عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

احتساب قادیانیت جلد 8

احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت (۸)
مصنف : حضرت مولاناثناء اللہ امرتسریؒ
صفحات : ۵۰۴
مطبع : طیب شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور
طبع اوّل : فروری ۲۰۰۳ء
طبع دوم : ستمبر ۲۰۲۲ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ احتساب قادیانیت جلد ہشتم

الحمد ﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ۔ اما بعد!

احتساب قادیانیت کی اس جلد میں فاتح قادیان، مناظر اسلام، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ردقادیانیت پر مشتمل رسائل کے مجموعہ کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ فالحمد ﷲ اوّلاً وآخراً!

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری (وفات ۱۵؍مارچ۱۹۴۸ء) فاضل اجل اور متبحر عالم دین تھے۔ حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زندگی بھر فتنہ قادیانیت کے خلاف آپ صف آراء رہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے آپ کو فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے ہی پیدا کیا تھا۔ آپ نے جہاں حضرت مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی، حضرت مولانا احمد حسن کانپوری سے علم حدیث حاصل کیا، وہاں آپ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے بھی شاگرد رشید اور ان کے قابل رشک تلامذہ میں سے تھے۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ قادیان میں آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیری کی زیر صدارت خطاب کیااور ان سے دعائیں حاصل کیں۔

حضرت مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے اپنی تصنیف ’’فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری‘‘ اور حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدروی نے ’’سیرۃ ثنائی‘‘ میں حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کی ردقادیانیت پر رسائل کی تعداد چھتیس چھتیس بیان کی ہے۔

البتہ حضرت مولانا صفی الرحمن مبارک پوری نے تفسیر ثنائی، تاریخ مرزا اور تفسیر باالرائے کو شامل کرکے چھتیس کی تعداد بیان کی ہے۔ جب کہ حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدوری نے ان تینوں کی بجائے آفتہ اللہ، رسائل اعجازیہ، تحفہ مرزائیہ کے اضافہ سے چھتیس کی تعداد بیان کی ہے۔ مگر ہماری رائے میں تفسیر ثنائی کو ردقادیانیت کی فہرست میں شامل کرنا ٹھیک نہیں۔ یہ حضرت مولانا مبارک پوری کا سہو ہے۔ جب کہ رسائل اعجازیہ یہ کتاب مولانا

3

ثناء اللہ امرتسری کی نہیں۔ یہ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری کی ہے۔ اس کا اصل نام ’’حقیقت رسائل اعجازیہ‘‘ ہے، جسے احتساب قادیانیت ج۷ ص۵۷۳تاص۶۳۴ میں شائع کرچکے ہیں۔ اسے حضرت مولانا امرتسری کے رسائل میں شامل کرنا حضرت مولانا عبدالمجید کا سہو ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا عبدالمجید سوہدروی نے تحفہ احمدیہ اور تحفہ مرزائیہ علیحدہ علیحدہ شمار کی ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بھی ان کا سہو ہے۔

آفتہ اللہ کی نشان دہی حضرت مولانا مبارک پوری نے نہیں کی۔ اس لئے بجائے تفسیر نثائی کے رسالہ آفتہ اللہ کو حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے رسائل ردقادیانیت میں شمار کیا جائے تو پھر حضرت مولانا مبارک پوری کی فہرست اور حضرت مولانا عبدالمجید کی مرتب کردہ فہرست کی تعداد چھتیس چھتیس رہے گی۔ لیکن دونوں حضرات سے ایک یہ سہو ہوا کہ ’’عشرہ کاملہ‘‘ کا نام اخبار اہل حدیث امرتسر میں دیکھ کر اسے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تصنیف قرار دے ڈالا۔ حالانکہ یہ حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالوی کی تصنیف ہے اور پھر لطف یہ کہ دونوں سوانح نگار حضرات نے ’’عشرہ کاملہ‘‘ کا جو تعارف لکھا وہ صرف اور صرف حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالوی کی تصنیف کا تعارف ہے اور یقینی امر ہے کہ عشرہ کاملہ حضرت مولانا پٹیالوی کی کتاب ہے، نہ کہ حضرت مولانا امرتسری کی۔ اس لحاظ سے فہرست پینتیس رہ جائے گی۔ مزید یہ کہ حضرت مولانا مبارک پوری نے تفسیر باالرائے کو اس فہرست میں شامل کیا۔ حالانکہ یہ صرف ردقادیانیت پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں جہاں قادیانی تفسیر پر گرفت کی گئی ہے، وہاں شیعہ، چکڑالوی وغیرہ تفاسیر پر بھی گرفت کی گئی ہے۔ ویسے بھی ’’نکات مرزا‘‘ اور ’’بطش قدیر‘‘ کے ہوتے ہوئے اس رسالہ کو ردقادیانیت کی فہرست میں شامل کئے بغیر گزارہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے اس کو بھی اس فہرست سے خارج کردیں تو حضرت مولانا مرحوم کے ردقادیانیت پر رسائل کی تعداد چونتیس رہ جاتی ہے۔

اسی طرح دونوں سوانح نگار حضرات نے ’’مراق مرزا‘‘ کو حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کا رسالہ شمار کیا ہے۔حالانکہ یہ حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسری کا رسالہ ہے۔ (اس کا دیباچہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری نے لکھا ہے۔ اس میں صراحت موجود ہے) ہم اسے

4

’’احتساب قادیانیت جلد سوم میں ص۱۱تا۲۹‘‘ مجموعہ رسائل حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسری میں شائع کرچکے ہیں۔ اب حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے رسائل کی تعداد تینتیس رہ جائے گی۔ البتہ ’’قادیانی حلف کی حقیقت‘‘ اس میں اکثر حصہ حضرت مولانا مرحوم کا تحریر کردہ ہے، جسے اہل حدیث دارالاشاعت سکندرآباد دکن نے شائع کیا۔ لیکن دونوں سوانح نگار حضرات نے اسے اپنی فہرست میں نہیں لیا۔ اسے اس فہرست میں شامل کریں تو مولانا ثناء اللہ امرتسری کے رسائل کی تعداد چونتیس ہوجائے گی۔ ہمارے نزدیک یہ سوفیصد صحیح تعداد ہے۔ اس لئے ہم ان چونتیس رسائل کو ہی اس مجموعہ میں شامل کریں گے۔

ان رسائل کے نام یہ ہیں:

  1. ۱… الہامات مرزا

    ۲…ہفوات مرزا

  2. ۳…صحیفہ محبوبیہ

    ۴…فاتح قادیان

  3. ۵…فتح ربانی(درمباحثہ قادیانی)

    ۶…عقائد مرزا

  4. ۷…مرقع قادیانی

    ۸…چیستان مرزا

  5. ۹…زار قادیان

    ۱۰…فسخ نکاح مرزائیاں

  6. ۱۱…نکاح مرزا

    ۱۲…تاریخ مرزا

  7. ۱۳…شاہ انگلستان اور مرزائے قادیان

    ۱۴…مباحثہ دکن

  8. ۱۵…شہادات مرزا

    ۱۶…نکات مرزا

  9. ۱۷…ہندوستان کے دوریفارمر

    ۱۸…محمد قادیانی

  10. ۱۹…قادیانی حلف کی حقیقت

    ۲۰…تعلیمات مرزا

  11. ۲۱…فیصلہ مرزا

    ۲۲…تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار

  12. ۲۳…علم کلام مرزا

    ۲۴…عجائبات مرزا

  13. ۲۵…ناقابل مصنف مرزا

    ۲۶…بہاء اللہ اور مرزا

  14. ۲۷…ثنائی پاکٹ بک(متعلقہ حصہ )

    ۲۸…اباطیل مرزا

  15. ۲۹…تحفہ احمدیہ

    ۳۰…مکالمہ احمدیہ

5
  1. ۳۱… بطش قدیر برقادیانی تفسیر

    ۳۲…لیکھرام اور مرزا

  2. ۳۳…محمودمصلح موعود

    ۳۴… آفتہ اللہ

ثنائی پاکٹ بک کا ایک مختصر حصہ ردقادیانیت پر مشتمل ہے۔ وہی حصہ ہم اس جلد میں شامل کررہے ہیں۔ باقی کو ترک کردیا ہے۔

آج کل ’’مباحثہ سرگودھا‘‘ کے نام سے ایک رسالہ فیصل آباد کے اہل حدیث مکتبہ کا شائع کردہ گشت کررہا ہے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ قادیانیوں کا ایک مناظرہ سرگودھا میں ہوا۔ قادیانیوں نے اسے مباحثہ سرگودھا کے نام سے شائع کیا۔ اہل حدیث مکتبہ فیصل آباد نے اس قادیانی رسالہ کو حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے نام سے شائع کردیا۔ برا ہو جہالت کا کہ یہ رسالہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کا نہیں، بلکہ قادیانیوں کا مرتب کردہ ہے۔ اس میں حضرت مولانا مرحوم کے مباحثہ کے پرچہ جات کو مختصر اور قادیانی مناظر کے پرچہ جات کو وسیع کرکے شائع کیا ہے۔ بس حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کا نام دیکھ کر مکتبہ والوں نے مکھی پر مکھی ماردی اور اسے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے نام سے شائع کردیا۔ قطعاً یہ مولانا مرحوم کا رسالہ نہیں اور علاوہ ازیں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے دونوں متذکرہ سوانح نگار حضرات نے مباحثہ سرگودھا کی رپورٹ تو لکھی ہے مگر حضرت مولانا مرحوم کے رسائل کی فہرست میں اسے شامل نہیں کیا۔ غرض ہماری تحقیق میں چونتیس رسائل حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ردقادیانیت پر ہیں، جو اس مجموعہ میں شامل ہوں گے۔

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کی روح پرفتوح پر رحمت حق کی موسلادھار بارش نازل ہو۔ ان رسائل کو شائع کرنے پر ہم رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں کہ ایک مناظر اسلام اور فاتح قادیان کے ردقادیانیت پر رشحات قلم کو پہلی بار یکجاء شائع کرنے کی صرف اور صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سعادت حاصل ہورہی ہے۔ ان رسائل کے جمع کرنے کے لئے ہمیں طویل اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ ’’ترکت الحساب لیوم الحساب‘‘ کے تحت اس کہانی کو ہم یہاں ترک کرتے ہیں۔

6

البتہ یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ردقادیانیت پر مضامین جو ہفتہ وار اخبار اہل حدیث امرتسر اور ماہنامہ مرقع قادیان امرتسر میں شائع ہوتے رہے وہ بلاشبہ بڑے معرکۃ الآراء ہیں۔ ہفتہ وار اور ماہنامہ کی تمام فائلیں جمع کرکے صرف حضرت مولاناثناء اللہ امرتسری مرحوم کے مضامین کو یکجاء شائع کردیا جائے تو ان رسائل کی ضخامت سے کئی گنا زیادہ ضخامت کی اور جلدیں تیار ہوسکتی ہیں۔ افسوس کہ ہمارے پاس دونوں اخبارات کی مکمل فائلیں نہیں ہیں اور نہ ہی موجودہ اپنی مصروفیت کو سامنے رکھ کر اس کام کو کرنے کی ذمہ داری قبول کرسکتے ہیں۔

کاش! ہمارے بھائی اہل حدیث حضرات کا کوئی ادارہ اس کام کو کام سمجھ کر کرنا شروع کردے تو حوالہ جات وغیرہ کے لئے جو تعاون ممکن ہوگا، اس کی ہماری طرف سے پیشکش قبول فرمائی جائے۔ اہل حدیث حضرات کی تمام شخصیات وادارے اس طرف توجہ فرمائیں۔ برادران اسلام! یہ کام کرنے کا ہے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کے مجموعہ رسائل کی ضخامت بہت زیادہ ہونے کے باعث احتساب قادیانیت جلد ہشتم اور جلد نہم میں ہم شائع کررہے ہیں۔ اس جلد میں کتنے اور کون سے رسائل شامل ہیں، اس کے لئے فہرست کی طرف مراجعت فرمائیں۔

بقیہ رسائل دوسری جلد (احتساب قادیانیت جلد نہم) میں شامل ہیں۔

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کا ایک رسالہ تحفہ احمدیہ (تحفہ مرزائیہ) ہے۔ یہ رسالہ تاحال ہمیں میسر نہیں آسکا۔ قارئین حضرات سے درخواست ہے کہ وہ اس رسالہ کی دستیابی کے لئے دعا فرمائیں اور اگر ہمارے کسی قاری کے پاس یہ رسالہ ہو یا کہیں سے حاصل کرسکتا ہو تو اس سلسلہ میں ہماری معاونت ضرور فرمائے۔

اللہ رب العزت آپ سب کا حامی وناصر ہو۔

خاکپائے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری

فقیر: اللہ وسایا

۱۲؍ذیقعدہ۱۴۲۳ھ

7

الہامات مرزا

فاتح قادیان حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

9

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ … الہامات مرزا

مرزاغلام احمد قادیانی کے مذہب کے متعلق باقی مسائل (حیات ووفات مسیح وغیرہ) کو چھوڑ کر صرف الہامات یا الہامی معجزات کو میں نے کیوں اختیار کیا؟ اس کی وجہ قابل غور ہے۔

مرزاقادیانی بحیثیت علم یعنی قرآن وحدیث دانی کے زیادہ سے زیادہ ایک عالم ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ بلکہ بحیثیت علم بہت سے علماء ان سے زیادہ عالم ہیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی کی تعلیم نہ تو باقاعدہ تھی نہ کامل۔ اس بات کو مرزاقادیانی اور ان کے حواری بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اسی لئے تو مرزاقادیانی کی تصانیف کو ان کا معجزہ قرار دیتے ہیں۔ اس حیثیت سے تو ان کو یہ رتبہ نہیں کہ علماء اسلام ان کی رائے کے ماتحت ہو جائیں۔ وہ اگر قرآن پیش کریں تو علماء بھی کر سکتے ہیں۔ وہ حدیث لائیں تو وہ بھی لاسکتے ہیں۔ وہ کسی آیت یا حدیث کی شرح کریں تو علماء اسلام بھی کر سکتے ہیں۔

غرض بحیثیت علم مرزاقادیانی علماء سے کسی طرح برتری کا حق نہیں رکھتے۔ ہاں! مرزاقادیانی جس دوسری حیثیت کے مدعی ہیں، یعنی اس علم کے جو عام علماء کو نصیب نہیں جس کا نام الہام اور وحی ہے جس کی بابت ان کا قول ہے: ’’ان قدمی ہذہ علٰی منارۃ ختم علیہا کل رفعۃ‘‘میرا یہ قدم اس منارہ پر جہاں تمام روحانی بلندیاں ختم ہیں۔

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

یہی ایک واحد حیثیت ہے کہ اس کے ثبوت پر علماء اسلام ان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو تیار بلکہ خم کرنے کو اپنا فخر سمجھ سکتے ہیں۔

اس کی زندہ مثال یہ کیا کم ہے کہ مرزاقادیانی کی جماعت میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بلحاظ علم وفضل کے مرزاقادیانی سے بڑھ کر ہیں۔ جیسے حکیم نورالدین اور محمد احسن امروہی جن کے علم وفضل کے بیان سے مرزاقادیانی ہمیشہ رطب اللسان رہتے تھے۔ مگر وہ سب کے سب مرزاقادیانی کے مقابلہ میں اپنی آراء کو ہیچ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ مرزاقادیانی کی تابعداری کو فخر جانتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وہی کہ ان کی تحقیق میں مرزاقادیانی الہامی

10

اور صاحب وحی ہیں۔ یہ لازمی ہے کہ صاحب وحی کے سامنے بے وحی گردن جھکائے کیونکہ صاحب وحی مبداء فیض (خدا) سے براہ راست علم حاصل کرتا ہے، دوسرا نہیں۔ اسی لئے مرزاقادیانی خود بھی لکھتے ہیں: ’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص۲۸۸)

چونکہ قادیانی مذہب کی جانچ کا یہی ایک اصول الاصول ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اسی طریق سے اس ادّعا کی جانچ کریں جس سے مرزاقادیانی کے الہامی ہونے کی حقیقت کھل جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے الہامات اور الہامی معجزات تو کئی ایک ہیں۔ ہم کس کس کی جانچ کریں؟ اس کا جواب مختصر یہ ہے کہ ہمارا حق ہے کہ ہم جس الہام کو چاہیں اسی کی جانچ کریں۔ کوئی شخص ایسا کرنے سے شرعاً وقانوناً ہم کو نہیں روک سکتا۔ مرزاقادیانی کی اور ہماری مثال بالکل مدعی اور مدعا علیہ کی سی ہے۔ مدعی مدعا علیہ پر ڈگری حاصل کرنے کو ایک تمسک پیش کرتا ہے۔ مدعا علیہ کا حق ہے کہ اس تمسک میں سے جس سطر جس لفظ بلکہ جس حرف پر چاہے اعتراض کر کے سارے کو مشکوک ثابت کر دے۔ مدعی اس کو ایسا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ ٹھیک اسی طرح ہم بھی مرزاقادیانی کے جس الہام پر چاہیں اعتراض کریں۔ لیکن ہم ایسا کر کے رسالہ کو لمبا نہیں کریں گے، بلکہ چند ان الہاموں کی تحقیق کریں گے جن کو مرزاقادیانی نے خود معیار صداقت مشتہر کیا ہو گا۔

میں نے قادیانی مذہب کے متعلق کیا کیا محنت اور تحقیق کی ہے۔ اس کا ذکر رسالہ ہذا کے پہلے طبعات (اوّل، دوم، سوم) کے دیباچوںمیں کر چکا ہوں۔ مختصر ان سب کا یہ ہے کہ میں نے اس بارے میں اتنی محنت کی ہے کہ خود مرزاقادیانی کے کسی مرید نے بھی نہ کی ہو گی۔ بلکہ میں نے بھی کسی اور مذہب (آریہ وغیرہ) کی جانچ پڑتال کے لئے اتنی محنت نہ کی ہو گی۔ اسی محنت کا نتیجہ یہ رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ناظرین کے سامنے موجود ہے۔

رسالہ ہذا مرزاقادیانی کی زندگی میں تین دفعہ طبع ہوکر شائع ہوا تھا۔ ان کی زندگی میں نہ تو انہوں نے جواب دیا نہ ان کے مریدوں کی طرف سے جواب نکلا۔ بعض دفعہ اخباروں میں آمادگی کا اعلان دیکھا گیا، لیکن عمل کو مشکل جان کر سادہ لوحوں کے لئے شاید

11

محض اعلان کو کافی جانا گیا۔ مگر ان کے انتقال کے بعد بھی جب مسلمانوں کے تقاضے نے ان کے مریدوں کو تنگ کیا تو مجبوراً انہوں نے اس قرضہ کو ادا کرنا ضروری جانا۔ چنانچہ رسالہ موسومہ ’’آئینہ حق نما‘‘ اس کے جواب میں شائع کیا۔ جواب کیا ہے؟ فحش گالیوں اور بدزبانیوں کو الگ کر کے بجائے تردید کے بفضلہ تعالیٰ تائید ہے جس کے لکھنے والے منشی یعقوب علی ایڈیٹر الحکم قادیان اور شائع کرنے والے منشی قاسم علی ہیں۔ مگر چونکہ اخبار الحکم مجریہ ۷؍جون ۱۹۱۱ء میں ایڈیٹر صاحب کی طرف سے اعلان ہوا تھا کہ اس رسالہ کا مسودہ حکیم نورالدین خلیفہ قادیان نے نظر ثانی کر کے اصلاح فرمائی ہے۔ نیز رسالہ کے عربی حوالہ جات خود مظہر ہیں کہ وہ مصنف کی محنت کا ثمرہ نہیں بلکہ ’’کوئی محبوب ہے اس پردہ زنگاری میں‘‘ اس لئے ہم اسی رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ کے اندر اس رسالہ (آئینہ) کے جواب میں کسی ایرے غیرے کو مخاطب نہ کریں گے بلکہ براہ راست حکیم صاحب کا نام لیں گے۔ کیونکہ عام قانون ’’بنی الامیر المدینۃ‘‘ کے علاوہ یہاں خاص وجہ بھی ہے جس کا ثبوت الحکم کے مرقومہ پرچہ سے ملتا ہے۔ مجھے اس رسالہ آئینہ کے دیکھنے سے قادیانی جماعت پر پہلے کی نسبت زیادہ بدگمانی ہو گئی۔ کیونکہ میں نے اس میں دیکھا کہ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی بابت میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کہنے والے کا ضمیر خود اس کو ملامت کرتا ہے۔ الفاظ دل اور قلم سے نہیں نکلتے مگر زور سے نکالے جاتے ہیں۔ یہی معنی ہیں: ’’جحدوا بہا واستیقنتہا ظلماً وعلوا‘‘ چنانچہ موقع بموقع اس کا اظہار کیا جائے گا۔

رسالہ مذکورہ (آئینہ حق نما) کیا ہے؟ اچھا خاصہ گالیوں اور بدزبانیوں کا ایک کافی مجموعہ ہے۔ مگر ہم اس کے جواب میں کسی قسم کی بدزبانی سے کام نہ لیں گے نہ لینا چاہتے ہیں۔ کیوں؟

مجھ میں اک عیب بڑا ہے کہ وفادار ہوں میں

ان میں دو وصف ہیں بدخو بھی ہیں خود کام بھی ہیں

ابوالوفاء ثناء اللہ

مولوی فاضل ملقب فاتح قادیان امرتسر

طبع ششم محرم ۱۳۴۵ھ/جولائی ۱۹۲۸ء

12

پیشین گوئی متعلقہ ڈپٹی آتھم

یہ پیش گوئی مرزاقادیانی نے ۵؍جون ۱۸۹۳ء کو امرتسر میں عیسائیوں کے مباحثہ کے خاتمہ پر اپنے حریف مقابل مسٹر آتھم کی نسبت کی تھی جس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے: جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعاء کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سواء کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۸، ۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۱، ۲۹۲)

اس پیش گوئی کے آثار ولوازمات خارجیہ مرزاقادیانی کی تقریر اور تشریح ہی میں بیان کئے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خداتعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ایک سزا کے اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۲، ۲۹۳)

یہ پیش گوئی اپنے مضمون میں بالکل صاف ہے۔ کسی قسم کا یچ پیچ اس مضمون میں نہیں۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ڈپٹی آتھم جس نے آدمی (حضرت مسیح) کو خدا بنایا ہوا تھا۔ اگر مرزاقادیانی کی طرح الوہیت مسیح سے منکر اور توحید محض کا قائل اور اسلام میں داخل نہ ہوا

13

تو عرصہ پندرہ ماہ میں مر کر ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا بلکہ مسٹر آتھم کفر پر رہ کر میعاد مقررہ کے بعد بھی قریباً دو سال تک زندہ رہا۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی نے کئی ایک عذرات کئے ہیں۔

پہلا عذر: ’’فریق سے مراد صرف آتھم نہیں بلکہ وہ تمام جماعت ہے جو اس بحث میں اس کی معاون تھی۔ گو یہ بھی مانتے ہیں کہ آتھم سب سے مقدم ہے۔‘‘

(انوارالاسلام ص۲، خزائن ج۹ ص۲)

اس توجیہہ سے یہ نتیجہ نکالنا منظور ہے کہ اس پیشگوئی کو وسعت دی جائے چنانچہ اس وسعت پر تفریع کرتے ہیں کہ اسی عرصہ میں پادری رائٹ ناگہان مر گیا جس کے مرنے سے ڈاکٹر کلارک کو جو اس کا دوست تھا، سخت صدمہ پہنچا، وغیرہ وغیرہ!(ضمیمہ انوارالاسلام ص ج، خزائن ج۹ ص۵۹)

اس کا جواب صرف اتنا ہی کافی ہے کہ خود مرزاقادیانی ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں بعدالت مجسٹریٹ گورداسپور اقرار کرتے ہیں کہ: ’’فریق سے مراد صرف آتھم تھا۔ ڈاکٹر کلارک وغیرہ کو اس پیش گوئی سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

(روئیداد مقدمہ مرزا وڈاکٹر کلارک مؤرخہ ۱۲، ۱۳، ۲۰؍اگست ۱۸۹۷ء)

نیز مرزاقادیانی خود رسالہ کرامات الصادقین کے سرورق کے اخیر صفحہ پر بعبارت عربی رقم طراز ہیں: ’’ومنہا وعدنی ربی اذا جادلنی رجل من المنتصرین الذی اسمہ عبداللہ آتھم… الی (ان قال) فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموتہ الٰی خمسۃ عشر اشہر۱؎ من یوم خاتمۃ البحث فاستیقظت وکنت من المطمئنین‘‘یعنی خدا نے آتھم کے مرنے کی مجھے بشارت دی۔

(کرامات الصادقین بیک ٹائٹل ص ل، خزائن ج۷ ص۱۶۳)

نیز لکھتے ہیں: ’’آتھم کی موت کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی تھی جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم پندرہ مہینے کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کر لیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۱، خزائن ج۱۵ ص۱۴۸)

۱؎

یہ لفظ مرزاقادیانی کی اس رکیک تاویل کو باطل کرتا ہے جو وہ کہا کرتے ہیں کہ اصل پیش گوئی میں موت کا لفظ نہیں بلکہ موت میری تفسیر ہے جس کے غلط ہونے سے اصل پیش گوئی غلط نہیں ہوسکتی۔ اصل پیش گوئی صرف ہاویہ ہے جو (بقول مرزاقادیانی) آتھم کو دنیا ہی میں نصیب ہو گیا۔ (دیکھو انوارالاسلام ص۵، ۷ خزائن ج۹ ص ایضاً) ہکذا وجد فی الامل والصحیح شہر لعلہ من الالہاء ایضا درنقل چہ عقل!

14

رسالہ میں لکھتے ہیں: ’’پیش گوئی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کرے گا تو پندرہ مہینہ میں نہیں مرے گا۔‘‘

(کشتی نوح ص۵،۶خزائن ج۱۹ ص۶)

علاوہ اس کے ہم نے مانا کہ فریق کا لفظ عام ہے مگر اس میں تو شک نہیں کہ آتھم سب سے مقدم ہے جس کا تقدم خود مرزاقادیانی کو بھی مسلم ہے۔ پس آتھم کی زندگی سے پیشنگوئی کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتی۔ اس بحث کے متعلق حکیم نورالدین نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عیسائیوں میں خود فریق کے معنی عام سمجھے جاتے تھے۔ چنانچہ مقدمہ فوجداری میں عیسائیوں کے بیانات اس امر کے مظہر ہیں۔

(آئینہ حق نما ص۶۵،مرتب یعقوب علی ترابی)

یہ ایک اصولی غلطی ہے۔ ایک معنی الہامی خود کرے دوسرے معنی کوئی ایسا شخص کرے جو عرف شرع میں مؤمن بھی نہ ہو۔ اس صورت میں کون سے معنی معتبر ہوں گے؟ حکیم صاحب کو اپنا واقعہ یاد رکھنا چاہئے تھا جب ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء میں آپ نے مرزاقادیانی کی تحریر آریہ سماج لاہور میں پڑھی تھی جس میں چند الہام بے ترجمہ بھی تھے۔ حاضرین کے اصرار کرنے پر آپ نے ان الہاموں کا ترجمہ کیا تو کیسے کیسے عذر کر لئے تھے کہ یہ ترجمہ میرا ہے۔ صاحب الہام پر حجت نہ ہو گا بلکہ اصل اور صحیح ترجمہ وہی ہو گا جو صاحب الہام کرے گا۔ وغیرہ! یہ وہی اصول ہے جو مرزاقادیانی خود لکھتے ہیں: ’’ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۷، خزائن ج۲۲ ص۴۳۸)

پس فریق کے ایک معنی مرزاقادیانی نے کئے ہیں۔ دوسرے عیسائیوں نے سمجھے ہیں تو حسب قاعدہ مسلمہ فریقین مرزاقادیانی کے فہمیدہ معنی صحیح ہوں گے۔ علاوہ اس کے فریق کے معنی میں اگر باقی سرکردگان مناظرہ بھی داخل ہوں تاہم آتھم سب سے مقدم بلکہ مقدم تر ہے۔ چنانچہ حکیم نورالدین نے بھی بحوالہ انوارالاسلام ص۲ خزائن ج۹ ص۲ ہمارے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔

(آئینہ حق نما ص۶۶،مرتب یعقوب علی ترابی قادیانی)

پس جب تک پیش گوئی کا اثر مقدم فرد پر نہ ہو گا باقی افراد کو کون دیکھے گا۔

دوسرا عذر: جو عام طور پر مرزاقادیانی کے مریدوں میں مقبول اور زبان زدعام ہے۔ یہ ہے: ’’آتھم کی موت اس لئے نہیں ہوئی کہ اس نے حق کی طرف رجوع کیا تھا اور حق کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنی بتلاتے ہیں کہ آتھم کے دل پر پیش گوئی نے اثر کیا۔ وہ اس پیش گوئی کی عظمت کی وجہ سے دل میں موت کے غم سے شہر بشہر مارا مارا پھرتا رہا۔‘‘(اشتہارات ہزاری، دوہزاری، سہ ہزاری، چہار ہزاری، انوارالاسلام ص۲ تا۴، خزائن ج۹ ص۲ تا۴)

15

اس مضمون کی تفصیل سے مرزاقادیانی نے مسلم غیرمسلم کے ایسے کان بھر دئیے ہوئے ہیں کہ ہمیں ان کے کلام کی توضیح یا تفسیر کرنے کی حاجت نہیں۔

اس کا جواب اوّل رجوع الیٰ الحق کے معنی جیسے عام فہم اس کلام سے سمجھے جاتے ہیں، یہ ہیں کہ اسلام میں داخل ہو جائے گا توبہ سزائے موت ہاویہ سے بچایا جائے گا۔ کیونکہ یہ امر بالکل بدیہی ہے کہ ہر ایک مذہب والا دوسرے کو ناحق پر جانتا ہے اور کسی غیر کا اپنے مذہب کی طرف آ جانے کا نام رجوع الیٰ الحق رکھتا ہے۔ خاص کر دوران مباحثہ میں تو یہ لفظ باالکل انہیں معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ اگر ہم مرزاغلام احمد قادیانی کی اسی پیش گوئی کے الفاظ پر غور کریں تو ان سے بھی یہی معنی مستنبط ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی آتھم کی نسبت لکھتے ہیں: ’’جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔‘‘ اور اپنی نسبت تحریر فرماتے ہیں: ’’جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔‘‘

(انوارالاسلام ص۱، خزائن ج۹ ص۱)

اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ جس امر میں فریقین (مرزاقادیانی اور آتھم) کا مباحثہ تھا اس امر میں آتھم اگر مرزاقادیانی کا ہم خیال ہو جائے گا تو پندرہ ماہ کے اندر کی موت سے بچ جائے گا، ورنہ نہیں۔ ہمارے اس بیان کی تائید مرزاقادیانی کے ایک مقرب حواری کی تحریر سے بھی ہوتی ہے جو مرزاقادیانی کے ملاحظہ سے گزر کر چھپ چکی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’مسٹر آتھم کی نسبت یہ پیش گوئی کی کہ اگر وہ جھوٹے خدا کو نہیں چھوڑے گا تو پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔‘‘

(عسل مصفّٰی حصہ دوم ص۵۸۵)

ان معنی پر مرزاقادیانی خود بھی رسالہ انجام آتھم میں دستخط کر چکے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں: ’’پیش گوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر آتھم عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الیٰ الحق ثابت نہیں ہو گا تو صرف اس حالت میں پیش گوئی کے اندر فوت ہوں گے۔‘‘

(انجام۱؎ آتھم ص۱۳، خزائن ج۱۱ ص۱۳)

۱؎

حکیم صاحب لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی کسی تحریر سے اسے نکال کر دکھائیے کہ حضرت اقدس نے یہ کہا ہو کہ وہ (آتھم) ترک عیسائیت کر کے ان کے ہم مذہب ہو جائے گا۔‘‘ (حق نما ص۷۷ مرتب یعقوب علی ترابی) تعجب ہے کہ حکیم صاحب نے مرزاقادیانی کی یہ عبارت نہیں دیکھی۔ اس میں دو لفظ ہیں: (۱)عیسائیت پر ترک استقامت اور (۲)رجوع الیٰ الحق۔ ان دونوں لفظوں کو ملانے سے صاف ثابت ہے کہ آتھم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرے گا تو موت سے بچے گا۔

16

پس جب کہ مفہوم اور منطوق پیش گوئی کا صریح یہی ہے کہ اگر آتھم نے رجوع بحق کیا یعنی مرزاقادیانی سے مذہب حق میں موافق ہو گیا اور عیسائیت کو چھوڑ بیٹھا تو موت کی سزا سے بچ رہے گا۔ پھر کون نہیں جانتا کہ وہ مرزاقادیانی کے موافق جیسا کچھ ہوا عیاں راچہ بیاں۔ ہاں! مرزاقادیانی بھی بلا کے پر کالے ہیں۔ آتھم پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر تم نے رجوع نہیں کیا تو قسم کھاؤ۔ ایک ہزار، بلکہ دو ہزار، بلکہ تین ہزار، بلکہ چار ہزار انعام پاؤ۔

لیکن مضمون قسم کا ایسا بتلاتے ہیں جو رجوع سے کوئی تعلق نہیں رکھتا بلکہ بالکل اس قصہ کے مشابہ ہے جو کسی مولوی صاحب نے کسی شہدے کو نصیحت کرتے ہوئے نماز کی بابت تاکید کی تھی تو شہدے نے کہا کہ آپ نے ایک دفعہ دوستوں کی دعوت کی تھی تو نمک زائد نہیں ڈالا تھا؟ نہیں تو قسم کھائیے۔ مولوی صاحب بے چارے حیران ہو کر پوچھنے لگے کہ اس کلام کو میرے کلام سے کیا تعلق ہے۔ شہدے نے کہا بات سے بات نکل آتی ہے۔ یہی کیفیت مرزاقادیانی کی ہے۔ کہاں رجوع الیٰ الحق اور کہاں پیش گوئی سے موت کا ڈر۔ مضمون قسم کا صرف یہ چاہتے ہیں کہ:

’’اسلامی صداقت سے (یعنی میری پیش گوئی سے) خائف نہیں ہوئے؟‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۹۱)

ایک جگہ کی عبارت ہم ساری کی ساری نقل کرتے ہیں جو بحکم ’’جواب تلخ مے زیبد لب لعل شکر خارا‘‘ نہایت ہی شیریں اور مزیدار ہے۔ فرماتے ہیں: ’’بعض مخالف مولوی نام کے مسلمان اور ان کے چیلے کہتے ہیں کہ جب کہ ایک مرتبہ عیسائیوں کی فتح ہو چکی تو پھر باربار آتھم صاحب کا مقابلہ پر آنا انصافاً واجب نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے بے ایمانو! نیم عیسائیو! دجال کے ہمرائیو! اسلام کے۱؎ دشمنو! کیا پیش گوئی کے دو پہلو نہیں تھے۔ پھر کیا آتھم صاحب نے دوسرے پہلو رجوع الیٰ الحق کے احتمال کو اپنے افعال اور اپنے اقوال سے آپ قوی نہیں کیا۔ وہ نہیں ڈرتے رہے۔ کیا انہوں نے اپنی زبان سے ڈرنے کا اقرار نہیں کیا۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۹، ۷۰)

خلاصہ یہ کہ آتھم جو اپنے دل میں خوفزدہ ہوا کہ میں کہیں مر نہ جاؤں۔ چنانچہ اسی خوف میں وہ امرتسر سے فیروزپور کبھی لدھیانہ بھاگتا پھرا۔ یہی اس کا رجوع ہے۔

  1. دریائے فراواں نشود تیرہ بسنگ

    عارف کہ برنجد تنک آب است ہنوز

17

لیکن دانا سمجھتے ہیں کہ خوف کو جو عموماً ہر آدمی کو ایسے موقع پر طبعاً۱؎ پیدا ہوتا ہے۔ رجوع یعنی مسلمان ہونے یا بالفاظ دیگر مرزاقادیانی سے موافقت کر لینے سے کیا نسبت ہے۔ ہاں! ہم مانتے ہیں کہ آتھم کو موت کا اندیشہ ہوا ہو گا اور یقینا ہوا ہو گا اور اس خوف سے اس نے ہر ایک تدبیر سے کام لیا۔ مگر نہ اس لئے کہ وہ آپ کی پیش گوئی کو خدا کی طرف سے شدنی سمجھتا تھا بلکہ اس لئے کہ موت کو امر طبعی جانتا تھا۔ لیکن موت کے تصور پر اس کو یہ بھی خیال تھا کہ آپ اور آپ کے ہوا خواہ بغلیں بجائیں گے۔ اس خیال سے وہ حتی الوسیع امور عارضہ کی روک تھام کرتا تھا۔ اس دعویٰ کی شہادت پر ہمارا بیان تو آپ کا ہے، کو سنیں گے۔ آپ ہی کے مخلص مرید شیخ نور احمد مالک مطبع ریاض ہند امرتسر کی شہادت پیش کرتے ہیں۔

لا تکتموا الشہادۃ

’’میں ایک دفعہ کچہری سے آ رہا تھا کہ ڈپٹی آتھم اپنی باغیچی صاف کرا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کرارہے ہو؟ اس نے کہا صفائی کرارہا ہوں۔ مبادا کوئی سانپ مجھے ڈس جائے تو تم کہنے لگو کہ پیش گوئی سچی ہو گئی۔ العبد شیخ نور احمد مالک ریاض ہند پریس امرتسر۔‘‘

اس بیان سے نیز آتھم کے مضامین مندرجہ اخبار نورافشاں ۱۸۹۴ء سے اس کے خوف کا مضمون صاف سمجھ میں آتا ہے کہ وہ آپ کی پیش گوئی کو تو ایک معمولی بازاری گپ جانتا تھا۔ البتہ موت کے مجہول العلم ہونے کی وجہ سے ہراساں تھا کہ مبادا اس کی اتفاقی موت پر آپ اپنی پیش گوئی کی صداقت سمجھ لیں۔ بھلا مرزاقادیانی اگر وہ آپ کی پیش گوئی کو خدا کی طرف سے سمجھ کر ڈر جاتا تو اس کی روک تھام کیوں کرتا اور اگر محض ایسا خوف بھی آپ کے نزدیک رجوع الیٰ الحق یعنی فریق مخالف سے موافقت کرنے کے مساوی ہے تو آپ پرلے درجہ کے آریہ ہیں جو آریوں کی معمولی دھمکی پر گورنمنٹ سے امداد اور حفاظت کی درخواست کرتے تھے کہ کہیں آریہ مجھ کو مار نہ ڈالیں۔ (دیکھو درخواست اسمی گورنمنٹ)

۱؎

مرزاقادیانی کو جب سے پنڈت لیکھ رام کے مرنے پر دھمکی کے خطوط پہنچے تو ایسا انتظام کیا کہ مجال کوئی اجنبی آدمی یک بیک حضور میں پہنچ سکے۔ سیر کو جاتے وقت جب تک جماعت کثیر ساتھ نہ ہو سیر مشکل ہے۔ یہ بھی رجوع ہے۔ حالانکہ الہام ہے کہ تو ۸۰برس یا کچھ کم وبیش زندہ رہے گا اور یہ بھی الہام ہے کہ جدھر تیرا منہ ہے ادھر ہی خدا کا منہ ہے۔ بلکہ گورنمنٹ کے حضور ایک درخواست بھی دی تھی کہ قادیان میں چند سپاہی میری حفاظت کے لئے مقرر کئے جائیں۔ ایسا ہی آتھم کو بھی خوف ہوا ہو گا جس کا انہوں نے اظہار بھی کر دیا ہے۔

(نورافشاں ستمبر، اکتوبر ۱۸۹۴ء)

18

حکیم صاحب (آئینہ حق نما از یعقوب علی ترابی قادیانی ص۷۵) میں لکھتے ہیں کہ آتھم نے رجوع کیا۔ اس لئے موت سے بچ رہا۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’جب کہ پیش گوئی میں یہ شرط موجود ہے بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے تو سزائے موت سے بچایا جائے گا۔ اس کا بچ جانا اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے رجوع کیا۔‘‘

کیا ہی عالمانہ دلیل ہے کہ مخالف کو معتقد کی جگہ فرض کر کے لکھی گئی ہے۔ جناب یہ اس شخص کے نزدیک صحیح ہوسکتی ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کا معتقد ہو۔ بات بات پر مرحبا صل علیٰ کہنے کا عادی ہو۔ لیکن جو شخص دیکھتا ہے کہ رجوع بھی محسوس نہیں ہوا اور آتھم موت سے بچ بھی رہا تو کیا وہ یہ نہ سمجھے گا کہ یہ پیش گوئی سرے سے غلط ہے۔ اسے کیا مطلب کہ وہ اس کی تاویلات گھڑے۔

حکیم صاحب! اہل علم کی اصطلاح میں اس کا نام مصادر علی المطلوب ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ سزائے موت سے بچ جانا رجوع کی دلیل ہوسکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں جب آپ کسی قطعی دلیل سے یہ ثابت کر دیں کہ ان دو مفہوموں رجوع اور سزا موت میں انفصال حقیقی ہے کہ تیسرے کسی کا دخل نہیں۔ جب تک آپ یہ ثابت نہ کریں ہمارا حق ہے کہ ہم تیسری صورت کے قائل ہوں۔ یعنی نہ اس نے رجوع کیا نہ موت سے مرا بلکہ الہام سرے سے غلط تھا اور یہی صحیح ہے۔

مرزاقادیانی! ہم آپ کی خاطر یہ بھی مانے لیتے ہیں اور فرض کئے لیتے ہیں کہ آتھم آپ کی پیش گوئی ہی سے ڈرا اور محض اسی لئے ڈرا کہ اس نے اس پیش گوئی کو خدائی الہام اور آپ کو سچا ملہم سمجھا۔ تاہم اس کا یہ سمجھنا رجوع الیٰ الحق نہیں ہو سکتا اور اس قابل نہیں کہ عذاب میں تاخیر کا موجب ہو۔ افسوس آپ مجدد تو بنتے ہیں لیکن علم حدیث تواریخ اور سیر سے بالکل غیرمانوس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جس حدیث کو کسی کتاب سے نقل کرتے ہیں چونکہ علم میں پورا تبحر اور قادر الکلامی نہیں۔ علاوہ اس کے صاحب الغرض مجنون بھی صحیح ہے۔ اس لئے عموماً ترجمے غلط، مضامین۱؎ غلط ہوتے ہیں۔ سنئے ہم آپ کو صحیح بخاری سے ایک حدیث سناتے ہیں۔ مختصر مضمون اس حدیث کا یہ ہے:

۱؎

مثال کے طور پر امامکم منکم اور کسوف والی حدیثیں موجود۔ جن کی تفصیل طول چاہتی ہے۔

19
’’ان سعد بن معاذ انہ کان صدیقاً لامیۃ ابن خلف وکان امیۃ اذا امّر بالمدینۃ نزل علی سعد وکان سعد اذا مربمکۃ نزل علٰی امیۃ فلما قدم رسول اللہﷺ المدینۃ انطلق سعد معتمرا فنزل علٰی امیۃ بمکۃ فقال لامیۃ انظر لی ساعۃ خلوۃ لعلی ان اطوف بالبیت فخرج بہ قریبا من نصف النہار فلقیہما ابوجہل فقال یا ابا صفوان من ہذا معک فقال ہذا سعد فقال لہ ابوجہل الا اراک تطوف بمکۃ آمنا وقد اوتیتم الصباۃ وزعتم انکم تنصرونہم وتعینونہم اما واللہ لولا انک مع ابی صفوان مارجعت الی اہلک سالما فقال لہ سعد ورفع صوتہ علیہ اما واللہ لئن منعتنے ہذا لا منعنک ماہو اشد علیک منہ طریقک علی اہل المدینۃ فقال لہ امیۃ لاترفع صوتک یا سعد علی ابی الحکم سید اہل الوادی فقال سعدد عنا عنک یا امیۃ فواللہ لقد سمعت رسول اللہﷺ یقول انہم قاتلوک قال بمکۃ قال لا ادری ففزع لذالک امیۃ فزعاً شدید افلما رجع امیۃ الی اہلہ فقال یا ام صفوان الم تری ماقال لی سعد قالت وما قال لک قال زعم ان محمداa اخبرہم انہم قاتلی فقلت لہ بمکۃ قال لا ادری فقال امیۃ واللہ لا اخرج من مکۃ فلما کان یوم بدر استنفر ابوجہل الناس قال ادرکوا عیرکم فکرہ امیۃ ان یخرج فاتاہ ابوجہل فقال یا ابا صفوان انک متی یراک الناس قد تخلفت وانت سید اہل الوادی تخلفوا معک فلم یزل بہ ابوجہل حتٰی قال اما اذا غلبتنی فواللہ لا شترین اجود بعیر بمکۃ ثم قال امیۃ یا ام صفوان جہزینی فقالت لہ یا ابا صفوان وقد نسیت ماقال لک اخوک الیثربی قال لاوما ارید ان اجوزمعہم الا قریبا فلما خرج امیۃ اخذ لا ینزل منزلا الا عقل بعیرہ فلم یزل بذلک حق قتلہ اللہ ببدر‘‘

(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب ذکر النبی من یقتل ببدر ج۲ ص۵۶۳)

’’سعد بن معاذؓ اپنے دوست امیہ بن خلف کے پاس مکہ میں اترا کرتے تھے جو مشرک تھا۔ ایک دفعہ سعد کو کعبہ شریف میں ابوجہل نے طواف کرتے دیکھا اور ڈانٹا کہ مسلمانوں کو اپنے شہر میں جگہ دے کر آرام سے طواف کر جاتے ہو۔ سعدؓ نے بھی برابر کا

20

جواب دیا۔ امیہ نے سعدؓ سے کہا: خاموش رہو۔ یہ اس شہر کا سردار ہے۔ سعدؓ نے امیہ سے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ہے کہ کسی دن مسلمانوں کے ہاتھ سے تو نے قتل ہونا ہے۔ امیہ نے کہا: مکہ میں؟ سعدؓ نے کہا: میں نہیں جانتا۔ پس امیہ یہ سن کر سخت گھبرایا۔ امیہ نے اللہ کی قسم کھائی کہ میں تو مکہ سے کبھی نہ نکلوں گا۔ جب بدر کی لڑائی کا موقع آیا تو ابوجہل نے لوگوں کو جمع کیا اور امیہ سے کہا کہ اگر تیرے جیسے رئیس کو لوگ پیچھے ہٹا ہوا دیکھیں گے تو تیرے ساتھ وہ بھی ہٹ رہیں گے۔ آخر ابوجہل کے جبر سے اس نے ہاں کی تو اس کی بیوی نے یاد دلایا کہ تیرا مدنی دوست سعدؓ جو کچھ تجھے کہہ گیا تھا تو اسے بھول گیا۔ امیہ نے کہا: میں تھوڑی دور تک ان کو رخصت کرنے جاؤں گا۔ چنانچہ وہ جس منزل پر ٹھہرتا اپنے اونٹ کو قابو رکھتا کہ موقع پاکر جلد واپس جا سکے۔ آخرکار خدا نے اسے بدر کی لڑائی میں قتل کرایا۔‘‘

کہیے! امیہ بن خلف دل میں آتھم سے زیادہ ڈرایا نہیں؟ اور پھر باوجود اس خوف اور دلی یقین کے اس کے حق میں کہا جائے گا کہ اس نے رجوع بحق کیا۔ کیا امیہ سے انذاری۱؎ پیش گوئی مختلف ہوئی۔ سب سے اخیر ایمان سے ’’ان کنتم مؤمنین‘‘ کہیے کہ آپ نے اس حدیث کو کبھی دیکھا اور دیکھ کر اس پر غور بھی کیا اور اس وقت سے پہلے اس کا کوئی جواب بھی سوچا؟

حکیم صاحب نے اس حدیث کے اس ترجمہ کی نسبت اپنے ترجمہ کو ترجیح دی ہے، جس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی، جس سے ہمیں بھی کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد آپ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں: ’’اس ساری حدیث میں رجوع الیٰ الحق کی شرط کہاں ہے؟‘‘

(آئینہ حق نما ص۸۶ از یعقوب علی ترابی قادیانی)

۱؎

ہم مانتے ہیں کہ انذاری عذاب نہ صرف ملتوی ہو جاتا ہے بلکہ مرفوع بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسے التواء یا رفع کے لئے اس عذاب سے ڈر جانا اور خاص کر ایسا ڈرنا جیسا کہ آتھم ڈرا ہرگز کافی نہیں۔ مرزاقادیانی ہمیشہ حضرت یونسm کی قوم کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ مگر افسوس کہ اس میں بھی تجدید سے نہیں رکتے۔ اس قصہ کا مضمون بالکل ہماری تائید اور مرزاقادیانی کی تردید کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس لما آمنوا کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعناہم الٰی حین (یونس:۹۸)‘‘ اس آیت میں صاف اور صریح مذکور ہے کہ حضرت یونسm کی قوم سے عذاب ٹل گیا لیکن کب ٹلا؟ جب وہ ایمان لے آئے۔ پس آتھم بھی ایمان لے آیا ہوتا تو آپ کی وہ عزت جو ستمبر ۱۸۹۴ء کو ہوئی تھی کیوں ہوتی؟

21

ہم حیران ہیں حکیم صاحب کے حافظہ کی بابت کہاں تک شکایت کریں۔ اسی اپنی کتاب کے ص۳۱ پر عام قاعدہ لکھتے ہیں جس کا مطلب صاف ہے کہ انذاری پیش گوئیوں میں گو رجوع الیٰ الحق کی شرط مذکور نہ ہو، تاہم ملحوظ ہوتی ہے۔ مرزاقادیانی بھی اس قاعدے کو کئی ایک جگہ لکھ چکے اور منہاج نبوۃ قرار دے چکے ہیں۔ حکیم صاحب نے تو اس مضمون پر کئی صفحات (ص۳۱ سے ص۴۶) تک سیاہ کئے ہیں۔ مگر جونہی ص۸۶ پر پہنچے تو یہ اصول سرے سے بھول گئے۔ یہی معنی ہیں:’’لکیلا یعلم بعد علم شیئاً (النحل:۷۰)‘‘ بڈھے کو علم میں ذہول ہو جاتا ہے۔

مرزاقادیانی فرماتے ہیں: اگر آتھم ڈرا نہیں تو قسم کھائے چار ہزار روپیہ ہم سے انعام پائے۔ آتھم نے عذر کیا کہ: ’’انجیل متی باب۵ میں قسم کھانے سے منع آیا ہے۔‘‘ اس پر مرزاقادیانی نے کئی ایک ایسے حوالے اس کو سنائے کہ عیسائیوں کے پیشواؤں نے عدالت میں قسمیں کھائیں۔ آتھم نے جواب دیا کہ: ’’اگر مجھے بھی حلف کرانا چاہو تو عدالت میں طلب کرو۔ عدالت کے جبر سے میں بھی قسم کھالوں گا۔‘‘

(نورافشاں مؤرخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۸۹۴ء)

ایسے معقول جواب سے مرزاقادیانی جیسے معقول پسندوں کو کیا تسلی ہوسکتی تھی۔ آپ لکھتے ہیں: ’’گویا ان کا ایمان عدالت کے جبر پر موقوف ہے۔‘‘

(اشتہار چار ہزاری حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج۲ حاشیہ ص۹۱)

اس سے بڑھ کر معقول جواب ڈاکٹر کلارک امرتسری نے دیا: ’’ہم کہتے ہیں مرزاقادیانی مسلمان نہیں۔ اگر مسلمان ہیں تو مجمع عام میں سور کا گوشت کھائیں۔ اگر کہیں کہ سور کا گوشت مسلمانوں کو حرام ہے۔ اس سے اسلام کا ثبوت کیسے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح بالاختیار حلف اٹھانا عیسائیوں کو منع ہے۔ پس جب آتھم پکا عیسائی ہے تو وہ اپنی عیسائیت کا ثبوت قسم سے نہیں دے سکتا، جس طرح آپ اپنے اسلام کا ثبوت سور کھانے سے نہیں دے سکتے۔‘‘

(اشتہاری ہنری کلارک مطبوعہ نیشنل پریس امرتسر)

مگر میں پوچھتا ہوں مرزاقادیانی کو آتھم پر قسم دینے کا حق ہی کیا تھا۔ کوئی آیت یا حدیث اس بارے میں ہے کہ کوئی کافر اگر اپنے نفس پر التزام کفر کرے اور اسلام سے انکاری ہو تو اس کو قسم دینی چاہئے۔ جیسے قرض دار عدالت میں انکار کرے اور مدعی کے پاس ثبوت دعویٰ نہ ہو تو مدعا علیہ کو قسم دی جاتی ہے کہ میں نے اس کا کچھ نہیں دینا۔ اسی طرح کوئی حدیث

22

اس مضمون کی ملی ہو تو اطلاع بخشیں۔ جب یہ اسلام بلکہ کسی مذہب کا مسئلہ نہیں ہے کہ منکر مذہب کو انکار مذہب پر قسم دینی چاہئے تو آتھم کو قسم دینے کا آپ کو حق پہنچتا ہے۔ کاش! آپ ’’الیمین علی من انکر‘‘ پر قیاس کر کے آتھم سے حلف دلاتے تو بھی ایک بات ہوتی۔ گویہ قیاس بھی قیاس فاسد ہی ہوتا جس کے جواب میں آپ مخلص اور بات بنانے والے کہہ سکتے کہ:’المجتہد قد یصیب وقد یخطی‘‘ مگر یہاں تو غضب یہ ہے کہ اس مجدد کی تجدید نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ حدیث سے کوئی مطلب ہی نہیں۔ خود ہی احکام ایجاد کر سکتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’آتھم کا بیان بحیثیت شاہد مطلوب ہے نہ بحیثیت مدعا علیہ۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۶)

پس اگر مرزاقادیانی کا کوئی مرید اس حدیث سے استدلال کر کے آتھم کو حلف دلانا تجویز کرے تو وہ مجاز نہ ہو گا۔ کیونکہ اس حدیث کی رو سے مدعا علیہ پر وہ بھی دیوانی (لین دین) کے معاملہ میں قسم ہے اور آتھم پر تو مرزاقادیانی بحیثیت گواہ قسم دینا چاہتے ہیں۔ گو یہ منطق بھی ہماری سمجھ سے بالا ہے کہ آتھم گواہ ہے یا کیا؟

مرزاقادیانی اپنے دعویٰ پر کہ آتھم نے رجوع بحق کیا تھا، یہ دلیل دیتے ہیں: ’’جب سے اس نے پیش گوئی سنی تھی عیسائیت کی حمایت پر ایک سطر بھی نہیں لکھی۔ پس یہ اس کے رجوع کی علامت ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۹۷، خزائن ج۱۵ ص۳۵۸)

حالانکہ بالکل غلط۔ سراسر جھوٹ۔ مباحثہ کے بعد وہ حسب طاقت برابر مخالف تحریریں شائع کرتا رہا تھا۔ مگر آپ کے ملہم کو خبر نہیں ہوئی یا اس نے دانستہ آپ کو نہیں بتایا۔ اسلام ہی کے مخالف نہیں رہا بلکہ ان تحریروں میں وہ ذات شریف (مرزاقادیانی) پر بھی صلواتیں سناتا رہا۔

خلاصہ مباحثہ میں جو مباحثہ کے بعد اس کی تصنیف ہے، لکھتا ہے: ’’مرزاقادیانی کے ایک شاگرد مولوی نظام الدین ملتانی نے جو بحمایت اپنے استاد کے بعد اس مباحثہ کے آئے تھے، اثنائے گفتگو تثلیث میں کہا کہ میں پورا دہریہ ہوں۔ اس پر راقم نے پوچھا کہ تب تو اشیاء محدود الوجود کو حد کس نے لگا دی۔ جس کا جواب حضرت نے حیرانی اور طرح دہی کے سواء اور کچھ نہ دیا اور یہ بھی فرمایا کہ منزل کا ملاں کشف باطنی ہی ہے۔ پس ایسے مجذوب منشوں کو ہم مسئلہ تثلیث وتوحید کیا سمجھا سکتے تھے۔ بجز دعا خیر کے فقط۔‘‘

(خلاصہ مباحثہ ص۴)

23

نیز لکھتا ہے: ’’توحید محض کے عاشقاں سے پہلا سوال تو یہی ہے کہ وہ کوئی ایسی شئے دکھلا دیں، اگر دکھلا سکتے ہوں جو مجموعہ متعدد صفات کے سواء کچھ اور بھی ہو۔‘‘

(خلاصہ مباحثہ ص۳)

ان دونوں حوالوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آتھم مباحثہ کے بعد برابر اسلام کے خلاف لکھتا اور کہتا رہا اور خاص مسئلہ توحید میں (جس میں مرزاقادیانی اور آتھم کا پندرہ روز مباحثہ رہا تھا) تمام مسلمانوں سے مخالف تثلیث پر خوب جما ہوا تھا جو صحیح اسلام کی نقیض ہے۔ پھر اسی رسالہ کے ص۸ پر اپنے اعتراضات کو اس نے آپ کے مقابل اسلام پر کئے تھے، نقل کر کے آپ کے جوابات کو فضول بتاتے ہوئے لکھتا ہے:

’’ان امور کا خاص جواب منجانب مرزاقادیانی کے وہی نبوت آنحضرت (مرزاقادیانی) کی تھی کہ آج سے جو ۵؍جون ۱۸۹۳ء کی ہے۔ پندرہ مہینے کے اندر جو فریق ناراست ہی رہے گا، داخل جہنم ہو جائے گا۔‘‘

آئینہ کمالات اسلام مصنفہ آنجناب میں گویا خدا یوں کہتا ہے: ’’اے غلام احمد تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ بشرح آنجناب یعنی تو میرے دست قدرت سے نکلا ہے اور میں تیرے کمال سے جلال پاتا ہوں۔ ہم کو تو اس آئینہ میں چہرہ کس دہریہ یا ہمہ اوست کا جو برادر توام دہریہ کا ہے، نظر آتا ہے اور معجزات ایسے شخص (مرزاقادیانی) کے ممتحن ایمان ہی نہ مطمئن اطمینان جو تصدیق کذب کی کرتے۔‘‘

(خلاصہ مباحثہ ص۸)

اس اخیر کے فقرے میں آتھم نے کھلے لفظوں میں مرزاقادیانی کو دجال اور جھوٹا بھی کہا ہے۔ کیونکہ اس نے انجیل کے اس مقام کی طرف اشارہ کیا ہے، جہاں پر حضرت مسیح نے فرمایا ہے کہ: ’’بہت سے جھوٹے نبی آویں گے۔ خبردار رہنا خدا ان کی وجہ سے تمہارا امتحان کرے گا۔‘‘

(انجیل متی باب:۲۴، آیت:۱۲)

کہئے: مرزاقادیانی آپ کو دجال یا کذاب کہنا بھی آپ کے اسلام کے مخالف ہے یا موافق؟ پھر تعجب ہے کہ آپ کے تمام مباحثہ کو فضول سمجھتا ہے اور آپ کو کھلے لفظوں میں دجال لکھتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس نے خاموش رہ کر رجوع کا ثبوت دیا۔ کیا توحید کے خلاف تثلیث کا قائل ہو اور ذات شریف کو دجال کہے تو بھی وہ رجوع بحق ہے؟ اور کہا جاسکتا ہے کہ وہ آپ کے متنازعہ مسئلہ میں اپنا خیال چھوڑ کر آپ کا ہم خیال ہو گیا؟ علاوہ اس کے یہ کیا دلیل ہے کہ چونکہ اس نے عیسائیت کی حمایت میں کچھ نہ لکھا۔ اس لئے وہ عیسائی نہ تھا۔

24

کیا کسی مذہب کی حمایت میں تصنیف نہ کرنا، اس مذہب کے ترک یا روگردانی کی دلیل ہے؟ کیا آپ کی جماعت کے لکھے پڑھے تمام ہی آپ کی تائید میں لکھتے ہیں تو کیا نہ لکھنے والے آپ کو چھوڑ بیٹھے ہیں؟ (خدا کرے)

(افسوس ہے حکیم صاحب نے اس جواب کو دیکھا بھی نہ ہو گا۔ اس لئے اس کے پاس سے چپکے سے گزر گئے)

اس پیش گوئی نے مرزاقادیانی کو ایسا حیران کر رکھا ہے کہ انہی مطلق خبر نہیں کہ میں کیا لکھ رہا ہوں جو کچھ منہ میں آیا کہہ دیا یا معتقدین:’’آمنا وصدقنا فاکتبنا مع الصادقین‘‘کہنے کو تیار ہیں۔ آپ ’’کشتی نوح‘‘ کو بے بانس چلاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس (آتھم) نے عین جلسہ مباحثہ پر ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرتﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا… اور پیش گوئی کی بناء یہی تھی کہ اس نے آنحضرتﷺ کو دجال کہا تھا۔‘‘

(کشتی نوح ص۶، خزائن ج۱۹ ص۶)

ناظرین! کیسی ہوشیاری ہے کہ آتھم کی پیش گوئی کی بناء یہ بتلائی ہے کہ اس نے آنحضرتﷺ کو دجال کہا تھا۔ حالانکہ پیش گوئی کے الفاظ میں ان معنی کی طرف اشارہ بھی نہیں۔ ناظرین! شروع رسالہ میں پیش گوئی کے الفاظ بغور پڑھیں۔ دیکھئے کس تشریح کے ساتھ لکھا ہے کہ جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے، وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ کجا عاجز انسان کو خدا بنانا اور کجا آنحضرتﷺ کو دجال کہنا، یہ ہے مرزاقادیانی کی حرکت مذبوحی جس سے ان کی بے بسی نمایاں ہے۔

سچ ہے: ’’لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (النساء:۸۲)‘‘یعنی جو کلام خدا کی طرف سے القا اور وحی نہ ہو اس میں بہت بڑا اختلاف ہوتا ہے۔ اور یہی اختلاف اس کے کذب کی دلیل ہے۔

حیرت انگیز چالاکی

مرزاقادیانی اپنی پیش گوئی کی توضیح یوں کرتے ہیں کہ اگر آتھم رجوع بحق نہ کرے گا تو ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ یعنی اس کا رجوع بحق کرنا ہاویہ میں گرائے جانے کو مانع ہے۔ گویا ان دونوں باتوں میں تضاد کا علاقہ ہے۔ جیسے رات اور دن میں یا سیاہ اور سفید میں کہ ایک کے ہوتے دوسرے کا ہونا ممکن نہیں بلکہ نہ ہونا ضرور ہے۔ یعنی ہاویہ اسی صورت میں

25

ہو گا کہ رجوع نہ ہو۔ رجوع ہو تو ہاویہ نہ ہو گا۔ پس ناظرین اس تقریر کو ذہن نشین کر کے مرزاقادیانی کی عبارات مندرجہ ذیل کو غور سے پڑھیں کہ مرزاقادیانی کس ہوشیاری سے بکف چراغ داشتہ دونوں ضدوں (رجوع اور ہاویہ) کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں۔ پس سنو!

’’آتھم نے اپنے اس خوف زدہ ہونے کی حالت سے جس کا اس کو خود اقرار بھی ہے جو نورافشاں میں شائع ہو چکا ہے، بڑی صفائی سے یہ ثبوت دے دیا ہے کہ وہ ضرور ان ایام میں پیش گوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا۔ یعنی اس نے اپنی مضطربانہ حرکات اور فعال سے ثابت کر دیا کہ ایک سخت غم نے اس کو گھیر لیا ہے اور ایک جان کا اندیشہ ہر وقت اور ہر دم اس کے دامن گیر ہے۔ جس کے ڈرانے والی تمثلات نے آخر اس کو امرتسر سے نکال دیا۔ واضح ہو کہ یہ انسان کی ایک فطرتی خاصیت ہے کہ جب کوئی سخت خوف اور گھبراہٹ اس کے دل پر غلبہ کر جائے اور غایت درجہ کی بے قراری اور بے تابی تک نوبت پہنچ جائے تو اس کے نظارے طرح طرح کی تمثلات میں اس پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور آخر ڈرانے والے نظارے مضطربانہ حرکت کی طرف مجبور کرتے ہیں۔ اسی کی طرف توریت استثناء میں بھی اشارہ ہے کہ قوم اسرائیلی کو کہاگیا کہ جب تو نافرمانی کرے گا اور خداتعالیٰ کے قوانین اور حدود کو چھوڑے گا تو تیری زندگی تیری نظر میں بے ٹھکانہ ہو جائے گی اور خدا تجھ کو ایک دھڑکا اور جی کی غمناکی دے گا اور تیرے پاؤں کے تلوے کو قرار نہ ہو گا اور جابجا بھٹکتا پھرے گا۔ چنانچہ بارہا ڈرانے والے تمثلات بنی اسرائیل کی نظر کے سامنے پیدا ہوئے اور خوابوں میں دکھائی دئیے جن کے ڈر سے وہ اپنے جینے سے ناامیدہو گئے اور مجنونانہ طور پر وہ شہر بشہر بھاگتے پھرے۔ غرض یہ ہمیشہ سے سنت اللہ ہے کہ شدت خوف کے وقت کچھ کچھ ڈرانے والی چیزیں نظر آ جایا کرتی ہیں اور جیسے جیسے بے آرامی اور خوف بڑھتا جاتا ہے وہ تمثلات شدت اور خوف کے ساتھ ظاہر ہوتے جاتے ہیں، اب یقینا سمجھو کہ آتھم کو انذاری پیش گوئی سننے کے بعد یہی حالت پیش آئی۔‘‘

(ضیاء الحق ص۹، ۱۰، خزائن ج۹ ص۲۶۰، ۲۶۱)

’’یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح یونس کی قوم کو ملائک عذاب کے تمثلات میں دکھائی دیتے تھے، اسی طرح ان کو بھی سانپ وغیرہ تمثلات دکھائی دئیے، مگر ساتھ ہی ضروری طور پر اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ جس شخص کا خوف ایک مذہبی پیش گوئی سے اس حد تک پہنچ جائے کہ اس کو سانپ وغیرہ ہولناک چیزیں نظر آئیں، یہاں تک کہ وہ ہراساں اور ترساں اور

26

پریشان اور بے تاب اور دیوانہ سا ہو کر شہربہ شہربھاگتا پھرے، اور سراسیموں اور خوف زدوں کی طرح جابجا بھٹکتا پھرے۔ ایسا شخص بلاشبہ یقینی یا ظنی طور پر اس مذہب کا مصدق ہو گیاہے۔ جس کی تائید میں وہ پیش گوئی کی گئی تھی اور یہی معنی رجوع الیٰ الحق کے ہیں اور یہی وہ حالت ہے جس کو بالضرور رجوع کے مراتب میں سے کسی مرتبہ پر محمول کرنا چاہئے اور میں جانتا ہوں کہ آتھم صاحب کا اس پیش گوئی سے جو دین اسلام کی سچائی کے لئے کی گئی تھی، جس کے ساتھ رجوع بحق کی شرط بھی تھی۔ اس قدر ڈرنا کہ سانپ نظر آنا اور نیزوں اور تلواروں والے دکھائی دینا یہ ایسے واقعات ہیں جو ہر ایک دانشمند جو ان کو نظر یکجائی سے دیکھے گا، وہ بلاتأمل اس نتیجہ پر پہنچ جائے گا کہ بلاشبہ یہ سب باتیں پیش گوئی کے پرزور نظارے ہیں اور جب تک کسی کے دل پر ایسا خوف مستولی نہ ہو جو کمال درجہ تک پہنچ جائے تب تک ایسے نظاروں کی ہر گزنوبت نہیں آتی جو شخص مکذب اسلام ہو، اور حضرت عیسیٰ کے دور تک ہی الہام پر مہر لگا چکا ہو کیا وہ اسلامی پیش گوئی سے اس قدر ڈر سکتا ہے۔ بجز اس صورت کے کہ اپنے مذہب کی نسبت شک میں پڑ گیا ہو اور عظمت اسلامی کی طرف جھک گیا ہو۔‘‘

(ضیاء الحق ص۱۲، ۱۳، خزائن ج۹ ص۲۶۴، ۲۶۵)

عبارت مذکورہ بالا صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہے کہ آتھم نے رجوع کیا جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے اور (بقول مرزاقادیانی) اس کے رجوع بحق ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے دل پر جو خوف غالب ہوا جس کی وجہ سے وہ بھاگا پھر آپس اس کانتیجہ صاف اور صریح یہ ہونا چاہئے تھا کہ آتھم ہاویہ سے بچا رہتا، مگر وہ بے چارہ باوجود ایسے رجوع کے ہاویہ سے بھی محفوظ نہ رہا۔ گویا اجتماع ضدین کا استحالہ اس کے حق میں واقع ہو گیا۔ اس دعویٰ کی دلیل کہ آتھم کو مرزاقادیانی نے باوجود رجوع بحق کرنے کے بھی (اپنے مصنوعی) ہاویہ میں گرانا چاہا بلکہ گراہی دیا۔ مرزاقادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل ہے۔ غور سے سنو!

’’اور توجہ سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں، وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ ان کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا، یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے، جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں۔ بے شک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔‘‘

(انوارالاسلام ص۵،۶ خزائن ج۹ ص۵،۶)

27

اور لکھتے ہیں: ’’پس اے حق کے طالبو! یقینا سمجھو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیش گوئی پوری ہوگئی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلت پہنچی۔ ہاں! اگر مسٹر عبداللہ آتھم اپنے پر جزع فزع کا اثر نہ ہونے دیتا اور اپنے افعال سے اپنی استقامت دکھاتا اور اپنے مرکز سے جگہ بہ جگہ بھٹکتانہ پھرتا اور اپنے دل پر وہم اور خوف اور پریشانی غالب نہ کرتا، بلکہ اپنی معمولی خوشی اور استقلال میں ان تمام دنوں کو گزارتا تو بے شک کہہ سکتے تھے کہ وہ ہاویہ میں گرنے سے دور رہا۔ مگر اب تو اس کی یہ مثال ہوئی کہ قیامت دیدہ ام پیش از قیامت۔ اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اس نے اپنی تمام زندگی میں ان کی نظیر نہیں دیکھی تھی، پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں درحقیقت ہاویہ میں رہا۔ اگر تم ایک طرف ہماری پیش گوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اس کے مصائب کو جانچو جو اس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اس بات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بے شک ہاویہ میں گرا ضرور گرا اور اس کے دل پر وہ رنج اور غم اور بدحواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے۔ ہاں! اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور ہماری تشریحی عبارات میں درج ہے، یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس نے عظمت اسلام کی ہیبت کو اپنے دل میں دھنسا کر الٰہی قانون کے موافق الہامی شرط سے فائدہ اٹھا لیا۔ مگر موت کے قریب قریب اس کی حالت پہنچ گئی اور وہ درد اور دکھ کے ہاویہ میں ضرور گرا اور ہاویہ میں گرنے کا لفظ اس پر صادق آ گیا۔ پس یقینا سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خداتعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔ فالحمد ﷲ علٰی ذالک!‘‘

(انوارالاسلام ص۷، خزائن ج۹ ص۷،۸)

عبارت مذکور بالا صاف اور صریح طور پر اپنا مدعا بتارہی ہے۔ ایسی کہ کسی شرح یا حاشیہ کی ضرورت نہیں۔ بعبارت النص ظاہر ہوتا ہے کہ آتھم ہاویہ میں گرا،کیوں گرا؟ حسب مضمون پیش گوئی رجوع بحق نہ کیا ہو گا۔حالانکہ رجوع بحق کر چکا تھا، جو عبارت منقولہ از ضیاء الحق سے ظاہر ہے۔ ہم مرزاقادیانی کے اہل علم حضرات کو علمی طرز پر تقریر سناتے ہیں تاکہ ان کو معقولی اصطلاح میں اس تہافت کا سمجھنا آسان ہو۔ مرزاقادیانی کی عبارت کا مطلب علی طریق القیاس الاستثنائی یوں ہے: ’’ان رجع عبداللہ الی الحق فہو ناج من الہاویۃ لکنہ رجع فلیس بناج‘‘

مرزاقادیانی کے دوستو! آج تک تمام اہل معقول کا اجماع تھا کہ: ’’وضع المقدم یستلزم وضع التالی ورفع التالی یستلزم رفع المقدم‘‘

28

آج یہ نئی منطق کیا ہے کہ:: ’’وضع المقدم یرفع التالی فاین التلازم‘‘ کیا منطقی اصطلاحات میں بھی تجدید تو نہیں کی؟ کیوں نہ ہو؟

  1. امن ازدیارک فی الدجی الرقباء

    اذ حیث کنت من الظلوم ضیاء

۳۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کو موضع مدضلع امرتسر میں راقم کا مباحثہ ہوا۔ فریق مرزائیہ کی طرف سے مولوی سرور شاہ مباحث تھے۔ ان سے بھی اس تناقض کا میں نے ذکر کیا، مجھے تو خیال تھا کہ شاہ صاحب اس کا کچھ عالمانہ جواب دیں گے۔ مگر افسوس کہ جو کچھ انہوں نے جواب دیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے حق میں وہی مثل صادق ہے جو پڑھا لکھا تھا نیاز نے ایک دم میں سارا بھلادیا۔ آپ کی تحریر میرے پاس موجود ہے۔ چنانچہ حرف بحرف وہ یہ ہے: ’’یاد رہے کہ رجوع ثابت اور رجوع کے ایام میں ہاویہ میں نہیں پڑا۔ ہاں! عدم رجوع کے ایام اسی پندرہ ماہ کی میعاد کے اندر وہ ہاویہ میں گر گیا۔ غرض پہلے ۱۵ماہ رجوع کے ہیں اور دوسرے ۱۵ماہ عدم رجوع کے واقع میں کوئی تناقض نہیں۔ اپنی سمجھ کا تناقض ہے۔‘‘

مرزاقادیانی کے کلام منقولہ سے پایا جاتا ہے کہ آتھم کے ایک ہی فعل یعنی انتقال مکانی کو وہ رجوع اور ہاویہ دو نام رکھتے ہیں جو پندرہ مہینوں میں وہ کرتا رہا۔ پھر اس کے لئے شاہ جی کا یہ توجیہہ کرنا کہ پندرہ ماہ کا پہلا حصہ رجوع کا اور دوسرا عدم رجوع کا حقیقت میں حرکت مذبوحی اور تاویل الکلام بما لایرضٰی بہ قائلہ کے سواء کچھ بھی نہیں۔

اگر کسی صاحب کو یہ شبہ ہو کہ خدا جانے مرزاقادیانی کی عبارت ثانیہ کا کیا مطلب ہے، یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ باوجود رجوع بحق کرنے آتھم کے پھر بھی وہی ہاویہ میں گرایا جاتا، یہ تو صاف تناقض صریح اور تہافت قبیح ہے جو ادنیٰ عقل کے آدمی سے بھی بعید ہے۔ مرزاقادیانی تو ماشاء اللہ! بڑے مصنف ہیں۔ اگر الہامی نہیں ان کے مصنف اور مناظر ہونے میں تو شک نہیں۔ ’’ہرکہ شک آرد کافر گردد‘‘ (یعنی کفر باالطاغوت) پھر ایسے صریح تناقض کے وہ کیونکر مرتکب ہونے لگے تھے جو احمق۱؎ اسے احمق بھی نہ کہے کہ جس چیز کا وجود کسی چیز کے لئے مانع ہو اس کے ہوتے بھی وہ چیز متحقق ہو سکے۔ باوجود تسلیم کر لینے کے قاعدہ۔

۱؎

مولوی سرور شاہ نے بھی موضع مدضلع امرتسر کے مباحثہ میں یہی کہا تھا کہ مرزاقادیانی پاگل ہے کہ کہیں کچھ کہے اور کہیں کچھ۔ مگر ہمارا یہ خیال نہیں کہ مرزاقادیانی پاگل ہے بلکہ پاگل گر ہے۔

29

’’العددا مافرد اوزوج‘‘کے یہ کہنا’’العدد فرد مع انہ زوج لا یقول بہ احد الامن سفہ نفسہ‘‘

تو ایسے صاحبوں کی دلجمعی کے لئے ہم ہی نے یہ معنی مرزاقادیانی کی عبارت سے نہیں سمجھے بلکہ مرزاقادیانی کے اخص الخواص بلکہ امام الصلوٰۃ نے جو مرزاقادیانی سے بھی افضل اور مرزاقادیانی اس کے مقابلہ میں نہایت حقیر اور ذلیل۱؎ ہیں ایسے ثقہ بلکہ (مرزائی جماعت کے) امام الثقات نے بھی یہی معنی سمجھے ہیں۔ کیونکہ وہ خود آتھم کو ہاویہ تک چھوڑنے گیا تھا (معلوم نہیں بوجہ معذوری خود واپس ہوایا نہیں) غور سے سنو!

’’(آتھم) پندرہ ماہ کے اندر اسلام کے خلاف ایک لفظ نہ بولا (بالکل جھوٹ) اور سراسیمگی اور دہشت کی حالت میں شہربشہر مارا پھرا کہ کسی طرح ملک الموت کے پنجہ سے نجات پاوے۔ اس عرصہ میں اسے کئی دفعہ خونی فرشتے بھی نظر آئے۔ اس کی قوت واہمہ نے اس پر ایسا اثر کیا کہ کہیں اس کی نظر میں بشکل اصل مجسم سانپ نمودار ہونے لگے۔ کہیں خونی فرشتے حملہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے۔ غرضیکہ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں سخت سے سخت ہاویہ کے عذاب میں گرا رہا۔‘‘

(سیرت مسیح موعود حاشیہ ص۲۵)

اب تو شبہ بالکل رفع ہو گیا کہ مرزاقادیانی اپنی پیش گوئی کی تصدیق کے لئے کہاں تک کوشش کرتے ہیں۔ ایسی کہ اجتماع ضدین کی بھی انہیں پرواہ نہیں رہتی۔ طرفہ تر یہ کہ اجتماع ضدین ہی پر قناعت نہیں بلکہ ایک ہی شئے کو دو متضاد چیزیں بتلایا جاتا ہے۔ وہی آتھم کا ایک فعل ہے۔ یعنی (بقول مرزاقادیانی) پیش گوئی کے خوف سے اضطراب کرنا اسی کو رجوع بحق کہا جاتا ہے اور اسی کا نام ہاویہ رکھا جاتا ہے۔ پھر اسی کمال علمی پر سلطان القلم کا لقب اور مہدی زمان اور مسیح دوران کا ادّعا؟

  1. بت کریں آرزو خدائی کی

    شان ہے تیری کبریائی کی

مرزائیو! اور مرزاقادیانی کے اخص الخواص مقربو! علم کے مدعیو! علماء کرام کو جاہل اور کندہ ناتراش کہنے والو! انصاف سے خدا کے لئے مثنیٰ وفرادیٰ ہو ہو کر سوچو۲؎۔ ’’لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا (النساء:۸۲)‘‘کے صدق میں کچھ شک ہے یا مرزاقادیانی کے کمال علم ودیانت میں کوئی شبہ باقی ہے؟

۱؎

دیکھو (ازالہ اوہام ص۱۴۵، خزائن ج۳ ص۱۷۴) مقتدی امام کی نسبت حقیر وذلیل ہوتا ہے۔

۲؎

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جو کلام غیراللہ کی طرف سے ہو، اس میں بہت اختلاف ہوتا ہے۔

30
  1. تمہیں تقصیر اس بت کی جو ہے میری خطاء لگتی

    ارے لوگو! ذرا انصاف سے کہو خدا لگتی

اظہار تعجب: صفحہ پندرہ کتاب ہذا سے یہاں تک کے مضمون کا حکیم صاحب نے کچھ جواب نہیں دیا۔

ایک اور طرز سے بھی اس پیش گوئی کی تکذیب ہوتی ہے۔ قاعدہ کلیہ جس کو مرزاقادیانی نے بھی (ازالہ اوہام ص۵۷۸، خزائن ج۳ ص۴۱۲) پر بڑے زوروشور سے بیان کیا ہے اور حضرت مسیح کے دوبارہ نہ آنے کو اسی قاعدہ پر مرتب سمجھا ہے جس کا بیان اہل علم کی اصطلاح میں یوں کیا جاتا ہے: ’’الشی اذا ثبت ثبت بلوازمہ‘‘یعنی جب کوئی چیز وجود پذیر ہوتی ہے تو اس کے لوازم اس کے ساتھ ہوتے ہیں جس کو مرزاقادیانی کے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ: ’’ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۷۸، خزائن ج۳ ص۴۱۲)

پس بعد تسلیم اس قاعدہ عقلیہ کے ہم اس پیش گوئی کے لوازم کی پڑتال کرتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ مرزاقادیانی نے بھی اس پیش گوئی کے لوازم بتلائے تھے۔ یعنی: ’’جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیش گوئی ظہور میں آئے گی، بعض اندھے سوجاکھے (دیہاتی اردو) کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۲)

پس ہم لازم اوّل ہی کو دیکھتے ہیں کہ کہاں تک اس کا ظہور ہوا۔ کچھ شک نہیں کہ سچوں کی عزت سے مرزاقادیانی کی اپنی اور اپنی جماعت کی عزت تھی۔ سو اس پیش گوئی کے موقع پر جیسی کچھ ظہور میں آئی خدا دشمن کی بھی نہ کرے۔ ہر ایک قوم کی طرف سے ایک نہیں کئی کئی اشتہارات اخبار ورسالہ جات نکلے جن میں مرزاقادیانی کی عزت اور آؤ بھگت کے کلمات طیبات بھرے ہوئے تھے۔ سب کو نقل کرنا تو قریب محال ہے۔ ان میں سے چندبطور مشتے نمونہ ازخروارے نقل کر کے باقی کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ اہالی امرتسر کی طرف سے جو اشتہارات نکلے تھے، ان میں سے ایک یہ ہے۔

مرزاقادیانی اور آتھم کی لڑائی میں اسلام کی صداقت

’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘

آج ہم اس آیت کی تصدیق پاتے ہیں کہ خدا اپنے دین اسلام کی کیسی تائید کرتا

31

ہے۔ جو لوگ اس دین کی آڑ میں ہو کر اس دین کو بگاڑنا چاہتے ہیں ہمیشہ ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا کہ تمام مخلوق کی نظروں میں ذلیل اور رسوا ہوا کہ آتھم امرتسری باوجود پیرانہ سالی کے پندرہ مہینے کی مدت میں (جس میں کئی فصول ہیضہ بھی ہوئیں) نہیں مرے۔ نہ صرف آتھم بلکہ اور ایک اور صاحب بھی (جن کی موت کے بعد مرزاقادیانی نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا تھا جس کی مدت حسب شہادت القرآن مرزاقادیانی ۲۰؍اگست کو پوری ہو گئی ہے) نہیں مرے۔

  1. تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بھگارتے

    وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

کیا آج کوئی نہیں جو مرزاقادیانی کا ساتھ دے؟ حکیم نورالدین کہاں ہیں؟ احسن امروہی کہاں ہیں؟ ریاض ہند کے نوجوان ایڈیٹر جو مارے خوشی کے پھولے نہ سماتے تھے کہاں ہیں؟ وہ سیالکوٹ کے معذور لیکچرار کہاں ہیں؟ خواجہ صاحب لاہوری کہاں ہیں؟ سچ ہے اور بالکل سچ ہے: ’’ولو تقول علینا بعض الاقاویل۔ لاخذنا منہ بالیمین‘‘

اہالی لدھیانہ نے جو اشتہار دئیے ان میں سے ایک دو یہ ہیں:

  1. مدد ہے مباہل کو یہ آسمانی

    ہوئی جس سے ہے ذلت قادیانی

قول صائب

  1. بنمائے بہ صاحب نظرے گوہر خودرا

    عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند

  2. ارے او خود غرض خود کام مرزا

    ارے منحوس نا فرجام مرزا

  3. غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو

    رسول حق یا استحکام مرزا

  4. مسیح و مہدی موعود بن کر

    بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا

  5. ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر

    مسیحائی کا یہ انجام مرزا

  6. مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے

    ہے آتھم زندہ اے ظلام مرزا

  7. تری تکذیب کی شمس و قمر نے

    ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا

  8. ڈبویا قادیاں کا نام تو نے

    کہیں کیا اے بد و بد نام مرزا

  9. کہاں ہے اب وہ تیری پیش گوئی

    جو تھا شیطان کا الہام مرزا

  10. اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو

    بظاہر اس میں ہے آرام مرزا

  11. بشیر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا

    ترا اعزاز اور اکرام مرزا

32
  1. کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور

    دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا

  2. و لیکن تو نہ آیا باز پھر بھی

    یہ اسی شوخی کا ہے انعام مرزا

  3. نہ کہتا کچھ اگر منہ پھاڑ کر تو

    ندامت کا نہ پیتا جام مرزا

  4. گلے میں اب ترے رسا پڑے گا

    سیہ رو ہو گا پیش عام مرزا

  5. سزا بھی کم سے کم اتنی تو ہو گی

    کہ ہو جائے تجھے سرسام مرزا

  6. ہے سولی اور پھانسی کار سرکار

    رعایا کا نہیں یہ کام مرزا

  7. مسلمانوں سے تجھ کو واسطہ کیا

    پڑا کہلا نبی تام مرزا

  8. کہ اک بھائی ہے مرشد بھنگیوں کا

    اور اک ہجڑوں کا بے اندام مرزا

  9. کہا اسلامیوں نے خلف پا کر

    ہے کاذب خارج از اسلام مرزا

  10. تو ہے اک انبیائے بعل میں سے

    سلف کو دے رہا دشنام مرزا

  11. زمین و آسماں قائم ہیں اب تک

    ترے وہ ٹل گئے احلام مرزا

  12. براہین سے ٹھگے تو نے مسلمان

    کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا

  13. بحمداللہ کہ چھپ کر فتح و توضیح

    کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا

  14. در توبہ ہے وا ہو جا مسلمان

    یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا

ولہ ایضاً

  1. غضب تھی تجھ پر ستمگر چھٹی ستمبر کی

    نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی

  2. ہے قادیانی ہی جھوٹا مرا نہیں آتھم

    یہ گونج اٹھا امرتسر چھٹی ستمبر کی

  3. ترے حریف کو فیروزپور سے لائی

    یہ ریل ہے جو تراخر چھٹی ستمبر کی

  4. ذلیل و خوار ندامت چھپا رہے تھے کہ تھا

    تیرے مریدوں پہ محشر چھٹی ستمبر کی

  5. یہ لدھیانہ میں مرزائیوں کی حالت تھی

    کہ جینا ہو گیا دوبھر چھٹی ستمبر کی

  6. سوا برس کے تھے امیدوار سب مایوس

    مرید اعرج و اعور چھٹی ستمبر کی

  7. مسیح مہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب

    یہ کہتے پھرتے تھے گھر گھر چھٹی ستمبر کی

  8. ہے روسیاہ مثیل مسیلم و اسود

    ملاحدہ کا وہ رہبر چھٹی ستمبر کی

  9. یہ قادیانی کی تذلیل کس لئے تھی؟ نہ تھا

    مباہلہ کا اثر گر چھٹی ستمبر کی

عیسائیوں کی طرف سے جو اشتہار نکلے ان میں سے ایک یہ تھا:

33
  1. ایسی مرزا کی گت بنائیں گے

    سارے الہام بھول جائیں گے

  2. خاتمہ ہووے گا نبوت کا

    پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے

رسول قادیانی کو پھر الہام

  1. نہ باز آیا تو کچھ بکنے سے اب بھی

    بڑھاپے میں ہے یہ جوش جوانی

  2. نچاوے ریچھ کو جیسے قلندر

    یہ کہہ کر تری مر جاوے نانی

  3. اے سن او رسول قادیانی

    لعین و بے حیاء شیطان ثانی

  4. نچاویں گے تجھ کو بھی اک ناچ ایسا

    یہی ہے اب دل میں مصمم ٹھانی

  5. پنجہ آتھم سے مشکل ہے رہائی آپکی

    توڑ ہی ڈالیں گے وہ نازک کلائی آپکی

  6. آتھم اب زندہ ہیں آ کر دیکھ تو آنکھوں سے خود

    بات یہ کب چھپ سکے ہے اب چھپائی آپکی

  7. کچھ کروم شرم و حیاء تاویل کا اب کام کیا

    بات اب بنتی نہیں کوئی بنائی آپکی

  8. جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتلانا صریح

    کون مانے ہے بھلا یہ کج ادائی آپکی

  9. جھوٹ ہیں باطل ہیں دعوے قادیانی کے سبھی

    بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپکی

  10. حق ہے صادق اور صادق حق کا سب الہام ہے

    ہو گئی شیطان سے ثابت آشنائی آپکی

  11. ہو گیا ثابت ہے سب اقوال بد سے آپ کے

    کر رہا شیطان ہے بے شک رہنمائی آپکی

  12. اپنے نیچے سے نہیں شیطان تمہیں دیتا نجات

    اس کو کب منظور ہے اک دم جدائی آپکی

  13. تم ہو اس کے اور وہ اب ہے تمہارا یار غار

    رات دن کرتا وہی ہے رہنمائی آپکی

  14. ہم نہ کہتے تھے کہ شیطان کا کہا مانو نہ یار

    کس بلا میں اس نے دیکھو جان پھنسائی آپکی

  15. ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار اور دھتکار ہے

    دیکھو کیسی ناک میں اب جان آئی آپکی

  16. خوب ہے جبریل اور الہام والا وہ خدا

    آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپکی

  17. ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام تھا

    کس لئے کرتا نہیں مشکل کشائی آپکی

  18. اب بتاؤ ہیں کہاں اب آپ کے پیرو و مرید

    جو گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپکی

  19. کرتے ہیں تعظیم جھک جھک کر تو حاصل اس سے کیا

    ڈوم، کنجر، دہرئیے، کنجڑے قصائی آپکی

  20. آپ نے دنیا کے ٹھگنے کا نکالا ہے یہ ڈھنگ

    جانتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپکی

  21. کچھ کرو خوف خدا کا کیا حشر کو دو گے جواب

    کام کس آئے گی یہ دولت کمائی آپکی

  22. ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم ہوتے ہیں مگر

    سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپکی

  23. کر کے منہ کالا گدھے پر کیوں نہیں ہوتے سوار

    فیصلے کی شرط ہے مانی منائی آپکی

34
  1. داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہے

    کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپکی

  2. آپ کے دعوؤں کو باطل کر دیا حق نے تمام

    اب بھی تائب ہو اسی میں ہے بھلائی آپکی

  3. اب بھی قسمت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر ہے

    ہاتھ کب آئے گی یہ مہلت گنوائی آپکی

  4. سخت گمراہوں میں سمجھے مسیح کی شان کو

    راہ حق اور زندگی سے ہے لڑائی آپکی

  5. خاتمہ بالخیر ہو گا اور ہو گے سرخرو

    ہو گئی اب بھی مسیح سے گر صفائی آپکی

المشتہر

  1. اب دام مکر اور کس جا بچھائیے

    بس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے

ان اشتہاروں کی بھی چنداں حاجت نہیں۔ مرزاقادیانی خود ہی مانتے ہیں کہ پیش گوئی کے خاتمہ پر تمام مخالفوں نے خوشی منائی اور مرزاقادیانی کی تذلیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔‘‘

(سراج منیر ص۴۷، خزائن ج۱۲ ص۵۴)

مرزائیو! ’’یوخذ المرء باقرارہ۱؎‘‘پر غور کرو اور ان دنوں کی عزت وذلت کو سوچو کہ کس کے نصیب تھی؟ بلکہ کوئی اب بھی اگر تم سے آتھم والی پیش گوئی کا ذکر کرے تو تمہارے دل پر کیا کچھ ذلت اور ندامت کے خطرات گزرتے ہیں۔ سچ بتانا خدا کو حاضر وناظر سمجھ کر بتانا کہ جس طرح عیسائیت تثلیث پر گفتگو کرنے سے جی چراتے ہیں۔ تم اس پیش گوئی کو ٹلاتے ہو یا نہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ تم بالکل ہی چپ چاپ ہو جاتے ہو۔ حاشا وکلّا! تم ایسے کہاں؟ فونوگراف کیا اور آواز مد خولہ کے پورا پہنچانے سے خاموشی کیا؟ ظاہر میں تو بہت کچھ کہتے ہو، بلکہ اپنے پیر کی پوری وکالت کرتے ہو، مگر ہمارا یہ سوال ظاہری مناظرہ سے نہیں بلکہ اندرونی کیفیت سے ہے، جس کو تم اور علیم بذات الصدور کے سواء اور کوئی نہیں جانتا۔ فافہم!

حکیم صاحب سے اس معقول تقریر کا جواب اور کچھ تو نہ بن سکا۔ ہاں! یہ فرمایا اور کیا خوب فرمایا: ’’اے سلیم الفطرت دانشمندو! ذرا غور کرو اور خدا کے لئے غور کرو کہ اگر محض

۱؎

آدمی اپنے اقرار سے پکڑا جاتا ہے۔

35

ناعاقبت اندیش اور سلامتی کے دشمن خبیث الفطرت معاندین کی گالیاں کسی مامور ومرسل کی تکذیب کا مؤجب ہوسکتی ہیں تو انصاف سے کہو کیا پھر دنیا میں کوئی راست باز ہوسکتا ہے؟ وغیرہ!‘‘

(آئینہ حق نما ص۸۸ از یعقوب علی تراب قادیانی)

حکیم صاحب! آپ تو مولوی کے علاوہ حکیم اور مشہور طبیب بھی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کوئی صحیح الدماغ نہ کہہ سکے۔ بے شک کافروں اور حق کے مخالفوں سے حضرات انبیاءؑ اور اولیاء سخت سے سخت بدکلامیاں، گالیاں اور بدزبانیاں سنتے رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کب کہا تھا کہ فلاں کام ہونے سے ہماری عزت ہو گی۔ پھر اسی کام پر ان کی بے عزتی ہوئی۔ حکیم صاحب! قضیہ مخصوصہ اور ہے اور کلیہ اور ہے۔ ہماری مراد تو اس خاص وقت سے ہے جو بقول مرزاقادیانی ان کی عزت کا وقت تھا۔ عزت کے وقت میں ذلت کے ہونے سے تکذیب نہیں توپھر کیا ہے؟ سنئے! قرآن مجید نے اس کے مشابہ ایک پیش گوئی یوں فرمائی ہے:’’یومئذ یفرح المؤمنون بنصراللہ (الروم:۴،۵)‘‘

جس روز رومی ایرانیوں پر غالب آویں گے اس روز مسلمان بھی اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے۔ کیا اس روز مسلمان بوجہ فتح بدر خوش نہیں ہوئے تھے؟ اگر خوش نہ ہوتے بلکہ کسی وجہ سے مسلمانوں کو ناخوشی حاصل ہوتی تو یہ پیش گوئی صحیح ہوسکتی؟ ہرگز نہیں۔

حکیم صاحب! آپ تو طبیب ہیں۔ یوں تو کئی ایک مریض آپ کے زیرعلاج مرے ہوں گے۔ تاہم آپ پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن آپ کسی بیمار کی نسبت یہ کہہ دیں کہ یہ ضرور اچھا ہو گا، اس روز میری عزت دوبالا ہو جائے گی۔ اتفاق سے وہ مر جائے اور اہل میت بجائے عزت کے آپ کی گت بنادیں، کارٹون نکالیں، یہ کریں، وہ کریں تو بتائیے اس واقعہ پر بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ طبیبوں کے زیرعلاج سینکڑوں ہزاروں مریض مرتے ہیں۔ اگر اس واقعہ سے مجھ پر اعتراض ہے تو مجھ سے پہلے کوئی طبیب بھی قابل اور لائق ثابت نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ یہ عذر کریں تو شہر کے پرائمری مدارس کے لونڈے بھی آپ پر ہنسیں گے اور کہیں گے کہ حکیم صاحب کو معلوم نہیں کہ کسی واقعہ پر اپنی عزت کی پیش گوئی کرنی اور بات ہے اور عام طور پر مخالفوں سے تکلیف اور ذلت اٹھانی اور بات ہے۔ غالباً ہر عاقل بالغ ان دو مضمونوں میں تمیز کر سکتا ہے۔ الا من سفہ نفسہ!

اور ایک اور طرز سے بھی پیش گوئی کی تکذیب ہوتی ہے۔ مرزاقادیانی اپنے الہام

36

یا وحی یا نبوت اور رسالت کو انبیاء کے منہاج اور طرز پر بتلایا کرتے ہیں۔ پس ضرور ہے کہ مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں بھی انبیاء کی پیش گوئیوں کی طرز پر ہوں۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جو پیش گوئی انبیاءؑ نے کی خاص کر وہ پیش گوئی جو بطور مقابلہ کے ہو گی۔ اس کا ظہور ایسے طریق سے ہوا ہے کہ کسی موافق یا مخالف کو اس کے وقوع میں کبھی تردد نہیں رہا۔ گو بعض جہال نے عناد سے ان کو ساحر، مجنون، رمال، جفری وغیرہ کہا ہو۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ ان کی پیش گوئیاں بالخصوص مقابلہ میں کی ہوئیں تو ایسی وقوع پذیر ہوتی تھیں کہ ان کے وقوعہ میں مطلق تردد نہ رہتا تھا۔ مثلاً غلبہ روم کی خبر فتح بدر کی پیش گوئی وغیرہ ہمچو قسم کوئی پیش گوئی ایسی نہ ملے گی جس کے وقوعہ میں کوئی کافر بھی متردد رہا ہو۔ بخلاف اس کے آپ کی پیش گوئیوں کا یہ حشر ہے کہ غیرتو غیر خود اپنے مرید اور فدائی معتقد بھی دل سے منکر۔ بعض تو دائمی انقطاع کر جاتے ہیں اور بعض اپنی زبان کی پچ سے کئی دنوں بعد بصد مشکل کچھ کچھ آپ کی طرف تاکتے تاکتے لحاظ میں پھنس کر فونوگراف کی طرح آپ ہی کی بولی بولنے لگ جاتے ہیں۔ اس جگہ ہم ایک معزز اور قابل شخص کے خط پیش کرتے ہیں۔ یعنی میاں محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ جو انہوں نے اس پیش گوئی کے خاتمہ پر (مرزاقادیانی کو) بھیجے تھے، جن میں سے ایک یہ ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مولانا مکرم سلمکم اللہ تعالیٰ!

السلام علیکم! آج ۷؍ستمبر ہے اور پیش گوئی کی میعاد مقررہ ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء تھی۔ گو پیش گوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں لیکن آپ نے جو الہام کی تشریح کی ہے، وہ یہ ہے: ’’میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈالا جائے، مجھ کو پھانسی دی جائے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین وآسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘

اب کیا یہ پیش گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی؟ نہیں ہرگز نہیں۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح وسالم موجود ہے اور اس کو بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اگر یہ سمجھو

37

کہ پیش گوئی الہام کے الفاظ کے بموجب پوری ہو گئی، جیسا کہ مرزاخدابخش صاحب نے لکھا ہے اور ظاہری معنی جو سمجھے گئے تھے وہ ٹھیک نہ تھے۔ اوّل تو کوئی بات ایسی نظر نہیں آتی کہ جس کا اثر عبداللہ آتھم صاحب پر پڑا ہو۔

دوسری پیش گوئی کے الفاظ بھی یہ ہیں: ’’اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے، وہ انہی دنوں کے مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لے کر یعنی ۱۵ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی، بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے۔ بعض لنگڑے چلنے لگیں گے، بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘

پس اس پیش گوئی میں ہاویہ کے معنی اگر آپ کی تشریح کے بموجب نہ لئے جائیں اور صرف ذلت اور رسوائی لی جائے تو بے شک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی (حکیم صاحب! سچ ہے؟) کے ہاویہ میں گر گئی اور عیسائی مذہب سچا (عیسائی۱؎ مذہب اسی حالت میں سچا سمجھا جائے۔ اگر یہ پیش گوئی سچی سمجھی جائے) جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمانوں کو کہاں؟ پس اگر اس پیش گوئی کو سچا سمجھا جائے تو عیسائیت ٹھیک ہے۔ کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور سچے کو عزت ہو گی۔ اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی (مسلمانوں کو نہیں بلکہ مرزائیوں کو۔ مصنف) میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں۲؎ ہوسکتی۔ دوسرے اگر کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو یہ بڑی مشکل بات ہے کہ ہر پیش گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو۔

لڑکے کی پیش گوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا وہ مر گیا تو اس وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ کی پیش گوئی کے اصلی مفہوم کے نہ سمجھنے میں تو غضب ڈھایا۔ اگر یہ کہا جائے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی، آخر شکست ہوئی تو اس میں ایسے زور سے اور قسموں سے معرکہ کی پیش گوئی نہ تھی اور اس میں لوگوں سے غلطی ہو گئی تھی اور آخر پھر جب مجتمع ہو گئے تو فتح ہوئی۔ کیا کوئی ایسی نظیر ہے کہ اہل حق کو بالمقابل کفار کے ایسے صریح

۱؎

یہ عبارت راقم خط کی ہی طرف سے ہے۔

۲؎

نہیں معلوم! خان صاحب نے اب کس تاویل پر بھروسہ کر کے قادیان میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

38

وعدے ہو کر اور معیار حق وباطل ٹہراکر ایسی شکست۱؎ ہوئی ہو۔ مجھ کو تو اب اسلام پر شبہے پڑنے شروع ہو گئے۔ لیکن الحمدﷲ! کہ اب تک جہاں تک غور کرتا ہوں اسلام بالمقابل دوسرے ادیان کے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن آپ کے دعاوی کے متعلق تو بہت ہی شبہ ہو گیا۔

پس میں نہایت بھرے دل سے التجاء کرتا ہوں کہ آپ اگر فی الواقع سچے ہیں تو خدا کرے کہ میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں اور اس زخم کے لئے کوئی مرہم عنایت فرمادیں کہ جس سے تشفی کلی ہو۔ باقی جیسا لوگوں نے پہلے ہی مشہور کیا تھا کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو آپ یہی کہہ دیں گے کہ ہاویہ سے مراد موت نہ تھی۔ الہام کے مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ براہ مہربانی بدلائل تحریر فرمائیں ورنہ آپ نے مجھے ہلاک کر دیا۔ ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں۔ برائے استفادہ نہایت دلی رنج سے یہ تحریر کر رہا ہوں۔

(اصحاب احمد ج۲ حاشیہ ص۸۰،۸۱، مؤلفہ صلاح الدین قادیانی، آئینہ حق نما ص۱۰۰ تا۱۰۲)

جو کچھ گھبراہٹ اور بے چینی اس خط سے ثابت ہوتی ہے، ناظرین! اندازہ کر سکتے ہیں۔ علاوہ اس کے اس موقع پر ہمیں زیادہ گفتگو کی ضرورت بھی نہیں۔ مرزاقادیانی خود ہی اپنے مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۷، ۶۸، ۷۰ بعنوان اشتہار انعامی تین ہزار میں اپنے مخلصوں کی جو پیش گوئی کے صدق اور آتھم کے رجوع سے منکرانہ سوال کرتے تھے، تسلی دیتے ہیں اور رسالہ (انجام آتھم ص۱۱، ۱۲، خزائن ج۱۱ ص۱۱، ۱۲) پر بعض کا پھر جانا مانتے ہیں۔ یعنی تسلیم کر تے ہیں کہ اس پیش گوئی کی وجہ سے بعض مرید برگشتہ ہو گئے۔ چونکہ آپ کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ لہٰذا ہمیں فہرست بتلانے کی چنداں حاجت نہیں۔ ہماری غرض اس سے بھی جتنا کہ آپ نے اقرار کیا ہے پوری ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اس طرز میں ہم صرف اس پہلو پر ہیں کہ پیش گوئی کا وقوعہ ایسے طرز اور طریق سے نہیں ہوا کہ مخالف موافق سب کو اس کے وقوعہ کا یقین ہوتا۔

گو بعد اس یقین کے مخالف اپنی مخالفانہ طرز سے اور موافق اپنے مخلصانہ طریق سے اس کے وقوعہ کی تعبیر کرتے، مگر یہاں تو یہ غضب ہے کہ پیش گوئی کے وقوعہ کا یقین ہی نہیں۔ مخالفوں کو تو کیا ہوتا مخلصوں کو بھی یہاں تک تردد تھا بلکہ گمان غالب ہے کہ اب بھی ہو گا۔ خود حکیم نورالدین صاحب نے ایک دوست کو خط لکھا تھا کہ میرے نزدیک یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔مگر چونکہ ہم نے مرزاقادیانی کی طرح ایک سال بھر کی پیش گوئی کر کے ان کے پیچھے دم نہیں لگائی۔

۱؎

کوئی نہیں۔

39

اس لئے ہم ان سے حلف لینا چاہتے ہیں۔ وہ اس امر پر دل ہی دل میں غور کریں۔ ہمارا مطلب تو مرزاقادیانی کے اعتراف مذکور ہی سے حاصل ہے کہ یہ پیش گوئی حضرات انبیاء کی پیش گوئیوں کی طرح وقوع پذیر نہیں ہوئی ہے کہ کسی مخالف یا موافق کو اس کے وقوعہ میں شک نہ رہتا۔ گو مخالف نہ مانتے مگر اس کے وقوعہ کے قائل ہوتے۔ مثلاً آتھم علی الاعلان اس حق کی طرف رجوع کرتا جس کے لئے مرزاقادیانی کا اس سے مناظرہ ہوا تھا یا پندرہ ماہ کے اندر مر جاتا۔ ہماری اس تقریر پر کہ سچی پیش گوئی وہ ہوتی ہے جس کے وقوعہ میں کسی دوست یا دشمن کو بھی شبہ نہ رہے۔ خود مرزاقادیانی سراج منیر میں دستخط کر چکے ہیں۔‘‘

جہاں لکھتے ہیں: ’’اگر پیش گوئی فی الواقعہ ایک عظیم الشان ہیئت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔‘‘

(سراج منیر ص۱۴، خزائن ج۱۲ ص۱۷)

اس پیش گوئی نے جیسا کچھ دلوں کو مرزاقادیانی کی طرف کھینچا ہے۔ عیاں راچہ بیاں ایسا کہ لینے کے دینے پڑ گئے تھے۔ کئی قسم کی مغالطہ آمیز تحریروں سے بمشکل بعض مریدوں کو مجالس میں یہ کہنے کی جرأت ہوئی تھی کہ آتھم نے رجوع کیا ہے، اس لئے بچ گیا۔ اگر رجوع نہیں کیا تو قسم کیوں نہیں کھاتا؟ حالانکہ وہ خود ہی دل میں جانتے تھے کہ آتھم پر قسم کی کوئی صورت نہیں۔ وہ قسم نہ کھانے کی وجہ شرعی بتلاتا ہے کہ انجیل متی باب۵ میں قسم سے منع آیا ہے۔ مگر ہمارے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ مرزاقادیانی کی ایک سالہ پیش گوئی کی خچ سے جو قسم کھانے پر اس کے پیچھے لعنت کے طوق کی طرح ڈال کر لوگوں کی توجہ کامل ایک سال تک پھیرنی چاہتے تھے وہ اس سے بچتا تھا۔ وہ بھی آخر ڈپٹی رہ چکا تھا۔ اس نے اس قسم کے کئی ایک مقدمات طے کئے ہوں گے۔ وہ جانتا تھا کہ مرزاقادیانی کی یہ غرض ہے کہ جو رسہ میں نے جھوٹے کے لئے تجویز کیا تھا وہ ایک سال تک ملتوی رہے اور اگر مرزاقادیانی صرف قسم کی بابت اسے کہتے تو شاید انجیل متی باب۵ کی کوئی تاویل سوچ کر وہ قسم کھا جاتا۔ رہا یہ کہ مرزاقادیانی کو قسم دینے کا کیا حق تھا؟ اس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔

اس طرز کے جواب میں تو حکیم صاحب ایسے الجھے ہیں کہ ان کو خبر نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں۔ نہایت افسوس ہی نہیں حیرت کا مقام ہے کہ ایک ایسا اعلیٰ خیال عالم جس پر مرزاقادیانی اور مرزائی جماعت فخر کرے جو ساری قوم میں عالمانہ حیثیت سے خاص امتیاز رکھتا ہو۔ وہ بھی ایسی بہکی بہکی باتیں کرے یا سنے تو مقام حیرت نہیں تو کیا ہو گا؟آپ فرماتے ہیں: ’’کوئی اس

40

بھلے مانس (مصنف الہامات مرزا) سے پوچھے کہ اگر وہ (مخالفین انبیاء) اس (پیش گوئی) کو خدا کی طرف سے سمجھتے اور اپنے سامنے بعینہٖ پورا ہوتے ہوئے دیکھتے تو انکار اور تردّد کیوں رہا؟ کیوں انہوں نے راستی سے اسلام قبول نہ کر لیا؟‘‘

(آئینہ حق نماص۹۹)

کوئی صاحب ہمارے کلام میں یہ دکھاویں کہ ہم نے یہ کہاں کہا ہے کہ مخالفین انبیاء حضراتo کی پیش گوئیوں کو خدا کی طرف سے سمجھتے تھے یا انبیاء کو سچے ملہم مانتے تھے۔ ہم نے جو کہا وہ ناظرین کے سامنے ہے۔ جس کو ہم مکرر نقل کرتے ہیں: ’’جو پیش گوئی حضرات انبیاءؑ نے کی خاص کر وہ پیش گوئی جو بطور مقابلہ کے ہو گی، اس کا ظہور ایسے طریق سے ہوا ہے جو کسی مخالف یا موافق کو اس کے وقوع میں کبھی تردّد نہیں رہا۔‘‘

کتاب ہذا کے گزشتہ اوراق پر ہماری ساری عبارت دیکھی جائے اور غور کیا جائے کہ ہمارا مدعا کیا ہے تو آسانی سے یہ بات ذہن نشین ہو سکے گی کہ حکیم صاحب جو کہتے ہیں خود ان کا ضمیر ان کو ملامت کرتا ہوگا۔ ہمارا مدعا اس پیش گوئی کے وقوعہ سے ہے۔ یعنی اس کا وقوعہ ایسے طور سے ہونا تھا کہ ہر موافق مخالف مان جاتا۔ موافق اس کے مطابق ان کو صاحب الہام جانتے۔ مخالف رمال اور ساحر وغیرہ نام رکھتے، مگر وقوع میں اختلاف نہ ہوتا۔

اس سے آگے جو حکیم صاحب نے فرمایا وہ اس سے بھی مزیدار ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ’’بہرحال منہاج نبوت پر اگر پیش گوئیاںایسے طور پر پوری ہوا کرتی ہیں کہ کافر کو بھی تردّد نہیں ہوا کرتا تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ حضرت یونس کی قوم کے لئے جو عذاب کی پیش گوئی تھی وہ کیونکر پوری ہوئی اور حضرت یونس کو کیوں کہنا پڑا: لن ارجع کذابا‘‘

(آئینہ حق نما ص۹۹ از یعقوب علی تراب)

واقعی یہ خیال بڑا ہی مشکل ہے کہ شاید ہی کسی اہم علم سے حل ہو سکے۔ کیوں نہ آخر حکیم صاحب ’’ذوالوجہین‘‘ یعنی دو علموں (علم شرع اور علم طب) کے عالم ہیں تو پھر کیوں نہ ایسے سوال کریں۔ اے جناب! حضرت یونسm کی قوم سے کیا وعدہ تھا؟ اس کا ثبوت کہاں ہے؟ وہی وعدہ تھا جو عدم طور پر کفار سے ہوا کرتا ہے کہ درصورت کفر پر اصرار کرنے کے عذاب میں مبتلاء ہوں گے۔ یہی ان سے تھا مگر وہ کفر پر مصر نہ رہے۔ عذاب نہ آیا۔ قرآن مجید غور سے سنئے: ’’لولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس۔ لما آمنوا کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعناہم الٰی حین (یونس:۹۸)‘‘

41

کیوں نہ کوئی قوم ایسی ہوئی جو ایمان لاتی اور اس کو ایمان اس کا نفع دیتا سوا قوم یونس کے جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے وہ عذاب جو درصورت اصرار علی الکفر ان پر وارد ہونے والا تھا، دنیا میں ان سے ہٹا رکھا اور ایک وقت مقررہ تک ان کو امن وعافیت سے بہرہ ور کیا۔

حکیم صاحب! فرمائیے اس میں کیا مذکور ہے؟ کیا وعدہ ہے؟ اور کہاں ٹلا ہے؟ اسلامی لٹریچر میں یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ سزا کفر، کفر پر ہوتی ہے۔ جب وہ عذاب آنے سے پیشتر ہی ایمان لے آئے تو سزا کیسی؟ اے کاش! آپ بحیثیت مدعی اس عذاب اور اس کے ٹلنے کی ذرہ تفصیل بھی کئے ہوتے تاکہ معلوم ہو سکتا کہ آپ کا مافی الضمیر کیا ہے؟

حضرت یونسm کا قول: ’’لن ارجع کذابا‘‘ معلوم نہیں کہاں ہے۔ قرآن کے کس مقام پر ہے۔ حدیث کی کس کتاب میں ہے اور اس کا مطلب کیا ہے اور آپ کو مفید کیا؟ حکیم صاحب! کہتے ہوئے ذرہ مفید غیرمفید کو تو سمجھ لیا کریں۔ حکیم صاحب کا اس سے آگے کا کلام اس سے بھی لطیف تر ہے۔

فرماتے ہیں: ’’پھر حدیبیہ میں کیا ہوا۔ قرآن مجید تو خود کہتا ہے:’’یصبکم بعض الذی یعدکم‘‘ یہاں بعض کا لفظ بتاتا ہے کہ ساری پیش گوئیاں پوری نہیں ہوتی ہیں۔ بعض ملتوی یا منسوخ ہو جاتی ہیں۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۹۹ از یعقوب علی تراب قادیانی)

حکیم صاحب! آپ تو ماشاء اللہ! قرآن مجید کے مدرس ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ایسی فاش غلطی کرتے ہیں۔ سنئے: آیت مذکورہ کا مطلب بتانے سے پہلے میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خداتعالیٰ اگر کسی نبی کو الہامی پیش گوئی دیتا ہے، کیوں دیتا ہے؟ جواب ہو گا مخالفوں پر حجت پوری کرنے کو۔ پھر یہ کیا اتمام حجت ہے کہ جس پیش گوئی کو خدا کا نام لے کر سنایا تھا اور جس کے اظہار پر اپنے مشن کی صداقت موقوف رکھی تھی وہ خود ہی غلط یا بقول آپ کے ملتوی ہو گئی۔ چہ خوش! کیا مخالفین اس الہامی کی حجت کو مان لیں گے؟ یہ نہ کہیں گے کہ جناب اب تو آپ لاکھ الہام سنائیے ہم نہیں سنیں گے۔ جب کہ ایک دفعہ آپ کا کہا غلط ہوا اور عام نگاہ میں آپ جھوٹے ثابت ہوئے تو دوسری باتوں میں بھی آپ کا کیا اعتبار؟ یہی مضمون مرزاقادیانی نے خود لکھا ہے،غور سے سنئے: ’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

چونکہ حکیم صاحب نے اس آیت کو باوجود غلط فہمی کے بہت سی جگہ لکھ کر ’’منہاج

42

نبوت‘‘ اسی کو قرار دیا ہے کہ انبیاء کی بعض باتیں سچی ہوتی ہیں اور بعض نہیں ہوتیں۔ اس لئے حکیم صاحب کی غلطی رفع کرنے کو ہم اس آیت کا مطلب بتاتے ہیں۔ یہ آیت دراصل اس شخص کا قول ہے جو حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں فرعون کی قوم میں سے مخفی طور پر مسلمان ہوا تھا۔

پوری آیت یوں ہے: ’’ان یک کاذباً فعلیہ کذبہ۔ وان یک صادقاً یصبکم بعض الذی یعدکم۔ ان اللہ لا یہدی من ہو مسرف کذاب (غافر:۲۸)‘‘وہ مؤمن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ اگر جھوٹا ہے تو اس کا گناہ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو جن جن سزاؤں سے وہ تم کو ڈراتا ہے ان میں سے بعض تو اسی دنیا میں تم کو پہنچ جائیں گی۔ بے شک اللہتعالیٰ بیہودہ اور کذابوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔

حضرات انبیاءؑ جو عذاب کے وعدے دیا کرتے ہیں وہ دو قسم پر ہوتے ہیں۔ کچھ تو اسی دنیاکے متعلق ہوتے ہیں، کچھ آخرت کے متعلق۔ جیسے فرمایا: ’’لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاٰخرۃ عذاب عظیم (البقرۃ:۱۱۴)‘‘یعنی ان مفسدوں کے لئے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔

اس آیت اور اس جیسی بہت آیات نے صاف طور پر بتلایا ہے کہ حضرات انبیاءؑ کے مواعید دنیا اور آخرت دونوں ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ دنیا میں جو عذاب آتا ہے وہ مجموعہ عذاب کا بعض ہی ہوا کرتا ہے۔ اس لئے یہ مؤمن اپنی قوم فرعونیوں کو کہتا ہے کہ اگر یہ موسیٰ سچا ہوا تو تم کو دنیا ہی میں وہ عذاب جو دنیا کے متعلق ہے پہنچ جائے گا۔ آخرت کا عذاب آخرت میں ہو گا۔ واللہ! میرے بدن پر رعشہ ہوجاتا ہے جب میں سنتا ہوں کہ قادیانی مشن کے لوگ اس کے بھی قائل ہیں کہ خدا کے وعدے غلط ہوا کرتے ہیں یا بقول ان کے ملتوی یا ٹل جاتے ہیں پھر ایسے خدا کا کیا اعتبار کہ بندوں سے جو نیک کاموں پر انعام دینے کے وعدے کرتا ہے وہ پورے نہ کرے اور ایسے الہامیوں کا کیا اعتبار؟ آہ! حکیم صاحب کو شاید خبر نہیں کہ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزیہ ہوتا ہے جس حال میں مرزاقادیانی خود مانتے ہیں کہ: ’’بعض خواب اور الہام بدکاروں حرامکاروں بلکہ فاحشہ عورتوں کے بھی سچے ہو جاتے ہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۸، خزائن ج۱۷ ص۱۶۷)

تو جس صورت میں سچے الہامیوں بلکہ نبیوں کے الہامات کا حل بھی یہی ہو کہ بعض سچے اور بعض غلط پھر ان حرامکاروں اور سچے نبیوں میں معاذ اللہ! فرق ہی کیا رہا؟انا للہ!

43

ناظرین! آپ حیرات ہوں گے کہ قادیانی مشن کی کیسی دلیری ہے کہ حضرات انبیاء پر بھی یہ جرأت سے ایسی بات کہتے ہیں۔ میں اس کی وجہ آپ لوگوں کو بتاؤں۔

ایک بڑھیا عورت کبڑی تھی، اس سے کسی نے پوچھا بڑی بی! تو چاہتی ہے کہ تو اچھی ہو جائے یا چاہتی ہے کہ اور عورتیں بھی تیری طرح کبڑی ہو جائیں۔ اس نے بڑی قابلیت سے جواب دیا کہ میں تو یہی چاہتی ہوں کہ سب میری طرح ہو جائیں۔ تاکہ میں بھی ان کی ویسی ہی ہنسی اڑاؤں جس طرح یہ مجھ پر ہنستی ہیں۔ یہی حال مرزاقادیانی اور حکیم صاحب کا ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ سلسلہ رسالت اور خاندان نبوت پر بھی وہی الزام لگایا جائے جو ہم پر لگایا جاتا ہے تاکہ یہ کہہ سکیں کہ ہم بھی تو آخر اسی سلسلہ کے ایک فرد ہیں، مگر نہیں جانتے۔

  1. چراغ راکہ ایزد برفسروزد

    بآں کش تف زند ریشش بسوزد

حکیم صاحب! سنئے ہمارا خدا آپ کے خیالات کی یوں تردید کرتا ہے:’’فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ ان اللہ عزیز ذوانتقام (ابراہیم:۴۷)‘‘خدا کو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلاف ہرگز مت سمجھو۔ اللہتعالیٰ بڑا غالب بدلہ لینے والا ہے۔

نکتہ تفسیریہ: اس آیت میں اللہتعالیٰ نے نہی بصیغہ نون ثقیلہ فرمائی ہے کہ اللہتعالیٰ کو وعدہ خلافی کرنے والا خصوصاً حضرات انبیاءؑ کے ساتھ ہرگز خیال مت کرو۔ یہ کہہ کر فرمایا: اللہ غالب ہے اس کا کیا تعلق؟ اس کا تعلق یہ ہے کہ وعدہ خلافی کرنا عاجزوں کا کام ہے۔ خداتعالیٰ نے اس کی علت کی طرف اشارہ کر کے اپنے اندر اس کی نقیض کا ثبوت دیا ہے۔ اس لئے فرمایا میری ذات تو اس ضعف اور اور کمزوری سے پاک ہے۔ میں تو سب پر غالب بلکہ سب سے بدلہ لینے پر قادر ہوں۔ پھر میں کیوں وعدہ خلاف کروں۔ اس سے ثابت ہوا کہ خداتعالیٰ کو وعدہ خلاف سمجھنا کفر ہے۔ کیونکہ وعدہ خلافی مستلزم ہے ضعف اور کمزوری کو جس سے خدا کی شان بلند ہے۔

حکیم صاحب کا ایک سوال ہنوز باقی ہے، جس کو وہ اپنے خیال میں بہت ہی مشکل جانتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’ہم آپ کے کلیہ کو تسلیم کر لیں گے۔ اگر آپ حدیبیہ یا ارض مقدس کے وعدہ موسوی یا مسیحm کی پیش گوئیوں کے متعلق اس زمانہ کے کفار کی شہادتیں پیش کرو کہ انہوں نے ان پیش گوئیوں کے وقوع پر اعتراف کر لیا تھا۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۹۹ از یعقوب علی تراب)

44

اس سوال کے تین حصے ہیں۔ واقعہ حدیبیہ، واقعہ موسوی، واقعہ عیسوی۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں۔ اس لئے ہم تو اسلامی کتابوں ہی سے جواب دیں گے۔ حدیبیہ کا واقعہ اسلامی ہے جس کا اصل قصہ یہ ہے۔

آنحضرتﷺ نے خواب دیکھا کہ میں کعبہ شریف کا طواف کرتا ہوں۔ ہنوز مکہ شریف فتح نہ ہوا تھا کہ آنحضورﷺ نے شوقیہ بطور خود سفر کی تیاری کر دی۔ جب بمقام حدیبیہ قریب مکہ کے پہنچے تو کفار مکہ نے داخل مکہ ہونے سے روکا۔ آخرکار معاہدہ ہوا کہ آئندہ سال ہم مسلمان آئیں گے۔ چنانچہ آئندہ سال گئے اور حسب مضمون خواب باطمینان خاطر طواف کیا۔ قرآن شریف کھلے الفاظ میں اس کی تصدیق کرتا ہے:’’لقد صدق اللہ رسولہ الرؤیا بالحق (فتح:۲۷)‘‘ خدا نے اپنے رسول کا سچا خواب بالکل سچ کر دیا۔

ناظرین! جس مضمون کو قرآن مجید سچا کہے کسی ایماندار مسلمان کی جو قرآن مجید کو کلام الٰہی مانتا ہو، شان ہے کہ اس کو غلط کہہ سکے؟ ’’الامن سفہ نفسہ‘‘ اس کا جواب یہی ہے کہ قرآن مجید نے اس کی تصدیق کی ہے اور بس۔

ہاں! اگر یہ سوال کھٹکتا ہو کہ جس سال حضورﷺ پہلے تشریف لے گئے، اسی سال کیوں نہ پورا ہوا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ حضورﷺ جو تشریف لے گئے تو ازخود شوقیہ لے گئے۔ خواب اور الہام کا مضمون یہ نہ تھا کہ طواف اسی سال ہو جائے گا۔ اس کا فیصلہ حضورﷺ کی زندگی ہی میں ہوچکا ہے۔ جب بعض صحابہ کرامؓ نے ولولہ شوق میں کچھ کہا تو دوسروں سے جواب دیاگیا۔ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ اسی سال ہم کر لیں گے؟ نہیں! (زادالمعاد)

ارض مقدس کا وعدہ جو حضرت موسیٰؑ سے ہوا تھا، وہ خاص طور پر حضرت موسیٰ سے نہ تھا بلکہ بنی اسرائیل سے تھا۔ وہ بھی کوئی مؤقت اور محدود نہ تھا بلکہ عام تھا۔ جس کی بابت حضرت موسیٰؑ ان کو شوق دلاتے رہے۔ لیکن جب انہوں نے حسب تعلیم موسوی تیاری نہ کی تو ارشاد خداوندی پہنچا: ’’فانہا محرمۃ علیہم اربعین سنۃ یتیہون فی الارض فلا تأس علٰی القوم الفاسقین (المائدۃ:۲۶)‘‘ اور وہ ارض مقدس ان کو چالیس سال تک نہ ملے گی۔ اس مدت کے اندر اسی زمین میں پھریں گے پھر تو ان بدمعاشوں کے حال پر افسوس نہ کیجؤ!

مضمون صاف ہے کیا کوئی ایماندار اس کو خلاف وعدہ کہے گا؟ ہرگز نہیں۔

حضرت عیسیٰؑ کی پیش گوئیوں کے متعلق معلوم نہیں آپ کے دل میں کیا ہے۔

45

اے کاش! آپ کوئی مثال پیش کر کے اسلامی شہادت سے اس کا ثبوت چاہتے تو بتلایا جاتا ایسے مجمل بلکہ مہمل سوال کا جواب کیا دیا جاسکتا ہے جو آپ کر رہے ہیں۔ جب ہم بشہادت قرآن مجید ثابت کر چکے کہ خداتعالیٰ جو اپنے رسولوں کو اطلاع دیتا ہے، وہ ہرگز خلاف نہیں ہوسکتی تو اب کسی اور شہادت کی حاجت کیا؟

  1. آنکس کہ بقرآن و خبر زونرہی

    اینیت جوابش کہ جوابش ندہی

ایک اور طرز سے بھی اس پیش گوئی میں تناقض ہے۔ مرزاقادیانی نے آتھم کا رجوع تو عین جلسہ مباحثہ ہی میں ثابت کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’اس (آتھم) نے عین جلسہ مباحثہ پر ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرتﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا اور نہ صرف یہی بلکہ اس نے پندرہ مہینے تک اپنی خاموشی اور خوف سے اپنا رجوع ثابت کر دیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۶، خزائن ج۱۹ ص۶)

عبارت مذکورہ بالا سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آتھم نے جلسہ مباحثہ ہی میں وہ رجوع کر لیا تھا، جس کے کرنے پر اسے ہاویہ سے بچ جانا تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے باوجود اس کے رجوع کے اس پر رحم نہ کیا اور ناحق اس کو ہاویہ میں بھی ڈال دیا۔ جیسا کہ (انوار اسلام ص۵،۷، خزائن ج۹ ص۵،۷) کی عبارت منقولہ ناظرین دیکھ چکے ہیں۔ پہلی طرز تناقض میں تو ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ آتھم کا ایک ہی فعل یعنی گھبرانے اور سفر کرنے کو مرزاقادیانی رجوع بتلاتے ہیں اور اسی کو ہاویہ قرار دیتے ہیں جو حقیقی تناقض ہے۔ جس میں موضوع بھی واحد ہے۔ مگر اس طرز میں یہ نہیں۔ اس میں فعل دو ہیں۔ یعنی بقول مرزاقادیانی دجال کہنے سے تو اس کا رجوع ہے اور اپنی حفاظت کے لئے سفر کرنا اس کا ہاویہ ہے۔ (واہ رے روحانی مسیح تیرا سب کچھ ہی روحانی ہے) جس پر ایک ادنیٰ سمجھ بوجھ کا آدمی بھی سوال کر سکتا ہے کہ اگر آتھم نے جلسہ ہی میں رجوع کر لیا تھا تو پھر وہ ہاویہ سے کیوں نہ بچا رہا۔ حالانکہ بقول مرزاقادیانی وہ پندرہ مہینوں تک اس رجوع پر قائم بھی رہا، جیسا کہ آپ مرقومہ بالا عبارت لکھ چکے ہیں۔

حکیم صاحب نے اس طرز کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایک اور سوال: بھلا مرزاقادیانی اگر آتھم نے جلسہ ہی میں ستر آدمیوں کے سامنے دجال کہنے سے توبہ کی تھی اور یہی اس کا رجوع تھا اور اسی بناء پر پیش گوئی بھی تھی تو پھر آپ نے اسی وقت اپنی سچائی اور مسیحائی کا ثبوت کیوں نہ دیا۔ کیوں ناحق اس روز بد کا انتظار

46

کیا جس کا واہمہ گزرنے سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں، جس کا مختصر نقشہ یہ تھا ؎

  1. غضب تھی تجھ پہ ستمگر چھٹی ستمبر کی

    نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی

اور کیوں ناحق طول طویل اشتہارات میں فضول جھگڑا بڑھایا اور قسم تک نوبت پہنچائی۔ کیوں نہ انہی ستر آدمیوں کو گواہی میں پیش کر دیا جن کے روبرو اس نے رجوع یا توبہ کی تھی بلکہ اس وقت تو اس واقعہ کا ذکر تک نہ کیا اور آج نودس سال کے بعد یہ منصوبہ گھڑ لیا۔ مرزاقادیانی کی ہوشیاری کی بھی کوئی حد ہے؟ پندرہ ماہ میں جب آتھم نہ مرا تو اس کو کبھی رجوع بحق سے ملزم ٹھہرایا اور کبھی ہاویہ میں پہنچایا اور پیش گوئی سے بعد ایک سال دس ماہ مرا تو بھی اپنی پیش گوئی کی تصدیق بتاتے ہیں۔

چنانچہ لکھتے ہیں: ’’چونکہ مسٹر عبداللہ! آتھم صاحب ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروزپور فوت ہو گئے ہیں۔ اس لئے ہم قرین مصلحت سمجھتے ہیں کہ پبلک کو وہ پیش گوئیاں دوبارہ یاد دلادیں جن میں لکھا تھا کہ آتھم صاحب اگر قسم نہیں کھائیں گے تو اس انکار سے جو ان کا اصل مدعا ہے یعنی باقی ماندہ عمر سے ایک حصہ۱؎ پانا یہ ان کو ہرگز حاصل نہیں ہو گا بلکہ انکار کے بعد جو ان کی بے باکی کی علامت ہے۔ جلدی اس جہاں سے اٹھائے جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔‘‘

(انجام آتھم ص۱، خزائن ج۱۱ ص۱)

کیا ہی عجیب منطق ہے۔ کیا مرزاقادیانی آپ نے کہیں حکماء کا قول: ’’لولا الحمقأ لبطلت الدنیا‘‘(اگر احمق نہ ہوں تو دنیا برباد ہو جائے) تو نہیں سن لیا کہ تمام جہاں کے لوگوں کو احمق ہی سمجھ بیٹھے ہیں۔

غضب کی بات ہے کہ یہ کیا پیش گوئی ہے کہ ایک بوڑھے عمررسیدہ کی بابت جو پندرہ ماہ میں بمشکل بچا ہو ایسی بے تعین پیش گوئی کی جائے کہ وہ جلد مر جائے گا۔ پھر وہ کیوں صحیح نہ ہو۔ پچھلے دنوں ایک پنڈت جی نے مرزاقادیانی کی طرح چند پیش گوئیاں مشتہر کی تھیں تو اخبار جامع العلوم مراد آباد کے زندہ دل ایڈیٹر نے بھی پنڈت جی کے حق میں مقابلہ کی چند پیش گوئیاں جڑ دی تھیں۔ جن میں سے ایک دو یہ تھیں کہ پنڈت جی روٹی کھائی گے تو لقمہ سیدھا اتر کر ان کے حلق سے اتر کر معدے میں جا کر گرے گا۔ صبح پاخانہ جائیں گے تو پاخانہ کے ساتھ ہی ان کا پیشاب بھی نکل جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ!

۱؎ بالکل جھوٹ اس کا یہ مدعا نہ تھا۔

47

ٹھیک اسی طرح مرزاقادیانی کی پیش گوئی ہے کہ عنقریب آتھم مر جائے گا۔ غالباً اگر آتھم کئی سال بھی زندہ رہتا تو مرزاقادیانی اس پیش گوئی میں جھوٹے نہ ہوتے اور گمان غالب رہے کہ آیت:’’انہم یرونہ بعیدا ونراہ قریبا (معارج۶)‘‘ پڑھ دیتے۔ ایسی پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے کہ ہم کیا کہیں جس شخص نے ’’فاصنع ماشئت‘‘(بے حیا باش ہرچہ خواہی کن) ہی پر عمل کرنے کا عزم بالجزم کر لیا ہو اور جس کا یہ قول ہو: ’’قاضی نے ہرائی میں نہ ہاری‘‘ اس سے ہم کیونکر پورے اتر سکتے ہیں۔ لیکن اتنی گزارش کرنے سے نہیں رک سکتے کہ جس صورت میں قسم کھانے پر آتھم کو ایک سال تک بمشکل مہلت دیتے تھے تو بغیر قسم کھائے اس سے بھی کم مدت بتائی۔ گو صاف لفظوں میں اس سے کم نہیں کہی مگر فحوائے عبارت سے یہی مفہوم ہوتا ہے۔

مرزاقادیانی کے الفاظ ملاحظہ ہوں: ’’اگر (آتھم صاحب) قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا … وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں۔‘‘

(اشتہار انعامی چارہزار ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۰۶، آئینہ حق نما ص۱۱۲)

اس عبارت کے نتیجے میں حکیم صاحب لکھتے ہیں: ’’انہیں (آتھم) بتایا کہ دوسری صورت (قسم نہ کھانے) میں تو ایک سال سے بھی کم میں وہ فوت ہو جائے گا۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۱۱۱ مرتب یعقوب علی تراب قادیانی)

حکیم صاحب! بہت خوب۔ آئیے اب تاریخ ملا کر دیکھیں ؎

تاسیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

حکیم صاحب فرماتے ہیں: ’’مرزاقادیانی نے اشتہار انعامی چارہزار میں صاف لکھ دیا تھا کہ درصورت قسم نہ کھانے کے آتھم سال سے بھی کم مدت میں فوت ہو گا۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۱۱۱)

بہت خوب! آئیے آپ کی اور آپ کے پیرومرشد کی راست گوئی وراست بازی ہم اسی سے بتاتے ہیں جس اشتہار کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ وہ ۲۷؍اکتوبر ۱۸۹۴ء کا مطبوعہ ہے اور آتھم کی موت ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو ہے۔

(رسالہ انجام آتھم ص۱، خزائن ج۱۱ ص۱)

آئیے پرائمری کے کسی لڑکے سے حساب کرائیں کہ ۲۷؍اکتوبر ۱۸۹۴ء سے ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء تک ایک سال نو ماہ ہوتے ہیں یا کم؟ حکیم صاحب! کس منہ سے آپ

48

کہتے ہیں کہ آتھم کی موت حسب پیش گوئی واقعہ ہوئی۔ کیا قادیان میں حساب داں کوئی نہیں؟ آئیے جناب ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے جملہ اعوان وانصار مل کر بھی ’’ولوکان بعضہم لبعض ظہیرا‘‘ زور لگادیں تو یہ ٹیڑھی کل سیدھی نہ ہو گی۔ دیکھئے! آپ کے پیرومرشد بلکہ نبی اور رسول نے کیا کیا گل کھلائے۔ جب دیکھا کہ پندرہ ماہ کی میعاد میں تو آتھم مرا نہیں۔ حالانکہ اقرار یہی تھا اور پیش گوئی محدود تھی۔ تاہم آپ (مرزاقادیانی) فرماتے ہیں اور کیا ہی خوب فرماتے ہیں: ’’اگر کسی کی نسبت یہ پیش گوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائے گا۔ پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینے مجذوم ہو جائے اور ناک۱؎ اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۵، خزائن ج۲۲ ص۱۹۳ حاشیہ)

حکیم صاحب! حکیموں سے ایسی غلطی کی نظیر سابق زمانہ میں نہیں ملتی۔

  1. ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا

    یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا

جہاں تک ہم سے ہو سکا اس پیش گوئی کے متعلق ہم نے بہت ہی اختصار سے کام لیا۔ ورنہ ستمبر ۱۸۹۴ء سے تو مرزاقادیانی کا کوئی رسالہ یا اشتہار اس کے ذکر سے خالی نہیں۔

لیکن شکر ہے کہ بجز چند مقالات کے جن میں پچھلی تحریر پہلی تحریر سے متعارض اور متضاد ہے، باقی کل رسائل اور اشتہارات قریب قریب ایک ہی مضمون سے بھرے پڑے ہیں جو سلطان القلم کی سلطانیت پر دلیل قاطع اور برہان ساطع ہے۔

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں

    بندہ نواز! آپ کسی کے خدا نہیں

اس پیش گوئی نے مرزاقادیانی کو ایسا حیران کر رکھا ہے کہ بلامبالغہ انہیں کہتے کہتے یہ تمیز بھی نہیں رہتی تھی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ باوجود سالہاسال گزر جانے کے وہ سخت حیرانی میں رہے۔ رسالہ ہذا کے طبع اوّل سے بعد کی تحریریں پہلی تحریروں سے بھی زیادہ مزیدار ہیں۔

۱؎ سلطان القلم کی اردو کیا فصیح ہے۔ حکیم صاحب! کیا یہ ٹھیک ہے یامحض چالاکی؟ انصاف سے کہئے گا۔ آہ! کس قدر جرأت اور حیاء سے دور ہے کہ ایک بات کو بطور پیش گوئی محدود الوقت کے شائع کیا جائے۔ جب وہ پوری نہ ہو تو مجذوموں کی طرح عذر لنگ کیا جائے۔ اے جناب پندرہ کی بجائے بیس ماہ نہیں بلکہ پندرہ کی بجائے (۳۷) ماہ میں مرا ہو۔ یعنی اصل پیش گوئی سے زائد میعاد اوپر گزری ہو تو اس صورت میں بھی آپ پیش گوئی کی صداقت ہی گاتے جائیں گے؟ (شاید)

49

آپ لکھتے ہیں: ’’پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ (آتھم) مجھ سے پہلے مر گیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۶، خزائن ج۱۹ ص۶)

کیا ہی ناواقفوں کی آنکھوں میں مٹی کا سرمہ ڈالا ہے۔ مرزاقادیانی کی اس بات کے تو ہم بھی قائل ہیں کہ پھنسوں کو پھنسائے رکھنے میں آپ کو کمال تھا۔ دیکھئے تو کس ہوشیاری اور صفائی سے لکھ رہے ہیں کہ پیش گوئی میں یہ بیان تھاکہ جھوٹا پہلے مرے گا۔ ناظرین! ورق الٹ کر پیش گوئی کے الفاظ بغور پڑھیں کہ ان میں کوئی بھی ایسا لفظ ہے جس کے یہ معنی یا اشارہ ہو کہ جھوٹا سچے سے پہلے مرے گا۔ بڑے مزے کی بات ہے کہ پیش گوئی کے متصل کی عبارت جس میں موت کا لفظ ہے، اس کی تو یہ تاویل کی گئی کہ ہماری تشریح تھی۔ اصل الہام کے لفظ نہ تھے۔ اگر وہ غلط ہو گئی تو بلا سے ہمارا فہم غلط ہو تو ہو الہام غلط نہ ہو۔ بقول شخصے ’’جان بچی لاکھوں پائے‘‘ مگر یہاں پر کس آب وتاب سے فرما رہے ہیں کہ پیش گوئی میں یہ بیان (ناظرین! بیان کے لفظ کو دیکھئے اور مرزاقادیانی کے ہاتھ کی صفائی کی داد دیجئے) تھا کہ جھوٹا سچے سے پہلے مرے گا۔ گویا پندرہ مہینوں کی کوئی تحدید ہی نہیں۔ دراصل تقدم تأخر پر مدار ہے۔ حالانکہ پیش گوئی میں پندرہ مہینوں کی تعداد اور تحدید ہے۔ چہ خوش!

  1. ہم بھی قائل تیری نیرنگی کے ہیں یاد رہے

    او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے

اخیر اس بحث کے ہم اپنا خیال مرزاقادیانی کی نسبت کچھ ظاہر نہیں کرتے بلکہ انہی کے فرمودہ پر اعتقاد رکھتے ہیں: ’’اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خداتعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے، وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے… تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قراردو۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۹،۱۹۰، خزائن ج۶ ص۲۹۳)

مرزاقادیانی کے مریدو! دیکھو ہم ان کے کیسے پکے معتقد ہیں کہ جن لفظوں میں انہوں نے ہم کو اعتقاد رکھنا سکھایا ہے ہم اس پر ایسے جمے ہیں کہ بس بس۔ کیا کوئی آپ کے مصنوعی مریدوں میں ہے جو ہمارا مقابلہ کرے؟ یاد رکھو:

  1. مجھ سا مشتاق جہاں میں کہیں پاؤ گے نہیں

    گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر

50

دوسری پیش گوئی پنڈت لیکھ رام کے حق میں

اس پیش گوئی کے متعلق اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء مندرجہ ذیل ہے:

لیکھ رام پشاوری کی نسبت ایک پیش گوئی

’’واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیاگیا تھا، اندر من مراد آبادی اور لیکھ رام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضا وقدر کی نسبت بعض پیش گوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندر من نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھ رام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا: ’’عجل جسد لہ خوار لہ نصب وعذاب‘‘یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے۔ جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہﷺ کے حق میں کی ہیں، عذاب شدید میں مبتلاء ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ خدا کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی۱؎ ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔‘‘

(سراج منیر ص۱۲، ۱۳، خزائن ج۱۲ ص۱۴، ۱۵)

۱؎ ہمارا بھی اس پر صاد ہے۔

51

اس اشتہار میں صاف مرقوم ہے کہ پنڈت لیکھ رام پر کوئی خارق عادت عذاب نازل۱؎ ہو گا۔ مذکورہ عبارت ناظرین ملاحظہ فرما لیں کہ ان میں کوئی لفظ بھی ایسا ہے کہ اس سے یہ مفہوم ہو سکے کہ لیکھ رام کے مرنے کی پیش گوئی ہے بلکہ خارق عادت عذاب کی ہے جو زندگی کا ثبوت ہے۔ موت اور خصوصاً ایسی موت کہ جو پنڈت لیکھ رام پر آئی ہیبت ناک عذاب کہنا مرزا ہی کا کام ہے۔ پس اس اشتہار کے مطابق تو فیصلہ بالکل آسان ہے کہ پنڈت لیکھ رام بموجب تحریر مرزاقادیانی کسی خارق عادت عذاب میں مبتلا نہیں ہوا بلکہ ایک چھرے سے مرا ہے۔ ایسی واردات عموماً ہوتی ہیں۔ یہ نہ تو کوئی ہیبت ناک عذاب ہے اور نہ خرق عادت موت۔ اس لئے یہ موت پیش گوئی ہذا کی مصداق نہیں۔ ہاں! مرزاقادیانی نے رسالہ کرامات الصادقین میں ایک الہام لیکھ رام کی موت کا بھی درج ہوا ہے جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں: ’’فبشرنی ربی بموتہ۲؎ فی ست سنۃ‘‘ یعنی خداتعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔

(کرامات الصادقین بیک ٹائٹل ص ل، خزائن ج۷ ص۱۶۳)

اس کا جواب بالکل سہل ہے کہ اصل الہام میں جو لکھ رام کی بابت شائع ہوا ہے موت کا لفظ نہیں بلکہ صرف خرق عادت عذاب کا ذکر ہے۔ اگر کہیں کہ یہ الہام بھی تو میرا ہی ہے۔ پھر یہ کیا انصاف ہے کہ میرے ایک الہام کو دوسرے الہام کی تفسیر یا توضیح نہ بنایا جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عبارت الہام نہیں ہے بلکہ الہام کی حکایت بالفاظ دیگر ہے۔ اصل الہام جو اس حکایت کا محکی عنہ ہے، اس میں موت کا ذکر نہیں۔ پس وہی مقدم ہے۔

اور اگر ہم اس عبارت مندرجہ کرامات الصادقین کو انہی معنی میں سمجھیں جن میں مرزاقادیانی اس کو لے رہے ہیں کہ یہ بھی الہام یا الہام کی تشریح ہے تو بھی کچھ شک نہیں کہ یہ موت جو چھ سال کے اندر ہونے والی تھی، اسی خرق عادت رعب دار اورہیبت ناک عذاب سے ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ پہلے اشتہار میں یہ قید لگائی گئی ہے جو کسی طرح تبدیل نہیں ہوسکتی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ لیکھ رام ایک ایسی موت سے مرا ہے جس سے عموماً لوگ مرتے ہیں اور ان کی موت کوئی خرق عادت نہیں جانتا اور تو اور ایک زمانہ میں کالے پانی میں وائسرائے ہند اسی چھری کے شکار ہوئے تھے۔ تھوڑے روز ہوئے شہر لاہور کے انارکلی بازار میں ایک ادنیٰ سے فقیر نے ایک لمحہ میں ایک انگریز کا چھری سے خون کر دیا۔

۱؎خارق عادت وہ کام ہوتا ہے جو عام طور پر نہ ہو جسے معجزہ کہتے ہیں۔

۲؎’’ست سنۃ‘‘ عربی علم کی نحو کی رو سے غلط ہے۔ ’’سنۃ‘‘ کے بجائے ’’سنین‘‘ چاہئے۔

52

چند ایام کا عرصہ ہوا ہے کہ ہمارے بازار میں لوگوں کے چلتے پھرتے ایک ہندو نوجوان لڑکے کا اس کے کسی حریف نے چھری سے کام تمام کر دیا۔ پھر لطف یہ کہ ہاتھ بھی نہ آیا۔ راولپنڈی اور پشاور میں تو آئے دن ایسی وارداتیں دن دہاڑے ہوتی ہیں۔ ۱۹۲۶ء میں مقام دہلی آریوں کے لیڈر سوامی شردہانند دن دہاڑے قتل ہوئے۔ غرض اسی قسم کے واقعات سینکڑوں نہیں ہزاروں پولیس کی رپورٹوں میں مل سکتے ہیں۔ مگر لطف یہ ہے کہ ایسی موتوں کو کوئی بھی خرق عادت نہیں کہتا۔

مرزائیو! خرق عادت کے یہی معنی ہیں کہ اس قسم کے واقعات ہر روز ہوتے ہوں اگر یہی معنی ہیں تو ہم مانتے ہیں کہ: ’’تمہارا نبی بھس تیرانے اور لوہا ڈبونے میں کامل ہے۔‘‘

ہر کہ شک آرد کافر گرود

مرزاقادیانی نے اس پیش گوئی کے متعلق ایک اور کمال کیا ہے جس میں ہمیں ایک بزرگ (مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم کہا کرتے تھے مرزا دہریہ ہے) کے کلام کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی قرآن شریف کے معانی اور مطالب ہی کو نہیں بلکہ کتب سابقہ کو بھی اپنی من گھڑت تاویلوں کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔

چنانچہ لکھتے ہیں: ’’یہ الہام کہ: ’’عجل جسد لہ خوار لہ نصب وعذاب‘‘یعنی لیکھ رام گوسالہ سامری ہے اور اسی گوسالہ سامری کی طرح اس کو عذاب ہو گا۔ یہ نہایت پر معنی الہام ہے جو گوسالہ سامری کی مشابہت کے پیرایہ میں نہایت اعلیٰ اسرار غیب کے بیان کر رہا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ گوسالہ سامری یہودیوں کی عید کے دن میں ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا۔ جیسا کہ توریت خروج باب۳۲ آیت۵ سے ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ ہے: ’’ہارون نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل خداوند کی عید ہے۔‘‘ سو ایسا ہی اسلامی عید کے دن کے قریب یعنی ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو لیکھ رام قتل ہوا۔‘‘

(استفتاء اردو ص۱۱، خزائن ج۱۲ ص۱۱۹)

اس بیان میں مرزاقادیانی نے یہ صفائی کی ہے کہ توریت کے حوالہ سے ثابت کرنا چاہا ہے، بلکہ اپنے خیال میں کر ہی دیا ہے کہ گوسالہ سامری عید یہود کے روز مارا گیا۔ مگر جب مرزاقادیانی کے بتائے ہوئے مقام کو دیکھتے ہیں تو وہاں اس کا ذکر بھی نہیں پاتے۔ بلکہ جس عید کو آپ نے گوسالہ سامری کے ذبح ہونے کا دن لکھا ہے، وہ دن اس کی پرستش اور سوختنی قربانیوں کے چڑھاوے کا تھا۔ اس سے بعد حضرت موسیٰؑ کو جو ابھی پہاڑ پر تھے، خدا

53

تعالیٰ کے بتلانے سے خبر ہوئی تو وہ آئے ان کے واپس آنے میں بھی کئی روز لگ گئے، چنانچہ مقام مذکور کی کسی قدر عبارت ہم نقل کر کے باقی کے لئے ناظرین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ خود ہی مقام مذکور یعنی خروج ۳۲ باب کے فقرہ نمبر۴ سے اخیر تک پڑھ جائیں۔

وہ یہ ہے: ’’اس نے ان کے ہاتھوں سے لیا اور ایک بچھڑا ڈھا کر اس کی صورت حکا کی ہتھیار سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا اور جب ہارون نے یہ دیکھا تو اس کے آگے قربان گاہ بنائی اورہارون نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل۱؎ خداوند کے لئے عید ہے اور وے صبح کو اٹھے اور سوختنی قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزاریں اور لوگ کھانے پینے کو بیٹھے اور کہتے کہ اٹھے تب خداوند نے موسیٰ کو کہا اتر جا۔ کیونکہ تیرے لوگ جنہیں تو مصر سے چھڑالایا خراب ہو گئے ہیں۔ وہ اس راہ سے جو میں نے انہیں فرمائی جلد پھر گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے لئے ڈاھالا ہوا بچھڑا بنایا اور اسے پوجا اور اس کے لئے قربانی ذبح کر کے کہا کہ اے اسرائیل! یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے چھڑالایا۔ پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ میں اس قوم کو دیکھتا ہوں کہ ایک گردن کش قوم ہے۔ خروج ۳۲باب کی ۴سے ۱۰ تک۲؎۔‘‘

یہ عبارت اپنا مطلب بتانے میں صاف ہے۔ مگر نہیں معلوم مرزاقادیانی کا قرآن شریف پر تو کوئی حق شفعہ بھی تھا بائبل پر کیا ہے؟ نہیں نہیں میں نے غلط کہا۔ آخر مسیح نے بھی تو آپ کی خبربتائی ہے؟ (انجیل متی باب۲۴، آیت۱۱) مرزاقادیانی کے مقربو! اس علم سمجھ ودیانت پر بھی ان کو مجدد اور حکم مانتے ہو: ’’ام أمرکم احلامکم بہذا ام انتم قوم طاغون (طور:۳۲)‘‘اگر ہم اس فقرہ: ’’عجل جسد لہ خوار‘‘ کو آپ کی تکذیب پر گواہ بنانا چاہیں تو بناسکتے ہیں۔ کیونکہ باعتبار صریح مفہوم اور عرف عام اہل اسلام اس سے سمجھا جاتا ہے کہ لیکھ رام بقر عید کے دنوں میں قتل ہو گا مگر وہ ہوا تو عید الفطر کے دنوں میں جو گائے اور گئو سالے کے ذبح ہونے کا دن ہی نہیں۔

اس مقام کو مرزا اپنے حق میں مان چکا ہے، دیکھو

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

۱؎ ناظرین! یہی عبارت قادیانی مسیح نے غت ربود کر کے نقل کی ہے۔ بغور دیکھئے!

۲؎حکیم نورالدین قادیانی نے اس عبارت سے چند سطریں آگے کی اور نقل کر کے ہم پر تحریف کا الزام لگایا ہے اور وجہ تحریف کچھ نہیں بتائی۔ حیرانی ہے ایسے مولانا اور بے ثبوت الزام۔

54

ناظرین! مقام مذکور ملاحظہ کر کے فیصلہ کریں کہ ہماری مراد صحیح ہے یا مرزاقادیانی کی۔

مرزاقادیانی! ہاتھ لااستاد۔ کیوں کیسی کہی۔

مرزاقادیانی نے اس پیش گوئی کے متعلق کئی ایک الہام ایسے بتائے ہیں جن کا پہلے سے ان کو بھی علم نہ تھا، جن کی تمثیل بالکل اس چالاک عطار کی سی ہے جو ایام بیماری میں ایک ہی بوتل سے ہر ایک قسم کے شربت دیا کرتا تھا۔ گو چند شربتوں کو وہ پہلے سے ذہن میں سوچ لیتا ہو گا کہ یہ یہ شربت اس بوتل سے نکالوں گا۔ مگر بعض خریدار ایسے شربتوں کے بھی آ جاتے ہوں گے جو اس کے ذہن میں اس وقت نہ ہوتے ہوں گے۔ لیکن وہ عیار اسی بوتل سے سب کو نباہ دیتا تھا۔ یہی حال مرزاقادیانی کی پیش گوئیوں کا ہے۔

آپ فرماتے ہیں: ’’اگرچہ خداتعالیٰ کے کلام کے باریک بھید جاننے والے گوسالہ سامری کا نام رکھنے سے اور پھر اس عذاب کا ذکر کرنے سے سمجھ سکتے تھے کہ ضرور ہے کہ لیکھ رام کی موت بھی اپنے دن کے لحاظ سے گوسالہ سامری کی تباہی کے دن سے مشابہ ہو گی۔ مگر پھر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام میں اس اجمال پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ صریح لفظوں میں فرمادیا کہ ’’ستعرف یوم العید والعید اقرب‘‘ یعنی لیکھ رام کا واقعہ قتل ایسے دن میں ہو گا جس سے عید کا دن ملا ہوا ہو گا اور یہ پیش گوئی ہے کہ عید کے دن کے قریب لیکھ رام کی موت ہو گی۔‘‘

(استفتاء ص۱۲، خزائن ج۱۲ ص۱۲۰)

مرزاقادیانی کے لنگر کی روٹیاں کھانے والے یا ان کے مرید تو کاہے کو پوچھیں گے۔ کیونکہ ان کا تو اصول ہی یہ ہے:

  1. مامریداں روبسوئے کعبہ چوں آریم چوں

    روبسوئے خانہ خمار دارد پیرما

مگر ہم نے تو’’یاتونکم ببدع من الحدیث بمالم تسمعوا انتم ولا أبائکم (درمنثور ج۶ ص۵۱)‘‘(ارشاد ہے کہ اخیر زمانہ میں کذاب لوگ پیدا ہوں گے وہ ایسی باتیں تم کو سنائیں گے جو تم نے نہ تمہارے سلف نے سنی ہوں گی) کی حدیث سنی ہوئی ہے۔ اس لئے جب تک بفضلہ تعالیٰ ہم مرزاقادیانی کی بوتل کی تمام شربتوں کا پتہ اور ماہیت اور اجزاء معلوم نہ کر لیں۔ ہمیں کیونکر چین ہو۔

والعید اقرب! یہ مصرعہ جس قصیدے کا ہے وہ کرامات الصادقین میں مرقوم ہے جس میں لیکھرام کا کہیں نام ونشان بھی نہیں بلکہ اس کے لکھتے وقت مرزاقادیانی کو بھی اس کا

55

خواب وخیال نہ ہو گا۔ ہم ناظرین کی تسلی اور مرزاقادیانی کی بوتل کی پڑتال کرنے کو اس قصیدے میں سے چند اشعار نقل کرتے ہیں، جن سے اس مصرعہ کے معنی اور سیاق وسباق معلوم ہو جائیں گے۔

  1. الا ایہا الواشی الام تکذب

    و تکفر من ہو مومن و تؤنب

  2. واٰلیت انی مسلم ثم تکفر

    فاین الحیا انت امرء او عقرب

  3. الا اننی تبروانت مذہب

    الا اننی اسد وانک ثعلب

  4. الا اننی فی کل حرب غالب

    فکدنی بمازورت والحق یغلب

  5. وبشرنی ربی وقال مبشراً

    ستعرف یوم العید والعید اقرب

  6. ونعمنی ربی فکیف اردہ

    وہذا عطاء اللہ والخلق یعجب

  7. وسوف تریٰ انی صدوق مؤید

    ولست بفضل اللہ ما انت تحسب

(کرامات الصادقین ص۵۴، خزائن ج۷ ص۹۶)

اشعار مذکورہ بتا رہے ہیں کہ یہ کلام کسی ایسے شخص کے جواب یا خطاب میں ہے جو مرزا کا مکفر ہے۔ یعنی خود مسلمان ہے اور مرزا کو کافر کہتا ہے۔ اس کو مرزاقادیانی ڈانٹتے ہیں کہ: ’’تو بے حیاء ہے، بچھو ہو۔ میں نیک ہوں، تو ملمع ساز ہے۔ میں شیر ہوں، تو لونبڑ ہے۔ میں ہر ایک لڑائی میں غالب ہوں۔ مجھے خدا نے بشارت دی ہے اور کہا ہے کہ تو عید کو پہچانے گا اور عید قریب ہے۔ میرے خدا نے مجھے نعمتیں دی ہیں۔ لوگ تعجب کرتے ہیں تو دیکھ لے گا کہ میں سچا ہوں اور جیسا تیرا گمان ہے، ویسا نہیں ہوں۔‘‘

اس سے آگے قریب کر کے صاف اور صریح لکھتے ہیں ؎

  1. وقاسمتم ان الفتاویٰ صحیحۃ

    وعلیک وزر الکذب ان کنت تکذب

تو نے ان لوگوں کو قسم کھا کر بتایا کہ یہ فتاویٰ (جو مرزا پر لگائے گئے) صحیح ہیں، اگر جھوٹا ہے تو جھوٹ کا وبال تجھ پر ہے

  1. وہل لک من علم و نص محکم

    علے کفرنا او تخرمین و تتعب

کیا تیرے پاس قطعی علم یا مضبوط نص ہمارے کفر پر ہے یا تو محض اٹکل اور تکلف کرتا ہے

صاف بات ہے کہ اس قصیدے میں نہ لیکھ رام کا ذکر ہے نہ آتھم کا۔ بلکہ صریح خطاب علماء مکفرین کو ہے۔ ہاں! اگر علماء مکفرین تمام کے تمام یا کم سے کم ان کے سرگردہ ہی عید کے روز شہادت باب ہوتے تو بھی مرزاقادیانی کو کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی، مگر یہاں تو اتنی

56

بھی نہیں خدا کے فضل سے سرگردہ مکفرین شمس العلماء مولانا سید محمد نذیر حسین دام فیوضہ آج (دسمبر ۱۹۰۱ء) تک ایک سو دس برس کی عمر میں سلامت بہ کرامت موجود ہیں اور مرزاقادیانی کو پورے اسّی برس کا بھی یقینی الہام نہیں۔ (آہ! آج ۱۹۲۰ء میں ہم دونوں کو نہیں دیکھتے۔)

ناظرین! یہ ہے مرزاقادیانی کی عطاری کی بوتل جس میں اسے الہامی شربت جس تأثیر اور جس مرض کا چاہتے ہیں نکال دیتے ہیں اور دل میں جانتے ہیں کہ جہان احمقوں سے خالی نہیں۔ اس پیش گوئی پر دونوں طرح سے وہ جرح بھی ہوسکتی ہے جو آتھم والی پیش گوئی پر کی گئی ہے۔ یعنی کہ اس پیش گوئی کے لوازم نہیں پائے گئے جن کو آپ نے اس پیش گوئی کے لئے سراج منیر میں تسلیم کیا ہوا ہے کہ: ’’اگر پیش گوئی فی الواقعہ ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔‘‘

(سراج منیر ص۱۴، خزائن ج۱۲ ص۱۷)

پس اگر یہ پیش گوئی ہیبت ناک عظیم الشان نشان کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی ہوتی تو اپنا اثر بھی ساتھ رکھتی۔ حالانکہ نہیں۔

دوم یہ کہ انبیاء کی پیش گوئیوں کی طرح اس کا بھی ظہور قطعی ویقینی نہیں ہوا کہ کسی مخالف وموافق کو شبہ نہ رہتا بلکہ اس کے کذب پر بعض لوگ قسم کھانے کو تیار تھے، جن کے جواب آپ نے آج تک نہیں دئیے۔

اس پیش گوئی کے متعلق حکیم صاحب سے جوبن سکا وہ صرف یہ ہے کہ الہام میں لیکھ رام کو عجل (گوسالہ)کہاگیا اور اس کے لئے خوار اور نصب کا ثبوت ہے۔ خوار مقتول کی آواز کو کہتے ہیں۔ نصب کا لفظ بھی موت بالقتل پر دلالت کرتا ہے۔ عذاب سے بھی موت ثابت ہوتی ہے۔ وغیرہ!

(آئینہ حق نما ص۱۲۸)

خداجانے قادیانی مشن دنیا کو کیا جانتا ہے۔ کیا یہ ٹھیک ہے ؎

سمجھ رکھا ہے ظالم نے پھنسا دل کب نکلتا ہے

عجل بچھڑے کو کہتے ہیں۔ خوار، بیل، گائے اور بچھڑے کی آواز کو کہتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو قاموس، صراح، منتہی الارب، صحاح جوہری، مفردات راغب وغیرہ) نصب بھی عذاب کو کہتے ہیں۔ اس کو بھی قتل وغیرہ لازم نہیں۔ اہل جنت کے حق میں فرمایا ہے: ’’لا یمسہم فیہا نصب (الحجر:۴۸)‘‘اہل جنت کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے گی۔ عذاب سے بھی قتل ثابت نہیں۔ پھر ثابت کس سے ہے؟

57

عجیب چالاکی قابل افسوس

حکیم صاحب نے کتاب (لسان العرب ج۵ ص۳۴۵) کے حوالہ سے (بزعم خود) ثابت کیا ہے کہ: ’’خوار کا لفظ انسان پر اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی مقتول قتل ہونے کے وقت گئوسالہ کی طرح چلاتا ہے۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۱۲۴: از یعقوب تراب)

مطلب آپ کا یہ ہے کہ لیکھ رام کی بابت جو ’’عجلاً جسداً لہ خوار‘‘ آیا ہے یہ خوار ہی قتل پر اشارہ کرتا ہے۔ کس صفائی سے پورا حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ کتاب مذکور میں یہ مضمون کہیں بھی نہیں۔ حوالہ مذکور نہ ملنے کی صورت میں حکیم صاحب پر خیانت اور کذب کا الزام رہے گا اور اگر حوالہ صحیح ثابت ہو جائے تو بھی حکیم صاحب مع اپنی جماعت کے بے سمجھی کے الزام سے بری نہیں ہوں گے۔ کیونکہ مرزائی الہام میں جو خوار کا لفظ آیا ہے وہ انسان کے لئے نہیں ہے بلکہ عجل (گوسالہ) کے لئے ہے اور عجل بطور استعارہ (مثل زید اسد) انسان (لیکھ رام) کے لئے ہے۔ اے کاش! آپ فن معانی وبیان کو ملحوظ رکھتے تو یہ غلطی آپ سے سرزد نہ ہوتی۱؎۔

فیصلہ ہو گیا۔ حکیم صاحب اور آپ کے اتباع! آئیے میں آپ سے اس بارے میں فیصلہ کر لوں۔ بشرطیکہ آپ سیدھی راہ انصاف کو اختیار کریں۔ پس غور سے سنئے۔ آپ نے مرزاقادیانی کی کتاب (سراج منیر ص۱۰، خزائن ج۱۲ ص۱۳) سے یہ عبارت نقل کی ہے: ’’پنڈت لیکھ رام پشاوری وغیرہ جن کی قضاء وقدر کے متعلق غالباً اس رسالہ میں بقید تاریخ ووقت کچھ تحریر ہو گا۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۱۲۷: مرتب یعقوب علی تراب)

اس عبارت کو نقل کر کے آپ نے بڑا زور دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’خدا کے لئے غور کرو کہ کیا اس میں صاف طور پر ظاہر نہیں کیاگیا کہ لیکھ رام کی قضاء وقدر اور موت فوت کے متعلق بقید تاریخ ووقت ایک پیش گوئی شائع ہو گی…… لیکھ رام نے دیدہ دلیری سے کہا کہ میرے حق میں جو چاہو شائع کرو۔ میری طرف سے اجازت ہے جس پر پیش گوئی مذکورہ ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء کو شائع ہوئی۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۱۲۷، از یعقوب علی قادیانی)

۱؎اخبار اہل حدیث مؤرخہ ۲۵؍جولائی ۱۹۱۳ء میں بذریعہ کھلی چٹھی کے حکیم صاحب سے یہ حوالہ طلب کیا تھا۔ اس کا جواب بھی نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حوالہ مذکور دکھا ہی نہیں سکتے۔ اس مقام کی عبارت سمجھنے میں ان کو غلطی ہوئی۔ ’’ولیس ہذاول قارورۃ کسرت فی القادیاں‘‘

58

بس اب مطلع صاف ہے۔ آپ ہم کو فروری ۱۸۹۳ء والے اشتہار سے لیکھ رام کی موت بقید تاریخ اور بقید وقت دکھائیں۔ ہم اس کو مان جائیں گے۔ حکیم صاحب اور خلیفہ صاحب راست بازی اس کا نام ہے کہ جو حکایت کریں اس کا محکی عنہ بھی بتلائیں۔ یہ نہیں کہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہو اور ثبوت کچھ نہ ہو۔ غالباً آپ کو اشتہار مذکور کی اس عبارت پر نظر ہو گی: ’’آج کی تاریخ سے جو ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء ہے۔ یہ شخص… لیکھ رام چھ برس کے عرصہ کے اندر عذاب شدید میں مبتلاء ہو جائے گا۔‘‘

(سراج منیر ص۱۳، خزائن ج۱۲ ص۱۵: آئینہ حق نما ص۱۱۷)

مگر اے جناب! اگر یہ اور سابقہ عبارت ملک کی عام زبان (اردو) میں ہے تو کوئی اردو دان منصف بتلا سکتا ہے کہ اس عبارت کا مطلب یہ ہے جو مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’لیکھ رام جن کی قضاء وقدر کے متعلق … بقید وقت وتاریخ تحریر ہو گا۔‘‘

(اشتہار مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۹۸۶ء مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۹۸: مندرجہ آئینہ حق نما از یعقوب علی ص۱۲۷)

اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ جس تاریخ اور جس وقت لیکھ رام کی موت واقع ہونے والی ہو گی اس تاریخ کا نام اور اس وقت کا ذکر صاف لفظوں میں ہو گا۔ یہ نہیں کہ آج سے چھ برس تک وقت ہو گا۔ چہ خوش! حالانکہ مرا بھی چاربرس تک کیونکہ فروری ۱۸۹۳ء میں پیش گوئی شائع ہوئی اور مارچ ۱۸۹۷ء میں وہ فوت ہوا۔ اگر یہ خیال ہو کہ چھ سال کے اندر ہی اندر مرا چھ سے تو آگے نہیں بڑھا چاہے چار سال تک مرا تو ان کو سوچنا چاہئے کہ اگر یہی قاعدہ ہے تو چھ سال کیا دس سال کے اندر مرابھی کہہ سکتے ہیں۔د س کیا بیس کے اندر مرا بیس کیا ایک صدی کے اندر مرا۔ کہئے پھر چھ ہی کی کیا خصوصیت ہے۔ خیر ہمیں اس سے مطلب نہیں۔ چھ سال کے اندر مرایا یا چار سال کے اندر مرا ہمیں تو یہ غرض ہے کہ مرزاقادیانی کی کسی تحریر سے لیکھ رام کی موت بقید تاریخ اور وقت دکھا دیجئے۔ یہی دو حرفہ فیصلہ ہے:

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

مختصر یہ کہ پنڈت لیکھ رام کی بابت خارق کی عادت عذاب کا وعدہ تھا۔ موت کا اس میں کوئی لفظ نہیں۔ بغیر خرق عادت عذاب کے اس کی موت نے ثابت کر دیا کہ یہ پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔

حضرات انبیاءؑ کے مخالفوں پر جو موت آتی اور ان کی پیش گوئی سچی ثابت ہوتی تھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی پیش گوئی ہی ایسی ہوتی تھی ’’لیہلکن الظالمین‘‘

59

(ہم (خدا) ظالموں کو ہلاک کر دیں گے) چونکہ وہ ان کے ہلاک کرنے کی ہوتی تھی، اس لئے وہ سچی ہوتی اور مرزاقادیانی کی پیش گوئی میں خرق عادت عذاب کا ذکر ہے۔ اس لئے بغیر خرق عادت کے یہ پیش گوئی غلط ہوئی۔ الحمدﷲ!

