کہیں تعریف کرنا صرف اس لئے ہے کہ مسلمان ہماری طرف متوجہ ہوں اور
ہمیں اپنا مقتدا مانیں اور ہمارے لئے اپنی جان ومال کو وقف کریں کیوں
اس وقت تک مسلمانوں کے سوا کسی اہل مذہب نے انہیں نہیں مانا صرف
مسلمان ہی ان کے دام میں آئے۔
اب اگر حضور انورa کی تعریف کرکے انہیں خوش نہ کریں تو وہ بھی ہاتھ
سے نکل جائیں۔ مگر کہیں کہیں ان کا دلی خیال ظاہر ہوتا ہے۔
۴…’’صاحب شریعت نبی ہوں۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶ حاشیہ خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
’’جناب رسول اﷲa میں اور مجھ میں کچھ فرق نہیں ہے جس نے فرق کیا اس
نے مجھے نہیں پہچانا۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۲۵۹خزائن ج۱۶ ص۲۵۹)
’’جس نے مجھے قبول نہیں کیا جہنمی ہے‘‘
(تذکرہ ص۱۶۳ و ۳۳۶طبع ۳، ص۱۳۰ و ۲۸۰طبع۴)
’’مرزا کا منکر کافر ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۷۹ خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)
پہلے جناب رسول اﷲa کے خادم اور ظل ہونے کا دعویٰ تھا اس کے بعد
برابری کا دعویٰ ہوا اور متعدد آیتیں اور بعض حدیثیں جو جناب رسول
اﷲa کی مدح میں آئی ہیں انہیں مرزا قادیانی نے اپنے لئے بتایا ہے۔
۵…’’بعض انبیا ء سے افضل ہوں اس رسالہ میں لکھا گیا ہے کہ مرزا
قادیانی کہتے ہیں میں حضرت مسیح علیہ السلام سے ہر شان میں بہت بڑھ
کر ہوں۔‘‘
اب خواجہ کمال الدین قادیانی فرمائیں کہ انہیں اپنے مرشد کے اس قول
پر ایمان ہے یا نہیں۔ اگر ایمان ہے تو آپ کا یہ کہنا کہ ہم انہیں نبی
نہیں مانتے بالکل غلط ہے۔ آپ ضرور انہیں نبی مانتے ہیں۔ کیوں کہ یہ
نہایت ظاہر ہے کہ کوئی غیر نبی ایسے عظیم المرتبت نبی پر فضیلت نہیں
رکھ سکتا۔ آپ جب انہیں حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل مانتے ہیں تو
انہیں نبی ضرور مانتے ہیں۔ مگر دنیاوی مصلحت سے دلی اعتقاد کے خلاف
ظاہر کرتے ہیں۔
اس دعوے کے اثبات میں مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص۱۱۵ خزائن ج۲۲
ص۱۵۹) میں لکھا ہے کہ ’’جب خدا نے اور اس کے رسولa نے اور تمام نبیوں
نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے
تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم
سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
اس قول کا صاف مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ خداتعالیٰ نے قرآن مجید میں اور
اس کے