فیصلہ کی اس ’’نہایت آسان راہ‘‘ کو چھوڑ دیں۔ دوسرے معاملات کو ملتوی رکھنے کی بجائے انہیں مقدم کرنا چاہیں اور ’’سب سے پہلے اس ایک بات کے فیصلہ کرنے‘‘ پر رضا مند نہ ہوں تو فرمائیے کیا اس کا بدیہی نتیجہ یہ نہیں کہ جناب مولوی محمد علی صاحب اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مدنظر رکھ کر بات نہیں کررہے ۔‘‘الخ!

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۴؍دسمبر ۱۹۳۷ء)

قادیانیوں پر آخری اتمام حجت (پیغام صلح لاہور)

الفضل مجریہ ۱۴،۱۶؍دسمبر ۱۹۳۷ء میں مولوی اللہ دتہ صاحب نے بڑے زور شور سے شائع کرایا ہے کہ گویا فیصلہ کن مناظرہ سے حضرت مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور گریز کر گئے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ میں نے ان مضامین کا جو ’’الفضل‘‘ میں نکلے تھے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت امیر کی خدمت میں ذکر کرکے جواب کے لئے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میاں صاحب خود کچھ لکھتے تو میں جواب دیتا۔ مولوی اللہ دتہ صاحب کی تحریروں کاکیا ہے وہ جو چاہیں لکھتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ ان مضامین میں مولوی اللہ دتہ صاحب اپنے آپ کو میاں صاحب کے نمائندہ کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ حضرت امیر نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کی خواہ مخواہ کی بات ہے۔ میاں صاحب نے کہیں انہیں اپنا مختار عام نہیں بنایا۔ تاہم آپ ان مضامین کا جواب لکھیں۔ میں نے عرض کی کہ بہت اچھا۔ میں جواب لکھ کر بھیج دوں گا۔ سو آج میں ان مضامین کا مختصر جواب لکھتا ہوں:

مبحث کیا ہونا چاہئے؟ ہمارے اور قادیانی حضرات کے درمیان جو سب سے بڑا اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے دعویٰ کے انکار کرنے والے اہل قبلہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیتے اور جناب میاں صاحب تمام اہل قبلہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے اس موضوع پر بحث ہونی چاہئے مگر قادیانی جماعت کہہ رہی ہے کہ اس موضوع پر مستقل بحث کی

515

ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ کفر نتیجہ ہے اور اس کی علت حضرت مرزا قادیانی کی نبوت ہے۔ پس بحث اصل پر ہونی چاہئے نہ کہ فرع پر۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہم مسئلہ کفر واسلام کو اہم اور مقدم کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے نزدیک یہی سب سے بڑا سوال ہے اور قادیانی جماعت چاہتی ہے کہ بحث نبوت مسیح موعود پر ہو اور ضمناً مسئلہ کفرواسلام پر بھی بحث ہوجائے۔‘‘ الخ

(پیغام صلح لاہور ۲۶؍جنوری ۱۹۳۸ء)

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ

(الفضل قادیان)

بے جا عذر: الفضل ۱۴، ۱۶، ۲۳؍دسمبر ۱۹۳۷ء میں خاکسار نے ’’فیصلہ کن مناظرہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کا صریح گریز‘‘ کے عنوان سے تین مقالات لکھے تھے۔ جن کے جواب سے مولوی صاحب موصوف نے کلیۃً خاموشی اختیار فرمائی۔ مولوی عمرالدین صاحب لکھتے ہیں: ’’میں نے ان مضامین کا جو ’’الفضل‘‘ میں نکلے تھے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت امیر کی خدمت میں ذکرکرکے جواب کے لئے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میاں صاحب خود کچھ لکھتے تو میں جواب دیتا۔ مولوی اللہ دتہ صاحب کی تحریروں کا کیا ہے وہ جو چاہیں لکھتے رہیں۔‘‘

(پیغام صلح ۲۶؍جنوری ۱۹۳۸ء)

افسوس کہ جناب مولوی محمد علی صاحب کو یہ عذر دسمبر ۱۹۳۷ء میں سوجھا۔ جب کہ ان کے گریز کو واضح کردیا گیا تھا۔ ورنہ قبل ازیں وہ خاکسار کے مضامین کے متعلق لکھتے رہے ہیں۔ بلکہ خطبات جمعہ میں ارشاد فرماتے رہے ہیں۔ اب یہ بے اعتنائی بے معنی ہے۔ جناب مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ سیدنا حضرت امیرالمؤمنین (مرزا محمود) اخبارالفضل میں شائع فرما چکے ہیں کہ:

’’میں تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا تھا کہ میں مسئلہ نبوت میں مولوی محمد علی صاحب سے خود مباحثہ کرنے کو تیار ہوں آپ ان سے شرطیں طے کریں۔‘‘

(۲۰؍دسمبر ۱۹۳۶ء)

پس میں جو جناب مولوی محمد علی صاحب کی خدمت میں بعض معروضات پیش کرتارہا ہوں۔ وہ یوں ہی نہیں بلکہ اس تحریر کی بنا پر تھیں اور الحمدللہ مجھے مولوی محمد علی صاحب کی

516

طرح کبھی ضرورت پیش نہیں آئی کہ ایک بات مان کر پھر اس کا انکار کردوں یا ایک شرط کو غیر معقول قرار دے کر چھوڑنے کے بعد پھر اس پر اصرار کروں۔ بہرحال مولوی صاحب کا یہ کہنا درست نہیں کہ ’’مولوی اللہ دتہ صاحب کی تحریروں کا کیا ہے وہ جو چاہیں لکھتے رہیں۔‘‘

اختلاف کی اصل جڑ کیا ہے؟ مولوی عمرالدین صاحب نے لکھا ہے:

۱… خلاصہ کلام یہ کہ ہم مسئلہ کفرواسلام کو اہم اور مقدم کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے نزدیک یہی سب سے بڑا سوال ہے اور قادیانی جماعت چاہتی ہے کہ بحث نبوت مسیح موعود پر ہو اور ضمناً مسئلہ کفرواسلام پر بھی بحث ہوجائے۔‘‘

۲… ’’بحث صرف کفرواسلام میں ہونی چاہئے تاکہ اصل جڑ جو سارے اختلاف کی ہے وہ صفائی سے باہر نکل آئے۔‘‘

گویا مولوی عمرالدین صاحب کے نزدیک اب جماعت احمدیہ اور لاہوری فریق میں صرف مسئلہ کفر واسلام پر بحث ہونی چاہئے۔ کیوں کہ دراصل یہی مسئلہ اہم اور مقدم ہے۔ اس سے آگے چل کر مولوی صاحب لکھتے ہیں: ’’دیکھو ہم میں اور تم میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت پر اتفاق ہے۔ کیوں کہ باوجود غلو کے آخر تم بھی مانتے ہو کہ حضرت مسیح موعود ظلی، بروزی یا مجازی نبی ہیں اور یہ ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت اقدس مجازاً نبی ہیں۔ ظلی نبی ہیں، بروزی نبی ہیں، امتی نبی ہیں۔ گو وہ حقیقی نبی نہیں ہیں۔ پس نبوت مسیح موعود پر بحث کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

جب انسان ٹھوکر کھاتا ہے تو کہاں سے کہاں جا گرتا ہے۔ مولوی عمرالدین صاحب مسئلہ نبوت پر فیصلہ کن بحث سے مولوی محمد علی صاحب کو بچانے کے لئے کتنے رکیک استدلال کررہے ہیں۔ مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ’’ہم میں اور تم میں مسیح موعود کی نبوت پر اتفاق ہے۔‘‘ بالکل غلط ہے اور اسی بنا پر مسئلہ نبوت پر بحث کی عدم ضرورت ثابت کرنا بناء الفاسد علی الفاسد ہے۔ مولوی عمرالدین صاحب شخصی طور پر جماعت احمدیہ اور اہل پیغام کے درمیان برزخی حالت میں ہیں۔ ورنہ مولوی محمد علی صاحب کا یہ نظریہ نہیں۔ مولوی محمد علی صاحب نے تو لکھا ہے: ’’میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آئو سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کرلو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہوجائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے

517

اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حد تک ہم میں اتفاق بھی ہے اور اس اتفاق کے ساتھ کچھ اختلاف بھی ہے۔ جس قدر مسائل اختلافی ہم ہر دو فریق میں ہیں وہ اسی اختلاف مسئلہ نبوت سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘

(ٹریکٹ ’’نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق‘‘ ص۱)

پس مولوی عمرالدین صاحب کی بنیاد بھی غلط اور اس سے استدلال بھی باطل ہے۔‘‘(الفضل قادیان ج۲۶، نمبر۵۲، ص۶، کالم نمبر۱ تا۳ مورخہ۴؍مارچ ۱۹۳۸ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب اور فیصلہ کن مناظرہ

(الفضل قادیان)

’’بعض دوستوں کا خیال ہے کہ فیصلہ کن مناظرہ کے سلسلہ میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے… حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کے صریح فرار کے متعلق پوری وضاحت ہوچکی ہے۔ اس لئے اس معاملہ کو بالکل ترک کردیا جائے۔ میں احباب کی رائے کے پہلے حصہ سے بکلّی اتفاق کرتا ہوں۔ لیکن افسوس ہے کہ جب تک مولوی محمد علی صاحب اپنی مندرجہ ذیل تحریر پر خط تنسیخ نہیں کھینچ دیتے۔ اس معاملہ کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں:

’’میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آئو سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہوجائے۔ دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔‘‘

پس ہم دوسرے معاملات کو ملتوی کرسکتے ہیں مگر نبوت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ کرنا ہمارا اور مولوی صاحب کا اوّلین فرض ہے۔

’’پیغام صلح‘‘ ۲۶؍جنوری ۱۹۳۸ء میں مولوی عمرالدین صاحب نے لکھا تھا کہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر انہوں نے جناب مولوی محمد علی صاحب سے میرے مضامین کے جواب کے لئے درخواست کی تو جناب نے عجیب انداز سے بے نیازی کا اظہار کرتے ہوئے مولوی عمرالدین صاحب سے کہا ’’آپ ان مضامین کا جواب لکھیں‘‘ گویا آج تک تو جناب مولوی صاحب کے خطبات ایڈیٹر صاحب ’’پیغام صلح‘‘ کے شرر بار مقالات یوں ہی تھے۔

518

اب مولوی عمرالدین صاحب جواب لکھیں گے۔ بہت اچھا ہمیں معقول جواب چاہئے۔ مولوی عمرالدین صاحب لکھیں یا کوئی اور۔ جناب مولوی محمد علی صاحب کے واضح الفاظ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مناظرہ کے لئے تحدی کے بارے میں درج ہوچکے ہیں اور ہم ان کی بنا پر اسی موضوع پر فیصلہ کن مناظرہ کے لئے بلا رہے ہیں۔ مولوی عمرالدین صاحب اس پر نہایت سادگی سے فرماتے ہیں:

’’قادیانیوں کو صرف نبوت پر بحث کے لئے غالباً اس لئے ضد ہے کہ اس میں متشابہ عبارتوں سے وہ دھوکہ وہی دے سکتے ہیں جن سے وہ خود بھی فریب خوردہ ہی ہیں۔‘‘

نہیں صاحب! ہمیں اس لئے ضد نہیں کہ ہم کسی کو متشابہ عبارتوں سے دھوکہ دیں آپ جانیں اور آپ کا کام۔ ہم تو معقولیت کی وجہ سے اس پر مصر ہیں۔ ہاں مولوی محمد علی صاحب کی قسمیہ دعوت کی بنا پر مصر ہیں اور اس اصرار کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ سوائے اس کے کہ جناب مولوی محمد علی صاحب فرماویں کہ میں اس تحریر کو غلط سمجھتا ہوں اور میں اس دعوت کو واپس لیتا ہوں۔ جب تک اصل داعی اور اس کے الفاظ موجود ہیں۔ اس کا اقرار موجود ہے۔ ایسے چست گواہوں کے ہمیں ’’دھوکہ‘‘ وغیرہ کے شریفانہ الفاظ سے خطاب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یقین فرمائیے کہ ان گالیوں کے باعث ہم اپنے معقول مسلک سے ایک انچ بھی ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ اگر یہ درست ہے کہ مولوی عمرالدین صاحب کو مولوی محمد علی صاحب نے جواب کے لئے مقرر فرمایا ہے تو فیصلہ کی امید کی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ مولوی عمرالدین صاحب کی حسب ذیل دو تحریریں میرے پاس موجود ہیں:

پہلی تحریر: ’’میرا یقین ہے کہ اگر جناب میاں صاحب نے حسب تجویز مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور مناظرہ مسئلہ کفرواسلام پر منظور نہ کیا اور صرف نبوت پر ہی بحث کے لئے تیار ہوئے تو مولانا محمد علی صاحب اس حال میں مسئلہ نبوت پر ہی بحث کے لئے تیار ہوجائیں گے۔‘‘

(۱۰؍جنوری ۱۹۳۷ء)

دوسری تحریر: ’’آپ (خاکسار) کفر واسلام پر بحث سے انکار نہیں کرتے بلکہ ضمناً اس بحث کی پوری گنجائش دیتے ہیں۔ پس اب معاملہ صرف اس قدر رہ گیا کہ ہم مستقل مبحث مسئلہ کفر واسلام کو قرار دیتے ہیں۔ آپ اسے ضمنی بحث رکھتے ہیں۔ فرق تو کچھ نہیں رہا۔

519

اگر میں خود مناظر ہوتا تو کہہ دیتا کہ چلئے یوں ہی سہی۔ مگر مولوی محمد علی صاحب بہت محتاط انسان ہیں۔‘‘

(۲۵؍دسمبر ۱۹۳۷ء)

جنوری ۱۹۳۷ء میں مولوی عمرالدین صاحب نے ایک ’’یقین‘‘ کا اظہار کیا۔ شاید انہیں جناب مولوی محمد علی صاحب کے متعلق حسن ظن ہوگا۔ لیکن آخر دسمبر ۱۹۳۷ء میں سال بھر کے ہمارے مضامین کے بعد فیصلہ کیا کہ جماعت احمدیہ قادیان کسی موضوع پر مناظرہ سے گریز نہیں کرتی۔ بلکہ ہر موضوع پر بحث کی پوری گنجائش دیتی ہے اور درحقیقت مولوی محمد علی صاحب مطالبہ کفر واسلام کو بھی پورا کردیا گیا ہے۔ کوئی فرق نہیں رہا۔ اب جو مناظرہ نہیں ہورہا تو اس کا باعث صرف اور صرف یہ ہے کہ ’’مولانا محمد علی صاحب بہت محتاط انسان‘‘ واقع ہوئے ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسے ’’محتاط انسان‘‘ کو چیلنج مناظرہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟ غرض مولوی محمد علی صاحب اپنی تحریر کی رو سے بھی مجبور ہیں کہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے موضوع پر فیصلہ کن مناظرہ کریں اور اپنے وکیل عمرالدین صاحب (اگر سچ مچ مولوی صاحب نے ان کو وکیل بنایا ہے) کی تحریر کی طرف سے بھی مجبور ہیں کہ ہماری پیش کردہ معقول ترتیب کو قبول کرکے مناظرہ کریں۔ اگر اب بھی جناب مولوی صاحب کا ’’محتاط انسان‘‘ ہونا آڑے آئے تو کیا مولوی عمرالدین صاحب بتائیں گے کہ ہم ان کے طرز عمل کا نام کیا رکھیں؟‘‘ خاکسار ابوالعطاء جالندھری!

(الفضل قادیان ۳؍جون ۱۹۳۸ء)

  1. امیر جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے

    پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری !

520

بطش قدیر

برقادیانی تفسیر کبیر

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

521

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علی النبی وآلہ واصحابہ اجمعین!