تیسری پیش گوئی … مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری

اور اس کے داماد مرزا سلطان محمد کے متعلق

الہامات مرزا کے طباعات سابقہ میں مرزاسلطان محمد اور محمدی بیگم کے متعلق پیش گوئی ایک جادکھائی گئی ہے۔ مگر اس طبع میں معقول وجہ سے ان دونوں کو الگ الگ کر دیا ہے۔ ناظرین مطلع رہیں۔

نوٹ: محمدی بیگم آسمانی منکوحہ والی پیش گوئی دراصل مقصود اصلی ہے اور مرزاسلطان محمد والی پیش گوئی اس کی تمہید اور دراصل دفع مانع ہے۔ کیونکہ آسمانی نکاح کا بہت مانع سلطان محمد ہوا اور اخیر تک رہا۔ اس لئے بلحاظ اصول فطرت مانع کے اٹھانے پر توجہ کا ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ مرزاقادیانی کی توجہ اس مانع کی طرف ایسی ہوئی کہ اس بیچارے دلہا کو اپنی غضب آمیز نگاہ کاشکار بنایا۔ یہ اس کی قسمت تھی کہ بچ کر نکل گیا۔

چونکہ مرزاسلطان محمد صاحب کے متعلق جو اشتہار ہے، اسی میں منکوحہ آسمانی کا ذکر بھی ہے۔ لہٰذا وہ ایک جگہ نقل ہو سکتا ہے۔ جو یہ ہے:

ایک پیش گوئی پیش از وقوع کا اشتہار

  1. پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہو گا

    قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہو گا

  2. جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہو گا

    کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہو گا

اب یہ جاننا چاہئے کہ جس خط کو ۱۰؍مئی ۱۸۸۸ء کے نورافشاں میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے، وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھاگیا تھا۔ ایک مدت دراز سے بعض سرکردہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کی حقیقی ہمشیرہ زادہ کی نسبت درخواست کی گئی تھی، نشان آسمانی کے طالب تھے اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگست ۱۸۸۸ء میں چشمہ نور امرتسر میں ان کی طرف سے اشتہار چھپا تھا۔ یہ درخواست

60

ان کی اس اشتہار میں بھی مندرج ہے، ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے بھی دشمنی ہے اور والد اس دختر کا بباعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل وجان سے فداء اور اپنے اختیارات سے قاصر وعاجز بلکہ انہیں کا فرمانبردار ہو رہا ہے اور اپنی لڑکیاں انہیں کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر باب میں اس کے مدار المہام اور بطور نفس ناطقہ کے اس کے لئے ہو رہے ہیں۔ تب ہی تو نقارہ بجا کر اس کی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی۔ یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھر دیا۔ آفرین بریں عقل ودانش! ماموں ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا۔ ماموں ہوں تو ایسے ہوں۔ غرض یہ لوگ مجھ کو میرے دعویٰ الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے ہیں اور اسلام اور قرآن پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لئے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خداتعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ:

’’نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچازاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلاگیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے، نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چارہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے، اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا تھا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بے کار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے بتمام ترعجزوانکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سویہی جواب مکتوب الیہ کو دیاگیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیاگیا وہ استخارہ کیاتھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا۔ جس کو خداتعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کو دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر

61

اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی۱؎ شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہیں۔

لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص۲؎ سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ، تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امرپیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے باربار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خداتعالیٰ نے جو مقرر کر رکھا ہے وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا اوربے دینوں کو مسلمان بنادے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے: ’’کذبوا بایتنا وکانوا بہا یستہزؤن فسیکفیکہم اللہ ویردہا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید انت معی وانا معک عسٰی ان یبعثک ربک مقاماً محموداً‘‘ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خداتعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہو گا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی۳؎۔ یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخرکار خداتعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی۔‘‘(آج تک تو جیسی ہوئی ہے نمایاں ہے۔ مصنف)

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۳، ۱۵۶تا۱۵۹)

یہ اشتہار اپنا مضمون بتلانے میں بالکل واضح ہے، کسی مزید توضیح یا تشریح کی حاجت نہیں

۱؎کیا ہی عجیب موقع تھا۔ بیل کو کنوئیں میں خصی نہ کریں گے تو اور کہاں کریں گے۔

۲؎ناظرین! عبارت ہذا کو ملحوظ رکھئے۔ یہی کام کی بات ہے۔

۳؎چھٹی ستمبر ۱۸۹۵ء کے روز تعریف ہوئی تھی۔

62

رکھتا صاف بتلا رہا ہے کہ تاریخ نکاح سے تین سال تک دونوں (احمد بیگ اور اس کا داماد) فوت ہو جائیں گے۔ البتہ تاریخ معلوم کرنے کے لئے کہ نکاح کب ہوا اور کب تک ان دونوں کی موت کی تاریخ ہے۔ مرزاقادیانی کی دوسری ایک تحریر سے شہادت لینے کی ضرورت ہے۔

(رسالہ شہادت القرآن ص۸۰، خزائن ج۶ ص۳۷۵) میں مرزاقادیانی خود ہی اس کی میعاد بتلاتے ہیں کہ ۲۱؍ستمبر ۱۸۹۳ء سے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔ پس بموجب اقرار مرزاقادیانی ۲۱؍اگست ۱۸۹۴ء کو مرزاسلطان محمد داماد مرزااحمد بیگ کو دنیا میں رہنے کی اجازت نہ تھی۔ مگر افسوس کہ وہ مرزاقادیانی کے سینہ پر مونگ دلا ہوا آج یکم؍اگست ۱۹۰۴ء تک زندہ ہے۔ سچ ہے:’’کذب المنجمون ورب الکعبہ‘‘ (مرزاقادیانی کے مرنے کے چالیس سال بعد ۱۹۴۸ء میں فوت ہوا۔ فقیراللہ وسایا)

مرزاقادیانی اپنی زندگی میں تو سلطان محمد کی موت کی بابت امیدیں دلاتے رہے۔ یہاں تک کہ رسالہ ضمیمہ انجام آتھم میں اس پیش گوئی کے دو جزو بتا کر ایک جزو متعلق موت مرزااحمد بیگ والد مسماۃ کا پورا ہونا لکھ کر دوسرے جزو یعنی خاوند منکوحہ آسمانی کی موت کی بابت لکھتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز (موت سلطان محمد) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

مرزاسلطان محمد کی زندگی کی وجہ سے جب چاروں طرف سے مرزاقادیانی پراعتراضات ہوئے تو ان کا ایک ایسا صاف بیان شائع کیا جس سے صاف بیان نہیں ہوسکتا۔ فرمایا: ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم (قطعی) ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹاہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہو گی اور میری موت آ جائے گی۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص۳۱، خزائین ج۱۱ ص۳۱)

ناظرین! اس سے بھی زیادہ کون بیان واضح ہوسکتا ہے کہ خود صاحب الہام اقرار کرتا ہے کہ میری موت اگر اس کی زندگی میں آئی تو میں جھوٹا سمجھا جاؤں۔

اور سنئے: مرزاقادیانی ہاں مدعی صاحب الہام ربانی فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (موت داماد احمد بیگ) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدترٹھہروں گا۔‘‘

(رسالہ ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

بس یہ دونوں اقرار مع پیش گوئی کے مرزاقادیانی کی صداقت یا بطالت جانچنے کو

63

کافی ہیں۔ مگر ہمارے مرزائی دوست بھی کچھ ایسے پختہ کار ہیں کہ کوئی نہ کوئی عذر بنا نکالا کرتے ہیں۔ مرزاسلطان محمد کا ایک خط شائع کرتے ہیں جس کا مضمون یہ ہے کہ میں مرزاقادیانی کو بزرگ جانتا ہوں۔ اس خط کو اس دعویٰ کی سند میں پیش کیا کرتے ہیں کہ سلطان محمد دل سے مرزاقادیانی کا معتقد ہو گیا تھا۔ اس لئے وہ نہ مرا۔

اس کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے اپنے بیانات کے سامنے یہ تحریر کوئی وقعت نہیں رکھتی، ممکن ہے مخالف نے بطور استہزاء یا معمولی اخلاقی نرمی سے یہ فقرہ لکھ دیا ہو۔

ناظرین! آپ ذرا غور کیجئے کہ مرزاسلطان محمد تو اس لئے مرزاقادیانی کی زد میں آیا تھا کہ اس نے مرزاقادیانی کی آسمانی منکوحہ سے نکاح کر لیا تھا اور کر کے پھر حسب منشاء مرزاقادیانی چھوڑا بھی نہ، یہ کیا حسب اعتقاد ہے کہ منکوحہ کو روک رکھا اور مانع بنارہا۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ جرم پر اصرار ہے زبان سے عقیدت کا اظہارکیا فائدہ دے سکتا ہے؟

اس کے علاوہ اس کی اپنی ایک تحریر ہمارے پاس ہے جس کی نقل یہ ہے: ’’مرزاغلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی نہ میں اس کی پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔‘‘

(سلطان محمد بیگ ساکن پٹی مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۲۳ء)

مرزاسلطان محمدصاحب کو خدا جزائے خیر دے کیسا شریفانہ کلام کیا۔ مختصر مضمون میں سب کچھ بھر دیا۔ پیش گوئی سے ڈرا نہیں۔ پیش گوئی کی تصدیق نہیں کی۔ کیا ہی شریفانہ انداز میں سب کچھ کہہ گیا۔ مگر بازاری لوگوں کی طرح بدکلامی نہیں کی۔

احمدی دوستو! مرزاسلطان محمد آج یکم؍مئی ۱۹۲۸ء میں پٹی ضلع لاہور میں زندہ ہے۔ مزید تشفی کے لئے اس سے ملو اور مرزاقادیانی آنجہانی کا ان کو پیغام پہنچاؤ کہ ؎

میرے مجنو! تیرا کیا حال ہوا میرے بعد

چوتھی پیش گوئی … منکوحہ آسمانی محمدی بیگم بنت مرزااحمد بیگ ہوشیار

پوری کے نکاح مرزا میں آنے کے متعلق

اس پیش گوئی کے متعلق ابتدائی بیان مرزاقادیانی کا کتاب ہذا میں درج ہوچکا ہے۔ اس کی تکمیل میں مرزاقادیانی کا مندرجہ ذیل بیان ملاحظہ ہو۔ آپ فرماتے ہیں: ’’اس

64

پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکرکرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے وہ خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)

ناظرین! اب کس کی مجال ہے کہ بعد فیصلہ نبوی اس پیش گوئی کی نسبت کوئی برا خیال ظاہر کرے بلکہ ہر مؤمن کا فرض ہے کہ فیصلہ نبویہ ’’علی صاحبہا افضل الصلٰوۃ والتحیۃ‘‘ پر ’’آمنا وصدقنا فاکتبنا مع الشاہدین‘‘ کہہ کر ایمان لائے۔ اس لئے ہم تو ایمان لے آئے کہ مسیح موعود کی علامت بے شک یہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے حق میں ایسا ہوا بھی؟

آہ! مرزاقادیانی اور ان کے مرید زندگی میں تو اس کی امیدیں ہی دلاتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ ہوا کیا فریقین (ناکح منکوحہ) زندہ ہیں پھر ناامیدی کیا۔ نکاح ہو گا اور ضرور ہو گا۔ لیکن جوں جوں مرزاقادیانی کا بڑھاپا غالب آتا گیا اس امر میں مرزاقادیانی کو ناامیدی غالب آتی گئی تو آپ نے اس کے انجام پر نظر رکھ کر ایک نئی طرح ڈالی جو آپ کی کتاب حقیقت الوحی سے ہم ناظرین کو دکھاتے ہیں۔فرماتے ہیں: ’’احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آ گیا۔ یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجزونیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو۔ پس خدا نے ان کے اس خوف اور اس قدر عجزونیاز کی وجہ سے پیش گوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۷، خزائن ج۲۲ ص۱۹۵)

یہاں تک تو ہمارا کوئی نقصان نہیں تھا۔ تاخیر پڑ گئی تو خیر بحکم دیر آید درست آید! انجام بخیر ہوتا تو ہم بھی معترض نہ ہوتے۔ مگر یہاں تو حالت ہی دگرگوں ہے کہ مرزاقادیانی کو خود ہی اس پیش گوئی کے وقوع میں ایسا تردد ہوا کہ اسی کتاب حقیقت الوحی کو شائع کرنے سے پہلے اسی کتاب کے دوسرے مقام پر آپ نے اس تاخیر کے ساتھ ’’فسخ‘‘ بھی لگادیا۔

65

چنانچہ فرماتے ہیں: ’’یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں، اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ:’’ایتہا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علے عقبک‘‘ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۲، ۱۳۳،خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)

ناظرین! یہاں پر تو پہلے کی نسبت ایک لفظ اور بڑھایا ہے۔ پہلے حوالہ میں صرف تأخیر تھی، اب فسخ بھی بڑھا دیا ہے۔ مگر دورنگی کو نہیں چھوڑا۔ آہ! کس آن بان سے کہتے ہیں نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ پورا یقین نہیں۔

حضرات! آپ لوگ جو عرصہ سے اس نکاح کے ولیمہ کی دعوت کے منتظر ہوں گے، اس عبارت میں فسخ نکاح کا لفظ سن کر سن ہو گئے ہوں گے اور آپ لوگوں کے منہ سے شاید یہ شعر نکلا ہو گا ؎

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

حکیم نورالدین قادیانی نے اپنے رسالہ آئینہ میں یہی عبارت نقل کر دینی کافی سمجھی ہے۔ اسی عبارت سے مرزا قادیانی اپنے مخالفوں کو ڈانٹتے ہیں کہ تم لوگ کیسے ہو کہ ایسے خدا کو مانتے ہو جو وعدہ عذاب ٹال نہیں سکتا۔ ہمارا خدا تو جو چاہے کر سکتا ہے۔ وعدہ کر کے پورا نہ کرے تو بھی کوئی اس کو پوچھنے والا نہیں۔ وغیرہ! مگر ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ نکاح تو عذاب نہ تھا بلکہ یہ نکاح تو بقول آپ کے ان کے حق میں بڑی خیروبرکت کا موجب تھا۔ اس کو عذاب سے کیوں تعبیر کرتے ہیں اور اس کو ٹلاتے کیوں ہیں۔ کیا نبی کی حرم محترم بننا عذاب ہے؟

اور سنئے! چونکہ بقول آپ کے پیمبر خداﷺ نے اس نکاح کو مسیح موعود کی علامت قرار دیا تھا۔ (رسالہ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷) تو چونکہ مرزاغلام احمد قادیانی اس نکاح کے بغیر ہی انتقال فرما گئے ہیں۔ کیا ہمارا حق ہے کہ بوجہ ہم مقررہ علامت نہ پائے جانے کے مرزاغلام احمد قادیانی کی نسبت اپنا اعتقاد یوں ظاہر کریں ؎

  1. رسول قادیانی کی رسالت

    حماقت ہے جہالت ہے بطالت

66

اس پیش گوئی نے قادیانی مشن کے بڑے بڑے ممبروں کو متوالا بنارکھا ہے۔ وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کہتے ہیں کہ اس دیوانگی میں ان کو نہ تضاد کا علم رہتا ہے نہ تناقض کا۔ ایک بڑے جوشیلے نوجوان مگر قادیانی مشن کے بڑے کارکن (قاضی اکمل) لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس الہام کے سمجھنے میں غلطی کھائی۔ (رسالہ تشحیذ الاذہان ج۸ شمارہ۵، بابت ماہ مئی ۱۹۱۳ء ص۲۲۴) لیکن ہمارے مخاطب جناب حکیم صاحب نے اس نکاح کی بابت نہ غلطی کا اعتراف کیا نہ فسخ کا اظہار فرمایا۔ بلکہ کمال خوشی ہے کہ نکاح صحیح رکھا مگر نہ رکھنے سے بدتر۔ آپ ان آیات کو نقل کرتے ہیں، جن میں خداتعالیٰ نے زمانہ رسالت کے موجودہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ یہ کیا وہ کیا۔ حالانکہ ان کے بزرگوں کے ساتھ کیا تھا۔ ان آیات کو لکھ کرفرماتے ہیں: ’’اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں ان آیات کو یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبہ میں مخاطب کی اولاد مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہوسکتے ہیں تو احمدبیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہوسکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا؟ اور کیا مرزاقادیانی کی اولاد مرزاقادیانی کی عصبہ نہیں۔ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جاوے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا۔ پھر یہی وجہ بیان کی: والحمد للہ رب العالمین!‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۷ شمارہ۷ ص۲۷۹ بابت ماہ جولائی ۱۹۰۸ء)

حکیم صاحب کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی سے نکاح نہیں ہوا تو مرزاقادیانی کے لڑکے درلڑکے، لڑکے درلڑکے، لڑکے درلڑکے، لڑکے درلڑکے تاقیامت اور ادھر منکوحہ کی لڑکی درلڑکی، لڑکی درلڑکی، لڑکی درلڑکی، لڑکی درلڑکی تاقیامت ان میں کبھی نہ کبھی رشتہ ضرور ہو جائے گا۔ واہ! کیا کہنے ہیں۔ بات تو خوب سوجھی۔

حکیم صاحب! آپ کی کوشش سے بات تو بن جاتی مگر اس کا کیا علاج ہو کہ جناب مرزاقادیانی جن کی تصدیق کے لئے آپ یہ سب کچھ کر رہے ہیں، اس نکاح کو خاص اپنی علامت صداقت بتا رہے ہیں اور حضور سرورکائنات فخر موجوداتa کے دستخط بھی اس علامت پر کراچکے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷) اس لئے وہ آپ کی

67

چلنے نہیں دیں گے۔ رہی آپ کی عقیدت۔ سو اس کی بابت تو یہی جواب ہے جس صورت میں آپ جیسوں کا مذہب ہے۔

  1. پھرے زمانہ پھرے آسماں ہوا پھر جا

    بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جا

تو آپ کی عقیدت کا متزلزل نہ ہونا کون سا کمال ہے۔ قرآن مجید میں پہلے ہی پارے میں اس کی تصدیق ملتی ہے۔ ’’ختم اللہ علٰی قلوبہم‘‘

مرزائی دوستو! یہی فلسفہ ہے جو تم یورپ تک پہنچانا چاہتے ہو؟ (اف)

مرزاقادیانی پر اس بارے میں اعتراض ہوا تو آپ نے اس کو اعتراض اور جواب کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ غور سے سنئے:

اعتراض پنجم: مسماۃ محمدی بیگم کو دوسرا شخص نکاح کر کے لے گیا اور وہ دوسری جگہ بیاہی گئی۔

الجواب: ’’وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے۔ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے سو یہ ایک پیش گوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے یہ لفظ ہیں: ’’سیکفیکہم اللہ ویردھا الیک‘‘یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہئے کہ رد کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جاوے اور پھر واپس لائی جاوے۔

پس چونکہ محمدی ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی، یعنی میری چچازاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔ یعنی احمد بیگ کی۔ پس اس صورت میں رد کے معنی اس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہو گا۔ ‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۲۳ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۳۰؍جون ۱۹۰۵ء)

خلیفہ صاحب آپ کی خلافت یہی فتوے دیتی ہے کہ اپنے رسول، ہاں اپنے مسیح موعود، ہاں مہدی مسعود اور کرشن گوپال جی کی تصریحات کے خلاف آپ تاویل کریں۔ آہ! افسوس ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔

68

حکیم صاحب! یہ تو بتلائیے کہ ہمارا اعتراض یا سوال مشن مرزائیہ یا خلافت نوریہ پر مانا کہ آپ کی تاویل صحیح ہو، بہت خوب! ہمارا آپ پر اعتراض تو نہ ہو گا بلکہ نبوت مرزائیہ پر ہو گا اور اس کی بناء پر ان کی تصریحات اور تشریحات ہوں گی، اور بس!

حکیم صاحب علماء کا عام اصول ہے۔ تاویل الکلام ’’بما لا یرضٰی بہ قائلہ باطل‘‘(کسی کلام کی ایسی تاویل کرنی جو متکلم کے خلاف منشاء ہو غلط ہے) فرمائیے! آپ کی دیانت، امانت، راست بازی یہی شہادت دیتی ہے کہ آپ مرزاقادیانی کی پیش گوئی کی ان کے خلاف تاویل کرتے ہیں۔ افسوس!

ہمارے خیال میں یہ پیش گوئی ایسی صاف ہے کہ زیادہ لکھنے سے ہمارا قلم رکتا ہے۔ اس لئے ناظرین کے حوالے کرتے ہیں۔ ہاں! اتنا کہنے سے نہیں رک سکتے کہ مرزاقادیانی نے اس پیش گوئی کے متعلق جتنی کوششیں کیں شاید ہی کسی کام کے لئے کی ہوں۔ بہت سے خطوط متضمن ترغیب وترہیب مسماۃ کے وارثوں کو لکھے مگر افسوس کوئی بھی کارگر نہ ہوا۔ ہمیشہ یہی کہتے چلے گئے ؎

  1. جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہوں رقیب جدا

    ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

لطیفہ! گویہ پیش گوئی مرزاقادیانی کے الفاظ میں غلط ہوئی۔ تاہم وہ ایک معنی سے سچے ہیں۔ کون نہیں جانتاکہ عورتوں کو سوکن کے ساتھ جو رنج ہوتا ہے وہ طبعی ہے۔ اس لئے غالباً نہیں بلکہ یقینا یہ بات ہے کہ مرزاقادیانی کی حرم محترم اپنی سوکن کے نہ آنے کے لئے دست بدعا ہوں گی۔ خدا نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ولایت گھر کی گھر میں رہی۔ خاوند نہیں تو بیوی ہی ولی سہی۔

مرزاقادیانی کے دوستو! مرزاقادیانی کی الہامی شکست کا باعث زیادہ تر ان کی حرم محترم ہیں کوئی اور نہیں۔ کیا سچ ہے ؎

  1. نگاہ نکلی نہ دل کی چور زلف عنبریں نکلی

    ادہر لا ہاتھ مٹھی کھول یہ چوری یہیں نکلی

نوٹ: خاص اس پیش گوئی کے متعلق ہمارا ایک مستقل رسالہ ہے جس کا نام ہے ’’نکاح مرزا‘‘ اس میں یہ پیش گوئی مفصل مذکور ہے۔ (یہ بھی احتساب قادیانیت کی جلد ہذا میں ملاحظہ فرمائیے۔ فالحمدﷲ! فقیر)

69

پانچویں پیش گوئی … مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم اور

ملا محمد بخش مالک اخبار جعفر زٹلی لاہوری اور مولوی ابوالحسن تبتی کے متعلق

یہ پیش گوئی آتھم وغیرہ کی پیش گوئیوں سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ کیونکہ اس پیش گوئی سے مرزاقادیانی اور ان کے مخالفوں کا انقطاعی فیصلہ ہے۔

ناظرین! اشتہار مندرجہ ذیل پڑھیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’میں نے خداتعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو میں نے کی ہے کہ اے میرے ذوالجلال پروردگار! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اورجھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں باربار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ۱۰؍نومبر ۱۸۹۸ء کو چھپا ہے، میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تو اے میرے مولا! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ۱۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵؍جنوری ۱۹۰۰ء تک ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر اور اس روز کے جھگڑے کو فیصلہ فرما۔ لیکن اگر اے میرے آقا! میرے مولا! میرے منعم! میری ان نعمتوں کے دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دعاکرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں جو۱۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵؍جنوری ۱۹۰۰ء تک شمار کئے جائیں گے، شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور تبتی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے، ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر۔ غرض اگر یہ لوگ تیری نظر میں سچے اور متقی اور پرہیزگار اور میں کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے ان تیرہ مہینوں میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کہ ان تینوں کو ذلیل اور رسوا اور ’’ضربت علیہم الذلۃ‘‘کا مصداق کر۔ آمین ثم آمین!‘‘یہ دعا تھی جو میں نے کی۔

اس کے جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسواء کر دوں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا۱؎ اور چند عربی الہامات ہوئے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:

۱؎ہاٹھ کاٹے گا سے مراد یہ ہے کہ جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے ناجائز تحریر کا کام لیا وہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہوں گے۔ اور افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔ (مرزاقادیانی)

70
’’ان الذین یصدون عن سبیل اللہ سینالہم غضب من ربہم ضرب اللہ اشد من ضرب الناس۔ انما امرنا ای اردنا شیئا ان نقول لہ کن فیکون۔ اتعجب لامری انی مع العشاق انی انا الرحمن ذوالمجد والعلی ویعض الظالم علے یدیہ ویطرح بین یدی۔ جزاء سیئۃ بمثلہا وترہقہم ذلۃ۔ مالہم من اللہ من عاصم فاصبر حتّٰی یأتی اللہ بامرہ ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ہم محسنون‘‘

یہ خداتعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہی ہے کہ ان دونوں فریق میں سے جن کا ذکر اس اشتہار میں ہے، یعنی یہ خاکسار ایک طرف اور شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مولوی ابوالحسن تبتی دوسری طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں۔ ان میں سے جو کاذب ہے وہ ذلیل ہو گا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے، اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۱؎۔ اب ہم ذیل میں شیخ (مولوی) محمد حسین کا وہ اشتہار لکھتے ہیں جو جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی کے نام پر شائع کیا گیا ہے۔ تاخداتعالیٰ کے فیصلہ کے وقت دونوں اشتہارات کے پڑھنے سے حق کے طالب عبرت اور نصیحت پکڑ سکیں اور عربی الہامات کا خلاصہ مطلب یہی ہے کہ جو لوگ سچے کی ذلت کے لئے بدزبانی کر رہے ہیںاور منصوبے باندھ رہے ہیں۔ خدا ان کو ذلیل کرے گا اور میعاد ۱۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء سے تیرہ مہینے ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے اور ۱۴؍دسمبر ۱۸۹۸ء تک جو دن ہیں وہ توبہ اور رجوع کے لئے مہلت ہے۔ فقط!

(اشتہار ۲۱؍نومبر ۱۸۹۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۰تا۶۲)

یہ عبارت جس زوروشور سے لکھی گئی ہے اس کا اندازہ کرانے کے لئے کسی مزید توضیح یا تشریح کی حاجت نہیں۔ عبارت مذکورہ اپنا مطلب صاف اظہار کر رہی ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے دونوں رفیقوں پر خدا جانے کس قسم کا خرق عادت عذاب نازل ہو گا۔ کیا ان کی گت ہو گی جو خدا دشمن کی بھی نہ کرے۔ کوئی بڑی ہی سخت آفت آنے والی تھی جس کی بابت مرزاقادیانی نے رسالہ راز حقیقت میں تیرہ مہینوں تک بڑے صبر سے اپنے مریدوں کو آخری فیصلہ کے انتظار کرنے کا حکم دیا تھا اور سخت تاکید کی تھی کہ اس فیصلہ کے منتظر رہیں۔

رسالہ راز حقیقت میں فرماتے ہیں: ’’میں اپنی جماعت کے لئے خصوصاً یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ وہ اس اشتہار کے نتیجہ کے منتظر رہیں کہ جو ۲۱؍نومبر ۱۸۹۸ء کو بطور مباہلہ شیخ (مولوی)

۱؎بے شک اس احکم الحاکمین نے ایسا ہی کیا۔ الحمدﷲ!

71

محمد حسین بٹالوی اشاعۃ السنہ اور اس کے دو رفیقوں کی نسبت شائع کیا گیا ہے جس کی میعاد ۱۵؍جنوری ۱۹۰۰ء میں ختم ہو گی اور میں اپنی جماعت کو چند لفظ بطور نصیحت کہتا ہوں کہ وہ طریق تقویٰ پر پنجہ مار کر یاوہ گوئی کے مقابلے پر یاوہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلے میں گالیاں نہ دیں۔ وہ بہت کچھ ٹھٹھا اور ہنسی سنیں گے۔ جیسا کہ وہ سن رہے ہیں۔ مگر چاہئے کہ خاموش رہیں اور تقویٰ اور نیک بختی کے ساتھ خداتعالیٰ کے فیصلے کی طرف نظر رکھیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی نظر میں قابل تائید ہوں تو صلاح اور تقویٰ اور صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اب اس عدالت کے سامنے مثل مقدمہ ہے جو کسی کی رعایت نہیں کرتی اور گستاخی کے طریقوں کو پسند نہیں کرتی۔ جب تک انسان عدالت کے کمرے سے باہر ہے، اگرچہ اس کی بدی کا بھی مواخذہ ہے۔ مگر اس شخص کے جرم کا مواخذہ بہت سخت ہے جو عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر بطور گستاخی ارتکاب جرم کرتا ہے۔ اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کی عدالت کی توہین سے ڈرو اور نرمی اور تواضع اور صبر اور تقویٰ اختیار کرو اور خداتعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم میں اور تمہاری قوم میں فیصلہ فرمادے۔‘‘

(رازحقیقت ص۱،۲، خزائن ج۱۴ ص۱۵۳، ۱۵۴)

اس سے صاف سمجھ میں آتا تھا کہ ان تیرہ مہینوں کے بعد مرزاقادیانی سے مخالفوں کا قطعی فیصلہ ہو جائے گا۔ ایسا کہ کسی دوست دشمن کو چوں وچراں کرنے کی گنجائش نہ رہے گی۔ وہ فیصلہ کیا ہو گا، مثل فتح مکہ کے آخری فیصلہ ہو گا۔ مگر افسوس کہ یہ پیش گوئی بھی بقول شخصے ؎

  1. تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے

    وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

کوہ کندن وکاہ برآوردن کی مصداق ہوئی۔ چنانچہ آج (ستمبر ۱۹۱۳ء) کو تیرہ سال ہونے کو ہیں۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے ہر دو رفیق پیش گوئی زدہ برابر زندہ۱؎ سلامت بلاکلفت مرزائیوں کے سامنے موجود ہیں۔ اس پیش گوئی کا بھی جو مرزاقادیانی نے حشر کیا وہ بھی ناظرین کو سناتے ہیں۔

یاد رہے کہ کوئی ایسا سوال نہ ہو گا جس کا مرزاقادیانی نے جواب نہ دیا ہو۔ کیونکہ بقول ’’ملّا آں باشد کہ چپ نشود‘‘ممکن نہیں کہ مرزاقادیانی خاموش ہوں۔ یہ تاویل تو نہ چلی کہ یہ تینوں صاحب دل میں ڈر گئے۔ صوم وصلوٰۃ کے پابند ہو گئے۔ ورنہ قسم کھائیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی کو یقین تھا کہ ان صاحبوں کے سامنے قسم کا نام لیا تو یہ اپنی گرہ

72

سے کچھ دے کر بھی سچی قسم اٹھا لیں گے۔ ان کے مذہب میں تو آتھم کی طرح سچی قسم کھانی منع نہیں۔ اس لئے اس میں ایک اور ہی چال چلے۔ فرمایا کہ: ’’جس طرح مولوی محمد حسین نے میرے پر فتویٰ کفر کا لگوایا تھا اس پر بھی لگ گیا۔ بس یہی میری پیش گوئی کا مدعا تھا اور بس!‘‘

(اشتہار ۷؍جنوری ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۰۸تا۱۱۲)

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مرزاقادیانی کی پیش گوئی سن کر مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب نے ہتھار رکھنے کے متعلق بعض افسروں سے تذکرہ کیا کہ میری بابت مرزاقادیانی نے پیش گوئی کی ہے۔ مبادا لیکھ رام کی طرح میں بھی مارا جاؤں۔ اس لئے بطور حفاظت خود اختیاری مجھے ہتھیار ملنے چاہئیں۔ اس پر مرزاقادیانی کی طلبی ہوئی۔ آ کر بتلاویں کہ کیوں ان سے حفظ امن کی ضمانت نہ لی جاوے۔ چنانچہ مقدمہ بڑے زوروشور سے چلنے لگا۔ اس پر مرزاقادیانی نے یہ تجویز نکالی کہ کسی صورت سے اس مقدمہ کو خفیف کیا جاوے اور سرکار کے ذہن نشین کیا جاوے کہ یہ پیش گوئی کوئی قتل وقتال کی نہیں۔ جیسا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے سمجھی ہے بلکہ صرف زبانی ذلت ورسوائی کی ہے یا یوں کہئے کہ صرف اعتباری بات ہے اور کچھ نہیں۔ بعد مشورہ حاشیہ نشیناں یہ تجویز ٹھہری کہ ایک آدمی ناواقف علماء سے یہ فتویٰ حاصل کرے کہ حضرت مہدی کے منکر کا کیا حکم ہے۔

چنانچہ وہ شخص بڑی ہوشیاری یا مکاری سے علماء کے پاس پھر نکلا اور ہر ایک کے سامنے مرزا کی مذمت کرتا اور یہ ظاہر کرتا کہ میں افریقہ سے آیا ہوں۔ مرزاقادیانی کے مرید وہاں بھی ہو گئے ہیں، ان کی ہدایت کے لئے علماء کا فتویٰ ضروری ہے۔ اس پر علماء نے جو مناسب تھا لکھا۔ پس مرزاقادیانی نے جھٹ اسے شائع کر دیا اور بجائے اپنے پر لگانے کے مولوی محمد حسین صاحب پر لگا دیا۔ یہ کہہ کر کہ اس نے اشاعۃ السنہ کے کسی پرچہ میں مہدی موعود سے انکار کیا ہے۔ پس جس طرح اس نے مجھ پر فتویٰ لگوایا تھا، اسی طرح اس پر لگا۔ میری پیش گوئی کا صرف اتنا ہی مفہوم تھا۔

۱؎مولوی صاحب موصوف ۲۹؍جنوری ۱۹۲۰ء کو انتقال کر گئے اور مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ان سے پہلے ہی انتقال کر گئے تھے۔ آہ! آج ہم ان دونوں مقابلین کو نہیں دیکھتے۔ سچ ہے ؎

  1. گو سلیمان زماں بھی ہو گیا

    تو بھی اے سلطان آخر موت ہے

یعنی مرزا کے ساڑھے گیارہ سال بعد رحمہ اللہ!

73

یہ ہے مرزاقادیانی کی کوشش اور سعی جس سے اپنی پیش گوئیوں کو سچا کرتے ہیں۔ لیکن دنیا میں ابھی تک سمجھ دار موجود ہیں اور وہ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فتویٰ (اگر ہم مان بھی لیں کہ مولوی صاحب پر ہے اور وہ اس کے مصداق بھی ہیں) ہی آپ کی تیرہ ماہ پیش گوئی کا مطلب تھا تو پھر کیا وجہ ہے جس طرح آپ سے علماء اسلام اور اہل اسلام بلکہ جملہ انام متنفر ہیں۔ اسی طرح مولوی صاحب اور ان کے دونوں رفیقوں سے کیوں ان کو نفرت نہیں؟ بلکہ ان کے ساتھ ان کا ایسا خلاملا ہے کہ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۱ء کو مولوی صاحب موصوف ہی کی کوشش اور لحاظ سے مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور حافظ محمد یوسف صاحب پنشنر امرتسری کی بقیہ کدورت بھی بالکل جاتی رہی اور پھر مثل سابق باہمی شیروشکر ہو گئے۔ پس جس طرح ہم آتھم والی پیش گوئی کی بحث میں ثابت کر آئے ہیں اور آپ سے بھی بحوالہ (ازالہ اوہام ص۵۷۸، خزائن ج۳ ص۴۱۲) دستخط کر آئے ہیں کہ: ’’انتفاء اللازم یستلزم انتفاء الملزوم‘‘ یعنی لوازم کے عدم سے ملزوم کا عدم لازم ہوتا ہے تو پھر اس پیش گوئی کے کذب میں کیا شبہ ہے۔ اگر کہو کہ مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا منافقانہ خیال ان سے چھپایا ہے۔ اس لئے علماء اس سے متنفر نہیں ہوئے۔ پھر تو مولوی محمد حسین صاحب آپ کے الہام کنندہ سے دانائی میں بڑھ گئے کہ یہ تو کامیاب ہو گئے اور وہ نہ ہوا جو ذلت کی پیش گوئی کرچکا جو مولوی صاحب کی (بقول آپ کے) ایک ادنیٰ تدبیر سے ملیامیٹ ہو گئی۔ علاوہ اس کے مرزاقادیانی نے اپنے حاشیہ پر اپنی مراد بھی بتلائی ہوئی ہے جس کو ہم نے بھی اس کے مقام میں حاشیہ پر نقل کر دیا ہے۔

چنانچہ لکھتے ہیں کہ ہاتھ کاٹنے سے مراد یہ ہے کہ: ’’جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے ناجائز تحریر کا کام لیا ہے وہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہوں گے۔ اور افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔‘‘

(اشتہار مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۱۸۹۸ء حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۱ حاشیہ)

مرزاقادیانی کی یہ تشریح صاف بتلا رہی ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب پر جب وہ عذاب تیرہ ماہ نازل ہو گا تو وہ ان تحریروں پر نادم اور شرمندہ ہوں گے جو انہوں نے مرزاقادیانی کے خلاف لکھی ہیں اور انہیں پر ہاتھ کاٹیں گے۔ مگر افسوس کہ تیرہ ماہ تک تو کیا آج تک بھی مولوی صاحب موصوف جیسے کچھ ان تحریروں پر نادم ہیں، سب کو معلوم ہے۔

74

ابھی چند ہی روز کا ذکر ہے کہ مولوی صاحب نے اشاعۃ السنہ میں بدستور اپنا خیال مرزاقادیانی کی نسبت ویسا ہی بتلایا ہے۔ جیسا کہ وہ سابق میں بتایا کرتے تھے یا جس کا وہ حق دار ہے۔

مرزاقادیانی بھی چونکہ اصل میں دانا ہیں وہ جانتے ہیں کہ میری ایسی ویسی باتوں پر گو کم فہم تو لٹو ہو رہیں گے اور ’’سبحان اللہ آمنا وصدقنا فاکتبنا مع الشاہدین‘‘کہیں گے مگر آخر جہاں داناؤں سے خالی نہیں۔ اس لئے وہ اس فکر میں سوچتے رہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سوچا کہ فتویٰ کی بابت جو کارروائی ہم نے بصد کوشش کی ہے اور مولوی محمد حسین صاحب کو اس پیش گوئی کا مصداق بنایا ہے۔ یہ تو ایک معمولی سی بات ہے جو کوئی جاہل سے جاہل بھی نہ مانے گا۔ خاص کر اس وجہ سے کہ جن علماء نے ہمارے فریب اور دھوکے سے مولوی محمد حسین صاحب پر فتویٰ لگایا ہے انہی کے نزدیک مولوی صاحب موصوف کی وہ عزت ہے کہ باوجودیکہ وہ اپنے کاموں میں ہمیشہ مستغنی ہیں اور کبھی کسی کو اس کام میں جو ان کے متعلق ہو چندہ وغیرہ کی زبانی ترغیب بھی نہیں دیا کرتے۔ انہوں ہی نے مولوی صاحب کے مقدمہ میں ازخود محض ہمدردی سے احباب کے مکانوں پر جاجا کر چندہ لیا اور اپنی ہمدردی کا ثبوت دیا۔ اس لئے مرزاقادیانی نے سوچ بچار کر کے چند ایک اور ذلتوں کی فہرست تیار کی۔

۱… یہ کہ اس (مولوی) نے میرے ایک الہام پر اعتراض کیا کہ عجبت کا صلہ لام نہیں آتا۔ یعنی عجبت لہ کلام صحیح نہیں حالانکہ فصحاء کے کلام میں لام آتا ہے۔ اس سے اس کی علمی بے عزتی ہوئی۔

۲… یہ کہ صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے مقدمہ ہمارے حق میں کیا اور اس کو سخت وسست کہا بلکہ اس سے عہد لے لیا کہ آئندہ کو مجھے دجال، کادیانی، کافر وغیرہ نہ کہے گا جس سے اس کی تمام کوشش مجھ کو برا کہنے اور کہلانے کی خاک میں مل گئی اور اس نے اپنے فتوے کو منسوخ کر دیا۔ یعنی اب وہ میرے حق میں کفر کا فتویٰ نہ دے گا۔

۳… یہ کہ مولوی محمد حسین نے میرے حق میں انگریزی لفظ ڈسچارج کا ترجمہ غلط سمجھا۔ یہ اس کی بے عزتی کا موجب ہے۔

۴… یہ کہ اس کو زمین ملی زمیندار ہو گیا۔ یہ بھی ذلت ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جس گھرمیں کھیتی کے آلات داخل ہوں وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔

( ۱۷؍دسمبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۹۶تا۲۱۵)

ناظرین! یہ ہیں مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں اور یہ ہیں ان کے الہام اور یہ ہیں

75

ان کے دعاوی ورسالت۔ کیا کہنے ہیں۔ ہمیں تو شرم آتی ہے کہ ہم ان کے متعلق کیا لکھیں۔ کیونکہ ہمارے خیال میں تو ان کا دعویٰ ہی ان کی تکذیب کو کافی ہے۔ بشرطیکہ کسی کے دماغ میں عقل سلیم اور فہم مستقیم ہو۔ دیکھئے (۷؍جنوری ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۰۹تا۱۱۴) کے اشتہار میں جب کہ مقدمہ دائر تھا۔ تخفیف الزام کے لئے یا عدالت کو دھوکہ دینے اور عام رائے کو اس طرف پھیرنے کے لئے ایک فتویٰ شائع کرا دیا کہ مولوی محمد حسین صاحب پر میری پیش گوئی پوری ہو گئی جس کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں۔ بھلا اگر ۷؍جنوری سے پہلے آپ کی پیش گوئی پوری ہو چکی تھی تو بعد کے واقعات کو اس میں کیوں داخل کرتے ہو۔ لام کے انکار والی بات کا کوئی ثبوت ہی نہیں۔ باقی امور نمبرایک ونمبردو تو ۲۴؍فروری ۱۸۹۹ء کے دن جس روز فیصلہ ہوا تھا ظاہر ہوئے تھے جو ۷؍جنوری ۱۸۹۹ء سے ڈیرہ مہینہ بعد کا واقعہ ہے اور عطیہ زمین تو مدت کے بعد ہوا ہے۔ پھر ان کو پیش گوئی کے مصداق بنانا جس کا صدق ان سے پہلے مدتوں ہوچکا ہو کیا ہماری تصدیق نہیں کہ مرزاقادیانی کو خود اپنی ہی تقریر میں جو سراسر ملمع سازی سے تیاری کی گئی ہوتی ہے، شبہات رہتے ہیں۔ نہیں بلکہ دل سے اس کو جھوٹ اور قابل رد جانتے ہیں۔ آخر وہ دانا صاحب تجربہ ہیں۔ کیوں نہ سمجھیں۔

یہ تو ان نمبروں پر مجملاً گفتگو تھی۔ مفصلاً یہ ہے کہ نمبر اوّل تو بے ثبوت ہے۔ ہمیں معلوم نہیں مولوی صاحب نے کب اور کس پیرایہ میں اعتراض کیا۔ مرزاقادیانی اور مرزائی پارٹی کے حوالہ جات ہمارے نزدیک بالخصوص اپنی تائید کے متعلق بحکم اصول حدیث معتبر نہیں۔ نہ مرزاقادیانی نے مولوی صاحب کی کسی تحریر کا حوالہ دیا ہے۔ بغرض مزید تحقیق ہم نے سوچا کہ ابھی تو مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب زندہ ہیں۔ اگر ان کی زندگی میں فیصلہ نہ ہوا تو کب ہو گا۔ اس خیال سے ایک خط ان کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے ۲۳؍نومبر ۱۹۰۲ء کو چک نمبر۱۲۳ ضلع جھنگ سے جواب دیا جو درج ذیل ہے۔

السلام علیکم! مرزاقادیانی جھوٹ لکھتا ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ عجب کا صلہ لام کبھی نہیں آتا۔ حدیث مشکوٰۃ ’’عجبنا لہ یسئلہ ویصدقہ‘‘ مجھے بھول نہیں گئی۔ میں نے کہا تھا کہ قرآن میں عجب کا صلہ من آیا ہے۔ ’’قالوا تعجبین من امر اللہ‘‘(ابوسعید)

مرزاقادیانی کہئے! آپ کی اصطلاح میں مجدد اور مسیح کے لئے ایمانداری اور راست بیانی بھی ضروری شرط ہے یا نہیں۔ علاوہ اس کے اگر یہ صحیح ہے کہ کسی لفظ کا صلہ غلط

76

سمجھنے سے عالم کی ذلت ہوتی ہے، ایسی کہ وہ کسی الہام کی زد میں آ جاتا ہے تو آپ کی کس قدر ذلت ہوئی ہو گی جس اشاعت السنہ میں آپ کی عربی اغلاط کی ایک طویل فہرست چھپی تھی، جس کا جواب آج تک آپ سے نہ ہو سکا۔ اسی رسالہ میں ہم نے آپ کی ایسی الہامی عبارت نقل کی ہے کہ عالم تو عالم کوئی نحو میر پڑھتا ہوا طالب علم بھی ایسی غلطی نہ کرے گا کہ ستہ۱؎ کی تمیز مفرد لکھ کر ستہ سنۃ الہام بتلایا ہے۔ پھر ایک جگہ نہیں اسی طرح کئی ایک موقع پر علاوہ اس کے آپ کے اعجازی قصیدے میں بیسیوں غلطیاں (جن کی فہرست آگے آتی ہے) ہونے سے بھی آپ کا معجزہ بدستور اور آپ کے اعجازی دم خم بحال مگر مولوی محمد حسین صاحب کو عجب کا صلہ لام معلوم نہ ہونے سے (حالانکہ قصہ بھی غلط) ایسی ذلت پہنچی کہ خدا کی پناہ۔

مرزاقادیانی کہئے کہ آپ کی عزت جاٹ کی پینتالیس عزتوں کی مصداق تو نہیں؟

دوسری بات کے متعلق ہم کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتے کہ مقدمہ میں کس کی ذلت ہوئی۔ مطبوعہ فیصلہ ہمارے سامنے ہے۔ اس کی کل دفعات ہم نقل کرتے ہیں۔ ناظرین! خود ہی اندازہ لگالیں گے کہ یہ فیصلہ کس کے حق میں مفید ہوا۔ وہو ہذا!

۱… میں (مرزاقادیانی) ایسی پیش گوئی شائع کرنے، پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی خیال کئے جا سکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہو گا۔

۲… میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد ودرخواست) کرنے سے بھی اجتناب کروں گا کہ وہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

۱؎ مرزاقادیانی عربی دانی کے گھمنڈ میں ہمیشہ اعداد کی تمیز لکھنے میں غلطی کیا کرتے ہیں۔ (کتاب مواہب الرحمن ص۱۲۹، خزائن ج۱۹ ص۳۵۰) پر لکھتے ہیں: ’’ان العد واعد لذالک ثلثۃ حماۃ‘‘ یہاں ثلاثہ کی تمیز منصوب لکھ ماری۔ پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں: ’’رائیت کانی احضرت محاکمۃ‘‘ یعنی میں کچہری میں حاضر کیاگیا، حالانکہ کچہری کو محاکمہ نہیں بلکہ محکمۃ کہنا چاہئے تھا۔ پھر لکھتے ہیں:

’’فی جریدۃ یسمی الحکم‘‘ حالانکہ ’’تسمی‘‘ چاہئے تھا اور پھر ’’علی ہذا فی جریدۃ یسمی البدر تسمی بالحکم‘‘ اور ’’بالبدر‘‘ چاہئے۔ علیٰ ہذا القیاس! مگر آخر مرزاقادیانی بھی کیا کریں ؎

  1. حباب بحر کو دیکھو یہ کیسا سر اٹھاتا ہے

    تکبر وہ بری شئے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے

77

۳… میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہو گا۔

۴… میں اس امر سے بھی باز رہوں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کے ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں یا کوئی ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست اور پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال، کافر، کاذب، بطالوی نہیں لکھوں گا۔ میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔

۵… میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں۔ تاکہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیش گوئی کرنے کے لئے بلاؤں گا۔

۶… جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ ۱تا۶ میں اقرار کیا ہے۔

اس امر کا خارجی ثبوت (کہ اس فیصلہ نے مرزاقادیانی کاقافیہ کہاں تک تنگ کیا ہے۔) لینا ہو تو مرزاقادیانی کی تحریر ہی سے لیجئے۔ مرزاقادیانی کا ایک مطبوعہ اشتہار ہمارے پاس ہے جس سے ان کی بے بسی نمایاں ہے کہ کسی شرح یا حاشیہ کی محتاج نہیں۔

فرماتے ہیں: ’’مجھے بارہا خداتعالیٰ مخاطب کر کے فرماچکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں گا۔ سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں: ’’رب انی مغلوب‘‘ (مگر بغیر ’’فانتصر‘‘ کے)… میں اس وقت کسی دوسرے کو مقابلہ کے لئے نہیں بلاتا اور نہ کسی شخص کے ظلم اور جو رکا جناب الٰہی میں اپیل کرتا ہوں۔‘‘

(اشتہار مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۸۱)

یہ عبارت بآواز بلند صاف کہہ رہے کہ مرزاقادیانی پر اس مقدمہ سے ایسا رعب

78

چھایا ہے کہ خدا سے دعا کرتے ہوئے ’’فانتصر‘‘ (میری مدد کر) بھی نہیں کہہ سکتے۔ باوجود اس کے پھر بھی ڈرتے ہیں کہ گورنمنٹ خلاف عہدی سے باز پرس نہ کرے تو اس امر کے دفعیہ کو کہتے ہیں کہ میں کسی کو مقابلہ پر نہیں بلاتا۔ انذاری پیش گوئیاں چھن گئیں۔ نبوت کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ابھی تک کہے جاتے ہیں کہا س مقدمہ سے مولوی محمد حسین کی ذلت ہوئی کہ اس کا فتویٰ کفر منسوخ ہو گیا۔ یہ بھی غلط۔ فتویٰ منسوخ نہیں ہوا صرف مباحثہ میں ایسے الفاظ (دجال، کافر وغیرہ) بولنے سے دونوں فریق کو روکا گیا۔ کسی سائل یا مستفتی کے جواب میں فتویٰ دینے اور اپنی مجلس میں تمہاری نسبت رائے ظاہر کرنے سے ہرگز منع نہیں کیاگیا۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب نے اشاعۃ السنہ نمبر۴ جلد۱۹ بابت ۱۹۰۲ء میں صاف صاف لفظوں میں آپ کے اس زعم باطل کو رد کر دیا ہے۔ ہم بلاکمی بیشی مولوی صاحب موصوف کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں: ’’الغرض اپنے فتویٰ یا اعتقاد کو میں نے نہیں بدلا اور نہ ہی منسوخ کیا اور نہ ہی اس دفعہ چہارم اقرار نامہ کا یہ منشاء ہے۔ صرف مباحثہ میں ان الفاظ کو بالمقابل استعمال نہ کرنے کا دونوں فریق نے وعدہ واقرار نامہ کیا ہے اور یہی اس دفعہ چہارم کا منشاء ہے۔ ناظرین! اشتہار مرزاقادیانی ۱۷؍دسمبر سے دھوکہ نہ کھائیں۔‘‘ (ص۱۰۷)

کہئے مرزاقادیانی! ابھی کچھ کسر ہے؟

نمبرسوم کا جواب ہم کیا دیں۔ ہاں! یاد آیا مولوی صاحب اگر انگریزی لفظ ڈسچارج کا ترجمہ غلط سمجھنے سے ایسے ذلیل ہوئے کہ آپ کی پیش گوئی کے مصداق بن گئے تو کیا حال ہے ان الہاموں کا جن کو انگریزی میں الہام ہوں اور کتاب کے چھپنے تک بے ترجمہ ہی لکھ دیں اور عذر یہ کریں کہ اس وقت یہاں کوئی مترجم نہیں۔ اس لئے بے ترجمہ ہی لکھا جاتا ہے۔

(دیکھو براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴)

نمبرچہارم کی بابت تو ہم آپ کی داد دیتے ہیں۔ واقعی زمینداری ایسی ذلت ہے کہ خدا دشمن کو نصیب نہ کرے جب ہی تو آپ نے قدیمی آبائی ذلت دھونے کو اپنی جائیداد غیرمنقولہ اپنی بیوی کے پاس مبلغ پانچ ہزار پر گروی کر دی ہے۔ لیکن جس روز ان کو خبر ہو گئی کہ زمینداری کی ذلت مرزاقادیانی نے دانستہ میرے گلے مڑھ دی ہے تو وہ آپ کو ستائے گی اور کہے گی ؎

  1. کئے لاکھوں ستم اس پیار میں بھی آپ نے ہم پر

    خدانخواستہ گر خشمگیں ہوتے تو کیا کرتے

ہم چاہتے تھے کہ مرزاقادیانی سے درخواست کریں کہ ہمارے لئے بھی ایسی پیش

79

گوئی کریں۔ جس کا نتیجہ ایسی ذلت ہو جو مولوی محمد حسین صاحب کو زمین ملنے سے ہوئی۔ مگر یاد آیا کہ گورنمنٹ نے شاید اسی خوف سے کہ اتنی زمین کہاں سے آئے گی جو مرزاقادیانی کی پیش گوئیوں کے پورا کرنے کو کافی ہو سکے۔ یہ تو ہمیشہ کسی نہ کسی کو پیش گوئی کا ہدف بنائے رکھیں گے۔ مبادا کہیں زمین کے نہ ہونے سے کوئی پیش گوئی غلط ہو جائے۔ ایسی پیش گوئی کرنے سے ان کو بند کر دیا۔ افسوس!

  1. ہم نے چاہا تھا کہ حاکم سے کریں گے فریاد

    وہ بھی قسمت سے تیرا چاہنے والا نکلا

ہاں! مرزاغلام احمد قادیانی نے جو حدیث پیش کی ہے اس کا مطلب بتانے کو تو جی نہیں چاہتا تھا بلکہ اسی ذخیرہ میں اس حدیث کو رکھنا چاہتے تھے جو مرزاقادیانی کی حدیث دانی اور فہم معانی کا ہے۔ مگر ناظرین کی اطلاع کے لئے بتانا ضروری ہے۔ یہ حدیث جس کے مضمون کی طرف مرزاقادیانی نے اشارہ کر کے ثابت کرنا چاہا ہے کہ مولوی محمدحسین بٹالوی صاحب بوجہ زمیندار ہو جانے کے ذلیل ہو گئے، فاتح قوم کے حال سے متعلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو فاتح قوم یعنی بادشاہ ہو کر زمینداری کی طرف جھک جاوے اور ملک داری سے غافل ہو جائے اور اسی پر کفائت اور قناعت کرے تو وہ ذلیل ہو جائے گی۔ یعنی اس کی حکومت اور سلطنت چند دنوں میں ہاتھ سے نکل جائے گی۔ ’’صدق رسول اللہ فداہ روحی‘‘اسی اصول اور حکمت کی وجہ سے حضرت عمرq عربی سپاہیوں کو ایک چپہ بھر زمین بھی نہ دیتے تھے۔ بلکہ آج کل بھی فاتح قوموں کا یہی اصول ہے۔ ورنہ ایسی زمینداری جیسی کہ مولوی محمد حسین صاحب کراتے ہیں، اس قسم کی تو آنحضرتﷺ اور صحابہ کرامؓ خود کرتے اور کراتے رہے۔ خیبر کی زمین اسی طریق پر دی گئی تھی۔

مرزاقادیانی مجدد کے لئے اتنا ہی علم کافی ہے یا اس سے زیادہ کی بھی ضرورت ہے؟

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں

    بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

ناظرین! یہ ہیں مرزاقادیانی کے ہتھکنڈے جن سے پیش گوئیاں کو سچا کیا کرتے ہیں جو دراصل اس شعر کے مصداق ہیں:

  1. کار زلف تست مشک افشانی اما عاشقاں

    مصلحت را تہمتے برآ ہوئے چیں بستہ اند

ہاں! یہ یاد آیا کہ یہ پیش گوئی تین اشخاص سے متعلق تھی، جن میں سے صرف مولوی محمد حسین صاحب ہی کامیاب اور فائز المرام ہوئے۔ مگر دو صاحب ملا محمد بخش اور مولوی

80

ابوالحسن تبتی ہنوز باقی تھے۔ سو ان کی نسبت بھی مرزاقادیانی نے ہمیں منتظر نہیں رکھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’ان (دونوں) کی ذلت اور عزت دونوں طفیلی ہیں۔‘‘

(اشتہار مؤرخہ ۱۷؍دسمبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۱۶)

چلو چھٹی ہوئی۔ بس ہو چکی نماز مصلے اٹھائیے۔

ہاں! ملّا مذکور کے حق میں پیش گوئی کے صدق پر مرزاقادیانی نے ایک دلیل بھی دی ہے جو قابل بیان ہے۔ فرماتے ہیں: ’’وہ جعفر زٹلی (ملّا محمد بخش) جو گندی گالیوں سے کسی طرح باز نہیں آتا تھا، اگر ذلت کی موت اس پر وارد نہیں ہوئی تو اب کیوں نہیں گالیاں نکالتا۔‘‘

(اشتہار مذکور، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۰۳)

اس دلیل سے ہمیں ایک قصہ یاد آیا۔ ہمارے شہر امرتسر میں ایک دیوانی عورت تھی۔ اس کو لڑکے چھیڑا کرتے اور اس کو پپو کی اماں کہا کرتے تھے۔ جس روز لڑکوں کی تعطیل کا دن ہوتا، اس دن تو انبوہ کثیر اماں کی خدمت میں حاضر رہتا اور خاطر تواضع اچھی کرتا۔ مگر جس دن لڑکے کام میں مصروف ہوتے اس دن اماں جی کہتیں: ’’آج شہر کے لونڈے مر گئے۔‘‘ وہی کیفیت ہمارے الہامی جی کی ہے۔ افسوس کہ یہ بھی غلط۔

ملّا مذکور ہمیشہ مرزاقادیانی کی دعوت حسب موقع کرتا رہا اور کرتا ہے۔ قبول کرنا نہ کرنا مرزاقادیانی کا کام ہے۔ وہ تو بے چارہ ہمیشہ دست بدعا (یہ اس کی زندگی کا واقعہ ہے) رہتا ہے۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف

ناظرین کے مزید اطمینان کے لئے ہم ملّا مذکور کا ایک خط نقل کرتے ہیں جو ہمارے سوال کے جواب میں ہے:’’السلام علیکم! آپ ملّا محمد بخش صاحب کی نسبت ۱۷؍دسمبر ۱۸۹۹ء کے اشتہار میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ آپ ذلت اور خواری کی وجہ سے اس کے مقابلہ سے باز آ گئے یا ۱۷؍دسمبر سے پہلے آ گئے تھے۔ آپ حلفیہ بتلادیں کہ یہ ٹھیک ہے؟‘‘

اس کا جواب: ’’جناب مولانا صاحب وعلیکم السلام! مرزا بالکل جھوٹ کہتا ہے۔ مجھے اس کے قابلہ میں کبھی ذلت اور خواری نہیں پہنچی، بلکہ دن بدن خدا کے فضل سے عزت ہوتی رہی اور اس کی پیش گوئیوں کو ہمیشہ جھوٹی اور شیطانی احلام سمجھتا رہا۔ میں اس سے ہزارروپیہ بھی نہ لیتا جو وہ آتھم کو کہہ رہا تھا۔ وہ اب بھی اگر چاہے تو میں قسم کھا سکتا ہوں اس کے شیطان ہونے پر۔ پھر چاہے وہ ایک سال نہیں دس سال کی بھی پیش گوئی جمادے میرے

81

مضمون اس کی پیش گوئی کے ۱۷؍دسمبر تک مفصلہ ذیل تاریخوں میں بعنوان ذیل نکلتے رہے۔ ۹؍دسمبر ۱۸۹۸ء، ۱۲؍دسمبر ۱۸۹۸ء، ۱۴؍دسمبر ۱۸۹۸ء، ۱۶؍دسمبر ۱۸۹۸ء، ۳۰؍دسمبر ۱۸۹۸ء یہ مباہلہ کے پانچ اشتہار تھے۔ ۱۵؍فروری ۱۸۹۹ء کو بعنوان ’’مرزاکاذب اور ہم‘‘ ۲۰؍اپریل ۱۸۹۹ء کو بعنوان ’’مسیح کاذب کے ساتھ دو باتیں‘‘ ۲۵؍جون ۱۸۹۹ء کو بعنوان ’’قادیان کا جھوٹا مسیح‘‘ یکم؍اکتوبر ۱۸۹۹ء کو بعنوان ’’الحکم کی غلط فہمی‘‘ ۱۵؍دسمبر ۱۸۹۹ء کو بعنوان ’’عجیب جواب‘‘‘‘

(بندہ محمد بخش از لاہور مؤرخہ یکم؍اکتوبر ۱۹۰۰ء)

مولوی ابوالحسن تبتی بھی بخیریت اپنے وطن موضع کیرس ملک تبت میں زندہ سلامت ہیں۔ سردی کی وجہ سے کبھی نزلہ زکام ہوا ہو تو انکار نہیں ہوسکتا۔

اس پیش گوئی کے متعلق حکیم نورالدین صاحب سے کچھ نہ بن سکا۔ بجز اس کے کہ محض طوالت دینے کو اس پیش گوئی کے متعلق مرزاقادیانی کی بڑی لمبی چوڑی تحریرات درج کر کے ناحق طول دیا۔ جسے دیکھ کر بے ساختہ یہ شعر منہ سے نکلتا ہے ؎

  1. ملے تو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی

    عجیب چیز ہے یہ طویل مدعا کے لئے

ہاں! ایک بات پر بڑا زور دیا کہ: ’’مولوی محمد حسین صاحب کی اولاد نالائق ہے۔ جس سے ان کو سخت تکلیف ہے یہی ذلت ہے۔‘‘

(آئینہ حق نماص۲۳۶ :ازیعقوب علی)

نہایت افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے آتا ہے جو لوگ اس کی اس اصلاح پر روڑا اٹکاتے ہیں، ان کے حق میں وہ ایک عام پیش گوئی کرتا ہے جس کے نتیجہ کے لئے وہ تمام اپنے پرائے کو انتظار کرنے کا حکم دیتا ہے، مگر انجام کار یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اس بڑی پیش گوئی کا جس کو اس مصلح نے تمام دنیا کے مقابلہ میں شائع کیا تھا، عدم وجود برابر ہوتا ہے، آہ! کیسا شرم بلکہ حسرت کا مقام ہے ان لوگوں کے حق میں جو حسب مثال ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ ایسے سہارے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرف پیش گوئی کے الفاظ کو دیکھیں، دوسری طرف اس کے انجام کو دیکھیں تو دونوں میں کوئی مناسبت ہی نہیں معلوم ہوتی۔

ہاں! آپ نے بطور فخریہ خوب کہا ہے کہ: ’’مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی جماعت میں حسد اور بغض نہیں۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۲۳۴ ایضاً)

حالانکہ مرزاقادیانی خود لکھتے ہیں کہ میری جماعت بہت بری اور بڑی بداخلاق ہے۔ چنانچہ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ’’اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ

82

تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للّہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں پر نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔‘‘

(مؤرخہ ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۳ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۴۴۱)

مرزاقادیانی کا یہ افسوس ناک کلام سن کر مرزائیوں کے حق میں ایک پرانی مثال یاد آتی ہے: ’’تیلی بھی کیا اور روکھا کھایا‘‘ مرزا سے بیعت کر کے دنیا میں نکو بھی بنے اور فائدہ بھی کچھ نہ ہوا۔ شاید یہی معنے ہیں ؎

  1. تہیدستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل

    کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آرو سکندر را

اخیر میں ہم اپنے ناظرین کو مرزاقادیانی کی ایک بیش بہا پیش گوئی پر بھی مطلع کرتے ہیں۔ گو اس پیش گوئی کے دن ابھی باقی۱؎ ہیں۔ لیکن ہم ابھی سے چشم براہ ہیں کہ دیکھیں پر وہ عدم سے کیا کچھ ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مضمون اس پیش گوئی کا حسب معمول بڑے زور شور کا ہے۔ گو وہ صرف دعا ہی ہے۔ مگر مرزاقادیانی کی دعا بھی تو صرف دعا ہی نہیں کہ قبول ہونا خیالی امر ہو۔

مرزاغلام احمد قادیانی سے تو خدا نے صاف کہا ہوا ہے جو تو کہے گا کروں گا جو تو مانگے دوں گا۔

(حوالہ گزشتہ صفحات کتاب ہذا)

یہ پیش گوئی اشتہار مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء میں ہے جس کی میعاد تین سال ہے۔ ابتداء اس کی جنوری ۱۹۰۰ء ہے اور انتہاء اس کی اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ مرزاقادیانی میں اور مرزاقادیانی کے مخالفوں میں کسی بیّن آشمانی نشان سے فیصلہ ہو گا، جو پہلے نہ ہوا ہو۔ ناظرین! پہلے الفاظ دعائیہ پڑھیں پھر واقعات سے نتیجہ ملاحظہ کریں:

۱؎طبع اوّل کے وقت دن باقی تھے اب تو کئی برس اوپر ہو گئے۔

83

چھٹی پیش گوئی … متعلقہ نشانی آسمانی میعادی سہ سالہ

یہ پیش گوئی ایک دعا کے طور پر بڑے دو ورقوں میں مرقوم ہے جن کا اصل مطلب یہ ہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’اے میرے مولا! قادر خدا اب مجھے راہ بتلا (آمین)… اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ۱۹۰۰ء سے اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیاگیا ہے کافر اور کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ختم ہو جائیں گے کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔‘‘

(اشتہار ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۵، ۱۷۸)

گو یہ الفاظ دعائیہ ہیں، مگر مرزاقادیانی اپنے (رسالہ اعجاز احمدی ص۸۸، خزائن ج۱۹ ص۲۰۳) پر اس دعا کو پیش گوئی قرار دیتے ہیں۔ پھر ہمارا کیا حق ہے کہ ہم اس کی نسبت یہ گمان کریں کہ یہ صرف دعا ہی دعا ہے جس کی قبولیت قطعی نہیں۔ اس لئے کہ ایک تو مرزاقادیانی کی دعا ہے۔ کسی معمولی آدمی کی نہیں۔ مرزاقادیانی تو اپنی دعا کی بابت اسی اشتہار میں فرماتے ہیں: ’’جب کہ تو نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں تیری ہر دعا قبول کروں گا۔‘‘

(اشتہار مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۸)

میں سچ کہتا ہوں کہ جب سے مجھے اشتہار مذکور ملا ہے آسمان کی طرف سے ہر روز تاکتا رہتا تھا کہ دیکھیں مرزاقادیانی کے مخالفوں کے فیصلہ کے لئے کیا نشان ظاہر ہوتا ہے۔ جس کے دیکھنے کے بعد لوگوں کو ان کی نسبت جو خیالات ہو رہے ہیں، رفع دفع ہو جائیں۔ کیونکہ یہ نشان کوئی معمولی نشان نہ تھا بلکہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس کو سلطان کہتے ہیں۔ جس کی بابت خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کر لے۔‘‘

(اشتہار ۲۲؍اکتوبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳، ص۱۷۲)

پس جو تعریف مرزاقادیانی نے سلطان کی کی ہے، وہی مرزاقادیانی کے اس مطلوبہ نشان کی ہے جس کے نہ ہونے پر آپ فیصلہ دیتے ہیں: ’’اگر تو (اے خدا) تین برس

84

کے اندر جو جنوری ۱۹۰۰ء سے شروع ہوکر دسمبر ۱۹۰۲ء تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی آسمانی نشان نہ دکھلائے اور اپنے بندہ کو ان لوگوں کی طرح رد کردے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں… میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔‘‘ (ہرکہ شک آردّ… الخ!)

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۷، ۱۷۸)

افسوس! مرزاقادیانی نے ناحق ہمیں تین سال تک انتظار میں رکھا۔ دیکھتے دیکھتے ہماری آنکھیں پتھرا گئیں۔ کان بھی سن ہو گئے۔ مگر کوئی آواز ہمارے کانوں تک نہ آئی کہ فلاں ایسا نشان ظاہر ہوا ہے جس سے مرزاقادیانی اور ان کے مخالفوں کا فیصلہ ہو گیا۔ ہم نے کتاب ہذا طبع اوّل کے وقت بوجہ بے خبری کے چند ایک نشان پیش کئے تھے۔ یعنی امیر صاحب والئی کابل کی وفات پر پریذیڈنٹ امریکہ کی موت یا ملکہ معظمہ قیصر ہند کا انتقال یا بیگم صاحبہ بھوپال کی رحلت مگر افسوس کہ مرزاقادیانی کی پارلیمنٹ الہامیہ نے ان میں سے کسی ایک نشان کو قبول نہ فرمایا بلکہ ایک نئے نشان کی نشان دہی کی فکر میں لگ کر اس پیش گوئی کو بھی سابقہ پیش گوئیوں کی طرح کوہ کندن وکاہ برآوردن کا مصداق بنایا۔

چنانچہ فرماتے ہیں:

دس ہزار روپیہ کا اشتہار: یہ اشتہار خداتعالیٰ کے اس نشان کے اظہار کے لئے شائع کیا جاتا ہے جو اور نشانوں کی طرح ایک پیش گوئی کو پورا کرے گا۔ یعنی یہ بھی۱؎ وہ نشان ہے جس کی نسبت وعدہ تھا کہ وہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ظہور میں آ جائے گا۔

(رسالہ اعجاز احمدی ص۸۸، خزائن ج۱۹ ص۲۰۲)

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موضع مدضلع امرتسر میں مرزائیوں نے شور وشغب کیا تو ان لوگوں نے لاہور ایک آدمی بھیجا کہ وہاں سے کسی عالم کو لاؤ کہ ان سے مباحثہ کریں۔ اہالی لاہور کے مشورے سے: ’’قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند‘‘

۱؎اس لفظ ’’بھی‘‘ کو ہم نہیں سمجھے۔ شاید صحیح ’’یہ ہی‘‘ ہے۔

85

ایک تار آیا اور صبح ہوتے ہی جھٹ سے ایک آدمی آ پہنچا کہ چلئے ورنہ گاؤں کا گاؤں بلکہ اطراف کے لوگ بھی سب کے سب گمراہ ہو جائیں گے۔

خاکسار چاروناچار موضع مذکور میں پہنچا۔ مباحثہ ہوا۔ خیر اس مباحثہ کی روئیداد تو ضمیمہ شحنہ ہند مؤرخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۲ء میں اہالی مذکور نے شائع کرادی۔ مگر مرزاقادیانی کو ان کے فرستادوں نے ایسا کچھ ڈرایا اور اپنی ذلت کا حال سنایا کہ مرزاقادیانی آپے سے باہر ہو گئے اور جھٹ سے ایک رسالہ اعجاز احمدی نصف اردو اور نصف عربی نظم لکھ کر خاکسار کے نام مبلغ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اشتہار دیا کہ اگر مولوی ثناء اللہ امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو، عربی نظم جیسا میں نے بنایا ہے، بیس روز میں بنادے تو میں دس ہزار روپیہ ان کو انعام دوں گا اور اس قصیدہ کا نام قصیدۂ اعجازیہ رکھا۔ یعنی یہ قصیدہ ایسا فصیح وبلیغ ہے جیسا کہ قرآن۔ آنحضرتﷺ کا معجزہ ہے یہ میرا معجزہ ہے۔ اس قصیدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ (خاکسار) کے اس قسم کے قصیدے کے لکھنے سے عاجز رہنے سے میری وہ پیش گوئی جو سہ سالہ میعاد کی میں نے طلب کی ہوئی ہے، پوری ہو جائے گی۔ یعنی یہی وہ نشان ہے جس کی بابت مرزاقادیانی نے خدا سے اتنے بڑے لمبے چوڑے دانت پیس پیس کر سوال کئے تھے۔

اب اس سوال کے متعلق میری کارروائی بھی سنئے۔ میں نے ۲۱؍نومبر ۱۹۰۲ء کو ایک اشتہار دیا جس کا خلاصہ ۲۹؍نومبر کے پیسہ اخبار لاہور میں چھپا تھا کہ آپ پہلے ایک مجلس میں اس قصدے اعجازیہ کو ان غلطیوں سے جو میں پیش کروں صاف کر دیں تو پھر میں آپ سے زانو برانو بیٹھ کر عربی نویسی کروں گا۔ یہ کیا بات ہے کہ آپ گھر سے تمام زور لگا کر ایک مضمون اچھی خاصی مدت میں لکھیں اور مخاطب کو جسے آپ کی مہلت کا کوئی علم نہیں محدود وقت کا پابند کریں۔ اگر واقعی آپ خدا کی طرف سے ہیں اور جدھر آپ کا منہ ہے ادھر ہی خدا کا منہ ہے (جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے) تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ میدان میں طبع آزمائی نہ کریں، بلکہ بقول حکیم سلطان محمود ساکن راولپنڈی ؎

  1. بنائی آڑ کیوں دیوار گھر کی

    نکل! دیکھیں تیری ہم شعر خوانی

حرم سرائے ہی سے گولہ باری کریں، اس کا جواب آج تک نہ آیا کہ ہاں! ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں۔ چونکہ میں نے اس اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ مجلس میں اغلاط نہ سنیں گے تو میں اپنے رسالہ میں ان کا ذکر کر دوں گا۔ اس لئے آج میں اس وعدے کا ایفاء کرتا ہوں۔

86

قصیدہ اعجازیہ

آپ تو اس کا نام قصیدہ اعجازیہ رکھتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ فصاحت بلاغت کے ایسے اعلیٰ مرتبہ پر ہے کہ کوئی شخص اس جیسا لکھ نہیں سکتا۔ مگر غور سے دیکھا جائے تو خود آپ کو بھی اس اعجاز کا یقین نہیں۔ بھلا اگر یقین ہوتا، بیس روز کی مدت کی کیوں قید لگاتے۔ کیا قرآن شریف کے اظہار اعجاز کے لئے بھی کوئی تحدید ہے۔ کسی آیت تحدی میں کفار مخالفین سے کہاگیا ہے کہ اتنے دنوں میں یا اتنے مہینوں میں اس کی مثل لاؤ گے تو مقابلہ سمجھا جائے گا اور اگر اتنے دنوں سے زائد ایام گزرے تو ردی میں پھینک دیا جائے گا۔

(اعجاز احمدی ص۹۰، خزائن ج۱۹ ص۲۰۵)

پھر طرفہ یہ کہ صرف بیس روز کی تصنیف کے قلمی مضمون سے جو مصنف کی اصل لیاقت کا معیار ہے، کوئی شخص مرزاقادیانی کو جیت نہیں سکتا بلکہ اس معجزنمائی میں لکڑی اور لوہے کو بھی دخل ہے کہ وہ مضمون چھاپ کر کتاب تیار کر کے حضرت کی خدمت میں پہنچا دے، جس سے یہ مراد ہے کہ نہ کسی مولوی صاحب کے ہاں مرزاقادیانی کی طرح پریس اور منشی گھر کے ہوں گے اور نہ کوئی آپ سے مبلغات (ہ بھی روحانی اور معنوی) لے سکے گا۔ کیا ہی معجزہ ہے کہ پریس کے کام کو بھی معجزہ کا جزو بنایا جاتا ہے۔ تاکہ اگر کسی صاحب میں ذاتی لیاقت وقابلیت ہو بھی تو بوجہ اس کے کہ اس کے پاس پریس کا انتظام ایسا نہیں جو قادیانی پریس کی طرح صرف مرزا ہی کا کام کرتا ہو، تو بس اس کی لیاقت بھی ملیامیٹ ضائع اور برباد ہے۔ وہ بھی مرزاقادیانی کو مسیح موعود مان لے۔ کیونکہ اس کے پاس پریس نہیں اور مرزاقادیانی کے پاس پریس ایک نہیں دوتین ہیں۔

ناظرین! یہ ہیں مرزاغلام احمد قادیانی کی بھول بھلیاں۔ جن سے بہت کم لوگ واقف ہوسکتے ہیں۔ خیر ہمیں اس سے بحث نہیں۔ ہم ان کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اب ہم آپ کے اعجازی قصیدے کا عجز بتلاتے ہیں۔ آپ کے قصیدے میںہر قسم کی غلطیاں ہیں۔ صرفی، نحوی، عروضی وغیرہ!

آپ کے قصیدے کا مجریٰ (حرکت روی) ضمیمہ ہے۔

چنانچہ پہلا شعر آپ کا یہ ہے ؎

  1. ایا ارض مدقد دفاک مدمر

    وارداک ضلیل واغراک موغر

(اعجاز احمدی ص۳۹، خزائن ج۱۹ ص۱۵۰)

87

حالانکہ مندرجہ ذیل اشعار میں اقوالازم آتا ہے۔ یعنی اخیر کی حرکت بجائے ضمہ کے کسرہ ہو جاتی ہے اور اقوا سخت عیب ہے۔ محیط الدائرہ میں ہے:’’ان تغیر المجریٰ الٰی حرکۃ قریبۃ کما اذا ابدلت الضمۃ کسرۃ والکسرۃ ضمۃ ذہوعیب فی الکافیۃ یسمٰی اوائً (ص۱۰۶)‘‘

اور عروض المفتاح میں ہے: ’’عیب اختلاف الوصل ویسمی مثل منزلو مع منزلی اقواء ومثل منزلا مع منزلو ومنزلی اصرافا وہوا عیب‘‘ (یعنی اقواء اور اصراف اشعار میں عیب ہے)

اب سنئے مرزاقادیانی کے اشعار میں اقواء

  1. دعوہ لیبتھلین لموت مزوّر

    مضل فلم یسکت ولم یتحسر

  2. ایا محسنے بالحمق والجہل والرغا

    رویدک لا تبطل صنیعک واحذرٰ

  3. وان کنت قد ساء تک امر خلافتی

    فسل مرسلی ما ساء قلبک واحصر

  4. سئمنا تکالیف التطاول من عدا

    تمادت لیالی الجوریا ربی انصر

  5. وجئنٰک کالموتیٰ فاحی امورنا

    نخر امامک کالمساکین فاغفر

  6. تعال حبیبی انت روحی وراحتی

    وان کنت قد اٰنست ذنبی فستر

  7. بفضلک انا قد عصمنا من العدا

    وان جمالک قاتلی فات وانظر

  8. وفرج کروبی یا الہی ونجنی

    ومزق خصیمی یا نصیری وعفر

  9. وان کان لا یسطیع ابطال اٰیتی

    فقل خذ مزا میر الضلالۃ وازمر

  10. اذا نحن بارزنا فاین حسینکم

    وان کنت تحمدہ فاعلن واخبر

  11. ثلثۃ اشخاص بہ قدرأیتہم

    ومنہم الہی بخش فاسمع و ذکّر

  12. رموا کل صخرکان فی اذیا لہم

    بغیظ فلم اقلق ولم اتحیّر

  13. فاوصیک یاردف الحسین اباالوفا

    انب واتق اللہ المحاسب واحذر

  14. الا تتقی الرحمان عند تصنع

    ومن کان اتقی لا ابالک یحذر

  15. فوافیت مجمع لدّہم وقتلتہم

    بضرب ولم اکسل ولم اتحسّر

  16. امکفر مہلا بعض ہذا التّہکم

    وخف قھررب قال لا تقف فاحذر

88
  1. فان تبغنی فی حلقۃ السلم تلفنی

    وان تطلبنی فی المیادین احضر

  2. وارسلنی ربی لا صلاح خلقہ

    فیاصاح لا تنطق ہوی وتصبّر

  3. وکنت امراً ابغی الخمول من الصبا

    متی یاتنی من زائرین اصعّر

  4. فاخرجنی من حجرتی حکم مالکی

    فقمت ولم اعرض ولم اتعذّر

  5. وانی لا خبار مقام وموقف

    لدی شان فرقان عظیم معزّر

  6. ولست بتواق الی مجمع العدا

    ولکن متی یستحضر القوم احضر

  7. الا ان حسن الناس فی حسن خلقہم

    ومن یقصد التحقیر خبثا یحقر

  8. شعرنا ماٰل المفسدین ومن یعش

    الی برہۃ من بعد ذالک پشعر

  9. فتب واتق القہار ربک یا علی

    وان کنت قد ازمعت حربی فاحضر

  10. اریناک اٰیات فلا غدر بعدہا

    وان خلتہا تخفٰی علے الناس تظہر

  11. اردت بمدّ ذلتی فرأیتہا

    ومن لا یوقر صادقالا یوقر

  12. وانی لعمر اللہلست بجائر

    وان کنت تاتی بالصواب فادبر

  13. وہذا لعہد قدتقرر بیننا

    بمدّ فلم ننکث ولم نتغیر

مرزاقادیانی! ان اشعار کے مجریٰ کا اعراب ہم نے آپ ہی کا لگایا ہوا لکھا ہے۔ عموماً آپ نے رفع لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقوا کی قوت سے آپ بھی دبتے اور خوف کھاتے ہیں۔ مگر آپ کا رفع لکھا ہوا اگر صحیح سمجھا جائے تو صرفی اور نحوی قاعدہ کے خلاف ہوتا ہے۔ مذہبی امور میں تو آپ اپنے ناواقف معتقدین کو اپنا حکم ہونا بتلایا کرتے ہیں اور دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ جو حدیث میرے دعویٰ کے خلاف ہو وہ غلط مگر صرفی اور نحوی اصول میں تو آپ حکم یا موجد نہیں کہ جو حکم چاہیں لگائیں۔

اس عیب کے علاوہ مندرجہ ذیل اشعار میں اصرف لازم آتا ہے جو اس سے بھی سخت عیب ہے جس کی بابت محیط الدائرہ میں:’’ان تغیر المجرے الٰی حرکۃ بعیدۃ کما اذا ابدلت الضمۃ فتحۃ اوبالعکس فہو عیب فی القافیۃ یسمی اصرافا واسرافا (ص۱۱۰)‘‘

عروض الفتاح میں ہے:’’وہوا عیب (کمامر آنفا)‘‘پس سنو!

(اعجاز احمدی ص۴۸، خزائن ج۱۹، ص۱۶۰، شعر۶)’’دعوا حب دیناکم وحب

89

تعصب ومن یشرب الصہباء یصبح مسکر‘‘کیونکہ ’’مسکر‘‘ بوجہ خبر ہونے ’’یصبح‘‘ کے منصوب ہے۔ حالانکہ قصیدے کا مجریٰ مرفوع ہے۔

(ص۴۹ شعر۵) ’’وان کان شان الا مرارفع عندکم فاین بہذا الوقت من شان جولر‘‘کیونکہ ’’جولر‘‘ بوجہ ’’شان‘‘ کے مفعول بہ ہونے کے منصوب چاہئے اور مجریٰ رفع ہے۔

(ص۵۴ شعر۲) ’’وسبّوا وآذونی بانواع سبّہم۔ وسمّون دجالا وسمون ابتر‘‘ابتر بوجہ مفعول ثانی ہونے ’’سموا‘‘ کے منصوب چاہئے جو ’’مجریٰ‘‘ سے خلاف ہے۔

(ص۵۶ شعر۱) ’’وقد کان صحف قبلہ مثل خادج۔ فجاء لتکمیل الورے لیغزّر‘‘لیغزر لام گئے کے بعد ان ناصبہ مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا جو مجریٰ کے خلاف ہے۔

(ص۶۴ شعر۸) ’’وکیف عصوا واللہ لم یدرسرّہا۔ وکان سنا برقی من الشمس اظہر‘‘ اظہر بوجہ خبر ہونے کان کے منصوب چاہئے۔

(ص۶۵ شعر۱۰) ’’وکم من عدوّکان من اکبر العدا۔ فلما اتانی صاغراصرت اصغر‘‘اصغر بوجہ خبر ہونے صرت کے منصوب چاہئے جو مجریٰ کے مخالف ہے۔

(ص۶۸ شعر۱۱) ’’اکان حسین افضل الرسل کلّہم۔ اکان شفیع الانبیاء وموثر‘‘موثر بوجہ معطوف ہونے شفیع کے کان کی خبر منصوب ہے۔

(ص۷۰ شعر۹) ’’اتزعم ان رسولنا سید الوریٰ۔ علے زعم شانیہ توفّی ابتر‘‘ابتر بوجہ حال ہونے توفی کی ضمیر کے منصوب ہے۔ آپ نے مرفوع بنایا ہے۔

(ص۷۸ شعر۸)’’اآخیت ذئبا عایثا اوابالوفا۔ اوافیت مدّا اورأیت امرتسر‘‘ امرتسر بوجہ مفعول بہ یا حسب ترجمہ مصنف مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہے۔ نیز ہمزہ سے ثقل آتا ہے گرانا جائز نہیں چونکہ قطعی ہے۔

(ص۸۳ شعر۲)’’وصبّت علی رأس النبی مصیبۃ۔ ودقّوا علیہ من السیوف المغفر‘‘ المغفر بوجہ مفعول بہ ہونے دقواً کے منصوب ہے۔ آپ نے مرفوع بنایا ہے۔

(ص۸۴ شعر۷) ’’وکنت اذا خیّرت للبحث والروا۔ سطوت علینا

90

شاتما لتوقّر‘‘ لتوقر بوجہ مقدر ہونے ان ناصبہ کے منصوب چاہئے جو مجریٰ کے خلاف ہے۔

(ص۸۶ شعر۱) ’’ففکر بجہدک خمس عشرۃ لیلۃ۔ ونادحسینا اوظفر او اصغر‘‘ اصغر بوجہ معطوف ہونے مفعول بہ کے منصوب ہے۔

(ص۸۷ شعر۶)’’رمیت لاغتالن وما کنت رامیا۔ ولٰکن رماہ اللہ ربی لیظہر‘‘ لیظہر بوجہ ان مقدرہ کے منصوب ہے۔

اقواء اور اصراف گو بعض شعراء کے کلاموں میں آئے ہیں، مگرناقدین نے ان کو معیوب گنا ہے۔ چنانچہ عبارات کتب عروض اوپر گزر چکی ہیں۔

علاوہ اس کے مندرجہ ذیل اشعار میں سقم معنوی بھی ہے:

(اعجاز احمدی ص۴۸ خزائن ج۱۹ ص۱۶۰، شعر۹) ’’فسل ایہا القاری اخاک ابا الوفا۔ لما یخدع الحمقٰی وقد جاء منذر‘‘عام مخاطب کو جس میں اپنی جماعت کے افراد ناقصہ اور کاملہ بھی داخل ہیں۔ ابوالوفاء کا بھائی یعنی مثیل بنایا ہے اور ابوالوفاء کو خدع سے موصوف کیا ہے۔ حالانکہ ’’ایہا القاری بحیثیت‘‘عموم کے خدع سے موصوف نہیں ہوسکتا۔

(ص۵۰ شعر۸)’’وان قضاء اللہ ما یخطئی الفتٰی۔ لہ خافیات لایراہا مفکر‘‘ لایراہا کا فاعل مفکر کو بنایا ہے۔ حالانکہ مفکر کا کام رویت نہیں بلکہ فکر ہے اور اگر افعال قلوب سے کہیں تو دوسرا مفعول ندارد ہے جو ضروری ہے۔

(ص۵۹ شعر۵)’’ولو ان قومی اٰنسونی لطالب۔ دعوت لیعطوا عین عقل وبصروا‘‘وبصروا کا عطف دعوت پر مراد نہیں اور یعطوا پر صحیح نہیں۔

(ص۷۴ شعر۴)’’ایا عابد الحسنین ایاک واللظی وما لک تختار السعیر وتشعر‘‘وتشعرو پر واو غلط ہے۔ کیونکہ مضارع حال ہو تو صرف ضمیر سے آتا ہے۔ کافیہ میں ہے: ’’والمضارع المثبت الضمیر وحدہ‘‘ اور تختار پر عطف مراد نہیں۔ کما لا یخفٰی!

(ص۷۵ شعر۱۱)’’فقلت لک الویلات یا ارض جولر۔ لعنت بملعون فانت تدمّر‘‘ انت ضمیر مؤنث مخاطب ہے اور تدمر صیغہ مذکر مخاطب ہے اور اگر تدمرین ہو تو نہ وڑن درست رہے گا اور نہ قافیہ بے عیب حقیقت میں یہ پیر صاحب گولڑوی (جن کی اس شعر میں ہجو کی گئی ہے) کی گویا کرامت ہے۔

(ص۷۷ شعر۶)’’فیاتی من اللہ العلیم معلم۔ ویہدی الٰی اسرارہا

91

ویفسر‘‘اسرارہا میں ضمیر مؤنث اللہ جل شانہ کی طرف پھیر دی ہے۔ (کیوں نہ ہو بازی بازی باریش بابازبای)

(ص۸۲ شعر۴) ’’وان کان ہذا الشرک فی الدین جائزا۔ فباللغو رسل اللہ فی الناس بعثروا‘‘ یہ شعر بعینہٖ اور ہو بہو ص۸۰ کا گیارہواں شعر ہے۔

(ص۸۷ شعر۸) ’’نری برکات نزّلوہا من السماء۔ لنا کاللّوا قح والکلام ینضر‘‘نزلوہا میں ضمیر فائل کا مرجع پہلے مذکور نہیں۔

بتلائیے! جس چھوٹے سے قصیدے میں سرسری نظر سے اتنی غلطیاں لفظی اور معنوی ہوں وہ بھی اس قابل ہو سکتا ہے کہ اعجازیہ کا معزز لقب پاسکے اور اس کو بے مثل کہا جائے۔ ہاں! اگر بے مثل کے یہ معنی ہیں کہ اس جیسا غلط کلام اور قصیدہ دنیا بھر میں کوئی نہیں تو ہمیں بھی مسلم ہے۔

مرزاقادیانی کے قصیدہ کا حال تو معلوم ہوچکا۔ اب ان کے مقابلہ میں ایک قصیدہ سنئے جو قاضی ظفرالدین صاحب مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے مرزاقادیانی کے جواب میں لکھا تھا۔ واضح ہو کہ قاضی صاحب کو مرزاقادیانی نے اپنے قصیدے کے جواب کے لئے طلب فرمایا تھا۔

(ملاحظہ ہو اعجاز احمدی ص۸۶، خزائن ج۱۹ ص۱۹۹)

قصیدہ رائیہ بجواب قصیدۂ مرزائیہ

  1. قفانبک من ذکریٰ علوم تبعثر

    قلوبا اماتتہ الہویٰ و تذکّر

  2. تذکّرہا عودا الی البدء للوریٰ

    ولقیان ذات اللہ یوم تبعثر

  3. واہل لہا اضحوا رمیما واقفرت

    منازل علم الدین منہم وسیروا

  4. مع السیر اخلاقا حسانا وکلہم

    نجوم اضاء ت ثم غابوا وغوروا

  5. کانی اذا ما اذکر الہدیٰ والہدیٰ

    الشیم بروقا قد تلوح وتستر

  6. وصحبی قیام فی قیام نصیحۃ

    یقولون لا تحزن فانک توجر

  7. وان شفائی سنۃ نبویۃ

    فہل من کریم یرتفیہا ویوثر

  8. الارب یوم کان یوما مبارکا

    ولا سیما یوم بہی مدثر

  9. لہم فیہ نصح للبریۃ واللوریٰ

    بتذکار یوم کلنا فیہ یحشر

  10. بتذکار یوم لیس یخفی علے الوریٰ

    بہ اللہ یعطی من یشاء ویخسر

92
  1. بہ اللہ یصمی من اتی ستکبرا

    بہ اللہ یوہی کید من ھویفخر

  2. بہ اللہ یقضٰی بیننا کل امرنا

    ویفتح مہما فتحہ متغر

  3. ویوم عقرنا فیہ لیل نفوسنا

    الی کل مایفتی وما یتغیر

  4. وملنا الی باق وخیر ذخیرۃ

    ونعنی رضاء اللہ فیما یدخر

  5. فاوّل ما یعلو بہ الموء فی الوریٰ

    قبول لما قال الا لہ المکبر

  6. وتسلیم احکام اتت فی کتابہ

    مرادی بہ ذاک الکتاب المنور

  7. مرادی بہ ماقد تراہ مفصلا

    بایدی الکرام المسلمین وجوبر

  8. وکیف یریدون الاناس بہ فہم

    سواء علیہم انذرو ام تنا ذردا

  9. فمن کان منہم مرسلا کان مرسلا

    الی نفسہ اوغیرہ ذاک یعسر

  10. وذاک لان الغیر ایضاً کمثلہٖ

    فمن کان منہم اٰمرا کان یومر

  11. ومامورہم ایضا کتاب واٰمر

    لاٰمرہ حقا کذلک یعثر

  12. واعثار شیٔ نفسہ مثل ما مضے

    عسیر محال مثلہ لا یبسر

  13. رجعنا الٰی ما قد اتیناہ اولا

    وقلنا اردنا منہ ما ہو یزبر

  14. کتاب حوی ما یتبعہ اولو النہی

    من الہدی والعلم الذی ہوالبحر

  15. فلولاہ کنا فی الضلال کغیرنا

    وذقنا کما ذاقوہ ام ہو اکثر

  16. کتاب شفاء للصدور ویالہ

    من الخیر والفضل الذی لا یغمر

  17. کتاب ہدانا حسن اخلاق ربنا

    کتاب ہداہ خیرکم لا یزنتر

  18. کتاب ہدانا انفج رسولہ

    ہو الملک الا بھی السنی المظہر

  19. کتاب ہدانا الاجتماع فلانری

    علے الحق من وانی الینا یجثر

  20. یفرق شمل المسلمین بقولہ

    انا المقتدی الخبر الامام الموزر

  21. انالحجۃ البیضاء فی کل ساعۃ

    اغوص علٰے علم علیم واصدر

  22. بدربھی ذی سناء فلا تریٰ

    مثالا لہ فیما یرون وابصروا

  23. فانی انا الموعود للناس فی الدنا

    مسیح ومہدی تعالوا فتنظروا

  24. علٰی انہ یہدی الاناس علٰے السوا

    لقدمات عیسٰی فانظروا وتفکروا

  25. فای کتاب اللہ ینطق ہکذا

    کن اقول خیر الناس یہدی ففکروا

  26. ولست نبیانا لاصالۃ للوریٰ

    انا الظل لا الاصل الاصیل وشکرا

93
  1. فعوا واسمعوا من کلامی واننی

    ارید جوابا یرتضیہ مبصر

  2. لان مات عیسٰی فالرجوع محرم

    الی ہذہ الدنیا لدیہ مقرر

  3. فکیف یقول المرء انی خلیفۃ

    مسیح لہ فی القادیاں تستر

  4. وان کان حیا فالجواب میسر

    وسہل علٰی من کان یخشٰی ویحذر

  5. بان لیس ہذا ذاک قط بلامرا

    فکیف یکون العبد حرا یوقر

  6. وان کان دعواہ بانی مثیلہ

    فماقولہ قد مات عیسٰی فابشروا

  7. لان مثیل الامر لا یقتضی ولا

    یدالی لاعدام الممثل فاحذروا

  8. علٰے ان ختم الانبیاء یقیمنا

    علٰے منہج حقٍ سوی یدثر

  9. اذا تم مضمار النبوۃ فی الوریٰ

    فما قولہ شبہ ومثل فابصروا

  10. متی لم یکن امرلا مرمشار کا

    فماذا وما ذاک انظروا وتدبروا

  11. لان مثیل الشیٔ یاتی مشارکا

    لہ فی امور الذات وہو مقرر

  12. علٰی ان ہذا جاء من حصص لہ

    وذاک لہ نوع کذالک یوثر

  13. ولیس نبی بعد حضرتہ ولا

    یحوم علی الانکار الا مغذفر

  14. فکیکف یقول المرء انی مسیحکم

    ولیس شریکا فی النبوۃ ینذر

  15. فان قال انی ظلہ لا اصیلہ

    فما الظل الاصندہ المستحقر

  16. فہذا ہو المحروم من نور شمسہ

    وذاک مضیٰ نیر منور

  17. یبائن ہذا ذاک حقا بلامرا

    فہذا ہو العرض الذی یتہور

  18. وذاک محل قائم باصولہ

    بناء قوی امرہ لا یصور

  19. فان کان ہذا مثلہ او مثیلہ

    فقل کلنا الامثال واطاک مخبر

  20. فقال نبی اللہ انی مثیلکم

    ولیسوا النّبیین الکرام ففکروا

  21. لانہم مثل النبی لکونہم

    اناساکما کان النبی فحرروا

  22. فما تأس مردود بقول اقولہ

    فقد قلت ما فیہ الکفایت فاشکروا

  23. ولیس نبینا خصمنا وخصیمنا

    بل الخصم ضد للنبی مقرر

  24. براہمۃ الہند الذین یزاہم

    حیارے یرون مایراہ ویامر

  25. بان الاناس الساکنین علی البریٰ

    جمیعا صحیفات عن الرب تذکر

94

قصیدہ ہذا بہت لمبا اور مرزاقادیانی کے قصیدہ کا کافی جواب ہے۔ مگر ہم اردو خواں ناظرین کے ملال خاطر کے خوف سے اسی قدر نمونہ پر کفایت کرتے ہیں۔

مرزاقادیانی کی قصیدہ خوانی کا جواب تو ہو لیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ حکیم صاحب نے بھی اس پیش گوئی کے متعلق بالکل معمولی معمولی باتوں میں وقت ضائع کیا ہے۔ اصل بات کی طر توجہ نہیں کی۔ گو ان معمولی باتوں میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ قصیدہ اعجازیہ اس پیش گوئی کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ پیش گوئی بہت زیادہ وزن رکھتی ہے اور قصیدہ مذکورہ درصورت واقعی اعلیٰ ہونے کے بھی اس پیش گوئی کا مصداق نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی اعجاز نمائی مرزاقادیانی کو اس پیش گوئی کے پہلے بھی حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب حکیم صاحب اور ان کی کمپنی نے نہیں دیا۔ دیتے بھی کیا؟ جو کام مشکل ہو وہ کون کرے؟ حکیم صاحب تو اس مصیبت میں بزبان حال گویا یوں گویا ہیں ؎

  1. بلبل کو دیانالہ تو پروانہ کو جلنا

    غم ہم کو دیا سب سے جو مشکل نظر آیا

ناظرین! اس آسمانی نشان کے متعلق واقعات صحیحہ کو سامنے رکھیں اور مرزاقادیانی کے الفاظ طیبہ کو دیکھیں جو مکرر درج ذیل ہیں: ’’میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا مجھے سمجھا گیا۔‘‘

(اشتہار ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۸)

پس ہمارا بھی اسی پر صاد ہے کہ درصورت دعا قبول نہ ہونے کے آپ کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔فاکتبنا مع الشاہدین!

ساتویں پیش گوئی … متعلقہ طاعون پنجاب

اس پیش گوئی کی اصل بنیاد وہ اشتہار ہے جس میں یوں مذکور ہے: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ خداتعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔‘‘

(اشتہار ۶؍فروری ۱۸۹۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵)

95

پس ہم مرزاقادیانی کے اشتباہ کی آخری مدت ہی لیتے ہیں تو بھی اس حساب سے فروری ۱۹۰۰ء کے اندر طاعون کا زور ہونا چاہئے تھا۔ مگر خدا کے فضل سے ایسا نہ ہوا بلکہ ۱۹۰۲ء میں یعنی مرزاقادیانی کی پیش گوئی سے پورے دو سال کے بعد پنجاب کے بعض شہروں اور قصبوں میں طاعون ہوا۔ پھر بھی ایسا کہ مرزاقادیانی شاید ایسے طاعون سے خوش نہ ہوں (خدا ان کو خوش نہ کرے) ہمارے شہر امرتسر جیسے کثیرالتعداد آبادی میں ان دنوں (دسمبر ۱۹۰۲ء) میں جو بقول مرزاقادیانی طاعون کی وجہ سے خدا کے روزہ کھولنے کا زمانہ ہے۔ (دافع البلاء ص۱۷، خزائن ج۱۸ ص۲۳۷، اوسط اموات ص۳۵، ۳۶) کل امراض سے ہوتی رہی جن میں ۲،۳ یا حد سے زیادہ ۴،۵ سے مرتے رہے۔ حالانکہ بقول مرزاقادیانی یہی دسمبر ۱۹۰۲ء طاعون کے ایسے زور کا مہینہ تھا جو لکھتے ہیں: ’’ابتداء نومبر ۱۹۰۲ء سے خداتعالیٰ اپنا روزہ کھولے گا۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ اس افطار کے وقت کون کون ملک الموت کے قبضہ میں آیا۔‘‘

(رسالہ دافع البلاء ص۱۷، خزائن ج۱۸ ص۲۳۷)

حکیم صاحب نے اس پیش گوئی کے متعلق یہ لکھا ہے کہ طاعون کا زوروں پر ہونا مرزاقادیانی کے الفاظ نہیں ہیں۔

(آئینہ حق نما ص ۲۳۹ یعقوب علی تراب قادیانی)

حالانکہ پیش گوئی کے الفاظ میں یہ لفظ ہیں: ’’طاعون عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔‘‘ زور سے مراد بھی یہی عام اشاعت ہے جو نہ ہوئی۔ الحمدﷲ!

ہاں! حکیم صاحب نے ایک بڑا کمال یا یوں کہئے کہ مرزاقادیانی کی ایک مخفی شرارت کا اظہار کیا ہے۔ مرزاقادیانی موصوف نے اپنی کتاب ’’مواہب الرحمن‘‘ کے (ص۱۰۹، خزائن ج۱۹ ص۳۲۹) پر میرا ذکر بڑے جلی عنوان سے لکھا ہے۔ مگر اس سے پہلے (ص۱۰۸، خزائن ج۱۹ ص۳۲۸) پر بڑے حرفوں میں یوں لکھا ہے: ’’اریت قرطاسا من ربی العلام واذا نظرت فوجدت عنوانہ بقیۃ الطاعون‘‘میں نے خواب میں ایک کاغذ دیکھا جس کا عنوان تھا، ’’بقیۃ الطاعون‘‘

مرزائی علم رموز کے ماہرین پر یہ امر پوشیدہ نہ ہو گا یا نہ ہونا چاہئے کہ خدا کے علم کے مطابق آئندہ کسی زمانہ میں میں طاعون سے مروں تو ایک پختہ مرزائی اس عبارت کو پیش کر کے کہہ دے گا کہ حضرت مسیح موعود نے پہلے ہی سے اس کی بابت نہایت باریک اشارہ کر دیا تھا۔ اسی باریک اشارہ کی طرف حکیم صاحب بھی اپنی اس کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں۔

96

آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’امرتسری منکر اگر اس سے کچھ زیادہ دیکھنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے تھا کہ وہ اس وقت مقابلہ کے لئے نکلتا جب اس کو بلایا گیاتھا اور اللہتعالیٰ کے علم پر کون احاطہ کر سکتا ہے کہ بقیۃ الطاعون کا نظارہ دنیا دیکھ لے۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۲۴۰)

یعنی مرزاقادیانی کی اس گول مول بے معنی عبارت کا مصداق خاکسار کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی معنی ہیں ؎

  1. شور بختاں بآرزو خواہند

    مقبلاں را زوال نعمت وجاہ

حکیم صاحبہل تربصون بنا الا احدی الحسنیین!

اس پیش گوئی پر تو مرزاقادیانی نے اپنی صداقت کا بہت کچھ مدار رکھا تھا۔ اصل الہام اس بارہ میں یہ ہے: ’’انہ اوی القریۃ‘‘ جس کی بابت فروری ۱۹۹۸ء تک صاف اقرار ہے کہ: ’’یہ فقرہ کہ ’’انہ اوی القریۃ‘‘ اب تک اس کے معنی میرے پر نہیں کھلے۔‘‘

(اشتہار ۶؍فروری ۱۸۹۸ء حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵ حاشیہ)

مگر اس سے بعد تو اس پر اتنے حواشی لگائے گئے کہ الامان۔ بقول شخصے داڑھی سے مونچھیں بڑیں۔ رسالہ دافع البلاء میں تو اس قدر زور ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کو للکارا جاتا ہے کہ کوئی ہے کہ وہ بھی ہماری طرح اپنے اپنے شہر کی بابت کہے کہ: ’’انہ اوی القریۃ‘‘ یہاں طاعون کیوں نہیں آتا۔ بلکہ جو کئی آدمی باہر کا قادیان میں آ جاتا ہے وہ بھی اچھا ہو جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!

(دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

اخبار الحکم میں مولوی عبدالکریم امام مرزا کا ایک مضمون نکلا تھا جس میں سے چند فقرات درج ذیل ہیں: ’’عجیب موقع ہے کہ خدا کی قدرت نمائی کی جلی اور صاف صاف پڑھے جانے والے نشان دیکھ لیں۔ ایک طرف حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع کفار مشرک اور دین حق سے ہنسی کرنے والے ہیں۔ خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت میں لے لیاہے… بولو اور سوچ کر بولو کہ کیا تمہارے نزدیک مسیح موعود

97

(مرزاقادیانی) کے اس دعویٰ اور پیش گوئی میں خدا کی ہستی پر… مرزاغلام احمد قادیانی کے منجانب اللہ ہونے پر چمکتی ہوئی دلیل نہیں؟‘‘

(اخبار الحکم مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۲ء)

واقعی ہم بھی مانتے ہیں کہ اس واقعہ میں بہت بڑی زبردست دلیل ہے۔ آئیے! ہم اس واقعہ کی تحقیق کریں۔ قادیان میں طاعونی پیش گوئی کا بفضلہ پورا ظہور ہوا۔ چند روز تو مرزاقادیانی نے بہت ہی کوشش کی کہ قادیان میں طاعون کا اظہار نہ ہو، مگر بکری کی ماں کب تک خیر منائے؟ آخر جب یہ امر ایسا محقق ہو گیا کہ مرزاقادیانی کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تو ایک اعلان جلی حرفوں میں جاری کیا جو درج ذیل ہے: ’’اعلان چونکہ آج کل ہر جگہ مرض طاعون زور پر ہے۔ اس لئے اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے، لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برعائت اسباب بڑا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لئے یہ قرین مصلحت ہوا کہ دسمبر کی تعطیلوں میں جیسا کہ پہلے اکثر اصحاب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ اب کی دفعہ اس اجتماع کو بلحاظ مذکورہ بالا ضرورت کے موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ خدا سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بچاوے۔‘‘

(اخبار البدر قادیان ج۱، نمبر۸،ص۶۴، کالم نمبر۱، مؤرخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۲ء)

اللہ اللہ کس دبی زبان سے قادیان میں طاعون کے ہونے کا اقرار ہے۔ کس سوچ بچار سے لکھا گیا ہے کہ نسبتاً آرام ہے جس سے دام افتادوں کو بالکل آرام ہی معلوم ہو۔ مگر دانا اس نسبتاً کے لفظ کی نسبت کو سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس میں زیادہ کرید کرنے کی حاجت ہی نہیں۔ ہمارے پاس ایسے ثبوت بھی ہیں جو مرزاقادیانی کی پیش گوئی کو ہباً منثورا کرنے کو کوفی ہیں۔

مرزاقادیانی خود لکھتے ہیں اور غالباً بامر الٰہی اعلان کرتے ہیں: ’’طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا، میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہو گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۳، خزائن ج۲۲ ص۸۷ بقیہ حاشیہ)

ناظرین! یہ ایسا صاف اقرار ہے جس کے مقابلہ میں ہزار دلیل کام نہیں آسکتی۔ ایک دفعہ تو پھر مولوی عبدالکریم کی عبارت مرقومہ پڑھنے کی تکلیف گوارا فرماویں۔ اس کے بعد ان کو اس شعر کے پڑھنے اور سننے کا لطف حاصل ہو گا ؎

  1. تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بھگارتے

    وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

شاباش حواریو! شاباش! قادیانی اخبار کا ایڈیٹر اس وباء طاعون پر بجائے شرمندہ

98

ہونے کے اظہار مسرت کرتا ہے۔ ’’قادیان میں جو طاعون کی چند وارداتیں ہوئی ہیں، ہم افسوس سے بیان کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ اس نشان سے ہمارے منکر اور مکذب کوئی فائدہ اٹھاتے اور خدا کے کلام کی قدر اور عظمت اور جلال ان پر کھلتی۔ انہوں نے پھر سخت ٹھوکر کھائی۔‘‘

(البدر قادیان مؤرخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء)

پھر ۱۶؍مئی کے پرچہ میں لکھا ہے: ’’قادیان میں طاعون حضرت مسیح (مرزا قادیانی) کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہی ہے۔‘‘ (ہمارا بھی صاد ہے)

اسی ماتحتی میں طاعون کے مارے مرزاقادیانی کا سکول نصف ماہ ۹؍مئی تک بند رہا جس سے پوری افراتفری کا مضمون صادق آتا ہے۔ اخبار اہل حدیث امرتسر مؤرخہ ۲۷؍مئی ۱۹۰۴ء کے پرچہ میں معتبر شہادت کے حوالہ سے بتلایا گیا ہے کہ مارچ اپریل ۱۹۰۴ء کے دو مہینوں میں۱؎ تیرہ تیرہ آدمی قادیان میں طاعون سے مرے ہیں۔ حالانکہ آبادی کل ۲۸۰۰ کی ہے۔ سب لوگ ادھر ادھر بھاگ گئے۔ تمام قصبہ ویران سنسان نظر آتا تھا۔ آہ! کیا سچ ہے ؎

اس پیش گوئی کے متعلق بھی حکیم صاحب سے کچھ نہ بن سکا۔ ہاں! انہوں نے حسب عادت ادھر ادھر کی بہت سی باتیں کہہ کر اپنے ناظرین کو اصل بات سے غافل کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں صرف ایک بات قابل جواب ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ’’ہمارے مخالف نہیں بتلا سکتے کہ قادیان طاعون سے بالکل محفوظ رہے گا۔‘‘

(آئینہ حق نما ص۲۶۴)

اسی کتاب آئینہ میں ہمارا پیش کردہ مضمون مرقومہ مولوی عبدالکریم اخبار الحکم مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۱۲ء سے نقل کر چکے ہیں، جس کے نقل کرنے سے پہلے یوں لکھا ہے: ’’اس پیش گوئی کے متعلق میرے محسن ومخدوم حضرت مولوی عبدالکریم نے جو ایک پرشوکت آرٹیکل شائع کیا تھا، ضرور ہے کہ وہ یہاں درج کر دیا جائے۔‘‘

یہ عبارت اس مضمون کی عظمت اور شوکت ظاہر کرتی ہے۔ وہ مضمون مرزاقادیانی کی زندگی میں ان کی نظر سے گزر کر نکلا تھا۔ مولوی عبدالکریم نے اس مضمون میں اس پیش گوئی کے متعلق جس قدر توضیحات اور لن ترانیاں کی ہیں، وہ تو اس سارے مضمون کو دیکھنے سے معلوم ہوسکتی ہیں جو بہت لمبا ہے۔ اس مقام پر ہمارے مطلب کے چند فقرات درج ذیل ہیں:

۱؎یہ حساب اسی زمانہ کے روزنامہ جات قادیان سے حاصل کیاگیا تھا، اب اگر قادیانی ممبروں کو انکار ہو تو وہ بھی چونکہ طاعون کے قائل ہیں، لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ صحیح تعداد شائع کریں۔

چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

99

’’انہ اوی القریۃ‘‘کا مفہوم صاف لفظوں میں تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اور اس کے غیرمیں تمیز ہو… حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے تمام ان لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع کفار مشرک اور دین حق سے مسخری کرنے والے ہیں، خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا ہے۔ حضرت ممدوح (مرزاقادیانی) نے لکھا ہے اور باربار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راست باز ہو گا اس جگہ کو خداتعالیٰ اس غضب سے بچا لے گا… تم لوگ بھی مل کر ایسی پیش گوئی کرو جس سے قادیان کے پیغمبر کا دعویٰ باطل ہو جائے اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں یا یہ کہ لاہور اور امرتسر طاعون کے حملہ سے محفوظ رہیں یا یہ کہ قادیان طاعون میں مبتلا ہو جائے۔ خدا نے اس اکیلے صادق (مرزاقادیانی) کے طفیل قادیان کو جس میں اقسام اقسام کے لوگ تھے، اپنی خاص حفاظت میں لے لیا۔‘‘

(آئینہ حق نما از یعقوب علی قادیانی ص۲۷۴، ۲۷۷، ۲۷۹حاشیہ)

حکیم صاحب! بتلائیے اس عبارت کے کیا معنی ہیں؟ غور سے سنئے! آپ کے نبی کی تکذیب دو ہی طرح سے ہو سکتی ہے یا تو امرتسر لاہور طاعون سے محفوظ رہیں، وہ تو نہ رہے یا قادیان طاعون میں مبتلا ہو۔یہ ہوا اور ضرور ہوا۔

اگر فرماویں کہ قادیان میں شاذونادر واردات ہوئیں جو معتبر نہیں تو برائے مہربانی مرزاقادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل کی تشریح کر دیجئے جو یہ ہے: ’’طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۳، خزائن ج۲۲ ص۸۷بقیہ حاشیہ)

حکیم صاحب! قادیان میں طاعون کے بزور ہونے کا کیسا صاف اقرار ہے کہ یہ شاذونادر ہے۔ اچھا اور سنئے: اخبار البدر کے ایڈیٹر نے صاف لکھا تھا کہ: ’’قادیان میں طاعون نے صفائی شروع کر دی۔‘‘

(۱۶؍اپریل ۱۹۰۴ء)

ناظرین! مولوی عبدالکریم کی عبارت منقولہ کی پہلی سطر کو ایک بار پھر دیکھ جاویں کہ وہ کیا بتا رہی ہے۔ ہمارا بھی اس پر صاد ہے کہ واقعی اس قسم کے الہامی مقامات میں وقوعات اسی طرح ہونی چاہئیں جو دوسرے مقامات سے امتیاز رکھتے ہیں۔ نہ یہ کہ پہلے تو اتنا

100

زور وشور کہ قادیان محفوظ رہے گا، جب محفوظ نہ رہا بلکہ طاعون زور سے ہوا تو کہہ دیا کہ فنا کرنے والا۔ انتشار کرنے والا نہیں ہوا۔ کیا امرتسر لاہور فنا ہوگئے؟ کیا وہ آج تک آباد نہیں؟ اچھا پھر اس کے بھی کچھ معنی ہیں کہ: ’’جہاں ایک بھی راست باز ہو گا، اس جگہ کو خدا اس غضب سے بچا لے گا۔‘‘

اللہ اکبر! یہ دعویٰ اور یہ ثبوت؟ اور نام مسیح موعود اور مہدی مسعود۔ انا للہ!

  1. بت کریں آرزو خدائی کی

    شان ہے تیری کبریائی کی

نویں پیش گوئی … عمر خود کے متعلق

مرزاقادیانی نے اپنی عمر کی بابت ایک زبردست پیش گوئی فرمائی تھی جس کے مشرح الفاظ یہ ہیں: ’’خداتعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہو گی اور۱؎ یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم… اور جو ظاہر الفاظ وحی کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸، ۲۵۹)

عمر کی مدت تو صاف معلوم ہو گئی کہ کم سے کم چوہتر سال ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزاقادیانی پیدا کب ہوئے اور فوت کب ہوئے۔ ان دونوں امروں کے متعلق ہمیںزیادہ کرید کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صاف صاف مطبوعہ تحریر موجود ہے۔

مرزاقادیانی کے معتمد خاص اور خلیفہ اوّل مولوی حکیم نورالدین اپنے رسالہ ’’نورالدین‘‘ میں مرزاقادیانی کا سال پیدائش لکھ کر ایک نقشہ دیتے جاتے ہیں۔ سال پیدائش ۱۸۴۰ء بتایا ہے۔ مرزاقادیانی کا انتقال ۱۹۰۸ء میں ہوا ہے۔ اس حساب سے مرزاقادیانی کی عمر (۶۸) سال کی ہوتی ہے۔

(رسالہ نورالدین ص۱۷۰)

نوٹ: اس پیش گوئی نے امت مرزائیہ کو ایسا پریشان کیا ہے کہ کسی دوسری بات نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ بات بالکل صاف اور معمولی سی ہے۔ مگر چونکہ اڑسٹھ کو چوہتر بنانا مشکل نہیں محال ہے۔ اس لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ: ’’لن یصلح العطار ما افسد الدہر‘‘ جس کو زمانہ نے بگاڑا ہوا سے عطار کیونکر سوارے۔

۱؎اس اردو کے ذمہ دار ہم نہیں ہم محض ناقل ہیں۔

101

دسویں پیش گوئی … خاکسار (راقم) کے متعلق

مرزاقادیانی رسالہ اعجاز احمدی ص۱۱، ۲۳ پر خاکسار کو ان الفاظ میں دعوت دیتے ہیں: ’’اگر یہ (مولوی ثناء اللہ) سچے ہیں تو قادیان میں آ کر کسی پیش گوئی کو جھوٹی تو ثابت کریں اور۱؎ ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک ایک سوروپیہ انعام دیا جائے گا اور آمد ورفت کا کرایہ علیحدہ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۱، خزائن ج۱۹ ص۱۱۷، ۱۱۸)

’’مولوی ثناء اللہ نے موضع مد میں بحث کے وقت یہی کہا تھا کہ سب پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ اس لئے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان میں آئیں۔ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیش گوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ لے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں۲؎ سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہو گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲)

اسی بیان کے متعلق ایک دو پیش گوئیاں بھی جڑ دی ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’اور واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔

۱… وہ قادیان مین تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں اور سچی پیش گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہو گی۔

۲… اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔

۱؎اہل زبان اس عطف کو غور سے دیکھیں اور الہامی صاحب کے اعجاز کی داد دیں۔

۲؎ حیرت انگیز انکشاف مرزاقادیانی نے لکھا ہے۔ ڈیڑھ سو پیش گوئی کاذب ہونے کی صورت میں ہر ایک مرید سے ایک ایک روپیہ لے دوں گا۔ کیا مرزاقادیانی درصورت ڈیڑھ سو پیش گوئی جھوٹی ثابت ہونی کے بھی آپ کے مرید آپ کی مریدی میںرہ کر آپ کو ایک ایک روپیہ نذرانہ دے دیں گے۔ تب تو بڑی ہی عقل کے پتلے اور ایمان کے پکے ہوں گے۔ حق تو یہ ہے کہ آپ کے مرید عموماً ایسے ہی ہیں ہم بھی اس کی داد دیتے ہیں۔ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو مجھے قادیان میں موجود دیکھتے ہی آپ سے الگ ہو جاتے۔ کیونکہ میرے وہاں پہنچتے ہی آپ کی پیش گوئی مندرجہ (اعجاز احمدی ص۳۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۸) غلط ہو گئی تھی۔

102

۳… اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلے سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۸)

نمبر سوم کا جواب تو سہ سالہ پیش گوئی کے ذکر میں ہوچکا ہے۔ نمبردوم کا جواب اس کے سواء کیا ہے کہ: ’’ماتدری نفس بایّ ارض تموت‘‘ (کسی نفس کو معلوم نہیں کہ کون سی زمین میں مرے گا)

چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے۔ اس لئے ایسے مقابلہ کی جرأت نہیں کر سکتا۔ چونکہ آپ کی غرض یہ ہے کہ اگر مخاطب پہلے مر گیا تو چاندی گھری ہے اور اگر خود بدولت تشریف لے گئے (خس کم جہاں پاک) تو بعد مرنے کے کس نے قبر پر آنا ہے؟ اس لئے آپ ایسی ویسی بیہودہ شرطیں باندھتے ہیں۔ مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرأت نہیں اور یہ عدم جرأت میرے لئے عزم ہے اور ذلت نہیں۔

ہاں! نمبراوّل کا جواب بے شک میرے بس میں تھا۔ یعنی قادیان میں پہنچتا۔ چنانچہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء کو راقم نے قادیان میں پہنچ کر مرزاقادیانی کو مندرجہ ذیل رقعہ لکھا جو یہ ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بخدمت جناب مرزاغلام احمد صاحب رئیس قادیان

خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص۱۱ (خزائن ج۱۹ ص۱۱۷، ۱۱۸) ص۳۷، ص۱۴۸) قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ جناب کی دعوت کے قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا۔ ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاتا ہوں کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ (بقول خود) ایک ایسے عہدہ جلیلہ پر ممتاز ومامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ جیسے مخلصوں کے لئے خصوصاً ہے۔ اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔ میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدہ جلیلہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور ہی موقع دیں۔ راقم ابوالوفاء ثناء اللہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء وقت سوا تین بجے دن اس کا جواب مرزاقادیانی کی طرف سے نہایت ہی شیریں اور مزیدار پہنچا جو مندرجہ ذیل ہے:

103

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

از طرف۱؎ عائذ باللہ غلام ا حمد عافاللہ واید بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب!

آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک وشبہات پیش گوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں، رفع کراویں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہو گی اور اگرچہ میں کئی سال ہو گئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کرچکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہو گا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں۔

مگر مجھے تأمل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ایک بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدائے تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اوّل یہ اقرار کردیں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جائیں گے اور وہی اعترض کریں گے جو آنحضرتﷺ پر یا حضرت عیسیٰ(m) پر یا حضرت موسیٰ(m) پر یا حضرت یونس(m) پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیشین گوئیوں پر زد نہ ہو۔

دوسری یہ شرط ہو گی کہ آپ زبانی بولنے کے ہر گز مجاز نہ ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔

۱؎مرزاقادیانی کی دجالیت میں جس کو شبہ ہو وہ ان کی کتاب مواہب الرحمن ص۱۰۹، خزائن ج۱۹ ص۳۲۹ پر دیکھئے کہ کس چالاکی سے میرا قادیان آنا لکھا ہے اور اصل واقعہ کو چھپا کر صرف اپنی طرف سے ایک عبارت لکھ ماری ہے جو نہ خط ہے نہ خط کا ترجمہ نہ اصل واقعہ کی وجہ بتلائی ہے نہ سارے خطوط نقل کئے ہیں۔ یونہی لکھ مارا ہے کہ یہ ترجمہ ہے اس خط کا جو ہم نے ثناء اللہ کی طرف لکھا تھا۔

104

تیسری یہ شرط ہو گی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ کریں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آ گئے اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں خرچ کر سکتے۔

یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہو گا کہ عوام کاالانعام کے روبرو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہو گا۔ جیسے: ’’صم بکم‘‘ یہ اس لئے کہ تاگفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے۔ اوّل صرف ایک پیش گوئی کی نسبت سوال کریں تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہو گا کہ اس کو سناویں۔ ہم خود پڑھ لیں گے مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے۔

کیونکہ آپ تو شبہات۱؎ دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں باآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس پیش گوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔

اسی طرح تمام وساوس دور کر دئیے جائیں گے۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقع دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہو گا۔ چودھویں جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں ۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگرچہ بہت کم فرصتی ہے۔ لیکن چودھویں جنوری ۱۹۰۳ء تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہو گا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے۔ خود خداتعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔

سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہو گا کہ آپ بذریعہ تحریر جو دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جائیں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسے دور کرالیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ اس کو اپنے وساوس دور کرانے میں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں؟ ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔

۱؎چہ خوش ہم تو آپ کی دعوت کے مطابق تکذیب کو آئے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ شبہات دور کرانے آئے ہیں آپ کی معمولی بات ہے۔

105

بالآخر اس غرض کے لئے کہ اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں قادیان۱؎ سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔ دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں۔ اوّل! چونکہ میں ’’انجام آتھم‘‘ میں خداتعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں۲؎ کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقع دیا جائے گا کہ آپ اوّل ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیش گوئی پر ہو ایک سطر یا دو سطر حد تین سطر تک لکھ کر پیش کریں، جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اور منہاج نبوت کے رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا۔ جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔ پھر دوسرے دن اسی طرح دوسری لکھ کر پیش کریں یہ تو میری طرف سے خداتعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہو گی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خداتعالیٰ کی قسم دیتاہوں کہ آپ اگر سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں اور ناحق فتنہ وفساد میں عمربسر نہ کریں۔ میں اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص اعراض کرے گا، اس پر خدا کی لعنت ہے اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ (الحمدﷲ! مرزاقادیانی نے دیکھ لیا) سو اب میں دیکھوں گا کہ آپ سنت نبویہ کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں اور چاہئے کہ اوّل آپ مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جائے گا اور آپ کو بلایا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دئیے جائیں گے۔

مرزاغلام احمد قادیانی بقلم خود (مہر)

(ملفوظات ج۴ ص۴۰۵ تا ۴۰۹)

کیسی صفائی اور ہوشیاری کے ساتھ بحث سے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ تحقیق حق کے لئے مجھے بلایا ہے جو بالکل بحث کا ہم معنی لفظ ہے۔

(اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲)

۱؎ مرزاقادیانی کے دوستو! میرے قادیان پہنچنے کی رسید لے لو۔

۲؎بالکل جھوٹ آگے آتا ہے۔

106

اور اب صاف منکر ہیں بلکہ مجھے ایسی خاموشی کا حکم دیتے ہیں کہ: ’’صم بکم‘‘ (بہرہ گونگا) ہوکر آپ کا لیکچر سنتا جاؤں۔ یہ معلوم نہ ہوا کہ ’’بکم‘‘ یعنی گونگا ہو کر تو میں سن سکتا ہوں۔ ’’صم‘‘ (بہرہ) ہو کر کیا سنوں گا۔ شاید یہ بھی معجزہ ہو۔ خیر بہرحال اس کا جواب جو خاکسار کی طرف سے دیاگیا۔ وہ درج ذیل ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وسلام علٰے عبادہ الذین اصطفٰے۔ اما بعد!

از خاکسار ثناء اللہ بخدمت مرزاغلام احمد صاحب!

آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا۔ مگر افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا۔ جناب والا! جب کہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص۱۱، ۲۳ حاضر ہوا ہوں اور صاف لفظوں میں رقعہ اولیٰ میں انہیں صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے بجز ’’العادۃ طبیعۃ ثانیہ‘‘ کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔

جناب من! کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیازمند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیش گوئیوں کو جھوٹا ثابت کروں تو فی پیش گوئی مبلغ سو روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطرین لکھنے کے پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹہ تجویز کرتے ہیں:’’تلک اذا قسمۃ ضیزی‘‘بھلا یہ کیا تحقیق کا طریقہ ہے میں تو ایک دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹے تک فرماتے جائیں۔ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت کر کے پچھتا رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے اعراض کرتے ہیں، جس کی بابت آپ نے مجھے دردولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی تھی۔ جس سے عمدہ میں امرتسر ہی میں بیٹھا ہوا کر سکتا تھا اور کر چکا ہوں۔ مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلانیل مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں جانتا۔ اسی لئے میں آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتاہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلاشک تین گھنٹے تک تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ہو گی کہ میں اپنی دوتین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹے کے بعد پانچ منٹ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا اور چونکہ مجمع آپ پسند نہیں کرتے۔ اس لئے فریقین کے آدمی محدود ہوں

107

گے جو پچیس سے پچیس سے زائد نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں۔ کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں؟ اطلاع دینا آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔

علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع ہو گئی ہو گی۔ آپ جو مضمون سنائیں گے وہ اسی وقت مجھ کو دے دیجئے گا۔ کارروائی آج ہی شروع ہو جائے۔

آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر ساسوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں کی بابت وہی عرض ہے جو حدیث۱؎ میں موجود ہے۔ ۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء

کیسے معقول طریق سے راقم آثم نے اپنے وجوہات بتلائے اور کس نرمی سے مرزاقادیانی کی پیش کردہ تجویز تھوڑی سی خفیف اصلاح کے ساتھ (جسے کوئی منصف مزاج ناپسند نہ کرے گا) بعینہٖ منظور کر لی مگر مرزاقادیانی اور معقولیت؟ ایں خیال است ومحال است وجنوں! چونکہ ہر ایک انسان کو اپنا علم حضوری ہے۔ مرزاقادیانی بھی اپنا پول خوب جانتے تھے۔ اس لئے آپ اس رقعہ پر ایسے خفاء ہوئے اور اتنی گالیاں دیں کہ کہنے سننے سے باہر۔ ہم ان کو اپنے لفظوں میں نہیں بلکہ قاصدوں کے لفظوں میں حاشیہ۲؎ پر لکھتے ہیں۔

آخر اس خفگی میں آپ نے رقعہ کا جواب بھی نہ دیا اور اپنے آیڈی کانگوں کو حکم دیا کہ لکھ دو۔چنانچہ وہ یہ ہے:

۱؎وہ یہ ہے کہ لعنت کا مخاطب اگر لعنت کا حق دارنہیں تو کرنے والے پر پڑتی ہے۔

۲؎شہادت ہم خدا کو حاضر وناظر جان کر بحکم ’’لاتکتموا الشہادۃ‘‘ سچ کہتے ہیں کہ جب ہم مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کا خط لے کر مرزاقادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مرزاقادیانی ایک ایک فقرہ سنتے جاتے تھے اور بڑے غصہ سے بدن پر رعشہ تھا اور دہان مبارک سے خوب گالیاں دیتے تھے اور حضار مجلس مریدان بھی ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ حضرت واقعی ان (مولوی) لوگوں کو تہذیب اور تمیز نہیں۔ چند الفاظ جو مرزاقادیانی نے علماء کی نسبت عموماً اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت خصوصاً فرمائے تھے۔ یہ ہیں: خبیث، سور، کتا، بدذات، گوں خور ہے۔ ہم اس کو کبھی نہ بولنے دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے۔ لعنت لے کر ہی جائے گا۔ اس کو کہو کہ لعنت لے کر قادیاں سے چلا جائے۔ وغیرہ وغیرہ! سننے میں اور اس وقت کی حالت دیکھنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہم حلفیہ بطور شہادت کہتے ہیں کہ ایسی گالیاں ہم نے مرزاقادیانی کی زبان سے سنی ہیں جو کسی چوہڑے چمار سے بھی کبھی نہیں سنیں۔ راقمان: حکیم محمد صدیق ساکن ضلع جالندھر، بستی دانشمنداں،محمد ابراہیم امرتسر کٹڑہ سفید!

108

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حامداً ومصلیاً!

’’مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا رقعہ حضرت اقدس امام الزماں مسیح موعود مہدی معہود (مرزا قادیانی) کی خدمت مبارک میں سنادیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد اور تعصب آمیز تھے جو طلب حق سے بعد المشرقین کی دوری اس سے صاف ظاہر ہوتی تھی۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے آپ کو یہی جواب کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے اور حضرت انجام آتھم میں اور نیز اپنے خط مرقومہ جواب سامی میں قسم کھا چکے اور اللہتعالیٰ سے عہد کر چکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۔ خلاف معاہدہ الٰہی کے کوئی مامور من اللہ کیونکر کسی فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے؟ طالب حق کے لئے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے، کیا وہ کافی نہیں۔ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے، وہ ہرگز منظور نہیں ہے اور یہ بھی منظور نہیں فرماتے کہ جلسہ محدود ہو۔ بلکہ فرماتے ہیں کل قادیان وغیرہ کے اہل الرائے اپنے مجتمع ہوں۱؎ تاکہ حق وباطل سے پر واضح ہو جائے۔والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ! ۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء

گواہ شد محمد سردار ابوسعید عفی عنہ/ خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام الزماں! چونکہ میرا روئے سخن خود بدولت سے تھا۔ اس لئے میرا حق تھا کہ میں کسی ماتحت کی تحریر نہ لیتا۔ مگر اس خیال سے کہ پبلک کو مرزاقادیانی کے فرار کا نشان بتلایا جاوے میں نے رقعہ مرقومہ قبول کر لیا۔ ان حضرات مرسلین رقعہ وگواہان کی حالت پر افسوس نہیں بلکہ افسوس ان لوگوں پر ہے… جو ایسے لوگوں کو دراز رمیش دیکھ کر عالم یا مولوی سمجھ لیتے ہیں، جن کو یہ بھی خبر نہیں کہ مناظرہ اور تحقیق ایک ہی چیز ہے۔ رشیدیہ جو علم مناظرہ میں ایک مستند کتاب ہے، اس میں صاف مرقوم ہے: ’’المناظرۃ توجہ المتخاصمین فی النسبۃ اظہارا للصواب‘‘یعنی کسی مسئلہ کی نسبت دو شخصوں کا نیک نیتی اور سچائی کے اظہار کرنے کی غرض سے متوجہ ہونا اسی کا نام مناظرہ ہے اور (اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲) پر مجھ کو تحقیق کے لئے بلا رہے ہیں۔

۱؎ ناظرین رسالاہ ہذا ان بھلے مانسوں کی داد دیجئے کہ مجھے تو مجمع سے روکا جائے اور اپنے لئے مجمع کیا جاتا ہے۔

109

پس تحقیق حق کے لئے بلاکر مناظرہ سے انکار کرنا صریح انکار بعد از اقرار کا مصداق ہے اور موقعہ پر الہام کی یاد مرزاجی! اقرار کے بعد انکار معتبر نہیں ہوسکتا۔

(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

علاوہ اس کے مناظرہ کرنا صرف زبانی گفتگو کا نام نہیں بلکہ تحریری بلکہ ذہنی توجہ بھی مناظرہ ہے۔ چنانچہ رشیدیہ میں ہے:’’وان کان ذالک المتوجہ فی النفس کما کان للحکماء الا شراقیین‘‘ لیکن اس الہامی جماعت نے جہاں مسائل شرعیہ میں تجدید کی ہے، اصطلاحات عقلیہ میں بھی موجد ہیں۔ اسی لئے تو کتابوں میں (بزعم خود) علماء کے دلائل کے جواب دیتے ہوئے کچھ اخلاق حسنہ کا بھی اظہار کیا کرتے ہیں۔ مگر جب خاکسار کو ایک لاکھ پندرہ ہزار دینے کا وقت آیا تو خدائی وعدہ یاد آ گیا اور مناظرہ سے باوجود بلانے کے صاف لفظوں میں انکار کر دیا۔

  1. کیونکر مجھے باور ہو کہ ایفاء ہی کریں گے

    کیا وعدہ انہیں کر کے مکرنا نہیں آتا

بعد اللتیا واللتی ہم مرزاقادیانی کی صداقت اور راست بیانی ظاہر کرنے کو ان کے حوالہ رسالہ انجام آتھم وغیرہ کی بھی پڑتال کرتے ہیں۔ آپ (انجام آتھم ص۲۸۲، خزائن ج۱۱ ص۲۸۲) پر بے شک لکھتے ہیں:’’وان لانخاطب العلماء بعد ہذہ التوضیحات ولو سبونا… وہذہ منا خاتمۃ المخاطبات‘‘ یعنی ہم نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس سے بعد علماء سے خطاب نہ کریں گے۔ گو وہ ہم کو گالیاں دیں اور یہ کتاب ہمارے خطابات کا خاتمہ ہے۔

یہ کتاب ’’انجام آتھم‘‘ ۱۸۹۶ء کی مطبوعہ ہے۔ جیسا کہ اس کے صفحہ اوّل (خزائن ج۱۱ ص۱) سے معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ اس سے بعد آپ نے علماء کرام کو صاف مباحثہ اور مقابلہ کے واسطے بلایا ہے۔ چنانچہ آپ ۲۵؍مئی ۱۹۰۰ء کے اشتہار معیار الاخیار (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۰) پر لکھتے ہیں: ’’مگر آپ لوگ اے اسلام کے علماء اب بھی اس قاعدہ کے موافق جو سچے نبیوں کی شناخت کے لئے مقرر کیاگیا ہے، قادیان سے کسی قریب مقام میں جیسا کہ اگر بٹالہ ہے یا مثلا آپ کو انشراح صدر میسر آ جاوے تو خود قادیان میں ایک مجلس مقرر کریں جس کے سرگروہ آپ کی طرف سے چند ایسے مولوی صاحبان ہوں کہ جو حلم اور برداشت اور تقویٰ اور خوف باری تعالیٰ میں آپ لوگوں کے نزدیک مسلم ہوں۔ پھر ان پر

110

واجب ہو گا کہ منصفانہ طور پر بحث کریں اور ان کا حق ہو گا کہ تین طور سے مجھ سے اپنی تسلی کر لیں۔ (۱)قرآن وحدیث کی رو سے۔ (۲)عقل کی رو سے۔ (۳)سماوی تائیدات اور خوارق اور کرامات کی رو سے۔ کیونکہ خدا نے اپنی کلام میں مامورین کے پرکھنے کے لئے یہی تین طریق بیان فرمائے ہیں۔ پس اگر میں ان تینوں طوروں سے ان کی تسلی نہ کر سکا یا اگر ان تینوں میں سے صرف ایک یا دو طور سے تسلی کی تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں کاذب ٹھہروں گا۔ لیکن اگر میں نے ایسی تسلی کر دی جس سے وہ ایمان اور حلف کی رو سے انکار نہ کر سکیں اور نیز وزن ثبوت میں ان دلائل کی نظیر پیش نہ کر سکیں تو لازم ہو گا کہ تمام مخالف مولوی اور ان کے نادان پیرو خدا تعالیٰ سے ڈریں اور کروڑوں انسانوں کے گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر نہ لیں۔‘‘

کیا مرزاقادیانی آپ نے اس تجویز میں فریق مخالف کو خطاب نہیں کیا یا ان سے بحث کا مطالبہ نہیں کیا جو عین مناظرہ ہے یا قادیان میں ۱۹۰۰ء ۱۸۹۶ء سے پہلے ہونے کی وجہ سے یہ تحریر منسوخ ہے؟ نہیں تو پھر میں نے کیا بھس ملایا تھا کہ مجھ کو مناظرہ تو کیا زیارت سے بھی محروم رکھا گیا ہے ؎

  1. وصال یار میسر ہو کس طرح ضامن

    ہمیشہ گھات میں رہتا ہے آسماں صیاد

ہاں! یاد آیا کہ یہ تحریر ۲۵؍مئی ۱۹۰۰ء کی بھی تو اس قابل نہیں کہ اس کو پیش کیا جاوے۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے اس کو عملی طور سے منسوخ کر کے ردی کے صندوق میں ڈال دیا تھا جس کی تفصیل یہ ہے ندوۃ العلماء کے جلسہ (منعقدہ امرتسر) کے موقعہ پر ۸؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کو مرزاقادیانی کے نام ۴۳علماء نے مشترکہ نوٹس دیا تو جناب بغیر رسید ڈاکخانہ کے اف تک نہیں کی وہ نوٹس اس جگہ پر ہم نقل کرتے ہیں جو یہ ہے:

بخدمت مرزاغلام احمد قادیانی

السلام علینا وعلٰے عباد اللہ الصالحین!

آپ کی تحریر مؤرخہ ۲۵؍مئی ۱۹۰۰ء کے مطابق ہم لوگ آپ سے بحث کو حاضر ہیں۔ گو اس سے پہلے بارہا آپ کی اصلیت ملک کو معلوم ہوچکی ہے تاہم آپ کی حجت پوری کرنے کو اس دفعہ بھی ہم تیار ہیں۔

پس آپ یہ پابندی مشروط مقررہ علم مناظرہ آ کر مباحثہ کریں۔ آپ کے بتلائے ہوئے طریق ثلاثہ ہمیں منظور ہیں۔ تقدیم وتأخیر ان کی ہمارے اختیار ہے۔ پس آپ شنبہ کے

111

روز ۱۱؍اکتوبر۱۹۰۰ء کی شام تک امرتسر پہنچ جائیں تو ہم لوگ بعد اختتام جلسہ ندوۃ العلماء بروز یک شنبہ آپ سے مباحثہ کریں گے جس صاحب کو ہم اپنے مشورے سے پیش کریں گے۔ اس کا ساختہ پرداختہ منظور کریں گے۔ چونکہ آپ کو مولوی احمد حسن صاحب ایڈیٹر شحنہ ہند کے نوٹس مؤرخہ ۲۳؍ستمبر اور ضمیمہ ۲۴؍ستمبر سے تنبیہ ہو چکا ہے۔ اس لئے آپ قلت وقت کا عذر نہیں کر سکتے۔ غالباً آپ کو اپنے خیالات کی اشاعت اور تحقیق حق کا اس سے عمدہ موقع نہ مل سکے گا۔

مرسلہ ابوعبید اللہ امرتسری، عبدالجبار غزنوی، عبدالرحیم غزنوی، حافظ عبدالمنان وزیرآبادی، ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری، عبدالعزیز دینا نگری، نور احمد امام مسجد شیخ بڈھا مرحوم امرتسری، عبدالاوّل غزنوی، عبدالغفور غزنوی، ابوزبیر، غلام رسول حنفی امرتسری، نور احمد سکھوکے، عبدالحق غزنوی، حکیم عبدالحق امرتسری، محمد حسین لکھوکے، سید عبدالقیوم حنفی جالندھری، عبدالقادر لکھوکے، تاج الدین امرتسری، عبدالرزاق لکھوکے، حافظ غلام صمدانی پشاوری (مولوی حکیم) محمد عبداللہ پشاوری، گل محمد بہاری پور ضلع پشاور، حیات پیر پشاوری، عبدالعظیم پسروری، عبداللہ پسروری، عبداللہ پسروری، قاسم علی نائی والہ، محب اللہ خراسانی، عبدالمجید ہزاروی، عبدالودود باریوالہ، نیاز اللہ مدرس مدرسہ تقویۃ الاسلام امرتسری، حسن محمد بہنری، یحییٰ غزنوی، محمد غزنوی، خلیفہ عبدالرحمن امرتسری، سید احمد دہلوی، غلام محمد تبتی، مصطفی ساکن کلیانوالہ ضلع گوجرانوالہ، حافظ محمد عبداللہ غزنوی، حبیب اللہ غزنوی، عبدالعلی نوشہرہ ضلع بھمبر، شاہ ابوصالح کانپوری۔ فقط!

ناظرین! یہ ہیں مرزاقادیانی کی ابلہ فریبیاں جن میں ہم بھی ان زمان یکتائے کو مانتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچنا اس رباعی کا مصداق ہے جو کسی صاحب نے کتاب خیالی حاشیہ شروع عقائد کی نسبت لکھی ہے ؎

  1. خیالات خیالی بس بلند است

    نہ اینجا جائے قل احمد نہ جند است

  2. ولے عبدالحکیم ازرائے عالی

    بحل کردہ خیالات خیالی

آخری فیصلہ!

حقیقت یہ ہے کہ یہ الہامات اور پیش گوئیاں بھی مرزاقادیانی کی زندگی ہی میں زیربحث تھیں۔ ان کی وفات کے بعد خدا کی مہربانی سے ان کی بھی حاجت نہیں رہی۔ کیونکہ ان کی وفات سے سارے اختلافات کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

112

حقیقت یہ ہے کہ یہ الہامات اور پیش گوئیاں بھی مرزاقادیانی کی زندگی ہی میں زیربحث تھیں۔ ان کی وفات کے بعد خدا کی مہربانی سے ان کی بھی حاجت نہیں رہی۔ کیونکہ ان کی وفات سے سارے اختلافات کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

ناظرین! حیران ہوں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ حالانکہ اختلافات ہنوز موجود ہے۔ یہ سچ ہے کہ اختلاف موجود ہے مگر یہ سب کچھ مرزاقادیانی کی امت کی ہٹ اور زبان کی پچ ہے۔ ورنہ دراصل سب اختلافات مٹ چکے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے میرے مواخذات سے تنگ آ کر (جس کااظہار وہ خود کرتے ہیں) ایک اعلان شائع کیا جو اپنا مضمون بتلانے میں خود کافی ہے۔ کسی کی شرح یا حاشیہ لگانے کی حاجت نہیں۔ اس لئے اس اعلان کو بعینہٖ درج کر کے ناظرین کی رائے پر چھوڑتے ہیں۔

وہ اعلان یہ ہے:

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نمحمدہ ونصلی، علٰے رسولہ الکریم!

یستنبونک احق ہو قل ای وربی انہ لحق!

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب! السلام علٰی من اتبع الہدیٰ!

مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اوردنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاخدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ

113

سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیروقدیر جو علیم وخبیر ہے، جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین!

مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے، حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب اللعالمین!

میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گر گئی، وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں، جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت: ’’لا تقف مالیس لک بہ علم‘‘ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دوردور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ نہیں تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا! اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما

114

اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلاء کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین!

ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین!

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

الراقم … عبداللہ الصمد مرزاغلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ وایدہ

مرقومہ مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، یکم؍ربیع الاوّل ۱۳۲۵ھ

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸، ۵۷۹)

ناظرین! غور کریں کہ یہ اشتہار کیا کہہ رہا ہے اور کس غرض کے لئے شائع ہوا ہے۔ صاف بتا رہا ہے کہ ہم (مرزا اور خاکسار) میں سے جو پہلے مرے گا وہ جھوٹا ثابت ہو گا۔ یعنی اس نزاع کی حیثیت میں جو ہم دونوں میں بابت دعویٰ مسیحیت اور مہدویت وغیرہ ہم دونوں میں سے پہلے مرنے والا جھوٹا اور پیچھے رہنے والا سچا ہو گا، یہ مطلب اس اعلان کا ایسا واضح ہے کہ کسی غبی سے غبی کو بھی اس میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔

چونکہ ہماری غرض تحقیق حق ہے۔ اس لئے اس فیصلہ پر موجودہ مرزائیوں کے عذرات نقل کر کے جواب دیتے ہیں۔

عذر اوّل: یہ کہا جاتا ہے کہ اشتہار الہامی نہیں بلکہ محض دعا ہے اور دعا کی بابت ہم نہیں کہہ سکتے کہ ضرور قبول ہوئی ہو گی۔

اس مختصر کا جواب یہ ہے کہ یہ عذر خود مرزاقادیانی کے منشاء کے خلاف ہے۔ اس اعلان کی بابت مرزاقادیانی کی تشریح جو اس سے بعد چھپی ہے وہ یہ ہے۔

اخبار بدر کا ایڈیٹر مرزاقادیانی کی ڈائری میں لکھتا ہے:

’’مرزاصاحب نے فرمایا: یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھاگیا ہے، یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف

115

ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا۔ اجیب دعوت الداع! صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعاء ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔‘‘

(اخبار بدر قادیان ج۶ ص۷، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۹ ص۲۶۸)

مرزاقادیانی کی یہ تشریح موجودہ مرزائیوں کے جملہ اعتراضات کا کلی فیصلہ کرتی ہے۔ ناظرین! بغرض تحقیق خالص نیت سے خود اس عبارت کو غور سے دیکھیں کیا یہ عبارت نہیں بتلاتی کہ یہ اعلان خدا کی تحریک سے ہے اور اس کی قبولیت کا وعدہ خدا کی طرف سے ہے۔

اس مضمون پر بمقام لدھیانہ ۱۵؍اپریل ۱۹۱۲ء کو مرزائیوں سے میرا مباحثہ ہوا تھا جس میں درصورت فتح یابی ان کی طرف سے مبلغ تین سو روپیہ انعام مقرر تھا اور فیصلہ کے لئے ایک مسلمان ایک مرزائی منصف اور ایک سکھ صاحب سرپنچ تھے۔ ایک منصف اور سرپنچ کے اتفاق سے ہماری فتح ہوئی۔ مبلغ تین سو روپیہ ہم کو انعام ملا۔ الحمدﷲ!

یہ بحث تحریری تھی جو ایک رسالہ کی صورت میں شائع ہوئی، جس کا نام ’’فاتح قادیاں‘‘ ہے۔ (الحمدﷲ! یہ بھی احتساب کی اسی جلد میں شامل ہے)

فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العالمین!

خادم دین اللہ! ابوالوفاء ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسری الہندی

تمت بالخیر!

فتح کی سند

ریاست رام پور حفظہااللہ عن شرالدھور میں مرزائیوں کے شوروشر کرنے پر ہزہائینس نواب صاحب رام پور نے مباحثہ کرایا۔ اس مباحثہ کے بعد حضور نواب صاحب نے خاکسار کو سرٹیفکیٹ مرحمت فرمایا جو دراصل مباحثہ کے لئے بھی فیصلہ کن ہے۔ حضور نواب صاحب نے تحریر فرمایا: ’’رام پور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت مولوی ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ ومسرور ہوئے۔‘‘

دستخط خاص: حضور نواب صاحب بہادر محمد حامد علی خاں

116

ہفوات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

117

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بعد آنحضرتﷺ کے مدعی نبوت کافر

’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین وکان اللہ بکل شیٔ علیما (الاحزاب:۴۰)‘‘

{محمدa تم میں سے کسی مرد بالغ کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہتعالیٰ ہی ہر چیز کو جانتا ہے۔}

یہ آیت باجماع المسلمین رسول اللہﷺ کی نبوت کو ختم کرنے والی ہے۔ یعنی آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام علماء نے مرزاقادیانی کو کافر ومرتد لکھا ہے۔ حدیث شریف میں بھی موجود ہے کہ میرے بعد لوگ دعویٰ نبوت کریں گے، مگر کذاب، دجال ہوں گے اور یہ امر واضح ہے کہ دجال کافر ہو گا۔

چنانچہ ترمذی شریف جلد دوم ص۴۵ باب ’’لاتقوم الساعۃ حتّٰی یخرج کذابون‘‘ مطبع مجتبائی میں حدیث ہے:

’’عن ثوبان قال قال رسول اللہﷺ لا تقوم الساعۃ حتّٰی تلحق قبائل من امتی بالمشرکین وحتّٰی یعبد الاوثان انہ سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘

حضرت ثوبانq فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ میری امت کے بعض قبیلے مشرکین سے نہ مل جائیں اور بت نہ پوجے جائیں اور عنقریب میری امت میں تیس(۳۰) دجال جھوٹے پیدا ہوں گے اور دعویٰ نبوت کریں گے۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ نبیوں سے اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔

بس صرف ایک آیت اور ایک حدیث پر کفایت کی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی اس حدیث کی پیش گوئی کے مطابق مشرک بھی ہے۔ کیونکہ اس نے دعویٰ خدائی کے علاوہ خدا کی اولاد ثابت کی ہے۔ جیسا کہ آگے آئے گا اور دعویٰ نبوت بھی کیا ہے اور یہ دجال کافر کا کام ہے۔

118

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

مقدمہ

ہم مسلمان مرزا قادیانی کے کیوں مخالف ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کا کوئی دنیاوی جھگڑا نہیں بلکہ محض دینی عداوت ہے۔ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے: ’’لا تتولوا قوما غضب اللہ علیہم‘‘ (جس قوم پر خدا کا غضب ہے، اس سے ہرگز دوستی نہ کرو) اس سے بڑھ کر کیا غضب ہو گا کہ مرزاقادیانی خداتعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔

خداتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:’’تکاد السموات یتفطّرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ہدا۔ ان دعوا للرحمٰن ولدا (المریم)‘‘ یعنی قریب ہے کہ آسمان ٹوٹ جائیں اور زمین پھٹ جائے اور پہاڑ گر پڑیں۔ اس بات سے کہ انہوں نے رحمان کے لئے ولد پکارا۔

صاحبان! شرک ایسی بلا ہے کہ اعمال کو برباد کر دیتی ہے اور مشرک خدا کی بدترین مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تو آپ ہی انصاف کریں کہ ہم مرزاقادیانی کو کس طرح مسلمان کہیں۔ ہم اس مختصر ٹریکٹ میں آپ کو بتائیں گے کہ مرزاقادیانی نے خدا کی اولاد بھی ثابت کی اور خود خدا بھی بنے اور خدا ورسول پر افتراء بھی کیا ہے اور انبیاء کی توہین بھی جی بھر کر کی۔ ایسے شخص کو کوئی شخص مسلمان بھی سمجھے تو ہم اس شخص کو بھی مسلمان نہیں کہتے۔

عقیدہ مشرکانہ

قادیانی ایجنٹ عام طور پر سادہ لوح مسلمانوں کو بہکانے کے لئے مرزاقادیانی کی کتابیں پیش کر دیا کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے دین کی بڑی خدمت کی ہے توحید مٹ چکی تھی تو مرزاقادیانی نے آ کر زندہ کی ہے اور قرآن مردہ ہو چکا تھا تو مرزا نے آ کر زندہ کیا رسول مقبولa کی عیسائی لوگ توہین کرتے تھے تو مرزاقادیانی نے آ کر عزت افزائی کی، وغیرہ!

ہم اس مختصر ٹریکٹ میں ثابت کریں گے کہ مرزاقادیانی نے آ کر اس قدر شرک اور کفر پھیلایا کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص ایک ظاہری مسلمان اپنے کو ظاہر کرتا ہے، مگر باطن میں کفر و شرک سے بھرا پڑا ہے اور قرآن مجید کی تحریف اور انبیاء وبزرگان دین کی سخت توہین کرتا تھا۔

119

۱… مرزاقادیانی اپنی کتاب (اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۲بقیہ حاشیہ) میں خدا تعالیٰ کی اولاد ثابت کرتے ہیں۔ الہام ہوتا ہے: ’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘ یعنی اے مرزا تو میری اولاد کے مرتبہ پر ہے۔

صاحبو! غور کرو اس الہام میں اللہتعالیٰ اپنی اولاد ثابت کر کے مرزاقادیانی کو اس کے مرتبہ میں بتا رہا ہے اور قرآن مجید جابجا پکار رہا ہے کہ میری اولاد نہیں بلکہ اس عقیدہ کو کفر کہا ہے۔ عیسیٰؑ اور عزیرm کو یہود ونصاریٰ نے خدا کا بیٹا کہا تو خدا نے انہیں کافر ٹھہرایا۔ پس اس عقیدہ کی بناء پر مرزاقادیانی پکے مشرک اور کافر ٹھہرے۔

دعویٰ خدائی

۲… (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴ خزائن ج۵ ص ایضاً) وغیرہ میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں:’’رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ہو‘‘میں خواب میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھتا ہوں تو پھر میں نے یقین کیا کہ میں واقعی اللہ ہوں… ’’فخلقت السموات والارض‘‘پس میں نے آسمان اور زمین بنائے۔’وقلت انا زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘پھر میں نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا… ’’وکنت اتیقن ان جوارحی لیست جوارحی بل جوارح اللہ تعالٰی‘‘ میں یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہ کے اعضاء ہیں ’’وکنت اتخیل انی انعدمت بکل وجودی وانسلخت من کل ہویتی والان لامنازع ولا شریک‘‘مجھے یہ خیال ہو رہا تھا کہ میں اپنے وجود (انسانی) سے بالکل معدوم ہو چکا ہوں اور نکل چکا ہوں۔ پس نہ کوئی منازعت کرنے والا رہا نہ شریک (گویا وحدہ لا شریک ہوئے)

حضرات! دیکھا قادیانی متنبی کا خدائی دعویٰ… اور مزے کی سنو!

خدا سے رشتہ

(حقیقت الوحی ص۷۴، خزائن ج۲۲ ص۷۷) میں الہام ہوتا ہے: ’’انت منی وانا منک‘‘ یعنی اے مرزا! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ (استغفراللہ نعوذ باللہ) قادیانی ایجنٹو! کیا اس توحید کو پھیلانے کے لئے مرزا آیا تھا؟’’لم یلد ولم یولد‘‘کے مضمون کو بھول گئے کہ نہ کوئی خدا سے ہے اور نہ خدا کسی سے اور یوں الہام ہوتا ہے: ’’انت من مائنا‘‘ا ے مرزا! تو ہمارے پانی سے ہے‘‘(انجام آتھم ص۵۵، خزائن ج۱۱ ص ایضا) توبہ یہ کس قدر کفر ہے؟

120

مرزاقادیانی کے خدا کی مثال مرزاقادیانی کے قلم سے

(توضیح المرام ص۷۵، خزائن ج۳ ص۹۰) میں مرزاقادیانی نے اپنے خدا کی مثال اس طرح پر دی ہے کہ: ’’ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں… عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس کی تاریں بھی ہیں۔‘‘

قادیانی دوستو! کیا تمہارا بھی خدا یہی ہے جو مرزاقادیانی نے پیش کیا ہے یا مسلمانوں کا خدا جو ’’لیس کمثلہ شیٔ‘‘ہے۔ اس جگہ مرزاقادیانی نے قرآن مجید کا انکار اور خلاف کیا ہے۔ اللہتعالیٰ فرماتا ہے:’’فلا تضربوا ﷲ الامثال‘‘یعنی خداتعالیٰ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ کیوں مرزائی دوستو! یہ خلاف قرآن ہے یا نہیں؟

رسول اللہﷺ کی بے ادبی

تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ:’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘یہ آیت رسول اللہa کے حق میں ہے اور احمد آپa ہیں۔ مگر مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ یہ میرے حق میں ہے اور میرا نام احمد ہے۔

(ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

اور (تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴) لکھتا ہے ؎

  1. منم مسیح زماں و منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

اور (نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)لکھتا ہے ؎

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفاں نہ کم ترم زکسے

یعنی انبیاء اگرچہ بہت ہوئے مگر میں بھی تو کسی سے کم نہیں۔

دوستو! بتاؤ گستاخی کس چیز کا نام ہے؟ کیا اس سے بڑھ کر حضورﷺ کی گستاخی اور کیا ہو گی جو صاف لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ کسی نبی سے کم نہیں۔ لو صاحب! اس سے بڑھ کر لو۔ (حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) میں یوں درافشانی کی ہے کہ:’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘ (توبہ نعوذ باللہ!)

اور سنو! (اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۷۰) میں لکھا ہے کہ: ’’پہلوں کا پانی مکدر ہو گیا۔ ہمارا پانی اخیر زمانہ تک مکدر نہیں ہو گا۔‘‘ (اس میں حضورﷺ بھی آ گئے کیونکہ آپa بھی پہلوں سے ہیں)

121

اور لو (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’نبی کریم کے معجزات تین ہزار تھے۔ میرے معجزات دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

مرزائی دوستو! سچ کہنا کہ اس میں حضورﷺ سے اپنے آپ کو مرزاقادیانی نے بڑھایا ہے یا نہیں۔ بتاؤ دس لاکھ وہ کون سے معجزے ہیں۔ ہمارے سامنے تو ایک ہی پیش کیا کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ (مگر آہ! اے عشق تیرا ستیاناس) وہ بھی نکاح میں نہ آئی جس کے باعث آج کلنک کا ٹیکہ مرزائی امت پر باقی رہ گیا جو قیامت تک اتر نہیں سکتا۔ گویا یہ پیش گوئی مرزاقادیانی نے ساری دنیا کے سامنے پیش کر کے یہ بتانا مقصود تھا کہ اگر محمدی بیگم میرے نکاح میں نہ آوے تو میں جھوٹا۔ مگر خداتعالیٰ نے ایسا صاف فیصلہ کر دیا کہ مرزاقادیانی دنیا سے خالی ہاتھ گئے اور محمدی بیگم نہ ملی جس کا افسوس آج مرزائی بھی کر رہے ہیں۔

مرزاقادیانی کے بیٹے محمود کا عقیدہ

’’(مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اسلام کی اشاعت کے لئے دوبارہ دنیا میں آیا۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۵۸)

’’ہر شخص محمد رسول اللہﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیانی ج۱۰، نمبر۵ ص۵ کالم نمبر۳مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء )

’’مرزاقادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرتﷺ سے زیادہ تھا۔‘‘

(ریویو جون ۱۹۲۹ء)

’’رسول کریم کی کئی دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۴، نمبر۷۰، ص۵، کالم ۱،مؤرخہ ۴؍مارچ ۱۹۲۷ء)

’’باعتبار کمالات ذات ورسالت کے مرزامحمد رسول اللہ ہی ہے۔‘‘

(الفضل مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۱۹ء)

’’مرزاقادیانی عین محمد تھے۔‘‘

(ذکر الٰہی ص۲۰)

’’مرزاقادیانی کی روحانیت نبی کریم سے اقویٰ اکمل اور اشد ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۴۷)

حضرات! آپ سن چکے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے بیٹے کا یہ عقیدہ ہے۔ اب آپ پر ہی ہم انصاف چھوڑتے ہیں کہ یہ لوگ اگرچہ ظاہری کلمہ گو ہیں مگر جب حضورﷺ کے

122

متعلق یہ عقیدہ ہے تو کیا آپ انہیں مسلمان کہیں گے، جس شخص کے دل میں ذرا سا بھی ایمان ہے، وہ کبھی بھی ان باتوں کو سن نہیں سکتا۔ چہ جائیکہ ایسا خبیث عقیدہ رکھنے والے کو مسلمان کہے۔ اللہتعالیٰ مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچائے۔ آمین!

