عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

احتساب قادیانیت جلد 7

یہ کتاب خیرالقرون کے زمانہ سے اس دور کے ملعون مرزا قادیانی تک کے تمام جھوٹے مدعیان نبوت کے سچے حالات پر مشتمل ہے، حضرت مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے، آپ کو حق تعالیٰ نے علم نافع نصیب فرمایا تھا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت (۷)
مصنف : حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
صفحات : ۵۷۶
مطبع : طیب شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور
طبع اوّل : اگست ۲۰۰۲ء
طبع دوم : اگست ۲۰۲۲ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض مرتب

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، اما بعد!

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کا وجود قادیانی امت کے لئے درہ عمر کی حیثیت رکھتا تھا۔ رد قادیانیت کے عنوان پر کام کرنے والے حضرات کے لئے مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کی حیثیت آئیڈیل شخصیت کی ہے۔ آپ نے اس عنوان پر وہ گراں قدر خدمات سرانجام دیں ہیں جو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لئے مشعل راہ اور فتنہ قادیانیت کے لئے سوہان روح ہیں۔ ان کے وجود سے اﷲ تعالیٰ نے فتنہ قادیانیت پر اتمام حجت کا کام لیا۔ وہ بلاشبہ اپنے دور میں امت مسلمہ کے لئے آیت من آیات اﷲ تھے۔ آپ کے رد قادیانی پر چودہ رسائل و کتب ہمیں میسر آئے جن کے نام یہ ہیں:

(۱) مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ۔ (۲) مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و افضلیت۔ (۳) عبرت خیز۔ (۴) فیصلہ آسمانی حصہ اول۔ (۵)تتمہ فیصلہ آسمانی حصہ اول۔ (۶) فیصلہ آسمانی حصہ دوم۔ (۷) فیصلہ آسمانی حصہ سوم۔ (۸) دوسری شہادت آسمانی۔ (۹) تنزیہ ربانی از تلویث قادیانی۔ (۱۰) معیار صداقت۔ (۱۱) حقیقت المسیح۔ (۱۲) معیار المسیح۔ (۱۳) ہدیہ عثمانیہ و صحیفہ انواریہ۔ (۱۴) حقیقت رسائل اعجازیہ مرزائیہ۔

ان میں سے پہلے تین صحائف رحمانیہ پر مشتمل احتساب قادیانیت جلد پنجم میں شائع ہوگئے ہیں، فلحمدﷲ! باقی گیارہ کا مجموعہ احتساب قادیانیت جلد ہذا (ہفتم) ہے۔ آپ کا ایک رسالہ شہادت آسمانی حصہ اول بھی ہے۔ جسے خود مصنف مرحوم نے دوسری شہادت آسمانی میں مکمل سمودیا ہے۔ اس لئے دوسری شہادت آسمانی کے ہوتے ہوئے حصہ اول تکرار کے باعث اس فہرست سے خارج کردیا ہے۔ احتساب قادیانیت کی اس جلد کے پیش کرنے پر توفیق ایزدی کے شکر گزار ہیں۔ جماعتی رفقاء سے درخواست ہے کہ وہ اس عنوان پر مزید کام جاری رکھنے کے لئے بار گاہ خداوندی میں ہمارے لئے دعا فرمائیں۔ اﷲ تعالیٰ اس کام کو قبول فرمائیں۔آمین بحرمۃ النبی الکریم!

محتاج دعاء: فقیر، اﷲ وسایا ملتان

۱۱؍جمادی الثانی۱۴۲۳ھ،۲۰؍اگست ۲۰۰۲ء

4

فیصلہ آسمانی

درباب مسیح قادیانی

حصہ اول

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

5

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللّٰہم ارنا الحق حقّا وارزقنا اتباعہ والباطل باطلا ویسر لنا اجتنابہ، آمین بحرمۃ سید المرسلین محمدa واٰلہ واصحابہ اجمعین۔

مسلمانو! اسلام کے لئے یہ وقت نہایت نازک ہے ہوشیار ہو جاؤ۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرب قیامت کی علامتوں میں ایک علامت یہ ہے کہ ہر ذی رائے اپنی رائے پر فخر کرے گا اور اسے بڑی سمجھے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی عقل رکھتے ہیں وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگیں گے۔ اب ا س کے بہت مراتب ہیں۔ اہل علم دیکھ رہے ہیں کہ نہایت کم فہم اپنے تئیں بڑا فہمیدہ سمجھتے ہیں، بہت کم علم اپنے تئیں دین کا بڑا ماہر خیال کررہے ہیں، گم راہ ہیں اور اپنے کو ہادی کہہ رہے ہیں۔ اب جس کے دل میں کبر کے تخم نے اس سے زیادہ نشوونما کیا وہ اپنے تئیں مجدد وامام کہنے لگا۔ اگر اس سے بھی زیادہ اس نے ترقی کی تو اس نے مہدی اور عیسیٰ ہونے کا دعوی کردیا۔ اور یہ کچھ ہندوستان ہی پر منحصر نہیں یورپ میں بھی کئی جگہ مسیحیت کا دعویٰ کرنے والے موجود ہیں اور بہت لوگ ان کے ماننے والے بھی ہوگئے ہیں۔

ہندوستان میں مرزا غلام احمد ساکن قادیان پنجاب ہیں ان کے قلب میں بہت زیادہ مادہ پایا جاتا ہے جس کے پھیلنے کی خبر حدیث مذکور میں ہے کیونکہ مرزا قادیانی اسی قدر نہیں کہتے کہ میں امام وقت یا مجدد وقت ہوں بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ نہایت عظیم الشان تقدس کا دعوی کرتے ہیں یعنی اولوالعزم رسول ۱؎ہونے کا اور اور صراحت کے ساتھ بعض انبیاء سے اپنے تئیں افضل کہتے

۱؎

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور رسالت اور اولوالعزم رسول ہونا ان کے متعدد رسالوں سے نہایت ظاہر ہے، (توضیح مرام ص ۱۸، خزائن ج ۳ص۶۰) میں ہے ’’میں نبی ہوں میرا انکار کرنے والا مستوجب سزا ہے ‘‘ (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج ۱۸ ص۲۳۱) میں ہے ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ ‘‘اور قصیدہ اعجازیہ میں بہت جگہ رسالت کا دعویٰ ہے، (دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج ۱۸ ص۲۳۳) میں لکھا ’’خدا نے اِس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھکر ہے اور اُس نے اِس دُوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ ‘‘ اب اس پر غور کیا جائے کہ حضرت مسیح اولوالعزم رسولوں میں ہیں صاحب کتاب ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے ہر شان کو ان سے بہت بڑھ کر کہتے ہیں اس لئے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اولوالعزم رسول سے بھی اپنا مرتبہ زیادہ سمجھتے ہیں۔ بعض وقت حضرات مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے اور جہاں کہیں کہا ہے اس سے مقصود ظلی نبوت ہے اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ نبوت ورسالت سے شرعی اصطلاح یہاں مراد ہے اس لئے قرآن وحدیث میں کہیں ظلی نبوت کو دکھانا چاہئے ورنہ عوام کو محض دھوکا دینا ہے اور جب حضرت مسیح علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہیں تو پھر ظلیت کیسی ؟ اب تو مستقل رسول سے بھی شان بڑھ گئی بھائیو ! ذرا غور کرو قادیانی کے مختلف اقوال سے پریشان نہ ہوں۔

6

ہیں بعض باتوں میں۱؎ حضرت سید المرسلینﷺ سے بھی (نعوذباللہ) اپنے تئیں بڑھ کر سمجھتے ہیں مثلا دجال وغیرہ کی حقیقت ’’کما ینبغی‘‘ آنحضرتa پر منکشف نہیں ہوئی تھی مرزا قادیانی پر ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو صریح اہانت کے کلمات لکھے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض وقت مجھ پر منکشف ہوا کہ بالیقین میں خدا ہوں اور یہ بھی الہام ہوا کہ ’’کن فیکون‘‘ کا مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ یہ باتیں میرے نزدیک شریعت حقہ محمدیہa کے بالکل خلاف ہیں اور دیکھتا ہوں کہ ایک جماعت اسلام نے اس خطرناک راہ کو اختیار کرلیا ہے اور یہ بھی خوف ہے کہ کچھ اور مسلمان بھی اس ہلاکت میں پڑیں۔

اس دعوی پر توجہ کرنے والے اور نہایت دل سے خیال کرنے والے امت محمدیہ میں تین گروہ ہوسکتے ہیں: (۱) اولیائے امت، (۲) علمائے امت، (۳) عامۂ مؤمنین امت۔

اور حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مہدی ؓ کے آنے کی خبریں حدیثوں میں اس قدر آئی ہیں اور مشہور ہیں کہ ہر خاص وعام جانتا ہے مگر شاذ ونادر اور بہت سے سچے مسلمان ان کے منتظر ہیں خصوصا اس نازک وقت میں کہ مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی ہر طرح کی حالت نہایت خراب بلکہ معرض زوال میں ہورہی ہے ایسے وقت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کا مزدہ نہایت ہی مسرت بخش ہوسکتا ہے۔ مگر ہر ایک گروہ نے یہ بھی معلوم کیا ہے اور تاریخ کی کتابیں بھری ہیں کہ اس کے قبل بھی کتنوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض نے مسیح ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور ہر ایک نے اپنے خیال کے موجب سچائی کی دلیلیں پیش کیں اور بہت ماننے والوں نے انہیں مان بھی لیا مگر اس وقت تک بالاتفاق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سب جھوٹے تھے اس لئے ہر ایک گروہ امت محمدیہa کو ضرور ہے کہ اب جو ایسے عظیم الشان امر کا دعویٰ کرے اسے وہ نہایت سچے معیار سے جانچیں جس سے وہ جانچ سکتے ہیں اور سچائی و غیر سچائی کو معلوم کرسکتے ہیں۔

معلوم کرنے کااوّل طریقہ

میرے خیال میں اس کے معلوم کرنے کے لئے بھی تین طریقے ہیں اول وہ جو مخصوص اولیائے امت سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلب میں ایسا نور عنایت کرتا ہے جس کے

۱؎

جس وقت میں نے یہ رسالہ لکھا تھا اس وقت اسی قدر مجھے اطلاع ہوئی تھی کہ مرزا قادیانی کو فضیلت جزئی کا دعویٰ ہے مگر جب ان کی تصانیف پر نظر کی گئی تو معلوم ہوا کہ انہیں فضیلت کلی کا دعویٰ ہے اور اپنے تئیں افضل الانبیاء سمجھتے ہیں۔اسی کی تفصیل میں میں نے رسالہ لکھا ہے ’’دعویٔ نبوت مرزا‘‘ جس کا نام ہے۔

7

ذریعہ سے وہ بہت کچھ معلوم کرسکتے ہیں خصوصا انسان کی اچھی یا بری حالت کو بخوبی جان سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سے رابطہ قوی ہے وہ تھوڑے تأمل سے معلوم کرلیتے ہیں کہ فلاں شخص کو اللہ سے ایسا رابطہ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور مہدی کی حالت ان پر ہرگز چھپی نہیں رہ سکتی مگر اب وہ وقت ہے کہ ایسی بات منہ سے نکالنا ایک مضحکہ ہے اس لئے میں اسے زیادہ نہیں لکھنا چاہتا اور ان حضرات کو معذور سمجھتا ہوں کیونکہ گولر کے اندر کا کیڑا اسی گولر کو آسمان اور زمین خیال کرتا ہے اس سے زیادہ ا س کا حوصلہ نہیں ہوسکتا۔ اس وقت ظاہر بینی کا زور وشور سے دورہ ہے امور باطنیہ لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں اس لئے اس کے انکار سے وہ معذور ہیں، الغرض اس گروہ میں سے کسی نے مرزا قادیانی کو برگزیدۂ خدا بھی نہیں مانا اور حضرت مہدی ومسیح تو بہت بڑا رتبہ رکھتے ہیں۔

دوسرا طریقہ

دوسرا طریقہ معلوم کرنے کا دلیل ہے۔ یعنی آثار وحدیث میں جو علامتیں ان حضرات کے وجود کی ہیں وہ جن میں پائی جائیں وہ مسیح ومہدی ہوں گے۔ یہ طریقہ علمائے امت سے مخصوص ہے۔ وہ جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ جن روایتوں میں حضرت مسیح اور امام مہدی کے آنے کا ذکر ہے ان میں ان کی علامتیں بھی بیان ہوئی ہیں۔ ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئی۔ مگر اس طریقے میں بہت جھگڑے ہیں۔ اول تو ان حدیثوں کے صحیح اور غیر صحیح ہونے میں قادیانیوں کا جھگڑا، پھر اس کے معنی میں جھگڑا پھر یہ جھگڑا کہ جن مسیح کے آنے کا وعدہ ہے وہ وہی ہیں جو پہلے آچکے ہیں یا کوئی دوسرے ہوں گے۔ ان سب کے علاوہ ان باتوں کے سمجھنے والے خاص اہل علم ہی ہوسکتے ہیں اور اس طریقے سے عام کو فائدہ نہیں ہوسکتا ہے اور پھر یہ طریقہ اس قدر طول وطویل ہے کہ اس کے لکھنے کے لئے دفتر عظیم چاہئے، اس لئے میں اس طریقہ کو بھی اس وقت چھوڑتا ہوں۔ البتہ ایک مختصر بات عام فہم کہنا چاہتا ہوں اسے ملاحظہ کیا جائے۔

حضرت مسیح کے آنے کی خبر جناب سید المرسلینﷺ نے دی اور صحابہؓ اور تابعین اور تمام علمائے دین نے اس پر یقین کیا اس سے ظاہر ہے کہ بڑی مہتم بالشان خبر ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اور شان صرف اسی وجہ سے ہے کہ ان کی ذات مقدس سے دینی فائدہ بہت کچھ ہوگا، مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت ان کی برکت سے درست ہوجائے گی۔

صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں بغض وعداوت نہ رہے گا

8

روپئے پیسے کی یہ کثرت ہوگی کہ کسی مسلمان کو ہدیہ اور تحفہ لینے کی طرف توجہ نہ ہوگی، دنیا بھر میں دین اسلام کو غلبہ ہوگا ان میں سے کسی بات کاشائبہ بھی مرزا قادیانی کے وجود سے نہیں پایا گیا بلکہ سب باتیں برعکس ہیں۔ غور سے دیکھا جائے کہ مسلمانوں میں کس قدر بغض وعداوت ہے؟ کس قدر افلاس ہے؟ اور دنیا میں کس قدر تفرق ادیان ہے؟ اور پھر یہ کہ اسلام کس قدر ضعیف ہوگیا ہے۔اور اگر قادیانی جماعت یا کوئی صاحب ان حدیثوں پر نظر نہ کریں یا کچھ بے تکے معنی لگائیں تو اس قدر فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے آنے سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوا؟۔

میں نہایت یقین اور زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ باوجود نہایت کوشش کے کوئی عیسائی مسلمان نہیں ہوا، کوئی دہریہ ایمان نہیں لایا، کوئی ہندو کوئی آریہ یا کوئی اور مذ ہب والا اسلام سے مشرف نہیں ہوا۔ ہاں!دنیا میں جو تخمیناچالیس کروڑ مسلمان شمار کئے جاتے تھے وہ سب۱؎ کافر ومردود ہوگئے، ان میں سے صرف چند ہزار یا کئی لاکھ مسلمان رہ گئے۔ سابق کے لحاظ سے اس کہنے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا کہ مرزا قادیانی کے وجود سے اسلام ایسا غریب ہوگیا کہ گویا مٹ گیا اور مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت جو خراب تھی اسے روز بروز ترقی ہے۔ اس پر طرہ یہ ہوا کہ جس قدر مرزا قادیانی کو ترقی ہوئی اسی قدر امراض عامہ طاعون وغیرہ کو ترقی ہوئی ؛ یہا ں تک کہ کسی سال امن و عافیت سے لوگ نہیں بیٹھ سکتے۔ پھر جن کی ذات سے اسلام کی اور مسلمانوں کی یہ حالت ہوجائے انہیں کون ذی عقل مسلمان مسیح مان سکتا ہے۔ ؟ خدا کے لئے اس میں تھوڑا سا تامل کرو۔

مرزائی جماعت کے لوگوں کو مرزا قادیانی کی حیات میں بھی دیکھا اور ان کے حالات سنے اور اب انہیں انتقال کئے بہت تھوڑا زمانہ ہوا ہے، مگر ان میں صلاح وتقوی کا نشان نہیں پایا۔ ان کی صورت، ان کی حالت یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے قلب تک شریعت محمدیہ کانور نہیں پہنچا۔

جیسے بے قید نام کے مسلمانوں کی حالت ہے ویسے ہی وہ ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے تئیں امام وقت اور رسول وقت کا صحبت یافتہ بلا واسطہ یا بالواسطہ کہتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی اپنے دعوی میں سچے ہوتے تو ان کے صحبت یافتہ زمانہ کے لوگوں سے نرالا ڈھنگ رکھتے کہ ہر طرف سے قبولیت کی نگاہ ان پر پڑتی مگر حالت برعکس ہے۔

۱؎

اس کے ثبوت میں مرزا قادیانی کے فرزند اور ان کے خلیفہ نے خاص رسالہ لکھا ہے، تشحیذ الاذہان ج ۶،ش ۴، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء میں ملاحظہ کیا جائے۔

9

تیسرا طریقہ

تیسرا طریقہ دریافت کرنے کا یہ ہے کہ جو شخص ایسے عظیم الشان امر کا مدعی ہوا ہے اس کے ذاتی حالات کو معلوم کریں اور اس میں عاقلانہ طور سے انصاف کے ساتھ نظر کریں اور اس کے اقوال وافعال کو منہاج نبوت پر جانچیں۔ یہ طریقہ ایسا ہے کہ ہر ایک ذی فہم اس سے کام لے سکتا ہے اورخاص وعام اس سے نتیجہ نکال سکتے ہیں۔ اگر اس کے حالات ایسے نہ ہوں جیسے بزرگ مقدس حضرات کے ہونے چاہئیں تو پھر کسی دلیل اور کسی نشان کے تلاش کی حاجت نہیں ہے، اسے سمجھ لیں کہ یہ اپنے دعویٰ میں کاذب ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ سچائی میں سب سے اول درجہ رکھتا ہے یا نہیں ؟اگر ذرا بھی سچائی میں گرا ہوا پائیں تو اس سے اجتناب کریں۔ میں نے اس رسالہ میں اسی طریقہ کو اختیار کیا ہے کہ خاص وعام اس سے مستفید ہوں اور بذات خود فیصلہ کرسکیں، مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ :

’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محکِ امتحان نہیں ہوسکتا‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام ص۲۸۸، خزائن ج ۵ص ۲۸۸)

اس لئے میںنے ان کی پیشگوئیوں پر نظر کرنا مناسب سمجھا اور پیشگوئیوں میں سے اس پیشگوئی کو اختیار کیا جو ان کے نزدیک نہایت ہی عظیم الشان ہے اور جس کی شرح سے ان کے ذاتی تقدس کا حال، طالب حق نہایت روشن دلیل سے معلوم کرسکے۔ مرزا قادیانی کے رسالہ شہادۃ القرآن سے ظاہر ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے متعلق جو مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی ہے وہ بہت ہی عظیم الشان ہے اس لئے میں اسی کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

چونکہ عظیم الشان نشان کا سترہ برس تک امتحان رہا اس لئے مرزا قادیانی کو اس کی نسبت مختلف طور سے الہامات ہوتے رہے ہیں، ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ مرزا قادیانی کا’’نکاح اس لڑکی سے آسمان پر ہوگیا ‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۳خزائن ج ۲۲ص۵۷۰)

اس وجہ سے وہ لڑکی منکوحۂ آسمانی کے لقب سے مشہور ہے۔ اب میں ان واقعات کے بیان کرنے سے پہلے نہایت زور اور سچائی سے کہتا ہوں کہ اس منکوحۂ آسمانی کی نسبت جو واقعات ہوئے ہیں اور جو باتیں ان کی زبان وقلم سے نکلی ہیں اور جو حالتیں اس سے ظاہر ہوئی ہیں وہ اس عظمت اور مرتبت کے بالکل برخلاف ہیں جس کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ اور انبیاء علیہم السلام کے تقد س کی تو بڑی شان ہے اور اولیاء اللہ بلکہ ادنیٰ ولی کو بھی دنیا کی کسی چیز سے

10

ایسا تعلق نہیں ہوسکتا جیسا تعلق مرزا قادیانی کو ایک معمولی عورت سے ہوا اور اس کی وجہ سے بہت سی خلاف شان باتیں ان سے ہوئیں۔ میں نہایت سچائی اور خیر خواہی سے برادران اسلام کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس قصہ کے متعلق واقعات پر جو سچا طالب حق نظر کرے گا اس کی قوت ممیزہ اس کی انصاف پسندی بے اختیار کہہ اٹھے گی کہ مرزا قادیانی اپنے دعوی میں بالکل جھوٹے ہیں اور جن کے دلوں پر تعصب کاپردہ پڑا ہے اور جو اپنی غلطی اور نافہمی اور کم علمی سے پھنس کر اب بے جا غیرت اور اپنی بات کی پچ اور ہٹ دھرمی پر آمادہ ہوگئے ہیں یا ان کو اور کوئی مخفی دنیاوی فائدہ اس میں حاصل ہوتا ہے ان سے ہمارا خطاب نہیں ہے ہم کو امید ہے کہ بہت سے گم گشتہ بہت سے متحیر وپریشان اس تحریر سے ہدایت پائیں گے اور ان کے دلوں کو کامل تسلی ہوگی’’وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ بِعَزِیْزٍ‘‘ (ابرٰھیم:۲۰) اس رسالہ کا نام فیصلہ آسمانی رکھا گیا اور تین حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصہ میں خاص منکوحہ آسمانی کا ذکر ہے اور دوسرے و تیسرے حصہ میں اس کی متعلقات کا اور ضمنا ان کے کذب کی اور باتیں بھی بیان ہوئی ہیں۔

اس عظیم الشان پیشگوئی کے غلط ہونے کے بعد جو باتیں خود مرزاغلام احمد قادیانی نے اور ان کے مریدین نے بنائی ہیں اور انہیں جواب قرار دیا ہے ان کا غلط اور محض غلط ہونا بطور اجمال اور تفصیل ہر طرح ان تین حصوں میں بیان کیا گیا ہے خاص منکوحۂ آسمانی کے متعلق جو کچھ کہاگیا ہے اس کا جواب اسی حصہ میں پورے طور سے دیا گیا ہے۔ پھر تیسرے حصہ میں اس کی زیادہ تفصیل کردی گئی ہے اور اس قدر لکھا گیا ہے کہ کسی طالب حق کو دیکھنے کے بعد مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں تامل نہیں ہوسکتا۔ ا ب بعض حق پوش حضرات کا یہ کہہ دینا کہ یہ وہی پرانی باتیں ہیں جن کا جواب دیا گیا ہے ناواقفوں کو دھوکہ دینا ہے میں نہایت استحکام اور یقین سے کہتا ہوں کہ اس غلط پیشین گوئی کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا، یہ پیشگوئی بلاشک وشبہ یقینا غلط ہوئی اور جو کچھ اس کے جواب میں باتیں بنائی جاتی ہیں وہ محض غلط ہیں ان کی غلطی آفتاب نیم روز کی طرح روشن کردی گئی ہے اور مرزا قادیانی کے وہ اقوال نقل کردیئے گئے ہیں جن سے تمام جوابات غلط ہوجاتے ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کے کذب کی یہ نہایت روشن دلیل ہے اور ایسی دلیل ہے کہ عام وخاص سب اسے بخوبی سمجھ سکتے ہیں اس لئے اس کو پیش کیاگیا اورپیش کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے غلط ہونے کا اقرار کریں اور بموجب آسمانی کتابوں کے مرزا غلام احمد قادیانی کو کاذب مانیں یا ہماری باتوں کا جواب دیں مگر ہم بالیقین کہتے ہیں کہ جواب نہیں دے سکتے۔

11

قادیانی جماعت خوب سمجھ لے کہ یہ عوام کا مناظرہ نہیں ہے کہ کبھی یہ کہہ دیا اور کبھی وہ کہہ دیا کوئی بات طے نہ ہوئی اور عوام مشتبہ ہو کر رہ گئے، الغرض اس بحث کے طے ہونے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق جس بحث کو چاہیں قادیانی جماعت کے ذی علم پیش کریں اس طرف سے جواب دیا جائے گا اور ان شاء اللہ ایسا جواب دیا جائے گا کہ آنکھیں کھل جائیں گی۔ ہمارے مخاطبین ذرا نظر اٹھا کر دیکھیں کہ دنیا میں کس قدر مذاہب باطلہ ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں اور اہل حق نے ان کے رد میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا ؛پھر کیا اس مذہب کے ماننے والوں نے کسی اہل حق کی سنی، اور حق کو قبول کیا ہر گز نہیں، اور شاذ ونادر کا اعتبار نہیں۔

خیال کیا جائے کہ تثلیث پرستی اور بت پرستی کیسی بدیہی البطلان چیز ہے مگر اس کے ماننے والے اپنی جان دے دیتے ہیں مگر اپنا مذہب اور اپنا عقیدہ نہیں چھوڑتے۔ پھر کیا ان کیپختگی اور اپنے خیال سے نہ ہٹنا ان کے مذہب کی حقانیت اور سچائی کی دلیل ہوسکتی ہے ؟ ہر گز نہیں بلکہ اس کی یہ وجہ ہے کہ جن کے لئے شقاوت ازلی نے ہاویہ میں جانے کا فیصلہ کردیا ہے جن کے دلوں پر مہر لگادی ہے وہ حق بات کو کبھی نہیں قبول کرسکتے۔

ملاحظہ کیا جائے کہ دہریہ اور لامذہب کی ہدایت کے لئے اصحاب مذہب نے بہت کوشش کی پھر کیا وہ اپنے خیال سے کچھ بھی ہٹے ؟ کبھی نہیں، دیکھو ! اس وقت یورپ میں کس زور وشور سے لامذہبی پھیل رہی ہے اور اس کا نمونہ ہندوستان میں بھی شروع ہوگیا ہے۔ عیسائی، ہنود، آریہ کے راہ راست پر لانے کے لئے مسلمانوں نے بہت کچھ کوشش کی، سچائی اور حقانیت کو بہت کچھ روشن کرکے دکھلایا، دین حق کے ثبوت میں اور باطل کے ابطال میں بہت کتابیں لکھیں مگر یہ بتایئے اورخوب تحقیق کرکے جواب دیجئے کہ کتنے آریہ،ہندو، عیسائی مناظرہ کی کتابیں دیکھ کر مسلمان ہوئے غالبا دس بیس کا نام بھی آپ سارے ہندوستان میں نہ بتائیںگے۔ اب مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کی کوشش کو ملاحظہ کیجئے کہ ان کے جواب میں کتنے رسالے اور اشتہارات لکھ کر شائع کئے۔

عیسائیوں سے مناظرہ بھی کیا ایک رسالہ انگریزی میں ماہوار تمام یورپ وہند میں برسوں سے شائع ہورہا ہے اب مسیح جدید کے مقلد فرمائیں کہ کتنے قدیم مسیحی مرزاقادیانی پر ایمان لائے اور کتنے آریہ قادیانی ہوئے؟ واقف کار حضرات خوب جانتے ہوںگے کہ اتنی کوشش پر بھی دس بیس آریہ یا عیسائی ان کے مناظرہ سے قادیانی نہیں ہوئے بلکہ ان کی مسیحیت

12

اور نبوت کی زندگی ہی میں خاص ان کے وطن پنجاب میں عیسائی اور آریہ کی ترقی بہت کچھ ہوئی اور ان کے خلیفہ اور حوارئین کے روبرو ہورہی ہے۔ اور کس قدر الحاد وزندقہ اور گمراہی اور تفرق ادیان کا زور وشور ہے کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ایسی حالت رہے گی؟ ذرا آنکھیں کھول کر احادیث صحیحہ کو دیکھو اگر حق طلبی کی نظر سے دیکھو گے اور کجروی سے بچوگے تو مثل آفتاب کے تم پر روشن ہوجائے گا کہ مرزاقادیانی اپنے دعویٰ میں ہرگز سچے نہیں ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کسی کافر کو مسلمان نہ کیا؛ البتہ بہت سے مسلمانوں کو گمراہ کردیا اور تیرہ سو برس کے مسلمین کو دائرہ اسلام سے خارج کردیا۔ حاصل یہ ہوا کہ دنیا میں جو منکر اور کافر تھے وہ تو ویسے ہی رہے اور جو مسلمان تھے مرزاغلام احمد قادیانی نے انہیں بھی۱؎ کافر کردیا۔ نزول مسیح کا یہ نتیجہ ہوا۔

محمدی بیگم کا اصل قصہ

اس تمہید کے بعد اصل قصہ کو ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی کے قرابت مندوں میں ایک لڑکی تھی جس کا نام محمدی بیگم ہے، وہ ان کے۲؎ پسند آگئی اور منظور نظر ہوگئی۔ مگر وہ قرابت مند، مرزا قادیانی کیاس دعوے اور رتقدس کے نہایت مخالف تھے، اس لئے مرزا قادیانی کی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ نکاح کا پیام بھیجیں۔ اول تو مرزا قادیانی بوڑھے اور اہل وعیال والے تھے؛ اس پر مذہبی مخالفت ہو، گویا پھر تو کریلااور نیم چڑھا ہوگیا۔

۱؎

(تذکرہ ص۶۱،۹۶،۱۰۳،طبع سوم ) میں مرزا قادیانی کا الہام عربی میں یہ ہے: ’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیرے پیرووں کو کافروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔‘‘ اس میں مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کو صاف طور سے کافر بیان کیا ہے اس میں مسلمان اور غیر مسلمان سب شامل ہیں۔ خلیفۃ المسیح کا خط الحکم مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۸۹۱ء میں چھپا ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ: ’’اگر کسے شکے آرد در شان او (یعنی مرزا غلام احمد ) آں کافر است ۔‘‘ اور مرزا قادیانی جب اپنے الہامات کو ایسا ہی یقینی من جانب اللہ کہتے ہیں جیساقرآن مجید ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص۲۱۱، خزائن ج ۲۲ ص۲۲۰) تو باالضرور ان کے منکر کو ایسا ہی کافر کہیں گے جیسا قرآن مجید کے منکر کو کافر کہا جاتا ہے۔

۲؎

(اگر چہ حضرات مرزائی اس جملے کو دیکھ کر ناخوش ہوںگے اور خدا جانے کیا کچھ کہیں گے مگر مرزا قادیانی کے تمام حالات دیکھنے سے اس میں ذرا شبہ نہیں رہتا)

13

اب کیا امید ہوسکتی تھی کہ لڑکی کے والدین اس رشتہ کو قبول کریں۔ کچھ عرصہ تک تو مرزا قادیانی کو اس کے اشتیاق میں دم بخود رہنا پڑا، مگر حسن اتفاق سے اس لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ کو ایک ضرورت مرزا قادیانی سے پیش آئی، وہ بھی مالی ضرورت، جس کا ذکر آئے گا، اب مرزا قادیانی کو موقع ملا اور وحی والہام کی بھر مار شروع ہوئی۔ پہلے نکاح کا پیغام بڑی شان سے بھیجا گیا، الہامی پیام تھا اس کے قبول کرنے پر بہت کچھ ترغیبیں دی گئیں اور انکار کی تقدیر پر خوفناک باتوں سے ڈرایا گیا، مگر اس کے والدین اور اس کے دوسرے اقرباء نے نہایت مضبوطی اور حقارت سے انکار کیا اور اس لڑکی کا نکاح دوسرے شخص سے پڑھادیا، سلطان محمد بیگ اس کا نام ہے۔ مگر جس طرح طالب دل دادہ کو کسی وقت محبوب اور مطلوب کے ملنے سے مایوسی نہیں ہوتی اسی طرح مرزا قادیانی کو اس کے نکاح کے بعد بھی مایوسی نہیں ہوئی اور ان کی قوت متخیلہ نے یہ خیال پختہ کیا کہ اس کا میاں مرے گا اور بیوہ ہوکر یہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔ اس خیال پختہ کو وہ الہام سمجھے اور الہام کا غل مچانا شروع کیا کہ یہ لڑکی بیوہ ہوگی اور میرے نکاح میں آئے گی۔ کسی وقت خیال عالی زیادہ بلند ہوا تو یہ فرمادیا کہ خدائے تعالیٰ نے آسمان پر میرا نکاح اس سے کردیا ہے۔

یہاں وہ قصہ قابل ذکرہے جو انگریزی اخباروں میں شائع ہوا ہے کہ ولایت لندن میں یا اس کے قریب ایک انگریز نے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور بہت لوگ اسے مان چکے ہیں اور ایک ایسا عمدہ اور بڑا گرجا بنوایا ہے کہ لندن میں اس کی نظیر نہیں ہے۔ اس سے ایک نوجوان لیڈی پھنس گئی، اس کے لڑکا ہوا، حسب دستور ملک رجسٹرار لکھنے آیا اور لیڈی سے دریافت کیا کہ تیرا نکاح کب ہوا ہے اس نے جواب دیا کہ عالم ارواح میں خدا تعالیٰ نے نکاح پڑھایا ہے۔ پھر وہ عیسیٰ بلائے گئے اور ان سے کہا گیا کہ تمہاری بیوی تو فلاں ہے یہ کیسی ؟ جواب دیا کہ یہ روحانی بیوی ہے اور وہ جسمانی ہے۔ رجسٹرار ان جوابوں سے بہت ناخوش ہوا اور ان دونوں کو بہت برا خیال کیا۔ مدعی نبوت نے قیافہ سے اس کا خیال معلوم کرکے اس سے کہا کہ چل کر ہمارا چرچ دیکھو پھر کچھ کہنا؛ وہ گیا جب دیکھ کر لوٹا تو اس کا وہ بد خیال نہ رہا اور عقیدت مند ہوگیا۔

ان دونوں کے جواب مرزا قادیانی کے جوابوں سے کم مرتبہ نہیں اور مرزائیوں کی حالت اس رجسٹرار کے بہت مشابہ ہے، اگر انصاف سے دیکھا جائے۔ پھر مرزا قادیانی نے مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے اپنے الہام کا یقین لوگوں کو دلانا چاہا اور اپنے مخالفین کو نہایت خوفناک دھمکیوں سے ڈرایا مگر لڑکی کے والدین اور دوسرے اقرباء ایسے مستحکم اور قوی الایمان تھے

14

کہ نہ کسی لالچ میں آئے نہ کسی دھمکی سے ڈرے نہ ان کے الہامو ں کی کچھ پرواہ کی اور مرزا قادیانی اس لڑکی کی تمنا اور آرزو میں دست حسرت ملتے ہوئے قبر میں تشریف لے گئے اور آرزو پوری نہ ہوئی۔ اس لڑکی کا میاں خدا کے فضل سے موجود ہے، دس بارہ اولادیں اس کی ہوچکی ہیں۱؎ ۔

حضرات ناظرین ! مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کو نہایت ہی عظیم الشان بتایا ہے۔ اس قدر عظمت اور کسی پیشین گوئی کی مرزا قادیانی نے نہیں بیان کی۔ اگر چہ بعض اور پیشین گوئیوں کو عظیم الشان کہا ہے مگر اس کی عظمت کو انتہا مرتبہ کا بیان کیا ہے کیوں کہ اسے نہایت ہی عظیم الشان کہا ہے۔ اردو کے محاورہ میں یہ جملہ اس مقام پر بولا جاتا ہے جہاں نہایت اعلی مرتبہ کی عظمت بیان کرنی منظور ہوتی ہے۔ اس لئے میں نہایت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس میں پورے طور سے غور کروں اور اس کے متعلق جس قدر باتیں مرزا قادیانی اور ان کے حواریین کی ہمیں ملیں ہم طالبین حق کے روبرو پیش کریں تاکہ ہر ایک پر مرزا قادیانی کی حالت آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوجائے اور اللہ تعالیٰ نے جن کی آنکھوں میں بینائی دی ہے وہ خوب دیکھ لیں اور صداقت پر ایمان لاکر خدا کا شکر بجا لاویں اور جو بینائی کی نعمت سے محروم ہیں یا دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے وہ اپنے حال زار پر واویلا کریں اور خدا سے ڈریں جس نے صداقت کے ماننے اور بطالت سے بچنے پر نجات کا مدار رکھا ہے۔ اس پیشین گوئی کی تفصیل میں تین امروں پر غور کرنا نہایت ـضروری ہے۔

اول: یہ کہ مرزا قادیانی کو نکاح کے پیام کا موقع کیوں کر ملا اور کس طرح انہوں نے پیام دیا؟

دوم: یہ کہ انکار کے بعد کیا کیا تدبیریں مرزا قادیانی نے کیں تاکہ لڑکی کے اعزہ انکار سے باز رہیں، لڑکی ہمارے پاس آئے۔

سوم: اس بات میں نہایت غور وانصاف کی ضرورت ہے۔ لڑکی کے نکاح کا معاملہ تھا مرزا قادیانی نے اسے اس قدر طول دیا اور اشتہارات شائع کئے، اعزہ واقربا کو خطوط لکھے اور بالآخر جب وہ ناکام اور بے نیل ومرام رہے تو اپنے دو بیٹوں کو عاق کردیا اور سابقہ بی بی (بیوی ) کو طلاق دے دی۔

ان سب باتوں پر نظر کرنے سے کیا حالت معلوم ہوتی ہے آیا یہ پایا جاتا ہے کہ مرزا

۱؎

مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد چالیس سال بعد تک زندہ رہے۔ جنوری۱۹۴۹ء میں وفات پائی اور محمدی بیگم کا انتقال بحالت اسلام ۱۹ نومبر ۱۹۶۶ء میں لاہور میں ہوا۔ مرتب

15

قادیانی بزرگ اور مقدس شخص ہیں یا یہ کہ نفسانی خواہش کے نہایت تابع اور خدا اور رسول کی طرف غلط باتیں منسوب کرنے والے۔ اس تحریر کے بعد ناظرین کو دو امروں کی طرف اور بھی زیادہ توجہ دلاتا ہوں۔

اول: یہ کہ مرزا قادیانی کے ان اقوال پر کامل نظر کریں جو ان کی زبان قلم سے اس پیشین گوئی کی نسبت وقتا فوقتا نکلے ہیں۔ اور کس کس طرز سے انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اس ۱؎ کا ظہور میرے وقت میں ہوگا جس میں کسی طرح چون وچرا کو مجال نہیں ہے اور پھر اس کاظہور نہ ہوا اور اس کے متعلق تمام الہامات اور سارے بیانات غلط ثابت ہوئے۔

دوسرا : امر یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے جو تدبیریں انہوں نے کیں اور جو خطوط وغیرہ انہیں نے لکھے اور جو جو کلمات غیرمہذبانہ انہوں نے اپنے مخالفین کے لئے استعمال کئے ان میں انصاف دلی سے غور فرماتے جائیں۔ میں نہایت سچائی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کی قوت ممیزہ بے اختیار بول اٹھے گی کہ جس کے ایسے حالات ہیں وہ ہرگز خدا سے دلی رابطہ نہیں رکھتا اور مجدد اور نبی ہونا تو بڑی بات ہے یہ دوسرا امر بہت زیادہ غور کے لائق ہے۔

پہلے امر کا بیان (یعنی مرزا قادیانی نے نکاح کا پیام کس طرح کیا ) سب سے اول پیامی خط جو مرزا قادیانی کا ۱۰مئی ۱۸۸۸ء کے نور افشاں میں چھپا ہے اس کا ذکر مرزا قادیانی نے آئینۂ کمالا ت اسلام (خزائن ۵ ص :۲۷۹) میں کیا ہے اس کے بعد ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کو گورداسپور سے جو اشتہار شائع کیا ہے وہ کتاب مذکور کے صفحہ ۲۸۱ سے صفحہ ۲۸۸ تک میں لکھا ہے اور اس کی نقل یعقوب علی نے اپنے رسالہ آئینۂ حق نما کے صفحہ ۱۳۷ وغیرہ میں کی ہے۔ چونکہ پورا اشتہار بہت طویل ہے اس لئے میں اصل مطلب کے متعلق جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اسی قدر نقل کروں گا۔ اشتہار کا عنوان جلی قلم سے یہ ہے ’’ایک پیشگوئی پیش از وقوع کا اشتہار ‘‘ اس کے بعد دو شعر ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی کے پورا ہونے پر یقین کامل ہے وہ شعر یہ ہیں :

  1. پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا

    قدرتِ حق کا عجب ایک تماشا ہوگا

  2. جھوٹ اور حق میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا

    کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا

(آئینہ کمالات اسلام خزائن ج۵ ص ۲۸۱)

۱؎

اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ اس کی نسبت جو الہام ہوا تھا وہ متشابہات میں نہ تھابلکہ وہ محکمات سے تھا جس کے معنی اور مطلب نہایت ظاہر تھے ورنہ اس کے ظہور کا انہیں یقین ہر گز نہ ہوتا۔

16

مرزا قادیانی کو اپنی صداقت کا کس قدر جوش ہے اور کیسا یقین ہے بایں ہمہ ان کا گمان غلط ثابت ہوا۔ مگر پھر بھی حضرات مرزائی ان کی صداقت کے قائل رہے حیرت ہے۔ الغرض ان اشعار سے اصلی غرض جو مرزا قادیانی کی ہے وہ تو ہر فہمیدہ سمجھتا ہے مگر ظاہر میں ان کے الفاظ عام ہیں یعنی انجام کے ظاہر ہونے سے مرزا قادیانی کو ذلت ہو یا ان کے مخالفین کو، اب تو دنیا اس کےانجام کو جان چکی اور جو صاحب نہ جانتے ہوں وہ جان لیں کہ اس پیشین گوئی کا انجام یہ ہوا کہ پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی اپنے قول کے رو سے رسوا ہوئے ۱؎اس کے بعد کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس لڑکی کا پیام کیا تھا اور اس لڑکی کے ماموں نے ان سے آسمانی نشان طلب کیا تھا یعنی لڑکی کے ماموں وغیرہ مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے منکر تھے جب انہوں رشتہ کی درخواست کی تو انہوں نے کہا ہوگا اگر تم اپنے دعوے کو ثابت کرو تو ہم رشتہ کرسکتے ہیں ورنہ جھوٹے نبی کو لڑکی دینا کیونکر جائز ہوسکتا ہے ؟ اس میں شبہ نہیں کہ لڑکی کے اعزہ نہایت ہی پختہ مسلمان اور کامل الاعتقاد تھے کہ نہ مرزا قادیانی کی وجاہت وثروت پر انہوں نے نظر کی نہ ان کے ہر قسم کے ترغیبوں کی پرواہ کی نہ ان کے ترہیبوں سے انہیں کچھ خوف وہراس ہوا۔ جزاہم اﷲ!

مرزا قادیانی ان کی استقامت اور دینداری کی وجہ سے ان سے نہایت خفا ہیں اور اسی اشتہار میں ان کی شکایت کرکے لکھتے ہیں کہ : ’’مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ تو اِس وجہ سے کئی دفعہ اُن کے لئے دُعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دُعا قبول۲؎ ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اُس دُختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف مُلتجی ہوا۔ ‘‘

(آئینۂ کمالات اسلام ص۲۸۵، خزائن ۵ ص۲۸۵ )

۱؎

اس اشتہار میں ان جملوں پر خوب نظر رہے جن سے بخوبی ظاہر ہورہا ہے کہ اس پیشینگوئی میں کوئی شرط نہ تھی اور اس کا ظہور مرزا قادیانی کے روبرو عنقریب ہونا ضرور ہے۔ اول تو یہ رباعی صاف کہہ رہی ہے کہ اس کا ظہور مرزا قادیانی کی زندگی میں ہوگا اور مرزا قادیانی کی عزت اور ان کے مخالفین کی رسوائی ہوگی۔ اس کے بعد ان کے الہامات آفتاب کی طرح روشن کررہے ہیں کہ یہ پیشین گوئی خاص محمدی بیگم کے نکاح میں آنے کی ہے اور اس کا نکاح مرزا قادیانی سے ضرور ہوگا، مگر وہ تمام الہامات اور دعوے سب غلط ثابت ہوگئے۔

۲؎

اب اس پر نظر کی جائے کہ وہ کیا دعا تھی؟ جو قبول ہوئی اور اُس کی قبولیت کے آغاز شروع ہوگئے جب اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے حسب خواہش لڑکی کے ماموں وغیرہ کے ظہور نشان کی دعا کی اور وہ دعا قبول ہوئی یعنی اُس کے لئے کوئی نشان ظہور میں آئے گا اب آئندہ کا مضمون بتا رہا ہے کہ وہ نشان وہی ہے جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔۱۲

17

اس کی شرح یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی غلام حسین صاحب جائیداد تھا مگر بہت عرصہ سے مفقود الخبر ہوگیا تھا اور سوائے بیوی اور مرزا قادیانی کے کوئی اس کا وارث نہ تھا اس عرصہ میں کسی طور سے ا سکی بیوی کانام اس کی جائیداد پر چڑھ گیا تھا۔ یہ عورت مرزا احمد بیگ (جن کا سابق میں ذکر ہوچکا ہے ) محمدی بیگم کے والد کی ہمشیرہ تھی اس وجہ سے مرزا احمد بیگ نے چاہا کہ ہماری ہمشیرہ اس جائیداد کو ہمارے بیٹے کے نام منتقل کردے وہ آمادہ تھی مگر مرزا قادیانی اس کے بڑے شریک تھے بغیر ان کی مرضی کے وہ جائیداد منتقل نہیں ہوسکتی تھی اس لئے احمد بیگ صاحب نے ان کی طرف رجوع کیا۔ اب مرزا قادیانی کو اپنی تمنا پوری کرنے کا نہایت عمدہ موقع ملا اس لئے فرماتے ہیں کہ:’’ہماری عادت بڑے کاموں میں استخارہ کرنے کی ہے اس لئے استخارہ کر کے جواب دیںگے پھر متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کا وقت ۱؎ آپہنچا تھا ۔‘‘

(خلاصہ آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص۲۸۶)

پیام کے لئے کس زور کی تمہید ہے؛ اہل حق کے دیکھنے کے قابل یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دیرینہ خواہش دلی کو کس عمدہ پیرایہ میں ظاہر کرتے ہیں اور لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ سے کہتے ہیں :

’’اُس خدا ئے قادر وحکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اِس شخص کی دُختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جُنبانی کر اور اُنکو کہدے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اِسی شرط سے کیا جائے گا‘‘ (ایضاً)

یعنی تم اپنی لڑکی کا نکاح ہمارے ساتھ کردو، ہم جائیداد تمہارے بیٹے کے نام سے کرادیں گے۔ اس الہامی پیام سے نہایت ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی کہ اس لڑکی کا نکاح مرزا قادیانی سے ہو، اس امر کو خیال رکھ کر اس کے انجام پر نظر کریں کہ کیا ہوا اور پھر فرمائیں کہ یہ الہام کیوںکر سچا ہوسکتا ہے ؟ ذرا غور کیجئے کہ اگر مرضی خدا ایسی ہی ہوتی اور اس کے حکم سے مرزا قادیانی نکاح کا پیام کرتے تو ممکن تھا کہ اس کا ظہور نہ ہوتا؟ اور ان کے نکاح میں وہ لڑکی نہ آتی ؟ نہیں نہیں بلکہ ضرور ان کے نکاح میں آتی اور مرزا قادیانی کبھی اپنی اس تمناسے محروم نہ رہتے۔ اس لئے ہم اس کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر مرزا قادیانی کو یہ الہام ہوا تو رحمانی الہام نہ تھا بلکہ اس معاملہ میں جس قدر الہامات ہوئے اس کی بنیاد شیطانی الہام پر ہوئی۔

۱؎

اس جملہ پر نظر کی جائے کہ اس نشان کے ظہور کے وقت کو نہایت قریب بتا رہے ہیں جس سے حکیم نورالدین والی تاویل غلط ہوجاتی ہے۔

18

اس کے علاوہ ہم حضرات مرزائیوں سے پوچھتے ہیں کہ جو رحمۃ اللعالمین کا ظل ہو اور جو اپنے کو فنا فی الرسول بتائے اس کی یہی شان ہونا چاہئے کہ اعزہ واقرباء سے سلوک ومروت کرنے کے لئے یہ شرط کرے کہ اپنی کنواری کم عمر لڑکی ایک بوڑھے شخص کو دو جسے ایک عالم برا اور کذاب کہہ رہا ہے۔ ذرا خدا سے ڈرکر ان دونوں باتوں کا جواب دیجئے گا اور جلدی سے اس کو خدا کا حکم نہ کہہ دیجئے گا اوپر کے مضمون پر خیال رکھئے گا۔

یہاں تک تو مرزا نے خدا کا حکم سنایا اور ایک معقول جائیداد کی طمع اور ترغیب دی مگر اسی پر بس نہیں ہے اور بھی سنئے ! فرماتے ہیں کہ:

’’یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اُن تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤگے جو اشتہار ۲۰فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہیں ‘‘ (ایضا ً)

یہ تو خوش کرنے کی ترغیبیں تھیں۔ اب وہ تہدید اور خوف دلانا بھی سنئے جو انکار کرنے پر متعلق ہے فرماتے ہیں :

’’لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اِس لڑکی کا انجام نہات ہی برا ہوگا اور جس کسی دُوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑہائی سال تک اور ایسا ہی والد اُس دُختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا اور اُنکے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی ‘‘ (ایضاً)

یہاں مرزا قادیانی نے بزعم خود پورے دانشمندی سے کام لیا ہے یعنی انکار کرنے کی تقدیر پر خود اس لڑکی کو ڈرایا، اس کے والدین کو اس کے اقرباء کو اور جو اس سے نکاح کرے اس کو، اور پھر ہر طرح کا خوف دلایا، جان کا، مال کا، مصیبت کا، باہم تفرقہ کا، غرض کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا۔ مقصود یہ ہے کہ اتنے گروہ میں کوئی تو ضعیف القلب ضعیف الایمان ہوگا جو ڈر کر یا طمع میں آکر مرزا قادیانی کی خواہش پورا کرنے پر آمادہ ہوجائے گا اور دوسروں کو آمادہ کرے گا۔ مگر یہ حضرات ایسے قوی الایمان نکلے کہ کسی نے پرواہ بھی نہ کی اور افسوس کہ مرزا قادیانی کے دل کی تمنا ان کے دل ہی میں رہی۔ ہاں اس لڑکی کو صرف اس کے انجام کے برا ہونے سے بہت ڈرایا تھا مگر عمر کے درمیانی حصہ کا ذکر نہیں کیا تھا شاید اسے خیال ہوتا کہ عمر کے اکثر حصہ میں تو مزے کریں گے انجام دیکھا جائے گا اس لئے مرزا قادیانی اس خیال کو بھی اٹھاتے ہیں اور فرماتے ہیں :

’’درمیانی زمانہ میں بھی اُس دُختر کے لئے کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے ‘‘ (ایضاً)

19

دور اندیشی سے کیسے عام الفاظ میں خوف دلایا ہے تاکہ جس قسم کی کراہت یا کم وبیش غم پیش آئے ؛مرزا قادیانی کی صداقت معلوم ہو۔ اگر ایسے ہی باتوں کا نام پیشگوئی اور کرامت ہے تو ہر ذی فہم وفراست کرسکتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں : ’’ان دِنوں میں جو زیادہ تصریح کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کررکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دُختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دُور کرنے کے بعد انجامکار اِسی عاجز کے نکاح۱؎ میں لاوے گا۔اور بیدینوں کو مسلمان بناوے گا۔‘‘ (ایضاً)

سابق الہام سے تو خدا تعالیٰ کی صرف مرضی معلوم ہوئی تھی، اس الہام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آجانا ضرور ہے کسی طرح ٹل نہیں سکتا، انجام میں وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی اس میں کوئی شرط اور کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بیان ایسا صاف اور صریح ہے کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ پھر یہ کہ اس الہام کی توضیح اور تقدیر مبرم ہونا مختلف اوقات میں مختلف طور سے انجام آتھم وغیرہ میں مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے جس سے نہایت واضح اور روشن ہو جاتا ہے کہ یہ پیش گوئی خاص مرزا قادیانی کی ذات سے متعلق ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنے عربی الہام کا جو ترجمہ بیان کیا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے وہ ترجمہ یہ ہے :

’’خداتعالیٰ اُن سب کے تدارک کے لئے جو اِس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجامکار اُس کی اِس لڑکی کو تمہاری طرف واپس۲؎ لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ ۔۔۔۔۔۔اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنّی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں… لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مد د کو دیکھ کر شرمندہ ہونگے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔‘‘

خاکسار غلام احمد ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۷، خزائن ج۵ص ۲۸۷)

۱؎

یہ پہلا موقع ہے جس میں مرزا قادیانی نے الہامی طور سے اس لڑکی کے نکاح میں آنے کا یقین ظاہر کیا ہے۔

۲؎

دوسرا موقع جس میں نہایت زور سے یقین ظاہر کیا ہے کہ وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی۔

20

اس عبارت میں دو جملے ہیں جن میں مرزا قادیانی نہایت صفائی سے الہام الٰہی پھر بیان کرتے ہیں کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی خاص میرے نکاح میں ضرور آئے گی اسے نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ کسی دوسری وجہ سے یہ بات ٹل سکتی ہے۔ وہ جملے یہ ہیں :

(۱) ’’ہر ایک روک دُور کرنے کے بعد انجامکار اِسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا ۔‘‘

یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نکاح میں موانع پیش آئیںگے مگر وہ سب موانع دور ہوںگے اور انجام کار وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔

(۲) خدائے تعالیٰ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا ۔‘‘

اس جملے میں بھی وہی مطلب ہے کہ انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی اگرچہ درمیان میں موانع پیش آئیں۔ مگر انجام میں وہ سب موانع دور ہوں گے اور اس لڑکی سے مرزا قادیا نی کا نکاح ہوگا اسے نہ کوئی شرط روک سکتی ہے نہ اس کے شوہر کا گریہ وزاری اس کا مانع ہوسکتا ہے۔ اصل مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس الہام پر اور اس کے مطلب کے سمجھنے پر نہایت وثوق ہے۔ اس لئے وہ تمام جوابات غلط ہوجاتے ہیں جو اس جھوٹی پیشین گوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے دیئے جاتے ہیں ان جوابات کو دیکھو اور اس بیان میں غور کرو !

اس اشتہار کے بعد پھر کچھ مضمون ان کے خیال میں آیا، اس لئے پانچ روز کے بعد ہی اس اشتہار کا تتمہ ۱۵؍جولائی ۱۸۸۸ء کو شائع کیا (دلی اضطراب کا تقاضا بھی یہی ہے ) تتمہ اشتہار دہم جولا ئی ۱۸۸۸ء میں جو یہ الہام درج ہے :

’’فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ اس کی تفصیل مکرر توجہ سے یہ کھلی ہے کہ خداتعالیٰ ہمارے کنبے اور قوم میں سے ایسے تمام لوگوں پر کہ جو اپنی بیدینی اور بدعتوں کی حمایت کی وجہ سے پیشگوئی کے مزاحم ہونا چاہیں گے اپنے قہری نشان نازل کرے گا اور اُن سے لڑے گا اور انہیں انواع اقسام کے عذابوں میں مبتلا کر دیگا۔ اور وہ مصیبتیں اُن پر اُتارے گا جن کی ہنوز انہیں خبر نہیں۔ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو اس عقوبت سے خالی رہے کیونکہ انہوں نے نہ کسی اور وجہ سے بلکہ بے دینی کی راہ سے مقابلہ کیا۔‘‘

( مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۶۰،۱۶۱ )

دسویں جولائی کے اشتہار میں مرزا قادیانی نے اپنے کنبے کے لوگوں کو بہت کچھ

21

دھمکی دی تھی اس تتمہ میں اسی مضمون کا اعادہ زیادہ شاندار الفاظ میں کیا ہے جن سے ضعیف القلب زیادہ متردد اور پریشان ہوسکتے ہیں اس کے سوا اس تتمہ میں جس صفائی کے ساتھ منکرین پر عقوبت کو عام کیا ہے ایسے صفائی سے اصل اشتہار میں نہیں ہے اور بڑی وجہ اس کے اضافہ کی اس عبارت سے یہ سمجھی جاتی ہے کہ اشتہار میں لڑکی کے والدین کو جو ڈرایا ہے اور خوف دلایا ہے وہ صرف نکاح نہ کرنے کی وجہ سے۔ اس کے بعد ان کے خیال میں آیا کہ لوگ اس پر اعتراض کریں گے کہ یہ کونسی بزرگی اور تقدس ہے کہ اگر کوئی شخص انہیں لڑکی نہ دے تو خواہ مخواہ اس پر مصیبتیں آئیں گی جیسی وہ بیان کررہے ہیں۔

اے صاحب !کوئی دینی وجہ نہ سہی لڑکی نہ دینے کے لئے اس قدر عذر کافی ہے کہ تم بوڑھے ہو تمہاری بیویاں اور جوان لڑکے موجود ہیں، نوجوان کم عمر کنواری لڑکی کا تمہیں دینا دقت اور خطرہ سے خالی نہیں، اس اعتراض کے اٹھانے کے لئے تتمہ میں یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مصیبتیں جو ان پر آئیں گی وہ ان کی بے دینی اور بدعتوں کی حمایت کی وجہ سے آئیں گی فقط انکار ہی اس کا سبب نہیں ہے مگر یہ تو فرمائیں کہ ان کی بے دینی اور بدعتوں کی حمایت اس انکار سے پہلے بھی تھی یا انکار کے بعد ہی وہ بے دین اور بدعت کے حامی ہوئے ؟اگر پہلے سے تھی تو اس سے پہلے بھی کبھی انہیں اس قسم کی تنبیہ اور تہدید کی ہوتی؛ آپ کے خطوط سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے وہ اقارب انکار سے پہلے ایسے نہ تھے کیوں کہ آئندہ وہ خط نقل کیا جائے گا جو اسی مرزا احمد بیگ کو لکھا ہے اس میں آپ نے انہیں مکرم اخویم لکھا ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ کوئی بزرگ مقدس انسان کسی بے دین حامی بدعت کو اپنا مکرم اپنا بھائی نہیں کہہ سکتا ہے اس کے علاوہ اس کے مضمون میں یہ جملہ بھی ہے :’’آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خدا وند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل آپ سے بکلی صاف ہے ۔‘‘

(کلمہ فضل رحمانی ص: ۱۲۳)

یہ عبارت صاف کہہ رہی ہے کہ مرزا احمد بیگ پہلے بے دین اور حامی بدعت نہ تھے، ورنہ کسی دیندار کا دل بے دین سے بکلی صاف نہیں ہو سکتا اور بزرگ کا ملین تو مامور ہیں کہ بے دینوں کو برا سمجھیں۱؎ اور ان کی بے دینی کی وجہ سے ان کے دل میں غبار رہے۔

بھائیو ! مرزا قادیانی خدائے علم کو درمیان میں دے کر اپنی دلی صفائی ظاہر کر رہے ہیں

۱؎

مرزا قادیانی کو دعاء قنو ت کا وہ ٹکڑا بھی یاد نہ رہا جس کو روزانہ نماز میں پڑھنا مسلمانوں کا معمول ہے ’’ونخلع ونترک من یفجرک‘‘

22

جب مرزا قادیانی اس زور سے اپنی صفائی ان سے بیان کررہے ہیں تو ان کے دیندار ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے؟ البتہ مرزا قادیانی ہی کو دیندار نہ خیال کیا جائے اور خط کے مضمون کو دنیا سازی ہی پر محمول کیا جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ دل میں تو انہیں بے دین جانتے ہیں مگر انہیں نرم کرنے کے لئے اپنا مکرم اور اپنا بھائی کہا ہے اور اپنا دل ان سے صاف بتایا ہے یعنی یہ بین جھوٹ اس غرض سے بولے ہیں کہ مرزا احمد بیگ نرم ہو کر نکاح کردینے پر راضی ہوجائیں، اب اہل انصاف مرزا قادیانی کی ان باتوں کو ملاحظہ کرکے ان کی سچائی اور دینداری دیکھ لیں۔

افسوس ہے کہ قادیانی جماعت ایسی روشن باتوں کو بھی نہیں دیکھتی مرزا قادیانی کی صداقت اور عدم صداقت کے فیصلہ کے لئے صرف اسی پیشین گوئی کے حال میں غور کرنا کافی ہے۔ اب مرزا قادیانی، احمدبیگ وغیرہ اپنے اقارب کی شکایت اس طرح کرتے ہیں :

’’ایک عرصہ سے یہ لوگ جو میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں… اور بعض نشانوں کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوتے ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۶۱)

مرزاقادیانی! آپ کے کنبے والوں کا قصور نہیں ہے آپ اور آپ کے معتقدین یقین کرلیں کہ آپ کی حرکات، آپ کے سکنات، آپ کی باتیں، آپ کا چلن، اہل حق پر ظاہر کررہا ہے کہ آپ فریب خوردہ یا بڑے دوکاندار ہیں۔ تحریروں میں اس قدر مبالغہ، مخالفین پر اس قدر گالیوں کی بھر مار اور فحش اور بدزبانی کی بوچھاڑ کہ خدا کی پناہ، اپنے آپے سے باہر ہوئے جاتے ہیں۔ پھر ایک مرتبہ نہیں دس دس رسالوں میں اخباروں میں غل مچ رہا ہے، اپنی جھوٹی باتوں کی تاویلوں میں اور اق سیاہ ہورہے ہیں، پھر ایک تحریر میں نہیں متعدد رسالوں میں بار بار لکھا جارہا ہے اور کسی میں کوئی قید بڑھادی اور کسی میں کچھ اور، کہیں کہہ دیا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے بھلا اس مبالغہ اور جھوٹ ۱؎ کا کچھ ٹھکانا ہے۔ انبیاء عظام علیہم السلام اور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کی شان تو بہت اعلیٰ اور ارفع ہے یہ روش تو کسی متین دیندار کی بھی نہیں ہوسکتی۔

۱؎

اس بیان سے ناظرین کو نہایت تعجب ہوگا کہ مرزا قادیانی قرآن مجید کا غلط حوالہ دیتے ہیں میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی حیرت ہے مگر میں صداقت کے اظہار پر مجبور ہوں اگر کوئی ذی علم قادیانی اس کا ثبوت چاہے تو میں موجود ہوں علانیہ طور پر سامنے آکر دریافت کرے پھر وہ حیرت کی نظر سے دیکھے گا کہ اس قسم کی غلط بیانیاں کس قدر انہیں دکھائی جاتی ہیں مگر ایک غلطی کے فیصلے کے بعد دوسری غلطی دکھائی جائے گی اگر خدا داد انصاف ان کے دل میں ہے تو بہت جلد مرزا قادیانی کی غلطیوں کا انبار وہ اپنے سامنے دیکھیں گے اور متحیر ہوں گے۔۱۲

23

ہاں بعض انبیاء سے کسی وقت ایسا ہوا ہے کہ تنگ آکر غصہ آگیا کچھ کہہ دیا ( وہ بھی اپنی ذاتی اغراض میں نہیں ) پھر وہی بردباری اور اعرض عن الجاھلین، پر عمل ہے اور تحمل سے کام لے رہے ہیں اور مخلوق کی ہدایت میں مشغول ہیں اور خود ثنائی اور خود ستائی سے علیحدہ ہیں اور اللہ توانا محض اپنی قدرت سے ان کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے حیرت یہ ہے کہ قادیانی پنڈتوں کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ ان باتوں کو وہ بھی نہیں دیکھتے اور علانیہ جھوٹ کے گرویدہ ہیں۔ سچ ہے اس غنی حکیم کی عجیب شان ہے۔ع:

  1. دیر کو مسجد کرے مسجد کو دیر

    غیر کو اپنا کرے اپنے کو غیر

یہ جو فرمایا کہ : ’’ بعض نشانوں کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوتے۔ ‘‘

اے جناب ! آپ نے کونسا نشان دکھلایا سوائے زبان درازی کے ؟ اسی اشتہار میں آپ لکھ چکے ہیں کہ لڑکی کے قرابت مندوں نے آسمانی نشان مجھ سے مانگا میں نے اس کے لئے دعا کی وہ دعا قبول ہوکر تقریب قائم ہوئی کہ اس لڑکی سے نکاح ہو اس سے ظاہر ہوا کہ پیام نکاح سے پہلے کوئی نشان نہیں دکھایا گیا اور جس نشان کے لئے دعا قبول ہوئی اس کا یہ حال ہوا کہ مرزا قادیانی انتظار کرتے کرتے قبر میں تشریف لے گئے اور آغوش لحد سے ہمکنار ہوگئے مگر وہ نشان آسمان سے نہ اترا اور آسمانی نکاح جس کو خدائے تعالیٰ نے (معاذ اللہ ) پڑھادیا تھا جس کی نسبت بار بار توجہ اور مراقبہ کیا گیا اور یہی معلوم ہوا کہ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اور برسوں اس بات پر کامل یقین رہا آخر میں ناامید ہوکر یہ کہا گیا کہ وہ نکاح فسخ ہوگیا۔ اب غور کرنے کا مقام ہے اہل انصاف فرمائیں کہ جب وہ نہایت عظیم الشان نشان جس کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیا تھا ظہور میں نہ آیا تو اور نشانوں کا ذکر فضول ہے کیوں کہ اس نشان عظیم الشان کے غلط ہوجانے سے ثابت ہوگیا کہ اگر کوئی بات مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق ہوگئی تو وہ امر اتفاقی ہوا۔ دنیا کے بہت امور کسی کے موافق کسی کے مخالف ہوا کرتے ہیں اور شب وروز اس کا تجربہ ہورہا ہے پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں :’’خداتعالیٰ نے انہیں کی بھلائی کے لئے،۱؎ انہیں کے تقاضا سے، انہیں کی

۱؎

یہ تو فرمائیے کہ اگر ان کے بھلائی کے لئے اس پیشین گوئی کا ظہور ہوا تھا تو ان کے توبہ کرنے سے اس کا فسخ کیوں ہوگیا۔ جیسا آپ (حقیقت الوحی ص۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰) میں کہہ رہے ہیں توبہ کی وجہ سے تو ان پر بھلائی کا ظہور ہونا چاہئے تھا۔ ذرا غور کرکے جواب دیجئے۔

24

درخواست سے اس الہامی پیشگوئی کو جو اشتہار میں درج ہے، ظاہر فرمایا ہے تاوہ سمجھیں کہ وہ درحقیقت موجود ہے اور اس کے سوا سب کچھ ہیچ ہے۔ کاش وہ پہلے نشانوں کو کافی سمجھتے اور یقینا وہ ایک ساعت بھی مجھ پر بد گمانی نہ کرسکتے۔ اگر ان میں کچھ نور ایمان اور کانشنس ہوتا ‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ۱ص ۱۶۱)

مرزا قادیانی کو اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پیشگوئی کا الہام ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس کا ظہور نہ ہوتا، اے صاحب ! ضرور ہوتا زمین وآسمان ٹل جاتے مگر پیش گوئی کا ظہور ہوتا۔ مگر دنیا نے برسوں انتظار کرکے دیکھ لیا کہ اس کا ظہور نہ ہوا اور یقین کرلیا کہ یہ الہام خداوندی نہ تھا ورنہ ضرور ہوتا کیوں کہ خداتعالیٰ کا وعدہ تھا اور اس قادر کریم کا وعدہ ٹل نہیں سکتا۱؎ مایبدل القول لدیّ (ق:۲۹)اسی اصدق الصادقین کا ارشاد ہے۔

پھر وہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:’’ ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔ سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کردیا تھا۔ اولاد بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہوگا۔ بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا جس کا نام محمود احمد ہوگا۔ اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔ پس یہ رشتہ جس کی درخواست کی گئی ہے۔ محض بطور نشان کے ہے تا خداتعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو عجوبہ۲؎ قدرت دکھلاوے۔ اگر وہ قبول کریں تو برکت اوررحمت کے نشان ان پر نازل کرے اور اُن بلاؤں کو دفع کر دیوے جو نزدیک چلی آتی ہیں۔ لیکن اگر وہ ردّ کریں تو اُن پر قہری نشان نازل کرکے ان کو متنبہ کرے۔‘‘ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور۔ پانزدہم جولائی ۱۸۸۸ء

( مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص۱۶۱، ۱۶۲)

یہ کہنا کہ ہمیں اس رشتہ کی ضرورت نہیں تھی ایسی دنیا سازی ہے کہ اس کے راستی کے خلاف ہونے میں کوئی حق پسند تامل نہیں کرسکتا۔ بھائیو ! مرزا قادیانی نے جس کے لئے غالبا بیس برس کوشش کی اور کس کس طرح کی تدبیریں کیں اور ذلتیں اٹھائیں کیا یہ سب باتیں بلا ضرورت تھیں ؟ میں بالیقین کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی حالت ان کے اقوال، ان کے خطوط جو انہوں نے اپنے اقربا کو اس غرض سے لکھے ہیں ان کی ضرورت پر کامل شہادت دیتے ہیں۔

۱؎

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری باتیں بدلا نہیں کرتیں۔

۲؎

یہ دوسرا مقام ہے جس میں تامل کرنے سے حکیم نورالدین صاحب کی توجیہ محض غلط ٹھہرتی ہے جس کاذکر اس کے تتمہ میں لیا گیا ہے۔

25

ذرا انصاف سے ملاحظہ کیا جاوے کہ مرتے دم تک اس کے نکاح کی ان کو تمنا رہی اور جس طرح عشاق کو معشوق کے وصال سے کبھی مایوسی نہیں ہوتی اور محال صورتوں میں بھی اسے یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ سب موانع کسی دن دور ہوجائیں گے اور ہم وصال سے کامیاب ہوں گے یہی حال مرزا قادیانی کا رہا۔ ان کے خطوط جو آئندہ نقل کئے جائیں گے ان سے معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اس مدعا کے حصول کے لئے اپنے منکرین اعزہ سے کیسی کیسی منت کی ہے عقل صریح کہہ رہی ہے کہ بغیر ضرورت ایسی عاجزی اور منت صرف اس کے طلب میں کسی شریف بلند حوصلہ عالی ظرف سے کبھی نہیں ہوسکتی، اب اب یہ خیا ل کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے باوجود ایسے عظیم الشان دعوی ٔ تقدس کے اس مضمون کے خط کیوں لکھے اسے میں کیاکہوں؟ اہل پنجاب تجربے کار اس کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔ بعض نیک دل صالح بھی دلدادہ ہوکر پریشان ہوئے ہیں مگر زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ جس منت اور زاری اور پکی دنیاداری کے خطوط مرزا قادیانی نے لکھے ہیں یہ مضمون نہ کوئی سچا دلدادہ لکھ سکتا ہے نہ کوئی بزرگ کسی دنیادار کے سامنے ایسی خوشامد انہ الفاظ لکھ سکتا ہے۔ انبیائے کرام نے دین کے لئے تدبیریں کی ہیں مگر ایسی مداہنت اور اہل دنیا کی خوشامد ہر گز نہیں کی۔ خصوصا ایسے لوگوں کی جنہیں خود بے دین کہہ چکے ہیں، بزرگوں کی یہ شان ہرگز نہیں ہوسکتی۔

یہ کہنا کہ یہ خواہش اس لئے ہے کہ منکرین کو عجوبہ قدرت دکھائیں، اس بات کا نمونہ ہے کہ مرزا قادیانی ہر طرح کی خواہش کو ایسے طرز سے پورا کرنا چاہتے ہیں کہ خواہش بھی پوری ہو اور مشتہرہ تقدس میں بٹہ بھی نہ آئے۔ کوئی منصف یہ تو کہے کہ اگر ایک غریب قدیم رشتہ دار کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آجاتی تو کوئی عجوبہ قدرت کا ظہور ہوتا؛ بعض اوقات تھوڑے سے طمع سے یا اس خیال سے کہ ہماری لڑکی خوب آرام سے رہے گی، بڑے بڑے خاندانی شرفاء اپنی لڑکیاں غیر خاندان میں دے دیتے ہیں جسے اکثر خاندانی نہایت معیوب سمجھتے ہیں۔ پھر اگر مرزا قادیانی کی بے انتہا ترغیبوں اور ترہیبوں کی وجہ سے مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی دے دیتا تو اس میں عجوبہ پن کیا ہوتا ؟۔

اس کے علاوہ یہ تو فرمائیے کہ منکرین کو عجوبہ قدرت دکھانا اسی پر منحصر تھا کہ ایک کم عمر کنواری لڑکی ان کے نکاح میں آئے ؟کوئی دوسرا طریقہ قدرت الٰہی کے دکھانے کا نہیں تھا ؟ قادیانی حضرات کچھ تو ان باتوں پر غور کریں پھر نظر لوٹا کر دیکھیں مرزا قادیانی یہ ظاہر کرتے ہیں

26

کہ ہمیں اللہ نے اولاد دی تھی اس کی بھی خواہش نہ تھی مگر اس کے بعد ان کے خیالات جو ان کے اشتہاروں سے ظاہر ہوتے ہیں وہ تو پوا یقین دلاتے ہیں کہ انہیں اولاد کی بھی خواہش تھی اور ہونا چاہئے تھی کیوں کہ پہلی اولاد تو ان کے مخالف تھی اور انجام کار مرزا قادیانی نے انہیں عاق ہی کردیا تھا تو ایک طرح گویا بے اولاد تھے ان اشتہاروں کا نقل کرنا تو کتاب کو طول دینا ہے صرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

لڑکے کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی

۲۲فروری ۱۸۸۶ء میں بڑے زور شور سے ایک لڑکے کی بشارت کا دعویٰ کیا گیا اور بڑے بھاری اس کے لقب اور خطاب تھے کہ وہ اللہ کا نور ہے کلمۃ اللہ ہے اور کیا ہے بسکَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآء۱؎ہے۔

(خلاصہ تذکرہ ص۱۳۸، ۱۳۹ طبع سوم ملخص )

اس کے بعد ۱۸؍اپریل کو ایک اشتہار اسی مضمون کا دیا اور کس کس طرح کے اس کے رنگ بدلے مگر باوجود اس زور کی بشارت اور پیشین گوئی کے کچھ نہ ہوا بجز اس کے کہ محالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع ملا اور انہوں نے خوب مضحکہ اڑایا۔

مرزاقادیانی کی تمنائے دلی نے اس تضحیک پر بھی متوجہ ہونے نہ دیا اور پھر تیسرے ہی برس اسی مضمون کا اعلان دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دل اولاد کی خواہش سے لبریز ہے اور عمدہ اولاد چاہتے ہیں اور یہی غلبہ خواہش امید کی جانب کو اس قدر غالب کردیتا ہے کہ اس کے ہونے کا انہیں یقین ہوجاتا ہے اور چونکہ ان پر قوت خیالیہ بہت غالب ہے اس لئے وہ اس کو الہام سمجھتے ہیں اور پیشگوئی کہا کرتے ہیں اگر اتفاقیہ ان کا یہ خیال مشیت الٰہی کے مطابق ہوگیا تو پھر کرامت اور نشان کا غل مچ گیا اور اگر یہ خیال مشیت الٰہی کے خلاف ہے تو اس کاظہور نہ ہوا اور مرزا قادیانی نے اس کی تاویل میں باتیں بنانا شروع کیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ کئی پیشگوئیاں ان کی غلط ہوگئیں۔

بھائیو! میں یہ نہیں کہتا کہ اچھی اولاد کی خواہش بری چیز ہے یا غلبہ خواہش سے امید کی جانب کا غالب ہوجانا اسے الہام الٰہی سمجھ لینا کوئی اختیار کی بات ہے۔

۱؎

یعنی دنیا میں اس کا آنا ایسا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ آسمان سے اتر آیا جب بیٹا گویا خدا ہے تو باپ کا کیا مرتبہ ہوگا ناظرین خود سمجھ لیں۔

27

مگر مکرر تجربہ کے بعد بھی فورا اپنے خیالات کا اعلان نہایت زور وشور سے کرنا اور جب اس کا ظہور نہ ہو تو نہایت بے جا اور محض بے سروپا تاویلیں کرنا اختیاری امر ہے اور بہت برا ہے کیوں کہ مخالفین اسلام کو نہایت مضحکہ کا موقع ملتا ہے۔

اور پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے کے جواب میں یہ کہنا کہ بعض وقت پیشین گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہوتی ہے اور اس کے ظہور کا صحیح وقت معلوم نہیں ہوتا یا کسی وجہ سے اس کا ظہور ملتوی کردیا جاتا ہے؛ محض دھوکہ یا کم علمی کا نتیجہ ہے۔ انبیاء کرام کو وحی والہام کے ذریعہ سے جو علم ہوتا ہے اس میں غلطی کا احتمال ہر گز نہیں ہوسکتا۔ ( شفاء قاضی عیاض اور اس کی شرح ملاحظہ ہو )

البتہ اجتہاد۱؎ میں غلطی ہوسکتی ہے مگر ایسی غلطی بھی بہت کم ہوتی ہے، جس وقت ہوتی ہے تو اس کے اعلان اور اثر مرتب ہونے سے پہلے انہیں آگاہ کردیا جاتا ہے اور ایسی کوئی غلطی کسی نبی کی ثابت نہیں ہوسکتی کہ برسوں اس غلطی پر اصرار اور وثوق کامل کسی نبی کارہا ہو اور اس کا اعلان دیتے رہے ہوں اور پھر وہ غلط ثابت ہوئی ہو ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔ یہ امر شان نبوت کے بالکل خلاف ہے۔ یہ ایک طویل تحقیق ہے اگر خلیفۃ المسیح صاحب چاہیں گے تو ہم ان شاء اللہ محققانہ طور سے اس کو مفصل بیان کردیں گے مگر پہلے وہ کسی نبی کی ایسی غلطی یقینی۲؎ طور سے ثابت کرکے دکھائیں۔

قادیانی مؤلف القاء نے جو منہاج نبوت بیان کیا ہے وہ محض غلط ہے، اس کے غلطی کے اظہار میں خاص رسالہ لکھا گیا ہے۔ (اس رسالہ کا نام اغلاط ماجدیہ ہے جو مولانا عبد اللطیف رحمانی کا مرتب کردہ ہے۔) یہاں تک تو دہم جولائی کا اشتہار اور اس کے تتمہ کا مضمون اور اس کی کچھ شرح تھی اب میں آپ کو اس طرح متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس اشتہار کو آپ مکرر دیکھ کر یہ خیال کریں کہ کتنی باتیں ہیں جن کا یقین مرزا قادیانی نے تمام مسلمانوں کو دلانا چاہا ہے اور انجام میں وہ باتیں محض غلط ثابت ہوئیں۔

۱؎

خبر اور پیشین گوئی میں اجتہاد وفسخ نہیں ہوتا خبر میں اجتہادی غلطی یا نسخ بتانا سخت جہالت ہے اس کی تفصیل اصول فقہ کی کتابوں میں دیکھنا چاہئے۔

۲؎

افسوس ہے کہ گدی نشین صاحب تو چل بسے اور اس کا جواب نہ دیا اب کوئی دوسرا ذی علم قادیانی اس کے جواب میں قلم اٹھائے پھر اپنی غلطی کا تما شا دیکھے حضرت نوح علیہ السلام کی ایک غلط فہمی اکثر قادیانی بیان کرتے ہیں مگر وہ ان کی محض غلطی ہے حضرت نوح علیہ السلام سے وحی کے معنی سمجھنے میں غلط فہمی ہر گز نہیں ہوئی اس کی تفصیل دوسرے مقام پر کی گئی ہے۔

28

ان کی فہرست ملاحظہ کیجئے اور غور فرماتے جائیے کہ منہاج نبوت ایسی ہی ہوا کرتی ہے ؟ جس حضرت کی یہ حالت ہو ان کی نبوت کی دلیلیں قرآن وحدیث میں مل سکتی ہیں؟ ذرا سمجھ کر جواب دو اب وہ باتیں ملاحظہ کیجئے !

(۱) نشان آسمانی کے لئے دعا کی گئی وہ دعا قبول ہوکر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی یعنی لڑکی کے اقرباء نشان آسمانی (کوئی کرامت ) مانگتے تھے مرزا قادیانی نے اس کے لئے دعا کی کہ کوئی نشان ظاہر ہو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کیا اور اس کا ظہور اس طرح ہوگا کہ وہ لڑکی ان کے نکاح میں آئے گی جب وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا غلط تھا کہ دعا قبول ہوئی، اب نکاح سے انحراف کرنے اور اس کے مزاحم ہونے پر مرزا قادیانی نے جو وعیدیں اور اپنے لئے بشارتیں اور محمدی بیگم کے نکاح میں آنے کا قطعی فیصلہ جو اس اشتہار میں بیان کیا گیا ہے وہ ملاحظہ ہو۔

(۲) لڑکی کا انجام نہایت خراب ہونا۔ (۳) درمیان میں بھی اس کے لئے کراہت کے امر پیش آنا۔ (۴) جس سے وہ بیاہی جائے گی اس کا اڑھائی سال میں مرجانا ( اس پیشین گوئی نے مرزا قادیانی کو بہت پریشان کیا )۔ (۵) لڑکی کے اقربا میں تفرقہ پڑنا۔ (۶) ان پر تنگی کا آنا۔ (۷) ان پر مصیبت کا آنا۔ (۸) تین سال کے اندر لڑکی کے والد کا مرجانا۔

پندرہ برس سے زیادہ گزرگئے وہ لڑکی بخیر وعافیت ہے اور چین سے زندگی بسر کررہی ہے اس کا شوہر بخیر وخوبی زندہ ہے اس کے اقربا پر تنگی اور مصیبت کچھ نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ کا کوئی قہری نشان ان پر نازل نہ ہوا اور یوں کسی کی نانی دادی کا مرجانا اور کسی قدر رنج والم پیش آجانا دنیا میں ہر ایک کو ہوا ہی کرتا ہے۔ اگر ہو ا ہو تو اسے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کا نتیجہ کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا، پیشگوئی کا نتیجہ اسی وقت کہہ سکتے ہیں کہ کوئی غیر معمولی اور نہایت تباہ کن اثر ظاہر ہو کیوں کہ وہ تتمہ مذکور میں کہہ رہے ہیں کہ ان پر قہری نشان نازل ہوگا، قہری نشان وہی ہوسکتا ہے جس کے ظاہر ہونے سے بے اختیار لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ سختی اور خرابی فلاں پیشین گوئی کا نتیجہ ہے مگر ایسا نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا، احمد بیگ کا مرنا اگر پیشین گوئی کے مطابق مان لیا جائے تو یہی ثابت ہوا کہ سترہ باتوں میں سے ایک سچی ہوئی پھر ایسی پیشین گوئی کرنے والا تو شاید دنیا میں کوئی نہ نکلے گا کہ اس کی بہت سی پیشین گوئیوں میں ایک بھی صحیح نہ نکلے گو اتفاقیہ طور سے سہی۔

(۹) نویں وہ بات ہے جس کے وقوع کا اور سچ ہونے کا دعویٰ اس زور اور استحکام

29

سے کیا گیا ہے جس سے زیادہ زور لگانا اور مخلوق کو یقین دلانا ممکن نہیں ہے اشتہار مذکورہ میں دو جگہ تو اردو میں صاف صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ ۱؎نے مقرر کررکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ ۲؎ کی ( یہ تیسرا موقع ہے جس میں مرزا قادیانی اپنا یقین ظاہر کررہے ہیں کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ ) دختر کلاں (محمدی بیگم ) کو اس عاجز کے نکاح میں لائے گا اور تیسری مرتبہ اسی مضمون کا اعادہ عربی الہام میں ہے پھر اسی مضمون کا اعادہ اسی کی تکرار مرزا قادیانی نے اشتہاروں میں اور خطوط اور رسالوںمیں اس قدر کی ہے کہ میں اس کی صحیح تعداد اس وقت بیان نہیں کرسکتا۔

۲۰ مئی ۱۸۹۱ء میں حقانی پریس لدھیانہ میں اشتہار نصرت دین طبع کرایا ہے اس میں لکھتے ہیں کہ :

’’ میرزا احمد بیگ ولد میرزا گاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتھار دیا تھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اورقرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی۳؎ باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یہ خدا تعالیٰ بیوہ کرکے اس کو میری طرف لے آوے۔ ‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۱۹)

اشتہار کا مضمون تو معلوم ہوا خطوط کا ذکر آئندہ آئے گا۔ جن میں مرزا قادیانی نے اس الہام کی سچائی پر قسم کھائی ہے مگر خدا کی رحمت واسعہ نے سچائی کو نہایت صفائی سے مخلوق پر ظاہر کردیا اور مرزا احمد بیگ کی لڑکی ان کے نکاح میں نہ آئی۔ دوسرے شخص سے اس کا نکاح ہوا اور اس وقت تک اسی کے نکاح میں ہے اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے تین برس سے زائد ہوگئے۔

۱؎

مرزا قادیانی کا یہ جملہ حقیقۃ الوحی کے اس جواب کو محض غلط ثابت کررہا ہے کہ ظہور نکاح کے لئے شرط تھی اور شرط کے پائے جانے سے نکاح فسخ ہوگیا۔ بھائیو! ذرا آنکھیں کھولو اور دیکھو !

۲؎

حکیم نورالدین وغیرہ اپنے مرشد کے کلام کو غور سے ملاحظہ کریں۔ کہ کس صراحت سے اس منکوحہ کی تخصیص خاص اپنے لئے کررہے ہیں اس کو مثل اقیموالصلوۃ کے ٹھہرانا کیسا اندھیر ہے تمام جماعت قادیانی کی آنکھوں پر کیسا پردہ پڑا ہے؟ جن دو چیزوں میں زمین وآسمان کا فرق ہو جن کا فرق آفتاب کی طرح روشن ہو ان دونوں کو حکیم صاحب یکساں بتاتے ہیں افسوس صد افسوس ! اس کی تفصیل تتمہ میں ہوگی۔

۳؎

مرزا محمود اس قول کو دیکھیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں کہ اس کے بعد جو مرزا قادیانی نے بار بار کہا ہے کہ وہ لڑکی لوٹ کر میرے پاس آئے گی یہ پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ یہ مقولہ اس وقت کا ہے جب اس کے اول نکاح سے مایوس ہوچکے ہیں پہلا قول یہی ہے جو یہاں نقل کیا گیا اور آئندہ ازالہ اوہام سے نقل کیا جائے گا۔

30

(۱۰) ان کا یہ مقولہ ہے کہ ’’ بے دینوں کو مسلمان بناوے گا ۔‘‘

(ایضاً ص: ۱۵۸)

یعنی جب وہ لڑکی مرزا کے نکاح میں آئے گی تو بہت سے مخالف بے دین ایمان لائیں گے جب وہ لڑکی نکاح میں نہ آئی تو یہ لکھنا بھی غلط ہوا کہ اس کے نکاح میں آنے سے بے دین مسلمان بنیں گے۔

(۱۱) اسی اشتہار کے آخرمیں ہے :’’گو اول میں احمق لوگ بدگوئی کرتے ہیں لیکن آخر میں خدا کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے‘‘

(ایضاً)

اس کا غلط ہونا بھی اظہر من الشمس ہوگیا اس معاملہ میں نہ خدا کی مدد ان پر ہوئی نہ ان کے مخالف شرمندہ ہوئے بلکہ مرزا قادیانی شرمندگی کا داغ قبر میں اپنے ساتھ لے گئے اور یہ بھی یقین کرلیں کہ اس معاملہ میں کوئی تاویل نہیں چل سکتی اور اگر ایسے صاف وصریح اور تاکیدی مضمون میں تاویلیں چلیں تو پھر دین کوئی چیز نہ رہے گا اور قرآن وحدیث کے صاف اور صریح معنی کو ہر نفس پرست جدھر چاہے گا پھیر لے جائے گا۔

(۱۲) اسی اشہار کا ایک جملہ یہ ہے : ’’ اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔ ‘‘

( مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۵۸، ۱۵۹)

اس کا غلط ہونا تو آفتاب کی طرح چمک رہا ہے کہ ہر طرف سے صدا آرہی ہے کہ مرزا قادیانی کی ایسی عظیم الشان پیشگوئی غلط نکلی اور مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے، یہ بارہ باتیں تو ان کے اصل اشتہار میں تھیں۔

اب اس کے تتمہ کو دیکھئے اس میں پانچ باتیں اپنے مخالفین کے لئے کہتے ہیں:

(۱) ’’ اللہ تعالیٰ ان پر قہری نشان نازل کرے گا بھلا جس پر خدا ئے تعالیٰ کا قہری نشان نازل ہو اس کا کیا حال ہوگا ۔‘‘ (۲) ’’ اللہ تعالیٰ اس سے لڑے گا ۔‘‘(۳) ’’ انہیں انواع واقسام کے عذابوں میں مبتلا کرے گا ۔‘‘(۴) ’’ وہ مصیبتیں ان پر اتارے گا جن کی ہنوز انہیں خبر نہیں ۔‘‘ (۵) ’’ ایک بھی ایسا نہ ہوگا جو اس عقوبت سے خالی رہے ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۰، ۱۶۱)

الغرض اشتہار مذکور اس کے اور تتمہ میں سولہ پیشین گوئیاں تھیں اور ایک قبولیت دعا کا اظہار تھا۔ یہ سترہ خبریں مرزا قادیانی نے دی تھیں اس میں سے سولہ کا غلط ہونا تو اظہر من الشمس ہوگیا البتہ ایک احمدبیگ کے مرنے میں گفتگو ہے اس کی تشریح حصہ دوم میں آئے گی اور دکھادیا جائے گا کہ یہ پیشین گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔

31

مقام انصاف ہے جس کے بیسیوں اشتہاروں میں سے ایک اشتہار میں سولہ باتیں غلط ثابت ہوں اور صریح جھوٹ نکلیں اسے مجد دوقت اور نبی مانا جائے ؟بھائیو! کچھ تو غور کرو ! اب بغرض اتمام حجت کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ اور توریت مقدس سے ثابت ہے کہ اگر مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوجائے تو وہ جھوٹا ہے پھر جس کے سولہ جھوٹ ایک اشتہار میں ایک معاملہ کے متعلق ثابت ہوجائیں تو اسے کیا کہا جائے گا ؟ انصاف سے اس کا جواب دو کیا ایسے شخص کو بزرگ اور مقدس کہہ سکتے ہیں؟۔

الحاصل صرف اس اشتہار کا مضمون اور اس کا نتیجہ مرزا قادیانی کی حالت معلوم کرنے کے لئے کافی ہے اسی سے ان کا سچا یا جھوٹا ہونا اظہر من الشمس ہوجاتا ہے اس اشتہار کے بعد مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کا ذکر اپنی مایہ فخر کتاب ازالہ اوہام۱؎ میں کیا ہے جس میں نہایت شد ومد سے الہامی طور سے اپنا یقین مرزا قادیانی نے ظاہر کیا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔

میں اس کی عبارت نقل کرتا ہوں تاکہ ناظرین معلوم کریں کہ اس پیشگوئی کے سچے ہونے پر انہیں کس قدر وثوق تھا اور اسے کیسی باعظمت اور مہتم بالشان سمجھتے تھے چنانچہ تحریر کرتے ہیں :

’’خدا ئے تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہشیار پوری کی (۱) دختر کلاں انجامکار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گی اور کوشش کرینگے کہ ایسا نہ ہو لیکن (۲) آخر کار ایسا ہی ہوگااور فرمایا کہ (۳) خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کرکے اور (۴) ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس (۵) کام کو ضرور پورا کرے گا۔ (۶) کوئی نہیں جو اُس کو روک۲؎ سکے۔

۱؎

اس کتاب کا نہایت عمدہ جواب مولانا محمد انواراللہ خاں صاحب بہادر حیدر آبادی نے دیا ہے افادۃ الافہام اس کا نام ہے، طالبان حق اسے ضرور ملاحظہ کریں۔

۲؎

اتنی عبارت میں مرزا قادیانی کے چھ جملے ہیں یہ چھ جملے نہایت صراحت سے ظاہر کررہے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح خاص مرزا قادیانی سے ہوگا اس کے ظہور کے لئے کوئی شرط نہیں ہے اگر کوئی شرط ہے تو وہ شرط ضرور پوری ہوگی اس کے بعد وہ نکاح میں آئے گی کوئی شرط یا کوئی دوسری بات اسے روک نہیں سکتی۔ بھائیو! خدا کے لئے غور کرو اور اپنی جانوں پر رحم کرکے صریح کذب سے ہاتھ اٹھاؤ !

32

چنانچہ اس پیشگوئی کا مفصل بیان معہ اس کی میعاد خاص اور اس کے اوقات مقرّرشدہ کے اور مع اس کے اُن تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اُس کو باہر کردیا ہے اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طور پرطبع ہوکر شائع ہوچکا ہے جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہوجائے تو بلاشبہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ اور یہ پیشگوئی ایک ۱؎ سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچیں ہوئی ہیں اور ہر ایک کو جو اُن کے حال سے خبر ہوگی وہ اس پیشگوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصّب ہوگا اس کواقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیشگوئی کا انسان کی قدرت سے بالا تر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار سے ملے گا کہ خدا تعالیٰ نے کیوں یہپیشگوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں۔ اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے۔

(پھر لکھتے ہیں ) اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیشگوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری ۲ ؎ نہیں ہوئی تھی (جیساکہ اب تک بھی جو ۱۶ ؍ اپریل ۱۸۹۱ء ہے پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھکر وصیت بھی کردی گئی۔ اُس وقت گویا پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی۔ اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔

تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اَور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں ۳؎ سکا۔ تب اُسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا:

۱؎

مرزا قادیانی کے ان جملوں پر تھوڑا تأمل کرنے سے یقین ہوجاتا ہے کہ اس پیشین گوئی کے غلط ہونے کے بعد جو باتیں خلیفہ نورالدین صاحب اور دوسروں نے بتائی ہیں وہ محض غلط ہیں۔

۲؎

یہ عبارت بھی مکرر دیکھی جائے کس صفائی سے آفتاب کی طرح روشن کررہی ہے کہ اس پیشین گوئی سے مقصود یہی ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اس کے سوا کچھ اور مقصود بتانا محض غلط اور مرزا قادیانی کے کلام کے بالکل خلاف ہے اور اس الہام نے غلط فہمی کے احتمال کو بھی اٹھادیا۔

۳؎

یہ وہ الفاظ ہیں جنہوں نے مرزا قادیانی کے مریدوں کو بڑے دھوکے میں ڈال رکھا ہے جو ان کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی اس کی نسبت یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا الہام تو صحیح ہے لیکن مرزا قادیانی کو اس کے معنی سمجھنے میں غلطی ہوئی مگر افسوس اس قدر خیال نہیں کرتے کہ جس الہام کی تشریح اور توضیح (بقیہ حاشیہ ص ۳۴ پر)

33

’’ الحقّ من ربک فلا تکوننّ من الممترینیعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔ سو اُس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریمؐ کو قرآن کریم میں کہا کہ تو شک مت کر۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ در حقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اور میرے دل میں یقین ہوگیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آجاتا ہے جو میرے پر آیا تو خدا تعالیٰ تازہ یقین دلانے کے لئے اُن کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں ناامید کردیا تونا امید مت ہو۔ ‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اول ۳۹۶،۳۹۹ خزائن ج ۳ ص ۳۰۵، ۳۰۶)

اب اس عبارت میں ذیل کے جملے ملاحظہ کیجئے !

(۱) کوشش کریںگے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا یعنی وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ (۲) خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ (۳) ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا۔ (۴) اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ (۵) کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔

(صفحہ ۳۳ کا بقیہ حاشیہ) بار بار کی توجہ اور الہام کی گئی ہو جس میں غلط فہمی کے خیال کو غلط بتادیا ہو اور اس کے مطلب میں شک کرنے کو تاکید سے منع کیا ہو پھر وہاں بھی غلط فہمی اور خطائے اجتہادی بتائی جائے کیسا غضب ہے اور کیسا صریح مرزا قادیانی کو جھوٹا کہنا ہے مگر جماعت مرزائیہ کی عقل کیسی جاتی رہی ہے کہ انہیں سچا ثابت کرنے کے لئے ایسی باتیں بناتے ہیں کہ وہ باتیں بھی انہیں جھوٹا ثابت کرتی ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے۔ افسوس ان کی تیرہ درونی پر۔ اس کے سوا یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ غلط فہمی کی کوئی حد ہے اور اس کے معنی سمجھنے میں غلطی ہر گز نہیں کرسکتا۔ اس کی تشریح علامہ قاضی عیاضؒ نے شفا میں اچھی طرح کی ہے اگر علم ہوا تو اس میں دیکھو اور بالخصوص ایسے الہام میں جو برسوں ہوتا رہا ہو اور اس کے صحیح سمجھنے پر بھی الہام ہوا ہو اور اس کے غلط فہمی پر مرزا قادیانی کی روسیاہی ہوتی ہو۔ میں نہایت استحکام سے یقینی طور پر کہتا ہوں کہ نبی سے ایسی غلطی کا ہونا غیر ممکن ہے کہ برسوں اس پر قائم رہے اور بڑے زور وشور سے اپنا یقین ظاہر کرتا رہے پھر آخر میں رسوا ہو۔ اگر ایسے الہام میں بھی غلط فہمی ہوسکتی ہے تو پھر اس کی کسی بات پر اعتبار نہیں ہوسکتا۔ جس الہام میں اسے نبی ہونے کی خبر دی گئی ہے اس میں غلط فہمی نہ ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟کوئی وجہ نہیں ہوسکتی جب دونوں الہام تکرار اور استحکام میں یکساں ہوں غرض یہ قول مرزا قادیانی کے سب دعوؤں کو غلط کردیتا ہے۔

34

ان پانچ جملوں کو دیکھا جائے کس زور سے اس کا نکاح میں آنا مرزا قادیانی بیان کررہے ہیں اور یہ بھی بتارہے ہیں کہ اس کے ظہور کے لئے کوئی شرط نہیں ہے اس نکاح کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ اس بیماری میں جو اس پیشگوئی کے ظہور میں تردد ہوا تھا وہ بھی دور کردیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ اس کے ظہور میں تردد نہ کر؛ اس کا ظہور ضرور ہوگا، مرزا کو الہام کے نہ سمجھنے کا خیال ہوا تھا وہ بھی دور کردیا گیا اب اس میں اجتہاد ی غلطی بتانا اس الہام کو متشابہات میں سمجھنا مرزاقادیانی کو جھوٹا کہنا ہے اگر کچھ خوف خدا ہے تو اس میں غور کرو ! اگر زیادہ تمہاری سمجھ میں نہ آئے تو اسے بخوبی سمجھ سکتے ہو کہ یہ پانچوں جملے جو میں نے ابھی نقل کئے ہیں یہ تو علانیہ جھوٹے ہوگئے ان کے جھوٹے ہونے میں تو کوئی تردد نہ رہا اب تمہیں اختیار ہے کہ مرزا قادیانی کے ان جملوں کو جھوٹا کہو یا نکاح فسخ ہونے کو غلط سمجھو !

چھٹا … وہ الہام جھوٹا ہوا جو انہیں سخت بیماری میں ہوا تھا اور سولہ جھوٹوں کی تعداد پہلے بیان کی گئی ہے غرضیکہ اس نکاح کے نہ ہونے سے بیان مذکور سے ۲۲ بائیس جھوٹ مرزا قادیانی کے کلام میں یہاں تک ثابت ہوئے۔

اب قادیانیوں اور مرزائیوں کو اختیار ہے کہ انہیں مرزا قادیانی کی طرف منسوب کریں یا خدا کی طرف۔(نعوذ باللہ)

مگر یہ ضرور انہیں ماننا ہوگا جس طرح یہ یقینی الہامات مرزا قادیانی کے غلط ہوگئے اسی طرح ان کے مسیح موعود ہونے کا الہام بھی غلط اور محض غلط ہے دونوں الہاموں کی حالت یکساں ہے ان الہاموں کے غلط ہونے کے علاوہ ایک اور غلط بیانی لائق ملاحظہ ہے خیال فرمائیے اسی ازالہ اوہام کی منقولہ عبارت میں لکھتے ہیں کہ جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہوگا اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیشگوئی کا انسان کی قدرت سے بالاتر ہے حالانکہ محض غلط ہے اشتہار نقل ہوچکا ہے اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے ظاہر ہو کہ پیش گوئی کا مضمون انسانی طاقت سے باہر ہے کسی کا نکاح میں آجانا کسی کا مرنا کسی کا پیدا ہونا کسی پر مصیبت کا آنا ایسی چیزیں ہیں جن کی خبر رمّال اور نجومی وغیرہ کثرت سے دیا کرتے ہیں ان میں بعض جھوٹی ہوجاتی ہیں اور بعض سچی نکلتی ہیں۔

اب جماعت مرزائیہ اور خصوصا خلیفۃ المسیح فرمائیں کہ اس اشتہار میں کون سی بات ایسی ہے جو رمال، نجومی، کاہن نہیں بتاتے۔

35

اے بھائیو! اب تو رمّال، نجومی کے پیش کرنے کی بھی ضرورت نہ رہی اب تو عیاں ہوگیا کہ جو کچھ مرزا قادیانی نے کہا تھا وہ غلط تھا کیوں کہ وہ پیش گوئی غلط ہوگئی اور جتنے بیانات اس کے متعلق تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے۔

پھر کیا اب بھی کوئی سمجھ دار خدا سے ڈرنے والا مرزا قادیانی کو سچا مان سکتا ہے ؟ جن کو مرزا قادیانی کے حالات سے زیادہ واقفیت حاصل کرنا ہو وہ آئندہ بیان کو غور سے دیکھیں۔

ناظرین! جب مرزا قادیانی اور ان کے حواریّین کی نہ آسمان پر شنوائی ہوئی، ہزاروں دعا کرتے کرتے تھک گئے نہ زمین والوں نے ان کی طرف توجہ کی تو مجبور ہو کر بعض اعزّہ کو اور لڑکی کے والد کو عاجزانہ خط لکھے جو لائق دید ہیں جن سے مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی پڑتی ہے۔

پہلا خط جو مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی کو لکھا ، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اﷲتعالیٰ

’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا، اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتاہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا مگر میں للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں۔ اور دین کی پروا نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر بڑی عداوت ہورہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت۱؎ دشمن ہیں بلکہ میرے کیا، دین اسلام کے سخت دشمن ہیں عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں ہندؤوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ

۱؎

نکاح کے اصل کرنے والے لڑکی کے باپ مرزا احمد بیگ ہیں اس لئے اصل دشمن وہی ہوئے اور دین اسلام کے دشمنوں میں اول نمبر ان کا ہوا مگر آئندہ ناظرین ملاحظہ کریں گے کہ مرزا قادیانی انہیں اپنا مکرم لکھتے ہیں اور بہت کچھ خوشامد کی باتیں بتاتے ہیں۔

36

کہ اس کو خوار۱؎ کیا جائے ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں اب مجھ کو بچالینا۲؎ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچالے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کرکے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا؟ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی ؟بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑدیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہوگئے یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار۳؎ہو اور اس کا روسیاہ ہو خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو خدائے تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی صاحبہ نے جوش میں آخر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے ؟ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے بے شک وہ طلاق دیوے ہم راضی ہیں ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے ؟

۱؎

مرزا قادیانی کے اس کلام سے ظاہر ہوا کہ اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آنا ان کی خواری اور ذلت اور روسیاہی کا باعث ہوگا جب وہ لڑکی ان کے نکاح میں نہ آئی تو جنہیں مرزا قادیانی دین اسلام کے سخت دشمن بتاتے ہیں وہ کامیاب ہوئے اور ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی ذلیل وخوار اور روسیاہ ہوئے، اب غور سے دیکھا جائے کہ یہ ذلت وخواری کس کی طرف سے ہوئی اس کا نہایت سچا اور صاف جواب یہ ہے کہ مرزا کی یہ روسیاہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی؛ کیوں کہ اول اس کی طرف سے پیام نکاح کا الہام ہوا پھر یہ الہام ہوا کہ وہ ہر طرح تیرے نکاح میں آئے گی۔ ایسے پختہ وعدہ کے بعد بھی وہ نکاح میں نہ آئی اور خدا تعالیٰ نے اپنا پختہ وعدہ پورا نہ کیا اس سے قطعا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا کو ذلیل وخوار کیا اور بخوبی ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی خدا کے پیارے اور اس کے رسول ہر گز نہ تھے۔

۲؎

یہ جملہ نہایت قابل غور ہے کیوں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا نہایت پیارا اور اس کا کمال مقرب بتاتے ہیں جس کے دعا قبول کرنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ خاص طور سے کرچکا ہے وہ نہایت عاجزی اور بے کسی سے کہہ رہا ہے کہ اگر میں اللہ کا ہوں گا یعنی اس کا پیارا اور مقرب ہوں گا تو وہ مجھے بچالے گا مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں بچایا اور مرزا قادیانی اپنے قول کے بموجب روسیاہ ہوئے اور یہ روسیاہی خدا کی طرف سے ہوئی کیوں کہ اس نے نہیں بچایا کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ کسی نبی نے اس طرح کیا ہو اور وہ سچا مانا گیا ہو مگر مرزائی جماعت اندھی بن کر مرزا کو مان رہی ہے۔

۳؎

اس سے صاف مفہوم ہے کہ صرف نکاح پر آپ کی خواری مرتب تھی جو ہوچکی ہے ہمارا بھی صاد ہے۔

37

ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں پھر میں نے رجسٹری کراکر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا ہے جو چاہے کرے ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہوسکتے مرتا مرتا رہ گیا کہیں مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی صاحبہ کی مجھے پہنچی ہیں بے شک میں ناچیز ہوں، ۱؎ ذلیل ہوں اور خوار ہوں مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میرے عزت ہے جو چاہتا ہے سو کرتا ہے، اب جب میں ایسا ذلیل ہوںتو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میںرکھ نہیں سکتا بلکہ ایک طرف جب (محمدی بیگم ) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف۲؎ فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کروگے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل وجان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کرکے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۳؎ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کرکے روک دیوے ورنہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑدوں گا۴؎ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا

۱؎

مرزا قادیانی کی اس صورت حال کی زبان پر یہ شعر ہوگا ع: آہ دشمن کے طنز دوست کے پند آسماں کے جور کیا کیا مصیبتیں نہ سہیں تیرے واسطے

۲؎

مرزا قادیانی کایہ تقدس دیکھا جائے کہ صرف اپنی خواہش نہ پوری ہونے کی وجہ سے بلا قصور اپنی بہو کو طلاق دلواتے ہیں اور دھمکی دے کر اسے مجبور کرنا چاہتے ہیں۔

۳؎

یہ جملہ مرزا قادیانی کا لائق غور ہے کیسی عاجزی سے اپنے سمدھی کی منت کررہے ہیں کوئی اہل اللہ کسی دنیادار سے اپنے مطلب کے لئے ایسی عاجزی نہیں کرسکتا بالخصوص وہ ملہم جس کو الہام الٰہی نے یقین دلادیا ہو کہ یہ نکاح ضرور ہوگا۔

۴؎

ناظرین غور کریں ابھی تو رشتہ توڑنے پر خدا کا خوف دلاچکے ہیں اور ابھی خود رشتہ توڑنے پر صرف آمادہ ہی نہیں بلکہ قسم کھارہے ہیں برائے خدا حضرات مرزائی فرمائیں کہ رسول اللہ کا یہی شیوہ ہے منہاج نبوت اسی کو کہتے ہیں ؟ کہیں پر تو خوف خدا کرکے مرزا قادیانی کی بے عنوانیوں کو دیکھیں اور اپنی جانوں پر رحم فرمائیں۔

38

ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو ورنہجہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں، واللہ اعلم۔‘‘

(خاکسار غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ۴ مئی ۱۸۹۱ء کلمہ فضل رحمانی ص: ۱۲۵ تا ۱۲۷ )

جن کے نام یہ خط لکھا گیا ہے وہ مرزا قادیانی کے سمدھی ہیں اور ان کی بیوی یعنی مرزا قادیانی کی سمدھن احمد بیگ کی بہن ہیں ان کی بیٹی مرزا قادیانی کے بیٹے فضل احمد کو بیاہی ہے اس خط میں کئی باتیں قابل غور ہیں جن سے ان کی حالت کا کامل فیصلہ ہوتا ہے۔

(۱) جو لوگ مرزا قادیانی کے اس نکاح کے مخالف ہیں اور نکاح نہیں کرتے یا کرنے سے روکتے ہیں مثلا احمد بیگ اور اس کے خاص اعزہ وہ اسلام کے دشمن ہیں۔

(۲) مرزا قادیانی نے مکرر ظاہر کیا کہ محمدی بیگم سے نکاح نہ ہونے پر ان کی ذلت وخواری موقوف ہے یعنی ’’اگر محمدی بیگم میرے نکاح میں نہ آئی تو میں ذلیل اور روسیاہ ہوں گا‘‘ اس کلام سے نہایت روشن ہے کہ اس پیشگوئی کے لئے کوئی ایسی شرط نہ تھی جس کی وجہ سے مرزا پر روسیاہی کا داغ نہ آئے، اگرچہ پیشگوئی پوری نہ ہو الغرض جب وہ عورت نکاح میں نہ آئی تو مرزا قادیانی اپنے قول کے بموجب ذلیل وروسیاہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں روسیاہی سے نہ بچایا۔

(۳) احمد بیگ نے اپنی لڑکی کا رشتہ کردیا عنقریب وہ نکاح کرنے والے ہیں۔ اب مرزا قادیانی اس کی بہن اور اس کے بہنوئی سے بار بار نہایت زور سے تحریک کرتے ہیں کہ اس کا نکاح نہ ہونے دو اور مقابلہ اور لڑائی کرکے اسے روک دو اور ان کے قول وقرار کو فسخ کراکے مجھ سے نکاح کرادو۔ اب یہاں مرزا قادیانی کئی امر نامشروع کے مرتکب ہوئے۔

(۱) یہ کہ بہن کو بھائی سے لڑنے کے لئے کہتے ہیں۔

(۲) یہ کہ ایک بھائی مسلمان ایک شخص سے قول وقرار کرچکا ہے اور اس کے ایفاء کے لئے وہ تیار ہے مرزا قادیانی اس پختہ اقرار کو توڑدینے اور توڑ وادینے پر اصرار کر رہے ہیں اور بالتصریح ’’اوفوابالعہد ان العہد کان مسئولا‘‘ (بنیٓ اسراء یل: ۳۴) کے خلاف تعلیم دے رہے ہیں البتہ جماعت مرزائیہ اپنے مذہب کے بموجب یہ کہہ سکتی ہے کہ جب خدا ہی اپنے عہد وعدہ کا پابند نہیں، نہایت پختہ عہد کرکے پورا نہیں کرتا پھر اس کا رسول بھی اسی کا پیرو ہے ع: ؎

وزیر چنیں شہریارے چناں

39

(۳) بیٹے کا عاق کرنا بھی مرزا قادیانی کے نزدیک کوئی شرعی بات ہے جس کی وجہ سے وہ بیٹا وراثت سے محجوب ہوجائے حالانکہ شریعت محمدیہ میں عاق کرنا موانع ارث میں نہیں ہے اب یا تو مرزا قادیانی شرع محمدی کے مسئلے سے ناواقف تھے یا شریعت محمدیہ کے خلاف جدید حکم نافذ کیا اور بیٹے کے عقوق کو مانع ارث ٹھہرایا۔

(۴) رشتہ ناتہ کے توڑنے سے دوسروں کو منع کیا اور خلاف حکم خداوند ٹھہرایا۔ مگر خود رشتہ ناتہ توڑنے کے لئے قسم کھاتے ہیں یعنی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کے لئے رشتہ توڑدیں گے اگر تم خلاف شریعت امر کرنے میں ہمارے معین ومددگار نہ ہوگے۔

(۵) ان باتوں کے علاوہ اب میں حق پرستوں کی خدمت میں منت سے کہتا ہوں کہ اس مضمون میں غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی اپنے سمدھی کو کیسی اسلامی غیرت دلارہے ہیں۔ اپنی رسوائی دکھلارہے ہیں اور پھر اس نکاح کے روکنے کی تدبیریں بتارہے ہیں پھر مضطرب ہوکر عاجزی سے فرمارہے ہیں کہ آپ کو لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو خط لکھیں کہ دوسری جگہ عقد کرنے سے باز آجائے اس اضطراب اور عاجزی کو دیکھئے اور اس الہام کے دعوی کو ملاحظہ کیجئے جس پر قسم کھارہے ہیں اور نہایت شدت اور بے تہذیبی کے ساتھ اپنے جزم ویقین کا اعلان کررہے ہیں پھر ایک بار نہیں مکرر سہ کرر بارہا۔ بھائیو ! کیا اب بھی شبہ رہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی الہام کے دعوی میں سچے نہیں ہیں ؟ انہیں الہام ہر گز نہیں ہوا یہاں ہمیں کوئی پہلو نہیں ملتا ہے جس سے ہم مرزا قادیانی کو قصدا غلط بیانی سے بچائیں بلکہ اس کہنے پر مجبور ہیں کہ لوگوں میں نبی بننے کو اور ڈرا کر مطلب نکالنے کو الہام کا دعویٰ زور وشور سے کیا اور خانگی طور سے عاجزی اور مطلب برآری کی تدبیریں کیں۔

سمجھتے ہوں گے کہ خانگی خطوط کو کون دیکھے گا اور کس پر ظاہر ہوگا ؟ اعلان کو ہر شخص دیکھے گا۔ پھر اگر ان دھمکیوں اور تدبیروں سے مطلب نکل آیا تو کام بن گیا اور لوگوں میں پیش کرنے کو نبوت کی ایک دلیل ہاتھ آگئی اس لئے پہلے سے اسے عظیم الشان نشان مشہور کیا انہیں اپنی۱؎ تدبیروں

۱؎

اس پر طرہ یہ ہے کہ کچھ تھوڑی بہت رمل سے کام لیا ہوگا زایچہ میں پہلی شکل (جو لحیاں ) کی نکلی قیاس غالب کرلیا کہ مقصود براری پر دال ہے، اتنا غور نہ کیا کہ زائچہ کی دسویں شکل میں (نفی ) موجود ہے۔ جو پہلی شکل کے سعادت کا سخت مخالف ہے حضرت جی منسوبات رمل میں بھی پھسڈی رہے تا بہ الہام ربانی چہ رسد۔ ابوالمجدعبدالرحمن

40

پر یقین تھا کہ میں کامیاب ہوں گا اور ظاہر ہے کہ لڑکی کے والدین قرابت مند تھے اور بقول انہیں کے مرزا قادیانی کچھ چوہڑے چمار نہیں تھے صاحب ثروت صاحب جاہ تھے پھر انکار کی کیا وجہ۔

مگر خدائے تعالیٰ کو بہت سی خلقت کو گمراہی سے بچانا تھا اس لئے ان کے قرابت مندوں کے ایمان کو پختہ کردیا وہ کسی لالچ میں نہ آئے کسی دھمکی سے نہ ڈرے۔

(۶)یہ امر لحاظ کے لائق ہے کہ بعض امور شریعت محمدیہ۱؎ کے خلاف کررہے ہیں اور دوسروں کو خلاف کرنے کا اشتعال دے رہے ہیں ملاحظہ کیجئے ! اپنی سمدھن کو کہتے ہیں کہ اگر سخت مقابلہ کرکے اپنے بھائی کو سمجھاتیں تو کیوں نہ سمجھتا ؛بھائی سے سخت مقابلہ کرنے کے لئے اشتعال ہورہا ہے۔

پھر سمدھی صاحب کو لکھتے ہیں کہ اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کردیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کرکے روک دیں۔ بھلا یہ کوئی انسانیت ہے کہ بھائی اپنی لڑکی کا رشتہ کرچکا، نکاح کے لئے عہد وپیماں مستحکم ہولیا، یہاں تک کہ تاریخ نکاح کی معین ہوگئی، اب بھی سمدھن صاحبہ کو بڑے زور سے اشتعال ہورہا ہے کہ بھائی سے لڑے اور اس عہد وپیماں کو توڑوادے اور ان سے نکاح کرادے۔

میرے بھائیو! کچھ تو انصاف کیجئے کیا نبی کی یہی شان ہے اور مسیح موعود کی یہی پہچان ہے ؟ کہ بھائی بہنوں میں لڑائی کراوے اور ایک شخص سے قول وقرار شرعی ہوچکا ہے اور حسب دستور طرفین کا کچھ صرف بھی ہولیا ہے، یہ سب کچھ خیال نہ کرے اور عہد وپیماں شرعی کو توڑ کر آپ سے نکاح کرادے۔

اے مرزائیو! منہاج نبوت یہی ہے انبیاء کی یہی روش ہے؟ ذرا خدا کا خوف کرکے اس کا جواب دو ! پھر اسی پر قناعت نہیں ہے کچھ اور بھی فرمارہے ہیں، کہتے ہیں کہ :

’’اگر ایسا نہ کروگی تو مجھے خدا کی قسم ہے کہ ہمیشہ کے لئے تمامی رشتے ناطے (ناتے کی خرابی ) توڑدوں گا اور فضل احمد اگر میرا وارث بننا چاہتا ہے تو آپ کی لڑکی کو گھر میں نہ رکھے گا ۔‘‘ یعنی طلاق مغلظہ دے دے گا۔

میرے پیارے بھائیو ! ذرا غور کرو کہ ایک عورت کی خواہش میں یا اپنی پیشین گوئی

۱؎

مرزا قادیانی کے جب رشتہ کے پیام کو احمد بیگ نے منظور نہیں کیا، اس نے سلطان محمد سے نکاح ٹھہرایا اس کے بعد پھر اس سے پیام نکاح کرنا خلاف شریعت ہے۔

41

کے سچا کرنے کے لئے قطع رحم پر قسم کھائی جاتی ہے۔ میاں بیوی ۱؎ میں جدائی کرائی جاتی ہے۔ پھر کون؟ میاں بیوی ایک لائق بیٹا اور نیک بخت عفیفہ بہو اور پھر بلا قصور اگر بہو کا ماموں یا دوسرا شخص کہنا نہیں مانتا تو اگر قصور وار ہیں تو وہ ہیں غریب بہو اور بیٹے نے کیا کیا ؟ جو ان میں جدائی کرائی جاتی ہے ؟اگر بیٹا جدا نہ کرے تو اسے وراثت سے محرومی کی دھمکی دی جاتی ہے۔ کیا نبی یا برگزیدۂ خدا سے ایسا ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں یہ وہ لائق نفرت کام ہے جسے شریعت اور عقل دونوں نہایت برا بتاتے ہیں۔

( بڑا لطف تو یہ ہے ) کہ اسی خط میں لکھ رہے ہیں کہ :

’’ پرانا رشتہ مت توڑو خدا سے ڈرو ۔‘‘اس جملہ سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی رشتہ توڑنا گناہ ہے بری بات ہے اس لئے خدا سے ڈرارہے ہیں مگر خود اسی گناہ کے ارتکاب پر تیار ہیں اور اپنے خاص ذی رحم پر ظلم کرنے پر آمادہ ہیں۔

اے حق کے جاں نثارو ! میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خدا کے برگزیدہ جن کو وہ اپنے خطاب اور الہام سے نوازتا ہے وہ ایسے ہی ناخدا ترس ہوتے ہیں ؟ ایسے شخص حضرت رحمۃ للعالمینa کا ظل ہوسکتے ہیں؟ جس کا دعویٰ مرزا قادیانی کررہے ہیں ذرا سوچ کر فرمائیے !

یہ خط تو سمدھی صاحب کے نام تھا ایک دوسرا خط اسی روز سمدھن صاحبہ کو بھی اسی مضمون کا لکھا ہے، اسے بھی ملاحظہ کیجئے !

دوسرا خط سمدھن صاحبہ کے نام

’’والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی ) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا ئے تعالیٰ کی قسم کھاچکا ہوں اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑدوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا اس لئے نصیحت ۲؎ کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھادو اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نوردین۳؎ صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس

۱؎

یعنی بے چارہ فضل احمد ناکردہ گناہ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ اور نیک بخت عزت بی بی اپنی بہو۔

۲؎

خود تو خلاف شریعت رشتہ ناتہ توڑنے پر آمادہ ہیں اور دوسروں کو نصیحت ہورہی ہے۔

۳؎

جناب مسیح موعود مہدی مسعود نے اس گناہ میں اپنے خلیفہ کو بھی شریک کرلیا۔

42

ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جاوے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھاجاوے اور ایک روپیہ وراثت کا اس کو نہ ملے سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجائے گا جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا نکاح کسی دوسرے سے ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑجائے گی، سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق ۱؎ کردوں گا اور پھر وہ میرے وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھالو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہوجاتی مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدائے تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا ۔‘‘

( راقم مرزا غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ۴؍ مئی ۱۸۹۱ء ، کلمہ فضل رحمانی ص: ۱۲۷)

اس خط کا مضمون بھی وہی ہے جو اس سے قبل کے خط میں ہے مگر مجھے یہ دکھانا ہے کہ انصاف پسند حضرات مرزا قادیانی کی تحریر کو اور اس کے مضمون کو غور سے ملاحظ فرمائیں کہ یہ تحریر عامیانہ معمولی اہل غرضوں کی سی ہے یا اس میں کچھ بھی تہذیب اور متانت اور تقدس کا شائبہ ہے ؟ کیا آپ خیال کرسکتے ہیں کہ کوئی مہذب دیندار صاحب متانت بار بار اس طرح قسم کھاسکتا ہے جس طرح مرزا قادیانی کھارہے ہیں؟ اور وہ بھی کسی جائز امر پر نہیں بلکہ رشتہ ناتہ توڑنے پر؟ جو شریعت محمدیہ میں جائز نہیں ہے اور خود بھی اسے برا بتاتے ہیں بیٹے کو محروم الارث کررہے ہیں اس وجہ سے کہ اگر وہ بلا قصور اپنی بیوی کو طلاق نہ دے اور طلاق بھی وہ جو شریعت محمدیہ میں مکروہ ہے یعنی تین طلاق ایک ہی مرتبہ دینا۔ کوئی قادیانی کسی نبی کی یا کسی بزرگ کی سوانح عمری میں ایسی باتیں دکھاسکتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔ تقدس کی شان ایسی باتوں سے منزہ ہے۔

۱؎

بیٹے کو عاق کرنے اور وراثت سے محروم کرنے کی دھمکی دینا اور اس پر قسم کھانا۔ مرزا قادیانی کے جدید شرعی احکام ہیں۔ جو شریعت محمدیہ کے خلاف ہیں۔

43

یہ بھی ملاحظہ کیجئے کہ ان خطوط سے مرزا قادیانی کا اضطراب کس قدر ظاہر ہوتا ہے۔ اولیاء اللہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلب مطمئنہ عنایت فرمایا ہے انہیں ایسے اضطراب سے کیا تعلق ہوسکتا ہے ؟۔ اب مجھے اس قدر اور کہنا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس خط میں چند حکم نافذ کئے ہیں جو شریعت محمدیہ کے خلاف ہیں۔

پہلا: یہ کہ اگر احمد بیگ اپنی لڑکی سے ہمارا نکاح نہ کرے تو فضل احمد ہمارا بیٹا ان کی بھانجی (عزت بی بی ) کو طلاق دے دے۔ یہاں میں یہ دریافت کرتا ہوں کہ اس کہنے سے فضل احمد پر طلاق کا دے دینا فرض یا واجب ہوگیا تھا یا نہیں ؟ اگر فرض یا واجب ہوگیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بلاقصو ر کسی وقت اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دے دینا فرض ہوجاتا ہے۔ یہ حکم شریعت محمدیہ کے خلاف ہے۔ اور اگر فرض، واجب نہ ہوا تھا، اگر فضل احمد اس پر عمل نہ کرے اور اپنی بیوی کو طلاق نہ دے تو گنہگا ر نہیں ہوسکتا اورنہ کسی سزا کا مستحق ہوسکتا ہے۔ پھر اسے ترکہ سے محروم کردینا شریعت محمدیہ کے خلاف ہے۔ بہر حال دونوں صورت میں مرزا قاد یانی کے کلام سے ایک حکم ثابت ہوتا ہے جو شریعت محمدیہ کے خلاف ہے اور ایسا حکم ہے کہ کوئی سلیم العقل شریف الطبع اسے پسند نہیں کرسکتا۔

دوسرا: یہ کہ اگر فضل احمد طلاق نہ دے تو عاق کیاجاوے اور ایک پیسہ وراثت کا اسے نہ ملے۔ اس پر بہت زور ہے اور ایک ہی خط میں مکرر لکھا ہے۔ اس حکم کی نسبت مجھے یہ کہنا ہے کہ بیٹے کو عاق کرنا اور وراثت سے اسے محروم کردینا، شریعت محمدیہ کا مسئلہ تو نہیں ہے، کیا موانع ارث میں عاق کرنا بھی کوئی مانع ہے ؟ ہرگز نہیں پھر مرزاقادیانی خلاف شریعت محمدیہ یہ تشریعی حکم اپنی طرف سے دے رہے ہیں۔

ان دونوں حکموں کا حاصل یہ ہوگا کہ اگر بیٹا اپنی بیوی کو بلاقصور طلاق نہ دے تو اولاد کے لئے جو حکم خداوندی ہے اسے ہم نہ مانیں گے اور بیٹے کو محروم الارث کردیں گے اس پر بہت زور ہے اور بار بار جتاتے ہیں۔

حضرات مرزائی انصاف سے فرمائیں کہ ایسے ہی احکام منہاج نبوت کے مناسب ہیں؟ یہاں سے مرزائیوں کا یہ کہنا بھی غلط ہوگیا کہ نبوت تشریعی ختم ہوچکی ہے، مرزا قادیا نی کی نبوت ظلی ہے تشریعی نہیں ہے، حالانکہ بیان مذکور سے معلوم ہوا کہ مرزا جی نے تشریعی حکم نافذ کئے اور جب کسی قسم کی نبوت ختم نہیں ہوئی تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ حضرات مرزائی جناب رسالت

44

حضرت سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو (نعوذ باللہ من ذالک) خاتم النّبیین۱؎ نہیں مانتے۔ آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ اس خط کا آخری جملہ یہ ہے کہ جس دن ( محمدی کا ) نکاح ہوگا، اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔

یہ بالکل غلط ثابت ہواکیوں کہ اس لڑکی کا نکاح دوسرے سے ہوگیا اور ان کے بیٹے (فضل احمد) نے اپنی بیوی (عزت بی بی) کو طلاق نہ دی، یہاں سے ظاہر ہے کہ محض قیاس سے مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ جس دن اس لڑکی کا نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔ قیاس کی وجہ ظاہر ہے کہ بیٹا اپنے باپ کا کہنا مانے گا، وراثت کی طمع بھی کچھ ہوگی اس وجہ سے مرزا قادیانی نے حکم لگادیا مگر وہ قیاس غلط نکلا۔

بھائیو! اسی پر قیاس کرلو کہ مرزا قادیانی نے جس طرح یہاں قیاس سے خبردی تھی ایسی ہی اور خبریں اور پیشگوئیاں کیا کرتے ہیں۔ اگر اتفاقیہ کوئی بات ہوگئی اسے آسمانی نشان کہنے لگے اور جو نہ ہوئی تو تاویلیں چلیں، اگر چہ وہ کیسی ہی بے تکی ہوں؛ ماننے والے مان ہی لیتے ہیں عیاں راچہ بیاں۔ مرزائیوں کی حالت معائنہ کرلی جائے کیسی کیسی پیشگوئیاں غلط ہوئیں اور ایسی صریح غلط ہوئیں کہ جائے دم زدن نہ رہی مگر حضرات مرزائی ایسی صریح حق بات کو بھی نہیں مانتے اور محض بے ہودہ باتیں بناتے ہیں۔ مذکورہ خطوط کے بعد بھی مرزا قادیانی نے اس لڑکی کے والد کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں توجہ کے لائق یہ امر ہے کہ مرزا احمد بیگ کو کس ادب اور تعظیم کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے اور اس لڑکی کے نکاح میں آنے کا وثوق کس زور کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ناظرین ملاحظہ کے ساتھ اس کے حواشی بھی ملاحظہ کرتے جائیں۔

تیسرا خط مرزا احمد بیگ کے نام

مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آن مکرم۲؎ کی خبر

۱؎

اس کی تفصیل تیسرے حصہ میں کی گئی ہے۔ ناظرین ضرور ملاحظہ کریں۔

۲؎

اس پر نظر رہے کہ مرزا قادیانی مرزا احمد بیگ کو اپنا مکرم لکھتے ہیں اورمتصل دو سطروں میں اسی خطاب سے احمد بیگ کو مخاطب کیا ہے اور فہمیدہ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ کوئی ذی علم متین کسی معمولی شخص کو اس لفظ سے مخاطب نہیں کرتا اور جسے علم کے علاوہ کمال تقدس اور صداقت کا دعویٰ ہو وہ ہرگز ایسا نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے کیوں کہ اس کی صداقت وتقدس کے بالکل منافی ہے۔

45

سنی تھی تو بہت درد ورنج اور غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا۔ اور خط نہیں لکھ سکتا تھا اس لئے اعزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصا بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا فرماوے۔ اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل۱؎ بکلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیر وبرکت چاہتا ہوں میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل۲؎ کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہوجائے مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے جب ایک مسلمان خداتعالیٰ کی قسم کھاجاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا صاف کرلیتا ہے سو مجھ کو خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم۳؎ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچاہوں اگر

۱؎

اس کہنے سے معلوم ہوا کہ احمد بیگ بدعتی اور بے دین نہ تھے بلکہ نہایت سچے مسلمان اور نیک تھے کیوں کہ کسی بزرگ کا دل کسی بے دین بدعتی سے بالکل صاف نہیں ہوسکتا پھر بالخصوص وہ بزرگ جو ہدایت اور اصلاح خلق کے لئے مامور ہو۔

۲؎

اس جملہ میں مرزا قادیانی اپنی دلی محبت احمد بیگ سے اس قدر ظاہر کرتے ہیں جس کی انتہا نہیں اس جملہ کو پہلے دو جملوں سے ملاکر دیکھا جائے تو نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک احمد بیگ صرف رشتہ دار ہی نہیں ہیں بلکہ نہایت باوقعت اور اس لائق ہیں کہ ایک اعلیٰ مرتبہ کا بزرگ ان سے محبت رکھے۔ حق پسند حضرات اس بات کو ملاحظہ کرکے علی شیربیگ کے خط کو ملاحظہ کریں مع اس کی شرح کے اور مرزا قادیانی کی دنیا سازی کو دیکھیں کیا کوئی صادق خدا ترس ایسا لکھ سکتا ہے ؟ اور خلاف واقع اور خوشامد انہ باتیں اس کی زبان قلم پر آسکتی ہیں ؟ ہرگز نہیں مگر مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں جس سے ان کی حالت بخوبی ظاہر ہورہی ہے۔

۳؎

یہاں اس الہام کے سچے ہونے کی تاکید خدا کی قسم سے کی گئی اور قادر مطلق اس کی صفت غالباً اس لئے بیان کی تاکہ مخاطب سمجھے کہ اگر میں اس کی جھوٹی قسم کھاؤں گا تو وہ قادر خدا جانے میرا کیا حال کرے گا۔ اس قسم کے ساتھ یہاں بھی وہی صراحت ہے کہ انجام کار اس لڑکی کا رشتہ مرز ا قادیانی سے ہوگا۔

46

دوسری جگہ ہوگا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا کیوں کہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو بتلایا کہ۱؎ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب ۲؎ سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا۔

اور خدائے تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی جیساکہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین وآسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیشین گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہوچکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوں گے کہ جو اس پیشین گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس کی طرف نظر لگی ہوئی ہے۔ اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلک حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو لیکن یقینا خدائے تعالیٰ ان کو رسوا۳؎ کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشین گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے ۴؎ ۔

۱؎

اس جملہ کا مضمون بھی غلط ثابت ہوا کیوںکہ وہ لڑکی دوسرے سے بیاہی گئی اور اپنے شوہر کے ساتھ اچھی طرح رہی کوئی بات ایسی ظہور میں نہیں آئی جس کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ اس رشتہ کا ہونا نامبارک ہوا۔

۲؎

یہ عاجزی اور مؤدبانہ الفاظ لائق ملاحظہ کے ہیں، جب الہامات ختم ہوئے اور ترغیب وتہدید بھی پورے طورپر ہوچکی اور کچھ اثر نہ ہوا تو اب عاجزی اور انکساری سے کام نکالنا چاہا اور وہ الفاظ معمولی شخص کے لئے استعمال کئے جو کسی بزرگ کے مقابلہ میں لکھے جاتے ہیں۔

۳؎

یہاں بھی مرزا قادیانی اپنا یقین ظاہر کررہے ہیں کہ وہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی کیوں کہ جس پیشین گوئی کے جھوٹا ہونے کے پادری منتظر تھے وہ یہی پیشین گوئی تھی کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اسی کے جھوٹا ہونے پر ان کے پلہ بھاری ہونے کا مدار تھا۔ اسی کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ پادری یقینا رسواہوںگے یعنی یہ پیشین گوئی یقینا پور ہوگی تاکہ پادری رسوا ہوں۔ اس بیان سے وہ تمام جوابات غلط ہوجاتے ہیں جو اس کے جھوٹے ہونے کے بعد دئے گئے ہیں۔

۴؎

اس بیان میں تو مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کے بیان صداقت کی انتہا کردی اس سے زیادہ مسلمان کو کسی شے پر اعتماد و ثوق نہیں ہوسکتا اس سے معلوم ہوا کہ احمد بیگ کی دختر کا نکاح (بقیہ حاشیہ صفحہ ۴۸ پر)

47

اور یہ عاجز جیسے (لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ) پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خدائے تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز (مرزا قادیانی) پر ہوئے ایمان ۱؎ لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تاکہ خدائے تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں خدائے تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کرسکتا اور جو امرآسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا ۲؎خداتعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔

آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا دونوں آپ کو خدائے تعالی عطا فرمائے اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں، والسلام۔‘‘

( خاکسار احقر عباداللہ غلام احمد عفی عنہ ۱۷ جولائی ۱۸۹۲ ء بروز جمعہاز کلمہ فضل رحمانی ص ۱۲۳ تا ۱۲۵ )

اس خط سے جو باتیں ثابت ہوتی ہیں انہیں میں حاشیہ میں لکھ چکا ہوں مگر اب میں حق پسند حضرات کو تین باتوں کی طرف زیادہ توجہ دلاتا ہوں جو اس خط سے ظاہر ہورہی ہیں۔

پہلی بات: یہ کہ پیشین گوئی سے مقصود یہی تھا کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ یہ کہنا محض غلط ہے کہ وہ لوگ بے دین تھے ان کی ہدایت مقصود تھی۔ کیوں کہاحمد بیگ کا اس قدر دیندار ہونا اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کی انتہا نہیں ہے کیوں کہ مسیح

(صفحہ ۴۷ کا بقیہ حاشیہ) میں آنے کا یقین مرزا قادیانی کو ایسا ہی تھا جیساکہ مسلمان کو خدائے تعالیٰ کی توحید اور محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت پر یقین ہوتا ہے۔ اب بنظر انصاف ملاحظہ کیا جائے کہ جس الہام پر مرزا قادیانی کو اس مرتبہ کا یقین ہو، اس کا غلط ہونا مثل آفتاب کے روشن ہوجائے تو کون صاحب عقل ان کے دوسرے الہاموں پر ایمان لاسکتا ہے اور انہیں سچا مان سکتا ہے؟۔

۱؎

مرزا قادیانی کایہ جملہ بھی حکیم نور الدین کی توجیہہ کو محض غلط بتا رہا ہے یعنی اس پیشین گوئی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محمدی کی اولاد میں سے کسی لڑکی کا نکاح مرزا قادیانی کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ ہوگا۔

۲؎

یہ تین جملے ان کو ان کے پیشتر کے پورے جملے سے ملاکر دیکھئے کس زور سے اس امر کو قطعی اور یقینی بنا رہے ہیں۔ احمد بیگ کی بڑی لڑکی محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا آسمان پر ٹھہر چکا ہے وہ ضرور ان کے نکاح میں آئے گی کوئی صورت ایسی نہیں ہوسکتی جس کی وجہ سے صرف آسمانی نکاح پر کفایت ہو جائے بلکہ زمین پر اس کا ظہور ضرور ہے یہ معاملہ خداوندی بدل نہیں سکتا اسی طرح پورا ہوکر رہے گا۔ جماعت قادیانی کچھ تو غور رے ایسے قطعی حکم لگا دینے کے بعد نکاح کو فسخ کردینا یا یہ کہنا کہ اس پیشین گوئی سے مقصود ہدایت تھی یا کچھ اور تھا کیسا اندھیر ہے۔ افسوس مرزئیوں کی عقل وفہم پر، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت کرے، آمین۔

48

موعود اپنے ابتداء خط میں اسے اپنامکرم اور بزرگ لکھ رہا ہے پھر اس سے اس قدر دلی محبت اور خلوص رہا ہے کہ اس کے بیان کے لئے الفاظ نہیں ہیں پھر اس سے کمال عاجزی اور ادب سے التماس کرتا ہے جس طرح نہایت چھوٹا اپنے بڑے بزرگ سے کرتا ہے۔ غرض کہ تین طریقے سے مرزا قادیانی یعنی مسیح موعود انہیں اپنا مکرم اور بزرگ بتا رہے ہیں اور اپنے خلوص ومحبت کا اظہار کررہے ہیں انہیں بے دین کہنا سخت بے دینی ہے۔ اب اگر مرزا قادیانی ہی دوسری جگہ انہیں بے دین لکھیں تو انہیں کی بے دینی ثابت ہوگی اور ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی دکھارہے ہیں کہ انبیاء ایسے بے دین اور جھوٹے ہوتے ہیں۔ ( نعوذ باللہ )

دوسری بات: یہ بھی یقینی طور سے ثابت ہوا کہ جس لڑکی کا پیام نکاح مرزا قادیانی نے کیا اور جس کی نسبت انہیں قطعی الہام ہوا کہ یہ تیرے نکاح میں آئے گی وہ خاص محمدی بیگم مرزا احمد بیگ کی لڑکی ہی ہے۔ کسی وقت اور کسی طرح اس الہام کے معنی یہ نہیں ہوسکتے کہ مرزاکے اولاد کے سلسلہ میں یا ان کے مریدین کے سلسلہ میں کسی کا نکاح محمدی سے یا اس کی اولاد کے سلسلہ مں کسی سے ہوجائے تو یہ پیشگوئی پوری ہو جائے گی کوئی انسان ہوش وحواس کی حالت میں یہ معنی نہیں کرسکتا، کئی وجہ سے۔

ایک: یہ کہ مرزا احمد بیگ کو اپنا عزیز سمجھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ میری یہ پیشین گوئی دس لاکھ آدمیوں میں مشہور ہوچکی ہے اگر تم نکاح نہ کروگے تو اتنے لوگوں میں میری ذلت ہوگی۔ یہ ذلت اسی وقت جاسکتی تھی کہ خاص مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ہوتا۔

دوسرے: یہ کہ پادریوں کے انتظار اور ان کے پلہ بھاری ہونے سے خود بھی ذلت کے خوف سے ڈر رہے ہیں اور ڈرا بھی رہے ہیں، یعنی اگر تم نے اپنی لڑکی نہ دی اور میری پیشگوئی غلط ہوگئی تو پادریوں کا پلہ بھاری ہوجائے گا۔ یہ مضمون بھی قطعی طور سے کہہ رہا ہے کہ وہ عظیم الشان پیشگوئی یہی ہے کہ محمدی سے خاص مرزا قادیانی ہی کا نکاح ہوگا۔ اولاد سے کچھ واسطہ نہیں ہے اور نہ ہدایت مقصود ہے۔ نہایت ظاہر ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا نکاح اس سے نہ ہوا تو اس میں شبہ نہیں کہ جو پادری منتظر ہیں ان کا پلہ ضرور بھاری ہوجائے گا۔ اور مرزا قادیانی کے بعد کوئی پادری اس پیشگوئی کا منتظر نہیں رہ سکتا اور اس پیشگوئی کے پورا نہ ہونے پر ان کا پلہ ضرور بھاری ہوجائے گا۔

تیسرے: یہ کہ مرزا قادیانی احمد بیگ کو لکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے پورا کرنے میں تم معاون بنو تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں تم پر نازل ہوں یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ احمد بیگ اپنی لڑکی محمدی

49

کا نکاح مرزا قادیانی سے کردے یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کی اولاد سے اور محمدی کے اولاد سے نکاح ہوجائے تو بھی پیشین گوئی پوری ہوجائے گی محض غلط ہے، مرزا قادیانی کا یہ قول غلط کہہ رہا ہے۔ ناظرین کو تعجب ہوگاکہ کاتب رسالہ یہ کیا لکھنے لگا کون عاقل ایسا سمجھ سکتا ہے کہ یہ پیشگوئی یوں بھی پوری ہوسکتی ہے کہ محمدی بیگم کی کسی اولاد کا رشتہ مرزا قادیانی کے کسی منتسبین سے ہوجائے۔

میں کہتا ہوں آپ تعجب نہ کریں ؛اس وقت یہی مطلب اس پیشگوئی کا بیان ہورہا ہے اور کوئی جاہل یا معمولی شخص نہیں کہتا ہے بلکہ وہ حضرت یہ معنی کررہے ہیں جنہیں خلیفۃ المسیح وحکیم الامۃ کا خطاب دیا جاتا ہے جن کے نام پر علیہ الصلوٰۃ والسلام جاتا ہے۔ اس لئے مجھے اس بیان کی حاجت ہوئی اور پہلے بھی مکرر اشارہ کرچکا ہوں اور آئندہ بھی کروں گا، ان شاء اللہ۔

تیسری بات: جس کا فیصلہ خط کی عبارت سے آپ حضرات کرسکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو پیام نکاح کے وقت اپنا الہام بیان کیا تھا اور پھر قسم کھاکر کہا تھا کہ محمدی میرے نکاح میں آئے گی اور آخرکار اسی جگہ رشتہ ہوگا یہ محض غلط تھا کہ یہ مضمون صاف کہہ رہا ہے کہ یہاں الہام کا دعویٰ کرنا ایک حکمت عملی تھی اور اس کے والدین پر دباؤ ڈالنا مقصود تھا۔ اگر مرزا قادیانی کو الہام ہوتا کہ اس لڑکی کا نکاح ان سے ہوگا اور پھر وہ الہام بھی ایسا قطعی اور یقینی تھا جس میں انہیں ذرا بھی شبہ نہیں ہے اور نہ اس کے معنی اور مطلب سمجھنے میں انہیں تردد ہے نہ اس میں کوئی قید اور شرط ایسی ہے جس سے اس کا نکاح میں آنا رک جائے اور آخر کار وہ نکاح میں نہ آئے، ایسے الہام کے بعد تو ان کے قلب میں خطرہ بھی نہیں آتا کہ ہماری الہامی پیشگوئی کے خلاف ہوسکتا ہے اور پادریوں کا پلہ بھاری ہونے کا احتمال ہے۔ اس لئے بحکملاتبدیل لکلمات اللّٰہانہیں اس پیشینگوئی کے پورا ہونے کا یقین کامل ہونا چاہئے تھا مگر ان کا بیان تو صاف کہہ رہا ہے کہ انہیں پادریوں کے پلہ بھاری ہونے کا خوف ہے اور اپنی جماعت کی ذلت سے ڈررہے ہیں اور دوسروں کو ڈرارہے ہیں۔ ایسے الہام کے بعد تو وہ اطمینان سے بیٹھتے، لڑکی کے والد کو اگر کچھ لکھتے تو یہ لکھتے کہ دیکھو لڑکی ہمارے نکاح میں ضرور آئے گی تم اس وقت انکار کرکے کیوں انجام میں ندامت وپشیمانی اٹھانے کی کوشش کررہے ہو، مگر اس کے برخلاف اس کے بعد بھی مناسب اور غیر مناسب تدبیریں اور جا بجا ایسی کوششیں کیں جن سے ظاہر ہوگیا کہ انہیں الہام ہرگز نہیں ہوا تھا محض جھوٹی دھمکیوں اور حکمت عملی سے اپنا کام نکالنا چاہتے تھے اور اپنی دلی آرزو کے پورا کرنے کے درپے تھے۔

50

خطوط اور اس کے نتائج دیکھنے کے بعد ایک اور کار روائی بھی قابل ملاحظہ ہے۔ مرزا قادیانی کی ایک قدیم بیوی ضعیفہ تھیں جو اکثر حصہ عمر میں مرزا قادیانی کی خدمت گزار رہی تھیں، ان کے دو بیٹے تھے مرزا سلطان احمد بیگ اور مرزا فضل احمد بیگ۔ مرزا قادیانی نے ان تینوں پر زور ڈالا کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں ہمارے ساتھ تم بھی کوشش کرو مگر انصاف کا مقام ہے کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بیوی ( وہ بھی پہلی بیاہی ہوئی ) اپنے سوکن کے لانے میں کوشش کرے۔ یہ ایسا ہے کہ کسی عاشق سے کہا جائے کہ تم ایسی کوشش کرو کہ تمہارا رقیب ہمارے پاس آئے اور ہم اپنا جان ومال اس کے حوالہ کریں اور تم دور سے دیکھو اور ترسو۔ غرض کہ اس بیوی نے اس میں کوشش نہیں کی۔ بیٹوں کے اوپر ماں کا حق زیادہ ہے بہ نسبت باپ کے۔ اس لئے بیٹوں نے ماں کی حکم برداری کی اس پر مرزا قادیانی نے خفاہوکر ۲مئی ۱۸۹۱ء حقانی پریس لدھیانہ میں اشتہار چھپوایا جس کا عنوان یہ ہے:

’’اشتہار نصرت دین وقطع تعلق از اقارب مخالف دین‘‘

کیسا عمدہ عنوان ہے اور اس کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ بیوی سے اور بیٹوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور تمام اشتہار دیکھنے سے کوئی دین کی مخالفت ان کی نہیں معلوم ہوتی۔ البتہ قادیانی اپنے بڑے بیٹے سلطان احمد بیگ کے دو گناہ بیان کرتے ہیں ایک یہ ہے کہ اس نے رسول اللہa کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔

مرزا قادیانی اپنے بڑے بیٹے پر اتنا بڑا الزام رکھتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ دین کی کیا مخالفت کی، کیا نماز نہیں پڑھی، روزہ نہیں رکھا، رشوت لی۔ مسلمانوں سے فریب کرکے روپیہ حاصل کیا نامحرم عورت کو تکاّ کیا کیا، کچھ نہیں فرماتے، ہاں یہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔

اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے جو منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا اعلان بڑے زور وشور سے دے رکھا ہے۔ اور ہمارا بیٹا چاہتا ہے کہ جہاں اس لڑکی کی نسبت اس کے والدین نے کی ہے وہیں ہو تو اگر ایسا ہی ہو ا اور وہ لڑکی ہمارے نکاح میں نہ آئی تو مخالفین کا حملہ ہوگا اور مرزا قادیانی کو جھوٹا کہیں گے۔

بھائیو! ذرا غور کرو بیٹا باپ کے خانگی حالات سے بخوبی واقف ہے اور ہر طرح کی سمجھ رکھتا ہے جب وہ ان کے خیالات کو پیش نظر کرتا ہے اور مرزا قادیانی کے ایسے عظیم الشان

51

دعوی کو دیکھتا ہے تو اس کی عقل سلیم اور تمیز صحیح یہی کہتی ہے کہ باوا جان اپنے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔ اب اس کی کمال دینداری ہے کہ اس جھوٹ میں باپ کا شریک نہیں ہوتا اور باپ کے ترکہ وغیرہ کا بھی خیال نہیں کرتا۔

عجب نہیں یہ بھی اسے خیال ہو کہ باوا جان نے جس پیشین گوئی کو اپنے لئے عظیم الشان نشان قرار دے رکھا ہے وہ اگر ظہور میں نہ آئے تو شاید والد صاحب متنبہ ہوکر اپنے دعوے سے تائب ہوں اور سچے مسلمان ہو جائیں جیسے پہلے تھے۔ تو یہ امر اس کی نہایت خیرخواہی اور دین کی پابندی تھی۔

’’ دوسرا گناہ صاحبزادہ موصوف کا یہ بتاتے ہیں کہ مجھے جو اس کا باپ ہوں ناچیز قرار دیا اور اسلام کی ہتک بدل وجان منظور رکھی ۔‘‘

البتہ اس میں شبہ نہیں کہ باپ کو ناچیز ٹھہرانا گناہ ہے مگر جب باپ کے افعال اور ان کے خیالات ناچیز ہوں اور بیٹا سمجھے کہ ہمارا باپ مخلوق کو گمراہ کرتا ہے۔ اگر اتفاقیہ یہ نکاح ان کے حسب خواہ ہوگیا تو بہت خلق گمراہ ہوجائے گی۔ اس وجہ سے وہ مامور تھے کہ باپ کے خلاف کریں اور اس خلاف شرع امر پرانہیں ناچیز سمجھیں۔ اور اب تو یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ ان کا بیٹا حق پر تھے اور مرزا کے دعوی سب غلط تھے کیوں کہ مرزا قادیانی تمام عمر کوشش کرتے کرتے تھک گئے اور یہی کہتے رہے کہ آخر کار یہ لڑکی میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ چنانچہ اشتہار مذکورہ میں بھی یہی دعویٰ ہے اور ازالہ اوہام میں تو یہ دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے مگر مرزا قادیانی اس جہاں سے تشریف لے گئے اور وہ لڑکی ان کے نکاح میں نہ آئی۔

اے بسا آرزو کہ خاک شد

اب اس میں کیا شبہ رہا کہ دین اسلام پر اگر مخالفوں کا حملہ کرایا تو خود مرزا قادیانی نے کرایا اور اسلام کی ہتک کی تو مرزا قادیانی نے کی۔

الہام کا اس قدر غل مچایا کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور اخباروں میں اشتہارو ں میں اس قدر شور کیوں کیا کہ دنیا میں مشہور ہوگیا؛ کہ قادیانی اپنی نبوت کے ثبوت میں عظیم الشان نشان دکھانا چاہتے ہیں اور یہ بھی یقینی الہام بیان کرتے ہیں کہ ضرور ایسا ہی ہوگا۔ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے جب ایک مدت دراز تک انتظار کے بعد بھی اس کا ظہور نہ ہوا اور امیدمنقطع ہوگئی تو اب فرمائیے کہ اگر اسلام کی ہتک کرائی تو مرزا نے کرائی یا کسی دوسرے نے ؟

52

دوسرے بیٹے فضل احمد کا کوئی قصور نہیں بیان کرتے بجز اس کے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیتا۔

بھائیو! اصل بات یہ ہے کہ اس لڑکی کا رشتہ دوسری جگہ ہوگیا اور عنقریب اس کا نکاح ہونے والا ہے، اس لئے مرزا قادیانی نہایت مضطرب ہیں۔ لڑکی کے والدین اور دیگر اعزہ کی بہت خوشامد کی مگر ناکام رہے۔ اب گھر میں آکر غصہ نکالا اور بیوی صاحبہ کو طلاق دی اور بیٹوں کو عاق کیا۔

اب یہاں یہ امر دیکھنے کے لائق ہے کہ اس اشتہار میں تو وہ ظاہر کرتے ہیں کہ بیٹے اور بیوی چونکہ دین کے مخالف ہیں اس لئے ان سے ہم قطع تعلق کرتے ہیں اور کوئی امر مخالفت کا نہیں بیان کرتے بجز اس کے کہ مرزا قادیانی کے نکاح میں وہ کوشش نہیں کرتے بلکہ مخالفین کے شریک ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ اس اعلان کی بنا اگر سچائی پر ہے اور واقعی ایسے مخالف دین سے وہ قطع تعلق کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے بہت سے مریدین سے قطع تعلق کا اعلان کرنا چاہئے تھا جنہیں احکامات شریعت محمدیہ سے کچھ واسطہ نہیں ہے، اکثر منہیات شرعیہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور جھوٹ جو اسلام کے بالکل خلاف ہے ان کا شعار ہے۔ پھر جو ان کے اقارب ان کے صریح مخالف ہیں جن کو اس اشتہار کے بعد خطوط لکھتے ہیں ( جن کی نقل اوپر کی گئی ) انہیں دیکھئے کہ اس میں کس قدر تملق اور میل کی باتیں ہیں۔ اشتہار نصرت دین مرقومہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء کا ہے اور اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ کو ۴ مئی کو خط لکھا ہے اس میں انہیں لکھتے ہیں کہ: ’’میں آپ کو نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ ‘‘

شیر علی بیگ بھی اسی گروہ میں ہیں جو چاہتے تھے کہ اس لڑکی کا نکاح مرزا قادیانی سے نہ ہو یعنی جو جرم ان کے بیٹے سلطان احمد بیگ نے کیا تھا جس کی وجہ سے وہ مخالف دین قرار پائے وہی جرم ان کے سمدھی کا ہے مگر انہیں نیک خیال اور اسلام پر قائم مرزا قادیانی سمجھتے ہیں۔

پھر ۱۷ جولائی ۱۸۹۲ء کو مرزا احمد بیگ کو خط لکھا ہے جو لڑکی کا والد ہے جن سے جولائی ۱۸۸۸ء میں مرزا قادیان نے نکاح کا پیام دیا اور پھر اس طرح کہ خداتعالیٰ کا حکم انہیں پہنچایا مگر اس نے ایک نہ سنی اور دوسری جگہ رشتہ کردیا باوجود یہ کہ اس نے اس قدر سخت مخالفت کی مگر اسے مرزا قادیانی مخالف دین نہیں کہتے بلکہ اس اشتہار نصرت دین کے بعد جو مرزا احمد بیگ کو انہوں نے خط لکھا ہے اس میں نہایت ہی محبت اور خلوص کا اظہار کرتے ہیں ان کی عبارت یہ ہے :

’’میں نہیں جانتا کہ میں کن طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہوجائے ۔‘‘

53

ان الفاظ سے جس قدر محبت اور خلوص کا اظہار ہوتا ہے اس کی کچھ انتہا نہیں ہے۔ اب میں انصاف پسند حضرات سے دریافت کرتا ہوں کہ اس مضمون کی بنا اگر سچائی پر ہے یعنی مرزا قادیانی جو اس قدر محبت وخلوص کا اظہار کررہے ہیں وہ واقعی ہے تو سلطان احمد ان کے بیٹے نے مرزا احمد بیگ سے زیادہ کیاکیا قصور کیا تھا جو اسے مخالف دین ٹھہرا کر اسے قطع تعلق کا اشتہار دیا اور احمد بیگ سے اس قدر محبت اور خلوص ہے۔ حالانکہ احمد بیگ لڑکی کے باپ ہیں لڑکی کے دینے یا نہ دینے کا اختیار انہیں تھا جب اس نے لڑکی نہ دی تو دین کی مخالفت اگر کی تو احمدبیگ نے کی سلطان احمد غریب نے اگر کچھ کیا ہوگا تو صرف اس کی تائید ماں کی اطاعت کے خیال سے کی ہوگی۔

بھائیو! ایسی ہی باتیں مرزا قادیانی کی صداقت اور راستبازی کا نمونہ ہیں۔ ان دونوں باتوں کے مقابلہ کرنے سے اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کواسلام اور سچائی سے کچھ واسطہ نہیں ہے جس وقت اور جس شخص سے جیسا موقع ہو ویسا کام انہوں نے اس وقت اور اس شخص سے کیا، خواہ وہ جھوٹ ہو خواہ سچ، جیسا اس وقت کے پکے دنیادار معاملہ پرداز کیا کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان کے کلام میں بہت تعارض ہے۔ افسوس ہے کہ ایسے عظیم الشان تقدس کا دعویٰ اور اس قدر دنیا سازی کا برتاؤ۔

یہاں پھر میں یہ کہوں گا کہ جس طرح یہ باتیں ان کی دنیا سازی کی تھی ایسا ہی اس الہام کے دعوے کو سمجھنا چاہئے جو انہوں نے اس نکاح کے بارے میں کیں۔

اگر انہیں الہام ہوتا اور اس کے ہونے کا ایسا ہی یقین ہوتا جیسا انہوں نے ازالہ اوہام وغیرہ میں ظاہر کیا ہے تو نہ مرزا احمد بیگ کی خوشامد کرتے نہ خلاف مروت ومتانت بیٹے اور بیوی صاحبہ سے قطع تعلق کرتے بلکہ اپنے کامل یقین الہام پر بیٹھے رہتے اور سمجھتے کہ جب وہ لڑکی ہمارے نکاح میں آجائے گی تو سب درست ہوجائیں گے مگر یہ باتیں ظاہر کررہی ہیں کہ مرزا قادیانی مضطر ہیں کہیں غصہ سے کام نکالنا چاہتے ہیں کہیں نرمی سے۔ غصہ کے اظہار کے لئے تو انہیں عمدہ دو طرفہ پہلو ہاتھ آگیا تھا جس میں دباؤ بھی تھا اور عوام پر تقدس کا اظہار بھی اور اپنے سمدھی اور مرزا احمد بیگ سے جو دنیا سازی انہوں نے کی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ اس خط کے اظہار کا انہیں گمان نہ تھا اس لئے دلی حالت اس میں ظاہر کردی۔

برادران اسلام! متوجہ ہوں اور دلی توجہ فرمائیں ! آپ نے منکوحہ آسمانی کا حال

54

معلوم کیا اور مرزا قادیا نی کے بیان سے یہ بھی آپ کے ذہن نشین ہوگیا کہ اس منکوحہ آسمانی سے جب رشتہ کا پیام کیا گیا ہے اسے مرزا قادیانی بحکم خدا کہتے ہیں پھر اس کے نکاح میں آنے کا الہام مرزا قادیانی کو ایسا قطعی اور یقینی ہوا کہ مرزا قادیانی اس پر قسم کھاتے ہیں اور بار بار اشتہاروں میں شائع کرتے ہیں اور اس زور کے الفاظ میں اس کے وقوع کو بیان کرتے ہیں جس سے زیادہ زور لگانا میرے خیال میں ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد دنیا پر ظاہر ہوگیا کہ ا ن کا الہام محض غلط تھا کیوں کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں کسی وقت نہیں آئی بلکہ مرزا سلطان محمد بیگ سے بیاہی گئی اور آخر تک اسی کے نکاح میں رہی اور مرزا قادیانی دنیا سے تشریف لے گئے۔ جب ایسا عظیم الشان الہام جو برسوں بار بار ہوتا رہا اور ان کا نہایت کامل یقینی دعویٰ غلط ہوگیا تو دوسرے الہامات اور خبروں پر کیوں کر اعتبار ہوسکتا ہے ؟ کون فہمیدہ ان کے مسیح موعود ہونے کے الہام کو قابل اعتبار سمجھ سکتا ہے اس میں اور اس میں کیا فرق ہے ؟یہ الہام وہ ہے جس کے غلط ہوجانے سے بہت سے دعوے اور الہامات مرزا قادیانی کے غلط ہوگئے، تئیس الہامات کا شمار تو میں نے کردیا تھا اس کے بعد ناظرین پر چھوڑدیا وہ خود شمار کرلیں۔ یہ دعوی ہیں جن کی نسبت مرزا قادیانی نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یوں فرمایا ہے کہ انجام کار ایسا ہی ہوگا، وہ باتیں غلط نکلیں اور کہنے کے مطابق ان کا ظہور نہ ہوا اس لئے ان کا کوئی الہام قابل اعتبار نہ رہا۔ اس کے علاوہ توریت کی صریح شہادت کے بموجب مرزا قادیانی جھوٹے مدعیان نبوت میں یقینی طور سے داخل ہیں۔ توریت کی کتاب استثنا باب ۱۸ میں ہے:

’’ وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جاوے۔ اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیوں کر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا وہ واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔ بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے ۔‘‘

اس مقدس کلام سے تین باتیں ثابت ہوئیں :

اول … یہ کہ جھوٹے نبی کے لئے حکم الٰہی یہ ہے کہ قتل کردیا جائے یعنی جو نبوت کا دعویٰ کرے اور یہ دعویٰ اس کا غلط ثابت ہو تو وہ قتل کردیا جائے۔

دوم … جھوٹے نبی شناخت یہ ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری نہ ہو یعنی اگر وہ کسی بات کی خبر دے اور اس کے مطابق اس کا ظہور نہ ہو تو جان لو کہ وہ جھوٹاہے۔

55

سوم … تیسری بات یہ ثابت ہوئی کہ سچے نبی کی کوئی پیشین گوئی جھوٹی نہیں۱؎ ہوسکتی یعنی اللہ تعالیٰ کسی نبی سے کوئی وعدہ کرے یا کسی بات کی خبر دے اس کا ہونا ضرور ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی وجہ سے وہ پیشین گوئی ٹل جائے اور اس کا ظہور نہ ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے نبی کا معیار قرار دے چکا کہ اس کی پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ اب اگر سچے نبی کی پیشین گوئی کسی وجہ سے پوری نہ ہو تو سچے اور جھوٹے میں امتیاز نہ رہے اور خدا تعالیٰ کا معیار غلط ہوجائے۲؎۔ قرآن مجید سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی نہیں کرتا چنانچہ ارشاد ہے: ’’فَلا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ‘‘ (ابراہیم:۴۷) یعنی ایسا گمان نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔

دوسری جگہ نہایت تاکید سے ارشاد فرمایا ہے کہ :’’لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ‘‘(الحج:۴۷) یعنی اللہ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔

اب برادران اسلام غور کریں کہ نہایت صفائی سے قرآن مجید اور توریت اور عقل سلیم سب ایک زبان ہوکر شہادت دے رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے دعوی میں سچے نہیں تھے اور ان کا دعویٰ محض غلط تھا۔ اگر سچے ہوتے تو یہ دعوے ــضرور پورے ہوتے۔ اب جو کلام الٰہی کی ایسی شہادت بینہ کو نہ مانے اور مرزا قادیانی کو سچا جانے اسے اختیار ہے۔ وما علینا الا البلاغُ المبین!

اگر کلام الٰہی پر تمہاری نظر نہیں ہے تو دنیا کی حالت کو دیکھو۔ دنیا کے عقلاء میں بھی یہ بات مسلم ہے کہ اگر گواہ کے بیان میں ایک بات بھی جھوٹ ثابت ہوجائے تو پھر اس گواہ کا کوئی بیان لائق اعتبار نہیں رہتا پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اس قدر دعوی اور الہام غلط ثابت ہوجائیں اور ان کے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ غلط نہ ہو۔

۱؎

اور مرزا قادیانی نے جو حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی کو بڑے زور وشور سے ذکر کرکے لکھاہے کہ ان کی پیشین گوئی بلا شرط تھی اور قوم کی گریہ وزاری سے اس پیشین گوئی کا ظہور نہ ہوا، محض غلط ہے۔ اول تو الہامی پیشین گوئی کا ثبوت نہیں ہے اگر ہے تو صرف اس قدر کہ عذاب آئے گا وہ آیا مگر جب وہ پورا ایمان لے آئے تو عذاب ہٹ گیا۔

۲؎

اس کی کامل تفصیل اس رسالہ کے تیسرے حصہ میں کی گئی ہے اور متعدد آیتیں مع ان کی تفسیر کے نقل کی گئی ہیں جن سے یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے میں خلاف نہیں ہوسکتا اور نہ وعدے میں پوشیدہ شرطیں ہوسکتی ہیں یہ تحقیق لائق دید ہے۔

56

جماعت قادیانیہ مرزائیہ! خدا کے لئے کچھ تو غور کرو ! کیا اس کا جواب دے سکتے ہو ہرگز نہیں غیر ممکن ہے۔ وَلو کانَ بَعـضُکم لِبَعض ظہیراً۔

اس کے بعد دوسری بات بھی آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تحریر سابق سے جس قدر غلط بیانیا ں مرزا قادیانی کی ثابت ہوئیں ہیں اور جو ان کی ذاتی حالت خطوط واشتہارات سے معلوم ہوئی ہے وہ کسی بزرگ اور مقدس شخص کی ہوسکتی ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ آپکا وجدان آپ کی صداقت آپ کی حق طلبی اگر کچھ ہے تو بے اختیار یہی کہے گی کہ ہرگز نہیں ہوسکتی، ہرگز نہیں ہوسکتی۔ اگر خدا کے کسی برگزید ہ بندہ کو ایسا یقینی الہام ہو اور وہ بندہ اپنے ایسے یقین کو اس زور کے ساتھ بیان کرے جیسا مرز ا قادیانی نے کیا تو وہ الہام کبھی غلط نہیں ہوسکتا منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی طرف تو بہت باتیں منسوب کی تھیں جن کی حالت اوپر بیان کی گئی مگر چونکہ یہ ان کے خیال میں عظیم الشان نشان تھا اس لئے رسول اللہa کی طرف سے بھی اس کی بشارت سمجھے چنانچہ لکھتے ہیں کہ :

’’اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہa نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوّج ویولد لہ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کریگا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہa ان سیہ دل منکروں کو اُن کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔ ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ )

افسوس مرزا قادیانی کے دماغ میں منکوحہ آسمانی کا خیال اس قدر بس گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو اس کی تصدیق سمجھتے ہی تھے، رسول اللہa کے کلام مبارک سے بھی اس کی تائید سمجھنے لگے۔ کسی نے خوب کہا ہے ع:

  1. اس قدر رہتا ہے مجھ کو آپ کی باتوں کا دھیان

    جب کوئی بولا صدا کانوں میں آئی آپ کی

رسول اللہa نے کچھ فرمایا ہو مگر مرزا قادیانی یہ سمجھے کہ میری منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی خبر ہے۔

خیر اب اس طرف آپ توجہ کیجئے کہ روایت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت مذکورہ

57

الفاظ آئے ہیں جن کو مرزا قادیانی نے اپنے منکوحہ آسمانی کی بشارت سمجھی ہے، یہاں سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

ایک: یہ کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا جس طرح متواتر الہامات ربانی سے انہیں معلوم ہوا اور اس کا یقین انہیں ایسا ہی تھا جیسے توحید ورسالت کا انہیں یقین تھا۔ اسی طرح اس کی تصدیق جناب رسول اللہa کے اس قول سے ان کے نزدیک ہے۔

دوسرے: یہ کہ منکوحہ آسمانی اور اس کی اولاد کی نسبت جو مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا اس سے مقصود خاص نکاح تھا یعنی مرزا قادیانی کا نکاح محمدی سے ہوگا اور اس کے بطن سے وہ خاص بیٹا ہوگا جس کی تعریف کی انتہا نہیں ہے، اس خصوصیت کا ان کے کلام سے ظاہر ہونا کئی وجہ سے ہے :

اول:یہ کہ نکاح مسیح موعود سے ہوگا مسیح موعود ان کے خیال کے بموجب وہی تھے اس لئے اس نکاح سے مقصود خاص مرزا قادیانی کا نکاح ہے کسی دوسرے کا نہیں۔

دوم: وہ کہتے ہیں کہ نکاح سے مقصود معمولی نکاح نہیں ہے بلکہ وہ خاص نکاح ہے جو مرزا قادیانی کا معجزہ اور نشان ہوگا اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ محمدی کا نکاح خاص مرزا قادیانی سے ہو اور اگر مرزا قادیانی کی اولاد کا یا کسی مرید کا یا کسی مرید کے اولاد کا نکاح محمدی بیگم کی اولاد سے کسی وقت ہوجائے تو یہ مرزا قادیانی کا نشان نہیں ہوسکتا۔

ایسے نکاح ہوا کرتے ہیں اور ہوتے رہیں گے یہی حالت اولاد کی ہے کہ وہ بھی خاص بیٹا مراد ہے جو مرزا قادیانی کے نطفہ سے ہوگا آخر میں مرزا قادیانی نے رسول اللہa کے ارشاد سے اپنے خیال میں یہ بھی ثابت کردیا کہ یہ باتیں ضرور ہوں گی۔ یعنی محمدی بیگم سے میرا نکاح ضرور ہوگا اور اس سے اولاد بھی ضرور ہوگی۔ یہاں مجھے پہلے تو یہ کہنا ہے کہ حکیم نورالدین صاحب للہ وباللہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے اس بیان سے ان کا وہ قول مردود ہوگا یا نہیں کہ نکاح اور اولاد کی خبر عام ہے یعنی مرزا قادیانی سے نکاح ہو یا ان کے کسی متعلقین کا محمدی سے یا اس کی اولاد سے ہوجائے تو یہ الہامی خبر صحیح ہوجائے گی۔

بھائیو! مرزا قادیانی نہایت صفائی سے اس خبر کو خاص کررہے ہیں اور حکیم صاحب الہام کا مطلب صاحب الہام کے خلاف بتارہے ہیں اور ایک وقت حکیم صاحب خود کہہ چکے ہیں کہ الہام کا وہی مطلب صحیح ہے جو صاحب الہام بیان کرے۔ غرض کہ حکیم صاحب کی بناوٹ سے پہلے بھی میں نے ثابت کردی تھی اور یہاں انہیں کے قول سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا۔

58

اس کے بعد یہ کہتا ہوں کہ طالبین حق اس بیان کو ملحوظ نظر رکھ کر مرزا قادیانی کے اس بیان کو دیکھیں جو حقیقۃ الوحی میں ہے کہ اس نکاح کا ظہور شرط پر موقوف تھا اور جب شرط پوری کردی گئی تو نکاح فسخ ہوگیا یا جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کا ظہور نہیں ہوا تھا اس کا بھی نہ ہوا۔ اب خیال کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے پہلے تو کہا کہ ہمارے اس نکاح کے ظہور میں آنے کی اور اس سے اولاد ہونے کی خبر رسول اللہa نے دی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کا ظہور ضرور ہوگا اس کے بعد یہ کہتے ہیں کہ وہ نکاح فسخ ہوگیا یا حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی کی طرح اس کا ظہور نہ ہوا۔ اس کا اصل یہ ہوا کہ رسول اللہa کا ارشاد غلط ہوگیا(نعوذ باﷲ استغفراﷲ!)

بھائیو! ذرا غور کرو حضرت سرور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیم پر کیسا صریح جھوٹ کا الزام لگا رہے ہیں؟ اور مخالفین اسلام کو اعتراض کا موقع دے رہے ہیں اور پھر اپنے آپ کو ان کا وارث اور ظل بھی کہتے ہیں۔

افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی ان پیچ دار یا معارض باتوں پر لوگ نظر نہیں کرتے اور اندھے ہوکر انہیں مان رہے ہیں۔

اب میں نہایت استحکام سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان محض غلط ہے رسول اللہa نے ان کے خاص نکاح کی اور ان کے اولاد کی خبر دی الفاظ حدیث کی شرح آگے بیان کی جائے گی۔ اس وقت میں دو باتیں کہنا چاہتا ہوں:

ایک : یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان بھی ان مخصوص بیانات میں ہے جہاں مرزانے خاص اپنا نکاح محمدی بیگم سے ہونا بڑے زور سے ظاہر کیا ہے بایں ہمہ مرزا قادیانی کا وہ الہام یا وہ خیال غلط ثابت ہوا؟

دوسرے: ان کا یہ کہنا غلط ہوا کہ رسول اللہa ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی کیوں کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ کوئی بات پوری نہ ہوئی۔

اب خلیفۃ المسیح صاحب اور ان کے پیرو فرمائیں کہ یہ مرزا قادیانی کی عظیم الشان غلطی ہے یا نہیں؟ اگر غلطی ہے تو تسلیم کریں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہ تھے یہ ان کا دعویٰ غلط تھا اور یہ بھی کہہ دیں کہ جب مرزا قادیانی کے الہامات غلط نکلے اور ایسی عظیم الشان غلطی ظاہر ہوئی تو سیاہدل کون ٹھہرا ؟ جماعت قادیانی یا ان کے مقابل جن کی حقانیت عالم پر روشن ہوگئی؟ اے جماعت

59

مرزائیہ ذرا انصاف کرو کہ مرزا قادیانی کے کلام سے یہ کیسا صریح الزام جناب رسول اللہa پر عائد ہوتا ہے کہ حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی تھی اور غلط ثابت ہوئی، معاندین اسلام علانیہ آنحضرتa کے قول کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں اور قادیانی جماعت اس کا کچھ جواب نہیں دے سکتی۔ مگر افسوس ہے اور نہایت افسوس ہے کہ حضرات مرزائی باوجود دعویٔ اسلام کے کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح ہو مرزا قادیانی کو الزام سے بچایا جائے اگرچہ اللہ کے رسولa پر الزام آئے حدیث کا جملہ جو مرزا قادیانی نے نقل کیا ہے اور کہاں سے کہاں لے گئے ہیں اس کی مختصر شرح ملاحظ ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے جب تشریف لائے تھے تو ان پر زہد کا غلبہ زیادہ تھا اس اس لئے آپ نے کوئی سامان دنیا میں عمدگی سے رہنے کا نہیں کیا تھا اسی سے آپ نے نکاح بھی نہیں کیا۔ رسول اللہa فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دوسری مرتبہ دنیا میں آئیں گے تو نکاح کریں گے کیوں کہ شریعت محمدیہ کے پیرو ہوں گے اور دوسرا جملہ جو ارشاد ہوا ہے اس میں بھاری امر کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت کے بعـض کوتاہ اندیش اور بعض وہ حضرات جو باوجود کم عقل ہونے کے اپنے تئیں نہایت فہمیدہ سمجھتے ہیں وہ حضرت مسیح کے آسمان پر جانے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے کو محال سمجھتے ہیں اور بعض وقت اعتراض کرتے ہیں کہ ضعیفی کی وجہ سے ان کی بری حالت ہوگئی ہوگی۔ ان کے بال اور ناخن بہت زیادہ ہوگئے ہوں گے ایسے نادانوں کے لئے اس حدیث میں اشارہ ہوا کہ انحطاط اور تغیر حالت عالم دنیا کا خاصہ ہے جو اس عالم سے گزرگیا اور اس قادر وتوانا کی عجیب قدرت نے اسے اس عالم تک پہنچا دیا جو اس عالم سے وراء ہے وہاں ان تغیرات کا پتہ نہیں ہے جو یہاں شب وروز دیکھے جاتے ہیں حضرت مسیح جس قوت اور جس صفت سے دنیا سے اٹھائے گئے نزول کے وقت اسی حالت پر ہوں گے یہ نہ سمجھو کہ اس قدر کبر سنی کی وجہ سے اس قابل نہ رہیں گے کہ ان کی بیوی کی اولاد نہ ہو یہ اشارہ ہے یتزوج ویولد لہ میں۔ جس وقت اس کا ظہور ہوگا اس وقت دیکھنے والے دیکھیں گے اور مرزا قادیانی نے جو بے تکے جوڑ گانٹھے ہیں وہ علاوہ غلط ہونے کے حدیث کے الفاظ سے انہیں کوئی ربط نہیں ہے اہل علم اسے خوب جان سکتے ہیں۔

اس وقت مرزا قادیانی کا ایک اور الہام یاد آیا اس کا ذکر بھی مناسب ہے تاکہ مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کا انبار دیکھ کر طالب حق متنبہ ہوں اور جو حضرات غلطی سے گمراہی میں پھنس گئے ہیں وہ سچائی کی راہ اختیار کریں۔

60

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ’’ براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو اِسوقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ الہام یہ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنّۃ۔ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنّۃ۔ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنّۃ۔اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا۔ اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو مسیح سے مشابہت ملی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اُس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا۔ اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے۔ جس کا سِرّ اِسوقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ ‘‘

( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸)

بھائیو! مرزا قادیانی کے الہامات اور پیش گوئیوں کو ملاحظہ کرو اور ان کے حقائق اور اسرار کو دیکھو کہ اپنے خیالات خام کو کس عظمت سے بیان کرتے ہیں اور واقعی حالت کیا ہے ابھی مرزا قادیانی کے اشتہارنصرت دین سے معلوم ہولیا ہے کہ پہلی بیوی اشتہاری مطلقہ ہوچکی اور کسی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے بے دینی کی وجہ سے۔ جب بے دینی کی وجہ سے پہلی زوجہ سے اشتہاری زوجہ سے اشتہاری قطع تعلق ہوگیا تو پہلا الہام غلط ہوگیا۔ کیوں کہ اب مرزا قادیانی سے اس کو معیت نہیں ہوسکتی نہایت ظاہر ہے کہ رسول جسے بے دین ٹھہراکر علیحدہ کرچکا اور وہ اپنی اس بے دینی پر برابر قائم رہی پھر وہ جنت میں کیوں کر اس رسول کے ہمراہ رہ سکتی ہے اس لئے وہ الہام غلط ثابت ہوا۔

تیسری بیوی جس کے انتظار میں مرزا قادیانی اس عالم سے تشریف لے گئے اس نے تو مرزا قادیانی کو ایسا رسوا اور بدنام کیا جس کی انتہا نہیں جس کی شرح اوپر ہم کرچکے ہیں۔ اور آئندہ بھی کچھ اور لکھی جائے گی۔

حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اس منتظرہ بیوی سے محروم رہے اور کسی وقت ان کے نکاح میں نہ آئی تو اس تیسرے الہام کی غلطی میں کیا شبہ رہا۔ حضرات! اب کچھ اور ملاحظہ فرمائیں جب مرزا قادیانی کے الہامات ختم ہوئے تو مجبور ہو کر فرماتے ہیں کہ :

’’ وہ نکاح فسخ ہوگیا ‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۳، خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰ )

61

مگر وہ یہ تو فرمائیں کہ اس الہام۱؎ کے جواب میں جب وہ کسی وقت شرعی بیوی نہیں ہوئی۔ اور وہ جو آپ عالم کے خیال میں اس کا غیر شرعی نکاح ہوا تھا۔ وہ۲؎ بھی فسخ ہوگیا تو یہ عربی الہام قطعا غلط نکلا اور معلوم ہوا کہ خدا کی طرف سے نہ تھا۔ اور اس کی عظمت بڑھانے کے لئے یہ جو کہا کہ یہ ایک چھپی پیشگوئی ہے جس کا سرّ اس وقت خدائے تعالیٰ نے مجھ پر کھولا محض غلط ثابت ہوا۔ غرض یہ کہ کئی الہاموں کا جھوٹا ہونا اس وقت ظاہر ہوگیا۔ اور ایک الہام اور بھی انہیں میں شامل کرلیجئے وہ یہ ہے کہ تیسری بیوی کے وقت میں حمد وتعریف کا ہونا بیان کرتے ہیں جب وہ تیسری بیوی ہی ان کے آغوش میں نہ آئی تو تعریف کیا ہوتی بلکہ ہر طرف سے بدنامی کا غل ہے جس کے کان ہیں وہ سن رہا ہے۔

دوسری بیوی کی حالت مجھے نہیں معلوم اس لئے اس کی نسبت زیادہ نہیں کہہ سکتا اس قدر کہنا کافی ہے کہ دو جھوٹوں کے درمیان میں ہے۔ اب میں پہلے حصہ کو ختم کرتا ہوں اور دوسرا حصہ شروع کرتا ہوں جس سے اس کی زبان سے ان کے بار باراقرارسے یہ ثابت ہوجائے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوے میں کاذب ہیں۔ اس حصہ میں مرزا قادیانی کے علم خصوصا تفسیر دانی اور تاریخ دانی کی حالت بھی معلوم ہوجائے گی اور اہل حق ذی علم جان لیں گے کہ جس علم میں مرزا قادیانی نے تمام عمر صرف کی اس میں بھی انہوں نے ایسی غلطیاں کیں کہ حیرت ہوتی ہے۔

واﷲ الموفق والمعین واٰ خر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین۔
۱؎

یعنی یا احمد اسکن انت الخ

۲؎

قابل دریافت یہ امر ہے کہ نکاح کا فسخ محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے ہوا یا بعد میں؟ اگر سلطان بیگ سے نکاح ہونے کے قبل ہی مرزا قادیانی کا آسمانی نکاح فسخ ہوگیا تھا تو مرزا قادیانی اس فسخ شدہ نکاح اور دوسرے کی بیوی پر اس قدر زور کیوں لگا رہے تھے اور اگر مرزا قادیانی کا آسمانی نکاح مرزا سلطان محمد کے نکاح کے بعد فسخ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی دوسرے کو کیوں دلوادی؟ اور باوجود اس وعدہ کے کہ ہم پھر اس کو تمہاری طرف لوٹا دیںگے کیوں نہ لوٹایا؟ اور نعوذ باللہ بالآخر نہ لوٹا سکا اور مجبور رہا، قادیانی نبی کی بیوی کا نکاح فسخ ہی کرنا پڑا اور اس کا کچھ خیال نہ فرمایا کہ اس فسخ میں شیخ چلی کا بنا بنایا گھر ہی نہیں بگڑتا بلکہ نبی روسیاہ ہوگا ذلیل ہوگا مخالفین اسلام کا پلہ بھی بھاری ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ بھائیو ! خدا سے ڈرو اور کچھ تو سمجھو! مرزا قادیانی کے مقابلہ میں ایک عالم کو غلطی پر قرار دے کر ایک لحظہ کے لئے یہ بھی تو سمجھو کہ مرزا قادیانی سے بھی غلطی ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اگر تاویل کرو تو معنوں پر قیاس فرماؤ ! ورنہ اس سے زیادہ جھوٹ پر کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ مرتضیٰ حسن عفی عنہ۔

62

تتمہ

فیصلہ آسمانی

درباب مسیح قادیانی

حصہ اول

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

63

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حامدًا ومصلیًا

حصہ اول میں مرزا قادیانی کی منکوحۂ آسمانی یعنی مرزا احمد بیگ کی لڑکی محمدی بیگم کے متعلق الہامات لکھے گئے اور ان کا غلط ہونا اظہر من الشمس کیا گیا مگر ایک امر کا ذکر رہ گیا اس لئے اس وقت لکھا جاتا ہے۔

مرزا قادیانی جب اس لڑکی کا انتظار حد سے زیادہ کرچکے اور بارہ اولادبھی خاوند سے اس کے ہوئی تو اب مایوسی کی حالت پیدا ہوئی۔ مایوسی کے اسباب تو بہت تھے شاید اپنی موت کا خیال آیا ہو اور یہ کہ وہ لڑکی کثیر الاولاد ہوچکی، اب اگر اس کا خاوند مر بھی گیا تو بھی اس کا نکاح میں آنا مشکل ہے، کیوں کہ جو بیوہ صاحب اولاد ہو جاتی ہے وہ دوسرا نکاح نہیں کرتی۔ اور اکثر تو یہی ہے کہ جس کے دس بارہ اولاد ہو وہ دوسرا عقد کرے یہ بہت بعید ہے، اس لئے وہ اپنے آخر وقت کی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ :

’’ یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھاگیا ہے یہ در ست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اِس نکاح کے ظہور کیلئے جو آسمان پر پڑھاگیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اُسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہایتہا المرأۃ توبِی توبی فان البلاء علٰی عقبکِ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کردیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑگیا ۔‘‘

( تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۲، ۱۳۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰ )

طالبین حق ملاحظہ کریں منکوحۂ آسمانی کے نکاح میں آنے کا کس قدر زور وشور برسوں رہا اور کس قدر وثوق اور یقین اس پر ظاہر کیا گیا مگر آخر میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نکاح فسخ ہوگیا۔ افسوس اور سخت افسوس اس پر ہے کہ بعض لکھے پڑھے بھی ایسی بدیہی بناوٹ کو جواب مان رہے ہیں اور ذرا بھی غور نہیں کرتے یا خدا سے نہیں ڈرتے۔ اب اس بناوٹ کی تشریح ملاحظہ ہو یہ جواب کئی طور سے غلط ہے۔

منکوحۂ آسمانی کی نسبت دو قسم کی پیش گوئیاں ہیں۔ ایک یہ کہ منکوحہ آسمانی مرزا قادیانی کے نکا ح میں آئے گی اور ضرور آئے گی اس کے لئے کوئی شرط اور قید مرزا قادیانی نے

64

اس سے پہلے کسی وقت بیان نہیں کی۔ دوسری پیش گوئی یہ کہ احمد بیگ اور اس کا داماد یعنی اسی لڑکی کا باپ اور اس کا شوہر تین برس کے اندر مرجائیں گے۔ یہ پیشگوئی پہلے تو بلا قید مشتہر ہوئی، دہم جولائی ۱۸۸۸ء کا اشتہار اور ان کا تتمہ ملاحظہ ہو۔ اس کے بعد وہ جملہ بڑھایا گیا ہے (انجام آتھم ص ۲۱۳ ) ملاحظہ کیا جائے اور حقیقۃ الوحی ص ۱۸۷؍ اور انجام آتھم ص ۲۱ وغیرہ میں مرزا قادیانی مذکورہ جملہ کو احمد بیگ کے داماد کی نسبت بیان کرتے ہیں مگر تتمہ حقیقۃ الوحی کے آخر میں مجبور ہوکر منکوحہ آسمانی کی نسبت بھی کہہ دیا مگر یہ کہنا ایسا ہی غلط اور بے جوڑ ہے جیسے کوئی روز روشن کو شب تاریک کہہ دے اور غلط ہونے کے وجوہ یہ ہیں۔

منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی نے علیحدہ الہام بیان کئے ہیں ان میں یہ قید نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے الہامات کا ذخیرہ دکھایا ہے انہیں الہام کے عربی الفاظ مع اردو ترجمہ کے یہ ہیں :

’’کذّبوا بآیاتی وکانوا بہا یستہزؤن فسیکفیکہم اللّٰہ ویردہا الیک امر من لدنا انّا کنّا فاعلین زوجناکہا الحق من ربک فلاتکونن من الممترین لا تبدیل لکلمات اللّٰہ ان ربک فعّال لما یرید انا راٰدوہا الیک … توجہت لفصل الخطاب انّا راٰ دوہا ۔‘‘

انہوں نے میری نشانیوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا۔ (۱) اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ (۲) یہ امر (واپس لانا ) ہماری طرف سے ہے۔ (۳) اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ (۴) بعد واپسی کے ہم نے نکاح کردیا۔ (۵) تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ (۶) خدا کے حکم بدلا نہیں کرتے تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کردیتا ہے کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔ (۷) ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔ (۸) آج میں فیصلہ کرنے کے لئے متوجہ ہوا ہم اس کو تیری طرف واپس لائیں گے۔

(انجام آتھم ص۶۰، ۶۱، خزائن ج ۱۱ ص۶۰،۶۱)

یہ اردو ترجمہ اور عربی الہامات مرزا قادیانی کے ہیں ان میں بلا شرط اور بغیر کسی قید کے منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا بیان ہوا ہے اور اس کے وقوع میں آنے کو اس زور سے بیان کیا اور یقین دلایا ہے کہ اس سے زیادہ یقین دلانے کا کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا ہے۔

65

میں نے آٹھدملوں پر ہندسہ دیا ہے انہیں غور سے ملاحظہ کیا جائے کہ کس قدر تاکیدات ۱؎ سے اور مختلف عنوان سے اس پر اعتماد دلایا ہے کہ منکوحہ آسمانی تیرے نکاح میں آئے گی۔ اس کی کچھ تشریح بھی سنئے ! بقول مرزا قادیانی تین مرتبہ تو خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ ہم اسے واپس لائیں گے اور چوتھی مرتبہ کہا کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کردیا اس جملے کو ماضی کے صیغہ سے فرمایا تاکہ اس کا ہونا یقینی معلوم ہو پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ زیادہ اطمینان کے لئے کہا گیا کہ یہ سچا وعدہ تیرے پروردگار کی طرف سے ہے اس میں شک نہ کر ایسے سخت وعدوں کے ساتھ ساتھ نسخ وفسخ کا احتمال تو کسی ایماندار کو تو نہیں ہوسکتا اور اگر کسی کو احتمال ہو تو پانچویں اور چھٹے جملہ نے یقینی طور سے اٹھادیا کیوں کہ ان کا صریح مطلب یہ ہے کہ اس عورت کو ہم تیرے پاس واپس لائیں گے یہ کسی طرح بدل نہیں سکتا اور کسی کی قوت اور کسی کی عاجزی اسے روک نہیں سکتی وہ ضرور تیرے نکاح میں آئے گی’’مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلَ لَدَیَّ وَمَآ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ‘‘ (قٓ:۲۹) اس کے بعد یہ کہہ دینا کہ وہ نکاح فسخ ہوگیا کس قدر ان کی بناوٹ اور ان کے کذب کو ثابت کرتا ہے اور ان کے تمام الہامات اور وحی کو بے کار بتاتا ہے۔

۱؎

اہل علم غور کریں کہ اس ایک الہام میں (۱) تین مرتبہ تو اللہ نے اسے واپس لانے کا وعدہ کیا (۲) اور تین جگہ اسی مطلب کی تاکید لفظ انّ سے اور ایک جگہ نون تاکید سے کی گئی ہے، یہ چھ تاکیدیں ہوئیں (ساتویں ) اس وعدہ کی عظمت اور وثوق کے لئے کہا گیا کہ ہم کرنے والے ہیں کوئی دوسرا نہیں ہے جس میں کچھ تردد ہوسکے ( آٹھویں ) نہایت توثیق کے لئے یہ کہہ دیا کہ ہم نے اس کا نکاح کردیا یعنی اس کا ہوجانا ایسا یقینی ہے کہ سمجھو ہوگیا اور ہم نے کردیا ( نویں ) اس کے بعد اس طرح تاکید کی کہ یہ نکاح کردینا یا اس کا لوٹ کر آنا تیرے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اس میں شبہ نہیں ہوسکتا ( دسویں ) تاکید سے کہا کہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے میں شک نہ کرنا۔ ان دس تاکیدوں کے سوا دو جملے ایسے ہیں جو ہزارتاکیدوں سے زیادہ ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں دوسرا یہ کہ کوئی نہیں جو اسے رد کرسکے۔ دیکھا جائے کہ اس کے وقوع میں آنے کے لئے اتنی تاکیدیں ہیں اور بالخصوص آخر کے دو جملے نہایت پکار پکار کہہ رہے ہیں کہ اس پیش گوئی میں نسخ وفسخ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اگر کسی سبب سے وہ ملتوی ہوسکتا تھا تو خدا تعالیٰ کے علم میں اس کا ظہور میں نہ آنا ضرور ہوگا اور جب اس کے علم میں یہ تھا کہ فلان شرط کی وجہ سے اس کا ظہور نہ ہوگا تو اس کی طرف سے بتاکید بار بار یہ الہام ہر گز نہ ہوتا کہ اللہ اسے تیری طرف ضرور لائے گا اور الہام میں یہ جملہ بھی کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کردیا تو اس میں شک مت کر خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں۔ ان باتوں کے بعد یہ کہہ دینا کہ یہ نکاح فسخ ہوگیا اعلانیہ اپنے الہاموںں کو سخت جھوٹا کہنا ہے مگر اس پر بھی قادیانی جماعت نہیں دیکھتی، افسوس !