پہلے مجھے دیکھئے

قرآن مجید جب سے نازل ہوا ہے اس کی تفسیریں مختلف رنگوں میں لکھی گئیں۔ مگر آج کل ہندوستان میں تفسیر نویسی کا شغل اتنی ترقی کرگیا ہے کہ ہر کہ ومہ ادھر ادھر کے تراجم جمع کرکے تفسیر قرآن لکھنا شروع کردیتا ہے جس میں وہ قرآن شریف کی تفسیر نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کو اپنے خیالات کے ماتحت کرتا ہے۔ ایسی تفاسیر اور تراجم کی اصلاح کے لئے ہم نے حسب طاقت ایک کتاب لکھنی شروع کی ہے جس کا نام تفسیر بالرائے رکھا ہے۔ اس کی ایک جلد شائع ہوچکی ہے۔ جس میں خادم نے آج کل کی جدید تفاسیر اور تراجم میں سے غلط تفسیر یا ترجمہ کی مثالیں دکھا کر اصلاح پیش کی ہے۔ جس کی دوسری جلد بھی ان شاء اللہ عنقریب شائع ہوگی۔ (افسوس کہ شائع نہ ہوسکی)

اسی اثناء میں قادیان کے خلیفہ مرزا محمود احمد کی طرف سے چند سورتوں (سورہ یونس سے کہف تک) کی تفسیر کی ایک جلد شائع کی گئی ہے۔ جس کا محل ذکر ’’تفسیر بالرائے‘‘ کی جلد ثانی میں ہوگا۔ مگر اس تفسیر میں ایسی اغلاط ہیں کہ ان کو دیکھ کر میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ تفسیر بالرائے کی جلد ثانی طبع ہونے سے پہلے ہی میں اس دار فانی کو چھوڑ گیا تو خدا کے ہاں مجھ سے سوال ہوگا کہ یہ ضروری کام تم نے کیوں نہ کیا؟ کیوں کہ اس تفسیر میں اغلوطات اور تحریفات اس حد تک بھری ہیں۔ جن کو ملحوظ رکھ کر بے ساختہ یہ شعر زبان پر آجاتا ہے:

  1. قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

    پر تیرے عہد سے پہلے تو یہ دستور نہ تھا

یہ تفسیر یوں تو ظاہر میں خلیفہ قادیان کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ مگر ہمیں پختہ خبر ملی ہے کہ اس میں قادیانی علماء بالخصوص اسماعیل متوفی قادیانی کا ہاتھ زیادہ رہا ہے۔ کیوں کہ خلیفہ قادیان کا اپنا اعتراف ہے کہ ’’قرآن عربی میں ہے اور میں عربی نہیں جانتا۔‘‘

(الفضل ج۱۸ نمبر۸۹، ص۵، کالم نمبر۲، مورخہ۱ ۳؍جنوری ۱۹۳۱ء)

یہ بھی آپ کو اعتراف ہے کہ ’’قرآن کی تفسیر اور ترجمہ کرنے میں عربیت کی ضرورت ہے۔‘‘

(مقولہ محمود درالفضل ج۲۵، نمبر۱۹۸، ص۲، کالم نمبر۱، مورخہ ۲۶؍اگست ۱۹۳۷ء)

522

قادیانی تفسیر کو دیکھ کر مؤلف اور اس کے اعوان وانصار کی نسبت صحیح رائے قائم ہوسکتی ہے۔ اس لئے میرے دل میں ڈالا گیا کہ تفسیر بالرائے کی جلد ثانی کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ بطور نمونہ چند اغلاط کا ایک رسالہ لکھا جائے۔ اس لئے میں نے متوکلاً علی اللہ قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ رسالہ ہذا میں بطور نمونہ دس آیات کی غلطیاں درج ہوئی ہیں… باقی حسب ضرورت تفسیر بالرائے جلد ثانی میں ہوں گی۔ ان شاء اللہ !

خلیفہ قادیان نے اس تفسیر کا نام امام رازیؒ کی تفسیر کبیر کے نام پر ’’تفسیر کبیر‘‘ رکھا ہے۔ جو مثل مشہور ’’شیرقالین دگراست شیرنیستاں دگر‘‘ کا مصداق ہے۔ اس لئے میرے دل میں ڈالا گیا کہ میں اپنے تعاقبات کا نام ’’بطش قدیر برقادیانی تفسیر کبیر‘‘ رکھوں۔ چنانچہ اسی نام سے یہ رسالہ موسوم کیا جاتا ہے۔

اطلاع: ۱۹۳۱ء میں خلیفہ قادیان کی طرف سے علماء اسلام کو مخاطب کرکے تفسیر نویسی کا چیلنج دیا گیا۔ میں نے اس چیلنج کو قبول کرکے ۱۳؍فروری ۱۹۳۱ء کے ’’اہل حدیث‘‘ میں ایک بسیط مضمون لکھا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ’’مرزا قادیانی متوفی کی شروط پر تفسیر لکھی جائے۔ یعنی معریٰ قرآن مجید کے سوا کوئی کتاب ساتھ نہ ہو اور تفسیر عربی زبان میں ہو۔‘‘

اس کے جواب میں خلیفہ قادیان نے جو کہا اس کا ملخص یہ ہے کہ: ’’میں ان کے مقابلہ میں کم سے کم دوگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لکھے ہیں۔‘‘

(الفضل ج۱۸ نمبر۸۹ ص۴، کالم نمبر۲، مؤرخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۳۱ء)

اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ: ’’میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں مولوی ثناء اللہ سے زیادہ عربی جانتا ہوں۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ احمدیہ جماعت معارف قرآنیہ جاننے میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے فیض سے سب دوسرے لوگ سے بڑھی ہوئی ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۸، نمبر۱۱۰، ص۵، کالم نمبر۳، مورخہ۲۴؍مارچ ۱۹۳۱ء)

اس کا مطلب یہی تھا میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھوں گا بلکہ مرزا قادیانی کی تفسیر نقل کر دوں گا۔ جب گفتگو یہاں تک پہنچ گئی تو ہم سمجھ گئے کہ خلیفہ قادیان اپنے علم کے اعتماد پر چیلنج نہیں کرتے۔ بلکہ صرف اپنے باپ کی تحریرات پیش کرنے کا ذمہ لیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے یہ کہہ کر معاملہ ختم کردیا:

  1. ہنر بنما اگر داری نہ جوہر

    گل از خار است ابراہیم از آذر

523

(نوٹ) اس گفتگو کے متعلق ساری تحریرات ایک رسالے کی صورت میں شائع ہوچکی ہیں۔ جس کا نام ہے ’’خلیفہ قادیان کی طرف سے تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار‘‘ یہ رسالہ دفتر ہذا سے مل سکتا ہے۔۱۹۳۱ء میں خلیفہ قادیان نے جو کچھ کہا تھا ناظرین نے ملاحظہ فرمالیا۔ مگر آج کل آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ: ’’میں قرآنی علوم کا ایسا ماہر ہوں کہ ہر مخالف کو ساکت کرسکتا ہوں۔‘‘

(تفسیر کبیر ص۵۱۶)

پس ان کے اس دعوے کی تنقید کے لئے یہ رسالہ لکھا گیا ہے۔ خدا قبول کرے۔

قادیانی ممبرو! ’’اور‘‘ علماء اسلام تو آپ لوگوں کو قریباً چھوڑ بیٹھے ہیں مگر میرا تعلق تمہارے ساتھ خاص ہے۔ جو مرزا قادیانی کے اعلان آخری فیصلہ مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء سے چلا آرہا ہے۔ اس لئے تمہارے حق میں میرا یہ کہنا بالکل صحیح ہے:

  1. مجھ سے مشتاق جہاں میں کوئی پائو گے نہیں

    گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر

اخیر میں خداتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اس ناچیز خدمت کو قبول فرمائے۔

اللہم احسن عاقبتنا فی الامور کلہا وتقبّل منّا انّک انت السمیع العلیم!

خادم دین اللہ

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری

شعبان ۱۳۶۰ھ مطابق ستمبر۱۹۴۱ء

اصل مقصود

خلیفۂ قادیان نے اپنی تفسیر کبیر کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ:

۱… ’’اس تفسیر کا بہت سا مضمون اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔‘‘

(ص۱)

۲… ’’ترتیب کا مضمون ان مضامین میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص طور سے سمجھائے ہیں۔‘‘

(ص۱،۲)

جواب: پس ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس تفسیرپر دو طرح سے نظر کریں۔ ایک تو تفسیر کو تفسیر کی حیثیت سے دیکھیں۔ دوسرے بحیثیت الہام کے پرکھیں۔ جس کی طرف خلیفہ قادیان نے اشارہ کیا ہے۔ جیسے ہم ان کے والد ماجد کے کلام کو دیکھا کرتے ہیں۔

’’ان ربکم اللہ الذی خلق … ثم استویٰ علی العرش (سورہ یونس:۳)‘‘

524

عرش اور استویٰ علی العرش کے متعلق کتابوں میں متقدمین مفسرین کے دو مسلک ملتے ہیں۔ ایک تفویض الی اللہ ۔ جو جمہور محدثین کا مسلک ہے یعنی اس کا صحیح علم خدا کو ہے، دوسرا مسلک متکلمین کا ہے ۔ جو عرش اور کرسی کے مراد حکومت الٰہیہ بتاتے ہیں اور استویٰ علی العرش کے معنی تنفیذ احکام کے کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہٗ نے اپنے فارسی ترجمہ قرآن میں وسع کرسیہ السمٰوات والارضکا ترجمہ یوں کیا ہے ’’فراگرفتہ است پادشاہی او آسمانہا وزمیں را‘‘یعنی اس کی بادشاہی آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ’’میں حکم عدل ہوں۔ اس لئے میں دینی امور کے متعلق جو کچھ کہوں وہی صحیح ہوگا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۹ خزائن ج۱۹ ص۱۳۸، ۱۳۹ ملخص)

اس لئے آپ نے عرش کے معنی میں خوب جدت سے کام لیا ہے۔ خلیفہ قادیان نے اپنی تفسیر میں انہی کا اتباع کیا ہے۔ چنانچہ ان کا قول ہے کہ: ’’میرا کمال یہی ہے کہ میں اپنے باپ (مرزا قادیانی) کی بتائی ہوئی تفسیر پیش کروں۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۸۹ ص۴، کالم نمبر۳ مورخہ ۳۱؍جنوری۱۹۳۱ء)

عرش کے متعلق مرزا قادیانی کے اصل الفاظ پیش کرنے سے پہلے ہم اپنے الفاظ میں تفصیل بتاتے ہیں تاکہ مضمون ناظرین کے ذہن نشین ہوجائے۔ آپ نے خدائی صفات کو دوقسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک قسم صفات تشبیہ۔ دوسری قسم صفات تنزیہہ ۔ تشبیہ سے مراد وہ صفات بتائی ہیں جن کا تعلق عام مخلوقات سے ہے۔ اس کی مثال میں انہوں نے رب، رحمان، رحیم اور مالک یوم الدین۔ چار صفات کو پیش کیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسری صفات کا نام تنزیہہ رکھ کر بتایا ہے کہ عرش سے مراد یہی صفات ہیں۔ اب ناظرین مرزا قادیانی کے اصل الفاظ سنیں۔ آپ استویٰ علی العرش کے معنی بتاتے ہیں:

’’اس (قرآن) نے خداتعالیٰ کے ایسے طور سے صفات بیان کئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ شرک کی الآئش سے بکلی پاک رہتی ہے۔ کیوں کہ اول اس نے خداتعالیٰ کے وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوںکر وہ انسان سے قریبہے اور کیوںکر اس کے اخلاق سے انسان حصہ لیتا ہے۔ ان صفات کا نام تو تشبیہی صفات ہیں پھر چوں کہ تشبیہی صفات سے یہ اندیشہ ہے کہ خداتعالیٰ کو محدود خیال نہ کیا جائے یا مخلوق چیزوں سے مشابہ خیال نہ کیا جائے۔ اس لئے ان اوہام کے دور کرنے کے لئے خداتعالیٰ نے اپنی

525

ایک دوسری صفت بیان کردی۔ یعنی عرش پر قرار پکڑنے کی صفت۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا سب مصنوعات سے برتر واعلیٰ مقام پر ہے۔ کوئی چیز اس کی شبیہ اور شریک نہیں اور اس طرح پر خدا کی توحید کامل طور پر ثابت ہوگئی۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۱۳ خزائن ج۲۳ ص۱۲۱، ۱۲۲)

منقد: یہ تو بڑے میاں کا کلام… اب ان کے صاحبزادے کا ارشاد سنئے! جو ہمارے مخاطب اور قادیانی تفسیر کے مؤلف ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:’’مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے چشمۂ معرفت میں عرش کی حقیقت پر ایک لطیف بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ عرش درحقیقت صفات تنزیہہ کا نام ہے جو ازلی اور غیرمبدل ہیں ان کا ظہور صفات تشبیہہ کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور وہ حامل عرش کہلاتی ہیں۔ جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے ’’ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمانیہ‘‘قیامت کے دن تیرے رب کا عرش آٹھ (امور) اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔ یعنی آٹھ صفات کے ذریعہ سے ان کا ظہور ہورہا ہوگا۔ جیسا کہ اس وقت چار صفات سے ہوتا ہے۔ یعنی رب العالمین، رحمن، رحیم اور مالک یوم الدین کے ذریعہ سے۔ چوںکہ صفات الٰہیہ کا ظہور فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں ہم کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ جس طرح بادشاہ اپنی جلالت شان کا اظہار عرش پر بیٹھ کر کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی اصل عظمت ذوالعرش ہونے میں ہے۔ یعنی صفات تنزیہہ کے ذریعہ سے۔ جن میں کوئی مخلوق اس سے ایک ذرہ بھر بھی مشابہت نہیں رکھتی۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص۲۳)

آگے چل کر آپ (ص۲۴) پر لکھتے ہیں: ’’پس صفات تشبیہہ صفات تنزیہیہ کی حامل ہیں اور ان کی حقیقت سے انسان کو آگاہ کرتی ہیں۔ مثلاً خداتعالیٰ کے سب خوبیوں کے جامع ہونے کا علم ہمیں صرف ان صفات کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ جیسے ان کا رب ہونا، رحمان ہونا، رحیم ہونا، مالک یوم الدین ہونا، یہ سب صفات تشبیہہ ہیں کہ انسانی اخلاق بھی ان کے ہم شکل پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ صفات مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔اس لئے ان کے جلوے عارضی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ صفات نہ ہوتیں تو اللہ تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے کا کسی قسم کا ادراک بھی خواہ کتنا ہی ادنیٰ ہو ہمیں حاصل نہ ہوسکتا۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص۲۴)

منقد: باپ بیٹا دونوں اس امر پر متفق پائے جاتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی وہ صفات جن کا نام وہ تشبیہہ رکھتے ہیں ان کی شناخت کے لئے دو نشان ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں، دوسرا یہ کہ وہ صفات تنزیہیہ کے لئے ذریعہ علم کا کام دیتی ہیں، ہمارے خیال میں مرزا قادیانی

526

نے یہ اصطلاح صوفیاء کرام کے الفاظ لاہوت ناسوت سے اخذ کی ہے، صوفیاء کرام کا مطلب یہ ہے کہ مقام وراء لوراء زبان اور قلم سے بیان نہیں ہوسکتا۔ مرزا قادیانی نے اخذ تو کیا مگر ایسا کرنے میں آپ پھسل گئے۔ اب ناظرین باپ بیٹے دونوں کے کلام پر ہماری معروضات سنیں:

۱… خدا کی صفات میں سے مخلوق کے ساتھ سب سے زیادہ تعلق خالق، باری اور مصور وغیرہ کو ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے ان تینوں صفات کو یکجا بیان کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’ہو اللہ الخالق الباری المصور (الحشر:۲۴)‘‘قرآن مجید نے جہاں جہاں دہریوں اور مشرکوں کو توحید کا سبق دیا ہے انہی صفات خالقیت وغیرہ کو پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہوں مندرجہ ذیل آیات:

(الف): ’’یاایہاالناس اذکروا نعمت اللہ علیکم ہل من خالق غیر اللہ یرزقکم من السماء والارض لا الٰہ الّا ہو فانّی تؤفکون (فاطر:۳)‘‘اے لوگو! تم پر خداتعالیٰ کی جو نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو کیا خدا کے سوا کوئی اور پیدا کرنے والا بھی ہے جو تم کو اوپر سے اور نیچے سے روزی دیتا ہو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر تم کدھر بہکے چلے جاتے ہو۔

(ب): ’’افمن یخلق کمن لا یخلق افلا تذکرون (النحل:۱۷)‘‘کیا جو پیدا کرتا ہے وہ اس کی مانند ہوسکتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتا پھر کیا تم نصیحت نہیں پاتے۔