امام حسینq کی توہین

تمام اہل اسلام امام حسینq کی فضیلت اور بزرگی کے قائل ہیں۔ ان کی گستاخی یا ہتک کو بے دینی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ان کے فضائل بہت سے ہیں، جن میں سے ہم صرف ایک حدیث بیان کر دیتے ہیں جو (ابن ماجہ ج اوّل ص۱۳) پر ہے: ’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہﷺ من احب الحسن والحسین فقد احبنی ومن ابغضہما فقد ابغضنی‘‘یعنی حضورﷺ فرماتے ہیں جس نے حسن حسین(r) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے انہیں برا سمجھا اور ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

اب اس حدیث کے بعد ہم آپ ناظرین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے امام صاحب کی سخت توہین کی ہے اور اپنے آپ کو امام حسینq سے بڑھ کر لکھا ہے۔

چنانچہ (دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳) میں لکھتے ہیں: ’’اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسینq تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔‘‘

اور (اعجاز احمدی ص۵۳، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴) میں ہے: ’’وقالوا علی الحسنین فضل نفسہ۔ اقول نعم واللہ ربی سیظہر‘‘اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اورحسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں! اور میرا خدا عنقریب ظاہرکر دے گا۔

اور اسی کتاب کے (ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳) میں یوں لکھا ہے: ’’وانی قتیل الحب لکن حسینکم قتیل العدأ فالفرق اجلیٰ واظہر‘‘ اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا ظاہر ہے۔

اور (ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱) پر لکھا ہے: ’’شتان ما بینی وبین حسینکم فانی اؤید کل ان وانصر‘‘ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔علاوہ اس کے اور بھی بہت اشعار ہیں، جن میں سخت توہین کی ہے، مگر اختصار مقصود ہے۔

123

توہین ابوہریرہq

یہ وہ صحابی ہیں جن سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔ حضورﷺ کو بہت پیارے تھے۔ ہر وقت آپa کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ نہایت ذہین اور روشن ضمیر تھے۔ ایک دفعہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ! میں نے جنت میں اپنے آگے تیرے جوتے کی آہٹ سنی کہ تو جا رہا ہے، تو کیا عمل کرتا ہے کہ جس سے تجھ کو یہ مرتبہ حاصل ہوا۔ ابوہریرہq نے جواب دیا کہ حضور! اور تو کچھ عمل نہیں کیا، صرف یہ ہے کہ جب وضو کرتا ہوں تو دو نفل پڑھ لیتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ بس اسی کی وجہ سے تجھ کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے۔ مگر مرزاقادیانی نے اس صحابی ابوہریرہq سے بھی بدلہ لے کر چھوڑا۔

(اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۱۲۷) میں لکھتا ہے کہ: ’’بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ کو جن کی درایت (سمجھ) عمدہ نہیں تھی، عیسائیوں کے اقوال سن کر جو اردگرد رہتے تھے، پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ(m) آسمان پر زندہ ہے۔ جیسا کہ ابوہریرہq جو غبی (ردی سمجھ) تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔‘‘ مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ ایسے جلیل القدر صحابی کو بے سمجھ لکھنا یہ بے دینی نہیں تو اور کیا ہے؟

عام مسلمانوں کی توہین

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷، ۵۴۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر لکھا ہے کہ: ’’ہر مسلمان میری تصدیق کرے گا اور مجھے قبول کرے گا۔ مگر بدکار عورتوں کے بچے وہ تسلیم نہ کریں گے۔‘‘

اور (نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳) پر یوں تحریر ہے:

  1. ان العدیٰ صاروا خنازیر الفلا

    ونسائہم من دونہن الا کلب

  1. دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے

    اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں

اور (انجام آتھم ص۲۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً بقیہ حاشیہ) میں مرزا قادیانی نے تمام مولویوں کو یہ لکھا ہے کہ: ’’اے بدذات فرقہ مولویان‘‘ اور میاں نذیر حسین صاحب دہلوی جو شیخ الہند مشہور ہیں، جن کے فیض سے دنیا عالم میں علم حدیث کا چرچہ ہوا، ان کے حق میں نہایت ناپاک الفاظ استعمال کئے ہیں: ’’جیسا کہ نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعادت مند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افتراء ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۴۵، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

124

حضرات! یہ تہذیب مرزا بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔ ورنہ ایسی خرافات بہت سی ہیں جن کے ذکر سے اندیشہ طوالت ہے۔

توہین حضرت عیسیٰؑ

سب سے پہلے یہ بات قابل یاد ہونی چاہئے کہ اسلام نے ہم کو یہ ہرگز تعلیم نہیں دی کہ اگر کوئی شخص خبیث الباطن ہمارے آقا سردار دوجہاں محمدa کی شان میں کوئی ہتک آمیز کلمہ کہے تو اس کے مقابل کسی ایسے نبی کی شان میں ان کے مقابلہ میں گستاخی کریں، جس کو وہ نبی مانتا ہو۔ مثلاً عیسائی لوگ حضرت عیسیٰؑ کو نبی مانتے ہیں۔ اگر کوئی عیسائی نبی کریمa کے حق میں گستاخی کرے تو ہم حضرت عیسیٰؑ کو گالی دیں۔ یہ ہرگز شریعت نے ہمیں نہیں سکھایا۔ دوسری بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اور یسوع یہ ایک ہی نبی کے نام ہیں دو نہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲) پر فرماتے ہیں: ’’دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ ویسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘

جب یہ ثابت ہوا کہ یسوع عیسیٰؑ ہی ہیں تو پھر جب یسوع کو گالی دی جائے گی۔ وہ حضرت عیسیٰ ہی کو دی جائے گی۔

اب سنئے مرزاقادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱) میں حضرت عیسیٰ یسوع کے بارے میں یہ تحریر فرماتے ہیں: ’’آپ کے ہاتھ میں سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی جہ سے ہو۔‘‘

اور (کشتی نوح ص۶۵ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱) میں لکھا ہے: ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے، اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۱۱، خزائن ج۲۰ ص۳۴۶) پر لکھا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰؑ نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔‘‘

اور (مکتوبات احمدیہ قدیم ص۲۳، ۲۴ ج۳ مکتوبات احمد جدید ج۱ ص۱۸۹، مکتوب نمبر۹) میں ہے: ’’مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار۔ متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

125

(اعجاز احمدی ص۲۵، خزائن ج۱۹ ص۱۳۵) میں فرماتے ہیں: ’’افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰؑ کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں پائی جاتی۔‘‘

حضرت عیسیٰؑ کے معجزات سے انکار

قرآن مجید سورۂ مائدہ میں خداتعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کے معجزات بیان کرتے کرتے یہ بھی معجزہ بیان کیا ہے کہ آپ مٹی سے جانور کی شکل بنا کر بحکم الٰہی پھونک دیتے تھے تو وہ جانور ہوکر پرواز کرتا تھا۔ مگر مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۳۰۳، خزائن ج۳ ص۲۵۴، ۲۵۵حاشیہ) میں فرماتے ہیں کہ: ’’خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے… کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری (بڑھئی) کا کام بھی کرتے رہے۔‘‘

حضرات! دیکھا ایک تو معجزہ سے انکارا ور دوسرے حضرت عیسیٰؑ کا باپ یوسف نجار کو ثابت کیا۔ استغفراللہ! یہ عقیدہ یہود کا تھا۔ مسلمان حضرت عیسیٰؑ کو بے باپ جانتے ہیں اور قرآن مجید اس پر شاہد ہے۔

اور (ازالہ اوہام ص۳۰۹، خزائن ج۳ ص۲۵۷، ۲۵۸ حاشیہ) میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ’’یہ جو زندہ کرتے تھے تو صرف بہ عمل ترب (مسمریزم) تھا۔‘‘ مرزاقادیانی کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل (ترب) ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘ اللہ رے اللہ! مسیح کے کارنامہ کو قابل نفرت اور مسمریزم سے تعبیر کرنا یہ صرف مرزاقادیانی کا حق ہے۔ کسی مسلمان نے آج تک یہ گندہ عقیدہ نہ رکھا تھا۔

حضرات! عام طور پر مرزائی کہا کرتے ہیں کہ یسوع کو کہا ہے۔ مگر آپ نے دیکھ لیا کہ ان عبارات میں یسوع بھی اور حضرت عیسیٰ اور ابن مریم کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ اب تاویل کی گنجائش نہیں نام لے کر گالی دی ہیں۔

اللہتعالیٰ مسلمانوں کو ان بے دینوں سے بچائے۔ آمین!

126

صحیفہ محبوبیہ

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

127

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ واہلہٖ

پہلے مجھے دیکھئے

ان دنوں ایک کتاب موسومہ ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ یعنی تبلیغ بحضور نظام، قادیانی مشن سے نکلی ہے جو ۲۳؍اکتوبر ۱۹۰۹ء کو میرے مطالعہ میں آئی۔ اس کتاب میں قادیانی خلیفہ حکیم نورالدین کی طرف سے حضور پرنور نظام یعنی والئی ریاست حیدرآباد دکن خلّد اللہ ملکہ، وزادجلالہ کی خدمت میں حوادث ارضی وسماوی عموماً اور واقع طوفان بلدہ حیدرآباد خصوصاً یاد دلا کر حضور ممدوح کو قادیانی مشن کی تبلیغ کی ہے کہ ان واقعات حادثہ کی خبر ہمارے امام مرزاقادیانی نے پہلے سے دی تھی، اس لئے مرزاقادیانی مامور من اللہ اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ہیں۔

ۂ درگاہ کو بالقاء مامور فرمایا کہ حضور پرنور شاہ دکن کی طرف سے رسالہ صحیفہ آصفیہ کا جواب لکھوں جس سے حضور پرنور کے خدام پر اور دیگر اہل اسلام بلکہ عامۂ انام پر اصل حال منکشف ہو سکے۔وما توفیقی الا باللہ!اسی مناسبت سے اس رسالہ کا نام ’’صحیفہ محبوبیہ‘‘ رکھا۔ خدا قبول فرماوے۔

خاکسار: ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری

شوال ۱۳۲۷ھ، مطابق ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۹ء

باب اوّل

حکیم نورالدین خلیفہ قادیانی نے اپنے مضمون (صحیفہ آصفیہ) میں دو باتوں کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

۱… دنیا میں بدکاری کثرت سے ہے جو ان آفات ارضی اور سماوی کی موجب ہے۔

۲… چونکہ مرزاقادیانی نے ان واقعات کی پیش ازوقت خدا سے علم پاکر خبر دی ہے۔ لہٰذا وہ ملہم ربانی اور خلیفہ سبحانی تھے۔

امر اوّل کی بابت تو کسی کو انکار نہیں۔ نہ انکار کی گنجائش ہے کہ دنیا کی آبادی میں کوئی نسبت نہیں ملتی کہ نیک اور بد کو ممتاز کر سکے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بنی آدم میں فی

128

ہزار، نوسو ننانوے جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی۔ زمانہ حال پر نظر کرنے سے اس حدیث کی تصدیق یوں ہوتی ہے کہ شاید زمانہ سلف کے صلحاء کو ملا کر یہ نسبت ہو سکے۔ ورنہ حال میں تو فی لاکھ بھی یہ نسبت پیدا نہیں ہوسکتی۔ہرایک طبقے کے لوگ اپنے اپنے فرائض سے غافل ہیں۔ کسی شاعر نے زمانہ کے حالات کی خرابی دیکھ کر کیا اچھی رائے لگائی ہے کہ ؎

آنچہ پر جستیم و کم دیدیم و بسیارست و نیست

نیست جز انسان دریں عالم کہ بسیارست و نیست

چونکہ یہ امر واقعی ہے کہ اہل دنیا اپنے فرائض سے غافل ہی نہیں بلکہ انہیں توڑ رہے ہیں۔ اس لئے حکیم صاحب کے اس حصے پر کسی طرح کی تنقید کرنے کی حاجت نہیں۔ البتہ آپ کی تحریر کا دوسرا پہلو کہ مرزاقادیانی کو خدا کی طرف سے غیوب پر اطلاع ہوتی تھی۔ قابل غور ہے۔ چنانچہ اسی پہلو پر ہم غور کریں گے۔

حکیم صاحب نے جو واقعات اور حوادث پیش کئے ہیں، ان کی تحقیق تو ہم آگے چل کر کریں گے۔ سردست ہم حکیم صاحب کو اہل علم کا اور خود مرزاقادیانی کا مسلمہ اصول بتلاتے ہیں کہ: ’’موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ‘‘ ہوتا ہے۔ کیا معنی؟ کسی مدعی کے صدق کے لئے جملہ امور میں سچا ہونا ضروری ہے اور کذب کے لئے بعض امور بھی کافی ہے۔

چنانچہ مرزاقادیانی خود بھی لکھتے ہیں: ’’ممکن ہے کہ ایک خواب سچی بھی ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے کہ ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱، خزائن ج۲۲ ص۳)

پس ہم چند الہام مرزاقادیانی کے بطور نمونہ دکھاتے ہیں، جن کی بابت ان کو خود اقرار ہے کہ ان کے صدق سے میں صادق اور ان کے کذب سے میں کاذب۔ چنانچہ اصلی الفاظ آپ کے یہ ہیں: ’’ماسواء اس کے بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ۵؍جون ۱۸۹۳ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھ رام پشاوری کی موت کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ۱۸۹۳ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ۲۱؍ستمبر ۱۸۹۳ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے

129

بالکل بالاتر ہیں، ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خداتعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو۔ خداتعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعاء سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ سو پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو، بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۸۰، ۸۱، خزائن ج۶ ص۳۷۵، ۳۷۶)

پس بہت ضروری ہے کہ اس اقرار یا اعلان مرزائی کے مطابق پہلے ہم آپ کی ان پیش گوئیوں کی تحقیق کریں۔

پیش گوئی اوّل

مرزاقادیانی نے جون ۱۸۹۳ء میں بمقام امرتسر عیسائیوں سے مباحثہ کیا تھا۔ عیسائیوں کی طرف سے مسٹر عبداللہ آتھم مناظر تھے۔ مباحثہ کے خاتمہ پر مرزاقادیانی نے ایک پیش گوئی بالفاظ ذیل کی تھی: ’’آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سواء کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے، اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۸، ۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۱، ۲۹۲)

اس عبارت کا مدعا صاف ہے کہ فریق مقابل یعنی عبداللہ آتھم جس نے پندرہ روزتک مرزاقادیانی سے مباحثہ کیا۔ تاریخ اظہار پیش گوئی سے پندرہ ماہ تک مر جائے گا۔ اس

130

مقام کے علاوہ اور بھی کئی ایک مقامات پر مرزاقادیانی کو اعتراف ہے کہ آتھم والی پیش گوئی میں موت مراد تھی۔ چنانچہ رسالہ (کرامات الصادقین بیک ٹائٹل ص ل، خزائن ج۷ ص۱۶۳) میں لکھتے ہیں:’’فبینما انا فی فکر لاجل ظفر الاسلام وافحام اللئام فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموتہٖ (اٰتھم) الٰی خمسۃ عشر اشہر من یوم خاتمۃ البحث‘‘ (یعنی آتھم کی موت پندرہ ماہ میں ہو گی)

اور سنئے! مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’ناظرین کو معلوم ہو گا کہ موت کی پیش گوئی اس (آتھم) کے حق میں کی گئی تھی اور اس پیش گوئی کی پندرہ مہینے میعاد تھی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۵۴، خزائن ج۱۵ ص۲۴۹)

اور سنئے: ’’یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عبداللہ آتھم کی نسبت بھی موت کی پیش گوئی تھی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۶ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۹۳)

یہ تینوں حوالے یکے بعد دیگرے مختلف اوقات کی شہادتیں ہیں۔ مؤخرالذکر سب سے آخری اقرار ہے جس کتاب (حقیقت الوحی) میں یہ اعتراف ہے۔ وہ ۱۹۰۷ء میں شائع ہوئی تھی۔ گویا اس بارے میں مرزاقادیانی کی آخری تصنیف ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی آخری عمر تک اس پیش گوئی کو موت ہی کے معنی میں سمجھتے رہے تھے اور بس۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مسٹر عبداللہ آتھم مقررہ میعاد کے اندر مرا؟ ہرگز نہیں۔ ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء تک میعاد تھی، مگر وہ ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو مرزا (انجام آتھم ص۱، خزائن ج۱۱ ص۱) یعنی میعاد کے بعد ایک سال دس مہینے کچھ دن کامل زندہ رہا۔

لطیفہ: مرزاقادیانی کے الہام کا کوئی شخص قائل ہو یا نہ ہو، مگر حافظہ اور روایت کا تو ضرور قائل ہو گا۔ آپ کو کسی روایت کے بیان کرنے میں ذرہ جھجھک نہ ہوتی تھی بلکہ روایت کو بھی ایسا ہی تصنیف کر لیا کرتے تھے جیسا کسی کتاب کو۔ لطف یہ ہے کہ خواہ وہ روایت آپ کے خلاف بلکہ آپ کے بیان کے بھی مخالف اور متناقض ہو۔ چنانچہ آتھم کی موت کی تاریخ آپ نے رسالہ انجام آتھم میں ۲۷؍جولائی ۶ ۱۸۹ء بتلائی ہے جو انقضاء میعاد سے دو سال کے اندر اندر ہے۔ مگر رسالہ ’’تریاق القلوب‘‘ میں آتھم کی موت کی نسبت لکھتے ہیں کہ: ’’اس (آتھم) کے رجوع کی وجہ سے دو برس سے بھی کچھ زیادہ اور مہلت اس کو دے دی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۰۱، خزائن ج۱۵ ص۳۶۶)

131

حکیم صاحب! مشہور مقولہ… حافظہ نباشد! آپ نے بھی سنا ہو گا؟ اسی حکمت کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے:’’لوکان من عند غیراللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا‘‘قرآن خدا کے سواء کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا۔

خیر یہ توایک جملہ معترضہ ہے۔ اصل مطلب یہ ہے کہ آتھم جو میعاد مقررہ میں نہ مرا تو مرزاقادیانی نے اس کا جواب کیادیا؟ آپ نے اس کے جواب دو طرح سے دئیے:

۱… آتھم کی پیش گوئی میں چونکہ یہ قید تھی کہ: ’’بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔‘‘ آتھم نے رجوع کیا۔ لہٰذا وہ میعاد کے اندر فوت نہ ہوا۔

چنانچہ مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ’’بھلا تم میں سے کوئی تو ثابت کر کے دکھلاوے کہ آتھم پیش گوئی کی میعاد میں اپنی پہلی عادات پر قائم اور مستقیم رہا اور پیش گوئی کی دہشت نے اس کو مبہوت نہ کیا۔ اگر کوئی ثابت کر سکتا ہے تو کرے۔ ہم قبول کرنے کو تیار ہیں۔ ورنہ ’’لعنت اللہ علٰی الکاذبین‘‘ کیا یہ رجوع نہیں تھا کہ نہ صرف آتھم بدزبانی سے باز آیا بلکہ پیش گوئی کی تمام میعاد یعنی پندرہ مہینے تک ڈرتا رہا اور بے قراری اور خوف کے آثار اس کے چہرہ پر ظاہر تھے اور اس کو کسی جگہ آرام نہ تھا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۱، خزائن ج۱۵ ص۱۴۹)

یہ توجیہہ مرزاقادیانی کی ایسی مشہوومعروف اور پسندیدہ ہوئی کہ مرزاقادیانی کی سیرت لکھنے والے معتقدین نے بھی اسی کو پسند کیا ہے۔ چنانچہ محمد علی لاہور اپنی کتاب (مسیح موعود ص۱۷۰) میں لکھتے ہیں: ’’عبداللہ آتھم کی پیش گوئی میں صاف شرط مذکور ہے کہ وہ پندرہ ماہ میں مر جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے… اور پھر برابر پندرہ ماہ خائف ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل مکان کرتے رہنا اور ڈراؤنے نظارے دیکھنا آخرکار قسم کھانے سے انکار کرنا یہ سب باتیں شاہد ہیں کہ اس نے حق کی طرف رجوع کیا اور انذاری پیش گوئی سے فائدہ اٹھایا۔‘‘

ان دونوں حوالوں کامطلب صاف اور سیدھا ہے کہ آتھم نے رجوع کیا اور اس کے رجوع کے معنی یہ ہیں کہ اس نے پیش گوئی سن کر پریشانی ظاہر کی۔ اپنے اصلی وطن (امرتسر) کو چھوڑ کر دوسرے مقامات میں جاکر ایام زندگی پورے کئے۔ وغیرہ!

بہت اچھا! تو اس رجوع کا نتیجہ اس کو یہ ملنا چاہئے تھا کہ (بقول مرزاقادیانی)

132

ہاویہ سے بچ جاتا۔ مگر ناظرین تعجب سے سنیں گے کہ مرزاقادیانی نے اس کو پھر بھی ہاویہ میں گرایا اور بری طرح گرایا۔ چنانچہ اس کا ثبوت مرزاقادیانی کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ’’توجہ سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں، وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں۔ بے شک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھی جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔‘‘

(انوارالاسلام ص۶۵، خزائن ج۹ ص۶۵)

اور سنئے! فرماتے ہیں: ’’اے حق کے طالبو! یقینا سمجھو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیش گوئی پوری ہو گئی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلت پہنچی۔ ہاں! اگر مسٹر عبداللہ آتھم اپنے پر جزع فزع کا اثر نہ ہونے دیتا اور اپنے افعال سے اپنی استقامت دکھاتا اور اپنے مرکز سے جگہ بجگہ بھٹکتا نہ پھرتا اور اپنے دل پر وہم اور خوف اور پریشانی غالب نہ کرتا۔ بلکہ اپنی معمولی خوشی اور استقلال میں ان تمام دنوں کو گزارتا تو بے شک کہہ سکتے تھے کہ وہ ہاویہ میں گرنے سے دور رہا۔ مگر اب تو اس کی یہ مثال ہوئی کہ قیامت دیدہ ام پیش از قیامت اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اس نے اپنی تمام زندگی میں ان کی نظیر نہیں دیکھی تھی۔ پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں درحقیقت ہاویہ میں رہا۔ اگر تم ایک طرف ہماری پیش گوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اس کے ان مصائب کو جانچو جو اس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اس بات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بے شک ہاویہ میں گرا، ضرور گرا اور اس کے دل پر وہ رنج اور غم اور بدحواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے۔ ہاں! اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور جو ہماری تشریحی عبارت میں درج ہے، یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوا۔ کیونکہ اس نے عظمت اسلام کی ہیبت کو اپنے دل میں دھنسا کر الٰہی قانون کے موافق الہامی شرط سے فائدہ اٹھا لیا۔ مگر موت کے قریب قریب اس کی حالت پہنچ گئی اور وہ درد اور دکھ کے ہاویہ میں ضرور گرا اور ہاویہ میں گرنے کا لفظ اس پر صادق آ گیا۔ پس یقینا سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خداتعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔ فالحمد علٰی ذالک‘‘

(نورالاسلام ص۷، خزائن ج۹ ص۸۷)

133

ناظرین! اہل منطق کہا کرتے ہیں کہ ضدین یا نقیضین کا اجتماع نہیں ہوسکتا۔ یہ سن کر کسی زندہ دل شاعر نے ایک رباعی لکھی ہے ؎

  1. مثالے را کہ در شرطیہ گفتہ

    بگو با منطقی کیں ہست مردود

  2. رخ و زلفان یارم را نگاہ کن

    کہ شمس طالع ست ولیل موجود

یعنی منطقی جو کہتے ہیں کہ سورج اور رات باہمی نقیضین ہیں۔ اس لئے جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ غلط ہے۔ دیکھو میرے دوست کا چہرہ تو سورج ہے اور اس کی زلفیں رات ہیں۔ پھر یہ کیوں جمع ہیں؟

یہ تو ایک شاعرانہ رنگ تھا مگر مرزاقادیانی ہاں ہمارے الہامی حضرت نے اس کو واقعی صحیح کر دیا۔ رجوع اور ہاویہ میں وہی نسبت ہے جس کو نسبت تضاد کہیں یا تناقض یعنی ’’رجوع‘‘ جس صورت میں ہو گا اس میں ’’ہاویہ‘‘ نہ ہو گا اور جس میں ’’ہاویہ‘‘ ہو گا اس میں ’’رجوع‘‘ کا تحقّق نہ ہو گا۔ باوجود اس کے مرزاقادیانی نے آتھم کے حق میں دونوں کو تسلیم کیا ہے۔

لطف یہ ہے کہ آتھم کا ایک ہی فعل ہے جس کو (بقول مرزاقادیانی) گھبراہٹ کہئے یا بے چینی نام رکھئے۔ وہی اس کا رجوع ہے اور وہی اس کا ہاویہ۔

مرزاقادیانی کے دوستو!’’ام تأمرکم احلامکم بہٰذا ام انتم قوم طاعون؟‘‘

حکیم صاحب! ایک ہی محل میں دو متضاد حکموں کا جمع ہونا کبھی ہوا؟ آہ! ؎

  1. ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا

    یہ تیرے زمانے میں دستور نکلا

اہل علم سے مخفی نہیں کہ مباحثات میں جب کوئی فریق اپنی نسبت حق کا اور دوسرے کی نسبت ناحق کا لفظ بولتا ہے تو اس سے مراد اس کی اولاد وبالذات وہ مسئلہ ہوتا ہے جس میں دونوں فریق کا مباحثہ ہو۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’فریق مقابل جو انسان کو خدا بناتا ہے پندرہ مہینے میں بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔‘‘ اس کا مطلب صاف ہے کہ آتھم اگر الوہیت مسیح کے خیال سے تائب ہو کر خالص اسلامی توحید کی طرف آ گیا تو پندرہ ماہ کی میعاد میں مرنے سے بچ جائے گا۔ چونکہ یہ مفہوم ایسا صاف ہے کہ ایک نابلد بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ مرزاقادیانی تو بڑے ہوشیار تھے۔ اس لئے ان کا ضمیر (کانشنس) ان کو ایسے رجوع کرانے سے رجوع کرنے کی ترغیب دیتا ہو گا۔ لہٰذا انہوں نے سب سے آخری جواب جو دیا وہ پہلے جواب سے بھی لطیف تر ہے۔

134

آتھم کے ذکر میں آپ فرماتے ہیں: ’’اگر کسی کی نسبت یہ پیش گوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینہ تک مجذوم ہو جائے گا۔ پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینہ میں مجذوم ہو جائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۵، خزائن ج۲۲ ص۱۹۳ حاشیہ)

جل جلالہ! یہ اقتباس بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ مرزاقادیانی نے اس جواب میں عدم رجوع کی شق (صورت) اختیار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس کوشش میں ہیں کہ پندرہ ماہ کی میعاد ٹوٹنے سے خرابی لازم نہ آئے۔ لیکن دانا اس جواب سے مرزاقادیانی کے قلب مبارک کی کیفیت پا گئے ہوں گے کہ کس طرح اضطراب اور پریشانی میں کہہ رہا ہے ؎

  1. بَک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا

    نہ سنے کچھ خدا کرے کوئی

ناظرین! یہ ہے اس ملہم ربانی کے بیانات کا نمونہ جن کو ہمارے عنایت فرما حکیم نورالدین صاحب نے اپنے ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ میں کئی ایک مقامات پر ’’سلطان القلم‘‘ لکھا ہے اور فرمایا ہے کہ مخالفین اسلام ’’احمدی قوم‘‘ کا لوہا مان گئے ہیں۔ کیاسچ ہے ؎

  1. ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق!

    اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

حکیم صاحب! آپ کی طبع ناساز کے لحاظ سے میں اس پیش گوئی کے واقعات کو مختصر ہی لکھ کر چھوڑ دیتا ہوں۔ مفصل دیکھنے ہوں تو آپ میرا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ملاحظہ فرماویں۔

  1. گفتگو آئین درویشی نبود

    ورنہ باتو ماجرا ہا دا شتیم

دوسری پیش گوئی

دوسری پیش گوئی سے ہماری مراد اس جگہ منکوحہ آسمانی والی ہے جس کے متعلق مرزاقادیانی نے بڑی تفصیل سے مزے لے لے کر الگ الگ اجزاء بتلائے ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ’’اس (پیش گوئی متعلقہ نکاح آسمانی) کے اجزاء یہ ہیں:

۱… کہ مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔

۲… اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔

۳… اور پھر یہ کہ مرزااحمد بیگ تاروز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔

۴… اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔

135

۵… اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔

۶… اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔

اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص۸۱، خزائن ج۶ ص۳۷۶)

اس پیش گوئی کی میعاد سہ سالہ پوری ہو گئی اور مرزاقادیانی کی جان ضغطے میں آئی تو آپ بڑی خفگی کے لہجے میں معترضین کو ڈانٹ پلاتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ طیبہ یہ ہیں: ’’سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔ سنو اور یاد رکھو کہ میری پیش گوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیش گوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بے شک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بے شک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیش گوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیش گوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو ان کی تکذیب انہیں پر لعنت ہے۔ چاہئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور روسیاہی کے ساتھ نہ مریں۔ کیا یونس کا قصہ انہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں اور احمد بیگ کے اصل وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا۔ اس کے مرنے کے بعد پیش گوئی سے ایسے متأثر ہوئے تھے کہ اس پیش گوئی کا نام لے لے کر روتے تھے اور پیش گوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اٹھے تھے اور عورتیں چیخیں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچ نکلیں۔ چنانچہ وہ لوگ اس دن تک غم اور خوف میں تھے جب تک ان کے داماد سلطان محمد کی میعاد گزر گئی۔ پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو ’’توبی توبی ان البلاء علی عقبک‘‘ ۱۸۸۶ء میں ہوا تھا۔ اس میں صریح شرط توبہ کی موجود تھی اور الہام ’’کذبوا بایاتنا‘‘اس شرط کی طرف ایماء کر رہا تھا۔ پس جب کہ بغیر کسی شرط کے یونس کی قوم کا عذاب ٹل گیا تو شرطی پیش گوئیوں میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور

136

میں نہ آتی۔ یہ اعتراض کیسی بے ایمانی ہے جو تعصب کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ میں نے نبیوں کے حوالے بیان کردئیے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔ مگر یہ نابکار قوم ابھی تک حیاء اور شرم کی طرف رخ نہیں کرتی۔ (کیا ہی لطیف کلام ہے۔ جل جلالہ) یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز (یعنی آسمانی نکاح کی تنفیذ) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، ۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷، ۳۳۸)

اسی مقام کے حاشیہ پر مزید تائید کے لئے مرزاقادیانی یہ بھی فرماتے ہیں: ’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ’’یتزوج ویولدلہ ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہa ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)

ناظرین! عبارات مرقومہ بالا میں کوئی تاویل ہوسکتی ہے؟ صاف صاف الفاظ میں اظہار مدعا ہے اور کھلے کھلے لفظوں میں لکھا ہے کہ ایسا نہ ہونے سے میں تمام بدوں سے بدترین ہوں گا۔ زندگی میں تو وعدے دیتے رہے مگر آخر بقول: ’’بکری کی ماں کب تک خیر منائے گی؟‘‘ خاتون معلومہ ابھی تک زندہ سلامت ہے اور مرزاقادیانی ہمیشہ کے لئے تشریف لے گئے۔

مرزاقادیانی کے دوستو! مرزاقادیانی کا حوالہ مذکورہ بالا ’’میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا‘‘ دیکھ کر ہمارے ساتھ یہ کہنے میں اتفاق کر سکتے ہو؟ کہ ؎

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

ناظرین! مرزاقادیانی کو آپ لوگ الہامی نہیں مانتے نہ مانیں مگر ان کی لیاقت

137

اور ہوشیاری کی تو آپ کو داد دینی ہو گی۔ خصوصاً جب ہم ان کے واقعات آپ لوگوں کو بتلاویں گے تو انکار کی گنجائش نہ ہو گی۔ مرزاقادیانی نے دیکھاکہ باوجود میرے مختلف حیلوں کے نکاح میں کامیابی نہیں ہوئی تو آپ نے ایک اور چال نکالی۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ’’احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آ گیا یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجزونیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو۔ پس خدا نے ان کے اس خوف اور اس قدر عجزونیاز کی وجہ سے پیش گوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۷، خزائن ج۲۲ ص۱۹۵)

اس مقام پر تو تاخیر ہی لکھی مگر کتاب مذکور کے خاتمہ تک پہنچتے ہوئے آپ کے قویٰ بھی غالباً کمزور ہو گئے ہوں گے۔ اس لئے اس کتاب کے ’’تتمہ‘‘ میں آپ یوں گویا ہوئے کہ: ’’یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ: ’’ایتہا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک‘‘ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۲، ۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)

اللہ اکبر! کہاں اتنا زور کہ اس کے عدم وقوع پر میں (مرزاقادیانی) ہر ایک بد سے بدتر ہوں گا۔ پھر اسی پر قناعت نہیں بلکہ حضور سید الانبیاء فداہ ابی وامیa کی ذات والاصفات پر بھی بہتان لگانے کی کوشش کی کہ آپ نے بھی اس نکاح کی بابت پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے جس کا آخر نتیجہ یہ ہوا کہ: ’’نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘

سبحان اللہ! اسی کو کہتے ہیں: ’’کوہ کندن وکاہ برآوردن‘‘ حکیم صاحب! آپ تو حکیم ہیں، مولوی ہیں، مناظر اور منصف ہیں۔ کیا ایسی ہی پیش گوئیوں سے مخالفوں پر حجت قائم ہو سکتی ہے؟ کہ ایک وقت میں تو بڑے زور شور سے کہا جائے کہ یہ ہو گا، وہ ہو گا نہ ہو تو میں ہر ایک بد سے بدتر ہوں گا۔ مگر آخرکار خاتمہ اس پر ہوا کہ یہ حکم منسوخ یا ملتوی ہو کر بعد موت منسوخ ہی پر ٹھہرا۔ سچ ہے ؎

  1. اذا غدرت حسنآء اوفت بعہدہا

    ومن عہدہا الا یدوم لما عہدہ

ہاں! یاد آیا کہ حکیم صاحب اس نکاح کو نہ منسوخ کہتے ہیں نہ ملتوی بلکہ اس کی

138

ایک اور ہی تاویل کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔ فرماتے ہیں ؎

  1. اے مردہ دل مکوش پئے ہجو اہل دل

    جہل و قصور تست تفہمی کلام شاں

’’ایک لڑکی کے متعلق کہ اس سے آپ کی شادی ہو گی اور ایک عورت سے زلازل کے پہلے ایک لڑکا ہو گا اور پانچویں اولاد کی بشارت پر جو اعتراض ہیں۔ ان کا ﷲ وباللہ قرآنی جواب یہ ہے کہ کتب سماویہ کا طرز ہے کہ مخاطب سے گاہے خود مخاطب ہی مراد ہوتا ہے اور گاہے وہ اور اس کا جانشین اور اس کی اولاد بلکہ اس کا مثیل مراد ہوتا ہے۔ مثلاً اللہتعالیٰ زمانہ نبوی میں فرماتا ہے: ’’اقیموا الصلٰوۃ واٰتوا الزکوۃ‘‘اس حکم الٰہی میں خود مخاطب اور ان کے مابعد کے لوگ شامل ہیں جو ان مخاطبین کی مثل ہیں۔ (اس کے بعد قرآنی تمثیلات دے کر لکھتے ہیں…) اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں۔ ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبۃ میں مخاطب کی اولاد۔ مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہوسکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا؟ اور کیا مرزاقادیانی کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں؟ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جاوے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا۔ پھر یہی وجہ بیان کی۔ والحمد للہ رب العالمین!‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۷ نمبر۷ ص۲۷۶، ۲۷۹، بابت ماہ جولائی ۱۹۰۸ء)

ماشاء اللہ! کیا معقول جواب ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ قیامت تک مرزاقادیانی کی اولاد میں سے یا افراد امت میں سے کسی کا آسمانی منکوحہ کی اولاد دراولاد سے نکاح ہو گیا تو بھی یہ پیش گوئی سچی ہے۔

کیوں نہ ہو آخر آپ حکیم ہیں: ’’فعل الحکیم لا یخلوا عن الحکمۃ‘‘اس جواب کی معقولیت میں تو شک نہیں۔ مگر افسوس ہم اس کے سمجھنے ہی سے قاصر نہیں بلکہ الہامی کی تصریحات کے بھی اس کو خلاف پاتے ہیں۔ مرزاقادیانی کا قول پہلے کتاب ہذا پر ہم نقل کر آئے ہیں کہ یہ نکاح میری زندگی میں ہو گا بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ بموجب حدیث شریف اس زوجہ سے میری اعجازی اولاد ہو گی۔ ہاں! یہ بھی مرزاقادیانی کا قول ہے کہ: ’’ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۷، خزائن ج۲۲ ص۴۳۸)

139

اسی اصول کے مطابق آپ نے ۱۹۰۷ء میں بمقام لاہور آریہ کانفرنس میں مرزاقادیانی کے مضمون میں الہاموں کا ترجمہ کرتے ہیں، مکررسہ مکرر کہا تھا کہ میرا ترجمہ کسی طرح حجت نہیں ہو گا بلکہ اصل ترجمہ وہی ہو گا جو صاحب الہام کرے گا۔ جب ترجمہ کرنے میں آپ کو یہ خوف دامن گیر ہوا اور آپ نے باوجود عربی دانی کے اپنے ترجمہ کو بھی ہیچ قرار دیا تو اب آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ صاحب الہام کی تصریح کے مخالف تشریح اور تفسیر کریں؟ یا للعجب وضیعۃ الادب!

حکیم صاحب! آئیے میں آپ کو مرزاقادیانی کا ایک اور کلام سناؤں۔ افسوس! آپ قادیان میں رہ کر مرزاقادیانی کے ارشادات سے محروم رہتے تھے اور ہم دور رہنے والے مستفیض ہوتے تھے۔ کیا سچ ہے: ’’نزدیکاں بے بصردور۔‘‘

مرزاقادیانی کی زندگی میں یہ سوال پیش ہوا تھا۔ پس وہ سوال اور مرزاقادیانی کا جواب سنئے۔ غور سے نہیں بلکہ ایمان سے خدا کو حاضر وناظر جان کر سنئے۔ مرزاقادیانی کا ایک خط مرید کے جواب میں چھپا ہے، اس میں ہے:

اعتراض پنجم: مسماۃ محمدی کا دوسرا شخص نکاح کر کے لے گیا اور وہ دوسری جگہ بیاہی گئی۔

الجواب: وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے۔ سو یہ ایک پیش گوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے یہ لفظ ہیں: ’’سیکفیکہم اللہ ویردہا الیک‘‘یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی، خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہئے کہ ردّ کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جاوے اور پھر واپس لائی جاوے۔ پس چونکہ محمدی ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی۔ یعنی میری چچازاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔ یعنی احمد بیگ کی۔ پس اس صورت میں ردّ کے معنی اس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہو گا۔

(الحکم ج۹ نمبر۱۳، ص۲، کالم ۲مؤرخہ ۳۰؍جون ۱۹۰۵ء)

140

مرزاقادیانی کے دوستو! عبارت مرقومہ بالا کو غور سے سمجھو اور یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہارے داؤ گھات سے بے خبر ہیں۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے رازوں سے اس قدر واقف ہیں کہ تم کو اس کا علم نہیں ؎

  1. نہیں معلوم تم کو ماجراء دل کی کیفیت

    سنائیں گے تمہیں ہم ایک دن یہ داستاں پھر بھی

تیسری پیش گوئی… قادیان میں طاعون نہ آنے کی بابت

اس پیش گوئی سے مرزاقادیانی کی غرض تو یہ تھی کہ طاعون کے زمانہ میں لوگ بھاگ بھاگ کر قادیان میں آئیں اور اسی بہانہ سے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر مستفیض ہوں۔ ایک حد تک مرزاقادیانی کی یہ غرض پوری بھی ہوئی کہ بعض سادہ لوحوں نے طاعون سے نجات کا ذریعہ بس یہی سمجھا کہ چلو قادیان میں چل رہیں۔ مرزاقادیانی کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تاتم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا… خدا ایسا نہیں کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے۔ حالانکہ تو (مرزاقادیانی) ان میں رہتا ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۵تا۷، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵ تا ۲۲۷)

اس مختصر الہامی کلام کی شرح مرزاقادیانی کے پیش امام عبدالکریم سیالکوٹی نے مرزاقادیانی کی زندگی میں ان کی مرضی سے بڑی شرح وبسط کے ساتھ کی تھی جو بہت ہی لطف خیز ہونے کے علاوہ قادیانی مسیح کا حال بھی بخوبی روشن کرتی ہے۔ اس لئے ہم اسے یہاں طلقاً طلقاً نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:

مسیح موعود اور قادیان دارالامان

پیسہ اخبار مطبوعہ ۵؍اپریل ۱۹۰۲ء نے آٹھویں صفحہ میں ’’قادیان کے اخبار کی گالیاں اور قادیان کے مذہب کا نمونہ‘‘ عنوان جما کر لاہور کی نسبت لکھا ہے کہ لاہور میں انجمن حمایت اسلام کے جلسہ پر صدہا آدمی طاعون زدہ ہواؤں سے آئے اور پھر لاٹ صاحب کی تقریب وداع پر اسی قسم کے لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہوا۔ پھر بھی لاہور طاعون سے محفوظ رہا اور امید ہے کہ محفوظ رہے گا اور پھر بڑی جرأت اور شیخی سے لکھتا ہے: ’’اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لاہور قادیان سے ایمانداری میں فائق ہے۔‘‘

141

پیسہ اخبار کی یہ امید یا پیش گوئی اور یہ نتیجہ خوفناک حملے ہیں۔ خدائے غیور کی اس عظیم الشان وحی پر جو کئی دفعہ الحکم میں شائع ہوئی: ’’انہ اٰوی القریۃ‘‘ یعنی یہ یقینی بات ہے کہ خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا اور اس وحی پر کہ: ’’لولا الاکرام لہلک المقام‘‘ یعنی اس سلسلہ احمدیہ کا پاس اور اکرام اگر خدا کو نہ ہوتا تو یہ مقام بھی ہلاک ہو جاتا۔ اب سننے والے سنیں اور دیکھنے والے دیکھیں کہ ایک طرف پیسہ اخبار ایک زمینی کیڑا اپنے جوش نفس اور ارضی مادہ کے بخارات کی تحریک سے پیش گوئی کرتا اور ذمہ لیتا ہے کہ لاہور طاعون سے محفوظ رہے گا اور دوسری طرف خدا کا مامور، مرسل، جری اور مسیح موعود خود خدائے حکیم، علیم، قدیر کی وحی ’’انہ اٰوی القریۃ‘‘ کی بناء پر ساری دنیا کے طبیبوں، فلسفیوں اور میٹریلسٹوں کو کھول کر سناتا ہے کہ قادیان یقینا اس پراگندگی، تفرقہ، جزع فزع اور موت الکلاب اور تباہی سے محفوظ رہے گا اور بالضرور محفوظ رہے گا جس میں دوسرے بلاد مبتلا ہیں اور بعضے ہونے والے ہیں۔

پیسہ اخبار نے خدا کی جلیل الشان وحی کی کسر شان کے لئے ایسا جھوٹا دعویٰ کیا اور امید ظاہر کی اور ناپاک نتیجہ نکالا ہے۔ پیسہ اخبار کا دل اور کانشنس گواہ ہیں کہ اس کی امید کی بنیاد کسی مضبوط چٹان پر نہیں۔ وہ ان زمینی قوتوں پر بھروسہ کر کے آسمان کے خدا اور اس کے کلام کی ہتک کرتا ہے۔ جو اب تک ہر سیلاب کے مقابل بند لگانے میں خس وخاشاک سے بھی بڑھ کر کمزور اور ہیچ ثابت ہوئی ہیں۔ پیسہ اخبار میں ذرا بھر بھی خداشناسی کا یا کم سے کمدوراندیشی کا مادہ ہوتا تو وہ کانپتے ہوئے دل اور پر آب آنکھوں سے اس پر تحدی کلام کو دیکھتا اور بالبداہت اس نتیجہ پر پہنچ جاتا کہ زمین زادہ اور تاریکی کا فرزند ایسا دعویٰ کرنے اور کلام کرنے کا دل گردہ نہیں رکھتا۔ اس زمانہ میں جب کہ زمین کے غلیظ بخاروں یعنی علوم مادیہ ڈاکٹری اور طبعی تحقیقات اور خردبینی تکشیفات نے اپنے تئیں کمال عروج پر پہنچا لیا ہے اور یورپ کے دلیر اور پرحوصلہ فرزند خدائی کی کل ہاتھ میں لے لینے کے لئے بحروبر کو زیروزبر کر رہے ہیں اور باایں ہمہ اس بلائے جانستاں کے قابل جہل اور ناتوانی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ایک شخص جو پرشغب اور پرہنگامہ اور پرتمدن شہروں سے ایک دور کے کنارہ میں رہتا ہے، کس قدر قوت اور غیرمتزلزل شوکت سے دعویٰ کرتا ہے کہ اگرچہ طاعون تمام بلاد پر اپنا پرہیبت سایہ ڈالے گی۔ مگر قادیان یقینا یقینا اس کی دست برد اور صولت سے محفوظ رہے گا اور وہ دیکھتا اور جانتا ہے کہ قادیان کے چاروں طرف طاعون پھیلتا آتا ہے اور قریب قریب کے

142

اکثر گاؤں مبتلا ہو گئے ہیں اور جوق درجوق لوگ متأثرہ جگہوں سے قادیان میں آتے ہیں اور روک کا کوئی بھی سامان اور مقدرت نہیں اس پر بھی وہ یہ بلند دعویٰ کرتا اور اقرار کرتا ہے کہ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جومیں پہنچاتا ہوں۔ مگر افسوس پیسہ اخبار نے راستی کے تمام مکذبوں کی طرح سخت شتاب کاری اور گستاخی اختیار کر کے چاہا ہے کہ خدا کے کلام کو پیروں کے نیچے کچل دے۔ مگر کیا پیسہ اخبار کی ذمہ داری لاہور کے لئے اور قادر علیم خدا کی ذمہ داری قادیان کے لئے ایک مضحکہ خیز بات یا بازاری گپ کی مانند غیرممیز رہ جائے گی؟ نہیں نہیں عنقریب ظاہر ہو جائے گا کہ زمین کے کمزور کیڑے کی بات میں اور فاطر ارض وسما کے مقتدر کلام اور دعویٰ میں کیا فرق ہے۔

سنو! اے زمین کے فرزندو! اور کان لگاؤ اے آسمان سے انقطاع کر کے مادیات پر جھک جانے والو! پھر سنو! اے خدا کے مامور مرسل کی بے عزتی کرنے والو! اور راستیوں سے عداوت کرنے کے ٹھیکہ دارو! کہ ’’انہ اٰوی القریۃ‘‘اس خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ پر توریت نازل کی اور حضرت خاتم النّبیینa پر خاتم الکتب قرآن کریم کو اتارا۔ ہم آسمان وزمین کی خاطر خدا کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ وحی ویسی ہی سچی ہے جیسے قرآن کریم کی وحی۔ اس لئے کہ یہ اسی کی تائید وتصدیق میں اتری ہے اور یہ ضرور پوری ہو گی اور ضرور ہو گی۔ ’’انہ اٰوی القریۃ‘‘ کا مفہوم صاف لفظوں میں تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اور اس کے غیر میں بیّن امتیاز ہو اور یہ نہیں ہوسکتا جب تک کم ازکم وہ شہر طاعون میں مبتلا نہ ہوں۔ جنہوں نے سب سے زیادہ جنگ خدا کے سلسلہ سے کی اور جہاں پیسہ اخبار سا دشمن حق بودوباش رکھتا ہو۔ غیور خدا اپنے کلام کے اکرام واعزاز کے لئے ایسا کرنے والا ہے کہ ایڈیٹر پیسہ اخبار کی امید اور پیش گوئی کی آنکھ میں خاک ڈال دے اور آدم کے دشمنوں کی آنکھیں نیچی کروا کر اقرار لے کہ کیا یہ صحیح نہیں کہ قادیان دارالامان ہے؟ پھر سن لو از بس ضروری ہے کہ یہ بلاعام طور پر محیط ہو۔ اس لئے کہ کوئی کہنے کا موقع نہ پاسکے کہ قادیان ہی محفوظ نہیں رہا۔ فلاں فلاں جگہ بھی محفوظ ہے۔ خصوصاً خدا کی غیرت کا حملہ ان جگہوں پر ہے، جہاں بڑے بڑے ائمۃ الکفر رہتے ہیں اور ممکن ہے بلکہ غالب امید ہے کہ وہ بہتیرے کسمپرس ناتواں دیہات بچ رہے ہیں، جہاں سے تابڑتوڑ توبہ اور استغفار اور بیعت کے خطوط آ رہے ہیں اور وہ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ’’یا مسیح الخلق عدوانا‘‘

143

اگر اب تک پیسہ اخبار اور لاہور کے لوگ اپنی استہزاء اور تعلّی اور تکبر پر اصرار کرتے اور ان باتوں کو کذب اور افتراء سمجھتے ہیں تو ان کے لئے بڑا عجیب موقعہ ہے کہ خدا کی قدرت نمائی کے جلی اور صاف صاف پڑھے جانے والے نشان دیکھ لیں۔ ایک طرف حضرت مسیح موعود نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع، کفار، مشرک اور دین حق سے ہنسی کرنے والے ہیں، خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایۂ شفاعت میں لے لیا ہے۔ جیسے کہ برسوں اس سے قبل خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں خبر دی تھی کہ:’’وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم‘‘یعنی خدا ان کو عذاب سے ہلاک نہ کرے گا جب کہ تو ان کے درمیان ہے۔ غرض ایک طرف تو اس بڑے بھاری دعویٰ کے مدعی نے اپنی بستی کی نسبت یہ دعویٰ کیا ہے اور دوسری طرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ لاہور اور اس کی مثل وہ مقامات جن میں ائمۃ الکفر رہتے ہیں، طعمہ طاعون ہونے سے ہرگز نہ بچیں گے اور حضرت ممدوح نے لکھا ہے اور باربار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راست باز ہو گا، اس جگہ کو خداتعالیٰ اس مشتعل غضب سے بچا لے گا۔

مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ۲۵؍برس سے ہے کہ ان کی تکذیب پر آخرکار دنیا میں طاعون پڑنا تھا اور پھر خدا نے اس اکیلے صادق کے طفیل قادیان کو جس میں اقسام اقسم کے لوگ تھے، اپنی خاص حفاظت میں لے لیا… وقت آ گیا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی ایک عالم کے نزدیک مسیح موعود اور مہدی مسعود یقینا ثابت ہو جائیں اور التباس اور شک کا سارا پردہ اٹھ جائے۔

اے نیچریو! اور اے بے باک زندگی کی چال کو پسند کرنے والو! اور اے مذہب اور خدا کو پرانے زمانہ کا مشغلہ کہنے والو! اور اے خدا کی صفت تکلم اور پیش گوئیوں پر ہنسی اڑانے والو! اور اپنی ہوا وہوس کے بتوں کے پرستارو! بولو اور سوچ کر بولو کیا تمہارے نزدیک مسیح موعود کے اس دعوے اور پیش گوئی میں خدا کی ہستی پر، قرآن کی حقیقت پر، خدا کے متصف بصفات کاملہ ہونے پر، یعنی ازل سے ابد تک متکلم ہونے اور مدبر بالارادہ ہونے اور قادر مطلق ہونے پر اور بالآخر مرزاغلام احمد قادیانی کے منجانب اللہ ہونے پر چمکتی ہوئی دلیل نہیں؟ اب خدا کا ارادہ ہے کہ تم میں سے بہتوں کو جگائے جو غفلت کی نیند میں اوندھے

144

پڑے سوتے تھے اور بہتوں کے منہ اپنی قدرت نمائی سے بند کر دے جو بہت جلدی خدا کی باتوں پر ہنس دیتے تھے اور وقت آ گیا ہے کہ خدا کی اس وحی کی صداقت ظاہر ہو جائے جو آج سے ۲۲برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھی گئی اور وہ یہ ہیں: ’’دنیا میں ایک نذیر آیا دنیا نے اسے قبول نہ کیا پر خدا اسے قبول کرے گا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔‘‘ یہ وہی خدا کے زور آور حملے ہیں جو اس کی سچائی کے اظہار کے لئے ہو رہے ہیں اور ہنوز خدا معلوم کب تک ان کا سلسلہ جاری رہے۔ آج وہی سعید ہے جو ہوا سے محسوس کرے کہ پیچھے زور سے برسنے والا بادل آ رہا ہے۔ ’’وان فی ذالک لاٰیۃ لقوم یؤمنون‘‘

پادری صاحبان! غور کا مقام ہے کہ قادیان سے دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون تاخت وتاراج کر رہی ہے اور قادیان ایک جزیرہ کی طرح اس موجزن خونخوار سمندر میں بن رہا ہے اور روک اور حفاظت کا کوئی قہری اور جبری سامان نہیں۔ گورنمنٹ حفاظت سے دست کش ہو چکی ہوئی ہے اور طاعون زدہ مقامات سے بے روک ٹوک براتیں اور گنوار قادیان اور اس کے بازار میں آتے جاتے ہیں۔ باایں ہمہ ایک شخص علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ خداتعالیٰ مجھ سے بولا اور اس نے مجھے کہا: ’’انہ اٰوی القریۃ لولا الاکرام لہلک المقام‘‘آپ لوگوں کے پاس کس قدر سامان ہیں؟ آپ کے کنوؤں میں کرم کش دوائیں چھڑکی جاتیں اور طاعون کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے بڑی ہتھیاربندی کی جاتی ہے اور آپ ہزاروں ہزار تنخواہیں گورنمنٹ سے یا گورنمنٹ کی قوم سے پاتے ہیں۔ احسان کا معاوضہ دینے اور مذہب عیسوی کی صداقت ظاہر کرنے کا امتحان اور میدان تو اب پیش آیا ہے۔ یہ موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیجئے۔ اگر آپ نے بالمقابل کچھ شائع نہ کیا تو یسوع مسیح کی موت پر دوہری مہر لگ جائے گی اور ایک جہان پر روشن ہو جائے گا کہ نصرانیت مردہ مذہب ہے اور حضرت عیسیٰ عاجز انسان اور خدا کا عاجز بندہ تھا جو اپنے دوسرے بھائیوں کی طرف فوت ہو گیا۔

عبدالکریم از قادیان، مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۲ء

ناظرین! آپ غور کریں کہ مرزاقادیانی اور مرزاقادیانی کے امام نے کس زور کی تحدی کی ہے اور کس قدر اپنے دماغ اور قلم کا زور اس پر خرچ کیا ہے۔ آخرکار اس تحدی اور دعویٰ کے بعد کیا ہوا یہ کہ قادیان میں ایسا طاعون آیا کہ الامان والحفیظ! اس کا ثبوت ہم اور جگہ سے کیوں دیں، خود مرزاقادیانی کی تحریریں موجود ہیں۔ مرزاقادیانی اپنی آخری تصنیف میں

145

لکھتے ہیں: ’’پھر طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۳، خزائن ج۲۲ ص۸۷بقیہ حاشیہ)

ان دونوں کلاموں سے نتیجہ کیا نکلا؟ ہم سے کوئی پوچھے تو ہم یہ کہیں گے کہ:

  1. تکبر عزازیل را خوار کرد

    بزندانِ لعنت گرفتار کرد

ناظرین! یہ نمونہ ہے قادیانی مشن کی پیش گوئیوں اور غیب دانیوں کا۔ ورنہ ان کے علاوہ اور بہت سی پیش گوئیاں ہیں جو سراسر غلط ثابت ہوئیں۔ مفصل کے لئے میرا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ملاحظہ فرماویں۔

اس کے بعد کچھ ضروری نہ تھا کہ قادیانی مشن کے متعلق ہم مزید تحقیق کرتے۔ لیکن حکیم نورالدین خلیفہ قادیان نے اپنے رسالہ ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ میں جن واقعات کا ادھورا بلکہ غلط ذکر کیا ہے، ان کی قدرے تفصیل کی جاتی ہے۔

باب دوئم

حکیم نورالدین نے اپنے رسالہ ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ میں دو طرح سے مرزاقادیانی کی نبوت کا ثبوت دیا ہے:

۱… ایک تو واقعات حوادث بتلا کر لکھا ہے: ’’ایک طرف تو یہ امر متحقق ہے کہ دنیا کی اخلاقی حالت بہت گر چکی ہے اور اصلاح کی محتاج ہے اور دوسری طرف کل اہل دنیا یک زبان ہوکر بول اٹھی ہے کہ یہ حادثات مختلفہ معمولی اور اتفاقیہ مصائب نہیں بلکہ یہ تو منتقم حقیقی کا غضب اور واحد القہار کا عذاب ہے جو اہل دنیا کی سزا کے لئے نازل ہوا ہے۔ لہٰذا اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خداتعالیٰ نے اپنی لاتبدیل سنت کے مطابق کوئی پاک نفس انسان ہم میں مبعوث کیا جو دنیا پر عذاب نازل ہونے سے پہلے دنیا کے لئے نذیر ہو کر آیا؟ اس کے جواب میں میں عرض کروں گا کہ ہاں! خداتعالیٰ نے اپنی قدیم سنت کے مطابق اس زمانے کو خواب غفلت سے جگانے اور غافلوں کو ان کی ہلاکت سے پہلے آئندہ عذاب سے ڈرانے کے لئے ایک مقدس انسان ہم میں پیدا کیا جس نے سب سے پہلے اپنی قوم کو اور پھر کل دنیا کو پیش ازوقت آئندہ عذاب سے اطلاع دے کر ان میں روح اور راستی پیدا کرنی چاہی۔ لیکن اس کے ساتھ اہل ملک نے وہی سلوک کیا جو دیگر مرسلین کے ساتھ اپنی اپنی قوم کے اکثر افراد نے کیا۔ یا حسرۃ علی العباد مایأتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزؤن‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۷)

146

اس کا جواب تو اتنا ہی کافی ہے جو قرآن مجید میں خداوند عالم نے خود دیا ہے۔ غور سے سنئے: ’’وما ارسلناک الا کافۃ للناس‘‘ اے نبی! ہم (خدا) نے تجھ کو سب لوگوں کے لئے بھیجا ہے۔ س سنت اللہ کے مطابق نبوت اور ہدایت محمدیہ سب کے لئے کافی ہے۔ جدید نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرنا نص قرآنی کے مخالف ہے جو یہ ہے: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘حضرت محمد رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء اور خاتم المرسلین ہیں۔

پس ایسی نص قرآنی اور فرمان رحمانی کے ہوتے ہوئے کس مسلمان کی جرأت ہے کہ نبوت یا رسالت کا مدعی ہو یا کسی مدعی سے ایسا دعویٰ سن سکے۔

اسی آیت قرآنی کی بناء پر علماء اسلام کا بالاجماع عقیدہ ہے کہ بعد آنحضرتﷺ کے نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر ہے۔ علماء کے اس اجماع پر مرزاقادیانی کے بھی دستخط ثبت ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبیناa خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسّرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوّزنا ظہور نبی بعد نبیناa لجوّزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا وہذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین وکیف یجئی نبی بعد رسولناa وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النّبیین‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)

’’حضرت محمدa خاتم النّبیین ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہتعالیٰ نے ہمارے نبی کا نام بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا ہے جس کی تفسیر آنحضرتﷺ نے کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ اگر ہم کسی نبی کا بعد آنحضرتﷺ کے آنا جائز قرار دیں تو وحی نبوت کا دروازہ باوجود بند ہونے کے ہم نے کھولنے کی اجازت دی۔ یہ امر خلاف اسلام ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں کس طرح کوئی نبی بعد ہمارے نبی کے آ سکتا ہے۔ حالانکہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد وحی نبوت بند ہوچکی ہے اور اللہتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔‘‘

اسی کتاب کے ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ’’وما کان لی ان ادّعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

147

’’یعنی یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں میں جا ملوں۔‘‘

باوجود نصوص قرآنیہ اور تصریحات مرزائیہ کے حکیم صاحب کا مرزاقادیانی کی نسبت نبوت کا ادّعا کرنا گویا آپ کو اور مرزاقادیانی کو خود ہی کافر بنانا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ’’حضور والا نے قرآن کریم میں ملاحظہ فرمایا ہو گا کہ علم غیب کے راز کسی نجوم یا جفر کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ وہ انہیں پر ظاہر ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ مرسل ہوتے ہیں اور نہ کوئی زید وبکر اس طاقت اور تحدی کے ساتھ بغیر خدا کے بلائے بول سکتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں فرماتا ہے:’’ماکان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولٰکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء (آل عمران) عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول (الجن)‘‘ اللہ کسی کو غیبی امور سے اطلاع نہیں دیا کرتا۔ مگر مجتبیٰ رسولوں میں سے جسے چاہے اسے بتلا دیتا ہے۔ وہی عالم الغیب ہے اور رسولوں میں سے صرف انہیں کو غیب سے اطلاع دیتا ہے جو اسے پسند ہوں۔ یعنی بجز خدا کے علم دئیے کوئی غیب کی بات نہیں بتلا سکتا اور خدا کسی خاص اپنے رسول کو ہی علم دیتا ہے۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۱۹، ۲۰)

اس عبارت میں حکیم صاحب نے صاف طور پر مرزاقادیانی کی نسبت ادّعاء نبوت کا اظہار کیا ہے جو مرزاقادیانی کی اپنی سابقہ تحریرات کے بموجب چاہ ضلالت اور وادیٔ کفران میں گرنا ہے۔ لہٰذا اس کا جواب بس یہی ہے ؎

  1. رسول قادیانی کی رسالت

    جہالت ہے جہالت ہے جہالت

اسی ضمن میں حکیم صاحب نے مرزاقادیانی کی طرف سے کئی ایک پیش گوئیاں قبل از وقوع بھی بیان کی ہیں۔ لہٰذا اس بحث سے ہاتھ اٹھا کر ان پیش گوئیوں کی تحقیق کرتے ہیں۔

پیش گوئی اوّل… متعلقہ پنڈت لیکھ رام

اس پیش گوئی کو بڑے فخر سے حکیم صاحب نے لکھا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ صحیح واقعات کو غلط سے خلط ملط کر دیا ہے۔ مرزاقادیانی ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’ہم اپنی اجتہادی باتوں کو خطاء سے معصوم نہیں سمجھتے۔ ہمیں ملزم کرنے کے لئے ہمارا کوئی الہام پیش کرنا چاہئے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۴، خزائن ج۱۵ ص۱۵۴، ۱۵۵)

148

پس اس اصول عامہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مرزاقادیانی کی پیش گوئی متعلقہ پنڈت مذکور غلط اور بالکل غلط ثابت ہوئی۔ اصل اشتہار اس پیش گوئی کا وہی ہے جو حکیم صاحب نے بھی ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ کے ص۱۶، ۱۷ پر نقل کیا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ فرط محبت میں بحکم ’’حبک الشیٔ یعمی ویصم‘‘حکیم صاحب نے اس کو بغور نہیں دیکھا۔ ہم اس کے بعض ضروری فقرات یہاں درج کرتے ہیں۔

مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’اب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص (پنڈت لیکھ رام) پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہو جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۱۷ حاشیہ)

یہ الفاظ اپنا مدّعا بتلانے میں صاف ہیں کہ چھ برس کے عرصے میں پنڈت لیکھ رام پر خرق عادت یعنی خلاف عادت کوئی عذاب نازل ہو گا۔ ایسا نہ ہو تو مرزاقادیانی کا دعویٰ غلط۔ پس امر تنقیح طلب یہ ہے کہ کیا ایسا ہوا؟ صحیح جواب جو واقعات پر مبنی ہے یہ ہے کہ: ’’نہیں‘‘ اس لئے کہ پنڈت لیکھ رام گو چھ سال کے عرصے میں چھری سے مارا گیا، لیکن اس کا مارا جانا کوئی خرق عادت عذاب نہیں بلکہ اس قسم کے قتل وخون آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ یہ قتل تو بڑی سازش سے ہوا ہو گا۔ اسی شہر لاہور میں دل دہاڑے کئی ایک دفعہ انگریزوں کو قتل کیاگیا۔ غرض اس قسم کے واقعات بلاد پنجاب میں عموماً پیش آتے رہتے ہیں۔ جن کو کوئی فرد بشر بھی خرق عادت نہیں کہتا نہ جانتا ہے۔

حکیم صاحب نے اپنی بات بنانے کو مرزاقادیانی کا ایک عربی شعر نقل کیا ہے جس سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس شعر میں لیکھ رام کے قتل کا دن بھی بتلایا گیا ہے۔ چنانچہ حکیم صاحب کے الفاظ یہ ہیں کہ: ’’پھر آپ نے اپنی عربی تصنیف موسومہ بہ کرامات الصادقین میں دعا متعلق لیکھ رام کا ذکر کرتے ہوئے ذیل کا شعر لکھا ہے کہ لیکھ رام کی موت عید کے دن کے قریب ہو گی۔‘‘

  1. وبشرنی ربی وقال مبشرا

    ستعرف یوم العید والعید اقرب

(صحیفہ ص۱۸)

149

اس کے جواب میں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے اصل قصیدے سے اس شعر کا سیاق وسباق بتلانے کو ادھر ادھر کے چند شعر نقل کریں۔ ناظرین بغور سنیں۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں ؎

  1. الا ایہا الواشی الام تکذب

    تکفر من ہو مؤمن و تونب

  2. واٰلیت انّی مسلم ثم تکفر

    فاین الحیا انت امرؤ او عقرب

  3. الا اننی تبر وانت مذہب

    الا اننی اسد وانک ثعلب

  4. الا اننی فی کل حرب غالب

    فکدنی بما ذورت والحق یغلب

  5. وبشرنی ربی وقال مبشرا

    ستعرف یوم العید والعید اقرب

  6. ونعمنی ربی فکیف اردّہ

    وہٰذا عطاء اللہ والخلق یعجب

  7. وسوف تریٰ انی صدوق مؤید

    ولست بفضل اللہ ما انت تحسب

(کرامات الصادقین ص۵۴، خزائن ج۷ ص۹۶)

اشعار مذکورہ صاف بتلا رہے ہیں کہ یہ کلام کسی ایسے شخص کے جواب یا خطاب میں ہے جو مرزاقادیانی کا مکفّر ہے یعنی خود مسلمان ہے اور مرزاقادیانی کو کافر کہتا ہے۔ اس کو مرزاقادیانی ڈانٹ پلاتے ہیں کہ: ’’تو بے حیاء ہے، بچھو ہے، میں نیک ہوں۔ تو طمع ساز ہے، میں شیر ہوں۔ تو لونبڑ ہے، میں ہر ایک لڑائی میں غالب ہوں۔ مجھے خدا نے بشارت دی اور کہا ہے کہ تو عید کو پہچانے گا اور عید قریب ہے۔ میرے خدا نے مجھے نعمتیں دی ہیں۔ لوگ تعجب کرتے ہیں تو دیکھ لے گا کہ میں سچا ہوں اور جیسا تیرا گمان ہے ویسا نہیں ہوں۔‘‘

اس سے آگے قریب کر کے صاف اور صریح لکھتے ہیں:

  1. وقاسمتہم ان الفتاوٰی صحیحۃ

    وعلیک وزر الکذب ان کنت تکذب

  2. وہل لک من علم ونص محکم

    علٰی کفرنا او تخرصن وتتغب

(کرامات الصادقین ص۵۴، خزائن ج۷ ص۹۶)

(تو نے ان لوگوں سے قسم کھا کر بتلایا کہ یہ فتوے (جو مرزاقادیانی پر لگائے گئے ہیں) صحیح ہیں۔ اگر تو جھوٹا ہے تو جھوٹ کا وبال تجھ پر ہے۔ کیا تیرے پاس قطعی علم یا مضبوط نص ہمارے کفر پر ہے یا تو محض اٹکل اور تکلف کرتا ہے)

صاف بات ہے کہ اس قصیدے میں نہ لیکھ رام کا ذکر ہے نہ آتھم کا بلکہ صریح

150

خطاب علماء مکفرین سے ہے نہ کسی اور سے۔ نہیں معلوم ایسے صحیح واقعات کو غلط اور مصنوعی واقعات سے مکدر کرنا اگر لبس حق نہیں تو کیا ہے؟

حکیم صاحب! بہت سے امور اور مسائل میں اختلاف ہوتا ہے۔ مگر دیانت اور راست بازی میں کسی کا اختلاف نہیں پھر آپ کو بھی اس میں خلاف نہیں ہونا چاہئے ؎

  1. بے وفا ون سی خوبی ہے؟ نہیں جو تجھ میں

    وصف اتنے ہیں جہاں ایک وفا اور سہی

اگر ہم حسب قول حکیم صاحب اس شعر کو پنڈت لیکھ رام کی تاریخ قتل سے متعلق مان لیں تو بھی مرزاقادیانی کی تکذیب لازم آتی ہے۔ پہلے شعر مذکور کو سنئے:

  1. وبشرنی ربی وقال مبشرا

    ستعرف یوم العید والعید اقرب

غور طلب بات یہ ہے کہ اقرب صیغہ تفضیل کا ہے جس کے لئے ایک تو مفضل علیہ کی ضرورت ہے۔ دوئم مقرب الیہ کی یعنی کس سے زیادہ قریب اور کس کے قریب۔ اوّل یعنی مفضل علیہ تو زمان بعد از عید ہے اور مقرب الیہ مخاطب خاص یا عام ہیں۔ پس معنی یہ ہیں کہ:

مجھے پروردگار نے خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ تو عید کے دن کو پہچانے گا اور عید بہت قریب ہے۔ یہاں عید ہی کو تعرف کا مفعول بہ بنایا اور عید ہی کو اقرب کا محکوم علیہ۔ اس سے اگر کوئی بات ثابت ہوئی تو یہ کہ کوئی واقعہ عید کے دن ہو گا جس کا متکلم کو انتظار ہے اور مخاطب کا انتظار رفع کرنے کو متکلم کہتا ہے ’’والعید اقرب‘‘ عید بہت قریب ہے۔ اس کی نظیر خود قرآن مجید میں بھی ملتی ہے۔ غور سے سنئے!

’’ان موعدہم الصبح الیس الصبح بقریب‘‘

حضرت لوطm کا ذکر ہے کہ فرشتوں نے ان کو قوم کی تباہی کے لئے صبح کا وقت بتلا کر رفع انتظار کے لئے کہا۔ کیا صبح قریب نہیں یعنی ’’الصبح قریب‘‘ اس کے نظائر اور بھی بہت ہیں۔

پس مطلب صاف ہے کہ جو کچھ ہونا ہے وہ عید کے روز ہونا ہے، نہ اس سے آگے نہ پیچھے۔ لیکن لیکھ رام کا واقعہ عید کے روز نہیں ہوا بلکہ دوسرے روز ہوا ہے۔ پھر پیش گوئی کے کذب میں کیا شک ہے؟ ہاں! جو شخص پندرہ دن کی میعاد لگا کر پندرہ ماہ میں واقع نہ ہونے سے بھی سچا ہی بنتا ہو، اس کا تو کوئی جواب ہی نہیں ہوسکتا۔

این ست جوابش کہ جوابش ندہی

151

دوسری پیش گوئی… متعلقہ طاعون پنجاب

اس پیش گوئی میں تو حکیم صاحب نے وہی برتاؤ کیا جو استاد نیاز نے کہا ہے ؎

وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نکتۂ عشق کا

کہ کتاب عقل کی طاق پر جاں دھری تھی واں ہی دھری رہی

حکیم صاحب! آپ نے غور نہیں فرمایا کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں آپ کے خلاف ہے۔ آپ نے مرزاقادیانی کا اشتہار متعلقہ طاعون پنجاب نقل کیا ہے جس کے ضروری فقرے یہ ہیں: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ خداتعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: ’’یہ طاعون کے درخت ہیں جو ملک میں عنقریب پھیلنے والی ہے۔‘‘ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۲۲)

اس خواب کو ہم صحیح بھی مان لیں اور اس کی آخری مدت بھی قراردیں تو بھی پنجاب میں طاعون کا غلبہ ۱۹۰۰ء میں کمال تک ہو جانا چاہئے تھا۔ حالانکہ خدائے ذوالجلال کی غیرت نے یہ کرشمہ کر دکھایا کہ آپ خود بھی مانتے ہیں کہ: ’’۱۹۰۱ء میں کشف مذکورہ بالا کے طاعونی درخت پنجاب میں کس قدر بارور ہونے لگے۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۲۳)

اس ’’کسی قدر‘‘ کے لفظ کو دیکھئے اور مرزاقادیانی کی عبارت منقولہ بالا میں ’’بہت پھیلے گا‘‘ کے لفظ کو ملاحظہ کر کے بتلائیے کہ ان دونوں لفظوں میں وہی نسبت ہے یا نہیں؟ جو ’’شیر قالین‘‘ اور ’’شیرنیستان‘‘ میں ہے۔

مرزائی خواب میں صاف تصریح ہے کہ غایت سے غایت ۱۹۰۰ء میں طاعون کی خوفناک اشاعت پنجاب میں ہو جائے گی۔ حالانکہ بقول آپ کے ۱۹۰۱ء میں بھی کسی قدر (دبی زبان سے) ہوا جو قریب قریب عدم کے تھا۔

چونکہ واقع بھی یہی ہے کہ پنجاب میں ۱۹۰۲ء سے طاعون کا شیوع ہوا۔ اس لئے پنجاب یونیورسٹی نے ۱۹۰۲ء ہی میں طلباء کو سرکلر دیا تھا کہ داخلہ امتحان سے پہلے ٹیکہ طاعون

152

کراکر آنا ہو گا اور آپ کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ چنانچہ آپ خود لکھتے ہیں کہ: ’’وہ سیاہ درخت جو سرزمین پنجاب میں ۱۸۹۸ء کے شروع میں لگائے گئے تھے۔ ۱۹۰۲ء کی بہار میں آکر ثمردار ہو گئے۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۲۵)

۱۹۰۲ء کا واقع ۱۸۹۸ء میں دیکھنا ابن صیاد کے ’’دخ‘‘ سے کم نہیں۔

(آنحضرتﷺ کے زمانے میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جس کا نام ابن صیاد تھا۔ اس کی غیب دانی کا چرچہ ہوا تو حضور پیغمبر خداa نے اس سے پوچھا کہ بتلا میرے دل میں کیا ہے؟ آپa نے اپنے خیال میں ’’حٰم دخان‘‘ رکھا تھا۔ اس نے جواب میں کہا کہ آپa کے دل میں دخ ہے۔ آپa نے فرمایا ’’خلط علیک الامر‘‘ (واقعات تجھ پر مکدر ہیں) اسی حدیث کی طرف اشارہ ہے)

حکیم صاحب! آئیے! ہم آپ کی خاطر اس جواب کو صحیح مان لیں اور انہی معنی میں لیں جو مرزاقادیانی اور آپ کے حسب منشاء ہے۔ لیکن اس کا کیا علاج ہو کہ مرزاقادیانی خود ہی لکھتے ہیں کہ: ’’اور یہ عجیب حیرت نما امر ہے کہ بعض طوائف یعنی کنجریاں بھی جو سخت ناپاک فرقہ دنیا میں ہیں سچی خوابیں دیکھا کرتی ہیں اور بعض پلید اور فاسق اور حرام خور اور کنجروں سے بدتر اور بددین اور ملحد جو اباحتیوں کے رنگ میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اپنی خوابیں بیان کیا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو کہا کرتے ہیں کہ بھائی میری طبیعت تو کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میری خواب کبھی خطاء ہی نہیں جاتی اور اس راقم کو اس بات کا تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۱۶۸)

پس ایک آدھ خواب کی سچائی سے ہم کیونکر تسلیم کر لیں جب تک تمام واقعات کی تصحیح نہ ہو لے۔ کیونکہ ’’موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ‘‘ ہوتا ہے۔ جس کا مطلب (بقول مرزاقادیانی) دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ کنجروں اور بھڑوؤں کے بھی بعض خواب سچے ہو جاتے ہیں۔

تیسری پیش گوئی… زلزلہ کے متعلق

ہمارا تو دعویٰ ہے کہ جب سے آتھم کا واقع مرزاقادیانی کے خلاف منشاء ہوا۔ مرزاقادیانی نے کبھی کوئی پیش گوئی تعیین سے نہیں کی۔ چنانچہ زلزلہ کے متعلق جو آج حکیم

153

صاحب اور حکیم صاحب سے قبل خود مرزاقادیانی بھی زور دیتے رہے یہ سب نکتہ بعد الوقوع ہے۔ حکیم صاحب نے زلزلہ کے متعلق مرزاقادیانی کے اشتہار سے اقتباس کیا ہے، جو درج ذیل ہے: ’’میں نے اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں۔ بطور کشف دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پرشور قیامت برپا ہے۔ پھر میرے منہ پر یہ الہام الٰہی تھا کہ موتا موتی لگ رہی ہے کہ میں بیدار ہو گیا اور اسی وقت جو کچھ حصہ رات کا باقی ہے، میں نے یہ اشتہار لکھنا شروع کر دیا ہے۔ دوستو! اٹھو! ہوشیار ہو جاؤ کہ اس زمانے کی نسل کے لئے نہایت مصیبت کا وقت آ گیا ہے۔ اب اس دریا سے پار ہونے کے لئے بجز تقویٰ کے اور کوئی کشتی نہیں۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ طبع اوّل ص۲۹)

ناظرین! اس اقتباس کو ذہن نشین رکھیں اور اصل اشتہار مرزاقادیانی کا بھی ملاحظہ فرماویں جس سے یہ اقتباس کیاگیا ہے۔

تاسیاہ روئے شود ہر کہ در و غش باشد

ہم اگر قادیانی مشن اور ان کے خلیفہ صاحب کی نسبت کچھ کہتے تو مخالفانہ رائے تصور ہوتی۔ لیکن الحمدﷲ! کہ قادیانی خلیفہ اور ان کے مریدوں نے ہمیں موقع دیا کہ ہم یہ کہیں کہ ؎

  1. رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل

    جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو وہ لہو کیا ہے؟

پس آپ لوگ ۲۷؍فروری ۱۹۰۵ء کا اشتہار سنئے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’دوستو! خداتعالیٰ آپ لوگوں کے حال پر رحم کرے۔ آپ صاحبوں کو معلوم ہو گا کہ میں نے آج سے قریباً نو ماہ پہلے الحکم اور البدر میں جو قادیان سے اخباریں نکلتی ہیں، خداتعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر یہ وحی الٰہی شائع کرائی تھی کہ: ’’عفت الدیار محلّہا ومقامہا‘‘یعنی یہ ملک عذاب الٰہی سے مٹ جانے کو ہے نہ مستقل سکونت امن کی جگہ رہے گی اور نہ عارضی سکونت امن کی جگہ یعنی طاعون کی وباء ہر جگہ عام طور پر پڑے گی اور سخت پڑے گی۔‘‘ (الحکم ج۸ نمبر۱۸ کالم ۳مؤرخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۴ء، البدر نمبر۲۰، ۲۱ ص۱۵ کالم۲ مؤرخہ ۲۴مئی، یکم جون ۱۹۰۴ء)

’’اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت بہت قریب آ گیا ہے میں نے اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں بطور کشف دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے۔ میرے منہ پر یہ الہام الٰہی تھا کہ موتا موتی لگ رہی ہے کہ میں بیدار ہو گیا اور اسی وقت جو ابھی کچھ حصہ رات کا باقی ہے میں نے یہ اشتہار لکھنا شروع کیا۔ دوستو! اٹھو اور ہوشیار ہو

154

جاؤ کہ اس زمانہ کی نسل کے لئے نہایت مصیبت کا وقت آ گیا ہے۔ اب اس دریا سے پار ہونے کے لئے بجز تقویٰ کے اور کوئی کشتی نہیں۔ مؤمن خوف کے وقت خدا کی طرف جھکتا ہے کہ بغیر اس کے کوئی امن نہیں۔‘‘

(اشتہار الوصیت مؤرخہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۵ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۱۵)

حضرات! آپ لوگ غور سے اس اشتہار کو پڑھیں مکرر بلکہ سہ کرر پڑھیں۔ آپ کو بغیر اس کے کوئی مطلب معلوم نہ ہو گا کہ یہ اشتہار اور اس میں جتنی پیش گوئیاں ہیں، طاعون کی تباہی کے متعلق ہیں۔ اخبار الحکم ۳۱؍مئی ۱۹۰۴ء کا حوالہ موجود ہے۔ اس میں بھی الہام ’’عفت الدیار محلّہا ومقامہا‘‘لکھ کر ساتھ ہی لکھا ہے: ’’طاعون کے متعلق ہے‘‘ باوجود اس تشریح اور تصریح کے پھر اسی الہام کو زلزلہ سے متعلق کرنا کون کہہ سکتا ہے کہ دیانت یا شرافت ہے؟ اور پاس سخن کا مقتضی نہیں۔ کیا سچ ہے ؎

  1. کیوں کر مجھے باور ہو کہ ایفا ہی کریں گے؟

    کیا وعدہ انہیں کر کے مکرنا نہیں آتا؟

حکیم صاحب! آئیے میں آپ کو ایک خوشخبری سناؤں۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۷، خزائن ج۲۲ ص۴۳۸)

اصل یہ ہے کہ مرزاقادیای واقعات عامہ کے لحاظ سے یا دخ، دخ کے طریق سے ایسے کچھ کلمات کے الہامات سنادیا کرتے تھے جن کو موم کی گولی کی طرح سب طرف لگا سکیں۔ چنانچہ فروری ۱۹۰۵ء تک یہی الہام ’’عفت الدیار محلّہا ومقامہا‘‘ طاعون پر چسپاں ہوتا رہا۔ لیکن جونہی ایک مہینے بعد ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پنجاب میں زلزلہ عظیمہ آیا تو قادیانی پارٹی نے اس سے فائدہ حاصل کرنے کو فوراً سے پہلے جھٹ زلزلہ عظیمہ پر اس کو چسپاں کر دیا جو کچھ تعجب انگیز امر نہیں بلکہ ان لوگوں کی روزمرہ کی عادت ہوکر بائیں ہاتھ کا کھیل ہو رہا ہے۔

جھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ان سے سیکھ جا

لیکن ہم تو مرزاقادیانی کے اصول عامہ کو نہیں چھوڑ سکتے کہ الہام کی تشریح ملہم جو کر دے وہ مقدم ہے۔

چوتھی پیش گوئی… زلزلہ ثانیہ کے متعلق

زلزلہ عظیمہ واقعہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کی بابت تو ہم بتلا آئے ہیں کہ کوئی الہام مرزا

155

قادیانی کا نہیں ہے جو کچھ ہے وہ یاروں کی خوش اعتقادی ہے اور بس۔ اس زلزلہ کے علاوہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ مرزاقادیانی کے الہام سے اور زلزلوں کا وجود ثابت کیا جائے۔ چنانچہ حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’ایک طرف جاپانی ماہر طبقات الارض نے اپنے علم وتجربہ کی بناء پر بعد از تحقیق دقیق اہل ہند کو یقین دلایا کہ آج سے دو صد برس تک ہند میں ہمچو قسم زلزلے کی کوئی امید نہیں۔ دوسری طرف پھر الہام الٰہی نے یکم؍فروری ۱۹۰۶ء کو اطلاع دی کہ صدیاں تو درکنار دنوں میں اسی موسم بہار کے شروع پر ایک اور زلزلہ آنے والا ہے جو پہلے زلزلہ کے ہم رنگ ہو گا۔ ملک کو ان دو پیش گوئی کرنے والوں کے متقابلہ حیثیت پر ابھی غور کرنے کاموقع نہ ملا ہو گا کہ خدا نے اپنے الفاظ ۲۹؍فروری ۱۹۰۶ء کو پورے کر دکھائے جب کہ رات کے دو بجے ۴؍اپریل کا سا زلزلہ وادیٔ ہمالیہ میں نمودار ہوا اور اس طرح اس زلزلہ نے ذیل کے ان الفاظ کو سچ کر دکھایا جو المسیح الموعود نے اپنے تیسرے اشتہار موسومہ بہ البلاغ مجریہ ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء میں ان سائنٹفک مکذبین الہام الٰہی کی تردید میں درج فرمائے تھے۔ وہو ہٰذا!

’’یہ خداتعالیٰ کی خبر اور اس کی خاص وحی ہے جو عالم الاسرار ہے۔ اس کے مقابل پر جو لوگ یہ شائع کر رہے ہیں کہ کوئی سخت زلزلہ آنے والا نہیں ہے۔ وہ اگر منجم ہیں یا کسی اور علمی طریق سے اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۳۱، طبع اوّل)

حضرات! اشتہار ۲۹؍اپریل کے ساتھ بھی حکیم صاحب نے وہی برتاؤ کیا جو ۲۷؍فروری ۱۹۰۵ء والے اشتہار سے کیا ہے جس کا ذکر پہلے کتاب ہٰذا پر ملاحظہ ناظرین سے گزر چکا ہے۔ ہم اس اشتہار کی تمام عبارت نقل کرتے ہیں۔

مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’آج ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خداتعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے۔ سو میں محض ہمدردی مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات آسمان پر قرار پا چکی ہے کہ ایک شدید آفت سخت تباہی ڈالنے والی دنیا پر آوے گی جس کا نام خداتعالیٰ نے باربار زلزلہ رکھا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ قریب ہے یا کچھ دنوں کے بعد خدائے تعالیٰ اس کو ظاہر فرماوے گا۔ مگر باربار خبر دینے سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بہت دور نہیں ہے۔ یہ خداتعالیٰ کی خبر اور اس کی خاص وحی ہے

156

جو عالم الاسرار ہے۔ اس کے مقابل پر جو لوگ یہ شائع کر رہے ہیں کہ ایسا کوئی سخت زلزلہ آنے والا نہیں ہے۔ وہ اگر منجم ہیں یا کسی اور علمی طریق سے اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں گزرا۔ بجز توبہ اور دل کے پاک کرنے کے کوئی اس کا علاج نہیں۔‘‘

(اشتہار ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۳۵)

ناظرین! خدارا ذرا دوآخری فقروں کو ملاحظہ فرمائیے اور بتلائیے کہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ عظیمہ کے بعد ایسا زلزلہ کوئی آیا ہے؟ ۲۹؍فروری ۱۹۰۶ء کوئی دور نہیں۔ کوئی صاحب بتلاویں کہ اس زلزلہ کی یاد کسی کے ذہن میں ہے؟

اے آسمان کے رہنے والو! اے زمین کے باشندو! اے پنجاب کی سرزمین پر بسر کرنے والو! اے پورب، پچھم، دکن، اتر میں رہنے والو! خدارا بتلاؤ کہ ۲۹؍فروری کو تم لوگوں نے ایسا کوئی زلزلہ دیکھا یا سنا؟ جس کی بابت مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی کے دل پر گزرا۔‘‘

گویا۴؍اپریل کے زلزلہ عظیمہ سے بہت بڑا۔ حکیم صاحب! بخدا میں سچ کہتا ہوں آپ کے اس دعویٰ کی تصدیق نہ ہو سکے گی گو مرزاقادیانی بھی مرقد سے تشریف لے آویں۔

ہاں! ہم مانتے ہیں کہ زلزلہ عظیمہ کے بعد مرزاقادیانی ایسے کچھ خوفزدہ ہوئے تھے کہ آپ کو ہر وقت زلزلوں ہی کے خواب آتے تھے۔ چنانچہ آپ ہی کے خوابوں اور ایسے الہاموں کی وجہ سے آپ کے معتقدین نے (جن میں راقم رسالہ صحیفہ آصفیہ بھی تھا) بہت دنوں تک خیموں میں بسیرا کیا اور چھتوں کے نیچے نہ سوئے نہ گئے۔ کیونکہ خود بدولت بھی قادیان شریف میں ایسے ہی پڑے تھے۔ آخر کیا ہوا؟

  1. آئے صد بار التجاء کر کے

    کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

پانچویں پیش گوئی… متعلقہ طوفان حیدرآباد

اس طوفان کے متعلق بھی مرزاقادیانی نے کوئی پیش گوئی نہیں کی تھی۔ آج جو کچھ بتایا جاتا ہے محض حکیم صاحب اور ان کے اتباع کے دماغ کا نتیجہ ہے۔ اسی لئے تو حکیم صاحب نے

157

بھی اس واقع کے متعلق کوئی خاص پیش گوئی نہیں لکھی بلکہ ایک اٹکل پچو بات سے کام لیا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔ حکیم صاحب کہتے ہیں: ’’اس (خدا) نے اپنے بھیجے ہوئے نذیر کی خاطر جس کی آواز حیدرآباد میں پہنچ کر وہاں کی ہنسی ٹھٹھہ کا باعث ہوچکی تھی، حیدرآباد میں وہی کیا جو اس نے اس طوفانی واقعہ سے دوسال پہلے کہا تھا۔ ’’دیکھ میں آسمان سے تیرے لئے برساؤں گا پر وہ جو تیری مخالفت کرتے ہیں، پکڑے جاویں گے۔ صحن میں ندیاں چلیں گی۔ سخت زلازل آئیں گے۔ میں تجھے ایک عجیب طور پر عزت دوں گا اوراس کے ساتھ دنیا پر بڑا رعب ڈالوں گا۔ چنانچہ اس واحد القہار نے آسمان اور زمین سے پانی نکالا۔ اس نے گھروں کے صحنوں میں ندیاں چلائیں۔ اس نے اس آباد معمورہ کو جو صدیوں سے شہر نظام ہورہا تھا، آن کی آن میں گور کر دکھایا اور اس طرح اس کے وہ الفاظ پورے ہوئے جو اس نے اس بلدہ کو تباہی کے متعلق کچھ عرصہ پہلے بطور پیش گوئی اپنے ملہم پر القاء کئے تھے۔

  1. دبدبۂ خسروی ام شد بلند

    زلزلہ در گور نظامی فگند

اس نے وہ سیلاب بھیجا جس سے کوئی کوشش کسی کو نہ بچ سکی اور اس طرح وہ کلام پاک لفظاً لفظاً پورا ہوا جو مسیح وقت نے بطور اندازہ اس طوفان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:

  1. سونے والو جلد جاگو یہ نہ وقت خواب ہے

    جو خبر دی وحی حق نے اس سے دل بے تاب ہے

  2. زلزلے سے دیکھتا ہوں میں زمیں زیر و زبر

    وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے

  3. ہے سر رہ پر کھڑا نیکوں کے وہ مولا کریم

    نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے

  4. کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے

    حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے

(صحیفہ آصفیہ ص۴۳، ۴۴ طبع اوّل)

اقتباسات مذکورہ بالا میں حکیم صاحب نے تین الہام لکھے ہیں۔ اس لئے ہم ہر ایک کی الگ الگ پڑتال کرتے ہیں۔ پس غور سے سنئے:

۱… الہام اوّل کہ: ’’دیکھ میں آسمان سے برساؤں گا۔‘‘ اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ محض زبانی بات ہے جس کا اعتبار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اصل مقام کا حوالہ نہ ہو۔ بعد تصحیح حوالہ کہا جائے گا کہ اس میں کسی خاص مقام کا ذکر نہیں بلکہ یہ وہی موم کی گولی ہے کہ جدھر چاہو پھیر لو۔ اس کی مثال دینے کو آپ ہی کے قادیانی اخبار بدر کی ایک عبارت کا پیش کرنا کافی ہو گا۔ ایڈیٹر بدر نے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا: ’’الہامی پیش گوئی اور اٹکل بازی میں فرق‘‘

158

اس بیان میں لائق ایڈیٹر نے منجموں پالیٹشنوں اور اٹکل بازوں کی پیش گوئیوں کو الہامی پیش گوئیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اٹکل بازوں کی پیش گوئی کی مثال دی تھی کہ: ’’مثلاً فلاں شخص کو کچھ خوشی پیش آئے گی یا کچھ تکلیف پہنچے گی۔ اسی قسم کے اور فقرے ہوتے ہیں جو بالکل گول مول اور ہر ایک پہلو سے مڑے ہوتے ہیں تاکہ پردہ رہ جائے… برخلاف اس کے رسولوں کی پیش گوئیاں کثرت سے ایسی ہوتی ہیں جو بالکل صاف اور کھلا کھلا غیب اپنے اندر رکھتی ہیں اور ان میں تحدی اور شوکت ہوتی ہے۔‘‘

(البدر قادیان مؤرخہ ۸؍اگست ۱۹۰۷ء ص۳ کالم۳ ج۶ نمبر۳۲)

ناظرین! یہ عبارت کیا معیار بتلاتی ہے؟ یہ کہ الہامی پیش گوئی اپنا مصداق اپنے لفظوں میں بتلایا کرتی ہے جس کی مثال قرآن مجید سے سنو۔

’’غلبت الروم فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین‘‘روم کی سلطنت ابھی مغلوب ہوئی ہے اور وہ بہت جلد چند سالوں میں غالب ہوں گی۔

حکیم صاحب! آئیے میں آپ کو بتلاؤں کہ درصورت صحیح ہونے کے بھی یہ الہام آپ کے امام کا غلط ہے۔ کیونکہ اس میں مذکور ہے کہ: ’’جو تیری مخالفت کرتے ہیں، پکڑے جائیں گے۔‘‘ بڑے مخالف تو وہ ہیں جن کو مرزاقادیانی نے رسالہ ’’انجام آتھم‘‘ میں مباہلہ کے لئے نام بنام بلایا اور ان کو ائمہ الکفر کہا تو کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ حیدر آباد کے طوفان میں ان مخالفوں میں سے کون پکڑا گیا۔ پس اگر یہ قاعدہ ’’الشیٔ اذا ثبت ثبت بلو ازمہ‘‘ (جب کوئی چیز موجود ہو تو اس کے لوازم بھی ساتھ ہوتے ہیں جیسے سورج کے ساتھ روشنی) صحیح ہے جو بالکل صحیح ہے تو آپ کے امام کی یہ پیش گوئی غلط ہے۔ کیونکہ اس میں جو نشان تھا کہ مخالف پکڑے جائیں گے وہ متحقق نہیں۔

دوسرے الہام کا آپ نے ایک شعر نقل کیا ہے جو یہ ہے:

  1. دبدبۂ خسرویم شد بلند

    زلزلہ در گور نظای فگند

افسوس ہے اس الہامی شعر کے سمجھنے سے ہم ہی قاصر نہیں بلکہ عرفی اور خاقانی بھی اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ لفظی ترجمہ تو یہ ہے: ’’میری حکومت کا دبدبہ جب بلند ہوا، تو نظامی کی قبر میں زلزلہ آیا۔‘‘

چونکہ لفظی ترجمہ بالکل مہمل تھا کہ کہاں دبدبۂ حکومت اور کہاں نظامی (مصنف سکندرنامہ) کی قبر۔ اس لئے حکیم صاحب نے اس کی تشریح میں یوں اشارہ کیا کہ ’’نظامی‘‘

159

سے مراد ’’حضور نظام‘‘ اور ’’گور‘‘ سے مراد لیا۔ ’’بلدہ حیدرآباد‘‘ پس معنی یہ ہوئے کہ خدا کے حکم سے حیدرآباد میں طوفان آیا۔ کیا کہنے ہیں۔ ماشاء اللہ! چشم بددور! کیا سچ ہے؟

  1. کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا

    بھان متی نے کنبہ جوڑا

ہم حیران ہیں کہ ان معقول پسندوں کی تردید کن لفظوں میں کریں۔ ایسی بے اصولی قوم جو آسمان بول کر زمین مراد لیں اور زمین بول کر خدا کہہ دیں، ان سے کون پورا ہوسکتا ہے؟

حکیم صاحب! آپ حلفیہ کہہ سکتے ہیں کہ قبل از طوفان حیدرآباد اس شعر کے معنی مرزاقادیانی نے یا آپ نے یہی سمجھے تھے جو آج ظاہر کر رہے ہیں۔ اگر سمجھے تھے تو بتلائیے کیونکر؟ اگر نہیں سمجھتے تھے تو کیا یہ شعر کسی جنی زبان میں تھا؟ مانا کہ الہامی تھا، لیکن جنی تو نہ تھا الہام بھی تو آخر فارسی ہی میں تھا، جس کے سمجھنے والے آج دنیا میں سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں موجود ہیں۔ پھر کیا کوئی بھی آپ کاشریک حال ہوسکتا ہے کہ ’’نظامی‘‘ سے مراد ’’حضور نظام‘‘ اور ’’گور‘‘ سے مراد حضرت کا دارالسلطنت بلدہ حیدرآباد۔

حکیم صاحب! آئیے میں آپ کو علماء کا ایک متفقہ اور آپ کا مسلمہ اصول آپ ہی کے الفاظ میں سناؤں تا آپ کو ایسی حرکت مذبوحی کرنے سے کچھ تو رکاوٹ ہو۔ غور سے سنئے، آپ فرماتے ہیں: ’’ہر جگہ تاویلات وتمثیلات سے، استعارات وکنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد منافق بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لاسکتا ہے۔ اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔‘‘

(خط ملحقہ ازالہ اوہام ص۸،۹ خزائن ج۳ ص۶۳۱)

بتلائیے! یہاں دونوں لفظوں (نظامی اور گور) کے مجازی معنی لینے کے اسباب قویہ کیا ہیں؟ ہاں! یاد آیا کہ پنجابی میں ایک مثل ہے کہ: ’’کنویں میں بیل گرے تو وہاں ہی خصی کر دینا چاہئے۔‘‘

یہ اس موقع پر بولتے ہیں جب کوئی کام ایسا پیش آ جائے کہ اس وقت تو سہل ہوسکتا ہو اور دیر کرنے سے مزید تکلیف کا خطرہ ہو۔ سو اس مثال کے مطابق قادیانی مشن نے سمجھا کہ آج کل حیدرآباد کے طوفان کا چرچہ ہے۔ باشندگان دکن عذاب الٰہی سے خوفزدہ ہو رہے ہیں۔ بس یہ وقت ہے کہ ایک چٹکلا ان میں چھوڑ دیں، شاید کوئی ازلی بدبخت دام میں آ جائے۔

160

حکیم صاحب! آپ کی اس دوراندیشی کی تو ہم بھی داد دیتے ہیں۔

  1. خورش وہ بکخجشک و مور و حمام

    کہ روزے ہمائے در افتد بدام

تیسرا الہام بھی بالکل آپ کی کھینچ تان ہے، جس اشتہار سے یہ ابیات نقل کئے ہیں۔ اس کا نام ہے:’’النداء من وحی السماء‘‘یعنی ایک زلزلہ عظیمہ کی نسبت پیش گوئی وحی بار دوم الٰہی سے اس اشتہار کا تمام مضمون اس امر کی بابت ہے کہ ۴؍اپریل کے زلزلہ عظیمہ کے بعد ایک اور زلزلہ آئے گا۔ چنانچہ اس اشتہار کا شروع یوں ہے: ’’۹اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہو گا۔ چونکہ دو مرتبہ مکرر طور پر اس علیم مطلق نے اس آئندہ واقعہ پر مجھے مطلع فرمایا ہے، اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ عظیم الشان حادثہ جو محشر کے حادثہ کو یاد دلاوے گا، دور نہیں ہے۔ مجھے خدائے عزوجل نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ دونوں زلزلے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے دو نشان ہیں۔ انہی نشانوں کی طرح جو موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے تھے اور اس نشان کی طرح جو نوح نے اپنی قوم کو دکھلایا تھا۔‘‘

(۱۸؍اپریل ۱۹۰۵ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۲۶)

تمام اشتہار پڑھا جائے کہیں ایک لفظ بھی ان معنی کا نہیں پاویں گے کہ کوئی طوفان ملک میں خصوصاً حیدرآباد میں آئے گا۔ مرزاقادیانی اور ان کے قائم مقاموں کی عادت ہے کہ نکتہ بعد الوقوع بہت نکالا کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک ہے۔

تمام اشتہار پڑھ جائیے کہیں ایک لفظ بھی ان معنی کا نہیں پاویں گے کہ کوئی طوفان ملک میں خصوصاً حیدرآباد میں آئے گا۔ مرزاقادیانی اور ان کے قائم مقاموں کی عادت ہے کہ نکتہ بعد الوقوع بہت نکالا کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک ہے۔

حکیم صاحب! آپ تمام اشتہار پڑھ کر ہمارے سامنے کسی لفظ پر نشان لگادیں کہ یہ لفظ طوفان حیدرآباد کی طرف اشارہ ہے تو ہم بھی آپ کو اپنا خلیفہ (فیہ شیٔ… فافہم) بنالیں گے۔ یاد رہے کہ متکلم کے خلاف منشاء تفسیر ہم نہیں سنیں گے نہ کوئی دانا اس کو مانے گا۔ یہ دوسری بات ہے کہ آپ اور آپ کے معتقدین ’’گور نظامی‘‘ کے لفظ میں نظامی سے ’’حضور نظام‘‘ اور گور سے شہر حیدرآباد مراد لیں۔ مگر ہم ایسی مرادوں سے سوال نہیں کرتے بلکہ سیاق کلام چاہتے ہیں۔ غضب ہے متکلم (مرزا) تو اپنا مدعا اس اشتہار سے دوسرا زلزلہ عظیمہ بتلاتا ہے اور کھلے لفظوں میں کہتا ہے کہ: ’’یہ دونوں زلزلے میری سچائی ظاہر کرنے کے لئے دو نشان ہیں۔‘‘

161

مگر حکیم صاحب اس کو طوفان پر چسپاں کریں تو اس طوفان بے تمیزی کا کیا انتظام؟

چیلنج: ہم حکیم نورالدین صاحب اور دیگر معتقدین مرزاقادیانی کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ مرزاقادیانی کی کوئی ایک پیش گوئی کھلے کھلے لفظوں حیدرآباد کی بابت دکھادیں تو ہم سے منہ مانگا انعام پاویں۔ مگر یہ سوچ لیں کہ مقابل کون ہے۔

  1. سنبھل کے رکھیو قدم دشت خار میں مجنوں

    کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

چھٹی پیش گوئی… متعلقہ ڈاکٹر ڈوئی

امریکہ میں ایک شخص ڈاکٹر ڈوئی تھا جو (بقول مرزاقادیانی) مدعی نبوت تھا۔ (ڈوئی کے حالات بجز قادیانی اخبارات کے اور کسی ذریعہ سے ہم تک نہیں پہنچے) مرزاقادیانی کی زندگی میں مرا تھا۔ اس کی بابت حکیم صاحب لکھتے ہیں: ’’ہندوستان میں لیکھ رام اور امریکہ میں کاذب مدعی نبوت ڈاکٹر ڈوئی اس کی تیر دعا کا نشانہ بن کر ہلاک ہوا اور ہندوستان اور امریکہ اور یورپ میں اس مصدوق انسان کی دوزبردست پیش گوئیوں کو پورا کر کے اس کے دعاوی کی صداقت پر مہر لگا گیا۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۴۶، طبع اوّل)

ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے ڈوئی کے متعلق کوئی پیش گوئی نہیں کی تھی جو کی تھی وہ بھی غلط نکلی۔ مرزاقادیانی اور حکیم صاحب کی طرح ہم صرف زبانی باتیں کرنے کے عادی نہیں بلکہ واقعات پیش کرتے ہیں۔

مرزاقادیانی نے ڈاکٹر ڈوئی کو ایک دفعہ دعوت دی تھی، جس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’ڈوئی صاحب! تمام مسلمانوں کو باربار موت کی پیش گوئی نہ سناویں، بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے۔ کیونکہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندۂ عاجز مگر نبی جانتا ہوں۔ اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے۔ چاہئے کہ اس دعا کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اس کے یہی دعا کروں گا اور ان شاء اللہ! ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے اور تمام عیسائیوں کے لئے حق کی شناخت کے لئے ایک راہ نکل آئے گی۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز بابت ستمبر ۱۹۰۲ء ص۳۴۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۱۱)

162

اس عبارت کو دیکھ کر ہر ایک عالم اور جاہل سمجھ سکتا ہے کہ مرزاقادیانی نے ڈوئی کی نسبت کیا لکھا ہے کوئی دعا یا مباہلہ نہیں کیا، بلکہ درخواست ہے کہ تم ایسا کرو۔ اس کے ایسا کرنے کی صورت میں مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’مسٹر ڈوئی اگر میری درخواست مباہلہ قبول کر لے گا اور صراحۃً یا اشارۃً میرے مقابلہ پر کھڑا ہو گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیا فانی کو چھوڑ دے گا۔‘‘

(ریویو اپریل ۱۹۰۷ء ص۱۴۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۱۹)

پس اب تنقیح طلب امر صرف یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر ڈوئی نے ایسا کیا؟ یعنی حسب منشاء مرزاقادیانی اس نے مباہلہ کیا؟ اس کے جواب میں بھی ہم حسب عادت اپنی نہیں کہتے بلکہ مرزاقادیانی کے ماہوار رسالہ ’’ریویو‘‘ سے اصل حال بتلاتے ہیں جو یہ ہے: ’’باوجود اس کثرت اشاعت پیش گوئی کے ڈوئی نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی اپنے اخبار لیوز آف ہیلنگ میں اس کا کچھ ذکر کیا۔‘‘

(ریویو اپریل ۱۹۰۷ء ص۱۴۲ ج۶ نمبر۴)

نیز مرزاقادیانی نے مزید لکھا کہ: ’’یاد رہے کہ اب تک ڈوئی نے میری اس درخواست مباہلہ کا کچھ جواب نہیں دیا اور نہ اپنے اخبار میں کچھ اشارہ کیا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۱۹)

پس اب مطلع بالکل صاف ہے کہ مرزاقادیانی نے ڈوئی کو جو شرطیہ دعوت دی تھی، وہ اس نے قبول نہیں کی۔ یعنی حسب مراد مرزاقادیانی ڈوئی نے دعاء موت نہیں کی۔ لہٰذا وہ مرزاقادیانی کی نہ دعا کے ماتحت آیا نہ پیش گوئی کی زد میں پھنسا۔ ہاں! مرزاقادیانی کے اس شرطیہ کلام سے کہ: ’’ڈوئی میری درخواست کو قبول کرے گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت سے دنیا کو چھوڑے گا۔‘‘

یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ بغیر قبول کرنے دعوت مرزائیہ کے ڈوئی کا مرزاقادیانی کی زندگی میں مرجانا مرزاقادیانی کی کافی تکذیب کرتا ہے۔ مگر سمجھنے کو دل ودماغ صحیح چاہئے۔ فافہم!

چیلنج: حکیم یا کوئی صاحب ہم کو مرزاقادیانی کی کسی تحریر سے ڈوئی کے متعلق صاف الفاظ میں کسی قسم کی پیش گوئی دکھادیں تو ہم تسلیم کریں گے اور بہت کچھ انعام بھی دیں گے۔ مرزاقادیانی کے دوستو! ہمت کرو۔ مرد میدان بنو۔ سامنے آؤ۔ منہ نہ چھپاؤ۔ کیا تم جانتے نہیں؟

  1. مجھ سا مشتاق جہاں میں کہیں پاؤ گے نہیں

    گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر

163

دیوانے کی بڑ

قادیانی پارٹی کو تصنیف کتب میں ایسا ملکہ ہے کہ واقعات بھی اپنی طرف سے تصنیف کر لیتے ہیں۔ حالانکہ واقعات کسی کے تابع نہیں ہوتے۔ اگر اس کی مثال واقعات میں ہم نہ بتلاویں تو پھر ہمارا دعویٰ بھی ’’دیوانے کی بڑ‘‘ سے کم نہ ہو گا۔ اس لئے ہم قادیانی ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ ہی سے واقعات پیش کرتے ہیں۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں: ’’آپ (مرزاقادیانی) کی بعثت سے آپ کے وصال تک صدہا مکذب آپ کے مقابل اٹھے، جنہوں نے آپ کی توہین پر کمرباندھی۔ لیکن خداتعالیٰ نے انہیں ذلیل وخوار کیا جو آپ کے مقابل آیا ہلاک ہوا۔ جس رنگ میں کسی نے آپ کی ذلت کا ارادہ کیا، اسی طرح کی ذلت اسے نصیب ہوئی۔ آپ کے مکفرین یکے بعددیگرے قریباً کل کے کل دنیا سے اٹھائے گئے۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۵۳ طبع اوّل)

یہ ایک ایسا سفید جھوٹ ہے کہ شاعرانہ مبالغہ بھی اس کی حد تک نہیں پہنچ سکتا۔ واقعات صحیحہ اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ پنجاب میں بڑے مکذب اور سخت مخالف آپ کے اصحاب ذیل تھے:

۱… مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی۔

۲… حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی۔

۳… مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی، مقیم امرتسر۔

۴… مولوی صوفی عبدالحق صاحب غزنوی، مقیم امرتسر۔

۵… شمس العلماء مولوی محمد عبداللہ صاحب ٹونکی، مقیم لاہور۔

۶… مولوی اصغر علی صاحب روحی، مقیم لاہور۔

۷… ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ۔

۸… اور یہ خاکسار ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری۔

جس کی بابت مرزاقادیانی کا خود اقرار ہے کہ: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب جو آج کل ٹھٹھے اور ہنسی اور توہین میں دوسرے علماء سے بڑھے ہوئے ہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۳۰، خزائن ج۲۲ ص۴۶۲)

164

حکیم صاحب! آپ خدا کو حاضروناظر جان کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب مکذبین مر گئے۔ جنگ احد کے روز ابوسفیانؓ کی طرح آپ ان کی موت کی خبر دیں گے تو وہی جواب سنیں گے جو حضرت فاروق اعظمq نے دیا تھا۔

قادیانی مشن کے ممبرو! یہ سب لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔ گویا ان میں سے بعض (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم خان اور ابوالوفاء ثناء اللہ) کی موت کو دیکھنے کی ہوس تمہارا مسیح موعود دل میں رکھتا تھا جس کا اظہار بھی اس نے کئی ایک دفعہ کیا۔ مگر آخرکار نتیجہ وہی ہوا جو قرآن مجید نے بتلایا ہے۔ یعنی ’’لایحیق المکر السیٔ الّا باہلہ‘‘یعنی چاہ کندہ راچاہ درپیش۔

جس کی مختصر کیفیت کسی زندہ دل کے کلام میں یوں ہے:

  1. لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

    کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا

ناظرین! یہ ہیں قادیانی مشن کی ابلہ فریبیاں اور دھوکہ بازیاں کہ واقعات کو ازخود تصنیف کر لیتے ہیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی قادیانی مشن ہی کی ایجاد ہے کہ: ’’اسلام کے کل مخالفوں نے مرزاقادیانی کو سلطان القلم قرار دیا۔‘‘

(صحیفہ آصفیہ ص۱۴)

محض کذب اور صریح جھوٹ ہے۔ سچے ہو تو کسی مخالف کی شہادت لا کے پیش کرو۔ ہاں! ہم بتلاتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مضمون (اسلام گرونانک) کا جواب جو سکھوں نے دیا تھا، اس میں لکھا تھا کہ:

’’مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریرات کسی شریف آدمی کے پڑھنے کے لائق نہیں۔‘‘

شاید قادیانی اصطلاح میں سلطان القلم ہونے کی سند یہی ہے۔ اگر یہی ہے تو ہمیں بھی انکار نہیں۔ ’’لکل ان یصطلح‘‘

مرزاقادیانی کے عقائد

اخیر رسالہ میں ہم مختصر لفظوں میں بتلاتے ہیں کہ مرزاقادیانی اپنے حق میں کیا کہتے تھے:

۱… ’’مسیح موعود میں ہی ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹، خزائن ج۳ ص۱۲۲)

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

165
  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تابہ نہد پابہ منبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

  1. منم مسیح زماں و منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

۵…’’ فلاتقیسونی باحد ولا احد ابی‘‘ (مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ)

(خطبہ الہامیہ ص۱۹، خزائن ج۱۶ ص۵۲)

۶…’’و شمس لا یحجبہا دخان الشماس‘‘ (اوروہ سورج ، جس کو دشمنی کا کینہ اور دھواں چھپا نہیں سکتا)

(خطبہ ص۲۰، خزائن ج۱۶ ص۵۲)

۷…’’انا خاتم الاولیاء لاولی بعدی الا الذی ہو منی‘‘ (میں خاتم الاولیاء ہوں، میرے بعدکوئی ولی نہیں۔ مگر وہ جو مجھ سے ہو گا)

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

۸…’’قدمی ہذہ علٰی منارۃ ختم علیہا کل رفعۃ‘‘ (میرا یہ قدم ایک ایسے منارے پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے، یعنی میں رتبے میں سب سے بڑا ہوں)

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

۹… جو میری بیعت میں آتا ہے وہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کے اصحاب میں شامل ہوتا ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸)

۱۰… قرآن مجید میں جو آیت ہے: ’’یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ اس احمد سے مراد میں ہوں۔

(ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

  1. غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو

    رسول حق باستحکام مرزا

اس کے علاوہ بھی بہت سے عجیب عجیب تعلّی کے خیالات ہیں۔

درخانہ اگر کس است یک حرف بس است

ابوالوفاء ثناء اللہ، امرتسر

مؤرخہ ۱۹؍شوال ۱۳۲۷ھ، مطابق ۳؍نومبر ۱۹۰۹ء

166

فاتح قادیان

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

167

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

رسالہ ہذا سی انعامی رقم مبلغ تین سو روپیہ میں سے چھپ کر مفت تقسیم ہوا تھا جو اس مباحثہ میں فتح یاب ہونے کی وجہ سے مولانا ابوالوفاء کو حسب وعدہ مرزائی گروہ سے وصول ہوئی تھی، اس کے بعد بھی کئی دفعہ چھپا یہاں تک کہ اب چھٹا ایڈیشن ناظرین کے سامنے پیش ہے۔

دیباچہ

ناظرین کو معلوم ہو گا کہ مرزاقادیانی آنجہانی کی زندگی میں ان کا اور مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسری کا مقابلہ کس نوعیت سے تھا۔ یہی کہ مولانا صاحب ان کے کمالات کا ظہور ان اصلی الفاظ میں کرتے ہیں۔ یعنی ان کے الہامات متعلقہ اخبار غیبیہ جو ان کے حق میں مدار کار ٹھہرائے جاتے تھے۔ ان کی تنقید کرتے جس کی مثال میں رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ایک عمدہ نمونہ ہے۔ مرزاقادیانی اس نوعیت سے بڑے گھبرائے تو انہوں نے مندرجہ ذیل اشتہار دیا:

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم، یستنبؤنک احق ہوقل ای وربی انہ لحق!

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علٰی من اتبع الہدیٰ!

مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود وکذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں ہوسکتا۔

168

اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میںہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاخدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یاوحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! بصیروقدیر جو علیم وخبیر ہے۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!

میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی برتر جانتے ہیں، جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت: ’’لا تقف مالیس لک بہ علم‘‘پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب

169

اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعے سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس سے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے،ا س کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین!

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے۔

مرقومہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم؍ربیع الاوّل ۱۳۲۵ھ

عبداللہ الصمد مرزاغلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ واید

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸، ۵۷۹)

اس اشتہار نے مولانا ابوالوفاء پر کیا اثر کیا؟ یہ کہ پہلے تو وہ اخبار اہلحدیث میں کبھی کبھی مرزاقادیانی کے مشن کے متعلق لکھا کرتے تھے، اب تو انہوں نے ایک مستقل رسالہ ماہوار اسی غرض سے جاری کیا جس کا نام تھا: ’’مرقع قادیانی‘‘ جس میں خاص مرزائی مشن کا ذکر ہوتا اور بس!

مرزاقادیانی کے اشتہار مذکور کا نتیجہ کیا ہوا؟ بیان کی حاجت نہیں کہ کاذب صادق کی زندگی میں اس جہان سے چلا گیا۔ مگر مرزاقادیانی کے مرید عناد سے اس اشتہار کو نظرانداز کرتے رہے۔ یہاں تک کہ خدا کے علم میں جو وقت اس مسئلہ کے کھلے فیصلے کا تھا آ گیا۔ یعنی منشی قاسم علی قادیانی جو قادیانی جماعت میں بولنے اور لکھنے والے جوشیلے ممبر ہیں، مولانا ابوالوفاء کے سامنے اس غرض سے آئے کہ ان سے اس اشتہار کے متعلق مباحثہ کریں۔ چنانچہ منشی صاحب نے اپنے اخبار ’’الحق‘‘ میں مولانا موصوف کو چیلنج دیا، جس کو انہوں نے اخبار اہل حدیث یکم؍مارچ۱۹۱۲ء میں قبول کیا۔ اس کے بعد شرائط کے متعلق ترمیم پر معمولی سا اختلاف ہو کر فیصلہ ہوا۔ بڑی شرائط حسب ذیل ہیں:

الف… مباحثہ تحریری ہو گا۔

170

ب… ایک منصف محمدی، دوسرا احمدی (مرزائی)، تیسرا غیرمسلم، مسلم الطرفین سرپنچ!

ج… دونوں منصفوں میں اختلاف ہو تو سرپنچ جس منصف کے ساتھ متفق ہوں گے وہ فیصلہ ناطق ہو گا۔

د… کل تحریریں پانچ ہوں گی۔ تین مدعی کی اور دو مدعا علیہ کی۔

ہ… مولانا ابوالوفاء مدعی اور منشی قاسم علی مدعا علیہ ہوں گے۔

و… مدعی کے حق میں فیصلہ ہو تو مدعا علیہ مبلغ تین سو روپیہ بطور انعام یا تاوان مدعی کو دے گا۔ مدعا علیہ غالب تو اس کو مدعی کچھ نہیں دے گا۔ غرض رقم ایک طرف سے ہو گی۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منشی قاسم علی اور ان کے دوستوں کو کامیابی کا کہاں تک یقین تھا؟ خیربہرحال ۱۵؍اپریل ۱۹۱۲ء کی تاریخ مباحثہ کے لئے مقرر ہوئی اور مقام مباحثہ خود منشی قاسم علی کی تجویز سے شہرلدھیانہ قرار پایا۔

ایک لطیفہ اور قدرتی اسرار

واقعی بات ہے کہ خدا کے اسرار خدا ہی جانتا ہے۔ اشتہار مذکورہ کی تاریخ بھی ۱۵؍اپریل اور اس پر مباحثہ کے لئے بھی ۱۵؍اپریل ہی کا اتفاق ہوا۔ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود دجال کو باب لد میں قتل کریں گے۔ محدثین کہتے ہیں کہ باب لد شام کے ملک میں ایک مقام ہے۔ مگر مرزاقادیانی چونکہ مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے اور پنجاب کے باشندے اور پنجاب سے باہر نہ گئے تھے۔ اس لئے انہوں نے اس حدیث کی تاویل ایسی کی جس سے شہر لدھیانہ کی فضیلت بھی ثابت ہو سکتی ہے اور اس مناظرہ پر بھی روشنی پڑتی ہے۔

آپ نے لکھا ہے: ’’اوّل بلدۃ بایعنی الناس فیہا اسمہا لدھیانۃ وہی اول ارض قامت الاشرار فیہا للاہانۃ فلما کانت بیعۃ المخلصین حربۃ لقتل الدجال اللعین باشاعۃ الحق المبین اشیرفی الحدیث ان المسیح یقتل الدجال علٰی باب اللد باالضربۃ الواحدۃ فاللد مخلص من لفظ لدھیانۃ کما لا یخفی علی ذوی الفطنۃ۔‘‘

(رسالہ الہدیٰ ص۹۲، خزائن ج۱۸ ص۳۴۱ حاشیہ)

یعنی سب سے پہلے میرے ساتھ لدھیانہ میں بیعت ہوئی تھی جو دجال کے قتل کے لئے ایک حربہ (ہتھیار) تھی۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود دجال کو باب لد میں قتل کرے گا۔ پس لد دراصل مختصر ہے لدھیانہ سے۔

171

مرزاقادیانی نے لدھیانہ میں کس دجال کو قتل کیا؟ اس کا تو ہمیں علم نہیں وہ جانیں یا ان کے مرید۔ ہاں! اس سے یہ تو بخوبی ثابت ہوا کہ لدھیانہ کا مقام منتخب ہونا اور فریق ثانی کی تجویز سے ہونا واقعی سر قدرت اپنے اندر رکھتا ہے کہ بقول مرزاقادیانی یہاں دجال قتل ہونا تھا۔

خیر ۱۵؍اپریل ۱۹۱۲ء کو صرف اتنا کام ہوا کہ مبلغ تین صد روپیہ امین صاحب کے سپرد ہوا۔ امانت کے عہدہ کے لئے جناب مولانا محمد حسن صاحب مرحوم رئیس لدھیانہ سے بہتر کوئی نام نہ مل سکتا تھا۔ ہماری جانب سے مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی منصف مقرر ہوئے۔ ان کی جانب سے منشی فرزند علی صاحب ہیڈ کلرک قلعہ میگزین فیروزپور۔

سرپنچ کے متعلق بہت سی گفتگو ہوئی۔ آخرکار یہ خدمت سردار بچن سنگھ صاحب بی۔اے گورنمنٹ پلیڈر لدھیانہ کے سپرد ہوئی۔ جناب موصوف نے بڑی مہربانی سے اس کو قبول فرمایا۔ حق تو یہ ہے کہ سرپنچی کا حق پورا اداء کیا جس کا ذکر آگے آتا ہے۔

۱۷؍اپریل ۱۹۱۲ء کو تین بجے بعد دوپہر کے مباحثہ شروع ہوا۔ فریقین کے چالیس چالیس آدمی داخل یا شامل مباحثہ ہونے تجویز ہوئے تھے۔ مگر آخرکار کوئی روک نہ رہی تو بہت سے لوگ آ گئے۔ گفتگو میں کسی طرح کی بے امنی نہ ہوئی۔ منصف صاحبان نے جلسہ کا انتظام بخوبی رکھا۔ فریقین کی یہی خواہش معلوم ہوتی تھی کہ گفتگو امن وامان سے ہو۔ چنانچہ کسی طرح بے لطفی نہ ہوئی۔ تین بجے سے نو بجے تک جلسہ رہا۔ بحمداللہ!

مرزائی فریق اور ان کے منصف کی خلاف ورزی

بحمد اللہ! ہماری کسی حرکت وسکون پر فریق ثانی کو اعتراض نہیں ہوا۔ مگر افسوس انہوں نے ہم کو بہت سے اعتراضات کا اخلاقی طور پر موقع دیا جو ایک مہذب جماعت کی شان سے بعید ہی نہیں بلکہ بعید تر ہے۔

اوّل… منشی قاسم علی صاحب نے پہلے ہی پرچہ میں ایک عبارت اپنی اور مرزاقادیانی کی نسبت پڑھی جس پر مولانا ابوالوفاء کو شبہ ہوا کہ یہ تحریر میں نہ ہو گی۔ چنانچہ پرچہ حاصل کر کے مولانا نے اس عبارت کی بابت سوال کیا تو جواب ملا کہ ہم نے زبانی کہی تھی۔ اس پر منصف صاحبان کی خدمت میں استغاثہ ہوا کہ معاہدہ یہ ہے کہ کوئی لفظ زبانی نہ ہو۔ اس لئے فریق ثانی تحریری معانی مانگے۔ مگر منشی فرزند علی صاحب منصف مرزائی (احمدی) کی سفارش پر اتنے ہی پر کفایت ہوئی کہ نظرانداز کیجئے۔

172

دوم… شرط مقرر تھی کہ کل بحث کے پانچ پرچے ہوں گے۔ مگر فریق ثانی نے بعد برخاستگی جلسہ (خدا معلوم کس روز اور کس وقت) چھٹا پرچہ بہت بڑا سرپنچ صاحب کی خدمت میں بھیج دیا جو انہوں نے بروقت فیصلہ مولانا ابوالوفاء کو دکھلا دیا۔ جس پر مولانا نے اعتراض کیا اور شامل مثل نہ ہونے دیا۔ اس پرچہ میں بعض الفاظ خلاف شان بھی درج تھے۔

سوم… منشی فرزند علی صاحب نے فیصلہ تو جو دیا وہ آگے درج ہو گا، مگر خلاف شان یہ بات کہ ۱۷؍اپریل کی شب کو انہوں نے وعدہ کیا کہ میں صبح فیصلہ دے کر جاؤں گا۔ مگر جس کا ایفاء انہوں نے یہ کیا کہ صبح چھ بجے چلے گئے۔ مگر فیصلہ نہ دے گئے بلکہ ۲۰؍اپریل کو چاربجے ان کا فیصلہ سرپنچ کے پاس آیا۔ جب کہ مولانا صاحب اور ان کے رفقاء بہت بے تاب ہوکر واپسی کے لئے اسٹیشن لدھیانہ پر آ گئے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی بھاگتے ہوئے آیا کہ مت جاؤ فیصلہ آ گیا ہے۔

چہارم… شرط یہ تھی کہ دونوں منصف خدا کی قسم کھا کر حلفیہ فیصلہ لکھیں گے اور یہ شرط فریق ثانی یعنی احمدی (مرزائی) فریق ہی کی تجویز کردہ تھی۔ مولانا صاحب اس بات سے انکاری تھے کہ اس کی ضرورت نہیں۔ مگر فریق ثانی نے اس کو بہت ضروری سمجھا۔ یہاں تک کہ شرط میں یہ بٹھایا گیا کہ اگر بغیر حلف فیصلہ ہو گا تو بے وقعت سمجھا جائے گا۔ مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ منشی فرزند علی صاحب منصف مرزائی (احمدی) نے اپنے فیصلہ میں حلف نہیں لکھی تاہم مولانا صاحب نے سرپنچ صاحب کو کہا کہ میں ان کی بے حلفی کو بھی منظور کرتا ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ منشی صاحب جیسے مہذب اور فرائض شناس تعلیم یافتہ مرزائی نے یہ بے اعتدالیاں کیوں کیں؟ اس کا جواب ان کا فیصلہ ہی دے سکتا ہے جو آگے درج ہو گا۔ جس کا مختصر مضمون یہ ہے:

  1. رشتہ درگردنم افگندہ دوست

    مے بردہر جاکہ خاطر خواہ اوست

بہرحال مولانا صاحب کی تقریر شروع ہوتی ہے۔

خاکسار: مولوی رضا اللہ ثنائی سرگودھا

بیان مدعی یعنی مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری کا پرچہ نمبراوّل

صاحبان! آج مباحثہ مندرجہ ذیل مضامین پر ہے:

۱… ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزاقادیانی نے دیا تھا۔

۲… خدا نے دعاء مندرجہ اشتہار مذکورہ کی قبولیت کا الہام کر دیا تھا۔

173

صاحبان! مرزاقادیانی نے ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو اشتہار دیا تھا جس کی پیشانی پر لکھا: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ اس کے اندر یہ دعاء کی۔

’’اے میرے مالک! بصیروقدیر جو علیم وخبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر… میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ صاحب میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔‘‘

اس دعاء کے بعد جناب ممدوح نے یہ لکھا ہے: ’’اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸، ۵۷۹)

اس اشتہار میں مرزاقادیانی نے دو دفعہ فیصلہ کا لفظ لکھا ہے۔ فیصلہ بھی کسی ذاتی معاملہ کا نہیں، بلکہ اس معاملہ کا جس کے لئے بقول ان کے خدا نے ان کو مامور کیا تھا۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں: ’’چونکہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں۔‘‘

اب غور طلب بات یہ ہے کہ کیا سلسلہ رسالت ونبوت میں اس کی کوئی نظیر ملتی ہے کہ کسی نبی یا مامور نے کسی معاملہ الٰہیہ میں ازخود ایسی تحدی اور فیصلہ کی صورت شائع کی ہو جس کی تحریک خدا کی جانب سے نہ ہو۔ ہرگز اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس لئے کہ اس قسم کے فیصلہ کا اثر اس کے مشن پر پہنچنا ہوتا ہے، جس کی تبلیغ کے لئے نبی کو خدا مور کر کے بھیجتا ہے۔

چنانچہ جناب ممدوح اسی اشتہار میں لکھتے ہیں: ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔‘‘

مہربانی سے منصف صاحبان سارا اشتہار ایک دفعہ پڑھنے کی تکلیف گوارا فرماویں۔ کوئی ایسا معاہدہ یا اعلان کوئی نبی خدا کی تحریک کے بغیر نہیں کر سکتا، جس کا اثر اس کے اس مشن پر پڑے جس کے لئے وہ مامور ہو کر آیا ہو۔ قرآن مجید میں اس دعویٰ کے ثبوت کی بہت سی آیات ہیں۔ منجملہ چند ایک یہ ہیں:

174

۱…’’ماکان لرسول ان یأتی بایۃ الا باذن اللہ (الرعد:۳۸)‘‘کسی رسول کی طاقت نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشان لاوے۔

۲…’’لوتقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین (معارج:۴۵)‘‘نبی اگر خدا کے ذمہ کوئی بات ازخود کہہ دے تو خدا اس کو ہلاک کر دے۔

۳…’’لیس لک من الامر شیٔ (آل عمران:۱۲۸)‘‘ اے نبی تجھے اختیار نہیں۔

۴…’’ان الحکم الّا ﷲ (انعام:۵۷)‘‘حکم اللہ ہی کے ہاتھ ہے۔

۵…’’ان اتبع الّا مایوحٰی الیّ (انعام:۵۰)‘‘میں (نبی) اس کی تابعداری کرتا ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے۔

۶…’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہوالّا وحی یوحٰی (النجم:۳،۴)‘‘ نبی اپنی خواہش سے نہیں بولتا جو کچھ وحی ہوتی ہے وہی کہتا ہے۔

ان آیات میں جو پچھلی آیت ہے، صرف قرآن مجید ہی کی آیت نہیں بلکہ مرزاقادیانی کا الہام بھی ہے۔ ملاحظہ ہو (اربعین نمبر۲ ص۳۶، اربعین نمبر۳ ص۳۶ خزائن ج۱۷ ص۳۸۵، ۴۲۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمدa دینی معاملہ میں کوئی بات خدا کی وحی کے بغیر نہیں کہتے جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ خدا کی وحی ہوتی ہے۔ یہی معنی اس فقرہ کے بطور الہام مرزاقادیانی ہوں گے کہ مرزاقادیانی کسی دینی معاملہ میں خدا کی تحریک کے بغیر نہیں بولتے۔ مختصر یہ ہے کہ مامور بحیثیت مامور مجبور ہے کہ کوئی بات دینی معاملہ میں ایسی نہ کہے۔ خصوصاً کسی امر کہ کفر اور اسلام میں فیصلہ کن قرار نہ دے۔ جب تک خدا کی طرف سے اجازت نہ ہو۔

یہاں تک تو میں نے عمومات قرآنیہ اور الہامات مرزائیہ سے استدلال کیا ہے۔ اب میں خصوصاً اس امر کے متعلق عرض کرتا ہوں، جس میں نزاع ہے۔ مرزاقادیانی نے ۱۵؍اپریل کو اشتہار مذکور شائع کیا۔ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اخبار بدر میں ان کے الفاظ یہ شائع ہوئے۔

ثناء اللہ: مرزقادیانی نے کہا: ’’یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ، عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے، یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا: ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ صوفیاء کے

175

نزدیک بڑی کرامات استجابت دعاء ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں۔‘‘

(ملفوظات ج۹ ص۲۶۸)

ان الفاظ سے میرے دونوں دعوے ثابت ہوتے ہیں:

الف… اس دعاء کی بنیاد خدا کی طرف سے تھی جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہنا زیبا ہے کہ خدا کے مخفی حکم اور منشاء سے تھی۔

ب… اس دعاء کی قبولیت کا وعدہ تھا۔ اگرچہ اثبات مدعا کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ مگر میں اس کو ذرا اور تفصیل سے بتلانا چاہتا ہوں۔

مرزاقادیانی کا عام طور پر الہام ہے کہ مجھے خدا نے فرمایا ہے: ’’اجیب کلّ دعائک الا فی شرکائک‘‘ (میں (خدا) تیری ہر ایک دعاء قبول کروں گا۔ سوا تیرے شریکوں کے حق میں)

(تریاق القلوب ص۳۸، خزائن ج۱۵ ص۲۱۰)

یہ بھی دعویٰ ہے کہ میرا بڑا معجزہ قبولیت دعاء ہی ہے۔ چنانچہ ان کے آرگن (رسالہ ریویو ج۶ نمبر۵ ص۹۲، بابت مئی ۱۹۰۷ء) سے نقل کرتا ہوں۔

’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) دعاء کی قبولیت کا ایک ایسا قطعی ثبوت پیش کرتے ہیں جو آج دنیا بھر میں کسی مذہب کا کوئی ماننے والا پیش نہیں کر سکتا اور وہ ثبوت یہ ہے کہ وہ خداتعالیٰ کے حضور میں دعاء کرتے ہیں اور اس دعاء کا جواب پاتے ہیں اور جو کچھ جواب میں ان کو بتایا جاتا ہے۔ اس کو قبل ازوقت شائع کر دیتے ہیں۔ پھر ان شائع شدہ امورکے بعد واقعات تائید کرتے ہیں اور یہ تائید ایسی ہوتی ہے کہ جس پر کوئی انسانی کوشش اور منصوبہ پہنچ نہیں سکتا اور ایسے ہی اعجازی اور فوق الطاقت طور پر وہ امر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ وہ مدت سے بات کو شائع کر رہے ہیں کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔‘‘

ہاں! اس میں شک نہیں کہ مرزا کے اشتہار ۱۵؍اپریل میں یہ فقرہ بھی ہے کہ: ’’یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں۔‘‘ اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت مرزاقادیانی کو اس تحریک الٰہی کا علم نہ تھا، جس نے مخفی طور پر ان کے قلب پر یہ اثر کیا تھا۔ جس وقت انہوں نے یہ اشتہار دیا، لیکن بعد میں جب ان کو خداتعالیٰ کی طرف سے بتلایا گیا تو انہوں نے اعلان کیا کہ اس کی بنیاد خدا کی طرف سے ہے۔ میری اس تطبیق کی قطعی دلیل مرزاقادیانی کی وہ تحریر ہے جو میرے خط کے جواب میں بذریعہ ڈاک میرے پاس پہنچنے کے علاوہ اخبار بدر ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء

176

میں چھپی تھی، جس میں یہ الفاظ ہیں: ’’مشیت ایزدی نے حضرت حجت اللہ (مرزاقادیانی) کے قلب میں ایک دعاء کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔‘‘ (ص۲ کالم۱)

اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ اس دعاء کی تحریک ان کے دل میں خدا نے کی تھی۔ یہی معنی ہیں خدا کے حکم سے ہونے کے۔ ممکن ہے اس وقت جناب ممدوح کو اس کا علم نہ ہوا۔ ’’عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتا‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۰، خزائن ج۲۱ ص۳۵۰)

اس لئے ممدوح نے تحریر اوّل میں نفی فرمائی، لیکن بعد کے الہامات اور علامات خداوندی سے ان کو معلوم ہوا کہ اس کی تحریک خدا کی طرف سے تھی اور اس کی قبولیت کا وعدہ بھی تھا۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں اظہار کیا کہ اس کی بنیاد خدا کی طرف سے ہے بلکہ اس کی قبولیت کا الہام بھی شائع کیا:’’اجیب دعوۃ الداع‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے، میں دعاء کرنے والے کی دعاء قبول کرتا ہوں۔ مرزاقادیانی کی توجہ پر یہ الہام ہونا اس بات کی صاف دلیل ہے کہ جناب موصوف کو اس دعاء کی قبولیت کا الہام قطعی ہو چکا تھا۔ مسلمانوں کے اعتقاد میں الہام بالفاظ قرآنی ہو تو بہت زیادہ قوت رکھتا ہے۔ بہ نسبت دیگر الفاظ کے الہام مذکور چونکہ الفاظ قرآنی میں ہے۔ اس لئے قطعی قبولیت کو ثابت کرتا ہے۔ فریق ثانی کو میری یہ تطبیق پسند نہ ہو تو اس اثبات ونفی میں تطبیق دینا ان کا فرض اوّل ہے۔ کیونکہ وہ مرزاقادیانی کے مصدق ہیں اور قرآن میں غلط الہامات کی علامات یہی مذکور ہے کہ ان میں نفی اثبات کا اختلاف ہوتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قائل ایک کلام میں کاذب ثابت ہوتا ہے۔ پس فریق ثانی کا بحیثیت مصدق فرض ہے کہ اس اختلاف میں بپابندی قواعد علمیہ واصول مسلمہ محدثین ومبصرین تطبیق دے۔ ابوالوفاء ثناء اللہ بقلم خود!

جواب دعویٰ یعنی منشی قاسم علی احمدی قادیانی کا پرچہ نمبراوّل

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رب یسروتمم بالخیر!

جناب مولوی فاضل صاحب نے اپنے مضمون کو جس تمہید سے شروع کیا ہے، اس سے نفس دعویٰ مولوی صاحب کو کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام وعظ ولیکچرار اس دعویٰ کو کہ: ’’۱۵؍اپریل والا اشتہار مرزاقادیانی نے بحکم خداوند دیا تھا اور دعاء مندرجہ اشتہار مذکور کی قبولیت کا خدا نے وعدہ فرمایا تھا۔‘‘ کسی طرح بھی ثابت نہیں کرتا۔

177

مولوی صاحب یعنی مدعی کا فرض تھا کہ وہ اپنا دعویٰ دو طرح سے ثابت فرماتے۔ اوّل ایسا حکم منجانب اللہ! وہ اس اشتہار کے متعلق پیش کرتے جس میں مرزاقادیانی کو خدا نے یہ حکم دیا ہوتا کہ تم ایسی درخواست ہمارے حضور میں پیش کرو یا مرزاقادیانی نے کہیں فرمایا ہوتا کہ اشتہار مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء میں نے حسب الحکم خداوند کریم شائع کیا ہے جب کہ یہ دونوں صورتیں مولوی صاحب نے پیش نہیں فرمائی ہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ دعویٰ کس طرح ثابت ہو گیا کہ ۱۵؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی تھا۔ نہ کوئی حکم خداوندی اس کے متعلق موجود ہے نہ مولوی صاحب نے ایسا حکم پیش فرمایا ہے۔ ہاں! مولوی صاحب نے خصوصیت کے ساتھ اس امر کے متعلق دو دلیلیں پیش کی ہیں جو ایک تو بدر مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کی ہے۔ دوسری بدر ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء کی جس سے آپ نے بخیال خود یہ ثابت فرمایا کہ ۱۵؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی تھا اور وہ دلیلیں یہ ہیں:

۱… ۲۵؍اپریل کے بدر میں مرزاقادیانی کی کلام شائع ہوئی ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ مرزاقادیانی نے یہ فرمایا کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھاگیا ہے، وہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

۲… ۱۳؍جون کے بدر میں جو خط ایڈیٹر صاحب بدر نے بجواب مولوی صاحب شائع کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: ’’مشیت ایزدی نے مرزاقادیانی کے قلب میں ایک دعاء کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔‘‘

ان دونوں دلیلوں سے اپنا دعویٰ آپ اس طرح ثابت فرماتے ہیں کہ چونکہ اشتہار ۱۵؍اپریل میں والے کے بعد ۲۵؍اپریل کے بدر میں مرزاقادیانی نے ایسا فرمایا ہے کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھاگیا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے ہے۔ پس بعد شائع کر دینے اشتہار کے مرزاقادیانی کو خدا نے بتادیا کہ یہ اشتہار میرے حکم سے ہے۔ سو اس کا جواب تو یہ ہے کہ:

دعویٰ مولوی صاحب نے فرمایا کہ ۱۵؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی دیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اشتہار دینے سے پہلے وہ حکم مرزاقادیانی کو ملا ہو گا، جس کی بناء پر اشتہار دیاگیا اور عقل بھی اس کی مقتضی ہے کہ حکم پہلے ہو تعمیل اس کے بعد میں ہونی چاہئے۔ مگر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں تعمیل تو پہلے ہی مرزاقادیانی نے کر دی تھی۔ گو حکم بخیال

178

مولوی صاحب ۱۵؍اپریل والی تعمیل کا ۲۵کو بعد میں صادر ہوا تھا۔ حیرت ہے کہ ایسی نظیر غالباً کسی جگہ نہیں ملے گی کہ حکم سے پہلے ہی تعمیل ہو جائے اور حکم تعمیل کو دیکھنے کے بعد حاکم کی طرف سے صادر ہو۔

بہرحال مولوی صاحب یہ خود مانتے ہیں کہ اشتہار ۱۵؍اپریل والے میں تو بے شک یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ اشتہار کسی حکم کی بناء پر نہیں بلکہ میری طرف سے بصورت درخواست یا عرضی کے ہے اور یہ بھی مولوی صاحب تسلیم فرماتے ہیں کہ جس وقت اشتہار دیاگیا، اس وقت تو ان کو یہ علم نہیں تھا کہ میں خدا کے کسی حکم کی تعمیل کر رہا ہوں۔ بعد تعمیل حکم حاکم نے ان کو بتایا کہ یہ ہمارے حکم سے تم نے اعلان کیا ہے۔ پھر مرزاقادیانی نے بھی فوراً شائع فرمادیا کہ یہ درخواست میری خدا کے حکم کے مطابق ہے جس کا آج پتہ لگا ہے۔ سبحان اللہ! کیا عجیب استدلال ہے کہ حکم دس روز بعد دیا جائے یا دس روز بعد اس کا پتہ لگے۔ مگر ملازم یا خادم قبل صدور حکم کی تعمیل کر کے رکھ دے۔ لہٰذا یہ استدلال دعویٰ مولوی صاحب کو کسی طرح بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ اس میں کہیں یہ بھی تو نہیں لکھا کہ ۱۵؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی دیا گیا ہے۔ ۲۵؍اپریل کے بعد میں صرف اتنا لکھا ہے کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھاگیا ہے، وہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔ ۱۵؍اپریل والے اشتہار میں لکھا جانا اس میں کہاں درج ہے۔ دعویٰ تو ۱۵؍اپریل والے اشتہار کے متعلق ہے جو خاص ہے اور دلیل ایک عام پیش کرتے ہیں، جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یوم تقریر سے پیشتر جو لکھاگیا ہے۔ اس کا منجانب اللہ بنیاد رکھا جانا بتایا ہے۔ دوم ۱۳؍جون والے بدر میں جو لفظ ’’مشیت ایزدی‘‘ ہے۔ اس سے مولوی صاحب اس اشتہار کا بحکم خداوندی دیاجانا ثابت کرتے ہیں جو یہ بھی درست نہیں۔ مشیت ایزدی کو تو رضا الٰہی بھی مستلزم نہیں۔ چہ جائیکہ وہ بحکم خداوندی ہو۔ مولوی صاحب نے ترک اسلام کے ص۳۵ پر مشیت اللہ کے متعلق یہ تحریر فرمایا ہے: ’’مشیت اللہ خدا کے قانون مجریہ کا نام ہے جو خدا کی رضا کو مستلزم نہیں۔‘‘ اور ہم بلند آواز سے کہتے ہیں کہ: ’’زانی زنا کرتا ہے تو اس کی مشیت سے کرتا ہے۔ چور چوری کرتا ہے تو اس کے قانون سے کرتا ہے۔‘‘

(ص۳۵ )

پھر میں نہیں سمجھتا کہ مشیت ایزدی کو رضاء الٰہی کا لازم نہ ہونا مان کر بھی صرف لفظ مشیت ایزدی سے اپنا دعویٰ ثابت کر دیا جائے کہ یہ اشتہار بحکم خداوندی تھا۔ مشیت ایزدی

179

سے تو زنا اور چوری بھی منسوب ہوسکتی ہے۔ اگر مرزاقادیانی کے اشتہار مشیت ایزدی سے دیا جانا لکھا ہے تو اس کو رضاء الٰہی کیوں سمجھ لیاگیا۔ والسلام!

اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ ڈائری مؤرخہ ۲۵؍اپریل مرزاقادیانی کے اشتہار ۱۵؍اپریل والے کے متعلق ہے تو بے شک اس میں مولوی صاحب سچے ہوں گے اور میں جھوٹا ہوا۔ کیونکہ جب خدا نے ہی اشتہار اپنے حکم سے دلوایا اور پھر اس کے متعلق منظوری کا اعلان بھی کردیا تو ایسی صورت میں مرزاقادیانی ہی کا معاذ اللہ! (ابھی معاذ اللہ باقی ہے۔ منیجر) جھوٹا ہونا لازم آتا ہے۔

پس نہ تو بدر مؤرخہ ۲۵؍اپریل سے یہ ثابت ہوا کہ وہ ۱۵؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی تھا نہ ۱۳؍جون کے لفظ مشیت سے یہ مدعا نکلا۔ کیونکہ مشیت میں رضاء الٰہی کی ضرورت نہیں تو پھر حکم کیسا؟ دوسرا دعویٰ کہ اس کی قبولیت کا الہام ہو چکا تھا نہ ہی مرزاقادیانی کی اس ڈائری مندرجہ بدر مؤرخہ ۲۵؍اپریل سے ثابت کیاگیا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ: ’’اجیب دعوۃ‘‘پس خدا نے دعاء قبول فرمالی۔ گویا اب مکمل تعمیل ہو گئی۔ پہلے تو خدا کے حکم سے اشتہار دیا پھر خدا نے دعاء مندرجہ اشتہار کی قبولیت کا الہام بھی کر دیا۔ فیصلہ شد! مگر میں اس کو سراسر واقعات کے خلاف ثابت کرتا ہوں۔

۱… یہ تمام مغالطہ مولوی صاحب کو اس ڈائری کے ۲۵؍اپریل والے بدر میں شائع ہونے سے پیدا ہوا ہے جو کہ دراصل ۲۵؍اپریل کی نہیں۔ اس لئے ۲۵؍اپریل کے بدر میں جو تقریر مرزاقادیانی کی ڈائری سے مولوی صاحب نے اپنے استدلال میں پیش کی ہے، وہ دراصل ۲۵؍اپریل کی نہیں بلکہ ۱۴؍اپریل کی ہے جو اشتہار سے ایک روز پیشتر کی ہے۔ جس حالت میں کہ اشتہار اس تقریر سے پہلے لکھا ہی نہیں گیا تھا، تو اس کی نسبت تقریر ایک روز پہلے کی ہے، کیونکر ہو سکتی ہے۔ اشتہار ۱۵؍اپریل کو ہی لکھا اور ۱۸؍اپریل کو شائع کیا۔ ڈائری مذکور ۱۴؍اپریل کی اور الہام مذکور ۱۳، ۱۴؍اپریل کی درمیانی شب کا ہے تو گویا نہ الہام کے وقت نہ اس تقریر کے وقت جو ۱۴؍اپریل عصر کے ہے۔ یہ اشتہار لکھا تو پھر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس تقریر کا تعلق اس تحریر سے ہے جو تقریر سے ایک روز اور الہام سے قریباً دو روز بعد کہی گئی۔ باقی میں دوسرے پرچہ میں لکھوں گا۔ مولوی صاحب نے جو دلائل علاوہ ازیں لکھنے ہوں وہ بھی لکھ دیں۔ کیونکہ مجھے پھر بجز دوسرے پرچہ کے جواب کا موقعہ ان کے متعلق نہیں ہوسکتا۔

(قاسم علی مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۱۲ء)

180

پرچہ مدعی نمبر۲ (یعنی ثنائی پرچہ نمبر۲)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی!

جناب منصف صاحبان ومنشی قاسم علی صاحب! میری تمہید کو آپ نے بے تعلق بتلایا۔ حالانکہ وہ ایک عام قانون کی شکل میں تھی، جس کے پیچھے تمام دنیا کی جزئیات داخل ہوا کرتی ہیں۔ یہ طریقہ قانون اور شریعت دونوں میں مروج ہے۔ بہرحال جو کچھ آپ سے بن پڑا کہا۔ آپ نے زور دیا کہ ۲۵کے بدر میں ۱۴تاریخ کی ڈائری ہے مگر میرے مخاطب صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ثناء اللہ کی بابت جو لکھاگیا جس کی قبولیت کا جناب باری تعالیٰ نے مرزاقادیانی سے وعدہ فرمایا تھا،ا س کا نشان نہیں دیا۔ میرے مخاطب کا فرض تھا کہ ۱۴تاریخ کی ڈائری والا مضمون بتلاتے۔ ان ڈائری نویسوں کا تو یہ حال ہے کہ ۱۴تاریخ کی ڈائری لکھ کر صفحہ۸ پر ۱۱تاریخ کی لکھ دی۔ اگر دنیا میں کوئی مقام ایسا ہے کہ ۱۵ اور ۱۴ تاریخ کے بعد ۱۱آتی ہو تو یہ بھی علی الترتیب ہو سکتی ہے۔ میں بتاتاہوں کہ اشتہاروں کے لکھنے کا اور اشاعت کا طریق کیا ہوتا ہے۔ ۱۵تاریخ کا اشتہار ہے اور ۱۷تاریخ کے الحکم میں شائع ہوتا ہے۔ اخباروں کے مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ اخبار ہندوستان وطن وغیرہ کی تاریخ اشاعت جمعہ ہے۔ مگر عموماً جمعرات کو پہنچ جاتے ہیں۔ لہٰذا ۱۷تاریخ کے الحکم کو ایک روز آنے میں دیر ہوئی ہو گی۔ یہ سب ڈائری ملا کر ۱۴ کی ڈائری اسی اخبار الحکم میں لکھی گئی ہو گی اور وہ مرزاقادیانی کی لکھی ہوئی ہے۔ بھلا خود فرمائیے کہ ۱۵کا اشتہار کتابت کب ہوا۔ پریس میں کب گیا اور پھر کب چھپ کر تیار ہوا؟

۱۸تاریخ والا اخبار کم سے کم ۱۲تاریخ کو لکھا جاتا ہے۔ خصوصاً مرزاقادیانی کی طرز تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ جناب ممدوح اپنے مسودوں کو دو دو چار چار مہینے پہلے لکھا کرتے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پیغام صلح جو لاہور میں ان کے انتقال کے بعد پڑھا گیا تھا۔ خواجہ کمال الدین کو چند متفرق یاداشتوں کی صورت میں نوٹ ملے تھے۔ علاوہ اس کے جناب موصوف کی یہ بھی عادت تھی کہ مضمون میں بہت کچھ ردوبدل کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ پتھر پر بھی کانٹ چھانٹ کرتے تھے۔ پریس کا تجربہ رکھنے والے اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ مصنف کی عبارت کی نوعیت اس وقت تک نہیں بدلتی۔ جب تک کہ کانٹا چھانٹا نہ جائے۔

181

آپ فرماتے ہیں کہ مشیت اللہ سے تمام کاروبار ہوتے ہیں۔ چوری کرنا، زنا وغیرہ سب پر ہوتا ہے تو کس طرح استدلال کر سکتے ہو۔ میرے دوست خط کے الفاظ سامنے ہیں۔ میں اپنے خط کا مختصر مضمون پہلے سناتا ہوں۔ مرزاقادیانی نے اشتہار دیا تھا کہ میں نے کتاب حقیقت الوحی لکھی ہے۔ اس میں مباہلہ کے لئے تمام عالموں کو دعوت دی ہے اور شرائط مفصل لکھی ہیں۔ جس کو وہ کتاب نہ ملی ہو وہ منگوا لے۔ چونکہ اس میں میرا ذکر بھی تھا۔ اس لئے میں نے عریضہ لکھا کہ کتاب مذکورہ بھیجئے تاکہ حسب منشاء آپ کے مباہلہ کی تیاری کروں۔ اس خط کا جواب آیا کہ آپ کا رجسٹری شدہ کارڈ ۳؍جون ۱۹۰۷ء کو حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پہنچا… یہ الفاظ مفتی محمد صادق صاحب کے بحیثیت سررشتہ دار مرزاقادیانی کے ہیں۔ گو میرے دوست نے یہ کھلے لفظوں میں نہیں کہا کہ یہ خط مفتی صاحب کا ہے۔ مرزاقادیانی کا نہیں لیکن بطور پیش بندی کہتا ہوں کہ خط مذکور بطور سررشتہ داری کے ہے۔ ورنہ میرے مخاطب تو مرزاقادیانی تھے۔

چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ’’آپ کا خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پہنچا جس کے جواب میں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کی طرف حقیقت الوحی بھیجنے کا ارادہ اس وقت ظاہر کیاگیا تھا، جس وقت مباہلہ کے واسطے لکھاگیا تھا۔ تاکہ مباہلہ سے پہلے پڑھ لیتے۔ مگر چونکہ آپ نے اپنے واسطے تعین عذاب کی خواہش ظاہر کی اور بغیر اس کے مباہلہ سے انکار کر کے اپنے لئے فرار کی راہ نکالی۔ اس واسطے مشیت ایزدی نے آپ کو اور راہ سے پکڑا اور حضرت حجتہ اللہ مرزاقادیانی کے قلب میں آپ کے واسطے ایک دعاء کی تحریک کی اور دوسرا طریق اختیار کیا۔‘‘

منشی صاحب اس تحریک کو جو مشیت خداوندی سے مرزاقادیانی کے دل میں ہوئی دنیا کی دوسری باتوں سے مشابہت دیتے ہیں۔ میں ایسا کرتا تو مجھ سے بدتہذیبی کی وجہ سے معافی منگائی جاتی۔

میرے دوست! ایک ایسا بزرگ اور مدعی جس کا دعویٰ ہے:’’انا خاتم الاولیاء لا ولی بعدی‘‘میں خاتم الاولیاء ہوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہ ہو گا۔

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

جس کا یہ وعدہ ہے کہ میرا قدم ایک ایسے منارے پر ہے جو اس پر ہرایک بلندیاں ختم ہو چکیں۔

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

182

جس کا یہ دعویٰ ہو کہ میرے مقابل کسی قدم کو قرار نہیں۔ جس کا یہ دعویٰ ہو کہ دعاء کا قبول ہونا اوّل علامت اولیاء اللہ میں سے ہے۔

(تریاق القلوب ص۲۳، خزائن ج۱۵ ص۱۷۱)

اس کی دعاء کو جو خدا کی تحریک سے اس کے دل میں پیدا ہو، آپ دنیا کی دیگر بدکاریوں سے مشابہت دیتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کیا جواب ہوسکتا ہے۔ خیر میں اس کا جواب اسلامی لٹریچر سے دیتا ہوں۔ انبیاءؑ کے دلوں میں جو خدا کی طرف سے کسی مذہبی فیصلہ کے لئے تحریک ہوتی ہے تو وہ وحی الٰہی سے ہوتی ہے۔ یہی معنی ان کے معصوم اور بے گناہ ہونے کے ہیں۔ اس مضمون کے ثابت کرنے کے لئے میں نے تمہید بیان کی تھی۔ جس کو آپ نے بے تعلق کہہ کر چھوڑ دیا۔ اگر آپ نے کتاب صحیح بخاری پڑھی ہوتی تو آپ تصدیق کرتے کہ عمومات قرآنیہ اور حدیثیہ سے مسائل کا ثبوت کیسے دیا جاتا ہے۔ مرزاقادیانی بھی اس طریق استدلال کو اپنی تصانیف میں عموماً استعمال کرتے ہیں۔ جہاں کہیں قرآن شریف میں ذکر آتا ہے کہ ہم نے پہلے کسی آدمی کے لئے ہمیشگی نہیں کی، کسی آدمی کے بغیر کھانے پینے کے پیدا نہیں کیا تو مرزاقادیانی فوراً حضرت مسیحm کی موت کا ثبوت دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طریق کا استدلال کرنا پرانا معقولی اور اصولی طریقہ ہے۔ کیا آپ کو یاد نہیں امرتسر کے مباحثہ عیسائیاں میں مرزاقادیانی کے دلائل کی نوعیت کیا تھی؟ یہی کہ عام حالت حضرات انبیاءؑ کی جو قرآن شریف میں بیان کی گئی ہے، جس میں حضرت مسیحm کا کوئی خاص ذکر نہیں، بطور اصول موضوعہ لے کر جناب مسیحm کی الوہیت کو باطل کیا۔ بہرحال اسلامی لٹریچر سے واقف اور سننے والے ان الفاظ کو سنتے ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک مامور کے دل میں منجانب اللہ! تحریک ہونا یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ کفر اور اسلام کے متعلق فیصلہ متحدیانہ کا چیلنج دینا بغیر وحی خدا اور الہام کے نہیں ہوتا۔ یہی مضمون آیت کریمہ: ’’لوتقول علینا بعض الاقاویل‘‘ کا ہے۔ میں نے آیت قرآنیہ کے علاوہ مرزاقادیانی کا الہام بالفاظ قرآن بھی لکھوایا تھا کہ جناب موصوف کو کئی ایک مقامات پر الہام ہوا ہے: ’’ما ینطق عن الہویٰ ان ہوالا وحی یوحیٰ‘‘

(تذکرہ ص۳۰۹، طبع چہارم)

جس کا مطلب میں نے صاف لفظوں میں بتلایا تھا کہ مرزاقادیانی کی نسبت بقول ان کے خدا فرماتا ہے کہ مرزاقادیانی بغیر وحی کے نہیں بولتے۔ اس آیت اور الہام کی تفسیر بتلانے میں میں نے دینی معاملہ کا لفظ بڑھایا تھا۔ کیونکہ انبیاءؑ اور ماموران باری تعالیٰ کو

183

اپنی ضروریات طبعیہ میں بولنے کے لئے وحی یا الہام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دینی معاملہ میں بغیروحی کے نہیں بولتے۔ خصوصاً کسی ایسے معاملہ کی نسبت جو اشد مخالفوں کے سامنے بطور فیصلہ ظاہر کیا جائے۔ مرزاقادیانی مجھ کو اپنے مخالفوں میں بڑھا ہوا مخالف خیال کرتے ہیں۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص۳۰، خزائن ج۲۲ ص۴۶۲)

دوستو! خود ہی غور کرو۔ مثنیٰ وفرادا غور کرو۔ خلوت اور جلوت میں غور کرو۔ ایک ایسے اشد مخالف کے مقابلہ میں ایک مامور خدا فیصلہ کی صورت شائع کرتا ہے اور اس کی بابت قرار کرتا ہے کہ مشیت ایزدی سے یہ تحریک میرے دل میں ہوئی۔ اس کو آج منشی قاسم علی صاحب دنیا کے دیگر واقعات مثلاً زنا، چوری وغیرہ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ہمارے ثانی پریذیڈنٹ خصوصاً اس خیال کو ملحوظ رکھیں۔ شروع میں آپ نے عجیب منطق سے کام لیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں ایسا ہونا چاہئے تھا کہ مرزاقادیانی کو پروردگار حکم دیتا کہ ہمارے حضور میں درخواست پیش کرو۔

پیغمبر اسلامm کی جتنی پیشگوئیاں موجود ہیں جن کو آپ بھی کفرواسلام کے مباحثہ میں پیش کیا کرتے ہیں کیا کوئی ایسی آیت حدیث دکھا سکتے ہیں کہ نبیm کو حکم ہوا ہو کہ تم میرے سامنے درخواست پیش کرو۔ درخواست کی ضرورت ہے تو آپ اٹھتے ہی اس آیت کی تفسیر کر دیجئے، جس میں روم (سلطنت) کے مغلوب ہونے اور مغلوب کے بعد غالب ہونے کی پیش گوئی مذکور ہے۔ کیا یہ پیش گوئی قرآنی فیصلہ نہ تھا۔ جناب پیغمبر خداm نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ ابوجہل یہاں گرے گا۔ فلاں وہاں گرے گا۔ کیا اس کے لئے کوئی درخواست تھی؟ دوسرا یہ کہ بقول آپ کے ایسا ہوتا کہ: ’’اشتہار مؤرخہ ۱۵؍اپریل میں (مرزا قادیانی) نے حسب الحکم خدا شائع کیا۔‘‘ خدا کاشکر ہے کہ صدارت کی کرسی پر تینوں صاحب ذی علم وصاحب فضل ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ علم بیان میں ایک مضمون مختلف عبارات اور مختلف اشاروں سے ادا کیا جاتا ہے۔ مضمون ادا کرنے والے کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تم نے اس طریق سے کیوں ادا نہیں کیا۔ ایک مضمون مختلف الفاظ میں ادا ہو سکتا ہے۔ میرے پیش کردہ حوالوں کو غور سے ملاحظہ کر کے انصاف کریں کہ ان الفاظ سے منجانب اللہ ہونا پایا جاتا ہے یا نہیں۔

درخانہ اگر کس است یک حرف بس است

ابوالوفاء ثناءاللہ بقلم خود

184

پرچہ مدعا علیہ نمبر۲ (یعنی قاسم علی پرچہ دوم)

عالی جناب پریذیڈنٹ صاحب ومیر مجلسان ومولوی صاحب! آپ کا دعویٰ جو بحروف جلی ایک بورڈ کے اوپر لکھ کر سامنے لگا دیاگیا ہے، وہ یہ ہے کہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزاقادیانی نے دیا تھا۔ دوسرا دعویٰ خدا نے الہامی طور پر جواب دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعاء قبول فرمالی۔ یہی دعویٰ آپ نے اپنے پہلے پرچہ میں پہلے ہی صفحہ پر تحریر فرمایا ہے۔ اس کے ثبوت میں آپ کی طرف سے جو علم بیان کے قاعدہ ہے یا آپ کے کسی خاص قانون سے اس طریق سے ایسے خاص دعویٰ کا استدلال بھی ہوکر ثابت کیا جاسکتا ہے اور عدالت اس قسم کے دلائل پر ہی غور کر کے آپ کے دعویٰ کو ثابت شدہ تسلیم کرنے کے بعد ۲۰پونڈ یا ۳۰۰روپیہ آپ کو دے سکتی ہے تو میرے خیال میں کسی قانون شہادت وغیرہ کی بھی گورنمنٹ کو ضرورت نہیں رہنی چاہئے۔ یہ ایک بدیہی بات آپ کے سامنے پیش کی گئی ہے کہ اشتہار ۱۵؍اپریل والا ۱۷؍اپریل کے الحکم اور ۱۸؍اپریل کے بدر میں شائع ہوا اور اس اشتہار کے نیچے دونوں اخباروں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ مرقومہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء اگر اس اشتہار کو ۱۵؍اپریل سے اوّل کا سمجھا جاتا تو ایک امر واقعہ کے مقابلہ میں اس کے سامنے کوئی قیاسی دلائل پیش نہیں ہونے چاہئیں۔ اس اشتہار کے بحکم خداوندی دینے پر آپ نے ۲۵؍اپریل کے بدر کی ڈائری پیش فرما کر یہ ثابت کرنا چاہا کہ تحریر اشتہار سے تقریر ۲۵؍اپریل چونکہ بعد کی ہے، اس لئے ثابت ہوا کہ اس تقریر کا تعلق اسی ۲۵؍اپریل والے اشتہار سے ہے۔ دوسری دلیل اس کے بحکم خداوندی ہونے کی آپ نے ۱۳؍جون کے اخبار بدر کے ایک فقرہ سے جس میں مشیت ایزدی سے اس دعاء کا مرزاقادیانی کے قلب میں آنا لکھا ہے، محض ایک لفظ مشیت پر آپ اس کو بحکم خداوندی فرماتے ہیں۔ حالانکہ لفظ مشیت آپ کے مسلمہ معنوں کے لحاظ سے جن کی تشریح آپ نے اپنی کتاب ترک اسلام بجواب دھرم پال میں یہ کی تھی کہ مشیت ایزدی کے لئے خدا کی رضامندی کا ہونا ضروری نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ خدا کے ارادہ اور مشیت سے ہورہا ہے۔ زانی زنا کرتا ہے۔ چور چوری کرتا ہے تو بھی خدا کی مشیت سے کرتا ہے۔ یہ آپ کی تشریح مشیت کے متعلق بروئے شرط نمبر۱۴ آپ کے مسلمات سے کی گئی۔ جس کو آپ نے ہماری مسلمہ کہہ کر فرمایا کہ مرزاقادیانی کے اشتہار اور الہام کو میں زنا اور چوری کے ساتھ مشابہت دیتا ہوں۔

185

حالانکہ یہ مرزاقادیانی کے الہام وغیرہ کے متعلق نہیں بلکہ آپ نے جو مشیت کے لفظ سے اپنا یہ دعویٰ کیا کہ اشتہار بحکم خداوندی دیا تھا، ثابت کرنا چاہا۔ اس کے باطل کرنے کے لئے میں نے آپ کو توجہ دلائی کہ مشیت کے واسطے تو رضامندی الٰہی بھی ضروری نہیں۔ چہ جائیکہ اسے حکم خداوندی کہا جائے۔ ڈائری کے متعلق آپ نے جو اعتراض فرمایا ہے کہ وہ غیرمسلسل ہے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ڈائری کسی پٹواری یا گرد اور قانون گویا نائب تحصیل دار بندوبست کی نہیں ہے کہ جس نے ٹریول (سفر) کر کے ٹریولنگ الاؤنس حاصل کرنا ہو۔ یہ ڈائری ایک ریفارمر کی ہے۔ یہ ڈائری ایک قوم کے پیشواء کی ہے جس کی قوم کو اس کی تقریروں اور تحریروں کا پہنچانا سب سے بڑا ضروری فرض ان آرگنوں کا ہے جو اس کے مشن والوں کی طرف سے شائع ہوتے ہیں۔ وہ لوگ مختلف ڈائریوں کو جس کو اس کے مختلف مرید مختلف تاریخوں میں لکھتے تھے اور جب کبھی اخبار والوں کو دیتے تھے، تب ہی وہ اس کو شائع کر دیتے تھے۔ بس ان کا رف کام یہ تھا کہ جس تاریخ کو کوئی ڈائری ہو، کوئی تقریر ہو اس تاریخ کو اوّل میں لکھ دیں۔ یہ خاص اسی اخبار میں نہیں بلکہ اگلے اور پچھلے پرچوں میں بھی اندارج ڈائری کا ایسا ہی سلسلہ رہا ہے۔ خود ۲۵؍اپریل کے بدر میں ص۴ کے اوپر ایک ڈائری شروع ہوئی جو ۲۱؍اپریل کی ہے اور پھر صفحہ۷ پر ۱۵؍اپریل کی ڈائری شروع ہوئی ہے تو آپ کے اس اعتراض کا کہ ۲۱ کے بعد ۱۵ آسکتی ہے؟ جواب دینا ایک ایسے شخص کے لئے کہ جو اپنا دستور نہ صرف آپ کی وجہ سے بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہی جانتا ہے، ضروری نہیں۔ ۹؍مئی کے بدر میں صفحہ۴ پر بقیہ ڈائری ۲۵؍اپریل کی شروع ہوئی ہے اور وہ ۱۱؍اپریل کی ہے۔ مگر اس کے صفحہ۵ پر اپریل کے بعد ۲۰؍مارچ ہوئی ہے تو کیا اپریل کے بعد مارچ آیا کرتا ہے؟ پس ڈائری کا غیرمسلسل ہونا آپ کے اثبات دعویٰ کے واسطے موجود دستور کے مطابق کوئی مفید نہیں ہوسکتا۔ پس اشتہار ۱۵؍اپریل کو لکھا گیا۔ ۱۷، ۱۸؍اپریل کو شائع ہوا اور یہ ڈائری ۱۴؍اپریل کی ہے جس کو اشتہار مذکور سے عقلاً یا قانوناً یا شرعاً کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک فیکٹ ہے، ہو گا، یا ہو گی یا مرزاقادیانی کا یہ دستور تھا کہ پہلے ہی لکھ لیتے تھے یا پتھروں پر کاٹ دیتے تھے۔ وہ کچھ کرتے تھے، موجودہ دعویٰ جس دستاویز کی بناء پر آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ مشکوک یا جعلی نہیں ہے۔ الہام جو اس ڈائری میں درج ہے: ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘جس کی بناء پر آپ اس دعاء اشتہار والی کو قبول شدہ یا وعدہ قبولیت قرار دیتے ہیں۔ یہ الہام

186

۱۷؍اپریل کے الحکم اور ۱۸؍اپریل کے بعد کے ص۲،۳ پر ۱۴تاریخ کو ہو چکا ہو لکھا گیا ہے۔ پس ۱۴تاریخ کو جب الہام کا ہونا بدر الحکم میں شائع ہو چکا ہے، اس کو ۱۵تاریخ کے کاغذ کے متعلق قرار دینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔

جناب پریذیڈنٹ ومولوی صاحب! یہ اشتہار جو اس وقت متنازعہ ہے، اس کی اصلیت کیا ہے؟ اس کی اصلیت خود اشتہار کے اندر لکھی ہوئی ہے اور وہ الفاظ میں ہے کہ یہ کسی وحی یا الہام کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ یہ ایک درخواست ہے۔ یہ ایک استغاثہ ہے۔ ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کے خلاف، تمام حاکموں کے حاکم کے حضور اور اس سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ مجھ میں ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔ یہ کوئی قطعی فیصلہ نہیں، یہ کسی حکم الٰہی کے ماتحت نہیں۔ یہ کسی الہام کی پر نہیں بلکہ ایک شخص جو اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا ہے وہ عدالت میں داد خواہ ہوتا ہے۔ یہ امر کہ اشتہار مذکور الہامی نہیں۔ آپ نے ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اہل حدیث میں خود بھی تسلیم کیا ہے کہ اس مضمون کو بطور الہام کے شائع نہیں کیا جو اسی اشتہار کے جواب میں ہے۔ پس اس اشتہار کی حیثیت ایک استغاثہ یا عرضی دعویٰ کی ہے۔ اس اشتہار میں جو استدعا کی گئی ہے جس کو آپ نے صورت فیصلہ سے نامزد کیا ہے، اس کے متعلق اور اس دعاء کے متعلق ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اہل حدیث میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ تمہاری یہ دعاء کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہوسکتی اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔ یہ امور میں نے محض اس لئے لکھائے ہیں کہ آپ نے بارہا مرزاقادیانی کی قبولیت دعاء کے متعلق بڑا زور دیا ہے۔ ورنہ نفس مقدمہ متنازعہ سے اس کو چنداں تعلق نہیں۔ مرزاقادیانی نے جب خود درخواست مذکورمیں ہی لکھ دیا ہے کہ یہ الہامی یا وحی جس کو آپ حکم یا الہامی نام سے تعبیر فرماتے ہیں کسی بناء پر نہیں۔ ادھر ۲۵؍اپریل والے اخبار کی ڈائری اشتہار سے ایک روز پہلے کی ادھر خود ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اہل حدیث میں آپ نے بھی اس کو غیرالہامی مان لیا ہے، پھر کیونکر یہ دعویٰ ثابت ہو سکتا ہے کہ اشتہار مذکور بحکم خداوندی تھا، جس کو آپ الہام کے معنوں میں لیتے ہیں۔ جیسا کہ ۹؍فروری ۱۹۱۲ء کے اخبار اہل حدیث میں ص۷ کالم۳ پر آپ نے یہ لکھا ہے۔ مرزاقادیانی کو خدا نے الہام کیا کہ امت مرحومہ کو ایک واضح راستہ دکھاؤ۔ اس لئے مرزاقادیانی نے بحکم خداوندی ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار دیا۔ پس الہام کی

187

بناء پر یہ اشتہار دیاگیا نہ کوئی الہام اس اشتہار والی دعاء کی قبولیت کا پہلے یا پیچھے ہوا۔ آپ نے ایک بات فرمائی ہے کہ ڈائری میں چونکہ کسی پہلی تحریر کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے تو مجھ سے آپ اس تحریر کا پتہ دریافت فرماتے ہیں کہ بجز اس اشتہار کے وہ کون سی تحریر ہے، جس کے متعلق ۲۵؍اپریل والی ڈائری میں یہ لکھا ہے کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھاگیا ہے ہماری طرف سے نہیں بلکہ اس کی بنیاد خدا کی طرف سے رکھی گئی ہے۔

جناب مولوی صاحب! آپ خود اس تحریر کو لکھواتے ہیں اور پھر مجھ سے دریافت فرماتے ہیں۔ عالی جناب پریذیڈنٹ صاحبان! یہ ڈائری جیسا کہ دستاویزات سے ثابت شدہ ہے کہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء وقت عصر کی ہے اور اس میں کسی تحریر کا ذکر ہے جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق لکھی گئی ہو اور یہ بھی ثابت شدہ ہے کہ اشتہار متنازعہ ۱۵؍اپریل کو لکھاگیا اور ۱۸؍اپریل ۱۹۰۷ء کو ڈاکخانہ میں ڈالا گیا۔ ان اخبارات میں جو ۱۷ یا ۱۸ کو شائع ہوئے یہ تو دستاویز کا ثبوت ہے۔ اس کے مقابلہ میں آپ کے محض قیاس کو ایسا ہوا ہو گا یا یہ بات ہو گی آپ کے دعوے کو ثابت نہیں کرتے۔ ہاں! میں آپ کو بتلادوں کہ وہ تحریر جو ۱۴؍اپریل والی ڈائری سے آپ کے متعلق پہلے شائع کی جاچکی تھی، وہ وہی ہے جو آپ نے اہل حدیث مؤرخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۰۷ء میں نقل فرمائی ہے جو مرزاقادیانی کی طرف سے ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کے بدر میں شائع ہو چکی اور نیز حقیقت الوحی میں بھی آپ کے متعلق ۱۴؍اپریل سے پہلے چند امور لکھے جاچکے تھے۔ پس یہ ڈائری ان تحریروں سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ اس تحریر سے جو ڈائری کے بعد کی ہو اور وہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والا اشتہار ہے۔ آپ نے ایک دلیل اور بھی اس اشتہار کی قبولیت کے متعلق پیش کی ہے جو ایک خاص مقدمہ کے بارے میں مرزاقادیانی کو ہوا تھا۔ وہ شحنہ حق ص۴۳ اور حقیقت الوحی ص۳۵۳ وغیرہ کتابوں میں موجود ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ ایک زمیندار کے مقدمہ میں جو شریکوں کے ساتھ تھا میں نے دعاء کی کہ مجھے خدایا اس میں فتح دے تو خدا نے جواب دیا: ’’اجیب کل دعائک الافی شرکائک‘‘ میں تیری سب باتیں مانوں گا مگر شریکوں کے بارہ میں نہیں سنوں گا۔ یہ الہام ایک خاص مقدمہ کے متعلق ہے اور مرزاقادیانی کے دعویٰ مسیحیت سے بہت پہلے کا ہے۔ اس میں شریکوں کے خلاف دعاء قبول کرنے سے انکار کیاگیا ہے۔ اگر یہ الہام عام ہوتا تو چاہئے تھا کہ شریکوں کے متعلق بھی آئندہ کوئی دعاء قبول نہ کی جاتی۔ جیسا کہ دیوار کے مقدمہ میں جو

188

شریکوں کے ساتھ تھا یہ دعاء کی گئی کہ مجھے اس میں فتح ہو، تو وہ دعاء قبول ہوئی۔ جس کے لئے بڑا لمبا الہام ہوا جو حقیقت الوحی کے ص۲۶۶، ۲۶۷ پر درج ہے اور مرزاقادیانی اس میں کامیاب ہوئے۔ پس اگر وہ الہام جو شریکوں کے متعلق تھا عام ہوتا تو مرزاقادیانی اس حکم الٰہی کے خلاف شریکوں کے مقدمہ میں ہی کیوں شریکوں کے خلاف دعاء کرتے اور کیوں خداتعالیٰ اس دعاء کو قبول کرتا۔ پس نہ وہ الہام عام تھا، نہ وہ آپ کے اس دعویٰ کے متعلق کہ ۱۵؍اپریل والے اشتہار کی دعاء قبول کی گئی اور نہ اس سے یہ دعویٰ ثابت کہ ۱۵؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی دیا تھا اور نہ اس دعاء کی قبولیت کا الہامی وعدہ ہوچکا تھا۔ دعویٰ آپ کا اس دعویٰ کے متعلق ہے جو ۱۵؍اپریل والے اشتہار میں مرزاقادیانی نے شائع کی ہے کہ وہ قبول ہو گئی اور اس کی قبولیت کا خدا نے الہام کیا۔ پس یہ دعویٰ اس الہام سے جو شرکاء کے متعلق اور ایک خاص مقدمہ سے تعلق رکھتا ہے، جس کے خلاف ایک دوسری نظیر شرکاء کے خلاف مقدمہ فیصل ہو کر صاف بتا چکے کہ وہ وعدہ نہ دائمی تھا نہ عام۔ ورنہ خدا دعاء کیوں قبول کرتا اور کیوں پھر مرزاقادیانی شرکاء کے خلاف دعاء ہی کرتے۔ مرزاقادیانی کا یہ مذہب نہیں ہے کہ میری تمام دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس لے لئے حقیقت الوحی ص۳۲۰، ۳۲۷ اور رسالہ فیصلہ آسمانی مطبوعہ بار سوئم ص۱۹ اور تریاق القلوب ص۱۵۱ ملاحظہ ہوا جن سے صاف لکھا ہے کہ میری اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہ دعائیں جن کو خدا اپنی مصلحت سے میرے حق میں مفید سمجھتا ہے قبول فرماتا ہے۔

آخر میں جناب پریذیڈنٹ صاحب کی توجہ اس دعویٰ کی طرف جس کے متعلق یہ مباحثہ ہے، دلا کر نہایت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ آپ بمشورہ اپنے مشیران جو آپ کی امداد کے لئے آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، بخوبی غور فرمالیں کہ دونوں دعوے ۱۴؍اپریل والی ڈائری اور ۱۳،۱۴؍اپریل والی درمیانی شب والے الہام اور مولوی صاحب کے ۲۶؍اپریل والے اہل حدیث اور خود اس اشتہار کے اندرونی فقروں سے اور دستاویزات جن کا حوالہ میں نے اپنے بیان میں دیا ہے۔ ان کو ملاحظہ فرما کر فیصلہ فرما سکتے ہیں کہ کیا یہ دعویٰ ثابت ہو گئے۔ اس کے بعد جو مولوی صاحب نے بیان فرمانا ہے وہ ان ہی کی تردید ہو گی۔ کوئی نئی دلیل پیش کرنے کا ان کو حق نہ ہو گا۔ کیونکہ اب اس کے ڈیفنس کا مجھے کوئی موقعہ نہیں ملے گا۔ فقط!