66

بھائیو! اگر اس پر بھی مرزاکو کاذب نہ مانیں تو خدا تعالیٰ وتقدس پر نعوذ باللہ کیسے سخت کذب کا دھبّہ آتا ہے یعنی اول تو بغیر تاکید کے یونہی وعدہ کرنا اور اسے پورا نہ کرنا کس قدر اس کی شان کے نازیبا اور نقص ہے پھر اس پر اس تاکید اور اصرار کے بعد اس کے خلاف کرنا تو ایسا ہے کہ کوئی بھلا آدمی بھی اس کے خلاف نہیں کرسکتا اور اس قادر قدوس کی تو بہت بڑی شان ہے۔ افسوس ہے کہ مرزا نے خدا تعالیٰ کی شان اور عظمت کو انسان سے بھی کم سمجھ لیا اور قرآن مجید کے نصوص قطعیہ پر ذرا بھی خیال نہ کیا۔ بھائیو! اِنّ اللّٰہ لایُخلِفُ الْمِیْعَاد نص قطعی ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بلاشبہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا اس لئے یقین کرلو کہ اگر مذکورہ الہام خدا کی طرف سے ہوتا تو وہ کسی طرح نسخ وفسخ نہیں ہوسکتا تھا وہ ضرور ہوکر رہتا اور اگر حکیم ( نورالدین ) یا اور کوئی خدائے قدوس کو جھوٹا مان کر مرزا قادیانی کو سچا کرنا چاہیں تو غیر ممکن ہے۔ جو خدا کسی وقت بھی جھوٹ بولے تو اس کے رسول اور اس کی باتیں کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہوسکتیں اور تمام کارخانہ نبوت ورسالت سب درہم برہم ہوجاتا ہے اور اگر کسی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے۔

(۲) جس جملہ الہامی کو مرزا قادیانی ظہور نکاح کے لئے شرط کہتے ہیں اور اس کا مخاطب منکوحۂ آسمانی کی نانی کو بتاتے ہیں اور اس کا ترجمہ اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’اے عورت توبہ کر توبہ کر کیونکہ تیری لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر ایک بلا آنے والی ہے‘‘

( حقیقۃ الوحی ص ۱۸۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۹۴ )

اب اہل علم ملاحظہ کریں کہ مذکورہ بالا جملہ نہ بلحاظ لفظ کے شرط ہوسکتا ہے نہ بلحاظ معنی کے۔ اس کی تشریح کے لئے اول یہ معلوم کرنا چاہئے کہ اس جملہ میں اس لڑکی کی نانی سے کیوں خطاب کیا گیا اور وہ توبہ کے لئے کیوں خاص کی گئی؟ معلوم ہوتا ہے کہ وہی بانی فساد اور سخت مخالف تھی اور انکار نکاح کی بانی تھی اور مرزا قادیانی کو برا سمجھتی تھی اس لئے اس سے توبہ کے لئے کہا گیا اور ڈرا یاگیا کہ اگر توبہ نہ کرے گی تو اس کی لڑکی پر اور اس کی نواسی پر بلا آئے گی۔ اب مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس نے اور اس کے گروہ نے توبہ کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ قصور معاف ہو اور بلا دور ہو مگر مرزا قادیانی اس کا نتیجہ بتاتے ہیں کہ آسمانی نکاح فسخ ہوگیا۔ اس کو توبہ کہنا اسی وقت ہوسکتا ہے کہ اس کے نکاح کا ظہور اس کے لئے اور اعزا کے لئے بلا اور آفت جان مان لیا جائے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مرزا اقرار کرتے ہیں کہ میں ایسا شخص ہوں کہ اس لڑکی کا میرے نکاح میں آنا اور اس نکاح کا ظاہر ہونا بڑی بلا تھی۔ مگر اس سے پہلے دہم جولائی

67

کے اشتہار میں مشتہر کرچکے ہیں کہ اس نکاح سے ہرقسم کی برکتیں نازل ہوں گی اور اس وعدے کو الہام بتایا ہے۔ الغرض یہ جواب اس مشتہر الہام کے مخالف ہے، اس لئے حضرات مرزائیوں کو اسے غلط ماننا ضرور ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ جواب ظاہر کرتا ہے کہ وہ حرمان ویاس کے صدمہ سے بدحواس ہوگئے ہیں پھر ایک صدمہ نہیں بلکہ عظیم الشان دوصدمے ہیں۔

اول تو برسوں کے انتظار کے بعد بھی دلی مقصود تک رسائی نہ ہوئی، دوسرے یہ کہ مخلوق میں بڑی بھار ی رسوائی ہوئی اس میں بدحواس ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اگر حواس درست ہوتے تو توبہ کی وجہ سے نکاح کا فسخ ہونا بیان نہ کرتے اور پھر وہ نکاح جسے خدا نے پڑھایا ہو اور خدا کا وہ وعدۂ تاکیدی جس کی نسبت خاص طور سے الہام ہوا کہ خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں (۳)اس کے علاوہ جس جملے کو مرزا قادیانی ظہور نکاح کی شرط بیان کرتے ہیں اس کے نزول کی حالت انہوں نے (انجام آتھم، خزائن ج ۱۱ص۲۱۳،۲۱۴ ) میں بیان کی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عورت سخت منکر اور مخالف تھی اس لئے اسے تہدید کی گئی اور توبہ کا حکم دیا گیا، اس سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ ظہور نکاح کے لئے کوئی شرط ہے۔ اور اگر ان کی خاطر سے اس کو شرط بھی مان لیا جائے تو یہ کہنا کہ اس نے یا اس کے گروہ نے شرط کو پورا کیا محض غلط ہے کیوں کہ اس کا توبہ کرنا یہ تھا کہ جس گناہ کی وجہ سے اسے اس قدر تنبیہ ہوئی اس سے وہ توبہ کرتی ( یعنی مرزا قادیانی کے انکار سے ) اور انہیں سچا مسیح موعود مانتی مگر یہ ہرگز نہیں ہوا، اور کسی عزیز کے مرجانے سے رونا دھونا توبہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس گناہ سے باز آنا اور اس پر نادم ہونا توبہ ہے جس کی وجہ سے تنبیہ کی گئی تھی۔

جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے کیا تھا کہ عذاب دیکھ کر حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئی تھی اور انہیں تلاش کرتی تھی مگر وہ چلے گئے تھے جب وہ نہ تھے تو وہ سب یہاں تک کہ بادشاہ بھی اپنی توبہ کے اظہار کے لئے ٹاٹ پہن کر میدان میں جاکر اپنے سابق انکار پر بہت روئے اور اللہ سے عاجزی وزاری کرکے اس گناہ کی معافی چاہی اس وقت ان کے اختیار میں اسی قدر تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ایمان لانا قرآن شریف سے ظاہر ہے۔ سورۂ یونس میں ہے ’’لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ‘‘ (یونس ۹۸) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یونس علیہ السلام کی قوم ایمان لے آئی تو میں نے اس پر سے ذلت کے عذاب کو اٹھادیا۔ مگر یہاں جو عورت منکر تھی اور جن کے

68

لئے توبہ کا حکم ہوا وہ مرزا قادیانی پر ہرگز ایمان نہیں لائی وہ بدستور سابق منکر رہی، کوئی ان کے پاس تک نہیں گیا، کسی نے ان کی حقانیت کا اقرار نہیں کیا، پھر یہ کہنا کہ انہوں نے توبہ کی کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے ؟۔ الحاصل منکوحۂ آسمانی کے نکاح کو کسی شرط پر موقوف بتانا اور پھر اس شرط کا پورا ہونا اور اس کے پورا ہونے سے نکاح کا فسخ ہوجانا یہ تینو ں باتیں غلط ہیں اور عقل کے بالکل خلاف ہے ان کے الہامات اسے غلط بتارہے ہیں ( ۴) مذکورہ جواب کی غلطی کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس جواب میں مرزا قادیانی متردد ہیں اور کہتے ہیں کہ نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑگیا۔

اس کی وجہ کچھ سمجھ میں نہیں آتی کیوں کہ نکاح آسمان پر ہوا اور دنیا میں اس کے ظہور کے لئے نہایت تاکیدی الہامات ہوئے،اب اس کے فسخ کی اطلاع بھی آسمان سے ہونا چاہئے مگر مرزا قادیانی اس کی اطلاع میں تردیدی بیان کررہے ہیں یعنی فسح ہوگیا یا تاخیر میں پڑگیا۔ اب حضرات مرزائی فرمائیں کہ آسمانی اطلاع جس علام الغیوب کی طرف سے آتی ہے اسے بھی کسی وقت گذشتہ یا آئندہ کے واقعات میں تردد اور شک ہوتا ہے ؟جسے مرزا قادیانی ظاہر کررہے ہیں اور اگر وہ قدوس واقعی علام الغیوب ہے کوئی بات اس پر پوشدہ نہیں رہ سکتی تو یہ تردید کیسی ؟ اور اگر مرزا قادیانی کا اجتہاد اور خیال ہے تو اس مقام پر کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہوسکتا کیوں کہ جس کی طرف سے نکاح ہوا ہے اس کے ہاتھ میں اس کا فسخ کرنا ہے وہاں کسی کے اجتہاد کو دخل نہیں ہے۔

الغرض یہ تردید تو خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتی مرزا قادیانی کا قول ہے، وہ چاہتے ہیں کہ پہلی پیش گوئیاں بھی غلط نہ ہوں اور آئندہ کے لئے موقع رہے کیوں کہ امید موہومہ انہیں ہوگی کہ اگر اس کا خاوند مرے اور شاید نکاح میں آجاوے تو اس وقت کے لئے دوسرا جملہ فرمادیا مگر میری سمجھ میں نہیںآتا کہ اس تار وپود سے کیا نفع ہوا؟ اس کہہ دینے سے کہ نکاح فسخ ہوگیا وہ الہامات جو اس حصہ میں نقل کئے گئے ہیں اور جن کا کذب ظاہر کیا گیا ہے سچے ہوجائیں گے؟ وہ یقین جو مرزا قادیانی نے بڑی شد ومد سے بار ہا اپنے نکاح کے ہونے پر ظاہر کیا ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا؟ وہ سیا ہی جس سے وہ بہت سے اوراق اسی مضمون میں سیاہ کرچکے ہیں دھل جائے گی؟ غیر ممکن ہے اور الہاما ت کے علاوہ جو الہام اوپر نقل کیا گیا ہے اور اس کا دیکھنا کافی ہے؛ ناظرین ان الہامات کو مکرر دیکھیں؛ اس کہہ دینے سے کہ نکاح فسخ ہوگیا مرزا قادیانی کذب کے الزام سے بچ نہیں سکتے (۵) یہ تو فرمائیے کہ آسمان پر جو نکاح پڑھایا گیا تو بحکم الٰہی اور

69

بمشیت ایزدی پڑھایا گیا یا اس کے خلاف آپ نے پڑھوالیا ؟ اگر خدا کے حکم اور اس کی مرضی سے تھا تو خدا ئے علیم کو یہ علم نہ تھا کہ یہ لوگ شرط کو پورا کریں گے ؟ اگر علم تھا تو یہ فضول حرکت جو مخالفین اسلام کے لئے باعث مضحکہ ہو کیوں ہوئی ؟ خواب میں یا کشف میں جس طرح کہو۔ نکاح پڑھانا کیوں دکھایا گیا اسی طرح بار بار کی توجہ سے یہ الہام کیوں ہوا کہ :

’’ خدا تعالیٰ اس لڑکی کو ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱، ص۱۵۸)

جب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ شرط کو پورا کریں گے اور اس نکاح کا ظہور نہ ہوگا تو بار بار کی توجہ میں ایسا غلط الہام کیوں ہوا ؟ الحاصل مرزا قادیانی کی ان باتوں سے خدا ئے قدوس پر ضرور الزام آئے گا۔ حضرات مرزائی اس کہنے پر مضطر ہیں کہ یا تو مرزا قادیانی کا قول یہ خدا تعالیٰ پر افتراء ہے یا مرزا قادیانی کا خدا عالم الغیب اور دانشمند نہیں ہے ؟ ( نعوذ باللہ ) افسوس مرزا قادیانی اپنی باتوں کے بنانے میں بہت کوشش کرتے ہیں مگر ان کا حال اس شعر کا مصداق ہے :

  1. خرابی میں پڑا ہے سینے والا جیب وداماں کا

    جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا جو وہ ادھڑا تو یہ ٹانکا

قول مذکور کے بعد مرزا قادیانی نے کچھ اور بھی کہا ہے، اس کی حالت روشن کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے اسی ( تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰) میں ہے :

’’ کیا آپ کو خبر نہیں کہ یمحوا اللّٰہ مایشاء ویثبت‘‘

مرزا قادیانی اس آیت کو پیش کرکے دوسرے جواب کی طرف اشارہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے نکاح کا وعدہ کیا تھااور آسمان پر نکاح پڑھا بھی گیا مگر اللہ تعالیٰ کو محو واثبات کا اختیار ہے جس کو چاہے اس کا ظہور ہو اور جس کو نہ چاہے باوجود وعدے کے اس کو ظاہر نہ کرے اس کے خلاف کرے کوئی اس کا روکنے والا نہیں۔ یہ تو ان کے جواب کی تقریر ہوئی۔ اب میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے ایسی آیت پیش کی ہے جس کی شرح میں بڑا رسالہ لکھا جائے تو اس کی تفصیل کما حقہ سمجھ میں آئے مگر میں مختصرا کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں عموم کے ساتھ جہاں مشیت خداوندی کا ذکر ہے وہاں صرف اس کی عظمت اور قدرت کا اظہار ہے، اس سے کسی واقعہ خاص پر استدلال کرنا محض نادانی ہے مثلا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ‘‘ (اٰل عمرٰن: ۱۲۹)

اب اگر کوئی کافر اس آیت کو پیش کرکے یہ کہے کہ قرآن شریف کی رو سے بخشش اور

70

عذاب میں مسلمان اور کافر یکساں ہیں جس کو چاہے بخشے اور جس کو چاہے عذاب کرے یا اس طرح ار شا د ہوا ہے:’’اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآئَ رَبُّک َ (ھود:۱۰۸) اس آیت سے اس پر کوئی دلیل پکڑے کہ بعد سعید ازلی ہمیشہ جنت میں نہ رہیں گے تو یہی کہا جائے گا کہ قرآن مجید پر اس کی نظر نہیں ہے وہ اسکے اطلاقات اور محاورات سے محض ناواقف ہے۔

یہی ہم مرزا قادیانی کے جواب میں کہتے ہیں اور اس کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ جس طرح اس کا یہ ارشاد ہے کہ جسے چاہے اللہ مٹادے اور جسے چاہے رہنے دے، اسی طرح اس کا ارشاد ہے’’لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ‘‘ یعنی اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں جو کہہ دیا اس کا ہونا ضرور ہے ایسا ہی دوسرا ارشاد ہے: ’’مَایُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ‘‘ ہمارے یہاں کی باتیں نہیں بدلا کرتیں یعنی ہماری باتوں میں محو واثبات نہیں ہوتا۔ یعنی قدرت تو ایسے سب کچھ ہے جو چاہے وہ کرے مگر کرتا وہی ہے جو اس کی عظمت وشان کے لائق ہے، وہ تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے اس لئے وہی کرے گا جس میں کوئی عیب اس کی ذات پر نہ آئے۔ پھر کیا وعدے کرکے پورا نہ کرنا خصوصا بار بار وعدہ کرکے اور اس کے پورا کرنے کا کامل وثوق اور یقین دلاکر پھر اس کا پورا نہ کرنا کوئی عیب نہیں ہے ؟ ضرور عیب ہے اور بہت بڑا عیب ہے۔ کوئی انسان ہوش وحواس کی حالت میں اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ پھر کیا جماعت مرزائیہ اس کو پسند کرتی ہے کہ قرآن شریف سے خدا کی ذات میں بہت بڑا عیب ثابت کرے؟ اگر پسند نہیں کرتے تو کس لئے مرزا قادیانی کو قرآن شریف کا ماہر اور خدا کا رسول مان رہے ہیں؟ وہ تو علانیہ طور سے خدا پر عیب لگانا چاہتے ہیں یہ تو عقلی تقریر تھی جسے عالم وجاہل سب اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اب قرآن مجید کی بعض آیتیں بھی ملاحظہ ہوں جن سے اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ وعدہ خداوندی میں محو واثبات ہرگز نہیں ہوتا وہ آیتیں یہ ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(۱) ’’لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘(الروم:۶)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ہیں جاہل ہیں، مرزا قادیانی اس کے خلاف کہہ رہے ہیں یعنی اللہ وعدے کے خلاف کرتا ہے اب اس آیت کی رو سے مرزا قادیانی کس گروہ میں ٹھہرے۔ جماعت مرزائیہ انصاف کرے ؟۔

71

(۲)’’لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ‘(الحج:۴۷) اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔ جس کو عربیت سے واقفیت ہے وہ جانتے ہیں کہ لن آئندہ نفی کی تاکید کے لئے آتا ہے اس لئے آیت کا مطلب ہر ایک ماہر یہی کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف ہر گز نہیں کرے گا۔

(۳)’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘(اٰل عمرٰن:۹)بلا شک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے۔ اس آیت میں یہی تاکید کے ساتھ ارشاد ہوا کہ جس بات کا اللہ تعالیٰ وعدہ کرے اسکے خلاف نہیں کرتا اب اگر اللہ تعالیٰ وعدہ کرکے محو کردے اور پورا نہ کرے تو یہ آیتیں جھوٹی ہوجائیں گی۔ (نعوذ باللہ)

(۴)’’فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ‘‘(ابرٰہیم:۴۷)

یہ گمان مت کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے ( یعنی یہ نہیں ہوسکتا ) حسب دعویٰ مرزا قادیانی یہ آیت زیادہ صراحت سے کہہ رہی ہے کہ اگر مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو ان سے جو وعدۂ خداوندی ہوا اس کے خلاف نہیں ہوسکتا پھر وعدۂ نکاح کے پورا نہ ہونے کے جواب میں آیت یمحوا اللّٰہ الخ کو پیش کرنا اس آیت کے بالکل خلاف ہے۔ یہاں یہ امر خوب سمجھ لینا چاہئے کہ یہ آیت اس امر میں نص قطعی ہے کہ مرزا قادیانی نبی یا رسول نہیں ہیں کیوں کہ ان کے اقرار کے بموجب خدا نے ان سے بہت سے وعدے کئے مگر وہ پورے نہ ہوئے۔ ان میں سے ایک وعدہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا تھا اور کیسا مستحکم وعدہ کہ خدا تعالیٰ نے بتاکید فرمایا کہ اس میں شک نہ کرنا جملہ فلاتکونن من الممترین، ان کے الہام میں موجود ہے اور بیان سابق سے ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ وعدہ اس طور کا تھا کہ اس میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی اس کا ظہور ہر طرح ہونا چاہئے تھا مگر مرزا قادیانی کے مرتے دم تک اس کا ظہور نہ ہوا اگر وہ خدا کے رسول ہوتے تو بموجب تصریح اس آیت کے وہ وعدہ ضرور پورا ہوتا اور جب وہ وعدہ پورا نہ ہوا تو ثابت ہوا کہ وہ خدا کے رسول۱؎ نہیں تھے اگر مسیح کے گدی نشین خفا نہ ہوں تو میں

۱؎

اس وعدہ کے پورا ہونے کی وجہ مرزائی یہ بیان کرتے ہیں کہ اس وعدہ کا پورا ہونا موقوف تھا ایک وعید کے پورا ہونے پر یعنی اس کے شوہر کے مرنے پر اور اس کا شوہر اپنے خسر کے مرجانے سے بہت خوف زدہ ہوگیا تھا اور سنت اللہ ہے کہ خوف کی وجہ سے وعید ٹل جاتی ہے اس لئے اس کے شوہر کے باب میں جو وعید تھی وہ ٹل گئی اور جب یہ وعید ٹل گئی اور اس کا شوہر نہ مرا تو نکاح کا وعدہ بھی پورا نہ ہوا۔ (بقیہ صفحہ ۷۳ پر)

72

ان سے دریافت کرتا ہوں کہ ان نصوص قطعیہ کے بعد بھی آپ جملہ یعد۱؎ ولا یوفی پیش کرسکتے ہیں ؟ ذرا خوف خدا کو دل میں لاکر جواب دیجئے گا۔ اس مضمون کی آیتیں اور بھی پیش ہوسکتی ہیں مگر ثبوت مدعا کے لئے اسی قدر کافی ہیں کیوں کہ ایک آیت کا منکر بھی کافر ہے۔ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ نکاح عرش پر ہوا یا آسمان پر مگر آخر وہ سب کارروائی شرطی تھی ؟ شیطانی وساوس سے الگ ہوکر اس کو سوچنا چاہئے۔

اس کے جواب میں ہم اس کہنے پر مجبور ہیں کہ برائے خدا جماعت مرزائیہ اغوائے شیطانی سے علیحدہ ہوکر بیان سابق پر غور کرے اور فیصلہ آسمانی کو اچھی طرح سے دیکھے۔ اگر انصاف کا شائبہ بھی اس کے قلب میں ہوگا تو بے اختیار کہہ دے گی کہ مرزا قادیانی کے اقوال اس کے شاہد ہیں کہ منکوحہ آسمانی کا ان کے نکاح میں آنا یقینی تھا اس میں کوئی شرط نہ تھی اور اس وقت جس الہام کو شرط کہا گیا ہے وہ اس کے لئے کسی طرح شرط نہیں ہوسکتا۔ پھر لکھتے ہیں۔ کیا یونس علیہ السلام کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ (۴۰) دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا مگر عذاب ناز ل نہ ہوا حالانکہ اس میں کسی شرط

(صفحہ ۷۲ کا بقیہ حاشیہ) ناظرین ! ایسی جاہلانہ باتیں بنانا اور انہیں مان کر دل کی تسلی کرلینا مرزا پرستوں کا ہی کام ہے کوئی صاحب عقل اور خصوصا ذی علم اس کے غلط ہونے میں ایک منٹ بھی تامل نہیں کرسکتا۔ اس کے وجوہ ملاحظہ ہوں (۱) اس وعید کا پورا ہونا یعنی اس کے شوہر کے مرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ نہایت خو زدہ ہوگیا تھا تو ایمان لے آیا ہوتا اور طلاق دے کر خود مرزا قادیانی سے آکر کہا ہوتا کہ میں نے علیحدہ کردیا آپ نکاح کرلیں (۲) یہ بھی ممکن تھا کہ اس کی بیوی یعنی محمدی اپنے شوہر سے لڑکر یا خوشامد کرکے اس سے طلاق لے لیتی اور الگ مفت طلاق نہ دیتا تو مرزا قادیانی سے کچھ لے کر اسے دیتی اور خلع کراتی۔ یہ صورتیں ایسی تھیں کہ مرزا قادیانی کے سب الہامات بھی صحیح ہوتے اور بغیر وعید پورا ہونے کے نکاح کا وعدہ بھی پورا ہوجاتا۔کیا کسی ذی علم پر یہ بات پوشیدہ ہے ؟ ہرگز نہیں مگر مرزائی اس سے بے خبر ہیں مرزا پرستی نے ان کی عقل کو سلب کردیا ہے (۳) معمولی خوف کی وجہ سے وعید ٹل جانے کو سنت اللہ بنانا محض غلط ہے کہیں قرآن میں،حدیث میں، دکھاؤ یا کوئی عقلی ہی وجہ پیش کرو۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں پیش کرسکتے بلکہ ہم اس کے غلط ہونے پر قرآن مجید کی صریح آیتیں اور صحیح حدیث اور عقلی برہان پیش کرسکتے ہیں اور پیش کی ہیں فیصلہ آسمانی حصہ ۳ ملاحظہ کیا جائے۔

۱؎

یعنی خلیفہ قادیانی بعض پیش گوئیوں کے پورا نہ ہونے کے جواب میں کہتے ہیں کہ یعد ولا یوفی یعنی خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض وقت پورا نہیں کرتا اس کا ذکر آئندہ آئے گا۔

73

کی تصریح نہ تھی پس وہ خدا جس نے ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کردیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی وقت پر ٹال دے ؟۔

اس قول میں مرزا قادیانی نے پیٹ بھر کر جھوٹ بولا اور ایک نہیں کئی جھوٹ ہیں:

(۱)حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی نکاح والی پیش گوئی کے مثل ہے یا اس سے بھی زیادہ۔ حالانکہ یہ دعویٰ محض غلط ہے آئندہ اس کی تشریح کی جائے گی (۲) یہ کہنا کہ آسمان پر فیصلہ ہوچکا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر چالیس دن تک عذاب نازل ہوگا اس فیصلہ کا ذکر نہ قرآن مجید میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں، نہ توریت وانجیل میں کوئی قطعی روایت ہے پھر یہ قطعی فیصلہ کس طرح معلوم ہوا؟ جب اس فیصلہ کا ذکر آسمانی کتابوں میں نہیں ہے احادیث صحیحہ میں اس کا پتہ نہیں ہے تو اس کے جھوٹے ہونے میں کیا تردد ہوسکتا ہے؟ اب اگر کسی غیر معتبر روایت میں اس کا ذکر ہو تو اسے کوئی ذی علم مسلمان فیصلہ آسمانی نہیں کہہ سکتا (۳) یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی شرطی نہ تھی، غلط ہے کیوں کہ اول تو قطعی طور سے الہامی پیشین گوئی کا ثبوت ہی نہیں ہے۔ پھر شرطی اور غیر شرطی کیسی؟ اور اگر بعض روایتوں سے پیشین گوئی کا ثبوت ہوتا ہے تو شرطی ہونے کا ثبوت بھی بعض روایتوں سے ہوتا ہے غرضیکہ قطعی طور کہہ دینا کہ یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی میں شرط نہ تھی محض غلط ہے۔

اب اس کی تفصیل ملاحظہ ہو

نکاح والی پیشین گوئی اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی میں آسمان وزمین کا فرق ہے اس کے وجوہ ملاحظہ کئے جائیں:

(۱) نکاح والی پیشین گوئی قطعی اور یقینی ہے حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی یقینی نہیں ہے، بعض نہایت ضعیف روایت میں اس کا ذکر آیا ہے اس لئے دونوں کو یکساں قرار دینا محض غلط ہے۔

(۲) منکوحہ آسمانی کے لوٹ آنے کی خبر تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دی انّا کنّا فاعلین فرمایا حضرت یونس علیہ السلام سے ایسا نہیں کہا گیا۔

(۳) اسی امر کی نسبت یوں الہام ہوا کہ اس عورت کا لوٹ کر آنا حق ہے اس میں شک نہ کرنا، یونس علیہ السلام سے اس طرح کہنے کا ثبوت نہیں ہے۔

74

(۴) اس وعدہ کی نسبت ان کا الہام ہے کہ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں یعنی اس وعدے کا پورا ہونا ضرور ہے کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے بھی یہ صراحت کی گئی تھی ؟ ہرگز نہیں یہ بات تو کسی ضعیف روایت سے بھی ثابت نہیں ہے۔

(۵) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ بار بار کی توجہ سے یہ الہام ہوا کہ خداتعالیٰ اس لڑکی کو ہرایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے نزول عذاب کے لئے ایسا یقین کسی وقت بیان نہیں کیا۔ مرزا قادیانی کے یہ اقوال ثابت کرتے ہیں کہ منکوحۂ آسمانی کے نکاح کا ظہور ہونا نصوص قطعیہ کے خلاف ہے جو ابھی نقل کی گئی اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کا ظہور نہ ہونا کسی آیت قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔ کیوںکہ یہ کہیں نہیں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کو قطعی خبر دی گئی تھی کہ تیری قوم پر ضرور عذاب آئے گا، اگر حضرت یونس علیہ السلام کو الہامی اطلاع ہوئی تو اس قدر ہوئی کہ اگر یہ قوم ایمان نہ لائے گی تو اس پر عذاب آئے گا، جیساکہ اور انبیا کی امت پر عذاب آیا، کیا ہے مرزا قادیانی کا بار بار یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں شرط کی تصریح نہ تھی محض نافہمی یا فریب دہی ہے۔ جو شرط میں نے بیان کی اس کا ہونا تو ضرور ہے طریقۂ ہدایت اور عقل اس کی کامل شہادت دیتی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے یوں ہی کہا ہوگا اور روایتیں بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اسی طرح کہا تھا جس طرح میں نے ابھی بیان کیا۔

(۶)مرزا قادیانی نے اس کے نکاح میں آنے کی قسم کھائی ہے حضرت یونس علیہ السلام نے کسی وقت نزول عذاب پر قسم نہیں کھائی۔ نہایت ظاہر ہے کہ کوئی بھلا آدمی قسم اسی بات پرکھاتا ہے جس کا اس کو کامل وثوق ہوتا ہے اور آئندہ ہونے والی بات پر وہی سچی قسم کھاسکتا ہے جس کو اللہ کی طرف سے یقینی اطلاع ہو۔ اب ایسی یقینی اطلاع کے بعد اس کا ظہور نہ ہونا اس کا یقین دلاتا ہے کہ یا تو وہ اطلاع شیطانی تھی تاکہ مرزا قادیانی کو رسوا کرے۔ یا ایسی تھی جیسی اس وقت اہل دنیا اپنا مطلب نکالنے کے لئے قسم کھایا کرتے ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری نہ ہونے پر سخت الزام ہے اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی پر یہ الزام نہیں ہوسکتا (۷) حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی شرطی تھی یعنی انہوں نے یہ کہاتھا کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا اس شرط کا ہونا بدیہی ہے اور سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ منکرین

75

سے اسی طرح کہا جاتا ہے اگرچہ یہ امر ایسا بدیہی ہے کہ اس پر کسی روایت اور قول کی حاجت نہیں ہے مگر میں کمال وثوق کے لئے بعض روایتیں پیش کرتا ہوں۔

(پہلی روایت ) شیخ زادہ محشی بیضاوی، حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ میں لکھتے ہیں :

’’فاوحی اﷲ الیہ قل لہم ان لم یؤمنوا جاء ہم العذاب فابلغہم فأبوا فخرج من عندہم۔‘‘

(شیخ زادہ ج ۲ ص: ۳۶۵ )

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام پر وحی کی کہ اپنی قوم سے کہیں کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا حضرت یونس علیہ السلام نے یہ پیغام الٰہی اپنی قوم کو پہنچادیا۔ اور ا ن کے انکار کے بعد ان کے پاس سے چلے گئے۔

دوسری روایت رو ح المعانی جز ۱۷ ص: ۷۷ میں ہے :

’’فأوحی اللّٰہ تعالیٰ الیہ قل لہم اِن لم یؤ منوا جاء ہم العذاب فابلغہم فابوا فخرج من عندہم فلما فقدوہ ندموا علی فعلہم فانتطلقوا یطلبون فلم یقدروا علیہ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام پر وحی کی کہ اپنی قوم سے کہہ کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا اس پر بھی وہ ایمان نہ لائے اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام چلے گئے جب ان کفار نے ان کو نہ دیکھا تو اپنے انکارپر نادم ہوئے اور حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش میں چلے مگر وہ نہ ملے۔

تفسیر کبیر میں بھی ایسا ہی ہے، ملاحظہ کیا جائے کہ کس صراحت سے شرط کا ذکر کیا گیا مگر مرزا قادیانی نے شور مچا رکھا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں شرط نہ تھی یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت یونس علیہ السلام کے جانے کے بعد ہی وہ اپنے انکار پر نادم ہوئے اور ان کی تلاش میں جا نکلے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان کے جانے کے بعد ہی اللہ نے ان کے دل میں ایمان ڈالا اور انہوں نے اپنے انکار سے توبہ کی اور اپنا ایمان ظاہر کرنے کے لئے ان کی تلاش میں نکلے۔

الغرض حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں شرط کا ہونا عقلی طور سے بھی ظاہر ہے اور نقل بھی اس کی شہادت دیتی ہے اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی میں شرط نہیں ہے۔ میرا مقصود یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کے لئے کوئی شرط مرزا قادیانی نے پہلے نہیں بیان کی تھی اور اب آخر میں جس الہام کو وہ شرط بیان کرتے ہیں وہ شرط نہیں ہوسکتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ اس

76

تحریر کے وقت مرزا قادیانی کے حواس درست نہ تھے۔ ذرا اس پر غور کیا جائے کہ محمدی بیگم سے تو نکاح ہو اور اس کے ظہور کے لئے اس کی نانی سے شرط کی جائے، این چہ معنی دارد؟۔ اور شرط کیا کہ وہ توبہ کرے کیوں کہ جس الہام کو شرط کہا جاتا ہے اس کے الفاظ یہی ہیںیا ایتہا المرء ۃ توبی توبی الخ۔پھر یہ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے اور اس کے گروہ نے توبہ کرلی تو نکاح فسخ ہوگیا۔ یہ عجب شرط تھی کہ اس کے پورا ہونے سے معاملہ الٹ ہوگیا یعنی اس کے پورا کرنے کا یہ نتیجہ ہونا چاہئے تھا کہ نکاح کا ظہور ہوتا کیوں کہ تمام اہل علم جانتے ہیں کہ شرط کے پائے جانے کے بعد مشروط کا پایا جانا ضرور ہے، مگر مرزا قادیانی اس کے الٹ کہتے ہیں کہ شرط کے پورا کرنے سے نکاح فسخ ہوگیا۔ یہ اختلال بدحواسی نہیں تو کیا ہے ؟ اس کے علاوہ اس پر غور کیا جائے کہ ظہور نکاح کے الہام میں تو بار بار وعدہ کرکے اور نہایت وثوق دلاکر کہا گیا کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی اس میں شک نہ کر پھر اس کے بعد مخالفین کو ایسا حکم کیا جاتا ہے کہ اگر وہ بجالائیں تو نکاح کا ظہور نہ ہو، اس جملہ کو اگر شرط کہا جائے گا تو بجز اس کے اور کیا مطلب ہوسکتا ہے ؟ اور جب یہی مطلب ہے تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو فریب دیتا ہے ( نعوذ باللہ ) یعنی مرزا قادیانی سے تو نکاح کے ظاہر ہونے کا نہایت پختہ وعدہ کرتا ہے اور ان کے مخالفین کو ایسا حکم دے رہا ہے کہ اس کے بجا لانے سے نکاح کا ظہور نہ ہو۔

بھائیو! ان باتوں پر کچھ تو غور کرو اسے یقین کرلو کہ مرزا قادیانی کا الہام اس دلیل میں ہے کہ ظہور نکاح کے لئے کوئی شرط نہیں ہوسکتی، اس کو ہم نے نہایت روشن طریقے سے ثابت کردیا اور فیصلہ آسمانی کے تیسرے حصہ میں نہایت روشن نو (۹) دلیلیں بیان کی گئی ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ جواب محض غلط ہے۔ بایں ہمہ اس نکاح کا ظہور نہ ہونا مرزا قادیانی کے کذب کی روشن دلیل ہے انہیں الہام ربانی ہرگز نہیں ہوا صرف مطلب برآری کے لئے انہوں نے الہام کا ہونا ظاہر کیا اگر یہ نہ مانا جائے گا تو خدائے قدوس کا جھوٹ بولنا اور فریب دینا ثابت ہوگا۔ تعالی اللہ عن ذلک علوا کبیرا۔

(۸) حضرت یونسm کے چلے جانے کے بعد ان کی قوم ایمان لے آئی تھی۔ اب اس میں اختلاف ہے کہ صرف ان کے چلے جانے سے ڈرگئی اور ایمان لے آئی یا عذاب کے آثار دیکھنے کے بعد ایمان لائی اور ان کے ایمان لانے کی شہادت قرآن شریف میں موجود ہے۔ ایک آیت تو اوپر نقل ہوچکی ہے دوسری آیت سورۂ صافات میں اس طرح ہے :

77

’’وَاَرْسَلْنٰہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ۔فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍٍٍ‘‘(الصّٰفّٰت:۱۴۷،۱۴۸)

ہم نے یونس کو ایک لاکھ بلکہ اس سے زیادہ کی طرف بھیجا وہ لوگ ایمان لے آئے اس لئے ہم نے انہیں چھوڑدیا اور ایک مدت تک ( موت کے وقت تک ) انہیں دنیا کا فائدہ اٹھانے دیا۔

جب نص قطعی سے ان کا ایمان ثابت ہے تو کسی روایت کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب وہ ایمان لے آئے تھے تو ان پر سے عذاب کا ٹل جانا نہایت بجا تھا۔ مرزا کے مخالفین یعنی اس لڑکی کی نانی وغیرہ کبھی ایمان نہیں لائی یہ کتنا بڑا فرق ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ احمد بیگ کے مرنے سے وہ لوگ اس قدر روئے اور خوف زدہ ہوئے نمازیں پڑھنے لگے اور یہ ہوا اور وہ ہوا۔ یہ سب مرزا قادیانی کا زور تحریر ہے جیسے ان کی عادت ہے اور کچھ نہیں۔ گھرکے سرپرست کے مرنے کے بعد رونے پیٹنے کا اکثر معمول ہے، کہیں کہیں زیادہ کسی کے دل میں خوف بھی ہوا ہو یہ بھی معمولی بات ہے کہ موت کے بعد گھر والوں کے دل میں خوف خدا کچھ نہ کچھ آجاتا ہے اس کی موت کو یاد کرکے نماز روزہ زیادہ کرنے لگے ہوں تو اس کا نام ایمان لانا مگر اس کو دوسری طرف پھیر دینا اور بہت زیادہ کرکے دکھانا ایسا صریح جھوٹ ہے جس میں کوئی فہمیدہ شک نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ اگر انہیں مرزا کی پیشگوئی کی وجہ سے اس قدر خوف وہراس ہوا تھا جیساکہ مرزا قادیانی نے بار بار بیان کیا ہے تو مرزا ان کے پاس موجود تھے، کہیں چلے نہیں گئے تھے، ان پر ایمان لے آتے ،ان سے اپنا قصور معاف کراتے مگر نہ کوئی ایمان لایا نہ اپنا قصور معاف کرایا بدستور مخالف رہے۔ یہ بین دلیل ہے کہ معمولی طور سے ان کا رونا دھونا خوف وہراس تھا اسی طرح ہم اور بھی فرق دکھا سکتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی میں اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی میں بہت بڑا فرق ہے، حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب کا دور ہوجانا مطابق عقل کے اور موافق شرط کے ہوا۔ اور مرزا کی منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا کسی طرح مطابق عقل اور موافق شرط کے نہیں ہوسکتا۔

اس کے وجوہ جس قدر بیان کئے گئے ہیں وہ بہت کافی ہیں طول دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مذکورہ قول میں مرزا کا یہ کہنا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ چالیس روز تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا، محض غلط ہے۔ فیصلہ ہونا اور بات ہے اور ڈرانا اور بات ہے۔ یوحنا نبی کی کتاب باب چہارم سے ظاہر ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے عذاب کی پیش گوئی کی تھی خود

78

انہیں یقین نہ تھا کہ عذاب ضرور آئے گا اور ۴۰ روز کی مدت کو آسمانی فیصلہ بتانا وہی مرزا قادیانی کی معمولی بے باکی ہے ورنہ عذاب آنے کی مدت میں مختلف روایتیں ہیں بعض میں ایک دن ہے بعض میں تین دن اور بعض میں ۴۰ دن ہیں کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک روایت پر ایسا یقین کرلیا جائے جیسا مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں۔

اب تو آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا جواب ہر طرح غلط ہے اور منکوحہ آسمانی کی پیش گوئی کے جھوٹی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اب اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے جواب کی غلطی کا انکشاف اور زیادہ منظور ہے تو فیصلہ آسمانی کا تیسرا حصہ دیکھنا چاہئے۔ الغرض مرزا غلام احمد قادیانی کے جوابات محض غلط ثابت ہوئے اور اس قسم کی غلطی ثابت ہوئی کہ ان کی کوئی بات لائق اعتبار نہ رہی۔ اس لئے ان کے کسی مرید کی بات کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر میں ان کے خلیفہ کی حالت کو بھی نمونہ کے طور پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں اس لئے ان کے جواب کی بھی حالت دکھاتا ہوں۔

خلیفۃ المسیح کے جواب کا غلط ہونا

عجب نہیں کہ جناب(گدی نشین) خلیفہ قادیان کے پیش نظر بعض ایسے امور ہوں جو میں نے بیان کئے اس لئے وہ مرزا قادیانی کے جواب کو پسند نہیں کرتے دوسرا جواب دیتے ہیں اور پسند نہ کرنا میں اس وجہ سے کہتا ہوں کہ خلیفہ صاحب بہت زور سے کہہ چکے ہیں کہ صاحب الہام کے کلام کے معنی وہی صحیح ہیں جو صاحب الہام خود بیان کرے۔ باوجود اس خیال کے خلیفہ صاحب نے یہاں صاحب الہام کے کلام کو چھوڑ کر دوسری توجیہ ایسی کی جس سے صاحب الہام یعنی مرزا قادیانی کا قول غلط ٹھہرتا ہے۔ ان کی توجیہ صحیفہ محبوبیہ میں اس طرح منقول ہے:

’’ ایک لڑکی کے متعلق کہ اس سے آپ ( مرزا قادیانی ) کی شادی ہوگی اور ایک عورت سے زلازل سے پہلے ایک لڑکا ہوگا اور پانچویں اولاد کی بشارت پر اعتراض ہے ان کا للہ وباللہ قرآنی جواب یہ ہے کہ کتب سماویہ کا طرز ہے کہ مخاطب سے گاہے خود مخاطب ہی مراد ہوتا ہے گاہے وہ اور اس کا جانشین اور اس کی اولاد بلکہ اس کا مثل مراد ہوتا ہے۔ (اس کی مثال ملاحظہ ہو ) مثلا اللہ تعالیٰ زبان نبوی میں فرماتا ہے اقیموا الصلوٰۃ واٰ توا الزکوٰۃ(نماز پڑھو روزہ رکھو ) اس حکم الٰہی میں خود مخاطب اور ان کے مابعد کے لوگ شامل ہیں جو ان مخاطبین کے مثل ہیں ۔‘‘

79

خلیفہ قادیانی جس تفصیل سے کتب سماویہ کا طرز بیان کررہے ہیں ہم بغرض اختصار تسلیم کرتے ہیں، مگر یہ فرمائیں کہ یہاں تو خطاب میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے یہ لفظ تو اسی لئے بنایا گیا ہے کہ عام مخاطبین پر حکم کیا جائے یہ تو اپنے صریح معنی کے لحاظ سے عام ہے اور شامل ہے جناب رسول اللہa کو اور ان کی تمام امت کو۔ منکوحۂ آسمانی کی نسبت کسی وقت مرزا قادیانی کے الہام میں ایسا عام لفظ نہیں آیا ہے۔ اس منکوحہ کی نسبت برسوں الہامات ہوتے رہے مگر اسی خصوصیت کے ساتھ مثلا کہ :’’ یہ عورت تیرے نکاح میں آئے گی ۔‘‘

کسی وقت اس طرح الہام ہے :’’خدائے تعالیٰ اس لڑکی کو ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔‘‘

جس نبی مکرم کی وحی میں اقیمواالصلوۃ آیا ہے اس نے کسی وقت نہیں فرمایا کہ یہ حکم اس عاجز کے لئے ہے، کبھی عربی میں یوں الہام ہوا:

’’ سیردھا الیک، یعنی اللہ تعالیٰ اس لڑکی کو لوٹا کر تیرے پاس لائے گا ۔‘‘

ان خطابوں سے اقیمواالصلوٰۃ کو کیا نسبت ہے جو آپ اسے مثال میں لائے ہیں؟ کیا آپ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ کتب سماویہ میں ایسے خطابات خاصہ کا استعمال کرکے عام مخاطب۱؎ مراد لیا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اگر ایسا ہو تو کلام خدا غلط ہوجائے اس پر خوب غور کیجئے گا۔ خیر یہ گفتگو تو بلحاظ الفاظ اور استعمال کے تھی، اب میں یہ کہتا ہوں کہ ان الہاموں کے خطاب کو عام کرنا خود مرزا قادیانی کے اقوال کے خلاف ہے۔ مثلا اس وقت ان کے تین الہام بیان کئے گئے۔

۱؎

اس مضمون کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا کہ قرآن مجید میں ہے ’’فَلَا تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا‘‘(بنیٓ اسرآء یل ۲۳) یہاں واحد کا صیغہ بولا گیا ہے اور خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔ میں نے کہا کہ کتب معانی اور بلاغت کا معائنہ کرنا چاہئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ خطاب کس کس طرح سے بلغاء کرتے ہیں۔ اس آیت میں اگرچہ حکم عام ہے مگر یہ عموم اس لئے نہیں ہے کہ واحد کا صیغہ بول کر عام کو خطاب کیا ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ ہر امتی سے جداگانہ خطاب ہے جس حکم میں نہایت تاکید مقصود ہوتی ہے وہاں ایسا ہی کہا جاتا ہے جیسے کوئی رئیس اپنے نوکروں پر ضروری حکم کرنا چاہتا ہے تو ہر ایک کو بلا کر کہہ دیتا ہے کہ تجھے یہ کام کرنا ہوگا یا اپنے کسی خاص کو بھیجتا ہے کہ ہر ایک سے کہہ دو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے کہا کہ ہر ایک کو یہ حکم سنادو۔ اس لئے مخاطب ہر ایک امتی ہے خواہ اس وقت موجود ہو یا آئندہ امت میں داخل ہو مگر جب امتی سے خطاب کیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکم عام ہوگیا۔

80

تیسرے الہام کی شرح میں مرزا قادیانی کہتے ہیں لوٹا نے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی غیر کفو میں چلی گئی ہے یعنی اس کا نکاح غیر کفو میں ہوا ہے اب وہ لوٹ کر اپنے کفو میں آئے گی یعنی میرے نکاح میں۔ میں اس کا کفو ہوں۔

یہ الہام اور اس کی شرح صاف کہہ رہی ہے کہ یہ خطاب خاص ہے عام نہیں ہوسکتا کیوں کہ لوٹ کر اپنے کفو میں آجانا خاص احمد بیگ کی لڑکی کی نسبت ہوسکتا ہے اور اگر وہ لوٹ کر مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو پھر کفو میں لوٹ کر آنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ بالفرض اگر محمدی بیگم کی لڑکی مرزا قادیانی کی لڑکے سے بیاہی جائے تو بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ محمدی یا اس کی بیٹی اپنے کفو میں آگئی محمدی بیگم کا نہ آنا تو ظاہر ہی ہے اس کی وہ بیٹی سلطان محمد کی اولاد ہے اور سلطان محمد کو مرزا قادیانی غیر کفو بتارہے ہیں اور اولاد کا کفو باپ کے لحاظ سے ہوتا ہے اس لئے وہ لڑکی مرزا قادیانی کے کفو میں نہیں ہے۔ اب نکاح ہونے کے بعد یہ کہیں گے کہ مرزا قادیانی کا لڑکا غیر کفو میں گیا اور محمدی بیگم کی لڑکی غیر کفو میں آئی۔

دوسرا الہامی قول اور ملاحظہ کیجئے جو حکیم صاحب کی تاویل کو غلط بتارہا ہے۔ اس سے پہلے لکھا گیا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی سے آسمان پر نکاح ہوا تھا مگر وہ نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑگیا۔ اب آسمان پر خاص مرزا قادیانی سے محمدی بیگم کا نکاح ہوا تھا۔ کسی مفہوم کلی کا نہیں ہوا تھا جس میں مرزا قادیانی کے تمام متعلقین بھی شامل ہوں اور پھر وہ فسخ ہوگیا۔ اگر گدی نشین صاحب کا قول صحیح ہو تو نکاح کے فسخ ہونے اور تاخیر میں پڑنے کے کوئی معنی نہیں بنتے کیوں کہ بقول گدی نشین صاحب جس وقت مرزا قادیانی کے متعلقین میں سے کسی کا نکاح محمدی کی اولاد سے ہوجائے تو الہام صحیح ہوگیا اس کے لئے کوئی حد نہیں ہے کوئی وقت نہیں ہے پھر تاخیر میں پڑنا یا فسخ ہوجانا چہ معنی دارد ؟

الغرض جب مرزا قادیانی اسے فسخ ہوجانا یا تاخیر میں پڑنا بتا رہے ہیں توگدی نشین صاحب کا خطاب کو عام کہنا مرزا قادیانی کے قول کے صریح مخالف ہے۔

یہاں دو قولوں کی مخالفت دکھائی گئی اور پہلے حصہ میں بہت کچھ ہے وہاں دیکھئے اب خلیفہ صاحب کو کیا حق ہے کہ اپنے مرشد کے خلاف معنی بیان کریں اب اگر اسی پر اصرار ہے تو فرمائیں کہ منکوحہ آسمانی کے متعلق جو الہامات ہیں وہ ایسے ہی عام ہیں جیسے اقیموا الصلوٰۃکا

81

حکم ہے تو اس کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ جس طرح نماز پڑھنے کا حکم ہر مسلمان کو ہر زمانہ میں ہے نبی بھی اس میں شامل ہیں تو نکاح میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ؟ اور اس کا جو کچھ نتیجہ ہے وہ صاف ظاہر ہے۔ اور فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ جس طرح نماز ہر مسلمان پڑھتا ہے اور تاویل کرکے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرزا کا نکاح محمدی بیگم سے ہو اور ان کے متعلقین کا محمدی بیگم کی اولاد سے ہو اس وقت اقیموا الصلوٰۃ کی مثال صحیح ہوسکتی ہے اب اس کی تفصیل پر آپ خود ہی غور کریں کہ کہاں تک نوبت پہنچتی ہے ؟

دوسری صورت یہ ہے کہ مرزاقادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ہوجائے یا ان کے متعلقین میں سے کسی کا نکاح محمدی کی اولاد سے ہوجائے اسی قدر صداقت الہام کے لئے کافی ہے ؟ مگر اس کی مثال خلیفہ صاحب اقیموا الصلوۃ سے دیتے ہیں تو اب اس حکم خداوندی کے معنی انہیں یہ کرنا ہوں گے کہ اگر اس حکم خداوندی کی تعمیل رسول اللہa نے کردی تو تعمیل ہوگئی اب امت کو ضرور نہیں ہے اور اگر امت میں سے کوئی اس کی تعمیل کردے تو کافی ہے سب کے لئے ضروری نہیں جب تک ان دونوں معنی میں سے ایک معنی خلیفہ جی اختیار نہ کریں اس وقت تک یہ مثال ان کی صحیح نہیں ہوسکتی اب وہ فرمائیں کہ انہوں نے کون سے معنی مراد رکھے ہیں ؟ تاکہ قرآن دانی ان کی معلوم ہو۔۱؎

افسوس حکیم (نورالدین ) نے اپناعلم وفضل بھی مٹی کردیا باطل پرستی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ غضب ہے کہ ایسے بے ہودہ اور شرمناک جواب کو قرآنی جواب کہا جاتا ہے افسوس ! الغرض ہر فہمیدہ معلوم کرسکتا ہے کہ مرزاقادیانی کے ان الہاموں میں خطاب عام کسی طرح نہیں ہوسکتا اور نہ گدی نشین کی مثال اس مقام پر صحیح ہوسکتی ہے بلکہ اس کے ماننے سے شرمناک بات پیش آتی ہے آگے چل کر حکیم صاحب فرماتے ہیں:

۱؎

اب دوسرا افسوس یہ ہے کہ گدی نشین جی تو چل دیئے اور اس کا جواب نہ دیا اور نہ کسی دوسرے مرزائی کی ہمت ہوئی جب گدی نشین قادیان جواب سے عاجز رہے تو اب دوسرے کی کیا ہستی ہے کہ جواب دے مگر بایں ہمہ مرزائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ پرانے اعتراض ہیں سب کے جواب دیئے گئے ہیں مگر ہمارے جواب الجواب سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور ناواقفوں کو دھوکہ دیتے ہیں اگر اپنے آپ کو راستی کا طالب خیال کرتے ہو تو ہمارے اعتراضوں کاجواب دو مگر اب تک نہیں دیا اور نہ دے سکتے ہو۔ (مرتضی حسن )

82

’’ جب مخاطب میں مخاطب کی اولاد، مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہوسکتے ہیں تو احمدبیگ کی لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہوسکتی ہے ۔‘‘

ہمارے بیان سے ظاہر ہوگیا کہ ہر جگہ مخاطب میں اس کی اولاد وغیرہ داخل نہیں ہوسکتی اور بالخصوص یہاں داخل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے اور جب مرزا قادیانی نے اس کا فیصلہ کردیا ہے کہ اس خطاب میں فقط احمد بیگ کی بڑی لڑکی ہی مراد ہے اس کی اولاد مراد نہیں ہے جس کا بیان ہو لیا تو اب گدی نشین صاحب کا قول لائق توجہ نہیں ہوسکتا۔ پھر فرماتے ہیں :

’’ کیا آپ کے علم الفرائض میں بنات البنات کو حکم بنات کا نہیں مل سکتا‘‘نہیں مل سکتا بنات ذوی الفروض میں ہیں اور بنات البنات ذو الارحام ہیں دونوں میںبڑا فرق ہے: ’’ کیا مرزا قادیانی کی اولاد مرزا کے عصبہ نہیں ۔‘‘

حکیم صاحب یہاں ترکہ تقسیم نہیں ہوتا کہ اس کا عصبہ ہونا کام آئے۔ یہاں حکم خداوندی یا اطلاع خداوندی کا ذکر ہے جس کے لئے حکم ہو اور جس کے لئے اطلاع ہو یہ ضرور نہیں کہ جو بشارت باپ کے لئے ہو وہ بیٹے کے لئے ہی ہو۔ مرزا قادیانی تو نہایت زور سے برابر کہتے رہے کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور بارہا اس کا اظہار کیا اس کو مشتہر کیا اور اس کو خدائے تعالیٰ کا قول بیان کیا برسوںیہی کہتے رہے کسی وقت عموم اور شمول کا شائبہ بھی ان کے کلام میں نہیں پایا گیا پھر حکیم صاحب کیوں اس کے خلاف زور دے رہے ہیں اور اپنی قابلیت میں بٹہ لگا رہے ہیں۔

گدی نشین قادیان کی ایک اور تقریر۱؎ بھی اس کے متعلق دیکھی اس دیکھ کر تو فرقہ باطنیہ کی توجیہیں یاد آگئیں۔ اسی طرح وہ بھی خدا اور رسول کو الزام دیتے ہیں اور کتاب اللہ کے خلاف کہا کرتے ہیں اور ان باتوں کو خدا کے اسرار بتاتے ہیں۔ گدی نشین قادیان کی ساری تقریر کو نقل کرنا فضول ہے اس میں دو باتیں اس قابل ہیں کہ مسلمانوں کو ان کی اصلی حالت سے اطلاع دی جائے۔

(۱) گدی نشین قادیان فرماتے ہیں :

۱؎

یہ تقریر ڈاکٹر عبد الحکیم خان کے رسالہ اتمام الحجۃ میں منقول ہے۔

83

’’ حضرت نبی کریمa نے کسریٰ اور قیصر کی کنجیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مجھے دی گئیں ہیں مگر آپ نے وہ کنجیاں نہ دیکھیں کہ چل دیئے ۔‘‘

غرض یہ کہ اسی طرح مرزا قادیانی نے بعض پیش گوئیاں بیان کیں اور وہ پوری نہ ہوئیں کہ مرزا قادیانی چل دیئے ایسی باتوں میں اللہ تعالیٰ کے مخفی اسرار ہوتے ہیں ۔

(۲) حضرت شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے یعد ولا یوفی، بعض دفعہ خدا وعدہ کرتا ہے مگر پورا نہیں کرتا ۔‘‘

یہ حکیم صاحب کے اقوال ہیں جنہیں دیکھ کر حیرت ہورہی ہے کہ وہ کس بلند آسمان پر تھے اور اب کس تاریک غار میں جا گرے۔ مرزا قادیانی کی شغف محبت نے ان کے دل ودماغ کو بے کار کردیا اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم فرمائے اور ان کے قلب سے ظلمت کے پردہ کو ہٹائے۔

افسوس ہے مرزا قادیانی کی محبت میں وہ خدا اور رسول خدا پر الزام لگا رہے ہیں اور اسے اسرار خدا بتاتے ہیں۔

حکیم صاحب اگر ایسی صریح غلط باتیں بھی اسرار خدا کہہ دینے سے مان لینے کے لائق ہوجا ئیں تو پھر کسی باطل پرست اور گمراہ کے مقابلہ میں آپ زبان نہیں کھول سکتے کیوں کہ وہ اپنی سب گمراہی کی باتوں کو اسرار بتا کر آپ کو بند کردے گا اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔

حکیم صاحب کی حالت بیان کرتا ہوں حکیم صاحب کہتے ہیں کہ :

’’ نبی کریمa نے کسریٰ اور قیصر کی کنجیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مجھے دی گئی ہیں ۔‘‘

بھائیو! مجھے ان کی دیانت پر نہایت افسوس ہے کہ ایسے معرکہ کی بات اور حکیم صاحب ایسے گول الفاظ میں بیان کررہے ہیں جس سے ناواقف بڑے دھوکے میں پڑسکتے ہیں کسی چیز کا ذکر کرنا مختلف طور سے ہوسکتا ہے۔ آیا حضور انور جناب رسول اللہa نے اپنے خواب کا ذکر فرمایا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے یا اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت بینہ کا خیال کرکے حضورa نے اپنا قیاس اور فراست ظاہر فرمائی ہے یا الہام خداوندی بیان فرمایا یعنی یہ کہ خدا کی طرف سے مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ مجھے کنجیاں دی گئیں؟

اور پھر اس الہام کی صداقت پر کتنی مرتبہ اپنا یقین ظاہر فرمایا ہے اور کسی وقت اس کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے آپ نے قسم بھی کھائی ہے یا نہیں۔

84

اور حضور انورa نے یہ بھی فرمایا ہے یا نہیں کہ اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا۱؎ ہوں (معاـــ ذ اللہ! ) یا اس کا ظہور میری صداقت کا معیار ہے۔

حکیم صاحب یہ کچھ بیان نہیں کرتے بلکہ مجمل الفاظ لکھ کر مرزا قادیانی سے الزام اٹھانا چاہتے ہیں حکیم صاحب کے بیان سے ناواقف یہی سمجھیں گے کہ جس طرح رسول اللہa نے پیش گوئی کی تھی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانہ کی کنجیاں دی جائیں گی مگر اس کا ظہور نہیں ہوا اسی طرح منکوحۂ آسمانی کی نسبت مرزا قادیانی نے کہا تھاکہ وہ نکاح میں آئے گی مگر نہیں آئی۔ غرض کہ الزام اگر ہے تو دونوں پر برابر ہے (نعوذ باللہ، استغفراللہ ) چہ نسبت خاک را باعالم پاک۔

حکیم صاحب یہ آپ نے کہاں کا جوڑ کہاں لگایا اگر مرزا قادیانی کے غلبۂ محبت میں قصدا ناواقفو ں کو دھوکہ دیا ہے تو منتقم حقیقی کے حوالہ ہے اور اگر غلطی ہے آپ کی سمجھ میں نہیں آیا تو سمجھ لیجئے جس قصہ کو آپ نے گول الفاظ میں بیان فرمایا ہے وہ جناب رسول اللہa کا خواب ہے اور اس کا بیان صحیح حدیثوں میں اس طرح ہے۔ جناب رسول اللہa فرماتے ہیں کہ میں گزشتہ شب کو سورہا تھا کہبینما انا نائم أوتیت خزائن الارض۔ دیکھتا ہوں کہ تمام زمین کے خزانے میرے روبرو پیش کئے گئے۔

(بخاری باب وفد بنی حنیفہ ج۱،ص۶۲۸، مسلم کتاب الرویا ج ۲، ص ۲۴۴)

حدیث میں صرف اسی قدر خواب کا ذکر ہے حضور انورa نے اپنا خواب بیان فرماکر اس کی تعبیر میں یا اس کی شرح میں کوئی لفظ نہیں فرمایا۔ یہ عاجز اور حدیثوں پر نظر کرکے مختصر شرح اس خواب کی کرتا ہے۔ خزانۂ زمین کی کنجیاں یا تمام زمین کا خزانہ ایسا تھوڑا تو نہیں ہوسکتا ہے کہ حضور انورa کے دست مبارک میں آجائے۔

۱؎

مرزا قادیانی کی اس عظیم الشان پیش گوئی میں یہ سب باتیں ہیں۔ پہلے پیام نکاح میں اپنا الہام مرزا قادیانی نے بیان کیا پھر نکاح میں آنے کا وعدہ خداوندی ظاہر کیا پھر بار بار اس پر اپنا یقین اور کامل اعتماد ظاہر فرمایا ہے جن کا ذکر ہوچکا ہے اور حاشیہ پر وہ مقامات بتائے گئے ہیں اور احمد بیگ کے خط میں قسم بھی کھائی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ احمد بیگ کا داماد اگر میرے روبرو نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔ نبی کریمa کے بیان میں ایسی ایک بات بھی نہیں ہے۔ حکیم صاحب صرف اس قدر کہتے ہیں کہ کنجیوں کا ذکر فرمایا پھر وہ ذکر فرمایا تو خواب کی حالت کا تھا، اب نہیں معلوم ہوا کہ اس خواب کی تشریح اور تعبیر کیا ہے کیوں کہ جناب رسول اللہa نے کچھ بیان نہیں فرمایا پھر ایسی مجمل بات پیش کرکے کوئی انصاف پسند مرزا قادیانی سے الزام کو اٹھا نہیں سکتا۔

85

اس لئے اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ صورت مثالیہ کنجیوں کی یا خزانہ کی حضورa کے سامنے پیش کی گی اور فرشتہ نے کہا کہ یہ سب آپ(a ) کی امت کے لئے ہے۔ اس مطلب کی تائید بہت سی حدیثوں سے ہوتی ہے۔ جن میں حضور انورa نے اپنے صحابہ کی نسبت پیش گوئی کی ہے کہ تم ملک فارس اور روم کو فتح کروگے اور ان کا خزانہ اللہ کی راہ میں صرف کروگے، ایک روایت اس طرح ہے کہ جناب رسول اللہa صحابہ ؓ سے پیشگوئی فرما تے ہیں کہ :

’’یفتح اللّٰہ لکم ارض فارس وارض الروم وارض حمیر قیل ومن یستطیع الشام مع الروم ذوات القرون فقال واللّٰہ لیفتحہا اللّٰہ لکم ویستخلفکم فیہا ‘‘(امام احمد طبرانی وغیرہما)

فارس اور روم اور حمیر کے ملک پر اللہ تمہیں فتح دے گا بعض صحابہ ؓ اس پر متعجب ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت روم سے کون لڑسکتا ہے تو حضورa نے خدا کی قسم کھاکر فرمایا کہ اللہ تمہیں ضرور اس پر کامیاب کرے گا اور تم اپنا خلیفہ وہاں بٹھاؤ گے۔ ایک مرتبہ حضورa نے اپنے کشف کی حالت بیان فرمائی۱؎ کہ میں نے کسریٰ اور روم کے شہروں کو دیکھا اور جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپa کی امت ان پر قابض ہوگی۔

اور بخاری اور مسلم کی روایت میں ہے کہ کسریٰ اور قیصر مریں گے اور ان کے بعد پھر کوئی کسریٰ اور قیصر نہیں ہوگا اور ان کے خزانوں پر تم قابض ہوگے اور تم انہیں اللہ کی راہ میں صرف کروگے۔ ترمذی شریف کے الفاظ یہ ہیں:’’والذی نفسی بیدہ لتنفقن کنوزھما فی سبیل اللّٰہ تعالیٰ۔‘‘

(ترمذی باب ماجاء اذا ذھب کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ ج ۲ ص:۴۵ )

یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کسریٰ اور قیصر کے خزانے تم اللہ کی راہ میں صرف کروگے، یا صرف کئے جائیں گے۔

حکیم صاحب ! جناب رسول کریمa کی یہ پیش گوئیاں صاف کہہ رہی ہیں کہ خواب میں فرشتہ نے خزانے کی کنجیاں پیش کرکے بغرض مسرت آپa سے کہا کہ یہ خزانہ آپa کے صحابہ ؓ یا آپa کی امت کا ہے اور بالفرض اگر اس وقت نہیں کہا تو دوسرے وقت آپa کو اس کی شرح الہام سے معلوم ہوئی اور آپa نے پیشگی خبر فرمائی اور اس کا ظہور حسب ارشاد آپa کے ہوا، کیا یہ روایتیں آپ کی نظر سے نہیں گزریں ؟

۱؎

یہ روایت کنز العمال کی جلد ۶ میں ہے۔

86

اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ جناب رسول اللہa کے خواب کی یہ تعبیر نہ تھی کہ ان کنجیوں کا میں مالک ہوں گا اور اگر یہی تعبیر ہے تو بھی نہایت صحیح ہے کیوں کہ خزانے کی کنجیاں بادشاہوں کے پاس نہیں رہتیں خزانچیوں کے پاس رہتی ہیں سلاطین انہیں دیکھتے بھی نہیں اور نہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ کیا اس کی وجہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بادشاہ خزانہ کا مالک نہیں ہے ہرگز نہیں۔جناب رسول اللہa سلطان دارین ہیں۔ آپa کو کنجیوں کے دیکھنے کی حاجت نہیں ہے، آپa کے خزانچیوں، صحابہ نے دیکھیں اور ان کے قبضہ میں آئیں اور آپa کے ارشاد کے بموجب اس خزانہ کو انہوں نے صرف کیا۔ چونکہ آپa ان کے ہادی اور مرشد تھے آپa ہی کی وجہ سے وہ خزانہ صحابہ ؓ کے قبضہ میں آیا اس لئے دو وجہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خزانہ حضورa کے قبضہ میں آیا۔ایک یہ کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ ہوا اس کا ثواب حضورa کو ایسا ہی ملا جیسا کہ حضورa اپنے مملوک خزانہ کو صرف کرتے اور آپa ثواب ملتا۔ دوسرے یہ کہ وہ خزانہ اللہ کی راہ میں صرف ہوا اور تمام مسلمانوں کو یعنی اس وقت کی پبلک کو فائدہ ہوا یہ بعینہ بادشاہ کا فائدہ ہے۔ اگر اس طور کی ملک خواب میں دکھائی گئی تو عجب نہیں بہت خواب ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ظاہری معنی سے ان کی تعبیر بالکل مخالف معلوم ہوتی ہے۔

چنانچہ مرزاقادیانی (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۲۶،خزائن ج ۲۲ ص ۴۵۸ ) پر لکھتے ہیں :

’’ خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں… خوابوں کی تعبیرمیں کبھی مَوت سے مُراد صحت اور کبھی صحت سے مُراد موت ہوتی ہے۔‘‘

اب اگر رسول اللہa کے خواب کی یہ تعبیر ہو کہ آپa کے جانشین اس خزانہ کے مالک ہوں گے تو نہایت ظاہر ہے۔

الغرض خواب کو پیش کرکے اس کے ظاہری لفظوں سے استدلال پیش کرنا صحیح نہیں ہے مگر الحمدللہ ہم نے دکھادیا کہ جناب رسول اللہa نے نہ ایسی پیش گوئی کی جس کا ظہور حسب ارشاد نہ ہوا ہو؛ نہ آپa کا کوئی خواب غلط ثابت ہوا مگر حکیم صاحب اپنے مرشد کی غلط پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے جناب رسول اللہa پر الزام لگانا چاہتے ہیں مرزا قادیانی نے بھی( تحفہ گولڑویہ ص۴۰،خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳ ) میں اسی قسم کا الزام لگایا ہے (استغفراللہ، نعوذ باللہ)

87

جس کا حاصل یہ ہے کہ :

’’ حدیبیہ کی پیشگوئی …وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی ۔‘‘

حالانکہ یہ محض افتراء ہے آپa نے حدیبیہ میں کوئی پیش گوئی ایسی نہیں کی جس کا وقت اپنے انداز سے معین کردیا ہو اور وہ پیش گوئی اس وقت پر پوری نہ ہوئی ہو۔ یہ بالکل غلط ہے مرزا اپنے اوپر سے الزام دفع نہیں کرسکتے اس لئے حضرت سرور انبیاء پر الزام لگا کر عوام کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ناظرین خوب یاد رکھیں کہ حدیبیہ کی پیشین گوئی جناب رسول اللہa نے کوئی وقت اپنے انداز سے بیان نہیں فرمایا اس کی تفصیل دوسری جگہ کی جائے گی۔

حکیم صاحب خداکے لئے کچھ تو انصاف کیجئے کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی کس زور شور سے کی ہے اور کتنی مدت تک اس کا اعلان کرتے رہے ہیں اور کس کس طرح سے انہوں نے اس پر اپنا یقین ظاہر کیا ہے۔ یہاں تک کہ عدالت کے اجلاس میں حاکم نے دریافت کیا کہ آپ کو امیدہے کہ احمد بیگ کی لڑکی آپ کے نکاح میں آئے گی؟ اس کے جواب میں مرزا قادیانی کہتے ہیں :’’امید کیسی یقین ہے ۔‘‘ ( منظور الٰہی ص:۲۴۵ )اور پھر چل دیئے اور اس کی صورت دیکھنا بھی نصیب نہ ہوئی۔اسی طرح اس کے میاں کے لئے پیش گوئی کی کہ ڈھائی برس کے اندر مرجائے گا جب وہ نہ مرا تو کیسی کیسی بے ہودہ اور غلط باتیں بنائی ہیں۱؎ کہ خدا کی پناہ ! اس کے بعد اسی کے لئے دوسری پیش گوئی کی گئی اور کہا گیا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے سامنے اس کا مرنا تقدیر مبرم ہے اگر وہ نہ مرے اور میں مرجاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔

(حاشیہ انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج ۱۱ ص ۳۱)

مرزا قادیانی کو مرے ہوئے کئی برس ہوگئے اور اس کا خاوند اب تک زندہ ہے۔ غرضیکہ یہ دوسری پیشین گوئی بھی جھوٹی ہوئی پھر ایسی جھوٹی پیشین گوئیوں کے مقابلہ میں یا ان پر پردہ ڈالنے کے لئے جناب رسول اللہa کا خواب پیش کرتے ہو اور پھر اور اس میں دخل دے کر جناب رسول اللہa پر الزام لگاکر اپنی برأت کرنا چاہتے ہیں افسوس کیا یہی دیانت ہے مگر بحمد اللہ اس خواب کی بھی سچائی ظاہر کردی گئی۔

دوسری بات حکیم صاحب کی یہ ہے کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

۱؎

اس کا ذکر آئندہ آئے گا، ان شاء اللہ۔

88

’’ یعد ولا یوفی‘‘ اور بعض جگہ ’’ یوعد ولا یوفی‘‘ لکھتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض مرتبہ پورا نہیں کرتا۔ ‘‘

حکیم صاحب ! آپ کے علم کو کیا ہوگیا جو مضمون قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے خلاف ہے جس کے ماننے سے خدا ئے قدوس پر الزام آتا ہے اسے آپ مان رہے ہیں۔ قرآن مجید کی متعدد آیتیں نقل کی گئی ہیں جن سے قطعی طور سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے اور وعید میں خلاف نہیں ہوسکتا ؛اس کے خلاف سنت اللہ بتانا محض غلط اور نصوص قطعیہ کے مخالف ہے۔ پھر کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ کے خلاف عقیدہ رکھ کر اور خدائے قدوس پر الزام لگا کر حضرت محبوب سبحانی کی پناہ میں جائیں اور ان کے کلام سے سند پیش کریں، یہ خیال خام ہے۔ نصوص قطعیہ کے خلاف ان بزرگان کا کلام ہر گزنہیں ہوسکتا۔ حضرت محبوب سبحانی نہایت بلند پایہ بزرگ ہیں، وہاں مسکر وشطحیات کا بھی پتہ نہیں ہے، آپ نہایت ہی شریعت کے متبع ہیں، آپ کبھی قرآن مجید کے خلاف نہیں فرماسکتے۔ آپ کی شان اس سے نہایت اعلیٰ ہے۔ البتہ یہ حضرات جہاں مراتب ولایت اور عارفین کی حالت بیان کرتے ہیں اسے وہی سمجھ سکتے ہیں جن پر کم وبیش وہ حالتیں گزری ہیں۔ جو ان حالتوں سے محض نا آشنا ہیں وہ انہیں ہرگز نہیں سمجھ سکتے اسی لئے ان کے کلام کو سند میں پیش کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے۔

اس کے بعد میں کہتا ہوں کہ حضرت شیخ کا یہ جملہ ان کی کسی کتاب میں میں نے نہیں دیکھا اور نقل کرنے والے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیتے۔ اگر فتوح الغیب میں ہے تو بتائیں کون سے مقالہ میں ہے البتہ ان کا یہ ارشاد ہے :

’’ فحینئذ یجوز ان یعدہ اللّٰہ ولا یظہر وعلیہ وفاء ‘‘

یعنی مقام فنا میں عارف کو اس قدر محویت اور از خود رفتگی ہوتی ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے وعدہ کرے اور اس کے ایفاء کی اسے خبر نہ ہو۔

شیخ اس کے وقوع اور فعلیت کو ہرگز نہیں کہتے؛ بلکہ عارف کی کمال محویت کے سمجھانے کے لئے امکانی صورت فرض کرکے مثال دیتے ہیں۔ عرفائے کاملین عاشقان خدا ہیں اور چاشنی چشیدہ محبت اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ عاشق اپنے محبوب کے مسرت بخش وعدے سے کس قدر محظوظ اور مسرور ہوا کرتا ہے اور پھر اس کے پورا ہونے کے انتظار میں اس کی عجب حالت رہتی ہے اور جب اس کا محبوب اس وعدے کو پورا کرتا ہے تو خوشی کے مارے یہ پھولے نہیں سماتا، مگر یہ عرفاء

89

ایسے از خود رفتہ اور مدہوش ہوجاتے ہیں کہ اس کے وعدے اور ایفاء کی بھی انہیں خبر نہیں رہتی۔ اس کی تفصیل دوسرے مقام پر کی جائے گی۔۱؎ (انشاء اللہ )

غرض کہ شیخ کے کلام سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت وعدہ خلافی کرتا ہے۔

تنبیہ : حکیم صاحب کی شغف محبت ناجائزہ قابل ملاحظہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو بڑے زور وشو ر سے یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی وعدہ کرتا ہے کہ (۱) احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی اور ایک (۲) ایسا عجوبہ لڑکا تجھے دیا جائے گا گویا اللہ تعالیٰ آسمان سے اترآیا یا مثلا (۳) قاد یان میں طاعون نہ آئے گا۔ مگر ان وعدوں کا ظہور نہ ہوا، نہ وہ لڑکی نکاح میں آئی، نہ اس عجوبہ لڑکے کا ظہور ہوا، نہ قادیان طاعون سے محفوظ رہا، اب مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے جاتے ہیں، اس لئے حکیم صاحب اس کا جواب دینے میں مضطر ہوئے اور غلبہ محبت امر حق کو قبول کرنے نہیں دیتا بلکہ آمادہ کرتا ہے کہ جس طرح ہو مرزا قادیانی کو اس الزام سے بچانا چاہئے، اگرچہ خدا پر اور اس کے رسول پر الزام آئے۔ اس لئے پہلے جواب تو ایسا دیا کہ جناب رسول اللہa پر الزام آیا کہ فلان پیشین گوئی یا خواب آپa کا سچا نہیں ہے اور دوسرے جواب میں خدا تعالیٰ پر الزام ہے کہ وہ قدوس ہو کر وعدہ خلافی کرتا ہے یعنی مرزا قادیانی سے اس نے وعدے کئے اور پورے نہ کئے اور دوسرے جواب میں ایک بڑے بزرگ کو سند میں پیش کرتے ہیں مگر ظاہر ہوگیا کہ ان کی غلط فہمی تھی۔

مسلمانو! مرزا قادیانی کے اور ان کے خلیفہ کے یہ جوابات ہیں اور یہ ان کے اقوال ہیں اب تم ہی انصاف کرو کہ صدی کے مجدد اور وقت کے مسیح ایسے شخص ہوسکتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ چشم بصیرت عنایت کرے اور ایسے ناجائز محبت سے محفوظ رکھے۔ آمین!

واللّٰہ الموفق والمعین والحمدللّٰہ رب العالمین!

۱؎

یہ قول فتوح الغیب کے مقالہ ۵۶ میں ہے اور اس کی صحیح عبارت اسی طرح ہے جس طرح اس میں لکھی گئی ہے یعنی یظہر باب فتح یفتح سے ہے باب افعال سے نہیں ہے جیساکہ حکیم صاحب سمجھتے ہیں اور وفاء اس کا فاعل ہے، میرے پاس قلمی نسخہ نہایت صحیح اور معرب ہے اس میں اسی طرح ہے دوسرا نسخہ مطبوعہ مصر ہے اس میں بھی ایسا ہی ہے وہ اگرچہ معرب نہیں ہے مگر وفاء کے بعد الف اس میں نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ یظہر مجرد ہے اور وفاء اس کا فاعل ہے ایک نسخہ مطبوعہ لاہور ہے اس میں بھی وفاء کے بعد الف نہیں ہے جس سے ظاہر ہے کہ وفاء یظہر کے فاعل پر حرکات غلط دیئے ہیں۔

90

فیصلہ آسمانی

درباب مسیح قادیانی

حصہ دوم

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

91

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تمہیں بڑے فتنے سے بچانے کے لئے اس میں حق وباطل کو روشن کرکے دکھایا ہے

تمہید

ربَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ بِحُرْمَۃِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَرَسُوْلِکَ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖٓ اَجْمَعِیْنَ۔

مبارک وہ ہیں جن کا شیوہ راستی اور حق طلبی ہے۔ ابدی حیات ان ہی کا حصہ ہے جو صداقت کے عاشق اور سچوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور کذب ودروغ سے متنفر اور جھوٹوں سے بیزار ہیں۔ ان ہی کے لئے میں اپنے گرانمایہ وقت کو صرف کرکے امر حق کو آفتاب کی طرح روشن کرکے دکھانا چاہتا ہوں۔ حق پرستوں سے امید ہے کہ وہ اسے غور سے دیکھیں گے اور انصاف کرکے اپنے دل میں جگہ دیں گے۔ اس رسالے کے پہلے حصے میں مرزا قادیانی کے دعوی پر دو طرح سے روشنی ڈالی گئی ہے، اور اس کے کذب وصدق کو دکھایا گیا ہے۔ ایک تو ان الہامات کو دکھایا ہے جو خاص منکوحہ آسمانی کے متعلق انہوں نے بیان کئے ہیں اور آفتاب کی طرح روشن کردیا ہے کہ وہ سارے الہامات غلط تھے۔ باوجودیکہ مرزا قادیانی کو ان کے سچے ہونے پر نہایت ہی وثوق تھا۱؎ اور ممکن ہے کہ دلی وثوق نہ ہو مگر کسی وجہ سے ظاہر کیا گیا۔ دوسرے ان کی ذاتی حالت دکھائی گئی ہے جس سے ہر سمجھدار حق کو پسند کرنے والا بے تامل کہہ سکتا ہے کہ جس کی ایسی حالت ہو وہ بزرگ مقدس نہیں ہوسکتا۔ اس غلط پیشین گوئی کی نسبت آخر میں جو باتیں مرزا قادیانی اور ان کے قادیانی خلیفہ اول نے بنائی ہیں ان کا غلط ہونا بھی کافی طور سے دکھایا ہے دوسرے حصہ میں بھی دو طرح سے ان کے دعوی کی غلطی دکھانا چاہتا ہوں۔

۱؎

وثوق کی حالت کو ملاحظہ کیا جائے ۱۸۸۸ء میں مرزا قادیانی نے اشتہار دیا ہے، اس میں لکھتے ہیں کہ : ’’ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عا جز کے نکاح میں لائے گا۔ ‘‘ ( مجموعہ اشہارات ج ۱ ص ۱۵۸ ) ازالہ اوہام ص: ۲۹۶ خزائن ج۳ ص: ۳۰۵ میں لکھا ہے: ’’ خدائے تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور آخر کار ایسا ہی ہوگا ۔‘‘ یہ الفاظ نہایت صفائی سے فیصلہ کررہے ہیں کہ اس پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری ہے اس لئے کوئی مانع نہیں ہوسکتا جو مانع پیش آئے گا وہ دور ہوگا اور وہ لڑکی نکاح میں ضرور آئے گی مگر یہ نہیں ہوا اس لئے یقینی طور سے مرزا قادیانی کا ذب ہوئے۔

92

اول تو انہیں کے چند اقوال نقل کروں گا جن میں آپ دیکھ لیں گے کہ مرزا کی زبان اور ان کی تحریر نے فیصلہ کردیا ہے کہ مرزا کیسے ہیں، اب کسی دلیل اور حجت کی حاجت نہیں ہے۔

اب قرآن وحدیث سے ان کے دعوی پر دلیل لانا قرآن وحدیث پر جھوٹ کا الزام لگانا ہے۔

دوم ان کے بعض وہ اقوال دکھاؤں گا جو مرزا نے قرآن وحدیث کی طرف منسوب کئے ہیں حالانکہ محض غلط ہے، قرآن وحدیث میں وہ باتیں نہیں ہیں۔ اور اس غلطی کا ایسا بدیہی ثبوت ہوگا کہ حضرات ناظرین متحیر ہوجائیں گے اور بڑی حیرت سے کہیں گے کہ جس کو ایسے تقدس کا دعویٰ ہو وہ ایسا صریح خدا اور رسول پر افتراء کرسکتا ہے ؟ اس میں مرزا قادیانی کی قابلیت اور اسرار دانی اور تفسیر دانی کا حال بھی کسی قدر معلوم ہوجائے گا۔ اس وقت میں جس قدر فنون دنیاوی اور علوم ظاہری کا زور وشور ہے اسی قدر دینی علوم اور دینی فہم کمزور بلکہ نیست ونابود ہونے کے قریب ہورہی ہے، جہل مرکب کا نام علم اور کج فہمی کا نام خوب سمجھا گیا ہے۔ غضب ہے کہ مرزا اپنے مسیح ہونے کا ثبوت قرآن وحدیث سے دیتے ہیں اور ماننے والے اسے نہایت مسرت سے مان رہے ہیں اور اس پر جہل مرکب کا یہ زور ہے کہ علماء کے مقابلے میں ان تخیلات باطلہ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ میں نہایت وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ تمام دلائل تار عنکبوت سے زیادہ قوت نہیں رکھتے مگر سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ قوت علمی کے ساتھ فہم سلیم عنایت کرے اور تعصب کی تاریکی اور دلائل کا ذبہ کی ظلمت دل سے ہٹادے۔آئندہ تحریر سے مرزا قادیانی کی غلط فہمیاں اور خواہ مخواہ کی زبر دستیاں نمونے کے طور پر ظاہر کی جائیں گی۔ ان سے ہرایک روشن دماغ، طالب حق ان کی استدلالی حالت کو سمجھ لے گا اور اسی پر ان کے اور دلائل کو قیاس کرسکے گا۔

اس رسالے میں جس طرح مرزا قادیانی کے عظیم الشان نشان سے ان کی حالت کو ظاہر کیا ہے اسی طرح ان کے دعوے کی بہت بڑی دلیل کو محض بے بنیاد اور غلط ثابت کیا ہے۔ ایک اور حیرت یہ ہے کہ دو کتابیں مرزا قادیانی نے لکھی ہیں، ایک کا نام اعجاز المسیح اور دوسری کا نام اعجاز احمدی ہے۔ ہاں ان دونوں رسالوں کو معجزہ مانا جاتا ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے خیال میں ان کے مضامین ایسے عالی اور مفید خلائق ہیں کہ دوسرا ذی علم ایسے مضامین نہیں لکھ سکتا، یا اس کی عبارت ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ دوسرا ادیب نہیں لکھ سکتا، یا دونوں باتیں ہیں۔ مگر اہل علم دیکھ رہے ہیں کہ نہ یہ ہے نہ وہ ہے، معمولی باتوں کے علاوہ مرزا قادیانی کی تعلّیاں اور کج بحثیاں ہیں اور کچھ نہیں ہے۔

93

سورۂ فاتحہ کی تفسیر ہے اس کے مقابلے میں ابن قیم کی تفسیر سورہ فاتحہ دیکھو کہ کیسے کیسے مضامین عالیہ بیان کئے ہیں اور محققانہ بحث کی ہے اور کس قدر مفید باتیں مسلمانوں کے لکھی ہیں کہ اہل حق کو وجد آتا ہے، دو جلدوں میں قلمی نسخہ میرے پاس ہے اب تک چھپی نہیں ہے۔ ’’مدارج السالکین‘‘ اس کا نام، دیندار اہل علم سے بمنت کہتا ہوں کہ دونوں کا مقابلہ کرکے دیکھیں اور انصاف کریں کہ مرزا قادیانی کی اعجاز المسیح اس کے سامنے کوئی رتبہ رکھتی ہے یا کوئی چیز سمجھی جاسکتی ہے؟ استغفر اللہ۔ عبارت اور معنی دونوں پر نظر کریں۔

اسی طرح علامہ صدرالدین قونوی نے سورہ ٔفاتحہ کی تفسیر لکھی ہے اس کا نام ’’اعجاز البیان فی کشف بعض اسرار أم القرآن ‘‘ہے۔ اس کو دیکھا جائے کیسے حقائق واسرار بیان کئے ہیں اور لکھا ہے کہ میں نے اس میں کسی مفسر کا قول نقل نہیں کیا بلکہ وہی لکھا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر الہام کیا اور خدا کی طرف سے جو باتیں میرے قلب پر وارد ہوئیں۔ یہ تفسیر ۳۵۸ صفحات میں مطبع دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن میں چھپی ہے۔ اس پر یہ لکھتے ہیں کہ سورۂ فاتحہ کے بعض اسرار اس میں ہیں سب نہیں ہیں۔

ان تفسیر وں کو دیکھئے اور اعجاز المسیح کا مقابلہ کیجئے عبارت کا عبارت سے، مضامین کا مضامین سے، الہام کا الہام سے، پھر مرزا قادیانی کے اعجاز کی حقیقت کھل جائے گی۔ کیا جماعت مرزائیہ میں کوئی ذی علم ایسا نہیں ہے کہ ان کتابوں کو دیکھے اور انصاف سے مقابلہ کرے ؟ میں انصاف سے کہتا ہوں کہ مولوی لطف اللہ صاحب مرحوم لکھنوی نے سورہ فاتحہ کی تفسیر اردو میں لکھی ہے، شیعوں کے جواب میں ہے اس کا نام’’مظہر العجائب فی النکتۃ الغرائب ‘‘ ہے۱؎

۱؎

ان تفسیروں کے علاوہ امام غزالی اور امام فخرالدین رازی کی تفسیر دیکھئے کہ اسی سورت کے بیان میں کیا کچھ انہوں نے لکھا ہے۔ صاحب فتح البیان اسی سورت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’وللا مامین الغزالی وللرازی فی تقدیر اشتمالہا علی علوم القرآن بسط کثیر حتی استخرج الرازی منہا عشرۃ اٰ لاف مسئلۃ‘‘ یعنی امام غزالی ؒ اور امام رازی ؒ نے نہایت دراز اور مفصل تقریر اس مدعا پر کی ہے کہ سورۂ فاتحہ تمام علوم قرآن مجید پر حاوی ہے یہاں تک کہ امام رازی نے دس ہزار مسئلے اس سے نکالے ہیں تفسیر کبیر کے دیکھنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اب خلیفۃ المسیح فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے کتنے مسئلے نکالے ہیں جس پر اعجازی دعویٰ ہے ؟ بھائیو ! ذرا تو انصاف کرو جن ذی علموں کے پیش نظر یہ تفسیریں ہیں وہ مرزا قادیانی کی تفسیر کی طرف کیوں کر توجہ کرسکتے ہیں ایسی تفسیروں کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی کی تفسیر کو معجزہ کہنا کسی ذی علم کا کام نہیں۔

94

پوری چار سو صفحات کی کتا ب ہے اور گنجان اور باریک لکھی گئی ہے۔ مضامین کے لحاظ سے وہ بھی اس اعجاز المسیح سے بدرجہا فائق ہے۔

میں نے ایک ذی علم دوست سے کہا کہ اعجاز المسیح کا جواب لکھو، انہوں نے کہا کتاب بھیج دو میں نے کتاب بھیج دی، کچھ عرصہ کے بعد جب ان سے ملاقات ہوئی، تو میں نے دریافت کیا کہ کچھ لکھا؟ کہنے لگے کہ:

’’کیا لکھوں کوئی مضمون ہو فصیح وبلیغ عبارت ہو تو اس کے جواب مں دل لگے ؟ مرزا قادیانی نے یہ اعجاز یہ رسالہ اہل علم کے مقابلہ میں لکھا ہے، مگر کوئی فہمیدہ ذی علم ایسے معمولی رسالے کو اعجاز نہیں مان سکتا اور جس کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا ہے اور قوت ممیزہ اس کی جاتی رہی ہے کہ اس معمولی رسالے کو اعجاز خیال کرتا ہے تو کسی ذی علم کی عمدہ کتاب کی خوبیاں وہ دریافت نہیں کرسکتا پھر ان کے لئے دماغ کو خالی کرنا اور محنت کرنا اپنے اوقات عزیز کو ضائع کرنا ہے ۔‘‘

یہ کیسا سچا مقولہ ہے جس کے سچے ہونے کا مشاہدہ ہورہا ہے، ان دونوں کتابوں کی عبارت کا یہ حال ہے کہ صرف ونحو کی کثرت سے غلطیاں اہل علم نے ظاہر کی ہیں، اور فصاحت وبلاغت تو بڑے پایہ کی بات ہے جس کی صرف ونحو درست نہ ہو اس کو بلاغت اور پھر کمال بلاغت سے کیا واسطہ ہوسکتاہے ؟ مصر کے رسالہ المنار میں بھی اعجاز المسیح کی بہت غلطیاں دکھائی ہیں اور اس کے دعویٔ اعجاز پر مضحکہ کیا ہے۔

بھائیو ! یہ مسلّم ہے کہ مرزا قادیانی میں اتنی لیاقت تھی کہ اردو فارسی، عربی، تینوں زبانوں میں اپنا مطلب بیان کرلیتے تھے، مگر فصیح وبلیغ کسی زبان کے نہ تھے جو اردو کے اہل زبان ہیں وہ ان کی اردو عبارت دیکھ لیں کہ کس قدر تکرار اور فضول ان کی عبارت میں ہوتا ہے۔ تذکیر وتانیث میں بہت غلطیاں ہیں۔ تذکیر کی جگہ اکثر انہوں نے تانیث استعمال کیا ہے اور فصیح محاورہ کے خلاف ان کے الفاظ اور جملے بہت ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ان کی عربی اور فارسی کو سمجھنا چاہئے۔

اس کے جواب میں بعض مرزائیوں کو کہتے سنا کہ غلطیاں تو آریہ وغیرہ قرآن مجید میں بھی بتاتے ہیں، ایسے ہی مرزا قادیانی کی غلطیاں لوگ بیان کرتے ہیں مگر اس کے مقابل کوئی جواب نہیں دیتا۔ اس بے علمی اور نافہمی پر افسوس ہے، انہیں یہ تمیز نہیں کہ قرآن مجید میں جو عقل کے دشمن غلطیاں بیان کرتے ہیں وہ معنی کے لحاظ سے کہتے ہیں جو ان کی غلط فہمی یا ہٹ دھرمی ہے اور ان کے جوابات نہایت زور سے مسلمانوں نے دیئے ہیں۔ قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت یا

95

صرف ونحو میں تیرہ سو برس سے آج تک کوئی ماہر دم نہیں مار سکا۱؎ بلکہ مخالفین اسلام جو ادب میں کمال رکھتے ہیں، وہ قرآن مجید کی عبارت سے سند لاتے ہیں، مرزا قادیانی کی غلطیاں صرف ونحو اور فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے دکھائی گئی ہیں اور اس وقت تک کوئی جواب ان کا نہیں دے سکا۔ اب برائے خدا اہل انصاف ملاحظہ کریں کہ جب اس کتاب کی عبارت درست نہیں، مضامین اس کے مفید اور عالی نہیں، جس سورت کی وہ تفسیر ہے اس کی اور تفسیریں بدرجہا اس سے فائق موجود ہیں اور ہر طرح اس سے اچھی ہیں۔ پھر کسی لائق ذی علم کو اس کے جواب کی طرف کیوں توجہ ہونے لگی، وہ اپنے مشاغل ضروریہ اور معمولات روز مرہ کو چھوڑ کر فضول کام میں اپنے اوقات کو کیوں صرف کرنے لگا۔ خصوصا ایسی حالت میںکہ مکرر تجربہ ہوگیا ہو کہ مرزا قادیانی اسی قسم کے دعوے کرتے ہیں اور جب کوئی سامنے آگیا تو کچھ باتیں بنادیتے ہیں، اور اپنے مریدوں کو خوش کرلیتے ہیں۔

پیر مہر علی شاہ صاحب سے مناظرہ کرنے کی نسبت بہت کچھ اشتہارات ہوئے بالآخر لاہور میں مناظرہ قرار پایا، تاریخ معین ہوئی، پیر جی صاحب تاریخ معینہ پر تشریف لائے اور مرزا قادیانی نہ آئے، لاہور وغیرہ کے مریدوں نے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے مگر ایسی باتیں کہیں کہ مناظرہ میں جانا بھی نہ پڑا اور مریدین بھی راضی رہے، لاہور میں اس کی پوری کیفیت چھپی ہے۔ دوسری مرتبہ مختصر تمہید کے ساتھ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں چھپی ہے۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت رسالۂ اعجاز احمدی میں یہ پیش گوئی مشتہر کی کہ وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔( اس زور سے انکار پر خوب نظر رہے ) مگر اس زور کی پیشگوئی کے بعد بھی مولوی صاحب ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء کو قادیان پہنچے، اور مرزا قادیانی نے بجز اظہار غیظ وغضب اور زبردستی کی باتوں کے اور کچھ نہیں کیا۔ الہامات مرزا کا صفحہ ۱۰۱ تا ۱۱۰ ملاحظہ کیا جائے۔

۱؎

بعض پادریوں نے اعتراض کیا ہے مگر انہوں نے کہا ہے جو علم عربی کے ماہر نہیں ہیں، قادیانی مؤلف القاء نے جو مثال دی ہے وہ ان کی ناواقفی اور محض بے خبری ہے ہمارے علماء نے اسے اچھی طرح بیان کیا ہے اسی لئے میں نے ماہر کی قید یہاں لگا دی ہے کہ جہلا اس سے خارج ہوجائیں، اب رسالہ ’’ ابطال اعجاز مرزا ‘‘ میں قصیدہ اعجازیہ کی حالت معلوم ہوجائے گی۔ (ان شاء اللہ یہ بھی احتساب قادیانیت کی کسی جلد میں شائع ہوگا۔ فقیر)

96

یہاں مجھے یہ کہنا ہے کہ مرزا قادیانی کی ایسی صاف پیش گوئی غلط ہوگئی مگر مرزا قادیانی پر یا ان کے مریدین پر کوئی اثر نہیں ہوا، اسی طرح اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی نسبت جو پیش گوئی کی ہے، اگر وہ غلط ہوجائے تو کیا نتیجہ ہوگا ؟ مرزا قادیانی کی ایک ہی پیشگوئی تو غلط نہیں ہوئی بلکہ بہت کثرت سے ان کی پیش گوئیاں غلط ہوئی ہیں یہ رسالہ ملاحظہ کیا جائے پھر معلوم ہوجائے گا کہ ایک ہی معاملے کے متعلق کتنی پیشگوئیاں ان کی غلط ثابت ہوئیں، پھر کوئی قادیانی اپنی غلطی پر متنبہ ہوا ؟کسی نے بھی اقرار کیا ؟ کہ یہ پیشگوئی غلط ہوئی۱؎۔ ان ہی باتوں پر نظر کرکے اہل علم نے خیال کیا کہ اگر غیر ضروری کام میں اپنا وقت صرف کیا تو ایسا ہی نتیجہ ہوگا جو مذکورہ باتوں میں ہوا۔ اہل دانش کو یہ کہنے کا موقع ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ اس کتاب کا کوئی جواب نہیں دے سکے گا، اور جو قصد کرے گا وہ روک دیا جائے گا، اسی خیال پر مبنی ہے وہ ضرور واقف ہوں گے کہ اس حالت کے ساتھ اہل کمال توجہ نہیں کرسکتے، اور اگر کوئی قصد کرے گا تو وہ ’’اعجاز المسیح ‘‘ کو دیکھے گا اور دیکھنے کے بعد اسے جواب کے لائق نہیں پائے گا تو خواہ مخواہ اس کی طبیعت رک جائے گی۔ خصوصا جب وہ علامہ قونوی وغیرہ کی تفسیریں دیکھ چکا ہے کیوں کہ انہیں دیکھ کر وہ معلوم کرچکا کہ اعجاز المسیح کے متعدد جواب اس سے نہایت اعلیٰ اور ہر طرح اس سے عمدہ موجود ہیں پھر اس کے جواب کی طرف توجہ کرنا نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس طرف کے بعض مرزائی اب بھی اسے معجزہ خیال کرتے تھے اس لئے ان کا جواب لکھا گیا ہے۔

اب میں اصل مدعا کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور مرزا قادیانی کے عظیم الشان نشان کے بقیہ کو بیان کرتا ہوں۔ منکوحہ آسمانی کی پیشگوئی کو مرزا قادیانی نے نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا اور اس کی وجہ اس طرح بیان کی ہے : ’’ پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو اِن پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔

۱؎

خیال کیا جائے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب مرزا کی مذکورہ پیشین گوئی کے خلاف قادیان میں پہنچ گئے، اور مرزا قادیانی غصہ سے برافروختہ گھر کے اندر بیٹھے ہوئے بے ہودہ گوئی اور سخت کلامی کررہے ہیں اور مریدین بھی جی حضرت کررہے ہیں مگر نہ مرزا قادیانی کو شرم آتی ہے کہ ہماری پیشین گوئی جھوٹی ہوگئی اور نہ مریدین کو حق بات کا خیال آتا ہے کہ مولوی صاحب کا یہاں آجانا کس قدر صاف طور سے مرزا قادیانی کو جھوٹا ٹھہراتا ہے مگر بد صحبت نے قلب کو ایسا سیاہ کردیا کہ نہایت روشن بات بھی انہیں نہیں سوجھتی۔

97

یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پرحاوی ہیں یعنی ایک مسلمانوں سے تعلّق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اِسکے اجزاء یہ ہیں۔ (۱) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (۲) اور پھر داماد اُس کا جو اُسکی دُختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (۳) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تاروز شادی دختر کلا ں فوت نہ ہو (۴) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (۵) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی اِن تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو (۶) اور پھر یہ کہ اِس عاجز سے نکاح ہوجاوے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں ہیں۔ ‘‘

(شہادت القرآن ص۸۰، ۸۱، خزائن ج ۶ ص ۳۷۵،۳۷۶ )

اس عبارت سے یہ اظہر من الشمس ہے کہ منکوحۂ آسمانی کا نکاح میں آنا مرزا قادیانی کا ایسا عظیم الشان نشان ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں ہوسکتا، کیوں کہ اردو کے محاورے میں معمولی عظمت کی شی کو عظیم الشان نہیں کہتے بلکہ اس کے لئے بڑی عظمت کا ہونا ضروری ہے۔ اب اس بڑی عظمت میں بھی تین درجے ہوسکتے ہیں، اس کے ادنی درجے کو عظیم الشان … کہیں گے، اور متوسط درجے کو بہت عظیم الشان کہیں گے، اور سب سے اول درجے کو بہت ہی عظیم الشان کہیں گے۔ مرزا قادیانی نے اس نشان کے لئے یہی لفظ لکھا ہے جو نہایت کمال مرتبہ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے جس سے بڑھ کر عظمت نہیں ہوسکتی۔ اب اس کی اتنی بڑی عظمت کی کیا وجہ ہے ؟ ہم نے جہاں تک غور کیا تو کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، بجز اس کے کہ بہت بڑی دلی آرزو کے پورا ہونے کی خبر ہے، اب وہ جیسی خبر ہو، ایک خبر ایسی بھی ہوتی ہے کہ انسان قرائن موجودہ اور اپنی تدابیر کاملہ کا پورا وثوق کرکے اس کے ہونے کی خبر دے دیتا ہے اور اس کے دل میں اس کا یقین ہوجاتا ہے،اور واقعی بات بھی یہی تھی اور آسمانی فیصلے نے اس کو عالم پر روشن کردیا مگر مرزا قادیانی اس کے عظمت کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ وہ چھ پیش گوئیوں پر مشتمل ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جن کو علم کے ساتھ نظر وسیع اور طبع سلیم عنایت کی ہے وہ بالیقین جان سکتے ہیں کہ اس قسم کی چھ پیش گوئی کیا چھ صد جھوٹی پیش گوئیاں ہوتیں تب بھی کوئی عظمت نہیں ہوسکتی تھی۔ حیرت یہ ہے کہ جماعت قادیانیہ میں بعض اہل علم بھی ہیں خصوصا حکیم نورالدین قادیانی وہ بھی ایسی باتوں کو عظیم الشان

98

سمجھتے ہیں،اگر اب بھی وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں تو مناسب ہے کہ’’ صناجۃ الطرب‘‘۱؎ملاحظہ کریں اس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ کتنے وجوہ سے آئندہ کی خبر معلوم ہوسکتی ہے جن میں بزرگی اور ولایت اور نبوت کو کچھ دخل نہیں ہے۔

یہاں بھی لوگ جانتے ہیں اور بہت سے حضرات تجربہ بھی کرچکے ہیں کہ رمال اور جفار اور نجومی اور جوتش کے جاننے والے آئندہ کی خبریں دیتے ہیں، خصوصا مرنے کی اور جینے کی اور نکاح ہونے کی بعض بعض اخباروں میں طبع بھی ہوتی ہیں۔ بعض اہل فراست تجربہ کار پیش گوئیاں کرتے ہیں اور بہت باتیں ان کی صحیح نکلتی ہیں پھر کیا یہ پیش گوئیاں خدا کی طرف سے ہوتی ہیں؟ کیا یہ سب بھی مقبولان خدا میں سے ہوگئے ؟ اور ان کی یہ پیش خبریاں نبوت یا مقبولیت کا نشان ہوگئیں ؟ ذرا سوچ کر اور خدا سے ڈر کر جواب دو!

کچھ نئے تعلیم یافتہ بھی انہیں مان رہے ہیں، ان کی آنکھوں سے بھی یہ پردہ نہیں ہٹا۔افسوس۔ بھائیو! ذرا نظر کو اٹھاؤ اور آزادی کے ساتھ غور کرو، اور اگر کسی صاحب کو اب بھی توجہ نہ ہو اور مرزا قادیانی کے قول پر انہیں پختہ ایمان ہو کہ یہ عظیم الشان نشان ہے، تو وہ حضرات ملاحظہ کریں ان پیش گوئیوں میں اصل پیش گوئی وہ ہیں پانچویں اور چھٹی یعنی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک (۱) مرزا قادیانی کا زندہ رہنا (۲) اور منکوحۂ آسمانی کا ان کے نکاح میں آجانا، باقی اس کی فروع ہیں کیو ں کہ اس کے نکاح میں آنے کے لئے یہ چھ پیش گوئیاں کی گئی ہیں اور پھر( ازالہ اوہام خزائن ج ۳ ص: ۳۰۵ ) میں یہ الہام بیان کیا ہے کہ: ’’ انجام کار وہ نکاح میں ضرور آئے گی اور سب موانع دور ہوں گے ‘‘

۱؎

یہ کتاب عرب کی تاریخ ہے۔ نوفل بن نعمۃ اللہ طرابلسی اس کا مؤلف ہے، بیروت میں چھپی ہے۔ مرزائیوں میں عجب اندھیر ہے کہ دنیا بھر جانتی ہے اور عام طور سے تجربہ ہورہا ہے کہ رمال اور نجومی پیشین گوئیاں کرتے ہیں خصوصا پنجاب کے رمال آتے ہیں اور پیش گوئیاں کرتے اور خبریں دیتے پھر تے ہیں۔ ہم نے ایک مطبوعہ کتاب بھی پیش کی جس میں آئندہ کی خبریں دینے کا تذکرہ بتفصیل لکھا ہے مگر مرزائی آفتاب روشن کو غل مچا کرچھپانا چاہتے ہیں اور یہ لکھ رہے ہیں کہ پیشین گوئی کرنا غیب کی خبر دینا ہے اور غیب کی خبر اللہ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا اور پھر اپنی جہالت سے قرآن کی آیت اس کی سند میں پیش کرتے ہیں۔ یہ صریح قرآن مجید پر الزام لگانا ہے منکرین اس بات کو دیکھ کر کس قدر قہقہہ لگائیں گے کہ کیسی صریح غلط بات قرآن میں ہے۔

99

یہ باتیں یقینی طور سے شہادت دیتی ہیں کہ اصل پیش گوئی کا مقصود یہی دو پیش گوئیاں ہیں۔ بیان سابق سے نہایت روشن ہوگیا کہ یہ دونوں پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور ان کا غلط ہوجانا ایسا عظیم الشان امر ہے کہ ان کی تمام پیش گوئیاں اور دعویٰ پایۂ اعتبار سے ساقط ہوگئے، کیوں کہ ان کے ہونے پر مرزا غلام احمد قادیانی کو کس قدر وثوق تھا اور کس قدر اشتہاروں میں اور رسالوں میں بار بار اس کے ظہور میں آنے کو بیان کیا ہے کہ اللہ اکبر۔ اس لئے ہر طالب حق بالضرور یہی کہے گا کہ جب یہ پیش گوئی جھوٹی ہوگئی، تو اب اگر کوئی پیش گوئی مرزا غلام احمد قادیانی کے کہنے کے مطابق ہوجائے تو بالضرور وہ انہیں اتفاقیہ امور میں ہے جو دنیا میں کسی کے موافق اور کسی کے مخالف ہوا کرتے ہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہ دونوں پیش گوئیاں ان کے خلیفہ کی اس تاویل کو غلط بتاتی ہیں جس میں وہ خطا ب کو عام ٹھہراکر اپنے مرشد اور محمدی بیگم کی اولاد کو شامل کرتے ہیں چوتھی پیش گوئی بھی اپنے پورے مضمون کے لحاظ سے پوری نہیں ہوئی کیوں کہ اس کا مضمون یہ ہے کہ : ’’ دختر تا ایام بیوہ ہونے کے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو ۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۸۱، خزائن ج۶ ص۳۷۶)

یہ پیش گوئی دو دعوؤں کی خبر دے رہی ہے، ایک یہ کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کی زندگی میں بیوہ ہوگی، دوسرے یہ کہ نکاح ثانی اس کا مرزا قادیانی سے ہوگا اور ہمارے پہلے بیان سے ان دونوں دعوؤں کا غلط ہونا ظاہر ہوگیا۔ تیسری پیش گوئی پہلی پیش گوئی کے لوازمات سے ہے، کوئی مستقل نہیں ہے، البتہ نمبر دوم کی پیش گوئی اس لئے نہایت لائق لحاظ ہے کہ مرزا قادیانی نے بار بار نہایت زور سے اپنی سچائی کا معیار اسے قرار دیا ہے، اور یہ بھی لکھا ہے کہ : ’’ اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا اور ہر بد سے بد تر ہوں ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸ )

شہادۃ القرآن کی مذکورہ عبارت میں اور دہم جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی ہے کہ : ’’ اگر احمد بیگ نے اس نکاح سے انحراف کیا تو یہ لڑکی جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہوجائے گا ۔‘‘ (حوالہ گزشتہ )

جب مرزا قادیانی کی یہ پیشگوئی غلط ہوگئی، اور اس لڑکی کا خاوند مرزا قادیانی سے منحرف رہا یہاں تک کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں قریب سولہ سترہ سال کے گزر گئے (کیوں کہ ۱۸۹۲ء میں اس کا نکاح ہوا ہے اور ۱۹۰۸ء میں مرزا قادیانی مرے ہیں اور اب مرے ہوئے تین برس ہوگئے اور خدا کے فضل سے اب تک وہ زندہ ہے ) تو اس سچے واقعے کو اہل حق نے

100

ظاہر کرنا شروع کیا، اس پر مرزا قادیانی نے کیسی کیسی تاویلیں کی ہیں اور کس قدر شور وشر اٹھایا ہے کہ خدا کی پناہ۔ مگر آخر میں خدا تعالیٰ نے آفتاب روشن کی طرح سچائی کو ظاہر کردیا اور دنیا پر ظاہر ہوگیا۔ کہ مرزا قادیانی کا کہنا بالکل غلط تھا، زیادہ افسوس اس کا ہے کہ ایسی غلط پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مرزا قادیانی نے اور ان کے خلیفہ نے جناب رسول اللہa پر الزام لگانا چاہا ہے مگر ہم دکھلائیں گے کہ یہ بڑی جسارت اور محض افتراء ہے جو انہوں نے اپنے نفس کے بچانے کے لئے کیا ہے۔

گدی نشین قادیانی کے بعض اقوال کا ذکر پہلے حصے کے تتمہ میں ہولیا ہے۔ ا ب مرزا قادیانی کے بعض رسائل کی عبارتیں اس پیشگوئی کے متعلق نقل کی جاتی ہیں جن سے اظہر من الشمس ہورہا ہے کہ مرزا قادیانی کی زبان مرزا قادیانی کو جھوٹا کہہ رہی ہے۔ مرزا قادیانی کا صاف وصریح اقرار مرزا قادیانی کو کذاب ومفتری بتارہا ہے، ان کی تحریر انہیں ہر بد سے بدتر ظاہر کررہی ہے۔ جن کی آنکھیں ہوں وہ دیکھیں اور انصاف کریں اور یقین کرلیں کہ یہ پیشگوئی بلاشبہ غلط ہوئی، اور مرزا قادیانی کا ذب ثابت ہوئے۔ اس کا جواب قیامت تک کسی سے نہیں ہوسکتا۔

(۱) (انجام آتھم ص ۳۱، خزائن ج ۱۱ ص ۳۱ ) حاشیہ میں لکھتے ہیں : ’’ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظارکرو۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کردے گا۔ جیساکہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔ ‘‘

اے طالبان حق ! دوڑو اور قدرت حق کا تماشا دیکھو کس صفائی سے آفتاب صداقت چمکا ہے، اس میں شبہ نہیں کہ جب منکوحہ آسمانی کا خاوند یعنی مرزا احمد بیگ کا داماد اڑھائی سال کے اندر نہ مرا اور مسلمانوں نے شور کیا تو مرزا نے اپنے اشتہاروں، رسالوں میں بار بار بہت زور کے ساتھ لکھا کہ: ’’ احمد بیگ کا داماد ضرور میرے سامنے مرے گا کچھ دنوں کی مہلت اسے دی گئی ہے۔‘‘

اب یہاں صاف کہہ رہے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو وہ نہ مرے گا میری موت آجائے گی۔ اب تو دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے تین برس ہوگئے اس لئے مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے ٹھہرے۔ کیا اب بھی جماعت مرزائیہ سچائی کے ماننے میں کوئی عذر کرے گی ؟ وہ بھی خوب سمجھ لے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے میں کوئی شرط نہیں ہے اور اب جس کو شرط کہا جاتا ہے وہ محض فریب دیا جاتا

101

ہے، اس کی تفصیل ’’تنزیہ ربانی‘‘ اور ’’معیار صداقت‘‘ میں دیکھئے۔ نہایت تفصیل سے ثابت کیا کہ اس پیشگوئی کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔

(۲) اور ملاحظہ ہو( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴، خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸ )میں لکھتے ہیں : ’’ یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا ) تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا۔ اے احمقو ! یہ انسان کا افتراء نہیں، یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔‘‘

حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی کا یہ قول کس صفائی سے بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے کوئی شرط نہیں ہے، اس کے پورا ہونے کے لئے خدا کا سچا وعدہ ہے، یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا، اگر کوئی شرط ہوتی تو یہاں ضرور بیان کرتے۔

اب برادران اسلام اس پر غور کریں کہ مرزا قادیانی کو اپنے الہام کے سچے ہونے پر کس قدر وثو ق ہے، اور احمد بیگ کے داماد کی موت کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں بایں ہمہ کس صفائی سے اس وعدہ کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوگیا۱؎۔

۱؎

احمد بیگ کے داماد کی نسبت پہلے یہ الہام تھا کہ ڈھائی برس کے اندر مرے گا، جب اس میعاد میں وہ نہ مرا تو مرزا قادیانی نے کیسی کیسی توجیہیں کی ہیں اور متعدد تحریروں میں بہت اوراق سیاہ کئے ہیں اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کے مثل اسے ٹھہرایا ہے اور حسب ضرورت الہام میں اضافہ بھی ہوتا رہا ہے۔ رسالہ انجام آتھم اور اس کا ضمیمہ ملاحظہ کیا جائے، اس میں ۲۲ صفحات اسی بیان میں سیاہ کئے ہیں مگر اب اظہر من الشمس ہوگیا کہ وہ سب غلط تاویلیں اور بناوٹ کی باتیں تھیں۔ دراصل پہلا الہام بھی ایسا ہی غلط تھا جیسایہ دوسرا الہام، باوجود ایسے سخت وثوق کے غلط ثابت ہوا۔ مقام انصاف ہے، جس الہام کو وہ اپنی صداقت کا معیار قراردیتے ہیں جب وہ جھوٹا نکلے تو جن الہاموں کی نسبت ایسا وثوق نہیں بیان کیا گیا انہیں کون سمجھ دار الہام ربانی یقین کرسکتا ہے؟ یہ کہنا کہ اس پیش گوئی کا پورا نہ ہونا ایسا ہی ہوا جیسے حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی پوری نہ ہوئی تھی، اور باوجود وعدہ کے ان کی قوم سے عذاب ٹل گیا تھا، نص قطعی کے مضمون سے چشم پوشی کرنا ہے، کیوںکہ قرآن مجید میں دو جگہ صاف مذکور ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم ایمان لے آئی تھی، اور ایمان کی وجہ سے انہیں نجات ملی ( قرآن مجید میں سورۂ یونس اور سورۂ صافات ملاحظہ کیجئے ) احمد بیگ کا داماد یا اس کی بیٹی اور بیوی تو مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے، آخر تک وہ منکر رہے۔ پھر مرزا قادیانی کی پیش گوئی حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کے مثل کیسے ہوسکتی ہے ؟ کیا جماعت مرزائیہ میں کوئی ذی علم نہیں ہے کہ قرآن مجید دیکھ کر اس بدیہی بات کا فیصلہ کرے ؟ اور مرزا قادیانی کی زبردستی کو دیکھے۔

102

اب اس میں کون ایماندار شبہ کرسکتا ہے کہ وہ وعدہ شیطانی تھا جسے مرزا قادیانی، رحمانی سمجھے تھے۔ اب میں مرزائی جماعت سے خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ ان اقوال پر نظر کریں اگر مرزا قادیانی کو کسی وجہ سے انہوں نے سچا مان لیا تھا تو اب دیکھیں کہ ان ہی کے اقوال انہیں کیا کہہ رہے ہیں ؟ کیا ان کے ان اقوال کو دیکھ کر کوئی سچا مسلمان انہیں سچا سمجھ سکتا ہے ؟ ذرا خوف خدا دل میں لاکر جواب دیجئے گا، اور خدا کے لئے یہ نہ کہہ دیجئے گا کہ اعتراض تو اسلام پر بھی ہوتے ہیں، کیوں کہ اسلام پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، البتہ بعض متعصبوں نے نفسانی غرض سے اور بعض کم عقلوں نے بدگمانیاں کی ہیں بعض نے کم عقلی کی بنیاد پر عقلی شبہات کئے ہیں اور ان کے جواب میں خاص کر تفسیریں علمائے متقدمین نے لکھی ہیں اور متاخرین نے خاص خاص رسالوں میں ان کا جوا ب دیا ہے۔ اور پھر کوئی ( مرزائی ) دم نہیں مار سکا۔ مرزا قادیانی پر جو اعتراضات ہم کررہے ہیں ان میں نہ نفسانی غرض کو دخل ہے اور نہ صرف عقل پر ان کی بنیاد ہے، یہ تو آسمانی فیصلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی زبان سے کرایا ہے، یہ تو اقراری ڈگری ہے جس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔

دو اقرار تو آپ ملاحظہ کرچکے اب تیسرا اقرار دیکھئے ! اسی رسالہ انجام آتھم میں اسی پیش گوئی کے متعلق مرزا قادیانی نے کئی ورق سیاہ کئے ہیں اور عربی زبان میں لکھ کر فارسی میں اس اس کا ترجمہ کیا ہے، اس کے آخر میں جو حاصل لکھا ہے وہ نقل کیا جاتا ہے، میں ایک طرف ان کی فارسی عبارت لکھ کر دوسری طرف اس کا ترجمہ مع کچھ شرح کے لکھوں گا۔

(۳) ’’ بلکہ اصل امر برحال خود قائم است۱؎ وہیچکس باحیلہ خود او را ردّ نتواندکرد۔

۱؎

اب اگر کوئی تامل کرے تو اتنی ہی عبارت میں چھ جھوٹ مرزا قادیانی کے معلوم کرے گا ملاحظہ کر لیجئے! (۱) ’’اصل امر برحال خود قائم است ‘‘ محض غلط، اپنے حال پر ہرگز قائم نہیں ہے بلکہ جھوٹ ثابت ہوا، (۲) ’’ ہیچکس باحیلۂ خود اورا رد نتوان کرد ۔‘‘ یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت کو کوئی روک نہیں سکتا ‘‘ محض غلط مسلمانوں نے اس کی درازی عمر کی دعا کی، اللہ نے قبول کی اس لئے مرزا قادیانی کا یہ جملہ غلط ہوگیا۔ (۳) ْخدا کی طرف سے یہ تقدیر مبرم ہے، اس کا جھوٹ ہونا اظہر من الشمس ہوگیا، اگر تقدیر مبرم ہوتی تو احمد بیگ کا داماد ضرور مرزا قادیانی کے سامنے مرتا حالانکہ مرزا قادیانی پہلے مرگئے اور وہ ہنوز زندہ ہے (۴) اس کا وقت عنقریب آنے والا ہے۔ محض غلط ہے عنقریب کیا مرزا قادیانی کی موت تک اس وقت نہ آیا۔ افسوس۔ (۵) خدا کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے سامنے مرنا حق ہے عنقریب تو دیکھ لے گا، یہ بھی جھوٹ نکلا اور مرزا قادیانی کی یہ جھوٹی قسم ثابت ہوئی۔ میں نے وہی کہا ہے جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دی ہے ‘‘ جب اس پیش گوئی کا جھوٹا ہونا یقینا ثابت ہوگیا تو معلوم ہوا کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا وہ شیطانی وسوسہ تھا خدا کی طرف سے ہرگز نہ تھا۔

103

وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است۔ وعنقریب وقت آں خواہد آمد۔ پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفیa را برائے ما مبعوث فرمودہ۔ اورا بہترین مخلوقات گردانید۔ کہ ایں حق است وعنقریب خواہی دید۔ ومن ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم۔ ومن نگفتم الاّ بعد زانکہ از رب خود خبردادہ شدم۔ ‘‘

( انجام آتھم۲۲۳، خزائن ج ۱۱ ص۲۲۳)

ترجمہ : اصل بات اپنے حال پر قائم ہے ( یعنی احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا اور محمدی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ) کوئی شخص کسی تدبیر سے کوئی مٹا نہیں سکتا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ تقدیر مبرم ہے جو بغیر پورے ہوئے ٹل نہیں سکتی اور اس کے پورے ہونے کا وقت عنقریب ہے۔ اس خدا کی قسم ہے جس نے حضرت محمد مصطفیa کو ہمارا نبی کیا، اور ساری مخلوق سے انہیں بہتر بنایا جو میں کہہ رہا ہوں وہ حق ہے، عنقریب تو اسے دیکھ لے گا یعنی احمد بیگ کے داماد کے مرنے میں جو کچھ تاخیر ہوئی وہ ایک وجہ سے ہوئی، مگر میرے سامنے اس کا مرجانا اس میں شبہ نہیں ہے۔ عنقریب تو دیکھ لے گا کہ وہ میرے سامنے مرگیا اور میں اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسوٹی اسے ٹھہراتا ہوں، ( اگر وہ میرے سامنے مرگیا تو میں سچا ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا بلکہ میں اس کے سامنے مرگیا تو جھوٹا ہوں میں ) اور جس امر کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہی میں نے کہا ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہا۔

خوب یاد رہے کہ ترجمہ میں جو شرح کی گئی ہے وہ مرزا قادیانی ہی کے کلام سے لی گئی ہے، کوئی بات اپنی طرف سے نہیں ہے۔ اس قول سے پہلے انجام آتھم کو دیکھنا چاہئے بھائی مسلمان دیکھ چکے کہ یہاں مرزا قادیانی کے تین الہامی قول نقل کئے گئے ہیں پہلے میں نہایت صفائی سے اپنے جھوٹے ہونے کی یہ علامت بتارہے ہیں کہ احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے بلکہ میری موت اس کے سامنے ہو۔ دوسرے میں اسی بنیاد پر اپنے آپ کو بد سے بدتر کہہ رہے ہیں۔ تیسرے میں اس پیشگوئی کو اپنے صدق یا کذب کا معیار بتاتے ہیں یعنی اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے مرگیا تو میں سچا اور اگر میں اس کے سامنے مرگیاتو میں جھوٹا۔ یہ آسمانی فیصلہ ہے جو خدائے تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی زبان سے کرایا ہے اور تمام گمراہوں کے لئے اتمام حجت ہے۔

میں تمام جماعت مرزائیہ اور بالخصوص حکیم نورالدین قادیانی سے کہتا ہوں کہ خدا کے لئے اس صاف اور روشن دلیل پر غور کریں اور یقین کرلیں کہ اس کا کوئی جواب وہ نہیں دے سکتے اور ہمارے لئے یہی فیصلہ ان کی تمام باتوں کے لئے کافی جواب ہے۔ ان کے تمام نشانات

104

اس فیصلے سے بے نشا ن ہوجاتے ہیں ان کی تمام حجتیں تارعنکبوت کی طرح ٹوٹ جاتی ہیں۔ تھوڑی سی سمجھ اور انصاف چاہئے۔

ذرا توجہ کیجئے ! جب اس پیشگوئی کے جھوٹ ہوجانے سے مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے ٹھہرے تو مرزا ہی کے قول سے ثابت ہوا کہ جس قدر نشانات انہوں نے دکھائے وہ سب جھوٹے اور جتنی حجتیں انہوں نے پیش کیں وہ ایسی تھیں جیسے جھوٹے لوگ پیش کیا کرتے ہیں،خوب خیال رہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ مرزا قادیانی کے کلام سے جو ظاہر ہورہا ہے، اسے میں آپ کو دکھارہا ہوں دوسری طرف سے سمجھ لیجئے مجملًا کچھ بیان کئے دیتا ہوں۔ نشانوں کا بے نشان ہونا تو اس طرح ظاہر ہے کہ جب وہ عظیم الشان نشان جسے انہوں نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا تھا وہ خاک میں مل گیا تو دوسرے نشان کس شمار میں ہیں۔ اگر کوئی پیشگوئی سچی بھی ہوگی ۱؎ تو ایسا ہی سمجھنا چاہئے جیسے رمال اور نجومی کی باتوں میں بعض صحیح ہوجاتی ہیں۔ مرزا نے اپنا ایک الہام عربی میں بیان کرکے فارسی میں اس کا ترجمہ کیا ہے، ان کی عبارت نقل کرکے اس کا نتیجہ بیان کرتا ہوں۔

(۴) وقال کذّبوا باٰیاتی وکانوا بہا مستہزئین۔ فسیکفیکہم اللّٰہ۔ ویردھا الیک لاتبدیل لکلمات اللّٰہ۔ انّ ربک فعّال لما یرید۔ فاشار فی لفظ فسیکفیکہم اللّٰہ الٰی انہ یردّ بنت احمد الیّ بعد اھلاک المانعین۔ وکان اصل المقصود الاھلاک وتعلم انہ ھو الملاک۔ واما تزویجھا ایّای بعد اھلاک الھالکین والھالکات۔ فہو لا عظم الاٰیۃ فی عین المخلوقات۔

وگفت کہ ایں مردم مکذّب آیات من ہستند وبدانہا استہزاء می کنند۔ پس من ایشاں۲؎ را نشانے خواہم نمود۔ وبرائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد۔ وآن زن را کہ زنِ۳؎ احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد۔ یعنی چونکہ او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواہد شد۔ در کلمات خدا ووعدہائے او ہیچ کس تبدیل نتواند کرد۔

۱؎

یہ میں نے فرضی طور سے کہا ہے ورنہ صحیح امر یہی ہے کہ ان کی کوئی صاف پیشین گوئی سچی نہیں ہوئی۔ یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کی سینکڑوں پیش گوئیاں سچی ہوئیں اور ہورہی ہیں محض غلط ہے کوئی مقابلہ پر آکر ثابت کرے۔

۲؎

الہام کے جو الفاظ مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں ان میں کوئی لفظ نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ ہے۔ ۱۲

۳؎

یہ جملہ ان کی کتاب میں اسی طرح ہے۔

105

وخدائے تو ہر چہ خواہد آن امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التواء بماند پس خدا تعالیٰ بلفظ فسیکفیکہم اﷲ سوئے ایں امر اشارہ کرد کہ ۱؎ او دختر احمد بیگ را بعد میرانیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد۔ واصل۲؎ مقصود میرانیدن بود۔ وتو میدانی کہ ملاک این امر میرانیدن است وبس۔

( انجام آتھم، خزائن ج ۱۱ ص۲۱۶،۲۱۷)

اس کلام سے کئی باتیں ثابت ہوئیں (اول ) خدائے تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی خاص مرزا غلام احمد قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ (دوم ) جو اس نکاح کے روکنے والے ہیں وہ ہلاک ہوں گے۔ روکنے والوں میں ان کی پہلی بیوی اور دو بیٹے تھے اور اس عورت کا شوہر، بڑے روکنے والے یہی لوگ تھے، ان میں سے کوئی نہیں مرا حالانکہ اصل مقصود ان کا مرنا تھا بلکہ مرزا قادیا نی خود تشریف لے گئے۔ (سوم) خدا تعالیٰ کے وعدے میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اور نہ اس میں التوا ممکن ہے۔ کہئے خلیفہ قادیان آپ کے مرشد تو۳؎ یعد ولا یوفی کے خلاف کہہ رہے ہیں، یعنی خدا تعالیٰ کا یہ جو وعدہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی، اس میں تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا اور نہ اس میں تاخیر والتوا ہوسکتا ہے۔

۱؎

جماعت مرزائیہ اس جملہ پر خوب غور کرے اور بتائے کہ وہ دختر واپس کیوں نہ آئی اور اس کے روکنے والے کیوں نہ مرے ؟ مرزا قادیانی ابھی کہہ چکے ہیں کہ خدا کی باتوں میں تغیر تبدل نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ خدا کی بات تھی یعنی الہام خداوندی تھا تو بدل نہیں سکتا تھا جب بدل گیا تو یقینا معلوم ہوا کہ خدا کی طرف سے یہ الہام نہ تھا بلکہ مرزا قادیانی کی دلی آرزو تھی جسے وہ الہام سمجھے اسی پر ان کے اور الہاموں کو قیاس کرنا چاہئے اگر یہ خدا کی طرف سے الہام ہوتا تو خدا اپنے رسول کو کبھی جھوٹا نہ کرتا۔ احمد بیگ ضرور مرتا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آتی۔

۲؎

خوب خیال رہے کہ عربی اور فارسی دونوں میں الہام کا اصلی مقصود احمد بیگ کے داماد وغیرہ کا مرنا مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں اور وہی نہ پایا گیا، پھر مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کیا تامل رہا؟

۳؎

خلیفہ قادیان نے غلط پیشگوئیوں کے جواب میں بعض بزرگوں کا یہ قول نقل کیا ہے یعد ولایوفی اور اس کا ترجمہ انہوں نے اس طرح کیا ہے کہ خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض وقت پورا نہیں کرتا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ بعض وقت جھوٹ بول دیتا ہے (نعوذ باللہ) مگر مرزا قادیانی یہ کہہ رہے ہیں کہ خدا کے وعدے میں تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا اب خلیفہ قادیان کو اس کے خلاف نہیں کہنا چاہئے۔ الحاصل خلیفہ قادیان نے تو چاہا تھا کہ خدا ئے قدوس پر الزام آئے تو آئے مگر مرزا قادیانی الزام سے بری رہیں اب خود مرزا قادیانی نے اپنے خلیفہ کے قول کو غلط ٹھہرادیا، وللّٰہ الحمد!

106

الغرض اس کلام سے وہ تاویلیں محض غلط ہوگئیں، جو مرزا قادیانی کے خلیفہ وغیرہ اس جھوٹی پیشگوئی کے بنانے میں اب کیا کرتے ہیں اور کبھی خدا پر الزام لگانا چاہتے ہیں اور کبھی اس کے رسول پر جس کا ذکر پہلے حصے کے تتمہ میں کیا گیا، اب دیکھنا چاہئے کہ پیشگوئیاں اور کتنے قول ان کے غلط ہوئے: مثلاً (۱) احمد بیگ کی لڑکی ان کے نکاح میں نہیں آئی (۲) احمد بیگ کا داما د ان کے روبرو نہیں مرا (۳) ان کی پہلی بیوی نہیں مری، (۴) ان کے بیٹے زندہ موجود ہیں (۵)جس قدر الہامی وعیدیں اس کے والدین وغیرہ کے لئے بیان کی تھیں وہ سب جھوٹی ثابت ہوئیں۔ اب اس کہنے میں کیا تامل ہوسکتا ہے کہ توریت کے مطابق مرزا قادیانی جھوٹے نبیوں میں ہوئے کیوں کہ توریت۱؎ کے استثناباب ۱۸ میں ہے :’’ لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جائے ( یعنی مثل قصاص کے توریت میں یہ بھی ایک حکم ہے ) اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیوںکر جانوں کہ یہ بات خداوندکی کہی ہوئی نہیں، تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کہے اور جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔‘‘

مذکورہ پیشگوئی کے متعلق (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷) میں ایک قول اور بھی لائق ملاحظہ ہے : ’’ چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہوجائیں گی۔ تو کیا (۱) اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے (۲) اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے (۳) ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ (۴) اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ (۵) اور ذلّت کے سیاہ داغ اُن کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کردیں گے۔‘‘

ناظرین! ملاحظہ فرماسکتے ہیں کہ اس قول میں بھی کس زور سے مذکورہ پیشگوئی کی صداقت کو مرزا قادیانی ظاہر کررہے ہیں مگر غیظ وغضب کی انتہا نہیں ہے، تہذیب وشائستگی بھی لائق دید ہے جزاء سیِّئۃ سیِئّۃ پر عمل کرنے والے اپنے مرشد کو دیکھیں کہ ان کا کلام مناظرہ مونگیر سے کتنے دنوں پہلے کا ہے۔

۱؎

توریت کے اس بیان سے ظاہر ہوا کہ یہ قول کہ میرا نکاح ہوگا مرزا قادیانی کا گستاخانہ قول ہے۔

107

اب ہم جماعت مرزائیہ سے دریافت کرتے ہیں کہ جن باتوں کے پورا ہوجانے پر مرزا قادیا نی نے یہ پانچ جملے مخالفین کے لیے کہے تھے، اور اب نہایت صفائی سے ظاہر ہوگیا کہ وہ باتیں پوری نہ ہوئیں اور اعلانیہ طور پر غلط ثابت ہوئیں تو اب ان پانچوں جملوں کا مصداق ان کے نزدیک کون ہے ؟ مرزا قادیانی یا ان کی جماعت؟ امر حق کے اظہار میں کچھ شرم نہ کریں۔ ہمارے نزدیک تو اس وقت ان کی جماعت زیادہ مستحق ہے، ذرا انصاف کا آئینہ سامنے رکھ کر اپنے چہروں کو ملاحظہ کریں اگر وہ ذرا غور کریں گے تو ان کے کا نشنس ان کی اندرونی سچائی (اگر کچھ ہے ) تو بے اختیار کہہ اٹھیں گی ہم ابدی حیات سے محروم رہے، فریب کی تلوار نے ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا، غلط فہمی اور ندامت کے داغ نے چہروں کو مسخ کردیا۔ یہ جماعت ان جملوں کی زیادہ مستحق اس لئے ہے کہ باوجود اس بدیہی ثبوت کے حق کی طرف رجوع نہیں کرتی اور جھوٹ کو مان رہی ہے، مرزا قادیانی تو شیطانی الہاموں کے دھوکے میں ایسا کہہ گئے اور دنیا سے چل بسے، اور اگر انہیں انکار ہے اور ظاہر میں ضرور ہوگا تو اس کی وجہ بتائیں اور خوب سوچ سمجھ کر بتائیں، مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں بتاسکتے، ان کے مخالفین کی سچائی تو خدا تعالیٰ نے دنیا پر ظاہر کردی اور کسی خارجی دلیل سے نہیں، مرزا قادیانی کی زبان سے ان کے اقرار سے، اور ایک اقرار سے نہیں، متعدد اقراروں سے، پھر اب سوا ان کی جماعت کے اور کون مستحق ہوسکتا ہے۔ اب میں ایک اور قول مرزا قادیانی کا اسی پیشگوئی کے متعلق ناظرین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جسے دیکھ کر انہیں حیرت ہوجائے گی کہ مرزا قادیانی کے اقوال کس کس طرح کے ہوتے ہیں اور ان کی کیا حالت ہے لکھتے ہیں :’’یہ پیشگوئیاں کچھ ایک دو پیشگوئیاں نہیں بلکہ اِسی قسم کی سو سے زیادہ پیشگوئیاں ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج ہیں۔ پھر ان سب کا کچھ بھی ذکر نہ کرنا۔ اور بار بار احمد بیگ کے داماد یا آتھم کا ذکر کرتے رہنا کس قدر مخلوق کو دھوکہ دینا ہے۔ ‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ۳۹ خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳)

ملاحظہ کیا جائے جس نشان کو خود ہی بہت عظیم الشان بتایا، جس کے ہونے یا نہ ہونے کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی علامت ٹھہرائی جس کا برسوں سے انتظار ہوتا رہا ہے مرزا قادیانی اب مسلما نوں کی توجہ کو اس طرف سے ہٹانا چاہتا ہے۔ یہ عبارت صاف کہہ رہی ہے کہ اس نشان کے ہونے میں انہیں بھی تردد ہوگیا ہے، انتظار کرتے کرتے عرصہ ہوگیا اور تاویلیں

108

کرتے کرتے اور باتیں بناتے بناتے بھی تھک گئے ہوں گے۔ دیکھنے کے لائق یہ بات ہے کہ یا تو اس پیشین گوئی پر اس قدر زور وشور یا اس قدر کمزوری تریاق القلوب میں جو پیشگوئیوں کا تھیلہ بتایا جاتا ہے وہ سب ادھڑ گیا، اب اس کا ذکر کرنا نہایت شرم کی بات ہے، جب ان کا عظیم الشان نشان غلط نکلا اور اپنے اقرار سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے تو وہ تھیلہ ان نجومی اور رمالوں کے تھیلے کی طرح ہوا جو کچھ پیش گوئی کرکے لوگوں سے کچھ لے لیا کرتے ہیں۔ یہ خوب یاد رہے کہ پیشین گوئی کرنا اور اس کی پیشین گوئی کا سچا ہوجانا اس کے سچے ہونے کی ہرگز دلیل نہیں ہے، کسی نبی نے اپنی صداقت کا معیار پیشین گوئیوں کو نہیں بتایا ہے، البتہ پیشین گوئی کا جھوٹا ہوجانا مدعی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے اس لئے مرزا قادیانی اپنے قول کے بموجب کاذب ہوئے۔

جناب رسول اللہa پر مرزا قادیانی کا غلط الزام

مرزا قادیانی کی سخن سازی اور بے باکی کی حد ہوگئی کہ اپنے اوپر سے الزام اٹھانے کے لئے جناب رسول اللہa پر غلط پیشین گوئی کا الزام عمدہ پیرایہ سے لگانا چاہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں : ’’ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس اُن تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبیa سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیشگوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔ ‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۳۹، ۴۰ خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳ )

بھائیو! اس مثال کی اصلی حالت کو دیکھو پھر مرزا قادیانی کے بیان کو ملاحظہ کرو کہ وہ مخلوق کو کیسا صریح دھوکا دے رہے ہیں ۶ ہجری میں جناب رسول اللہa نے عمرہ کا ارادہ کیا۔ یہ وہ وقت ہے کہ ابھی مکہ معظمہ کفار مشرکین کے قبضے میں ہے، مگر وہ اپنے مذہبی خیال سے کسی حج اور رعمرہ کرنے والے کو روکتے نہ تھے، اور چار مہینوں میں یعنی شوال ذیقعدہ، ذی الحجہ اور رجب میں لڑائی کو منع جانتے تھے، اسی وجہ سے آپa نے ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کا ارادہ کیا اور تشریف لے چلے آپa کے ہمراہ چودہ پندرہ سو صحابہ ہولئے، اب حدیبیہ پہنچ کر یا روانگی سے قبل آپa نے خواب دیکھا کہ ہم مع تمام اصحاب کے بلا خوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں، اور ارکان حج ادا کئے ہیں۔ یہ آپa کا خواب ہے کوئی الہامی پیش گوئی نہیں ہے اس خواب میں کوئی قید اور کسی وقت کی تعیین نہ بطور اندازہ بیان کی گئی ہے نہ حتمی طور پر کوئی بات کہی گئی ہے۔ یہ خواب آپa نے اصحاب ؓ سے بیان فرمایا، چونکہ حضورانورa اس سال عمرے کا

109

ارادہ فرمارہے تھے اور انبیاء علیہم السلام کا خواب تو سچا ہوتا ہی ہے، اس لئے بعض اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم کو یہ یقین ہوا کہ اسی سال ہم بلا خوف وخطر مکہ معظمہ میں پہونچیں گے اور حج کریں گے، انہیں یہ خیال نہیں رہا کہ جناب رسول اللہa نے وقت کی تعیین نہیں فرمائی۔ مقام حدیبیہ میں جب آپa پہنچے تو کفار مانع ہوئے۔ مگر کچھ شرائط کے ساتھ اس پر صلح ہوگئی کہ اس سال نہ جائیں، آئندہ سال آکر عمرہ کریں۔ حضور انورa نے حدیبیہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ حضرت! آپa نے تو فرمایا تھا کہ ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے اور طواف کریں گے، یعنی آپ نے اپنا خواب بیان فرمایا تھا، حضور انورa نے فرمایا کہ ہاں، ہم نے کہا تو تھا، مگر کیا یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ نہیں۔ حضور انورa نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہوگے اور طواف کروگے یعنی ہمارے خواب کا ظہور کسی وقت ہوگا۔

یہ روایت صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد میں ہے، خدا تعالیٰ نے آئندہ سال میں اس کا ظہور دکھا دیااور پھر ایک سال کے بعد فتح مکہ ہوئی اور نہایت کامل طور سے اس پیشین گوئی کی صداقت کا ظہور ہوا۔ غرض یہ کہ دو برس کے اندر وہ پیشین گوئی کا مل طور سے پوری ہوگئی۔

یہاں یہ معلوم کرلینا بھی ضروری ہے کہ ۶ ہجری میں جو حضور انورa نے عمرہ کا ارادہ کیا تھا اس ارادہ کا باعث آپa کا خواب تھا، یا صرف عمرہ کا شوق اور وہاں کے کفار کی حالت کا معلوم کرنا۔ کامل تحقیق اس کی شہادت دیتی ہے کہ عمرہ کرنے کا خیال اس کا باعث ہوا، کیوں کہ کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خواب کا دیکھنا اس سفر کا باعث ہوا، صحیح روایت تو یہی ہے کہ حدیبیہ پہنچ کر حضور انورa نے وہ خواب دیکھا تھا، اس کی صحت بلحاظ راوی کے اور باعتبار ناقلین کے بہر طرح ثابت ہوتی ہے، اس کے راوی مجاہد ؒ ہیں جو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے شاگرد رشید اور نہایت ثقہ ہیں، اور اس روایت کو اکثر مفسرین اور محدثین نے نقل کیا ہے، تفسیر در منثور میں اس روایت کو پانچ محدثین سے اس طرح نقل کیا ہے کہ :

’’عن مجاھد قال اری رسول اللّٰہa وھو بالحدیبیۃ انہ یدخل مکۃ ھو واصحابہ اٰمنین‘‘(در منثور ج ۶ ص ۸۰)رجمہ : مجاہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہa حدیبیہ میں تشریف فرماتھے کہ آپa نے خواب دیکھا کہ آپa اور آپa کے اصحابؓ بے خوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں۔

110

تفسیر جامع البیان طبری، فتح الباری، عمدۃ القاری، اور ارشاد الساری، میں بھی یہی ہے کہ حضور انورa نے حدیبیہ میں یہ خواب دیکھا۔ غرض یہ کہ اس وقت نو کتابوں سے اس دعویٰ کا ثبوت دیا گیا۔ جس روایت میں یہ آیا ہے کہ مدینہ پاک میں حضور انورصلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ خواب دیکھا وہ روایت ضعیف ہے علاوہ اس کے ضعیف ہونے کے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انورa کا وہ سفر اس خواب کی وجہ سے ہوا، اس کی تحقیق جدا گانہ رسالہ میں کی گئی ہے۔ اس مختصر بیان سے یہ ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی کا یہ الزام کہ حدیبیہ والی پیشین گوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی محض غلط ہے۔ رسول اللہ نے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے کسی وقت کسی طرح کوئی بیان نہیں فرمایا۔ اب ہمارے برادر اس واقعہ کو مرزا قادیانی کی پیشین گوئی سے ملائیں جسے وہ اپنے دعویٰ کا عظیم الشان نشان بتارہے ہیں جس کی نسبت بار بار کہا کہ اگر اس کا ظہور نہ ہوا تو میں جھوٹا ہوں۔ اور حضور انورa نے صرف اپنا خواب بیان کیا تھا اور بطور تعبیر بھی اس کے ظہور کاکوئی وقت کسی طرح بیان نہیں فرمایا تھا، آپa کا سفر کرنا اور ذوالحلیفہ پہنچ کر احرام باندھنا اس کی دلیل ہر گز نہیں ہے کہ آپa کے خیال میں یہ تھا کہ اس خواب کی تعبیر اسی سال ظہور میں آئے گی، بلکہ احرام باندھنا اس کی دلیل ہے کہ اس کی تعبیر اس وقت ظہور میں نہیں آئے گی پھر یہاں کسی شریر کو کس طرح گنجائش مل سکتی ہے، کہ وہ کہے یہ پیشگوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی ؟

یہاں اول تو الہامی پیشگوئی نہ تھی اور جس قسم کی پیشین گوئی تھی وہ پوری ہوئی اور ہرطرح پوری ہوئی، اب اس خواب کو اپنی اس پیشگوئی کے مثل ٹھہرانا جس کی میعاد پہلے اڑھائی برس بیان کی پھر اس کو خوب مشتہر کیا جب وہ میعادگزرگئی اور احمد بیگ کا داماد نہ مرا اور مسلمانوں نے کہنا شروع کیا تو مرزا قادیانی بڑے زور وشور سے باتیں بناتے رہے اور اس کے وقوع میں آنے کا یقین دلاتے رہے، چنانچہ چار قول ان کے بھی نقل کئے گئے مگر پندرہ یا سولہ برس کے بعد مرزا قادیانی اس جہاں سے تشریف لے گئے اور اس کا ظہور نہ ہوا۔

بھائیو! انصاف سے کہو کہ یہ خلقت کو گمراہ کرنا نہ ہوا کہ اپنی جھوٹی پیشگوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے رسول اللہa پر یہ افتراء کیا کہ حدیبیہ میں آپa نے پیشگوئی کی تھی اور وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی، اس کو خوب یقین کرنا چاہئے کہ اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔

111

رسول اللہa کے خلاف مرزا قادیانی کی روش

مرزا قادیانی کے خیالات اور ان کی باتیں انبیاء کرام کی روش کے خلاف ہیں، ایک یہ امر نہایت لائق توجہ ہے جس سے سچے اور جھوٹے میں ایک لطیف فرق دانش مند حضرات سمجھ سکتے ہیں۔ (۱) جناب رسول اللہa نے کسی پیشگوئی یا معجزے کی نسبت نہیں فرمایا کہ یہ میری نبوت کی دلیل ہے، اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں جیسا مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں، وہاں تو آپa کی ذات مبارک، آپa کی صفات حمیدہ، آپa کے حالات جمیلہ، آپa کی ہدایات جلیلہ آپa کی روشن دلیلیں تھیں، جو کسی حق پرست پر پوشیدہ نہیں رہ سکتیں وہاں کسی خارجی اسباب کی حاجت نہ تھی۔ (۲) نشانات ومعجزات بہت کچھ ہوئے مگر کسی منکر یا طالب معجزہ کے سامنے آپa نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے دو ہزار یا تین ہزار یا اس قدر معجزے دکھائے ہیں تم ان پر نظر کرو، قرآن مجید دیکھو کہ جب منکرین نے معجزہ طلب کیا ہے تو گویا انکار ہی کیا ہے نہ گزشتہ کسی معجزے کا حوالہ دیا ہے نہ آئندہ کسی خرق عادت کا وعدہ فرمایا ہے۔ مثلا سورۂ بنی اسرائیل: ۹۳ میں ہے کہ کفار نے کئی معجزے طلب کئے ان کے جواب میں ارشاد خداوندی ہے :’’ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی ھَلْ کُنْتُ اِلّا بَشَراً رَسُوْلاً ‘یعنی اے محمد(a)! کہہ دے کہ اللہ تمام عیبوں سے پاک ہے۔ (تم جو عیب۱؎ لگانا چاہتے ہو وہ نہیں لگ سکتا) اور میں ایک انسان ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔

(۳) جناب رسول اللہa نے جو خواب دیکھا تھا اس کا ظہور دوسرے ہی سال میں ہوگیا، اور مرزا قادیانی نے جو الہامی پیشگوئی کی تھی اس کا ظہور ان کے مرتے وقت تک نہ ہوا۔

۱؎

اس کی شرح خلعۃ الہنود میں مولانا سید حسین شاہ مرحوم نے خوب کی ہے یہ کتاب جواب ہے، (آریہ پنڈت )اندر من، کی کتاب’’ تحفۃ الاسلام ‘‘کا، لائق دید ہے۔

112

حالانکہ پندرہ سولہ برس تک اس پیشگوئی کے بعد جیتے رہے، اور اس کے ظہور میں آنے کا یقین دلاتے رہے۔ اب میں طالبین حق کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں خوب خیال کریں کہ شروع رسالے سے یہاں تک مرزا قادیانی کے کتنے الہامات جھوٹے ثابت ہوئے اور ایسا ثبوت جس میںکسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔ ان الہامات کا شمار کرنا آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ اب آپ ہی فرمایئے کہ جو شخص اس قدر اعلانیہ جھوٹ خدا تعالیٰ پر باندھے رسول اللہa پر افتراء کرے، جس کے حالات ایسے ہوں جن کا ذکر پہلے حصے میں ہوا وہ برگزیدۂ خدا ا رسول ونبی ہوسکتا ہے ؟ کوئی ایماندار اس کا اقبال نہیں کرسکتا، بلکہ بے اختیار کہہ اٹھے گا کہ ایسا شخص برگزیدۂ خدا ہرگز نہیں ہوسکتا، اگرچہ کتنا ہی بڑا علامہ کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی کے عظیم الشان نشان کا خاتمہ ہوگیا اور قدرت خدا نے دکھادیا ہے وہ ایک نشان عظیم ہے، مرزا قادیانی کے حالات ظاہر کرنے کا۔ اور ایسا نشان ہے کہ خاص وعام جاہل وعالم جس کو حق طلبی ہے وہ اس رسالے کو دیکھ کر بے تامل کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط تھا۔اور اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ بڑے شد ومد سے انہیں اپنے جھوٹے ہونے کا اقبال ہے۔

اس نشان کے متعلق اس کا ذکر کرنا باقی ہے کہ مرزا احمد بیگ ان کی پیش گوئی کے مطابق مرے، یعنی مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اس لڑکی کا باپ تین سال کے اندر مرجائے گا اور ایسا ہی ہوا کہ چار مہینے یا چھ مہینے کے بعد وہ مرگئے۔ اس کا جواب دینے کی ضرورت تو نہیں ہے مگر شاید کسی کو خلجان رہ جائے، اس لئے کہتا ہوں متوجہ ہوکر سنئے!

اول … احمد بیگ کے داماد کے متعلق پیشگوئی جھوٹی ہوئی جو اسی الہام کا ایک جز تھی۱؎ اور ظاہر ہوگیا کہ وہ رحمانی الہام نہ تھا، تو اس کا دوسرا جز کیو نکر رحمانی ہوسکتا ہے ؟

۱؎

مرزا قادیانی نے (حقیقۃ الوحی ص ۱۸۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۹۴) وغیرہ میں مرزا احمد بیگ کے مرنے کے بعد بار بار یہ لکھا ہے کہ ’’ اس پیش گوئی کی دو ٹانگ تھیں ایک ٹوٹ گئی ایک باقی ہے ‘‘ غرض یہ کہ ان دونوں پیش گوئیوں کا ایک ہی الہام سے ہونا مرزا قادیانی کے کلام سے ظاہر ہے۔ لہٰذا ایک کا جھوٹا ہوجانا اور دوسرے کو بھی ساقط الاعتبار کرتا ہے، مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے مرنے کے بعد جب اپنی صداقت کا اظہار زور وشور سے کیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے پچاس سوالات جرح کے کئے تھے جس کا جواب اس وقت تک دیکھا سنا نہیں گیا، رسالہ ’’ اشاعۃ السنۃ ‘‘ جلد ۱۵ نمبر ۱و ۲ ؍ دیکھنا چاہئے مگر جو کچھ اس رسالہ میں لکھا گیا ہے وہ کافی ہے کیوں کہ اس میں آسمانی فیصلہ کا اظہار ہے اور ایسے فیصلے کے بعد سوالات جرح کی ضرورت نہیں۔

113

دوم … جب مرزا قادیانی کے اقرار سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا تو اب کوئی پیشگوئی ان کی حقانیت کے لئے پیش کرنا فضول ہے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ بہت قسم کے لوگ پیش گوئی کرتے ہیں، جن کا ذکر بار بار ہوچکا ہے ویسے ہی یہ بھی ہیں۔

سوم … اگر کوئی انصاف سے غور کرے تو ان باتوں کے قطع نظر وہ معلوم کرلے گا کہ احمد بیگ کی موت مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق نہیں ہوئی۔ کیوں کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ تین سال کے اندر احمد بیگ مرجائے گا۔ اردو محاورہ کے موافق اگر احمد بیگ دو سال کے بعد تین سال کے اندر مرتا اس وقت یہ کہنا صحیح ہوسکتا تھا کہ پیش گوئی کے مطابق اس کی موت ہوئی، اور جب وہ چار یا چھ ماہ میں مرگیا تو کوئی فہمیدہ محاورہ داں منصف مزاج نہیں کہہ سکتا کہ پیش گوئی کے مطابق مرا، البتہ اگر یہ پیش گوئی ہوتی کہ ایک سال کے اندر مرجائے گا، اس وقت کہہ سکتے تھے کہ احمد بیگ کی موت پیش گوئی کے مطابق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک نہایت روشن بات مرزا قادیانی کے الہام سے ثابت ہوتی ہے کہ احمد بیگ کی موت پیش گوئی کے مطابق نہیں ہوئی، کیوں کہ الہام میں کہا گیا کہ احمد بیگ تین سال کے اندر فوت ہو، اور اس کے داماد کے لئے کہا گیا کہ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو، نہایت ظاہر ہے کہ احمد بیگ کے مرنے کے لئے زیادہ میعاد بیان ہوئی، اور اس کے داماد کی اس سے کم، اس کمی اور بیشی کے لئے کوئی وجہ نہیں ہوسکتی بجز اس کے کہ جس کی میعاد کم ہے وہ پہلے مرے گا اور جس کی میعاد زیادہ ہے وہ بعد کو مرے گا، یعنی اڑھائی برس کے بعد جب یہ نہ ہوا تو یقینا احمد بیگ کی موت پیش گوئی کے مطابق نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی کے ساتھ اس کے داماد کی موت کی پیش گوئی کی تھی وہ تو یقینا جھوٹی ہوئی، پھر وہ پیش گوئی بھی کیسی کہ برسوں اس کا الہام ہوتا رہا، پہلے اس کی موت کے لئے اڑھائی برس کی قید لگائی جب وہ غلط ہوگئی تو کتنے برسوں تک کہتے رہے کہ وہ میرے سامنے مرے گا پھر اس میں کیسی کیسی دعائیں اس کی موت کے لئے مرزا قادیانی نے مانگی ہوں گی، شب کو کس کس طرح روئے اور گڑ گڑائے ہوں گے، اس خیال سے کہ میں کہیں جھوٹا نہ ہو جاؤں مگر کچھ نہ ہوا اور مرزا قادیانی جھوٹے ٹھہرے۔ ان باتوں کو خیال کرکے کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ احمد بیگ کی موت مرزا قادیانی کے قول کی تصدیق ہے ؟ ہر گز نہیں۔

الحاصل مرزا قادیانی نے اپنی صداقت ثابت کرنے کے لئے جس کو نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا جس کے ہونے پر انہیں نہایت ہی وثوق تھا وہ بالکل غلط نکلا اور جتنی پیش گوئیاں اس کے متعلق تھیں سب جھوٹی ثابت ہوئیں۔

114

الغرض پیش گوئی کا بیان تو ہولیا مگر میں دیکھتا ہوں کہ بعض اہل علم ان کی لیاقت علمی اور تفسیر دانی کو بہت مانتے ہیں، اور ان کی دلیلوں کی وقعت کرتے ہیں، اس لئے ان کی خیر خواہی اس پر مجبور کرتی ہے کہ اس رسالے کے مناسب ان کی علمی لیاقت اور تفسیر دانی کا نمونہ بھی دیکھ لیا جائے اور اسی نمونے میں اس دلیل پر گفتگو کی جائے، جسے مرزا قادیانی اپنی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی دوسری عظیم الشان دلیل کا پامال ہونا

ان دلیلوں میں سب سے زیادہ قوی اور عام فہم دلیل وہ ہے جو اس نے یوں لکھی ہے :

’’ میرے دعویٔ الہام پر پورے بیس برس گزرگئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیا یہی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذّاب اور بیباک مفتری کو جلد نہ پکڑے۔ یہاں تک کہ اس افتراء پر بیس برس سے زیادہ عرصہ گزرجائے۔ کون اس کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے مُلہمون کو بہت جلد کھاتی رہی ہے۔ اس لمبے عرصہ تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے جس کی نظیر دُنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تقویٰ شعار آدمی کے لئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ میرے ظاہر اور باطن اور میرے جسم اور میری رُوح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کرسکتا۔ ‘‘

( انجام آتھم ص۴۹، ۵۰، خزائن ج ۱۱ ص۴۹،۵۰)

پھر لکھتے ہیں : ’’ کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ ایسا کذّاب اور دجال اور مفتری جو برابر بیس برس کے عرصہ سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اب تک کسی ذلت کی مار سے ہلاک نہ ہوا۔ اور کیا یہ بات سمجھ میں نہیں آسکتی۔ کہ جس سلسلہ کا تمام مدار ایک مفتری کے افتراء پر تھا وہ اتنی مدت تک کسی طرح چل نہیںاسا سکتا تھا۔ توریت اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں۔ کہ خدا پر افترا کرنے والا جلد تباہ ہوجاتا ہے ‘‘

( انجام آتھم ص۶۳، خزائن ج ۱۱ ص ۶۳ )

یہاں جو اقوال نقل کئے گئے ان سے تو صاف ظاہر ہے کہ جھوٹے کو بیس برس تک مہلت نہیں مل سکتی اور( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۶ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲) میں ۲۳ برس میعاد بیان کی ہے، مرزا قادیانی کا یہ دوسرا قول پہلے قول کو غلط کرتا ہے۔ کیوں کہ دوسرے قول سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی جھوٹا بیس برس کیا بائیس بلکہ ساڑھے بائیس برس تک جھوٹ بولتا رہے تو اس کی گرفت ضروری نہیں ہے، اس ترقی کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی کو بیس برس سے زیادہ مہلت ملی، اب

115

مصلحت یہ ہے کہ جھوٹے کی مہلت میں ترقی کردی جائے تاکہ اس کی نظیر تلاش کرنے میں زیادہ دقت ہو، اور ان کے خیال میں تو کوئی مل ہی نہیں سکتی۔ مرزا قادیانی کی یہ دلیل ایسی ہے کہ عوام کے ذہن نشین جلد ہوجاتی ہے، اور عام کیا بعض اہل علم بھی اس میں بہک جاتے ہیں، اس لئے اس کے متعدد جواب دیئے جاتے ہیں۔

پہلا جواب: اس سے پیشتر احمد بیگ کے داماد کے متعلق جو چار قول مرزا قادیانی کے منقول ہوچکے ہیں وہ چاروں قول اس دلیل کو غلط بتاتے ہیں کیوں کہ مرزا قادیانی ۲۳ برس سے زیادہ دعویٔ الہا م کے ساتھ عیش وعشرت کرتے رہے اور ان اقوال سے ظاہر ہوچکا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے اور ہر بد سے بد تر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جھوٹا ملہم اور خدا پر افتراء کرنے والا بھی ۲۳ برس سے زیادہ عیش وعشرت کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے اور زیادتی کی کوئی میعاد نہیں معلوم ہوتی، اس لئے مرزا قادیانی ہی کے قول سے یہ دلیل غلط ہے۔

دوسرا جواب: فیصلہ آسمانی پہلے حصے میں اور اس میں بہت سے الہامات مرزا قادیانی کے غلط ثابت کئے گئے، اور ان کی غلطی ایسی ثابت ہوئی کہ کسی طرح کا شبہ باقی نہیں رہا۔ جب ان کے الہامات غلط ثابت ہوئے، تو خدا پر افتراء کرنے کا ثبوت یقینی طور سے ہوگیا، اب اگر خدا پر افتراء کرنے والے کو بیس برس کی مہلت نہیں ملتی تو مرزا قادیانی بیس برس کے اندر کیوں نہیں ہلاک ہوئے ؟ اس کا جواب مرزائی حضرات فرمائیں۔ ہمارے نزدیک تو جس طرح وہ پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں، اسی طرح ان کا یہ قول بھی غلط ہے کہ جھوٹے ملہم کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔ ان دو جوابوں کے بعد تحقیقی جواب دیا جاتا ہے، غور سے ملاحظہ ہو۔

تیسرا جواب : مرزا قادیانی کی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ کذاب ومفتری یعنی خدا پر افتراء کرنے والا ذلت کی موت سے جلد ہلاک ہوجاتا ہے اور سچا ملہم عیش وعشرت کے ساتھ دیر تک زندہ رہتا ہے۔ یہ دلیل بالکل بے اصل ہے۔ سنت اللہ اس طرح جاری ہے، نہ قرآن وحدیث میں اس کا ثبوت ہے، نہ توریت وانجیل میں پایا جاتا ہے۔ اور مرنے کو سچے جھوٹے سب ہی مرتے ہیں کسی کی عمر کم ہوتی ہے کسی کی زیادہ، اس میں سچے اور جھوٹے سب برابر ہیں۔ البتہ سچے کی موت راحت ہے اور جھوٹے کی موت اس کے لئے مصیبت ہے، اگر چہ موت کے وقت تک وہ عیش وعشرت میں رہا ہو امور سلطنت چھوڑ کر مرا ہو۔ اس کی تفصیل سے پہلے اس کا بیان ضرور ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والے کون ہیں اور کتنے قسم پر ہیںاور ان پر ہلاکت اور

116

ذلت کا حکم ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ کیا دنیا میں نیکوں اور صالحوں کے عیش وعشرت کا مقام ہے ؟ جو ان کے مقابلے میں جھوٹوں کو جلد ہلاکت کا حکم دیا جاتا ہے اور نیکوں کو عیش میں چھوڑا جاتا ہے ؟۔ خدا پر افتراء کرنے والوں کی بہت قسمیں ہوسکتی ہیں مگر اس وقت ہم دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو نبوت یا الہام کا دعویٰ کرکے جھوٹے الہام بیان کریں اور جو باتیں خدا نے نہیں کہیں انہیں خدا کی طرف منسوب کریں۔ ایسے جھوٹے پہلے بھی گزرچکے ہیں اور اس صدی میں بھی گزررہے ہیں۔ ہندوستان میں مجدد اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ تو کئی شخصوں نے کیا مگر الہام اور نبوت کا دعویٰ صرف مرزا قادیانی کامعلوم ہوتا ہے۔

دوسرے وہ ہیں جو خدا کی سچی باتوں کو جھوٹی کہتے ہیں اور اس کے سچے رسولوں کو مفتری اور کذاب بتا کر خلقت کو گمراہ کرتے ہیں، ان کا یہ خیال ہے کہ ہمارے پاس جو شریعت الٰہیہ اور کتاب خدا ہے وہ انہیں مفتری اور کذاب ٹھہراتی ہے، اس لئے ہم مامور ہیں کہ انہیں نہ مانیں اور کوشش کریں کہ خلقت انہیں خدا کا رسول نہ جانے، یہ صحیح خدا پر افتراء ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جا بجا کفار ومشرکین کو مفتری کہا ہے اور ارشاد ہوا ہے’’یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ‘‘(النسآء:۵۰)

یہ گروہ اپنے خیالات اپنے گمانات فاسدہ کو خدا کا حکم اور منجانب اللہ سمجھتا ہے اس لئے وہ مفتری ہے۔ان پر غضب الٰہی آنے اور جلد ہلاک ہونے کی وجہ مرزاقادیانی کے کلام سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ مفتری مخلوق خدا کو گمراہ کرتے ہیں، خدا کے قہر کا یہ مقتضاء ہے کہ ان کو ذلت سے جلد ہلاک کرے تاکہ اس کی مخلوق گمراہی سے محفوظ رہے۔ اب اگر مخلوق کو گمراہ کرنا اس بات کا سبب ہے کہ گمراہ کرنے والا غضب الٰہی کی آگ سے جلد ہلاک ہو اور ذلت کے ساتھ مرے، تو اس وقت کے لحاظ سے بہت زیادہ گمراہ کرنے والا گروہ دہریہ اور لامذہب ہے جس کو سرے سے خدا تعالیٰ کے وجود سے انکار ہے۔ جب کوئی ان کے سامنے اس قادر بے چون کا ذکر کرے تو بشرط قدرت وموقع زور سے قہقہہ لگاتے ہیں، اور ان کی تقریروں اور تحریروں کے زور سے یورپ میں دہریت کا دریا موجزن ہے۔ مذہب عیسوی خطرناک حالت میں ہوگیا ہے اور عیسائی برابر دہریہ ہوتے جاتے ہیں اور ہندوستان میں بھی یہ مذہب پھیل رہا ہے۔ ۲۳ برس سے زیادہ ہوئے کہ یہ گروہ کمال عیش وعشرت اور مسرت وحکومت کے ساتھ ترقی کررہا ہے۔ دوسرے گروہ میں دیانند سرستی کو دیکھو تیس برس سے زیادہ ہوئے کہ اس نے آریہ مذہب کی بنیاد ڈالی اور

117

ہندوستان میں ہندو، مسلمانوں، میں ہلچل مچاد ی، مذہب حقہ اسلام اور اس کے بانی علیہ السلام پر بہت کچھ زبان درازی کی مگر تازیست چین کرتا رہا اور مرا بھی تو کسی ذلت کی موت سے نہیں مرا، جیسا کہ مرزا قادیانی مفتری کے لئے کہتے ہیں۔

اب دیکھو کہ اس کے مذہب کو اس کی جماعت کو کس قدر ترقی ہورہی ہے حیرت یہ ہے کہ بعض مسلمان آریہ ہوگئے، دیانند اگرچہ مرگیا مگر اس کی گمراہی اور اس کی جماعت گمراہ کرنے والی موجود ہے، اور اس سے زیادہ گمراہی پھیلارہی ہے، اس لئے اسے زندہ سمجھنا چاہئے۔

الحاصل خدا پر افتراء کرنے والے اور خلقت کو گمراہ کرنے والے دو گروہ ہوئے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو کہہ رہا ہے کہ خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے ان کے سر گروہ ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور اخبار ’’ایڈوکیٹ ‘‘ بمبئی میں لکھا ہے کہ لندن میں ایک عیسائی نے دعویٰ کیا ہے کہ مسیح موعود میں ہوں اور اس قدر اس کو ترقی ہے کہ اس کا چرچ یعنی گرجا جو اس نے بنوایا ہے اس قدر شاندار ہے کہ باوجود سلطنت اور بے حد عمارت کے شہر لندن میں اس کے مثل نہیں ہے۔ مرزا قادیانی منارہ بنواتے تھے وہ بھی اس کے مرنے تک ناتمام رہا اور ان کا روپیہ ضائع اور بے کار گیا۔ غرض یہ کہ مسیح لندنی کی عیش وعشرت اور شان وشوکت مسیح قادیانی کی عیش وعشرت وشوکت سے بہت زیادہ ہے۔ دوسرا گروہ منکرین رسالت کا ہے جن کا ذکر ابھی کیا گیا۔ تیسرے گروہ کو اگرچہ مفتری نہ کہیں مگر خدا تعالیٰ کا اور اس کے سچے رسولوں کا بالکل انکار کرنا افتراء کرنے سے زیادہ جرم ہے، اور خلقت کو گمراہ کرنا جس قدر اس تیسرے گروہ سے ہورہا ہے ان دونوں سے نہیں ہے، اس لئے مورد غضب الٰہی اگرچہ تینوں گروہ ہیں، مگر اسے سب سے زیادہ ہونا چاہئے لیکن اس وقت تک کسی گروہ کو غضب الٰہی کے صاعقہ نے ہلاک نہیں کیا، بلکہ نہایت زور سے انہیں ترقی ہورہی ہے۔ یہ وہ حالت ہے کہ مرزا قادیانی کی غلط بیانی کا ثبوت دنیا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اس میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ ایسی بدیہی بات کا مرزا قادیانی انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صفحہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اگر کوئی قادیانی کہے کہ مرزا قادیانی خاص جھوٹے ملہموں کی نسبت لکھتے ہیں کہ ایسا جھوٹا ملہم کوئی نہیں گذرا تو میں کہتا ہوں کہ جھوٹے ملہم کی تخصیص کیوں کی جاتی ہے؟ ہم تو بیان کرچکے کہ جو وجہ ہلاک کردینے کی جھوٹے ملہم میں ہے، اس سے زیادہ دوسرے گروہوں میں ہے، پھر تخصیص کی کیا وجہ ہے ؟ کوئی قادیانی اس تخصیص کی وجہ نہیں بیان کرتا، مگر ہمیں الزام دیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے خاص مفتری کے لئے یہ نتیجہ بیان کیا

118

ہے۔ مگر اسے یہ چاہئے کہ اپنے مرشدکے قول کی دلیل قرآن مجید سے، حدیث سے یا عقل سے کوئی دلیل تو پیش کرے یا مرزا قادیانی کے محض جھوٹے اور غلط اقوال کو پیش کرکے ہمیں الزام دینا چاہتا ہے۔ تمہارے مرشد کا یہ قول کہ:

’’توریت وقرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہوجاتا ہے یعنی دنیا میں بیس اکیس برس تک وہ عیش وآرام میں نہیں رہ سکتا ۔‘‘

محض غلط ہے، خدا پر افتراء ہے، اور اگر گذشتہ زمانے میں ایسے جھوٹے مدعیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو تھوڑا انتظار کریں، آئندہ ان کا بھی ذکر ہوگا۔ مرزا قادیانی کے جواب میں یہ بدیہی اور عینی دلیل تھی، اب حقیقت امر کو بیان کیا جاتا ہے، اور استدلالی طریق سے جواب دیا جاتا ہے۔ جس طرح زمانے کی موجودہ حالت سے ثابت ہوگیا کہ مفتری اور خلقت کو گمراہ کرنے والے جلد ہلاک نہیں ہوتے اسی طرح تاریخ پر نظر کرنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے منکروں کو اور اس پر افتراء کرنے والوں کو بہت کچھ مہلت دی گئی ہے اس پر کسی کو تعجب نہ ہو۔ خدا تعالیٰ بڑا حکیم ہے، اگر اس کی حکمت بالغہ کا مقتضاء یہ ہو کہ کسی مفتری کو مہلت دی جائے تو کوئی روکنے والا اور الزام دینے والا نہیں ہے’’لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ‘‘(الانبیاء: ۲۳) سچا ارشا دہے۔ طبیب ظاہری بیمار کے علاج میں بعض وقت ایسا علاج کرتا ہے کہ دیکھنے والے اس وقت متحیر ہوتے ہیں بعض اسے ناپسند کرتے ہیں، مگر وہ اصول طب کے موافق علاج کرتا ہے، ناواقفوں کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ پھر اس حکیم مطلق کی حکمتوں پر کس کا علم محیط ہوسکتا ہے ؟ البتہ اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ کسی وقت اس کی صفت اضلال کا غلبہ اس کی مہلت کا باعث ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات میں جس طرح ہدایت ہے اسی طرح اضلال بھی ہے۔ جب ہدایت اور گمراہی اسی کی طرف سے ہے تو جس طرح اسے ہادی کہتے ہیں اسی طرح اسے مضل بھی کہہ سکتے ہیں۱؎ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ میں اس کا بیان ہے۔ چند آیتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:

۱؎

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی ؒ اپنے مکتوبات ج سوم کے ص ۲۳ میں لکھتے ہیں۔’’ ہر دو مظاہر اسم الہادی واسم المضل یافتہ ازہر دو حظ میگردد ‘‘ اس میں صاف طور سے جس طرح اللہ تعالیٰ کا نام الہادی بتایا اسی طرح المضل بتایا مگر چونکہ مرزائیوں کو علم سے اور بزرگوں کے کلام سے کچھ واسطہ نہیں ہے صرف بغدادی قاعدے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کچھ نام لکھے دیکھے ہیں، اس لئے سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے ہی نام ہیں حالانکہ علماء نے ہزار نام بتائے ہیں۔

119

۱… ’’اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَھْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ۔وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلًا ‘‘ (النسآء:۸۸)اللہ تعالیٰ امت محمدیہ سے خطاب کرکے فرماتا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا تم اسے ہدایت کرو ( یہ نہیں ہوسکتا ) جسے اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا اسے تو نیک راہ پر نہیں چلا سکتا۔

۲…’’مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِیْ۔وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ‘‘( الاعراف:۱۷۸)جسے اللہ تعالیٰ ہدایت کرے وہی ہدایت پا سکتا ہے اور جسے گمراہ کرے وہی نقصان والوں میں ہے۔

۳…’مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ‘‘ (الاعراف:۱۸۶) جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں کرسکتا۔

۴…’وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ ھَادٍ‘‘(رعد:۳۳) جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوسکتا۔

۵…’’وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَائُ‘‘(النحل:۹۳) اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ساری دنیا کو ایک گروہ کردے لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔

یعنی اس کی حکمت بالغہ کا یہی مقتضاء ہے کہ کوئی گمراہ رہے اور کوئی ہدایت پائے۔ انسان کو اس غیر متناہی ذات وصفات کی ساری باتوں پر اطلاع نہیں ہوسکتی۔

اس وقت حضرات مرزائیوں کی حالت پر اس کا تجربہ ہورہا ہے کہ ان کی خیر خواہی میں کیسی کوشش کی جاتی ہے اور ان کی گمراہی کو کس کس طرح سے روشن کرکے دکھایا جاتا ہے مگر سچ ہے کہ’’مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ‘‘کہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اسے کون ہدایت کرسکتا ہے۔ اس مضمون کی آیتیں قرآن مجید میں کثرت سے ہیں، مگر ان کی نظر ان پر نہیں پڑتی یا ان کے معنی سمجھنے میں ان کی عقل بہک گئی ہے اور اس طریقہ سے وہ گمراہ ہوئے ہیں، بہرحال گمراہ ہیں۔ زمانے کی تاریخ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں صفتوں کا دورہ ہوا کرتا ہے جس وقت صفت ہدایت کا دورہ ہوتا ہے تو ساری دنیا میں ہدایت کی روشنی پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے، اور ہرطرف ہدایت کا اثر کم وبیش نظر آتا ہے، اور جب صفت اضلال کا دورہ ہوتا ہے تو حالت اس

120

کے برعکس ہوتی ہے۔ صفت ہدایت کے دورے میں جس قدر مفتری اور کذاب گمراہ کرنے والے ہوں گے اگر وہ ہدایت کے دائرے میں نہ آئیں گے تو عقل سلیم یہ کہتی ہے کہ صفت قہاری ان کی طرف جلد متوجہ ہوگی اور انہیں نیست ونابود کردے گی، مگر اس کے لئے کوئی میعاد نہیں ہوسکتی، اسی علام الغیوب اور حکیم مطلق کے اختیار میں ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ سرور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے عہد میں اسود عنسی اور مسیلمہ کو زیادہ مہلت نہ ملی اور سجاح مدعیہ نبوت کو تیس برس سے زیادہ مہلت اس لئے رہی کہ خدا کے علم میں وہ مسلمان تھی اسی وجہ سے وہ حضرت معاویہ ؓ کے عہد میں آئی اور مسلمان ہوئی۔

جس وقت صفت اضلال کا غلبہ ہوتا ہے، اس وقت کذاب ومفتری کو جس قدر زیادہ مہلت دی جائے تو عجب نہیں ہے اس دورے میں اس کی شان حلم وکرم اس کی مربی ہوگی۔ اہل نظر خوب دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت میں صفت اضلال کا زور ہے، دنیا میں ہر طرح سے گمراہی پھیل رہی ہے، نظر اٹھا کر دیکھا جائے جس مذہب نے ہدایت کی روح دنیا میں پھونک دی تھی، اب اس کی کیا حالت ہورہی ہے، اس کے دشمن کس کس طرح سے اس کے مٹانے کی تدبیریں کررہے ہیں اور کسی سے کچھ نہیں ہوسکتا اور نہ کسی کو خیال ہے، اور خدا پر افتراء کرنے والے، اس سے انکار کرنے والے کس زور وشور سے گمراہی کو پھیلا رہے ہیں، اور کتنی مدت سے کمال عیش وآرام سے حکومت کررہے ہیں، روز افزوں انہیں ترقی ہورہی ہے۔ ایسے وقت میں اگر کسی مفتری اور جھوٹے ملہم کو پچیس چھبیس برس کی مہلت دی جائے تو اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ اس وقت جو میں نے توقف کی وجہ بیان کی، یہ ایک عظیم الشان سر الٰہی ہے۔ یہاں ان آیتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے جن کی نقل ابھی ابھی کی گئی، جن سے اس صفت کا اظہار ہوتا ہے، اور یہ تو ظاہری بات ہے کہ کسی وقت صفت انتقامی اس کی مہلت کا سبب ہوگی، تاکہ اس کے کذب ودروغ کا پلہ نہایت بھاری ہوجائے، اور اسی قدر اس سے انتقام لیا جائے، ایمانداروں خصوصا علماء اور فہمیدہ حضرات کا امتحان بھی اس کی مہلت کا باعث ہوسکتا ہے، تاکہ آشکارا ہوجائے کہ کون ثابت قدم رہا اور کس کا ایمان پختہ نکلا کہ گمراہ کرنے والے کے فریب میں نہ آیا، اور کون بہک گیا۔ جب یہ دونوں وجہیں بتارہی ہیں کہ مفتری کی ہلاکت میں دیر ہوسکتی ہے اور اس کے لئے کوئی میعاد معین نہیں ہوسکتی اور کوئی آیت وحدیث ایسی نہیں ہے جس سے اس کے خلاف

121

ثابت ہوتا ہو، پھر مفتری کی مہلت سے انکار کرنا محض زبردستی اور اور نفس پرستی نہیں تو کیا ہے ؟ جماعت قادیانی یہ تو کہے کہ شیطان جو صفت اضلال کا پورا مظہر ہے، اس کے مثل کون جھوٹا مفتری گمراہ کرنے والا ہوسکتا ہے ؟ پھر اسے کیوں قیامت تک کی مہلت دی گئی اور ہلاک نہیں کیا گیا؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن سے کوئی فہمیدہ انکار نہیں کرسکتا۔ اور بعض جگہ جو مرزا قادیانی نے ہلاکت کے لئے قیدیں لگائی ہیں وہ محض ایجاد بندہ اور ابلہ فریبی ہے، کسی عقلی یا نقلی دلیل سے ثابت نہیں ہوسکتا کہ ہلاک ہونا خاص قسم کے مفتری کے لئے مخصوص ہے، اگر کسی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے۔

مرزا قادیانی اپنی کامیابی اور دنیاوی عمدہ حالت دکھاکر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ہماری سچائی کی دلیل ہے مگر بیان سابق سے اس کی غلطی بھی ظاہر ہوگئی، کیوں کہ منکرین خدا ورسول اور جھوٹے مدعی اس وقت اپنے مطالب میں کامیاب ہیں اور مرزا قادیانی سے بدرجہا زائد عمدہ حالت رکھتے ہیں مگر اب ہم قرآن مجید سے یہ ثابت کرکے دکھانا چاہتے ہیں کہ دنیا میں عیش وعشرت سے رہنا، دشمنو ں سے محفوظ رہنا، اپنے مطالب میں کامیاب ہونا سچائی اور حقانیت کی دلیل نہیں ہے۔ دنیا دار الا بتلاء ہے، یعنی آزمائش اور امتحان کا مقام ہے، اور خدا کا امتحان مختلف طور سے ہوتا ہے، کسی وقت مال ودولت اور آسائش وآرام دے کر اور کسی وقت عزت وآبرو، وجاہ ومنصب عنایت کرکے، اور کسی وقت تنگی اور پریشانی سے۔

دنیاوی حالت کا عمدہ ہونا حقانیت کی دلیل نہیں

پہلی آیت : ارشاد خداوندی ہے ’’اِنَّ رَبَّکَ لَبِا لْمِرْصَادِ۔فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَابْتَلٰہُ رَبُّہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَنَعَّمَہٗ فَیَقُوْلُ رَبِّیْٓ اَکْرَمَنِ۔وَاَمَّا اِذَا مَابْتَلٰہٗ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗ فَیَقُوْلُ رَبِّیْٓ اَھَانَنِ‘‘(الفجر:۱۴تا۱۶)

یعنی تیرا پروردگار سب کی حالت کو دیکھ رہا ہے اور ہر ایک کو آزماتا ہے، کسی کو دنیاوی عزت دیتا ہے، اس کے مال ودولت میں ترقی ہوتی ہے، یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا میں مقبول ہوں اس نے میری عزت کی اور کسی پر روزی تنگ کرتا ہے تو پریشان ہوکر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ذلیل کیا، اس آیت میں عام انسان کی آزمائش کا ذکر ہے اور دوسری آیتوں میں خاص مسلمانوں کے لئے ارشاد ہوا ہے، مثلاً سورۂ عنکبوت کی پہلی اور دوسری آیت میں ہے۔

دوسری آیت: ’الٓمٓ۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْآ اَنْ یَّقُوْلُوْآ اٰمَنَّا وَھُمْ لَا

122

یُفْتَنُوْنَ۔وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ‘‘ (عنکبوت:۱تا۳)

کیا لو گوں کا ایسا گمان ہے کہ وہ صرف اس کہہ دینے پر چھوڑدیئے جائیں کہ ہم ایمان لے آئے، ہم مسلمان ہیں اور ان کی آزمائش نہ کی جائے اور وہ فتنے میں نہ ڈالے جائیں ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ جو ایمان کا دعوی رکھتے ہیں ان کا امتحان ہونا ضروری ہے، اور یہ اللہ تعالی کی سنت قدیمہ ہے، اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کو بالیقین جان لو کہ ہم نے تم سے پہلے مسلمانوں کی بھی آزمائش کی ہے اس غرض سے کہ سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہوجائے۔

یہ آیت نص قطعی ہے کہ ایمان والوں کا امتحان ہوتا ہے اس میں انبیاء، اولیاء سب داخل ہیں اور امتحان کس کس طرح کا ہوسکتا ہے اس کا بیان کچھ نہیں ہے، جس سے مقصد یہ ہے کہ ہر طرح کا امتحان ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے، چنانچہ پہلی امتوں میں بہت سخت سخت امتحان ہوئے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں صاحب فتح البیان لکھتے ہیں، بعض آرے سے چیر دئے گئے، بعض قتل کردئے گئے، بعض آگ میں ڈال دئے گئے، بعضوں کا سر لوہے کے کنگھوں سے کھر چا گیا۔ اور ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں اس مضمون کی تصدیق میں حدیث نقل کرتے ہیں :

’’فمنہم من نشر بالمنشار ومنہم من قتل ومنہم من القی فی النار ومنہم من مشطوا بامشاط الحدید ‘‘ (فتح البیان ج ۷)

یعنی حدیث صحیح میں آیا ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان انبیاء کا ہوتا ہے اس کے بعد نیک لوگوں کا یعنی نیکوں کا امتحان انبیاء کے امتحان سے کم ہوتا ہے، ان کے بعد جس قدر نیکوں سے مشابہت ہوگی، اسی قدر ان سے امتحان۔ جاء فی الحدیث الصحیح اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل‘‘ ( ترمذی باب ما جاء فی الصبر علی البلاء ج ۲ ص ۶۵)

یعنی اگر زیادہ مشابہت ہے تو سخت امتحان ہے اور جس قدر مشابہت میں کمی ہے اتنی ہی امتحان میں کمی ہے، یہ حدیث مختلف الفاظ سے آئی ہے اور بہت ائمہ حدیث نے اسے روایت کیا ہے، ترمذی روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے، حاکم اور ابن حبان روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے، غرض یہ کہ مقبولان خدا کی حالت اس آیت اور حدیث سے معلوم کرنا چاہئے اور مرزا قادیانی کے قول پر نظر کرنا چاہئے کہ ان کا قول قرآن مجید اور حدیث صحیح کے صریح خلاف ہے، سورۂ انعام میں بعض سابق امتوں کا اس طرح ذکر ہے :

123

تیسری آیت: ’’وَلَقَدْ اَرْسَلْنٓا اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ۔فَلَوْ لَآ اِذْ جَآئَ ہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰیٓ اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْآ اَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاہُمْ مُبْلِسُوْنَ‘‘ (الانعام:۴۲تا۴۴)

اللہ تعالی نہایت تاکید سے قسم کھاکر اپنے رسول سے فرماتا ہے کہ تجھ سے پہلے بہت امتوں میں ہم نے رسول بھیجے اور جب انہوں نے نہ مانا تو ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں پکڑا تاکہ یہ لوگ جھکیں اور رسولو ں کو مانیں، مگر باوجود سخت گیری کے بھی انہوں نے نہ مانا اور ان کے دل سخت ہوگئے، اور جو کچھ وہ کر ر ہے تھے شیطانی وساوس سے ان ہی باتوں کو پسند کرتے رہے جب انہوں نے نصیحت کی باتوں پر توجہ نہ کی تو ہم نے نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دئیے اور ہر قسم کا آرام وچین انہیں ملنے لگا یہاں تک کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں پر وہ اترانے لگے اس وقت ہم نے ایک بارگی اس طرح پکڑا کہ مایوس ہوگئے اور اپنے چھٹکارے کی انہیں امید نہ رہی اور ان ظالموں کی جڑ وبنیاد کاٹ دی گئی اور نیست ونابود کردئے گئے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض ان امتوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے زمانے کے نبیوں کی نہیں سنی اس ساری قوم کی تین حالتیں بیان فرمائیں۔ اول انہیں سختی اور تکلیف سے متنبہ کیا، پھر ان پر بہت کچھ انعامات دنیاوی کئے مگر دونوں حالتوں میں وہ نافرمان رہے، اس لئے انجام میں وہ نیست ونابود کردئے گئے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ ہم دو طرح سے امتحان لیتے ہیں، نرمی سے اور سختی سے۔ یہاں بھی وہی بات ہے، البتہ یہاں اس امتحان کا انجام بھی بیان فرمادیا یعنی جب کسی امتحان میں پاس نہ ہوئے تو ہلاک کردئے گئے۔ مگر یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ تین حالتیں جو بیان کی گئیں وہ نہ ایک شخص کی ہیں نہ اس امت کے ہر شخص کی بلکہ ایک گروہ اور ایک بڑی امت کی ہیں۔ اب اگر اس امت کے ہر فرد بشر کا خیال کیا جائے گا تو مختلف حالت کے لوگ ہوں گے، بعض تکلیف کی حا لت میں مرگئے ہوں گے راحت ان کے پاس نہ آئی ہوگی، بعض نے تمام عمر عیش وآرام کیا ہوگا اور اپنی کامیابیوں اور عیش کے نشے میں کیا کیا کیا ہوگا اور کس کس قسم کے دعوے کئے ہوں گے یہ اللہ تعالی کے علم میں ہے۔ بعض ایسے بھی ہوں گے کہ عیش

124

وآرام میں اپنے خیالات میں مست ہوں گے کہ یکبارگی خدا کی پکڑ ان پر آگئی اب نہیں معلوم کہ کتنی مدت تک وہ عیش وآرام میں رہے۔

غرض یہ کہ اس آیت سے یہ بخوبی ثابت ہوا کہ کسی وقت نافرمانوں پر نعمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، اب وہ نافرمان کسی قسم کا مجرم ہو، مدعی نبوت ہو، جھوٹی وحی کو خدا کا کلام بتائے، افتراء کرے، یا ایسے مفتری ہوں جیسے یہود ونصاریٰ وغیرہ، کلام الٰہی میں کوئی قید نہیں ہے عام الفاظ ہیں، اس لئے کوئی شخص اپنی عمدہ حالت دکھاکر اپنی سچائی اور حقانیت ثابت نہیں کرسکتا۔ الحاصل پہلی آیت صاف شہادت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک انسان کا امتحان لیتا ہے، کسی کو مال ودولت، عزت وآبرو دے کر آزماتا ہے، اور کسی کو فقر وفاقے میں رکھ کر دیکھتا ہے۔

دوسری آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی آزمائش اکثر سختی سے کی جاتی ہے۔ تیسری آیت سے ظاہر ہے کہ بعض وقت نافرمان مجرموں کے لئے خاص طور سے راحت کے سامان مہیا کئے جاتے ہیں اور وہ بھی اس زور کے ساتھ کہ دنیاوی اسباب کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ اس آیت سے عیش وآرام میں رہنا زیادہ خطرناک معلوم ہوتا ہے۔ اب یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عیش وآرام اور عزت وآبرو کے مراتب واقسام ہیں، مثلا کسی کو اللہ نے علم دیا اور اس کی وجہ سے خلق کو اس کی طرف متوجہ کیا اور قبولیت کی عزت عنایت فرمائی۔ اب یہ امتحان ہوتا ہے اور اپنے تئیں خدا کا مقرب اور مقبول خیال کرتا ہے، اس کریم کے ایسے احسانات اور میں ایسا نالائق اور مجھ سے اس کا شکریہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ اب اگر اس کے دل میں اپنی بڑائی سماگئی تو اس کی بھی کوئی حد نہیں ہے، اگر یہ اپنے آپ کو مقبول خدا، مخلوق کا امام اور پیشوا خیال کرے تو بعید نہیں ہے اسے خیالی الہام ہونے لگیں اور اپنے تئیں نبی اور رسول سمجھ لے تو بھی بعید نہیں، اور اگر علم اور قبولیت کے ساتھ دولت اور مقصد میں کامیابیاں بھی اس کی ہونے لگیں تو دعوی خدائی کرنے لگے تو عجب نہیں۔ الغرض انعام ظاہری کسی وقت تو مقبولیت کا باعث ہوجاتا ہے اور کسی وقت نہایت مردود بنادیتا ہے، مگر یہ مقبولیت ہی کے خیال میںرہتا ہے ایسا ہی تنگی کا حال ہے کہ کبھی تو’’ کاد الفقر أن یکون کفرا ‘‘محتاجی کسی وقت کفر کی نوبت تک پہونچادیتی ہے ‘‘ (کنز العمال ج ۶ ص ۴۹۲ حدیث ۱۶۶۸۲ ) کا مصداق ہوتا ہے اور کسی وقت کمال صبر کی وجہ سے مقبول خدا ہوجاتا ہے۔ غرض یہ کہ تینوں آیتوں سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ ظاہری حالت کا عمدہ ہونا اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجانا مقبولیت کی دلیل نہیں ہے بلکہ بعض وقت خدا کے مقبول سختی