(ج): ’’ام جعلوا ﷲ شرکاء خلقوا کخلقہ فتشابہ الخلق علیہم قل اللہ خالق کل شیٔ وہو الواحد القہار (الرعد:۱۶)‘‘کیا مشرکوں نے خدا کے لئے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے خدا کی سی مخلوق پیدا کی ہے کہ ان پر مخلوق کی شناخت مشتبہ ہوگئی ہو۔ تم کہہ دو کہ اللہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا اور زبردست ہے۔

(د): ’’ہوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الٰہ الّا ہوالعزیز الحکیم (آل عمران:۶)‘‘خدا وہی ہے جو رحم مادر میںجیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بنا دیتا ہے۔ اس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی معبود نہیں۔

ان آیات کا سیاق وسباق بتا رہا ہے کہ صفت خالقیت وغیرہ کو خدا کی معرفت کرانے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ اتنی بڑی اہم صفت کو مذکورہ بالا صفات میں جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں داخل نہ کرنا گویا اصل کو چھوڑ کر فرع پر توجہ کرنے کا مصداق ہے۔ جس کی شکایت مولانا جامی مرحوم نے صوفیانہ رنگ میں یوں کی ہے:

527
  1. رفتم بتماشائے گل آں شمع طراز

    چوں دید میان گلشنم گفت بناز

  2. من اصل وگلہائے چمن فرع من اند

    از اصل چرا بفرع مے مانی باز

ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم نے غالباً انہی آیات پر نظر کرکے بہت خوب کہا ہے:

  1. اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں

    تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

۲… مالک یوم الدین۔ بے شک خدا کی صفت ہے مگر ابھی مخلوق سے اس کے تعلق کا ظہور نہیں ہوا۔ پھر اس کا ذکر مخلوق سے متعلق صفات تشبیہہ میں کیوں کیا گیا؟ اگر کہا جائے کہ گو ابھی تک تعلق ظاہر نہیں ہوا۔ مگر آخر کسی روز ہو ہی جائے گا تو ہم کہیں گے کہ اس روز تو غفّار، ستار، ذوالانتقام اور شدید العقاب وغیرہ صفات کا تعلق بھی پوری طاقت سے ظاہر ہوگا جو کسی حد تک آج کل بھی ظاہر ہے۔ پھر ان کو بھی صفات تشبیہیہ سے کیوں خارج کیا گیا۔

۳… بقول باپ بیٹا قیامت کے دن خدا کی صفات تشبیہیہ ثمانیہ (آٹھ) کی تعداد میں خدا کے عرش یعنی صفات تنزیہیہ کو اٹھائیں گی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا چار صفات کے علاوہ باقی چار صفات کون سی ہوں گی؟ باپ بیٹا دونوں صاحبوں نے صفات تشبیہیہ کے حاملات عرش ہونے سے مراد ان کا ذریعہ علم ہونا بتایا ہے۔ قیامت کے روز یہ صفات ذریعہ علم کیوں کر ہوں گی۔ وہاں تو سب علوم بدیہی ہوں گے۔ آیات مندرجہ ذیل ملاحظہ ہوں:

۱… ’’واشرقت الارض بنور ربہا (الزمر:۶۹)‘‘ (زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوجائے گی)

۲… ’’فکشفنا عنک غطاء ک فبصرک الیوم حدید (ق:۲۶)‘‘ (اب ہم نے تیرا پردہ ہٹادیا ہے پس آج تیری نظر بہت تیز ہے)

۳… ’’وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرہ (القیامۃ:۲۲، ۲۳)‘‘(کچھ چہرے اس روز چمکتے ہوں گے جو اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے)

۴… مؤلف تفسیر کا یہ کہنا بھی تشریح طلب ہے کہ صفات تشبیہیہ صفات تنزیہیہ کی حامل ہیں اور ان کی حقیقت سے انسان کو آگاہ کرتی ہیں۔ یہ صفات کس طرح مقام تنزیہیہ سے اگاہی بخشتی ہیں؟ اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔

۵… صفت تنزیہیہ یا تنزہ کی مثال مرزا قادیانی کے کلام میں صفت ممیت ومفنی ملتی ہے۔ یعنی موجودہ چیزوں کو فنا کر دینے والی صفت۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں:

528

’’خدا بعض اوقات اپنی خالقیت کے اسم تقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے۔ پھر دوسری مرتبہ اپنی تنزہ اور وحدت ذاتی کے تقاضا سے ان سب کا نقش ہستی مٹا دیتا ہے۔ غرض عرش پر قرار پکڑنا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۱۱ خزائن ج۲۳ ص۱۱۹)

مرزا قادیانی کی اس تصریح پر ہمیں ایک بڑا خدشہ پیدا ہوا ہے جس کا رفع کرنا مؤلف تفسیر اور ان کے اتباع کا فرض اولین ہے۔ وہ خدشہ یہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی خدا کی صفت اماتت وافنا تنزہ کا مرتبہ ہے۔ حالاں کہ یہ صفت مخلوقات سے تعلق رکھنے کی وجہ سے صفات تشبیہیہ میں داخل ہونی چاہئے۔ پھر اس صفت کو اگرمقام تنزہ کہا جائے تو مرزا قادیانی کے اس قول کے کیا معنی ہوں گے کہ خدا نے ایسی وراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کے تنزہ اور تقدس کے مناسب حال تھی۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ ممیت اور مفنی کی صفت کا ظہور تو ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ وراء الوراء، مقام ناقابل فہم جگہ کا نام ہے۔ جس کی طرف مولانا روم نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:

  1. اے بیروں از وہم قال وقیل من

    خاک بر فرق من وتمثیل من

پھر صفات تشبیہیہ حصول علم کا ذریعہ کس طرح ہوسکتی ہیں۔

۶… باپ بیٹے کی تصریحات کے مطابق صفات تشبیہیہ حامل ہیں اور صفات تنزیہیہ یعنی عرش محمول اور قیامت کے روز حاملین عرش کی تعداد آٹھ ہوگی۔ یہ آٹھ صفات مرتبہ تنزہ کو اٹھائیں گی۔ جس کو مرزا قادیانی نے ممیت ومفنی کی صفت سے تعبیر کیا ہے۔ حالاں کہ قیامت کے روز اماتت اور افنا نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ’’لایقضیٰ علیہم فیموتوا (فاطر:۳۶)‘‘پھر ان آٹھ صفات کا مجموعہ کون سی صفت تنزیہیہ کو اٹھائے گا؟

۷… مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ غرض عرش پر قرار پکڑنا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے (حوالہ مذکور) اس فقرہ کے کیا معنی ہوئے؟ کیا یہ مطلب ہے کہ خدا نے اماتت کی صفت پر قرار پکڑا۔ جو بقول مرزا قادیانی تنزہ کا مرتبہ ہے۔ پس آیت کی تقدیر عبارت یوں ہوگی ’’ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم نفّذ حکم الموت علی المخلوقات‘‘واقعہ کے لحاظ سے تو یہ ٹھیک ہے کہ خدا نے مخلوقات کو پیدا کرکے ان کی اجلیں مقرر کردیں۔ مگر اس کو مقام تنزہ سے جو وراء الوراء ہے کیا تعلق ہے؟

۸… مؤلف تفسیر نے ’’کان عرشہ علی الماء‘‘کی تفسیر میں لکھا ہے:

529

’’قرآن کریم نے متواتر بتایا ہے کہ حیات کی پیدائش ’’ماء‘‘ سے ہے۔ پس ’’کان عرشہ علی الماء‘‘میں اسی طرف اشارہ ہے کہ خداتعالیٰ کی صفات کاملہ کا ظہور حیات کے ذریعہ سے ہوا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ عرش یعنی صفات کاملہ کا ظہور انسان ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو حیات کی آخری کڑی ہے۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص۱۴۹)

منقد: اس اقتباس میں مؤلف نے عرش سے مراد صفات کاملہ بتا کر ان کا ظہور حیات کے ذریعہ سے بتایا ہے۔ اس پر سوال یہ ہے کہ حیات اثر سے صفت محی کا جس کو قرآن مجید نے ’’یحیی ویمیت‘‘کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ پس آپ کا مافی الضمیر یہ ہوا کہ محیٖ کی صفت سے عرش یعنی مقام تنزہ کا ظہور ہوتا ہے۔ حالاں کہ پہلے آپ صرف صفات تشبیہیہ کو ذریعہ علم بتا آئے ہیں۔ جن سے مراد رب، رحمان، رحیم اور مالک یوم الدین وغیرہ ہیں اور یہاں صفت محیٖ کو عرش (صفات تنزیہیہ) کا ذریعہ ظہور بتاتے ہیں۔’’ہل ہذا الا تہافت قبیح‘‘مختصر یہ ہے کہ بقول باپ صفات تشبیہیہ حال ہیں اور صفات تنزیہیہ بنام عرش محمول ہیں اور روز حشر صفات تشبیہیہ آٹھ تعداد میں صفات تنزیہیہ کو اٹھائیں گی۔ یہ ہے قادیانی علم کلام۔ جس پر اس قدر ناز کیا جاتا ہے:

  1. ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق

    اس نے دیکھے ہی نہیں ناز ونزاکت والے

۲… ’’ان الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات یہدیہم ربہم بایمانہم تجری من تحتہم الانہار فی جنٰت النعیم‘‘ اس آیت کا ترجمہ کیوں کیا ہے: ’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک (اور مناسب حال) عمل کئے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے (کامیابی کے راستہ کی طرف) ہدایت دے گا (اور) آسائش والی جنتوں میں انہی کے (تصرف کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص۳۳)

تفسیر اس کی یوں کرتے ہیں: ’’تحت کا لفظ فوق کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اس کے معنی نیچے ہوتے ہیں اور اسفل کا لفظ بھی نیچے کے معنوں میں آتا ہے۔ مگر ان دونوں میں ایک فرق ہے اسفل اس کو کہتے جو کسی چیز کا نچلا حصہ ہو۔ مگر تحت اسی چیز کے نچلے حصہ کو نہیں کہتے بلکہ اس جہت کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کے نیچے کی ہو۔ ہاں کبھی کبھی اسفل کا لفظ تحت کے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔ نیز یہ لفظ رذیل اور ماتحت لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ’’لاتقوم الساعۃ حتی یظہرالتحوت‘‘

530

یعنی قیامت نہیں آئے گی جب تک غرباء اور مزدور لوگ غالب آکر حکومتوں پر قابض نہ ہوجائیں۔ قرب قیامت کا زمانہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا زمانہ ہے۔ پس اس حدیث میں بالشویک حکومت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مسیح موعود کے کامل ظہور کا زمانہ نہ آئے گاجب تک کہ محنتی لوگ سرمایہ داروں پر اور مزدور لوگ حکومتوں پر غالب نہ ہو جائیں گے یعنی وہ بادشاہ نہ بن جائیں گے اور سرمایہ دار ان کے ماتحت نہ ہوجائیں گے۔ ان معنوں کی رو سے ’’من تحتہم الانہار‘‘کے یہ معنی ہوئے کہ ان کے قبضہ میں نہریں ہوں گی اور وہ ان کی اپنی ملکیت ہوں گی۔ کیوں کہ عمل ان کے اپنے تھے۔ جس طرح اس دنیا میں افسران انہار زمینداروں کو لوٹتے ہیں یا انہیں سرکاری ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں وہاں ایسا نہ ہوگا بلکہ نہریں ان کی اپنی ملکیت ہوں گی۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص۳۴)

منقد: اس اقتباس میں مؤلف نے کئی غلطیاں کی ہیں۔

پہلی غلطی: پہلی غلطی یہ ہے کہ اسفل اور تحت میں جو فرق بتایا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ جیسے تحت کا مفہوم ذواضافت ہے ایسے ہی اسفل بھی ذواضافت ہے۔۱؎

دوسری غلطی: اس عبارت میں ہے کہ ’’اسفل کا لفظ تحت کے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔ نیز یہ لفظ رذیل اور ماتحت لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے ’’لاتقوم الساعۃ حتی یظہر التحوت الخ‘‘نیز یہ لفظ کا اشارہ لفظ اسفل کی طرف ہے۔ یعنی مؤلف تفسیر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اسفل رذیل کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس کی تمثیل میں ایک حدیث کو پیش کرتا ہے۔ جس میں الفاظ ’’یظہر التحوّت‘‘وغیرہ ہیں۔ یہ تمثیل ممثل لہ (اسفل) کے مطابق نہیں ہے۔ اگر اس کے مطابق ہوتی تو ’’حتی یظہرالتسفّل‘‘ہوتا۔ جس کے معنی اسفل یعنی رذیل کے ہوسکتے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ اس لئے اس نقص عبارت کے ذمہ دار مؤلف اور اس کے مشیر ہوں گے۔

تیسری غلطی: یہ لفظ التحوت معلوم نہیں کیا چیز ہے۔ غالباً مؤلف نے تحت کا مصدر

۱؎ ذوا ضافت اس لفظ کو کہتے ہیں جس کے ترجمے میں دو چیزیں مفہوم ہوں۔ مثلاً اب، ابن وغیرہ۔ اب کے معنی ہیں من لہ الابن (جس کا بیٹا یا بیٹی ہو) ابن کے معنی ہیں من لہ الاب (جس کا باپ ہو) اسی طرح تحت جو فوق کے نیچے ہو۔ اسفل جو کسی اعلیٰ کے نیچے ہو۔ قرآن مجید میں ہے’’ ثم رددناہ اسفل سافلین (التین:۵)‘‘ نیز ’’ان المنافقین فی الدرک الاسفل (النساء:۱۴۵)‘‘

531

بروزن تفعّل مثل تفوق تحوّت بنایا ہے۔ اگر یہی مراد ہے تو یہ لفظ غلط ہے۔ کیوں کہ باب تفعل کی ت اصلی نہیں ہے۔ تین حروف ف ع ل اصلی ہوتے ہیں اور یہاں تحوّت میں لفظ وائو جو ’’ع‘‘ کے مقابل ہے اصلی معلوم ہوتی ہے۔ حالاں کہ اصل مادہ اس کا تحت ہے۔ جس میں وائو نہیں ہے اور ’’ت‘‘ اصلی ہے۔ لہٰذا یہ مصدری شکل غلط ہے اور اگر تحوّت بروزن فعول ہے یعنی تحت کی جمعت تحوت بنائی گئی ہے تو اس لفظ کا استعمال دکھانا چاہئے۔

چوتھی غلطی: یہ حدیث کس کتاب میں ہے۔ اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا اور نہ سند بتائی ہے۔ لہٰذا اس کا ثبوت بطور قرضہ مؤلف کے ذمے ہے۔

پانچویں غلطی: پانچویں غلطی یہ ہے کہ اس حدیث اور آیت کو بولشویک تحریک سے متعلق کیا گیا ہے حالاں کہ نہ حدیث میں اس کا اشارہ ہے نہ آیت میں۔

چھٹی غلطی: تحوت تحت کی جمع ہو یا مصدر ہو۔ بہرحال اس کے معنی نچلی حالت کے ہیں۔ ان الفاظ عربیہ کے یہ معنی ہوں گے کہ قیامت نہیں ظاہر ہوگی جب تک کہ دنیا میں عام غربت اور مسکنت نہ پھیل جائے۔ کیوں کہ یظہر کا مصدر ظہور ہے جو بشکل ماضی قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہےظہر الفساد فی البر والبحرمحض ظہور سے غلبہ معلوم نہیں ہوتا۔ ظہور کے معنی غلبے کے اس وقت ہوتے ہیں جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ ہو۔

پس ان معنی سے یہ الفاظ جن کو آپ نے حدیث بتایا ہے۔ آپ کے دعوے کے مخالف ہیں۔ کیوں کہ مطلب ان الفاظ کا یہ ہوگا کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت غربت اور مسکنت ہے نہ کہ غریبوں اور مزدوروں کی حکومت۔

ساتویں غلطی: من تحتہم کے الفاظ سے جنت کو اہل جنت کی ملکیت بتانا بھی غلط ہے، کیونکہ تحت کا لفظ جہاں اس آیت میں اہل جنت کی طرف مضاف ہے۔ وہاں دوسری آیت جس میں تحتہا آیا ہے یہ لفظ جنت کی طرف مضاف ہے اور خود مؤلف نے جو ترجمہ کیا ہے وہ اس دعوے کے خلاف کیا ہے۔ جس کے الفاظ ہیں ’’انہی کے تصرف کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔‘‘