عاجز قاسم علی بقلم خود، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۱۲ء

189

بیان مدعی (یعنی ثنائی پرچہ نمبر۳)

جناب صدر انجمن صاحبان وبرادران! دعویٰ یہ تھا کہ مرزاقادیانی کا اشتہار ۱۵؍اپریل خدا کے حکم سے تھا۔ یہ بات یقینی ہے کہ میں مرزاقادیانی کو مامور خدا نہیں سمجھتا۔ پھر جو میں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کا اشتہار خدا کے حکم سے تھا، اس کے کیا معنی؟ صاف ظاہر ہے کہ میرا یہ دعویٰ ان کے مسلمات اور خیالات پر ہے۔ پس اہل حدیث ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کا حوالہ دے کر منشی قاسم علی صاحب کا یہ کہنا ہے کہ میں نے خود اس اشتہار کی بابت یہ لکھا ہے کہ یہ الہام سے نہیں میرے دعوے کے کسی طرح مخالف نہیں۔ وہ لکھنا میرا اپنا مذہب ہے اور ثابت کرنا مرزاقادیانی کے خیالات کا عکس ہے۔ علاوہ اس کے ۲۰؍اپریل کی تحریر لکھنے تک جو یقینا ۱۸،۱۹؍اپریل کو لکھی ہو گی، ۲۵؍اپریل کا بدر میرے پاس نہیں پہنچا تھا جس کی بناء پر میں نے آج دعویٰ کیا ہے۔ میرے دعویٰ کا ثبوت دو طرح پر تھا۔ ایک دلائل عامہ دوسرے دلیل خاص سے دلائل عامہ میں میں نے حضرات انبیاء کا طریق اور خصوصاً مرزاقادیانی کے عام دعویٰ اور الہامات کو بیان کیا تھا، جس میں ایک آیت قرآن اور الہام:’’وما ینطق عن الہویٰ‘‘دوسرا:’’اجیب کل دعائک الا… الخ!‘‘ اس الہام کا جواب دینے میں میرے دوست کو بہت الجھن ہوئی ہے۔

جناب پریذیڈنٹ صاحب! یہ الہام دو فقروں پر مشتمل ہے۔ ایک مستثنیٰ دوسرا مستثنیٰ منہہ۔ مستثنیٰ میں حکم ہے تیری دعا شریکوں کے بارہ میں قبول نہ ہو گی۔ مستثنیٰ منہہ کا حکم ہے کہ تیری وہ تمام دعائیں جو شریکوں کے سواء اور لوگوں کے حق میں ہوں گی، میں ضرور قبول کروں گا۔ اس لئے میں نے عرض کیا تھا کہ میں مرزاقادیانی کا شریک نہیں ہوں۔ آپ نے بتلایا ہے کہ ۲۵؍اپریل والے بدر میں جو ۱۴؍اپریل کی ڈائری ہے، اس میں جس تحریرکا آپ کے متعلق ذکر ہے وہ حقیقت الوحی میں ۱۴؍اپریل سے پہلے لکھی جاچکی ہے۔ اس کے متعلق ۱۴؍اپریل کا بدر صفحہ۴ پیش کرتا ہوں، جس میں مرزاقادیانی حقیقت الوحی کی بابت لکھتے ہیں کہ ہماری کتاب حقیقت الوحی بیس پچیس روز تک شائع ہو جائے گی۔ اب منصف صاحب غور فرمائیں کہ جس کتاب کو ابھی شائع ہونے میں کئی روز باقی ہوں وہ ۱۴؍اپریل سے پہلے کیونکر شائع ہو چکی تھی۔ حقیقت الوحی کے سرورق صفحہ پر مطبوعہ تاریخ اشاعت ۳۰؍اپریل ۱۹۰۷ء ہے۔ مگر قلمی سرخی سے ۱۵؍مئی بنائی گئی ہے۔

(دیکھو حقیقت الوحی فرنٹ ٹائٹل، خزائن ج۲۲ ص۱)

190

یہ تو آپ کے اس حصہ کا جواب ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے کوشش کی ہے کہ ۲۵؍اپریل کے بدر والی ڈائری میں جس تحریر کا ذکر ہے اس کا ثبوت دیں۔ اس ثبوت کے لئے آپ نے ۴؍اپریل کے بدر صفحہ۴ کا نام لیا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے اور منصف صاحبان مہربانی فرماکر اس کو ملاحظہ فرمائیں کہ کوئی تحریر ایسی ہے جس کو میرے متعلق کہہ سکیں؟ جس کا جواب مراقادیانی کو بصورت الہام یہ ملا تھا:’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ جو صاحب ظاہر کرتا ہے کہ وہ تحریر میری کوئی دعاء کی صورت میں ہے۔ آپ نے شروع میں یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کے دلائل عامہ پر ہی غور کر کے عدالت فیصلہ نہیں کرتی۔ جناب والا! اس ’’ہی‘‘ کے لفظ پر غور کیجئے۔ میں نے ’’ہی‘‘ سے کام نہیں لیا۔ میں نے صرف دلائل عامہ ہی بیان نہیں کئے بلکہ خاص اس امر کے متعلق بھی بیان کئے۔ آپ جو اس اشتہار کو بمنزلہ ایک استغاثہ غیرمقبولہ کے قرار دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ بات مرزاقادیانی کے کل دعاوی پر پانی پھیرتی ہے۔ میں نے ریویو مئی ۱۹۰۷ء کے ص۱۹۲ سے حوالہ نقل کیا تھا کہ مرزاقادیانی کا بڑا معجزہ قبولیت دعاء ہی ہے اور یہ ایسا معجزہ ہے کہ وہ اس معجزہ کے مقابلہ کے لئے ہم مسلمانوں کے علاوہ تمام دنیا کے مخالفوں کو چیلنج دیتے ہیں۔ میں نے ۱۳؍جون کے بدر سے یہ دلیل نقل کی تھی کہ مرزاقادیانی کے دل میں خدا نے میرے متعلق دعاء کرنے کی تحریک پیدا کی۔ میرے مخاطب فرماتے ہیں کہ وہ بقول میرے مشیت کا مفعول ہے جو دنیا کے ہر ایک واقع سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر جناب پریذیڈنٹ صاحبان! میں نے یہ بات بالتصریح بتلائی ہے اور قرآنی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ کوئی مامور خدا کسی ایسے فیصلے کے لئے جو اس کے مشن پر اثر ڈالتا ہو، ازخود اظہار نہیں کر سکتا۔ ترک اسلام میں جو میں نے لکھا ہے وہ یہ ہے کہ مشیت خدا کے قانون کا عام ہے جو مخلوق میں جاری ہے۔ لیکن وہی قانون جب مذہبی رنگ میں انبیاءؑ کے قلوب طیبہ پر اثر کرتی ہے تو مذہبی رنگ میں ایک دلیل کا حکم رکھتی ہے۔ مثال کے لئے ہمارے خواب اور حضرات انبیاءؑ کے خوابوں میں جو فرق ہے، وہی فرق ان دو مشیتوں میں ہے جو عام حالت اور خاص قلوب انبیاء سے تعلق رکھتے ہیں۔

باقی جو آپ نے ڈائری کی بے ترتیبی کی بابت لکھا ہے، مجھے اس کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے معزز ثالث صاحبان قانون پیشہ ہیں۔ ان کے پاس اس قسم کے کئی ایک مقدمات آئے ہوں گے، جن میں ایسی بے ترتیب ڈائریاں پیش ہوکر فیل یا پاس ہوئی ہوں گی۔

191

(تریاق القلوب ص۱۵۱، خزائن ج۱۵ ص۴۶۹) کا بیان مرزاقادیانی کا اپنی دعاؤں کی نسبت ہے۔ بھلا اگر ساری دعائیں مرزاقادیانی کی قبول نہ ہوتیں تو معجزہ ہی کیا تھا۔ جب کہ حقیقت الوحی باب اوّل، دوم، سوم میں خود لکھتے ہیں کہ بعض خواب اور کشف بدکار یعنی رنڈیوں اور فاحشہ عورت کے بھی سچے ہوتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’سچا وہی ہے جس کے کل سچے ہوں۔‘‘

ہمارے معزز ثالث صاحب قانونی طور پر جانتے ہیں کہ کسی دستاویز کا سچا ہونا اس پر موقوف ہے کہ اس میں کوئی لفظ مشکوک نہ ہو۔ میں نے جہاں تک سوچا ہے آپ نے میرے پیش کردہ دلائل کا جواب نہیں دیا۔ میری دلیل مختصر لفظوں میں یہ ہے۔ انبیاء ومامور خدا کوئی ایسا فیصلہ جو مخالفوں پر حجت کا اثر رکھتا ہو، اور اس کے خلاف ہونے سے ان کے دین اور مشن پر خلاف اثر پہنچتا ہو، بلااذن خدا شائع نہیں کر سکتے۔

مرزاقادیانی نے جو اس اشتہار میں الہام یا وحی کی نفی کی ہے، اس کی ایک وجہ تو پہلے پرچہ میں عرض کرچکا ہوں۔ دوسری وجہ وہ ہے جو صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کے ساتھ ان کا معاہدہ ہوا تھا کہ میں الہام جتا کر کسی کی موت کی پیش گوئی ہیں کروں گا۔ اس لئے انہوں نے اس اشتہار میں الہام کا نام نہیں لیا بلکہ نفی کر دی۔ ۲۵تاریخ کے بدر میں الہام کے ساتھ اس کی تعبیر کر دی۔ تاکہ وہ اس قاعدہ سے جو انبیاءؑ کا میں نے بتلایا ہے، حجت ہو سکے۔ بس اب میں ختم کر کے فیصلہ معزز ثالثوں کے سپرد کرتا ہوں۔ ابوالوفاء ثناء اللہ بقلم خود!

سرپنچ کا مختصر فیصلہ

چونکہ دونوں منصفوں جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب اور منشی فرزند علی صاحب میں اختلاف رہا تو سردار بچن سنگھ صاحب بی۔اے پلیڈر سرپنچ کو مداخلت کا موقع ملا۔ چنانچہ جناب موصوف کا مختصر فیصلہ یہ ہے:

میری رائے ناقص میں حسب دعویٰ مرزاقادیانی:

۱… ’’۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزاقادیانی نے دیا تھا۔‘‘

۲… ’’خدا نے الہامی طور پر جواب دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعاء قبول فرمالی۔‘‘

۲۱؍اپریل ۱۹۱۲ء

دستخط سردار بچن سنگھ صاحب بی۔اے پلیڈر (بحروف انگریزی)

192

جناب مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی منصف فریق محمدی کا حلفیہ فیصلہ

باسمہ!

فیصلہ حلفی خاکسار (ابراہیم سیالکوٹی) منصف مقرر کردہ از جناب مولوی ثناء اللہ صاحب (مولوی فاضل) امرتسری مدعی:

دعویٰ نمبر۱: اشتہار ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء مرزاقادیانی نے بحکم خدا لکھا۔

دعویٰ نمبر۲: خدا نے دعاء مندرجہ اشتہار کی قبولیت کا الہام کر دیا تھا۔

اثبات دعویٰ: بذمہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۔ مدعی

ڈیفنس: بذمہ منشی قاسم علی صاحب دہلوی ایڈیٹر الحق دہلی۔ مدعا علیہ

مولوی صاحب مدعی نے اثبات دعویٰ میں دو قسم کے دلائل پیش کئے ہیں۔ عام اور خاص، عام یہ کہ کوئی رسول برحق بغیر اجازت الٰہی کوئی ایسا امر اپنے مخالفین کے سامنے بطور تحدی پیش نہیں کر سکتا جو جس کے مخالفین میں صدق اور کذب کے متعلق امتیازی نشان رکھتا ہو، اس پر مولوی صاحب موصوف نے چند آیات قرآنی پیش کیں۔ جن میں سے ایک ایسی آیت بھی ہے، جس کی نسبت مرزاقادیانی کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ مجھے بھی الہام ہوئی ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ یہ پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا جو کچھ بولتا ہے وہ وحی خدا ہے۔ چونکہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ رسول برحق ہے اور اس اشتہار ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء میں طریقہ فیصلہ ایسا مذکور ہے جو متحدیانہ ہے اور حق وباطل میں امتیاز کرنے والا ہے۔ اس لئے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ مرزاقادیانی کی یہ دعاء خداوند تعالیٰ کی تحریک اور محض اشارہ سے تھی۔

دیگر دلیل عام یہ بیان کی ہے کہ مرزاقادیانی نے بالخصوص اپنی دعاؤں کی قبولیت کے متعلق نہایت زور سے متحدیانہ دعویٰ کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو ریویو بابت مئی ۱۹۰۷ء وغیرہ، کتب جن کا مولوی صاحب نے پتہ دیا)

لہٰذا یہ دعاء ان دعوؤں کے سلسلہ میں جو ضرور ضرور مقبول ہوں۔ سب سے پہلے درجے پر ہونی چاہئے۔ کیونکہ اس کا اثر اس مشن پر پڑتا ہے جس کے لئے مرزاغلام احمد قادیانی مامور کئے گئے۔

دلیل خاص: جو مولوی صاحب نے بیان کی ہے، وہ یہ ہے کہ خاص اسی دعاء کی

193

قبولیت کا الہام مرزاقادیانی کی طرف سے اخبار بدر قادیان مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء میں طبع ہو چکا ہے، جس میں یہ بھی ظاہر کیاگیا ہے کہ درحقیقت اس کی بنیاد خدا کی طرف سے رکھی گئی ہے نیز اس اخبار مؤرخہ ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء میں جو خط مولوی ثناء اللہ صاحب مدعی کے نام طبع ہوا ہے۔ اس میں تشریح کی گئی ہے کہ اس طریق فیصلہ (۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء) کے اشتہار کی دعاء کی تحریک مشیت ایزدی سے ہوئی ہے۔ پس میرا یہ دعویٰ بھی ثابت ہے کہ مرزاقادیانی نے یہ دعاء خدا کی تحریک سے کی اور یہ بھی کہ اس کی قبولیت کا الہام آپ کو ہو گیا تھا۔ مولوی صاحب مدعی نے اپنے اثبات دعویٰ کے ضمن میں بطور دفع دخل یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ بے شک اس اشتہار میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ یہ پیش گوئی کسی الہام سے نہیں کی گئی۔ لیکن یہ فریق ثانی کو مفید نہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ اس کلمہ میں اور ۲۵؍اپریل کی ڈائری میں تعارض ہے اور تطبیق دونوں میں اس طرح ہوسکتی ہے کہ اشتہار لکھتے وقت خداتعالیٰ نے ان پر یہ ظاہر نہیں کیاتھا۔ لیکن بعد میں الہام کر دیا۔ چونکہ عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتا۔ دیگر یہ کہ چونکہ مرزاقادیانی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر گورداسپوری کی عدالت میں ایک خاص مقدمہ میں باضابطہ اقرار داخل کرچکے تھے کہ کسی شخص کے حق میں ڈر والا الہام ظاہر نہیں کروں گا۔ اس لئے بھی مرزاقادیانی نے نفی الہام کی مصلحت سمجھی۔ کیونکہ وہ میری موت کے متعلق تھی۔ یہ ہے خلاصہ ان کے اثبات دلائل کا۔ اب اس ڈیفنس کا خلاصہ بیان کرتے ہیں جو فریق ثانی نے پیش کیا۔

فریق ثانی یعنی منشی قاسم علی صاحب نے مولوی صاحب کی پہلی دلیل عام کا کوئی جواب نہیں دیا اور تردید نہیں کی جس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ رسول برحق کبھی خدا کی اجازت کے بغیر بھی اپنے مخالفین کے ساتھ طریق فیصلہ کر سکتا ہے۔ دوسری دلیل عام کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہر دعاء کی قبولیت کا نہیں ہے بلکہ اکثر دعاؤں کا ہے اور الہام:’’اجیب کلّ دعائک الّا فی شرکائک‘‘کا یہ جواب دیا کہ یہ خاص واقعہ کے متعلق ہے جس کے جواب میں مولوی صاحب مدعی نے کہا کہ اس کلام کے دو جز ہیں، ایک مستثنیٰ منہہ۔ دوسرا مستثنیٰ، مستثنیٰ منہہ کلیہ ہے جس میں سے صرف اس دعاء کو مستثنیٰ کیاگیا ہے جو مرزاقادیانی کے کنبہ کے متعلق ہو اور چونکہ میں (مولوی صاحب مدعی) مرزاقادیانی کے کنبہ میں سے نہیں۔ اس لئے میرے حق میں استثنائی صورت نہیں ہو گی بلکہ وہی مستثنیٰ منہہ کی کلیت میرے حق والی دعاء پر صادر آئے گی۔ منشی قاسم علی صاحب کے اس عذر سے ہماری تسلی نہیں

194

ہوسکتی۔ کیونکہ جب مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میرا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ میری دعائیں قبول ہوتی ہیں تو یہ معجزہ ایسی دعاء کی قبولیت کے لئے ضرور ظاہر ہونا چاہئے جو مرزاقادیانی کی صداقت کا نشان ہے۔ یہ امر کوئی معمولی نہیں جس کی طرف سے بے پروائی کو دخل دے سکیں اور بے شک الہام: ’’اجیب کل دعائک الا فی شرکائک‘‘ (یعنی میں تیری ہر دعاء قبول کروں گا مگر وہ جو تیرے کنبہ کے لوگوں کے حق میں ہو) سوائے استثنائی صورت کے اپنے عموم پر ہی قائم ہے اور مولوی صاحب والی دعاء اس عموم میں داخل ہے۔

منشی قاسم علی صاحب نے مولوی صاحب مدعی کی پہلی دلیل خاص کا جواب یہ دیا ہے کہ ۲۵؍اپریل کی بدروالی ڈائری ۱۴؍اپریل کی ہے اور اشتہار زیربحث ۱۵؍اپریل کو لکھاگیا۔ اس لئے وہ ڈائری اس اشتہار کے متعلق نہیں ہوسکتی بلکہ وہ ان تحریرات کے متعلق ہے جو اخبار بدر مجریہ ۴ا؍اپریل ۱۹۰۷ء اور (تتمہ کتاب حقیقت الوحی ص۳۰تا ۳۳ خزائن ج۲۲ ص۴۶۲ تا ۴۶۶) پر مولوی ثناء اللہ صاحب مدعی کے حق میں درج ہیں۔ مولوی صاحب مدعی نے اس کے جواب میں کہا کہ اشتہار ۵؍اپریل کی تسوید ۱۵؍اپریل کو نہیں ہوئی بلکہ یہ تو کاپی لکھنے کی تاریخ ہے۔

دوم یہ کہ ڈائری مندرجہ بدر ۲۵؍اپریل میں ۱۴؍اپریل کی ڈائری کے بعد ۱۱؍اپریل کی ڈائری مندرج ہے۔ پس ہم کس طرح سمجھ سکیں کہ یہ تاریخیں ترتیب وار ہیں۔ لہٰذا یہ عذر درست نہیں۔

سوم یہ کہ اخبار بدر مجریہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء اور حقیقت الوحی میں جو کچھ میرے متعلق لکھا ہے۔ ان تحریروں میں کسی دعاء کا ذکر نہیں اور نہ ان کا مضمون اس اشتہار کے مضمون سے ملتا ہے۔ حالانکہ ۲۵؍اپریل کے بدر کی ڈائری میں دعاء کا بالتصریح ذکر ہے اور اشتہار میں بھی مضمون دعاء ہی کا ہے۔

چہارم یہ کہ کتاب حقیقت الوحی کی اشاعت ۱۴؍اپریل تک نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ اس کے بعد ہوئی۔ جیسا کہ اس کے ٹائٹل پیج سے ظاہر ہے کہ اس کی تاریخ اشاعت مطبوعہ الفاظ میں ۲۰؍اپریل ۱۹۰۷ء لکھی ہے اور پھر اسے سرخی سے کاٹ کر ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء بنایا ہے۔ پس ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ حقیقت الوحی اور بدر محولہ منشی قاسم علی صاحب میں اشتہار ۱۵؍اپریل کا مطلقاً ذکر نہیں۔ مولوی صاحب نے منشی قاسم علی صاحب کے عذر کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ بالکل

195

درست معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اخبار مذکورہ ۴؍اپریل اور حقیقت الوحی میں کسی ایسی دعاء کا ذکر نہیں جو مولوی صاحب کے حق میں ہو، اسے اخبار بدر ۲۵؍اپریل والے الہام کا حوالہ اور مصداق کہہ سکیں اور کتاب حقیقت الوحی تو اس وقت تک شائع نہیں ہوئی تھی کہ مرزاقادیانی اس کا حوالہ دے سکیں۔ اس امر کی تائید ہم اس سے بھی پاتے ہیں کہ خاتمہ بحث پر جناب سردار بچن سنگھ بی۔اے پلیڈر گورنمنٹ ایڈووکیٹ لدھیانہ نے جو بتراضی فریقین ثالث مقرر کئے گئے تھے، منشی قاسم علی صاحب سے سوال کیا کہ آیا آپ سوائے ۴؍اپریل کے بدر اور حقیقت الوحی کے مرزاقادیانی کی کوئی اور تحریر بھی بتلاسکتے ہیں تو انہوں نے جواب نفی میں دیا۔ مولوی صاحب نے جو یہ بیان کیا کہ ۱۵؍اپریل کے اشتہار کا مسودہ ۱۴؍اپریل سے پیشتر لکھاگیا تھا۔ یہ یہی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ مرزاقادیانی کے الفاظ جو ۲۵؍اپریل سے پیشتر لکھا جاچکا تھا اور وہ مریدوں میں مشہور تھا۔ اس لئے مرزاقادیانی نے صرف اسی اشارہ پر کفایت کی کہ جو کچھ لکھاگیا اور ہم عام عادت بھی یہ پاتے ہیں کہ مضامین کاتب کے کاپی لکھنے سے پیشتر عمل کر کے کاتب کو دئیے جاتے ہیں اور وہ اخص دوستوں میں طبع سے پیشتر ہی مشہور ہو جاتے ہیں۔ مولوی صاحب نے یہ بیان کیا کہ ڈائری کی تاریخیں غیرمرتب ہیں۔ اس کے جواب میں منشی قاسم علی صاحب نے کہا کہ تاریخیں صرف اسی پرچہ میں غیرمرتب نہیں ہیں بلکہ دیگر پرچوں میں بھی یہ بے ترتیبی پائی جاتی ہے۔ ہماری رائے میں یہ عذر مولوی صاحب کی جرح کی تردید نہیں کرتا بلکہ اس کو تقویت دیتا ہے۔ کیونکہ ایک قصور دوسرے قصور کی تائید کرتا ہے نہ کہ تردید۔ نیز یہ کہ ۱۴؍اپریل اور ۱۱؍اپریل کی غیرمرتب ڈائری ایک ہی پرچہ میں ہے۔ مختلف پرچوں میں نہیں کہ منشی قاسم علی صاحب کی بیان کردہ وجہ کی گنجائش ہو۔ بہرحال اس سوال کے جواب کے سلسلہ میں بھی ہم مولوی صاحب مدعی کی جانب راحج پاتے ہیں۔

منشی قاسم علی صاحب نے ڈیفنس میں مولوی ثناء اللہ صاحب مدعی کی دوسری خاص دلیل کا جواب یہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنے رسالہ ترک اسلام میں لکھا ہے کہ سب کام نیک وبد خدا کی مشیت سے ہوتے ہیں۔ پس ان کے ساتھ رضاء الٰہی ضروری نہیں۔ لہٰذا اگرچہ اخبار بدر میں یہ لکھا ہے کہ اس طریق فیصلہ کی تحریک خدا کی مشیت سے ہوئی، لیکن ضروری نہیں کہ خدا اس پر راضی بھی تھا۔ مولوی صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ مشیت عام ہے اور ہر نیک وبد کے متعلق ہوسکتی ہے۔ لیکن حضرات انبیاءؑ کے دلوں پر جب مشیت الٰہی

196

بصورت فیصلہ اور بالخصوص ایسے امر میں نبی برحق کے مشن کے متعلق ہو، کوئی تحریک پیدا کرتی ہے تو وہ برنگ حکم وحی خفی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں نبی کے مشن کی تائید ہوتی ہے اوراس کے مخالفین کا ابطال اس کے متعلق مولوی صاحب نے علاوہ سابقہ حوالہ جات کے مرزاقادیانی کی کتاب حقیقت الوحی کا حوالہ ص۵ سے تااخیر باب سوم (خزائن ج۲۲ ص۷تا۵۸) دیا جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اللہتعالیٰ کے خاص بندے جس پر راضی ہوں، خدا اس پر راضی ہوتا ہے اور جس پر خفاء ہوں اس پر خفاء ہوتا ہے۔ جب وہ شدت وقت میں دعاء کرتے ہیں تو خدا ان کی ضرور سنتا ہے۔ اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے آگے مرزاقادیانی نے ایک آیت لکھی ہے جو قبولیت دعاء کے متعلق ہے۔ ان دلائل کا جواب فریق ثانی نے کافی نہیں دیا۔ لہٰذا ہم اس میں بھی مولوی صاحب سے موافقت کرتے ہیں اور علاوہ ازیں یہ مستزاد کرتے ہیں کہ جب مولوی صاحب نے اخبار بدر ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء کے خط میں یہ حوالہ تحریک الٰہی والا پیش کیا تو منشی صاحب نے اپنے جواب میں اس حوالہ کے اشتہار مذکور زیر بحث کی نسبت ہونے سے انکار نہیں کیا جس سے مولوی صاحب کے دعویٰ کو نہایت زبردست تقویت پہنچتی ہے کہ یہ اشتہار خدا کے خفیہ حکم سے لکھاگیا۔ منشی صاحب لفظ مشیت کے مطابق ہی بحث کرتے رہے جو ان کو ہر گز مفید نہیں۔ کیونکہ یہ دعاء مشیت کے تحت داخل ہو کر بھی رضاء الٰہی کو شامل ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اس دعاء کا نتیجہ مرزاقادیانی کے خیال میں جو بوقت دعاء تھی، مرزاقادیانی کے مشن کے لئے مفید تھا اور مولوی صاحب کے خلاف۔

’’لہٰذا ہم حلفیہ بیان سے خداداد علم کو کام میں لاکر اور اپنے ایمان ودین کی محکمی سے رائے دیتے ہیں کہ مولوی صاحب مدعی اپنے دعوے میں کامیاب ہیں اور فریق ثانی نے کوئی ایسا ڈیفنس پیش نہیں کیا جو ان کے دلائل کو توڑ سکے۔واللہ علی مانقول شہید!‘‘

دستخط: مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی (منصف) بحروف انگریزی

منشی فرزند علی منصف احمدی فریق کا بلاحلف فیصلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

میں نے اس مباحثہ کو جو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور میرقاسم علی صاحب احمدی دہلوی کے مابین ۱۷؍اپریل ۱۹۱۲ء کو لدھیانہ میں ہوا، خوب غور سے سنا۔ جو رائے میں

197

نے اس مباحثہ کے متعلق قائم کی ہے، اس کو ذیل میں بیان کرتا ہوں۔ اس مباحثہ میں دعویٰ منجانب ثناء اللہ صاحب یہ تھا کہ:

الف… جو اشتہار ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزاقادیانی نے بعنوان: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ دیا۔ خداتعالیٰ کے حکم سے تھا۔‘‘

ب… اس اشتہار میں جو دعاء فیصلہ کے متعلق تھی، اس کا جواب خداتعالیٰ نے الہامی طور پر یہ دیا کہ ہم نے اس دعاء کو منظور فرمالیا۔

شق نمبر۱ کے ثبوت میں جو موٹے موٹے دلائل مولوی ثناء اللہ صاحب نے دئیے، وہ یہ تھے کہ:

۱… حضرات انبیاءؑ کا یہ طریق نہیں تھا کہ اپنے مشن کے متعلق کوئی متحدیانہ فیصلہ کن تجویزیں محض اپنے ارادے اور مرضی سے کریں۔

۲… ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اشتہار کے بعد ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کے بدر میں مرزا قادیانی کی طرف سے ایک تقریر اس مضمون کی شائع ہوئی کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے، یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے اور رات کو جب مرزاقادیانی کی توجہ اس طرف تھی تو الہام ہوا: ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ (میں دعاء کرنے والے کی دعاء قبول کرتا ہوں)

۳… ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء میں ایک خط بنام مولوی ثناء اللہ صاحب درج ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ مشیت ایزدی نے مرزاقادیانی کے قلب میں تحریک کر کے فیصلہ کی ایک اور راہ نکال دی۔

فقرہ نمبر۱ نہ تو اس دعویٰ کی تائید اور وضاحت میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے کوئی مثالیں بیان کیں اور نہ میرقاسم علی صاحب کی طرف سے اس کا جواب دیاگیا۔

فقرہ نمبر۲ کے بیان کردہ واقعات کو اگر ہوبہو مان بھی لیا جائے تو تب بھی صرف اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ اللہتعالیٰ نے مرزاقادیانی کے اشتہار دینے پر بعد میں اظہار پسندیدگی فرمایا نہ یہ کہ اشتہار مذکور کا لکھا جانا اور شائع کیا جانا حکم خداوندی کی وجہ سے ہوا۔ جب مولوی صاحب نے خود اپنے پرچہ اوّل میں تسلیم کیا کہ اشتہار مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء

198

کے لکھتے وقت مرزاقادیانی کو خود خدا کے حکم کا علم نہ تھا، تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ کس طرح کہا جاتا ہے کہ اشتہار مذکورہ حکم۱؎ سے دیاگیا تھا۔

فقرہ نمبر۳ کی دلیل پر مولوی صاحب کی طرف سے بہت زور تھا۔ مگر جب میر قاسم علی صاحب نے دکھایا کہ جس ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو یعنی تاریخ اشتہار سے ایک روز پیشتر فرمائیں تھی تو اس سے مولوی صاحب کی دلیل کا سارا زور ٹوٹ گیا۔ میرقاسم علی صاحب کے اس بیان پر مولوی صاحب کی طرف سے دو عذر اٹھائے گئے۔ اوّل یہ کہ مرزاقادیانی کی ڈائری یعنی روزمرہ کی تقریریں اخبار میں مسلسل بہ ترتیب تواریخ درج نہیں۔ اس لئے قابل اعتبار نہیں۔ دوم یہ کہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء والی تقریر ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والے اشتہار کے متعلق نہیں تو مرزاقادیانی کی کون سی سابقہ تحریر یہ میرے متعلق تھی جس کی طرف اس تقریر میں اشارہ ہے۔

ڈائری کے متعلق جیسا کہ میر قاسم علی صاحب نے بیان کیا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ مرزاقادیانی کی ڈائری نویسی کے لئے کوئی باقاعدہ تنخواہ دار سٹاف نہ تھا۔ مرید لوگ اپنے شوق اور محبت سے ڈائری لکھتے تھے اور پھر جس کسی سے اور جس قدر جلد ہو سکے نقل اخبار والوں کو دے دیتے تھے۔ ڈائری کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس میں اکثر حصہ مرزاقادیانی کی ان تقریروں کا ہوتا تھا جو آپ روزمرہ کے سیر میں فرماتے تھے۔ جب کہ آپ کے ساتھ ایک ہجوم مریدوں کا ہوتا تھا جس انبوہ میں رپورٹروں کے لئے کوئی خاص جگہ مختص نہ ہوتی تھی، جس کسی کے سننے میں جو کچھ آ جاتا، اسے قلمبند کر لیتا۔ میں غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہرایک تاریخ کی ڈائری کو اپنی ذات میں مستقل سمجھ کر بلالحاظ ترتیب تاریخ کے اخبار میں لکھ دیا جاتا تھا۔ ڈائری کے چھاپنے کی غرض ناظرین کو یہ دکھانا ہوتا تھا کہ مرزاقادیانی نے کیا کچھ فرمایا۔ بعض مضامین کو اپنی اہمیت اور ضرورت لحاظ سے اور بعض کو گنجائش اخبار کے لحاظ سے بہ نسبت دوسری تاریخوں کی ڈائری کے اخبار کے کالموں میں جلد تر جگہ مہیا کر دی جاتی تھی۔ بہرحال سلسلہ یہ تھا کہ ڈائری بلاترتیب تاریخ شائع کر دی جاتی تھی۔ ایک دن کی ڈائری کو دوسری سے علیحدہ کرنے کے لئے ہر ایک روز کی ڈائری کے سر پر اس کی تاریخ لکھ دی جاتی تھی۔ اگر تواریخ کی بے ترتیبی صرف اسی ایک پرچہ بدر میں ہوتی

۱؎حکم خدا کا مطلب خود مرزاقادیانی نے بتلایا ہے کہ خدا کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔ یہی مولوی صاحب کی مراد ہے۔ (منیجر)

199

جس میں ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کی ڈائری درج تھی تو البتہ اعتراض قابل غور ہوتا۔ مگر جب کہ ہمیشہ ڈائریاں اسی بے ترتیبی کے ساتھ چھپتی تھیں تو محض اس عدم ترتیب کی بناء پر ڈائری کے اندراج ہرگز ناقابل اعتبار نہیں ٹھہرتے۔

مولوی صاحب کے دوسرے سوال کا جواب یعنی ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کی ڈائری کی سابقہ تحریر مرزاقادیانی سے متعلق تھی۔ میری رائے میں فریق ثانی کے ذمہ اس کا جواب دینا واجب نہ تھا۔ مگر جب دیاگیا تو اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ پس جو جواب اس سوال کا میرقاسم علی صاحب نے دیا، اس کی صحت پر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ ہاں! امکان تو ضرور ہے کہ مرزاقادیانی کا اشارہ اس ۱۴؍اپریل کی ڈائری میں انہی مضامین کی طرف ہو جن کا حوالہ میرقاسم علی صاحب نے دیا ہے۔ مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں بہم پہنچایا گیا اور میر صاحب کا بیان صرف قیاس پر مبنی تھا جو حجت نہیں ہوسکتا۔ بہرحال میری رائے میں یہ امر ظاہر ہے کہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کی ڈائری کا اشارہ خواہ کسی سابق تحریر کی طرف ہو، ۱۵؍اپریل کے اشتہار کی طرف ہرگز نہیں۱؎ اور جب خود مرزاقادیانی اسی ۱۵؍اپریل کے اشتہار میں فرماتے ہیں کہ: ’’یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔‘‘ تو اس صریح بیان کے خلاف کوئی دعویٰ کسی طرح قائم اور ثابت۲؎ ہوسکتا ہے؟

نیز یہی اعلان کہ اس اشتہار کی بناء کسی وحی یا الہام پر نہیں۔ اس وہم کا بھی ازالہ کرتا ہے کہ شاید یہ اشتہار مجریہ ۱۵؍اپریل لکھا۔ اس تاریخ سے چند روز قبل لکھا گیا ہو۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو بعد میں اس کی تصدیق میں الہام ربانی نازل ہو جاتا تو مرزاقادیانی کی اصلاح پتھر تک بھی کر دیتے۔ جیسا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے خود اپنی تقریر (۲) میں بیان کیا کہ مرزا

۱؎ کیا ہی انصاف ہے۔ مجیب کے جواب سے منصف صاحب کی تسلی نہیں ہوئی تو خود جواب دینے کو مستعد ہوئے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ میرا منصب جواب دینا نہیں بلکہ جواب کی جانچ کرنا ہے۔

۲؎از خود نہیں رہ سکتا مگر مرزاقادیانی نے (براہین احمدیہ جلد چہارم ص۴۹۹، خزائن ج ص۵۹۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) پر صاف لکھا تھا کہ مسیحm زندہ ہیں مگر بعد میں بقول خود خدائی الہام سے بتلایا کہ حضرت مسیح فوت شدہ ہیں جس کو آپ لوگوں نے تسلیم کیا، اسی طرح پہلے اشتہار میں گو مرزاقادیانی نے انکار کیا، مگر دوسری تحریروں میں صاف کہا کہ خدائی منشاء اور تحریک سے ہم نے یہ کیا ہے اور خدا کی طرف سے اس کی بنیاد ہے تو پھر کیونکر یہ صاف اور صریح نہ ہوا کہ پہلی تحریر عدم علم پر تھی، دوسری علم پر ہے جو معتبر ہے۔ (منیجر)

200

قادیانی اپنی تصانیف میں ان کے چھپتے وقت تک ضروری تصحیح کرتے رہتے تھے یا اگر بعد چھپ جانے کے بعد اشتہار کی تصحیح کی ضرورت ہوتی تو یہ درستی ہاتھ سے کر دی جاتی۔ جیسا کہ حقیقت الوحی کی تاریخ اشاعت کے مطابق کیاگیا تھا۔ دیکھو اس کتاب میں سرورق جس کے نیچے تاریخ اشاعت ۲۰؍اپریل ۱۹۰۷ء سے بدل کر ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء ہاتھ سے تمام کاپیوں میں لکھی گئی۔

اپنے آخری پرچہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے بیان کیا کہ دراصل تو اشتہار مذکور لکھا حکم الٰہی سے ہی گیا تھا۔ مگر چونکہ مرزاقادیانی نے عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور میں ایک دفعہ عہد کیا تھا کہ میں کسی کی موت وغیرہ کے متعلق آئندہ الہامی پیشین گوئی شائع نہ کیا کروں گا۔ اس لئے قانون کی زد سے بچنے کی غرض سے اشتہار میں یہ لکھ دیا کہ میں الہام یا وحی کی بناء پر یہ پیش گوئی نہیں کرتا۔ اس دلیل کا غلط ہونا بدیہی طور پر ظاہر ہے۔ کیونکہ اگر مرزاقادیانی کے لئے کسی شخص کی موت کی پیش گوئی کو الہام کی بناء پر شائع کرنا ممنوع تھا تو بغیر الہام کے محض اپنی مرضی سے اس قسم کی پیش گوئی کا شائع کرنا زیادہ قابل مواخذہ ہونا چاہئے۔

رہا فقرہ نمبر۳ جس میں مشیت ایزدی کی تحریک کو حکم خداوندی کے ہم پلہ بیان کیاگیا۔ اس کی تردید میر قاسم علی صاحب نے خاطرخواہ طور پر کر دی۔ اس لئے اس امر کی نسبت بحث کرنے کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔ پس میری رائے میں مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے دعویٰ کی شق(۱) کا کوئی ثبوت بہم نہیں پہنچا سکتے۔

اب میں شق(ب) کو لیتا ہوں کہ آیا مرزاقادیانی کو اشتہار مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کی دعاء کی قبولیت کا الہام بارگاہ الٰہی سے ہوا۔ اس کا ثبوت مولوی ثناء اللہ صاحب کے ہاتھ میں ایک تو وہ الہام تھا جو ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کے بدر میں شائع ہوا اور جو شق(۱) کے ثبوتی فقرہ(۲) میں درج ہے: ’’اعنی اجیب دعوۃ الداع‘‘(میں دعاء کرنے والے کی دعاء کو قبول کرتا ہوں) یہ تو وہی ۱۴؍اپریل کی ڈائری ہے جس کا ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اشتہار سے غیرمتعلق ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ دوسرا ثبوت یہ تھا کہ ایک پرانا الہام مرزاقادیانی کو یہ ہوچکا:’’اجیب کلّ دعائک الّا فے شرکائک‘‘(میں تیری سب دعائیں قبول کروں گا۔ سوائے ان کے تیرے شریکوں کے متعلق ہوں) اگر فریق ثانی اس الہام کی عمومیت کو تسلیم بھی کر لیتا تو اس سے صرف یہی ثابت ہوتا کہ مرزاقادیانی کی یہ دعاء منظور ہونی چاہئے تھی۔ نہ یہ

201

کہ فی الواقعہ منظور ہوئی بھی ان دونوں دعوؤں میں بڑا بھاری فرق ہے۔ مگر میرقاسم علی صاحب نے دکھایا کہ الہام مندرجہ بالا ایک خاص مقدمہ سے متعلق تھا۔ کیونکہ اس الہام کے بعد ایک اور مقدمے میں مرزاقادیانی نے اپنے شرکاء کے خلاف دعاء کی اور اس دعاء کو خداتعالیٰ نے منظور فرمایا۔ (میرے پاس اس کے متعلق حوالہ نہیں۔ وہ دیکھ لئے جائیں)

اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ خود مرزاقادیانی کا عقیدہ اپنی دعاؤں کی قبولیت کے متعلق کیا تھا تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنی ہر ایک دعاء کو قبول ہوجانا ہرگز ضروری نہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اسی:’’اجیب کلّ دعائک الّا فی شرکائک‘‘ (یعنی میں تمہاری وہ دعائیں جو تمہارے شرکاء کے متعلق ہوں قبول نہ کروں گا) والے الہام سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کی بعض دعائیں نامنظور ہو جاتی تھیں اور حقیقت الوحی سے بھی (دیکھو اقتباسات منسلکہ) مرزاقادیانی کا صرف یہی دعویٰ پایا جاتا ہے کہ ہماری دعائیں بہ نسبت دوسرے لوگوں کے کثرت کے ساتھ شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے حقیقت الوحی( ص ۵تا۱۱ خزائن ج۲۲ ص۷ تا ۱۳)کے حوالہ سے یہ بیان کیا تھا کہ مرزاقادیانی کی کل دعاؤں کا قبول ہونا لازمی تھا۔ میں نے حقیقت الوحی کے صفحات مذکورہ کو پڑھا ہے۔ اس سے مولوی صاحب کے بیان کی ہرگز تصدیق نہیں ہوتی۔ ان صفحوں میں دعاء کا کہیں مطلق ذکر تک بھی نہیں۔ ان میں خوابوں اور الہاموں پر بحث ہے۔ مگر خواب اور الہام اور چیز ہے اور دعاء اور چیز۔ پس شق(ب) کی نسبت بھی میری یہ رائے ہے کہ مولوی ثناء اللہ اپنے دعویٰ کو ثابت نہیں کر سکے۔ فرزند علی عفاء اللہ عنہ ہیڈکلرک قلعہ میگزین فیروزپور ۲۰؍اپریل ۱۹۱۲ء

نوٹ: میرے پاس فریقین کی تقریروں کی نقلیں نہیں ہیں۔ اس لئے میں نے یہ فیصلہ اپنے مختصر نوٹوں کی بناء پر لکھا ہے۔ (فرزند علی)

اقتباسات از حقیقت الوحی

۱… ’’یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دعائیں منظور ہوتی ہیں بلکہ بڑا معجزہ ان کا استجابت دعاء ہی ہے جب ان کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا ان کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸،خزائن ج۲۲ ص ۲۰)

۲… ’’یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دعاء قبول ہو جاتی ہے۔ یہ

202

سراسر غلط ہے بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خداتعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے کبھی وہ ان کی دعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت ان سے منوانا چاہتا ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اس سے منوانا چاہتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹، خزائن ج۲۲ ص۲۱)

۳… ’’میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ بسا اوقات خداتعالیٰ میری نسبت یا میری اولاد کی نسبت یا میرے کسی دوست کی نسبت ایک آنے والی بلا کی خبر دیتا ہے اور جب اس کے دفع کے لئے دعاء کی جاتی ہے تو پھر دوسرا الہام ہوتا ہے کہ ہم نے اس بلا کو دفع کر دیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۸، خزائن ج۲۲ ص۱۹۵)

۴… ’’یاد رہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لئے دعاء کا قبول ہونا بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے بلکہ استجابت دعاء کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں۔ کیونکہ استجابت دعاء سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الٰہی میں قدر اور عزت ہے۔ اگرچہ دعاء کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں۔ کبھی کبھی خدائے عزوجل اپنی مرضی اختیار کرتا ہے، لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین حضرت کی عزت کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعاء کے مرتبہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہزارہا میری دعائیں قبول ہوئی ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۲۱، خزائن ج۲۲ ص۳۳۴)

۵… (حقیقت الوحی ص۳۲۷، خزائن ج۲۲ ص۳۴۰) میرا صدہا مرتبہ کا تجربہ ہے کہ خدا ایسا رحیم وکریم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعاء کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعاء منظور کر لیتا ہے جو اس کے مثل ہوتی ہے۔

(فرزند علی مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۱۲ء)

جناب سردار بچن سنگھ صاحب بی۔اے سرپنج کا مفصل فیصلہ

سردار صاحب نے فیصلہ دینے سے پیشتر جو امور جانبین سے دریافت فرمائے اور جو جواب بطور بیانات کے لئے وہ اپنے فیصلہ سے منسلک فرمادئیے، اس لئے وہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

203

بیان مولوی ثناء اللہ صاحب: میں نے وہ پرچہ جو فریق ثانی نے بعد اختتام مباحثہ ثالث کے پاس بطور یاداشت بھیجا تھا، ملاحظہ کر لیا ہے اور اس کے متعلق امور ضروری پیش کردہ فریق ثانی پر ثالث کے روبرو حسب گنجائش وقت سرسری طور پر زبانی تشریح بھی کر دی ہے۔ لیکن اس پرچہ کے بھیجنے میں بے ضابطگی ہوئی ہے۔ اس پرچہ کے متعلق تحریری بحث کی ضرورت خیال نہیں کی جاتی۔ مسلمان میر مجلس کے لئے جو شرائط میں یہ ہے کہ وہ حلفی فیصلہ دیں گے، اس سے یہ مراد ہے کہ فیصلہ کرنے سے پیشتر وہ الفاظ ذیل تحریر کر کے کہ میں خدا کی قسم کھاکر یہ فیصلہ تحریر کرتا ہوں، اپنا فیصلہ لکھے۔ میر صاحب کے دعویٰ کے مطابق وہ صاحب وحی الہام ومعجزات وکرامات تھے۔ میرے نزدیک اگر الفاظ قسم میں کوئی فرق ہوا ہے تو کچھ مضائقہ نہیں بلکہ اگر بلاحلف بھی فیصلہ ہوئے تو چونکہ شرائط کے بموجب حلفی فیصلہ کی ضرورت ہے اور میرمجلس صاحبان نے شرائط مباحثہ خوب ملاحظہ فرمالی ہیں تو ایسا فیصلہ بھی اگر شرائط کے مطابق حلفی فیصلہ تصور فرمایا جاوے تو مجھے کوئی عذر نہیں ہے۔ اگرچہ بموجب جب فقرہ اخیر شرط نمبر۲ ایسا فیصلہ ناقابل وقعت سمجھنا چاہئے۔ مرزاقادیانی کا انتقال ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہوا۔

دستخط: مولوی ثناء اللہ وسردار بچن سنگھ

بیان میر قاسم علی صاحب: مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں چودھویں صدی یعنی حال صدی کا مجدد ہوں اور خدا کی طرف سے مجھے الہام ہوتا ہے اور نشانات صداقت میرے بطور معجزات خدا کی طرف سے صادر ہوتی ہیں۔ نہ ہر وقت الہام ہوتا ہے نہ ہمیشہ معجزات ہی ہوتے ہیں۔ جب خدا چاہے الہام کرتا اور جب خدا چاہے معجزہ کا نشان دیتا ہے۔ یہ دونوں باتیں میرے اختیار میں نہیں ہیں۔ خدا کے اختیار میں ہیں۔

سوال: آیا مرزاقادیانی کا دعویٰ دیگر انبیاء کے ہم رتبہ وہم پلہ ہونے کا تھا یا کم وبیش؟

جواب: اسلام میں انبیاء دو قسم کے ہیں۔ ایک صاحب شریعت وصاحب امت۔ دوم جو اسی نبی اور اس شریعت کے ماتحت ہوں۔ پہلی قسم کی مثال حضرت محمد صاحب نبی اسلام کی ہے۔ دوسری مثال یحییٰ۔ مرزاقادیانی قسم دوم کے نبی تھے۔

سوال: ان دونوں اقسام کے انبیاء میں روحانیت کے لحاظ سے کچھ فرق ہے؟ اور کیا؟

جواب: ہاں! اوّل قسم کے انبیاء پورے کمال کو پہنچے ہوئے اور دوم قسم کے ان سے کم درجے پر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مالک اور نوکر کی حیثیت۔

204

سوال: حضرت محمد صاحب کے بعد آپ کے مقرر کردہ قسم دوم میں کون کون نبی ہوئے ہیں؟

جواب: ہمارے عقیدہ میں جتنے نائب (خلفاء یا مجددین) حضرت محمد صاحب کے بعد ہوئے ہیں وہ سب کے سب قسم دوم کے نبی۱؎ تھے۔ جیسا کہ حضرت محمدa نے فرمایا ہے: ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ (میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں)

سوال: قسم دوم کے انبیاء بھی صاحب وحی والہام ہوتے ہیں؟

جواب: ہاں!

سوال: اشتہار زیربحث میں جو الفاظ آخری فیصلہ درج ہیں، اس سے کیا مراد ہے؟

جواب: یہ ایک درخواست بارگاہ الٰہی میں بطور دعاء کے جیسا کہ اشتہار میں لکھا ہے کی گئی ہے۔ خود مرزاقادیانی کی طرف سے ہے۔ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ خدا کے حضور میں پیش کی گئی ہے۔

سوال: درخواست مندرجہ اشتہار زیربحث کسی دینی مسئلہ کے متعلق ہے اور جماعت مرزاقادیانی کے متعلق یا دنیاوی معاملہ پر؟ اور خاص مرزاقادیانی کی ذات پر حاوی ہے؟

جواب: درخواست متنازعہ میں خدا سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب جو مجھے جھوٹا کہتے ہیں، میری سچائی اور مولوی صاحب کے مجھے جھوٹا کہنے کی صداقت کا فیصلہ کیا جاوے اور اشتہار مذکور کسی دنیاوی تنازعہ پر نہیں تھا، بلکہ اس حیثیت سے تھا جس حیثیت سے قرآن شریف میں ایک شعیب نبی نے یہ دعاء کی کہ اے خدا! مجھ میں اور میری قوم یعنی مخالفوں میں فیصلہ فرما اور یہی آیت مرزاقادیانی نے بھی خدا سے بطور درخواست اس اشتہار میں لکھی ہے۔

سوال: نبی شعیب کی دعاء قبول ہوئی؟

جواب: ہاں! قبول ہوئی۔

سوال: اشتہار متنازعہ میں سچائی کا معیار کس بات پر مبنی رکھا گیا تھا؟

جواب: سچائی کا معیار اس بات پر مبنی رکھا گیا تھا کہ خداوند تعالیٰ جس طریق پر چاہے میری سچائی کا اظہار کرے۔ جیسا کہ آیت مندرجہ اشتہار کا منشاء ہے اور اشتہار کے یہ

۱؎ پھر ان کے انکار سے تو آدمی کافر نہ ہو اور مرزاقادیانی کے انکار سے کافر ہو۔ یہ کیوں؟

205

الفاظ کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔ اب اس فیصلہ کی تمنا یہ کی گئی کہ اس طریق پر فیصلہ ہو سچا زندہ رہے اور جھوٹا مر جائے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس فیصلہ سے انکار کیا۔ اس وقت بحث صرف ان امور پر جو فریقین کے درمیان متنازعہ قرار پاچکے ہیں، جو بورڈ پر درج ہیں، ان میں کوئی امر ایسا نہیں ہے جس کے فیصلہ کے لئے ان سوالات کی ضرورت ہو۔ یہ بات کہ دعاء مندرجہ اشتہار قبول ہوئی یا نہیں ہوئی یا مرزاقادیانی نے کسی حیثیت سے یہ اشتہار دیا امور زیربحث سے غیرمتعلق ہیں۔ کیونکہ میرا چیلنج خاص ان دو امور متنازعہ فیہ پر ہے۔

قاسم علی بقلم خود! دستخط: سردار بچن سنگھ، مؤرخہ ۲۱؍اپریل ۱۹۱۲ء

مباحثہ مابین مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ومیرقاسم علی صاحب دہلوی

مباحثہ ہذا کی بنیاد اس اشتہار سے شروع ہوئی جو مرزاقادیانی نے بذریعہ اخبارات بدر والحکم مشتہر فرمایا اور جو اشتہار بجنسہ چھاپہ شدہ ذیل میں چسپاں ہے۔ اس اشتہار کے متعلق دونوں فریقین نے برضامندی باہمی امورات ذیل متنازعہ فیہ قرار دئیے۔

۱… ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزاقادیانی نے دیا تھا۔

۲… خدا نے الہامی طور پر جواب دے دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعاء قبول فرمالی۔

ثبوت: بذریعہ مولوی ثناء اللہ صاحب ۔۔۔۔ تردید: بذمہ میر قاسم علی صاحب

بتاریخ ۱۷؍اپریل ۱۹۱۲ء

فریقین نے اپنی اپنی بحث بذریعہ پرچہ جات تحریری ۳بجے شام سے لے کر قریب ۱۰بجے رات تک روبرو ہر دو میر مجلسان ومجھ کمترین ثالث مقبولہ فریقین کی۔ چونکہ بحث میں بڑی رات گزر چکی تھی اور کمترین کا خیال تھا کہ میں اپنا اظہار رائے بصورت اختلاف رائے ہر دو میر مجلسان کروں۔ اس واسطے یہ قرار پایا کہ دو میرمجلسان اپنی اپنی رائے اگلی صبح یعنی بتاریخ ۱۸؍اپریل میرے پاس بھیج دیں اور میں اپنی رائے ۲۰؍اپریل کی شام تک تحریر کر دوں گا۔ بدیں وجہ کہ مجھے ۱۸، ۱۹؍اپریل کو بوجہ کثرت کار فرصت کم تھی۔ میر مجلس منجانب مدعی نے اپنی رائے ۱۹؍اپریل کی شام کو اور میرمجلس منجانب مدعا علیہ نے کل ۲۰؍اپریل کی شام کو بھیجی اور ان کی وجہ تاخیر چٹھی انگریزی منسلکہ ہذا سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔ چونکہ میں علم عربی سے بالکل ناواقف ہوں اور کتب مقدسہ اہل اسلام سے بالکل بے بہرہ۔ اس واسطے میں نے

206

مناسب سمجھا کہ چونکہ ایک میرمجلس فیروزپور میں ہیں، اس واسطے چند ایک شکوک فریقین سے ایک دوسرے کے مواجہہ میں رفع کر لوں۔ چنانچہ فریقین کی خدمت میں میں نے اطلاع کر دی کہ بوقت ۱۱؍بجے امروزہ وہ مباحثہ والے مکان میں تشریف لے آویں۔ چنانچہ مکان مذکور ۲/۱/۱۱بجے سے کارروائی شروع کی گئی ہے اور زبانی شکوک رفع کرنے کے علاوہ ضروری امور پر ہر دو فریقین کا بیان بھی لیاگیا جو رائے ہذا کا جزو تصور ہو گا۔ شرائط مباحثہ کی شرط یہ ہے کہ رائے دہندہ اگر مسلمان ہے تو خدا کی قسم کھا کر اپنا تحریری فیصلہ بحث کے خاتمہ پر لکھے گا اور جو رائے مباحثے کے متعلق بغیر خدا کی قسم کھانے کے کوئی ثالث یا میر مجلس دے گا، وہ قابل وقعت نہ ہو گی۔ چوہدری فرزند علی صاحب میرمجلس منجانب میر قاسم علی صاحب کے فیصلہ پر قسم وغیرہ کے متعلق کوئی اندراج نہیں ہے۔ لیکن چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے بیان میں جو میں نے آج لیا ہے، عدم تعمیل شرط بالا پر عذر نہیں اور یہ ایک معمولی سہو ہے اور خاص کہ جب کہ چوہدری فرزند علی صاحب بخوبی جانتے تھے کہ یہ فیصلہ حسب شرائط حلفی لکھنا ہو گا۔ اندریں صورت کہ برخلاف فیصلہ قابل وقعت ہے۔ خاص کہ جب کہ وہ فریق جس کے برخلاف فیصلہ مذکور ہے زیادہ اصرار نہیں کرتا ہے۔

مجھے سخت افسوس ہے کہ وہ معزز صاحبان جو ہر دو فریق کی مذہبی کتابوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔ اختلاف رائے ظاہر کریں جب دو عالموں میں جو فریق کے ہم مذہب ہوں (یہ سردار بچن سنگھ کا اپنا خیال ہے) اختلاف رائے ہو تو میرے جیسے ناواقف اور غیرمذہبی شخص کی رائے کیا وقعت رکھتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں اور تمام صاحبان سے التماس کرتا ہوں کہ وہ میری رائے کو کسی طرح سے بھی اپنے مذہبی عقائد کے مخل تصور نہ فرمائیں۔ بے شک شرائط مباحثہ کی رو سے ایک فریق کی جیت اور دوسرے فریق کی ہار میری رائے سے ہو سکتی ہے۔ لیکن میری رائے کسی صورت میں بھی کسی مسئلہ مذہبی کی فیصلہ کن نہیں۱؎ ہو سکتی اور یہ جیت اور ہار بھی ویسی ہی ہو گی، جیسا کہ دو متخاصمین کسی چند سالہ معصوم اور دنیا سے بالکل ناواقف بچے سے التماس کریں کہ جس شخص کے سر کو تو ہاتھ لگا دے گا وہ فتح یاب تصور ہو گا اور وہ بچہ ان کے کہنے سے بلا جانے کسی امر کی ایک شخص کے سر کو ہاتھ لگا دیوے۔فی الواقعہ میری

۱؎ سردار صاحب کی کمال تواضح اور کسر نفسی ہے۔ ورنہ یہ فیصلہ کسی مذہبی مسئلہ میں نہیں بلکہ واقعات کے بموجب ہے۔ منیجر

207

واقفیت دربارہ اسلام میں جو کہ ایک وسیع سمندر ہے۔ اس نادان اور ناواقف بچہ سے بدرجہا کم ہے اور میری رائے کا کوئی اثر کسی اور شخص پر نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی اور شخص اس کا پابند ہوسکتا ہے اور میرا پکا یقین ہے کہ فریقین بھی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے بموجب ہرگز ہرگز پابند نہیں ہوں گے۔ سوائے اس بات کے کہ بموجب شرائط مباحثہ تین سو روپے کی رقم کی ہارجیت ہو جاوے۔ میں نے کئی ایک مذہبی مباحثے دیکھے ہیں، جن کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جب کوئی شخص ایک خاص عقیدہ مذہبی کا پیروکار ہو تو وہ ہرگز اس سے منحرف نہیں ہوسکتا۔ خواہ اس کے مخالفین کچھ ہی کیوں نہ کہیں بلکہ اس قسم کی مخالفت اور مباحثہ ایسے معتقدوں کو اور بھی پختہ بنادیتے ہیں۔

البتہ اس قسم کے مباحثوں کا آئندہ ہونے والے معتقدوں پر تھوڑا بہت اثر ضرور ہوتا ہے۔ لیکن میرا یقین ہے کہ میرے ایسے شخص کی رائے کا اثر ایسے لوگوں پر بھی کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن چونکہ فریقین نے مجھے اپنا ثالث مقرر کیا ہے اور بدقسمتی سے ہردو میر مجلسان میں اختلاف رائے ہو گیا ہے۔ اس لئے حسب شرائط مباحثہ مجھ پر لازم آیا کہ میں اپنی رائے کا اظہار خواہ اس کی وقعت کچھ بھی ہو، اس مباحثہ کی اغراض کے لئے ظاہر کروں۔

فریقین نے بحث بڑی قابلیت اور لیاقت کے ساتھ کی ہے اور طریق بحث میں باالکل قانون شہادت کی تقلید فرمائی ہے لیکن جب میں دعویٰ کو دیکھتا ہوں تو مجھے بالکل تعجب پیدا ہوتا ہے جو صاحب اس مباحثہ میں مدعی بنے ہیں اور جو ہر دو امور متنازعہ فیہ کو مثبت میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا عقیدہ ہر دو امور میں متنازعہ فیہ کے مثبت میں ہونے کا نہیں ہے۔ گویا وہ اپنے دعویٰ کی اپنی ضمیر کے مطابق تصدیق کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اگر معمولی قانون مندرجہ ضابطہ دیوانی کے مطابق کوئی شخص عرضی دعویٰ عدالت میں پیش کرے اور ساتھ ہی کہے کہ میں عرضی دعویٰ کے صحیح اور سچ ہونے کی حلفیہ تصدیق کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں تو عدالت فوراً اس کے دعویٰ کو نامنظور کر دے گی۔ خواہ اس کا مدعا علیہ اس کے دعویٰ کے اقبال کرنے کے لئے تیار کیوں نہ ہو جو کہ مدعا علیہ حال کی صورت نہیں ہے بلکہ وہ انکار دعویٰ پر اصراری ہے۔ لیکن چونکہ یہ مباحثہ ایک مذہبی مسئلہ پر ہے۔ اس واسطے اس پر قانون دیوانی عائد نہیں ہوسکتا۔ یہ خیالات میں نے اس واسطے ظاہر کئے ہیں کہ ہمارے ملک میں کن حالات میں مباحثے پیدا ہو جاتے ہیں اور کن حالتوں میں ایک شخص کو محض مباحثہ کی غرض سے

208

کیا حالت بدلنی پڑتی۱؎ ہے اور اس طرح سے میرقاسم علی صاحب جو مرزاقادیانی کے صاحب وحی الہام ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ امور متنازعہ کی تردید میں کھڑے ہوتے ہیں۔ فی الواقعہ یہ بھی میری رائے ناقص میں عجائبات زمانہ میں ایک ایک عجوبہ ہے۔

امور متنازعہ کے فیصلہ کے لئے اشتہار کی عبارت کو غور سے پڑھنا نہایت ہی ضروری اور یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ اشتہار کسی مسئلہ دینی کے انفصال کے واسطے تھا یا کسی دنیوی امر کے فیصلہ کے لئے۔ اس امر کو میرقاسم علی صاحب نے صاف طور پر اپنے میں مان لیا ہے کہ یہ اشتہار دینی مسئلہ کے انفصال کے لئے تھا۔ میری رائے ناقص میں مرزاقادیانی کا یہ انفصال کسی خاص مسئلہ دینی کے فیصلہ کے لئے نہ تھا بلکہ اپنے مشن کے فیصلہ کے لئے تھا جو ایک معمولی مسئلہ دین کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ عبارت ذیل مندرجہ اشتہار سے بخوبی ہے۔

الف… چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں۔

ب… اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں۔

ج… اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں۔

د… اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف اور مسیح موعود ہوں۔

ہ… پس اگر وہ سزا جو انسان… تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔

و… اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں۔

ز… مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہیں تہمتوں کے ذریعے سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا! اے میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ ان جملہ فقروں سے صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی نے اشتہار کے ذریعہ کسی معمولی مسئلہ دینی کے فیصلہ کے لئے استدعا نہیں کی بلکہ اپنے مشن کی تصدیق یا تکذیب کے لئے استدعا کی۔ اس اشتہار کے متعلق ایک سوال پیدا ہوا ہے کہ مرزا

۱؎جناب سرپنچ صاحب ٹھیک فرماتے ہیں۔ مگر یہاں مدعی کا دعویٰ مدعا علیہ کے اعتقاد پر مبنی ہے نہ واقعات پر۔ (منیجر)

209

قادیانی کو اس اشتہار کے دینے اور اپنے مشن کی تصدیق کرانے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی۔ خود اشتہار کے مفصلہ ذیل فقرات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی بایام اشتہار ستائے ہوئے تھے اور حد درجہ کے دکھی کئے گئے تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

الف… میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔

ب… میں آپ کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی اور وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے مسکنت نقصان رساں ہوتا ہے اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔

اگر بقول اور حسب دعویٰ مرزاقادیانی یہ کل بحث ہی صرف اس دعویٰ پر مبنی ہے کہ وہ مسیح موعود مامور خداوند تعالیٰ تھے اور فی الواقعہ ایسی مصیبت میں تھے۔ جیسا کہ اشتہار میں درج ہے تو میری رائے ناقص میں (حقیقت الوحی ص۱۸، خزائن ج۲۲ ص۲۰،۲۱) کے الفاظ ذیل ان پر عائد ہوتے ہیں: ’’جب ان کے (مقبولین کے) دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا ان کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح ہے کامل مقبولوں کے ذریعے سے وہ اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔ خدا کے نشان تب ہی ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے مقبول ستائے جاتے ہیں، اور جب حد سے زیادہ ان کو دکھ دیا جاتا ہے تو سمجھو کہ خدا کا نشان نزدیک ہے، بلکہ دروازہ پر۔‘‘

پس جب اشتہار کی عبارت سے حد درجہ کی مصیبت اور بے قراری ٹپکتی ہے تو حسب الفاظ بالا کاتب اشتہار کے ہاتھ کو اگر خدا کا ہاتھ تصور کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ سوائے اس امر کے کوئی معتقد شخص اپنے مذہبی اصولوں کی طرفداری میں یہ نہ کہے کہ مقبولین کا ہاتھ خدا کا ہاتھ اور سب کاموں کے واسطے ہوتا ہے۔ سوائے تحریر کے کاموں کے اور یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب کہ چھوٹے چھوٹے اور بہت خفیف خفیف مسائل دینی اور امورات دنیاوی میں تو خدا کا حکم ہووے اور ایک ا یسا اہم معاملہ جو کہ مرزاقادیانی کے کل مشن کے متعلق تھا وہ بلاحکم خدا ہووے۔

میرقاسم علی صاحب نے اپنی بحث میں فرمایا ہے کہ فریق ثانی نے کوئی ایسا حکم پیش نہیں کیا جس میں مرزاقادیانی کوخدا نے یہ حکم دیا ہوتا کہ تم ایسی درخواست ہمارے حضور میں پیش کرو۔

210

میری رائے ناقص میں بحکم خداوندی کے یہ معنی ہرگز نہیں کئے جاسکتے کہ خداوند تعالیٰ اپنے ماموروں کو پہلے حکم دیتا ہے اور بعدازاں وہ اپنی درخواست پیش کرتے ہیں، میں بحکم خداوندی کے معنی منظور خاطر خدایا تحریک خدا یعنی پرماتما کی ’’پریرنا‘‘ لیتاہوں۔

ممکن ہے کہ خداوند تعالیٰ چونکہ ہمہ دان ہے اپنے ماموروں اور مقبولین کو جس اس صفت سے موصوف نہیں ہے۔ تحریک کر دے جس تحریک کا ان مامورین کو مطلقاً اس وقت پتہ نہ ہووے یا بعد میں پتہ ہووے یا تحریک کا نتیجہ پیدا ہونے کے بعد بھی اس تحریک کا پتہ لگے اور نتیجہ پیدا ہونے سے پیشتر وہ کل عرصہ اس تحریک سے بے خبر رہیں۔

میری رائے ناقص میں بحکم خداوندی ہونے کا ایک یہ بھی معیار ہے کہ کسی فعل کا نتیجہ کیا ہوا ہے۔ اگر نتیجہ الفاظ استدعا کے مطابق ہوا ہے تو اس سے یہ قیاس پیدا ہوتا ہے کہ یہ استدعا خداوند تعالیٰ کے حکم سے ہی تھی۔ لیکن اگر نتیجہ استدعا کے برخلاف ہوتا ہے تو قیاس یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلاں استدعا خلاف حکم ایزدی تھی۔ پس جب اس معیار سے بھی دعاء مندرجہ اشتہار کو دیکھا جاوے تو چونکہ نتیجہ بالفاظ سائل پیدا ہوا، اس واسطے قیاس یہ ہے کہ یہ اشتہار بحکم ایزدی دیاگیا۔

اگر ان قیاسات کو چھوڑ کر واقعات متعلقہ اشتہار متنازعہ کو دیکھا جائے تو بھی میری رائے ناقص میں یہی نتیجہ نکلتا ہے جو میں نے اوپر درج کیا ہے۔

اوّل سوال: یہ پیدا ہوتا ہے کہ اشتہار مرزاقادیانی کے دست مبارک سے کب کاغذ پر ظہور میں آیا۔ بے شک چھاپہ شدہ کاغذ پر تاریخ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء درج ہے۔ مگر میری رائے ناقص میں وہ مرزاقادیانی کے دست مبارک سے نہیں ہے بلکہ کاتب کے ہاتھ کی۔ میں نے مزید تسلی کے لئے میر قاسم علی صاحب سے دریافت کیا کہ اصل مسودہ کہاں ہے، جس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ اگر صرف چھاپہ شدہ تاریخ پر کسی امر کا فیصلہ کیا جاوے تو میں نہیں جانتا کہ کاروبار دنیا میں کیسی گڑبڑ مچ جائے گی، وہ سول اینڈ ملٹری گزٹ جس پر کہ ۲۰؍اپریل ۱۹۱۲ء چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہاں لدھیانہ میں ۱۹؍اپریل ۱۹۱۲ء کی شام کو کئی اصحاب کی ردی کی ٹوکری میں چلا گیا تھا۔ پھر نہیں معلوم کہ اس میں چھپے ہوئے مضمون ۱۹؍اپریل سے کتنا عرصہ پیشتر مصنّفین کے ہاتھوں سے نکل چکے ہوں گے۔ حضور ملک معظم شہنشاہ ہند کے دہلی دربار کے موقعہ پر جو اعلان پڑھا گیا اس پر ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۶ء درج تھی۔ نہیں معلوم وہ چھاپہ خانہ سے کتنا عرصہ پیشتر نکل چکا تھا اور تیار کب کیاگیا تھا۔ پس اگر ۲۰؍اپریل والے سول اینڈ ملٹری گزٹ

211

کے کسی مضمون یا اعلان مذکورہ کی تاریخ تصنیف کی بابت کوئی تنازعہ پیدا ہو جاوے تو تاریخ متنازعہ کو ۲۰؍اپریل یا ۱۲؍دسمبر بتلانا میں خود میرقاسم علی صاحب کے انصاف پر چھوڑتا ہوں۔ قصہ کوتاہ میری رائے یہ ہے کہ یہ اشتہار ۱۵؍اپریل سے پیشتر صاحب کے قلم سے نکل چکا تھا۔

دوم سوال: یہ ہے کہ بدر مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء میں جو نوشت بکالم ڈائری درج ہے، اس کے متعلق صحیح تاریخ کون سی قائم کی جاوے۔ میر قاسم علی صاحب اس کی تاریخ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء قائم کرنے پر بہت اصرار کرتے ہیں۔ لیکن میں افسوس کرتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا ہوں، جس کے واسطے وجوہات ذیل ہیں:

۱لف… محض ۱۴؍اپریل چھپ جانے سے میں ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ یہ ۱۳؍اپریل کی ڈائری ہے۔ خاص کر جب کہ ۱۵، ۱۶؍اپریل کی ڈائری پیش نہیں کی جاتی۔ ممکن ہے کہ یہ نوشت ۱۵،۱۶ کی ڈائری کی ہووے۔

ب… ڈائریوں کی ترتیب جو مختلف اخباروں میں چھپی ہے، بالکل درست نہیں ہے کہ ان کے متعلق تاریخوں کے صحیح ہونے کا کوئی قیاس بھی پیدا ہو سکے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے تو ڈائریوں کے متعلق ایک بے ضابطگی ظاہر کی تھی، جس کے جواب میں میر قاسم علی صاحب نے کئی ایک اور بے ضابطگیاں بیان کیں جو بیان مدعی کی بجائے تردید کے تائید کرتے ہیں۔ اس واقعہ پر انگریزی کی ایک ضرب المثل کا مطلب درج کر دینا لاحاصل نہ ہو گا۔ دو سیاہ چیزیں مل کر سفید چیز پیدا نہیں کر سکتیں اور دو غلطیاں مل کر درستی پیدا نہیں کر سکتی۔

ج… اگر ڈائری اور تاریخ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء خود مرزاقادیانی کے دست مبارک سے ہوتیں تو مجھے تاویل مذکورہ کے صحیح ماننے میں ذرا بھی تأمل نہ ہوتا۔ لیکن جب کہ مزید لوگ ڈائریاں تحریر کرتے تھے اور وہ ایسی لاپرواہی اور بے احتیاطی سے چھپوائی جاتی تھیں تو محض چھاپہ شدہ تاریخ سے میں اس نوشت کے متعلق تاریخ قائم نہیں کر سکتا۔ خاص کر جب کہ خود ڈائریوں سے ظاہر ہے کہ یہ ڈائری ۱۵یا ۱۶؍اپریل کی بھی ہوسکتی ہے۔

د… جب کہ وہ اشتہار جو کہ ۱۵؍اپریل کا بیان کیا جاتا ہے، بدر مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۰۷ء اور الحکم مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء میں شائع کیا جاتا ہے اور ڈائری جو کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق ایک الہام کا بھی ذکر کرتی ہے اور جو اشتہار سے ایک دن پہلے کی بیان ہوتی ہے۔ ۲۵؍اپریل کے بدر کے انتظار میں رکھی جاتی ہے۔ درحال یہ کہ ایسی ضروری

212

ڈائری مؤرخہ ۱۸؍اپریل میں بڑی آسانی سے چھپ سکتی تھی تو ایسی صورت میں، میں ڈائری کی تاریخ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء مقرر کرنے سے بالکل قاصر ہوں۔ خلاصہ یہ کہ بدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والا الہام اشتہار متنازعہ کے متعلق ہے۔

میں نے قاسم علی صاحب سے مزید تسلی کے لئے دریافت کیا کہ سوائے حقیقت الوحی یا بدر مؤرخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کے کوئی اور تحریر بھی ایسی جس پر کہ بدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والے الہام کا اطلاق کیا جائے، جس کا جواب انہوں نے صاف نفی میں دیا۔

حقیقت الوحی شائع ہی ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء کو ہوتی ہے۔ یعنی بدر مؤرخہ ۲۵؍اپریل سے ۲۰یوم بعد ایسی صورت میں الہام بدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کا اطلاق حقیقت الوحی کی کسی تحریر پر نہیں ہوسکتا۔ خواہ تحریر کی چھاپہ شدہ تاریخ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء سے پہلے کی ہی کیوں نہ ہو۔ تاوقتیکہ ایسی تحریر مشتہر نہ کی جاچکی ہو جو کہ ثابت نہیں کیاگیا۔ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کی تحریر کا جو حوالہ دیا جاتا ہے وہ میں نے بعد میں پڑھی اور اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ کوئی دعا برخلاف یا بحق مولوی ثناء اللہ نہیں کی گئی۔ جس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکیں کہ الہام بدر مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء اس کے متعلق ہو، میں چاہتا تھا کہ میں تحریر بدر ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کو حرف بحرف اس جگہ درج کرتا، لیکن طوالت اور کمی وقت کے باعث ایسا نہیں کر سکتا۔ لیکن تحریر بدر ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کو میں اپنی رائے کا جزو قرار دیتا ہوں جو صاحب اس رائے کو کسی جگہ چھپائیں وہ براہ مہربانی تحریر مذکور بھی چھاپ دیں۔ (سردار صاحب کے حسب منشاء ۴؍اپریل کے بدر کی عبارت کا خلاصہ درج ذیل ہے)

’’اس کتاب حقیقت الوحی کے ساتھ ایک اشتہار بھی ہماری طرف سے شائع ہو گا جس میں ہم یہ ظاہر کردیں گے کہ ہم نے مولوی ثناء اللہ کے چیلنج مباہلہ کو منظور کر لیا ہے اور ہم اوّل قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمام الہامات جو اس کتاب میں ہم نے درج کئے ہیں، وہ خدا کی طرف سے ہیں اور اگر یہ ہمارا افتراء ہے تو’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ایسا ہی مولوی ثناء اللہ بھی اس اشتہار اور کتاب کے پڑھنے کے بعد بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار کے قسم کے ساتھ یہ لکھ دیں کہ میں نے اس کتاب کو اوّل سے آخر تک بغور پڑھ لیا ہے۔ اس میں جو الہامات ہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں اور مرزاغلام احمد کا اپنا افتراء ہے اور اگر میں ایسا کہنے میں جھوٹا ہوں تو:’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ اور اس کے ساتھ اپنے واسطے اور جو کچھ

213

عذاب وہ خدا سے مانگنا چاہیں مانگ لیں۔ ان اشتہارات کو شائع ہو جانے کے بعد اللہتعالیٰ خود ہی فیصلہ کر دے گا اور صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلادے گا۔‘‘

(بدر۱؎ قادیان، ج۶ نمبر۱۴ ص۴ کالم نمبر۲ مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء)

یہ تحریر مباہلہ کے متعلق تھی جو مباہلہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے پیش کیاتھا۔ اس پر مرزاقادیانی نے فرمایا تھا کہ مباہلہ کے متعلق ہم دعاء کریں گے جو دعاء نہیں کی گئی اور مباہلہ بروئے تحریر مؤرخہ بدر ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء فسخ ہو گیا بلکہ مباہلہ کے فیصلہ کے لئے ایک اور طریق اختیار کیاگیا۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ مضمون بکالم ڈائری بدر مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء پورے اشتہار متنازعہ کے کسی اور تحریر کے متعلق نہیں ہے۔الفاظ مشیت ایزدی مندرجہ تحریر بدر مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۰۷ء پر بہت زور دیا گیا ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اگر تحریر مذکور میں صرف یہی الفاظ ہوتے ہیں تو ان الفاظ سے بحکم خداوندی نتیجہ نہیں نکل سکتا تھا۔ کیونکہ مشیت کے واسطے رضامندی باری تعالیٰ لازمی نہیں ہے۔ لیکن تحریر مذکور میں الفاظ ذیل ہیں: ’’اس وقت مشیت ایزدی نے آپ کو دوسری راہ سے پکڑا اور حضرت حجت اللہ کے قلب میں آپ کے واسطے دعاء کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔‘‘

پس میں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوں کہ تحریر بدر مؤرخہ ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء منجانب مرزاقادیانی تھی اور متعلق اشتہار متنازعہ تھی اور اس سے صاف ثابت ہے کہ اشتہار مذکور بحکم خدوندی تھا۔ ایک اور سوال جس پر زیادہ زور دیاگیا ہے وہ یہ ہے کہ خود اشتہار متنازعہ میں حکم خداوندی کی نفی کی ہے۔ اس بارہ میں اتنا ہی عرض کر دینا کافی ہے کہ یہ نفی محض اس جہ سے عمل میں آئی کہ مرزاقادیانی نے بعدالت ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع گورداسپور اقرار کیا تھا کہ میں آئندہ خاص قسم کی پیش گوئیاں جس میں ہلاکت کا سوال آوے نہیں کروں گا۔ اس واسطے پابندی احکام قانون دنیوی نفی مذکور کی گئی ہے۔ میرقاسم علی صاحب نے آج زبانی عذر کیا کہ وہ اقرار نامہ… صرف اس خاص مقدمہ کے متعلق تھا۔ لیکن میری رائے ناقص میں وہ اقرار نامہ عام تھا۔ جیسا کہ اقرارنامہ اس بالکل صاف اور صریح الفاظ سے پایا جاتا ہے۔ اقرارنامہ مذکور نہایت ضروری ہے اور میں بوجہ طوالت اس جگہ درج نہیں کر سکتا۔ وہ بھی اس رائے کا جزو تصور ہو گا۔

۱؎منشی قاسم علی صاحب نے اپنے اخبار میں فیصلہ تو شائع کیا، مگر بدر کی یہ تحریر درج نہیں کی۔ حالانکہ انہی کی پیش کردہ تھی۔ (منیجر)

214

خلاصہ اقرارنامہ مرزاقادیانی جو باجلاس

ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر گورداسپور دیاگیا

’’میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا، جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہو گا۔‘‘ مؤرخہ ۲۴؍فروری ۱۸۹۹ء، مرزاغلام احمد بقلم خود

(الہامات مرزا مرتب مولانا ثناء اللہ امرتسری)

پس میری ناقص میں نفی مندرجہ اشتہار بالکل قابل وقعت ہے۔ جب کہ تحریرات بدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء وبدر ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء سے خود مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں مشیت کا بالکل کافی اور تسلی بخش ثبوت ملتا ہے۔ پس آخر نتیجہ یہ ہے کہ حسب دعویٰ مرزاقادیانی ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزاقادیانی نے دیا تھا۔

امردوم، امر اوّل کا بالکل حاصل ہے۔ جب کہ میں نے قرار دیا ہے کہ تحریر بدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء اشتہار متنازعہ کے متعلق تھی تو صاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ الہام مندرجہ تحریر مذکور بھی اشتہار متنازعہ کی دعاء کے متعلق تھا۔

جب کہ (حقیقت الوحی ص۱۸۷، خزائن ج۲۲ ص۱۹۴) میں صاف درج ہے کہ ایک شخص احمد بیگ کے معیاد مقررہ کے اندر مر جانے سے مرزاقادیانی کی یہ پیش گوئی کہ: ’’اے عورت توبہ کر توبہ کر۔ کیونکہ لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر ایک بلا آنے والی ہے۔‘‘ جزوی طور پر پوری ہوئی تو میں صاف اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزاقادیانی کے اس جہاں فانی سے بحیات مولوی ثناء اللہ صاحب رحلت فرمانے سے مرزاقادیانی کی دعاء مندرجہ اشتہار خداوند تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اس قبولیت کا اظہار مرزاقادیانی نے اپنی زبان مبارک سے کیا۔ ملاحظہ ہو تحریر بدر مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء بکالم ڈائری جو اس رائے کا جزو تصور ہو گا۔

فریقین نے اپنی اپنی بحث میں کئی ایک باتوں پر زور دیا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آیا مرزاقادیانی کی کل دعائیں (سوائے شرکاء کے متعلق) قبول فرمانے کا خداوند تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا۔ لیکن مجھے ان امور پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ میری رائے ناقص میں مرزاقادیانی کی دعاء مندرجہ اشتہار بارگاہ الٰہی سے منظور فرمائی گئی۔ اگرچہ

215

میں اتنا درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ الہام مذکور کے لفظ بلفظ ترجمہ سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ وہ الہام محض مقدمہ کی دعاؤں کے متعلق ہے جو استثناء کی گئی ہے۔ وہ صرف شرکاء کے متعلق ہے۔ ورنہ وہ الہام کل دعاؤں کے متعلق ہے۔

اگرچہ میرے واسطے صرف ایک میر مجلس کے ساتھ اتفاق رائے ظاہر کر دینا کافی تھا اور کسی وجہ کے پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن دونوں میرمجلس صاحبان نے اپنی اپنی رائے ہم مشورہ ہوکر نہیں لکھی۔ اس واسطے میں نے ان کی راؤں سے کوئی مدد نہیں لی اور نہ ان کی رائیں پڑھی ہیں۔ صرف ان کا نتیجہ دیکھا ہے۔ نتیجہ سے جب ان کی مختلف رائیں معلوم ہوئیں تو میں نے ان کی وجوہات کو پڑھنا بالکل نامناسب سمجھا۔ خاص کر جب چوہدری فرزند علی صاحب لدھیانہ میں موجود نہیں تھے۔ اندریں صورت مجھے اپنے ناقص خیال کی تائید میں چند ایک دلیلیں دینے کی ضرورت پڑی۔ چونکہ میں عالم شخص نہیں ہوں اور نہ مجھے جیسا کہ میں نے پہلے درج کر دیا ہے، کتب اسلام سے واقفیت ہے۔ اگر میری کسی دلیل سے یا کسی تحریر سے کسی مسلمان صاحب کی ذرا بھی دل آزاری ہو تو میں نہایت ہی ادب سے معانی کا خواستگار ہوں۔ کیونکہ میں نے ارادتاً ایسا نہیں کیا، بلکہ قواعد مباحثہ کو مدنظر رکھ کر صرف فیصلہ فریقین کے لئے مجبور اظہار رائے کیا ہے۔ کیونکہ اگر میں گریز کرتا تو مجبوراً فریقین کو کسی اور ثالث کے تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی اور خواہ مخواہ تشویش میں پڑتے اور خرچہ وغیرہ کے زیربار ہوتے۔

دستخط: سردار بچن سنگھ پلیڈر (بحروف انگریزی)

رسالہ ہذا کا ضمیمہ مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان کے قلم سے

۲۱؍اپریل ۱۹۱۲ء کو مغرب کے وقت سردار صاحب موصوف نے فیصلہ دیا فوراً ہی تمام شہر میں یوں خبر مشہور ہوئی جیسے عید کے چاند کی۔ مسلمان ایک دوسرے کو مبارک، خیرمبارک کے نعرے سنتے اور سناتے، چھوٹے چھوٹے بچے گاڑیوں پر بیٹھ کر خوشی کے نعرے لگاتے۔ یہاں تک کہ دس بجے شب کے حضرت میاں صاحب (مولانا محمد حسن خان صاحب مرحوم) کے مکان کے وسیع احاطہ میں جلسہ ہوا، جس میں فیصلہ کا اظہار اور سرپنچ صاحب کے حق میں شکریہ اور دعاء کا ریزرویشن بڑی خوشی سے حاضرین نے پاس کیا۔ اسی کے بعد مبلغ ۳۰۰روپے کا انعام امین صاحب سے وصول کر کے صبح کو ڈاک پر روانہ امرتسر ہوئے۔ اسٹیشن

216

پر احباب کا مجمع لگا تھا، جنہوں نے نہایت مسرت ومحبت کا اظہار کیا اور ایک جلوس کی معیت میں ہم اپنے مکان پر پہنچے۔ الحمدﷲ!

شب کو احباب کی دعوت اور جلسہ ہوا جس میں مختصر کیفیت جلسہ کے بعد فیصلہ سنایا گیا اورسرپنچ صاحب کے تدبر وانصاف اور محنت ودیانت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حق میں شکریہ اور دعاء کا ریزولیوشن پاس کیا گیا۔ الحمدﷲ!

لطیفہ: ہم نے لکھا تھا کہ آپ (منشی قاسم علی صاحب) اپنے خلیفہ حکیم نورالدین صاحب سے اجازت لے کر مباحثہ میں آویں۔ اس کے جواب میں منشی صاحب نے لکھا۔ ہم کو اپنی کامیابی ونصرت الٰہی کے مورد ہونے کی خاطر ایک دینی خدمت میں اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کو ہم ان شاء اللہ! حاصل کر کے ہی لسانی وقلمی جہاد میں آپ کے سامنے آویں گے۔

(الحق مؤرخہ ۵؍اپریل ۱۹۰۷ء ص۴ کالم۶)

ہمارے خیال میں حکیم صاحب چونکہ مرزاقادیانی کے خلیفہ ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ انہوں نے بھی مرزاقادیانی کی تائید میں یہی دعاء کی ہو گی کہ خدا حق کو ظاہر کرے۔ یہی ان کو چاہئے تھا۔ اسی لئے حق ظاہر ہوا۔ پس جس طرح میں مرزاقادیانی کی قبولیت دعاء کا قائل ہوں، حکیم صاحب کی بابت بھی مقرر ہوں کہ آپ کی دعاء بھی قبول ہوئی اور ضرور قبول ہوئی۔ الحمدﷲ! خدا نے آپ کی دعائے حق کو ظاہر کر دیا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ آپ یا آپ کے دوست اس دعاء کو نامقبول سمجھیں۔ جیسے مرزاقادیانی کی دعاء کو غیرمقبول کہتے ہیں، ایسا کہنے سے نہ ہمیں کچھ رنج ہے نہ جناب خلیفہ صاحب کو ہو گا اور نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ مرزائی لوگ جب مرزاقادیانی کی دعاء مقبول نہیں جانتے، حکیم صاحب کی دعاء کو بھی مقبول نہ جانیں تو کیا شکایت ہے۔

شکریہ: خدا کے کاموں کے اسرار خدا ہی جانتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اور کوئی الہام تو مرزاقادیانی کو خدا کی طرف سے ہو یا نہ ہو، ۱۵؍اپریل والی دعاء اور اس کی قبولیت کا الہام تو ضرور خدا کی طرف سے ہو گا۔ جس کا اثر خدا کو یہ دکھانا منظور تھا، جو دیکھا گیا۔

میرے دوست حیران ہیں کہ قادیانی جماعت کو عموماً اور منشی قاسم علی کو خصوصاً کیا خبط سمایا کہ انہوں نے اس مباحثہ پر ضد کی۔ میں اس کا جواب بھی یہی دیتا ہوں کہ واقعی یہ تحریک بھی

217

خدائے قدیر کی طرف سے ان کے دل پر تھی، تاکہ فیصلہ اور بین ہو جائے۔ کیونکہ سابقہ صاف فیصلہ کو جو مرزاقادیانی کی موت سے ہوا تھا، مرزاقادیانی کے مریدوں نے ناحق کی تاویلات سے مکدر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس لئے خدا نے اس کام کے لئے قادیانی مشن کے جوشیلے ممبر منشی قاسم علی صاحب کو منتخب فرمایا اور ان کے ساتھ اور قادیانی دوستوں کو شریک کیا۔ الحمدﷲ!

اس لئے اصل شکریہ تو خداتعالیٰ کا ہے جس نے حق وباطل میں فرق کر دیا۔ اس کے سواء لدھیانہ کی اسلامی پبلک عموماً شکریہ کی مستحق ہے جن کی مخلصانہ دعائیں ہمارے شریک بلکہ معین حال تھیں۔ خصوصاً ہمارے مکرم مولانا محمد حسن صاحب وائس پریذیڈنٹ میونسپلٹی لدھیانہ اور ان کے اعزہ جناب بابو عبدالرحیم، بابو عبدالفتاح، بابو عبدالحئی، شیخ اسین الدین مع برادران، منشی محمد حسن میونسپل کمشنر، مسٹر یٰسین شاہ، مولوی ولی محمد، قاضی فضل احمد صاحبان کا شکریہ ہے جنہوں نے اس کام میں ہمیں امور مشکلہ میں مشورہ سے مدد دی۔

یہاں نوربخش ٹیلر ماسٹر صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں جو باوجود یہ کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے معتقد ہونے کے، وقتاً فوقتاً مشوروں سے امداد دیتے رہے۔ سب کے لئے دعاء ہے۔ جزاہم اللہ خیرالجزاء!

یہودیانہ خصلت: حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام صحابی جو یہودیوں کے ایک بڑے عالم تھے، آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے۔ بعد قبول اسلام عبداللہ بن سلام نے کہا: حضورﷺ یہودیوں کی قوم بہتان لگانے والی ہے۔ آپa ان سے دریافت فرمالیں کہ میری نسبت ان کی کیا رائے ہے؟ عبداللہ مکان میں چھپ گئے۔ آنحضرتm نے یہودیوں کو بلا کر پوچھا۔ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا ہے؟ سب نے کہا:’’خیرنا وابن خیرنا اعلمنا وابن اعلمنا‘‘(ہم سب سے اچھا اور اچھے کا بیٹا۔ ہم سب سے بڑے علم والا اور بڑے علم والے کا بیٹا) اتنے میں عبداللہ اندر سے نکل آئے۔ نکل کر کہا: ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ یہودئیوں نے ذرہ شرم نہ کی سنتے ہی فوراً کہا: ’’شرنا وابن شرنا‘‘(ہم میں برا اور برے کا بیٹا)

(سیرالاعلام لذہبی ج۲ ص۴۱۵)

یہی حال ہمارے مناظر منشی قاسم علی اور ان کی پارٹی کا ہے۔ ہم نے کئی ایک معززین کے نام سرپنچی کے لئے پیش کئے۔ جن میں ایک نام سردار بچن سنگھ صاحب کا بھی تھا۔ منشی صاحب نے لدھیانوی دوستوں کے مشورہ سے سردار صاحب کو دیانت دار جان کر

218

منتخب کیا، اپنا سردار بنایا۔ تمام باگ دوڑ ان کے ہاتھ میں دی، مگر جب انہوں نے واقعات کی بناء پر ان کے خلاف منشاء فیصلہ دیا تو جس منہ سے خیرناکہا تھا، اسی منہ سے شرنا کہتے ہوئے ذرہ نہ جھجکے۔ دو اشتہار اور ایک اخبار ان کی طرف سے فیصلہ مباحثہ کے بعد متصل ہی نکلے جن کے مضامین تو کیا عنوان بھی ایسے ناشائستہ الفاظ دلخراش ہیں کہ کسی شریف آدمی کے قلم سے نہیں نکل سکتے۔ ایک اشتہار منشی قاسم علی کے اپنے قلم کا انہی کے نام پر نکلا ہے، جس کا نام لدھیانہ میں سکھا شاہی فیصلہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ایک شخص کو اپنا سردار بنایا جائے۔ اپنا تمام فیصلہ ان کے سپرد کیا جائے۔ سیاہ وسفید کا مختیار بنایا جائے؟ مگر جب فیصلہ اپنی مرضی کے خلاف ہو تو اسی اپنے سردار کو اپنے حاکم کو بے نقط سنائیں۔ اس سے شرم کا اور زیادہ مقام کیا ہو گا؟ سردار صاحب نے اپنی معمولی کسر نفسی سے یہ لکھ دیا کہ میں علم عربی سے ناواقف ہوں۔ اسلامی کتابوں سے بے خبر ہوں، وغیرہ! جو کہ راست باز کے لئے بالکل موزوں ہے۔ فریق ثانی نے بس اسی کو اپنی سند بنالیا کہ جو شخص ایسا ناواقف ہے۔ اس کا فیصلہ ہی کیا؟ سچ ہے ؎

خوئے بدرا بہانہ بسیار

مگر اہل دانش کے نزدیک ان کو ایسا کہتے ہوئے بھی خود ہی شرم کرنی چاہئے تھی۔ کیونکہ بوقت انتخاب سرپنچ کے ان کو چاہئے تھا کہ سردار صاحب کا علم عربی اور کتب تفسیر اور احادیث میں امتحان لے لیتے۔ کیا وہ اپنے ایمان اور دیانت سے کہہ سکتے ہیں کہ سردار صاحب کی سرپنچی بوجہ اس کے تھی کہ وہ عربی زبان کے ایک پروفیسر ہیں یا جامع ازہر (مصر) کے محدث بحث کے نشیب وفراز کو جاننے والے ہیں۔ چنانچہ میں نے فریق ثانی کو جب رقعہ لکھا کہ: ’’ثالث کی بابت میری یہ رائے قرار پائی ہے کہ کوئی ایسا شخص ہونا چاہئے جو مذہبی خیال کا ہو۔ الہامی نوشتوں کی اصطلاح سے واقف اور اس کے ساتھ دیانت دار بھی ہو۔ اس لئے میں پادری صاحب کو پیش کرتا ہوں (پادری دیری صاحب) امید ہے آپ کو بھی اوصاف کے لحاظ سے صاحب موصوف کا تقرر منظور ہو گا۔‘‘

تو اس کے جواب میں منشی قاسم صاحب نے جو تحریر بھیجی وہ درج ذیل ہے: ’’بجواب آپ کے رقعہ نمبر۳ مؤرخہ امروزہ کے گزارش ہے کہ جب شرط مرقومہ آنجناب (غیرمسلم ثالث ہونا چاہئے) ہم نے غیرمسلم ثالث جس کو ہمارے خیال میں مقدمات کے سمجھنے اور فریقین کے بیانات کا اندازہ کر کے فیصلہ کرنے کی پوری قابلیت ہے، پیش کیا ہے۔

219

شرط مذکورہ میں یہ درج نہیں کہ الہامی نوشتوں سے واقف یا ناواقف ہونا چاہئے بلکہ غیرمسلم کی شرط ہے۔‘‘

ناظرین! خدارا انصاف کیجئے میں نے پہلے ہی یہ نہ کہا تھا؟ کہ کسی ایسے سرپنچ کو منتخب کیجئے جو غیرمسلم ہونے کے ساتھ الہامی نوشتوں کی اصطلاحات سے واقف ہو۔ اس شرط کو ہمارے مخاطب نے کیسی حقارت سے ناپسند کیا۔

کیا یہ وصف (کہ مقدمات میں فریقین کا بیان سن کر فیصلہ دے سکیں) سردار بچن سنگھ صاحب بی۔اے گورنمنٹ ایڈووکیٹ نہیں ہیں؟ نہیں ہیں تو آپ نے ان کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا سردار صاحب کا نام ہم نے مقرر کیا تھا؟ سنئے! آپ ہی کے ایک رقعہ کے چند فقرات ذیل میں درج ہیں، جن میں سردار صاحب کے تقرر کا فیصلہ بھی ملتا ہے۔

آپ لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ ماسٹر نور بخش (قادیانی) کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ سردار بچن سنگھ صاحب پلیڈر کا تقرر بطور ثالث پسند کرتے ہیں اور ان کا نام آپ کے رقعہ نمبر۵ میں پیش کیا گیا ہے۔ سو ہم بھی سردار صاحب موصوف کے تقرر پر رضامند ہیں۔‘‘

اس رقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ ہم نے کئی۱؎ ایک اہل علم اور اہل دیانت کے نام پیش کئے تھے، جن میں سب حسب مشورہ میاں نور بخش صاحب ٹیلر ماسٹر (جو مرزاقادیانی کے راسخ معتقد ہیں۔)

آپ نے سردار بچن سنگھ صاحب کو منظور کیا۔ یہ جو لکھا کہ ماسٹر نور بخش صاحب نے کہا کہ آپ سردار صاحب کو پسند کرتے ہیں۔ اسی کی صورت بھی یہی تھی کہ ماسٹر صاحب نے ہمارے سامنے دو تین آدمیوں کے نام لئے جن میں سردار صاحب بھی تھے۔ ہم نے سب کی منظوری بیک زبان دے دی کہ ہمیں سب منظور ہیں مگر ماسٹر صاحب کا رجحان کسی وجہ سے سردار صاحب کی طرف تھا۔ اسی لئے انہوں نے آپ کو یہی مشورہ دیا۔ بہرحال آپ سے غلطی ہوئی کہ آپ نے سردار صاحب کا پہلے امتحان نہ لے لیا۔ لیتے بھی کیسے جب کہ ہم کو آپ خود ہی لکھ چکے تھے کہ ثالث میں اتنی لیاقت ہونی چاہئے کہ فریقین کی تقریریں سن کر بطریق مقدمات

۱؎منشی قسم علی صاحب نے بھی اپنے اشتہار میں لکھا ہے کہ مولوی صاحب نے ایک پادری وہندو اور ایک سکھ کو پیش کیا۔ (منیجر)

220

فیصلہ کر سکے۔ بات بھی واقعی یہ ہے کہ قادیانی مباحث خصوصاً اس مباحثہ کا فیصلہ عربی دانی یا قرآن فہمی پر موقوف نہیں بلکہ واقعات کی تنقیح کرنے پر ہے۔ اچھا ہم پوچھتے ہیں کہ سردار صاحب تو عربی نہیں جانتے مگر آپ کے مسلمہ مقبولہ منصف منشی فرزند علی صاحب عربی میں کتنی کچھ قابلیت رکھتے ہیں؟ ذرہ ان کی ڈگری تو بتلادیں۔ بہرحال بعد منظور سرپنچ کے نہیں بلکہ اس کا فیصلہ اپنے خلاف سننے کے بعد یہ عذر کرنا جو قادیانی فریق نے کیا ہے اور سرپنچ مقرر کردہ کو پہلے اپنا سردار مان کر فیصلہ اپنے حق میں نہ ہونے کے باعث بعد میں اسے برابھلا کہنا اور اس کو غیر مہذب الفاظ سے یاد کرنا حدیث مرقوم (جس میں عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے پر یہودیوں کا ان کا ہجو کرنا مذکور ہے) کی پوری تصدیق کرتا ہے۔ فریق ثانی نے اسی قسم کے اور بھی عذر لنگ کئے ہیں جو ان کی بے بسی پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ جلسہ میں مباحثہ کے وقت فلاں رئیس یا فلاں وکیل یا فلاں پولیس افسر جو آیا تو وہ بھی اسی لئے آیا کہ سرپنچ پر اثر ڈالے۔ افسوس ہے ان لوگوں کی حالت پر۔ زیادہ افسوس یہ ہے کہ ان کو الہام بھی ہوتا ہے تو بعد ازوقت۔ پہلے ہوا تو شرائط میں یہ بھی داخل کرتے کہ جلسہ مباحثہ میں کوئی ذی وجاہت شخص نہ آنے پائے، بلکہ جلسہ کیا ہوا، اچھا خاصہ شہدوںکا ایک مجمع ہو۔ (شیم)

تعجب پر تعجب

واقعہ یہ کہ قادیانی مناظر نے سرپنچ کی ذات اور ان کے فیصلہ کی نسبت بہت سخت توہینی فقرات جھاڑے ہیں۔ اس قدر تعجب انگیز نہیں جس قدر یہ تعجب خیز ہے کہ ملک کے عام پریس نے اس خبر کو مختصر اور مطول نوٹوں کے ساتھ شائع کیا مگر قادیانی پریس ایسا خاموش رہا کہ معمولی خبر تک بھی درج نہیں کی بلکہ چناں خفتہ اند کہ گوئی مردہ اند کیا۔ اس خاموشی سے ان کا یہ مقصد ہے کہ اس شکست کی شہرت نہ ہو یا کم ازکم قادیانی اخباروں کے ناظرین تک یہ خبروحشت اثر نہ پہنچ جائے۔ اس لئے وہ یاد رکھیں کہ وہ اس منصوبے میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ ہوں گے۔

اہالی قادیان اور قادیان کے خلیفہ صاحب کی گفتگو اور خفگی جو اس بارے میں ہوئی، اس کا ہمیں خوب علم ہے۔ ہمیں اس کے اظہار کی ضرورت نہیں۔ وہ جانیں اور ان کے مرید ؎

محتسب را درون خانہ چہ کار

معمولی تحریری مقابلوں سے قطع ظر خدا نے چار دفعہ مجھے قادیان پر فتح عظیم بخشی۔ الحمدﷲ! اسی لئے میرا لقب فاتح قادیان پبلک نے مشہور کر دیا۔ تفصیل درج ہے۔

221

مجھے فاتح قادیان کا لقب کیوں زیبا ہے

اوّل… اس لئے کہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲) پر بغرض مباحثہ مجھے قادیان آنے کی دعوت دی اور اسی کتاب کے (ص۳۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۸) پر لکھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب میرے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے قادیان نہیں آئے گا۔ مگر میں بلائے بے درماں کی طرح ۱۰؍جنوری ۱۹۰۲ء کو قادیان پر حملہ آور ہوا تو مرزاقادیانی مقابلہ میں نہ آئے اور عذر کیا کہ میں نے خد کے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے کہ مباحثہ نہیں کروں گا۔ (کہاں کیا؟ یہ پتہ نہیں) ایک فتح۔

تفصیل کے لئے رسالہ الہامات مرزا ملاحظہ ہو: (جو احتساب ہذا میں موجود ہے فقیر)

دوم… اس کے بعد جناب ممدوح نے میری موت کا اشتہار دیا اور میرے خود بدولت دوسری فتح۔

سوم… ریاست رام پور صانہا اللہ عن الشرور میں ہز انس حضور نواب صاحب کے سامنے مباحثہ ہوا اور اس مباحثہ میں قادیانی جماعت کے تمام برگزیدہ اصحاب شریک تھے۔ مگر تین روز کے مقابلے کے بعد ایسے بھاگے کہ شہررام پور کو پھر کر بھی نہیں دیکھا۔ بلکہ بزبان حال یہ کہتے ہیں ؎

  1. نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن

    بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

اس فتح کا ثبوت ہانس نواب صاحب کا سرٹیفکیٹ موجود ہے، جو درج ذیل ہے:

حضور نواب صاحب رام پور کا سرٹیفکیٹ

رام پور میں قادیانی صاحبان سے مناظرہ کے وقت مولوی ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ ومسرور ہوئے۔

دستخط: خاص حضور نواب صاحب بہادر محمد حامد علی خاں

چہارم… چوتھی فتح یہ ہوئی جو باب لدھیانہ میں قتل دجال سے خدا نے دی۔ یہ ہیں چار فتوحات بینہ جن کی وجہ سے خیرخواہاں اسلام مجھ کو فاتح قادیان کہتے ہیں۔ الحمدﷲ!

خاکسار: ابوالوفاء ثناء اللہ (مولوی فاضل) امرتسر

222

آفۃ اللہ

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

223

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

آفتہ اللہ … بجواب … آیت اللہ

مرزاقادیانی کی امت کے دو بڑے گروہ ہیں۔ ایک قادیانی دوسرا لاہوری یا پیغامی مرزائی۔ آخری فیصلہ اثران دونوں پر پہنچتا ہے۔ اس لئے خدا کی حکمت نے تقاضا کیا کہ ان دونوں کو میدان میں لائے۔ مباحثہ لدھیانہ میں تو قادیانی گروہ نکلا۔ پیغامی گروہ میں یہ سکت تو نہ ہوئی کہ میدان مباحثہ میں آئے۔ اس نے حق الخدمت یوں ادا کیا کہ اس گروہ کے امیر مولوی محمد علی صاحب (ایم۔اے) نے اس مضمون پر ایک چھوٹا سا ٹریکٹ (رسالہ) لکھا جس کا نام ہے ’’آیت اللہ‘‘ مناسب ہے کہ اس رسالہ میں اس کا بھی مختصر سا جواب دیا جائے تاکہ ساری بحث یکجاء جمع ہو جائے۔

مولوی محمد علی صاحب کا رسالہ تو کئی صفحات پر ختم ہوتا ہے مگر اس کے حشووزوائد مضامین کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دعاء مرزاقادیانی کی محض یک طرفہ دعاء نہ تھی بلکہ دعاء کرنے اور کرانے کے لئے دعوت اور بلاوا تھا۔ مگر چونکہ مولوی ثناء اللہ نے بالمقابل دعاء کرنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا وہ دعاء نہ رہی۔ اس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے بہت پرانی تحریرات نقل کی ہیں، جن میں مرزاقادیانی اور میرے درمیان کبھی کبھی مباہلہ کا ذکر آ جایا کرتا تھا۔ ان سب تحریرات کو اس اشتہار سے ملا کر اس مطلب پر پہنچے ہیں کہ یہ دعاء بھی درحقیقت محض یک طرفہ دعاء نہ تھی بلکہ بالمقابل دعاء کے لئے دعوت تھی۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کے رسالے کی جان صرف یہ فقرہ ہے جو انہی کے الفاظ میں ہی نقل کرتے ہیں: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل قسم کھانے سے انکار کیا اور یہاں تک لکھ دیا کہ میں تمہاری قسم کا اعتبار ہی نہیں کرتا تو پھر آپ نے اس اشتہار میں جس کا عنوان ہے ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بجائے قسم بالمقابل دعاء کے ذریعے فیصلہ کرنے کی طرف بلایا۔‘‘

(آیت اللہ ص۱۶)

اس ایجاد سے مولوی محمد علی صاحب کی غرض یہ ہے کہ ظاہر کریں کہ مرزاقادیانی کے اشتہار میں یہ شرط تھی کہ میرے مقابلہ میں مولوی ثناء اللہ بھی دعاء کرے۔ چونکہ اس نے دعاء نہیں کی۔ لہٰذا قرارداد نہ ہوئی۔ پس بات یونہی رہ گئی۔

224

میں کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی کا اشتہار سامنے رکھ کر اس لفظ پر انگلی رکھ دو یا نشان لگادو جس سے آپ کے دعویٰ کا ثبوت یا تائید ہوسکتی ہے۔ ورنہ یاد رکھو: ’’بے ثبوت دعویٰ کرنا کسی اہل عقل کا کام نہیں۔‘‘

(تقریر مرزا بروحدۃ الوجود ص۳۱)

ہاں! آپ نے اس دعویٰ کا ثبوت جن لفظوں میں دیا ہے، وہ بھی ناظرین کی آگاہی کے لئے نقل کئے جاتے ہیں۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں:

’’مرزاقادیانی نے کہا میں نے دعاء کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ دعاء سے جو فیصلہ خدا سے چاہا جاتا ہے وہ صرف مباہلہ کے رنگ میں ہی ہوتا ہے۔ یوں کسی بزرگ یا ولی یا نبی کی بددعاء سے کسی مخالف کی ہلاکت ضروری ہو جانا یہ سنت اللہ میں داخل نہیں۔ جب تک کہ اس دعاء میں مباہلہ کا رنگ پیدا نہ ہو۔ چنانچہ فقرہ(۲) کے بعد فقرہ(۳) میں اپنی دعاء کو درج کر کے فقرہ(۴) میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بدیں الفاظ مخاطب فرمایا ہے۔ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یہ فقرہ صاف بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنی طرف سے جو کرنا تھا کر دیا۔ مگر فریق ثانی سے آپ کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ بھی اس کے مقابل کچھ کرے۔ صرف اپنی دعاء پر حصر نہیں کیا۔ اگر اپنی بددعاء پر حصر کر دیتے تو پھر کہا جاسکتا تھا کہ شاید آپ نے اس بددعاء کو یکطرفہ مباہلہ کا تصور کر لیا ہے۔ مگر مولوی ثناء اللہ صاحب سے یہ صریح مطالبہ کہ وہ بھی مقابلہ پر کچھ کرے۔ بتاتا ہے کہ آپ اس کی طرف سے ایسی ہی دعاء کے منتظر ہیں۔ جیسا کہ: ’’ثم نبتہل‘‘ کا منشاء ہے۔‘‘

(آیت اللہ ص۱۹، ۲۰)

مولوی محمد علی صاحب نے اس بیان میں دو دعوے کئے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا سے جو فیصلہ چاہا جاتا ہے وہ صرف مباہلہ کے رنگ میں ہوتا ہے۔ دوم یہ کہ مرزاقادیانی نے مولوی ثناء اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ بھی میرے مقابل دعاء کریں۔ اللہ اکبر! یہ علم اور یہ تعصب!

جناب سنئے! حضرت نوحm نے خدا سے فیصلہ چاہا تو وہ صرف حضور نوح کی اپنی ہی دعاء تھی یا مخالفوں نے بھی مباہلہ کیا تھا؟

آنحضرتﷺ کو جب کفار مکہ نے کعبہ شریف میں سخت تکلیف دی تو آپa نے نہایت اشد کفار پر بددعاء کی تھی۔ خداوند ابوجہل کو پکڑ۔ خداوندا فلاں کو پکڑ وغیرہ۔ چنانچہ

225

اس بددعاء کے مطابق جنگ بدر میں وہ لوگ مارے گئے۔ کیا یہ دعاء تھی یا مباہلہ؟ اس قسم کے واقعات بے شمار ملتے ہیں۔ جن میں حضرات انبیاءؑ نے مخالفوں پر بددعائیں کیں اور خدا نے قبول کر کے فیصلہ فرمایا۔

آئیے میں آپ کو بتاؤں کہ آپ کا یہ دعویٰ نہ صرف قرآن وحدیث کے برخلاف ہے بلکہ خود مرزاقادیانی کے طریق عمل کے بھی مخالف۔ مرزاقادیانی ہمیشہ دعاؤں سے فیصلہ چاہا کرتے تھے۔ میں یہاں ان کی ایک دعاء نقل کرتا ہوں۔ مگر میں اس کا ذمہ دار نہ ہوں گا کہ اس دعاء کی قبولیت بھی بتاؤں۔ یہ کام آپ کا ہے میرا کام صرف یہ ہے کہ میں یہ بتاؤں کہ مرزاقادیانی کا طریق عمل بھی آپ کے دعویٰ کے خلاف تھا۔ سنئے! صاحب کہتے ہیں: ’’اس عاجز مرزاغلام احمد قادیانی کی آسمانی گواہی طلب کرنے کے لئے ایک دعاء کا حضرت عزت سے اپنی نسبت آسمانی فیصلے کی درخواست۔‘‘

یہ اس اشتہار کی سرخی (عنوان) ہے جس سے میں کچھ نقل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ عنوان ہی مولوی محمد علی کی تکذیب کافی کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں صاف لکھا ہے کہ یہ فیصلہ کی درخواست ہے۔ تاہم اصل الفاظ بھی سنائے دیتے ہیں۔ مرزاقادیانی دعاء کرتے ہیں: ’’اے میرے مولا! قادر خدا! اب مجھے راہ بتلا اور کوئی ایسا نشان ظاہر فرما جس سے تیرے سلیم الفطرت بندے نہایت قوی طور پر یقین کریں کہ میں تیرا مقبول ہوں… اگر تو تین برس کے اندر جو جنوری ۱۹۰۰عیسوی سے شروع ہو کر دسمبر ۱۹۰۲عیسوی تک پورے ہو جاویں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی آسمانی نشان نہ دکھلائے اور اپنے اس بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن ومفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۵، ۱۷۷)

کیا یہ فیصلہ طلبی بذریعہ دعاء ہے یا خدا سے بھی مباہلہ ہے؟ (ہاں! میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ ان تین سالوں میں کون سا ایسا نشان ظاہر ہوا جس سے مرزاقادیانی کے دعویٰ کا اثبات ہوتا یا قوت پہنچی ہو) میری غرض صرف یہ ہے کہ آپ کا دعویٰ قرآن وحدیث کے مخالفت کے علاوہ خود مرزاقادیانی کے بھی مخالف ہے۔ انبیاءؑ بذریعہ دعاء فیصلہ چاہتے رہے اور ہوتا رہا۔ ہمارے پنجابی نبی تو ہمیشہ دعاء ہی کے ذریعے سے اپنی مشین

226

چلایا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کی مشین کے ایک ڈرائیور نے لکھا تھا جو آپ کے ملاحظہ کے لئے نقل ہے: ’’حضرت مسیح موعود مرزاصاحب دعاء کی قبولیت کا ایسا قطعی ثبوت پیش کرتے ہیں جو آج دنیا بھر میں کسی مذہب کا کوئی ماننے والا پیش نہیں کرسکتا۔ وہ مدت سے اس بات کو شائع کر رہے ہیں کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔‘‘

(ریویو ۱۹۰۷ء ج۶ ش۵ زیرایڈیٹری محمدعلی)

پس جب ان کا بڑا ثبوت دعاء ہے تو پھر دعاء فیصلہ کن نہ ہوئی۔ اسی لئے تو مرزاقادیانی نے اپنی دعاء کے ساتھ میری آمین کا بھی انتظار نہیں کیا جو بہت معقول ہے۔

دوسری بات کہ مولوی ثناء اللہ سے بھی دعاء کا مطالبہ تھا۔ افسوس ہے کہ اس کے لئے اشتہار میں کوئی لفظ نہیں ملتا۔ مرزاقادیانی تو کہتے ہیں کہ اس کے نیچے جو چاہو لکھو۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ میرے اقرار یا انکار دعاء یا عدم دعاء پر کچھ موقوف ہیں۔

طرفہ پر طرہ: غرض مامورین الٰہی کسی دوسرے کے لئے بددعاء نہیں کرتے۔ سوائے اس خاص حال کے جو مباہلہ کے نام سے موسوم ہے۔ یعنی دوسرے فریق کے بالمقابل جو عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہو۔ ہاں! ایسے ان کے مخالف جو جھوٹے کی موت مانگتے ہیں، ان کے سامنے بطور نشان کے ہلاک کئے جاتے ہیں اور یہی دو طریق فیصلے کے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے پیش کئے ہیں۔ باقی رہی بددعاء سو اللہتعالیٰ اپنے ماموروں کے لئے یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ دوسروں کے لئے ہلاکت مانگا کریں۔ ہمارے نبی کریمa تو منافقوں جیسے خطرناک دشمنان اسلام کے لئے بھی استغفار ہی کیا کرتے تھے۔ ہاں! ایک موقعہ پر جب آپ کو سخت دکھ پہنچایا گیا اور آپ کے ستر نہایت عزیز قاری بے رحمی سے اور دھوکہ دے کر کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں، قتل کر دئیے گئے تو آپ نے ایک قوم پر کچھ دن بتقاضائے بشریت بددعاء کی۔ مگر اس رحمۃ للعالمین کو یہی حکم ہوا: ’’لیس لک من الا مرشیٔ او یتوب علیہم اویعذبہم فانہم ظالمون‘‘

(آیت اللہ ص۴۵، ۴۶)

ہم حیران ہیں کہ اس انکار کو نقصان علم کہیں یا کتمان حق نام رکھیں۔ خیر کچھ بھی ہو حضرت نوح اور خود سید الانبیاءؑ کا واقعہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کی دعاء خود قرآن مجید میں یوں مذکور ہے:’’ربنا اطمس علٰی اموالہم واشدد علی قلوبہم

227

(یونس۸۸)‘‘(اے خدا فرعونیوں کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔ تیرا عذاب دیکھے بغیر ایمان نہ لائیں) کیسی صاف دعاء ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب پر مرزاقادیانی کی محبت بہت غالب ہے کہ ان کے دعویٰ کے خلاف معمولی معلومات بھی آپ کو ذہول یا بھول جاتے ہیں۔

مزید افسوس! اس مضمون پر لدھیانہ کے مباحثہ میں کافی بحث ہو چکی تھی۔ فریقین اپنے اپنے دلائل پیش کر چکے تھے جو مولوی محمد علی صاحب نے بھی یقینا دیکھے ہوں گے۔ اس لئے آپ کا فرض ہونا چاہئے تھا کہ آپ ان سب کے علاوہ کوئی بات کہتے یا ان میں کوئی معقول جدت پیدا کرتے۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اپنا منہ تاکنے والوں کو دھوکہ میں رکھا یا خود دھوکہ کھایا اور ان دلائل کا جواب نہ دیا۔

ہماری طرف سے دو دلیلیں فیصلہ کن پیش ہوئی تھیں۔ ایک اخبار بدر قادیان مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء سے جو اشتہار مذکور سے دس روز بعد ہے۔ اس میں مرزاقادیانی کا قول ہے کہ میں نے جو ثناء اللہ کے حق میں دعاء کی تو الہام ہوا: ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ یعنی یہ دعاء قبول ہے۔ (ملفوظات ج۹ ص۲۶۸) الہام صاف فیصلہ کن ہے کہ دعاء مذکور قبول ہوئی۔ مولوی محمد علی صاحب نے اس کا جواب نہیں دیا۔

دوئم اخبار بدر مؤرخہ ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء یعنی میرے انکار مندرجہ اہل حدیث ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء سے ڈیڑھ مہینہ بعد مرزاقادیانی کا ایک خط میرے نام چھپا جس میں اس فیصلہ کا خدا کے ہاتھ میں ہونا دوبارہ اظہار کیا۔ مولوی محمد علی نے بھی اس کا جواب بھی نہیں دیا۔

افسوس! مختصر یہ ہے کہ مرزاقادیانی کی مذکورہ دعاء خدا کی تحریک سے تھی۔ اس کے قبول ہونے کا ان کو الہام ہوچکا تھا۔ اس لئے مرزاقادیانی کی یہ دعاء ضرور بالضرور قبول ہوئی۔ کیوں نہ ہوتی الہام مذکورہ کے علاوہ قرآن کریم بھی اس دعاء کا مؤید ہے۔ غور سے سنئے: ’’ولا یحیق المکرالسیئی الا باہلہ (فاطر:۴۳)‘‘

مرزائیو! دیکھو ہماری دریادلی کہ ہم اپنے برخلاف خود تم کو عذر بتاتے ہیں۔ سنو استاد مومن خاں کا شعر ورد زبان کر لو جہاں کسی نے اس دعاء کی بابت ذکر کیا، جھٹ سے یہ شعر پڑھ دیا کرو۔

  1. مانگا کریں گے اب سے دعاء ہجر یار کی

    آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعاء کے ساتھ

228

فتح ربانی

درمباحثہ قادیانی

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امر تسریؒ

229

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمد اللہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

پہلے ایک نظر ادھر

مرزاقادیانی نے سب سے پہلے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی وقت سے علماء اسلام نے ان کا تعاقب کیا۔ بہت سے علماء نے ان کی تردید میں قلم اٹھایا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی، حضرت پیر صاحب گولڑوی، حضرت سید محمد علی صاحب مونگیری، مولوی غلام رسول صاحب عرف رسل بابا امرتسری، مولوی محمد انوار اللہ صاحب حیدرآبادی، مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی، مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری، ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب پٹیالوی، قاضی فضلﷲ احمد صاحب لدھیانوی، مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی، منشی الٰہی بخش صاحب لاہوری، مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسریw خاص قابل ذکر ہیں۔جزاہم اللہ!

مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کے واقعات تاریخ مرزائیہ میں بالخصوص قابل یادگار ہیں۔ ۱۹۰۲ء میں مرزاقادیانی نے کتاب اعجاز احمدی کے ذریعہ مولوی صاحب کو قادیان مباحثہ کے لئے بلایا اور ساتھ ہی پیش گوئی بھی جڑ دی کہ نہیں آئیں گے۔ مگر مولوی صاحب نے جنوری ۱۹۰۳ء کو قادیان میں پہنچ کر مرزاقادیانی کو میدان مباحثہ میں بلایا۔ لیکن مرزاقادیانی باہر نہ نکلے۔

۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزاقادیانی نے مولوی صاحب کے مقابلہ میں آخری فیصلہ کے نام سے اشتہار دیا۔ (جو رسالہ فاتح قادیان میں درج ہے)اس اشتہار کا اثر یہ ہوا کہ مولوی صاحب نے بجائے خوفزدہ ہونے کے ایک رسالہ ماہوار مرقع قادیانی جاری کر دیا جو مرزاقادیانی کی حیات کے بعد تک بھی جاری رہا۔ اس میں خاص مرزاقادیانی کے متعلق مضامین لکھے جاتے تھے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزاقادیانی اس دارفانی سے انتقال فرما گئے۔ جس پر کسی اہل دل نے کہا:

  1. لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

    کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا

اس کے بعد ریاست رام پور میں بحکم ہزہائیننس نواب صاحب رام پور ۱۵؍جون ۱۹۰۹ء کو مباحثہ ہوا جس میں مرزائی جماعت کے بڑے بڑے لوگ شریک تھے۔ گو مباحثہ تو

230

حیات ووفات مسیح اور صداقت مرزا پر تھا۔ مگر تین روز تک صرف حیات ووفات پر رہا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائی جماعت بلااجازت نواب صاحب چلی آئی اور نواب صاحب نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو فتح یابی کا سرٹیفکیٹ دیا جو درج ذیل ہے۔ وہوہذا!

’’رام پور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت مولوی ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی، اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ ومسرور ہوئے۔‘‘ دستخط خاص: حضور نواب صاحب بہادر رام پور

محمد حامد علی خاں

اس کے بعد مرزائیوں نے پھر سر اٹھایا اور مرزاقادیانی کے اپریل ۱۹۰۷ء والے اشتہار کی بابت چون وچرا کی کہ ہم اس پر بحث کرنے کو تیار ہیں۔ اگر جیت جاؤ تو ہم سے تین سو روپیہ انعام پاؤ۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کو منظور کیا اور مقام مباحثہ لدھیانہ تجویز ہوا۔ فریقین کی طرف سے ایک ایک منصف اور ایک غیرمسلمان سردار بچن سنگھ جی گورنمنٹ پلیڈر لدھیانہ بمنظوری فریقین سرپنچ مقرر ہوئے۔ مباحثہ باقاعدہ ہوا۔ فیصلہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے حق میں ہوا اور انعام مبلغ تین سو روپیہ بھی ان کو وصول ہوا۔ اس مباحثہ کی ساری روئیداد مع فیصلہ منصفان، مولوی صاحب نے رسالہ کی صورت میں ’’فاتح قادیان‘‘ کے نام سے شائع کی۔ جواب بھی مل سکتی ہے۔ (احتساب جلد ہذا میں موجود ہے)

ان واقعات اور فتوحات الٰہیہ کے باوجود مرزائیوں سے کسی بحث ومباحثہ کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ حق کے متلاشی کے لئے دو ہی راہیں ہیں۔ علم دار یا علم شناس کے لئے کتابی دلائل کافی ہوتی ہیں اور الٰہی فیصلہ تو سب کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ جس کی بابت اللہتعالیٰ قرآن مجید میں باربار ارشاد فرماتا ہے:’’فانتظروا انی معکم من المنتظرین (الاعراف:۷۱)‘‘

اس قسم کی آیات فیصلہ الٰہیہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ حکم الٰہیہ سے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ سب سے بالاتر ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی اپنے اشتہارات کے مطابق خدائی فیصلہ کے نیچے آئے اور ان کے مریدان خاص اپنی مسلمہ شرائط کے ساتھ مقدمہ ہار گئے۔ پھر کسی بحث مباحثہ کی کیا حاجت؟

مگر چند دنوں کا واقعہ ہے کہ مرزائیوں نے امرتسر میں ایک مرزائی واعظ غلام

231

رسول صاحب (راجیکی) کو بلاکر شہر میں ادھر ادھر کچھ کہنا سننا شروع کیا تو عوام میں اس کا چرچا ہوا۔ مختلف مقامات پر فریقین کی تقریریں ہوئیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کے بھی دو لیکچر ہوئے، جن میں مولوی صاحب نے مرزائی الہامات کی خوب قلعی کھولی۔ اسی اثناء میں جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کسی تقریب سے امرتسر تشریف لائے تو اہالی امرتسر کے اصرار سے صاحب موصوف نے بھی متعدد تقریریں فرمائیں، جن کا اہل شہر پر خاص اثر ہوا۔ جزاہم اللہ خیرالجزاء!

لیکن لوگوں کا خیال رہا کہ فریقین ایک جگہ بیٹھ کر گفتگو کریں تو نتیجہ اور بھی بہتر ہو۔ چنانچہ انہی حضرات کی کوشش سے ایک جگہ بیٹھ کر مندرجہ ذیل شرائط کا تصفیہ ہوا۔

شرائط مباحثہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

مابین انجمن احمدیہ وانجمن حفظ المسلمین امرتسر

بتواریخ ۲۹، ۳۰؍اپریل ۱۹۱۶ء بشرائط ذیل مباحثہ ہونا قرار پایا ہے:

۱… جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی غلام رسول صاحب مناظر ہوں گے اور انجمن حفظ المسلمین کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب مباحث ہوں گے۔

۲… پہلے دن پہلا پرچہ مولوی غلام رسول صاحب وفات مسیحm پر لکھیں گے اور مولوی ثناء اللہ صاحب حیات مسیحm پر۔

۳… ہر دو مباحث مضمون مذکورہ بالا پر تین تین پرچے لکھیں گے اور ہر ایک پرچہ کے واسطے ایک ایک گھنٹہ وقت ہو گا۔ یعنی صبح ۸؍بجے بحث شروع ہو کر ۱۱بجے ختم ہو گی۔

۴… دوسرے دن مولوی غلام رسول صاحب صداقت دعاوی وپیش گوئیاں مرزا قادیانی پر بروئے منہاج نبوت۔ یعنی قرآن وحدیث مضمون لکھیں گے اور مولوی ثناء اللہ صاحب ابطال دعاوی مرزاقادیانی پر پرچہ لکھیں گے اور اس مضمون پر بھی تین تین پرچے لکھے جاویں گے اور ہر ایک پرچہ کے لئے بطریق مذکورہ بالا ایک ایک گھنٹہ وقت مقرر ہو گا۔

۵… ہر ایک پرچہ بعد لکھنے کے سنایا جاوے گا اور خوشخط لکھ کر ہر فریق کی طرف سے فریق

232

مقابلہ کو دیا جاوے گا اور تحریر وتقریر ہر ایک پرچہ وقت مقررہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر ہو گی ایزادی وقت نہیں ہو گی یعنی ۴۰؍منٹ پرچہ لکھنے کے لئے اور دس دس منٹ پرچہ سنانے کے لئے ہوں گے۔

۶… ہر ایک فریق پچھتّر پچھتّر آدمی اپنے ہمراہ لانے کا مجاز ہو گا اور پچاس آدمی معزز اور شامل ہو سکیں گے جن میں پولیس اور غیرمذاہب والے ہوں گے۔

۷… ہر ایک فریق اپنی اپنی جماعت کے حفظ امن کا ذمہ دار ہو گا۔

۸… سوائے مباحثین کے کسی دوسرے شخص کو بولنے کا اختیار نہ ہو گا۔ بصورت خلاف ورزی پریذیڈنٹ کو اختیار ہو گا کہ اسے جلسہ سے باہر نکال دے اور ان شرائط مذکورہ کی پابندی ہر ایک فریق پر لازمی ہو گی۔

۹… ہر ایک فریق کی طرف سے ایک ایک پریذیڈنٹ اور ایک ان پر سرپنچ مقرر کیا جاوے گا۔

۱۰… تحریرات روز اوّل سرپنچ کے پاس رہیں گی۔ تاوقتیکہ دوسرے دن کارروائی ختم نہ ہو۔

(المرقوم ۲۴؍اپریل ۱۹۱۶ء)

دستخط … ابوالوفاء ثناء اللہ مناظر منجانب حفظ المسلمین

دستخط … غلام رسول راجیکی نزیل امرتسر مناظر منجانب انجمن احمدیہ امرتسر

الحمدﷲ! شرائط مذکورہ کے مطابق ۲۹، ۳۰؍اپریل ۱۹۱۶ء کو مباحثہ بالکل امن وامان سے ہوا۔ کسی قسم کی بے لطفی نہیں ہوئی۔

مباحثہ کا نتیجہ: کیا ہوا؟ اس کے متعلق ایک ہی واقعہ بتلانا کافی ہے۔ تحریری مباحثہ تو محدود اشخاص میں تھا۔ اس لئے عام رائے تھی کہ ایک مباحثہ عام جلسہ میں تقریری بھی کیا جائے۔ جس میں فریقین زبانی تقریریں کریں۔ ہر چند ادھر سے کہاگیا مگر فریق مرزائی نے نہ مانا پر نہ مانا۔ (اپنی کمزوری دیکھ لی)

اظہار تعجب:انجمن ہذا نے کیوں جلدی مباحثہ ہذا کو طبع نہ کرایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے سنا تھا کہ مرزائی لوگ مباحثہ طبع کرائیں گے۔ چونکہ ہمیں گمان تھا کہ مرزائی لوگ مناظرہ میں اپنی کمزوری محسوس کر کے صرف مناظرہ کے کاغذات پر قناعت نہیں کریں گے بلکہ موقع بموقع اپنی کمزوریوں کو دور یا مخفی کرنے کے لئے نوٹ بھی لکھیں گے۔

233

اس لئے انتظار رہا کہ ان کے نوٹ دیکھے جاویں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ انہوں نے جابجا نوٹ لکھے بلکہ ہر مضمون کے بعد کبھی ضمیمہ، کبھی تتمہ کے نام سے مضامین بڑھائے۔ پھر لطف یہ ہے کہ آخیر صفحہ پر لکھتے ہیں: ’’ہم نے مناسب سمجھا کہ دونوں فاضلوں کی تحریروں پر کسی قسم کا ریمارک نہ کیا جاوے۔‘‘

اللہ اکبر! اس قدر جرأت اور اس قدر حوصلہ کہ جگہ جگہ نوٹ اور ضمیمے لگا کر بھی کہتے ہیں کہ کسی قسم کی رائے کے بغیر چھاپتے ہیں۔

اظہارا فسوس:مرزائیوں نے یہی نہیں کیا بلکہ موقع بموقع نوٹ لکھے ہیں بلکہ ہمارے مضامین کو بعض جگہ سے بالکل مسخ کر دیا جس کا ذکر موقع بموقع آئے گا۔ان شاء اللہ!

ایک اور نتیجہ:ایک مرزائی مرزائیت سے تائب ہو گیا اور اس نے ایک اشتہار شائع کیا جو یہاں بلفظ درج کیا جاتا ہے۔وہو ہذا!

مسلمانوں اور مرزائیوں کے مباحثہ کا اثر، اطلاع عام

صاحبان مرزائی دوستوں کی حیلہ سازی سے میں مرزاقادیانی کا قبل جلسہ ۱۹۱۵ء میں مرید ہو گیا تھا۔ میں نے اس عرصہ میں مرزاقادیانی کی چند ایک کتابیں دیکھیں اور ان کے الہام اور دعوؤں پر غور کیا۔ مگر جہاں تک میری عقل نے سوچا سراسر غلط پایا۔ میں اب اس عقیدہ باطلہ سے توبہ کرتا ہوں اور جناب منشی محمد اسماعیل صاحب مشتاق تاجر ٹرنک امرتسر کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے مسلمانوں اورمرزائیوں کا مباحثہ کراکر حق وباطل میں فرق کر دیا اور میرے جیسے کو بھی یہ سمجھ آئی کہ یہ (مرزائی عقیدہ) بالکل غلط ہے۔ لہٰذا میں دل سے توبہ کرتا ہوں۔ آپ لوگ بھی میرے حق میں دعاء خیر فرمادیں کہ خداوند تعالیٰ مجھے دین محمدی پر تازندگی قائم رکھے اور اسی پر میرا خاتمہ بالخیر ہو۔ آمین!

۲۱؍مئی ۱۹۱۶ء

بقلم خود فضل الدین کٹڑہ مہان سنگھ کوچہ ارائیاں امرتسر

اطلاعی نوٹ:جو شخص ہمارے شائع کردہ پرچوں کا مقابلہ کرنا چاہیں وہ دفتر انجمن ہذا میں تشریف لا کر کر سکتے ہیں۔

پتہ انجمن: مسجد حاجی شیخ بڈھا صاحب مرحوم چوک فرید امرتسر

۲۹؍اپریل ۱۹۱۶ء

234

پرچہ نمبر اوّل

دلائل حیات مسیح

(از مولوی ثناء اللہ صاحب)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سبحانک لا علم لنا الا ما علّمتنا انک انت العلیم الحکیم!

حضرات! دنیا میں جو مقتداء اور پیشواء ہوئے ہیں، ان کے حالات کو محفوظ رکھنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک موافق دوسرے مخالف۔ ان دونوں کی نگاہیں اس مقتداء (ہیرو) کے افعال واقوال پر متفقہ پڑتی ہیں۔ گو ان کی نیتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ معتقدین تو بغرض اتباع ان کو دیکھتے ہیں اور مخالفین بغرض نکتہ چینی۔

خدا کی شان ہے حضرت عیسیٰؑ اس خصوصیت میں خاص ممتاز ہیں۔ کسی نبی کے حالات اس طرح مخالفین اورموافقین نے قلمبند نہیں کئے جس طرح حضرت موصوف کے معتقدین نصاریٰ نے انجیلوں میں اور یہودیوں نے اپنی تاریخ میں ان کے حالات قلمبند کر رکھے ہیں۔ ان سب کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو پھانسی دی گئی ہے جس سے بطور بین لازم کے یہ نتیجہ ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں کے نزدیک حضرت ممدوح اپنی طبعی موت سے نہیں مرے۔ اب ہمارے سامنے تواتر سے دو باتیں ثابت ہیں۔ ایک حضرت عیسیٰؑ کا سولی پر مرنا۔ دوسرا موت طبعی سے نہ ہونا۔

قرآن مجید کا دعویٰ ہے کہ میں کتب اور حالات سابقہ پر بطور مہیمن کے آیا ہوں۔ یعنی ان کے غلط خیالات کی اصلاح اور صحیح عقائد کے القاء کے لئے قرآن کا آنا ہے۔ مذکورہ بالا دونوں عقائد میں سے عقیدہ سولی کو تو قرآن شریف نے کھلے لفظوں میں رد کر دیا۔ فرمایا:’’وما قتلوہ ما صلبوہ‘‘کہ قتل کا وقوع ہوا نہ سولی کا۔

قاعدہ کی بات ہے کہ تواتر غلط نہیں ہوتا مگر تواتر کے منشاء میں غلطی لگ جاتی ہے۔ جیسے کسی شخص کو مردہ سمجھ کر بے شمار لوگ اس کی مردگی کی روایت کر دیں اور وہ تواتر تک پہنچ جاوے۔ لیکن اس کی ابتداء اگر غلط ہو تو جو شخص اس تواتر کا انکار کرے اس کا فرض ہے کہ اس منشاء غلطی کی غلطی کو کھول دے۔ چنانچہ قرآن مجید نے اس اصول کے مطابق فرمایا: ’’ولٰکن شبہ

235

لہم‘‘ قتل مصلوب نہیں ہوئے۔ ہاں! ان دونوں گروہوں کے حق میں وہ مسیح مشبہ ہو گئے۔ پس بحکم قرآن کوئی مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کے متفقہ عقیدوں میں سے پہلے عقیدے (سولی) کو تو مان نہیں سکتا۔ البتہ ان کا دوسرا عقیدہ کہ وہ موت طبعی سے نہیں مرے۔ چونکہ قرآن مجید نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ ایک طرح تائید کی ہے۔ اس لئے ہم اس عقیدہ کو غلط نہیں کہیں گے۔ قرآن مجید نے کیسے تائید کی اس کا ذکر میں آگے کروں گا۔ پہلے میں یہ بتلاتا ہوں کہ میرا طرز استدلال کوئی جدید نہیں، بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی نے خود اس طریق سے استدلال کیا ہے۔

جناب موصوف نے اپنے (ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳) میں جہاں حضرت مسیح کی وفات پر بحث کی ہے، بائیسویں آیت یہ لکھی ہے:’’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ یعنی جس بات کو تم نہیں جانتے وہ اہل کتاب سے پوچھ لیا کرو۔

اب ہمارے سامنے یہ مسئلہ ہے کہ کیا حضرت عیسیٰؑ موت طبعی سے مرے؟

ہم یہ سوال اہل کتاب کے سامنے پیش کرتے ہیں تو وہ بالاتفاق ہم کو جواب دیتے ہیں کہ موت طبعی سے نہیں مرے۔ قرآن مجید اس کی تائید کرتا ہے۔ جہاں فرمایا: ’’ان من اہل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نساء:۱۵۹)‘‘اس آیت کا ترجمہ میں اپنا کروں تو میرے مخاطب کو جائے کلام ہو گا۔ اس لئے میں ان کے مسلمہ پیشواء خلیفہ اوّل قادیان مولوی حکیم نورالدین کا کیا ہوا لکھتا ہوں۔ فرماتے ہیں: ’’نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہو گا اوپر ان کے گواہ۔‘‘

(فصل الخطاب لمقدمتہ اہل الکتاب ص۳۱۴)

اس ترجمہ کو دیکھ کر ادنیٰ اردو دان بھی سمجھ سکتا ہے کہ جناب مصنف نے ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھیری ہے۔

مرزاقادیانی خود بھی ایک زمانہ میں حضرت عیسیٰؑ کی حیات کے قائل تھے۔

(براہین احمدیہ ص۴۹۸، خزائن ج۱ ص۵۹۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)

فرماتے ہیں: ’’جب حضرت عیسیٰؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے… الخ!‘‘ میری مراد کوئی الزامی جواب دینا نہیں ہے بلکہ یہ بتلانا ہے کہ جن دنوں مرزاقادیانی کو الہام اور مجددیت کا دعویٰ تھا، ان دنوں ان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ زندہ ہیں۔ حالانکہ قرآن دانی میں ان دنوں بھی اس کمال کا دعویٰ تھا کہ تین سو دلائل قرآن کی حقانیت کے قرآن ہی سے دینے کے ثبوت میں براہین احمدیہ لکھی تھی۔

(براہین احمدیہ ص ح، خزائن ج۱ ص۶۷)

236

اگر مسئلہ حیات مسیح اس قسم کا غلط ہوتا کہ اس کی تردید قرآن مجید میں ہوتی تو ایسا قرآن دان اور قرآن کا حامی اس عقیدہ کو دل ودماغ میں رکھ کر میدان مناظرہ میں نہ آتا۔

اب میں ایک اور طریق سے بھی مختصر عرض کرتا ہوں کہ حیات مسیح کا مسئلہ اسلام کے مناسب ہے اور وفات مسیح کا مسئلہ نامناسب۔

کچھ شک نہیں قرآن مجید کو شرک سے خاص چڑ ہے۔ جہاں کہیں شرک کی بو آوے قرآن مجید کا فرض اوّلین ہوتا ہے کہ اس کی صفائی کرے۔ عیسائیوں کا اعتقاد ہے کہ مسیح ہمارے لئے مر کر کفارہ ہوئے۔ قرآن مجید نے جہاں فرمایا:

’’ولا تزروا وزرۃ وزر اخریٰ (فاطر:۱۸)‘‘کوئی کسی کا گناہ نہیں اٹھائے گا۔ مسئلہ کفارہ کو جڑ سے کاٹنے کو یا مسیح کی موت سے انکار کرنے کو فرمایا:’’بل رفعہ اللہ الیہ (نساء:۱۵۸)‘‘مسیح تو مرا نہیں اس کو خدا نے اٹھا لیا۔ جب وہ مرے ہی نہیں تو کفارہ کہاں؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں اگر کوئی حربہ اہل اسلام کے پاس ہے تو مسیح کی حیات ہے، جس سے کفارہ کی بنیاد کھوکھلی نہیں جڑ سے اکھڑ جاتی ہے۔

پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں فتنہ صلیبی کو پاش پاش کرنے آیا ہوں۔ اس کا فرض ہونا چاہئے تھا کہ وہ وفات مسیح کا انکار کرے۔ وقت کی پابندی سے اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔

  1. نہیں معلوم تم کو ماجرائے دل کی کیفیت

    سنائیں گے تمہیں ہم ایک دن یہ داستان پھر بھی

دستخط: (مولوی) ثناء اللہ (مناظر منجانب مسلمانان)

دستخط: میر حبیب اللہ (آنریری مجسٹریٹ، پریذیڈنٹ منجانب مسلمانان)

دستخط: (ڈاکٹر) عباداللہ (پریذیڈنٹ منجانب مرزائیان)

پرچہ نمبر اوّل

دلائل وفات مسیح

(از مولوی غلام رسول صاحب مرزائی)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

وفات مسیح کا ثبوت قرآنی آیات سے

پہلی آیت: ’’اذ قال اللہ یٰعیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّ ومطہرک

237

من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ (آل عمران)‘‘ اس آیت سے بھی حضرت عیسیٰؑ کی وفات کا ثبوت ملتا ہے۔ اس طرح پر کہ اس آیت میں اللہتعالیٰ نے حضرت مسیح سے چار وعدے فرمائے ہیں۔ پہلا وعدہ ’’توفی‘‘ کا،دوسرا ’’رفع‘‘ کا، تیسرا ’’تطہیر‘‘ کا، چوتھا ’’غلبہ متبعین‘‘ کا۔اب یہ ظاہر ہے کہ توفی کے بعد تین وعدے ظہور میں آ چکے ہیں تو اس سے یہ بھی ماننا پڑا کہ بلحاظ ترتیب آیت توفی کا وعدہ بھی پورا ہو چکا بلکہ سب سے پہلے پورا ہوا۔ اس آیت کے متعلق تقدیم وتاخیر کا تجویز کرنا، اس لئے غلط ہے کہ ’’متوفیک‘‘ کو بعد میں کہیں بھی رکھو بات نہیں بنتی۔ اگر رفع کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ ابھی تک تطہیر نہیں ہوئی۔ حالانکہ تطہیر ہو چکی ہے۔ اگر ’’مطہرک‘‘ کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ غلبہ متبعین ابھی تک نہیں ہوا۔ حالانکہ وہ بھی ظہور میں آچکا ہے اور اگر:’’جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ‘‘کے فقرے کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ قیامت تک حضرت مسیح فوت نہیں ہوں گے۔ ہاں! جس دن خلق کا حشر ونشر ہو گا اور مردے جی اٹھیں گے، اس دن حضرت مسیح وفات پائیں گے۔ پس اس لئے تقدیم وتاخیر غلط ہے۔ دراصل بات یہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہوچکے ہیں۔

دوسری آیت:’’واذ قال اللہ یٰعیسٰی ابن مریم اأنت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ۔ قال سبحنٰک ما یکون لی ان قول مالیس لی بحق۔ ان کنت قلتہ فقد علمتہ۔ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک۔ انک انت علام الغیوب۔ ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدواللہ ربی وربکم۔ وکنت علیم شہیدا ما دمت فیہم۔ فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم۔ وانت علی کل شیٔ شہید (المائدۃ)‘‘

اس آیت سے بھی وفات مسیح کا زبردست ثبوت ملتا ہے، اس طرح پر کہ اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کیاگیا ہے کہ آیا عیسائیوں کا تثلیث کا غلط عقیدہ اور ان کا بگڑنا حضرت مسیح کی تعلیم سے اور آپ کی زندگی میں ہوا ہے یا آپ کی وفات کے بعد۔ سو حضرت مسیح کے جواب دعویٰ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا بگڑنا ابھی ہوا ہے اور حضرت مسیح کی وفات پہلے ہوئی ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں میں تثلیث کا غلط عقیدہ پایا جاتا ہے۔ پس اس عقیدہ کے پائے جانے سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح کی وفات بھی پہلے ہو چکی اور اگر یہ

238

تسلیم کیا جائے کہ حضرت مسیح ابھی تک بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور کسی وقت وہیں آئیں گے اور زمین پر چالیس سال تک رہیں گے اور صلیبوں کو توڑیں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے اور عیسائیوں کی تثلیث کا غلط عقیدہ اور ان کا بگڑنا بھی مشاہدہ کریں گے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ پھر وہ قیامت کے دن خدا کے حضور اس بات کے بیان کرنے میں جھوٹ بولیں گے کہ عیسائیوں کا بگڑنا میری وفات کے بعد ہوا، اور پھر حدیث بخاری میں آنحضرتﷺ کا اس آیت کی تفسیر میں: ’’اقول کما قال عبدالصالح‘‘ فرما کر اس آیت کو اپنے واقعہ سے واضح فرمانا اس بات کی اور بھی تائید کرتا ہے کہ واقعی حضرت مسیح پہلے فوت ہوئے اور عیسائیوں کی تثلیث کا غلط عقیدہ پیچھے بنایا گیا۔

تیسری آیت: ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔ افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمران)‘‘

کیا مطلب! یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایسے رسول ہو گزرے۔ کیا اگر وہ مر جائیں یا مارے جاویں تو کیا تم لوگ مرتد ہو جاؤ گے۔ اس آیت سے بھی وفات مسیح کا زبردست ثبوت ملتا ہے۔ اس طرح کہ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ حضورﷺ سے پہلے جس قدر رسول ہوئے وہ گزر گئے جو: ’’افان مات اوقتل‘‘کے قرینہ سے ’’خلت بالموت او القتل‘‘ کے معنوں کے ساتھ ہیں، گزر گئے اور چونکہ حضرت مسیحm بھی حضورﷺ سے پہلے رسولوں میں داخل ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔ پھرحضورﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرq کا اس آیت کو خطبہ میں پڑھ کر سنانا اور بھی اس بات کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکرq کا آپ کی وفات کے موقعہ پر اس آیت کو ذکر کرنا صریح اس بات کی دلیل ہے کہ حضورﷺ کا فوت ہونا کوئی جائے اعتراض نہیں۔ کیونکہ آپ سے پہلے بھی جس قدر رسول تھے، وہ بھی تو فوت ہو گئے۔ گویا پہلا اجماع صحابہ کا جو حضورﷺ کی وفات پر ہوا وہ اسی پر ہوا کہ حضورﷺ سے پہلے جس قدر رسول تھے، خواہ عیسیٰؑ، خواہ موسیٰؑ سب فوت ہو گئے۔

چوتھی آیت: ’’ماالمسیح ابن مریم الا رسول۔ قد خلت من قبلہ الرسل۔ وامّہ صدیقہ۔ کانا یاکلان الطعام (المائدۃ)‘‘

کیا مطلب! یعنی مسیح ابن مریم صرف رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایسے رسول ہو

239

گزرے اور اس کی ماں صدیقہ ہے۔ وہ دونوں ماں بیٹا جب تک بجسدہ العنصری زندہ تھے، کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے۔ کیونکہ اس آیت میں بتایا ہے کہ وہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ جس سے ماضی کا قرینہ صاف اس بات کا مظہر ہے کہ آپ فوت ہو گئے اور اگر اب تک بجسدہ العنصری زندہ ہوتے تو یہ فرمایا جاتا کہ وہ اب تک کھانا کھایا کرتے ہیں۔ مگر ایسا نہیں فرمایا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ فوت ہو گئے۔

پانچویں آیت: ’’وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد۔ افان مت فہم الخالدون (الانبیاء)‘‘اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ سے پہلے کسی بشر کے لئے خلد نہیں بنایا گیا اور آیت: ’’وما جعلناہم جسداً لا یاکلون الطعام وما کانوا خالدین‘‘ سے ظاہر ہے کہ جسد عنصری کے ساتھ اس زمینی طعام کی سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ استحالات غذائیہ کا ہونا اور بھوک کا باربار پیدا ہونا طعام کی حاجت کا مقتضی ہے، جس سے خلد کے مفہوم کے خلاف حالت یعنی تغیر وتبدل کی حالت پیدا ہوتی رہتی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح اگر آنحضرتﷺ سے پہلے تھے اور بشر تھے اور جسد عنصری رکھتے تھے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کو طعام کی بھی حاجت تھی اور اگر آپ جسد عنصری کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو ضرور ہے کہ ان کے جسم میں تغیر بھی آتا ہو جو خلد کے مفہوم کے خلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح بوجہ تغیر وعدم خلد فوت ہو گئے۔

دستخط: (مولوی) غلام رسول (مرزائی مناظر )

دستخط: (ڈاکٹر) عباد اللہ (مرزائی صدر)

دستخط: میر حبیب اللہ (آنریری مجسٹریٹ، پریذیڈنٹ منجانب مسلمانان)

پرچہ نمبر دوم … ۲۹؍اپریل ۱۹۱۶ء

تردید دلائل وفات مسیح

(از مولوی ثناء اللہ صاحب)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الیہ یصعد الکلم الطیب!