125

میں رہے ہیں اور رہتے ہیں، اور نافرمان اپنی زندگی عمدگی سے بسر کرتے ہیں۔ اب حیرت یہ ہے کہ ایسی صریح آیتیں موجود ہیں پھر ان کے برخلاف اپنی عمدہ حالت کو دکھاکر اپنی سچائی ثابت کی جاتی ہے، اور ماننے والے مان رہے ہیں اور ان کے پیروکار کہتے ہیں کہ فیصلۂ آسمانی میں کوئی علمی اعتراض نہیں ہے، اے نافہمو! علمی اعتراض اسی کو سوجھتا ہے جس کے دل کی آنکھیں کھلی ہوں اور جو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے انہیں علمی اعتراض کیا سوجھے گا۔

اب میں جھوٹے مدعیوں کے چند نام لکھتا ہوں جن سے معلوم ہوجائے گا کہ بعض ایسے حضرات گزرے ہیں جن کی پہلی حالت اچھی تھی مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام کیا اور خلق میں انہیں مقبولیت عنایت ہوئی اس وقت ان کی حالت بگڑی اور دعوی مہدویت کے ساتھ سلطنت کی اور باوجود ایسے جھوٹے دعوی کے تمام عمر عیش وعشرت میں کامراں رہے اور بعض تو اپنے خلیفہ اور اپنی اولاد کے لئے سلطنت چھوڑ گئے، سینکڑوں برس ان کی سلطنت رہی ذلت کی موت سے وہ ہلاک نہیں ہوئے، انتہائے مغرب کے پہاڑی ملک میں بہت بڑی قوم بربر رہتی ہے اس میں بہت لوگ گزرے ہیں جنہوں نے مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے، اس قوم نے مانا ہے اور اس قدر مانا ہے کہ اس دعوی کی وجہ سے وہ بادشاہ ہوگئے، مہدی ہونے کا دعوی جنہوں نے کیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں۔

(۱) محمد بن تومرت علوی مغربی (۲) عبد المؤمن

انتہائے مغرب میں ایک پہاڑ ہے جس کا نام سوس ہے وہاں کا رہنے والا تھا بہت بڑا عالم تھا، فقیہ تھا، حدیث کا حافظ تھا، اصول فقہ اور علم کلام کا پورا ماہر تھا، ادیب بھی تھا نہایت متقی اور پرہیزگار اور زاہد تھا، ایک زمانے تک اس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہایت زور وشور سے کیا بلا تخصیص جس کو برے کام کرتے دیکھا اسے منع کیا اور نیک کام کی رغبت دی بے سروسامانی کی یہ حالت تھی کہ مقام مہدیہ میں ۵۰۵ھ (مطابق۱۱۱۲ء) میں پہونچا اس وقت اس کے پاس بجز ایک چھاگل اور لاٹھی کے کچھ نہ تھا، اس علم وفضل اور زہد وتقوی نے خلقت کو اس کا مسخر ومطیع کردیا، نیک کاموں کی اشاعت میں اور برائی کے مٹانے میں تو اس قدر مشہور ہوا کہ بادشاہ تک خبر پہونچی۔ اس وقت یحییٰ بن تمیم وہاں کا بادشاہ تھا، اس نے علماء کی مجلس میں اسے بلوایا اور جب وہ بادشاہ اس کے علم وفضل اور صلاح وتقویٰ سے واقف ہوا تو اس نے اس کا بہت احترام کیا۔ وہاں سے پھر مراکش پہنچا اور وہاں بھی اسی تقویٰ اور امر بالمعروف کی وجہ سے وہاں کے بادشاہ تک اس کو جانے کی نوبت آئی، اس نے اس وقت کے بڑے بڑے فضلاء کو اس سے

126

مناظرہ کا حکم دیا مگر کوئی فاضل اس سے مقابلہ نہ کرسکا، اور اس کی عمدہ نصیحتوں اور پر اثر کلمات نے بادشاہ کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ بے اختیار رونے لگا مگر وزیر کے اصرار سے بادشاہ نے اپنے ملک سے نکال دیا پھر ۵۱۴ھ (مطابق ۱۱۲۰ء ) میں اپنے وطن پہنچا اور اپنی سحر بیانی سے عام طور پر لوگوں کو مسخر کرنے لگا اور اپنے مجدد ہونے اور مہدی ہونے کی تمہید شروع کردی یعنی یہ بیان کرنا شروع کیا کہ فلاں فلاں احکام شرعی بدل گئے ہیں اور یہ یہ خرابیاں اسلام میں داخل ہوگئی ہیں۔ ایک سال کے بعد وہاں کے لوگ اس کے پورے مطیع ہوگئے۔ اب اس نے امام مہدی کی تعریف بیان کرنی شروع کی اور یہ بھی کہا کہ ان کا خروج انتہائی مغرب میں ہوگا۱؎ ایک روز بیان کی حالت میں دس آدمی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ جو خوبیاں امام مہدی کی آپ بیان کرتے ہیں یہ تو سب آپ میں پائی جاتی ہیں۔ آپ ہی مہدی ہیں لائیے ہاتھ ہم بیعت کریں محمد بن تو مرت نے ان سب کی بیعت لی۔ اس وقت جنہوں نے بیعت کی ان میں عبد المؤمن بھی تھا۔

یہ پہلا روزتھا اس کے مہدویت کی بنا کا، پھر تو قبیلے کے قبیلے اس کے مطیع ہونا شروع ہوگئے بادشاہ وقت کو جب اس کی خبر پہونچی تو فوج لے کر اس کی طرف چلا جب وہ قریب آگیا تو ابن تومرت نے اپنے معتقدوں سے کہا میں پوشیدہ طور سے یہاں سے چلا جاتا ہوں تاکہ تم محفوظ رہو۔ کیوں کہ جب بادشاہ معلوم کرے گا کہ وہ چلا گیا تو واپس چلا جائے گا اس کے معتقدین میں ایک شخص مشائخوں میں تھا اس نے کہا کہ آپ کیوں جاتے ہیں کیا آسمان کی طرف سے خوف ہے؟ مہدی نے کہا نہیں بلکہ آسمان کی طرف سے مدد ہوگی تو اس شخص نے کہا کہ اب اگر روئے زمین کے لوگ ہم پر چڑھائی کریں تو ہمیں کچھ خوف نہیں ہے اور مہدی کے تمام گروہ نے اس پر اتفاق کیا۔

ابن تومرت کی پہلی پیشگوئی:

اس وقت ابن تومرت نے پیشین گوئی کی کہ میں تمہیں فتح یابی کی بشارت دیتا ہوں تمہارا تھوڑا گروہ مخالف کی بیخ وبنیاد اکھیڑ دے گا اور ہم اس کے ملک کے مالک ہوں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ پہاڑ سے اترے اور بادشاہ سے لڑائی ہوئی پھر تو ابن تومرت کے مریدوں کا عقیدہ بہت ہی مضبوط ہوگیا اور یہ خبر سن کر اطراف وجوانب سے کثرت سے لوگ آکر مرید ہونا شروع ہوگئے بس اس جاہ کی ترقی نے اس کی اندرونی حالت میںتغیر پیدا کردیا، بعض لوگوں کی طرف سے بد گمانی ہوئی اور لوگوں کو قتل کرانا شروع کیا، ہزاروں

۱؎

جہاں کا یہ رہنے والا تھا وہ انتہائے مغرب ہے اس نے اپنی مہدویت جمانے کے لئے جو طرز اختیار کیا وہ مرزا کی خود ستائی سے عمدہ تھا۔

127

قتل ہوگئے۱؎ اورعجیب طور سے قتل ہوئے ایک پیشین گوئی کے اتفاقیہ پورا ہوجانے سے مریدین کا یہ حال ہوا، ۵۲۴ھ میں سخت بیمار ہوا، اور ان ہی ایام میں ایک بھاری لڑائی بھی پیش آئی اسی لڑائی میں اس کا بڑا رفیق ہمراز و نشریشی مارا گیا حالت بیماری میں اس کی موت کی اسے خبر پہنچی تو اسے بہت صدمہ ہوا اور اس نے دریافت کیا کہ عبد المؤمن زندہ ہے لوگوں نے کہا ہاں زندہ ہے۔

ابن تومرت کی دوسری پیشین گوئی: اس وقت اس نے یہ پیشین گوئی کی کہ اگر وہ زندہ ہے تو کوئی نہیں مرا حالت بدستور ہے یہی وہ شخص ہے کہ بہت ملک فتح کرے گا یہ کہہ کر اس نے مریدوں کو حکم کیا کہ سب اس کی پیروی کریں اور امیر المؤمنین کا اسے لقب دے کر انتقال کرگیا۔ عبد المؤ من چار برس تک خاموش رہا اور لوگوں کے ساتھ احسان وسلوک کرتا رہا۔ بڑا سخی تھا اور بہت بڑا جو انمرد تھا، پھر اسے لڑنے اور ملک فتح کرنے کی طرف توجہ ہوئی۔ اور اس مہدی کی پیشگوئی کا ظہور یہ ہوا کہ جس طرف گیا ادھر اس کی فتح ہوئی۔ اندلس اور عرب پر بھی فتحیاب ہوا، ۵۵۱ھ (مطابق۱۱۵۶ء) میں اس نے اپنے بیٹے محمد بن عبدالمؤمن کو ولی عہد کر کے اپنے مریدین سے بیعت لے لی۔ ۵۵۸ ھ میں اس کا انتقال ہوا، ۳۳ برس مہدی کا خلیفہ اور امیرالمؤمنین رہا، بڑے زور کی بادشاہت کرتا رہا اور اپنی اولاد کو بادشاہت دے گیا اور مدتوں اس کی اولاد میں سلطنت رہی۔ یہ کہنا رہ گیا کہ ابن تومرت مہدی نے تو ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا مگر اس کے خلیفہ نے اس قدر قتل کیا کہ کچھ شمار نہیں ہوسکتا مگر ۳۳ برس خلافت کی اور مہدی کے طریقے کا پیرو رہا۔ ابن تومرت کے مہدی ہونے کا زمانہ اگرچہ دس برس معلوم ہوتا ہے ۲؎ مگر

۱؎

ایک روایت میں بارہ ہزار قتل ہوئے اور دوسری روایت میں ستر ہزار۔

۲؎

ناظرین کو تعجب ہوگا کہ تاریخ کامل۔ جدید ایڈیشن۔ ج ۹ ص: ۱۹۵ تا ۲۰۰ ابن تومرت کے احوال مذکور میں لکھا ہے کہ ابن تومرت نے بیس برس بادشاہت کی تو لامحالہ مہدویت کا زمانہ زیادہ ہوگا پھر یہاں دس برس کیوں لکھا گیا۔ خیال رہے کہ ہم کو تحقیق اور سچائی ہر وقت مد نظر ہے ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ جس طرح ہو سکے الزام دیا جائے اس لئے کہتے ہیں کہ تاریخ کامل جلد دہم مطبوعہ مصر کے صفحہ ۲۰۵ میں بے شک لکھا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ عشرہ کی جگہ عشرین کاتب کی غلطی سے لکھا گیا کیوں کہ ۵۱۵ھ میں اس کی مہدویت کی ابتدا ہے اور ۵۲۴ھ میں اس کا انتقال ہے اور ۵۲۸ھ میں اس کے خلیفہ نے لڑائی کی طرف توجہ کی ہے، کامل کے اسی صفحے میں اس کا ذکر ہے ابن خلکان سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ دعوی مہدویت کے بعد دس برس وہ زندہ رہا مگر اہل حق یقین کرسکتے ہیں کہ جب مرنے کے بعد اس کا نام اس کا دعویٰ زندہ رہا اس کے جانشین نے اسے خوب ترقی دی، اس لئے وہ ایسی موت نہیں مراجیسی موت مرزا قادیانی جھوٹے کے لئے بیان کرتے ہیں۔

128

حضرت یحییٰ علیہ السلام کے زمانۂ نبوت سے کم اس کا زمانہ نہیں ہوا بلکہ زیادہ ہی رہا۔ اس کا ذکر آئندہ آئے گا اس کے علاوہ اس کے جانشین کا زمانہ بھی اسی میں شمار کرنا چاہئے کیوں کہ یہ اس کا جانشین اور بالکل اس کا پیرو تھا جو گمراہی اس مہدی نے پھیلائی اس کے جانشین نے بدرجہا زائد اس سے پھیلائی۔ کیوںکہ اس نے بہت شہروں کو فتح کرکے اس کے رہنے والوں کو پنا مطیع کیا اور اسی طریقے پر چلایا اور ۴۳ برس تک خدا کا قہر ان پر نہیں آیا۔ ابن تومرت اگرچہ جلد مرگیا مگریہ نہیں کہہ سکتے کہ غضب الٰہی سے مرا کیوں کہ عیش وآرام میں سلطنت کرتا ہوا مرا اور اپنا جانشین ایسے شخص کو کرکے مرا جس نے اس کے نام اور طریقے کو بہت کچھ ترقی دی۔

دوسرے یہ کہ دو عظیم الشان پیشگوئیاں ہم نے ابن تومرت کی نقل کیں، جن کی صداقت اس وقت میں آفتاب کی طرح روشن ہوگئی تھی پھر مرزائیوں کو اس کے سچے ہونے میں کیا عذر ہوسکتا ہے؟ کیوں کہ مرزا قادیانی بھی اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی پیشگوئیوں کو پیش کرتے ہیں اور آپ ان پر ایمان لاتے ہیں، یہاں ایمان نہ لانے کی کیا وجہ ہے۔ کامل ابن اثیر کی جلد دہم میں ان کا حال مفصل مذکور ہے۱؎ میں نے ان کے حال میں تھوڑی تفصیل اس لئے کی کہ ابن تومرت کا حال مرزا قادیانی کے حال سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ جیساکہ ابتداء میں اس نے اچھے کام کئے تھے ایسا ہی مرزا قادیانی نے حقانیت اسلام پر عمدہ تحریریں لکھنے کا دعویٰ کیا جس وقت جاہ پوری مرتبہ پر پہونچ گئی تو جس طرح ابن تومرت کا حال بگڑا، اسی طرح مرزا قادیانی کا، جس طرح اس شخص کے علم وفضل اور پہلے زہد وتقویٰ نے لوگوں کو اس کا مسخر کردیا تھا اور ایک پیشگوئی کے پورا ہوجانے سے خلقت اس کی طرف متوجہ ہوگئی تھی اور پھر وہ لوگ اس کے متبع رہے اسی طرح مرزا قادیانی کا حال ہوا کہ پہلے ان کی ظاہری صلاحیت اور بعض تحریروں۲؎ نے

۱؎

مولانا انواراللہ صاحب حیدر آبادی نے افادۃ الافہام میں اس کی بگڑی حالت کو بیان کیا ہے مگر حضرت مصنف نے بہ تقاضائے تہذیب اُس کا ذکر نہیں کیا شائقین افادہ کی ج ۱ ص ۳۳۱ کو ملاحظہ کریں

۲؎

براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے حقانیت اسلام پر جو تقریر کی ہے وہ بہت عمدہ ہے علماء نے اسے پسند کیا یہ بڑی وجہ مرزا قادیانی کے دماغ بگڑ جانے کی ہوئی انہیں پختہ گمان ہوگیا کہ مجھے الہام ہوتا ہے کیوں کہ ایسی تقریر بغیر الہام کے نہیں ہوسکتی اس پر اس طبعی کبر اور عجب نے زور کیا جس کا ذکر شروع رسالے میں کیا گیا ہے عمدہ لکھنے والے امت محمدیہ میں بہت گزرے ہیں جنہوں نے علمی مضامین اسرار شریعت اور رموز قدرت کو اس زور اور خوبی سے بیان کیا ہے کہ مرزا قادیانی ان کی گرد کو بھی نہ پہنچے آخر میں شاہ ولی اللہ صاحب اور شاہ عبدا لعزیز صاحب علیہما الرحمۃ کی کتابوں کو اہل علم ملاحظہ کرکے اس کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

129

بعض اہل علم کو بھی ان کی طرف متوجہ کردیا اور بعض کو نہایت حسن ظن ہوگیا اور دعویٰ کے بعد بھی وہ اپنے گمان پر قائم رہے۔ اب اگر ایسا اعلانیہ جھوٹ دیکھنے کے بعد بھی وہ اپنے اسی خیال پر رہیں تو مسلمان ان کی طرف بدگمانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔

(۳) عبید اللہ مہدی صاحب افریقہ: ۲۹۶ھ مطابق ۹۰۹ء میں اس نے اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور ۲۹۷ھ مطابق۹۱۰ میں افریقہ پہنچا اور وہاں کا فرمانروا ہوا اور اپنی مہدویت کا اعلان زور وشور سے کیا اور اطراف وجوانب میں اپنے ایلچی بھیجے اور اس کے معتقد ومرید کثرت سے ہوئے اور ملک فتح کرکے خوب بادشاہت کی۔ اس کی عمر تریسٹھ برس کی ہوئی اور اپنے بیٹے ابوالقاسم کو ولی عہد کرکے ۳۲۲ھ میں اپنی موت سے مرگیا۔ ابوالقاسم نے بالکل اپنے باپ کا طریقہ اختیار کیا اور اپنی سلطنت کو بہت ترقی دی اور ملک فتح کئے اور بڑی شان سے باشاہت کی۔ غرض یہ کہ اسی طرح ۵۶۷ھ تک اس کی اولاد میں سلطنت قائم رہی اور تیرہ فرمانروا اس کی اولاد میں ہوئے۔ تاریخ ابن خلدون جلد چہارم اور کامل ابن اثیر جلد ہشتم جدید ایڈیشن میں اس کے حالات ص۴۵۲ سے ۴۶۳ تک میں اس کا مفصل حال مذکور ہے۔ کامل میں یہ بھی ہے کہ اس کے دعوے کا زمانہ ۲۴ برس ایک مہینہ ۲۰ دن رہا اور اس کی اولاد میں تو کئی سو برس تک سلطنت قائم رہی۔

الحاصل اسی طرح مہدی ہونے کا دعویٰ بہت لوگوں نے کیا حکمت الٰہی نے کسی کو بہت کچھ فروغ دیا کثرت سے اس کے پیرو ہوئے۔ محمد جونپوری نے دسویں صدی میں دعویٰ کیا تھا اور اب تک اس کے ماننے والے حیدرآباد وغیرہ میں موجود ہیں اور اپنے عقیدے میں نہایت پختہ ہیں بعض کو فروغ بہت کم ہوا۔ دعویٰ کرنے والے کئی قسم کے ہوئے بعض وہ حضرات بھی ہیں جن پر یاد الٰہی سے ایک نشہ کی سی حالت طاری ہوئی اور عجائب وغرائب امر اُن سے صادر ہونے لگے اور غلبہ حال میں وہ اپنے تئیں مہدی سمجھے اور اس کا اعلان انہوں نے کیا اور آخر تک اسی حالت میں رہے۔ بعض کو نفسانی خواہش اس کا باعث ہوئی اور جس قدر ان کی زور تقریر اور تحریر اور تدابیر مناسبہ نے کام دیا اس قدر وہ کامیاب ہوئے اور جن کو مشیت الٰہی نے نہ چاہا وہ نامراد رہا۔ تاریخ پر نظر وسیع کرنے سے بہت نظیریں ان کی ملیں گی۔ مدعیان مہدویت کی مثالیں تو آپ معلوم کرچکے، اب نبوت کے دعوی کرنے والوں کا نام بھی ملاحظہ کیجئے۔ اسی پہاڑی ملک میں قوم بربر کی ایک شاخ برغواطہ ہے اس کے ایک خاندان کے تین شخصوں نے یکے بعد دیگرے نبوت کا دعویٰ کیا۱؎ اور نبوت کے ساتھ بادشاہت کی اور اس خاندان میں کئی سو برس تک سلطنت رہی۔

۱؎

ابن خلدون ج ۶ ص:۲۰۸ تا ۲۱۱ میں برغواطہ کا حال دیکھنا چاہئے۔

130

(۴) طریف ابوصبیح : دوسری صدی کے شروع میں اس نے حکومت کی بنیاد قائم کی اور نبوت کا دعوی کرکے نیا مذہب اپنی قوم میں رواج دیا اور پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد میں حکومت وسلطنت رہی۔

(۵) صالح بن طریف : ۱۲۷ھ میں اپنے باپ کا ولی عہد ہوا۔ یہ شخص اپنی قوم میں عالم اور دیندار تھا لیکن اپنے باپ کے ترکہ سے کچھ نبوت کا حصہ بھی اسے ملا اور اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کہ میں مہدی اکبر ہوں اور یہ بھی کہتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میرے ہی وقت میں نزول کریں گے اور میرے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ مختلف پانچ زبانوں میں اس نے اپنے پانچ نام رکھے تھے۔ بربری زبان میں جو نام تھا اس کے معنی ابن خلدون نے خاتم الانبیاء کے لکھے ہیں۔ ایک جدید قرآن کے نازل ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ اسی قرآن کی سورتیں اس کی امت کے لوگ نماز میں پڑھتے تھے چند سورتوں کے نام ملاحظہ ہوں: سورۃ الدیک، سورۃ الحمر، سورۃ الفیل، سورہ آدم، سورۃ نوح، سورۃ ہاروت وماروت وابلیس، سورۃ غرائب الدنیا۔ ان کے سوا اور بھی سورتیں تھیں آخر سورۃ میں حرام وحلال اور دوسرے مسائل کا ذکر تھا۔ ۴۷ برس تک نہایت استقلال اور کامیابی سے اپنے مذہب کی اشاعت کرتا رہا اور اپنی قوم پر حکمراں رہا (مرزائی جماعت اس کے حال میں غورکرے اور مرزا قادیانی کے حال سے ملائے ) اس دراز مدت کے بعد اس نے اپنے بیٹے الیاس کو اپنا جانشین کرکے بلاد مشرقیہ کی طرف چلاگیا اور چلتے وقت اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے وصیت کی۔ الیاس نے پچاس برس حکومت کرکے انتقال کیا۔ اس کے بعد ۲۲۴ھ میں اس کا بیٹا یونس اس کا جانشین ہوا اس نے اپنے دادا کے مذہب کو بہت کچھ فروغ دیا اور چوالیس برس حکومت کرکے مارا گیا۔ اس کے بعد ابوغفیر محمد صالح کا پڑوتا ۲۶۸ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اس نے نہایت شوکت وعظمت سے ۲۹برس سلطنت کی اور تمام ملک برغواطہ پر قابض ہوگیا اور نہایت سرگرمی سے اپنے دادا کے مذہب کی اشاعت کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابوالانصار عبداللہ ۲۹۷ھ میں فرانروائے سلطنت ہوا اور اپنے باپ کی طرح اس نے بھی اپنے دادا کے مذہب کو ترقی دی اور نہایت صاحب اقبال اور صاحب شوکت وجلال ہوا جس سے اس وقت کے خلفاء اور بادشاہ اس سے ڈرتے تھے۔ اس نے بھی ۴۴ برس حکومت کی اور اپنے بیٹے کو سلطنت کا مالک کرگیا۔ خیال کیا جائے کہ دو سو چودہ برس خاص صالح کی نبوت سلطنت کے ساتھ چمکی۔

(۶) ابومنصور عیسیٰ : یہ ابوالانصار کا بیٹا ہے۔ اپنے باپ کے بعد یہی تخت کا مالک

131

ہوا، اس وقت اس کی عمر ۲۲ سال کی تھی اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور ستائیس برس نہایت اقبال مندی اور شوکت شاہی کے ساتھ اپنی نبوت کی اشاعت کرتا رہا اور تمام مغربی قبائل کو اپنا مطیع کرلیا۔ اس کے بعد ۳۶۸ھ (مطابق ۹۷۹ء) میں مارا گیا مگر ۲۳ برس سے زیادہ نبوت اور سلطنت کرکے مرا اور پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد میں سلطنت قائم رہی۔ ہم بالیقین یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی نبوت کے ماننے والے کب تک رہے مگر یہ امر ظاہر ہے کہ جب کئی سو برس تک نبوت کی اشاعت سلطنت کے زور کے ساتھ رہی تو ماننے والوں کی تعداد بہت زیادہ اور دور تک ہوگئی ہوگی اور یہ نہایت سچا قرینہ اس قیاس کا ہے کہ اس خاندان کی سلطنت جانے کے بعد بھی کئی صدی تک ان کے ماننے والے ہوں گے اور اگر اب تک بھی ہوں تو کوئی عجب نہیں ؛کم سے کم چار پانچ سو برس تک تو ان جھوٹے نبیوں کی نبوت ایسی چلی کہ باید وشاید۔ الغرض ان جھوٹے مہدی اور جھوٹے نبیوں کا افتراء خوب چلا جس سے مرزا غلام احمد قادیانی کی کامل تحقیق محض غلط اور جھوٹی ثابت ہوئی۔ اب مرزا غلام احمد قادیانی کی کامل تحقیق ملاحظہ کی جائے۔

مرزا قادیانی کے بعض غلط اقوال

پہلا قول : ’’ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء ( یعنی جھوٹی نبوت والہام کا دعویٰ ) کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔ ‘‘

( انجام آتھم، خزائن ج ۱۱ ص۶۳ حاشیہ)

بھائیو! تم دیکھ چکے کہ جھوٹے مہدی اور جھوٹے نبی بھی گذرے اور کس زور وشور سے ان کے جھوٹے دعوے کو فروغ ہوا اور مہدویت ونبوت کے ساتھ انہوں نے سلطنت بھی کی اور سو پچاس برس نہیں بلکہ سینکڑوں برس ان کے دعوی کو بہت کچھ فروغ رہا مگر قادیانی جماعت اور مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ ایسا افتراء کسی زمانے میں چل نہیں سکا اور اس پر یہ بے باکی ہے کہ اسے کامل تحقیق بتارہے ہیں۔ قادیانی جماعت بتائے کہ یہ کیا بات ہے مرزا قادیانی کی کامل تحقیق ایسی صریح غلط ہو۔ اب کیا وجہ ہے کہ ان پر دانستہ فریب دینے کا الزام نہ دیا جائے کیوں کہ جن کا جھوٹا دعویٰ اوپر دکھادیا گیا ہے ان کا ذکر کسی کمیاب کتاب سے نقل نہیں ہوا بلکہ نہایت مشہور تاریخ کامل ابن اثیر اور ابن خلدون سے لکھا گیا ہے، پر سمجھ میں نہیں آسکتا کہ مرزا قادیانی نے یہ کتابیں نہیں دیکھیں یا ان کے خلیفہ جو کتابوں کے مخزن سنے جاتے ہیں ان کے پاس یہ کتابیں نہ ہوں اور ان کی نظر سے ان کذابوں کا حال نہ گذرا ہو۔ ضرور گزرا اور قصدا انہوں نے فریب دیا۔

اس کے سوا میں اور بھی کچھ کہتا ہوں اسے غور سے ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی کو نبوت کا

132

دعویٰ ہے اور کس قدر قرب الٰہی ان کے الہامات سے پایا جاتا ہے بعض الہام میں انہیں خاص صدیق کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔ پھر کیا ایسا نبی اگر انسانی غلطی سے کوئی غلط بات کہہ دے تو خدا کی طرف سے اس غلطی پر آگاہ نہ کیا جائے گا ؟ ضرور کیا جائے گا؛ خصوصا ایسی بات میں کہ اس غلطی سے مخلوق بڑے دھوکے میں پڑتی ہو مگر باوجود عرصۂ دراز گذرنے کے بھی تنبیہ نہیں کی گئی۔ ان کے خلیفہ ان کے جانشین نے بھی چشم پوشی کی یہ صریح دلیل دی ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے تائید نہ تھی جو کچھ ان کا دعویٰ تھا وہ غلط تھا اور ان کے خلیفہ بھی اسی غلط دعوے کے معین رہے۔

اس وقت میرے روبرومرزا قادیانی کا رسالہ’’ انجام آتھم‘‘ رکھا ہے جس کے اقوال اس رسالے میں نقل ہو چکے ہیں اور ان کی ناراستی ظاہر کی گئی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض اقوال اور بھی اس سے نقل کئے جائیں تاکہ ان کی ناراستی اور قابلیت علمی کی حالت خوب روشن ہوجائے اور اتمام حجت میں کوئی دقیقہ باقی نہ رہے۔ ناظرین اس پر غور کرتے جائیں کہ مرزا قادیانی کے اقوال واقعات صحیحہ وحالات موجودہ اور نصوص قرآنیہ کے کس قدر خلاف ہیں۔

دوسرا قول : ’’ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے (۲) اور خدائے قادر وغیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا (۳) اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے ۔‘‘

( انجام آتھم ص۴۹،خزائن ج ۱۱ ص۴۹)

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جس بات کا قرآن مجید میں پتہ نہ ہو اسے مرزا قادیانی نصوص قطعیہ سے ثابت بتاتے ہیں اور خداتعالیٰ پر صریح افتراء کررہے ہیں۔ کیا قرآن شریف کے نصوص صریحہ میں ایسی باتیں ہیں جنہیں حالات موجودہ اور واقعات گزشتہ غلط بتارہے ہیں (استغفر اللہ ) کبھی ایسا نہیں ہوسکتا۔ الغرض اس قول میں تین جملے ہیں اور تینوں غلط ہیں۔ کسی نص میں نہیں ہے کہ ایسا مفتری دست بدست سزا پالیتا ہے اور مفتریوں کا امن میں رہنا ہم دکھاچکے اور یہ بھی ثابت کرچکے کہ ایسے مفتری جلد ہلاک نہیں ہوتے کیا اس میں کسی کو تردد ہوسکتا ہے کہ جتنے قسم کے مفتری ہیں مدتوں سے عیش کررہے ہیں۔ دیکھو ! اہل کتاب کو خدا نے انہیں مفتری اور کذاب کہا ہے مگر ان کی سلطنت کس زور کی ہے اور کتنی مدت سے ہے۔ قرآن مجید میں مشرکین وکفار کو بھی مفتری کہا ہے، انہیں دیکھو بہ نسبت مسلمانوں کے وہ کس قدر مالدار ہیں اور عیش وعشرت کررہے ہیں۔ نبوت اور مہدویت کا دعویٰ کرکے ۲۳ برس سے زیادہ عیش وآرام میں رہے اور اولاد کے لئے سلطنت چھوڑ گئے۔

تیسرا قول : اسی (انجام آتھم ص۵۰، خزائن ج ۱۱ ص ۵۰) میں لکھتے ہیں :

133

’’ کون اس کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ (۱)ہمیشہ جھوٹے مُلہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے۔ اس لئے عرصے تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے (۲) جس کی نظیر دُنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَریٰ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًایعنی اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خداتعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ (۳) خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے والا جلد مارا جاتا ہے ۔‘‘

جس طرح پہلے قول میں تین جملے غلط تھے اس میں بھی تین جملے غلط ہیں جن پر ہندسہ دے دیا ہے ان کی غلطی بیان سابق سے بخوبی ظاہر ہوگئی ہے اور آئندہ نصوص قرآنیہ سے ثابت کی جائے گی۔ یہاں یہ کہنا ہے کہ غضب الٰہی کی صاعقہ نے تو دس برس، بیس برس، چوبیس برس، چھبیس برس، ستائیس برس، سینتالیس برس، بلکہ سینکڑوں برس جھوٹے ملہموں اور ان کی اولاد کو نہیں کھایا اس کا ثبوت دکھادیا گیا پھر بہت جلد کھانے کے کیا معنی ؟۔کان کھول کر سن لو خدا تعالیٰ کے غضب کا صاعقہ بہت کچھ کرسکتا ہے۔ مگر وہ کمزور انسان کی طرح جلد باز نہیں ہے، اس نے سزا کے لئے دن مقرر کررکھا ہے اور جھوٹوں اور مفتریوں کو بہت کچھ مہلت دیتا ہے، یہ اس کی حکمت بالغہ ہے۔ کسی کو یہاں اور وہاں دونوں عالم میں سزا دیتا ہے اور کسی کو ایک ہی عالم میں مگر واقعات گزشتہ اور حالات موجودہ یہ ثابت کررہے ہیں کہ اکثر جھوٹے اور مفتری اس عالم میں چین سے رہے ہیں اور دنیا میں انہیں کافی مہلت دی گئی ہے۔

مفتری کو مہلت ملنے کا سبب اور اس کا ثبوت

اس ذات پاک کی صفات کریمہ زیادہ ہیں بہ نسبت صفات غضبیہ کے، وہ کریم ہے، رحیم ہے، حلیم ہے، رحمن ہے، ستار ہے، غفار ہے، غفور ہے، اسی لئے اس کا ارشاد ہے:’’سبقت رحمتی علی غضبی‘‘(کنز العمال ج ۴ ص ۲۵۰ حدیث نمبر ۱۰۳۸۵)یعنی میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔ اب غور کرو اگر ان وجوہ سے جھوٹے اور مفتری کو مہلت ملے تو کیا عجب ہے اس سے پہلے اور بھی وجوہ بیان ہوچکے ہیں۔

یہاں میں ایک آیت اور پیش کرتا ہوں جو اس مدعا میں نص قطعی ہے کہ منکروں کو جھوٹوں کو بہت مہلت دی جاتی ہے وہ آیت یہ ہے۔

چوتھی آیت :’’وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَایَعْلَمُوْنَ۔ وَاُمْلِیْ لَہُمْ۔اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ‘‘(الاعراف:۱۸۲، ۱۸۳)

134

جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا (یعنی ہمارے کلام کو سچا نہ جانا یا ہمارے احکام کو نہ مانا اور عمل نہ کیا ) انہیں ہم آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ ( ہلاکت کے بلند درجہ تک ) لے جائیں گے ایسے طریقے سے کہ انہیں خبر نہ ہوگی۔

وہ طریقہ یہ ہے کہ جس قدر وہ نافرمانی کریںگے اور جھوٹ بولیں گے اسی قدر ان پر دنیاوی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے جائیں گے پھر ان میں کوئی یہ کہے گا کہ ہم ضرور خدا کے مقبول ہیں اگر مقبول نہ ہوتے تو ہم پر یہ نعمتیں کیوں آتیں اور بعض ایسے مست ہوجائیںگے کہ انہیں دنیاوی لذتوںکے سوا کچھ خبر ہی نہ رہے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اور ہم انہیں مہلت دیں گے یعنی زمانہ دراز تک انہیں دنیاوی نعمتوں میں رکھیں گے۔ اور اس زمانہ کی مدت کسی طرح اور کسی جگہ بیان نہیں ہوئی۔ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :

’’ای أمہلہم واطیل لہم مدۃ عمرہم لیتمادوا فی المعاصی ولا اعاجلہم بالعقوبۃ علی المعصیۃ ‘‘ (تفسیر کبیر ج ۴ ص ۴۷۹)

میں انہیں مہلت دوں گا اور ان کی عمر دراز کروں گا اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کروں گا تاکہ وہ لوگ گناہوں میں ترقی کریں اور جب گناہوں کی زیادتی اس حد کو پہنچ جائے گی جس حد تک انہیں سزا دینا حکمت الٰہی میں مقرر ہوچکا ہے اس وقت انہیں موت آئے گی اور خدائے تعالیٰ کی پکڑ ہوگی۔

اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ میری پکڑ بہت سخت ہے۔ یہ آیت بھی نص قطعی ہے اس بات پر کہ منکروں کو نافرمانوں کو دنیا میں بہت مہلت دیجاتی ہے جلد ہلاک نہیں کئے جاتے اب وہ نافرمان جھوٹے ملہم ہوں جو ظاہر میں خدا کی آیتوں کو مان کر باطن میں شریعت الٰہی کی برہمی اور نفسانی خواہش کو پورا کریں یا ایسے نافرمان ہوں جو اعلانیہ شریعت الٰہی سے انکار کریں؛ آیت کا مضمون دونوں گمراہوں کو شامل ہے۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پوری زندگانی تک انہیں مہلت دی جاتی ہے بلکہ بہ مقتضائے’’یَمْحُوْا اللّٰہُ مَا یَشَآئُ وَیُثْبِتُ‘‘ (الرعد) ان کی عمر بڑھادی جاتی ہے آئندہ آیت جو ہم نقل کریں گے اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روز مقررہ موت تک انہیں مہلت دی جاتی ہے۔ الغرض مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ ایسامفتری دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدا اس کو امن میں نہیں چھوڑتا ہے نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔

135

اب ہم وہ آیت نقل کرتے ہیں جس کا ٹکڑامرزا قادیانی نے اپنے قول میں پیش کیا ہے، ظاہر تو یہی ہے کہ اپنے دعوی کی دلیل پیش کی ہے۔ بہر حال جو ان کا مقصد ہو مگر ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ اس آیت کو ان کے دعوی سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ بلکہ اسی آیت سے ان کا دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔ بہت جگہ بار بار ان کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ ’’جھوٹا ملہم جلد مارا جاتا ہے، غضب الٰہی کی آگ ایسے جھوٹوں کو جلد ہلاک کرتی رہی ہے۔‘‘ اب یہ کہ جلد مارے جانے کی انتہائی مدت مرزا قادیانی کے نزدیک کس قدر ہے ؟ انجام آتھم سے بیس برس معلوم ہوتی ہے اور ان کے رسالہ ’’ اربعین ‘‘ (حوالے گزرچکے ہیں ) وغیرہ سے ۲۳ برس مگر اس پر نہ کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکتی ہے نہ نقلی۔ کون عاقل ہوش کی حالت میں یہ کہہ سکتا ہے ؟ کہ اگر مفتری اس مدت میں مرا تو جلد ہلاک ہوگیا۔ بھائیو! دنیا میں کوئی اس کا قائل نہیں ہوسکتا۔ انصاف سے کہو کہ بیس برس کی مہلت خلق کو گمراہ کرنے کے لئے تھوڑی ہے ؟کیا مدبر خوش بیان خوش تحریر اس مدت میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کو گمراہ نہیں کرسکتا ؟ اور کیا گذشتہ مدعیوں نے نہیں کیا ؟ ضرور کیا ہے ۱؎ ابھی ہم اس کی نظیریں پیش کرچکے ہیں۔

الغرض مفتری کی مدت کے لئے جو مدت مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں اسے تو کسی طرح عقل قبول نہیں کرسکتی۔ عقل کا مقتضا یہ ہوسکتا ہے کہ ایسا مفتری مخلوق کے معتقد ہونے کے پہلے ہی ہلاک کردیا جائے تاکہ ساری مخلوق اس کی گمراہی سے محفوظ رہے اور کم سے کم یہ ہونا چاہئے کہ جب زیادہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہونے لگیں، اس وقت وہ ہلاک ہوجائے تاکہ بہت مخلوق اس کی گمراہی سے محفوظ رہے مگر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نہیں ہے اس لئے جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اسے عقل سلیم کبھی باور نہیں کرسکتی۲؎ اور واقعات بھی اسے غلط بتاتے ہیں۔ نقلی ثبوت میں جس قدر آیت نقل کی ہے اس کے معنی تو اسی قدر ہیں کہ افتراء کرنے والا بڑا ظالم ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اس میں نہ مفتری کے ہلاک ہونے کا ذکر ہے نہ اس کے چھوٹ جانے کا۔ اب اگر پوری آیت پر نظر کی جائے تو یہ الفاظ قرآن مجید میں کئی جگہ آئے ہیں۔ مثلاً :

۱؎

اسود عنسی نے تین چار مہینے کے عرصے میں کس قدر اور کتنے دور تک رسول اللہa کے بابرکت زمانے میں گمراہی پھیلادی تھی تاریخ کے صفحات الٹ کر دیکھو۔

۲؎

اور زبان نبوت کو خیال کرکے ایسا قیاس کرنا محض خیال خام ہے۔ آئندہ کے بیان سے اس کا غلط ہونا اظہر من الشمس ہوجائے گا۔

136

پانچویں آیت : ’’ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْقَالَ اُوْحِیَ‘‘۱؎ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْئٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآاَنْزَلَ اللّٰہُ۔وَلَوْ تَرٰیٓ اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰئِکَۃُ بَاسِطُوْآ اَیْدِیْہِمْ۔اَخْرِجُوْآ اَنْفُسَکُمْ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِہٖ تَسْتَکْبِرُوْنَ۔(الانعام:۹۳)

اس سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا یہ کہا کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں آئی کوئی اپنے کمال کے غرہ پر یہ کہے کہ جیسی کتاب رسول پر اتری ہے ہم بھی ایسی کتاب بنا سکتے ہیں اپنی زندگی میں جو چاہیں کہتے رہیں مگر اے مخاطب اگر تو ان ظالموں کا حال مرتے وقت دیکھے کہ موت کی کیسی سختی ان پر ہوگی اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوں گے کہ اپنی جانوں کو نکالو ( اب تک تو تم نے چین کیا یا جس طرح رہے ) مگر آج وہ دن ہے کہ تمہارے جھوٹ کی سزا میں تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا تم وہی ہو کہ خدا کی نشانیوں کو حقیر سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو بڑا خیال کرتے تھے یعنی خدا کے سچے رسول جو اپنی سچائی کی نشانیاں دکھاتے تھے یا ان کے ورثہ ان کے جانشین جو حقانیت کی دلیلیں پیش کرتے تھے تم تکبر کی مستی میں اس طرف توجہ بھی نہیں کرتے تھے اور انہیں لچر وپوچ خیال کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین قسم کے لوگوں کو بہت بڑا ظالم فرمایا ہے۔ ایک وہ جو خدا پر افتراء کرے۔ دوسرے وہ جو وحی کا جھوٹا دعویٰ کرے۔ تیسرے وہ جو اپنے آپ کو صاحب کمال سمجھ کر یہ دعویٰ کرے کہ کلام الٰہی کے مثل میں بھی بنا سکتا ہوں۔ اب ہر ایک قسم میں اقسام ہیں مثلا خدا پر افتراء کرنے والے کئی طرح کے گزرے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ ایک وہ جو کہتے تھے کہ خدا نے کسی پر کچھ نازل نہیں کیا اب بھی ایک گروہ کی یہ رائے ہے کہ خدا نے انسان کو عقل دی ہے یہ کافی ہے اب کسی رسول اور کلام الٰہی کی ضرورت نہیں ہے۔ غرض یہ کہ کلام الٰہی کے نزول کا انکار کرتے ہیں۔

(۲) جو شرک کرتے ہیں وہ بھی مفتری ہیں کیوں کہ بتوں کی عبادت کو حکم الٰہی جانتے ہیں قرآن شریف کی متعدد آیتوں میں مشرکین کی نسبت فرمایا ہے : ’’یفترون علی اللّٰہ الکذب‘‘ یعنی اللہ پر افتراء کرتے ہیں۔ (۳) مشرکین کے سوا دوسرے منکرین کو بھی اللہ تعالیٰنے اس قسم

۱؎

آیت کے اس جملے نے واضح کردیا کہ جھوٹے ملہموں کے سوا بھی ایسے لوگ ہیں جو خدا پر افتراء کرتے ہیں جن کو آیت کے پہلے جملے میں مفتری کہا گیا ہے۔

137

میں داخل کیا ہے کیوں کہ بہت باتیں جو انہوں نے اپنے خیال وقیاس سے نکالیں یا ان کے باپ دادا نے انہیں وہ احکام الٰہی سمجھتے ہیں اور یہی کہتے ہیں۔ (۴) اہل کتاب کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس قسم میں داخل فرمایا ہے اور انہیں مفتری ٹھہرایا ہے کیوں کہ تثلیث کو خدا کی ذات میں داخل کرتے ہیں اور اس کا ماننا فرض سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توریت وانجیل میں خدائے تعالیٰ نے محمد رسول اللہa کی بشارت نہیں دی۔ اور بہت باتیں ہیں جو یہود نصاریٰ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں مگر دراصل وہ باتیں خدا کی طرف سے نہیں ہیں یہ صریح افتراء ہے۔ (۵) وہ شخص جو جھوٹا دعویٰ کرے کہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے۔ (۶) جو کوئی خدا تعالیٰ کی ذات وصفات میں ایسی باتیں کہے جو اس کی عظمت وشان کے خلاف ہے وہ بھی مفتری ہے مثلا یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ عرش پر اس طرح بیٹھا ہے جس طرح انسان بیٹھتا ہے غرض یہ کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑا ظالم کہا ہے وہ چھ قسم کے ہیں اور سب کا ایک حکم ہے۔

دوسرے قسم کے لوگ جو بہت بڑے ظالم ہیں وہ ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم پر وحی آتی ہے حالانکہ ان پر کبھی وحی نہیں آئی بظاہر یہ کوئی جداگانہ قسم مفتری کی نہیں ہے بلکہ پہلی قسم میں جو پانچویں صورت بیان کی گئی ہے وہی ہے مگراس کو علیحدہ کرکے بیان کرنا یا اس غرض سے ہوسکتا ہے کہ اس کا اہتمام زیادہ مقصود ہے۔ کیوں کہ اس وقت ایسے مفتری یعنی مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی موجود تھے گو ان کا دعویٰ کچھ دنوں بعد ظاہر ہوا ہو، اس لئے ایسے مفتری کو کھول کر بیان کردیا گیا اور اگر وحی کے مشہور معنی نہ لئے جائیں بلکہ انسان کے دماغ میں جو خیال زور کے ساتھ فورا آجاتا ہے اسے بھی وحی کہتے ہیں۱؎یہ معنی لئے جائیں اور یہ مطلب کہا جائے کہ اپنے فوری خیالات کی نسبت کہتا ہے کہ اس رسول کی طرح مجھ پر وحی کی گئی وہ بڑا ظالم ہے کیوں کہ رسول خدا جو وحی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ تو وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ اپنے خیالات کو وحی کہہ کر دھوکا دینا چاہتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ولَم یُوحَ الیہ شیٔ‘‘ یعنی اس پر وحی کچھ نہیں کی گئی۔ یعنی انبیاء اور رسولوں کو جو اللہ رب العزت کی طرف سے وحی ہوتی ہے وہ اس پر نہیں ہوئی اگرچہ اس قسم کے خیالات اسے ہوئے ہوں جنہیں محاورۂ عرب میں وحی کہہ دیتے ہیں۔ اس معنی میں یہ خوبی ہے کہ یہ قسم بالکل جدا ہوگی پہلی قسم سے۔

۱؎

امام راغب اصفہانیؒ کی مفردات القرآن ملاحظہ ہو۔

138

تیسری قسم بہت بڑ۶ے ظالموں کی وہ ہے جو اپنے کمال کے گھمنڈ میں کلام الٰہی کے مقابلے میںیہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بھی ایسا بناسکتے ہیں۔ یہ ان کا کہنا یا تو اس وجہ سے ہے کہ اسے کلام الٰہی نہیں سمجھتے یا یہ کہ خدا ہی پر انہیں ایمان نہیں ہے جیسے لامذہب دہریہ ہیں۔

الحاصل اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو اہل کتاب کو الہام ووحی کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو کلام الٰہی کے نہ ماننے والوں کو سب کو ایک طرح ظالموں میں شمار کرکے ان کی حالت بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تو ایسے ظالموں کو موت کی سختی میں دیکھے جس وقت فرشتے ان پر دست درازی کررہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ اپنی جانوں کو نکالو! ( تو ایسی بری حالت تو دیکھے کہ تیرے ہوش جاتے رہیں ) اس وقت فرشتے یہ بھی کہتے ہوں گے کہ تم جو خدا پر افتراء کیا کرتے تھے اس کی جزا میں آج سے تم ذلت کے عذاب میں گرفتار ہوگے۔ آیت کا یہ جملہ کہ’’اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ‘‘ الخ کیسی روشن دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کا پہلا قول جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ ایسا مفتری دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے‘‘ نص صریح کے خلاف ہے بلکہ جو آیت انہوں نے اپنے دعویٰ کے لئے پیش کی ہے وہی آیت ان کے دعوے کو غلط بتارہی ہے۔ کیوں کہ آیت تو صاف کہہ رہی ہے کہ دنیا میں انہیں سزا نہیں دی جاتی بلکہ جب یہ ظالم دنیا کو چھوڑ نے لگتا ہے اور اس کی روح قبض ہونے لگتی ہے اس وقت سے اس پر ذلت کی مار ہوتی ہے اور جب اس آیت کو سورہ ٔ انعام کی اس آیت سے ملاؤ جو اوپر نقل کی گئی ہے کہ نافرمانوں پر دنیا میں عیش وآرام اور ناز ونعم کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں تو پوری توضیح ہوجاتی ہے کہ بہت نافرمان اپنی مقررہ زندگی میں عیش وآرام سے رہتے ہیں اور موت کے وقت سے ان پر پکڑہوتی ہے۔ انصاف پسند حضرات نے آیت مذکورہ کی شرح سے تو مرزا قادیانی کی قرآن دانی معلوم کی، اب ان کے اقوال کی طرف پھر توجہ کیجئے۔ اسی رسالہ انجام آتھم کے ص ۶۳ میں مضمون سابق کو تھوڑے سے تغیر سے دہرایا ہے ملاحظہ ہو۔

چوتھا قول: ’’ کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ ایسا کذاب اور دجال اور مفتری جو برابر بیس برس کے عرصے سے خدائے تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اب تک کسی ذلت کی مار سے ہلاک نہ ہوا ۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۳، خزائن ج۱۱، ۶۳)

کسی ذی علم واقف کار کو یہ بات تعجب میں نہیں ڈال سکتی حالات موجودہ دکھارہے ہیں کہ اس وقت مفتریوں کو بہت کچھ مہلت دی جارہی ہے۔ مرزا قادیانی پادریوں کو دجال کہتے ہیں اب ان کے پیرو دیکھیں کہ کتنے عرصے سے ان کا افتراء چل رہا ہے اور کس زور سے انہیں ترقی ہورہی

139

ہے ذلت کی مار سے تو ہلاک نہیں ہوتے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ’’ میں صلیب کے توڑنے اور تثلیث کے مٹانے کے لئے آیا ہوں ۔‘‘ مگر انہوں نے تو اسلام ۱؎ کو مٹا دیا تثلیث کا زور تو ویسا ہی روز افزوں ہے۔ مرزا قادیانی نے تو کسی تثلیث پرست کو مسلمان نہیں بنایا ہاں دہریوں نے بہت تثلیث پرستوں کو لامذہب بنادیا۔ مرزا قادیا نی کے مقابلے میں تو وہی زیادہ کامیاب رہے۔

یہ بات سمجھ میں نہیں آسکتی کہ جس سلسلے کا تمام مدار ایک مفتری کے افتراء پر تھا وہ اتنی مدت تک کسی طرح چل نہیں سکتا ۔‘‘

(ایضاً)

جو ایماندار ذی علم دیکھ رہے ہیں کہ مفتریوں کا افتراء دس بیس برس بھی چلا اور سینکڑوں برس بھی چلا اور چل رہا ہے پھر ان کی سمجھ میں ایسی جھوٹی بات کیوں کر آسکتی ہے۔

چھٹا قول: ’’توریت۲؎ اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہوجاتا ہے‘‘

(ایضاً)

قرآن شرف میں اس مضمون کی گواہی ہر گز نہیں ہے بلکہ ہم نے کئی آیتیں اوپر نقل کی ہیں جو اس کے خلاف شہادت دے رہی ہیں۔

ساتواں قول: ’’ خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنیوالے جلد ہلاک کئے گئے ہیں ۔‘‘

(انجام آتھم، خزائن ج۱۱ ص ۶۳حاشیہ)

۱؎

کیوں کہ دنیا کے چالیس کروڑ ( اور اب ایک ارب تیس کروڑ ) مسلمانوں میں سے ان کے بیان کے بموجب صرف تین لاکھ یا کچھ کم وبیش مسلمان رہ گئے، پھر یہ اسلام مٹانا نہیں تو کیا ہے۔

۲؎

ہم نے اس رسالہ میں توریت کے حوالے سے زیادہ بحث نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لئے قرآن مجید کافی ہے ہمیں دوسری کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ قرآن مجید کی ہدایت سے اس قدر ماننا ضرور ہے کہ توریت وانجیل آسمانی کتابیں ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اہل کتاب نے ان میں تحریف کی ہے اس لئے کوئی حکم یا کوئی مضمون اس کا سند پکڑنے کے لائق نہیں ہے۔ پھر خصوصا اس زمانے کے ترجمے اردو فارسی عربی کے تو کسی طرح توجہ کے لائق نہیں ہوسکتے کیوں کہ ترجمہ کرنے والوں کی بے باکی اور نافہمی اور کچھ ترجمے کی مجبوری سے کیا ہوگیا۔ بایں ہمہ میں کہتا ہوں کہ توریت میں جھوٹے نبی کے جلد ہلاک ہوجانے کی خبر نہیں دی ہے بلکہ بنی اسرائیل پر حکم ہے کہ جو نبی جھوٹا ثابت ہو اسے مارڈالو جس طرح قصاص میں مارڈالنے کا حکم ہے۔ اسی طرح جھوٹے مدعی نبوت کو مارڈالنے کا حکم ہے کسی مقام پر اس حکم کو خبر کے طور پر بیان کیا ہے اور ایسا اکثر ہوتا ہے۔ پھر یہ معلوم نہیں ہے کہ اصل توریت میں کس طرح بیان ہوا ہے ممکن ہے کہ اس میں اس طرح نہ ہو مترجم کی غلطی سے ایسا ہوگیاہو۔

140

پانچواں قول: ’’ کیامرزا قادیانی وہی غلط دعویٰ بار بار پیش کررہے ہیں۔ افسوس ہے کہ ایسے عظیم الشان تقدس کا دعویٰ اور اعلانیہ خلاف گوئی پر ذرا تامل نہیں ہوتا۔ میں نے مرزا قادیانی کے ان مکرر اقوال کو اس لئے نقل کیا ہے کہ طالبین حق ملاحظہ کریں کہ جس بات پر انہیں اس قدر وثوق واصرار ہے کہ بار بار اسے کہہ رہے ہیں اور خدا کی طرف اسے منسوب کررہے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ ’’ خدا کی پاک کتاب میں ایسی گواہی‘‘ کا اشارہ بھی نہیں ہے اس سے پہلے بھی ہم چار آیتیں نقل کرچکے ہیں پہلی آیت سورۂ والفجر سے معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کی غرض سے ہر انسان کو مہلت دی جاتی ہے اور دنیا کی نعمتیں اسے عنایت کی جاتی ہیں۔ دوسری آیت سے ثابت ہوتاہے کہ مومنین کا بھی امتحان آتا ہے۔ تیسری آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو خدا کی نصیحتوں کو بھول جاتے ہیں یعنی ان پر عمل نہیں کرتے ان کی پرواہ نہیں کرتے ان پر کسی وقت نعمتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ خدا کی نصیحتوں پر توجہ نہ کرنا کئی طرح پر ہوسکتا ہے۔ ایک یہ کہ انہیں کلام الٰہی نہیں مانتے دوسرے ایسے طورپر اس کا مطلب لگاتے ہیں جو مقصود الٰہی نہیں ہے بعض ایسے بھی ہیں کہ خدا کی طرف سے معافی۱؎ کا پروانہ دکھاتے ہیں۔ غرض یہ کہ تینوں قسم کے لوگ اس آیت میں داخل ہیں۔ چوتھی آیت میں ہے کہ جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں انہیں ہم زمانہ دراز تک مہلت دیتے ہیں اور اس غرض سے دیتے ہیں کہ ان پر زیادہ عذاب کیا جائے۔ پانچویں آیت میں تو نہایت صفائی سے ظاہر کردیا ہے کہ ہر قسم کے مفتری اور مکذب کی سزا موت کے وقت سے شروع ہوتی ہے، اور پہلی آیتوں کے ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دنیاوی زندگانی میں عیش وآرام سے رہتے ہیں، جلد تباہ نہیں ہوتے۔

الحاصل مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ مفتری جلد ہلاک ہوجایا کرتا ہے نہایت روشن دلائل

۱؎

یعنی ایسا الہام بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمادیا کہ فاصنع ماشئت جو چاہو کرو جس طرح حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کو ایک مرتبہ شیطان نے دھوکا دینا چاہا تھا مگر چونکہ آپ کا علم کامل تھا اور نور ہدایت سے آپ کا سینہ منور تھا اس لئے آپ اس کے دھوکے میں نہیں آئے۔ مختصر کیفیت اس کی یہ ہے کہ آپ ایک میدان میں تھے کہ یک بارگی آپ نے دیکھا کہ ایک نور مشرق سے لے کر مغرب تک پھیلا ہوا ہے اسی نور میں ایک عجیب وغریب صورت بھی نظر آئی، اس نے آواز دی کہ اے عبد القادر میں تیرا پروردگار ہوں جو چیز غیروں پر حرام تھی میں نے تجھ پر حلال کردی اب تجھے اختیار ہے جو چاہے لے اور جو چاہے کر آپ نے یہ آواز سنتے ہی اعوذ باللہ پڑھا اور شیطانی فریب سے نجات پائی۔ اسی قسم کے الہامات مرزا قادیانی کو ہوتے ہیں اور مرزا قادیانی انہیں الہام الٰہی سمجھتے ہیں۔

141

سے باطل ہوگیا یعنی آیات قرآنیہ، اسرار شریعت الٰہیہ، حالات موجودہ، واقعات گذشتہ، سب ایک زبان ہوکر پکاررہے ہیں کہ جھوٹوں کو منکروں کو بہت کچھ مہلت دی جاتی ہے اس کے اسباب اور وجوہ بھی بیان کردئے گئے، ناظرین ملاحظہ کریں:

دوسرا دعویٰ مرزا قادیانی کا یہ تھا کہ سچا ہلاک نہیں کیا جاتا بلکہ وہ عیش وکامرانی کے ساتھ رہتا ہے، اس کا غلط ہونا بھی بیان سابق سے ظاہر ہوتا ہے مگر یہاں اور واضح طریقے سے اس دعوی کی غلطی بیان کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں بہت جگہ آیا ہے۱؎ کہ یہود نے انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا ( اٰل عمرٰن: ۱۱۲)میں ہے ’’وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِحَقٍّ‘‘ یعنی یہود نے انبیاء علیہم السلام کو ناحق قتل کیا اور اسی سورۃ کے رکوع ۳و ۱۹ میں اور سورۂ بقرۃ کے ۷ رکوع میں بھی یہی مضمون ہے غرض یہ کہ یہ مضمون قرآن مجیدمیں بہت جگہ ہے۔ان آیات سے ثابت ہوا کہ سچے انبیاء بھی امن وعافیت سے نہیں رہ سکے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کئی برس قید خانے میں رہے۲؎ ۔

۱؎

اسی طرح توریت اور انجیل میں بہت جگہ مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے نبیوں کو قتل کیا انہیں ستا یا ان پر پتھراؤ کیا۔ چند حوالے مثال کے طورپر نقل کئے جاتے ہیں۔ توریت وانجیل اور کتب سابقہ میں دیکھا جائے نحمیا باب ۹ آیت ۲۶، اول سلاطین باب ۱۸ آیت ۴، باب ۹ آیت ۱۰، لوقا باب ۱۳ آیت ۳۴، اعمال باب ۷ درس ۵۲۔ حضرت یحییٰ کا قید ہونا اور ان کا قتل کیا جانا انجیل متی کے باب چودہویں سے ظاہر ہے۔ غرض یہ کہ کتب سابقہ بھی قرآن مجید کے مطابق کہہ رہی ہیں کہ بہت انبیاء قتل کئے گئے۔

۲؎

حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہم عمر تھے۔ تاریخ طبری سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ مہینے بڑے تھے۔ ابن خلدون ایک انگریزی مورخ سے نقل کرتے ہیں کہ تین مہینے بڑے تھے۔ یہود کے خیال کے موافق حضرت عیسیٰ علیہ السلام۳۳ء میں سولی دئے گئے، اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اس سے قبل ۳۰ء ہیردوس بادشاہ نے قید کیا اور ۳۲ء میں ان کا سر کٹواکر اپنی بیوی کو دیا۔ الغرض حضرت یحییٰ علیہ السلام پورے ۳۲ برس بھی زندہ نہیں رہے اب دیکھنا چاہئے کہ اس کم سنی میں کب انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر کتنے دنوں کے بعد شہید کئے گئے، بعض کہتے ہیں کہ چار برس کے اندر شہید کئے گئے بعض کے نزدیک آٹھ برس کے اندر (توریت اور انجیل کا اردو ترجمہ محشیٰ جو ۱۸۷۰ ء میں نارتھ انڈیا بائیبل سوسائٹی کی طرف سے مرزا پور میں چھپا ہے اس میں انجیل متی کے باب ۳ اور باب ۴ کو مع حاشیہ دیکھا جائے ) حضرت یحییٰ علیہ السلام کا نام یوحنا بھی ہے۔ ابن خلدون لکھتا ہے کہ یحییٰ علیہ السلام مشہور نام یوحنا تھا۔ انجیل کے اکثر ترجموں میں ان کا نام یوحنا ہے بعض میں یحییٰ علیہ السلام ہے ایک یوحنا حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری ہیں وہ اور ہیں۔

142

پھر بے رحمی سے ذبح کردیئے گئے ۱؎ ا ن کے والد ماجد حضرت زکریا علیہ السلام آرے سے چیر دئے گئے۔ اسی طرح حضر ت شعیا علیہ السلام چیرے گئے۲؎ ۔

اب حضرات مرزائی بتائیں کہ کون مفتری اس سے زیادہ ذلیل کیا گیا۔ انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوحنا نبی قتل کئے گئے اور تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یوحنا چار سال کے اندر قتل کئے گئے۔ اسی پر اور انبیاء کو قیاس کرنا چاہئے۔ یعنی دشمنوں نے انہیں زیادہ مہلت نہیں دی۔ الغرض سچوں کا امن وعافیت سے رہنا اور جھوٹوں کا جلد ہلاک ہونا نصوص قطعیہ کے خلاف اور واقعات صحیحہ کے صریح مخالف ہے، مگر حیرت ہے کہ بعض اہل علم بھی ایسی غلط بات کو مان رہے ہیں۔ الغرض قرآن مجید میں مفتری کی نسبت کہیں نہیں ہے کہ مفتری دس برس میں یا بیس برس میں یا تیئیس برس میں مرجائے گا یا ہر ایک مفتری ذلیل وخوار ہوگا نہ بلا قید کہیں یہ ارشاد ہے اور نہ کسی قید کے ساتھ فرمایا ہے کہ ایسا شخص دنیا میں جلد تباہ ہوجاتا ہے بلکہ یہ بالکل خدا پر افتراء ہے۔ کوئی کلام خدا یا کلام رسول ایسا نہیں ہے جس سے یہ دعویٰ قیاسی طور پر بھی مستنبط ہوسکے، اور توریت میں بھی ایسا نہیں ہے اور اگر ہوبھی تو ہم پر حجت نہیں ہوسکتا۔

قطع وتین کی بحث میں مرزا قادیانی کی صریح غلطیاں

البتہ قرآن پاک میں ایک آیت ہے جس سے کم علم شبہ میں پڑسکتے ہیں، اور مرزا قادیانی نے متعدد رسالوں میں اور اشتہاروں میں اپنی حقانیت کی دلیل میں اسے بہت زور سے پیش کیا ہے اور قادیانی جماعت کو اس پر بہت کچھ ناز ہے حالانکہ اس کی بنیاد مرزا قادیانی کی محض غلط فہمی پر ہے۔ وہ آیت ملاحظہ ہو۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی نسبت فرماتا ہے:

’’تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ۔لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ۔فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِزِیْنَ‘‘(الحاقۃ:۴۳ تا ۴۷)

یعنی قرآن پروردگار عالم کی طرف سے اتارا ہوا ہے ( کسی دوسرے کا بنایا ہوا نہیں ہے )

اور اگر (ہمارا رسول محمدa سچے الہاموں کے ساتھ ) بعض جھوٹی باتیں ملادیتا تو ہم اسے مضبوط پکڑتے یا اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے ( اور وہ بری حالت کرتے کہ تم دیکھتے ) اس کے بعد اسے ہلاک

۱؎

تاریخ کامل ابن اثیر ج ۱ ص ۲۳۴ بمع ۱۹۹۵ ملاحظہ ہو: جاہل مرزائی نام کے پڑھے کہتے ہیں، کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مارا جانا جھوٹ ہے۔ ان کو چاہئے کہ رسالہ ’’عبرت خیز‘‘ دیکھیں اس میں قرآن وحدیث سے بلکہ اجماع امت سے ثابت کردیا گیا ہے۔

۲؎

کامل ج۱ ص ۸۸ ملاحظہ ہو۔۱۲

143

کردیتے یا ایسی مصیبت میں مبتلا کرتے کہ زندہ در گور ہوجاتا۔ اس معنی کی تشریح آئندہ آئے گی۔ کفار قریش جب قرآن مجید سنتے تو کہتے کہ محمدa نے اپنے جی سے بنا لیا ہے، خدا کا کلام نہیں ہے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ساری باتوں کا جھوٹ ہونا تو بڑی بھاری بات ہے اگر ہمارا رسول محمدa کوئی بات بھی جھوٹی ہماری طرف سے کہتا تو ہم پکڑکے ذبح کردیتے۔ یہ کہنا ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص بادشاہ کے خاص پیام رساں کو کہہ دے کہ یہ جھوٹا ہے اپنی طرف سے بات بنا کر کہتا ہے یہ کہنا بادشاہ کو ناگوار خاطر ہو اور کہے کہ اگر ہمارا پیامبر ذرا بھی جھوٹ بولتا تو ہم اس کی گردن ماردیتے۔ یہ ایک معمولی بات ہے جس سے اس پیامبر کی واقعی خصوصیت اور سچائی کا اظہار منظور ہوتا ہے منکر کے لئے کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ یا اس آیت میں اہل کتاب سے خاص خطاب ہے چونکہ توریت میں حکم ہے کہ جس نبی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجا ئے وہ قتل کردیا جائے اس لئے اللہ تعالیٰ توریت کے ماننے والوں سے فرماتا ہے کہ اگر یہ رسول کچھ بھی جھوٹ بولتا تو ہم خود قتل کردیتے یعنی اور جھوٹوں کے لئے ہم نے تمہیں قتل کرنے کے لئے حکم دیا تھا انہیں ہم خود ہلاک کردیتے یا ایسی مصیبت میں مبتلا کرتے جس کا انجام ہلاکت ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس قدر جس شخص سے زیادہ خصوصیت ہوتی ہے اسی قدر اس کی خلاف ورزی سے ناگواری زیادہ ہوتی ہے۔ حضورa سے وہ خصوصیت تھی جو کسی اور رسول سے نہ تھی آپa سید المرسلین حبیب رب العالمین تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ اگر یہ کچھ بھی خلاف ورزی کرتے تو ہم یہیں دنیا میں سزا کردیتے۔ مگر یہ بھی ایک واقعی حالت بیان کی گئی ہے جس طرح توریت میں قتل کا وہ حکم کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے ویسا ہی قرآن شریف کے اس بیان سے مقصود دلیل پیش کرنا نہیں ہے۔ قرآن مجید کے طرز بیان سے جو واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس مقدس کتاب میں منطقی طورپر حجتیں پیش نہیں کی گئیں۔ بلکہ سچی اور حقانی باتیں بیان کی گئی ہیں جن میں قدرتی اثر ہے کہ راست طبیعتیں انہیں برغبت قبول کرلیتی ہیں اور کلام الٰہی کے نازل ہونے سے جو مقصود ہے وہ حاصل ہوتا ہے۔

اس آیت کے بیان میں مرزا قادیانی کے پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ اس آیت کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک کلیہ قاعدہ بیان کیا ہے جس سے جھوٹے اور سچے ملہم کا فرق ظاہر ہوجاتا ہے، یعنی جو سچا ہے وہ امن وعافیت سے رہتا ہے اور جھوٹے کو اللہ تعالیٰ جلد ہلاک کردیتا ہے۔ اس مطلب کا غلط ہونا ہم حالات موجودہ اور واقعات گزشتہ سے ثابت کرآئے ہیں کہ بہت جھوٹے مفتری تازیست عیش وآرام میں رہے۔ قرآن مجید کی کئی آیتیں ہم لکھ چکے ہیں

144

جن سے ثابت ہے کہ مجرموں کو تازیست بھی مہلت دی جاتی ہے، بلکہ نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دئے جاتے ہیں اور سچے انبیاء نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کردئے گئے۔ پھر ان آیات اور واقعات صحیحہ کے خلاف اس آیت کا مطلب کیوں کر ہوسکتا ہے۔

اس کے سوا خود اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں جھوٹے ملہم کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف سچے ملہم کا ذکر ہے، کیوں کہ ارشاد ہے ’’وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ‘‘الخ۔ یعنی یہ اگر ہمارا سچا رسول بعض باتیں ہم پر جھوٹ باندھتا اس بعض کے لفظ نے جھوٹے ملہم کو خارج کردیا۔ کیونکہ جھو ٹے ملہم کے تو جتنے الہامات ہیں سب جھوٹے ہونے ہیں، البتہ سچے ملہم کے الہامات سچے ہوںگے اب اگر وہ سچا ملہم اپنے سچے الہاموں کے ساتھ بعض جھوٹے الہام بیان کردے تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں بیان کردی۔ الغرض بعض باتوں کا جھوٹا ہونا، اسی وقت ہوسکتا ہے کہ آیت میں خاص سچے ملہم کا ذکر ہو ورنہ آیت میں ’’بعض الاقاویل‘‘ کا لفظ غلط ہوجائے گا۔ حاصل یہ کہ ’’بعض الاقاویل‘‘ کی قید نے نہایت صفائی سے جھوٹے ملہم کو اس آیت سے نکال دیا، یہ دوسری غلطی ہے مرزا قادیانی نے اس لفظ پر غور نہیں کیا اور ایسے معنی کئے جس کی وجہ سے اس لفظ کا لانا غلط ہوگیا۔

اب دیکھنا چاہئے کہ آیت میں جو سزا جھوٹ باندھنے والے پر بیان کی گئی ہے وہ عام سچے ملہموں کے لئے ہے یا خاص جناب سیدالمرسلینﷺ کی خصوصیت خاصہ کا تقاضا ہے ؟ قرآن مجید کے الفاظ سے تو ظاہر ہے کہ اس آیت میں خاص جناب سید المرسلینﷺ کا ذکر ہے اہل علم جانتے ہیں کہ تقول میں جو ضمیر ہے اس سے مراد جناب رسول اللہa ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہمارے یہ خاص رسول کوئی بات جھوٹ کہتے تو ہم یہ سزا کرتے۔

الحاصل :اس آیت میں کوئی حجت ودلیل نہیں پیش کی گئی ہے بلکہ ایک واقعی بات کہی ہے جیسے اور بہت باتیں قرآن مجید میں کہی گئی ہیں، مثلا نیکوںکے لئے یہ جزا ہے اور بدوں کے لئے یہ سزا ہے۔ اب اس آیت کے متعلق دو بحثیں اور باقی ہیں، ایک یہ کہ افتراء کرنے کی تقدیر پر اللہ تعالیٰ نے صرف موت کی سزا بیان کی ہے یا دوسری سزا کا بھی ذکر یا اشارہ ہے؟ دوسری یہ کہ اس سزا کے لئے کوئی مدت بھی اس آیت سے یا دوسری آیت وحدیث سے معلوم ہوتی ہے یا نہیں؟اور اگر مدت معلوم ہوتی ہے تو وہ کس قدر ہے ؟

اہل علم خوب جانتے ہیں کہ الفاظ کے معنی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک کا نام حقیقی ہے

145

اور دوسرے کا نام مجازی۔ مگر جب لفظ بولاجائے گا تو سب سے اول حقیقی معنی اس کے مراد لئے جائیں گے جب تک کوئی ایسی وجہ نہ پائی جائے جس سے وہ معنی نہ بن سکتے ہوں اور جس وقت حقیقی معنی نہ بن سکیں گے اس وقت جو مجازی معنی قرینہ وقیاس سے بن سکیں گے وہ لئے جائیں گے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اس میں الفاظ کے اصلی اور حقیقی معنی مراد نہیں ہوسکتے کیوں کہ جس طرح سے پکڑنا اور رگ جان کو کاٹنا آیت میں مذکورہے اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے۔ اس کے افعال جس طرح ہوتے ہیں اس کی نسبت خود اس کا ارشاد ہے :’’اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ‘‘ (یٰسٓ:۸۲) یعنی اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کاارادہ کرتا ہے تو اس کے اتنا کہہ دینے سے کہ ہوجا وہ چیز موجو د ہوجاتی ہے اور کسی بات کی ضرورت نہیں ہے اس لئے ضرور ہوا کہ یہاں کوئی معنی مجازی مراد لئے جائیں جو یہاں کے مناسب ہوں غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہاں متعدد معنی ہوسکتے ہیں مثلا: (۱) اگر محمدa ہم پر کچھ افتراء کرتے تو ہم ان کی قوت کو چھین لیتے اور پھر انہیں ہلاک کردیتے۔ جب کوئی نہایت قوی شخص کمزور کو زور سے پکڑلیتا ہے تو اس کمزور کی طاقت جاتی رہتی ہے اور بالکل بے بس ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ جس کو پکڑ ے اس کی بے بسی کا کیا ٹھکانا ہوسکتا ہے۔ اب قوت کا سلب کرنا کئی طریقے سے ہوسکتا ہے مثلا فصاحت وبلاغت کی قوت چھین لی جاتی، بات کرنے کی قوت نہ رہتی، یا زور ولایت ونبوت لے لیا جاتا جس کے سبب سے وہ باتیں نہ ہوسکتیں جو انبیاء کی شان کے مناسب ہیں اور کوئی نشان ومعجزہ نہ ہوسکتا۔

یا کوئی شخص مخالف ایسا کھڑا ہوجاتا کہ کذب کو ظاہر کرکے لوگوں کو اس کی پیروی سے روک دیتا یا زبان سے ایسی باتیں نکلتیں جس سے اس کا کذب مخلوق پر ظاہر ہوجاتا جیساکہ مرزا قادیانی کی زبا ن سے بہت سی باتیں نکلیں۔ یہ صورتیں ایسی ہیں کہ سمجھدار خدا سے ڈرنے والا ضرور اس فعل سے باز رہے گا جس کے سبب سے یہ ذلت ورسوائی پیش آئے۔ اور اگر اس پر بھی باز نہ آتے اور جھوٹی باتوں کو سچی دکھانے کے درپے ہوتے ( جس طرح مرزا قادیانی ہوئے ) تو ایسی مصیبت وتکلیف میں مبتلا کرتے کہ زندہ در گور ہوجاتے اور کچھ کرتے بن نہ آتی۔ اہل علم پر پوشیدہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’لا۱؎خذنا منہ‘‘ فرمایا یعنی اس مفتری سے کوئی چیز لیتے ’’لاخذناہ‘‘ نہیں فرمایا جس کے معنی ہیں کہ ہم اس کو لے لیتے اور اسے پکڑتے۔

۱؎

غرضـ یہ ہے کہ لفظ اخذ متعدی بنفسہ ہے اس کے متعدی ہونے کے لئے کسی حرف کی ضرورت نہیں ہے بایں ہمہ آیت میں من تبعیضیہ لایا گیا اس وجہ ہم نے بیان کردی۔

146

لفظ من کے زیادہ کرنے سے صاف اشارہ ایسے ہی معنی کی طرف ہے جیسے ہم نے بیان کئے اور آئندہ بیان کریں گے۔ قطع وتین سے مقصود کسی وقت تکلیف پہونچانا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں ’’ارحنی ارحنی قطعت وتینی‘‘ یعنی مجھے آرام لینے دے آرام لینے دے تونے تو مجھے مارڈالا یعنی بہت تکلیف دی۔ اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مفتری کی سزا میں دو جملے فرمائے ہیں۔ اول ’’لاخذنا منہ بالیمین‘‘ ہم ا سکا ہاتھ پکڑ لیتے دوسرا ’’ ثم لقطعنا منہ الوتین‘‘ پھر ہم اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے، یہ جملے علیحدہ علیحدہ اپنے مستقل معنی رکھتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مفتری کے لئے دو سزائیں ایک سزا پہلے جملے میں بیان ہوئی جس کو پہلے ہونا چاہئے، دوسری سزا دوسرے جملہ میں بیان ہوئی وہ پہلی سزا کے بعد ہے کیوں کہ دوسرا جملہ ثم سے شروع ہوا ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس جملے کا مضمون پہلے جملے کے مضمون کے بعد ہوگا جیساکہ ہم نے آیت کے معنی بیان کئے۔

یہ تیسری غلطی ہے کہ مرزا قادیانی نے ان صاف باتوں پر نظر نہیں کی۔ اربعین میں جو معنی بیان کئے ہیں اس میں پہلے جملے کا کچھ مطلب بیان نہیں کیا بلکہ آیت کا مطلب اس قدر لکھتے ہیں یعنی ’’اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو اس کی سزا موت تھی ‘‘ اس مطلب سے آیت کا پہلا جملہ بے کار ہوگیا اور دوسرے جملے میں جو ثم کا استعمال اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ بھی بے کار ٹھہرا۔ الغرض پہلے بیان سے ثابت ہوا تھا کہ آیت میں لفظ بعض الاقاویل کی طرف مرزا قادیانی نے ذرا بھی توجہ نہیں کی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ لفظ بے کار ہے اور توجہ نہ کرنے کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جو دعویٰ وہ اس آیت سے ثابت کرنا چاہتے ہیں اسے یہ لفظ غلط ٹھہرا تا ہے ہمارے اس بیان سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی جس طرح معنی بیان کرتے ہیں اس سے آیت کا ایک پورا جملہ لاخذنا منہ بالیمین اور دوسرے جملے کا ایک لفظ ثم بے کار ہوجاتا ہے یہ چوتھی غلطی ہے مرزا قادیانی کی۔

غور کا مقام ہے کہ وہ کلام مقدس جس کی فصاحت وبلاغت اعجاز کی حد کو پہونچ گئی ہے اس کی چھوٹی آیت میں ایک پورا جملہ اور کئی لفظ جس کے بیان سے بیکار ہوجائیں وہ قرآن مجید کا ماہر اور جاننے والا ٹھہرے، افسوس اس فہم وانصاف پر۔ مذکورہ بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ افتراء کرنے والے کی سزا صرف موت ہی نہیں ہے جیساکہ مرزا قادیانی بیان کررہے ہیں بلکہ متعدد سزائیں ہوسکتی ہیں جن کا بیان کچھ تو اوپر ہوا اور عام سزا جو آیت کے الفاظ سے سمجھی جاتی ہے یہ ہے کہ جو مصیبت یا جو تکلیف ایسی ہو جسے عام طور پر فہمیدہ حضرات دیکھ کر یا سن کر یہ کہہ دیں کہ یہ خدا کی پکڑ ہے۔ کیوں کہ اس کی سزا میں اول جملہ یہ ہےلاخذنا منہ بالیمین۔

147

دوسری بحث آیت مذکورہ کے متعلق یہ تھی کہ مفتری کی سزا کے لئے کوئی مدت کسی آیت یا حدیث سے ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب بیان سابق سے ظاہر ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں تو عام مفتریوں کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ فرضی طور پر خاص یہاں رسول اللہa کا بیان ہے اور کسی دوسری آیت وحدیث سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے کیوںکہ دنیا کے واقعات ثابت کررہے ہیں کہ جس طرح سچوں کی عمر کم وبیش ہوتی ہے اور کوئی معمولی موت سے دنیائے فانی سے گذرگئے اور کوئی مخالفین کے ہاتھ سے شہید ہوئے، اسی طرح مفتریوں کا حال ہوا ہے۔ بعض جلد دارالبوار کو بھیج دئے گئے، بعضوں نے مدتوں بادشاہت کی اور اپنی اولاد کو سلطنت دے گئے اور سینکڑوں برس ان میں سلطنت قائم رہی اس کا ثبوت بخوبی کردیا گیا اور نص صریح میں یہ بھی دکھادیا کہ جھوٹوں کو بہت کچھ مہلت دی جاتی ہے مرزا نے جو مدت بیان کی ہے اس کا غلط ہونا عقلا اور نقلا دونوں طرح بیان کردیا گیا اب اگر اسپر بھی کسی صاحب کو تشفی نہ ہو تو ہم مرزا کے خیال کے بطلان میں مذکورہ دلائل کے علاوہ چند دلیلیں اور پیش کرتے ہیں، اور اہل انصاف سے فیصلہ چاہتے ہیں۔ غور سے دیکھو۔

پہلی دلیل: جس آیت کی تفسیر میں یہاں تک بیان کو طول ہوا،یعنی’’لو تقول علینا بعض الاقاویل‘‘ الخ اسی آیت سے مرزا قادیانی کا قول غلط ثابت ہوتا ہے کیوں کہ یہ آیت مکی ہے یعنی جناب رسول اللہa مکہ معظمہ میں تشریف فرماتھے۔ مدینہ طیبہ اب تک نہیں گئے تھے ان ہی ایام میں یہ آیت نازل ہوئی، نبوت کے بعد کامل بارہ برس تک حضور مکہ معظمہ میں رہے اور تیرہویں سال آپa نے ہجرت فرمائی۔ اس بارہ برس کے اندر جناب رسول اللہa کی صداقت کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہوا کہ ہمارا رسول (محمدa) اگر کچھ بھی ہم پر افتراء کرتا تو ہم اسے سخت سزا دیتے۔ یہاں خیال رکھنا چاہئے کہ آیت مذکورہ میں آئندہ کا ذکر نہیں ہے۔ اس طرح ارشاد نہیں ہوا کہ اگر یہ افتراء کرے گا تو ہم یہ سزا دیں گے بلکہ گذشتہ زمانہ کی نسبت ارشاد ہوا کہ اگر افتراء کرتا تو ہم یہ سزا دیتے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ کہ اگر جھوٹ بولتے تو اس کی سزا بارہ برس کے اندر ہی ہو جاتی۔ کیوں کہ دعویٔ نبوت کے بعد بارہ برس کے اندر یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں گذشتہ زمانے کا حکم بیان ہوا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جھوٹ کی سزا، اس آیت کے نزول سے پہلے یعنی بارہ برس کے اندر ہوجاتی۔ غور سے دیکھو مرزا قادیانی نے جو زمان نبوت پر قیاس کرکے تیئیس برس اس کی میعاد بیان کی ہے وہ اس آیت کی رو سے غلط ہے۔

148

یہ پانچویں غلطی ہے جو آیت مذکورہ کے بیان میں مرزا قادیانی سے ہوئی۔ اگر مرزا قادیانی اس آیت پر غور کرتے تو ۲۳ برس کی میعاد مقرر نہ کرتے۔ نہایت تعجب ہے کہ کم از کم پندرہ بیس برس تک اس آیت پر ان کی توجہ رہی مگر یہ تھوڑی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہ آئی اب خلیفہ اس میں غور کریں اگر حق طلبی ہے تو اس غلطی کو تسلیم کریں، یا جواب دیں، یہ جو کچھ بیان کیا گیا مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق کیا گیا، ہم اس آیت سے جھوٹے ملہم کی سزا کی کوئی میعاد ثابت نہیں کرتے، ہم تو نصوص صریحہ اور دلائل نقلیہ سے اسے غلط ثابت کرچکے ہیں۔

دوسری دلیل: مرزا قادیانی جھوٹے کے ہلاک ہونے کی میعاد ۲۳ برس بتاتے ہیں یعنی اگر تیئیس برس کے اندر وہ ہلاک ہوگیا تو اسے جھوٹا سمجھو اور اگر ہلاک نہ ہوا تو سچا جانو۔ حضرات ناظرین متوجہ ہوں! اگر یہ قاعدہ صحیح ہو تو سچے نبی کے لئے ضرور ہوگا کہ دعویٔ نبوت کے بعد سے ۲۳ برس سے زیادہ جئے اور اس قدر زیادہ ہونا چاہئے کہ اس کی نبوت کا ثمرہ اور نتیجہ ظاہر ہوسکے کیوں کہ اگر ۲۳ برس کے بعد چوبیسویں برس میں مرگیا تو اس قاعدے کے بموجب وہ سچا نبی تو ہوا مگر کوئی نفع خلق کو اس سے نہ پہنچا کیوں کہ ۲۳ برس تک انتظار کرنا تو ضرور ہے اس کے بعد اتنی مہلت نہ ملی کہ اس پر ایمان لاکر اس سے ہدایت پاتے اور بعثت کا نتیجہ ظاہر ہوتا۔ الغرض دعویٔ نبوت کے بعد کم سے کم تیس چالیس برس تک اسے جینا چاہئے کہ اس کی رسالت کا کام پورا ہو ورنہ اس کا نبی ہونا بے کار ہوگا۔ اب کیا خلیفۃ المسیح یا ان کے کوئی ہم مشرب یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ جتنے انبیاء کرام گذرے ہیں وہ دعویٔ نبوت کے بعد سے چوبیس برس سے زیادہ زندہ رہے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہرگز نہیں۔ ہمارے سرور عالم سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام صرف ۲۳ برس زندہ رہے ہیں، جن انبیاء کو یہود نے قتل کیا تو کیا وہ شریر یہودی ۲۳ برس تک چپ بیٹھے رہے اور اس مدت کے بعد انہوں نے قتل کیا کوئی عاقل اسے باور کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔

تیسری دلیل: بڑی وجہ اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ جناب سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت اور آپa کے اصحابؓ کبار کا برتاؤ اس کو غلط ثابت کررہا ہے۔ کیوں کہ حضور علیہ السلام کی عمر ۶۳ برس کی ہوئی اور نبوت کا دعویٰ چالیس برس کی عمر میں کیا، اس سے ظاہر ہے کہ نبوت کے بعد آپ ۲۳ برس زندہ رہے اس سے زیادہ زمانہ آپ کو نہیں ملا، اسی۳ ۲ برس کی مدت میں آپ نے تعلیم وہدایت فرمائی اور دعویٔ نبوت کے بعد ہی صحابہ کرامؓ آپ کی

149

تصدیق کرتے گئے کسی مدت کا انتظار نہیں کیا۔ اس سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ سچائی کی شناخت کے لئے بیس یا تیئیس برس مقررکرنا محض غلط ہے۔

چوتھی دلیل: اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اس قاعدے کی رو سے مخلوق کو چاہئے کہ ۲۳ برس تک کسی مدعی نبوت کو نہ سچا کہیں نہ جھوٹا کہیں، بلکہ اس مدت کا انتظار کریں، مگر سنت اللہ اور احکام الٰہی اس کے خلاف ہیں کیوں کہ دعویٔ نبوت کے بعد ہی نبوت کے ماننے اور احکام پر عمل کرنے کا حکم ہوتا رہا ہے اور ماننے والوں نے مانا ہے اور ان کی شریعت پر عمل کیا ہے۔ خود مرزا قادیانی نے اور ان کی امت نے بھی ایسا ہی کیا تیئس ۲۳ برس کا انتظار نہیں کیا۔

پانچویں دلیل: اگر اتنی مدت تک انتظار کرنا ضرور ہو تو عام طور سے ہدایت قبول کرنے کا دروازہ بند ہوجائے گا کیوں کہ انتظار کا زمانہ طویل ہے اس مدت میں لاکھوں آدمی زیر زمین ہوجائیں گے۔ اب اگر اس مدعی کی نبوت سچی تھی تو جتنے انتظار کرنے والے مرگئے ہدایت قبول نہ کرسکے اور ایمان سے محروم رہے اور کم سے کم اس کے فیض صحبت اور اس کے رشد وہدایات پر عمل کرنے سے ضرور محروم رہے اور انبیاء جس لئے بھیجے جاتے ہیں وہ حاصل نہ ہوا۔

چھٹی دلیل: اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ ایسا حکم خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ اس مدت دراز تک اس کے کرنے نہ کرنے دونوں میں انسان کو خطرہ ہو، مرزا قادیانی کے اس قاعدے کے بموجب ۲۳ برس تک ہر مدعی الہام کے ماننے میں بھی خطرہ ہے کہ شایدجھوٹا ہو اور اور ۲۳ برس کے اندر ہلاک ہوجائے اور نہ ماننے میں بھی خطرہ ہے کہ شاید سچا ہو اور ہم بغیر اس کے مانے ہوئے مرگئے تو بے ایمان مرے۔

یہ چھٹی غلطی ہے قطع وتین کے بیان میں جس سے نہایت کو تاہ نظری مرزا قادیانی کی ثابت ہوتی ہے کہ ایسے عقلی وجوہ پر ان کی نظر نہیں گئی اور ۲۳ برس کی میعاد مقرر کردی، اب دیکھیں جماعت مرزائیہ میں کون راست باز ہے کہ ایسی سچی بات کو قبول کرتا ہے یا ان غلطیوں کا جواب دیتا ہے، مگر یہ وہ باتیں ہیں جس کا جواب غیر ممکن ہے اور اگر نشان ومعجزے سے یقینی صاف طور سے سچائی معلوم ہوسکتی ہے تو پھر ۲۳ برس کی میعاد بے کار اور غلط ہوگی، یوں کہو کہ جو مدعی واقعی سچا نشان دکھائے وہ سچا ہے اور جو کوئی نشان نہ دکھائے یا اس کا نشان کسی علمی قوت یا فراست وتجربہ کی بنیاد پر ہو یا اس کی تکذیب کسی طور سے ظاہر ہوجائے وہ جھوٹا ہے غرض یہ کہ یہ میعاد مقرر کرنا ہر طرح غلط ہے۔

جس نے براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی کے وہ(لنگڑے لنجے ناقص) مضامین دیکھے

150

ہیں جو اثبات حقانیت اسلام پر انہوں نے لکھے ہیں وہ ان مضامین کو دیکھتا ہے جو انہوں نے اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کئے ہیں وہ متحیر ہوجاتا ہے اور اسے یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ دونوں تحریریں ایک شخص کی ہیں کیوں کہ دونوں میں ایسا ہی فرق ہے جیسا صاف حق وباطل میں فرق ہوتا ہے۔ یہ امر خیال میں آنا دشوار ہوتا ہے کہ جو شخص ایسی لچر اور خلاف عقل اور نقل تحریر کرے جیسی قطع وتین وغیرہ میں کی گئی ہے وہ ایسی پر زور تحریر کیونکر کرسکتا جو جیسی براہین احمدیہ میں ہے۔ یہ تفرقہ بیّن دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط ہے، اگر سچا ہوتا تو اس تحریر کی بھی وہی حالت ہوتی جو براہین احمدیہ کے دلائل کی ہے۔ باطل دعویٰ کے اثبات میں مرزا قادیانی نے بہت ہی زور لگایا مگر اہل حق کی نظر میں اس کی غلطیاں ایسی ہی ظاہر ہیں جیسے آفتاب کی روشنی میں سیاہ اور بدنما چیز ممتاز ہوتی ہے، بیان سابق سے اس کا ثبوت بخوبی روشن ہے۔

’’لکن اللّٰہ یھدی لمن یشاء وھو العزیز الحکیم‘‘

خلاصۂ مرام وحسن ختام

اب میں قادیانی جماعت سے خیرخواہانہ اور دلی درد مندی سے کہتا ہوں کہ اس رسالے کو تحقیق اور انصاف کی نظر سے دیکھیں اور غور فرمائیں، مرزا قادیانی کا قول ہے کہ :

’’ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محکِ امتحان نہیں ہوسکتا‘‘

( آئینہ کمالات اسلام، خزائن جلد ۵ ص ۲۸۸ )

اس بنیاد پر ہم نے نہایت خلوص دلی اور بے تعصبی سے ان کے اقوال اور ان کے حالات پر نظر کی اور یہ چاہا کہ انہی کے کہنے کے بموجب ہم ان کی صداقت کا حال ان کی پیشگوئی سے معلوم کریں۔ پیشگوئیاں ان کی بہت ہیں ان میں سے ان پیشگوئیوں کو ہم نے دیکھا جنہیں وہ نہایت ہی عظیم الشان کہتے ہیں یہاں تک کہ اپنی صداقت کا معیار اسے ٹھہرایا تھا وہ اقوال اس رسالے کے شروع میں نقل کئے گئے ہیں وہ پیشگوئیاں محض غلط ثابت ہوئیں اور ان کا کذب ایسا ظاہر ہوگیا کہ کسی کو اس میں گفتگو کی گنجائش نہ رہی بشرطیکہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور کچھ بھی انصاف کو دخل دے۔ پھر آپ اپنی عاقبت پر نظر کرکے ایک صریح دروغ کے کیوں درپئے ہیں ؟ کیا آپ کو یہ خیال ہے کہ مرزا قادیانی کے بقول سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بھی بعض پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی ؟ مگر خیال رکھو اور مسلمان ہو تو یقین کرلو کہ اس اصدق الصادقین سید المرسلین کی کوئی پیشگوئی ایسی نہیں ہے کہ پوری نہ ہوئی ہو اور مرزا قادیانی

151

اور ان کے خلیفہ نے جو حدیبیہ اور خزانہ قیصر وکسریٰ کی پیشگوئی کا غلط ہونا بیان کیا وہ محض غلط ہے۔ رسول اللہa نے حدیبیہ میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ قیصر وکسریٰ کی نسبت رسول اللہa نے یہ نہیں فرمایا کہ میں اس کا مالک ہوں گا بلکہ صحابہؓ کے لئے پیشگوئی کی ہے کہ وہ مالک ہوں گے، اس کا ظہور ہوا، اس سردار دوجہاں کی کوئی پیش گوئی غلط نہیں ہوئی اور نہ ہوسکتی تھی اگر ایک پیش گوئی بھی غلط ہوجائے تو بہت جھوٹے رمال جفار وغیرہ دعویٔ مہدویت کرکے اپنی پیش گوئیوں کو اپنی صداقت میں پیش کرسکتے تھے اور حسب معمول اگر بعض پیشگوئیاں غلط نکلتیں تو رسول اللہa کی اس غلط پیشگوئی کو دکھا کر اپنی صداقت ثابت کرسکتے تھے، اس لئے مسلمان کو یہ ماننا ضرور ہے کہ جناب رسول اللہa کی کوئی ایسی پیش گوئی نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اس کے سوا مرزا قادیانی تو اپنی پیش گوئی میں یہ فرماچکے ہیں کہ اگر یہ سچی نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں اور اس دعوی کے بعد وہ پیش گوئی غلط ہوگئی، پھر آپ مرزا قادیانی کو سچا کیوں مان رہے ہیں؟ ذرا غور کیجئے اور اپنے حال پر رحم فرمائیے اب تو مرزا قادیانی کا کذب ان کے قول سے ظاہر ہوگیا ایسے بدیہی ثبوت کے بعد مرزا قادیانی کی کسی دلیل کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں رہی، مگر آپ حضرات کی دلی خیر خواہی نے مجبور کیا کہ ان کی صداقت میں جو سب سے زیادہ قوی اور عظیم الشان دلیل مرزا قادیانی نے بیان کی تھی الحمدللہ کہ اس کا غلط ہونا بھی اظہر من الشمس کردیاگیا اور کامل طور سے اس کا قطع وتین ہوگیا۔

اگر آپ طالب حق ہیں تو اس رسالہ فیصلہ آسمانی کے حصہ دوم کو اول سے آخر تک ملاحظہ کریں، دیکھنے کے بعد آپ معلوم کرلیں گے کہ مرزا کا غلط ہونا قرآن مجید سے حدیث سے واقعات گزشتہ اور حالات موجودہ سے ثابت ہوگیا اور عقلی دلائل سے بھی اس کی غلطی اظہر من الشمس ہوگئی الغرض کوئی دقیقہ اس دلیل کے غلط ہونے میں باقی نہیں رہا اس کے بعد بھی اگر آپ سچائی کو نہ مانیں تو اس علام الغیوب کے روبرو اس کا بدلہ لینے کے لئے تیار رہیں جس نے صادق اور کاذب کی سزا اور جزا کے لئے ایک دن مقرر کیا ہے اس دن ہماری خیر خواہی اور سچائی آفتاب کی طرح آپ پر روشن ہوجائے گی۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلاَغُ الْمُبِیْن وَاللّٰہُ یَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی خَاتِمِ النَّبِیِّیْنَ لاَنَبِیِّ بَعْدِہٖ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمت بالخیر

152

فیصلہ آسمانی

ملقب بہ دلائل حقانی

حصہ سوم

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

153

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعریف اسی ذات اقدس کے لئے زیبا ہے جو ہر عیب سے پاک اور اپنے بندوں پر کمال مہربان ہے جس نے ہماری ہدایت کے لئے اپنے برگذیدہ رسول بھیجے حق اور باطل کے تمیز کرنے کے لئے، عقل سلیم عنایت کی۔

اللّٰھم صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ الْھَادِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔

برادرانِ اسلام ! اس ناچیز نے محض آپ کی خیر خواہی کے خیال سے رسالہ فیصلہ آسمانی لکھا ہے یہ اس کا تیسرا حصہ ہے۔ طالبین حق سے میں التجا کرتا ہوں کہ اس رسالہ کو بنظر غور ملاحظہ کریں۔ مذہب اسلام کی روشنی جب سے پھیلی ہے اس کے دوسری صدی سے ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہوئے جنہوں نے اسلام کو بظاہر مان کر اس کی روشنی کو ماند کرنا چاہا اور اس بہترین امت کو فتنہ میں ڈالا۔ کتنوں نے نبوت کا دعویٰ کرکے خلق کو گمراہ کیا بعضے مہدی موعود بن کر بادشاہ ہوگئے۔ لاکھوں کے مقتداء قرار پائے، غرض کہ اپنی لیاقت اور ہمت اور کوشش کے بموجب کامیاب ہوئے اور بعض ناکام رہے ہندوستان میں بھی ایسے لوگ ہوئے مثلاً نویں صدی میں محمد جونپور میں ایک شخص ہوا۱؎ اس نے مہدی ہونے کا دعوی کیا اور اپنے آپ کو تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل بتایا اور اس کی سحر بیانی کی وجہ سے لاکھوں نے اسے مانا اور اس وقت اسے مرے ہوئے چار سو برس (۴۰۰) سے زیادہ ہوگئے مگر اب تک اس کے ماننے والے حیدر آباد وغیرہ میں موجود ہیں۔تیرہویں صدی میں علی محمد باب ۲؎نے ملک فارس میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔

۱؎

محمد کی پوری حالت رسالہ ہدیہ مہدویہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔ یہ رسالہ مطبع نظامی کانپور ۱۳۸۷ھ میں چھپا ہے مرزا قادیانی کی حالت اس کے بہت مشابہ ہے اور اس کے مریدین کی حالت ان کے مریدین سے۔ جن حضرات کو مرزا قادیانی کی طرف میلان ہو وہ اس رسالہ کو دیکھیں اور اس کی حالت کو مرزا قادیانی کی حالت سے ملائیں، میں آپ کی محض خیر خواہی سے آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔

۲؎

علی محمد باب کی حالت رسالہ مذہب الاسلام مطبوعہ پیسہ اخبار لاہور کے خاتمہ سے اور سفر نامہ حافظ عبدالرحمن صاحب امرتسری مطبوعہ مفید عام لاہور سے معلوم کرنی چاہئے۔ جن حضرات کو تحقیق حق کا شوق ہو اور مرزا قادیانی کی طرف انہیں رحجان ہو وہ اس کی حالت پر غور کریں۔ اس کے مریدین کی حالت جہاں تک سنی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے مریدوں سے بہت اچھے تھے۔ کچھ عرصہ ہوا ان کے خلیفہ عبدالبہاء لندن میں آئے تھے اور بعض اہل ولایت نے انہیں اعزاز سے لیا تھا اور ان کی تقریر سننے کے لئے وہاں کے لوگوں کو دعوت دی تھی اور انہوں نے فارسی میں لیکچردیا تھا اور مترجم انگریزی میں ترجمہ کرتا گیا تھا مرزا قادیانی کے ایک مرید خواجہ کمال الدین وہاں پہنچے ہیں اور ایک اخبار بھی جاری کیا ہے۔ مگر وہاں ان کی وقعت نہیں ہے ایک مرتبہ انہوں نے لیکچر دینے کے لئے مجمع کیا مگر ان کی تقریر کی تمہید بھی پوری نہ ہوئی تھی کہ اکثر لوگ چلے گئے۔

154

باوجود حاکم وقت کی مخالفت کے کثرت سے اس کے ماننے والے ہوئے اور اس وقت اس کے ماننے والے بمبئی، رنگون، استنبول، مصر، شام، امریکہ، لندن، وغیرہ میں موجود ہیں۔

اسی طرح چودہویں صدی میں ہندوستان کے خطۂ پنجاب میں یہ فتنہ اٹھا اور مرزا غلام احمد ساکن قادیان نے معجون مرکب ہونے کا دعوی کیا۔ یعنی یہ کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے ’’ میں مہدی اور مسیح ہوں ‘‘ اور ’’ہندوؤ ں کے لئے کرشن ہوں ‘‘ ان کے حالات معلوم کرنے سے اس کی بنیاد یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابتداء میں مرزا قادیانی اچھے مزاج اور ذی علم تھے اور مناظرہ اور تحریر کا ذوق طبعی تھا۔ اس کے ساتھ جبلی طور سے ان کی طبیعت میں علو اور کبر تھا۔ اتفاقااس وقت پادریوں کا زور تھا، ان سے مقابلہ کا اتفاق ہوا اور اسلام کی حقانیت کے اثبات میں دلائل لکھنے کا ارادہ کیا۔ براہین احمدیہ لکھنا شروع کیا۔ پہلی دلیل جو انہوں نے لکھی چونکہ خلقی طور سے ان کی طبیعت میں علو تھا۔ اس لئے وہ خود ان سے متاثر ہوئے اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑا قابل اور مضمون نگار سمجھنے لگے اور ان کی قابلیت کی خیالی عظمت نے ان کے ذہن میں یہ جمادیا کہ ایسی تین سو دلیلیں ہم لکھ سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے بڑے زور سے نہایت جلی حرفوںمیں اعلان کیا۔ ( چونکہ وہ خیالی علو کا ثمرہ تھا اس لئے وہ پورا نہ کرسکے ) چونکہ براہین میں جو دلیل( لکھنے کی بات کی گئی) تھی وہ عمدہ دعویٰ تھی اس لئے ہر طرف سے آفرین اور مرحبا کی صدا بلند ہوئی اور ان کی طرف لوگ متوجہ ہوئے۔ تعریف ہونے لگی، اور روپیہ بھی آنے لگا۔ اب خدا تعالیٰ کا امتحان شروع ہوا اور سخت ابتلاء پیش آیا جس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح ہوا ہے: ’’فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَابْتَلٰہُ رَبُّہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَنَعَّمَہٗ فَیَقُوْلُ رَبِّیْٓ اَکْرَمَنِ‘‘ (الفجر:۱۵) پر وردگار جب کسی انسان کو آزمائش میں ڈالتا ہے تو اس کا اکرام کرتا ہے۔ یعنی خلق کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے اور مخلوق اس کی عظمت کرنے لگتی ہے اور دنیاوی نعمتیں بھی اسے ملنے لگتی ہیں۔ اس وقت یہ شخص سمجھتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری عظمت کی، میں مقبول خدا ہوگیا۔ اس حالت میں اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہتا اور جیسی طبیعت اس کی عالی ہوتی ہے ویسا ہی عالی دعویٰ کرنے لگتا ہے خلق کا رجوع ہونا اور خوش حالی سے گزر ہونے لگنا سخت ابتلاء ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کا دماغ بگڑا اور پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا پھر جس قدر لوگوں کی توجہ زیادہ ہوئی اور اہل کمال ذی علم نے قابل توجہ نہ سمجھ کر سکوت اختیار کیا، اس وجہ سے مرزا قادیانی نے اپنے مقابل میں سب کو جاہل خیال کرکے جو جی میں آیا کہنا شروع کیا اور دلی خواہش ان کی یہ ہوگئی کہ ساری دنیا مجھے اپنا مقتداء مان لے اور دنیا کے تمام باشند ے یعنی ہندو، مسلمان، عیسائی وغیرہ سب مجھے اپنا پیشوا

155

بنالیں۔ مگر افسوس ہے کہ بجز چند مسلمانوں کے اور کسی نے انہیں نہیں مانا اور ان کی ذات سے مسلمانوں کی تعداد میں کچھ بھی اضافہ نہ ہوا اور بڑی حسرت اور افسوس کی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے تمام اہل اسلام کے کفر کا فتویٰ دے دیا۔ جنہوں نے انہیں نہیں مانا اور دنیا کے (۲۳) کروڑ مسلمانوں کو کافر بنادیا اور کسی کافر کو مسلمان نہ بنایا۔

اسلام کے لئے اس سے زیادہ اور کیا آفت ہوسکتی ہے کہ تمام دنیا سے اسلام گویا نابود ہوگیا؟ اب ان کے گدی نشین اور صاحبزادے کا اس پر اصرار ہے ۱؎ کہ سب کو کافر بنایا جائے اور کسی سے میل نہ رکھا جائے جس روز سے کوشش مرزا قادیانی نے اپنی شہرت اور پیشوا بننے میں کی اس کے لحاظ سے تو گویا ناکام رہے۔ کیوں کہ دنیا کی آبادی میں جو بہت بڑے دو گروہ عیسائی اور ہندو ہیں ان میں کوئی ان پر ایمان نہ لایا۲؎۔اب رہے مسلمان ان میں سے بعض کا انہیں مان لینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ کیوں کہ پہلے ان کی ظاہری اصلاح اور دینی حمایت یعنی عیسائی اور آریہ کے جوابات نے ان کی طرف بہت لوگوں کو متوجہ کردیا۔ پھر دعویٔ مہدویت کے بعد انہوں نے اپنی پیچدار تحریروں کا ایسا سلسلہ پھیلایا کہ بعض اہل علم بھی اس میں آگئے اور پھر نکلنا مشکل ہوگیا۔ اور ہمیں بھی ماننے میں کیا عذر ہوسکتا تھا اگر ان میں وہ باتیں پائی جاتیں جو مقتداء اور برگذیدۂ خدا حضرات میں ہونا چاہئیں۔ بزرگوں کے حالات کی کتابیں ملاحظہ کی جائیں ان کی مفید ہدایات کو دیکھا جائے۔

۱؎

رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء ملاحظہ ہو۔

۲؎

میرے علم میں ان کی تمام عمر کی کوشش میں ایک عیسائی یا ہندو ان پر ایمان نہیں لایا اگر دو ایک غیر مشہور عیسائی یا ہندو ان پر ایمان لائے ہوں تو ان کے اس عظیم الشان دعوی اور ایسی بلیغ کوشش کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ہے کیوں کہ جن دیندار علماء کو کچھ بھی اپنے فضل وکمال کا دعویٰ نہیں ہے ان کے ہاتھ پر کتنے عیسائی اور ہندو توبہ کرچکے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کی عیسویت اور مہدویت کی خصوصیت کیا ہوئی ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تثلیث کے ستون کو توڑنے آیاہوں اب کوئی ان کا ستون توڑنا دکھائے۔ بھائیو ! کچھ تو خوف خدا کرو جو شخص بڑے زور سے یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اگر میں تثلیث پرستی کے ستون کو نہ توڑوں تو میں جھوٹا ہوں۔ اب تم انصاف سے کہو کہ جس کا یہ دعوی ہو اس کے ہاتھ پر سو دوسو عیسائی تثلیث پرست مسلمان نہیں ہوئے۔ پھر اس نے تثلیث پرستی کے ستون کو کس طرح توڑا ؟ جب اتنا خفیف اثر بھی تثلیث پر اس کا نہ ہو تو کیاوجہ ہے کہ اس کے اقرار کے بموجب اسے کاذب نہ مانا جائے ؟ اور بزرگوں کے حالات تاریخ میں دیکھو کہ ان کی ذات سے کس قدر یہود ونصاری اور دیگر کفار اور گنہگار ان کے ہاتھ پر توبہ کرتے تھے۔

156

پھر مرزا قادیانی کے حالات پر غور سے نظر کی جائے تو بدیہی طور سے حق وباطل کا فرق معلوم ہوتا ہے مگر طلب حق ہو اور عنایت خدا وندی اس کی مدد کرے۔ حضرت امام مہدی کی علامتیں تو صحیح حدیثوں میں موجود ہیں۔ وہ ان میں ہوتیں تو سر آنکھوں پر انہیں لیتے، مگر نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے تو کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہ پائی گئی بلکہ ان علامتوں کے بالکل برخلاف ظاہر ہوا اور ہورہا ہے ؟۔

بھائیو! ذرا غور کرو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے قبل کیسے کیسے عالی مرتبت اولیاء اﷲ گزرے مثلاً۱؎ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ حضرت مجدد الف ثانیؒ جن کے سلسلے میں جانشین قادیانی حکیم نورالدین مکہ معظمہ پہنچ کر داخل ہوئے تھے اور اب بھی ان کا مرید بتاتے ہیں۲؎ ۔ ان حضرات سے مسلمانوں کو اور اسلام کو بہت کچھ فائدہ پہنچا اور سینکڑوں اولیاء اﷲ ان کے سلسلہ میں ہوئے جن کی کرامات ونشانات کے دفتر لکھے ہوئے اس وقت موجود ہیں بایں ہمہ ان بزرگوں کی خبر قرآن وحدیث میں نہیں دی گئی مگر حضرت امام مہدی اور حضرت مسیح علیہ السلام کا غل سینکڑوں برس سے ہے اور ان کے آنے کی خبر حدیثوں میں دی گئی ہے اور خاص وعام میں ان کا انتظار ہے پھر یہ کیوں ؟ یہ اس لئے ہے کہ ان کی ذات سے اسلام کو مسلمانوں کو ایسا عظیم الشان فائدہ دینی اور دنیاوی پہنچے گا کہ کسی اولیاء اﷲ کی ذات مقدس سے نہ پہنچا ہوگا۔

۱؎

شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ آپ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ حضرت کی کوئی مجلس یہود ونصاریٰ اور دیگر کفار اور عصاۃ سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ آپ کی وجہ سے پانچ سو سے زیادہ یہود ونصاری مسلمان ہوئے۔ مرزا قادیانی کی تو پچیس تیس برس کی بے انتہا کوشش اور اپنی مدح سرائی سے کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ اس پر تمام اولیاء سے برتری کا دعوی ہے۔ اب ان کے خلیفہ اور متبعین کوشش کررہے ہیں۔ اس پر کیا ہوا خواجہ کمال الدین جو لندن میں جاکر کوشش کررہے ہیں تو اس وقت تک نفس مذہب اسلام پر لیکچر دیتے ہیں اگر وہاں کوئی مسلمان ہو تو وہ اسلام کی خوبی کا اثر ہے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ خواجہ صاحب مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے۔ درحقیقت وہ اس عظیم الشان مسئلہ میں مرزا قادیانی کے مخالف ہیں۔ اور بالفرض اگر وہاں کوئی مرزا قادیانی کو بھی مان گیا تو ایسا ہی ہوا جیسا بعض عیسائی شیخ علی محمد بابی اور شیخ عبدالبہاء کو مان چکے ہیں۔

۲؎

خلیفہ صاحب نے مکہ معظمہ میں شاہ عبدالغنی صاحبؒ سے بیعت کی تھی اور اخبار بدر میں خلیفہ صاحب لکھتے ہیں کہ میں اب بھی ان کا مرید ہوں۔ شاہ صاحب مرحوم حضرت مجدد ؒ کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کے خلیفہ مولوی عبدالحق صاحب مہاجر مکہ معظمہ میں موجود ہیں، وہ کہتے تھے کہ شاہ عبد الغنی صاحب فیض یافتہ حضرت مولانا فضل رحمن صاحب گنج مرادآبادیؒ کے تھے یعنی حضرت ممدوح سے بہت کچھ فیض حاصل کیا تھا۔

157

اب یہ بتایا جائے کہ مرزا قادیانی کے آنے سے کیا فائدہ پہنچا ؟ اسلام کی کیا ترقی ہوئی؟ مسلمانوں کی تعداد میں کس قدر ترقی ہوئی ؟ان کی نکبت اور پریشانی میں کیا کمی ہوئی؟ ذرا نظر اٹھاکر دیکھو پھر ہر طرف ناکامی اور تنزلی کی گھٹا چھائی ہوئی دیکھو گے۔ اگر آپ کو دنیا کی حالت پر نظر ہے اور مسلمانوں کے دلی درد مند ہیں تو ملاحظہ کیجئے کہ مرزا قادیانی کا وجود شریف جب سے ہوا اور جب تک وہ زندہ رہے اور اب ان کے خلیفہ موجود ہیں، اس عرصہ میں کس قدر مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت میں تنزل ہوا؟ کئی اسلامی سلطنتیں زیروزبر ہوگئیں۔

ہندوستان میں دیکھو کہ کتنی زمینداریاں مسلمانوں کی ہنود کے ہاتھ میں جاچکی ہیں اور مسلمان تاجروں کا کیا حال ہورہا ہے۔ دینداری کی حالت دیکھی جائے کہ کیسی افسوسناک ہورہی ہے۔ حدیثو ں میں جو حالت مسلمانوں کے شوق عبادت کی امام مہدی کے وقت میں بیان ہوئی ہے اسے خیال کیجئے اور اب مسلمانوں کی حالت کو دیکھئے تو رونا آتا ہے شوق عبادت تو بڑی بات ہے اب تو عبادت کا خیال بھی بہت کم معلوم ہوتا ہے جو ان (مرزا) پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی صحبت میں رہ کر صحابی کا لقب حاصل کرچکے ہیں۔ خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ ان کی حالت بیان کرنے سے شرم آتی ہے اور دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں۔ نہ ان کی صورت صلحاء کی سی ہے نہ ان کے حالات واقوال نیکوں اور سچوں کے سے ہیں اور روحانیت کا غلبہ اور اہل دل ہونا تو عظیم الشان بات ہے۔ میں اس کی تفصیل نہیں کرتا دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں اور جنہیں خوف خدا اور طلب حق ہے وہ کچھ دن بری صحبت سے علیحدہ ہوکر مرزا قادیانی اور ان کے متعلقین کے حالات پر انصاف سے غور کریں۔ پھر اﷲ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ امر حق ان پر آفتاب کی طرح روشن ہوجائے گا۔

یہ ایسی بدیہی اور روشن باتیں ہیں کہ ان پر تھوڑا غورکرنے کے بعد کوئی حق پسند مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں تامل نہیں کرسکتا اور کسی حجت اور دلیل کی اسے حاجت نہیں رہتی مگر میں نے بنظر کمال خیر خواہی اور اتمام حجت ان کے دلائل کی حالت بھی اظہر من الشّمس کردی ہے اور دکھایا ہے کہ جو دلیلیں ان کی صداقت میں پیش کی جاتی ہیں انہیں سے ان کا کاذب ہونا ثابت ہے۔ مثلا (۱) بعض وقت قرآن مجید کی بعض آیتوں سے ان کی صداقت ثابت کی جاتی ہے۔ اس کا نمونہ رسالہ ’’معیار المسیح‘‘ میں دکھایا گیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ یہی آیتیں ان کے کاذب ہونے کی دلیلیں ہیں اور حق پسند نظریں انہیں دیکھ چکی ہیں اور ان کے دل میں میرے بیان کی

158

صداقت سماگئی ہوگی۔ ان مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جن حضرات کی مختصر حالت ابھی بیان کی گئی، ان کی صداقت کا ثبوت قرآن مقدس میں سمجھتے ہیں۔

(۲) بڑی دلیل مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کی گہنوں کا اجتماع بیان کیا تھا اور اس کے بیان میں خاص رسالے لکھے تھے اور آسمانی شہادت اسے ٹھہرایا تھا اور جابجا اپنے رسالوں میں بڑے شدومد سے اسے پیش کیا تھا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ۱۳۱۲ھ ماہ رمضان میں چاند گہن اور سورج گہن کا اجتماع ہوا تھا۔ مرزا قادیانی نے ایک نہایت ضعیف بلکہ موضوع روایت پیش کرکے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ یہ اجتماع امام مہدی کے وقت میں ہوگا اس سے پیشتر کبھی اس کا ظہور نہ ہوا ہوگا۔ چونکہ یہ اجتماع میرے وقت میں ہوا اس لئے میں مہدی ہوں۔

اس غلط فہمی یا دانستہ غلطی کے اظہار میں رسالہ’’ شہادت آسمانی ‘‘لکھا گیا اور بحمد اﷲ آفتاب کی طرح روشن کرکے دکھایا گیا کہ یہ سب خیالات مرزا قادیانی کے محض غلط اور بے سروپا تھے۔ نہ گہنوں کے ایسے اجتماع کو کسی حدیث میں امام مہدی کی علامت بیان کیا ہے اور نہ یہ اجتماع عقلا اور نقلا علامت ہوسکتی ہے۔ کیوںکہ ایسے اجتماع بہت ہوچکے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ حضرات ناظرین اس رسالہ کو ضرور ملاحظہ کریں۔

(۳) مرزا قادیانی کی صداقت کی وہ دلیل جسے انہوں نے نہایت ہی عظیم الشان ٹھہرایا تھا۔ یعنی منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا اور اس کے شوہر کا مرنا اس کا غلط ہونا تو ایسا روشن ہوا کہ ہر کہہ ومہ نے اسے دیکھ لیا اور معلوم کرلیا ہے کہ اسی کے بیان میں رسالہ ’’فیصلہ آسمانی‘‘ لکھاگیا۔ جس نے اظہر من الشمس کردیا کہ مرزا قادیانی یقینا کاذب تھے اور انکا کاذب ہونا نصوص قطعیہ اور آیات قرآنیہ سے اور ان کے پختہ اقراروں سے نہایت روشن ہے اس سے بڑھ کر ان کے کاذب ہونے کا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس پیشین گوئی کے غلط ہونے کا جواب میں عاجز ہوکر عجیب عجیب طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں مگر اس پر نظر نہیں کی جاتی کہ مرزا قادیانی اپنی صداقت کی دلیل میں نہایت عظیم الشان دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ میرا نکاح محمدی بیگم سے ہوگا اور اس کا شوہر میرے روبرو مرے گا۔

جب دنیا پر واقعات نے روشن کردیا کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئی اور اس کا شوہر مرزا قادیانی کے روبرو نہیں مرا تو اظہر من الشمس ہوگیا کہ مرزا قادیانی نے جس بات کو اپنی صداقت کا نہایت عظیم الشان نشان قراردیا تھا۔ اس کا ظہور نہ ہوا اب اس کی وجہ جو ہو

159

اس کو ماننا ہر طرح ضروری ہے کہ وہ معجزہ ظاہر نہیں ہوا جسے انہوں نے عظیم الشان قرار دے کر دنیاکو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

الغرض مذکورہ رسائل کو دیکھ کر کسی طالب حق کو اس میں شبہ نہیں رہ سکتا کہ مرزا قادیانی کی دلیلیں محض غلط تھیں کسی دلیل سے ان کی صداقت ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ مرزا قادیانی اپنے مقررکردہ معیار اور اپنے پختہ اقراروں سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔

الحمدﷲ، اتمام حجت ہر طرح سے کردیا گیا مگر افسوس ہے کہ مرزائی جماعت میں ایسے حضرات نظر نہیں آتے کہ ایسے محققانہ اور مہذبانہ رسالوں کو تحقیق وانصاف کی نظر سے دیکھیں بعض نے ہمارے خلاف میں کچھ لکھا بھی ہے مگر سوائے غلط دعوؤں کے دلیل کا نشان نہیں ہے۔ ان کی تحریر نہایت بے تہذیبی سے گندہ اور عقل وانصاف سے معرا ہے اور اس وقت جو ان کے مقتداء ہیں باوجود دعویٔ مہذب ہونے کے ایسے بیہودہ اور بے عقلی کی تحریروں پر اپنی جماعت کو متنبہ نہیں کرتے بلکہ اپنے اخباروں میں ان گندہ اور محض غلط تحریروں کی تعریف چھاپتے ہیں اور خود جواب دینے کی جرأت نہیں کرتے مگر وہ ارشاد نبوی کو یاد رکھیں:کلّکم مسئول عن رعیتہ، میدان حشر میں اس افسری کی حقیقت کھل جائے گی۔ اب میں بغرض حصول برکت اصل مقصد بیان کرنے سے پہلے ایک پیشین گوئی اصدق الصادقین حبیب رب العالمین کی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اگر آپ کو امت محمدیہ ہونے کا فخر حاصل ہے اور کامل یقین ہے کہ انسان کو حیات ابدی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے کہ وہ حضور انور جناب محمد رسول اﷲa کا پورا پیرو اور ساری باتوں کا ماننے والا ہو اور بتقاضائے نفس ’’نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ‘‘(النسآء:۱۵۰) اس کی حالت نہ ہو تو ضرور آپ توجہ سے اسے ملاحظہ کریںگے اور اسی کے بموجب اعتقاد رکھیں گے وہ رسول برحق کی سچی پیش گوئی یہ ہے :

’’سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وأنا خاتم النّبیین لانبی بعدی ۔‘‘

( ترمذی باب لاتقوم حتی یخرج کذابون ج ۲ ص ۴۵)

’’ولا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق لایضرہم من خالفہم حتی یاتی امر اللّٰہ‘‘(مسلم باب قولہ لاتزال طائفۃ ج ۲ ص۱۴۳، ترمذی باب ماجاء فی ائمۃ المضلین ج ۲ ص۴۷، ابوداؤ د واللفظ لہ باب ذکر الفتن ج۲ ص۱۲۷ وغیرہم من ائمۃ الحدیث)

160

میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ( اس لئے ان کا یہ دعوی کرنا ہی ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے ) میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ حق پر رہے گا اور غالب رہے گا اس کے مخالف اسے ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ خدا کا حکم یعنی قیامت آجائے۔

اس حدیث میں جناب رسول اﷲa نے خبر دی ہے کہ میرے بعد نبوت کے جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یعنی میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا۔ اس سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔

اس حدیث سے اس کا بھی فیصلہ ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرا لنبیین کے ہیں یعنی کلام خدا ورسول میں جن کو نبی کہا گیا ہے ان سب کے بعد آنے والے۔

جناب رسول اﷲa کو خاتم النّبیین مان کر یہ کہنا کہ آپa تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں یا تمام انبیاء علیہم السلام کے لئے زینت یا مہر ہیں محض غلط اور قرآن شریف میں تحریف کرنا ہے یہ دونوں تراشیدہ معنوں کی غلطی اس حدیث نے ظاہر کردی۔ اگر خاتم النّبیین کے معنی میں کوئی تخصیص کی جائے یا اس کے دوسرے معنی لئے جائیں تو جملہ ’’وانا خاتم النّبیین‘‘ان کاذبوں کے جھوٹے ہونے کی وجہ نہیں ہوسکتا۔ واقعات اور تاریخ سے ظاہر ہے کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت نے جناب رسول اﷲa کو مان کر دعوی کیا ہے ان میں کل یا اکثر ایسے ہی ہیں جنہوں نے نبو ت غیر تشریعی کا دعوی کیا ہے اس لئے ان کے کذب کے لئے حضور کا یہ ارشاد صحیح نہ ہوگا۔ (نعوذ باﷲ )

الحاصل ! یہ حدیث قرآن مجید کے مطابق اور آیت ’’ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النّبیین‘‘ کے بعض مضمون کی تفسیر ہے۔ اس حدیث نے اول تو خاتم النّبیین کے معنی بیان کر دیئے یعنی اتمام انبیاء کرام بمنزلۂ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ حضرت محمد سلطان الانبیاء ہیں۔ اب آپa کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ آپa کی ہدایت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا اور آپa کی شریعت حقہ کی روشنی عمل کرنے والوں کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔ ہاں علمائے امت اور مجدد دین ہوں گے جو آپ کے دین مستقیم کی حقانیت کو ظاہر کرتے رہیں

161

گے اور مسلمانوں کی خراب حالت کی درستگی ان کا کام ہوگا اور یہ بھی بشارت حضور انورa نے دے دی کہ یہ گروہ حقانی، جھوٹوں پر گمراہوں پر غالب رہے گا اس لئے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہ رہی۔ اسی مضمون کی شہادت میں بہت حدیثیں پیش ہوسکتی ہیں۱؎ ۔

مگر بغرض اختصار صرف دو حدیثیں یہاں نقل کی جاتی ہیں صحیح مسلم باب فی اسمائہ ج ۲ ص ۲۶۱ میں رسول اﷲa کا ارشاد اس طرح روایت کرتے ہیں:

(۱) ’’ انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی۔ ‘‘ میں عاقب ہوں (یعنی پیچھے آنے والا ) اور عاقب وہ ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

۱؎

نمونہ کے طور پر چند حدیثوں کے بعض الفاظ آپ کے روبرو پیش کئے جاتے ہیں تاکہ میرے دعوے کی صحت میں آپ کو تامل نہ رہے۔ (۱) لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب ( ترمذی باب مناقب عمر ج ۲ ص ۲۰۹ ) اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ نبوت کا مرتبہ آپa کے بعد کسی کو نہیں ملے گا۔ (۲) لانبوۃ بعدی الا المبشرات (مسند احمد ج ۵ ص ۴۵۴) میرے بعد نبوت نہیں مگر مبشرات ہیں۔ یعنی بزرگوں کو صلحاء کو خواب میں بعض باتیں معلوم ہوتی رہیں گی۔ (۳) ان الرسالۃ والنبوۃ قدانقطعت فلارسول بعدی ولا نبی (ترمذی باب ذھبت النبوۃ وبقیۃ المبشرات ج ۲ ص ۵۳) بلاشبہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ہے۔ (۴) عبداﷲ بن عمر کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اﷲa مکان سے تشریف لائے اور تین مرتبہ فرمایا انا النبی الامی ولا نبی بعدی ( مسند احمد ج ۲ ص ۷۲) میں نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے۔ یہ حدیثیں امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہیں اور مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں فختمت الانبیاء ( مسلم باب ذکر خاتم النّبیین ج ۲ ص ۲۴۸ ) وختم بی النبیون (مسلم باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ج ۱ ص ۱۹۹) یعنی رسول اﷲa فرماتے ہیں انبیاء کا خاتمہ مجھ پر کیا گیا۔ اس مضمون کی روایتوں سے حدیث کی کتابیں بھری ہیں۔ بیس صحابی اس مضمون کے روایت کرنے والے اس وقت میرے پیش نظر ہیں اور کامل تلاش سے کس قدر ہوں گے۔ اسے میں نہیں کہہ سکتا۔ الغرض عام طورسے ختم نبوت کا ثبوت قرآن وحدیث سے کامل طور سے ہے مگر نبوت تشریعی اور غیر تشریعی کا فرق کرکے کسی ضعیف روایت میں بھی پتہ نہیں چلتا کہ نبوت غیر تشریعی ختم نہیں ہوئی۔ جن صحابہ نے ختم نبوت کی حدیثیں روایت کی ہیں ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں: ( ۱) جابر بن عبداﷲ (۲) ابوسعید خدری (۳) ابوالطفیل (۴) ابوہریرہ (۵) انس بن مالک (۶) عفان بن مسلم (۷)ابی معاویہ (۸) جبیر بن مطعم (۹) عبداﷲ بن عمر (۱۰) ابی بن کعب (۱۱) حذیفہ (۱۲) ثوبان (۱۳) قتادہ (۱۴) عبادہ بن صامت (۱۵) عبداﷲ بن مسعود (۱۶)جابر (۱۷) عبداﷲ بن عمرو (۱۸) عائشہ (۱۹) عبداﷲ بن عباس (۲۰) عطاء بن یسار رضی اﷲ عنہم اجمعین!

162

جناب رسول اﷲa کے نام بہت ہیں ان میں ایک نام عاقب بھی ہے اس کے معنی پیچھے آنے والا اس حدیث میں جناب رسول اﷲa نے اس نام کی شرح فرمادی جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام انبیاء کے پیچھے آنے والا اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس بیان نے خاتم النّبیین کی نہایت واضح شرح کردی یعنی پہلی حدیث میں تھا۔ انا خاتم النّبیین لانبی بعدی۔ اور یہاں اس جگہ ارشاد ہوا۔ انا العاقب یعنی میں سب نبیوں کے بعد آنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس حدیث نے خاتم النّبیین کے لفظی معنی آخرالنّبیین کے صاف طور سے کردئیے اور یہی معنی محاورۂ عرب کے مطابق ہیں جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ الغرض اس الہامی لفظ کے معنی صاحب الہام نے وہی بیان فرمائے جو عرب کے محاورہ کے بالکل مطابق ہیں۔

(۲)صحیح بخاری میں ہے :’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تأمرنا قال فواببیعۃ الاول فالاول اعطوہم حقہم فان اللّٰہ سائلہم عما استر عاہم۔‘‘

( بخاری باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ج ۱ ص ۴۹۱)

بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے۔ جب کوئی نبی انتقال کرتا تو ان کی جگہ دوسرا نبی قائم ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ خلفاء ہوں گے (جو مسلمانوں کے تمام امور کا نظم کریں گے) اور ان کی کثرت ہوگی۔ صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ ہم کو کیا ارشاد فرماتے ہیں (یعنی جب بہت سے ہوںگے تو اگر ایک وقت میں کئی ہوئے تو ہم کو کیا کرنا چاہئے ) حکم ہوا کہ جس سے پہلے بیعت کرلو اس کو پورا کرو اور ان کے حقوق کو ادا کرتے رہو۔ اﷲ تعالیٰ خلفاء سے ماتحت کی نسبت سوال کرے گا کہ کس طرح انہوں نے رعیت سے برتاؤ کیا۔ اس حدیث سے نہایت صفائی سے ظاہر ہوگیا کہ آپa کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ امت کی سیاست خلفاء کے ہاتھ میں ہوگی اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ خلفاء سب راشدین ہوںگے۔

اس حدیث سے خود ظاہر ہے کہ ان کی حالت اچھی نہ ہوگی مگر چونکہ حاکم ہوںگے اس لئے ان کی اطاعت کے لئے ارشاد ہوا اور کہا گیا کہ ان کی حالت کو خدا پر چھوڑ دینا خدا ان سے باز پرس کرے گا۔ دوسری حدیث سے اس کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ خلافت راشدہ کا زمانہ زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف تیس برس کے اندر محدود ہے۔ یعنی حضور انورa کے بعد تیس برس تک خلافت راشدہ رہے گی پھر خلافت کے ساتھ رشد کی صفت ضروری نہیں ہے۔

163

الحاصل ان حدیثوں سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ حضور انورa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں دیا جائے گا البتہ جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوںگے۔ اب میں مختصر طور سے یہ بیان کرتا ہوں کہ خاتم النّبیین کے جو معنی حدیث مذکور سے معلوم ہوئے اگر قرآن مجید کے الفاظ میں غور کیا جائے تو ان سے بھی یہی معنی ثابت ہوتے ہیں۔ کیوںکہ خاتم النّبیین میں جو لفظ خاتم ہے اس میں صرف تا کو زبر بھی ہے اور زیر بھی ہے۔ اگرچہ روایت کے لحاظ سے زیر زیادہ مستند اور معتبر ہے کیوں کہ زبر کی روایت کرنے والے صرف دو راوی ہیں باقی جتنے ماہرین قرآن اور قراء ہیں وہ سب زیر کے ساتھ روایت کرتے ہیں۱؎ مگر ہندوستان میں زبر کے ساتھ معمول اور مشتہر ہوگیا ہے اس لئے عوام سمجھتے ہیں کہ صحیح یہی ہے، مگر یہ ان کی ناواقفی ہے۔

کلام عرب میں خاتم کے کئی معنی ہیں۔ انگوٹھی، مہر، آخر القوم، یعنی جو سب سے آخر میں ہو۔ مگر یہ لفظ جب مضاف ہوجاتا ہے اس وقت کئی معنی نہیں رہتے، بلکہ مضاف الیہ کے اعتبار سے اس کے معنی خاص ہوجاتے ہیں۔ مثلا خاتم فضہ یعنی انگوٹھی چاندی کی یہاں خاتم خاص انگوٹھی کے معنی میں ہے اسی طرح جس وقت خاتم کو قوم وغیرہ کی طرف مضاف کریں گے مثلا خاتم القوم کہیں گے تو اس کے معنی صرف آخر قوم کے ہوںگے۔ دوسرے معنی نہیں ہوںگے۔ لسان العرب (ج ۴ ص ۲۵) جو اہل زبان کے نزدیک نہایت مستند لغت ہے۔ اس میں لکھا ہے ختام القوم وخاتِمہم وخاتَمہم، آخرہم یعنی لفظ ختام اور خاتِم اورخاتَم تینوں کو جب مضاف کرتے ہیں۔

مثلا خاتم القوم کہتے ہیں تو اس کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں یعنی ساری قوم کے آخر میں آنے والا۔ اسی طرح جب لفظ نبیین کی طرف مضاف ہوگا اور خاتم النّبیین کہیں گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ سب انبیاء علیہم السلام کے بعد آنے والا اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے کیوںکہ اگر اس کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ دیا جائے تو وہ آخر الانبیاء نہ ہوا۔

۱؎

علامہ جریر طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حسن اور عاصم کے سوا تمام قاری خاتم کے (ت) کو زیر پڑھتے ہیں بیضاوی کے حاشیہ شیخ زادہ میں ہے کہ عاصم کے سوا سب نے خاتم بکسر التاء پڑھا ہے اور تفسیر مدارک میں بھی اسی طرح ہے اور تفسیر روح المعانی میں ہے وقراء ۃ الجمہور خاتم بکسر التاء علی انہ اسم فاعل ای الذی ختم النّبیین والمراد آخرہم، اور فتح البیان میں بھی یہی ہے الغرض ان پانچ تفسیروں سے معلوم ہوا کہ سوائے ایک یا دو قاریوں کے سب نے خاتم کے (ت) کو زیر پڑھا ہے اس لئے زیادہ مستند زیر ہی ہے۔

164

الغرض قرآن پاک عرب کی زبان میں اتارا گیا ہے اس لئے اس کے الفاظ کے وہی معنی لئے جائیںگے جو عرب کے محاورہ میں ہیں اور اس بیان سے ظاہر ہوگیا کہ عرب کے محاورہ میں خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ یعنی سب کے آخر میں آنے والا، اس کے سوا دوسرے معنی نہیں ہوسکتے۔ اس بیان سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ آیت ’’ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النّبیین‘‘ اس باب میں نص قطعی ہے کہ جناب محمد رسول اﷲa آخر الانبیاء ہیں۔ آپa کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملے گا۔ آپa کے وجود باجود سے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آپa کی نبوت اور آپa کی شریعت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا۔ اہل علم اس کو سمجھتے ہوں گے کہ قرآن مجید اور حدیثوں میں اس مقام پر لفظ (النّبیین ) جمع سالم معروف با للام آیا ہے، ایسے لفظ کو اصول فقہ وغیرہ میں الفاظ عام شمار کیا ہے اس لئے خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ جس کو نبوت کا مرتبہ دیا گیا اور جس پر نبی کا اطلاق کیا جائے خواہ وہ ظلی اور بروزی نبی ہوں یا تشریعی اور غیر تشریعی جس قسم کے ہوں سب کے آپa خاتم ہیں۱؎ آپa کے بعد کسی قسم کی نبوت کا مرتبہ کسی کو نہ ملے گا۔

۱؎

یہی بات بعض کاملین امت محمدیہ کے کلام سے بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ کلام بھی روحانی اور القائی ہے۔ شاہ ولی اﷲؒ وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ ایں فقیر از روح پر فتوح آنحضرتa سوال کرد کہ حضرت چہ می فرمایند در باب شیعہ کہ مدعی محبت اہل بیت اند وصحابہ را بدوی گویند آنحضرتa بنوعی از کلام، روحانی القا فرمودند کہ مذہب ایشاں باطل است وبطلان مذہب ایشاں از لفظ امام معلوم می شود چوں ازاں حالت افاقت دست داد۔ لفظ امام تامل کردم معلوم شد کہ امام باصطلاح ایشاں معصوم مفترض الطاعت منصوب الخلق است ووحی باطنی در حق امام تجویز می نمایند پس در حقیقت ختم نبوت را منکر اند گوبزبان آنحضرتa خاتم الانبیاء می گفتہ باشند ۔‘‘ اس کے بعد جناب شاہ صاحب کے قول کے شرح میں قاضی صاحب فرماتے ہیں فقیر محمد ثناء اﷲ گوید کہ آنچہ حضرت شیخ را در بطلان مذہب امامیہ از جناب رسالت پناہ علیہ السلام القاشدہ وواضح گشتہ کہ عقیدہ شاں مستلزم انکار ختم نبوت است بطریق توارد بریں فقیر ہم واضح شدہ کہ فقیر آنرا در شمشیر برہنہ باستیعاب نوشتہ۔ یہ ہر دو بزرگان کاملین علماء اور واصلین خدا میں ہیں جن کے علم وفضل پر امت محمدیہ ناز وفخر کرتی ہے۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ شیعہ کا مذہب اس وجہ سے باطل ہے کہ آل اطہار اور ائمہ کبار کے ساتھ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں جس سے ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہے۔ اس عقیدہ میں شاہ صاحب چار باتیں لکھتے ہیں (۱) امام کو معصوم جانتے ہیں (۲) اس کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہیں (۳)یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ مخلوق کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ (۴) وحی باطنی ان پر اترتی ہے۔ ان چار باتوں میں آخری (بقیہ حاشیہ ص۱۶۶ پر)

165

الغرض جس طرح صحیح حدیثوں سے ثابت ہوا تھا کہ حضرت رسول اﷲa کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی اسی طرح قرآن مجید کی اس آیت نے اس مطلب کی صراحت کرد ی۔ الحاصل قرآن مجید کے نص قطعی اور مستند اور متعدد احادیث کے صریح الفاظ سے یقینی طور سے ثابت ہوگیا کہ حضور انور جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا، اس لئے آپ کے بعد جو نبوت کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے۔ البتہ علماء کاملین آپa کے نائب ہوتے رہیں گے اور وہ وہی کام کریںگے جو انبیاء بنی اسرائیل کرتے تھے۔

(صفحہ ۱۶۵ کا بقیہ حاشیہ ) دو باتیں انبیاء سے مخصوص ہیں۔ اور پہلی دو باتیں ان کو لازم ہیں البتہ چوتھی بات میں اس قدر کمی ہے کہ انبیاء کو ظاہری اور باطنی ہر قسم کی وحی ہوتی ہے اور امام کو صرف باطنی ہوتی ہے مگر باوجود اس کمی کے ان کے عقیدہ کو انکار ختم نبوت لازم ہے اور یہ دونوں حضرات کاملین شیعہ کو منکر ختم نبوت فرماتے ہیں۔ ان کے کلام سے یہ بھی ظاہر ہے کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں اور وہ نبی تشریعی یا غیر تشریعی جس طرح کا ہو جناب رسول اﷲa سب کے خاتم ہیں کیوں کہ شیعہ اماموں کو تشریعی نبی نہیں جانتے۔ مرزائی حضرات تو مرزا قادیانی کو رسول بلکہ انبیاء اولوالعزم سے افضل اعتقاد کرتے ہیں اور کامل وحی الٰہی کا ان پر اترنا ان کے عقیدہ میں ہے۔ مرزا قادیانی تو نزول وحی کا اس طرح دعوی کرتے ہیں کہ کسی نبی نے نہیں کیا چنانچہ حقیقۃ الوحی (ص ۱۵۰ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳ ) میں لکھتے ہیں : ’’ بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے اِس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا ‘‘ ملاحظہ کیا جائے کہ بارش کی طرح نزول وحی کا دعوی کسی نبی نے نہیں کیا مگر مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ ا س کے ساتھ صاف طور سے یہ بھی کہتے ہیں کہ صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ اس لئے بموجب ارشاد شاہ ولی اﷲؒ وقاضی ثناء اﷲؒ بھی مرزائی حضرات منکر ختم نبوت ہیں اور رسول اﷲa کو خاتم النّبیین نہیں مانتے گو زبان سے اس کا اظہار کریں اور اپنے اشتہاروں اور رسالوں میں چھاپیں کہ ہم رسول اﷲa کو خاتم النّبیین مانتے ہیں۔ جب کوئی دریافت کرتا ہے کہ جب تم مرزا کو نبی مانتے ہو تو پھر جناب رسول اﷲa کیسے ختم الانبیاء ہوئے تو بسبب جہالت عجیب اور کم علمی کے عجیب طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ حاصل یہ کہ خلاف قرآن واحادیث صحیحہ اور محاورہ عرب کے خاتم النّبیین کے معنی قرار دے رکھے ہیں اور خوش ہیں اور کسی وقت کہتے ہیں کہ ظلی نبی ہیں اصلی نہیں ہیں مگر وہ یہ بتائیں کہ جب مرزا قادیا نی اپنے اوپر نزول وحی کا یہ زور بیان کرتے ہیں کہ کسی اولوالعزم نبی نے بھی بیان نہیں کیا اور یہ بھی دعوی ہے کہ صریح طور سے مجھے نبی کا خطاب دیا گیا پھر اصلی نبی میں اس سے زیادہ کیا ہوتا ہے۔ جو اس سے انکار کیا جاتا ہے۔ الغرض اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اعلانیہ نبوت کا دعوی کرتے ہیں اور صاف طور سے ختم نبوت کے منکر ہیں اور عوام کے دھوکہ دینے کو باتیں بناتے ہیں۔ رسالہ ختم نبوت مطبوعہ اخبار اہل فقہ امرتسر میں عمدگی سے اس کی تفصیل کی ہے۔

166

اس مختصر بیان سے اظہر من الشمس ہوگیا کہ مرزا قادیانی کا دعوی نبوت کرنا اور ان کی جماعت کا انہیں کسی قسم کا نبی سمجھنا قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔ سنا گیا ہے کہ جماعت مرزائی کے سرگروہ قرآن مجید کا مشغلہ زیادہ رکھتے ہیں مگر حیرت ہے کہ ایسی صریح باتوں سے بے خبر ہیں اور وہ سورۂ اعراف کی آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اﷲa کے بعد بھی رسول آئیں گے وہ آیت یہ ہے :

’’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘(الاعراف:۳۵)

اس آیت سے یہ ثابت کرنا کہ حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیa کے بعد انبیاء آئیں گے۔ بہت بڑی غلطی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جماعت علوم قرآنیہ سے بالکل ناوا قف ہے۔ قرآن مجید میں انبیاء سابقین کے حالات اور واقعات بہت بیان ہوئے ہیں۔ انہیں واقعات کے بیان میں یہ آیت بھی ہے اس سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر آنے کا قصہ ہے اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے ان کی اولاد سے یہ خطاب کیا ہے ۱؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی آدم میرے رسول تمہارے پاس آئیںگے اور میری باتیں تم سے کہیں گے۔ پھر جس نے انہیں مانا اور اس پر عمل کیا اسے کچھ خوف وخطر نہیں ہے اور جس نے نہ مانا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے بعض ان انبیاء کا ذکر کیا جو اس عام حکم سنانے کے بعد آئے۔ یعنی حضرت نوح،حضرت ہود، حضر ت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ علیہم السلام۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس آیت میں اسی وقت کا ذکر ہے اس کے علاوہ اگر قرآن مجید پر نظرہے تو ذیل کی آیت کو ملاحظہ کیجئے جس میں یہی مضمون ہے مگر اس طرح کہ میرے بیان کی اس سے پوری تصدیق ہوجاتی ہے وہ آیت یہ ہے :

’’فَتَلَقّٰیٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ۔ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ قُلْنَا اہْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ‘‘ (البقرۃ:۳۷ تا ۳۹)

۱؎

قرآن مجید میں جو کامل مہارت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس آیت میں امت محمدیہ سے خطاب نہیں ہوا۔

167

یعنی آدم نے خدا سے چند کلمات سیکھے اور خدا نے اس پر مہربانی کی اور وہ بڑا مہربان ہے۔ ہم نے آدم اور اس کی اولاد سے کہا کہ تم سب جنت سے چلے جاؤ اور جب میری ہدایات آئیں تو جو ان کو مانے گا اس پر کسی قسم کا اندیشہ اور تکلیف نہ ہوگی البتہ جو نہ مانیں گے اور ان کی تکذیب کریں گے وہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں جلیں گے۔

یہ آیات اور سورۂ اعراف کی آیت دونوں مضمون کے اعتبار سے ایک ہیں اور معنی اور حاصل میں کچھ فرق نہیں ہے البتہ کچھ لفظوں کا اختلاف ہے۔ اور جب اس آیت میں صاف ہے کہ یہ خطاب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے جدا ہونے کے وقت کیا گیا تھا اس لئے سورۂ اعراف کی اس آیت کے خطاب کا وقت بھی یہی ہے کیوں کہ یہ دونوں ایک ہیں۔ الغرض آیت کا مضمون اور اس کے بعض لفظ اور قرآن مجید کی دوسری آیات اس بات کی کامل شہادت دیتی ہیں کہ سورۂ اعراف کی اس آیت مذکورہ میں امت محمدیہ سے خطاب نہیں ہے بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں ان کی اولاد سے خطاب ہے۔ اب اس کی تائید حدیث سے بھی ملاحظہ کرلیجئے!(تفسیر در منثور ج ۳ ص ۸۲ )پر ہے :

’’اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی قال ان اللّٰہ تبارک وتعالی جعل آدم وذریتہ فی کفہ فقال’’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی‘‘

اس روایت میں خاص اسی آیت کی تفسیر ہے جس کا ذکر ہورہا ہے اور نہایت صفائی سے وہی تفسیر کی ہے جو ہم نے بیان کی ہے یعنی اس آیت میں امت محمدیہ سے خاص خطاب نہیں ہے بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں یہ خطاب کیا گیا ہے اور اس کی صورت خیالی اس روایت میں بیان کی گئی ہے چونکہ مرزا قادیانی نے اس تفسیر سے بہت حوالے دیئے ہیں اس لئے اس تفسیر سے لکھنا میں مناسب سمجھا اس تفسیر کے علاوہ جب خاتم النّبیین کے معنی محاورہ عرب اور احادیث صحیحہ سے معلوم ہوئے کہ آخر النّبیین کے ہیں تو آیت ’’ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النّبیین‘‘ نے قطعی فیصلہ کردیا کہ سورۂ اعراف کی آیت میں قیامت تک کے بنی آدم مراد نہیں ہیں بلکہ خاص حضرت آدم علیہ السلام کے وقت کا ذکر ہے کیوںکہ جناب رسول اﷲ آخر النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اب اہل علم انصاف پسند مرزائی جماعت کے سرگروہ کی قرآن دانی معلوم کرلیں کہ قرآن مجید کے معنی سے کس قدر ناآشنا ہیں اور نص قطعی کے خلاف

168

عقیدہ رکھتے ہیں اور عوام کو دھوکہ دینے کو حضرت غوث اعظم اور شیخ محی الدین عربی ؒ کا قول پیش کرتے ہیں مگر نص قطعی اور احاد یث صحیحہ کے خلاف ان حضرات کا قول پیش کرنا یہ دعوی کرنا ہے کہ ان مقدس حضرات نے صریح قرآن وحدیث کے خلاف ایک بات کہی مگر یہ بڑی غلطی ہے ان بزرگوں کی شان نہایت اعلی وارفع ہے ان کا کوئی کلام خلاف قرآن وحدیث کے نہیں ہوسکتا جو حضرات صوفیہ کے اصطلاحات نہیں جانتے اور ان کے حالات سے واقف نہیں ہیں، ان کا یہ منصب نہیں ہے کہ اپنے دعوی کی دلیل میں ان کے کلام کو پیش کریں۔ اس کی تفصیل دوسرے رسالہ میں کی جائے گی۱؎ جو خاص ختم نبوت کی بحث میں لکھا جائے گا۔ ان شاء اﷲ تعالیٰ!

یہاں اس کا بھید معلوم کرنا چاہئے کہ جب خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ یعنی سب انبیاء کے بعد آنے والا تو اس میں کیا خوبی اور نعمت ہوئی بلکہ خوبی تو اس میں ہی تھی کہ آپa کے بعد آپa کی شریعت کے پیرو بہت سے انبیاء آتے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد شریعت موسوی کے پیرو بہت انبیاء ہی آئے۔ یہ خیال ظاہر میں کم علم کو ہوسکتا ہے مگر جن کو فضل خداوندی نے اسرار شریعت پر آگاہی دی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرتa کا وجود باجود سب کے بعد اس لئے ہوا کہ آپa کی ذات مقدس سے اﷲ تعالیٰ کو دین کا کمال منظور تھا۔ آپ کو شریعت کاملہ دی گئی اور ارشاد ہوا’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ‘‘ (المآئدۃ:۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک دنیا کے لوگ اس لائق نہ تھے کہ انہیں کامل شریعت دی جاتی۔ پہلے انبیاء جس قدر آئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ حضرت محمد مصطفیa سلطان الانبیاء ہیں تمام انبیاء سابقین نے آہستہ آہستہ آراستہ اور اس لائق کیا کہ شریعت کاملہ دیجائے۔ اس لئے سب کے بعد آنے والے کی زیادہ عظمت ہونی چاہئے کیو ں کہ اس کے ذریعہ سے شریعت کاملہ مخلوق کو ملے جو اصل مقصود ارسال انبیاء ہے چونکہ آپa مظہر کامل صفت رحمت کے ہیں اور رحمۃ للعالمین آپa کاخطاب ہے اس کا مقتضا یہ ہوا کہ آپa کے بعد نبوت کا مرتبہ کسی کو نہ دیا جائے کیوں کہ شرعی نبی وہی ہے کہ جس کا منکر کافر ہے یعنی وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

۱؎

اس وقت جسے دیکھنا ہو وہ رسالہ ختم نبوت مطبوعہ مطبع اخبار اہل فقہ امرتسر ملاحظہ کرے۔ اس میں تفصیل سے اس کا جواب دیا ہے اور خوب لکھا ہے۔

169

اب اگر آپa کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حسب عادت قدیمہ ضرور بہت لوگ ایسے ہوتے کہ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے ہوتے اور اس نبی پر ایمان نہ لاتے جو آپa کے بعد ہوا اور اس وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہوتے۔ یہ آپ کی شان رحمت کے بالکل خلاف تھا کہ آپa کو مان کر کسی وجہ سے دائمی عذاب میں مبتلا رہے یہ نہیں ہوسکتا اس لئے آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا مگر آپa کی امت کے علماء کاملین کی عظمت وشان وہی ہے جو انبیاء کی ہونی چاہئے۔

علامہ سیوطی ؒ (خصائص کبریٰ ج ۱ ص ۳۹) میں امت محمدیہ کی خصوصیات میں لکھتے ہیں جن کا خلاصہ ہے کہ ’’علمائھم کانبیاء بنی اسرائیل‘‘یعنی امت محمدیہ کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی مانند ہیں۔ جناب رسول اﷲa نے اپنے علماء کی شان میں فرمایا :

’’العلماء ورثۃ الانبیاء ‘‘

(کنز العمال حدیث ۲۸۶۷۹ج ۱۰ ص ۱۳۵)

اور یہ بھی فرمایا۱؎’’فضل العالم علی العابد کفضلی علی أدناکم‘‘(ترمذی کتاب العلم ج ۲ ص ۹۸) یہ ظاہر ہے کہ انبیاء کا ترکہ مال ودولت نہیں ہوتا یہی عظمت اور بزرگی اور علم ان کا ترکہ ہے اس لئے حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ انبیاء کی شان اور عظمت اور ہدایت وعلم علماء کو ملتی ہے۔

۱؎

امام احمد نے اپنی مسند ج ۵ ص ۳۲۲ میں جناب رسول اﷲa کا یہ ارشاد لکھا ہے :’’ الابدال فی ھذہ الامۃ ثلاثون مثل ابراہیم خلیل الرحمن لما مات رجل ابدل اﷲ مکانہ رجلا ‘‘ رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ اس امت میں تیس ابدال ابراہیم خلیل اﷲ کے مثل ہوتے رہیں گے ان میں سے جب ایک کا انتقال ہوا کرے گا، اس کی جگہ دوسرا ان کے قائم مقام ہوگا۔ یعنی ایسے بزرگ ذی مرتبہ سے امت محمدیہ خالی نہیں رہے گی۔ یہاں ان بزرگوں کو حضرت ابراہیم کے مثل کہا ہے۔ اس سے کوئی صاحب یہ خیال نہ کریں کہ ان کا مرتبہ بعینہ حضرت ابراہیم کا سا ہوگا اور وہ ظلی اور بروزی نبی حضرت ابراہیم کے مثل ہوں گے اور ان کا منکر کافر ہے۔ استغفر اﷲ! یہ ہرگز نہیں ہے بلکہ جس طرح مثال دی جاتی ہے کہ زید کالاسد یعنی زید شیر کے مانند ہے اس مثال سے یہ غرض ہرگز نہیں ہوتی کہ جو حالتیں اور خواص شیر کے ہیں وہ سب یا اکثر زید میں پائی جاتی ہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ شیر کی ایک خاص صفت جو انسان کے مناسب اور اس کے لئے خوبی ہوسکتی ہے وہ ایک حد تک زید میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان ابدال میں قرب خداوندی اور خلت حضرت ابراہیم کے مشابہ ہوگی۔ مگر جس قسم کے دعوی مرزا قادیانی نے کئے یہ ہرگز نہ کریں گے۔ الغرض امت محمدیہ میں ولایت اور نبوت کے مشابہ کمالات ہوںگے جس کی وجہ سے العلماء ورثۃ الانبیاء اور علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کہاجاسکے مگر نبوت کا وہ خاص درجہ جس کی وجہ سے اس کا منکر کافر ہوجاتا ہے، کسی کو نہیں دیا جائے گا اور اس کی وجہ وہی ہے کہ آپ کی شان رحمت کے منافی ہے۔

170

جب علماء امت کی شان انبیاء کی شان سی ہوئی تو جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء کے ہونے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عظمت معلوم ہوتی ہے اسی طرح یہاں علماء کاملین سے آپa کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ حضرت رحمۃ للعالمین کو مان کر پھر کسی بزرگ اور عالم کے نہ ماننے سے دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوسکتا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مان کر ان کے بعد کے نبی کو نہ ماننے سے عذاب دائمی کا مستحق ہے۔ مثلا یہود حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نہ ماننے سے کافر ہیں۔ اس فرق سے حضرت رحمۃ للعالمین کی شان بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ دوسری حدیث سے تو علماء کاملین کی بہت ہی بڑی عظمت ثابت ہوتی ہے کیوں کہ ان کی فضیلت کو حضور انورa اپنی فضیلت کے مشابہ فرماتے ہیں۔

اب خیال کرنا چاہئے کہ اس فضیلت کی کیا انتہا ہے۔ اﷲ اکبر۔ یہ خیال کہ اگر نبوت ختم ہوجائے تو خدا تعالیٰ کی صفت کلام معطل ہوجائے گی ۱؎جاہلانہ خیال ہے ذرا غور کرو کہ خدائے تعالیٰ کی ذات پا ک ازلی وابدی ہے۔ اسی طرح اس کی صفات ازلی وابدی ہیں اور انسان کا وجود اور اس نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا، جن کی نبوت کو آٹھ نو ہزار برس سے زیادہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے نبوت کا سلسلہ نہ تھا اس وقت اس کی صفت کلامیہ کا کیا حال تھا۔ اگر اس نبوت کے ختم ہوجانے سے اس کی صفت کا معطل ہوجانا لازم آئے توحضرت آدم علیہ السلام کے وجود سے پہلے تو اس نبوت کا سلسلہ ہی نہ تھا تو اس خیال کے بموجب اس غیر متناہی زمانے میں خدائے پاک کی یہ صفت معطل رہی، معاذاﷲ۔ مگر اس خیال کی بنیاد محض نادانی اور ناواقفی ہے خدا کے مقربین فرشتے ہیں جن سے وہ ہمیشہ کلام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا اس کے علاوہ خدا کی مخلوق کا احاطہ انسان نہیں کرسکتا۔ ’’وَمَآاُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً‘‘ (بنیٓ اسرآء یل:۸۵) اس کا ارشا دہے پھر بھی یہ نہیں معلوم کہ اس کاکلام کس کس طرح ہوتا ہے اور کون کون بندے اس سے ممتاز ہوتے ہیں۔ انسان کا علم اس کو احاطہ نہیں کرسکتا مگر اس قدر کہتے ہیں کہ اس کے مخصوص فرشتے اور خاص خاص اولیاء اﷲ اس کے خطاب اور کلام سے ممتاز ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس کے لئے رسالت اور نبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

۱؎

یہ شبہ بعینہ وہی ہے جو دہریہ وقائلین قدم عالم کرتے ہیں کہ عالم قدیم ہے اس لئے کہ عالم حادث ہو تو تعطل باری لازم آئے گا۔ یعنی عالم کے وجود کے قبل خدا معطل تھا اور تعطل باری محال ہے اس لئے عالم قدیم ہے۔

171

اس بیان کے بعد برادران اسلام کی خیر خواہی اس پر آمادہ کرتی ہے کہ اس رسالہ کے پہلے دو حصوں میں مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی جو دلیلیں صراحتاً یا ضمناً بیان کی گئی ہیں اس کو مستقل طور سے دوسرے پیرایہ سے طالبین حق پر ظاہر کروں اور اس کی ضرورت اس لئے زیادہ ہے کہ بعض دلیلیں ان حصوں میں ایسی لکھی گئی ہیں کہ ہر ایک شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کوئی مستقل دلیل ہے، بلکہ ضمنی بات خیال کرے گا۔

پھر مرزائی حضرات بھلا اس طرف کیا توجہ کریں گے اور کیا سمجھیں گے ؟ جو دلائل صاف طور سے مذکور ہوچکے ہیں۔ انہیں ذکر کرنا اس لئے ضرور ی ہے کہ ان کے جواب میں مرزا قادیانی نے یا ان کے خلیفہ صاحب نے یا کسی دوسرے مرزائی نے جو کچھ کہا ہے۱؎ اس کی حالت کو خوب روشن کرکے دکھایا جائے تاکہ مرزا قادیانی کے دعوے کی غلطی بندگان خدا پر آفتا ب کی طرح روشن ہوجائے اور جو سچائی کے طالب ہیں انہیں حق کے قبول کرنے میں کوئی عذر نہ رہے۔

مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی روشن دلیلیں

پہلی دلیل: قرآن مجید کی صریح اور متعدد صحیح حدیثوں سے ثابت کرکے دکھادیا گیا کہ آنحضرتa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور جو نبوت کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔ مرزا قادیانی نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا۲؎ اور ان کے مریدین انہیں نبی مانتے ہیں اور ان کے خاص اخباروں میں انہیں خاتم الانبیاء جلی قلم سے لکھا جاتا ہے۔

۱؎

چنانچہ مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی ص ۳۹۰ خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶ پر لکھتے ہیں کہ : ’’ اِس امت کے بعض افراد مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ ‘‘

۲؎

مرزا قادیانی کی اکثر باتیںپیچ دار ہوتی ہیں، صادقوں کی سی صفائی کسی بات میں نہیں ہے۔ اسی طرح اس دعوی میں بھی ان کے اقوال متعارض ہیں۔ یہاں ان کے بعض اقوال نقل کئے جاتے ہیں جن سے ان کا دعوی ثابت وظاہر ہے یہ اقوال تین طرح کے ہیں۔ ایک یہ کہ صاف طور سے وہ اپنے رسول ہونے کے الہامات بیان کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ بعض اولوالعزم انبیاء سے اپنے آپ کو افضل کہتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ اپنے منکر کو کافر اور مستحق سزا سمجھتے ہیں۔ پہلے طریق کا اثبات بعض الہامات مرزا قادیانی نے ( الاستفتاء ص ۸۷خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۵ ) کے خاتمہ پر نقل کئے ہیں۔ ان میں یہ الہام بھی ہے (۱) انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم۔ بلا شبہ تو رسولوں میں ہے۔ سیدھے راستے پر یہ بعینہ ویسا ہی الہام ہے جیساکہ جناب رسول اﷲa کی رسالت کی نسبت قرآن مجید میں کیا گیا، کوئی فرق نہیں ہے۔ اس قول سے نہایت تاکید کے ساتھ ویسے ہی رسالت ثابت ہوتی ہے جیسے جناب رسول اﷲa کی۔ (بقیہ حاشیہ ص ۱۷۳ پر)

172

اس لئے قرآن مجید کی نص قطعی اور صحیح حدیثوں کے بموجب مرزا قادیانی کا ذب ٹھہرے۔ اس کا خوب خیال رہے کہ یہاں نبی سے مراد وہی نبی ہے جسے قرآن وحدیث میں نبی کہا ہے۔ جس کے انکار سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح سے یہاں بحث نہیں ہے، اصطلاحی نبی کے منکر کو حضرات صوفیہ نے کافر نہیں کہا ہے۔

(صفحہ ۱۷۲ کا بقیہ حاشیہ) (۲) رسالہ (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱) میں ہے : ’’ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ ‘‘دیکھا جائے کہ کس صفائی سے دعویٔ رسالت ہے۔ اس قسم کے بہت اقوال ہیں۔ حقیقۃ الوحی اور اعجاز احمدی وغیرہ ملاحظہ کیا جائے۔ دوسرے طرز کے اثبات میں ان کے اقوال ملاحظہ کئے جائیں۔

(۱)دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳ میں ہے : ’’ خدا نے اِس اُمّت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اُس نے اِس دُوسرے مسیح کا نام غلام احمدؐ رکھا ‘‘ (۲) پھر اس میں کہتے ہیں:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمدہے ( دافع البلاء خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم عیسیٰ کجا ست تا بہ نہد پا بہ منبرم (ازالہ ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰ )

ملاحظہ کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے اس پر بس نہیں کی کہ اپنی فضیلت ایک اولوالعزم نبی پر ثابت کرتے، بلکہ ایسے ذی شان رسول کی تحقیر کرنے لگے جن کے قلب میں ایمان ہے وہ اس شعر کے دوسرے مصرعہ پر غور کریں کہ کیسی بے ادبی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں۔ حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کا تو ارشاد تعلیم ادب کی غرض سے یہ ہے کہ مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو اور مرزا قادیانی نہایت زور سے اپنی ہر شان کو حضرت مسیح سے افضل کہہ کر ان کی تحقیر کرتے ہیں۔ جب ان کا یہ دعویٰ ہے تو پھر اس کہنے کے کیا معنی کہ انہیں نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ ظلی نبوت اور شعبہ نبوت کا دعویٰ ہے۔ بھائیو! جب حضرت مسیح جو اولوالعزم انبیاء میں ہیں جن کا مستقل رسول خدا ہونا قرآن کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے جن کی شان میں’’وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ‘‘(اٰل عمرٰن:۴۵) ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ان سے مرزا قادیانی اپنے آپ کو ہرطرح افضل بتاتے ہیں۔ تو پھر نہایت ظاہر ہے کہ مستقل رسالت کا دعوی ہے۔ بلکہ بعض اولوالعزم انبیاء سے بھی بڑھا ہوا اپنے آپ کو خیال کرتے ہیں۔ اب کسی وقت ظلی اور بروزی کہہ دینا اور حقیقی نبوت سے انکار کرنا اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت ان کی نبی ہونے پر اعتراض کیا جائے ، کہہ دیا جائے کہ ہم حقیقی نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ تیسرے طرز کا ثبوت مرزا قادیانی کے فرزند محمود احمد کا رسالہ تشحیذ الاذہان ج ۶ بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء دیکھا جائے۔ اس میں نہایت زور کے ساتھ مرزا قادیانی کے صریح اقوال سے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں ۲۳ کروڑ بلکہ ۴۰ کروڑ مسلمانوں میں سے جس نے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو نہیں مانا وہ کافر ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی ایک عبارت اس میں یہ ہے : ’’ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور خدا کے نزدیک قابلِ مؤاخذہ ہے‘‘ (تذکرہ ص ۵۱۹ طبع چہارم ) اسی طرح ان کی آخری کتاب حقیقۃ الوحی سے بھی ظاہر ہے۔ الغرض اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں اور اب ان کے خلیفہ کا بھی یہی قول ہے اور یہ عقیدہ اجماعیہ ہے کہ کسی شخص کے انکار سے کافر نہیں ہوتا۔ جب تک وہ خدا کا رسول نہ ہو اور جب مرزا قادیانی نے اپنے منکر کو کافر کہا تو نہایت صفائی سے اپنے رسول مستقل ہونے کا دعوی کیا اور جناب رسول اﷲa کے خاتم النّبیین ہونے سے منکر ہوئے۔ اب اس کے خلاف کوئی قول ان کا پیش کرنا خود انہیں اور ان کے خلیفہ اور ان کے بیٹے کو جھوٹا کہنا ہے۔ اس میں خوب کرو۔

173

شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اور حضرت معین الدین چشتی ؒ جو نہایت ا علی مرتبت بزرگوں میں گزرے ہیں جن کے منامات اور مکاشفا ت نہایت کثرت سے ہیں، ان کے منکر کو بھی کسی نے کافر نہیں کہا مگر مرزا قادیانی تو اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں اور ان کے خلیفہ اور بیٹے کا بڑا زور ہے کہ مرزا قادیانی کے منکرین سب کافر ہیں۔ البتہ بعض مرزائی اس سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے ہیں مگر کسی مرزائی ذی علم کی زبان سے یا قلم سے یہ جملہ نکلنابجز کسی پالیسی کے نہیں ہوسکتا کیوںکہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ کے صریح اقوال اور تمام مرزائیوں کے افعال اس بات کے شاہد ہیں کہ وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو جو مرزائی نہیں ہیں مسلمان نہیں جانتے۔ ملاحظہ کیا جائے کہ جو غیر احمدی حضرات کو کافر کہنے سے انکار کرتے ہیں وہ کسی وقت غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ جس مقام پر دو چار مرزائی ہوں اور عید کی نماز ہو اس وقت بھی وہ ہزاروں کی جماعت کو چھوڑ کر علیحدہ نماز پڑھتے ہیں اور پھر اس قدر اصرار ہے کہ حاکم وقت سے استغاثہ کرتے ہیں اور باہم لڑتے ہیں اس بات پر کہ ہم اپنی جماعت علیحدہ کریں گے۔ ان کی جماعت کا کیسا ہی فاسق وفاجر ہو اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ غیر احمدی کو بیٹی دینا بالکل حرام سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

’’ یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّراور مکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو ۔‘‘

( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۸ حاشیہ خزائن ج ۱۷ ص ۶۴)

اب جو شخص اس قول پر عمل کررہا ہے اور اس کے خلاف وہ کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں کرتا تو بالضرور وہ غیر احمدیوں کو کافر جانتا ہے، مسلمان اگرچہ فاسق ہو مگر اس کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی حرام نہیں ہے، جو اخبار خلیفۃ المسیح کے دربار سے نکلتا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ جو غیر احمدی کو اپنی بیٹی دے وہ احمدی نہیں ہے۔ یہ باتیں نہایت صفائی سے شہادت دے رہی ہیں کہ تمام مرزائی مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۱؎ مگر بعض حضرات کسی مصلحت سے اپنے خیال اور عقیدہ کے خلاف ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی اہل قبلہ غیر احمدی کو کافر نہیں کہتے۔

۱؎

اب ماہ مارچ ۱۹۱۳ء سے مرزا قادیانی کے جانشین ان کے بیٹے میاں محمود احمد ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنے خاص رسالہ میں تمام دنیا کے ۴۰ کروڑ مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے۔ جو مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے۔ رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء ملاحظہ ہو۔

174

ان کے خلاف گوئی کی نہایت ظاہر وجہ یہ ہے کہ تمام مرزائی مرزا قادیانی پر ایمان لائے ہیں۔ انہیں نبی اور مسیح موعود مانتے ہیں اور مرزا قادیانی اپنی آخری کتاب میں اپنے کسی مرید کا سوال نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

’’سوال ۶: حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کرکے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن عبدالحکیم خاں کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہوجاتا ہے۔

الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھیراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اِسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وُہ مجھے مُفتری قراردیتا ہے۔ مگر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ جیساکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ’’فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذبًا اوکذّ ب باٰیاتہٖ‘‘ یعنی بڑے کافر دو ہی ہیںایک خدا پر افتراء کرنے والا، دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جبکہ میں نے مکذّب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے۔ اِس صورت میں نہ صرف میں کافر بلکہ بڑا کافر ہوا۔اور اگر میں مُفتری نہیں تو بلا شُبہ وہ کُفر ُاس پر پڑے گا۔ جیساکہ اﷲ تعالیٰ اِس آیت میں خود فرمایا ہے۔ علاوہ اِس کے جو مجھے نہیں مانتا خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷ )

بنظر انصاف دیکھا جائے کہ مرزا قادیانی اصل سوال کا جواب نہیں دیتے۱؎ بلکہ مختلف طور سے اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ چونکہ سائل کا یہ خیال ہے کہ جو مرزا قادیانی کی تکفیر

۱؎

کیونکہ سوال کا حاصل یہ ہے کہ پہلے بہت رسالوں میں آپ نے تمام اہل قبلہ کو مسلمان ٹھہرایا خواہ آپ کا منکر ہو یا نہ ہو، اور اب آپ اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں یعنی آپ کے کلام میں تناقض ہے، مرزا قادیانی نے اس کا جواب کچھ نہیں دیا۔ اگر منکر اور کافر سے مراد منکر امام ہوتا اور مسلمان نہ ہونے سے مراد یہ ہوتا کہ کامل مسلمان نہیں ہے تو سوال کا نہایت آسان جواب یہ ہوتا کہ میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ کوئی اہل قبلہ کافر نہیں ہے، اور اپنے نہ ماننے والے کی نسبت جو میں نے یہ لکھا ہے کہ وہ مسلمان نہیں اس سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان کامل الایمان نہیں ہے مگر یہ نہیں لکھا۔ اس سے بخوبی ظاہر ہوگیا ہے کہ مرزا قادیانی بجز اپنے ماننے والوں کے تمام اہل قبلہ کو کافر سمجھتے ہیں

175

کرتا ہے، تو بمقتضاء حدیث شریف کے وہ خود کافر ہوجاتا ہے اور جو تکفیر نہیں کرتا صرف منکر ہے اسے کافر نہ ہونا چاہئے اس لئے مرزا قادیانی اس کے خیال کو غلط ٹھہرا کر یہ کہتے ہیں کہ کافر کہنے والے اور انکار کرنے والے دونوں کافر ہیں کیوںکہ جو میرا منکر ہے وہ مجھے مفتری علی اﷲ سمجھتا ہے اور ایسا مفتری بہت بڑا کافر ہے۔ غرض کہ جو میرا منکر ہے وہ بھی مجھے کافر سمجھتا ہے اور چونکہ میں مفتری نہیں ہوں اس لئے وہ خود کافرہوجاتا ہے۔ دوسری وجہ اس کے کفرکے علاوہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ یعنی جو میرا منکر ہے وہ خدا اور رسول کا بھی منکر ہے۔ غرضیکہ اس جواب سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں اور کافر کے یہ معنی نہیں ہے کہ منکر امام ہیں بلکہ اسے منکر خدا اور رسول کہتے ہیں کیوںکہ مرزا قادیانی صاف لکھتے ہیں کہ:’’جو مجھے نہیں ۱؎مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا ‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷)

الغرض یہ یقینی طور سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعوی ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ جو حضرات مرزا قادیانی پر ایمان لائے ہیں وہ مرزا قادیانی کو نبی اور ان کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں اور جب قرآن مجید کی نص صریح اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہوگیا کہ جناب محمدرسول اﷲa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس لئے مرزا قادیانی کا دعوی خدا اور رسول کے کلام سے غلط ثابت ہوا اور یہ ایسی غلطی ہے کہ کوئی ذی علم سچائی سے اس کا انکار نہیں کرسکتا۔

دوسری دلیل : فیصلہ کے حصہ نمبر۲ کی تمہید میں مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا ذکر کرکے یہ دکھایا ہے کہ ان رسالوں کو معجزہ کہنا محض غلط ہے۔ اس حصہ میں اس دعوی کی غلطی ظاہر کرنے کے بعد یہ دکھایا جائے گا کہ مرزاقادیانی کا یہ دعوی ان کے کاذب ہونے کی بیّن دلیل ہے اور ایک طریقہ سے نہیں بلکہ کئی طریقوں سے۔

اہل حق غور سے ملاحظہ کریں۔ ان دونوں رسالوں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس طرح قرآن مجید جناب رسول اﷲ کا معجزہ ہے کہ آپa نے عرب وعجم کے روبرو پیش کرکے فرمایا کہ اس کے مثل لاؤ اور پھر یہ کہہ دیا کہ تم ہرگز نہ لاسکوگے اور ایسا ہی ہوا کہ کوئی اس کے مثل نہ لاسکا۔

۱؎

ناظرین مرزا قادیانی کے اس قول پر نظر رکھیں۔ اس میں بھی مرزا قادیانی کامل نبوت کا دعویٰ کررہے ہیں۔ کیوں کہ جس کے نہ ماننے سے خدا اور رسول کا انکار لازم آئے یہ شان مستقل سچے رسول کی ہے۔

176

اسی طرح مرزا قادیانی نے دو رسالے پیش کئے ایک نظم اور دوسرا نثر اور ایسا ہی دعویٰ کیا اور کوئی ان دونوں کے مثل نہ لاسکا۔

مناظرہ ٔ مونگیر کی کیفیت میں جو انہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کی ہیں۔ ان میں وہ آیت بھی پیش کی ہے جو رسول اﷲa نے اپنی رسالت کے دعوی میں پیش کی تھی یعنی آیت’’وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا‘‘(البقرۃ:۲۳) اب راست باز حق پسند حضرات کامل طور سے متوجہ ہوں۔ اس کے جواب میں کئی باتیں میں کہنا چاہتا ہوں۔

۱… پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جناب رسول اﷲa کا مقصد اس دعویٰ سے یہ تھا کہ اس وقت اہل عرب فصاحت وبلاغت کلام میں اعلی درجہ کا کمال رکھتے تھے اور شب وروز انہیں فصیح وبلیغ نظم ونثر لکھنے کا مشغلہ تھا اور مضامین لکھ کر ایک دوسرے پر فخر ومباہات کیا کرتے تھے اور دوسرے ملک کے لوگوں کو عجم کہتے تھے یعنی بے زبان گونگے اس لئے ایسے وقت اور ان کاملین فصحاء کے مقابلہ میں ایک ایسا شخص دعوی کرے جو معمولی طور سے بھی کچھ پڑھالکھا نہ ہو اور پھر وہ فصحاء عرب جن کی حالت ابھی بیان کی گئی، اس کے جواب سے عاجز ہوجائیں۔یہ البتہ بدیہی طور سے نہایت عظیم الشان معجزہ ہے۔ پھر اس کا معجزہ ہونا ایک طور سے نہیں ہے بلکہ کئی طور سے ہے۔ اس کی عبارت ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ دوسرا کوئی فصیح وبلیغ ایسی عبارت نہیں لکھ سکتا۔ اس کے مضامین ایسے عالی اور باعث ہدایت عالم ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا ریفارمر اور مقنن ایسی کامل ہدایت کی باتیں اور پبلک کے لئے مفید قانون نہیں بنا سکتا اور پھر وہ قانون بھی ایسا ہو جو کسی وقت لائق منسوخ ہونے کے نہ ہو۔ یہ صفت صرف قرآن مجید ہی میں ہے اور اس کا اقرار بڑے بڑے عقلاء مخالفین اسلام نے بھی کیا ہے۔

اس کے علاوہ قرآن مجید کا یہ دعوی کسی وقت اور کسی شخص سے خاص نہیں ہے۔ یعنی کوئی شخص خود لکھ کر پیش کرے یا کسی دوسرے کا لکھا ہوا ہو اور کسی وقت کا لکھا ہوا ہو وہ سامنے لائے یا آئندہ کوئی لکھے مگر اس وقت اہل زبان نہ اپنا کلام پیش کرسکے نہ اپنے کسی گذشتہ بزرگ کی تحریر اس کے مثل دکھاسکے اور اب تیرہ سو برس سے زیادہ ہوگیا مگر کوئی مخالف اس کے مثل نہ لاسکا۔

۲… الغرض امور ذیل کی وجہ سے قرآن مجید معجزۂ بیّنہ قرار پایا: (۱) ایسے انسان کی زبان سے نکلا جو معمولی طریقہ سے کچھ لکھے پڑھے نہ تھے امی کہلاتے تھے۔ (۲) جس زبان میں

177

قرآن مجید لکھا گیا دعوی کے وقت اس کی فصاحت وبلاغت انسانی کمال کے لحاظ سے نہایت اعلی درجہ پر پہنچی ہوئی تھی۔ (۳) اس ملک کے رہنے والوں کو اس وقت اپنی زبان میں کمال پیدا کرنے کا نہایت شوق ہی نہ تھا۔ بلکہ اسے مایۂ فخر سمجھتے تھے۔ (۴) پھر یہ کہ خیالی شوق ہی نہ تھا بلکہ اس کمال کو حاصل کرتے تھے اور نظم ونثر لکھنا انکا مشغلہ تھا۔(۵) اس تحصیل کمال کے ساتھ ان کے دماغ میں کبر بھی تھا کہ ہر ایک دوسرے کو اپنے سے زیادہ کمال میں نہیں دیکھ سکتا تھا اور اپنی عمدہ نظم ونثر دعوی کے ساتھ عام جلسوں میں پڑھتے تھے اور بعض وقت یہ دعوی بھی کرتے تھے کہ کوئی اس کے مثل لائے۔ جس وقت حضور انورa پر قرآن پاک کا نزول شروع ہوا ہے، اس وقت اس قسم کے سات قصیدے سات شخصوں کے لکھے ہوئے خانہ کعبہ پر لٹکے ہوئے تھے اور جب قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت کو دیکھا تو وہ قصائد اتار لئے گئے، اس بنیاد پر کہ قرآن مجید نے ان کی فصاحت وبلاغت کو گرد آلود کردیا۔ اب وہ اس لائق نہ رہے کہ قرآن مجید کے مقابلہ میں انہیں خانہ کعبہ پر لٹکا کر ان پر دعوی کیا جائے۔ ایسے وقت میں ان عربوں کے مقابلہ میں جن کا مایۂ ناز فصیح وبلیغ عبارت کا لکھنا تھا قرآن مجید کا یہ دعوی پیش ہوا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ تم ہرگز نہ لاسکوگے۔ باوجودیکہ جواب کے لئے میدان نہایت وسیع رکھا گیا ہے۔ نہ اس کے لئے کوئی میعاد معین کی تھی نہ کسی زمانہ کی تخصیص تھی کہ آئندہ کوئی لکھے۔ گذشتہ کا لکھا ہوا نہ ہو بلکہ الفاظ آیت کا عموم صاف طور سے یہ مطلب بتارہا ہے کہ تم اس کا جواب لکھ کر لاؤ، یا اپنے کسی استاد یا کسی گذشتہ شخص کا لکھا ہوا پیش کرو، یا آئندہ کوئی کسی وقت لکھ دے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ سارے قرآن کا جواب ہو بلکہ اس کی ایک ہی سورت کا جواب لاؤ ! غرضیکہ قرآنی تحدّی ایسی عام ہے کہ مذکورہ پانچ حالتیں اس میں داخل ہیں۔

اب غور کیا جائے کہ ان امور کے ساتھ ان مخالفین عرب سے جواب کا مطالبہ کرنا کس قدر غیظ وغضب کا باعث ہوسکتا ہے اور اپنی طبعی حالت کی وجہ سے انہیں کس قدر جواب دینے کا جوش ہوا ہوگا مگر چونکہ کلام کی فصاحت وبلاغت میں کامل مہارت رکھتے تھے، اس لئے اپنے تئیں عاجز سمجھے اور نہ خود جواب دیا اور نہ کسی دوسرے کا کلام پیش کیا اور عاجز رہے۔ اس لئے قرآن مجید معجزہ باہرہ اور اعجاز بیّنہ ٹھہرا اور اس کے اعجاز میں کسی طرح کا شبہ نہ رہا اس لئے جناب رسول اﷲa نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں اسے پیش کیا۔

۳… اب مرزا قادیانی کے دعویٰ پر نظر کی جائے اور بتایا جائے کہ یہ چھ باتیں جو

178

قرآن مجید کے دعویٰ کے وقت تھیں۔ مرزا قادیانی کے دعوی کے وقت ان میں سے ایک بات بھی تھی ؟ ہرگز نہیں مرزا قادیانی امی نہ تھے۔ اچھے لکھے پڑھے تھے اور ان کے مقابل کے علماء جن میں ان کا نشو ونما ہوا تھا انہیں عربی عبارت لکھنے کا شوق تو کیا، توجہ بھی نہ تھی اور یہ تو بڑی بات تھی کہ کمال درجہ فصیح وبلیغ عبارت لکھنے کا خیال ہو اور لکھنے کا مشغلہ رکھتے ہوں۔ ایسی حالت میں اگر کسی ذی علم کو عربی ادب سے طبعی مناسبت ہو تو تھوڑی توجہ سے وہ ایسی عبارت لکھ سکتا ہے کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے۔ خصوصا جس وقت یہ لکھنے والا دوسروں کے لئے میعاد مقرر کردے اور وہ میعاد بھی اس قدر کم ہو کہ مشاق لکھنے والے کو بھی لکھنا اور چھپوا کر بھیج دینا اس کی وسعت سے باہر ہو نہایت ظاہر ہے کہ اگر ایسی حالت میں کوئی جواب نہ دے تو اس شخص کی عربی تحریر معجزہ کسی طرح نہیں ہوسکتی بلکہ جواب نہ لکھنے کے متعدد وجودہ ہوسکتے ہیں۔ مثلا علماء کو عربی تحریر کی طرف توجہ نہیں ہے، اس لئے نہیں لکھا۔ یا یہ کہ لکھنے کی میعاد اس قدر کم رکھی گئی تھی کہ اس میں لکھنا اور چھپوا کر بھیجنا ممکن نہ ہو اور میعاد کے بعد بھیجنا بے کار سمجھے اس لئے نہیں لکھا۔ یہ ایسی بدیہی باتیں کہ کوئی صاحب عقل ان کا انکار نہیں کرسکتا۔

یہ پہلی وجہ ہے مذکورہ رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی اور نہایت سچی اور قوی وجہ ہے۔

۴…میرے بیان سے کوئی صاحب یہ نہ سمجھ لیں کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے وقت ہندوستان میں عربی تحریر کا مذاق کسی ذی علم کو نہ تھا۔ مرزا قادیانی اس فن میں اس وقت کے لحاظ سے اپنا مثل نہیں رکھتے تھے۔ میری یہ غرض ہرگز نہیں ہے بلکہ اکثر اہل علم کے لحاظ سے کہا ہے کہ انہیں عربی نظم ونثر کی طرف توجہ نہیں تھی۔ جن حضرات کو عربی تحریر کا مذاق ہے اور عربی نظم ونثر میں کسی قدر کمال رکھتے ہیں یا رکھتے تھے۔ وہ مرزا قادیانی کی نظم ونثر سے بدرجہا زائد عمدہ عبارت لکھتے تھے اور اب لکھ سکتے ہیں ان کی توجہ نہ کرنے کی نہایت روشن وجوہ بھی موجود ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ توجہ وہ ذوق جو اہل عرب کو اس وقت تھا وہ اس اس وقت کسی کو نہیں ہے اور نہ اس طرح کا مشغلہ کسی کا سنا گیا۔ جیساکہ اہل عرب کو تھا مگر اس فن میں ایک حد تک کمال رکھنے والے موجود ہیں اور اس وقت بھی موجود تھے۔ مگرنہایت ظاہر ہے کہ اہل کمال جسے اس فن میں لائق نہیں سمجھتے اس کی تحریر کو ردّی کی طرح پھینک دیتے اور اس طرح توجہ کرنے کو وہ ننگ وعار سمجھتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے توجہ نہ کی، یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کے دعوی کے باطل کرنے کے لئے لکھنا ضروری تھا۔ صرف اس لئے لکھتے کہ مخلوق اس غلطی میں پڑنے سے بچے یہ کہنا میرے خیال

179

میں کسی قدر صحیح ہے۔ مگر اس پر نظر کرنا ضروری ہے کہ یہ توجہ اسی وقت ہوسکتی ہے کہ علماء کے قلب میں مرزا قادیانی کی اور ان کے دعوی کی کوئی وقعت ہوتی یا انہیں یہ خیال ہوتا کہ ایسے بے سروپا دعوی سے کوئی گمراہ ہوگا اور جو گمراہ ہونے والے ہیں وہ ہر طرح ہوں گے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے عظیم الشان دعوے غلط ثابت کردیئے گئے پھر کسی ماننے والے نے اسے مانا، ہرگز نہیں۔ ایسا ہی ان رسالوں کے جواب کے بعد ہوتا۔ ہندوستان کے ادیب اور اہل کمال کے نزدیک مرزا قادیانی کی جو وقعت ہے وہ ذیل کے دو شاہدوں سے معلوم ہوسکتی ہے۔

(۱)ہندوستان میں عربی کے ادیب مولوی شبلی صاحب نعمانی مشہور ہیں۔ ان سے ان دونوں رسالوں کی حالت دریافت کی گئی، وہ لکھتے ہیں:

’’ قادیانی کو عربیت سے مطلق مس نہ تھا، ان کا قصیدہ اور تفسیر فاتحہ میں نے خوب دیکھی ہے، نہایت جاہلانہ عبارت ہے، مصر کے مشہور رسالے نے لوگوں کے اصرار سے اس کی غلطیاں بھی نہایت کثرت سے دکھائی ہیں، افسوس تو یہ ہے کہ عربیت اس قدر مفقود ہے کہ قادیانی کو ایسی جرأت ہوسکی۔‘‘ (۵؍ جولائی ۱۹۱۱ء کا یہ خط ہے)

(۲) مولوی حکیم شاہ محمد حسین صاحب الہ آبادی بھی مشہور عالم ہیں انہیں بھی عربی ادب سے پورا مذاق تھا۔ ان سے کہا گیا کہ اعجاز المسیح کا جواب لکھئے۔ انہوں نے رسالہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کا جواب کیا لکھوں؟ جس کتاب میں نہ عمدہ مضامین ہوں نہ اس کی عبارت فصیح وبلیغ ہو اس کے جواب میں کون ذی علم اپنے اوقات عزیز کو خراب کرسکتا ہے۔ اگر مضامین کچھ عمدہ ہوتے یا عبارت ہی فصیح وبلیغ ہوتی تو اس کے جواب دینے میں دل لگتا۔

غرض کہ کوئی ادیب ذی علم تو اس کو عمدہ اور فصیح بھی نہیں کہہ سکتا اور معجزہ کہنا تو عظیم الشان بات ہے اور جن میں یہ مادہ ہی نہیں ہے کہ عمدہ مضامین اور معمولی باتوں اور فصیح وغیر فصیح عبارت میں تمیز کرسکیں یا مرزا قادیانی کی محبت نے ان کے عقل وتمیز کو کھودیا ہے ان کے لئے اگر سو(۱۰۰) جواب لکھے جائیں گے تو وہ ہرگز نہ مانیں گے، جیساکہ مرزا قادیانی کی متعدد باتوں میں تجربہ ہورہا ہے۔ کیسے کیسے صریح اقوال انہیں کی زبان سے نکلے۔ انہیں کے قلم سے لکھے ہوئے ان کے کاذب ہونے کے ثبوت میں پیش کئے جاتے ہیں۔مگر سوائے بے ہودہ باتیں بنانے کے کچھ نہیں کرتے۔ پھر ایسے حضرات کی خیر خواہی میں محنت کرنا بے کار ہے۔ جواب نہ لکھنے کی یہ وجہ دوسرے حصہ میں لکھی گئی ہے۔ حق پسند حضرات دیکھیں کیسی معقول وجہ ہے، اس

180

کے جواب میں حضرات مرزائی دم نہیں مارتے۔ مگر یہ کہتے ہیں کہ کسی نے جواب نہیں دیا۔

اے جناب! اگر جواب نہیں دیا تو اس سے اعجاز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان رسالوں کی کمال حقار ت ثابت ہوتی ہے کہ ایسے اہل کمال کے لائق توجہ نہیں ہیں۔ ان شہادتوں کے علاوہ حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ ان رسائل کو مصر کے فصحاء اہل زبان نے بھی نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا اور اس کی عبارت کی غلطیاں کثرت سے ظاہر کیں۔ ( مصر کا مشہور رسالہ المنار ملاحظہ کیا جائے ) جس سے بالیقین ظاہر ہوگیا کہ ماہرین ادب کے نزدیک ان رسالوں کی تحریر فصیح وبلیغ ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اس سے ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ صرف ونحو کے قواعد کی رو سے عبارت صحیح ہو وہ بھی نہیں ہے۔ اور جب فصاحت وبلاغت کے درجہ سے بھی گری ہوئی ہے تو اعجاز کی حد تو بہت بلند ہے۔ وہاں تک کیوں کر پہنچ سکتی ہے۔ اس پر عِلاوہ یہ ہے کہ ان کے مضامین بھی عالی اور مفید نہیں ہیں کہ ان کی عمدگی کی وجہ سے ان کی طرف توجہ ہو۔ جب ان رسالوں کی یہ حالت ہے تو انسانی نیچر کا اقتضاء یہ ہے کہ ایسی لچر تحریر کی طرف اہل کمال کی توجہ نہ ہو۔ اگرچہ ناواقف کیسا ہی عمدہ اسے سمجھے مگر اہل کمال اس کی طرف توجہ کرناعار سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان رسالوں کی طرف کسی ذی علم صاحب کمال نے توجہ نہ کی۔ یہ ایسی روشن وجہ ہے کہ کوئی حق پسند اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ (مگر اس کے باوجود متعدد جوابات عربی نظم ونثر میں لکھے گئے جو احتساب قادیانیت جلد۵۹ میں جمع کردئیے گئے ہیں، وہاں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ فقیر: اﷲ وسایا، یکم جون۲۰۲۲ء)

یہ دوسری وجہ ہے۔ ان رسالوں کے جواب نہ لکھے جانے کی۔

اب انہیں معجزہ خیال کرنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ جب یہ رسالے فصیح وبلیغ نہ تھے تو ان کا جواب لکھنا زیادہ آسان تھا۔ پھر کیوں نہ جواب لکھا گیا سخت نادانی ہے۔ افسوس ہے کہ جو مرزا قادیانی کے معتقد ہوگئے ہیں ان کی عقل کی حالت بعینہ ایسی ہوگئی ہے جیسا تثلیث پر ست عیسائیوں کی، کہ دنیا کی باتوں میں اگرچہ وہ کیسے ہی دانشمند اور ذی رائے ہیں مگر تثلیث کے ماننے پر نجات کو منحصر جانتے ہیں اور کیسی یقینی اور روشن دلیلوں سے اسے غلط ثابت کیاگیا اور کیا جاتا ہے مگر وہ اپنے غلط اعتقاد سے نہیں ہٹتے۔ اسی طرح مرزائیوں کا حال ہے کہ مرزاقادیانی کے کاذب ہونے کی کیسی روشن اور کھلی کھلی دلیلیں پیش ہورہی ہیں مگر ایک نہیں سنتے۔ اگر کسی کو شبہ ہو اور کسی مرزائی نے کوئی لچر اور مہمل سی بات اس کے جواب میں کہہ دی اسے فورا ماننے لگتے ہیں اور اہل حق کیسی ہی سچی اور محقق بات کہے مگر وہ خیال بھی نہیں کرتے ہیں۔

181

میں کہتا ہوں کہ اہل کمال کا نیچرل اقتضاء یہ ہے کہ ایسی تحریر کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اس طرف توجہ کرنے کو عار سمجھتے ہیں۔ پھر وہ حضرات کیوں قلم اٹھانے لگے۔ یہی مانع ہے جس کو مرزاقادیانی نے عوام کے خوش کرنے کے لئے الہام کے پیرایہ میں ظاہر کیا ہے۔ اس بے توجہی سے ان رسالوں کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتابلکہ کمال درجہ کی انکی بے وقعتی ثابت کرتا ہے کہ اہل کمال نے انہیں نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور قابل توجہ نہ سمجھا۔

۵… اس کے علاوہ اہل کمال صاحب قلب ان کے طول طویل متضاد تحریروں کو دیکھ کر اور ان کے اثر میں ظلمت قلب کا معائنہ کرکے ان کی تحریروں سے اجتناب کرتے ہیں اور بعض تو انہیں مجنوں ہی خیال کرتے ہیں اور جوکوئی ان کے جواب کی طرف توجہ کرے اسے روکتے ہیں۔ چنانچہ مؤلف (سوانح احمدی ص۳۳۷) پر لکھتے ہیں:

’’ جب کتاب چھپ رہی تھی اس وقت ایک بزرگ باشندہ پنجاب جو پہلے مجدد وقت ہونے کے دعوے دار تھے اور اب جھٹ پٹ ترقی کرکے مسیح موعود ہونے کے دعوے دار ہو بٹھے پہلے تو اس دعوے کو خلاف اپنے اعتقاد قدیم کے دیکھ کر مجھ کو بھی تعجب ہوا تھا مگر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے۔ اس کا ثانی آج تک کوئی پیدا ہوا اور نہ آئندہ پیدا ہوگا۔ ان بزرگ کا یہ کہنا کہ میں مسیح موعود ہوں مجھ کو قبول کرو۔ٹھیک ایسا ہی ہے جیساکہ ایک دیوانہ آدمی یہ کہے کہ میں ہندستان کا بادشاہ ہوں اور فلاں فلاں دلائل میرے دعوی کے ثبوت میں میرے پاس موجود ہیں اور فلاں فلاں حکیم اور مولوی نے میرے دعوی کو تسلیم کرلیا ہے۔

اے ناظرین صاحب بصیرت ! مسیح موعود بنی آدم ایک فرد واحد ہے، اس کو اپنے ثبوت میں دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہ مدعی اگر اصل مسیح موعود ہے تو عنقریب اس کے جلال اور اقبال کا نشان ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور اگر وہ جھوٹا اور مکار اور مسیلمہ کذاب کا ہم مشرب ہے تو بہت جلد مثل کا ذب دعویداران نبوت اور مہدویت اور مسیحیت کے جھک مار کے تھوڑے دنوں کے بعد خود ہلاک ہوجائے گا اور ہزارہا۱؎ مسلمانوں کے ایمان کو تباہ کرجائے گا۔‘‘ انتہی مختصرا!