یہ لفظ تصرف اپنا معنی بتانے میں صاف ہے۔ اس کے معنی استعمال کئے ہیں۔ جیسا کہ کرایہ دار مکان میں تصرف کرتا ہے مگر مالک نہیں ہوتا۔

آٹھویں غلطی: قریب قیامت کے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہوکر آنا۔ یہ الگ بحث ہے جس کے متعلق ہماری بہت سی تصنیفات شائع شدہ ہیں۔ جن میں سے یہاں ایک ہی

532

فقرہ کافی ہے کہ: ’’مرزا صاحب نے بحیثیت مدعی مسیحیت موعودہ ۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو اعلان کیا تھا کہ مولوی ثناء اللہ مجھ سے پہلے نہ مرے تو میں جھوٹا‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹)

مؤلف قادیانی تفسیر نے اپنے رسالہ تشحیذ الاذہان (بابت ماہ جون جولائی۱۹۰۴ء) میں اس کی پیش گوئی لکھا ہے بڑے مرزا قادیانی کو انتقال کئے ہوئے آج تینتیس سال ہوگئے اور ان کا مدمقابل آج یہ سطور لکھ رہا ہے۔ سچ ہے:

  1. لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

    کذب میں پکا تھا پہلے مرگیا

ان فی ذالک لعبرۃ لاولی الابصار

۳… اس نمبر میں آیت مرقومہ ذیل پر بحث کی ہے: ’’کذالک نجزی القوم المجرمین(یونس:۱۳)‘‘اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے کہ:

’’یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عذاب کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ قرن پر آئے۔ یعنی ایک پوری امت پر نازل ہو نہ کہ بعض حصۂ قوم پر۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص ۴۱)

اللہ تعالیٰ کا عذاب جب کسی قوم پر نازل ہوتا ہے تو اس کے نام ونشان تک کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

(ایضاً ج۳ ص۲۵۰)

منقد: مؤلف کے یہ فقرات بتا رہے ہیں کہ بڑے مرزا صاحب کا دعویٰ غلط تھا جو طاعون کو اپنے منکروں کے لئے عذاب قرار دیتے دیتے دنیا سے چل بسے۔ کیوں کہ طاعون کل قوم پر نہیں آیا بلکہ اقل قلیل پر آیا۔ جو بقول مؤلف تفسیر ہذا عذاب سے موسوم نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ہم اس بارے میں مؤلف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنے باپ کی کافی تکذیب کردی۔ سچ ہے:

  1. الجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں

    لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

۴… ’’افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاہد منہ ومن قبلہ کتاب موسٰی اماماً ورحمۃ اولٰئک یؤمنون بہ (ہود:۱۷)‘‘

اس آیت کا ترجمہ مؤلف تفسیر نے یوں کیا ہے: ’’پس کیا جو (شخص) اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر (قائم) ہے اور (اس کی صداقت کا) ایک گواہ اس (یعنی خداوندتعالیٰ) کی طرف (آکر) اس کی پیروی کرے گا اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی جو (لوگوں کے لئے) امام اور رحمت تھی (ایک جھوٹے مدعی جیسا ہوسکتا ہے؟) وہ (یعنی موسیٰ کے سچے پیرو) اس پر (بھی ضرور) ایمان لاتے ہیں۔‘‘

(ایضاً ج۳ ص۱۶۴)

533

منقد: اس آیت میں جو شاہد کا لفظ ہے مؤلف نے اس پر برائے پدر خود قبضہ کیا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں کہ: ’’جاننا چاہئے کہ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود مرزا قادیانی کا ہی ذکر ہے جن کا نزول خداتعالیٰ کی طرف سے اسی رنگ میں ہونا تھا جیسے پہلے بیّنہ کا نزول ہوا تھا اور جن کی آمد کی غرض یہ تھی کہ وہ اسلام کی صداقت کی شہادت تازہ نشانوں سے دیں جب کہ اسلام کی صداقت اور اس کی قوت قدسیہ کے خلاف بہت سے امور جمع ہونے والے تھے۔‘‘

(ایضاً ج۳ ص۱۶۷)

منقد: اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کے معنی کیا ہوئے؟ یہی ہوئے نا کہ…

’’بھلا جو شخص خدا کی ہدایت پر ہو اور اس کے پیچھے مرزا صاحب قادیانی بھی آرہے ہوں اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام ورحمت ہو وہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

یہ تفسیر کئی وجوہ سے غلط ہے:

(اول) اس لئے کہ صحت ترجمہ اور صحت تفسیر کے لئے ہمارا اور آپ کا یہ متفقہ اصول ہے کہ عربی لغت ترجمہ اور مضمون کے لئے سب سے مقدم ہے خداتعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے قرآناً عربیاً اتارا ہے۔ پس بجائے اپنے پاس سے معنی نکالنے کے لئے عربی لغت کو دیکھنا چاہئے۔

(مقولہ خلیفہ قادیان درالفضل ج۲۵نمبر۱۹۸ ص۲، کالم نمبر۱، ۲۶؍اگست ۱۹۳۷ء)

پس اس متفقہ معیار کے ماتحت ہم اس آیت کی ترکیب کرتے ہیں:

من موصولہ مع اپنے صلہ کے مبتدا وائو حرف عطف یتلوا فعل معطوف اوپر کان کے ہ ضمیر منصوب راجع بجانب من (مبتدامنہ) ضمیر مجرور بھی راجع بجانب من کتاب موسیٰ معطوف اوپر شاہد کے اماما ورحمۃ دونوں لفظ منصوب علی الحال۔ اولئک (اسم اشارہ بجانب من) مبتدا ثانی۔ یومنون جملہ فعلیہ خبر مبتدا ثانی کی مبتدا ثانی باخبر خود جملہ اسمیہ ہوکر خبر مبتدا اول (من) کی۔ من مبتدا اول باخبر خود جملہ اسمیہ ہوا۔ شاہد سے مراد اس شخص کا ضمیر صافی یا قلب سلیم ہے۔

اس ترکیب کے ماتحت آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ:

’’جو لوگ خدا کی ہدایت پر ہوں اور ان کا اپنا قلب سلیم بھی ان کی رہنمائی کرنے میں ہدایت الٰہیہ کا مؤید ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی جو اپنے وقت میں امام اور رحمت تھی اس کی بینہ کی تائید کرتی ہو۔ یہی لوگ اپنے رب پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

ہم نے آیت موصوفہ کا جو ترجمہ کیا ہے لغت عرب اور ترکیب نحوی کے عین مطابق

534

ہے۔ خلیفہ قادیان نے جو ترجمہ کیا ہے وہ لغت عرب اور علم نحو کے بالکل خلاف ہے۔ کیوں کہ آپ کے ترجمہ سے یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ یتلوا کا عطف کس پر ہے اور کتاب موسیٰ کا ترجمہ بھی ایسا بے ڈھنگا کیا ہے کہ ترکیب نحوی ہرگز اس کی متحمل نہیں ہے۔ کوئی عالم یا طالب علم ہم کو بتائے کہ یہ جملہ کہ ’’اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی‘‘ کس پر معطوف ہے۔ نیز یہ دوسرا جملہ کہ جو لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی۔‘‘ ترکیب میں کیا واقع ہوا ہے اور ومن قبلہ میں جو عطف کا وائو ہے اس کا معطوف علیہ کیا ہے؟

(دوم) یتلوہ کے لفظ سے اگر صرف مسیح موعود کی آمد مراد ہے تو یہ ایک بے معنی مزیت ہے۔ کیوں کہ یہ فعل اس شخص کا نہیں ہے جو بینہ پر قائم ہے نہ اس کے فعل کا حصہ ہے۔ بلکہ یہ فعل زیادہ سے زیادہ ایک امر واقعہ کا اظہار ہے۔ جیسے آج کوئی کہے کہ بھلا جو شخص نماز روزہ کرتا ہے اور اس کے بعد امام مہدی آئے گاتو وہ اس بدعمل جیسا ہے کون نہیں جانتا کہ امام مہدی کے آنے کا فقرہ نماز روزہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہاں متکلم کی طرف سے اظہار شوق ضرور ہے۔

(سوم) خلیفہ قادیان نے اولئک یؤمنون کا جو ترجمہ کیا ہے وہ بھی غلط بلکہ اغلط ہے جس کے الفاظ یہ ہیں’’وہ یعنی موسیٰ کے سچے پیرو بھی اس پر ضرور ایمان لاتے ہیں‘‘ اس لئے غلط ہے کہ اولئک جو اسم اشارہ ہے اس کا مشارٌالیہ من کان تو مذکور ہے لیکن پیروان موسیٰ یا اتباع موسیٰ مذکورہ نہیں ہے۔ پھر کیوں اس طرف اشارہ سمجھا جائے اور خلیفہ قادیان کے اس مقولہ کو کہ ’’بجائے اپنے پاس سے معنی نکالنے کے عربی لغت مقدم ہے‘‘ کیوں پائوں تلے روندا جائے۔

حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی وغیرہ صحابہ ؓ یقینا علی بینہ تھے۔ مگر کیا یتلوہ شاہد سے بھی ان کو حصہ ملا تھا؟ یا ان کو آپ کے شاہد (مرزا صاحب) کا بھی علم تھا۔ اگر نہیں تھا تو ان کے حق میں یہ جملہ بے کار ٹھہرا۔

مرزا قادیانی کے مریدو! راستی سے کہنا ان بزرگوں کو آپ کے شاہد (مرزا) کا تصور یا خیال بھی تھا؟ اگر نہیں تھا اور یقینا نہیں تھا تو وہ لوگ یؤمنون کی تعریف سے خالی بلکہ علی بینہ پر ہونے سے بھی بے بہرہ رہے ہوں گے۔ بتائو صحابہ کرامؓ کی یہ توہین نہیں تو کیا ہے؟

ناظرین کرام! قرآن مجید میں کس قدر بے جا تصرف اور ظالمانہ تحریف ہے جو قادیانی خلیفہ اور ان کے مشیر کلام الٰہی میں روا رکھتے ہیں؟

535

۵… ’’ولو شاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک ولذالک خلقہم (ہود:۱۱۸، ۱۱۹)‘‘

اس آیت میں قابل غور بات یہ ہے کہ حرف استثناء الّا کے بعد جو مستثنیٰ ہے بقاعدہ علم نحو وہ مستثنیٰ منہ میں سے بوصف خاص ممتاز ہونا چاہئے۔ اس نحوی قاعدے کو یاد رکھ کر خلیفہ قادیان کا ترجمہ سنئے۔ لکھتے ہیں کہ: ’’اور اگر تیرا رب اپنی (ہی) مشیت نافذ کرتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت بناتا اور (کیوں کہ اس نے ایسا نہیں کیا) وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا اور اس (رحم کا مورد بنانے کا) لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے؟‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص۲۷۰)

منقد: اس ترجمے میں جو سوائے کا لفظ ہے وہ استثناء کا مفہوم ہے۔ اس کے اگلے الفاظ (وہ جن پر تیرے رب نے رحم کیا ہے) مستثنیٰ کا مصداق ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے مگر ترجمہ میں اس سے اگلے الفاظ (اور اس رحم کا مورد بنانے کے لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے) اپنی تشریح کے ساتھ جو خلیفہ قادیان نے خود کی ہے محل نظر ہیں۔ پس ناظرین وہ تشریح سنیں، آپ لکھتے ہیں: ’’ولذالک خلقہم‘‘سے مراد یہی ہے کہ انسان کو رحم کے لئے پیدا کیا ہے نہ یہ کہ اختلاف کے لئے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’وما خلقت الجن والانس الّا لیعبدون‘‘اور اس طرح فرماتا ہے ’’رحمتی وسعت کل شی‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۳ ص۲۷۰)

منقد: یہ تشریح بتا رہی ہے کہ ولذالک خلقہم عام انسانوں کے لئے ہے اور جب عام ہے تو مستثنیٰ منہ سے اس کا تعلق ہوگا۔ جب اس کا تعلق مستثنیٰ منہ سے ہوا تو پھر استثناء مع مستثنیٰ منہ کے غلط بلکہ مستثنیٰ منہ کی تردید بلکہ بوجہ اجتماع ضدین کے باطل ہوجائے گا۔ کیوں کہ تقدیر کلام یوں ہوگی۔ ’’خلق اللہ الناس للرحمۃالا من رحم ربک‘‘

کیا ہی اچھا استثناء اور کیا ہی اچھا مستثنیٰ منہ ہے جو جاء زید الا زیدٌ سے بھی اقبح صورت ہے اور اجتماع ضدین اس لئے ہوگا کہ من رحم بمنطوقۃ بتا رہا ہے کہ مستثنیٰ محل رحم ہے اور استثناء بتا رہا ہے کہ پہلے مستثنیٰ منہم جو مخلوق للرحمۃ ہیں ان سے خارج ہیں۔یعنی غیر محروم ہیں۔ ’’ہل ہذا الا تہافت قبیح وتناقض صریح‘‘

قادیان کے علماء کے علم کی تعریف تو بہت کی جاتی ہے اور ہم کو پختہ خبر ملی ہے کہ وہ

536

اس تفسیر کی تالیف میں خلیفہ صاحب کے شریک یا مشیر بھی رہے ہیں۔ مگر جہاں کوئی علمی مقام آجاتا ہے معلوم نہیں خلیفہ قادیان خود لغزش میں رہنا چاہتے ہیں یا وہ ان کو لغزش میں چھوڑ جاتے ہیں اس کا فیصلہ وہ خود کریں۔ خلیفہ قادیان تو معذور ہیں۔ کیوں کہ وہ تو علوم عربیہ سے بے بہرہ ہیں۔ (الفضل ۳۱؍جنوری ۱۹۳۱ء) افسوس تو ان کے مشیروں پر ہے جو ان کی رہنمائی غلط کرتے ہیں یا ان کو اپنی غلطی پر قائم رہنے دیتے ہیں تاکہ ان کی قابلیت لوگوں پر واضح ہوجائے۔اس کی تفصیل ہم آئندہ کبھی کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

۶… ’’قال الشیطان لمّا قضی الامر (ابراہیم:۲۳)‘‘

اس آیت کی تفسیر میں خلیفہ قادیان نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ بہت عجیب وغریب ہے۔ بلکہ ایک معنی سے شیطان کی حمایت ہے۔ ناظرین اسے پڑھیں گے تو اس امر میں ہم سے متفق الرائے ہوجائیں گے کہ قادیانیوں کا اصول کلام یہ ہے:

  1. نہ پیرویٔ قیس نہ فرہاد کریں گے

    ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

پس ناظرین خلیفہ قادیانی کا نتیجہ توجہ سے سنیں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’انی کفرت بما اشرکتمون من قبل‘‘ یہ لطیفہ ہے کہ شیطان توحید کا دعوے دار ہے اور کہتا ہے کہ تم مجھے خداتعالیٰ کا شریک بناتے تھے اور میں منکر تھا اور یہ ہے بھی درست۔ وہ شیطان جو انسانی کمزوریوں کو ظاہر کرنے پر مؤکل ہے وہ تو اپنا فرض ادا کررہا ہے اور خداتعالیٰ کا جلال اس کے سامنے ہے۔ وہ شرک کس طرح کر سکتا ہے۔ شرک تو تب پیدا ہوتا ہے جب انسان شیطانی تحریک کو اپنے اندر لے کر اسے نافرمانی کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔ سنکھیا جب تک انسان کے پیٹ میں نہیں جاتا ایک قیمتی دوا ہے۔ جب انسان اس کا غلط استعمال کرتا ہے وہ زہر قاتل بن جاتا ہے۔ یہی مثال شیطان کی ہے انسان کے اندر داخل ہونے سے پہلے وہ ایک امتحان کا سوال ہے اور کچھ بھی نہیں۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ پھر شیطان دوزخ میں کیوں جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان کی نسبت آتا ہے ’’خلقتنی من نار‘‘مجھے تو نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) آگ سے پیدا کیا ہے۔ پس جو چیز آگ سے پیدا ہے آگ میں جانا اس کے لئے عذاب تو نہیں۔ ایک انگارہ کو اگر چولہے میں ڈال دو تو اسے کیا عذاب ہے۔ صوفیاء کا عام طور پر اسی طرف رجحان ہے کہ شیطان کے اظلال تو عذاب پائیں گے لیکن خود شیطان نہیں۔ کیوں کہ وہ تو ایک امتحان لینے والی طاقت ہے اور فرض ادا کررہی ہے۔‘‘