حضرات! مسئلہ وفات مسیح پر جو دلائل دئیے گئے ہیں، ان میں سے بعض میں

240

حضرت مسیح کا نام لے کر تو ذکر نہیں، البتہ ایک عام قانون کا ذکر ہے۔ بعض میں نام کا ذکر ہے۔ آئیے! پہلے انہی کا ذکر کرتا ہوں جن میں نام سے ذکر آیا ہے۔

پہلی آیت: ’’انی متوفیک‘‘ اس آیت میں چار واقعات مسیحیہ کا ذکر ہے۔ ان سب کے آخر میں: ’’الٰی یوم القیامۃ‘‘ فرمایا ہے، جس کا یہ مطلب ہے کہ یہ چاروں واقعات قیامت سے پہلے پہلے ہو جاویں گے۔ کیونکہ جتنے صیغے اس آیت میں ہیں، وہ سب اسم فاعل کے ہیں اور اسم فاعل کے صیغے زمانہ استقبال کے لئے کثرت سے آتے ہیں۔

چنانچہ فرمایا:’’وانا لجاعلون ما علیہا صعیداً جرزاً (کہف)‘‘ ان صیغوں میں یہ نہیں ہوسکتا کہ وقت تکلم میں فوراً ان کا وقوعہ ہو جاوے۔ چنانچہ مرزاقادیانی کو خود بھی اس آیت کا الہام ہوا تھا۔ حالانکہ اس الہام کے بعد مرزاقادیانی عرصہ تک زندہ رہے۔ اس جگہ مرزاقادیانی کا الہام معہ ترجمہ کے سناتا ہوں، جس سے اس آیت کا عقدہ بھی حل ہو جائے گا۔ بعد اس کے الہام ہوا: ’’یٰعیسٰی انی متوفیک‘‘ اے عیسیٰ (یہاں عیسیٰ سے مراد مرزاقادیانی خود ہیں) میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔

(براہین احمدیہ ص۵۵۷، خزائن ج۱ ص۶۶۴حاشیہ در حاشیہ نمبر۴)

نیز فرمایا: اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔

(براہین احمدیہ ص۵۱۹، خزائن ج۱ ص۶۲۰ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)

’’پس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اے عیسیٰ میں تجھے پوری نعمت دوں گا۔ وغیرہ! قیامت تک یہ سب کام تیرے ساتھ کروں گا۔‘‘

چونکہ یہ سب صیغے استقبال کے لئے استعمال میں آئے ہیں۔ اس لئے ان سے وفات مسیح کا ثبوت نہیں ہوا۔ ہاں! اگر کچھ ثبوت ہوا تو یہ کہ قیامت سے پہلے ان کی وفات ہو گئی ہو گی۔ یہ ہمارے مذہب کے خلاف نہیں۔

’’فلما توفیتنی‘‘کی آیت خاص قابل ذکر ہے۔ یہ واقعہ قیامت کا ہے۔ یعنی قیامت کے روز خداتعالیٰ حضرت عیسیٰ کو فرمائے گا تو اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ: ’’جب تو نے مجھے فوت کر لیا۔‘‘ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہوں گے۔ آج موت کا ثبوت نہیں۔ ہاں! حضرت ممدوح کی غلط گوئی کا الزام قرآن کی آیات پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ نہ کوئی غلط بات کہیں گے نہ

241

جھوٹ بولیں گے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ حضرت ممدوح کے دل میں امت کی محبت ہو گی، جس سے وہ ان کی مخفی سفارش کرنا چاہیں گے۔ چنانچہ اسی مخفی سفارش کے الفاظ بھی قرآن مجید میں مذکور ہیں: ’’ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (المائدۃ:۱۱۸)‘‘اے خدا! اگر تو ان کو بخشے تو تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ اگر حضرت مسیح اپنی امت کے شرک وکفر کا اقرار کرتے تو یہ مخفی سفارش نہ کر سکتے۔ کیونکہ فرمایا ہے:

’’ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین (التوبۃ:۱۱۳)‘‘نبی اور ایمانداروں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کے لئے سفارش کریں۔

اس لئے حضرت ممدوح امت کے افعال قبیحہ سے خاموشی۱؎ اختیار کریں گے۔ ہاں! اگر یہ سوال ہو کہ خاموشی کیوں اختیار کریں گے تو جواب یہ ہے کہ ان کو امت کے افعال کے واقعہ سے سوال نہ ہو گا بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تو نے ان کو شرک کی تعلیم دی تھی؟ اس سوال کا جواب وہ کافی دیں گے کہ میں نے نہیں دی تھی۔

رہی زائد بات اس کا بتلانا نہ ان پر واجب نہ مفید۔ اس لئے خاموشی کر کے مخفی سفارش کی طرف توجہ فرماویں گے۔ آیت مرقومہ کو اصلی الفاظ میں دیکھا جائے تو قرآن کی بلاغت اور حضرت مسیح کی فصاحت کا کافی ثبوت ملتا ہے۔

۱؎مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہتعالیٰ کی طرف سے صرف یہ سوال ہو گا کہ اے مسیح تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو، پس دراصل اس سوال کا جواب دینا حضرت ممدوح کے ذمہ ہو گا، اس سے زائد نہیں، چنانچہ وہ بھی صرف اسی سوال کا جواب دے دیں گے کہ میں نے نہیں کہا تھا اس سے آگے وہ اپنی گنہگار امت کے حال پر ضمناً رحم کی درخواست کرنے کو بارگاہ الٰہی میں عرض کریں گے کہ ان نالائقوں کو اگر تو بخش دے تو کون تجھ کو روک سکتا ہے۔ چونکہ مشرکوں کی سفارش کرنے سے منع آیا ہے۔ اس لئے صاف لفظوں میں عرض نہیں کریں گے، بلکہ جملہ شرطیہ کے ساتھ عرض کریں گے کہ اگر تو بخش دے تو کون روک سکتا ہے، مولوی غلام رسول صاحب نے جو آئندہ پرچہ میں اس سفارش کو مخالف سمجھ کر اعتراض کیا ہے، یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے ’’مخفی سفارش‘‘ کا لفظ لکھا ہے خالی سفارش کا لفظ نہیں کہا۔ بھلا اگر مخفی سفارش نہیں تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے: ’’ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (المائدۃ:۱۱۸)‘‘ اے خدا! اگر تو ان کو عذاب دے تو تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے تو تو سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت کا صاف مفہوم ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنی امت کو قابل رحم جان کر ان کی بخشش کے متمنی ہیں مگر بوجہ ان کے مشرک ہونے کے کھلے لفظوں میں سفارش نہیں کرتے جو کمال درجہ کی بلاغت ہے۔ (مرتب)

242

ہاں! آنحضرتﷺ نے جو فرمایا: ’’اقول کما قال العبد الصالح‘‘ اس سے بھی اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہی کہ قیامت سے پہلے وفات ہوئی ہو گی۔ قال جو ماضی کا صیغہ ہے وہ اقول کی نسبت ہے۔ یعنی آنحضرتﷺ سے پہلے حضرت مسیح کا قول چونکہ ہو چکا ہو گا۔ اس لئے حضورﷺ نے اپنے لئے مضارع اور حضرت مسیح کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا۔ اس آیت کا ترجمہ بھی اپنا نہیں پیش کرتا بلکہ حکیم نورالدین صاحب کا کرتا ہوں: ’’اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تو نے لوگوں کو کہا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود ٹھہرالو۔‘‘

(فضل الخطاب ص۱۶۴)

غرض یہ آیت بھی میرے مخاطب کے لئے مثبت مدعا نہیں۔

تیسری آیت:’’وما محمد الا رسول (آل عمران:۱۴۴)‘‘ اس میں تو حضرت مسیح کا نام نہیں۔ ہاں! خلت کے لفظ سے استدلال کیاگیا ہے۔ اس کے دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ ’’خلٰی‘‘ کے معنی موت کے نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے ہیں۔ غور سے پڑھئے: ’’واذا خلوا الٰی شیاطینہم (البقرۃ:۱۴)‘‘اس سے بھی اگر کچھثابت ہوتا ہے تو یہ کہ جناب مسیح اس دنیا سے انتقال فرما گئے نہ کہ مر گئے۔ دوسرا جواب یہ کہ اس میں حضرت مسیح کا نام نہیں۔

چوتھی آیت:’’کانا یا کلان الطعام (المائدۃ:۷۵)‘‘سے مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ ’’کانا‘‘ جو ماضی کا صیغہ ہے۔ یہ ان کی ماں کی وجہ سے ’’تغلب‘‘ ہے۔ جیسے ’’کانت من القانتین‘‘ میں مریم صدیقہ کو مذکر میں بحکم ’’تغلیب‘‘ داخل کیاگیا ہے۔ ہاں! سوال ہو کہ اب وہ کیا کھاتے ہیں؟ تو جواب میں وہ حدیث سناؤں گا جس میں حضورﷺ نے فرمایا:’’ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی‘‘ میں پے درپے روزے رکھتا ہوں۔ کیونکہ رات کو خدا مجھے کھلاتا ہے۔

پانچویں آیت:’’افان مات (آل عمران:۱۴۴)‘‘ بھی آنحضرتﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت عیسیٰ کی طرف نہیں۔

مختصر یہ کہ جس طرح حضرت مسیح کا نام لے کر ان کے رفع اور زندگی کا ذکر ہے۔ ان کے نام سے زمانہ گزشتہ میں ان کی موت کا ذکر کسی آیت میں نہیں۔ وقت کی تنگی ہے۔

243

جرس فریاد میدارد کہ بربندید محملہا

دستخط: (مولوی) ثناء اللہ (مناظر منجانب مسلمانان)

دستخط: میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ، پریذیڈنٹ منجانب مسلمانان)

دستخط: (ڈاکٹر) عباد اللہ (پریذیڈنٹ منجانب مرزائیان)

پرچہ نمبر دوم

تردید دلائل حیات مسیح

(از مولوی غلام رسول مرزائی)

مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ان کا دوسرا عقیدہ کہ وہ طبعی موت سے نہیں مرے۔ چونکہ قرآن مجید نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ تائید کی ہے۔ اس لئے ہم اس عقیدہ کو غلط نہیں کہیں گے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ کیا یہ درست ہے کہ جو شخص نہ مقتول ہو اور نہ مصلوب۔ اس کے لئے اور کوئی موت کی راہ نہیں؟ کیا موت کی یہ دونوں ہی راہیں ہیں؟

ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح اگر نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب تو ضرور ہے کہ آپ خداتعالیٰ کے وعدے کے مطابق جو:’’انی متوفیک‘‘ کے فقرے سے ظاہر ہے، طبعی موت سے فوت ہو گئے ہوں۔ جیسا کہ پہلے پرچہ میں عرض کیاگیا کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے اور طبعی موت سے ہی فوت ہو گئے۔ پس ہم کہاں یہ مانتے ہیں کہ مسیح مصلوب ہوئے یا مقتول۔ ہم بھی تو خدا کے وعدے کے مطابق جس کا’’فلما توفیتنی‘‘ کے اقرار سے پورا ہونا ظاہر ہے، طبعی موت سے ہی فوت شدہ مانتے ہیں۔

ہاں! وہ مصلوب یعنی صلیب پر مرے نہیں۔ لیکن ’’ولٰکن شبہ لہم‘‘ سے ظاہر ہے، جیسا کہ مولوی صاحب نے اس کو خود تسلیم کیا کہ ان کے لئے وہ مشبہ ضرور ہوئے جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ عین مصلوب نہیں ہوئے۔ ہاں! صلیب پر چڑھائے جانے سے مشبہ بالمصلوب ضرور ہوئے اور مرزاقادیانی کا ’’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ کے متعلق فرمانا ہر امر کے متعلق نہیں۔ مثلاً جو امر کہ قرآن سے واضح ولائح ہے، اس کے متعلق مرزاقادیانی کہاں فاسئلوا کی ہدایت کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ ارشاد تو ایسے امور کے متعلق ہے، جس کے متعلق قرآن کریم کچھ نہیں کہتا۔ جیسا کہ:’’ان کنتم لا تعلمون‘‘کے فقرہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی قرآن نے ’’فاسئلوا‘‘ کا ارشاد ’’ان کنتم لا

244

تعلمون‘‘ کی صورت میں فرمایا ہے۔ لیکن حضرت مسیح کی وفات کے متعلق تو قرآن میں اس قدر آیات ہیں کہ اہل الذکر سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ پھر:’’ان کنتم لا تعلمون‘‘سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر تمہیں علم نہ ہو اور اگر علم ہو تو پھر کیا ضرورت ہے۱؎۔

اور آیت: ’’ان من اہل الکتاب… قبل موتہ‘‘ سے یہ معنی لینا کہ حضرت مسیح پر سب اہل کتاب آپ کی موت سے ایمان لائیں گے، جس سے آپ زندہ ثابت ہوتے ہیں، یہ غلط ہے۔ کیونکہ آیت:’’جاعل الذین اتبعوک فوق… الخ!‘‘سے ظاہر ہے کہ مسیح کے متبعین قیامت تک رہیں گے اور آپ کے منکر بھی قیامت تک رہیں گے۔ جس سے ثابت ہوا کہ: ’’قبل موتہ‘‘ کے وہ معنی غلط ہیں۔ پھر قبل موتہ کی دوسری قرأت ’’قبل موتہم‘‘ ہے جس سے ظاہر ہے کہ موتہ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہیں نہ کہ مسیح۔ پھر آیت: ’’اغوینا بینہم العداوۃ والبغضاء‘‘سے بھی ظاہر ہے کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان قیامت تک عداوت رہے گی، جس سے ظاہر ہے کہ سب کے سب اہل کتاب کے ایمان لانے کا معنی بالکل غلط ہے۔

اور مرزاقادیانی کے متعلق یہ کہنا کہ جب ان کو الہام اور مجددیت کا دعویٰ تھا، ان دنوں ان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ مرزاقادیانی نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ میرا یہ عقیدہ کسی وحی یا الہام کی بناء پر تھا بلکہ آپ کا یہ عقیدہ ایسا ہی تھا، جیسا کہ سب موعود نبیوں کا اپنے دعویٰ سے پہلے موعود نبی کے متعلق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح اور آنحضرتﷺ کو لو۔ کیا آپ کو دعویٰ سے پہلے یہ علم تھا کہ وہ آنے والا موعود میں ہی ہوں یا الہام الٰہی اور وحی کے بعد آپ نے پہلے عقیدہ کو تبدیل فرمایا۔

۱؎ افسوس ہے انسان جلد بازی میں کیا کچھ کہہ جاتا ہے، جس کا بعد میں اس کو پچھتاوا ہوتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزاقادیانی کی کتاب ازالہ اوہام کا حوالہ دے کر بتلایا کہ انہوں نے خود اسی آیت سے حضرت مسیح کی وفات پر استدلال کیا ہے۔ مگر مولوی غلام رسول صاحب نہ مرزاقادیانی کی کتاب دیکھتے ہیں نہ مولوی صاحب کا بیان غور سے پڑھتے ہیں۔ جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ مسیح کی وفات کا مسئلہ تو قرآن میں بہت سی آیات سے ثابت ہے۔ پھر اہل کتاب سے پوچھنے کی کیا حاجت ہے۔ مرزاقادیانی کا ازالہ ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳ دیکھئے کہ جناب موصوف بائیسویں آیت کون سی پیش کرتے ہیں۔ اس پر جو اعتراض ہو وہ مرزاقادیانی ہی پر کیجئے اور ان کے صاحبزادے سے جواب لیجئے۔ (مرتب)

245

مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ مولوی نورالدین صاحب کا یہ ترجمہ ہے۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ مولوی نورالدین صاحب نے اپنے پہلے ترجمہ کے خلاف اس کے بعد پچیس سال تک قرآن پڑھایا اور اس معنی کی ہمیشہ تردید کرتے رہے۔ اس لئے یہ حجت نہیں ہوگی۔

پھر مولوی صاحب نے جو ترجمہ الہام الٰہی سے کیا ہے، وہ مقدم ہے اور وہ یہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے اور اب وہ نازل نہیں ہوں گے۔ اور وہ آنے والا مسیح میں ہوں اور مسیح ناصری فوت ہو چکے اور تعجب ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا سارا دعویٰ تو فوت مسیح کی بناء پر ہو اور آپ اس کے خلاف بیان کریں اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ حیات مسیح سے کفارہ کی جڑ کٹتی ہے، صحیح نہیں۔

کیونکہ حیات حضرت مسیح سے نہیں بلکہ وفات مسیح سے تمام عیسائیوں کا مذہب باطل ہو جاتا ہے اور عیسائیوں کا خدا مر جاتا ہے جو تائید توحید کو وفات مسیح سے ہوتی ہے اور حیات سے نہیں ہوتی بلکہ حیات مسیح کا مسئلہ تو عیسائیوں کی امداد ہے اور حضرت مسیح کو آسمان پر ماننا ان لوازم کے ساتھ جو اسے انسان سے برتر ثابت کرتے ہیں، عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تائید کرتا ہے۔

  1. مسیح ناصری راتاقیامت زندہ میگوئیند

    مگر مدفون یثرب را ندارند ایں فضیلت را

  2. ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مدد دادند

    دلبریہا پدید آمد پرستاران میت را

دستخط: (مولوی) غلام رسول (مرزائی مناظر)

دستخط: میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ اسلامی صدر)

دستخط: (ڈاکٹر) عباد اللہ (مرزائی صدر)

آخری پرچہ نمبرسوم … ۲۹؍اپریل ۱۹۱۶ء

دلائل حیات وتردید وفات مسیح

(از مولوی ثناء اللہ صاحب)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ ہوالاول ولاٰخر والظاہر والباطن!

حضرات! مولوی غلام رسول صاحب نے میرے مضمون پر جو توجہ کی ہے، پڑھنے

246

والوں سے مخفی نہ۱؎ رہے گی۔ اس کا میں ذکر نہیں کرتا، البتہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ علم منطق اور علم مناظرہ اور آج کل کے قانون سلطنت میں یہ مقررہ اصول ہے کہ متنازعہ واقعہ ثبوت میں پیش نہیں ہوسکتا۔

مولوی صاحب کا یہ پہلا پرچہ ہنوز متنازعہ تھا، اس کو جواب میں پیش کرناتینوں طریق سے غلط ہے۔ آپ نے کہا ہے کہ وفات مسیح کی آیات بکثرت ہیں۔ اس لئے: ’’فاسئلوا اہل الذکر‘‘کے مطابق ہم کو ضرورت نہیں کہ اہل کتاب سے پوچھیں، جناب یہ غلطی مجھ سے نہیں بلکہ مرزاقادیانی سے ہوئی جنہوں نے بقول آپ کے وفات مسیح کی آیات کثیرہ کے ہوتے ہوئے بھی اس آیت کو اس مدعا کے لئے پیش کیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳)

سب اہل کتاب کے ایمان لانے پر آپ نے اعتراض کیا ہے کہ مسیح کے متبعین کو منکرین پر قیامت تک غالب رکھنے کا وعدہ ہے۔ جناب میں کہہ چکا ہوں کہ یہ معنی صحیح نہیں بلکہ ’’الی یوم القیامۃ‘‘مجموعہ چہارم واقعات سے متعلق ہے نہ ہر ایک سے جس کا مطلب نحوی اصطلاح میں یہ ہے کہ عطف سے ربط مقدم ہے۔ فافہم!

قیامت سے پہلے ضرور ایک وقت آئے گا کہ تمام دنیا میں سوائے اسلام کے دوسرا مذہب نہیں ہو گا۔ چنانچہ مرزاقادیانی بھی براہین احمدیہ میں اس کو خود شائع فرماتے ہیں۔

(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳)

جن قرأتوں میں موتہم کا لفظ آیا ہے، وہ حجت نہیں قرأت شاذہ موجودہ الفاظ قرآن کے مقابلہ میں بجوے نیرزد۔

۱؎مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا تھا کہ اہل کتاب جو حضرت عیسیٰؑ کے حالات دیکھنے اور لکھنے والے ہیں ان دونوں کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰؑ طبعی موت سے نہیں مرے۔ اس کے جواب میں مولوی غلام رسول نے کیا کہا یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح طبع موت سے فوت ہوئے۔ کیا اس کہنے سے اہل کتاب کے دونوں گروہوں کا بالاتفاق تواتر سے وہ بیان جو مولوی ثناء اللہ صاحب نے بیان کیا تھا، غلط ہو گیا بلکہ یوں کہئے کہ آپ جو تواتر کے خلاف کہتے ہیں آپ کا قول غلط ہے نہ کہ تواتر غلط ہو جائے گا۔ جواب یہ ہوتا کہ تواتر نہیں؟ یا تواتر میں یہ غلطی تو ایک معقول بات ہوتی، مگر مرزائی اور معقول؟ (مرتب)

247

مرزاقادیانی نے براہین میں صاف لکھا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کتاب کہاں اور کب ختم ہو گی۔ اس کتاب کا ظاہر وباطن متولی خدا ہے جو باتیں مجھے سمجھا دے گا۔ لکھوں گا جہاں ختم کر دے گا۔ بند ہو جاوے گی جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ براہین کے مضامین مصدقہ خداوندی ہیں۔

(براہین احمدیہ بیک ٹائٹل، خزائن ج۱ ص۶۷۳)

حیات مسیح سے الوہیت مسیح کو اس صورت میں تقویت ہوتی جب ہم حضرت مسیح کو بذاتہ زندہ مانتے۔ اگر ہم ایسا مانتے تو قبل قیامت ان کی موت کے کیسے قائل ہوتے۔ ہاں! حیات مسیح سے کفارہ بالکل جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔ کیونکہ جب وہ مرے ہی نہیں تو کفارہ کیسا؟ نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی۔

موت کے قائل ہونے سے عیسائیوں کے کفارہ کی ایک گونہ تائید ضرور ہوتی ہے۔ اب میں ایک قاعدہ مسلمہ اسلامیہ سے اس مسئلہ کو حل کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے جو قرآن مجید نے صاف الفاظ میں فرمایا: ’’انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم ولعلہم یتفکرون (نحل:۴۴)‘‘خدا فرماتا ہے ہم نے قرآن مجید تم پر اس لئے اتارا ہے کہ تو اے نبی اس کا مطلب واضح کر کے لوگوں کو سنا دے۔

اس آیت سے ایک عام اصول ملتا ہے کہ قرآن کے کسی مجمل مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کی تشریح وتوضیح حدیث سے ہونی چاہئے۔ ہمارے مخاطب بھی اس اصول کو مانتے ہیں۔ اس لئے میں آخری فیصلے کے طور پر ایک حدیث سناتا ہوں جس سے آفتاب نیمروز کی طرح مسئلہ حیات ووفات مسیح کا فیصلہ ہو جائے گا۔

آنحضرتﷺ فرماتے ہیں:’’ینزل عیسٰی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسٰی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوٰۃ شریف باب نزول المسیح ص۴۸۰)‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ دنیا پر اتریں گے۔ یہاں پر نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہو گی اور ۴۵سال زندہ رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے مقبرے میں میرے پاس دفن ہوں گے۔ پھر قیامت کے روز میں اور مسیح ایک مقبرے سے اٹھیں گے۔ اس طرح کہ حضرت ابوبکر اور عمرr کے درمیان ہم دونوں ہوں گے۔

248

ایک حدیث میں جو بیہقی’’فی کتاب الاسماء والصفات باب قولہ اللہ عزوجل یعیسٰی انی متوفیک ورافعک وبل رفعہ اللہ الیہ ص۴۲۴ طبع بیروت‘‘کی روایت میں جو اس وقت میرے پاس ہے، یہ الفاظ ہیں:

’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء وامامکم منکم‘‘لیجئے آنحضرتﷺ نے فرمایا تم مسلمان اس وقت کیسے مزے میں ہوں گے جب حضرت مسیح آسمان سے تم پر اتریں گے اور ان سے پہلے تمہارا امام (جس کو دوسری روایات میں مہدی کے لقب سے ملقب کیاگیا ہے) تم میں ہو گا۔ ’’صدق اللہ ورسولہ ربنا امنا وصدقنا واکتبنا مع الشاہدین‘‘

مختصر یہ کہ قرآن کی آیات آنحضرتﷺ کی احادیث مرزاقادیانی کے کلمات سب حضرت مسیح کی زندگی کی تائید کرتے ہیں اور قرآن مجید جو سابقہ اہل کتاب کی اصلاح کے لئے آیا ہے وہ اصلاح بھی اسی میں ہے کہ حضرت مسیح کی حیات کو مانا جاوے تاکہ اہل کتاب کا وہ غلط اور گمراہ کن عقیدہ جس کو کفارہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، دنیا سے رخصت ہو جاوے۔

واللہ! مجھے سخت حیرت ہوتی ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ کی موت سے عیسائیوں کا خدا مر جاتا ہے اور عیسائی مذہب ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو جاتا ہے۔ کیا عیسائیوں کا عقیدہ مسیح کی موت کا نہیں ہے؟ کیا انجیل میں نہیں لکھا کہ مسیح نے چلا کر جان دی پھر جو بات خود عیسائیوں کی کتاب میں صاف لفظوں میں لکھی ہو، اس سے ان کے مذہب کی موت اور مغلوبیت کیا یہ ایک جی کوش کرنے والی بات ہے۔

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

ہاں! اگر عیسیٰ کی موت کا بالکل انکار کر دیا جاوے جیسا کہ قرآن شریف کا منشاء ہے تو نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی۔ وقت کی پابندی ہے۔ یہ کہہ کر ختم کرتا ہوں ؎

کبھی فرصت میں سن لینا بڑی ہے داستان میری

دستخط: (مولوی) ثناء اللہ (مناظر منجانب مسلمانان)

دستخط: میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ اسلامی صدر)

دستخط: (ڈاکٹر) عباد اللہ (مرزائی صدر)

249

آخری پرچہ نمبرسوم

دلائل وفات وتردید حیات مسیح

(از غلام رسول مرزائی)

مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ آیت ’’متوفیک‘‘ میں چار وعدے ہیں۔ یہ تو صحیح ہے مگر مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ہم مسیح کی وفات کے متعلق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ قبل از قیامت ہو جائے گی۔ اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ مولوی صاحب نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ ’’متوفیک‘‘ کو بعد میں کہنے سے کون سی ترتیب صحیح باقی رہتی ہے۔ کیونکہ ’’متوفیک‘‘ کو ’’رافعک‘‘ کے بعد رکھ کر دیکھ لو۔ کیا اس سے ظاہر نہیں ہوتا کہ ابھی تک تطہیر نہیں ہوئی۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ تطہیر ہو چکی۔ پھر تطہیر کے بعد رکھ کر دیکھو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ غلبہ متبعین ابھی تک ظہور میں نہیں آیا۔ حالانکہ حضرت مسیح کے متبعین کا غلبہ ظاہر ہے۔ پھر اب ’’متوفیک‘‘ کو ضرور ہے کہ آپ ’’فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ‘‘کے بعد رکھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ’’الی یوم القیامۃ‘‘یعنی قیامت کے دن تک تو وفات نہیں پائیں گے۔ ہاں! جس دن اسرافیل کی قرنا پھونکی جائے گی اور سب مردے زندہ ہوں گے اس دن حضرت مسیح وفات پائیں گے۔ واہ رے تقدیم وتاخیر اور واہ رے تیرا خارق عادت نتیجہ۔ پس اصل بات یہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے پھر ’’رافعک‘‘ کے متعلق یہ عرض ہے کہ ’’توفی‘‘ کے بعد ’’رفع‘‘ کا لفظ صاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ ’’رفع‘‘ جسمانی رفع نہیں بلکہ روحانی رفع ہے۔ کیونکہ توفی کے بعد آنے کا قرینہ صاف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ رفع روحانی ہے۔ پھر ’’رافعک الی‘‘ یعنی ’’رفع الی اللہ‘‘ہے نہ ’’رفع الی السماء‘‘اور نہ ہی اس کے ساتھ بجسدہ العنصری کا فقرہ ہے کہ اس سے مسیح کا زندہ بجسدہ العنصری تسلیم کر لیا جائے۔

پھر آیت:’’ولو شئنا لرفعناہ‘‘ یہاں سے باوجود ’’اخلد الی الارض‘‘کے قرینہ ہے۔ بالاتفاق روحانی رفع مراد ہے نہ جسمانی جو اس بات کی اور بھی تائید کرتا ہے کہ رفع الی اللہ سے رفع روحانی مراد ہے نہ جسمانی۔ پھر حدیث:’’اذا تواضع العبد رفعہ اللہ الی السماء السابعۃ‘‘ میں باوجودیکہ یہ بتایا گیا ہے کہ تواضع سے اللہتعالیٰ

250

انسان کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ پھر اس رفع سے روحانی رفع ہی مراد ہے۔ ایسا ہی دعا: ’’بین السجدتین‘‘ کے فقرہ’’وارفعنی‘‘اس کی اور بھی تائید کرتا ہے۔ نمازی جو فقرہ بولتا ہے اس کا کیا مطلب ہے اور مولوی صاحب کا آیت:’’فلما توفیتنی‘‘کے متعلق صرف سفارش کا مسئلہ لینا یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سوال یہ ہے کہ اے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں کو تعلیم دی کہ تم لوگ خدا کے سواء مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ۔ اب اس کے جواب میں مسیح کہتے ہیں کہ میں نے ایسا نہیں کہا اور نہ ہی میری زندگی میں ایسا عقیدہ پیدا ہوا۱؎۔ بلکہ یہ غلط عقیدہ میری وفات کے بعد ہوا جس سے مجھ پر الزام نہیں آسکتا۔

اب دیکھو خداتعالیٰ کا سوال کیا ہے اور مسیح کے جواب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے سبب اپنی بریت کرانا چاہتے ہیں یا سفارش ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا۔ پھر جب مولوی صاحب نے آیت:’’ماکان للنبی… الخ!‘‘سے یہ ثابت کیا ہے کہ نبی کو مشرکین کی سفارش کرنے کی اجازت نہیں تو پھر تعجب ہے کہ خود ہی اس کے برخلاف حضرت مسیح کو اس کے نیچے لاتے ہیں۔ (مولوی ثناء اللہ نے مخفی سفارش کا لفظ بولا ہے، سفارش نہیں کہا۔ مرتب)

پھر مولوی صاحب نے جو یہ فرمایا کہ ’’متوفی‘‘ چونکہ صیغہ اسم فاعل ہے جو متکلم کے وقت تکلم کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں کب اس سے انکار ہے۔ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ مسیح اس وعدے کے بعد ہی فوت ہو گئے۔ پھر مولوی صاحب نے خلف کے متعلق ’’اذا خلوا‘‘ کی مثال دے کر یہ کہا ہے کہ خلت کے معنی ہیں گزرنے کے نہ کہ مرنے کے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے: ’’اذا خلوا‘‘ کے بعد الی صلہ ہے اور ’’قد خلت من قبلہ‘‘ میں من صلہ پھر ’’افائن مات اوقتل‘‘ کا قرینہ ساتھ پڑا ہے، جس سے خلت کے معنی اس جگہ بلحاظ اس قرینہ کے موت ہی ہوسکتے ہیں۔

۱؎مولوی غلام رسول صاحب! مسیح موعود کے حواری اور مہدی مسعود کے مرید ہو کر ایسا صریح جھوٹ ہرگز زیبا نہیں۔ کس آیت میں ہے اور کس نے یہ ترجمہ کیا یا مطلب بتلایا ہے کہ حضرت عیسیٰ یہ جواب دیں گے کہ میری زندگی میں ایسا عقیدہ پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ غلط عقیدہ میری وفات کے بعد پیدا ہوا۔ افسوس! مذہبی مناظرات میں بھی لوگ راستی اور راست گوئی کے پابند نہیں رہتے۔ اس افتراء کا جواب نوٹ نمبر۲ میں ملاحظہ فرماویں۔ (مرتب)

251

پھر لسان العرب میں لکھا ہے: ’’خلافلان ای مات فلان‘‘ یعنی فلاں شخص گزر گیا یعنی مر گیا۔ پھر مولوی صاحب نے: ’’کانا یا کلان الطعام‘‘کے متعلق کہا ہے کہ یہاں ’’تغلیب‘‘ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک ’’تغلیب‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ ایک بات ایک شخص میں نہ پائی جاتی ہے اور غلط طور پر اس کی طرف منسوب کی جائے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں، کانا میں صرف والدہ مسیح کے کھانا کھانے کا ذکر اور حضرت مسیح کھانا نہ کھاتے تھے یہ غلط ہے۔ کیونکہ ’’تغلیب‘‘ کا تو یہ مطلب ہے کہ مثلاً دو چیزوں میں جو مذکر اور مؤنث ہوں تو ان دونوں کے لئے لفظ مذکر کا بولا جاوے۔ جیسے ’’قمران‘‘ اور ’’ابوان‘‘

پس اصل بات یہی ہے کہ دونوں کھانا کھایا کرتے ہیں۔ جب تک کہ جسد عنصری کے ساتھ زندہ تھے۔ لیکن جب وہ اب نہیں کھاتے تو وہ فوت ہو گئے اور آنحضرتﷺ نے صوم وصال کے متعلق جو مولوی صاحب نے کہا ہے، اس طرح اگر حضرت مسیح میں صوم وصال میں ’’ابیت عند ربی‘‘کے ارشاد فرماتے تو ہو سکتا تھا۔ مگر یہ صوم وصال عجیب ہے کہ انیس سو سال ہوئے، پس کھانا کھایا ہی نہیں۔ حالانکہ آنحضرتﷺ باوجود صوم وصال کے کھانا کھا لیا کرتے تھے اور صرف سحری کے وقت نہ کھاتے تھے۔ لیکن شام کو ضرور کھاتے تھے۔ پس اس سے بھی مولوی صاحب کا مدعا ثابت نہیں ہوسکتا اور اصل بات یہی ہے۔ حضرت مسیح فوت ہو گئے۔واللہ درالقائل!

  1. ابن مریم مر گیا حق کی قسم۱؎

    داخل جنت ہوا وہ محترم

  2. وہ نہیں باہر رہا اموات سے

    ہو گیا ثابت یہ تیس آیات سے

۱؎دیکھو غلط بات کہہ کر جھوٹی قسم کھا رہے ہو۔ سنو! حضرت عیسیٰؑ تو ابھی آسمان پر زندہ سلامت ہیں اور قیامت کے قریب قریب زمین پر ضرور نازل ہوں گے۔ ان کا آسمان سے زمین پر نازل ہونا قیامت کے بڑے نشانات سے ہے۔ غور کرو قرآن مجید حضرت مسیح کی نسبت فرماتا ہے: ’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا‘‘ نیز آیات: ’’وکہلا وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ حدیث صحیح مؤکد بتاکیدات ثلاث: ’’والذی نفس محمد بیدہ لینزلن فیکم ابن مریم‘‘ وغیرہ کے واقعات آپ کے زمین پر نازل ہونے پر وقوع میں آئیں گے اور ضرور آئیں گے۔ تمام دنیا کے لوگوں سے زیادہ سچے اور افضل رسول محمدa (فداہ ابی وامی) کا قسم کھا کر حضرت عیسیٰؑ کا آسمان سے نازل ہونا بتاکید بیان فرمانا ہرگز ہرگز جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ خود تم سوچو کہ جس بات کو ایسا سچا (بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۵۳ پر)

252

دستخط: (مولوی) غلام رسول (مرزائی مناظر)

دستخط: میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ اسلامی صدر)

دستخط: (ڈاکٹر) عباد اللہ (مرزائی صدر)

ضمیمہ

مرزائیوں نے چونکہ ہرروز کی بحث کے بعد ضمیمہ لگایا ہے۔ حالانکہ پہلے روز کی بحث میں آخری پرچہ انہی کا تھا۔ تاہم اس کو ناکافی جان کر ضمیمہ لگایا۔ اس لئے ہمارا بھی حق ہے کہ ہم بھی ضمیمہ لگاویں۔

مولوی غلام رسول مرزائی نے کہا متوفی کو پیچھے کریں اور دوسرے صیغوں کو پہلے رکھیں تو یہ خرابی آتی ہے۔ حالانکہ کوئی خرابی نہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے صاف کہا تھا کہ یہ چاروں فعل قیامت تک ہونے کا وعدہ ہے۔ کوئی آگے ہو تو کیا، پیچھے ہو تو کیا۔ واؤ عطف اس لئے نہیں ہوتا کہ جو اس سے پہلے ہے وہ پہلے ہی ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں مذکور ہے: ’’اقیموا الصلٰوۃ ولا تکونوا من المشرکین‘‘ (نماز پڑھو اور مشرک نہ بنو) کیا نماز پڑھ کر شرک پیچھے چھوڑنا چاہئے؟ نہیں بلکہ شرک پہلے چھوڑنا چاہئے۔

’’کانا یا کلان الطعام‘‘کا پھر ذکر کیا۔ حالانکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ حضرت مسیح کی والدہ صدیقہ کو بھی چونکہ شریک کیاگیا۔ اس لئے ماضی کا صیغہ لایا گیا ہے جس کو آپ نے سمجھا نہیں ہو گا۔ اس لئے دوبارہ اس کا ذکر کیا۔

(صفحہ۲۵۲ کا بقیہ حاشیہ) رسول قسم کھا کر ذکر فرمائے اور تم اسی بات کو قسم کھا کر جھٹلاؤ تو تمہاری ایک معمولی مرزائی کی قسم کے جھوٹا ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو گی کہ تم صادق مصدوق رسولa کی مؤکد قسم کی مخالفت میں قسم کھا رہے ہو۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

پس تمہارے شعر غلط ہیں۔ صحیح اشعار یہ ہیں ؎

  1. ابن مریم زندہ ہے حق کی قسم

    آسمان ثانی پہ ہے وہ محترم

  2. وہ ابھی داخل نہیں اموات میں

    یہی ہے مضمون تین آیات میں

(مرتب)

253

سنئے! مرزاقادیانی اور مرزاقادیانی کی حرم محترم کا کوئی واقعہ ایسا ذکر کرنا ہو جو ان کی زندگی میں ہوتا تھا تو دونوں کو ایک ہی صیغے میں لاویں گے۔ جیسے یہ فقرہ: ’’مرزاقادیانی اور ان کی حرم دونوں باغ میں سیر کیا کرتے تھے۔‘‘ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جو ان میں سے اب زندہ ہے، وہ سیر نہیں کرتا۔ کوئی کہے کہ ماضی کا صیغہ دلالت کرتا ہے کہ دونوں انتقال فرما گئے تو آپ بھی یہی جواب دیں گے کہ ماضی کا صیغہ مرزاقادیانی کی وجہ سے ہے نہ کہ حرم کی وجہ سے۔ ممکن ہے وہ اب بھی سیر کرتی ہوں۔ مولوی ثناء اللہ صاھب کی مراد ’’تغلیب‘‘ سے یہی تھی کہ ماضی کا صیغہ حضرت مسیح کی ماں کی وجہ سے ہے۔

یہ خوب کہی کہ آنحضرتﷺ باوجود صوم وصال کے کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ چہ خوش! پھر روزہ وصال ہی کیا ہوا؟ اور اس میں آپ کا کمال ہی کیا؟ صحابہ کرامؓ کو حضورﷺ نے منع فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ آپ خود تو روزہ وصال رکھتے ہیں۔ آپa نے فرمایا تم میرے جیسے نہیں۔ میں رات کو اپنے رب کے پاس رہتا ہوں وہ مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ بقول آپa کے اگر یہی کھانا پینا تھا تو ایسا کھا پی کر تو سب رکھ سکتے ہیں۔ پھر حضورﷺ کا اس میں امتیاز کیا؟

مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ مسیح کی وفات سے عیسائیوں کے عقیدہ کفارہ کو قوت پہنچتی ہے۔ یہ جواب مولوی صاحب کا بہت ہی صحیح تھا مگر مولوی غلام رسول جواب دیتے ہیں کہ اس سے عیسائیوں کا خدا مر جاتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ مرنے سے ان کو نقصان نہیں۔ کیونکہ انجیل میں صاف لکھا ہے کہ مسیح نے چلا کر جان دی۔ گو آپ لوگ مسیح کی موت صلیب پر نہیں مانتے۔ تاہم موت کے تو قائل ہیں۔ لاریب بہ نسبت مطلق انکار موت کے موت سے عیسائیوں کو ایک گونہ قوت ہوتی ہے۔ اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ کہنا بہت ٹھیک ہے کہ نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی۔

مختصر یہ کہ مرزائیوں کا مسئلہ وفات مسیح کی نسبت جو یہ گھمنڈ تھا کہ مخالف کا منہ اور قلم بند کر دیں گے۔ یہ ہو گا، وہ ہو گا۔ افسوس! اس کا کوئی اثر ہم نے نہ پایا بلکہ مرزائی مناظر نے جو گفتگو کی مرعوبانہ حالت میں کی۔ نہ کسی آیت کا جواب دیا، نہ حدیث کا، نہ مرزاقادیانی کے اقوال ہی کو دیکھا۔

مرزائی الزام لگاتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے قرآن مجید سے ثبوت نہیں

254

دیا۔ حدیثوں کی طرف چلے گئے۔ اللہ! اللہ! کس قدر دلیری ہے۔ ہم اس الزام کا جواب ناظرین پر چھوڑتے ہیں کہ وہ شرائط مناظرہ کو دیکھ کر فریقین کی تقریریں دیکھیں اور غور سے پڑھیں کہ کوئی پرچہ مولوی صاحب کا آیت حدیث سے خالی ہے؟

دوسرے روز یعنی ۳۰؍اپریل ۱۹۱۶ء کی کارروائی

صداقت دعویٰ مرزاقادیانی

(پہلا پرچہ از مولوی غلام رسول مرزائی)

کیونکہ آپ۱؎ نے اپنے رؤیا میں تین چاند دیکھے تھے نہ چار۔ بس اب یہ امر قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے تو اب یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آنے والا کوئی اور ہے جو حضرت مسیح کے نام اور منصب ومرتبہ پر آئے گا اور وہ خدا کے فضل سے آنے والا آ گیا اور وہ مرزاقادیانی ہیں جن کی صداقت دعویٰ کے ثبوت میں قرآنی آیات کو پیش کیا جاتا ہے۔

پہلی آیت: ’’فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ انہ لا یفلح الظالمون‘‘ کیا مطلب! یعنی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے، جس نے خدا پر افتراء کیا یا جس نے خدا کی آیات کی تکذیب کی۔ لیکن یاد رہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوا کرتے۔

۱؎اس پرچے میں مرزائی مناظر نے بہت سا مضمون کل کے مباحثہ یعنی وفات مسیح کے متعلق لکھا تھا جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے صدر کو توجہ دلائی کہ یہ بے تعلق ہے۔ چنانچہ دونوں صدروں نے بالاتفاق وہ مضمون کٹوا دیا۔ مرزائی مناظر نے اتنا وقت بھی لے لیا۔ مگر مطبوعہ مناظرہ میں مرزائیوں نے اس مضمون کا کچھ حصہ درج کر ہی دیا۔ پھر مزید لطف یا غلط بیانی یہ کی کہ اس مقام کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ تمہیدی مضون سنانے سے روک دیا۔ بھلا مولوی ثناء اللہ روکنے والے کون؟ اور ان کے روکنے سے آپ رکے کیوں؟ بات دراصل وہی تھی جو ہم نے لکھی کہ مرزائی مناظر نے خلاف شروط مقررہ دوسرے روز بھی وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑا جس پر مسلمان مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب نے دونوں صدروں کو توجہ دلائی۔ چنانچہ دونوں نے بالاتفاق مرزائی مناظر کا اتنا مضمون کاٹ دیا اور اس کی درخواست پر مزید وقت بھی اس کو دیا جو کاٹنے اور نیا مضمون پیوند کرنے میں لگا تھا۔ یہ ہے ان لوگوں کی دیانتداری اور یہ ہے ان کی راست گوئی اور راست روی۔ افسوس ہے مسیح موعود کے حواری اور مہدی مسعود کے مرید ہو کر ایسی غلط کاریاں کریں تو اور کیا کچھ نہ کریں گے۔ مرزائیوں کا دستخطی مضمون جو ہمارے ہاتھ میں آیا ہے، وہ اسی طرح (کیونکہ) سے شروع ہوتا ہے۔ (مرتب)

255

یہ آیت حضرت مسیح موعود کی صداقت میں ایک زبردست ہے۔ اس طرح پر کہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص مفتری ہو اور اپنے دعویٰ میں سچا نہ ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ پھر ایسا ہی جو لوگ سچے مدعی کے مکذبین ہیں وہ بھی ظالم۱؎ ہیں اور وہ بھی سچے مدعی کی کامیابی میں روک ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔

اب دیکھو اور غور سے دیکھو کہ مرزاقادیانی نے جب دعویٰ کیا اس وقت صرف اکیلے تھے۔ اس کے باوجود مکذبین کی سخت سے سخت مخالف کوششوں کے لاکھوں انسان کا آپ کی تصدیق کرنا اور آپ کو قبول کرنا اس آیت کی رو سے اس بات کا زبردست ثبوت ہے کہ مرزاقادیانی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں اور مکذبین لوگ جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں وہی ظالم ہیں جو ایک سچے کی کامیابی کی راہ میں باوجود سخت سے سخت مخالف کوششوں کے کامیاب نہ ہو سکے۔ اس بات کی تائید مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے تفسیر ثنائی کے مقدمہ میں ص۱۶ کے پہلے کالم میں لکھا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ نظام عالم میں جہاں اور قوانین الٰہی ہیں میں یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوتی بلکہ وہ جان سے مارا جاتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں: واقعات گزشتہ سے بھی اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ خدا نے کبھی کسی جھوٹے نبی کو سرسبزی نہیں دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں باوجود غیرمذاہب ہونے کے جھوٹے نبی کی امت کا ثبوت مخالف بھی دیکھیں بتلا سکتے ہیں۔

اب دوستو! غور کر کے اس تحریر کو ملاحظہ کرو کہ اس قاعدہ کی رو سے جو مولوی ثناء اللہ صاحب نے بیان کیا ہے، اس سے کس طرح ہمارے مرزاقادیانی کی صداقت کھلے طور سے ثابت ہوتی ہے۔ اللہ اللہ! مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریر اور مرزاقادیانی کی صداقت کا اسی طرح سے کھلا ثبوت سچ ہے: ’’الفضل ما شہدت بہ الاعداء‘‘

۱؎مولوی ثناء اللہ صاحب نے صدارت کو اس لفظ پر توجہ دلائی کہ منکرین مرزا کو ظالم کہاگیا ہے۔ کیا ہم کو بھی اجازت ہو گی کہ ہم مریدین مرزا کو ظالم کہیں۔ مولوی غلام رسول صاحب نے کہا ہم نہیں کہتے قرآن کریم کہتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا ہم بھی قرآن کی شہادت سے کہیں گے۔ میاں نظام الدین صاحب صدر نے فرمایا بے شک آپ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا گو صدر صاحب نے اجازت دے دی ہے۔ مگر میں اپنے اخلاق کی پابندی میں نہیں کہوں گا۔ مرحبا! (مرتب)

256

دوسری آیت: ’’ماکنا معذبین حتی نبعث رسولا (بنی اسرائیل)‘‘ کیا مطلب! یعنی دنیا میں ہم عذاب نہیں بھیجا کرتے جب تک کہ پہلے کوئی رسول مبعوث نہ کر لیں۔ اس آیت سے بھی مرزاقادیانی کی صداقت کا ثبوت ملتا ہے۔ کیونکہ اس میں بتلایا ہے کہ دنیا میں عذاب آنے سے پہلے خداتعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ ضرور کوئی رسول بھیجتا ہے۔ اب دیکھو دنیا میں ہر طرف عذابوں کا ظہور ہے۔ کہیں طاعون ہے، کہیں زلزلہ، کہیں طوفان، کہیں قحط، کہیں جنگوں کے مہیب نظارے کہ جن کی نظیر پہلے زمانوں میں ہرگز نہیں ملتی۔ اب جب کہ یہی عذاب جو پہلے رسولوں کے وقت آئے اور اس آیت کی رو سے ان رسولوں کی صداقتکی دلیل ہے تو کیوں یہی عذاب اس خدا کے برگزیدہ رسول کی صداقت کی دلیل نہیں جو ان عذابوں کے ظہور سے پہلے آیا اور اس نے ان عذابوں کے ظہور کی خبر بھی پہلے سے سنا دی۔

چنانچہ آپ کے الہام ذیل کو غور سے ملاحظہ فرمایا جاوے: ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔‘‘

اب دیکھو اس الہام میں یہ بتایا ہے کہ ایک نذیر آیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نذیر آنے والے عذابوں کی خبر دیتا ہے۔ پھر دنیا کا لفظ بتاتا ہے کہ وہ عذاب ساری دنیا کے لئے ہوں گے۔ پھر یہ کہنا کہ دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ اس سے بتلایا کہ اس کے انکار کی وجہ سے وہ عذاب آئیں گے۔

پھر فرمایا کہ اور بڑے زورآور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ اس سے یہ بتایا کہ وہ عذاب خدا کے زورآور حملے ہوں گے جن سے دنیا کی قوموں اور سلسلوں کو تو نقصان پہنچے گا۔ لیکن خدا کے اس نذیر اور رسول کی سچائی ظاہر ہو گی اور وہ اس سے ترقی کرے گا اور بڑھے گا۔ اب دیکھو کہ اس آیت اور اس الہام کی رو سے جو قبل ازوقت شائع ہوا کس طرح دنیا میں مختلف قوموں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لیکن خدا کے فضل سے مرزاقادیانی کا سلسلہ اس سے ترقی پر ترقی کر رہا ہے۔ کیا اس آیت کی رو سے روزروشن کی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے اور واقعی خدا کی طرف سے ہیں؟

دوستو! غور کرو پھر غور کرو۔

257

تیسری آیت:’’فان لم یستجیبوا لکم فاعلموا انما انزل بعلم اللہ (الہود)‘‘کیا مطلب! یعنی اگر یہ منکر لوگ اس اعجازی کلام کا مقابلہ نہ کریں تو اے طالبان حق تم اس نتیجہ کو بھی سمجھ لو کہ یہ اعجازی کلام بشری طاقتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ علم الٰہی سے ظاہر ہوا۔

یہ آیت بھی مرزاقادیانی کی سچائی کی زبردست دلیل ہے۔ کیونکہ آپ نے جن تصانیف کو اعجازی رنگ میں پیش کیا ان میں کسی کا بھی دنیا میں جواب نہیں لکھا۔ اس وقت ہم بطور مثال کے اعجاز احمدی کو لیتے ہیں جس کے ساتھ دس ہزار کا انعامی اشتہار بھی دیا گیا اور جسے خصوصیت کے ساتھ مولوی ثناء اللہ صاحب کے مقابلہ کے لئے لکھا۔ اب دیکھو کہ باوجودیکہ مولوی صاحب مولوی فاضل بھی ہیں اور شب وروز تحریر اور تصنیف کا کام بھی کرتے ہیں۔ لیکن آپ نے اعجاز احمدی کا جواب آج تک نہیں لکھا۔ حالانکہ مولوی صاحب کے مقابلہ میں لکھنے اور نہ لکھنے کو اعجازی قصیدہ۱؎ میں حضرت مسیح موعود نے اپنے صدق اور کذب کا معیار بھی قرار دیا ہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں ؎

  1. فان اک کذابا فاتی بمثلہا

    وان اک من ربی فیغشے ویشبی

کیا مطلب! یعنی اگر میں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں تو مولوی ثناء اللہ صاحب اس کی مثل ضرور بنالائیں گے۔ لیکن اگر میں رب کی طرف سے ہوں تو مولوی صاحب پر پردہ ڈال دیا جاوے گا اور انہیں مثل لانے سے روک دیا جاوے گا۔

دوستو! اب غور کرو اور خدا کے لئے غور کرو کہ مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیشہ کہا کرتے

۱؎ مولوی ثناء اللہ صاحب چونکہ شاعر نہیں ہیں۔ اس لئے انہوں نے قصیدہ نہ لکھا۔ ہاں! مرزائی قصیدہ کی غلطیاں س کثرت سے نکالیں کہ اس کے اعجاز کے بخیے ادھیڑ ڈالے۔ یا جس قصیدہ میں بے شمار غلطیاں نکلیں وہ بھی اعجاز ہے؟ البتہ مولوی صاحب کا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ مرزائی مشن کے مقابلہ پر معجزہ ثابت ہوا ہے، جس نے مرزاقادیانی کی معرکۃ الآراء پیش گوئیوں کا تارپود جدا جدا کر دیا اور باوجودیکہ اس کا جواب لکھنے پر مرزاقادیانی کو پہلے پانچ سو روپیہ پھر دوسرے ایڈیشن پر ایک ہزار روپیہ اور اب طبع سوم کے موقع پر دو ہزار روپیہ تک انعام کا وعدہ ہے۔ لیکن مرزاقادیانی کو جواب لکھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اعجاز یہ ہے کہ قاضی ظفرالدین صاحب مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے ایک زبردست عربی قصیدہ رائبہ بجواب قصیدہ مرزائیہ لکھا تھا جو اہل حدیث کے کالموں میں طبع ہو چکا ہے۔ اب ان شاء اللہ! کتابی صورت میں نکلے گا۔ باوجود اس کے پھر مرزائیوں کا یہ کہنا ہمارے قصیدہ کا جواب کسی نے نہیں لکھا۔ صریح کذب ہے۔ (مرتب)

258

ہیں کہ ایسی پیش گوئی اور نشان کہ جس پر مرزاقادیانی نے اپنے صدق دعویٰ کا انحصار رکھا ہو، ہرگز ظہور میں نہیں آیا۔

اب دیکھو کہ یہ کس قدر زبردست نشان ہے جو ظاہر ہوا۔ کیا اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟ اور کیا یہ نشان آیت موصوفہ کی رو سے اس بات کا زبردست ثبوت نہیں کہ فی الواقع مرزاقادیانی اپنے دعویٰ میں سچے اور خدا کی طرف سے ہیں۔

چوتھی آیت: ’’کتب اللہ لاغلبنّ انا ورسلی (مجادلہ)‘‘ کیا مطلب! یعنی اللہ نے یہ قانون لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوا کرتے ہیں۔ یہ آیت بھی مرزاقادیانی کی صداقت کے ثبوت میں ایک زبردست دلیل ہے۔ کیونکہ اس میں بتلایا ہے کہ خدا کا رسول اپنے مخالفوں پر غلبہ پاتا ہے۔

چنانچہ اس آیت کی رو سے بھی دیکھ لو کہ مرزاقادیانی نے جب دعویٰ کیا تو اس وقت ایک طرف آپ اکیلے تھے اور دوسری طرف سب دنیا۔

اب دیکھو! مخالفین مرزاقادیانی پر غالب آئے اور ان کے دعویٰ سے انکار کرایا یا مرزاقادیانی نے اپنے مخالفین کی جماعت سے نکال کر اپنا ہم عقیدہ بنایا۔

تکذیب دعویٰ مرزاقادیانی

(پہلا پرچہ از مولوی ثناء اللہ صاحب)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وحدہ والصلٰوۃ علٰی من لا نبی بعدہ!

حضرات! مرزاقادیانی کا دعویٰ مسیحیت موعود کا مستقل نہیں بلکہ نبوت محمدیہ اور اخبار احمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کی فرع ہے۔ یعنی چونکہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد مسیح موعود آئے گا۔ اس لئے مرزاقادیانی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ میں ہوں۔ پس اس کی مثال نماز، روزہ وغیرہ احکام کی ہے۔ کوئی شخص کسی خاص حکم کی تعمیل کا دعویٰ کرے جو قرآن مجید میں ہو تو لازمی بات ہے کہ اس حکم کے الفاظ قرآن مجید میں دیکھے جاویں کہ وہ کیا ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی کے ابطال دعویٰ کے لئے ان احادیث کا دیکھنا ضروری ہے جن میں مسیح موعود کے آنے کا ذکر ہے۔ میں ان میں سے ایک حدیث نقل کرتا ہوں: ’’قال

259

رسول اللہﷺ ینزل عیسٰی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسٰی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوٰۃ باب نزول المسیح ص۴۸۰)‘‘ یعنی حضورﷺ فرماتے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ زمین کی طرف آویں گے پھر نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہو گی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے پھر مریں گے۔ پھر میرے مقبرے میں میرے پاس دفن ہوں گے پھر میں اور عیسیٰ ایک ہی مقبرے سے اٹھیں گے۔ پھر دونوں عمر اور ابوبکرr کے درمیان ہوں گے۔

کل میں نے یہ حدیث حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کے لئے پیش کی تھی۔ آج اس مطلب کے لئے پیش کرتا ہوں کہ مسیح موعود کی کیفیت حدیثوں میں کیا ہے، خاص کر اس حدیث کو میں نے اس لئے پیش کیا ہے کہ مرزاقادیانی نے خود اس حدیث کو اسی غرض کے لئے پیش کیا ہوا ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)

چونکہ یہ حدیث مسلمہ فریقین ہے، اس لئے یہ قوی سند ہے اس بات کی کہ اس بحث میں لائی جاوے۔ اس حدیث میں مسیح موعود کے آنے کی صرف خبر ہی نہیں دی بلکہ ان کی زندگی کا سارا پروگرام بتلا دیا ہے۔ دنیا میں ان کی عمر اور بعد انتقال ان کے دفن کی جگہ بھی بتلا دی۔صدق اللہ ورسولہ!

اب سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی بعد دعویٰ مسیحیت پینتالیس سال دنیا میں رہے؟ ہرگز نہیں۔ آپ لکھتے ہیں: ’’ابتداء چودھویں صدی ہجری میں میری عمر چالیس سال تھی۔ اس وقت میں مامور اور ملہم ہوا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳)

آج ۹سال مرزاقادیانی کو فوت ہوئے ہو گئے۔ حالانکہ ابھی ۳۴ہجری ہے جس میں سے ۹سال نکال دیں تو پچیس سال رہ جاتے ہیں۔ یعنی زمانہ دعویٰ الہام میں مرزاقادیانی نے کل پچیس سال گزار کر ۶۵سال کی عمر میں انتقال کیا۔ حالانکہ الہام ۸۰سال سے زیادہ کی زندگی کا تھا۔

(تریاق القلوب ص۱۳، خزائن ج۱۵ ص۱۵۲ حاشیہ)

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مرزاغلام قادیانی مدینہ منورہ میں فوت ہوئے؟ اور مرقد مبارک میں دفن ہوئے؟

260

آہ! اس کا جواب میں کیا دوں۔ سب نے دیکھا کہ جناب ممدوح کا انتقال۱؎ لاہور میں ہوا اور قادیان میں دفن ہوئے۔ غرض اس حدیث نے صاف اور بیّن فیصلہ کر دیا کہ مرزاقادیانی مسیح موعود نہیں تھا۔

ہمارے صوبہ پنجاب کے دنیوی مقدمات کے لئے اعلیٰ عدالت چیف کورٹ لاہور ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے مذہبی مقدمات کے لئے ہائی کورٹ بلکہ سب سے آخری پریوی کونسل، حدیث شریف ہے۔ کسی مسلمان کا حق نہیں کہ خدا اور رسول کے فیصلہ سے سرتابی کر سکے یا اس کی اپیل کا دل میں خیال لاوے۔ لاوے تو اپنے ایمان کی خیر مناوے۔ پس اس حدیث کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی اس دعویٰ کے لئے حاجت نہیں۔ تاہم میں مزید اطمینان احباب احمدیہ کے لئے خود مرزاقادیانی کے اقرارات سے مرزاقادیانی کے دعویٰ کی تکذیب سناتا ہوں۔

مرزاقادیانی نے (شہادۃ القرآن ص۸۱، خزائن ج۶ ص۳۷۶) پر مسلمانوں کے لئے قابل غور پیش گوئی یہ کی ہے کہ مرزااحمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔ یہ میری صداقت کی دلیل ہو گی۔ اس مضمون کو آپ نے بہت جگہ لکھا ہے۔ جہاں تک کہ جب اس لڑکی کی شادی ہو گئی تو مرزاقادیانی کے سامنے سوال پیدا ہوا تو جناب موصوف نے فرمایا گو اس کی شادی پہلے ہو گئی ہے۔ تاہم آخر کار وہ میرے نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔

(اخبار الحکم قادیان مؤرخہ ۳۰؍جون ۱۹۰۵ء ص۲، کالم ۲)

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸) پر لکھتے ہیں کہ اگر یہ نکاح نہ ہوا تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اسی رسالہ کے (ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ) پر لکھتے ہیں کہ حدیث میں اس نکاح کو مسیح موعود کی صداقت کی علامت خود حضورﷺ نے فرمایا ہے۔ پھر وہی حدیث لائے ہیں جو میں اوپر لکھ آیا ہوں۔

۱؎مرزاقادیانی کا لاہور جاکر بیوطنی کی حالت میں مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں بزبان حال یہ کہتے ہوئے: ’’مارا دیار غیر میں مجھ کو وطن سے دور‘‘ ہیضہ کی منہ مانگی موت سے مر جانا اور باوجود کئی طرح دواؤں اور دعاؤں کے ساتھ زور لگانے کے زندگی کی ایک دم کے لئے بھی مہلت نہ ملنا بلکہ بارگاہ ایزدی سے: ’’ہذا الذی کنتم بہ تستعجلون‘‘ کے الفاظ میں جواب پانا مرزاقادیانی کے جھوٹا ہونے کا ایک بیّن اور عظیم نشان ہے۔ (مرتب)

261

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح ہوا؟ آہ! اس کا جواب نفی میں ملتا ہے جس پر یہ شعر بے ساختہ زبان سے نکل جاتا ہے ؎

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

اس کے علاوہ ایک بات اور عرض کرتا ہوں جس کا نام مرزاقادیانی نے آخری فیصلہ رکھا تھا، جس کو اس مباحثہ سے خاص تعلق ہے۔ کیونکہ اس اشتہار کو انجمن احمدیہ امرتسر نے جو اس وقت مناظرہ میں فریق ثانی ہے، دوبارہ چھپوا کر شائع کیا تھا۔ چنانچہ میں اس انجمن کے شائع کردہ اشتہار سے چند جملے نقل کرتا ہوں۔ واضح رہے اس اشتہار کا نام ہے ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ اس کے آخری فقرے یہ ہیں: ’’اے میرے آقا! میرے بھیجنے والے! میں تیری ہی تقدس اوررحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھا لے۔‘‘

یہ دعاء ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو ہوئی اور مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اس دارفانی سے تشریف لے گئے۔

حضرات! یہ کوئی معمولی شخص کی دعاء نہیں بلکہ اس شخص کی ہے جس کا الہام ہے: ’’اجیب کلّ دعائک‘‘ یعنی جس سے خدا کا وعدہ ہے کہ میں تیری ہر ایک دعاء قبول کروں گا۔

(تریاق القلوب ص۳۸، خزائن ج۱۵ ص۲۱۰)

جس کا دعویٰ ہے کہ میں خدا کے حضور دعاء کرتا ہوں اور اس کا جواب پاتا ہوں۔ میرے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ میری دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

(ریویو ج۶، ش۵، ص۱۹۲ بابت ماہ مئی ۱۹۰۷ء)

اب سوال یہ ہے کہ یہ دعاء قبول ہوئی؟ میں تو اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ ضرور قبول ہوئی۔ اگر میرے مخاطب اس کے متعلق کچھ کہیں گے تو عرض کروں گا۔ وقت کی پابندی میں اسی پر کفایت ہے۔

  1. گفتگو آئین درویشی نبود

    ورنہ باتو ماجراہا داشتیم

۳۰؍اپریل ۱۹۱۶ء

262

صداقت دعویٰ مرزاقادیانی

(دوسرا پرچہ از مولوی غلام رسول)

صاحبان! آپ نے دیکھ لیا کہ مولوی صاحب اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے کسی آیت کو پیش نہیں کر سکے اور صرف حدیث کی طرف رجوع کیا۔ اب اس کے متعلق کیا عرض کیا جائے۔ کیا حدیثیں قرآن پر مقدم ہیں، جب قرآنی محکمات کی رو سے حضرت مسیح فوت شدہ ثابت ہیں۔ جیسا کہ کل ۲۹؍اپریل کے پرچوں میں قرآنی آیات سے اس کا ثبوت کافی طور پر دیا گیا ہے اور مولوی صاحب نے حدیث نزول کو پیش کیا۔ ہم اس کو مانتے ہیں۔ لیکن نزول کے یہ کہاں معنی ہیں کہ واقعی یہ نزول جسمانی نزول ہے۔ دیکھو قرآن میں لوہے اور لباس اور چارپائیوں کے متعلق لفظ نزول استعمال کیاگیا ہے۔ جیسا کہ: ’’انزلنا الحدید‘‘اور’’انزلنا لکم من الانعام‘‘ اور ’’انزلنا علیکم لباسا‘‘سے ظاہر ہے اور عربی زبان میں مسافر کو نزیل کہتے ہیں۔ کیا اس سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسافر آسمان سے اترا کرتے ہیں۔ پھر قرآن میں: ’’انزل اللہ الیکم ذکرا رسول یتلوا علیکم اٰیت اللہ‘‘ بھی آیا ہے۔ دیکھو سورۃ الطلاق۔

اب دیکھو اس آیت میں آنحضرتﷺ کے متعلق فرمایا گیا کہ اس رسول کو اللہتعالیٰ نے اتارا ہے۔ اب کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ آپ آسمان سے اترے اور جسمانی نزول کے ساتھ اترے۔

ہاں! اس نزول سے مراد روحانی نزول ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ خدا کی طرف سے روحانی قرب کے لحاظ سے رفعت حاصل کر کے پھر اصلاح خلق اللہ کے لئے روحانی نزول فرمائیں گے۔ یعنی مبعوث کئے۱؎ جاویں گے۔

۱؎آپ نے یا تو مولوی ثناء اللہ کا مطلب سمجھا نہیں یا دانستہ تجاہل کیا۔ مولوی صاحب نے تو صاف صاف اس حدیث کا مضمون کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ (۱)مسیح موعود کا مدینہ منورہ میں فوت ہونا۔ (۲)مرقد مبارک میں دفن ہونا۔ بس یہ دونشان بموجب حدیث شریف مسیح موعود کے ہیں۔ آپ روحانی نزول کہیں یا جسمانی اس سے کیا فائدہ۔ جب تک آپ ان دو باتوں کا جواب نہ دیں ساری تقریر بے معنی ہے۔ آپ نے ان کا جو جواب دیا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ (مرتب)

263

پس آنے والے مسیح کے نزول سے مراد حضرت مسیحm کا جسمانی نزول نہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک شخص حضرت مسیحm کے رنگ میں اور اس کی مشابہت میں آئے گا۔ جیسا کہ سورۂ نور میں بتایا گیا ہے۔

دیکھو آیت:’’وعداللہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم‘‘ جس کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرتﷺ کے خلفاء موسوی سلسلہ کے خلفاء کی مانند ہوں گے اور ظاہر ہے کہ حضرت مسیحm حضرت موسیٰؑ کے سلسلہ کے خلیفہ ہیں۔ جیسا کہ آیت: ’’ولقد آتینا موسٰی الکتاب وقفینا من بعدہ بالرسل واٰتینا عیسٰی ابن مریم البینات‘‘سے ظاہر ہے۔ پس اس صورت میں حضرت عیسیٰؑ اس آیت استخلاف کے حرف کما سے مشبہ بہ ہیں جن کی مماثلت میں سلسلہ محمدیہ میں ایک شخص کو آنحضرتﷺ کی مماثلت میں بھیجا جاوے گا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے دعویٰ سے ظاہر ہے۔ پھر تعجب ہے کہ مولوی صاحب نے ’’یدفن معی فی قبری‘‘ کو آج پھر پیش کر دیا۱؎ ہے۔

کیا مولوی صاحب کے پاس قرآنی آیت سے کوئی آیت اپنے مدعا ثابت کرنے کے لئے نہیں ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ اس قبر سے مراد ظاہری قبر نہیں بلکہ برزخی قبر ہے اور ظاہری قبر کو مراد میں لینا حضرت عائشہt کے رؤیائے صالحہ کے برخلاف ہے۔ کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہt نے اپنے حجرے میں تین چاند دیکھے تھے۔ اگر مسیح نے واقعی آپ کی قبر میں دفن ہونا تھا تو چارچاند ہوتے نہ تین۔

پھر مولوی صاحب نے حضرت مسیح کی عمر کے متعلق کہا ہے۔ اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ حضرت سیدنا مسیح موعود ہمیشہ تخمیناً عمر کا اظہار کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ کی مختلف تحریروں سے ظاہر ہے۔ اب دعویٰ الہام کی مدت کو دیکھا جاوے تو وہ عمر ۲۵/۳۰ سال کی عمر کا ہے۔ جس کے بعد ۴۰سال تک زندہ رہے۔

۱؎کیا آپ کو حدیث سے انکار ہے۔ خصوصاً ایسی حدیث سے جس کو مرزاقادیانی نے خود اسی مدعا کے لئے پیش کیا ہوا ہے۔ کیا شرائط مباحثہ میں حدیث کو داخل نہیں کیاگیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ مرزائی مناظر کیا کہہ رہے ہیں۔ (مرتب)

264

اب کیا اس سے عمر والی حدیث پوری نہیں۱؎ ہوئی اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ میرے ساتھ آخری فیصلہ میں آپ اوّل ضرور فوت ہو گئے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہمولوی صاحب نے اس فیصلہ کے اشتہار کے جواب میں جو کچھ اپنے اخبار اہل حدیث کے ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کے پرچہ میں لکھا ہے، اس کو کیوں ذکر نہیں کیا جاتا۔ دیکھو! اس کو ہم پڑھ کر سناتے ہیں۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں تمہاری یہ دعاء کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہوسکتی اور پھر لکھتے ہیں اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔

اب دوستو! غور سے سنو اور دیکھو کہ یہ مباہلہ۲؎ کی دعاء جو حضرت مسیح موعود کی طرف سے شائع ہوئی جب مولوی صاحب نے اسے منظور ہی نہیں کیا تو اس فیصلے کا مطلب کیا؟ پھر کیا آپ کی طرف سے اخبار میں یہ نہیں لکھاگیا کہ خداتعالیٰ جھوٹے، دغاباز، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمردیا کرتا ہے۔

اب غور سے دیکھو کہ مولوی صاحب کی یہ عبارت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ ہاں! مولوی صاحب اگر مرزاقادیانی کے فیصلہ والی تحریر کو منظور کر لیتے تو بے شک پھر جو کچھ چاہتے کہتے۔

ہاں! بے شک مرزاقادیانی نے (اعجاز احمدی ص۳۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۸پر) یہ لکھا ہے کہ واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب میرے تین نشان ظاہر ہوں گے:

۱… وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور سچی پیش گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہو گی۔

۲… اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مر جائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔

۱؎غنیمت ہے کہ یہاں آپ نے ظاہری عمر مراد لی، روحانی عمر نہ کہہ دی جس کا حساب کسی کو معلوم نہ ہو سکے۔ (مرتب)

۲؎اتنا تو ہمیں اعتقاد ہے کہ مرزائی جماعت عجیب فونوگراف ہے جو آواز اس میں قادیان سے داخل کی جاتی ہے وہی ادا کر دیتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی خیانت نہیں۔ نہ کسی قسم کی دیانت ہے کہ مرزاقادیانی کے سارے اشتہار میں مباہلہ کا لفظ بھی درج نہیں۔ مگر قادیان کی آواز میں جو مباہلہ نکلا تو بس سب مرزائی مباہلہ مباہلہ کہنے لگ گئے۔ حالانکہ وہ صرف دعائے مرزا ہے جس کو مباہلہ کہنا نہ صرف دھوکہ خوری بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ (مرتب)

265

۳… اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔

اب دوستو غور کرو! کیا مولوی صاحب نے مرزاقادیانی کا یہ چیلنج منظور کیا؟ اگر منظور کرتے تو بے شک احمد بیگ کی طرح اور ڈوئی امریکن اور مولوی اسماعیل علی گڑھ اور چراغ الدین جمونی کی طرح ضرور پہلے مرتے۔

اور مولوی صاحب کا احمد بیگ کی لڑکی کے متعلق اعتراض کرنا غلط ہے۔ کیونکہ جب الہام: ’’یاایتہا المرٔۃ توبی توبی‘‘سے ظاہر ہے کہ وہ نکاح کی پیش گوئی مشروط بوقوع وعید تھی اور وعید سے پہلا حصہ احمد بیگ کی موت نے پورا کر دیا اور دوسرے حصہ سے انہوں نے توبہ سے فائدہ اٹھایا اور حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعاء کے لئے خط کہ لکھا تو وعید ٹل گیا اور وعید ٹلنے سے نکاح کی پیش گوئی جو مشروط بوقوع وعید تھی، بحکم’اذا فات الشرط فات المشروط‘‘کے مطابق ظہور میں آئی۱؎۔

اور یہ کہ مولوی صاحب کا ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘کو پیش کرنا بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس الہام کے یہ معنی ہیں کہ میں دعاء کرنے والے کی دعاء قبول کرتا ہوں یا کروں گا۔

اب بے شک اگر مولوی صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کی فیصلہ والی تحریر کو منظور فرماتے تو ضرور یہ دعاء آپ کی قبول ہوتی لیکن چونکہ یہ دعاء مباہلہ کی دعاء تھی، جیسے کہ مولوی صاحب کے نامنظور کرنے سے ظاہر ہے۔ اس سے مولوی صاحب کی نامنظوری سے وہ فیصلہ بھی ظہور میں نہ آیا۔

اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ یہ صرف دعاء تھی۔ اگر دعاء تھی اور مولوی صاحب کی منظوری اور نامنظوری کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا تو اس کا کیا مطلب کہ مولوی صاحب نے یہ لکھ دیا کہ یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مولوی صاحب کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا اور آپ نے اس سے انکار کیا۔پھر تعجب کہ آپ فیصلہ کے اشتہار کو بار

۱؎پہلے آدمی کہتے ہوئے کچھ تو خوف خدا دل میں لائے۔ نبی اور رسول کے ساتھ کسی عورت کا نکاح ہونا اس کے لئے عذاب ہے یا رحمت موجب برکت؟ توبہ سے اگر ٹلتا ہے تو عذاب نہ کہ رحمت۔ افسوس ہے۔ (مرتب)

266

بار پیش کرتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کس انصاف کی بناء پر اسے پیش کیا جاتا ہے۔ پس اصل یہی ہے کہ مرزاقادیانی کی وفات مولوی صاحب کے مقابلہ کے ظہور میں نہ تھی۔

دستخط: (مولوی) غلام رسول (مرزائی مناظر)

دستخط: میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ اسلامی صدر)

دستخط: (ڈاکٹر) عباد اللہ (مرزائی صدر)

تکذیب دعویٰ مرزاقادیانی

(دوسرا پرچہ از مولوی ثناء اللہ صاحب)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وسلام علٰی رسولہ الکریم!

حضرات! مرزاقادیانی کی صداقت کا پرچہ آپ لوگوں نے سنا جو آیات پڑھی گئی ہیں ان میں سے کسی آیت میں مرزاقادیانی کا نام یا ذکر تک نہیں ہے بلکہ صرف خیالات کا مجموعہ ہے۔ سب کا خلاصہ ہے کہ چونکہ دنیا میں آفات ہیں۔ اس لئے بطور دلیل ’’انّی‘‘ کے ہماری سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا میں کوئی رسول پیدا ہوا ہے وہ رسول مرزاقادیانی ہیں۔

عربی میں ایک مثل ہے: ’’الغریق یتشبہت بالحشیش‘‘ جس کا ہندی ترجمہ ہے، ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ پہلی آیت میں ظالموں کی ناکامی کا ذکر ہے۔ بقول مخاطب چونکہ مرزاقادیانی کے مرید بہت لوگ ہو گئے ہیں۔ لہٰذا کامیاب ہیں۔ حالانکہ مرزاقادیانی سے سوامی دیانند کے چیلے اس وقت بہت زیادہ ہیں۔ یہ کامیابی نہیں بلکہ کامیابی یہ ہے کہ اپنے مخالفوں پر غالب آئے۔ ایک میں ہی موجود ہوں جس کی بابت مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب دوسرے علماء سے توہین میں بڑھے ہوئے ہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۳۰، خزائن ج۲۲ ص۴۶۲)

مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ’’میرے مقابل پر کسی قدم کو قرار نہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۵۴، خزائن ج۱۵ ص۲۴۹)

حالانکہ: (۱)میں۔ (۲)اور سب سے پہلے ان کا مباہل صوفی عبدالحق غزنوی اور سب سے آخری۔ (۳)مخالف ڈاکٹر عبدالحکیم خاں سب زندہ ہیں اور مرزاقادیانی ہم کو سب داغ جدائی دے گئے۔ آہ! آج ہماری آنکھیں ان کے دیکھنے کو ترستی ہیں۔

267

ہاں! واضح رہے کہ کامیابی اس کو کہتے ہیں کہ جس کام کا بیڑا اٹھایا ہو اس کو پورا ہوا دیکھ لے۔ ایک جرنیل جو فوج لے کر دشمن پر حملہ کرنے کو جاتا ہے جو خیالات اس کے دل ودماغ میں ہوں، اگر ان کو پورا کر دے تو کامیاب سمجھا جاتا ہے ورنہ ناکام۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مرزاقادیانی کیا کیا خیالات دل ودماغ میں لے کر آئے تھے اور اپنا پروگرم انہوں نے دنیا میں کیا شائع کیا تھا۔ میں اپنے الفاظ میں نہیں بلکہ انہی کے الفاظ میں عرض کرتا ہوں۔

آپ لکھتے ہیں: ’’مسیح موعود (جس کے نام سے میں آیا ہوں) اس کے زمانہ میں تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جاویں گی اور ایک ہی مذہب اسلام ہو جاوے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۱)

اب سوال یہ ہے کہ کیا مرزاقادیانی کے دم قدم کی برکت سے دنیا کی سب قومیں ایک ہی مسلم قوم بن گئی۔ کیا خاص امرتسر میں کوئی غیرمسلم نہیں؟ کیا امرتسر کا دربار صاحب جامع مسجد کی شکل میں تبدیل ہو گیا؟ گرجا تو کوئی نہ ہو گا؟ آریہ سماج کا نام ہی نہیں؟ آج جو ان کا سالانہ جلسہ ہے۔ یہ خواب کا واقعہ ہے۔ بیداری میں نہیں؟ اگر یہ سب کچھ ہے اور دنیا میں ابھی سوائے مسلم قوم کے غیرمسلم قومیں بھی موجود ہیں تو کون دانا ہے جو مرزاقادیانی کو کامیاب سمجھے۔ اس کی کامیابی پر مجھے ایک حکایت یاد آئی کہ ایک بادشاہ کا ملک دشمن نے لے لیا۔ رنجیدہ خاطر بیٹھا تھا۔ مصاحبوں میں کسی مسخرے نے کہا۔ حضور دشمن نے ہم پر بے طرح ظلم کیا۔ اس لئے اس نے اگر ہمارا ملک لیا تو ہم نے بھی ان کا ایمان لے لیا۔ ملک توفنا ہونے والی چیز ہے اور ایمان باقی ہے۔ لہٰذا بڑے کامیاب ہم ہیں۔

حضرات! اس کامیابی پر خوش ہونا نابالغ بچوں کا بہلاوا ہے۔ آئیے میں اپنے اصول مقررہ کے مطابق بتلاؤں کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ کا نقشہ ہمارے حضورk نے کیا بتلایا ہے:’’والتذہبن الشحناء والتباغض والتحاسد ولیدعون الی المال فلا یقبلہ احد (مشکوٰۃ باب نزول عیسٰی بن مریم)‘‘

یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں لوگوں کے بغض وحسد سب دور ہو جاویں گے اور وہ مال کی طرف بلائے جاویں گے تو کوئی قبول نہ کرے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں عموماً اور مرزاقادیانی کے مریدوں میں خصوصاً یہ حالت ہے؟ میں اس کا جواب اپنے الفاظ

268

میں نہیں دیتا بلکہ خود مرزاقادیانی کے الفاظ سناتا ہوں۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی، اور پرہیزگاری اور للّٰہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ میں انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنی خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں۔ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں۔ وغیرہ!‘‘

(اشتہار التوائے جلسہ ۲۷دسمبر ۱۸۹۳ء ملحقہ شہادت القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۳۹۵)

غرض مرزاقادیانی نہ تو اشاعت اسلام میں کامیاب ہوئے اور نہ تہذیب وتقدس میں بلکہ اپنے سارے پروگرام میں فیل نظر آتے ہیں۔

تفسیر ثنائی کے حوالہ سے جھوٹے نبی کی بابت جو کہاگیا ہے وہ درست ہے۔ مرزاقادیانی جو چند یوم تک بچے رہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کھل کر نبوت کے مدعی نہ تھے بلکہ نبوت محمدیہ کے دامن سے لپٹتے رہے اور یہ کہتے رہے ؎

من نیستم رسول نیا وردہ ام کتاب

(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱)

جو ہوں وہ اتباع محمدی میں ہوں۔ اس لئے خدا نے چند یوم مہلت دی۔ چونکہ نبوت محمدیہ کی آڑ میں رہے تھے۔ اس لئے خدا نے ان کی موت بھی ایک ادنیٰ غلام محمد کے مقابلہ میں بھیجی، جس کی غلامی کا ثبوت خود اس کے نام سے ظاہر ہے۔ یعنی ؎

ثناء اللہ بود ورد زبانم

عربی اعجازی قصیدہ کا ذکر بھی کیاگیا ہے۔ حالانکہ اس قصیدہ کا سارا بخیہ میں اپنے رسالہ الہامات مرزا میں ادھیڑ چکا ہوں۔ اس قصیدہ کی بلاغت کا نمونہ بتلانے کو دو شعر سناتا ہوں ؎

  1. اأخیت ذئبا عایثا او ابا الوفاء

    او افیت مدا او رأیت امرتسر

(اعجاز احمدی ص۷۸، خزائن ج۱۹ ص۱۹۱)

اس میں امرتسر مفعول بہ کو مرفوع لکھا ہے ؎

  1. فقلت لک الویلات یا ارض جولر

    لعنت بملعون فانت تدمر

(اعجاز احمدی ص۷۵، خزائن ج۱۹ ص۱۸۸)

یہاں گولڑے کی ارض کو باوجود مؤنث لکھنے کے تدمر صیغہ مذکر کا لائے ہیں۔ کیا

269

کمال ہے۔ ایسا ہی ’’ماکنا معذبین‘‘ والی آیت کو بھی مرزاقادیانی سے کوئی تعلق نہیں۔ نبوت محمدیہ چونکہ دنیا میں عام شائع ہے۔ اس لئے اس کی مخالفت کا اثر ہے کہ دنیا میں عذاب آتا ہے۔ مرزاقادیانی خود فرماتے ہیں:

غلام احمدم ہر جا کہ باشم

پھر آقا کی نبوت کا اثر نہ ماننا اور غلام کے اثر کا قائل ہونا۔ چہ بوالعجبیست!

طاعون کی بابت مفصل دوسرے پرچہ میں عرض کروں گا۔ غرض یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو اپنے پروگرام میں دیکھا جاوے تو بالکل فیل ہیں۔ مگر باوجود اس کے مدعی مسیحیت ہوں تو بے ساختہ یہ شعر منہ سے نکل جاتا ہے ؎

  1. وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا

    تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستان کیوں ہو

دستخط: (اسلامی مناظر) ثناء اللہ

دستخط: (اسلامی صدر) نظام الدین

دستخط: (مرزائی صدر) عباد اللہ

صداقت دعویٰ مرزاقادیانی

(سب سے آخری پرچہ نمبرسوم از مولوی غلام رسول مرزائی)

صاحبان! مولوی صاحب نے کہا ہے کہ جن قرآنی آیات کو مرزاقادیانی کی تصدیق میں پیش کیا ہے یہ غلط ہے۔ اس لئے کہ ان آیتوں میں مرزاقادیانی کا نام نہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں نے اس کے متعلق کہاں دعویٰ کیا کہ میں ان آیتوں سے مرزاقادیانی کا نام پیش کرتا ہوں۔ میں نے تو ان آیتوں کا مسلمہ اصول اور قواعد کے طور پر پیش کیا ہے کہ ان آیات سے سچے مدعیوں اور سچے رسولوں کے دعویٰ پرکھنے کے لئے معیار ہے۔ جیسا کہ میں نے کھول کر بتلادیا کہ پہلی آیت کی رو سے مفتری کامیاب نہیں ہوتا لیکن مرزاقادیانی کا دعویٰ کی حالت میں صرف اکیلے ہونا پھر اس کے بعد باوجود مکذبین کی مخالف کوششوں کے ان کا کامیاب ہونا اور ایک سے لاکھوں انسانوں کی جماعت بنالینا کیا یہ کامیابی نہیں؟ اور کیا اس آیت کی رو سے مرزاقادیانی کی اس سے صداقت ظاہر نہیں ہوتی۔

دوستو! غور کرو۔ اسی طرح میں نے:’’ماکنّا معذبین حتی نبعث رسولا‘‘کی آیت کو پیش کر کے یہ بیان کیا تھا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ رسولوں کے مبعوث ہونے

270

کے بعد ضرور ہی اگلے نذیر ہونے کی وجہ سے عذاب آیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کے دعویٰ کے بعد اور آپ کی بعثت کے بعد مختلف قسم کے عذاب ظہور میں آ رہے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی اپنے دعویٰ میں سچے اور واقعی خدا کی طرف سے ہیں۔

اسی طرح اعجازی کلام کے متعلق لکھا تھا اور اعجاز احمدی کی مثال پیش کی تھی جس کے جواب میں آج تک دوسرے غیراحمدی علماء عموماً اور مولوی ثناء اللہ صاحب خصوصاً اس کے جواب لکھنے سے عاجز رہے اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ امرتسر کی رائے کے مفعول بہ باوجودیکہ اسے زبر چاہئے مگر پیش لایا گیا۔

اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ شاید مولوی صاحب الاقواء جائز کا مسئلہ بھول گئے جو اصحاب عروض نے شاعروں کے لئے بطور تخفیف کے جائز رکھا ہے۔ ایسا ہی مولوی صاحب نے ارض جولر پر اعتراض کیا ہے جو اسی قسم کا ہے۔ سو اس کا جواب بھی پہلے آچکا کہ اقواء جائز ہے۱؎۔ پھر مولوی صاحب نے مرزاقادیانی کے مقابلہ میں سوامی دیانند کو پیش کیا ہے مگر آپ کا یہ پیش کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ کہاں وہ شخص جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور الہام کی بناء پر اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے اور کہاں سوامی دیانند جو ویدوں کے بعد الہام کا قائل ہے نہیں غور کرو۔

قرآن نے لکھا ہے کہ جو شخص خدا پر افتراء کرے وہ کامیاب نہیں ہوتا، نہ یہ کہ عام کامیابی جیسے کہ گدی نشینوں کو اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ مرزاقادیانی نے اپنی جماعت کے متعلق شکایت لکھی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابتداء دعویٰ یعنی ۱۸۹۳ء کی بابت ہے۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے لکھاہے کہ میری جماعت میں ایک لاکھ سے بھی زائد لوگ ایسے ہیں جو صحابہ کا نمونہ رکھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو وہ جو عبدالحکیم کو لکھا گیا۔ پھر جس تحریر کی بناء پر مولوی صاحب نے اعتراض کیا ہے، اس کی نسبت مرزاقادیانی نے اس کے نیچے خود یہ نوٹ دیا ہے کہ یہ باتیں ہماری عزیز جماعت کے لئے بطور نصیحت کے ہیں، جس سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کا مدعا ان الفاظ سے جن کی بناء پر مولوی صاحب نے اعتراض کیا ہے صرف یہ ہے کہ جماعت ہوشیار رہے۔ پھر اسی تحریر میں حضرت صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت

۱؎علم عروض میں تو اس کو معیوب لکھا ہے جو الہ مندرجہ ذیل ملاحظہ ہو: ’’ان تغیر المجری الی حرکۃ بعیدۃ کما اذا بدلت الضمۃ فتحۃ اوبالعکس فہو عیب فی القافیہ (محیط الدائرہ ص۱۱۰)‘‘ یعنی حرکت کا ردوبدل قافیہ میں عیب ہے۔ کیا عیب دار کلام بھی درجہ اعجاز پر ہو سکتا ہے؟ (مرتب)

271

۱۸۹۳ء میں بھی دو سو سے زائد آدمی ہیں جن پر خدا کی خاص رحمت ہے اور خدا کے ساتھ حد درجہ کا تعلق رکھتے ہیں۔ پس اس تحریر کا یہ مطلب نہیں کہ کسی نصیحت سے واقعی کوئی غلطی پائی جاتی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر: ’’الحق من ربک فلا تکوننّ من الممترین‘‘ سے بھی سمجھا جاوے گا۔ آنحضرتﷺ قرآن کے حق ہونے کے متعلق شک رکھتے تھے۔ کیونکہ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ حق ہے تیرے رب سے۔ پس تو شک کرنے والوں سے نہ ہو۔

ایسا ہی دوسری جگہ آنحضرتﷺ اور حضرت نوحm کی نسبت فرمایا کہ:’’لاتکوننّ من الجاہلین‘‘کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ واقعی حضرت نوحm اور آنحضرتﷺ اس آیت کی رو سے اس ارشاد سے پہلے جاہل تھے اور پیچھے ان کو نصیحت کی گئی کہ آپ جاہلوں سے نہ ہوں۔ پھر مولوی صاحب کا یہ لکھنا کہ مسیح موعود کے وقت سب قومیں ایک ہو جائیں گی۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ جنہوں نے مرزاقادیانی کو قبول کیا ہے واقعی وہ خواہ پہلے عیسائی تھے یا ہندویا شیعہ یا سنی آپ کو قبول کرنے سے ایک۱؎ ہی ہو گئے اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ سب کے سب۲؎ لوگ مان جائیں گے یہ غلط ہے۔ کیونکہ مسیح موعود کے ذریعے جیسے کہ:’’تہلک الملل کلہا الا الاسلام‘‘ سے ظاہر ہے۔ دلائل کے ساتھ غلبہ مراد ہے نہ قہری غلبہ جو ’’لااکراہ فی الدین‘‘ کے خلاف ہے اور اگر یہی بات ہے تو آنحضرتﷺ کے اس فرمانے کا کیا مطلب کہ میری امت تہتر فرقے ہو جائے گی، جن میں سے ایک آخری ناجی ہو گا جو مسیح موعود کی جماعت ہو گی جو مسیح موعود پر ایمان لانے کی وجہ سے ناجی ہو گی اور باقی بہتر فرقوں کا ناری ہونا حضرت مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے ہو گا۔

پھر حدیث: ’’لتتبعین سنن من کان قبلکم شبرا بشبر ذراعا بذراع‘‘سے ظاہر ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اے میری امت کے لوگو! تم یہود کی چال چلو گے جس سے ظاہر ہے کہ یہود کی شرارت کا رنگ آئے گا اور وہ رنگ یہی ہے کہ جب

۱؎ہوش سے کہو کیا کہتے ہو۔ ایک ہو گئے یا کئی ایک ہو گئے۔ کیا لاہوری اور تیماپوری پارٹی کا اختلاف بھول گئے؟ (مرتب)

۲؎مرزاقادیانی کی کتاب (چشمہ معرفت ص۸۲،۳۸ خزائن ج۲۳ ص۹۰،۱۹) میں صاف مرقوم ہے کہ تمام قومیں ایک قوم اور ایک مذہب کی طرح ہوں گی ۔ افسوس ہے مرزائی مناظر مرزاقادیانی کی کتاب کو بھی بن دیکھے جواب دیتے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزائی مناظر پر کوئی خاص حالت طاری تھی۔ (مرتب)

272

یہود کے پاس حضرت مسیح آئے تو انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ اسی طرح جب امت محمدیہ میں مسیح موعود آئیں گے یہ بھی اسے قبول نہیں کریں گے اور انکار کریں گے۔

اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ مرزاقادیانی نے کھل کر دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ یہ عجیب آپ نے کہا کیا کھل کر اور ناکھل کر دعویٰ کرنے کی بھی کہیں خصوصیت بتلائی ہے۔ قرآن کریم میں تو صرف:’’من اظلم ممن افتری علے اللہ کذباً‘‘ فرمایا یعنی خدا پر افتراء کرنے والا کامیاب نہیں ہوتا اور مولوی صاحب کا یہ لکھنا کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کی آڑ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے بچ رہے۔ اللہ! اللہ! کیا اگر اس طرح کا دعویٰ نبوت بچا سکتا ہے جو آنحضرتﷺ کی نبوت کی ہتک کرے تو ایسا مفتری جلد ہلاک ہونا چاہئے۔ نہ کہ اسے مہلت دی جاتی۔ اے دوستو! غور کرو کہ مولوی صاحب کی تحریر کی رو سے جو انہوں نے تفسیر ثنائی میں لکھی اور ایسا ہی قرآنی آیات کی رو سے جو پہلے پرچہ میں ذکر کی گئیں کس طرح کھلے طور پر مرزاقادیانی کی صداقت ظاہر ہے۔ پس مبارک وہ جو صداقت کو قبول کرے۔

پھر اس پر بھی غور فرماویں کہ جب مسیح کے انکار سے ۷۲فرقوں نے ناری بننا تھا تو وہ سب قبول کس طرح کرتے۔ کیونکہ ۷۳ سے ناجی تو صرف ایک ہی فرقہ بتلایا گیا جس فرقہ سے ہونے کا شرف خدا کے فضل سے اس خاکسار راقم کو بھی حاصل ہے۔ کیونکہ ہم نے خدا کے فضل سے حق کو دیکھا اور قبول کیا اور خدا کے فضل سے ہم اس ناجی فرقہ سے ہو گئے۔ والحمد ﷲ علیٰ ذالکپس آپ کو بشارت ہو کہ آنے والا آ گیا۔ مبارک وہ جو قبول کرے دلائل اور بھی بہت ہیں جو وقت کی تنگی کے لحاظ سے ذکر نہیں ہوسکتے۔

دستخط: میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ اسلامی صدر)

دستخط: (مولوی) غلام رسول (مرزائی مناظر)

دستخط: (ڈاکٹر) عباداللہ (مرزائی صدر)

تکذیب دعویٰ مرزاقادیانی

(سب سے آخری پرچہ نمبر سوم از مولوی ثناء اللہ صاحب)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ الذی بنعمتہ اتم الصالحات!

حضرات! میرے جواب میں کہاگیا ہے کہ قرآن سے دلیل نہیں لائے ہیں۔ میں

273

کہہ چکا ہوں کہ یہ حدیث ایسی مسلمہ فریقین ہے کہ مرزاقادیانی بھی اس سے سند لائے ہیں اور میں بھی اس کو مانتا ہوں۔ قرآن مجید میں مسیح موعود کے آنے نہ آنے کا کوئی ذکرنہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی رسالہ شہادت القرآن کے شروع میں اس کو مانتے ہیں۔

(شہادۃ القرآن ص۱، ۲ خزائن ج۶ ص۲۹۷، ۲۹۸)

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ احادیث کو شرعی دلیل نہیں مانتے، جیسے سرسید احمد خان اور مولوی عبداللہ چکڑالوی اور ان کے ہم خیال وہ مسیح موجود کا مسئلہ بھی نہیں مانتے۔ پھر جو مسئلہ حدیثی ہو اس میں حدیث ہی کو پیش کرنا انصاف ہے۱؎۔

حدیث مذکور میں کون شخص مراد ہے مجھے اس سے بحث نہیں۔ جو بھی ہو اس کا انتقال مدینہ منورہ میں ہونا اور مقبرے مبارک میں دفن ہونا صریح الفاظ میں مذکور ہے۔ معنوی دفن اور معنوی جسم کا ماننا ان لوگوں کا کام ہے جو اکبر بادشاہ کے نوری کپڑوں پر ایمان رکھتے ہوں۔

۱؎قرآن مجید میں حضرت مسیح کے آنے نہ آنے کا ذکر کی نفی کرنے سے مراد مولوی صاحب کی یہ ہے کہ تفصیل اور واضح طریق سے نہیں جس پر مخالف کو مجال دم زدن نہ ہو۔ ہاں! حدیثوں میں واضح ہے۔ اسی لئے مولوی ثناء اللہ صاحب نے بحکم علم مناظرہ صاف اور سیدھا راستہ اختیار کیا جس میں مخالف کو دم زدن کی مجال نہ ہو سکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مولوی صاحب نے جو حدیث نزول مسیح کے متعلق بیان کی تو مرزائی مناظر سے کچھ نہ بن پڑا۔ سوائے اس کے کہ طعنے کے طور پر کہنے لگے کہ مولوی صاحب قرآن پیش نہیں کرتے، حدیثیں لاتے ہیں۔ حالانکہ اس میں رمز یہی تھی اسی حکمت سے خلیفہ ثانی حضرت عمرq نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ مبتدعین کے مقابلہ میں قرآن نہ پڑھا کرو۔ کیونکہ قرآن میں وہ مسائل اجمالی شکل میں ہیں جن کی وہ تاویل کر لیتے ہیں۔ حدیثوں میں تفصیل ملتی ہے۔ اسی لئے فرمایا: ’’فارموہم بالسنۃ‘‘ ان کے سامنے حدیث پیش کیا کرو تاکہ فیصلہ جلدی ہو۔ ایک زمانہ میں مرزاقادیانی پر سوال ہوا تھا کہ قرآن مجید سے نزول مسیح کا ثبوت دیجئے تو آپ نے بڑا زور حدیثوں ہی کے ثبوت پر لگایا۔ (ملاحظہ ہو رسالہ شہادۃ القرآن صفحات اوّل، خزائن ج۶ ص۲۹۷ تا ۲۹۹) ہاں! آگے چل کر بڑا کمال کیا تو یہ کہ اتنا لکھا کہ قرآن کریم میں قطعی اور یقینی طور پر ایک ایسے مصلح کی خبر موجود ہے جس کا دوسرے لفظوں میں مسیح موعود ہی نام ہونا چاہئے۔ (شہادۃ القرآن ص۱۴، خزائن ج۶ ص۳۰۹، ۳۱۰) غور کیجئے جس قدر کھینچ تان ہے کیا مخالف اسی کہنے سے خاموش ہو جائے گا۔ ہاں! جو طریق مولوی صاحب نے اختیار کیا جب کہ شرائط میں حدیثیں داخل ہیں تو پھر کیوں نہ حدیث کو پیش کیا جاتا۔ آئندہ کو مرزائی اس بحث سے سبق لے کر شرائط میں حدیثوں کی نفی کر دیں گے تو ان کے لئے بہت آسانی ہو گی۔ (مرتب)

274

حضرت عائشہt کی تین چاند دیکھنے والی روایت کا پتہ نہیں دیا۔ اگر صحیح ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ جس وقت حضرت عائشہt نے خواب دیکھا تھا اس وقت چونکہ حضرت عیسیٰ دفن نہیں تھے بلکہ اب تک بھی نہیں۔ اس لئے آپ کو خواب میں نہیں دکھائی دیا۔

کما کے لفظ سے مسیح کا مشبہ بہ ہونا میں سال ہا سال سے قادیانی تصانیف میں دیکھتا آتا ہوں۔ میں نے آج تک دانستہ اس پر توجہ نہ کی تھی تاکہ بچوں کو ہنسنے کا موقعہ ملتا رہے۔ مگر آج کہنے سے نہیں رک سکتا۔ اے جناب کمادر اصل صفت ہے مفعول مطلق یعنی استخلاف کی اور مفعول مطلق فاعل کا فعل ہوتا ہے۔ مفعول بہ کی مفعول بہ سے تشبیہ نہیں بلکہ اس فعل لاحق کو فعل سابق سے تشبیہ ہے۔ ’’انی ہذا من ذاک فالدفع ماتوہم‘‘

عمر کا تخمینہ خوب کہا کہیں ساٹھ، کہیں ستر، کہیں اسّی، کہیں نوّے۔ اس اختلاف اقوال کو اگر آپ تخمینہ کہتے ہیں تو ہم اس کو شاعرانہ رنگ میں اس شعر کا مصداق کہہ سکتے ہیں ؎

  1. حلف عدو سے قسم مجھ سے کھائی جاتی ہے

    الگ ہر ایک سے چاہت بتائی جاتی ہے

میں نے دعاء مرزا کو منظور نہیں کیا۔ اس لئے دعاء ٹل گئی۔ بہت خوب!

سنئے! اوّل تو میری منظوری پر کوئی بات موقوف نہ تھی۔ دوم میں نے نامنظوری ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اہل حدیث میں لکھی اور مرزاقادیانی نے ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء کے اخبار بدر میں ایک خط میرے نام پر چھپوایا جس میں پھر اسی دعاء پر فیصلہ موقوف رکھا۔ بھلا اگر میری نامنظوری سے اس دعاء کا اثر زائل ہو جاتا تو اس وقت مرزاقادیانی کا حق تھا کہ صاف اعلان کرتے کہ بس اب وہ دعاء منسوخ ہو گئی۔

بھلا ایسی دعاء بھی منسوخ ہو سکتی ہے جس کی بابت خدا نے قبولیت کا وعدہ کیا ہو۔ مرزاقادیانی کے الفاظ سنئے فرماتے ہیں: ’’ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھاگیا ہے، یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے …رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا: ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعاء ہی ہے۔ باقی اس کی شاخیں ہیں۔‘‘

(البدر قادیان ج۶، نمبر۱۷، ص۷، کالم ۲مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء)

ہمارے حضورﷺ نے جنگ بدر میں اپنے مخالفوں کی موت کی خبر دی تھی۔ کیا انہوں نے تسلیم کر لیا تھا پھر کیا وہ اسی جگہ نہیں مرے؟ صدق اللہ ورسولہ!

(اعجاز احمدی ص۳۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۸) پر جو میرے قادیان نہ پہنچنے کی پیش گوئی کا

275

ذکر ہے، میں شکرگزار ہوں کہ آپ نے یاد دلادی۔ میں اپنا قادیان جانا اپنے لفظوں میں نہیں بتلاتا، بلکہ مرزاقادیانی کے الفاظ طیبہ سناتاہوں۔ فرماتے ہیں: ’’ما کتبنا الی اثناء اللہ الامرتسری اذجاء قادیان وطلب رفع الشبہات بعطش فریی وکان ہذا عاشر شوال اذجاء ہذا الدجال‘‘

(مواہب الرحمن ص۱۰۹، خزائن ج۱۹ ص۳۲۹)

اس عبارت میں میرے قادیان پہنچنے کی رسید دی ہے اور اس کے صلہ میں مجھ کو ایک عجیب خطاب دیا ہے۔ یعنی دجال۔ جس پر مجھے یہ شعر یاد آیا:

  1. انہوں نے خود غرض شکلیں کبھی دیکھی نہیں شاید

    وہ جب آئینہ دیکھیں گے تو ہم ان کو بتا دیں گے

میں قادیان میں گیا۔ میرے ساتھ جانے والے میاں حبیب اللہ صاحب، منشی محمد ابراہیم صاحب سلمہ اس مجلس میں موجود ہیں مگر مجھے گواہوں کی حاجت نہیں جب کہ مرزاقادیانی میری رسید دے چکے ہیں؟ آہ! وہ وقت بھی کیسا عجیب تھا میں قادیان میں ہوں۔ خط لکھتا ہوں کہ دردولت پر حاضر ہوں۔ جواب ملتا ہے ہمیں فرصت نہیں۔ آخر میں یہ پڑھتا ہوا واپس آیا ؎

ہمہ شوق آمدہ بودم ہمہ خرمان رفتم

آسمانی منکوحہ کے نکاح کی بابت جواب ملا ہے کہ ان کے توبہ تائب کرنے پر نکاح نہ رہا تھا۔ مجھے اس پر زیادہ کہنے کی حاجت نہیں۔ قادیانی خلیفہ اوّل حکیم نورالدین خود اس جواب کی تردید کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اس لڑکی کی کوئی لڑکی درلڑکی اور مرزاقادیانی کا کوئی لڑکا درلڑکا بیاہے جاویں گے۔ پس پیش گوئی ٹھیک ہے۔ ملاحظہ ہو رسالہ (ریویو ج۷، ش۷، ص۲۷۹ بابت ماہ جولائی ۱۹۰۸ء) یعنی مولوی نورالدین صاحب اس نکاح کو فسخ نہیں کہتے اور مولوی غلام رسول صاحب فسخ کہتے ہیں۔

آہ! ان دونوں کے اختلاف پر میرے منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے ؎

دل بکہ کند اقتداء قبلہ یکے امام دو

مرزاغلام قادیانی کی تحریرات کو دیکھئے۔ کس زوروشور سے اس نکاح کا ضروری ہونا اور اپنی صداقت کا اس پر موقوف ہونا بتلارہے ہیں اور ان حضرات کو دیکھئے کہ یہ نکاح کو فسخ کرتے ہیں۔

اب میں مختصر لفظوں میں بتلاتا ہوں کہ مرزاقادیانی کی زبان پاک لوگوں کی طرح

276

جھوٹ سے محفوظ نہ تھی۔ آپ مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسماعیل علی گڑھی مرحوموں کے حق میں لکھتے ہیں: مولوی غلام دستگیر نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل نے میری نسبت قطی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔

(اربعین نمبر ۳، ص۹ خزائن ج۱۷، ص۳۹۴)

یہ میرے ہاتھ میں ان دونوں علماء کی کتابیں ہیں۔ مجھ کو اس میں دکھایا جاوے کہ کہاں ان صاحبوں نے ایسا لکھا ہے: (رسالہ اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲) پر میری بابت لکھا ہے کہ ثناء اللہ کا گزارہ مردوں کے کفن پر ہے۔ یہ وقت اس تحقیق کے لئے بہت اچھا ہے۔ کیونکہ امرتسر میں میری پیدائش ہے اور اسی میں رہتا ہوں اور اسی میں پلا، اسی میں بڑھا۔ اس مجلس میں میرے مخالف، موافق میری برادری اور غیربرادری کے سب لوگ موجود ہیں۔ کوئی صاحب جس کو معلوم ہو کہ میں نے کبھی کسی میت کا کفن یا کفنی لی ہے تو للّٰہ گواہی دے دیں۔ ورنہ کہا جائے گا کہ مرزاقادیانی کا قلم اور زبان پاک لوگوں کی طرح کذب سے محفوظ نہ تھے۱؎۔

۱؎چاہئے تو یہ تھا کہ مرزائی لوگ مرزاقادیانی کی عزت وناموس رکھنے کو مولوی صاحب کو اس بات کا ثبوت دیتے۔ مگر اس وقت تو ایسے خاموش رہے کہ ’’کاٹو تو لہو نہیں بدن میں‘‘ دیتے کہاں سے، جبکہ مولوی ثناء اللہ اس کام کے ہیں نہیں۔ یہاں تک کہ وہ کسی مسجد کے امام بھی نہیں، مگر شاباش ہے مرزائیوں کی صداقت پسندی پر کہ اپنے مطبوعہ رسالہ میں اس کا ثبوت دیتے ہیں۔ چونکہ وہ ثبوت بہت ہی لطیف ہے۔ اس لئے ہم انہی کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ لکھا ہے: اس کے جواب میں واضح ہو کہ اوّل تو اس بات کی تصدیق مجمع مناظرہ میں ہی ہو گئی۔ کیونکہ طلب شہادت پر کسی صاحب نے اٹھ کر آپ کی بریت نہیں کی۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ واقعی مرزاقادیانی کا قول آپ کے حق میں درست ہے، پھر اس طرح سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ آپ چونکہ عیسیٰؑ کو جوازروئے قرآن وحدیث فوت شدہ ثابت ہیں، لوگوں کے سامنے زندہ پیش کر کے مختلف بحثوں میں جا کر نوش پوش حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح کے کفن سے آپ کا گزارہ نہیں چلتا تو اور کیا ہے؟ (ص۴۴)

ناظرین! آپ اس جواب سے حیران نہ ہوں۔ مرزائی مذہب ایسی ہی زبردست دلیلوں پر مبنی ہے۔ غور تو کیجئے شہادت تو طلب ہوتی ہے اس دعویٰ کی جو مرزاقادیانی نے کیا تھا۔ یعنی کفنی لینے پر جو نہ گزری تو حسب قاعدہ شریعت اور قانون وقت وہ دعویٰ غلط ہوتا۔ مگر مرزائی کہتے ہیں شہادت نہ گزرنے سے مولوی صاحب کی بریت نہ ہوئی۔ چہ خوش! یہ تو بتاؤ کہ تمہارا دعویٰ ثابت ہو گیا؟ دوسری دلیل اس سے بھی زبردست ہے، جس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ اس طرح کی کفن فروشی مرزاقادیانی بھی بہت زمانہ تک کرتے رہے۔ جب تک حضرت مسیح کی حیات کے قائل رہے۔ (براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)

277

مختصر یہ کہ مرزاقادیانی اپنے سب کاموں میں فیل ہیں اور دعویٰ ان کے بڑے لمبے چوڑے ہیں۔ اس لئے ہماری طرف سے صرف یہی جواب ہے ؎

  1. یہ مان لیا ہم نے کہ عیسیٰ سے سوا ہو

    جب جانیں کہ درد دل عاشق کی دوا ہو

دستخط: (اسلامی مناظر) ثناء اللہ

دستخط: (اسلامی صدر) نظام الدین

دستخط: (مرزائی صدر) عباد اللہ

(دونوں دنوں کا مباحثہ ختم)

مباحثہ ہذا پر ریویو

کچھ دنوں سے مرزامحمود قادیانی نے اپنے ہم خیال پیدا کرنے کے واسطے جابجا واعظ اور لیکچرار بھیج کر مشین کفروایمان کی کارروائی شروع کی اور خواہ مخواہ اہل اسلام کو کافر یہود اور بے ایمان کہہ کر اپنا من گھڑت اسلام پیش کر کے یہ ثابت کرنا چاہا کہ سوائے قادیانی جماعت کے دنیا میں کوئی مسلمان نہیں۔

درحقیقت مرزاقادیانی کی ساری کارروائی ایک تمثیلی اور بناوٹی کارروائی ہے جس کا مختصر طور پر ثبوت یہ ہے کہ جس قدر دنیا میں خدا کے پیارے رسول، آئمہ، اولیاء، آئمہ صوفیاء گزرے ہیں یا گزریں گے، ان کی مثال اور نمونہ خود بن کر دکھلاتے ہیں اور اسی طرح ان خدا کے پیاروں کی جائے ولادت سکونت مزار اور مذہبی پیروؤں کی مشابت اپنے گاؤں قادیان میں پیدا کر کے ہر ایک کا نمونہ اپنے آپ کو ثابت کیا ہے۔

چنانچہ آپ کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ قادیان دارالایمان یعنی مکہ شریف اور جنت البقیع کے سبب مدینہ شریف اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے بیت المقدس ہو چکا ہے۔ اس لئے وہاں کا مدعی بھی یہاں کے خدا پرستوں کا مظہر ہوگا۔ مگر ہر عقلمند یہ سوچ سکتا ہے کہ بیت المقدس مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ موجود ہوتے ہوئے قادیان ان کی ذات کو نہیں مٹا سکتا۔ اسی طرح وہاں کا مدعی ان مقدس مقامات کے نبیوں، رسولوں اور اماموں کے نام کو ہرگز مٹا نہیں سکے گا۔ صاف ظاہر ہے کہ ایک جعلی کارروائی ہے اور فرضی رسول، فرضی ابوبکر، عمر، عثمان، علی، اہل بیت، امام اور فرضی سنی شیعہ کے نمونے اسلام کی پیشین گوئیوں اور حضرت رسول کریمa

278

کے احادیث کے انکار کے واسطے کافی روڑہ اٹکا رہے ہیں۔ یوں سمجھو کہ قادیان اس وقت دنیائے گزشتہ اور آئندہ کا عجائب گھر تو گزشتہ تصاویر قائم کرنے سے ثابت ہوتا ہے اور زندہ تصاویر نصب کرنے سے مذہبی چڑیا گھر کا نمونہ ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ اسلامی دنیا کے اسلامی نمونے جمادات، حیوانات اور انسان کی وہاں ایک نمائشی دکان کھولی ہوئی ہے اور اسلام کو ایک مخول اور ہنسی سمجھ کر کوئی انبیاء کا مثیل بن کر آتا ہے اور کوئی صحابہ وتابعین کا۔

چنانچہ مرزامحمود قادیانی نے اپنے آپ کو حضرت عمر بن خطاب کا مثیل (بلاثبوت اور ناحق) قرار دیا اور فاروق اعظم کی طرح اپنے خیالات کی توسیع کے لئے اہل اسلام کو کافر کہہ کر خواہ مخواہ اشتعال دلایا۔ چنانچہ مولوی غلام رسول قادیانی کو مبلغ خیالات تمثیلی اور مکفر اہل اسلام بنا کر امرتسر میں بھیجا گیا اور کٹڑہ جمیل سنگہ میں آپ نے تدریس قرآن میں الٹ پلٹ کر مسلمانوں کے سامنے ان کے اسلام کا نیا نمونہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ مگر غریب مسلمانوں نے غیرت اسلامی میں آ کر ان کے دفعیہ کے لئے کچھ جانفشانی شروع کی۔ اس پر وہ زیادہ جوش میں آ گئے۔ چنانچہ بہت تیز طرار واعظ اور دوچار کافر کرنے کی مشینیں جھٹ پٹ منڈوگھنیا لال صاحب میں لاکھڑی کیں جن کے دوروز کے متواتر حملوں سے مسلمانوں کے سینوں پر دال دلنے لگی اور مارے غیرت کے کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ لے دے کر غربائے اہل اسلام نے اور بھی ہمت بڑھائی اور اسی اثناء میں ایک مجلس (حفظ المسلمین) امرتسر زیرنگرانی مولوی نوراحمد صاحب بھی مقرر ہو گئی کہ جس نے علمائے اسلام شہرامرتسر کو ان کی جوابدہی کے لئے آمادہ کیا۔ چنانچہ اہل اسلام کی طرف سے متعدد دعوت مناظرہ کے اشتہارات تقسیم کئے گئے جن کو مرزائیوں نے شرائط مباحثہ کے طے کرنے میں یوں ہی ٹال دیا اور اس کے برخلاف لگاتار ان کی طرف سے اتمام حجت کے نام سے نمبراوّل، دوم، سوم کے اشتہارات شائع ہوئے۔ جن میں اہل اسلام کو سخت اشتعال دلایا گیا۔ آخر عربی اشتہار بھی اتمام حجت کے نام سے لکھ مارا جس سے انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ علمائے اسلام میں کوئی عربی زباندان نہیں۔ مگر غرباء کی ہمت نے خدا کے فضل سے اور بھی مرتبہ بڑھایا۔ یہاں تک کہ ان کے اشتہاری حملے پسپا کر دئیے گئے اور آخیر میں ان کے عربی اشتہار کا جواب بھی ان کے ایک صفحہ کی بجائے چار صفحوں میں نہایت متانت کے ساتھ ابطال مرزائیت اور حیات مسیح

279

کے ثبوت کے دلائل سے بھرا ہوا اور منہاج نبوت کے ذریعہ قادیانی نبوت کی جڑ بنیاد سے گرادینے والا حبثجات نامی اشتہار عربی میں شائع ہوا۔ جس کا جواب باوجود زبانی وعدہ کے آج تک نہ دے سکے اور نہ کوئی غلطی نکال سکے۔

اصل پوچھو تو ہمارا یہ عربی اشتہار مرزاقادیانی کے اعجازی قصیدہ سے بڑھ کر معجزہ ثابت ہوا ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کے قصیدہ کا جواب فصیح عربی میں قاضی ظفرالدین مرحوم پروفیسر عربی اورینٹل کالج نے لکھا جو اخبار اہل حدیث کے کالموں میں ۱۹۰۷ء میں ایک مدت تک شائع ہوتا رہا۔ جس کا جواب مرزاقادیانی سے عربی میں نہ بن سکا اور مرزاقادیانی کے قصیدہ کی غلطیاں تو علماء کے علاوہ نحو میر پڑھنے والے طالب علموں نے بھی سینکڑوں کی تعداد میں نکال ڈالیں۔ مگرہمارے عربی اشتہار حبثجات نامی کا جواب اب مرزائیوں کے سردار مرزامحمود تک سے بھی نہ بن سکا۔ نہ کوئی غلطی نکل سکی۔ پس سچا اعجاز حبثجات ہے۔ اب بھی مرزامحمود قادیانی کو علمیت کا دعویٰ ہو تو وہ حبثجات کا عربی جواب شائع کریں یا کوئی غلطی نکال کر دکھاویں۔ مگر ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ مرزاموصوف یہ جرأت نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قادیانی خلیفہ محمود قادیانی کی علمیت اس اشتہار کے سامنے کچھ کارگر جواب دیتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ ورنہ کبھی کا جواب شائع کر دیتے۔ خیر امرتسری مرزائیوں نے جب دیکھا کہ حبثجات اشتہار کا جواب ہمارے کسی مولوی سے نہیں بن سکتا تو انہوں نے مسلمانوں کے دلوں سے اس اپنی عربی کمزوری کے خیال کو دورکرنے کے لئے شرائط مناظرہ کو منظورکر لیا۔ ’’وما کادوا یفعلون‘‘ پھر سارا انتظام اور کل اخراجات مسلمانوں کے ذمہ قرار پائے۔ مسلمانوں نے اخراجات کا سارا بوجھ اپنے سر اٹھا لیا اور ۲۹،۳۰؍اپریل ۱۹۱۶ء کو انجمن حفظ المسلمین کی طرف سے جناب مولانا ابوالوفاء مولوی ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل مناظر مقرر ہوئے اور مرزائیوں کی طرف سے مولوی موصوف غلام رسول فاضل راجیکی منظور ہوئے۔ مباحثہ تحریری تھا۔ ہر ایک مناظر اپنے وقت کی پابندی سے بزیر نگرانی جناب صدر صاحبان نہایت تہذیب اور حسن معاشرت سے اپنا فرض منصبی ادا کرتا رہا۔

مناظرہ ختم ہوتے ہی مرزائیوں کا وہ پہلا جوش وخروش سارے کا سارا باسی کڑی کا ابال ثابت ہوا۔ مگر انہوں نے جھٹ پٹ مناظرہ کی کارروائی چھاپنے میں کوشش کی تاکہ جس موقہ پر وہ جواب نہیں دے سکے، اس کا نقص نکال کر اور ضمیمہ چسپاں کر کے مکمل کر دیا جاوے

280

کہ اہل اسلام کو مرزائیوں کے مقابلہ میں نعوذ باللہ! شکست ہوئی ہے۔ مگرالاسلام یعلواولا یعلٰی‘‘اہل اسلام میں پھر بھی کچھ نہ کچھ جوش اسلامی موجود ہے۔ چنانچہ حفظ المسلمین نے یہ تجویز کیا کہ جلسہ کی کارروائی اور کاغذات مناظرہ اپنے خرچ سے چھپوا کر شائع کرائے جاویں اور جس جگہ مرزائیوں نے حق کو چھپایا ہے یا ہمارے جوابات کو بعد میں اضافے لگا کر کمزور کر دکھایا اور دیدہ دانستہ مناظر اسلام کی تقریروں کو غلط الفاظ میں چھاپ کر اپنی کارروائی کو فروغ دیا ہے، سب کو مدنظر رکھ کر صحیح واقعات لوگوں کے سامنے پیش کئے جاویں۔ گوہم مانتے ہیں کہ وقت کی تنگی کی وجہ سے بہت سے دلائل یا جوابات پوری تشریح سے قلمبند نہیں ہوسکے۔ مگر تاہم ہر ایک عقلمند دیکھنے سے خودبخود سمجھ سکتا ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے اور چونکہ مرزائیوں نے مباحثہ چھاپنے میں بہت سا ردوبدل کیا ہے۔ اس لئے انجمن کو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ ہر ایک مناظر کی خلاصہ تقریر بھی قلمبند کر کے اسلامی مناظر کے اصلی مطالب کو ظاہرکر دیا جاوے۔ پس سنئے!

وفات مسیح کے متعلق مولوی غلام رسول صاحب نے حسب ذیل خیالات پر روشنی ڈالی۔

۱… توفی اور وفات مسیح اور موت مسیح سب کا مفہوم ایک ہے۔ قرآن مجید میں جو وعدے حضرت مسیح کو دئیے گئے وہ سب پورے ہو چکے۔ اس لئے وفات بھی تسلیم کرنی پڑے گی۔

۲… قرآن شریف میں حضرت مسیح کی نسبت رفع الیٰ اللہ مذکور ہے۔ رفع الیٰ السماء مذکور نہیں۔ اس لئے حضرت مسیح کا رفع بھی روحانی ہے، جسمانی نہیں۔ احادیث وآیات میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ وہاں بھی جسمانی مراد نہیں ہوسکتی۔ جیسے: ’’اذا تواضع العبد رفعہ اللہ الی السماء السابعۃ‘‘ (۲)’’ولو شئنا لرفعنہ‘‘ (۳)’’ارفعنی (فے الدعاء بین السجدتین)‘‘

۳… حضرت مسیحm صرف اسرائیلی نبی تھے۔ نزول مسیح تسلیم کرنے سے خلاف قرآن لازم آتا ہے۔ اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ آپ مر گئے اور آنے والا مسیح محمدی مرزاقادیانی ہیں۔

۴… عام قاعدہ یہ ہے کہ مصدق بعد میں ہوتا ہے اور مبشر پہلے۔ پس حضرت مسیح صرف مصدق تورات تھے۔ مصدق قرآن نہ تھے۔ لہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی وفات ہوچکی۔ ورنہ مصدق قرآن بھی کہیں ثابت ہوتے۔

۵… آپ احمد کی بشارت دیتے ہیں۔ پھر دوبارہ آنا ہوتا تو احمد کے لئے مصدق بھی ہوتے۔

281

۶… آپ قرآن شریف کے لئے مبشر ہو کر آئے۔ اس لئے آپ کا زمانہ گزر گیا۔

۷… احادیث میں مسیح کالفظ دواشخاص پر استعمال کیاگیا اوّل مسیح ناصری پر کہ جن کا حلیہ حسب ذیل ہے۔ رنگ گورا، بال گھنگریالے، سینہ چوڑا وغیرہ! دوسرا مسیح محمدی پر جن کی نسبت حسب ذیل الفاظ ذکر کئے گئے ہیں۔ میانہ قد، گندم گوں، سیدھے بال وغیرہ! چونکہ دو حلئے ایک آدمی میں جمع نہیں ہوسکتے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ آنحضرتﷺ نے بھی مسیح ناصری کا نزول نہیں بتایا بلکہ نزول مسیح سے مراد بعثت مسیح محمدی یعنی مرزاقادیانی ہے۔

۸… مسیحm سے جب قیامت کے دن اشاعت تثلیث کی نسبت سوال ہو گا تو آپ لاعلمی ظاہر کریں گے۔ نزول مسیح سے آپ کی لاعلمی کیسے ثابت ہوسکتی ہے۔ ورنہ آپ کا جواب خلاف واقع ہو گا۔

۹… آنحضرتﷺ نے بھی حضرت مسیح کی نسبت زمانہ ماضی کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ میں بھی قیامت میں اپنے صحابہ کے متعلق وہی الفاظ کہوں گا جو حضرت مسیح نے کہے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں آپ کی وفات تسلیم ہوچکی تھی۔

۱۰… قرآن مجید میں یہ ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ سے پہلے کل انبیاء مر چکے اور ان کے مرنے کی تشریح بھی کر دی کہ بعض نبی اپنی موت سے مرے اور بعض نبی مقتول ہوئے۔ مگر حضرت مسیح کو استثناء نہیں کیاگیا۔ اس آیت سے اگر وفات مسیح ثابت نہ ہوتی تو حضرت ابوبکرq آنحضرتﷺ کی وفات پر کیونکر استدلال کرتے۔

۱۱… قرآن مجید میں ہے کہ حضرت مسیحm اور آپ کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اب نہیں کھاتے۔ کیونکہ مر گئے ہوئے ہیں۔

۱۲… آنحضرتﷺ سے پہلے کسی شخص کو خلود (ہمیشہ کی زندگی) نصیب نہیں ہوئی۔ اس لئے حضرت مسیح بھی وفات پا چکے۔

۱۳… خداتعالیٰ نے کوئی جسم عنصری ایسا نہیں بنایا کہ جس کو کھانے پینے کی ضرورت نہ پڑے۔ حضرت مسیحm اب بھی اگر جسم عنصری کے ساتھ زندہ ہیں تو بوجہ ضرورت خوراک کے خلود کی زندگی نہیں پاسکتے۔

مناظر اسلام مولوی ثناء اللہ صاحب نے حیات مسیح ثابت کرتے ہوئے دلائل وفات مسیح پر بحث کی اور حیات مسیح کے متعلق صاف اور واضح دلائل پیش کئے جن کا خلاصہ یہ ہے:

282

۱… توفی کا لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے اعتبار سے موت کا مترادف (ہم معنی) نہیں مگر بعض محاورات میں موت کا لازم قرار دیاگیا ہے۔ پھر جب سلف صالحین اور احادیث ختم المرسلین سے حضرت مسیحm کے نزول کے متعلق ہی تصریحات بے شمار ہیں۔ اس لئے یہاں اصل معنی موضوع لہ (قبض کرنا) مراد لیا جائے گا۔ کیونکہ ایک عام اصول ہے کہ جب تک حقیقی معنی ہوسکتا ہے مجازی معنی نہیں لیا جاتا مگر ہم تھوڑی دیر کے لئے توفی اور موت کو آپس میں مترادف بھی تسلیم کر لیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ بقول حضرت ابن عباس۱؎q گو لفظوں میں توفی پہلے مذکور ہے مگر باعتبار وقوع کے بعد میں ہے تو گویا رفع جسم عنصری کے بعد موت ہو گی۔ جیسا کہ ’’واسجدی وارکعی‘‘ میں رکوع لفظوں میں بعد ہے اور وقوع میں پہلے اور سورۃ بقر میں قتل نفس لفظاً بعد میں ہے اور وقوعاً اوّل اسی طرح ساتویں پارہ میں انبیاء کی تعداد میں بعض انبیاء کا ذکر پہلے ہوا اور ان کا زمانہ پیچھے ہے۔ غرضیکہ اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں ہزاروں ملتی ہیں۔ اب جو شخص اہل علم ہو گا وہ ضرور ان امور کا لحاظ رکھے گا۔ علاوہ ازیں واؤ حروف عطف میں گو لفظی ترتیب ہوتی ہے۔ مگر وقوعی ترتیب سے کبھی مخالف بھی پڑتی ہے۔ اس کا ثبوت گزشتہ آیات سے ملتا ہے اور وضو کی آیت بالکل اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ کیونکہ جو شخص ترتیب وضو کے خلاف کرتا ہے یا وہ بارش میں بھیگ کر صاف ہو جاتا ہے یا نہر میں گرکر اس کا تمام بدن صاف ہو جاتا ہے تو وہ باتفاق تصریحات سلف صالحین قرآن کا خلاف نہیں کرتا اور اس کا وضو معتبر ہے۔ مگر آیت وضو کی ترتیب کا نام ونشان نہیں۔ یا ہے تو الٹا ائمہ اربعہ میں سے صرف امام شافعیv نے فرضیت ترتیب وضو کا قول کیا ہے۔ مگر موجودہ صورتوں میں وہ بھی دوسرے اماموں کے ساتھ ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ دلیل نمبر اوّل وفات مسیح کا ثبوت نہیں دے سکتی۔

۲… رفع کے متعلق صرف یہ کہنا کافی ہے کہ اس کا استعمال صرف رفع روحانی میں منحصر نہیں۔ خود الفاظ رفعہ اللہ میں رفع روحانی مراد نہیں۔ ورنہ یہ لازم آئے گا کہ خدا نیک مردوں کو خاکساری کے صلہ میں مار کر ساتویں آسمان پر لے جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں رفع الیٰ السماء صریح مذکور ہے جو مولوی غلام رسول صاحب کے نزدیک موت کا قرینہ تسلیم کیاگیا ہے۔

۱؎حضرت ابن عباسq کے قول پر ہنسی مخول اڑانا ایمان کا خطرہ ہے۔

283

علاوہ بریں حضرت مسیح کی نسبت رفع سے روحانی رفعت مراد لینا بے معنی واقع ہوتا ہے۔ کیونکہ نیک بندوں کی رفعت روح ایک مسلمہ امر ہے۔ اس کو اتنے بڑے زور سے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ باقی رہی یہ بات کہ یہود کے نزدیک مصلوب کے لعنتی ہونے کی تردید کا انحصار صرف روحانی رفعت پر موقوف ہے۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کیونکہ رفع جسمانی میں رفعت روحانی بھی چونکہ جزو ہے۔ اس لئے رفع جسمانی ہے۔ مقتضیٰ حال کے مطابق ہو گا۔ صرف ہم ہی رفع جسمانی پر زور نہیں دیتے۔ تیرہ سو سال سے اسلاف دین اور احادیث ختم المرسلین کے تواتر نے یہ ثابت کیا ہوا ہے اور ایک فرد بشر بھی رفع روحانی کا قائل نہیں ہوا۔ اس لئے نمبر۲ کی تقریر محض خیالی سمجھی جاتی ہے کہ جس کی تائید کسی اسلامی اصول سے نہیں ہوتی۔ اسی واسطے ہمارے مناظر نے اس کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔

۳… حضرت مسیحm گو صرف اسرائیلی نبی تھے، مگر ہمارے لئے نبی ہوکر نہیں آئیں گے بلکہ اپنی بقیہ عمر گزارنے اور تجدید اسلام کے لئے رسولm کے مصدق ہو کر تشریف لائیں گے۔ پس ثابت ہوا کہ خلاف قرآن لازم نہیں آتا اور نہ ہی کسی بناوٹی مسیح کی ضرورت ہے۔ یہاں پر مرزائی اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح نبی ہو کر آئیں گے تو خاتم المرسلین کی ختم نبوت کے خلاف ہے۔ ورنہ ان کی نبوت مفت میں چھین لی جائے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح تجدید اسلام کے لئے تشریف لاویں گے اور یہ عہدہ نبوت سے تعلق نہیں رکھتا۔ ورنہ مرزاقادیانی کی تجدید اور دعویٰ نبوت سے اور بھی توہین ہو گی۔ کیونکہ ایک پنجابی آدمی کہ جس کو ابھی تک اصول اسلام کی اصلیت پر آگاہی اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بھی نہیں مل سکی، حضرت مسیحm کی بجائے (کہ جن کو خداتعالیٰ نے روح اللہ کا خطاب دیا ہو اور جن کی عصمت پر دنیا گواہ ہو) تسلیم کرنا اور اسلام کو مسیح قادیانی کی تجدید کا محتاج ماننا حضرت مسیحm کی تجدید سے بڑھ کر مستلزم توہین ہو گا۔ (بقول مرزا)

۴… حضرت مسیحm کی دنیاوی زندگانی کا زمانہ دو حصوں پر منقسم ہے۔ ایک زمانہ کی رفاقت بنی اسرائیل دوسرا زمانہ تجدید اسلام محمدی۔ اس لئے قرآن میں آپ کے زمانہ رفاقت کی نسبت تشریح کی گئی ہے کہ آپ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے اور آپ نے تورات کی تصدیق کی۔ قرآن مجید کی تصدیق زمانہ تجدید میں کریں گے۔ احادیث کا مطالعہ

284

کرنے سے حضرت خاتم الانبیاءm کی تصدیق کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ دفعہ بھی وفات مسیح کے اثبات میں ناکارہ ثابت ہوئی۔

۵،۶… ان دونوں کا جواب نمبر۴ میں دیکھو۔

۷… لفظ مسیح کے دو مصداق قرار دینا صرف مرزاقادیانی کی ساخت وپرداخت ہے۔ کسی اسلامی کتاب میں، کسی امام، صحابی، اہل مذہب کا کوئی قول مؤید نہیں۔ مرزاقادیانی اس قسم کی خودساختوں پر تجدید کے مدعی بنے تھے اور دنیا کو غلط گو ثابت کرنا چاہا تھا۔ مگر آپ ہی اخیر بے دلیل ثابت ہوئے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو علم حدیث اور اصول حدیث کی واقفیت نہ تھی۔ ورنہ خود محدثین نے حضرت مسیحm کے مختلف حلیوں کی تطبیق دی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ گندم گوں رنگت کو جب صاف کیا جاوے تو سرخ معلوم ہونے لگتی ہے اور سیدھے بال قدرے جعودت (گھنگریالے) کے منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ نے حضرت مسیح کا حلیہ آپ کی تروتازگی کی حالت کا بیان فرمایا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’کانہ خرج من دیماس‘‘گویا آپ حمام سے ابھی غسل کر کے نکل رہے ہیں۔ کاش! مرزاقادیانی کو علم حدیث کا کچھ بھی تفقہ ہوتا تو خواہ مخواہ کی ملامت اپنے اوپر نہ لیتے۔

ہم حیران ہیں کہ حدیث حلیہ میں تو اختلاف الفاظ سے دو مسیح۔ آپ نے سمجھ لئے اور کہہ دیا کہ ایک میں دو حلئے جمع ہیں ہوسکتا مگر بحکم:

  1. منم مسیح زماں منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمدa کے دو مختلف حلیوں کا ایک شخص مرزاقادیانی میں جمع ہونا کس طرح تسلیم کیاگیا ہے؟ علاوہ بریں زن ومرد کا حلیہ بھی آپ ایک جگہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کو حضرت مریم کا جنم بھی نصیب ہوا اور آپ کرشن اوتار بھی ہوئے۔ پھر ایسے وسیع خیالات ہوتے ہوئے اختلاف الحلیتین کی تطبیق کو تسلیم کرنے سے کیا عذر ہے۔ اگر یہی عذر ہے کہ محدثین اس راز سے ناواقف تھے۔ صرف مرزاقادیانی پر ہی منکشف ہوا تو ’’لعن آخر ہذا الامۃ اولہا‘‘ کا خطاب مرزاقادیانی کے لئے بہت مناسب ہو گا۔ بہرحال یہ جال بھی ٹوٹا اور دلیل وفات مسیح کی چاروں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ الحمدﷲ علٰی ذلک!

۸… مناظر اسلام نے جواب تثلیث میں یہ پیش کیا ہے کہ آپ درپردہ سفارش کریں گے۔ صرف لاعلمی کا اظہار مراد نہیں۔ اس پر مولوی غلام رسول صاحب نے یہ اعتراض کیا کہ

285

اہل شرک کے لئے سفارش ناجائز ہے۔ اس لئے لاعلمی ہی مراد ہو گی۔ مگر مولوی غلام رسول صاحب نے صریح سفارش اور اظہار ’’رأفت استظہار بالمغفرت‘‘ میں فرق نہیں کیا۔ اس لئے لاعلمی مراد نہ ہو گی اور ’’استظہار بالمغفرت‘‘ ناجائز نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کی بنیاد: ’ان رحمتی وسعت کل شیٔ‘‘اور ’’ان رحمتی سبقت غضبی‘‘ پر ہے۔ یہ نکتہ مولوی غلام رسول صاحب پر منکشف نہیں ہوا۔ ورنہ ضرور ہی یہ جواب تسلیم کر لیتے۔

لو ہم آپ کو سادہ اصول سے سمجھاتے ہیں کہ سوال وجواب میں زمانہ رفاقت زیر تنقیح ہے۔ علم تثلیث زیربحث نہیں۔ اس لئے علم کا ہونا نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ سوال یوں ہو گا کہ کیا آپ نے اے حضرت مسیح! دنیا میں اپنی زیرنگرانی تثلیث پھیلائی تھی؟ تو آپ جواب دیں گے کہ جب میرا رفع جسمانی ہوا تو میری ذمہ داری اور رفاقت ختم ہوچکی اور اپنی ڈیوٹی پوری کر چکا۔ بعد کی حالت کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ زمانہ تجدید اسلام میں بنی اسرائیل بلکہ کسی کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ صرف ترقی اسلام آپ کا فرض منصبی ہو گا۔ اس لئے یہ زمانہ زیربحث نہ ہو گا۔ چونکہ مرزاقادیانی کی یہ بھاری دلیل ہے۔ اس لئے زیادہ باریک بینی کی ضرورت پڑی۔ اہل علم اس جواب کی داد دیں گے اور سمجھ لیں گے کہ مرزاقادیانی کا استدلال کہاں تک درست ہے۔ قطع نظر اس کے کہ مرزاقادیانی احادیث مقدسہ اور فیصلہ نبویہ کے مقابلہ میں استدلال کرتے ہیں۔ آپ کو نفی رفاقت نفی علم میں تمیز نہیں۔

یہ بھی کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

۹… آنحضرتﷺ کا فعل ماضی (قال) استعمال کرنا بلحاظ عبارت قرآنیہ کے ہے۔ اس میں بھی ماضی ہی مستعمل ہوئی ہے اور آپ کا اصلی مطلب یہ ہے کہ میں بھی نفی رفاقت کے لئے وہی الفاظ استعمال کروں گا جو خداتعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کی طرف سے بیان کئے ہیں۔ کیونکہ آپ نے آیت تثلیث: ’’اأنت قلت للناس‘‘کو مدنظر رکھ کر اپنا جواب لوگوں کو سمجھایا ہے۔ مناظر اسلام نے اس سوال کے دو جواب دئیے ہیں۔ اوّل یہ کہ ماضی مضارع کے معنی میں ہے۔ دوسرا یہ کہ حضرت مسیح سے سوال وجواب پہلے ہو چکے گا۔ پھر آپ سے سوال ہو گا۔ اس لئے ’’کما قال العبد الصالح‘‘درست ہوا۔ مگر یہ دونوں جواب چونکہ مفصل نہ تھے۔ اس لئے ان کی بجائے ایک مفصل جواب دیاگیا ہے کہ جس سے وفات مسیح کی دلیل بالکل نیست ونابود ہو گئی ہے۔

286

۱۰… عام قاعدہ ہے کہ ’’مامن عام الاولہ مخصص‘‘اسی بناء پر امام شافعیv نے ہر ایک عام لفظ کو ظنی قرار دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہی عام اصول ہے کہ:’’کل شیٔ ہالک الاوجہہ‘‘مگر اس کے مستثنیات سے بھی انکار نہیں ہوسکتا۔ عرش، کرسی، جنت، دوزخ، زبانیہ، حاملین عرش وغیرہ کی ہلاکت کہیں ثابت نہیں ہوتی اور احادیث مرویہ سے ان کے استثناء کو صحیح تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ نیز ان کی ہلاکت قرین قیاس بھی نہیں۔ اسی طرح یہ قاعدہ ہے کہ آپa سے پہلے سارے انبیاء مر گئے۔ اگرچہ عام ہے اس سے بھی یقینی طور پر حضرت مسیح کی موت ثابت نہیں بلکہ جب احادیث نبویہ اس سے حضرت عیسیٰؑ کو مستثنیٰ کرنے پر مجبور کرتی ہیں تو یہ قاعدہ ظنی رہ جائے گا مفید یقین نہیں رہے گا۔

ہم اس دلیل پر دوسرے پہلو سے بھی بحث کر سکتے ہیں۔ وہ یہ کہ خلوگزرنے کا مترادف ہے۔ چنانچہ مناظر اسلام نے یہی دعویٰ پیش کیا اور اس پر: ’’واذا خلا بعضہم الیٰ بعض‘‘بطور نقل پیش کیا۔ مگر مولوی غلام رسول صاحب نے لسان العرب کے نقول پیش کر کے خلا بمعنی مات ثابت کیا اور نقل میں حرف جار الیٰ کے آنے سے گزرنا تسلیم کیا۔ مگر آیت قرآنی:’’وقد خلت سنۃ الاولین‘‘میں مولوی غلام رسول صاحب کا جواب جاری نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس میں خلو بغیر حرف جار الیٰ کے استعمال ہوا ہے اور گزرنے کے سواء کوئی اور معنی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ دلیل بھی نکمی ثابت ہوئی۔ اصل معنی یہی ہے کہ آپ سے پہلے انبیاء کا عہد رسالت گزر چکا ہے۔ کسی کا عہد تجدید باقی رہ گیا ہو تو کیا مضائقہ ہے؟

۱۱… حضرت مسیحm کے کھانا نہ کھانے سے وفات مسیح کا ثبوت مشکل نظر آتا ہے۔ کیونکہ ہمیں کئی ایک ایسی نظیریں بھی ملتی ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کھانا نہ کھانے سے کئی انسان زندہ رہے ہیں۔ اوّل حضرت آدمm بہشت میں زندہ رہے اور آپ کو بھوک پیاس نہیں لگتی تھی۔ حوّاp کا بھی یہی حال رہا۔ دوم حضرت عزیرm بھی سوسال تک بستر استراحت پر لیٹے رہے مگر کھایا پیا کچھ نہ تھا بلکہ اتنے عرصے تک ان کا کھانا اور پینے کا پانی بھی ان کے پاس محفوظ پڑا رہا اور مطلق نہ بگڑا۔ سوم اصحاب کہف بھی تین سو نو سال کے بعد پہلی نیند سے جاگے اور خوراک نہ ملنے کے باعث ان کا کچھ نہ بگڑا۔ چہارم خود حضرت انسان نو ماہ تک چاء قلچہ نہیں کھاتا اور زندہ رہتا ہے۔ پنجم خود حضرتa اپنے صحابہ کرامؓ کو صوم وصال سے منع کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یطعمنی ربی ویستقینی‘‘مجھے میرا خدا

287

کھلاتا پلاتا ہے۔ یہی نظیر مناظر اسلام نے پیش کی اور مولوی غلام رسول صاحب نے جواب دیا کہ آپa کی افطاری طعام سے ہوتی تھی۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا آٹھ پہر روزے رکھنے کو صوم وصال کہتے ہیں؟ کہ جس میں رات کو کھانا کھایا جاتا ہے اور سحری خالی گزرتی ہے۔ اگر یہی ہے تو آپ کا یہ فرمانا کہ: ’’یطعمنی ویسقینی‘‘کیا مطلب رکھتا ہے؟ نہیں بلکہ صوم وصال میں قطعاً کھانا بند تھا۔ مگر جنہوں نے معراج جسمانی سے انکار کیا ہے؟ ان کے نزدیک یہ واقع بھی قابل تسلیم نہ ہو گا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!بہرحال جسم عنصری کی زندگی کا انحصار کھانے پینے پر قابل تسلیم نہیں۔ ہاں! تغذیہ ضروری ہے۔ خواہ کسی طرح ہو یا ایسی حالت کی ضرورت ہے جس کے باعث کھانا کھانے کی حاجت ہی نہ پڑے۔

۱۲… خلود کے دو معنی ہیں۔ ایک دیر تک زندہ رہنا۔ سو آنحضرتﷺ سے پہلے لوگ سینکڑوں، ہزاروں سال زندہ رہتے تھے۔ خود حضرت نوحm کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ دوسرا معنی ہمیشہ کی زندگی۔ مگر اس قسم کا خلود نہ کسی کو آنحضرتﷺ سے پہلے نصیب ہوا اور نہ بعد میں نصیب ہو گا۔ خود مسیحm بھی بقیہ عمر چالیس سال تک پوری کر کے فوت ہو جاویں گے۔ اب ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ نزول مسیح کا قول بیان کرنے سے کس طرح آپ پر خلود کا الزام قائم کیا جاتا ہے؟ ہاں! ہوائی ثبوتوں کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔

۱۳… جسم عنصری کا بغیر دنیاوی خوراک کے زندہ رہنا دفعہ۱۱ میں ثابت کیاگیا ہے۔ اب کسی قسم کا شک وشبہ نہیں رہا کہ حضرت مسیحm جسم عنصری کے ساتھ عالم بالا میں خدا کی دی ہوئی خوراک یا خوراک کے محتاج ہونے سے زندہ ہیں اور موافق فیصلہ نبویہ قریب قیامت دوبارہ تجدید اسلام کے لئے دنیا میں اتریں گے۔

دلائل حیات مسیح

اسلامی مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب نے حیات مسیح کے متعلق حسب ذیل دلائل پیش کئے۔

(۱)پہلا قرآنی فیصلہ: حضرت مسیح نہ تو مقتول ہوئے اور نہ ہی صلیب کے نزدیک تک لائے گئے۔ مگر آپ کی بجائے دوسرا شخص آپ کا ہم شکل بنا کر صلیب دیاگیا اور آپ حسب وعدہ بمعہ جسم عنصری مقبوض ہوئے اور آپ کو رفعت جسمانی مستلزم رفعت روحانی حاصل ہوئی اور

288

ر قول یہود سے کہ مصلوب ملعون ہوتا ہے۔ خدا نے آپ کو پاک رکھا اور آپ کے تابعداروں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو کافروں اور یہودیوں پر غالب رکھا اور قیامت تک رکھے گا۔

اس فیصلہ قرآنی پر چونکہ فیصلہ نبوی کے عین مطابق ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب نے بہت سے ادھر ادھر کے خیالات پیش کئے کہ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ آیت قرآنی میں حیات مسیح تسلیم کرنے سے سباق وسیاق بگڑ جاتا ہے۔ مگر ہم ان کو تشفی دیتے ہیں کہ اہل اسلام نے جو معنی کئے ہیں اور آیات کا خلاصہ لکھ بھی دیا ہے۔ اس کو غور سے پڑھیں اور خود بخود توہمات دور ہو جاویں گے۔

(۲)دوسرا قرآنی فیصلہ: خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ پھر فرمایا کہ آپ کا ظہور آثار قیامت میں سے ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب نے ان دلائل کو حقارت کی نظر سے دیکھ کر فرمایا کہ چونکہ عداوت اور بغض اہل کتاب میں قیامت تک جاری رہے گا۔ اس لئے حضرت مسیح پر بالاتفاق سب کا ایمان لانا مشکل ہے اور نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منکر کوئی بھی نہیں رہے گا۔ حالانکہ قرآن شریف میں یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ آپ کے تابعدار آپ کے منکروں پر غالب رہیں گے۔ لیکن افسوس کہ مولوی صاحب اصلیت کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ یوں ہی مرزاقادیانی کی تقلید میں قرآن وحدیث کا انکار کئے دیتے ہیں۔ آپ ذرہ سوچیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اہل کتاب کا تسلیم کرنا اپنی موت سے یا آپ کی موت سے پہلے ذاتی عداوت اور بغض کا منافی نہیں ہے۔ مسلمان ہو جاویں اور خانگی معاملات کی پریشانی ان میں موجود رہے تو کیا حرج ہے؟ اور غلبہ تابعین کی آیت سے وجود کافرین ضمناً مفہوم ہوتا ہے اور ایمان اہل کتاب کی آیت سے صرف آپ کے زمانہ سے اس کی صریح نفی ہے۔ اس لئے ضمنی مفہوم کو صریح مفہوم کے مقابلہ میں ترک کیاگیا ہے نہ صرف اپنے خیال سے بلکہ احادیث متواترہ اور اقوال صلحاء اولیاء کی تائید سے بھی۔

(۳)فیصلہ نبوی: حضرتa نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم کہ ہم میں حضرت مسیحm دمشق کے مشرقی سفید مینار پر دوفرشتوں کے سہارے نزول فرمائیں گے اور یہاں دنیا میں آکر نکاح کر کے صاحب اولاد ہوں گے اور چالیس سال تک زندہ رہ کر طبعی موت سے مر کر روضہ نبویہ میں چوتھی قبر کی جگہ میں (جو ابھی خالی پڑی ہوئی ہے) شیخین کے درمیان دفن ہوں گے۔

289

مولوی غلام رسول صاحب نے روحانی قبر بتائی اور لے دے کر مرزاقادیانی پر حدیث ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر چونکہ سارا مطلب ہی آپ کا خلاف واقعہ تھا اور محض تقلیدی خیالات پر مبنی تھا۔ اس لئے فیصلہ محمدی کو قطعاً نہ توڑ سکا۔

(۴)الزامی فیصلہ: خود مرزاقادیانی نے جب ابھی نئے نئے مجدد بنے تھے، براہین احمدیہ میں حضرت مسیحm کی حیات کو تسلیم کیا ہے۔ گو بعد میں خود غرضی کے لئے منکر بن بیٹھے۔

اس کے جواب میں مولوی غلام رسول صاحب نے یہ پہلو اختیار کیا کہ اس وقت تک پورے طور پر یہ مسئلہ منکشف نہیں ہوا تھا۔ بعد میں جب تخیلات کا زور ہوا تو یہ مسئلہ پایۂ ثبوت تک جا پہنچا۔

ہمیں یہ جواب سن کر تعجب پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی مجددیت کا زمانہ تو سادہ پن میں گزر گیا۔ مسیحیت میں آپ کو کون سا کمال حاصل ہو گیا تھا کہ آپ نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ اگر تبدیلی کی بنیاد انہیں دلائل پر تھی کہ جن کا بخیہ ادھیڑا جاچکا ہے تو اس تبدیلی رائے پر صدہزار تعجب اور اگر الہام کے سلسلے کے ساتھ اس کا تعلق ہے تو وہ ہمارے نزدیک قابل تسلیم نہیں۔

بہرکیف مختصر یہ کہ حیات مسیح ثابت کرنے کے واسطے مفصلہ بالادلائل کافی ثبوت دیتے ہیں۔

دوسرے روز مولوی غلام رسول نے مرزاقادیانی کی صداقت پر حسب ذیل خیالات ظاہر کئے:

۱… مفتری کی رہائی نہیں اور مرزاقادیانی کئی سال تک کامیابی سے اپنے ہم خیال پیدا کرتے رہے۔

۲… عذاب ایک نذیر آنے کی علامت ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی بھی طاعون ہیضہ، زلازل اور دیگر مصائب لے کر آئے۔

۳… رسول کا کلام معجزہ ہوتا ہے اور مرزاقادیانی نے اعجاز احمدی لکھی کا اب تک کوئی جواب نہیں دیاگیا۔

۴… رسول ہمیشہ غالب ہوتے ہیں۔ مرزاقادیانی بھی پہلے تن تنہاء تھے پھر لاکھوں کو اپنا ہم عقیدہ بنالیا۔

۵… نزول کا لفظ لباس، لوہا، جانور، ذکر اور رسول کی نسبت بھی مذکور ہے۔ اسی طرح

290

مرزاقادیانی بھی روحانی سے نازل من السماء ہوئے اور مرکر روحانی قبر میں حضرتm کے پاس دفن ہوئے۔ کیونکہ حضرت عائشہt کو خواب میں صرف تین چاند (آنحضرتﷺ، حضرت ابوبکر، حضرت عمرr) ہی نظر آئے تھے۔ حضرت مسیح چاند بن کر دکھائی نہیں دئیے۔

۶… خداتعالیٰ امت محمدیہ میں بھی اسرائیلیوں کی طرح خلفاء بھیجنے کا وعدہ فرماتا ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی خلیفۃ اللہ ہوئے۔

۷… مرزاقادیانی چالیس سال تک زندہ رہے اور نکاح واولاد سے بھی سرسبز ہوئے اور یہی دو نشان مسیح کے تھے۔

۸… مرزاقادیانی کی بددعائیں دشمن کی عدم منظوری یا خشیۃ اللہ سے ٹل جاتی تھیں۔ ورنہ وہ اٹل تھیں۔

مناظر اسلام مولوی ثناء اللہ صاحب نے حسب ذیل مختصر لفظوں میں کافی تردید کی:

۱،۲… مختصر جواب یہ ہے کہ قرآن پاک کے قواعد عامہ کا کسی کو انکار نہیں۔ کلام اس میں ہے کہ کیا ان کا مصداق موجود ہو گیا؟ ہاں! اگر کسی خارجی دلیل سے یا فیصلہ جات اسلام مذکورہ بالا کی رو سے مرزاقادیانی مسیح ہوتے تب یہ قواعد ان کے حق میں سچ تسلیم کرنے پڑتے۔ مگر ہمیں تو ان کے موضوع میں کلام ہے۔ محمول کو ہم یوں ہی کیسے تسلیم کر لیں۔ ہاں! دماغ سوزی اور جوہر ذکاوت کا ثبوت الگ ہے کہ مرزاقادیانی نے بڑی جاں فشانی سے سارا قرآن اپنے حق میں اتار لیا ہے۔ مگر اس سے صداقت نبوت کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس قسم کی دماغ سوزی یا آیات قرآنی کا خود ساختہ مصداق مقرر کر لینا حقانیت کی دلیل ہوتا تو آج سے کئی سو سال پہلے نادر شاہ اور اکبر بادشاہ دیر کے نبی ہوچکتے۔ درّ نادرہ اور آئین اکبری میں ان کے مؤلفوں نے قرآن مجید کی ہر ایک آیت کا مصداق اپنے اپنے بادشاہوں کو بنالیا ہوا ہے۔ لیکن چونکہ خارجی دلائل سے وہ لوگ نبی نہ تھے۔ اس لئے اس قسم کی کارروائی کچھ مفید نہ پڑی۔ علاوہ ازیں ہر ایک دلیل کے متعلق تھوڑا تھوڑا بیان کر دیتے ہیں۔ وہو ہذا!

۱… مرزاقادیانی بھی مفتری تھے۔ اور جب آپ نے دعویٰ نبوت کا اعلان کیا تو اس سے چند سال بعد آپ کے حق میں قطع وتین کا وعدہ پورا ہوا اور ناگہانی موت سے مر کر اس بات کا ثبوت دیا کہ آپ کو کچھ دن استدراج رہا اور تھوڑی سی مہلت ملی۔ پھر دفعتاً ہی موت آپ پر ٹوٹ پڑی کیونکہ اہل استدراج کا یہی حال ہوتا ہے۔

291

۲… رسول قحط ووباء کی علت نہیں ہوتے۔ اصل علت لوگوں کی خودسری ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے خلاف قرآن مجید خلاف حدیث اور خلاف اصول اسلام اپنے عقائد سے پنجاب میں ایک اندھیر مچا رکھا تھا۔ اس لئے پنجاب میں مصائب آئے، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کی نحوست سے یہ سب کچھ ہوا۔ باقی رہا عام دنیا میں زلازل اور خسف وخرق یا ملاحم کا ہونا۔ سو ان کا تعلق مرزاقادیانی کے وجود سے کچھ بھی نہیں بلکہ احادیث نبویہ میں صاف صاف پیش گوئیاں لکھی ہوئی ہیں جن کی صداقت خود بخود ہو رہی ہے۔ خود مرزاقادیانی کے حق میں بھی حدیث شریف میں پیش گوئی موجود ہے کہ:

الف… دنیا میں دجال آئیں گے اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہو گا کہ وہ نبی ہے۔

ب… دنیا میں تیس بڑے گمراہی کی دعوت دینے والے ہوں گے۔ پس ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی احادیث کی پیش گوئیوں کو اپنی طرف سے نسبت کرنے میں اور تجدید کے رنگ میں مدعی بننے میں مفتی تھے۔ اس لئے پنجاب پر ہیضہ وطاعون کا تسلط ہوا اور خود مرزاقادیانی بھی ہیضہ کے شکار ہوئے۔

۳… حضرت خاتم الانبیاءm کی زبان پر جو الفاظ کلام الٰہی کے جاری ہوتے تھے، قرآن کی رو سے ان میں اعجاز ثابت ہوتا ہے۔ خود حضرت رسول اللہﷺ نے اپنے کلام میں اعجاز کا دعویٰ نہیں کیا۔ احادیث میں جب آیات کا کوئی لفظ آ جاتا ہے تو خودبخود معلوم ہو جاتا ہے کہ موتیوں میں لعل چمکتا ہے۔ اگر مرزاقادیانی کے قصائد ان کا اپنا کلام ہیں (اورضرور اپنا ہی ہیں؟) تو آنحضرتﷺ سے بڑھ کر اعجاز کا جھوٹا دعویٰ کیوں کیا؟ اگر ان کے خدا کا کلام ہے تو ان کا خدا کس لئے غلط گوئی سے اہل علم کے سامنے اس کو رسوا کرتا ہے؟ جس قصیدہ اور کلام کا نام مرزاقادیانی اعجاز رکھتے ہیں۔ درحقیقت وہ تو صحت سے بالکل ہی گرا ہوا ہے۔ بھلا فصاحت وبلاغت کہاں؟ پھر اس کا اعجاز ثابت کرنا کہاں؟ محاورات کی غلطیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ عروضی اغلاط کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہیں۔ بایں ہمہ غرور اتنا کہ ہم کسی قاعدہ کے پابند ہی نہیں۔ خود مولوی غلام رسول صاحب کے پیش کردہ شعر میں (یاتی اور فیغشیٰ) جو شرط کے ذیل میں مجزوم نہیں کئے گئے اور تعقید معنوی تو اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس لئے یہ کلام مقبول نہیں۔ اس کی فصاحت وبلاغت یا اعجاز کا دعویٰ کون دانشمند کر سکتا ہے؟

292

اور وہ شعر جو مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزاقادیانی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پیش کئے ہیں، ان میں بھی امرتسر کی ہمزہ قطعی کا حذف ناجائز ہے۔ تدمرین کی جگہ تدمر (یعنی مؤنث کی بجائے مذکر) استعمال کیا ہے۔ یہ مواخذہ چونکہ زبردست اور لاجواب تھا۔ اس لئے مولوی غلام رسول سے اس کا کوئی جواب نہ بن سکا۔ ہم مانتے ہیں کہ ضرورت شعری سے جزوی طور پر قواعد مستحسنہ کا خلاف جائز ہوتا ہے۔ مگر ضروری قواعد کا خلاف کلام کو غلط بنادیتا ہے۔ بہرحال جس کلام میں صحت ثابت کرنے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے پڑیں وہ تھرڈ کلاس کا بالکل نکما کلام ہوتا ہے۔ اس میں فصاحت وبلاغت کا دعویٰ خلاف واقع ہو گا۔ پھر اعجاز کا ادّعا اس سے بڑھ کر جھوٹ ہو گا۔ اگرچہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے ایسے کلام کا جواب ترکی بہ ترکی نہیں دیا۔ مگر کتاب الہامات مرزا میں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ یہ قصیدہ قابل التفات بھی نہیں۔ اہل علم کو اس کے مقابلہ میں قلم اٹھانا ہتک عزت کا باعث ہو گا۔

۴… غلبہ رسل کا ثبوت مرزاقادیانی کے حق میں مشکل ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ آپ دلائل سے غالب ہوتے ہیں، لیکن دلائل بھی ایسے خیالی ہیں کہ جن کا ثبوت اصول اسلام کی کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ بحث ومناظرہ میں بھی مرزائیوں کی جیت کبھی نہیں سنی بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب تو ان کو لاجواب کرنے میں انعام اور سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں نے اشاعت اور غلبہ کو مرادف سمجھ رکھا ہے۔ یہ بھی ان کی غلطی ہے۔ اسی نکتہ کی طرف مناظر اسلام نے توجہ دلائی تھی کہ اشاعت محض تو دیانندی اور عیسائی مذاہب وغیرہ کی بھی توبہت ہے۔

۵… نزول کی بحث میں مرزائیوں کی قرآن دانی بھی معلوم ہو گئی۔ کیونکہ ’’انزلنا الیکم ذکرا رسولا‘‘ میں رسول کو:’’منزل من السماء‘‘قرار دیا ہے۔ حالانکہ مفسرین کے یہاں دو مسلک ہیں۔ اوّل یہ کہ بعث یہاں مخدوف ہے۔ دوم یہ کہ رسول انزل کے تحت میں ذکر کا مرادف (ہم معنی) ہے اور ’’یتلوا‘‘ کے تحت میں رسول بمعنی نبی مراد ہے۔ مختصر یہ کہ رسول کے لفظ میں صنعت استخدام ہے۔ باقی رہا جانور لباس وغیرہ کے متعلق لفظ نزول کا استعمال۔ سو وہ بھی حسب تفاسیر سلف اپنی جگہ پر مستعمل ہیں۔ وہ یہ کہ مذکورہ بالا اشیاء جنت سے اتری تھیں۔ ثابت ہوا کہ مرزائیوں کو نکات اسلام کی کچھ خبر نہیں مگر (بقول) الٹا چور کوتول کو ڈانٹے۔ ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ غیرمرزائیوں کو قرآن نہیں آتا۔ (شرم! شرم!)

293

۶… مسئلہ استخلاف میں بھی مرزائیوں نے نیا گل کھلایا اور خواہ مخواہ مولوی صاحب کے جواب پر نکتہ چینی کی۔ حالانکہ کما کے استعمال کو سمجھتے خود نہیں۔ مولوی صاحب کے جواب کا یہ مطلب تھا کہ یہ کاف حرف تشبیہ نہیں ہے۔ حرف الحاق ہے۔ نحو کی کتابوں میں اس کا نام کاف الحاقیہ مشہور ہے۔ اس کی نظیر ہر ایک نماز میں موجود ہے کہ: ’’کما صلیت علے ابراہیم‘‘اگر یہ تشبیہ ہے تو چونکہ کاف کی تشبیہ میں عام طور پر مشبہ بہ اعلیٰ ہوتا ہے۔ پھر تو حضرت خاتم المرسلینa کی حضرت ابراہیمm پر فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کو کاف الحاقیہ مانا گیا ہے اور اس میں مساوات یا عدم مساوات کا ذکر نہیں ہوتا۔ صرف وقوع فعل میں اشتراک ہوتا ہے۔ چنانچہ آیت استخلاف میں بھی اسی طرح امت محمدی کو خلفاء کا وعدہ دیاگیا اور اس کی توثیق کے لئے بنی اسرائیلی خلفاء کا ایفاء وعدہ پیش کیاگیا۔ بہرحال یہ وعدہ بنی اسرائیل میں انبیاء کی صورت میں پورا اترا اور امت محمدیہ میں علماء امت اور سلاطین وقت کی شکل میں پورا ہوا ہے۔ انبیاء کی شکل میں اس لئے پورا نہ ہوا کہ آپa نے اپنے بعد بڑے زور سے نبی کا آنا منفی کیا تھا اور خداتعالیٰ نے بھی آپa کو اپنے کلام میں آخرالزمان نبی بنا کر بھیجا اور آج تک کیا مخالف کیا موافق سب ہی آپa کو آخرالزمان نبی تسلیم کرتے رہے اور کرتے ہیں۔ مگر قادیانی دنیا کے معدودے چند خیالی اسلام کے پابند آج آنحضرتﷺ کے اس اعزاز پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک پنجابی کہ جس کو یونیورسٹی سے بھی کوئی سند نہیں ملی۔ خدا کے ہاں سے نبوت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرتا ہے۔ (نازم بریں ریش دفش)

۷… نکاح اولاد وغیرہ کا ذکر بعد میں ہو گا پہلے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جہاں حضورﷺ نے نزول مسیح کا مقام مقرر کیا ہوا ہے کیا قادیان وہی ہے؟ دمشق، منارہ، کرعہ، باب لد وغیرہ میں تصرفات کر کے ایسی چیستان بنائی ہے کہ جیسے کسی نے نتھو بہاؤالدین اور لاہور وغیرہ قسم کے نام قرآن مجید کی آیات ’ان انتہو یوصی بہا اودین (الا ہو رب)‘‘سے نکال کر لوگوں کے سامنے اپنا کمال ظاہر کر دکھایا۔ ہم مانتے ہیں کہ مرزاقادیانی بڑی دماغ سوزی کے بعد اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ کرعہ، قادیان، لدھیانہ، منارہ جائے ظہور مسیح دمشق، شریف خاندان مغل ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان الفاظ کے مصداق دنیا میں موجود نہیں؟ اگر ہیں تو ہمیں کون سی ضرورت مجبور کر رہی ہے کہ ہم ایسے مصرحہ الفاظ کی چیستان بنا کر سارے اہل

294

اسلام کو غلط قرار دیں اور کون سی حجت قطعی اور کون سی اسلامی دلیل ہمارے پاس موجود ہے کہ جس کی خاطر ہم ایسے الفاظ کو کھینچ تان کر پنجاب میں لے آتے ہیں۔ جب سوائے الہام کے کوئی ثبوت نہیں دے سکتے تو مرزامہدی حسین کے نادر شاہ کے لئے استنباط قرآنی سے بڑھ کر یا نتھو وغیرہ کے استنباط سے بڑھ کر ہمارے نزدیک اس کی کوئی وقعت نہیں ہو سکتی۔ ہر چند مرزاقادیانی نے ان سارے الفاظ کو تحریف کیا مگر شرقی دمشق کی تحریف میں کچھ زور پتلا پڑ گیا۔ آپ لکھتے ہیں کہ قادیان دمشق سے مشرق پر واقعہ ہے۔ اسی لفظ سے اہل دانش وبینش اندازہ لگا کر سوچیں کہ کسی کا جائے وقوع بتاتے ہوئے ہم دور دراز کے حدود بیان کرتے ہیں یا نزدیک اور متصل کے؟ ورنہ یہ کہنا جائز ہو گا کہ زید کا گھر یورپ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ ہاں! حسن عقیدت ایسے ردّی استخراجات کو بغیر چون وچرا کے تسلیم کر سکتی ہے۔ مگر ہمارے نزدیک ایسے الفاظ تحریف کے لئے پورا ثبوت ہیں۔

۸… مرزاقادیانی کا دعویٰ تو مسیح جمالی کا تھا، مگر بددعاؤں کی مشین اور تکفیر کی نئی نئی کلوں سے معلوم ہوا کہ اگر بس چلتا تو وہ ساری دنیا کو تہ تیغ کر ڈالتے۔ مگر افسوس کہ زمانے کی رفتار نے ان کو ایسا مجبور کیا کہ سفر حج سے بھی معذور سمجھے گئے اور اسی بناء پر خود قادیان ہی کو مکہ، مدینہ اور بیت المقدس بنا لیا تاکہ مناسک حج کی عدم ادائیگی کا سوال ہی نہ پڑے۔ ایسا ہی رمالوں کی طرح بددعاؤں میں بھی ایک بچاؤ کی صورت نکالی ہوئی تھی (کہ تم ڈرتے ہو یا تم نے بددعاء منظور نہیں کی) ہر ذی عقل نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ایسی بددعاؤں کی اصلیت سوائے اتفاقی واقعات کے کچھ نہیں ہوسکتی۔ ورنہ کئی بددعائیں غلط نہ جاتیں۔ آپ چونکہ اصول عربیت سے واقف نہ تھے۔ اس واسطے بددعاء اور مباہلہ میں فرق نہیں کیا۔ وہ یہ ہے کہ مباہلہ میں منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ بددعاء یا کسی کی موت کی پیش گوئی میں منظوری یا عدم منظوری کو دخل نہیں ہوتا۔ جہاں تک مرزاقادیانی کی عبارتوں میں پڑھا جاتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کی بابت بددعاء کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر کہیں مباہلہ کا نام بھی ہے تو اس سے گریز کر کے بددعاء پر زور دے کر دبایا ہے۔ مگر خدا کی قدرت اس دعاء میں خود ہی پھنسے اور یکطرفہ مباہلہ خود مرزاقادیانی کی جان کا وبال بنا۔ مرزاقادیانی کی موت کے بعد مرزائیوں نے قرآن دانی کا اور ثبوت دیا اور یہ کہا کہ مرزاقادیانی چونکہ سچے تھے۔ اس لئے موت کے

295

خواہاں ہوئے۔ کیونکہ قرآن میں:’’فتمنوا الموت ان کنتم صادقین‘‘(یہودیو! سچے ہو تو مرنے کی خواہش کرو) موجود ہے۔ (واہ رے مرزائی قرآن دانی!)