طالبین حق غورفرمائیں کہ مخصوص علماء کا یہ خیال ہے، پھر وہ مرزا قادیانی کے اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی طرف کیوں توجہ کریں گے اور یہ بے توجہی کسی دانشمندی کے نزدیک ان کے اعجاز کا باعث نہیں ہوسکتی۔

۱؎

مؤلف سوانح کی یہ پیش گوئی نہایت صحیح ثابت ہوئی۔

182

الحاصل یہ تیسری وجہ ہے ان رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی۔

۶… چونکہ کیفیت مناظرہ مونگیر میں قادیانی حضرات نے مرزا کی نبوت کے ثبوت میں وہ آیت پیش کی تھی جو قرآن مجید میں حضرت سرورانبیاء علیہ السلام کے ثبوت نبوت میں پیش کی گئی ہے اس لئے میں نے اعجاز المسیح کے جواب میں دو کتابیں پیش کی تھیں۔ (ایک ) مدارج السالکین (دوسری ) اعجاز البیان۔ یہ دو کتابیں سورۂ فاتحہ کی۱؎ عربی تفسیر میں پہلی تفسیر دو جلدوں میں اور دوسری ایک جلد میں مگر ۳۵۰ صفحوں میں ہے اور ہر صفحہ میں بیس۲۰ سطریں ہیں اور ہر سطر میں گیارہ بارہ الفاظ ہیں۔ اور مرزا قادیانی نے جو غل مچایا ہے کہ میں نے ستر دن میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے کیسا صریح دھوکہ میں ڈالنا ہے۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ستر دن میں لکھی جب ہم تفسیر کی لکھائی دیکھ کر ان کے ساڑھے بارہ جز کے دعوی کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار دلی صداقت یہی کہتی ہے کہ صریح دھوکہ دے رہے ہیں کہ تخمینا ڈھائی جز کو موٹے موٹے حرفوں میں لکھ کر ساڑھے بارہ جز لکھنے کا دعوی بڑے زور سے کیا ہے۔ جب اس حالت کو ہم معائنہ کررہے ہیں تو ان کے اس قول پر کیوں کر اعتبار کریں کہ ستر دن میں لکھی اس کی مفصل حالت ملاحظہ کرکے انصاف کیجئے !

چونکہ اس تفسیر کے اعلان میں دو شرطیں لگائی تھیں۔ ایک یہ کہ ستر دن میں لکھی جائے۔ دوسرے یہ کہ چار جز سے کم نہ ہو۔ اس کے بعد زیادہ قابلیت دکھانے کے لئے یہ اعلان بڑے دعوی سے کیا گیاکہ ہم نے اس میعاد میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے اور ہمارے مخالف نے ایک ورق بھی نہ لکھا اور میرا الہام ’’منعہ مانع من السماء ‘‘ سچا ہوگیا۔ اب کوئی انصاف پسند ساڑھے بارہ جز کی حالت کو دیکھے۔ اول تو رسالے کو دیکھاجائے کہ کیسے موٹے حرفوں میں لکھا گیا ہے پھر یہ کہ صفحہ میں اصل عبارت کی دس سطریں ہیں۔ اب بنظر تحقیق حق تفسیر اعجاز التنزیل مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن کی صرف لکھائی اور مقدار تحریر سے مقابلہ کیا جائے۔ اگر چہ اعجاز التنزیل بھی نہایت کشادہ لکھی گئی ہے۔ مگر اس کی اسی واضح تحریر سے اعجاز المسیح کی تحریر کا مقابلہ کیا جائے تو بالیقین معلوم ہوجائے گا کہ جنہیں ساڑھے بارہ جز کہا جاتا ہے وہ معمولی واضح تحریر سے تقریبا ڈھائی تین جزوں سے زیادہ نہیں ہیں۔ جسے تحقیق کرنا منظور ہو وہ دونوں تفسیروں کے صفحات کے الفاظ شمار کرکے دیکھ لے اور پھر اس پر نظر کرے کہ صفحوں کی یہ مقدار صرف سورۂ

۱؎

اسی طرح میں دس بارہ تفسیروں کے نام بتا سکتا ہوں جو خاص سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں لکھی گئی ہیں۔ مگر جب مقابلہ میں کوئی طالب حق راستباز نہیں ہے تو کلام کو طول دینا بیکار ہے۔

183

فاتحہ کی تفسیر میں نہیں ہیں بلکہ شروع سے ۶۶ صفحہ تک تو تمہید ہے۔ جس میں مرزا قادیانی نے اپنی تعریف اور دوسرے علماء کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے۔ اس صفحہ پر پہنچ کر لکھتے ہیں وسمیتہ اعجاز المسیح۔

یعنی میں نے اس کا نام اعجاز المسیح رکھا اہل علم جانتے ہیں کہ مصنفین یہ جملہ اکثر پہلے یا دوسرے صفحہ میں لکھتے ہیں مگرمرزا قادیانی نے اپنی تفسیر کے بڑھانے کو چار جز فضول باتوں میں سیاہ کرکے یہ جملہ لکھا۔ اس حساب سے اصل تفسیر کے تقریبا آٹھ ہی جز ہوتے ہیں اس لئے مقتضائے دیانت یہ ہے کہ اسی آٹھ جز کا اندازہ کیا جائے، اگر اس مقدار کا اندازہ کیا جائے گا تو فاتحہ کی تفسیر میں دو سوا دو جز سے زیادہ نہ ہوگا۔ اب اس قلیل مقدار کی تحریر کو بڑے زور سے ساڑھے بارہ جز بار بار کہا جاتا ہے۔ پھر یہ ابلہ فریبی نہیں تو کیا ہے؟ خدا کے لئے خلیفہ صاحب یا اور اہل فہم کہیں تو غور کرکے انصاف سے کہیں مگر ان سے ایسا نہیں ہوسکتا۔ افسوس! الغرض جب اس اعلانیہ بات میں ایسا صریح دھوکہ دیا جاتا ہے تو اس کہنے پر کیوں کر اعتبار کرلیا جائے کہ ستردن میں لکھی، جو حضرات اظہار فخر کے لئے ایسی صریح ابلہ فریبی کریں ان سے ظہور اعجاز کی امید رکھنا کسی ذی عقل کا کام نہیں ہے۔ ان دونوں تفسیروں کو میں نے اس لئے پیش کیا تھا کہ یہ دونوں تفسیریں بلحاظ عمدگی مضامین اور باعتبار فصاحت وبلاغت عبارت کے اس قدر بلند پایہ اعجاز المسیح سے ہیں کہ کوئی ذی عقل کمال انہیں دیکھ کر اگر اعجاز المسیح کو دیکھے گا تو نفریں کرنے لگے گا اور پھر ادھر نظر اٹھا کر نہ دیکھے گا پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اسے اس قابل سمجھے کہ اس کا جواب دیا جائے۔

بھائیو! اگر کچھ علم وفہم ہے تو ان صریح اسباب میں غور کرو اور خدا سے ڈر کر انصاف سے کہو کہ جب ان رسالوں کی طرف توجہ نہ کرنے کے یہ اسباب ہیں تو ان کے جواب نہ لکھے جانے سے ان کا اعجاز کیوں کر ثابت ہوجائے گا۔ اس کے جواب میں بعض جہلاء یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے جواب میں ان کتابوں کو پیش کرنا مرے مردوں کی ہڈیاں اکھیڑنا ہے۔ ایسے ہی بے ہودہ جوابوں کی وجہ سے کوئی ذی علم ان کے جواب کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اعرض عن الجاھلین پر عمل کرتا ہے۔ مگر بعض کی خیر خواہی نے کسی قدر ان کی طرف متوجہ کردیا۔ اب جنہیں کچھ علم وفہم ہو وہ ملاحظہ کریں۔ اعجاز المسیح کے فصیح وبلیغ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

(خلاصہ، حقیقۃ الوحی ص۳۷۹ خزائن ج ۲۲ ص۳۹۳)

اور پھر اسے اعجاز کہا ہے۔ اس لئے ان کا نام بھی اعجاز المسیح رکھا ہے۔ فن بلاغت میں

184

کلام کی دوطرف بیان کی ہیں۔ ایک اعلیٰ، دوسری ادنیٰ۔ اعلی مرتبہ کو اعجاز کہا ہے اور طاقت بشری سے اسے خارج بتایا ہے، یعنی کوئی انسان کسی وقت ویسا کلام نہیں لکھ سکتا اس سے ظاہر ہوگیا کہ اعجاز اور معجزہ اسی کلام کو کہیں گے جس کے مثل نہ زمانہ گذشتہ میں کسی نے لکھا ہو۔ نہ حال اور آئندہ میں کوئی لکھ سکے۔ اسی تحقیق علمی کی بنیاد پر میں نے ان تفسیروں کو پیش کیا تھا۔ جس سے بالیقین ظاہر ہوگیا کہ اعجاز المسیح کو اعجاز کہنا محض غلط ہے۔ کیوں کہ اس سے ہر طرح نہایت عمدہ سورٔ فاتحہ کی تفسیر موجود ہیں۔ اب تفسیر لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بے کار وقت ضائع کرنا ہے۔ مگر چونکہ قادیانی جماعت علم وفہم سے بے بہرہ ہے اس لئے سچے اور علمی جواب کو مذاق میں اڑاتی ہے۔

الغرض یہ چوتھی وجہ ہے اعجاز المسیح کے معجزہ نہ ہونے کی۔ جب اس تفسیر سے بدرجہا زیادہ عمدہ تفسیریں موجود ہیں تو اعجاز المسیح کو اعجاز کہنا سراسر غلط ہے اور قصیدہ اعجازیہ کا جواب مولوی اصغر علی صاحب روحی پروفیسر کالج لاہور نے لکھا تھا اور اخبار اہل حدیث میں چھپا تھا۔ (جو احتساب قادیانیت کی جلد ۵۹ میں شائع ہوچکا ہے، الحمدﷲ! فقیر: اﷲ وسایا )

اس وقت کسی مرزائی نے اس کی نسبت دم نہیں مارا۔ مگر جھوٹا دعوی ہورہا ہے کہ کوئی اس کے مثل نہ لایا اب ان دونوں رسالوں کے لکھے جانے کا اصلی سبب بھی معلوم کرنا چاہئے جس سے مرزا قادیانی کی حالت اور ان کے اعجاز کی کیفیت اور زیادہ منکشف ہوجائے گی۔

اعجاز احمدی کے لکھے جانے کا ظاہری سبب: ۱۹۰۲ء میں ضلع امرتسر میں مولوی ثناء اﷲ صاحب سے اور مرزاغلام احمد قادیانی کے خاص مرید سے مناظرہ ہوا اور مرزائی اس میں نہایت ذلیل ہوئے اور مرزا قادیانی کے پاس جاکر بہت کچھ فریاد کی مرزا قادیانی کو بہت کچھ طیش آیا اور قصیدہ اعجازیہ شاید پہلے سے لکھ رکھا تھا اور اس وقت حسب مناسب بعض اشعار کی بیشی وکمی کرکے یا کراکے اپنے گھر کے مطبع میں فورا طبع کرکے مولوی صاحب کے پاس اس اشتہار کے ساتھ بھیجا کہ اگر مولوی ثناء اﷲ امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو وعربی نظم میں جیسا میں نے بنایا ہے بیس روز میں بنادے تو میں دس ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ پھر اس رسا لہ کے لئے صرف بیس روز کی قید شدید پر مرز قادیانی نے بس نہیں کی بلکہ یہ بھی لکھا کہ رسالہ چھاپ کر اور مرتب کراکے ہمارے پاس بھیج دیا جائے۔ اب جن کے قلب میں کچھ بھی انصاف کی بو ہے وہ صرف ان قیدوں میں تھوڑا سا غور کرکے مرزاقادیانی کی حالت معلوم کرسکتے ہیں۔ کیا صادقین کی باتیں ایسی چالاکی اور عیاری کی ہوسکتی ہیں ؟ اس پر نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اس کے جواب میں چار قیدیں

185

لگاتے ہیں۔ (۱) باریک قلم سے لکھا ہوا نوے صفحہ کا رسالہ ہو (۲) آدھا رسالہ اردو میں ہو اور آدھا عربی نظم میں (۳) بیس روز میں لکھیں (۴) پھر اسی میعاد میں چھپواکر میرے پاس بھیج دیں۔

اہل انصاف اس روشن زبردستی کو ملاحظہ کریں کہ ان قیدوں کے ساتھ ظاہری اسباب کی نظر سے جواب لکھا جاسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ساڑھے پانچ جز کا رسالہ جس کے بعض صفحوں پر ۲۲ سطریں ہوں اور بعض میں ۲۱ پھر اتنے بڑے رسالے کی تالیف کرنا اور تالیف بھی معمولی نہیں۔ ایک شاطر مناظر مشاق کی باتوں کا جواب دینا اور وہ بھی صرف اردو نہیں بلکہ عربی قصیدہ بھی اس طرح کا ہو جیسا کہ اس میں ہے۔ ان قیدوں کو دیکھ کر ہر ایک منصف کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دل میں سمجھتے ہیں کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب اس کا جواب لکھ دیں گے۔ اس لئے ایسی شرطیں لگاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے لکھنا غیر ممکن ہو۔

حضرات انہیں شرطوں پر قناعت نہیں ہے۔ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اسی مدت میں چھپواکر میرے پاس بھیجو۔ اب ملاحظہ کیجئے کہ معمولی پریس میں چار روز میں ایک جز چھپتا ہے اگر ہزار یا بارہ سو چھاپا جا ئے اس حساب سے ساڑھے پانچ جز ۲۲ روز میں چھپے گا۔ پھر اس کی ترتیب اور سلائی وغیرہ میں دو تین روز ضرور لگیں گے۔ غرضیکہ ہر طرح کی عجلت کے ساتھ مطبع سے ۲۵ روز میں نکلے گا اور کم سے کم ڈاک کی معمولی حالت کے لحاظ سے تیسرے روز مرزا قادیانی کو پہنچے گا۔

غرضیکہ تخمینا ایک مہینہ صرف چھپنے اور پہنچنے میں لگے گا اور تالیف اور تصنیف کا زمانہ اس سے علاوہ ہے،اب تصنیف کا زمانہ کس قدر ہونا چاہئے؟ اسے مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر اندازہ کرنا چاہئے۔ مولوی صاحب نہ صاحب جائیداد ہیں، نہ ان کے مریدین معتقدین ہیں کہ نذرانہ یا چندہ کے طورپر انہیں کچھ ملتا ہے۔ اخبار کے اجراء میں کوشش کرتے ہیں۔ کچھ مشاغل ہیں اس سے بسر اوقات ہوتی ہے۔ ان سب کے ساتھ ساڑھے پانچ جز کا رسالہ جن میں عربی قصیدہ بھی ہو ایک مہینہ سے کم میں نہیں لکھ سکتے۔ بشرطیکہ عربی نظم کی طرف انہیں توجہ بھی ہو، غرضیکہ جو کام حسب عادت دو ماہ سے کم میں نہ ہوسکے وہ بیس دن میں کیوں کر ہوسکتا ہے۔

حاصل یہ کہ انہیں مشکلات پر نظر کرکے مرزا قادیانی نے ایسی قیدیں لگائیں کہ ان قیدوں کی وجہ سے جواب غیر ممکن ہوجائے اور اگر ان قیدوں کو چھوڑ کر کوئی جواب لکھے تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیںگے۔

اہل حق فرمائیں کہ جب ایسی شرطیں لگائی جائیں کہ ان شرطوں کی وجہ سے جواب

186

ممکن نہ ہو تو اصل کتاب کا اعجاز ثابت ہوسکتا ہے ؟۔ انصاف سے اس کا جواب دیا جائے ؟ قادیانی جماعت کچھ تو غیرت کرے ،ان دنوں گدی نشین قادیانی سے دریافت کیا گیا کہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا اگر اب کوئی جواب دے تو وہ جواب سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اس کا جواب جناب (قادیانی پنڈت)صادق قادیانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا آیا کہ اعجاز احمدی کے بالمقابل لکھنے کی میعاد ۱۰ دسمبر۱۹۰۲ء کو ختم ہوگئی اور اعجاز المسیح کی میعاد ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء کو ختم ہوگئی۔

لیجئے جناب! خلیفہ قادیانی کی تحریر سے بھی معلوم ہوا کہ ان رسالوں کا اعجاز بہت تھوڑی مدت کے اندر محدود تھا۔ اب اس کے بعد وہ اعجاز سلب ہوگیا۔ اب اس کے مثل اہل علم لکھ سکتے ہیں مگر وہ جوا ب جماعت قادیانیہ کے لائق توجہ نہ ہوگا۔

برادران اسلام نے ایسا اعجاز نہ سنا ہوگا کہ بیس دن کے اندر تک تو معجزہ رہے اور اس کے بعد وہ اعجاز جاتا رہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حد بندی کی اطلاع ان کے مریدین اور معتقدین کو ہے یا نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ اب تک ان رسالوں کو جواب کے لئے پیش کرتے اور بآواز بلند کہتے ہیں کہ اب تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ جب یہ امر مشتہر ہوچکا ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ ان کی جماعت کو خبر نہ ہو بلکہ ناواقفوں کو دھوکہ دینا مد نظر معلوم ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ اگر کوئی جواب نہ لکھے تو اس کااعلان ہے کہ کسی نے جواب نہیں دیا، اعجاز ثابت ہوگیا۔ اور اگر کسی نے جواب دیا تو فورا کہہ دیا جائے گا کہ جواب کی تاریخ گزرگئی، اب لائق توجہ کے نہیں ہے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کے اور ان کے متبعین کی باتیں عجب پیچ در پیچ ہوتی ہیں۔ صادقوں کی سی سچائی اور صفائی ہرگز نہیں ہے۔ ان باتوں نے آفتاب کی طرح روشن کردیا کہ اس اعجاز کے دعوے سے مقصود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اور معلوم کرلیا تھا کہ ان شرطوں کے ساتھ جواب دینا غیر ممکن ہے۔ کیوںکہ جو کام اسباب ظاہری کے لحاظ سے کم سے کم ڈیڑھ دو مہینے کا ہو، وہ بیس دن میں کیوںکر ہوسکتا ہے مگر قدرت خدا ہے کہ جماعت قادیانیہ کے پڑھے لکھے بھی ایسی موٹی بات کو نہیں سمجھتے اور ان رسالوں کو معجزہ مان رہے ہیں۔

قصیدہ اعجازیہ کی تفصیلی حالت اور اس کے اغلاط ’’ الہامات مرزا ‘‘ کے ص ۸۶ تا۹۶ دیکھنا چاہئے۔ مولوی ثناء اﷲ صاحب نے قصیدہ کی غلطیاں دکھاکر یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے قصیدہ کو ان اغلاط سے پاک کریں اور پھر زانو بزانو بیٹھ کر عربی تحریر کریں۔ اس وقت حال

187

کھل جائے گا ۱؎۔ مگر مرزا قادیانی نے تو اس کے جواب میں دم بھی نہ مارا، اگر عربیت میں دعویٰ تھااور یہ رسالہ خود انہوں نے لکھا تھا تو کیوں سامنے نہ آئے؟ یہ بدیہی دلیل ہے کہ قصیدہ دوسرے سے لکھوایا اور اپنے فہم کے موافق سمجھ لیا کہ مولوی ثناء اﷲ وغیرہ ایسے ادیب نہیں ہیں جو ایسا رسالہ عربی میں لکھ سکیں۔ پھر بطور احتیاط بیس دن کے اندر لکھ کر بھیجنے کی قید لگادی اور سمجھ لیا کہ اس مدت کے اندر تو وہ لکھ کر کسی طرح بھیج ہی نہیں سکتے، اگرچہ وہ ادیب بھی ہوں اس لئے ایسا دعوی کردیا۔

۱؎

اس تحریر کے بعد خلیفہ قادیانی کا رسالہ نورالدین نظر سے گزرا، اس میں اس حدبندی مقرر کردینے کے لئے خلیفہ قادیانی نے اپنی دانست میں نہایت عمدہ وجہ لکھی ہے وہ یہ ہے کہ غلام احمد کو آنحضرتa سے برابری کا دعوی نہیں ہے، بلکہ وہ غلام احمد یعنی رسول اﷲa جو احمد ہیں ان کا غلام ہے، اس لئے وہ اعجاز میں بھی برابری نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں جواب دینے کے لئے مدت مقرر نہیں کی ہے، مرزا قادیانی مدت معین کرتے ہیں تاکہ رسول اﷲa کے اس معجزے سے برابری نہ ہوجائے۔ خلیفہ قادیانی کی ایسی باتوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کیا اسی عقل وفہم پر حکیم الامت کا خطاب دیا گیا ہے۔ بھلا یہ تو فرمایئے کہ برابری کا نہ ہونا اور ادب اور غلامی کا ثبوت اسی پر منحصر تھا کہ جواب کے لئے ایسے انداز سے قید لگائی جائے کہ اس میعاد میں جواب لکھ کر بھیجنا غیر ممکن ہو۔ ادب اور غلامی کا ثبوت تو اس طرح بھی ہوسکتا تھا کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب اپنی تمام عمر میں اس کا جواب دیں یا دوسرے سے لکھوا دیں اس قدر قید ان کی غلامی کے ثبوت کے لئے کافی تھی۔ مگر یہ نہیں کیا بلکہ نہایت سخت اور تنگ میعاد مقرر کی اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں ہے جو ابھی بیان کی گئی، اس کے علاوہ خلیفہ قادیان یہ تو فرمائیں کہ اگربرابری کا دعوی نہیں ہے تو( ۱) منم محمدؐ واحمدؐ کہ مجتبٰی باشد (تریاق القلوب ص ۶ خزائن ج ۱۵ ص ۱۳۴) کس نے کہا ہے (۲) اعجاز احمدی کا وہ شعر بھی آپ کو یاد ہے جس میں مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں کہ رسول اﷲa کے لئے تو صرف چاند گرہن ہوا اور میرے لئے چاند گرہن اور رسورج گرہن دونوں ہوئے۔ (خلاصہ، اعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳ ) کہئے جناب یہاں تو برابری سے گذر کر فضیلت کا دعوی ہے۔ (۳) اسی طرح ان کا الہام ہے ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ (تذکرہ ۵۲۴ طبع۴) یعنی اﷲ تعالیٰ مرزا قادیانی سے کہتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین وآسمان پیدا نہ کرتا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اصل مقصود عالم میں مرزا قادیانی کا پیدا کرنا تھا باقی جتنے اولیاء انبیاء دنیا میں آئے ان کا وجود مرزا قادیانی کے طفیل میں ہوا۔ اب خلیفہ کی روح اور ان کے ماننے والے بتائیں کہ اس الہام میں کس قدر فضیلت کا دعوی ہے یہاں غلامی کہاں چلی گئی۔ یہاں تو سرور انبیاء کو اپنا طفیلی بتارہے ہیں۔ (۴) تحفہ گولڑویہ ص ۴۰ خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳ ؍ کا وہ مقولہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ رسول اﷲa سے تین ہزار معجزے ہوئے۔ اس کے بعد اس قول پر نظر کیجئے جہاں لکھتے ہیں کہ مجھ سے تین لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہوئے۔(خلاصہ حقیقۃ الوحی ص ۶۷ خزائن ج ۲۲ ص ۷۰)اب فرمایئے کہ یہاں سو حصہ زیادہ فضیلت کا دعوی ہے یا نہیں ؟ ضرور ہے پھر یہاں دعوی غلامی کیوں چھوڑا گیا اسی طرح مرزا قادیانی کے دعوی بہت ہیں، مگر جیسا موقع ان کے خیال میں آگیا ویسا دعوی کردیا حکیم صاحب کچھ تو ہوش کیجئے ! آپ کہاں تک باتیں بنائیں گے۔ لن یصلح العطّار ما افسدہ الدھر۔

188

الحاصل یہ قصیدہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہو یالکھوایا ہو، ان کی میعاد مقررہ کے اندر کسی نے جواب دیا ہو یا نہ دیا ہو مگر وہ معجزہ کسی طرح نہیں ہوسکتا اس کے متعدد وجوہ بیان کردیئے گئے۔ اعجاز المسیح کا شان نزول بھی کچھ ملاحظہ کرنا چاہئے۔ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ جو پنجاب اور خصوصا سیالکوٹ کے نواح میں زیادہ مشہور بزرگ ہیں، مرزانے ان سے مناظرہ کا اشتہار دیا۔ اب قدرت خدا کا یہ نمونہ ہوا کہ مرزانے اپنے ہاتھوں سے یہ بھی لکھ دیا کہ اگر میں پیرصاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو پھر میں مردود، جھوٹا، ملعون، ہوں اور اس شد ومد کے اشتہار اور اقرار کے بعد قدرت خدا سے صداقت کا ظہور نہایت آب وتاب سے اس طرح ہوا کہ باید وشاید۔

حاصل یہ کہ پیر صاحبؒ مرزا قادیانی کی تمام شرطیں منظور کرکے مناظرہ پر آمادہ ہوگئے، ۲۵؍ اگست ۱۹۰۰ء مناظرہ کی تاریخ مقرر ہوگئی اور پیر صاحب اپنے اقرار کے بموجب ۲۴؍ اگست کو مع دیگر علماء اور معززین اسلام کے لاہور پہنچے اور ۲۹؍ اگست تک منتظر رہے، مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے۔ اس نواح کے مریدوں نے زور لگایا، مگر وہ نہ آئے اور اپنے اس اشتہاری اقرار کی بھی پرواہ نہ کی کہ لکھ چکے تھے کہ اگر مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو جھوٹا اور ملعون، ہوں۔ جلسہ کا اہتمام کرنے والوں نے اس جلسہ کی روئداد طبع کراکے مشتہر کرائی تھی۔ اس میں ذیل کا مضمون لائق ملاحظہ ہے :’’ جملہ حاضرین جلسہ کے اتفاق رائے سے یہ قرار پایا کہ یہ شخص (یعنی مرزاقادیانی ) مخاطب ہونے کی حیثیت نہیں رکھتا ہے اور شرمناک دروغ گوئی سے اپنی دوکانداری چلانا چاہتا ہے۔ اس لئے آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کی کسی تحریر کی پرواہ نہ کریں‘‘

یہ روئداد مسلمانوں میں بہت شائع ہوئی ہے۔ جس سے مرزا کے دعوؤں کی حالت اظہر من الشمس ہوگئی اور اپنے پختہ اقرار سے جھوٹے اور ملعون ٹھہرے اس شرمناک ذلت مٹانے کے لئے مرزا قادیانی نے تفسیر اعجاز المسیح لکھی اور پیر صاحب سے جواب طلب کیا ۱؎اور منعہ مانع

۱؎

چنانچہ قادیانی اخبار الحکم مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۴ء کے ص ۵ میں ہے۔ اعجاز المسیح حضرت حجۃ اﷲ مسیح موعود کی عربی تصنیف ہے جو ستر دن کے اندر باوجود یکہ چار جز کا وعدہ تھا ساڑھے بارہ جز پر شائع ہوگئی اور ۲۳ ؍فروری ۱۹۰۱ء کو پیر صاحب گولڑویہ بصیغہ رجسٹری بھیجی گئی اور بالمقابل پیر صاحب کی طرف سے ان ستر دن کے اندر چار جز ساڑھے بارہ جز تو کجا ایک آدھ صفحہ بھی اعجاز عربی کا شائع نہیں ہوا اور اس طرح پر الہام منعہ مانع من السماء پورا ہوگیا۔ پیر گولڑوی کی علمیت وقرآن دانی کا راز طشت از بام ہوگیا۔ اس الہام سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس تفسیر میں اعجاز عربی نہیں ہے کہ اس طرح کی عربی پر پیر صاحب قادر نہ تھے بلکہ کوئی مانع پیش آگیا اور اصلی مانع کو میں نے ظاہر کردیا جس سے مرزا قادیانی کا راز طشت از بام ہوگیا اور ان کے دعوی اعجاز کی حقیقت کھل گئی۔

189

من السماءکا الہام بھی سنا دیا، کیوںکہ روئیداد سے معلوم کرچکے تھے کہ پیر صاحب اور تمام علماء حاضرین جلسہ مجمع عام میں ہزاروں معززین اسلام کے روبرو کہہ چکے ہیں کہ کوئی مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو مخاطب نہ بنائے اور ان کی کسی بات کا جواب نہ دے اور ظاہر ہے کہ یہ علماء اپنے قول کے خلاف ہرگز نہ کریں گے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے عمدہ موقع پاکر اپنی تفسیر پیش کی اور جواب طلب کیا اور پیر صاحب نے اور دیگر علماء اپنے قول کے بموجب سکوت کیا اور اپنے اقرار کے پابند رہے اور مرزا قادیانی کی طرح بد عہد اور جھوٹا ہونا پسند نہیں فرمایا۔ اس میں شبہ نہیں کہ پیر صاحب اور دیگر علماء کے لئے یہ آسمانی مانع تھا کیوں کہ اپنے قول پر قائم رہنا آسمانی حکم ہے اس لئے الہام کا مضمون بلاشبہ صحیح ہے مگر مرزا قادیانی نے اصل حالت کو پوشیدہ کرکے ایسے پیچ سے اسے بیان کیا ہے کہ مریدین اسے معجزہ سمجھ رہے ہیں۔

ایک اور راز ملاحظہ کیجئے وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے خیال کیا ہوگا کہ جو علماء اس جلسہ میں شریک تھے وہ تو اپنے عہد کے خیال سے جواب دیں گے نہیں اور دوسرے علماء جو دور دراز جگہ کے رہنے والے ہیں، انہیں کیا خبر ہوگی اور کسی کو ہوئی بھی تو دیر میں ہوگی اس لئے جواب کے لئے ستر دن کی قید لگادی اور معلوم کرلیا کہ اول تو اس میعاد کے اندر دوسرے علماء کو خبرہی نہیں ہوسکتی اور اگر کسی کو ہوئی بھی اور جوش اسلامی نے انہیں آمادہ بھی کیا تو انہیں اتنی مدت نہیں مل سکتی کہ وہ اس قدر تفسیر لکھیں اور اس قلیل مدت کے اندر چھپواکر ان کے پاس بھیج دیں اس لئے یہ میعاد مقرر کردی۔

اب اہل حق اس داؤ پیچ کے اعجاز کو ملاحظہ کریں جس سے مرزا قادیانی کی حالت آفتاب کی طرح چمک رہی ہے ’’فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ‘‘(الحشر:۲) یہ وہ سچا بیان ہے کہ کسی مرزائی کی مجال نہیں کہ اسے غلط ثابت کرے۔ الغرـض اس بیان سے دنیا پر دو باتیں نہایت روشن طریقے سے ثابت ہوگئیں۔ ایک یہ کہ اعجاز المسیح کے جواب نہ لکھے جانے کی اصلی وجہ کیا تھی۔ دوسرے یہ کہ ان کے صریح اقرار سے یہاں بھی ثابت ہوگیا کہ وہ جھوٹے تھے۔ اس لئے قدرت الٰہی نے انہیں جانے نہ دیا اور روک لیا اگرچہ جانے کے بعد بھی جھوٹے ٹھہرتے مگر وہ جھوٹ دوسرے کی زبان سے ثابت ہوتا اور نہ جانے سے ان کی زبان سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا اور ان کے دعوؤں کی حالت بھی معلوم ہوگئی۔ اس زور وشور سے مناظرہ کا اشتہار دیا اور پیر صاحب کو نہایت سخت اور توہین کے الفاظ لکھ کر انہیں آمادہ کیا اور جب وہ آمادہ ہوکر میدان میں آگئے تو گھر سے باہر نکلے۔

190

حق پرست حضرات اس واقعہ پر انصاف سے نظر کریں اور بہتر ہے کہ روئیداد جلسہ اسلامیہ لاہور کو ملاحظہ کرلیں۱؎ پھر فرمائیں کہ خدا کے برگزیدہ رسول اس کے نیک بندے سے نہایت سخت کلامی کرکے عہد وپیمان کریں اور نہایت پختہ اقرار کرکے اسے پورا نہ کریں۔ ایسا ہوسکتا ہے ؟ خدا کو عالم الغیب جان کر جواب دیجئے کیا ممکن ہے کہ خدا کے مقبول کسی سے ایسا پختہ وعدہ کریں کہ اس کے پورا نہ ہونے پر اپنے کذب کو منحصر کردیں؟ اور خدا ان کی اس قدر مدد نہ کرے کہ وہ وعدہ پورا کرسکیں ؟ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔

سنا گیا کہ نہ جانے کا عذر مرزا قادیانی نے یہ کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ولایتی مولوی مجھے مارڈالنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ اب وہاں جانا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور قرآن مجید میں اس کی صریح ممانعت آئی ہے۔

بھائیو! ذرا تو غور کرو کہ مرزا قادیانی نے خود ہی مناظرہ کا اشتہار دیا اور نہایت غیرت دار الفاظ لکھ کر پیر صاحب کو آمادہ کیا اور جب مناظرہ کا ٹھیک وقت آپہنچا اور مقابل سامنے آگیا اس وقت یہ الہام ہوتا ہے کہ ولایتی مولوی مارنے کے لئے بلاتے ہیں۔ کیا اس علام الغیوب کو پہلے سے اس کا علم نہ تھا کہ اگر مناظرہ میں اجتماع ہوگا تو وہ مارڈالنے کی فکر کریں گے ؟ اس ملہم نے اشتہار دینے کے وقت یہ الہام نہ کیا کہ اب اشتہار نہ دے ورنہ روکا جائے گا اور جھوٹا اور ملعون ٹھہرے گا۔ خدا ئے تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس فعل سے تو نہ روکا جس سے وہ تمام خلق کے نزدیک بدعہد اور جھوٹا قرا ر پائے اور اس کی اس رسوائی اور کذب کو پسند کرکے اس کے بچانے کے لئے الہام کیا، کون صاحب عقل اسے باور کرسکتا ہے ؟ مگر ان کے معققدین کی کچھ ایسی عقل سلب کردی گئی ہے کہ ایسی بدیہی بناوٹ بھی انہیں نظر نہیں آتی۔

اس پر غور کیا جائے کہ پیر جی کے مقابلہ پر اس زور وشور سے مناظرہ کا اشتہار دیا کہ اپنے کذب کو اس کے نہ کرنے پر منحصر کردیا پھر کیا مقربین خدا خصوصا انبیاء بغیر الہام الٰہی ایسا اعلان کرسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں اور اگر غلطی کریں تو انہیں فورا اطلاع خدا وندی نہ ہو۔

۱؎

یہ روئیداد دوسری مرتبہ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں بصورت رسالہ چھپی ہے۔ یعنی اس روئیداد کے پہلے ایک لائق دید تمہید ہے اور اس مجموعہ کا نام ’’حق نما ‘‘ ہے۔ ۱۳۳۱ہجری میں رسالہ النجم کے ہمراہ بھی یہ رسالہ چھپا ہے اور علیحدہ بھی ہے (نوٹ : ماہنامہ لولاک ملتان ربیع الاول ۱۴۲۳ھ میں بھی قسط وار یہ رسالہ شائع ہوا، پھر احتساب قادیانیت ج۳۸ ص ۴۷۷ تا ۵۰۷ میں بھی شائع ہوا ہے۔ فقیر)

191

یہ نہیں ہوسکتا ہے کیوںکہ عام مخلوق کے روبرو وہ اپنی زبان سے جھوٹے ٹھہرتے ہیں اس کے علاوہ ایسے مقام پر انبیاء کی حمایت نہ ہو اور انبیاء کو اس کی حمایت پر اعتماد نہ ہو یہ بھی نہیں ہوسکتا۔

مرزائی جماعت انبیاء کے قتل نہ ہونے پر آیت’’ لاغلبن انا ورسلی‘‘پیش کرتی ہے۔ پھر کیا مرزا قادیانی کو اس وقت تک اس آیت پر نظر نہ تھی جو ولایتی مولویوں سے ڈر گئے اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ نہ جانے سے میں جھوٹا ٹھہروں گا۔ اسی خجالت کو مٹانے کے لئے جو رسالہ لکھنے کا وعدہ کیا اس کی واقعی حالت تو ہمیں معلوم نہیں ہوسکتی کہ مرزا قادیانی نے خود لکھا یا دوسرے سے مدد لی اور اگر خود ہی لکھا تو کتنے دن میں لکھا اس کا ثبوت مرزائی جماعت نہیں دے سکتی ہے۔ مناظرہ کا زور وشور مچاکر عین وقت پر گریز کرجانا اس بات کے لئے نہایت قوی قرینہ ہے کہ بالمشافہ لکھنے کی قدرت نہ تھی۔ علماء خصوصا صوفیاء کی حالت کو قیاس کرکے سمجھتے تھے کہ پیر صاحب مقابلہ کے لئے تیار نہ ہوںگے۔ اس لئے مناظرہ پر زور تھا۔ جب ان کے خلاف قیاس پر وہ آمادہ ہوگئے تو بچنے کا ایک حیلہ نکالا۔ اور بالفرض اگر ہم مان لیں کہ خودمرزا قادیانی نے لکھا اور اسی مدت میں لکھا اور کسی دوسرے نے مدد نہیں دی، پھر اس میں اعجاز کیا ہوا ؟ اتنی بات معلوم ہوئی کہ مرزا قادیانی کو ادب میں مذاق اس قدر تھا کہ دو ڈھائی مہینے میں ڈھائی تین جز تفسیر کی عربی عبارت میں لکھ سکتے تھے اور وہ بھی اتنی محنت ومشغولی کے بعد کہ نمازیں بھی بہت سی قضا کیں اور پھر انہیں جمع کیا۔ اتنی مدت میں ایسی شدید مشغولی کے ساتھ پونے تین یا تین جز عربی عبارت لکھ دینا کوئی کمال کی بات نہیں۔ اگر شب وروز میں ایک صفحہ بھی لکھا جاتا تو چار جز سے زیادہ ہوتا اور مرزا قادیانی کی تفسیر تو معمولی طریقہ سے اگر لکھی جائے تو تین جز سے زیادہ کسی طرح نہیں ہوتی۔ پھر شب وروز کی محنت میں نمازیں قضا کرکے ایک صفحہ تفسیر کا لکھ دینا کون سی بڑی قابلیت کی دلیل ہے کہ دوسرے نہیں کرسکتے۔ ذرا کچھ تو انصاف کرنا چاہئے اور بہت اچھا ! ہم نے مانا کہ اس وقت چونکہ اکثر علماء کو عربی تحریر کا مذاق نہیں ہے مرزا قادیانی عربی میں ایسی عبارت اور مضمون لکھ سکتے ہیں کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے ۱؎ پھر اس سے ان کے رسالہ کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔

۱؎

فرضی طور پر یہ لکھا گیا ہے ورنہ اس وقت بھی جن کو عربی تحریر کا مذاق ہے وہ مرزا قادیانی سے بدرجہا عمدہ تفسیر لکھ سکتے ہیں۔ البتہ عرب کا سا مشغلہ اور ان کے سے خیالات کسی ذی علم کے نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کو ذلیل کرنے کے لئے جواب لکھنے پر آمادہ ہوجائیں اور اپنی قابلیت کا اظہار کریں اور خصوصا ایسے شخص کے مقابلہ میں جسے وہ لائق خطاب نہیں سمجھتے جس کی تحریر کو وہ جاہلانہ عبارت سمجھتے ہیں۔

192

زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی میں اتنی قابلیت تھی کہ شب وروز کی محنت میں ایک صفحہ عربی عبارت کا لکھ سکتے تھے اور وہ چند علماء جنہیں ان کی طرف توجہ بھی تھی اور انہیں اس اعلان کی خبر بھی پہنچی وہ اس لئے نہ لکھ سکے کہ عربی لکھنے کی مشق نہیں رکھتے تھے یا بوجوہ مذکورہ بالا متوجہ نہ ہوئے۔ اس میں مرزا قادیانی کا اعجاز کیا ہوا ؟

الحاصل اس رسالہ کو معجزہ کہنا اور اس کا نام اعجاز المسیح رکھنا محض غلط ہے اور اس کی تصدیق خود مرزاقادیانی کا دل بھی کرتا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے ستر دن کے اندر لکھنے کی قید لگائی ورنہ اعجاز کے لئے کوئی قید نہیں ہوسکتی۔ اور ’’ منعہ مانع من السماء ‘‘کا الہامی راز بھی بیان کردیا گیا اور اگر اس جملہ کے الہامی ہونے پر اصرار ہے تو پہلے یہ فرمائیں کہ کتنے الہامات مرزا قادیانی کے غلط ثابت کردیئے گئے اس سے کیا فائدہ ہوا۔ منکوحہ آسمانی کے متعلق کتنے الہامات غلط ثابت ہوئے اور ایسے قطعی اور یقینی الہامات تو برسوں ہوتے رہے اور ایسا پختہ یقینی وعدہ خداوندی بار بار ہوتا رہا اور پھر اس کا ظہور نہ ہوا۔ اب دیکھا جائے کہ اول تو مرزا نے اس کے لئے کیا کیا باتیں بنائی ہیں پھر ان کے علاوہ جانشین قادیان نے عجیب وغریب لائق تماشا اس کی توجیہیں نکالیں بالآخر خدائے قدوس پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا۔ یہ بھی سنا جاتا ہے کہ اب بعض جدید مرید مرزا قادیانی کے خطاء اجتہادی بتاتے ہیں۱؎ اور بعض یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ایسی نکتہ چینی کی جائے گی تو ہم قرآن مجید میں بہت سی ایسی باتیں نکال دیں گے۔ استغفر اﷲ۔

برادران اسلام! ان باتوں پر غور کریں، یہ باتیں وہ ہیں جن سے مرزا قادیانی کا راز فاش ہوتا ہے۔ شاید اصل مقصد ان کارروائیوں سے یہی تھا کہ مقدس مذہب اسلام کو مورد اعتراضات بنایا جائے۔ مگر ظاہر میں حامی اسلام بن کر۔

غرضیکہ اس الہام کی غلطی ثابت کردینے سے حضرات مرزائی تو سچائی کو مانیں گے نہیں، البتہ عاجز ہوکر خدائے تعالیٰ پر کچھ نہ کچھ الزام لگادیں گے۔ الغرض ان رسالوں کا جواب کسی نے لکھا ہو یا نہ لکھا ہو وہ معجزہ ہرگز نہیں ہوسکتے۔ اس کے متعدد وجوہ ایسے قوی بیان کئے گئے ہیں کہ ان کا جواب نہیں ہوسکتا۔

۱؎

یہ حضرت بھی نہیں سمجھے کہ خطاء اجتہادی کا کون محل ہوتا ہے۔ دعوی نبوت کرکے خدا کی طرف نہایت پختہ وعدہ بار بار کیا جائے اور برسوں اس پر اصرار رہے اور پھر وہ پورا نہ ہو، اس کو خطاء اجتہادی وہی کہے گا جس کو علم اور عقل سے کچھ واسطہ نہ ہوگا یا در پردہ خدا پر الزام لگانا مد نظر ہوگا۔

193

ان سب باتوں کے قطع نظر اگر اب بھی خلیفہ قادیان کو اور اس جماعت کے دوسرے ذی علموں کو اس کے اعجاز کا دعوی ہے اور کہتے ہیں کہ وہ ایسے فصیح وبلیغ ہیں کہ دوسرا کوئی نہیں لکھ سکتا تو اس کا اعلان دیں اور اس میں لکھ دیں کہ اگر کوئی عالم ایسا قصیدہ یا ایسی تفسیر سورۂ فاتحہ، لکھ دے گا تو ہم مرزا قادیانی کو کاذب سمجھیں گے، تو وہ دیکھیں کہ ان کا جواب کس زور اور عمدگی سے ہوتا ہے۔ اگر اس کے لئے میعاد مقرر کریں تو اول اس بات کو ثابت کریں کہ اعجاز میں ایسی قیدیں ہوسکتی ہیں۔ اس کے بعد ایسی میعاد معین کریں جسے چند اہل علم تجربہ کا ر مجیب کی حالت پر نظر کرکے کہہ دیں کہ اتنے دنوں میں تالیف اور طبع ہوکر خلیفہ قادیان تک پہنچ سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی طرح قید نہ لگائی جائے، جس میں لکھا جانا اور چھپ کر ان کے پاس بھیجنا غیر ممکن تھا۔

اس کے سوا یہ بھی بتائیں کہ ا س کا فیصلہ کون ذی علم ادبی منصف مزاج کرے گا کہ مرزا قادیانی کا قصیدہ اور تفسیر عمدہ ہے یا ان کا جواب ہر طرح فائق اور بدرجہا زائد عمدہ ہے اور یہ بھی ظاہر کردیں کہ اگر جواب دیا گیا اور منصف نے اسے عمدہ اور مرزا قادیانی کے رسالے سے بہت فائق کہہ دیا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا یا خلیفہ قادیان اور دیگر اہل علم حق کی پیروی کریں گے یا عقیدۂ سابقہ باطلہ پر قائم رہیں گے، اگر ایسا اعلان ایک ماہ کے اندر نہ دیا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ اعجاز کادعوی غلط تھا اور ان کے پیرو مدعی کاذب کی پیروی کررہے ہیں۔ اب اس کی وجہ بات کی پاسداری ہو یا جو کچھ ہو۔ من یضلل اللّٰہ فلا ھادی لہسچا ارشاد ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی عربی دانی کا نمونہ ان حضرات کو بھی دکھا ؤں جنہیں زبان عربی میں بہت تھوڑا دخل ہے یا انگریزی میں پورے قابل ہیں اور قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اعجازالمسیح کے لوح پر مرزا قادیانی نے عربی عبارت بھی لکھی ہے ۱؎ جس میں اس رسالے کی نسبت لکھا ہے۔’’ھذا رد علی الذین یجھلوننا‘‘ یعنی یہ ان لوگوں کا رد ہے جو ہمیں جاہل بتاتے ہیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں :’’ وانی سمیتہ اعجاز المَسِیْح وقد طُبِعَ فی مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یومًا من شھر الصیام وکان من الھجرۃ ۱۳۱۸ء ومن شھر النصاری ۲۰؍فروری ۱۹۰۱ء مقام الطبع قادیان ‘‘ (اعجاز المسیح ٹائٹل خزائن ج ۱۸ ص ۱)

جن کو علم وفہم سے اﷲ تعالیٰ نے کچھ حصہ دیا ہے وہ غور فرمائیں کہ کیسی لچر عبارت ہے

۱؎

اس رسالہ کی غلطیاں تو رسالہ المنار مصری میں اور اعجاز احمدی کے اغلاط الہامات مرزا میں نمونہ کے طور پر شائع ہوچکے ہیں۔ یہاں رسالہ کے ٹائٹل کے دو سطرعبارت نقل کرکے اس کی حالت دکھائی جاتی ہے۔

194

اور جو نہایت معمولی مضمون مرزا قادیانی ادا کرنا چاہتے تھے، وہ عربی عبارت میں ادا نہ کرسکے اور بہت غلطیاں کیں۔ اس عبارت کا ٹھیک ترجمہ یہ ہے۔ اس رسالہ کا نام میں نے اعجازا لمسیح رکھا اور مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں یہ رسالہ ستر دن میں چھاپا گیا اور اس کی ابتداء ماہ رمضان سے ہوئی اور ۱۳۱۸ھ اور ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء تھا۔

اب قدرت خدا ئی اور اس ہادی مطلق کی رہنمائی کا یہ عجیب نمونہ ہے کہ وہ رسالہ جس کی فصاحت وبلاغت کو مرزا قادیانی اعجاز سمجھتے ہیں۔ اس کے معمولی اور متداول مضمون کی دو سطر عبارت بھی (جو رسالہ کے پہلے صفحہ پر ہے ) صحیح نہ لکھ سکے اور جو مضمون لکھنا چاہتے تھے۔ وہ عربی عبارت میں ادا نہ ہوسکا۔ وہ چار جز یا بارہ جز معجزہ نما کیا لکھیں گے ؟ اگرچہ اس مضمون کو صحیح طور سے ادا کردینا بڑی قابلیت کی دلیل نہ تھی مگر اس قادر کریم کی قدرت کا نمونہ ہے کہ جس مدعی نے اپنے متکبرانہ خیال میں اپنے آپ کو علمی کمال کی نظر سے ایسا بلند پایہ سمجھ لیا ہو کہ ایک مضمون میرا لکھا ہوا معجزہ ہوسکتا ہے اور اسی خیال سے اس نے رسالہ لکھا ہو۔ اس کے اول صفحہ میں دو سطر معمولی مضمون کی عبارت صحیح نہ لکھے اور ایسی غلطیاں کیں جو کم فہم بھی یقینی طور سے معلوم کرسکیں۔جن کو عربی صرف ونحو سے واقفیت ہے اور جنتریاں بھی دیکھ لیا کرتے ہیں وہ ملاحظہ کریں۔ مرزا قادیانی کا مطلب تو یہ کہ اعجاز المسیح میں نے ستر دن میں لکھی اور انہیں دنوں میں وہ طبع بھی ہوئی اور ستر دن کی ابتداء اور انتہاء بھی بیان کرنا چاہتے ہیں مگر منقولہ عبارت کا یہ مطلب کسی طرح نہیں ہوسکتا۔

غلطیاں ملاحظہ ہوں

(۱) نہایت ظاہر ہے (قد طبع فی سبعین یوما) کے یہی معنی ہوسکتے ہیں کہ ستر دن میں چھاپی گئی اس عبارت سے یہ کسی طرح نہیں سمجھا جاتا کہ ان ایام میں تصنیف اور طبع دونوں کام ہوئے۔ اس مطلب کے لئے ضرور ی تھا کہ ’’صنّف ‘‘ کا لفظ زیادہ کیا جاتا۔

(۲) سیاق عبارت یہ چاہتا ہے کہ ’’من شھر الصیام بیان ہو سبعین‘‘ کا۔ اس کا حاصل یہ ہوگا کہ ماہ صیام ستر دن سے زیادہ کا ہے۔ اب ناظرین اس غلط بیانی کو دیکھ لیں۔ میں نے اس غلطی سے چشم پوشی کرکے دوسرے پہلو سے ترجمہ کیا ہے۔

(۳) اگر خلاف سوق عبارت میں ’’من شھر الصیام‘‘ کے من کو ابتدائیہ کہا جائے اور یہ مطلب قرار دیا جائے کہ ماہ صیام سے رسالہ کی تالیف کی ابتداء کی گئی تو ضرور ی تھا کہ۔۔اختتام

195

کی .تاریخ بھی لکھتے کیوں کہ اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ستر دن میں ہم نے لکھا یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ بیان مہینے کے ساتھ تاریخ بھی لکھی جائے غرضیکہ یہ تین غلطیاں ہوئیں۔ اب اگر تیسری غلطی سے چشم پوشی کی جائے اور مرزا قادیانی کی دوسری عبارت سے تاریخ معین کرنے کی نوبت آئے تو بھی کوئی تاریخ متعین نہیں ہوتی، سارے احتمالات غلط ہیں، اس کی وجہ ملاحظہ ہو۔

(۴) مذکورہ عبارت کے بعد مرزا قادیانی تالیف اور طبع کا ہجری سال اور عیسوی سال مع مہینے اور تاریخ کے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ لکھتے ہیں :

’’وکان من الھجرۃ ۱۳۱۸، ومن شھر النصاری ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء‘‘

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جس ماہ صیام سے رسالہ لکھنے کی ابتداء ہوئی وہ ماہ صیام ۱۳۱۸ھ کا تھا۔ اس عبارت کا ناقص ہونا نہایت ظاہر ہے کیوںکہ مہینے کے تعین کے ساتھ یہاں تاریخ کا معین کرنا ضروری تھا تاکہ ستر دن کی ابتداء معلوم ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا۔

یہ چوتھی غلطی ہے اس عبارت کی رسالے کے صفحہ ۶۵ سے ۶۷ تک دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تفسیر کے لکھنے کی ابتداء ۲۳ رمضان کے قبل نہیں ہوئی بلکہ بعد ہوئی ہے۔ مگر بعد کی کوئی تاریخ یہا ں بھی بیان نہیں کی اور اس رمضان کی ۲۳ مطابق ہے۔ ۱۵ جنوری ۱۹۰۱ء کے اس لئے لکھنے کی ابتداء ۱۵ جنوری یا اس کے بعد ۱۶۔ ۱۷ کو ہوگی۔ اس کے بعد یہ جملہ من شھر النصاری ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء عربی کے طرز تحریر کا مقتضاء یہ ہے کہ جس طرح پہلے جملہ میں لکھنے کی ابتداء نبوی ماہ اور سنہ سے بیان کی گئی ہے۔ اس جملہ میں عیسوی ماہ اور سنہ کا بیان ہو، یہ طرز بالکل مطابق ہے اردو طرز کے کہ اکثر ہجری سنہ کو بیان کرکے عیسوی مہینہ اور سنہ کے مطابق لکھا کرتے ہیں۔ مگر سوق عبارت اور عرف عام کے خلاف مرزا قادیانی اس جملہ میں انتہاء تحریر کا زمانہ بتاتے ہیں جیساکہ لوح کے دوسرے صفحہ سے ظاہر ہے۔یہ پانچویں غلطی ہے۔ قاعدۂ عربیت کے لحاظ سے۔

مگر افسوس ہے کہ اس پر بھی بس نہیں ہے بلکہ انہیں کے بیان سے فروری کے مہینے میں رسالہ کی نہ ابتداء ہوئی نہ انتہاء۔ یہ بیان بالکل غلط ہے کیوں کہ پہلے بیان سے معلوم ہوا کہ ۱۳۱۸ھ کے ماہ صیام سے رسالہ کی ابتداء ہے اور یہ ماہ صیام ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ء روز دوشنبہ سے شروع ہے اور ۲۱ جنوری ۱۹۰۱ء روز دوشنبہ کو ختم ہوگیا۔ اس لئے فروری کی کسی تاریخ سے ابتداء نہیں ہوئی اور اگر ختم کی تاریخ کا بیان ہے تو اگر ابتداء ۲۳؍ رمضان کی پہلی تاریخ کو فرض کریں تو اکہترواں دن فروری کے بعد ۲ مارچ کو ہوگا اور اگر ابتداء ۲۳ یا ۲۴ یا ۲۵ ماہ صیام سے ہے تو مارچ کے ۲۵، ۲۶

196

یا ۲۷ تاریخ مطابق ۴،۵، ۶ تاریخ ذوالحجہ ۱۳۱۸ھ روزدوشنبہ سہ شنبہ چہار شنبہ کو ہوگا۔ غرضیکہ ۲۰ فروری کو انتہاء کسی طرح نہیں ہوسکتی۔ یہ چھٹی غلطی ہے اور بہت بڑی غلطی ہے۔

یہ امر بھی لحاظ کے لائق ہے کہ ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو رسالہ کا ختم ہونا کئی مقام پر لکھتے ہیں:

(۱) ٹائٹل کے دوسرے صفحہ پر اطلاع لکھی ہے۔ اس کی پہلی اور دوسری سطر میں ’’ خدا ئے تعالیٰ نے ستر دن کے اندر ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو اس رسالہ کو اپنے فضل وکرم سے پورا کردیا‘‘ لکھا گیا ہے۔ (۲) اس اطلاع کے آخر میں بھی یہی تاریخ لکھی ہے۔ (۳) اس رسالہ کے آخر میں اعجاز کا اشتہار دیا ہے، اس میں بھی ۲۰ فروری ہے اور ٹائٹل کے پہلے صفحہ پر بھی یہی تاریخ ہے اور اس رسالہ کے آخر صفحہ (۲۰۰) میں لکھتے ہیں : ’’ قد طبع بفضلک فی مدۃ عدۃ العین۔ فی یوم الجمعۃ وفی شھرٍ مبارکٍ بین العیدین۔ ‘‘

تیرے فـضل سے یہ کتاب عین کے عدد کی مدت میں جمعہ کے دن اور مبارک مہینے میں دو عیدوں کے درمیان چھاپی گئی۔ اس سے تین باتیں ظاہر ہیں۔

اول یہ کہ اس رسالہ کا اختتام جمعہ کے دن ہوا، دوسرے یہ کہ ماہ مبارک میں ہوا تیسرے یہ کہ وہ ماہ مبارک دو عیدوں کے درمیان میں ہے۔ اب دیکھا جائے کہ ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو رسالہ کا اختتام ہے تو روز جمعہ نہیں ہوسکتا کیوںکہ یہ تاریخ روز چہار شنبہ ۳۰ شوال ۱۳۱۸ھ کو ہے۔

اب کہئے کہ ۲۰ فروری کو صحیح مانا جائے یا روز جمعہ کو، غرضیکہ اسی طرح اس عبارت میں اور بھی اغلاط ہیں۔ سب کے بیان میں بے کار تقریر کو طول دینا ہے جن کو حق طلبی ہے۔ ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسالہ جس کی نسبت دعویٰ بڑے زور سے ہورہا ہے کہ اس کی عبارت ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ اس کے مثل کوئی نہ لا سکا اور نہ لاسکے گا۔ اس کے لوح کی دو سطر عبارت نہایت خبط اور محض غلط ہے۔ پھر ایسا شخص فصیح وبلیغ عبارت کیا لکھے گا اور اگر لکھ سکتا تھا مگر یہاں ایسی غلطیاں ہوگئیں تو یہ روشن دلیل ہے کہ خداتعالیٰ نے ایسی مدعی کے دعوی کے غلط کرنے کو اس عبارت کے لکھنے کے وقت اس کے حواس سلب کردیئے کہ ایسی مہمل عبارت لکھی کہ ادنی طالب علم ادب کا پڑھنے والا نہ لکھے گا، مگر افسوس ہے کہ کذب کے ایسے بیّن ثبوت موجود ہیں مگر ماننے والے کچھ نہیں دیکھتے۔ اس کے بعد میں مرزا قادیانی کے اس دعوی کی نسبت ایک عظیم الشان بات کہنا چاہتا ہوں جو حضرات علم ودانش سے حصہ رکھتے ہیں اور خوف خدا سے کسی وقت ان کے دل لرز نے لگتے ہیں وہ متوجہ ہوکر غور فرمائیں۔

197

اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کے مثل طلب کرنے اور معجزہ کہنے پر گہری نظر

حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa سے بہت معجزات ظاہر ہوئے اور کثرت سے پیشین گوئیاں آپa نے کیں اور جن کے پورا ہونے کا وقت گذرچکا وہ پوری ہوئیں۔ مگر حضور انورa نے بجز قرآن مجید کے کسی کو اپنے دعوی نبوت کے ثبوت میں پیش نہیں کیا اور کفار کے معجزہ طلب کرنے کے وقت آپa نے نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں معجزہ دکھایا ہے۔ اس پر نظر کرو، صرف قرآن مجید ہی کو پیش کرکے کہاگیا: ’’فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ۔وَادْعُوْا شُہَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوالنَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارُۃُ‘‘(البقرۃ:۲۳، ۲۴)

یعنی اگر تم (مجھ پر الزام دینے میں ) سچے ہو تو قرآن مجید کے مثل ایک سورہ لے آؤ اور اﷲ کے سوا اپنے معین ومددگاروں کو بلاؤ اور اگر نہ لاسکو، تو جہنم کی آگ سے ڈرو۔

اس فرمانے کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی کردی کہ تم اس کے مثل ہرگز نہ لاسکو گے۔ یہ دعوی قرآ ن مجید سے مخصوص ہے۔ کسی آسمانی کتاب کی نسبت ایسا نہیں کہا گیا۔ مرزا قادیانی اپنے رسالوں کو اپنی تصنیف کہتے ہیں مگر بعینہ وہی دعوی اپنے دونوں رسالوں کی نسبت کرتے ہیں جو قرآن مجید میں کیا گیا۔

اب میں اہل دل حقانی حضرات سے ملتجی ہوں کہ اس بیان میں محققانہ طور سے غور فرمائیں اور ملاحظہ کریں کہ جب مرزا قادیانی اپنے رسالوں کی نسبت بے مثل ہونے کا ویسا ہی دعوی کیا جیساکہ قرآن مجید میں کیا گیا تھا اور اس کے مثل نہ لانے پر اسی طرح پیشینگوئی کردی جس طرح قرآن مجید کے مثل نہ لانے پر کی گئی تھی اور مرزائی جماعت اس پر ایمان لے آئی اور اسے مرزا قادیانی کا معجزہ سمجھی تو نہایت صفائی سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے رسالے ان کے خیال کے بموجب ویسے ہی بے مثل ہیں جیسے قرآن مجید بے مثل ہے۔ جب اس خاص صفت میں یعنی بے مثل ہونے میں وہ رسالے اور قرآن مجید یکساں ہوئے اور قرآن مجید کی خصوصیت نہ رہی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ رسالے قرآن مجید کے مثل ہیں۔ اس لئے قرآن مجید کا یہ دعوی کہ اس کے مثل کوئی نہیں لاسکے گا غلط ٹھہرا اور جناب رسول اﷲa کا وہ عظیم الشان معجزہ جسے حضور انورa نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا تھا باطل ہوا۔ اب اس کا فیصلہ ناظرین اہل علم پر ۶۵چھوڑتا ہوں کہ جس دعوی کا انجام یہ ہے جو ابھی بیان کیا گیا کس غرض سے کیا گیا؟ میں اپنی

198

زبان سے کچھ نہیں کہتا۔ اس کے علاوہ اس پر بھی نظر کی جائے کہ رسول اﷲa نے صرف قرآن مجید اپنے دعوی کے ثبوت میں پیش کیا جو عربی نثر میں ہے۔ مرزا قادیانی اپنے دعوی کے ثبوت میں دو رسالے پیش کرتے ہیں۔ ایک نظم میں اور دوسرا نثر میں، اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa نے قرآن مجید یعنی صرف نثر عبارت پیش کرکے اس کے بے مثل ہونے کا دعوی کیا تھا۔ مرزا قادیانی نظم اور نثر دونوں میں پیش کرکے یہی دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ دعوی ایسا ہی ہوا جیسا اعجاز احمدی میں کیا ہے کہ رسول اﷲa کے لئے تو صرف خسوف قمر ہوا تھا اور میر ے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہوا۔ یعنی جناب رسول اﷲa پر میری فضیلت ثابت ہو گئی۔

میرا یہ کہنا اگرچہ آپ کو تعجب خیز معلوم ہوگا۔ خصوصا اس وجہ سے کہ مرزا قادیانی نے حضور انورa کی بہت کچھ مدح سرائی کی ہے اور اپنے آپ کو حضور کا ظل کہتے ہیں۔ پھر ان کی طرف ایسا خیال کیوںکر ہوسکتا ہے ؟ مگر آپ خوف خدا کو دل میں لاکر اور طرفداری سے علیحدہ ہوکر اور نظر کو وسیع کرکے مرزا قادیانی کی پیچیدہ عبارتوں پر غور کریں۔

اس کے علاوہ اگر ان عظیم الشان باتوں سے تھوڑی دیر کے لئے قطع نظر کی جائے تو اس دعوی کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ دشمنان اسلام کو مرزا قادیانی نے بہت بڑے اعتراض کا موقع دیا اور جس معجزے کے ابطال سے تیرہ سو برس سے تمام مخالفین عاجز اور ساکت تھے، اب مرزا قادیانی کے طفیل سے نہایت دریدہ دہنی سے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح مرزا قادیانی کا دعوی تمام دنیا کے اہل مذہب کے علاوہ ۲۳ کروڑ مسلمانوں کے نزدیک بھی محض غلط ہے اور اس کے جواب نہ دیئے جانے کی نہایت معقول وجوہ موجود ہیں۔ ایسا ہی دعوی نزول قرآنی کے وقت بھی ہوگا اور جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی تصنیف کو معجزہ قراردیا ہے( نعوذ باﷲ)رسول اﷲa نے بھی ایسا ہی کیا ہو، کیوںکہ اب کلام کا حدّ اعجاز تک پہنچنا قوت بشری سے خارج نہ ہوا بلکہ انسان ہی کا کلام بھی معجزہ ہوسکتا ہے اور یہ اعجاز خدا کے کلام سے مخصوص نہ رہا۔ غرض کہ سادہ لوح مخالفین اسلام کی نظروں میں نہایت عظیم الشان معجزہ کو بے وقعت کردیا۔ یہ مجدد ہیں ؟ اور یہ مہدی موعود ہیں ؟ اسلام کے فائدہ پہنچانے کے لئے آئے ہیں ؟۔

اے اسلام کے بہی خواہو ! مرزا قادیانی کی باتوں پر خوب غور کرو! میں نہایت خیر خواہی سے تمہیں متنبہ کرتا ہوں، اس بیان پر روشنی ڈالنے کے لئے اور بھی چند باتیں آپ کے روبرو پیش کرتا ہوں۔ انصاف دلی سے آپ غور کریں۔

(۱) رسول اﷲa کے قرۃ العینین حضرات حسنینؓ کی کیسی مذمت کی ہے۔ جس کا

199

نمونہ میں نے حقیقۃ الوحی میں دکھایا ہے اور ان کے اقوال اعجاز احمدی سے نقل کئے ہیں۔ پھر کیا عاشق رسول اﷲ امت محمدی ہو کر ایسا کہہ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اور عاشق رسول ہونا تو بڑی بات ہے سچا مسلمان بھی اس دریدہ دہنی سے رسول الثقلین کے نواسوں کو وہ کلمات نہیں کہہ سکتا جو مرزا غلام احمد قادیانی نے کہے ہیں۔

(۲) جناب رسول اﷲa کو سید المرسلین اور خاتم النّبیین مان کر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے نشانات ومعجزات جناب سید المرسلینﷺ سے سو (۱۰۰) حصے بھی زیادہ ہیں، ہرگز نہیں! یہ تو فضیلت کلی کا دعوی ہے۱؎۔

۱؎

اس کا ثبوت ملاحظہ ہو۔ مرزا نے اپنے بارے میں ایک فیصلہ شائع کیا ہے لکھتے ہیں : ’’ جو میرے لئے نشان ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔ ‘‘ (حقیقۃ الوحی ص ۶۷ خزائن ج ۲۲ ص ۷۰) جناب رسول اﷲa نے آخر عمر تک کبھی بھی نہیں فرمایا کہ میرے لئے تین سو یا تین ہزار معجزے ظاہر ہوئے یا اس قدر پیشین گوئیاں میں نے کیں۔ مگر مرزا قادیانی شمار کے لئے رجسٹر رکھتے ہیں اور تمام رسائل اور تحریروں میں وہ رجسٹر کھولاجاتا ہے۔ مگر جب کوئی طلب حق کے لئے تحقیق حق کے درپے ہوجائے تو ایک نشان کا بھی پتہ نہ ملے گا۔ غرض تین لاکھ سے زیادہ اپنے معجزے بیان کئے اور یہ بھی کہہ دیا کہ کوئی مہینہ بغیر نشانوں (معجزوں ) کے نہیں گزرتا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اب اہل بصیرت ان کی عمر پر نظر کرکے کہہ سکتے ہیں کہ تقریبا سوا تین لاکھ یعنی تین لاکھ پچیس ہزار معجزے مرزا قادیانی سے ہوئے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ دن کے ہر گھنٹہ میں ایک معجزہ مرزا قادیانی صادر کرتے تھے۔ جس کا جی چاہے حساب کرکے دیکھ لے۔ مگر جناب رسول اﷲa کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ ارشاد ہے کہ تین ہزار معجزے ہمارے نبیa سے ظہور میں آئے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ۴۰ خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳ ) یہاں تین ہزار سے زیادہ ایک کا بھی اضافہ مرزا قادیانی بیان نہیں کرتے مگر اپنے لئے تین لاکھ نشانوں سے بھی بے تعداد اضافہ بیان کرتے ہیں۔ اب اس پر غورکیجئے کہ معجزہ خاص خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول کی صداقت اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اب جس قدر نشانات اور معجزات زیادہ ہوں گے اسی قدر اس رسول کی عظمت اور مرتبت زیادہ ہوگی۔ اب مرزا قادیانی اپنے تین لاکھ سے زیادہ معجزات بیان کرتے ہیں اور جناب رسول اﷲa کے تین ہزار۔ اس سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنی عظمت اور مقبولیت کو حضور انورa سے سو (۱۰۰) حصے زیادہ بلکہ سواسو (۱۲۵) حصے سے بھی زیادہ بتاتے ہیں اور ان کے پیرو اس پر آمنا کہہ رہے ہیں۔ بھائیو! اس پر غور کرو جو رسول سید الاولین والآخرین ہو، جس پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہو، خدا تعالیٰ نے قطعی طور سے جسے آخر الانبیاء قرار دیا ہو، اس کے بعد کوئی نبی آئے وہ سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلامسے سو حصہ زیادہ عظمت رکھتا ہو، کیا یہ ہوسکتا ہے ؟ کسی مسلمان کا دل اسے باور کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔ مگر مرزا صاف طور سے کہہ رہے ہیں۔ اب غور کرو، کہ مرزا قادیانی کا خیال جناب رسول اﷲa سے کیسا ہے اور ان کی مدح کرنے کا کیا منشا ہے ؟ ’’فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ‘‘(الحشر:۲)

200

(۳) اسی طرح ان کا یہ شعر :

  1. تکدّر ماء السابقین وعیننا

    الی آخر الایام لا تتکدّر

(اعجاز احمدی ص ۵۸ خزائن ج ۱۹ ص ۱۷۰)

اس شعر میں سابقین جمع ہے اور اس پر الف ولام استغراق یا جنس کا آیا ہے، اس لئے اس کے یہ معنی ہوئے کہ جتنے اولیاء انبیاء پہلے گذرگئے ان کے فیض کا پانی میلا اور مکدر ہوگیا اور میرا چشمہ کبھی میلا نہ ہوگا۔ یہ نہایت بدیہی دعوی ہے تمام انبیاء کرام پر فضیلت کا، جس میں جناب رسول اﷲa بھی شامل ہیں اور اپنے خاتم الانبیاء ہونے کا اور اپنی نبوت کے قیامت تک بقاء کا، چنانچہ مرزا قادیانی کے مریدین مرزا قادیانی کو خاتم الانبیاء اپنے اخباروں میں لکھتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی فضیلتیں ہیں جن میں سے بعض کا ذکر آئندہ آئے گا۔

(۴) کیا ممکن ہے کہ جناب رسول اﷲa کو مان کر اور آپa کا پیرو ہوکر حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت ایسے بے ہودہ اور سخت کلمات زبان سے نکال سکتا ہے جیسے مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم وغیرہ میں نکالے ہیں۱؎۔ اور ایک اولوالعزم نبی کی بے حرمتی کی ہے۔ ہرگز نہیں، کسی مسلمان کی زبان یا قلم سے ایسے الفاظ نہیں نکل سکتے بلکہ قوی الاسلام ان الفاظ کو سن نہیں سکتا، اس کا دل لرز جاتا ہے۔ اگر کوئی دہریہ خدا تعالیٰ کے ساتھ گستاخی کرے یا کوئی مردود، حضرت سرور انبیاءa کی نسبت زبان سے بے ادبانہ کلمات نکالے تو کسی مسلمان سے یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے جواب میں خداتعالیٰ یا کسی برگزیدۂ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگے۔ بھلا یہ تو فرمایئے کہ انبیاء کرام کو ایسے سخت کلمات کہنا شریعت محمدیہ میں کسی طور سے جائز ہے ؟

۱؎

ضمیمہ انجام آتھم کا حاشیہ ص ۴ سے ۹ خزائن ج ۱۱ ص۲۸۷ تا ۲۹۳ تک دیکھا جائے۔ جب یہ حاشیہ پیش کیا جاتا ہے تو ناواقفوں سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کلمات یسوع کو کہے ہیں۔ جب ان کے رسالہ توضیح المرام ص ۳ خزائن ج ۳ ص ۵۲ سے دیکھا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور یسوع ایک ہیں تو اور بے ہودہ باتیں کہنے لگتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ الزاما ایسا کہا جاتا ہے۔ مگر یہ سب اندھیر ہے۔ الزام دینا ہم بھی جانتے ہیں اور ہم نے بھی الزام دیئے ہیں مگر جس طرز سے مرزا قادیانی نے حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام وغیرہا کی بے حرمتی کی ہے کوئی مسلمان کسی طرح نہیں کرسکتا اور نہ شریعت محمدیہ سے اسے اس طرح کہنا جائز ہے۔ اس واقعہ کو یاد کرنا چاہئے۔ جسے امام بخاری (باب نفخ صور ج ۲ ص ۹۶۵ ) نے روایت کی ہے کہ ایک صحابی کی یہودی سے لڑائی ہوئی تھی، یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہان پر ترجیح دی اور صحابی نے جناب رسول اﷲa کو، صحابی نے اس یہودی کے ایک طمانچہ مارا اور یہودی (بقیہ حاشیہ ص ۲۰۲ پر)

201

حکیم نورالدین قادیانی یا کوئی ذی علم شریعت محمدیہ سے اس کا جواز ثابت نہیںکرسکتا۔ پھر اس سخت کلامی اور سخت گوئی کا یہ جواب دینا کہ پادری نے جناب رسول اﷲa سے بے ادبی کی تھی اس کے جواب میں ایسا کہا گیا، کیسا لغو عذر ہے، بلکہ اس قسم کی تحریر یہ ان کی قلبی حالت کو ظاہر کرتی ہے کہ دل میں انبیاء کی عظمت نہیں ہے بلکہ وہ انبیاء علیہم السلام کو ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسا کہ انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت لکھا ہے۔ ( استغفر اﷲ!)

الغرض اس قسم کی باتوں کو خیال میں لاکر اس دعوی پر نظر کیجئے اور صاف دل ہو کر میرے بیان میں غورکیجئے تو خدا کے فضل سے پوری امید ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس کی تصدیق آپ کے دل میں ہوجائے گی۔ اب جناب رسول اﷲa کی مدح سرائی اور ان کی اتباع وظلیّت کا دعویٰ اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ان کی طرف متوجہ ہوں کیوںکہ باوجود بے انتہا کوشش کے کوئی گروہ ہندو عیسائی یا دوسرے مذہب کا ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اب اگر حضرت سرور انبیاءa کی مدح نہ کرتے اور ان کے اتباع وظلیت کا دعوی مسلمانوں پر ظاہر نہ کرتے تو کوئی مسلمان بھی ان کی متوجہ نہ ہوتا۔ اس لئے اول انہوں نے خوب زور سے دین اسلام کی تائید کی اور رسول اﷲa کی مدح سرائی کی۔ پھر اپنی مدح سرائی اور ضمنا اپنے بیان اور الہامات میں اپنا تفوق جابجا ظاہر کیا۔ پھر نہایت عمدہ پیرایہ سے حضرت سرور انبیاءa کے نہایت عظیم الشان معجزہ کا اس انداز سے ابطال کیا کہ مسلمان برہم نہ ہوں۔

(ص ۲۰۱کا بقیہ حاشیہ) جناب رسول اﷲa کے پاس شکایت لے گیااور حضورa نے اس یہودی کے سامنے فرمایا لاتخیرو نی علی موسی۔ مجھے فضیلت نہ دو موسیٰ پر۔ غور کیا جائے کہ صحابی نے کوئی لفظ بے ادبی کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں کہا تھا، صرف جناب رسول اﷲa کو فضیلت دی تھی اور وہ بھی یہودی کے مقابلہ میں الزاما کہا تھا اور سچی بات تھی مگر حضورa نے اس کو بھی جائز نہ رکھا اور فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر نہ بڑھاؤ۔ اس روایت کو حقیقۃ المسیح میں دیکھنا چاہئے۔ جب رسول اﷲa نے صرف یہود کے مقابلہ میں اپنی فضیلت کو منع فرمایا تو ایسی بے ہودہ گوئی اور بے حد فضیحت پادری کے مقابلہ میں کیوں کر جائزہوسکتی ہے ؟ جسے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام وغیرہ انبیاء کی ہے۔ اس کے علاوہ (دافع البلاء ص ۴ خزائن ج ۱۸ صفہ ۲۲۰ ) کے آخر میں تو کسی پادری کے مقابلہ میں نہیں کہتے۔ بلکہ قرآن مجید کا حوالہ دے کر مسلمانوں سے خطاب کرکے حضرت مسیح علیہ السلام کو نہایت فضیحت ناک الزام دیا ہے۔ اب جانشین قادیان فرمائیں کہ جن کی عظمت وشان قرآن مجید میں بار بار بیان کی گئی ہے جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ رسول فرمایا ہو ان کی نسبت کوئی مسلمان ایسے خیال کرسکتا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے دافع البلاء کے آخر میں کیا ہے؟ ہر گز نہیں!

202

یہ سب تمہیدیں بھی آئندہ اپنے مقصود کے اظہارکے لئے کیں۔ جس طرح عبداﷲ چکڑالوی پہلے مقلد حنفی تھا اس وقت اس نے لوگوں کو اپنا معتقد اور پیرو بنایا۔ پھر وہ غیر مقلد ہوکر اہل حدیث بنا اور اپنے تئیں حدیث کا پیرو بتایا اور معتقدین کو غیر مقلد بنایا۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد احادیث نبویہa سے بالکل منہ پھیر لیا اور تمام حدیثوں کو جھوٹی اور غلط کہنے لگا۔ جب اس کے معتقدین نے اس سے کہا کہ پہلے آپ مقلد تھے اور ہم سے آپ نے تقلید کی ضرورت اور تعریف کی تھی پھر آپ نے غیر مقلد ہوکر عمل بالحدیث کی طرف ہمیں متوجہ کیا، اب آپ اس کی مذمت کرتے ہیں اور حدیثوں کو جھوٹی اور موضوع بتاتے ہیں اور صرف قرآن پر عمل کرنے کہتے ہیں، یہ کیا بات ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اگر میں آہستہ آہستہ تمہیں بتدریج راہ پر نہ لاتا تو تم ہرگز میر ی بات کو نہ مانتے۔ میرا شروع سے یہی خیال تھا جو میں اب کہہ رہا ہوں۔ چونکہ اس کے معتقدین کا اعتقاد راسخ ہوچکا تھا اس لئے وہ اس کے پیرو رہے اور جو اس نے کہا انہوں نے اسے مانا۔

یہ واقعہ مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی ڈالتا ہے اور طالبین حق کے لئے آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کی حالت کو دکھا رہا ہے مرزا قادیانی نے پہلے مجد د اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا، پھر مثیل مسیح ہونے کا، اور نہایت صفائی سے مسیح موعود ہونے سے انکار کیا، پھر بڑے زور سے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اہل اسلام حضرت مسیح کے منتظر تھے اور اس نازک وقت میں ان کا بہت زیادہ انتظار تھا۔ اس لئے بعض نیک دل مولوی بھی ان کے معتقد ہوگئے۔ مگر وہ اپنے اصلی مدعا تک کامیاب نہ ہوئے تھے کہ اس جہان فانی سے رحلت کرگئے مگر اپنے اصلی مقصد یعنی بیخ کنی اسلام کے لئے تخم پاشی کرتے رہے اور بہت سے سادہ دل حضرات اس سے بے خبر رہے۔ جب ان کے بعض مقلدین نے اس کے اختلاف اقوال کی نسبت دریافت کیا تو جب کوئی بات نہ بنی تو کہہ دیا کہ جس طرح مجھ پر خدا کی طرف سے ظاہر کیا گیا ویسا میں نے کہا۔ اب یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ پر خلاف وعدگی کا الزام ۱؎ لگا کر اپنے آپ کو

۱؎

لطف یہ ہے کہ وہ وعدہ خلافی کا لفظ نہیں بولتے تاکہ عوام دھوکہ کھائیں بلکہ کسی وقت یہ کہتے ہیں کہ وعید کا پورا نہ ہونا سنت اﷲ ہے۔ کبھی کہتے ہیں سنت مستمرہ ہے۔ وعدہ کی نسبت کبھی کہتے ہیں کہ بعض وقت وعدے میں پوشیدہ شرطیں ہوتی ہیں کہ ان کا علم نہیں ہوتااس لئے بظاہر خلاف وعدگی معلوم ہوتی ہے۔ کسی وقت بعض اولیاء اﷲ کی طرف اس قول کو منسوب کرتے ہیں۔ حالاں کہ یہ تمام باتیں شان خداوندی کے بالکل خلاف ہیں۔ مگر ان کو ایسی رنگ آمیزی سے بیان کیا جاتا ہے کہ عوام کو کم علم حضرات کی تسکین ہوجائے اور خدائے تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کو برا نہ سمجھیں، افسوس اس خیال پر۔

203

بچایا اور مریدین اس پر آمنا کہہ رہے ہیں اور نصوص قطعیہ کے خلاف جملہ یعد ولا یوفی پیش کررہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے خیال میں مریدین کی ابھی تک یہ حالت نہ پہنچی تھی کہ میرے اعلانیہ کہنے سے یہ لوگ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام سے انکار کرکے میرے پیرو ہوجائیں گے۔ اس لئے درپردہ وہ ایسی باتیں کہیں تاکہ آئندہ کسی وقت اصلی منشاء کا اظہار کریں اور اس وقت کہیں کہ فلاں فلاں بات اس لئے کہی تھی، مگر چونکہ تمہاری طرف سے پورا اطمینان نہ تھا اس لئے صاف طور سے نہیں کہا۔

الحاصل رسالہ اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی نسبت جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ اگر صحیح ہو تو قرآن مجید کا اعجاز باطل ہوجائے گا اور دشمنان اسلام کو دریدہ دہنی کا عمدہ موقع ملے گا۔

برادران اسلام! مرزا قادیانی کی اس گہری پالیسی کو غور سے دیکھیں اور خدا سے ڈر کر ان سے پرہیز کریں۔

(۳) مرزا قادیانی (شہادۃ القرآن ص ۷۹ خزائن ج ۶ ص ۳۷۵) پر لکھتے ہیں کہ :’’ پیشین گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اﷲ جل شانہ کے اختیار میں ہیں ‘‘

پھر منکوحۂ آسمانی کی پیشین گوئی کو بہت ہی عظیم الشان نشان بتایا ہے جو ایک عورت کے نکاح میں آنے اور اس کے شوہر اور اس کے والد کے مرنے کی خبر ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بوحی الٰہی پیشگوئیاں کی ہیں اور اولیاء عظام بھی کرتے رہے ہیں، مؤ منین کاملین بھی فرا ست سے پیشگوئی کرتے ہیں اور کی ہیں جس کی نسبت ارشاد ہے ’’اتقوا فراسۃ المؤ من فانہ ینظر بنور اللّٰہ ‘‘مگر یہ کسی نے نہیں کہا کہ پیشگوئی کرنا معیار صداقت ہے اور نبی کے سوا کوئی دوسرا نہیں کرسکتا اور سوائے وحی اور الہام کے کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے جس سے انسان آئندہ کی خبر معلوم کرسکے۔ یہ تشخیص محض غلط ہے کیوں کہ اکثر ہوشیار تجربہ کار بخوبی واقف ہیں۔ اخباروں میں دیکھتے ہیں، معائنہ کرتے ہیں کہ رمّال، جفار، نجومی، پیشگوئیاں کرتے ہیں اور پہلے کاہن کیا کرتے تھے اور ان کی پیشگوئیاں اکثر صحیح ہوتی تھیں۔ پھر ایسی مشترک چیز کو یہ کہنا کہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے سوائے وحی یا الہام کے کسی ذریعہ سے اس کا علم نہیں ہوسکتا۔ کیسا صریح غلط دعوی ہے اور پھر ایک معمولی پیشگوئی کو نہایت عظیم الشان معجزہ بتانا محض سادہ لوحوں کو دھوکے میں ڈالنا ہے۔جس پر خواص کیا عوام بھی شہادت دے

204

سکتے ہیں۔ تین چار برس ہوئے۔ مونگیر میں ایک رمال آیا تھا اور جو کوئی اس سے آئندہ کی بات کا سوال کرتا تھا وہ کچھ لے کر جواب دیتا تھا یعنی پیش گوئی کرتا تھا اور دریافت کرنے والوں نے بیان کیا کہ اس کی اکثر پیش گوئیاں صحیح ہوئیں۔

بعض حضرات راقم الحروف کا تجربہ دریافت کرتے ہیں بنظر خیر خواہی اسے بھی کچھ بیان کرتا ہوں، بعض بزرگ اہل اﷲ کی پیشگوئیوں کو دیکھا اور ایسا دیکھا کہ جس طرح انہوں نے کہا تھا ویسا ہی ہوا کبھی اس کے خلاف نہیں ہوا، مگر کسی وقت اور کسی طرح کا انہیں دعویٰ کرتے نہیں دیکھا اور بعض ایسے ہندو اور مسلمان کو بھی دیکھا جو علم نجوم وغیرہا کے ذریعہ سے پیش گوئی کرتے تھے۔

کم سنی میں میں نے ایک ذی علم ہندو کو دیکھا جو اپنی ہندی کے سوا علم عربی فارسی بھی اچھی طرح جانتا تھا، ایک روز میرے روبرو ایک شخص کا ہاتھ اسے دیکھ کر کہا کہ تمہاری اولاد تو بہت ہے مگر مرے گی بھی بہت۔ تیس چالیس برس تک دیکھا گیا جیسا اس نے کہا تھا ویسا ہی ہوا اور جو پیش گوئی اس نے کی تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ مولوی بقا حسین صاحب فلکی مشہور ہیں، ان کی پیش گوئیاں چھپتی رہتی ہیں، وہ ایک مرتبہ مجھ سے ملے اور اتفاقا دریافت کیا کہ آپ کس روز اور کس وقت پیدا ہوئے ہیں ؟ میں نے بتادیا، اس وقت تو وہ چلے گئے، کئی روز کے بعد پھر ان سے ملاقات ہوئی، اس وقت انہوں نے میری حالت کے متعلق گذشتہ اور آئندہ کی متعدد خبریں دیں اور وہ صحیح ثابت ہوئیں۔ جن کو اخبار بینی کا شوق ہے وہ دیکھتے ہیں کہ اخباروں میں پیش گوئیاں چھپتی رہتی ہیں اور اکثر پوری بھی ہوجاتی ہیں۔ پھر اس سے انکار کرنا کس قدر بے خبری یا ابلہ فریبی ہے جس کی انتہا نہیں، یہ تو موجودہ زمانے کا تجربہ بیان کیا گیا۔ گذشتہ زمانہ کا معتبر تجربہ بھی ملاحظہ کیا جائے، رمّال اور نجومی کے علاوہ پیشتر کاہن پیش گوئیاں کرتے تھے اور اکثر ان کے کہنے کے مطابق ہوتا تھا۔ حدیث سے بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ امام فخرالدین رازی تفسیرکبیر میں حیرت خیز واقعہ لکھتے ہیں، اسے ملاحظہ کیا جائے :

’’ان الکاھنۃ البغدادیۃ التی نقلھا السلطان سنجر بن ملک شامن بغداد الی خراسان وسائلھا عن الاحوال الآتیۃ فی المستقبل فذکرت اشیاء ثم انھا وقعت علی وفق کلامھا، قال مصنف الکتاب وانا قد رأیت اناسا محققین فی علوم الکام والحکمۃ حکوا عنہا انہا اخبرت عن الاشیاء الغائبۃ اخبار علی
205
سبیل التفصیل وجاء ت تلک الوقائع علی وفق خبرہا وبالغ ابوالبرکات فی کتاب المعتبر فی شرح حالہا وقال قد تفحصت عن حالہا مدۃ ثلثین سنۃ حتی تیقنت انہا کانت تخبر عن المغیبات اخبار ا مطابقا ‘‘ (تفسیر کبیر ج ۸)

ایک بغدادیہ کاہنہ کو سلطان سنجر بغداد سے خراسان لے گیا اور آئندہ کے حالات اس سے دریافت کئے اور اس عورت نے ان کا جواب دیا اور جیسا اس نے کہا تھا اسی کے مطابق ہوا (یعنی پیش گوئیاں اس نے کی تھیں، وہ سب پوری ہوئیں ) امام فخرالدین رازی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے بعض ایسے علماء کو دیکھا جو علم کلام اور علم حکمت کے محقق تھے۔ انہوں نے اسی عورت کاہنہ کی نسبت بیان کیا کہ اس نے بتفصیل بہت سی آئندہ باتوں کی خبریں دیں اور اس کے کہنے کے مطابق ان کا ظہور ہوا اور (علامہ ) ابوالبرکات نے اپنی کتاب معتبر میں اس کا مشرح حال بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں نے تیس برس تک اس کے حالات کو تحقیق کیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین ہوگیا کہ اس کی پیش گوئیاں صحیح ہوتی ہیں، تفسیر کبیر کی آٹھویں جلد میں یہ بیان ہے۔

اور مرزا قادیانی اس تفسیر کو ایسا معتبر سمجھتے ہیں کہ اپنے قول کی سچائی میں اس کی تصدیق پیش کی ہے۔

(انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ایضا ملاحظہ ہو )

اس پر نظر کی جائے کہ وہ عورت پیش گوئیاں کرنے میں اس قدر مشہور تھی کہ خراسان کا بادشاہ اسے بغداد سے لے گیا اور امام فخرالدین رازی ؒ اس کی پیش گوئیوںکی صداقت میں تین شہادتیں پیش کرتے ہیں۔

اول : بادشاہ خراسان کا تجربہ۔ دوم : متعدد علماء محققین کا تجربہ، کہ اس کاہنہ نے بہت سی آئندہ باتوں کی خبر دی اور جیسا اس نے کہا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا۔ سوم : علامہ ابوالبرکات کے تیس برس کا تجربہ اور اس تجربہ کے بعد اس کی پیش گوئیوں کے سچے ہونے کی نسبت اپنا یقین ظاہر کرتے ہیں۔ اب یہ کیسی بیّن شہادتیں مرزا قادیانی کے قول کو غلط بتارہی ہیں اور موجودہ اور گذشتہ صحیح واقعات ان کے کلام کو محض غلط ثابت کررہے ہیں۔ پھر ایسی غلط بات کو اپنے دعویٰ کی صداقت میں پیش کرنا اور ایک معمولی بات کو عظیم الشان نشان اور معجزہ کہنا کسی دیندار ذی علم کا کام نہیں ہوسکتا اور خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں کی تو بہت بڑی شان ہے۔ ان کی زبان وقلم سے ایسی غلط باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیا مسیح موعود اپنے دعوی کے اثبات میں ایسی بات پیش کریں

206

گے جس کی غلطی آفتاب کی طرح روشن ہے۔ جس کو موجودہ زمانے کے واقعات اور تجربہ اور گذشتہ زمانے کی شہادتیں غلط بتارہی ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ کسی ایماندار کی عقل اس کو جائز نہیں رکھ سکتی۔ اس کاہنہ کے حال میں ان حضرات کو غور اور انصاف کرنا چاہئے جو مرزا قادیانی کی پیشگوئیوں کی (خیالی ) صداقت پیش کرکے یہ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی سچے نہ تھے تو پیش گوئیاں کیوں سچی ہوئیں اور خدا تعالیٰ نے ان کے کذب وافتراء کی کیوں تائید کی، اگر مرزا قادیانی جھوٹے ہوتے تو ان کی پیش گوئیاں پوری نہ ہوتیں اور یہ کامیابی انہیں نہ ہوتی اور خدا تعالیٰ ان کی تائید نہ کرتا۔

اب یہ حضرات اس کاہنہ کے حال پر نظر کریں اور خدا تعالیٰ کے کرشموں اور حکمتوں کو ملاحظہ فرمائیں کہ ایک ادنی کافرہ عورت اپنی پیش گوئیوں کی وجہ سے اس قدر کامیاب ہوئی کہ خراسان کا بادشاہ اسے قدر کے ساتھ لے گیا اور بڑے بڑے علماء اس کی تعریف کرتے ہیں۔ اس کافرہ ادنیٰ عورت کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ مرزا قادیانی اپنی حیثیت کے لحاظ سے اس قدر کامیاب نہیں ہوئے اور کوئی ذی علم ایماندار یہ نہیں کہہ سکتا کہ پچیس یا تیس برس تک ہم نے مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا تجربہ کیا اور کوئی پیش گوئی ان کی جھوٹی نہ ہوئی۔

بھائیو! جھوٹی پیش گوئیوں کا انبار ہے ،بایں ہمہ اگر مرزا قادیانی کے کاذب ماننے میں خدا تعالیٰ پر الزام آتا ہے تو اس کاہنہ کی پیش گوئیوں کے پورا ہونے پر بھی الزام آنا چاہئے، کیوںکہ وہ کاہنہ باوجود کافرہ ہونے اور شیاطین سے رابطہ رکھنے کے اہل اسلام بالخصوص علماء کے روبرو پیش گوئیاں کرتی رہی اور خدا تعالیٰ انہیں پوری کرتارہا اور اس کے کفر اور شیاطین کے ذلیل کرنے کے لئے اسے جھوٹا نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے بالاضطرار اور بالطبع مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس کافرہ کی صداقت اور عظمت بیٹھی اور یہ وہ خطرناک امر ہے جس سے انبیاء کرام علیہم السلام کی پیش گوئیوں کی عظمت عوام کے خیال میں نہیں رہتی۔

المختصر! اگر مرزا قادیانی کے کاذب ماننے پر بقول مرزا ئیاں خدا تعالیٰ پر الزام آسکتا ہے تو اس کاہنہ کی پیش گوئیوں کے سچے ہونے پر بھی آسکتا ہے ؟ اگر مرزا قادیانی کی طرح زبان درازی کی مشق ہوتی اور خوف خدا نہ ہوتا تو الزام کی تقریر کرکے دکھلا دیتا، مگر عاقل کے لئے اشارہ کافی ہے۔

الحاصل ! یہ یقینی بات ہے کہ پیش گوئی کرنا اور اس کا سچا ہوجانا اور کامیاب ہونا نبوت یا

207

ولایت کی دلیل نہیں ہے۔ دیکھو! اس وقت مخالفین اسلام کس قدر کامیاب ہیں۱؎ اور ان کی کامیابی سے دنیا پر کیسا مذہبی اثر ہورہا ہے۔ خدا کے لئے نظر وسیع کرکے اس میں غور کرو۔ پھر مرزا قادیانی کی کامیابی کا اس سے مقابلہ کرو۔ مدرسہ قادیان کے بعض تعلیم یافتہ اصل دلیل کے جواب میں کچھ ایسے مضطرب ہوئے کہ رمّال وغیرہ کی پیش گوئیوں سے انکار کردیا اور قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی۔

’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا۔اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ (الجن:۲۶،۲۷) ااس آیت کی تفسیر مجیب تو کیا سمجھیں گے، اگر خلیفہ قادیان بھی سمجھے ہوں گے تو اس بات کے ہرگز قائل نہ ہوں گے کہ اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بغیر الہام یا وحی کے کوئی انسان کسی طرح پیش گوئی نہیں کرسکتا۔

۱؎

۱؎

یہاں مرزا قادیانی کے پیرو یہ کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ دعوی ہے کہ جو الہام اور نبوت کا دعوی کرے اور مفتری علی اﷲ ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا یہ نہیں کہتے کہ کوئی مخالف اسلام کامیاب نہیں ہوتا، افسوس ہے کہ بعضـ ذی علم نیک طبیعت بھی مرزا قادیانی کے دام میں ایسے آگئے کہ اپنے علم وفہم کو بھی کھو بیٹھے، اے عزیزو! اس پر تو غور کرو کہ مرزا قادیانی نے یہ قید کیوں لگا ئی۔ کیا قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت ہے ؟ یہ تو ہرگز نہیں ہے۔ مفتری علی اﷲ قرآن مجید میں فرعون کی جماعت کو بھی کہا ہے، یہود ونصاری کو بھی کہا ہے، مشرکین کو بھی کہا ہے اور جو الہام نبوت کا جھوٹا دعوی کرے اسے بھی کہا ہے۔ اب کوئی یہ ثابت کرسکتا ہے کہ مفتری کی آخری قسم کے لئے بالتخصیص ناکامی کسی آیت سے ثابت ہے، دوسروں کے لئے نہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی جماعت کو مفتری علی اﷲ کہہ کر فرمایا۔ وخاب من افتری۔ یعنی نقصان اور ٹوٹے میں پڑا وہ شخص جس نے خدا پر افتراء کیا۔ یہاں تو عام مفتری کے لئے یہ حکم خداوندی بیان ہوا ہے، پھر قرآن مجید کے خلاف مرزا قادیانی کی شرط پیش کرکے ہمیں الزام دینا چاہتے ہو اور خدا کا خوف نہیں کرتے اور اگر اس شرط کے لئے کوئی عقلی ثبوت رکھتے ہو تو وہی پیش کرو مگر ہم کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں پیش کرسکتے۔ مرزا قادیانی اس مخصوص مفتری کی ناکامی کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ اس کی گمراہی دنیا میں نہ پھیلے۔ اب جن کی آنکھیں ہیں اور کچھ عقل بھی اس کے ساتھ ہے تو دیکھ لے کہ اس وقت دہریہ اور نصاری کس قدر گمراہی دنیا میں پھیلارہے ہیں؟ مرزا قادیانی کی جماعت کو دہریوں کی جماعت سے مقابلہ کیا جائے جب دوسرے گمراہوں کی گمراہی جھوٹے ملہم کی گمراہی سے زیادہ دنیا کو تباہ وگمراہ کر رہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ نصاریٰ اور دہریہ ناکام اور برباد نہ ہوں اور صرف جھوٹے ملہم ہی تک ناکامی محدود رہے۔ بھائیو! ذرا عقل سے کام لو مرزا قادیانی کی شرطوں اور قولوں پر اپنے ایمان کو برباد نہ کرو۔

208

یہ موقع اس کی تفصیل کا نہیں ہے صرف اس قدر کہوں گا کہ آیت میں لفظ غیب آیا ہے اور وہ مضاف ہے ضمیر کی طرف جو عالم الغیب کی طرف پھر تی ہے جس سے غیب کی خصوصیت سمجھی گئی۔ اس لئے آیت کا یہ مطلب ہوا کہ اﷲ تعالیٰ اپنے غیب کو کسی مخلوق پر ظاہر نہیں کرتا مگر اپنے خاص رسول پر۔ اب اگر غیب کے معنی وہ لئے جائیں جو مجیب نے سمجھا ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ قرآن مجید میں ایسے مضامین بھی ہیں جو واقعات صحیحہ کے خلاف ہیں اور جن کے غلط ہونے کو ہر خاص وعام جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں۔ مگرایسے معنی کرنا مدرسۂ قادیان کے تعلیم یافتوں کے سوا کوئی فہمیدہ ایماندار نہیں کرسکتا۔ آیت کے بیان میں عوام کے لئے تو میں اس قدر کہتا ہوں کہ یہاں غیب کے معنی بھید کے ہیں یعنی اﷲ تعالیٰ کسی پر اپنا بھید ظاہر نہیں کرتا، بجز اپنے خاص رسول کے۔ اس لئے آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جو باتیں بھید کی نہیں ہیں۔ ان کا علم بھی کسی کو نہیں ہوتا اور یہ نہایت ظاہر ہے کہ فلاں مرد کا نکاح فلاں عورت سے ہوگا اور اس عورت کا باپ یا شوہر اتنے دنوں میں مرے گا، خدا کے بھید میں داخل نہیں ہے۔ اس لئے علم رمل وغیرہ سے ایسی باتوں کا معلوم کرنا اس آیت کے خلا ف نہیں ہے اور اہل علم سے یہ کہتا ہوں کہ غیب کے کئی معنی ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو چیز انسان اپنے ظاہری اور باطنی حواس سے معلوم نہ کرسکے، اسے غیب کہتے ہیں۔ اب جس قدر باتیں رمال، نجومی، کاہن، اہل فراست بیان کرتے ہیں گذشتہ اور آئندہ کی خبریں دیا کرتے ہیں، غیب میں داخل نہیں ہیں کیوںکہ انسان انہیں اپنے علم اور اپنی فہم سے معلوم کرسکتا ہے۔ اس لئے (مذکورہ آیت کا یہ مطلب سمجھنا کہ مطلقاً پیش گوئی کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے ) محض غلط ہے۔

الغرض عام پیش گوئیوں کو انسانی طاقت سے باہر بتانا اور معمولی پیش گوئیوں کو بہت ہی عظیم الشان کہہ کر اپنی صداقت کی دلیل میں پیش کرنا کسی صادق کا کام نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نبی نے اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی پیش گوئیوں کو پیش نہیں کیا اور نہ کوئی ثابت کرسکتا کہ پیش گوئی کرنا نبوت یا مجدد ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے۔ اس بیان سے روشن ہوگیا کہ مرزا قادیانی نے جو اپنی صداقت کا بڑا معیار پیش گوئی کو قرار دیا تھا وہ محض غلط ہے۔ پیش گوئی صداقت کی معیار نہیں ہوسکتی۔ اسی تحقیق کی بناء پر میں نے حصۂ دوم میں لکھا ہے کہ پیش گوئی کا سچا ہوجانا معیار صداقت نہیں ہے۔ اس پر وہی قادیان کے تعلیم یافتہ بڑی شوخ چشمی سے لکھتے ہیں کہ چونکہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں سچی ہوئیں، اس لئے یہ ایسا کہہ دیا۔ مگر اہل نظر واقف

209

کار جانتے ہوں گے کہ یہ خیال محض غلط ہے۔ میں نے ایک سچی اور واقعی تحقیق بیان کی ہے اور مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئیاں تو فیصلہ آسمانی کے پہلے اور دوسرے حصہ میں بیان کی گئی ہیں۱؎۔

اب انہیں کوئی سچا ثابت کرے جو حضرات مرزا قادیانی کے قریب رہتے ہیں اور ان کی حالت سے زیادہ واقف ہیں وہ تو اعلانیہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی کوئی ایسی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی جو صاف لفظوں میں ہو، مولوی ثناء اﷲ صاحب مرزا قادیانی کے روبرو کہتے رہے اور چیلنج دیتے رہے کہ پیش گوئیوں کی پڑتال پر گفتگو کرلی جائے، مرزا قادیانی نے دھمکیاں تو بہت دیں اور حسب عادت اس کے متعلق جھوٹی پیش گوئیاں بھی کیں مگر یہ جرأت نہ ہوئی کہ ان کے مقابل میں پیش گوئیوں کی صداقت ثابت کرتے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے متبعین سے بھی ان کا یہی چیلنج ہے کہ پیش گوئیوں کی پڑتال کرلیں، لاہور میں جلسہ کرلیا جائے مگر کسی قادیانی کی جرأت نہ ہوئی، پھر کس بنیاد پر یہ جھوٹا دعوی کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں پوری ہوئیں مگر میں نے تو یہ دکھادیا کہ اگر اس قسم کی پیش گوئیاں صحیح بھی ہوجائیں تو دعوی نبوت یا مہدویت ثابت نہیں ہوسکتا۔ بعض قادیانی اس قول کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ پیش گوئی کا صحیح ہونا صداقت کی نشانی نہیں، اس کا کسی پیش گوئی پر اعتراض کرنا شرارت سے خالی نہیں۔ اس نے تو سارے انبیاء کی پیش گوئیوں پر ہاتھ صاف کردیا۔ یہ دعوی تو دلیل بیّنہ سے ثابت کردیا گیا کہ پیش گوئی کا صحیح ہوجانا معیار صداقت نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں کسی ذی علم راستباز کا یہ مذہب نہیں ہے کہ پیش گوئی کا صحیح ہوجانا مدعی کی نبوت یا مقدس ہونے کی دلیل ہے۔ تمام رمّال، جفّار، کاہن، پیش گو ئی کرتے ہیں اور ان کی بہت پیش گوئیاں صحیح ہوتی ہیں۔ دنیا میں کوئی وسیع النظر واقف کار اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ ایک کاہنہ کا حال لکھا گیا کہ بڑے بڑے علماء نے برسوں اس کی پیش گوئیوں کا تجربہ کیا اور صحیح پایا پھر جو شخص ان بدیہی باتوں پر نظر نہ کرے اور اس بات کی وہ کوئی دلیل بھی پیش نہ کرسکے کہ پیش گوئی کا سچا ہوجانا صداقت کی دلیل ہے۔

۱؎

اور ایک رسالہ خاص ان کی غلط پیش گوئیوں میں لکھا گیا ہے، مسیح کاذب جس کا نام ہے ( اﷲ رب العزت کے فضل سے یہ احتساب قادیانیت ج۴۵ میں موجود ہے: فقیر!) اور رسالہ النجم الثاقب دیکھنا چاہئے۔ جس میں جھوٹی پیش گوئیوں کے علاوہ جن پیش گوئیوں کے سچے ہونے کا دعوی ہے، انہیں بھی غلط ثابت کرکے دکھایا ہے۔

210

بایں ہمہ اس کا دعوی کرنا کہ پیش گوئی کا سچا ہوجانا صداقت کی نشانی ہے، حماقت بلکہ شرارت سے خالی نہیں ہوسکتا، کیوں کہ ہوش وحواس رکھ کر کوئی پڑھا لکھا انسان نیک نفسی کے ساتھ ایسا دعوی نہیں کرسکتا۔ جسے عالم کے واقعات روز مرہ کے تجربات غلط بتارہے ہوں اس شخص کی شرارت اس سے بھی ظاہر ہے کہ بلا وجہ اور بغیر کسی دلیل کے ایک مسلمانوں کے خیر خواہ کو شریر بتارہا ہے۔ کوئی حق پسند ذی علم نہیں کہہ سکتا کہ پیشگوئیوں کا صحیح ہونا صداقت کی نشانی ہے۔ پیش گوئی ایک مشترک چیز ہے، انبیاء بھی کرتے ہیں اور غیر انبیاء بھی کرتے ہیں اور ہر ایک کی پیش گوئی صحیح بھی ہوتی ہے۔ پھر ایسی مشترک چیز کو نبوت کا نشان بتانا بجز جہالت یا ابلہ فریبی کے اور کیا ہوسکتا ہے؟ اس میں انبیاء کی شان میں کسی قسم کی بے ادبی نہیں ہے بلکہ امر حق ظاہر کرنے کے لئے ایک سچی بات کا اظہار ہے اور یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ کھانا کھانا نبی کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ کیوں کہ تمام انسان کھاتے ہیں اسی طرح پیش گوئی کرنا نبوت کی دلیل نہیں ہے کیوںکہ بعض اور انسان بھی پیش گوئی کرتے ہیں جو نبی نہیں ہیں۔اس میں شبہ نہیں ہے کہ پیش گوئی کے اسباب میں فرق ہے۔ انبیائے کرام وحی والہام سے کرتے ہیں اور دوسرے لوگ علم وفراست سے، مگر یہ فرق ایسا ہے کہ دوسروں پر ظاہر نہیں ہوسکتا۔

اسی وجہ سے کسی نبی نے اپنی صداقت کا معیار پیش گوئی کو نہیں بتایا۔ اب جو مدعی تمام انبیاء کے خلاف پیش گوئی کو اپنی صداقت کا معیار بتاتا ہے وہ بالیقین کاذب ہے اور اس کے کذب پر قرآن مجید کی نص قطعی شاہد ہے۔ ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النّبیین۔ خاتم النّبیین کے بعد جو نبوت کا دعوی کرے اس کے کاذب ہونے میں کسی مسلمان کو تردد نہیں ہوسکتا ہے اور ہاتھ صاف کرنا اسے کہتے ہیں جیسا مرزا نے بعض انبیاء پر کیا ہے ۱؎ جن کی مدح میں خدا تعالیٰ’’وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ‘‘(اٰل عمرٰن:۴۵)فرماتا ہے جن کو مقربین میں ارشاد فرماکر ان کے معجزات بیّنہ کو بیان فرمایا ہے، انہیں معجزا ت کو مسمریزم اور تالاب کی مٹی کا اثر بتایا ہے اور ایسے فحش کلمات ان کی شان میں لکھے ہیں کہ کوئی بھلا آدمی کسی ادنی سے ادنی کو بھی نہیں کہتا۔

۱؎

اس سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہیں اور حـضرت یونس علیہ السلام کو بھی انجام آتھم میں ایسے ناروا الزام دیئے ہیں کہ شان نبوت کے نہایت ہی منافی ہیں اس کا ذکر خاص رسالے میں دیکھنا چاہئے جو حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر میں لکھا گیا ہے۔ (اس کا نام تذکرہ یونس ہے، مونگیر سے شائع ہوا اور اب احتساب قادیانیت ج۱۹ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے: فقیر)

211

ان کلمات کو دیکھ کریا کسی کی زبان سے سن کر سچے مسلمان کا دل لرز جاتا ہے اور کسی حالت میں ان کلمات کا زبان پر لانا تو کسی مسلمان کا کام نہیں۔

الحاصل ! معمولی پیش گوئیوں کو عظیم الشان نشان قرار دے کر اپنی صداقت کا معیار بتانا کسی صادق کا کام نہیں ہے۔ مگر الحمدﷲ کہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کی رو سے بھی کاذب ثابت ہوئے۔ یعنی وہ پیش گوئیاں غلط ہوئیں جنہیں انہوں نے اپنی صداقت کا عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا۔ یہ خدا کا بڑا فضل ہوا کہ حق وباطل پوشیدہ نہ رہا۔

(۴) یہ تو اظہر من الشمس کردیا گیا کہ پیش گوئی کا سچا ہوجانا صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ اب یہ بھی معلوم کرناچاہئے کہ پیش گوئی کا پورا نہ ہونا مدعی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اگر کسی مدعی نبوت کی ایک پیش گوئی بھی غلط ہوجائے تو اس کا جھوٹا ہونا یقینی ہے۔ قرآن مجید اور توریت۱؎ دونوں اس کی شہادت دیتے ہیں۔توریت کتاب استثناء باب ۱۸ میں ہے : ’’ لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جاوے اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیوںکر جانوں کہ یہ بات خداوندکی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کہے اور جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خدا وند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔ ‘‘

۱؎

اس دعوی کے ثبوت میں قرآن مجید اور توریت مقدس دونوں کا حوالہ اس لئے دیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس مضمون میں قرآن مجید اور توریت بالکل مطابق ہیں۔ اس سے کامل طور سے ظاہر ہے کہ توریت کا یہ مضمون تحریف سے پاک ہے اور مرزا قادیانی (توضیح مرام ص ۷،۸، ملخص خزائن ج ۳ ص ۵۵ ) پر انجیل اور قرآن مجید سے وعدہ الٰہی نقل کرکے لکھتے ہیں : ’’کیا اس میں خدا کے اس وعدہ کا تخلف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر وتصریح موجود ہے، چونکہ قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ جس طرح قرآن مجید خدا کی پاک کتاب ہے اسی طرح توریت وانجیل بھی خدا کی کتابیں ہیں ۔‘‘ اس لئے مرزا قادیانی ان سب کتابوں کو خدا کی پاک کتاب سمجھتے ہیں۔ اب جس کا قلب کفر والحاد اور دہریت سے پاک ہے وہ پاک کتابوں کے متفق علیہ مسئلہ کو ضرور مانے گا اور جس کا دل ملوث ہو وہ کچھ نہ کچھ باتیں بناکر خدا کی پاک کتابوں کی بات ٹال دے گا۔ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔ آمین ! غرض جس طرح یہاں مرزا قادیانی نے توریت وانجیل کا حوالہ دیا اور اسے پاک کتاب بتایا اسی طرح ہم نے بھی حوالہ دیا جس طرح توضیح المرام کے حوالہ کو حضرات مرزائی صحیح مانتے ہیں۔ یہاں بھی ماننا ہوگا۔ اگر کچھ انصاف پسندی ہے اور جب یہ مضمون کتاب اﷲ کا ہے تو مرزا قادیانی کو نبی کاذب ضرور ماننا ہوگا۔

212

اس حوالے میں ناظرین کو دو باتوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں :

ایک یہ کہ یہاں کہا گیاہے کہ جس مدعی نبوت کی پیش گوئی سچی نہ ہو اسے جھوٹا سمجھو اور اس معیار اور شناخت کو ایسا مستحکم اور کامل قراردیا کہ کسی دوسری حالت پر توجہ کرنے کا اشارہ بھی نہیں کیا گیا مگر یہ نہیں کہا کہ اگر کوئی نبوت کا دعوی کرنے والا پیش گوئی کرے اور اس کے کہنے کے مطابق ظہور میں آئے تو اسے مانو وہ خدا کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ اس لئے صاف ظاہر ہوا کہ پیش گوئی کا سچا ہوجانا مدعی نبوت کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ حضرات مرزائیاں عبث مرزا قادیانی کی بعض مہمل پیش گوئیوں کو لئے پھر تے ہیں اور غل مچاتے ہیں کہ یہ پیش گوئی پوری ہوگئی۔

الغرض توریت میں نہایت صراحت سے بیان ہوا کہ پیش گوئی کا پورا نہ ہونا مدعی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی جو نبوت کا دعوی کرے اور اس کی ایک پیش گوئی بھی پوری نہ ہو وہ یقینا جھوٹا ہے۔ توریت کا یہ مضمون قرآن مجید کے بالکل مطابق ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارشاد اسی کتاب الٰہی ہے جس کی تصدیق قرآن مجید میں ہے۔ اس لئے اس صریح ارشادکی طرف توجہ نہ کرنا کلام الٰہی سے منہ پھیرنا ہے۔

اب قرآن مجید کا ارشاد بھی ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید میں بہت جگہ نہایت تاکید سے قطعی طورپر بیان ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہوتے ہیں، وہ ذات مقدس جس طرح تمام عیوب سے منزہ اور پاک ہے اسی طرح وہ وعدہ خلافی کے عیب سے بھی پاک ہے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ کوئی وعدہ کرے اور پورا نہ کرے ؟ یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کے کسی وعدے میں ایسی پوشیدہ شرطیں ہوں کہ بندے اس سے واقف نہ ہوں؟ کیوں کہ اس کی وجہ سے اس کریم کے تمام وعدوں سے اطمینان اٹھ جائے گا اور کسی وعدہ کی وقعت بندے کے قلب میں نہ رہے گی اور اس کے تمام وعدے بے کار ہوجائیں گے۔ یہ بھی معلوم کرلینا چاہئے کہ جس طرح اس کے تمام وعدے پورے ہوتے ہیں اسی طرح اس قدوس غیر متغیر اور متین کی ساری وعیدیں بھی پوری ہوتی ہیں، ٹل نہیں سکتیں۔ اس پر ایمان رکھنا فرض ہے۔ اب اس دعوے کے ثبوت میں قرآن مجید کی چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔

(۱) ’’رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ اِنَّکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘ (اٰل عمرٰن:۱۹۴) اے ہمارے پروردگار ! تونے جو اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ہم سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا۔ اس میں شبہ نہیں کہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

213

اس آیت میں تعلیم ہورہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے التجا کرتے رہاکرو کہ تونے جو اپنے رسولوں کے ذریعہ سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ عنایت فرما۔ پھر اس عنایت فرمانے اور وعدہ پورا کرنے کی ترغیب میں اس طرح کہنے کی تعلیم ہوئی کہ ’’اِنَّکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘یعنی اس میں شبہ نہیں کہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا تیرے سارے وعدے پورے ہوا کرتے ہیں۔ یہ طرز بیان روشن دلیل ہے کہ سنت اﷲ یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے تمام وعدے پورے ہوا کرتے ہیں۔ یہ طرز بیان بتارہا ہے کہ المیعاد میں الف ولام استغراق کا ہے چونکہ الدعاء مخ العبادۃ (کنز العمال ج ۲ ص ۶۲ حدیث نمبر ۳۱۱۴)یعنی دعا کرنا عبادت کا مغز ہے۔ اس لئے دعا کا طرز تعلیم ہوا۔

الغرض یہ آیت قطعی طور سے ثابت کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے جو اس کے رسولوں کے ذریعے سے ہوتے ہیں ان میں خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا اور نہ اس میں پوشیدہ شرط ہوتی ہے جس کا علم بندے کو نہ ہو اس لئے بندوں کو اس کے وعدوں پر اطمینان رکھنا چاہئے۔

(۲)’’لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۔ وَعْدَ اللّٰہِ لَایُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ‘‘(الزمر:۲۰) لیکن جو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالاخانے اور ان پر اور بالاخانے ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہ اﷲ کا وعدہ ہے اور اﷲ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے پہلے پرہیز گاروں سے وعدہ فرمایا اس کے بعد کا مل اطمینان دینے کے لئے ارشاد ہوا کہ یہ اﷲ کا وعدہ ہے۔ کسی دوسرے کا نہیں ہے کہ اس کے پورا ہونے میں تردد ہو۔ پھر بغرض نہایت تاکید اور تصریح کے ارشاد ہوا کہ اﷲ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اس طرز بیان نے نہایت خوبی کے ساتھ ثابت کردیا کہ خدا کے سارے وعدے پورے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی پوشیدہ شرط بھی نہیں ہوسکتی جس کی وجہ سے بندے کا اطمینان جاتا رہے۔ اگر ایسی صراحت کے بعد بھی اس قدوس کے ایک وعدے میں بھی پورے ہونے کا احتمال نکالاجائے اور کہا جائے کہ اس کے بعض وعدے پورے نہیں ہوتے یا بعض وعدوں میں ایسی شرط ہوتی ہے جس پر بندے کو اطلاع نہیں ہوتی تو اس قدوس قدیر کا یہ بیان بالکل غلط ہوجائے گا اور س کا کوئی وعدہ قابل اطمینان نہ رہے گا۔

چنانچہ مرزا بھی اسے تسلیم کرتے ہیں اور (توضیح مرام ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۵۵) میں خدا تعالیٰ کا وعدہ نقل کرکے لکھتے ہیں کہ: ’’ کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدا تعالیٰ کے

214

تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا؟ …یقینا سمجھو کہ ان لغو باتوں سے خدا تعالیٰ کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی ہوگی۔‘‘

مرزا قادیانی کا یہ قول نہایت صراحت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایک وعدے میں بھی خلاف نہیں ہوسکتا، خواہ وہ خلاف ہونا کسی پوشیدہ شرط کی وجہ سے ہو یا بغیر شرط کے ہو اور یہی حال بعینہ وعید کا ہے۔

(۳)’’ وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُہُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِہِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ۔اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘(الرعد:۳۱) کفار مکہ کو ان کے کئے کی سزا پہنچتی رہے گی۔ خاص انہیں پہنچے یا ان کے پڑوسی کو، تاکہ وہ دیکھ کر متنبہ ہوں یہاں تک کہ اﷲ کا وعدہ (موت یا قیامت ) آجائے اس میں شبہ نہیں کہ اﷲ کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا۔

اس آیت میں وعید کا بیان ہے مگر وہی طرز ہے جو پہلی دو آیتوں میں وعدے کے بیان میں ذکر کیا گیا جس سے ظاہر ہے کہ المیعاد میں الف لام استغراق کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی کل وعیدیں پوری ہوتی ہیں اور ایسا ہونا ضرور ہے کیوں کہ اگر ایک وعدہ یا وعید پورا نہ ہو تو اس قدوس کا کذب لازم آئے اور اس کا کاذب ہونا بالذات محال ہے جو ایسا سمجھے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے کل وعدے اور وعیدیں پوری نہیں ہوتیں، بعض ہوتی ہیں وہ اس ذات پاک میں سخت عیب لگاتے ہیں اور جو یہ کہتا ہے کہ المیعاد میں الف ولام عہد ذہنی ہے وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ عہد ذہنی کسے کہتے ہیں ؟ کیوں کہ الف لام عہد خارجی ہو یا عہد ذہنی ہو اس سے مراد ایک چیز ہوتی ہے اگر عہد خارجی ہے تو وہ ایک چیز متکلم اور مخاطب دونوں کے نزدیک خارج میں متعین ہوتی ہے اور اگر عہد ذہنی ہے تو صرف متکلم کے ذہن میں اس کا تعین ہوتا ہے مگر ہوتی ایک شئے ہے۔ اب اس پر نظر کی جائے کہ آیت’اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘قرآن مجید میں کئی جگہ آئی اور میعاد سے مراد کہیں وعدہ ہے اور کہیں وعید ہے۔ مقصود آیت سے خدا تعالیٰ کی خاص صفت ایفاء وعدہ اور وعید کی عظمت بیان کرنا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا سچا اور صادق الوعد ہے کہ اس کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا اور وہ ایسا متین غیر متغیر ذوالبطش الشدید ہے کہ اس کی کوئی حتمی وعید نہیں ٹلتی۔ اس لئے اس کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ’’لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰاتِ اللّٰہِ‘‘ (یونس: ۶۴)

یعنی اﷲ کی باتوں میں تغیر وتبدل نہیں ہوتا بندوں کی ترغیب کے لئے یہ بیان نہایت ضرور اور نہایت مفید ہے مگر یہ مطلب اسی وقت ہوسکتا ہے کہ المیعاد میں الف لام استغراق کا ہو

215

جس کا حاصل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے کسی وعدے اور وعید میں خلاف نہیں کرتا اور اگر المیعاد میں الف لام عہد ذہنی ہے تو آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اﷲ تعالیٰ کا ایک وعدہ یا وعید ضرور پوری ہوتی ہے۔ باقی سینکڑوں وعدے اور وعیدیں پوری ہوں یا نہ ہوں ان پر اطمینان نہیں کرنا چاہئے۔ اب رہا وہ ایک وعدہ یا وعید جس کے پورا ہونے کا ذکر آیت میں ہے۔ اس کا علم اﷲ کو ہے بندے کو نہیں ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اﷲ کے کسی وعدہ اور وعید پر بندے کو اطمینان نہیں ہوسکتا۔ جب آیت کا یہ حاصل ٹھہرا تو دیکھا جائے کہ یہ مضمون خدا تعالیٰ کی عظمت شان کے کس قدر خلاف ہے کہ اس مقدس غیر متغیر ازلی وابدی کا ایک وعدہ یا ایک وعید بھی ایسا نہیں ہے جس پر بندے کو پورا اطمینان ہو۔ مرزائیوں کے خدا کی یہ شان ہے ؟ اب نعماء جنت کے وعدے اور عذاب دوزخ کی وعیدیں سب بے کار ہیں۔ استغفر اﷲ!

یہ حالت بعض ایسے رئیسوں کی ہوتی ہے جن کے قول وفعل پر کسی کو اعتبار نہیں ہوتا اور کذب اور بے اعتباری میں مشہور ہوتے ہیں۔ افسوس ہے کہ حضرات مرزائی خدائے قدوس کوبھی ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔ مگر ایسے خدا پر مرزا قادیانی اور ان کے پیر وہی ایمان لاسکتے ہیں۔

خوب یاد رہے کہ جب المیعاد میں الف لام عہد ذہنی کہیں گے تو آیت کا یہی مطلب ہوگا۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اب ناظرین مرزا قادیانی کی قرآن دانی معلوم کریں کہ مرزا قادیانی ایسے قرآن داں تھے کہ خدا ئے قدوس کو ایسا ہی فضول گو، متلون ثابت کرنا چاہتے ہیں جیساایک معمولی انسان فضول گو کاذب ہوتا ہے۔تعالی اللّٰہ عما یصفون۔

(۴)’’الٓمٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ۔(الی) وَعْدَ اللّٰہِ لَایُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ‘‘(الروم:۱تا۷)نزدیک کے ملک میں رومی (نصاریٰ ) مغلوب ہوگئے ہیں لیکن عنقریب غالب ہوں گے۔ اﷲ تعالیٰ یہ ارشاد فرماکر اپنے بندوں کو وثوق دینے کے لئے کہتا ہے کہ یہ اﷲ کا وعدہ ہے اور اﷲ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

اس آیت کے طرز بیان نے بھی قطعی فیصلہ کردیا کہ اﷲ تعالیٰ کسی وقت وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اگر اس کے وعدہ میں کسی وقت پورا نہ ہونے کا احتمال ہو تو اس آیت میں جو بیان خداوندی ہے وہ صرف فضول اور بے کار ہی نہ ہوگا بلکہ غلط ہوجائے گا۔ العیاذ باﷲ!

الغرض پہلی اور دوسری اور چوتھی آیت نص قطعی ہیں اس بات میں کہ خدا تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور نہ اس کے وعدہ اور وعید میں کوئی پوشیدہ شرط ہوسکتی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے

216

کہ بعض وعدوں میں پوشیدہ شرطیں بھی ہوا کرتی ہیں، تو کسی وعدے پر اطمینان نہیں رہ سکتا۔ ہر ایک وعدے میں احتمال ہوگا کہ اس میں کوئی شرط ہو جسے ہم معلوم نہیں کرسکتے۔ غرضیکہ تمام وعدے متزلزل اور غیر قابل اطمینان ہوجائیں گے۔

(۵) ’’اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ‘‘(یونس:۵۵)

اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو متوجہ کرکے تاکید کے ساتھ فرماتا ہے کہ اسے خوب سمجھو کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔ (اس میں کسی وقت جھوٹ کا شائبہ نہیں ہوسکتا ) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یعنی انہیں کامل یقین نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے تمام وعدے اور وعیدیں پوری ہوا کرتی ہیں۔ اگر انہیں سچا یقین ہوتا تو ہرگز ایسی باتیں نہ کرتے جس کی وجہ سے وہ کسی وعید الٰہی کے مستحق ہوتے۔

(۶) ’’وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ‘‘ (الحج:۴۷)

اے پیغمبر ! منکرین تجھ سے عذاب کی جلدی کررہے ہیں ( یہ یقین کرلیں کہ ) اﷲ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔

یعنی اﷲ نے کافروں سے جو عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ اس کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتامگر وہ حکیم ہے اس کی حکمت اور مصلحت نے اس کے لئے وقت مقرر کررکھا ہے اس وقت پر اس کا ظہور ہوگا۔ اس کی ذات جلد باز نہیں ہے بلکہ غصہ کرنے میں دہیمی ہے۔ اس لئے ان کی جلدی کرنے سے فوراً عذاب نہیں آسکتا۱؎۔

۱؎

اس آیت نے اس مضمون کی شرح کردی جو حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں ہے کہ ان کی قوم نے کہا تھا ’’فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ‘‘ (ہود:۳۲) یعنی جو تم عذاب کا وعدہ کرتے ہو تو عذاب لاؤ، اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا تھا ’’اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِہِ اللّٰہُ اِنْ شَآئَ‘‘(ہود:۳۳) یعنی اﷲ چاہے گا تو لے آئے گا یعنی حضرت نوح کے انشاء کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وعید الٰہی کا آنا یقینی نہیں ہے، ممکن ہے کہ آوے یا نہ آوے بلکہ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے کہ منکرین عذاب کی جلدی کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت نوح کی قوم جلدی کرتی ہوگی۔ اس لئے حضرت نوح نے فرمایا کہ اگر اﷲ تعالیٰ چاہے گا تو جلدی آئے گا یعنی وعید کا پورا ہونا تو ضروری ہے مگر تمہاری خواہش کے مطابق جلد اس کا ظہور ہوجائے گا۔ یہ اس کی مشیت پر ہے اس کی نسبت ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔ چنانچہ امام نووی اپنی تفسیر مراح لبید میں لکھتے ہیں کہ :’’اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِہِ اللّٰہُ ای ان الاتیان بالعذاب الذی تستعجلونہ امر خارج دائرۃ القوی البشریۃ وانما یفعلہ اللّٰہ تعالیٰ ان شاء ‘‘امام نووی کی تفسیر سے بھی وہی معلوم ہوا جو ہم نے بیان کیا کہ کفار عذاب کی جلدی کرتے تھے اسی کی نسبت کہاگیا کہ اگر اﷲ چاہے گا تو جلد لے آئے گا۔ افسوس ہے کہ قادیانی جماعت باوجود بڑے دعوی کے قرآن مجید کو نہیں سمجھتی اور اس آیت سے یہ بات ثابت کرنا چاہتی ہے کہ خدا تعالی کی وعید کا پورا ہونا ضروری نہیں ہے۔

217

اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں وعید کے پورا کرنے کو زیادہ تاکید سے بیان فرمایاہے کیوںکہ وعدہ خلافی کی نفی لفظ ’’لن‘‘ سے کی ہے جو عربی زبان میں نفی کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اﷲ تعالیٰ جس کے لئے کوئی وعید کرے اس کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ وعید ضرور پوری ہو کر رہے گی۔ اگر اس کے لئے وقت مقرر کردیا گیا ہے تو اس وقت پر اس کا پورا ہونا ضرور ہے اور اگر وقت مقرر نہیں کیا گیا تو اس کی مشیت جس وقت ہو اس وقت پر اس کا ظہور ہوگا۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وعید کو بھی وعد کہتے ہیں، کیوں کہ اس آیت میں خاص وعید کا ذکر ہے۔ مگر لفظ وعد آیا ہے ۱؎ اس سے ظاہر ہوگیا کہ قرآن مجید میں جہاں لفظ وعد یا میعاد کا استعمال کیا گیا ہے اور قرینہ مقام نے کسی معنی کو خاص نہیں کیا تو یہ لفظ دونوں کو شامل رہے گا۔

(۷) ’’فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ اِنَّ اللّٰہ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ‘‘(ابراہیم۴۷)

اﷲ تعالیٰ اپنے رسول سے یا عام مخاطبین سے ارشاد فرماتا ہے کہ تو ایسا خیال اور گمان ہرگز نہ کرکہ اﷲ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا اس میں شبہ نہیں کہ اﷲ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔ گروہ منکرین سے انکار کا بدلہ لے گا اور اپنے رسول کے ذریعے سے جو وعید ان کے لئے کی ہے اسے ضرور پورا کرے گا۔ جس طرح سابق کی آیت میں بیان ہے کہ وعید کی پیش گوئی ٹل نہیں سکتی ضرور پوری ہوکر رہتی ہے، اسی طرح اس آیت میں بھی وہی بیان ہے مگر نہایت ہی تاکید سے کیوں کہ اس میں وعدہ خلافی کے گمان وخیال کی بتاکید ممانعت فرمائی جس کا حاصل یہ ہوا کہ وعید کی پیش گوئی کا ٹل جانا تو بڑی بات ہے، اس کا گمان وخیال بھی نہ کرنا کہ ایسی پیش گوئی ٹل جاتی ہے۔ یہ کمال مرتبہ کی تاکید ہے اس تاکید کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس پیش گوئی کے مخاطب خاص رسول ہوں اور پھر وہ اپنی امت سے یہ کہیں کہ اﷲ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے اگر وہ ٹل جائے اور اس کا ظہور نہ ہو تو یہاں اﷲ تعالیٰ اور اس کا سچا رسول دونوں کاذب ٹھہرتے ہیں۔ معاذاﷲ۔ کیوںکہ اﷲ تعالیٰ نے کسی پر عذاب آنے کی خبردی تھی مگر کسی وجہ سے عذاب نہ آیا، اس لئے وہ خبر غلط ہوگئی اور اس صادق قدوس پر کذب کا الزام آیا۔ پھر اس خبر کے غلط ہونے سے امت کے نزدیک خدا کے سچے رسول بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔

غرض کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول دونوں پر الزام آتا ہے۔ اس کے سوا جتنی وعید

۱؎

لغت عرب کے اعتبار سے لفظ وعد خیر اور شر دونوں کو شامل ہے یعنی وعدہ خیر کو بھی کہتے ہیں اور وعدہ شر کو بھی کہتے ہیں۔ جس کا نام وعید ہے مذکورہ آیات سے اس کا ثبوت ہوگیا کہ لفظ وعد دونوں معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

218

کی پیش گوئیاں ہیں سب متزلزل اور غیر معتبر ہوگئیں۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ نے یہ ارشا د فرمایا کہ ایسا گمان بھی نہ کرو کہ وعید کی پیش گوئی جو خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے کرتا ہے وہ کسی وقت ٹل جاتی ہے بلکہ اس کے ٹل جانے وہم وگمان بھی نہ کرنا۱؎۔ مفسرین نے اس مضمون کی تاکید دوسرے طریقے سے بیان کی ہے چونکہ وہ علمی بات ہے اور علمی مــضمون سے کم علم اور عوام کو مطلقا دلچسپی نہ ہوگی۔ اس لئے میں اسے بیان نہیں کرتا۔ اہل علم تفسیر ابوسعود ملاحظہ کریں! اس میں اس کی تفصیل اچھی طرح ہے اور تفسیر کبیر وغیرہ میں بھی ہے۔ تفسیر ابوسعود میں نہایت صفائی سے بیان کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے روز قیامت کی جو وعیدیں ظالموں کے لئے بیان فرمائی ہیں وہ اسی طرح پوری ہوں گی، جس طرح پہلی نافرمان امتوں کی وعیدیں جو انبیاء کے ذریعہ سے دنیا میں کی گئی تھیں وہ پوری ہوئیں اور جن کے ہلاک کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ہلاک ہوئے۔ یعنی کسی نبی کی کوئی پیش گوئی ٹل نہیں گئی سب پوری ہوئیں۔

اب یہ معلوم کرنا چاہئے کہ جس طرح چھٹی آیت کے پہلے جملہ سے ظاہر ہوا تھا کہ اس

۱؎

ان دونوں آیتوں سے قطعی طور سے ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی کا اور ان کے متبعین کا یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ ہے کہ وعید کی پیش گوئی خوف سے ٹل جاتی ہے۔ محض غلط ہے اس خدا ئے قدوس کا قول کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں بدلتا۔ لَاتَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ نہایت سچا ارشاد ہے اس کی تائید اور توضیح (صحیح بخاری باب ذکر النّبیین یقتل ببدر ج ۲ ص ۵۶۳ )کی اس روایت سے کامل طور سے ہوتی ہے جسے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے روایت کیا ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ معظمہ کے کفار کے گروہ میں امیہ بن خلف ان کے سرداروں میں تھا۔ حضرت سعدبن معاذ سے اس کی پرانی دوستی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت سعد نے قسم کھاکر اس سے کہا کہ میں نے آنحضرتa سے سنا ہے کہ تو مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل کیا جائے گا۔ ففزع لذلک امیہ فزعا شدیدا۔ امیہ یہ پیش گوئی سن کر نہایت گھبراگیا اور خوف زدہ ہوگیا اور یہ ارادہ کیا کہ میں مکہ سے باہر نہ جاؤ گا جب جنگ بدر پیش آئی اور ابوجہل نے لڑائی کے لئے اپنے گروہ کو تیار کیا۔ اس نے پہلو تہی کی مگر ابوجہل نے بہت کچھ ترغیب دے کر اسے آمادہ کیا۔ امیہ نے اپنے گھر جاکر اپنی بیوی سے کہا کہ سفر کا سامان تیار کر، اس کی بیوی نے حضرت سعد کا قول یاد دلایااس نے کہا میں تھوڑی دور جاکر واپس آؤں گا، وہ گیا اور اسی خیال میں رہا کہ جلدی لوٹ جاؤں گا مگر نہ بچا اور مارا گیا۔ یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے جس کی صحت پر مرزا قادیانی کو بھی اتفاق ہے۔ اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ امیہ وعید کی پیش گوئی سن کر سخت خوف زدہ ہوگیا تھا اور اس کی صداقت پر اسے ایسا یقین ہوا تھا کہ اس نے اپنے دل میں مضبوط ارادہ کرلیا تھا کہ مکہ سے باہر نہ جاؤں گا مگر یہ خوف اور اس طرح کا ایمان اس کے کام نہیں آیا اور اس جنگ میں وہ مارا گیا اور رسول اﷲa کی پیش گوئی پوری ہوکر رہی۔ اب حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور صحیح حدیث کا واقعہ مرزا قادیانی کے قول کو کس صفائی سے غلط بتارہے ہیں۔ مگر مرزائیوں پر افسوس ہے کہ ایسے صریح غلط قول کو مان رہے ہیں اور اہل علم کے مقابلہ میں پیش کررہے ہیں۔

219

اس میں وعید کا ذکر ہے۔ اسی طرح اس آیت کے آخری جملے اور بیان سابق اور لاحق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں وعید کی پیش گوئی کا بیان ہے مگر ان آیتوں سے جب اس کا ثبوت ہوا کہ وعید کی پیش گوئی نہیں ٹلتی تو اس کا ثبوت بطریق اولیٰ ہوگیا کہ وعدہ کی پیش گوئی بھی ضرور پوری ہوتی ہے۔ کیوں کہ وعدے کے پورا ہونے میں آیات صریحہ کے علاوہ بداہت عقل بھی اس کی شاہد ہے کہ کریم کا وعدہ ٹل نہیں سکتا۔ اسی وجہ سے مفسرین نے اس آیت میں وعدہ اور وعید دونوں کے پورا ہونے کوبیان کیا ہے۔ ان آیتوں کے علاوہ ان نصوص پر بھی نظر کرنا چاہئے جن میں خاص طور سے مذکور ہے کہ مجرموں سے عذاب نہیں ٹل سکتا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

(۸)’’لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ‘‘(یوسف:۱۱۰)ہمارا عذاب گروہ مجرمین سے نہیں ٹلتا۔ پھر مکرر ارشاد ہے:

(۹) ’’لَایُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ‘‘(انعام:۱۴۷) اﷲ کا عذاب مجرموں کے گروہ سے نہیں ٹلتا۔

طالبین حق ملاحظہ کریں کہ کس صفائی سے مکرر ارشاد ہے کہ عذاب الٰہی نہیں ٹلتا جس عذاب کے آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے وہ ضرور پوری ہوگی۔

راستی کے طالبو ! سنت اﷲ یہ ہے جسے اس قدوس برحق نے اپنے کلام مقدس میں نہایت صراحت سے بار بار ارشاد فرمادیا۔ نصوص قطعیہ سے اظہر من الشمس ہوگیا کہ سنت اﷲ یہی ہے کہ جس طرح وعدۂ الٰہی ضرور پورا ہوتا ہے اسی طرح وعید خداوندی بھی نہیں ٹلتی، بغیر سچا ایمان لائے ہوئے۔ مگر قادیانی جماعت کی بے خبری پر اور زیادہ تر ان کے جہل مرکب پر افسوس ہے کہ ایسے نصوص صریحہ کے ہوتے ہوئے خدائے قدوس پر یہ الزام لگا تے ہیں کہ اس کی وعید کی پیش گوئیاں ٹل جاتی ہیں ( صرف کسی قدر خوف سے ) ایمان لانا ضروری نہیں ہے اور پھر اسے خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ بتاتے ہیں اور اہل حق کو ناواقف کہتے ہیں اوربڑے فخر سے اپنے مسیح کا مقولہ ان کی کتاب (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۴ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۱) سے نقل کرتے ہیں کہ :

’’ وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی ٹلنے کے بارہ میں سب نبی متفق ہیں ۔‘‘

اس اندھیر کا کچھ ٹھکانا ہے، مجھے ایسا خیال نہ تھا کہ مرزا قادیانی محض غلط قول تمام انبیاء کی طرف منسوب کریں گے مگر قادیانی جماعت یہ تو بتائے کہ تمام کا اتفاق کہاں لکھا ہے۔ انبیاء میں سے دو چار ہی کا نام بتایئے جنہوں نے ایسا کہا ہو اور جہاں ان کا قول ہے؟ اس کا حوالہ بھی بتایئے کہ سید المرسلینﷺ کا تو وہی ارشاد ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے نہایت تاکید اور صراحت سے قرآن مجید میں ظاہر فرمایا اس میں تو کسی مسلمان کو شک نہیں ہوسکتا۔ عجب لطف ہے کہ جو دعوی نصوص قطعیہ

220

کے خلاف ہو اسے اﷲ تعالیٰ کی سنت مستمرہ بتایا جاتا ہے اور گویا یہ کہا جاتا ہے کہ جب وعدہ خلافی اس ذات مقدس کی سنت مستمرہ یعنی عادات دائمی یا عادت مستحکم ہے تو اسے وعدہ خلافی نہیں کہیں گے۔ شاید اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو اتفاقیہ کبھی وعدہ خلافی کرے اسے وعدہ خلاف کہیں گے اور جسے وعدہ خلافی کی عادت مستمرہ ہوگئی وہ وعدہ خلاف نہیں کہلائے گا۔ جن کی عقل وفہم ایسی سلب کردی گئی ہو ان کے اصلاح کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ عجب جہالت ہے کہ جابجا ہمارے سامنے مرزا قادیانی کے قول سے سند لائی جاتی ہے اور کوئی آیت یا صحیح حدیث نہیں پیش ہوسکتی ہے۔ ذرا تو خیال کرو کہ جو قرآن وحدیث پر ایمان لائے ہیں اور مرزا قادیانی کے اقوال کو سراسر غلط اور مخالف قرآن وحدیث یقینا معلوم کرچکے ہیں ان کے نزدیک مرزا قادیانی کے اقوال کی کیا وقعت ہوسکتی ہے۔

نتیجہ بیان سابق مع تحقیق دقیق

الغرض نصوص قطعیہ قرآنیہ۱؎ اور کتب سابقہ الٰہیہ اور دلائل عقلیہ سب متفق ہیں اس

۱؎

ان نصوص صریحہ کو پیش نظر رکھ کر آیت ’’ یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ: المؤمن۲۸‘‘ کے معنی کرنا چاہئے یہ آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے مارڈالنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص فرعون کے گروہ کا تھا وہ پوشیدہ طور سے حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیا تھا، اس نے چاہا کہ فرعون کو اس ارادہ سے باز رکھے اور خود بھی اس کے شر سے محفوظ رہے۔ اس لئے اس نے اس طرح گفتگو کی کہ اس کا ایمان لانا بھی ظاہر نہ ہوا اور فرعون اپنے ارادہ سے باز رہا۔ اس کاحاصل یہ ہے کہ اس نے فرعون سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت کہا کہ اگر یہ جھوٹے ہیں تو اس جھوٹ کا وبال ان پر آپڑے گا۔ تیرے مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ وہ شخص اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا اس لئے اس نے جھوٹے ہونے کو پہلے کہا اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ اگر یہ سچا ہے تو جو کچھ یہ کہہ رہا ہے کچھ نہ کچھ تو اس کا نتیجہ ضرور ہوگا۔ مخالف کے سمجھانے کا یہ طریقہ عمدہ ہے۔ آیت کے جو الفاظ نقل کئے گئے، اس کا مطلب یہی ہے جو میں نے بیان کیا۔ اس طرز بیان سے یہ سمجھنا کہ جو باتیں اس نے کہی ہیں ان سب کا ظہور نہ ہوگا بلکہ بعض کا ہوگا محض نادانی ہے۔ ایک معنی یہ ہوئے دوسرے یہ ہوسکتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے حسب معمول انبیاء ایمان لانے پر وعدہ اور نہ لانے پر وعید بیان کی ہوگی، اس لئے یہ سمجھانے والا مجمل طور سے کہتا ہے کہ اگر یہ سچا ہے توجو کچھ یہ کہہ رہا ہے اس میں سے بعض تو تجھے ضرور ملے گا یعنی اگر ان کے کہنے کے مطابق تو ایمان لے آیا تو وہ نعمتیں تجھے ملیں گی جن کا یہ وعدہ دے رہے ہیں اور اگر ایمان نہ لایا تو جو وعید یہ بیان کررہے ہیں ان میں تو مبتلا ہوگا۔ غرض کہ دونوں صورتوں میں ایک بات کا ظہور ہوگا، دونوں کا اجتماع نہیں ہو سکتا۔ ایمان لانے کی صورت میں وعدہ کا اور نہ لانے پر وعید کا۔ اس لئے اس کا کہنا نہایت صحیح ہے کہ یصبکم بعض الذی یعدکم۔یعنی وعدے اور وعید دونوں تجھ سے کی گئی ہیں، ان میں سے ایک کا تو مستحق ہوگا۔ ان دونوں معنوں کے سوا اور بھی ہوسکتے ہیں۔ تنزیہ ربانی۔ معیار صداقت ملاحظہ کیا جائے۔ الحاصل جب نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدہ وعید میں خلاف نہیں ہوتا تو ایماندار کے لئے ضرور ہے کہ اس آیت کے معنی ایسے کرے جو نصوص قطعیہ کے خلاف نہ ہوں۔

221

بات پر کہ خدائے تعالیٰ کے وعدے اور وعید میں تغیر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس کے تمام وعدے اور وعیدیں ضرور پوری ہوتی ہیں۔ ان کے پورے ہونے کے لئے کوئی رکاوٹ اور کوئی مانع پیش نہیں آسکتا کیوں کہ وہ علام الغیوب ہے۔ اس کے علم میں گذشتہ اور آئندہ کی تمام باتیں ایسی ہی ہیں جیسی اس وقت ہمار ے سامنے کی باتیں۔ اس لئے وہ ایسا وعدہ کبھی نہ کرے گا جو آئندہ کسی واقعہ کی وجہ سے پورا نہ ہوسکے۔ اسی طرح وہ پختہ وعید بھی ہرگز نہ کرے گا جو کسی وجہ سے ٹل جائے اور پیش گوئی میں کسی قسم کا وعدہ یا وعید ضرور ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ سچے رسول کی تمام پیش گوئیاں پوری ہوں۔ اور اگر کسی مدعی کی ایک پیش گوئی بھی پوری نہ ہو تو ثابت ہوگا کہ یہ پیش گوئی خدا کی طرف سے نہیں تھی بلکہ شیطانی وسوسہ یا علوم ظنیہ یا اس کے خیالات کا نتیجہ تھا اور اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں بالیقین غلط ثابت ہوئیں۔ اس لئے یہ یقینی طور سے اظہر من الشمس ہوگیا کہ مرزا قادیانی کاذب تھے اور کذب بھی ایسا کہ قرآن مجید اور توریت مقدس بالاتفاق اس کی شہادت دیتی ہے۔ البتہ اس بیان میں ایک تحقیق دقیق باقی ہے وہ یہ ہے کہ اگر وعید میں کسی وقت تغیر نہ ہو تو مجرم کی توبہ سے یا کسی عالی مرتبہ کی سفارش سے یا محض جوش کرم سے گنہگار کی نجات نہ ہوسکے۔ حالانکہ نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ان تینوں طریقوں سے نجات ثابت ہے۔ اس سے بخوبی ثابت ہوا کہ وعید کسی وقت پوری نہیں ہوتی، بلکہ توبہ وغیرہ سے ٹل جاتی ہے۔ اس کا جواب نہایت غور وتامل سے ملاحظہ کیا جائے اور خوب ذہن نشین کرلیا جائے کہ مجرم کے گناہ کا کسی وجہ سے بخشاجانا گذشتہ تحقیق کے خلاف نہیں ہے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کی وعیدوں کی کئی قسمیں ہیں:

(۱) وہ وعید جو کسی خاص شخص سے یا خاص قوم سے حتمی طور سے کی گئی اور اس کے ظہور کا وقت بھی، مثلا جناب رسول اﷲa نے فرمایا کے امیہ بن خلف مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا اور باوجود اس کے نہایت خائف ہوجانے کے وہ مارا گیا اور پیش گوئی پوری ہوئی اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے کی خبر دی تھی وہ ہلاک ہوئی۔ اس قسم کی پیش گوئی کسی وجہ سے ٹل نہیں سکتی اور ایسے اسباب پیش ہی نہیں آسکتے جس کی وجہ سے پیش گوئی پوری نہ ہو۔ اگر اس قسم کی پیش گوئی پوری نہ ہو تو مخلوق کے روبرو وہ رسول جھوٹا قرار پائے یا خدا تعالیٰ پر کذب کاالزام آئے۔ اسے کوئی عقل باور نہیں کرسکتی کہ وہ قادر مطلق اپنے سچے رسول کو امت کے سامنے جھوٹا ٹھہرا کر رسوا کرے، ایسا تو کوئی رئیس اور متین انسان بھی نہیں کرتا۔ احمد

222

بیگ کے داماد کی پیش گوئی اسی قسم میں داخل ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس کا ٹل جانا مرزا قادیانی کو کاذب ثابت کرتا ہے اور اس وعید کی نسبت جو باتیں بنائی جاتی ہیں وہ محض غلط ہیں۔

(۲) دوسرے وہ وعیدیں جو عام کفار کے لئے کی گئی ہیں۔

(۳) وہ جو گناہ گار مسلمانوں کے لئے ہیں یہ دونوں قسم کی وعیدیں اول تو سب مشروط ہیں کوئی حتمی وعید نہیں ہے۔ کیوں کہ نص صریح میں ان وعیدوں کے ساتھ’’اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا(الفرقان:۷۰)موجود ہے۔ یعنی کفار کے لئے جو وعید ہے وہ اسی وقت ہے کہ توبہ نہ کرے اور جو کفر سے توبہ کرکے ایمان لے آئے اس کے لئے وعید ہی نہیں ہے۔ کیوں کہ حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے :’’التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ‘‘

(کنز العمال ج ۴ ص ۲۰۷ حدیث ۱۰۱۷۴)

یعنی جس نے گناہ سے توبہ کی وہ گویا ایسا ہی ہے کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں اس لئے وہ وعید اس کے لئے نہیں ہے۔ غرضیکہ یہاں کوئی وعید ٹل نہیں گئی بلکہ اس کے لئے وعید تھی ہی نہیں۔ مگر یہ خوب خیال رہے کہ توبہ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دل میں ڈر جائے یا ڈر کے مارے بھاگا پھرے، بلکہ اعلانیہ طور سے اپنے کفر کے عقیدے سے توبہ کرکے سچے رسول پر ایمان لائے۔ یہی وجہ ہوئی کہ امیہ بن خلف پر وعید پوری ہوئی، اگر چہ وہ دل میں بہت ڈر گیا تھا اور اضطراری طور سے جناب رسول اﷲa کی صداقت اس کے دل میں آگئی تھی۔ مگر یہ تصدیق لائق اعتبارنہیں ہے بلکہ ایمان لانے لئے ایسی تصدیق کی ضرورت ہے جو اس کی رغبت اور خوشی سے ہو توبہ کااستثناء تو کافر اور گناہ گار مسلم، دونوں کے لئے ہے۔ مگر گناہ گار کے لئے دوسری آیت ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے لئے کوئی وعید قطعی نہیں ہے۔ وہ آیت یہ ہے: ’’ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ‘‘ (النسآء:۴۸)

یعنی اﷲ مشرک کو نہیں بخشے گا۔ ( اس کے لئے حتمی وعید ہے ) اور جو شرک سے تائب ہیں اور گناہ کرتے ہیں ان کی مغفرت اﷲ تعالیٰ کی مشیت پر ہے، جسے چاہے بخش دے۔ اب مشیت کا ظہور کسی وقت شفاعت کی وجہ سے ہوگا اور کسی وقت جو ش کرم اس کو ظاہر کرے گا۔ اس آیت نے قطعی طور سے فیصلہ کردیا کہ مسلمانوں کے لئے کوئی وعید الٰہی قطعی نہیں ہے کہ اس کے خلاف ہونے سے کذب لازم آئے۔ اس کے علاوہ ایک سرّ عظیم یہ ہے کہ جو وعیدیں عام کفار یاعام گناہ گاروں کے لئے کی گئی ہیں وہ در حقیقت وعید نہیں یعنی کسی سزا کے حتمی وقوع کی خبر نہیں ہے بلکہ قانون شریعت کا بیان اور جرم کی شفاعت کا اندازہ ہے۔ اس کا مطلب صرف اس قدر

223

ہے کہ قانون الٰہی میں اس جرم کی سزا یہ مقرر کی گئی ہے کہ جو کوئی اس جرم کا مرتکب ہوگا وہ اس سزا کا مستحق ہے۔ اس استحقاق کے بعد حاکم کو اختیار ہے چاہے اسے سزا دے اور چاہے چھوڑدے کیوںکہ اس صورت میں کسی خبر کا کاذب ہونا ثابت نہیں۔ امام نووی حدیثمن تعمد علی کذبا فلیتبوّأ مقعدہ من النار کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’ معنی الحدیث ان ہذا جزاء ہ وقد یجازیٰ بہ وقد یعفوا اللّٰہ الکریم عنہ ولا یقطع علیہ بدخول النار ولہکذا سبیل کل ما جاء من الوعید بالنار لا صحاب الکبائر ۔‘‘ ( نووی ج ۱ ص ۸ باب تغلیظ الکذب علی رسول اللّٰہ)

معنی حدیث کے یہ ہیں کہ جو کوئی رسول اﷲa پر عمدا جھوٹ باندھے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اب اﷲ تعالیٰ کسی وقت یہ سزا دے گا اور کبھی اپنے کرم سے معاف کردے گا اس شخص کا جہنم میں جانا کوئی قطعی بات نہیں ہے۔ اسی طرح اہل کبائر کے لئے جتنی وعیدیں جہنم میں جانے کی آئی ہیں ان کا حاصل یہی ہے۔

یعنی شریعت الٰہی نے یہ قانون مقرر کررکھا ہے کہ یہ مجرم اس سزا کا مستحق ہے مگر اس جرم کے بعد اس سزا کا دینا حاکم کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ عاجزی اور توبہ سے یا سفارش اور جوش کرم سے اسے چھوڑ دے تو اس پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔ کیوں کہ اس چھوڑنے سے اس کا کوئی وعدہ یا وعید غلط نہیں ہوجائے گی۔ قانون وعید کسی سزا کی قطعی خبر نہیں ہے بلکہ صرف مجرم کے استحقاق کا بیان اور جرم کی شناعت کا اندازہ ہے۔

اب اگر حاکم سزا کا حکم دے دے اور پھر کسی مصلحت سے اسے منسوخ کردے تو کوئی عیب نہیں ہوسکتا۔ جس طرح گورنمنٹ کسی جرم کی سزا مقرر کردیتی ہے اور اس کے مطابق حاکم اسے سزا کا حکم دیتا ہے پھر کسی وقت وہی حاکم یا دوسراحاکم اسے چھوڑ دیتا ہے ۱؎ یعنی پہلے حکم کو منسوخ کردیتا ہے۔ یہاں کسی پیش گوئی یا کسی وعدہ کا ٹال دینا اور غلط کردینا ہر گز نہیں ہے۔

البتہ اگر کسی قوم یا کسی شخص کے ہلاک کردینے کی خبر دی گئی یعنی رسول کو اطلاع دی گئی کہ یہ قوم ہلاک کی جائے گی یا اس شخص پر عذاب آئے گا اور اس رسول نے اپنی قوم سے پیش گوئی کی کہ تم پر عذاب آئے گا اور تم ہلاک ہوگے۔ جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا یا مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے داماد کے موت کی پیش گوئی کی تھی۔

۱؎

مگر قادیانی حضرات ایسی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے اور وعید الٰہی کو مثل حاکم کے حکم کے سمجھتے ہیں۔

224

یہ اس قوم اور اس شخص کے عذاب میں مبتلا ہونے کی قطعی خبر ہے اس کے خلاف ہوجانے سے اس قدوس کا کذب لازم آئے گا اور اس رسول کے تمام وعدوں اور وعیدوںپر وثوق نہ رہے گا اس لئے یہ وعید نہیں ٹل سکتی اور اسی کی نسبت ارشاد ہے:’لن یخلف اللّٰہ وعدہ ‘‘یعنی اﷲ کی وعید ہرگز نہیں ٹلتی۔

یہی وجہ ہے کہ جن انبیاء سابقین نے اپنی قوم کے لئے عذاب کی پیش گوئی بہ الہام الٰہی کی ہے اس کا ظہور قطعا ہوا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے کی پیش گوئی نہیں کی تھی، اس لئے وہ بچ گئے۔ اسی وجہ سے خدا تعالی کی کوئی خبر جھوٹی نہیں ہوئی۔ کسی وعدۂ الٰہی یا کسی خبر کو منسوخ کہہ دینا صاحب عقل کا کام نہیں ہے جو نسخ کے قائل ہیں وہ بھی خبر میں نسخ کونہیںمانتے ہیں بلکہ حکم میں نسخ کے قائل ہیں۔ افسوس ہے ان کی عقل پر جو خبر کو منسوخ بتاتے ہیں اور صریح جھوٹ کو اس پردہ میں چھپاتے ہیں۔ قادیانی جماعت کا یہی حال ہے۔ یہ وہ تحقیق ہے کہ قادیانی جماعت کے ذی علم اس سے بالکل بے خبر ہیں۱؎ اور مرزا قادیانی سخت غلطی کی پیروی کررہے ہیں۔ کذب اور باطل کی پیروی نے ان کے قلب پر ظلمت کا پردہ ڈال دیا ہے۔

۱؎

مرزا قادیانی کے دماغ تک اس تحقیق کی ہوا نہیں پہنچی تھی یہ وہ تحقیق ہے کہ جس سے خلف فی الوعید کا مختلف فیہ مسئلہ بآسانی حل ہوجاتا ہے۔ یعنی اگر چہ محققین اسی بات کے قائل ہیں، خلف فی الوعید جائز نہیں مگر بعض علماء اس کے قائل ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ اختلاف ظاہری ہے۔ بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی اختلاف نہیں ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ جب نصوص قطعیہ سے صاف ثابت ہے تو علماء اسلام کیوں کر اختلاف کرسکتے ہیں مگر بعض علماء جو خلف فی الوعید کو جائز کہتے ہیں ان سے مراد وہی وعیدیں ہیں جو مسلمان گنہگاروں کے لئے ہیں۔ حقیقتاً وعید ہی نہیں ہے اور اگر کہیں بھی، تو ان میں سے کوئی حتمی وعید نہیں ہے بلکہ صاف طور سے مشیت کی شرط اس میں موجود ہے اس لئے اس کے ظاہر ہونے سے خلف فی الوعید نہیں ہوتا کیوں کہ جب وہ حقیقتا وعید ہی نہیں ہے تو پھر خلف کس کا۔ البتہ وعید کی پہلی قسم جس میں کسی خاص قوم یاخاص شخص کے لئے وعید کی گئی ہو تاریخ عذاب بیان کی گئی ہو یانہ کی گئی ہو، یہ نہیں ٹلتیں۔ چونکہ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اس لئے اس کی وعید ایسی قوم یا ایسے شخص کے لئے نہیں ہوسکتی کسی وقت سچی توبہ اس سے ظہور میں آئے اور اضطراری توبہ اور کسی وقت بتقاضائے بشریت خوف کرنا لائق اعتبار نہیں ہے، اس سے وعید نہیں ٹلتی۔ مرزا محمود نے صرف عوام کے دھوکا دینے کو یا محض ناواقفی سے بعض عبارتیں خلف فی الوعید میں نقل کی ہیں مگر جب آیات قرآنیہ اور نصوص قطعیہ سے ثابت ہوگیا تو کسی قول کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر حکیم نورالدین ضرورت بتلائیں تو یہ فقیر موجود ہے ہر طرح ثابت کردیگا کہ خلف فی الوعید جائز نہیں ہے اور وعدہ خلاف ہونا اس سے زیادہ دشوار ہے۔ مرزا محمود کیا سمجھیں گے؟

225

میں نے توریت کا حوالہ یہاں اس لئے دیاہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ بات تمام انبیاء سابقین سے لے کر حضرت محمدa تک یکساںمانی گئی ہے کہ جس مدعی کی پیش گوئی جھوٹی ہوجائے وہ کاذب ہے اور اس مقام پر تحریف کا الزام بھی نہیں ہوسکتا کیوںکہ قرآن مجید میں جس طرح کتب سابقہ کی تحریف کا دعوی کیا ہے اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ آخری کتاب مقدس کتب سابقہ کی مصدق اور مہیمن یعنی محافظ ہے۔ اس لئے جو جو مضمون توریت کا قرآن مجید کے مطابق ہے وہ بالیقین توریت مقدس کا مضمون ہے۔ اس میں تحریف کا گمان نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے بہت جگہ توریت اور انجیل کا حوالہ دیا ہے ۱؎ اور اپنے دعوی کے ثبوت میں اسی طرح پیش کیا ہے جس طرح قرآن مجید کو، اس لئے ان کے مسلمات سے بھی ان کا کاذب ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔

الغرض اس بیان سے روز روشن کی طرح ظاہر ہوگیا کہ دعوی نبوت کی صداقت کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کی پیش گوئی کوئی غلط بھی ہوئی یا نہیں ؟ اگر ایک پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوجائے تو یقین کرنا چاہئے کہ یہ مدعی جھوٹا ہے مگر عجب تعصب یا نادانی ہے کہ بعض طالبین حق بھی مرزا قادیانی کی ان پیش گوئیوں کو جو انہیں کے خیال میں سچی ثابت ہوئیں پیش کرکے انہیں سچا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۲؎ یہ بڑی بھاری غلطی ہے۔ پیش گوئی کے سچے ہوجانے سے مدعی کی صداقت ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی۔ ان دونوں دلیلوں کو انصاف وغور سے ملاحظہ کیا جائے، پھر بالیقین روشن ہوجائے گا کہ اگر کسی کی دو ہزار پیش گوئیاں صحیح ہوجائیں تو بھی اس مدعی کو صداقت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد میں یہ کہوں گا کہ جو راستباز مرزا قادیانی کے حال سے واقف ہوگا وہ بالیقین کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی کی بہت پیش گوئیاں غلط ہوئیں اور ایسی غلط ہوئیں کہ جن کی غلطی میں کوئی شبہ نہیں رہا۔

۱؎

مثلا انجام آتھم ص ۶۳ اور پھر ص ۶۴ میں اور توضیح مرام ص ۷، ۸، میں ملاحظہ ہو۔

۲؎

یہاں یہ کہاگیا کہ جو پیش گوئیاں ان کے خیال میں سچی ہوئیں کیوں کہ واقعی طور پر ان کی کسی ایسی پیش گوئی کا سچا ہونا ثابت نہیں ہوتا جسے صاف طور سے پیش گوئی کہہ سکیں۔ مولوی ثناء اﷲ صاحب مرزا قادیانی کے زمانہ سے اعلان کے ساتھ دعوی کررہے ہیں کہ کوئی پیش گوئی ایسی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے اس پر یہ پیش گوئی کی کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان میں ہرگز نہ آئیں گے مگر وہ گئے اور مرزا قادیانی سامنے نہ آئے۔ اس کے بعد انہوں نے اخبار اہل حدیث میں اعلان دیا کہ لاہور میں جلسہ کرکے مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی پڑتال کی جائے میں ثابت کروں گا کہ کوئی پیش گوئی سچی نہیں ہوئی مگر کسی قادیانی کی ہمت نہ ہوئی کہ سامنے آئے اس سے معلوم ہوا کہ قادیانی خود متردّد ہیں۔

226

اب میں ان کی چند پیش گوئیاں نقل کرتا ہوں جن کے غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور ان کی سچائی ثابت کرنے کے لئے جو باتیں خود مرزا نے اور ان کے بعد ان کے متبعین نے بنائی ہیں ان سے اور زیادہ ان کی ناراستی اور ان کی بناوٹ اظہر من الشمس ہوتی ہے مگر حکیم نورالدین کو اس رسالہ کے دیکھنے کے بعد بھی ان کی صداقت پر اصرار ہے تو یہ عاجز ہر طرح حاضر ہے۔ خواہ زبانی گفتگو کرکے سمجھ لیں یا تحریری مناظرہ کرکے اپنی تسلی فرمالیں مگر اپنی جماعت کو بدزبانی اور بے ہودہ گوئی سے روکیں۱؎ کیوں کہ پھر اس طرف بھی لوگ جزاء سیّئۃ سیّئۃ پر عمل کرنے کو موجود ہوجاتے ہیں اور مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع ملتا ہے۔

مرزا قادیانی کی بعض غلط پیش گوئیاں

(۱) ’’مرزا احمد بیگ کا داماد سلطان محمد ڈھائی سال کے اندر مرے گا ‘‘ (مگر مرا نہیں)

(شہادۃ القرآن ص ۸۰ خزائن ج ۶ ص ۳۷۶)

(۲) پھر اس کے لئے یہ دوسری پیش گوئی کی گئی کہ : ’’نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خداتعالی ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کردے گا جیسے احمد بیگ اور آتھم کی پوری ہوگی۔‘‘

( انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج ۱۱ ص ۳۱)

اس پیش گوئی میں سلطان محمد کے مرنے کی میعاد مقرر نہیں کی صرف اس قدر تعیین کی کہ میرے سامنے مرے گا اور اس کو متعدد جگہ لکھا ہے اور مختلف عنوان سے لوگوں کو اس کا یقین دلایا ہے اور اپنی صداقت کا معیار بتایا ہے مگر بایں ہمہ اس پیش گوئی کا بھی ظہور نہ ہوا یعنی سلطان محمد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا بلکہ مرزا قادیانی ہی اس کے سامنے مرگئے، اس لئے علاوہ پیش گوئی غلط ہونے کے مرزا قادیانی اپنے اقرار اور اپنے معین کردہ معیار کے بموجب جھوٹے ٹھہرے۔

۱؎

ذرا خیال فرمائیں کہ اہل اللہ کی یہی شان ہے کہ اپنے گروہ کا کوئی شخص کیسے ہی بے ہودہ اور غلط تحریر سے رسالہ سیاہ کرے اس کی تعریف اپنے خاص اخبار میں کی جاتی ہے اور مصاحبین خاص جھوٹی تعریفیں کرتے اور کسی وقت انہیں متنبہ نہیں کیا جاتا ۔ جب متبعین کی صریح کذب اور غلط باتیں انہیں بڑی معلوم نہ ہوئیں تو ظاہر ہوگیا کہ باطل پرستی سے ان کی قوت ممیزہ جاتی رہی۔ اگر خلیفہ قادیان اظہار حق پر متوجہ ہوں تو یہ عاجزان رسالوں کی محض غلط اور جھوٹی باتیں پیش کرے جن کی تعریف اخبار بدر وغیرہ میں کی گئی ہے مگر ان سے یہ امید ہرگز نہیں ہے ۔

227

(۳،۴)احمد بیگ کی لڑکی بیوہ ہوگی اور نکاح ثانی تک زندہ رہے گی، اس میں دراصل دو پیش گوئیا ں ہیں۔ ایک اس لڑکی کا بیوہ ہونا اور دوسری نکاح ثانی تک اس کا زندہ رہنا۔ یہ دونوں پیش گوئیاں بھی غلط ہوئیں کیوں کہ وہ لڑکی بیوہ نہیں ہوئی۔ بلکہ پہلے ہی خاوند کے نکاح میں مری۔

(۵) پھر یہ عاجز بھی ان واقعات کے پورے ہونے تک زندہ رہے گا اس کا غلط ہونا بھی دنیا نے دیکھ لیا یہ پیش گوئی بھی وعید نہیں بلکہ مرزا قادیانی کے زندہ رہنے کا وعدہ ہے مگر افسوس ہے کہ یہ وعدۂ الٰہی بھی پورا نہ ہوا اور مرزا قادیانی نے خدا کے وعدے و وعید دونوں کو غیر معتبر ٹھہرا دیا۔

(۶) اور اس عاجز کااس لڑکی سے نکاح ہوگا۔

نوٹ: نمبر ۳ سے ۶ تک تمام حوالوں کے لئے ملاحظہ ہو:

( شہادۃ القرآن ص۸۰، خزائن ج ۶ ص ۳۷۶)

(۷) اور اس سے ایک لڑکا ہوگا جس کی تعریف کی انتہا نہیں۔ ایک جملہ اس کی مدح میں یہ ہے کہ :’’ کأن اللّٰہ نزل من السماء ‘‘ (تذکرہ ص ۱۱۰،طبع۴) گویا اﷲ تعالیٰ آسمان سے اترآیا۔

یہ دونوں پیش گوئیاں وہ ہیں جن کی تصدیق مرزا قادیانی نے حدیث رسول سے کی ہے۔

انجام آتھم میں لکھا ہے کہ : ’’ اس پیش گوئی کی تصدیق میں جناب رسول اﷲa نے فرمایا ہے یتزوج ویولد لہ ۔

( ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵۳ خزائن ج ۱۱ ص۳۳۷ )

بایں ہمہ دونوں پیش گوئیوں کا غلط ہونا تو اظہر من الشمس ہوگیا کہ کسی راستباز پر پوشیدہ نہ رہا اس پیش گوئی کے متعلق بیس پچیس پیش گوئیاں اور الہامات ہیں وہ سب کے سب غلط ہوگئے۔اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں ہے۔

(۸)مولوی ثناء اﷲؒ کی نسبت یہ پیش گوئی کی تھی کہ: ’’ وہ قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔‘‘

( اعجاز احمدی ص ۳۷ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۸)

مولوی صاحب کے نہ آنے پر کس قدر زور ہے، یہاں دیکھا جائے کہ مولوی صاحب کے نہ آنے کی پیشگوئی کی گئی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ مولوی صاحب خاص اسی غرض سے قادیان میں گئے۔ اس لئے یہ پیشگوئی بھی غلط ہوئی۔ یہاں اس پر پوری نظر رہے کہ ان کے جانے کے بعد مرزا کا گفتگو نہ کرنا اور باتیں بناکر ٹال دینا اور بات ہے صرف مولوی صاحب کا اس غرض سے قادیان میں جانا مرزا قادیانی کی پیشگوئی کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ کیوں کہ مرزا قادیانی نہایت زور سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ قادیان میں پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے ہرگز نہیں آئیں گے۔ یہ

228

قول ان کا جھوٹا ہوگیا مگر مرزا قادیانی کے معتقد اس بدیہی بات سے بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ آٹھ پیشگوئیاں ہیں جن کا ذکر فیصلہ کے پہلے دو حصوں میں ہے۔ یہ پیشگوئیاں اس صفائی سے غلط ثابت ہوگئیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں نے دیکھ لیا اور سننے والوں کے کانوں سے بتواتر اس طرح سنا کہ کسی طرح کا شک وشبہ نہ رہا۔

اب دنیا میں کوئی منصف مزاج، حق پسند، ان کے غلط ہونے سے انکار نہیں کرسکتا اور یوں کوئی زبردستی سے دن کو رات کہنے لگے تو اس کی زبان کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس وقت اگرچہ غلط پیش گوئیو ں کے آٹھ نمبر دیئے گئے مگر وہ پیش گوئیاں بھی اس میں داخل کی جائیں جو پہلے حصہ میں بیان ہوئی ہیں تو جھوٹے الہاموں اور جھوٹی پیش گوئیوں کا شمار تیس سے زیادہ ہوجائے گا۔ اس میں تین پیش گوئیا ں ایسی ہیں جن کی صداقت ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے اور ان کے متبعین نے بہت زور لگایا ہے اور اس جھوٹ کو سچ بنانے میں عجیب عجیب باتیں نکالی ہیں اور زورلگانے کی وجہ ظاہر کی ہے کہ ان پیش گوئیوں کو مرزا قادیانی نے اپنا نہایت عظیم الشان معجزہ ٹھہرایا تھا اور اپنے صدق یا کذب کا معیار بتایا تھا یعنی پہلی اور دوسری اور چھٹی پیش گوئی کو۔ اس لئے ضروری تھا کہ ان کے سچا بنانے میں جی توڑ کوشش کریں۔

الحمدﷲ چونکہ مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا بڑا معیار پیش گوئیوں کے پورا ہونے پر رکھا تھا اور واقعی وہ معیار غلط تھا اس لئے اس کریم ورحیم کا یہ بڑا فضل ہوا کہ جن پیش گوئیوں کو انہوں نے اپنا نہایت عظیم الشان نشان قراردیا تھا، وہ غلط ثابت ہوئیں۔ پہلی پیش گوئی چونکہ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں جھوٹی ثابت ہوئی تھی اس لئے خود مرزا قادیانی نے الزام سے بچنے کے لئے خوب زور تحریر دکھایا جس کا حاصل یہ ہے کہ احمد بیگ کے مرجانے سے اس کے تمام گھر پر بہت کچھ خوف طاری ہوا اور گریہ وزاری اور عبادت الٰہی میں لگ گئے، انہیں میں اس کا داماد بھی تھا چونکہ اس کے لئے خاص پیش گوئی تھی اس لئے طبعی طور سے وہ نہایت خائف رہا اور وعید کی پیش گوئی گریہ وزاری سے ٹل جاتی ہے، اس لئے ڈھائی برس کے اندر نہ مرا۔ مگر جس طرح کا زور شور مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کے ٹل جانے میں کیا ہے اسے حق پسند حضرات بناوٹ کہے بغیر نہیں رہ سکتے۔

اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ احمد بیگ کا داماد اگر مرزا قادیانی کی پیش گوئی سے اس قدر خائف اور پریشان ہوگیا تھا جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے تو اقتضائے طبعی یہ تھا کہ وہ مرزا قادیانی کا معتقد ہوتا اور ان کے پاس آکر مرید ہوجاتا مگر مرید ہونا تو کیا معنی، اس کی اور اس

229

کے گروہ کی نسبت خود مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ۲۲۴ خزائن ج ۱۱ ص ایضا) پر لکھتے ہیں :’’ انہم مالوا الی سیرتہم الا ولی وقست قلوبہم … وعادوا الی التکذیب والطغویٰ ‘‘

یعنی جو لوگ منکوحۂ آسمانی کے نکاح کے حارج ہوتے تھے اور مخالفت کی تھی احمد بیگ کے مرنے سے دب گئے تھے مگر پھر انہوں نے سرکشی شروع کی اور مرزا قادیانی کو جھوٹا کہنے لگے اور نہایت ظاہر ہے کہ اگر وہ مخالف اور سرکش نہ تھا تو مرزا قادیانی اسے آخر عمر تک کیوں کہتے رہے کہ یہ میرے روبرو مرے گا اور یہ ضرور مرے گا۔ مرزا قادیانی نے اس پر بھی قسم کھائی ہے۔ اس کی تفصیل مع حوالہ کے ’’تنزیہ ربانی‘‘ میں دیکھنا چاہئے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ فطری بات ہے کہ انسان کو اپنی زندگی نہایت پیاری ہوتی ہے اگر وہ پیش گوئی سے خائف ہوگیا تھا۱؎ اور کسی وجہ سے ان پر ایمان لانے سے بھی اسے انکار تھا تو بالضروراپنی بیوی کو طلاق دے کر علیحدہ کردیتا کیوں کہ اس کی موت کی پیش گوئی اس لئے تھی کہ اس کی بیوی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آسکتی تھی مگر یہ بھی اس نے نہیں کیا اس لئے نہایت ظاہر ہے کہ وہ ہرگز ایسا خائف نہ تھا جیسا کہ مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں تجربہ اس کی کامل شہادت دیتا ہے کہ جس طرح موت کے خوف دلانے یا کسی بزرگ وعزیز کے مرجانے سے بعض نہایت خائف اور غمگین ہوجاتے ہیں، اسی طرح بعض ایسے سخت یا کامل ایما ن ہوتے ہیں کہ وہ کسی کی پیش گوئی یا دھمکی سے ذرا نہیں ڈرتے اور جسے انہوں نے جیسا سمجھ لیاہے اس پر قائم رہتے ہیں، وہ یہ بھی یقین کرتے ہیں کہ موت وحیات کے لئے ایک وقت مقرر ہے، اس سے کم وبیش نہیں ہوتا۔ اب اگر رمل یا نجوم کے ذریعہ سے کوئی کسی کی مدت عمر معلوم کرکے پیش گوئی کردے تو نبی یا مقدس، یا پارسا نہیں ہوسکتا، اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اب کون ہے جو اس سچی اور واقعی بات کو غلط بتائے اور مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کر ے ؟

۱؎

چنانچہ انجام آتھم ص ۲۲۲ خزائن ج ۱۱ ص ایضا میں لکھتے ہیں : ’’ نزدیک بود کہ جان بعد شنیدن ایں حادثہ بآید وبرجان خود بہ ترسید ونکاح را آفتی از آفات آسمانی انگاشت ۔‘‘ اگر یہ بات سچی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتا یا بیوی کو طلاق دے دیتا، اب مرزا قادیانی کے صاحبزادہ نے اس کا ایک خط مشتہر کیا ہے اور اس سے لکھوایاہے کہ میں مرزا قادیانی کے مخالف کبھی نہ تھا البتہ ایسے اسباب ہوئے کہ ملاقات نہیں کرسکا، یہ خط محض جعلی ہے یعنی یا تو اسے کچھ دے کریا خوشامد کرکے لکھوالیا ہے کیوں کہ یہ مضمون تو مرزا قادیانی کے صریح اقوال کے خلاف ہے۔

230

تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ دعوی تو نص قطعی سے ثابت ہے کہ سچے رسول کی کوئی پیش گوئی جھو ٹی نہیں ہوسکتی اور مرزا قادیانی کا یہ دعوی کہ صرف گریہ وزاری سے وعید کی پیش گوئی ٹل جاتی ہے، ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی آیت وحدیث سے ثابت نہیں ہے بلکہ نصوص مذکورہ اور اس حدیث بخاری کے بالکل مخالف ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ جناب رسول اﷲa نے امیہ بن خلف کے مارے جانے کی پیش گوئی فرمائی تھی اور اس کی وجہ سے وہ نہایت ہی خائف تھا۔ اس کا یہ خوف اور ترس کچھ کام نہ آیا اور پیش گوئی کے مطابق وہ مارا گیا۔ یہ حدیث بخاری ج ۲ ص ۵۶۳ اور اس سے قبل ساتویں آیت کے بیان میں اس حدیث کا حاصل حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ تنزیہ ربانی میں بھی اس کا ذکر ہے غرضیکہ اس پیش گوئی کے غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔

مرزا قادیانی کا پہلا جھوٹ

مرزا قادیانی نے نہایت بے باکی سے لکھا ہے کہ: قرآن مجید اور توریت کے رو سے یہ امر بتواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی میعاد توبہ۱؎ اور خوف سے ٹل جاتی ہے

(انجام آتھم ص۲۹، خزائن ج ۱۱ )

مگر یہ محض غلط دعویٰ ہے البتہ اس کے ثبوت میں حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی بار بار نقل کی گئی ہے۔

مرزا قادیانی کا دوسرا جھوٹ

’’ انہوں نے پیش گوئی کی تھی مگر قوم کی گریہ وزاری سے ان کا عذاب ٹل گیا۔ ‘‘

( انجام آتھم ص ۳۰ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ایضا )

مگر یہ محض دھوکا یا ناواقفی ہے۔ قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوسکتا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ یہ قوم چالیس روز تک ہلاک ہوجائے گی۔ جس طرح مرزا قادیانی نے اڑھائی برس کے اندر صاف طور سے اس کے مرجانے کی پیش گوئی کی تھی اور وہ پوری نہ ہوئی پھر اس کی نظر میں حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کو پیش کرنا محض غلط ہے۔ چونکہ یہ پیش گوئی مرزا قادیانی کے نہایت عظیم الشان نشان کا بڑا جز تھا، اس لئے اس کے لئے پھر پیش گوئی کی اور اس کے مرنے کی کوئی میعاد مقرر نہیں کی۔ البتہ اس قدر دھمکی دی کہ اگر تم میعاد مقرر کرانا چاہتے ہو تو سلطان محمد سے اشتہار دلواؤ۔

۱؎

توبہ کے یہ معنی نہ خیال کئے جائیں کہ پہلے انکار سے باز آکر ایمان لے آئے کیوں کہ جس کی نسبت یہ کہا گیا ہے وہ کسی وقت انکار سے باز نہیں آیا۔

231

اسی قسم کی باتیں ان کے کذب اور بناوٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔ اگر کچھ بھی عقل وانصاف کو دخل دیا جائے تو بخوبی ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ کہنا ان کی معمولی بناوٹ اور مخالفوں کو اعتراض سے ہٹاکر دوسری طرف مشغول کرنا تھا کیوں کہ وہ لوگ تو پہلے ہی سے کاذب سمجھتے تھے۔ اس پیشگوئی کے جھوٹا ہوجانے سے انہیں اور زیادہ وثوق ہوگیا اور ان کی جماعت کو دیکھا کہ وہ اس کذب کی پیروی سے باز نہیں آتے۔ مرزا قادیانی کیسی ہی غلط اور بیہودہ بات بناکر کہہ دیتے ہیں وہ اسے وحی الٰہی سمجھتے ہیں۔ پھر اشتہار دلوانا بے کار صرف کرانا اور جھگڑے میں پڑنا ہے۔ اس کے علاوہ خود تو وہ جاہل وہ کیا اشتہار دیتا اور پھر اس قدر دینی جوش کہاں کہ ایک دینی بات کے اظہار میں کچھ صرف کیا جائے یا محبت کرکے اس کو اعلان دیا جائے۔

دوسری پیش گوئی: یہ تو ظاہر ہے کہ آئندہ کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کی خبر دینے کو پیش گوئی کہتے ہیں۔ اس خبر دینے کے متعدد طریقے ہیں۔ مثلا معمولی طور سے خبر دی کہ فلاں بات ہوگی یا مخاطب کو کامل متوجہ کرکے تاکید کے ساتھ کہے کہ یہ بات ضرور ہوگی اور تاکید اور مخاطب کے یقین دلانے کے بھی اقسام اور درجات ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کے وقوع میں آنے کا اس زور کے ساتھ متعدد طور سے یقین دلایا ہے کہ اس سے زیادہ اعتماد اور وثوق ظاہر کرنا اور دوسرے کو یقین دلانا ہونہیں سکتا۔ پھر ایک دو مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ اور مختلف طور سے چند مرتبہ کے الفاظ لکھے جاتے ہیں۔

’’ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالی ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کریگا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی ۔‘‘

(حاشیہ انجام آتھم ص ۳۱ خزائن ج ۱۱ ص ۳۱)

اس عبارت پر اچھی طرح نظر کی جائے اس میں صرف مرنے کی خبر ہی نہیں دی بلکہ کئی طریقوں سے اس کے وقوع میں آنے کا یقین دلایا ہے۱؎ ایک یہ کہ دو واقعوں کی نظیر دے کر یہ کہا کہ جس طرح یہ واقعات میری زندگی میں ہوئے اسی طرح اس کی موت بھی میری زندگی میں ہوگی۔

۱؎

اس قول کو پیش نظر رکھ کر میاں محمود کے اس اشتہار کو دیکھا جائے جو انہوں نے ان دنوں طبع کیا ہے اور احمد بیگ کے داماد کا معتقد ہونا ظاہر کیا ہے۔ جب وہ مرزاقادیانی کا معتقد تھا تو پھر مرزا قادیانی خواہ مخواہ اسے کیوں برابر کوستے رہے اور نہایت زور کے ساتھ اس کے مرنے کی پیش گوئی کرتے رہے۔

232

دوسرے اس نے نہایت تاکید سے کہا کہ خدا تعالی ضرور ایسا ہی کرے گا۔ تیسرے انتہا درجہ کا یقین اس طرح دلایا کہ اگر وہ میری زندگی میں نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔

اب نہایت ظاہر ہے کہ اگر وہ کسی وجہ سے مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرا اور مرزا قادیانی ہی اس کے سامنے مرگئے تو کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے نہ ٹھہر یں؟ یہاں عذاب کی پیش گوئی کے لئے ٹلنے اور نہ ٹلنے کو کچھ دخل نہیں ہے، یہاں صرف مرزا قادیانی کے پختہ اقرار سے بحث ہے۔ سچے نبی اور مقرب خدا کے ایسے پختہ اقرار جس کے پورا نہ ہونے پر وہ اپنے قول سے جھوٹا ٹھہرے کبھی غلط نہیں ہوسکتے۔ برادران اسلام اس میں غور کریں!

چوتھا یہ ہے کہ جس طرح اس کے مرنے کی پیش گوئی کرتے ہیں اسی طرح اس کی بھی خبر دیتے ہیں کہ میری زندگی میں اس کا مرنا خدا تعالیٰ کے علم ازلی میں قرار پا چکا ہے، اس کے وقوع میں آنے کے لئے کوئی قید اور شرط نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ اپنے سامنے اس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں اور تقدیر مبرم اسی کو کہتے ہیں جس کا ہونا یقینی طور سے علم الٰہی میں قرار پا چکا ہو، اس کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اگر کسی وجہ سے اس کے خلاف ظہور میں آئے تو خدا تعالی کا علم ناقص قرار پائے۔ نعوذ باﷲ!

انبیاء کو تقدیر مبرم کا علم بغیر وحی یا قطعی الہام کے نہیں ہوسکتا۔ اب جس بات کو مرزا قادیانی نے تقدیر مبرم کہا تھا اس کا ظہور نہ ہوا، اس لئے ضرور ہے کہ یا تو مرزا قادیانی کو مفتری کہا جائے یا یہ کہا جائے کہ اﷲ عالم الغیب نہیں ہے۔

اب ناظرین نے معلوم کیا ہوگا کہ اس پیش گوئی کے دو حصے ہیں: ایک یہ کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی خبر دی گئی کہ وہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مرے گا، دوسرا حصہ یہ ہے کہ اس خبر کے وقوع میں آنے کا اس طریقے سے یقین دلایا ہے کہ اگر اس کا ظہورنہ ہوا تو مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ٹھہریں اور جب اس کا ظہور نہ ہوا تو وہ کاذب ٹھہرے گا اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔

(۲)( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸) پر لکھتے ہیں :

’’ یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا ) تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسانی افتراء نہیں یقینا سمجھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ۔‘‘

233

اس عبارت میں بھی مرزا قادیانی کئی باتیں کہتے ہیں: اول: اپنے سامنے اس کے مرنے کی خبر دیتے ہیں۔ دوم : یہ کہ یقینی طور سے اسے خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں، وعید نہیں کہتے۔ سوم : یہ کہ اس خبر کے سچے ہونے کایقین اس طرح دلاتے ہیں کہ اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا۔ نہایت ظاہر ہے کہ اگر اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے کوئی شرط ہوتی تو ہرگز یہ نہ کہتے کہ اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا۔ چہارم: یہ کہ اس پیش گوئی کا ظہور خدا تعالیٰ کی ان باتوں میں ہے جو نہیں ٹلتیں۔ یہ جملہ بھی صفائی سے کہہ رہا ہے کہ اس پیش گوئی کے لئے کوئی شرط نہیں ہے غرضیکہ اس قول سے بھی ظاہر ہواکہ اس پیش گوئی کے دوحصے ہیں۔ ایک یہ کہ سلطان محمد کی موت کی خبردینا۔ دوسرے اس کا یقین دلانا، کہ اگر یہ خبر صحیح نہ ہو تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے ٹل نہیں سکتا۔ ان دونوں قولوں کے سوا اور بھی اقوال ہیں جن کو میں نے آسمانی فیصلہ حصہ دوم اور تنزیہ ربانی میں نقل کیا ہے۔ ان میں مرزا قادیانی نے اس کے مرجانے کو اپنی صداقت کا معیار اور نہ مرنے کو اپنے کذب کا معیار بتایا ہے۔ اس پر خدا کی قسم کھائی ہے، الغرض اس پیش گوئی کا دوسرا حصہ۱؎ یعنی اس کی موت کو (۱) تقدیر مبرم کہنا (۲) اسے اپنی صداقت کا معیار بتانا (۳) اس پر قسم کھانا اور (۴) پھر اس پر برسوں اصرار کرنا (۵) اور اس مدت مدید میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی وقت اس خیال کی غلطی پر اطلاع نہ ہونا متعدد طریقوں سے شہادت دیتا ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے فرستادہ بلکہ برگزیدۂ خدا بھی نہ تھے۔ اس وقت تک اس پہلو پر کسی نے نظر نہیں کی اور نہ اس کا کوئی جواب دیا۔ صرف پہلے حصہ پر نظر کی گئی ہے یعنی یہ کہ احمد بیگ کا داماد میرے سامنے مرے گا۔ اس لحاظ سے یہ ایک وعید کی پیش گوئی ہے۔

البتہ مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم میں اسے خدا کا سچا وعدہ کہا ہے۔ یہ قول بھی صحیح ہے کیوں کہ یہ پیش گوئی سلطان محمد کے لئے وعید ہے اور مرزا قادیانی کے لئے وعدہ ہے۔ اگر اس پیش گوئی کا ظہور ہوجاتا تو مرزا قادیانی کی صداقت پر لوگ ٹوٹ پڑتے اور بہت لوگ ماننے لگتے۔ الغرض اس پیش گوئی میں وعدہ اور وعید دونو ں ہیں۔ اگر طالبین حق اس پیش گوئی کے دونوں حصوں پر علیحدہ علیحدہ نظر کرکے اس کے نتیجہ پر غور کریں گے تو بالیقین معلوم کرلیں گے کہ

۱؎

یہ خوب مد نظر رہے کہ اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ میں یہ پانچ باتیں ہیں جن پر میں نے نمبر دے دیا ہے، ان میں غور کرنے سے مرزا قادیانی کی نسبت کامل فیصلہ ہوجاتا ہے، اس کی تفصیل آئندہ ملاحظہ کیجئے!