(ایضاً ج۳ ص۴۶۳)

537

منقد: ناظرین کرام! کیا ہی لطیف تفسیر اور عجیب نتیجہ ہے جو دراصل شیطانی حمایت ہے۔ اس بیان میں خلیفہ قادیان نے بہت سی آیات صریحہ کے خلاف کہا ہے۔ آپ کو شیطان کے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی عجیب دلیل سوجھی ہے کہ جو چیز آگ سے پیدا ہو اسے آگ سے عذاب نہیں ہوتا۔ کیوں جناب! جملہ انسانوں کی پیدائش کو خدا نے من تراب مٹی سے بتایا ہے۔ اگر کسی انسان پر مٹی کے مکان کی چھت یا دیوار گر پڑے تو کیا اس کے گرنے سے نیچے دبے ہوئے انسان کو تکلیف نہ ہوگی؟ مزید اطمینان کے لئے کوئٹہ اور بہار کے زلزلہ زدوں سے پوچھ لیجئے۔ علاوہ اس کے ’’انی کفرت بما اشرکتمون من قبل‘‘کے معنی بھی آپ نے نہیں سمجھے۔ اگر آپ علم صرف کی کتاب فصول اکبری میں خواص ابواب پڑھ لیتے تو ایسا نہ کہتے’’اشرکتمون‘‘کے معنی ’’مجھے شریک بنایا‘‘ نہیں ہیں۔ کیوں کہ شیطان کو خدا کا شریک کوئی نہیں بناتا۔ ہندوستان کے بت پرست لوگ بلکہ چین اور جاپان میں بدھ مذہب کے پیرو بھی شیطان کے وجود کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے منکر ہیں۔ حالاں کہ بت پرستی کرتے ہیں۔ پس آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ شیطان کہے گا کہ تم نےمیری وجہ سے جو شرک وکفر کیا تھا، میں اس سے منکر ہوں۔‘‘ ان معنی کی تائید وہ آیت کرتی ہے جس میں شیطان کے جواب میں ارشاد ہے: ’’شارکہم فی الاموال والاولاد (بنی اسرائیل:۶۴)‘‘اے شیطان! تو ان لوگوں سے مال اور اولاد میں شرک کروا۔

یہی معنی ہیں اس ارشاد خداوندی کے:

’’الشیطان سوّل لہم واملٰی لہم (محمد: ۲۵)‘‘شیطان بے ایمان لوگوں کو ان کے کام اچھے کر دکھاتا ہے اور ان کے دلوں میں ڈھیل ڈالتا ہے۔

’’لاملئن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین (الاعراف:۱۸)‘‘میں تجھ (شیطان) اور تیرے تابعداروں سے جہنم کو بھر دوں گا۔

شیطان کے داخلہ جہنم کے لئے اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہونا چاہئے۔ خلیفہ قادیان کو شیطان کی حمایت یہاں تک منظور ہے کہ وہ شیطان کے داخلہ جہنم کی صریح آیت کی تحریف کرنے سے بھی نہیں چوکے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں کہ:’’جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی تو خدا نے فرمایا: ’’لمن تبعک منہم اجمعین‘‘ کہ تو بے شک انسانوں کو ورغلا مگر یہ یاد رکھ کہ میں انسانوں میں سے جو تیرے تابع ہوں گے ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ص۲۷۰)

538

… یہ کی ہے کہ منکم جو جمع مخاطب کا صیغہ ہے اس کا ترجمہ صیغہ جمع … سے کیا ہے۔

قادیان کے اہل علم اور مدرسہ احمدیہ کے طالب علم خدارا انصاف سے بتائیں کہ خلیفہ قادیان کا ترجمہ اگر مقصود خدا ہوتا تو منہم کی بجائے منکم کا صیغہ مخاطب کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟

اللہ اکبر! کس قدر شیطانی حمایت ہے۔ اس موقع پر اگر خلیفہ قادیان کے حق میں کوئی مومن بالقرآن یہ شعر پڑھے تو بے جا نہ ہوگا کہ:

  1. میرے پہلو سے گیا پالا ستمگر سے پڑا

    مل گئی اے دل تجھے کفران نعمت کی سزا

تصرف قدرت: خداتعالیٰ اپنے کلام کی حفاظت خود کرتا ہے۔ اس لئے محرفین کی تحریف انہی کے قلم سے ظاہر کرادیا کرتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیت پڑھئے جو شیطان کے داخلہ جہنم کے متعلق ہے۔ ’’قال اذہب فمن تبعک منہم فان جہنم جزاء کم جزاء موفوراً (بنی اسرائیل:۶۳)‘‘

اس میں بھی دو ضمیریں ’’ہم‘‘ اور ’’کم‘‘ ہیں۔ اس آیت کا ترجمہ خلیفہ صاحب قادیان نے صحیح کیا ہے جو ان کے اس عقیدے کے خلاف ہے، لکھا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا چل (دور ہو) کیوں کی تیری اور ان میں سے جو تیری پیروی کریں تو جہنم یقینا تمہاری اور (ان کی) سب کی جزاہے یہ پورا پورا بدلہ ہے۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبری ج۴ ص۳۵۹)

ناظرین! یہ ترجمہ خلیفہ قادیان پر حجت الٰہی ہے۔ اس میں دو طرح سے شیطان کے داخلہ جہنم کا اعتراف کیا گیا ہے۔ ایک تیری کے لفظ سے، دوسرا تمہاری سب کی کے الفاظ سے۔

قادیانی ممبرو! ایک دن آنے والا ہے اور یقینا آنے والا ہے کہ تمہارے خلیفہ صاحب کو اور تم کو مخاطب کرکے یہ ترجمہ دکھا کر کہا جائے گا ’’اقرأ کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (بنی اسرائیل:۱۴)‘‘

مجھے تمہارے حال پر رحم آتا ہے کہ میں اس وقت کیا جواب دوں گا، امیر خسرو کی طرح میں بھی تم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جواب مجھے بھی بتا دو۔ شاید میں بھی تمہاری تائید کرکے تمہیں چھڑانے کی سفارش کروں۔ امیر خسرو اپنے سفاک معشوق کو مخاطب کرکے کہتے ہیں:

  1. بروز حشر گر پرسند خسرو را چرا کشتی

    چہ خواہی گفت قربانت شوم تامن ہماں گویم

رہا یہ عذر کہ شیطان اس لئے جہنم میں نہیں جائے گا کہ وہ امتحان لینے والی طاقت ہے۔ اس سے خلیفہ قادیان کی غرض یہی ہے کہ مدعیان نبوت کاذبہ کو بھی دوزخ سے بچایا

539

جائے۔ کیوں کہ وہ بھی اسی اصول کے ماتحت بندوں کے امتحان لینے کی طاقتیں ہیں۔ ’’ربّنا لاتجعلنا فتنۃ للقوم الظالمین‘‘

احمدی ممبرو! تمہارے نبی، رسول، مجدد کرشن، قادیانی آنجہانی نے تو شیطان کو اتنا برا ظاہر کیا ہے کہ مسیح موعود یعنی اپنے ہاتھ سے اس کا قتل ہونا مقدر لکھا ہے۔(منظور الٰہی ج۲ ص۳۱۷) جو ابھی تک قتل نہیں ہوا۔ اگر قتل ہوجاتا تو یورپ اور ایشیا میں جنگ کی آگ نہ بھڑکتی اور غالباً یہ غلط تفسیر بھی نہ لکھی جاتی۔ تم اس کو بڑی حد تک معذور سمجھتے ہوئے جہنم سے محفوظ رکھنا چاہتے ہو۔ یہ خیال ایسا ہے کہ آج سے پہلے شیطان کے کسی حامی نے ظاہر نہیں کیا:

  1. ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا

    یہ تیرے زمانے میں دستور نکلا

۷… ’’قال یا بنیّ انی اریٰ فی المنام انّی اذبحک فانظر ماذا تریٰ قال یابت افعل ماتؤمر ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین۔ فلما اسلما وتلہ للجبین ونادینہ ان یاابراہیم قد صدقت الرؤیا انا کذالک نجزی المحسنین (الصافات آیات ۱۰۲، ۱۰۵)‘‘

اس آیت میں حضرت ابراہیمؑ کے اس خواب کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے ہونہار بیٹے اسماعیل کے سامنے بیان کیا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں۔ اس نے کہا ابّا جان! آپ کو جس کام کا حکم ہوتا ہے اسے کر گزرئیے میں (ذبح ہونے پر) صبر کروں گا۔ جب دونوں باپ بیٹا فرمان خداوندی کے تابع ہوگئے اور باپ اپنے بیٹے کو الٹا لٹا کر ذبح کرنے ہلگا تو ہم نے (ان پر نظر عنایت کی اور) کہا اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچا کر دیا۔ (اس کے بدلے میں ہم نے اس کو ایک بڑا ذبیح دیا) اور اسی طرح ہم نیکوکاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔

اس آیت میں حضرت ابراہیم کے خواب دیکھنے اور ہوبہو اس پر عمل کرنے کا ذکر ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے ان کے اس فعل کی تصدیق فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ جملہ ’’صدقت الرؤیا‘‘ (تونے اپنا خواب سچا کردیا) سے مفہوم ہوتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ ہی مضمون بتانے کے لئے کافی ہے۔ مگر خلیفہ قادیان بڑی جرأت اور دلیری سے لکھتے ہیں کہ:’’میرے نزدیک حضرت ابراہیمؑ نے جو یہ خواب میں دیکھا تھا کہ وہ حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کررہے ہیں اس کی تعبیر یہی تھی کہ وہ انہیں ایک دن ایک غیر ذی

540

زرع وادی میں چھوڑ جائیں گے۔ ایسی جگہ پر چھوڑنا ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح ہی کرنا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ نے زمانہ کے رواج کے مطابق اس کی تعبیر غلط سمجھی تھی ۔ کیوں کہ اس زمانہ میں لوگ انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ انہوں نے یہی سمجھا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہے کہ حضرت اسماعیل کو ذبح کردیا جائے۔ لیکن دراصل اس کی تعبیر یہی تھی کہ وہ ان کو ایک غیر ذی زرع وادی میں چھوڑیں گے۱؎۔

(قادیانی تفسیر کبر ج۳ ص۴۸۶)

منقد: اللہ اللہ ! کس قدر دلیری اور جرأت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے خواب کی تعبیر کو جس کی خدا نے تصدیق فرمائی ہے، غلط کہا جاتا ہے۔ اے آسمان! تو کیوں نہیں ٹوٹ پڑتا۔ اے زمین! تو کیوں نہیں پھٹ جاتی۔ پہاڑو! تم کیوں نہیں گر پڑتے۔ قادیان میں انبیاء کرام کی سخت توہین ہورہی ہے۔ ان کے فہم اور خدائی تصدیق کو غلط قرار دیا جارہا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ: ’’ہم نے قرآن کی جو تفسیر کی ہے وہ خدا کے سمجھانے سے لکھی ہے۔‘‘ (ص۱)

یہاں پہنچ کر میرا دل بیٹھا جارہا ہے اور بدن کانپ رہا ہے، زبان لڑ کھڑا رہی ہے کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے کہ تیرا نام لے کر تیری کتاب کی تفسیر کی جاتی ہے۔ جس میں انبیاء کرام کی تغلیط اور تیری تصدیق کی تکذیب کی جاتی ہے۔ اچھا تو جان اور تیرا علم جانے ہمیں تو تیرا ارشاد ہے۔ ’’ذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومہّلہم قلیلاً (المزمل: ۱۱)‘‘

قادیانی ممبرو! یاد رکھو:

  1. تو مشور مغرور بر حلم خدا

    دیر گیرد سخت گیرد مر ترا

نوٹ: تفسیر ہذا کے (ج۴ ص۷۲ تا ۸۳) تک جناب اور مکالمہ آدم وابلیس کی تاویلات وہی کی گئی ہیں جو سرسید احمد خان مرحوم علی گڑھی نے اپنی تفسیر میں کی ہوئی ہیں۔ یہ سب انہی کی کاسہ لیسی ہے۲؎۔

۱؎ مولوی احمد دین صاحب امرتسری بھی خلیفہ قادیان کی غلط روش پر چلے ہیں۔( تفسیر بیان للناس منزل ششم ص۳۲) تشابہت قلوبہم (منقد)

۲؎ خلیفہ قادیان پر کیا موقوف ہے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب لاہوری جو جماعت مرزائیہ کے رکن رکین ہیں بلکہ ان کے امیر محمد علی صاحب بھی اس قسم کے مسائل میں سرسید احمد خان علی گڑھی کی پیروی کرتے ہیں۔ لیس ہذا باوّل قاروۃ کسرت فی الاسلام۔ ممکن ہے کہ ہم ان کے تعاقبات میں بھی بتوفیقہ تعالیٰ کوئی رسالہ لکھیں یا رسالہ تفسیر بالرائے میں ان کو بھی داخل کریں۔

541

(جن کے جوابات سے ہم تفسیر ثنائی میں فارغ ہوچکے ہیں اور ’’تفسیر بالرائے‘‘ کی جلدثانی میں بھی فی الجملہ ذکر کریں گے) اس کے باوجود یہ دعویٰ بھی ہے کہ:

’’میں اللہ کے فضل سے ہر معترض کو ساکت کرسکتا ہوں۔‘‘

(مقولہ محمود در تفسیر ص۵۱۶)

۸… ’’قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون قال انک من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم (حجر:۳۶تا۳۸)‘‘

اس آیت کی تفسیر میں خلیفہ قادیان نے عجیب بھول بھلیاں دکھائی ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے ترجمے کے خلاف بھی کہہ گئے ہیں۔ اس آیت میں جو یبعثون کا لفظ ہے جس کا مادہ بعث ہے۔ اس کے معنی قادیانی مؤلف نے کئے ہیں انسان کا نیکوکار ہوجانا۔ مطلب یہ بتایا ہے کہ انسان کے نیک بننے تک مجھ کو (شیطان کو) مہلت ملے۔ ناظرین حیران ہوں گے کہ اس فقرے کا مطلب کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم خود بھی حیران ہیں یہ طفلانہ کلام کیا معنی رکھتا ہے۔ اس لئے ہم مؤلف ہی کے الفاظ پیش کر دیتے ہیں کہ:’’اس (شیطان) نے کہا اے میرے رب پھر تو مجھے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے۔ فرمایا تو مہلت پانے والوں میں سے ہے معین وقت کے آنے کے دن تک۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج۴ ص۷۷)

منقد: ناظرین اس ترجمے میں الفاظ ’’دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک‘‘ کو یاد رکھیں اور خلیفہ صاحب کی تفسیر سنیں۔

’’اس امر کا ثبوت کہ یوم بعث سے مراد روحانی بعث ہے نہ کہ حشر اجساد یہ ہے کہ اس جگہ موت تک نہیں فرمایا بلکہ یوم البعث تک فرمایا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ حقیقی یوم البعث تک موقعہ ملنے کے کوئی معنی ہی نہیں۔ کیوں کہ مرنے کے بعد تو عالم امتحان ختم ہوجاتا ہے۔ یہ تو کسی مذہب کا بھی عقیدہ نہیں کہ مرنے کے بعد بھی شیطان اور ملائکہ لوگوں کو نیکی کی طرف لاتے یا بدی کی تحریک کرتے ہیں۔ پس اگر یوم بعث سے یہاں حشر اجساد مراد لیا جائے تو یہ آیت قرآنی تعلیم اور عقل سلیم کے مخالف ہوجاتی ہے۔ پس ہر عقل مند یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ یہاں یوم بعث سے مراد روحانی بعث ہے اور مطلب یہ ہے کہ اسی وقت تک شیطان یا شیطانی لوگ کسی کو گمراہی کا سبق دے سکتے ہیں جب تک اس کا روحانی بعث نہ ہو یا دوسرے لفظوں میں نفس مطمئنہ نہ ملا ہو۔ جب نفس مطمئنہ مل جائے تو پھر شیطان اور اس کی ذریت اس بندے سے مایوس ہوجاتی ہے اور ورغلانے کے طریقہ جو چھوڑ کر اسے جسمانی دکھ دینا شروع کردیتی ہے۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص۷۷، ۷۸)