مرزائیو! اگر تم بھی سچے ہو تو شب وروز اپنی ہلاکت کی دعائیں کیوں نہیں کرتے؟ اگر آپ نہیں کر سکتے تو ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپ کی ساری جماعت کی تباہی اور ہلاکت کے لئے خدا کی جناب میں دست بددعاء رہیں۔ (آمین ثم آمین)

اسلامی مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب نے میعار رسالت اور منہاج نبوت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرزاقادیانی کی ادّعا مسیحیت کو باطل ثابت کیا جس کے دلائل حسب ذیل ہیں:

۱… حضرت مسیح حدیث کی رو سے مدینہ منورہ میں آنحضرتﷺ کے مقبرہ میں حضرت ابوبکر وحضرت عمرr مابین دفن ہوں گے۔ لیکن مرزاقادیانی قادیان کی ڈھاب کے کنارے مدفون ہیں۔ جہاں نہ شیخین کی قبریں ہیں نہ حضرت خاتم الانبیاءa کی۔ اس کے جواب میں مولوی غلام رسول مرزائی مناظر نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کیا کہ یہ سب فرضی کارروائی ہے۔ وہی قادیانی ڈھاب کا کنارہ جنت البقیع ہے اور وہی حضرات شیخین کی روحانی قبریں ہیں۔ واہ رے مرزائی ذہانت! تو نے کس طرح مدینہ منورہ کا نام مٹانا چاہا اور کس انداز سے روضہ نبوی کے پاک باز مدفونوں کی پاکیزہ قبریں یہاں ثابت کر دکھائیں۔

ای روشنی طبع تو برمن بلاشدی

ایسے نکمے مرزائی استدلالات اور اس فرضی کارروائی کو کوئی مسلم تسلیم نہیں کر سکتا۔ اس لئے مرزاقادیانی فیل ثابت ہوئے۔ پھر مرزائی مناظر نے اپنی اس فرضی کارروائی کی تائید میں حضرت عائشہt کے تین چاند دیکھنے کا ثبوت دیا اور کہا کہ حضرت مسیح چوتھے چاند نمودار ہوتے تو تب اس حدیث کو اپنے معنی میں لے سکتے ہیں۔ ورنہ حدیث کی تحریف کرنی پڑے گی۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھے کہ آنحضرتﷺ تو سورج کی مانند تھے اور شیخین اور حضرت مسیحm مجدد وقت ہونے اور حضورﷺ کے تابع ہونے اور آپa کے نور سے مستفیض ہونے کی وجہ سے آپa کے مقابلہ بحیثیت چاند کے ہیں۔ اسی لئے حضرت عائشہt کا خواب سچا ہے اور چوتھے چاند کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔

علاوہ بریں اگر یہ جواب قابل استدلال ہوتا یا اس خواب میں حضرت رسول

296

اللہa بھی چاند کی صورت میں دکھائی دیتے تو آپ کے دفن کے وقت یہ حدیث کیوں پڑھی جاتی کہ انبیاء جہاں فوت ہوتے ہیں، وہیں دفن پاتے ہیں۱؎۔ کیا حضرت عائشہt کو چاند والا خواب یاد نہ رہا تھا یا یہ کہ صحابہi کے سامنے وہ خواب پیش ہوکر مسترد کیاگیا؟ یا حضرت عائشہt اس وقت خود موجود نہ تھیں؟ پس معلوم ہوا کہ خواب کا جائے ظہور نہ مرزائیوں کو سمجھ آتا ہے اور نہ خود مرزاقادیانی کو ؎

  1. گر ہمیں مکتب است و ایں ملا

    کار طفلاں تمام خواہد شد

۲… حضرت مسیحm بدزبان نہ تھے اور نہ ہی نبی بدزبان ہوا کرتے ہیں۔ مگر مرزاقادیانی کی کوئی تصنیف گالیوں اور ایذارسانیوں سے خالی نہیں۔ اندازہ لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کی تصانیف کا نصف حصہ الہام ہیں اور نصف حصہ گالیاں یا ایذاء رسانی۔ کیا قرآن مجیدکی تعلیم یہی تھی اور قرآن فہمی کا اندازہ بھی یہی تھا۔ قرآن شریف میں تو مجاہرین کفر کو بھی گالیاں دینے سے روک دیا گیا اور مرزاقادیانی نے اہل اسلام کو اس قدر گالیاں دی ہیں کہ کراماً کاتبین نے بھی قلم ڈال دئیے ہوں گے۔ عذر یہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کا ترکی بہ ترکی جواب ہے، مگر شروع تو مرزاقادیانی سے ہوا یا یوں کہو کہ اشاعت دشنام کا مضمون تو مرزاقادیانی کی بدولت ہوا۔ بہرحال بحکم الباری من اظلم خود مرزاقادیانی ہی من سن سنۃ سیئۃ کے مصداق ہیں۔ نزول مسیح کے مصداق نہیں۔

۳… آنحضرتﷺ کا قطعی فیصلہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اگر کوئی ہوتا تو حضرت عمرq ہوتے مگر مرزاقادیانی آنحضرتﷺ سے بھی بڑھے اور نبوت کا دعویٰ کرڈالا۔

۱؎ مرزائیوں سے دو سوال: (۱)جب مطابق حدیث رسول جس پر جملہ صحابہi کا حضورﷺ کی وفات کے وقت بالاتفاق اجماع ہوا کہ سچے نبی کا یہ نشان ہے کہ وہ جہاں مرے اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزاقادیانی (جن کا دعویٰ تھا کہ میںحضورﷺ کی تابعداری میں رہ کر نبی بن گیا ہوں) فوت ہوئے تو لاہور میں اور مدفون ہوئے قادیان میں۔ کیا یہ واقعہ مرزاقادیانی کے جھوٹا نبی ہونے کا کافی ثبوت نہیں۔ (۲)بعد مرنے کے مرزاقادیانی کی لاش کو لاہور سے لاکر قادیان لانے کے لئے سوائے ریل کے کمتر درجہ کی گدھا گاڑی کے اور کوئی سواری نہ مل سکتی۔ حالانکہ اپنی تصنیفات میں مرزاقادیانی ریل کو دجال کا گدھا لکھتے ہیں۔ پھر جو شخص ساری عمر دجال کے گدھے پر سفر کرتا رہا ہو اور مرنے کے بعد بھی اس کی لاش کو دجال ہی کے گدھے پر سوار ہونا نصیب ہوا ہو۔ کیا ایسا شخص (بقول مرزاقادیانی) سچا مسیح ہو سکتا ہے یا پورا پورا دجال؟ مرزائی دوستو! ہم کچھ نہیں کہتے۔ اس بات کو آپ خود ہی سوچیں اور اپنے ضمیر سے جواب لیں۔ ’’فتکفروا فی انفسکم افلا تعقلون‘‘ (مرتب)

297

حضرت مسیح کے نزول کو اس حدیث کا معارض تراش کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ عام نفی نبوت کو توڑنے کے واسطے حضرت مسیح کا اترنا اور آپ کی نبوت کافی ثبوت ہے۔ مگر یہ اعتراض یا تو حدیث کے الفاظ پر ہے یا اپنی کج فہمی کا نتیجہ ہے۔ اگر حدیث کے الفاظ ان کے نزدیک قابل وقعت نہیں ہیں تو ان سے خدا سمجھے اور اگر اپنی کج رائی کچھ اور معنی گھڑتی ہے تو ہم اس کا بھی ازالہ کئے دیتے ہیں کہ حضرت مسیح کی نبوت کوئی نئی نبوت نہیں ہو گی اور نہ ہی آپ بحیثیت نبی ہونے کے عہدہ تجدید کو رونق بخشیں گے بلکہ صرف مجدد ہوکر آئیں گے۔ اس لئے حضرت مسیح کا نزول ’’لا نبی بعدی‘‘ کے مخالف نہیں بلکہ مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت مخالف پڑتا ہے۔ ہاں! اگر صرف حضرت مسیح کا اتار بن کر مسیحی آڑ میں نبوت کا دعویٰ کرتے تو ایک بات بھی بنتی۔ مگر آپ موسیٰ، عیسیٰ، شیث، ادریس، محمد صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین! سب انبیاءؑ کا مظہر بنتے ہیں اور ہر ایک کے رنگ میں نبوت کا دعویٰ کئے ہوئے ہیں۔ مسیح کی آڑ میں تو نزول مسیحm سے کچھ نہ کچھ تعلق تھا مگر دوسرے انبیاء کے مظہر بننے کی اڑ میں کس دلیل سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ سوائے الہام کے مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت ذرہ بھر بھی ثابت نہیں ہوسکتا اور اسلامی دلائل ان کے خلاف قائم ہیں۔

۴… مقابلہ میں نبی فیل نہیں ہوتا مگر مولوی عبدالحق صاحب غزنوی، ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مقابلہ میں مرزاقادیانی فیل ثابت ہوئے۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر موصوف کے الہاموں کی بھی تاب نہ لا سکے بلکہ اس کی پیش گوئیوں کی صداقت میں مرے۔ اب ہم اسی پر اکتفاء کر کے مضمون ختم کرتے ہیں۔ ’’وآخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین والحمد ﷲ رب العالمین‘‘

میاں محمود قادیانی کو اہل اسلام کی طرف سے مناظرہ کی دعوت

  1. ہے کہاں مرزا کا بیٹا آئے خود میدان میں

    ایک پھر کر دے گی جلسہ عام حفظ المسلمین

  2. ہو چکی تحریر اب تقریر ہونی چاہئے

    دیتی ہے چیلنج صبح و شام حفظ المسلمین

  3. اس قدر چھکے چھڑائے تو نے مرزائیوں کے اب

    کانپتے ہیں سن کے تیرا نام حفظ المسلمین

  4. سچ تو یہ ہے تو نے ان کو جھوٹ ثابت کر دیا

    جس قدر مرزا کے تھے الہام حفظ المسلمین

  5. تیرے سب برہان قاطع قاطع اوہام ہیں

    تو ہے گویا عمر کی مصام حفظ المسلمین

نوٹ: بوجہ عدم گنجائش نظم کے چند شعر درج کئے گئے ہیں۔ (مشتاق نائب ناظم)

298

نصوص آیات قرآن مجید

مختصر دلائل حیات حضرت مسیحm مشتمل برتکذیب دعاوی مرزاقادیانی:

۱… ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ مسیحm کا ظہور ملاحم کبریٰ کے بعد قرب قیامت کا نشان ہو گا۔

۲…’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘

تمام اہل کتاب یہودی وغیرہ قرب قیامت میں مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔

۳… ’’ویکلم الناس فی المہد وکہلا‘‘ مسیحm نے پیدا ہوتے ہی لوگوں کو وعظ کیا اور کہولت کی عمر میں بھی آسمان سے اتر کر وعظ کریں گے۔

۴… ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ قیامت کے روز اللہتعالیٰ حضرت مسیح کو فرمائے گا کہ تم میری نعمت کو یاد کرو۔ جب یہود نے تجھ پر دست درازی کرنی چاہی تو میں ان کا ہاتھ تجھ سے ہٹائے رکھا۔ یعنی صلیب دینا تو کجا رہا وہ تجھ پر قابو بھی نہ پا سکے۔

۵… ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ مسیحm کو یہود نے نہ ہی قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر چڑھا سکے۔

۶… ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ بلکہ خدا نے مسیح کو جسم عنصری کے ساتھ ملاء اعلیٰ میں اٹھا لیا۔

۷… ’’انی متوفیک ورافعک الیّ‘‘ خدا نے مسیح کو فرمایا میں تجھے بمعہ جسم وروح اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔

۸… ’’ومن المقربین‘‘ خدا نے مسیح کو ملائکہ مقربین کی جماعت میں آسمان پر لے جاکر شامل کیا۔ لہٰذا آپ کو دنیاوی حاجات نہیں۔

۹… ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل لاٰدم‘‘ جس طرح آدمm بغیر باپ کے پیدا ہوئے، اسی طرح عیسیٰؑ بھی ۔ جس طرح آدمm بغیر خوراک کے بہشت میں زندہ رہے، اسی طرح مسیحm بغیر خوراک دنیاوی کے آسمان پر زندہ

299

سلامت موجود ہیں اور جس طرح آدمm پہلے جنت میں تھے، پھر زمین پر اترے۔ اسی طرح مسیحm بھی آسمان سے اتریں گے۔

۱۰… ’’ولنجعلہ آیۃ للناس‘‘ حضرت مسیح کے آسمان پر چڑھنے اور پھر آسمان سے اترنے سے لوگوں کے لئے خدائی قدرت کا نشان ہے۔

۱۱… ’’وجعلنی مبارکاً اینما کنت‘‘ مسیح جہاں کہیں دنیا میں ہو یا آسمان پر اسے خدا نے ہر جگہ بابرکت کیا۔

۱۲… ’’فلما توفیتنی‘‘ قیامت کو مسیحm عرض کریں گے، اے خدا! جب تو نے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا۔ (یہاں موت کا لفظ نہیں ہے۔)

۱۳… ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ اسلام کو خدا نے آنحضرتﷺ کی ذات سے مکمل کیا اور مسیح کے نزول سے کل ادیان پر غالب کرے گا۔

تصریحات احادیث نبویa

۱۴… ’’واللہ لینزلن فیکم ابن مریم‘‘ خدا کی قسم تمہارے درمیان منارہ بیضاء دمشق پر حضرت مسیح ضرور ضرور اتریں گے۔

۱۵… ’’ان عیسٰی لم یمت‘‘ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ حضرت مسیح ابھی تک نہیں مرے۔

۱۶… ’’راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ حضرت مسیح قیامت کے آنے سے پہلے دنیا میں ضرور تشریف لاویں گے۔

۱۷… ’’ینزل من السماء‘‘ عیسیٰؑآسمان سے اتریں گے۔ (قادیان میں ہرگز پیدا نہیں ہوں گے۔)

۱۸… ’’یدفن معی فی قبری‘‘ عیسیٰؑ مقبرہ نبوی میں دفن ہوں گے۔ (قادیان کے گندے نالے میں دفن نہیں ہوں گے)

۱۹… ’’یقتل الدجال‘‘ عیسیٰؑ دجال کو ملک شام میں قتل کریں گے۔ (دجال کے گدھے پر سوار نہ ہوں گے۔)

۲۰… ’’یصلی بالناس‘‘ عیسیٰؑ ملک شام میں جاکر لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائیں گے۔

تمت بالخیر!
300

عقائد مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

301

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱… قرآن مجید میں ذکر ہے: حضرت عیسیٰؑ نے کہا تھا: ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (الصف:۶)‘‘ جس کو آج تک سب مسلمان آنحضرتﷺ کے حق میں سمجھتے آئے ہیں۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’میں وہ احمد ہوں، یعنی حضرت عیسیٰؑ نے میرے حق میں بشارت دی تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

۲… حدیث شریف میں آیا ہے:’’کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم من السماء (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص۳۰۱)‘‘تم کیسے ہوؤ گے جب حضرت عیسیٰ ابن مریم تم میں آسمان سے اتریں گے۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’یہ مسیح موعود میں ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۸۳، خزائن ج۳ ص۴۶۹)

نوٹ: … یہ مضمون مرزاقادیانی کی ہر ایک تحریر میں ملتا ہے۔

۳… حدیث شریف میں آیا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت فاطمہt کی اولاد سے ایک بزرگ پیدا ہو گا جس کا نام محمد اور باپ کا نام عبداللہ ہو گا۔ اس کا لقب امام مہدی ہو گا۔ اس کی صفت یہ ہو گی: ’’یملاء الارض قسطا وعدلا کما ملٔت ظلما وجوراً‘‘ وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔

(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱، کتاب المہدی)

مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’وہ مہدی میں ہوں۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸)

۴… مرزاقادیانی اپنے رتبہ کا اظہار ان لفظوں میں کرتے ہیں: ’’میں نور ہوں، مجدد مامور ہوں، عبد منصور ہوں، مہدی معہود اور مسیح موعود ہوں۔ مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ۔ میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں اور سورج ہوں جس کو دشمنی اور

302

کینہ کا دھواں چھپا نہیں سکتا اور ایسا کوئی شخص تلاش کرو جو میری مانند ہواور ہرگز نہیں پاؤ گے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۸ تا۲۰ خزائن ج۱۶ ص۵۱، ۵۲)

’’میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہو اور میرے عہد پر ہو گا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔ بس خدا سے ڈرو اے جوان مردو اور مجھے پہچانو اور نافرمانی مت کرو۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص ۷۰)

’’دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۵۸، خزائن ج۱۶ ص۲۴۳)

’’پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا، درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین (محمد رسول اللہ) کے صحابہ میں داخل ہوا۔ (یعنی میرے مرید صحابہ کے برابر ہیں)‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸، ۲۵۹)

مختصر طور پر فرماتے ہیں ؎

  1. میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳)

  1. کربلائے است سیر ہر آنم

    صد حسین است در گریبانم

  2. آدمم نیز احمد مختار

    دربرم جامہ ہمہ ابرار

  3. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرا بتمام

  4. آنچہ من بشنوم زوحی خدا

    بخدا پاک دانمش زخطا

ہمچو قرآن منزہ اش دانم

303

از خطاہا ہمیں است ایمانم

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

  1. منم مسیح زمان و منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

۵… مرزاقادیانی عیسائیوں اور شیعوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں: ’’اے عیسائی مشنریو اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے(یعنی مرزاقادیانی) کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

  1. شتان ما بینی و بین حسینکم

    فانی اؤید کل آن وانصر

’’مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)

۶… دنیا کی قضا وقدر (یعنی جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا) مرزاقادیانی کہتے ہیں میں نے اس کو لکھا تھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

’’ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری غوث گڑھ علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور ان کی نظر کے سامنے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اوّل مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا

304

گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضاء وقدر کے اہل دنیا کی نیکی وبدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خداتعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کر دیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خداتعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دئیے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے۔ اس لئے مجھے جب کہ ان قطروں سے جو خداتعالیٰ کے ہاتھ سے گرے اطلاع ہوئی۔ ساتھ ہی میں نے بچشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاں عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تربتر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اور کوئی چیز ہمارے پاس موجود نہ تھی، جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور وہ وہی سرخی تھی جو خداتعالیٰ نے اپنی قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی اور میاں عبداللہ زندہ موجود ہیں اور اس کیفیت کو حلفاً بیان۱؎ کر سکتے ہیں کہ کیونکر یہ خارق عادت اور اعجازی طور پر امر تھا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳۳، خزائن ج۱۵ ص۱۹۷)

۷… نبوت ورسالت کا دعویٰ: ’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶، ۴۰۷)

’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ خداتعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیش

۱؎۲۷؍نومبر ۱۹۱۶ء کو اس میاں عبداللہ گواہ نے ہمارے سامنے اس کشف پر قسم کھانے سے انکار کر دیا۔ (تفصیل کے لئے دیکھو اخبار اہل حدیث مؤرخہ ۸؍دسمبر ۱۹۱۶ء ص۱)

305

گوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہتعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں۔‘‘

(اخبار البدر قادیان مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء ص۲ کالم۱، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷، ۱۲۸)

نوٹ… چونکہ دعویٰ نبوت سن کر مسلمانوں کو سخت وحشت ہوتی ہے اور وہ مرزائی مذہب میں آنے سے نفرت کرتے ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی کے خلیفہ اوّل مولوی نورالدین کے بعد مرزاقادیانی کے بعض دانا مریدوں نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ ہمیں اس اختلاف سے مطلب نہیں۔ ہم تو مرزاقادیانی کے اصلی الفاظ سامنے رکھتے ہیں جو ملک کی عام زبان اردو میں ہیں جو چاہے دیکھ لے۔

۸… مرزاقادیانی کا منکر مؤمن نہیں۔ فرماتے ہیں: ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہﷺ نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا… اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے… اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خداتعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مؤمن کیونکر ہو سکتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، ۱۶۴،خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)

۹… (بقول مرزا) ایک الہام میں خدا نے مرزاقادیانی کو یوں مخاطب کیا:

’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)

۱۰… مرزاقادیانی کا ایک الہام یوں ہے: ’’خدا قادیان میں نازل ہو گا۔‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۵۶، تذکرہ ص۳۵۸ طبع چہارم)

۱۱… مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’میں نے خواب دیکھا کہ میں بعینہٖ اللہ ہوں۔ میں

306

نے یقین کر لیا کہ میں وہی اللہ ہوں۔‘‘ یہ بھی فرماتے ہیں: ’’اسی حال میں (جب کہ میں بعینہٖ خداتعالیٰ) میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم کوئی نیا نظام دنیا کا بناویں۔ یعنی نیا آسمان اور نئی زمین بناویں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور جو ترتیب درست تھی، اس کے موافق ان کو مرتب کر دیا اور میں اس وقت اپنے آپ کو ایسا پاتا تھا گویا میں ایساکرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے ورلا (یعنی ادھر والا) آسمان بنایا اور میں نے کہا: ’’ان زینا السماء الدنیا بمصابیح۱؎ ‘‘پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی سے بناتے ہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۱۲… مرزاقادیانی کا قول ہے۔ خدا نے مجھے فرمایا: ’’ان اللہ معک ان اللہ یقوم اینما قمت‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۱۷، خزائن ج۱۱ حاشیہ ص۳۰۱)

۱۳… مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور میری طرف آتا ہے۔ الہام کے الفاظ یہ ہیں: ’’یحمدک اللہ من عرشہ یحمدک اللہ ویمشی الیک‘‘(خدا تیری (اے مرزاقادیانی) عرش سے تعریف کرتا ہے، خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چل کر آتا ہے)

(انجام آتھم ص۵۵، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۱۴… مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا: ’’میں مسلمانوں کے لئے مسیح موعود ہوں اور ہندوؤں کے لئے کرشن (کاہن) ہوں۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)

۱۵… مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا: ’’میں امام حسینq سے افضل ہوں۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

۱۶… مرزاقادیانی کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ: ’’میں حضرت ابوبکر صدیق بلکہ بعض انبیاءؑ سے بھی افضل ہوں۔‘‘

؎

(اشتہار معیار الاخیار ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸)

۱؎ حالانکہ یہ آیت قرآن کی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ:

’’ہم (خدا) نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔‘‘

307

۱۷… مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ مجھے مندرجہ ذیل الہام ہوئے ہیں: ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہوالاوحی یوحٰی۔ دنیٰ فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ۔ ذرنی والمکذبین‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

یہ سب آیات قرآنی ہیں جو آنحضرتﷺ کی شان میں ہیں۔ ترجمہ ان کا یہ ہے: ’’ہمارا نبی اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ اس کا بولنا وحی سے ہے۔‘‘

’’وہ اتنا خدا کے نزدیک ہوا جتنے کمان کے دو کونے بلکہ ان سے بھی زیادہ قریب۔‘‘

’’مجھے اور مکذبوں کو چھوڑ دے میں ان سے سمجھ لوں گا۔‘‘ (خدا کا فرمان ہے)

۱۸… مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ: ’’حوض کوثر مجھے ملا ہے۔‘‘

وہ الہامی الفاظ یہ ہیں:’’انا اعطیناک الکوثر‘‘

( انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۱۹… مرزاقادیانی کہتے تھے خدا نے مجھے کہا ہے: ’’تیرا نام پورا ہو جائے گا۔ میرا نام پورا نہیں ہو گا۔ الہامی الفاظ یہ ہیں: یا احمد یتم اسمک ولا یتم اسمی‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳)

پورا تو ٹھیک ہوا ؎

بدنام اگر ہوں تو کیا نام نہ ہو گا

۲۰… ’’اخترتک لنفسی الارض والسماء معک کما ہو۱؎ معی دسترک سری انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳)

’’یعنی خدا فرماتا ہے (اے مرزا) میں نے تجھے اپنے نفس کے لئے پسند کیا۔ زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہیں، جیسے میرے ساتھ ہیں تو میرے پاس بمنزلہ میری توحید اور تفرید کے ہے۔‘‘ (جل جلالہ)

یہ اور ان جیسے اور بھی خیالات ہیں جن کی وجہ سے علمائے اسلام مرزاقادیانی کے مخالف ہوئے تھے جو عامہ ناظرین کی واقفیت کے لئے شائع کئے گئے۔ (اپریل ۱۹۲۸ء)

۱؎یہ ’’ہو‘‘ عربی دانوں کی توجہ چاہتا ہے۔ (مصنف)

308

مرقع قادیانی

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

309

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

مرقع قادیانی ۱۹۰۷ء میں زیرایڈیٹری مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری ماہواری رسالہ کی صورت میں جاری ہوا تھا جو مرزاقادیانی کے انتقال کے بعد بند ہو گیا۔ اس کے مضامین بہت دلچسپ ہوتے تھے۔ اس لئے مناسب جانا گیا کہ مرقع قادیانی کے فائل سے بعض زیادہ دلچسپ اور مفید مضامین رسالہ کی صورت میں شائع کئے جائیں۔ چنانچہ یہ رسالہ آپ کی نظر سے گزرتا ہے۔ اللہتعالیٰ سے امید ہے کہ اسے قبول کر کے برکت فرمائے گا۔

خاکسار: منیجر دفتر ’’اہل حدیث‘‘ امرتسر … ربیع الاوّل ۱۳۳۵ھ/ جنوری ۱۹۱۷ء

مرقع قادیانی

ڈاکٹر ڈوئی امریکن کی موت پر مرزاقادیانی کی الہام بافی

مرزاقادیانی کی ہمیشہ سے عادت تھی کہ جس وقت وہ الہام شائع کرتے تھے، اس وقت خود ان کو یہ خبر نہیں ہوتی تھی کہ آئندہ کو کیا پیش آئے گا۔ اس لئے جیسا جیسا وقوعہ پیش آتا نکتے چھانٹا کرتے تھے۔ امریکہ کے ملک میں ایک شخص ڈاکٹر ڈوئی تھا، جس نے بھی مرزاقادیانی کی طرح نبوت کا دعویٰ کیا تھا، جس پر کرشن جی قادیانی۱؎ کو غصہ آیا کہ: ’’ابے ہیں؟ ایک ہم اور ایک تو؟ یاد رکھ۔‘‘

ہم اور غیر دونوں یکجاء بہم نہ ہوں گے

ہم ہوں گے وہ نہ ہوں گے وہ ہوں گے ہم نہ ہوں گے

مگر وہ کوئی ایسا کوہ وقار تھا کہ اس نے کبھی پھر کر بھی نہ دیکھا کہ پیچھے کون آتا ہے۔ خدا کی شان قضاء الٰہی سے وہ فوت ہو گیا۔ بس پھر تو مرزاقادیانی کی بن آئی۔ لگے وہ بھی اور ان کے چیلے بھی بغلیں بجانے۔

۱؎مرزاقادیانی نے سیالکوٹ کے لیکچر میں یہ خطاب اپنے لئے خود تجویز فرمایا تھا کہ ہم ہندوؤں کے لئے کرشن ہیں۔ (لیکچر سیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)

310

چنانچہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء کے اخبار الحکم میں ایک مضمون نکلا جو یہ ہے: ’’حضرت مسیحk کا صدق کھل گیا اور کذاب ومفتری ڈوئی مر گیا۔

  1. بنگ اے قوم نشانہائے خداوند قدر

    چشم بکشا کہ برچشم نشانیست کبیر

امریکہ کے کذاب ومفتری ڈاکٹر جان الیگزنڈر ڈوئی کے نام سے الحکم کے ناظرین اور انڈیا کی مذہبی دنیا بخوبی واقف ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے الیاس اور عہدنامہ کا رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور بالآخر اس نے مسلمانان عالم کی ہلاکت کی پیش گوئی بڑے زور شور سے اپنے اخبار لیوز آف ہیلنگ میں کی تھی جس پر حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ۱۹۰۲ء کی تیسری سہ ماہی میں اس کا ایک جواب انگریزی زبان میں بکثرت امریکہ میں شائع کیا تھا اور ستمبر ۱۹۰۲ء کے اردو میگزین میں اس کا ترجمہ دیا گیا تھا اور اخبارات کے سلسلہ میں بھی اس کا ذکر کیا گیا۔ اس پیش گوئی کا خلاصہ یہ تھا کہ کاذب صادق کی

زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔‘‘

دیکھئے کس زور کی عبارت ہے اور کس مضبوطی سے دعویٰ ہے۔ مگر ناظرین آگے چل کر جان لیں گے کہ یہ مضبوطی نہیں بلکہ ڈھٹائی ہے۔ خیر اس کے جواب میں ہم نے اخبار اہل حدیث مؤرخہ مارچ ۱۹۱۷ء میں ایک مضمون لکھا جو یہ ہے:

کرشن قادیانی اور امریکن ڈوئی

’’مرزاقادیانی کی طرح امریکہ میں بھی ایک شخص ڈاکٹر ڈوئی تھا جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اب اس کے مرنے کی خبر آئی ہے جس پر قادیانی کرشن کی پارٹی مارے خوشی کے آپے سے باہر ہوئے جاتی ہے کہ ہمارے کرشن کی پیش گوئی ثابت ہو گئی۔ اس لئے ہم ان بہادروں سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ بتلاؤ! تمہارے کرشن جی قادیانی نے کب پیش گوئی کی تھی۔ اس کی تاریخ مع اصلی الفاظ کے ظاہر کرو۔ مگر یاد رکھنا مولوی اسماعیل مرحوم علی گڑھی اور مولوی غلام دستگیر قصوری کے معاملہ کی طرح اس کو بھی خوردبرد نہ کر جانا بلکہ بہت جلد ہمارا معقول جواب دینا۔ بدر اور الحکم وغیرہ کے ایڈیٹرو! تمہیں تو کھانا حرام ہے جب تک مہاتما کرشن جی کی اصل پیش گوئی مع تاریخ شائع نہ کرو۔

تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

311

اس کو دیکھ کر الحکم کے ایڈیٹر نے الحکم مؤرخہ ۱۹؍مارچ میں جواب دیا، جو یہ ہے:

کیا ثناء اللہ مان لے گا؟

امرتسری منکر مولوی ثناء اللہ امرتسری عجیب وغریب مذبوحی حرکات کرنے کا عادی ہے اور اس کی چشم بینا ایسی بند ہے کہ وہ دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا، اور سنتا ہوا نہیں سنتا۔ جب کوئی نشان پورا ہوتا ہے تو اپنے اسلاف منکروں کے نقش قدم پر چل کر کہہ دیتا ہے کہ:’’سحر مستمر‘‘ڈاکٹر ڈوئی مفتری رسول کی موت کی پیش گوئی پوری ہونے پر وہ مجھے کہتا ہے کہ تمہیں کھانا حرام ہے جب تک مہاتما کرشن جی کی اصل پیش گوئی مع تاریخ شائع نہ کرو۔

تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

میں امرتسری منکر کی قسم کی پروا کرتا ہوں کہ اور ؎

دروغ گورا تابخانہ اشد باید رسانید

پر عمل کرنے کے لئے اسے الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء کے ص۱۲تا۱۴ کے پڑھنے کی تکلیف دیتا ہوں، جہاں پیش گوئی کے اصل الفاظ درج ہیں۔ اب اگر ثناء اللہ راست باز ہے تو اسے تسلیم کرے اور اگر وہ خدائے تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے تو سچائی سے اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور تکذیب سے باز آئے۔‘‘

(ایڈیٹر الحکم ص۱۵)

اس جواب میں ایڈیٹر الحکم نے ہمارے جواب کے لئے ۱۷؍مارچ کے الحکم کا حوالہ کافی سمجھا، جس میں اس نے پیش گوئی کا خلاصہ یہ لکھا تھا کہ: ’’کاذب صادق کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔‘‘

مگر ناظرین! بانصاف غور کریں کہ ہم نے جو سوال کیا تھا، وہ ڈوئی کے متعلق اصل عبارت سے تھا نہ کہ اس کے خلاصے کے متعلق۔ خلاصہ تمہارا تو اسی قسم کا ہوتا ہے۔ اصل عبارت تو تھی کہ پندرہ ماہ کے اندر آتھم مر جائے گا۔ مگر اس کو چھانٹتے چھانٹتے آخر ایسا تناسخ کے چکر میں ڈالا کہ اس کی اصلی اور نقلی صورت میں اس سے زیادہ فرق معلوم ہوتا ہے جو باقاعدہ تناسخ بداعمال انسان کو بدکرداری کی وجہ سے انسانی شکل سے کتے اور بلّے کی جون نصیب ہوتی ہے۔ مگر ہوشیار ایڈیٹر مذکور سمجھ گیا کہ ہماری پکڑ کوئی معمولی نہیں۔ اس لئے اس نے اپنے بزرگ کی طرح بڑی چالاکی سے اصل عبارت کو چھپا کر اس کے خلاصہ کا حوالہ بتلایا۔ پھر خلاصہ بھی وہ جس کو دیکھ کر سوال پیدا ہوا تھا۔

312

مرزائی پارٹی کا ایک اعلیٰ لیڈر جو گو مرزائی تقلید میں پھنسا ہوا ہے، تاہم اس کے قلم سے کبھی کبھی سچ نکل جایا کرتا ہے۔ یعنی قادیانی ریویو کا ایڈیٹر (مولوی محمد علی ایم۔اے) لکھتا ہے: ’’ہم نہیں کہتے کہ کوئی شخص بلاتحقیق حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی)کی پیش گوئیوں کو آمنا وصدقنا کہہ دے بلکہ ہم صرف انہیں اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ محقق نظر سے غور کریں۔‘‘

\

(اپریل ۱۹۰۷ء ص۱۳)

اس لئے ہم ’’بدرا بدر باید رسانید‘‘ عمل کرنے کو جس کتاب کا ایڈیٹر الحکم نے حوالہ دیا ہے، اسی سے اصل عبارت نقل کرتے ہیں۔ مگر ان کی طرح خلاصہ نہیں بلکہ اصل مضمون لفظ بلفظ سناتے ہیں۔ ناظرین! بغور سنیں:

مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’رہے مسلمان! سو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں باادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے۔ ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔ وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو باربار موت کی پیش گوئی نہ سنائیں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعاء کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے۔ کیونکہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی۱؎ جانتاہوں۔ اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے؟ چاہے کہ اس دعاء کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اس کے یہی دعاء کروں گا اور ان شاء اللہ! ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے اور تمام عیسائیوں کے لئے حق کی شناخت کے لئے ایک راہ نکل آئے گی۔ میں نے ایسی دعاء کے لئے سبقت نہیں کیبلکہ ڈوئی نے کی۔ اس سبقت کو دیکھ کر غیور خدا نے میرے اندر یہ جوش پیدا کیا اور یاد رہے کہ میں اس ملک میں معمولی انسان نہیں ہوں۔ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا ڈوئی انتظار کر رہا ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ ڈوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود پچیس برس کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا اور

۱؎یہاں تو یسوع کو نبی لکھا گیا مگر(ضمیمہ انجام آتھم ص۶،۷ خزائن ج۱۱ ص۲۹۰، ۲۹۱ حاشیہ میں) اسی یسوع کو خوب گالیاں سنائی ہیں۔ مرزائیو! ان دونوں مقاموں کو دیکھ کر اللہ سے ڈر کر فیصلہ کرو۔

313

میں بشارت دیتا ہوں کہ وہ مسیح پیدا ہو گیا اور وہ میں ہی ہوں۔ صدہا نشان زمین سے اور آسمان سے میرے لئے ظاہر ہو چکے۔ ایک لاکھ کے قریب میرے ساتھ جماعت ہے جو زور سے ترقی کر رہی ہے۔ ڈوئی بیہودہ باتیں اپنے ثبوت میں لکھتا ہے کہ میں نے ہزارہا بیمار توجہ سے اچھے کئے ہیں۔ ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ کیوں پھر اپنی لڑکی کو اچھا نہ کر سکا اور وہ مر گئی اور اب تک اس کے فراق میں روتا ہے اور کیوں کر اپنے اس مرید کی عورت کو اچھا نہ کر سکا جو بچہ جن کر مر گئی اور اس کی بیماری پر بلایا گیا، مگر وہ گزر گئی۔ یاد رہے کہ اس ملک کے صدہا عام لوگ اس قسم کے عمل کرتے ہیں اور سلب امراض میں بہتوں کو مشق ہو جاتی ہے اور کوئی ان کی بزرگی کا قائل نہیں ہوتا۔ پھر امریکہ کے سادہ لوحوں پر نہایت تعجب ہے کہ وہ کس خیال میں پھنس گئے۔ کیا ان کے لئے مسیح کو ناحق خدا بنانے کا بوجھ کافی نہ تھا کہ یہ دوسرا بوجھ بھی انہوں نے اپنے گلے ڈال لیا۔ اگر ڈوئی اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور درحقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا۔ کیا حاجت ہے کہ تمام ملکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے۔ لیکن اگر اس نے اس نوٹس کا جواب نہ دیا یا اپنے لاف وگزاف کے مطابق دعاء کر دی اور پھر دنیا سے قبل میری وفات کے اٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہو گو، مگر یہ شرط ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہو، بلکہ کسی بیماری سے یا بجلی سے یا سانپ کے کاٹنے سے یا کسی درندے کے پھاڑنے سے ہو اور ہم اس جواب کے لئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعاء کرتے ہیں کہ خدا سچوں کے ساتھ ہو۔ آمین!‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ص۳۴۴، ۳۴۵، ج۱ نمبر۹، بابت ماہ ستمبر ۱۹۰۲ء)

یہ ہے اصل عبارت میں مرزاقادیانی نے ڈاکٹر ڈوئی کو چیلنج دیا ہے کہ وہ دعاء کرے کہ جھوٹا سچے سے پہلے مر جائے۔ یہ نہیں کہ بطور پیشین گوئی کے اعلان کر دیا کہ جھوٹا سچے سے پہلے مر جائے گا۔ مرزائیو! مولویت کے مدعیو! تمہیں اتنی بھی خبر نہیں کہ جملہ انشائیہ اور جملہ خبر یہ میں کیا فرق ہوتا ہے۔

معزز ناظرین! خدارا ذرا کرشن جی کی اصلی عبارت دیکھتے جائیں کہ اس میں کوئی ایک لفظ بھی ایسا ملتا ہے جس کا یہ مطلب ہو یا مرزاقادیانی نے اعلان اور اخبار کے طور پر کہا ہو کہ ہم (مرزا اور ڈوئی) میں سے جو جھوٹا ہو گا، سچے سے پہلے مر جائے گا بلکہ یہی لکھاگیا ہے کہ ڈوئی یہ دعاء کرے کہ جھوٹا سچے سے پہلے مر جائے۔ لیکن اس کوہ وقار ڈوئی نے کرشن جی کو

314

دیہاتی سمجھ کر منہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کہ کیا کہتا ہے۔ اس نے ہرگز یہ دعاء نہیں کی بلکہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھاکہ قادیان میں کون رہتا ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی کے رسالہ ریویو ہی سے اس کاثبوت ملتا ہے جہاں لکھا ہے: ’’باوجود اس کثرت اشاعت پیش گوئی کے ڈوئی نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی اپنے اخبار ’’لیوز آف ہیلنگ‘‘ میں اس کا کچھ ذکر کیا۔‘‘

(ریویو ج۶ نمبر۴ بابت اپریل ۱۹۰۷ء، ص۱۴۲)

یہ عبارت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ ڈوئی نے مرزاقادیانی کے حسب منشاء دعاء نہیں کی۔ پس جب اس نے دعاء نہیں کی تو پھر یہ پیش گوئی یا مباہلہ نہ ہوا بلکہ یوں کہئے کہ بغیر مباہلہ کے ڈاکٹر ڈوئی کا مرزاقادیانی کی زندگی میں مرنا مرزاقادیانی کے مباہلہ کی تردید کر لینا تو دوحال سے خالی نہ تھا یا تو مرزاقادیانی کی زندگی میں مرتا تو ثابت ہوتا کہ ان کے مباہلہ یا دعا کا اثر ہے۔ وہ اپنی اجل سے نہیں مرا اور اگر مرزاقادیانی کے بعد مرتا تو کھلی تکذیب ہوتی۔ غرض یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے حسب منشاء نہ ڈوئی نے دعاء کی اور نہ ان کے چیلنج کو قبول کیا۔ اس لئے وہ اس پیش گوئی سے نہیں مرا بلکہ اپنی مقررہ اجل پر مرا ہے جس کو مرزاقادیانی کی صداقت اور نبوت سے کچھ تعلق نہیں۔ تعجب ہے مرزائیوں کے انصاف پر کہ کس آن بان سے اس واقعہ کو پیش گوئی لکھتے ہیں۔ حالانکہ جس شرط پر یہ پیش گوئی ہونی تھی، وہ شرط متحقق ہی نہیں ہوئی۔ یعنی ڈوئی نے حسب درخواست مرزاقادیانی دعاء نہیں کی۔ چونکہ یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ: ’’اذا فات الشرط فات المشروط‘‘جب شرط متحقق نہیں تو مشروط بھی ثابت نہیں۔ یعنی جب ڈوئی نے دعاء نہیں کی تو مباہلہ بھی نہ ہوا۔ اس لئے مرزاقادیانی ریویو کا ہوشیار ایڈیٹر لکھتا ہے: ’’جب وہ (ڈوئی) نہ تو اسلام کے متعلق دریدہ دہنی سے باز آیا اور نہ ہی کھلے طور پر میدان مقابلہ میں نکلا تو حضرت مسیح موعود نے ایک اور اشتہار جاری کیا… اس اشتہار کا عنوان یہ تھا۔ ’’پگٹ اور ڈوئی کے متعلق پیش گوئیاں‘‘ اور جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے۔ اب یہ خالی مباہلہ کی دعوت نہیں رہی تھی بلکہ اس میں صراحت کے ساتھ ڈوئی کی ہلاکت کی پیش گوئی بھی کی گئی تھی۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۶ نمبر۴ ص۱۴۲، بابت ماہ اپریل ۱۹۰۷ء)

اس عبارت سے دو امر ثابت ہوئے۔ ایک یہ کہ اس اشتہار سے پہلے کی تمام تحریریں مباہلہ یا پیش گوئی نہ تھیں بلکہ دعوت مباہلہ تھی۔ دوسرا امر یہ ثابت ہوا کہ اس اشتہار

315

میں جس کا ذکر اس منقولہ عبارت میں ہے، صاف پیش گوئی کی گئی ہے۔ مگر ہم بڑے افسوس سے کہتے ہیں کہ ؎

  1. بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

    جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

آخر اس اشتہار کو جو ایڈیٹر مذکور نے نقل کیا تو پہلے تو اس میں بھی یہ فقرے موتیوں کی طرح جڑے ہوئے نظر آئے۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’مسٹر ڈوئی میری درخواست مباہلہ قبول کرلے گا اور صراحۃً یا اشارۃً میرے مقابلہ پر کھڑا ہو گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دارفانی کو چھوڑے گا۔ یاد رہے کہ اب تک ڈوئی نے میری درخواست مباہلہ کا کچھ جواب نہیں دیا اور نہ اپنے اخبار میں کچھ شروع کیا ہے۔ اس لئے میں آج کی تاریخ سے جو ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء ہے، اس کو پورے سات ماہ کی اور مہلت دیتا ہوں۔ اگر وہ اس مہلت میں میرے مقابلہ پر آ گیا اور جس طور سے مقابلہ کرنے کی میں نے تجویز کی ہے، جس کو میں شائع کر چکا ہوں۔ اس تجویز کو پورے پورے طور پر منظور کر کے اپنے اخبار میں عام اشتہار دے دیا تو جلد تر دنیا دیکھ لے گی کہ اس مقابلہ کا انجام کیا ہوگا۔‘‘

(ریویو ج۶ نمبر۴ ص۱۴۴، بابت ماہ اپریل ۱۹۰۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۱۹، ۶۲۰)

باوجود اس صاف اور سیدھی تحریر کے ایڈیٹر ریویو اپنی عقل ودانش کو بالائے طاق رکھ کر لکھتا ہے کہ اس اشتہار میں مفصلہ ذیل امور خاص طور پر قابل توجہ ہیں:

’’(۱)یہ اشتہار پہلی چٹھی کی طرح صرف ایک چیلنج یعی مباہلہ کی دعوت ہی نہ تھی۱؎ بلکہ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے اس میں ڈوئی کے انجام اور اس کی ہلاکت کی صریح خبر موجود تھی۔‘‘

گو اس فقرہ میں ایڈیٹر ریویو نے اپنی کانشنس اور ضمیر کے خلاف کیا ہے تاہم خدا کی طرف سے اس پر جبر کیا گیا تو دوسرے ہی نمبر میں اس کے قلم سے یہ فقرہ بھی نکل گیا۔

۱؎یہ لفظ ’’تھی‘‘ صاف ظاہر کرتا ہے کہ پہلی چٹھی مندرجہ ریویو ستمبر ۱۹۰۲ء جس کا حوالہ ایڈیٹر الحکم نے دیا ہے، کوئی پیش گوئی نہ تھی بلکہ محض دعوت مباہلہ تھی۔ یعنی یہ کہاگیا تھا کہ آؤ مباہلہ کرو۔ باوجود اس قوی شہادت کے نہیں معلوم ایڈیٹر الحکم وغیرہ کیوں اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالانکہ اہل حدیث میں اس کے متعلق پیش گوئی کے الفاظ مانے گئے تھے، نہ اس عبارت کے الفاظ جو مباہلہ کی دعوت تھی۔ مباہلہ کی دعوت اور ہے مباہلہ اور۔ پھر مباہلہ اور ہے پیش گوئی اور۔ افسوس ہے کہ مرزائی پارٹی کو ان تینوں لفظوں میں تو تمیز نہیں یا دانستہ اپنے علم وعقل کے خلاف کر رہے ہیں۔

316

’’(۲)مندرجہ ذیل الفاظ خاص طور پر توجہ کے قابل ہیں کہ مسٹر ڈوئی اگر میری درخواست مباہلہ قبول کرے گا اور صراحتاً یا اشارتاً میرے مقابلہ پر کھڑا ہو گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑے گا۔‘‘

(ریویو اپریل ۱۹۰۷ء ص۱۴۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۱۹)

ناظرین! اس فقرہ کو بغور دیکھئے کہ جن لفظوں پر ہم نے خط دیا ہے۔ ان کو ایڈیٹر ریویو نے موٹے لفظوں میں لکھا ہے۔ پس آپ ذرا انصاف سے بتلائیں کہ ان لفظوں میں کوئی لفظ بھی ایسا ہے جس کے معنی پیش گوئی کے ہیں یا محض ایک درخواست ہے اور ڈوئی کو بلایا جاتا ہے کہ آؤ ہم سے مباہلہ کرو۔ ایڈیٹر ریویو پیش گوئی کے اصلی الفاظ مانگنے والوں پر کھسیانے ہوکر ان کو بے شرم اور بے حیاء تو کہتا ہے۔ مگر ناظرین! اسی کے الفاظ میں دیکھ سکتے ہیں کہ بے شرم اور بے حیاء کون ہے۔ وہی بے حیاء ہے جو اپنی تحریر کے آپ ہی خلاف کہے۔ پھر اسی اپنے مخالف کلام کو بطور سند پیش کرے۔ ’’لا یفعلہ الا من سفہ نفسہ‘‘

مرزائیو! ایمان سے کہنا۔ ایسے شخص کو امام یا لیڈر ماننا کیا اس شعر کا مصداق نہیں؟

  1. اذا کان الغراب دلیل قوم

    سیہدیہم طریق الہالکینا

(جب کوئی گمراہ آدمی کسی قوم کا راہنما ہو گا تو وہ گمراہی کی طرف ہی ہدایت کرے گا)

باوجود اس صفائی کے مرزائیوں کی راست بازی کی یہ کیفیت ہے کہ تمام دنیا کو یا تو اندھا جانتے ہیں یا خود ایسے ہیں کہ دنیا بھر میں کوئی ایسا نہ ہو گا۔ چنانچہ قادیانی پارٹی کا اصلی رکن ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز لکھتا ہے:

’’وہ خدائی فیصلہ جو حضرت مسیح موعود نے اپنی دعاء میں اللہتعالیٰ سے مانگا تھا کہ اے خدا تو کھلے طور پر ڈوئی کے جھوٹ کو دنیا پر ظاہر فرما۔ وہ فیصلہ ظاہر ہو چکا ہے اور جو پیش گوئی اس کے انجام کے متعلق تین سال پہلے امریکہ اور یورپ میں شائع ہو چکی تھی، وہ نہایت صفائی سے پوری ہو چکی ہے۔ پیش گوئی میں اللہتعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ ڈوئی حضرت مسیح موعود کی زندگی میں بڑے بڑے دکھ اٹھا کر اور بڑی حسرتوں کے ساتھ ہلاک ہو جائے گا۔‘‘

(ریویو ج۶ نمبر۴ ص۱۴۹، بابت ماہ اپریل۱۹۰۷ء)

پھر کمال ہوشیاری یہ ہے کہ بڑی صفائی سے مذکورہ ایڈیٹر لکھتا ہے کہ: ’’پیش گوئی

317

کے یہ لفظ تھے کہ وہ (ڈوئی) میری آنکھوں کے سامنے اور میرے دیکھتے دیکھتے حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیا کو چھوڑ جائے گا۔‘‘

(ریویو ج۶ نمبر۴ ص۱۴۹ سطر۱۴، بابت ماہ ۱۹۰۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۶۱۹)

پس ہم بھی اسی ایک بات پر فیصلہ کرتے ہیں کہ پیش گوئی کے یہ الفاظ دکھا دو تو ہم بھی مان جائیں گے کہ کرشن جی کی یہ پیش گوئی سچی ہوئی۔

مرزائیو! اور مرزا کے ایڈیٹرو! اللہتعالیٰ سے ڈرو۔ انصاف کر کے اور تقویٰ سے کام لے کر پیش گوئی کے یہ الفاظ دکھا دو۔ نہیں تو یاد رکھو کہ: ’’مرقع قادیانی‘‘ تمہارے ہی مقابلہ کے لئے جاری ہوا ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ عمر بھر اس تقاضا سے تمہاری جان نہ چھوٹے گی۔ آج تک مرزاقادیانی جس قدر ہمارے مؤاخذات سے چلّائے ہیں۔ اس سے زیادہ چلّاؤ گے۔

  1. نازک کلامیاں مری توڑیں عدّو کا دل

    میں وہ بلا ہوں شیشہ سے پتھر کو توڑ دوں

سچے اور چھوٹے مسیح میں رقابت

آج کل کچھ ایسا دستور ہو رہا ہے کہ جھوٹے دوکاندار جب اپنی دوکان کا اشتہار دیتے ہیں تو خواہ مخواہ بھی دوسرے دوکانداروں کی طرف کوئی نہ کوئی لفظ نوک جھونک کا لکھ دیتے ہیں اور کچھ نہیں تو اتنا ضروری ہی لکھیں گے کہ: ’’جھوٹے دغا بازوں سے بچو‘‘

یہی حال ہمارے پنجابی متنبی مرزاقادیانی کا ہے کہ جب سے آپ نے مسیحیت کا دعویٰ کیا ہے۔ خواہے نخواہے آپ حضرت مسیح کی کسی نہ کسی لفظ میں تحقیر شان کرتے ہی رہتے ہیں۔ آپ نے اپنے ازالہ اوہام میں لکھا ؎

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تابنہد پابمنبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

پھر (دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰) میں لکھا ؎

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

گو اس قسم کی عبارات توہین مسیح میں صاف ہیں لیکن مرزاغلام قادیانی کے معتقدین پھر بھی ان کی تاویلات رکیکہ کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے آج ہم ایک ایسی عبارت مرزا قادیانی کی توہین مسیح میں تازہ دکھاتے ہیں جس کے دل میں ذرہ بھر بھی حضرات انبیاءؑ

318

خصوصاً حضرت مسیحm کی عظمت اور عزت ہو گی وہ بھی مرزاقادیانی پر نفرین کرے گا اور جان جائے گا کہ قادیانی متنبی اشتہاری دوکانداروں کی طرح خواہ مخواہ بزعم خود حضرت مسیح کو اپنا رقیب سمجھتا ہے۔ بہرحال وہ عبارت یہ ہے:

قادیانی اخبار بدر ج۶ نمبر۱۹ ص۵، مؤرخہ ۹؍مئی ۱۹۰۷ء میں مرزاقادیانی کے کلمات ناطیبات کی ذیل میں لکھتا ہے کہ مرزاقادیانی نے فرمایا: ’’دوبارہ آمد: فرمایا ایک دفعہ حضرت مسیح زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آ کر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہش مند ہیں۔‘‘

اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی تعلیم سے لوگ مشرک ہوئے ہیں۔ حضرت نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ قرآن مجید تو مسیح کی برأت کرتا ہے اور صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ اس نے صرف توحید کی تعلیم دی تھی۔ پھر اس کی عظمت اور بزرگی بتلانے کو ’’وجیہاً فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین‘‘فرمایا (یعنی دین ودنیا میں عزت والا اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہے) مگر مرزاقادیانی اپنی رقابت کاذبہ کے زعم میں عیسائیوں کی غلطی کو اس پاک نبی اور برگزیدۂ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

مرزائیو! اب بھی کہو گے کہ تمہارا مہدی اور کرشن حضرت مسیح کی توہین نہیں کرتا؟

اگر اب بھی نہ وہ سمجھے تو اس بت سے خدا سمجھے

(مرقع قادیانی، جون ۱۹۰۷ء)

قادیانی مشین میں الہام بافی

قادیانی مشین کے پرزے الہام بافی میں کچھ ایسے تیز ہیں کہ ایک دن میں ہزارہا الہام بنا ڈالتے ہیں۔ الہاموں کا شمار تو ناظرین کو غالباً معلوم ہو گا۔ مگر ان کے بنے جانے کی کیفیت شاید معلوم نہ ہو۔ پس آج ہم اس الہام بافی کی کیفیت بتلاتے ہیں کہ یہ الہام قادیانی مشین میں کس طرح تیار ہوتے ہیں۔ ناظرین غور سے سنیں۔

اپریل کے مہینے میں مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی نے کاپیاں صحیح کرانے کے لئے منشی غلام محمد کاتب کو خط لکھا جو قادیان میں مرزاقادیانی کا کام کرتا تھا کہ بٹالہ میں آ کر ہمارا کام کر دو اور اگر تمہیں آنے کی فرصت نہ ہو تو میں ہی قادیان میں آ جاؤں گا۔ مگر الگ کسی

319

مکان میں رہوں گا۔ اس امر کی اطلاع جب مرزاقادیانی کو ہوئی کہ مولوی صاحب قادیان میں آنا چاہتے ہیں تو مرزاقادیانی نے کئی ایک دعوتی خط مولوی محمد حسین صاحب کو لکھے، جن میں سے چند ایک فقرات ہم یہاں نقل کرتے ہیں:

’’جناب مولوی صاحب سلمہ! بعد دعائے مخلصانہ میں نے رقعہ آپ کا پڑھ لیا۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ میں ایک سخت ضرورت کے باعث چند روز تک میاں غلام محمد کاتب کو اجازت نہیں دے سکتا۔ آپ میرے پرانے زمانے کے دوست ہیں اور آپ سے مجھے دلی محبت باوجود اس مذہبی اختلاف کے جو قضا وقدر سے درمیان میں آ گیا ہے، جس کو خدائے علیم جانتا ہے۔ آپ بلاتکلف دو تین روز کے لئے یہاں آ جائیں۔ کوئی امر مذہبی درمیان میں نہیں آئے گا اور مجھ سے آپ ہر طرح تواضع پائیں گے اور آپ کا مضمون اس جگہ کے مطبع میں چھپ بھی سکتا ہے۔‘‘

(۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء خاکسار غلام احمد از قادیان)

اس خط میں کس لجاجت نرمی اور چاپلوسی سے مولوی صاحب موصوف کو دعوت دے کر بلایا ہے۔ خیر اس چال کا حشر تو یہ ہوا کہ اتنے میں خاکسار کو اس خط وکتابت کی خبر ہوئی تو بحکم ’’گونگے کی بولی گونگے کی ماں جانے‘‘ خاکسار نے مرزاقادیانی کے مطلب کو پالیا کہ حضرت جی اس میں معجزہ نمائی کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے مولوی صاحب کو میں نے فوراً لکھا کہ اتنے کام کے لئے آپ قادیان میں نہ جائیں۔ میں اپنا کام چھڑا کر آپ کا یہ کام کرادوں گا۔ مولوی صاحب موصوف نے بھی یہی مناسب سمجھا اور امرتسر تشریف لے آئے۔ مگر مرزاقادیانی نے چونکہ مولوی صاحب کو بلانے کے لئے بڑی کوشش کی تھی ان کو رات دن یہی خیال تھا کہ مولوی صاحب آئے کہ آئے۔ اس لئے ان کو بقول ’’بلی کو چھیچھڑوں کے خواب‘‘

۱۱؍مئی کو ایک خواب آیا جو ۱۶؍مئی کے بدر میں ان لفظوں میں چھپا کہ: ’’رؤیا… مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کو دیکھا کہ وہ ہمارے مکان میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کسی اپنے آدمی کو کہا کہ مولوی صاحب کو خاطر داری سے کھانا کھلانا چاہئے۔ ان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس رؤیا سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم! کہ وہ دن نزدیک ہے کہ خدائے تعالیٰ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو خود رہنمائی کرے۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ بھی ایک الہام سے معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ آخر وقت میں ان کو سمجھ دے گا کہ انکار کرنا ان کی

320

غلطی تھی اور یہ کہ میں اپنے دعویٰ مسیح موعود میں حق پر ہوں۔ مگر معلوم نہیں کہ آخر وقت کے کیا معنی ہیں۔‘‘

(بدر ج۶ نمبر۲۰ ص۴، مؤرخہ ۱۶؍مئی ۱۹۰۷ء، تذکرہ ص۶۰۷ طبع چہارم)

اس خواب اور اس خط کو ملانے سے مرزائی الہام بافی کی کیفیت یہ معلوم ہوئی کہ جو امر دن کو آپ کی آنکھوں کے سامنے اور دماغ کے اندر مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوتا تھا، وہی رات کو خواب آتا تھا۔ اسی کا نام الہام ہے اور اسی کو کہتے ہیں: ’’بلی کو چھیچھڑوں کے خواب‘‘

باقی رہا آپ کا یہ نتیجہ نکالنا کہ مولوی صاحب موصوف آخر کار اپنی غلطی کا اقرار کریں گے اور مجھے مان جائیں گے۔ سو یہ آپ کی پرانی تمنا ہے۔ چنانچہ (اعجاز احمدی ص۵۱، خزائن ج۱۹ ص۱۶۳) میں بھی آپ یہ لکھ چکے ہیں ؎

  1. اقلب حسین یہتدی من یظنہ

    عجیب وعند اللہ ہین وایسر

کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آ جائے گایہ کون گمان کر سکتا ہے؟ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے۔

مگر ان شاء اللہ! یہ صرف آپ کی امنگ رہے گی، جیسی کہ آج تک آسمانی منکوحہ کے وصال سے حسرت ہے کہ باوجود آسمان پر نکاح ہو چکنے کے آپ کے دل سے حسرت بھری آہ ہی سننے میں آتی رہی ؎

  1. جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہوں رقیب جدا

    ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

اسی طرح آپ اس حسرت کو بھی سینہ میں ساتھ ہی لے جائیں گے اور مولوی صاحب ممدوح برابر آپ کا سرکوٹتے رہیں گے۔

(مرقع قادیانی، جولائی ۱۹۰۷ء)

مرزاقادیانی کا فتویٰ طاعونی مردوں کے دفن کے متعلق

  1. بلا سے کوئی ادا ان کی بدنما ہو جائے

    کسی طرح سے تو مٹ جائے ولولہ دل کا

مرزاقادیانی کی نیرنگیاں جو خاکسار کو معلوم ہیں۔ کاش! مرزاقادیانی کے مریدوں خصوصاً علم وفضل کے مدعیوں کو معلوم ہوں تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی مرید نہیں رہ سکتے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ طاعون میرے مخالفوں پر عذاب بھیجا گیا ہے۔ میرے مرید اس سے محفوظ رہیں گے۔

چنانچہ (کاغذی) کشتی نوح میں لکھا تھا: ’’اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ

321

ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے اور آسمان روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانے میں انسانوں کے لئے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھا دے۔ سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا، وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔‘‘

(کشتی نوح ص۱،۲، خزائن ج۱۹ ص۱،۲)

اس عبارت کی مزید تشریح کی حاجت نہیں۔ کیونکہ مضمون صاف ہے کہ مرزاقادیانی اور ان کے گھر والے اور ان کے راسخ الاعتقاد فنافی الشیخ جن کو فنا فی المرزا کہنا بجا ہو، طاعون سے محفوظ رہیں گے۔ اسی مضمون کو مرزاقادیانی نے کتاب ’’مواہب الرحمن‘‘ میں اور بھی واضح کر دیا ہے جس کے ہم مشکور ہیں۔

آپ فرماتے ہیں: ’’لنا من الطاعون امان ولا تخوفونی من ہذہ النیران فان النار غلامنا بل غلام الغلمان‘‘

(مواہب الرحمن ص۲۴، خزائن ج۱۹ ص۲۴۲)

یعنی ہمارے لئے طاعون سے امان ہے۔ مجھ کو طاعون سے مت ڈراؤ۔ طاعون ہمارا غلام یعنی تابعدار ہے بلکہ غلاموں کا غلام ہے۔

مگر چونکہ مرزاقادیانی کو اپنا اندر کا پول معلوم تھا کہ ڈھول کی آواز ہی آواز ہے۔ اندر کچھ نہیں ہے۔ اس لئے آپ نے طاعون زدوں سے بڑی احتیاط اور پرہیز کے حکم صادر کئے۔ یہاں تک کہ مرزاقادیانی کا مقرب اخبار البدر کا ایڈیٹر محمد افضل جب طاعون ہی سے قادیان میں مرا تو مرزا اور مرزائیوں نے اس سے کوئی ہمدری نہ کی بلکہ جس مسجد میں اس کی چارپائی الگ کی گئی تھی۔ بحکم مرزاقادیانی اس مسجد کے کنوئیں سے رسی اور ڈول کئی دنوں تک اترا رہا تاکہ کہیں اس کنوئیں کا پانی سقے گھروں میں نہ لے آویں۔ نہ اس کے جنازہ پر کوئی گیا اسی طرح قاضی امیر حسین بھیروی کا جوان لڑکا طاعون کی بھینٹ چڑھا اور مرزائیوں نے اس سے بھی وہی سلوک کیا جو افضل مذکور سے کیا تھا تو قاضی موصوف نے مرزاقادیانی کی خدمت میں آ کر بہت شوروغل کیا کہ آپ کے مرید تو کافروں سے بدتر ہیں۔ کسی میں ہمدری نہیں۔ یہ نہیں وہ نہیں۔ اس پر مرزاقادیانی کو ہوش آیا تو آپ نے ایک تقریر کی جو ۴؍مئی ۱۹۰۵ء کے اخبار بدرقادیان میں چھپی تھی جو یہ ہے:

322

اس وقت تمام جماعت کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی جماعت کے اندر طاعون کے بیماروں اور شہیدوں کے ساتھ پوری ہمدردی اور اخوت کا سلوک کرنا چاہئے۔ یاد رکھو تم میں اس وقت دو اخوتیں جمع ہو چکی ہیں۔ ایک تو اسلامی اخوت اور دوسری اس سلسلہ کی اخوت ہے۔ پھر ان دو اخوتوں کے ہوتے ہوئے گریز اور سرد مہری ہو تو یہ سخت قابل اعتراض امر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسے مسافر اپنے گھروں میں ہوتے تو وہ جو خارج از مذہب سمجھتے ہو اور وہ تم کو کافر کہتے ہیں۔ ان میں ایسے موقع پر سردمہری نہیں ہوتی جن لوگوں سے یہ سردمہری ہوتی ہے وہ دوباتوں کا لحاظ نہیں رکھتے افراط اور تفریط کا۔ اگر افراط اور تفریط کو چھوڑ کر اعتدال سے کام لیا جائے تو ایسی شکایت پیدا نہ ہو۔ جبکہ ’’تواصوا بالحق وتواصوا بالمرحمۃ‘‘ کا حکم ہے تو پھر ایسے مردوں سے گریز کیوں کیا جائے۔ اگر کسی کے مکان کو آگ لگ جائے اور وہ فریاد کرے تو جیسے یہ گناہ ہے کہ محض اس خیال سے کہ میں نہ جل جاؤں اس مکان کو اور اس میں رہنے والوں کو جلنے دے اور جاکر آگ بجھانے میں مدد نہ دے۔ ویسے ہی یہ بھی معصیت ہے کہ ایسی بے احتیاطی سے اس میں کود پڑے کہ خود جل جائے۔ ایسے موقع پر احتیاط مناسب کے ساتھ ضروری ہے کہ آگ بجھانے میں اس کی مدد کرے۔

پس اسی طریق پر یہاں بھی سلوک ہونا چاہئے۔ اللہتعالیٰ نے جابجا رحم کی تعلیم دی ہے کہ یہی اخوۃ اسلامی کا منشاء ہے۔ اللہتعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ تمام مسلمان مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔ ایسی صورت میں کہ تم میں اسلامی اخوۃ قائم ہو اور پھر اس سلسلہ میں ہونے کی وجہ سے دوسری اخوۃ بھی ساتھ ہو۔ یہ بڑی غلطی ہو گی کہ کوئی شخص مصیبت میں گرفتار ہو اور قضا وقدر سے اسے ماتم پیش آ جائے تو دوسرا تجہیز وتکفین میں بھی اس کا شریک نہ ہو، ہرگز ہرگز اللہتعالیٰ کا یہ منشاء نہیں۔ آنحضرتﷺ کے صحابہ جنگ میں شریک ہوتے یا مجروح ہو جاتے تو میں یقین نہیں رکھتا کہ صحابہ انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یا پیغمبرa اس بات پر راضی ہو جاتے ہوں کہ وہ ان کو چھوڑ کر چلے جاویں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی وارداتوں کے وقت ہمدردی بھی ہوسکتی ہے اور احتیاط مناسب بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اوّل تو کتاب اللہ سے یہ مسئلہ ملتا ہی نہیں کہ کوئی مرض لازمی طور پر دوسرے کو لگ بھی جاتی ہے۱؎۔

۱؎مرزاقادیانی کی اردو ایسی ہی تھی، جس میں مذکر ومؤنث کی تمیز لازمی نہ تھی۔ (مرقع)

323

ہاں! جس قدر تجارب سے معلوم ہوتا ہے، اس کے لئے بھی نص قرآنی سے احتیاط مناسب کا پتہ لگتا ہے، جہاں ایسا مرض جو شدت سے پھیلی ہوئی ہو۔ وہاں احتیاط کر لے یہی مناسب ہے۔ لیکن اس کے بھی یہ معنی نہیں کہ ہمدردی چھوڑ دے۔ خداتعالیٰ کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ انسان ایک میت سے اس قدر بعد اختیار کرے کہ میت کی ذلت ہو اور پھر اس کے ساتھ جماعت کی ذلت ہو۔ خوب یاد رکھو کہ ہرگز اس بات کو نہیں کرنا چاہئے، جب کہ خداتعالیٰ نے تمہیں بھائی بنادیا ہے۔ پھر نفرت اور بعد کیونکر ہوسکتا ہے۔ اگر وہ بھی مرے گا تو اس کی بھی کوئی خبر نہیں لے گا اور اس طرح پر اخوۃ کے حقوق تلف ہو جائیں گے۔ خداتعالیٰ نے دو ہی قسم کے حقوق رکھے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ جو شخص حقوق العباد ی پروا نہیں کرتا وہ آخر حقوق اللہ کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ حقوق العباد کا لحاظ رکھنا یہ بھی تو امر الٰہی ہے جو حقوق اللہ کے نیچے ہے۔

یہ خوب یاد رکھو، اللہتعالیٰ پر توکل بھی کوئی شئے ہے۔ یہ مت سمجھو کہ تم نرے پرہیزوں سے بچ سکتے ہو۔ جب تک خداتعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو اور انسان اپنے آپ کو کارآمد انسان نہ بنائے اس وقت تک اللہتعالیٰ اس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ خواہ ہزار بھاگتا پھرے کیا وہ لوگ جو طاعون میں مبتلاء ہوتے ہیں وہ پرہیز نہیں کرتے۔ میں نے سنا ہے کہ لاہور میں نواب صاحب کے قریب ہی ایک انگریز رہتا تھا وہ مبتلا ہو گیا۔ حالانکہ یہ لوگ تو بڑے پرہیز کرنے والے ہوتے ہیں۔ نرا پرہیز کوئی چیز نہیں جب تک خداتعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو۔ پس آئندہ کے لئے یاد رکھو کہ حقوق اخوۃ کو ہرگز نہ چھوڑو، ورنہ حقوق اللہ بھی نہ رہیں گے۔ خداتعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ طاعون کا سلسلہ جو مرکز پنجاب ہو گیا کب تک جاری رہے۔ لیکن مجھے یہی بتایا گیا ہے:’’ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتّٰی یغیّروا ما بانفسہم‘‘اللہتعالیٰ کسی حالت قوم میں تبدیلی نہ کرے گا، جب تک لوگ دلوں میں تبدیلی نہ کریں گے۔ ان باتوں کو سن کر یوں تو ہر شخص جواب دینے کو تیار ہو جاتا ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں۔ استغفار بھی کرتے ہیں۔ پھر کیوں مصائب اور ابتلاء آ جاتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی باتوں کو جو سمجھ لے وہی سعید ہوتا ہے۔ اللہتعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہوتا ہے، سمجھا کچھ اور جاتا ہے اور پھر اپنی عقل اور عمل کے پیمانہ سے ناپا جاتا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں۔ ہرچیز جب

324

اپنے مقررہ وزن سے کم استعمال کی جائے تو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو اس میں رکھاگیا ہے۔ مثلاً ایک دوائی جو تولہ کھانی چاہئے، اگر ایک تولہ کی بجائے ایک بوند استعمال کی جائے تو اس سے کیا فائدہ ہو گا اور اگر روٹی کی بجائے کوئی ایک دانہ کھا لے تو کیا وہ سیری کا باعث ہو سکے گا اور پانی کے پیالہ کی بجائے ایک قطرہ سیراب کر سکے گا؟ ہرگز نہیں۔ یہی حال اعمال کا ہے جب تک وہ اپنے پیمانہ پر نہ ہوں وہ اوپر نہیں جاتے ہیں۔ یہ سنت اللہ ہے جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔ پس یہ بالکل خطاء ہے کہ اسی ایک امر کو پلے باندھ لو کہ طاعون والے سے پرہیز کریں تو طاعون نہ ہو گا۔ پرہیز کرو جہاں تک مناسب ہے۔ لیکن اس پرہیز سے باہمی اخوت اور ہمدردی نہ اٹھ جائے اور اس کے ساتھ ہی خدا سے سچا تعلق پیدا کرو۔

یاد رکھو کہ مردہ کی تجہیز وتکفین میں مدد دینا اور اپنے بھائی کی ہمدردی کرنا صدقات وخیرات کی طرح یہ بھی ایک قسم کی خیرات ہے اور یہ حق حق العباد ہے۔ جو فرض ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ نے صوم وصلوٰۃ اپنے لئے فرض کیا ہے۔ اسی طرح اس کو بھی فرض ٹھہرایا ہے کہ حقوق العباد کی حفاظت ہو۔ پس ہمارا کبھی یہ مطلب نہیں ہے کہ احتیاط کرتے کرتے اخوۃ ہی کو چھوڑ دیا جائے۔ ایک شخص مسلمان ہو پھر سلسلہ میں داخل ہو اور اس کو یوں چھوڑ دیا جائے، جیسے کتے کو یہ بڑی غلطی ہے جس زندگی میں اخوت اور ہمدردی ہی نہ ہو وہ کیا زندگی ہے۔ پس ایسے موقع پر یاد رکھو کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو ہمدری کے حقوق فوت نہ ہونے پائیں۔ ہاں! مناسب احتیاط بھی کرو۔ مثلاً ایک شخص طاعون زدہ کا لباس پہن لے یا اس کا پس خوردہ کھا لے تو اندیشہ ہے کہ وہ مبتلا ہو جائے لیکن ہمدری یہ نہیں بتاتی کہ تم ایسا کرو۔ احتیاط کی رعایت رکھ کر اس کی خبرگیری کرو اور پھر جو زیادہ وہم رکھتا ہو وہ غسل کر کے صاف کپڑے بدل لے جو شخص ہمدردی کو چھوڑتا ہے وہ دین کو چھوڑتا ہے۔ قرآن شریف فرماتا ہے: ’’من قتل نفساً بغیر نفس او فساد‘‘یعنی جو شخص کسی نفس کو بلاوجہ قتل کردیتا ہے وہ گویا ساری دنیا کو قتل کرتا ہے۔ ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی۔ زندگی سے اس قدر پیار نہ کرو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔ حقوق اخوت کو کبھی نہ چھوڑو۔ وہ لوگ بھی تو گزرے ہیں جو دین کے لئے شہید ہوئے ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات پر راضی ہے کہ وہ بیمار ہو اور کوئی اسے پانی تک نہ دینے جائے۔

325

خوفناک وہ بات ہوتی ہے جو تجربہ سے صحیح ثابت ہو۔ بعض ملا ایسے ہیں جنہوں نے صدہا طاعون سے مردے مردوں کو غسل دیا اور انہیں کچھ نہیں ہوا۔ آنحضرتﷺ نے اسی لئے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ وبائی ایام میں اتنا لحاظ کرے کہ ابتدائی حالت ہو تو وہاں سے نکل جائے۔ لیکن جب زورشور ہو تو مت بھاگے۔

حضرت یعقوبm نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کہ تم ابواب متفرقہ سے داخل ہونا۔ اس لحاظ سے کہ مبادا کوئی جاسوس سمجھ کر پکڑ نہ لے۔ احتیاط تو ہوئی، لیکن قضا وقدر کے معاملہ کو کوئی روک نہ سکا۔ وہ ابواب متفرقہ سے داخل ہوئے، لیکن پکڑے گئے۔ پس یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں۔ ایمان کو مضبوط کرو۔ قطع حقوق معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لئے نہیں ہے۔ ایسا پرہیز اور بعد جو ظاہر ہو وہ عقل اور انصاف کی رو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضر ثابت ہوئے ہیں۔ یہ جماعت جس کو خداتعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے، اگر اس کا بھی یہی حال ہو کہ ان میں اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہو گی۔ میں دوسرا پہلو نہ بیان کرتا، لیکن مجھے چونکہ سب سے ہمدردی ہے۔ اس لئے اسے بھی میں نے بیان کرنا ضروری سمجھا… بہرحال باہم ہمدردی ہو اور اب میں دعاء کرتا ہوں کہ اللہتعالیٰ ہماری جماعت سے اس طاعون کو اٹھا لے۔ آمین!

(بدر قادیان مؤرخہ ۴؍مئی ۱۹۰۵ء، ملفوظات ج۷ ص۳۴۹تا۳۵۳)

اس ساری تقریر میں دو تین ہی باتوں کا ذکر ہے، جس کو شیطان کی آنت سے بھی حسب عادت لمبا کیاگیا ہے:

۱…مرزائیوں میں طاعون ہے اور ضرور ہے۔

۲…یہ کہ طاعون متعدی مرض نہیں ہے۔

۳…طاعونی مردوں کی بے عزتی نہیں کرنی چاہئے ان کے دفن کفن میں شریک ہونا چاہئے۔

بہت خوب! ہمیں اس میں بحث نہیں۔ ہمارا مقصود ابھی آگے ہے۔ مگر اس مقصود سے پہلے ہم ایک لطیفہ بتلانا ضروری جانتے ہیں۔

اس تقریر میں یہ ذکر ہے کہ اس جماعت میں اگر اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہو گی۔ مگر دوسرے ایک موقع پر مرزاقادیانی خود ہی تسلیم کرتے ہیں کہ میرے مرید بدخلق ہیں۔ بدتہذیب، نامراد ہیں۔ ناپاک باطن وغیرہ ہیں۔

326

چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور للّٰہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن۱؎ ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔‘‘

(اشتہار التوائے جلسہ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۴۴۱، ملحقہ بہ ضمیمہ شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۳۹۵)

اس مرزائی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کی تشریف آوری سے اسلام کو کوئی ایسا بڑا فائدہ نہیں ہوا، جتنا کہ نقصان ہوا ہے۔ خیر یہ بھی سہی۔ اس سے بھی ہمارا مطلب نہیں بلکہ مطلب ہمارا آگے آتا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۰؍اپریل ۱۹۰۷ء کے الحکم میں ایک نیا سرکلر جاری کیا جو قابل غور ہے۔

آپ فرماتے ہیں: ’’یہ دن خداتعالیٰ کے غضب کے دن ہیں۔ اللہتعالیٰ نے کئی بار مجھے بذریعہ وحی فرمایا ہے کہ: ’’غضبت غضباً شدیداً‘‘آج کل طاعون بہت بڑھتا جاتا ہے اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ میں اپنی جماعت کے واسطے خداتعالیٰ سے بہت دعاء کرتا ہوں کہ وہ اس کو بچائے رکھے۔ مگر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جب قہر الٰہی نازل ہوتا ہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں اور پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہو گا، دیکھو حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان سب پر پڑا۲؎ اور ظاہر ہے کہ ہر ایک مرد،

۱؎مرزائیو! کیا تم ایسے ہی ہو؟ افسوس!

۲؎اس کا ثبوت کیا؟

327

عورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوح کا دعویٰ اور اس کے دلائل کیا ہیں۔ جہاد میں جو فتوحات ہوئیں وہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں، لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے۔ کافر جہنم کو گیا مسلمان شہید کہلایا۔ ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے کہ اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں۔ ہم خداتعالیٰ کے حضور دعاء میں مصروف ہیں کہ وہ ان میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے۱؎۔ لیکن جماعت کے آدمیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کچھ نہیں بنتا۔ جب تک کہ ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جائے۔ سب سے اوّل حقوق اللہ کو اداء کرو۔ اپنے نفس کو تمام جذبات سے پاک رکھو۔ اس کے بعد حقوق العباد کو اداء کرو اور اعمال صالحہ کو پورا کرو۔ خداتعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اور تضرع کے ساتھ خداتعالیٰ کے حضور میں دعاء کرتے رہو اور کوئی ایسا دن نہ ہو جس دن تم نے خدا تعالیٰ کے حضور رہ کر دعا نہ کی ہو۔ اس کے بعد اسباب ظاہری کی رعایت رکھو، جس مکان میں چوہے مرنے شروع ہوں، اس کو خالی کر دو اور جس محلے میں طاعون ہو اس محلہ سے نکل جاؤ اور کسی کھلے میدان میں جاکر ڈیرا لگاؤ، جو تم میں سے بتقدیر الٰہی طاعون میں مبتلاء ہو جائے اس کے ساتھ اور اس کے لواحقین کے ساتھ پوری ہمدردی کرو اور ہر طرح سے اس کی مدد کرو اور اس کے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھو۔ لیکن یاد رہے کہ ہمدری کے یہ معنی نہیں کہ اس کے زہریلے سانس یا کپڑوں سے متأثر ہو جاؤ، بلکہ اس اثر سے بچو۔ اسے کھلے مکان میں رکھو اور جو خدانخواستہ اس مرض سے مر جائے،وہ شہید ہے۔ اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں۲؎ اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو ایک سفید چادر اس پر ڈال دو اورچونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے، اس واسطے سب لوگ اس کے اردگرد جمع نہ ہوں۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں۔ باقی سب دورکھڑے ہو کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔ جنازہ ایک دعاء ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو، جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان

۱؎جب دونوں مرے تو تمیز کیسی؟

۲؎مرزائیو! کوئی آیت یا حدیث اس دعویٰ پر لا سکتے ہو؟

328

ہوسکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میت کو لاد کر لے جائیں اور میت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جائے۔ خدا کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔ اس بات کا خوف نہ کرو کہ ایسا کرنے سے لوگ تمہیں برا کہیں گے۔ وہ پہلے کب تمہیں اچھا کہتے ہیں۔ یہ سب باتیں شریعت کے مطابق ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ آخر کار وہ لوگ جو تم پر ہنسی کریں گے، خود بھی ان باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے۔ مکرراً یہ بہت تاکید ہے کہ جو مکان بہت تنگ اور تاریک ہو اور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آ سکے اس کو بلاتوقف چھوڑ دو۔ کیونکہ خود ایسا مکان ہی خطرناک ہوتا ہے۔ گو کوئی چوہا بھی اس میں نہ مرا ہو اور حتی الامکان مکانوں کی چھتوں پر رہو۔ نیچے کے مکان سے پرہیز کرو اور اپنے کپڑوں کو صفائی سے رکھو۔ نالیاں صاف کراتے رہو۔ سب سے مقدم یہ کہ اپنے دلوں کو بھی صاف کرو اور خدا کے ساتھ پوری صلح کر لو۔‘‘

(الحکم مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۹ ص۲۵۲، ۲۵۳)

ناظرین! خدارا اس مسیح کی حکمت عملیاں دیکھتے جائیں کہ پہلے سرکلر مندرجہ بدر ۴؍مئی ۱۹۰۵ء میں کیا ہدایتیں کرتا ہے اور کیسا برادرانہ سلوک سکھاتا ہے کہ میت کو ذلیل نہ کرو۔ پرہیز سے کیا ہوتا ہے۔ ایک ملّا (مردہ شو) سینکڑوں طاعونی مردوں کو غسل دیتا ہے۔ اس کو کچھ بھی ضرر نہیں ہوتا۔ قرآن مجید سے طاعون کا متعدی ہونا ثابت ہی نہیں بلکہ محض وہم ہے۔ وغیرہ! اس کو دوبارہ پڑھئے۔ مگر اس مضمون میںمیت کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے۔ تین چار آدمی چارپائی اٹھا کر چلیں بلکہ ہٹ کر دور رہیں بلکہ جنازہ بھی سوگز کے فاصلہ پر پڑھیں۔ واہ سبحان اللہ! (مرے مردود نہ فاتحہ نہ درود)

مرزائی دوستو!’’الیس فیکم رجل رشید‘‘کیا تم میں کوئی بھی سمجھ دار نہیں؟ ضرور ہو گا۔ جب بڑے میاں نے پہلی بات کہی تھی، اس وقت بھی تم لوگوں نے سبحان اللہ کہا تھا اور جب یہ دوسری بات فرمائی تو اس وقت بھی تم لوگوں نے ’’آمنا وصدقنا‘‘ کہا۔ اس لئے تمہارے حال پر سخت رحم آتا ہے کہ تم لوگوں نے بے سوچے سمجھے مرزاقادیانی کو اپنا امام بنا رکھا ہے، جسے اتنی بھی خبر نہیں کہ شریعت کے کیا اصول ہیں یا میں نے پہلے کیا کہا تھا اور اب کیا کہتا ہوں۔ سچ ہے ؎

  1. کیونکر مجھے باور ہو کہ ایفاء ہی کریں گے

    کیا وعدہ انہیں کر کے مکرنا نہیں آتا

329

ناظرین! اس منقولہ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ڈاکٹری طریق سے پرہیز کرو اور اسباب پر اعتماد کرو۔ ناظرین! بس اس خلاصہ کو ملحوظ رکھ کر اس بزرگ کا ایک اور قول سنو۔

آپ فرماتے ہیں: ’’اعلم ان الاسباب اصل عظیم للشرک الذی لایغفر وانہا اقرب ابواب الشرک واوسعہا للذی لا یحذروکم من قوم اہلکہم ہٰذا الشرک واردیٰ فصاروا کالطبعیین والدہریین‘‘

(مواہب الرحمن ص۵، خزائن ج۱۹ ص۲۲۳)

یعنی اسباب طبیعیہ کا پابند ہونا شرک کی بڑی جڑ ہے جو کبھی نہ بخشا جائے گا اور شرک کے سب دروازوں سے بہت قریب یہ دروازہ (اسباب طبیعیہ) کا ہے اور سب سے فراخ اور چوڑا اس شخص کے حق میں جو شرک سے بچتا نہیں، بہت سی قوموں کو اس شرک (یعنی اسباب کے استعمال اور بھروسہ) نے گمراہ کر دیا۔ پس وہ طبیعی یا دہریہ ہو گئے۔

مرزاقادیانی کے مریدو! مرزاقادیانی سے تم پوچھ سکتے ہو یا ہمیں اپنی طرف سے پوچھنے کی اجازت دے سکتے ہو کہ جب اسباب پر بھروسہ کرنے سے آدمی گمراہ اور مشرک ہو جاتا ہے تو آپ نے ۱۰؍اپریل کے اخبار الحکم (اور ملفوظات ج۹ ص۲۵۲، ۲۵۳) میں جو سرکلر دیا ہے کہ طاعونی مردے میں زہریلا اثر زیادہ ہوتا ہے اور یہ پرہیز جو آپ نے بتایا ہے اسباب کے لحاظ سے ہے یا کچھ اور۔ پھر آپ بھی اس کی پابندی سے مشرک ہوئے یا نہیں؟

مرزائیو! تمہاری وکالت میں ہم نے سوال تو کر دیا ہے، مگر جواب ملنے کی توقع نہیں۔ پس اب تم جانو اور تمہارا امام۔ ہم نے تو تم کو اس شرک کا ثبوت دینا تھا جو دے دیا۔ اب تم جانو اور وہ ؎

  1. مراد ما نصیحت بود و گفتیم

    حوالت باخدا کردیم ورفتیم

ناظرین! مرزاقادیانی جو خاکسار سے خفاء تھے کہ اس نے میرے سلسلہ کو ہلادیا۔ بہت نقصان پہنچایا۔ یہ کیا وہ کیا۔ اس کی وجہ آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہی معقول بحث ہے جو حوالہ جات صحیحہ پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ زبانی رام کہانی اور گالی گلوچ ؎

  1. کیا لطف کہ غیر پردہ کھولے

    جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے

(مرقع بابت جولائی ۱۹۰۷ء)

330

سرسیداحمد خاں اور مرزاقادیانی

  1. میرے محبوب کے دونوں نشاں ہیں

    کمر پتلی صراحی دار گردن

اس مضمون میں ہم ان دونوں نام آوروں کی پبلک زندگی کا مقابلہ کرنا چاہتےہیں۔ پبلک زندگی سے ہماری مراد فن تصنیف ہے، جس کی وجہ سے ان دونوں نام آوروں کو نام آوری نصیب ہوئی ہے۔ اسی فن میں ہم ان کا مقابلہ دکھائیں گے اور اس سے زیادہ یہ نہیں ہو گا کہ ان میں سے کسی ایک کے مذہبی خیالات کے ہم منکر یا مؤید ہوں، بلکہ صرف فن تصنیف میں مقابلہ منظور ہے۔ چنانچہ ہم پہلے فن تصنیف کی ایک مختصر سی تعریف کرتے ہیں۔

تصنیف: کے معنی ہیں واقعات صحیحہ کو جمع کر کے نتیجہ نکالنا۔ غلطی ہو جانا اور بات ہے مگر واقعات صحیحہ کا پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ پس اس تعریف کے مطابق ہم ان دونوں مصنفوں کا مقابلہ دکھاتے ہیں۔

کچھ شک نہیں کہ سرسید احمد خاں کے مذہبی خیالات کچھ بھی ہوں، مگر ان میں بڑا کمال تھا کہ واقعات کی تلاش میں بہت کوشش کرتے تھے۔ مخالف عبارت یا مخالف کے کلام کو نقل کی ضروری ہوتی تو پوری نقل کر کے کتاب اور صفحات کا حوالہ بھی دیتے۔ چنانچہ ان کی تصنیفات تفسیر، خطبات وغیرہ کے دیکھنے والوں پر یہ امر مخفی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرسید کی تصنیفات دیکھنے سے ان کا معتقد مخالف سے باقاعدہ مباحثہ کرنے پر قدرت پاسکتا ہے۔ مگر مرزاقادیانی ایسے نہیں بلکہ مخالف کے کلام کو جہاں نقل کرتے ہیں، ایسی طرح سے کرتے ہیں کہ نہ اس کا سر سالم رہتا ہے نہ پیر۔ اگر ہم اس دعویٰ کو یونہی بے حوالہ چھوڑ دیں تو ہم بھی مرزاقادیانی کی طرح ہوں گے۔ اس لئے ہم صحیح صحیح واقعات ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر مرزاقادیانی کے مدمقابل شروع سے آریہ سماجی رہے ہیں۔ ہمیشہ ان کو ان سے پالا رہا تو کیسا ضروری تھا کہ مرزا قادیانی ان کے متعلق جو کچھ لکھتے باقاعدہ لکھتے۔ مگر ناظرین دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ایسے بڑے مخالف کے سامنے بھی مرزاقادیانی دون کی لیتے ہیں۔

آریوں کی بابت آپ (شحنہ حق ص۳۵، خزائن ج۲ ص۳۷۱) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ان بیدوں نے بجز گالیوں اور بدزبانیوں کے اور کیا سکھلایا؟ جابجا اوّل سے آخر تک یہی شرتیاں ویدوں میں پائی جاتی ہیں کہ اے اندر ایسا کر کہ ہمارے سارے دشمن مر جائیں، ان کے بچے مر جائیں۔‘‘

331

دیکھئے! اتنا بڑا تو دعویٰ ہے، مگر ثبوت کہیں نہیں۔ نہ پوری عبارت نقل ہے نہ کسی کتب کا بحوالہ صفحہ پتہ ہے۔

کیا ایسی تحریر کو دیکھ کر کوئی شخص مخالف سے مناظرہ کر سکتا ہے۔ جب وہ حوالہ مانگے تو قادیان جا کر لائے۔ مگر وہاں سے لانا بھی چیل کے گھونسلے سے ماس لانے سے مشکل ہے۔ یہ تو ہوا ان کا برتاؤ مخالفین اسلام سے۔ اب سنئے کہ مخالفین ذات شریف سے کیا برتاؤ کرتے ہیں۔

مرزاقادیانی کے برخلاف مولوی غلام دستگیر مرحوم قصوری نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے: ’’فتح رحمانی‘‘ مولوی اسماعیل مرحوم علی گڑھی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے: ’’اعلاء الحق الصریح‘‘ قصوری مرحوم نے اپنی کتاب کے ص۲۷ پر گزشتہ زمانے کے ایک کاذب مہدی کی ہلاکت کا قصہ لکھا کہ محمد طاہر کی دعاء سے وہ ہلاک ہوا تھا۔ اس کے بعد یوں لکھا: ’’یا مالک الملک! جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحار الانوار کی دعاء اور سعی سے اس مہدیٔ کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا، ویسا ہی دعاء اور التجاء اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے (جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے) مرزاقادیانی اور اس کے حواریوں کو توبہ نصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا۔ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العالمین انک علی کل شیٔ قدیر وبالاجابۃ جدیر۔ آمین!‘‘

(ص۲۷)

دعاء کا مدعا صاف ہے کہ خداوند یا تو مرزاقادیانی کو توبہ کی توفیق دے یا ہلاک کر، مگر یہ دعویٰ مولوی صاحب قصوری نے اس میں نہیں کیا کہ میری زندگی ہی میں اس کو ہلاک کر نہ یہ کہا ہے کہ جو جھوٹا ہو وہ پہلے مر جائے، بلکہ مولوی صاحب کی دعاء کے الفاظ میں وہ وسعت ہے کہ جب کبھی بھی مرزاقادیانی بغیر توبہ کے مریں گے، ان کی دعاء قبول سمجھی جائے گی۔ چنانچہ پیغمبر خداa کی دعاء کا اثر مسیلمہ پر یہ ہوا تھا کہ آپa کے بعد مرا۔ مگر آخر کار چونکہ بے نیل مرام مرا۔ اس لئے دعاء کی صحت میں شک نہیں۔ پس مولوی صاحب قصوری کی دعاء کا مدعا یا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرزاقادیانی میری زندگی میں مریں یا یہ کہ جو ہم میں سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے اور مولوی صاحب علی گڑھی نے تو اتنا بھی نہیں کیا۔ اب سنئے مرزاقادیانی ان دونوں بزرگوں کی نسبت کیا لکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’مولوی غلام دستگیر

332

قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی محمد اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴)

اس عبارت کا مدعا مولوی صاحب قصوری کی عبارت سے بالکل الگ ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ جتنی عبارت پر ہم نے خط دیا ہے، اتنی عبارت پر مرزاقادیانی نے بھی خط دیا ہے۔ گویا اشارہ ہے کہ یہ عبارت زیرخط بعینہٖ وہی ہے جو مولوی صاحبان نے لکھی ہے۔ حالانکہ یہ اس سے بالکل اجنبی ہے۔ بہرحال جو کچھ ہے اس کا مطلب بھی ناظرین سمجھ لیں کہ اس محرفہ عبارت میں بھی یہ نہیں ہے کہ ہم (مولوی ومرزا) میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے گا۔ بلکہ وہ قطعی مرزاقادیانی کو کاذب قرار دے کر (بقول مرزاقادیانی) بددعاء کرتے ہیں۔ لیکن ناظرین کس قدر حیران ہوں گے کہ اس کتاب (اربعین نمبر۳ ص۱۱، خزائن ج۱۷ ص۳۹۷) پر پھر اس محرفہ عبارت میں یوں ترمیم کی گئی ہے۔

آپ لکھتے ہیں: ’’ان نادان ظالموں سے مولوی غلام دستگیر اچھا رہا کہ اس نے اپنے رسالہ میں کوئی میعاد نہیں لگائی۔ (یہ ہم بھی مانتے ہیں۔ مرزائیو! یاد رکھنا کہ کوئی میعاد نہیں لگائی۔ مرقع) یہی دعاء کی کہ یا الٰہی اگر میں مرزاغلام احمد قادیانی کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے اور اگر مرزاغلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں حق پر نہیں تو اسے مجھ سے پہلے موت دے۔ بعد اس کے بہت جلد خدا نے اس کو موت دے دی۔ دیکھو کیسا صفائی سے فیصلہ ہو گیا۔‘‘

اس عبارت میں کیسی صفائی کا ہاتھ دکھایا ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ’’اس نے دعاء ہی یہ کی تھی۔‘‘ حالانکہ اس کو اس دعاء کی خبر تک نہ ہو گی۔ بھلا ایسی دعاء وہ کیسے کر سکتا تھا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ آنحضرتﷺ باوجود سچے نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال کر گئے… مسیلمہ باوجود کاذب ہونے کے صادق سے پیچھے مرا۔ کیا کسی اہل علم کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ اس قسم کی دعاء کرے۔ مگر چونکہ دونوں مولوی صاحبان انتقال کر گئے۔ اس لئے مرزاقادیانی کو ایک موقع بات بنانے کامل گیا۔ بس انہوں نے جھٹ سے اپنے مریدوں کی عقلوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی بلکہ کر ہی لیا اور اپنے دل میں یقین کر لیا کہ کسی کو کیا ضرورت ہے۔ اتنی

333

تحقیقات کرے گا کہ اصل کتاب میں کیا ہے۔ مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ امرتسر سے مرقع نکلنے والا ہے اور سنئے ایک مقام پر آپ اسی عبارت کو یوں لکھتے ہیں: ’’غلام دستگیر کی کتاب دور نہیں مدت سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ دیکھو کس دلیری سے لکھتا ہے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔‘‘

(اشتہار انعامی پانچ سو مندرجہ تحفہ گولڑویہ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۴۶)

اس عبارت میں کس دلیری سے کام لیا ہے کہ مولوی غلام دستگیر کے لکھنے کا مفصول اس جملہ کو بناتے ہیں: ’’ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔‘‘

مرزائیو! خدارا ذرا انصاف کر کے ہم کو دکھا دو کہ مولوی غلام دستگیر نے یہ لکھا ہے کہ: ’’ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔‘‘

معاذ اللہ! استغفراللہ!! کیسی خیانت مجرمانہ ہے کہ مخالف کے کلام کو بگاڑ تگاڑ کر مسخ صورت بنا کر پیش کیا جائے۔ پھر اس خیانت مجرمانہ و معجزہ قرار دیا جائے۔ چہ خوش ؎

  1. ایں کرامت ولی ماچہ عجب

    گربہ شاشد و گفت باران شد

اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ مرزاقادیانی صاف صاف اور صحیح صحیح واقعات سے اپنی کامیابی نہیں جانتے۔ جب ہی تو ایسی خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ مخالف کی کتاب ہر ایک کے پاس تو ہو گی نہیں۔ پس جو کوئی ہماری تحریر دیکھے گا وہ لٹو ہو رہے گا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جتنے ہمارے مریدین ہیں خیریت سے ان کو اتنی توجہ ہی نہیں کہ کسی غیر کی سچی بات کو بھی سن سکیں۔ اس لئے اگر کوئی مخالف ان کو اصل عبارت دکھائے گا تو ان کو اثر نہیں ہو گا۔ چنانچہ ہم نے اس کا خوب تجربہ کیا ہے کہ عوام کالانعام تو کیا اچھے پڑھے لکھے مولوی صاحبوں اور بابوؤں سے کہا کہ مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ مولوی صاحبان کی تصنیفات سے دکھا دو۔ دونوں مرحوموں کی کتابیں ان کے سامنے رکھ دیں کتابوں کوادھر ادھر الٹ کر کچھ بڑبڑا کر چلتے بنے۔

لطیفہ: ایک روز میرے پاس دو مرزائی آئے اور مرزاقادیانی کی تعریفات میں رطب اللسان ہونے لگے۔ میں نے کہا خداتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’تنزّل علی کلّ افّاک اثیم‘‘یعنی جھوٹ بولنے والے الہام ربانی کے مخاطب نہیں ہوسکتے بلکہ شیطان کے ہوتے ہیں۔ اس آیت سے ایک عام اصول ملتا ہے کہ ملہم اگر جھوٹ بولتا ہے تو وہ ہرگز ملہم ربانی نہیں ہے۔ خواہ وہ کچھ ہی دکھائے۔ ہم دکھاتے ہیں کہ مرزاقادیانی جھوٹ بولتے ہیں۔

334

مرزاقادیانی نے (اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲) پر میری نسبت لکھا ہے: ’’مولوی ثناء اللہ دو دو آنہ کے لئے دربدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔‘‘

حالانکہ نہ میں نے کبھی کفن لیا نہ وعظ گوئی پر میرا گزارہ ہے۔ نہ وعظ گوئی میرا پیشہ۔ امرتسر اور پھر بیرون جات کے دوست دشمن شہادت دے سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں کسی مسجد کا امام بھی نہیں۔ پھر جو میری نسبت لکھا کہ دو پیسہ کے کفن اور دو آنے کے وعظ پر گزارہ کرتا ہے، جھوٹ نہیں تو کیا ہے؟ بتاؤ! مگر افسوس کہ میری تقریر ان پر یوں معلوم ہوتی تھی۔ گویا گرم لوہے پر پانی کا چھینٹا ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں۔ کیوں اس لئے کہ ان کا خیال ہے ؎

  1. پھرے زمانہ پھرے آسماں ہوا پھر جائے

    بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جائے

اب ہم ایک مثلا اس امر کی دیتے ہیں کہ مرزاقادیانی جس طرح مطلب برآری کے لئے مخالف کے کلام کو بگاڑ دیتے ہیں، آڑے وقت پر اپنے حق میں بھی اسی ہتھیار سے کام لیا کرتے ہیں۔ یعنی اپنے کلام کو بھی مروڑ تروڑ کر ٹیڑھا سیدھا کر دیتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ’’بازی بازی باریش بابا بازی‘‘ آپ نے پادری آتھم کی بابت لکھا تھا: ’’۱۵؍ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۲)

مگر باوجود اس تصریح اور تحدید پندرہ ماہ کے اس سیدھی تحریر پر بھی مرزاقادیانی نے اپنا دست شفقت یوں صاف کیا کہ اس کا مطلب یوں لکھتے ہیں: ’’میں نے ڈپٹی آتھم کے مباحثہ میں قریباً ساٹھ آدمیوں کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے گا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۱۱، خزائن ج۱۷ ص۳۹۷)

یہی عبارت کئی ایک جگہ لکھی ہے۔

مرزائیو! خدارا اتنا تو سوچو کہ اس عبارت میں مرزاقادیانی نے جو دعویٰ کیا ہے کہ ’’یہ کہا تھا‘‘ اس ’’کہا تھا‘‘ کا لفظ غور سے دیکھو۔ پھر اصل مقام پر الفاظ پڑھو۔ دہلی اور دیگر مقامات کے اہل زبان اور اردودان مرزائی دوستو! ان دونوں عبارتوں کا مقابلہ کر کے دیکھو اور ’’کہا تھا‘‘ کا مضمون سمجھ کر بتاؤ کہ کرشن جی نے یہی کہا تھا جو اس عبارت میں دعویٰ کیا ہے۔ خدارا اصل مقام کو جنگ مقدس ص۲۱۰ سے نکال کر سامنے رکھو اور اس عبارت کو بھی دیکھو۔ پھر

335

بتاؤ کہ جھوٹ کے سر سینگ ہوتے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اس مقابلہ میں تم سمجھ جاؤ گے ؎

جھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی کوئی ان سے سیکھ جائے

اور اگر تم ان دونوں مقاموں کا مطلب ایک ہی سمجھو تو ہمیں یقین نہیں کہ تم کچھ بھی سمجھ سکو۔ ’’فمال ہٰؤلآء القوم لا یکادون یفقہون حیدثاً‘‘

اب ہم تم سے ایک سوال کرتے ہیں کہ اگر آتھم والی پیش گوئی کا یہی مطلب تھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جائے گا اور اس کی میعاد پندرہ ماہ کوئی نہ تھی تو پندرہ ماہ کے ختم ہونے پر تم لوگوں پر حشر کیوں قائم ہوا تھا۔ کیوں سعدی لدھیانوی مرحوم نے مرزاقادیانی کو لکھا تھا کہ:

  1. غضب تھی تجھ پہ ستمگر چھٹی ستمبر کی

    نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی

کیوں مرزاقادیانی نے اس وقت یہ عذر نہ کیا کہ ابھی تو میں زندہ ہوں۔ پھر پیش گوئی کا کذب کیسے؟ کیوں نہ یہ کہا کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ میری زندگی میں مرے گا۔ جب تک میں زندہ ہوں پیش گوئی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ کیوں یہ عذر نہ کیا بلکہ یہ فرمایا تھا کہ آتھم دل سے رجوع کر گیا۔ جس کی تفسیر بھی خیریت سے یہ کی کہ دل میں ڈر گیا۔ پھر اس ڈرنے کے یہ معنی بتائے کہ امرتسر سے فیروزپور جا رہا۔ واہ سبحان اللہ! ’’کوہ کندن وکاہ برآوردن‘‘ اسے ہی کہتے ہیں۔

ان تمثیلات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرسید احمد خاں مذہبی اعتقادات کے لحاظ سے خواہ کچھ ہی ہوں، فن تصنیف میں وہ امانت دار اور دیانتدار تھے۔ بخلاف اس کے مرزاقادیانی مذہبی اعتقادات سے قطع نظر فن تصنیف میں بھی اعلیٰ درجہ کے خائن تھے۔

مخالف کے کلام کو صحیح نقل نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بوقت ضرورت اپنے کلام کو بھی بگاڑ دیتے تھے۔ ان کی غرض یہ نہیں ہوتی تھی کہ ناظرین کو صحیح صحیح واقعات سنائیں اور پہنچائیں بلکہ ان کی غرض صرف خود غرضی ہوتی تھی، سو جس طرح سے بن پڑے حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ناظرین! اس بحث میں نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی کی تحریر میں کوئی واقعہ دیکھیں تو جب تک تحقیق نہ ہو تصدیق کرنے کے قابل نہیں۔

مرزائیو! یہ نہ سمجھو کہ اس تحریر کا لکھنے والا کون ہے بلکہ یہ دیکھو کہ لکھا کیا ہے۔ پس ان واقعات کو غور سے دیکھو اور نتیجہ پاؤ ؎

  1. میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر

    بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

336

اس ساری تحریر کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ کہ جب مرزاقادیانی واقعات صحیحہ میں کذب بیانی کرتے تھے، تو ان کی نبوت اور رسالت کا کیا حکم ہے۔ یہ کہ ؎

  1. رسول قادیانی کی رسالت

    بطالت ہے بطالت ہے بطالت

(مرقع قادیانی ماہ اگست ۱۹۰۷ء)

مرزاقادیانی کے الہامات کی کیفیت

ہم کئی ایک دفعہ اس مشکل مسئلہ کو حل کر کے مرزاقادیانی کے مخالفین کا منہ بند کر چکے ہیں جو کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی کو الہام نہیں ہوتے۔ ہم مانتے ہیں کہ ہوتے ہیں مگر کس کیفیت سے؟ اس کیفیت سے کہ آپ کو جس بات کا خیال لگا رہتا ہے، اس کی نسبت جو ایک واہمہ گزرتا ہے، وہ الہام ہے۔ یہ اور بات ہے کہ دوسرے لوگ اس کو خیال خام یا بلی کو چھیچھڑوں کا خواب کہیں۔ مگر (لا مناقشۃ فی الاصطلاح) اصطلاح پر اعتراض نہیں۔ مرزاقادیانی کی اصطلاح میں یہی الہام ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال سنئے۔

قادیانی اخباروں نے ایک نئی بے پرکی اڑائی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’۴؍جولائی ۱۹۰۷ء کی صبح کو حضرت ام المؤمنین (زوجہ مرزا) بمعہ صاحبزادگان ودیگر اہل سنت واقارب وخدام اہل بیت حضرت مولوی نورالدین صاحب قریباً اٹھارہ کس بہمراہی حضرت میر ناصر نواب صاحب (خسر مرزا) پانچ چھ روز کے واسطے بغرض تبدیلی ہوا لاہور کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ اس قافلہ کی روانگی سے تین چار روز پہلے عاجز راقم (ایڈیٹر بدر) نے اسٹیشن ماسٹر بٹالہ کو ایک خط لکھا تھا کہ اس قافلہ کے واسطے ایک درمیانہ درجہ کی گاڑی کے چند خانے ریزرو کئے جائیں تاکہ ضرورت ہو تو الگ گاڑی منگوا لی جائے۔ وہ خط ایک خاص آدمی کے ہاتھ روانہ کیاگیا تھا اور اس میں تاریخ اور وقت سب لکھا گیا تھا۔ چنانچہ اس کے مطابق ۴؍جولائی کی صبح کو یہاں سے روانگی ہوئی۔ اسی روز بعد نماز عصر حضرت اقدس مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے مسجد مبارک میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خاص طور پر مخاطب کیا۔ جب کہ عاجز راقم بھی پاس ہی کھڑا تھا اور فرمایا کہ: ’’آج دو بجے دن کے مجھے خیال آیا کہ ہمارے گھر کے آدمی اب شاید امرتسر پہنچ گئے ہوں گے اور یہ بھی خیال تھا کہ امن امان سے لاہور پہنچ جائیں۔ تب اس خیال کے ساتھ ہی کچھ غنودگی ہوئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ

337

نخود کی دال (جو رنج اور ناخوشی پر دلالت کرتی ہے) میرے سامنے پڑی ہے اور اس میں کشمش کے دانے قریباً اسی قدر ہیں اور میں اس میں سے کشمش کے دانے کھا رہا ہوں اور میرے دل میں خیال گزر رہا ہے کہ یہ ان کی حالت کا نمونہ ہے اور دال سے مراد کچھ رنج اور ناخوشی ہے کہ سفر میں ان کو پیش آئی ہے یا آنے والی ہے۔ پھر اسی حالت میں میری طبیعت الہام الٰہی کی طرف منتقل ہو گئی اور اس بارے میں الہام ہوا ’’خیر لہم۔ خیر لہم‘‘ یعنی ان کے لئے بہتر ہے۔ ان کے لئے بہتر ہے۔ بعد اس کے اسی نظارہ خواب میں چند پیسے دیکھے کہ وہ غم اور تشویش پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ چنے کی دال بھی ایک ناگوار اور رنج کے امر پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ فقط!

یہ الہام اور خواب سنا کر حضرت اقدس (مرزاقادیانی) حسب معمول اندر تشریف لے گئے اور اس کے سننے میں اس وقت تمام جماعت جو نماز کے لئے آئی ہوئی تھی، شامل تھی۔ خلیفہ رشید الدین صاحب شیخ علی محمد صاحب سوداگر جموں وغیرہ بہت سے دوست تھے۔ حضرت اقدس کے اندر جانے کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب نے دوبارہ سہ بارہ اسی مسجد میں پھر یہ سب لوگوں کو اسی وقت سنایا۔ کیونکہ بعض لوگ جو دور تھے انہوں نے حضرت کی آواز اچھی طرح نہ سنی تھی۔ غرض اس الہام اور خواب کی جب اچھی طرح اشاعت ہو گئی تو قریب شام کے اپنا ایک آدمی جو سب قافلہ کو ریل پر سوار کر کے واپس آیا تھا، اس کی زبانی معلوم ہوا کہ عین دوپہر کی گرمی میں ریل کے اندر مسافروں کی کشاکش سے بچنے کے واسطے جو انتظام ریزرو کا کیاگیا تھا وہ نہ ہو سکا۔ کیونکہ لاہور سے کوئی الگ گاڑی اس مطلب کے واسطے نہ پہنچ سکی تھی اور اس سبب سے تشویش ہوئی۔ اس طرح خواب کا حصہ پورا ہوا۔ مگر پھر بھی بموجب بشارت الہام کے خیریت رہی اور معمولی گاڑی میں آرام سے بیٹھ کر چلے گئے۔

اس کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا کہ خواب اور الہام تو ایک طرح پورا ہو گیا ہے، مگر ایک خیال مجھے باقی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ چیزیں جو رنج اور ناخوشی پر دلالت کرتی ہیں، وہ دوبارہ دکھلائی گئی ہیں۔ یعنی اوّل چنے کی دال دکھلائی گئی اور پھر چند پیسے دکھلائے گئے۔ ایسا ہی الہام بھی دودفعہ ہوا کہ: ’’خیر لہم۔ خیر لہم‘‘ اس لئے دل میں ایک یہ خیال ہے کہ خدانخواستہ کوئی اور امر مکروہ پیش نہ آیا ہو، جس کے لئے دو دفعہ ایسی چیزیں

338

دکھلائی گئیں کہ علم تعبیر کی رو سے رنج اور تشویش پر دلالت کرتی ہیں اور ایسا ہی ان سے محفوظ رکھنے کے لئے دو دفعہ یہ الہام ہوا کہ:’’خیر لہم۔ خیر لہم‘‘ یہ میرا خیال ہے خداتعالیٰ ہر ایک رنج سے محفوظ رکھے۔ آمین!‘‘

(بدر قادیان ج۶ نمبر۲۸ ص۴، مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۰۷ء، تذکرہ ص۱۱۲، ۶۱۱ طبع چہارم)

اس ساری تقریر کو بغور پڑھنے سے مرزاقادیانی کی وحی کی حقیقت صاف کھل جاتی ہے کہ آپ ان خیالات کا نام الہام اور وحی تجویز فرماتے ہیں جو عموماً تفکر کے موقع پر ہر ایک انسان کو سوجھا کرتے ہیں۔ بس اب تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی مولوی عالم مرزاقادیانی کے ایسے الہامات کی تکذیب کرے۔ ہر کہ شک آرد… گردد!

مرزاقادیانی کی تحریروں میں اختلاف

نبوت کے متعلق: ۱… دیکھو (آسمانی فیصلہ ص۴، خزائن ج۴ ص۳۱۳) میں مرزاغلام احمد قادیانی تحریر کرتے ہیں: ’’میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘ اور پھر دیکھو (ازالہ اوہام ص۵۳۳، خزائن ج۳ ص۳۸۶) میں لکھتے ہیں: ’’خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اورنبی بھی۔‘‘

اے مرزائیو! اسلام سے خارج کون ہوا؟ خود بدولت ہیں یا کوئی اور؟

۲… دیکھو (ازالہ اوہام ص۱۷۸، خزائن ج۳ ص۱۸۵) میں تحریر کرتے ہیں: ’’من نیستم رسول ونیاودردہ ام کتاب‘‘

اور پھر دیکھو (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱) میں لکھتے ہیں: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

۳… دیکھو (ازالہ اوہام ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱) میں تحریر کرتے ہیں:

’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل، بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔‘‘

اور پھر دیکھو (اخبار الحکم ج۵ نمبر۸ ص۹، کالم ۲،مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۰۱ء) میں لکھتے ہیں:

’’خدائے رحیم وقدوس نے مجھے وحی کی کہانی انا الرحمن دافع الاذٰی‘‘

339

اور پھر وحی ہوئی: ’’انی لا یخاف لدی المرسلون‘‘

(تذکرہ ص۳۳۱، طبع ۴)

اے مرزائیو! اب نیا سلسلہ وحی کا کون جاری کر رہا ہے۔ خود بدولت یا کوئی اور؟

۴… اور دیکھو (آسمانی فیصلہ ص۱۵، خزائن ج۴ ص۳۳۵) میں مرزاغلام احمد قادیانی تحریر کرتے ہیں: ’’اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النّبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔‘‘

اور دیکھو (دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵) میں وہی مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

’’خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اس کی عبارت یہ ہے: ’’ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم انہ اوٰی القریۃ‘‘یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا، جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کر لیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں۔‘‘

مرزائیو! تم ہی ایمان سے کہو کہ اپنے قول کے خلاف خاتم النّبیینa کے بعد وحی اور نبوت کا نیا سلسلہ کون جاری کر رہا ہے اور خدا سے کون بے خوف ہو رہا ہے؟

کشتی نوح میں مرزاغلام احمد قادیانی کے چار جھوٹ

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵) میں مرزاقادیانی تحریر کرتے ہیں:

’’اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی بلکہ حضرت مسیحm نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

اسی صفحہ کے حاشیہ پر (خزائن ج۱۹ ص۵) میں لکھتے ہیں:

’’مسیح موعود کے وقت طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے۔‘‘

(ذکریا باب۱۴، آیت۱۲، انجیل متی باب۲۴ آیت۸، مکاشفات ج۸ ص۲۲)

پہلا جھوٹ: قرآن شریف میں یہ کسی جگہ نہیں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ اگر کوئی مرزائی قرآن شریف میں سے دکھا دے تو مرزاقادیانی کا کہنا سچا ورنہ کہنا چاہئے: ’’لعنت اللہ علی الکاذبین‘‘

340

دوسرا جھوٹ: کتاب ذکر یا نبی کے باب۱۴ آیت۱۲ میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ اس میں تو ان لوگوں پر مری پڑنے کا ذکر ہے جو یروشلم پر چڑھ آئیں گے۔ ہوہٰذا!

’’اور وہ مری کہ جس سے خداوند ساری قوموںکو جو لڑنے کو یروشلم پر چڑھ آویں مارے گا۔ سو یہ ان کا گوشت جس وقت وے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، فنا ہو جائے گا۔‘‘

(زکریا باب ۱۴، آیت۱۲)

ڈبل جھوٹ: انجیل متی باب۲۴ آیت۸ میں یہ نہیں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ اس کے برعکس اس میں لکھا ہے کہ جب جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئیں گے تب مری پڑے گی اور بھونچال آویں گے۔ دیکھو غور سے دیکھو انجیل متی باب۲۴ آیت۳

’’جب وہ زیتون کے پہاڑوں پر بیٹھا تھا اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آئے اور بولے کہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور دنیا کے آخر کا نشان کیا ہے۔ (۴) اور یسوع نے جواب دے کے انہیں کہا خبردار ہوؤ کہ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ (۵)کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آویں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔ (۶)اور پھر تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار گھبراؤ مت۔ کیونکہ ان سب باتوں کا واقع ہونا ضروری ہے پر اب تک آخر نہی ہے۔ (۷)کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھیں گے اور کال اور وبائیں اور جگہ جگہ زلزلے ہوں گے۔ (۸)پھر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ متی باب۲۴، آیت۲۳ تب اگر کوئی کہے دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔ (۲۴)کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اورکرامتیں دکھاویں گے۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔ (۲۵)دیکھو میں تمہیں پہلے سے کہہ چکا ہوں۔ (۲۶)پس اگر وے تمہیں کہیں دیکھو وہ جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے تو مت باور کرو۔ (۲۷)کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندہتی اور پچھم تک چمکتی ہے ویسے ہی انسان کے بیٹے کا آنا ہوگا۔‘‘

اے مرزائیو! ایمان سے کہو کہ انجیل متی میں طاعون اور زلزلوں کا ہونا مسیح موعود صادق کی علامت ہے یا مسیح کاذب کی؟

341

چوتھا جھوٹ: مکاشفات یوحنا باب۲۲ آیت۸ میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ دیکھو باب۲۲، آیت۸

’’اور مجھ یوحنا نے ان چیزوں کو دیکھا اور سنا اور جب میں نے دیکھا اور سنا تھا تب اس فرشتے کے پاؤں پر جس نے مجھے یہ چیزیں دکھائیں سجدہ کرنے کو گرا۔‘‘

اے مرزائیو! تم ہی خدا سے ڈر کر سچ ہی کہو کہ طاعون اور زلزلے مسیح موعود کی علامات ہیں یا مسیح کاذب کی؟ کیا تم میں سے کوئی حق کا طالب یا راست گویا صاحب تحقیق بھی ہے یا سب اندھوں کی طرح ہیں کہ جو کچھ مرزاقادیانی نے لکھ دیا یا جو کہہ دیا ہے وہی سچ ہے۔

افسوس ہے ایسے شخصوں کی عقل اور حالت پر جو حق اور باطل میں دیدہ دانستہ تمیز نہیں کرتے اور افسوس ہے ایسے لوگوں کی دلیری پر جو دیدۂ دانستہ لوگوں کو دھوکہ میں ڈالنے کے لئے جھوٹ تحریر کریں۔ جیسے کہ مرزاقادیانی نے کشتی نوح میں لکھ دیا کہ قرآن شریف میں اور زکریا نبی کی کتاب ۱۴/۱۲ میں اور انجیل متی ۲۴/۸ میں اور مکاشفات یوحنا ۲۲/۸ میں لکھا ہے کہ مسیح کے وقت میں طاعون پڑے گی۔ حالانکہ کسی میں ایسا نہیں لکھا بلکہ انجیل متی میں تو یہ صاف لکھا ہوا ہے کہ جب جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے تب طاعون پڑے گی اور زلزلے آویں گے۔ پس بشہادت انجیل متی صاف صاف آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے دعاوی باطلہ کے باعث طاعون پڑی اور زلزلے آئے ہیں ؎

ہمارا کام کہہ دینا ہے یارو

اب آگے چاہو تم مانو نہ مانو

’’چیستان مرزاقادیان‘‘ اور اس کے حل کرنے پر مرزاقادیانی کو

پانچ سو روپیہ انعام

آج ہم یہ مضمون انعامی ۱؎ ’’چیستان مرزا‘‘ لکھتے ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی کو ایک مہینے کی مہلت دیتے ہیں۔ پس ہمارے مرزائی دوست جو مدتوں سے ہم پر خفاء ہیں، اس ’’چیستان مرزا‘‘ کو حل کرا کر ہم سے اپنی کشیدگی کا نعم البدل (مبلغ پانچ سو روپیہ ) پائیں۔

۱؎یہ مضمون ماہ دسمبر ۱۹۰۷ء کے مرقع میں نکلا تھا۔

342

پس اب غور سے سنتے جائیں ؎

لو جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی

مرزاقادیانی ازالہ اوہام میں علامات مسیح کے شمار میں لکھتے ہیں:

’’ازاں جملہ ایک یہ کہ ضرور تھا کہ آنے والا ابن مریم الف ششم (یعنی چھ ہزار) کے آخر میں پیدا ہوتا۔ کیونکہ ظلمت عامہ اور تامہ کے عام طور پر پھیلنے کی وجہ سے اور حقیقت انسانیہ پر ایک فناء طاری ہونے کے باعث سے وہ روحانی طور پر ابوالبشر یعنی آدم کی صورت پر پیدا ہونے والا ہے اور بڑے علامات اور نشان اس کے وقت ظہور کے انجیل اور فرقان میں یہ لکھے ہیں کہ اس سے پہلے عالم کون میں روحانی طور پر ایک فساد پیدا ہو جائے گا۔ آسمان نور کی جگہ دخان لے لے گا اور ایک عالم پردخان کی تاریکی چھا جائے گی۔ ستارے گر جائیں گے، زمین پر ایک سخت زلزلہ آ جائے گا۔ مرد جو حقیقت کے طالب ہوتے ہیں، تھوڑے رہ جائیں گے اور دنیا میں کثرت سے عورتیں پھیل جائیں گی۔ یعنی سفلی لذات کے طالب بہت ہو جائیں گے جو سفلی خزائن اور دفائن کو زمین سے باہر نکالیں گے۔ مگر آسمانی خزائن سے بے بہرہ ہو جائیں گے۔ تب وہ آدم جس کا دوسرا نام ابن مریم بھی ہے، بغیر وسیلہ ہاتھوں کے پیدا کیا جائے گا۔ اسی کی طرف وہ الہام اشارہ کرتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہوچکا ہے اور وہ یہ ہے۔’’اردت ان استخلف فخلقت ادم‘‘یعنی میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ آدم اور ابن مریم درحقیقت ایک ہی مفہوم پر مشتمل ہے۔ صرف اس قدر فرق ہے کہ آدم کا لفظ قحط الرجال کے زمانہ پر ایک دلالت تامہ رکھتا ہے اور ابن مریم کا لفظ دلالت ناقصہ۔ مگر دونوں لفظوں کے استعمال سے حضرت باری کا مدعا اور مراد ایک ہی ہے۔ اسی کی طرف اس الہام کا بھی اشارہ ہے جو براہین میں درج ہے اور وہ یہ ہے:’’ان السموات والارض کانتا رتقا ففتقنہما کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف‘‘یعنی زمین وآسمان بند تھے اور حقائق ومعارف پوشیدہ ہو گئے تھے۔ سو ہم نے ان کو اس شخص کے بھیجنے سے کھول دیا۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا سو میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔ اب جب کہ اس تمام تقریر سے ظاہر ہوا کہ ضرور ہے کہ اخر الخلفاء آدم کے نام پر آتا اور ظاہر ہے کہ آدم کے ظہور کا وقت روز ششم کے قریب عصر ہے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ اور

343

توریت سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے ہر ایک منصف کو ماننا پڑے گا کہ وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۹۳تا۶۹۵، خزائن ج۳ ص۴۷۴، ۴۷۵)

اس عبارت کا خلاصہ دو حرفہ ہے کہ مرزاقادیانی دنیا کی عمر کے چھٹے ہزار کے خاتمہ کے قریب آنے کے مدعی ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ دنیا کی عمر کے بابت مرزاقادیانی نے کیا لکھا ہے۔ شکر ہے کہ اس بات کا جواب مرزاقادیانی کے ازالہ ہی سے ملتا ہے۔

آپ فرماتے ہیں: ’’میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن کریم کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔ مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرتﷺ کے زمانہ بعثت تک مدت گزری تھی، وہ تمام مدت سورۃ العصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے۔ یعنی چار ہزار سات سو چالیس(۴۷۴۰)۔ اب بتاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کریم کا اعجاز نمایاں ہے کس تفسیر میں لکھے ہیں۔‘‘ (سبحان اللہ جل جلالہ)

(ازالہ اوہام ص۳۱۱تا۳۱۳، خزائن ج۳ ص۲۵۸، ۲۵۹)

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ کی بعثت کے وقت دنیا کی عمر (بقول مرزاقادیانی) چار ہزار سات سو چالیس سال تھی۔ بہت خوب! اچھا چالیس میں تیرہ (۱۳) سال اقامت مکہ کے ملائے جائیں جو قبل از ہجرت تھے تو چار ہزار سات سو تریپن(۴۷۵۳) سال ہوئے۔ چھ ہزار پورے کرنے کے لئے ان میں بارہ سو پینتالیس سال ملانے کی ضرورت ہے۔ پس سنہ بارہ سو پینتالیس ہجری کو دنیا کی عمر (بقول مرزاقادیانی) چھ ہزار پوری ہو گئی۔ جس کو آج ۱۳۲۵ھ میں اٹھہتر سال ہوئے۔ بہت خوب!

آئیے! اب ہم اس مرھلے کو بھی طے کریں کہ مرزقادیانی کس سنہ میں مامور یا رسول ہو کر تشریف لائے ہیں۔ آپ اپنے ازالہ میں خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہیں۔

فرماتے ہیں: ’’لطیفہ: چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الایات بعد الماتین ہے، ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر

344

رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو (۱۳۰۰) ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا مرزا قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ بعض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے آدم کے سن پیدائش کی طرف توجہ کی تو مجھے اشارہ کیاگیا کہ ان اعداد پر نظر ڈالو جو سورۂ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہی میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵، ۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۸۹، ۱۹۰)

اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی ۱۳۰۰ھ خاتمہ پر تشریف لاویں تو صاف ثابت ہوا کہ آپ چھٹے ہزار کو جو بارہ سو پینتالیس ہجری میں پورا ہو چکا تھا، ختم کر کے ساتویں ہزار کے شروع سے تریپن سال بعد آئے ہیں۔ بہت خوب! چنانچہ یہی مضمون کھلے لفظوں میں آپ کو تسلیم ہے۔ آپ رسالہ ’’دافع البلاء‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’طاعون جو ملک میں پھیل رہی ہے کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک ہی سبب سے ہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا ہے جو تمام نبیوں کی پیش گوئی کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوئے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۲، خزائن ج۱۸ ص۲۳۲)

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے صاف صاف اور کھلے لفظوں میں تسلیم بلکہ تبلیغ کیا ہے کہ میں ساتویں ہزار میں آیا ہوں۔ حالانکہ آپ کو ۱۱۰۰ھ میں آنا چاہئے تھا۔ کیونکہ عصر کے بعد بھی تو دن کا کچھ حصہ ہوتا ہے جو سارے دن کے پانچویں حصے سے کسی طرح کم نہیں ہوتا۔ سارا دن جب ایک ہزار سال کا ہوا تو پانچواں حصہ دو سوسال کا ہو گا۔ پس آپ کو ۱۱۰۰ھ کے نصف میں آنا چاہئے تھا۔ مگر آپ بہت لیٹ ہو کر پورے ۱۳۰۰ھ کے خاتمہ پر تشریف لائے۔ یہاں تک کہ ٹرین بھی چلی گئی۔ یہی لیٹ آپ کی عدم صداقت کی دلیل ہے۔

لطیفہ: مرزاقادیانی کی چالاکی اور ہوشیاری کی تو ہم داد دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے ؎

  1. ترا دیدہ و یوسف را شنیدہ

    شنیدہ کے بود مانند دیدہ

آپ نے دیکھا کہ صرف غلام احمد کے اعداد(۱۱۲۴) ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت کم ہیں۔ اس لئے جھٹ سے اپنے نام میں اپنے قصبہ کی نسبت کو بھی داخل کر کے پورا نام غلام احمد قادیانی بنایا۔ پھر کس لطافت سے لکھتے ہیں کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام

345

احمد قادیانی کسی کا نام نہیں۔ واہ! سبحان اللہ!! ایسا سچ الہام کہ نام میں مقامی نسبت کو بھی داخل کر کے کھچڑی بنایا گیا ہے، ایسے الہام کو کون جھوٹا کہے۔ مگر تو بھی لوگ ایسے کے ویسے ہیں کہ ایسے الہام پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ سچ ہے ؎

  1. ایں کرامت ولی ماچہ عجب

    گربہ شاشید و گفت باراں شد

چیستان مرزا نمبر۲ … آدم ثانی

ہمارے مرزاقادیانی کو جو باریک باریک نکات سوجھتے تھے، شاید ہی کسی کو سوجھتے ہوں گے۔ ماشاء اللہ! آپ کی ذہانت اس مشہور ذہین سے بھی بڑی ہوئی ہے جس نے تیلی کا کوہلو دیکھ کر بہت غوروفکر کے بعد یہ نتیجہ نکالا تھا کہ یہ آسمانی لوگوں کی سرمہ دانی ہے۔ واہ سبحان اللہ! یہ کیا کمال تھا۔ ہمارے مرزاقادیانی میں اس سے بھی زیادہ کمالات ہیں۔ آپ خیر سے کل انبیاءؑ کے ہم نام اور ہم رتبہ ہیں، بلکہ کل انبیاء کے اوصاف کمال کے جامع۔

چنانچہ آپ کے خلیفہ راشد حکیم نورالدین صاحب لکھتے ہیں: ’’میں نے اس مضمون کو قبل از عشاء حضرت امام ہمام خلیفۃ اللہ مسیح موعود کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے فرمایا ان اعتراضوں کی اصل ہے معجزات وخوارق کا انکار۔ یہ لوگ اسی ایک مد میں ان تمام ہزاروں معجزات کو شامل کرتے ہیں، جو ہمارے نبی کریمa سے ظہور میں آئے اور یہ لوگ اور ان کے دل ودماغ کے نیچری بھی بدقسمتی سے اسی قسم کے اعتراضوں یا وسوسوں میں مبتلا ہیں اور جہاں کسی معجزہ کا ذکر ہوا اسے ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑا دیا۔ اس وقت مناسب یہ ہے کہ ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب بڑی قوت اور تحدی سے دیا جائے کہ جس قدر معجزات اور خوارق انبیاءؑ کے اور ہمارے نبی کریمa کے قرآن کریم میں مذکورہیں۔ ان سب کے صدق اور حقیقت کے ثابت کرنے کے لئے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اسے وہ تمام طاقتیں کامل طور پر خداتعالیٰ کی طرف سے عطاء ہوئی ہیں جو انبیاءؑ کو ملی تھیں جو عجائبات خدائے تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور موسیٰn کے ہاتھ پر منکروں کو دکھائے وہی عجائبات زندہ اور قادر خدا آج اس کے ہاتھوں پر دکھانے کو موجود اور تیار ہے۔ کوئی ہے جو آزمائش کے لئے قدم اٹھائے۔‘‘

(نورالدین ص۱۲۰)

حضرت عیسیٰ سے تو آپ کو مشابہت کا دیرینہ دعویٰ ہے۔ مگر ناظرین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ آپ باوا آدم بھی ہیں۔ یعنی آپ کا نام ملاء اعلیٰ میں آدم ثانی بھی ہے۔

346

چنانچہ آپ نے اپنا آدم ثانی ہونا بڑے شدومد سے ثابت کیا ہے۔ غور سے سنئے۔

آپ فرماتے ہیں: ’’سو یہ زمانہ جو آخرالزمان ہے اس زمانہ میں خداتعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدمm کے قدم پر پیدا کیا جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا۔ جیسا کہ مندرجہ بالا الہامات سے ظاہر ہے اور پہلے آدم کی طرح خدا نے اس آدم کو بھی زمین کے حقیقی انسانوں سے خالی ہونے کے وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں جلالی اور جمالی سے پیدا کر کے اس میں اپنی روح پھونکی۔ کیونکہ دنیا میں کوئی روحانی انسان موجود نہ تھا جس سے یہ آدم روحانی تولد پاتا۔ اس لئے خدا نے خود روحانی باپ بن کر اس آدم کو پیدا کیا اور ظاہری پیدائش کی رو سے اسی طرح نر اور مادہ پیدا کیا جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا۔ یعنی اس نے مجھے بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا پیدا کیا۔ جیسا کہ الہام: ’’یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ میں اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے اور بعض گزشتہ اکابر نے خداتعالیٰ سے الہام پاکر یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ وہ انتہائی آدم جو مہدی کامل اور خاتم ولایت عامہ ہے، اپنی جسمانی خلقت کی رو سے جوڑا پیدا ہو گا۔ یعنی آدم صفی اللہ کی طرح مذکر اور مؤنث کی صورت پر پیدا ہو گا اور خاتم اولاد ہو گا۔ کیونکہ آدم نوع انسان میں سے پہلا مولود تھا۔ سو ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بکمال وتمام دورہ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔اب یاد رہے کہ اس بندۂ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیش گوئی کے مطابق بھی ہوئی۔ یعنی میں ’’توام‘‘ (جوڑہ) پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام کہ: ’’یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ۴۹۶ میں درج ہے، اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی۔ غرض چونکہ خداتعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس قانون قدرت کے مطابق جو مراتب وجود دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے، مجھے آدم کی خو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیاگیا ہے۔ چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گزرے منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت آدمm کی پیدائش زوج کے طور پر تھی۔ یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی اور اسی طرح

347

تھا اور ظاہری مناسبت آدم سے اس کی یہ ہو گی کہ وہ بھی زوج کی صورت پر پیدا ہو گا۔ یعنی مذکر اور مؤنث دونوں پیدا ہوں گے۔ جس طرح آدم کی پیدائش تھی کہ ان کے ساتھ ایک مؤنث بھی پیدا ہوئی تھی، یعنی حضرت حواp اور خدا نے جیسا کہ ابتداء میں جوڑا پیدا کیا۔ مجھے بھی اس لئے جوڑا پیدا کیا کہ تااوّلیت کو آخریت کے ساتھ مناسبت تام پیدا ہو جائے۔ یعنی چونکہ ہر ایک وجود سلسلہ بروزات میں دورہ کرتا رہتا ہے اور آخری بروز اس کا بہ نسبت درمیانی بروزات کے اتم اور اکمل ہوتا ہے۔ اس لئے حکمت الٰہیہ نے تقاضا کیا کہ وہ شخص کہ جو آدم صفی اللہ کا آخری بروز ہے، وہ اس کے واقعات سے اشد مناسبت پیدا کرے۔ سو آدم کا ذاتی واقعہ یہ ہے کہ خدا نے آدم کے ساتھ حوا کو بھی پیدا کیا۔ سو یہی واقعہ بروز اتم کے مقام میں آخری آدم کو پیش آیا کہ اس کے ساتھ بھی ایک لڑکی پیدا کی گئی اور اسی آخری آدم کا نام عیسیٰ بھی رکھا گیا۔ تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ حضرت عیسیٰ کو بھی آدم صفی اللہ کے ساتھ ایک مشابہت تھی لیکن آخری آدم جو بروزی طور پر عیسیٰ بھی ہے۔ آدم صفی اللہ سے اشد مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ آدم صفی اللہ کے لئے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا، وہ تمام مراتب بروزی وجود کے طے کر کے آخری آدم پیدا ہوا ہے اور اس میں اتم اور اکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ۵۰۵ میں میری نسبت ایک یہ خداتعالیٰ کا کلام اور الہام ہے کہ: ’’خلق اٰدم فاکرمہ‘‘ یعنی خدا نے آخری آدم کو پیدا کر کے پہلے آدموں پر ایک وجہ سے اس کو فضیلت بخشی۔ اس الہام اور کلام الٰہی کے یہی معنی ہیں کہ گو آدم صفی اللہ کے لئے کئی بروزات تھے، جن میں سے حضرت عیسیٰؑ بھی تھے۔ لیکن یہ آخری بروز اکمل اور اتم ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۶، ۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷تا۴۸۱)

348

یہ ایسی پرزور دلیل ہے کہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ مگر افسوس ہے مخالفت نے مخالفوں کے دانت ایسے تیز کر رکھے ہیںکہ ایسی صاف اور شستہ تقریر پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت آدم اور حوا ’’توام‘‘ (جوڑے) پیدا ہوئے تھے۔ یہ دعویٰ محض بے ثبوت ہی نہیں بلکہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے۔ قرآن شریف میں صاف مذکور ہے:’’خلق منہا زوجہا‘‘ (خدا نے آدم کی بیوی اس میں سے یا اس کی جنس سے پیدا کی) ان دونوں توجیہوں کو تو الفاظ قرآنی برداشت کر سکتے ہیں۔ مگر آپ نے جو فرمایا ہے کہ آدم اور حوا ’’توام‘‘ (جوڑے) پیدا ہوئے تھے، یہ محض گپ ہے۔ (مرزائیو! کیا کہتے ہو؟)

اس ضمن میں مرزاقادیانی نے حضرت شیخ اکبر ابن العربیv کا قول بھی نقل کیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’اس پیش گوئی کو شیخ محی الدین ابن العربی نے فصوص الحکم میں فص شیث میں لکھا ہے اور دراصل یہ پیش گوئی فص آدم میں رکھنے کے لائق تھی۔ مگر انہوں نے شیث کو ’’الولد سر لا بیہ‘‘ کا مصداق سمجھ کر اسی فص میں اس کو لکھ دیا ہے۔ ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ شیخ کی اصل عبارت نقل کر دیں اور وہ یہ ہے:وعلی قدم شیث یکون اٰخر مولود یولد من ہٰذا لنوع الانسانی وہو حامل اسرارہٖ ولیس بعدہ ولد فی ہٰذا النوع فہو خاتم الاولاد وتولد معہ اخت لہ فتخرج قبلہ ویخرج بعدہا یکون راسہ عند رجلیہا ویکون مولدہ بالصّین ولغتہ لغت بلدہٖ ویسری العقم فی الرجال والنساء فیکثر النکاح من غیر ولادۃ ویدعوہم الی اللہ فلا یجاب‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۸، خزائن ج۱۵ ص۴۸۲)

مناسب ہے کہ اس عربی عبارت کا ترجمہ پہلے ہم ناظرین کو سنا لیں تاکہ مرزاقادیانی کی غلط بیانی ان کو بخوبی ذہن نشین ہو سکے۔ ترجمہ یہ ہے: ’’حضرت شیث کے طریق پر سب سے آخر نوع انسانی کا ایک بچہ پیدا ہو گا اور وہ اس کے اسرار کو لئے ہوئے ہو گا اور اس سے بعد نوع انسانی میں کوئی بچہ پیدا نہ ہو گا۔ پس وہ نوع انسانی کے لئے خاتم الاولاد ہو گا۔ اس کے ساتھ اس کی ایک ہمشیرہ پیدا ہو گی جو اس سے پہلے نکلے گی اور وہ اس سے بعد نکلے گا۔ اس لڑکے کا سر اپنی ہمشیرہ کی دونوں ٹانگوں میں ہو گا اور اس بچے کی ولادت چین میں ہو گی اور اس بچے کی زبان یعنی گفتگو اسی (چینی) زبان میں ہو گی۔ اس بچے کے بعد مردوں

349

اور عورتوں میں عقم یعنی بے اولادی عام ہو جائے گی۔ نکاح تو زیادہ ہوں گے مگر بغیر اولاد کے۔ وہ بچہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے گا۔ مگر اس کی سنی نہ جائے گی۔ (یعنی کوئی شخص اس کی ہدایت پر عمل نہ کرے گا)‘‘

اس کلام کا مطلب صاف ہے کہ قریب قیامت کے نوع انسان میں ایک بچہ چین کے ملک میں پیدا ہو گا جو بڑا ہوکر چینی زبان میں چینیوں کو وعظ کرے گا۔ اس سے بعد کوئی بچہ پیدا نہ ہو گا اور اس کے بعد آہستہ آہستہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اب غور سے سنئے کرشن قادیانی اس کو اپنے پر کس طرح لگاتے ہیں۔

فرماتے ہیں: ’’یعنی کامل انسانوں میں سے آخری کامل ایک لڑکا ہو گا جو اصل مولد اس کا چین ہو گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم مغل اور ترک میں سے ہو گا اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہو گا نہ عرب میں سے اور اس کو وہ علوم واسرار دئیے جائیں گے جو شیث کو دئیے گئے تھے اور اس کے بعد کوئی اور ولد نہ ہو گا اور وہ خاتم الاولاد ہو گا۔ یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہو گا اور اس فقرہ کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہو گا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہو گی جو اس سے پہلے نکلے گی اور وہ اس کے بعد نکلے گا۔ اس کا سر اس دختر کے پیروں سے ملا ہو گا۔ یعنی دختر معمولی طریق سے پیدا ہو گی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اس کے پیروں کے بعد بلاتوقف اس پسر کا سر نکلے گا۔ (جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی اسی ظہور میں آئی) اور پھر بقیہ ترجمہ شیخ کی عبارت کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں مردوں اور عورتوں میں بانجھ کا عارضہ سرایت کرے گا۔ نکاح بہت ہو گا یعنی لوگ مباشرت سے نہیں رکیں گے مگر کوئی صالح بندہ نہیں ہو گا اور وہ زمانہ کے لوگوں کو خدا کی طرف بلائے گا مگر وہ قبول نہیں۱؎ کریں گے اور اس عبارت کے شارح نے جو کچھ اس کی شرح میں لکھا ہے وہ یہ ہے: پہلا مولود جو آدم کو بخشا گیا وہ شیث ہے اور ایک لڑکی بھی تھی جو شیث کے ساتھ بعد اس کے پیدا ہوئی۔ پس خدا نے چاہا کہ وہ نسبت جو اوّل اور آخر میں ہوتی ہے وہ نوع انسان میں متحقق کرے اس لئے اس نے ابتاء سے مقدر کر رکھا تھا کہ طرز ولادت پسر آخری پسر اوّل سے مشابہت رکھے۔ پس پسر آخر جو خاتم الخلفاء تھا اور بموجب اس پیش

۱؎آپ کے تو (بقول آپ کے) لاکھوں مرید ہیں۔ پھر یہ پیش گوئی آپ پر کیسے صادق آ سکتی ہے؟

350

گوئی کے جو شیخ نے اپنی کتاب عنقاء مغرب میں لکھی ہے وہ خاتم الخلفاء اور خاتم الاولیاء عجم میں سے پیدا ہونے والا تھا، نہ عرب سے اور وہ حضرت شیث کے علوم کا حامل تھا اور پیش گوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی یعنی پیداہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہو جائیں گے۱؎۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام ۲؎۔ پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۸، ۱۵۹، خزائن ج۱۵ ص۴۸۲، ۴۸۳)

مرزائیو! ایمان سے کہنا عربی عبارت سامنے رکھ کر اپنے پیر کے کمالات کو سمجھ کر کہنا۔ کیا عربی عبارت کا یہی مطلب ہے جو کرشن جی کہتے ہیں؟ بھلا اتنا تو بتلاؤ کہ یعنی دریعنی لگانے کا کرشن جی کو کیا حق ہے۔ کیا تم ایمان سے کہہ سکتے ہو کہ: ’’یکون مولدہ بالصین‘‘کے مطابق مرزاقادیانی پر یہ عبارت چسپاں ہوسکتی ہے؟ پھر اس طرفہ پر طرّہ یہ ہے کہ آپ حقیقت الوحی میں اسی عبارت کو ایسا صاف محرف کرتے ہیں کہ یہودیوں کے بھی کان کتر ڈالتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’شیخ محی الدین ابن العربی نے بھی اپنی کتاب فصوص میں لکھا ہے کہ وہ صینی الاصل ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹)

اس کمال جرأت کو دیکھئے کہ جس عبارت کو آپ ہی نقل کرتے ہیں، اسی کو دوسرے مقام پر ایسا بگاڑتے ہیں کہ بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے ؎

  1. کیونکر مجھے باور ہو کہ ایفاء ہی کرو گے

    کیا وعدہ تمہیں کر کے مکرنا نہیں آتا

لطیفہ: ناظرین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ مرزاقادیانی اس جگہ تو حضرت بن العربی کا قول سند لاتے ہیں، مگر تقریر وحدۃ الوجود میں انہی ابن العربی اور ان کے مذہب کی نسبت وہ بے نقط سنائی ہیں کہ الامان مگر یہاں ان کے قول کو (اور وہ بھی محرف کر کے) سنداً پیش کیا ہے۔ کیا سچ ہے ؎

  1. اس نقش پا کے سجدہ نے یاں تک کیا ذلیل

    میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل چلا

۱؎اصل کتاب میں اسی طرح ہے۔

۲؎اگر یہ پیش گوئی آپ کے حق میں ہے تو مرزائی وحشی ہیں۔ کیونکہ آپ کے بعد کوئی صالح بندہ پیدا نہ ہونا چاہئے۔ مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو؟ (مصنف)

351

ہم نے جناب مسیح موعود کو کیا دیکھ کر قبول کیا

اس عنوان سے ایک طویل مضمون قادیانی اخبار الحکم ۱۰؍جنوری ۱۹۰۸ء میں نکلا ہے جو کئی ایک نمبروں میں ختم ہوا ہے۔ اس مضمون کا لکھنے والا ایسا طول نویس ہے کہ ہم جس مضمون پر اس کے دستخط دیکھ پاتے ہیں، اس کو نہیں پڑھتے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو یہی مرزاقادیانی کا پکا مرید ہے جس طرح مرزاقادیانی طول نویسی میں مشاق ہیں۔ یہ راقم بھی کم نہیں بلکہ ان سے بھی کسی قدر زائد۔ مگر ایک دوست کی فرمائش سے ہم نے بادل نخواستہ اس مضمون کو پڑھا اور جواب کی طرف توجہ کی۔ سنئے:

سارے مضمون کا خلاصہ دو فقروں میں ہے جو خود راقم ہی کے الفاظ میں نقل کر دیتے ہیں۔ راقم مضمون لکھتا ہے: ’’اس میں شک نہیں کہ مرزاقادیانی کے دعویٰ کا دارومدار آ کر آخر کار اسی مرکز پر ٹھہرتا ہے کہ یہ تمام اسلام کی صداقت کا زندہ ثبوت ہے اور کہ اسلام میں یہ طاقت موجود ہے کہ اس کی پیروی کرنے سے اس کا ایک سچا پیرو وحی والہام سے مشرف کیا جاسکتا ہے۔ پس کیوں نہ ہم اس پہلو کو اختیار کریں جو اصل الاصول اور نتیجہ خیز پہلو ہے۔‘‘

(الحکم مؤرخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۸ء ص۷ کالم۲)

راقم مضمون کی یہ تقریر دو حصوں پر منقسم ہے۔ ایک تو یہ کہ اسلام میں یہ برکت ہے۔ بہت خوب ہمیں اس سے تو بحث نہیں۔ دوسرا حصہ جو آپ کی اصل مراد ہے یہ ہے کہ مرزاقادیانی اس کا زندہ نمونہ ہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی خود بھی ہمیشہ اسلام کا نمونہ اپنے وجود بے جود ہی کو پیش کیا کرتے ہیں۔

(تریاق القلوب ص۵۴، خزائن ج۱۵ ص۲۴۹)

پس اس دوسرے حصہ پر ہماری بحث ہو گی۔ یعنی اس امر پر کہ مرزاقادیانی واقعی مورد الہام ووحی ہیں۔ لیکن اس بحث سے پہلے ہم ناظرین کو ایک خوشخبری سناتے ہیں کہ مرزائی جنگ کا صحیح نقشہ جو ہم نے آج سے سالہا سال پہلے پبلک میں پیش کیا تھا، جس کو اس وقت مرزائیوں نے غلط سمجھا تھا۔ راقم مضمون نے اسی کو صحیح سمجھا ہے۔ وہ نقشہ ہم نے رسالہ الہامات مرزا میں لکھ دیا تھا کہ مرزائی مباحث میں زور صرف اس بات پر ہونا چاہئے کہ مرزاقادیانی کے الہامات صحیح ہیں یا غلط۔ اس کا نتیجہ بھی یہی بتلایا تھا کہ اگر مرزاقادیانی اپنے الہامات میں سچے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مقرب خدا ہیں۔ پھر جو کچھ وہ

352

فرمائیں یا کسی آیت کی تفسیر کریں گے وہی صحیح ہو گی اور اگر وہ اپنے الہامات میں کاذب ہیں تو گو بعض فرعی مسائل میں وہ حق بجانب ہوں یا ان کا پہلو قوی ہو تو بھی وہ مسیح موعود یا مہدی مسعود نہیں ہوسکتے۔ الحمدﷲ! کہ ہمارا پیش کردہ نقشہ آج مرزائی کیمپ میں بھی منظور ہو گیا، جس پر ہم خوشی میں اگر یہ شعر پڑھیں تو بجا ہے ؎

  1. آئے سو بار التجاء کر کے

    کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

الحمدﷲ! کہ موضوع بحث کا تو مقرر ہو گیا۔ اس لئے سڑک صاف ہے۔ پس اب ہم ناظرین کو خوشخبری سناتے ہیں کہ اس موضوع میں ہمارا ایک زبردست رسالہ ہے جس کا نام ہے ’’الہامات مرزا‘‘ اس رسالہ میں مرزاقادیانی کے الہامات کا وہ مدلل خاکہ اڑایا ہے کہ آج تک نہ مرزا سے نہ کسی مرزائی سے اس کا جواب بن پڑا۔ اس جگہ ہم بطور نمونہ مرزاقادیانی کے الہامات کا نقشہ بتلاتے ہیں۔ غور سے سنئے۔

مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں یوں تو بقول ان کے سینکڑوں تک پہنچتی ہیں۔ مگر وہ عموماً اسی قسم کی ہیں جو گزشتہ ایام میں اخبار جامع العلوم مراد آباد کے شوخ مزاج ایڈیٹر نے ایک پنڈت جی کی نسبت کی تھیں کہ صبح اٹھتے ہی پنڈت جی کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو گی۔ پنڈت جی کھانا کھائیں گے تو سیدھا ان کے معدہ میں اتر جائے گا۔ غرض مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں بھی بہت سی اسی قسم کی ہیں۔ مگر چند ایسی بھی ہیں کہ ان کو مرزاقادیانی خود بھی اپنے لئے مدار صدق وکذب جانتے اور بتلاتے ہیں۔ بہتر ہے کہ ان پیش گوئیوں کی فہرست مرزاقادیانی ہی کے الفاظ میں بتلا دیں۔

مرزاقادیانی رسالہ ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں عبداللہ آتھم، پنڈت لیکھ رام، مرزااحمد بیگ اور اس کے داماد کی نسبت پیش گوئیوں کا ذکر کر کے لکھتے ہیں: ’’یہ تینوں پیش گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے، بہت ہی عظیم الشان ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۸۱، خزائن ج۶ ص۳۷۶)

اس تحریر میں مرزاقادیانی نے مرزااحمد بیگ اور ان کے داماد والی پیش گوئی کو مسلمانوں سے بتلایا ہے۔ گوہمارا حق ہے کہ ہم سب پیش گوئیوں کی جانچ کریں لیکن چونکہ

353

مرزاقادیانی نے اس تقریر میں صرف ایک ہی پیش گوئی کو ہمارے حصہ میں دیا ہے۔ اس لئے ہم بھی سردست اسی ایک کو بطور نمونہ جانتے ہیں۔

شکر ہے کہ مرزاقادیانی نے اس پیش گوئی کو واضح لفظوں میں بیان کیا ہوا ہے۔ آپ رسالہ ’’کرامات الصادقین‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’قال انہا۱؎ ستجعل ثیبۃ ویموت بعلہا وابوہا الی ثلاث سنۃ من یوم النکاح ثم نردھا الیک بعد موتہما ولا یکون احدہما من العاصمین‘‘

(اخیر صفحہ سرورق کرامات الصادقین، خزائن ج۷ ص۱۶۲)

’’یعنی خدا نے کہا ہے کہ وہ عورت یعنی مرزااحمد بیگ کی لڑکی (جس کے نکاح میں آنے کے مرزاقادیانی کو الہام ہوتے تھے اور وہ دوسری جگہ بیاہی گئی تھی) بیوہ ہو جائے گی۔ اس کا خاوند اور اس کا باپ روز نکاح سے تین سال کے اندر اندر مر جائیں گے۔ پھر ہم (خدا) اس کو تیرے (مرزاقادیانی کے) پاس (نکاح میں) لے آئیں گے اوران دونوں میں سے اس کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔‘‘

اس تحریر میں مرزاقادیانی نے احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت یوں نکاح سے تین سال تک بتلائی ہے۔ اب ہم کو یہ دکھانا ہے کہ اس پیش گوئی کی آخری تاریخ کیا ہے۔ شکر بلکہ صد شکر ہے کہ مرزاقادیانی نے ہمیں اس امر کی تحقیق کرنے سے بھی سبکدوش کر دیا۔ آپ رسالہ شہادۃ القرآن میں لکھتے ہیں:

’’مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے، جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ۲۱؍ستمبر ۱۸۹۳ء ہے، قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۸۰، خزائن ج۶ ص۳۷۵)

یہ عبارت بآواز بلند پکار رہی ہے کہ احمد بیگ کا داماد (طال عمرہ) ۲۱؍اگست ۱۸۹۴ء کو دنیا میں نہ رہنا چاہئے تھا۔ مگر ناظرین کس حیرت سے سنیں گے کہ باوجودیکہ میعاد کو ختم ہوئے آج ۲۱؍اپریل ۱۹۰۸ء۲؎ کو تیرہ سال سات ماہ مدت گزر چکے ہیں مگر وہ جوان (طال بقاہ) آج تک زندہ سلامت ہے۔ جس کی زیست کی خبریں سن کر مرزاقادیانی اندر ہی اندر کڑھتے ہیں۔

۱؎یہ عبارت اسی طرح ہے ہم اس کی صحت کے ذمہ دار نہیں۔ (مصنف)

۲؎آج (مارچ ۱۹۱۷ء) کو ۲۱سال ہو گئے ابھی زندہ ہے۔

354

ناظرین! یہ ہے مرزاقادیانی کی وحی اورالہام کا نمونہ جو آپ حضرات نے دیکھ لیا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ راقم مضمون مرزقادیانی کی بگڑی ہوئی وحی کو کیونکر سوارتا ہے۔ لیکن وہ یاد رکھے ؎

  1. تروح۱؎ الی العطار تبغی شبابہا

    ولن یصلح العطار ما افسد الدہر

ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ کوئی پیش گوئی مرزاقادیانی نے ایسی نہیں کی جو پیش از وقت صاف بتلائی ہو۔ پھر اس کا وقوعہ بھی اسی طرح ہوا ہو اور جن کا وقوعہ بتلایا جاتا ہے وہ ایسی گول مول ہیں کہ موم کی ناک سے بھی زیادہ نرم ہیں۔ ہم اس امر کے ثابت کرنے کے لئے بفضلہ تعالیٰ کافی مصالحہ رکھتے ہیں۔ اچھا ہوا کہ نامہ نگار مذکور نے یہ پہلو خود ہی اختیار کیا ؎

  1. شیشۂ مے کی طرح اے ساقی

    چھیڑیو مت کہ بھرے بیٹھے ہیں

مرزاقادیانی اپنے منہ سے کافر

آج کل مرزاقادیانی کے کافر ہونے نہ ہونے پر بہت کچھ موشگافیاں ہو رہی ہیں۔ مگر ہم آج جس طریق سے مرزاقادیانی کا کافر ہونا ثابت کریں گے وہ سب سے آسان تر ہے اور لطف یہ ہے کہ مرزاقادیانی کا اپنا اقرار ہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’ماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

یعنی یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جا ملوں۔

مرزاقادیانی کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ دعویٰ نبوت اسلام سے خارج ہونے اور کافر ہونے کاموجب ہے۔ اب سنئے کہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا یا نہیں۔ پرانے حوالے تو سب لوگوں کو معلوم ہیں کہ کس کس آن بان سے اظہار نبوت ہوتا تھا۔ مگر آج ایک نیا حوالہ سب سے واضح تر بتلا کر مرزائیوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کیوں ایسے شخص کے پیچھے پڑے ہو جو بقول خود کافر ہے۔ مرزائیو! نیچے کا حوالہ بغور سنو۔

۱؎ ایک بڑھیا عورت وسمہ لینے کو جا رہی تھی کہ سر کے بالوں کو سیاہ کرے ایک شوخ طبع شاعر نے اسے دیکھ کر یہ شعر پڑھا کہ عطار کے پاس جوانی کا سازوسامان لینے چلی ہے۔ بھلا جو زمانے کے اثر سے خراب ہو چکا ہے، اسے عطار کیا سنوارے گا۔ یہ شعر مرزاقادیانی اور اس کے ماننے والوں کے حق میں بہت موزوں ہے۔

355

مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں… بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔‘‘

(بدر قادیان مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

مطلب یہ کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں حضرت ہارون، زکریا، یحییٰ وغیرہمo کی طرح نبی ہوں۔ بہت خوب ؎

  1. یار ما امسال دعویٰ رسالت کردہ است

    سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن

مرزائیو! دیانتداری سے ان دونوں کلاموں کو ملا کر نتیجہ نکالو۔ تم میں سے جو ذرا منطق جانتے ہوں ان کی آسانی کے لئے ہم یہاں صغریٰ کبریٰ بنا کر نتیجہ بتلاتے ہیں۔ سنو!

مرزاقادیانی نے دعویٰ نبوت کیا۔ (صغریٰ)

اور بقول مرزاقادیانی دعویٰ نبوت کرنے والا کافر ہے۔ (کبریٰ)

نتیجہ تم خود ہی سوچ لو کہ کون کافر ہے ؎

  1. الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

    لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

(مرقع اپریل ۱۹۰۸ء)

مرزاقادیانی کا مجھ سے ایک سوال اور میری طرف سے اس کا جواب

قابل توجہ مرزاقادیانی اور مریدان مرزا قادیانی ؎

  1. میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر

    بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

میرے عنایت فرما مرزاقادیانی نے اپنی تازہ تصنیف حقیقت الوحی میں مجھ سے ایک سوال کیا ہے جو واقعی قابل قدر ہے۔ گو مرزاقادیانی تو ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا کرتے۔ مگر ہم کیوں نہ دیں۔ پس میں پہلے مرزاقادیانی کے سوال کا انہی کے الفاظ میں نقل کرتا ہوں۔ مگر اس سوال کی وجہ مرزاقادیانی کو یہ پیش آئی ہے کہ ۸؍فروری ۱۹۰۸ء کے اخبار اہل حدیث میں لکھا گیا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب امام مرزا کی نسبت مرزاقادیانی کی کئی ایک الہام صحت یاب ہو جانے کے بعد ہوئے تھے تاہم وہ مر گیا۔ اس پر مرزاقادیانی نے میری نسبت غصہ ظاہر کیا ہے۔

آپ فرماتے ہیں: ’’یاد رہے کہ میرے نشانوں کو سن کر مولوی ثناء اللہ صاحب کی عادت ہے کہ ابوجہلی مادہ کے جوش سے انکار کے لئے کچے حیلے پیش کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ اس

356

جگہ بھی انہوں نے یہی عادت دکھلائی اور محض افتراء کے طور پر اپنے پرچہ اہل حدیث۸؍فروری ۱۹۰۷ء میں میری نسبت یہ لکھ دیا ہے کہ مولوی عبدالکریم کے صحت یاب ہونے کی نسبت جو ان کو الہام ہوا تھا کہ وہ ضرور صحت یاب ہو جائے گا، مگر آخر وہ فوت ہو گیا۔ اس افتراء کا ہم کیا جواب دیں۔ بجز اس کے کہ ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیں بتلائیں کہ اگر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے صحت یاب ہونے کی نسبت الہام مذکورہ بالا ہوچکا ہے تو پھر یہ الہامات مندرجہ ذیل جو پرچہ اخبار الحکم اور بدر میں شائع ہو چکے ہیں کس کی نسبت تھے؟ یعنی کفن میں لپیٹا گیا۔ ۴۷سال کی عمر۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘اس نے اچھا ہونا ہی نہیں تھا۔ ’’ان المنایا لا تطیش سہامہا‘‘ یعنی موتوں کے تیر ٹل نہیں سکتے۔

واضح ہو کہ یہ سب الہام مولوی عبدالکریم صاحب کی نسبت تھے۔ ہاں! ایک خواب میں ان کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور تعبیر کی کتابوں کو دیکھ لو۔ خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے۔ یہ ہے حال ان مولویوں کا جو بڑے دیانت دار کہلاتے ہیں۔ جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔ ایسے جھوٹ کو خدا نے رجس کے ساتھ مشابہت دی ہے، مگر یہ لوگ رجس سے پرہیز نہیں کرتے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۳۶، ۳۷، خزائن ج۲۲ ص۴۵۸، ۴۵۹)

جواب: ؎

  1. آئے صد بار التجاء کر کے

    کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

شکر صد شکر ہے کہ مرزاقادیانی بھی اس اصول میں ہمارے ساتھ متفق ہوئے ہیں کہ جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔ پس اب ہمیں واقعات صحیحہ سے یہ بتلانا ہے کہ جھوٹ کون بولتا ہے۔ ہمارے مرزائی دوست ہم کو صحیح صحیح واقعات پیش کرنے میں معذور سمجھیں اور یہ جانیں کہ اگر ہم ان واقعات کو پیش نہ کریں گے تو وہ کسی طرح مٹ نہ جائیں گے۔ پس وہ ٹھنڈے دل سے ان واقعات کو سنیں اور سچ جھوٹ کو بڑی متانت سے جانچیں۔ میں جانتا ہوں کہ انسان فطرۃً مجبور ہے کہ محبوب کے عیوب دیکھنے اور سننے کے وقت اس کی آنکھ اور کان بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر وہ نہ سنیں گے تو ان کے مخالف تو ضرور سنیں گے۔ پھر کسی موقع پر اچانک ان کے سامنے اگر وہ واقعات پیش ہو گئے تو

357

کیا جواب دیں گے۔ اس لئے ذرہ انصاف اور حوصلہ سے سنیں۔ ہم سے جہاں تک ہو سکا ہے اس مضمون میں مرزائیوں کی دل شکنی کابہت لحاظ رکھا ہے حتی المقدور ان الفاظ سے جن کے ہم مرزاقادیانی کو مستحق جانتے ہیں کام نہیں لیا تاکہ ہمارے مرزائی دوستوں کو اصل مضمون سمجھنے میں مانع نہ ہوں۔ بہرحال بغور سنئے:

عبارت مرقومہ بالا میں مرزاقادیانی نے ایک تو اس سے انکار کیا ہے کہ مولوی عبدالکریم کی بابت کوئی الہام صحت یابی کا نہیں ہوا تھا۔ دوم کفن، ۴۷سال اور منایا والے الہامات سب مولوی عبدالکریم کے حق میں تھے۔ بس ان دو تنقیحی امور کا تردیدی ثبوت ہمارے ذمہ ہے۔ ناظرین رسالہ خصوصاً مرزائی دوست بغور سنیں۔

مولوی عبدالکریم کی علالت کی خبر پہلے پہل الحکم ۳۱؍اگست ۱۹۰۵ء میں نکلی تھی، جس میں بہت بڑی تمہید کے بعد مرزاقادیانی کے چند ایک الہامات درج تھے۔ جو یہ ہیں: ’’۳۰؍اگست ۱۹۰۵ء۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی گردن کے نیچے پشت پر ایک پھوڑا ہے جس کو چیرا دیا گیا ہے۔ (مرزاقادیانی نے) فرمایا میں نے ان کے واسطے رات دعاء کی تھی۔ رؤیا (خواب) میں دیکھا کہ مولوی نورالدین ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے ہیں اور رو رہے ہیں۔ فرمایا ہمارا تجربہ ہے کہ خواب کے اندر رونا اچھا ہوتا ہے اور میری رائے میں طبیب کا رونا مولوی صاحب کی صحت کی بشارت ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۴۷۲، ۴۷۳طبع چہارم، الحکم ج۹ نمبر۳۱، ص۱۰، ۳۱؍اگست ۱۹۰۵ء)

گو یہی ایک الہام معہ الہامی تفسیر کے ہمارے دعوے کے اثبات کے لئے کافی ہے۔ مگر ہم اسی پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اور بھی بہت کچھ پیش کرتے ہیں۔ ذرا غور سے سنئے۔ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء کے الحکم میں ۷؍ستمبر کا واقعہ لکھا ہے: ’’(مرزاقادیانی نے) فرمایا اللہتعالیٰ کے نشان اس طرح کے ہوتے ہیں کہ ان میں قدرت اور غیب ملا ہوا ہوتا ہے اور انسان کی طاقت نہیں ہوتی کہ ان کو ظاہر کر سکے۔ فرمایا مولوی صاحب کی زیادہ علالت کے وقت میں بہت دعاء کرتا تھا اور بعض نقشے میرے سامنے ایسے آئے جن سے ناامیدی ظاہر ہوتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا موت کا وقت ہے اور ظاہر طب کی رو سے بھی معاملہ خوفناک تھا۔ کیونکہ ذیابیطس والے کو سرطان ہو جائے تو پھر بچنا مشکل ہوتا ہے۔ اس دعاء میں، میں نے بہت تکلیف اٹھائی۔ یہاں تک کہ اللہتعالیٰ نے بشارت نازل کی اور عبداللہ سنوری والا خواب میں نے دیکھا جس سے نہایت درجہ غم ناک دل کو تشفی ہوئی جو گزشتہ اخبار میں چھپ چکا ہے۔‘‘

( ملفوظات ج۸ ص۷)

358

۹؍ستمبر کا واقعہ اس سے بھی واضح تر ہے۔ ایڈیٹر الحکم لکھتا ہے: ’’حضرت اقدس حسب معمول تشریف لے آئے اور ایک رؤیا (خواب) بیان کی جو بڑی ہی مبارک اور مبشر رؤیا ہے جس کو میں نے اس مضمون کے آخر میں درج کر دیا ہے۔ فرماتے تھے کہ آج تک جس قدر الہامات اور مبشرات ہوئے تھے ان میں نام نہ تھا۔ لیکن آج تو اللہتعالیٰ نے خود مولوی عبدالکریم صاحب کو دکھا کر صاف طور پر بشارت دی ہے۔ اس رؤیا (خواب) کو سن کر جب ڈاکٹر صاحب پٹی کھولنے گئے ہیں تو خدا کی عجب قدرت کا مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ سارے زخم پر انگور آ گیا ہے۔ ’’والحمد ﷲ علٰی ذالک‘‘ غرض اس وقت تک زخم کی حالت اچھی ہے اور مولوی صاحب روبصحت ہیں۔ ضعف اور نقاہت ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کئی دن سے کھایا کچھ نہیں۔ تھوڑی سی یخنی یا دودھ پیتے ہیں۔ بہرحال رب کریم کے حضور سے بہت بڑی امیدیں ہیں کہ وہ اپنے بندے کو ضائع نہ کرے گا۔ جماعت کا فرض ہے کہ وہ مولوی صاحب کے لئے خاص طور پر دعائیں کرے۔‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۳۲، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء ص۲ کالم۴)

مرزائی دوستو! اس حوالہ کو دیکھ کر بھی تم لوگ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے اعلیٰ حضرت کس قدر راست گو ہیں۔ واللہ! سچ کہتا ہوں کہ خاکسار کو مرزاقادیانی پر اتنا رحم نہیں آتا جتنا تم لوگوں کے حال پر رحم بلکہ افسوس ہوتا ہے کہ تم لوگ بے خبری میں ایسے گڑھے میں گرے ہو کہ اس سے باہر نکلنا تمہارا مشکل ہے۔ ان حضرت کی شان کو تو میں اس سے ارفع جانتا ہوں کہ ان کی نسبت میں کاذب یا کذاب کا لفظ لکھوں۔ مرزاقادیانی کے مباحثات کی بنیاد اب کسی منقول یا معقول پر مبنی نہیں رہی بلکہ واقعات کی تحقیق پر ہے، جس میں ہر ایک عالم اور جاہل حصہ لے سکتا ہے۔

اور سنئے! ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۵ء کے الحکم میں لکھا ہے: ’’مرزاقادیانی نے ۱۹؍ستمبر ۱۹۰۵ء کو رؤیا (خواب) دیکھا کہ مرزاغلام قادر صاحب میرے بڑے بھائی نہایت سفید لباس پہنے ہوئے میرے ساتھ جا رہے ہیں اور کچھ باتیں کرتے ہیں۔ ایک شخص ان کی باتیں سن کر کہتا ہے کہ یہ کیسی فصیح بلیغ گفتگو کرتے ہیں۔ گویا پہلے سے حفظ کر کے آئے ہیں۔ فقط! فرمایا: ہمارا تجربہ ہے کہ جب کبھی ہم اپنے بھائی صاحب کو خواب میں دیکھتے ہیں تو اس سے مراد کسی مشکل کام کا حل ہونا ہوتاہے۔ آج کل چونکہ مولوی عبدالکریم صاحب کے واسطے بہت دعاء کی جاتی ہے۔ اس واسطے امید ہے کہ اللہتعالیٰ ان کو شفاء دے گا۔ غلام قادر سے خدائے قادر کی قدرت کی طرف اشارہ ہے۔‘‘

(ج۹ نمبر۳۳ ص۱ کالم۳، تذکرہ ص۴۸۰، طبع چہارم)

359

پھر صفحہ نمبر۲ پر لکھا ہے: ’’شیخ نوراحمد صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مسجد میں کھڑے ہیں اور وعظ کرتے ہیں اور یہ آیت پڑھتے ہیں: ’’اولئک علی ہدی من ربہم واولئک ہم المفلحون‘‘ فرمایا اس سے بظاہر مولوی صاحب کی صحت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم!‘‘

(ملفوظات ج۸ ص۱۳،۱۴)

پھر کالم نمبر۴ پر اس سے بھی زیادہ وضاحت کی گئی ہے۔ لکھا ہے: ’’۲۱؍ستمبر کو اعلیٰ حضرت (مرزاقادیانی) حضرت مولوی (عبدالکریم) صاحب کے لئے بہت دعاء کرتے رہے۔ اس پر الہام ہوا: ’’طلع البدر علینا، من ثنیۃ الوداع‘‘ (یعنی ہم پر بدر چڑھا جس کا صاف مطلب ہے کہ مولوی عبدالکریم صحت یاب ہو گا)‘‘

(ایضاً ص۳، تذکرہ ص۴۸۱ طبع چہارم، ملفوظات ج۸ ص۲۸۴)

مرزائی دوستو! ہمارے حوالہ جات کو دیکھ کر بتلا سکتے ہو کہ مرزاقادیانی نے کوئی الہام یا خوشخبری مولوی عبدالکریم کے لئے ظاہر نہیں کی؟ اگر نہیں کی تو اوپر کی عبارات کا مطلب کیا ہے۔ کیا تم اتنا نہیں سمجھتے کہ تم لوگ اگر محبت میں پھنس کر واقعات صحیحہ کو نہ دیکھو گے تو کیا دنیا بھی اندھی ہے اور اگر ان حوالہ جات میں کوئی الہام تسلی بخش یا خوشخبری صحت بخش ہے تو پھر یہ حضرت کیوں انکار کرتے ہیں۔ جو حقیقت الوحی کے ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ’’۱۱؍اکتوبر ۱۹۰۵ء کو ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اسی بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ ان کے لئے بھی میں نے دعاء کی تھی، مگر ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۲۶، خزائن ج۲۲ ص۳۳۹)

مرزائیو! کیا تم حوصلہ کر سکتے ہو کہ آنحضرت یا ان کے خلیفہ سے دریافت کرو کہ جھوٹ بولنا نجس کھانے کے برابر ہے یا کم وبیش؟ اور یہ کہ قادیانی اصطلاح میں جھوٹ بولنا لازمہ نبوت ہے یا منافی۔ آہ!