234

اس کے دونوں حصے مرزا قادیانی کے کذب کو متعدد طریقوں سے ثابت کرتے ہیں اور اس وقت تک جو ان کے متبعین نے یا خود انہوں نے اس پیشگوئی کی نسبت کہا ہے وہ صرف پہلے حصہ کی نظر سے کہا ہے یعنی یہ ایک وعید کی پیش گوئی ہے دوسرے حصہ کی طرف سے بالکل خاموشی ہے۔ وہاں چون وچرا کی مجال ہی نہیں ہے اپنے دل میں سمجھے ہوں گے کہ اس حصہ کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔ اب ان طریقوں پر نظر کیجئے پھر آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ جس حصہ کا جواب دیا گیا ہے وہ بھی بالکل غلط اور چند جھوٹے دعوؤں اور غلط فہمیوں کا مجموعہ ہے۔

پہلا طریقہ: جن کے قلوب نور اسلام سے منور ہیں وہ قرآن پاک کی ان آیتوں کو ملاحظہ کریں جن کے نقل اوپر ہوچکے ہیں اور جن سے آفتاب کی طرح روشن ہے کہ خدا تعالی کے وعدے اور وعید میں تخلف نہیں ہوسکتا،اور خصوصا جو وعدہ یا وعید خاص مدعی رسالت سے کی جائے۔ جب مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی اور نہایت پختہ وعید خداوندی کا کچھ ظہور نہ ہوا تو آیات قرآنیہ سے روشن ہوگیا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے نہ تھے ورنہ ان کی پیش گوئی ضرور پوری ہوتی۔ یہ کہنا کہ عذاب کی پیش گو ئی کا ٹل جانا اﷲ کی سنت مستمرہ ہے، محض غلط اور نصوص قطعیہ کے خلاف ہے بلکہ خود مرزا قادیانی کے متعدد اقوال کے خلاف ہے۔

پہلا قول: ’’ احمد بیگ کا ذکر کرکے لکھتے ہیں کہ اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کے توبہ اور رجوع کے باعث فوت نہ ہوا مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام کا وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۱۳ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۷ )

ذرا آنکھ کھول کر ملاحظہ کیا جائے کہ احمد بیگ کے داماد کی وعید کی نسبت کہہ رہے ہیں کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں۔ اس کے مرنے کی نسبت جو کئی مرتبہ کہا گیا ہے وہی ہوگا یعنی احمد بیگ کا داماد میرے روبرو مرے گا۔

دوسرا قول: اسی احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی نسبت پھر لکھتے ہیں کہ:

’’یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ‘‘۱؎

( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸ )

یہاں بھی خدا کی تمام باتوں کی نسبت لکھا کہ نہیں ٹلتیں یہ بعینہ ترجمہلَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰت اللّٰہِ کا ہے اور پھر خاص اس وعید کی پیش گوئی کو انہیں باتوں میں بتاتے ہیں جو نہیں ٹلتیں۔

۱؎

مرزا قادیانی کا یہ قول بہت جگہ ہے مگر میں نے بغرض اختصار دوہی جگہ کا حوالہ نقل کیا ہے۔

235

اب اگر نصوص قرآنیہ کے خلاف اور خود اپنے متعدد اقوال کے مخالف مضطر ہوکر مرزا قادیانی کسی جگہ یہ لکھیں۔

مرزا قادیانی کا تیسرا اور چوتھا جھوٹ

’’کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا یہ مذہب ہے کہ خدا اپنے ارادوں کو بدلا نہیں سکتا اور وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی کو ٹال نہیں سکتا مگر ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ ٹال سکتا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہاہے اور ہمیشہ ٹالتا رہے گا۔‘‘

( تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۱)

پھر مرزانے اسی کتاب تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۳۳ خزائن ج ۲۲ ص ۴۶۶ پر وعید کی پیش گوئیوں کو ٹال دینا سنت اﷲ کہا۔ اس میں مرزا کے دو جھوٹ ہوئے۔ (۱) خدا ٹالتا رہا (۲) ٹالتارہے گا۔ اور اسے سنت اﷲ قراردینا بناء الفاسد علی الفاسد ہے۔

مرزا قایانی کا پانچواں جھوٹ

یا یہ کہہ دیں کہ وعید کی پیش گوئی کے ٹل جانے کے بارے میں تمام نبی متفق ہیں مگر ذی علم مسلما ن اسے مان نہیں سکتا کیوں کہ یہ دونوں باتیں محض غلط اور اﷲ پر اور اس کے تمام رسولوں پر اتہام ہے اور اس پیش گوئی کو شرطی کہنا بھی غلط ہے۔ اس کی تفصیل آئندہ آئے گی۔ اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اس سے مقصود کنبہ کی ہدایت تھی وہ حاصل ہوگئی۔

مرزا قادیانی کا چھٹا جھوٹ

اور ان کا سر گروہ بانی فساد ایمان لے آیا کیوں کہ نہ کوئی بانی فساد ایمان لایا اور نہ انبیاء کی ہدایت کا طریقہ ایسا ہوسکتا ہے جس میں خدائے قدوس کے وعدہ یا وعید میں تخلف لازم آئے۔ نبی کے ایک وعدہ یا وعید میں تخلف آنے سے اس کے تمام وعدہ اوروعیدوں میں زلزلہ پڑجائے گااور اس کے کسی قول پر اعتبار نہ رہے گا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے تو مانعین نکاح کا ہلاک کرنا مقصود خداوندی بیان کیا ہے۔ اب ان کے پیرو اسے غلط ٹھہرانا چاہتے ہیں۔

مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ۲۱۶ خزائن ج ۱۱ ص ۲۱۶) پر لکھتے ہیں :’’ یرد بنت احمد الی بعد اہلاک المانعین وکان اصل المقصود الاہلاک۔‘‘

یعنی بعد ہلاک کرنے مانعین نکاح کے احمد بیگ کی لڑکی لوٹ کر میرے پاس آئے گی اور اصل مقصود ان کا ہلاک کرنا ہے۔

236

یہاں تو مرزا قادیانی صاف صاف کہہ رہے ہیں کہ مقصود اصلی تو ہلاک کرنا ہے پھر اسکے صریح خلاف بناوٹ سے کیونکر جواب ہوسکتا ہے۔ اب اگر مانعین نکاح کی ہلاکت ظہور میں نہ آئی تو خدا تعالیٰ کا عاجز ہونا لازم آئے گا۔ کیوں کہ جو اس کا اصل مقصود تھا وہ حاصل نہ ہوا طالبین حق مرزا قادیانی کے ان اقوال کو ملاحظہ کریں اور میاں محمود کے اس خط کو دیکھیں جو انہوں نے اس پیش گوئی کے جواب میں شائع کیا ہے اور اس کی صداقت کا اندازہ کریں۔ الحمدﷲ ہمیں اس کی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت نہیں ہے، مرزا قادیانی کے اقوال ہی اسے محض غلط اور بناوٹ کہہ رہے ہیں۔ مرزا قادیا نی کی تحریر میں یہ کمال ہے کہ انہیں کی تحریر سے ان کا رد ہوجاتا ہے یہ تو پیش گوئی کے پہلے حصے کا نتیجہ تھا۔ اب دوسرے حصہ کے طرق واضحہ کو ملاحظہ کیجئے:

دوسرا طریقہ

مرزا قادیانی اس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں اور اس پر اس قدر وثوق ہے کہ پہلے اسے زبان اردو میں لکھا، پھر (انجام آتھم کے ص ۲۲۳ خزائن ج ۱۱ ص ایضا) میں عربی وفارسی میں بیان کیا اور بار بار اسے تقدیر مبرم کہا۔ یعنی اس کا وقوع میں آنا علم الٰہی میں قرار پاچکا ہے۔ اس کے لئے نہ کوئی شرط ہوسکتی ہے نہ وہ کسی وجہ سے ٹل سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس کا ظہور نہ ہو تو خدا تعالیٰ کا جہل لازم آئے۔ یعنی اﷲ تعالی کے علم میں تو یہ تھا کہ یہ کام یوں ہوگا مگر نہ ہوا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا علم غلط نکلا۔ وہ علام الغیوب واقعی حالت سے واقف نہ تھا۔ نعوذ باﷲ!

اس پر خوب نظر رہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو انبیاء میں بتاتے ہیں جن پر بارش کی طرح وحی نازل ہوتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ( جو بڑے شان کے مستقل نبی ہیں) ہر شان میں اپنے آپ کو بڑھ کر کہتے ہیں تو ان کے وحی الہام میں غلطی نہیں ہوسکتی، انبیاء اس سے معصوم ہیں۔ مرزا قادیانی جب اس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں تو اس کے مدعی ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنے علم سے اطلاع دی ہے کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے روبرو مرنا اﷲ تعالی کے علم میں قرار پا چکا ہے۔ اس کا ظہور میں آنا ضروری ہے۔

(انجام آتھم کے حاشیہ ص ۳۱ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)کے جملے اس مدعا کی صاف شہادت دیتے ہیں۔ جب ظاہر ہوگیا کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا بلکہ مرزا قادیانی اس کے سامنے مرگئے تو معلوم ہوا کہ اپنے سامنے مرنے کو تقدیر مبرم کہنا محض غلط تھا جس سے اس قدوس پر سخت الزام آتا ہے۔ یہاں مرزا قادیانی اپنے قول سے مفتری ٹھہرتے ہیں اور مفتری علی

237

اﷲ نبی یا کوئی مقدس نہیں ہوسکتا۔ اگر یہاں مرزا قادیانی کی سمجھ کی غلطی مان کر انہیں افتراء کے الزام سے بچایا جا ئے تو پھر نبی کے قول کی کوئی وقعت نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ جب اس کا ایسا پختہ قول جس کو اس نے اپنی صداقت کا معیار بتایا اور برسوں اس پر قائم رہا اور خدا کی طرف سے اسے متنبہ نہ کیا گیا۔ پھر جس الہام سے اس نے اپنے آپ کو مہدی موعود یا رسول سمجھ لیا، اس پر کیوںکر اعتبار ہوسکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس الہام کے سمجھنے میں اسے غلطی سے معصوم سمجھ لیا جائے۔ کسی نبی کی ایسی غلط فہمی ثابت نہیں ہوسکتی کہ اس نے الہام کو غلط سمجھ کر برسوں اس کو مشتہر کرتا رہا ہو۱؎ اور اپنی صداقت کا معیار اسے قرار دیا ہو اور انجام میں اس کی غلط فہمی ثابت ہوئی ہو اگر ایسا ہو تو نبی کے کسی کلام پر اعتبار نہیں ہوسکتا۔

تیسرا طریقہ

( انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص۳۱)پر یہ الفاظ بھی ہیں کہ : ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کردے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوئی ۔‘‘

اس کلام میں مرزا قادیانی نہایت صاف طور سے اپنے جھوٹے اور سچے ہونے کا معیار بتاتے ہیں۔ جھوٹے ہونے کا معیار یہ کہتے ہیں کہ داماد احمد بیگ کی پیش گوئی میری زندگی میں پوری نہ ہو اور اس سے پہلے میں مرجاؤں اور سچے ہونے کا معیار اسے بتاتے ہیں کہ یہ پیش گوئی اسی طرح پوری ہوگی جس طرح احمد بیگ اور آتھم کی پوری ہوئی یعنی جس طرح یہ دونوں مرزا قادیانی کے روبرو مرگئے۔ یہ بھی اسی طرح مرجائے گا۔ یہ دونوں معیاریں مرزا قادیانی نے اپنے قلم سے لکھی تھیں۔ ان دونوں معیاروں کے بموجب وہ کاذب ٹھہرے کیوں کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا بلکہ مرزا قادیانی ہی اس کے سامنے مرگئے۔ اس لئے جو سچے ہونے کا معیار بیان کیا تھا وہ ان میں نہیں پایا گیا اور جو معیار جھوٹے ہونے کا بیان کیا تھا وہ پایا گیا۔

۱؎

جماعت مرزائیہ اعلانیہ جب ان پیشگوئیوں کی صداقت ثابت کرنے سے عاجز ہوگئی تو اب کہنا شروع کیا ہے کہ یہ پیش گوئیاں صرف ان کی ہدایت کے لئے کی گئی تھیں۔ مگر یہ تو فرمایئے کہ خدا کے رسولوں کی ہدایت اس طرح ہواکرتی ہے کہ خواہ مخواہ ایسی پیش گوئیاں کریں جس سے وہ خود بھی جھوٹے ٹھہریں اور خدائے قدوس پر جھوٹ اور تخلف وعدہ کا الزام آئے ذرا خدا سے ڈر کر اور ہوش سنبھال کر بات کہو۔ ۱۲

238

اس وجہ سے مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیاروں کے بموجب کاذب ٹھہرے۔ وعید کی پیش گوئی کا ٹل جانا یا نہ ٹلنا اور بات ہے۔ یہاں ان کا صریح اقرار انہیں کاذب ثابت کررہا ہے اور اس اقرار کو ان کی انسانی غلطی بتاکر ان کی صداقت کو قائم رکھنا غیر ممکن ہے کیوں کہ اول تو یہ دونوں جملے پہلے جملے کی شرح ہیں۔ یعنی داماد احمد بیگ کی پیش گوئی کو مرزا قادیانی تقدیر مبرم لکھ چکے ہیں۔ اب اس کی شرح اس طرح کرتے ہیں کہ علم الٰہی میں یہ قرار پاچکا ہے کہ جس طرح احمد بیگ اور آتھم میرے روبرومرگیا یہ بھی اسی طرح مرے گا، یہاں توبی توبی کی شرط بھی بے کار ہے۔ کیوں کہ جب اس کا مرنا علم الٰہی میں ٹھہر چکا ہے تو کسی شرط وغیرہ سے بدل نہیں سکتا۔ البتہ اگر ان کے تقدیر مبرم کہنے کو غلط کہا جائے اور انہیں مفتری مان لیا جائے تو وہی نتیجہ ہوگا جو دوسری وجہ کا ہوا۔ اس کے علاوہ نہایت صاف بات ہے کہ جسے خدا تعالیٰ اپنا رسول بناکر بھیجے جس کو خصوصیت کے ساتھ صدیق کا خطاب دے وہ تمام خلق کے روبرو ایسی غلطی کرے جس کی وجہ سے وہ اپنے اقرار کے بموجب کاذب ٹھہرے اسے خدا فورا مطلع نہ کرے، یہ غیر ممکن ہے۔ جب مدعی نبوت نے ایسی بھاری غلطی کی اور اس پر آگاہ نہ کیا گیا تو بالیقین معلوم ہوا کہ خدا کا رسول یہ ہرگز نہ تھا۔ خلق کی ہدایت کے لئے خدا نے اسے نہیں بھیجا تھا ورنہ وہ اس غلطی پر ضرور آگاہ کرتا بلکہ اس کی زبان سے یہ الفاظ ہی نہ نکلتے۔ رسول اﷲa نے یا کسی نبی نے کسی پیش گوئی کی نسبت ایسا نہیں کہا کہ اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں یہ طرز روش انبیاء کی نہیں ہے۔

چوتھا طریقہ

( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸) پر اس پیش گوئی کی نسبت نہایت زور کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ :’’ یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ۔‘‘

عنقریب یہاں بیان ہوگیا ہے کہ اس پیش گوئی کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو کے لحاظ سے وعید ہے اور دوسرے پہلو سے وعدہ ہے۔ اب مرزا قادیانی اسے خدا کا وعدہ قرار دے کر اس کے ظہور کا یقین اس طرح دلاتے ہیں کہ یہ وعدہ اس ذات مقدس ومتین کا ہے جس کی کوئی بات نہیں ٹلتی، خواہ وعدہ ہو یا وعید ہو۔ مرزا قادیانی کی اس عبارت کا تو مطلب یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا مگر چونکہ ان کے کلام میں تعارض اور اختلاف بہت ہے اس لئے یہ بھی انہوں نے لکھا ہے کہ وعید کی پیش گوئی کا ٹل جانا سنت اﷲ ہے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ اس اختلاف سے قطع نظر ضمیمہ کی یہ عبارت اگر مرزا قادیانی نے ہوش وحواس کی حالت میں لکھی ہے، یہ جملہ نہایت صفائی

239

سے کہہ رہا ہے کہ یہ پیش گوئی ان میں نہیں ہے جو کسی وجہ سے ٹل جاتی ہیں بلکہ یہ سچا وعدہ ٔ خداوندی ہے اور خدا کی ان باتوں میں ہے جو نہیں ٹلتیں۔ اب یہاں خلف فی الوعید کو دخل دینا اور خدا کی نسبت یہ بتانا کہ عذاب کی پیش گوئی ٹل جاتی ہے کس قدر دھوکا دینا ہے۔

بھائیو ! یہاں تو صاف مرزایہ کہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی خدا کی ان باتوں میں ہے جو نہیں ٹلتیں، یہ خدا کا سچا وعدہ ہے، یہ ضرور پورا ہو گا۔ جب اس کے کہنے کے بعد بھی وہ وعدہ پورا نہ ہوا تو یقینا مرزا اپنے اقرار سے کاذب ثابت ہوئے اور ہر بد سے بد ٹھہرے۔ عذاب کی پیش گوئی ٹلتی ہو یا نہ ٹلتی ہو مگر مرزااپنے اقرار سے ہرطرح کاذب ہوئے اس کا جواب کوئی صاحب قیامت تک نہیں دے سکتے۔

پانچواں طریقہ

اس (انجام آتھم ص ۲۲۳ خزائن ج ۱۱ ص ایضا) پر پہلی پیش گوئی پوری نہ ہونے کی وجہ میں کئی ورق سیاہ کرکے اور خوب زور تحریر دکھا کر کامل وثوق سے عربی اور فارسی دونوں تحریروں میں احمد بیگ کے داماد کے مرنے کو تقدیر مبرم لکھا ہے اور مکرر اس کا وقت عنقریب بتایا ہے اور پھر اس پر پختہ قسم کھائی ہے اور لکھا ہے: ’’من این را برائے صدق وکذب خود معیار می گردانم۔ومن نگفتم الابعد ازاں کہ از رب خود خبردادہ شدم‘‘ اس قول میں صاف طور سے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس کی موت کا تقدیر مبرم ہونا اوراس کے ظہور کا وقت عنقریب ہونا اور اس کی موت کو اپنے صدق یا کذب کا معیار بتانا بالہام الٰہی ہے۔ پھر جب یہ امر آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا تو اپنے معیار کے بموجب وہ کاذب ٹھہرے یا نہیں ؟ اور ان کی پختہ قسم جھوٹی ہوئی یا نہ ہوئی۔ ضرور جھوٹی ہوئی۔

بھائیو ! ذرا تو غور کرو اپنی بات کی پچ میں اپنی عاقبت کیوں برباد کرتے ہو۔ جب وہ قسم کھاکر اس کے نہ مرنے کو اپنے کاذب ہونے کا معیار بتاتے ہیں اور پھر اسے الہام ربانی کہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ان کے الہامی قول کے بموجب انہیں کاذب نہ کہا جائے۔ اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے پختہ اقرار اور اپنے معین کردہ معیار کے بموجب کاذب ہوئے۔ یہاں یہ عذر کرنا کہ عذاب کی پیش گوئی ٹل جاتی ہے سخت نافہمی ہے۔ عذاب کی پیش گوئی ٹلتی ہو یا نہ ٹلتی ہو، یہاں تو وہ اپنے الہامی اقرار سے کاذب ہیں۔ الحاصل اس پیش گوئی کے غلط ہوجانے سے بالیقین مرزا قادیانی کا ذب ثابت ہوتے ہیں اور کذب بھی ایک طرح سے نہیں بلکہ پانچ

240

طریقوں سے ہے جنہیں بیان کیا گیا۔ ان میں سے چار طریقوں کا جواب تو اس وقت تک کوئی نہیں دے سکا البتہ پہلے طریقے کے جواب میں چند غلط اور بے اصل باتیں کہی ہیں۔ وہ یہ ہیں۔

(۱) خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا مگرپورا نہیں کیا۔ یہ ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے تمام وعدے اور وعیدیں پوری کرے۔ اس کے ثبوت میں بعض آیتیں پیش کی تھیں۔ مگر تنزیہ ربانی اور معیار صداقت میں کافی طور سے دکھادیا گیا کہ ان آیتوں کا وہ مطلب ہر گز نہیں ہوسکتا۔ جو مرزائی سمجھے ہیں وہ مطلب قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے مخالف ہے اور اس رسالہ میں بھی ان کا جواب دیا گیا ہے۔ بعض کا بیان ہوگیا ہے بعض کا عنقریب آئے گا۔

(۲) سنت اﷲ یہ ہے کہ عذاب کی پیش گوئی توبہ واستغفارسے ٹل جاتی ہے تمام انبیاء کا اس پر اتفاق ہے۔ اس کاجواب اس قدر کافی ہے کہ یہ مرزا قادیانی کا محض غلط دعوی ہے۔ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت ہرگز نہیں ہے بلکہ قرآن مجید کی جو آیتیں اوپر نقل ہوچکی ہیں ان سے کامل طور سے ثابت ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے تمام وعدے اور وعیدیں ضرور پوری ہوتی ہیں اور سنت اﷲ یہی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری پیش گوئی کے بعد سلطان محمد کا توبہ واستغفار ہرگز ثابت نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے اقوال سے اس کی سرکشی ثابت ہے۱؎ ۔

(انجام آتھم ص ۲۲۴ خزائن ج ۱۱ ؍ ملاحظہ ہو)

ظاہر ہے کہ جب اس کے متعلق پہلی پیش گوئی مرزا قادیانی کی غلط ہوگئی اور وہ ڈھائی برس کے اندر نہ مرا تو اسے جرأت زیادہ ہوگئی ہوگی اور مرزا قادیانی کے کذب کا اسے یقین ہوگیا ہوگا اور یہ بھی سمجھ لیا ہوگا کہ میرے خسر یعنی احمد بیگ کی موت اتفاقیہ ہوئی۔

۱؎

میاں محمود نے جو ان دنوں سلطان محمد کا خط چھپایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ میں پہلے ہی مرزا قادیانی کو بزرگ سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں یہ خط مرزا قادیانی کے اقوال کو بالکل غلط بتارہا ہے۔ ذرا انصاف کیا جائے کہ مرزا قادیانی ہمیشہ اسے کوستے رہے اور اس کے مرنے کو اپنی صداقت کا معیار بتاتے رہے اور اس کی بیوی کی نسبت کہتے رہے کہ ہمارے پاس آئے گی اور ہماری بیوی ہوگی۔ اب انسانی طبیعت پر نظر کرکے کہا جائے کہ جس شخص کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ حال رہا ہو اور برسوں اسی حالت پر گذرے ہوں اس کا خیال مرزا قادیانی سے کیوں کر اچھا رہ سکتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اگر یہ خط محض مصنوعی نہیں ہے تو اسے کچھ دے کر یا نہایت درجہ کی خوشامد کرکے لکھوایا گیا ہے۔ اس لئے وہ کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ہم تو مرزا قادیانی کے صریح اقوال سے انہیں کاذب ثابت کررہے ہیں۔ یہ اقراری ڈگری مصنوعی خط سے منسوخ نہیں ہوسکتی۔

241

(۳) یہ پیشگوئی شرطی تھی جب شرط پوری کردی گئی تو وعید منسوخ ہوگئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دوسری پیشگوئی کے لئے کسی وقت کوئی شرط بیان نہیں کی گئی۔ جس کے لئے شرط کہا جاتا ہے وہ پہلی پیشگوئی ہے۔ یہ دوسری پیش گوئی تو وہ ہے جس کے وقوع میں آنے کو تقدیر مبرم کہا ہے اور اس کے ظہور کو اپنی صداقت کا معیار بتایا ہے اور اس پر قسم کھائی ہے یہ کہنا بدیہی دلیل ہے کہ اس کے لئے نہ کوئی شرط تھی اور نہ اس کے لئے کوئی شرط ہوسکتی ہے۔ اس کا ظہور ہونا ہر طرح ضروری تھا اور جس پیش گوئی کے لئے جملہ ’’ توبی توبی ‘‘ شرط کہا گیا ہے۔ اس کی حقیقت بھی عنقریب ظاہر ہوجائے گی اور بخوبی اس کی غلطی اظہر من الشمس کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس جماعت میں جو بعض لکھے پڑھے ہیں وہ اس پر بھی غور نہیں کرتے کہ منسوخ کیا چیز ہوگئی۔ وعدہ اور وعید تو آئندہ کی ایک خبر ہے اور خبر کے منسوخ ہونے کا تو دنیا میں کوئی صاحب عقل قائل نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ اگر کسی وعدہ کرنے والے نے کوئی وعدہ کیا اور پورا نہ کیا تو وہ وعدہ کرنے والا وعدہ خلاف کہلائے گا۔ وعدے کے منسوخ ہونے کے کوئی معنی نہیں ہیں جو لوگ قرآن مجید میں نسخ کے قائل ہیں وہ صرف بعض احکام کو منسوخ کہتے ہیں جو وقتی ضرورت کے لئے کسی وقت دیئے گئے اور جب وہ ضرورت نہ رہی تو وہ حکم بھی اٹھا دیا گیا۔ قرآن مجید کی خبروں میں کوئی مسلمان نسخ کا قائل نہیں ہے۔ حاصل یہ کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ خلاف ہونا جھوٹ بولنا سب کے نزدیک محال ہے۔ خواہ وہ امکان کذب کے قائل ہوں یا امتناع کذب کے۔ مسلمان اہل دل یہ سن کر کانپ جائے گاکہ خدا تعالی جھوٹ بولتا ہے یا وعدہ خلافی کرتا ہے۔ نعوذ باﷲ۔ غرضیکہ پیشگوئی کے ٹل جانے یا منسوخ ہونے کے کوئی معنی نہیں ہوسکتے بجز اس کے کہ جو خدا تعالیٰ نے خبر دی تھی وہ غلط تھی۔ ایسی جرأت اور بے باکی قادیانیوں کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتی۔

(۴) معلوم ہوتاہے کہ وہ جان چکے ہیں کہ اس کے جواب میں ہم کوئی دلیل شرعی پیش نہیں کر سکتے جو اہل علم کے نزدیک حجت ہوسکے۔ اس لئے عوام پر اثر ڈالنے کے لئے بعـض اولیاء کرام کے زیر دامن پناہ لینا چاہا ہے، مگر جب اﷲ ورسول نے پناہ نہیں دی اور قرآن مجید کے نصوص صریحہ سے ان کے اقوال غلط ثابت ہوگئے اولیاء کرام کے یہاں انہیں پناہ نہیں مل سکتی۔ اس کی تفصیل تو اس دلیل کے آخر میں آئے گی۔ انشاء اﷲ۔ مگر یہاں اس قدر کہتا ہوں کہ کامل اولیاء کرام کا کلام قرآن مجید کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا۔ مگر چونکہ تصوف کی کتابوں میں اکثر جگہ عارف کی حالت کا بیان ہوتا ہے اس لئے جو صاحب حال نہیں ہیں وہ اسے سمجھ نہیں سکتے اور بغیر ان کے کلام کو کسی دعوی کے ثبوت میں پیش کرنا جہل مرکب ہے۔ اگر دعوی ہے تو کوئی آیت

242

قرآنی پیش کرو۔ اس کے علاوہ خلیفہ صاحب یہ تو فرمائیں کہ جملہ یوعد ولا یوفی۔ اگرچہ غلط ہے مگر بالفرض صحیح بھی مان لیا جائے تو اس پیش گوئی کے جواب میں اسے پیش کرنا عوام کو محض دھوکا دینا ہے۔ اگر کچھ عقل ہے تو خیال کرناچاہئے کہ مرزا قادیانی نے صرف وعدۂ الٰہی نہیں بیان کیا کہ آپ کہہ سکیں کہ اس نے وعدہ کیا تھا، مگر پورا نہ کیا اور’’ یعد ولایوفی‘‘ ہوگیا۔

بھائیو ! مرزاقادیانی تو بڑے اصرار اور نہایت پختگی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس وعدۂ الٰہی کا پورا ہونا تقدیر مبرم ہے۔ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا اگر وعدہ پورا نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔ دوسرے مقام پر خدا کی قسم کھاکر اس وعدہ کا پورا ہونا بیان کرتے ہیں اور اسے اپنی صداقت کا معیار کہتے ہیں اور اسکے پورا نہ ہونے کو اپنے کذب کا معیار بتاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کے بموجب کاذب ہیں۔ یہاں جملہ’’یعد ولایوفی ‘‘ سے ان کی صداقت کیوںکر ثابت ہوسکتی ہے۔

الحاصل دوسری پیشگوئی بھی ایسی غلط ثابت ہوئی جس طرح پہلی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی تھی۔ بلکہ دوسری پیش گوئی کے غلط ہونے سے مرزا قادیانی کا کذب نہایت ہی روشن ہوگیا۔ کیوںکہ وہ اپنے متعدد اقراروں سے کاذب ثابت ہوئے۔ یہاں مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ قادیانی جماعت یہ تو بتائے کہ وہ نکاح بھی منسوخ ہوگیا جس کے ظہور کا برسوں اس قدر زور وشور سے دعوی ہوتا رہا اور اس مفروضہ بیوی کے شوہر کی موت کی وعید بھی ٹل گئی مگر یہ تو فرمایئے کہ مسلمان، عیسائی، آریہ، سب کے مقابل میں جو مرزا قادیانی نے نہایت ہی عظیم الشان نشان اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کرنا چاہا تھا اور مدتوں انتظار میں رکھا وہ کیا ہوا۔ کیا اس میں بھی آپ کو کوئی عذر ہوسکتا ہے کہ جسے نہایت ہی عظیم الشان کہہ کر مخلوق کو اپنی طرف متوجہ کررکھا تھا۔ وہ محض ان کی خیالی آرزو تھی جو پوری نہ ہوئی؟ اگر اتفاقیہ طور سے پوری ہوجاتی تو پھر عظیم الشان نشان تھا۔ اﷲ اکبر۔ غضب تو یہ ہے کہ آپ سے اعلانیہ طورسے اس پیش گوئی کا ظہور نہ ہوا مگر پھر کہا جاتا ہے کہ پیش گوئی کی صداقت ثابت ہوگئی۔ اس اعلانیہ کذب یا نہایت درجہ کی بے وقوفی کا کیا ٹھکانا ہے ایسے حضرات کے سمجھانے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے جن کی عقل وفہم بالکل الٹ گئی ہو اور باطل پرستی نے ان کے دل کو بالکل تاریک کردیا ہو۔

بھائیو! مرزا قادیانی کے کذب کے ثبوت میں میں نے یہ پیش گوئی اسی غرض سے پیش کی ہے کہ متعدد وجوہ سے ان کا کاذب ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے۔ شاید حق بات کسی طور سے آپ کے ذہن میں آجائے۔ یہ خیر خواہ برادران اسلام کو ہلاکت ابدی سے بچانے کے لئے ایک

243

فریب خوردہ کی تمام جھوٹی باتوں کو چھوڑ کر صرف ایک بات کو پیش کرتا ہے اور مثل آفتاب روشن کرکے دکھاتا ہے کہ اس سے اس فریب خوردہ کا کذب عیاں ہورہا ہے اور مختلف طریقوں سے اس کے کذب کی تاریکی نظر آرہی ہے۔ اسے دیکھو اور اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو، پرہیز کرو !

اب چھٹی پیش گوئی کے متعلق یہ دکھانا منظور ہے کہ وہ بھی ہر طرح سے غلط ثابت ہوئی اور جو جوابات اس کے دیئے گئے ہیں وہ خود مرزا قادیانی کے اقوال سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔ بعض اقوال یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔

منکوحۂ آسمانی کے متعلق مرزاقادیانی کے بعض الہامات واقوال

(الف ) ’’ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدانے مقرر کررکھاہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ ) کی دختر کلاں کو جس کی درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا ۔‘‘

( مرزا قادیانی کا اشتہار مرقومہ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۵۸ )

معزز ناظرین! ذرا اس قول پر دوبارہ نظر کرکے فرمائیں کہ اس قول میں جس بات کو مرزا قادیا نی تقدیر خداوندی بتاتے ہیں اس کے ہونے یا نہ ہونے کے لئے کوئی شرط ہوسکتی ہے جب یہ کہہ دیا کہ ہرمانع دور ہونے کے بعد انجام کار وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی تو کوئی وجہ ایسی ہوسکتی ہے کہ یہ تقدیر ٹل جائے اور اس کا ظہور نہ ہو۔ آپ سوچ کر ذہن نشین رکھئے !

(ب)’’ خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۱؎ مدد گار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا، کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے‘‘

( مرزا قادیانی کا اشتہار مرقومہ ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۵۸ )

۱؎

اس پر نظر کیجئے کہ یہ عبارت خلیفہ قادیان کے جواب کو بھی غلط بتارہی ہے کیوں کہ جو لوگ روک رہے تھے وہ خاص محمدی کے نکاح سے روک رہے تھے اور پھر اسی کتاب کی نسبت یہ کہا گیا کہ انجام کار تمہاری طرف واپس لائے گا۔ محمدی کی اولاد کا تو اس وقت وجود بھی نہ تھا بلکہ اس کا کسی کو خیال بھی نہ تھا پھر روکنے کے کیا معنی اور واپس لانے کے کیا معنی ؟ واپس لانے کے معنی جو مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں وہ اس وقت صحیح ہوسکتے ہیں کہ محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے۔ الغرض ایسی صراحت کے بعد کوئی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ نکاح میں آنے سے یہ مراد ہے کہ محمدی کی اولاد میں سے قیامت تک کوئی نہ کوئی لڑکی مرزا قادیانی کے خاندان میں بیاہی جائے گی اور یہ ایسے غلط معنی ہیں کہ کوئی ذی عقل حالت ہوش وحواس میں اس کی غلطی سے انکار نہیں کرسکتا۔

244

اس قول پر بھی مکرر نظر کرکے کہئے کہ جب خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس آئے گی اور خدا تعالیٰ کا یہ پختہ وعدہ ہے کہ ٹل نہیں سکتا۔ تو کیوںکر ہوسکتا ہے کہ اس کے ظہور کے لئے ایسی شرط ہو کہ خدا کا یہ وعدہ پورا نہ ہو اور یہ ارشاد خداوندی کہ انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کی طرف واپس آئے گی جھوٹا ثابت ہوا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس نہ آئی کوئی ایماندار اس کا اقرار نہیں کرسکتا۔

(ج)’’ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ۱؎وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدا تعالی بیوہ کرکے اس کو میری طرف لائے۔

(اشتہار ۲؍ مئی ۱۸۹۱ء مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۱۹ )

ناظرین! اس قول میں بھی تامل فرمادیں کہ جب اس قول کے بموجب خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ قرار پاچکا ہے کہ وہ لڑکی ہر طرح سے مرزاقادیانی کے نکاح میں آئے گی تو اس کے لئے ایسی شرط کیوں کر ہوسکتی ہے کہ اس کے پورا ہوجانے سے نکاح کا ظہور نہ ہوا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ وعدہ صحیح نہیں ہے تو محمدی بیگم کا نکاح میں آنا ضروری ہے اور اگر بالفرض ایسا نہ ہو تو یہ خدا کا متغیر ہونا اور کاذب اور وعدہ خلاف ہونا ثابت نہ ہوگا ؟ ضرور ہوگا۔ کوئی ذی فہم اس سے انکار نہیں کرسکتا۔

(د) ’’خدا تعالی نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایاکہ (۱) احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور بہت لوگ عداوت کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ (۲) لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ (۳) ہرطرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کرکے۔ (۴)اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا۔ (۵) اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ (۶) کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔

( ازالہ اوہام ص ۳۹۶، خزائن ج ۳ ص۳۰۵)

مرزا قادیانی کایہ الہامی قول ہے جس میں چھ جملے ہیں ان میں خدا تعالیٰ کا نہایت پختہ وعدہ اس طرح ہے کہ انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی اور پھر اس کی کامل تاکید اور پختگی کے لئے کہاگیا کہ آخر کار ایسا ہی ہوگا۔

۱؎

اس جملہ پر کامل نظر کی جائے اور اس قول کو دیکھا جائے جو کہا جاتا ہے کہ پیشینگوئی شرطی تھی شرط کے پورا نہ ہونے سے نکاح کا ظہور نہ ہوا یہ دونوں قول بالکل متعارض ہیں جو بات خدا کی طرف سے قرار پاچکی ہو اس کا ظہور نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

245

یہاں لفظ انجام کار اور آخر کار خوب ملحوظ رہے اور آخر کے دوجملے کہ اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اسے روک سکے، کیسی یقینی شہادت دے رہے ہیں کہ اس لڑکی کے نکاح میں آنے کے لئے کوئی ایسی شرط نہیں ہوسکتی جس کی وجہ سے نکاح کا ظہور رک جائے۔ اب اگر کسی وجہ سے اس کے نکاح کا ظہور نہ ہو تو قطعی طور سے کہا جائے گا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام اور سابق کے الہامات واقوال سب غلط ہیں اور بغیر اس کے غلط مانے ہوئے یہ کہنا کہ ظہور نکاح کے لئے شرط تھی اور اس شرط کے پائے جانے سے نکاح فسخ ہوگیا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا اگر مذکورہ الہامات صحیح ہیں تو ظہور نکاح کے لئے کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔ بھائیو ! یہ تو ایسی کھلی باتیں ہیں جن کا انکار کوئی صاحب عقل نہیں کرسکتا۔ حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات مذکورہ تو اس شرط کو غلط بتاتے ہیں اور چونکہ اس شرط کو بھی الہامی کہا جاتا ہے اس لئے یہ شرط مرزا قادیانی کے خیال کے بموجب ان تمام اقوال والہامات کو غلط بتاتی ہے۔ اس لئے بموجب قاعدۂ مشہورہ ’’اذاتعارضا تساقطا‘‘کے دونوں الہامات غلط ثابت ہوئے اور جب ایسے پختہ اور بار بار کے الہاما ت یقینا غلط ثابت ہوچکے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے اور الہامات پر اعتبار کیا جائے۔ افسوس ہے کہ ایسی روشن باتوں پر بھی حضرات مرزائی نظر نہیں کرتے۔ اب ایک اور عربی الہام اس باب میں ملاحظہ کیجئے اور اس میں تاکیدی الفاظ دیکھئے کہ خدا تعالیٰ اس عورت کو واپس لائے گا۔ مکرر کہتا ہے اور اس وعدے کے سچے ہونے میں شک کرنے کو منع فرماتا ہے اور اس کے نکاح میں آنے کی نسبت کس کس طرح سے تاکیدی وعدہ فرماتا ہے وہ الہام یہ ہیں:

(۵)۱… کذّبوا باٰیاتی وکانُوابہَا یستہزؤُن۔ فسیَکْفیکہمُ اللّٰہ۔ ۲… ویردّہا الیکَ اَمرٌ مِنْ لّدنا اِنّا کُنّا فاعِلین۔ ۳… زوّجنٰکہَا۔ ۴… الحقّ مِن رَبّک فلاَ تکونَنّ مِن الممْترینَ۔ ۵… لاَ تبدیلَ لکمات اللّٰہ۔۶… انّ ربّک فعّال لّمَا یُریْد۔ ۷… اِنا رادّوہا الیک… توجہتُ لفصل الخطاب۔ انا رادّوہا الیک۔ ۸… وقالوا متی ہٰذا الوعد۔ قل اِن وَعد اللّٰہ حَق۔

( انجام آتھم ص۶۰،۶۱، خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)

انہوں نے میری نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کریگا۔ (۱)اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائیگا۔ (اس کے بعد قول خداوندی اسی طرح بیان کرتے ہیں) (۲)یہ امر (یعنی اس عورت کا واپس لانا ) ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی

246

کرنے والے ہیں۔ (۳) بعد واپسی کے ہم نے نکاح کردیا۔ (یہ نکاح کردینا ) (۴) تیرے رب کی طرف سے سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ (کس زور کی تاکید سے ا س نکاح کا ظاہر ہونا اور اس وعدۂ خداوندی کا سچا ہونا بیان ہوا ہے اور پھر نص قرآنی سے اس کی تائید کی گئی ہے کہ) (۵) خدا کے کلمے (باتیں ) بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کردیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے (۶)ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔ (لفظ انّ سے تاکید کرکے واپس لانے کو دوبارہ بیان کیا ) آج میں فیصلہ کرنے کے لئے متوجہ ہوا۔ (۷) بلاشبہ ہم اس کو تیری طرف واپس لائیں گے۱؎۔یہاں تیسری مرتبہ اس عورت کے واپس لانے کو تاکید بیان کیا۔ (۸) ’’لوگوں نے کہا کہ یہ وعدہ کب ہوگا کہہ خدا کا وعدہ سچا ہے ۔‘‘

یعنی اس وعدہ خداوندی کا وقت نہیں بیان کیا جاتا مگر یہ سمجھ لو کہ اس عورت کا ہمارے پاس آنا خدا کا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے۔ اس میں تخلف نہیں ہوسکتا۔

طالبین حق اس پر غور کریں کہ یہاں پانچ مقام سے مرزا قادیانی کے پانچ الہام نقل کئے گئے ہیں جن کاحاصل یہ ہے کہ منکوحۂ آسمانی کا نکاح میں آنا یقینی ہے کیوں کہ مرزا قادیانی کے مکرر اور بار بار کے الہام سے اس کا ثبوت ہے اور وہ اپنے الہام کا قطعی اور یقینی ہونا نہایت زور سے بیان کرتے ہیں چنانچہ (حقیقۃ الوحی ص ۲۱۱ خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰) پر لکھتے ہیں کہ : ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں اِن الہامات پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اَور خدا کی دُوسری کتابوں پر۔ اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اُسی طرح اِس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں ۔‘‘

۱؎

اس پیش گوئی میں تین جگہ تاکید کے ساتھ کہا گیا کہ ہم تیرے پاس اسے واپس لائیں گے۔ اس کے صریح جھوٹا ہوجانے پر نظر نہیں ہے مگر اس سے مرزا قادیانی کا یہ نشان بیان کیا جاتا ہے کہ دوسرے سے نکاح ہوجانے کی خبر مرزا قادیانی دے رہے ہیں۔ کس قدر تعصب نے پردہ ڈالا ہے کہ جو جملہ نہایت صفائی سے جھوٹا ثابت ہورہا ہے اس پر نظر نہیں ہے مگر نشان ثابت کرنے کے لئے وہی غلط جملہ پیش ہورہا ہے۔ دیکھو تشحیذ الاذہان بابت مئی ۱۹۱۳ء اور نشان ثابت کرنے میں کیسا فریب دیا جاتا ہے کیوںکہ یہ الہام اس کے نکاح کے بعد کا ہے پہلا الہام وہ ہے جو ہم تیسرے اور چوتھے نمبر میں نقل کرچکے ہیں۔ جس میں صاف طور سے مذکور ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ باکرہ ہونے کی حالت میں یا خدا اس کو بیوہ کرکے میری طرف لائے۔ غرضیکہ پہلے عام طور سے اس کے نکاح میں آنے کو بیان کیا ہے اور جب اس کا نکاح ہوگیا تو اس کے واپس آنے پر زور دیا گیا ہے، مگر اب ناواقفوں کے سامنے سچی بات پر پردہ ڈال کر اسے نشان بتایا جاتا ہے، افسوس!

247

یہ وہ الہام ہے کہ جس کی نسبت مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ اس پر ہم اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ پر۔ جب اس کے یقین اور صراحت کی یہ حالت ہے تو اس میں کسی طرح کی غلطی کا احتمال بھی نہیں ہوسکتا اور یہ کہنے کی گنجائش بھی نہیں ہے کہ اس سے غرض محمدی کا نکاح میں آنا یا اس کے شوہر کا مرنامقصود نہ تھا بلکہ صرف ہدایت تھی وہ ہوگئی۔ کیوں کہ مکرر بار بار نہایت صراحت وتاکید سے الہام میں اس کا بیان ہے کہ محمدی نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔ اب اگر ایسی صراحت اور تاکید کے بعد اگر اسلام سے مقصود کچھ اور کہا جائے تو لاالہ الا اﷲ کا مقصود بھی توحید کے سوا کوئی دوسرا بیان کرسکے گا اور تمام دین کو درہم برہم کردے گا اور قادیانی جماعت لاجواب ہوجائے گی۔ اب ذرا اس پانچویں الہام میں غور کیجئے۔ اس الہام کے آٹھ جملوں پر میں نے ہندسہ دیا ہے اس میں غور کیا جائے کہ کس قدر تاکیدات اور صراحت سے اس دختر کے نکاح میں آنے کا وعدہ بلا قید وشرط کیا گیا ہے ایسے صاف وعدے کے بعد کون انسان حالت ہوش وحواس میں یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تب بھی پیش گوئی سچی ہوگئی اور یہ وعدہ خداوندی جو ابھی ذکر کیا گیا ہے پورا ہوگیا۔

بھائیو ! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اگر یہ الہامات سچے ہوتے تو اس دختر کا ہر طرح مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ضروری تھا کوئی شرط اسے روک نہیں سکتی تھی اور جب نکاح میں نہ آئی تو یقینا ظاہر ہوگیا کہ وہ سب الہامات غلط تھے وہ الہام خداوندی نہ تھے۔ اسی طرح وہ بھی خیالی الہام تھا، جسے مجبوری کی حالت میں شرط قرار دیا ہے۔ اب یہ غلطی اس وجہ سے ہوئی کہ مرزا قادیانی شیطانی الہامات کو رحمانی سمجھے یا الہام کے معنی سمجھنے میں غلطی کی مگر ہر طرح مرزا قادیانی کا قول لائق اعتبار نہ رہا کیوں کہ جب ایسے بار بار کے یقینی الہامات غلط ہوگئے یا مدت دراز تک اس کے معنی نہ سمجھے تو اس کے مسیح موعود ہونے کے الہام پر کیوںکر اعتبار ہوسکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اسے غلط نہ مانا جائے یا اس کے غلط معنی سمجھنے میں قوی احتمال نہ ہو ؟ اگر مرزا قادیانی کو اس غلطی سے معصوم بتاکر خدا پر خلاف وعدگی کا الزام دیں تو انہیں ضرور ماننا ہوگا کہ خدائے تعالیٰ کے تمام وعدے اور وعیدیں غیر معتبر ہیں۔ نعوذباﷲ۔ کیوں کہ ایسے پختہ وعدے جس کی نسبت کہا گیا۔

(۱) کہ آخر کا ر ایسا ہی ہوگا۔

(۲) ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔

(۳) اور اس کا م کو ضرور پورا کرے گا۔

(۴) کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔

248

جب ایسی شدید پختگی کے بعد بھی وعدۂ الٰہی پورا نہ ہو تو پھر جن وعدوں میں ایسی پختگی نہ ہو ان پر کیا اعتبار ہوسکتا ہے۔ غرضیکہ تمام وعدہ الٰہی غیر معتبر ٹھہرے اور ساری شریعت درہم برہم ہوگئی۔ لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں : ’’ ایک وعدہ کے خلاف ہوجانے سے تمام وعدوں میں زلزلہ پڑجائے گا ۔‘‘

( توضیح مرام ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۵۴)

یہ اقوال اس وقت کے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اس کے نکاح میں آنے کی امید تھی اور جب یاس کا مرتبہ پہنچا اور لوگوں کا اعتراض شروع ہوا ہے تو کئی طور سے بات بنائی ہے اور اس کذب پر پردہ ڈالنا چاہا ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔

اول اپنی آخری کتاب (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۲ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰) پر لکھتے ہیں : ’’ یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھایا گیا ہے یہ درست ہے مگر جیسا ہم بیان کرچکے ہیں اِس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اُسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ایتہا المرأ ۃ توبی توبی فان البلاء علٰی عقبک ِ ِ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کردیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑگیا۔ ‘‘

اب اگر دنیا میں عقل وانصاف ہے تو اہل انصاف مرزا قادیانی کے مذکورہ اقوال پرمکر ر نظر کرکے اس جواب کو ملاحظہ کریں اور فرمائیں کہ یہ جواب کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔ کوئی صاحب عقل منصف مزاج اس جواب کو صحیح نہیں کہہ سکتا۔ اس کی غلطی آفتاب کی طرح روشن ہےجو حضرات حقانیت کے طالب ہوں ان کو اس جواب کے غلط ہونے کے وجوہ ملاحظہ ہوں۔

پہلی، دوسری اور تیسری وجہ

(۱) اس وعدہ کے ظہور کے لئے کوئی شرط تھی اور اس شرط کو وہ لوگ پورا کرنے والے تھے اور ان کے ایمان میں اﷲ تعالیٰ عالم الغیب ہے تو اسے ضرور علم ہوگا کہ یہ لوگ شرط کو پورا کریں گے۔ اس علم کے ساتھ خدا کی طرف سے یہ تقدیر کیوں کر ہوسکتی ہے کہ احمد بیگ کی دختر کلاں ہر ایک مانع دور ہو نے کے بعد انجام کار مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی مگر مرزا قادیانی پہلے اور تیسرح قول میں نہایت صفائی سے اس کا اقرار کررہے ہیں کہ تقدیر الٰہی اسی طرح ہوچکی ہے۔ غرضیکہ اس دعوی کو تقدیر الٰہی کہہ کر اس کے ظہور کے لئے کسی شرط کو پیش کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا۔ بجز اس کے کہ وہ قدوس جامع صفات کمالیہ مرزائیوں کے نزدیک عالم الغیب نہ ہو یا یوں ہی جھوٹ کہہ دیا ہو۔ استغفر اﷲ! مگر ان حضرات سے عجب نہیں کہ جس طرح اس قدوس کو وعدہ

249

خلاف مان چکے ہیں اسے بھی مان لیں اور خدا کی خدائی اور رسولوں کی رسالت کو غیر معتبر ٹھہرائیں۔

(۲) ان کے الہام کے ان جملوں کو ملاحظہ کیا جائے۔ (۱) احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔ (۲) اور آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ (۳) خدائے تعالی ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ (۴) اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔

اب جو خدا تعالیٰ کی نسبت قادر مطلق کا اعتقاد رکھتے ہیں وہ فرمائیں کہ جس کام کی نسبت اﷲ تعالی اس زور کے ساتھ فرمادے کہ انجام کار ایساہی ہوگا اور ضرورہوگا پھر اس کی طرف سے ایسی شرط ہوسکتی ہے کہ اس کے ظہور کو روک دے اور کسی وجہ سے وہ کام نہ ہو ؟ اور اگر ایسا ہو تو وہ قادر توانا اور عالم الغیب والشہادہ، عاج، یا نادان، نہ ٹھہرے گا ؟ ضرور ٹھہرے گا۔ پھر جس جواب سے خدائے قدوس پر ایسا سخت الزام آئے وہ جواب کسی مسلمان کے نزدیک صحیح ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔

(۳)اسی طرح پانچویں الہامی قول کو پیش نظر کرکے اس شرط کے پیش کرنے کو ملاحظہ کیجئے۔ اس قول میں تین جگہ وعدہ خدائی بتاکید بیان ہوا ہے کہ اس لڑکی کو لوٹا کر ہم تیرے پاس لائیں گے پھر اس وعدہ کی نسبت یہ بھی کہنا ہے کہ سچا وعدہ ہے اسی قول میں یہ جملہ بھی ہے کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کردیا۔ پھر اس واپسی کے بعد نکاح کردینے کی صداقت نہایت زور سے اس طرح کی ہے کہ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو اس میں شک کرنے والوں سے نہ ہو۔ ان الہامات کے بعد یہ کہہ دینا کہ اس نکاح کے لئے شرط تھی اس کے پورا ہوجانے سے نکاح فسخ ہوگیاکیسی صریح بناوٹ اور خدائے قدوس پر الزام لگانا ہے جس بات کے لئے خدائے تعالیٰ ایسا پختہ وعدہ کرے جس کام کے لئے وہ خود ارشاد فرمائے کہ ہم نے کردیا اور مخاطب کو اس میں شک کرنے کی ممانعت کرے غضب ہے کہ اس کا ظہور نہ ہو۔ اس کے ظہور کے لئے اگر کوئی شرط خدا کی طرف سے ہوتی تو اس عورت کے لوٹا نے کا ایسا حتمی وعدہ اس کی طرف سے ہوسکتا تھا ؟ ہرگز نہیں۔ باوجود اس علم کے کہ اس کے لئے شرط ہے اور وہ شرط پوری ہونے والی ہے۔ وہ قدوس، سبحان یہ کہہ سکتا ہے کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کردیا تو اس میں شک نہ کر ؟ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔

بھائیو ! یہ خدا تعالیٰ پر کیسا سخت الزام ہے کہ جس کام کی نسبت وہ قادر مطلق یہ کہہ دے کہ ہم نے کردیا اور وہ کام نہ ہو یہ تو ایسی روشن باتیں ہیں کہ آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کے کذب کو ظاہر کررہی ہیں اس میں خدائے قدوس پر صرف یہی الزام نہیں آتا کہ اس کے پختہ

250

وعدے بھی پورے نہیں ہوتے بلکہ اس کا صریح کذب ثابت ہوتا ہے۔ نعوذ باﷲ۔ پھر اب کہئے کہ رسول کی رسالت اور شریعت الٰہی کے وعدہ ووعید پر کیوں کر یقین ہوسکتا ہے۔ کیا قرآن پاک کی وہ نصوص قطعیہ جن میں نہایت تاکید سے ارشاد ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے وعدے خلاف نہیں ہوتے۔ سب کے سب غلط نہ ہوجائیں گے ؟ کیا منکرین اسلام مسلمانوں کو یہ الزام نہ دیں گے؟ کہ مسلمانوں کے اعتقاد میں خداوعدہ خلافی کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اور اس صریح وعدہ خلافی کو سنت اﷲ کہہ کر اس سے انکار کرنا دن کو رات کہنا ہے ایسی غلط بیانیوں سے الزام دفع نہیں ہوسکتا۔ جب وعدہ خداوندی پورا نہ ہوا تو یہ الزام ضرور آئے گا اور اسے سنت اﷲ کہنے سے الزام بہت زیادہ ہوجائے گا کیوں کہ اس کے کہنے کے یہ معنی ہوں گے کہ وعدہ خلافی کرنا اﷲ تعالیٰ کی عادت مستمرہ اور مستحکمہ ہے ان بدیہی الزامات کے بعد بھی نہایت شوخ چشمی سے بعض پڑھے لکھے مرزائی بھی مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اس شرط کو پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس شرط کے ماننے سے خدائے قدوس پر کیسے کیسے الزام آتے ہیں اس کا سبب کچھ نہیں ہوسکتا بجز اس کے کہ عار کی وجہ سے نفس امارہ نے نار کو عار پر اختیار کرنا پسندیدہ کردیا ہے یا اس باب میں عقل سلب کردی گئی ہے۔ من یضلل اللّٰہ فلا ہادی لہ، سچا ارشاد ہے۔

چوتھی وجہ

اس میں تو شبہ نہیں رہا کہ احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا خدائے تعالیٰ کا نہایت پختہ وعدہ تھا اور ایسا وعدہ جو بار بار کیا گیا اور اس کی سچائی اور پورا ہونے کا ایسا پختہ اور کامل وثوق دلایاگیا جس سے زیادہ پختگی خیال میں نہیں آسکتی۔ اسی وجہ سے اس میں شک کرنے کی ممانعت کی گئی ہے اس لئے مرزا قادیانی کے قول کے بموجب بھی اس نکاح کا ظہور ضروری ہے۔ اس کے لئے کوئی شرط اور قید نہیں ہوسکتی۔ (ازالہ اوہام ص ۹۴۳ خزائن ج ۳ ص ۶۲۲ )پر لکھتے ہیں :’’ وہ ہربات پر قادر ہے مگر اپنی صفات قدیمہ اور اپنے عہد ووعدے کے برخلاف کوئی بات نہیں کرتا اور سب کچھ کرتا ہے۔ ‘‘

اور( توضیح مرام ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۵۵) پر اس سے زیادہ لکھتے ہیں :

’’ اس میں خداتعالیٰ کے اس وعدے کا تخلّف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر وتصریح موجودہے کہ بہشت میں داخل ہونے والے پھر اُس سے نکالے نہیں جائیں گے؟

251

کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا۱؎خدا تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا؟ …اِن لغو باتوں سے خدا تعالیٰ کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی بھی ہوگی ۔‘‘

۱؎

مرزا قادیانی کے ان دونوں قولوں پر نظر کیجئے کہ پہلے قول میں عام طور پر کہہ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ دوسرے میں نہایت صفائی سے بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ایک وعدے میں خلاف ہونے سے اس کے تمام وعدوں میں زلزلہ پڑجاتا ہے بایں ہمہ حضرات مرزائی، مرزا قادیانی کے ان اقوال کے خلاف خدا تعالیٰ کی وعدہ خلافی کے ثبوت میں آیت یصبکم بعض الذی یعدکم پیش کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو وعدہ خلاف ٹھہرا کر مرزا قادیانی کو سچا ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ افسوس صد افسوس ! وہ مضمون ملاحظہ ہو جس میں ان کے نہایت خاص مرید نے خدا کی وعدہ خلافی ثابت کی ہے مگر شائستہ پیرایہ سے۔ حضرت مسیح موعود کے وصال پر چند مختصر نوٹ۔ ایک دوسرا امر اصل پیش گوئی کے متعلق یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ اندازی پیش گوئیاں بعض وقت ٹل بھی جاتی ہیں۔ ایک نہایت کھلی کھلی مثال یونس نبی کی پیش گوئی ہے یہ مثال محض غلط ہے کیوں کہ حضرت یونس کی پیشگوئی کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ کسی صحیح حدیث سے، پھر کھلی کھلی مثال کس بات کی پیش ہورہی ہے ؟ البتہ ضعیف روایت سے عذاب آنے کی پیشگوئی معلوم ہوتی ہے مگر اسی روایت سے اس کا پورا ہونا بھی ثابت ہے۔ اس کے بعد مضمون نگار لکھتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں بھی فرماتا ہے: وَاِنْ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ‘‘ (المؤمن:۲۸) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض پیش گوئیاں گو بظاہر پوری بھی نہیں ہوتیں پیش گوئیوں کے پورا نہ ہونے میں بظاہر کی قید لگانا ایک جاہل فریب کی بات ہے ورنہ بظاہر پورا نہ ہونے کے کیا معنی ؟مرزا قادیانی کی جو پیش گوئیاں پوری نہیں ہوتیں وہ ظاہر اور باطن ہر طرح پوری نہیں ہوتیں مگر آیت سے یہ ثابت کرنا کہ انبیاء کی بعض پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئیں خدا پر سخت الزام لگانا ہے اگر لفظ بعض سے آپ کو دھوکا لگا تو اس کی شرح لسان العرب اور تفسیر بحر محیط میں دیکھئے ! تنزیہ ربانی میں مختصر کچھ لکھا گیا ہے۔ اگر حق طلبی ہے تو اسے ملاحظہ کیجئے۔ اگر ان کتابوں کا دیکھنا پسند خاطر نہ ہو تو اپنے مرشد وامام کے مذکور قولوں پر نظر کیجئے۔ کس زور سے کہہ رہے ہیں کہ ایک وعدہ کے خلاف ہوجانے سے تمام وعدوں میں زلزلہ آجائے گا۔ اگر اس میں بھی کچھ چوں وچرا ہے تو ہم دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ محض غلط ہے۔ کیوں کہ نصوص قطعیہ قرآنیہ کے مخالف ہے۔ اس سے پہلے اس کی کامل تحقیق لکھی گئی ہے۔ مضمون نگار کی یہ تحریر شہادت دیتی ہے کہ اس کی نظر نہ قرآن مجید پر ہے نہ علوم عقلیہ پر اور نہ عقل سے انہیں واسطہ ہے۔ اس کی وجہ ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید میں بہت آیتیں ہیں جن سے یقینا ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالی کا نہ وعدہ خلاف ہوتا ہے نہ اس کی وعید ٹلتی ہے اور عقلی طور سے بھی ثابت کردیا گیا ہے۔ بعض آیتیں نقل ہوچکی ہیں۔ ان آیتوں کو پیش نظر رکھ کر اس آیت کا مطلب سمجھنا چاہئے مگر مضمون نگار نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایسا مطلب بیان کیا جس سے قرآن مجید کے مضامین میں اختلاف ہوجائے اور اپنی نافہمی سے یہ دکھانا چاہا کہ قرآن پاک اﷲ کی طرف سے نہیں ہے کیوںکہ لوکان من عند غیر اللّٰہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا سچا ارشاد ہے اس کا ثبوت کہ محرر مضمون کا دماغ علوم عقلیہ سے بھی خالی ہے نہایت ظاہر ہے کیوں کہ آیت میں (یصبکم بعض الذی یعدکم) موجبہ جزئیہ ہے اور موجبہ جزئیہ موجبہ کلیہ سے عام ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ بعض وعیدیں تجھے پہنچیں گی(بقیہ حاشیہ ص۲۵۳ پر)

252

مرزا قادیانی کا یہ قول خوب یاد رکھنے کے لائق ہے۔ ان دونوں قولوں نے نہایت صفائی سے ثابت کردیا کہ حسب وعدۂ خداوندی احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی نے نکاح میں آنا

(صفحہ ۲۵۲ کا بقیہ حاشیہ) اس وقت بھی صحیح ہے جس وقت کل وعیدیں اسے پہنچ جائیں۔ یہاں بعض کا لفظ یہ ثابت نہیں کرتا کہ کل وعیدیں نہ پہنچیں گی۔ یہ گفتگو صرف اس وقت ہے کہ یعدکم میں صرف وعید کا بیان کہا جائے اور اگر یہ لفظ وعدہ اور وعید دونوں کو شامل ہے اور بظاہر ایسا ہی ہوناچاہئے کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہی فرمایا ہوگا کہ اگر تو ایمان لے آیا تو تیرے لئے یہ نعمتیں ہیں۔ اور اگر ایمان نہ لایا تو یہ عذاب ہے۔ اس صورت میں تو بعض کہنا ضروری تھا۔) کیوں کہ وعدہ ہو یا وعید ہو دونوں شرطیہ ہے۔ اس لئے دو باتوں میں سے ایک بات کا ظہور ہوگا۔ یعنی اگر ایمان لے آیاتو وعدہ کا ظہور ہوگا اور اگر نہ لایا تو وعید کی مصیبت میں مبتلا ہوگا۔ غرضیکہ ہر صورت میں بعض کا ظہور ہوگا۔ خیر یہ تو علمی بات تھی مگر یہ تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کوئی شریف ذی اخلاق اس بات کو ہرگز گوارہ نہیں کرسکتا کہ اسے جھوٹا اور وعدہ خلاف کہا جائے، مگر افسوس ان کی عقل پر جو اس قدوس قادر توانا پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ وعدہ خلافی کرتا ہے اور پھر اس کے مدعی ہیں کہ وہ ذات پاک جو ہر عیب سے منزہ ہے اپنے آپ کو اس عیب سے متصف بتاتا ہے کیوں کہ انبیاء کی پیش گوئیاں تو وحی الٰہی ہوتی ہیں۔ خدا تعالی کے کذب اور وعدہ خلافی کو ثابت کرتا ہے اب اس کا ثبوت قرآن مجید کی آیت سے دینا اس کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالی اپنی زبان سے فرماتا ہے کہ کسی وقت میں وعدہ خلافی کرتا ہوں۔ نعوذ باﷲ۔ حضرات مرزائیوں نے اس غیور بے ہمتا کی غیرت کو انسان ـضعیف البنیان کی غیرت سے بھی کم مرتبہ کردیا۔ پھر مضمون نگار لکھتے ہیں:’’ اس لئے قرآن کا یہ اصول قائم کرتا ہے کہ مدعی نبوت کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کی اکثر پیش گوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں۔‘‘ مرزا قادیانی کا تعلیمی اثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کے متبعین اپنے علم اور قابلیت سے بہت زیادہ اپنے آپ کو خیال کرتے ہیں۔ اسی کا نام جہل مرکب ہے۔ قرآن مجید کے اصول کو سمجھنا مضمون نگار کا کام نہیں کیوں کہ پہلے ان کی قابلیت کی حالت تو پہلے تین جملوں سے معلوم ہوچکی۔ اب اس جملہ سے اور کچھ معلوم کرلیجئے قرآن مجید کا یہ اصول بتانا کہ وہ اکثر پیش گوئیوں کے پورا ہونے کو معیار صداقت بتاتا ہے محض غلط ہے پیشنگوئی پورا ہوجانے کو نہ قرآن و حدیث نے معیار صداقت بتایا ہے، نہ کسی نبی نے ایسا دعوی کیا ہے۔ جناب رسول اﷲa نے بہت کچھ پیش گوئیاں کیں اور ہر ایک پیش گوئی معینہ وقت پر پوری ہوتی گئی، مگر کسی وقت آپa نے پیش گوئیوں کو اپنی صداقت میں پیش نہیں کیا۔ کفار کا معجزہ طلب کرنا قرآن میں مذکور ہے مگر اس کے جواب میں یہ نہیں ہے کہ ہمارے رسول نے اس قدر پیش گوئیاں کی ہیں اور اتنی پوری ہوچکی ہیں۔ نہ خود رسول اﷲa نے ایسا فرمایا۔ اس کو ہم پورے طور سے ثابت کرچکے ہیں کہ پیش گوئی کرنا انبیاء سے مخصوص نہیں ہے، کاہن، رمال، نجومی، بھی پیش گوئیاں کرتے ہیں اور بعض کی اکثر پیش گوئیاں صحیح بھی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایک کاہنہ کا ذکر اوپر کیا گیا ہے کہ بڑے بڑے علماء نے اس کا تجربہ برسوں کیا اور اس کی پیش گوئیوں کو سچا پایا۔ اب یہ کہنا کہ قرآن مجید یہ اصول مقرر کرتا ہے کہ جس مدعی نبوت کی اکثر پیش گوئیاں صحیح ہوں وہ سچا ہے۔ قرآن پر سخت الزام لگانا ہے کہ وہ نبوت کی صحت کا ایسا معیار غلط بتاتا ہے جس کو تجربہ اور مشاہدہ غلط ثابت کرچکا ہے اور اب بھی یہی حال ہے۔ البتہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے یہ ثابت ہے کہ جس مدعی نبوت کی ایک پیش گوئی بھی غلط ثابت ہوجائے (بقیہ حاشیہ ص ۲۵۴پر)

253

ضرور تھا اور اس وعدے کے پورا نہ ہونے سے خدا تعالیٰ کے تمام وعدے غیر معتبر ہوجائیں گے اور اس کی کسر شا ن اور کمال درجہ کی بے ادبی ہوگی۔ اس لئے مرزا کے یہ اقوال ان کے جواب کو محض غلط بتاتے ہیں۔ اس نکاح کا ظہور نہ ہونا خدا تعالیٰ کے ان وعدوں کے بالکل خلاف ہے۔ جو اوپر نقل کئے گئے۔ ان وعدوں کا مضمون آفتاب کی طرح دکھا رہا ہے کہ ان کا پورا ہونا کسی شرط پر موقوف نہیں ہوسکتا۔ ان وعدوں کے بعد مرزا قادیانی کا یہ جواب دینا مرزاکے کذب اور بناوٹ کی کافی دلیل ہے۔

پانچویں وجہ

جس جملہ کو شرط کہا جاتا ہے وہ جملہ کسی طرح شرط نہیں ہوسکتا کیوں کہ مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب اس جملہ میں احمد بیگ کی ساس یعنی اس لڑکی کی نانی کی طرف یہ خطاب ہے۔ کیوں کہ وہ سخت مخالف تھی اور یہ مطلب ہے کہ توبہ کرو ورنہ تیری لڑکی پر اور نواسی پر بلاآئے گی۔ مگر اس نے توبہ نہیں کی اور مرزا قادیانی کے خلاف اس نے اپنی نواسی کا نکاح سلطان محمدسے کرادیا۔

(ص۲۵۳ کا بقیہ حاشیہ) وہ کاذب ہے۔ اس کا ثبوت کامل طور سے اوپر کیا گیا۔ اس کے علاوہ مضمون نگار سے میں یہ دریافت کرتا ہوں کہ اگر آیت کا وہی حاصل مان لیا جائے جو آپ کے خیال میں ہے مگر یہ بتایئے کہ اکثر کی قید آپ نے کس جملہ یا کس لفظ سے نکالی جس آیت سے آپ استدلال کرتے ہیں۔ اس میں تو بعض پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا ذکر ہے اور اسی لفظ بعض سے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بعض پیش گوئیاں پوری ہوتی ہیں۔ سب نہیں ہوتیں تو آپ کے خیال کے بموجب آیت کا حاصل یہ ہونا چاہئے کہ جس مدعی نبوت کی بعض پیش گوئیاں بھی پوری ہوجائیں تو وہ سچا ہے۔ اس کا نتیجہ بالضروریہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے اکثر وعدے غلط ہوتے ہیں۔ بعض پورے ہوتے ہیں جس خداکا یہ حال ہے تو اس کے رسول کی رسالت اور اس کی شریعت کے تمام وعدے اور وعیدیں کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہوسکتیں۔ مرزا قادیانی کا مقولہ یاد کیجئے۔ وہ فرماچکے ہیں کہ ایک وعدے کے خلاف ہوجانے سے اس کے تمام وعدوں میں زلزلہ پڑجائے گا۔ پھر جب یہ ثابت کیا جائے کہ اس کے اکثر وعدے خلاف ہوتے ہیں تو پھر زلزلہ کی کیا انتہا ہوگی اور خدا کے ساتھ کس قدر بے ادبی ہوگی ؟ اس کے علاوہ جب بعض باتوں کے سچا ہوجانے سے اسے صادق اور سچا کہنا ضروری ہے تو دنیا میں جھوٹا کوئی نہ رہے گا کیوں کہ نہایت جھوٹے سے جھوٹا بھی کبھی نہ کبھی سچا ہوہی جاتا ہے اور یہ کہنا کہ کوئی جھوٹا مدعی نبوت ومہدویت سچی پیش گوئی نہیں کرسکتا۔ محض غلط ہے کیوںکہ اس کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ حدیث سے، نہ کوئی عقلی دلیل اس پر قائم ہوسکتی ہے اور تاریخی حالات وواقعات اور کاذبوں کے حالات اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ ابن تومرت تو مہدی ہونے کا مدعی تھا اور اس کی پیش گوئیاں صحیح ہوئیں۔ دوسرے حصہ میں اس کا ذکر ہوگیا ہے۔

254

اب آپ کے قول کے موجب اس کی لڑکی پر یہ بلا آئی کہ احمد بیگ اس کا شوہر مرگیا اب یہ بتانا چاہئے کہ نواسی کی بلا کیا ہے ؟ جو توبی توبی کا الہام اس کے نکاح سے پہلے کا ہے تو نہایت قرین قیاس ہے کہ محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آنا اور سلطان محمد سے بیاہا جانا اور ان تمام نعمتوں اور برکتوں سے محروم رہنا جو مرزا قادیانی سے نکاح پر موقوف تھیں۔ نہایت سخت بلا تھی۔ خاص اس لڑکی کے لئے بھی اور اس کی ماں اور نانی کے لئے بھی۔ وہ ظہور میں آگئی اور الہام پورا ہوگیا۔ اس کے بعد اگر وہ عورت توبہ کرے یا کوئی دوسرا اس کا عزیز یا رشتہ دار تو ضرور ہے کہ توبہ کے عمدہ نتائج جو اﷲ ورسول نے بیان فرمائے ہیں انہیں ظاہر ہونا چاہئے۔ ان نتائج میں نہایت عمدہ نتیجہ یہ تھا کہ سلطان محمد مرزا قادیانی پر ایمان لاتا اور محمدی کو طلاق دے کر مرزا قادیانی کے پاس آکر بعاجزی عرض کرتاکہ آپ نکاح کر لیں اور مرزا قادیانی نکاح کرتے اور حسب وعدہ محمدی وغیرہ پر برکتیں نازل ہوتیں اور عامۃ خلائق اس عظیم الشان نشان سے فیض یاب ہوتے اور ہزاروں ایمان لاتے اور مخالفین اسلام پادری اور آریہ وغیرہ کو پوری ذلت ہوتی۔ مگر یہ کچھ نہیں ہوا بلکہ معاملہ بالکل برعکس ہوا کہ آسمان پر نکاح ہوکر منسوخ ہوگیا اور اس عظیم الشان نشان کے ظاہر نہ ہونے سے مرزا قادیانی کو سخت ذلت ہوئی بلکہ مخالفین اسلام کے مقابل میں مرزاقادیانی نے اسلام کو ایک قسم کی ذلت پہنچائی۔

الحاصل یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جن کو توبہ کا حکم ہوا تھاانہوں نے توبہ کی ہو اور اسی کی وجہ سے وہ توبہ کرنے والے اس نعمت عظمیٰ سے محروم رہیں۔ جو اس کے ظہور پر موقوف تھی اور مخلوق کثیر کی ہدایت کا باعث نہ ہوں اور پادریوں اور آریوں کا پلہ بھاری ہو۔ الغرض یہ جملہ اپنے معنی کے لحاظ سے نکاح کے منسوخ اور ملتوی ہونے کے لئے شرط ہر گز نہیں ہوسکتا مرزاکا یہ جواب کامل طور سے ثابت کررہا ہے کہ پیشگوئی کے پوری ہونے سے مایوس ہوئے ہیں۔ تو بدحواس ہوکر بناوٹ کرنے لگے ہیں۔

چھٹی وجہ

اور اگر اس جملہ کو شرط مان لیا جائے تو اس شرط کا پورا ہوجانا محض غلط ہے۔ ہر گز پوری نہیں ہوئی۔ جنہیں توبہ کا حکم ہوا تھا انہوں نے توبہ کسی وقت نہیں کی اور مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے۔ اس کی تفصیل تنزیہ ربانی اور معیار صداقت میں ملاحظہ ہو۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جملہ کو شرط کہا جاتا ہے اس کا مخاطب اس لڑکی کی نانی ہے اور توبہ نہ کرنے کی تقدیر پر اس کی بیٹی اور نواسی پر بلا آنے کی وعید ہے۔

(حقیقۃ الوحی، انجام آتھم ملاحظہ ہو )

255

اس لئے اگر اس جملہ کو شرط کہا جائے گا تو یہ شرط اسی وقت پوری ہوسکتی ہے کہ اس لڑکی کی نانی اور اس کی ماں اور وہ خود ایمان لائے اور ضمنا اس کے شوہر کو بھی اس میں داخل کرسکتے ہیں مگر ان میں سے کوئی ایمان نہ لایا یعنی کسی نے انہیں سچا مسیح موعود نہیں مانا اور ان کا مرید نہیں ہوا، اس لئے یہ کہنا کہ لوگوں نے شرط کو پورا کردیا محض غلط اور صریح کذب ہے۔ اگر کوئی اڑوسی پڑوسی یا کوئی دور کا قرا بت مند مرزا قادیانی پر بالفرض ایمان لے آیا ہو تو اس سے یہ شرط کسی طرح پوری نہیں ہو سکتی، یہ شرط اسی وقت پوری ہوسکتی ہے کہ اس جملہ میں جس سے خطاب کیا گیا ہے وہ توبہ کرے یہ ایسا صریحی اور بدیہی عقل کا حکم ہے کہ کوئی ذی عقل تعصب سے علیحدہ ہوکر اس کا انکار نہیں کرسکتا۔

ساتویں وجہ

اگر مرزائیوں کے سمجھانے کے لئے مان لیا جائے کہ شرط پوری ہوگئی تو مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب نکاح کا ظہور ہونا چاہئے کیوں کہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ اس نکاح کے ظہور کے لئے خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی۔ اب جسے تھوڑا بھی علم ہے وہ جان سکتا ہے کہ شرط کے پائے جا نے سے مشروط کاپایا جانا ضروری ہے۔ یعنی نکاح کا ظہور مشروط تھا اور ان لوگوں کی توبہ شرط تھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ جب وہ توبہ کریں تو نکاح کا ظہور ہو مگر مرزا قادیانی عجب الٹی بات کہہ رہے ہیں کہ جب شرط پائی گئی تو نکاح کا ظہور نہ ہوا بلکہ منسوخ ہوگیا۔ ناظرین ملاحظہ کریں کہ یہ کیسی بدحواسی ہے کہ شرط کے پائے جانے کا اقبال ہے اور پھر کہتے ہیں کہ مشروط نہیں پایا گیا یعنی جب لوگوں نے شر ط کو پوراکردیا اور وہ شرط پائی گئی تو نکاح کا ظہور نہ ہوا۔ دنیا میں تمام عقلاء کے نزدیک مسلم قاعدہ ہے کہ::’’اذا وجد الشرط وجد المشروط‘‘جب شرط پائی جائے گی تو مشروط بھی پایا جائے گا مگر یہاں الٹا بیان ہورہا ہے کہ جب شرط پائی گئی تو مشروط فوت ہوگیا یہ تو مرزا قادیانی کی بدحواسی تھی اب ان کے بعض معتقدین یوں لکھتے ہیں :’’اذا فات الشرط فات المشروط‘‘یعنی جب شرط نہ پائی گئی تو مشروط بھی نہ پایا گیا۔ یہ جملہ انہوں نے مشتہر کیا اور کرایا جو ذی علم کہلاتے ہیں اور فیصلہ آسمانی کے جواب دینے کی ہمت رکھتے ہیں جنہیں اتنا ہوش نہیں کہ مرزا قادیانی تو صاف کہہ رہے ہیں کہ جب لوگوں نے شرط کو پورا کردیا جس کا حاصل عربی میں یہ ہوا کہ اذا وجد الشرط مگر مجیب صاحب اس کے برعکس اذا فات الشرط کہتے ہیں۔ اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس صریح اور بدیہی غلطی کا سبب ان کے حواس کی پریشانی ہے کہ مرزا قادیانی کے صادق ثابت کرنے میں نہایت پریشان ہیں یا کم علموں کے پھنسے رہنے کے لئے یہ عربی جملہ کہہ دیا افسوس۔

256

آٹھویں وجہ

اگر اس مجنونانہ کلام سے بھی قطع نظر کی جائے تو ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ محمدی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا اس کے لئے اور اس کے کنبے کے لئے باعث خیر وبرکت اور ہر طرح کی بھلائی کا ہے۔ یا موجب مصیبت وآفت کا ؟ مرزا قادیانی نے تو اس کے نکاح میں آنے کی بہت کچھ برکتیں بیان کی ہیں اور یہ بھی نہایت ظاہر ہے کہ توبہ کرنا ایسی عمدہ چیز ہے کہ انسان کو دائمی عذاب سے نجات دیتی ہے اور ہمیشہ کی راحت اس کی وجہ سے ملتی ہے اس لئے جب ان لوگوں نے توبہ کی تو ان پر برکتیں نازل ہونی چاہئیں۔ یعنی اس نکاح کا ظہور ہوناچاہئے جس کی وجہ سے بے انتہاء برکتیں اس منکوحہ پر اور اس کے کنبے والوںپر نازل ہوں توبہ کا یہ الٹا اثر کیسا کہ اس کی وجہ سے نکاح کا ظہور نہ ہوااور ان برکتوں سے وہ منکوحہ اور اس کے کنبے والے محروم رہے۔ اگر یہ خیال ہوکہ اس کے نکاح میں آنے سے احمد بیگ کے داماد پر بلا آئے گی یعنی وہ مرے گا اس لئے ان کی توبہ نے اس کی بلا کو ٹال دیا مگر یہ نہایت ہی جاہلانہ خیال ہے اس کے دو جواب نہایت ہی ظاہر ہیں کہ ایک یہ کہ ایسی صورت ہوتی کہ احمد بیگ کا داماد طلاق دے کر اس سے علیحدہ ہوجاتا۔ اس کے بعد وہ منکوحہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آتی۔ اس صورت سے توبہ کا ثمرہ دونوں پر مرتب ہوتا۔ دوسرا یہ کہ اس پیش گوئی کا پورا ہونا یعنی منکوحۂ آسمانی کا ظاہری نکاح میں آجانا ہزاروں کی ہدایت کا باعث ہوتا اور بے انتہا لوگ مرزا قادیانی کو مان لیتے۔ پھر ایسے قاعدے عظیم الشان کے آگے ایک شخص کی جان جانا کسی دانش مند کے نزدیک بلا نہیں ہوسکتی۔ رسول اﷲa اور صحابہ کرام کے جہاد کو خیال کرو کہ ایسی رشد وہدایت کے لئے ہزاروں جانیں تلف کی گئیں۔ مگر اس کی کچھ پروا نہیں کی گئی اور جس طریقہ سے مناسب ہوا ہدایت کی گئی۔ ایسا ہی یہاں بھی ہونا چاہئے تھا۔

نویں وجہ

مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷) کے حاشیہ میں اسی منکوحۂ آسمانی کی نسبت حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیش گوئی نقل کی ہے۔ لکھتے ہیں :

’’ اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اﷲa نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوّج ویولد لہ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کریگا اورنیز صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا

257

ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے ۔‘‘

اس کلام میں غور کرنے سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ روایت ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ صحیح ہے۔ یعنی رسول اﷲa کا ارشاد ہے کیوںکہ ایک ملہم خدا کا رسول اس کی تصدیق کرتا ہے اور اپنے کلام کی صداقت میں سب کے سامنے اس کو پیش کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس یتزوج سے مراد یقینی طور سے منکوحۂ آسمانی کا نکاح میں آنا ہے۔ تیسرے یہ کہ اس منکوحۂ آسمانی سے ایک خاص اولاد ہوگی جس کی پیش گوئی مرزا قادیانی کرچکے ہیں چوتھے یہ کہ اس نکاح کے لئے کوئی ایسی شرط نہیں ہوسکتی جو کسی حالت میں ظہور نکاح سے مانع ہو۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ جناب رسول اﷲa کے ارشاد کے بموجب منکوحۂ آسمانی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی اور اس سے اولاد ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جس طرح مرزا قادیانی کے الہامات الٰہیہ مرزا قادیانی کے مذکورہ جوابوں کو غلط بتاتے ہیں اسی طرح ان کے کہنے کے بموجب جناب رسول اﷲa کا ارشاد بھی مرزا قادیانی کے جوابات کو غلط بتارہے ہیں کیوں کہ حدیث میں صاف طور سے ارشاد ہے کہ نکاح کا ظہور ہوگا اور اس سے اولاد ہوگی۔ اب اگر کسی وجہ سے نکاح کا ظہور نہ ہو تو مرزا قادیانی کے قول کے بموجب رسول اﷲa کا ارشاد غلط ہوجائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ رسول اﷲa کے اس ارشاد سے مرزا قادیانی کے جوابات کو غلط مانا جائے۔ یہ وہ نتیجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے قطعی اور صریحی اقوال سے اظہر من الشمس ہورہا ہے اب اگر مرزا قادیانی کا اس حدیث کو صحیح ماننا اور پھر اسے اپنی منکوحۂ آسمانی کے لئے پیش گوئی سمجھنا غلط ہے۔ تو ذرا ہوش میں آکر بتایا جائے کہ جب مرزا قادیانی نے ایسی عظیم الشان غلطی کی ہے جس سے جناب رسول اﷲ پر نہایت صریح جھوٹی پیش گوئی کا الزام آیا جس کی وجہ سے مخالفین اسلام کو سخت حملہ کا موقع ہوا تو پھر کیا وجہ ہے کہ جملہ’’ توبی توبی ‘‘ کو شرط کہنا صحیح مان لیا جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ جس طرح حدیث مذکور کے ماننے اور اسے اپنے مدعا کی پیش گوئی سمجھنے میں بھاری غلطی کی اسی طرح مرزا قادیانی نے اس جملہ کو شرط کہنے میں بھی غلطی کی اور ضرور کی اور اس غلطی کے متعدد وجوہ بھی بیان ہوئے پھر کیا وجہ ہے کہ اس پیش گوئی کے غلط ہونے پر قطعی حکم نہ دیا جائے۔ اگر کچھ عقل وانصاف ہے تو ضرور ایسا ہی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ جب ایسی بھاری مرزا قادیانی کی جماعت تسلیم کرتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اصل دعوی مہدویت ومسیحیت میں غلطی کو تسلیم نہ کرے۔ اگر صداقت کا دعوی ہے تو اس کا معقول جواب دیں۔

258

الحاصل ’’ توبی توبی‘‘ کی شرط کہنا اور اس کی بنیاد پر نکاح کا فسخ بتانا محض مغالطہ ہے اس لئے پیش گوئی کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور اس کے ساتھ اس کی اولاد کی پیش گوئی بھی غلط ہوگئی۔ الغرض یہ تو روشن دلیلیں ہیں جو اپنی روشنی سے دکھارہی ہیں کہ مرزا قادیانی کا جواب ہر طرح غلط ہے صرف اپنی جھوٹی پیش گوئی کے بناوٹ کے لئے یہ بات بنائی ہے مگر وہ بناوٹ بھی ایسی ہے کہ ان کے علم وفہم کو پوشیدہ کرکے ان کے الہام ’’ جاہل ومجنون ‘‘ کا مصداق انہیں بتاتی ہے۔ یہ الہام براہین احمدیہ حضرت مسیح موعود ( مرزا ) کے حالات زندگی ص ۸۱ بمشمولہ براہین احمدیہ چہار حصص ایڈیشن اول کے شروع میں ان کے خاص مرید معراج الدین نے لکھا ہے۔ اب قادیانی جماعت میں کوئی ہے جو ان دلائل کا جواب دے کہ مرزا قادیانی کے بناوٹ کو پوشیدہ کرکے اس پیش گوئی کی صداقت ثابت کرسکے۔

اے راستبازو ! حق کے پسند کرنے والو ! یقین کرلو کہ یہ بالکل ناممکن ہے کہ کوئی قادیانی اس کا جواب دے سکے۔ اس بیان سے مرزا قادیانی کے تینوں جوابوں کا خاتمہ ہوگیا مگر بغرض تفصیل کچھ اور لکھنا منظور ہے۔ لہٰذا دوسرا جواب بھی ملاحظہ کیجئے:

دوم:(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰) پر لکھتے ہیں کہ:

’’ کیا آپ کو خبر نہیں’’یَمحُوا اللّٰہُ مَا یَشائُ وَیُثبِتُ‘‘(یعنی اﷲ تعالیٰ جس بات کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قائم رکھتا ہے )

اس نے پہلے نکاح کا وعدہ کیا تھا پھر اسے پورا نہیں کیا۔ محو کردیا سخت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے اس آیت کے ایسے معنی کئے ہیں جو بہت آیات قرآنیہ اور نصوص قطعیہ کے مخالف ہیں اور پھر قرآن دانی کا دعوی ہے۔ اے جناب ! جس کلام پاک میں آیت مذکور ہے اسی میں یہ آیتیں بھی ہیں۔

(۱) ’’لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ‘‘ (یونس:۶۴)خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں جو بات کہہ دی وہ ضرور پوری ہوگی۔

(۲) ’’مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَآاَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ‘‘(قٓ: ۲۹)یعنی اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے یہاں کوئی بات بدلا نہیں کرتی جو ایک مرتبہ کہہ دیا ضرور ہوگا اور وعدے اور وعید کے پورا ہونے کے لئے تو صراحت کے ساتھ بہت آیتیں ہیں۔ مثلا :

(۳) ’’اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ ۱؎ الْمِیْعَادَ‘‘(اٰل عمرٰن :۹)

۱؎

ان آیتوں کی تفسیر سے گزر بیان کی گئی۔ وہاں دیکھنا چاہئے۔

259

(۴) ’’لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ‘‘(الحج:۴۷)

(۵) ’’اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ‘‘(قصص:۱۳)

یعنی اﷲ تعالیٰ کے وعدے میں تخلف ہر گز نہیں ہوتا۔ اس کا وعدہ ضرور سچا ہوتا ہے۔

ان آیتوں نے نہایت صفائی سے ثابت کردیا کہ اﷲ تعالی کے کلام میں اور اس کے وعدوں میں تغیر وتبدل نہیں ہوتا۔ جو وعدہ وہ کرے گا وہ ضرور پورا ہوگا۔

اب ضروری ہے کہ ان نصوص کو پیش نظر رکھ کر ’’یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآئُ وَیُثْبِتُ‘‘ (الرعد: ۳۹) کے معنی کرنا چاہئے اگر اس کی ہربات میں محو اور اثبات ہوا کرے تو نبی کی نبوت بھی لائق وثوق نہ رہے گی کیوں کہ ہر وقت محو کا احتمال رہے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آیت کے ایسے معنی کئے جائیں کہ مذکور ہ آیات کے مخالف نہ ہوں اور یہ اعتراض بھی وارد نہ ہوسکے۔ وہ معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں متعدد جگہ مشیت الٰہی کو عام بیان کیا گیا ہے مگر اس سے مقصود صرف اظہار قدرت ہے مثلا ارشاد ہے ’’یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ‘‘ (اٰل عمرٰن: ۱۲۹) یعنی جسے چاہے بخشے اور جس پر چاہے عذاب کرے مگر دوسری اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ مغفرت اﷲ کی مشیت پر ہے اس میں کافر ومسلمان سب برابر ہیں۔ مگر دوسری آیت ’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرِکَ بِہٖ‘‘ (النسآء: ۴۸) اس بات کو بتارہی ہے کہ مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔ اس لئے ضروری ہوا کہ پہلی آیت میں جو مشیت کو عام لکھا ہے اس سے مقصود صرف اظہار قدرت ہے مگر دوسری آیت نے یہ ثابت کردیاکہ مشرک کے لئے یہ مشیت ہوچکی ہے کہ بخشا نہ جائے گا۔ اسی طرح آیت’’اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘نے یہ ثابت کردیا کہ وعدہ الٰہی میں محو نہ ہوگا۔ ایک معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ شریعت الٰہیہ میں بعض احکام ضرورت، وقت اور مناسب حال کے ہوتے ہیں وہ علم خداوندی کے بموجب بدلتے رہتے ہیں۔ انہیں کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہے کہ ایسے احکام کا محو واثبات اﷲ تعالیٰ کی مشیت پر ہے جسے چاہتا ہے محو کرتا ہے۔

یعنی شریعت سے اس حکم کو مٹا کر اس کی جگہ دوسرا حکم دیتا ہے اور اس کے اصلی اور واقعی بھید کو وہی جانتا ہے یا جسے وہ آگاہ کرے۔

حاصل یہ کہ اس آیت میں وعدہ کے محو واثبات کا ذکر نہیں ہے۔ صرف بعض احکام کی نسبت ارشاد ہوا ہے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی باوجود نہایت عظیم الشان دعوی کے اس آیت کے ایسے غلط معنی سمجھے جو نصوص قطعیہ کے خلاف ہیں اور ان صحیح معنی کا انہیں علم نہ ہو۔ اور اب ان کے خلیفہ بھی اس غلطی پر متنبہ نہیں ہوتے۔

260

دوم: تیسرے جواب میں مرزاقادیانی نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ پیش کیا ہے اس قصہ کا آموختہ مرزا قادیانی نے غالبا سولہ، سترہ، برس تک رٹا ہے اور اپنی غلط پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مختلف عنوان سے اسے دکھایا ہے مگر افسوس ہے کہ کوئی ذی علم بھی اصل واقعہ کی تحقیق نہیں کرتا اور محققانہ طور سے تفسیر، حدیث، سیر، تاریخ کی کتابوں کو دیکھ کر واقعی حالت دریافت نہیں کرتا۔ اس لئے اس قصہ کی واقعی حالت جس قدر قرآن اور احادیث سے ظاہر ہوتی ہے علیحدہ رسالہ میں لکھی گئی ہے۔

اﷲ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ طالبان حق عنقریب اس کے مطالعہ سے مسرور ہوں گے یہاں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی یہ پیش گوئی کرنا کہ یہ قوم عذاب الٰہی سے ہلاک ہوگی نہ قرآن مجید سے ثابت ہے نہ کسی حدیث۱؎ میں اس کا پتہ ہے لیکن غیر معتبر روایت میں آیا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے صرف عذاب آنے کی پیش گوئی کی تھی اور اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ پیش گوئی پوری ہوئی یعنی عذاب آیا اور اس قوم کے سچے ایمان لانے اور نہایت گریہ وزاری سے وہ عذاب ٹل گیا۔

اب اس قول کو بھی ملاحظہ کیجئے جو (تتمہ حقیقۃ الوحی ص۱۳۳، خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰) پر انہوں نے لکھا ہے:’’ کیا یونس علیہ السلام کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ اِس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خداجس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کردیا۔ کیا اسپر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے ۔‘‘

اجمالی طور پر تو اس جواب کی غلطی ظاہر کردی گئی۔ اب ان دونوں پیش گوئیوں کا فرق بھی کچھ معلوم کرنا چاہئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ میں اور اس پیش گوئی میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اس کے متعدد وجوہ انصاف وغور سے ملاحظہ کیجئے:

(۱) حضرت یونس علیہ السلام کی الہامی پیشگوئی کا ثبوت نہیں ہے اس لئے یہ کہنا کہ آسمان پر قطعی فیصلہ ہوگیا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا۔ محض غلط ہے اور آسمان پر قطعی فیصلہ مان کر یہ کہنا کہ عذاب نازل نہ ہوا قرآن مجید کی صریح مخالفت کرنا ہے کیوںکہ نصوص موجود ہیں۔ ’’اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘، ’’وَلَنْ یُّخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ‘‘

۱؎

شفاء قاضی عیاض اور تاریخ طبری فارسی ملاحظہ ہو۔

261

ان دونوں آیتوں کے معنی اور ان کی تفسیر اوپر بیان ہوئی ہے، جس سے قطعی طور سے ثابت ہو گیا ہے کہ خدا کے وعدے اور وعید میں تخلف ہرگزنہیں ہوسکتا۔

الغرض، مرزا قادیانی کی پیش گوئی نہایت ہی مؤکد اور مستحکم برسوں ہوتی رہی ہے اور حضرت یونس علیہ السلام کی آسمانی پیش گوئی کا ثبوت ہرگز نہیں ہے۔

(۲) منکوحۂ آسمانی کے نکاح میں آنے کی خبر اور اس کا نکاح ہوجانے کے بعد اس کے لوٹ آنے کی خبر نہایت تاکید کے ساتھ بار بار دی گئی۔ اور اس کی نسبت مرزا قادیانی نے کلام خداوندی اس طرح نقل کیا: انا کنا فاعلین۔ یعنی ہم اس کے کرنے والے ہیں۔ اب قادیانی جماعت بتائے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے اس طرح کا کلام الٰہی قرآن وحدیث سے کہیں ثابت ہے ؟ ہرگز ثابت نہیں ہے۔

(۳) اس منکوحہ کی نسبت یوں الہام ہوا کہ اس عورت کا لوٹ کر آنا حق ہے۔ اس میں شک نہ کرنا یعنی مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ایسا یقین ہے کہ اس میں شک کرنے کی ممانعت کی گئی۔ اب کوئی بتائے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے اس طرح کسی وقت کہا گیا ؟ ہرگز نہیں۔

(۴) اس وعدہ کی نسبت ان کا الہام ہے کہ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ یعنی اس وعدہ میں تغیر وتبدل ہرگز نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس کا پورا ہونا ضروری ہے کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے یہ بھی صراحت کی گئی تھی۔ ہرگز نہیں۔

(۵) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ بار بار کی توجہ سے یہ معلوم ہوا کہ خدا تعالی اس لڑکی کو ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے نزول عذاب کے لئے ایسا یقین کسی وقت نہیں بیان کیا۔

(۶) ان دونوں واقعوں میں نہایت فرق ظاہر ہوا اور بہت بڑا فرق یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی وعید ہے اور مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی وعدہ ہے۔ الغرض یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کو منکوحۂ آسمانی والی پیش گوئی سے کوئی مناسبت نہیں ہے اس کے جھوٹا ہونے کے جواب میں اسے پیش کرنا سخت مغالطہ دینا ہے۔

سب سے اول تو یہ بات ہے کہ قطعی طور سے اس کا ثبوت نہیں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے الہامی پیش گوئی کی تھی۔ دوسرا اگر کسی قسم کا ثبوت ہے تو صرف اس قدر ہے کہ عذاب آنے کی پیش گوئی تھی وہ پوری ہوئی۔ یعنی عذاب آیا، جس ضعیف روایت میں الہام سے

262

پیشنگوئی کرنا آیا ہے اس میں عذاب کا آنا بھی مذکور ہے تفسیر در منثور ملاحظہ کیجئے اور یہ کہا جائے کہ عذاب نہیں آیا تو پھر الہامی پیش گوئی کا ثبوت ضعیف روایت سے بھی نہ ہوگا۔ اگر کسی ذی علم کو دعوی ہو تو ثابت کرے مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں کرسکتا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا پہلا جواب تو خود انہیں کے متعدد اقوال سے غلط ثابت ہوا اور دوسرا اور تیسرا جواب نصوص قطعیہ قرآنیہ کے خلاف ہے اور تیسرا جواب واقعات کی رو سے بھی غلط ہے اور خلیفہ قادیانی نے جو جواب تراشا ہے اور قرآنی جواب بتایا ہے اس کا نہایت کافی جواب فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں دیا گیا ہے اور یہاں جو اقوا ل مرزا قادیانی کے نقل کئے گئے ہیں وہ بھی ان کے جواب کو غلط بتارہے ہیں اور اس پر بھی اگر کسی صاحب کو سیری نہ ہو تو تتمہ حصہ اول فیصلہ آسمانی ملاحظہ کرلیں۔

بالآخر اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں رہا کہ منکوحۂ آسمانی کے اور اس کے شوہر کے متعلق جو پیش گوئی مرزا قادیانی نے کی تھی وہ ہر طرح غلط ہوئی۔ کسی منصف فہمیدہ کو ان دونوں بلکہ تینوں پیش گوئیوں کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا ان کاغلط ہونا آفتاب تاباں کی طرح روشن ہورہا ہے۔ اب اگر کسی شپرۂ چشم کو آفتاب نہ سوجھے یا کوئی گردوغبار کو اڑاکر آفتاب کو چھپانا چاہے تو آفتاب چھپ نہیں سکتا۔ دنیا اس کی روشنی سے انکار نہیں کرسکتی۔ اسی طرح اس پیش گوئی کے غلط ہونے سے انکار نہیں ہوسکتا۔ اس کا لازمی نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ بموجب ارشاد خداوندی اور نصوص قطعیہ قرآنیہ اور توریت مقدس مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ اب قادیانی جماعت اس پر غور کرے اور اپنی عاقبت برباد نہ کرے۔ میں نہایت خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ جن بینہ دلائل سے ان دونوں پیش گوئیوں کا غلط ہونا بیان کیا گیا ہے ان کا جواب نہ خلیفہ قادیان دے سکتے ہیں اور نہ کوئی دوسرا ذی علم اس میں قلم اٹھا سکتا ہے۔ یوں عوام کے دام میں رکھنے اور بے سروپا کچھ لکھنے یا کہنے کو کون روک سکتا ہے ؟ مگر میں نہایت قوت اور سچائی سے کہتا ہوں کہ اب جو دلیل اور جو توجیہ ان پیش گوئیوں کی صداقت میں پیش کی جائے اس کا غلط ہونا میں اسی بیان سے دکھا سکتا ہوں جو اوپر کیاگیا ہے جس طالب حق کو شبہ ہو وہ دریافت کرے۔

تمام مذکورہ بیان کے علاوہ نہایت قوی شہادت یہ پیش کرتا ہوں کہ خاص اس پیش گوئی کے بیان میں اور اس کے پہلے مرزا قادیانی کے متعدد غلط دعوے دکھائے گئے جن کے جھوٹ

263

کہنے میں کسی طرح کا تامل نہیں ہوسکتا اور کئی پیش گوئیاں بھی ایسی غلط ہوئیں کہ ان میں کسی متعصب کو بھی کلام کرنے کی مجال نہیں ہے وہ غلط پیش گوئیاں یہ ہیں۔

(۱) احمد بیگ کی بڑی لڑکی بیوہ ہوگی۔

(۲) اور وہ نکاح ثانی تک زندہ رہے گی۔ یعنی اس کا نکاح ثانی ہوگا مگر دنیا پر ظاہر ہوگیا کہ وہ لڑکی بیوہ نہ ہوئی اور نکاح ثانی کی اسے نوبت نہیں آئی بلکہ پہلے ہی زوج کے نکاح میں رہی۔

(۳) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ عاجز بھی ان واقعات کے پورے ہونے تک زندہ رہے گا۔ یعنی احمد بیگ کی لڑکی کے بیوہ ہونے اور اس کے نکاح ثانی تک، یہ بھی غلط ہوا کیوں کہ وہ اپنے پہلے زوج کے نکاح میں تھی کہ مرزا قادیانی دائمی مفارقت کا داغ لے کر دنیا سے چل بسے۔ اس کے بعد وہ لڑکی اپنے پہلے خاوند کے نکاح میں مرگئی اور دنیا کے روبرو یہ تینوں پیش گوئیاں غلط ہوئیں۔

(۴) نکاح کے بعد اس لڑکی سے ایک خاص طور کا لڑکا ہوگا مگر الحمدﷲ نہ خاص طور کا بیٹا ہوا اور نہ عام طور کا اور مرزا قادیانی کے دل کی تمنا دل ہی میں رہی۔ جب اس لڑکی سے نکاح ہی نہ ہوا تو اس کی اولاد کا ذکر ہی فضول ہے۔

(۵) مرزا قادیانی نے کہا کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب پیش گوئیوں کے پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہ آئیں گے۔ مولوی صاحب پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان گئے اور نہایت شائستگی سے مرزا قادیانی کو بلایا مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ آئے۔

غرض کہ مذکورہ آٹھ پیش گوئیوں میں یہ پانچ پیش گوئیاں تو ایسے اعلانیہ طور سے غلط ہوئیں کہ آج تک کوئی ان کا مرید اس میں دم نہیں مارسکا ۔

ان پانچ پیش گوئیوں میں پہلی پیش گوئی کے سوا چار پیش گوئیاں وعید نہیں ہیں بلکہ وعدۂ الٰہی ہیں جس کا پورا ہونا ہر ذی عقل کے نزدیک ضروری ہے مگر وہ بھی پوری نہ ہوئیں ۔

الغرض جب آٹھ پیش گوئیوں میں پانچ غلط ہوئیں تو اب تین کے غلط ماننے میں کسی حق طلب کو تامل نہیں ہوسکتا ۔ خصوصا اس وقت کہ قرآن مجید کی نص صریح اورتوریت کی نص قطعی سے ثابت ہوا کہ اگر کسی مدعی نبوت کی ایک پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوجائے تو وہ جھوٹا ہے ۔

’’رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ‘‘(الاعراف:۸۹)

تمت بالخیر

264

دوسری

شہادت آسمانی

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

265

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللّٰہ العلی العظیم ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم!

ہر فہمیدہ اس کا یقین کرتا ہے کہ انسان کو راستباز اور سچا اس وقت کہتے ہیں جب اس کے تمام اقوال سچے اور اس کی باتیں راستی پر مبنی معلوم ہوتی ہیں اور جس کی ایک بات بھی۱؎ جھوٹی ثابت ہوجائے تو پھر اسے کوئی راستباز نہیں کہتا۔ کیوں کہ جس کا ایک جھوٹ ثابت ہوگیا تو اہل دانش کے نزدیک اس کی کسی بات پر اطمینان نہ رہا۔ اس کی ہربات پر جھوٹ کا احتمال ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ حاکم وقت کے اجلاس پر اگر کسی کے اظہار میں ایک بھی جھوٹ پایا جائے تو پھر اس کی کسی بات کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ اس کا تمام اظہار غیر معتبر ہوجاتا ہے یہ حال تو عام راستبازی اور ناراستی کی شناخت کا ہے اور جو شخص عظیم الشان دعویٔ نبوت ومہدویت کرے اس کی صداقت کے لئے تو علاوہ عام راست بازی کے اس کے خاص خاص نشانات ہیں۔ ان کا ہونا ضروری ہے۔

۱… اس میں تحمل وبردباری ایسی ہو کہ دوسرے میں نہ ہو۔

۲… اس کی صحبت کا عمدہ اثر نہایت ظاہر طور سے دیکھا جائے۔

۳… جو جو علامتیں اس خاص دعوی کی نبی مرسل نے بیان کی ہوں وہ اس میں پائی جائیں اور جب تک یہ باتیں اس میں نہ پائی جائیں اسے کوئی فہمیدہ راستباز نہیں کہہ سکتا۔

اے بھائیو ! اسی معیار پر مرزا قادیانی کو جانچو اور حق بینی کی عینک سے انہیں غور سے دیکھو۔ اگر ایسا کروگے تو بالیقین انہیں اپنے دعوے میں راستباز نہ پاؤگے۔ یہ معیار تو بڑے مرتبہ کی ہے؛ ان میں تو عام راستبازی بھی نہیں پائی جاتی۔ بہت ناراست اقوال ان کے دکھائے گئے اور کامل طور سے انکی ناراستی ثابت کردی گئی؛ مگر افسوس اور سخت افسوس ہے کہ جماعت مرزائیہ نے عقل وفہم کو کچھ ایسا بالائے طاق رکھ دیا ہے کہ وہ ان روشن بیانات کو چشم انصاف سے نہیں دیکھتے۔ اور ہر طرح مرزا قادیانی کو سچا ہی جانتے ہیں اور بلاوجہ وجیہ اور بغیر سبب اپنے خیر خواہ سے بدگمانی کرتے ہیں اور ایک بات پر بھی تحقیق حق کے طور سے غور نہیں کرتے۔مگر سچے خیر خواہ حتی الوسع اپنی خیر خواہی سے باز نہیں رہ سکتے۔

۱؎

اس میں وہ جھوٹ داخل نہیں ہوسکتے جو در حقیقت جھوٹ نہیں ہیں محض ظاہری طور سے اسے جھوٹ کہا گیا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی بیوی کو بہن کہا۔ درحقیقت یہ جھوٹ نہیں تھا کیوں کہ وہ ان کی علّاتی بہن تھیں۔

266

سچے نائب رسول حضرت سرور انبیاءa کے حال کو خیال کرتے ہیں کہ منکر ین کو کس قدر ضد تھی اور اپنی بات پر اڑے تھے اور آپ کو ان کی خیر خواہی میں اس قدر کوشش تھی کہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔’’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَنْ لَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘‘(الشعراء:۳) یعنی کیا تم اپنی جان ہلاک کردوگے اس فکر اور کوشش میں کہ منکرین ایمان نہیں لاتے۔

اب غور کیا جائے کہ جناب رسول اﷲa اپنے مخالفین کی خیر خواہی میں کیسی کوشش فرماتے تھے جس سے اﷲ تعالیٰ روکتا ہے۔ بایں ہمہ مخالفین کی حالت ملاحظہ کیجئے ان کی نسبت ارشاد خداوندی ہے۔’’فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَہُمْ اِلَّا نُفُوْرًا‘‘ (فاطر:۴۲)یعنی دنیا کے گمراہ گروہ میں جب کوئی خدا سے ڈر نے والا آیا تو وہ اور زیادہ بھاگے اور اس کی مفید باتوں سے منتفع نہ ہوئے۔

اس مضمون کی متعدد آیتیں ہیں، حضرات مرزائی ان پر توجہ کریں جو اپنے خیر خواہوں کی محنت کو بے کار خیال کرتے ہیں اور فخریہ کہتے ہیں کہ مونگیر سے رسالہ پر رسالہ نکل رہا ہے اور قادیانی توجہ بھی نہیں کرتے۔ اب وہ قرآن مجید دیکھ کر بتائیں کہ مونگیر والے نائب رسول کا کام کررہے ہیں یا نہیں یا ان کے مقابل جماعت مرزائیہ کس شرمناک گروہ کا کام کررہی ہے جنہیں وہ رسول ومہدی مان چکے ہیں۔ ان پر لاجواب اعتراضات کئے گئے،ہر طرح ان کی ناراستی اور دروغ بیانی دکھائی گئی مگر یہ جماعت اب جواب سے عاجز ہو کر معتقدین عوام سے تو یہ کہہ دیا کہ مرزا قادیانی کے باب میں جو کوئی کچھ لکھے اسے مت دیکھو ورنہ ایمان جاتارہے گا اور جو ان کے خواص سے کچھ کہا گیا تو کہتے ہیں کہ اعتراضات تو اسلام پر بھی ہوتے ہیں پھر اس کی وجہ سے اسلام چھوڑ دیں ؟ افسوس یہ کیسی ناسمجھی یا حد درجہ کی ضد ہوگئی ہے کہ اپنی عاقبت کا بھی انہیں خیال نہ رہا۔ بعض نے گالیاں دینا شروع کردیں اپنی تحریر سے شائستگی اور قابلیت کا ثبوت دیا مگر یہ ہر طرح ثابت ہوگیا کہ جواب سے عاجز ہیں۔

اے عزیزو ! اس پر تو غور کرو کہ اگر سب قسم کے اعتراضوں کی حالت ایک سی ہوجائے تو پھر حق وباطل میں کوئی تمیز نہ رہے۔ ہر مدعی کا ذب ویسا ہی خیال کیا جائے جیسا سچے راستباز مدعی گزرے ہیں کیونکہ اعتراض سے کوئی نہیں بچا، سچوں پر بھی اعتراضات کئے گئے اور جھوٹوں پر بھی الزامات دیئے گئے ہیں۔ ان دونوں میں تمہارے نزدیک کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اگر کوئی فرق ہے تو بیان کرو اور یہ دکھاؤ کہ مرزا پر ایسے اعتراضات نہیں کئے گئے جیسے جھوٹوں پر کئے جاتے ہیں۔

میں نے رسالہ شہادت آسمانی میں مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت پیش کی اور جس

267

روایت کو انہوں نے نہایت زور سے اپنی صداقت میں پیش کرکے اس کے بار بار ذکر سے اپنی کتابوں اور رسالوں اور اشتہاروں کو بھر دیا تھا اسی روایت سے اور ان کے بیانات سے ان کا کاذب ہونا آفتاب کی طرح روشن کرکے دکھادیا۔ اگرچہ اس وقت سے اس شہادت کے پیش کرنے سے ان کی زبان بند ہے عام وخاص سے اس کا ذکر نہیں کرتے مگر اس پر نظر نہیں کرتے کہ جس کی ایسی فضیحت کن غلطیاں اور شرمناک باتیں ظاہر ہوں جس کی وجہ سے ان کا وہ عظیم الشان دعوی غلط ہوجائے جس پر انہیں فخر وناز تھا ایسا شخص دعویٔ نبوت میں کیوں کر سچاہوسکتا ہے ؟ انہیں تو مرزا قادیانی کی وہ باتیں دکھائی گئی ہیں جو معمولی راست بازوں کی شان سے بھی بعید ہیں اور انبیاء کی شان تو بہت اعلی ہے۔

اب میں اس رسالے کے بعض مضامین کی تشریح کرتا ہوں اس رسالہ میں کئی طریقوں سے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے اس کا نمونہ بطور فہرست حسب ذیل ہے۔

۱ … مرزا قادیانی کے وجود سے اور ان کے دعوی سے اسلام اور مسلمانوں کو دینی اور دنیاوی ہر قسم کا نقصان ہوا اور کسی طرح کا فائدہ نہیں ہوا۔ کیوں کہ ان کے دعوی سے چالیس کروڑ مسلمان جہنمی ہوگئے اور دنیا میں بہت بلائیں آئیں اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کے وقت میں اسلام کو اور مسلمانوں کو بہت کچھ فائدہ پہنچے گا اس لئے وہ مسیح ابن مریم نہیں ہوسکتے۔ اس کی تشریح شروع رسالے اور آخر رسالہ میں کی گئی ہے شروع کا ص ۱ سے ۱۰ تک اور آخر کا ص ۹۶ سے آخر تک دیکھا جائے۔

۲ …جو روایت متعدد طریقوں سے غیر معتبر ثابت ہے اسے اپنے مدعا ثابت کرنے کے لئے نہایت صحیح قرار دیا۔

۳… اس کی صحت ثابت کرنے کے لئے نہایت مغالطے اور صریح دھوکے سے کام لیا ہے اور ناواقفوں کو متعدد مغالطے دیئے ہیں۔ اس کا نمونہ ص ۴۸ سے ص ۵۰ تک متن وحاشیہ میں دیکھئے !

۴…ایک معمولی گہن کو اپنی طرف سے کچھ زیادہ کرکے اور محض غلط باتیں بناکر اپنے لئے آسمانی شہادت قرار دیا۔

۵… ائمہ محدثین اور نقاد ین حدیث کو بلاوجہ نہایت بے تہذیبی سے سخت الفاظ کہے اور اولیاء اور انبیاء اور خصوصا سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی روش کے خلاف جن کے ظل ہونے کا انہیں دعویٰ ہے اور تمام دنیا کے علماء اسلام جو ان کے جھوٹے دعوے کو نہیں مانتے انہیں تو بہت ہی کچھ کہا ہے اور غیر مہذب طریقے سے مخاطب کیا ہے اور نہایت ناشائستہ الفاظ انہیں کہے ہیں۔ اس

268

کی تفصیل صرف انجام آتھم اور اس کے ضمیمہ کے دیکھنے سے بخوبی ہوسکتی ہے مگر اس کا نمونہ پہلی شہادت آسمانی کے ص ۳۲، و۴۰ و۴۱ میں اور اس رسالہ کے ص ۴۹ و۶۳ و۷۳ میں دیکھا جائے۔

۶…حدیث میں اپنی طرف سے زیادہ کرکے حدیث کا جز قراردیا اور اپنے اضافہ کو جناب رسول اﷲa کے قول کا جز ٹھہرایا۔

۷…حدیث کے معنی ایسے غلط بیان کئے جس کی غلطی کسی ذی علم پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ دھوکا دینے کے لئے بالقصد ایسا کیا گیاہے۔

۸… گہن کا بے نظیر اور خارق عادت ہونا روایت کے ہر جملہ سے اظہر من الشمس ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا ص ۴۳ ملاحظہ ہو۔

۹…اپنے بیان سے یہ ظاہر کیا کہ امام مہدی رسالت ونبوت کا دعوی کریںگے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد سچے رسول ونبی آئیں گے حالانکہ قرآن مجید کے نص قطعی اور صحیح حدیثوں سے اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ حضور انورa کے بعد کوئی سچاپیغمبر نہیں آئے گا رسالہ دعویٔ نبوت مرزا اور حصہ سوم فیصلہ آسمانی ص ۹ سے ۲۴ تک ملاحظہ ہو۔

ناظرین کرام! یہ باتیں جو میں نے نو نمبروں میں آپ کو دکھائیں انکا ثبوت اس رسالہ میں ایسے روشن طریقے سے کیا گیا ہے کہ کسی متعصب کو بھی انکار کی ہمت نہیں ہوسکتی۔ اب میں خیر خواہانہ جماعت مرزائیہ سے کہتاہوں کہ اس رسالہ کو منصفانہ نظر سے دیکھیں اور خیال کریں کہ مرزا قادیانی کی وہ آسمانی شہادت جس کا شور وغل بے انتہا انہوں نے مچایا تھا کیسی غلط ثابت ہوئی اور پھر اس کا غلط ہونا بھی کس طرح ثابت ہوا کہ اس کے ضمن میں ان کے جھوٹ ان کی مغالطہ دہی ان کی افتراء پرداز ی بھی ظاہر ہوئے۔ پھر کیا خدا سے ڈرنے والوں کے لئے یہ بیان مرزا قادیانی سے علیحدہ ہوجانے کے لئے کافی نہیں ہے ؟ بلکہ ان نونمبروں میں سے ہر ایک نمبر ان کے دعوی کی غلطی کو اظہرمن الشمس کرتا ہے۔

اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے اس دعوی کی غلطی ایسے تحقیق اور زوردار تحریر سے ظاہر کی گئی ہے کہ کسی مرزائی کی مجال نہیں ہے کہ اس کا معقول جواب دے سکے۔ پہلی شہادت آسمانی چھپے ہوئے عرصہ ہوا مگر یہاں سے قادیان تک کسی نے دم نہیں مارا۔ یہ دوسری شہادت آسمانی پیش کی جاتی ہے اگر اس پر بھی کسی کو تسکین نہ ہو تو ہمارے اور رسائل کو دیکھے۔ صرف فیصلہ آسمانی کے تین حصوں میں مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی بہت دلیلیں لکھی گئی ہیں۔ اور’’ القائے قادیانی‘‘

269

اور’’ اسرار نہانی‘‘ لکھنے اور گالیاں دینے سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہوسکتی اور جو لاجواب اعتراضات ان پر کئے گئے ہیں ان کا جواب نہیں ہوسکتا بلکہ مرزا قادیانی کے مرید ہونے کا اثر اور مریدوں کی تہذیب وشائستگی اور قابلیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور جنہیں مرزا قادیانی کی دنیا وی ترقی گمراہ اور متحیر کررہی ہو وہ رسالہ’’ عبرت خیز‘‘ ملاحظہ کریں ان کی حیرت جاتی رہے گی اور معلوم کرلیں گے کہ جھوٹے اور مفتری بہت کچھ کامیاب ہوئے ہیں۔

اس کے بعد اطلاع دیتا ہوں کہ جس طرح یہ شہادت آسمانی پہلے سے بہت زیادہ ہوگئی ہے یعنی پہلی ۴۴ صفحہ پر تھی اور اس کے ۱۰۴ صفحہ ہیں اسے چھپے ہوئے بھی گیارہواں برس ہے۔ اسی طرح فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں نظر ثانی کے بعد بہت تحقیقات کا اضافہ ہوگیا ہے اور رسالہ بہت بڑھ گیا ہے۔ یعنی موجودہ حالت میں ۱۸۲ صفحوں پر ہے جو پہلی مرتبہ ۱۳۳۲ھ(مطابق۱۹۱۴ء) اور دوبارہ ۱۳۳۷ھ (مطابق ۱۹۱۹ء)میں چھپا ہے اسے بھی چھٹا برس ہے مگر کسی کی مجال نہیں ہوئی جو جواب میں قلم اٹھاتا۔ اس کے بعد یہ بھی اطلاع دیتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے قصیدہ اعجازیہ کے جواب میں یہاں سے بھی ایک قصیدہ لکھا گیا ہے اور سات برس سے شائع ہورہا ہے اولا تو مرزاقادیانی کے قصیدہ سے اس میں پچاسی اشعار زیادہ ہیں دوسرے ایسا فصیح وبلیغ ہے کہ اس کے سامنے مرزا قادیانی کاقصیدہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دینے کے لائق ہے اس کی شہادت ذی علم عربوں نے بھی دی ہے اور قادیانی تو بالکل حواس باختہ اور دم بخود ہیں۔ اسی کا دوسرا حصہ بنام ابطال اعجاز مرزا حصہ دوم بھی طبع ہوا ہے جو دس برس سے شائع ہورہا ہے اس میں مرزا قادیانی کے قصیدہ کی موٹی موٹی غلطیاں پانچ سو بتیس ۵۳۲ دکھائی گئی ہیں جس کو دیکھ کر قدرت خدا کا تماشا نظر آتاہے کہ کہاں دعویٔ اعجاز اور کہاں اس قدر فاش غلطیاں۔ اب جو حضرات کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا کلام معجزہ ہے اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا وہ دیکھیں کہ کیسا اعلی وارفع جواب دیا گیا ہے اور ان کی غلطیاں دکھائی گئیں اور جو ان کے اعجاز کو دس بیس دن کے اندر محدود سمجھتے ہیں وہ بھی ملاحظہ کریں تاکہ سمجھیں کہ اس اعجاز کی مدت معین کرنے میں کیسی ہوشیاری اور ابلہ فریبی مرزا قادیانی کی تھی۔ یہ دونوں رسالے مولانا حاجی شاہ سید غنیمت حسین صاحب اشرفی (مونگیر صوبہ بہار) کی تصنیف کردہ ہیں۔

(احتساب قادیانیت ج۵۹ میں ملاحظہ ہوں، فقیر)

وما علینا الا البلاغ المبین !

راقم … خاکسار خیرخواہ مسلمین … ابواحمد رحمانی

270

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اس خدائے بے نیاز کے صدقے جس نے ’’کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ‘‘ (التوبہ : ۱۱۹) کا حکم فرمایا اور اس رسول مقبولa کے قربان جس نے سچ اور جھوٹ کے نتیجہ کو ایک جملہ میں ظاہر کردیا اور؎ ’’الصدق ینجی والکذب یہلک‘‘فرماکر اپنی امت کو سچائی کا پابند کیا۲؎ اوربفحوائے خیر القرون قرنی۳؎کے، جس قدر دوری آپa کے متبرک زمانے سے ہوتی گئی اسی قدر سچائی اور خیریت میں کمی ہوتی گئی۔

اب تیرہ سو برس گذر گئے اور چودہویں صدی گذر رہی ہے اس وقت میں معاینہ ہورہا ہے کہ راستی اور خیریت مفقود ہورہی ہے اور فتنہ و فساد اور کذب و افتراء کا زور وشور ہے۔ اس لئے صادقین کو اور سچائی کے طالبوں کو ضرور ی ہے کہ ایسے نازک وقت میں جو کام مسلمانوں کی فلاح کے لئے کیا جائے یا جو شخص قوم کی اصلاح کا دعوی کرے اس کی حالت میں نہایت غور کریں اور اس کے نتیجہ کو وسیع النظر ہوکر دیکھیں اور چونکہ انسان کامل غور و فکر کے بعد بھی غلطی کرسکتا ہے اور ہر ایک دانش مند صاحب تجربہ نے معلوم کرلیا ہے کہ ایسی غلطیاں بہت ہوتی ہیں اور ہوئی ہیں اس لئے حقانیت کے عاشقوں کو ـضروری ہے کہ اپنے تسلیم کردہ مسئلے اور اپنے مانے ہوئے مصلحوں کی باتوں میں تعصب اور طرفداری سے علیحدہ ہوکر کامل طور سے غور کرتے رہیں اور دوسرے مصلحین اور نکتہ چیں حضرات کی باتوں کو انصاف سے دیکھیں تاکہ اپنے خیال کی ضروری اصلاح کرسکیں۔

اس پر خوب نظر رکھیں کہ زمانہ میں جب تاریکی پھیلتی ہے اور ظلمت چھا جاتی ہے تو عام طور سے طبیعتوں پر خیالات پر ظلمت کا پرتو پڑتا ہے اور طالبین حق کی نظریں بھی خیرہ ہوجاتی ہیں۔ ایسے وقت میں پاکیزہ طبیعت اور مبارک وہ بندے ہیں جو اپنی نظر کو تیز کرنا چاہتے ہیں اور جس وقت اپنی غلطی سے واقف ہوتے ہیں تو خدا سے ڈر کر اسی وقت اس سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔

۱؎

یعنی سچوں کے ساتھ ہوجاؤ اور صادقوں کی معیت اختیار کرو جھوٹوں سے علیحدہ رہو۔

۲؎

یعنی سچائی باعث نجات ہے اور جھوٹ سبب ہلاکت ہے۔

۳؎

یعنی رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ بہترین زمانوں میں میرا زمانہ ہے۔

271

ایسے نازک وقت میں کسی بڑے مجدد اور مصلح کی ضرورت تھی۱؎ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس وقت میں بہت بڑے مصلح اور مجدد ہونے کا دعوی کیا ہے اور اپنی صداقت کے اظہار میں بہت سے نشانات اپنی زور دار تحریروں میں دکھائے ہیں اور کچھ حضرات اپنی سادگی سے ان کی صداقت پر ایمان لائے۔ بعض ان میں جو اہل علم ہیں ان پر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے قوت ایمانی کے علاوہ تاریخ پر بھی نظر وسیع نہیں کی۔ دوسری صدی کے شروع سے اس وقت تک بہت ایسے مدعی گذرے ہیں اور ہر ایک نے اپنے وقت اور اپنی قابلیت کے مناسب نشانات دکھائے ہیں اور بہت لوگوں نے انہیں مانا ہے۔ پھر کون سی بات مرزا قادیانی میں زیادہ ہے جو انہیں کاذب مان کر مرزا قادیانی کے قول کی تصدیق کی جائے۔

خیر اس کے لئے تو نظر وسیع اور بہت غور وفکر کی ضرورت ہے مگر سچائی کے طالبوں کو غور کرکے یہ معلوم کرلینا آسان ہے کہ مرزا قادیانی نے پچیس چھبیس برس کے عرصہ میں کیا کام کیا اور ان کی ذات سے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا۔ خدا کے لئے اس پر غور کرو کہ مرزا قادیانی نے مسیح

۱؎

بعض حضرات صرف زمانہ کی ضرورت کو مرزا قادیانی کی صداقت کی دلیل سمجھتے ہیں ان کے خیال میں جب ضرورت کے وقت مرزا قادیانی نے مجدد اور مصلح ہونے کا دعوی کیا تو ان کا دعوی سچا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ انہوں نے غور وفکر سے کام نہیں لیا اور یہ خیال نہیں کیا کہ ضرورت تو کم وبیش ہر صدی پر ہوتی رہی اور جھوٹے اور سچے مدعی ہوتے رہے ہیں پھر کیا ان سب حضرات کو سچا مدعی کہیں گے؟ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ دعوی کرنے والے اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے پر جب قرآن مجید اور حدیث صحیح شاہد قطعی ہیں تو ان کے کذب میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہوسکتا ہے باقی رہا زمانہ کی ضرورت کو کامل طور سے معلوم کرنا اور اسے پورا کرنا اسی عالم الغیب اور کامل القدرت کے اختیار میں ہے جب اس کے علم میں ضرورت ہوگی اور اس کی مصلحت کا اقتضاء اس کو پورا کرنا ہوگا اس وقت پورا کرے گا بعض وقت مریض کو اشتہا معلوم ہوتی ہے مگر حکیم کھانے سے روکتا ہے کیوں کہ اس کے علم میں اشتہا صادق نہیں ہوتی۔ جب اس کی طلب اس مرتبہ کو پہنچتی ہے کہ اس وقت اس کو کھانا دینا مفید ہوتا ہے جب وہ کھانے کی اجازت دیتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہوا کہ مریض کی سمجھ اور اس کی خواہش، ضرورت کو ثابت نہیں کرتی بلکہ حکیم دانا کا علم اسے ثابت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جب مشاہدے نے ثابت کردیا کہ بیس پچیس برس تک کچھ دعوے کرتے رہے مگر ان کے اور ان کے خلیفہ اکبر(حکیم نور الدین) کی موت تک زمانہ کی ضرورتیں ویسی ہی رہیں۔ بلکہ ہر قسم کا تنزل ہوا اور امت محمدیہ میں ایک نزاع وجھگڑا زیادہ ہوگیا۔ اور مرزا قادیانی نے دنیا کو اسلام سے گویا خالی کردیا۔ کیوں کہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں دو چار لاکھ رہ گئے باقی سب کافر ہوگئے۔ مرزا محمود کا رسالہ ’’ تشحیذ الاذہان ‘‘ دیکھو!

272

موعود ہونے کا دعوی کیا اب یہ سوچو کہ اسلام میں کسی مسیح کے آنے کا وعدہ کیا گیا ہے یا نہیں؟ کم سمجھ نام کے مسلمانوں میں ایک جماعت تو سرے سے مسیح اور مہدی کے آنے کا صریح انکار کرتی ہے ان کے خیال کے بموجب تو یہ دعوی ہی غلط ہے اور جو گروہ ان کے آنے کا اعتقاد رکھتا ہے وہ ان کے آنے کے فوائد بھی یقینی طور سے سمجھ رہا ہے کیوں کہ جن حدیثوں میں ان کے آنے کی خبر ہے انہیں میں ان کے آنے کے بہت کچھ فائدے اور اس وقت کی نہایت عمدہ حالت دکھائی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے آنے پر تو اعتقاد رکھا جائے اور ان کے آنے کے جو فائدے بیان ہوئے ہیں انہیں باتیں بناکر چھوڑ دیا جائے۔ کیا وجہ ہے کہ حدیثوں کے ان الفاظ میں تو محض بیجا تاویلیں کی جائیں جنہیں الفاظ ومعنی حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مسیح موعودکے آنے میں تاویل نہ کی جائے۔ اگر مسیح کے آنے کو مانا جائے اور تیرہ سو برس کے عرصہ کی شہرت کو ہر کہہ ومہ میں ان کے انتظار پر نظر کی جائے تو بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کے آنے سے اسلام اور مسلمانوں کو ایسا عظیم الشان فائدہ پہنچے گا کہ ان کے آنے سے پہلے تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی بزرگ کسی مجدد سے نہ ہوا ہوگا۔ اب جماعت مرزائیہ ہوش کرکے بتائے کہ جو فائدہ اسلام کو مثلا حضرت عمر ؓ سے ہوا اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ اور خواجہ معین الدین چشتیؒ سے ہوا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان ہوگئے؛ مرزا قادیانی نے کتنے ہندو، اور آریہ کو مسلمان کیا؟ ان کی ذات سے کتنے یہودی اور تثلیث پرست مسلمان ہوئے ؟ اس کا کوئی جواب دے ؟ اور کسی قادیانی کے کہہ دینے سے کہ قادیان میں یا پنجاب میں یا دوسری جگہ بعض مسلما ن ہوئے ہیں واقعہ کی صداقت ثابت نہیں ہوسکتی اور اگر اس شور وغل میں کوئی مسلمان ہوگیا ہو تو وہ لائق توجہ نہیں ہوسکتا۔ بہت سے علماء کے ہاتھ پر بعض ہندو عیسائی مسلمان ہوئے ہیں یہاں تو وہ مقدار ہونی چاہئے جس کی وجہ سے تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹ جائے اور اسلام کو غلبہ ہوجائے۔

اس میں شبہ نہیں کہ اس وقت کے لحاظ سے انہوں نے بے انتہاء کوشش کی مگر صرف اپنی بڑائی ثابت کرنے میں کاغذی گھوڑے بہت دوڑائے اور بہت دفتر سیاہ کئے مگر ان دفتروں میں بجز جھگڑ ے اور اپنی تعلّیوں کے اور کچھ نہیں ہے ہم نے انکے رسالوں کو خوب دیکھا۔ صلحاء اور کاملین کی تحریریں جس نے دیکھی ہیں وہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریر صادقین کاملین کی سی ہرگز نہیں ہے۔ ان کی تحریروں سے کسی غیر مہذب اور شریرالنفس کی اصلاح نہیں ہوسکتی بلکہ شرارت نفس کو اشتعال دینے والی ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین اور دیندار علماء ہی کو نہایت

273

بے تہذیبی سے برا نہیں کہا بلکہ بعض انبیاء کرام کو بھی اس بیہودگی سے برا کہا ہے اور بدگمانیاں کی ہیں کہ سچے مسلمانوں کا دل اسے دیکھ کر تھرا جاتا ہے کسی بزرگ یا نبی کی یہ شان ہرگز نہیں ہوتی اور نہ ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے ماننے والے تہذیب اور شائستگی سے معرا ہیں اور صلاح وتقوی سے بالکل نا آشنا۔

سخت افسوس ہے کہ ان کی جماعت میں جو نیک طبع حضرات ہیں وہ نہیں دیکھتے کہ وہ مجدد ہوئے مہدی ہوئے، مسیح ہوئے، مگر اس عرصہ دراز میں مسلمانوں کے لئے کیا کیا ؟ اسلام کو ان سے کیا نفع پہنچا۔ ان سے تو اسلام میں سو پچاس کی بھی ترقی نہ ہوئی بلکہ کفار کی جماعت کو ترقی ہوئی کہ ۴۰ کروڑ مسلمان تھے وہ بھی کافر ہوگئے، مگر غضب ہے کہ قادیانی جماعت ایسی روشن باتوں کو نہیں دیکھتی اور انہیں اپنے دعوے میں صادق مان رہی ہے۔ اگر وہ مقدس تھے نبی تھے تو کم سے کم ایک جماعت نے ان سے تہذیب وشائستگی اور تقوی حاصل کیا ہوتا مگر ان کی جماعت میں تو اس کا پتہ نہیں ہے بلکہ ان پر ایمان لانے سے پہلے جو مہذب اور راستباز تھے ان پر ایمان لانے کے بعد ان کی تحریروں میں بے تہذیبی اور خلاف گوئی پائی جاتی ہے۔ اعلانیہ سچی باتوں کا انہیں انکار ہے اور صریح جھوٹی باتوں کا انہیں دعوی ہے اور متنبہ کرنے پر بھی خیال نہیں کرتے، یہ کیا وجہ ہے کہ ان کی حالت ایسی بدل گئی۔ بجز اس کے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزا قادیانی کو انہوں نے اپنا مقتداء مانا۔ اب ضروری ہے کہ ان کی پیروی کریں گے اور ان کا ذاتی اثر ان میں آئے گا۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے کذب کا ایک دفتر ہے جس کا نمونہ جابجا میں نے بیان کیا ہے۔ اس رسالے میں بھی ان کے چند جھوٹوں کا ذکر آئے گا اور ناظرین ملاحظہ کریں گے۔

اے بھائیو ! کیا مسیح موعود کی یہی علامت اور ان کی نبوت کا یہی معیار ہے ؟ ذرا غور سے سوچو ! یہ نفع دکھانا کہ انہوں نے پادریوں سے اور آریوں سے خوب مناظرہ کیااور ان کے جواب میں رسا لے لکھے یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے وہ مہدی اور مسیح موعود مان لئے جائیں اور یہ کہا جائے کہ ان کی وجہ سے اسلام کو بڑا فائدہ پہنچا۔ ذرا انصاف تو کرو! اب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جو کچھ کیا عجب نہیں اس لئے کیا ہو کہ مسلمان ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہمیں مانیں۔ بعض اور اہل علموں نے بھی مناظرہ کیا ہے اور مخالفین اسلام کے جواب میں کتابیں لکھی ہیں اور مرزا قادیانی نے بہت زیادہ لکھی ہیں، مثلا: جس وقت ہندوستان میں ابتدائً پادریوں کا مشن آیا اور مسلمان عموماً مذہب عیسائی سے محض نا آشنا اور پادریوں کی فریبوں سے بالکل ناواقف تھے اس

274

وقت ایک بڑا پادری فنڈر آیا اور اس نے اسلام کے رد میں کتاب میزان الحق وغیرہ لکھ کر بڑی ہلچل مچادی اس وقت مولوی رحمت اﷲ صاحب مرحوم (کیرانوی)مہاجر مکی نے اس کا مقابلہ کیا اور اکبر آباد میں اسے شکست فاش دی۔ اس وقت فارسی اور اردو دونوں زبانیں ہندوستان میں زیادہ رائج تھیں اس لئے انہوں نے اردو وفارسی دونوں میں بڑی بڑی کتا بیں لکھیں اور خاص تثلیث کے رد میں ایک رسالہ لکھا جس کا نام ’’اصح الاحادیث فی ابطال التثلیث‘‘ہے اور عام اعتراضات کے جواب میں ایک کتاب فارسی میں لکھی جس کا نام ’’ازالۃ الاوہام‘‘ ہے اور ایک کتاب اردو میں لکھی جس کا نام ’’ازالۃ الشکوک‘‘ ہے۔ عیسائیوں کی کتب مسلمہ کی تحریف میں ایک خاص کتاب لکھی جس کا نام ’’اعجاز عیسوی‘‘ ہے آخر میں انہوں نے عربی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کانام ’’اظہار الحق‘‘ ہے اس کتاب کے لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ وہی پادری فنڈر جس نے ہندوستان میں آکر ہلچل مچائی تھی قسطنطنیہ پہنچا اور اپنے رسالہ میزان الحق کو عربی میں لکھ کر وہاں شائع کیا اور دربار سلطانی میں ہلچل مچادی اور اپنے رسالہ کے جواب کا خواستگار ہوا۔ وہاں کے علماء جواب نہیں دے سکے اور مولوی رحمت اﷲ صاحب مرحوم مکہ معظمہ سے وہاں بلوائے گئے۔ مولانا کی عظمت وہیبت اس پادری کے دل میں اس قدر تھی کہ جب اس نے مولانا کے پہنچنے کی خبر سنی اسی وقت بھاگ گیا۔ مولانا نے وہاں قیام کرکے یہ کتاب لکھی یہ کتاب ’’اظہار الحق‘‘ اس قدر مشہور ومقبول ہوئی کہ مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا اور مختلف مقامات پر کئی مرتبہ چھپ چکی ہے اور بعض مقامات پر داخل درس ہوگئی ہے۔

اگر مناظرہ کرنے اور مخالفین اسلام کے جواب لکھنے سے کوئی شخص مجدد کے خطاب کا مستحق ہوسکتا ہے یا اس کی تحریر کی نسبت یا اس کی ذات کی نسبت یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے تثلیث پرستی کے ستونوں کو توڑ دیا تو مولوی رحمت اﷲ صاحب مرحوم کو کہہ سکتے ہیں۔۱؎ مرزا قادیانی نے تو بمقابلہ ان کے کچھ نہیں کیا۔ ان کے بعد جب عماد الدین جو مولوی کہلاتا تھا اور صفدر علی جو مولوی کہلانے کے علاوہ سرکاری مدارس کا ڈپٹی تھا دونوں عیسائی ہوگئے اور انہوں نے اسلام کے مقابلہ میں کتابیں لکھیں اور مسلمانوں میں شائع کیں اور بہت لوگ عیسائی ہوگئے اور ہر شہر میں متعدد

۱؎

جماعت مرزائی غالبا یہاں یہ کہے گی کہ مولوی رحمت اﷲ صاحب نے دعوی نہیں کیا اس لئے ہم نہیں کہتے مگر اس جماعت کی عقل پر افسوس ہے کہ جو شخص بدیہی طور سے ایسے مفید کام اسلام کے لئے کرے اور دشمنان اسلام کو عاجز کردے اس کے کاموں کو دیکھنے کے بعد بھی اسے مجدد نہ مانا جائے اور جو کچھ بھی نہ کرے اور صرف دعوی کا غل مچائے اسے سچا مان لیا جائے مرزائیو کچھ تو خدا سے ڈرو اور اپنے انجام پر غور کرو۔

275

مقامات پر پادریوںنے زور وشور سے اپنا وعظ کہنا اور اسلام پراعتراض کرنا شروع کیا۔ مسلمانوںمیں ہلچل مچ گئی۔ اس وقت کئی صاحبوں نے ان کے جواب دیئے اور انہیں لاجواب کیا اس خاکسار نے بھی متعدد پادریوں کو تقریری مناظرہ میں عاجز کیا اور ان کے اعتراضات کے جواب میں رسالے لکھے بعض اپنے نام سے بعض دوسروں کے نام سے اور انہیں ہر طرح سے عاجز کیا رسائل ذیل ملاحظہ کئے جائیں: پیغام محمدی،۱؎ دفع التلبیسات، آئینہ اسلام، ترانہ حجازی۔ یہ رسالے چودہویں صدی کے ابتداء میں لکھے گئے ہیں انہیں رسالوں کی محققانہ اور پرزور تحریر سے عیسائی لاجواب ہوئے اور ان کا فتنہ فرو ہوا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان حضرات کو عیسی پرستی کے ستون کو توڑنے والا نہ کہا جائے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جواب لکھنا، رد کرنا اور بات ہے اور عیسی پرستی مٹانا اور بات ہے۔ کیوں کہ تجربہ نے ثابت کردیا کہ جواب دیئے گئے اور خوب رد کیا گیا مگر واقعی حالت کو دیکھا جائے تو نہایت بدیہی بات ہے کہ تثلیث کے ماننے والوں کو ہر طرح ترقی ہورہی ہے۔

مسیح ابن مریم کے اوصاف جو صحیح حدیثوں میں آئے ہیں ان سے اظہر من الشمس ہے کہ جس وقت وہ تشریف لائیں گے اس وقت عیسی پرستی کا ستون ٹوٹ جائے گا۔ مرزا قادیانی نے دعوی تو بہت کچھ کیا کہ: ’’میں۲؎ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے آیا ہوں۔ ‘‘

(اخبار بدر قادیان ج ۲ نمبر ۲۹ ص ۴،کالم۲، ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء)

۱؎

یہ رسالہ پہلے ۱۳۰۸ھ میں چھپا تھا پھر دوسری مرتبہ ۱۳۳۱ھ میں دہلی میں چھپا ہے دوسرا رسالہ دفع التلبیسات پہلی مرتبہ ۱۳۰۲ھ میں چھپا تھا دوسری مرتبہ ۱۳۳۱ھ میں چھپا ہے۔ تیسرا اور چوتھا رسالہ اور ان کے علاوہ مراۃ الیقین اور مراسلات مذہبی بھی دوبارہ طبع ہوچکی ہیں۔

۲؎

اس دعوی کا حوالہ اور اس کی تفصیل حقیقۃ المسیح میں کی گئی ہے اس کے دیکھنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے پختہ اقرار سے کاذب ہیں۔ بعض مرزائی اس کا جواب دیتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے حضرت مسیح کی موت ثابت کردی اس لئے تثلیث کا ستون ٹوٹ گیا مگر ان بے خبروں سے کوئی کہے کہ مرزاقایانی سے پہلے مولوی چراغ علی نے نہایت پر زور دلائل سے عبرانی کتابوں سے اسے ثابت کیا ہے اور اس وقت تک کسی پادری نے اس کا جواب نہیں دیا اگر قلم کی گھس گھس ہے اور حضرت مسیح کی موت ثابت کرنے سے تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹتا تو مرزا قادیانی کے دعوے سے پہلے ہی دوسرے ایسے لوگوں نے توڑ دیا تھا۔مرزا قادیانی نے کیا کیا؟ اس کے علاوہ یہ حضرات کچھ ایسے مسلوب العقل ہوگئے ہیں کہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کتاب میں انہوں نے موت ثابت کی ہے وہ پہلے لکھی ہے اور ستون توڑنے کا دعوی اس کے بعدہورہا ہے اس سے اظہر من الشمس ہے کہ ستون توڑنے سے مقصود حضرت مسیح کی موت ثابت کرنانہیں ہے اس کے سوا اس کتاب کا دنداں شکن جواب دیا گیا ہے پھر ایسی مردود تحریروں سے تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹ سکتاہے؟ مرزائیوں کو ایسی بیہودہ باتیں بناتے شرم نہیں آتی۔

276

مگر یہ دیکھو کہ انہوں نے اس کی ایک اینٹ بھی گرائی ؟ یہ بھی تو نہ ہوا کہ دوچار ہزار اور کم سے کم سو دو سو عیسائی ان پر ایمان لے آتے اور تثلیث سے توبہ کرتے پھر انہوں نے کیا کیا جس کی وجہ سے تم انہیں ابن مریم مان رہے ہو اور دوسروں سے منوانا چاہتے ہو، خدا کے لئے کچھ تو غور کرو۔

اس وقت فرقہ اسماعیلیہ کا ایک شخص آغا خان ہے اس کی وجہ سے ہزاروں ہندو تعلیم یافتہ مالدار انہیں مان گئے اور اس کے قائل ہوگئے مرزا قادیانی کے قرب وجوار میں اس کا شہرہ ہے۔ اخباروں میں چھپ رہا ہے مرزا قادیانی نے تو سو پچاس کو بھی مسلمان نہیں کیا۔ پھر ان کے مسیح ہونے کاکیا نتیجہ ہوا۔ اگر کسی مرزائی کو حق طلبی اور راست بازی کا دعوی ہے تو ان باتوں کا جواب دے اور مرزا قادیانی کے بڑے بڑے دعووں کا نتیجہ دکھائے۔ مگر جب خود سلطان القلم اور ان کے خلیفہ اول عاجز رہے تو اب کسی کی کیا ہستی ہے ؟

بھائیو! کچھ تو غور کرو ایسا عظیم الشان دعویٰ کہ وہ صحابہ رسول اﷲa جنہوں نے دنیا میں اسلام کو پھیلادیا وہ اولیاء امت محمدیہ جن کے پر اثر وعظ نے سینکڑوں یہود ونصاریٰ کو مسلمان بنادیا جن کی وجہ سے ہزاروں مشرکین بت پرست خدا پرست ہوگئے ان سب پر افضلیت کادعویٰ ہے اور پھر اسی پر قناعت نہیں ہے بلکہ بعض وہ انبیاء عظیم المرتبت۱؎ جن کی تعریف جا بجا قرآن مجید میں آئی ہے ان سے بھی اپنے آپ کو ہر شان میں بڑھ کر بتاتے ہیں۔ یہ تو سب دعویٰ ہوئے مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ان کے دعوؤں کا نتیجہ بجز ان کے ذاتی فائدوں کے اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا ہوا۔ جن کی وجہ سے حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمرؓ اور دیگر اولیاء امت کے مثل انہیں خیال کریں اور افضلیت تو بڑی بات ہے بھائیو ! صرف اسی میں غور کرنا کافی ہے جس سے ان کے صادق یا کاذب ہونے کا کامل فیصلہ ہوجاتا ہے مگرحق پسندی اور انصاف دلی چاہئے۔ اب اگر ان کے نشانوں نے تمہیں مغالطہ میں ڈال رکھا ہے تو ذرا نظر اٹھا کر دیکھو کہ جس نشان کو مرزانے نہایت ہی عظیم الشان نشان قرارد یا تھا اس کا پتہ نشان بھی نہ ملا۔ یعنی منکوحۂ آسمانی کی نسبت پیش گوئی کس زور وشور سے کی تھی جس کی صداقت پر قسمیں کھائی گئیں جس کے ظہور میں آنے کا بار بار پختہ وعدہ خداو ند ی بیان کئے گئے۔ جس کے ظہور کی برسوں امید دلائی گئی اور انجام کار اس سے مایوس ہوکر کیسی بیہودہ باتیں بنائی ہیں۔

۱؎

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں ان سے ہر شان میں بڑھ کر ہوں۔ چنانچہ ان کا مصرعہ ہے۔’’ عیسیٰ کجا است تا بہ نہد پابہ منبرم‘‘ (ازالہ اوہام ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)

277

اسی طرح اس کے شوہر کے مرنے کی پیش گوئی مرتے دم تک کرتے رہے اور اپنے سامنے اس کے مرجانے کو اپنی صداقت کا معیار بتاتے رہے خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے انہیں کی زبان سے اس کا فیصلہ کردیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ مرزا جی اپنے مستحکم اقرار کے بموجب کاذب ثابت ہوئے۱؎ اگر اس کی تفصیل دیکھنے کا شوق ہے تو رسالہ فیصلہ آسمانی ملاحظہ کیجئے۔ اس کے تیسرے حصے میں اس کی ایسی کافی تفصیل کی گئی ہے کہ اس کے دیکھنے کے بعد کسی فہمیدہ کو اس پیش گوئی کے جھوٹے ہونے میں ذرا بھی ترددنہیں رہ سکتا۔ الغرض اس نہایت ہی عظیم الشان نشان کا تو خاتمہ ہوگیا اور نصوص قطعیہ کے رو سے مرزا قادیانی کا ذب ٹھہرے اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی کے تیسرے حصے میں دیکھئے۔ اس نشان کے جھوٹا ہونے سے کسی فہمیدہ مسلمان کو مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی نشان کی طرف توجہ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں رہتی کیوںکہ اس کے بیان میں ان کے بہت جھوٹ ثابت ہوئے ہیں اور دعویٔ نبوت کے جھوٹا ہونے کے لئے تو اس مدعی کا ایک

۱؎

اس کے جواب میں آیت ’’یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَآئُ وَیُثْبِتُ‘‘ (الرعد : ۳۹) اور ’’یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ‘‘ (المؤمن:۲۸) پیش کی جاتی ہے پہلی آیت سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا مگر اسے محو واثبات کا اختیار ہے اس وعدے کو اس نے مٹادیا پورا نہ کیادوسری آیت سے ثابت کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سارے وعدے پورے نہیں کرتا بعض پورے کرتا ہے مگر سخت افسوس ہے کہ ان کی عقلوں پر کیسے پردے پڑے ہیں یہ خیال نہیں کرتے کہ اگر ان آیتوں کا یہی مطلب ہو تو خدا تعالیٰ پر کیسا سخت الزام آئے گا۔ اور تمام وعدے خداوندی جزا اور سزا کے بے کار ہوجائیں گے کوئی لائق اطمینان نہ رہے گا۔ انبیاء کی بعثت بے کار ہوجائے گی۔ اور اس خدائے قدوس کے ہر کلام پر جھوٹ کا احتمال ہوگا۔ اور مخالفین اسلام کو کس قدر مضحکہ کا موقع ملے گا اس کے علاوہ ایک سچے اور مشہور جملے پر بھی نظر نہیں کرتے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے الکریم اذا وعد وفا یعنی کریم جب وعدہ کرتاہے تو اسے پورا کرتا ہے سب سے بڑھ کر تو کریم اسی وحدۂ لاشریک لہ کی ذات ہے جب وہی وعدہ پورا نہ کرے تو اور کون اس سے زیادہ سچا اور وعدے کا پورا کرنے والا ہوسکتا ہے۔ اس جماعت نے قرآن مقدس کی ان آیتوں پر بھی غور سے نظر نہ کی جہاں خدائے قدوس کے وعدے کو تاکید کے ساتھ سچا کہا گیا ہے اور ارشاد ہے ’’اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ‘‘ (فاطر:۵)۔ یہ ارشاد قرآن مجید میں بہت جگہ ہے اس آیت نے عام طور سے اﷲ تعالیٰ کے وعدے کا سچا ہونا بیان کیا ہے اس سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ اس کے تمام وعدے سچے ہوتے ہیں اس کے سوا ایسی آیتیں بھی قرآن مجید میں بہت ہیں جن میں نہایت صفائی اور تاکید سے کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ وعدے کے خلاف ہر گز نہیں کرتا۔ ’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘ (الرعد: ۳۱) خدا تعالیٰ کا قول بدل نہیں سکتا۔ ’’مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ‘‘(قٓ:۲۹) اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کیسے بدیہی امور عقلی ونقلی مرزائیوں کے جواب کو غلط بتا رہے ہیں۔ مگر پھر بھی متنبہ نہیں ہوتے اسی تیرہ دونی کا کیا ٹھکانہ ہے؟

278

جھوٹ کافی ہے اور یہاں تو ان کے جھوٹوں کے علاوہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ نے انہیں کاذب بتادیا پھر مسلمان کو اس کے ماننے میں کیا عذر ہوسکتا ہے۔ مگر زیادہ توضیح کے لئے ان کے ایک اور نشان کو بھی ملاحظہ کیجئے جسے مرزا قادیا نی نے اپنے لئے بڑے فخر سے آسمانی شہادت ٹھہرایا ہے اور اس کے اشتہار واعلان میں بے حد کوشش کی ہے۔ اور اس کے بیان میں دفتر سیاہ کئے ہیں اور متعدد رسالوں میں بڑے زور سے اپنی صداقت میں اسے پیش کیا ہے۔

وہ شہادت یہ ہے کہ ۱۳۱۲ھ کے رمضان المبارک میں چاند گرہن اور سورج گرہن ہوا۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ رمضان میں ان دونوں گرہنوں کا اجتماع امام مہدی کی علامت ہے یعنی جب ایسا گرہن پایا جائے تو جان لو کہ امام مہدی کا ظہور ہوا۔ ان دنوں قادیانی جماعت میں اس کاتذکرہ بہت سنا جاتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں۔ اس کی مختصر کیفیت بیان کی جاتی ہے جس سے طالبین حق پر روشن ہوجائے گا کہ ۱۳۱۲ھ کا گرہن امام مہدی کی علامت ہرگز نہیں ہوسکتا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے غلط فہمی سے ایسا دعویٰ کیا یا ناواقفوں کو دھوکا دینا چاہا۔ اس کے وجوہ مجملًا پہلے ملاحظہ کرنے چاہئیں۔

پہلی وجہ: اس دعویٰ کی بنیاد مرزاقادیانی نے جس حدیث پر رکھی ہے وہ حدیث اس لائق ہرگز نہیں ہے کہ اس سے یہ عقیدہ ثابت کیا جائے کہ مہدی موعودکے وقت میں ایسے گرہنوں کا ہونا ضروری ہے اور وہ گرہن امام مہدی کی علامت ہیں۔ الغرض جب اس حدیث کے بے اصل ہونے پر نظر کی جاتی ہے تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ایسا ہی نظر آتا ہے جیسا پانی پر حباب یعنی بلبلا۔

دوسری وجہ: حدیث کے جو معنی اور مطلب مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں وہ محض غلط ہیں کوئی ذی علم اور مخصوص عربی عالم اور زبان عرب سے واقفیت رکھنے والا وہ معنی ہرگز نہیں کرے گا جو مرزا قادیانی نے کئے ہیں بلکہ مرزا قادیانی کے معنی کو بالیقین غلط بتائے گا۔ ہاں جو اپنے علم اور عقل کو مرزا قادیانی پر نثار کرکے معرا رہ گیا ہو اس کا ذکر نہیں ہے۔

تیسری وجہ: ۱۳۱۲ھ کا گرہن ایک معمولی گرہن تھا جو اپنے وقت پر ہوا اس طرح کے گرہن پہلے بھی بہت ہوچکے ہیں اور آئندہ بھی ہوںگے جیسا کہ عنقریب ظاہر ہوجائے گا۔ پھر ایک معمولی بات کو عظیم الشان امر کا نشان قرار دینا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے، پھر ایسی بے عقلی کی بات کو حضرت سرور انبیاءa کی طرف منسوب کرنا کسی صاحب عقل مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا۔

چوتھی وجہ: مذکورہ گرہن کو حدیث کا مصداق قراردینا بالکل غلط ہے حدیث کے چار جملے اسی غلطی کو نہایت صفائی سے ظاہر کرتے ہیں جس کی تشریح ناظرین آئندہ ملاحظہ کریں گے۔

279

پانچویں وجہ: مرزا قادیانی نے اس گرہن کے نشان بنانے کے لئے دعوی کی قید لگائی ہے اور یہ کہا ہے کہ رمضا ن کی ان تاریخوں میں دونوں گرہنوں کا اجتماع کسی مدعی رسالت ونبوت کے وقت میں نہیں ہوا۔

(ملخص حقیقۃ الوحی ص ۴ ۹ خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۲)

بلکہ اسی مہدی کے دعوی کے وقت میں ایسا ہوگا مگر یہ دعوی بھی کئی طریقے سے غلط ہے اول گرہنوں کے اجتماع کے لئے یہ قید لگانا کہ کسی مدعی رسالت ومہدویت کے وقت میں نہیں ہوا ہوگا۔ محض ایجاد بندہ ہے حدیث میں کوئی لفظ نہیں ہے جو اس کی طرف اشارہ بھی کرتا ہو۔ بلکہ حدیث میں نہایت صفائی سے صرف ان دونوں گرہنوں کو بے نظیر کہا ہے کہ جب سے دنیا ہوئی ہے ایسے گرہن کبھی نہ ہوئے ہوں گے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ خلاف روایت محض مرزا قادیانی کے اضافہ کو مان لیا جائے اگر کسی ذی علم قادیانی کو دعویٰ ہو تو اس قید کا ثبوت پیش کرے اور امام مہدی کی علامتیں جو مکتوبات۱؎امام ربانی اور فتوحات مکیہ وغیرہ میں لکھی ہیںانہیں پیش نظر رکھے۔ دوم یہ کہ کوئی معمولی بات اتفاقاً کسی دعوے کے وقت میں ہونے سے کسی عظیم الشان امر کا نشان نہیں ہوسکتی۔ سوم یہ کہ اس سے قبل بھی بعض مدعیان نبوت ومہدویت کے وقت میں اس قسم کے گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے۔ آئندہ اس کا ثبوت بیان ہوگا۔ اور بالفرض اگر اس کا ثبوت نہ ہو تو بھی مرزا کا دعویٰ ثابت نہیں ہوسکتا۔ ان کے دعوی کی غلطی دوسری دلیلوں سے ثابت کردی گئی ہے۔ اب ان پانچوں وجہوں کی تفصیل نہایت غور و تامل سے ملاحظہ کی جائے: پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ رمضان شریف کی ۱۳،۲۸ کو گرہنوں کا اجتماع معمولی بات ہے جس طرح کے گرہن مرزاکے دعوی کے بعد ہوئے اسی طرح ان کے دعوی کے قبل بھی ہوئے ہیں۔ جس طرح چاند گرہن کے لئے عادت اﷲ یہ ہے کہ تاریخ ۱۳، ۱۴، ۱۵ کو ہو، اور سورج گرہن ۲۷،۲۸،۲۹ کو ہو، اسی طرح یہ بھی عادت اﷲ ہے کہ دورہ مقررہ اور اوقات معینہ کے بعد دونوں کا اجتماع ایک ماہ میں ہو اب وہ مہینہ رمضان شریف کا ہو یا دوسرا۔ اگر علم کے ساتھ طلب تحقیق اور دل میں حق پسندی ہے تو علم ہیئت ونجوم کی کتابوں کو دیکھئے! اگر آپ بنظر تحقیق دیکھیں گے تو بالیقین میرے بیان کی تصدیق کریں گے۔

۱؎

ان دونوں کتابوں کا حوالہ اس لئے دیا گیا ہے کہ بعض ذی علم قادیانی انہیں نہایت معتبر سمجھتے ہیں اور اپنے مدعا کے ثبوت میں ان کا وحوالہ دیتے ہیں۔ القاء ربانی دیکھی جائے۔ ورنہ کوئی ضرورت نہ تھی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ دعوی نبوت یا رسالت کی قید لگانا قرآن مجید کے نصوص قطعیہ اور صحیح حدیثوں کے خلاف ہے کیوں کہ قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا پھر کوئی سچا مہدی مدعی نبوت کیوں کر ہوسکتا ہے؟

280

ناظرین! یہ امر ظاہر ہے کہ جس طرح علم رمل اور نجوم وغیرہ سے گذشتہ اور آئندہ کی خبریں معلوم ہوتی ہیں اور بہت رمال ونجومی وہ خبریں شائع کیا کرتے ہیں اسی طرح علم ہیئت اور نجوم کے ماہر گذشتہ اور آئندہ کے گرہنوں کو بیان کرتے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھا کرتے ہیں اس وقت میرے پاس اس فن کی دو کتابیں موجود ہیں مسٹر کیتھ کی کتاب ’’یوز آف دی گلوبس‘‘ اور حدائق النجوم۱؎ ‘ پہلی کتاب انگریزی میں ہے اور دوسری فارسی میں۔ ان دونوں کتابوں میں لکھنے کے وقت آئندہ گرہنوں کی فہرست دی گئی ہے۔ مسٹر کیتھ نے پورے سو برس کی فہرست دی ہے یعنی ۱۸۰۱ء سے ۱۹۰۰ء تک کی۔ مسٹر کیتھ کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ سو برس کے عرصہ میں پانچ مرتبہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہوا اور حدائق النجوم کی فہرست میں تریسٹھ برس کے اندر تین گرہنوں کا اجتماع رمضان شریف میں لکھا ہے۔ چونکہ یہ تین۲؎ اجتماع ایسے ہیں کہ دونوں کتابوں کے مؤلف اس پر متفق ہیں اور ان تین گرہنوں کے دیکھنے والے بھی اس وقت تک موجود ہیں اور ان گرہنوں کا ظہور بھی بالاتفاق ۱۳ رمضان شریف اور ۲۸ کو ہوا ہے اس لئے میں صرف پینتالیس برس کے گرہنوں کی فہرست ان دونوں کتابوں سے نقل کرتا ہوں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس قلیل مدت میں تین مرتبہ ایسے گرہنوں کا اجتماع رمضان میں ہوا پھر دنیا کی ابتداء سے اس کثیر مدت میں کس قدر ہوا ہوگا۔ اسے خیال کرو۔

282 سے 286 تک گرہنوں کے تفصیل نیچے لنک سے ملاحظہ فرمائیں

link

۱؎

یہ مبسوط کتاب فارسی زبان میں ہیئت فیسا غرسی کے بیان میں ۱۱۵۸ صفحوں پر ۱۳۵۶ھ میں مطبع محمدی لکھنؤ میں چھپی ہے اس وقت نہایت کم یاب ہے جو فہرست گرہنوں کی نقل کی گئی ہے وہ ص ۷۱۲ سے ص ۷۲۱ تک ہے اور مسٹر کیتھ کی کتاب کا جو نسخہ میرے پاس ہے وہ لندن میں ۱۸۶۹ء میں چھپا ہے اس کے ص ۲۷۳ سے ۲۷۶ تک یہ فہرست ہے یہ کتاب بھی ان دنوں کمیاب ہے۔

۲؎

یہ تقریر مرزا قادیانی کے خیال کے بموجب کی گئی ہے مگر ہر ایک ذی علم سمجھتا ہے کہ اگر اس اجتماع کو نشان قرار دیا جائے گا تو صرف ایک نشان ثابت ہوگا اور حدیث میں نہایت صاف طور سے دو نشانوں کی پیش گوئی کی ہے اور ہر ایک نشان کو بے نظیر کہا ہے اس لئے اگر ۱۳۔ تاریخ اور ۲۸ رمضان کو گرہن ہونا نشان ہے تو حدیث کے بموجب ہر ایک گرہن کو نشان ہونا چاہئے اور ہر ایک کو بے نظیر ہونا چاہئے مگر مذکورہ فہرست سے ظاہر ہے کہ نوے برس کے عرصہ میں چاند گرہن رمضان کے ۱۳ تاریخ کو پانچ مرتبہ ہوا یعنی ۱۲۶۳ھ اور ۱۲۶۷ھ اور ۱۲۹۱ھ اور ۱۳۱۰ھ اور ۱۳۱۱ھ اور ۱۳۱۲ھ ہے اور سورج گرہن ۲۸ رمضان کو ۴۶ برس میں چھ مرتبہ ہوا اور دونوں کا اجتماع ان تاریخوں میں تین مرتبہ ہوا۔ پھر کیا ایسے ہی گرہن نشان ومعجزہ ہوسکتے ہیں۔ ذرا ہوش کرکے جواب دو۔

281

یہ پینتالیس (۴۵) برس کے گرہنوں کی فہرست ہے جو حدائق النجوم فارسی اور مسٹر کیتھ کی انگریزی کتاب یوز آف دی گلوبس سے نقل کی گئی ہے۔ صرف سن ہجری کی مطابقت زیادہ کردی گئی ہے اس فہرست میں دو باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔

پہلی بات یہ ہے کہ اس فہرست سے معلوم ہوا: ماہر علم ہیئت اور نجوم نے خاص گرہن کے متعلق ایک سو چوبیس ۱۲۴ پیش گوئیاں کیں، اس طرح پر کہ ان کے ہونے کی تاریخ اور وقت بیان کر دیا اور یہ بھی بتادیا کہ گہن پورا ہوگا یا پورا نہ ہوگا اور اسی کے مطابق ظہور میں آیا، کیونکہ یہ کتابیں مدتوں سے چھپی ہوئی مشہور ہیں مگر کسی نے غلطی کا الزام نہیں دیا۔ جو گرہن اس وقت کے لوگوں کے سامنے ہوئے وہ اعلانیہ اس پیش گوئی کے مطابق پائے گئے، اسی پر ماہر ین علم رمل اور جفر کو قیاس کرنا چاہئے کہ وہ گذشتہ اور آئندہ ہر ایک بات کی خبر دیتے ہیں، اسی طرح علم کہانت ہے بیشتر عرب میں کاہن ہوتے تھے جو آئندہ کی خبریں دیا کرتے تھے میں نے رسالہ دلائل حقانی کی تیسری دلیل میں ایک بغدادی کاہنہ کا ذکر کیا ہے جس کی پیشنگوئیوں کا امتحان خراسان کے بادشاہ نے کیا، اہل کمال علماء نے تیس برس تک امتحان لیا اور اس کی سب پیش گوئیوں کو سچا پایا۔ اسی طرح علم رمل وغیرہ کے ماہرین کی پیشنگوئیاں بھی سچی ہوتی ہیں، مگر یہ ظاہر ہے کہ جس قدر انہیں ان علوم میں کمال اور تجربہ ہوگا اس قدر ان کی پیشنگوئیاں سچی ہوں گی۔ ممکن ہے کہ کسی کو ایسا کمال اور تجربہہو کہ اس کی ساری پیشنگوئیاں سچی نکلیں، اس کے غلط ہونے پر کوئی دلیل قرآن وحدیث میں نہیں معلوم ہوتی۱؎ ۔

۱؎

البتہ مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی میں اپنی قرآن دانی کے زعم میں قرآن شریف سے اس دعوی کو ثابت کرنا چاہتے ہیں اور آیت ذیل پیش کرتے ہیں۔ عالم الغیب ’’فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا۔ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘ (الجن:۲۶،۲۷)۔ یعنی اﷲ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا۔ بجز اس کے جسے اس نے اپنی رسالت کے لئے پسند کیا ہے۔ اس آیت سے یہ مطلب ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نبی اور رسول کے سوا کوئی غیب کی خبر نہیں دے سکتا۔ اور ظاہر ہے کہ پیش گوئی کرنا غیب کی خبر دینا ہے اس لئے پیش گوئی وہی کرے گا جو خدا کا رسول ہوگا۔ بھائیو ! یہ کیسی غلط فہمی یا مدہوشی ہے کہ محض غلط بات کو قرآن شریف کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ کیا تم اس سے واقف نہیں ہو کہ نجومی اور رمال وغیرہ پیش گوئیاں کیا کرتے ہیں پھر کیا یہ سب خدا کے رسول ہیں؟ خدا سے ڈر کر اس کا جواب دو۔ مرزا قادیانی کا بیان تو یہی کہہ رہا ہے کہ ان سب کو رسول ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہ لوگ پیش گوئی کرتے ہیں اور پیش گوئی کرنا غیب کی خبر دینا ہے اور غیب کی خبر وہی دیتا ہے جو خدا کا رسول ہے اس لئے جو پیش گوئی کرے وہ خدا کا رسول ہے۔ اب قادیانی جماعت سے کوئی دریافت کرے کہ مرزا قادیانی کی یہی قرآن دانی ہے کہ آیت کا مطلب ایسا غلط بیان کر تے ہیں جس کی غلطی کسی پر پوشیدہ نہیںرہ سکتی اور مخالفین اسلام کو پورے طور سے مضحکہ کا موقع ملتا ہے۔ اس آیت کے صحیح معنی میں نے فیصلہ آسمانی حصہ سوم مطبوعہ بار اول کے ص ۶۷، ۶۸ میں بیان کی ہیں وہاں دیکھنا چاہئے۔ غرض کہ قرآن مجید سے یہ ثابت کرنا کہ پیش گوئی رسول خدا کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، محض غلط ہے۔

287

اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ پیش گوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی مقدس کے لئے معیار صداقت ہوسکے کیوں کہ پیش گوئی ایسے انسان بھی کرتے ہیں جو مقدس نہیں ہیں اور ان کی پیش گوئیاں صحیح بھی ہوتی ہیں۔ البتہ انبیاء کرام علیہم السلام کی پیش گوئیاں سب سچی ہوتی ہیں ان میں غلط فہمی وغیرہ کا احتمال بھی نہیں ہوسکتا مگر چونکہ پیش گوئی کرنا اور اس کا سچا ہوجانا مشترک امر ہے اس لئے انہیں صداقت کا معیار نہیں کہہ سکتے۔ البتہ انبیاء کرام کی نبوت ورسالت چونکہ دلیلوںاور معجزوںسے ثابت ہوتی ہے اس لئے ان کی پیش گوئیاں سچی اور منجانب اﷲ ہوتی ہیں اور دلائل نبوت کی مؤید اور روشن کرنے والی۔ یہی وجہ ہے کہ جناب رسول اﷲa نے بہت پیش گوئیاں فرمائیں اور جن کا وقت گذرچکا وہ سب پوری ہوئیں۲؎ مگر آپ نے کسی وقت انہیں اپنی صداقت میں پیش نہیں فرمایا اور طالبین معجزے کو کسی پیش گوئی کا حوالہ نہیں دیا۔ قادیانی جماعت اس پر غور کرکے دیکھے کہ وہ کیسی غلطی میں پڑی ہے اور مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کو صداقت میں پیش کیا کرتی ہے حالانکہ ان کی اکثر پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ خصوصا وہ جنہیں انہوں نے نہایت ہی عظیم الشان کہہ کر اپنے دعوی کی صداقت میں پیش کیا تھا اس بیان میں سے دو طور سے مرزا کی ناراستی ثابت ہوئی۔

اول مرزا قادیانی (شہادت القرآن ص ۷۹ خزائن ج ۶ ص ۳۷۵) پر لکھتے ہیں کہ : ’’ پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں …جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ اﷲ جل شانہ کے اختیار میں ہے۔ ‘‘

یہ کیسا ناراست اور محض غلط دعوی ہے جسے کچھ بھی علم اور دنیا کی حالت پر نظر ہے وہ رمال اور نجومیوں کی پیش گوئیاں دیکھتا ہے۔ اور ان کے سچے ہونے کا تجربہ بھی کرتا ہے۔

۲؎

اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حدیبیہ والی پیش گوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی محض غلط ہے اس کی تفصیل میں میںنے ایک خاص مضمون لکھا ہے یہ جھوٹا الزام جماعت مرزائیہ کی زبان پر خوب مشق ہے۔ جہلاء کو بھی سکھلادیا گیا ہے جب کسی نے مرزا قادیانی کی غلط پیش گوئیاں پیش کیں تو یہی جواب دیتے ہیں کہ رسول اﷲa کی بھی بعض پیش گوئیاں غلط ہوئی تھیں۔ استغفر اﷲ! مرزا قادیانی نے تو اپنے بچاؤ کے خیال سے لفظ ’’وقت اندازکردہ ‘‘ زیادہ کیا تھا مگر عوام اس کو کیا سمجھ سکتے ہیں انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ جس طرح رسول اﷲa کی بعض پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئیں اسی طرح مرزا قادیانی کی بھی نہیں ہوئیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے حالانکہ یہ خیال محض غلط ہے۔ میں نے فیصلہ آسمانی کے حصہ سوم میں کتب سابقہ اور قرآن مجید سے ثابت کردیا ہے کہ سچے رسول کی ایک پیش گوئی بھی جھوٹی نہیں ہوسکتی جس کی ایک پیش گئی بھی جھوٹی ہوجائے وہ قطعا جھوٹا ہے۔

288

دوم مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ : ’’ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محکِ امتحان نہیں ہوسکتا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۸۸ خزائن ج ۵ ص ایضا)

صدا قت کا یہ معیار کسی نبی نے بیان نہیں فرمایا غرض کہ پیش گوئی کو صداقت کا معیار بتانا صادقوں کا کام نہیں ہوسکتا اور نہ پیش گوئی ہوسکتی ہے کیونکہ مختلف قسم کے انسان پیش گوئی کرتے ہیں پیش گوئی کرنا انبیاء سے مخصوص نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس قلیل مدت یعنی چھیالیس برس میں تین مرتبہ چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع رمضان شریف کی ۱۳ تاریخ اور ۲۸ میں ہوا۔

پہلا اجتماع گرہنوں کا

۱۲۶۷ھ میں جو مطابق ہے ۱۸۵۱ء کے۔ اس گرہن کا ظہور ہندوستان میں ہوا اور اس کے دیکھنے والے اس وقت تک موجود ہیں ان گرہنوں کی تاریخ وہی ۱۳۔ اور ۲۸ رمضان ہے جن تاریخوں کے گرہنوں کو مرزاقادیانی مہدی کا نشان کہتے ہیں۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر گیارہ یابارہ برس کی ہوگی کیوں کہ انہوں نے (کتاب البریہ ص ۱۵۹ خزائن ج ۱۳ ص ۱۷۷) میں اپنی پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء کی بتائی ہے غرضیکہ۱؎ یہ گرہن ان کے دعوی کے بہت پہلے ہے اس گرہن کا اجتماع رمضان کے ۱۳۔ ۲۸ کو ایسا صحیح ہے کہ دو ماہر فن نجوم کے لکھنے کے علاوہ نہایت معتبر اہل کمال اور بعض دیگر سن رسیدہ حضرات اپنا معاینہ ومشاہدہ بیان کرتے ہیں۔

۱؎

بعض نادان مرزائیوں کو دیکھا کہ وہ اس گرہن کو بھی مرزا قادیانی ہی کا نشان سمجھتے ہیں کہتے ہیں کہ ایک نشان دعوی سے قبل ہوا اور ایک بعد ہوا مگر یہ کہنا خود مرزا قادیانی کے قول کے خلاف ہے ان کے مریدین کو چونکہ راستی سے کچھ واسطہ نہیں ہے اس لئے ناواقفوں کے روبرو جیسا موقع دیکھتے ہیں ویسی بات بنادیتے ہیں۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو (ضمیمہ انجام آتھم کے ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰) میں مرزا قادیانی نے حدیث کا ترجمہ لکھا ہے اس میں وہ صاف لکھتے ہیں کہ وہ دونوں نشان مہدی کے وقت میں ہوں گے ۱۲۶۷ھ کا گرہن مرزا قادیانی کے ادعا کے وقت میں نہیں ہے بلکہ اس وقت میں ہے کہ اس دعوی کا انہیں خیال بھی نہ ہوگا۔ پھر(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۰، خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۴) پر لکھتے ہیں : ’’ نشانوں کو ظاہر کرنے کے لئے سنت اﷲ یہی ہے کہ وہ سچے مدعی کے دعوی کی تصدیق کے لئے ہوتے ہیں بلکہ ایسے وقت میں ہوتے ہیں جب اس مدعی کی تکذیب سرگرمی سے کی جائے ۔‘‘ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ : ’’ ان تحقیقات سے ثابت ہے کہ نشان کے لئے ضروری ہے کہ تکذیب کے بعد ظاہر ہو۔ ‘‘(ایضاً) اس آخر کے قول نے نہایت ہی وضاحت سے ثابت کردیا کہ ۱۲۶۷ھ کا گرہن مرزا قادیانی کے لئے نشان نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ وہ ان کے دعوے اور اس کی تکذیب سے بہت پہلے ہے البتہ مرزا قادیانی کے خیال کے موافق اگر اسے علامت کہا جائے تو علی محمد بابی کے لئے ہوگا کیوں کہ اس کے دعوی نبوت ومہدویت اور اس کی تکذیب کے بعد یہ گرہن ہوا ہے جس وقت اس کا خلیفہ اس کے دعوی کو روشن کررہا تھا یہ فرقہ اب تک موجود ہے۔ چنانچہ لندن، فرانس، امریکہ، کلکتہ، بمبئی او ر رنگون میں بھی اس کے پیرو ہیں۔ اور اب چھپرے میں آگئے ہیں اور ان کا سرگروہ عبد البہاء ہے لندن کے معزز میمن اس کے مرید ہوگئے ہیں۔ اس فرقہ کو بہائیہ کہتے ہیں اور بابی بھی کہتے ہیں۔

289

دوسرا اجتماع گرہنوں کا

۱۳۱۱ھ کے رمضان میں ہوا جو ۱۸۹۴ء کے مطابق ہے اس گرہن کا ظہور ہندوستان میں نہیں ہوا بلکہ امریکہ میں ہوا جس وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔ ہندوستانی جنتریوں میں اس چاند گرہن کی تاریخ ۱۲ ہے ۱۳ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے ہندوستان میں رہ کر اس کی تاریخ بھی ۱۳ بتائی ہے اور حقیقۃ الوحی میں اس گرہن کو بھی اپنا نشان بتایا ہے اور محض غلط حوالہ دے دیا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے وقت میں ایسے گرہن دو مرتبہ ہوںگے حالانکہ کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں ہے۔ اس صریح جھوٹ کے علاوہ اس گرہن کا وجود ہندوستان میں نہیں ہوا جہاں مرزا قادیانی کا وجود ہے بلکہ اس ملک میں ہوا جہاں ان کی طرح ایک دوسرا مدعی رسالت موجود ہے۔ ان کی عقل پر افسوس ہے کہ جو چیز ایک جھوٹے مدعی کے ملک میں اس کے دعوے کے وقت میں پائی جائے اسے مدعی صادق کی علامت کہتے ہیں۔

تیسرا اجتماع ۴۲ کا

۱۳۱۲ھ کے رمضان شریف کی ۱۳، ۲۸ مطابق ۲۶ مارچ کے ہوا۔ یہی گرہن ہے جسے مرزا قادیانی نے اپنے لئے آسمانی شہادت ٹھہرایا ہے اور دار قطنی کی روایت کا مصداق قرار دیا ہے۔ مگر یہاں غور کرنا چاہئے کہ چھیالیس برس کے گرہنوں میں یہ تیسری مرتبہ رمضان کی ۱۳، ۲۸ تاریخ کو دونو ں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے پھر یہ گرہن اس حدیث کا مصداق کس طرح ہوسکتا ہے جس کی نسبت حدیث میں نہایت صاف طور سے یہ ارشاد ہے۔’’لم تکونا منذ خلق اللّٰہ السموت والارض۔‘‘ (سنن دار قطنی ج ۲ ص ۶۵)

یہ جملہ حدیث کے شروع میں بھی ہے اور آخر میں بھی ہے۔ آخر میں لم تکونا کی ضمیر یقینی طور سے چاند گرہن اور سورج گرہن کی طرف پھرتی ہے کوئی دوسرا مرجع اس ضمیر کا نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس جملہ کے یہی معنی ہیں کہ جب سے آسمان وزمین اﷲ تعالیٰ نے پید ا کئے ہیں اس وقت سے لے کر اس مہدی کے وقت تک ایسا چاند گرہن اور سورج گرہن کبھی نہ ہوا ہوگا۔ یعنی وہ دونوں گرہن ایسے بے مثل اور بے نظیر ہوںگے کہ اس سے پہلے کسی وقت ان کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اس پر خوب نظر رہے کہ حدیث کے اس آخری جملہ میں خاص ان گرہنوں کو بے نظیر کہا ہے جن کا ذکر اس سے پہلے جملہ میں ہے اور اس سال کا گرہن تو ایسا ہے کہ جس کی ایک نظیر اس سے ایک سال پہلے یعنی ۱۳۱۱ھ میں موجود ہے پھر وہ بے نظیر کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور جب وہ

290

بے نظیر نہیں ہے تو دار قطنی کی حدیث کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ اور لطف یہ ہے کہ پہلی نظیر جس وقت اور جس ملک میں پائی گئی اس وقت اس ملک میں ایک مدعی رسالت یعنی مسٹر ڈوئی موجود ہے اگرچہ وہ جھوٹا ہے مگر جس گرہن کو مرزا قادیانی سچے رسول کی علامت بیان کرتے ہیں وہ علامت جھوٹے مدعی کے وقت اسی کے ملک میں پائی گئی۔ پھر یہ کیسے عقل پر پردے پڑے ہیں کہ وہ علامت جو نہایت صاف طور سے جھوٹے کے وقت اور اس کے ملک میں پائی جائے اسے سچے رسول کی نشانی کہا جاتا ہے افسوس ! بلکہ واقعات کا معاینہ کرکے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں گرہن یعنی۱۳۱۱ و۱۳۱۲ھ کے جھوٹوں کی نشانی ہوئی۔ پہلے امریکہ میں مسٹر ڈوئی کی علامت ہوئی اس کے ایک سال کے بعد ہندوستان میں مرزا قادیانی کی علامت کا ظہور ہوا۔ غرضیکہ دونوں جھوٹوں کے وقت میں یہ دونوں گرہن پائے گئے۔ جس سے اس طرف اشارہ ہوا کہ ان دونوں شخصوں سے ان ملکوں میں ایسی ہی تاریکی پھیل رہی ہے جیسے گرہن سے تاریکی ہوجاتی ہے مگر یہ گرہن صادق کی علامت اور حدیث کا مصداق کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ حدیث کا مصداق تو وہی گرہن ہوسکتا ہے جو بے نظیر ہو اور اس گرہن کی ایک نظیر ایک ہی برس پہلے موجود ہے اور دوسری نظیر پینتالیس برس پہلے گذرچکی ہے۔ غرضیکہ دو نظیریں چھیالیس برس کے عرصہ میں بالیقین موجود ہیں جن کے معاینہ اور مشاہدہ کرنے والے اس وقت تک زندہ ہیں۔ اور اگر نظر کو وسیع کرکے دیکھا جائے تو علم نجوم کے قاعدے کے رو سے ۱۱۷ھ سے ۱۳۱۲ھ تک اٹھارہ مرتبہ رمضان شریف کے انہیں تاریخوں میں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا کی ج ۲۷ میں گرہن کی حالت بیان کرکے ۷۶۳ برس قبل مسیح سے ۱۹۰۱ء تک کا تجربہ اس کے مطابق بیان کیا ہے اس کے بعد لکھا ہے کہ تجربہ سابق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر ثابت شدہ یا مانے ہوئے گرہن جس وقت اور جس مہینہ میں جس طور کا ہوگا ۲۲۳ برس کے قبل اور بعد بھی ان ہی خصوصیات کے ساتھ ویسا ہی دوسرا ہوگا۔

اب ـذیل کی مثال میں غور کرو کہ ۱۲۶۷ھ سے ۱۳۱۲ھ تک چھیالیس برس ہوتے ہیں۔ ان میں تین مرتبہ گرہنوں کا اجتماع رمضان کی ۱۳۔ ۲۸ کو ہوا۔ اور ان کے دیکھنے والے موجود ہیں۔ اب ان تینوں گرہنوں میں اس قاعدے کو جاری کرکے دیکھا جائے کہ کس کس وقت میں گرہنوں کا اجتماع رمضان کی ۱۳۔ ۲۸ کو ہوا ہے اور ان وقتوں میں کون کون مدعی تھا۔ ذیل میں اس کا حساب پیش کرکے ان مدعیوں کا نام بتاتا ہوں جو میرے علم میں ہیں اور واقع میں کتنے ہوئے ہیں اس کو زیادہ ماہرین تاریخ جان سکتے ہیں۔

292 اور 293 میں گرہنوں کے نقشے کی تفصیل نیچے لنک سے ملاحظہ فرمائیں

link

291

اس بیان سے نہایت روشن ہوگیا کہ ۱۳۱۲ھ کا گرہن امام مہدی کا نشان کسی طرح نہیں ہوسکتا کیوں کہ حدیث میں نہایت صفائی سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسا گرہن ہوگا کہ اس سے قبل جب سے زمین وآسمان پیدا ہوئے ہیں کسی وقت اس طرح کے گرہن نہ ہوئے ہوںگے۔ اور اب معاینہ اور صرف نجوم کے ایک قاعدہ سے معلوم ہوا کہ بارہ سو برس کے عرصہ میں اٹھارہ مرتبہ اسی قسم کے گرہن ہوئے۔ اور بعض مرتبہ ان گرہنوں کے وقت میں مدعی نبوت بھی تھے۔ اس لئے اس گرہن کو دارقطنی کی حدیث کا مصداق بتانا کسی راستباز صاحب عقل کا کام نہیں ہوسکتا۔ اسے خوب یاد رکھنا چاہئے کہ ان نقشوں کو دکھانا اور مدعیان نبوت کی نظیروں کو پیش کرنا ہمیں ضروری نہیں ہے مرزا قادیانی کے کذب ثابت کرنے کے لئے اس قدر کافی ہے کہ جس حدیث سے انہوں نے ایسا عظیم الشان دعوی ثابت کرنا چاہا ہے وہ حدیث صحیح نہیں ہے اور اگر صحیح ما ن لیا جائے تو اس کے وہ معنی ہرگز نہیں ہیں جو مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں۔ اس کی تشریح کامل طور سے بیان کی جائے گی۔ ان نقشوں کا پیش کرنا خیر خواہانہ نظر سے ہے تاکہ وہ کسی طرح سمجھیں۔

ان گرہنوں کے بے نظیر ہونے کے ثبوت میں میں نے اس روایت کا ایک جملہ اس سے پیشتر نقل کیا ہے۔ آئندہ بیان سے ظاہر ہوجائے گا کہ اس حدیث میں پانچ جملے ہیں اور پانچوں جملے ثابت کرتے ہیں کہ وہ گرہن بے نظیر ہوگا اور اس بے نظیر ہونے کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوسکتے کہ کسی مدعی کے پیدا ہونے اور اس کی کثرت اشتہارات سے وہ بے نظیر اورخرق عادت ہوجائے گا جیساکہ مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی وغیرہ میں لکھ رہے ہیں۔ اور اگر اس وقت کوئی مدعی نہ ہو گا تو وہ معمولی گرہن ہے ایسا دعوی کوئی فہمیدہ ذی علم نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ حدیث کے الفاظ صاف بتارہے ہیں کہ خاص وہ دونوں گرہن بے نظیر ہوںگے (حدیث کا وہ جملہ مع اس کی تشریح کے پہلے بیان ہوچکے ہیں) اس کے علاوہ ایک معمولی چیز کسی کے دعوی اور اشتہاروں سے بے نظیر نہیں ہوسکتی۔ اور نہ اس حدیث میں کوئی جملہ یا کوئی لفظ ایسا ہے جس سے اس مہدی کے دعوی کرنے اور اشتہارات تقسیم کرنے کا اشارہ بھی پایا جاتا ہو پھر یہ ایجاد بندہ کرکے حدیث میں داخل کرنا رسول اﷲa پر افتراء نہیں تو کیا ہے؟

ایک لاجواب سوال: یہ تو فرمایئے کہ جب اس طرح کے گرہنوں کا اجتماع ایک مقررہ قاعدہ ہے اور ہنود نے اور نصاریٰ نے اور مسلمانوں نے آئندہ گرہنوں کی فہرستیں لکھی ہیں اور چھپی ہوئی مشتہر ہیں تو اگر کوئی اس علم کا ماہر صرف اس قاعدے کو معلوم کرکے یا ایسی فہرست

294

اور جنتریاں دیکھ کر جن سے آئندہ کے کسوف وخسوف معلوم ہوتے ہیں اپنے وقت میں اس قسم کے گرہنوں کا ہونا معلوم کرلے اور دار قطنی والی حدیث بھی اس کے پیش نظر ہو۔ اور مرزا قادیانی کی طرح اسے عبارت کے بے تکے معنی بھی بنانا آتے ہوں اور شرارت سے مہدی ہونے کا دعوی کردے تو وہ مہدی ہوجائے گا ؟ اور اس پر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس قسم کی جنتری یا ایسی فہرست دیکھ کر یہ دعوی نہیں کیا بلکہ الہام سے کیا؟

مرزا قادیانی جو (حقیقۃ الوحی ص ۱۹۵ خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۲) پر اس دعوی کی صداقت میں یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ : ’’ بارہ برس پہلے اﷲ تعالیٰ نے مجھے اس نشان کی خبر دی تھی ۔‘‘ (خلاصہ)

مگر یہ محض غلط ہے بارہ برس پہلے خاص اس پیش گوئی کا ذکر مرزا قادیانی نے نہیں کیا۔ اور عام دعوی کرکے کسی خاص واقعہ کو اس کے ظہور کا مصداق بتانا کسی راست گو کا کام نہیں ہوسکتا۔ اور اگر حدائق النجوم وغیرہ دیکھ کر بارہ برس پہلے اس گرہن کا ہونا معلوم کیا ہو اور دار قطنی کی حدیث پر نظر پڑی ہو اس لئے انہوں نے بے سمجھے اپنا نشان بنانے کی کوشش کی اور غل مچادیا ہو تو عجب نہیں ہے۔ ان باتوں کے علاوہ ہم نے بطور احسان اور کمال خیر خواہی مذکورہ نقشوں میں بعض مدعیان نبوت کا نام بھی بتادیا جن کے وقت میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع مذکورہ تاریخوں میں ہوا اور مسٹر ڈوئی مدعی نبوت ان کے علاوہ ہے۔ اب مرزا قادیانی کے کاذب ماننے میں حضرات مرزائیوں کا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ طالبین حق کے لئے عالم واقعات میں صرف ایک نظیر صالح کی مرزا قادیانی کے ثبوت کذب کے لئے کافی ہے۔ اس نظیر نے مرزا قادیانی کو ہر طرح کاذب ثابت کردیا۔ کیوں کہ مرزا قادیانی کہتے تھے کہ مجھ سے پہلے کسی مدعی نبوت کے وقت میں اس قسم کا گرہن نہیں ہوا مگر صالح نے مرزا قادیانی کے اس دعوی کو غلط کردیاکیوںکہ اس کے وقت میں بھی اس قسم کا گرہن ہوا۔ اسی طرح ان کا یہ دعوی تھا کہ کوئی جھوٹا مدعی ۲۰ برس کامیاب نہیں رہتا بلکہ ذلت سے مارا جاتا ہے صالح باوجود کاذب ہونے کے ۴۷ برس خود بادشاہ رہا اور اس کی اولاد میں کئی سو برس تک سلطنت رہی۔ (رسالہ عبرت خیز احتساب قادیانیت جلد پنجم میں) ملاحظہ ہو۔ (انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ۴۹،۵۰،۶۳) ملاحظہ کیا جائے۔

اس بیان کے بعد ہم پختہ دعوی سے کہتے ہیں کہ ہمارے اس مختصر بیان سے جماعت مرزائیہ کو ماننا پڑے گا کہ ۱۳۱۲ھ میں جو چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہوا ہے یہ مرزاقادیانی یا کسی دوسرے مدعی مہدویت کی صداقت کا نشان نہیں ہوسکتا، اگر وہ

295

حدیث صحیح ہے تو اس کے وہ معنی نہیں ہیں جو مرزا قادیانی نے سمجھے ہیں۔حدیث میں جن گرہنوں کے اجتماع کو مہدی کا نشان بتایا ہے وہ ایسا ہونا چاہئے جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہو اور جو اجتماع حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے اس وقت تک سینکڑوں مرتبہ ہوگیا ہو وہ کسی کے صدق یا کذب کا نشان نہیں ہوسکتا مگر جس کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہو وہ آفتاب کو نہیں دیکھ سکتا جب تک پردہ آنکھوںسے نہ ہٹائے۔

الحاصل ! اس پر غور کیا جائے کہ اس مختصر تحریر سے مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت کیسی خاک میں مل گئی کتنی تحریروں اور رسالوں کا کافی جواب ہوگیا۔ جن کی آنکھیں ہوں وہ دیکھیں یہ بے بنیاد عمارت تھی جسے آپ افتادہ دیکھ رہے ہیں یہی نشان تھا جس پر مرزا قادیانی نے اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہی ہے اور جناب رسول اﷲa کے مقابلہ میں۔

(اعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳) میں لکھا ہے:

قصیدہ اعجازیہ کا نمونہ اور اس کے اعجاز کی حالت

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسا القمران المشرقان اتنکر

آنحضرتa۱؎ کے لئے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا نشان ہوا۔ اب تو کیاانکار کریگا اے انکار کرنے والے ! یعنی رسول اﷲa کے لئے تو صرف چاند گرہن ہوا تھا اور میرے لئے چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں ہوئے جو سچے مہدی کی نشانی ہے یعنی اس نشان میں مرزاقادیانی جناب رسول اﷲa سے بڑھ گئے اور ایک طور کی فضیلت ثابت ہوئی۔ نعوذ باﷲ منہ۔

الحمدﷲ فضیلت تو کیا ثابت ہوتی اصل صداقت ہی کا ثبوت نہ ہوا بلکہ آفتاب کی طرح روشن ہوگیاکہ مرزاغلام احمد قادیانی کا دعوی غلط تھا۔ معمولی طور سے گرہنوں کے اجتماع کو نہ رسول اﷲa نے کسی کی صداقت کا نشان بتایا ہے اور نہ ایسے واقعات کسی کی سچائی کی شہادت ہوسکتے ہیں خصوصا ایسے شخص کے لئے جس کے کذب پر متعدد شہادتیں اندرونی اور بیرونی ہوچکی ہوں جن کی زبان نے جن کے اعلانیہ اقرارنے اپنے آپکوکاذب ثابت کردیاہو۔’’فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ‘‘(الحشر:۲)

۱؎

مرزا قادیانی نے اپنے شعر کے ترجمہ میں بے ادبی کے الفاظ لکھے تھے اس لئے ان کے ترجمہ میں اصلاح کردی گئی باقی مطلب وہی ہے۔

296

یہاں جو شعر نقل کیا گیا ہے وہ اس قصیدہ کا شعر ہے جسے مرزا قادیانی اپنا معجزہ سمجھتے ہیں اور اس کا نام اعجاز احمدی رکھا ہے اور اتنا بڑا دعوی ہے کہ اسے تمام فصحاء کے کلام پر اور قرآن مجید پر بھی غالب کہتے ہیں۔ چنانچہ(اعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳)پر لکھتے ہیں :

  1. وکان کلام معجزایت لہ

    کذلک لی قول علی الکل یبہر

اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں۔ اس کے (یعنی رسول اﷲa کے) معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔

دیکھا جائے کس صفائی سے مرزا قادیانی اپنے کلام کو تمام کلاموں پر غالب بتارہے ہیں کوئی قید نہیں لگاتے اور رسول اﷲa کے کلام معجز یعنی قرآن مجید کا ــ ذکر کرکے کہتے ہیں کہ جو کلام مجھے دیا گیا ہے وہ سب پر غالب ہے۔ اب ان کے کلام کا عموم اور طرز بیان نہایت صاف بتارہا ہے کہ مرزا قادیانی کو دعوی ہے کہ میرا کلام قرآن مجید پر بھی غالب ہے یعنی اس سے عمدہ ہے اب ان کے مریدین بھی اسے معجزہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی اس کے مثل نہیں لکھ سکتا۔ اور جو لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ سال کے اندر مرجائے گا۔ اب یہاں دو باتیں قابل لحاظ ہیں۔ ناظرین غور سے ملاحظہ کریں۔

پہلی بات: مذکورہ دو شعروں میں مرزا قادیانی اپنی فضیلت دو طور سے بیان کرتے ہیں پہلے شعر میں یہ دعوی ہے کہ رسول اﷲa کا معجزہ صرف چاند گرہن تھا اور میرا معجزہ چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہے۔ دوسرے شعر میں اپنے کلام کو قرآن مجید پر غالب بتاتے ہیں اور یہ بھی دعوی ہورہا ہے کہ عرب سے عجم تک کوئی جواب نہیں لکھ سکتا اس صریح دعوے کے بعد اس کے اعجاز میں قیدیں لگائی ہیں انہیں دیکھئے !