542

منقد: ناظرین کرام! خلیفہ قادیان کی ان ہفوات سے پریشان نہ ہوں۔ آخر آپ اسی باپ کے بیٹے ہیں جنہوں نے دمشق کے معنی قادیان کرنے میں اپنا سارا زور قلم خرچ کردیا تھا۔ بلکہ جن کی ساری عمر اس قسم کی تاویلات اور تحریفات میں گزری۔ جس کے نمونے ہم نے اپنی کتاب ’’نکات مرزا‘‘ میں دکھائے ہوئے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے کہ ترجمے کے نیچے ’’دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک‘‘ لکھا ہے جس سے مراد یقینا یوم حشر ہے اور تفسیر میں اس کی تردید کرتے ہیں۔ ناظرین ان کو ان کا اپنا ترجمہ یاد دلائیں تو شاید آپ اپنے سہو ونسیان کا عذر کرجائیں۔ جیسے استاد غالب نے اپنے معشوق کی طرف سے کیا تھا:

تم ان کے وعدے کا ذکر ان سے کیوں کرو غالب

یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں

ہم اپنے دعوے کو ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ناظرین سنیں اور قادیانی اتباع انصاف کریں۔ قرآنی الفاظ یہ ہیں: ’’قال لئن اخرتن الی یوم القیامۃ لاحتنکنّ ذریّتہ الّا قلیلا (بنی اسرائیل: ۶۲)‘‘ اس میں لفظ یوم القیامۃ موجود ہے۔ جو یوم یبعثون کی جگہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ قادیانی مؤلف میرے کلام میں تصرف بے جا کریں گے۔ اس لئے عالم الغیب خدا نے اس لفظ کی بجائے دوسرا واضح لفظ رکھ دیا۔

اب اس آیت کا ترجمہ سنئے جو خود خلیفہ قادیان نے کیا ہوا ہے: ’’اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو مجھے تری ہی ذات کی قسم ہے میں اس کی تمام اولاد کو قابو میں کر لوں گا سوائے تھوڑے سے لوگوں کے۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص۳۵۹)

دیکھئے! قرآن مجید کے الفاظ کیسے صاف ہیں اور خلیفہ کا ترجمہ بھی بالکل صاف ہے۔ اس لئے ہم اس کو تصرف قدرت سمجھتے ہیں۔ جو خداتعالیٰ اپنے علم اور قدرت سے کبھی کبھی ظاہر فرما دیا کرتا ہے۔

ناظرین کرام! تصرف قدرت تو آپ نے ملاحظہ کرلیا۔ مگر خلیفہ قادیان بھی کوئی کچی گولیاں کھیلے ہوئے نہیں ہیں جن کو کہہ کر مکرنا نہ آتا ہو۔ کیوں کہ وہ اس بزرگ باپ کے بیٹے ہیں جو ہمیشہ اپنی متحدّیانہ پیش گوئیوں کے معنی بتا کر بموقع عدم وقوع اس سے انکار کردیا

543

کرتے تھے۔ (تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ملاحظہ ہو) اس لئے خلیفہ قادیان بھی اگر اپنے والد بزرگوار کی طرح کہہ کر پھر گئے ہوں تو تعجب نہیں۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قیامت کا لفظ اسلامی اصطلاح میں ایک خاص دن کے لئے مقرر ہے۔ کیوں کہ اس کو قرآن مجید میں بکثرت یوم الفصل فرمایا گیا ہے۔

ملاحظہ ہوں آیات ذیل: (۱)’’ان ربک یقضی بینہم یوم القیامۃ فی ماکانوا فیہ یختلفون (الجاثیہ: ۱۷)‘‘۔ (۲)’’ان ربک ہو یفصل بینہم یوم القیامۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (السجدۃ:۲۵)‘‘

مؤلف تفسیر نے ان سب آیات سے اور اصطلاح اسلامیہ سے چشم پوشی کرکے قیامت کے معنی کو اسی طرح بگاڑا ہے جس طرح ان کے والد نے دمشق اور دجال کے معنی بگاڑے تھے۔ ہاں آپ کے الفاظ قابل دید وشنید ہیں جو درج ذیل ہیں: ’’قیامت سے مراد مؤمنوں کی ترقی کا وقت ہے۔ کیوں کہ اس وقت کافروں کی قیامت بذریعہ تباہی کے اور مومنوں کی قیامت بذریعہ کامیابی کے آجاتی ہے۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص۳۶۰)

منقد: کیا ہی معقول تقریر ہے کہ مومنوں کی ترقی میں دونوں قیامتیں آجاتی ہیں۔ کیا ہم اتباع قادیان سے پوچھ سکتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں مسلمان ترقی کی معراج پر پہنچ گئے تھے یا نہیں؟ یقینا پہنچ گئے تھے جس کا اعتراف قادیانی اتباع کو بھی ہے تو پھر ان حضرات کی قیامت قائم ہوگئی تھی؟ اگر ہوگئی تھی تو پھر یوم الفصل بھی اسی زمانے میں قائم ہوچکا ہوگا… اگر ہو چکا تھا تو یوم الفصل کا نتیجہ جو قرآن مجید نے بتایا ہے ’’فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (الشوریٰ:۷)‘‘بھی واقع ہوگیا ہوگا۔

ناظرین! یہ ہیں ان لوگوں کے معارف قرآن جن پر یہ لوگ ناز کیا کرتے ہیں۔

جن کی بنا پر کہ آیت کریمہ ’’لایمسہ الّا المطہرون‘‘ کے غلط معنی کرکے اپنے آپ کو مطہر بتایا کرتے ہیں:

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نازیاں

    بندہ نواز! آپ کسی کے خدا نہیں

ناظرین کرام! اس سے زیادہ واضح لفظ ہم کیا پیش کریں جو بھی لفظ پیش کریں اس کو توڑ مروڑ کر دوسرے معنی میں لے جانا ان لوگوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

544

عرصہ دراز سے ہمارا دعویٰ ہے کہ قادیانی جماعت کے بانی مرزا قادیانی شیخ بہاء اللہ ایرانی سے مستفیض تھے اور اس کا ناقابل تردید ثبوت ہم اپنے رسالہ ’’بہاء اللہ اور مرزا‘‘ میں دے چکے ہیں۔ قیامت کے یہ معنی (جو مؤلف نے بتائے ہیں) بہائیوں سے ماخوذ ہیں۔ بہائیوں کے رسالہ ’’پیامبر‘‘ دہلی ۴۰، ۱۹۴۱ء میں قیامت کا مضمون بکثرت نکلتا رہا ہے۔ جس کے جواب میں اخبار ’’اہل حدیث‘‘ برابر بولتا رہا مگر قادیانی پریس خاموش رہا۔ ہم حیران تھے کہ ایسے ضروری مسئلے پر قادیانی پریس کیوں خاموش ہے۔ آخر قادیانی تفسیر دیکھنے سے ہمارا تعجب دور ہوگیا کہ یہ خاموشی دراصل اس تعلق کی وجہ سے ہے جو مفیض اور مستفیض میں ہوتا ہے۔ جس پر افسوس کرتے ہوئے بے ساختہ ہمارے قلم سے یہ شعر نکل گیا:

  1. میرے پہلو سے گیا پالا ستم گر سے پڑا

    مل گئی اے دل تجھے کفران نعمت کی سزا

مؤلف تفسیر نے یہ بات بھی عجیب کہی ہے کہ:

’’اس وقت تک شیطان یا شیطانی لوگ کسی کو گمراہی کا سبق دے سکتے ہیں جب تک اس کا روحانی بعث نہ ہو۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص۷۸)

اس کی تردید میں قرآنی نص کافی ہے۔ جس کے الفاظ مبارکہ یہ ہیں:’’ان الذین اتقوا اذا مسہم طائف من الشیطان تذکروا فاذاہم مبصرون (الاعراف:۲۰۱)‘‘

یہ آیت بتا رہی ہے کہ متقیوں پر بھی کبھی کبھی شیطان کا اثر ہوجاتا ہے، شاید قادیان میں ایسے متقی ہوں گے جو سب کچھ ہضم کرکے بھی روزہ دار کہلائیں۔ یاللعجب وضیعۃ الادب!

مختصر یہ ہے کہ قیامت کا اعتقاد اسلام کے ان عقائد میں سے ہے جو مدار ایمان ہیں۔ مگر قادیانی خلیفہ اور ان کے اتباع نے اس پر بھی ہاتھ صاف کردیا۔ سچ ہے:

  1. ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

    تڑپے ہیں مرغ قبلہ نما آشیانے میں

۹… ’’اذ اوی الفتیۃ الی الکہف فقالوا ربنا اٰتنا من لدنک رحمۃ وہییٔ لنا من امرنا رشداً (کہف:۱۰)‘‘

سورۂ کہف میں اصحاب کہف کا ذکر مفصل ملتا ہے۔ ان کی تعداد صریح لفظوں میں تو نہیں بتائی گئی البتہ مفہوم ہوسکتی ہے کہ وہ سات اشخاص تھے۔ سورہ کہف میں ان کے لئے دو جگہ ’’فتیہ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں۔ ’’چند نوجوان‘‘ چنانچہ مؤلف قادیانی تفسیر نے آیت مرقومہ بالا کا ترجمہ جس میں یہ لفظ آیا ہے یوں کیا ہے:

545

’’جب وہ چند نوجوان وسیع غار میں پناہ گزیں ہوئے اور (دعا کرتے ہوئے) انہوں نے کہا (کہ) اے ہمارے رب ہمیں اپنے حضور سے (خاص) رحمت عطا کر اور ہمارے (اس) معاملہ میں درست روی کا سامان مہیا کر۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص۴۱۷)

اسی سورہ کی ایک اور آیت میں بھی فتیۃ کا لفظ آیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

’’انہم فتیۃ اٰمنوا بربہم وزدنٰہم ہدی (کہف:۱۳)‘‘

اس کا ترجمہ آپ نے یوں کیا ہے:’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر حقیقی ایمان لائے تھے اور انہیں ہم نے ہدایت میں (اور بھی) بڑھایا تھا۔

(ایضاً ج۴ ص۴۲۷)

منقد: ان دونوں آیتوں کا ترجمہ صحیح ہے۔ لیکن قادیانی مؤلف نے تفسیر میں اپنے جوہر خوب دکھائے ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ’’لوگ اصحاب کہف کے واقعہ کو کسی ایک جماعت کا واقعہ سمجھتے تھے لیکن یہ واقعہ درحقیقت ایک جماعت سے یا ایک زمانے میں نہیں گزرا بلکہ کئی جماعتوں سے مختلف زمانوں میں گزرا ہے۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص ۴۲۴)

ناظرین کرام! قرآن مجید کی نص صریح میں اصحاب کہف کو فتیہ اور الفتیہ کہا گیا ہے۔ جس کا ترجمہ خود مؤلف تفسیر نے چند نوجوانوں کے لفظ سے کیا ہے۔ مگر خلیفہ قادیان نے باوجود صحیح ترجمہ کرنے کے اپنے جوہر دکھانے کو انہی چند جوانوں کو مختلف زمانوں میں کئی ایک جماعتیں قرار دیا ہے۔ جو قرآن مجید کی نص صریح کے خلاف ہے۔ اس موقع پر ہم آپ ہی کے الفاظ میں افسوس ظاہر کریں تو بجا ہوگا۔ آپ لکھتے ہیں: ’’کیا لطیفہ ہے بلکہ رونے کا مقام ہے کہ خداتعالیٰ تو کہتا ہے کہ اصحاب کہف کوئی عجوبہ چیز نہ تھے بلکہ اور آیتوں کی طرح یہ بھی ایک آیت ہی تھے۔ مگر ہمارے مسلمان اس کو ایک عجوبہ بنا رہے ہیں۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص۴۱۷)

ہم بھی انہی الفاظ میں مؤلف تفسیر اور ان کے اعوان وانصار پر افسوس کرنے کو کہتے ہیں کہ ’’رونے کا مقام ہے کہ خداتعالیٰ تو کہتا ہے کہ اصحاب کہف چند نوجوان تھے مگر قادیانی مفسر ان کو کئی مختلف جماعتیں بتا رہا ہے۔ الی اللہ المشتکی۔ قادیانی ممبرو!

  1. بہت مشکل پڑے گی برابر کی چوٹ ہے

    آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کے

۱۰… ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کا قصہ سورہ کہف میں مفصل مذکور ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں ذوالقرنین کی تعیین اور تحقیق میں مفسرین متقدمین کے اقوال مختلف ہیں اور آج کل بھی نئی تحقیقات شائع ہورہی ہیں۔ اس لئے ہمیں اس سے کچھ زیادہ تعرض نہیں ہے۔ اگر

546

ضرورت پڑی تو تفسیر بالرائے میں اس کا ذکر کردیا جائے گا۔ یہاں صرف ایک بات کا اظہار مقصود ہے جس کو مؤلف تفسیر نے اپنے والد (مرزا غلام قادیانی) کی تقلید میں ذکر کیا ہے۔ بڑے میاں نے براہین احمدیہ کی جلد پنجم میں لکھا ہے کہ ’’خداتعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا ہے۔‘‘

(براہین ص۹۰ خزائن ج۲۱ ص۱۱۸)

مؤلف قادیانی تفسیر نے اپنے والد کی تقلید میں سونے پر سہاگہ کا کام دیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ’’ذوالقرنین کا ذکر اس جگہ اس لئے کیا گیا ہے تا اس خبر کو بطور پیش گوئی بیان کرکے ایک دوسرے ذوالقرنین کی خبر دی جاسکے جو فارسی الاصل ہوگا اور یاجوج ماجوج کا مقابلہ کرکے اس کے زور کو توڑے گا اور اس طرح پہلے ذوالقرنین پر سے الزام کو دور کرے گا۔‘‘

(ایضاً ج۴ ص۴۹۴)

منقد: اس اقتباس میں بتایا ہے کہ ذوالقرنین ثانی (مرزا قادیانی) یاجوج ماجوج کا زور توڑے گا۔ اس امر کی تحقیق کے لئے پہلے ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یاجوج ماجوج کون ہیں؟ مرزا قادیانی کا قول ہے کہ:

’’ان یاجوج وماجوج ہم النصاریٰ من الروس والاقوام البرطانیہ … اما قولنا ان یاجوج وماجوج من النصاری لا قوم آخرون فثابت بنصوص القرآنیہ‘‘

(حمامۃ البشری ص۲۸، ۲۹ خزائن ج۷ حاشیہ ص۲۰۹ تا ۲۱۱)

(یعنی بقول مرزا قادیانی) نصوص قرآنیہ سے ثابت ہے کہ نصاریٰ روس اور انگریز وغیرہ یاجوج ماجوج ہیں۔ مرزا قادیانی (ذوالقرنین) نے ان اقوام (یاجوج ماجوج) کا زور کیسے توڑا۔ مفصل بتانے کی ضرورت نہیں۔ سب لوگ جانتے ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ بڑے میاں انگریزی حکومت کی حفاظت کے لئے بقول خود تعویذ تھے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان (انگریزوں) کو دکھ پہنچاوے (اس حال میں کہ) تو ان میں ہو۔ پس اس (انگریزی) گورنمنٹ کی خیرخواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں۔‘‘

(نورالحق حصہ اول ص۳۳ خزائن ج۸ ص۴۵)

اس کے علاوہ موجودہ خلیفہ قادیان مؤلف تفسیر نے بارہا اس امر کا اظہار کیا کہ:

547

’’حکومت وقت (برطانیہ) کی اطاعت جماعت احمدیہ کا مذہبی اصول ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ۲۷، نمبر۱۴۱، ص۳، کالم۱، مورخہ۲۲ جون ۱۹۳۹ء)

یہ تو ہوا باپ بیٹے یا ذوالقرنین اور خلیفہ قادیان کا یاجوج ماجوج کے متعلق عقیدہ اور عمل۔ حال ہی میں خلیفہ صاحب کی غیرحاضری میں ان کے مرید مولوی شیرعلی نے قادیان میں جمعے کا خطبہ دیا ہے جس میں جرمنی کے بڑے حملے سے انگلستان کے محفوظ رہنے کا ذکرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’یہ حفاظت بھی دراصل حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی دعائوں کی برکت سے ہے۔‘‘