  1. آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھو

    ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

ہم نے تو اپنے دعویٰ کا ثبوت کافی دے دیا ہے کہ مولوی عبدالکریم کی بابت صحت کے الہام تھے۔ یہاں تک کہ مرزاقادیانی کو خود اقرار ہے کہ خدا نے مولوی عبدالکریم کا نام بھی لے دیا ہے۔ پھر اس سے زیادہ ثبوت کیا ہوسکتا ہے۔

اگر اب بھی نہ وہ سمجھے تو اس بت سے خدا سمجھے

360

رہا دوسرا حصہ کہ کفن میں لپیٹا گیا ۴۷سال کی عمر وغیرہ! سو اس کے متعلق بھی ہم اصل اور صحیح واقعات پیش کر دیتے ہیں۔ خدا کے فضل سے ہمارے پاس کافی سامان ہے۔ اس لئے ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ اپنے پاس سے کچھ جواب دیں۔ پس بغور سنئے۔ الحکم ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء کے پرچہ میں یہ الہامات درج ہیں جو معہ تفسیر مرزائی کے ہم نقل کرتے ہیں۔ لکھا ہے: ’’۲؍ستمبر ۱۹۰۵ء۔ سینتالیس سال کی عمر۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ اس سے دوسرے دن ۳؍ستمبر ۱۹۰۵ء کو ایک شخص کا خط آیا جس نے اپنی بدکاریوں اور غفلتوں پر نہایت افسوس کی تحریر کر کے لکھا۔ اب میری عمر سینتالیس سال کی ہے۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ فرمایا کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو خط باہر سے آنے والا ہوتا ہے اس کے مضمون سے پہلے ہی اطلاع دی جاتی ہے۔‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۳۳ ص۳، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء، تذکرہ ص۴۷۵، ۴۷۶ طبع چہارم)

۹؍ستمبر ۱۹۰۵ء۔ ’’ان المنایا لا تطیش سہامہا‘‘کفن میں لپیٹا ہوا۔ فرمایا معلوم نہیں یہ الہامات کس کے متعلق ہیں۔

(ج۹ نمبر۳۳ ص۳ کالم۲، تذکرہ ص۴۷۸ طبع چہارم)

مرزائیو! اعلیٰ حضرت کے کرشمے خوب غور سے دیکھو۔ کیا فرما رہے ہیں۔ مذکورہ بالا عبارت میں ۴۷سال والے الہام کی تشریح تو خود حضرت صاحب نے آپ ہی کر دی کہ کسی تائب شخص کے حق میں ہے باقی دو کی بابت خود اقرار ہے کہ معلوم نہیں کہ یہ کس کے حق میں ہیں۔ البتہ ایک الہام باقی رہ گیا کہ: ’’اس نے اچھا ہونا ہی نہیں۔‘‘ سو اس کا کہیں حوالہ نہیں دیا کہ کس زمانے کا ہے اور کب شائع کیا تھا اور اس کا اشارہ کس طرف ہے۔ خدارا اتنا تو سوچو کہ ایک طرف تو مرزاقادیانی خود ہی لکھتے ہیں: ’’آج تک جس قدر الہامات اور مبشرات ہوئے تھے، ان میں نام نہ تھا لیکن آج تو اللہتعالیٰ نے خود مولوی عبدالکریم صاحب کو دکھا کر صاف طور پر بشارت دی ہے۔‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۳۳، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء، تذکرہ ص۴۷۶ طبع چہارم)

پھر ساتھ ہی اس کے یہ الہام ہوا کہ:

’’اس نے اچھا ہونا ہی نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۸)

تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ ایک ہی واقعہ کی نسبت دو متضاد الہام کیا بتلا رہے ہیں۔ معلوم نہ ہو تو قرآن مجید کا عام اصول دیکھو کیا ہے۔ غور سے سنو!

’’لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (النساء:۸۲)‘‘(مطلب) اختلاف بیانی دلیل ہے کہ یہ کلام خدا کے ہاں سے نہیں ہے۔

361

مرزائی دوستو! آؤ ہم ایک لطیف تفسیر ان الہاموں کی تم کو سنائیں۔ مگر خدارا ذرا دل کو کدورات سے صاف کر کے سننا۔ انہی الہامات کی تفسیر مرزاقادیانی خود فرماتے ہیں۔ توجہ سے سنو! ایڈیٹر الحکم لکھتا ہے: ’’حضرت مولوی عبدالکریم کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے ۹؍ستمبر کو (مرزاقادیانی نے) فرمایا کہ مجھے بہت ہی فکر تھا کہ بعض الہامات ان میں متوحش تھے۔ آج صبح بہت سوچنے کے بعد میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی ہے کہ بعض وقت ترتیب کے لحاظ سے الہامات پہلے یا پیچھے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان الہامات کی ترتیب اللہتعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالی کہ ایسے الہامات جیسے ’’اذا جاء افواج وسم من السماء‘‘اور کفن میں لپیٹا گیا اور ’’ان المنایا لا تطیش سہامہا‘‘یہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ قضا وقدر تو ایسی ہی تھی مگر اللہتعالیٰ نے اپنے خاص فضل ورحم سے ردّ بلا کر دیا۔ (یعنی مولوی عبدالکریم اب نہیں مرے گا)

۱۰؍ستمبر نماز صبح کے وقت رؤیا: ایک جگہ ایک بڑی حویلی ہے اس کے آگے ایک بڑا چبوترہ ہے۔ جس کی کرسی بہت بلند ہے۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب سفید کپڑے پہنے ہوئے دروازہ پر بیٹھے ہیں۔ اسی جگہ میں ہوں اور پانچ چار اور دوست ہیں جو ہر وقت اسی فکر میں رہتے ہیں۔ میں نے کہا مولوی صاحب میں آپ کو آپ کی صحت کی مبارک باد دیتا ہوں اور پھر میں رو پڑا اور میرے ساتھ کے دوست بھی رو پڑے اور مولوی صاحب بھی رو پڑے۔ پھر میں نے کہا دعاء کرو اور دعاء میں تین دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھی۔ فرمایا اس خواب کے تمام اجزاء مولوی صاحب کی صحت کی بشارت دیتے ہیں۔ سورۃ فاتحہ پڑھنے کی تعبیر بھی یہی ہے کہ انسان کوئی ایسا امر دیکھے جو اس کو خوش کرنے والا ہو اور فرمایا جو الحمد خواب میں پڑھتا ہے اس کی دعاء قبول ہوتی ہے۔‘‘

(۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء ص۱۲ کالم۳،۴، تذکرہ ص۴۷۸، ۴۷۹ طبع چہارم)

ناظرین! بغور ملاحظہ فرمائیے کہ مرزاقادیانی جن الہامات کو خود ایک جگہ بلاتعیین لکھ چکے ہیں اور دوسری جگہ ان کو تقدیر مسترد بتلا چکے ہیں، پھر کس قدر جرأت ہے کہ انہی الہامات کو مولوی عبدالکریم کی موت پر پیش کر کے اپنے تمام سابقہ نوشتوں پر پانی پھیرتے ہیںَ خیر تو یہ ہوا واقعات کا اظہار۔ اب سنئے اس کا نتیجہ: مرزاقادیانی اور ان کے معتقدین بڑے فخر سے کہا کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی کی دعاء رد نہیں ہوتی اور اسی کو وہ اپنے معجزات میں اوّل نمبر پر شمار کیا کرتے ہیں۔

362

چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’مجھے بارہا خداتعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعاء کرے تو میں تیری سنوں گا۔‘‘

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر۵ ص۴، مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء، خزائن ج۱۵ ص۵۱۵)

اس اصول سے ہم دیکھتے ہیں کہ مرزاقادیانی کا یہ معجزہ بھی مسیلمہ کذاب کے معجزہ کے ہم وزن معلوم ہوتا ہے۔ مشہور ہے کہ مسیلمہ کسی کانے کو دم کرتا تھا تو وہ اندھا ہو جاتا تھا۔ وہی کیفیت ہم مرزاقادیانی کی دعاؤں کی دیکھتے ہیں۔

ایڈیٹر الحکم لکھتا ہے: ’’حضرت خلیفۃ اللہ (مرزاقادیانی) کے لئے اس دن سے کہ مولوی (عبدالکریم) صاحب پر عمل جراحی کیا گیا۔ رات کا سونا قریباً حرام ہو گیا۔ باوصف یہ کہ چوٹ لگنے اور بہت سا خون نکل جانے کی وجہ سے حضرت اقدس کو تکلیف تھی اور دوران سر کی بیماری کی شکایت تھی۔ لیکن یہ کریم النفس وجود ساری رات رب رحیم کے حضور مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے دعاؤں میں لگا رہا… یہ ہمدردی اور ایثار ہر شخص میں نہیں ہوسکتا۔ خداتعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور ماموروں ہی کی یہ شان ہے کہ اپنی تکالیف کو بھی دوسروں کی تکلیف کے مقابلہ میں بھول جاتے ہیں اور نہ صرف بھول جاتے ہیں، بلکہ قریب بہ موت پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن ہاں! ان کے دل میں کسی بندہ کے لئے خاص طور پر اضطراب اور قلق کا پیدا ہونا خود اس بندہ کی عظمت اور وقعت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حضرت اقدس (مرزاقادیانی) نصف شب سے آخر شب تک دعاؤں میں مصروف رہے اور اس اثناء میں مولوی صاحب ممدوح کے دروازہ پر آ کر حال بھی پوچھا۔ ساری دنیا سوتی تھی۔ مگر یہ خدا کا جری جاگتا تھا۔ اپنے لئے نہیں اپنی اولاد کے لئے نہیں، اپنے کسی ذاتی مقصد اور غرض کے لئے صرف اس لئے کہ تارحیم وکریم مولا کے حضور اپنے ایک مخلص کی شفاء کے لئے دعاء کرے… فرمایا میں نے ہر چند چاہا کہ دو چار منٹ کے لئے ہی سو جاؤں۔ مگر میں جانتا ہی نہیں کہ نیند کہاں چلی گئی۔ یہ باتیں آپ نے ایک روز صبح کو بیان فرمائیں۔ بعض خدام نے عرض کی کہ حضور اس وقت جا کر آرام کر لیں۔ فرمایا یہ اپنے اختیار میں تو نہیں میں کیونکر آرام کر سکتا ہوں۔ جب کہ میرے دروازہ پر ہائے ہائے کی آواز آ تی ہے۔ میں تو اس قلق اور کرب کو جو مولوی صاحب کو ہوا دیکھ بھی نہیں سکتا۔ اس لئے میں اوپر نہیں گیا۔‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۳۱، ص۹، کالم ۱ تا۴، مؤرخہ ۳۱؍اگست ۱۹۰۵ء)

363

ان حضرت کی دعاؤں کے علاوہ اصحاب منازل بھی دعاؤں میں شریک تھے۔ دیکھو الحکم ۳۰؍ستمبر ص۱۲ کالم۲۔ یہاں تک کہ ایڈیٹر الحکم لکھتا ہے: ’’مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے جو دعائیں کی جاتی ہیں جب ان کا کھلا کھلا نتیجہ ظاہر ہو گا تو ہماری جماعت کی معرفت اور امید زیادہ ہو جائے گی۔‘‘

(الحکم ج۹، نمبر۳۴، ص۱۲، کالم۲، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء)

لیکن ہم بڑے افسوس سے کہتے ہیں کہ جب ان دعاؤں کا نتیجہ وہی نکلا جو استاد مؤمن خاں مرحوم نے کہا ہے ؎

  1. مانگا کریں گے اب سے دعاء ہجر یار کی

    آخر تو دشمنی ہے اثر کی دعا کے ساتھ

تو ساری جماعت نے آنکھیں اور کان بند کر لئے اور ایسے سوئے کہ ’’گوئی مردہ اند‘‘

اخیر میں ہم ایڈیٹر الحکم کا ایک قول نقل کر کے اس سے ایک سوال کرتے ہیں۔ ایڈیٹر مذکور لکھتا ہے:

’’یہ امر بلامبالغہ ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا اس بیماری سے جاں بر ہو جانا ایک عظیم الشان نشان ہو گا جو سچ مچ احیاء موتیٰ ہو گا۔ خدا کرے ہم اس کو بہت جلد دیکھیں۔‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۳۴، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء ص۱۲ کالم۳)

سوال: یہ ہے کہ ان دعاؤں کا اثر ت جو ہوا تمام پبلک نے دیکھ لیا۔ اب بتلاؤ احیاء موتیٰ کی بجائے اماتت احیاء ہوا۔ اس سے تمہارے ایمان میں ترقی ہوئی یا تنزلی؟ ایمان سے سچ کہنا کہ یہ قول صحیح ہے یا غلط؟

زندوں کے مارنے کو مسیح الزمان ہوئے

مرزائی دوستو! انصاف سے کہنا مرزاقادیانی کے سوال کا جواب ہم نے پورا دے دیا یا نہیں؟

  1. میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر

    بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

اعلیٰ حضرت خود یا ان کا کوئی مرید ان حوالہ جات کو غلط ثابت کر دے تو مبلغ پانچ سو کے مستحق ہوں گے۔ کیا کوئی ہے جو سامنے آئے؟

  1. اولئک اٰبائی فجئنی بمثلہم

    اذا جمعتنا یا جریر المجامع

ابوالوفاء، ثناء اللہ امرتسر

364

چیستان مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

365

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انعامی سو اور دو سو روپیہ

چونکہ ہمارے یقین میں قادیانی مشن کے لئے یہ مضمون ایک فیصلہ کن ہے۔ اس لئے اس کے جواب پر بہ تفصیل ذیل انعام دینے کا اعلان شائع کرتے ہیں۔ لاہوری پارٹی کے سرکردہ مولوی محمد علی صاحب جواب دیں تو مبلغ ایک صد روپیہ، قادیانی پارٹی کے رئیس میاں محمود احمد صاحب جواب دیں تو وہ دو سو روپیہ انعام کے مستحق ہوں گے۔ ان دونوں سرگروہوں کے سواء کوئی اور صاحب بھی جواب دیں گے تو انعام کے مستحق ہوں گے۔ بشرطیکہ ان دونوں میں سے مجیب جس کے ماتحت ہو وہ اس جواب پر تصحیح کے دستخط کر دیں۔

فیصلہ کی صورت بالکل وہی ہو گی جو مباحثہ لدھیانہ میں تھی۔ یعنی روپیہ امین کے پاس رکھا جائے گا اور تین اصحاب منصف ہوں گے۔ ایک ایک ہر فریق کا، تیسرا سر پنچ غیرمسلم مسلمہ طرفین، ایک مجیب کے بجائے کئی ایک ہوں گے تو یہی رقم بانٹ لیں گے۔ تاریخ اشاعت سے پندرہ روز تک مجیب کی طرف سے درخواست آنی چاہئے جس میں اپنے منصف کا ام اور عہدہ اور سرپنچ کے لئے متعدد ناموں کی فہرست ہو۔ جن میں سے کسی ایک کو ہم مقرر کر لیں گے یا کوئی اور بتادیں گے۔

نوٹ: تین سو روپیہ ہم نے امین کے پاس رکھوا دیا ہے، جن کی رسید بعد تقرر منصفان کے لئے دی جائے گی۔

بعد پندرہ روز کے درخواست جواب سے مایوس ہوکر یہ مضمون ٹریکٹ کی صورت میں چھاپا جائے گا۔ ان شاء اللہ! مجیب کے جواب پر باستفسار کسی منصف کے مجھے جواب دینے کا حق حاصل ہو گا۔ جیسا مباحثہ لدھیانہ میں تھا۔

قرآن شریف کا سنہری اصول ہے جو ہر ایک مذہب اور ہر ایک عقلمند کے نزدیک

366

مسلّم اور مقبول ہے کہ الہامی کلام میں اختلاف نہیں ہوتا۔ یعنی کسی کلام میں اختلاف اور تناقض کا ہونا اسے الہامی درجہ سے گرانے کو کافی ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کے کلام میں یوں تو بہت سے مقامات پر اختلاف پایا جاتا ہے، مگر آج جس اختلاف کا ہم ذکر کرتے ہیں، یہ سب سے نرالا اختلاف ہے۔ کیونکہ یہ مرزاقادیانی کی تاریخ بعثت۱؎ اور سنہ وفات کے متعلق خود ان کے الہاموں یا الہامی نتیجوں میں پایا جاتا ہے۔ پس ناظرین غور سے سنیں اور داد دیں۔

مرزاقادیانی اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں اپنی بعثت (ماموریت) کی بابت رقم طراز ہیں: ’’چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو ’’الآیات بعد المأتین‘‘ ہے، ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے، غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں، بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۸۹)

اس عبارت میں صاف دعویٰ ہے کہ میری بعثت سنہ ہجری ۱۳۰۰ھ پورے ہو جانے پر ہوئی تھی۔ اس کی تائید میں آپ اپنی کتاب تریاق القلوب میں یوں لکھتے ہیں:

’’غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی تیرہ سو کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے، وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کرتا ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۶، خزائن ج۱۵ ص۱۵۸)

۱؎بعثت کے معنی ہیں خدا کی طرف سے مامور یا ملہم ہونا۔

367

یہ عبارت اور سابقہ عبارت دونوں متفق ہیں کہ سنہ ہجری ۱۳۰۰ پورا ہو جانے کے بعد مرزاقادیانی آئے اسی کی تائید میں مرزاقادیانی ایک اور مقام پر یوں فرماتے ہیں:

’’جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خداتعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا نے الہام کے ذریعہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳)

اسی کی تائید ایک اور مقام پر بھی کرتے ہیں جہاں فرماتے ہیں: ’’میں بھی آنحضرتﷺ کی ہجرت سے چودھویں صدی کے سر پر مبعوث ہوا ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۷۱، خزائن ج۱۷ ص۲۰۹ حاشیہ)

یہ سب حوالہ جات بیک زبان مظہر ہیں کہ مرزاقادیانی کی بعثت سنہ ہجری پورے تیرہ سو ہونے کے بعد چودھویں صدی ہجری کے شروع میں ہوئی تھی۔ بہت خوب!

اور سنئے، مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خداتعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خداتعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پاچکا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۹، خزائن ج۲۲ ص۲۰۸)

یہ عبارت صاف بتلا رہی ہے کہ مرزاقادیانی کی بعثت تیرھویں صدی کے خاتمہ سے دس سال رہتے ہوئے ہوئی تھی۔ بہت خوب!

اور سنئے: اسی پہلی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں:

’’حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اٹھ جائے گا اور جہل شیوع پا جائے گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے: ’’لوکان الایمان معلقا عند الثریا لنالہ رجل من فارس‘‘ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سن ہجری میں شروع ہو گا جو آیت:’’وانا علی ذہاب بہ لقادرون‘‘ میں بحساب جمل مخفی ہے۔ یعنی ۱۲۷۴ھ‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۵۷، خزائن ج۳ ص۴۵۵)

368

یہ عبارت صاف کہتی ہے کہ مرزاقادیانی کی بعثت ۱۲۷۴ھ میں ہونی چاہئے تھی۔ یعنی تیرھویں صدی کے ختم ہونے سے پورے چھبیس سال پہلے، اسی کی تائید کتاب کے دوسرے مقام پر فرماتے ہیں۔

چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

’’اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانے میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس مدت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت: ’’وانا علی ذہاب بہ لقادرون‘‘جس کے بحساب جمل ۱۲۷۴ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی سلخ۱؎ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔‘‘

(ازالہ الاوہام ص۶۷۵، خزائن ج۳ ص۴۶۴)

یہ دونوں حوالے متفق ہیں کہ مرزاقادیانی کے بعثت کا زمانہ ۱۲۷۴ھ یعنی تیرھویں صدی کے خاتمہ سے چھبیس سال پہلے تھا۔

پس اس وقت مرزاقادیانی کے تین بیان پبلک کے سامنے ہیں:

۱… سنہ ہجری پورے تیرہ سو ہونے پر۔

۲… تیرھویں صدی سے دس سال رہتے ہوئے ۱۲۹۰ھ۔

۳… تیرھویں صدی کے پورے چھبیس سال رہتے ہوئے ۱۲۷۴ ہجری میں آپ مبعوث ہوئے۔

ان تینوں بیانات میں جو اختلاف ہے ناظرین اندازہ کر سکتے ہیں۔

موت کے متعلق اختلاف

گزشتہ اختلاف تو بعثت (مامور خدا ہونے) کے متعلق تھا۔ اب ذرا وفات کے متعلق

۱؎سلخ راتیں قمری مہینے کی آخری راتوں کو کہتے ہیں جن میں چاند بالکل گم ہو جاتا ہے۔

369

بھی سنئے۔ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی عمر کے متعلق لکھتے ہیں جو ناظرین کی مزید توجہ کا مقام ہے۔ ’’آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال (نبی) تیرہ سو پینتیس برس لکھتا ہے جو خدائے تعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت بیان فرمایا ہے۔‘‘

(کتاب حقیقت الوحی ص۲۰۰، خزائن ج۲۲ ص۲۰۸)

اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ دانیال نبی نے مسیح موعود کی عمر کا خاتمہ (جس سے مراد خود مرزاقادیانی ہیں) تیرہ سو پینتیس ہجری میں بتلایا ہے اور مرزاقادیانی کا الہام بھی دانیال نبی کی تائید کرتا ہے کہ واقعی مرزاقادیانی تیرہ سو پینتیس ہجری میں انتقال فرمائیں گے۔

اب ہم مرزاقادیانی کے الہامی الفاظ ان کی عمر کے متعلق سناتے ہیں۔ آپ کتاب تریاق القلوب میں لکھتے ہیں کہ خدا مجھے مخاطب کر کے کہتا ہے: ’’میں (خدا) تجھے (مرزا) اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳، خزائن ج۱۵ حاشیہ ص۱۵۲)

نوٹ: اس الہام کی خوبی اور لطافت اور خدا کے علم غیب پر مطلع نہ ہونے کی کیفیت ملاحظہ ہو کہ عمر دینے کا وعدہ کرتا ہے تو صاف لفظوں میں نہیں کہتا بلکہ ’’سہ کونہ‘‘ کلام کہتا ہے۔ اسی کچھ کم کچھ زیادہ۔

یہ تو ہم بحوالہ (تریاق القلوب ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳) پہلے بتلا آئے ہیں کہ تیرھویں صدی ختم ہونے پر آپ کی عمر پوری چالیس کی تھی۔

پس الہام مذکورہ (مندرجہ تریاق القلوب حاشیہ ص۱۳، خزائن ج۱۵ ص۱۵۲) کا درجہ کم سے کم پچھتّر سال عمر لے لیں تو آپ کے الہام اور دانیال نبی کے کشف میں ٹھیک مطابقت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ۱۳۰۱ھ میں مرزاقادیانی چالیس سال کے تھے اور ۱۳۳۵ھ میں پچھتّر سال کے ہوئے جو بالکل حسب الہام مندرجہ تریاق القلوب ٹھیک ہے۔

ہاں بڑے سے بڑا اعتراض

کوئی کر سکتا ہے تو یہ کر سکتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنے بتلائے ہوئے وقت سے پہلے

370

کیوں فوت ہو گئے؟ کیونکہ آپ کا انتقال ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۸ء میں ہوا۔ یعنی کل ۹سال پہلے تو یہ کوئی اعتراض نہیں۔

اس کا جواب یہی ہے کہ مرزاقادیانی دنیاوی بادشاہوں اور افسروں کی طرح اپنے پروگرام کے ایسے پابند نہ تھے کہ سرمو ادھر ادھر سرکیں۔ اس لئے جب آپ کا جی چاہا، اس ذلیل دنیا کو چھوڑ کر تشریف لے گئے۔ کسی کو اس پر اتراض کرنے کا کیا حق ہے؟

ایک اور طرح سے الہام کی سچائی

سابقہ طریق سے تو قبل از وقت چلے جانے کا اعتراض پیدا ہوا ہے، مگر مرزاقادیانی کی روح اور مرزائی دوستوں کو خوش کرنے کے لئے مرزاقادیانی… ان کی ایک اور تحریر سے آپ کی الہامی عمر ٹھیک کئے دیتے ہیں۔ آپ کتاب ’’اعجاز احمدی‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اس کی (آتھم کی) عمر تو میری عمر کے برابر تھی۔ یعنی قریب ۶۴سال کے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳، خزائن ج۱۹ ص۱۰۹)

آتھم ۱۸۹۶ء میں فوت ہوئے تھے۔ چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی خود لکھتے ہیں:

’’مسٹر عبداللہ آتھم ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروزپور فوت ہو گئے ہیں۔‘‘

(رسالہ انجام آتھم ص۱، خزائن ج۱۱ ص۱)

ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کی عمر ۱۸۹۶ء میں ۶۴سال تھی اور انتقال آپ کا ۱۹۰۸ء میں ہوا۔ ۹۶ سے ۱۹۰۰ء تک چار سال اور ۱۹۰۰ء سے ۱۹۰۸ء تک ۸سال کل ۱۲سال ۱۲ کو ۶۴ میں ملانے سے ۷۶سال ہوئے جو مرزاقادیانی کے الہام مندرجہ ذیل کے قریب قریب ہے۔ بقول مرزاقادیانی خدا فرماتا ہے:

’’میں (خدا) تجھے (مرزاقادیانی کو) اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳، خزائن ج۱۵ ص۱۵۲ حاشیہ)

الحمدﷲ! مرزا غلام احمد قادیانی اس الہام کے مطابق اسی سال سے کچھ کم عمر پاکر دارفانی سے داربقاء کو تشریف لے گئے۔

371

اعتراف حقیقت

ہم سے جہاں تک ہو سکا ہم نے مرزائی الہامی الجھن کو صاف کرنے میں بہت کوشش کی۔ مگر افسوس سے اظہار کرنے میں ہمیں ذرہ تأمل نہیں کہ ہم اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ عرب کا ایک مشہور شعر ہے جس کا محل وقوع یوں ہوا تھا کہ ایک بڑھیا عورت جس کے بال سفید تھے۔ عطار کے ہاں وسمہ لینے جارہی تھی کسی شاعر نے پوچھا۔ بڑھیا کہاں جا رہی ہے؟ اس نے کہا بیٹا! کیا بتاؤں۔ بڑھاپے کا علاج لینے جا رہے ہوں۔ زندہ دل شاعر نے فوراً شعر کہا ؎

تررح الی العطار تبغی شبابہا

ولن یصلح العطار ما افسد الدھر

(یہ بڑھیا عورت عطار کے پاس جوانی لینے جا رہی ہے۔ حالانکہ جس چیز کو زمانہ نے خراب کر دیا ہو، عطار ہرگز اسے نہیں سنوار سکے گا)

یہی حال مرزاقادیانی کے الہامات کا ہے۔ ہم کہاں تک سنوار سکتے ہیں، جس حال میں زمانہ ان کو بگاڑ چکا ہے۔ ہم نے اس جوب میں بصد کوشش مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال حسب الہام ۷۶ سال کی عمر میں درست کیا۔

مگر دوسری طرف سے بگاڑ پیدا ہو گیا۔ کیونکہ سابقہ حوالوں میں مرزاقادیانی بڑے صاف الفاظ میں خود لکھتے ہیں کہ ۱۳۰۰ھ کے خاتمہ پر میری عمر ٹھیک چالیس سال تھی اور انتقال آپ کا ۱۳۲۶ھ میں ہوا۔

اس صاف اور سیدھے حساب سے آپ چھیاسٹھ سال کی عمر پاکر فوت ہوئے جو کسی طرح الہامی مقررہ وقت ۱۳۳۵ھ کے موافق نہیں ہے۔

ہم بڑی سچائی سے اعتراف کرتے ہیں کہ ہم اس مشکل کے حل کرنے میں عاجز ہیں۔ مرزاقادیانی کا کوئی راسخ الاعتقاد مرید تو جواب دے کر مرزاقادیانی کی بات بنائے اور بشرائط مقررہ ہم سے انعام پائے۔وﷲ الحمد!

372

زار قادیان

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

373

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

آج کل پنجاب میں قادیانی مذاکرہ کے متعلق مرزاقادیانی کی اس پیش گوئی کا بہت چرچہ ہے، جس میں ایک مصرعہ یہ ہے ؎

زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار

اس پیش گوئی کو مرزاقادیانی کی امت موجودہ جنگ اور موجودہ جنگ میں زار روس کی تخت سے معزولی پر چسپاں کر رہے ہیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ مرزائی امت کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر اس کام میں حصہ لے رہی اور خوشیاں منا رہی ہیں۔ جو لوگ اس خیال میں ہیں کہ لاہوری پارٹی والے مرزائیت میں نرم ہیں۔ انہیں اس واقعہ پر غور کرنا چاہئے کہ اگر نرم ہوتے تو ایسے موقعہ پر خاموش رہتے۔ ان کی نرمی مرزائیت کے لحاظ سے نہیں ہے، بلکہ کسی اور وجہ سے ہے۔

خیر ہم تو ان دونوں پارٹیوں کو ان معنی سے شاباش کہتے ہیں کہ باوجود باہمی سخت اختلاف کے ایک مشترک کام میں ایک دوسرے سے بڑھ کر سبقت کر رہے ہیں۔ سارے مسلمان بھائیوں کو اس سے سبق حاصل کر کے مشترک کاموں میں ہمیشہ مل جانا چاہئے۔

قادیان اور لاہور کے اخباروں کے علاوہ دونوں پارٹیوں کے سرگروہوں کی طرف سے ٹریکٹ (چھوٹے چھوٹے رسالے) بھی شائع ہوئے ہیں جن میں بڑے زور سے دعوے کئے گئے ہیں کہ ہمارے حضرت صاحب کی یہ پیش گوئی بڑی صفائی سے پوری ہوئی۔

اخبار اہل حدیث میں آج سے پہلے بھی متعدد دفعہ اس پر مضمون لکھے گئے ہیں۔ جن میں کافی طور پر ثابت کیاگیا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ پیش گوئی موجودہ جنگ اور زارروس کے متعلق نہیں۔ مگر قادیانی مشن کی دونوں پارٹیاں اپنی عادت کے مطابق اہل حدیث کے اعتراضات کی طرف تو رخ نہیں کرتیں، اپنی ہی کہی جاتی ہیں۔

اس لئے آج ہم ذرہ تفصیل سے لکھتے ہیں:

مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ پیش گوئی سب سے پہلے ۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو شائع ہوئی۔ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پنجاب میں زلزلہ عظیمہ آیا تو مرزاقادیانی نے اپنے ایک اشتہار مؤرخہ ۵؍اپریل ۱۹۰۵ء میں اس زلزلہ کو اپنا نشان بتایا اور لوگوں کو اپنی طرف بلایا۔ اس کے

374

بعد آپ نے ایک اشتہار مؤرخہ ۲۰؍اپریل کو شائع کیا جس کا نام تھا:’’النداء من وحی السماء‘‘ یعنی زلزلہ عظیمہ کی نسبت باردوم وحی سے۔

اس کے شروع میں لکھا: ’’۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہو گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۲۶)

پھر ایک اشتہار دیا جس کا نام ہے: ’’زلزلہ کی خبر بارسوم‘‘ اس کے شروع میں لکھا ہے: ’’آج ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے … درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اسی ملک پر آنے والا ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں گزرا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۳۵)

یہ اقتباسات صاف بتلا رہے ہیں کہ وہ زلزلہ عظیمہ یہی ہے جس کو اردو میں بھونچال کہتے ہیں۔ یہی مرزاقادیانی اور ان کے الہام کنندہ کی مراد تھی۔

اسی مضمون کو مرزاقادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بصورت نظم شائع کیا، جس کے چند ابیات یہ ہیں:

ایک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد

جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار

آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب

اک برہنہ سے نہ یہ ہو گا کہ تا باندھے ازار

یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے

کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بہار

مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس

زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۲۰، خزائن ج۲۱ ص۱۵۱، ۱۵۲)

پہلے شعر میں جو لفظ ’’آج‘‘ ہے اس کے نیچے لکھا ہے: ’’تاریخ امروزہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۵ء‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی وہی ہے جو زلزلہ عظیمہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کے اردگرد آپ نے کی تھی۔

375

مرزاقادیانی کی عادت مبارکہ تھی کہ اپنی الہامی پیش گوئیوں کو ادھر ادھر گھمایا کرتے تھے۔ اس لئے دانشمند لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ پیش گوئی گول مول ہے۔ اس کو صاف کرنا چاہئے تاکہ اس کے وقوعہ پر کسی قسم کا اختلاف نہ ہو۔

جواب میں مرزاقادیانی نے لکھا: ’’آپ خود سوچ لیں کہ یہ پیش گوئی گول مول کیسے ہوئی۔ جب کہ صریح اس میں زلزلہ کا نام بھی موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ اس میں ایک حصہ ملک کا نابود ہو جائے گا اور یہ بھی موجود ہے کہ وہ میری زندگی میں آئے گا اور اس کے ساتھ یہ بھی پیش گوئی ہے کہ وہ ان کے لئے نمونہ قیامت ہو گا، جن پر یہ زلزلہ آئے گا اور اگر یہ گول مول ہے تو پھر کھلی کھلی پیش گوئی کس کو کہتے ہیں؟‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۰، خزائن ج۲۱ ص۲۵۰)

یہ اقتباس اپنا مضمون صاف بتلا رہا ہے کہ وہ زلزلہ موعودہ بھونچال ہو گا اور ہمارے ملک پنجاب میں ہو گا اور مرزاقادیانی کی زندگی میں ہو گا۔ (بہت خوب) اسی مضمون کو اور واضح کرنے کے لئے مرزاقادیانی اسی کتاب میں یوں رقم طراز ہیں: ’’اب ذرہ کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیش گوئی ہے اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی۔ یہ خیال سراسر غلط ہے کہ جو محض قلت تدبر اور کثرت تعصب اور جلد بازی سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ باربار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیش گوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸)

(بہت خوب) یہ اقتباس بھی اپنا مضمون بتلانے میں صاف ہے کہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ عظیمہ پنجاب میں بڑا دہشت ناک تھا۔ اس کے بعد ہی مرزاقادیانی نے ایک اور سخت زلزلہ کی پیش گوئی جڑ دی تو اخباروں میں مرزاقادیانی کے برخلاف گورنمنٹ کو توجہ دلائی گئی کہ ان کی ایسی پیش گوئیوں سے لوگوں میں وحشت اور دہشت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے دفعیہ کے لئے مرزاقادیانی نے ایک مضمون لکھا جس کا نام ہے: ’’ضروری گزارش لائق توجہ گورنمنٹ‘‘ اس میں آپ نے اس الزام کا جواب دیا۔ انصاف سے ماننا پڑتا ہے کہ معقول جواب دیا۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا ان سے

376

پہلے میں آپ ڈرا اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں۔ میں واپس قادیان میں نہیں گیا۔ کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ قت کب آنے والا ہے۔ میں نے اپنے مریدوں کو بھی اپنے اشتہارات میں باربار یہی نصیحت کی کہ جس کی مقدرت ہو اسے ضروری ہے کہ کچھ مدت خیموں میں باہر جنگل میں رہے اور جو لوگ بے مقدرت ہیں وہ دعاء کرتے رہیں کہ خدا ہمیں اس بلاء سے بچاوے۔ پس میری نیک نیتی پر اس سے زیادہ کون گواہ ہوسکتا ہے کہ اسی خیال سے میں مع اہل وعیال اور اپنی تمام جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں اور جنگل کی گرمی کو برداشت کر رہا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۰)

اس حوالہ سے روزروشن کی طرح ظاہر ہے کہ اس پیش گوئی سے مرزاقادیانی کی مراد یہی تھی کہ سخت بھونچال آئے گا، جس سے مکانات گر جائیں گے اور تمام ملک برباد اور تباہ ہو جائے گا۔

اسی کی تائید مرزاقادیانی کی مندرجہ ذیل عبارت سے بھی ہوتی ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ’’(خدا نے) پھر فرمایا۔ بھونچال آیا اور شدت سے آیا زمین تہ وبالا کر دی۔ یعنی ایک سخت زلزلہ آئے گا اور زمین کو یعنی زمین کے بعض حصوں کو زیروزبر کر دے گا۔ جیسا کہ لوط کے زمانہ میں ہوا۔‘‘

(الوصیت ص۱۴، خزائن ج۲۰ ص۳۱۵)

پھر ایک مقام پر اس زلزلہ عظیمہ موعودہ کا زمانہ بھی مقرر کرنے کو فرمایا: ’’خداتعالیٰ کا الہام ایک یہ بھی ہے۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت بہار (یعنی موسم بہار) کے دن ہوں گے اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً وہ صبح کا وقت ہو گا یا اس کے قریب۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیہ ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸)

ان سارے حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ وہ زلزلہ عظیمہ جو کبھی کسی نے نہ دیکھا نہ سنا نہ کسی کے دل پر گزرا جس کی شان اور کیفیت یہ ہوگی کہ ؎

زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار

وہ واقعی بھونچال ہو گا اور اسی ملک پنجاب میں ہو گا اور مرزاقادیانی کی تصدیق کے لئے ان کی زندگی میں ہو گا۔

377

اب ہم یہ بتلاتے ہیں کہ یہ پیش گوئی کوئی قابل خوف و ہراس نہیں۔ کیونکہ یہ زلزلہ مرزاقادیانی کی زندگی میں ہو چکا ہے، جس کو مرزاقادیانی نے بھی مان لیا تھا کہ ہاں یہی ہے۔ غور سے سنئے۔

۲۸؍فروری ۱۹۰۶ء کی رات کو ایک بجے کے قریب ایک زلزلہ آیا تھا، جس میں ایک قسم کی ضرب اور گونج بھی تھی، جس سے معمولی نیند والے بیدار بھی ہو گئے ہوں گے۔ غرض وہ ایسا تھا کہ آج کسی کو شاید یاد بھی نہ ہو۔ مرزاقادیانی نے کمال دوراندیشی سے سوچا کہ آئندہ کو خدا جانے اتنا بھی ہو یا نہ ہو، اس لئے اسی پر فیصلہ کرنا مناسب ہے۔ چنانچہ آپ نے ایک اشتہار دیا، جس کی سرخی تھی۔ ’’زلزلہ کی پیش گوئی‘‘ اس کے شروع میں لکھا: ’’اے عزیزو! آپ لوگوں نے اس زلزلہ کو دیکھ لیا ہو گا جو ۲۸؍فروری ۱۹۰۶ء کی رات کو ایک بجے کے بعد آیا تھا۔ یہ وہی زلزلہ تھا، جس کی نسبت خداتعالیٰ نے اپنی وحی میں فرمایا تھا۔ ’’پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی… الحمد ﷲ والمنت کہ اسی کے مطابق عین بہار کے ایام میں یہ زلزلہ آیا۔‘‘

(۲؍مارچ ۱۹۰۶ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۸)

یہ اقتباس صاف بتلاتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا موعودہ زلزلہ عظیمہ جس کی بابت یہ مصرع تھا ؎

زار بھی ہو گا تو ہو گا اس وقت باحال زار

یہی انہی کی زندگی میں ہو چکا۔ اب اس کا انتظار یا خوف کرنا یا کسی اور واقعہ پر اس کو چسپاں کرنا خود مرزاقادیانی کے منشاء کے خلاف ہے۔ ہاں! یہ امر بے شک قابل غور ہے کہ ایسا زلزلہ عظیمہ شدیدہ ہائلہ وغیرہ وغیرہ ایک معمولی زلزلہ کی صورت میں کیوں نمودار ہوا، جس کی بابت یہ کہنا چاہئے کہ ؎

کوہ کندن و کاہ بر آوردن

سو اس کا جواب بہت آسان ہے کہ یہ بھی مرزاقادیانی کی برکت ہے کہ اتنا بڑا عذاب ایک جھٹکے میں دنیا سے ٹل گیا۔ کیا سچ ہے ؎

تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بھگارتے

وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

378

فسخ نکاح مرزائیاں

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

379

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ

فتنہ قادیانیہ کا ظہور اسلام اور اہل اسلام کے حق میں کہاں تک مضر ہے، اس کا جواب خود ان کے اقوال وافعال سے ملتا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے جانشین صاحبزادہ میاں محمود احمد قادیانی مسلمانوں کو اسلام سے خارج اور کفر میں داخل جانتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ مسلمان قادیانی نبی کے منکر ہیں۔

(ملاحظہ ہورسالہ انوار خلافت ص۹۰تا۹۴، انوار العلوم ج۳، ص۱۴۸ تا۱۵۱)

اس کے علاوہ مرزاقادیانی نے ایک گشتی چٹھی کے ذریعے اپنے اتباع کو حکم دے رکھا ہے کہ تم سب رشتے ناطے آپس میں کیا کرو۔ کوئی احمدی (مرزائی) ایسے مسلمانوں کو لڑکی نکاح میں نہ دے جو مرزاقادیانی کی بیعت میں نہیں۔

(ملخص فتاویٰ احمدیہ ج۲ ص۷،۸)

یہ بھی دیکھا گیا کہ بیٹا مرزائی ہے تو مسلمان باپ کا اس نے جنازہ نہیں پڑھا۔ خاوند مرزائی ہے تو عورت مسلمہ سے کیا سلوک کرے گا۔ ان وجوہ سے ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو امت مرزائیہ کے ساتھ رشتہ نکاح کرنے کی بابت فتویٰ شریعت غرا سے مطلع کیا جائے۔ الحمدﷲ! کہ اس مسئلہ کے جواب میں اسلام کے کل فرقے شیعہ سنی حنفی اہل حدیث سب بیک زبان متفق ہیں۔ اس لئے یہ فتویٰ متفق علیہ ہونے کی وجہ سے واجب العزت اور واجب العمل ہے۔ خدا مسلمانوں کے حق میں اس کو مفید بنائے۔ آمین!

سوال (استفتاء)

بخدمت شریف جناب علمائے اسلامسلمکم اللہ الٰی یوم القیام! کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں:

۱…آیت: ’’ًو مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘کا مصداق میں ہوں۔

(ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

380

۲… مسیح موعود (جن کے آنے کی خبر احادیث میں آئی ہے) میں ہوں۔

(ازالہ اوہام ص۶۶۵، خزائن ج۳ ص۴۵۹)

۳… میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔

(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸)

۴…’’ان قدمی ہذہ علی منارۃ ختم علیہا کل رفعۃ‘‘ میرا قدم اس منارہ پر ہے جہاں کل بلندیاں ختم ہو چکی ہیں۔

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

۵…’’ فلا تقیسونی باحد ولا احد ابی‘‘میرے مقابل کسی کو پیش نہ کرو۔

(خطبہ الہامیہ ص۱۹، خزائن ج۱۶ ص۵۲)

۶… میں مسلمانوں کے لئے مسیح موعود اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔

(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)

۷… میں امام حسین(m) سے افضل ہوں۔

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

  1. وانی قتیل الحب لکن حسینکم

    قتیل العدا فالفرق اجلی و اظہر

(میں عشق کا مقتول ہوں مگر تمہارا حسین دشمن کا مقتول ہے فرق بالکل ظاہر ہے)

(اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)

۹… یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زناکار تھیں۔ (معاذ اللہ)

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۱۰… یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ (معاذ اللہ)

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹ حاشیہ)

۱۱… یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے۔ اس کے پاس بجز دھوکہ کے اور کچھ نہ تھا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)

۱۲… میں نبی ہوں اس امت میں۔ نبی کا نام میرے لئے مخصوص ہے۔

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶، ۴۰۷)

۱۳… مجھے الہام ہوا ہے: ’’یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔

(البشریٰ ج۲، ص۵۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۰)

381

۱۴… میرا منکر کافر ہے۔

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

۱۵… میرے منکروں، بلکہ متاملوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔

(ملخص فتاویٰ احمدیہ جلد اوّل ص۱۸)

۱۶… مجھے خدا نے کہا ہے: ’’اسمع ولدی‘‘ اے میرے بیٹے سن!

(البشریٰ ص۴۹ حصہ اوّل)

۱۷… ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا توآسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا۔

(حقیقت الوحی ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲)

۱۸… میرا الہام ہے: ’’وما ینطق عن الہویٰ‘‘یعنی میں بلا وحی نہیں بولتا۔

(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

۱۹… مجھے خدا نے کہا ہے: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ اور ہم نے تجھے دنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا۔

(حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۵)

۲۰… مجھے خدا نے کہا: ’’انک لمن المرسلین‘‘ خدا کہتا ہے کہ تو بلاشک رسول ہے۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

۲۱…’’اتانی مالم یؤت احد من العالمین‘‘خدا نے مجھے وہ عزت دی جو کسی کو نہیں دی گئی۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

۲۲…’’ان اللہ معک ان اللہ یقوم اینما قمت‘‘ خدا تیرے ساتھ ہو گا، جہاں کہیں تو رہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۷، خزائن ج۱۱ ص۳۰۱ حاشیہ)

۲۳…’’انا اعطیناک الکوثر‘‘خدا نے مجھے حوض کوثر دیا ہے۔

(انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۲۴…’’رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ہو… فخلقت السماوات والارض‘‘میں نے اپنے آپ کو بعینہٖ خدا دیکھا اور میں یقینا کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے زمین آسمان بنائے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۲۵… میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔

(ملخص فتاویٰ احمدیہ جلد دوم ص۷)

جو شخص مرزاقادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو، اس کے ساتھ کسی مسلمان کا رشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح مؤجب افتراق ہے یا نہیں؟

382

الجواب

(۱)سنی، از ریاست بھوپال

مندرجہ سوال ہذا میں متعدد ایسے اقوال ہیں جن کے کلمہ کفر ہونے میں تاویل بھی نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا جس شخص کے عقائد ایسے ہوں وہ بوجہ مخالفت اسلام کے جماعت اسلام سے جدا ہے اور مسلمان مردوعورت کا نکاح ایسے خارج عن الاسلام سے درست نہیں۔

(مہر دستخط محمد یحییٰ عفا اللہ عنہ مفتی بھوپال، ۳؍رجب ۱۳۳۶ھ)

(۲)ازریاست رام پور

جو شخص مرزائے قادیانی کے اقوال مذکور میں تصدیق کرے وہ اعلیٰ درجہ کا ملحد اور کافر ہے۔ ایسے شخص کے یہاں نکاح کرنا مطلقاً حرام ہے اور اگر کوئی شخص بعد نکاح اقوال مذکورہ میں مرزائے قادیانی کی تصدیق کرے گا تو اس سے افتراق لازم ہو گا۔

(دستخط ظہورالحسن محلہ پہلوار، ’’ذالک کذالک‘‘مظفر علی خان مقبرہ عالیہ،’’الامرکما حررہ مولانا السید ظہور احسن‘‘انصار حسین عفی عنہ،’’فان القول ماقالت خدام‘‘ ذوالفقار حسین عفی عنہ،’’الامر کذالک‘‘فقیر سید تأثیر حسین عفی عنہ)

(۳)ازریاست حیدرآباد

یہاں کے جوابات کی بجائے کتاب ’’افادۃ الافہام‘‘بجواب ازالۃ الاوہام مصنفہ جناب مولانا مولوی محمد انواراللہ خاں مرحوم ناظم امور مذہبیہ کا مطالعہ کر لینا کافی ہو گا۔

(۴)ازدارالعلوم دیوبند ضلع سہارن پور (سنی)

اقوال مذکورہ کا کفر وارتداد ہونا ظاہر ہے۔ پس وہ شخص جو ایسا کہتا اور عقیدہ رکھتا ہے اور جو اس کی پیروی اور تصدیق کرنے والے ہیں، وہ کافر ومرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اہل اسلام کو ان سے مناکحت درست نہیں اور ان کے ساتھ نکاح منعقد نہ ہو گا۔ اگر کوئی مسلمان نکاح کے بعد مصدق قادیانی کا ہو جائے تو وہ فوراً مرتد ہو جائے گا اور نکاح اس کا فسخ ہو جائے گا اور تفریق لازم ہوگی۔

383

(مہر، دستخط عزیزالرحمن عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند، ۱۲؍رجب ۱۳۳۶ھ)

الجواب صحیح، گل محمد خاں مدرس مدرسہ دیوبند الجواب صحیح، غلام رسول عفی عنہ

الجواب صحیح، الحسن عفی عنہ الجواب صحیح، محمد رسول خان عفی عنہ

الجواب صحیح، فقیر اصغر حسین عفی عنہ اصاب المجیب، محمد اعزاز علی عفی عنہ

الجواب صحیح، محمد ادریس عفی عنہ الجواب صحیح، احمد امین عفی عنہ

الجواب صواب، محمد تفضل حسین عفی عنہ الجواب صواب، عبدالوحید عفی عنہ

(۵)از تھانہ بھون ضلع سہارن پور (سنی)

جو مسلمان ایسے عقائد اختیار کرے جن میں بعضے یقینی کفر ہیں، بحکم مرتد ہے اور مرتد کا نکاح مسلمان عورت سے اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح مسلمان مرد سے صحیح نہیں اور نکاح ہو جانے کے بعد اگر عقائد کفریہ اختیار کر لے تو نکاح فسخ ہو جائے گا۔

(دستخط اشرف علی عفی عنہ، حکیم الامۃ مصنف تصانیف کثیرہ ۱۳۳۶ھ)

(۶)مدرسہ عربیہ مظاہر العلوم سہارن پور (سنی)

سوال مذکور الصدر میں اکثر ایسے امور ذکر کئے گئے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ناجائز اور موجب کفر وارتداد قائل ہیں۔ پس جو شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہو اور ان اقوال کا مصدق ہو تو اس کے کفر میں کچھ کلام نہیں۔ وہ شرعاً عامر مرتد ہو گا جس کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جو پہلے سے اہل اسلام تھا بعد نکاح کے قادیانی عقائد کا ہو گیا، اس کا نکاح فوراً شرعاً باطل ہو جائے گا۔ قضاء قاضی اور حکم حاکم کی بھی شرعاً اس میں ضرورت نہیں۔ ’’ارتداد احمدہما (الزوجین) فسخ عاجل بلا قضاء (شامی ج۲ ص۴۲۵) لا یجوزلہ ان تزوج مسلمۃ الخ ویحرم ذبیحۃ وصیدہ بالکلب والبازی والرمی‘‘حررہ عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ مظاہرالعلوم ۹؍اپریل ۱۹۱۸ء

(عالمگیریہ ص۸۷۷)

  1. الجواب صحیح، خلیل احمد

    الجواب صحیح، ثابت علی

  2. الجواب صحیح، عبدالرحمن

    الجواب صحیح، عبداللطیف

  3. الجواب صحیح بلاارتیاب، عبدالوحید سنبھلی

    قد اصاب من اجاب، ممتاز میرٹھی

384
  1. الجواب صحیح، منظور احمد

    ہذا ہو الحق، محمد ادریس

  2. الجواب صحیح، عبدالقوی

    الجواب الحق، محمد فاضل

  3. الجواب صحیح، بدر عالم میرٹھی

    جواب المجیب صحیح، علم الدین حصاری

  4. المجیب مصیب، غلام حبیب پشاوری

    ہذا الجواب حق، عبدالکریم نوگانوی

  5. ہذا جواب صحیح، فصیح الدین سہارن پوری

    جواب المجیب صحیح، محمد روشن الدین محمد پوری

  6. الجواب صحیح، نور محمد

    الجواب صحیح، دلیل الرحمن

  7. الجواب صحیح، محمد بلوچستانی

    الجواب حق، ظریف احمد مظفر نگری

  8. ﷲ درالمجیب، محمد حبیب اللہ

    (عفی اللہعنہم اجمعین!)

(۷)رائے پور ضلع سہارن پور (سنی)

جو شخص مسلمان ہو کر ان اقوال عقائد کا معتقد ہو وہ بلاتردد مرتد ہے۔ اس سے کوئی اسلامی معاملہ کرنا اور رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں اور جو ان کے عقائد تسلیم کر کے مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہے۔ حررہ نور محمد لدھیانوی مقیم رائے پور!

  1. الجواب صحیح، عبدالقادر شاہ پوری

    الجواب صحیح، مقبول سبحانی کشمیری

  2. مصدق، عبدالرحیم رائے پوری

    مصدق، خدابخش فیروزی،

  3. مجھے اتفاق ہے، محمد سراج الحق

    جواب درست ہے، محمد صادق شاہ پوری

  4. ہذا الجواب صحیح، احمد شاہ امام مسجد بھٹ

    الجواب صحیح، اللہ بخش بہاول نگر۔

(۸)از شہر کلکتہ (سنی)

ان باتوں کا ماننے والا اقسام کفر وشرک کا معجون مرکب ہے۔ پس ایسی حالت میں ان سے عقد مناکحت ومواخاۃ بالکل جائز نہیں اور یہ سب عقائد باعث ارتداد وموجب تفریق نکاح ماسبق ہیں، واللہ اعلم!کتبہ عبدالنور مدرس اولی مدرسہ دارالہدیٰ کلکتہ۔

الجواب صحیح، افاض الدین...الجواب صحیح، ابوالحسن محمد عباس

الجواب صحیح، محمد سلیمان مدرس مدرسہ دارالکتاب والسنۃ۔۔۔مہر، عبدالنور

الجواب صحیح، شمس العلماء مفتی محمد عبدال صدر مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ

385

الجواب صحیح، احمد سعید انصاری سہارنپوری حال وارد کلکتہ

الجواب صحیح، محمد اکرم خان سیکرٹری انجمن علماء بنگالہ ایڈیٹر اخبار محمدی کلکتہ

الجواب موافق الکتاب والسنۃ، عبدالرحیم ... الجواب صحیح، محمد یحییٰ

الجواب صحیح، محمد یحییٰ مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ...لا ریب فی صحۃ الجواب، محمد مظہر علی

لا ریب فی الجواب، عبدالصمد اسلام آبادی مدرس۔۔۔ لاریب فی الجواب، صفی اللہ شمس العلماء

الجواب صحیح، عبدالواحد مدرس دوم مدرسہ دارالہدیٰ... الجواب صحیح، محمد زبیر

الجواب صحیح، ضیاء الرحمن از کلکتہ کولوٹولہ نمبر۶ مسجد اہل حدیث ۲۴؍رجب ۱۳۳۶ھ۔

(۹)از شہر بنارس (سنی)

مرزاقادیانی مسائل اعتقادیہ منصوصہ کا منکر ہے۔ لہٰذا اس عقیدہ رکھنے والے کے ساتھ عقد مناکحت واستقرار نکاح ہرگز نہیں ہوسکتا اور تصدیق (مرزا) بعد نکاح موجب افتراق وفسخ نکاح ہوگا۔

کتبہ محمد ابوالقاسم البنارسی مدرسہ عربیہ محلہ سعید نگر بنارس، ۱۰؍جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ

میں بھی اس تحریر کے موافق ہوں، محمد شیر خان مدرس کان اللہ لہ

ما کتب صحیح، حکیم محمد حسین خان...الجواب صحیح، محمد عبداللہ مدرس کان پوری

الجواب صحیح، محمد حیات احمد...جواب صحیح ہے، حکیم عبدالمجید عفی عنہ

(۱۰)شہر آرہ (سنی)

اقوال مندرجہ سوال مرزاقادیانی کا حد کفر تک پہنچنا ظاہر ہے بلکہ اس کے بعض اقوال سے شرک ثابت ہوتا ہے اور مشرکین کے حق میں وارد ہے: ’’ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا‘‘ اور مرزاقادیانی کے منکر رسالت ہونے میں کوئی کلام نہیں بلکہ وہ خود مدعی نبوت والوہیت ہے۔(اعاذنا اللہ منہ)پس جو لوگ ان اقوال کے قائل ومصدق ومعتقد ہیں، ہرگز وہ مؤمن نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ مخالطت ومجالست ومناکحت جائز نہیں: ’’قال تعالی ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النارای لا تمیلوا الیہم بمودۃ ومخالطۃ ومجالسۃ ومناکحۃ ومداہنۃ ورضی باعمالکم فتصیبکم النار

386

کما صرح بہ المفسرون المحققون من المتقدمین منہم والمتأخرین رضوان اللہ علیہم اجمعین‘‘بالجملہ قادیانیوں کے ساتھ کسی مسلمہ کا نکاح ہرگز جائز نہیں اور اگر نکاح ہو گیا تو تفریق کرا دینی چاہئے اور اگر کوئی مسلمان قادیانی ہو گیا تو اس کا نکاح بلا طلاق فسخ ہو گیا۔ اس کی عورت کسی مسلمان صالح سے نکاح کر سکتی ہے۔

’’واللہ اعلم باالصواب!کتبہ ابوطاہر البہاری عفا عنہ الباری المدرس الاول فی المدرسۃ الاحمدیۃ‘‘

قدصح الجواب، محمد طاہر ابن حضرت مولانا ابوطاہر دام فیضہ

قد اصاب من اجاب، محمد مجیب الرحمن دربھنگوی۔

(۱۱)بدایوں (سنی)

مرزائیوں سے رشتہ زوجیت قائم کرنا حرام ہے۔ اگر لاعلمی سے ایسا ہو گیا تو شرعاً نکاح ہی نہ ہوا۔ کیونکہ مسلمان عورت کا نکاح کافر کے ساتھ قطعاً حرام ہے۔ (ہکذا فی کتب الفقہ) اگر بعد نکاح کوئی مسلمان باغوائے شیطان عقائد کفریہ مرزائیہ کا معتقد ہو گیا تو اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور اگر عورت معتقد ہو گئی تو اس کا نکاح قائم نہ رہے گا۔ مثل مرتدین کے ہو جائے گا۔

مہر، محمد ابراہیم قادری بدایونی...مہر، محمد قدیر الحسن حنفی قادری

الجواب صحیح، محمد حافظ الحسن مدرس مدرسہ محمدیہ ۔۔۔الجواب صواب، احمد الدین مدرس شمس العلوم

ذالک کذالک، شمس الدین قادری فرید پوری۔۔۔مہر، محمد عبدالحمید

الجواب صحیح، حسین احمد، واحد حسین مدرس مدرسہ اسلامیہ، عبدالرحیم قادری، محمد عبدالماجد منظور حق مہتمم مدرسہ شمس العلوم، فضل الرحمن ولایتی، عبدالستار عفے عنہ۔

(۱۲)شہرالوروسنبھل (سنی)

مرزا کافر مرتد ملعون خارج از اسلام ہے اور ایک ہے ان تیس میں جن کی خبر آنحضرتﷺ نے دی ہے کہ میرے بعد تیس دجال کذاب پیدا ہوں گے جو اپنی نبوت باطلہ کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور جو شخص غلام احمد قادیانی کا ہم عقیدہ

387

ہے وہ بھی کافر ہے۔ مسلمان عورت اور مردوں کا نکاح ان مرتدین کے رجال ونساء سے ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح پہلے ہو چکا تھا پھر زوجین میں سے کسی ایک نے ان کفریات کا ارتکاب کیا تو فوراً ہی نکاح ٹوٹ گیا۔ زن وشوہر کا جو تعلق ورشتہ تھا وہ منقطع ہو گیا۔ اب اگر صحبت ہو گی تو زنا ہو گا اور اولاد حرامی!

حررہ العبد المسکین محمد عماد الدین سنبھلی السنی الحنفی القادری!

بے شک ایسے کفری قول کرنے والا اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہے اور مرتد اور اس کا مسلمانوں سے نکاح جائز نہیں۔ محمد ابوالبرکات سید احمد الوری سلمہ اللہ القوی!

(۱۳)از آگرہ (اکبر آباد) وبلند شہر (سنی)

الف… جو ان اقوال کفریہ کا مصدق ہے وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ مسلم غیرمصدقہ کا رشتہ زوجیت جائز نہیں اور زوجین میں سے کسی ایک کا بعد نکاح ان اقوال کی تصدیق کرنا موجب افتراق ہے۔ فقط محمد محمام امام مسجد جامع آگرہ۔

ب… ان اقوال کے قائل اور معتقد کے ساتھ نکاح مطلق جائز نہیں اور ایسا نکاح مؤجب افتراق ہے۔ سید عبداللطیف مدرس عالیہ جامع آگرہ۔

ج… قادیانی مرتد ہے اور قادیانیوں کے ساتھ نکاح مطلقاً جائز نہیں اور اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت مرتد ہو جائے اس کا نکاح فسخ ہو گا۔ (انتہی مختصر فقط) حررہ العبد الراجی رحمۃ ربہ القوی ابومحمد دیدار علی الرضوی الحنفی المفتی فی جامعہ اکبر آباد!

د… عقائد مندرجہ سوال رکھنے والا قطعاً کافر ہے۔ عورت اس کے نکاح سے باہر ہے۔ اہل اسلام کو چاہئے کہ احکام ومعاملات میں ان سے احتراز رکھیں۔ ہکذا فی کتب الاسلام! خادم الطلباء محمد مبارک حسین محمودی صدر مدرس مدرسہ قاسم العلوم ضلع بلند شہر۔

(۱۴)از مراد آباد (سنی)

غلام احمد قادیانی کے کفریات بدیہی ہیں کہ جن پر استدلال کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس کے تابعین سے رشتہ اخوت سلسلہ مناکحت، تعلق محبت، ربط، ضبط، شرعاً قطعی حرام

388

ہے۔ ہرگز ہرگز ان اسلامی روپ کے کافروں سے مؤمنین کو کوئی دینی تعلق نہ رکھنا چاہئے۔ ان سے نکاح زنا ہو گا جو دین ودنیا میں وبال ونکال ہے۔ خادم العلماء والفقراء غلام احمد حنفی قادری مراد آبادی، ۱۸؍رجب ۱۳۳۶ھ

(۱۵)شہر لکھنو (از حضرات شیعہ)

(نوٹ) حضرات شیعہ کے فتوے اس لئے معدودے چند ہیں کہ ان میں سوائے مجتہد کے کوئی دوسرا فتویٰ نہیں دے سکتا اور مجتہد کا فتویٰ تمام افراد شیعہ کو ماننا پڑتا ہے:

الف… الجواب ومن اللہ التوفیق عقد مسلم یا مسلمہ قادیانی یاقادیانیہ سے جائز نہیں اور اگر کوئی مسلم یا مسلمہ خدانخواستہ قادیانی مذہب اختیار کرے تو نکاح اس کا باطل ہو جائے گا۔ واللہ العاصم! ناصر علی عفی عنہ بقلمہ۔

ب… باسمہ سبحانہ! جو شخص ان اقوال کا قائل اور ان معتقدات کا معتقد ہو، اس کا عقد ان مسلمین ومسلمات سے اور علی الخصوص مؤمنین وشیعیان اثنا عشرہ سے جو کہ ان معتقدات باطلہ کے قائل ومعتقد نہیں ہیں۔ حرام وباطل ہے اور تصدیق ان عقائد کے بعد عقد بھی مؤجب افتراق وبطلان عقد ہے۔ حررہ السید آقا حسن!

ج… باسمہ سبحانہ! جو شخص ان تمام امور مندرجہ استفتاء کا معتقد ہو وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ زن مسلمہ کا عقد ناجائز وباطل ہے اور جس زن مسلمہ کا شوہر بعد الاسلام ان عقائد کا معتقد ہو جائے، اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا بلکہ جمیع احکام کفروارتداد ایسے اعتقاد والے جاری ہو جائیں گے۔ واللہ یعلم! سید نجم الحسن عفی عنہ بقلمہ!

(۱۶)شہر لکھنو ندوۃ العلماء (سنی)

ان اقوال مندرجہ استفتاء کا مصدق ہو۔ اس کے ساتھ مسلمہ غیرمصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں اور جو شخص کہ نکاح کے بعد ان اقوال کا مصدق ہوا، اس کی یہ تصدیق ضرور موجب افتراق ہے۔ قال تعالیٰ:’’فان علمتموہن مؤمنات فلا ترجعوہن الی الکفار لا ہن حل لہم ولا ہم یحلون لہن‘‘خداتعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر تم یقینا معلوم کر لو کہ عورتیں مسلمان ہیں تو کبھی کفار کو واپس نہ دو۔ نہ یہ (عورتیں) ان

389

لوگوں سے ناجائز ہے۔ ’’حررہ الراجی رحمۃ رب القوی ابوالحماد محمد شبلی المدرس فی دارالعلوم لندوۃ العلماء عفی عنہ‘‘

مذکورہ بالا جوابات بالکل صحیح ہیں، عبدالودود عفی عنہ مدرس دارالعلوم۔

ان اقوال مذکورہ استفتاء کا جو شخص قائل ہو وہ کافر ہے اور اسلام سے خارج ہے۔ مناکحت وغیرہ اس سے جائز نہیں۔ امیر علی عفا اللہ عنہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔

معتقد ان اعتقادات کا مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا کسی مسلمہ کا نکاح ان سے جائز نہیں اور اگر نکاح کیاگیا ہو وہ عدم محض سمجھا جائے گا اور تفریق واجب ہو گی۔ حیدر شاہ فقیہ دوم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔

واقعی بعض از معتقدات مذکورہ کفر است ومعتقد رابسرحد کفر رساند وکفر کہ بعد ایمان ارتداد است وبا مرتد ومرتدہ نکاح ایماندار درست نیست۔ ’’واللہ اعلم بالصواب! حررہ الراجی الی رحمۃ ربہ الباری محمد عبدالہادی الانصاری حفید العلامۃ ملا مبین شارح السلم والمسلم اسکنہ اللہ فی اعلیٰ علیین‘‘

میں نے ایک عرصہ تک مرزاغلام احمد قادیانی کے حالات ودعاوی کی تحقیق کی۔ دوران تحقیق میں اس امر کا خاص لحاظ رکھا کہ ذرہ بھر نفسانیت کا دخل نہ ہو۔ لیکن خدا اس کا بہتر شاہد ہے کہ جس قدر میں تحقیق کرتا گیا، اسی قدر میرا یہ اعتقاد پختہ ہوتا گیا کہ جو لوگ مرزاقادیانی کی تکفیر کرتے ہیں، یقینا وہ حق پر ہیں۔ پس ایسی صورت میں مرزائیوں سے مناکحت وغیرہ ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح ہو چکا ہے تو تفریق ضروری ہے۔

’’حررہ ابوالہدیٰ فتح اللہ الہ اباد کان اللہ لہ‘‘ حال مدرس اوّل انجمن اصلاح المسلمین لکھنو!

(۱۷)از شہر دہلی (سنی)

الف… فرقہ قادیانی قطعاً منکر آیات قرانی اور احادیث صحیحہ اور اجماع امت کا ہے اور

390

دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ان سے مناکحت یقینا ناجائز اور باطل ہے۔ حکیم ابراہیم مفتی دہلوی مدرسہ حسینیہ۔

ب… مرزاغلام احمد قادیانی کے یہ اقوال مندرجہ سوال اکثر میرے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ایسے ہیں جو ایک مسلمان کو مرتد بنا دینے کے لئے کافی ہیں۔ پس مرزاقادیانی اور جو شخص ان کا ان کلمات کفریہ کا مصدق ہو سب کافر ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزائی تو غیراحمدی کا جنازہ بھی حرام بتائیں اور غیراحمدی ان کے ساتھ رشتے ناطے کریں۔ آخر غیرت بھی کوئی چیز ہے۔حررہ محمد کفایت اللہ غفرلہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی۔

ج… جو شخص مرزائے قادیان کا ان اقوال مذکورہ میں مصدق ہو اس کے ساتھ مسلم غیرمصدق کا رشتہ مناکحت کرنا ہرگز جائز نہیں اور تصدیق کے بعد موجب افتراق ہے۔

’’حررہ السید ابوالحسن عفی عنہ، الجواب صحیح، احمد سلمہ الصمد مدرس مدرسہ مسجد حاجی علی جان مرحوم دہلی۔ مآاجاب المجیب فہو حق جری ان یعمل بہ، حررہ ابومحمد عبید اللہ مدرس مدرسہ دارالہدیٰ کشنگنج دہلی‘‘

مرزائی بوجہ اپنے کفر کے اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے مسلمان رشتہ داری مناکحت ومجالست کریں اور نہ ایسے لوگوں میں مسلمان عورت کا نکاح ہوسکتا ہے۔ حرہ الراجی رحمۃ الحنان عبدالرحمن مدرس دارالہدیٰ

حررہ احمد اللہ مدرس مسجد حاجی علی جان دہلی۔ الجواب صحیح، عبدالستار کلانوری نزیل دہلی مفتی مدرسہ دارالکتب والسنۃ ۱۰؍جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ، عبدالعزیز عفی عنہ، عبدالرحمن عفی عنہ، عبدالسلام خلف مولوی عبدالرحمن، ابوتراب عبدالوہاب عفی عنہ، ﷲ درالمجیب ابوزبیر محمد یونس پرتاپ گڈھی مدرسہ علی جان۔
391

(۱۸)ہوشیار پور (سنی)

مرزائے قادیانی کے دعاوی کاذبہ کی جو تصدیق کرتا ہے،ا س کا رشتہ ونکاح کسی مسلمان سے ہر گز ہرگز جائز نہیں اور جو شخص اس کے عقائد باطلہ کی تصدیق بعد عقد زوجیت کرے تو اس کی یہ تصدیق موجب تفریق اور باعث فسخ نکاح ہے۔

خادم اراکین انتظامیہ ندوۃ العلماء غلام محمد ہوشیارپوری۔

ہذا ہو الجواب الحق! کتبہ مولوی احمد علی عفی عنہ نورمحلے۔

(۱۹)لودھیانہ (سنی)

الف… ایسے عقائد مذکور کا شخص کافر بلکہ اکفر۔ ان سے رشتہ لینا دینا درست نہیں ہے۔ کتبہ العبدہ العاجز علی محمد عفا عنہ مدرس مدرسہ حسینیہ لدھیانہ۔

ب… چونکہ یہ شخص نصوص قطعیہ کا منکر ہے اور یہ کفروارتداد ہے۔ اس لئے ایسے کافر ومرتد سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور اگر قبل از ارتداد نکاح ہوا تو ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔

حررہ رحمت علی مدرس مدرسہ غزنویہ محلہ دہولیوال۔

الجواب صحیح، محمد عبداللہ عفی عنہ مدرسہ مدرسہ غزنویہ، نور محمد از شہر لدھیانہ، عاجز حافظ محمد الدین مہتمم مدرسہ بستان الاسلام لدھیانہ محلہ صوفیاں۔

(۲۰)لاہور (سنی وشیعہ صاحبان)

الف… چونکہ مرزائے قادیانی اور اس کے پیروؤں کا کفر منجانب علمائے ہندو پنجاب قطعی ہے۔ لہٰذا ان کے ساتھ کسی مسلمہ عورت کا نکاح جائز نہیں اور بروقت ظہور مرزائیت نکاح فسخ ہو جائے گا۔ نوربخش (ایم۔اے) ناظم انجمن نعمانیہ لاہور!

ب… صورت مرقومہ میں جس قدر عقائد بیان کئے گئے ہیں، ازروئے قرآن وحدیث کے وہ سب باطل اور کفر ہیں بلکہ بعض تو حد شرک تک پہنچے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں ان عقائد کا مدعی جس طرح دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس کے مرید اور معتقد بھی چونکہ لازماً اس حکم میں داخل ہیں۔

392

لہٰذا ان سے بہرطور معاشرت کرنا اور ان کو معابد ومساجد میں آنے دینا، ان پر نماز جنازہ پڑھنا، ان سے رشتہ وناطہ کرنا شرعاً سب ناجائز اور فعل حرام اور معصیت عظیم ہے۔ خاص کر ان کو لڑکی کا رشتہ دینے کی ممانعت تو نہایت ہی مؤکد اور اہم ہے۔ ’’لان المرأۃ تاخذ من دین بعلہا‘‘کیونکہ عورت اپنے خاوند سے دین حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہعورت ضعیف العقل ہونے سے سبب شوہر کے دین کو اختیار کر لیتی ہے۔

’’اعاذنا اللہ وجمیع المؤمنین من النفس الامارۃ باالسوء والضلالۃ بعد الہدیٰ (وہو العالم) من مبارک حویلی (لاہور) رقمہ خادم الشریعۃ المطہرہ علی الحائری بقلمہ‘‘

(۲۱)شہر پشاور معہ مضافات (سنی)

عقائد مرقومہ کا معتقد اور مصدق یقینا اسلام سے خارج ہے اور کسی مسلمان عورت کا نکاح ایسے شخص سے جائز نہیں اور تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے۔ تمام کتب فقہ میں ہے: ’’وارتد اد احدہما فسخ فی الحال‘‘ کہ بیوی، میاں سے کسی کا مرتد ہونا نکاح فوراً فسخ کرا ہے۔

حررہ محمد عبدالرحمن ہزاروی

الجواب صحیح، بندہ محمود شہر پشاور..عبدالواحد از پشاور..عبدالرحمن بقلم خود

مفتی عبدالرحیم پشاوری..محمد خان پوری.. محمد رمضان پشاوری

مولوی عبدالکریم پشاوری.. حافظ عبداللہ نقشبندی

(۲۲)راولپنڈی معہ مضافات (سنی)

جو الفاظ مرزاغلام احمد قادیانی کے استفتاء میں ذکر ہوئے، یہ تمام کفریہ ہیں۔ پس عورت مسلمان کا نکاح مرزائی کے ساتھ ہرگز جائز نہیں اور اگر پہلے وہ مسلمان تھا اور پیچھے وہ مرزائی ہو گیا اور عورت مسلمان ہے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ کتبہ عبدالاحد خان پوری از راولپنڈی۔

الجواب صحیح، عبداللہ عفا عنہ از مدرسہ سنیہ راولپنڈی،

سید اکبر علی شاہ متصل جامع مسجد، محمد کیچ مکرانی مقیم شہر راولپنڈی،

393

محمد مجید امام راولپنڈی و محمد عصام الدین مدرس مدرسہ احیاء العلوم راولپنڈی،

عبدالرحمن بن مولوی ہدایت اللہ مرحوم امام مسجد اہل حدیث صدر، پیر فقیر شاہ از راولپنڈی۔

(۲۳)شہر ملتان معہ مضافات (سنی)

بلاارتیاب یہ تمام اعتقادات صریح کفر والحاد ہیں۔ قائل ومعتقدان کا خود بھی کافر ہے اور جو شخص اس کو باوجود ان اعتقادات کے مسلم یا مجدد یا نبی یا رسول مانے وہ بھی کافر اور مرتد ہے اور بحکم آیت:’’لاہن حل لہم ولاہم یحلون لہن‘‘مناکحت مسلمہ بمرزائی وبالعکس نہ ابتداء صحیح ہے نہ بقاء۔ یعنی رشتہ مناکحت ہوسکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا ہے۔ اسی طرح حقوق ارث سے بھی حرمان ہو جاتا ہے۔

حررہ ابومحمد عبدالحق ملتانی

الجواب صحیح، احقر العبد ابوعبید خدابخش ملتانی عفی عنہ، خاکسار محمد عفی عنہ از ملتان

(۲۴)ضلع جہلم (سنی)

مرزائے قادیانی کے یہ دعاوی اور اسی قسم کے دوسرے دعاوی کفر وشرک تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کا الہام ہے کہ:

’’الارض والسماء معک کما ہو معی۔‘‘(تذکرہ ص۵۲ طبع چہارم) زمین آسمان جیسے خدا کے ماتحت ہیں ایسے مرزا کے بھی ماتحت ہیں۔

ایک اور الہام ہے کہ: ’’یتم اسمک ولایتم اسمی‘‘ (تذکرہ ص۳۹،۴۰ طبع چہارم) خدا کہتا ہے کہ میرا نام تو ناقص رہے گا، مگر تیرا نام ضرور کامل ہو جائے گا۔

پہلے دعوے میں شرک جلی اور دوسرے میں وہ غرور دکھایا ہے کہ کسی فرعون نے بھی نہیں دکھایا۔ اس لئے جو ان اقوال کا مصدق ہو وہ بلاشبہ کافرومشرک ہے اور کسی مسلم کو جائز نہیں کہ کسی مشرک سے تعلق وزوجیت قائم رکھے اور رشتہ زوجیت قائم ہونے کے بعد ایسے عقائد کا مصدق ہونا موجب افتراق ہے۔ علاوہ ازیں مرزا (محمود) نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو اس کی نبوت کا کلمہ نہیں پڑھتا، خواہ وہ مرزا کا مکفر نہ بھی ہو وہ کافر ہے اور اہل اسلام کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی نے توہین انبیاء میں کچھ کمی نہیں چھوڑی۔ ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘(حقیقت الوحی ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲) کے دعوے میں آنحضرتﷺ

394

کی ذات بابرکت پر سخت حملہ کیا ہے اور اپنے آپ کو علت تکوین عالم بتاتے ہوئے حضورﷺ کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا۔ (پھر طرفہ یہ کہ دعویٰ غلامی ہے) انتہی مختصراً !

حررہ محمد کرم الدین از بھین ضلع جہلم تحصیل چکوال، نور حسین از بادشہانی، محمد فیض الحسن مولوی فاضل بھین ضلع جہلم۔

(۲۵) ضلع سیالکوٹ (سنی)

الف… مرزاقادیانی کے عقائد کفر ہیں اور جو ایسے مذہب کا مصدق ہے، اس کے ساتھ رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں بلکہ تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے۔ ’’من بلفظ کفر یکفر وانا کل من ضحک علیہ اواسحسنہ اویرضی بہ یکفر (قواطع الاسلام) من حسن کلام اہل الہوال وقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذالک کفر من القائل کفر الحسن (البحر الرائق) ایما رجل سب رسول اللہﷺ اوکذبہ اعابہ اوتنقصہ فقد کفر بااللہ وبانت منہ امرٔتہ (کتاب الخراج للامام ابی یوسف)‘‘

ابویوسف محمد شریف عنی عنہ کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ۔

ب… مرزاقادیانی کے عقائد کفریہ کا جو مصدق ہے وہ بھی کافر ہے۔ لقولہ تعالیٰ: ’’ومن یتولہم منکم فانہ منہم‘‘امام اعظم ابوحنفیہv کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مقام استدلال پر علامت نبوت کے لئے کچھ مہلت مانگی تھی تو آپ نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو شخص اس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا وہ کافر ہو گا۔ کیونکہ وہ آنحضرتﷺ کے اس فرمان کا مکذب قرار دیا جائے گا کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ مریے بعد کوئی نبی نہیں۔ ’’الخیرات الحسان لابن حجر المکی‘‘ پس مرزاقادیانی کے مصدق سے رشتہ زوجیت جائز نہیں۔ کوئی کرے بھی تو کالعدم ہوگا۔

حررہ ابوالیاس محمد امام الدین قادری کوٹلی لوہاراں مغربی۔

ج… ایسا شخص کافر ہے اور کافر سے نکاح درست نہیں۔ جامع الفصولین وفتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’قال انا رسول اللہ اوقال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغامبرم یکفر‘‘ علامہ یوسف اردہیلی شافعی کتاب الانوار میں لکھتے ہیں کہ:

395

’’من ادعی النبوۃ فی زماننا اوصدق مدعیا لہا اواعتقد نبیا فی زمانہ او قبلہ من لم یکن نبیا کفر‘‘جو شخص ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے یا یہ اعتقاد رکھے کہ آپ کے زمانہ میں یا آپ سے پہلے وہ شخص نبی تھا کہ جس کی نبوت کا ثبوت نہیں وہ کافر ہو گا۔

’’رقمہ ابوعبدالقادر محمد عبداللہ امام مسجد جامع کوٹلی مذکور‘‘سید میر حسن از کوٹلی لوہاراں، الفقیر السید فتح علی شاہ حنفی قادری از کھروٹہ سیداں ضلع سیالکوٹ۔

(۲۶)ضلع ہوشیارپور (سنی)

جو شخص مرزاغلام احمد قادیانی کے دعاوی کاذبہ کی تصدیق کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اہل اسلام کے ساتھ ایسے شخص کا تعلق زوجیت جائز نہیں اور ازدواج کے بعد اس کے دعاوی کی تصدیق موجب فرقت ہے۔

حررہ نورالحسن جہلمی مدرس مدرسہ خالقیہ کوٹ عبدالخالق

الجواب صحیح، اللہ بخش پٹیالوی مدرس عربی مدرسہ خالقیہ، محمد فاضل گجراتی مدرس مدرسہ خالقیہ، عبدالحمید جسری از کوٹ عبدالخالق۔

(۲۷)ضلع گورداسپور (سنی)

عورت اگر مرزائی عقیدہ کی ہو تو نکاح نہیں ہو گا۔ چہ جائیکہ مرد اس عقیدہ کا ہو۔ اگر بعد انعقاد نکاح یہ اعتقاد احد الزوجین کا ہو جائے تو نکاح باطل ہو گا۔ واللہ اعلم بالصواب!

بندہ عبدالحق دنیانگری مؤرخہ ۲۰؍جمای الثانی ۱۳۳۶ھ

(۲۸)ضلع گجرات پنجاب (سنی)

مرزا کے مصدق سے اہل اسلام کا باہمی رابطہ ازدواج ہرگز درست نہیں۔ فقہاء نے بعض بدعات بھی مکفرہ فرمائی ہیں۔ بھلا یہ تو صاف کفریات ہیں۔ واللہ الہادی!

حررہ العبد الاواہ الشیخ عبداللہ عفی عنہ از ملکہ، الجواب صحیح، بندہ عبید اللہ از ملکہ۔

(۲۹)ضلع گوجرانوالہ (سنی)

الف… جو لوگ اعتقادات مذکورہ میں مرزاقادیانی کے معتقد ومصدق ہیں، ان سے علاقہ

396

زوجیت ہرگز نہ کرنا چاہئے۔ حررہ حافظ محمد الدین مدرس مسجد حافظ عبدالمنان مرحوم۔

ب… بے شک جن لوگوں کا ایسا عقیدہ ہے ان کے ساتھ مخالطت اور مناکحت جائز ہیں۔

حررہ عبداللہ المعروف بہ غلام نبی از سوہدرہ، الجواب صحیح محی الدین نظام آبادی عفی عنہ، عمرالدین معلم وزیرآباد مسجد برنے والی۔ خاکسار عبدالغنی!

ج… بے شک مرزا کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کا شریک ثابت کرتا ہے۔ اس لئے مرزائیوں سے مناکحت ناجائز ہے۔

حررہ احمد علی بن مولوی غلام حسن از چک بھٹی۔

(۳۰) شہر امرتسر (سنی)

۱… مدعیان نبوت ورسالت کے ارتداد وکفر میں کوئی اہل ایمان وعلم متردد نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کے لوگوں سے رشتہ وناطہ کرنا بالکل حرام ہے اور اگر بیوی یا میاں اب مرزائی ہو جائے تو نکاح واجب الفسخ ہے اور مقننین اہل اسلام کافرض ہے کہ گورنمنٹ سے ایسے قانون کے نفاذ کی اپیل کریں تاکہ ہمارے مذہب اور ضمیر کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو سکے کہ جس سے ہمارے حقوق تلف ہوں۔ کیونکہ مرزائی بجائے خود رہے جو مرزائیوں کو مسلمان تصور کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ختم رسالت وغیرہ بدیہیات دین کو غیرضروری خیال کرتے ہیں بلکہ دراصل منکر ہیں۔

حررہ ابوالحسن غلام المصطفیٰ الحنفی القاسمی الامرتسری عفا اللہ عنہ!

۲… مرزاغلام احمد قادیانی کی تالیفات اس کے کفر پر معتبر گواہ (شاہد عدل) ہیں جن کے سامنے اس کا ایمان بالکل ثابت نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص کشتی نوح ضمیمہ انجام آتھم اور دافع البلاء کو دیکھنے والا اس کے کفر میں کبھی شک نہیں کرسکتا۔ پس جو لوگ اسے نبی مانتے ہیں، ان سے محبت، دوستی، رابطہ، رشتہ پیدا کرنا یا قائم رکھنا جائز نہیں۔ ’’لقولہ تعالی لا تتخذ والکفرین اولیاء من دون المؤمنین ولقولہ تعالی لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذالک فلیس من اللہ فی شیٔ‘‘امام ومتولی مسجد کوچہ سعی امرتسر۔

397

۳… مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ہمارے نبیa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔ (دیکھو شرح فقہ اکبر ملا علی قاری) لہٰذا جماعت مرزائیہ خارج از اسلام ہے۔ سب مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت اس پر حرام ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو صحبت کرے گا وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد کہ پیدا ہوتی ہے ولد الزنا ہو گی ور مرتد جب بغیر توبہ کے مر جائے تو اس پر جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے بلکہ مانند کتے کے بغیر غسل وکفن کے گڑھے میں ڈالا جائے۔ (ملاحظہ ہو کتاب الاشباہ والنظائر) ’’اللہم توفنا مسلمین والحقنا بالضالحین ولاتجعلنا من المرزائیین‘‘

حررہ عبدالغفور الغزنوی عفا اللہ عنہ، الجواب صحیح محمد حسین۔

۴… مرزاقادیانی کا فتنہ اسلام میں آفات کبریٰ سے ہے۔ اس کا کفر علماء ربانیین نے قدیماً وحدیثاً ثابت کیا ہوا ہے۔ اہل اسلام کے اس باب میں کئی کتب ورسائل واشتہارات موجود ہیں اور وہ اسی عقیدہ کفریہ پر مر گیا ہے۔ اب بھی جو کوئی اس کو نبی جانے اور اسی طرح کا عقیدہ رکھے وہ بھی بلاریب بموجب شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ کافر ہے اور مومنہ سنیہ سے اس کا نکاح فسخ ہے اور مومنہ سنیہ کا نکاح مرزائی سے باندھنا حرام ہے اور یہ نکاح باطل ہے۔ ’’قال اللہ عزوجل: لا ہن حل لہم ولاہم یحلون لہن‘‘الآیۃ ہذا فقط واللہ اعلم!

ابواسحاق نیک محمد عفنی عنہ مدرس مدرسہ غزنویہ تقویتہ والاسلام امرتسر۔

۵… بندہ کو مضامین بالا مذکورہ میں اتفاق ہے۔ واقعی مرزاغلام احمد قادیانی کے عقائد باطلہ دائرہ اسلام سے اس کو خارج کرتے ہیں۔ فقط محمد تاج الدین مدرس بی این ہائی سکول امرتسری۔

۶… مرزاغلام احمد قادیانی نے علی الاعلان دعویٰ نبوت کیا اور دیگر انبیاء کی توہین کی۔ بعض کو گالیاں دیں اور مذکورۃ الصدر سارے دعوے بھی کئے، جن کی بناء پر وہ خود کافر ہوکر مرا۔ اس کے ماننے والے بھی کافر۔ ان سے ہر قسم کا قطع تعلق کر لیا جائے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔

۷… اقوال مذکورہ اکثر کفریہ ہیں جن کی تاویل سے بھی مخلصی کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ لہٰذاان اقوال کا ماننے والا اور مصدق اس قابل ہرگز نہیں کہ اس کے ساتھ رشتہ زوجیت پیدا

398

کیا جائے اور اگر نکاح پہلے ہوچکا ہے تو افتراق ضروری ہے۔

مسکین سلطان محمد بقلم خود، الجواب الصحیح، سلام الدین عفا اللہ عنہ!

۸… الجواب! جو شخص مرزاغلام احمد قادیانی کے اقوال مذکورہ بالا کا مصدق ہے اور ان کو صحیح مانتا ہے، وہ شرعاً کافر ومرتد ہے اور کافر ومرتد کا نکاح عورت مسلمہ سے ہرگز جائز نہیں اور اگر بعد از نکاح ناکح مرزائی ہو گیا تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اعلان کرنا چاہئے کہ کوئی شخص مسلمان مرزائیوں سے زوجیت کا تعلق پیدا نہ کرے۔

حکیم ابوتراب محمد عبدالحق، الجواب صحیح، ابوالفقر محمد شمس الحق امرتسر

۹… جو شخص مرزاقادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو، اس کے ساتھ مسلم غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا جائز نہیں۔

محمد داؤد غزنوی امرتسری۔

۱۰… الجواب! قادیانی مدعی نبوت نے جو کچھ خارج از اسلام عقائد پھیلائے ہیں وہ صاف صاف اس کے کافر ہونے پر بین ثبوت ہیں اور جس قدر اس نے اہل اسلام سے اظہار نفرت کیا ہے، اسی قدر ہم بھی اس کے ہم عقیدہ اور مریدوں سے نفرت کریں تو ہمارے مذہبی احساس کا نتیجہ ہو گا۔ اس لئے جملہ اہل اسلام کو ضروری ہے کہ ان سے قطع تعلق کریں اور بالخصوص مناکحت اور کفن دفن سے ضرور اجتناب کریں۔

نوراحمد عفی عنہ پسروری ثم امرتسری ۲۵؍شوال ۱۳۳۸ھ،

الجواب صحیح، غلام محمد مولوی فاضل منشی فاضل اوّل مدرس دینیات اسلامیہ ہائی سکول امرتسر،

الجواب صحیح، محمد نورعالم، مولوی فاضل منشی فاضل مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول امرتسر۔

۱۱… میری مدتوں کی تحقیق میں اچھی طرح سے ثابت ہوچکا ہے کہ مرزا قادیانی کافر قطعی اور کذاب یقینی ہے اور جو لوگ دیدہ دانستہ اس کے تابعدار اور اس کے مذہب کے پابند ہیں، ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ پس مسلمہ عورت کے ساتھ مرزائی مرد کا نکاح فسخ ہے: ’’لاہن حل لہم ولاہم یحلون لہن‘‘بلااطلاق اور جگہ نکاح جائز ہے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ ہونے دیں۔ ایسے کافر ہیں کہ پہلے زمانوں میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ ’’العلم عند اللہ‘ محمد علی عفا اللہ عنہ واعظ ۲۷؍شوال ۱۳۳۸ھ

399

۱۲… بحکم حدیث شریف:’’زوجوا من ترضوان دینہ‘‘مرزائی سے محمدی خاتون کا نکاح نہ ہونا چاہئے اور اگر ہو جائے تو فسخ کرالینا چاہئے۔ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری۔

(۳۱)فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور (سنی)

امابعد! (۱)’’فنقول ان المرزا ادعی وفات المسیح‘‘ (۲)’’القول بحیوۃ المسیح شرک‘‘ (۳)’’الجنۃ والنار لا حقیقت لہما‘‘ (۴)’’اللہ جسم غیر متناہ‘‘ (۵)’’النصوص لیست علی ظواہرہا‘‘ (۶)’’فوقیۃ نفسہ علی رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم علما‘‘ (۷)’’النبوۃ لنفسہ‘‘ (۸)’’دوامہا بعد ختم الرسالۃ‘‘ (۹)’’تحصیل النبوۃ بالاکتساب‘‘ (۱۰)’’التمثل بعیسٰی بل بجمیع الانبیاء‘‘ (۱۱)’’فضیلۃ نفسہ علی المسیح‘‘ (۱۲)’’الاجراء الوحی‘‘ (۱۳)’’ضرورۃ الایمان بہ‘‘ (۱۴)’’المجالسۃ باللہ‘‘ (۱۵)’’المجانسۃ بہ‘‘ (۱۶)’’کونہ زوجۃ ﷲ‘‘ (۱۷)’’ولد اللہ‘‘ (۱۸)’’کونہ قیم اللہ فی کائناتہ‘‘ (۱۹)’’واتحاد ذاتہ بذات اللہ‘‘ (۲۰)’’شرکتہ فی صفتہ الخلق وقدرتہ۔ فہذہ عشرون امرا کلہ کفر یخالف الاسلام بل وتصدیق المرزافیہ من الکفر اذ کفی منہا الرجل فی کفرہ واحد فکیف اذا اجتمعت جمیعہا فی قائلہا الاقوال ذلک وحدی بل صرح بکفرہ من الائمتہ المتقدمین القاضی عیاض فی الشفا وملا علی القاری فی شرح الفقہ الاکبر وابن حجر واخرون فی مصنفاتہم (ملخصاً)‘‘

عبدالحئی بن مولانا عثمان عفا اللہ عنہ، ۴؍ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ

’’ولا یجوز لاہل الاسلام ان یعاملوا المرزائیۃ فی امردینیا کان او غیر دین‘‘انا العاجز محمد فاضل بن المولوی محمد اعظم مرحوم فتح گڑھی۔

مرزائیوں سے نکاح ہی درست نہیں۔ چہ جائیکہ افتراق کی حاجت ہو۔

محمد عبداللہ فتح گڑھی۔

محمد عبداللہ فتح گڑھی۔
تمت ہذہ الفتاوی فالمرجوا من المسلمین ان یعملوا بہا!
400

نکاح مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

401

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ … پہلے مجھے دیکھئے

مرزاغلام احمد قادیانی نے مہدویت، مسیحیت بلکہ نبوت کے دعوے کئے جس پر علماء اسلام سے ان کی بحثیں ہوتی رہیں۔ ان سب بحثوں کو جن میں قال اقول کی گردانیں ہوتی تھیں، مرزاقادیانی نے قطع مسافت کرنے اور ختم کرنے کو یوں فرمایا کہ مجھے میری روحانیات سے جانچو۔ یعنی میں جو کسی غیبی امر کی نسبت پیش گوئی کروں اس کو دیکھو۔ اگر وہ سچی ہے تو میں سچا ہوں۔ جھوٹی ہے تو میں جھوٹاہوں۔

چنانچہ لکھتے ہیں: ’’بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ۵؍جون ۱۸۹۳ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ۱۸۹۳ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے، جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ۲۱؍ستمبر ۱۸۹۳ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۱؎۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں، ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خداتعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خداتعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعاء سے ہلاک نہیں کر سکتا۲؎۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہرائے۔ سوپیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیش گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔

۱؎یعنی اگست ۱۸۹۴ء تک اس کی زندگی کا خاتمہ ہے۔ اس سے آگے نہیں۔ حالانکہ اب (اگست۱۹۲۱ء) تک زندہ ہے۔ (۱۹۴۸ء میں انتقال ہوا۔ فقیر)

۲؎مرزاقادیانی کی اردونویسی کا نمونہ ہے: ’’نہیں کرتا‘‘ کی جگہ ’’نہیں کر سکتا‘‘ لکھا ہے۔ اصل مضمون میں ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں کہ واقعی ایسا نہیں کرتا۔

402

یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں کہ:

۱… مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔

۲… اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔

۳… اور پھر یہ کہ مرزااحمد بیگ تاروز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔

۴… اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔

۵… اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔

۶… اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص ۸۰،۸۱ خزائن ج۶ ص۳۷۵، ۳۷۶)

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے بڑی صفائی سے دو باتوں کا اظہار کیا ہے۔ ایک یہ کہ میری یہ تین پیش گوئیاں قابل غور ہیں۔ دوم یہ کہ ان میں سے مرزااحمد بیگ اور اس کے داماد کی موت اور اس کی لڑکی کے نکاح والی پیش گوئی مسلمانوں سے خاص تعلق رکھتی ہے۔ ہم نے ان تینوں پیش گوئیوں بلکہ عموماً ان کی ساری پیش گوئیوں کی پڑتال رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ میں کی ہوئی ہے۔ مگر بغرض اختصار خاص اس پیش گوئی کو جو (بقول مرزا) مسلمانوں سے خاص تعلق رکھتی ہے، الگ رسالہ کی صورت میں شائع کرنا مفید سمجھا۔ اس لئے یہ چھوٹا سا رسالہ ناظرین کی خدمت میں پیش ہوتا ہے۔ امید ہے باانصاف ناظرین! اسے بغور دیکھیں گے۔

ابوالوفاء ثناء اللہ کفاہ اللہ ملقب فاتح قادیان امرتسر … ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ/ اگست ۱۹۲۱ء

الہامی پیش گوئی بابت نکاح دختر مرزا احمد بیگ

سب سے پہلے بطور اشتہار جو مرزاقادیانی نے اس نکاح کے متعلق اعلان کیا تھا، وہ ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کا اشتہار ہے، جس کے ضروری فقرے درج ذیل ہیں: ’’اس خدائے قادروحکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اوران کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط۱؎ سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے

۱؎کیا ہی عجیب موقع تھا۔ بیل کو کنویں میں خصی نہ کریں گے تو کہاں کریں گے۔ (مصنف)

403

لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔

پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے باربار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خداتعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی، ہرایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنا دے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔

چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے:’’کذبوا بایاتنا وکانوا بہا یستہزؤن فسیکفیکہم اللہ ویردہا الیک لاتبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید انت معی وانا معک عسٰی ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘

(ترجمہ) یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خداتعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہ ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی۱؎۔ یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کارخداتعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی۔‘‘ (آج تک تو جیسی ہوئی ہے نمایاں ہے)

خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور

(اشتہار۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۷ تا۱۵۹)

۱؎شاید ۶؍ستمبر ۱۸۹۵ء کے روز کی طرف اشارہ ہے۔

404

اس اشتہار کی عبارت اپنا مدعا بتانے میں صاف اور واضح ہے جس کی تفصیل خود مرزاغلام احمد قادیانی اپنے رسالہ شہادۃ القرآن میں کر چکے ہیں، جس کی عبارت ہم دیباچہ میں نقل کر آئے ہیں۔

اس اشتہار سے دو امر ثابت ہیں: ایک داماد مرزااحمد بیگ کا روز نکاح سے اڑھائی سال کے اندر اندر مر جانا۔ دوم! مسمات (محمدی بیگم منکوحہ) کا مرزاقادیانی سے نکاح ہو جانا۔ چنانچہ اس مضمون کو مرزاقادیانی نے ایک اور مقام پر خود ہی لکھا ہے: ’’فدعوت ربی بالتضرع والابتہال ومددت الیہ ایدی السؤال فالہمنی ربی وقال ساریہم آیتہ من انفسہم واخبرنی وقال اننی ساجعل بنتامن بناتہم آیۃ لہم فسماہا وقال انہا مستجعل ثیبۃ ویموت بعلہا وابوہا الی ثلث سنۃ من یوم النکاح ثم نردہا الیک بعد موتہما ولا یکون احدہما من العاصمین‘‘

( ضمیمہ کرامات الصادقین ص ل، خزائن ج۷ ص۱۶۲)

ترجمہ: میں (مرزا) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعاء کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خداتعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی۔ اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے۔ پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔

یہ عبارت بھی اپنا مدعا بتانے میں صاف ہے کہ یوم نکاح سے تین سال کے عرصہ کے اندر اندر مرزااحمد بیگ اور اس کا داماد مر جائیں گے اور مسمات منکوحہ اس کے بعد مرزاقادیانی کے نکاح میں آئے گی۔

شہادۃ القرآن کی منقولہ عبارت مندرجہ دیباچہ کتاب ہذا بتا رہی ہے کہ مرزاسلطان محمد داماد احمد بیگ کی مدت حیات اگست ۱۸۹۴ء تک ختم تھی۔ اس کے بعد اس کو دنیا میں رہنے کی اجازت نہ تھی۔ حالانکہ وہ آج (جولائی ۱۹۲۱ء) تک بھی زندہ ہے اور اس مدت میں وہ فرانس کی جانگداز جنگ میں بھی گیا۔ مگر مرزاقادیانی کی دعاء سے گولی کھا کر بھی زندہ بچ گیا۔ سچ ہے:

  1. مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

    آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعاء کے ساتھ

405

مرزاقادیانی کا اپنے چچازاد بھائیوں سے ایک دیوار کے متعلق مقدمہ تھا، جس میں انہوں نے مرزاقادیانی پر چند سوال کئے جن کے جواب میں مرزاقادیانی نے عدالت ہی میں حلفیہ بیان دیا۔

فرماتے ہیں: ’’احمد بیگ کی دختر (محمدی بیگم) کی نسبت جو پیش گوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے، وہ مرزاامام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہو گا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں، بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیش گوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الیٰ اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لئے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جز پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیش گوئی کا ایک جزو تھا۔ انہوں۱؎ نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہوکر رہیں گی۔‘‘

(الحکم مؤرخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء ص۱۴ کالم۳ کتاب منظور الٰہی ص۲۴۴، ۲۴۵)

یہ حوالہ بھی اپنا مدعا بتانے کو کافی ہے کہ نکاح ضرور ہو گا۔ اسی کی تائید میں مرزاقادیانی ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزااحمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں

۱؎مرزا غلام قادیانی کا یہ فقرہ کیسا غلط دھوکہ ہے۔ توبہ تو کی رشتہ داروں نے اور مہلت دی گئی سلطان محمد کو۔ (مصنف)

406

گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخرکار ایسا ہی ہو گا اور فرمایا کہ خداتعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵)

یہ عبارت بھی اپنا مطلب بتانے میں کسی شرح یا حاشیہ کی محتاج نہیں۔ تاہم اس کی تشریح مرزاقادیانی خود فرماتے ہیں۔ جب مسمات مذکورہ کی شادی ہو گئی اور معترضین نے اعتراض کئے تو مرزاقادیانی نے جواب دیا۔

’’الجواب: وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ سو یہ ایک پیش گوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے یہ لفظ ہیں: ’’سیکفیکہم اللہ یردہا الیک‘‘یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی، خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا جاننا چاہئے کہ رد کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جاوے اور پھر واپس لائی جاوے۔ پس چونکہ ’’محمدی‘‘ ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی۔ یعنی میری چچا زاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔ یعنی احمد بیگ کی۔ پس اس صورت میں رد کے معنی اس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی، سو ایسا ہی ہو گا۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان ج۹، نمبر۲۳، ص۲، کالم۲ مورخہ۳۰؍جون ۱۹۰۵ء)

یہ عبارت سب حوالہ جات کی شرح بلکہ شرح الشرح ہے۔ اس عبارت میں مرزاقادیانی کے عزم واستقلال کا کمال ثبوت ملتا ہے کہ باوجودیکہ منکوحہ دوسری جگہ بیاہی گئی تھی۔ تاہم مرزاقادیانی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا سچ ہے:

  1. سنبھلنے دے ذرہ اے ناامیدی کیا قیامت ہے

    کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے

ناظرین! کیا ان عبارات کو دیکھ کر اس نکاح کے یقینی ہونے میں کسی قسم کا شبہ رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ تاہم مرزاقادیانی نے اس نکاح کو رجسٹری بھی کرایا اور رجسٹری بھی کسی

407

انگریزی محکمہ میں نہیں بلکہ محکمہ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ میں اس کی تصدیق کرائی تاکہ کسی مسلمان کو اس کی بابت چون وچرا کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ پس اس رجسٹری کی عبارت سنئے۔

فرماتے ہیں: ’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)

اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ مرزاقادیانی کا یہ آسمانی نکاح مدینہ طیبہ کی عدالت عالیہ میں رجسٹری ہوچکا ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ ظہور پذیر نہ ہو بہت خوب! مگر کیا ہوا؟ آہ! اس کا جواب بڑا دلفگار ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

  1. جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہوں رقیب جدا

    ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے ان الہامی دھمکیوں پر کفایت نہیں کی تھی بلکہ اس کے لئے بہت سی دنیاوی کوششیں بھی کی تھیں۔ مسمات مذکورہ کے والد اس کے رشتہ داروں، تعلق داروں کو خطوط لکھے۔ طمع اور دھمکیاں دیں۔ غرض جو کچھ بھی ایسی مشکل میں مبتلا انسان کیا کرتا ہے، مرزاقادیانی نے بھی کیا۔ چنانچہ آپ کی کوشش کے چند خطوط ہم بھی نقل کرتے ہیں۔

پہلا خط

شفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ! اللہتعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض ﷲ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزااحمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری

408

عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عیدکے دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور اب آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار۱؎ کیا جائے، ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہتعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچا ئے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو وہ کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑدیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے، مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو، وہی میرے خون کے پیاسے، وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خداتعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دے، ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا۲؎ ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کراکر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور باربار کہا کہ اس سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا جو چاہے سو کرے۔ ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہوسکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا ابھی مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں، خوار۳؎ ہوں، مگر خدا تعالیٰ

۱؎اس سے صاف مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ صرف نکاح پر آپ کی خواری مرتب تھی جو ہو چکی۔

۲؎ہائے ایسی بے ادبی۔

۳؎آہ! دشمن کے طنز دوست کی پند آسمان کی جور۔ کیا کیا مصیبتیں سہیں تیرے واسطے۔

409

کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں، تو میرے بیٹے کے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہو گا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل وجان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جواب میرے قبضے میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہو گا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دے۔ ورنہ مجھے خداتعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا، اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب رشتے ناطے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم!

راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج، مؤرخہ ۲؍مئی ۱۸۹۱ء

(کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۵تا۱۲۷)

دوسرا خط

’’والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی (مرزاحمد بیگ کی لڑکی) کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خداتعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں ۱۲رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزااحمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح بھی تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو آج میں نے مولوی نورالدین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج

410

دے۔ اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں گریز کرے یا عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا، جس کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر مرزااحمد بیگ محمدی کا نکاح کسی غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے، عزت بی بی کو تین طلاقین ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے ایک طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہو گا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہتعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہو گا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہتا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہتعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خداتعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہو گیا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ۱؎ رہے گا۔‘‘

راقم مرزاغلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ۴؍مئی ۱۸۹۱ء

(نوشتہ غیب ص۱۲۸، ۱۲۹)

تیسرا خط

مرزاقادیانی نے اپنی بہو سے لکھا کر بھیجا جو یہ ہے:

’’از طرف عزت بی بی، بطرف والدہ ماجدہ: سلام مسنون کے بعد اس وقت میری بربادی اور تباہی کا خیال کرو۔ مرزاقادیانی کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی میرے ماموں کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتی ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہو گی اور ہزار طرح کی رسوائی ہو گی۔ اگر منظور نہیں تو خیر جلدی مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں۔ (اس خط پر مرزاقادیانی کی طرف سے یہ ریمارک ہے) جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے کہ اگر (مرزا سلطان محمد سے محمدی بیگم کا) نکاح رک نہیں سکتا تو پھر بلا توقف

۱؎پرانی مثل: ’’کھسیانی بلی کھمبہ نوچے‘‘ مرزاقادیانی نے سچ کر دکھائی۔

411

عزت بی بی کے لئے کوئی قادیان میں آدمی بھیج دو تاکہ ان کو لے جائے۔ فقط!‘‘

عزت بی بی بذریعہ خاکسار غلام احمد رئیس قادیان، مؤرخہ ۶؍مئی ۱۸۹۱ء

(منقول از نوشتہ غیب ص۱۳۱، ۱۳۲)

چوتھا خط

مشفقی مکرمی اخویم مرزااحمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ (آسمانی خسر)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزندآں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا، اس لئے عزاپرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہو گا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطاء فرمائے اور عزیزی مرزامحمد بیگ کو عمردراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو، لیکن خداوند علیم جانتا ہے اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے دعائے خیر وبرکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں۔ تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خداتعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ خداتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اسی عاجز سے ہو گا۔ اگر دوسری جگہ ہو گا تو خداتعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہو گا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے، اس لئے میں نے عین خیرخواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہو گا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہو گا اور خداتعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا جو آپ کے خیال

412

میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہو گی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہو گی اور آپ کو شاید معلوم ہو گا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہو گا کہ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہاں کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقینا خداتعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعاء کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمان کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پر ایمان لایا ہے، ویسے ہی خداتعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تاکہ خداتعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خداتعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے، زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خداتعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطاء کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین ودنیا دونوں آپ کو خداتعالیٰ عطاء فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمادیں۔ والسلام!

خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ … ۱۷؍جولائی ۱۸۹۲ء، بروز جمعہ

( کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۳ تا ۱۲۵)

یہ خطوط سب سے پہلے رسالہ کلمہ فضل رحمانی میں درج ہوئے تھے جس کی بابت مرزاقادیانی نے عدالت میں حلفیہ بیان کے ذریعے سے اقرار کیا ہے کہ جو خط کلمہ فضل رحمانی میں درج ہے، وہ میرا ہے۔

اس کے علاوہ ان خطوط کی تصدیق ایک اور مقام پر بھی فرمائی ہے۔ لوگوں نے خطوط لکھنے پر طعنہ دیا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہیں۔ سچ ہے انسان

413

شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہیں ہو گا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرماوے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کا پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۱، خزائن ج۲۲ ص۱۹۸)

بہرحال یہ خطوط مصدقہ ہیں اور ہم سے کوئی پوچھے تو ہم بھی مرزاقادیانی کو ایسا کرنے میں معذور جانتے ہیں۔ آہ!

  1. کیوں ہوتے ہیں مانع میرے احباب و اعزہ

    کیا کوچہ دلدار میں جایا نہیں کرتے؟

مرزاقادیانی کا عام دستور تھا کہ جب کوئی مخالف پیش گوئی کی زد سے بچ رہتا تو اس کی بابت یہ عذر بتاتے کہ یہ دل میں ڈر گیا خوف زدہ ہو گیا بچ گیا۔ مگر یہاں اپنے رقیب (مرزاسلطان محمد شوہر منکوحہ آسمانی) کے حق میں یہ بھی نہیں کہہ سکے۔ کیونکہ اس نے اس مقابلہ میں ایسا استقلال دکھایا کہ دشمن کو بھی اس کا لوہا ماننا پڑا۔ چنانچہ مرزاقادیانی خود لکھتے ہیں: ’’احمد بیگ کے داماد (مرزا سلطان محمد) کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا کسی نے اس طرف ذرہ التفات نہ کی۔‘‘

(اشتہار انعامی چار ہزار، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۹۵)

واہ رے شیر بہادر سلطان محمد تیرے کیا کہنے تو نے ایمانداروں کی صفت:’’لم یخش الّا اللہ‘‘(مؤمن اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا) کو پورا کر دکھایا۔ اسی ہمت کی برکت ہے کہ تمام مسلمانوں کی دعائیں تیرے شامل حال رہیں اور تو اپنے سخت ترین دشمن پر غالب آیا۔ ’’جزاک اللہ وبارک اللہ علیک وعلٰی عیالک!‘‘

اب ہم ایک حوالہ اس مضمون کا نقل کرتے ہیں کہ سلطان محمد ڈرتا بھی تو اس کو مفید نہ ہوتا۔ کیونکہ اس کی تقدیر مبرم (موت قطعی) تھی۔ کیونکہ جرم اس کا نکاح تھا۔ لہٰذا معمولی ڈریا توبہ کسی کام نہ آتی جب تک نکاح نہ چھوڑتا۔ اس لئے مرزاقادیانی اس کی بابت بہت معقول فرماتے ہیں: ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم (قطعی) ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہو گی اور میری موت آ جائے گی۔‘‘

(انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱ حاشیہ)

414

ناظرین! اب بھی آپ کو مرزاقادیانی کے اس کلام کی تصدیق کرنے میں کچھ تأمل ہو گا۔ مناسب نہیں۔ اب ہم ایک آخری فیصلہ سناتے ہیں جو مرزاسلطان محمد (رقیب خاص) کے نہ مرنے کی صورت میں مرزاقادیانی نے اپنے حق میں کیا ہوا ہے۔ رسالہ ضمیمہ انجام آتھم میں اس پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے اس کے دو جزو قرار دئیے ہیں۔ ایک مرزااحمد بیگ والد منکوحہ کی موت۔ دوسرا سلطان محمد کی موت۔ اس دوسرے جزو کی بابت فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

بالکل ٹھیک ہے۔ خدا کی باتیں کبھی نہیں ٹلتیں اور جو ٹل جائیں وہ خدا کی نہیں: ’’امنا وصدقنا فاکتبنا مع الشاہدین‘‘ اب ہم مرزاقادیانی کا آخری نوٹس ان کے مریدوں کو سنا کر ایک سوال کریں گے۔

مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف (اس پیش گوئی کے) انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوئی ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔‘‘ (آغا تلوار میان کن)

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)

مرزائی دوستو! سنتے ہو مرزاقادیانی کیا کہتے ہیں؟ آپ کا مطلب یہ ہے نہ کہ اس پیشگوئی کے خاتمہ پر ایسا ہو گا؟ کس کے حق میں ہو گا؟ واقعہ جس کے خلاف ہو گا، پھر کیا ہوا؟ بس تم سمجھو:

اگر گوئیم زبان سوزد

آہ! مرزاقادیانی اس حسرت کو دل ہی دل میں لے گئے بلکہ آج بھی ان کی قبر سے گویا آواز آ رہی ہے:

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

415

عجیب دور اندیشی اور پیش بندی

مرزاقادیانی بلا کے پرکالے اور غضب کے دوراندیش تھے۔ دیکھا کہ ادھر بڑھاپا غالب آ رہا ہے اور ادھر موانع نکاح کم نہیں ہوتے۔ بڑا مانع سلطان محمد شوہر منکوحہ کی زندگی ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتی۔ اس لئے اپنے کمال دوراندیشی سے ارشاد فرمایا اور کیا ہی معقول فرمایا: ’’یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ:’’ایتہا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک‘‘ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ۱۳۲،۱۳۳ خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے بالکل اس شاعر کے مشورے پر عمل کیا ہے جس نے اپنے معشوق سے درخواست کی تھی کہ:

  1. مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج

    بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

مرزاقادیانی نے اس پر خوب عمل کیا۔ فسخ اور التواء دونوں کو ہاتھ میں رکھا۔ حالانکہ فسخ تو قطع چاہتا ہے اور التواء میں تعلق ثابت رہتا ہے۔ دونوں پہلو ہاتھ میں رکھنے میں یہ حکمت تھی کہ اگر احد الفریقین کی موت تک ملاپ نہ ہوا تو فسخ کہہ دیں گے اور اگر ملاپ ہو گیا تو کہہ دیں گے کہ التواء ہوا تھا۔ مرزاقادیانی!

  1. ہم بھی قائل تیری نیرنگی کے ہیں یاد رہے

    او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے

ہاں! اس نکاح کی کارروائی کو شرطی کہنا بھی عجیب منطق ہے۔ حالانکہ حوالہ جات سابقہ کے علاوہ ایک حوالہ خاص مرزاقادیانی کے صریح الفاظ میں ہم نقل کرتے ہیں جو اس نکاح کو تقدیر مبرم (یقینی اور قطعی) ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی اسی نکاح کی بابت فرماتے ہیں: ’’ثم ما قلت لکم ان القضیۃ علے ہذا القدر تمت والنتیجۃ الآخرۃ ہی التی ظہرت وحقیقۃ النباء علیہا ختمت بل الامر قائم علی حالہ ولا یردہ احد باحتیاط لہ والقدر قدر مبرم من عند الرب العظیم وسیأتی وقتہ بفضل اللہ الکریم فوالذی بعث لنا محمد ن المصطفٰی وجعلہ خیر الرسل وخیر

416

الوریٰ ان ہذا حق فسوف تری وانی اجعل ہذا النباء معیار الصدقی اوکذبی وماقلت الا بعد ما انبٔت من ربی‘‘

(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)

’’میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کام (نکاح کا) ختم ہو گیا بلکہ یہ کام ابھی باقی ہے۔ اس کو کوئی بھی کسی حیلہ سے رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر مبرم (یقینی اور قطعی) ہے۔ اس کا وقت

آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہﷺ کو بھیجا ہے یہ بالکل سچ ہے۔ تم دیکھ لو گے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پاکر کہا ہے۔‘‘

تنبیہ:بعض مرزائی اس پیش گوئی اور اس جیسی اور پیش گوئیوں کے غلط ہونے پر حضرت یونسm نے کوئی پیش گوئی فرمائی تھی نہ وہ غلط ہوئی بلکہ جیسا حضرات انبیاءؑ کا دستور ہے۔ کفر پر عذاب کی دھمکی سنائی تھی۔ لیکن جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو عذاب ٹل گیا۔ اللہ اللہ خیر سلا! غور سے سنئے: ’’الاقوم یونس لما اٰمنوا کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعناہم الٰی حین (یونس:۹۸)‘‘یعنی یونس کی قوم ایمان لے آئی تو ہم (خدا) نے اس سے عذاب ہٹا دیا یعنی واقع نہ ہونے دیا۔

یہ حضرت یونسm کا واقعہ اس کو مرزا قادیانی کی پیش گوئی خصوصاً مبرم اور قطعی پیش گوئی بابت آسمانی نکاح سے کیا تعلق؟ خیر یہ تھا مرزاقادیانی کی عبارت کا جواب ہماری طرف سے۔ مگر مرزائی امت تو اپنا یہ حق نہیں جانتی کہ مرزاقادیانی کے کسی قول کو جانچیں۔ ان کا تو اصول ہی یہ ہے ؎

  1. میں وہ نہیں ہوں کہ تجھ بت سے دل مرا پھر جا

    پھروں میں تجھ سے تو مجھ سے مرا خدا پھر جا

اس لئے مرزاقادیانی کی اس گول مول عبارت سے مرزائی امت دو گروہ ہو گئی۔ ایک فریق کہتا ہے نکاح فسخ ہوگیا۔ ان کے سرگروہ مفتی محمد صادق ہیں جنہوں نے ایک رسالہ آئینہ صداقت لکھا ہے۔ اس میں وہ فسخ کی صورت کو اختیار کئے ہیں (ص۲۴) دوسرے گروہ کے سرگروہ مولوی حکیم نورالدین صاحب اوّل خلیفہ قادیان ہیں جن کے علم وفضل پر مرزاقادیانی اور مرزائی صاحبان کو بہت ناز تھا اور جس کی تصدیق ہم بھی کرتے ہیں واقعی حکیم صاحب ان علم داروں میں تھے جو اپنے زور علم سے آدمی کو گدھا اور گدھے کو الّو بنا دیا کرتے

417

تھے۔ ہمارے اس دعویٰ کی جو تصدیق نہ کرے وہ حکیم صاحب کا جواب سن لے۔ حکیم صاحب نے پہلے وہ آیات لکھی ہیں جن میں بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ تم نے یہ کیا تم نے وہ کیا۔ حالانکہ ان کے پرانے بزرگوں نے کیا تھا۔ اس کے بعد حکیم صاحب لکھتے ہیں: ’’اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں۔ ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبت میں مخاطب کی اولاد مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہوسکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات (لڑکیوں کی لڑکیوں) کو حکم بنات نہیں مل سکتا؟ اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں۔ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جاوے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا۔ پھر یہی وجہ بیان کی۔ والحمد للہ رب العالمین!‘‘

(ریویو قادیان ج۷، نمبر۷، ص۲۷۹بابت ماہ جولائی۱۹۰۸ء )

حکیم صاحب کی اس حکیمانہ عبارت کا مطلب ہم ایک نقشہ میں سمجھاتے ہیں۔ یعنی مرزاقادیانی کا لڑکا درلڑکا در لڑکا در لڑکا اور منکوحہ آسمانی کی لڑکی در لڑکی در لڑکی در لڑکی کا جب کبھی کسی درجہ میں نکاح ہو گیا، یہ پیش گوئی صادق ہو جائے گی۔ (جل جلالہ)

حکیم صاحب کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ نکاح ثابت ہے۔ صرف طرفین نکاح بدل گئے ہیں۔ یعنی مرزا اور منکوحہ آسمانی کی ذات خاص مراد نہیں بلکہ ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی جوڑی بھی ہو پیش گوئی پوری ہو جائے گی۔ اس حکیمانہ کلام کے جواب میں کچھ لکھنے کی حاجت نہیں۔ ماشاء اللہ! ایسے حکیم ایسے عالم ایسے فلسفی کا کلام قابل تردید ہوسکتا ہے؟ لیکن نہایت ادب سے عرض ہے کہ مرزاقادیانی بذات خود اس نکاح کو مسیح موعود کی علامت بتا رہے ہیں۔ ان کی عبارت مکرر ملاحظہ ہو: ’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ :’’یتزوج ویولد لہ‘‘یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ: ’’تزوج‘‘ اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ ’’تزوج‘‘ سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول

418

اللہa ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)

پس چونکہ یہ نکاح مرزاقادیانی کا نہیں ہوا۔ لہٰذا اقرار کے موافق خود بدولت تو کسی طرح مسیح موعود نہیں ہیں۔ بقول حکیم صاحب آئندہ کسی کا ہوا تو دیکھا جائے گا۔ سردست مرزاقادیانی ناکام تشریف لے گئے۔ آہ! سچ ہے:

ہمہ شوق آمد بودی ہمہ حرماں رفتی

اخیر میں ہم مرزاقادیانی کا ایک حوالہ اور نقل کرتے ہیں جو سارے نزاع کے لئے فیصلہ کن ہے۔ آپ اس پیش گوئی کی بابت مکرر تفصیل سے لکھتے ہیں: ’’میری اس پیش گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اوّل: نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم: نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔ سوم:پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم:اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا۔ پنجم:اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم:پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آ جانا۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں؟ اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیش گوئی سچی ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے؟‘‘

(آئینہ کمالت اسلام ص۳۲۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)

آہ! یہ تفصیل اور آخر کار ناکامی قبر میں بھی حسرت دکھاتی ہو گی۔ افسوس مرزاقادیانی کی اس ناکامی پر آج ان سے مخالفوں کو بھی رحم آتا ہے اور وہ زبان حال بلکہ قال سے کہہ رہے ہیں ؎

  1. کوئی بھی کام مسیحا تیرا پورا نہ ہوا

    نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا

نکاح کا الہام تھا اور نکاح نہیں ہوا

(مولوی محمد علی ایم۔اے لاہوری کا قول)

شہد شاہد من اہلہا!

اور کوئی کہتا تو خدا جانے وہ منکر اور مکذب اور کیا نہیں کیا بنتا۔ مگر اپنے گھر کا بھیدی

419

جو چاہے کہے۔ مولوی محمد علی صاحب لاہوری مرزائی جماعت کی ایک شاخ کے امیر ہیں۔ آپ اس پیش گوئی کی نسبت جو رائے کہتے ہیں قابل دید وشنید ہے۔فرماتے ہیں:

’’یہ سچ ہے کہ مرزاقادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہو گا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔‘‘

باوجود اس اقرار کے آپ اس کے متعلق مخالفین مرزا کو یوں سمجھاتے ہیں کہ: ’’میں کہتا ہوں کہ ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔ کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئے۔ جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ صرف ایک پیش گوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیش گوئیوں کو چھوڑ دینا جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں، یہ طریق انصاف اور راہ ثواب نہیں۔ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ تمام پیش گوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں۔‘‘

(اخبار پیغام صلح لاہور، مؤرخہ ۲۱؍جنوری ۱۹۲۱ء ص۵ کالم۳)

کوئی شخص جس کو ذرہ بھی علم شریعت یا علم منطق میں واقفی ہو گی جو اتنا بھی جانتا ہو گا کہ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزیہ ہوتا ہے وہ بھی جان لے گا کہ مولوی محمد علی اگر دل سے ایسا کہتے ہیں تو وہ عالم نہیں۔ اگر عالم ہیں تو یہ لکھنا ان کا دل سے نہیں بلکہ محض زبان سے: ’’ان ہی الاکلمۃ ہو قائلہا‘‘سنے صاحب! ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ جملہ متحدیانہ پیش گوئیاں مرزاقادیانی کی غلط ہوئیں جن کا ثبوت ہمارے رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ میں ملتا ہے۔ لیکن اس پیش گوئی کو خاص کر ہم اس لئے لیتے ہیں کہ خود صاحب الہام مرزاقادیانی اس پیش گوئی کو مسلمانوں سے مخصوص کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: ’’اس پیش گوئی کو میں اپنے صدق یا کذب کا معیار بناتا ہوں۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

پس بحکم:’’یوخذ المرٔ باقرارہ‘‘ (آدمی اپنے اقرار پر پکڑا جاتا ہے)

ہمارا حق ہے کہ ہم اس پیش گوئی کو خوب جانچیں اور آپ کا فرض ہے کہ اس کا جواب دیں اور درصورت جواب نہ بن سکنے کے مرزاقادیانی کو دعویٰ الہام وغیرہ میں کاذب کہنے میں ہمارے ہمنواء ہوں، جس کی ہمیں امید ہے۔ کیونکہ اتنا بھی جو آپ نے مانا ہے، ہمارے (مخالفین ہی کے) اعتراضوں کا اثر ہے تو پھر آئندہ مزید اثر کی امید کیوں نہ ہو۔ آہ!

  1. کہتا ہے کون نالہ بلبل ہے بے اثر

    پردے میں گل کے لاکھ جگر پاش ہو گئے

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری

420

تاریخ مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

421

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

مرزاغلام احمد قادیانی کے مذہبی خیالات اور علمائے کرام کی طرف سے ان پر تنقیدات تو عرصہ سے شائع ہو رہی ہیں، جس کا کافی بلکہ کافی سے بھی زیادہ ذخیرہ جمع ہو چکا ہے۔ خاکسار کے بعض دوراندیش احباب (جناب مولوی ابراہیم سیالکوٹی، متوفی ۱۹۵۶ء) نے ایک روز برسبیل تذکرہ فرمایا کہ یہ جتنا کچھ آج تک لکھا گیا ہے مسائل مرزا پر لکھا گیا جو کافی ہے۔ اس وقت تو بہت سے لوگ مرزاغلام احمد قادیانی کی شخصیت کو جاننے والے خاص کر پنجاب میں موجود ہیں۔ ممکن ہے کچھ مدت بعد ان کی شخصیت کی تلاش ہو، نہ ملنے پر ان کی تصنیفات اپنا اثر کر جاویں۔ اس لئے کوئی کتاب بطور سوانح کے لکھی جائے تو موجودہ اور آئندہ نسلوں کو بہت مفید ہو۔

عرصہ ہوا خاکسار کے زیر اہتمام ایک کتاب ’’چودھویں صدی کا مسیح‘‘ مرزا قادیانی کے حالات میں چھپی تھی جو ناول کے طرز پر تھی۔ اس کو ان صاحب نے اس مطلب کے لئے کافی نہ جانا تو بوجہ حسن ظن اور بوجہ اس تعلق کے جو خاکسار کو قادیان سے ہے، فرمائش کی کہ میں اس کام کو انجام دوں۔ کچھ دنوں بعد میرے دل میں بھی اس کی اہمیت آئی تو میں نے اس کے لکھنے کے لئے قلم اٹھایا۔

بحمداللہ! یہ رسالہ پورا ہو کر ناظرین کے ملاحظہ سے گزر رہا ہے۔

نوٹ: اس رسالہ میں بطور تاریخ کے مضامین لکھے گئے ہیں، بطور مناظرہ نہیں۔ مناظرانہ رنگ دیکھنا ہو تو خاکسار کی دوسری تصنیفات رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ و ’’مرقع قادیانی‘‘ وغیرہ اور دیگر اصحاب کی تصنیفات ملاحظہ کریں۔

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسر

رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ مئی ۱۹۲۳ء

422

پہلا حصہ … تاریخ مرزا

تمہید

مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی دو حصوں پر منقسم ہے: (۱) ایک قبل دعویٰ مسیحیت، (۲) دوسرا بعد دعویٰ مسیحیت۔ ان دونوں میں بہت بڑا اختلاف ہے۔

پہلے حصے میں مرزا قادیانی صرف ایک باکمال مصنف کی صورت میں پیش ہوتے ہیں۔ دوسرے حصے میں اس کمال کو کمال تک پہنچا کر مسیح موعود، مہدی مسعود۔ کرشن گوپال، نبی اور رسول ہونے کا بھی ادّعا کرتے ہیں۔ پہلے حصے میں جمہور علماء اسلام ان کی تائید پر ہیں۔ دوسرے حصے میں جمہور بلکہ کل علمائے اسلام ان کے مخالف نظر آتے ہیں۔ چنانچہ یہ سب کچھ واقعات سے ثابت ہو گا۔ مرزا قادیانی کے مریدوں نے بھی ان کی سوانح لکھی ہیں مگر وہ محض اعتقادی اصول پر ہیں۔ ہماری یہ کتاب واقعات صحیحہ سے لبریز ہے۔ چنانچہ ناظرین ملاحظہ فرماویں گے۔

تاریخ مرزا حصہ اوّل قبل دعویٰ مسیحیت

امرتسر سے شمال مشرق کو ریلوے لائن پر ایک پرانا قصبہ بٹالہ ہے جو ضلع گورداسپور کی تحصیل ہے۔ بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے جو مرزاغلام احمد قادیانی کی جائے ولادت ہے۔ مرزاقادیانی کی تاریخ ولادت صاف تو نہیں، البتہ ان کی اپنی کتاب (تریاق القلوب ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳) سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ۱۲۶۰ھ مطابق ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد کا نام حکیم مرزا غلام مرتضیٰ تھا۔ قوم زمیندار، پیشہ طبابت کرتے تھے۔ ابتداء میں مشرقی علوم مولوی گل شاہ (شیعہ) سے بٹالہ میں پڑھے۔ اردو، فارسی، عربی کے سواء انگریزی سے واقف نہ تھے۔ ثابت نہیں کہ کسی مشہور درسگاہ میں آپ نے تحصیل علم کی ہو۔ جوان ہو کر تلاش معاش میں نکلے۔ سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ ماہوار کے محرر ہوئے۔

وہاں سے بغرض ترقی آپ نے قانونی مختار کاری کا امتحان دیا، فیل ہو گئے۔ ازاں بعد تصنیف کی طرف طبیعت کا رخ ہوا۔ طبیعت میں ایجاد تھی، اس لئے بڑی کتاب شائع کرنے سے پہلے اشتہاری طریق کار اختیار کیا۔ کبھی آریوں سے مخاطب ہوئے، کبھی عیسائیوں سے کبھی برہموؤں سے۔ چنانچہ ایک دو اشتہار اس مضمون کے بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔

423

اشتہار انعامی پانچ سو روپیہ

’’اشتہار ہذا اس غرض سے دیا جاتا ہے کہ ۷؍دسمبر ۱۸۷۷ء کو وکیل ہندوستان وغیرہ اخبار میں بعض لائق فائق آریہ سماج والوں نے بابت روحوں کے اصول اپنا یہ شائع کیا ہے کہ ارواح موجود بے انت ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ پرمیشر کو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں۔ اسی واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہتے ہیں اور پاتے رہیں گے۔ مگر کبھی ختم نہیں ہوویں گے۔ تردید اس کی ہم نے ۹؍فروری سے ۹؍مارچ (۱۸۷۸ء)تک سفیر ہند کے پرچوں میں بخوبی ثابت کر دیا ہے کہ اصول مذکور سراسر غلط ہے۔ اب بطور اتمام حجت کے یہ اشتہار تعداد پانچ سو روپیہ مع جواب الجواب باوا نارائن سنگھ صاحب سیکرٹری آریہ سماج امرتسر کے تحریر کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب آریہ سماج والوں میں سے بپابندی اصول مسلمہ اپنے کے کل دلائل مندرجہ سفیر ہندو دلائل مرقومہ جواب الجواب مشمولہ اشتہار ہذا کے توڑ کر یہ ثابت کر دے کہ ارواح موجود جو سواچار ارب کی مدت میں کل دورہ اپنا پورا کرتے ہیں، بے انت ہیں اور ایشور کو تعداد ان کا نامعلوم رہا ہوا ہے تو میں اس کو مبلغ پانچ سو روپیہ بطور انعام دوں گا اور درصورت تؤقف کے شخص مثبت کو اختیار ہو گا کہ بمدد عدالت وصول کرے۔ لیکن واضح رہے کہ اگر کوئی صاحب سماج مذکور میں سے اس اصول سے منکر ہو تو صرف انکار طبع کرانا کافی نہ ہو گا بلکہ اس صورت میں بتصریح لکھنا چاہئے کہ پھر اصول کیا ہوا؟ آیا یہ بات ہے کہ ارواح ضرور کسی دن ختم ہو جاویں گے اور تناسخ اور دنیا کا ہمیشہ کے واسطے خاتمہ ہو گا یا یہ اصول ہے کہ خدا اور روحوں کو پیدا کر سکتا ہے یا یہ کہ بعد مکتی پانے سے سب روحوں کے پھر ایشور انہیں مکتی یافتہ روحوں کو کیڑے مکوڑے وغیرہ مخلوقات بنا کر دنیا میں بھیج دے گا یا یہ کہ اگرچہ ارواح بے انت نہیں اور تعداد ان کا کسی حدود معین میں ضرور محصور ہے، مگر پھر بھی بعد نکالے جانے کے باقی ماندہ روح اتنے کے اتنے ہی نہیں رہتے ہیں، نہ مکتی والوں کی جماعت جن میں یہ تازہ مکتی یافتہ جا ملتے ہیں، اس بالائی آمدن سے پہلے سے کچھ زیادہ ہو جاتے ہیں اور نہ یہ جماعت جس سے کسی قدر ارواح نکل گئے بعد اس خرچ کے کچھ کم ہوتے۔ غرض جو اصول ہو بہ تفصیل مذکورہ مفصل لکھنا چاہئے۔‘‘

المشتہر: مرزاغلام احمد رئیس قادیان عفی عنہ

(۲؍مارچ ۱۸۷۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱،۲)

424

دوسرا اشتہار بجواب سوامی دیانند بانی آریہ سماج ملاحظہ ہو

اعلان

’’سوامی دیانند سرسوتی صاحب نے بجواب ہماری اس بحث کے جو ہم نے روحوں کا بے انت ہونا باطل کر کے غلط ہونا مسئلہ تناسخ اور قدامت سلسلہ دنیا کا ثابت کیا تھا، معرفت تین کس آریہ سماج والوں کے یہ پیغام بھیجا ہے کہ اگرچہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں، لیکن تناسخ اس طرح پر ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ جب سب ارواح مکتی پا جاتی ہیں تو پھر بوقت ضرورت مکتی سے باہر نکالی جاتی ہیں۔ اب سوامی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک وشبہ ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہئے۔ چنانچہ اسی بارے میں سوامی صاحب کا ایک خط بھی آیا۔ اس خط میں بھی بحث کا شوق ظاہر کرتے ہیں۔ اس واسطے بذریعہ اس اعلان کے عرض کیا جاتا ہے کہ بحث بالمواجہ ہم کو بسروچشم منظور ہے۔ کاش سوامی صاحب کسی طرح ہمارے سوالوں کا جواب دیں۔ مناسب ہے کہ سوامی صاحب کوئی مقام ثالث بالخیر کا واسطے انعقاد اس جلسہ کے تجویز کر کے بذریعہ کسی مشہور اخبار کے تاریخ ومقام کو مشتہر کر دیں۔ لیکن اس جلسہ میں شرط یہ ہے کہ یہ جلسہ بحاضری چند منصفان صاحب لیاقت اعلیٰ کہ تین صاحب ان میں سے ممبران برہموسماج اور تین صاحب مسیحی مذہب ہوں گے، قرار پائے گا۔ اوّل تقریر کرنے کا ہمارا حق ہو گا۔ کیونکہ ہم معترض ہیں۔ پھر پنڈت صاحب برعایت شرائط تہذیب جو چاہیں گے جواب دیں گے۔ پھر اس کا جواب الجواب ہماری طرف سے گزارش ہو گا اور بحث ختم ہو جائے گی۔ ہم سوامی صاحب کی اس درخواست سے بہت خوش ہوئے ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ کیوں سوامی صاحب اور دھندوں میں لگے ہوئے ہیں اور ایسے سخت اعتراض کا جواب نہیں دیتے جس نے سب آریہ سماج والوں کا دم بند کر رکھا ہے۔ اب اگر سوامی صاحب نے اس اعلان کا کوئی جواب مشتہر نہ کیا تو بس یہ سمجھو کہ سوامی صاحب صرف باتیں کر کے اپنے توابعین کے آنسو پونچھتے تھے اور مکت یابوں کی واپسی میں جو جو مفاسد ہیں مضمون مشمولہ متعلقہ اس اعلان میں درج ہیں ناظرین پڑھیں اور انصاف فرمائیں۔‘‘

المعلن: مرزاغلام احمد رئیس قادیان

( مؤرخہ ۱۰؍جون ۱۸۷۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۶،۷)

425

اس قسم کی اشتہار بازی کچھ مدت تک کرنے سے ملک میں کافی شہرت ہو گئی۔ مسلمانوں نے آپ کو حامی اسلام سمجھا تو آپ نے ایک اشتہار بغرض امداد کتاب براہین احمدیہ شائع کیا جو درج ذیل ہے۔

اشتہار بغرض استعانت واستظہار

از انصار دین محمد مختارa وعلیٰ آلہ الابرار

’’اخوان دیندار ومؤمنین غیرت شعار وحامیان دین اسلام ومتبعین سنت خیرالانام پر روشن ہو کہ اس خاکسار نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن وصداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے، جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اور اسلام کچھ بن نہ پڑے اور اس کے جواب میں قلم اٹھانے کی کسی کو جرأت نہ ہو سکے۔ اس کتاب کے ساتھ اس مضمون کا ایک اشتہار دیا جاوے گا کہ جو شخص اس کتاب کے دلائل کو توڑ دے ومع ذالک، اس کے مقابلہ میں اسی قدر دلائل یا ان کے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس سے اپنی کتاب کا (جس کو وہ الہامی سمجھتا ہے) حق ہونا یا اپنے دین کا بہتر ہونا ثابت کر دکھائے اور اس کے کلام یا جواب کو میری شرائط مذکورہ کے موافق تین منصف (جن کو مذہب فریقین سے تعلق نہ ہو) مان لیں تو میں اپنی جائیداد تعدادی دس ہزار روپیہ سے (جو میرے قبض وتصرف میں ہے) دستبردار ہو جاؤں گا اور سب کچھ اس کے حوالے کر دوں گا۔ اس باب میں جس طرح کوئی چاہے اپنا اطمینان کر لے مجھ سے تمسک لکھا لے یا رجسٹری کرالے اور میری جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ کو آ کر بچشم خود دیکھ لے۔‘‘

باعث تصنیف: اس کتاب کے پنڈت دیانند صاحب اور ان کے اتباع ہیں جو اپنی امت کو آریہ سماج کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجز اپنے وید کے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ مسیح اور حضرت محمد مصطفیo کی تکذیب کرتے ہیں اور نعوذ باللہ! توریت، انجیل، زبور، فرقان مجید کو محض افتراء سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کے حق میں ایسے توہین کے کلمات بولتے ہیں کہ ہم سن نہیں سکتے۔ ایک صاحب نے ان میں سے اخبار سفیر ہند میں بطلب ثبوت حقانیت فرقان مجید کئی دفعہ ہمارے نام اشتہار بھی جاری کیا ہے۔ اب ہم نے اس کتاب میں ان کا اور ان کے اشتہاروں کا کام تمام کر دیا ہے اور صداقت قرآن ونبوت کو بخوبی ثابت کیا ہے۔ پہلے

426

ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ جزو میں تصنیف کیا۔ بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے نو حصے اور زیادہ کر دئیے جن کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہو گئی۔ ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار نسخہ چھپے تو چورانوے روپیہ صرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپے سے کم میں نہیں چھپ سکتے۔ ازانجاکہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں۔ لہٰذا اخوان مؤمنین سے درخواست ہے کہ اس کارخیر میں شریک ہوں اور اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں۔ اغنیاء لوگ اگر اپنے مطبخ کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں گے تو یہ کتاب بسہولت چھپ جائے گی۔ ورنہ یہ مہر درخشاں چھپا رہے گا یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں جیسی جیسی کتاب چھپتی جائے گی، ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی۔ غرض انصار اللہ بن کر اس نہایت ضروری کام کو جلد تر بسر انجام پہنچا دیں اور نام اس کتاب کا ’’البراہین الاحمدیہ علیٰ حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ‘‘ رکھا گیا ہے۔ خدا اس کو مبارک کرے اور گمراہوں کو اس کے ذریعہ سے اپنے سیدھے راہ پر چلاوے۔ آمین!

المشتہر: خاکسار غلام احمد ازقادیان ضلع گورداسپور، پنجاب

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰تا۱۲)

جس زور شور سے اس کتاب کا اشتہار تھا، آخرکار نکلی تو صورت اس کی یہ تھی کہ ایک جلد موٹے حرفوں میں صرف اس کے اشتہار کی تھی۔ باقی جلدوں میں مضامین شروع ہوئے۔ مگر مضامین کی بناء زیادہ تر اپنے الہامات اور مکاشفات پر تھی۔ لیکن وہ الہامات ایسے کچھ صاف اور صریح اسلام کے مخالف نہ تھے، بلکہ بعض معاون، بعض گول، اس لئے حسن ظن علماء اس پر بھی مرزاقادیانی سے مانوس ہی رہے۔ اس زمانہ میں سب سے بڑے مانوس مولویابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ تھے، جنہوں نے اس کتاب پر بڑا بسیط ریویو لکھا اور مخالفین کے جوابات دئیے۔ باوجود اس کے دور اندیش علماء اسلام مرزاقادیانی سے خوفزدہ تھے۔ مولانا حافظ عبدالمنان مرحوم محدث وزیرآبادی سے میں نے خود سنا کہ: ’’مجھے شبہ ہوتا ہے

427

کسی دن یہ شخص (مرزا) نبوت کا دعویٰ کرے گا۔‘‘ ایسا ہی حضرت مولوی ابوعبداللہ غلام العلی صاحب مرحوم امرتسری سے سننے والوں کا بیان ہے کہ مرحوم بھی مرزاقادیانی سے خوفزدہ تھے کہ کسی دن نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ مرزاقادیانی نے براہین احمدیہ میں مولوی صاحب مرحوم کا نام لے کر رد بھی کیا ہے۔ ایسا ہی معلوم غلام دستگیر مرحوم قصوری اور مولوی محمد وغیرہ خاندان علمائے لدھیانہ بھی مرزاقادیانی سے بدظن تھے۔ ہم حیران ہیں ان علماء کی فراست کس درجہ کی تھی کہ آخرکار وہی ہوا جو ان حضرات نے گمان کیا تھا جس کا بیان دوسرے باب میں آئے گا۔

چونکہ مرزاقادیانی ملک میں بحیثیت ایک نامور مصنف مناظر بلکہ باکمال عارف باللہ صوفی ملہم کی صورت میں پیش ہوئے تھے۔ اس لئے آپ کی کوئی تجویز کراماتی رنگ سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ نے ایک اشتہار بطور اظہار کرامت دیا جو درج ذیل ہے:

پہلی پیش گوئی

’’بالہام اللہ تعالیٰ واعلامہ، عزوجل۔ خدائے رحیم وکریم بزرگ وبرتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے (جل شانہ، وعزاسمہ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بہ پایۂ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیارپور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطاء ہوتا ہے اور فتح وظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام۔ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تالوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں، جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیa کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جاوے۔ سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک ذکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا وہ

428

لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نوراللہ ہے، مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت اور غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے وہ سخت ذہین اور فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پرکیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے۔ مبارک دو شنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر۔ مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا مؤجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وکان امرا مقضیا!

خاکسار مرزاغلام احمد مؤلف براہین احمدیہ ہوشیارپور

طویلہ شیخ مہر علی صاحب رئیس ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۰تا۱۰۲)

اس اشتہار پر مخالفوں کی طرف سے اعتراض ہوا کہ چند روز سے مرزاقادیانی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا ہے، جس کو مخفی رکھا گیا ہے۔ اس کے جواب میں مرزاقادیانی نے ایک اشتہار دیا جو درج ذیل ہے:

اشتہار واجب الاظہار

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

چونکہ اس عاجز کے اشتہار مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء پر جس میں ایک پیش گوئی دوبارہ تولد ایک فرزند صالح ہے، جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہو گا، دو شخص سکنہ قادیان یعنی

429

حافظ سلطانی کشمیری وصابر علی نے روبروئے مرزانواب بیگ ومیاں شمس الدین ومرزا غلام علی ساکنان قادیان یہ دروغ بے فروغ برپا کیا ہے کہ ہماری دانست میں عرصہ ڈیڑھ ماہ سے صاحب مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ قول نامبردگان کا سراسر افتراء دروغ وبمقتضائے کینہ وحسد وعناد جبلی ہے، جس سے وہ نہ صرف مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کرناچاہتے ہیں۔ اس لئے ہم ان کے اس قول دروغ کا ردواجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء ہے۔ ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے دو لڑکوں کے جن کی عمر ۲۰،۲۲سال سے زیادہ ہے، پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدۂ الٰہی ۹؍برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔ بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا اور یہ اتہام کہ گویا ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ سراسر دروغ ہے۔ ہم اس دروغ کے ظاہر کرنے کے لئے لکھتے ہیں کہ آج کل ہمارے گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی اپنے والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بودوباش رکھتے ہیں اور ان کے گھر کے متصل منشی مولا بخش صاحب ملازم ڈاک ریلوے اور بابو محمد صاحب کلرک دفتر نہر رہتے ہیں۔ معترضین یا جس شخص کو شبہ ہو، اس پر واجب ہے کہ اپنا شبہ رفع کرنے کے لئے وہاں چلا جاوے اور اس جگہ اردگرد سے خوب دریافت کر لے۔ اگر کرایۂ آمدورفت موجود نہ ہو تو ہم اس کو دے دیں گے۔ لیکن اگر اب بھی جاکر دریافت نہ کرے اور نہ دروغ گوئی سے باز آوے تو بجز اس کے کہ ہمارے اور تمام حق پسندوں کی نظر میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین! کا لقب پاوے اور نیز زیرعتاب حضرت احکم الحاکمین کے آوے اور کیا ثمرہ اس یاوہ گوئی کا ہو گا۔ خداتعالیٰ ایسے شخصوں کو ہدایت دیوے کہ جو جوش حسد میں آ کر اسلام کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور اس دروغ گوئی کے مآل کو بھی نہیں سوچتے۔ اس جگہ اس وہم کا دور کرنا بھی قرین مصلحت ہے کہ جو بمقام ہوشیارپور ایک آریہ صاحب نے اس پیش گوئی پر بصورت اعتراض پیش کیا تھا کہ لڑکا لڑکی کے پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے۔ یعنی دائیاں بھی معلوم کر سکتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہو گا یا لڑکی۔

واضح رہے کہ ایسا اعتراض کرنا معترض صاحب کی سراسر حیلہ سازی وحق پوشی ہے۔ کیونکہ اوّل تو کوئی دائی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتی بلکہ ایک حاذق طبیب بھی ایسا دعویٰ ہرگز

430

نہیں کر سکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے جس میں تخلّف کا امکان نہیں۔ صرف ایک اٹکل ہوتی ہے کہ جو بارہا خطاء ہو جاتی ہے۔ علاوہ اس کے یہ پیش گوئی آج کی تاریخ سے دو برس پہلے کئی آریوں اور مسلمانوں وبعض مولویوں وحافظوں کو بھی بتلائی گئی تھی۔ چنانچہ آریوں میں سے ایک شخص ملاوامل نام جو سخت مخالف اور نیز شرمپت ساکنان قصبہ قادیان ہیں، ماسوا س کے ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مفہوم پیش گوئی کا اگر بنظر یکجائی دیکھا جائے تو ایسا بشری طاقتوں سے بالا تر ہے، جس کے نشان الٰہی ہونے میں کسی کو شک نہیں رہ سکتا اوراگر شک ہو تو ایسی قسم کی پیش گوئی جو ایسے ہی نشان پر مشتمل ہو، پیش کرے۔ اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیش گوئی ہی نہیں، بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف ورحیم محمد مصطفیa کی صداقت وعظمت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا ہے اور درحقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ واولیٰ واکمل وافضل واتم ہے۔ کیونکہ مردہ کو زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعاء کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاءؑ کی نسبت بائبل میں لکھا گیا ہے، جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے اور پھر باوصف ان سب عقلی ونقلی جرح وقدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لئے زندہ رہتا تھا اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت ہو جاتا، جس کے دنیا میں آنے سے نہ دنیا کو کچھ فائدہ پہنچتا تھا نہ خود اس کو آرام ملتا تھا اور نہ اس کے عزیزوں کو کوئی سچی خوشی حاصل ہوتی تھی۔ سو اگر مسیحm کی دعاء سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی تو درحقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر تھا اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی بھی رہتی تب بھی ایک ناقص روح کسی رذیل یا دنیا پرست کی جو احد من الناس ہے، دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی۔ مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ واحسانہ وببرکت حضرت خاتم الانبیاءa خداوند کریم نے اس عاجز کی دعاء کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری وباطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگرچہ بظاہر یہ نشان احیاء موتیٰ کے برابر معلوم ہوتا ہے، مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا۔ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مردہ کی بھی روح ہی دعاء سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی

431

دعاء سے ایک روح ہی منگوائی گئی ہے، مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں۔ وہ آنحضرتﷺ کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟

اے لوگو! میں کیا چیز ہوں اور کیا حقیقت، جو کوئی مجھ پر حملہ کرتا ہے وہ درحقیقت میرے پاک متبوع پر جو نبی کریمa ہے حملہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ آفتاب پر خاک نہیں ڈال سکتا بلکہ وہی خاک اس کے سر پر اس کی آنکھوں پر اس کے منہ پر گر کر اس کو ذلیل اور رسواء کرے گی اور ہمارے نبی کریمa کی شان وشوکت اس کی عداوت اور اس کے بخل سے کم نہیں ہو گی بلکہ زیادہ سے زیادہ خداتعالیٰ ظاہر کرے گا۔ کیا تم فجر کے قریب آفتاب کو نکلنے سے روک سکتے ہو۔ ایسے ہی تم آنحضرتﷺ کے آفتاب صداقت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ خداتعالیٰ تمہارے کینوں اور بخلوں کو دور کرے۔ والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ!

راقم: خاکسار غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ از قادیان ضلع گورداسپور

۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء، روز دو شنبہ

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۳تا۱۱۶)

اس اشتہار پر بھی اعتراضات ہوئے تو مرزاقادیانی نے ان کے جواب میں ایک اور اشتہار دیا جو درج ذیل ہے۔

اشتہار صداقت آثار

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

واضح ہو کہ اس خاکسار کے اشتہار ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء پر بعض صاحبوں نے جیسے منشی اندرمن صاحب مراد آبادی نے یہ نکتہ چینی کی ہے کہ نوبرس کی حد جو پسر موعود کے لئے بیان کی گئی ہے، یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے۔ ایسی لمبی میعاد تک تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے۔ سو اوّل تو اس کے جواب میں یہ واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے، کسی لمبی میعاد سے گونوبرس سے بھی دوچند ہوتی۔ اس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا بلکہ صریح دلی انصاف ہرایک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسے عالی درجہ کی خبر

432

جو ایسے نامی اور اخص آدمی کے تولد پر مشتمل ہے، انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعاء کی قبولیت ہو کر ایسی خبر کا ملنا بے شک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے۔ نہ یہ کہ صرف پیش گوئی ہے۔ ماسواء اس کے اب بعد اشاعت اشتہار مندرجہ بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیاگیا کہ جواب پیدا ہو گا۔ یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نوبرس کے عرصہ میں پیدا ہو گا اور پھر بعد اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔ چونکہ یہ عاجز ایک بندۂ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہ کا ہے۔ اس لئے اسی قدر ظاہر کرتا ہے جو منجانب اللہ ظاہر کیاگیا۔ آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہو گا وہ بھی شائع کیا جاوے گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!

المشتہر: خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور

۸؍اپریل ۱۸۸۶ء مطابق دوم رجب ۱۳۰۳ھ

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۶، ۱۱۷)

آخرکار مرزاقادیانی کے گھر لڑکا پیدا ہو گیا تو مرزاقادیانی نے مخالفوں کا منہ بند کرنے کا اشتہار دیا جو درج ذیل ہے:

خوشخبری

’’اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی تھی اور خداتعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جواس کے قریب ہے ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ۱۶؍ذیقعدہ ۱۳۰۴ھ مطابق ۷؍اگست ۱۸۸۷ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔فالحمد ﷲ علیٰ ذالک!