دوسری بات: جس قصیدہ کو اعجاز قرار دیا ہے اس کے اعجاز کو بیس دن کے اندر محدود کیا ہے مولوی ثناء اﷲ صاحب کو لکھتے ہیں کہ بیس دن کے اندر اس کا جواب لکھ کر اور چھپواکر میرے پاس بھیج دو اگر اس مدت کے بعد آیا تو ہم ردی کی طرح اسے پھینک دیں گے اس اعجاز میں اول تو بیس دن کی قید لگائی دوسرے اس کے ساتھ ایک دھمکی دی کہ جو کوئی اس کے جواب لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ سال کے اندر مرجائے گا۔

اب ناظرین ان عظیم الشان دعوؤں کے بعد ان پیچدار باتوں میں غور کریں دعوی تو یہ تھاکہ میرا کلام سب پر غالب ہے اور عرب و عجم میں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ اس کے

297

بعد یہ کہنا کہ بیس روز کے اندر جواب چھپوا کر بھیج دو کیسی عام فریب بات ہے۔ اس میں اول تو یہ دیکھا جائے کہ بیس روز میں تو صرف ہندوستان میں اس دعوے کی اطلاع بھی نہیں ہوسکتی اور عرب وعجم تو بہت دور ہے۔ اگر کسی کو خبر پہنچنے کا دعویٰ ہے تو بتایئے کہ ۱۰ ستمبر ۱۹۰۲ء کے بیس روز پہلے تمام علماء ہند کے پاس کسی ذریعہ سے اطلاع دی گئی؟ آیا تار دیئے گئے یا خط بھیجے گئے ایسے انداز سے کہ بیس روز قبل انہیں اطلاع ہوگئی اور اطلاع کے بعد وہ لکھ نہ سکے مگر ایسا ہر گز نہیں ہوا۔ کوئی اس کو ثابت نہیں کرسکتا۔ بہت سے علماء کی شہادتیں پیش ہوسکتی ہیں کہ انہیں برسوں کے بعد اطلاع ہوئی کسی ذریعہ سے اور بعض کو اب تک بھی نہ ہوئی ہوگی۔ پھر یہ کہہ دینا کہ کوئی جواب نہیں دے سکا کیسا جھوٹا دعوی ہے۔ اب اگر اطلاع کے بعد جواب لکھنا اور پانچ جز کا چھپوا کر بیس روز کے اندر قادیان بھیج دینا کیسے ممکن ہے اگر کسی کو اطلاع ہوئی تو جواب لکھنے کا قصد بھی نہیں کرسکتا کیوںکہ جانتا ہے کہ اس مدت کے اندر ہم چھپواکر بھیج نہیں سکتے۔ کیوں کہ کوئی مطبع قابو میں نہیں ہے کہ ہمارے کہنے کے مطابق جلد چھاپ دے۔ جواب کے لئے دشواریاں سوچ کر اس کے لاجوابی کا دعویٰ کردیا۔ اور سمجھ لیا کہ اگر کوئی جواب لکھے گا بھی تو بالضرور اس مدت کے بعد آئے گا اور ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیں گے یہ کیسی صریح چالاکی کرکے بیوقوفوں پر اپنا اعجاز ثابت کرنا چاہتے ہیں اور جب یہ کہا گیا کہ اعجاز کے اندر یہ مدت کیسی ؟ جب کلام معجز ہے تو ہر وقت اور ہر حال میں اس کا معجز ہونا چاہئے جس طرح قرآن مجید کلام معجز ہے۔ یہ تخصیص اور تعیین وقت تو اعجاز میں نہیں ہوسکتی؛ تو بڑے خلیفہ قادیان اپنی کتاب میں یہ جواب دیتے ہیں کہ غلام احمد کو برابری کا دعوی نہیں ہے وہ اپنے آپ کو غلام احمد کہتے ہیں۔ وہ رسول اﷲa کے غلام ہیں اس لئے اپنے کلام کی نسبت وہ دعوی نہیں کرتے جو قرآن مجید کی نسبت کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن مجید میں یہ دعوی ہے کہ کسی وقت کوئی اس کے مثل نہیں لاسکے گا۔

مرزا قادیانی برابری کے خیال سے ایک مدت کی قید لگاکر دعوی کرتے ہیں تاکہ برابری نہ ہو۔ مگر خلیفہ قادیان کی یہ کیسی بددیانتی یا کمال درجہ کی نافہمی ہے کیوں کہ یہی غلام احمد اپنے رسالوں میں اپنے الہاموں میں بہت جگہ برابری کا دعوی کرتے ہیں اور کتنے مقام پر اپنی فضیلت کے مدعی ہیں مذکورہ دونوں شعر میں اپنی فضیلت نہایت صفائی سے دکھا رہے ہیں پہلے شعر میں اپنے آپ کو دوبالا کرنا چاہتے ہیں ایک خاص معجزہ میں یعنی رسول اﷲa کے لئے صرف چاند گرہن ہوا اور میرے لئے دو گرہن ہوئے۔ دوسرے شعر میں خاص قرآن مجید کے

298

اعجاز کا ذکر کرکے اپنے کلام کو لکھتے ہیں۔ وعلی الکل یبہر۔ یعنی سب پر غالب ہے۔ اس میں قرآن مجید بھی آگیا۔ یہاں دعوی غلامی کہاں چلا گیا ؟ یہاں تو فضیلت دکھائی جاتی ہے اس کے علاوہ غلامی کا اظہار اسی پر موقوف تھا کہ ایسی تنگ مدت مقرر کی جائے کہ اس میں لکھ کر اور چھپواکر کوئی ذی علم بھیج نہ سکے۔ غلامی کا اظہار تو اس طرح بھی ہوجاتا اور بڑی شان سے ہوتا کہ بیس دن کی جگہ بیس برس لکھ دیتے اور کہتے کہ اس دراز مدت کے اندر اس کا جواب لکھ کر یا لکھواکر بھیجو !

مگر ایسا نہیں کیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام کو دھوکا دینا مقصود تھا۔ اس کے سوامیں کچھ اور بھی دریافت کرتا ہوں۔ اس قصیدہ کو جو معجزہ مانا جاتا ہے اور کہا جاتاہے کہ قرآن مجید کی طرح اس کے مثل کوئی نہیں لاسکتا اس کا کیا مطلب ہے ؟ آیا یہ مطلب ہے کہ یہ کلام ایسا فصیح وبلیغ ہے کہ دوسرا نہیں لکھ سکتا یا اس کے مضامین ایسے عمدہ اور مفید خلائق ہیں کہ کوئی دوسرا ایسے مضامین نہیں لکھ سکتا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے؟۔ اگر اعجاز کی یہ وجہ ہے تو کیا بیس روز کے بعد اس کلام کی فصاحت وبلاغت اور مضامین کی خوبی کہیں چلی جائے گی؟ قادیانی اس کا جواب دیں اور اس بے عقلی کی بات پر شرمندہ ہوں۔ البتہ اگر اس اعجازکو کہیں کہ بیس روز کے بعد اس قصیدہ کی یہ خوبیاں سب سلب ہوجائیں گی اور یہ قصیدہ معرا رہ جائے گا جس طرح کوئی انسان عمدہ لباس پہنے ہو اور پھر کسی وجہ سے اس کا وہ لباس اتار لیا جائے اور وہ برہنہ رہ جائے اسی مرزا قادیانی کا عقیدہ اپنی خوبیوںسے معرا رہ گیا اگر یہی مدعا ہے تو میں بھی اسے تسلیم کرلوں گا کیوں کہ قادیانیوں کی عقل سے ایسی بیہودہ بات کہنا عجب نہیں ہے۔جب ان کے خیال میں پیش گوئیوں کا جھوٹا ہوجانا اور قرآن وحدیث سے ان کا کاذب ہونا ظاہر ہوجائے اور بایں ہمہ ان کے مریدوں کا انہیں نہ چھوڑناان کا بڑا معجزہ ہے تو اسے بھی معجزہ مانیں تو عجب نہیں ہے۔ حاصل یہ کہ اس قصیدہ میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کو اعجاز کہا جائے۔ اس میں نہ عمدہ مضامین ہیں اور نہ اس کی عبارت ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ دوسرا ذی علم نہیں لکھ سکتا۔ بلکہ ہر ایک ذی علم انہیں دیکھ کر بے تامل کہہ سکتا ہے کہ ان رسالوں میں نہ عمدہ مضمون ہے اور نہ فصیح وبلیغ عبارت ہے۔ اس قصیدہ میں مرزا قادیانی نے بجز اپنی تعلِّی اور دوسرے علماء اور بعض اولیاء اور بعض انبیاء کی مذمت کے اور کوئی مفید بات نہیں لکھی پھر وہ قرآن مجید کے مثل تو کیا ہوگا۔ شاہ ولی اﷲ ؒ اور مولوی فضل حق کے قصیدہ کی گرد کے مثل بھی نہیں ہے۔ جسے علم اور کچھ سمجھ ہو وہ دونوں کو ملا کر دیکھے اور ان کے دعویٰ علی الکل یبہر کوبھی پیش نظر رکھے۔

299

چونکہ مرزا قادیانی بھی اپنے قصیدہ کی ایسی حالت کو جانتے تھے۔ اس لئے اس کا اعجاز دوسری طرح سے دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ جو اس کے جواب لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ سال کے اندر مرجائے گا۔ اس دھمکی میں دو فائدے مرزا قادیانی نے سوچے ہوں گے۔ ایک یہ کہ اگر کوئی اس کے مضامین اور الفاظ کی لفظی غلطی بتائے تو یہ کہہ دیں گے کہ باوجود ان اغلاط کے یہ معجزہ ہے کیوں کہ اس میں یہ اعجاز ہے کہ اس کے جواب لکھنے کا جو ارادہ کریگا وہ ہلاک ہوگا۔ دوسرا فائدہ اس دھمکی میں یہ ہے کہ ضعیف الایمان تو جواب لکھنے کی طرف ہمت ہی نہ کرے گا اور قوی الایمان کو یہ خطرہ مانع ہوگا، اگر ہماری عمر اسی سال تک کی مقدر ہے جس میں ہم لکھنے کا ارادہ کریں تو اس سال مرنا ضرور ہے اب اگر جواب لکھ کر یا بیٹھنے کی حالت میں مرگئے تو مرزائی کہہ دیں گے کہ دیکھو مرزا قادیانی کی پیش گوئی کیسی صحیح ہوئی۔ اس لئے قوی الایمان بھی توجہ نہ کرے گا۔

مگر الحمد ﷲ یہاں ایسے قوی الایمان موجود ہیں کہ ایسے بیہودہ خیالات بھی ان کے پاس نہیں آئے اور اﷲ تعالیٰ پر پورا اعتماد کرکے اس کا جواب لکھ دیا اور سمجھ لیا کہ جس طرح نہایت عظیم الشان پیش گوئی یعنی منکوحۂ آسمانی والی پیش گوئی اﷲ تعالیٰ نے جھوٹی کرکے دنیا کو مرزا قادیانی کا کاذب ہونا دکھادیا اسی طرح اس پیش گوئی کا جھوٹا ہونا بھی اﷲ تعالی ظاہر کرے گا اور حق وباطل میں امتیاز کرکے دکھا دے گا، خدا کا شکر ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ کئی سال ہوئے کہ اس قصیدہ کے جواب میں نہایت عمدہ قصیدہ لکھا گیا ہے اور اس کے لکھنے والے بفضلہ تعالیٰ اس وقت تک مع الخیر ہیں اور دوسرے رسالہ میں اس قصیدہ کی غلطیاں دکھائی گئی ہیں اب میں پہلے اس شعر کا مہمل ہونا بطور نمونہ اس طرح بیان کرتا ہوں کہ کم علم حضرات بھی سمجھ سکتے ہیں۔

وہ یہ ہے کہ وہ عام وخاص اس بات کو جانتے ہیں کہ کوئی چاند گرہن رسول اﷲa کا معجزہ نہیں ہے اور نہ اس طرح کا گرہن معجزہ ہوسکتا ہے اور نہ قرآن وحدیث میں اس کا ذکر ہے۔ اب کوئی مرزائی بتائے کہ وہ کونسا چاند گرہن ہے جو رسول اﷲa کا معجزہ ہے جس کا ذکر کرکے مرزا قادیانی اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ جب کوئی چاند گرہن رسول اﷲa کے لئے معجزہ نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے تو مذکورہ شعر کا پہلا مصرعہ محض غلط اور مہمل ہوا اور دوسرے مصرعہ کی بنا پہلے مصرعہ پر ہے اس لئے وہ بھی غلط ہوا، اور بناء فاسد علی الفاسد ٹھہرے۔ اہل حق پر خدا تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ مرزا قادیانی کی زبان سے ایسی مہمل بات نکلی جس کا غلط ہونا عام حضرات بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی چاند گرہن رسول اﷲa کا معجزہ نہیں ہے اور اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ

300

یہاں چاند گرہن سے مراد معجزہ شق القمر ہے تو مرزا قادیانی بھی اسے جھوٹا بتاتے ہیں کیوں کہ پہلے مصرعہ کا ترجمہ وہ اس طرح کرتے ہیں: ’’ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا ۔‘‘

یہاں مرزا قادیانی نے ’’خسف القمر‘‘ کے معنی یہ نہیں کئے کہ چاند پھٹ گیا بلکہ یہ کہا کہ چاند کے خسوف کا نشان۔ خسوف کے معنی گرہن کے ہیں اب جو اس کے معنی چاند کا پھٹنا لے گا اسے مرزا قادیانی جھوٹا کہیں گے۔ اب اگر اس ترجمہ سے چشم پوشی کی جائے اور مان لیا جائے کہ معجزہ شق القمر یہاں مراد ہے تو اس شعر میں لفظی اور معنوی دونوں طرح کی غلطیاں ہوں گی کیوں کہ چاند کے پھٹ جانے کو خسوف قمر نہیں کہتے بلکہ شق القمر کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘(القمر:۱) یعنی قیامت قریب آئی اور چاند پھٹ گیا۔ یہاں خسف القمر نہیں فرمایا بلکہ انشق القمر ارشاد ہوا اور مرزا قادیانی قرآن کے خلاف خسف القمر کہتے ہیں۔

یہ تو عربی محاورہ کی غلطی ہوئی اور معنوی غلطی یہ ہے کہ اس شعر کے دوسرے مصرعہ میں اپنا معجزہ اور اپنی فضیلت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہوا اب کوئی ذی علم مرزائی بتائے کہ یہاں گرہن سے کیا مقصود ہے ؟ آیاگرہن ہی مراد ہے یا چاند اور سورج کا پھٹنا مقصود ہے؟۔ اگر پھٹنا مراد ہے تو کیامرزاقادیانی کے وقت میں ایسا ہوا ہے کہ چاند اور سورج دونوں پھٹ گئے ہوں؟ مگر سب جانتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہوا اور یہاں تو مرزا قادیانی نے جھوٹا دعوی بھی نہیں کیا کہ میرے لئے یہ نشان ہوا اور اگر چاند اور سورج کا گرہن مراد ہے جیسا کہ وہ ۱۳۱۲ھ کے گرہن کو اپنا نشان کہتے ہیں تو پھر اس کو معجزہ شق القمر سے کیا مناسبت ہوئی جو اس پر اپنی فضیلت دکھا رہے ہیں۔ شق القمر تو وہ عظیم الشان معجزہ ہے جس کے نشان اور معجزہ ہونے میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا۔ اور جس کا ثبوت قرآن مجید سے ہے اور معمولی گرہن کے معجزہ ہونے کو نہ کسی انسان کی عقل باور کرسکتی ہے اور نہ حدیث وقرآن سے اس کا ثبوت ہے اور اس کے ثبوت میں جو حدیث مرزا قادیانی نے پیش کی ہے اول تو وہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس کے علاوہ جو معنی اس کے بیان کئے گئے ہیں وہ محض غلط ہیں پھر کیا چیز دکھاکر اپنے مخالف کے انکار پر تنبیہ کررہے ہیں۔ اور اگر ایسے اجتماع خسوف وکسوف کو معجزہ فرض کرلیا جائے مرزا قادیانی کی خاطر سے، تو شق القمر ایسا بڑا معجزہ ہے کہ دوہزار ایسے خسوف وکسوف اس کے برابر نہیں ہوسکتے۔ دوگرہن کیا چیز ہیں غرض کہ ایسے ہی مہمل اشعار لکھ کر اس کا نام قصیدہ اعجازیہ

301

رکھا ہے۔ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کو نقل کرکے اس کی حالت اور اس کے معنی اور مختصر شرح کردی جائے جس سے مرزا قادیانی کی غلط فہمی یا فریب دہی اظہر من الشمس ہوجائے اور نمونہ کے طور پر ان کی غلطیاں بھی دکھادی جائیں۔

دار قطنی کی روایت

’’ عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمہدینا اٰیتین لم تکونا منذ خلق اللّٰہ السموات والارض تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذ خلق اللّٰہ السموات والارض‘‘ (دار قطنی ج ۲ ص ۶۵) عمر و بن شمر جابر سے اور جابر محمد بن علی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ زمین وآسمان کی پیدائش جب سے ہوئی کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا (اور وہ دو نشان یہ ہیں) چاند گرہن ہوگا رمضان کی پہلی رات میں (یا قمر کی پہلی رات میں جو مہینہ کی چوتھی شب ہے) کیوں کہ مہینہ کی راتوں میں یہ پہلی رات ہے جس کے چاند کو محاورہ عرب میں صرف قمر کہا جاتا ہے اس لئے قمر کی پہلی رات چاند کی چوتھی شب ہوئی اور سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا (یعنی چودہ یا پندرہ تاریخ کو)اور وہ چاند گرہن اور سورج گرہن ایسے ہیں کہ جب سے آسمان وزمین کو اﷲ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کبھی ایسے گرہنوں کا ظہور نہیں ہوا۔

حدیث کا مطلب صرف اسی قدر ہے جو میں نے بیان کیا۔ اس کے سوا مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ۹،۱۲ ۔خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۳، ۲۹۶) پر اور (حقیقۃ الوحی ص ۱۹۵ خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۲) پر اس روایت کے معنی اور بیان مطلب میں جو کچھ لکھا ہے وہ الفاظ حدیث کا مطلب ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی کی خیالی گھڑت ہے جس کو حدیث سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ مرزا قادیانی کے دعوی کی بنیاد دو امر پر ہے۔

اول۔ اس حدیث سے یہ نکالنا کہ چاند گرہن۱۳ تاریخ کو ہوگا اور سورج گرہن ۲۸ کو،

دوم۔ اس گرہن کے نشان ہونے کے لئے دعوی کی شرط بتانا اور یہ کہنا کہ یہ گرہن اگر کسی مدعی رسالت ونبوت کے وقت میں ہو اور وہ مدعی نہایت زور سے اپنے دعوی کے ثبوت میں اسے پیش کرے اس وقت یہ نشان ہے۔ یہ دونوں امر محض غلط ہیں کوئی قادیانی قیامت تک انہیں ثابت نہیں کرسکتا، مذکورہ روایت میں نہ گرہنوں کی یہ تاریخ ہے اور نہ کوئی لفظ ایسا ہے جس سے اشارتہً یا کنایتہً بھی ثابت ہوتا ہو کہ وہ مہدی دعویٰ بھی کرے گا اور ایک معمولی گرہن کو اپنا نشان

302

بتائے گا، سچے مہدی کی شناخت دعویٰ پر موقوف نہیں ہے کیوں کہ دعویٰ کرنے والے تو بہت سے جھوٹے مہدی گذرگئے اس لئے دعویٰ کرنا شناخت کا باعث نہیں ہوسکتا البتہ اس کا صلاح وتقوی اس کی فتح مندی اور فیروز مندی اس کی صحبت کا عمدہ اثر اور اس کی ذات سے مسلمانوں کو خلاف امید بہت کچھ فائدے پہنچنا یہ امور اسے متعین کردیں گے اور حدیثوں میں جو علامتیں مہدی کی بیان ہوئی ہیں ان کے پائے جانے سے ان کی کامل شناخت ہوجائے گی جس طرح اس تیرہ صدی میں بہت مجدد ہوئے اور انہوں نے مجدد ہونے کا دعوی نہیں کیا مگر علماء حقانی نے انہیں مجدد کہا اور مہدی کے نشان تو بہت بڑے بڑے ہوں گے۔ ان کی حالت دیکھ کر علماء اور جو واقف کار ہیں بے اختیار انہیں مہدی کہیں گے۔ روایت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دعوی کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی، حضرت مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں:

  1. عبارت مکتوبات

    مطلب

  2. ’’ جماعت از نادانی گمان کنند شخصے را کہ دعوی مہدویت نمودہ بود از اہل ہند مہدی موعود بود است پس بزعم ایں مہدی گذشتہ ست وفوت شدہ ونشان می دہند کہ قبرش در فرہ است در احاد یث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است چہ آن سرور علیہ وعلی الہ والصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است در احادیث کہ در حق آن شخص کہ معتقد ایشان است آن علامات مفقود اند در احادیث نبوی آمدہ است علیہ وعلی الہ الصلوٰۃ والسلام کہ مہدی موعود بیرون آید وبرسروے پارۂ ابر کہ بود دراں ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں شخص مہدی ست او را متابعت کنید ۔‘‘(مکتوبات ۶۷ امام ربانی ج ۲ ص ۱۹۰)

    ہندوستان میں ایک شخص(محمدجونپوری) نے مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا اور نادانوں کی ایک جماعت نے اسے مہدی موعود مان لیا تھا ان کے خیال کے بموجب امام مہدی گذرگئے اور ان کی قبر مقام فرہ میں ہے مگر صحیح اور متواتر حدیثیں اس گروہ کو جھوٹا بتاتی ہیں۔ کیوں کہ جناب رسول اﷲa نے امام مہدی کی جو علامتیں بیان کی فرمائی ہیں وہ اس میں نہیں پائی جاتیںجسے یہ گروہ مہدی موعود ما ن رہا ہے۔ مثلا حدیث میں آیا ہے کہ مہدی موعود جب ظاہر ہوں گے تو ان کے سر پر ابر کا ٹکڑا ہوگا اور اس میں ایک فرشتہ بآواز بلند کہتا ہوگا کہ یہ شخص مہدی ہے اس کی پیروی کرو۔

حضرت مجدد الف ثانی وہ بزرگ ہیں جنہیں قادیانی جماعت کے لوگ بھی اسی طرحمجدد عالی مرتبہ مانتے ہیں جس طرح اور مسلمانوں کی بڑی جماعت مانتی ہے جب انہوں نے مہدی کی علاما ت میں یہ بھی لکھا کہ ان کے سر پر ابر کا ٹکڑا ہوگا اور اس پر سے فرشتہ اعلانیہ پکار کر کہے گا کہ یہ مہدی ہیں انہیں مانو ! پھر مہدی کو دعوی کرنے اور اشتہارات چھپوانے اور تقسیم کرنے

303

کی کیا ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ جب وہ دنیا کے روحانی اور جسمانی بادشاہ ہوکر مسلمانوں کو فائدہ پہنچائیں گے تو بے اختیار مسلمان انہیں مہدی کہیں گے۔ اب مذکورہ حدیث دارقطنی کے راویوں کی اور اس کے الفاظ کی تشریح کی جاتی ہے۔ غور سے ملاحظہ فرمایا جائے۔

تشریح: اس حدیث کے سلسلہ رواۃ میں سے میں نے تین شخصوں کا نام لکھا ہے عمرو بن شمر اور جابر اور محمد بن علی۔ ان میں پہلا راوی محدثین کے نزدیک بڑا جھوٹا ہے جھوٹی حدیثیں روایت کیا کرتا تھا۔ اس کی روایت اس قابل نہیں ہے کہ نقل کی جائے۔ میزان الاعتدال ج ۵ ص ۳۲۴ پر اس کی نسبت لکھا ہے: (۱) لیس بشی۔(۲) زائغ۔ (۳) کذاب۔ (۴)۱؎رافضی۔ (۵) یشتم الصحابۃ۔ (۶) ویروی الموضوعات عن الثقات۔ (۷) منکر الحدیث۔ (۸) لایکتب حدیثہ۔ (۹) متروک الحدیث۔ دیکھا جائے کہ علامہ شمس الدین ذہبی نے جو فن رجال کے امام ہیں وہ اس راوی کی مذمت میں نو جملے لکھتے ہیں جن سے مختلف طور سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ راوی ہر گز اس لائق نہیں ہے کہ اس کی روایت قابل اعتبار ہو۔ ’’کشف الاحوال فی نقد الرجال‘‘ میں بھی اس کی مذمت ہے۔ غرض کہ انتہا درجہ کی مذمت اس کی محدثین نے کی ہے۔ دوسرا راوی جابر ہے اس نام کے بہت راوی ہیں مثلا ایک جابر جعفی ہے جس کی نسبت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ مجھے جس قدر جھوٹے ملے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں ملا۔ تہذیب التہذیب ج ۱ ص۳۵۳ ملاحظہ ہو۔ اور دار قطنی کے حاشیہ التعلیق المغنی ج ۲ ص ۶۵ پر ان دونوں راویوں کی نسبت لکھا ہے کہ یہ دونوں ضعیف ہیں ان کی بات اعتبار کے لائق نہیں ہے۔

اب دیکھا جائے کہ پہلا راوی تو یقینا جھوٹا کذاب ہے دوسرا راوی بالکل محتمل ہے تیسراراوی محمد بن علی ہیں مگر محمد بن علی بھی بہت ہیں اس لئے اس کی تخصیص کہ یہ کون سے محمد بن علی ہیں کسی طرح نہیں ہوسکتی، ہر جگہ یہ کہہ دینا کہ اس کے راوی امام باقر ہیں بلا دلیل اور زبردستی ہے۔ عجب نہیں کہ اس کذاب نے اپنا جھوٹ پوشیدہ رکھنے کے لئے ناموں کو صراحت سے بیان نہ کیا ہو اور ایسا نام لے دیا جس سے محب اہل بیت حضرت امام باقر کو راوی سمجھیں۔ کیوںکہ یروی الموضوعات عن الثقات اس کی صفت تھی یعنی ثقہ لوگوں کے نام سے موضوع حدیثیں روایت کرتا تھا۔ جب اس کا یہ حال محدثین بیان کرتے ہیں تو اس کے قول پر کیونکر اعتبار ہوسکتا ہے ؟

۱؎

کذاب الخ یعنی بڑا جھوٹا ہے۔ رافضی ہے ثقہ لوگوں سے موضوع حدیث روایت کرتا تھا۔ اس کی حدیث اس قابل نہیں ہے کہ لکھی جائے۔ جس راوی کی یہ حالت ہو اس کی روایت سے مرزا قادیانی اپنا دعوی ثابت کررہے ہیں۔ افسوس اس بے عقلی پر۔

304

اور اگر فرض کرلیا جائے کہ امام باقر ہی اسے روایت کرتے ہیں مگر وہ اس قول کو رسول اﷲa کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کا مقولہ ہے بطور کشف انہیں ایسا معلوم ہوا ہو اور انہوں نے بیان کیا۔ اولیاء اﷲ کو کشف ہوتا ہے مگر ان کا کشف لائق حجت نہیں ہوتا۔ اب کوئی قادیانی اس کی وجہ پیش کرسکتا ہے کہ روایت مذکورہ امام ممدوح کا کشف نہیں ہے بلکہ حدیث رسول اﷲ ہے ؟ میں بالیقین کہتا ہوں کہ کوئی وجہ لائق توجہ اس کی نہیں ہوسکتی۔ حاصل یہ کہ جس طرح راوی کے جھوٹے ہونے کی وجہ سے یہ روایت لائق حجت نہیں ہے اسی طرح اس احتمال کی وجہ سے قابل حجت نہیں ہے۔ دار قطنی نے ایک احتمال کے لحاظ سے اسے روایت کیا ہے مگر طرز بیان یہ بتارہا ہے کہ وہ اس حدیث کے مضمون کو دوسری صحیح حدیث کے مخالف کہتے ہیں۔ اور جب اس کا مضمون حدیث صحیح کے خلاف ہوا تو بالضرور یہ حدیث صحیح نہ ہوئی۔ وہ طرز بیان یہ ہے کہ اس روایت کے بعد ہی ایک صحیح حدیث دار قطنی ج ۲ ص ۶۵ پر نقل کرتے ہیں جو مرفوع ومتصل ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہما میں متعدد صحابہ سے مختلف طور سے منقول ہے اس حدیث کا مضمون پہلی روایت کو غلط بتارہا ہے۔ وہ حدیث یہ ہے:

عن عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان الشمس والقمر اٰیتان من اٰیات اللّٰہ لا ینخسفان لموت احد ولا لحیاتہ ولکنہما اٰیتان من اٰیات اللّٰہ فاذا رایتموہا فصلوا۔

اس کا حاصل یہ ہے کہ گرہن کا ہونا کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں ہوتا یعنی گرہن اس لئے نہیں ہوتا کہ کوئی بڑا شخص مرگیا یا کوئی بڑا شخص پیدا ہوا (مثلا کوئی مجدد وقت یا مہدی زماں) بلکہ ان کا ہونا صرف اﷲ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت کی دلیل ہے جب اسے دیکھو تو نماز پڑھو یعنی اﷲ کی طرف خاص طور سے متوجہ ہوجاؤ، اس حدیث میں غور کرنے سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں ایک یہ کہ سورج اور چاند کا وجود اور ان دونوں کا گرہن خدا تعالیٰ کے وجود کی علامت اور اس کا نشان ہے دوسرے یہ کہ دونوں گرہن اﷲ تعالیٰ کے وجود کے سوا کسی دوسرے کے ہونے یا نہ ہونے کے نشان نہیں ہیں جملہ لاینخسفان الخ اس کو بخوبی ثابت کرتا ہے۔ اس لئے یہ صحیح حدیث نہایت روشن طریقے سے ظاہر کرتی ہے کہ پہلی روایت جس میں خاص طور کے گرہن کو مہدی کے وجود کا نشان ٹھہرایا ہے صحیح نہیں ہے کیوں کہ اس میں مخصوص گرہنوں کو مہدی کا نشان بتایا ہے حالانکہ عام طور پر گرہن صرف اﷲ تعالیٰ کے وجود کا نشان ہے کسی مہدی یا رسول اﷲ کا نشان نہیں ہے۔

اب نہایت ظاہر ہے کہ جو روایت اپنی سند اور راویوں کے اعتبار سے نہایت مخدوش

305

ہو اور پھر اس کا مضمون بھی صحیح حدیث کے مخالف ہو تو وہ روایت صحیح نہیں ہوسکتی۔ اس لئے دار قطنی نے اس صحیح حدیث کو مذکورہ حدیث کے بعد ذکر کرکے اس کی عدم صحت کو ایک خوبی سے ظاہر کردیا۔ یہ کہنا کہ حدیث کی صحت کو معاینہ نے ثابت کردیا۱؎ سخت مغالطہ ہے ہمارے بھائی ذرا تامل سے خیال کریں کہ معاینہ اگر ہوا تو گرہنوں کا ہوا اس سے حدیث کی صحت کیوںکر ہوگئی ؟ گفتگو اس میں ہے کہ اس طرح کا گرہن مہدی کی علامت ہے یا نہیں ؟ یعنی جناب رسول اﷲa نے یہ فرمایا ہے کہ اس قسم کا گہن مہدی کی علامت ہے یہ نہیں فرمایا۔صرف کذاب راوی نے روایت کو بنالیا ہے۔ اب فرمایئے کہ رسول اﷲa کا ارشاد کس نے دیکھا ہے ؟ جو بڑے زور سے کہا جاتا ہے کہ حدیث کی صحت کو چشم دید نے ثابت کردیا۔ نہایت روشن ہے کہ گرہنوں کو دیکھنے سے حدیث کی صحت کسی طرح ثابت نہیں ہوسکتی۔ ایسے بدیہی مظالطے مرزا قادیانی دیتے ہیں مگر ان کی عقل پر کمال افسوس ہے کہ باوجود علم کے ایسی صریح غلطی پر متنبہ نہیں ہوتے اور آنکھ بند کئے مرزا قادیانی کے پیرو ہیں۔ بت پرستوں کی طرح مرزا پرستی ہورہی ہے۔

۱؎

مرزا قادیانی ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۹ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۳ پر اس روایت کی صحت پر بڑا زور لگایا ہے مگر بجز زبردستی اور مغالطہ دہی کے اور کچھ نہیں کیا۔ لکھتے ہیں کہ’’ حدیث نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کردیا ہے کیوں کہ اس کی پیش گوئی پوری ہوگئی ‘‘ بھائیو ! گفتگو اس میں ہے کہ یہ پیشگوئی رسول اﷲa نے کی ہے یا نہیں کی ؟ اب یہ کہنا کہ پیش گوئی پوری ہوگئی کیسی نادانی یا مغالطہ دہی ہے۔ پہلے یہ ثابت کرو کہ رسول اﷲa نے پیشگوئی کی تھی اس کے بعد اس کے پورا ہونے کو دیکھا جائے گا۔ اس کے ثبوت کا تو ذکر ہی نہیں کرتے، یہ کہتے ہیں کہ پیش گوئی پوری ہوگئی۔ دنیا میں ہر قسم کے واقعات ہوا کرتے ہیں اور ان میں بعض وقت اتفاقیہ خصوصیتیں بھی ہوجایا کرتی ہیں پھر اس سے کوئی کاذب یہ ثابت کرسکتا ہے کہ یہ پیغمبر کی پیش گوئی تھی اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ ثابت ہولے کہ اس واقعہ کی خبر ر سول اﷲa نے دی ہے اس کے بعد اس کے پورا ہونے کو دیکھا جائے گا۔ بھائیو ! یہاں اس کا ثبوت نہیں ہوتا کہ رسول اﷲa کی یہ پیشگوئی ہے پھر اس کا پورا ہونا چہ معنی دارد ؟ بھائیو ! ذرا دیکھو تو یہ کیسا صریح مغالطہ ہے کیا سچے مجدد اور انبیاء ایسے ہی مغالطے دیاکرتے ہیں۔ مرزائیو ں میں شاید یہ بھی منہاج نبوت یا معیار نبوت ہوگی جماعت مرزائیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۹ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۳ دیکھ کر فرمائے کہ اب احمق اور جنگلی وحشی کون ہے ؟مولوی عبدالحق صاحب یا وہ جو جھوٹی روایت کو بلا دلیل زبردستی سچا کہے۔ یہ بھی کہئے کہ گندہ جھوٹ کس کا ثابت ہوا ؟۔ مولوی عبد الحق کا یا اس کا جو بغیر کسی ثبوت کے ایک واقعہ کو رسول اﷲa کی پیش گوئی بلاسند کہہ رہا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ پیش گوئی کے جو معنی مرزا غلام احمد قادیانی بیان کرتے ہیں اس کا ظہور تو جناب رسول اﷲa کے بعد سے اب تک بہت مرتبہ ہولیا ہے اور بعض وقت مدعی مہدویت بھی پائے گئے ہیں۔ نمونہ ہم نے دکھا دیا اب قادیانی جماعت اس میں غور کرے اور اس فن کی کتابوں کو دیکھے صرف مرزا قادیانی کے کہنے پر ایمان نہ رکھے ورنہ شرمندگی ہوگی۔

306

مرزا قادیانی کی مغالطہ دہی

بھائیو ! میں قطعی اور یقینی طور سے کہتا ہوں کہ کوئی قادیانی یہاں سے قادیان تک اس روایت کی صحت ثابت نہیں کرسکتا اور اس کی صحت کے بیان میں مرزا قادیانی نے جو مغالطے دیئے ہیں ان کے صریح مغالطہ ہونے میں کسی فہمیدہ کو تامل نہیں ہوسکتا۔ اب ذرا ہوش کرکے اس کو معلوم کرلینا چاہئے کہ بیان سابق سے کامل طور سے ثابت ہوا کہ نشان مہدی کی مذکورہ روایت پانچ وجہ سے لائق حجت اور قابل اعتبار نہیں ہے۔

پہلی وجہ: اس کا ایک راوی عمر و بن شمر بڑا جھوٹا ہے اپنی طرف سے روایتیں بناکر بزرگوں کی طرف منسوب کردیتا تھا۔

دوسری وجہ: اس کا دوسرا راوی جابر ہے وہ بھی لائق اعتبار نہیں ہے۔

تیسری وجہ: اس روایت کا خاص بیان کرنے والا محمد بن علی مجہول ہے یعنی معلوم نہیں ہوتا کہ کون محمد بن علی ہے کیونکہ اس نام کے کئی ہیں اور مجہول کی روایت اعتبار کے لائق نہیں ہوتی،

چوتھی وجہ: اگر مرزاغلام احمد قادیانی کے خیال کے مطابق مان لیا جائے کہ محمد بن علی سے مراد امام باقرؒ ہیں تو الفاظ صاف طور سے یہ کہہ رہے ہیں کہ روایت کا بیان حدیث رسول اﷲa نہیں ہے بلکہ خود امام صاحب کا کشفی مقولہ ہے جیسا کہ اولیاء اﷲ کو ہوا کرتا ہے اور بعض وقت اہل اﷲ اپنے کشف سے پیشگوئی کردیتے ہیں مگر اولیاء اﷲ کے کشفی امور حجت اور دلیل نہیں ہوتے۔ اور صریح الفاظ کے خلاف امام صاحب کے مقولہ کو رسول اﷲa کا قول لکھنا کسی حق پسند کے لائق توجہ نہیں ہوسکتا۔ الغرض اول تو یہ روایت راویوں کے لحاظ سے اعتبار کے لائق نہیں ہے اور اگر اس سے قطع نظر کی جائے تو الفاظ روایت کہہ رہے ہیں کہ یہ مقولہ رسول اﷲa کا نہیں ہے جو قابل حجت ہو۔

پانچویں وجہ: یہ کہ حدیث صحیح کے خلاف ہے کیوںکہ حدیث صحیح تو یہ بتارہی ہے کہ گرہن صرف قدرت خدا کا نمونہ ہے کسی کی پیدائش اور مرنے کا نشان نہیں ہے اور یہ روایت مرزا قادیانی کے قول کے بموجب یہ کہتی ہے کہ یہی معمولی گرہن رمضان کی خاص تاریخوں میں مہدی کے ہونے کا نشان ہے اس لئے یہ روایت صحیح حدیث کے خلاف ہوئی۔ اور جو روایت یا قول صحیح حدیث کے خلاف ہو وہ اعتبار کے لائق نہیں ہے، روایت کی سند کی حالت اور مرزا قادیانی کی دیانت کو ظاہر کرکے ہم اس روایت کے ہر ایک لفظ کی تشریح کرتے ہیں تاکہ ان کی قابلیت پر

307

پوری روشنی پڑے اور طالبین حق پر ان کی غلطیا ں اور زبردستیاں روشن ہوجائیں۔ روایت کا ہر ایک جملہ علیحدہ علیحدہ کرکے اس کے معنی بیان کئے جائیں گے ملاحظہ ہو۔

(۱) حدیث میں اول جملہ یہ ہے: ’’لمہدینا اٰیتین۔‘‘ ہمارے مہدی کے لئے دو نشانیاںہیں۔ اس میں اول تو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مہدی سے کون مراد ہے چونکہ یہ حدیث ہے اس لئے حدیثوں ہی میں اس کی تفسیر دیکھنا چاہئے۔

الحمدﷲ حدیثوں میں اس کی کامل تفسیر اور تسلی بخش شرح موجود ہے اور علماء سابقین نے خاص اس بیان میں رسالے لکھے ہیں شیخ علی متقی کا ایک مبسوط رسالہ جس کا نام (۱) ’’البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان‘‘ ہے اس وقت میرے سامنے رکھا ہے اس میں کافی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مہدی آل رسول حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے اور ان کے وجود کی علامتیں بھی شرح وبسط کے ساتھ بیان کی ہیں اسی طرح شیخ ابن حجر ہیثمی مکی نے (۲) ’’فتاوی حدیثیہ‘‘ میں مہدی آخر الزمان کی علامات بیان کئے ہیں۔ یہ فتاوی مصر کا چھپا ہوا موجود ہے اس کے ص ۲۷ سے ۳۲ تک دیکھا جائے شیخ ممدوح نے امام مہدی کے بیان میں خاص رسالہ لکھا ہے جس کا نام (۳) القول المختصرفی علامات المہدی المنتظر ہے (۴) امام قرطبی نے اپنے رسالہ تذکرہ میں امام ممدوح کے حالات اور علامات بیان کئے ہیں (۵) اور امام عبد الوہاب شعرانی ؒنے اس کا مختصر کیا ہے وہ ۱۳۱۶ھ (مطابق ۱۸۹۹ء)کا مصر میں چھپا ہوا موجود ہے (۶) امام ربانی حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی نے اپنے مکتوبات میں امام ممدوح کی علامتیں بیان کی ہیں۔ اگر حق طلبی اور کچھ خوف خدا ہے تو ان رسالوں کو دیکھئے ان سے بخوبی ظاہر ہوجائے گا کہ حدیث میں جن کو مہدی کہا گیا ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز نہیں ہوسکتے کیوں کہ جس قدر علامتیں امام مہدی کی ان رسالوں میں حدیثوں سے بیان کی ہیں ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ مثلا وہ دنیاکے اور خصوصا عرب کے مالک وبادشاہ ہوںگے اہل بیت رسول اﷲa اور بنی فاطمہ سے ہوں گے صحیح ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ :

’’ قال رسول اللّٰہa لاتذہب الدنیا حتی یملک العرب رجل من أہل بیتی یواطی اسمہ اسمی‘‘ (ترمذی ج ۲ ص ۴۷ واللفظ لہ ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۱)

رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ دنیا فنا نہ ہوگی۔ اس وقت تک کہ ایک شخص میرے اہل بیت سے عرب کا بادشاہ نہ ہو (پھر اس کی ایک علامت یہ فرماتے ہیں) اس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا یعنی اس کا نام محمد ہوگا۔

308

دوسری روایت میں ہے کہ اس کے باپ کا نام میرے باپ کے مطابق ہوگا۔ یعنی اس کے باپ کا نام عبداﷲ ہوگا۔ اس حدیث میں امام مہدی کی چار علامتیں نہایت صاف طور سے مذکور ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ عرب کے بادشاہ ہوںگے۔ دوسری یہ کہ رسول اﷲa کے گھر کے لوگوں میں ہوں گے۔ یعنی حضرت امام حسن اور امام حسینؓکی اولاد میں ہوںگے۔ تیسری یہ کہ ان کا نام محمد ہوگا۔ چوتھی یہ کہ ان کے باپ کا نام عبداﷲ ہوگا۔

بھائیو! اب بتاؤ کہ تمہاری عقل وفہم اور تمہارا علم اس میں تامل کرسکتا ہے ؟ ان علامتوں میں سے ایک علامت بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ عرب کے بادشاہ تو کیا ہوتے انہیں تو وہاں کا جانا بھی نصیب نہ ہوا۔ اور حج بیت اﷲ سے بھی محروم رہے اور باوجودیکہ حج ان پر فرض تھا مگر انہوں نے اس فرض کو ادا نہیں کیا۔ اپنے آپ کو خادم رسول اﷲa اور عاشق رسول اﷲa کہتے تھے مگر مدینہ رسول اکرمa کی زیارت کو نہ گئے اور ہزاروں روپیہ مانگ مانگ کر منارہ وغیرہ میں فضول صرف کردیا۔ اب اس کہنے میں کیا تامل ہوسکتا ہے کہ نافرمان خادم تھے یا خادم رسول اﷲ اور عاشق رسول اﷲa کہنا صرف مسلمانوں کے متوجہ کرنے کے لئے تھا درحقیقت کچھ نہ تھا۔ اگر جان کے خوف کا عذر کیجئے تو عاشق یہ عذر کبھی پیش نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ یہ عذر محض غلط ہے کیوںکہ وہاں بالکل آزادی ہے ایک شخص ضلع مظفر پور کا رہنے والامدعی امامت ہوا تھا اور مرزا قادیانی کے آخر وقت میں یا ان کے مرنے کے کچھ بعد مکہ معظمہ گیا تھا وہاں جاکر اس نے دعوی کیا تھا اس کو کسی نے جان سے نہیں مارا صرف وہاں سے نکال دیا گیا۔ مرزا قادیانی کے بیٹے مکہ معظمہ گئے اور باوجودیکہ شریف مکہ معظمہ انہیں کافر کہتے تھے اور مدعی مہدویت ونبوت کا بیٹا جانتے تھے مگر کچھ تعرض ان سے نہیں کیا (بلکہ چھپ چھپا کر گئے اور آگئے)

غرض کہ امام مہدی کی پہلی علامت ان میں کسی طرح نہیں پائی گئی اسی طرح اور علامتیں بھی نہیں پائی گئیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان کا نام محمد یا احمد اور ان کے باپ کا نام عبد اﷲ نہیں تھا بلکہ ان کا نام غلام احمد اور ان کے باپ کا نام غلام مرتضی تھا۔ یہ کیسی روشن بات ہے کہ یہ دو علامتیں بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئیں۔

دوسری علامت یہ تھی کہ وہ اہل بیت رسول اﷲa اور بنی فاطمہ سے ہوںگے اس کا نہ پایا جانا بھی نہایت ظاہر ہے کیوںکہ مرزا قادیانی تو دوم درجہ کے شیخ صدیقی یا فاروقی بھی نہیں ہیں اور اہل بیت رسول اور بنی فاطمہ ہونا تو بڑی بات ہے، پھر اس حدیث میں جس کے آنے کی خبر دی ہے وہ مرزا قادیانی کسی طرح نہیں ہوسکتے۔ اور زبردستی کی باتیں بناکر آل رسول ہونے کا

309

دعویٰ کرنا کسی راستباز کا کام نہیں ہے۔ اس طرح کی باتیں بناکر ہر مسلمان خصوصا علماء آل رسول ہونے کا دعوی کرسکتے ہیں۔ اور حدیثوں میں ان کی نسبت صرف آل رسول کا لفظ نہیں ہے بلکہ اہل بیت رسول اور بنی فاطمہ انہیں کہا گیا ہے حدیثوں میں مہدی موعود کی نسبت ’’من اہل بیتی۱؎ من عترتی من ولد فاطمہ ‘‘ (ابوداؤد کتاب المہدی ج ۲ ص ۱۳۱) آیا ہے یہ تینوں لفظ کسی مرزا پر کسی طرح صادق نہیں آسکتے۔ اور آل رسول ہونے کے علاوہ اور علامتیں جو امام مہدی کی بیان ہوئی ہیں اور مرزا قادیانی میں وہ علامتیں نہیں پائی جاتیں وہاں کیا بنائی جائیں گی۔ ان رسالوں کو دیکھ کر کوئی سچا مسلمان مرزا قادیانی کو مہدی ہرگز نہیں مان سکتا۔ اس لئے اس حدیث کو پیش کرنا مرزاقادیانی کی صریح غلطی یا عوام کو فریب دہی ہے اور اگر ان حدیثوں کو ضعیف یا موـضوع کہہ کر ٹال دیا جائے تو امام مہدی کا آنا ہی ثابت نہ ہوگا اور یہ حدیث بھی اسی زمرہ میں ہوگی، پھر ان کے لئے آسمانی شہادت چہ معنی دارد؟ قادیانی جماعت کے اہل علم ذرا ہوش گوش سے کام لیں اگر امام مہدی کے آنے کی حدیث کو مانا جائے گا تو ان کی علامتیں جو حدیث میں آئی ہیں انہیں بھی ماننا ہوگا، کیوں کہ دونوں قسم کی حدیثیں ایک طرح کی ہیں۔ اور اگر نہ مانا جائے گا یا ان کے الفاظ کے صریح معنی میں تغیر کیا جائے گا تو ہم بھی مہدی کے آنے کی حدیثوں میں اسی طرح کی باتیں بنادیں گے۔ غرض کہ جس طرح اس سے پہلے مرزا قادیانی کے دعوی کے غلط ہونے کی پانچ وجہیں حدیث کی عدم صحت میں بیان کی گئیں یہ چھٹی وجہ ان کے کذب کی ہے۔ حدیث کو صحیح مان کر یعنی دار قطنی کی روایت اگر صحیح بھی مان لی جائے تو بھی مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہوسکتے، کیوں کہ وہ امام مہدی کے لئے ہے اور مہدی کی جو علامتیں حدیثوں میں آئی ہیں وہ علامتیں مرزا قادیانی میں ہرگز نہیں پائی گئیں۔

اس کے علاوہ مرزا قادیانی کا اصل دعویٰ یہ ہے کہ میں مثیل مسیح بلکہ مسیح موعود ہوں اور اس حدیث میں مہدی کی بشارت دی گئی ہے حضرت مسیح کی خبر نہیں ہے اس لئے بھی اس روایت سے مرزا قادیانی کا استدلال کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا اور یہ کہنا کہ مسیح موعود ہی مہدی ہیں کوئی اور

۱؎

یعنی وہ مہدی میرے اہل بیت سے ہوگا اور بعض روایت میں ہے کہ میری خاص اولاد میں ہوگا اور بعض میں ہے کہ فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔ اہل علم اس کا یقین کریںگے کہ یہ تینوں الفاظ بجز سید آل رسول کے کسی شیخ صدیقی اور فاروقی پر بھی صادق نہیں آسکتے۔ اور مرزا کا تو بہت ہی کم مربتے کا نسب ہے۔

310

مہدی نہیں ہے احادیث متواترہ المعنی اور مشہورہ سے مردود ہے۱؎ غرضیکہ حدیث کا پہلا لفظ مرزا قادیانی کے دعویٰ کو دو وجہ سے غلط ثابت کرتا ہے یعنی اس حدیث میں جو پیشگوئی ہے وہ مرزا قادیانی کی نسبت نہیں ہوسکتی۔ اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے، میں نے چھ رسالوں کا حوالہ دیا ہے جن میں اس کی تفصیل مذکور ہے جس کا جی چاہے ان رسالوں کو دیکھے۔ اس کے علاوہ اہل علم حق بین کے لئے کتب احادیث کا ذخیرہ موجود ہے۔ اگر محققانہ نظر سے وہ ملاحظہ کریں گے تو اس دعویٰ کی کامل تصدیق کرسکتے ہیں۔ اور اس حدیث میں جو پیش گوئی ہے وہ مرزا قادیانی کے لئے ہرگز نہیں ہوسکتی اور اس پیشگوئی کا ظہور اب تک نہیں ہوا۔

۱؎

ذکر روایت لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم:

اور روایت ’’لا مہدی الا عیسی ابن مریم‘‘ کو محدثین صحیح نہیں کہتے۔ بلکہ لکھتے ہیں: ’’ہذا خبر منکر‘‘ میزان الاعتدال ذہبی اور مفتاح الزجاجہ اور مفتاح الحاجہ دیکھا جائے مگرہم اس بحث کو طول دینا نہیں چاہتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اس کے معنی وہ نہیں ہیں جو مرزا قادیانی سمجھے ہیں بلکہ جس طرح عربی کا یہ جملہ مشہور ہے کہ لافتی الّا علی، لا سیف الّا ذو الفقار۔ یعنی کوئی جوان نہیں ہے مگر حضرت علی، اور کوئی تلوار نہیں ہے مگر حضرت علی کی تلوار، جس کا نام ذوالفقار ہے۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت علی کے سوا کوئی جوان نہیں ہے صرف حضرت علی ہی جوان ہیں۔ اس طرح یہ ارشاد ہے کوئی مہدی نہیںہے مگر عیسیٰ، اس کے بھی یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے سوا کوئی اور مہدی نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ ایسے عظیم الشان اور عالی مرتبہ ہادی ہیں کہ ان کے مرتبہ کو کوئی ہادی غیر نبی نہیں پہنچ سکتا جس طرح کوئی جوان صاحب قوت وولایت وہادی امت حضرت علی کی قوت کو نہیں پہنچ سکتا چنانچہ امام قرطبی اپنی کتاب تذکرہ میں امام مہدی کا ذکر کرتے ہیں۔ اس میں اس روایت کو نقل کرکے لکھتے ہیں: ’’وہذا لاینافی ما تقدم فی احادیث المہدی لان معناہ تعظیم شان عیسٰی بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام علی المہدی ای انہ لا مہدی الا عیسٰی لعصمتہ وکمالہ فلاینافی وجود المہدی کقولہم مافتی الا علی‘‘ یعنی بیان سابق میں جو حدیثیں خاص امام مہدی کے باب میں آئی ہیں ان کے مخالف یہ روایت نہیں ہے کیوں کہ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ کی عظمت وشان بمقابلہ امام مہدی کے بیان کرنا مقصود ہے۔ جس طرح عرب کا یہ مقولہ ہے لافتی الا علی۔ یعنی کوئی جوان نہیں ہے مگر علی۔ اب ظاہر ہے کہ اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت علی کے سوا کوئی اور جوان نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ حضرت علی ایسے عالی حوصلہ اور صاحب قوت جوان ہیں کہ ان کے مقابلہ میں گویا دوسرا جوان ہی نہیں ہے۔ اسی طرح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی شان ہدایت ایسی عظیم الشان ہے کہ دوسرا ہادی ان کے مقابلہ میں گویا نہیں ہے، اس قول کو عبد الوہاب شعرانی نے خلاصہ تذکرہ میں نقل کیا ہے ص ۱۱۸ ملاحظہ ہو۔ شرح مقاصد کی ج ۲ ص ۳۰۸ پر بھی اس روایت کا مطلب لکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سوا کوئی اور مہدی نہیں ہے مگر چونکہ مرزا قادیانی کے مدعا کے خلاف ہے اس لئے نہ انہیں توجہ ہوئی اور نہ ان کے متبعین کو۔ کیوںکہ ادھر توجہ کرنا مرزا پرستی کے خلاف ہے۔ افسوس صد افسوس اس پر خوب نظر رہے کہ حدیث کے اس ایک لفظ سے دو باتیں ایسی نکلیں جنہوں نے ثابت کردیا ہے کہ حدیث کی بشارت مرزا قادیانی کے لئے کسی طرح نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اس روایت میں امام مہدی کی بشارت ہے اور جو علامتیں امام مہدی کی حدیثوں میں آئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں کسی طرح نہیں پائی جاتیں۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کو مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ ہے ازالہ اوہام وغیرہ دیکھا جائے۔ امام مہدی اور ہیں اور مسیح ابن مریم اور ہیں دونوں ایک نہیں ہیں اس لئے حدیث کے ایک لفظ سے مرزا قادیانی کا دعویٰ دو وجہ سے غلط ثابت ہوا۔

311

۲۔ دوسرا لفظ حدیث میں آیتین ہے یعنی کہا گیا ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو آیتیں ہیں اس لئے آیت کے معنی معلوم کرنا چاہئے امام راغب اصفہانی (مفردات القرآن ص ۳۲ طبع مصر)میں لکھتے ہیں:’’والایۃ ہی العلامۃ الظاہرۃ وحقیقۃ لکل شیء ظاہر ہو ملازم لشیء لایظہر ظہورہ فمتی ادرک مدرک الظاہر منہما علم انہ ادرک الاخر الذی لم یدرکہ بذاتہ۔ ‘‘

یعنی آیت کھلی نشانی کو کہتے ہیں۱؎ اور وہ ظاہر اور کھلی چیز دوسری پوشیدہ چیز کو اس طرح لازم ہو کہ جو کوئی اس علامت اور نشان کو معلوم کرلے وہ فورا اس پوشیدہ چیز کو سمجھ جائے اور معلوم کرلے کہ وہ شیٔ موجود ہے۔

جب آیت کے یہ معنی ہوئے تو معلوم ہوا کہ اس حدیث میں امام مہدی کی ایسی دو نشانیاں بیان کی گئی ہیں کہ جس وقت ان کا ظہور ہو فورا یقین کرنا چاہئے کہ امام مہدی موجود ہیں۔ ان نشانوں کے بعد نہ دعوی مہدویت کی ضرورت ہے نہ کسی دوسری شرط کی۔ اب رہی یہ بات کہ اگر مہدویت کا مدعی اس وقت کوئی نہیں ہے تو کیوں کر معلوم ہوکہ کون مہدی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جن کی شان یہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے سے سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے آنے کی خبر دی۔ جن کی ذات بابرکات کی بہت سی صریح علامتیں بیان کیں جن کے لئے اس حدیث کے بموجب خداوند عالم نے ایسے عظیم الشان دو نشان مقرر کئے جو کسی نبی کسی مجدد کے لئے نہیں کئے تھے پھر ایسی مقدس ذات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے حالات ان کے کلمات، ان کے اخلاق، ان کی علامات (جو حدیثوں میں آئے ہیں)انہیں متعین کردیں گے ان کی برگزیدہ ذات مقناطیس کی طرح لوگوںکے دلوں کو اپنی طرف کھینچے گی جب ان کی ذات سے مسلمانوں کو اور اسلام کو وہ فائدہ پہنچے گا جس کا ذکر حدیثوں میں آیا ہے تو بے اختیار مسلمان انہیں مہدی کہیں گے۔

۱؎

آیت کے معنی جس کتاب سے نقل کئے گئے ہیں خلیفہ قادیان اسے نہایت معتبر جانتے ہیں۔ یہ کتاب خاص قرآن مجید کے لغت میں چوتھی صدی میں لکھی گئی ہے۔ مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم کے ص ۵۰ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۴ پر) جو کچھ اس کے معنی بیان کرنے میں اظہار قابلیت کی ہے وہ محض ایجاد بندہ ہے۔ لغت سے اسے تعلق نہیں۔ البتہ اس قدر اس کا حاصل قرار دیا جائے کہ جو خارق عادت مامور من اﷲ کی تصدیق کے لئے … ظاہر ہو وہ آیت ہے تو ہم تسلیم کرتے ہیں اور نہایت زور سے کہتے ہیں کہ ۱۳۱۲ھ میں جو چاند گرہن اور سورج گرہن ـرمضان میں ہوا وہ کسی کے لئے آیت نہیں ہوسکتا کیوں کہ وہ معمولی دورہ تھا،کوئی خرق عادت نہیں تھی۔

312

خدا تعالیٰ ان کے دل میں ڈالے گا کہ یہ مہدی ہیں بے ساختہ ان کی زبانیں کہنے لگیں گی کہ یہ مہدی ہیں ان کے حالات اور کمالات انہیں تمام مخلوق سے ممتاز کردیں گے اور پھر ان کے وقت میں ان گرہنوں کا ہونا انہیں متعین کردے گا، وہاں دعوی کی اور اشتہاروں کی او ررسالوں کی ضرورت نہ ہوگی۔ ملاحظہ کیا جائے حدیث میں آیا ہے کہ ہر صدی میں مجدد آئے گا اور مرزا قادیانی بھی اسے مانتے ہیں بموجب اس حدیث کے تیرہ صدی میں بارہ مجدد ہونا چاہئے۔ اب جماعت مرزائیہ بتائے کہ وہ کون بارہ مجدد ہوئے۱؎ جنہوں نے دعویٰ کیا ہو کہ مجدد ہوں۔ بجز دو شخصوں کے اور کوئی مدعی نظر نہیں آتا۔ البتہ ان کے حالات معاینہ کرکے یا بطریق صحیح معلوم کرکے اہل علم نے انہیں مجدد کہا ہے اسی وجہ سے ہر ایک محقق نے اپنی تحقیق اور اپنے خیال کے بموجب نام بتائے ہیں۔ ازالۃ الخفاء، اور مقاصد حسنہ اور عون المعبود، وغیرہ ملاحظہ کیا جائے۔ عسل مصفی میں بہت مجددوں کے نام لکھے ہیں مگر سب کا دعویٰ کرنا نہیں لکھا۔اس سے بخوبی ظاہر ہوگیا کہ مجدد اور مہدی کے لئے دعویٰ کی ضرورت نہیںہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی مجدد مہدی پر ایمان لانا فرض نہیں ہے۔ کہ بغیر ایمان لائے نجات نہ ہو۔

الحاصل حدیث کے پہلے ہی جملہ سے ثابت ہوگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا محض غلط ہے کہ جس وقت یہ دونوں گرہن پائے جائیں اور اس وقت کوئی مدعی بھی ہو کہ میں مہدی ہوں اور اگر اس وقت کوئی مدعی نہیں ہے تو یہ گرہن کسی کی صداقت کے نشان نہیں ہیں۔ یہ دعویٰ حدیث کے بالکل خلاف ہے اور کسی دوسری حدیث سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ جس وقت امام مہدی ظاہر ہوںگے تو وہ اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کریں گے اور ان کے لئے یہ معمولی گرہن نشان اور علامت ہوجائیں گے۔

۱؎

اس کے جواب میں یہ کہنا کہ کوئی تمام انبیاء سابقین کا نام بتائے عوام کو دھوکا دینا ہے۔ کیوں کہ ہم کوئی ایسا دعویٰ نہیں کرتے جس کے لئے ہمیں نام بتانے کی ضرورت ہو ہمیں بالا جمال سب پر ایمان لانا کافی ہے تم مجدد کے لئے دعویٰ کی شرط لگاتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ اس لئے تمہیں ضروری ہے کہ ہر صدی کے مجدد اور ان کا دعویٰ کرنا ثابت کرو اور ان تیرہ صدی کے حالات مثل انبیاء سابقین کے پوشیدہ اور تاریکی میں نہیں ہیں کہ اس کا بیان کرنا دشوار ہو اس پر بھی نظر کرنا چاہئے کہ بزرگوں نے صرف حالات معلوم کرکے مجددوں کے نام لکھے ہیں کسی نے دعویٰ کرنے کا خیال نہیں کیا اگر عقلی طور سے دعویٰ کرنے کی ضرورت ہوتی تو علماء کاملین ان کا نام ہرگز نہیں لکھتے جنہوں نے دعویٰ نہیں کیا۔

313

الغرض حدیث کا پہلا جملہ جس کے دونوں لفظ سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ معمولی طور سے رمضان شریف میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا ہونا مہدی کی نشانی نہیں ہے۔ خواہ اس وقت کوئی مدعی مہدویت ہو یا نہ ہو۔ کیوںکہ اس گرہن کو مہدی کی علامت کہا ہے اس لئے جب اس قسم کا گرہن پایا جائے گا تو اس وقت مہدی ضرور موجود ہوںگے بغیر مہدی کے موجود ہوئے اس طرح کا گرہن کبھی نہیں ہوسکتا اور مرزا قادیانی کے وقت میں تو معمولی گرہن تھا وہ مہدی کی علامت نہیں ہوسکتا۔

۲۔ دوسرا جملہ حدیث میں یہ ہے:’’ لم تکونا منذ خلق اللّٰہ السموات والارض ۔‘‘یہ جملہ حدیث میں دو مرتبہ آیا ہے پہلی مرتبہ آیتوں کے بیان کرنے سے پہلے اور دوسری مرتبہ ان کے بیان کرنے کے بعد۔ پہلی مرتبہ میں جو ’’لم تکونا‘‘ ہے وہ آیتین کی صفت ہے اور اس میں جو ضمیر ہے آیتین کی طرف پھرتی ہے۔ اس لئے اس جملہ کے یہی معنی ہیں کہ وہ دونوں آیتین یعنی وہ دو نشانیاں ایسی ہیں کہ جب سے آسمان وزمین پیدا ہوئے ہیں۔اس وقت سے ان آیتوں کا ظہور نہیں ہوااور ان دونشانوں سے مراد کسوف وخسوف ہیں۔ جو خاص طور کے ہوںگے اور جن کو علامت ونشان کہا جائے گا۔

یہ پہلاجملہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی کی وہ علامتیں بے نظیر ہوںگی کیوں کہ جب یہ جملہ آیتین کی صفت کاشفہ ہے تو اس کا یہی مطلب ہوسکتا ہے۱؎ کہ وہ معمولی باتیں نہیں ہیں بلکہ ایسی عجیب وغریب نشانیاں ہیں کہ جب سے آسمان وزمین کا وجود ہوا ہے ان کا ظہور کسی وقت کسی کے لئے نہیں ہوا۔ یہ جملہ صاف بتارہا ہے کہ وہ نشان بے نظیر ہیں ان کا وجود کسی وقت نہیں پایا گیا۔ صرف اسی مہدی کے وقت پایا جائے گا۔ اب پورے جملے کو ملاکر دیکھو:

۱؎

اس کا یہ مطلب کہنا محض غلط ہے کہ وہ نشانیاں بینظیر نہیں ہیں بلکہ وہ نسبت بینظیر ہے جو ان نشانیوں کو مہدی کی طرف ہے، الفاظ حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوسکتا، اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر یہ مقصود ہوتا کہ نسبت بے نظیر ہے تو لم تکونا تثنیہ نہ آتا بلکہ لم تکن ہوتا، ہم نے نہایت صفائی سے بیان کردیا۔ اگر اس پر بھی کوئی نہ سمجھے تو بقول مرزا قادیانی پاگل کہلائے گا۔ اب ہم جماعت مرزائیہ سے دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی جو ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۷ خزائن ج۱۱ ص ۳۳۱ پر اپنے مخالفین کو خالی گدھے بتارہے ہیں۔ اب تو آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ الفاظ حدیث کا وہی مطلب ہے جو ان کے مخالفین لکھ رہے ہیں، اب فرمایئے کہ خالی گدھے یا بھرا گدھا کون ہے ؟ اور عالمانہ تدبیر سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب کون ہے ؟ خدا کو عالم مافی الصدور جان کر جواب دے۔

314

یعنی لمہدینا آیتین لم تکونا منذ خلق اللّٰہ السمٰوات والا رض اب جسے کچھ بھی عربیت کا مذاق ہے وہ اس کا مطلب یہی کہے گا کہ وہ دو آیتین جو اپنی صفت میں بے نظیر ہیں۱؎ وہ ہمارے مہدی کے لئے مخصوص ہیں ان کا ظہور کسی وقت میں نہیں ہوا۔ خاص اسی مہدی کے وقت میں ہوگا۔

الغرض اس جملہ نے مجمل اور مبہم طور سے ان نشانوں کا بے نظیر ہونا بیان کیا اس کے بعد ان بے نظیر علامتوں کا بیان ہے۔ پہلی علامت یہ ہے کہ چاند گرہن رمضان کی پہلی رات میں ہوگا۔

۳۔ حدیث میں اس گرہن کا وقت اس طرح بیان ہوا ہے ’’تنکسف القمر لا ول لیلۃ من رمضان‘‘یعنی رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا مگر عرب کے اکثر بول چال میں مہینہ کی پہلی رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیںاور حدیث میں قمر کا لفظ آیا ہے اس لئے اول لیلۃ سے مراد اگر وہ پہلی رات لی جائے جس کے چاند کو صرف قمر کہا جاتا ہے تو ایک طور سے اول لیلۃ کہنا بھی صحیح ہوجاتا ہے اور قمر کا اطلاق بھی مشہور محاورہ کے مطابق ہوتا ہے۔ اور اس شب میں نہایت صفائی سے گرہن بھی محسوس ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے الفاظ حدیث میں صرف ایک ضمیر مقدر ماننا پڑے گی اور اصل عبارت یوں ہوگی: تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان۔یعنی چاند گرہن ہوگا قمر کی پہلی رات میں رمضان کے مہینہ میں۔

۱؎

یہ کیسی کھلی ہوئی بات ہے کہ طالب علم بھی اس کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ مرزا قادیانی باوجود اس دعوی کے نہیں سمجھتے اور محض بے تکا اس کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ ضمیمہ انجام آتھم کے ص ۴۸ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۲ پر لکھتے ہیں: ’’اس جگہ غرض تو یہ ہے کہ یہ دو نشان اس خصوصیت کے ساتھ مہدی کو دیئے گئے ہیں ‘‘ خلیفۃ المسیح فرمائیں وہ کون خصوصیت ہے بجز اس خصوصیت کے جو ہم الفاظ حدیث سے بیان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد بے تکا جملہ ملاحظہ کیجئے، کہتے ہیں کہ ’’لم تکونا‘‘ کا لفظ آیتین کی تشریح کرتا ہے کہ وہ مہدی کے ساتھ خاص کی گئی ہیں ‘‘ اس کا مطلب خلیفہ صاحب بیان فرمائیں۔ اے جناب! صرف ’’لم تکونا‘‘ تشریح نہیں کرتا بلکہ پورا جملہ یعنی ’’لم تکونا منذ خلق اللّٰہ السمٰوات والارض‘‘ تشریح کرتا ہے اور جب اس پورے جملے نے آیتین کی تشریح کی تو بجز اس کے اور کوئی معنی نہیں ہوسکتے کہ وہ آیتین ایسی ہیں کہ جب سے آسمان وزمین پیدا ہوئے ہیں کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ اس صفت کی آیتین اس مہدی سے خاص ہیں اس لئے اس کے بعد مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ خسوف وکسوف کی نرالی حالت بیان کرنا منظور نہیں ہے کیسا صریح غلط ہے جس جملہ کو خود مرزا قادیانی نے آیتین کی تشریح کہاہے وہ نہایت وضاحت سے خسوف وکسوف کی نرالی حالت کو بیان کرتا ہے اس جملہ کو آیتین کی تشریح کہنا اور پھر خسوف وکسوف کی نرالی حالت سے انکار کرنا کسی اہل علم کا کام نہیں ہے۔

315

مرزا قادیانی نے جو مطلب تراشا ہے اس میں بھی لفظ لیلۃ میں ضمیر کا زیادہ کرنا ضروری ہے مگر اہل علم اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں بہت تکلیف ہے۔ اس معنی کے بیان کرنے سے ہماری غرض حضرات مرزائیوں کو خوش کرنا ہے کیوں کہ اس پہلے معنی پر وہ اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث میں اس شب کے چاند کو قمر کہا گیا ہے اور مہینہ کی پہلی رات کے چاند کو قمر نہیں کہتے ہیں۔ ہم نے ان کی خاطر سے اس اعتراض کو مان کر حدیث کے دوسرے قضیے بیان کردیئے اگرچہ ان کا اعتراض محض غلط ہے جماعت مرزائیہ ناخوش ہوگی۔ مگر ہم خیر خواہانہ کہتے ہیں کہ صرف اسی کسوف وخسوف کی بحث کو دیکھ کر بے ساختہ ہر ایک ذی علم منصف کا دل کہہ اٹھے گا کہ مرزا قادیانی صادقین میں نہیں ہیں اور لغت عرب اور محاورات سے انہیں پوری خبر نہیں ہے مگر دعوی اس زور کا ہے جس کی انتہا نہیں ہے۔ اب ان کی بے خبری ملاحظہ کی جائے۔

قمر کا اطلاق مہینہ کی پہلی رات پر اور مرزا قادیانی کی بڑی غلطی

قمر کا لفظ جس طرح تیسری یا چوتھی یا ساتویں تاریخ کے چاند کو کہتے ہیں، اسی طرح مہینہ کی اول شب سے لے کر آخر تک کے چاند کو بھی قمر کہتے ہیں۔ اس کو اس طرح سمجھ لو کہ چاند کے نام مختلف اوقات اور صفات کے لحاظ سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ مثلا ہلا ل، بدر، وغیرہ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی اصل نام بھی ہو جس پر یہ مختلف حالتیں طاری ہوتی ہیں۔ اور وہ سب میں مشترک ہو، وہ لفظ قمر ہے۔ اس کی مختلف حالتوں کی وجہ سے اس کے نام مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی اصل نام کے سوا اکثر دوسرے نام لئے جاتے ہیں اور جب وہ حالت نہیں رہتی تو صرف اصلی نام لیا جاتا ہے۔ قاموس اور اس کی شرح تاج العروس ج ۱۵ ص ۸۰۸ ہلال ملاحظہ ہو:الہلال غرۃ القمر وہی اول لیلۃ الخ۔ یعنی ہلال قمر کی پہلی رات کو کہتے ہیں۔ دیکھئے کیسا صاف روشن ہوگیا۔ کہ قمر ایسا لفظ ہے کہ پہلی رات کے چاند کو بھی کہتے ہیں اور اسے ہلال بھی کہتے ہیں۔ صاحب تاج العروس ایضا لکھتے ہیں:’’ یسمی القمر للیلتین من اول الشہر ہلالا، الخ۔‘‘

یعنی مہینہ کی پہلی دو راتوں میں قمر کا نام ہلال رکھا جاتا ہے اس سے بخوبی ظاہر ہے اور دوسری رات کے چاند کو قمر تو کہتے ہیں مگر ہلال بھی اس کا نام ہے۔ (لسان العرب مثلہ بہ تفسیر ج ۱۵ ص ۱۲۱ ھلل) میں بھی یہی عبارت ہے لغت میں یہ کتاب ایسی مستند ہے کہ مرزا قادیانی بھی اسے نہایت مستند مانتے ہیں۔ یہ تین شاہد نہایت معتبر پیش کئے گئے۔ جن سے ثابت ہوگیا کہ پہلی رات کے

316

چاند کو قمر کہتے ہیں۔ مگر اس کی حالت خاص کی وجہ سے اسے ہلال کہا جاتا ہے، نہ یہ کہ اس رات کے چاند کو قمر کہنا غلط ہے۔ ان شاہدوں کے علاوہ عظیم الشان شاہد قرآن مجید کا محاورہ ہے۔

ملاحظہ کیا جائے پہلی آیت۔سورہ یس ۳۹ میں ہے ’’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمُ‘‘یعنی قمر کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں اس کے بموجب ترقی کرتا ہے پھر اس کی حالت کو تنزل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سوکھی ٹہنی خمیدہ کے مثل ہوجاتا ہے۔

دوسری آیت’’ہُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ‘‘(یونس:۵)

یہ آیت اﷲ تعالیٰ کی تعریف میں ہے یعنی اﷲ تعالی کی وہ ذات ہے جس نے شمس کو چمکدار اور قمر کو نور بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی کرسکو اور حساب جان سکو۔ اہل علم پر آفتاب کی طرح روشن ہے کہ ان دونوں آیتوں میں پورے مہینے کے چاند کو قمر کہا ہے خواہ وہ پہلی رات کا چاند ہو یا کسی دوسری تاریخ کا۔ اور یہ صرف دو ہی جگہ نہیں بہت جگہ پورے مہینے کے چاند کو قمر کہا ہے۔ جسے تحقیق کا زیادہ شوق ہو وہ قرآن مجید کو اچھی طرح دیکھے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو ادیب ہونے کا فخر قرآن دانی کا بہت بڑا دعویٰ ہے مگر ایک متعارف او رمشہور لفظ جو قرآن مجید میں متعدد جگہ مستعمل ہے اس کے معنی کی تحقیق نہیں ہے بایں ہمہ ان کے دعوؤں پر جماعت مرزائیہ اپنے ایمان کو قربان کررہی ہے۔ یہاں اس لغت کے متعلق ایک نکتہ بیان کیا جاتا ہے غور سے ملاحظہ ہو۔ وہ یہ ہے کہ چاند کا ٹھیک ترجمہ عربی میں قمر ہے جس طرح چاند اردو زبان میں ہر رات کے چاند کو کہتے ہیں۔ اسی طرح عربی میں ہر رات کے چاند کو قمر کہتے ہیں خواہ وہ پہلی رات کا چاند ہو یا کسی دوسری رات کا مگر چونکہ عربی زبان اردو زبان سے زیادہ وسیع ہے اس لئے عربی میں بعض خاص حالت کی نظر سے اسے ہلال کہا ہے بعض حالت میں بدر کہا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان خاص حالتوں میں قمر کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس حالت خاص کے وقت چاند کے لئے دو لغت ہوگئی ایک وہی اصل لفظ قمر، دوسرا ہلال یا بدر، فصحاء ادیب حسب موقع اور ضرورت ہر ایک لفظ کو استعمال کرسکتے ہیں۔

اب اس کہنے میں کیا تامل ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی لغت کی ظاہری باتوں پر بھی نظر نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن کے بھی ماہر نہیں ہیں مگر دوسرے علماء کو کیسے سخت الفاظ کہہ رہے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶، ۴۷)ملاحظہ ہو :

317

’’اے نادانو ! آنکھوں کے اندھو ! مولویت کو بدنام کرنے والو ! ذرا سوچو ! کہ حدیث میں چاند گرہن میں قمر کا لفظ آیا ہے۔ پس اگر یہ مقصود ہوتا کہ پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا تو حدیث میں قمر کا لفظ نہ آتا۔ بلکہ ہلال کا لفظ آتا ‘‘

(خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰، ۳۳۱)

جب ہماری تحقیق سے آپ معلوم کرلیں گے کہ ہلال کا لفظ اس جگہ نہیں آسکتا اور قمر کااطلاق اس پر لغت سے اور قرآن مجید کے محاورہ سے ثابت ہے تو اب جماعت مرزائیہ بنظر سچائی کہے کہ نادان کون ہے؟ اور آنکھوں کا اندھا اور مولویت بلکہ مہدویت کو بدنام کرنے والا کون ہے ؟ اب اگر یہ دریافت کیا جائے کہ مہینہ کی پہلی رات کے چاند کو قمر اور ہلال دونوں کہہ سکتے ہیں مگر ایسے مقام پر ہلال کا استعمال مناسب معلوم ہوتا ہے کیوں کہ یہ لفظ خاص اس حالت کے لئے موضوع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں چاند گرہن کبھی ایسے وقت نہیں ہوا کہ اس وقت کے چاند کو ہلال کہا جائے بلکہ گرہن ہمیشہ ۱۳۔ ۱۴۔۱۵۔ کو ہوتا رہا ہے اور اس وقت کے چاند کو قمر ہی کہتے ہیں اس لئے عرب کے محاورہ میں تنکسف القمر ہی بولتے ہیں تنکسف الہلال وہ بولتے ہی نہیں کیوںکہ اس کا وقوع کبھی نہیں ہوا۔ پھر اس صریح محاورہ عرب کے خلاف تنکسف الہلال کیوںکر بولاجاتا ؟ بلکہ محاورہ عرب کے موافق ضروری تھا کہ تنکسف القمر ہی بولا جاتا مگر چونکہ یہ کسوف بطور خرق عادت اور بالکل بے نظیر تھا اس لئے اس کی ندرت اس طرح بیان کی گئی کہ لاول لیلۃ من رمضان۔ یعنی یہ کسوف قمر (چاند گرہن) مخصوص ہوگا رمضان کی پہلی رات سے۔ اور ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا۔ اس پر خوب نظر رہے کہ الفاظ حدیث سے کس صفائی سے ثابت ہوگیا کہ چاند گرہن کا وقت حدیث میں رمضان کی پہلی رات ہے اور اگر تیسری یا چوتھی شب لی جائے تو بھی ہوسکتا ہے۔ جیساکہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ یہی اس کے معنی ہیں جن کے لحاظ سے چاند گرہن نشان اور معجزہ ہوسکتا ہے لیکن ان الفاظ کے یہ معنی کسی طرح نہیں ہوسکتے کہ چاند گرہن ۱۳ تاریخ کو ہوگا۔ یہ پہلے نشان کا بیان تھا جس سے معلوم ہوا کہ مہدی کی وہ علامت بے نظیر اور خارق عادت ہوگی اور کسی وقت اور کسی حالت میں اس مہدی سے پہلے اس کا ظہور نہ ہوا ہوگا۔

۴۔ دوسری علامت یہ ہے کہ سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں وتنکسف الشمس فی نصف منہ۔ یعنی سورج گرہن ہوگا اسی رمضان کے نصف میں۔ اس جملہ لفظ نصف اور منہ پر لحاظ کرنا چاہئے۔ منہ میں ضمیر مذکر ہے اور اس کا مرجع

318

رمضان ہے جو اوپر مذکور ہوگیا ہے۔ الفاظ حدیث میں کوئی اور لفظ ایسا نہیں ہے جو اس کا مرجع ہوسکے۔ اس لئے بالضرور نصف سے مراد ماہ رمضان کا نصف ہے۔ اب اسے آپ نصف رمضان کہیں یا نصف منہ رمضان کہیں مگر ہر طرح پورے ماہ کا نصف مراد لیا جائے گا۔ جو ضرور ۱۴یا ۱۵ تاریخ ہے۔ ان معنی کے سوا الفاظ حدیث کے دوسرے معنی ہر گز نہیں ہوسکتے، انہیں معنی کی وجہ سے اس گرہن کو نشان اور معجزہ کہا گیا ہے۔ اس معنی سے ظاہر ہوگیاکہ مہدی کی دوسری علامت بھی ایسی ہوگی جس کا ظہور کبھی نہ ہوا ہوگا بلکہ وہ نشان بھی ویسا ہی بے نظیر ہوگا جیسا پہلا نشان بے نظیر تھا۔ مرزا قادیانی جو کسوف کے معنی معمولی ایام مراد لیتے ہیں اور ان کے وسط میں اٹھائیس کو گرہن ہونا لکھتے ہیں حدیث کے الفاظ کئی وجہ سے اس کو رد کرتے ہیں۔

۱۔ تین دنوں میں درمیان کے دن کو نصف نہیں کہتے، وسط کہتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ سورج گرہن اس کے نصف میں ہوگا۔

۲۔ سورج گرہن کے وقت کا بیان حدیث کے لفظ فی النصف منہ سے ہوتا ہے اب اگر نصف سے مراد وسط لیا جائے اور کہا جائے کہ سورج گرہن اپنے معمولی ایام کے وسط میں ہوگا۔ تو لفظ منہ میں جو ضمیر ہے وہ کدھر جائے گی۔ یہ معنی تو چاہتے ہیں کہ منہ کی ضمیر ایام کی طرف پھرے مگر یہ دو طور سے غلط ہے ایک یہ کہ لفظ ایام حدیث میں مذکور ہی نہیں پھر ضمیر اس کی طرف کیوںکر پھر سکتی ہے۔ دوسرے یہ کہ منہ میں ضمیر مذکر کی ہے۔ وہ ایام کی طرف نہیں پھر سکتی۔ اگر ایام کی طرف پھرتی تو منہا ہونا چاہئے تھا۔ منہ کی ضمیر کا مرجع بجز رمضان کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ لفظ رمضان پہلے مذکور بھی ہے اور منہ کی ضمیر اس طرف پھر سکتی ہے اور جب یہ ضمیر رمضان کی طرف پھری تو بالضرور یہی معنی کہنے ہوںگے کہ نصف رمضان میں یا وسط رمضان میں سورج گرہن ہوگا۔ یہ ایسی ظاہر اور قطعی بات ہے کہ کوئی اہل علم اس سے انکار نہیں کرسکتا۔

الغر ض حدیث کے جس لفظ میں سورج گرہن کے وقت کا بیان ہے وہ یقینی طور سے بتارہا ہے کہ سورج گرہن کا وقت نصف رمضان ہے یعنی پندرہ تاریخ یا چودہ۔

۳۔ ان دو نشانوں کے بیان کرنے کے بعد پھر وہ جملہ لایا گیا جو پہلے آیتین کے بعد آیا تھا۔ صرف واو حالیہ زیادہ کردیا گیا اور کہا گیا ولم تکونا منذ خلق اللّٰہ السمٰوات والارض۔پہلے تو یہ جملہ آیتین کی صفت تھا (جس کی شرح اوپر کی گئی ہے)اس سے مجمل طور

319

سے معلوم ہوا تھا کہ مہدی کے وہ دو نشان بے نظیر ہیں۔ پھر ان دونوں نشانوں کے وقت کو صاف طور سے بیان کرکے واو حالیہ کے ساتھ وہی جملہ لایا گیا تاکہ نہایت تاکید اور خصوصیت کے ساتھ ان دونوں نشانوں کی حالت بیان کی جائے۔ یہاں لم تکونا میں ضمیر انہیں خسوف وکسوف کی طرف پھرتی ہے جس کا خارق عادت ہونا اوپر بیان ہوگیا ہے۔ اب پھر انہیں گرہنوں کی حالت صاف طور سے دوسرے پیرایہ میں بیان کی جاتی ہے کہ وہ دونوں گرہن(جن کا ذکر اوپر ہوا) ایسے ہوں گے کہ جب سے آسمان وزمین پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت سے کبھی ایسے گرہن نہیں ہوئے ہوںگے۔ یہاں خوب خیال کیا جائے کہ جن گرہنوں کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ خاص انہیں کی نسبت حدیث کے اس جملہ میں بیان ہوا کہ وہ دونوں گرہن ایسے ہوں گے کہ ابتدائے آفرینش سے کبھی نہ ہوئے ہوںگے۔ یہ جملہ نہایت صفائی سے بتارہا ہے کہ خاص وہ دونوں گرہن بے نظیر اور عجوبہ ہوں گے۔ اب ان کا بے نظیر اور عجوبہ ہونا جب ہی ثابت ہوگا کہ اس سے پہلے جو گرہنوں کا وقت بیان ہوا ہے اس کا وہی مطلب بیان کیا جائے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ یعنی چاند گرہن پہلی رات کو اور سورج گرہن پندرہویں شب کو، یہ کہنا کہ گرہنوں میں عجوبہ پن نہیں ہے۔ بلکہ نسبت میں عجوبہ پن ہے محض غلط ہے کوئی عربی جاننے والا یہ مطلب نہیں کہہ سکتا۔ حدیث میں لم تکونا کی ضمیر جو ان گرہنوں کی طرف پھرتی ہے اس نے فیصلہ کرد یا کہ وہ دونوں گرہن بے نظیر ہوںگے۔

مرزا قادیانی کی بددیانتی

اب مرزا قادیانی کی دیانت کو دیکھا جائے۔ چونکہ یہ جملہ بدلالۃ النص قطعی طور سے مرزا قادیا نی کے دعویٰ کو غلط ثابت کرتا ہے اس لئے اسے نقل نہیں کرتے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶ خزائن ج۱۱ ص ۳۳۰ پر) حدیث کا لفظ فی النصف منہ لکھ کر باریک قلم سے (الخ) لکھ دیاہے اور (حقیقۃ الوحی کے ص ۹۴خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۲ پر) یہ روایت نقل کی گئی ہے۔ مگر حدیث کے اس آخری جملہ یعنی ’’لم تکونا منذ خلق اللّٰہ السمٰوات والارض‘‘کو نقل نہیں کیا اور نہ اشارہ کیا کہ حدیث میں کچھ اور باقی ہے یعنی جس طرح ضمیمہ انجام آتھم میں اشارہ کردیا تھا وہ بھی یہاں نہیں کیا۔ جس سے اہل علم سمجھتے کہ حدیث پوری نہیں ہوئی کچھ باقی ہے اسے دیکھنا چاہئے۔ غرض کہ جو جملہ نہایت صفائی سے مرزا قادیانی کے دعوے کی بنیاد کو اکھیڑ کر پھینکتا تھا اور کوئی بیہودہ تاویل بھی مرزا قادیانی کے خیال میں نہ آئی اس لئے اسے نقل نہیں کرتے جسے کچھ خوف خدا ہے وہ اس پر غور

320

کرے اس بیان کے بعد میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جملہ کچھ مکرر کیوں لایا گیا؟ تکرار کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے جواب پر اہل علم غور کریں۔ اس کی دو وجہیں میرے خیال میں ہیں۔

پہلی وجہ: یہ ہے کہ اول مرتبہ یہ جملہ اس لئے لایا گیا تاکہ بتصریح بطور دلالۃ النص کے یہ ثابت کرے کہ یہ دونوں عجیب نشان اس مہدی کے سوا کسی کے لئے نہیں ہوں گے اور دوبارہ یہ جملہ اس لئے لایا گیا کہ نہایت صفائی سے یہ ظاہر کردے کہ یہ دونوں گرہن ایسے ہوں گے کہ اس سے قبل کبھی اس طرح کے گرہنوں کا ظہور نہیں ہوا ہوگا۔ چونکہ لم تکونا کی ضمیر خسوف وکسوف کی طرف پھرتی ہے اس لئے اس مطلب کے سوا دوسرا مطلب ہر گز نہیں ہوسکتا۔

دوسری وجہ: اس جملہ کے مکرر لانے کی یہ ہے کہ اس قسم کا گرہن نہایت عجوبہ اور انوکھی بات تھی جس کی طرف ذہن کا جانا اور اسے باور کرنا مشکل تھا، اس لئے ا س کا تکرار کیا گیا تاکہ سننے والوں کے ذہن نشین ہوجائے کہ مقصود یہی ہے کہ وہ دونوں گرہن بے نظیر ہوںگے۔ اب اس پر نظر کی جائے کہ اس روایت میں تین طریقوں سے ان نشانوں کا بے نظیر ہونا بیان کیا گیا ہے۔ پہلے آیتین کی صفت بیان کرکے یعنی دونوں نشان ایسے ہوںگے کہ مہدی سے پہلے انکا ظہور کبھی نہ ہوا ہوگا۔ دوسرے ان گرہنوں کے غیر معمولی وقت بیان کرکے۔ تیسرے ان گرہنوں کی حالت بیان کرکے، وہ حالت ایسی ہوگی کہ اس کا ظہور اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہوگا اور اس میں دعویٰ وغیرہ کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ بلغا کا قاعدہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کو مکرر لاتے ہیں ایسی صراحتوں کے بعد بھی کہنا کہ یہ کہاں سے سمجھا گیا کہ یہ کسوف وخسوف خرق عادت ہوگا۔(ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۷ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۱) کسی فہمیدہ ذی علم کا کام نہیں ہے۔

یہ سمجھ میں نہیں آسکتا کہ مرزا قادیانی ایسی فاش غلطی نادانستگی سے کررہے ہیں بلکہ ان کا علم یقین دلاتا ہے کہ کم علموں کو قصدا مغالطہ دے رہے ہیں۔ ہم نہایت استحکام سے کہتے ہیں کہ اس صاف بیان کے بعد دنیا میں کسی اہل علم ذی عقل کو حدیث کے مطلب میں تامل نہیں رہ سکتا۔ ہر فہمیدہ یہی کہے گا جو ہم نے بیان کیا ہے کیوں کہ حدیث کا مطلب یقینا یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا لطف یہ ہے کہ حدیث مذکور کے پانچ جملے ہیں اور وہ پانچوں جملے نہایت صفائی سے بتارہے ہیں کہ مہدی کے یہ دونوں نشان یعنی خاص طور سے سورج گرہن اور چاند گرہن بے نظیر ہوں گے اس وقت سے پہلے کبھی اس طرح کا گرہن نہیں ہوا ہوگا اور ۱۳۱۲ھ میں جو خسوف

321

وکسوف ہوئے وہ بموجب اس حدیث کے مہدی کے نشان ہر گز نہ تھے۔ کیوں کہ وہ معمولی گرہن تھے جو حسب معمول اپنے وقت پر ہوا کرتے ہیں۔ ہم نے گرہنوں کی فہرست نقل کرکے دکھادیا کہ چھیالیس برس کے عرصہ میں اس قسم کے گرہن تین مرتبہ ہوئے اﷲ تعالیٰ نے جسے عقل اور علم کی دولت سے مالامال کیا ہے وہ ہمارے بیان کو انصاف سے دیکھے اور حدیث کے الفاظ میں غور کرتا جائے۔ پھر اﷲ تعالیٰ سے کامل امید ہے کہ ہمارے کلام کی تصدیق میں اسے ذرا بھی تامل نہ رہے گا مگر افسوس اور نہایت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے حدیث کو نہیں سمجھا اور کہتے ہیں کہ آنحضرتa کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ:

’’ وہ خسوف کسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے؟ ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰)

حق پرست حضرات ملاحظہ کریں! کہ جو مطلب حدیث کے ہر جملہ سے ظاہر ہورہا ہے جسے ہم نے روز روشن کی طرح دکھادیا اسے مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں کوئی لفظ نہیں ہے جو اس پر دلالت کرے پھر اس زبردستی اور ناراست گوئی کا کیا علاج ہے۔ اور اگر اس کہنے سے یہ غرض ہے کہ کلام رسول کے معنی ایسے نہیں ہوسکتے جو قانون قدرت کے خلاف ہوں تو اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ الفاظ حدیث کے معنی تو وہی ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔ وہ معنی کسی طرح نہیں ہوسکتے جو مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ اب ان معانی کو قانون قدرت کے خلاف کہہ کر اسے غلط قرار دینا، اس حدیث کو غلط کہنا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوگا کہ حدیث جس طرح اپنی سند اور راویوں کے لحاظ سے غیرمعتبر ہے اسی طرح اپنے مضمون کے نظر سے بھی غیر معتبر ثابت ہوئی، کیوں کہ اس کا مضمون قانون قدرت کے خلاف ہے۔ اگر جماعت مرزائیہ کا ایسا خیال ہے تو مرزا قادیانی کی شہادت آسمانی سے دست بردار ہوجائے اور یقینی طور سے سمجھ لے کہ جس روایت سے مرزا قادیانی اپنی آسمانی شہادت ثابت کرتے ہیں وہ کسی طرح لائق اعتبار نہیں۔ کیوں کہ اس کے روایت کرنے والے جھوٹے اور اس کا مضمون فطرت اور نیچر کے خلاف ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں شبہ نہیں کہ سچے رسول کا کلام قانون قدرت کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ مگر اﷲ تعالیٰ کا یہ بھی قانون ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کی سچائی اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے ایسی باتیں ظہور میں لاتا ہے جو ہماری معمولی عقل اور متناہی علم کے مطابق وہ

322

باتیں قانون قدرت کے خلاف معلوم ہوتی ہیں مگر دراصل وہ خلاف نہیں ہوتیں یہ امر نہایت ظاہر ہے کہ معمولی عقل اور متناہی علم والا اس غیر محدود ذات اور صفات کے کامل قانون کو نہیں جان سکتا۔ اس لئے اگر مہدی موعود کے لئے ایسی عجیب وغریب نشانی ہو جسے معمولی عقل والے قانون قدرت کے خلاف سمجھیں تو اس سے اس کی صداقت میں خلل نہیں آسکتا۔ اس مضمون کی تصدیق نہایت خوبی سے مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں :

’’ اگر ہم خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اُسکی قدرتو ں پراحاطہ کرنے کی اُمید رکھیں کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہوسکیں تو پھر غیر محدو د اور غیر متناہی کیوںکر رہیں اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجربہ خُدائے ازلی اور ابدی کی تمام قُدرتوں کا حدبست کرنے والا ہوگا۔ بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ بھی ہے کہ اُسکی قُدرتوں کے محدود ہونے سے وہ خود بھی محدود ہوجائیگا اور پھر کہنا پڑیگا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اور کنہ ہے ہم نے سب معلوم کرلی ہے اور اُس کے گہراؤ اور تہ تک پہنچ گئے ہیں اور اِس کلمہ میں جس قدر کُفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجتِ بیان نہیں سو ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا قانونِ قدرت خیال کرلینا اور اسپر غیر متناہی سلسلۂ قدرت کو ختم کردینا اور آئندہ کے لئے اسرار کھلنے سے نااُمید ہوجانا اُن پست نظروں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خدائے ذوالجلال کو جیساکہ چاہئے شناخت نہیں کیا۔ ‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص ۱۶، ۱۷ خزائن ج ۲ ص۶۴، ۶۵)

مرزا قادیانی اور ان کی خاص حالت لائق حیرت

قادیانی جماعت ! ہم حق پرست راستی کے طالب ہیں اس لئے نہایت کشادہ پیشانی سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ نہایت سچا مقولہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے مگر نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی کو یہ ضرورت پیش آئی کہ دارقطنی کی حدیث کو اپنی صداقت میں پیش کریں اور اس کے صحیح معنی پر پردہ ڈال کر مسلمانوں کے خیال اس طرف سے ہٹائیں اور اپنے تراشیدہ معنی پر مسلمانوں کو خصوصا نئے تعلیم یافتہ اور خدا کی قدرت کو مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کریں تو حقیقۃ الوحی میں اس نشان کے بیان میں بار بار قانون قدرت کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون قدرت یہ ہے کہ

323

چاند گرہن ۱۳۔ ۱۴۔ ۱۵۔ کو ہوتا ہے اور سورج گرہن ۲۷،۲۸،۲۹کو۔ یعنی یکم رمضان کو اور ۱۵ کو گرہن ہونا قانون قدرت کے خلاف ہے۔

اب جماعت مرزائیہ اسی قول پر فریفتہ ہے اور پہلا قول اگرچہ انہیں کا ہے مگر اس طرف اب نظر بھی نہیں کرتی۔ اس کی دو وجہ معلوم ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ کفر اور بے ایمانی کا بھرا ہوا خیال ان کے خیال کے مناسب ہے۔ دوسری یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تائید اسی خیال سے ہوتی ہے تیرہ درونی اسے کہتے ہیں کہ انہیں کے مقتداء کے دو قول صریح متعارض ہیں ان میں سے اس قول کو مانتے ہیں جسے خود ان کے مرشد بے ایمانی اور کفر بھرا ہوا کہہ رہے ہیں اور ان کے متعارض اقوال دیکھ کر ان سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ اس نفس پرستی کو اپنے مرشد کا معجزہ خیال کرتے ہیں۔ افسوس ! خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی اب میں اصل بات کہتا ہوں۔ حق پرست حضرات متوجہ ہوں اور اس پر غور کریں کہ بیان سابق سے کیا کیا باتیں ثابت ہوئیں۔ میں انہیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ آپ انصاف دلی سے ملاحظہ کریں۔

پہلی بات: مرزا غلام احمد قادیانی نے نہایت عظیم الشان دعوی کیا۔ یہاں تک کہ بعض اولوالعزم انبیاء علیہم السلام سے اپنے آپ کو ہر شان میں افضل کہا مگر ان کے وجود سے کوئی مفید نتیجہ نہیں ہوا اسلام کو کوئی نفع نہیں پہنچا۔ مسلمانوں کی تعداد میں سو پچاس کی بھی ترقی نہیں ہوئی۔ کیوںکہ کوئی آریہ، ہند و، یہودی، عیسائی ان کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوا ۱؎ ۔ یہ کیسی بدیہی دلیل ہے ان کے کاذب ہونے کی۔

دوسری بات: مرزا غلام احمد قادیانی کی آسمانی شہادت کی بنیاد جس حدیث پر تھی وہ لائق اعتبار ثابت نہ ہوئی۔ بلکہ معلوم ہوا کہ وہ ایک کذاب کی روایت ہے اور اس کی صحت کے بیان میں جو کچھ مرزا قادیانی نے لکھا ہے وہ محض دھوکا ہے۔ غرض کہ یہ بیان مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب کی دوسری شہادت ہے۔

۱؎

بعض مرزائیوں کو یہ کہتے سنا کہ قادیان میں بہت سے عیسائی اور آریہ ایمان لائے ہیں اور وہاں موجود ہیں مگر یہ غلط ہے اس وقت میرے پاس پنجاب کے ایک عالم ٹھہرے ہوئے ہیں جو فاضل ہوشیار پوری کے لقب سے پنجاب وغیرہ میں مشہور ہیں اور مرزا قادیانی اور ان کے اول خلیفہ سے بہت رابطہ رکھتے تھے اور قادیان میں بھی گئے ہیں وہ اس واقعہ کو محض غلط کہتے ہیں اس کے علاوہ اس کے غلط ہونے کی اور بہت شہادتیں ہیں چونکہ جھوٹ بولنا مرزائیوں کا ایک شیوہ ہے یہ بھی ان کا ایک جھوٹ ہے تاکہ ناواقف دام میں آئیں۔

324

تیسری بات: مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مہدی بنانے کے لئے اس روایت کے معنی بالکل غلط بیان کئے۔ ایسے عظیم الشان دعوؤں کے بعد ایسی صریح غلطی کرنا اور پھر اس غلطی پر قائم رہنا ان کے کذب کی کھلی دلیل ہے کیوںکہ کوئی سچا مدعی وحی والہام ایسی غلطی پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور نہ کسی کامل ذی علم سے صاف عبارت کے معنی میں ایسی غلطی ہوسکتی ہے۔ الغرض یہ تیسری دلیل ہے مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی اور بہت بڑی دلیل ہے۔

چوتھی بات: اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے اور اس کے صحیح معنی سے قطع نظر کی جائے تو ظاہر ہے کہ اس میں امام مہدی کی علامت بیان کی گئی ہے اور امام مہدی کی جو علامتیں حدیثوں میں آئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئیں۔ مثلا ایک علامت یہ ہے کہ امام مہدی اہل بیت رسول اور حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے اور مرزا قادیانی تو شیخ صدیقی یا فاروقی بھی نہیں ہیں اور سید اور اہل بیت رسول ہونا تو بڑی بات ہے۔ اور بڑی علامت یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں مسلمانوں کو اور اسلام کو بہت کچھ فروغ ہوگا مگر مرزا قادیانی کے وقت میں بلکہ جب سے ان کا وجود شریف دنیا میں آیا اور جب تک وہ اور ان کے خلیفہ دنیا میں رہے ہر قسم کا تنزل ہوا اور ہورہا ہے۔ پھر یہ کیسا اندھیر ہے کہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر قرآن وحدیث سے منہ پھیر کر مرزا قادیانی کو مہدی اور رسول مانا جاتا ہے۔

غرض کہ امام مہدی کی جو علامتیں حدیث میں بیان ہوئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں کسی طرح نہیں پائی گئیں۔ اس لئے حدیث میں جو بشارت ہے وہ مرزا قادیانی کے لئے نہیں ہوسکتی اور یہ کہنا کہ امام مہدی کے باب میں جو حدیثیں ہیں وہ صحیح نہیں ہیں ان میں بہت کچھ کلام ہے اس لئے جو حکم کہے اسے مانو جیساکہ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ تو ہم کہتے کہ جب مہدی کے متعلق حدیثیں صحیح نہیں ہیں تو مہدی کے آنے کا ثبوت نہ ہوا۔ اس لئے بھی آپ کا دعوی غلط ہوا اور آپ کاذب ہوئے۔ اور اگر حکم والی حدیث کو صحیح مان کر آپ حکم بننا چاہتے ہیں تو پہلے اپنا حکم ہوناآپ ثابت کیجئے۔ مگر یہ تو آپ بیس پچیس برس کی محنت میں بھی نہ کرسکے اورنہ اب کوئی کرسکتا ہے۔ اور ہم نے قرآن مجید اور حدیث سے آپ کا کاذب ہونا ثابت کردیا بلکہ یہی حکم والی حدیث آپ کو کاذب بتارہی ہے حکم کی جو صفات اس میں بیان ہوئی ہیں وہ آپ میں نہیں پائی گئی۔ حقیقۃ المسیح ملاحظہ ہو۔

پانچویں بات: جس حدیث سے مرزا غلام احمدقادیانی اپنے لئے آسمانی شہادت ثابت کرتے ہیں اس میں پانچ جملے ہیں۔ ان پانچوں جملوں سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس گرہن کو

325

وہ اپنے لئے آسمانی شہادت سمجھتے تھے۔ وہ گرہن مہدی کی علامت نہیں تھا اور نہ کسی طرح وہ علامت ہوسکتا ہے۔ اس کا بیان کافی طور سے کیا گیا۔

الغرض یہ پانچ شاہد ہیں جن سے ان کا دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے اور ان کی آسمانی شہادت خاک میں مل جاتی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ حدیث کے بیان میں اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی کی غلطیا ں ظاہر کی گئی ہیں مگر اب خاص طور سے ان کی ناراستی اور قابلیت کا اظہار کیا جاتا ہے اور ان کی زبردستیوں اور مہذبانہ تحریروں پر روشنی ڈالی جاتی ہے جس سے ان کی مہدویت کی شان اور تہذیب بخوبی ظاہر ہورہی ہے۔ اس وقت ضمیمہ انجام آتھم اور حقیقۃ الوحی میرے سامنے ہے ان میں سے کچھ نمونے آپ کو دکھاتا ہوں۔

مرزا قادیانی کی تہذیب کا اظہار اور ان کی سخت کلامی کا نمونہ

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰) پر لکھتے ہیں :

’’ انصاف کرنا چاہئے کہ کس قوت اور چمک۱؎ سے کسوف اورخسوف کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ …مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ۔ علیہم نعال لعن اللّٰہ الف الف مرّۃ (یعنی خدا کی لعنت کے دس لاکھ جوتے ان مولویوں پر پڑیں) …اے پلید دجّال! پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔ لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھاکردیا ۔‘‘

یہ غصہ اور شائستگی ملاحظہ کے لائق ہے۔ اے جماعت مرزائیہ کیا مصلح قوم اور ہادی امت ایسے بدزبان ہوسکتے ہیں؟ رحمۃ للعالمین کا ظل ایسا سخت گو اور لعنت کا برسانے والا ہوسکتا ہے ؟ ذرا خدا سے ڈر کر جواب دو۔

الغرض ناظرین حق پسند نے معلوم کیا ہوگا کہ آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوگیا کہ اس قسم کی نہ کوئی سچی پیش گوئی تھی اور نہ اس کا پورا ہونا معلوم ہوا بلکہ مرزا قادیانی کی غلط فہمی اور لسانی تھی جسے آفتاب کی طرح چمکا کر دکھادیا گیا جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے میں پیشتر اس روایت کا صحیح ترجمہ کرآیا ہوں، اب مرزا قادیانی کا ترجمہ اہل علم ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ انہوں نے مضمون حدیث میں کس قدر تحریف کی ہے اور کیا کیا قیدیں اپنی طرف سے زیادہ کی ہیں لکھتے ہیں :

۱؎

اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ یہ طرز تحریر بزرگوں کی سی نہیں ہے۔

326

’’ ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں۔ اور جب سے کہ زمین وآسمان پیدا کئے گئے وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت ظہور میں نہیں آئے ۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰)

ان دو جملوں میں دو غلطیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ مہدی کے لئے دو نشان کہتے ہیں اور نشان کے معنی علامت کے ہیں جس سے کسی شیٔ کے شناخت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہدی کے لئے دوباتیں ایسی مخصوص ہیں کہ ان میں سے ہر ایک بات اس کی علامت ہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت میں ظہور میں نہیں آئے۔ محاورہ اردو کے واقف سمجھتے ہیں کہ اس جملے کے یہ معنی ہیں کہ ان دو نشانوں کا ظہور کسی مدعی کے وقت میں نہیں ہوا اگرچہ ایک کا ہوا ہو۔ یہ قول پہلے کلام کو غلط بتاتا ہے کیوںکہ دو نشان ہونے کے تو یہی معنی ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مہدی کی علامت ہے۔ مہدی کے وقت کے سوا کسی وقت ان دونو ں میں سے ایک بھی نہیں پائی جاسکتی اور اگر پائی جائے تو وہ علامت نہ رہی۔ غرض کہ یہ جملہ مرزا کے پہلے جملے کو غلط بتاتا ہے اور حدیث کے بھی بالکل خلاف ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں نشان ایسے ہیں کہ مہدی سے پہلے ان میں سے ایک کا ظہور بھی نہ ہوا ہوگا یعنی ان میں ہر ایک نشان بے نظیر ہے۔

دوسری غلطی یہ ہے کہ مدعی کے وقت کے قید مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے زیادہ کی ہے حدیث میں کوئی لفظ نہیں ہے جس سے اشارتا بھی یہ قید سمجھی جاتی ہو۔ اب مرزا قادیانی ان دو نشانیوں کو بیان کرتے ہیں۔ اور وہ (دو نشان) یہ ہیں:کہ مہدی کے ادّعا کے وقت (یہ مضمون بھی حدیث میں نہیں ہے کیا دیانت ہے کہ اپنی طرف سے مضمون کا اضافہ کرکے اسے حدیث کا مضمون کہا جاتا ہے) میں چاند کو اس پہلی رات میں گرہن ہوگا۔ جو اس کے خسوف کے تین راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی تیرہویں رات (حدیث میں کوئی جملہ نہیں ہے جس کے یہ معنی ہوں) اور سورج کو اس کے گرہن کے دنوں میں سے اُس دن گرہن ہوگا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیس۲۸ تاریخ کو (الفاظ حدیث اس مطلب کو غلط بتارہے ہیں) اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی کے لئے یہ اتفاق نہیں ہوا۔ کہ اُس کے دعوی کیوقت میں خسوف کسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰) (یہ بھی سراسر غلط ہے)

327

یہاں تک تو مرزا قایانی نے روایت میں پوری تحریف کی۔ اب اس کی تائید اور تشریح میں نئے تعلیم یافتوں کے خوش کرنے کے لئے لکھتے ہیں :

’’ آنحضرتa کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ خسوف وکسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے ۔‘‘

ہم نہایت صفائی سے ہر ایک لفظ کی تشریح کرکے دکھاچکے ہیں کہ حدیث کا مطلب یہی ہے کہ وہ گرہن معمولی قانون قدرت کے ضرور مخالف ہوگا اس سے انکار کرنا اور یہ کہنا کہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے مطلب یہ سمجھا جائے آفتاب کی روشنی سے انکار کرنا ہے جسے عربی عبارت میں کچھ بھی بصیرت ہے وہ ضرور یہی مطلب بیان کرے گا جو اوپر بیان کیا گیا۔ اب اس گرہن کا معمولی قدرت کے خلاف ہونا ایسا ہی ہے جیسے صاحبان عقل وحکومت ملکی قانون کے بعض دفعات میں بعض موقع پر اسے جاری نہیں کرتے۔ کیوں کہ حاکم وقت مختار ہے کسی مصلحت سے وہ اپنے حکم کو جاری نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف کرتا ہے۔ یہی اس کا قانون ہے پھر اگر وہ حاکم مطلق جس کی حکمت وقدرت کی انتہاء نہیں ہے ایسا کرے تو کیا نہیں کرسکتا؟ ضرور کرسکتا ہے اور جس طرح دنیاوی حکومت کے قانون کی کسی دفعہ میں مستثنیٰ کرنا کوئی عیب ونقص نہیں ہے اس طرح قانون خداوندی میں بھی عیب نہیں ہوسکتا۔ اس کی توضیح ہم مرزاقادیانی کے کلام سے اوپر کر آئے ہیں۔

اس کہنے کے بعد مرزا قادیانی مطلب بیان کرتے ہیں اور لکھتے ہیں :

’’بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوا ہوگا کہ ا س نے مہدویت یا رسالت کا دعوی کیا ہو۔ اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں خسوف کسوف ہوا ہو ۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰)

حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے بلکہ مرزاقادیانی کا تراشیدہ مضمون ہے جسے وہ حدیث کا مطلب بتارہے ہیں یہاں اس پر نظر رہے کہ مدعی کو عام کہتے ہیں کہ صادق ہو یا کاذب ہو اور اس کے دعوی کو بھی عام کہتے ہیں کہ اسے رسالت کادعوی ہو یا مہدی ہونے کا۔ اب دیکھا جائے کہ ۱۳۱۲ھ کا گرہن کیونکر مرزا قادیانی کے لئے نشان ہوسکتا ہے ؟ کیوںکہ اس سے ایک برس پہلے ۱۳۱۱ھ میں امریکہ میں گرہن ہوا جہاں جھوٹا مدعی رسالت ڈوئی موجود تھا۔

328

یہ عبارت تو ضمیمہ انجام آتھم کی تھی جس کی غلطیاں اور تحریفیں بیان کی گئیں۔ اب حقیقۃ الوحی کی حالت بھی معلوم کیجئے ! ص ۱۹۴ خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۲ پر دار قطنی کی مذکورہ روایت میں جو کچھ انہوں نے غلطیاں کی ہیں اور مغالطے دیئے ہیں انہیں شمار کرکے آپ کو دکھاتا ہوں۔

۱۔ لکھتے ہیں :’’ صحیح دار قطنی میں یہ ایک حدیث ہے ۔‘‘

کتاب دار قطنی کو صحیح دار قطنی لکھنا اجماع امت کے خلاف ہے۔ جب سے دار قطنی تالیف ہوئی ہے اس وقت سے لے کر ا س وقت تک کسی عالم، کسی محدث، کسی مجدد نے اس کتاب کو صحاح میں داخل نہیں کیا اور صحیح دار قطنی نہیں کہا اور نہ اس کا مؤلف اس کا دعوی کرتا ہے کہ میں نے اس میں صحیح حدیثوں کا التزام کیا ہے۔ لفظ صحیح زیادہ تر امام بخاری اور مسلم کے ساتھ بولاجاتا ہے اور ان کی کتاب کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کہتے ہیں اس کے بعد ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، کی کتابوں کو بھی صحاح میں داخل کیا ہے۔ اور بعض نے امام مالک کی مؤطا کو بھی صحاح میں داخل کیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اپنی تائید کے لئے تمام امت کے خلاف دار قطنی کی تالیف کو بھی صحاح میں داخل کرکے عوام کی نظر میں اس کی عظمت بڑھاتے ہیں جو واقع کے بالکل خلاف ہے اور اگر کسی ذی علم مرزائی کو مرزا قادیانی کے اس قول کے صحیح ہونے کا دعوی ہو تو سامنے آئے ہم اس کی بعض روایتوں کی عدم صحت بیان کرکے دکھائیں گے وہ اس کی صحت ثابت کریں۔ ایک یہی حدیث ہے جس میں گفتگو ہورہی ہے۔ اس کی صحت ثابت کریں مگر نہیں کرسکتے۔

۲۔ اس روایت کو نقل کیا مگر اس کے آخری جملہ کو بالکل چھوڑ دیا اور اس کا اشارہ بھی نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا کہ حدیث کے الفاظ کچھ اور بھی ہیں اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ حدیث کے جو الفاظ چھوڑ دیئے گئے ہیں ان میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ دونوں گرہن اس طرح کے ہوں گے کہ اس قسم کے گرہنوں کا ظہور اس سے پہلے کسی وقت نہ ہوا ہوگا۔ اس میں کسی قسم کی خصو صیت کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ یعنی یہ خصوصیت نہیں ہے کہ کسی مدعی یا کسی نبی اور رسول کے وقت میں نہیں ہوا ہوگا بلکہ عام طور سے اس کے ظہور سے انکار ہے۔

۳۔ روایت کا ترجمہ کرتے ہیں ’’ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین وآسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان (کسی مامور اور رسول کے وقت میں) ظاہر نہیں ہوئے۔‘‘ (ایضاً)

329

اس عبارت میں جن الفاظ کو میں نے ہلالی خط کے اندر لکھا ہے وہ روایت کے کسی لفظ کا ترجمہ نہیں ہے اور نہ حدیث کے کسی جملہ سے سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ مضمون حدیث کے خلاف ہے کیوںکہ حدیث کے الفاظلم تکونامنذ خلق اللّٰہ السموات والارض، جن کا ترجمہ یہ ہے کہ : ’’ جب سے آسمان وزمین پیدا ہوئے ہیں ایسا چاند گرہن اور سورج گرہن کبھی نہیں ہوا ‘‘

یہ الفاظ نہایت صاف طور سے بتارہے ہیں کہ ان نشانوں کا ظہور کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں ہوا۔ یعنی کسی مدعی رسالت کے وقت میں اور نہ ایسے وقت میں کہ اس وقت کوئی مدعی نہیں ہے۔ غرض کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مہدی کے لئے دو نشان ایسے ہیں کہ اس سے پہلے کسی وقت ان کا ظہور نہ ہوا ہوگا۔ مرزا قادیانی کایہ کہنا کہ کسی مامور اور رسول کے وقت میں (وہ نشان) ظاہر نہیں ہوئے، محض تحریف معنوی ہے۔ حدیث میں یہ قید ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ احادیث صحیحہ اور قرآن مجید کے نص قطعی سے یہ قید غلط ثابت ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس قید سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی رسالت کے مدعی ہوںگے اور رسول صادق ہوںگے۔

حالانکہ قرآن مجید اور حدیثوں میں صاف مذکور ہے کہ جناب رسول اﷲa آخرالنّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کوئی جدید نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ اور جو کوئی نبوت کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا اور دجال ہوگا۔ اس کی تفصیل حصہ سوم فیصلہ آسمانی اور صحیفہ رحمانیہ نمبر۶ میں دیکھنا چاہئے۔ اور جب یہ قید نصوص صریحہ کی رو سے غلط ہے تو مرزا قادیانی کا یہ دعوی بھی غلط ہے۔ نہایت ظاہر ہے کہ جب رسول اﷲa فرماچکے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے کہ حضرت محمد رسول اﷲa کے بعد کوئی جدید نبی نہ آئے گا پھر اس حدیث میں کسی رسول کے آنے کی خبر اور اس کے نشان کا بیان کیسے ہوسکتا ہے۔

۴۔ پھر لکھتے ہیں :’’ ان میں سے (یعنی ان دو نشانوں سے) ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اسکی اوّل رات میں ہوگا یعنی تیرھویں تاریخ میں ۔‘‘ (ایضاً) حدیث کے الفاظ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ اس کے وجوہ ملاحظہ ہوں !

پہلی وجہ: جس عبارت کا یہ ترجمہ کیا وہ یہ ہے تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان۔ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ’’چاند گرہن ہوگا رمضان کی پہلی رات کو‘‘ کیوں کہ اس جملہ میں تین لفظ ہیں۔ پہلا لفظ ’’تنکسف القمر‘‘ہے جس کے معنی ہیں چاند گرہن ہوگا۔ دوسرا

330

لفظ’’لاول لیلۃ‘‘ ہے اسکے معنی ہیں پہلی رات کو۔ اس کہنے سے یہ سوال پیدا ہوا کہ پہلی رات کس کی ؟ کسی مہینہ کی پہلی، یا کسی دوسرے ایام معینہ کی پہلی رات؟ اس کا جواب تیسرے لفظ سے ظاہر ہوتا ہے وہ من رمضان ہے اس میں لفظ ’’من ‘‘ بیانیہ ہے یعنی دوسرے لفظ میں جو اجمال تھا اور معلوم نہ ہوتا تھا کہ پہلی رات کس کی ؟ اس کے بعد کے لفظ رمضا ن نے بیان کردیا کہ وہ پہلی رات ماہ رمضان کی ہے۔ یہ تو صریح الفاظ کا مطلب بیان کیا گیا۔

اب حدیث کی اصلی غرض پر بھی نظر کی جائے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ نہایت ظاہر ہے کہ حدیث میں امام مہدی کی آیت یعنی ان کی علامت بیان کی گئی ہے اور آیت کے معنی اوپر بیان کئے گئے ہیں کہ آیت یعنی نشان اسی کو کہتے ہیں کہ جس وقت وہ پایا جائے فورا اس کا علم ہوجائے جس کے لئے یہ آیت اور نشان ہے۔ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ اول لیلۃ سے رمضان کی پہلی رات مراد لی جائے کیوںکہ یہ ایسی عجیب بات ہے کہ اس کے ظہور سے فورا مہدی کے ظہور کا یقین ہوسکتا ہے اور پھر جملہ لم تکونا منذ خلق اللّٰہ السمٰوات والارض۔ ۔ اس مدعا کو نہایت صفائی سے ثابت کردیتا ہے۔ اس لئے مذکورہ عبارت کے یہ معنی اور یہ تشریح ایسی صحیح ہے کہ دنیامیں کوئی عربی داں ذی عقل اس کے خلاف نہیں کہہ سکتا بجز کسی خود غرض یا مرزا پرست کے۔ اس لئے جو معنی ا سکے خلاف ہیں وہ یقینی غلط ہیں۔

دوسری وجہ : اگر مقصد یہ ہوتا کہ رمضان میں گرہن ہوگا گرہن کی پہلی رات میں۔ یعنی جن راتوں میں چاند گرہن ہونے کا معمول ہے اس کی پہلی رات میں، تو رمضان کا لفظ لیلۃکے بعد نہ ہوتابلکہ اول لیلۃ کے پہلے ہوتا اور اول لیلۃ کے بعد بجائے من رمضان کے من لیالی الخسوفہوتا اور عبارت اس طرح ہوتی۔ ’’تنکسف القمر فی رمضان لاول لیلۃ من لیالی الخسوف‘‘چونکہ مخلوق کو ہدایت منظو ر ہے اور ایسے مقدس کا نشان بتانا مد نظر ہے جس کا ماننا ضروری ہے اس لئے اس کی عبارت ایسی صاف ہونا چاہئے جس کے معنی متعین ہوں اور نہایت صفائی سے وہ معنی ہر ایک سمجھ لے۔ وہ یہی عبارت ہے جو میں نے لکھی مگر حدیث میں یہ عبارت نہیں ہے بلکہ وہ عبارت ہے جس کے الفاظ سے اور قرینہ مقام سے نہایت صفائی سے وہی معنی سمجھے جاتے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔ اس لئے یہ معنی بلاشبہ غلط ہیں۔

تیسری وجہ: امام مہدی کے دو نشان بیان کئے ہیں، ان میں سے ایک نشان چاند کا

331

گرہن ہے۔ یعنی ان کے ہونے کی علامت اور ان کے ظہور کی ایک دلیل یہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن ہوگا۔ اور اس تاریخ میں ہوگا جس کی وجہ سے مسلمان انہیں مہدی موعود مانیں گے۔ اس نشان کی صفت اس حدیث میں یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ نشان ایسا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی اس وقت سے لے کر ان کے ظہور تک کسی وقت اس کا ظہور نہ ہوا۔

اب اگر حدیث کے مذکورہ جملہ کے یہ معنی کئے جائیں جو مرزاقادیانی نے بیان کئے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ رمضان کی ۱۳ ؍تاریخ کو گرہن ہوگا تو کوئی عاقل اسے کسی کی علامت اور نشان نہیں کہہ سکتاچہ جائیکہ ایک عظیم الشان بزرگ کے ظہور کی علامت ہو۔ کیوں کہ یہ ایک معمولی بات ہے۔ ایسے گرہن بہت ہوا کرتے ہیں۔ مذکورہ فہرست میں دیکھا جائے کہ صرف چھیالیس برس میں رمضا ن کی ۱۳ تاریخ کو چار گرہن ہوئے ہیں۔ یعنی ۱۲۶۷ھ میں اور ۱۲۹۱ھ اور ۱۳۱۱ھ اور ۱۳۱۲ھ میں اور چوالیس برس اور اوپر سے دیکھا جائے یعنی ۱۲۲۳ سے۔ تو پانچ مرتبہ رمضان کی ۱۳ تاریخ کو گرہن ہوا ہے۔ جو گرہن اس تھوڑی مدت سے پانچ مرتبہ ہوا اس قسم کے گرہن کو معجزہ اور نشان کہنا اور اس کا معجزہ مان لینا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ حدیث میں معجزہ اس گرہن کو کہا ہے جو اس مہدی سے پہلے کسی وقت نہ ہوا ہوگا۔

۵۔ دوسرا نشان مرزا قادیانی اس طرح بیان کرتے ہیں :

’’اور سورج کا گرہن اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا یعنی اس رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو ۔‘‘

(خلاصہ، ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰)

یہی ترجمہ حدیث کے جملہ’’ وتنکسف الشمس فی النصف منہ ‘‘کا مرزا قادیانی نے کیا ہے۔

اب میں ناظرین کو دکھاتا ہوں کہ اس دوسرے نشان کے بیان میں بھی مرزا قادیانی نے ویسی ہی غلطیاں کی ہیں جیسی پہلے نشان کے بیان میں کی تھیں بلکہ اس کی غلطیاں پہلے سے زیادہ ظاہر ہیں۔ ان کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ اس جملہ کا صحیح ترجمہ جو الفاظ حدیث اور سوق کلام سے ظاہر ہورہا ہے یہ ہے۔

’’ سورج گرہن ہوگااسی رمضان کے نصف میں ‘‘اس ترجمہ کی صحت الفاظ کو علیحدہ علیحدہ کرکے دیکھ لیا جائے۔ پہلا لفظ اس میں ’’ تنکسف الشمس‘‘ہے جس کے معنی ہیں کہ

332

سورج گرہن ہوگا۔ دوسرا لفظ ہے ’’فی النصف‘‘ جس کا ترجمہ ہے آدھو آدھ میں، یعنی سورج گرہن ہوگا، آدھو آدھ میں اب یہاں سوال پیدا ہوکہ کس کے آدھو آدھ میں اس کا بیان تیسرے لفظ ’’منہ‘‘ سے ہوتا ہے۔ اس لفظ میں ضمیر ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے اس کا مرجع یعنی وہ لفظ مذکور ہو جس کی طرف یہ ضمیر پھرتی ہے اور چونکہ یہ ضمیر مذکر کی ہے اس لئے اس لفظ کا مذکر ہونا ضروری ہے۔ یعنی وہ لفظ جمع نہ ہو یا کوئی دوسری علامت تانیث کی اس میں نہ پائی جاتی ہو۔ حدیث کے اس جملہ میں یا اس سے پہلے لفظ (رمضان)کے سوا کوئی لفظ اس ضمیر کا مرجع نہیں ہوسکتا۔ الفاظ کی یہ تشریح تو عربی کے صرف ونحو جاننے والے طلباء بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور عربی ادب سے ذوق رکھنے والے سوق کلام سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح اس سے پہلے جملہ میں چاند گرہن کے وقت کا بیان ’’لاول لیلۃ من رمضان‘‘سے ہے اسی طرح اس جملہ میں ’’فی النصف منہ‘‘سے سورج گرہن کے وقت کا بیان ہے۔ اور اگر ضمیر کا مرجع ظاہر کردیا جائے تو فی النصف من رمضان ہوگا۔ جس کے معنی نہایت صاف یہی ہیں کہ سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا۔ حدیث کے اس جملہ کی یہ ایسی صاف اور صحیح تشریح ہے جس سے کوئی عربی ادب جاننے والا انکار نہیں کرسکتا۔ مرزا قادیانی جو مطلب بیان کرتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ منہ کی ضمیر ایام کی طرف پھرے مگر یہ دو وجہ سے غلط ہے ایک یہ کہ ایام کا لفظ اس سے پہلے کسی طرح مذکور نہیں ہے دوسرے یہ کہ لفظ ایام مونث ہے اس کی طرف منہ کی ضمیر نہیں پھر سکتی۔ یہ دو وجہ ہوئیں مرزا قادیانی کی غلط بیانی کی۔

چوتھی وجہ : یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایام کسوف کے تین دنوں میں سے درمیان کے دن کو نصف قراردیتے ہیں مگر عربیت کے لحاظ سے اسے نصف کہنا غلط ہے جو صحت کا مدعی ہو وہ محاورہ عرب سے ثابت کرے۔

پانچویں وجہ: اس مطلب کے غلط ہونے کی یہ کہ حدیث میں اس گرہن کو مہدی کا دوسرا نشان بتایا ہے اور اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے :

’’ ولم تکونا منذ خلق اللّٰہ السموات والارض ‘‘

یعنی وہ چاند گرہن اور سورج گرہن ایسے دو نشان ہیں کہ جب سے اﷲ تعالیٰ نے آسمان وزمین پیدا کئے ہیں (اس وقت سے لیکر مہدی کے ظہور تک) ان کا ظہور کبھی نہیں ہوا یعنی

333

نہ ایسا چاند گرہن کسی وقت ہوا اور نہ ایسا سورج گرہن۔ چونکہ حدیث میں نہایت صفائی سے دو نشان یعنی مہدی کی دو علامتیں بیان کی گئی ہیں، ان میں سے ہر ایک جداگانہ نشان ہے اور ہر ایک کو ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے مثل کبھی ظہور میں نہ آیا ہو۔ اور اگر دونوں گرہنوں کو ملاکر ایک نشان قرار دیا جائے یعنی یہ کہا جائے کہ رمضان کی ۱۳ کو چاند گرہن اور ۲۸ کو سورج گرہن کا ہونا ایک نشان ہے تو صریح حدیث کے خلاف صرف ایک نشان ثابت ہوگا۔ اور مرزا قادیانی کے آئندہ بیان سے ایک ہی نشان ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

۶۔ ’’ اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم، مفہوم، ص ۴۶ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۰)

دیکھئے مرزا غلام احمد قادیانی ان دونوں گرہنوں کو ایک واقعہ قرار دے کر یہ بتاتے ہیں کہ ایسا واقعہ کبھی ظہو ر میں نہیں آیا۔ یہ کہنا حدیث کے صریح خلاف ہے۔ حدیث میں نہایت صاف طور سے دو واقعہ بیان کئے ہیں۔ ایک چاند گرہن کا دوسرا سورج گرہن کا اور دونوں کی نسبت یہ کہا ہے کہ ان دونوں واقعوں کا ظہور کسی وقت میں نہیں ہوا۔ اس وجہ سے حدیث میں کہا گیا کہ ہمارے مہدی کے لئے دونشان ہیں۔

دوسری غلط بیانی اس جملہ میں یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے ان گرہنوں کے لئے یہ قید بڑھائی ہے کہ کسی رسول یا نبی کے وقت میں ان کا ظہور نہیں ہوا۔ حالانکہ حدیث کے کسی جملہ یا کسی لفظ میں اس قید کا اشارہ بھی نہیں ہے بلکہ حدیث کا آخری جملہ نہایت وضاحت سے بتارہا ہے کہ ان گرہنوں کے دونوں واقعے ایسے بے نظیر ہیں کہ مہدی سے پہلے کسی وقت میں ان کا ظہور نہ ہوا ہوگا۔ یہ جملہ صاف بتارہا ہے کہ کسی رسول یا نبی کے وقت کی قید غلط ہے۔

غرض کہ اس جملے میں مرزا قادیانی نے دو غلطیاں کیں یا یوں کہاجائے کہ دو تحریفیں کیں۔ ایک یہ کہ دو واقعوں کو ایک بتایا دوسری یہ کہ حدیث میں رسول کے وقت کی قید نہ تھی مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے بڑھادی۔

ناظرین اس پر نظر کریں کہ یہاں تک نفس حدیث کا بیان تھا جس میں سے چھ فقرے مرزا قادیانی کے نقل کئے گئے۔ ان چھ فقروں میں مختلف طریقے سے گیارہ غلطیاں مرزا قادیانی کی بیان کی گئیں صاحبان دانش غور کے بعد اس کو بخوبی معلوم کرسکتے ہیں۔

334

اب بیان حدیث کے بعد مرزا قادیانی کے دعویٰ اور دفع اعتراضات کو ملاحظہ کیا جائے لکھتے ہیں:۷ ’’ جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ ۱۲ سا ل گذر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، ص۱۹۴ خزائن ج۲۲،ص۲۰۲)

اس قول میں مرزا قادیانی اس طرح کے گرہن کو اپنے زمانہ میں خاص کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ میرے ہی زمانہ میں اس صفت کا گرہن وقوع میں آیا حالانکہ یہ محض غلط ہے جملہ ماہرین ہیئت اور ناظرین حدائق النجوم اور رسالہ یوز آف دی گلوبس اس کے غلط ہونے پر گواہ ہیں اور اس کی بھی گواہی دیتے ہیں کہ اس صفت کے گرہن اپنے معمولی وقت پر ہوتے رہتے ہیں اس کا شمار کوئی نہیں بتاسکتا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کتنی مرتبہ اور کس کس وقت رمضان کی ۱۳ ؍اور اٹھائیس تاریخ کو گرہن ہوا ہے۔ بیان سابق سے ظاہر ہے کہ صرف چھیالیس برس کے عرصہ میں تین مرتبہ اس قسم کا گرہن ہوا۔ اس پر قیاس کیا جائے کہ اس سے قبل بے انتہا زمانہ میں کتنی مرتبہ ہوا ہوگا۔

۸۔ ’’ اور جیساکہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہوچکا ہے۔ اوّل اس ملک میں دُوسرے امریکہ میںاور دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی،ص۱۹۵ خزائن ج۲۲،ص۲۰۲)

اس قول کا حاصل یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa کا ارشاد ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے اس قسم کے گرہن دو مرتبہ ہوںگے مگر یہ محض غلط ہے اور مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں کرسکتا۔ کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جس سے صراحۃ یا اشارۃ یہ دعوی ثابت ہوتا ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دار قطنی کی مذکورہ روایت اس کو غلط ثابت کرتی ہے۔

دوسری غلطی اس قول میں یہ ہے کہ ایسے گرہنوں کا دو مرتبہ وقوع میں آنا لکھ کر کہتے ہیں کہ اول اس ملک میں یعنی ہندوستان میں۔ دوسرے امریکہ میں۔ حالانکہ اس کے برعکس ہوا ہے یعنی اول مریکہ میں ۱۳۱۱ھ کے رمضان میں ہوا۔ یہ وہ ملک ہے جہاں مسٹر ڈوئی مدعی کاذب موجود تھا۔ اور دوسرے ہندوستان میں ۱۳۱۲ھ کے رمضان میں۔ اور مرزا قادیانی نے اول اسی سن کے گرہن کو اپنے لئے شہادت قرار دیا تھا، اس کے بعد انہیں امریکہ کے گرہن کا علم ہوا اس لئے وہ اپنی آخری کتاب میں اس سے پہلے گرہن کو بھی اپنی شہادت میں داخل کرتے ہیں اور

335

رسول اﷲa پر افتراء کرتے ہیں کہ آپa نے فرمایا تھا کہ ایسا گرہن دو مرتبہ ہمارے مہدی کے لئے ہوگا۔ افتراء کے لفظ سے قادیانی بہت ناخوش ہوں گے مگر اب وہ بتائیں کہ جب وہ اس مضمون کو رسول اﷲ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے اور اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں ملتا تو اب مرزا قادیانی کو کیا کہیں؟ خصوصا جب کہ ان کے بہت سے قول اسی قسم کے دیکھ چکے ہیں۔

۹۔ اس کے بعد لکھتے ہیں : ’’ اس گرہن کے وقت میں مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی،ص۱۹۵،خزائن ج۲۲،ص۲۰۲)

یہ دعویٰ بھی غلط ہے محمد احمد سوڈانی مدعی مہدویت اس وقت تھے اور مسٹر ڈوئی امریکہ میں اور مسٹر ڈارڈ لندن میں موجود تھے۔ یہ دونوں مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے۔ جس طرح مرزا قادیانی مدعی ہیں اور یہ بھی وہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہی مہدی ہے۔ ناظرین اس کو سمجھ لیں۔

لکھتے ہیں:۱۰۔ ’’ اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دیکر صدہا اشتہار اور رسالے اُردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے اس لئے یہ نشانِ آسمانی میرے لئے متعین ہوا ‘‘ (ایضا)

صاحبان عقل مرزا قادیانی کی عقل کو دیکھیں کہ کیسی معمولی بات کو اپنے لئے آسمانی نشان سمجھتے ہیں اور اس پر کیسی مہمل دلیل پیش کرتے ہیں۔ ناظرین فرمائیں کہ کسی واقعہ کے وقت دعوی کرکے غل مچانا اور دنیا بھر میں اشتہارات شائع کرنا اس کی صداقت کی دلیل ہوسکتی ہے ؟ کیا جھوٹے مدعی ایسا نہیں کرسکتے۔ بلکہ اس قدر شور وغل مچانا جس قدر مرزا قادیانی نے مچایا کذب کی نشانی ہے کیوںکہ صادق کے لئے متانت اور اﷲ پراعتماد ضروری ہے۔ اس لئے صادق اس قدر غل ہر گز نہیں کرسکتا۔ اس کی متانت اس کا توکل ضرور اسے روکے گا۔ انبیاء کرام نے دعوی کیا اور بعض اولیاء نے بعض دعوی کئے مگر کیا اس طرح کیے؟ ہر گز نہیں کیے۔ اس کے عشر عشیر بھی کسی نے غل نہیں مچایا۔ اس وقت میں مسمریزم کے جاننے والے کہتے ہیں کہ جو بات نہایت قوت سے بار بار کہی جاتی ہے اس کا اثر قلوب پر زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے مدعی کاذب اس کو معلوم کرکے اپنے دعوی کے اعلان میں جان توڑ کوشش کرے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس کا علم جانتے تھے اور ان کے خلیفہ اول اس کی تعلیم دیتے تھے اور فی سبق دس روپیہ

336

لیتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے اس قدر غل کیا اور بہت سے سادہ دلوں پر ان کے اس زور سے کہنے کا اثر ہوگیا۔ اور ان کے غلط دعوی کو اپنی سادہ دلی سے صحیح مان گئے۔

۱۱۔ ’’ دُوسری اس پر دلیل یہ ہے۱؎ کہ بارہ ۱۲برس پہلے اِس نشان کے ظہور سے خدا تعالی نے اِس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا۔ اور وہ خبر …لاکھوں آدمیوں میں مشتہر ہوچکی تھی ۔‘‘ (ایضاً)

اس کی نسبت میں اول یہ کہتا ہوں کہ براہین احمدیہ میں یا کسی مقام پر اس نشان کے ظہور کی خبر صا ف طور سے کہ میری شہادت میں اس طرح کے گرہن ہوں گے کہیں نہیں دی اور مجمل اور عام الفاظ الہام کے بیان کرنا اور اس کے بعد جب کوئی بات واقع ہوئی اسے اپنی پیش گوئی کہہ دینا اور ان عام الفاظ کا مصداق اسے ٹھہرانا کسی خدا پرست کا کام نہیں ہے اورنہ کوئی ذی عقل اسے مان سکتا ہے۔

الغرض جب تک جماعت مرزائیہ صاف طور سے اس پیشگوئی کو ان کی کتاب سے نہ پیش کرے اس وقت تک یہ دعوی لائق توجہ نہیں ہے خصوصا ایسے شخص کا دعوی جس کے سینکڑوں غلط دعوی اس کے رسالوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ ا س کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ اس گرہن کی پیش گوئی تو حدائق النجوم وغیرہ میں اس کے ظہور سے تقریبا سو برس پہلے لکھی ہوئی تھی۔ پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ مرزا قادیانی نے اسے دیکھ کر اور جنتری سے مقابلہ کرکے یہ خبر معلوم نہیں کی۔ خدا تعالی نے انہیں خبر دی ؟ بلکہ جب ہمارے بیان سابق پر صاحبان دانش غور کریں گے تو بالیقین معلوم کرلیںگے کہ خدا کی طرف سے ایسی خبر نہیں ہوسکتی۔ اگر مرزا قادیانی نے ایسی خبر دی تو حدائق النجوم وغیرہ سے دیکھ کر دی۔ علم ہیئت کے جاننے والے اپنے علم سے ایسی پیش گوئی کرتے ہیں۔ مرزا نے ان کی کاسہ لیسی کی اور ان کی پیشگوئی دیکھ کر اور ایک غیر معتبر روایت کے محض غلط معنی بناکر اپنی پیشگوئی قراردی۔

ناظرین! مرزا قادیانی کے نشان کا اور اس کی دلیلوں کا تو خاتمہ ہوگیا اور ان کی غلط بیانیاں ظاہر ہوگئیں۔ اب اس کے متعلق کچھ شبہات اور جوابات کا بھی نمونہ ملاحظہ کیجئے۔

مذکورہ روایت کے جو صحیح معنی ہیں اسے بعض علماء نے بیان کرکے مرزا قادیانی کی غلطی

۱؎

اردو کے محاورہ کے مطابق یہ غلط ہے بلکہ اس طرح چاہئے کہ دوسری دلیل اس پر یہ ہے۔

337

ظاہر کی تھی۔ وہ صحیح معنی یہ ہیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن ہوگا اور پندرہویں کو سورج گرہن۔ مرزا قادیانی اسے قانون قدرت کے خلاف بتاکر حدیث کا مطلب یہ کہتے ہیں کہ رمضان کی ۱۳ تاریخ کو چاند گرہن اور ۲۸ کو سورج گرہن ہوگا۔ مگر حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس کی تشریح نہایت وضاحت سے کردی گئی ہے اور حدیث کے لفظ لفظ کے معنی بیان کرکے ایسا دکھا دیا گیا ہے کہ کسی مخالف کو جائے دم زدن نہیں رہی۔ اب اگر یہ معنی ان کے خیال میں قانون قدرت کے خلاف ہیں تو حدیث کو موضوع کہئے اور اس نشان سے انکار کیجئے۔

دوسرا اعتراض مرزا قادیانی کا یہ ہے پہلی رات کے چاند کو قمر نہیں کہتے، اس کا جواب کامل طور سے حدیث کی شرح میں دیا گیا ہے اور لغت عرب اور قرآن مجید سے ثابت کردیا ہے کہ پہلی تاریخ کے چاند کو قمر کہتے ہیں۔ یہ اعتراض ان کی ناواقفی کی وجہ سے ہے علماء حقانی کا ایک اعتراض مرزا قادیانی کے مطلب پر یہ تھا کہ حدیث میں امام مہدی کے لئے ایک خرق عادت کے ظہور کاوعدہ کیا گیا ہے اور رمضان کی ۱۳ ؍ اور ۲۸ کو گرہنوں کا اجتماع ہونا معمولی بات ہے۔ کوئی خرق عادت نہیں ہے مرزا قادیانی اپنی باتوں سے اس معمولی بات کو خرق عادت بنانا چاہتے ہیں اور لکھتے ہیں : ’’ حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مُدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیساکہ ظاہری الفاظ اِسی پر دلالت کررہے ہیں ‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ۱۹۶، خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۳)

اب اس جواب کی غلطیاں اور مرزا قادیانی کی زبر دستیاں ملاحظہ کی جائیں اور دیکھا جائے کہ اس جواب میں کتنی غلطیاں ہیں۔

اول: یہ کہنا کہ حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے، محض غلط ہے۔ کیوںکہ اس مطلب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے لئے صرف ایک نشان ہے۔ یعنی دونوں گرہنوں کا مذکورہ تاریخوں میں جمع ہونا۔ حالاںکہ یہ بالکل غلط ہے۔ حدیث میں جملہ لمہدینا آیتین نہایت صفائی سے بتارہا ہے کہ مہدی کے لئے دو نشان ہیں۔ اور مرزا قادیانی کا مطلب ایک نشان بتانا ہے۔ یعنی رمضان میں دونوں گرہنوں کا مدعی کے وقت میں جمع ہونا۔

دوم: حدیث کا مطلب بالیقین یہ ہے کہ مہدی کے دو نشان ہیں اور ہر ایک ان میں

338

ایسا ہے کہ مہدی سے پہلے کسی وقت اور کسی عہد میں اس کی نظیر نہیں پائی جائے گی۔ مرزا قادیانی اس صحیح مطلب کے خلاف ان معمولی گرہنوں کے اجتماع کو نشان ٹھہراتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔

سوم: ہم نے نہایت صفائی سے حدیث کے ہر جملہ کے الفاظ کو علیحدہ علیحدہ بیان کرکے ثابت کردیا ہے کہ جن دو گرہنوں کو حدیث میں امام مہدی کے دونشان بتائے ہیں ان دونوں گرہنوں کی نسبت اس حدیث میں نہایت صفائی سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ مہدی سے پہلے ان دونوں گرہنوں کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائے جائے گی یعنی ہر ایک گرہن بے نظیر ہوگا، ان میںسے ایک کی نظیر بھی نہیں پائی جائے گی۔ اس دعوی کے ثبوت کے لئے حدیث کا صرف آخری جملہ کافی ہے جسے مرزا قادیانی نے نقل نہیں کیا ہے۔ اور اسی غرض سے پوشیدہ رکھا۔ کہ جو ذی علم راست باز اسے دیکھے گا وہ یقینا مرزا قادیانی کے دعوی کو غلط کہے گا۔ کوئی ذی علم اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ بجز اس مرزا پرست کے جس نے اپنے علم اور عقل کو ویسا ہی کھودیا ہے جیسے تثلیث پرستوں اور بت پرستوں نے تثلیث کے ماننے اور بتوں کے پوجنے میں۔

چہارم: لکھتے ہیں :’’ بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مُدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے‘‘

یہ دعویٰ محض غلط ہے اور کئی طور پر اس کی غلطی ظاہر ہے۔ ایک یہ کہ جملہ نہایت صفائی سے یہ بتاتا ہے کہ مہدی کا ایک نشان ہے یعنی مدعی کے وقت میں ایسے دو گرہنوں کا جمع ہونا۔ حالانکہ جمع ہونے کو نشان نہیں کہا ہے بلکہ معمولی وقت کے خلاف دو گرہنوں کو دو نشان کہا ہے۔ دوسرے یہ کہ حدیث کے کسی لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مہدی دعوی کرے گا پھر حدیث کا مطلب یہ کہنا کہ کسی مدعی کے وقت میں یہ دونوں جمع نہ ہوئے ہوں گے ایجاد بندہ اور تحریف معنوی ہے۔ اگر خیال ہے کہ بغیر دعوی معلوم نہیں ہوسکتا تو اس کا شافی جواب اوپر دیا گیا ہے۔ تیسرے مدعی رسالت یا نبوت کی قید لگانا ایجادپر ایجاد اور تحریف بالائے تحریف ہے۔ حدیث میں رسول یا نبی کا ذکر ہرگز نہیں ہے بلکہ مہدی کاذکر ہے اور مہدی کے لئے رسول یا نبی ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ قرآن وحدیث میں نبی یا رسول پر خاص لفظ مہدی کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں رسول یا کوئی نبی مراد نہیں ہے۔ اور جب اس نص قطعی قرآن اور احادیث صحیحہ پر نظر کی جاتی ہے جس سے یقینی طور سے۱؎ ثابت ہوتا ہے کہ جناب رسول

339

اﷲa کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا تو حتمی طور سے یہ کہناہوگا کہ حدیث میں کسی نبی یا رسول کی خبر نہیں ہے بلکہ ایک خاص مہدی کا ذکر ہے جس کی ہدایت اور ہادیان امت سے زیادہ ہوگی عام طور پر یا اس زمانہ کے لحاظ سے۔ الغرض اس غلطی کا ثبوت قرآن مجید کی نص قطعی اور احادیث صحیحہ سےاظہر من الشمسہے۔

پنجم: اس قول میں مرزا قادیانی کا اپنا طبع زاد مطلب بیان کرکے یہ کہنا کہ حدیث کے ظاہر الفا ظ اسی پر دلالت کررہے ہیں، محض غلط اور صریح زبردستی اور دن کو رات کہنا ہے۔ میں پیشتر حدیث کے لفظ لفظ کو علیحدہ علیحدہ نقل کرکے اس کے معنی بیان کرآیا ہوں اور کامل طور سے ثابت کردیا ہے کہ الفاظ حدیث صاف طور سے مرزا قادیانی کے مطلب کو غلط بتارہے ہیں اب اگر کوئی مرزائی ذی علم ہے تو ان الفاظ کو ہمارے سامنے پیش کرے جن کا ظاہر مرزا قادیانی کے مطلب پر دلالت کرتا ہو۔ مرزا قادیانی تو زبانی دعوی کرنے کے سوا کسی مقام پر وہ الفاظ نہیں دکھا سکے اور خدا کے فضل سے ہم نے تو اپنے مدعا کو نہایت صفائی سے خوب روشن کرکے حدیث کے الفاظ سے دکھا دیا ہے جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے۔

ششم: اس قول سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی دو باتوں کو تسلیم کرتے ہیں ایک یہ کہ رمضان کی ۱۳ تاریخ اور ۲۸ کو چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع اس واقعہ کے پہلے بھی ہوا ہے جسے مرزا قادیانی اپنے لئے آسمانی شہادت کہتے ہیں۔ دوسری یہ کہ صرف یہ اجتماع مہدی کا نشان نہیں ہے بلکہ اس وقت کسی مدعی کا ہونا ضروری ہے۔ ان اقراروں کے بعد حدیث کے صریح اور صحیح مطلب پر نظر کی جائے تو مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب کاذب ٹھہرتے ہیں ۔ کیوں کہ حدیث تو نہایت صفائی سے یہ بتارہی ہے کہ وہ دونوں گرہن ایسے ہوںگے کہ ان کے مثل اس سے

۱؎

فیصلہ آسمانی حصہ سوم اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ۶ دیکھا جائے۔ جس میں نہایت روشن طریقے سے نص قطعی اور احادیث صحیحہ سے ثابت کردیا ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ خواہ وہ ظلی ہو یا امتی ہو۔ جیسا کہ گروہ مرزائیہ اپنی نادانی اور کمال تعصب سے خیال کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کا دعوی نبوت جس زور وشور کا ہے اس کا ذکر صحیفہ رحمانیہ نمبر ۶ و۷ میں دیکھنا چاہئے انکی نبوت کو ظلی اور غیر تشریعی کہنا مسلمانوںکو دھوکہ دینا ہے۔ مرزا قادیانی کو صاحب شریعت نبی ہونے کا دعوی ہے بلکہ اپنے آپ کو افضل الانبیاء سمجھتے ہیں۔ صحیفہ رحمانیہ کے نمبر ۷ میں ان کے اقوال دیکھے جائیں۔

340

قبل کبھی ایسے گرہن نہ ہوئے ہوںگے۔ اور مرزا قادیانی کے وقت میں جو گرہن ہوئے ان کے مثل اس سے پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ اس کا اقرار خود مرزا قادیانی کرتے ہیں، اس لئے مرزا قادیانی کا یہ اقرار ثابت کررہا ہے کہ ۱۳۱۱ھ میں جو گرہنوں کا اجتماع ہوا وہ مہدی کی علامت نہ تھا۔ بلکہ وہ معمولی اجتماع تھا۔ اب اقرار کے بعد یہ کہنا کہ یہی معمولی اجتماع اگر کسی مدعی رسالت کے وقت میں ہو تو یہ صداقت کا نشان اور خرق عادت ہوجائے گا ایک سخت نادانی بلکہ مضحکہ کی بات ہے۔

بھائیو ! ذرا خیال کرو کہ ۱۳۱۲ھ کا گرہن یوں تو معمولی گرہن تھا پہلے بھی ایسے گرہن ہوتے رہے ہیں مگر مرزا قادیانی کے وجود اور ان کے دعویٔ رسالت کی وجہ سے وہی معمولی گرہن عجیب وغریب ہوگیا اور مرزا قادیانی کے لئے نشان قرار پایا۔

اے عزیزو ! یہ مضحکہ نہیں تو کیا ہے کہ ایک معمولی چیز صرف مرزا قادیانی کے دعوی سے خرق عادت ہوجائے اور جس مدعی کے کذب پر بہت سی دلیلیں موجود ہوں اس کے لئے نشان قرار پائے۔ الحاصل اس قول میں مرزا قادیانی کی چھ غلطیاں ہیں اور سترہ پہلے بیان ہوئی تھیں اس لئے تیئیس غلطیاں ہوئیں۔

۱۸۔’’ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوّت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے ۔‘‘ (ایضاً)

ناظرین ! اسی قسم کی باتوں سے مرزاقادیانی اپنے مریدوں کو دام میں رکھتے ہیں ان کے مرید ین کی حالت کا تجربہ کیاگیا کہ حدیث کے متعلق اس قدر لکھا گیا ہے مگر کسی بات کی طرف ان کی توجہ نہیں دیکھی گئی بجز اس بات کے کہ ایسا گرہن کسی مدعی کے وقت میں ہوا یا نہیں ہوا۔ اب میں کہتا ہوں کہ ہمارا یہ فرض ہرگز نہیں ہے بلکہ مرزا پرستوں کو امور ذیل کی طرف توجہ کرنا اور ان کا جواب دینا فرض ہے۔

۱… ہم نے ثابت کردیا کہ حدیث صحیح نہیں ہے اور متعدد وجوہ سے اس کا غیر معتبر ہونا ثابت کردیا اور اس کی صحت میں مرزا قادیانی نے جو ملمع کاری کی تھی اسے بھی کھول کر دکھادیا۔

۲…پھر فرضی طور سے حدیث کو صحیح مان کر خوب روشن کردیا جو معنی مرزا قادیانی اس حدیث کے کرتے ہیں وہ محض غلط ہیں۔ جب وہ مطلب ہی غلط ہے جس کی بنیاد پر ہم سے ثبوت طلب کیا جاتا ہے تو ہم پر اس کے ثبوت کو فرض بتانا بجز نادانی یا ابلہ فریبی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔

341

۳… یہ بھی ثابت کردیا کہ جس قسم کے گرہن کو مرزا قادیانی مہدی کی علامت کہتے ہیں اس قسم کے گرہن پہلے بھی بہت ہوئے ہیں۔ اس رسالہ میں چھیالیس برس کے گرہنوں کا نقشہ نقل کرکے دکھادیا کہ اس تھوڑی مدت میں تین مرتبہ اس قسم کا گرہن ہوا اس لئے وہ گرہن کسی کے لئے نشان نہیں ہوسکتا۔

۴… نہایت محکم دلیلوں سے یہ بھی ثابت کردیا کہ حضرت خاتم النّبیین محمد مصطفیa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا۔ اس لئے جو ایسا دعویٰ کرے وہ قرآن اور صحیح حدیثوں کی رو سے جھوٹا ہے وہ سچا مہدی کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ پھر اس کاذب کے قول کی طرف توجہ کرنا اور سچے مہدی کے نشان کو (اگر وہ نشان ہے) اس کاذب پر چسپاں کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا۔ اور اسی طرح حدیث میں ایسی قید کو بڑھا نا جو قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ کی رو سے غلط ہے کسی ذی علم ایماندار کا کام نہیں ہے۔

۵… پھر یہ بھی دکھادیا گیا کہ حدیث میں اس بات کا اشارہ بھی نہیں ہے کہ وہ گرہن کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں ہوںگے اور نہ ایسا اشارہ کسی حدیث میں ہوسکتا ہے۔ کیوںکہ قرآن مجید کے نص قطعی اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ جو کوئی نبوت کا دعوی کرے وہ دجال ہے اس قطعی ثبوت کے بعد کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی صحیح حدیث میں یہ مضمون ہو کہ جناب رسول اﷲa کی امت میں کوئی سچا مدعی نبوت یا رسالت ہوگا۔ اور اس کا نشان گرہنوں کا اجتماع قرار پائے گا؟ ان میں سے کسی بات کا جواب نہ مرزا قادیانی نے دیا اور نہ ان کے کسی مرید نے۔ پھر ہمیں اس دعوی کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ کسی مدعی کے وقت میں ایسا گرہن ہوا۔ پھر ہم فضول درد سری کیوں خریدیں۔ پہلے ان پانچ باتوں کا جواب مرزائی جماعت دے اس کے بعد ہمیں اس طرف توجہ ہوسکتی ہے مگر یہ پانچوں باتیں ایسی پختہ اور لاجواب ہیں کہ ان کا کچھ جواب نہیں ہوسکتا۔ اور جب تک ان پانچوں باتوں کا جواب نہ دیا جائے ہمارے ذمہ ایسے مدعی کا ثبوت دینا ہرگز فرض نہیں ہے۔ بلکہ جماعت مرزائیہ پر فرض ہے کہ ہماری ان باتوں کا جواب دے۔ اور مرزاقادیانی کی صداقت کو ثابت کرے مگر ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی مرزائی ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتا۔

مگر افسوس ہے کہ جماعت مرزائیہ میں حق پرستی کا نشان نہیں رہا۔ مرزا پرستی اس قدر

342

ان میں غالب ہوگئی ہے کہ کیسی ہی حق بات آفتاب کی طرح روشن کرکے دکھائی جائے مگر وہ نہیں دیکھتے۔ بعض تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان کو سچا مان چکے ہیں ہم کسی اعتراض کو نہیں سنتے۔ بعض کہتے ہیں کہ اعتراضات تو اسلام پر بھی وارد ہوتے ہیں پھر کیا ان کی وجہ سے مذہب کو چھوڑدیں۔

اے بھائیو ! جو کچھ کہا جاتا ہے آپ کی خیر خواہی کے لئے کہا جاتا ہے جس طرح کوئی شفیق حکیم مریض سے کہتا ہے۔ اب اگر اس مریض نے اس کی بات کو مان لیااور اس کے کہنے پر عمل کیا تو اسی کا نفع ہے اور اگر نہ مانا تو کسی وقت وہ اپنے انجام کو دیکھ لے گا اور یہ کہہ دینا، کہ اعتراضات تو اسلام پر بھی ہوتے ہیں بڑی غلطی اور نہایت ضعف ایمان کی دلیل ہے۔ ان حضرات نے اس پر ذرا غور نہیں کیا کہ دنیا میں جس قدر اعتراضات لوگ کرتے ہیں تو کیا سب کی یکساں حالت ہوتی ہے ؟ پھر کیا جیسے لاجواب اور عظیم الشان اعتراضات مرزا قادیانی پر کئے گئے ہیں اور ان کے جواب سے تمام جماعت مرزائیہ عاجز ہے کیا ان کے خیال میں اسلام پر بھی ایسے ہی اعتراض وارد ہوتے ہیں ؟ (استغفر اﷲ) ایسی بات وہی کہے گا جس کا دل تو نور صداقت سے منور نہ ہوا ہوگا۔ اور اسلام کی حقانیت پر اسے پورا ایمان نہ ہوگا اگرچہ ظاہر میں وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو۔ اسلام پر جس قدر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے دنداں شکن جوابات اگلے مفسرین نے دیئے ہیں اور بعض تفسیریں خاص اسی باب میں لکھی گئی ہیں اگر علم نہ ہو تو جو علماء اس سے واقف ہیں ان سے دریافت کرو اور ان کی بات کو مانو۔ اس کے علاوہ متاخرین نے مختلف طور سے ان کے جوابات دیئے ہیں اب جس کسی کو لاجوابی کا دعوی ہو یہ خاکسار حاضرہے اس کے سامنے پیش کرے پھر خدا کی قدرت کا نمونہ دیکھے کہ کیسے جواب دیئے جاتے ہیں اور اعتراضوں کا مقابلہ کرکے دکھادیا جائے گا کہ اسلام پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں وہ کیسے لچر ہیں اور مرزا قادیانی پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں وہ کیسے لاجواب ہیں۔

۱۹۔ پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں :

’’ جب تک یہ ثبوت پیش نہ کیا جائے تب تک بلاشبہ یہ واقعہ خارق عادت ہے۔ کیوںکہ خارق عادت اُسی کو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے ‘‘

(حقیقۃ الوحی ص۱۹۶، خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۴)

اس قول میں دو باتیں مرزا قادیانی کی قابلیت کی داد دیتی ہیں۔ ایک یہ کہ ایسے

343

گرہنوں کا خارق عادت ہونا اس وقت تک ہے جب تک ایسے واقعہ کا ثبوت اس سے پہلے معلوم نہ ہو اور جب ایسا ثبوت مل جائے تو پھر اس سے خارق عادت ہونے کی صفت جاتی رہے گی اور ایک معمولی بات ہوجائے گی۔

غرض کہ اس قول کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک چیز ایک محدود وقت تک خارق عادت رہے اس کے بعد وہ معمولی چیز ہوجائے۔ اہل علم اس ناسمجھی کو ملاحظہ کریں۔ اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی اس کے خارق عادت ہونے کا یقین نہیں ہے ورنہ اس طرح ہرگز نہ کہتے بلکہ یقینی طور سے اسے خارق عادت کہتے۔ دوسری عجیب بات یہ ہے کہ خارق عادت کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ خارق عاد ت اسی کو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے یہ کیسی نادانی کی بات ہے جس طرح کی خصوصیتیں مرزا قادیانی ان گرہنوں میں لگا کر انہیں بے نظیر بنانا چاہتے ہیں اس طرح کی بے نظیر باتیں دنیا میں بہت نکلیں گی۔ پھر جماعت مرزائیہ ان سب کو خارق عادت کہے گی؟ مثلا جارج پنجم یعنی قیصر ہند ملکہ وکٹوریہ کا بیٹا دہلی میںآکر تخت نشیں ہوا اور تمام راجہ اور نوابان نے نذریں پیش کیں۔ اس کے سوا اور بھی اس میں خصوصیتیں تھیں پھر کیا یہ بھی ایک خرق عادت ہوگی۔ کیوں کہ اس سے پہلے دنیا میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ پھر مرزا قادیانی کا وجود قادیان میں ان دعاوی وغیرہ کے ساتھ بھی ایک عادت ہوگا کیوں کہ اس سے پہلے قادیان میں اور پھر بھی ان خصوصیتوں کے ساتھ جو ان میں تھیں کسی وقت ان کا نظیر نہیں مل سکتا۔ اس لئے ان کا وجود بھی خارق عادت ہوا۔ افسوس ہے کہ دعویٔ قابلیت پر خارق عادت کے معنی معلوم نہیں اور اگر معلوم ہیں تو یہ بات عوام کے دھوکا دینے کے لئے کیا گیا اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ کوئی ذی علم مرزائی اس کا جواب دے۔ مگر ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اس قسم کی باتیں مرزا قادیانی کی بہت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی بات بنانے کے لئے قصدا لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ ایسے کم علم نہیں ہیں کہ خیال کیا جائے کہ ناواقفی سے ایسا کیا اور غلط بات کہی۔

اب میں مرزاکے اغلاط کہاں تک بیان کروں۔ رسالہ طول ہوگیا طالب حق کے لئے اس قدر کافی ہے اور مرزا پرستوں کے لئے تو ہزار دفتر بھی کافی نہیں ہیں۔ جس طرح تثلیث پرستوں اور بت پرستوں کے لئے تثلیث اور بت پرستی کی سینکڑوں دلیلیں کافی نہ ہوئیں

344

باوجود یہ کہ آفتاب کی طرح ان کی غلطیوں کو روشن کرکے دکھایا۔ یہی حال مرزائی جماعت کا ہے کیسی کیسی روشن دلیلیں قرآن سے حدیث سے واقعات سے مشاہدات سے ان کے پختہ اقراروں سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا گیا مگر وہ توجہ نہیں کرتے اور انہیں حق بات ایسی ہی کڑوی معلوم ہوتی ہے جیسے صفراوی کو مزہ دار کھانا۔

اے بھائیو! مجھے تمہاری حالت پر نہایت افسوس ہے اس کا خوب یقین کرلو کہ قیامت تو بہت دور ہے مرنے کے بعد ہی سخت پچھتاؤگے۔ یہ نہایت روشن بات ہے کہ اگر مرزا قادیانی سچے ہوتے تو اسلام کے لئے کسی قسم کی بہبودی کرکے دکھاتے۔ مگر آنکھ اٹھاکر دیکھو کہ اس دراز مدت کی کوشش میں انہوں نے کیا کیا۔ بجز اپنے ذاتی نفع کے تمام عمر مشک وزعفران اور مغزیات خوب کھاتے رہے اور اپنی بیوی اور اپنی خاص اولاد کے لئے بہت کچھ چھوڑ گئے اور مریدوں سے مختلف طور سے چندہ لے کر انہیں چندہ دینے کے عادی کرگئے۔ تاکہ ہماری اولاد کو بھی چندہ دیتے رہیں اب ان کی اولاد اور ان کی عورتیں عیش کرتی ہیں اسلام کو فائدہ یہ ہوا کہ چالیس کروڑ مسلمان جو جنت کے مستحق ہوچکے تھے انہیں جہنم میں دھکیل دیا۔ سبحان اﷲ۔ کیا مسیح موعود تھے ؟

بھائیو! میں بڑی خواہش سے دریافت کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی نے کیا کیا بجز اس کے کہ کروڑو ں مسلمانوں کو کافر بنادیا اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے انکار کی وجہ سے طاعون آیا، وبا آئی، قحط ہوا، اور دوسری آفتیں آئیں۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ ان کی ذات سے دنیا وآخرت کی تباہی اور بربادی ہوئی۔ مگر کوئی یہ بتائے کہ ان کی ذات سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کسی قسم کا فائدہ بھی ہوا ؟ اس کا جواب بجز انکار کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ البتہ ایک مرزائی نے الزامی جواب یہ دیا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی تبلیغ سے کیا فائدہ ہوا تھا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کا فائدہ

میں نے کہا کہ ہر زمانے کی حالت مختلف ہوتی رہی ہے۔ ان کی طبیعت میں سختی اور نرمی میں بھی بہت اختلاف رہا ہے حضرت نوح علیہ السلام کے وقت میں نہایت سخت لوگ تھے بہت دراز مدت میں نہایت کم لوگ ایمان لائے مگر جس قدر ایمان لائے وہ کافر ہی تھے جو ہر طرح جہنم کے مستحق ہوچکے تھے وہ ایمان لاکر جنت کے مستحق ہوگئے۔

345

اس کے علاوہ دوسرا عظیم الشان فائدہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کفر کی ظلمت سے پاک ہوگئی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ایک سادی دعا کی تھی جس کی نقل اﷲ تعالیٰ اپنے کلام میں ان الفاظ سے کرتا ہے: ’’رَبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا‘‘(نوح:۲۶) یعنی اے پروردگار روئے زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ۔

اس بدعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ دنیا کے سارے کافر اور حضرت نوح علیہ السلام کے دشمن یک بارگی دنیا سے ناپید ہوگئے اور دنیا میں آفتاب اسلام اور مذہب حقہ کے سوا کسی کا چراغ بھی ٹمٹماتا ہوا باقی نہ رہا۔ سب ہی طوفان میں غرق ہوگئے۔

بھائیو! خدائے قہار نے اپنی عظمت وقہر کا وہ نمونہ دکھایا کہ ہمارے علم میں کسی نبی کے وقت میں ایسا نہیں ہوا۔ تمام دنیا کا کفر سے پاک ہوجانا ایسابے نظیر فائدہ اور اتنا بڑا نتیجہ ہے جس کا بیان نہیں ہوسکتا۔ افسوس مرزائیوں کی تیرہ درونی پر کہ ایسے عظیم الشان فائدے پر ان کی نظر نہیں ہے اور مرزا قادیانی کے بے سود دعوی کو اس پر قیاس کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ مرزا قادیانی اس وقت میں مدعی ہوئے ہیں کہ لوگ ہر قسم کے مدعیوں کو مان رہے ہیں۔ اسلام میں بہت گروہ ہوگئے ہیں اور بہت کچھ اختلاف ہے مگر ہر گروہ میں ہزاروں ماننے والے موجود ہیں۔ یہ نتیجہ ان کی کمزوری کا ہے ایسے وقت میں اگر مرزا قادیانی کے ماننے والے ہوگئے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ مگر نہایت تعجب اور حیرت سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ باوجود نہایت کوشش اور ہر قسم کی تدبیروں کے کوئی ایسی جماعت ان پر ایمان نہیں لائی جو پہلے سے جہنم کی مستحق تھی اور مرزا قادیانی کی وجہ سے وہ جنت کی مستحق ہوگئی ہو۔ جو ان پر ایمان لائے وہ وہی مسلمان ہیں جنہیں خود مرزا قادیانی بھی اپنے دعوی سے پہلے مسلمان اور جنت کا مستحق سمجھتے تھے۔ یہ جماعت ان کے دعوے کے پہلے جنت کی مستحق تھی اور تمہارے خیال کے بموجب اب بھی وہ مستحق ہے۔ اس میں تو کوئی جہنمی جنت کا مستحق نہیں ہوا۔ البتہ کوئی ایسی جماعت دکھاؤ جو ان کے دعویٰ سے پہلے جہنم کی مستحق ہو اور پھر ان پر ایمان لاکر جنت کی مستحق ہوگئی ہو۔ جب یہ نہیں ہوا تو بتاؤ کہ ان کی بعثت کا کیا فائدہ ہوا۔ بجز اس کے کہ دنیا میں جس قدر کفار کی آبادی تھی اس میں کچھ کم چالیس کروڑ کا اضافہ ہوگیا اور اسلامی دنیا کو خالی کرکے کافروں سے ایک ملک آباد کردیا۔ واہ رے مجدد ومسیح ؟۔

بھائیو! یہاں تو حضرت نوح علیہ السلام کے وقت سے معاملہ بالکل برعکس ہے۔ یعنی

346

وہاں کفر نیست ونابود ہوگیا تھا اور مرزا قادیانی کی بدولت اسلام گویا نابود ہوگیا۔ یعنی چالیس کروڑ مسلمانوں میں ان کے کہنے کے مطابق تین چار لاکھ رہ گئے۔ یہ مٹادینا اور گویا نیست ونابود کرنا نہیں تو کیا ہے ؟ جناب رسول اﷲa جس وقت مبعوث ہوئے ہیں اس وقت عرب میں تین گروہ تھے۔ مشرکین، یہود، نصاری، ان میں سے کوئی مسلمان نہ تھا جو حضرت سرور عالمa کے مبعوث ہونے سے پہلے جنت کا مستحق ہوچکا ہو اور حضرت کے انکار سے کافر ہوگئے تھے۔ اور نصاری تثلیث پرست تھے۔ غرض کہ تینوں گروہ کافر جہنم کے مستحق تھے جناب رسول اﷲa کے مبارک عہد میں ان میں سے دو لاکھ سے زیادہ مسلمان ہوکر جنت کے مستحق بلکہ اہل جنت کے سردار ہوگئے تھے۔ پھر آپa کی وفات کے بعد ہی آپa کے خلیفہ اول نے پہلے مسیلمہ کذاب کے فتنہ کو بہت ہی جلد نیست ونابود کردیا اور اسلام کی اشاعت شروع کردی اور خلیفہ ثانی نے تو دنیا میں اسلام پھیلادیا۔ اب مرزا قادیانی جو مسلمانوں کو دھوکا دینے کو اپنے آپ کو رسول اﷲa کا ظل کہتے ہیں انہوں نے تو بالکل برعکس معاملہ کیا کہ کروڑوں مسلمانوں کو کافر کردیا۔ اب یہ کہا جاتا ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں میں ترقی ہوگئی۔

اے بھائیو! یہ تو سوچو کہ جب ان کے وقت میں ان کے اس قدر شور وغل سے دو لاکھ کی جگہ دو سو کافر بھی مسلمان نہ ہوئے۔ اور ان کے خلیفہ اول سے کچھ نہ ہوا تو آئندہ کیا ہوگا ؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ جس طرح گذشتہ جھوٹے مدعیوں کا کچھ عرصہ تک نام ونشان رہا پھر مٹ گیا جیسے صالح بن طریف اور اس کا پوتا ابومنصور عیسی کہ کئی سو برس ان کا وہ زور وشور رہا کہ مرزا قادیانی ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچے۔ اور پھر ان کا نشان بھی نہ رہا۔ بجز تاریخی تذکرہ کے۔ بعض مدعی جو اس پانچ سو برس کے اندر گذرے ان کے ماننے والے باقی ہیں۔ ان میں سے جن کو زیادہ مدت گذرچکی ہے وہ نیست ونابود ہونے کے قریب ہیں۔ مثلا مجدد جونپوری جس کو چار سو برس ہوتے ہیں اس کے ماننے والے اور اس کے مذہب کی اشاعت کرنے والے اس وقت تک موجود ہیں اور انہوں نے بہت منکرین رسول اﷲa کو لندن۔ فرانس۔ امریکہ۔ وغیرہ میں کلمہ گو بنایا ہے۔ سفر نامہ حافظ عبدالرحمن دیکھو اور سیاحان وغیرہ سے ان کے حالات معلوم کرو۔

نوح علیہ السلام کی دعا کا اثر اور مرزا کی دعا کا نتیجہ

چونکہ مرزائیوں نے مرزا قادیانی کی تمثیل میں حضرت نوح علیہ السلام کو پیش کیا اس

347

لئے ایک اور بات بھی قابل ملاحظہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی وہ شان تھی کہ انہوں نے ایک مرتبہ کفار کے لئے بد دعا کی کہ اے پروردگار دنیا میں کافروں کو آباد نہ رکھ۔ اس دعا کے بعد ہی تمام کافر نیست ونابود کردیئے گئے۔ اور مرزا قادیانی کی حالت دیکھئے کہ اپنے مخالفوں کے لئے نہایت ہی عاجزی اور منت سے دعا کرتے کرتے تھک گئے مگر مخالفوں کا بال بھی نہ بیکا ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی ہی ان کے رو برو ہلاک ہوگئے اور نامراد چل بسے۔ ان کے بڑے مخالفوں میں تین شخص مشہور ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی۔ مرزا قادیانی نے ان سے مباہلہ بھی کیا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی صاحب مع الخیر اس وقت تک موجود ہیں اور مرزا قادیانی ان کے رو برو سات برس ہوئے کہ نامراد زیر زمین ہوگئے۔ ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب کے مقابلہ میں بہت کچھ بددعا کی اور اس دعا کو بہت کچھ مشہور کرایا۔ مگر نتیجہ ان کی دعا اور پیش گوئی کے خلاف ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی ہی داغ حسرت لے کر دنیا سے چلے گئے اور ڈاکٹر صاحب بفضلہ تعالیٰ سے اب تک موجود ہیں۔ تیسرے مولوی ثناء اﷲ صاحب جن کی مخالفت سے عاجز ہوکر مرزا قادیانی نے آخری فیصلہ کا اعلان کردیا اور اس فیصلہ کو بہت کچھ مشہور کیا اور اس طرح دعا کی :

’’ اے میرے آقا … اب میں تیرے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اﷲ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں در حقیقت میں مفسد اور کذّاب ہے اس کو صادق کی زندگی میںہی اٹھالے …اے میرے مالک …تو ایسا ہی کر آمین‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۹)

بھائیو ! مرزا قادیانی کے دعوی تقرب اور عظمت کو یاد کرو۔ اور ان کے دعوی قبولیت دعا کے الہام کو پیش نظر رکھو اور اس عاجزانہ اور فیصلہ کن دعا کو دیکھو کہ اس کا انجام کیا ہوا اور کس حسرت کی موت سے مرزا قادیانی مولوی صاحب کی زندگی میں مرے اور اپنے کامل اقرار سے مفسد وکذاب ٹھہرے۔ یہی دعا ہے جس کے الہامی ہونے پر مولوی ثناء اﷲ صاحب اور میاں قاسم علی کے درمیان مناظرہ ہوا تھا اور قاسم علی کو ایسی شکست ہوئی کہ تین سو روپے ۱؎دینا پڑے۔

پھر انہیں کی مثال میں حضرت نوح علیہ السلام کو پیش کیا جاتا ہے ؟ اور ان حالتوں کو یاد کرکے شرمایا نہیں جاتا۔ انبیاء کی ایسی فیصلہ کن دعا ان کے حق میں نا مقبول نہیں ہوسکتی۔

۱؎

رسالہ فاتح قادیان دیکھا جائے۔

348

مرزا قادیانی کی اس دعا نے تو تمام حق پسند حضرات ے نزدیک فیصلہ کردیا کہ مرزا قادیانی بالضرور مفسد وکذاب تھے اور مولوی ثناء اﷲ راستباز اور اگر مرزا قادیانی راستباز اور اپنے دعوی میں سچے ہوتے تو مولوی صاحب کے سامنے ہرگز نہ مرتے۔ نبی کی یہ شان ہرگز نہیں ہوسکتی۔ کہ وہ ایسی التجاء سے اﷲ تعالیٰ سے دعا کرے اور اپنے دعویٰ کے صدق اور کذب کا فیصلہ چاہے اور اس فیصلہ کے بموجب اعلانیہ طور سے دنیا کے نزدیک کاذب قرار پائے۔ یہ خدائی فیصلہ ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ ضرور اسے مانیں گے۔ اب میں اپنے رسالہ کو ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اﷲ تعالی ہمارے بھائیوں کو اس گمراہی سے بچائے اور راہ راست پر لائے۔ آمین!

واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ علی سید المرسلین وخاتم النّبیین وعلی الہ واصحابہ اجمعین!

بماہ شعبان المعظم ۱۳۴۳ھ مطابق ماہ مارچ ۱۹۲۴ء مطبوع گردید

(ٹھیک اسی ۸۰ سال بعد ۱۴۲۳ھ میں اسے دوبارہ شائع کرنے کی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان سعادت حاصل کر رہی ہے۔ فقیر: اﷲ وسایا)

خط جناب مولانا محمد عصمت اﷲ مرحوم

بنام حضرت اقدس جناب مولانا سید محمد علی صاحب قبلہ دامت فیوضہم

از : محمد عصمت اﷲ کان اﷲ لہ

بحضرت اقدس سیدنا مولانا صاحب مد ظلہ العالی۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!

اﷲ تعالیٰ حضور کی مبارک زندگی میں بے حد برکت عطا فرماوے۔ آمین۔

حضور نے جو عبارت تحریر فرمائی ہے حکیم نورالدین کی منقولہ عبارت کے مطابق نہیں ہے کچھ اختلاف ہے حکیم صاحب نے اس عبارت کو مرزا کے عمر والے الہام کے متعلق نقل کیا ہے۔ اصل الہام یہ تھا کہ خدا تیری عمر دراز کرے گا۔ اسی بر س یا پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔

(تذکرہ ص ۵۵۵ طبع چہارم)

مرزاقادیانی کی تحریروں سے اس کی عمر بہت زیادہ کھینچ تان سے تقریبا ستر برس تک بمشکل تمام پہنچ سکتی ہے۔ ۱۳۱۴ھ میں مرزا خود لکھتا ہے کہ اس عاجزکی عمر اس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے (جاء الحق ص۱۵) مرزا ۱۳۲۶ھ میں مرگیاتو اس تحریر کی رو سے اس کی عمر باسٹھ برس سے کچھ زیادہ ہوئی۔

349

’’ عجب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آپہنچا‘‘۔

(تریاق القلوب ص ۶۸ خزائن ج ۱۵ ص ۲۸۳)

اس حساب سے مرزا کی عمر ۶۵ برس اور چند ماہ کی ہوئی غرض عمر والا الہام بھی دوسرے الہاموں کی طرح سراسر جھوٹ وغلط ثابت ہوگیا۔

معراج الدین مرزائی مرزا قادیانی کے مختصر حالات ص ۶۰ میں جو براہین احمدیہ کے شروع میں منسلک ہے لکھتا ہے کہ :

’’ مرزا قادیانی ۱۸۳۹ء مطابق ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوا اس حساب سے اس کی عمر انگریزی سال کے مطابق ۶۹ ہوئی اور مطابق ہجری سال کے ۷۱ برس ہوئی۔

مگر نورالدین اس الہام کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ایسی ایسی باتیں لکھتا ہے کہ کوئی صحیح المزاج ہر گز نہیں کہہ سکتا۔ لکھتا ہے :’’ قال ای رب زدہ من عمری اربعین سنۃ ‘‘

آدم علیہ السلام نے فرمایا اے میرے رب میری عمر سے چالیس برس لے کر داؤد علیہ السلام کی عمر زیادہ کردے۔ پہلے نورالدین کو یہ ضرور ہے کہ مرزا کی تحریر سے یہ ثابت کرے کہ اس نے اپنی دس بیس برس عمر عبد الکریم یا مبارک احمد وغیرہ کو دے دی تب اس حدیث کو پیش کرسکتا ہے۔ اس کے بعد لکھتا ہے:

ماننسخ من آیۃ او ننسہا نات بخیر منہا او مثلہا الم تعلم ان اﷲ علی کل شیٔ قدیر ‘‘یہاں آیت کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے انسانوں پر بھی بولاجاتا ہے۔ دیکھو اﷲ تعالیٰ ایک ویران بستی پر گذرکرنے والوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے :’’ولنجعلک اٰ یۃ للناس‘‘

یہاں اس گذرنے والے کو آیت فرمایا ہے جو لوگ دنیامیں مامور ہوکر آتے ہیں وہ بھی آیۃ اﷲ ہوتے ہیں اور ان کا اس دنیا سے کوچ کرجانا ان کے عنصری وجود کا نسخ ہوتا ہے۔ بلکہ ایک زمانہ ایسا بھی آتا ہے کہ بعض آیات بھول جائیں۔ لیکن رحمت الٰہی’’ نات بخیر منہا او مثلہا ‘‘ہم کو عمدہ تسلی بخش ہے جس پر ہم ایمان لاکر یقین کرتے ہیں کہ آپ کی اولاد سے…آپ سے خیرکان اﷲ نزل من السماء یا کم سے کم آپ کے مثل آنے والا ہے اور نسخ کے ایسے وسیع معنی لینے میں السید عبدالقادر الجیلانی جیسے بزرگ ہمارے ساتھ ہیں۔

(ص ۲۷۳ میگزین بابت ماہ جون جولائی ۱۹۰۸ء)

350

حضور دیکھ رہے ہیں کہنجعلک آیۃللناس، کس غلط طور پر اس آیۃ کے اصل مقصود ومنشاء ربانی کو چھوڑ کر سارے تعجب خیز قدرت نمائی اور عجیب ترین واقعہ سے چشم پوشی کرکے مجرد انسان کو آیۃ بنایا اور اس آیت شریفہ کے مضامین پر پردہ ڈالنے کی بے کار کوشش کی۔ اﷲ تعالیٰ بیش بہا قدرتوں کی جانب جو اس واقعہ کے متعلق ہے پھوٹی نگاہ سے بھی نہیں دیکھا ایسے شخص کو بجز غرض والا باؤلا کے اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد فتوح الغیب کی عبارت نقل کرکے یہ دکھلانے کی کوشش کی ہے کہ شیخ علیہ الرحمہ نے محض انسانی خیال وارادہ کے بدل جانے کو ناسخ ومنسوخ سے تشبیہ دی ہے۔ نورالدین نے مرزا کو آیۃ اﷲ بناکر اس کو منسوخ کیا اور اس کی اولاد کو جو کبھی بھی پیدا نہ ہوگی ناسخ بتلاتا ہے نورا لد ین لفظ آیۃ کو غلط طریقہ سے خود وسیع معنی میں لایا ہے اور فتوح الغیب کی اس عبارت سے اس مقام پر صرف یہ دکھلانا چاہا ہے کہ نسخ کا لفظ وسیع معنی میں آیا۔ ان سارے لغویات کرنے پر بھی وہ اپنے دعوے اسی (۸۰) برس والے الہام کو صحیح ثابت نہیں کرسکا۔ مرزا کے اس واقعہ نے اس الہام کو جھوٹا کردیا تو اب نورالدین ان دور از کار باتوں سے کیا صحیح کرسکے گا۔ اس کے بعد پھر لکھتا ہے :

’’ حضرت جیلانی فرماتے ہیں :’’لما کان النبیa منزوع الہوی والارادۃ سوی المواضع التی ذکرہا اللّٰہ عز وجل فی القرآن ۔‘‘

یہاں سوی المواضع کے مقام میں مرتبہ خاتم النّبیین ورسولa اور مرتبہ غلام احمد کا مدنظر رکھ لیں تو ان شاء اﷲ تعالیٰ ان کا بھلا ہوگا۔ نورالدین نے اپنی بدتمیزی کی وجہ سے حضور پرنور مقد س مطہر باقی باﷲ کی طرح غلام احمد کو (جس کی روح ڈاکٹر عبدالحکیم، مولوی ثناء اﷲ صاحبان وغیرہ کے موت کے برابر متمنی اور محمدی بیگم کے نکاح کے شوق سے لبریزرہی ہو) منزوع الہوی ثابت کرنے کی بے کار کوشش کی ہے، ایسے بیکار تصنع کرنے سے بھی نورالدین عمر والے الہام کو ہرگز صحیح ثابت نہیں کرسکا۔ ایسی لغو تحریر کو دیکھ کرہمت نہیں پڑتی کہ ان کم بختوں کو کچھ کہیں۔ محض لاغی اور بے ہود ے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہادی حقیقی مسلمانوں کو ان کی گمراہی وشر سے بچائے۔ آمین!

والسلام مع التواضع والاکرام

آپ کا خادم

محمد عصمت اﷲ کان اﷲ لہٗ …… یکم ربیع الآخر ۱۳۴۳ھ، ۱۹۲۵ء

351

دوسری شہادت آسمانی کی قطعہ تاریخ لاثانی

(از: سید عبدالرحمن صاحب عظیم آبادی مرحوم)

  1. ماہر ہیئت وتقویم وحدیث

    ناصح مشفق نے بہر دوستاں

  2. حضرت اقدس ابو احمد لقب

    عالم دیں رہنمائے گمرہاں

  3. خیر خواہانہ لکھی ہے یہ کتاب

    میرزا کا مٹ گیا جس سے نشاں

  4. زعم باطل میرزا صاحب کا تھا

    لکھ دیا معمولی گہنوں کو نشاں

  5. اور موضوعات سے لائے دلیل

    جس کا راوی سخت کذاب جہاں

  6. شاہد تحقیق اسماء الرجال

    دیکھ لیں ہو جائے گا سب کچھ عیاں

  7. باوجود اس کے بھی القط کرگئے

    لم تکونا منذ کو از درمیاں

  8. تھا خلاف مدعائے میرزا

    کھل گئیں اب ان کی سب مکاریاں

  9. اپنے منہ سے خود میاں مٹھو بنے

    میرزا صاحب کہاں، مہدی کہاں

  10. سو برس میں بیسیوں ہیں ایسے گہن

    ہوگئے شاہد ہے تقویم جہاں

  11. دیکھ لیں انسائیکلو پیڈیا

    جن کو اس تحقیق میں شک ہو جہاں

  12. کیتھ صاحب کا رسالہ لاجواب

    علم ہیئت میں ہے مشہور جہاں

  13. خیر خواہانہ مصنف نے جسے

    کردیا ہے صاف اور واضح بیاں

  14. طبع کی تاریخ میں جب فکر کی

    غیب سے آئی صدا یہ ناگہاں

  15. آسمان پر شور ہے یوں کر رقم

    میرزا کے ہوگئے ابتر نشان

۱۳۳۳ھ

ایضاً تاریخ طبع ثانی رسالہ شہادت آسمانی ۱۳۴۳ھ

  1. مژدہ باد اے مومنین باوقار

    میرزا کی پھر اڑی ہیں دھجیاں

  2. ناز تھا جس ادعائے قول پر

    خاک میں سب مل گئے ان کے نشاں

  3. ہے کرامت شور کی تاریخ میں

    سال طبع ثانی ہے جس سے عیاں

  4. کاٹ کر مرزا کا سر اس میں لگاؤ پھر

    دوبارہ یہ شہادت آسماں

اعداد ۱۳۰۳

سر مرزامیم : ۴۰ ؍ ۱۳۴۳

352

تنزیہ ربانی

از

تلویث قادیانی

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

353

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خیر خواہانہ گذارش

برادران اسلام سے اور بالخصوص جماعت مرزائیہ سے آرزو کے ساتھ کہتاہوں کہ میری خیر خوا ہا نہ گذارش کو دلی توجہ سے سنیں۔ مذہب اسلام میں پہلی ہی صدی سے مختلف فرقے نکلنا شروع ہوگئے تھے اور برابر ہوتے رہے اور اب بھی وہی حال ہے۔ تاریخ اٹھاکر دیکھئے جس زمانہ میں جس نے جو دعویٰ کیا ہے اس کے ماننے والے ضرور ہوئے ہیں اور نہایت زور سے مانا گیا ہے۔ نویں صدی کے آخر میں محمدجونپوری نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور تیرہویں صدی میں محمد علی باب نے فارس میں بھی دعوی کیا ان کے ماننے والے اس وقت تک کثرت سے موجود ہیں۔

اسی طرح چودہویں صدی میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے جس طرح مرزا قادیانی اپنے نشانات اور معجزات کا دعویٰ کرتے ہیں ان سبھوں نے کیا ہے، کیوںکہ بغیر نشان دیکھے لوگ معتقد نہیں ہوسکتے۔ اب وہ نشانات کیسے تھے، یہ ایک بحث ہے جس میں عقلاء اور فہمیدہ حضرات کو نہایت دور اندیشی اور غور سے کام لیناچاہئے۔ ممکن ہے کہ پہلے غلطی سے مان لیا ہو مگر سخت خطرناک معاملہ ہے اگر واقعی غلطی ہے تو دائمی زندگی میں مصیبت اٹھانا ہے اللّٰہم احفظنا!