(الفضل قادیان، ج۲۹، نمبر۱۹، ص۳، کالم نمبر۱، مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۴۱ء )

منقد: انگریز یاجوج ماجوج کیسی خوش قسمت قوم ہے کہ خود مرزا قادیانی اور ان کا خلیفہ بلکہ خلیفے کے جانشین تک سب کے سب ان کی فتح ونصرت کے لئے دعا گو ہیں اور ان کی عزت وآبرو کے محافظ ہیں۔

ناظرین! یہ ہے یاجوج ماجوج اور ذوالقرنین کا باہمی تعلق۔ اگر ان لوگوں کا ایسا تعلق کسی اسلامی حکومت کے ساتھ ہوتا تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے۔ آج اسلامی سلطنتیں اور مسلم قوم قادیانی ذوالقرنین کو مخاطب کرکے کہہ رہی ہیں:

  1. گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

    اے ابر کرم مہر وفا کچھ تو ادھر بھی

روسی حکومت: حمامۃ البشریٰ کی عبارت مرقومہ میں روس کا ذکر بھی ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ یاجوج ہے یا ماجوج۔ بہرحال ان دو میں سے ایک ضرور ہے۔ سو اس کی طاقت اور قوت کو بھی مرزا قادیانی (ذوالقرنین) نے خود توڑا ہے اور ایسا توڑا ہے کہ وہ آج (اگست ۱۹۴۱ء) تک بقول مولوی شیر علی صاحب جرمنی جیسی شہ زور حکومت (جو یورپ کے اکثر ملکوں کو فتح کرچکی ہے) کے مقابلہ میں ڈٹا ہواہے۔

واقعی ایسے ذوالقرنین کی شہ زوری قابل داد ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ:

  1. کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا

    نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

اطلاع: ہم نے اختصار کے ساتھ یہ دس مقام بطور نمونہ شائع کئے ہیں۔ باقی مقامات کی تنقید ’’تفسیر بالرائے‘‘ کی جلد ثانی میں کی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری … ستمبر ۱۹۴۱ء

548

محمود مصلح موعود

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

549

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو اپنی صداقت پر اپنی پیش گوئیوں کو دلیل ٹھہرایا۔ کتاب شہادت القرآن میں لکھا کہ میری تین پیشگوئیاں اس وقت شائع شدہ ہیں جو تین قوموں کے متعلق ہیں۔ ڈپٹی عبد اللہ آتھم مناظر از جانب مسیحیاںکی موت کے متعلق پیش گوئی عیسائی قوم کے متعلق ہے۔ مسماۃ محمدی بیگم ساکنہ پٹی کے نکاح کی پیش گوئی مسلمان قوم کے متعلق ہے۔ پنڈت لیکھرام آریہ کی موت کی پیش گوئی ہندو قوم کے متعلق ہے۔ یہ تینوں پیش گوئیاں یکے بعد دیگر غلط ثابت ہوئیں۔ ان سب پر طویل بحث ہمارے رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ میں ملاحظہ ہو۔ بالخصوص لیکھرام والی پیش گوئی کے متعلق ہمارا رسالہ ’’لیکھرام اور مرزا‘‘ قابل دید ہے۔ ان تینوں پیش گوئیوں کے بعد کئی ایک پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ مگر مرزا قادیانی اور اتباع مرزا ان کے جواب میں کچھ نہ کچھ کہتے رہے۔ آخر خدا کی حکمت نے مرزا قادیانی سے وہ اعلان شائع کروادیا جس کا عنوان ہے ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ جو میری تکذیب اور تردید کرتا ہے۔ ہم دونوں میں سے جو خدا کے نزدیک جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے گا۔ اس اشتہار پر تاریخ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء مرقوم ہے۔ خدا کی شان اس کے بعد ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی فوت ہو کر اس اشتہار کی تصدیق کر گئے۔ باوجود اس بیّن فیصلہ کے اتباع مرزانے اپنی ضد کو نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ اس مضمون پر مجھے مناظرہ کا چیلنج دیا اور درصورت میری فتح یابی کے تین سو روپیہ انعام رکھا۔ دو منصف فریقین کے اور در صورت اختلاف ایک ان کا سرپنچ غیرمسلم مقرر ہوا۔ مباحثہ اپریل ۱۹۱۲ء میں بمقام لدھیانہ قرار پایا۔ دو منصفوں میں اختلاف رائے کی وجہ سے سرپنچ کے فیصلہ سے تین سو روپیہ میں نے حاصل کیا۔ اس مباحثے اور فیصلے کی روئیداد بصورت رسالہ موسوم بہ ’’فاتح قادیان‘‘ مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آخری فیصلے پر مفصل بحث ایک اور رسالے میں بھی شائع ہوئی ہے۔ جس کا نام ہے ’’فیصلہ مرزا‘‘۔ یہ رسالہ عربی و اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شائع ہوچکا ہے۔ اس پر بھی اتباع

550

مرزا نے سکوت نہ کیا بلکہ کچھ نہ کچھ کہتے گئے۔ اس لئے خدائی غیرت نے خاص طریق سے ان پر حجت قائم کرنے کو خلیفہ قادیان ہی کو ذریعہ بنایا۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ میری اولاد میں سے ایک لڑکا مصلح موعود ہوگا جو ایسے ایسے کام کرے گا۔ ہمیں کیا ضرورت تھی کہ ہم اس پر بحث کرتے۔ جب ہم اصل کو نہیں مانتے تو فرع کو کیسے مانیں؟ خدا کی حکمت نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اس میں دخل دیں۔ میاں محمود خلیفہ قادیان کو خیال ہوا کہ اس پیش گوئی کے ماتحت مصلح موعود میں ہوں۔ اس دعوے کو انہوں نے اتنا اہم سمجھا کہ سب سے پہلے ہوشیار پور میں بتاریخ ۲۰؍فروری ۱۹۴۴ء کو جلسہ کیا۔ جس میں دوردراز سے مریدوں کو بلا کر یہ مژدہ سنایا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ حضرت صاحب کی پیش گوئی کے مطابق مصلح موعود میں ہوں۔ پھر اسی غرض کے لئے لاہور میں بتاریخ ۱۲؍مارچ ۱۹۴۴ء جلسہ کیا گیا۔ پھر جو مزید شوق غالب ہواتو بتاریخ ۱۶؍اپریل ۱۹۴۴ء دہلی میں جلسہ رچایا۔ ہم سنتے تھے کہ امرتسر میںبھی اس قسم کا جلسہ ہوگا۔ مگر دہلی میں کچھ ایسے ناموافق واقعات پیش آئے کہ خلیفہ جی کو امرتسر وغیرہ بلاد میں جلسہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ادھر لاہوری پارٹی نے سر اٹھایا اور دھیمے دھیمے خلیفہ قادیان کے اس دعویٰ کی مخالفت شروع کی۔ ادھر ہم نے بھی اس پیش گوئی پر اعتراضات شروع کئے۔ مگر ہماری اور لاہوری پارٹی مرزائیہ کی بحث کی نوعیت الگ الگ ہے۔ وہ تو صرف اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ میاں محمود مصلح موعود نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ سرے سے بڑے میاں کی پیش گوئی غلط ہے۔ اس مضمون کو ہم نے اخبار اہل حدیث ۱۱؍فروری ۱۹۴۴ء سے لے کر ۲۵؍اگست ۱۹۴۴ء میں بارہا لکھا۔ جس میں تقاضا کرتے رہے کہ مصلح موعود کا پتہ بتائیے مگر نہ قادیانیوں نے پتہ بتایا اور نہ لاہوریوں نے۔ پھر بھی ہم خاموش ہوجاتے اور کہتے کہ ان دونوں جماعتوں کا آپس کا جھگڑا ہے:

محتسب را درون خانہ چہ کار

مگر میاں محمود خلیفہ قادیان نے اس پیش گوئی کو غیر احمدیوں یعنی عام مسلمانوں کے متعلق قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’جہاں تک اس کے نام مصلح موعود کاتعلق ہے وہ غیراحمدیوں کے لئے ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۳۲، نمبر۱۵۵، ص۳، کالم نمبر۳ مورخہ۵؍جولائی ۱۹۴۴ء)

اسی لئے ہم نے توجہ کی ہے کہ ہم اس پر تنقید کریں۔ چنانچہ آج اسی نیت سے ہم نے قلم اٹھایا ہے۔ ہمارے خیال میں قادیانی قلعہ کو مسمار کرنے کے لئے دو مضمون کافی ہیں۔

551

ایک آخری فیصلہ، دوسرا مصلح موعود کی پیش گوئی۔ آخری فیصلہ کے متعلق ہماری طرف سے کافی اشاعت ہوچکی ہے اور ہوتی رہے گی۔ ان شاء اللہ !

چوں کہ مصلح موعود کی پیش گوئی کو عام مسلمانوں کے متعلق بتایا گیا ہے۔ اس لئے ہم اس تعلق کو اچھی طرح نباہنے کے لئے مفصل حالات مع حوالہ جات لکھتے ہیں:

  1. غالب! ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے

    بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفان کئے ہوئے

افوض امری الی اللہ ! …ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری ملقب بہ فاتح قادیان

مصلح موعود

جناب مرزا قادیانی نے بہت سی پیش گوئیاں کی ہیں جو سب کی سب اپنے وقت پر غلط ثابت ہوئیں۔ جس پر ایک محقق کو یہ کہنے کا موقع ہے:

  1. ہزار وعدوں میں گر ایک ہی وفا کرتے

    قسم خدا کی نہ ہم تم کو بے وفا کہتے

اس کی تفصیل مع ثبوت ہمارے رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ وغیرہ میں ملاحظہ ہو۔ انہی پیش گوئیوں میں ایک پیش گوئی مصلح موعود کی بھی ہے جو اپنے چوتھے فرزند کے متعلق کی ہوئی ہے جو سراسر غلط ثا بت ہوئی ہے۔ مگر ان کے بیٹے میاں محمود خلیفہ قادیان نے لاوارث مال کی طرح اس کو اپنے حق میں لے کر مشہور کیا ہے کہ یہ پیش گوئی میرے متعلق ہے۔ اس لئے اس میں ایک اور پیچیدگی پیدا ہوگئی۔ اس کی تفصیل بتانے کے لئے ہم یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ سب سے پہلے وہ حوالہ نقل کرتے ہیں جو سب کے پیچھے کا لکھا ہوا ہے۔ مگر چوں کہ اس میں پہلے حوالہ جات کا ذکر ملتا ہے۔ اس لئے ان کو اس کے بعد ایک ایک کر کے دکھائیں گے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے اس کی نسبت پیش گوئی اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی اور پھر (انجام آتھم ص۱۸۳) میں بتاریخ ۱۴؍ستمبر ۱۸۹۶ء یہ پیش گوئی کی گئی اور رسالہ انجام آتھم بماہ ستمبر ۱۸۹۶ء بخوبی ملک میں شائع ہوگیا اور پھر یہ پیش گوئی (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸) میں اس شرط کے ساتھ کی گئی کہ عبدالحق غزنوی جو امرتسر میں مولوی عبدالجبار غزنوی کی جماعت میں رہتا ہے، نہیں مرے گا جب تک یہ چوتھا بیٹا پیدا نہ ہولے اور اس صفحہ ۵۸ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عبدالحق غزنوی ہماری مخالفت میں حق پر ہے اور جناب الٰہی میں قبولیت رکھتا ہے تو اس پیش گوئی کو دعا کرکے ٹال دے اور پھر یہ پیش گوئی ضمیمہ انجام آتھم کے (ص۱۵) میں کی گئی۔ سو خداتعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام

552

مخالفوں کی تکذیب کے لئے عبدالحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اس پسر چہارم کی پیش گوئی کو ۱۴؍جون ۱۸۹۶ء میں جو بمطابق ۴؍صفر ۱۳۱۷ھ تھی بروز چار شنبہ پورا کردیا یعنی وہ مولود مسعود چوتھا لڑکا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہوگیا۔

چنانچہ اصل غرض اس رسالہ کی تالیف سے یہی ہے کہ تا وہ عظیم الشان پیش گوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہوچکا تھا اس کی ملک میں اشاعت کی جائے کیوں کہ یہ انسان کو جرأت نہیں ہوسکتی کہ یہ منصوبہ سوچے کہ اول تو مشترک طور پر چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیش گوئی کرے جیسا کہ اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے پیدا ہونے کی پیش گوئی کرتا جائے اور اس کے مطابق لڑکے پیدا ہوتے جائیں۔ یہاں تک کہ چار کا عدد جو پہلی پیش گوئی میں قرار دیا تھا وہ پورا ہوجائے۔ حالانکہ یہ پیش گوئی اس کی طرف سے ہو کہ جو محض افترا سے اپنے تئیں خداتعالیٰ کا مامور قرار دیتا ہے۔ کیا ممکن ہے کہ خداتعالیٰ مفتری کی ایسی مسلسل طور پر۱؎ مدد کرتا جائے کہ ۱۸۸۶ء سے لغایت ۱۸۹۹ء چودہ سال تک برابر وہ مدد جاری رہے۔ کیا کبھی مفتری کی تائید خدا نے ایسی کی یا صفحۂ دنیا میں اس کی کوئی نظیر بھی ہے؟… سو صاحبو وہ دن آگیا اور وہ چوتھا لڑکا جس کا ان کتابوں میں چار مرتبہ وعدہ دیا گیا تھا صفر ۱۳۱۷ھ کی چوتھی تاریخ میں بروز چار شنبہ پیدا ہوگیا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۳ خزائن ج۱۵ ص۲۲۱ تا ۲۲۳)

منقد: اس عبارت میں مرزا قادیانی نے ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء والے اشتہار کا نام لیا ہے اور اس اشتہار میں جو پیش گوئی درج ہے اس میں اپنے چوتھے بیٹے مبارک احمد کا نام لیا ہے اس لئے ہم پہلے اس پیش گوئی کے الفاظ نقل کرتے ہیں:

’’سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت ونسل ہوگا خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ

۱؎ مرزا قادیانی کی اس جرأت کو ملاحظہ کیجئے اور خدائی حکمت کو بھی دیکھئے کہ اسی لڑکے کو جس کا نام مصلح موعود رکھا گیا ہے نابالغی ہی میں خدا نے اٹھا لیا۔ جس پر یہ شعر صادق آیا:

  1. تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے

    وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

553

فضل ہے۔ جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیوں کی خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین وفہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری وباطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۵۹،۶۰ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۱)

منقد: ناظرین کرام! اس حوالہ میں پسرموعود کے متعلق جو اوصاف لکھے ہیں ان کو ملحوظ رکھئے اور ایک واقعہ دلفگار سنئے کہ مرزا قادیانی نے اپنی الہامی فراست سے اس لڑکے کا ان اوصاف سے موصوف ہونا ایسا یقین کرلیا کہ چھ سات سال کی عمر میں اس کا نکاح بھی کردیا جوں ہی نکاح ہوا بالہام الٰہی یا کسی مخالف کے بتانے سے حضرت عزرائیل کو خبر ہوگئی وہ فوراً آپہنچے۔ ادھر مسیح قادیان اپنے الہام کو پورا کرنے کے لئے دست بدعاء تھے۔ ادھر عزرائیل لڑکے کو لے جانے کے لئے مصر تھے۔ اس وقت کا نقشہ کسی شاعر نے کیا ہی اچھے الفاظ میں دکھایا ہے:

  1. ملک الموت کو ضد ہے کہ میں جاں لیکر ٹلوں

    سر بسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے

آخر عزرائیل غالب آیا اور بفرمان خداوندیالٰی ربک یومئذن المساقمصلح موعود کو بعزت واحترام ۱۹۰۷ء میں بعمر آٹھ سال اٹھا کر لے گیا۔

(اشتہار تبصرہ ۵؍نومبر ۱۹۰۷ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج دہم ص۱۲۶ مجموعہ شتہارات ج۳ ص۵۸۶)