اب دیکھنا چاہئے کہ یہ کس قدر بزرگ پیش گوئی ہے جو ظہور میں آئی۔ آریہ لوگ بات بات میں یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم وہ پیش گوئی منظور کریں گے جس کا وقت بتلایا

433

جاوے۔ سو اب یہ پیش گوئی انہیں منظور کرنی پڑی۔ کیونکہ اس پیش گوئی کا مطلب یہ ہے کہ حمل دوم بالکل خالی نہیں جائے گا۔ ضرور لڑکا پیدا ہو گا اور وہ حمل بھی کچھ دور نہیں بلکہ قریب ہے۔ یہ مطلب اگرچہ اصل الہام میںمجمل تھا لیکن میں نے اسی اشتہار میں لڑکا پیدا ہونے سے ایک برس چار مہینہ پہلے روح القدس سے قوت پاکر مفصل طور پر مضمون مذکورہ بالا لکھ دیا یعنی یہ کہ اگر لڑکا اس حمل میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں ضرور ہو گا۔ آریوں نے حجت کی تھی کہ یہ فقرہ الہامی کہ جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ حمل موجودہ سے خاص تھا، جس سے لڑکی ہوئی۔ میں نے ہر ایک مجلس اور ہر ایک تحریر وتقریر میں انہیں جواب دیا کہ یہ حجت تمہاری فضول ہے۔ کیونکہ کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہم آپ بیان کرے اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ ملہم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خداتعالیٰ سے خاص طاقت پاکر اس کے معنی کرتا ہے۔ پس جس حالت میں لڑکی پیدا ہونے سے کئی دن پہلے عام طور پر کئی سواشتہار چھپوا کر میں نے شائع کر دئیے اور بڑے بڑے آریوں کی خدمت میں بھی بھیج دئیے تو الہامی عبارت کے وہ معنی قبول نہ کرنا جو خود ایک خفی الہام نے میرے پر ظاہر کئے اور پیش از ظہور مخالفین تک پہنچا دئیے گئے۔ کیا ہٹ دھرمی ہے یا نہیں۔ کیا ملہم اپنے الہام کے معانی بیان کرنا یا مصنف کا اپنی تصنیف کے کسی عقیدہ کو ظاہر کرنا تمام دوسرے لوگوں کے بیانات سے عندالعقل زیادہ معتبر نہیں ہے۔ بلکہ خود سوچ لینا چاہئے کہ مصنف جو کچھ پیش از وقوع کوئی امر غیب بیان کرتا ہے اور صاف طور پر ایک بات کی نسبت دعویٰ کر لیتا ہے تو وہ اپنے اس الہام اور اس تشریح کا آپ ذمہ دار ہوتا ہے اور اس کی باتوں میں دخل بے جا دینا ایسا ہے جیسا کوئی کسی مصنف کو کہے کہ تیری تصنیف کے یہ معنی نہیں بلکہ یہ ہیں جو میں نے سوچے ہیں۔ اب ہم اصل اشتہار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء ناظرین کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں لکھتے ہیں تاکہ ان کو اطلاع ہو کہ ہم نے پیش از وقوع اپنی پیش گوئی کی نسبت کیا دعویٰ کیا تھا اور پھر وہ کیسا اپنے وقت پر پورا ہوا۔‘‘

المشتہر: خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور، ۷؍اگست ۱۸۸۷ء

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۴۱، ۱۴۲)

اس اشتہار نے تمام نزاعوں کا فیصلہ کر دیا اور مرزاقادیانی کے لئے آئندہ کی

434

مشکلات کا دروازہ کھول دیا۔ کیونکہ مولود لڑکے کے اوصاف تو یہ تھے کہ: ’’وہ سخت ذہن وفہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری وباطنی سے پر کیا جائے گا… فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء (گویا خدا اوپر سے آیا) وغیرہ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۱)

مگر تقدیر خدا غالب ہے وہ بچہ جس کو اس پیش گوئی کے مطابق موعود فرمایا تھا، ۴؍نومبر ۱۸۸۸ء کو سولہ مہینے عمر پاکر مرزاقادیانی اور ان کے ہواخواہوں کو ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گیا، جس کا لازمی نتیجہ مخالفوں کی شورش ہوا۔ چنانچہ چاروں طرف سے مخالف ٹوٹ پڑے۔ مگر مرزاقادیانی کچھ ایسے کمزوردل گردے کے نہیں تھے جو مخالفوں کی سازش سے دب جاتے۔ آپ نے بڑے حوصلہ اور بڑی متانت سے اشتہار دیا جو درج ذیل ہے۔

حقانی تقریر برواقعہ وفات بشیر

’’واضح ہو کہ اس عاجز کے لڑکے بشیراحمد کی وفات سے جو ۷؍اگست ۱۸۸۷ء بروز یکشنبہ میں پیدا ہو تھا اور ۴؍نومبر ۱۸۸۸ء کو اسی روز یکشنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا۔ عجیب طور کا شوروغوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگارنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں۔ مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت وافتراء ہے انہوں نے اس بچے کی وفات پر انواع واقسام کی افتراء گھڑنی شروع کی۔ سو ہر چند ابتداء میں ہمارا ارادہ نہ تھا کہ اس پسر معصوم کی وفات پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں اور نہ شائع کرنے کی ضرورت تھی۔ کیونکہ کوئی ایسا امر درمیان نہ تھا کہ کسی فہیم آدمی کی ٹھوکر کھانے کا موجب ہوسکے، لیکن جب یہ شوروغوغا انتہاء کو پہنچ گیا اور کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں پر بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا تو ہم نے محض للّٰہ یہ تقریر شائع کرنا مناسب سمجھا۔

اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسر متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات واخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء اور ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء اور ۷؍اگست ۱۸۸۷ء میں یہ ظاہر کیاگیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ بعضوں نے اپنی طرف سے

435

افتراء کر کے یہ بھی اپنے اشتہار میں لکھا کہ اس بچہ کی نسبت یہ الہام بھی ظاہر کیاگیا تھا کہ یہ بادشاہوں کی بیٹیاں بیاہنے والا ہو گا۔ لیکن ناظرین پر منکشف ہو کہ جن لوگوں نے یہ نکتہ چینی کی ہے، انہوں نے بڑا دھوکہ کھایا ہے یا دھوکہ دینا چاہا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ماہ اگست ۱۸۸۷ء تک جو پسر متوفی کی وفات کا مہینہ ہے، جس قدر اس عاجز کی طرف سے اشتہار چھپے ہیں جن کا لیکھ رام پشاوری نے وجۂ ثبوت کے طور پر اپنے اشتہار میں حوالہ دیا ہے، ان میں سے کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا جس میں یہ دعویٰ کیاگیا ہو کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا جو فوت ہو گیا۔ بلکہ ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کا اشتہاراور نیز ۷؍اگست ۱۸۸۷ء کا اشتہار کہ جو ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کی بناء پر اور اس کے حوالہ سے بروز تولد بشیر شائع کیاگیا تھا، صاف بتلا رہا ہے کہ ہنوز الہامی طور پر یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ آیا یہ لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا کوئی اور ہے۔ تعجب کہ لیکھ رام پشاوری نے جوش تعصب میں آ کر اپنے اس اشتہار میں جو اس کی جبلی خصلت بدگوئی وبدزبانی سے بھرا ہوا ہے، اشتہارات مذکورہ کے حوالہ سے اعتراض تو کر دیا، مگر آنکھیں کھول کر ان تینوں اشتہاروں کو پڑھ نہ لیا تاکہ جلد بازی کی ندامت سے بچ جاتا۔ نہایت افسوس ہے کہ ایسے دروغ باف لوگوں کو آریوں کے وہ پنڈت کیوں دروغ گوئی سے منع نہیں کرتے جو بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنا اصول یہ بتلاتے ہیں کہ جھوٹ کو چھوڑنا اور تیاگنا اور سچ کو ماننا اور قبول کرنا آریوں کا دھرم ہے۔ پس عجیب بات ہے کہ یہ دھرم قول کے ذریعہ سے تو ہمیشہ ظاہر کیاجاتا ہے مگر فعل کے وقت ایک مرتبہ بھی کام نہیں آتا۔

افسوس ہزار افسوس! اب خلاصہ کلام یہ کہ ہر دو اشتہار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء اور ۷؍اگست ۱۸۸۷ء ذکورہ بالا اس ذکر وحکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اور کن صفات کا ہے، بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کی رو سے غیرمنفصل اور غیر مصرح ہے۔ ہاں! یہ تعریفیں جو اوپر گزر چکی ہیں، ایک آنے والے لڑکے کی نسبت عام طور پر بغیر کسی تخصیص وتعیین کے اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن اس اشتہار میں تو کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو ۷؍اگست ۱۸۸۷ء کو لڑکا پیدا ہو گا، وہی مصداق ان

436

تعریفوں کا ہے۔ بلکہ اس اشتہار میں اس لڑکے کے پیدا ہونے کی کوئی تاریخ مندرج نہیں کہ کب اور کس وقت ہو گا۔ پس ایسا خیال کرنا کہ ان اشتہارات میں مصداق ان تعریفوں کا اسی پسر متوفی کو ٹھہرایا گیا تھا، سراسر ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔ یہ سب اشتہارات ہمارے پاس موجود ہیں اور اکثر ناظرین کے پاس موجود ہوں گے۔ مناسب ہے کہ ان کو غور سے پڑھیں اور پھر آپ ہی انصاف کریں۔ جب یہ لڑکا فوت ہو گیا ہے، پیدا ہوا تھا تو اس کی پیدائش کے بعد صدہا خطوط اطراف مختلفہ سے بدیں استفسار پہنچے تھے کہ کیا یہ وہی مصلح موعود ہے جس کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پائیں گے تو سب کی طرف یہی جواب لکھا گیا تھا کہ اس بارے میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ ہاں! اجتہادی طور پر گمان کیا جاتا تھا کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پسر متوفی کی بہت سی ذاتی بزرگیاں الہامات میں بیان کی گئی تھیں، جو اس کی پاکیزگی روح اور بلندیٔ فطرت اور علواستعداد اور روشن جوہری اور سعادت جبلی کے متعلق تھیں اور اس کی کاملیت استعدادی سے علاقہ رکھتی تھیں۔ سو چونکہ وہ استعدادی بزرگیاں ایسی نہیں تھیں جن کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا۔ اسی باعث سے یقینی طور پر کسی الہام کی بناء پر اس رائے کو ظاہر نہیں کیاگیا تھا کہ ضرور یہ لڑکا پختہ عمر تک پہنچے گا اور اسی خیال اور انتظار میں سراج منیر کے چھاپنے میں توقف کی گئی تھی۔ تاجب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کھل جاوے تب اس کا مفصل ومبسوط حال لکھا جائے۔ سو تعجب اور نہایت تعجب کہ جس حالت میں ہم اب تک پسر متوفی کی نسبت الہامی طور پر کوئی رائے قطعی ظاہر کرنے سے بکلی خاموش اور ساکت رہے اور ایک ذرا سا الہام بھی اس بارے میں شائع نہ کیا تو پھر ہمارے مخالفوں کے کانوں میں کس نے پھونک مار دی کہ ایسا اشتہار ہم نے شائع کر دیا ہے۔‘‘

المبلغ: غلام احمد عفی عنہ … یکم؍دسمبر ۱۸۸۸ء

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۳تا۱۶۶)

یہ اشتہار معمولی اشتہار نہیں بلکہ ایک کتاب ہے جو ۲۰X۲۶ کے ۲۴؍صفحوں پر ختم ہے۔ مضمون سارا اسی قدر ہے جو اوپر نقل ہوا۔

ہاں! اس اشتہار کے اخیر کے چند فقرے قابل دید وشنید ہیں جو مرزاقادیانی کے طرز زندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’بالآخر یہ بھی اس جگہ واضح رہے کہ ہمارا اپنے کام کے لئے تمام وکمال بھروسہ اپنے مولا کریم پر ہے۔ اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ

437

لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں یا نفاق اور ہمارے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں یا رد اور ہمیں تحسین کرتے ہیں یا نفرین بلکہ ہم سب سے اعراض کر کے اور غیراللہ کو مردہ کی طرح سمجھ کر اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ گو بعض ہم سے اور ہماری ہی قوم میں سے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہمارے اس طریق کو نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں۔ مگر ہم ان کو معذور کھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو ہم پر ظاہر کیاگیا ہے وہ ان پر ظاہر نہیں اور جو ہمیں پیاس لگا دی گئی ہے وہ انہیں نہیں۔ کل یعمل علٰی شاکلتہ‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۸۰)

ان فقرات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنی کارروائی ہمیشہ متوکلانہ اور عارفانہ دکھلایا کرتے تھے۔ چنانچہ جب بعض علماء نے آپ کو دوستانہ نصیحت کی کہ اس قسم کے مکاشفات ظاہر نہ کیا کریں، جن سے مخالفین کو ہنسی کا موقع ملے تو آپ نے اسی اشتہار میں ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔

چنانچہ فرماتے ہیں: ’’اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہل علم احباب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے کہ برکات روحانیہ وآیات سماویہ کے سلسلہ کو جو بذریعہ قبولیت ادعیہ والہامات ومکاشفات تکمیل پذیر ہوتا ہے۔ لوگوں پر ظاہر کیا جائے، بعض کی ان میں سے اس بارہ میں یہ بحث ہے کہ یہ باتیں ظنی وشکی ہیں اور ان کے ضرر کی امید ان کے فائدہ سے زیادہ تر ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقت میں یہ تمام بنی آدم میں مشترک ومتساوی ہیں۔ شاید کسی قدر ادنیٰ کم و بیشی ہو بلکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ قریباً یکساں ہی ہیں ان کا یہ بھی بیان ہے کہ ان امور میں مذہب اور اتقاء اور تعلق باللہ کو کچھ دخل نہیں۔ بلکہ یہ فطرتی خواص ہیں جو انسان کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں اور ہر ایک بشر سے مؤمن ہو یا کافر۔ صالح ہو یا فاسق۔ کچھ تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ صادر ہوتے رہتے ہیں یا تو ان کی قیل وقال ہے، جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغ علم کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ مگر فراست صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حب دنیا کا کیڑا ان کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجذوم کا جذام انتہاء کے درجہ تک پہنچ کر سقوط اعضاء تک نوبت پہنچاتا ہے اور ہاتھوں پیروں کا گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ان کے روحانی اعضاء جو روحانی قوتوں سے مراد ہیں،

438

بباعث غلو محبت دنیا کے گلنے سڑنے شروع ہو گئے ہیں اور ان کا شیوہ فقط ہنسی اور ٹھٹھہ، بدظنی اور بدگمانی ہے۔ دینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلی آزادی ہے بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت سے کچھ سروکار نہیں رکھتے اور کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے، اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے بلکہ جیفہ دنیا میں دن رات غرق ہو رہے ہیں۔ ان میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو ٹٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور بڑی بدقسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس نہایت خطرناک بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں اور جو حقیقی صحت وتندرستی ہے، اس کو بنظر توہین واستخفاف دیکھتے ہیں اور کمالات ولایت اور قرب الٰہی کی عظمت بالکل ان کے دلوں پر سے اٹھ گئی ہے اور نومیدی اور حرمان کی سی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ بلکہ اگر یہی حالت رہی تو ان کا نبوت پر ایمان قائم رہنا بھی کچھ معرض خطر میں ہی نظر آتا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۸۱، ۱۸۲)

علمائے اسلام کی مشفقانہ نصیحت اور مرزاقادیانی کا تلخ جواب سن کر ایک عاق کے تلخ جواب کی قدر معلوم ہو گئی جو اپنے ناصحوں کو کہتا ہے ؎

  1. ناصحا! اتنا تو دل میں تو سمجھ اپنے کہ ہم

    لاکھ ناداں ہیں کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے

ہم اقرار کر آئے ہیں کہ تاریخ مرزا بحیثیت مؤرخانہ لکھیں گے مناظرانہ نہیں۔ اس لئے ہم نے سب واقعات ناظرین کے سامنے رکھ دئیے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ:

مرزاقادیانی نے کئی ایک اشتہاروں میں تولد فرزند ارجمند کا الہام شائع کیا۔ یہاں تک کہ ۷؍اگست ۱۸۸۷ء کو بچہ پیدا ہوا، جس کا نام ’’بشیر‘‘ رکھا۔

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۳)

اور اس کو فرزند موعود قرار دے کر اشتہار دیا اور اسی اشتہار میں لکھا کہ: ’’الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہم آپ بیان کرے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۴۲)

اس کے بعد وہ بشیر موعود فوت ہو گیا تو مولوی سعد اللہ صاحب مرحوم لدھیانوی کو یہ کہنے کا موقع ملا:

  1. بشیر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا

    ترا اعزاز اور اکرام مرزا

  2. کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور

    دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا

… باب اوّل ختم شد …

439

تاریخ مرزا … باب دوم

براہین احمدیہ کے بعد

ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ مرزاقادیانی کی مشہور کتاب براہین احمدیہ کی تصنیف تک گو بعض علماء بدگمان تھے، مگر جمہور علمائے اسلام آپ کی نسبت حسن ظن اور محبت رکھتے۔ لیکن براہین کے زمانہ کے بعد آپ نے جو رنگت اختیار کی تو سب علیحدہ ہو گئے۔ اس لئے اس کی تہ کو معلوم کرنا ضروری ہے کہ وہ کون سا مرکزی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے علمائے اسلام مرزاقادیانی سے بالکل متنفر ہوگئے۔

یوں تو بعد میں بہت سے مسائل پیدا ہو گئے، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں لیکن مرکزی مسئلہ جس کو اصل الاصول کہا جائے ایک ہی تھا اور اب بھی وہی ایک ہی ہے، اس مسئلہ کی حقیقت اور اصلیت خود مرزاقادیانی کی کتاب براہین احمدیہ سے دکھاتے ہیں تاکہ ہمارے ناظرین کو علماء کی مخالفت کی نسبت بھی صحیح رائے قائم کرنے کا موقع مل سکے۔

براہین احمدیہ میں وہ مرکزی مسئلہ یوں مرقوم ہے: ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہیہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیحm کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیحm دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ جلد چہارم ص۴۹۸، خزائن ج۱ ص۵۹۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)

اس عبارت سے تین امر مفہوم ہیں۔ ایک حضرت عیسیٰ مسیحm کی زندگی، دوم انہی کا دوبارہ تشریف لانا۔ سوم تمام دنیا میں اسلام کا پھیل جانا۔ یہ ہیں براہین احمدیہ تک مرزاقادیانی کے خیالات۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۸۹۰ء میں رسالہ ’’فتح اسلام‘‘، ’’توضیح المرام‘‘ شائع کئے جن میں اس خیال کی تبدیلی یوں کی کہ مسیح موعود جن کی بابت براہین احمدیہ کی مذکورہ عبارت میں لکھا تھا کہ اطراف واقطار دنیا میں اسلام پھیلا دیں گے۔ ان کے منصب کا دعویٰ خود اختیار کر لیا۔ یعنی فرمایا کہ حضرت مسیحm فوت ہو گئے۔ وہ تو نہیں آویں گے بلکہ ان جیسا کوئی آوے گا اور وہ میں ہوں۔ اس کا ذکر اور ثبوت

440

ان تینوں رسالوں میں دینے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ ’’ازالہ اوہام حصہ دوم ‘‘ میں بہت لمبی تقریر کے بعد آپ نے لکھا:

’’سو یقینا سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانہ میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہراتا۔ تب خداتعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا، اور اس اپنے بندہ کا نامابن مریم رکھا۔ کیونکہ اس نے مخلوق میں اپنی روحانی والدہ کا تو منہ دیکھا جس کے ذریعہ سے اس نے قالب اسلام کا پایا لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی تب وہ وجود روحانی پا کر خداتعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا۔ کیونکہ خداتعالیٰ نے اپنے ماسواء سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اٹھا لیا اور پھر ایمان اور عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا۔ سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا میں تحفہ لایا اور زمین جو سنسان پڑی تھی اور تاریک تھی اس کے روشن اور آباد کرنے کے فکر میں لگ گیا۔ پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں یہ داخل ہے؟ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۵۹، خزائن ج۳ ص۴۵۶)

مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ مسیح ابن مریم کے لئے جو حدیثوں میں پیش گوئی آئی ہے، اس سے مراد میں ہوں۔ کیونکہ ابن مریم کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح حضرت مسیحm بغیر وسیلہ باپ کے پیدا ہوئے تھے، وہ مسیح موعود بغیر کسی شیخ طریقت کی راہ نمائی کے کمال کو پہنچے گا۔ چنانچہ میں ایسا ہی (بے پیر کے) کمال کو پہنچا ہوں۔ اس دعویٰ پر علمائے کرام کے ساتھ لفظی مباحثات ہوتے رہے، لیکن مرزاقادیانی چونکہ روحانیت کے مدعی تھے، اس لئے انہوں نے اپنی روحانیت کا ثبوت یوں دینا چاہا کہ واقعات آئندہ کی بابت پیش گوئیاں کیں، جن کی بابت لکھا گیا کہ اگر یہ پیش گوئیاں صحیح نہ ہوں تو میں جھوٹا۔

چنانچہ اسی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں ایک پیش گوئی یوں فرمائی: ’’خداتعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزااحمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخرکار ایسا ہی ہو گا اور فرمایا کہ

441

خداتعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵)

اس پیش گوئی کے متعلق مزید معلومات آگے آویں گی۔

مرزاقادیانی کے دعویٰ مسیحیت پر سب سے اوّل مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اٹھے، جنہوں نے مرزاقادیانی کے اقوال کو یکجاء کر کے علماء کرام سے ان کے برخلاف ایک فتویٰ لیا جو اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں چھاپا۔ مگر حق یہ ہے کہ بعد اس فتویٰ کے مرزاقادیانی نے بجائے دبنے کے اپنے خیالات اور مقالات میں جو ترقی کی اس کو دیکھتے ہوئے یہ فتویٰ جن خیالات پر علماء نے دیا تھا وہ کچھ بھی حقیقت نہ رکھتے تھے۔‘‘‘ (مرزا نے آگے چل کر اس سے کہیں زیادہ کفریات کا ارتکاب کیا)

ماہ مئی جون ۱۸۹۳ء میں مرزاقادیانی کا ایک مناظرہ عیسائیوں کے ساتھ امرتسر میں ہوا، جس میں مرزاقادیانی کے مقابل ڈپٹی عبداللہ آتھم (پادری) تھے۔ پندرہ روز تک مباحثہ ہوتا رہا، جس میں پچاس پچاس آدمی فریقین کے بذریعہ ٹکٹ داخل ہوتے تھے۔ مباحثہ الوہیت مسیح پر تھا۔ مرزاقادیانی نے ابطال الوہیت مسیح پر بہت سی دلیلیں پیش کیں۔ یہ مباحثہ ’’جنگ مقدس‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے، مگر چونکہ لفظی بحثیں علمائے ظاہری کا حصہ ہیں اور مرزاقادیانی ایک روحانی درجہ لے کر آئے تھے۔ اس لئے اپنے ان لفظی دلائل کو خود ہی ناکافی جان کر آخر میں ایک روحانی حربہ سے کام لینا چاہا۔

چنانچہ آخری روز خاتمہ مباحثہ پر آپ کے الفاظ یہ تھے: ’’آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعاء کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سواء کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے، اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی بعض

442

اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے… میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خداتعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیاجائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جاویں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۸، ۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۱تا۲۹۳)

اس روحانی حربہ کا مطلب صاف ہے کہ عیسائی مناظر (جو الوہیت مسیح کا قائل ہے) پندرہ ماہ کے عرصہ میں مر کر واصل جہنم ہو گا۔ اس پیش گوئی کے علاوہ ایک پیش گوئی مرزاقادیانی کی اور تھی جو پنڈت لیکھ رام آریہ مصنف کے حق میں روحانی حربہ تھا، جس کے متعلق اصل الفاظ یہ ہیں:

لیکھ رام پشاوری کی نسبت ایک پیش گوئی

’’واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیاگیا تھا، اندر من مراد آبادی اور لیکھ رام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضاء وقدر کی نسبت بعض پیش گوئیاں شائع کی جاویں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصے کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھ رام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کرو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا:’’عجل جسد لہ خوار لہ نصب وعذاب‘‘ یعنی یہ صرف ایک بے جان سا گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل کر رہے گا اور اس کے بعد آج ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبہ ہے۔ اس عذاب کا وقت معلوم

443

کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء ہے، چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی انبے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہa کے حق میں کی ہیں۔ عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جاوے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔‘‘

(سراج منیر ص۱۲، ۱۳، خزائن ج۱۲ ص۱۴، ۱۵)

اس حربہ کا مطلب ملاحظہ ہو کہ پنڈت لیکھ رام پر خلاف عادت عذاب نازل ہو گا، اس وقت تین پیش گوئیاں (مرزااحمد بیگ کی لڑکی سے نکاح اور ڈپٹی آتھم کی موت اور پنڈت لیکھ رام پر خارج عادت عذاب کے متعلق) ملک میں بہت مشہور تھیں۔ بہت سے لوگ ان کے انجام کے منتظر تھے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے خود انہی کی طرف پبلک کو متوجہ کرنے کو اعلان شائع کیا جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’بعض اورعظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ۵؍جون ۱۸۹۳ء سے ۱۵مہینہ دن تک اور پنڈت لیکھ رام پشاوری کی موت کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ۱۸۹۳ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے، جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ۱۸۹۳ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تمام امور جو انسانیطاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں، ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خداتعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو، خداتعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعاء سے ہلاک نہیں کر

444

سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہرادے۔ سو پیشین گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہوں۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشین گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیشین گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشین گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں: (۱)کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔ (۲)اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ (۳)اور پھر یہ کہ مرزااحمد بیگ تاروز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ (۴)اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تاایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (۵)اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہو جانے تک فوت نہ ہو۔ (۶)اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ۸۰، ۸۱،خزائن ج۶ ص۳۷۵، ۳۷۶)

ان تینوں پیش گوئیوں (یا روحانی حربوں) پر مرزاقادیانی کو ایسا یقین تھا کہ اردو تصنیفات کے علاوہ عربی کتاب میں بھی آپ نے ان کا بڑی چستی اور دلیری سے ذکر کیا۔

(ملاحظہ ہو رسالہ ضمیمہ کرامات الصادقین ص۱، خزائن ج۷ ص۱۶۲، ۱۶۳)

اب تو پبلک بالکل ان تینوں روحانی حربوں کی زد پر چشم براہ ہو گئی۔ ناظرین کے استحضار مطلب کے لئے ہم ان تینوں کی انتہائی تاریخ لکھتے ہیں۔

مرزاسلطان محمد داماد مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری۔۔۔۔انتہائی تاریخ ان ٹل

(شوہر منکوحہ کی) موت اس کی موت کے بعد ۔۔۔۔۲۱؍اگست ۱۸۹۴ء

مرزاصاحب کا نکاح

ڈپٹی عبداللہ آتھم (عیسائی مناظر) ۔۔۔۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء

پنڈت لیکھ رام آریہ مصنف ۔۔۔۲۰؍فروری ۱۸۹۹ء

مرزا سلطان محمد تو آج (جون ۱۹۲۳ء) تک بھی زندہ ہے اور مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو فوت ہو گئے۔ ڈپٹی آتھم بجائے ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء کے ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو فوت

445

ہوئے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے ان کے مرنے پر رسالہ ’’انجام آتھم‘‘ لکھا جس کے شروع میں لکھا ہے: ’’مسٹر عبداللہ آتھم صاحب ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروزپور فوت ہو گئے۔‘‘

(انجام آتھم ص۱، خزائن ج۱۱ ص۱)

اس حساب سے ڈپٹی آتھم اپنی مقررہ میعاد پندرہ ماہ سے متجاوز ہو کر ایک سال پونے گیارہ ماہ سے زیادہ زندہ رہے تو مرزاقادیانی نے اس کے جواب میں فرمایا۔ گو آتھم پندرہ ماہ میں نہیں مرا لیکن مرا تو سہی۔ اس میں کیا حرج ہے۔ میعاد کو مت دیکھو۔ یہ دیکھو کہ مر تو گیا۔

چنانچہ آپ کے اصلی الفاظ یہ ہیں: ’’اگر کسی کی نسبت یہ پیشین گوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائے گا پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسیوں مہینہ میں مجذوم ہوجائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جاویں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۵، خزائن ج۲۲ ص۱۹۳ حاشیہ)

اسی کی تائید میں دوسرے مقام پر لکھا ہے: ’’ہمارے مخالفوں کو اب اس میں تو شک نہیں کہ عبداللہ آتھم مر گیا ہے۔ جیسا کہ لیکھ رام مر گیا اور جیسا کہ احمد بیگ مر گیا ہے۔ لیکن اپنی نابینائی سے کہتے ہیں کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ اے نالائق قوم جو شخص خدا کی وعید کے موافق مرچکا اب کی میعاد غیر میعاد کی بحث کرنا کیا حاجت ہے بھلا دکھاؤ کہ اب وہ کہاں اور کس شہر میں بیٹھا ہے۔‘‘

(سراج منیر ص۶۲، خزائن ج۱۲ ص۷۲)

غرض اس پر فریقین سے کافی تحریرات شائع ہوتی رہیں۔ مفصل بحث بطریق مناظرہ ہمارے رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ میں مذکور ہے۔

پہلی پیش گوئی متعلقہ موت مرزا سلطان محمد دراصل تمہید تھی۔ اصل پیش گوئی نکاح منکوحہ کے متعلق تھی۔ اس لئے مسمات مذکورہ کا نکاح ہو گیا تو بھی مرزاقادیانی کو مایوسی نہ تھی بلکہ بڑی مضبوطی اور استقلال سے امید کیا یقین کا اظہار کرتے تھے کہ مسمات مذکورہ میرے نکاح میں آوے گی۔

چنانچہ گورداسپور کی ججی میں ایک دیوانی مقدمہ میں مرزاقادیانی پر اس کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے جو جواب دیا وہ قادیان کے اخبار الحکم نے شائع کیا تھا، ہم بھی اسے نقل کرتے ہیں: ’’احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیش گوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔ وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل

446

رحمانی میں ہے وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہو گا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں، ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت میں سر نیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیش گوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جاوے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الیٰ اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی اس لئے وہ بیاہ بعدکے چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جزو پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیش گوئی کا ایک جز تھا۔ انہوں نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے اس لئے خداتعالیٰ نے اس کو مہلت دی عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں، ہو کر رہیں گی۔‘‘

(اخبار الحکم مؤرخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء، کتاب منظور الٰہی ص۲۴۵)

رسالہ (انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱ حاشیہ) پر اس نکاح کو تقدیر مبرم (قطعی قضاء الٰہی) لکھا ہے۔ لیکن کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں لکھا ہے: ’’یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے، یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا، خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ’’ایتہا المراۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک‘‘ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۲، ۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)

اس بیان میں نکاح کی بھی امید تھی مگر ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو جب مرزاقادیانی انتقال کر گئے تو ساری امیدیں منقطع ہو گئیں۔

نوٹ: اس پیش گوئی کے متعلق ہمارا ایک مستقل رسالہ ہے۔ اس کا نام ہے ’’نکاح مرزا‘‘ جس میں مناظرانہ رنگ میں اس نکاح کی مفصل بحث ہے۔

تیسری پیش گوئی پنڈت لیکھ رام کے متعلق تھی جو بہت ہی مختصر ہے۔ اس کے الفاظ

447

یہ تھے: ’’اگر اس شخص (لیکھ رام) پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘

(سراج منیر ص۳ا، خزائن ج۱۲ ص۱۵)

پنڈت لیکھ رام کا واقعہ یوں ہوا کہ ایک نوجوان اس کے پاس آ کر یوں گویا ہوا کہ میں ہندو سے مسلمان ہو گیا ہوں۔ اب مجھ کو آریہ بنا لیجئے۔ پنڈت مذکور نے اس سے مانوس ہوکر چند روزتک اس کو اپنے پاس رکھا۔ آخر ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو قریب شام جب پنڈت لیکھ رام اور وہ مکان میں لیٹے باتیں کر رہے تھے داؤ بچا کر اس نے پنڈت مذکور کے پیٹ میں چھری چبھا دی۔ جس سے پنڈت لیکھ رام فوراً مر گیا اور وہ چپکا سا چلتا بنا اور آج تک نہ پکڑا گیا۔

اب اس واقعہ پر یہ بحث باقی ہے کہ آیا یہ واقعہ کوئی خارق عادت تھا یا روزمرہ کا معمولی یہ ایک مناظرانہ گفتگو ہے جس کے لئے یہ رسالہ موزوں نہیں بلکہ وہی رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ اس کے لائق ہے۔

مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ

جن دنوں مرزاقادیانی نے ڈپٹی عبداللہ آتھم سے مباحثہ کیا تھا، انہی دنوں میں مولوی عبدالحق غزنوی مقیم امرتسر سے مباہلہ بھی کیا جس کی تفصیل یہ ہے: ’’مولوی صوفی عبدالحق غزنوی مرزاقادیانی کے مقابلہ میں اشتہارات وغیرہ نکالا کرتے تھے۔ بات بڑھتے بڑھتے مباہلہ تک پہنچی جس کو آخر کار فریقین نے منظور کر لیا۔ اس سارے واقعہ کے بتلانے کے لئے یہاں ایک اشتہار نقل کیا جاتا ہے، جو ایام مباحثہ عیسائیان امرتسر میں مولوی عبدالحق مرحوم غزنوی نے شائع کیا تھا، وہ درج ذیل ہے۔‘‘

اطلاع عام برائے اہل اسلام

(از مولوی صوفی عبدالحق غزنوی مباہل مرزا)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اس میں کچھ شک نہیں کہ میں مرزاقادیانی کے مباہلہ کا مدت سے پیاسا ہوں اور تین برس سے اس سے یہی درخواست ہے کہ اپنے کفریات پر جو تو نے اپنی کتابوں میں شائع کئے ہیں، مجھ سے مباہلہ کر۔ مگر چونکہ خاص کر ان دنوں میں وہ پادریوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے لڑتا ہے تو اس موقع پر میں نے اور ہمارے اور بھائی مسلمانوں نے یہ مناسب نہ

448

سمجھا کہ مرزا سے اس موقع پر مباہلہ یا مباحثہ یا اور کسی قسم کی چھیڑچھاڑ کی جاوے تاکہ وہ پادریوں کے مقابلہ میں کمزور نہ ہو جاوے۔ لہٰذا میں نے یہ خط مسطور الذیل بتاریخ ۷؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ ارسال کیا کہ ہم کو آپ سے مباہلہ بدل وجان منظور ہے۔ مگر تاریخ تبدیل کر دو۔ وہ خط یہ ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرزاغلام احمد قادیانی۔۔۔السلام علٰی من اتبع الہدیٰ!

چونکہ آپ آج کل اسلام کی طرف سے مخالفین اسلام کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اہل اسلام کی مدد میں ہو، لہٰذا اس موقع پر کسی مسلمان کو آپ پر حملہ کرنا یا آپ کے ساتھ مقابلہ یا مباہلہ میں پیش آنا نہایت نامناسب اور بہت ہی خلاف مصلحت معلوم ہوتا ہے… اور اس امر کی عقل اور عرف اجازت نہیں دیتی۔ کیونکہ اس میں اسلام اور اہل اسلام کی ذلت اور بدنامی ہے۔ لہٰذا یہ تاریخ مقررہ آپ کی بے موقعہ ہے۔ اس تاریخ کا بدلنا ضروری ہے۔ ہم کو مباہلہ کرنا آپ سے بدل وجان منظور ہے۔ رسالہ موسوم بہ ’’سچائی کا اظہار‘‘ میں آپ لکھتے ہیں کہ عنقریب ایک جلسہ مباحثہ علمائے لاہور سے ۱۵؍جون ۱۸۹۴ء تک ہونے والا ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ مباہلہ اس مباحثہ کے بعد ہو جب کہ آپ اسلام کے مقابلہ پر ہوں۔ نیز آپ کا لیکچر اس موقعہ پر ہمیں بالکل منظور نہیں۔ کیونکہ جب آپ اپنی صفائی ظاہر کریں گے تو ہم بھی آپ کی تردید کریں گے۔ پھر تو مباحثہ ہوا نہ مباہلہ، یہ بحثوں کے جھگڑے تو ختم ہونے والے نہیں۔ مقام مباہلہ میں فقط فریقین یہی دعاء کریں گے کہ اللہتعالیٰ جھوٹے پر لعنت کرے۔ فقط اس کا جواب بدست حاملات رقعہ ہٰذا بھیج دیں۔‘‘

راقم عبدالحق غزنوی بقلم خود

۷؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ

میرے خط کا جواب جو مرزاقادیانی نے بھیجا وہ بھی بعینہٖ نقل کیا جاتا ہے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی!

از طرف عاجز عبداللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ وایدہ! میاں عبدالحق غزنوی کو واضح ہو کہ اب حسب درخواست آپ کے جس میں آپ نے قطعی طور پر مجھ کو کافر اور دجال لکھا ہے مباہلہ کی تاریخ مقرر ہو چکی ہے اور میرے امرتسر میں آنے کے لئے دو ہی غرضیں تھیں۔ ایک

449

عیسائیوں سے مباحثہ اور دوسرے آپ سے مباہلہ۔ میں بعد استخارہ مسنونہ انہیں دو غرضوں کے لئے مع اپنے قبائل کے آیا ہوں اور جماعت کثیر دوستوں کی جو میرے ساتھ کافر ٹھہرائی گئی ہے، ساتھ لایا ہوں اور اشتہارات شائع کر چکا ہوں اور متخلف پر لعنت بھیج چکا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے لعنت سے حصہ لے۔ میں تو حسب وعدہ میدان مباہلہ یعنی عیدگاہ میں حاضر ہو جاؤں گا۔ خداتعالیٰ کاذب اور کافر کو ہلاک کرے۔ ’’ولا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفواد کل اولٰئک کان عنہ مسئولا‘‘یہ بھی واضح رہے کہ میں ۱۵؍جون ۱۸۹۳ء کے مباحثہ میں نہیں جاؤں گا بلکہ میری طرف سے اخویم حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب یا حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب بحث کے لئے جاویں گے۔ ہاں! یہ مجھے منظور ہے کہ مقام مباہلہ میں کوئی وعظ نہ کروں۔ صرف یہ دعا ہو گی کہ میں مسلمان اور اللہ رسول کا متبع ہوں۔ اگر میں اس قول میں جھوٹا ہوں تو اللہتعالیٰ میرے پر لعنت کرے اور آپ کی طرف سے یہ دعاء ہو گی کہ یہ شخص درحقیقت کافر اور کذاب اور دجال اور مفتری ہے اور اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو خداتعالیٰ میرے پر لعنت کرے اور اگر یہ الفاظ میری دعاء کے آپ کی نظر میں ناکافی ہوں جو آپ تقویٰ کی راہ سے لکھیں کہ دعاء کے وقت یہ کہا جائے وہی لکھ دوں گا۔ مگر اب ہرگز تاریخ مباہلہ تبدیل نہیں ہو گی۔ ’’لعنۃ اللہ علی من تخلف مناوما حضر فی ذالک التاریخ والیوم والوقت والسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی‘‘

خاکسار: غلام احمد از امرتسر (ہفتم ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ)

غرض یہ ہے کہ اب میں بری الذمہ ہو گیا ہوں اور مجھ پر کسی قسم کی ملامت نہیں۔ کیونکہ میں نے تاریخ کا بدلنا تو اس سبب سے چاہا تھا کہ اگرچہ میں اور دیگر مسلمان، مرزا کو کیساہی گمراہ سمجھیں مگر جب وہ اسلام کی طرف سے لڑتا ہے تو ہم سب کو بجائے بددعاء کے دعاء اور مدد دینی چاہئے۔ مگر مرزا نے وہ تاریخ یعنی دہم ذیقعدہ نہیں بدلی۔ اب میں بھی اس وقت معینہ پر کہ دہم ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ بوقت دو بجے دن کے اپنا حاضر ہونا مباہلہ کے واسطے مقام مباہلہ میں فرض سمجھتا ہوں اور وہاں جا کر لیکچر یا وعظ یا اظہار صفائی طرفین سے مطلق نہ ہو گا۔ جیسا کہ اس نے اپنے خط میں وعدہ کر لیا ہے کہ مقام مباہلہ میں کوئی وعظ نہ کروں گا۔‘‘

مقام عیدگاہ میں مباہلہ اس طریق پر بدیں الفاظ ہو گا: ’’میں یعنی عبدالحق ۳بار بآواز بلند کہوں گا کہ یا اللہ میں مرزا کو ضال، مضل، ملحد، دجال، مفتری، محرف کلام اللہ تعالیٰ

450

واحادیث رسول اللہ سمجھتا ہوں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تونے آج تک نہ کی ہو۔‘‘

مرزا تین دفعہ بآواز بلند کہے۔ ’’یا اللہ اگر میں ضال ومضل وملحد دجال وکذاب ومفتری ومحرف کتاب اللہ واحادیث رسول اللہﷺ ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔‘‘

بعدہ روبقبلہ ہو کر دیر تک ابتہال وعاجزی کریں گے کہ یا اللہ! جھوٹے کو اور رسوا کر اور سب حاضرین مجلس آمین کہیں گے۔

المشتہر: عبدالحق غزنوی از امرتسر پنجاب۔ مؤرخہ ۸؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ، مطابق جون ۱۸۹۱ء

اس اشتہار کے مطابق عید گاہ امرتسر میں دونوں صاحبوں کا مباہلہ ہوا اور دونوں فریق امن وامان سے واپس آ گئے۔

نتیجہ: اس مباہلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سے ایک سال تین ماہ بعد جب ڈپٹی آتھم والی پیشین گوئی کی میعاد پوری ہو گئی اور آتھم کی وفات نہ ہوئی اور چاروں طرف سے مرزاقادیانی پر بھرمار ہوئی تو مولوی عبدالحق غزنوی نے ایک اشہار دیا، جس کا عنوان تھا، اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی برغلام احمد قادیانی۔ اس اشتہار میں غزنوی مباہل نے مرزاقادیانی کی ناکامی اور بدنامی اور رسوائی کو اپنے مباہلہ کا نتیجہ قرار دیا اور سند میں مرزاقادیانی کے ایک رسالہ ’’حجت الاسلام‘‘ کا حوالہ دیا جس میں مرزاقادیانی نے عیسائیوں کے جواب میں لکھا تھا: ’’میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں۔‘‘

(حجۃ الاسلام ص۹، خزائن ج۶ ص۴۹)

مرزاقادیانی نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ غلط ہے کہ میرا نشان ظاہر نہیں ہوا بلکہ میرے کئی ایک نشان ظاہر ہوئے۔ مباہلہ کے بعد میری ترقی ہوئی، مریدین زیادہ ہوئے امداد نقدی زیادہ آئی۔ وغیرہ!

(حقیقت الوحی ص۲۴۰، خزائن ج۲۲ ص۲۵۲)

آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مرزاقادیانی اپنے مباہل کی موجودگی میں ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء مطابق ۲۴؍ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ کو فوت ہو گئے اور مولوی عبدالحق غزنوی مرزاقادیانی سے کئی سال بعد ۲۳؍رجب ۱۳۳۵ھ، مطابق ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو یعنی پورے ۹سال بعد فوت ہوئے۔

451

مولانا شمس العلماء سید محمد نذیر حسین صاحب دہلویv

پہلے لکھا گیا ہے کہ سب سے اوّل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مرزاقادیانی کی مخالفت پر کمرباندھ لی۔ مگر مرزاقادیانی نے دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب گو بڑے نامور علماء میں سے ہیں۔ لیکن ان سے بھی اوپر جو ہے اس سے ٹاکرہ کرنا چاہئے۔ چنانچہ آپ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں جا کر مولانا سید محمد نذیر حسین (المعروف حضرت میاں صاحب) کو جو تمام ہندوستان میں کیا بحیثیت علمی وجاہت اور کیا بلحاظ عمر سب سے بڑے تھے، مخاطب کر کے چند اشتہار دئیے جن میں سے ایک درج ذیل ہے۔

اشتہار بمقابلہ مولوی سید نذیر حسین صاحب سرگروہ اہل حدیث

مشتہرہ، مرزاقادیانی: ’’چونکہ مولوی سید نذیر حسین صاحب نے جو کہ موحدین کے سرگروہ ہیں۔ اس عاجز کو بوجہ اعتقاد وفات مسیح ابن مریم ملحد قرار دیا ہے اور عوام کو سخت شکوک وشبہات میں ڈالنا چاہا ہے اور حق یہ ہے کہ وہ آپ ہی اعتقاد حیات مسیح میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اوّل اہل حدیث کا دعویٰ کر کے اپنے بھائیوں حنفیوں۱؎ کو بدعتی قرار دیا اور امام بزرگ حضرت ابوحنیفہq پر یہ الزام لگایا کہ ان کو حدیثیں نہیں ملی تھیں اور وہ اکثر احادیث نبویہ سے بے خبر ہی رہے تھے اور اب باوجود دعویٰ اتباع قرآن اور حدیث کے حضرت مسیح ابن مریم کی حیات کے قائل ہیں۔ وہذا لعجب العجائب اگر کوئی عوام میں سے ایسا کچا، اور خلاف قال اللہ، قال الرسول دعویٰ کرتا تو کچھ افسوس کی جگہ نہیں تھی، لیکن یہی لوگ جو دن رات درس قرآن اور حدیث جاری رکھتے ہیں۔ اگر ایسا بے اصل دعویٰ کریں تو ان کی علمیت اور قرآن دانی اور حدیث دانی پر سخت افسوس آتا ہے۔ یہ بات کسی متنفس پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ فی الواقعہ حضرت مسیحm وفات پاچکے ہیں، مگر جن لوگوں کو عاقبت کا اندیشہ نہیں۔ خداتعالیٰ کا کچھ خوف نہیں وہ تعصب کو مضبوط پکڑ کر قرآن اور احادیث کو پس پشت ڈالتے ہیں۔ خداتعالیٰ اس امت پر رحم کرے۔ لوگوں نے کیسے قرآن اور حدیث کو چھوڑ دیا ہے اور اس عاجز نے اشتہار ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء میں حضرت مولوی ابومحمد عبدالحق صاحب کا نام بھی درج کیا تھا۔ مگر عند الملاقات اور باہم گفتگو کرنے سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب موصوف ایک گوشہ گزین آدمی ہیں اور ایسے

452

جلسوں سے جن میں عوام کے نفاق وشقاق کا اندیشہ ہے۔ طبعاً کارہ ہیں اور اپنے کام تفسیر قرآن کریم میں مشغول ہیں اور شرائط اشتہار کے پورے کرنے سے مجبور ہیں۔ کیونکہ گوشہ گزین ہیں۔ حکام سے میل ملاقات نہیں رکھتے اور بباعث درویشانہ صفت کے ایسی ملاقاتوں سے کراہیت بھی رکھتے ہیں لیکن مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی صاحب جواب دہلی میں موجود ہیں۔ ان کاموں میں اوّل درجہ کا جوش رکھتے ہیں۔ لہٰذا اشتہار دیا جاتا ہے کہ اگر ہر دو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پر ہیں اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے اس کی زندگی ثابت کر سکتے ہیں تو میرے ساتھ بہ پابندیٔ شرائط مندرجہ اشتہار ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء بالاتفاق بحث کر لیں اور اگر انہوں نے بقبول شرائط مندرجہ اشتہار ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء بحث کے لئے مستعدی ظاہر نہ کی اور پوچ اور بے اصل بہانوں سے ٹال دیا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کی وفات کو قبول کر لیا۔ بحث میں امر تنقیح طلب یہ ہو گا کہ آیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہی مسیح ابن مریم جس کو انجیل ملی تھی اب تک آسمان پر زندہ ہے اور آخری زمانے میں آئے گا یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت فوت ہو چکا ہے اور اس کے نام پر کوئی دوسرا اسی امت میں سے آئے گا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مسیح ابن مریم بجسدہٖ العنصری آسمان پر موجود ہے تو یہ عاجز دوسرے دعویٰ سے درخواست بردار ہو جائے گا۔ ورنہ بحالت ثانی بعد اس اقرار کے لکھانے کے کہ درحقیقت اسی امت میں سے مسیح ابن مریم کے نام پر کوئی اور آنے والا ہے۔ یہ عاجز اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت دے گا اور اگر اس اشتہار کا جواب ایک ہفتہ تک مولوی صاحب کی طرف سے شائع نہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے گریز کی اور حق کے طالبوں کو محض نصیحتاً کہا جاتا ہے کہ میری کتاب ازالہ اوہام کو خود غور سے دیکھیں اور ان مولوی صاحبوں کی باتوں پر نہ جاویں۔ ساٹھ جزو کی کتاب ہے اور یقینا سمجھو کہ معارف اور دلائل یقینیہ کا اس میں ایک دریا بہتا ہے۔ صرف ۳؍روپے قیمت ہے اور واضح ہو کہ یہ درخواست مولوی سید نذیر حسین صاحب کی کہ مسیح موعود ہونے کا ثبوت دینا چاہئے اور اس میں بحث ہونی چاہئے۔ بالکل تحکم اور خلاف طریق انصاف اور حق جوئی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود ہونے کا اثبات آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہو گا اور آسمانی نشانوں کو بجز اس کے کون مان سکتا ہے کہ اوّل اس شخص کی نسبت جو کوئی آسمانی نشان دکھاوے۔ یہ اطمینان ہو جاوے کہ وہ خلاف

453

’’قال اللہ وقال الرسول‘‘کوئی اعتقاد نہیں رکھتا۔ ورنہ ایسے شخص کی نسبت جو مخالف قرآن اور حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہے۔ ولایت کا گمان ہرگز نہیں کر سکتے بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ کوئی نشان بھی دکھاوے تو وہ نشان کرامت متصور نہیں ہوتا، بلکہ اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بھی اپنے لمبے اشتہار میں جو لدھیانہ میں چھپوایا تھا، اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ سب سے پہلے بحث کے لائق وہی امر ہے جس سے یہ ثابت ہو جاوے کہ قرآن اور حدیث اس دعویٰ کے مخالف ہیں اور وہ امر مسیح ابن مریم کی وفات کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر درحقیقت قرآن حکیم اور احادیث صحیحہ کی رو سے حضرت مسیحm کی حیات ہی ثابت ہوتی تو اس صورت میں پھر اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعوے پر ایک نشان کیا بلکہ لاکھ نشان بھی دکھادے تب بھی وہ نشان قبول کرنے کے لائق نہیں ہوں گے۔ کیونکہ قرآن ان کے مخالف شہادت دیتا ہے غایت کار وہ استدراج سمجھے جاویں گے۔ لہٰذا سب سے اوّل بحث جو ضروری ہے مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات کی بحث ہے، جس کا طے ہوجانا ضروری ہے۔ کیونکہ مخالف قرآن وحدیث کے نشانوں کا ماننا مؤمن کا کام نہیں۔ ہاں! ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن اور حدیث سے کچھ غرض نہیں رکھتے۔فاتقواللہ ایہا العلماء والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔ المشتھر!

مرزاغلام احمد از دہلی بازار بلیماراں، کوٹھی نواب لوہارو … ۶؍اکتوبر ۱۸۹۱ء‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۷تا۲۴۰)

نتیجہ: اس چھیڑچھاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت میاں صاحب مرحوم (مولانا نذیر حسین) کے شاگرد جو بڑے بڑے نامور علماء تھے، دہلی میں جمع ہو گئے۔ پنجاب سے مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ پہنچ بھی چکے تھے۔ بھوپال سے مولوی محمد بشیر صاحب مرحوم بھی پہنچ گئے اور اچھا خاصہ ایک مجمع علماء بن گیا۔ جامع مسجد میں مقابلہ کی ٹھہری مگر مرزاقادیانی نے اس میں خیریت اور مصلحت نہ دیکھی۔ اس لئے علیحدہ مکان پر گفتگو ہونی قرار پائی۔ چونکہ مرزاقادیانی اپنا اختلافی مسئلہ صرف حیات وفات مسیح کو کہتے تھے۔ اس لئے یہی مسئلہ زیربحث آیا۔ مولوی محمد بشیر صاحب حیات مسیح کے مدعی بنے اور آپ نے آیت: ’’ان من اہل

۱؎حنفیوں کو بھڑکانے کی اچھی تجویز نکالی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ (مصنف)

454

الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ سے استدلال کیا یہ مباحثہ رسالہ کی صورت میں انہی دنوں چھپا تھا۔ جس کا نام ہے:’’الحق الصریح فی اثبات حیوٰۃ المسیح‘‘ اس مباحثہ کی مجمع کیفیت اسی رسالہ میں یوں مرقوم ہے۔

جناب مولوی محمد بشیرصاحب مناظر خود فرماتے ہیں: ’’اما بعد! یہ کیفیت ہے اس مناظرہ کی جو میرے اور مرزا غلام احمد قادیانی مدعی مسیحیت کے درمیان میں بمقام دہلی واقع ہوا۔ مرزاقادیانی نے دہلی میں آکر دو اشتہار، ایک مطبوعہ دوم اکتوبر ۱۸۹۱ء دوسرا مطبوعہ ششم اکتوبر سنہ صدر بمقابلہ جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مداللہ ظلہم العالی کے شائع کئے اور طالب مناظرہ ہوئے، وہ دونوں اشتہار خاکسار کے بھی دیکھنے میں آئے، خاکسار نے محض بنظر نصرت دین وسنت وازالہ الحاد بدعت قصد مناظرہ مصمم کر کے جواب اشتہار مرزاقادیانی کے پاس بوساطت جناب حاجی محمد احمد صاحب دہلوی کے بھیجا اور اس جواب میں مرزاقادیانی کے سب شروط کو تسلیم کر کے صرف شرط ثالث میں قدرے ترمیم چاہی۔ مرزاقادیانی نے بھی اس ترمیم کو قبول کیا۔ بعد ترمیم کے یہ تین شرطیں قرار پائیں۔ اوّل یہ کہ امن قائم رہنے کے لئے سرکاری انتظام ہو۔ دوسرے یہ کہ فریقین کی بحث تحریری ہو۔ ہر ایک فریق مجلس بحث میں سوال لکھ کر اور اس پر اپنے دستخط کر کے پیش کرے اور ایسا ہی فریق ثانی جواب لکھ کر دے۔ تیسرے یہ کہ اوّل بحث حیات مسیحm میں ہو۔ اگر حیات ثابت ہو جاوے تو مرزاقادیانی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ خود چھوڑ دیں گے اور اگر وفات ثابت ہو تو مرزاقادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت نہ ہو گا پھر حضرت مسیحm کے نزول اور مرزاقادیانی کے مسیح موعود ہونے میں بحث کی جاوے گی اور جو شخص طرفین میں سے ترک بحث کرے۔ اس کا گریز سمجھا جاوے گا جب تصفیہ شروط کا ہو گیا تو جناب حاجی محمد احمد صاحب نے حسب ایماء مرزاقادیانی کے خاکسار کو طلب کیا۔ چنانچہ شب شانزدہم ربیع اوّل ۱۳۰۹ھ کو میں بھوپال سے روانہ ہوکر روز سہ شنبہ تاریخ شانزدہم ماہ مذکور قریب نواخت چہار ساعت کے دہلی میں داخل ہوا اور مرزاقادیانی کو اطلاع اپنے آنے کی دی تو مرزاقادیانی نے مختلف رقعوں کے ذریعہ سے شروط میں تبدیل ذیل فرمائی کہ حیات مسیحm کا ثبوت آپ کو دینا ہو گا۔ بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔ جلسہ عام نہیں ہو گا۔ صرف دس آدمی تک جو معزز خاص ہوں آپ ساتھ لا سکتے ہیں مگر شیخ بٹالوی (یعنی مولوی محمد حسین صاحب) اور مولوی عبدالمجید

455

ساتھ نہ ہوں۔ پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔ انتہیٰ ان شروط کا قبول کرنا نہ تو خاکسار پر لازم تھا اور نہ میرے احباب کی رائے ان کے تسلیم کرنے کی تھی مگر محض اس خیال سے کہ مرزاقادیانی کو کوئی حیلہ مناظرہ سے گریز کا نہ ملے۔ یہ سب باتیں منظور کی گئیں بعد اس کے تاریخ نوزدہم ربیع الاوّل روز جمعہ بعد نماز جمعہ مناظرہ شروع ہوا۔ خاکسار نے ان کے مکان پر جاکر مجلس بحث میں پانچ ادلہ حیات مسیح کے لکھ کر حاضرین کو سنا دئیے اور دستخط اپنے کر کے مرزاقادیانی کو دے دئیے۔ مرزاقادیانی نے مجلس بحث میں جواب لکھنے سے عذر کیا۔ ہر چند جناب حاجی محمد احمد صاحب وغیرہ نے ان کو الزام نقض عہد ومخالفت شروط کا دیا مگر مرزاقادیانی نے نہ مانا اور یہ کہا کہ میں جواب لکھ رکھوں گا۔ آپ لوگ کل دس بجے آئیے۔ ہم لوگ دوسرے روز دس بجے گئے۔

مرزاقادیانی مکان کے اندر تھے اطلاع دی گئی تو مرزاقادیانی باہر نہ آئے اور کہلا بھیجا کہ ابھی جواب تیار نہیں ہوا۔ جس وقت تیار ہو گا آپ کو بلالیا جائے گا۔ پھر غالباً دو بجے کے بعد ہم لوگوں کو بلا کر جواب سنایا اور یہ کہا کہ اب مجلس بحث میں جواب لکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ مکان پر لے جاویں۔ چنانچہ میں اس تحریر کو مکان پر لے آیا۔ اسی طرح چھ روز تک سلسلہ مباحثہ جاری رہا۔ چھٹے روز کے تین پرچے میرے ہو چکے تھے اور تین پرچے مرزاقادیانی کے۔ مرزاقادیانی نے پہلی ہی بحث کو ناتمام چھوڑ کر مباحثہ قطع کیا اور یہ ظاہر کیا کہ اب مجھے زیادہ قیام کی گنجائش نہیں ہے اور زبانی فرمایا کہ میرے خسر بیمار ہیں اس وقت ایک مضمون جو پہلے سے بنظر احتیاط لکھ رہا تھا اور وہ متضمن تھا، اس امر پر کہ مرزاقادیانی کی جانب سے نقض عہد ومخالفت ہوئی مرزاقادیانی کی موجودگی میں سب حاضرین جلسہ کو سنا دیا گیا۔ حاضرین جلسہ مرزاقادیانی کو الزام دیتے تھے، مگر مرزاقادیانی نے ایک نہ سنی۔ اسی روز تہیہ سفر کر کے شب کو دہلی سے تشریف لے گئے۔ مرزاقادیانی کے یہ افعال اوّل دلیل ہیں اس پر کہ ان کے پاس اصل مسئلہ یعنی ان کے مسیح موعود ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اصل بحث کے لئے دو سدیں انہوں نے بنا رکھی ہیں۔ ایک بحث حیات ووفات عیسیٰؑ۔ دوسرےنزول عیسیٰؑ۔ جب دیکھا کہ ایک سد جوان کے زعم میں بڑی راسخ تھی توٹنے کے قریب ہے۔ اس کے بعد دوسری سد کی جو ضعیف ہے، نوبت پہنچے گی۔ پھر اصل قلعہ پر حملہ ہو گا، وہاں کچھ ہے ہی نہیں تو قلعی کھل جاوے گی۔ اس لئے فرار مناسب سمجھا۔ بعد انقطاع مباحثہ اور چلے

456

جانے مرزاقادیانی کے احقر دوروز دہلی میں متوقف رہ کر روز شنبہ کو ڈاک گاڑی میں روانہ بھوپال ہوا۔‘‘

(رسالہ الحق الصریح ص۲)

پیر مہر علی شاہ صاحب: ایک وقت مرزاقادیانی کی توجہ پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی کی طرف ہو گئی۔ فریقین نے اس مضمون پر کتابیں لکھیں۔ آخر مرزاقادیانی نے بذریعہ اشتہار ان کو للکاراکہ: ’’میرے مقابل سات گھنٹہ زانو بزانو بیٹھ کر چالیس آیات قرآنی کی عربی میں تفسیر لکھیں جو بتقطیع کلاں بیس ورق سے کم نہ ہو۔ پھر جس کی تفسیر عمدہ ہو گی۔ وہ مؤید من اللہ سمجھا جاوے گا۔ لیکن اس مقابلہ کے لئے پیر (مہر علی شاہ صاحب) موصوف کی شمولیت یا ان کی طرف سے چالیس علماء کا پیش کردہ مجمع ضروری ہے۔ اس سے کم ہوں گے تو مقابلہ نہ ہو گا۔‘‘(اشتہار۲۰جولائی ۱۹۰۰ء، تبلیغ رسالت ج۹ ص۶۵تا۷۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۲۸، ۳۲۹، ۳۳۴)

اس دعوت کے مطابق پیرگولڑہ صاحب بغرض مقابلہ اگست ۱۹۰۰ء بمقام لاہور پہنچ گئے۔ لیکن پیر صاحب نے چالیس علماء کی شرط کو فضول سمجھا اور مقابلہ تفسیر نویسی کے لئے بذات خود پیش ہوئے مگر مرزاقادیانی تشریف نہ لائے بلکہ قادیان سے ایک اشتہار بھیج دیا کہ پیر صاحب گولڑہ مقابلہ سے بھاگ گئے۔

عجیب نظارہ: جس روز پیر صاحب گولڑہ لاہور میں آئے بغرض امداد حق اردگرد سے علماء اور غیرعلماء بھی وارد لاہور ہوئے تھے۔ مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور خاکسار وغیرہ بھی شریک تھے۔ قرار پایا تھا کہ جامع مسجد لاہور میں صبح کے وقت جلسہ ہو گا۔ پیر صاحب مع شائقین مسجد موصوف کو جا رہے تھے۔ راستے میں بڑے بڑے موٹے حرفوں میں لکھے ہوئے اشتہار دیواروں پر چسپاں تھے، جن کی سرخی یوں تھی۔

پیر مہر علی فرار: جو لوگ پیر صاحب کو لاہور میں دیکھ کر یہ اشتہار پڑھتے وہ بزبان حال کہتے: ’’اینچہ مے بینم بہ بیداری ست یا رب یا بخواب‘‘

سہ سالہ میعادی پیشین گوئی

مرزاقادیانی نے اپنے مخالفوں کا رخ پھیرنے کو ایک اشتہار دیا جس میں لکھا کہ ۱۹۰۰ء سے ۱۹۰۲ء کی سہ سالہ میعاد میں میرے لئے فیصلہ کن نشان ظاہر نہ ہوا تو میں جھوٹا سمجھا جاؤں۔

اس اشتہار کا عنوان یہ ہے: ’’اس عاجز غلام احمد قادیانی کی آسمانی گواہی طلب

457

کرنے کے لئے ایک دعاء اور حضرت عزت سے اپنی نسبت آسمانی فیصلہ کی درخواست۔‘‘

’’مجھے تیری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے تیرا فیصلہ منظور ہے۔ پس اگر تو تین برس کے اندر جو جنوری ۱۹۰۰ء سے شروع ہو کر دسمبر ۱۹۰۲ء تک پورے ہو جاویں گے، میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی آسمانی نشان نہ دکھلاوے اور اس بندہ کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں… اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ۱۹۰۰ء سے اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیاگیا ہے کافر اور کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو آخر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ختم ہو جاویں گے، کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو… میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعاء قبول نہ ہوتو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔ اگر میں تیرا مقبول ہوں تو میرے لئے آسمان سے ان تین برسوں کے اندر گواہی دے تا ملک میں امن اور صلح کاری پھیلے اور تا لوگ یقین کریں کہ تو موجود ہے اور دعاؤں کو سنتا اور ان کی طرف جو تیری طرف جھکتے ہیں، جھکتا ہے۔ اب تیری طرف اور تیرے فیصلہ کی طرف ہر روز میری آنکھ رہے گی۔ جب تک آسمان سے تیری نصرت نازل ہو اور میں کسی مخالف کو اس اشتہار میں مخاطب نہیں کرتا اور نہ ان کو کسی مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں۔ یہ میری دعاء تیری ہی جناب میں ہے۔ کیونکہ تیری نظر سے کوئی صادق یا کاذب غائب نہیں ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے کہ تو صادق کو ضائع نہیں کرتا اور کاذب تیری جناب میں کبھی عزت نہیں پاسکتا اور وہ جو کہتے ہیں کہ کاذب بھی نبیوں کی طرح تحدی کرتے ہیں اور ان کی تائید اورنصرت بھی ایسی ہی ہوتی ہے، جیسا کہ راست باز نبیوں کی وہ جھوٹے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نبوت کے سلسلہ کو مشتبہ کر دیں، بلکہ تیرا قہر تلوار کی طرح مفتری پر پڑتا ہے اور تیرے غضب کی بجلی کذاب کو بھسم

458

کر دیتی ہے، مگر صادق تیرے حضور میں زندگی اور عزت پاتے ہیں۔ تیری نصرت اور تائید اور تیرا فضل اور رحمت ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے۔ آمین ثم آمین!

المشتہر … مرزاغلام احمد از قادیان، مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۷تا۱۷۹)

اس اعلان کے مطابق سارا ملک منتظر تھا۔ مگرنتیجہ وہی برآمد ہوا جو اس شعر میں ہے ؎

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب ہے یہ آرزو کہ کبھی آرزو نہ ہو

دعویٰ نبوت

ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ مرزاقادیانی کے مخالف ابتداء ہی سے بدگمان تھے کہ آپ نبوت کے مدعی ہوں گے۔ چنانچہ وہی ہوا کہ مرزاقادیانی نے دبی زبان سے دعویٰ نبوت کیا۔ آپ کے مریدوں پر مخالفین نے اعتراض کرنے شروع کئے اور وہ اپنی پہلی اسلامی تعلیم کے اثر سے انکار کرنے لگے تو مرزاقادیانی نے ایک اشتہار دیا جس کا نام ہے: ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ جو درج ذیل ہے:

ایک غلطی کا ازالہ (مشتہرہ مرزاقادیانی)

’’ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں، جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے۔

459

’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (دیکھو براہین احمدیہ ص۴۹۸) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں دیکھو براہین ص۵۰۴۔ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ ’’محمد رسول اللہ والذین معہ شداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو ص۵۵۷ براہین میں درج ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیاگیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرتﷺ تو خاتم النّبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰؑ کو آخری زمانے میں اتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرتﷺ سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت:’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘اور اس آیت میں ایک پیش گوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہتعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد پیش گوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کردئیے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں۔ مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی’’فنا فی الرسول‘‘ کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے، اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔

460

پس یہ آیت کہ:’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ: ’’لیس محمد ابا احد من رجال الدنیا ولٰکن ہو اب لرجال الاٰخرۃ لانہ خاتم النّبیین ولا سبیل الٰی فیوض اللہ من غیر توسطہ‘‘ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔ نہ میرے نفس کے روح سے اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا۔ لہٰذا خاتم النّبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا… اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے، صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خد اکی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا… اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدa کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمدa ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرتﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی معہ نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا… غرض خاتم النّبیین کا لفظایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرتﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آ جاویں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔ جیسا کہ اللہتعالیٰ فرماتا ہے: ’’واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا

461

نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے… پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدانے باربار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیa ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی، علیہ الصلوٰۃ والسلام!‘‘

خاکسار مرزا قادیانی از قادیان، مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء

(ایک غلطی کا ازالہ ص۱تا۶، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶تا۲۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۳۱تا۴۴۲)

اس اشتہار میں مرزاقادیانی نے نبوت کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک بلاواسطہ، دوم بالواسطہ اور اپنے لئے فرمایا کہ میں بواسطۂ نبوت محمد یہ نبی ہوں۔ مطلب یہ کہ میری نبوت کا ذریعہ پہلے نبیوں کے ذریعہ سے الگ ہے۔ مگر مقصود میں سب برابر ہیں۔ چنانچہ اسی مضمون کو دوسری جگہ یوں فرماتے ہیں: ’’ایک اور نادانی یہ ہے کہ (میرے مخالف) جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ یہ انکار سراسر افتراء ہے بلکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کی رو سے منع معلوم ہوتا ہے، ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرتﷺ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خداتعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ ومخاطبہ پاتا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

اس قسم کے بہت سے حوالہ جات ہیں جن میں مرزاقادیانی نے نبوت کا صاف صاف دعویٰ کیا ہے۔ مگر بواسطہ نبوت محمدیہ علٰی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ لیکن بعد حصول نبوت دوسرے نبیوں سے کسی طرح کم نہیں۔

ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب پٹیالوی

ڈاکٹر صاحب موصوف عرصہ بیس سال تک مرزاقادیانی کے مرید رہے۔ آخر ان سے علیحدہ ہوئے اور مرزاقادیانی کے برخلاف قدم اٹھایا بلکہ دعویٰ الہام سے بھی مقابلہ کی ٹھہری۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا آخری الہام مرزاقادیانی کی موت کے متعلق شائع کیا۔ جس کا ذکر مرزاقادیانی نے مع جواب خود ان لفظوں میں کیا ہے جو درج ذیل ہیں:

462

’’ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام ونشان نہ رہا۔ ہاں! آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہو گا یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا۔ پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض ﷲ اس کو کی تھی مرتد ہو گیا نصیحت یہ تھی کہ اس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرتﷺ کے نجات ہو سکتی ہے گو کوئی شخص آنحضرتﷺ کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو۔ چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف۔ اس لئے میں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا آخر میں نے اسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا۱؎۔ تب اس نے یہ پیش گوئی کی کہ میں اس کی زندگی میں ہی ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جاوے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس پر اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خداتعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۲۱، ۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۶، ۳۳۷)

اس مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزاقادیانی ڈاکٹر صاحب کی بتائی ہوئی مدت کے اندر اندر ہی (۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء) کو فوت ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب آج (۲۱؍جون ۱۹۲۳ء) تک زندہ ہیں۔ آئندہ اللہ اعلم!

دعویٰ الوہیت: دعویٰ نبوت کے متعلق مرزاقادیانی کے الفاظ پہلے سنائے گئے ہیں۔ یہاں دعویٰ الوہیت کا بیان ہے۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں:’’رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ہو۔ فخلقت السمٰوات والارض۔ وقلت انا زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۱؎حالانکہ یہی مذہب خان صاحب میاں محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ داماد مرزاقادیانی کا ہے پھر نہیں معلوم ڈاکٹر صاحب تو خارج اور مرتد ہوں اور خان صاحب داماد۔ تلک اذا قسمۃ ضیزیٰ!

463

’’میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی اللہ ہوں۔ پھر میں نے آسمان اور زمین بنائے اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔‘‘

ہم واقعات مرزالکھ رہے ہیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم مرزاقادیانی کے اصل الفاظ نقل کر دیں ان کے متعلق ان کے معتقدین کی تاویلات یا تحریفات کے ہم ذمہ دار نہیں۔

محتسب رادرون خانہ چہ کار

مرزاقادیانی کی نظر عنایت خاکسار پر

  1. آسماں بار امانت نتوانست کشید

    قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند

ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا ان کے لئے ایک بہشت ہے۔ لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے بہ پابندیٔ شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہے اس لاف وگزاف پر جو انہوں نے موضع مد میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ اللہتعالیٰ فرماتا ہے: ’’لا تقف ما لیس لک بہٖ علم‘‘مگرانہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی۔ کیا یہی ایمانداری ہے وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے کہ جو بے وجہ بھونکتا ہے اور وہ زندگی لعنتی ہے جو بے شرمی سے گزرتی ہے۔

(اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲)

’’واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔ وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور سچی پیش گوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہو گی۔ اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلے سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۸)

انجام اس کا یہ ہوا کہ میں نے ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء مطابق ۱۰؍شوال ۱۳۲۰ھ کو قادیان پہنچ کر مرزقادیانی کو اطلاعی خط لکھا جو درج ذیل ہے:

464

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بخدمت جناب مرزاغلام احمد صاحب رئیس قادیان!

خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص۱۱،۱۳ قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا، ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاتا ہون کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ (بقول خود) ایک ایسے عہدہ جلیلہ پر ممتاز ومامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ جیسے مخلصوں کے لئے خصوصاً ہے۔ اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔ میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدۂ جلیلہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور ہی موقع دیں۔‘‘

(راقم ابوالوفاء ثناء اللہ مؤرخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء)

مرزاقادیانی نے اس کا جواب دیا:

جس طرح مرزاقادیانی کی زندگی کے دو حصے ہیں (براہین احمدیہ تک اور اس سے بعد) اسی طرح مرزاقادیانی سے میرے تعلق کے بھی دو حصے ہیں۔ براہین احمدیہ تک اور براہین سے بعد۔ براہین تک میں مرزاقادیانی سے حسن ظن رکھتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ جب میری عمر کوئی ۱۷،۱۸سال کی تھی۔ میں بشوق زیارت بٹالہ سے پاپیادہ تنہاء قادیان گیا۔ ان دنوں مرزاقادیانی ایک معمولی مصنف کی حیثیت میں تھے۔ مگر باوجود شوق اور محبت کے میں نے وہاں دیکھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میرے دل میں جو ان کی بابت خیالات تھے وہ پہلی ملاقات میں مبدل ہو گئے۔ جس کی صورت یہ ہوئی کہ میں ان کے مکان پر دھوپ میں بیٹھا تھا وہ آئے اور آتے ہی بغیر اس کے کہ ’’السلام علیکم‘‘ کہیں یہ کہا تم کہاں سے آئے ہو، کیا کام کرتے ہو۔ میں ایک طالب علم علماء کا صحبت یافتہ اتنا جانتا تھا کہ آتے ہوئے ’’السلام علیکم‘‘ کہنا سنت ہے۔ فوراً میرے دل میں آیا کہ انہوں نے مسنون طریق کی پرواہ نہیں کی۔ کیا وجہ ہے مگر چونکہ حسن ظن غالب تھا۔ اس لئے یہ وسوسہ دب کر رہ گیا۔

جن دنوں آپ نے مسیحیت موعودہ کا دعویٰ کیا، میں ابھی تحصیل علم سے فارغ نہیں ہوا تھا۔ آخر بعد فراغت میں آیا تو مرزاقادیانی کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ دل میں تڑپ

465

تھی استخارے کئے، دعائیں مانگیں، خواب دیکھے۔ جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزاقادیانی نے مجھے اپنے مخالفوں میں سمجھ کر مجھ کو قادیان میں پہنچ کر گفتگو کرنے کی دعوت دی، جس دعوت کے الفاظ یہ ہیں: ’’مولوی ثناء اللہ اگر سچے ہیں تو قادیان میں آ کر کسی پیش گوئی کو جھوٹی تو ثابت کریں اور ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور آمدورفت کا کرایہ علیحدہ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۱، خزائن ج۱۹ ص۱۱۷، ۱۱۸)

یہ بھی لکھا: ’’یاد رہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیش گوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور دربدر گدائی کرنے سے نجات ہو گی۔ بلکہ ہم اور پیش گوئیاں بھی مع ثبوت ان کے سامنے پیش کر دیں گے اور اسی وعدہ کے موافق پیش گوئی دیتے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہو گا۔ جس حالت میں دو دو آنہ کے لئے وہ در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن۱؎ اور وعظ کے پیسوں پر۔‘‘

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

از طرف عائذباللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ واید

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک وشبہات پیشین گوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں، رفع کرادیں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہو گی اور اگرچہ میں کئی سال ہو گئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا کہ میں طالب حق ہوں، مگر مجھے تأمل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں

۱؎محض جھوٹ۔ مرزاقادیانی کا کوئی مرید ثابت کرے تو ایک ہزار روپیہ انعام۔ (مصنف)

466

کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدائے تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے، وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اوّل یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاویں گے اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرتﷺ پر یا حضرت عیسیٰؑ پر یا حضرت موسیٰؑ پر یا حضرت یونسm پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیش گوئیوں پر زد نہ ہو۔

دوسری شرط یہ ہو گی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جاوے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہو گی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ کریں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آگئے ہیں۔ ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں خرچ کر سکتے۔ یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہو گا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں، بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہو گا۔ جیسے ’’صم بکم‘‘ اس لئے کہ تاگفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے۔ اوّل صرف ایک پیش گوئی کی نسبت سوال کریں۔ تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جاوے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہو گا کہ اس کو سنا دیں۔ ہم خود پڑھ لیں گے، مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ ہرج نہیں ہے۔ کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس پیش گوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ اسی طرح تمام وساوس دور کر دئیے جاویں گے۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہو گا۔ جودھویں جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں ۱۵؍جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا تو اگرچہ کم فرصتی ہے۔ مگر ۱۴؍جنوری ۱۹۰۳ء تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے

467

کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہو گا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے۔ خود خداتعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔

سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہو گاکہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسے دور کرالیتے ہیں۔ ایک بھلامانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کر لے گا۔ اس کو اپنے وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔ بالآخر اس غرض کے لئے کہ اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں، قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔ دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں۔ اوّل چونکہ میں رسالہ ’’انجام آتھم‘‘ میں خداتعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث۱؎ نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقعہ دیا جائے گا کہ آپ اوّل ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیش گوئی پر ہو، ایک سطر یا دو سطر حد تین سطر لکھ کر پیش کریں۔ جس کا مطلب یہ ہو کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اور منہاج نبوت کی رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا۔ جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔ پھر دوسرے دن اسی طرح دوسری لکھ کر پیش کریں۔ یہ تو میری طرف سے خداتعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہو گی کہ ایک کلمہ بھی زیادہ بول سکیں اور آپ کو بھی خداتعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اگر سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جاویں اور ناحق فتنہ وفساد میں عمر بسر نہ کریں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا، اس پر خدا کی لعنت ہے اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ آمین!

سو میں اب دیکھوں گا کہ آپ سنت نبوی کے موافق اس قسم کا پورا کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں اور چاہئے کہ اوّل آپ مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد

۱؎محض جھوٹ، مرزاقادیانی کا کوئی مرید ثابت کرے تو ایک ہزار روپیہ انعام۔ (مصنف)

468

میں مجمع کیا جاوے گا اور آپ کو بلایا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دئیے جائیں گے۔‘‘

مرزاغلام احمد بقلم خود

اس خط کو دیکھ کر چاہئے تھا کہ میں مایوس ہو جاتا۔ مگر ارادہ کے مستقل آدمی سے یہ امید غلط ہے کہ وہ ایک آدھ مانع پیش آنے سے مایوس ہو جائے۔ اس لئے میں نے پھر ایک خط لکھا جو درج ذیل ہے:

الحمد ﷲ والسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

امابعد! از خاکسار ثناء اللہ ۔۔۔بخدمت مرزاغلام احمد صاحب

آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا۔ افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا۔ جناب والا! جب کہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص۱۱، ۲۳ حاضر ہوا ہوں اور صاف لفظوں میں رقعہ اولیٰ میں انہی صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے، بجز ’’العادۃ طبیعۃ ثانیہ‘‘کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔ جناب من! کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیازمند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیش گوئیوں کو جھوٹی ثابت کر دوں تو فی پیش گوئی مبلغ سو روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطریں لکھنے کا پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹے تجویز کرتے ہیں۔ ’’تلک اذا قسمۃ ضیزیٰ‘‘

بھلا یہ تحقیق کا طریق ہے؟ میں ایک دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹے تک فرماتے جائیں۔ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت دے کر پچھتا رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے اعراض کرتے ہیں، جس کی بابت آپ نے مجھے ص۲۳ پر دعوت دی ہے۔ جناب والا! کیا انہیں ایک دو سطروں کے لکھنے کے لئے آپ نے مجھے دردولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی تھی، جس سے عمدہ میں امرتسر میں ہی بیٹھا ہوا کر سکتا تھا اور کر چکا ہوں۔ مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلانیل مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں جانتا۔ اس لئے میں آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلاشک تین گھنٹے تک تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ضرور ہو گی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹے کے بعد پانچ منٹ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا اور چونکہ آپ مجمع عام پسند نہیں

469

کرتے، اس لئے فریقین کے آدمی محدود ہوں گے، جو پچیس چھبیس سے زیادہ نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلااطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں۔ کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں۔ اطلاع دینا آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔ علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع ہو گئی ہو گی۔ آپ جو مضمون سنائیں گے وہ اسی وقت مجھ کو دے دیجئے گا۔ کارروائی آج ہی شروع ہو جاوے، آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر سا سوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں۱؎ کی بابت وہی عرض ہے جو حدیث میں ہے۔

۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء

اس کا جواب مرزاقادیانی نے خود نہیں لکھا بلکہ آپ کی طرف سے مولوی محمد احسن امروہی نے لکھا جو درج ذیل ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حامداً ومصلیاً!

مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا رقعہ حضرت اقدس امام الزمان مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت مبارک میں سنادیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد وتعصب آمیز تھے جو طلب حق سے بعد المشرقین کی دوری اس سے صاف ظاہر ہوتی تھی۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے آپ کو یہی جواب کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے اور حضرت انجام آتھم میں اور نیز اپنے خط مرقوم جواب رقعہ میں قسم کھا چکے ہیں اور اللہتعالیٰ سے عہد کر چکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۲؎۔ خلاف معاہدہ الٰہی کے کوئی مامور من اللہ کیونکر کسی فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ طالب حق کے لئے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے کیا وہ کافی نہیں۔ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے وہ ہرگز منظور نہیں ہے اور یہ بھی منظور نہیں فرماتے کہ جلسہ محدود ہو، بلکہ فرماتے ہیں کہ کل قادیان وغیرہ کے اہل الرائے مجتمع ہوں تاکہ حق وباطل سب پر واضح ہو جائے۔‘‘والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ!

۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء

گواہ شد: محمد سرور ابوسعید عفی عنہ، خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام الزماں

۱؎وہ یہ ہے کہ لعنت کا مخاطب اگر لعنت کا حق دار نہیں تو کرنے والے پر پڑتی ہے۔ (مصنف)

۲؎غلط ہے۔ (مصنف)

470

بس اب ناامیدی ہو گئی تو میں مع اپنے مصاحبوں کے یہ کہتا ہوا چلا آیا ؎

ہمہ شوق آمدہ بودم ہمہ حرمان رفتم

خاکسار پر آخری نظر عنایت

  1. بلائیں زلف جاناں کی اگر لیتے تو ہم لیتے

    بلا یہ کون لیتا جان پر لیتے تو ہم لیتے

میرا روئے سخن مرزاقادیانی کے ساتھ اور بزرگان علمائے کرام سے بعد شروع ہوا۔ مگر کیفیت میں ان سے بڑھ گیا تھا۔ اس لئے مرزاقادیانی نے آخری نظر عنایت جو مجھ پر کی، خود انہی کے لفظوں میں درج ذیل ہے۔ فرماتے ہیں: ’’اس لئئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت کذاب، مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین!’’ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین‘بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

الراقم: عبداللہ الصمد میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ واید

مرقومہ یکم؍ربیع الاوّل ۱۳۲۵ھ مطابق ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص ۵۷۹)

اس اشتہار کی اشاعت کے بعد ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اخبار بدر میں مرزاقادیانی کی روزانہ ڈائری یوں چھپی: ’’ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اجیب دعوۃ الداع صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعاء ہی ہے باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔‘‘ (مرزا)

(ملفوظات ج۹ ص۲۶۸، اخبار بدر قادیان مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء ص۷ کالم۱)

نتیجہ یہ ہوا کہ مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء مطابق ۲۴؍ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ کو انتقال کر گئے۔ آپ کے انتقال کی خبر اخبار ’’الحکم‘‘ کے خاص پرچہ میں جن لفظوں میں سنائی گئی وہ درج ذیل ہیں:

471

’’وفات مسیح

برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے کہ حضرت امامنا ومولانا حضرت مسیح موعود مہدی معہود (مرزاقادیانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے، حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی۔ عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آ جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ۲۵؍تاریخ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن ’’پیغام صلح‘‘ کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقویٔ معدہ استعمال فرماتے تھے، مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی۔ مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً ۱۱بجے اور ایک دست آنے پر طبیعت ازحد کمزور ہو گئی اور مجھے اور حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کو طلب فرمایا… مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی، نیند آنے سے آرام آ جائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے، مگر تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آ گیا، جس سے نبض بالکل بند ہو گئی اور مجھے اور مولانا خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزایعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیاگیا، چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی، اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ مگر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوادس بجے صبح ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!‘‘

(ضمیمہ الحکم غیرمعمولی پرچہ الحکم مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۰۸ء)

اور خاکسار مصنف (ابوالوفاء ثناء اللہ مورد عتاب مرزا) تاحال (جون ۱۹۲۳ء تک) بفضلہ تعالیٰ زندہ ہے اور مرزاقادیانی آج سے ۱۵سال پہلے فوت ہو چکا۔ آہ!

  1. حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد

    روئے گل سیر ندیدم بہار آخر شد

تمت بالخیر!
472

شاہ انگلستان

اور

مرزا قادیانی

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

473

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ قابل ملاحظہ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ وعلٰی اٰلہٖ واصحابہٖ اجمعین!

جس بات کو خدا جھوٹا کرنا چاہتا ہے اس کے اسباب مختلف پیدا کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ زمین وآسمان بھی اس کے کذب کی شہادت دینے لگ جاتے ہیں۔ ’’فما بکت علیہم السماء والارض (الدخان:۲۹)‘‘ہمارے ملک میں مذہبی حیثیت سے مرزاقادیانی کے دعویٰ الہام کے برابر کوئی جھوٹی بات نہیں۔ اس لئے خدا نے ان کے اظہار کذب کے لئے بھی مختلف اسباب پیدا کئے۔ یہاں تک کہ آسمان وزمین نے بھی ان کے کذب پر شہادت دی۔ کیا سچ ہے ؎

  1. تری تکذیب کی شمس و قمر نے

    ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا

مگر مرزاقادیانی کے راسخ مریدوں نے ان شہادتوں کو بھی پس پشت ڈالا:کم من آیۃ فی السمٰوات والارض یمرون علیہا وہم عنہا معرضون (یوسف:۱۰۵){آسمان اور زمین میں کئی ایک نشان ہیں، جن پر لوگ منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں۔}

آخر خداتعالیٰ نے اپنی مخفی مصلحت سے دنیا کا سب سے بڑی شان وشوکت کا آدمی، جو نہ صرف ہم ہندوستانیوں کا بلکہ دیگر بہت سے ممالک کا بادشاہ ہے، یعنی جارج پنجم شاہ انگلستان وقیصر ہند، کوہندوستان میں اس غرض کے لئے بھیجا کہ ہندوستان کے لوگوں کو عموماً اور مرزاقادیانی کے معتقدین کو خصوصاً اعلان کر دے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ الہام غلط بلکہ کذب ہے۔ چنانچہ شاہ انگلستان نے دسمبر ۱۹۱۱ء کو دہلی دارالحکومت ہند میں بہت بڑے جلسہ میں مرزاقادیانی کے الہامی دعویٰ کا ’’دروغ بے فروغ‘‘ ہونا اعلان فرمایا۔ مگر اس کو انہی کانوں نے سنا اور انہی آنکھوں نے دیکھا جن کی بابت عارفانہ رنگ میں یہ شعر ہے ؎

  1. برگ درختان سبز در نظر ہوشیار

    ہر ورقے دفتریست معرفت کردگار

اس دعویٰ کا ثبوت ہم اس چھوٹے رسالہ میں دیں گے، ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں:

بنگالیوں کی دل جوئی

لارڈ کرزن وائسرائے ہند نے ملک بنگالہ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دوجداجدا صوبے بنا دئیے۔ مغربی بنگال، جس کا صدر مقام کلکتہ تجویز ہوا اور مشرقی بنگال، جس کا صدر

474

مقام ڈھاکہ مقرر ہوا۔ اس تقسیم کو بنگالیوں نے بہت برا سمجھ کر کوشش کی کہ یہ تقسیم منسوخ کی جائے اور مثل سابق دونوں صوبوں کا گورنر ایک ہی ہو، مگر گورنمنٹ کی طرف سے اس کا جواب نفی ہی میں ملتا رہا۔ اس پر ہوا کا رخ دیکھ کر مرزاقادیانی نے ایک الہام شائع کیا کہ: ’’پہلے بنگال کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیاگیا تھا اب ان کی دلجوئی ہو گی۔‘‘

(تذکرہ ص۵۰۸، طبع چہارم)

اس کے بعد مرزاقادیانی نے اپنی آخری کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں اس کی تشریح یوں کی ہے: ’’۱۱؍فروری ۱۹۰۶ء کو بنگالہ کی نسبت ایک پیش گوئی کی گئی تھی، جس کے یہ الفاظ تھے: ’’پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیاگیا تھا، اب ان کی دلجوئی ہو گی۔‘‘ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے گورنمنٹ نے تقسیم بنگالہ کی نسبت حکم نافذ کیا تھا اور یہ حکم بنگالیوں کی دل شکنی کا باعث اس قدر ہوا تھا کہ گویا ان کے گھروں میں ماتم پڑ گیا تھا اور انہوں نے تقسیم بنگالہ کے رک جانے کی نسبت بہت کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ بلکہ برخلاف اس کے یہ نتیجہ ہوا کہ ان کا شوروغوغا گورنمنٹ کے افسروں نے پسند نہ کیا، اور ان کی نسبت ان افسروں کی طرف سے جو کچھ کارروائیاں ہوئیں، ہمیں اس جگہ اس کی تفصیل کی بھی ضرورت نہیں۔ خاص کر فلر لیفٹیننٹ گورنر کو انہوں نے اپنے لئے ملک الموت سمجھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ ان ایام میں بنگالی لوگ اپنے افسروں کے ہاتھ سے دکھ اٹھا رہے تھے اور سرفلر کے انتظام سے جاں بلب تھے، مجھے مذکورہ بالا الہام ہوا۔ یعنی یہ کہ پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیاگیا تھا، اب ان کی دلجوئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے اس پیش گوئی کو انہی دنوں میں شائع کر دیا۔ سو یہ پیش گوئی اس طرح پر پوری ہوئی کہ بنگالہ کا لیفٹیننٹ گورنر فلر صاحب، جس کے ہاتھ سے بنگالی لوگ تنگ آ گئے تھے اور اس قدر شاکی تھے کہ ان کی آہیں آسمان تک پہنچ گئی تھیں، یک دفعہ مستعفی ہو گیا۔ وہ کاغذات شائع نہیں کئے گئے جن کی وجہ سے استعفیٰ دیا گیا، مگر فلر صاحب کے استعفیٰ پر جس قدر خوشی کا اظہار بنگالیوں نے کیا ہے، جیسا کہ بنگالی اخباروں سے ظآہر ہے، وہ سب سے بڑھ کر گواہ اس بات پر ہے کہ بنگالیوں نے فلر کی علیحدگی میں اپنی دل جوئی محسوس کی ہے اور فلر کے استعفیٰ دینے سے ان کے خوشی کے جلسے اور عام طور پر خوشی کے نعرے اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ درحقیقت فلر کی علیحدگی سے ان کی دلجوئی ہوئی ہے، بلکہ پورے طور پر دلجوئی ہوگئی ہے اور یہ کہ انہوں نے فلر کی علیحدگی کو اپنے لئے گورنمنٹ کا بڑا احسان سمجھا ہے۔ پس فلر کے استعفیٰ میں جس غرض کو کہ گورنمنٹ نے اپنی کسی مصلحت سے پوشیدہ کیا ہے، وہ غرض بنگالیوں کی بے حد خوشیوں سے ظاہر ہو رہی

475

ہے، اور اس سے بڑھ کر پیش گوئی کے پورا ہونے کا اور کیا ثبوت ہو گا کہ بنگالیوں نے اپنی دلجوئی اس کارروائی میں خود مان لی ہے اور گورنمنٹ کا بے انتہاء شکر کیا ہے اور یہ میری پیش گوئی صرف ہمارے رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ میں ہی شائع نہیں ہوئی تھی بلکہ پنجاب کے بہت سے اخباروں نے اس کو شائع کیا تھا۔ یہاں تک کہ خود بنگالہ کے بعض نامی اخباروں نے اس پیش گوئی کو شائع کر دیا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۹۶تا۲۹۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰۹تا۳۱۱)

اس اقتباس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ اس پیش گوئی کا مصداق مرزاقادیانی کے نزدیک سرفلر گورنر مشرقی بنگال کی تبدیلی ہے اور بس۔

اس اقتباس منقولہ از ’’حقیقت الوحی‘‘ میں مرزاقادیانی نے جس رسالہ ’’ریویو‘‘ کا ذکر کیا ہے، جس کی بابت لکھا ہے: ’’ہمارے رسالہ ریویو میں درج تھی۔‘‘ اس کی عبارت درج ذیل ہے: ’’بنگالہ کی نسبت جو پیش گوئی آج سے چھ سات ماہ پہلے شائع کی گئی تھی، اس پر غور کرو کہ کس صفائی سے پوری ہوئی۔ پیش گوئی کے شائع ہونے کے وقت بنگالیوں کی شورش اور فساد حد درجہ تک پہنچی ہوئی تھی اور ادھر سر فلر کی گورنمنٹ اس بات پر تلی ہوئی تھی کہ اس تمام فساد کو زور سے دبا دیا جائے۔ ایسے وقت میں دو قسم کی امیدیں تو لوگوں کے دلوں میں ضرور تھیں۔ یعنی بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ شاید گورنمنٹ بنگالیوں کی شورش وغیرہ سے دب کر تقسیم بنگال کو منسوخ کر دے گی۔ چنانچہ بعض نجومیوں نے ایسی پیش گوئیاں اپنی جنتریوں میں شائع بھی کر دی تھیں۔ دوسری طرف سے جو لوگ اس امر سے واقف تھے کہ سرفلر کیسا مستعد اور کسی سے نہ دبنے والا حاکم ہے، ان کا یہ خیال تھا کہ گورنمنٹ اس تمام شورش کی کوئی پرواہ نہیں کرے گی، اور قانون کے منشاء کے مطابق اس شورش کو (مناسب ذرائع عمل میں لاکر) فرو کرے گی۔ لیکن ان دو خیالوں کے سواء اور کوئی خیال اس وقت کسی نے ظاہر نہیں کیا۔ انہی حالات کے نیچے ۱۱؍فروری ۱۹۰۶ء کو اللہتعالیٰ کی طرف سے خبر پاکر حضرت مسیح موعود (مرزا) نے اس امر کا اعلان کیا کہ اس حکم کے متعلق جو ہو چکا ہے، اب گورنمنٹ صرف ایسا طریق اختیار کرے گی، جس سے بنگالیوں کی دلجوئی ہو، جس کا یہ صاف صاف مفہوم ہے کہ جو خیال لوگوں کے دلوں میں ہیں، وہ دونوں پورے نہیں ہوں گے، بلکہ ایک ایسا طریق اختیار کیا جاوے گا جس سے تقسیم بھی منسوخ نہ ہو اور اہل بنگال کی دلجوئی بھی ہو جائے۔ اب جس وقت تک نئے صوبہ کی حکومت سرفلر کے ہاتھ میں تھی، اس وقت تک کسی بات سے بنگالیوں کی دلجوئی کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ کیونکہ ایک طرف تو سرفلر بھی ایک زبردست حاکم تھا اور

476

دوسری طرف بنگالیوں کو اس سے اس کی بعض کارروائیوں کے سبب سے خاص عناد تھا اور بظاہر پانچ سال تک جب تک سرفلر کا زمانہ حکومت خودبخود ختم ہو جاتا۔ گورنمنٹ کی پالیسی بنگالیوں کی نسبت بدل نہیں سکتی تھی۔ مگر وہ علیم خدا جس نے اپنے بندہ پر پیش از وقت یہ ظاہر کیا تھا کہ اب بنگالیوں کی دلجوئی ہو گی۔ وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر واقعات پیدا ہونے والے ہیں، جن سے دلجوئی کی جائے گی۔ چنانچہ یک بیک جب کسی کو خیال بھی نہ تھا۔ سرفلر نے استعفیٰ پیش کیا اور گورنمنٹ نے اسے منظور کیا۔ یہ بات کہ اس استعفیٰ سے بنگالیوں کی دلجوئی ہوئی۔ ایسی صاف ہے کہ ایک سخت سے سخت دشمن بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا جو خوشیاں بنگالہ میں سرفلر کے استعفیٰ پر ہوئی ہیں اور جس طرح پر بنگالی اخباروں نے خوشی کے نعرے بلند کئے ہیں اور کالموں کے کالم اسی خوشی میں سیاہ کئے ہیں۔ اس سے بہت کم لوگ ناواقف ہوں گے اور یہ سب باتیں صاف ظاہر کرتی ہیں کہ بنگالیوں نے گورنمنٹ کی اس دلجوئی کو خوب محسوس کیا ہے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۵ نمبر۹ بابت ص ۳۴۷ماہ ستمبر ۱۹۰۶ء)

یہ عبارت بقلم مسٹر محمد علی ایم۔اے ایڈیٹر ریویو اور بتصدیق مرزاقادیانی شائع ہوئی ہے، کیونکہ آپ نے اس رسالہ کو اپنا رسالہ کہا ہے، جو درحقیقت ہے بھی انہی کا اور اس عبارت کا خود حوالہ بھی دیا ہے۔ اس لئے یہ عبارت مرقومہ مسٹر محمد علی اور مصدقہ مرزاقادیانی ہے۔ اس عبارت میں صاف طور پر اظہار کیا ہے کہ پیش گوئی ہذا سے یہ مراد ہے کہ تقسیم بنگالہ منسوخ نہ ہو گی بلکہ اور کوئی صورت دلجوئی کی تجویز کی جاوے گی۔ یعنی صوبہ کے لاٹ سرفلر کا استعفیٰ قبول کیا جائے گا۔ بہت خوب پھر ہوا کیا؟ یہ کہ ۱۱؍دسمبر ۱۹۱۱ء کو بادشاہ جارج پنجم قیصر ہند شاہ انگلستان نے دہلی میں آ کر دربار کی اور اس میں بالفاظ ذیل اعلان فرمایا: ’’مابدولت (بادشاہ) اپنی رعایا پر اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے وزراء کی صلاح پر، جو ہمارے گورنر جنرل باجلاس کونسل سے مشورہ لے کر پیش کی گئی تھی۔ مابدولت نے گورنمنٹ آف انڈیا کا صدر مقام کلکتہ سے قدیم دارالسلطنت دہلی میں بدلنے اور اس تبدیلی کے نتیجہ پر جس قدر جلد ممکن ہو سکے، الگ گورنری احاطہ بنگال کے لئے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسے ہمارے گورنر جنرل باجلاس کونسل ہمارے سیکرٹری آف سٹیٹ فارانڈیا باجلاس کونسل کی طرف سے مناسب طریقہ پر قرار دیں۔‘‘

(روزنامہ پیسہ اخبار ۱۵؍دسمبر ۱۹۱۱ء ص۲)

اس اعلان سے تقسیم بنگالہ منسوخ ہو گئی۔ چنانچہ اب سارا بنگالہ ایک ہی گورنر (لاٹ) کے ماتحت ہے اور یہی ان کو مطلوب تھا۔ اعلان شاہی سے بنگالیوں کو جو مسرت ہوئی وہ مندرجہ

477

ذیل خبر سے ثابت ہوتی ہے: ’’دہلی میں جب بنگالیوں نے منسوخی تقسیم کا اعلان سنا تو ان کو اس قدر خوشی ہوئی کہ جب حضور شہنشاہ معظم (جلسہ سے) تشریف لے گئے تو انہوں نے نہایت ادب سے تخت کو جھک جھک کر سلام کئے اور بوسے دئیے۔‘‘

(روزنامہ پیسہ اخبار ۱۶؍دسمبر ۱۹۱۱ء ص۸)

اس شاہی اعلان اور اس خبر سے مرزاقادیانی کی پیش گوئی صاف غلط ہوئی جو ریویو کے الفاظ میں مشرح لکھی گئی تھی کہ تقسیم بنگالہ منسوخ نہ ہوگی۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ تقسیم بنگال حسب منشاء بنگالیاں منسوخ ہوکر صوبہ بنگال بجائے دو کے ایک صوبہ بن گیا۔

دنیاوی خیال کے لوگوں کی نگاہ میں بادشاہ کا آنا ملکی انتظام کے لئے تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے کوئی بادشاہ انگلستان سے ہندوستان میں نہ آیا تھا، مگر عارفانہ نگاہ میں بادشاہ کا آنا اس مخفی حکمت سے تھا کہ ہندوستان میں اعلان کر دے کہ پنجابی مدعی نبوت اور مدعی الہام وبشارت کا دعویٰ غلط ہے۔ اسی لئے ہم نے شروع میں لکھا ہے کہ خدا نے اپنی مخفی مصلحت کے لئے بادشاہ کو بھیجا، جس کے راز کی اطلاع خود بادشاہ کو بھی نہ تھی تاکہ خدا اس سے وہ اعلان کرائے جس سے مدعی کاذب کا کذب دنیا پر نمایاں ہو جائے۔ الحمدﷲ!’’واللہ یعلم وانتم لا تعلمون‘‘

ہوا کا رخ: مگر مرزاقادیانی اور ان کے مریدین بھی غضب کے تاڑباز ہیں۔ مرزاقادیانی نے تقسیم بنگال کی نسبت اعلیٰ حکام کے انکار پر انکار سن کر ہوا کا رخ یہ سمجھا کہ اب تقسیم بنگالہ منسوخ نہ ہو گی۔ اس لئے انہوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ تقسیم تو منسوخ نہ ہو گی مگر اور کسی طرح دلجوئی کی جاوے گی، جو سرفلر گورنر مشرقی بنگال کے مستعفی ہونے سے پوری ہو گئی، لیکن جونہی کہ شاہ انگلستان کے فرمان سے تقسیم منسوخ ہوئی۔ اس وقت مرزاقادیانی تو زندہ نہ تھے۔ وہ ہوتے تو ہوا کا رخ خوب تاڑ جاتے مگر مریدوں نے بھی اپنی ذہانت اور ہوا شناسی سے جو کام لیا، وہ خوب لیا۔

ہواشناسان لاہور خواجہ کمال الدین اور مسٹر محمد علی صاحبان لکھتے ہیں۔ ناظرین توجہ سے سنیں: ’’اس مادہ پرستی کے زمانہ میں جب کہ تقریباً کل کی کل دنیا اسباب دنیا کی تلاش میں منہمک ہوکر خدا کی یاد دلوں سے عملاً بھلا رہی ہے۔ عجب نہ تھا کہ خداوند عالم اصلاح عالم کی خاطر اپنی سنت قدیمہ کے مطابق ازسرنو دنیا کو اپنی ہستی کا ثبوت دے کر اپنی یاد دنیا میں پیدا کرے۔ نو برس کے قریب زمانہ گزرا جب لارڈ کرزن صاحب وائسرائے ہندوستان نے ان خالص مصالح ملکی کے ماتحت، جن کا احساس غالباً ۱۸۶۷ء میں ایام وزارت لارڈ نارتھ کوٹ صاحب بہادر سے شروع ہو چکا تھا۔ آخر کار ملک بنگالہ کے متعلق وہ حکم نافذ فرمایا کہ جس سے

478

بنگال کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ یہ تقسیم اگرچہ زیادہ تر انتظام ملک میں سہولت پیدا کرنے کے لئے وقوع میں آئی تھی لیکن اس کا جو اثر اہل بنگال پر ہوا اور اس سے جو نتائج پیدا ہوئے وہ محتاج تشریح نہیں۔ تقسیم بنگال کو اہل بنگال نے ایک قومی صدمہ سمجھا اور اس صدمہ کا اظہار جائز اور ناجائز طریق پر کیاگیا۔ اگر ایک طرف ایجی ٹیشن اور پولٹیکل جلسوں کے ذریعہ ملک میں شور کیاگیا تو دوسری طرف قتل، ڈکیتیاں، بلوے، بدامنی، فساد، قیمتی سے قیمتی جانوں پر حملے، الغرض طرح طرح کے جرائم اور بدعملیوں نے اس رنج وصدمہ کے اظہار کی صورت اختیار کی۔

یہ حکم اگر کسی چھوٹے موٹے افسر کا ہوتا تو شاید ملک کی یہ خطرناک حالت اس کو قابل ترمیم ٹھہرا دیتی۔ لیکن یہ حکم نہ صرف ایک بادشاہ کے نائب کا ہی حکم تھا کہ جس کی تائید میں وزیر ہند کی اجازت بھی تھی اور اس لئے بنگالی شوروشر پر ایسے حکم کی ترمیم وتنسیخ شاہی رعب اور ملکی سیاست کے منافی تھی۔ بلکہ یہ حکم ان مصالح حقہ پر مبنی تھا کہ جن کا نفاذ پریذیڈنسی بنگال کے حسن انتظام کے لئے ازبس ضروری سمجھا گیا تھا۔ پریزیڈنسی بنگال میں ملک بنگال کے علاوہ بہار، اڑیسہ، چھوٹا ناگ پور کا جمع ہو جانا انتظامی مشکلات کا موجب ہوکر عمائد سلطنت کو مدت سے تقسیم بنگالہ کی طرف راغب کر رہا تھا۔ بالمقابل تقسیم بنگالہ کی مخالفت میں بنگالی یا غیربنگالی اہل الرائے اصحاب کی طرف سے جو کچھ کہا سنا گیا، اس میں کبھی کوئی ایسی وزنی بات نہ تھی کہ جس سے گورنمنٹ کی اس فعل پر جائز نکتہ چینی ہو سکتی اور حق تو یہ ہے کہ تقسیم بنگالہ کے مضرات جو بروقت تقسیم اہل الرائے طبقے کی طرف سے بیان کئے گئے، وہ مشتعل شدہ طبائع کے وہم وخیال کا ہی نتیجہ تھے۔ دراصل وہ واقعات ابھی اس ملک میں پیدا نہ ہوئے تھے کہ جس سے بنگالیوں کی یہ شکایت جو بالکل وہمی تھی، حقیقی ہو جاتی۔ اس لئے ایسے وقت میں گورنمنٹ نے بدامنی کو انار کزم کی حالت میں دیکھنا قبول کیا لیکن شاہی سیاست نے گورنمنٹ کی پالیسی میں تبدیلی گوارا نہ کی۔ اہل بنگال اپنی جائز اور ناجائز کوشش میں ناکام رہے۔ گولارڈ کرزن کا اچانک چلے جانا اور ان کی جگہ لارڈ منٹو جیسے مرنجان مرنج انسان کا آنا، لارڈ مارلے جیسے حکیم مزاج انسان کا عنان وزارت کو ہاتھ میں لینا بنگالیوں کے لئے موجب اطمینان ہوا اور ان دو مدبر ان سلطنت نے مفید سے مفید احکام ہند میں جاری کئے۔ لیکن تقسیم بنگال کے متعلق جب کبھی ان عالی مرتبت عمال سلطنت کو رائے ظاہر کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اس حکم تقسیم کو پتھر پر لکیر ہی بتلایا۔ عین ایسے وقت جب اس حکم نے قطعیت کا رنگ اختیار کر لیا اور اہل بنگال کو اس کی ترمیم

479

سے ہمیشہ کے لئے مایوس کر کے ان کو کوتاہ ہتھیاروں پر لا اتارا۔ خدائے علیم وقدیر کی مقتدر آواز ذیل کے پرسطوت الفاظ میں خدا کے ایک خاص الخاص بندہ پر نازل ہوئی۔

’’پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیاگیا تھا اب ان کی دلجوئی ہو گی‘‘ اور کیا شان ربی ہے کہ آج تقریباً چھ برس کے بعد یہ الفاظ لفظاً لفظاً اور معناً معناً پورے ہو گئے۔ ان مقدس کلمات میں یہ امر نہایت ہی غورطلب ہے کہ ان الفاظ سے یہ نہیں پایا جاتا کہ وہ حکم آخرکار منسوخ ہو گا کہ جس نے بنگالہ کو تقسیم کر کے بنگالیوں میں شورش پیدا کر رکھی تھی، بلکہ یہ الفاظ کسی ایسی ترمیم کا پتہ دے رہے ہیں کہ جس ترمیم کو کسی آئندہ وقت پر گورنمنٹ اہل بنگال کی دلجوئی کے لئے اختیار کرے گی۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر اس پیش گوئی پر تقسیم بنگالہ کی منسوخی یا بحالی کا اشارہ ہوتا تو اسے عقلیہ قیاس پر مبنی قراردینا عین صحیح اور درست ہوتا۔ کیونکہ سیاسی نکتہ خیال جہاں ایک طرف اس کی بحالی کی سفارش کر رہا تھا۔ وہاں ملک کی شوریدہ سری اس تقسیم کے منسوخ ہو جانے پر طبائع کو متوجہ کر رہی تھی۔ لیکن یہ پاک الفاظ کسی نجوم، رمل، یا حکیمانہ اٹکل بازی کے ماتحت نہ تھے۔ بلکہ یہ اس علیم قدیر خدا کے منہ بولے الفاظ تھے کہ جس کے علم میں وقت آنے والا تھا۔ جب حکم تقسیم بعض نئے واقعات کے پیدا ہو جانے پر گورنمنٹ کے نزدیک بھی ایک حد تک اہل بنگالہ کے لئے مضر ثابت ہو گا اور پھر اس وقت اہل بنگالہ کی دلجوئی اسی میں سمجھی جائے گی کہ اس کا ضرر رساں حصہ ترمیم کر دیا جاوے۔ کیا ۱۹۰۶ء میں کوئی شخص گورنمنٹ کو یقین دلا سکتا تھا کہ یہ حکم ایک دن فی الواقعہ قابل ترمیم ہو کر اہل بنگالہ کی دلجوئی اس سے چاہے گا؟ ۱۹۰۶ء تک تو خود بنگالہ کے اہل الرائے کھلے کھلے الفاظ میں کسی حقیقی مضرت کا پتہ نہ دے سکتے تھے، جو تقسیم بنگالہ ان کے لئے پیدا کرنے والی تھی تو پھر اس وقت وہ کس دلجوئی کے مستحق سمجھے جاتے؟ یہ تو ۱۹۰۶ء سے کئی سال بعد جب مجلس واضعان قوانین ہند کے متعلق لارڈ مارلے کی نئی تجویز نیابت نے کماحقہ عملی لباس پہنا تو یہ تقسیم بنگالہ گورنمنٹ کی نگاہ میں بھی اہل بنگالہ کو ضرررساں نظر آنے لگی اور ان کی شکایت جو ۱۰-۱۹۰۹ء تک وہمی نظر آ رہی تھی۔ حقیقت کی صورت اختیار کرنے لگی اور جس کی طرف موجودہ وائسرائے کی گورنمنٹ نے خیال کیا اور قدرتی طور پر کسی ایسی تجویز کی فکر میں لگ گئی کہ جس سے اہل بنگال کی دلجوئی اس حکم کی نسبت ہو جائے جو پہلے جاری ہو چکا تھا۔

مقام غور ہے کہ کئی سال بعد نئے واقعات نے پیدا ہوکر گورنمنٹ سے وہ کرانا چاہا، جو خدا کے بولے ہوئے الفاظ ۱۹۰۶ء میں بتلا رہے تھے کہ ’’پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیاگیا تھا، اب ان کی دلجوئی ہو گی۔‘‘ یہ الفاظ ایک ایسے وقت بولے گئے جب وہ حکم نہ مضرت

480

رساں سمجھا جاتا تھا اور نہ اس کے متعلق کسی دلجوئی کی ضرورت تھی۔ یہ امر ایک طالب حق کے لئے اور بھی ازدیاد ایمان کا موجب ہو گا۔ جب اسے معلوم ہو گا کہ حضور وائسرائے بہادر نے یہ ترمیم جو لارڈ کرزن کے حکم میں تجویز فرمائی ہے، اس سے بھی زیادہ تر ان کی غرض وہی دلجوئی ہے کہ جس کی طرف خدا کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ اس مراسلہ میں جو لارڈ ہارڈنگ اور ان کی کونسل کی طرف سے وزیر ہند کی خدمت میں تبدیلی دارالخلافہ اور ترمیم حکم تقسیم بنگالہ کے متعلق چار ماہ ہوئے، اگست میں لکھا گیا۔ لارڈ ہارڈنگ صاحب بہادر صاف اور صریح الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اہم تجویز جو ہمارے زیرنظر ہے۔ اس کا ایک بھاری مقصد اہل بنگالہ کی دلجوئی ہے۔ یعنی وائسرائے بہادر اس تجویز سے اس زخم پر مرہم لگانا چاہتے ہیں جو تقسیم بنگالہ نے اہل بنگالہ کے دل پر لگا رکھا ہے اور وائسرائے اور اس کی کونسل کے نزدیک درباردہلی سے بہتر موقعہ اس دلجوئی کا نہیں۔ مقام غور ہے کہ شہنشاہ معظم کا نائب اس عظیم الشان انقلاب کی جو تبدیلی دارالخلافہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ ایک بھاری وجہ اگر بتلاتا ہے تو وہی دلجوئی اہل بنگال جسے خدا کا نائب آج سے چھ سال پہلے بربناء الہام ربانی بتلا چکا ہے اور یہ دلجوئی حکام بالادست کی نگاہ میں کچھ ایسی اہم سمجھی جاتی ہے کہ ایک سرکاری دستاویز میں مختلف پیرایوں میں اس دلجوئی کا باربار ذکر کیا جاتا ہے اور پھر اس دلجوئی کا اظہار سب سے بڑا عظیم الشان بادشاہ،جو زمین پر خدا کا سایہ ہے۔ اپنی خوشی کے بہترین وقت میں کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اس خداوند خدا کے بولے ہوئے الفاظ پورے ہوں جو حاکموں کا حاکم اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔‘‘

(رسالہ مسیح موعود مصنفہ مسٹر محمد علی ایم۔اے منقول از خواجہ کمال الدین ص۱۶۱تا۱۶۳)

یہ عبارت کیسی ہوشیاری اور ہواشناسی سے لکھی گئی ہے اس کے راقم کی دوراندیشی اور ہواشناسی کی داد دئیے بغیر ہم نہیں رہ سکتے کہ کس قدر مختصر مضمون کتنی لمبی عبارت میں ادا کیا ہے، جو اس شعر کی مصداق ہے:

  1. ملے تو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی

    عجیب چیز ہے یہ طول مدعا کے لئے

اس ساری عبارت میں اصل مطلب کے دو ہی فقرے ہیں:

الف… بنگالیوں کو تقسیم بنگال سے سخت زخم لگا تھا۔

ب… پیش گوئی کا مطلب یہ تھا کہ تقسیم بنگال میں ترمیم ہو گی۔ چنانچہ ترمیم ہوئی۔

حالانکہ منقولہ عبارت از ریویو ۱۹۰۶ء مندرجہ رسالہ ہذا سے صاف ثابت ہے کہ پیش گوئی کا صدق سرفلر گورنر مشرقی بنگال کے استعفیٰ سے پورا ہو گیا تھا مگر بعد منسوخی تقسیم پھر

481

اسی پیش گوئی کو دہرایا گیا جو کئی سال پہلے بقلم مسٹر محمد علی پوری ہو چکی تھی۔ لطف یہ ہے کہ منسوخی کو ترمیم کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں

    بندہ نوازا! آپ کسی کے خدا نہیں

تمام ملک جانتا ہے اور مسٹر محمد علی صاحب کو تسلیم ہے کہ بنگالیوں کو اس بات کا صدمہ تھا کہ بنگلہ زبان بولنے والا ملک کو دو حصوں مغربی اور مشرقی بنگال میں تقسیم کر کے دو گورنروں کے ماتحت کیاگیا۔ بادشاہ نے آکر دو گورنروں کی بجائے کل صوبہ کو ایک گورنر کے ماتحت کردیا۔ چنانچہ آج سب کو معلوم ہے کہ صوبہ بنگال کا گورنر ایک ہے۔ یہی بنگالی لوگ چاہتے تھے اور اس کا نام ہے منسوخی تقسیم بنگال۔ جس کی نص مرزاقادیانی بقلم محمد علی کر چکے تھے۔ (ملاحظہ ہورسالہ ہذا) لیکن جب بادشاہ نے تقسیم کو منسوخ کیا تو وہی مسٹر محمد علی جن کے قلم سے پیش گوئی سرفلر تک صادق ہوکر ختم ہو چکی تھی، جو منسوخی تقسیم کی نفی کر چکے تھے۔ انہوں نے ہی ہوا کا رخ دیکھ کر فوراً لکھ دیا کہ پیش گوئی کا مطلب یہی تھا جو بادشاہ نے کیا۔ یہی معنی ہیں:

چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

اس کی مثال

ناظرین! آپ حیران ہوں گے کہ مسٹر محمد علی صاحب نے ہوا کا رخ پہچان کر بات کو کیسے بدلا ہے۔ آپ کو ہم بتاتے ہیں کہ موصوف جس طرح مذہب میں مرزاقادیانی کے مرید ہیں، فن بوقلمونی میں بھی انہی سے مستفید ہیں۔ اس کی مثال سنئے: مرزاقادیانی کا الہام ہے: ’’شاتان تذبحان‘‘ (دو بکریاں ذبح ہوں گی) اس الہام کو آپ نے رسالہ ضمیمہ انجام آتھم میں لکھ کر مرزااحمد بیگ والد منکوحہ آسمانی اور مرزاسلطان محمد شوہر منکوحہ آسمانی پر چسپاں کر دیا کہ یہ الہام ان دو کے حق میں ہے۔ یعنی دو بکریوں سے یہ شخص مراد ہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۶، خزائن ج۱۱ ص۳۴۰)

پھر کابل میں ان کے دو مرید مولوی عبداللطیف اور ان کا کوئی ساتھی بجرم ارتداد قتل کئے گئے تو اسی پیش گوئی کو ان پر چسپاں کر دیا۔

(تذکرہ الشہادتین ص۶۷، خزائن ج۲۰ ص۶۹)

غرض مرزاقادیانی کو اس میں کمال حاصل تھا۔ ایام وباء میں بعض عیار عطار ایک ہی بوتل سے ہر قسم کے شربت دے دیا کرتے ہیں۔ شربت بنفشہ، شربت نیلوفر، شربت شفا، جتنے شربت ہیں سب ایک ہی بوتل سے دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی الہام سے مختلف معانی اور مختلف مصداق بنانا مرزاقادیانی کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ کیا سچ ہے ؎

  1. ہم بھی قائل تیری نیرنگی کے ہیں یاد رہے

    او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے

482

لیکھرام

اور مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ

483

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلے مجھے دیکھئے

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

مرزاغلام احمد قادیانی مدعی مسیحیت اور مہدویت بالقابہ اپنے دعوے کے ثبوت میں الہامی دعاوی اور غیبی پیش گوئیاں پیش کیا کرتے تھے، جن میں سے تین پیش گوئیوں کو موصوف نے تین قوموں کے لئے قابل غور قرار دیا تھا۔ (۱)ڈپٹی عبداللہ آتھم والی پیش گوئی عیسائیوں کے لئے (۲)مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری کی لڑکی محمدی بیگم کے نکاح والی پیش گوئی مسلمانوں کے لئے (۳)پنڈت لیکھ رام آریہ والی پیش گوئی ہندو قسم کے لئے۔

(شہادۃ القرآن ۸۰،۸۱ خزائن ج۶ ص۳۷۵، ۳۷۶)

ہم نے رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ میں مرزاقادیانی کی ساری اہم پیش گوئیوں پر بحث کی ہوئی ہے۔ چونکہ مرزاقادیانی اور ان کے اتباع کو پنڈت لیکھ رام والی پیش گوئی پر بڑا ناز ہے۔ وہ اس کو ایسا صحیح جانتے ہیں جیسا ’’دو دو نے چار‘‘ ہماری تحقیق میں یہ پیش گوئی سب سے زیادہ غلط ثابت ہوئی ہے۔ اس لئے اس کے متعلق مستقل رسالہ لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔

ناظرین کرام! عموماً اور اتباع مرزاقادیانی خصوصاً ہمارے پیش کردہ حوالہ جات کو غور سے پڑھیں تاکہ یوم الفصل سے پہلے ہی ہماری نزاع ختم ہو جائے اور استاد داغ کا یہ شعر ہم پر صادق آئے ؎

  1. اے کاش میرے تیرے لئے کل یہ حکم ہو

    لے جاؤ ان کو خلد میں جو کچھ ہوا ہوا

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسر … رمضان ۱۳۶۱ھ، مطابق ستمبر ۱۹۴۲ء

لیکھ رام اور مرزا

مرزاقادیانی نے پنڈت لیکھ رام کی بابت جو کچھ لکھا اس کے دو باب ہیں۔ (۱)ایک مباہلہ۔ (۲)دوسری پیش گوئی۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے دعوے کے دونوں باب شکستہ بلکہ برباد ہیں۔ اس دعوے کے اثبات میں ہم مرزاقادیانی کی اصل عبارات پیش کریں گے۔ مرزاقادیانی نے سب سے پہلے ۱۸۸۶ء میں آریوں کے معززین کو مباہلہ کے لئے دعوت دی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’آخر الحیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کر آئے

484

ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں۔ ہاں! باتمیز اور ایک باعزت اور ایک نامور آریہ ضرور چاہئے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑ سکے… اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ میں تحریر کر چکے ہیں، فی الحقیقت صحیح اور سچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول اور تعلیمیں اسی رسالہ میں بیان کی گئی ہیں، ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کر لیں اور کوئی مقام مباہلہ کا برضامندی فریقین قرار پا کر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہو جائیں اور ہر ایک فریق مجمع عام میں اٹھ کر اس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین جلی قلم سے لکھا گیا ہے، تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں تو ہم پر اسی دنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔ غرض جو جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں، جو جانبین کے اعتقاد ہیں، بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر ان کی تصدیق کرنی چاہئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہو گی۔ پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلف رسالہ ہذا (مرزاقادیانی) پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانچ سو روپیہ ٹھہرے گا، جس کو برضا مندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کر دیا جائے گا‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۲۵۰، خزائن ج۲ ص۲۵۰)

مجیب: اس عبارت سے دو امر ثابت ہیں: (۱)ایک دعوت مباہلہ۔ (۲)مباہلہ کا اثر جو کچھ بھی ہو، اس کے ظہور کے لئے مدت ایک سال۔

اس کے بعد ص۲۱۴ سے ص۲۱۶ تک لمبا چوڑا مضمون مباہلہ لکھا ہے جو آپ (مرزاقادیانی) کی طرف سے ہے۔ اس کے اخیر پر بھی یہ فقرہ ہے: ’’بلکہ سراسر ضد کرتا ہے… اس پر تو اے قادر کبیر ایک سال تک کوئی اپنا عذاب نازل کر۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۲۵۵، خزائن ج۲ ص۳۰۵)

پھر آریہ کی دعاء مباہلہ لکھ کر یہ فقرہ لکھا ہے: ’’اے ایشر! تیری نظر میں جو کاذب ہے، اس کو ایک سال کے عرصہ تک لعنت کا اثر پہنچ جائے‘‘

(ملخص سرمہ چشم آریہ ص۲۵۸، خزائن ج۲ ص۳۰۸)

مجیب: ان تینوں حوالوں سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ مباہلہ آریہ کا اثر کچھ بھی ہو، ایک سال تک ہو گا۔ دگرہیچ۔

485

اس کے بعد پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب نسخہ خبط احمدیہ مطبوعہ ۱۸۸۸ء میں بالفاظ ذیل مباہلہ شائع کیا ہے: ’’اے پرمیشور! ہم دونوں میں سچا فیصلہ کر اور جو تیرا ست دھرم ہے، اس کو نہ تلوار سے بلکہ پیار سے معقولیت اور دلائل کے اظہار سے جاری کر اور مخالف کے دل کو اپنے ست گیان سے پرکاش کر۔ تاکہ جہالت وتعصب وجوروستم کا ناش ہو۔ کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔‘‘

راقم: آپ کا ازلی بندہ لیکھ رام شرما سبہا سد آریہ سماج پشاور

(نسخہ خبط احمدیہ ص۳۴۷)

مجیب: یہ مباہلہ ۱۸۸۸ء کو شائع ہوا۔ حوالہ جات مرقومہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مباہلہ پر عذاب کی مدت ایک سال تک ہے۔ اس حساب سے ۱۸۸۹ء میں پنڈت لیکھ رام عذاب کا شکار ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر نہیں ہوا بلکہ صحیح سالم رہ کر ۱۸۹۷ء میں فوت ہوا۔

(حقیقت الوحی ص۲۸۵، خزائن ج۲۲ ص۲۹۸)

ناظرین کرام! حوالہ جات مرقومہ بالا دیکھنے سے اس میں کوئی شک وشبہ رہ سکتا ہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ بحیثیت مباہلہ لیکھ رام کے متعلق غلط ثابت ہوا اور مخالفوں کو یہ کہنے کا موقع ملا ؎

  1. حباب بحر کو دیکھو یہ کیسے سر اٹھاتا ہے

    تکبر وہ بری شئے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے

مرزاقادیانی کی ہوشیاری اور مریدوں کی سادہ لوحی

باوجود اس صفائی کے مرزاقادیانی نے اس بارے میں وہ کمال دکھایا ہے کہ ہم دل سے اس امر کے معترف ہو گئے ہیں کہ جرمنی کا پرنس بسمارک اور انگلستان کا گلیڈسٹون بھی باوجود سیاسیات میں بلند مرتبہ ہونے کے مرزاقادیانی کے دوراندیشی یا بالفاظ دیگر نکتہ آفرینی کو نہیں پہنچ سکتے۔ ہمارے دعوے کی تسلیم میں کسی صاحب کو شک ہو تو مندرجہ ذیل حوالہ ملاحظہ کریں۔

مرزاقادیانی نے لیکھ رام کی اسی کتاب میں اس کے اسی مباہلہ کا ذکر خود کیا ہے جس سے کئی امور ثابت ہوں گے۔ مرزاقادیانی نے کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں اپنی تحریر مندرجہ رسالہ سرمہ چشم آریہ (منقولہ گزشتہ صفحہ) کا ذکر کر کے لکھا ہے: ’’میری اس تحریر پر پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ میں جو ۱۸۸۸ء میں اس نے شائع کی تھی جیسا کہ اس کتاب کے اخیر میں یہ تاریخ درج ہے میرے ساتھ مباہلہ کیا، چنانچہ وہ مباہلہ کے لئے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے ص۳۴۴ میں بطور تمہید یہ عبارت (بعد تمہید) لکھتا ہے: اے پرمیشر! ہم

486

دونوں فریقوں (مرزاقادیانی اور مجھ) میں سچا فیصلہ کر۔ کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاتا سکتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۱۴، ۳۱۹، خزائن ج۲۲ ص۳۲۷، ۳۳۲)

ناظرین! پہلے آپ ان دونوں عبارتوں (مرقومہ پنڈت صاحب اور منقولہ مرزاقادیانی) کو غور سے پڑھ کر ان میں فرق سمجھیں۔ ہمارا مقصد چونکہ اس پر موقوف نہیں، اس لئے ہم اس تفصیل میں نہیں جاتے۔ ہاں! اس منقولہ عبارت (مرقومہ پنڈت صاحب) پر مرزاقادیانی نے جو تفریع پیدا کی ہے، اسے ناظرین کے سامنے من وعن رکھے دیتے ہیں۔

آپ لکھتے ہیں: ’’اب مباہلہ کی دعاء کے بعد جو پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے ص۳۴۴ سے ۳۴۷ تک لکھی ہے جو کچھ خدا نے آسمان سے فیصلہ کیا ہے اور جس طرح اس نے کاذب کی ذلت ظاہر کی اور صادق کی عزت وہ یہ ہے جو ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو بروز شنبہ دن کے چار بجے کے بعد ظہور میں آیا۔ دیکھو یہ خدا کا فیصلہ ہے جس فیصلہ کو لیکھ رام نے اپنے پرمیشر سے مانگا تھا تا صادق اور کاذب میں فرق ظاہر ہو جائے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۲۰، خزائن ج۲۲ ص۳۳۳)

ہم ناظرین کو مکرر تکلیف دیتے ہیں کہ وہ مرزاقادیانی کی عبارات از کتاب ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ غور سے پڑھیں۔ جن میں مباہلہ کی میعاد ایک سال قرار دی ہے جو ۱۸۸۹ء میں پوری ہو چکی۔ مگر لیکھ رام ۱۸۹۷ء میں مرتا ہے۔ تاہم مرزاقادیانی اپنا چیلنج (دعوت مباہلہ) اور لیکھ رام کا قبول چیلنج نقل کر کے اس کی ۱۸۹۷ء والی موت کو مباہلہ کا اثر قرار یتے ہیں۔

  1. اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں

    بندہ نواز! آپ کسی کے خدا نہیں

مرزاقادیانی کی نکتہ آفرینی

مرزاقادیانی کو نکتہ آفرینی میں خاص ملکہ حاصل تھا۔ مثلاً یہ کہ فریق ثانی کی عبارت میں عجیب تبدیلی یا تحریف کرتے کہ اپنے مریدان باصفا کے ایسی دل نشیں کر دیتے کہ وہ اس کو کالوحی من السماء مان لیتے۔ جہاں کوئی مخالف مرتا مرزاقادیانی جھٹ کہہ دیتے۔ اس نے لکھا تھا جھوٹا پہلے مرے گا۔ چنانچہ وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔ اس کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں جو کسی اور موقع پر ہم ظاہر کریں گے۔ ان شاء اللہ! یہاں بطور مثال ایک واقعہ بتا کر اصل بات پر آتے ہیں۔علی گڑھ میں ایک بزرگ مولوی اسماعیل صاحب اسرائیلی رہتے تھے۔ بڑے عالم ذی اثر تھے۔ آپ نے مرزاقادیانی کی تردید میں ایک رسالہ موسومہ ’’اعلاء الحق الصریح

487

بتکذیب مثیل المسیح‘‘ لکھا۔ جس کے شائع ہونے کے بعد دو سال گزار کر آپ قضاء الٰہی سے فوت ہو گئے۔ جھٹ مرزاقادیانی نے لکھ دیا کہ مولوی اسماعیل نے لکھا تھا کہ ہم دونوں فریق(مرزا اور اسماعیل) میں سے جو جھوٹا ہے وہ مر جائے۔ چنانچہ وہ میری زندگی میں مر کر میری سچائی پر مہر ثبت کر گئے۔

(اشتہار انعامی پانچ سو روپیہ ملحقہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۴۸)

حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ مرحوم کی کتاب ’’اعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح‘‘ ہمارے پاس موجود ہے۔ کوئی صاحب اس کتاب میں یا مرحوم کی کسی تحریر میں یہ مضمون دکھادیں تو بطور انعام ہم سے مباحثہ لدھیانہ کے تین سو میں سے یک صد روپیہ حاصل کر کے اپنے مسیح کی عزت بحال کریں۔

مرزاقادیانی نے دیکھا کہ پنڈت لیکھ رام کے متعلق میں نے ایک سال مدت مقرر کی تھی جو ۱۸۸۹ء میں ختم ہو گئی اور وہ نہیں مرا تو آپ نے فوراً نکتہ آفرینی کا معجزہ دکھانے کو لکھا کہ: ’’اس (پنڈت لیکھ رام) نے اپنے مباہلہ میں جو اس کی کتاب خبط احمدیہ میں درج ہو کر اس کے مرنے سے ایک مدت پہلے شائع ہو گیا تھا۔ اس مضمون کی دعاء کی، جس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ اے پرمیشر! میں جانتا ہوں کہ چاروں وید سچے ہیں اور قرآن شریف نعوذ باللہ! جھوٹا ہے اور اسی بناء پر میں مرزاغلام احمد قادیانی سے مباہلہ کرتا ہوں۔ پس اگر میں اس عقیدہ میں سچا نہیں ہوں تو اے پرمیشر! میری مراد کے مخالف فیصلہ کر اور جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے سچے کی زندگی میں ہی اس کو سزا دے۔‘‘

(اشتہار باعث تالیف کتاب چشمہ معرفت ص الف، ب، خزائن ج۲۳ ص۵،۶)

ناظرین کرام! مرزاقادیانی کا انتقال ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو دن کے دس بجے ہوا۔ پنڈت لیکھ رام اگر ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ء بلکہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء دن کے نو بجے بھی مر جاتا تو اس محرفہ عبارت کے ماتحت مرزاقادیانی کی پیش گوئی سچی ہو جاتی۔ نہ ایک سال کی مدت رہتی نہ چھ سال کی۔ کیسی نکتہ آفرینی ہے، جس کی داد دینے کو ہر ایک کاجی چاہتا ہے۔

مرزاقادیانی کے مریدو! کیا یہی خدمت اسلام ہے جس کے لئے مرزاقادیانی نے پنڈت لیکھ رام اور دیگر معزز آریوں کو چیلنج مباہلہ دیا تھا اور ظہور اثر کے لئے ایک سال مقرر کیا تھا، لیکن اس کی موت کے بعد تمہارے ہیرو نے ایسی غلط بیانی کی کہ پہلے کسی مصنف بلکہ کچہری کے پیشہ ور گواہ نے بھی نہ کی ہوگی۔

488
  1. ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا

    یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا

خلاصہ اس سارے باب کا یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے آریوں کو مباہلے کا چیلنج دیا اور مباہلے کا اثر ظاہر ہونے کے لئے ایک سال کی مدت مقرر کی۔ پنڈت لیکھ رام نے ۱۸۸۸ء میں اپنے لفظوں میں مباہلہ شائع کر دیا جسے مرزاقادیانی نے تسلیم کیا، مگر اثر اس کا ایک سال تک کسی فریق پر ظاہر نہ ہوا۔ چاہئے یہ تھا کہ مرزاقادیانی اپنے اقرار کے مطابق آریوں کو پانچ سو روپیہ تاوان میں دیتے مگر وہ بالکل چپ سادھ گئے۔ یہاں تک کہ ۱۸۹۷ء میں پنڈت لیکھ رام کی موت ہوئی تو متعدد تصانیف میں اس کی موت کو اس مباہلے کا اثر بتایا، جس کی مدت ۱۸۸۹ء میں ختم ہو چکی تھی اور مریدان باصفا نے مرزاقادیانی کی اس زبردستی کو تسلیم کر لیا۔ کیونکہ ان کا قول ہے ؎

  1. مامریداں رو بسوئے کعبہ چوں آریم چوں

    رو بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما

باب دوم

اس باب میں ہم مرزاقادیانی کی ان عبارات کو نقل کرتے ہیں جو حقیقتاً پنڈت لیکھ رام کے حق میں پیش گوئی کی شکل میں ہیں۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی کی سب سے پہلی تحریر درج ذیل ہے جس کی سرخی ہے۔

لیکھ رام پشاوری کی نسبت ایک پیش گوئی

’’واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ اندر من مراد آبادی اور لیکھ رام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضاء وقدر کی نسبت بعض پیش گوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھ رام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کر دو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ ’’عجل جسد لہ خوار لہ نصب وعذاب‘‘

یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے

489

جو ضرور اس کو مل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبہ ہے، اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو بیس فروری ۱۸۹۳ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہﷺ کے حق میں کی ہیں، عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئیوں میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔‘‘

(سراج منیر ص۱۲، ۱۳، خزائن ج۱۲ ص۱۴، ۱۵)

مجیب: اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء والا اشتہار پیش گوئی نہ تھا بلکہ وہ محض مباہلے کی دعوت تھا۔ ہاں! یہ اشتہار جس پر ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء مرقوم ہے، پیش گوئی کی صورت میں ہے۔ اس لئے اس باب میں اس کی تحقیق کرنا ہمارا مقصود ہے۔

سب سے پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزاقادیانی آریوں کے متعلق عموماً اور پنڈت لیکھ رام کے متعلق خصوصاً یہی ظاہر کرتے رہے کہ درصورت سچائی کے: ’’اپنی لمبی چوٹی کٹا کر اور رشتہ بے سود زنا کو توڑ کر اس پاک جماعت میں داخل ہو جائے جو لا الہ الا اللہ کی توحید سے اور محمد رسول اللہ کی کامل رہبری سے گم گشتگان بادیہ شرک وبدعت کو صرط مستقیم کی شاہراہ پر لاتے جاتے ہیں۔‘‘

(شحنہ حق ص۳۷، خزائن ج۲ ص۳۷۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۳۸، ۱۳۹)

یہ غرض مرزاقادیانی کے ذہن میں اس قدر پختہ تھی کہ پنڈت لیکھ رام اور مرزا قادیانی میں جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں بھی دونوں مذہبوں کی سچائی اور اسلام کے قبول کر لینے کا ذکر تھا۔ مرزاقادیانی نے ایک موقعہ پر اپنے معترض مولوی صاحبان کا گلہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’بعض مولوی صاحبان جیسے مولوی محمد حسین بٹالوی اس کھلی کھلی پیش گوئی کی نسبت بھی جو دونوں مذہبوں (ہندو دھرم اور اسلام) کے پرکھنے کے لئے معیار کی طرح ٹھہرائی گئی

490

تھی، جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح لوگ اس پر اعتقاد نہ لاویں۔ ہم ان شاء اللہ! عنقریب اس معاہدے کو جو ہم میں اور لیکھ رام میں ہوا تھا، سراج منیر کے اخیر میں نقل کر دیں گے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۶ ص۸۱، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۸۲)

مگر مرزاقادیانی کا یہ وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح پورا نہ ہوا۔ آپ نے اس معاہدے کو سراج منیر میں نقل نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب دینا ہمارے ذمہ نہیں بلکہ اتباع مرزا کے ذمہ ہے۔ ہم تو یہی کہیں گے ؎

خموشی معنی دارد کہ درگفتن نمے آئد

تصرف قدرت: ناظرین کرام! مرزاقادیانی نے ہر چند اس معاہدے کو چھپایا مگر تصرف قدرت اندر ہی اندر اپنا کام کر گیا جس کی خبر نہیں ہوئی۔ سچ ہے:’’ان ربک لبالمر صاد (الفجر:۱۴)‘‘ {تمہارا پروردگار گھات میں ہے۔}

باوجودیکہ مرزاقادیانی نے حسب وعدہ مکمل معاہدہ درج نہیں کیا تاہم قدرت کے تصرف نے جو جلوہ دکھایا وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ’’وہ معاہدہ جو نشانوں کے دیکھنے کے لئے اس راقم اور لیکھ رام کے مابین تحریر پایا تھا… اس طول طویل معاہدے کا خلاصہ یہ ہے اگر کوئی پیش گوئی لیکھ رام کو بتلائی جائے اور وہ سچی نہ ہو تو وہ ہندو مذہب کی سچائی۱؎ کی دلیل ہو گی اور فریق پیش گوئی کرنے والے (مرزا ملہم) پر لازم ہو گا کہ آریہ مذہب کو اختیار کرے یا تین سو ساٹھ روپیہ لیکھ رام کو دے دے اور اگر پیش گوئی کرنے والا سچا نکلے تو اسلام کی سچائی کی یہ دلیل ہو گی اور پنڈت لیکھ رام پر یہ واجب ہو گا کہ اسلام قبول کرے۔ پھر اس کے بعد وہ پیش گوئی بتائی گئی جس کی رو سے ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو لیکھ رام کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔‘‘

(استفتاء ص۹، خزائن ج۱۲ ص۱۱۷)

مجیب: یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء والی پیش گوئی کا وقوع ایسے طریق پر ہونا چاہئے تھا کہ پنڈت لیکھ رام اسلام قبول کر سکتا یعنی زندہ ہوتا۔ پس اس کا مر جانا یا مارا جانا پیش گوئی کی تصدیق نہیں کرتا بلکہ تکذیب کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے لئے اسلام

۱؎کیسی غلط شرارت ہے۔ مرزاقادیانی کی یا کسی اور ملہم کی پیش گوئی غلط ہونے سے یہ نتیجہ تو نکل سکتا ہے کہ پیش گوئی کرنے والا جھوٹا ہے۔ لیکن اس سے یہ ثابت کرنا یا اسے تسلیم کرنا کہ ہندو مذہب سچا ہے کسی اہل دانش کا کام نہیں۔ مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو؟

491

قبول کرنے کا موقع نہ رہا۔ باوجودیکہ پیش گوئی صریح طور پر جھوٹی ثابت ہوئی۔ تاہم خود مرزاقادیانی اور ان کے مریدین یہی کہتے جاتے ہیں کہ ہم نے لیکھ رام کی پیش گوئی میں اس کی موت کا دن اور تاریخ بھی بتادی تھی۔

یہ سب نکتے بعد الوقوع ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنڈت لیکھ رام کی موت کے بعد یہ سب ایجادیں کی گئی ہیں۔ کتاب کرامات الصادقین ہو یا کوئی اور سب بعد الوقوع ایجادیں ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ جو حکایت محکی عنہ کے مطابق نہ ہو وہ غلط ہوتی ہے۔ قادیانی اصطلاح کے متعلق تو ہم کہہ نہیں سکتے۔ لیکن عام اصول یہی ہے کہ حکایت صحیح وہی ہوتی ہے جو محکی عنہ کے مطابق ہو۔ پس جو کچھ کہتے ہو پیش گوئی ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء میں دکھاؤ۔ اگر اس میں نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں۔ سنئے! ہم تو ان محدثین کے پیرو ہیں جن کی شان میں مولانا حالی مرحوم نے کہا ہے:

  1. کیا فاش راوی میں جو عیب پایا

    مناقب کو چھانا مثالب کو تایا

  2. مشائخ میں جو فتح دیکھا بتایا

    ائمہ میں جو داغ پایا جتایا

  3. طلسم و رع ہر مقدس کا توڑا

    نہ صوفی کو چھوڑا نہ ملا کو چھوڑا

خلاصہ: اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء کو جو پیش گوئی کی تھی وہ ایسے خارق عادت عذاب شدید کی تھی جو پنڈت لیکھ رام پر وارد تو ہوتا مگر اس کی حیات ختم نہ کرتا بلکہ اس کے اثر سے اس کو قبول اسلام کا موقع ملتا، لیکن ایسا نہ ہوا جس کا مرزاقادیانی کو بھی اعتراف ہے۔

حیرت انگیز غلط بیانی: ہم اپنے پاس وہ الفاظ نہیں پاتے جن کے ذریعہ سے ہم اس تعجب کا اظہار کر سکیں جو مرزاقادیانی کی تحریرات سے ہمارے دماغ میں پیدا ہوتا۔ ہم ناظرین کو ایسی تحریرات کا نمونہ دکھاتے ہیں۔

کتاب استفتاء کے ص۹ کی عبارت ہم نقل کر چکے ہیں، جس میں مرزاقادیانی اور پنڈت لیکھ رام کے درمیان معاہدے کا خلاصہ دکھایا گیا ہے۔ اس میں لیکھ رام کے اسلام قبول کرنے کا ذکر ہے۔ اسی کتاب کے ص۱۰ پر مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء کو بہت توجہ اور دعاء اور تضرع کے بعد معلوم ہوا کہ آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء سے چھ برس کے درمیان لیکھ رام پر عذاب شدید جس کا نتیجہ موت ہے، نازل کیا جائے گا۔‘‘

(استفتاء ص۱۰، خزائن ج۱۲ ص۱۱۸)

492

ناظرین! کیا یہ حیرت کا مقام نہیں ہے کہ جس واقعہ کے لئے پنڈت لیکھ رام کی زندگی لازمی ہو اسی واقعہ کو نتیجہ موت بتایا جائے۔ ہاتھ کی کیسی صفائی ہے۔

اللہ رے صفائی! اللہ رے صداقت اور راست گوئی اور مریدوں کی حق پسندی۔ ایک صفحے کا خلاف دوسرے صفحے پر موجود ہے۔ مگر مریدوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہی کہے جاتے ہیں جو ان کا نبی اور ملہم کہہ گیا ہے۔ پختگی اور مضبوطی اسی کا نام ہے۔ سچ ہے ؎

پیر من خس است و اعتقاد من بس است

ناظرین! ان دونوں ابواب کو پڑھ کر اس نتیجے پر پہنچ گئے ہوں گے کہ دو مضمون بالکل الگ الگ ہیں۔ ایک مباہلہ جس کے اثر کی میعاد ایک سال تھی جو ۱۸۸۹ء میں ختم ہو گئی۔ دوسرا مضمون ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء سے شروع ہوتا ہے جس میں لیکھ رام پر اس کی زندگی میں خرق عادت عذاب کا ذکر ہے۔ اس کی میعاد چھ سال ہے اور یہ پہلے سے بالکل الگ ہے۔ مرزاقادیانی نے گندم نما جو فروشوں کی طرح مخلوط گندم کو اصل گندم کے بھاؤ فروخت کیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’میری اس تحریر پر پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ میں جو ۱۸۸۸ء میں اس نے شائع کی تھی، جیسا کہ اس کتاب کے اخیر میں یہ تاریخ درج ہے، میرے ساتھ مباہلہ کیا۔ چنانچہ وہ مباہلہ کے لئے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے ص۳۴۴ میں بطور تمہید یہ عبارت لکھتا ہے… (اس کے بعد لیکھ رام کا مضمون مباہلہ از نسخہ خبط احمدیہ نقل کیا ہے جو کتاب ہذا میں پہلے درج ہو چکا ہے) اب مباہلہ کی اس دعاء کے بعد جو پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے ص۳۴۴ سے ۳۴۷ تک لکھی ہے جو کچھ خدا نے آسمان سے فیصلہ کیا ہے اور جس طرح اس نے کاذب کی ذلت ظاہر کی اور صادق کی عزت وہ یہ ہے جو ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو بروز شنبہ دن کے چار بجے کے بعد ظہور میں آیا۔ دیکھو یہ خدا کا فیصلہ ہے جس فیصلہ کو لیکھ رام نے اپنے پرمیشر سے مانگا تھا تاصادق اور کاذب میں فرق ظاہر ہو جائے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۱۴، ۳۲۰، خزائن ج۲۲ ص۳۲۷، ۳۳۳)

ناظرین کرام! غور فرمائیں کہ پنڈت لیکھ رام کے ۱۸۸۸ء والے مباہلہ کو چھ سالہ پیش گوئی کے ساتھ کیسے ملا دیا اور کیا ہی مخلوط گندم خالص گندم کے بھاؤ بیچی ہے۔

احمدی دوستو! آؤ مرزاقادیانی کے دوسرے ہاتھ کی صفائی بھی تمہیں دکھائیں۔

آپ لکھتے ہیں: ’’(۱)لیکھ رام نے صرف بدزبانی پربس نہ کی بلکہ اپنی موت کے لئے

493

مجھ سے پیش گوئی چاہی۔ چنانچہ میں نے اس کے باربار کے اصرار کی وجہ سے خدائے عزوجل سے اطلاع پا کر اس کو خبر کر دی کہ وہ چھ برس کے اندر مر جائے گا۔ (۲)مگر اس نے اس پر کفایت نہ کر کے مجھ سے تحریری مباہلہ کیا اور ایسے وقت میں اس نے مباہلہ کیاجب کہ خدا کے نزدیک اس کی زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔‘‘

(اشتہار باعث تالیف کتاب چشمہ معرفت ص الف، خزائن ج۲۳ ص۵)

ناظرین! اس عبارت پر دو نمبر ڈالے گئے ہیں تاکہ ان کا مفہوم الگ الگ ظاہر ہو جائے۔ پہلے نمبر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسرے نمبر سے پہلے کا ہے اور دوسرا نمبر اس کے بعد کا۔ یعنی مرزاقادیانی کی پیش گوئی مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء، ۱۸۸۸ء والے مباہلے سے پہلے کی ہے اور ۱۸۸۸ء والا مباہلہ بعد کا ہے۔

قادیانی ممبرو! تمہارا بھائی ’’پیغام صلح‘‘ (۳۱؍مئی ۱۹۳۲ء) تو تمہیں مسلوب العقل قرار دیتا ہے، مگر ہم تم سے ایسے بدگمان نہیں ہیں۔ اس لئے پوچھتے ہیں کہ دونوں حوالوں کا کیا مطلب ہے؟

صحیح واقعہ تو یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ۱۸۸۶ء میں آریوں کو عموماً اور پنڈت لیکھ رام کو خصوصاً مباہلے کا چیلنج دیا جس پر پنڈت لیکھ رام نے ۱۸۸۸ء میں اپنے لفظوں میں مباہلہ کیا، جس کی مدت ۱۸۸۹ء میں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد چھیڑخوانی ہوتی رہی جس پر چار سالہ وقفے کے بعد مرزاقادیانی نے فروری ۱۸۹۳ء کو چھ سالہ پیش گوئی کا اشتہار دیا۔ چنانچہ ۱۸۹۷ء کے واقعہ پر یہ کھیل بھی ختم ہو گیا۔ مگر مرزاقادیانی نے ان حوالوں میں حقیقت الوحی اور اشتہار باعث تالیف میں جو کچھ لکھا ہے،ا س ترتیب کے بالکل الٹ ہے۔ تو بتاؤ کہ ان کے لکھنے والا ملہم تو کیا قابل مصنف بھی ہوسکتا ہے؟ پھر یہ بھی بتانا کہ لیکھ رام کی موت ۱۸۹۳ء والی پیش گوئی کے مطابق ہوئی یا۱۸۸۸ء والے مباہلے کے مطابق؟ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دینا۔

مرزاقادیانی کے مریدو! آپ لوگ فخر کیا کرتے ہیں کہ: ’’مرزاقادیانی نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے ایک جدید علم کلام کو پیدا کیا جو نہایت محکم، نہایت معقول ہے، جس پر کسی معقول انسان کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔‘‘

(الفضل مؤرخہ ۲۷؍اگست ۱۹۴۲ء ص۲)

کیا اس کلام کا یہی نمونہ ہے جو ہم نے اس رسالے میں پیش کیا ہے، جس میں اختلاف، تضاد بلکہ تناقض کے درجے تک پہنچا ہوا ہے۔ اگر تمہارا یہی معقول علم کلام ہے تو اس پر جتنا فخر کرو بجا ہے۔ مگر ہم تو مرزاقادیانی میں کوئی عارفانہ یا عالمانہ کمال نہیں پاتے۔

494

ثنایٗ

پاکٹ بک

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثنااللہ امرتسریؒ

495

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فرقہ مرزائیہ یا احمدیہ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ اجمعین!

یہ فرقہ بددین فرقوں میں سب سے اخیر ہے۔ مگر حرکت کی وجہ سے آج کل مشہور بہت ہے۔ اس فرقے کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی قادیان پنجاب میں ۱۲۶۱ھ مطابق ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوئے۔ (رسالہ نورالدین ص۱۷۰، سال وفات ۱۹۰۸ء میں عمر مرزا ۶۹ سال تھی) ۱۳۰۸ھ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس دعوے پر جو دلیل دی اس کی تشکیل یوں ہے:’’حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے ان کے نام سے جو آنے والا مسیح موعود ہے اس سے مراد مثیل مسیح ہے جو میں ہوں۔ مسیح موعود کے نزول کا مقام جو حدیثوں میں دمشق آیا ہے اس سے مراد قادیان ہے۔‘‘

اپنے روحانی کمالات کے ثبوت میں انہوں نے اپنی چند پیش گوئیاں پیش کیں۔ علماء اسلام نے مرزاقادیانی کا ہر طرح سے تعاقب کیا۔ قرآن سے، حدیث سے، ان کے الہامات کی تکذیب سے، ان کی پیش گوئیوں سے، ان کے ساتھ مباہلوں سے۔ حیات مسیح کے ثبوت میں کئی ایک کتابیں اردو، عربی میں لکھی گئیں۔ احادیث کی رو سے ان کو جانچا گیا، الہامات سے ان کو پرکھا گیا، وفات مسیح پر انہوں نے جتنی آیات پیش کیں ان سب کے جوابات ہم نے تفسیر ثنائی جلد دوم میں دئیے ہیں۔

اس سے مزید تفصیل کے ساتھ مولوی ابراہیم سیالکوٹی نے ’’شہادۃ القرآن‘‘ کے دو حصوں میں اس مسئلہ پر بحث کی۔ مولوی انور شاہ مرحوم اور مولوی غلام رسول (عرف رسل بابا) مرحوم امرتسری نے عربی میں ایک کتاب لکھی اور علماء نے بھی بہت کچھ لکھا۔

میری ابتداء سے یہ رائے رہی ہے کہ مرزاقادیانی کی نزاع میں حیات مسیح قابل بحث نہیں ہے بلکہ مرزاقادیانی کے الہامات اور روحانی کمالات جن کے وہ مدعی ہیں، ان سے ان کو جانچنا چاہئے جن کا ان کو دعویٰ ہے اس لئے میں نے زیادہ توجہ اس پر رکھی تاہم ’’پاکٹ بک‘‘ ہذا میں حیات مسیح کی ایک زبردست دلیل پیش کی جاتی ہے۔

496

حیات مسیح

بوقت نزول قرآن شریف یہودی اور عیسائی دونوں متفق تھے کہ: مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا اور ایک سپاہی نے ان کو بھالا مارا۔ جس سے ان کا خون نکلا اور انہوں نے چلّا کر جان دی۔

(انجیل متی باب۲۷، ایضاً یوحنا باب۱۹)

اہل کتاب کے اس متفقہ عقیدے کو قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں رد کیا۔ چنانچہ فرمایا:’’ما قتلوہ وما صلبوہ ولٰکن شبہ لہم، وما قتلوہ یقینا (النساء:۱۵۷)‘‘نہ انہوں نے مسیح کو قتل کیا نہ سولی پر مارا لیکن ان کو شبہ ہوا اور انہوں نے اس کو یقینا قتل نہیں کیا۔

ان آیات میں اہل کتاب کے متفقہ عقیدے کا ابطال کر کے قرآن مجید نے اپنا عقیدہ بتایا:’’بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:۱۵۸)‘‘بلکہ خدا نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔

اب ظاہر ہے کہ جس شخص کو قتل اور سولی پر مارنے کا وہ لوگ گمان کرتے تھے، اسی کی بابت ارشاد ہوا کہ ہم نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ نہ قتل سے مرے نہ صلیب سے بلکہ وہ اٹھائے گئے۔ اس تصریح سے زیادہ تصریح کیا ہوگی؟

اب اس کے مقابلہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کی طرف سے آیات:

’’انی متوفیک‘‘ یا ’’توفیتنی‘‘وغیرہ پیش کرنی (جووفات فی زمان الماضی میں نص صریح نہیں) گویا نص قرآنی کا مقابلہ کرنا ہے۔ مفصل تفسیر ثنائی جلد دوم اور کتاب شہادۃ القرآن دو حصوں میں ملاحظہ ہو:

نشانات مرزا

ہم بتا چکے ہیں کہ مرزاقادیانی کے متعلق ہماری ناقابل تردید رائے یہ ہے کہ ان کو ان کے روحانی کمالات (پیش گوئیوں اور الہامات) سے جانچنا چاہئے۔

مرزاقادیانی نے جن امور کو کمال تحدی اور زور کے ساتھ اپنی صداقت پرپیش کیا ہے، وہ چار امور ہیں:

۱… پنڈت لیکھ رام کے متعلق پیش گوئی۔

۲… ڈپٹی آتھم کی موت کے متعلق پیش گوئی۔

497

۳… محمدی بیگم کے مرزاقادیانی کے نکاح میں آنے کی پیش گوئی۔

(شہادۃ القرآن ص ۸۰، ۸۱، خزائن ج۶ ص۳۷۵، ۳۷۶)

۴… چوتھی بات جو سب سے اخیر اور سب سے اہم ہے وہ ’’آخری فیصلہ‘‘ ہے۔

ہماری تحقیق میں تینوں پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔

پہلی پیش گوئی

سب سے اوّل پنڈت مذکور کے متعلق ہے، جس پر اتباع مرزا کو بڑا ناز ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’اگر اس شخص (لیکھ رام) پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘

(سراج منیر ص۱۳، خزائن ج۱۲ ص۱۵)

ناظرین! ان الفاظ کو سامنے رکھئے اور پنڈت مذکور کی موت کا واقعہ سنئے۔

۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو قریب شام کے کوئی شخص لیکھ رام کو چھری سے قتل کر کے بھاگ گیا اور گرفتار نہیں ہو سکا۔ اب قابل غور بات یہ ہے کہ چھری سے قتل کرنے یا قتل ہونے میں خلاف عادت کیا بات ہے۔ آئے دن ایسے قتل ہوتے رہتے ہیں۔ پشاور میں تو عام ہے۔ خاص لاہور میں بھی ہیں۔ بھگت سنگھ نے قتل کیا۔ مشہور علم دین نے راجپال آریہ کو لاہور میں دن دہاڑے قتل کیا۔ سوامی شردھانند دہلی میں قتل کیاگیا۔ کلکتہ میں ایک پنجابی نے ایک کتب فروش کو دن دہاڑے قتل کیا۔ بٹالہ کے محمد حسین مرحوم کو ایک مرزائی نے قتل کیا جو پھانسی دیا گیا۔ یہ واقعات تو حال ہی کے ہیں۔ ان سے پہلے بھی بکثرت قتل ہوتے آئے ہیں تو کیا یہ قتل سپرنیچرل (خلاف عادت) ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ پھر پنڈت لیکھ رام کا قتل خلاف عادت (ہونے کا ذکر پیش گوئی میں ہے) کیونکر ہوا۔ ہرگز نہیں، بلکہ اصل واقعہ ہے جو نہ اپنے اندر کوئی خاص ہیبت رکھتا ہے نہ خرق عادت ہے۔ پس ثابت ہوا ہے کہ پیش گوئی غلط ہوئی ہے۔

(مفصل الہامات مرزا مشمول جلد ہذا)

دوسری پیش گوئی

دوسری پیش گوئی ڈپٹی آتھم عیسائی کے متعلق ہے، جس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی

498

میں دعاء کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں، تیرے فیصلے کے سواء کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو جھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۸، ۱۸۹، خزائن ج۶ ص۲۹۱، ۲۹۲)

اس کی بابت تو پوچھنا ہی کیا۔ ان پندرہ ماہ کی مدت ستمبر ۱۸۹۴ء کو ختم ہوئی تھی، مگر آتھم (عیسائی مناظر) بہت پیچھے مرا۔ جس کی تاریخ خود مرزاقادیانی کی تحریر میں موجود ہے جو درج ذیل ہے: ’’مسٹر عبداللہ آتھم صاحب ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور فوت ہوگئے۔‘‘

(انجام آتھم ص۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

مرزاقادیانی کا کمال ہے کہ باوجود فاصلہ ۲۲ماہ ۲۰روز کا ہے، لیکن کس جرأت سے لکھتے ہیں: ’’اگر کسی کی نسبت یہ پیش گوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائے گا، پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینے میں مجذوم ہوجائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی، نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۵، خزائن ج۲۲ ص۱۹۳ حاشیہ)

اس اقتباس میں آتھم کی میعاد کی وسعت تسلیم کر کے کیا خوب جواب دیا ہے۔ معاملہ فہم اصحاب غور کریں کہ مرزاقادیانی کا یہ جواب کہاں تک صحت رکھتا ہے۔ خدا عالم الغیب ہے جس پر کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں، جس کو ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء معلوم ہے تو ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء بھی معلوم ہے۔ وہ کیوں نہ بجائے ۱۵ماہ کے یوں کہے کہ: ’’جھوٹا فریق ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء تک مر جائے گا اور سچا زندہ رہے گا۔‘‘

تاکہ اس کے ملہم کی لوگ تکذیب نہ کریں بلکہ الہام کنندہ کو بھی ساتھ ہی مکروہ الفاظ سے یاد نہ کریں۔ ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی بھی غلط نکلی۔ (مفصل… الہامات مرزا میں)

499

تیسری پیش گوئی

تیسری پیش گوئی بڑی اہم ہے، جس کے متعلق سب سے اوّل مرزاقادیانی نے اعلان کیا تھا کہ اگر محمدی بیگم بنت احمد بیگ ہوشیارپوری میرے ساتھ بیاہی جائے گی، اگر بیاہی نہ گئی بلکہ دوسری جگہ بیاہی گئی تو روز نکاح سے اڑھائی سال میں اس کا خاوند مر کر بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔

(اشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)

اس کے بعد جب اس مسماۃ محترمہ کا نکاح دوسری جگہ ہو گیا تو مرزاقادیانی کو لوگوں نے توجہ دلائی یا طعنہ دیا تو اس نے خداتعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’(خدا نے) فرمایا کہ میں اس عورت (بنت احمد بیگ) کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھادوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔ اب اس عظیم الشان پیش گوئی سے ظاہر ہے کہ وہ کیا کیا کرے گا اور کون کون سی قہری قدرت دکھائے گا اور کس کس شخص کو روک کی طرح سمجھ کر اس دنیاسے اٹھا لے گا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)

اس اقتباس کے ساتھ ہی آپ نے معاملہ بالکل صاف کر دیا جس پر کسی ماؤں یا محرف کی بات ہرگز نہ چل سکے، یہ ہے کہ: ’’نفس پیش گوئی یعنی اس عورت (بنت احمد بیگ) کا اس عاجز (مرزاقادیانی) کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم (ان ٹل) ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ:’’لا تبدیل لکلمات اللہ‘‘یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خداتعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)

مذکورہ عبارات اپنا مطلب بتانے میں بالکل صاف ہیں اور سب کی سب متفق ہیں کہ خاتون موصوفہ مرزاقادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی نہ آئے تو خدا کا الہام جو مرزاقادیانی کو ہوا تھا، غلط ہو جائے گا۔ حالانکہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ممدوحہ قصبہ پٹی ضلع لاہور میں مرزاسلطان احمد صاحب کی زوجیت میں بابرکت آج ۲۴؍مارچ ۱۹۳۴ء تک زندہ

500

ہے اور مرزاقادیانی نکاح کی امید میں یہ شعر پڑھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے ؎

  1. جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال

    اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

نوٹ: باوجود اس کے مرزاقادیانی کے وکیل بالخصومت کہے جاتے ہیں کہ محمدی بیگم کے متعلق مرزاقادیانی نے جس طرح پیش گوئی کی تھی، بعینہٖ اسی طرح پوری ہوئی۔ (مکمل پاکٹ بک احمدی ص ب) کیا ہم اس دعوے کو اس حدیث کے ماتحت سمجھیں۔ ’’اذا لم تستحیی فاصنع ماشئت‘‘ (جب کسی میں حیا نہ ہو تو جو جی میں آئے کرے)

آخری فیصلہ

یہ فیصلہ کوئی زن، زر، زمین کا نہیں بلکہ مرزاقادیانی اور عالم اہل اسلام بلکہ تمام اہل دنیا کے اختلافات کا فیصلہ ہے۔ فیصلہ بھی کوئی انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ قدرتی ہاتھ سے جس کی اپیل نہیں۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی نے سرخی یہ قائم کی:

’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸، ۵۷۹)

ناظرین! ایک نظر اس اشتہار کو ’’فیصلہ مرزا‘‘ میں پڑھ چکے ہیں۔ ہم نے یہاں اسے حذف کر دیا (مرتب)۔ اس میں سوائے دعاء کے کوئی اور لفظ مباہلہ یا محالفہ وغیرہ بھی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ محض دعاء ہلاکت کاذب کے لئے ہے۔ ہاں! اس میں ایک فقرہ یہ بھی قابل غور ہے کہ مرزاقادیانی نے اس میں لکھا ہے کہ یہ کسی الہام کی بناء پر نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر ہے۔ بالکل ٹھیک ہے لیکن بعد دعاء کرنے کے خدا نے اس دعاء کے قبول کر لینے کا الہام ضرور کیا تھا۔ چنانچہ اس بارے میں مرزاقادیانی کی ڈائری کے الفاظ یوں ہیں: ’’ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے، یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی۔ اور رات کو الہام ہوا کہ ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعاء ہی ہے باقی سب اس کی شاخیں۔‘‘

(ملفوظات ج۹ ص۲۶۸، اخبار بدر ج۶، ش۱۷، ص۷،۸ مورخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء)

501

پس ثابت ہوا کہ گویہ دعاء الہام کی بناء پر نہ تھی لیکن بعد دعاء قبول کرنے کا وعدہ الہامی ضرور ہے۔ پھر کیا ہوا یہی کہ مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو انتقال کر گئے اور خاکسار (ثناء اللہ) اس وقت تک زندہ یہ سطور لکھ رہا ہے۔

عذر بارد: چاہئے تو یہ تھا کہ جماعت احمدیہ اس نشان قدرت کو دیکھ کر توبہ کرتی اور مرزاقادیانی کا دامن چھوڑ کر دامن محمدی سے آلپٹتی مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے جواب میں کئی عذر نکالے۔ مجھ کو مباحثہ کا چیلنج دیا بلکہ درصورت فیصلہ ثالث تین سو روپیہ انعام دینے کا وعدہ بھی کیا جسے میں نے منظور کیا اور حسب خواہش ان کے بمقام لدھیانہ فریقین مباحثہ کے لئے پہنچ گئے۔ مباحثہ ہوا یہاں تک کہ حسب فیصلہ ثالث تین سو روپیہ میں نے ان سے وصول کیا۔لہ الحمد!

(اپریل ۱۹۱۲ء) اس مباحثہ کی روئیداد مع فیصلہ ثالث رسالہ ’’فاتح قادیان‘‘ کے نام سے شائع ہے۔ تاہم جماعت احمدیہ بہردوصنف نے انکار پر اصرار کیا۔ عذر یہ کیا اور کرتے رہتے ہیں کہ ۱۸۹۷ء میں مرزاقادیانی نے مباہلہ کا اشتہار دیاتھا اس میں مولوی ثناء اللہ کو بھی دعوت مباہلہ۱؎ دی تھی۔ یہ اشتہار اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اس میں مرزاقادیانی نے مولوی صاحب کو دعوت مباہلہ دی تھی جو مولوی صاحب نے منظور نہ کی۔ لہٰذا مباہلہ نہ ہوا۔ جب مباہلہ نہ ہوا تو الزام کیا؟

اس کا جواب ہم اپنے الفاظ میں نہیں دیتے بلکہ حسب عادت مرزاقادیانی ہی کے الفاظ میں دیتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے ۱۹۰۲ء میں کتاب اعجاز احمدی میں لکھا تھا کہ: ’’ہم موت کے مباہلہ میں اپنی طرف سے کوئی چیلنج نہیں کر سکتے۔ کیونکہ حکومت کا معاہدہ۲؎ ایسے چیلنج سے ہمیں مانع ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۲)

اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کسی شخص کو بھی موت کے مباہلہ کی دعوت نہیں دے سکتے تھے اور اس امر کا کھلے الفاظ میں اظہار کرتے تھے اور ایسا

۱؎مباہلہ کے معنی بقول مرزاقادیانی دونوں طرف سے بددعاء ہوتی ہے۔

۲؎مرزاقادیانی نے ایک مقدمہ میں ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کے سامنے تحریری اقرار کیا تھا کہ میں کسی کو موت کے مقابلہ کی دعوت نہ دوں گا اس وعدہ سے ڈرتے ہیں۔

502

کرنے کو حکومت سے وعدہ شکنی سمجھتے تھے۔ پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اس اشتہار میں مجھے مباہلہ موت کی دعوت دی ہو۔ ہرگز نہیں۔

ناظرین! پھر ایک دفعہ اشتہار مذکور کو پڑھ جائیں۔ دیکھیں کہ سارے اشتہار میں ایک جگہ بھی مباہلہ کا لفظ یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ موجود ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ محض دعاء ہے اور اس کے سواء کچھ نہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی کی زندگی ہی میں قادیانی اخبار بدر میں یہ مضمون شائع ہو چکا ہے کہ: ’’ محض دعاء کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا گیا ہے نہ کہ مباہلہ سے نہیں۔‘‘

(بدر ج۶ نمبر۳۴ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۲۲؍اگست ۱۹۰۷ء)

اس سے بھی واضح تر یہ ثبوت ہے کہ مرزاقادیانی کے انتقال کے بعد قادیان کے ماہوار رسالہ ’’ریویو‘‘ کا جو پہلا پرچہ نکلا تھا، اس وقت خلیفہ قادیان مولوی نورالدین تھے اور رسالہ مذکورہ کے ایڈیٹر مولوی محمد علی (حال امیر جماعت احمدیہ لاہور) تھے۔ اس میں مولوی محمد علی اور مولوی محمد احسن امروہی نے تسلیم کیا ہے کہ یہ اشتہار محض دعاء تھا۔

(ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۷، نمبر۷،ص۲۹۸، بابت ماہ جون و جولائی ۱۹۰۸ء)

پھر اب دعوت مباہلہ کیسے ہوئی؟ اس پہلو میں بھی احمدی جب کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے ایک اور پہلو نکالا وہ یہ ہے:

’’آپ (مولوی ثناء اللہ) نے اخبار اہل حدیث مؤرخہ ۲۹؍مارچ ۱۹۰۷ء میں مرزاقادیانی کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ یہ اشتہار اسی چیلنج کی منظوری ہے۔‘‘

چنانچہ قادیانی پارٹی کا ایک جدید قابل مصنف لکھتا ہے: ’’مولوی ثناء اللہ نے لکھا تھا: مرزائیو! سچے ہو تو اپنے گرو (مرزاقادیانی) کو ساتھ لاؤ، وہی میدان عیدگاہ امرتسر تیار ہے جہاں تم پہلے مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو، اسے ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں مباہلہ کی دعوت دی ہوئی ہے۔ کیونکہ جب تک پیغمبر جی سے فیصلہ نہ ہو سب امت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔ (اہل حدیث ۲۹؍مارچ ۱۹۰۷ء) حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اس چیلنج کو منظور کر لیا اور فوراً ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو دعاء مباہلہ بعنوان ’’مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ شائع فرمائی جس میں آپ نے یہ دعاء فرمائی۔ ’’اب میں تیرے (اللہ) ہی کے تقدس اور رحمت کا دامن

503

پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔‘‘ اور مولوی ثناء اللہ کو لکھ دیا کہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

(مکمل پاکٹ بک ص۴۸۰، ۴۸۱، مصنفہ ملک عبدالرحمن خادم گجراتی)

جواب: اس بیان میں مصنف مذکور نے ہمارا جواب تو جو دیا سو دیا یا اپنی دیانت اور امانت کا پورا مظاہرہ دکھایا۔ باانصاف ناظرین غور سے سنیں۔ اس تاویل سے انہوں نے بزعم خود دونوں پہلو بچا لئے یعنی سرکاری وعدہ شکنی بھی نہ ہوئی اور یہ اشتہار سلسلہ مباہلہ میں بھی آ گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جواب سب جوابوں سے زیادہ غلط اور اس کو پیش کرنے والے سب سے زیادہ دجل اور تعصب سے بھرپور یا اپنے لٹریچر سے بے خبر ہیں۔ کیونکہ میرے کلام منقولہ از اہل حدیث ۲۹؍مارچ ۱۹۰۷ء کے جواب میں مرزاقادیانی نے فرمایا تھا کہ: ’’ہم ثناء اللہ کے ساتھ مباہلہ اس وقت کریں گے جب ہماری کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ چھپ کر شائع ہو جائے گی اور مولوی ثناء اللہ اس کو پڑھ کر ہمیں امتحان بھی دے لے گا۔‘‘ (اخبار الحکم ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء اور اخبار البدر ج۶ک، نمبر۱۴، ص۴ کالم۳ مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء)

اور کتاب حقیقت الوحی کے سرورق پر اس کی تاریخ اشاعت لکھی ہے۔ ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء باوجود اس کے جب مجھے وہ نہ ملی تو میں نے مرزاقادیانی کو بتاریخ ۵؍جون ۱۹۰۷ء کو مطالبہ کا خط لکھا جو مع جواب اخبار بدرقادیان مؤرخہ ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء میں چھپا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وسط جون ۱۹۰۷ء تک کتاب حقیقت الوحی مجھے نہیں ملی تھی۔ پھر مرزاقادیانی نے میری تحریک مباہلہ اور اپنے جواب کے مطابق دو مہینے پہلے یعنی ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو مجھ سے مباہلہ کیوں کر دیا تھا؟ کوئی راست گو یا راست رو ایسا کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

ثابت ہوا کہ یہ اشتہار دعوت مباہلہ یا قبولیت مباہلہ نہیں بلکہ محض دعاء ہلاکت کاذب کے لئے ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے ؎

  1. کھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

    کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

مفصل کے لئے ہمارا رسالہ ’’فیصلہ مرزا اور مباحثہ لدھیانہ فاتح قادیان‘‘ ملاحظہ کریں۔ (مشمولہ جلد ہذا)

504