اس لئے تحقیق کرنا اور درد مند مخالف کی باتوں کو غور وانصاف سے معلو م کرنا نہایت دانشمندی ہے اس تحریر کا باعث محض ان کی بہی خواہی ہے آپ اسے غور سے ملاحظہ کریں۔

جماعت مرزائیہ کے حضرات کو دیکھا جاتا ہے کہ کسی خیر خواہ کی بات کو بھی اچھی طرح نہیں دیکھتے اور موافق کی بالکل غلط اور بے سروپا باتوں سے ان کی تسلی ہوجاتی ہے۔

ذرا خیال تو کریں کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے اور اپنے نشانات کے

354

اعلان میں بے انتہا کوشش کی۔ عربی، فارسی، اردو، انگریزی میں بہت رسالے اور اشتہارات ساری دنیا میں شائع کئے۔ مگر اس کا نتیجہ دیکھئے کیا ہوا کوئی عیسائی، کوئی آریہ، کوئی ہندو وغیرہ مسلمان نہیں ہوا۔

چند مسلمانوں میں سے انہیں مانا ان میں دوچار اہل علم سنے جاتے ہیں ان کے خلاف سینکڑوں علماء تو یہیں ہندوستان میں موجود ہیں عرب، فارس، وغیرہ کے علماء کی تعداد تو بہت کچھ ہے ان کی تحریریں ہر جگہ پہنچی ہیں مگر کسی نے انہیں نہیں مانا۔

اب ہزاروں علماء کو بے دین اور متعصب کیسے مان لیا جائے اور دو چار کو اس کثیر جماعت پر کیوںکر ترجیح دی جائے ؟ جو خرابی آپ سینکڑوں ہزاروں علماء میں مانتے ہیں کیا وجہ ہے کہ اس قسم کی خرابی دو چار دس بیس علماء میں نہیں ہوسکتی۔ اس قلیل تعداد کا غلطی میں پڑجانا عجب نہیں ہے اور ان کے مقابل میں ہزاروں کا غلطی میں پڑجانا قیاس سے باہر ہے اس وجہ سے حدیث شریف میں ’’اتبعوا لسواد الاعظم ‘‘کا حکم ہے۔

ذرا تو انصاف کیجئے! پھر کیسے اعلانیہ صریح اقوال مرزا قادیانی کے آپ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں جن سے ہر فہمیدہ انہیں کاذب یقین کرسکتا ہے مگر آپ خیال بھی نہیں کرتے بلکہ خدا پر عیب لگانا بہت آسان سمجھتے ہیں اس بات سے کہ مرزا قادیانی پر عیب لگایا جائے اور انہیں کاذب کہا جائے۔

میں نہایت درد مندی سے کہتا ہوں کہ فیصلہ آسمانی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ نہایت تحقیق اور مسلمانوں کے محض بہی خواہی کے لئے لکھا گیا ہے اور اس کی باتوں کا جواب نہیں ہوسکتا۔ آپ انصاف سے ملاحظہ کریں بعض حضرات نے اس کے بعض مضامین کے جواب میں کچھ لکھا تھا اس کی حالت اس رسالہ میں ملاحظہ کی جائے۔

واللّٰہ الموفق!

مسلمانوں کا خیرخواہ … ابواحمد رحمانی

355

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علی رسولہ الکریم!

مذہب حقہ اسلام میں بہت گروہ گذرے ہیں وہ سب اسی قرآن مجید وحدیث کے ماننے والے تھے اور اب بھی ہیں۔ مگر جب ان کے مسائل وعقائد پر نظر کی جاتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ بعض نے ایسے کفریہ اور خدا ورسول پر عیب لگانے والے عقائد کیوںکر اس مقدس کتاب سے نکالے ؟ عقائد وغیرہ کی کتابوں میں دیکھ کر تعجب ہوتا تھا اور کسی وقت یہ خیال ہوجاتا تھا کہ بزرگوں نے شاید کسی مخالف سے سن کر لکھ دیا ہے ایسا عقیدہ کون مسلمان رکھ سکتا ہے۔ غرض کسی وقت یہ بدگمانی بزرگوں سے ہوتی تھی مگر اب گروہ قادیانی کی حالت معاینہ کرکے یہ بدگمانی بالکل جاتی رہی کیوںکہ ان کے بعض عقائد ایسے ہی ہیں اور پھر وہ اسی قرآن مجید سے ثابت کرتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے اور قدرت خدا نظر آتی ہے وہ مقدس مذہب اسلام جس کے برگزیدہ بانیa نے خلاف گوئی اور جھوٹ کوگویا مبائن اسلام قراردیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا، گروہ قادیانی کا یہ عقیدہ معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک خدا بھی جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے اور اپنے اس عقیدہ کو قرآن پاک سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے افتراء پر آسمان وزمین اگر شق ہوجائیں تو عجب نہیں۔

مسلمانو! ذرا سوچو تو سہی کہ جب وہ ذات پاک جو تمام عیبوں سے پاک ہے، جھوٹ بولے، وعدہ خلافی کرے۔ نعوذ باﷲ۔ تو پھر سچا کون ہوسکتا ہے اور وعدہ کا پورا کرنے والا کسے کہہ سکتے ہیں؟ جب وہ ذات مقدس اس عیب سے پاک نہیں ہے تو اس کے ماننے والے اور اس پر ایمان لانے والے اس کے رسولوں کو کیونکر سچا مان سکتے ہیں اور اس کے وعدوں سے کس طرح دل کو خوش کرسکتے ہیں اور اس کے وعدوں سے ڈرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ کیونکہ ہر جگہ ان کا یہ خیال ہوگا اور نہایت صحیح خیال ہوگا کہ جو کچھ کہا گیا ہے یا کہا جاتا ہے اس کی صداقت پر کیا اطمینان ہے جب ان کی ہر بات میں محو واثبات ہے تو کیا وجہ ہے کہ رسول کی رسالت میں محو نہ ہو، اس خیال کے بموجب ہوسکتا ہے کہ پہلے کسی کو رسالت کا مرتبہ دیا گیا ہو اور پھر محو کردیا ہو یا کردے۔ جو وعدے اس نے ایمانداروں سے کئے ہیں ان کے پورا ہونے پر کیونکر اطمینان ہوسکتا ہے کیونکہ اس جدید جماعت کے عقیدے کے بموجب خدا تعالیٰ

356

اکثر وعدے پورے نہیں کرتا۱؎ اس لئے اس کے تمام وعدے مشکوک ہوگئے بلکہ ہر وعدے پر غالب گمان یہی ہوگا کہ یہ پورا نہ ہوگا کیونکہ وعدہ پورا نہ ہونے کا پلہ بھاری ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ قادیانی جماعت کا صرف یہی خیال نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ جس طرح ہر بات پر قدرت رکھتا ہے وعدہ پورا نہ کرنے پر بھی وہ قادر ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ وعدے خلافیاں وہ کرتا ہے مرزا قادیانی سے کتنے وعدے اس نے کئے مگر پورے نہ کئے چنانچہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا نہایت پختہ وعدہ کیا اور برسوں اس کے ظہور کا یقین دلایاگیا اور اس کے ضمن میں بہت سے وعدے اور وعیدیں تھیں مگر کسی کا ظہور نہ ہوا اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں شرح مسطور ہے۔

ناظرین ! قادیانی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ سارے وعدے پورے نہیں کرتا جسے چاہتا ہے پورا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے مٹادیتا ہے یعنی پورے نہیں کرتا۔ اس کے ثبوت میں تین آیتیں اس وقت تک انہوں نے پیش کی ہیں جو میری نظر سے گذری ہیں۔

(۱) یمحوا اللّٰہ مایشاء ویثبت
(۲) یصبکم بعض الذی یعدکم
(۳) قالو ایا نوح قد جادلتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصادقین۔ قال انما یاتیکم بہ اللّٰہ ان شاء وما انتم بمعجزین۔

پہلی آیت کو مرزا قادیانی نے حقیقۃ الوحی میں پیش کیا ہے پھر پہلی اور دوسری آیت مونگیر کے اشتہار میں دیکھی گئی جس کا نام ’’نشان آسمانی‘‘ ہے۔ اس کے بعد ۸ ؍اگست ۱۹۱۲ء کے اخبار بدر قادیانمیں دوسری اور تیسری آیت دیکھی، مگر اس آیت کی شرح ومطلب تو کیا ترجمہ بھی نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ آسمانی کے چھپنے کے بعد قادیانیوں میں ہلچل مچ گئی اور کئی شخصوں نے یہ رسالہ حکیم نورالدین قادیانی کے پاس بھیجا اور جواب کی خواہش کی اور اصرار کے ساتھ اس پر بدر کے مذکورہ پرچہ میں بہت مختصر مضمون نکلا جس کا عنوان یہ ہے۔

نکاح والی پیش گوئی

اس میں پہلے تو یہ دعوی کیا گیا ہے کہ’’ جس قدر اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے جواب خود آنحضور (مرزا قادیانی) کی تصانیف میں بین طور سے موجود ہوتے ہیں‘‘

۱؎

دوسری آیت اس دعوے کے ثبوت میں پیش کی ہے اس کا حاصل یہی ہوتا ہے۔

357

یہ مضمون اس طرح بیان کیا ہے کہ ناواقف اور معتقدین یہ سمجھیںگے کہ مرزا قادیانی کی یہ ایک بڑی کرامت ہے مگر جو حضرات مرزا قادیانی کی حالت سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعوی کی زندگانی میں عمر کا زیادہ حصہ تحریر میں گذارا ہے اور مضمون میں اکثر اپنی بڑائی اور دوسروں کی مذمت ہے اسی کے مختلف شعبے اور متعدد عنوان ان کے رسالوں میں موجود ہیں۔ اسی میں ایک شعبہ یہ ہے کہ جو اعتراضات ان پر کئے گئے ہیں یا جو ان کے خیال میں آئے ہیں ان کے جواب دینے کی کوشش انہوں نے کی ہے اور کوئی دقیقہ اس میں اٹھا نہیں رکھا۔ ایک طرز ان کے بیان کا یہ ہے کہ ایک امر کو انہوں نے اکثر مختلف اور متضاد صورت میں بیان کیا ہے اور کہیں کوئی قید زیادہ کردی ہے کہیں کوئی لفظ بڑھادیا ہے اعتراضات سے بچنے کے لئے اور عوام کے سمجھانے کے لئے یہ عمدہ پہلو ہے۔ جب کسی نے کسی بات پر اعتراض کیا تو فورا اس کا مخالف قول انہیں دکھادیا یا اس میں کوئی قید یا شرط نکال کر پیش کردی۔ عوام کے تسکین کے لئے اس قدر کافی ہے۔

اب یہ اصل بات کی تہہ تک پہنچنا اور اس کے تمام اقوال مختلفہ کو ملاکر نتیجہ نکالنا ہر ایک کا کام نہیں ہے مگر بایں ہمہ یہ کہنا کہ ہر اعتراض کا جواب ان کی تحریر میں بیّن طور سے مذکور ہے بالکل غلط ہے۔ اور اعتراضوں کے علاوہ نکاح والی پیش گوئی ایسی ہے کہ اس کا تذکرہ اور اس کے متعلق اعتراضات اور جوابات پندرہ بیس برس تک بڑے زور وشور سے ہوتے رہے ہیں۔ اسی کے متعلق ابھی تکذیب قادیانی میں جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کا جواب ان کی تحریر سے دکھایا جائے۔

الغرض یہ اسی قسم کا مبالغہ ہے جس کی تعلیم مرزا قادیانی نے علمی طور پر اپنی جماعت کو دی ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ جو جوابات انہوں نے دیئے ہیں وہ کیسے ہیں آیا اہل کمال کی توجہ کے لائق ہیں اس سے مرزا قادیانی کا تبحر علمی اور وسعت نظری اور کمال دینداری معلوم ہوتی ہے یا اس کے برعکس معاملہ ہے۔ جس کے دل میں کچھ خوف خدا ہے اور جس کے قلب میں ذرا بھی انصاف نے جگہ پائی ہے اور علم سے اسے بہرہ ہے وہ اس تحریر کو اور خاکسار کی دوسری تحریروں کو غور سے ملاحظہ کرے؛ اس پر ان کی اور ان کے جوابوں کی پوری حالت معلوم ہوجائے گی۔ مرزا قادیانی کو قرآن دانی کا بڑا دعوی تھا اور اب ان کے گدی نشین کو دعویٰ ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن پڑھادیا ہے مگر افسوس ہے اور سخت افسوس ہے کہ قرآن شریف کی متعدد آیتوں سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قدوس متین کے وعدے ٹل جاتے ہیں وہ اکثر اوقات وعدہ

358

خلافی کرتا ہے اس کا پاک کلام جھوٹ کی نجاست سے ملوث ہوتا ہے۔ (استغفر اﷲ! آسمان وزمین پھٹ جائیں مگر ایسا نہیں ہوسکتا )

تین آیتیں۱؎ ان پیشگوئیوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں مگر تشریح نہیں کی گئی کہ ان سے کس طرح جواب ہوگیا اس لئے ہم بھی سکوت کرتے ہیں اور صرف اس قدر کہتے ہیں کہ ان آیتوں سے مرزا قادیانی کا اور ان کے متبعین کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ حاشیہ پر ہر ایک آیت کا مختصر مطلب بیان کرکے اس کا ثبوت بھی مجملا دے دیا ہے۔ جب وہ ان آیتوں کی تشریح کرکے اپنا مدعا ثابت کریں گے اس وقت ہم ان کی غلطی آفتاب کی طرح چمکتی ہوئی دکھادیںگے۔ تکذیب قادیانی میں بخوبی دکھادیا گیا ہے کہ اگر آیت کا وہی مطلب مان لیا جائے جو جماعت مرزائیہ کہتی ہے تو بھی مرزا قادیا نی کذب سے کسی طرح بری نہیں ہوسکتے وہ اپنے اقرار کے بموجب بلاشبہ کاذب ہیں اس لئے ہمارے اعتراض کے جواب میں یہ آیتیں پیش کرنا سخت نافہمی ہے۔ چونکہ رسالہ تکذیب قادیانی شائع ہوچکا تھا اور اس میں صرف پہلی آیت کا ذکر کرکے کئی طریقے سے مرزا قادیانی کا کذب ثابت کیاتھا اس لئے خلیفہ قادیان نے بدر کے مضمون میں اس آیت کو چھوڑ دیا اور اسکے لکھنے کا حکم نہیں دیا۔

دوسری آیت کی نسبت اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ کل اور اکثر اور بعض عربی الفاظ ہیں

۱؎

ان آیتوں کا مختصر مطلب یہ ہے: (۱) محو واثبات کی دو قسم ہیں۔ عام یعنی تمام کائنات اور مقدرات کے محو واثبات پر اسے قدرت ہے جو چاہے وہ کرے مگر کرتا وہی ہے جو اس کی شان کے مناسب ہے اور خاص یعنی جزوی محو واثبات مثلا بعض وقت بندے کے گناہوں کو مٹاکر ان کی جگہ نیکی لکھ دیتا ہے کسی کی عمرکم ہے پھر زیادہ کردیتا ہے اس قسم کے محو واثبات بہت ہوا کرتے ہیں (۲) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے دنیا وآخرت کی وعیدیں بیان کیں اسے آخرت پر تو ایمان ہی نہ تھا اس لئے وہ وعیدیں تو اس کے خیال میں مضحکہ تھیں۔ ایک شخص جو اسی کے گروہ کا تھااور پوشیدہ طور سے حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لایا تھا اس نے فرعون کو اس کے خیال کے بموجب سمجھایا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام سچے ہیں تو بعض وعیدیں (یعنی دنیاوی ) تو تجھے ضرور پہنچیں گی۔ قرآن مجید میں اسی کا مقولہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ خدا کے کل وعدے پورے نہیں ہوتے سخت غلطی ہے۔ (۳) اس آیت میں غلط فہمی غالبا لفظ ان شاء سے ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے جو منکرین سے کیں تھیں ان کے ظہور کے لئے وہ جلدی کررہے تھے اس پر حضرت نوح علیہ السلامنے جواب دیا کہ خدا اگر چاہے گا تو وعیدوں کو جلد ظاہر کردے گا اور ہونا تو ضرور ہے یہ وہ مطلب ہے جو قرآن مجید کی کسی آیت کے خلاف نہیں ہے۔

359

مگر اردو میں بھی انہیں معنی میں مستعمل ہیں جن میں عربی میں بولے جاتے ہیں اس کو معمولی نوشت وخواند والے بھی سمجھتے ہیں۔ اس لئے میں ناظرین سے کہتا ہوں کہ آیت میں لفظ بعض آیا ہے جس سے حسب خیال مرزائیاں؛ آیت کا حاصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اکثر وعدے وعید جھوٹے ہوتے ہیں اور بعض سچے ہوتے ہیں۔ اب جن کے قلب میں نور ایمان ہے اور اﷲ تعالی کو تمام عیبوں سے پاک سمجھتے ہیں وہ اس مطلب پر غور کریں اور اپنے دل میں سوچیں کہ اس قدوس کی ذات ایسی ہوسکتی ہے ؟ ان آیتوں کا مطلب اور اس کی تشریح فیصلہ آسمانی کے حصہ سوم میں اور اس کے خلاصہ میں ناظرین ملاحظہ فرما چکے ہیں۔( احتساب قادیانیت جلد ہذا میں)

یہاں قرآن پاک کی چند آیتیں پیش کی جاتی ہیں جن سے آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے اس کے وعدے ہرگز خلاف نہیں ہوتے ضرور پورے ہوتے ہیں اس لئے ان کا جواب غلط ہے۔ جن آیتوں سے خلاف وعدگی ثابت کرتے ہیں وہ ان کی محض غلط فہمی ہے ان آیتوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ اب وہ آیتیں ملاحظہ ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔

۱… ’’لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَعْدَ اللّٰہِ لَایُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ‘‘(الزمر:۲۰) لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے اور ان پر اور بالاخانے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ان سے خدا کا وعدہ ہے اور خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے پہلے اہل تقوی سے وعدہ فرمایا اس کے بعد کمال وثوق اور اطمینان کے لئے ارشاد ہوا کہ یہ وعدہ اﷲ کا ہے کسی دوسرے کا نہیں ہے کہ اس کے پورا ہونے میں تردد ہو۔ پھر بغرض تاکید اور تصریح ارشاد ہوا کہ اﷲ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، اس کی ذات اس عیب سے پاک ہے۔ اس طرز بیان نے ثابت کردیا کہ خدا کے تمام وعدے پورے ہوتے ہیں اس کا کوئی وعدہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ پورا نہ ہو۔ ایسی صراحت کے بعد بھی اگر اس کے ایک وعدے میں بھی خلاف کا احتمال ہو اور یہ کہہ سکیں کہ اس کے بعض وعدے پورے نہیں ہوتے تو اس قدوس کا یہ بیان بالکل غلط ہوجائے گا اور اس کا کوئی وعدہ قابل اطمینان نہ رہے گا۔ جناب رسول اﷲa کے زمانہ مبارک میں روم کے نصاری اہل فارس سے مغلوب ہوگئے تھے اور مسلمانوں کی خواہش تھی کہ غالب ہوں اﷲ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کی خواہش پوری کرنے

360

کی نسبت فرمایا کہ اگرچہ نصاری اہل روم سے اس وقت مغلوب ہوگئے ہیں مگر عنقریب غالب ہوںگے اس خوشخبری کی تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے:

۲… ’’وَعْدَ اللّٰہِ لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘ (الروم:۶)یہ اﷲ کا وعدہ ہے اور اﷲ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔

حکیم نورالدین قادیانی وغیرہم فرمائیں کہ یہ قرآن مجید کی آیتیں ہیں یا نہیں اگر ہیں تو ان سے یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں کہ اﷲ کے وعدوں میں کسی وقت خلاف کا احتمال نہیں ہوسکا۔ جس طرح پہلی آیت میں اہل تقوی کے لئے وعدہ کرکے ان کے کمال اطمینان کی غرض سے کہا گیا تھا کہ یہ اﷲ کا وعدہ ہے اور اﷲ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اس لئے تمہیں اطمینان چاہئے۔ اسی طرح یہاں بھی کہا گیا؛ البتہ اس قدر فرق ہے کہ پہلی آیت میں وعدہ اخروی ہے اور س آیت میں وعدہ دنیاوی ہے ان دونوں آیتوں کے ملانے سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ اخروی ہو یا دنیاوی، ضرور پورا ہوتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ پورا نہ ہو۔ اگر تخلف کا احتمال ہو تو دونوں آیتوں میں اس جملہ کا لانا صرف بے کار ہی نہ ہوگا بلکہ یہ بیان غلط ٹھہرے گا۔ اس آیت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اس بات کو بہت لوگ نہیں جانتے اور نہ جاننا اس وقت جماعت مرزائیہ کی باتوں سے ظاہر ہورہا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں صاحب روح المعانی میں لکھتے ہیں ملاحظہ ہو :

’’لا یعلمون انہ تعالٰی لا یخلف وعدہ لجہلہم بشأنہ عز وجل وعدم تفکرہم فیما یجب لہ جل شانہ وما یستحیل علیہ سبحانہ‘‘

لوگ نہیں جانتے کہ اﷲ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور عدم واقفیت کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی عظمت وشان سے واقف نہیں ہیں۔ اور غور نہیں کرتے کہ کیا کیا چیز اس کی شان کے لئے ضروری ہے اور کون کون چیز اس کی ذات کے لئے محال ہے، یعنی اس کے تقدس کی وجہ سے ان کا ظہور اس کی ذات سے نہیں ہوسکتا۔

حکیم صاحب کیا ایسی تفسیریں بھی آپ کے روبرو نہیں ہیں جنہیں دیکھ کر آپ خدا پر عیب نہ لگائیں اور اپنے متبعین کو سمجھائیں۔ الغرض قرآن مجید کی آیت اور اس کی تفسیریں جماعت مرزائیہ کو جاہل بتا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ یہ لوگ اﷲ کی عظمت و شان سے محض ناواقف ہیں اس پر سخت عیب لگانا چاہتے ہیں۔

361

۳…ویستعجلونک بالعذاب ولن یخلف اﷲ وعہدہ۔ (سورہ حج ۴۷)

اے پیغمبر! یہ لوگ عذاب کی جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہ کرے گا یعنی اﷲ تعالیٰ نے کافروں سے عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ وعدہ ضرور پورا ہوگا اس کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا۔ مگر اس کے لئے دن مقرر ہے۔

یہ آیت اس امر میں نص قطعی ہے کہ خدا تعالیٰ کی وعید میں بھی خلاف نہیں ہو سکتا بلکہ وعید کے بیان میں لفظ لن سے نفی کی گئی جس سے نہایت تاکید سمجھی جاتی ہے یعنی جس کے لئے اﷲ تعالیٰ کوئی وعید کرے اس کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا اس وعید کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہ تاکید اس غرض سے معلوم ہوتی ہے کہ اہل عرب کا یہ مقولہ مشہور ہے:

خلف الوعد کذب وخلف الوعید کرم

یعنی وعدہ کے خلاف کرنا جھوٹ میں داخل ہے اور وعید کے خلاف کرنا بخشش ہے۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر وعید کے خلاف کرے تو کوئی عیب نہیں ہے بلکہ خوبی ہے اﷲ تعالیٰ نے عرب کے اس خیال کی وجہ سے بتاکید فرمایا کہ اﷲ کی وعید میں بھی خلف نہیں ہوسکتا اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ کے وعدہ اور وعید میں خلاف کا احتمال ہوتو قرآن پاک کے تمام وعدے اور وعیدیں بے کار ہو جائیں اور قابل اطمینان نہ رہیں اسی واسطے اس کا ارشاد ہے: ما یبدل القول لدی(ق،۲۹) میری بات بدلا نہیں کرتی۔

اس میں تمام باتیں آگئیں اور ہر قسم کے وعدے اور وعیدیں اس میں داخل ہیں۔ یہاں حیرت یہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی سے نکاح کے بارے میں اور اس کے داماد کے مرنے کے لئے مرزا قادیانی نے پختہ وعدہ خداوندی بیان کرکے یہ کہا ہے کہ لا تبدیل لکلمات اﷲیعنی خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں، مگر جب موقع اور ضرورت اس کے خلاف کہنے کی ہوئی تو یمحواﷲ ما یشاء ویثبت پیش ہو رہا ہے۔ یہ قرآن دانی ہے اور یہ دعویٰ حقانیت ہے۔

۴…فلا تحسبن اﷲ مخلف وعدہ رسلہ۔(ابرہیم،۴۷) اے مخاطب! تو ایسا خیال ہرگز نہ کرکہ اﷲ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔

آیت کا مضمون نہایت قابل لحاظ ہے یہ ارشاد ہوا کہ اے بندے تو ایسا خیال بھی ہرگز نہ کرنا کہ اﷲ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتاہے۔ پہلی آیتوں میں یہ بیان ہوا تھا کہ اﷲ تعالیٰ کسی وقت اور کسی سے وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ مگر یہاں نہایت ہی تاکید سے اس کی نفی کی گئی ہے

362

اور کہا گیا ہے کہ یہاں خلاف وعدگی کا خیال بھی دل میں نہ لانا اور اس خیال لانے کو تاکید سے منع کیا گیا اب اس تاکید کو ناظرین ملاحظہ کریں۔ کہئے جناب حکیم صاحب ! یہ آیات قرآنیہ ہیں یا نہیں ؟ اگر ہیں تو ایسے نصوص صریحہ قطعیہ ہوتے ہوئے ’’یصبکم بعض الذی یعدکم ‘‘ سے کوئی ذی علم حالت ہوش وحواس میں یہ ثابت کرسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ وعدے کے خلاف کرتا ہے۔ کیا اس آیت کے معنی ایسے ہوسکتے ہیں جو ان نصوص قطعیہ کے مخالف ہوں؟ ذرا اوپر سے پوری آیت پڑھ کر غور کیجئے اور دیکھئے کہ یہ کس کا مقولہ ہے اور کس کے مقابلہ میں کہا گیا ہے اور کس لئے کہا ہے؟ ان امور میں غور کرنے کے بعد کوئی ذی علم اس آیت کے مطلب کو مذکورہ آیتوں کے خلاف نہیں سمجھ سکتا۔ ہم نے حاشیہ میں اس کے معنی مختصرا بیان کردیئے ہیں۔ آپ کا علم اور قرآن دانی کیا ہوگئی اہل علم کی آنکھوں پر کیسے پردے پڑگئے۔

اس وقت چار ہی آیتوں پر کفایت کی جاتی ہے اگر جماعت مرزائیہ اسے کافی نہ سمجھے گی تو ان شاء اﷲ اور بہت سی آیتیں اس مدعا کے ثبوت میں پیش کی جائیں گی۔ یہ بھی فرمایئے کہ ان نصوص قطعیہ سے ثابت ہوا یا نہیں کہ خداتعالیٰ کا یہ وعدہ مرزا قادیانی سے ہرگز نہ تھا کہ محمدی بیگم سے تیرا نکاح ہوگا اور اﷲ تعالیٰ اسے لوٹا کر مرزا قادیانی کے پاس لائے گا اور اس کا خاوند مرزا قادیانی کے روبرو مرے گا اگر یہ دونوں وعدے ہوتے تو بموجب ان نصوص کے ان وعدوں کا ظہور ضرور ہوتا۔ زمین وآسمان ٹل جاتے مگر محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آتی اور اس کا میاں ضرور مرتا۔ اور اس کے مرنے کے لئے جو مجیب نے شرط بیان کی ہے اس کی غلطی اسی عبارت سے ظاہر ہوجاتی ہے جس عبارت سے شرط بیان کی گئی ہے بشرطیکہ حواس درست کرکے اس عبارت کو دیکھا جائے۔ اور اس کے بعد الہام کے عربی الفاظ جو نقل کئے ہیں ان پر نظر کی جائے۔ اس قدر تحریر بدر کے جواب کے لئے کافی تھی۔ یہ وہ تحریر ہے جس سے مرزا قادیانی کے ثبوت ورسالت کا بھی پورا فیصلہ ہوجاتا ہے مگر کچھ عقل وانصاف چاہئے۔

بھائیو ! ذرا انصاف کرو یہ تو آپ مان چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کے قول کے بموجب جو وعدہ الٰہی ہوا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ اور میں نے ابھی نص قطعی پیش کیا کہ خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اس کا قطعی نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے رسول نہ تھے۔ انہیں نصوص سے اس کا بھی قطعی فیصلہ ہوجاتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے ان کی قوم کے ہلاک کرنے کا وعدہ ہرگز نہیں ہوا اور نہ ان نصوص قطعیہ کے بموجب اس وعدے کا پورا ہونا ضروری

363

تھا۔ حکیم نورالدین قادیانی یا کوئی دوسرا ذی علم ان نصوص صریحہ کے مقابل کوئی نص صریح یا حدیث صحیح دکھا سکتا ہے جس میں اس کی تصریح ہو کہ حضرت یونس علیہ السلام سے ان کی قوم کے ہلاک کرنے کا وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا تھا ؟ میں نہایت پختہ طور سے کہتاہوں کہ ہرگز نہیں دکھا سکتا۔ حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ کا اس قدر غل ہے کہ خدا کی پناہ !مگر افسوس ہے کہ اصل بات کی تحقیق کوئی نہیں کرتا۔ اور مرزا قادیانی کی ناواقفی پر مطلع نہیں ہوتا۔ کاتب مضمون دکھائے کہ جس طرح محمدی کے نکاح کا وعدہ نہایت صراحت اور پختگی سے کیا گیا۔

اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے ان کی ہلاکت کا وعدہ کس وقت کیا گیا؟ جس کے خلاف آپ بیان کررہے ہیں حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کا غل مچا رکھا ہے مگر کوئی نہیں دیکھتا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے کیا پیش گوئی کی تھی ۱؎ یا یہ کہا تھا کہ خدا کہتا ہے کہ یہ قوم ہلاک کی جائے گی یا صرف اس قدر کہا تھا کہ عذاب آئے گا۔ اس وقت اس کی تفصیل کا موقع نہیں ہے مگر اس قدر کہتا ہوں کہ یہ پیش گوئی حضرت یونس علیہ السلام نے کسی وقت نہیں کی کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ قوم ہلاک ہوگی مرزا قادیانی تو تشریف لے گئے اب ان کے خلیفہ اور متبعین ہیں وہ کسی آیت سے یا حدیث سے ثابت کریں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہلاکت کی پیش گوئی کی تھی مگر ہرگز نہیں ثابت کرسکتے البتہ عذاب آنے کی الہامی پیش گوئی بعض ضعیف روایتوں سے ثابت ہوتی ہے وہ پوری ہوئی یعنی عذاب آیا۔ اب ایمان لانے کی وجہ سے اس کا ٹل جانا وعدہ الٰہی کے مخالف نہیں ہے کیوں کہ وعدہ الٰہی اگر تھا تو عذاب آنے کا تھا وہ وعدہ پورا ہوا اس قوم کے ہلاک کرنے وعدہ نہیں تھا،اس کے ٹل جانے سے کوئی وعید نہیں ٹل گئی۔ پھر منکوحہ آسمانی اور اس کے شوہر کی نسبت پیش گوئی کو حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کے مثل کہنا اور اس کے جواب میں پیش کرنا کیسی سخت جہالت ہے۔

۱؎

یعنی یہ کہا تھا کہ اگر ایمان نہ لاؤگے تو عذاب الٰہی آئے گا یا یہ کہا تھا کہ تم تباہ ہوجاؤگے اور یہ کہنا دو صورت سے ہوسکتا ہے ایک یہ کہ عادت اﷲ پر قیاس کرکے کہا یعنی ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے کہ جس قوم نے نبی کا کہنا نہیں مانا اور ایمان نہیں لائے اس پر عذاب آیا اسی پر قیاس کرکے حضرت یونس علیہ السلام نے کہا ہو یا یہ کہ بذریعہ وحی کے آپ کو معلوم ہوا اس کی تحقیق میں طول ہے مگر یہ امر یقینی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے وحی کے ذریعہ سے یہ نہیں کہا کہ یہ قوم عذاب سے ہلاک ہوگی جس طرح مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ احمد بیگ کا داماد ڈھائی برس کے اندر مرجائے گا۔

364

منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا وعدہ تو ایسا یقینی اور تاکیدی برسوں ہوتا رہا ہے جس کی انتہا نہیں ہے۔ اسی طرح اس کے شوہر سلطان محمد کے مرنے کا وعدہ مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے اور خدا کاسچا وعدہ بتایا ہے اور اس کے پورے ہونے پر قسم کھائی ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی ہلاکت کا وعدہ ایک مرتبہ بھی نہیں ہوا۔ پھر حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ کو مثال میں کیوں پیش کیا جاتا ہے ؟ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو اس سے کیا مناسبت ہے خلیفہ صاحب کیا ایسی موٹی بات پر بھی آپ کی نظر نہیں ہے۔

اب تو جماعت مرزائیہ کی آنکھوں میں سرسوں پھو ل جائے گی اور اگر عقل ہے تو جان لے گی کہ مرزا قادیانی کی عظیم الشان عمارت کیسی بے بنیاد تھی۔ اب مدرس صاحب فرمائیں کہ اس پیش گوئی سے سارے اعتراضات کیونکر رفع ہوجاتے ہیں اس کے رفع ہونے کی صورت بیان کیجئے اور چاہئے تو یہ کہ مرزا قادیانی ہی کے کلام سے کوئی جواب نکالیں یا قرآن مجید سے۔ مگر ہم اس کی بھی قید نہیں لگاتے یہ کہتے ہیں کہ جواب دیجئے یا اقرار کیجئے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے قصے کو جواب میں پیش کرنا ہماری غلطی ہے۔

الحاصل: جب آیات قرآنی سے اور مرزاغلام احمد قادیانی کی غلط بیانی سے ان کا کذب ثابت ہوگیا تو اب زیادہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر جماعت مرزائیہ کی خیر خواہی چاہتی ہے کہ کچھ اور بھی ان کی غلط فہمیاں ظاہر کی جائیں جس سے متنبہ ہوں اور کسی پہلو سے حق بات ان کے ذہن نشین ہو۔

فیصلہ آسمانی کے دوسرے حصہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا عظیم الشان نشان نقل کرکے ص ۹ میں یہ بیان کیا ہے کہ پیش گوئی کرنا یعنی آئندہ کی خبر دینا اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ پیش گوئی کرنے والا نبی اور رسول یا کوئی خدا کا برگذیدہ ہے بلکہ پیش خبریاں بہت قسم کے لوگ کرتے ہیں مثلا رمال، نجومی، اہل فراست، وغیرہ۔ اس سے کیا ان کی بزرگی ثابت ہوجاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب چند پیش گوئیوں کو اپنی صداقت کا عظیم الشان نشان بتانا محض دھوکا ہے کسی برگذیدہ یا کسی رسول نے پیشگوئیو ں کو اپنی صداقت کا معیار نہیں بتایا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو اپنی صداقت کا معیار بیان کیا ہے وہی غلط ہے۔ اگر کسی کی دوہزار پیشگوئیاں صحیح ثابت ہوجائیں اور کوئی پیش گوئی اس کی غلط نہ نکلے تو بھی اس کا برگذیدہ ذرا ہونا ثابت نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ اسے رسول مان لیا جائے۔ اس کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ جن پیش

365

گوئیوں کو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار بتایا تھا اور جنہیں اپنی سچائی کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا وہ غلط ثابت ہوئیں یعنی وہ پیش گوئیاں صحیح نہیں ہوئیں۔ ان پیش گوئیوں میں نہایت زوردار پیش گوئی محمدی بیگم کے شوہر احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی ہے۔

اس کے لئے دو مرتبہ پیش گوئی کی گئی۔ پہلی مرتبہ کہا گیا کہ اس لڑکی کاشوہر ڈھائی سال تک فو ت ہوجائے گا مگر اس مدت میں وہ فوت نہیں ہوا۔ پھر یہ کہا گیا کہ اسے مہلت دی گئی مگر میرے سامنے اس کا مرنا ضروری ہے، اگر میرے سامنے نہ مرے اور میں مرجاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔ اس دوسری پیش گوئی کو حصہ ۲ فیصلہ آسمانی میں نقل کیا ہے اور نہایت زور سے ثابت کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے متعدد اقراروں سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا جواب اخبار بدر کے پرچہ مذکور میں اسماعیل مرزائی نے دینا چاہا ہے اور اپنی قوت علمیہ کے بموجب اس پیش گوئی کی سچائی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر انہیں پہلے یہ ضروری تھا کہ اس تمہید کا جواب دیتے اور یہ ثابت کرتے کہ پیش گوئی کا سچا ہونا مدعی کی صداقت اور برگذیدہ خدا ہونے کی دلیل ہے جب اسی کو ثابت نہیں کیا تو یہ دکھانا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ پیشگوئی سچی ہوئی محض بے کار ہے۔ اب یہ عظیم الشان فروگذا شت بیان کرنے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ جس مدعا میں مجیب نے خامہ فرسائی کی تھی اس میں بھی وہ کامیاب نہ ہوئے اور جس پیش گوئی کی صداقت ثابت کرنا چاہتے تھے اس کی صداقت ثابت نہ کرسکے ؛وائے برناکامیٔ ایشاں۔

اب مجیب صاحب کے جواب پر نظر کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی بابت پیش گو ئی پر جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا جواب تو وہیں۱؎ دوسرے صفحہ میں ایسا صاف موجود ہے جسے سن کر ہمارے مخالفوں کو شرمندہ ہونا چاہئے اور وہ جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی( انجام آتھم ص۳۲، خزائن ج۱۱ ص۳۲) کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:’’ فیصلہ تو آسان ہے احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اُس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

۱؎

فیصلہ آسمانی میں اس فیصلہ کے متعلق انجام آتھم سے چار قول مرزا کے نقل کئے ہیں اگر مجیب صاحب چاروں کو بغور ملاحظہ کرلیتے تو یہ جواب شاید نہ دیتے مگر مجیب نے تو ۳۱۔ ۳۲ کو بھی غور سے ملاحظہ نہیں کیا۔ غالبا فیصلہ آسمانی دیکھ کر ان کے قلب میں زلزلہ پڑگیا، حواس درست نہیں رہے اور جواب دینے کا حکم ہوا اس لئے بغیر سمجھے بوجھے کچھ لکھ دیا۔

366

اس کے بعد لکھتے ہیں : ’’اور ضرورہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھمی رہے جبتک کہ وہ گھڑی آجائے کہ اس کو بیباک کردیوے سو اگر جلدی کرنا ہے تو اُٹھو اور اس کو۱؎بیباک اور مکذّب بناؤ اور اس سے اشتہار دلاؤ اور خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو ‘‘

یہ جواب جناب خلیفۃ المسیح کے ایماء سے لکھا گیا۔ ضرور ہے کہ ان کی نظر سے گزرا ہوگا۔ اب وہ ملاحظہ کریں کہ یہ جواب کیسا ہے اس سے خود ان کو شرمندہ ہونا چاہئے یا ان کے مخالفین کو۔

اب طالبین حق پوری توجہ سے ملاحظہ کریں۔ مدرس صاحب کا یہ جواب کئی وجہ سے غلط ہے مجیب نے نہ اس عبارت میں غور کیا جس میں اشتہار کی شرط ہے نہ صفحہ ۳۱ کی عبارت کا مطلب سمجھا نہ عبارت منقولہ کے بعد نظر کی کہ مرزا قادیانی کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر مجیب فہم وتامل سے کام لیتا تو ہرگز نہ کہتا کہ صفحہ ۳۲ کا مضمون صفحہ ۳۱ کے مضمون کے لئے شرط ہے اب غلطی کے وجوہ ملاحظہ کئے جائیں۔

پہلی وجہ: اس پر خوب غور کیا جائے کہ اصل پیش گوئی اس مقام پر منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی ہے کیوں کہ بار بار۱؎مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ وہ میرے نکاح میں آئیں گی خواہ کنواری ہونے کی حالت میں یا بیاہی جانے کے بعد (اشتہار ۱۰ جولائی مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۵۸ وغیرہ ملاحظہ کیا جائے )

پیام نکاح کے وقت یہ کہا گیا تھا کہ اگر دوسرے سے بیاہی جائے گی تو ڈھائی برس کے اندر وہ مرجائے گا۔ غرضیکہ وہ لڑکی بیوہ ہوگی اور بیوہ ہونے کے بعد میرے نکاح میں آئے گی اس کے بعد وہ لڑکی دوسرے سے بیاہی گئی مگر اس کا شوہر اس میعاد میں نہ مرا اور پیش گوئی غلط ہوئی۔ اس پر بہت کچھ شور وغل رہا۔ پھر دوسری پیش گوئی مرزا قادیانی نے کی اور یہ کہا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے سامنے اس کا مرنا تقدیر مبرم ہے وہ ضرور مرے گا۔

۱؎

اس کے بے باک اور کذب آنے کا ثبوت تو مرزا قادیانی نے انجام آتھم ص ۶۰ خزائن ج ۱۱ ص ۶۰ پر ’’کذبوا باٰیاتی وکانوا بہا یستہزء ون ‘‘ ملاحظہ کرلیا جائے۔ اس لئے وہ گھڑی تو آگئی جس میں وہ بے باک ہوگیا، باقی رہا اشتہار دلوانا یا دینا نہ کوئی شرعی بات ہے نہ عذاب آنے کے لئے یہ شرط عقلا ونقلا ثابت ہوسکتی ہے اس لئے وہ شرط پائی گئی اور پیش گوئی کا ظہور نہیں ہوا۔

۲؎

فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں اس کی تفصیل مع حوالوں کے مذکور ہے۔

367

اس کے مرنے کے متعلق الہامات اور پیش گوئیاں دو طور سے ہوتی رہی ہیں۔ ایک تو خاص اسی کے نام سے اس کی موت کی نسبت بار بار کہا گیا ہے جس کا ذکر فیصلہ آسمانی کے ص ۱۱، ۱۲ میں کیا گیا ہے دوسرے منکوحہ آسمانی یعنی اس کی بیوی کی نسبت بار بار نہایت تاکید سے الہامات ہوئے ہیں کہ یردھا الیک فلا تکونن من الممترین۱؎۔ یعنی وہ لڑکی لوٹ کر تیرے پاس آئے گی تو اس میں شک نہ کر۔ یہ الہامات بھی اس کے شوہر کے مرنے کی پیش گوئیاں ہیں کیوںکہ بغیر اس کے مرے تو وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس نہیں آسکتی۔ ان دونوں الہامات کے ملانے سے نہایت بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ اصل مقصود اس لڑکی کا نکاح میں آنا ہے اور چونکہ وہ موقوف ہے اس کے شوہر کے مرنے پر اس لئے یہ الہامات کہہ رہے ہیں کہ اس کا شوہر مرزا کے سامنے مرے گا۔ اس میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی، یہ بڑی وجہ ہے جواب کے غلط ہونے کی۔ نہایت بدیہی امر ہے کہ جب تاکیدی الہامات یہ بتارہے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا کے نکاح میں آئے گی تو پھر اس کے شوہر کے مرنے میں ایسی شرط کیونکر ہوسکتی ہے جو مرزاکے مرنے تک پوری نہ ہو۔

دوسری وجہ:(انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج ۱۱ ص ۳۱) کے حاشیہ میں اسی احمد بیگ کے داماد والی پیش گوئی کی نسبت لکھتے ہیں کہ: ’’ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی ۔‘‘ یہ جملہ کس صراحت کے ساتھ بآواز بلند پکار رہا ہے کہ احمد بیگ کے داماد کی موت مرزا قادیانی کی حیات میں ہونی چاہئے کیوں کہ جس پیش گوئی کے پورا نہ ہونے پر مرزا قادیانی اپنے آپ کو جھوٹا بتارہے ہیں وہ یہی پیش گوئی ہے یعنی احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کی حیات میں مرنا۔ اس میں ایسی شرط کیوںکر ہوسکتی ہے کہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک بھی پوری نہ ہو۔

مسٹر اسماعیل قادیانی !کیا آپ نے اردو کے اس جملہ پر بھی نظر نہیں کی اور ا س کے صریح مضمو ن کے خلاف صفحہ ۳۲ میں اس کے لئے ایسی شرط بتائی جس کا ظہور ان کے مرنے کے بعد تک نہ ہوا۔ غرضیکہ اسی طرح صفحہ مذکور کے مضمون میں پانچ جملے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ اس پیش گوئی کے لئے وہ شرط نہیں ہوسکتی جسے مسٹر قادیانی شرط بتارہے ہیں مگر سب کے بیان کرنے میں طوالت ہے اس لئے ایک ہی جملہ پر کفایت کرتا ہوں۔

۱؎

انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج ۱۱ص ۶۰، ۶۱ ملاحظہ کیا جائے ان صفحوں میں ایک جگہ یردھا الیک اور دو جگہ انا رادوھا الیک ہے جس سے نہایت تاکید ثابت ہوتی ہے یعنی وہ لڑکی ضرور تیرے پاس آئے گی۔

368

بعض حضرات سے یہ بھی سنا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ جملہ الہامی نہیں ہے بلکہ اجتہادی ہے یہاں اجتہاد میں غلطی ہوئی اور چونکہ یہ کوئی تاکیدی اور شرعی حکم نہ تھا اس لئے خدا کی طرف سے آگاہ نہیں کئے گئے۔ ایسی بات سن کر حیرت ہوتی ہے کہ اس جماعت میں کوئی سمجھدار نہیں ہے کہ ایسی لچر باتوں کو سمجھنے اور زبان پر لانے سے روکے۔ مجھے تو اس وقت اس سے بحث نہیں ہے کہ یہ جملہ الہامی ہے یا اجتہادی۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ص ۳۲ کا مضمون صفحہ ۳۱ کے مضمون کے لئے شرط نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنہیں آپ خاتم الانبیاء کہہ رہے ہیں اور کسی مرتبہ کا نبی انہیں مان رہے ہیں کیا وہ اپنے صدق وکذب کو بغیر الہام کے کسی بات پر منحصر کرسکتے ہیں اور بفرض محال اگر وہ کریں تو ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ پورا نہ ہو اور خلق کے روبرو اپنے کلام سے وہ جھوٹے ٹھہریں۔ یہ غیر ممکن ہے تمام شرعی احکام سے نبی کی سچائی کا ثابت کرنا زیادہ ضروری ہے۔ مرزاکے اس کلام کو ان کی رائے اور اجتہاد سمجھ کر اس کے غلط ہوجانے کی پرواہ نہ کرنا اور اجتہادی غلطی خیال کرلینا نہایت غلطی اور کم فہمی ہے۔ اجتہادی غلطی اہل علم سے احکام میں ہوتی ہے اور یہ خبر ہے۔ کوئی دیندار جس کو اﷲ تعالیٰ سے کچھ بھی رابطہ ہے بغیر پختہ اطلاع خداوندی کے ایسی خبر نہیں دے سکتا۔ خصوصا وہ جسے مامور من اﷲ ہونے کا دعویٰ ہو جو یہ سمجھتا ہو کہ میں عام خلق کی ہدایت کے لئے آیا ہوں۔ نہایت ظاہر ہے کہ جس طرح وہ یہ خبر دے رہا ہے کہ میں مامور من اﷲ ہوں، میںمسیح موعود ہوں، اسی طرح وہ اپنی صداقت کو اس پیش گوئی کے سچا ہونے پر منحصر بتارہا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے ایک دعوی کو سچا مان لیا جائے اور دوسرے کو اس کی اجتہادی غلطی سمجھ کر اس کی پروا نہ کی جائے۔ جس طرح کوئی صادق بغیر الہام الٰہی مامور من اﷲ ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، اسی طرح کوئی فہمیدہ اور سچا اپنی صداقت کو کسی ایسی چیز پر منحصر نہیں کرسکتا جو اس کے اختیار سے باہر ہو۔ البتہ جھوٹے چالاک بے باک جنہیں بات بنانے میں خوب مشق ہو وہ دونوں قسم کے دعوی کرسکتے ہیں اور کئے ہیں۔

اس کے علاوہ اپنے سامنے اس کی موت کو تقدیر مبرم کہتے ہیں یعنی اس کے ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور نہ اس کے وقوع کے لئے کوئی شرط ہے۔ یہ بات بھی بغیر اطلاع خداوندی معلوم نہیں ہوسکتی۔ آئندہ ایک قول مرزا قادیانی کا اسی انجام آتھم سے نقل کیا جائے گا اس میں صاف مصرح ہے کہ یہ خبر اطلاع خداوندی سے دی گئی ہے اس کے علاوہ یہ الہامات کہ

369

احمد بیگ کی بیٹی ہر طرح مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اس کو ثابت کررہے ہیں کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے مرے گا، اس صورت میں بھی اس خبر کی بنیاد الہام پر ہوئی۔ الغرض مرزا قادیانی کے کلام سے بخوبی ثابت ہے کہ اس کلام کی بنیاد الہام پر ہے اس کے علاوہ یہ کلام ایسا ہے کہ کوئی مامور من اﷲ بغیر الہام الٰہی کہہ نہیں سکتا۔ اس لئے جب ایسا کلام غلط ہوگیا تو مرزا کے کاذب ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ اب اس کی وجہ یہ ہو کہ شیطانی الہامات کو دھوکے سے وہ رحمانی سمجھے یا اس خیال پر یہ بے باکانہ دعویٰ کربیٹھے کہ اگر یہ بات پوری نہ ہوئی تو ہمارے بعد ہمارے ماننے والے اپنی بات کی پچ میں کوئی بات بنا ہی دیں گے۔ چنانچہ اب اسی کا ظہور ہورہا ہے؛ مگر بنائے نہیں بنتی۔

تیسری وجہ:( انجام آتھم ص۳۲، خزائن ج ۱۱ ص ۳۲) کی عبارت جو نقل کی گئی ہے ا س سے خود ظاہر ہے کہ اس کا مضمون صفحہ ۳۱ کی پیش گوئی کے لئے شرط نہیں ہے بلکہ مرزا قادیانی احمد بیگ کے داماد کے لئے ایک میعادی پیش گوئی کا وعدہ کرتے ہیں اس شرط پر کہ وہ اشتہار دے:

’’پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

جس جملہ کو میں نے جلی قلم سے لکھا ہے اسے دیکھئے وہ صاف کہہ رہا ہے کہ اشتہار کے بعد خدا تعالیٰ اس کی موت کی میعاد مقرر کرے گا اور میں ایک دوسری پیش گوئی اس کی موت کے تعین وقت کے ساتھ مشتہر کروں گا جیساکہ آپ کی عادت شریفہ ہے صفحہ ۳۱ میں جو پیش گوئی ہے اس میں وقت کا تعین نہیں ہے صرف اس قدر ہے کہ میرے روبرو مرے گا، معلوم ہوتا ہے کہ پہلے میعادی پیش گوئی کے پورا نہ ہونے پر مخالفین نے بہت لے دے کی ہوگی اس پر مرزا قادیانی نے یہ کہا کہ اشتہار دلواؤ میں پھر میعادی پیش گوئی کروں گا اگر اس مرتبہ میری پیش گوئی پوری نہ ہو تو مجھے جھوٹا سمجھو۔

چوتھی وجہ: جو عبارت صفحہ ۳۲ کی مجیب نے نقل کی ہے ا س کے بعد ہی مرزا قادیانی لکھتے ہیں اس پیش گوئی میں عربی الہام کے الفاظ یہ ہیں :

’’کذبوا باٰیٰتنا وکانوا بہا یستہزؤن فسیکفیکہم اللّٰہ ویردہا الیک۔ لا تبدیل لکلمات اللّٰہ۔ ان ربک فعال لما یرید‘‘ (انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ۳۲ )

انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا ان کے مقابل میں اﷲ تجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں۔

370

مجیب صاحب فرمائیں کہ اس پیش گوئی کے اصل الفاظ یہاں کیوں نقل کئے گئے اس کے بعد یہ بتائیں کہ ان الفاظ سے احمد بیگ کے داماد کی نسبت کیا ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک تو بجز اس کے اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ صفحہ ۳۱ میں جو دعوی انہوں نے کیا ہے کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے سامنے مرنا ضرور ہے اس کی تصدیق الہام سے کرنا منظور ہے یعنی یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ الہام کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ احمد بیگ کا داماد میرے روبرو مرے گا۔ الہام کے الفاظ سے کئی طریقوں پر استشہاد ہوسکتا ہے مگر سب سے زیادہ ظاہر دو جملے ہیں: (۱) ’’ویردہا الیک ‘‘ (۲)’’ لا تبدیل لکلمات اللّٰہ‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ احمدبیگ کی لڑکی کو لوٹا کر تیرے پاس لائے گا اس کی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ اس کا شوہر مرے اس کے بعد وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے الہام کے اس جملے نے پوری شہادت دے دی کہ مرزا قادیانی کے سامنے وہ ضرور مرے گا اس کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔

دوسرا جملہ تو قرآنی جملہ ہے اس میں تو کسی طرح کا شک نہیں ہوسکتا اور اس جملہ نے پہلے جملہ کی نہایت تاکید کردی کہ احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا وعدۂ خداوندی اور اس کا ارشاد ہے اس کی باتیں بدلا نہیں کرتیں ایک مرتبہ جو کہہ دیا اس کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے پاس آنا ضروری ہے اور اس کا آنا اس پر موقوف ہے کہ احمد بیگ کا داماد پہلے مرے اس الہام سے ظاہر ہوا کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے مرے گا۔ اس لئے مرزا قادیانی اس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کے اس الہام نے صاف طور سے ظاہر کردیاکہ اشتہار دینے کی شرط صفحہ ۳۱ کے پیش گوئی سے تعلق نہیں رکھتی۔ مجیب صاحب کے فہم پر افسوس ہے کہ اردو کی عبارت ہے مگر نہ نفس عبارت کو سمجھتے ہیں نہ اس کے ماقبل اور مابعد کو دیکھتے ہیں اور ایک بے تکی بات کہہ رہے ہیں اور جواب دینے کا شوق ہے۔ مگر ہمیں تو خلیفہ جی پر افسوس ہے کہ انہوں نے ایسا مہمل اور غلط جواب لکھوایا اور ان کے حکم سے لکھا گیا ہم تو انہیں کو جواب دہ سمجھتے ہیں۔

پانچویں وجہ: اسی انجام آتھم کے صفحہ ۲۱۱ سے عربی اور فارسی میں اسی قصہ کو بیان کیا ہے اور صفحہ ۲۱۶ میں انہیں الہامی الفاظ کا اعادہ کیا ہے جو ابھی صفحہ ۳۲ سے نقل کئے گئے اس کے بعد کچھ شرح کی ہے میں ان کی فارسی عبارت یہاں نقل کرتا ہوں۔

’’ آن زن را کہ زنِ احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ

371

او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواہد شد۔ در کلمات خدا ووعدہ ہائے او ہیچکس تبدیل نتواند کرد۔ وخدائے تو ہر چہ خواہد آں امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التواء بماند ۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱۶، خزائن ج۱۱ ص۲۱۶)

ترجمہ:’’احمد بیگ کی لڑکی کو تیری طرف پھر لاوے گا یعنی وہ لڑکی ایک اجنبی شخص کے نکاح میں آجانے سے اپنے قبیلہ سے باہر ہوگئی ہے مگر تیرے نکاح کی وجہ سے پھر اپنے قبیلہ میں لوٹ کر آجائے گی۔ خدا کی باتوں میں اور اس کے وعدوں میں رد وبدل نہیں ہوسکتا اور تیرا خدا جو چاہے اس کا ہر حال میں پورا ہونا ضروری ہے ممکن نہیں کہ اس میں رکاوٹ ہو۔ ‘‘

’’ پس خداتعالیٰ بلفظ فسیکفیکہم اللّٰہ سوئے ایں امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ را بعد ازمیرا نیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد۔ واصل مقصود میرانیدن بود الخ ۔‘‘

( انجام آتھم ص۲۱۶، خزائن ج ۱۱ ص۲۱۶)

ترجمہ:’’ اور فسیکفیکہم اللّٰہ سے یہ اشارہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح میں آنے سے جو روک رہے ہیں اﷲ تعالی انہیں مار کر اس لڑکی کو میرے پاس لائے گا۔ اور اصل مقصود ان کا مارنا ہی ہے۔‘‘

حضرات ناظرین ! اس عبارت کو غور سے ملاحظہ کریں اس عبارت سے دو باتیں اظہر من الشمس ہوتی ہیں ایک یہ کہ صفحہ ۳۱ میں جو کچھ کہا ہے اس کی بناء الہام خداوندی ہے محض اجتہاد نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ مجیب کا یہ کہنا غلط ہے کہ صفحہ ۳۲ میں جو شرط مرزاقادیانی نے بیان کی ہے وہ صفحہ۳۱ کے مضمون سے تعلق رکھتی ہے کیوں کہ یہ عبارت کئی وجہ سے ظاہر کررہی ہے کہ مرزا احمدبیگ کے داماد کا مرزاقادیانی کے سامنے مرنا ضرور ہے۔

اوّل: نہایت صفائی سے کہہ رہے ہیں کہ اصل مقصود خدا وندی احمد بیگ کے داماد کا مارنا ہے۔ یوں تو ہر ایک انسان کا مرنا ایک نہ ایک دن ضروری ہے مگر یہاں مقصود یہ کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مرے تاکہ اس کی بیوی ان کے نکاح میں آئے جب مقصود خداوندی یہ ٹھہرا تو اس کی نسبت یہ کہنا کہ اس کے مرنے کے لئے ایک شرط تھی جو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک نہ پائی گئی۔ اس بات کا مان لینا ہے کہ مقصود خداوندی مرزا قادیانی کی شرط سے مفقود ہوگیا۔ مگر ابھی خود مرزا قادیانی کہہ چکے ہیں کہ خدا کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مقصود خداوندی کسی شرط سے مفقود نہیں ہوسکتا۔ الغرض جب مرزا قادیانی خود اس کا مرنا اصل

372

مقصود بیان کرتے ہیں تو وہ ایسی شرط نہیں لگاسکتے جو اس مفقود کو فوت کردے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مجیب نے جو صفحہ ۳۲ سے شرط نکالی ہے وہ صفحہ ۳۱ کے مضمون کے لئے نہیں ہوسکتی۔

دوم: مرزا غلام احمد قادیانی کہہ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کو میرے نکاح میں لائے گا اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’لاتبدیل لکلمات اللّٰہ‘‘ یعنی خدا کے وعدے بدل نہیں سکتے اس سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ضروری ہے اور جب اس امر کا ہونا بالہام خداوندی ضروری ہوا تو مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے احمد بیگ کے داماد کا مرنا بھی ضروری ہوا اس لئے صفحہ ۳۲ والی شرط کو صفحہ ۳۱ کے مضمون سے متعلق کرنا غلط ہے۔ یہ بھی یاد رکھناچاہئے کہ جس طرح اس الہام میں احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں لانا وعدہ خداوندی بیان کیا گیا اسی طرح ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸ میں اس کے شوہر کے مرنے کو خدا کا سچا وعدہ کہا ہے اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں اور یہ بھی وہی کہتے ہیں کہ میرا کہا اگر پورا نہ ہو تو میں ہر بد سے بدترٹھہروں گا۔

بھائیو! ذرا تو آنکھیں کھولو جب مرزا قادیانی کے یہ اقوال ہیں تو کیسے ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کے شوہر کے مرنے کے لئے ایسی شرط لگائی کہ جس کا ظہور ان کے مرنے کے وقت تک نہ ہوا۔ حضرات مرزائی یہ بھی سمجھ لیں کہ آپ نے جو اس وقت آیتیں پیش کی ہیں اس غرض سے کہ خدا کے سارے وعدے سچے نہیں ہوتے بعض سچے ہوتے ہیں۔ اس لئے خدائے کریم نے ہماری طرف سے مرزا قادیانی سے پہلے ہی کہلادیا تھا کہ احمد بیگ کے داماد کا مارناخدا کے جھوٹے وعدوں میں نہیں ہے بلکہ سچے وعدوں میں ہے اس لئے ہمارے مقابلہ میں ان آیتوں کا پیش کرنا ہر طرح غلط ہے۔

الغرض مجیب صاحب کے ص ۳۲ والی شرط کا تو خاتمہ ہولیا اس کا شرط کہنا تو محض غلط فہمی تھا اب ایک دوسری شرط ملاحظہ کیجئے جسے مجیب صاحب نے اس پیرایہ سے بیان کیا ہے کہ :

’’ یہی نہیں کہ اس نے شرط پوری نہیں کی بلکہ انجام یہ ہوا کہ وہ بزرگ خاندان جو بانی اس کام کے تھے سلسلہ بیعت میں داخل ہوگئے۔ جس نے شرط توبی توبی پوری کرکے پیشگوئی کی صداقت ثابت کردی ۔‘‘

سبحان اﷲ کیا صداقت ثابت کی ہے، اگر اسی طرح صداقت ثابت ہوسکے تو دنیا میں کوئی جھوٹا مدعی کاذب نہیں ٹھہر سکتا، اس عبارت میں دو دعوے ہیں جن کا ثابت کرنا مجیب پر لاز م ہے۔

373

(۱) احمد بیگ کے خاندان کا بڑا جو بانی فساد یعنی مرزا قادیانی کے نکاح میں حارج تھا مرزا قادیا نی سے مرید ہوگیا۔ یہ دعوی خود مرزا قادیانی کے کلام کے خلاف ہے کیوںکہ( انجام آتھم ص ۲۱۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً میں) بانی فساد پانچ شخصوں کو لکھا ہے احمد بیگ، اس کی دو بہنیں، اس کی ساس، اور یہ چاروں انتقال کرچکے۔ پانچواں شخص باقی ہے جس کی ہلاکت کا حکم ہوچکا ہے۔ پانچویں کا نام نہیں لکھا ہے مگر تمام قرائن اور مرزا قادیانی کی تمام باتوں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانچواں شخص بھی احمد بیگ کا داماد ہے ان میں سے کوئی شخص مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا۔ اس کے بعد بھی اگر مجیب کو دعوی ہے کہ کوئی بانی فساد ایمان لایا تھا تو اس کا نام ونشان بتائیں اور اس کا ایمان لانا ثابت کریں وہ واقف نہ ہوں تو خلیفہ قادیانی بتائیں اور حقیقۃ الوحی ص ۱۳۲ کا جو حوالہ دیا ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے البتہ (حقیقۃ الوحی ص ۱۸۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۹۵) میں ہے کہ:

’’احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آگیا یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز ونیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو۔‘‘

اس مضمون کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ وہ سلسلہ بیعت میں داخل ہوگئے اور مرزا قادیانی کے دعوی کو بالکل مان لیا۔ بہت مسلمان کہلاکر جوگیوں پنڈتو ں کے پاس جاکر عجز ونیاز کرتے ہیں اور ایسی ہی حالت بعض ہنود کی ہے۔ پھر کیا یہ لوگ داخل سلسلہ ہوکر پورے مرید ہوجاتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اس کے علاوہ مجیب نے جو حقیقۃ الوحی سے نقل کیاہے وہ تو خود مرزا قادیانی کے منقولہ قول سے غلط ہوگیا یعنی بانی فساد میں سے کوئی داخل سلسلہ نہیں ہوا اور اگر پانچواں شخص احمد بیگ کے داماد کے سوا کوئی اور شخص تھا اور اس کا سلسلہ بیعت میں آنا مان لیا جا ئے تو اس کے توبہ کرنے سے سلطان محمد کی وعید کیوں ٹل جائے گی۔ کیا مرزا قادیانی کا یہ اجتہاد یا الہام ہے کہ خاندان میں ایک شخص کا ایمان لانا تمام خاندان کے لئے کافی ہے۔ خلیفہ صاحب اس کو بیان فرمائیں تو کچھ کہا جائے۔ الغرض پہلے اس کام کے بانی کانام ونشان بتاکر اس کا ایمان لانا ثابت کرنا چاہئے پھر اس سوال کا جواب دینا چاہئے۔

(۲) دعویٰ یہ ہے کہ اس بزرگ کے مرید ہوجانے سے شرط توبی توبی کی پوری ہوگئی۔ اس دعویٰ کے ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے توبی توبی کی شرط کی تشریح کریں۔ پھر یہ بتائیں کہ خاندان کے کسی بڑے کے مرید ہوجانے سے یہ شرط کس طرح پوری ہوگئی اور پیش گوئی کی صداقت کس طرح ثابت ہوئی یہ تو معلوم ہے کہ پہلے مرزا قادیانی نے سلطان محمد کے مرنے

374

اور اس کی بیوی سے نکاح ہونے کا اشتہار دیا تھا اس میں کوئی شرط نہ تھی پھر مرزا کو شرط بڑھانے کا خیال ہوا تاکہ کسی وقت کام آئے۔ اس لئے دوسرے اشتہار میں عربی کا یہ جملہ شائع کیا:

’’ ایّتہا المرء ۃ تُوبی تُوبی فانّ البلاء علٰی عقبِک۔ ای علٰی بنتک وبنت بنتک‘‘

عربی کے الفاظ اور ترکیب کے لحاظ سے تو اس جملہ کو شرط نہیں کہہ سکتے۔ ایک عورت کی ہدایت کے لئے ایک جملہ ہے مگر مرزا قادیانی مضمون سابق کے لئے شرط کہتے ہیں۔ یعنی پہلے اشتہار میں سلطان محمد کے مرنے کی وعید خداوندی اور اس کی بیوی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنے کا وعدہ تھا غرضیکہ ایک وعید تھی اور دوسرا وعدہ تھا ان دونوں کے لئے یہ جملہ شرط ہے۔ اب اہل علم کے نزدیک تو اس جملہ کے شرط کہنے کا یہی مطلب ہوسکتا ہے کہ اس جملہ میں جس عورت کی طرف خطاب ہے اگر وہ توبہ کرے اور ایمان لائے تو سلطان محمد نہ مرے گا اور محمدی کا نکاح مرزا قادیانی سے ہوگا۔ کیوںکہ ایک کے ہونے اور دوسرے کے نہ ہونے کے لئے یہ شرط ہے۔ اس لئے شرط پائے جانے کے بعد پیش گوئی کے دونوں جز کا پایا جانا ضروری ہے مگر مرزا قادیانی کے بیان سے یہ مطلب غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ(انجام آتھم ص ۲۱۳ ، ۲۱۴ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً) میں اس جملہ کے الفاظ کے لحاظ سے یہ کہنا بہت صحیح ہے کیوںکہ خطاب میں وہی لفظ لایا گیا ہے جو عورت کے لئے خاص ہے اور اس کے بعد جو لفظ عقبک آیا ہے اس کے معنی مرزا قادیانی بیٹی اور نواسی کے لیتے ہیں اور اس سے مراد احمد بیگ کی بیوی اور بیٹی بتاتے ہیں۔

الہام کے الفاظ اور مرزا قادیانی کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ جملہ شرطیہ کی مخاطبہ احمد بیگ کی خوشدامن ہے مگر بعد کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی اور نواسی پر بلا ہے اس لئے اس پر بھی تبعاً توبہ کا حکم ہے مگر ان تینوں میں کسی نے توبہ نہیں کی۔ اب جو اس شرط کی اصل مخاطب تھی اس نے تو شرط پوری نہیں کی اور نہ انہوں نے جو تبعاً مخاطب ہوئی تھی۔ پھر ایک اجنبی شخص جو اس شرط کا مخاطب نہیں ہے اس کے ایمان لانے سے وعید کیوں ٹل گئی اور شرط کیسے پوری ہوگئی ذرا ملاحظہ کیا جائے کہ شرط کی مخاطب تو احمد بیگ کی خوشدامن ہے پھر اگر کوئی شخص ان کا غیر بالفرض ان سے کوئی واسطہ بھی رکھتا ہو اس کے ایمان لانے سے یہ شرط کس طرح پوری ہوسکتی ہے جیسا کہ مجیب قادیانی دعوی کررہے ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ پیش گوئی کی صداقت کا بھی دعویٰ ہورہا ہے۔ بھلا یہ تو فرمایئے کہ اگر بقول آپ کے یہ ایک پیش گوئی ہے جس میں ایک

375

وعدہ خداوندی اور ایک وعید ہے تو اگر شرط کا پورا ہونا تسلیم کرلیا جائے تو بھی پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے ضروری تھا کہ محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں آتی جب اس کا ظہور نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ پیش گوئی خدا کی طرف سے نہ تھی ورنہ اس کے دونوں جز پورے ہوتے اور مرزا قادیانی اس قدر رسوا نہ ہوتے ایک جز کے پورا نہ ہونے سے ثابت ہوگیا کہ دوسرا جز جو پورا ہوگیا وہ اتفاقیہ ہوا الہام خداوندی نہ تھا کیوں کہ یہ دونوں جز ایک ہی الہام کی شاخ ہیں اگر وہ الہام سچا تھا تو اس کی دونوں خبریں سچی ہوتیں۔

الحاصل: الہام کے جھوٹے ہونے کے لئے اس کے ایک جز کا غلط ہوجانا کافی ہے اور اس کے سچے ہونے کے لئے دونوں جز کا سچا ہونا ضروری ہے مگر یہ نہیں ہوا۔ اب اس پیش گوئی کی صداقت ثابت نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ۲۱۸ خزائن ج ۱۱ ص ۲۱۸) میں لکھتے ہیں کہ : ’’ خدا اپنے قول کو باطل نہیں کرتا اور اپنے ملہموں کو رسوا نہیں کرتا ہے ۔‘‘

اور یہاں تو مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق خدا کے بہت قول باطل ہوگئے اور محمدی کے نکاح میں نہ آنے سے مرزا قادیانی بہت کچھ رسوا ہوئے۔ اب چند مریدوں کا نہ ماننا اور آفتاب روشن کی چمک سے انکار کرنا اہل دانش کے نزدیک لائق توجہ نہیں ہوسکتا بلکہ مرزاقادیانی کے قول سے ثابت ہوگیا کہ اس پیش گوئی کو جو عرصہ دراز تک الہام خداوندی کہا گیا یہ غلط تھا اور مرزا قادیانی ملہم نہ تھے۔ الحاصل توبی توبی کو جو پیش گوئی کے لئے شرط کہا تھا اول تو وہ شرط نہیں پائی گئی کیوںکہ جسے توبہ کا حکم ہوا تھا اس نے توبہ نہیں کی اور اگر مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کی زبردستی سے قطع نظر کرلی جائے اور مان لیا جائے کہ شرط پوری ہوگئی تو بھی پیش گوئی کی صداقت ثابت نہیں ہوئی۔

میں نے اس زبردستی میں مرزا قادیانی کو بھی شریک کیا ہے کیوںکہ وہ بھی (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۲ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰ )میں لکھتے ہیں کہ :

’’نکاح کے ظہور کیلئے … ایک شرط بھی تھی جو اُسی وقت شائع کی گئی تھی …پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کردیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑگیا ۔‘‘

یہ زبردستی یا بدحواسی ملاحظہ کی جائے۔ اس کلام کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ظہور نکاح کے لئے جو چیز شرط تھی جب پوری ہوگئی اور پائی گئی تو مشروط یعنی نکاح فسخ ہوگیا یعنی جاتا رہا اب خلیفہ قادیان فرمائیں کہ توبی توبی کو شرط کہنا اور پھر اس کے پورا ہوجانے سے نکاح کا فسخ ہوجانا

376

زبردستی یا بدحواسی نہیں ہے تو کیا ہے ؟ شرط کے پورا ہوجانے سے مشروط کا ظہور چاہئے یہاں اس کے خلاف یہ کہا جاتا ہے کہ شرط کے پورا کردینے سے مشروط غائب ہوگیا۔ اس لئے میں نے دریافت کیا ہے کہ یہ کیسی شرط ہے کہ اس کے پائے جانے سے مشروط نہ پایا گیا۔ مرزاکے اس قول کی غلطی کے وجوہ فیصلہ آسمانی کے حصہ ۳ میں بیان کئے ہیں۔ یہ بیان تو اس تقدیر پر ہے کہ جملہ توبی توبی کو شرط مان لیا جائے مگر مرزا کے الہامات اور ان کے صریح بیانات یہ کہتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کے لئے کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔ مرزا کے سامنے اس کا مرنا ضروری ہے اہل بصیرت اس پیش گوئی کے الفاظ کو اور اس کے مکرر سہ کرر بیانات پر نظر کرکے انصاف سے فرمائیں کہ اس پیش گوئی کی صداقت بغیر اس بات کے کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے مرے کیونکر ثابت ہوسکتی ہے اور ایسی شرط اس میں کیوں کر ہوسکتی ہے کہ اس کے پورا ہونے سے اس کی موت ٹل جائے۔ اس سے پہلے جو بیان جدید شرط کے باطل کرنے میں کیا گیا ہے وہ اس کے لئے کافی ہے مگر مکرر آگاہ کیا جاتا ہے۔

(۱) (انجام آتھم کے ص ۶۰، ۶۱) میں نہایت ہی تاکید وں کے ساتھ مرزا قادیانی سے وعدہ خداوند ی ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی۔ صفحہ مذکور کھول کر ملا کر ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح سے اور کیسی کیسی تاکیدوں سے پختہ وعدہ کیا گیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکا ح میں آئے گی۔ اگر اس کے لئے کوئی شرط ہوتی تو اس طرح ایسے پختہ اور سنگین وعدے ہرگز نہیں ہوسکتے تھے۔ پھر یہ پیش گوئی اور ایسے پختہ وعدوں کا پورا ہونا ہندوستان کے شریفانہ برتاؤ کے لحاظ سے بغیر سلطان محمد کے مرے نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس شرط کو آپ غلط تسلیم کریں کیوںکہ ا س جملہ کو شرط کہنا مرزا قادیانی کا محض خیال ہے وہ جملہ بلحاظ اپنے الفاظ اور معنی کے شرط نہیں ہے۔

(۲) اسی (انجام آتھم ص۲۱۶، خزائن ج۱۱ص۲۱۶) میں مرزا قادیانی کا الہام ہے :

’’ یردّ بنت احمد الیّ بعد اہلاک المانعین الخ ۔‘‘

یعنی مانعین نکاح کے ہلاک کرنے کے بعد احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی اور اصل مقصود ان مانعین کا ہلاک کرنا ہے۔ کہئے جناب ! یہ باتیں کسی کے ایمان لانے سے کیسے پوری ہوجائیں گی اور اصل مقصود خداوندی کیونکر پورا ہوجائے گا۔ مرزا قادیانی کے اس الہام اور اس بیان کو سچا مان کر احمد بیگ کے داماد کی موت کے لئے کوئی ایسی شرط نہیں ہوسکتی کہ

377

اس کے پورا ہوجانے سے اس کی موت ٹل جائے۔ مجیب کچھ تو عقل کو دخل دیجئے اور خدا سے ڈرکر کہئے کہ اس پیش گوئی کی صداقت کیونکر ثابت ہوگئی؟۔

(۳)(انجام آتھم،خزائن ج۱۱ ص۲۲۳) میں قسم کھاکر احمد بیگ کے داماد کی موت کو حق کہہ رہے ہیں اس کی نقل عنقریب آتی ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ کلام یقینی طور سے شہادت دیتا ہے کہ وہ مرزا قادیا نی کے سامنے مرے گا اس میں کوئی شرط نہیں ہے۔

(۴) (انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص ۳۱) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ :

’’ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے‘‘

اور ص ۲۲۳ میں بھی اسے تقدیر مبرم کہا ہے۔ جب احمد بیگ کے داماد کی موت کو مرزا قادیانی باربار تقدیر مبرم کہہ رہے ہیں تو پھر اس کے لئے شرط ہونا کیا معنی ؟ اہل علم کے نزدیک تو تقدیر مبرم وہی ہے جس میں کوئی شرط اور تعلیق نہ ہو پھر اسے تقدیر مبرم مان کر مجیب یا کوئی صاحب اس میں شرطیں کیسی بتاتے ہیں۔ جب وہ تقدیر مبرم ہے تو اس میں شرط نہیں ہوسکتی۔ البتہ یہ اعتراض کہ جنہوں نے اسے تقدیر مبرم کہا ہے انہوں نے اس میں شرط بیان کی ہے اس کا جواب خلیفہ قادیان دیں گے میں تو اس قدر کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے کلام میں ایسے تخالف بہت ہیں ان کی عادت تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس وقت جیسا موقع دیکھا یا جی میں آگیا زور سے ایک بات کہہ دی اب وہ پہلے کسی قول کے مخا لف ہو یا موافق ہو اور یہ سمجھ لیا تھا کہ اعتراض کے وقت بات بنادینا کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے چنانچہ اب بین طور سے مشاہدہ ہورہا ہے کہ تمام دنیا کے نزدیک یقینا ان پیش گوئیوں کا ظہور نہیں ہوا۔ اور اعلانیہ طور سے کاذب ہوئیں مگر جماعت مرزائیہ کہہ رہی ہے کہ پیش گوئی کی صداقت ثابت ہوئی الحمدﷲ۔

الغرض !حضرات ناظرین غور فرمائیں کہ مجیب نے جو پیش گوئی کے لئے دوسری شرط کی طرف اشارہ کیا تھا اور کہاتھا کہ اس کے پورا ہونے سے پیش گوئی کی صداقت ثابت ہوگئی محض غلط ہے کیوںکہ یہ وہ پیش گوئی ہے کہ اس میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔

حاصل کلام: مرزا قادیانی کے متعدد اقوال سے آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کیلئے کوئی شرط نہیں ہوسکتی کہ اس کے پورے ہوجانے سے پیش گوئی کی صداقت پائی جائے اور بغیر شرط کے مرزا قادیانی کا یہ مقولہ ہے کہ:

’’ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے …اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘

(انجام آتھم،خزائن ج۱۱ ص ۳۱ )

378

اور یہ بھی کہا تھا کہ:’’ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہو تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

اب ساری دنیا پر روشن ہوگیا کہ مرزا قادیانی مرگئے اور یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی اس لئے مرزا قادیا نی اپنے متعدد اقراروں سے بلکہ اپنے الہام کی رو سے کاذب ثابت ہوئے۔ اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔ اب خلیفۃ المسیح فرمائیں کہ آپ کے مجیب کے جواب سے کسے شرمندہ ہونا چاہئے آپ کو یا آپ کے مخالفین کو۔ خدا سے ڈرکر منصفانہ جواب دیجئے گا۔

حکیم صاحب آپ مانیں یا نہ مانیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ فیصلہ آسمانی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ واقع میں آسمانی فیصلہ ہے کسی کی مجال نہیں کہ اسے رد کرسکے۔ اس کے بعد میں مرزا قادیانی کا وہ قول آپ کے رو برو پیش کرتا ہوں جس سے چار باتیں نہایت روشن ہیں۔

ایک یہ کہ احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا ضروری ہے۔ دوسری یہ کہ مرزا قادیا نی اس کو اپنے صدق وکذب کا معیار کہتے ہیں اور اس پر سخت قسم کھاتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ مرزا قادیانی کایہ قول اجتہادی نہیں ہے بلکہ اس کی بناء الہام پر ہے۔ چوتھے یہ کہ صفحہ ۳۲ میں مجیب نے جو شرط لگائی تھی وہ بھی مرزاقادیانی کے اقرار سے ان کی حیات میں پائی گئی۔

اب حضرات مرزائی آنکھیں کھول لیں اور حواس درست کرکے مرزا قادیانی کا کلام ملاحظہ کریں اور اپنی جانوں پر رحم کھاکر صداقت کو اختیار کریں اور یقین کرلیں کہ مرزا قادیانی بلا شک وشبہ اپنے اقراروں کے بموجب کاذب ہیں۔ مرزا قادیانی نے پہلے احمد بیگ کے داماد کے نہ مرنے کا ذکر کیا ہے یعنی ڈھائی سال کے اندر وہ کیوں نہیں مرا اس کے بعد اپنے سامنے اس کے مرنے کو یقینی طور سے قسم کھاکر بیان کرتے ہیں:

’’ ثم ما قلتُ لکم ان القضیۃ۱؎ علٰی ہذا القدر تمت۔ والنتیجتہ الاٰخرۃ
۱؎

اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ احمد بیگ کا داماد جو اس مدت میں موت سے بچ گیا تو یہ خیال نہ کرنا کہ وہ بچ گیا اب وہ اس وعید میں نہ مرے گا بلکہ وہ وعید بدستور قائم ہے وہ کسی وجہ سے رد نہیں ہوسکتی اور عنقریب اس کا وقت آتا ہے۔ خدا کی قسم جو کچھ میں کہتا ہوں یہ حق ہے میں اسے اپنے صدق یا کذب کے لئے معیار قرار دیتاہوں یعنی اگر اس پیش گوئی کا ظہور ہو تو میں سچا ہوں اور اگر نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں اور جو کچھ میں نے کہا ہے وہ خدا سے اطلاع پا کر کہا ہے۔

379
ہی التی ظہرت۔ وحقیقتہ النبأ علیہا ختمت۔ بل الامْرُ قائم۱؎ علٰی حَالہ۔ ولا یردّہ احد باحتیالہ۔ والقدر قدرمُبرم من عند۲؎ الربّ العظیم۔ وسیاتی وقتہ بفضل اللّٰہ الکریم۔ فوالذی بعث لنا محمد المصطفٰی۔ وجعلہ خیر الرسل وخیر الوریٰ۔ ان ہٰذا حق فسوف تریٰ۔ وانّی اجعل ہٰذا النبأ معیار الصدقی او کذبی۔ وَمَا۳؎ قُلتُ الابعد ما انبئت من ربّی۔ وان عشیرتی سَیَرجعُونَ مرۃ اُخرٰی الٰی الفساد۔ ویتزائدون فی الخبث والعناد۔ فینزل یومئذ الامرالمقدر مِن ربّ العباد۔ لا راد لما قضٰی۔ ولا مانع لما اعطٰی۔ وانی اراہم انہم قد مالواالٰی سیرہمُ الاولٰی۔ وقست قلوبہم کما ہی عادۃ النوکٰی۔ ونسواایام الفزع وعادوا الی التکذیب والطغوٰی۔ ( انجام آتھم ص۲۲۳، ۲۲۴، خزائن ج۱۱صایضاً)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے بعض جملے موٹے قلم سے لکھے ہیں تاکہ مخالفین کو ان جملوں کی طرف زیادہ توجہ ہو، میں نے اسی طرح ان کو نقل کیا ہے اور ناظرین سے کہتا ہوں کہ جو جملے موٹے قلم سے لکھے گئے ہیں ان میں زیادہ غور کریں اور جہاں جہاں میں نے خط کھینچ کر ہندسہ دیا ہے انہیں جملوں سے دو چار باتیں ثابت ہوتی ہیں جن کا ذکر میں نے عبارت سے پہلے کیا ہے۔

اہل علم حضرات کے لئے اس قدر اشارہ کافی ہے البتہ کم علم لوگوں کے لئے اس قدر لکنا

۱؎

عبارت کے ہر ایک جملہ پر غور کرتے جایئے کہ ہر ایک جملہ اس شرط کو غلط بتارہا ہے جسے مجیب نے پیش کیا ہے۔ دوسرا جملہ کہتا ہے کہ سلطان محمد کی موت بہر حال قائم ہے تیسرا جملہ کہتا ہے کہ وہ کسی کے رد کئے سے رد نہیں ہوسکتے اگر اس کے لئے وہ شرط ہوتی جو مجیب لکھ رہے ہیں تو اس کا ردکرنا مشکل نہ تھا اور مجیب کے خیال کے بموجب ا س کا رد ہوگیا چوتھے جملہ میں اسے تقدیر مبرم کہتے ہیں اور تقدیر مبرم میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔ پانچویں جملہ میں اس کے وقت کو قریب بتاتے ہیں اگر شرط کرتے تو ایسا نہ کہتے۔ پھر سب سے زیادہ تو یہ جملہ ہے جس میں وہ اپنے صدق وکذب کا معیار بتارہے ہیں۔ اب یہ فرمایئے کہ معیار کس شی کو بتارہے ہیں وہ تو بجز اس کی موت کے اور کچھ نہیں ہے یعنی سلطان محمد کا میرے سامنے مرنامیرے صدق کا معیار ہے پھر اس میں ایسی شرط کیوں کر ہوسکتی ہے کہ ان کی موت تک پوری نہ ہو۔

۲؎

یہ چوتھا جملہ صاف دلالت کررہا ہے کہ احمد بیگ کے داماد کی موت کی نسبت جو کچھ انجام آتھم کے صفحہ ۳۱ میں لکھا گیا ہے اس کی بناء الہام پر ہے اجتہاد پر نہیں۔ اور آٹھویں جملہ نے نہایت صراحت سے اس کا فیصلہ کردیا کیوں کہ صفحہ مذکور کے مضمون کو مرزا قادیانی الہامی بتاتے ہیں۔

۳؎

اس جملہ کا فارسی ترجمہ مرزانے اس طرح کیا ہے۔ ومن نگفتم الا بعد ازاں کہ از رب خود خبر دادہ شدم۔ یعنی احمد بیگ کے داماد کی نسبت جو کچھ جس نے کہا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کہا ہے بلکہ خدا کی طرف سے مجھے اطلاع دی گئی ہے۔

380

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی خبر دے رہے ہیں کہ میرے کنبے کے لوگ عنقریب فساد پر آمادہ ہونے والے ہیں اور خباثت اور دشمنی میں پہلے سے بھی زیادہ ہوجائیں گے اور پھر اس حالت کا نہایت قریب ہونا اس طرح بیان کیا کہ گویا ایسی حالت ان کی ہوگئی اب اس میں شبہ نہیں ہے۔ یہ تین جملے ملاحظہ ہوں:(۱) انہم قد مالوا الی سیرہم الاولی۔لفظ ’’ان‘‘ اور’’ قد‘‘ لاکر اور اس جملے کو جلی قلم سے لکھ کر اس کا یقین دلاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پہلی عادت کی طرف عود کیا۔ (۲) وقست قلوبہم یعنی ان کے دل سخت ہوگئے۔ (۳) وعادوا الی التکذیب والطغوی۔

یعنی جس طرح پہلے سرکشی اور تکذیب کرتے تھے اب پھر کرنے لگے۔ یہ کلام نہایت صراحت سے کہہ رہا ہے کہ احمد بیگ کے داماد وغیرہ نے جو درمیان میں رجوع کیا تھا وہ بات نہیں رہی بلکہ بدستور سابق انہوں نے پھر سرکشی اور تکذیب پر کمر باندھی ہے۔ غرضیکہ وعید کے رکے رہنے کا جو سبب تھا وہ زائل ہوچکا ہے اور تکذیب اور سرکشی نے جو وعید کا سبب تھا ان میں پھر عود کیا ہے اور اسے اس قدر شہرت ہوئی ہے کہ مرزا قادیانی کو اطلاع ہوئی۔ اس سے بخوبی ظاہر ہوگیا کہ پیش گوئی کے ظہور کے لئے صفحہ ۳۲ میں جو شرط مجیب کے خیال میں کی گئی تھی وہ صفحہ ۲۲۴ کے لکھنے کے وقت تک پوری ہوگئی اس لئے مشروط کا پایا جاناضروری ہے۔ اس میں جو اشتہار دینا لکھاہے اس سے مقصود یہی معلوم ہوتاہے کہ ان کی دلی تکذیب لوگوں پر ظاہر ہوجائے اور معمولی اشتہار وعید کے لئے نہ عقلا شرط ہوسکتا ہے اور نہ نقلا۔ کسی نبی اورکسی رسول نے اپنے مخالفین کے لئے یہ شرط نہیں کی نہ کتاب اﷲ میں اس کا ذکر ہے۔ خدا تعالیٰ نے وعید کو منکرین کے لئے صرف عناد وتکذیب پر منحصر رکھا ہے اور بداہت عقل بھی یہی کہتی ہے کہ وعید کے ظہور کے لئے مکذب کافی ہے کاغذ کے پرچوں پر لکھ کر شائع کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ الغرض پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے مجیب نے جو شرط صفحہ ۳۲ سے بیان کی تھی وہ پائی گئی اس لئے صفحہ ۳۱ کی پیش گوئی کا ظہور ہونا چاہئے تھا مگر اس کا ظہور نہ ہوا اور مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب کاذب ثابت ہوئے اور اگر مجیب کا یہ خیال ہے کہ اشتہار سے مراد وہ معمولی اشتہار ہے تو اس کی سخت غلطی ہے کیو ںکہ اگر وہ مرزا قادیانی کو مقدس نبی مانتا ہے تو اسے ضرور ہے کہ ان کی روش اگلے انبیاء کی سی سمجھے اور جو وہ کہیں اور کریں وہ مطابق کتاب اﷲ کے ہو اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ اشتہار کے معنی وہی ہوں جو ہم نے بیان کئے ہیں اور اگر مجیب کو اپنی بات پر اصرار ہو تو ہم بے تامل یہ کہیں گے کہ خدا کے وعید کسی بندے کے فضول شرط کے مقید نہیں ہوسکتے۔ وعید کے ظہور کے لئے فقط انکار وتکذیب ہونا چاہئے اس لئے ہم نہایت استحکام سے کہتے ہیں کہ اگر وہ پیش گوئی بالہام خداوندی ہوئی تھی تو اس کا ظاہر

381

ہونا ضروری تھا اور جب دنیا پر ظاہر ہوگیا کہ اس پیش گوئی کا ظہور نہ ہوا یعنی احمد بیگ کا داماد نہیں مرا بلکہ اب تک موجود ہے اور مرزاقادیانی کئی برس ہوئے کہ تشریف لے گئے اور عالم برزخ میں پہنچ گئے اس لئے بالیقین معلوم ہوا کہ وہ الہام ربانی نہ تھا اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا صحیح ہوگیا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ معترضین جواب دیں کہ کیوں انہوں نے سلطان محمد سے اشتہار نہیں دلایا۔ مدرس صاحب جواب ملاحظہ کریں۔ مرزا قادیانی کے کذب کا انہیں کامل یقین ہوگیا تھا اب زیادہ تجربہ کی ضرورت نہ رہی تھی اس کے علاوہ خوب تجربہ ہوگیا تھا کہ مرزا قادیانی کے دعوے اس قسم کے ہوا کرتے ہیں اور جب کوئی سامنے آجاتا ہے تو باتیں بنا کر ٹال دیتے ہیں اور ان کے مریدین خوش ہوجاتے ہیں۔ پھر اشتہار دلوانے کا کیا فائدہ؟ مسلمان تو خوب تجربہ کرچکے ہیں انہیں تو ضرورت نہیں رہی ان کے معتقدین ان کے سامنے کیسی ہی غلط اور مہمل بات بنادیں۔ وہ ماننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اسی احمد بیگ کے داماد کی نسبت پہلے پیش گوئی کی گئی کہ ڈھائی برس کے اندر مرجائے گا جب وہ نہ مرا اور یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی تو مرزا قادیانی نے کس قدر غل مچایا ہے اور بخدائے علیم کس قدر جھوٹی باتیں بنائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ چونکہ وہ اپنے خسر کے مرنے سے بہت پریشان ہوا، رویا ، گڑگڑایا اور اس نے توبہ کی اس لئے اس کی وعید ٹل گئی، جس طرح حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے وعید بیان کی تھی اور ان کے رونے اور رجوع کرنے پر وہ وعید ٹل گئی تھی۔ مرزا قادیانی نے اس کو اس قدر طول دیا اور دفتر سیاہ کیا کہ اس کا اندازہ ہم اس وقت بیان نہیں کرسکتے۔ مگر اہل علم وسیع النظر حضرات جان سکتے ہیں کہ وہ باتیں محض غلط اور بناوٹ کی تھیں۔ بغیر ایمان لائے فقط خوف سے یا دلی خیال سے ( اگر ہوا بھی ہو) وعید نہیں ٹل سکتی اس پر قرآن مجید اور حدیث صحیح دونوں شاہد ہیں، قرآن مجید میں صاف ارشاد ہے :’ لَایُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ‘‘(یوسف:۱۱۰)

مجرموں سے ہمارا عذاب ٹلتا نہیں ہے۔ منکر نبوت بڑا مجرم ہے اور جب اس کے لئے کوئی وعید بیان کردی گئی تو جب تک وہ مجرم ہے یعنی ایمان نہیں لایا اس سے وہ وعید نہیں ٹل سکتی کیوںکہ یہ وعید اس کے لئے عذاب الٰہی ہے اور بموجب ارشاد خداوندی عذاب الٰہی مجرم سے ٹل نہیں سکتا۔ عذاب ٹل جانے کی صورت صرف یہی ہے کہ وہ ایمان لے آئے اور اس رسول کو مان لے جس کے انکار سے عذاب اس پر مسلط ہوا ہے۔ اس کے سوا اس کے رونے دھونے سے عذاب نہیں ٹلتا۔ صحیح بخاری ج ۲ ص ۵۶۳ باب من یقتل ببدر میں ہے کہ رسول اﷲa نے امیہ بن

382

خلف کے مار ے جانے کی پیشگوئی کی تھی اور اس کی وجہ سے امیہ نہایت خوف زدہ ہوگیا تھا چنانچہ بخاری کے یہ الفاظ ہیں ’’ففزع لذلک امیہ فزعا شدیدا‘‘ مگر اس کی وجہ سے وہ وعید نہیں ٹلی اور پوری ہوکر رہی۔ اگر احمد بیگ کے داماد کو کچھ خیال ہوا ہوگا تو اسی قدر امیہ کو خیال ہوا۔ اس سے زیادہ خیال کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور جو کچھ زور تحریر اس بات میں مرزا نے دکھایا ہے وہ محض غلط باتیں ہیں جس کی غلطی میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اس کا بین ثبوت ہے کہ اگر خوف وہراس سے اس کی ایسی حالت ہوگئی تھی جیسی مرزا قادیانی نے بیان کی ہے تو طبعی اقتضاء یہ تھا کہ بے اختیار وہ مرزا کے پاس آکر توبہ کرتا اور بیعت کرلیتا مگر اس نے تو کسی وقت ایسا نہ کیا بلکہ اب تک وہ ان کا منکر اور برا کہنے والا موجود ہے۔ یہ بدیہی ثبوت ہے کہ احمد بیگ کے داماد کو بجز معمولی رنج وغم کے اور کچھ نہیں ہوا اور بالفرض اگر ہوا بھی تو اس سے عذاب نہیں ٹل سکتا عذاب ٹلنے کے لئے ایمان لانا ضروری ہے۔

(۲) حضرت یونس علیہ السلام کی مثال دینا محض غلط ہے کیوںکہ ان کی قوم کے لئے یہ وعید کسی وقت نہیں کی گئی کہ تم ہلاک ہوجاؤگے۔ احمد بیگ کے داماد کی نسبت صاف کہا گیا کہ ڈھائی برس کے اندر مرجائے گا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے اگر کہا گیا تو اس قدر کہ عذاب آنے والا ہے یعنی عذاب کے آنے سے انہیں ڈرایا گیا تھا اس وعدہ کا ظہور یقینی طور سے ہوگیا یعنی عذاب آگیا اور انہوں نے اس کا معاینہ کیا اس کے بعد وہ قوم ایمان لے آئی اور حضرت یونس علیہ السلام کے چلے جانے سے نہایت پریشان ہوئی۔ اور غریب سے لے کر بادشاہ تک نے اپنی عاجزی اس قدر ظاہر کی کہ کپڑے اتار کر ٹاٹ پہنا اور چالیس روز تک یا کچھ کم میدان میں روتے رہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا اور ان پر ایمان لائے اس لئے اﷲ نے ان پر رحم کیا۔ جب وہ ایمان لے آئے تو مجرم نہ رہے اس وجہ سے عذاب ٹل گیا مگر یہ خوب خیال رہے کہ جس قدر وعید کی گئی تھی اس کا ظہور ہوا۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ یہ وعید ہرگز نہیں تھی کہ وہ لوگ عذاب سے ہلاک ہوںگے الغرض جو بات ٹل گئی اس کا وعدہ نہ تھا اور جس کا وعدہ تھا اس کا ظہور یقینی طور سے ہوا۔ اب مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ خوف کی وجہ سے وعید کی پیش گوئی میں تاخیر ڈال دی جاتی ہے اور اس قول کو خدا اور رسول کی طرف منسوب کرنا اور اجتماعی عقیدہ بنانا محض غلط ہے۔

جانشین قادیان بتائیں کہ یہ عقیدہ اجتماعی کہاں سے ثابت ہوتا ہے اور خدا اور رسول کا کلام کونسا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعید کی پیش گوئی صرف خوف سے ٹل جاتی ہے یا وقت معینہ سے اس میں تاخیر ہوجاتی ہے۔ قرآن کی کسی آیت میں یا صحیح حدیث میں کہیں دکھائیں۔ ہم نے تو آیت وحدیث دونوں سے اپنا دعویٰ ثابت کردیا۔

383

الحاصل احمد بیگ کے داماد کی نسبت یہ پہلی پیش گوئی یقینا پوری نہ ہوئی مگر مرزا قادیانی نے اس کے پورا نہ ہونے کا اقرار نہیں کیا اور جھوٹی باتوں کا ایک طوفان اٹھا دیا اور خاص مریدوں نے بھی انہیں غلط باتوں پر بجز آمنا کہنے کے کسی وقت اس کی تحقیق کی طرف توجہ بھی نہ کی۔ اسی طرح اگر وہ اشتہار دیتا اور پھر بھی نہ مرتا تو ایسے ہی باتیں بنانے سے کون روک سکتا تھا جیسے پہلے بنائی تھیں۔ ان تجربوں کے بعد اشتہار دلوانا فضول تھا۔ اس لئے نہیں دلوایا۔

اب میں اسی پر کفایت کرتا ہوں ایماندار حق پسند حضرات کے لئے اس قدر مرزا قادیانی کی حالت معلوم کرنے کے لئے کافی ہے ان کے مریدوں کی عقل پر تو ایسا پردہ پڑا ہے کہ بدیہی بات کا بھی انکار کررہے ہیں۔ منکوحہ آسمانی ان کے نکاح میں نہ آئی۔ احمد بیگ کا داماد ان کی پیش گوئی کے مطابق نہ مرا، اس وقت تک زندہ موجود ہے اور پھر لکھ رہے ہیں کہ دونوں پیش گوئیاں پوری ہوگئیں۔ معاذاﷲ۔ پھر اس ندھیر کا کیا ٹھکانا ہے اندھوں کو آفتاب کی روشنی کس طرح دکھائی جائے۔ اسماعیل قادیانی مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں :’’تیسرے نکاح کی پیش گوئی۔ سلطان محمد کے وعید ی موت کی پیش گوئی کو (مرزا قادیانی نے) ایک ہی پیش گوئی قرار دیا ہے ۔‘‘

لیجئے جناب سلطان محمد کا مرنا اور اس کی بیوی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آناایک چیز ہے یا ایک خبر ہے دو نہیں ہیں جو دو چیزیں بدیہی طور سے علیحدہ علیحدہ جسم کی آنکھ سے عقل کی نظر سے دو نظر آتی ہیں۔ ہرایک انسان انہیں دو چیزیں سمجھتا ہے انہیں مرزا قادیانی ایک بتارہے ہیں اور مرید اسے مان رہے ہیں۔ قادیانی پنڈت مرزاقادیانی کے وہ اقوال اور الہامات جن سے یہ دونوں پیش گوئیاں علیحدہ علیحدہ بین طور سے معلوم ہوتی ہیں آپ کے پیش نظر نہیں ہیں۔ بکر وثیب والی پیش گوئی کو یاد کیجئے۔ یا احمد۱؎ ادخل انت وزوجک الجنۃ والے الہام پر نظر کیجئے۔ (انجام آتھم، خزائن ج۱۱ ص۶۰، ۶۱)والے الہام پر غور کیجئے یہاں تو احمد بیگ کے داماد کا نام ونشان بھی نہیں ہے اور احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کی نسبت یہ الہامات ہیں اور خدا کا وعدہ بلکہ اس کاعہد ہے مرزا غلام احمد قادیانی سے کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی جس کی نسبت کہاگیاہے:۲؎

’’انا کنا فاعلین فلا تکونن من الممترین۔ ‘‘ ( انجام آتھم، خزائن ج۱۱ ص ۴۰)
۱؎

یہ پیش گوئی اور الہام بھی انجام آتھم میں ہے۔

۲؎

مرزا قادیانی اﷲ تعالی کا قول نقل کرتے ہیں کہ سلطان محمد کی بیوی کو ہم تیرے پاس لانے والے ہیں اس کام کو ہم کرنے والے ہیں تو شک کرنے والوں میں ہرگز نہ ہو۔

384

مرزا قادیانی کا وہ کامل یقین بھی آپ کو یاد ہوگا کہ جب عدالت میں سوال کیا گیا ہے کہ آپ کو امید ہے کہ نکاح ہوگا اور مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ امید کیسی، مجھ کو تو یقین کامل ہے کیوں کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اب قادیانی پنڈت فرمائیں کہ جس کی نسبت بتاکید کہا گیا کہ ہم اس کے کرنے والے ہیں اور پھر اس میں شک وشبہ کرنے کی ممانعت کی گئی وہ یہی کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آئیں گی پھر اس کی صداقت ثابت ہوگئی۔ پھر اسی یقین کامل کا ظہور ہوا جو عدالت کے رو برو کہا گیا تھا؟ ذرا سنبھل کر جواب دیجئے۔ پھر یہ پیشین گوئی اور احمد بیگ کے داماد کا مرنا ایک کیسے ہوگیا ہوش میں آکر بتایئے۔ قادیانی پنڈت یہ جو آپ دو پیشین گوئیوں کو ایک کرتے ہیں اور دونوں میں ادغام دیتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ محمدی بیگم کا مرزاقادیانی کے نکاح میں آنااور اس کے شوہر کا مرنا ایک واقعہ کسی عاقل کے نزدیک نہیں ہوسکتا اور نہ ایک پیش گوئی کے پورا ہونے سے دوسری پوری ہوسکتی ہے اور یہاں تو کوئی پوری ہی نہیں ہوئی۔ ایسا اندھیر نہ مچایئے۔ بداہت کا انکار نہ کیجئے بہت اچھا ہم آپ کے اس اندھیرے کو بھی قطع نظر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے متعد وجوہ سے روشن کرکے دکھادیا کہ احمد بیگ کے داماد والی پیشگوئی میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔ اور اگر شرط کو مان لیا جائے تو وہ شرط پوری نہیں ہوئی پھر وہ پیش گوئی پوری کیسے ہوگئی؟ آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ مدرس صاحب آپ نے یہاں تو احمد بیگ کے داماد والی اور منکوحہ آسمانی والی دونوں پیش گوئیوں کو اپنے خیال کے بموجب پورا کرکے دکھادیا اور اپنے گروہ کو خوش کردیا۔ مگر یہ بات بتائیں کہ جب یہ پیشگوئیا ں پوری ہوگئیں تو خدائے قدوس کی خلاف وعدگی کے ثبوت میں آپ نے آیت ’’یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ‘‘ (المؤمن:۲۸)کیوں پیش کی اور اس مقدس ذات میں عیب لگانے کی آپ کو کیا ضرورت پیش آئی۔ اس سے پہلے تو آپ نے اس قسم کی آیتیں کبھی پیش نہیں کی تھیں۔

اس کے سوا آپ کو یاد نہیں کہ آپ کے جناب مرزا قادیانی (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۰) میں لکھ چکے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑگیا پھر آپ فسخ شدہ نکاح کو اپنے مرشد کے خلاف جوڑنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اسی کے جواب میں آیت ’’یمحوا اللّٰہ ما یشاء ویثبت‘‘ بھی پیش کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آسمان پر نکاح ہوا تھا مگر پھر اﷲ تعالیٰ نے اسے محو کردیا۔ پھر اس محو شدہ نکاح کو خلاف مرضی خداوندی آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

385

غرضیکہ آپ کے جواب پر اعتراضوں کی بوچھاڑ ہوسکتی ہے ذرا سمجھ کر بات کہئے اور خدا سے ڈریئے صرف اپنی بات بنانے کے پیچھے نہ پڑئے اور اﷲ تعالیٰ عالم ما فی الصدور ہے۔ آپ کے برادر ایڈیٹر اخبار نے تو اس فسخ کو نسخ بتایا ہے جیسا بعض آیات قرآنیہ میں کہا جاتا ہے۔ مگر آپ نے اس جواب کو شاید پسند نہیں کیا۔ مجھے سخت افسوس یہ ہے کہ مریدین کے تقاضوں کے بعد خلیفہ کے دربار سے ایسے جوابات شائع ہوتے ہیں جس کا غلط ہونا تھوڑے علم والا بلکہ صحبت یافتہ جاہل بھی معلوم کرسکتا ہے۔ گدی نشین صاحب اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ تینوں۱؎ پیشین گوئیاں مرزا قادیانی کی غلط ثابت ہوئیں۔ یعنی احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آنا، احمد بیگ کے داماد کا نکاح کے روزسے ڈھائی برس کے اندر نہ مرنا، پھر تیسری پیشین گوئی کے بموجب مرزا قادیانی کی حیات میں اس کا نہ مرنا، اس لئے مرزا قادیانی مقتضائے نص قطعی قرآن مجید۲؎ کے کاذب ثابت ہوئے۔ اس کے جواب کے لئے آپ کو ساری عمر کی مہلت دی جاتی ہے جس جواب کی حالت اس مختصر رسالہ میں دکھائی گئی ہے۔ یہ خلیفہ قادیان کے دربار سے نکلا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان پیش گوئیوں کے غلط ہوجانے کو ان کادل ضرور مان چکا ہے۔ مگر اب بات کی پچ ہے اور ایسی بدیہی باتوں سے انکار کرنے سے یہ مطلب ہے کہ عوام منحرف نہ ہو جائیں۔ ان کے خوش کرنے کے لئے کچھ بات بناکر یہ کہہ دینا کافی ہے کہ پیش گوئی پوری ہوگئی۔ الغرض مرزا قادیانی کی وہ پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں جن کو انہوں نے اپنی صداقت کا معیار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں کاذب ہوں جب ان کا ظہور نہ ہوا تو مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب بالیقین کاذب ثابت ہوئے۔ اب جو حق پسند سچائی کے طالب ہیں وہ غور فرمائیں اور انجام کا خیال کرکے سچائی کو ہاتھ سے نہ دیں۔

واللّٰہ الموفق والمعین وہو یہدی الی صراط المستقیم ومن یضلل اللّٰہ فلا ہادی لہ
۱؎

ان کے سوا بہت پیشین گوئیوں کا غلط ہونا الہامات مرزا مولفہ مولاناثناء اﷲ امرتسریؒ میں لکھا گیا ہے اور برسوں سے وہ شائع ہے جواب کے لئے انعامی اشتہار بھی ہے مگر کسی کی ہمت آج تک جواب دینے کی نہ ہوئی بلکہ اس کے مولف مولوی ثناء اﷲ امرتسری ؒ اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی نسبت ہم سے مناظرہ کرلیا جائے مگر کوئی سامنے نہیں آتا۔ مرزا قادیانی کے سامنے مولوی صاحب قادیان اسی غرض سے گئے تھے کہ پیش گوئیوں کی پڑتال مرزا قادیانی کے مقابلہ میں ہوجائے مگر مرزا قادیانی سامنے نہ آئے۔ بایں ہمہ رسالوں میں لکھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری پیش گوئیاں پوری ہوگئیں اس بے شرمی کا کیا ٹھکانا ہے۔

۲؎

رسالہ کے شروع میں یہ نص قطعی نقل کیا گیا ہے۔

386

معیار صداقت

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

387

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، اما بعد!

برادران اسلام دسویں صدی کی ابتداء میں محمد جونپوری۱؎ نے ہند میں امام مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا۔ اور تیرہویں صدی کے درمیان میں علی محمد بابی۲؎نے ملک فارس میں یہی دعوی کیا۔ اور دونوں مدعی نبوت بہت کچھ کامیاب ہوئے۔ اور اب تک ان کے ماننے والے موجود ہیں۔ چودہویں صدی کی ابتداء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے پنجاب میں یہ دعوی کیا مرزا قادیانی کو اپنے دعوے کی اشاعت میں نہایت آسانی اور عافیت اس وجہ سے ہوئی کہ وہ ایک آزاد گورنمنٹ کی حکومت میں رہتے تھے کسی بات سے کوئی ان کو روکنے والا نہ تھا۔ اشاعت کے اسباب بھی اس وقت میں بہت کچھ مہیا ہیں پھر ان کے طرز تحریر نے کامل علمائے دیندار کو ان کی طرف متوجہ نہ ہونے دیا۔ اس لئے انہیں اس قدر کامیابی ہوئی جو اس وقت دیکھی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے کے ثبوت میں اپنی پیش گوئیاں پیش کی ہیں ان میں دو پیش گوئیاں بہت ہی مہتم بالشان ہیں جن کو مرزا قادیانی نے اپنے دعو ی کا نہایت عظیم الشان نشان بتایا ہے وہ یہ:

(۱) کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی، اور

(۲) سلطان محمد ان کا شوہر میرے روبرو مرے گا۔

ان دونوں پیش گوئیوںکا چرچابیس برس سے زیادہ مرزا قادیانی نے نہایت زور کے ساتھ کیا ہے اور مختلف طور پر ان کے ظہور کے لئے وعدۂ خداوندی بتایا ہے اور اس قدر تاکید اور یقین سے اس دعوی کو بیان کیا ہے جس سے زیادہ تاکید اور یقین دلانا نہیں ہوسکتا مگر فضل خداوندی یہ ہوا کہ یہ دونوں پیش گوئیاں غلط ہوگئیں اور ان کی زبان سے ان کے دعوے کا فیصلہ ہوگیا اور ان کے پختہ اقراروں نے ان کی حالت کو اظہر من الشمس کردیا۔

۱؎

اس کا حال ہدیہ مہدویہ میں مولانا محمد زماں خاں مرحوم شاہجہاں پوری حیدرآبادی نے لکھا ہے ناظرین اسے ضرور ملاحظہ کریں اور مرزا قادیانی کی حالت سے ملائیں۔

۲؎

اس کا مختصر حال حافظ عبد الرحمن امرتسری نے اپنے سفر نامہ میں اور مذہب الاسلام کے آخر میں لکھا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ اس فرقہ نے استنبول، شام، مصر، امریکہ، بمبئی، رنگون، میں اچھی وقعت حاصل کی ہے اب جو حضرات مرزا قادیانی کی کامیابی پر فریفتہ ہوئے انہیں غور کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کو ایسی کامیابی نہیں ہوئی۔

388

یہ وقت تھا کہ جنہوں نے غلطی سے ان کی پیروی اختیار کی تھی اور ان کے دعویٰ کے مصدق ہوگئے تھے وہ فورا ان سے علیحدہ ہوکر حق کے پیرو ہوتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ مرزا قادیانی کی حمایت میں (جو دراصل نفس کی حمایت ہے) خدا ئے قدوس پر الزام لگانے لگے اور یہ کہنے لگے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے وعدے کئے تھے مگر پورے نہ کئے اور خدا تعالیٰ کی وعدہ خلافی کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کرنے لگے اور اس پردہ میں مخالفین اسلام کو مدد دینے لگے۔ چنانچہ اخبار بدر قادیان مطبوعہ ۸ اگست ۱۹۱۲ء میں ایک مضمون نکلا ہے اس میں دو آیتیں پیش کی ہیں:

(۱) یصبکم۱؎بعض الذی یعدکم۔(۲) قالوا یا نوح قد جادلتنا۔ (الخ) قال انما یا تیکم بہ اللّٰہ ان شاء۔ ان آیتوں کو نقل کرکے صرف اس قدر دریافت کیا ہے کہ قرآن مجید کی یہ آیتیں ہیں یا نہیں۔ اس کی تشریح مطلقا نہیں کی کہ ان آیتوں سے ان کا مدعا کیوں کر ثابت ہوا۔ اس لئے ہم بھی اس قدر کہتے ہیں کہ آیتیں قرآن مجید کی ہیں، مگر ان سے اس کا ثبوت ہرگز نہیں ہوتا کہ اﷲ تعالی وعدہ خلافی کرتا ہے۔ اس قدوس کی ذات اقدس اس عیب سے پاک ہے اور ہم اپنے دعوے کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کرتے ہیں جو ہمارے دعوے کے ثبوت میں نصوص قطعیہ ہیں۔

۱؎

اس آیت کے اوپر یہ ذکر ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ ایک شخص اسی کے قریبوں میں یا اس کے گروہ میں تھا مگر پوشیدہ طور سے ایمان لے آیا تھا اس نے چاہا کہ فرعون کو اس ارادے سے باز رکھوں اور اس طرح سمجھانا شروع کیا کہ تو ایسے شخص کو مارے گا جو اﷲ کو اپنا پروردگار کہتا ہے اور تمہارے پاس کھلی نشانیاں لایا ہے اچھا ان نشانیوں کو نہ مانو تمہیں اختیار ہے مگر تمہاری بھلائی کے لئے کہتاہوں کہ وان یک کاذبا فعلیہ کذبہ۔ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم۔ یعنی اگر موسی جھوٹا ہے تو جھوٹ کا وبال اس پر پڑے گا اور آپ تباہ ہوگا تیرے مارنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر سچا ہے تو اس کے وعدوں کا ظہور کچھ تو ہوگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوشیدہ مومن فرعون کے سامنے ایسا لفظ بولا جو ذو معنین تھا یعنی اس کے معنی بعض کے بھی تھے اور کل کے بھی۔ نہایت قرین قیاس ہے کہ وہ ایسا لفظ اس لئے بولا کہ میں سچا بھی رہوں اور عام محاورہ کے لحاظ سے فرعون کے مزاج کے بالکل برخلاف بھی نہ ہو تاکہ وہ میری بات کا خیال کرے۔ قرآن مجید میں اس کے لفظ کا ترجمہ بعض کیا گیا۔ جس کے معنی عام محاورہ میں اور ہیں اور بعض وقت دوسرے معنی بھی بولا جاتا ہے یعنی کل کے معنی میں۔ تفسیر روح المعانی میں اس کے ثبوت میں کئی شعر لکھے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے کلام کا ترجمہ کردیا گیا اور ایسا لفظ لایا گیا جس کے دونوں معنی کلام عرب میں ہیں اگرچہ ایک معنی متعارف اور عام ہیں اور دوسرے معنی میں اتفاقا کسی وقت بولاجاتا ہے۔ (بقیہ حاشیہ ص ۳۹۰ پر)

389

(۱) ’’رَبَّنَا وَاٰ تِنَا مَا وَعَدْتَّنَا‘‘، ’’اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ‘‘(اٰ ل عمرٰن:۱۹۴)

اے پروردگار! جو تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عنایت کر۔ اس میں شبہ نہیں کہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

(۲) ’’حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ۔اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ‘‘(رعد:۳۱)

اس کا حاصل بھی وہی ہے جو پہلی آیت کا ہے۔

(۳) ’’فلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ‘‘ (ابرٰہیم:۴۷)

اس بات کا خیال بھی دل میں نہ لاکہ اﷲ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے اور کسی وقت اپنے وعدے یا وعید کو پورا نہیں کرتا۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا یہاں نہایت تاکید سے ثابت کیا گیا کہ اﷲ تعالیٰ بالخصوص اپنے رسول سے وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ یہ آیت اس مدعا میں نص قطعی ہے کہ مرزاقادیانی مامور من اﷲ اور خدا کے رسول نہ تھے کیوں کہ جس بات کو مرزا قادیانی نے نہایت پختہ وعدۂ خداوند ی باربار کہا ہے وہ پورا نہیں ہوا۔

(۴) ’’فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ‘‘ (الروم:۶۰)

صبر کر اس میں شبہ نہیں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے کبھی خلاف نہیں ہوسکتا۔

(۵) ’’اَلَا اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ‘‘ (یونس:۵۵)

(ص ۳۸۹ کا بقیہ حاشیہ) جب یہ لفظ دونوں معنی کے لئے آیا تو اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ خدا کے سارے وعدے پورے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ جماعت مرزائیہ کہہ رہی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ موسیٰ کو سچا مان کر یہ کہا جائے کہ ان کے اکثر وعدے اور وعید تو جھوٹے ہوںگے مگر بعض سچے ہوںگے کیوںکہ اگر یہ معنی ہوں تو جھوٹے اور سچے میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ ایسے شخص کو کوئی سچا نہیں کہہ سکتا جس کی اکثر باتیں جھوٹی ہوں اور فرعون کا مقابل انہیں سچا مان کر سمجھاتا ہے اس لئے آیت کے معنی وہ نہیں ہوسکتے جو جماعت مرزائیہ سمجھی ہے مگر چونکہ آیت میں بعض کا لفظ آیا ہے اس لئے جماعت مرزائیہ اپنے الزام دفع کرنے کے لئے نعمت غیر مترقبہ سمجھی اور خوشی میں آکر آیت کے معنی یہ خیال کرلئے کہ خدا بعض وعدے پورے کرتا ہے سب نہیں کرتا مگر انہیں سارے قرآن مجید پر نظر کرنا چاہئے۔ دیکھیں کہ قرآن مجید میں کتنی آیتیں ہیں جن سے قطعا اور یقینا ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالی کا کوئی وعدہ یا وعید خلاف نہیں ہوسکتا۔ اس کے تمام وعدے سچے ہوتے ہیں چند آیتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ ایسے نصوص قطعیہ کے ہوتے ہوئے کوئی ذی علم کسی آیت سے خدا کی وعدہ خلافی ثابت نہیں کرسکتا تنزیہ ربانی میں اس آیت کی دوسری توجیہ بیان کی ہے وہ عام فہم زیادہ ہے۔

390

آگاہ ہوجاؤ کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے (اس میں کسی وقت جھوٹ کا شائبہ نہیں ہوسکتا) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

انہیں میں سے جماعت مرزائی بھی ہے کہئے خلیفہ قادیان یہ قرآن مجید کی آیتیں ہیں یا نہیں اور ہیں تو اس باب میں نص قطعی ہیں یا نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں اس کا وعدہ کوئی خلاف نہیں ہوتا؟ اگر آپ قرآن کو مانتے ہیں تو یہ بھی آپ کو ضرور ماننا پڑے گا۔ ان نصوص قطعیہ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ جو آیتیں آپ نے پیش کی ہیں ان کا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں۔ وہ مرزائی جو خلیفہ قادیان کے پاس رہ کر اس پیش گوئی کا یہ جواب دیتے ہیں کہ وہ نکاح منسوخ ہوگیا اور اپنی بے علمی سے یہ کہتے ہیں کہ کیا نسخ آیات کا ثبوت قرآن شریف سے نہیں ملتا ؟۔ افسوس یہ ہے کہ حکیم نورالدین وہاں موجود ہیں اور ان سے یہ نہیں کہتے کہ نسخ اگر ہوتاہے تو احکام میں ہوتا ہے اخبار میں نہیں ہوتا۔ پیش گوئیاں خبر ہیں اور ایسی خبر ہیں کہ وعدۂ خداوندی ہے ان کو نسخ سے کیا واسطہ ؟ اگر کچھ ایمان ہے تو ان آیتوں پر غور کریں خدا پر عیب نہ لگائیں۔ آیتوں کے بعدمضمون نگار نے حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کو پیش کیا ہے جس کو مرزا قادیانی نے اپنے لئے بڑی سپر بنا رکھا ہے مگر یہ سخت مغالطہ ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کی کوئی پیش گوئی غلط نہیں ہوئی۔ نہ وعدۂ معینہ سے ٹل گئی۔ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ پیش گوئی ہرگز نہیں کی تھی کہ خدا تعالی تمہیں ہلاک کرے گا البتہ اس قدر کہہ کر قوم کو ڈرایا تھا کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو عذاب آئے گا۔ جب انہوں نے نہ مانا تو بموجب ان کے کہنے کے عذاب آیا۔ اس کا ثبوت قرآن مجید میں ہے مگر وہ عذاب کے آثار دیکھتے ہی ایمان لے آئے اس لئے عذاب ٹل گیا۔ غرضیکہ جو پیش گوئی کی تھی وہ پوری ہوئی مرزا قادیانی کی پیش گوئی یہ تھی کہ محمدی میرے نکاح میں آئے گی اور اس کا شوہر میرے روبرو مرے گا۔ اس کا ظہور نہ ہوا۔ پھر حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی سے اس کا جواب کس طرح ہوگیا۔فاعتبروا یا اولی الابصار!

احمد بیگ کے داماد کی نسبت جو پیش گوئی غلط ہوئی اس کا ایک اور جواب مجیب نے دیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ انجام آتھم کے ص ۳۱ کی بنا پر جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا جواب اسی کے ص ۳۲ میں موجود ہے وہ یہ کہ احمد بیگ کے داماد کی موت کو مرزا قادیانی نے مشروط کیا ہے

391

اس کے بے باکانہ اور مکذبانہ اشتہار دینے پر وہ شرط اس نے پوری نہیں کی اس لئے مشروط نہیں پایا گیا۔ اب حق پسند حضرات مجیب کی عبارت فہمی یا حق پوشی ملاحظہ فرمائیں۔

فیصلہ آسمانی میں صرف (انجام آتھم ص ۳۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً) کی بنا پر اعتراض نہیں کیاگیا بلکہ(ص ۳۱، وص ۲۱۶ وص ۲۲۳ وضمیمہ انجام آتھم کے ص ۵۴) کی کئی جگہ کی عبارت نقل کرکے اعتراض کیا ہے اور ہر ایک جگہ کی عبارت سے ایک جداگانہ بات پیدا ہوتی ہے جو مجیب کی غلطی کو روشن کرتی ہے سب کو ملا کر دیکھنا چاہئے تاکہ پوری حالت معلوم ہو۔ اس کے بعد ص ۳۲ کے مضمون کو دیکھنا چاہئے مجیب نے ایسا نہیں کیا۔ اب میں صرف انجام آتھم کی عبارت آپ کے روبرو پیش کرتا ہوں ملاحظہ کرکے انصاف فرمایئے وہ یہ ہے :

’’ (۱)میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔(۲) اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ (۳) اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کردے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔ (۴) جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا ۔‘‘

(انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱)

مرزا قادیانی کی عبارت کے یہ چار جملے ہیں۔ ہر ایک جملہ مجیب کے جواب کو غلط بتاتا ہے پہلے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ داماد احمد بیگ کا میرے سامنے مرنا تقدیر مبرم ہے اور تمام اہل علم جانتے ہیں کہ تقدیر مبرم وہی ہے جس میں کوئی شرط نہیں ہوتی اس کا ہونا ہر طرح ضرور ہوتا ہے۔ اس کے خلاف مجیب قادیانی اس کے لئے ایسی شرط بتاتے ہیں جس کا ظہور مرزا قادیانی کی موت کے بعد تک نہ ہوا۔ دوسرے جملہ میں مرزا قادیانی نہایت صفائی سے سلطان محمد کے نہ مرنے کو اپنے جھوٹے ہونے کی علامت بتارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر میں مرجاؤں اور وہ نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔ بھائیو ! ذرا غور کرو کہ اس میں ایسی شرط کیونکر ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک اس کا ظہور نہ ہو اس جملہ کی رو سے اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو اس کا مرنا مرزا کے روبرو ضروری ہے۔ تیسرے جملہ میں وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ جس طرح احمد بیگ اور آتھم میری پیش گوئی کے بموجب میرے سامنے مرگئے اس طرح احمد بیگ کا داماد بھی میرے سامنے مرے گا۔ اس میں اگر کوئی شرط کی جائے تو یہ کلام غلط ہوجائے گا چوتھے جملہ میں کہہ رہے ہیں کہ

392

احمد بیگ کے داماد کی موت خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کیوںکہ وہ اس کی طرف سے تقدیر مبرم ہے اس لئے اسے کوئی شرط یا کوئی دوسری بات رد نہیں کرسکتی۔ اس کی زیادہ تشریح کے لئے (انجام آتھم ص ۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)دیکھنا چاہئے۔

اب جانشین قادیان فرمائیں کہ یہ چار جملے کیسی شہادت دے رہے ہیں کہ اس پیشگوئی میں شرط نہیں ہوسکتی پھر آپ کے صحبت یافتہ آپ کے پاس کے رہنے والے ایسی بات کیوں کہہ رہے ہیں جسے مرزا کے کلام کا ہر جملہ غلط بتارہا ہے۔ اسی طرح بقیہ عبارتوں کا حال ہے کہ ان کا بھی ہر ہر جملہ کہتا ہے کہ اس پیش گوئی میں ایسی شرط ہر گز نہیں ہوسکتی جو مرزا قادیانی کی موت تک پوری نہ ہو۔ طول کلام کا خوف ہے ورنہ میں سب کو بیان کرکے دکھادیتا۔ اب انجام آتھم کی عبارت کو بھی دیکھئے جسے مجیب شرط بتارہے ہیں اور اپنے مخالف کو شرمانا چاہتے ہیں صفحہ مذکور کی اول عبارت یہ ہے:

’’ احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اُس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔ ‘‘

(انجام آتھم ص۳۲، خزائن ج۱۱ ص۳۲)

یہ عبارت تو نہایت صفائی سے بتارہی ہے کہ ص ۳۱ میں جو پیش گوئی ہے اس کے لئے یہ شرط نہیں ہے بلکہ مخالفین کے تنگ کرنے کی وجہ سے ایک اور میعادی پیش گوئی کرنے کا وعدہ کرتے ہیں کیونکہ صاف کہہ رہے ہیں کہ اشتہار کے بعد خدا تعالیٰ جو میعاد مقرر کرے اس سے اس کی موت اگر تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔ یعنی جس طرح میں نے پہلے اس کی موت کے لئے ڈھائی سال کی مد ت مقرر کی تھی اب اشتہار کے بعد پھر کوئی میعاد مقرر کروں گا اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔ افسوس ہے کہ ایسی صاف عبارت کا مطلب مجیب غلط سمجھ رہے ہیں۔ الحاصل ص ۳۱، و۳۲، دونوں کی عبارتیں مجیب کی غلطی کو متعدد طریقوں سے ظاہر کررہی ہیں، اس کے علاوہ اسی ص ۳۲ میں پیش گوئی کے اصل الفاظ مرزا قادیانی نے نقل کئے ہیں مثلا’’فسیکفیکہم اللّٰہ ویردہا الیک لا تبدیل لکلمات اللّٰہ‘‘ ان الفاظ کے یہاں نقل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی بجز اس کے کہ ص ۳۱ کے مضمون کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سلطان محمد کی بیوی کا میرے پاس آنا یعنی میر ے نکاح میں آنا ضروری ہے کیوں کہ وعدۂ

393

خداوندی ہے اور خدا کی بات بدل نہیں سکتی اس لئے اس کے شوہر کا مرنا اور میری پیش گوئی کا پورا ہونا میری زندگی میں ضروری ہے اس لئے سلطان محمد کے مرنے کے لئے وہ شرط نہیں ہوسکتی جو مجیب بیان کررہے ہیں۔

الغرض مرزا قادیانی کے کلام سے مجیب کی غلطی کی چھ وجہیں بیان کردی گئیں۔ چار ص ۳۱ کی عبارت سے اور دو ص ۳۲ کی عبارت سے۔ کہئے مجیب صاحب ! اب کسے شرمانا چاہئے آپ کو یا آپ کے مخالف کو ؟ اس کے علاوہ اگر مجیب فیصلہ آسمانی کو دیکھتے تو اس جواب کے غلط ہونے کے اور بھی وجوہ انہیں خود مرزا قادیانی کے کلام سے ملتے مگر افسوس ہے کہ حضرات مرزائی ان تحریروں کو نہیں دیکھتے جو محض ان کی خیرخواہی کی نظر سے لکھی گئی ہیں اور کسی نے کچھ دیکھا تو محض سرسری طور سے جواب دینے کے خیال سے۔ انصاف اور حق طلبی سے بحث نہیں۔ مجیب کے اس جواب سے یہ حالت روشن ہورہی ہے۔ وہ فیصلہ آسمانی کے پہلے حوالہ کو دیکھ کر جواب لکھنے بیٹھ گئے۔ نہ اس پیش گوئی کے متعلق عبارت میں غور کیا، نہ اس عبارت میں جہاں سے وہ شرط نکالتے ہیں اور نہ اس کے بعد دیکھا اور جواب لکھنے بیٹھ گئے افسوس تو یہ ہے کہ خلیفہ قادیان ایسی بے تکی باتیں لکھواتے ہیں اور ان کے روبرو لکھی جاتی ہیں کیا تقاضائے ایمان وہدایت یہی ہے؟ اب اگر مجیب قادیانی کی قوت ایمانی فیصلہ آسمانی دیکھنے کی برداشت نہیں کرسکتی تو انجام آتھم کا ص ۶۰ سطر ۷ سے ص ۶۱ کی سطر تک دیکھیں جس میں نہایت تاکیدوں کے ساتھ مرزا قادیانی کے بیان کے موافق خدا تعالی کا پختہ وعدہ بلکہ عہد خداوندی ہے کہ سلطان محمد کی بیوی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی جس میں کہا گیا ہے: ’’انا ۱؎ کنا فاعلین فلا تکونن من الممترین‘‘ جب مرزا قادیانی سے ایسا پختہ عہد خدا کررہا ہے پھر مرزا قادیانی کے ایمان کا مقتضا یہ کب ہوسکتا ہے کہ سلطان محمد کے مرنے کے لئے ایسی شرط لگائیں جو ان کے مرنے کے وقت تک پوری نہ ہو کیوںکہ اس کے مرنے کے بعد وہ نکاح میں آئے گی۔ پھر ص ۲۱۶ سطر ۶ سے آخر تک ملاحظہ کریں۔ جس میں نکاح کے روکنے والوں کا مارڈالنا اصل مقصود خداوندی بیان کیا ہے۔ روکنے والوں میں اس وقت بڑا روکنے والا اس کا شوہر تھا۔ اس الہام کے بعد مرزا قادیانی وہ شرط نہیں لگاسکتے جسے مجیب بیان کررہے ہیں۔

۱؎

یعنی اﷲ تعالی کہتا ہے کہ بلاشبہ ہم اس کے کرنے والے ہیں اس میں تو شبہ ہرگز نہ کر۔

394

اس کے بعد ص ۲۲۳، ۲۲۴ پر غور کریں جس میں ہر ایک جملہ کہہ رہا ہے کہ سلطان محمد کا مرنا مرزا قادیانی کے روبرو ہر طرح ضروری ہے اس میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔ اور اگر شرط تھی تو پوری ہوگئی۔ الحاصل ان میں سے ہر ایک عبارت نہایت قوی دلیل ہے کہ اس پیش گوئی میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی بلکہ سلطان محمد کا مرنا مرزا قادیانی کے روبرو بموجب اس پیشگوئی کے ضرورہے مگر افسوس یہ ہے کہ مجیب قادیانی جب صفحہ ۳۲ کی صاف اردو عبارت نہ سمجھے تو ان حوالوں کی عربی عبارت کیا سمجھیں گے؟ مگر خدا کے لئے خلیفہ قادیان ملاحظہ کرکے انصاف کریں اور اپنی جماعت کو سمجھائیں کہ ایسی بے تکی باتیں نہ کریں۔ خدا سے ڈریں۔ اس کے بعد مجیب قادیانی ان دونوں پیش گوئیوں کی صداقت ایسے طور سے بیان کرتے ہیں کہ ان کی عقل وفہم پر حیرت ہوتی ہے اور ان جوابوں کا نمونہ روبرو ہوجاتا ہے جو گذشتہ کذاب اپنے الزاموں کے جواب میں دیا کرتے تھے کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی جھوٹا مدعی اپنے الزاموں کے جوابات نہ دے کچھ کہنا اسے ضرور ہے۔

اب اس کو سمجھنا کہ کیسا کہاہے اسی کا کا م ہے جس کو اﷲ نے عقل کے ساتھ انصاف پسندی عنایت کی ہے اور خدا سے ڈرتا بھی ہے مجیب لکھتے ہیں کہ انجام یہ ہوا کہ وہ بزرگ خاندان جو باقی اس کام کا تھا، سلسلہ بیعت میں داخل ہوگیا جس نے شرط توبی توبی پوری کرکے پیش گوئی کی صداقت ثابت کردی۔ مگر یہ محض غلط ہے احمد بیگ کے خاندان میں کوئی بزرگ ایسا نہیں تھا جو بانی فساد یعنی حارج نکاح ہو اور پھر وہ مرزا قادیانی کا مرید ہوگیا ہو۔ اگر مجیب کو دعوی ہے تو اس کا نام ونشان بتایئے حقیقۃ الوحی کا حوالہ اگرچہ غلط ہے مگر یہاں اس کے حوالہ سے کام نہیں چلتا۔ ثابت کیجئے مرزا قادیانی نے انجام آتھم کے ص ۲۱۸ خزائن ج ۱۱ ص ۲۱۸ میں پانچ شخصوں کو بانی فساد بتایا ہے احمد بیگ کو اور اس کی ساس کو اور اس کی دو بہنوں کو۔ پھر لکھا ہے کہ یہ چاروں مرچکے ایک باقی ہے جس پر موت کا حکم ہوچکا ہے کہئے جناب ! اب کون باقی ہے جو سلسلہ بیعت میں داخل ہوگیا اب اس سے قطع نظر کرکے کہتا ہوں کہ جملہ توبی توبی کو اگر شرط مان لیا جائے تو بھی کسی بزرگ خاندان کے مرید ہوجانے سے شرط پوری نہیں ہوسکتی کیوںکہ مرزا قادیانی انجام آتھم اور حقیقۃ الوحی میں اس جملہ کا مخاطب احمد بیگ کی ساس کو کہتے ہیں جب شرط احمد بیگ کی ساس سے کی گئی تو کسی غیر معلوم بزرگ خاندان کے مرید ہوجانے سے وہ شرط کیونکر پوری ہوسکتی ہے شرط کے پوری ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جس سے خطاب ہے جس سے شرط کی گئی ہے وہ توبہ کرے اور ایمان لائے مگر وہ مرتے دم تک ایمان نہیں لائی پھر شرط کے پورا ہونے کی کوئی وجہ

395

نہیں ہے۔ اب ہم اس گرفت سے بھی درگذر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ دو پیش گوئیوں کے لئے یہ شرط تھی یعنی احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا اور اس کے داماد کا مرنا ان دونوں پیش گوئیوں میں ایک وعدۂ خداوندی ہے اور دوسری وعید ہے اب اس جملہ کی شرط ہونے کے یہی معنی ہوسکتے ہیں کہ اگر اسے پورا کردیا جائے یعنی جنہیں توبہ کے لئے کہا گیاہے وہ توبہ کرلیں تو وعدۂ خداوندی کا ظہور نہیں ہوا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئی اس لئے یقینا معلوم ہوا کہ وہ الہام بناوٹ تھا اور پھر اس کے بعد اس شرط کا اضافہ بھی اسی مصلحت سے تھا کہ کسی وقت کام آوے اور جواب دینے کی گنجائش رہے اگر وہ سچا الہام تھا تو اس کے دونوں جز کا پورا ہونا ضروری تھا مگر ایسا نہ ہوا اس لئے وہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور ممکن نہیں کہ اس کی صداقت کسی طرح ثابت ہوسکے۔ الحاصل اول تو یہ ثابت نہیں کہ اس خاندان کا کوئی بزرگ مرزا قادیانی کا مرید ہوگیا اور بالفرض اگر کوئی بڑا اس خاندان کا مرید بھی ہوگیا ہو تو بھی وہ شرط پوری نہیں ہوسکتی۔ اور اگر شرط کا پورا ہونا مان لیا جائے تو بھی پیش گوئی کی صداقت ثابت نہیں ہوئی اور قرآن مجید کے نص قطعی اور توریت کے صریح ارشاد سے اور مرزا قادیانی کے پختہ اقرار سے مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے کیوںکہ مرزا قادیانی کا یہ مقولہ ہے یاد رکھو کہ: ’’اس پیشگوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہریک بدسے بدتر ٹھہروں گا… یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸)

اب حضرات مرزائی اس قول سے کیوں روگرداں ہیں اگر کوئی مسلمان مرزا قادیانی کا یہ قول پیش کرتا ہے تو اس سے ناخوش ہوتے ہیں۔ بھائیو! یہ ان ہی کا کلام ہے جن پر تم ایمان لائے ہو کسی دوسرے کا قول نہیں ہے پھر ناخوشی کی کیا وجہ ہے؟ الغرض آپ مانیں یا نہ مانیں مگر اس میں شبہ نہیں رہا کہ فضل خداوندی نے اصلی حالت کو روشن کرکے دکھادیا اور مرزا کے اقرار سے ان کی زبان سے مرزا کے دعوی کا فیصلہ ہوگیا جس کی آنکھیں ہیں وہ دیکھ رہا ہے مجیب یہ بھی لکھتے ہیں کہ معترضین جواب دیں کہ کیوں انہوںنے سلطان محمد سے اشتہار نہیں دلایا۔ جواب ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی کے کذب کا انہیں کامل یقین ہوگیا تھا۔ اب زیادہ تجربہ کی ضرورت نہ رہی تھی اور جانتے تھے۔ ’’من جرب المجرب حلت بہ الندامۃ ‘‘ اس لئے اشتہار دلوانے کی دقت نہیں اٹھائی ان سب باتوں کی تفصیل رسالہ تنزیہ ربانی میں دیکھنا چاہئے !

واللّٰہ الموفق والمعین واٰخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العلمین۔

396

ضمیمہ: برادران اسلام خدا کے لئے توجہ کریں اور مرزا قادیانی کی صداقت کا بڑا معیار ملاحظہ فرمائیں۔ اور انصاف دلی سے فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کا ماننا کیسا ہے؟ مرزا قادیانی کے ماننے سے ہمیں کسے کسے چھوڑنا ہوگا؟ اور کیا کیا خطرناک باتیں ماننا پڑیںگی؟ خدا کو رسول کو کتاب اﷲ یعنی قرآن مجید کو حدیث رسول کو حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓ اور تمام اولیاء اﷲ کو چھوڑنا ہوگا۔ اس کا ثبوت آئندہ بیان سے بخوبی معلوم ہوجائے گا۔ امور ذیل اسے ماننا ہوںگے۔

(۱) خدائے قدوس جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے اور نہایت پختہ عہد کرکے بھی پورا نہیں کرتا۔ چنانچہ محمدی کے نکاح میں آنے کا مرزا قادیانی سے نہایت ہی پختہ وعدہ کیا اور تخمینا بیس برس تک امید دلائی مگر اس وعدہ کو پورا نہ کیا۔ اسی طرح اسکے شوہر سلطان محمد کے مرنے کی وعید کی مگر پور ی نہ کی۔ اور اسی وجہ سے مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ٹھہرے۔ اس کا مفصل اور مدلل بیان فیصلہ آسمانی کے حصہ اول ودوم میں ہے اور پھر جو کچھ کہا گیا تھا اس کا جواب تنریہ ربانی اور اس رسالہ میں دیا گیا۔ خدا کی وعدہ خلافی کے ثبوت میں بعض آیتیں پیش کرتے ہیں جن سے اظہر من الشمس ہے کہ حضرات قادیانی خدا کو جھوٹا اور وعدہ خلاف جانتے ہیں (نعوذ باﷲ)اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خدا اور رسول کی کسی بات پر اطمینان اور یقین نہیں ہوسکتا پھر ایسے خدا کو کون مان سکتا ہے اور ماننے کی کیا وجہ ہے ؟ الحاصل مرزا قادیانی کو وہی مان سکتا ہے جوخدا کو چھوڑے مگر افسوس کہ قادیانی اس پر غور نہیں کرتے۔

(۲) قرآن مجید کی بہت آیتوں میں آیا ہے کہ خدائے قدوس وعدہ خلافی نہیں کرتا اس کے سارے وعدے سچے ہوتے ہیں یہ سب آیتیں غلط ہیں ؟ نعوذ باﷲ! اگرچہ مطعونی کے خیال سے بظا ہر یہ الفاظ زبان سے نہ کہیں مگر اپنے خیال کے بموجب قرآن مجید کی بعض آیتیں اس کے وعدہ خلافی کے ثبوت میں پیش کرنا اور خلیفہ قادیان کا جملہ ’’یعد ولایوفی‘‘ کو سند میں لانا نہایت صفائی سے ثابت کررہا ہے کہ ان نصوص پر انہیں یقین نہیں ہے بلکہ انہیں وہ غلط مانتے ہیں گو زبان سے نہ کہیں اور اگر ایسے نصوص قطعیہ صریحہ میں کوئی تاویل کی جائے گی تو شریعت محمدیہ اور احکام قرآن مجید کوئی لائق اعتبار نہ رہیں گے کیوں کہ اگر ایسی تاویل جو صریح معنی نص کے خلاف ہومان لی جائے تو ہر شریرالنفس نفس پرست جو چاہے گا قرآن کے معانی بنالے گا اور تمام احکام درہم وبرہم کردے گا۔

397

الغرض مذکورہ بالا مضمون کی آیتیں اگر غلط ہیں تو بقیہ قرآن کی صحت کی کیا وجہ ہوسکتی ہے اگر صحیح مان کر ایسی باتیں بنائی جائیں جن سے خدا کی سچائی اور وعدہ خلافی کی برائی ثابت نہ ہو تو پھر شریعت کا کوئی مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا احکام شرعی ہر نفس پرست کے نفس کے تابع ہوجائیں گے جس طرح وہ چاہیں گے اپنے نفس کی خواہش کے موافق احکام نکال لے گا اور شریعت کو مضحکہ بنائے گا۔

(۳) قرآن مجید میں جس قدر وعدے اہل تقوی اور مسلمانوں سے کئے گئے ہیں اور کفار ومنکر ین سے جس قدر وعیدیں کی گئی ہیں کوئی لائق وثوق نہیں ہے ؟ کیوںکہ ہمارے اعتراض کے جواب میں آیت’’یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ‘‘(المؤمن:۲۸)پیش کرتے ہیں جس کا مطلب ان کے خیال میں یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ بعض وعدے پورے کرتا ہے، اکثر نہیں کرتا۔ اگرچہ ان کی ہمت اس قدر نہیں ہوئی کہ صاف طور سے اپنے استدلال کو بیان کرتے مگر ان کے فہم سے اور ان کی باتوں سے یہی مطلب معلوم ہوتا ہے غرضیکہ پہلے اور دوسرے اور تیسرے عقیدہ سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے ماننے سے قرآن شریف کو چھوڑنا ہوگا۔ اگرچہ اس وقت کسی مصلحت سے یا محض نادانی سے وہ اس سے انکار کریں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ خدا کے وعدے خلاف دکھانا اور خلیفہ قادیان کا ’’یعد ولا یوفی‘‘ پیش کرنا بالیقین ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کے سچا ماننے سے قرآن مجید کے سارے وعد ے اور وعیدوں کو غیر معتبر ماننا ہوگا اور یہ عقیدہ بالآخر قرآن مجید کے چھوڑنے پر اسے مجبور کرے گا۔

(۴) خدا تعالیٰ ہر چیز میں محو واثبات کرتا ہے بعض وقت نہایت پختہ وعدہ کرکے اسے مٹادیتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی سے وعدے کئے اور پھر مٹادیئے اس کا ظہور نہ ہوا مخالفین نے جب مرزا قادیانی سے منکوحۂ آسمانی کی نسبت اعتراض کیا ہے تو اس کے جواب میں حقیقۃ الوحی میں آیت’’یمحوااللّٰہ ما یشاء ویثبت‘‘ پیش کی ہے جب وعدہ ووعید میں بھی محو واثبات ہے تو اس کا ضروری نتیجہ یہ ہوگا کہ رسول کی رسالت بھی لائق اعتبار نہ رہے گی کیوں کہ معلوم نہیں کہ اس کی رسالت قائم ہے یا مٹادی گئی۔ پھر ایسے مشکوک رسولوں کو کون عاقل مان سکتا ہے؟ غرضیکہ مرزا قادیانی کو مان کر تمام انبیاء کو چھوڑنا ہوگا۔ یہ چوتھا عقیدہ ہے جس کی وجہ سے خدا کے رسولوں کو چھوڑنا ہوگا اس سے پہلے جو تین عقیدے بیان کئے گئے ہر ایک اس کا موجب ہے کہ مرزا قادیانی کو مان کر خدا کے رسولوں کو چھوڑنا ہوگا اور بالآخر اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ مرزا قادیانی کو بھی نہ مانے گا۔ اگر اسے کچھ عقل ہے کیوںکہ وہ بھی اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں۔

398

(۵) تمام حدیثیں غیر معتبر اور بے کار ہیں (اعجاز احمدی ص۵۷، خزائن ج ۱۹ ص۱۶۸) کا شعر ملاحظہ کیا جائے:

  1. ہل۱؎ النقل شیٔ بعد ایحاء ربّنا

    فایّ حدیث بعدہ نتخیرٗ

  2. وقد مُزّق الاخبار کل ممزّق

    فکُلٌّ بما ہو عندہ یستبشرٗ

اور اعجاز احمدی کا (ص ۲۹ و۳۰ خزائن ج ۱۹ ص ۱۳۹،۱۴۰ اربعین نمبر ۳ ص۵۹ حاشیہ خزائن ج۱۷ ص ۴۰۱) دیکھا جائے کہ اپنے الہام کے مقابل میں حدیثوں کی کیسی بے ادبی کی ہے اور ردی کی طرح پھینک دینے کو لکھا ہے اور ازالہ الاوہام کے (ص ۵۴۵ خزائن ج ۳ ص ۳۹۳) میں یہ کہتے ہیں کہ:’’ اگر حدیث صحیح بھی ہو تب بھی مفید ظن ہے ۔‘‘ یعنی کوئی امر حق اس سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ اس کہنے کے بعد جو حدیث یا جو روایت ان کے مدعا کے موافق ہے اس سے سند پکڑتے ہیں اگرچہ وہ کیسی ہی ضعیف یا موضوع کیوں نہ ہو اور جاہل فریب باتیں بناکر اس کی صحت ثابت کرتے ہیں چنانچہ دار قطنی کی نہایت ضعیف بلکہ موضوع روایت کی صحت بیان کرنے میں رسالہ نورالحق میں کیسی باتیں بنائی ہیں۔

(۶)حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa کی بعض پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئیں حالانکہ یہ محض افتراء اور حضور انورa کی کسرشان ہے آپa نے کوئی پیشگوئی ایسی نہیں کی جو پوری نہیں ہوئی ہو۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کی بہت پیش گوئیاں پوری نہیںہوئیں۔ اس لئے جناب رسول اﷲa پر یہ افتراء کرکے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تحفہ گولڑویہ میں لکھا ہے کہ رسول اﷲa نے حدیبیہ میں پیش گوئی کی تھی مگر پوری نہ ہوئی حالانکہ آنحضرتa نے حدیبیہ میں کوئی پیش گوئی نہیں کی۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۵۳ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷) میں۲؎ لکھتے ہیں کہ محمدی سے میرا نکاح ہونے اور اس سے ایک خاص لڑکا ہونے کے لئے جناب رسول اﷲa

۱؎

ان شعروں کا حاصل یہ ہے کہ جب مجھ پر خدا کی وحی آنے لگی تو پھر حدیث کوئی چیز نہیں ہے تمام حدیثیں ٹکڑے ٹکڑے کردی گئیں اب جو کچھ میرے پاس ہے اس سے خوش ہو۔

۲؎

حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم کے صریح مضمون سے ثابت ہوگیا کہ محمدی سے نکاح کے لئے اور پھر اس سے لڑکا ہونے کے لئے کوئی ایسی شرط نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس نہ آئے اور پیش گوئی پوری ہوجائے بلکہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے کی یہی صورت ہے کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس آئے اور اس سے لڑکا پیدا ہو۔

399

نے پیش گوئی کی ہے مگر یہ محض خیال خام اور افتراء ہے جس پیشگوئی کو مرزا قادیانی نے اپنی پیشگوئی ٹھہرایا ہے اس کا ذکر فیصلہ آسمانی میں کیا گیا ہے وہاں دیکھنا چاہئے مگر مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب اس پیشگوئی کا ظہور نہیں ہوا کیوںکہ نہ تزوج ہوا نہ لڑکا ہوا۔ مرزا قادیانی کے بیان سے یہ ظاہر ہے کہ رسول اﷲa نے دو پیش گوئیا ں کیں ایک یہ کہ محمدی سے مرزا قادیانی کا نکاح ہوگا۔ وہ آسمانی اور خیالی نکاح نہیں جس کا ہونا دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا بلکہ وہ نکاح جس کا نتیجہ اولاد ہونا ہے وہ ہوگا۔ دوسری پیش گوئی یہ ہے کہ اس سے اولاد ہوگی اور وہ لڑکا ہوگا جس کی پیش گوئی مرزا قادیانی نے کی تھی جب ان دونوں کا ظہور نہ ہوا تو مرزائی اس کہنے پر مجبور ہیں کہ بقول مرزا قادیانی رسول اﷲa کی دو پیش گوئیاں غلط ہوگئیں۔ نعوذ باﷲ، کوئی مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتا۔ اب ان کے مریدین کہہ رہے ہیں کہ حضور انورa نے مسیلمہ کذاب کے اپنے سامنے مارے جانے کی پیش گوئی کی تھی مگر اس کا ظہور نہ ہوا بلکہ آپکے بعد وہ مارا گیا۔ بعض نے اس پر اور اضافہ کیا ہے کہ آنحضرتa نے ایک رؤیا کی بناء پر فرمایاتھا کہ مسیلمہ میرے ہاتھ سے ہلاک ہوجائے گا۔ (دیکھو آئینہ صداقت)

حالانکہ یہ بالکل غلط ہے جناب رسول اﷲa نے ہر گز ایسا نہیں فرمایا اور حضورa کی ایسی شان نہ تھی کہ خواب کی بنا پر ایسی پیش گوئیاں کرتے۔ مگر حضرات مرزائی کی جرأت کو برادران اسلام ملاحظہ کریں۔ کہ کیسے صریح جھوٹ حضرت سرور انبیاءa پر لگا رہے ہیں اور صرف اس لئے کہ عوام کی نظروں میں مرزا قادیانی کو سرخرو رکھیں۔ بھائیو ! یہ کیا اسلام ہے۔ خادمان اسلام اور جاں نثاران حضرت خیرا لانام علیہ الصلوٰۃ والسلام، مکرر غور کریں کہ مرزا قادیانی اور ان کے پیرووں نے اول تو خدائے قدوس پر جھوٹ کا ایسا عیب لگا یا جس سے اس کا تمام کلام مخدوش اور لائق اطمینان نہ رہا۔ اس کے بعد حضرت سرور انبیاء پر یہ الزام دیا کہ آپ نے غلط پیشگوئیاں کیں جس سے آپ کی رسالت اور نبوت درہم برہم ہوجاتی ہے۔

بھائیو ! یہ نہایت خدشہ کی بات ہے ذرا غور کرو جماعت مرزائیہ تو دھوکے میں آگئی اور پھر ختم اللّٰہ علی قلوبہم کی مصداق ہوگئی۔ مگر تم تو ہوشیار رہو۔ پیشگوئی کے غلط ہونے سے نبوت اس وجہ سے درہم برہم ہوجاتی ہے کہ توریت میں مصرح ہے ۱؎ کہ جس مدعی نبوت کی پیش گوئی غلط ہوجائے وہ جھوٹا ہے اس حوالہ کو مرزا قادیانی نے اپنے متعدد رسالوں میں بطور سند پیش کیا ہے۔

۱؎

اس کا ذکر فیصلہ آسمانی کے ص ۱۷ میں کیا گیا ہے اور توریت کی عبارت بھی نقل کی گئی ہے۔

400

اس حوالہ سے تو صاف طور سے نبوت باطل ہوتی ہے اور قرآن مجید کی وہ آیت جو رسالہ کے تیسرے نمبر میں لکھی گئی جس سے ظاہر ہے کہ خدا اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی نہیں کرتا اس باب میں نص صریح ہے کہ جس مدعی کی ایسی پیش گوئی غلط ہوجائے جس میں وعدۂ خداوندی ہو وہ مدعی کاذب ہے اگرچہ بعض پیش گوئیاں اس کی سچی بھی ہوئی ہوں۔ اس کے علاوہ عقلی طور سے ملاحظہ کیجئے پیش گوئی بطور نشان ومعجزہ مخلوق کے روبرو پیش کی جاتی ہے۔ اب اگر وہ اس وجہ سے غلط ہوجائے کہ خواب یا کسی قیاس کی بنیاد پر کی تھی تو اس کی تمام باتوں پر یہی قیاس اور گمان کیا گیا ہے اسی طرح اور باتیں بھی اس نبی نے قیاس وگمان سے کہی ہیں اور اگر کوئی پیش گوئی صحیح بھی ہوئی تو اتفاقیہ ہے ایسے اتفاقات بہت ہوتے رہتے ہیں اور اگر اس نبی نے وحی والہام سے پیش گوئی کی تھی اور وہ غلط ہوگئی تو یہ خدا پر الزام ہے جس کا پہلے ذکر ہوا۔ غرضیکہ مرزائیوں کے ان عقائد اور ایسے خیالات سے نہ خدا ہے نہ رسول ہے۔ نہ دین ہے نہ ایمان ہے اور یہی بات ان کی صورت ان کی سیرت ان کے حالات سے اظہر من الشمس ہوتی ہے (بعض نیک دل جو غلطی سے ان کے شامل ہوگئے ہیں ان کا ذکر نہیں ہے) اب دین کا نام اور خدا ورسول کی تعریف کسی پالیسی اور مصلحت سے معلوم ہوتی ہے مرزا قادیانی کی باتیں تو اس کی کامل شہادت دیتی ہیں مگر ان کی جماعت کی نسبت میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ اکثر کی نسبت میرا گمان ہے کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں اور غلطی میں پڑگئے ہیں اﷲ ان کو غلطی سے نجات دے۔ آمین۔

(۷) خلفائے راشدین اور ائمہ محدثین اور تمام اولیاء کاملین سب کو مرزا قادیانی نے بیکار کردیا۔ اب کسی سے فائدے اور فیضان کی امید نہ رہی۔ (اعجاز احمدی ص۵۸، خزائن ج ۱۹ ص ۱۷۰ میں) مرزا لکھتا ہے :

  1. تکَدّرَ ماء السابقین وعیننا

    الی اٰخر الایَّام لا تتکدّرٗ

یعنی اگلے بزرگوں کا چشمہ فیض مکدر اور میلا ہوگیا اور میرا چشمہ قیامت تک میلا نہ ہوگا۔ مگر افسو س ہے کہ وہ چشمہ نظر نہیں آیا کہ کہاں ہے اور کون اس سے سیراب ہوا۔ ان کے فیضان کے دو چشمہ ظاہر ی ہوسکتے ہیں۔ ان کی تصانیف اور ان کے مریدین کتابوں میں تو سوائے ان کی تعریف اور دوسرے انبیاء اور اولیاء اور علماء کی برائی کے اور جھگڑوں کے اور کچھ نہیں ہے اور جب غور اور تحقیق کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو بہت باتیں نہایت غلط اور بے باکانہ لکھی ہیں اور ہر قسم کی غلطی کی ہے ان کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام دنیا کو انہوں نے محض جاہل

401

خیال کرلیا ہے اور بڑے زعم میں آکر جو جی میں آتا ہے زور سے لکھتے جاتے ہیں ان کے چشمہ کی ایک شاخ تو یہ ہے اس کا اثر جو کچھ ہوگا اسے اہل دانش معلوم کرسکتے ہیں۔ دوسری شاخ ان کے مریدین ہیں ان کی حالت آفتاب کی طرح روشن ہے اسی حالت کا اثر ہے کہ خدا کو جھوٹا اور وعدہ خلاف ثابت کررہے ہیں اور اس کی تلاش میں رہتے ہیں کہ رسول اﷲa کی پیش گوئی جھوٹی نکلے اور جب ایسی پیش گوئی نہیں پاتے تو کبھی خواب کو پیش گوئی کہتے ہیں کسی وقت محض جھوٹی بات حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام پر لگادیتے ہیں ابھی مرزا قادیانی کو گذرے کچھ عرصہ نہیں ہوا اسی وقت ان کے اثر فیض کا یہ نمونہ ہے اب آئندہ جھوٹ اور افتراء کا طوفان کس قدر ہوگا اس کا علم خدا کو ہے اگر مرزاقادیانی کے اثر فیض سے صداقت کا تخم ان کے دل میں بویا جاتا تو ممکن نہ تھا کہ خدا کو اور اس کے سچے رسول کو جھوٹا ثابت کرنے کے درپے ہوتے۔ ایک فتوی مرزا قادیانی کا اور ان کے خلیفہ اور صاحبزادہ کا یہ ہے کہ:

(۸) جو کوئی مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا وہ کافر ہے۔ اس کے پیچھے نماز ہرگز جائز نہیں ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو تقریبا ۲۳ کروڑ (اور اب ایک ارب تیس کروڑ) مسلمان تھے وہ مرزا قادیانی کے وجود سے سب کافر ہوگئے بجز قلیل گروہ کے اور کوئی کافر مسلمان نہیں ہوا۔ ان کے مجدد اور مہدی ہونے کا یہ اثر ہوا کہ تیرہ سو برس کے عرصہ دراز میں جو کاملین امت محمدیہ اور علماء راسخین کی ہمت اور سعی سے مسلمانوں کی تعداد تمام دنیا میں تخمینا ۲۳ کروڑ یا کچھ زیادہ ہوئی تھی اسے چودہویں صدی میں مرزا قادیانی نے خاک میں ملادیا یعنی وہ سارے مسلمان کافر ہوگئے۔ میاں محمود احمد رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء میں لکھتے ہیں :’’ جب حضرت کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہا تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا؟

اس کلام سے صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کی بعثت کا فائدہ یہی ہے کہ ساری دنیا کے ۲۳ کروڑ مسلمان کافر ٹھہرائے جائیں اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے کافروں کو مسلمان تو نہیں بنایا اب اگر مسلمانوں کو کافر بھی نہ بنائیں تو پھر ان کا وجود اور بعثت بے کار ہوجائے اس لئے ان کے خلیفہ قادیان اور خلف ارشد کو اس پر اصرار ہے کہ سب کو کافر بنایا جائے۔ اب برادران اسلام ان باتوں پر غور کریں اور انصاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا ماننا کیسا ہے ؟ اور اﷲ سے عاجزی کے ساتھ دعا کریں کہ وہ ہادی برحق ہمیں اور آپ کو سیدھے راستہ پر چلائے۔ اور راہ مستقیم پر قائم رکھے۔ آمین!

402

حقیقت المسیح

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

403

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یا قَوْمَنَا اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ

بھائیو ! خدا کی طرف بلانے والے کی بات کو مانو۔

  1. حمد خالق را کہ بچون وچراست

    نعت احمد را کہ فخر انبیاء ست

اسلام کے جان نثارو!

مسلمانوں کے لئے اور ان کے مقدس مذہب کے لئے یہ وقت کس قدر نازک ہے کہ کس کس طرح سے اس پر حملے ہورہے ہیں اور کتنے دشمنان اسلام اس کے مٹادینے کی فکر میں ہیں۔ پادریو ں کی کوششیں تو مدتوں سے تھیں اور بہت کچھ ہیں۔ مزید براں اب آریوں کا کس قدر زور ہے تھوڑا ہی عرصہ ہوتا ہے جن کا وجود نہ تھا اب کس زور سے ان کی ترقی ہورہی ہے کیسے ناملائم اور بے تہذیبی سے سرور انبیاء علیہ السلام پر اعتراضات کررہے ہیں۔ یہ وہ وقت تھاکہ سب مسلمان متفق ہوکر دشمنان اسلام کا مقابلہ کرتے۔ اسلام وہ سچا اور مقدس مذہب ہے کہ اس کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جل سکتا اس کی صداقت کا آفتاب سب کی روشنی کو ماند ہی نہیں کرتا بلکہ بے کار کردیتا ہے۔ ہاں اس کے روشن کرنے والے متوجہ ہوں اور اپنی متفقہ کوشش سے کام لیں۔ مگر افسوس اور ہزار افسوس کہ معاملہ برعکس ہورہا ہے۔

اہل علم نے باہمی جنگ ایسی چھیڑ رکھی ہے کہ دشمنان اسلام نہایت بے باکی سے اپنا کام کرر ہے ہیں اور خوش ہورہے ہیں کہ مسلمانوں نے تو خود ہی اپنے مذہب کا خاتمہ کردیا کیوں کہ اس میں متعدد فرقے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو کافر کہتا ہے جب سب کے قول کو ملاؤ تو دیکھو کہ کوئی بھی مسلمان رہتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔

اسی وقت میں مرزا غلام قادیانی کا ظہور ہوا جنہوں نے پہلے دشمنان اسلام کا مقابلہ کرکے دشمنوں کو نہایت برانگیختہ کردیا اور مخالفت کی آتش کو بہت زیادہ بھڑکایا اور مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام جن کی نبوت کی تصدیق ہمارے رسول کریمa نے کی، قرآن مجید میں ان کی اور ان کی والدہ محترمہ کی صفت خاص طور پر آئی، ان کا تذکرہ اپنے رسالوں میں ایسے برے طور سے کیا کہ کوئی قوی الاسلام مسلمان اسے سن نہیں سکتا۔ مناظرہ میں

404

الزام دیا جاتا ہے مگر کوئی ایماندار اور مہذب ایسا نہیں کرسکتا کہ جن کو وہ خود مقدس خدا کا مقبول مان رہا ہو اسے شراب خور، بدکار، فاحشہ، جوان حسین عورتوں سے میل جول رکھنے والا بازیگر، متکبر، راستبازوں کا دشمن کہے۔ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ایسے الزام دیئے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ۱؎ ان کے نقل کرنے سے میرا دل لرزتا ہے اور ان کے نقل کرنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ خیال کرنا چاہئے کہ ایسی تحریروں سے غیر مذہب کے دلوں میں آتش مخالفت کس قدر مشتعل ہوئی ہوگی۔ مسلمانوں کی خیر خواہی اور ایمان کا تقاضا ایسی غیر مہذب تحریر کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ بہت مسلمانوں نے اس پر غائر نظر نہیں کی اور مرزا قادیانی کو حامی اسلام سمجھ کر ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور عوام کے سوا بعض اہل علم بھی ان کے شیفتہ ہوگئے۔ مسلمانوں کی اس توجہ نے مرزا قادیانی کے دماغ کو خراب کردیا اور انہوں نے ایسی روش بدلی کہ اسلام کا خاتمہ ہی کردیا۔

اگرچہ اپنے رسالوں میں پادریوں کی زیادتیاں بہت کچھ دکھائی ہیں اور مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ ہم ان کو جواب دیتے ہیں مگر اس وقت کے علماء ہمیں روکتے ہیں اور ہمیں جواب نہیں دینے دیتے ہمارے دشمن ہوگئے ہیں۔ یہ عمدہ پالیسی اپنی طرف متوجہ کرنے کی انہوںنے اختیار کی ہے مگر جب ان کے دعووں کو اور خود ستائی کو دیکھا جاتا ہے اور ان کی حالت اور طرز تحریر پر نہایت غور سے نظر کی جاتی ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دلی منشاء یہ ہے کہ جس طرح ان کا زور اس وقت ہورہا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا مانا جاتا ہے اسی طرح جدید مسیح کو اپنا خدا ماننے لگے اور سوائے مذہب قادیانی کے اور کوئی مذہب نہ رہے۔ میں نہایت سچائی اور مسلمانوں کی خیرخواہی سے کہتا ہوں کہ ان کی تمام تحریروں کا خلاصہ اپنے دعوی کی نسبت یہی ہے۔ اگرچہ مسلمانوں سے اور خصوصا اہل سنت سے یہ کہتے ہیں کہ سوائے حیات وممات مسیح کے اور کسی مسئلہ میں مجھے اختلاف نہیں۔

(خلاصہ نورا لحق حصہ اول ص ۵ خزائن ج ۸ ص ۸)

۱؎

ضمیمہ انجام آتھم ص۹۴، خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۸، ۲۹۳ تک کا حاشیہ دیکھنا چاہئے اگرچہ کسی بدزبان مشنری کے جواب میں یہ مضمون لکھا ہے مگر ایسی غلط پیش گوئی کیوں کی جو اسے بدزبانی کا موقع ملا۔ ہمارا کہنا یہی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس بے عنوانی سے مناظرہ کیا کہ ان کو بہت برہم کردیا اور اس کے نتائج برے ہوئے اور ہوںگے۔

405

مگر یہ محض غلط ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مرزاقادیانی نے اس نازک وقت میں اسلام کا خاتمہ ہی کردیا ہے اور ان کی ذات مجمع صفات نےظہر الفساد فی البر والبحر۱؎ کو آفتاب کی طرح چمکادیا پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعوی کیا پھر مثیل مسیح ہوکر ان سے اور تمام سابقین انبیاء سے افضل ہوگئے۔

اب یہ دیکھا جائے کہ مسیح موعود ہوکر انہوں نے کیا کیا اسلام کو نفع پہنچایا؟ مسلمانوں کی نکبت وادبار میں کچھ کمی ہوئی؟۔ مسلمانوں کے کسی گروہ کی کچھ اصلاح ہوئی؟ حاشا وکلا ہرگز نہیں۔ تمام دنیا میں دیکھ لو کیا حالت ہے جو ان پر ایمان لائے ہیں انہیں کی حالت دیکھو سوائے جھگڑے اور سخت گوئی اور جھوٹی اور فریب آمیز باتوں کے کچھ نہیں۔ تقوی بردباری، سیرت سلف صالح کا ان میں نشان نہیں ہے۔ ان حضرات کا ذکر نہیں کرتا جو طبعی طور سے نیک تھے اور ناواقفی اور کم فہمی سے انہیں مان گئے ہیں اور کوئی عمدہ اور کامل ذریعہ سچی حالت معلوم کرنے کا انہیں نہیں ملا۔

مرزا قادیانی کو دعویٔ نبوت ہے تو انبیاء کرام کی حالت کو دیکھنا چاہئے اولیاء کرام کی روش پر نظر کرنا چاہئے کہ ان کی کیا حالت تھی؟ جتنے انبیاء گزرے اور جس قدر اولیاء ذیشان ہوئے سب کی مخالفت کی گئی اور بہت زور کے ساتھ مقابلہ کیا گیا اور کوئی دقیقہ ان کے ایذا دہی میں اٹھا نہیں رکھا گیا مگر اس مقدس گروہ نے بجز صبر وتحمل کے کچھ نہیں کیا نہ کسی نے اپنی تعریف اور مدح کے الہامات جمع کرکے لوگوں کو دکھائے نہ اپنے دعوؤں کے ثبوت میں دلیلیں لکھ کر مشہور کرائیں۔ نہ مخالفین کے ردوکد میں رسالوں کی بوچھاڑ کی نہ اپنی تحریروں میں خدا ورسول کے ماننے والوں پر موٹے موٹے اور لمبے حرفوں میں لعنتوں کی قطار برسائی نہ کسی مخالف کو بندر اور سور بنایا۔ ہاں جس رشد وہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے اس کام میں مستعد رہے اور مخالفین کی ہر طرح کی تکالیف سہتے رہے۔ البتہ ضمناً کسی وقت کوئی جملہ تعریف کا یا مخالفین کی برائی کا ان کی زبان سے نکلا اپنی صداقت کی دلیل بھی ضمناً پیش کی۔ ملاحظہ کیا جائے کہ حضرت سید المرسلینﷺ نے قرآن مجید پیش کیا جس میں دنیا اور آخرت کی فلاح کی باتیں مذکور ہیں اسی پر عملدر آمد کا حکم ہے اسی کی نسبت خلیفہ دوم حضر ت عمرؓ کا ارشاد ہےحسبناکتاب اللّٰہ اسی کو حضور انور جناب رسول اﷲa نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں پیش کیااور فرمایا’’فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ‘‘ (البقرۃ۲۳)

۱؎

جنگل اور دریا میں فساد پھیل پڑا۔

406

یعنی اگر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور میں بھی تمہارے مثل ہوں تو میں نے جو کتاب پیش کی ہے اس کی ایک ایک سورت کے مثل لے آؤ خواہ بناکر لاؤ یا تمہارے پہلے کسی نے بنایا ہو اسی کو پیش کرو پھر یہ بھی کہہ دیا کہ تم نہیں لاسکتے۔ غرضیکہ جو کتاب ہدایت کے لئے پیش کی اسی کو صداقت کا معیار قرار دے کر سمجھایا۔ دوسرے معجزات کو اور اپنی مقبولہ دعاؤں کو کسی رجسٹر یا بہی پر نہیں لکھتے گئے کہ بار بار ہرایک موقع پر اس کی تعداد کا اظہار کیا گیا ہو یہ کہیں نہیں فرمایا کہ دس ہزار یا بیس ہزار یا تین سو یا اس قدر معجزے مجھ سے ہوئے ہیں انہیں دیکھو۔

قرآن مجید میں منکرین کا معجزہ طلب کرنا مذکور ہے مگر کہیں نہیں کہا گیا کہ میں نے اس قدر معجز ے دکھائے ہیں انہیں دیکھو ان پر نظر کرو بلکہ اپنی عاجزی ظاہر کی ہے مگر مرزا قادیانی ہر جگہ اپنی پیش گوئیو ںکا تھیلا دکھاتے ہیں اور ان کا شمار کرتے رہتے ہیں اور کہیں دو سو اور کہیں تین سو اور کہیں ہزاروں کا عدد بیان کرتے ہیں اور پھر اسی قسم کی تحریروں سے سینکڑوں جز سیاہ کرتے ہیں۔ مخالفین پر سخت کلامی ہورہی ہے اصل کام جو رشد وہدایت کا تھا وہ بالکل بند ہے اور جب پیشگوئی غلط ثابت ہوتی ہے تو کیسی کیسی بے ہودہ اور غلط تاویلیں کی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایسا عظیم الشان دعویٰ اور ایسی غلط باتیں اور نہایت بے باکی سے خلاف واقع دعویٰ افسوس! ذرا غور کیا جائے کہ قادیان میں طاعون نہ آنے کی پیش گوئی منکوحہ آسمانی کے نکاح میں نہ آنا اور اس سے عجیب الخلقت اولاد ہونے کی پیشگوئی احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیش گوئی وغیرہ وغیرہ کیسی صاف طور سے غلط ہوئیں اور مرزا غلام احمد قادیانی اپنی زندگی میں کیسی تاویلیں کرتے رہے اور صریح غلط باتوں کو یقینی سچا بناتے رہے جسے کچھ بھی حق طلبی ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کو تحقیق کی نظر سے دیکھے۱؎ غضب یہ ہے کہ جب جناب والا کی پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں تو یہ کوشش ہورہی ہے کہ حضرت سرور انبیاءa کی کوئی پیشگوئی غلط نکالی جائے تاکہ مسلمانوں کی زبان بند ہو۔ مگر خوب سمجھ لیں کہ یہ بات غیر ممکن ہے آسمان وزمین ٹل جائیں مگر اس اصدق الصادقین کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ جناب رسول اﷲa نے کوئی پیشگوئی ایسی نہیں کی جو وقت موعودہ پر پوری نہ ہوئی ہو مگر مرزا قادیانی اور ان کے پیرووں نے حضورa کے

۱؎

کسی قدر تفصیل فیصلہ آسمانی میں کی گئی ہے اور مولوی ثناء اﷲ صاحب اور ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب نے بھی کی ہے کچھ بھی تعصب کو دور کرکے ان رسالوں کو دیکھا جائے۔

407

بعض خوابوں کو اس طرح بیان کیا ہے جس سے عوام یہ خیال کرتے ہیں کہ حضور انورa نے یہ پیش گوئی کی اور پوری نہ ہوئی۱؎ افسوس صدافسوس!یہ اسلام کی حمایت ہے اور اس پر مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ انہیں نبی مانو۔

بھائیو ! ذرا تو غور کرو جوہمارے سرور انبیاءa کو جھوٹاثابت کرے اسے ہم نبی مانیں افسوس ان کی سمجھ پر کہ ایسے الزام کو مان کر مرزا قادیانی کو صادق سمجھتے ہیں۔ الغرض صداقت کی بڑی دلیل تھی کہ صادقو ں کی سی روش ہوتی وہ ہرگز نہیں ہے۔ مسیح ہونے کا دعوی ہے اب دیکھا جائے کہ اس کی بنیاد کیا ہے۔ آیا کسی مسیح کے آنے کی خبر صریح قرآن مجید میں ہے یہ تو ہرگز نہیں ہے۔ پھر یہ کہ حدیثوں میں ذکر ہے بہت اچھا ذکر ہے۔ مگر مرزا قادیانی تو اس سے انکار کرچکے ہیں کہ :’’ میرے اِس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں ‘‘

(اعجاز احمدی ص ۳۰ خزائن ج ۱۹ ص۱۴۰)

اب غور کیا جائے کہ قرآن مجید میں مسیح کے آنے کا ذکر نہیں ہے اور حدیث پر ان کے دعوی کی بنیاد نہیں ہے تو مسیح کا آنااور پھر ان کا مسیح ہونا کس طرح ثابت ہوا؟ اب تو بجز ان کے الہام ووحی کے اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ پھر اسے کون مسلمان مان سکتا ہے بجز ان حضرات کے جو اپنے دین وایمان کو ایک خود پرست کی تحریر پر فدا کرنا نہایت آسان سمجھتے ہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ مسیح کا آنا تو حدیثوں سے ثابت ہے اور ان حدیثوں کو مرزا قادیانی مانتے ہیں مگر یہ دعوی کہ مرزا قادیانی سچے مسیح موعود ہیں اس کا ثبوت حدیث سے نہیں ہے بلکہ قرآن مجید سے اور جدید وحی سے ہے۔ اب اس پر غور کیا جائے کہ مرزا کے دعوی کے دو جز ہیں۔

اول یہ کہ مسیح کے آنے کی خبر اﷲ اور رسول نے دی اور ان کا آنا یقینی ہے۔

دوم یہ کہ وہ مسیح میں ہوں مگر یہ ظاہر ہے کہ پہلا دعویٰ اصل ہے اور دوسرا دعویٰ اس کی فرع ہے، اگرپہلا دعویٰ ثابت نہ ہو تو دوسرے کی طرف توجہ کرنا سراسر بے عقلی ہے، جب یہی ثابت نہ ہو کہ کوئی مسیح آنے والا ہے تو یہ دعوی کرنا کہ میں مسیح ہوں لائق توجہ نہیں ہوسکتا۔

الغرض ان کے دعوے کا بڑا جز، جو دوسرے دعوے کا موقوف علیہ ہے اس کا ثبوت

۱؎

اس کا جواب فیصلہ آسمانی کے حصہ سوم اور دعوی مرزا میں دیا گیا ہے اور یہ نہایت ظاہر ہے کہ خواب کی باتوں کو پیش گوئی نہیں کہہ سکتے خود مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ خواب کی تعبیر مشکل ہے بعض وقت خواب کی تعبیر الٹی ہوتی ہے۔ مثلا اگر کسی کو خواب میں دیکھا کہ مرگیا تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کی عمر بڑی ہوگی۔

408

حدیث پر موقوف ہے اور حدیث کا صحیح اور غیر صحیح ہونا ان کے الہام سے معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ : ’’ جو حدیثیں۱؎ میرے الہام کے مخالف ہیں انہیں ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘

(خلاصہ اعجاز احمدی ص ۳۰ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)

اب ثابت ہوا کہ ان کے دعوی کے دونوں جز صرف ان کے الہام سے ثابت ہیں، قرآن وحدیث سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اس قول سے حدیث تو کوئی چیز نہیں رہی۔ رہاقرآن مجید اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ کوئی مسیح آئندہ آئے گا۔ جب اصل دعویٰ کا ثبوت اس میں نہیں ہے تو فرع کا ثبوت اس سے ہرگز نہیں ہوسکتا۔اس تقریر سے مرزا قادیانی کا دعویٰ بالکل درہم برہم ہوگیا اور معلوم ہوا کہ ان کے دعویٰ کا ثبوت نہ قرآن سے ہے نہ حدیث سے۔ اب اگر جماعت مرزائیہ کے سمجھانے کے لئے مان لیں کہ مسیح کا آنا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے تو ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ حدیثیں اپنی سند کے اعتبار سے اور اپنے الفاظ کے معنی کے لحاظ سے ایسی قطعی ہیں کہ ان سے یقینی امر ثابت ہوسکتا ہے مگر جماعت مرزائیہ کوئی حدیث اس طرح کی نہیں پیش کرسکتی کیوں کہ جن حدیثوں میں حضرت مسیح کے آنے کا ذکر ہے ان میں ان کے اوصاف بھی مذکور ہیں ان کے آنے کے فوائد اور نتیجے بھی بیان ہوئے ہیںمثلاً ان کے آنے سے اسلام کا غلبہ اس قدر ہوگا کہ ساری دنیا میں۲؎ اسلام ہی نظر آئے گا، دوسری ملت والے ایسے مغلوب ہوجائیں گے کہ گویا نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو دنیاوی مال ومتاع کی اس قدر ترقی ہوگی کہ

۱؎

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۰، خزائن ج ۱۷ ص ۵۱ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ : ’’ خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں۔ اور یا سرے سے موضوع ہیں۔ اور جو شخص حَکم ہوکر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر ردّ کرے ۔‘‘ اس کا حاصل یہ ہوا کہ حدیث کوئی چیز نہیں ہے جو کچھ ہے مرزا قادیانی کا الہام ہے۔

۲؎

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ساری دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا سب مسلمان ہوجائیں گے بلکہ یہ غرض ہے کہ اسلام کا غلبہ ایسا ہوگا کہ دوسرا مذہب اور اس کے ماننے والے کسی شمار میں نہ رہیں گے چنانچہ حدیث مستدرک حاکم ج ۵ ص ۶۱۴ حدیث نمبر ۸۳۷۳ میں اس کی تصریح موجود ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ’’ لایبقی علی ظہر الارض من بیت مدر ولا وبر الا ادخلہ اللّٰہ علیہم کلمتہ الاسلام بعز عزیزوذل ذلیل۔‘‘ اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ روئے زمین پر کوئی شہر اور کوئی گاؤں ایسا نہ رہے گا کہ وہاں اسلام نہ پہنچے جو اس کے ماننے والے ہوںگے ان کی عزت ہوگی اور منکرین ذلیل حالت میں ہوں گے۔ جماعت مرزائیہ غور کرے کہ یہ حدیث کسی آیت قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔

409

نہایت مستغنی ہوجائیں گے اگر کسی کو کوئی شخص دینا چاہے گا تو وہ قبول نہیں کرے گا، دینی ترقی ایسی ہوگی کہ عبادت الٰہی انہیں تمام دنیا اور مافیہا سے اچھی معلوم ہوگی۔ بخاری اور مسلم کی حدیثوں کو دیکھو، اب فرمایئے! کہ مرزا قادیانی دعوی کے بعد عرصہ تک دنیا میں رہے اتنے عرصہ میں مسلمانوں کو کیا عروج ہوا؟ اسلام کی کیا اشاعت ہوئی؟ کوئی مرزائی بتائے کہ اسلام کی جماعت کو کسی قسم کی ترقی ہوئی؟ اس کا جواب بجز سکوت یا بے ہودہ گوئی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ اور ہم نہایت زور سے بآواز بلند کہتے ہیں کہ ان حدیثوں کے خلاف مرزا قادیانی کے زمانہ مسیحیت میں مسلمانوں کا دینی اور دنیاوی ہر قسم کا تنزل ہوا اور ہورہا ہے اور کسی قسم کی اصلاح نہیں ہوئی۔

اسلامی حکومتیں جہاں تھیں ان کا خاتمہ ان ہی کے عہد میں گویا ہوگیا اور ہورہا ہے، اس کی تفصیل دانشمند وسیع النظر خوب جانتے ہیں اور حالت موجودہ کو گذشتہ سے ملاکر معلوم کرسکتے ہیں ہندوستان میں دیکھا جائے کہ مسلمان رئیس کس قدر تباہ ہوگئے اور ان کی ریاستیں غیروں کے پاس چلی گئیں اور جارہی ہیں اور جو خود مختار بڑی ریاستیں ہیں ان میں مسلمانوں کی جگہ دوسرے لوگ عہدہ دار ہوگئے اور ہورہے ہیں بعض تجارتیں مسلمانوں میں تھیں وہ بھی مخالفین اسلام نے لے لیں اور لے رہے ہیں ہندوستان کی زمین پیداوار کا مخزن تھی اور یہاں کے مسلمانوں کو اس سے بہت کچھ فائدہ پہنچتا تھا وہ بھی جاتا رہا اور اکثر پیدا وار دوسرے ملک کی دوسری قومیں لے جاتی ہیں یہ سب مرزا قادیانی کے قدوم میمنت لزوم کی برکت ہے۔

بھائیو ! ذرا نظر اٹھاکر دیکھو کہ پچاس برس پہلے یعنی مرزا قادیانی کی کمسنی میں غلہ کس کس بھاؤ سے فروخت ہوتا تھا اور اب کیا نرخ ہے مثلا دودھ اور گھی پہلے کتنے سیر کا بکتا تھا اور مرزا قادیانی کی مسیحیت میں کس قدر ہوگیا اس وقت سیروں کا انداز تھا اور اب چھٹانکوں کا اندازہ ہے۔ مثلا گھی کم سے کم تین سیر کا ملتا تھا اور اب چھ سات چھٹانک ملتا ہے اور وہ بھی خراب۔ اس حالت کو ملاحظہ کرکے ان حدیثوں پر نظر کی جائے جن میں مسیح کے آنے کی خبر ہے کہ ان میں زمین کے پیداوار کی کثرت اور جانوروں میں دودھ اور گھی کی زیادتی کس قدر بیان ہوئی ہے مرزا قادیانی کی پیدائش سے کچھ قبل اور کچھ بعد مسلمانوں کی دیانت امانت اسلامی جوش سچائی مشہور تھی اب اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے اور اصلاح کیا ہوتی۔

بھائیو ! اس تنزل دینی ودنیاوی پر بس نہیں ہوئی۔ نظر کو وسیع کرکے دیکھئے تو معلوم ہوجائے گا کہ مرزا قادیانی نے اسلام کا خاتمہ ہی کردیا کیوں کہ جناب رسول اﷲa کی ہدایت کا ثمرہ اور آپa کے خلفاء اور ہادیان امت کی کوشش کا نتیجہ اس چودہویں صدی میں ہم

410

تقریبا ۲۳ کروڑ مسلمانوں کی مردم شماری دنیا میں دیکھ رہے تھے، مرزا قادیانی نے سیف زبان سے سب کو قتل کرکے اس وقت بقول خود چار لاکھ کو قائم رکھا جو ان کے مرید ہیں۔ اب فرمایئے کہ ۲۳ کروڑ کے مقابلہ میں چار لاکھ کسی شمار میں ہوسکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ پھر یہ اسلام کا خاتمہ نہیں ہوا تو اور کیا ہوا۔ بھائیو ! خدا کے لئے کچھ تو غور کرو مسیح کے آنے کا نتیجہ حدیثوں میں بھی آیا ہے اور تیرہ سو برس سے جو مسیح کے آنے کی خوشخبری مسلمانوں کے کانوں میں گونج رہی تھی اور تمام اولیائے امت اور علمائے ملت اور تمام مسلمان منتظر تھے وہ یہی مسیح تھے جنہوں نے اسلام کا خاتمہ کردیا ان حدیثوں کے بعض الفاظ ملاحظہ کئے جائیں جن میں حضرت مسیح کے نزول کا ذکر ہے اور ان کے آنے کے فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ یہ وہ حدیثیں ہیں جنہیں مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔

الفاظ حدیث:’’ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلاً (۱) فیکسر الصلیب‘‘

مطلب: مسیح ابن مریم حاکم عادل ہوکر تم میں نازل ہوں گے اور یہ کام کریں گے (۱) عیسائی صلیب کو ٹکڑے کردیں گے یعنی صلیب کا ماننے والا نہیں رہے گا۔ مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ ۱؎ تو کیا کہ میںتثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے آیا ہوں مگر اس کا پورا ہونا تو کیا معنی اسکے شائبہ کا بھی ظہور ان سے نہ ہوا۔

الفاظ حدیث:(۲) ’’ویقتل الخنزیر‘‘

مطلب: اور سور کو قتل ۲؎ کریںگے۔

۱؎

اس کا ثبوت آئندہ آئے گا۔

۲؎

اس کے ظاہر معنی تو یہ ہیں کہ سور کے مار ڈالنے کا حکم دیں گے صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جناب رسول اﷲa نے کتے کے مارنے کا حکم دیا تھا، اسی طرح حضرت مسیح فرمائیں گے کہ سور کو جہاں پاؤ وہاں ماردو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ تمام جانوروں میں خنزیر جسے سور کہتے ہیں نہایت بے غیرت مشہور ہے اور جو اُس کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ان میں یہ خصلت پورے طور سے پائی جاتی ہے اس لئے سور کے قتل کردینے سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ بیحیائی اور بے غیرتی جو اس بدگوشت کے کھانے سے پھیلی ہوگی وہ حضرت مسیح کے فیضان وجود سے اور آپ کی تعلیم وہدایت سے نسیت ونابود ہوجائے گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خنزیر سے مراد بے حیا لوگ ہوں کیو نکہ محاورہ عرب میں بے حیا شخص کو خنزیر کہہ دیتے ہیں۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ ایسے لوگوں کے قتل کا حکم دیں گے غرض کہ جس طرح صلیب کے توڑنے سے یہ غرض ہے کہ صلیب پرست نہ رہیں گے اسی طرح سور کے قتل کرنے سے یہ مقصد ہے کہ خنزیر کے صفت لوگ نہ رہیں گے۔ ان صریح معنوں پر مرزا قادیانی کا خیال نہ گیا اور قتل خنزیر پر مضحکہ اڑایا ہے۔ اے بھائیو کہاں تک اور کس کس بات میں اُن کی غلط فہمی مان کر اُن کے دعوے نبوت کو مانو گے۔

411

الفاظ حدیث:(۳)’’ویضع الجزیۃ‘‘

مطلب: اور جزیہ یعنی خراج سلطنت یا یوں کہو کہ ایک قسم کا ٹیکس جو اسلام میں معین کیا گیا تھا وہ اٹھا دیا جائے گا اس کی حاجت نہیں رہے گی۔

الفاظ حدیث: (۴)’’ویفیض المال حتی لایقبلہ احد‘‘

مطلب: اور مال یعنی روپے۱؎ پیسے وغیرہ کی ایسی کثرت ہوگی کہ کوئی اس کا لینے والا نہیں رہے گا سب غنی ہوجائیں گے کسی کو حاجت نہ رہے گی۔

الفاظ حدیث:(۵) ’’حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیہا‘‘(یہ الفاظ متفق علیہ حدیث کے ہیں)

مطلب: عبادت الٰہی کا شوق اس قدر ہوجائے گا اور اس میں انہیں ایسا لطف ملنے لگے گا کہ ایک سجدہ دنیا اور آخرت سے انہیں اچھا معلوم ہوگا۔

(بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسی بن مریم، مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسی بن مریم)

الفاظ حدیث:(۶)’’لتذہبن الشحناء والتباغض والتحاسد‘‘

(مسند احمد ج ۲ ص ۴۹۴)

مطلب:عداوت اور بغض اور حسد کو دور کردیں گے یعنی مسلمانوں کے دلوں میں بری صفتیں نہ رہیں گی۔

ان الفاظ حدیث سے معلوم ہوا کہ جس وقت حضرت مسیح آئیں گے اس وقت سات باتیں ہوں گی، سب تفصیل طوالت کو چاہتی ہیں مختصر یہ ہے کہ غلبہ اسلام کا ہوگا صلیب پرستی اور اس کے لوازمات کا نشان نہ رہے گا، مسلمانوں میں غنا ئے قلبی اور تمول ظاہری کامل درجہ کا ہوگا، توجہ الی اﷲ اور ذوق عبادت الٰہی ایساہوگا کہ دنیا کی تمام لذتوں سے عبادت کی مشغولی انہیں اچھی معلوم ہوگی، نزول مسیح کی یہ بعض علامتیں ہیں جو نہایت صحیح حدیثوں میں آئی ہیں، اب بھائی مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے نشانات جو حضورa نے بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک کا بھی وجود پایا گیا؟ کسی بات کا بھی کوئی شائبہ اور نمونہ ظہور میں آیا؟ کسی کا پتہ نشان بھی نہیں ہے بلکہ ان علامتوں کے برعکس اسلام میں ہر قسم کا تنز ل اظہر من الشمس ہورہا ہے مسلمانوں کی دینی اور دنیوی حالت روز بروز بدتر ہوتی جاتی ہے۔