مصلح موعود کی پیش گوئی تو یہی ختم ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ جس پسر موعود کی بابت بڑے بڑے دعوے کئے تھے نور اللہ ہوگا، اسیروں کو رہائی دلائے گا، گویا خدا آسمان سے اتر آئے گا وغیرہ وغیرہ۔ وہ مرزا قادیانی اور اتباع مرزا کو نابالغی ہی میں داغ مفارقت دے گیا۔ مگر مریدان باصفا کو شاباش ہے کہ ان کے شیشۂ اعتقاد پر کسی قسم کا میل نہیں آیا اور وہ یہی کہتے رہے:

پیر ماخس است واعتقاد ما بس است

ایسے مریدوں کے حق میں کسی شاعر نے کیا ٹھیک کہا ہے:

  1. پھرے زمانہ پھرے آسمان ہوا پھر جا

    بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جا

بجائے اس کے کہ اتباع مرزا اس پیش گوئی کو غلط کہہ کر مرزا قادیانی سے ہمیشہ کے لئے قطع تعلق کرلیتے انہوں نے اس طرفہ اور طرہ لگایا کہ مرزا قادیانی کے پسر اول میاں محمود

554

احمد کو مصلح موعود مان لیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی (صاحب الہام) اس کے مصلح موعود ہونے کی نفی کرچکے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، ۱۵ خزائن ج۱۱ص۲۹۸، ۲۹۹)

تفصیل اس کی یہ ہے کہ میاں محمود خلیفہ قادیان نے دعویٰ کیا کہ وہ مصلح موعود میں ہوں اس دعوے کو عجیب طریقے سے شہرت دی۔ لہٰذا ہم نے اخبار ’’اہل حدیث‘‘ میں تعاقب کرنے کو کئی بار مضمون لکھا۔ سوال پر سوال کئے کہ آپ کی بابت تو مرزا قادیانی نے مصلح موعود ہونے کی نفی کی ہوئی تھی آپ کیسے مصلح موعود بنتے ہیں۔ جس عبارت میں نفی کی ہے وہ یہ ہے اور اس کتاب کا مرزا قادیانی نے تریاق القلوب میں حوالہ بھی دیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

’’پھر ایک اور الہام ہے جو فروری ۱۸۹۶ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اس وقت ان تین لڑکوں کا جو اب موجود ہیں (محمود، بشیر، شریف) نام ونشان نہ تھا اور اس الہام کے معنی یہ تھے کہ تین لڑکے ہوں گے اور پھر ایک اور ہوگا جو تین کو چار کردے گا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، ۱۵ خزائن ج۱۱ ص۲۹۸، ۲۹۹)

ناظرین کرام! یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ میاں محمود مصلح موعود کا مصداق نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ پہلا لڑکا اور مصلح موعود چوتھا لڑکا تھا۔ جو ان تینوں کے بعد پیدا ہونے والا تھا۔ چنانچہ اس لڑکے کی بابت مرزا قادیانی نے کتاب انجام آتھم میں یہ الفاظ لکھے ہیں:

’’فتحرک فی صلبی روح الرابع بعالم المکاشفۃ فنادی اخوانہ وقال بینی وبینکم میعاد یوم من الحضرۃ فاظن انہ اشار الی السنۃ الکاملہ‘‘

’’وہ پسر موعود (ماں کے رحم میں آنے سے پہلے) میری صلب میں متحرک ہوا، اور اپنے بھائیوں کو مخاطب کرکے اس نے کہا میرے تمہارے درمیان ایک دن کا فاصلہ ہے یعنی ایک سال کا میں جلد آجائوں گا۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۸۳ خزائن ج۱۱ ص۱۸۳)

یہی موعود لڑکا بقول مرزا قادیانی دو دفعہ ماں کے پیٹ میں بھی بولا اور بھائیوں کو مخاطب کرکے کہا کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کا فاصلہ ہے۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس۱؎تھے۔

(تریاق القلوب ص۴۱ خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)

۱؎ رسالہ (انجام آتھم ص۱۸۳، خزائن ج۱۱ ص۱۸۳) پر ایک دن سے مراد ایک سال بتا چکے ہیں۔ منقد

555

حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یکم جنوری ۱۸۹۷ء میں لڑکا بولا ایک روز کی میعاد ہے اور پیدا ہوا ۱۸۹۹ء میں۔ (حوالہ ایضاً) ناظرین! اس جنین کی صداقت کلامی بھی قابل غور ہے۔ سچ ہے ابن الفقیہ نصف الفقیہ۔!

ناظرین! خداتعالیٰ جو خیرالماکرین ہے۔ مرزا قادیانی کے ساتھ اس کے پراسرار تعلقات کچھ ایسے ہیں جو ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ مرزا قادیانی کی تکذیب کرانے کو خداتعالیٰ ان کے دل میں ایسی باتیں ڈال دیتا ہے وہ تو ان کا الہام رکھتے ہیں مگر دراصل ان کی بدنامی کا باعث ہوتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید یہ سب کچھ اس آیت کے ماتحت ہوتا ہے۔ ولایحیق المکرالسییٔ الا باہلہ!

دیکھئے مرزا قادیانی پسر موعود کی ولادت کے متعلق کتنی تعلّی دکھاتے ہیں۔ صوفی عبدالحق غزنوی کو (جنہوں نے مئی ۱۸۹۳ء میں امرتسر میں مرزا قادیانی کے ساتھ مباحثہ کیا تھا) متنبہ کرنے کو لکھتے ہیں کہ ’’صوفی عبدالحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک یہ چوتھا لڑکا نہ ہولے‘‘ اور یہاں تک لکھا کہ اس رسالہ کی تالیف کی وجہ ہی یہی ہے کہ وہ عظیم الشان پیش گوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خدا کی طرف سے ہوچکا تھا ملک میں اشاعت کی جاوے اور عبدالحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اس پسر چہارم کی پیش گوئی کو ۱۴؍جون ۱۸۹۹ء کو پورا کردیا۔

ناظرین! یہ وہی مبارک احمد ہے جس کی بابت ہم لکھے چکے ہیں کہ نابالغی میں فوت ہوکر ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گیا تھا۔ جس پر مرزا قادیانی کے حق میں یہ شعر صادق آیا:

  1. حباب بحر کو دیکھو یہ کیسا سر اٹھاتا ہے

    تکبر وہ بری شئے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے

مختصر یہ ہے کہ اس پیش گوئی کی ابتداء ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء سے ہوتی ہے۔ اس کے الفاظ صفحات گزشتہ رسالہ ہذا پر ایک دفعہ پھر ملاحظہ کرکے ذہن میں رکھیں اور (ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، خزائن ج۱۱، ص۲۹۸) کو بھی ساتھ ملائیں اور مبارک احمد کے متعلق بھی مرزا قادیانی کے الفاظ سامنے رکھیں اور مبارک احمد کا نابالغی میں مرجانا بھی ملحوظ رکھیں تو اس نتیجے پر صاف پہنچیں گے کہ یہ پیش گوئی سرے سے غلط ہوئی ہے ۔ نہ ان اوصاف کا موصوف کوئی لڑکا مرزا قادیانی کے ہاں پیدا ہوا نہ زندہ رہا۔ اس لئے وہ بصد حسرت وافسوس یہ شعر پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے:

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری … اگست ۱۹۴۴ء، رمضان شریف ۱۳۶۳ھ

556

تحفہ احمدیہ

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

557

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علی رسولہ خاتم النّبیین اما بعد!

اہل حدیث مکتب فکر کے ممتاز رہنما حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے سوانح نگار حضرت مولانا عبدالمجید سوہدریؒ وحضرت مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے آپ کی رد قادیانیت تصانیف کے ضمن میں ایک رسالہ ’’تحفہ احمدیہ‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ مولانا عبدالمجیدؒ نے تحفہ مرزائیہ کا بھی علیحدہ تذکرہ کیا ہے۔ دونوں ایک ہیں یا علیحدہ علیحدہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔ اس کے حصول کے لئے پیرجھنڈا لائبریری، پیربدیع الزمان شاہ لائبریری، مولانا عطاء اللہ حنیف کی لائبریری شیش محل لاہور، مبارک مسجد لائبریری ریلوے روڈ لاہور، بیت الحکمۃ مولانا پروفیسر عبدالجبار شاکر لائبریری حبیب پارک منصورہ لاہور، مولانا اسحق بھٹی لائبریری، مولانا مختار عالم حق، مکتبہ سلفیہ شیش محل، مولانا عبدالرحمن مدنی لائبریری، مولانا محمد دائود ارشد نارنگ منڈی، مولانا امرتسری مرحوم کے پڑپوتے عرفان اللہ ثنائی، مولانا میرابراہیم سیالکوٹی لائبریری، پنجاب یونیورسٹی لائبریری، اورنٹئیل کالج لاہور لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری، عجائب گھر لائبریری، مدرسہ نعمانیہ لاہور لائبریری، جناب ضیاء اللہ کھوکر گوجرانوالہ لائبریری، مولانا محمد ابراہیم واسو منڈی بہائوالدین لائبریری، بخاری لائبریری مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر اور دیگر بہت سی لائبریریوں سے اس رسالہ کوتلاش کیا مگر دستیاب نہ ہوا۔

۱… مولانا ثناء اللہ مرحوم کے اخبار اہل حدیث کی تقریباً بیس جلدوں کے ایک ایک ورق سے تلاش کیا۔ صرف ایک جگہ اس کا اشتہار ملا اور لطف یہ کہ جو اشتہار واعلان کی عبارت ہے وہی سوانح نگار حضرات نے اس رسالہ کے تعارف کے لئے نقل کردی۔ جس کا معنی یہ ہے کہ رسالہ کا تعارف انہوں نے بھی رسالہ اہل حدیث سے لیا۔ اصل مطبوعہ رسالہ سوانح نگار کو بھی میسر نہیں آیا۔

۲… اخبار اہل حدیث امرتسر کی جن جلدوں تک ہماری رسائی ہوئی مولانا مرحوم کے ان رسائل رد قادیانیت کی سینکڑوں بار فہرست شائع ہوئی مگر کہیں تحفہ احمدیہ کا ذکر تک نہیں۔

۳… نہ معلوم یہ کس کا رسالہ ہے۔ اس لئے کہ اشتہار میں بھی تصریح نہیں کہ یہ رسالہ مولانا مرحوم کا ہے۔

۴… اس کے شائع ہونے کا اشتہار ہے۔ وہ شائع بھی ہوا یا نہیں۔

558

۵… اس رسالہ کا جو تعارف لکھا گیا وہ تعریف مولانا مرحوم کے دو رسائل عقائد مرزا اور نکاح مرزا پر صادق آتی ہے۔ ممکن ہے کہ پہلے ان رسائل کو علیحدہ علیحدہ شائع کیا ہو پھر ایک رسالہ میں دونوں کو یکجا تحفہ احمدیہ کے نام سے شائع کرنا چاہتے ہوں۔ (یا شائع کیا ہو) یہ تمام احتمالات رسالہ کے نہ ملنے پر پیدا ہوئے۔ اب تلاش بسیار کے بعد اس کی عدم دستیابی پر خود تذبذب کا شکار ہوگیا ہوں کہ کہیں اگر یہ رسالہ شائع ہوتا تو جیسے مولانا امرتسریؒ کی عادت تھی کہ وہ اپنے رسائل کو پہلے مضامین کی شکل میں شائع کردیتے تھے کسی رسالہ میں اس کی کوئی قسط تو ملتی؟ وہ بھی نہیں ملی۔ الحمدللہ احتساب قادیانیت کی گزشتہ سات جلدوں تک کسی بھی بزرگ کا کوئی رسالہ جس کی نشاندہی ہوئی اور وہ ہمیں نہ ملا ہو اس کی مثال نہیں۔ یہ پہلی شکست وہزیمت ہے جس کا اس جلد میں سامنا کرنا پڑا۔ غالب خیال یہی ہے کہ اس نام کا رسالہ ہوتا تو کہیں سے میسر آجاتا مگر نہیں مل سکا۔ اس پریشانی میں قارئین سے استدعا ہے کہ ہمارے عجز واعتراف ناکامی کے گواہ رہیں۔ کسی دوست کو میسر آجائے تو فوٹو مہیا کرکے عند اللہ ماجور ہوں۔ مل جانے کی صورت میں اسے کسی دوسری جلد میں شائع کرکے اپنے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کریں گے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز! تاہم ۱۳؍جنوری ۱۹۳۳ء کے اخبار اہل حدیث امرتسر میںایک صفحہ کا اشتہار اسی عنوان سے ملا۔ سو وہ پیش خدمت ہے۔ چلو سب کچھ نہ ہونے سے کچھ ہوجانا بہتر ہے۔

فقیر: اللہ وسایا؍ ۷ذی الحجہ ۱۴۲۳ھ

تحفہ احمدیہ

(یہ مطبوعہ اشتہار بتقریب سالانہ جلسہ قادیان لاہور کے مرزائی جلسوں میں ہزارہا کی تعداد میں تقسیم کیا گیا)

احمدیہ جماعت کے سوچنے کے لئے ایک ضروری بات

اعیان احمدیہ! ہم جانتے ہیں کہ آپ لوگ جو مرزا قادیانی کو مسیح موعود مانتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ کسی دنیاوی بادشاہ کا حکم ہے بلکہ اس لئے ان کو مسیح موعود مانتے ہیں کہ (بخیال آپ کے) رسولa نے جس مسیح موعود کے آنے کی پیش گوئی فرمائی تھی مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مصداق ہیں۔ چوں کہ آپ محض رسول اللہ ﷺ کے حکم سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس لئے ہم آپ لوگوں کو ایک مختصر سی بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ امید ہے اس

559

بات پر دل سے غور فرمائیں گے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ’’عن النبیﷺ قال والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الرّوحاء حاجاً او معتمراً او لیثنینہما (ج۱ ص۴۰۸)‘‘یعنی آنحضرتﷺ نے فرمایا مسیح موعود مقام فج الروحاء (مکہ مدینہ کے درمیان) سے حج اور عمرہ کا احرام باندھ کر دونوں فعل ادا کریں گے۔

یہ حدیث صاف اور صریح طور پر بتا رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود کی بڑی بھاری نشانی حج کرنا ہے۔ حج بھی اس تفصیل سے کہ فج الروحاء سے احرام باندھیں گے۔ مقام مسرت ہے کہ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے رد نہیں کیا بلکہ اپنے حق میں لیا ہے۔ لے کر فرمایا ہے کہ ہم حج ضرور کریں گے۔ کب کریں گے؟ اس کا جواب دیا ہے کہ جب ہم دجال کو مسلمان کرکے فارغ ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ یہ ہیں ’’ہمارا حج تو اس وقت ہوگا جب دجال (پادری لوگ) بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیوں کہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔‘‘

(ایام الصلح اردو ص۱۶۸، ۱۶۹، خزائن ج۱۴ ص۴۱۶)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے اس حدیث کے ماتحت تسلیم کیا ہے کہ مسیح موعود کو حج کرنا ضروری ہے۔ مگر بوجہ عدم فرصت فراغت تک اس کو ملتوی رکھا ہے۔ پس حدیث نبوی اور کلام مرزا قادیانی سے بالاتفاق ثابت ہوا کہ حسب فرمودہ رسالتa پناہ ضروری ہے کہ مسیح موعود حج ضرور کرے گا۔ اس کے حج میں کوئی چیز روک نہ ہوگی۔ دجال مسلمان ہو یا نہ ہو حج ضرور ہوگا۔

احمدی دوستو! ﷲ غور کرو کہ اتنی بڑی واضح نشانی جس کو رسول پاکﷺ نے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئی۔ یعنی آپ (مرزا قادیانی) نے فج الروحاء کے مقام سے احرام باندھ کر حج نہیں کیا۔ بلکہ کیا ہی نہیں۔ یہاں تک کہ انتقال کرگئے۔ پھر وہ مسیح موعود کیسے ہوئے؟ ہم جانتے ہیں کہ احمدی ارکان آپ کو اس حدیث کی تاویل بہت کچھ سکھائیں گے۔ لیکن ہم اس تاویل کے جواب میں آپ کو مرزا قادیانی کے کلام پر توجہ دلاتے ہیں جو اوپر نقل ہوا۔

پس دوستو! میدان محشر کو یاد کرکے ہمارے معروضہ کو پڑھو اور حق وباطل میں تمیز کرو۔

برسولاں باغ باشد وبس

مشتہر: سیکرٹری شعبہ اشاعت دفتر اخبار اہل حدیث پنجاب امرتسر

560