۱؎

مال ومتاع کی کثرت کا ذکر بہت حدیثوں میں آیا ہے۔

412

بایں ہمہ اگر مرزا قادیانی کو مسیح موعود کہا جائے اور ان صریح حدیثوں میں ایسی تاویلیں کی جائیں کہ مرزاقادیانی ان الفاظ کے مصداق ہوجائیں تو جو بے دین چاہے گا قرآن وحدیث کے معنی بدل کر اسلام کی تمام باتوں کو تہہ وبالا کرسکے گا۔ مثلا کوئی یوں کہے کہ حدیثوں میں مسیح کے آنے کی خبر ہے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ خدا کی روح انسان کے دلوں پر نازل ہوگی اور ان کے دلوں کی حالت ایسی بدل جائے گی۔

جیسے حدیثو ں میں مذکور ہے صلیب کے ماننے والے تثلیث کے پوجنے والے خود ہی سمجھ کر اس سے تائب ہوں گے اور صلیب کو توڑدیں گے۔ بے حیاؤں کو خود ہی اپنی بے حیائی کا شعور ہوگا اور اسے چھوڑیں گے اور دین اسلام کی طرف انہیں طبعا رغبت ہوگی اور اسلام قبول کریںگے اور سور کو حرام جانیں گے۔ غرض کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ خدا کی روح انسان کے دلوں پر ایسا اثر کرے گی جو کوئی انسان ایسا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہے۔ جماعت مرزائیہ اس کا جواب نہیں دے سکتی اگر کسی کو کچھ دعوی ہو تو زبان کھولے۔ اس کے علاوہ کوئی یہی بیان کرے کہ مرزا قادیانی سے مسلمانوں کو اسلام کو کیا فائدہ ہوا۔

بھائیو ! خدا کے لئے کچھ تو بیان کرو آخر خدا کو منہ دکھانا ہے حاصل کلام! حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو علامتیں مسیح علیہ السلام کے آنے کی بیان کی تھیں وہ مرزا قادیانی میں کسی طرح نہیں پائی گئیں اور جو تاویلیں وہ کلام خدا اور کلام رسول میں کرتے ہیں اگر انہیں صحیح مانا جائے تو ہر ایک نفس پرست کلام خدا اور رسول میں اپنی خواہش کے مطابق تاویلیں کرسکتا ہے چنانچہ نزول مسیح کے باب میں تاویل کرکے دکھا دیا گیا۔

قدرت خدا کا یہاں تماشا دیکھنا چاہئے کہ جس طرح حدیث متفق علیہ کے بموجب مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہوسکتے اسی طرح خود اپنے صریح اقرار اور اپنے قول کے بموجب بھی وہ مسیح نہیں ہوسکتے کیوں کہ ان کا مقولہ ہے کہ:

’’ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور اس لئے کہ بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرتa کی جلالت وشان کو ظاہر کروں پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کردکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مرگیا

413

تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں‘‘(اخبار البدرقادیان ج۲ نمبر۲۹، مؤرخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ص۴ کالم۲)

(مکتوبات ج ۱ ص۴۹۸، مکتوب ۲۹ طبع جدید، مکتوبات احمدیہ ج۶ ص۱۶۲)

یہ مضمون تو اخبار البدر میں ہے اور اس کی تائید اجمالی طور سے اس اعلان کے حاشیہ ص ۱۶ و۱۷ سے ہوتی ہے جو حقیقۃ الوحی رسالہ (عنوان طاعون کا ٹیکہ ص۱۶ حاشیہ خزائن ج ۲۲ ص۴۲۷،۴۲۸) کے آخر اور تتمہ سے پہلے ہے اس کی عبارت یہ ہے : ’’میں کامل یقین سے کہتاہوں کہ جبتک وہ خدمت جو اِس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اِس دُنیا سے اُٹھایا نہ جاؤنگا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رُک نہیں سکتا‘‘

اس حاشیہ کے شروع میںیہ بھی لکھا ہے کہ :’’ میرا یہ اعلان صرف میری اپنی طرف سے نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص۸ حاشیہ خزائن ج ۲۲ ص۴۱۸،۴۱۹)

اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ نہایت ہی سچا فیصلہ ہے اور نہایت صاف لفظوں میں ہے اب تمام مسلمان اور بالخصوص جماعت مرزائیہ کا فرض ہے کہ ان دونوں قولوں کے بموجب مرزا قادیانی کے صدق وکذب کو جانچ لیں اس کے خلاف کسی آیت وحدیث کو پیش کرنا مرزا قادیانی کو جھوٹا ٹھہرانا ہے اب تو آفتاب تاباں کی طرح روشن ہورہا ہے کہ مرزا قادیانی مرگئے اور عیسی پرستی کا ستون کا توڑنا تو دشوار تھا ان سے تو دس بیس عیسائی بھی مسلمان نہ ہوسکے۔

بھائیو ! تم کس وجہ سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان رہے ہو۔ رسول اﷲa نے حضرت مسیح موعود کی جو علامتیں بیان کی تھیں وہ ان میں نہ پائی گئیں جس بات کا خود انہوں نے دعوی کیا تھا اس کا ظہور نہ ہوا۔ پھر وہ سچے مسیح کیوں کر ہوگئے ذرا غور کرو۔ اس حق پوشی اور بے جا تعصب کا کیا ٹھکانا ہے کہ باوجود ایسے صریح فیصلے کے جماعت مرزائیہ کچھ خیال نہیں کرتی اور جس عظیم الشا ن غلطی میں پڑگئی ہے اس سے علیحدہ نہیں ہوتی۔ آنحضرتa کی جلالت وشان کے ظاہر کرنے کا دعویٰ ہے مگر جب اس فیصلہ نے انہیں کاذب ثابت کردیا تو ان سے کیا امید ہوسکتی تھی کہ وہ سیدالمرسلین اور اصدق الصادقین کی جلالت وشان کو ظاہر کرتے بلکہ اس کے خلاف دشمنوں سے ہنسی کرالی اور دشنام دلائے۔ مسلمان دیکھ چکے کہ جب آتھم کی نسبت جو پندرہ ماہ کے اندر اس کے مرنے کی خبر دی جب وہ اس مدت میں نہ مرا تو پادریوں نے کس قدر خوشیاں کی ہیں اور کیسا مضحکہ اڑایا ہے اس کے سوا جب ان کی اور پیش گوئیاں جھوٹی ہوئی ہیں تو دشمنان اسلام کو کس قدر تضحیک کا موقع ملا ہے۔

414

الغرض جو کچھ ہونا تھا وہ ہولیا اب ہم جماعت مرزائیہ سے عرض کرتے ہیں کہ آپ کے مرشد جناب مرزا قادیانی نے آپ کو بھی گواہ ٹھہرایا ہے اب فرمایئے کہ آپ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر گواہی کیوں نہیں دیتے ؟آپ کے پاس کیا عذر ہے؟ جب آپ انہیں ایسا سچا جانتے ہیں کہ دعوی نبوت میں انہیں آپ نے سچا مان لیا تو یہ بھی انہیں کا قول ہے یہ کیوں نہیں مانتے اور اگر آپ نہ مانیں گے تو یہ اعلانیہ نہایت روشن قول دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہے گا، کیا دنیا اسے نہ دیکھے گی کہ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا انہیں کے کلام سے نہایت صفائی سے ثابت ہوگیا۔

اب کیا آپ کے خیال میں ان کے نشانات آپ کو اس شہادت سے روکتے ہیں؟ مگر آپ تھوڑی دیر تعصب سے علیحدہ ہوکر تأمل کریں تو آپ کو یقین ہوجائے گا کہ ان نشانوں کو مرزا قادیانی نے خود ہی بے کار کردیا اور بتادیا کہ جھوٹوں سے بھی نشانات ہوا کرتے ہیں کیوںکہ صاف کہہ رہے ہیں کہ:’’ اگر مجھے کروڑ نشان ظاہر ہوں اور عیسیٰ پرستی کے ستون کو نہ توڑوں تو میں جھوٹا ہوں تم میرے جھوٹے ہونے پر گواہ رہو۔ ‘‘

جب وہ مرگئے اور عیسیٰ پرستی کا ستون نہ ٹوٹا تو ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوگیا اب جس قدر نشانات آپ بیان کریں وہ سب جھوٹے کے نشان ہوئے۔ مرزا قادیانی کے اس قول نے ان سب کو جھو ٹے کے نشانات ثابت کردیئے اور گویا اس طرح کہہ دیا کہ میں جھوٹا ہوں اور میرے نشانات ایسے ہی ہیں جیسے جھوٹے دکھایا کرتے ہیں تم میرے جھوٹے ہونے پر گواہ رہو۔

بعض آیتیں بھی آپ ان کی صداقت میں پیش کرتے ہیں مگر مرزا نے تو اپنے اس قول سے اس کا بھی فیصلہ کردیا یعنی اس سے بتادیا کہ ان آیتوں کو ان کی صداقت میں پیش کرنا غلط فہمی ہے کیوں کہ اگر ان سے مرزا کی نبوت ثابت کی جائے تو مرزاقادیانی ہی کے قول کے بموجب کہنا ہوگا کہ ایک جھوٹے کی نبوت پر قرآن مجید شہادت دیتا ہے مگر اسے کوئی مسلمان مان نہیں سکتا۔ اس لئے اگر آپ کو اسلام کا دعوی ہے تو ماننا ہوگا کہ مرزا قادیانی کی صداقت کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتی۔

الحاصل مسیح موعود کی جو علامتیں صحیح حدیث میں آئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئیں اور خود مرزا قادیانی نے جو نشانی مسیح موعود کی بیان کی تھی اس کا نشان بھی مرزا غلام احمد قادیانی میں نہیں پایا گیا اور صاف طور سے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر یہ نشانی مجھ میں نہ پائی گئی تو میں جھوٹا ہوں۔ اب اس کے بعد بھی اگر صداقت پر اصرار ہو تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا بجز اس کے کہ ’’من

415

یضلل اللّٰہ فلا ہادی لہ‘‘ کی سچائی ظاہر ہورہی ہے اس تحریر میں میں نے مکرر یہ لفظ لکھا کہ مرزا قادیانی نے دین اسلام کا خاتمہ کردیا اس کی شرح بھی کسی قدر ملاحظہ کرلیجئے، جس وقت مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اس وقت تمام دنیا میں تقریباً۲۳ کروڑ مسلمانوں کی مردم شماری تھی مرزاقادیانی بھی انہیں مسلمان سمجھتے تھے ان کے دعویٰ کے بعد باوجود بے انتہا کوشش کے کوئی عیسائی کوئی بودھ کوئی آریہ کوئی ہندو مسلمان نہ ہوا اور ان پر کوئی ایمان نہیں لایا انہیں ۲۳ کروڑ مسلمانوں میں سے بعض نے انہیں مانا ان کی تعداد ان کے بیان کے بموجب چار لاکھ (جو محض مبالغہ ہے) اب مرزا قادیانی اور ان کے گدی نشین صاحب کا ارشاد ہے کہ:

’’کل مسلمان۱؎ جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعودکا نام بھی نہیں سُنا۔ وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ نعوذ باللّٰہ من ہذہ الکفریات۔

(آئینہ صداقت ص ۳۵مرزا محمود، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰)

۱؎

مرزا قادیانی کا حکم ہے کہ: ’’یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھی جائے کیوںکہ زندہ مردہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا ۔‘‘ (اربعین نمبر ۳ ص ۲۸ خزائن ج ۱۷ ص ۴۱۷) اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے ماننے والوں کو مسلمان اور نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں اور نہایت ظاہر ہے کہ اگر کافر نہ سمجھتے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو قطعی حرام نہ کہتے۔ (ازالہ اوہام ص ۸۵۵ خزائن ج ۳ ص ۵۶۵ میں) ان کا یہ الہام ہے:قل یا ایہا الکفار… الی، من الصادقین فانظروا یاتی حتی حین۔ اس الہام میں مرزا قادیانی کو حکم خداوندی ہے کہ تو اپنے تمام مخالفین اور منکرین سے اس طرح خطاب کر کہ اے کافرو بلاشبہ میں سچوں میں سے ہوں ایک وقت تک میرے نشانات کا انتظار کرو۔ بھائیو مرزا قادیانی نے الہام ربانی سے ثابت کردیا کہ مرزا قادیانی کی نبوت پر جو ایمان نہیں لایا وہ کافر ہے اب اس کے بعد مرزا قادیانی کا ایسا قول پیش کرنا کہ وہ اپنے منکر کو کافر نہیں کہتے، مرزا قادیانی کو جھوٹا ٹھہرانا ہے کیوںکہ اقوال مذکورہ سے تو صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مخالف کو کافر سمجھتے ہیں۔ اب ان دو قولوں میں سے ایک قول ضرور غلط ہے۔ اب حضرات مرزائی فرمائیں کہ کو ن سا قول مرزا قادیانی کا غلط ہے اگر کافر کہنا غلط ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے خدا پر افتراء کیا کیوںکہ مذکورہ قول میں الہام کا دعوی کیا ہے اس کے علاوہ اگر یہ خدا کی اطلاع اور قل یا ایہا الکفار کا الہام غلط ہے اور خلیفہ قادیان نے بھی اپنے پہلے قول سے رجوع کرکے اب یہ فرمایا کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے تو جماعت مرزائیہ کیوں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ ٹھہراتی ہے اور جماعت کثیر کو چھوڑ کر چار ہی مرزائیوں سے اپنی جماعت کرتی ہے جیسا کہ مونگیر اور بھاگلپور میں معائنہ ہورہا ہے۔ خلیفہ قادیان جب کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے تو اپنی جماعت (بقیہ حاشیہ ص نمبر ۴۱۷ پر)

416

اس کا حاصل یہ ہوا کہ دنیا میں جو تیرہ سو برس کے عرصہ دراز میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد ہوئی تھی وہ نیست ونابود ہوگئی اور ۲۳ کروڑ میں سے مرزا قادیانی کی کوشش سے چار لاکھ مسلمان رہے اور سب کافر ہوگئے۔

اب فرمایئے کہ اسلام کا خاتمہ ہوگیا یا نہیں ۲۳ کروڑ کے مقابلہ میں چار لاکھ کس شمار میں ہوسکتے ہیں؟ غضب یہ ہے کہ فخر یہ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی سعی سے چار لاکھ مسلمان ہوئے اور اس پر نظر نہیں کی جاتی کہ ان کی ذات مبارک سے ۲۳ کروڑ کے قریب مسلمان ہوگئے۔

بھائیو!انصاف کرو کہ یہ مسیح تھے اور اسلام کی ترقی اور عیسیٰ پرستی کے مٹانے کے لئے آئے تھے مگر انہوں نے تو گویا اسلام کو مٹادیا اور اس کی تیرہ سو برس کی عمارت کو ڈھادیا۔ اب دوسری عمارت بنانا چاہتے ہیں، افسوس صد افسوس۔ بھائیو کچھ تو غور کرو جماعت مرزائیہ ایسی بدیہی باتوں کو نہیں دیکھتی اور اندھی بن کر دہکتی آگ میں گری ہوئی ہے۔

اگر دس بیس ہزار یا دو چار ہزار ہی عیسائی ہندو مسلمان کئے ہوتے تو بھی کہا جاتا کہ ان کی ذات سے اتنے لوگ کلمہ گو ہوگئے مگر یہاں تو بالکل صفر ہے یعنی کوئی کلمہ گو زیادہ نہیں ہوا کلمہ گو یوں میں پچاس کی بھی ترقی ان کی ذات سے نہیں ہوئی۔ تاریخ اٹھاکر دیکھو کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ؒ سے کتنے کافر مسلما ن ہوئے حضرت غوث پاک کے ایک ایک وعظ میں کتنے یہود ونصاری ایمان لاتے تھے خواجہ صاحب کی ذات بابرکات سے کس قدر ہندو مسلمان ہوئے اور اس وقت تک دیکھا جائے کہ ان دونوں حضرات کو کتنے ہندو مانتے ہیں اسی طرح اور بزرگوں کا حال ہے۔

(ص ۴۱۶ کا بقیہ حاشیہ)کو کیوں حکم نہیں دیتے کہ مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہوں لطف یہ ہے کہ جنازہ بھی علیحدہ پڑھتے ہیں۔ یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اصل خیال خلیفہ قادیان کا وہی ہے کہ ہماری جماعت کے سوا سب کافر ہیں مگر کسی مصلحت سے کسی وقت بھی کہہ دیا جب مرزا قادیانی کے اقوال میں بہت کچھ اختلاف ہے تو خلیفہ قادیان کے اقوال میں بھی ہونا چاہئے ان کے اخبارات سے اس کا پتہ ملتا ہے ۔

(اخبار زمیندار ج ۲ نمبر ۱۲۴ مطبوعہ ۶ شعبان ۱۳۳۰ھ) میں خاص ایڈیٹر کا مضمون دیکھا جائے اور اگر سچائی سے یہ خیال ہوا ہے اور مرزا قادیانی کے ان الہاموں کو غلط سمجھا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کے اصل دعوی کو غلط نہ سمجھیں۔ وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز۔ اس تحریر کے بعد مرزا قادیانی کا قطعی کفر کا فتوی اور رسالہ تشحیذ الاذہان نظر سے گزرا اس کی نقل اس کے تتمہ میں کی جائے گی۔

417

خواجہ کمال الدین مرزائی جو ان کے خاص مریدوں میں ہیں یہ کہتے ہیں کہ جیسے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ، حضرت مجدد الف ثانی ؒ ہیں ویسا ہی ہم مرزا قادیانی کو خدا کا برگزیدہ سمجھتے ہیں۔

خواجہ کمال الدین کا اس قدر تنزل کرنا شاید کسی مصلحت سے ہوگا ورنہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ کا دعوی تو اس سے بہت ہی بڑھ کر ہے۔ ان کے مریدین کا عقیدہ ہے کہ سب اولیاء سے بڑھ کر بعض انبیاء سے بہتر ہیں۔ اس وقت خواجہ کمال الدین قادیانی کی بات مان کر یہ کہتا ہوں کہ باطنی فائدہ جو کچھ ان حضرات کی ذات مقدس سے ہوا اس کے تو آپ قائل نہ ہوں گے کیوں کہ مرزا قادیا نی میں اس کا شائبہ بھی نہ تھا، ظاہری فائدہ یعنی کفار کا مسلمان ہونا اس کو آپ ضرور مانیں گے اور یہ بھی ماننا ضرور ی ہے کہ ان کی ذات سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہوا لوگوں نے انہیں کافر کہامگر انہوں نے کسی کلمہ گو کو کافر نہیں بنایا۔ مرزا قادیانی نے تو کروڑوںمسلمانوں کو کافر بنادیا او ر کسی کافر کو مسلمان نہیں کیا؛ پھر برابری کا دعویٰ کیوں کر ہوسکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تمام عمر میں بہت دفتر سیاہ کئے ہیں انہیں کوئی واقف حق بین دیکھے اور بزرگوں کے مکاتیب ان کی تصانیف دیکھی جائیں کہ ان میں کیسے معارف واسرار۱؎ کی باتیں ہیں اور کیسے کیسے مواعظ ونصائح ہیں جن پر عمل کرنے سے انسان قرب الٰہی کے مراتب اعلی تک فائز ہوسکتا ہے۔

۱؎

حضرت محی الدین ابن عربی کی فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ میں اسرار الٰہی دیکھے جائیں۔ آٹھ جلدوں میں یہ کتاب ہے پھر کیسے کیسے اسرار بیان کئے ہیں، اور آخر میں کسی قدر وصیتیں لکھی ہیں کہ دنیا وآخرت کے لئے کافی ہیں۔ حضرت ممدوح نے ایک تفسیر لکھی ہے اگرچہ وہ پوری نہیں ہوئی سورہ بنی اسرائیل تک ہے مگر پچانوے جلد میں ہے۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ اس عظیم الشان تفسیر میں کس قدر اسرار کا خزانہ ہوگا۔ تفسیر اگرچہ مشتہر نہیں ہے مگر آپ کی کتابیں فتوحات مکیہ وغیرہ جو طبع ہوکر مشتہر ہوئی ہیں انہیں دیکھئے اور اس پر قیاس کیجئے مگر افسوس سے کہا جاتا ہے کہ جماعت مرزائیہ میں تو کوئی نظر نہیں آتا کہ فتوحات کو سمجھے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی ان کے سامنے دعوی کررہے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے میرے سینے کو اسرار ومعارف کا خزانہ بنایا ہے اور یہ جماعت اس دعوے کی تصدیق کررہی ہے، افسوس اس نادانی پر۔ حضرت شیخ عبد القادر گیلانیؒکی تصانیف فتوح الغیب وغیرہ دیکھئے، آپ کے مواعظ کو ملاحظہ کیجئے۔ اب تو ان کا اردو ترجمہ بھی ہوگیا ہے پھر آپ دیکھیں گے کہ کیسے معارف بیان کئے ہیں اور نصائح اور فوائد کے جواہر ان میں کس قدر بھرے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ اب تو حضرات مرزائیوں کی حالت ان مریضوں کی سی معلوم ہوتی ہے جنہیں تلخ چیز شیریں معلوم ہوتی ہے اور شیریں چیز کو ان کا ذوق تلخ بتاتا ہے جب قوت ممیّزہ کا یہ حال ہے تو کوئی امید نہیں ہوسکتی بجز اس کے کہ ان کے لئے قادر مطلق سے دعا کی جائے کہ وہ ان کی قوت ممیزہ کو درست کردے۔ آمین۔

418

مرزا قادیانی نے نہ کسی کو مسلمان کیا نہ ان کے رسائل کے سیاہ دفتر میں اس وقت کے مناسب نصیحت کی باتیں ہیں، بیان اسرار ومعارف تو بڑی بات ہے۱؎ مگر بڑے زور سے یہ کہا جاتا ہے

  1. تکَدّرَ ماء السابقین وعیننا

    الی اٰخر الایَّام لا تتکدّرٗ

(اعجاز احمدی ص ۵۸ خزائن ج ۱۹ ص۱۷۰)

یعنی اگلے بزرگوں کا پانی مکدر اور میلا ہوگیا مگر میرا چشمہ قیامت تک مکدر نہیں ہوگا۔ اس بے باکی اور تعلّی کی کچھ انتہا ہے۔ خلیفہ قادیان یا اور کوئی بیان تو کریں کہ وہ چشمہ کہاں ہے؟ انہیں سیاہ دفتروں میں ہے جو ان کے تصانیف کہے جاتے ہیں۔ ان میں تو بجز جھگڑوں اور جھوٹی تعلّیوں اور مرزا قادیانی کی تعریفوں اور دوسروں کی مذمتوں کے اور کچھ نہیں ہے اور مذمت اور تعلّی کی بھی انتہا نہیں ہے، انبیاء کی مذمت تمام اولیاء کی مذمت اور سب سے اپنا تفوق۔

حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین

حضرت مسیح علیہ السلام کی مذمت جو بظاہر پادریوں کے جواب میں انہوں نے کی ہے اس کا نمونہ لکھ چکا ہوں اب بطور تحقیق ان کے مقابل میں مرزا قادیانی کی تعلّی ملاحظہ کی جائے:

’’خدا نے اِس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کرہے ۲؎۔ ‘

(دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)

۱؎

جن باتوں کو مرزا قادیانی نے سر عظیم اپنے رسالوں میں بیان کیا ہے وہ محض غلط باتیں ہیں جن کو مرزا قادیانی نے زور دار الفاظ میں بیان کرکے سادہ لوح حضرات کے دلوں پر اپنا سکہ بٹھایا ہے اگر کسی کو اس میں شک ہے تو ان کے کسی سر عظیم کو پیش کرے پھر دیکھے کہ ہم اس کی غلطی کس طرح ظاہر کررتے ہیں۔

۲؎

بھائیو غور کرو کہ حضرت عیسی نبی ہیں رسول ہیں اور ظلی بروزی نہیں بلکہ مستقل نبی صاحب کتاب ہیں جن کا ذکر بار بار قرآن مجید میں آیا ہے۔ اب مرزا قادیانی ایسے ذیشان رسول کی نسبت کہتے ہیں کہ میں اس مسیح سے تمام شان میں بڑھ کر ہوں یعنی تھوڑی فوقیت نہیں بلکہ بہت فوقیت مجھ کو ہے۔ اس قول کے بعد بھی مرزائی کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعوی نہیں ہے اگر ہے تو وہ ظلی نبوت ہے۔ یہ کیسا اندھیر ہے جو شخص اپنے کو ایک رسول صاحب کتاب سے بہت بڑھ کر اعلانیہ نہایت صفائی سے کہہ رہاہے اس کی نسبت کوئی صاحب عقل یہ کہہ سکتا ہے کہ نبوت کا دعوی نہیں کرتا اگر کرتا تو ظلی نبوت کا دعوی کرتا ہے اور یہ تو فرمایئے کہ نبوت ظلی قرآن وحدیث کے رو سے کوئی چیز ہے؟ اگر ہے تو ثبوت دیجئے اور یہ بھی کہئے کہ نبوت ظلی کا منکر کافر ہے یا نہیں۔ اگر کافر نہیں ہے تو مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں تمام شان میں مسیح سے بڑھ کر ہوں محض غلط ہے۔ کیوں کہ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مسیح کا منکر کافر ہے اور اس میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ نبی کا انکار کرنا کفر ہے کیوں کہ ہر نبی کا ماننا جزو ایمان ہے۔ جب مرزا قادیانی کو نبوت کا دعوی نہیں ہے تو مسیح سے ہر شان میں بڑھ جانے کا دعوی کرنا محض غلط ہے بلکہ ان کے برابر بھی وہ نہیں ہوسکتے۔

419
  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تابہ نہد پا بہ منبرم

(ازالہ ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)

خدا کے لئے اس شعر پر نظر کی جائے کہ نبی اولو العزم کی اپنے مقابل میں کیسی تحقیر کررہے ہیں۔ افسوس ان کے حال پر ہے جو حضرات اس پر آمنا وصدقنا کی آواز بلند کرتے ہیں۔ اگر امت محمدی ہو اور سرور انبیاءa کے ارشاد پر عمل کرنا پسند کرتے ہو ں تو دیکھو کہ جناب رسول اﷲa نے کیا فرمایا ہے حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲa نے فرمایا ہے’’ لاینبغی لاحد ان یقول انا خیر من یونس بن متی ‘‘یعنی کسی کو یہ کہنا زیبا نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔

(بخاری باب ہل اتک حدیث موسی ج ۱ ص ۴۸۱، مسلم باب فضائل یونس بن متی ج ۲ ص ۲۶۸)

دوسری حدیث میں ممانعت کی تاکید ہے اور ارشاد ہوتا ہے : ’’ لایقولن احدکم انی خیر من یونس بن متی‘‘

(بخاری باب یونس عن المرسلین ج ۱ ص۴۸۵)

ہرگز کوئی ایسا نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔

بخاری(باب نفخ صور ج ۲ ص ۹۶۵) میں یہ بھی روایت ہے :’’ لاتخیرونی علی موسٰی ۔‘‘یعنی رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔ یہ ارشاد اس وقت ہوا کہ ایک صحابی سے اور ایک یہودی سے تکرار ہوئی تھی یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہاں پر ترجیح دی، صحابی نے جناب رسول اﷲa کو ترجیح دی اور ایک طمانچہ اس یہودی کو مارا اور یہودی جھگڑا لے کر حضورa تک پہنچا اور یہ ارشاد حضورa کا ہوا۔ حضورa اگرچہ سرور انبیاء ہیں۔ لیکن امت کو تعلیم ادب کی ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیوں کہ ممکن ہے کہ حفظ مراتب نہ رہے۔ خیالات میں یا کہنے میں ایسی باتیں آئیں جو انبیاء کی شان کے غیر مناسب ہیں چنانچہ مرزا قادیانی کو سرور انبیاء کی غلامی کا دعوی ہے اور پھر ایک اولوالعزم نبی کی تحقیر اور اپنی تعلّی کس طرح کررہے ہیں۔ اس لئے جناب رسول اﷲa نے مختلف طور سے اس کی ممانعت فرمائی۔ مگر مرزا قادیانی اپنی تعلی میں کب خیال کرتے ہیں۔

سیدنا حسنؓ حسین ؓکی تحقیر

سلطان الاولیاء جگر گوشہ رسول الثقلین حضرات حسنین کی مذمت اور ان کے مقابلہ

420

میں اپنی تعلّی ملاحظہ ہو۔ (اعجاز احمدی ص ۶۸ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۰) پر ان کا شعر ہے۱؎ ۔ جس کاترجمہ یہ ہے: کیا تو اس کو (امام حسین کو) دنیا سے زیادہ پرہیزگار سمجھتا ہے۔ یہ تو بتاؤ کہ اس سے تمہیں دینی کیا فائدہ پہنچا۔ اے مبالغہ کرنے والے!

اس میں بظاہر تو ایک شیعہ کے مقابلہ میں حضرت امام حسینؓ پر چوٹ کررہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ ان کا وجود بے کار تھا دینی فائدہ ان سے کچھ نہیں ہوا۔ مگر درحقیقت یہ ان کا لکھنا جناب رسول اﷲa کے ارشاد کی تحقیر ہے کیوں کہ ان دونوں اماموں کی نسبت رسول اﷲa نے بہت کچھ فرمایا ہے۔ امام حسن ؓ کی نسبت بخاری (باب مناقب الحسن والحسین ج ۱ ص ۵۳۸)میں ہے : ’’ ابنی ہذا سید ‘‘ یعنی یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ چونکہ عام طور سے ارشاد ہے، اس لئے ظاہر ہے کہ آپa سب کا سردار فرماتے ہیں اور جب سب کے سردار ہوئے تو بلاشبہ اتقی الرجال ہوئے۔ اب مرزا قادیانی کو اس سے انکار ہے عربی شعر کے دوسرے مصرعہ میں یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ امت محمدیہ کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ یہ کہنا اس کلام رسول اﷲa کو غلط ٹھہراتا ہے کہ حضورانورa نے فرمایا ہے:’’یا ایہا الناس انی ترکت فیکم ما ان اخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللّٰہ وعترتی اہل بیتی۔ ‘‘

(ترمذی باب مناقب اہل بیت ج ۲ ص ۲۱۹)

میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے پکڑوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ کتاب اﷲ یعنی قرآن مجید اور میری عترت۔

میرے گھر کے لوگ ان میں سب سے اول حضرات حسنین ہیں۔ کیوںکہ حضور انورa کا ارشاد ہے:’’ ای اہل بیتک احب الیک قال الحسن والحسین ‘‘

(ترمذی باب مناقب الحسین ج ۲ ص ۲۱۸)

یعنی اہل بیت میں مجھے سب سے زیادہ پیارے حسن اور حسین ہیں۔ جب جناب رسول اﷲa ان کی نسبت یہ خبر دے رہے ہیں کہ جو کوئی انہیں پکڑے گا اور ان کی روش اختیار کرے گا ان کے کہنے پر چلے گا وہ گمراہ نہ ہوگا تو اظہر من الشمس ہوا کہ ان اماموں سے امت کو بہت کچھ فائدہ پہنچے گا۔

۱؎ وہ شعر یہ ہے:

  1. اتحسبہ اتقی الرجال وخیرہم

    فما نالکم من خیرہ یا مُعذرٗ

421

دوسری حدیث: جناب رسول اﷲa نہایت تاکید سے متنبہ کرکے فرماتے ہیں :

’’الا ان مثل اہل بیتی فیکم مثل سفینۃ نوح من قومہ من رکبہا نجا ومن تخلف عنہا غرق‘‘ (مستدرک حاکم ج ۴ ص ۱۳۳ حدیث ۴۷۷۴)

خبردار ہوجاؤ آگاہ ہو میرے اہل بیت کی مثال تم میں ایسی ہے جیسے کسی وقت نوح علیہ السلام کی کشتی تھی جو اس پر سوار ہوگیا اس نے نجات پائی اور جو اس سے علیحدہ رہا ہلاک ہوا۔

اور ایک حدیث میں ہے جس میں رسول اﷲa کا ارشاد ہے :

’’ اہل بیتی امان لامتی ‘‘(معجم الکبیر للطبرانی ج ۷ ص ۲۲ حدیث نمبر ۶۲۶۰)

یعنی میرے اہل بیت (امام حسن وغیرہ میری امت کے لئے پناہ ہیں)

مسلمانو ! ذرا متوجہ ہو اور دیکھو کہ حضرت امام حسنؓ اورحضرت امام حسینؓ کی کیا شان ہے اور ان کے باب میں کیسی روشن شہادتیں ہیں کہ حضرت سرور انبیاء رسول خداa اپنی امت پر کیسی فضیلت دے رہے ہیں اور ان کا دامن پکڑنے کو فرمارہے ہیں اور باعث نجات انہیں بتارہے ہیں مگر مرزا قادیانی ان کھلی شہادتوں کو نہیں مانتے اور کس جرأت اور صفائی سے حضرت سرور انبیاء کے خلاف کہتے ہیں:طلبتم فَلاحًا من قتیلٍ بخیبۃٍ۔ تم نے اُس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مرگیا۔

(اعجاز احمدی ص ۸۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۳)

یعنی حضرت امام حسینؓ کی نسبت مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم نے ایسے کشتہ سے فلاح چاہی جو ناامید ی سے مرگیا۔ یعنی حضرت امام حسین ؓ تو خود ناکام بے نیل ومرام مقتول ہوئے ان سے دوسرے کو کیا فلاح پہنچے گی تم ان سے کیوں فلاح طلب کرتے ہو۔ نعوذ باﷲ۔ اس عظیم الشان گستاخی کو عاشقان رسو الثقلین ملاحظہ کریں پھر اسی پر نس نہیں۔ رسول اﷲa کے خلاف قسم کھاکر کہتے ہیں :

  1. وواللّٰہ لیست فیہ منّی زیادۃٌ

    وعندی شہاداتٌ من اللّٰہ فَانظروا

(اعجاز احمدی ص ۸۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۳)

ترجمہ: خدا کی قسم حسین ؓ میں مجھ سے کوئی زیادتی نہیں بلکہ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں تم دیکھو۔ یعنی امام حسین ؓ کی فضیلت کی کوئی شہادت نہیں ہے۔

! ذرا عبرت کی نگاہ سے دیکھو جنہیں رسول خداa تمام روئے زمین کے لئے پناہ فرمائیں جنہیں نجات کے لئے مثل کشتی نوح قراردیں ان میں کوئی بزرگی نہیں ہے اور جناب

422

رسول اﷲa کے صریح ارشادات ان کی فضیلت کی شہادتیں نہیں ہیں؟۔ مرزا قادیانی کے پاس شہادتیں ہیں جو ان شہادتوں سے بڑھ کرہیں۔ نعوذ باﷲ! کیا کسی سچے مسلمان کے ایسے خیالات ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو اعلانیہ رسول اﷲa کی تکذیب ہے مگر اس سے انکار بھی ہے اور بہت زور سے رسول اﷲa کی مدح ہورہی ہے اور اپنے آپ کو ان کا ظل بتار ہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی یہ پیچدار باتیں جس کو آج کل کی اصطلاح میں پالیسی کہتے ہیں نہایت غور کے لائق ہیں۔ اہل بیت اور بالخصوص حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓکی عظمت اور بزرگی کی شہادت میں مذکورہ حدیثوں کے علاوہ اور بہت حدیثیں آئی ہیں مگر غالبا حضرات مرزائی انہیں نہ مانیں گے اور ان میں وضع وغیرہ کا احتمال نکال کر مرزا قادیانی کی طرح انہیں ردی کردیں گے مرزا قاد یا نی کی عادت تھی کہ جو حدیث ان کے مدعا کے مفید ہوئی اگرچہ وہ کیسی ہی ضعیف یا موضوع ہو، اسے انہوں نے مانا ہے اور اس کی صحت ثابت کرنے کے لئے عجیب عجیب طرح کی ملمع کاری کی ہے اور جو ان کے خلاف ہے وہ کیسی ہی صحیح ہومگر وہ ردی ہے۔

خاکسار ذی علم فہمیدہ حضرات سے کچھ کہتا ہے ذرا توجہ سے ملاحظہ ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ جھوٹی حدیثیں بہتوں نے بنائیں اور ان کے بنانے کے بہت اسباب ہوئے مگر اس کی وجہ سے کیا تمام حدیثیں غیر معتبر اور لائق سند نہ رہیں گی یا جو نفس پرست جن حدیثوں کو چاہے گا ان میں ایسے احتمالات نکال کر غیر معتبر ٹھہرادے گا ذرا سوچ کر اور خدا سے ڈر کر اس کا جواب دیجئے؟ تمام دنیا کے اہل انصاف یہی کہیں گے کہ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔ باقی رہا الہام سے حدیثوں کو ردی کرنا، میری سمجھ میں نہیں آتا اور ہر ایک ایماندار کو ان میں تامل ہوگا۔ کیوںکہ جس طرح حدیثوں کے بنانے والے گزرے ہیں اسی طرح جھوٹے الہام کا دعوی کرنے والے بھی بہت گزرے ہیں اور بہت کچھ کامیا ب ہوئے ہیں۔ چنانچہ آئندہ کچھ ان کا ذکر آئے گا۔ پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ وضع کے احتمال سے حدیث سے تو بے توجہی کی جائے اور جھوٹے ملہموں کی وجہ سے مدعی الہام پر کوئی جرح نہ کی جائے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اب آپ یہ کہیں گے کہ جو مدعی نشانات دکھائے اسے سچا کہا جائے گا۔ اس کی نسبت میں کہوں گا کہ وسیع النظر حضرات جانتے ہیں کہ جس مدعی الہام کو کچھ بھی فروغ ہوا ہے اس نے کم وبیش نشانات ضرور دکھلائے ہیں۔ کسی نے پیش گوئیاں کی ہیں کسی نے اور عجیب وغریب باتیں دکھلائی ہیں۔ جو عربی کے ادیب تھے

423

انہوں نے قصائد اور نثر عربی میں لکھی ہے اور اسے بے مثل سمجھا ہے مرزا قادیانی نے ان سے زیادہ کوئی بات نہیں دکھائی۔ البتہ میرے خیال میں اپنی اپنی تعریف کا اپنے نشانات کا بہت غل مچایا ہے اور چونکہ اس وقت میں صفت اضلال کا دورہ ہے اس لئے اس کی اشاعت کے اسباب ان کے پاس مجتمع ہوگئے کئی مطبع ان کے اختیاری ہوئے جلب منفعت کی وجہ سے متعدد اشخاص لکھنے والے اور کوشش کرنے والے مل گئے اس وجہ سے ان کے خیالات کی اشاعت بہت ہوئی اور کم فہم ان کی طرف متوجہ ہوگئے ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں اس وقت اشاعت کے ایسے اسباب نہ تھے تاہم لوگوں نے انہیں زیادہ مانا ہے۔

یہاں ہمیں مرزا قادیانی کی ان شہادتوں کو مختصر طور سے دیکھنا ہے جن کی نسبت بڑے دعوی سے کہہ رہے ہیں۱؎’’وعندی شہادات من اللّٰہ فانظروا‘‘اور حضرات حسنین ؓ کی شہادتوں سے زیادہ انہیں بتارہے ہیں۔

رسالہ دافع البلاء سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو شہادتیں ہیں ایک آسمانی اور دوسری زمینی، آسمانی شہادت اسے کہتے ہیںکہ ان کے وقت میں رمضان کے مہینہ میں چاند گہن اور سورج گہن دونوں ہوئے اور یہ مہدی موعود کی نشانی ہے۔ ان دنوں جماعت مرزائیہ میں اس کا تذکرہ زیادہ سناجاتا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنے متعدد رسالوں میں نہایت زور وشور سے اپنی صداقت کا آسمانی نشان اسے ٹھہرایا ہے اس لئے کچھ اس کا ذکر کیا جاتا ہے مسلمانو! تم یقین کرو کہ مقررہ کسوف وخسوف کو نشان ٹھہرانا محض دھوکا ہے۔

دیکھو حدائق النجوم میں وہ قاعدہ لکھا ہوا ہے اور اسی قاعدہ کی رو سے سو برس آئندہ اور

۱؎

میرے پاس اﷲ کی گواہیاں ہیں ان پر نظر کرو۔

424

سو برس گزشتہ کسوف وخسوف کی فہرست دی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اسی صدی میں کئی مرتبہ رمضان شریف میں کسوف وخسوف کا اجتماع ہوا ہے اور ۱۳ ؍رمضان کو چاند گہن اور ۲۸ کو سورج گہن ہوا ہے ص ۷۰۲سے ۷۲۲ تک ملاحظہ کیجئے جس چاند گہن کی نسبت عادت اﷲ یہ ہے کہ ۱۳۔ ۱۴۔ ۱۵ کو ہو اورسورج گرہن ۲۷۔ ۲۸۔ ۲۹۔ کو ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی عادت اﷲ ہے کہ دورہ مقررہ کے بعد دونوں کا اجتماع ایک ماہ میں ہو۔ اگر کچھ علم ہے اور طلب حق کا شوق ہے تو علم ہیئت کی کتابوں کو ملاحظہ کیجئے پھر آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ۱۸ ہجری سے لے کر ۱۳۱۲ھ تک ساٹھ مرتبہ کسوف وخسوف کا اجتماع خاص رمضان شریف میں ہوا ہے اس کی تفصیل رسالہ شہادت آسمانی میں کی گئی ہے اور دارقطنی کی حدیث نقل کرکے اس کی شرح اچھی طرح کردی گئی ہے اور مرزا قادیانی نے جو معنی بیان کئے ہیں ان کی غلطی نہایت روشن طریقہ سے دکھائی گئی ہے۔ شائقین اس رسالہ میں ملاحظہ کریں۔الغرض ۱۳۱۲ھ کے گہنوں کو آسمانی شہادت کہنا محض خیال خام ہے یہ گہن کسی کے لئے شہادت نہیں ہوسکتا۔

دوسری شہادت ان کی طاعون ہے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت طاعون میرے انکار کی وجہ سے آیا ہے اور میری صداقت کی یہ زمینی شہادت ہے۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ طاعون دنیا میں اکثر آیا کرتا ہے اور اس سے زیادہ سخت طاعون آیا ہے اگر انگریزی اور عربی تاریخ پر نظر نہیں ہے تو حاذق الملک حکیم اجمل خاں صاحب نے نواب رامپور کی فرمائش سے طاعون کے باب میں رسالہ لکھا ہے اور ۱۳۱۵ھ میں مطبع مجتبائی میں چھپا ہے اسے دیکھ لیجئے اس سے معلوم ہوجائے گا کہ جس طرح اس وقت طاعون ہے اس سے پہلے بھی اکثر ہوا ہے۔ حضرت عبداﷲ بن زبیرؓ کے زمانہ میں بصرہ میں طاعون ہوا تھا جس کا نام طاعون جارف ہے یعنی جھاڑو۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس طاعون میں ایک دن ستر ہزار اور دوسرے دن اکہتر ہزار اور تیسرے دن تہتر ہزار صرف بصرہ والے مرے تھے۔ اس دن حضرت انس بن مالکؓ کے تہتر یا تراسی اولادیں مریں اور عبد الر حمن بن ابی بکرؓ کے چالیس لڑکوں نے انتقال کیا۔ یہ حالت تھی کہ مردوں کا دفن کرنا مشکل تھا امیر بصرہ کی والدہ نے انتقال کیا تو اس کا جنازہ اٹھانے والا کوئی نہ ملا۔ افسوس ہے کہ دنیا کے معمولی واقعات کو مرزا قادیانی اپنی صداقت کا نشان بتاتے ہیں اور ماننے والے مان رہے ہیں اس بے عقلی کا کیا ٹھکانا ہے۔

425

الحاصل :مرزا قادیانی کی آسمانی اور زمینی دونوں شہادتیں محض غلط ہوئیں اور جو شہادتیں حضرا ت حسنینؓ کے باب میں ہیں وہ رسول اﷲa کے ارشاد ہیں ان میں جماعت مرزائیہ کچھ گفتگو نہیں کرسکتی۔ صحت حدیث کے باب میں جو تقریر مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ نورالحق میں کی ہے اسے پیش نظر رکھئے۔ حضرات! بایں ہمہ مرزا قادیانی نے حضرت امام کی شان میں کیسی کیسی گستاخیاں کی ہیں اور یہ خیال نہیں کیا کہ یہ وہ حضرات ہیں جن کی تعریف سرور انبیاء نے کی ہے اور ان کے جگر گوشہ ہیں ایک اور شعر مرزا قادیانی کا ملاحظہ کیجئے:

  1. وانی قتیل الحِبّ لکن حُسَیْنکم

    قتیل العدا فالفرق اجلی واظہر

اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہرہے۔

(عجاز احمدی ص۸۱ خزائن ج ۱۹ ص۱۹۳)

پس فرق نہایت ظاہر ہے عاشقان رسول الثقلین دیکھیں کہ مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ تمہارا حسین یعنی ہم سے کوئی تعلق نہیں، تمہارا ہے اب انصاف سے کہو کہ کوئی مسلمان اس طرح کہہ سکتا ہے ؟ اس کے علاوہ اس پر نظر کرو کہ حضور انورa کے قرۃ العینین کی نسبت مرزا قادیانی کیا کہہ رہے ہیں ان سے یہ دریافت کیا جائے کہ کشتہ محبت مشک وعنبر وزعفران کا استعمال کیا کرتے ہیں اور پلاؤ وقورمہ کھایا کرتے ہیں۔ کشتگان محبت الٰہی کے سردار حضرت محمد مصطفیa کے حالات دیکھو۔ ام المومنین فرماتی ہیں کہ جو کی روٹی بھی آپ نے دو روز برابر سیرہوکر نہیں کھائی۔ اس بیان کے بعد مرزاقادیانی کا ایک اور بھاری دعوی ملاحظہ کیا جائے۔

ضروری تنبیہ: اس قسم کے اعتراض جب کسی مرزائی پر پیش کئے جاتے ہیں تو دفع الوقتی کے لئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ الزاما ایسا کہا گیا ہے در حقیقت مرزا قادیانی کا ایسا خیال نہیں ہے۔ ایک صاحب نے اس کے ثبوت میں اعجاز احمدی پیش کرکے عبارت ذیل پڑھی اس کا پہلا جملہ یہ ہے :’’ مَیں نے اِس قصیدہ میں امام حسینؓ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راستبازوں پر زبان دراز کرتا ہے ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ۴۵ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۹)

مرزا قادیانی کی ایسی پیچدار عبارتیں کم فہموں کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ اس عبارت میں حضرت امام حسین ؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیسا سخت حملہ کیا ہے۔ مگر عوام سمجھتے ہیں کہ تعریف کی ہے ان کے مریدین بھی اس قسم کی باتیں کرکے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں۔

426

مرزا قادیانی کی عبارت کا اصل مطلب ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ : ’’ ہم نے جو کچھ حضرت امام حسینؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کہا ہے یعنی مذمت کی ہے اور ان کے مقابلہ میں اپنی بڑائی ثابت کی ہے یہ انسانی کا رروائی نہیں یعنی وہ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ خدا کی طرف سے ہے جو کچھ اس نے کہا میں نے ظاہر کردیا۔ ‘‘

لیجئے جناب !مرزا قادیانی نے سب کچھ کہہ کر اپنی برأت کرلی اور ان بزرگوں کی مذمت کو خدا کی مہر شدہ بات بتادی اور اس پیرایہ سے کہ عوام ان کی مدح سمجھے اور وہ جملہ یہ ہے :

’’ جس سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں‘‘ خبیث ہے وہ انسان (الخ)

اس سے کم فہم حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ان بزرگوں کو راستباز اور کامل بتاتے ہیں اور جو ان پر زبان درازی کرے اسے خبیث کہتے ہیں مگر بغور دیکھنے سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ غرض ان کی نہیں ہے بلکہ پہلے مدعا کی تائید ہے دوسرے پیرایہ میں یعنی کاملوں اور راستبازوں پر نفسانی طور سے جو زبان درازی کرتا ہے وہ خبیث ہے اور میں تو نبی مرسل ہوں، میں جو کچھ کہتا ہوں وہ اپنے نفس سے نہیں کہتا بلکہ خدا کی طرف سے کہتا ہوں اگرچہ وہ کامل ہوں مگر جو ان میں انسانی کمزوریاں اور نقص ہیں وہ بیان کرتا ہوں دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کاملوں اور راستبازوں پر زبان دراز ی کرنا خبیث کا کام ہے اور یہ حضرات کاملین میں نہیں ہیں اگر کامل ہوتے تو خدا کی طرف سے جو برائی میں نے ظاہر کی ہے یہ نہ ہوتی۔ دوسرا جملہ یہ ہے کہ :

’’مَیں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے راستباز پر بدزبانی کرکے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور وعید مَنْ عَادَ اَولِیًّالِیْ دست بدست اُس کو پکڑ لیتا ہے ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ۴۵ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۹)

اس جملہ میں بظاہر تو حضرت عیسیٰ اور حضرت امام حسین کو بڑا راستباز کہا ہے عوام کے خوش کرنے کے لئے مگر پوری عبارت میں غور کیجئے ! پھر دیکھئے کیا مطلب نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت امام حسین کو جب راستباز تم سمجھ رہے ہو گر وہ ایسے ہی ہوتے تو ہم انہیں برا کہہ کر ایک رات بھی زندہ نہ رہتے۔ مگر ہم کو تم دیکھ رہے ہو کہ باوجود بدزبانی کرنے کے زندہ ہیں اور عیش کررہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انہیں راستباز سمجھنا ہی غلط ہے۔

الحاصل: میں حق پرست حضرات سے بہ منت کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا کلام نہایت

427

پیچدار ہوتا ہے اس پر خوب غور کریں۔ چونکہ لوگوں کی طبیعتیں اور ان کے خیالات مختلف ہوتے ہیں اس لئے مرزا قادیانی کا کلام خود معنی ہوتا ہے تاکہ مخاطب کے خیال کے مناسب مطلب کہہ کر اسے خوش کردیا جائے۔ اسی طرح ایک جگہ کچھ کہا ہے دوسری جگہ اس کے خلاف کیا ہے اس کی وجہ بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔ غرضیکہ دھوکا دینے کے عجب عجب طرز ہیں کچھ اور ملاحظہ ہو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت کچھ ہجو کی ہے اور ان کی شان میں وہ الفاظ کہے ہیں کہ کوئی بھلا آدمی کسی شہدے کو بھی نہیں کہتا۔ سب کچھ کہہ کر کہیں تو کہہ دیا کہ اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا، کسی مقام پر ان کا غیر مشہور نام یسوع لے کر ان کی مذمت کردی اور جس وقت کسی مسلمان نے کہا کہ حضرت عیسیٰ نبی ہیں ان کی برائی مرزا قادیا نی کرتے ہیں تو کسی وقت کہہ دیا کہ یہ برائی یسوع کی ہے حضرت عیسیٰ کی نہیں ہے اور اگر کسی نے دکھادیا کہ مرزا قادیانی ہی کہتے ہیں کہ :’’ عیسیٰ اور یسوع ایک ہی شخص کے نام ہیں ۔‘‘

(توضیح مرام ص ۳ خزائن ج ۳ ص ۵۲)

انہیں کا ذکر قرآن مجید میں ہے انہیں کو نصاریٰ، خدا اور خدا کا جزو مانتے ہیں۔ قرآن میں صاف طور سے مصرح ہے۔ اس وقت یہ کہہ دیتے ہیں کہ پادریوں نے جناب رسول اﷲa کی مذمت کی تھی اس لئے الزاما انہیں ایسا کہا گیا مگر اہل علم خوب جانتے ہیں کہ کسی مقدس بزرگ کو اور بالخصوص خدا کے رسول کو کلمات ناشائستہ اس طرح کہنا جس طرح مرزا قادیانی کہتے ہیں اور ان پر اپنا تفوق بیان کرتے ہیں ہرگز جائز نہیں ہے۔ مناظرہ میں الزام دیا جاتا ہے مگر دفع التلبیسات وغیرہ دیکھو کس شائستہ پیرایہ سے الزام دیا ہے ایک مقام پر حضرت امام کی تحقیر کرکے آخر میں لکھتے ہیں:

’’ سچا شفیع میں ہوں ۔‘‘

(دافع البلا ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)

اس جملہ پر غور کیا جائے کیسا سخت جملہ ہے تمام اولیاء کرام پر اور بالخصوص حضرت امام پر کیوںکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کوئی بزرگ کوئی مقبول خدا سچا شفیع نہیں ہے انہیں سچا شفیع سمجھنا بالکل غلط ہے سچا شفیع میں ہوں۔ اب برادران اسلام اس کو سمجھ لیں میں زیادہ کیا لکھوں۔ خیال کریں کتنے مقبولان خدا کو مرزا قادیانی نے جھوٹا ٹھہرایا۔

افسوس !حضرت سیدالمرسلینﷺ نے شفاعت کا دعوی کیا مگر یہ نہیں فرمایا کہ سچا شفیع میں ہی ہوں اور سب جھوٹے ہیں۔ مرزا قادیا نی کی کس کس بات پر نظر کی جائے اور ان کی کس

428

کس بے عنوانی کو دیکھا جائے۔ خلیفہ قادیان اور ان کے پیرو ان کی تعلیوں کی تاویلیں کہاں تک کریں گے ذرا غور فرمائیں اور اپنی عاقبت برباد نہ کریں۔

بھائیو ! جن کی فضیلت جناب رسول اﷲa بیان فرمائیں جنہیں سرچشمہ ہدایت قراردیں جن کو جوانان اہل جنت کا سردار بتائیں، جو تمام روئے زمین کے لئے پناہ ہوں، وہ تو کسی شمارمیں نہ ہوں اور حضورa کا قول ان کے لئے شہادت نہ ہو اور وہ سچے شفیع نہ ہوں اور مرزا قادیانی کے پاس اپنی فضیلت کی شہادتیں ہیں اور وہ سچے شفیع ہیں اس جرأت اور بے باکی پر ہزار افسوس ہے۔ میں دریافت کرتا ہوں کہ وہ کون شہادتیں ہیں رسالہ دافع البلاء میں جن شہادتوں پر فخر کیا تھا وہ تو خاک میں مل گئیں۔

اب وہی آپ کے متکبرانہ خیالات رہے جنہیں آپ الہامات کہتے ہیں۔ پھر کیا آپ کے الہامات یقینی طور سے غلط ثابت نہیں ہوئے وہ الہامات جن کی صداقت پر پندرہ بیس برس تک اصرار رہا جن کی طرف بار بار توجہ ہوئی وہ محض غلط نکلی جن کی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے جناب رسول اﷲa پر جھوٹے الزام لگا ئے گئے اور لگائے جاتے ہیں۔ نعوذ باﷲ! اہل حق فرمائیں۔ کہ ہمیں اس شعر کے پڑھنے میں اب کون مانع ہوسکتا ہے ؟

  1. الا لعنۃ اللّٰہ الغیور علی الذی

    یمین باطراء ولا یتبصروا

یہاں تک تو یہ دکھایا گیا کہ مرزا قادیانی نے تمام اولیاء امت محمدیہ کی تحقیر کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں اپنی بڑائی ایسے برے طریقہ سے بیان کی جس سے ایک اولوالعزم نبی کی نہایت حقارت اس طرح ہوئی ہے کہ صاحب دل مسلمان کا دل لرز جائے۔ مرزا قادیانی نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ’’ ہرچہ بروے میرسی بروئے مایست ‘‘ پر عمل کیا ہے۔ جب حضرت مسیح پر بہت کچھ فوقیت بیان کرچکے تو ان کے بعد حضرت سرور انبیاء a سے بھی صراحتاً ہمسری کا دعوی کیا اور بعض باتوں میں اپنی فضیلت ظاہر کی۔

آنحضرتa سے ہمسری اور جزئی فضیلت کا دعویٰ

دعوی ہمسری تو ان کے اس شعر سے ظاہر ہے:

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ۳ خزائن ج ۱۵ ص ۱۳۴)

429

یعنی میں عیسیٰ زمان اور موسی دوران ہوں اور میں محمد مجتبیٰ ہوں۱؎ غرضیکہ ان پیغمبروں کے صفات کمالیہ کا جامع ہوں اس سے زیادہ اور کیا دعوی ہمسری ہوسکتا ہے ؟

فضیلت کا دعوی اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ:

’’ آنحضرتa پرعیسیٰ ابن مریم اور دجال اور یاجوج وماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت منکشف نہ ہوئی تھی ۔‘‘

(مفہوم ازالہ اوہام ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)

یعنی مجھ پر ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ بعض عظیم الشان چیزوں کا علم جناب رسول اﷲa کو نہیں ہوا تھا اور حدیثوں میں جو نشانات دجال وغیرہ کے جناب رسول اﷲa نے بیان فرمائے ہیں۔ وہ صحیح نہیں ہیں ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ صحیح ہے کیوںکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اس کی حقیقت سے اطلاع دے دی ہے جناب رسول اﷲa پر ان کی حقیقت منکشف نہ ہوئی تھی۔یہاں مرزا قادیانی نے دو طور سے حضرت سرور انبیاء کی منقصت بیان کی ایک یہ کہ دجال وغیرہ کی حقیقت حضور انورa پر منکشف نہیں ہوئی دوسرے یہ کہ آپa نے بغیر معلوم کئے ان کی نسبت بیان فرمایا اور وہ بیان غلط ہے مرزا قادیانی ان دونوں باتوں سے منزہ ہیں اس لئے دو طرح سے انہیں جناب رسول اﷲa پر فضیلت ہوئی۔ استغفر اﷲ!

مرزا غلام احمد قادیانی کے کلام کا حاصل یہی ہے، اگرچہ حسب عادت مرزا قادیانی اسے رنگ آمیزی سے بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب ان کے انکشافات اور الہامات پر وسیع نظر کی جاتی ہے تو صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام کمالات انسانیہ اور مدارج نبویہ کو طے کرکے اس سے اعلی مرتبہ اپنا بتانا چاہتے ہیں۔

۱؎

اگر کوئی صاحب اصحاب سکر اور اہل شوق کا کلام اس کے جواب میں پیش کریں تو لائق توجہ نہیں ہوسکتا کیوںکہ اولیاء اﷲ کا خصوصا اصحاب سکر کا کلام کسی کے لئے سند نہیں ہوسکتا البتہ نبی کا کلام چونکہ سند ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کی ساری باتیں مستند ہوں تاکہ قابل حجت ہوسکیں۔ اس کے علاوہ جن بزرگوں نے یاد الٰہی کے نشہ میں اس قسم کے الفاظ زبان سے نکالے ہیں انہوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ ہماری باتوں پر ایمان لاؤ یا جو ہمیںنہ مانے وہ مردود اور کافر ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ تو نہ ماننے والوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں بتاتے۔ اس سے نہایت ظاہر ہے کہ ان اولیاء اﷲ کے کلام میں اور مرزا قادیانی کے دعووں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔

430

اس کا حاصل یہ ہوگا کہ ان کا مکنون خاطر یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa پر بھی وہ اپنی کلی فضیلت ثابت کریں۔ اگرچہ یہ دعویٰ انہوں نے صراحتاً نہیں کیا اور لوگوں کے روبرو اپنے کو حضورانورa کا نائب اور امتی کہتے رہے۔ مگر ان کے الہام اور انکشافات نہایت صفائی سے ان کے دلی منشاء کو ظاہر کررہے ہیں ملاحظہ کیا جائے۔

الہام مرزا: اس عاجز کو اپنے الہامات میں خدا ئے تعالیٰ مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ:(۱)’’ تو مجھ سے اور مَیں تجھ سے ہوں۔‘‘ یعنی مرزا قادیانی خدا کے مثل ہیں۔ (۲) ’’تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے ۔‘‘ یعنی مرزا قادیانی اپنی پیدائشی حالت میں تمام انسانوں سے افضل ہیں۔ (۳) ’’ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید ۔‘‘ (یہ بات کسی نبی کو حاصل نہیں تھی)

(کتاب البریہ ص ۸۲،۸۳ خزائن ج ۱۳ ص۱۰۰، ۱۰۱)

اس الہام کے تینوں جملوں سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو سید الرسلa سے افضل بتارہے ہیں۔

کشف مرزا: ’’ میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں … اُس حا لت میں مَیں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو مَیں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی، الخ‘‘

(کتاب البریہ ۸۵ تا ۸۷ خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۳ تا ۱۰۵)

اس کشف میں تو نہایت صفائی سے خدا ہونے کا دعوی ہے پھر تمام انبیاء سے افضل ہونے میں کیا شبہ ہے اب تو مرزا قادیانی میں اور انبیاء میں خالق ومخلوق کا فرق ہو گیا۔ نعوذ باﷲ منہ۔ جناب محمد رسول اﷲa کو ایسے کشف والہام نہیں ہوئے نہ کسی نبی کو ایسے کشف والہام ہوسکتے ہیں بلکہ کسی عالی مرتبہ اولیاء اﷲ سے سہواً بھی ایسے کلمات نہیں نکلے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے امت کے لئے ہادی بنایا نبوت کا مرتبہ عنایت کیا ان کی زبان سے ایسے الفاظ نہیں نکلے۔ مرزا قادیانی مہدویت اور نبوت کا دعوی کرتے ہیں اس لئے ان کا کلام سکر کی حالت پر محمول نہیں ہوسکتا اور الحکم مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۵ء میں یہ الہام لکھا ہے :

’’ اِنَّمَآ اَمْرُکَ اِذَآ اَرَدْتَّ شَیْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ‘‘

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص ۴۳۴ طبع چہارم)

431

یعنی اﷲ تعالیٰ مرزا قادیانی سے فرماتا ہے کہ اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے اور صرف اس قدر کہہ دے کہ ہوجا وہ ہوجائے گی۔

اس الہام سے اظہر من الشمس ہواکہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی خدائی مرزا قادیانی کے حوالہ کردی کیونکہ یہ صفت کہ جس چیز کا ارادہ کرے وہ صرف اس کے کہنے سے موجود ہوجائے خاص اﷲ تعالیٰ کی صفت ہے کسی نبی کو یہ بات حاصل نہیں تھی غرضیکہ اس الہام سے بھی مرزا قادیانی تمام انبیاء سے اور حضرت محمد رسول اﷲa سے اپنی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے جنہیں علم اور فہم عنایت کی ہے پہلے تو وہ اس پر غور کریں کہ ایسا الہام ’’عقلاً اور شرعاً‘‘ کسی انسان پر ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی خدا ئی دوسرے کو حوالے کردے پھر اس کی سچائی کو ظاہر طور سے دیکھیں کہ مثلاً احمد بیگ کے داماد کی موت مرتے دم تک مرزا قادیانی کیسا چاہتے رہے اور اس قدر وثوق اس کے مرنے پر تھا کہ بار بار اپنے سامنے اس کے مرجانے کو اپنی صداقت کا معیار بتایا ہے۔

(انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج ۱۱ ص ۳۱)

مگر وہ مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا وہ خود ہی اس کے سامنے تشریف لے گئے اور ان کے اس الہام کی حالت آفتاب کی طرح روشن ہوگئی۔ بھائیو ! مرزا قادیانی کے ان الہامات اور انکشافات پر غور کرو اور سوچو کہ ان کا دلی منشاء کیا ہے جماعت مرزائیہ خدا کے لئے ذرا تعصب کے پردہ کو اپنی آنکھوں سے ہٹا کر غور کرے اور اپنی عاقبت کو تباہ نہ کرے۔ ذرا فرعون کی حالت کو پیش نظر کریں کہ پہلے عطار تھا پھر اسے اﷲ تعالی نے آہستہ آہستہ اس قدر کامیابی دی کہ بادشاہ ہوگیا اور چار سو برس کی عمر اسے دی گئی یا چار سو برس اس نے بادشاہت کی یہی کامیابیاں اس کے دعوی خدائی کا باعث ہوئیں۔ مرزا قادیانی بھی آہستہ آہستہ کشف والہام میں خدا کے مرتبہ تک پہنچے تھے اگر عمر کچھ اور وفا کرتی تو عجب نہیں کہ صاف طور سے خدائی کا اعلان ہوتا۔ جھوٹے مدعی مہدویت اور نبوت بھی بہت گذرے ہیں جو علم وفضل ظاہری میں بہت رتبہ رکھتے تھے اور اس دعوے کے بعد انہیں بہت کچھ کامیابی ہوئی یہ خیال محض غلط ہے کہ ایسا افتراء کرنے والا ۲۳ برس کے اندر ضرور ہلاک ہوگیا ہے چند نظیریں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اسے ملاحظہ کیجئے۔

صالح بن طریف دوسری صدی کے شروع میں یہ شخص ہوا ہے بہت بڑا عالم اور دیندار تھا ۱۲۷ ھ میں یہ بادشاہ ہوا ہے اور نبوت کا دعوی کرکے وحی کے ذریعہ سے اس نے قرآن ثانی

432

کے نزول کا دعویٰ کیا ہے اس کی امت اسی قرآن کی سورتیں نماز میں پڑھتی تھی۔ ۴۷ برس تک اس نے بادشاہت کے ساتھ نبوت کی اور اپنی اولاد کے لئے بادشاہت چھوڑ گیا اور کئی سو برس تک اُس کے خاندان میں تین شخصوں نے نبوت کا دعوی کیا ہے پہلے اس کے باپ نے دعوی کیا اور اس کی بدولت بادشاہ ہوگیا اور بادشاہت اپنے بیٹے کے لئے چھوڑ گیا پھر صالح نے دعوی کیا اس کے بعد اس کے پوتے کے پوتے نے دعوی کیا اور ستائیس برس تک نبوت اور سلطنت کی۱؎ اس طرح عبیداﷲ علوی نے افریقہ میں مہدی ہونے کا دعوی کیا اوروہاں کا بادشاہ ہوگیا اور چوبیس برس سے زیادہ اس نے مہدویت اور بادشاہت کی۔

ابن تومرت اور اس کے خلیفہ عبدالمومن نے بھی ایسا ہی کیا اور ۳ برس تک اس دعوی کے ساتھ بادشاہت کی۲؎ ان نظیروں کے بعد بھی کسی کو مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت پر اصرار ہوسکتا ہے۔ ذرا غور کیجئے اگر آپ انصاف کریں تو یہی ایک بات ان کے کاذب ہونے کے ثبوت میں کافی ہے مگر آپ کی یہ حالت دیکھی جاتی ہے کہ ایک بات کو کذب کی علامت بتاتے ہیں جب وہ دکھادی جاتی ہے تو اس میں ایک قید بڑھا دیتے ہیں یا کوئی دوسری بات پیش کردیتے ہیں جس سے نہایت ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو طلب حق نہیں ہے اور’’الغریق یثبت بکل حشیش‘‘ پر عمل ہے۔

بھائیو ! اس پر غور کرو کہ صادقوں کی ایسی روش نہیں ہے حضرت مسیح علیہ السلام کی علامات جو صحیح حدیث میں آئی ہیں جنہیں مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں وہ بھی ان میں نہیں پائی گئیں اور نہ پایا جانا ایسا ظاہر ہے کہ کسی نادان کو بھی اس میں تردد نہیں ہوسکتا ہے۔ کیوںکہ وہ علامتیں ایسی ہیں کہ ہر ایک ان کا معائنہ کرسکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی سچائی کی جو علامت بیان کی تھی اس کا شائبہ بھی نہیں پایا گیا بلکہ جو علامت اپنے جھوٹے ہونے کی انہوں نے بیان کی تھی وہ یقینا پائی گئی یعنی انہوں نے کہا تھا کہ اگر تثلیث پرستی کے ستون کو میں نہ توڑوں تو میں جھوٹا ہوں وہ ستون بدستور قائم ہے اس کی تو ایک اینٹ بھی نہیں گری بلکہ اس کی قوت تو روز افزوں ہے احمدبیگ کے داماد کی نسبت کس زور سے مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ میرے سامنے نہ

۱؎

حصہ دوم فیصلہ آسمانی ملاحظہ ہو۔

۲؎

اس کا ذکر بھی حصہ دوم فیصلہ آسمانی میں اور تاریخ کامل ابن اثیر اور ابن خلکان میں ہے۔

433

مرے اور اس کے سامنے میں مرجاؤں تو میں جھوٹا ہوں۱؎ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے کئی برس ہوگئے اور وہ اب تک زندہ ہے پھر ان کے جھوٹے ہونے میں آپ کو کیوں تردد ہے اس کے جواب میں یمحوا اللّٰہ ما یشاء ویثبت پیش کیا جاتا ہے یعنی اﷲ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اسے اختیار ہے کہ جو کچھ اس نے قول وقرار کیا ہے اس پر وہ قائم رہے یا اسے مٹادے یعنی اس پر قائم نہ رہے اس کا حاصل یہ ہوا کہ جماعت مرزائیہ کے نزدیک خدا ئے تعالیٰ ایسا ہی ہے جیسے دنیا کے بعض رئیس جھوٹے وعدہ خلافی کرنے والے ہوتے ہیں۔ نعوذ باﷲ۔ ذرا انجام آتھم کو دیکھو کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کو کیسا پختہ اور سچا وعدہ خداوندی لکھا ہے اور پھر اس کا ظہور نہ ہوا اﷲ تعالیٰ نے وعدہ خلافی کی۔ اپنے قول وقرار کو ہٹادیا کہئے حضرات مرزائیہ ! آپ کے مرشد کے نزدیک آیت کے یہی معنی ہیں ؟

مجدد وقت قرآن مجید کے بڑے ماہر رسالت کے مدعی ایسے ہی معنی بیان کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ خدائے تعالیٰ کے کسی قول وفعل کا اعتبار نہ رہے۔ بھلا یہ تو فرمایئے کہ اگر کوئی جھوٹا بے تکی پیش گوئیاں بہت سی کرے اور کسی کا ظہور نہ ہو تو اس آیت کو پیش کردے اس سے وہ کذب سے بری ہوجائے گا؟

اس کا جواب دیجئے اور اس کے علاوہ ذرا مرزا قادیانی کے ان الہامات پر نظر کیجئے جن میں بے انتہا قرب الٰہی مرزا کا بیان کیا گیا ہے اور ان کو صدیق کا خطاب ملا ہے پھر جسے خدائے تعالیٰ ایسا تقرب عنایت کرے اور صدیق کا خطاب دے پھر خود ہی اپنے قول وقرار کو مٹاکر تمام دنیا کے روبرو اسے جھوٹا ٹھہرائے ذرا سوچ کر جواب دیجئے اور یہ بھی فرمایئے کہ جب خدائے تعالیٰ نے مرزا سے ایسے پختہ وعدے پورے نہ کئے اور متعدد جھوٹ بولے (نعوذ باﷲ) تو اس کے ان الہامات کے سچے ہونے کی کیا دلیل ہے جن سے ا ن کا مسیح ہونا اور مقرب الٰہی ہونا

۱؎

انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ۳۱ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں :

’’ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘ اب فرمایئے کہ پیش گوئی تو پوری نہیں ہوئی اور مرزا قادیانی کی موت آگئی غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی اس کی موت کو بار بار کہتے ہیں اور تقدیر مبرم بتاتے ہیں۔ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ تقدیر مبرم اسی کو کہتے ہیں جو بدل نہیں سکتی۔ اس کہنے کے بعد اس پیش گوئی کے پورا نہ ہونے کے وقت آیت یمحوااﷲ کو پیش کرنا کیسا صریح غلط ہے۔

434

ثابت ہوتا ہے جب آپ کے نزدیک وہ خدائے قدوس کسی وقت جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے تو ان الہامات کی یقینی صداقت کس طرح تسلیم کرلی جائے اور کیوں نہ کہا جائے کہ ان الہامات میں جو کچھ کہا گیا وہ غلط ہے۔ یا یہ کہ پہلے وہ مرتبہ دیا گیا پھر اسے مٹادیا کیوںکہ یمحواللّٰہ ما یشاء عام ہے یعنی جس بات کو چاہے مٹادے یہاں مٹادینے کا ثبوت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے مرزا ہی کے متعدد اقراروں سے انہیں جھوٹا ثابت کردیا اگر موت کے وقت تک وہ مسیح اور مقرب الٰہی ہوتے تو ممکن نہیں تھا کہ اﷲ تعالیٰ تمام خلقت کے رو برو اس طرح ان کی بے حرمتی کرتا اور ان سے پختہ وعدے کرکے خلاف وعدگی کرتا۔ غرضیکہ جو آیت جواب میں پیش کی تھی اسی سے ان کا کذب ظاہر ہوتا ہے اس کے علاوہ مرزائی حضرات (اعجاز احمدی ص ۷۹ خزائن ج۱۹ ص ۱۹۱)کے اس شعر پر بھی نظر کریں۔

  1. واقسمت باللّٰہ الذی جل شانہ

    سیکرمنی ربی وشانی یکبر

اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی شان بزرگ ہے کہ عنقریب خدا میرا بھی بزرگی دے گا اور میری شان بلند کی جائے گی۔

کہئے جناب! بزرگی دینے اور شان کے بلند کرنے کی یہی صورت تھی کہ پختہ وعدے کرکے ڈاکٹر عبدالحکیم کے مقابلہ میں اور مولوی ثناء اﷲ صاحب کے مقابلہ میں اور اعلانیہ تمام خلق کے روبرو جھوٹے ٹھہرائے گئے اور ہر بد سے بدتر قرار پائے۔ یہ کیوں ہوا آپ یہی کہیں گے کہ یمحوااللّٰہ ما یشاء ویثبتاﷲ جسے چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جسے چاہتا ہے رکھتا ہے پہلے اس نے بزرگی دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اسے پورا نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف کیا۔

بھائیو ! دیکھ لو یہ مرزا قادیانی ہیں اور یہ ان کا خدا ہے جس کی صفت وہ اور ان کے پیرو مرشد آیت مذکورہ سے یہ بتارہے ہیں جس کا ذکر ابھی ہوا اب آپ ہی فیصلہ کرلیں کہ مرزا قادیانی کیسے ہیں۔ اس بیان کے بعد ہر فہمیدہ کے نزدیک پیش گوئیوں کی کوئی وقعت نہیں رہ سکتی۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا بڑا معیار پیش گوئی بتایا ہے اس لئے صاف طور سے دوسرے پیرایہ میں ان کا بیان کرتا ہوں یہ یقینی بات ہے کہ پیش گوئیاں اگر سچی بھی ہوں تو صداقت کا ثبوت نہیں ہوسکتا کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے بھی پیش گوئیاں کی ہیں اور سچی ہوئی ہیں پھر انہیں آپ کیوں جھوٹا سمجھتے ہیں؟ بہت سے رمال جفار

435

اصحاب فراست پیش گوئیاں کرتے ہیں اور اکثر صحیح بھی ہوتی ہیں اور مرزا قادیانی کی تو اکثر پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ خصوصا وہ پیش گوئیاں جنہیں انہوں نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا اس کا غلط ہونا تو آفتاب کی طرح دنیا پر روشن ہوگیا۔ فیصلہ آسمانی، الہامات مرزا وغیرہ ملاحظہ کرلیا جائے اور جن کو صحیح کہا جاتا ہے ان میں اکثر ایسے مجمل اور گول الفاظ ہیں کہ عموماً یا زمانہ اور وقت کے لحاظ سے ان کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں اور ذی ہوش تجربہ کار اس کا اندازہ کرسکتا ہے کہ آئندہ کسی صورت کا ظہور ضرور ہوگا اور پیشگوئی کردیتا ہے۔مرزا قادیانی نے ایسا ہی کیا۔ مثلاً بنگال کی دلجوئی کی پیشگوئی کو ملاحظہ کیجئے پہلے تو یہ دیکھئے کہ یہ لفظ کس قدر عام ہے اگر کسی ادنی بات میں بھی بنگالیوں کا خیال کیا جائے تو اس کے کہنے کا موقع ہے کہ دلجوئی ہوگئی اس کے بعد اس پر نظر کی جائے کہ کوئی دانشمند بادشاہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کی رعایا میں سے پوری ایک قوم زور کے ساتھ اپنی حق طلبی کرے اور وہ بادشاہ اس قوم کی کچھ بھی نہ سنے اور اس کی کسی بات پر توجہ نہ کرے۔

یہ دونوں باتیں اس پیش گوئی کے لئے کافی ہیں مگر یہاں ان دونوں باتوں کے سوا تیسری بات اور بھی ہے جس سے ایسی پیش گوئی کرنا نہایت آسان ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ ہند کی پالیسی اور طرز حکومت سو برس سے دیکھی جاتی ہے کہ اس کی رعایا میں جس نے تیزی اور سختی کی اس سے نہایت آشتی کا برتاؤ کیا گیا ہے اور اس کی زیادہ سنی گئی ہے اور دانشمند گورنمنٹ کو ایسا ہی ہونا چاہئے جب سو برس کا یہ تجربہ موجود ہے پھر بنگالیوں کی اس شورش کے بعد یہ کہہ دینا کہ ان کی دلجوئی کی جائے گی کس قدر آسان ہے۔ ان کے حال پر حسرت ہی نہیں ہے بلکہ افسوس ہے جو بی اے یا ایم اے کی ڈگری حاصل کرکے زمانے کی حالت سے واقف ہیں وہ اس پیشگوئی کو الہام سمجھتے ہیں۔

چنانچہ تقسیم بنگال کے بعد مرزا قادیانی کے ایک مرید بی اے نے تقسیم بنگال کے بعد اسی پیشگوئی کے متعلق بہت ورق سیاہ کرکے مرزا قادیانی کی صداقت میں پیش کئے ہیں اور لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی پیشگوئی کی صداقت اپنی زندگی ہی میں بیان کرچکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جائے گا جس سے تقسیم بھی نہ ہو اور اہل بنگال کی دلجوئی بھی ہوجائے اس کا طریقہ یہ ہوا کہ لیفٹیننٹ گورنر جو بنگالیوں کا مخالف تھا وہ ہٹا دیا گیا۔

436

مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی وقت اعلان کیا تھا کہ ہماری پیش گوئی کا ظہور ہوگیا یعنی ایک حاکم اعلی جو اس قوم کا مخالف تھا وہ علیحدہ کردیا گیا۱؎اب انصاف پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ ایسے الفاظ سے پیشگوئی کی گئی ہے کہ خود پیشگوئی کرنے والے تو اس کی صداقت میں کچھ کہہ رہے ہیں اور ان کے مرید کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ غرضیکہ پیش گوئی ایک موم کی ناک ہے جدھر چاہا ادھر پھیردیا۔

۱؎

اس کی تفصیل اخبار اہل حدیث ج ۹ نمبر ۲۱ اور ج ۱۰ نمبر ۱۷ میں نہایت خوبی سے کی گئی ہے اور آخر کے پرچہ میںقادیانی مشن سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں ایک جلسہ کرکے مرزا قادیانی کی اس اور اس جیسی دیگر متحدیانہ پیش گوئیوں پر ہم سے بالمشافہ گفتگو کرلو (الخ) یہ اخبار ۴ ربیع الاول ۱۳۳۰ ہجری کو چھپا ہے چھ ماہ تو ہوگئے مگر کسی طرف سے قادیانی مشن کی آواز نہیں آئی کہ ہاں ہم تیار ہیں۔ آئندہ کیا امید ہوسکتی ہے یہاں اس واقعہ پر بھی نظر کرنا چاہئے جو مولوی ثناء اﷲ صاحب اور مرزا قادیانی میں ہوا تھا یعنی مولوی ثناء اﷲ صاحب نے کہا تھا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں اس پر مرزا قادیانی نے کہا کہ اگرمولوی صاحب سچے ہیں تو قادیان میں آکر پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کریں ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میرے مرید ہیں اگر مولوی صاحب کے لئے ایک ایک روپیہ بھی لوںگا تو ایک لاکھ روپیہ ہوجائے گا۔ وہ سب ان کے نذر ہوگا۔ اس کے بعد انہو ں نے پیش گوئی کی کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان میں میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔ (اعجاز احمدی ص ۳۷ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۸) اس کا جھوٹا ہونا تو اسی وقت ظاہر ہوگیا تھا کیوں کہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ ء کو مولوی صاحب اسی غرض سے قادیان گئے اور مرزا قادیانی کو اطلاع دی مگر مرزا قادیانی نے بجز زبردستی اور بیہودہ باتوں کے اور کچھ نہ کہا اور باتیں بناکر علیحدہ ہوگئے اس کی تفصیل رسالہ الہامات مرزا کے ص ۱۰۱۔۱۱۲ میں بیان ہوئی ہے اس کے دیکھنے سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں (۱) مرزا قادیانی پہلے زور سے دعوے کرکے دوسرے کا عجز ثابت کرنا چاہتے ہیں اور جب وہ مقابل آجاتا ہے تو باتیں بناکر علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ متعدد واقعے اس وقت پیش نظر ہیں۔ مگر مریدین پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ (۲) نہایت صفائی سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے مریدین کو ایسا بے وقوف سمجھ چکے ہیں کہ اگر تمام پیش گوئیاں ہماری جھوٹی ثابت ہوجائیں اور ہمارا جھوٹا ہونا بالیقین معلوم ہوجائے تو بھی ہمارے مریدین کی عقل وفہم کا یہ اندازہ ہے تو ان کے روبرو مسیح موعود کیا خدائی کا دعویٰ کریں اور وہ تسلیم کریں تو بجا ہے اپنے خدا ہونے کیحالت کشفی تو مریدین سے منوا چکے ہیں اب اعلانیہ دعویٔ خدائی میں کچھ دن باقی تھے کہ تشریف لے گئے۔ الغرض اول تو پیش گوئی کا سچا ہونا دلیل صداقت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی حالت یہ ہے کہ اس کی سچائی وہ خود نہیں ثابت کرسکے نہ ان کے مریدین ثابت کرسکتے ہیں پر کس لئے پیش گوئیوں کا غل مچا رہے ہیں۔

437

بھائیو ! میں نہایت سچائی اور آپ کی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ پیش گوئی کا سچا ہونا نبوت یا ولایت کی دلیل نہیں ہے خصوصا ایسے شخص کی پیش گوئی جس کی بہت سی پیش گوئیاں غلط ہوگئی ہوں اور ان کا غلط ہونا دنیا پر ظاہر ہوگیا ہو اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی اور الہامات مرزا میں ملاحظہ کی جائے۔ اب میں اس تحریر کو ختم کرتا ہوں اور اہل حق کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ مختصر تحریر بہت بڑے دفتر کا خلاصہ ہے۔ جس قدر باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں اگر انہیں تفصیل سے بیان کیا جائے تو ضخیم کتا ب ہوجائے۔ اختصار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت مرزائیہ اپنے مخالف کی تحریر کو دیکھتی ہی نہیں۔ میری محبت اسلامی اور خیر خواہی نے یہ چاہا کہ مختصر تحریر کروں شاید کسی عنوان سے ان کی نظر سے گذر جائے او رانہیں انصاف کا موقع ملے لیکن ہدایت تو ہادی مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے مجیب الدعوات سے التجا ہے کہ تو جانتا ہے کہ اس عاجز نے یہ رسالہ تیری خوشنودی اور مسلمانوں کی بھلائی کے لئے لکھا ہے تو اس کو قبول فرما اور باعث ہدایت کر۔ آمین!

بحرمۃ سید الرسلین علیہ وعلی آلہ واصحابہ الصلوۃ والسلام الی یوم الدین

راقم خاکسار … ابو احمد رحمانی

اﷲ اکبر

تتمہ حقیقۃ المسیح

چودہویں صدی کے مسیح کا آنا اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر بنانا

بہت برادران اسلام یہ سمجھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اور ان کے پیرو مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے اس وجہ سے ان کا خیال ان کی طرف اچھا ہے اس لئے میں نے حقیقۃ المسیح میں اس کی واقعی حالت کو کچھ بیان کیا ہے مگر اب زیادہ تفصیل سے اسے دکھانا چاہتا ہوں تاکہ مسلمان ہوشیار ہوجائیں اور جان لیں کہ مرزائیوں کے نزدیک اب یہی حالت ہے جو میں نے عنوان پر لکھی ہے۔ میں رسالہ حقیقۃ المسیح کو لکھ چکا تھا کہ ایک دوست نے مرزا قادیانی کی آخری تالیف (حقیقۃ الوحی کا ص ۱۶۳ تا ۱۸۰) تک اور رسالہ تشحیذ الاذہان اپریل ۱۹۱۱ء دکھایا۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے فرزند ارجمند محمود احمد نے خاص اسی غرض سے لکھا ہے کہ اپنی جماعت پر ظاہر کریں کہ قادیانی جماعت کے سوا دنیا میں تقریبا ۲۳ کروڑ کلمہ گو ہوںگے یہ سب کافر ہیں۔

438

حقیقۃ الوحی کے (ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷) میں کسی مرزائی نے مرزا قادیانی سے سوال کیا ہے اور مرزا قادیانی نے اس کا جواب دیا ہے سوال وجواب دونوں اس جگہ لکھے جاتے ہیں:

’’سوال: حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کرکے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن عبدالحکیم خاں کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اوراس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہوجاتا ہے۔‘‘

سائل کا یہ حال ہے اس میں دوقول مرزا قادیانی کے نقل کئے ہیں۔ پہلے لکھا ہے کہ حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس جملہ کا عموم اور شمول خوب یاد رہے دوسرا یہ ہے کہ آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا (ان دونوں جملوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر مرزا قادیانی کے جواب کو دیکھئے اور بتایئے کہ مرزا قادیانی نے اس تعارض اور تناقض کا کیا جواب دیا ہے۔ مرزا قادیانی کا جواب ملاحظہ ہو)

’’الجواب: یہ عجب بات ہے۱؎ کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے

۱؎

اہل علم مرزا قادیانی کے جواب کو ملاحظہ کریں سوال کرنے والا اپنی رائے وقیاس سے کوئی بات نہیں کہتا بلکہ مرزا قادیانی کا قول پیش کرتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔

اس قول کا مرزا قادیانی انکار نہیں کرتے جب یہ قول صحیح ہے تو اس کے معنی یہی ہیں کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ ہر طرح مسلمان ہیں خواہ میرا منکر ہو یا مقر ہو اسے کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اگر کوئی صورت کلمہ گو کے کافر کہنے کی نکلے تو مرزا قادیانی کا یہ قول ضرور غلط ہوجائے گا کہ اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کیوںکہ ایک صورت کافر کہنے کی نکل آئی۔ مگر عجب بات ہے کہ اہل قبلہ کی نسبت ایسا صاف وصریح ہزاروں جگہ کہہ کر اب اپنے ہر قسم کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔

اس تعارض کا کچھ جواب نہیں دیتے اور مسلمانوں کو کافر بنارہے ہیں یہ حالت مرزا قادیانی کی ہے کہیں کچھ کہہ دیا اور کہیں کچھ۔ اس پر خلیفہ صاحب اور تمام مریدین آمنا کہہ رہے ہیں۔

439

انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیوںکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اس وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری۱؎ قرار دیتا ہے، الخ (پھر فرماتے ہیں) علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول ۲؎ کو بھی نہیں مانتا کیوںکہ میری نسبت خدا ورسول کی پیش گوئی موجود ہے۔

(پھر فرماتے ہیں) (۲) پھر وہ لوگ خدا کے نزدیک کیوںکر مومن ہوسکتے ہیںجو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں۳؎ (پھر فرماتے ہیں) (۳) تو اب اس بات کا سہل علاج ہے کہ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو ان کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کردیں کہ یہ سب کافر ہیں کیوںکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا۴؎ تب میں ان کو مسلمان سمجھوں گا بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شعبہ نہ پایا جائے۔

۱؎

یہ غلط ہے بعض انکار کرنے والے آپ کو فریب خوردہ اور دھوکا کھانے والا خیال کرتے ہیں یعنی شیطانی الہامات کو وہ الہام رحمانی سمجھے یا یہ کہ قوت خیالی کے پختہ ہونے سے جو خیال اور خواہش ہوتی اور دل میں کسی بات کے آتے بالآخر وہ خیال نہایت پختہ ہوگیا اور اسی قوت خیالیہ کو یہ الہام سمجھے اگرچہ اس کا نتیجہ بھی یہ ہوا کہ خدا پر افتراء کیا گیا مگر مرزا قادیانی کو فریب خوردہ ہی کہیں گے۔

۲؎

کیسی زبردستی ہے کون کہتا ہے کہ خدا ورسول نے آپ کی پیش گوئی کی آپ کے متکبرانہ خیالات یا انسانی دشمن نے آپ کے دل میں جمادیا ہوگا کہ جناب رسول اﷲa کی پیش گوئی کو اپنی بشارت سمجھیں۔ جب ہزاروں جگہ یہ کہا کہ کلمہ گو کافر نہیں ہے۔ اس وقت یہ بات نہیں سوجھتی تھی۔ اس قسم کی باتیں بناتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو جناب رسول اﷲa کے مثل سمجھتے تھے چونکہ بعض بشارتوں میں جو مخصوص صفات حضور انورa کے بیان ہوئے ہیں۔ مثلا صاحب شریعت ہونا آپ کی شریعت کا سب پر غالب ہونا اس کو مرزا قادیانی اپنی بشارت کہتے ہیں مثلا ہوا لذی ارسل رسولہ بالہدی الخ۔

۳؎

یہ محض آپ کا دروغ ہے آپ کے مخالف کلام خدا کی تکذیب ہرگز نہیں کرتے بلکہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں کیوںکہ جو پیش گوئیاں اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲa کی بیان کی ہیں انہیں آپ اپنی پیش گوئی کہتے ہیں اﷲ ورسول نے تمام کلمہ گو کو مسلمان ٹھہرایا ہے اور آپ بھی اس کا اقرار بہت مرتبہ کرچکے ہیں مگر اب اس کے خلاف کہہ کر خدا ورسول کی تکذیب اور اپنے آپ کو جھوٹا کہتے ہیں۔

۴؎

یہ فرماتے ہیں کہ امت محمدی کے علماء ایک مسلمان کے کافر کہنے سے کافر ہوگئے اور اس کے اعلان کے لئے لمبا اشتہار چاہئے تو جو شخص ۲۳ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنائے وہ کتنا بڑا کافر ہوگا اس کے لئے کس قدر لمبا اشتہار چاہئے۔ اب ہم یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ خیال رکھتے ہیں اور آپ کے (بقیہ حاشیہ ص ۴۴۱ پر)

440

(پھر فرماتے ہیں) (۴) ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں کیوںکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے (پھر فرماتے ہیں) (۵) اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب یا منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے) اس کا نام بھی کافر ہی رکھا اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے پکارتے ہیں۔‘‘

ان عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ جو مرزا قادیانی کو رسول اور نبی نہ مانے وہ کافر ہے خواہ نیک نیتی سے نہ مانتا ہو یا مرزا قادیانی کے مختلف اقوال سے پریشان ہو۔ اتمام حجت اس پر ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ہر صورت میں وہ کافر ہے۔ ناظرین اس پر نظر کریں کہ مرزا قادیانی نے ذرا سی بات کو بہت طول دیا اور مختلف طورسے مکرر سہ کرر مسلمانوں کو کافر بنایا مگر سائل کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ یعنی وہ دریا فت کرتا ہے کہ آپ کے کلام میں تعارض ہے آپ ہزاروں جگہ لکھ چکے ہیں کہ کلمہ گو کسی طرح کافر نہیں ہے۔

پھر لکھتے ہیں جس نے مجھے قبول نہیںکیا وہ کافر ہے۔ بعض تعلیم یافتہ مرزائیوں نے اس کا نتیجہ نہایت خراب دیکھ کر اس حکم کو واپس لینا چاہا اور یہ خیال کیا کہ سب کلمہ گو یکساں مسلمان خیال کئے جائیں، مگر مرزا قادیانی کے صاحبزادے نے بڑے زور سے خلاف کیا اور خلیفۃ المسیح کو بھی اپنے ہمراہ لیا۔ چنانچہ (رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر ۹ بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء ج ۶) میں نہایت زور کے ساتھ اس کی تشریح کی ہے اس کا دیباچہ ملاحظہ ہو :

’’ چند دنوں سے وطن اور المنیر میں حضرت اقدس مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح پر اعتراض کیا گیا ہے کہ آپ نے احمدیوں اور غیر احمد یوں میں ایک ذرا سے فرق پر اختلاف ڈلوادیا اور لکھ دیا کہ ہم میں اصولی فرق ہے اسی طرح پیسہ اخبار میں کسی شوخ چشم نے ایک مضمون دیا ہے کہ امید ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح اس فیصلہ کو واپس لے کر حضرت مرزا قادیانی کے الہامات کو باطل کردیں گے اور ان پر سے کفر کا فتوی واپس لے لیں گے۔

(ص ۴۴۰ کا بقیہ حاشیہ) بارے میں متردد ہیں جب انہیں تردد ہے آپ کو یقینی طور سے سچا نہیں جانتے آپ کے حالات آپ کے اقوال انہیں متردد کررہے ہیں اسی وجہ سے انہیں انکار ہے پھر وہ علماء کی تکفیر کیسے کریں ؟علماء کی تکفیر تو اسی وقت کرسکتے ہیں جب آپ کو یقینی سچا سمجھ لیں۔ اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ جو ہمیں بالیقین سچا سمجھے اسے ہم مسلمان سمجھیں گے باقی سب کافر ہیں۔

441

لیکن تعجب ہے کہ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم لوگ جب حضرت مسیح موعود کو نبی اﷲ مانتے ہیں تو کیوں کر آپ کے فتوے کو۱؎ الہامات کو رد کرسکتے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح تو آپ کے خلیفہ اور آپ کے کاموں کو پورا کرنے والے ہیں۔ آپ کیوں کر آپ کے الہامات کو رد کرسکتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ مامورین اور انبیاء ورسل کی مخالفت کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں۔

تب ہی تو کہتے ہیں کہ حضرت کی مخالفت سے کیوں کر کافر ہوئے یا کم سے کم نیک نیتی سے نہ ماننے والے کیوں کر کافر ہوئے۔ حالانکہ رسول اﷲ کو نہ ماننے والے کیا سب کے سب بدنیت تھے اور کیا سب پر حجت قائم ہوچکی تھی۔ سوئزر لینڈ کے پہاڑوں میں کون تبلیغ کرنے گیا تھا لیکن باوجود اس کے اسلام کی رو سے وہ کافر ہیں۲؎باقی یہ رہا کہ ان کو سزا ملے گی یا نہیں۔ یہ خدا جانتا ہے شریعت کا فتوی تو ظاہر پر ہے۔ اس لئے ہم ان کو کافر کہیں گے۔

پس جب تبت اور سوئزر لینڈ کے باشندے رسول کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود کے نہ ماننے سے کیوں کر مومن ٹھہرسکتے ہیں۔ غرضیکہ یہ خیال بالکل بے ہودہ اور عقل سے بعید تھا اس لئے تردید لازم نظر آئی تاکہ احمدی بھائی دھوکا نہ کھائیں۔

۱؎

تمام مسلمانوں کو یہ حکم دینا کہ سب کے سب مرزا قادیانی کو نبی مانیں اور اگر نہ مانا تو وہ کافر ہیں یہ دونوں حکم تشریعی ہیں اور نہایت اعلی درجہ کے حکم ہیں پھر یہ کہنا کہ نبوت ورسالت حضرت محمد رسول اﷲa پر ختم ہوگئی ہے تمہارے اس عقیدے کے بموجب غلط ہے۔ الغرض تمہارا یہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرات مرزائی آنحضرتa کو خاتم النّبیین نہیں مانتے اب یہ کہہ دینا کہ نبوت تشریعی کا خاتمہ مانتے ہیں عوام کے دھوکا دینے کی غرض سے ہے کیوںکہ مرزا قادیانی کے دو حکم تشریعی تو ابھی دکھائے گئے اور اگر اس پر قناعت نہ کی جائے گی تو اور احکام بھی دکھادیئے جائیں گے۔

یہاں صاحبزادے کا ایسی نبوت کا دعوی کرکے تشریعی اور غیر تشریعی دو قسم کی نبوت بتلانا اور دوسری قسم میں مرزا قادیانی کو داخل کرنا آپ کی کم علمی اور نافہمی ظاہر کرتا ہے ذرا سنبھل کے بیٹھئے اور خلیفہ سے کہئے کہ ثابت کریں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ ثابت نہیں کرسکتے۔

۲؎

اسلام کی رو سے انہیں کافر بنانا جنہیں تبلیغ نہیں پہنچی محض غلط ہے جنہیں تبلیغ نہیں پہنچی اور وہ موحد ہیں وہ کافر نہیں ہیں کیوںکہ جب ان کے کان تک رسالت کی خبر پہنچی نہیں تو وہ منکر کس کے ہوئے اور جب وہ منکر نہ ٹھہرے تو کافر بھی نہ ہوئے خلیفہ صاحب صاحبزادہ اور امتیوں کی بھی اصلاح نہیں کرتے۔

442

لیکن چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کا فتوی بھی ضروری تھا اس لئے یہ مضمون بتمام وکمال دکھایا گیا، اور آپ نے تحریر فرمایا ہے کہمجھے اس مضمون سے مخالفت نہیں اور ہرگز مخالفت نہیں اور تحریر فرمایا ہے کہ اسے چھاپ دو اسے عام مخلوق کی ہدایت کے لئے شائع کرتا ہوں :’’ احمدی بھائیوں کو چاہئے کہ اس کی خوب اشاعت کریں اور یہ مضمون دوسرے دوستوں کو جاکر سنائیں کیوں کہ غیر احمدی اس وقت پورے زور۱؎سے ہم کو اپنے اندر ملانا چاہتے ہیں اور جب حضرت کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان ہی رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت۲؎ کا فائدہ ہی کیا ہوا ؟ خاکسار مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعود ۔‘‘

اس کے بعد پورے رسالہ میں (جو ۳۷ صفحہ کا ہے) اس مضمون کو مفصل لکھا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے چاہے منکر ہو یا متردد اتمام حجت ہوا ہو یا نہ ہوا ہو بہر صورت کافر ہے اور مرزائیوں کو اس عقیدہ پر رہنا چاہئے اور خلیفۃ المسیح کا بھی یہی حکم ہے۔ پس کسی شخص کو حق نہیں ہے کہ اس میں کچھ چوں وچرا کرسکے۔

برادران اسلام ! اب تو آپ کو پورا یقین ہوا کہ چودہویں صدی کے مسیح نے کیا کیا ؟

دنیا میں ان کے آنے سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا ؟ بھائیو عبرت کی نگاہ سے دیکھو جنہوں نے ۲۳ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنادیا اسلام سے خارج کردیا۔

۱؎

عام طور سے ایسا کہنا محض غلط ہے البتہ اکثر کا یہ خیال ہوسکتا ہے کہ جماعت مرزائیہ ہم سے علیحدہ نہ ہو اور کفریہ عقیدے کو چھوڑ کر مسلمانوں میں مل جائے۔ یہ ایک خیر خواہانہ خیال ہے ورنہ آپ اور آپ کی جماعت کوئی چیز نہیں ہے جن کے ملانے کا خیال کیا جائے جس طرح سید محمد جونپوری اور علی محمد بابی کی جماعت ہے ویسے کسی مرزا قادیانی کی بھی ایک جماعت ہوئی اس سے زیادہ کوئی وقعت نہیں ہے۔

۲؎

یہ کلام نہایت صفائی سے ظاہر کررہا ہے کہ مسیح موعود کا آنا صرف اور صرف یہ ہے کہ اس کے نہ ماننے والے کافر قرار پائیں ان کی بعثت کا اور کوئی فائدہ نہیں ہے جنت میں جگہ کی تنگی تھی اور جہنم میں جگہ خالی تھی اس لئے مرزا قادیانی بھیجے گئے کہ بالفعل ۲۳ کروڑ مسلمان جو جنت کے مستحق ہوچکے ہیں ان میںسے نہایت قلیل جماعت کو علیحدہ کرکے سب کو جہنم میں بھیج دیں اور آئندہ جو مسلمان پیدا ہوں گے اور ہوتے رہیں گے اور خدا کے فضل سے امید ہے کہ وہ سب مرزا کے دعوے کے منکر ہوں گے انہیں مرزا قادیانی کے خلفاء جہنم میں بھیجتے رہیں گے مرزائی حضرات فرمائیں کہ اس کلام کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔

443

دوزخ کا مستحق ٹھہرادیا اور غضب ہے کسی کافر کو مسلمان نہیں بنایا۔ وہ اپنے کو رسول خدا مامور من اﷲ سمجھتے ہیں اور مسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں۔ تیرہ سوبرس سے جن کے آنے کا انتظار تمام امت محمدیہ کررہی ہے تمام علماء اور اولیاء کرام جن کے قدوم کے منتظر رہے وہ یہی مسیح تھے جنہوں نے دنیا کو کافربنادیا،اور کسی کافر کو مسلمان نہ بنایا۔ علمائے امت اور اولیاء امت محمدیہ جن کے آنے کا سینکڑوں برس سے انتظار کررہے ہوں نہایت بدیہی بات ہے کہ ایسے سخت انتظار کی وجہ یہی ہے کہ ان کی ذات مقدس سے اسلام کو اور مسلمانوں کو بہت کچھ فائدہ ہوگا مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت ان کے آنے سے نہایت عمدہ ہوجائے گی مگر مرزا قاد یانی کی ذات سے تو معاملہ بالکل برعکس ہوگیا مسلمانوں کی ہر طرح کی حالت نہایت خراب ہوگئی بالآخر سب کو انہوں نے کافر ہی کردیا۔

یہ نہایت بدیہی ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے۔ بھائیو ! غور کرو جب حضرت مسیح کے آنے کی جو علامتیں تھیں ان میں سے کسی کا ظہور نہ ہوا بلکہ اس کے برعکس یہ ظاہر ہوا کہ ان کے قول کے بموجب دنیا گویا اسلام سے خالی ہوگئی اور کسی جماعت کی نہ دینی حالت درست ہوئی نہ دنیاوی۔ پھر وہ مسیح موعود کیوں کر ہوسکتے ہیں۔ جماعت مرزائیہ کے جو حضرات دیکھے جاتے ہیں ان کی صورت اور حالت سے اسلام کو عبرت ہوتی ہے کہ ایسے لوگ مسلمان کہلائیں اور ایک نبی کے صحابی یا تابعی ہونے کے مدعی ہوں۔ افسوس اب ان کے صاحبزادے اور ان کے خلیفہ ۲۳ کروڑ مسلمانوں کو نہایت زور سے کافر بنارہے ہیں اس لئے میں ان سے یہ کہتا ہوں میاں صاحبزادے مرزا قادیانی کا یہ فتوی اور تمہارا یہ اصرار آفتاب کی طرح روشن کررہا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے اور بموجب نصوص قطعیہ قرآنیہ اور احادیث صحیحہ نبویہ کے یہ تمام کلمہ گو مسلمان ہیں اس لئے ہر ایک مسلمان ان کے اس کفر کے تحفہ کو واپس کرتا ہے اب بقول مرزا قادیانی وہی اس کے مستحق ہیں۔ مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور ان کے خلیفہ اس واپس شدہ تحفہ کو باہم تقسیم کرلیں اور اگر اپنے خاص متبعین کو بھی کچھ حصہ دیں تو مناسب ہے اﷲ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی جماعت کو ہدایت کرے اور راہ مستقیم پر لائے۔ آمین!

وآخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العلمین

راقم خیر خواہ امت محمدیہ … ابو احمد رحمانی غفر لہ !

444

معیار المسیح

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

445

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعریف کے لائق وہی ذات مقدس ہے جس نے انسان کو بھلائی اور برائی معلوم کرنے کے لئے سمجھ عنایت کی اور جس نے ہدایت کے لئے اپنے نبی بھیجے ان کے سردار حضرت محمد رسول اﷲa ہیں جن کے اوپر کمالات کا خاتمہ کردیا اور فرمادیا کہ کہ وہ خاتم النّبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس وقت میں مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کا دعوی کیا اور اپنی صداقت کا بڑا معیار اپنی پیش گوئیوں کو ٹھہرایا مگر ان کا غلط ہونا متعدد رسالوں اور بہت تحریروں سے اظہر من الشمس ہوگیا اور اس وقت تک کسی تحریر کا معقول جواب نہ مرزا قادیانی نے دیا نہ ان کے کسی معین ومددگار سے ہوسکا صرف مونگیر کے مناظرہ میں اوراس کے بعد جو مختصر تحریریں شائع ہوئیں ان کا بھی جواب اس وقت تک نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے۔

البتہ بعض آیتیں قرآن مجید کی مرزا کی صداقت میں پیش کی ہیں اور اپنے خیال میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ آیتیں ان کے سچے ہونے کی دلیل ہیں مرزا قادیانی نے بھی اپنے رسالوں میں ان آیتوں کو پیش کیا ہے مگر چونکہ ان آیتوں سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنا نہایت کم عقلی اور نافہمی ہے بلکہ آئندہ معلوم ہوجائے گا کہ ان میں کئی آیتیں ایسی ہیں کہ ان سے مرزا قادیانی کا مفتری ہونا ثابت ہوتا ہے اس لئے ہمارے علماء نے انہیں لائق جواب نہیں سمجھا۔ اس کے علاوہ دو وجہیں اور بھی ہوئیں جس سے اہل علم کو بے توجہی رہی۔

اول: یہ کہ مرزا قادیانی کی صداقت کا جو بڑامعیار تھا یعنی پیش گوئیاں جب ان کے غلط ہوجانے سے ان کا کذب بخوبی ظاہر ہوگیا تو ہر مسلمان کو اس کا یقین کرنا چاہئے کہ قرآن مجید سے ان کی سچائی ثابت نہیں ہوسکتی کیوں کہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے اور کلام خدا سے جھوٹے کی سچائی ثابت نہیں ہوسکتی اور جو آیتیں اس مدعا میں پیش کی جاتی ہیں اس سے مقصود یا تو دھوکا دینا ہے یا پیش کرنے والے قرآن مجید کے مطالب سے محض ناواقف ہیں اور ان کی غلطی اور نافہمی ایسی ظاہر ہے کہ کسی فہمیدہ کو اس میں شبہ نہیں ہوسکتا۔ دوسری وجہ بے توجہی کی یہ ہے کہ آیتوں کی تفسیر کرنے میں کچھ نہ کچھ علمی بحث ضرور آئے گی اور عوام کو اور کم علم حضرات کو فائدہ نہ پہنچے گا۔ اور اگر ہوگا تو بہت کم اس لئے انہوں نے اس طرف توجہ نہ کی صرف پیش گوئیوں کی حالت کو ظاہر کرنا مناسب سمجھا۔ چنانچہ اس وقت بھی ایک رسالہ فیصلہ آسمانی لکھا گیا ہے جس سے مرزا کے

446

تمام دلائل باطل ہوجاتے ہیں اور امر حق آفتاب کی طرح چمکنے لگتا ہے مگر اسی کے لئے جس کو طلب حق ہو۔ یکطرفہ فیصلہ کرکے محض نکتہ چینی کی نظر سے نہ دیکھے بلکہ خالی الذہن ہوکر انصاف کو پیش نظر رکھے مگر اب جماعت مرزائیہ کی خیر خواہی کا آخری درجہ یہ ہے کہ ان کے دلائل قرآنی کی حالت بھی روشن کی جائے اس لئے میں اس وقت مجملًا جواب دینا چاہتا ہوں پھر کسی وقت مفصل جواب دیا جائے گااگر مشیت الٰہی میں ہے۔ ان دنوں مناظرہ مونگیر کی کیفیت میں جماعت مرزائیہ نے چند آیتیں لکھی ہیں اگرچہ ان میں اکثر آیتیں تو ایسی ہیں کہ ان سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنا اہل علم کے لئے ایک مضحکہ ہے مگر عوام تو یہی سمجھتے ہیں کہ اتنی آیتوں سے مرزا قادیانی کے دعوے کی صداقت ثابت کی گئی ہے اور کسی نے جواب نہیں دیا اس لئے لکھا جاتا ہے۔

(۱) ’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ۔اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ‘‘ (الانعام:۲۱)

اس سے بڑھ کر خدا کے دربار میں کوئی ظالم نہیں جس نے اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھا یا اس کی نشانیوں کو اور اس کے احکام کو جھٹلایا اسے یقین کرلو کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ خدا پر افتراء کرنے والے اور اس کی آیتوں کو جھٹلانے والے ظالم ہیں اور ظالم فلاح نہیں پاتے نامراد رہتے ہیں۔ اس آیت کو جماعت مرزائیہ مفتری کا معیار قراردیتی ہے یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتری کون ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس معیار سے تو مرزا قادیانی سچے نہیں ٹھہرتے بلکہ مفتری ثابت ہوتے ہیں کیوںکہ جو اس دنیا میں فائزالمرام نہ ہوا اور اپنے مراد کو نہ پہنچے وہ ان کے نزدیک مفتری ہے۔ ہر شخص کا مدعا اور اس کی مراد اس کے خیال کے مطابق ہوتی ہے انبیاء کی مراد اصلی یہی ہوتی ہے کہ اعلاء کلمۃ اﷲ ہو دین الٰہی کی اشاعت ہو منکرین دین اسلام قبول کریں اور ان کی حالت دینی اور دنیاوی کی اصلاح ہو۔ اگر مرزا قادیانی نبی تھے تو ان کا مقصود یہی ہونا چاہئے رسالہ البدر مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ ء میں مرزا قادیانی کا یہ قول ہے کہ :

’’ میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں یہی ہے کہ عیسی پرستی کے ستون کو توڑدوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں۔ ‘‘

اس قول سے ان کی مراد بخوبی ظاہر ہوگئی۔ مگر اب آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوگیا کہ اس میں بالکل ناکام رہے۔ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنا تو بہت مشکل تھا ان سے تو دو چار عیسیٰ

447

پرست مسلمان نہ ہوسکے ان سے تو دہریہ بہت زیادہ بامراد رہے، کیونکہ انہوں نے بہت عیسیٰ پرستوں کو دہریہ کرلیا۔ اب عیسائیوں کے سوا دنیا کے اور مذاہب پر نظر کی جائے، اس کا بھی یہی حال ہے، ان کی وجہ سے کوئی آریہ مسلمان نہیں ہوا، کسی مشرک نے ان کے ہاتھ پر توبہ نہیں کی، کوئی برہم سماج ان پر ایمان نہیں لایا اور مسلمان نہیں ہوا۔ البتہ ۲۳ کروڑ مسلمان کافر ہوگئے۔ (اخبار)وطن لاہور نمبر ۱ ج ۱۲ مشتہرہ ۱۲ جنوری ۱۹۱۲ء میں یہ تعداد لکھی ہے۔ کیوںکہ جب تک انہوں نے نبوت کا دعوی نہیں کیا تھا اس وقت یہی تعداد مسلمانوں کی مردم شماری میں تھی۔ ان کے دعویٔ نبوت کے بعد کوئی کافر ان پر ایمان نہیں لایا،بلکہ ان ۲۳ کروڑ مسلمانوں میں سے بعض نے انہیں مانا۔ اب ان کی تعداد چار لاکھ یا کچھ کم وبیش بتائی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے سوا سب کافر ہیں کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو پہلے منکر اور کافر تھے وہ بدستور کافر رہے یہ جو ۲۳ کروڑ مسلمان تھے یہ سب کافر ہوگئے صرف چار لاکھ مسلمان رہے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کی ذات سے اسلام کا گویا خاتمہ ہوگیا۔ الغرض جو مراد ان کے دعویٰ کے لئے ہونا چاہئے اس میں وہ نامراد ہی نہیںرہے بلکہ ان کے مراد کے بالکل برعکس ہوگیا یعنی اسلام کی ترقی کی جگہ اس قدر تنزل ہوگیا کہ بہ نسبت سابق کے گویا نہیں رہا۔

نبی کی دوسری مراد مسلمانوں کی اصلاح اور دینی اور دنیاوی ترقی ہوتی ہے، اس کی حالت بھی ظاہر ہے کہ ہر طرح کا تنزل ہے۔ اور ان کے دعوے کے وقت سے اس وقت تک اگر نظر کو وسیع کرکے دیکھا جائے تو ہر حالت میں تنزل نظر آئے گا۔ جو ان پر ایمان لائے ہیں اس میں دیکھا جائے تو بجز نزاع اور جھگڑے اور جھوٹ کے کچھ نظر نہیں آتا ان کی ساری عبادت اور صلاح وتقوی یہ ہے کہ حضرت مسیح کی موت وحیات پر کچھ باتیں یاد ہیں اسی کی مشق کیا کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی تعریف۔ غرضیکہ اس مقصد میں بھی مرزا قادیانی نامراد رہے اور مفتری کی علامت جو مذکورہ آیت میں بیان ہوئی ہے وہ ان میں کامل طور سے پائی گئی اس لئے ان کا مفتری ہونا اس آیت سے ثابت ہوا۔ حضرات مرزائی نے اس آیت کے بیان میں مرزا قادیانی کو مفتری فرض کرکے ان کی مراد صرف وجاہت دنیاوی اور شہرت پسندی بیان کی ہے وہ محض کوتاہ نظری یا ملمع سازی ہے کیوںکہ جب مفتری مانے گئے اور مفتری بھی وہ خدائے تعالیٰ پر افتراء کریں تو نہایت اعلی درجہ کے بلند حوصلہ دنیا دار ٹھہرے پھر ایسے لوگوں کے مقاصد اصلیہ اور فرعیہ کی تعیین کیوں کر ہو سکتی ہے ان کی عمر میں کتنی دلی تمنائیں انہیں ہوتی ہیں وہی جانتے ہیں دوسرا

448

کسی قدر ان کی حالت وواقعات سے کچھ معلوم کرسکتا ہے پوری واقفیت نہیں ہوسکتی پھر کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مرادوں میں کامیاب ہوئے۔ چند باتیں جو مجھے معلوم ہیں جن میں وہ ناکام ونامراد رہے یہ ہیں:

(۱) براہین احمد یہ کی تکمیل باوجود پختہ وعدوں کے نہ کرسکے اور غالبا تیس برس تک زندہ رہے۔(۲) قرآن مجید کی تفسیر نہیں کرسکے۔(۳) منارہ پورا نہ بنواسکے۔ (۴) اشاعت اسلام جو ان کا خاص مقصد تھا وہ کچھ بھی نہ ہوا۔(۵) تثلیث پرستی مٹانا انہوں نے خاص اپنا کام بتایا تھا وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔(۶) منکوحۂ آسمانی کے نکاح میں آنے کی کیسی انہیں تمنا رہی مگر یہ مراد ان کی پوری نہ ہوئی۔(۷) اپنے سامنے اس کے شوہر کے مرجانے کی خواہش ۱؎ کس قدر انہیں تھی مگر وہ نہ مرا اور اس وجہ سے وہ صرف نامراد ہی نہیں ہے بلکہ تمام دنیا کے نزدیک جھوٹے ٹھہرے۔ کیوںکہ اس کے مرنے کی پیش گوئی انہوں نے کی تھی اور اسے اپنی صداقت کا معیار بتایا تھا۔(۸) ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے اپنے سامنے مرنے کی ضرور انہیں آروزو تھی کیوںکہ اپنے سامنے ان کے مرنے کی پیش گوئی کی تھی اور ان کے سامنے اپنے مرجانے کو نہایت عار اور خلاف مرضی خداوندی بتایا تھا۔ (ان کا اعلان تبصرہ ملاحظہ ہو مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۹، ۵۹۱ ) (۹)مولوی ثناء اﷲ صاحب کی موت بھی ان کی خاص مراد تھی ن کا آخری فیصلہ مولوی صا حب کے باب میں دیکھا جائے۔ (مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۸ ) ان کے سوا اور بھی ان کی مرادیں ہیں جن میں وہ نامراد رہے مگر سب کے بیان میں طوالت ہے۔

اب جاہ وشہرت کی نسبت جو کہا گیا یہ مراد ان کی پوری ہوئی یہ بھی غلطی ہے کیوںکہ جاہ اور قبولیت کے مراتب ہیں اور ہر شخص اپنے حوصلہ کے موافق اس کی خواہش کرتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اس امر میں بڑے عالی حوصلہ تھے ان کی مراد اور ان کا حوصلہ یہ تھا کہ دنیا بھر کے عیسائی اور ہندو اور مسلمان سب میرے حلقہ بگوش ہوجائیں اور سب میرا کلمہ پڑھنے لگیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا جن کے منتظر عیسائی اور مسلمان دونوں تھے اس سے معلوم ہوا کہ دونوں گروہ کو اپنا مطیع بنانا ان کا مقصود تھا پھر انہوں نے کرشن ہونے کا دعوی کیا اور ہنود کے اوتاروں کو سچا بتاکر انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا اور پیغام

۱؎

یہ خواہش اس لئے تھی کہ اس کے مرنے کے بعد کسی تدبیر سے اس کی بیوی میرے نکاح میں آوے

449

صلح شائع کیا اس سے ظاہر ہوا کہ تینوں گروہوں کو اپنا مطیع بنانا ان کا مقصود تھا۔ اخبارات اور اشتہارات انگریزی میں اردو میں اپنے دعوی اور اپنی تعریف میں اس قدر شائع کئے کہ انتہا نہ رہی اس سے ان کا مقصود بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔ جب ان کی یہ مراد ٹھہری کہ تمام دنیا کے آدمی ان کے مطیع ہوجائیں اور قبولیت کے ساتھ ان کی شہرت ساری دنیا میں ہو تو اگر دوچار لاکھ ان کے مرید ہوگئے تو اس کہنے میں کیا تامل ہوسکتا ہے کہ اس مراد میں بھی وہ نامراد رہے۔ جس قدر ان کے مرید ہوئے اس کی مثال ایسی سمجھنا چاہئے کہ کسی کو لاکھ روپئے کی خواہش ہو اور اسے دس بیس روپیہ مل جائے اب ظاہر ہے کہ اس قدر مل جانے سے وہ بامراد نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اہل بصیرت غور کریں کہ دعوے کے بعد مرزا قادیانی پچیس چھبیس برس تک زندہ رہے اور بہت ہی کوشش کے اتھ اپنے دعوے کی صداقت ظاہر کرتے رہے مگر اتنی مدت میں کوئی غیر مذہب والا ان پر ایمان نہیں لایا اب انہیں مرے ہوئے کئی برس ہو گئے ان کے خلیفہ اور ان کے مریدین موجود ہیں اور انہیں یہی فکر رہتی ہے مگر اس وقت تک کوئی عیسائی یا ہندو ان کی جماعت میں داخل نہیں ہوا پھر کس بنیاد پر یہ دعویٰ ہوسکتا ہے کہ آئندہ داخل ہوں گے اور مراد پوری ہوگی جناب رسول اﷲa نے جب دعویٰ کیا تو اسی وقت مشرکین اور یہود ونصاری جماعت اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے تھے اور آپa کے بعد خلفاء راشدین کے عہد میں ہرگروہ کے لوگ ایمان لاتے گئے۔ یہاں تو اس وقت تک اس کا ظہور کچھ بھی نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی کو اگر مانا تو بعض مسلمانوں نے مانا اس قیاس پر اگر آئندہ امید ہوسکتی ہے تو یہی کہ کچھ مسلمان اور انہیں مانیں کسی دوسرے گروہ کے ماننے کی امید نہیں ہوسکتی جیسے سید محمد جونپوری نے مہدویت کا دعوی کیا تھا انہیں بعض مسلمانوں نے مانا اور اب تک ان کے ماننے والے موجود ہیں اس لئے عقل اور تجربہ کامل شہادت دیتا ہے کہ ان کے مراد کے پورا ہونے کی امید کسی طرح نہیں ہوسکتی۔

ایک نہایت نازک اور باریک وجہ ناامیدی کی یہ ہے کہ کلمۃ اﷲ کا اعلاء اور دین حقہ کی ترقی انہیں سے ہوسکتی ہے جن کے قلب صلاح وتقوی کے نور سے ایسے منور ہوں کہ ان کے چہروں سے اس کی شعائیں نظر آتی ہوں اور ’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْھِھِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ‘‘(الفتح:۲۹) کے مصداق ہوں ان کے اثر قلبی سے مخلوق کے دل ان کی طرف کھنچے جاتے ہوں جماعت مرزائیہ میں تو اس کا نشان نظر نہیں آتا جس کو دیکھو جھوٹ اور فریب اور نزاع اور جھگڑے میں مصروف ہے شاذ ونادر کا ذکر نہیں ہے جو محض ناواقفی اور ناتجربہ کاری سے اس

450

میں شامل ہوگئے ہیں ایسی جماعت سے دین حقہ کی ترقی ہرگز نہیں ہوسکتی تھی جو کچھ آئندہ امید ہوسکتی ہے وہ اسی قدر کہ جس طرح رافضی خارجی مہدوی وغیرہ فرقے ہوئے اس میں کوئی مسلمان داخل ہوتا ہے کوئی خارج ہوتا ہے وہی یہاں بھی ہوگا رافضی خار جی کی مثال ہونا بھی عقل سلیم قبول نہیں کرتی۔

الحاصل ان کا نامراد ہونا ہر طرح ظاہر ہے اب اس کہنے میں کسی طرح تامل نہیں ہوسکتا کہ جماعت مرزائیہ جو مطلب آیت کا بیان کررہی ہے اس کے مطابق مرزا قادیانی اس کے مصداق ٹھہرتے ہیں ان کے مخالفین کو نامراد کہنامحض بے عقلی ہے کیوںکہ مخالف کی بڑی مراد یہی ہوتی ہے کہ ہمارا فریق مخالف نامراد رہے اور اس کا ظہور ہوگیا پھر ان کی کامیابی میں کیا شبہ ہے۔ اب اگر اس کی تفصیل کسی قدر کی جائے تو اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے مخالف عموماً عیسائی اورخصوصاً پادری اور آریہ اور عام مسلمان اور بالخصوص وہ اہل علم جو ان کے مقابل ہوئے ان میں عیسائی اور آریہ تو ظاہر طور سے فائزالمرام ہورہے ہیں، ان کی ثروت کو ان کی دنیاوی عزت وجاہ کو ان کے مذہب کو ترقی ہورہی ہے۔ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ دیانند سرسوتی کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اب اس کی جماعت جو آریہ کہلاتی ہے کس قدر اس کو فروغ ہے، غضب یہ ہے کہ بعض مسلمان آریہ ہوگئے مسلمانوں کی حالت اس وقت نازک ہورہی ہے وہ اپنے فرائض سے بالکل غافل ہورہے ہیں۔ انہیں اس پر توجہ ہی نہیں کہ مرزا قادیانی کیا کررہے ہیں پھر ان کی کوئی مراد ٹھہرانا نادانی ہے جس سے انہیں نامراد کہا جائے البتہ بہت مسلمانوں کو یہ کہتے سنا کہ یہ لوگ محض بے حقیقت ہیں ان کی طرف توجہ کرنا ہی فضول ہے۔ چند حضرات جو ان کی طرف متوجہ ہیں وہ سابق کے کامیابی کے عام کامیابی میں تو سب کے شریک ہی ہیں اس کے سوا ان کی یہی کامیابی ہے کہ ان کی تحریروں کا جواب نہ مرز ا قادیانی نے دیا نہ ان کے کسی مرید نے۔ ان کے لئے بددعا کی گئی وہ بھی قبول نہ ہوئی۔

اے حضرات ! میں نے اپنے فہم کے مطابق کامیابی کی حالت بیان کردی اب آپ کی حالت اس سے زیادہ تحقیق بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی مگر اسے خوب سمجھ لیجئے کہ دنیا میں کامیابیاں بہت مفتریوں کو ہوئی ہیں اور اس وقت بھی ہورہی ہیں اس کو صداقت کی دلیل ٹھہرانا اور قرآن شریف سے اسے ثابت کرنا خدا کے کلام پر الزام لگانا ہے۔ قرآن شریف کی کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا جسے آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر الحمدﷲ اب تو ظاہر ہوگیا کہ جو آیت

451

آپ نے مفتری کی شناخت میں پیش کی تھی اس سے مرزا قادیانی کی شناخت ہوگئی اور آپ کو روشن کرکے دکھادیا اب سچائی کو ماننا آپ کا کام ہے۔

۲… ’’وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی‘‘(طٰہٰ:۶۱)جس نے خدا پر افتراء کیا وہ نامراد رہا۔

اس آیت کا مطلب تو وہی ہے جو پہلی آیت میں بیان ہولیا ہے اس لئے یہ آیت بھی ہمارے مدعا کو ثابت کرتی ہے۔ یعنی جب مرزا قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور نامراد رہے تو آپ ہی کے خیال کے بموجب افتراء کا الزام ان پر صحیح ہوا۔ مگر اس آیت میں مجھے کچھ اور کہنا ہے جس سے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی دیانت اور واقفیت کا اظہار اہل نظر پر ہو۔ اس آیت سے مرزا قادیانی نے بھی استدلال کیا ہے اور مونگیر کی جماعت بھی کررہی ہے مگر پوری آیت کسی نے نہیں لکھی ایک ٹکڑا لکھا جاتا ہے طالبین پوری آیت کو ملاحظہ کرکے اس کے مطلب میں غور کریں آیت یہ ہے :

’’قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰی وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ۔وَقَدْخَابَ مَنِ افْتَرٰی‘‘ (طٰہٰ: ۲۱)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے جس وقت فرعون نے جادو گروں اور اپنے درباریوں اور رعایا کا مجمع کیا اس وقت حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون سے اور تمام حاضرین جلسہ سے فرمایا کہ تمہاری حالت پر افسوس ہے تم خدا پر افتراء نہ کرو ( اگر ایسا کروگے) تو اﷲ تعالی تمہیں ہلاک کردے گا اور یقین کرلو کہ جس نے خدا پر افتراء کیا وہ نامراد رہا۔

بھائیو ! اب غور کرو کہ اس آیت میں فرعون سے خطاب ہوا ہے اور اسے مفتری کہا ہے اور ڈرایا ہے کہ مفتری نامراد اور ناکام رہتا ہے جس طرح پہلی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ مفتری فلاح نہیں پاتا یعنی فائزالمرام نہیں ہوتا اسی طرح یہاں کہا گیا۔ اب یہ بات قابل غور ہے کہ فرعون نے کچھ کم چار سو برس تک بادشاہت کی اور سلطنت کے ساتھ خدائی بھی کرتا رہا اور اس عیش سے زندگی بسر کی اس زمانہ دراز میں ایک روز اسے بخار تک نہیں آیا صاحب بدائع الزہوراس کے حال میں لکھتے ہیں :

’’عاش فرعون اربعمائتہ سنۃ وہو منفرد بملک مصرہ یری فی ہذہ المدۃ مکروہا ولا حم فی جسدہ یوما لم یزل فخولا فی النعمۃ ‘‘

(بدائع الزہور فی احوال الدہور)

452

فرعون چار سو برس تک زندہ رہا اور اس قدر دراز مدت تک تمام ملک مصر پر تنہا بادشاہت کرتا رہا کوئی اس کا سہیم وشریک نہیں ہوا اور نہ اس مدت میں کوئی بات اس کے خلاف مرضی پیش آئی یہاں تک کہ ایک دن اسے بخار بھی نہیں آیا اور ہمیشہ ناز نعم میں حکمراں رہا۔

اس فرعون سے اور اس کے ماننے والوں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا پر افتراء نہ کرو۔ خدا پر افتراء کرنے والا کامیاب نہیں ہوتا نامراد رہتا ہے اب جس کو اﷲ تعالیٰ نے چشم بصیرت عنایت کی ہے اور حقانیت کی اسے طلب ہے وہ غور کرے کہ وہ بادشاہ جس نے چار سو برس کی عمر پائی اور ایسے عیش وکامرانی سے بادشاہت کرتا رہا جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اسے اﷲ تعالی نامراد فرماتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی نہایت تھوڑی سی عمر میں اگر قورما پلاؤ کھاتے رہے اور بالفرض دوچار لاکھ ان کے ماننے والے بھی ہوگئے تو وہ اتنے میں بامراد اور مدح پانے والے ہوگئے، ایسے فہم پر نہایت افسوس ہے۔ اس پر بھی نظر رہے کہ فرعون نے بادشاہت کے ساتھ خدائی بھی کی اور اس دراز مدت تک اس کے سر میں درد تک نہ ہوا اور اگر غور کرو تو مرتے دم تک اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی یعنی کسی ایسے مرض میں نہیں مبتلا ہوا جس سے تکلیف پہنچے، دریا میں ڈوب گیا تھوڑی دیر میں جان نکل گئی ہوگی۔ مرزا قادیانی ہمیشہ اپنی بیماری اور تفکرات کی شکایت ہی کرتے رہے اور اس پر اپنے آپ کو بامراد سمجھتے ہیں اور یہ سبز باغ دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں۔

بھائیو ! ہوشیار رہو اور علم وفہم سے کام لو ہمارے بیان سے ظاہر ہوگیا کہ اﷲ تعالی کے نزدیک دنیا کی کامیابی کوئی چیز نہیں ہے دنیاوی زندگی میں اگر کوئی ہر طرح اپنے مراد کو پہنچ جائے تو وہ بامراد نہیں ہوسکتا، بامراد وہی ہے جو اس عالم میں ایمان اور تقوی سے آراستہ ہوکر اپنی جاودانی زندگانی میں بامراد اور کامران رہے۔ ارشاد خداوندی اولئک ہم المفلحون اس کا شاہد ہے اگر ذرا تامل کروگے تو اس مثال سے بخوبی سمجھ سکتے ہو کہ اگر کسی کی سو یا دو سو برس کی عمر ہو اور اسے ایک ہفتہ کے لئے دنیا کی بادشاہت مل جائے اس کے بعد وہ تخت سے اتار دیا جائے تو تمام عمر اس پر جو تیاں پڑتی رہیں اور ہر قسم کی تکلیف میں وہ مبتلا رہے تو اس ایک ہفتہ کی بادشاہت سے اسے بامراد اور کامران کہیں گے۔ بھائیو ! غور سے جواب دو۔ بجز اس کے آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اسے بامراد ہرگز نہیں کہیں گے۔ بس یہی حالت تمام دنیاوی زندگانی کی ہے

453

اس جاودانی زندگانی کے سامنے بلکہ اس سے بھی نہایت کم، ایک ہفتہ کو تو سو برس سے کچھ نسبت ہوسکتی ہے مگر سو برس کے ابد الآباد یعنی دائمی زندگی سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی۔

اب مرزا قادیانی کی حالت کو سمجھ لو اور ا س پر غور کرو کہ وہ اس مدت تک اس آیت کو اپنی صداقت میں پیش کرتے رہے مگر پوری آیت کو پیش نہ کیا تاکہ یہ حالت کھلتی جو اوپر بیان کی گئی۔ اب ان کے مریدین بھی نہیں دیکھتے اور وہی ایک جملہ کو پیش کررہے ہیں اس میں بعض اہل علم بھی ہیں وہ بھی نہیں دیکھتے افسوس ہے۔

۳…’’وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ۔لَاخَذْنَا مِنْہٗ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ‘‘ (الحاقہ:۴۴ تا ۴۶)

اﷲ تعالیٰ اپنے رسول برحق کی نسبت فرماتا ہے کہ اگر یہ رسول ہم پر کچھ بھی افتراء کرتا تو ہم اسے مضبوط پکڑتے اور اس کے دل کی رگ کو کاٹ دیتے۔

اس آیت کی تفسیر فیصلہ آسمانی کے دوسرے حصہ میں تفصیل سے کی گئی ہے اور مرزا قادیانی کی غلطیاں دکھائی گئی ہیں اور نہایت قوی دلائل سے ثابت کردیا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو اس کا مطلب بیان کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ یہاں مختصرا کچھ لکھا جاتا ہے مگر اس سے آگاہ کرنا ضرور ہے کہ مناظرہ مونگیر میں اس آیت کو مفتری کی علامت قراردیا ہے اور اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ : ’’ اگر کوئی ہمارے اوپر ایسی باتیں گھڑے جو ہم نے اسے نہیں بتائیں ہم اپنے زبردست ہاتھ کے ساتھ اسے روکتے اور اس کے رگ جان کو کاٹ دیتے ہیں ۔‘‘

یہ ترجمہ یہود یانہ تحریف ہے۔ قرآن مقدس میں کوئی جملہ ایسا نہیں ہے جس کے معنی میں ایسا عموم ہو جیسا اس ترجمہ کے پہلے جملے میں ہے اگر یہ ترجمہ صحیح ہو تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جو ہم پر افتراء کرتا ہے ہم اسے ہلاک کردیتے ہیں یعنی مفتری کی یہ علامت ہے یہ مطلب کئی وجہ سے غلط ہے۔

پہلی وجہ: بہت مفتری گذرچکے ہیں جنہوں نے مہدی ہونے کا نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور عرصہ دراز تک وہ کامیاب رہے یہاں تک کہ بادشاہ ہوگئے اور ان کی اولاد میں سینکڑوں برس تک بادشاہی رہی ہے۔ مرزا نے انجام آتھم میں لکھ دیا ہے کہ ہم کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی یہ ان کی سخت غلطی ہے ہم بہت نظیریں اس کی پیش کرسکتے ہیں۔ اس مختصر رسالے میں صرف تین نظیریں لکھی جاتی ہیں۔

454

(۱) محمد بن تومرت

یہ بہت بڑا ذی علم اور صلاح وتقویٰ میں مشہور تھا مگر جب اس کی عمدہ حالت سے عزت وجاہ اس کے کمال مرتبہ کو پہنچ گئی تو اس سے دعویٔ مہدویت کے علاوہ وہ باتیں ہوئیں کہ حیرت ہوتی ہے چوتھی صدی کے آخر میں اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض پیش گوئیوں کے پورا ہوجانے سے لوگ اس کے اس قدر پیرو ہوئے۱؎ کہ بادشاہ ہوگیا اور مرتے وقت اپنے خاص مرید عبدالمومن کو اپنا جانشین کرگیا۔ اس نے ۳۳ برس تک بہت زور سے سلطنت کی اور اپنے مرشد کے مذہب کو چمکایا اور اپنی اولاد کو سلطنت چھوڑ گیا۔

(۲) عبیداﷲ علوی

صاحب افریقہ۔ اس نے ۲۹۸ھ میں مہدویت کا دعوی کیا اور افریقہ میں پہنچ کر بادشاہ ہوگیا ور چوبیس برس سے زائد اس نے مہدویت اور سلطنت کی اور اپنی اولاد کے لئے سلطنت چھوڑ گیا۔

(۳) صالح بن طریف

اس نے دوسری صدی ۱۲۷ھ میں نبوت اور مہدویت کا دعوی کیا اور ۴۷ برس تک نبوت اور سلطنت بڑے زور سے کی۔ سناگیا کہ مرزائی کہتے ہیں کہ دعوی نبوت کیا مگر الہام کا دعوی نہیں کیا ان کی بے علمی اور تعصب پر افسوس ہے اتنا بھی نہیں جانتے کہ نبوت کا دعوی بغیر الہام کے ہونہیں سکتا اور صالح تو بڑے زور سے وحی کا دعوی کرتا تھا کہ اس نے تو یہ دعوی کیا ہے

۱؎

اس کا اندازہ کہ اس کے مریدین کس قدر تھے بخوبی معلوم نہیں ہوسکتا مگر اس حالت سے کچھ اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس کے مریدین کی جب کثرت ہوئی تو اس کو ایسا معلوم ہوا کہ ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ ان کاعقیدہ پختہ نہیں ہوا اس لئے اس نے ایسی تدبیر کی کہ جس قدر ضعیف الاعتقاد تھے وہ سب قتل کردئے گئے ان کی تعداد ستر ہزار تھی، بعض روایت میں بارہ ہزار ہے۔ ہر ایک جدید مدعی کے عقیدت مند پہلے بہت زیادہ اخلاص رکھنے والے ہوتے ہیں جب کثرت زیادہ ہوتی ہے تو ہر قسم کے لوگ ہوئے جاتے ہیں۔ ابن تومرت کے معتقدین کی ایسی کثیر تعداد جس میں ستر ہزار غیر مخلص نکلے، دس برس کے اندر ہوگئے تھے۔ مرزا قادیانی کو یہ نصیب نہیں ہوا اس لئے اکثر وہ آیتیں جو مرزا قادیانی کی صداقت میں پیش ہورہی ہیں اس سے ابن تومرت کی صداقت بھی جماعت مرزائیہ کو ماننا ہوگی۔ کیوںکہ جو تقریر مرزا قادیانی کی صداقت میں مقرر کی جاتی ہے وہی یہاں بھی ہوگی۔

455

کہ وحی کے ذریعہ سے مجھ پر قرآن نازل ہوتا ہے اور اس کی امت اسی قرآن کی سورت میں نماز پڑھتے تھے۔ یہ مدعی ۴۷ برس کے بعد بھی مرا نہیں بلکہ اپنے جانشین کو اپنے مذہب کی اشاعت کی وصیت کرکے کسی طرف چلا گیا ۲۲۴ھ میں اس کا پوتا تخت نشین ہوا اس نے اپنے دادا کی وصیت پر پورا عمل کیا اور اس کے مذہب کو بہت کچھ فروغ دیا اور منکروںکو تہہ تیغ کیا چوالیس برس اس کی حکومت رہی۔ پھر اس کا بیٹا یعنی صالح کا پوتا تخت نشین ہوا اور ۲۹ برس سلطنت کی اور اپنے دادا صالح کے مذہب کی اشاعت کرتا رہا۔

اس کے بعد اس کا بیٹا ابوالانصار ۲۹۷ھ میں باشاہ ہوا اس نے بڑے شوکت وعظمت سے چوالیس برس حکومت کی اس وقت کے خلفاء اسلامیہ اس سے ڈرتے تھے۔

الحاصل: ۱۲۷ھ سے لے کر ۳۴۰ ھ تک صالح کی نبوت کا زور وشور رہا اور اس کے پیرووں کی ترقی ہوتی رہی پھر ابوالانصار کا بیٹا ابومنصور عیسیٰ ۲۲ برس کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ اس نے بھی نبوت کا دعوی کیا اور ستائیس برس تک بادشاہت اور نبوت کرتا رہا اور ۳۶۸ھ میں اس کا خاتمہ ہوا۔ غرضیکہ دوسری صدی سے چوتھی صدی تک اس ایک خاندان میں تین شخصوں نے نبوت کا دعوی کیا اور قریب تین سو برس کے ان کی نبوت اور سلطنت رہی اس کے بعد ان کے ماننے والے کب تک رہے اس کا پتہ میری نظر سے نہیں گذرا ابن خلدون میں ان کے دعویٔ نبوت اور سلطنت کا ذکر ہے یہ ذکر نہیں ہے کہ ان کے ماننے والے کب تک رہے یا اب تک ہیں یا نہیں ہیں۔ مرزا قادیانی کو اس کی خبر نہیں مگر یہ دعویٰ زور سے کرتے ہیں کہ مفتری جلد ہلاک ہوتا ہے کہیں یہ کہہ دیا کہ ہم کامل تحقیق سے کہتے ہیں کہ ایسا دعوی کبھی چل نہیں سکا یعنی جھوٹے الہام اور وحی کا دعویٰ کبھی نہیں چلا ہمارے بیان سے اس کی غلطی اظہر من الشمس ہوگئی مگر حضرات مرزائی بھی کچھ نہیں دیکھتے اندھے بن کر مرزا قادیانی کو بھی مان لیا ہے افسوس ان کے حال پر ذرا اسی پر غور ریں کہ فرعون کو خدا تعالیٰ نے مفتری قرار دیا ہے اور پھر چار سو بر س تک وہ زندہ رہا اور کیسے عیش وکامرانی میں رہا۔ یہ نظیریں کس صراحت کے ساتھ اس مطلب کو غلط بتاتی ہیں جو مرزا قادیانی اور ان کے پیرو بیان کررہے ہیں۔ اس قسم کی نظیریں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں وغیرہ پیش کرچکے ہیں مگر پھر بھی وہی آیت مرزا قادیانی کی صداقت میں پیش ہورہی ہیں یہ عجب حقانیت ہے اس کا مطلب سوا حق پوشی اور زبردستی کے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

456

دوسری وجہ: حضرت مسیح سے پیشتر بہت سے انبیاء قتل کردیئے گئے۔ آیت:

فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ‘‘(البقرہ:۸۷)

’’وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَائَ بِغَیْرِ حَقٍّ‘‘(اٰل عمرٰن:۱۱۲)اس کی شاہد ہے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام۱؎ کم سنی میں شہید کردئے گئے پانچ چھ برس بھی پورے طور سے تبلیغ رسالت نہیں کرسکے تاریخ اور انجیل دیکھی جائے۔ اگر ہلاک کردیا جانا مفتری کی علامت ہے تو یہ سچے انبیاء جن کی نبوت کی تصدیق قرآن مجید کرتا ہے وہ کیوں ہلاک کئے گئے۔ غرضیکہ بہت جھوٹے اور مفتری نہایت کا کامراں رہے اور بعض سچے قتل کردئے گئے۔ صرف مسیلمہ اور اسود عنسی کے مارے جانے سے مارا جانا جھوٹوں کی علامت نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح دنیا میں عزت وجاہ سے رہنا صداقت کی دلیل نہیں ہے۔

تیسری وجہ: آیت میں ارشاد ہے کہ اگر یہ رسول بعض باتیں ہم پر افتراء کرتا’’وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ‘‘ (الحاقۃ:۴۴)تو اسے ہم ہلاک کردیتے یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہماری طرف سے جو پیش گوئی کرے اور جو الہام بیان کرے وہ سب جھوٹے ہوں بلکہ ایک دو بھی اگر جھوٹے ہوں تو بھی مفتری ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کی بعض پیش گوئیاں اور بعض الہامات یقینی غلط ہوئے مثلا منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی پیش گوئی کس زور سے کی گئی اور قسم کھاکھاکر اس کا الہام بیان کیا گیا اور بار بار اس طرف توجہ کی گئی اور برسوں اس پر وثوق واعتماد رہا مگر بالآخر یہ پیش گوئی اور اس کے متعلق الہامات سب جھوٹے نکلے۔ (۲) اسی طرح اس کے شوہر کی نسبت بھی پیش گوئی کی کہ اڑھائی برس میں مرجائے گا مگر وہ نہ مرا پھر کہا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے روبرو ضرور مرے گا اگر میرے سامنے نہ مرے اور میں پہلے مرجاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔ یہ پیش گوئی تو ایسی جھوٹی ہوئی کہ اہل حق کے لئے کامل فیصلہ ہوگیا۔

۱؎

حضرت یحییٰ کا مشہور نام یوحنا تھا۔ ابن خلدون نے اس کی تصریح کی ہے اور مطبوعہ انجیل کے نسخوں میں اکثر یوحنا ہے اور بعض میں یحییٰ ہے۔ اس وقت میرے سامنے ایک نسخہ کامل اردو ترجمہ بائبل کا ہے جو ۱۸۷۰ء میں مرزا پور میں چھپا ہے اس میں یوحنا کا نام ہے۔ فارسی ترجمہ جو بائبل پریس کلکتہ میں چھپا ہے اوروں میں یحییٰ ہے اور یحییٰ کا نبی ہونا اور حضرت مسیح کا ان کے ہاتھ سے پتہ پانا انجیل متی باب۳، انجیل مرقس باب آیت ۱۔۹ تک وغیرہ مقامات سے ظاہر ہے۔ مرزا پریس انجیل پر حاشیہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰ نے ۲۶ برس کی عمر میں تبلیغ رسالت شروع کی اور ۳۰ برس کے تھے کہ قید کئے گئے اور ۳۲ برس کی عمر تھی کہ شہید کئے گئے۔

457

ایک فیصلہ نہایت زور کا ہے جو مرزا قادیانی نے اخبار البدر مرقومہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۰۶ء میں طبع کرایا ہے وہ یہ ہے:’’ طالب حق کے لئے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑدوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور حضورa کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ انجام کو نہیں دیکھتے اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کردکھایا جو مسیح موعود مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔‘‘

(اخبار بدر ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ص۴ کالم۲، مکتوبات ج۱ ص۴۹۸ مکتوبا ب نمبر ۲۹ طبع جدید)

اب اگر بالفرض سو پیش گوئیاں اور ہزار الہام مرزا قادیانی کے سچے ثابت ہوں تو بھی مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہوسکتی کیوںکہ سچائی کی جو علامت انہوں نے خود بیان کی تھی وہ نہیں پائی گئی اور اس آیت سے بھی ان کا مفتری ہونا ثابت ہوگیا یعنی مرزا قادیانی اور ان کی جماعت یہ کہتی ہے کہ یہ آیت عام مفتریوں کے لئے معیار ہے اور آیت کے پہلے جملہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی نے ایک یا دو بات بھی خدا کی طرف سے ایسی بیان کی جس کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوگیا وہ مفتری ہے کیوںکہ ولو تقول علینا بعض الاقاویل کا یہی مطلب ہے الغرضآیت میں جو شرط بیان کی گئی تھی وہ یہاں پائی گئی ہے مرزاقادیانی کا مفتری ہونا اب اس کی جزا کا ظہور ہوا یا نہیں اسے حضرات مرزائی بیان کریں اگر ہوا تو کس طرح ہوا اور اگر نہیں ہوا تو آیت کا یہ مطلب غلط ہوا جو وہ بیان کرتے ہیں۔ بہر حال آیت کا مطلب جو ہو مگر مرزا قادیانی کا تقول (مفتری ہونا) ثابت ہوگیا۔

بیان مذکور سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اﷲ تعالی نے مرزا قادیانی سے کئی وعدے کئے مگر وہ پورے نہیں کئے گئے (۱) پہلا یہ کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی محمدی ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد تیرے نکاح میں آئے گی اور آسمان پر اس کا نکاح بھی پڑھا دیا گیا تھا مگر اس نکاح کا ظہور نہ ہوا۔ (۲) دوسرا یہ کہ اس کا شوہر ضرور مرے گا اور تیری سچائی دنیا پر ظاہر ہوگی مگر وہ نہ مرا اور مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے۔(۳) تیسرا وعدہ یہ تھا کہ تثلیث پرستی کا ستون مرزا قادیانی کے ہاتھ سے ٹوٹے گا مگر وہ اس عالم سے تشریف لے گئے اور اس ستون کی ایک اینٹ بھی نہ گراسکے۔

جب اس قدر وعدے پورے نہ ہوئے تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کے رسول

458

نہیں تھے کیوںکہ اﷲ تعالیٰ اپنے فرماتا ہے:’’فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ‘‘ (ابرٰہیم :۴۷) ایسا گمان نہ کر کہ اﷲ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔

جب یہاں متعدد وعدہ خلافیاں ظاہر ہوگئیں تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کے فرستادہ نہیں تھے۔ یہاں تک چار آیتوں سے مرزا قادیانی کا کذب ثابت ہوا اور قدرت خدا یہ ہے کہ جن آیتوں سے وہ حقانیت ثابت کرتے تھے انہیں سے ان کا مفتری ہونا ثابت ہوگیا۔ اب ہمیں ضرورت نہیں کہ ان کی اور دلیلوں کی طرف توجہ کریں کیوںکہ اس قدر بیان سے ظاہر ہوگیا کہ اب جس قدر دلیلیں وہ پیش کریں وہ محض غلط فہمی ہے قرآن مجید کے سچے مطالب کی روشنی ان کے دماغ تک نہیں پہنچی۔ حقائق قرآنیہ کے انوار نے ان کے دلوں منور نہیں کیا ورنہ وہ ایسی دلیلیں پیش نہ کرتے مگر مسلمانوں کی خیر خواہی کسی قدر اور توضیح پر آمادہ کرتی ہے اس لئے کچھ اور لکھا جاتا ہے۔

۴… ’’فقدلَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘(یونس:۱۶)

اﷲ تعالی نے کفار مکہ کے سمجھانے کے لئے اپنے رسول سے فرمایا کہ ان سے کہو کہ میں نے تم میں اپنی عمر گذاری ہے تم میری حالت سے واقف ہو۔

دعویٔ نبوت سے پہلے تم نے مجھ پر کوئی الزام نہیں لگایا اور اس وقت بھی کوئی الزام تم نہیں لگاسکتے۔ پھر مجھے دعویٔ نبوت میں کیوں کر جھوٹا کہتے ہو ؟ جس کی نیک چلنی تمام عمر تم تجربہ کرچکے جس کو تم نے کبھی جھوٹا نہیں پایا پھر اس کے نبوت کے دعویٰ میں تم کیسے جھوٹا خیال کرتے ہو ذرا اس میں غور کرو۔ آیت کا یہ مطلب حضرات مرزائیوں کی سمجھ کے موافق ہے اب اس تقریر سے مرزا قادیانی کی نبوت یہ حضرات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو دعویٰ سے پہلے کوئی انہیں برا نہیں کہتا تھا۔ کوئی انہیں جھوٹا نہیں سمجھتا تھا۔ پھر اب کس لئے اس دعویٰ میں جھوٹا کہا جاتا ہے اس آیت کا اصل مطلب جو اوپر کی آیت ملانے سے ظاہر ہوتا ہے وہ دوسرا ہے مگر اس وقت ہمیں جماعت مرزائیہ کو سمجھانا مقصود ہے اس لئے ان کے خیال میں جو ہے اسی مطلب کو تسلیم کرکے کہا جاتا ہے۔ دعوی نبوت سے پہلے ان کی کیا حالت تھی اس سے میں بحث نہیں کرتا اس سے واقفیت مجھے بہت کم ہے اور واقعات کے ثبوت کے جھگڑے میں پڑنافضول ہے مگر دعویٰ کے بعد کی حالت جو انہیں کی تحریر سے ظاہر ہورہی ہے اس سے مرزا قادیانی کی صداقت اور بناوٹ کا حال پورے طور سے معلوم ہوسکتا ہے راست بازی اور صاف گوئی انسان کی اندرونی حالت کا آئینہ ہے جس طرح آئینہ میں چہرہ کی حالت معلوم ہوجاتی ہے اسی طرح دل کی حالت انسان

459

کے راست اور ناراست کلام سے معلوم ہوتی ہے۔ سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان سے اور گناہ ہوسکتے ہیں اور ہوجاتے ہیں مگر مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ مرزا قادیانی نے بھی تتمہ حقیقۃ الوحی میں لکھا ہے کہ:’’ جھوٹ بولنے سے بدتر دُنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

غرضیکہ راستی اور ناراستی انسان کی حالت معلوم کرنے کا معیار ہے اب میں نہایت افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی اس سچے معیار سے راست باز نہیں ٹھہرتے اور ان کے کلام ہی کے دیکھنے سے ان کی عمر کی حالت معلوم ہوجاتی ہے اب میں ان کے چند قول آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں دل کو صاف کرکے اس میں غور کیجئے۔

پہلا قول:’’خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔‘‘

( انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ۵۰ )

دوسرا قول: ’’قرآ ن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر وغیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کُچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے ۔‘‘

( انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ۴۹ )

تیسراقول: ’’ ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔ اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۶۳)

ان تین قولوں میں سات جملے ہیں اور ساتوں غلط ہیں۔ خدا پر افتراء کرنے والے بعض جلد مارے گئے بعض نہایت غریب تھے مگر افتراء کرنے کے بعد بادشاہ ہوگئے اور عرصہ تک امن وعافیت سے رہے اور بادشاہت کے ساتھ اپنے افتراء کی اشاعت کرتے رہے یہی حال سچے انبیاء کا ہوا ہے کہ بعض کو دشمنوں نے جلد شہید کردیا بعض زیادہ عرصے تک رشدوہدایت کا شیوع کرتے رہے حضرت یحیٰ نبوت کے کے بعد پانچ چھ برس زندہ رہے پھر شہید کردیئے گئے اور انبیاء بھی شہید کئے گئے جس کی شہادت قرآن شریف میں بہت جگہ ہے۔

عبیداﷲ صاحب افریقہ اور محمد بن تومرت نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا صالح بن طریف نے نبوت اور نزول وحی کا دعوی کیا اور تینوں بادشاہ ہوئے اور عرصہ تک بادشاہ رہے اور بادشاہت اپنی اولاد اور خلفا کے لئے چھوڑگئے اب یہ کہنا کہ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ ایسا مفتری جلد ہلاک ہوجاتا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسی غلط باتیں

460

بھی ہیں جن کی غلطی واقعات سے ظاہر ہوتی ہے نعوذ باﷲ۔ حالانکہ قرآن مجید کے ایک مقام سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ایسا مفتری جلد ہلاک ہوتا ہے۔

اب جس کو دعویٰ ہو وہ ایک ہی آیت اس دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرے اگرچہ مرزا قادیانی کے قول کی صداقت اس وقت ثابت ہوگی کہ اس دعویٰ کے ثبوت میں کم سے کم گیارہ آیتیں پیش کریں۱؎ مگر ہم نہایت زور سے کہتے ہیں کہ کوئی نہیں پیش کرسکتا۔ قرآن مجید خدا کا سچا کلام ہے اس میں صریح خلاف واقع بات کا ہونا غیر ممکن ہے۔

جماعت مرزائیہ اس پر غور کرے کہ مرزا قادیانی جس دعویٰ کو اپنی کامل تحقیقات کا نتیجہ لکھ رہے ہیں وہ کیسا غلط ہے جن نظیروں کا ذکر میں نے کیا ہے اور جن کے نام میں نے لکھے ہیں ان کا ذکر کسی غیر مشہور کتاب میں نہیں ہے بلکہ کامل ابن اثیر تاریخ ابن خلدون میں ہے اور یہ دونوں تاریخیں عرصہ سے چھپ کر مشتہر ہیں یہ بالکل بعید ہے کہ حکیم نورالدین قادیانی کے کتب خانہ میں نہ ہوں پھر کیا اس میں انہوں نے یا جانشین قادیان نے نہیں دیکھا اور اگر نہیں دیکھا اور دعویٰ کررہے ہیں کہ ہم کامل تحقیقات سے کہتے ہیں۔ یہ صریح جھوٹ نہیں تو کیاہے ؟ اور اگر دیکھ کر پھر اس کے برعکس یہ دعویٰ ہے تو جھوٹ کے سوا کیسی شرمناک بے باکی ہے۔

بھائیو ! مرزا قادیانی کی زندگی کی یہ حالت ہے کہ ایک کتاب کے ہی دعوے کے بیان میں سات جھوٹ لکھے ہیں اور یہ ان کی کامل تحقیق ہے اور یہ ان کی قرآن دانی ہے کہ جس کا ذکر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے۔ اسے نصوص صریحہ سے ثابت بتارہے ہیں اور کس کس طرح اپنی تحریر کی رنگ آمیزیوں سے دکھا رہے ہیں ایسی بے باکیاں ان کی تحریروں میں بہت ہیں زیادہ لکھنا بے ضرورت تحریر کو طول دینا ہے راست باز کے لئے اس قدر کافی ہے یہ تو مرزاکی عام تحریر کا نمونہ تھا اب خاص ان کے نشانات یعنی بعض پیش گوئیوں پر نظر کیجئے جنہیں وہ اپنی صداقت کا معیار بتاتے ہیں ا س سے اور زیادہ ان کی زندگی کی حالت معلوم ہوگی۔

۱؎

اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی یہ دعوی کرتے ہیں کہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے نصوص جمع کثرت ہے اس لئے عربی کے قاعدے کے بموجب اس جملے کے یہ معنی ہوئے کہ کم سے کم قرآن مجید کے گیارہ جگہوں یا گیارہ آیتوں سے یہ دعوی ثابت ہے مگر یہ یقینی امر ہے کہ قرآن مجید میں یہ مضمون نہیں ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے اس دعوی سے کم سے کم گیارہ افتراء خدائے تعالی پر ثابت ہوئے اگرچہ مضمون ایک ہے مگر مرزا قادیانی اسے گیارہ جگہ بتاتے ہیں اس لئے گیارہ افتراء ہوئے۔

461

مثلاً ا ن کی پیش گوئی منکوحہ آسمانی کے متعلق ہے جس کو انہوں نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا ہے صرف اسی کے الہامات دیکھے جائیں تو ان کی صداقت کا اندازہ بخوبی معلوم ہوئے گا کہ ایک ہی معاملہ میں کتنے الہامات ان کے جھوٹے ثابت ہوئے۔ اس میں دو قسم کے الہام ہیں ایک اس کے نکاح کے پہلے دوسرے اس کے بعد۔

پہلی قسم کے الہام: (۱)’’ خدا ئے قادر وحکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ (احمد بیگ ) اس شخص کی دختر کلاں کے لئے سلسلہ جنبانی کر ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص۱۵۷ )

جب اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ایسا تھا تو ضرور ہے کہ اس کی مشیت اس کے اظہار کی ہوگی مگر اس کا ظہور نہ ہوا۔ اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ اﷲ تعالی کا یہ ارشاد ہر گز نہ تھا۔

(۲) ’’یہ نکاح رحمت کا نشان ہوگا … لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہوگا…(۳) اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ (۴) اس کا شوہر اڑھائی سال کے اندر فوت ہوجائے گا۔ اس کے گھر میں تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ ‘‘

(مجموعہ اشتہارات : ج ۱ ص ۱۵۸ )

یہ سات باتیں جو اس الہام میں تھیں ان کا جھوٹا ہونا دنیا نے دیکھ لیا۔ اس لڑکی پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جسے مرزا قادیانی نے الہام میں بیان کی تھی نہ اس کا شوہر مرا وہ تو اب تک زندہ ہے مرزا قادیانی کو مرے کئی برس ہوگئے نہ اس کے گھر میں تفرقہ آیا نہ مصیبت غیر معمولی آئی اور نانی دادی کا مرجانا تو ہوا ہی کرتا ہے مرزا قادیانی کا نوجوان بیٹا جس کی شادی کو کئی روز ہوئے تھے یک بارگی مرگیا یہ مصیبت نانی دادی کے مرنے سے بہت زیادہ ہے۔ الغرض جس طرح پہلی بات جھوٹی تھی اسی طرح یہ سات باتیں اس الہام میں جھوٹی ثابت ہوئیں۔

دوسرا الہام: ’’ان دنوں بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا ئے تعالی نے یہ مقرر کررکھاہے کہ اس لڑکی کو ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا ۔‘‘ (ایضاً)

پھر اسی اشتہار میں ہے : ’’خدائے تعالیٰ اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے‘‘(ایضاً)

اس الہام سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے ضرور ہوگا

462

کیوںکہ’لاتبدیل لکلمات اللّٰہ‘‘ (ایضاً)کے مصداق ہے اس میں کوئی قید اور شرط نہیں ہوسکتی۔ اس کا ظہور ہر طرح ہونا ہے۔ مگر ظہور نہ ہوا اور کیسا اعلانیہ افتراء خدا پر ثابت ہوا۔

تیسرا الہام: ’’ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کرکے اس کو میری طرف لے آوے ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۱۹)

ْ یہ دونوں الہام مرزاقادیانی کی نسخ وفسخ کی توجیہ کو محض غلط اور نہایت بناوٹ ثابت کررہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس لڑکی کے باپ کو خط لکھا ہے اس میں لکھتے ہیں :

’’ خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا ہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اسی عاجز سے ہوگا ۔‘‘

( کلمہ فضل رحمانی ص ۱۲۴)

یہاں اس الہام کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے خدا کی قسم کھائی مگر افسوس کہ وہ قسم بھی جھوٹی نکلی۔ انصاف پسند حضرات خیال رکھیں گے کہ ان تین الہاموں میں نو افتراء خدا پر ہوئے اور ایک جھوٹی قسم ان کے پہلے سات نادرست باتوں سے ملاکر شمارکریں تاکہ ان کی زندگی کی حالت اچھی طرح معلوم کرسکیں۔ مذکورہ الہامات کا جھوٹا ہونا اس وقت ان کے مرجانے سے نہایت ظاہر ہوگیا۔ جس میں کسی طرح چوں وچرا کی گنجائش نہیں رہی مگر ان کی زندگی ہی میں ان کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ خدائے تعالی کی طرف سے انہیں الہام نہیں ہوا محض مطلب نکالنے کے لئے انہوں نے ایک طریقہ اختیار کیا تھا ان میں سے بعض باتیں نقل کی جاتی ہیں۔

پہلی بات: مرزا احمد بیگ کو لکھتے ہیں :’’ اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں ۔‘‘

(کلمہ فضل رحمانی ص ایضاً)

یہ وہی احمد بیگ ہیں جنہیں تتمہ اشتہار دہم جولائی میں بے دین اور بدعتی لوگوں میں قرار دے چکے ہیں اب خط میں کوئی مرتبہ تعظیم کا اٹھا نہیں رکھا جسے ایسا قطعی الہام ہوا ہو جیسا مرزا قادیانی بیان کرچکے ہیں وہ کسی بے دین بدعتی کو ایسے خوشامدانہ الفاظ نہیں لکھ سکتا۔

دوسری بات: اسی خط میں ہے :’’ آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ پیش گوئی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہوچکی ہے ۔‘‘ ( ایضاً) اگر اس کا ظہور نہ ہوا تو بڑی رسوائی ہوگی۔

463

تیسری بات:’’ ہزاروں پادری شرارت سے نہیں حماقت سے منتظر ہیں کہ جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو‘‘

(کلمہ فضل رحمانی ص ایضاً)

بھائیو ! مرزا قادیانی کے اس مکرر الہامات کو دیکھو جس میں نکاح کی یقین کا کوئی مرتبہ اٹھا نہیں رکھا گیا ہے مگر خانگی خط میں پادریوں کے پلہ بھاری ہونے کا خوف ظاہر ہورہا ہے کیا جسے ایسا یقینی الہام ہوا اسے ایسا خوف ہوسکتا ہے ہرگز نہیں۔

چوتھی بات: علی شیر بیگ اپنے سمدھی کو لکھتے ہیں :

’’ احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو ہونے والا ہے… اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں … انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے اب مجھ کو بچالینا اﷲ تعالی کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرورمجھے بچالے گا ۔‘‘

(کلمہ فضل رحمانی : ص ۱۲۵)

حضرات ! اس قول میں تین جملے ہیں جن پر خط کھینچا گیا ہے انہیں ملاحظہ کیجئے اور فرمایئے کہ جسے اﷲ کی طرف سے ایسے تسلی بخش الہامات ہوں جیسے اوپر مذکور ہوئے وہ ایسا پریشان ہوسکتا ہے جیسی پریشانی ان جملوں سے ظاہر ہوتی ہے اور آخر کے جملے سے تو فیصلہ ہی ہوگیا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نہایت تاکید سے فرماتے ہیں کہ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچالے گا اب تو ظاہر ہوگیا کہ اس قادر مطلق نے نہیں بچایا اس لئے نہایت صفائی سے فیصلہ ہوگیا کہ مرزا قادیانی کو اﷲ تعالیٰ سے تعلق نہ تھا ورنہ وہ ذات مقدس انہیں اس ذلت اور روسیاہی سے ضرور بچالیتی۔ اسی خط میں یہ قول بھی ہے۔

پانچویں بات: ’’اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔‘‘(کلمہ فضل رحمانی ص ۱۲۶) یہ اضطراب ملاحظہ کے لائق ہے جن کو الہام کے ذریعہ سے یقین دلایاگیا ہو اس کے قلم سے ایسے الفاظ نکل سکتے ہیں۔ اہل انصاف اس کا جواب دیں۔ اس کے بعد اپنے سمدھی کو لکھتے ہیں۔

چھٹی بات:’’ اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کروگے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل وجان حاضر ہوں۔ ‘‘

( کلمہ فضل رحمانی ایضاً)

ساتویں بات:’’ اب آپ کو لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں۔ ‘‘ (ایضاً) یہ جملہ کیسے اضطراب اور بے بسی کو ظاہر کررہا ہے۔

464

آٹھویں بات: ’’ اور احمد بیگ کو پور ے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ اپنے بھائی کو لڑائی کرکے روک دیں۔ ‘‘ (ایضاً)

اب برادران اسلام! خصوصا جماعت مرزائیہ ان خانگی خطوں کے مضامین کو دیکھیں اور ان الہامات مشتہرہ سے مقابلہ کریں پھر کیا انہیں اس میں شک رہ سکتاہے۔ کہ یہ اقوال آفتاب کی طرح روشن کررہے ہیں کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے باب میں انہیں الہام خداوندی ہرگز نہیں ہوا اور نہ اس اضطراب وپریشانی کے خط ہرگز نہ لکھتے جس کو ایسے اطمینان کے الہامات ہوئے ہوں جیسے اوپر مذکور ہوئے اس کے قلب میں ان باتوں کا خطرہ بھی نہیں آسکتا جو مرزا قادیانی کے قلم سے نکلے ہیں۔

یہ الہامات اور یہ اقوال اس کے نکاح کے پہلے کے ہیں نکاح کے بعد الہامات مذکورہ الہامات سے بھی زیادہ مؤکد ہیں۔ انجام آتھم (خزائن ج۱۱ ص۶۰،۶۱) میں عربی الہام ہے اور اس کا ترجمہ اردو میں ہے اس کا حاصل یہ ہے۔

چوتھا الہام: ’’(۱)خدا اس عورت کو میری طرف واپس لائے گا (۲) بلا شک ہم اس کے کرنے والے ہیں (۳) ہم نے نکاح کردیا (۴) یہ خدا کا سچا وعدہ ہے اس میں تو شک نہ کر (۵) خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں (۶) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘

اس الہام پر خوب نظر رہے مرزا غلام احمد قادیانی کس زور سے دعویٰ کررہے ہیں کہ اس عورت کا نکاح میں آنا خدا کا سچا وعدہ ہے اس کے پورا ہونے میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا نہ اس میں کوئی شرط ہے نہ اس میں تغیر وتبدل ہوسکتا ہے مگر بایں ہمہ اس کا ظہور نہ ہوا اور یہ الہامات غلط ثابت ہوئے۔

چھ جملے اس الہام میں ہیں اور ہر ایک جملہ علیحدہ علیحدہ معنی رکھتا ہے وہ سب جھوٹے ہوئے۔ مذکورہ الہام یہ بھی تھا کہ :’’ اگر یہ لڑکی دوسرے سے بیاہی گئی وہ روز نکاح شوہر اڑھائی برس کے اندر مرجائے گا۔ ‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۱۵۸)

مگر وہ نہ مرا اور جب اس کے جھوٹے ہونے کو ظاہر کیا گیا تو کہا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے سامنے اس کا مرنا ضرور ہے یہ خدا کا سچا وعدہ ہے اگر وہ میرے سامنے نہ مرے اور میں اسکے سامنے مرجاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔ اس دعویٰ کو مرزا قادیانی نے اپنے رسالوں میں جابجا مختلف طور سے نہایت زور سے بیان کیا ہے مگر باوجودنہایت ہی کامل وثوق کے یہ الہام بھی

465

غلط نکلا اور معلو م ہوا کہ پہلے جو اڑھائی برس کا الہام تھا وہ بھی افتراء تھا اور اسی کے بعد جو وعدہ خداوندی بیان کیا وہ بھی افتراء تھا اس افتراء کے ثبوت نے تو مرزا قادیانی کا خاتمہ ہی کردیا اسکے بیان میں تو کو ئی جھوٹی تاویل بھی جانشین قادیان یا کوئی دوسرا نہیں کرسکا۔ مگر افسوس ہے کہ اس پر بھی حضرات مرزائی متنبہ نہیں ہوتے اور جھوٹے کی پیروی نہیں چھوڑتے اس پر بھی غور نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی اسکے مرجانے کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں پھر پورا کیوں نہیں ہوا۔ اﷲ تعالیٰ نہایت تاکید سے فرماتا ہے :اَلَا ٓاِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ (یونس)

یعنی اے مسلمانو ! خبردار رہو اور آگاہ ہوجاؤ کہ بلاشبہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اورمتعدد آیتوں میں قطعی طور پر مذکور ہے کہ اﷲ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اب اگر خدا ئے تعالیٰ کا وعدہ ہوتا تو احمدبیگ کا داماد مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے ضرور مرتا اور جب وہ نہ مرا تو معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کا وعدہ ہرگز نہیں تھا مرزا غلام احمد قادیانی نے خدا ئے تعالیٰ پر افتراء کیا تھا۔ الحاصل یہ چند افتراء جب ایک معاملہ میں خدائے تعالیٰ پر تھے تو اگر تمام معاملات پر نظر کی جائے تو ایسے افتراؤں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے گی۔ پھر افسوس یہ ہے کہ اسی پر مرزا قادیانی نے بس نہیں کی بلکہ جناب سیدالمرسلینﷺ پر بھی خاص اسی معاملہ میں کئی افتراء کئے ہیں۔ چنانچہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷ )میں لکھتے ہیں کہ :

’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اﷲa نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی تھی کہ یتزوّج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا (منکوحہ آسمانی نکاح میں آئے گی) اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا ۔‘‘

جس کی پیش گوئی مرزا قادیانی نے علیحدہ کی تھی یہاں دو پیش گوئیاں مرزا قادیانی جناب رسول اﷲa کی طرف منسوب کرتے ہیں ایک یہ کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح کا ظہور ہوگا۔ دوسرے یہ کہ اس کے خاص طور کی اولاد ہوگی مگر اس کا ظہور نہ ہوا اور ظاہر ہوگیا کہ مرزا قادیانی نے تعلی کے جوش میں جناب رسول اﷲa پر دو افتراء کئے اور حدیث صحیح من کذب علی متعمدا الخ کے مصداق ٹھہرے۔

تیسرا افتراء اسی معاملہ میں مرزا قادیانی نے اس وقت کیا ہے جب ان کے مخالفین نے اس عورت کے شوہر کے زندہ رہنے پر انہیں الزام دیا ہے تو مرزا قادیانی نے غصہ ہوکر جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر اس کا شوہر نہ مرا اور میری پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو ایسا ہی ہوا

466

جیسا رسول اﷲa نے حدیبیہ میں پیش گوئی کی تھی مگر وہ وقت اندازکردہ پر پوری نہ ہوئی۔ حالانکہ حدیبیہ میں کوئی پیش گوئی جناب رسول اﷲa نے نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ تمام کتب سیر اور احادیث موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھے اور ہمارے قول کی تصدیق کرے۔ چونکہ مرزا قادیانی کی زندگانی کی حالت دکھانا ہے اس لئے کچھ اور بھی لکھتا ہوں جس طرح یہاں جناب سید المرسلین کی طرف اپنی جھوٹی باتیں منسوب کردیں ایسے ہی اور انبیاء کی طرف بھی منسوب کی ہیں اور جھوٹی باتوں کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے بار بار پیش کیا ہے۔ مثلاً حضرت یونس علیہ السلام کی طرف قطعی طور پر یہ پیشگوئی منسوب کی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ چالیس روز میں تم پر عذاب آئے گا مگر انہیں کوئی شرط نہ تھی ان کے گریہ وزاری کی وجہسے نہیں آیا۔ اس قصہ کو مرزا قادیانی نے اپنے رسالوں میں بار بار اس کثرت سے بیان کیا ہے کہ آدمی دیکھ کر مرزا قادیانی کی حالت پر حیرت کرنے لگتا ہے۔

ضمیمہ انجام آتھم کے ص ۵۳،۵۴ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷، ۳۳۸ میں چار مرتبہ اس کا ذکر کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نزول عذاب کا پختہ وعدہ اپنے نبی سے کیا مگر اسے پورا نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کا مؤکد اور مکرر ارشاد ’’ان اللّٰہ لایخلف المِیعاد‘‘ اور ’’لن یخلف اللّٰہ وعدہ‘‘جو قرآن مجید میں موجود ہے یعنی اﷲ تعالیٰ وعدہ خلافی ہر گز نہیں کرتا، محض غلط ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ وعدہ خلافیاں کیا کرتا ہے۔ نعوذ باللہ!

یہاں یہ کہنا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی طرف جس طرح کی پیشگوئی منسوب کی گئی ہے اس کا ذکر نہ قرآن شریف میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں رسول اللہa کا ارشاد منقول ہے مگر بڑے زور سے جابجا مختلف طور سے اس کے قطعی ہونے کا ذکر مرزا قادیانی نے کیا ہے کہیں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ :’’ میں نے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا‘‘

( ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

یعنی حدیثوں سے اور آسمانی کتابوں سے اس قصہ کو نقل کیا ہے حالانکہ کوئی صحیح حدیث نقل نہیں کی اور نہ اس دعوے کو رسول اللہa کے کلام سے ثابت کیا نہ کسی اور کتاب سے ثابت کیا جس کا آسمانی ہونا یقینی ہو اور شریعت محمدیہ اس کے آسمانی ہونے کی تصدیق کرتی ہو۔ مگر دعویٰ اس زور سے ہورہا ہے کہ خدا کی پناہ خلیفہ قادیان آسمانی کتابوں سے واقف ہیں وہی اس کا جواب دیں مگر سنبھل کر لکھیں یوں نبی کی کتاب اور بعض مفسرین کے منقولہ اقوال یہاں کام نہیں

467

آسکتے حکیم صاحب اس پر خود غور کریں۔ الحاصل صرف ایک معاملہ کے متعلق نو افتراء اللہ تعالیٰ پر اور چار افتراء انبیاء پر ثابت ہوئے۔ مرزا قادیانی کی زندگانی کا یہ بڑا نمونہ ہے کیوںکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا‘‘(الانعام:۲۱)

یعنی سب سے بڑا ظالم وہ ہے جس نے اللہ پر افتراء کیا اور جس نے اللہ پر اور اس کے سچے رسول بلکہ سید المرسلین پر افتراء کیا وہ بہت ہی بڑا ظالم ٹھہرا۔ جب مرزا قادیانی ان صریح اور بدیہی دلائل سے اس آیت کے مصداق اور بہت ہی بڑے ظالم ٹھہرے تو یہ حالت ان کے زندگانی کا بڑا نمونہ ثابت ہوئی۔ اس کے سوا کچھ اور بھی ان کے زندگانی کا نمونہ ملاحظہ کیجئے۔ وہ بھی اسی عظیم الشان نشان ہی کے متعلق ہے۔ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا اور جھوٹی قسم کھانا تو ظاہر ہوگیا۔ ایک عجب حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ انہوں نے(۱) اپنے سگے بیٹوں کو اسی عورت کے بدولت عاق کرکے محروم الارث کردیا (۲) اپنی قدیم بیوی کو طلاق مغلظہ دیدی (۳) اور بلا قصور اپنی بہو کو طلاق دلوانا چاہا مگر اس نیک بیٹے نے اسے منظور نہیں کیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی کے لئے بہت تدبیریں کیں ان میں یہ بھی تھی کہ اپنے سمدھی اور اپنے سمدھن کو خط لکھے۔ ایک اشتہار نصرت دین (مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۱۹) طبع کرایا۔

اپنے سمدھن کو خط میں لکھتے ہیں کہ :’’ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کرادو ورنہ تمہاری بیٹی کو میرا بیٹا فضل احمد طلاق دیدے گا اور اگر فضل احمدنے طلاق نہ دیا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ جس دن (محمدی بیگم کا ) نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا یہ خط ۴؍ مئی ۱۸۹۱ء کا ہے ‘‘

(کلمہ فضل رحمانی ص ۱۲۳، ۱۲۵ )

اب یہاں مرزا قادیانی کی حالت کو دیکھا جائے کہ کیسے مضطرب ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں جسے ایسے یقینی الہامات ہوتے ہوں جیسے مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں وہ اپنے سمدھن کو یہ خط لکھ سکتا ہے کہ میں تمہاری بیٹی کو اپنے بیٹے سے طلاق دلوادوں گا اور اگر وہ طلاق نہ دے گا تو میں اسے عاق کردوں گا۔ بھائیو! کچھ تو سوچو اور اس کا جواب دو۔ مرزا قادیانی ایسے مضطرب ہیں کہ ان کا علم بھی مسلوب معلوم ہوتاہے۔ یہ کہناکہ فی الفور میں اسے عاق کردوں گا۔ ایک جاہلانہ بات ہے۔ عقوق عربی لفظ ہے اس کے معنی نافرمانی کرنے کے ہیں جو بیٹا اپنے والدین

468

کی ایسی نافرمانی کرے جو اسے نہ کرنی چاہئے اسے عاق کہیں گے نافرمانی کرنے والا۔ غرضیکہ یہ صفت بیٹے کی ہوئی۔ اب باپ کا یہ کہنا کہ میں عاق کردوں گا ایک جاہلانہ بات ہے۱؎ کیوں کہ جب بیٹے نے نافرمانی کی تو وہ خود عاق ہوا مگر شریعت محمدیہ میں یہ نافرمانی وراثت سے محروم نہیںکرتی۔ یہاں مجھے یہ کہنا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے بیٹے کو وارث سمجھتے ہیں اور نافرمانی پر اسے وراثت سے محروم کرنا چاہتے ہیں اور اس پر اس قدر اصرار اور غیض ہے کہ اس پر قسم کھاتے ہیں اس سے یہ یقینی ثابت ہوا کہ وہ نبی نہیں ہیں اور نہ انہیں اپنے نبی ہونے کا یقین ہے کیوںکہ نہایت صحیح حدیثوں میں آیا ہے :’’النبی لایورث ‘‘یعنی کوئی نبی اپنے مال ومتاع کا کسی کو وارث نہیں چھوڑتا اگر اس کا مال ومتاع کچھ ہو وہ فقراء اور مساکین کا ہے یہ حدیث بتواتر ثابت ہے البتہ الفاظ مختلف ہیں مگر حاصل ایک ہے صحیح بخاری ابوداؤد وترمذی ومؤطا ومسند امام احمد وغیرہ میں یہ حدیثیں موجود ہیں۔ اب اس میںکیا شک ہوسکتا ہے کہ اگر وہ نبی ہوتے تو یہ خطرہ بھی ان

۱؎

بعض الفاظ مع حدیث ترجمہ کے نقل کئے جاتے ہیں انہیں ملاحظہ کیا جائے:(۱) ’’ان النبی لا یورث انما میراثہ فی فقراء المسلمین والمساکین‘‘(امام احمد عن ابی بکر ج ۱ ص۱۳) جناب رسول اللہa فرماتے ہیں کہ نبی کسی کو وارث نہیں چھوڑتے ان کی میراث فقراء اور مساکین کے لئے ہے۔ (۲) ’’کل مال النبی صدقۃ الا ما اطعمہ اہلہ وکساہم وانا لانورث‘‘ (ابوداؤد عن الزبیرؓ باب فی صفایا رسول اللہa ج ۲ ص ۱۸ ) رسول اللہa فرماتے ہیں کہ نبی کا تمام مال فقراء کے لئے صدقہ ہے مگر جس قدر کہ اس کے اہل وعیال کھالیں اور پہن لیں کیوںکہ ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے۔ (۳) ’’لا یقتسم ورثتی دینارا ما ترکت من شی بعد نفقۃ نسائی ومعونتہ عاملی فہو صدقۃ‘‘(بخاری باب نفقۃ القیم للوقف ج ۱ ص ۳۸۹ ؍ مسلم، ابوداؤد، امام احمد ج ۲ ص ۲۴۲عن ابی ہریرۃ) رسول اللہa فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ہے کہ میرے وارثوں میں روپئے پیسے کی تقسیم نہ ہوگی جو کچھ میں چھوڑوں وہ میری بیویوں کے نان ونفقہ اور عامل کی مزدوری کے بعد صدقہ ہے۔ خیال کیا جائے کہ رسول اللہa نے قسم کھاکر ترکہ کی تقسیم کی ممانعت فرمائی ہے۔ (۴) ’’لا نورث ما ترکنا صدقۃ‘‘(امام احمد ج ۱ ص۴) رسول اللہa فرماتے ہیں کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے جو مال ہم چھوڑیں صدقہ ہے۔ (۵) ’’ان النبی لا یورث‘‘(امام احمد ج ۱ ص۱۳) رسول اللہa فرماتے ہیں کہ نبی کسی کو وارث نہیں بناتے۔ ( ۶) ’’لا نورث ما ترکنا فہو صدقۃ‘‘(بخاری باب حدیث بنی نظیرج ۲ ص ۵۷۶ مسلم باب حکم الفیٔ ج ۲ ص۹۰) رسول اللہa فرماتے ہیں کہ ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے جو کچھ ہم چھوڑیں اللہ کی راہ میں وہ صدقہ ہے۔ ایسی صاف اور صریح حدیثوں کے بعد مرزا قادیانی کا ایک لڑکے کو وراثت سے محروم کرنا اور دوسرے کے لئے میراث چھوڑنا روشن دلیل ہے کہ مرزا قادیانی نبی نہیں تھے۔

469

کے ذہن میں نہ آتا اور اگر بتقاضائے بشریت ایسا خیال بھی ہوتا تو خدا کی طرف سے متنبہ کردیئے جاتے مگر یہ نہیں ہوا اور برسوں یہی کہتے رہے۔

دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی شریعت محمدیہ کے خلاف کررہے ہیں کہ وہ میری وراثت سے ایک حبہ نہیں پائے گا یعنی شریعت محمدیہ میں نافرمان بیٹا محروم الارث نہیں ہے مگر مرزا قادیانی اسکے خلاف اسے محروم الارث کرتے ہیں اور شریعت محمدیہ کے خلاف نیا حکم دے رہے ہیں۔ اب جماعت مرزائیہ اس خط کے مضمون میں بنظر انصاف غور کرے کہ اس سے مرزا قادیانی کی کیسی حالت ظاہر ہوتی ہے۔ ان کا نبی نہ ہونا تو ظاہر ہوگیا اس کے سوا کئی باتیں اور بھی لحاظ کے لائق ہیں۔

(۱) مرزا قادیانی اپنے نکاح کی خواہش میں اپنے بیٹے پر نہایت سختی سے زور دیتے ہیں کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے۔ خیال تو کیجئے کہ بیٹے سے ایسا کہنا کس قدر شرم کی بات ہے اس پر بھی نظر چاہئے کہ بیوی ہے خدا جانے کس قدر اس سے الفت ہوگی۔ پھر مرزا قادیانی کو یہ بھی خیال نہ ہوا کہ ہم تو اپنی محبوبہ۱؎ کی اس قدر خواہش کررہے ہیں اور بیٹے کی مرغوبہ بیوی کو جبرا علیحدہ کرانا چاہتے ہیں۔ اور معلوم ہوگیا کہ بیٹے کو وہ اس قدر محبوب تھی کہ چھوڑ نہ سکے اور طلاق نہ دی۔

(۲) ایک نیا حکم حضرت مسیح کا لائق ملاحظہ ہے کہ اگر بہو کا ماموں اپنی کنواری لڑکی مرزا قادیانی کو نہ دے تو بہو کو گھر سے نکال دیا جائے۔ کیا اسے ظلم نہیں کہیں گے کیا اللہ تعالی کا ارشاد نہیں ہے: ’’وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وَّزْرَ اُخْرٰی‘‘ (الانعام ) یعنی کوئی انسان دوسرے کا گناہ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر اس کا ماموں اپنی بیٹی نہیں دیتا تو بھانجی کا کیا قصور ہے جو اسے اپنے مالوف شوہر سے جدا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ؟

(۳) اللہ تعالیٰ تو اولاد کے دینے کے لئے وصیت کرتا ہے اور مرزا قادیانی اپنے نفس کی خواہش میں وصیت خداوندی کے خلاف اپنے بیٹے کو وراثت سے محروم کرتے ہیں۔ بیٹا اگرچہ نافرمان ہو مگر شریعت محمدیہ اسے محروم الارث نہیں کرتی۔ حضرات انصاف پسند ان

۱؎

اور مرزا غلام احمد قادیانی نے جو اصل بات کے پوشیدہ کرنے میں پرزور تحریر دکھائی تھی اور اس کے نکاح کو ایک نشان ٹھہرایا تھا اس کی حالت تو معلوم ہوگئی کہ وہ صرف ان کے دلی خواہش کا زور تھا جس کو اپنی رنگ آمیز تحریر سے اس طرح پوشیدہ کرنا چاہتے تھے کہ یہ بدنما دھبہ ان کی صداقت کا نشان ہوجائے مگر اللہ تعالی نے اس کو ظاہر کردیا۔

470

حالات میں غور کرکے فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی حالت مقدس بزرگوں کی سی ہے یا نہایت دنیا ساز نفس پرستوں کی سی۔ یہ حالا ت بھی آفتاب کی طرح روشن کرتے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کی نسبت جو الہامات بیان کئے گئے ہیں وہ محض غلط تھے اگر انہیں ایسے الہام ہوتے تو ان کے قلب میں خطرہ بھی نہ آتاکہ بہو کو طلاق دلواؤں اور اگر بیٹا طلاق نہ دے تو اسے محروم الارث کروں یہ باتیں صاف شہادت دے رہی ہیں کہ انہیں الہا م کسی طرح کا نہیں ہوا۔ یہ ان کی زندگی کے حالات ہیں انہیں پیش نظر رکھ کر آیت ’’ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا‘‘ الخ(یونس:۱۶)کے معنی پر غور کیجئے۔ اور خوف خدا کو دل میں لاکر انصاف سے کہئے کہ آیت سے مرزا قادیانی کی سچائی کا ثبوت ہوتا ہے یا ان کے مفتری ہونے کا ؟۔ الحاصل جس طرح پہلی تین آیتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مفتری اور کاذب ہونا ثابت ہوا تھا اس آیت سے بھی ان کے تفسیر کے بموجب ثابت ہوگیا۔ اب میں یہ بیان کرتا ہوں کہ آیت کے جو معنی مرزا قادیانی اور ان کی جماعت بیان کرتی ہے وہ غلط ہیں۔ کوئی فہمیدہ ان کی غلطی سے انکار نہیں کر سکتا۔

اہل بصیرت دیکھ رہے ہیں اور تجربہ کرتے ہیں کہ بعض شخص کم سنی میں نہایت نیک تھے اس کے بعد ایسے اسباب پیش آئے کہ ان کی حالت نہایت خراب ہوگئی بعض کی حالت پہلے خراب تھی پھر اچھی ہوگئی اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ حدیث سے بھی یہ مضمون ثابت ہے چنانچہ متفق علیہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں:’’ان احدکم لیعمل بعمل اہل الجنۃ حتی مایکون بینہ وبینہا الا ذراع فیسبق علیہ الکتاب فیعمل بعمل اہل النار فیدخلہا ۔‘‘( مسلم باب کیفیۃ خلق الادمی ج ۲ ص ۳۳۲ واللفظ لہ ؍ بخاری باب ذکر الملائکہ ج ۱ ص ۴۵۶)

اس کا حاصل یہی ہے کہ بعض اپنی اکثر عمر میں نہایت نیک کام جنتیوں کے سے کرتے ہیں اور آخر میں ان کی حالت خراب ہوجاتی ہے۔ بعض مدعیان مہدویت اور نبوت کے حالات سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ محمد بن تومرت اور صالح بن طریف پہلے نہایت نیک اور صالح تھے اس کے بعد مہدویت اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ کامل اور ابن خلدون میں ان کے حالات ملاحظہ کئے جائیں۔ الغرض اس پر غور کرنے سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کی سابقہ حالت کا عمدہ ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کی حالت ہمیشہ عمدہ رہے گی اس لئے اس بات سے دلیل لانا نہایت نافہمی ہے۔ منکوحہ آسمانی کا ذکر مکرر کیا گیا اس کی بڑی وجہ ہے کہ حضرات

471

مرزائیوں کو بار بار کہہ کر انہیں متنبہ کرنا اور خواب غفلت سے بیدار کرنا مقصود ہے کہ ایسا عظیم الشان نشان ان کا غلط ثابت ہوا جس پر انہوں نے اپنی سچائی کو منحصر کیا تھا پھر تم کیوں خدا سے نہیں ڈرتے اور اپنی غلطی کااقرار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر رحم فرمائے اور تمہارے دلوں سے ظلمت کا پردہ ہٹائے اور تم سچائی کو اختیار کرو۔ اے خدا تو ایسا ہی کر ! فقط۔

مسلمانوں کا خیر خواہ : ابواحمد رحمانی، کانپور

عظیم الشان فتنہ کی اطلاع

۱۹۰۰ہجری کے آخر میں اہل سنت میں محمد جونپوری نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا اور تیرہویں صدی میں اہل تشیع میں علی محمد بابی نے فارس میں یہی دعوی کیا ان دونوں کے پیرو اس وقت تک موجود ہیں۔ چودہویں صدی میں پھر ہندوستان کی باری آئی اور پنجاب کے ایک گاؤں قادیان میں مرزا قادیانی نے یہ دعوی کیا کہ میں مہدی ہوں بلکہ عیسی اور کرشن بھی ہوں پہلے مدعیوں کو یہ نہیں سوجھی تھی۔ یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ امام مہدی سید بنی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے اسے وہ غلط بتاتے ہیں اور اپنے آپ کو حضرت امام حسنؓ اور امام حسینؓ سے بلکہ تمام اولیاء کرام سے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنے آپ کو ہرشان میں بڑھ کر کہتے ہیں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو حدیث میرے الہام کے مطابق ہے وہ صحیح ہے ورنہ غلط ہے ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیں گے۔

حاصل قول ان کا یہ ہے کہ قرآن شریف کے معنی جو ہم بیان کریں وہی صحیح ہیں اس کے خلاف اگرچہ کوئی صحابی یا تابعی کہے وہ بھی لائق اعتبار نہیں ہے، حاصل یہ ہوا کہ جو مرزا قادیانی کہیں وہی قرآن وحدیث ہے مرزا قادیانی نے اپنے دعوی کی صداقت میں اپنی پیش گوئیاں پیش کی ہیں مگر کسی صادق نے اپنے دعوی کی صداقت میں پیش گوئی کو پیش نہیں کیا۔ اور نہ پیش گوئی کے پورے ہوجانے سے دعوی نبوت ومہدویت ثابت ہوسکتا ہے۔

بایں ہمہ فیصلہ آسمانی میں مرزا قادیانی کی وہ پیش گوئی غلط ثابت کردی گئی جسے انہوں نے اپنی صداقت کا معیار قرار دیا تھا۔ اب ان کے مریدین ان کی صداقت میں قرآن شریف کی بعض آیتیں پیش کرتے ہیں اس رسالہ میں بطور نمونہ یہ دکھایا ہے کہ انہیں آیتوں سے ان کا کاذب ہونا ثابت ہوتا ہے: ’’فَاعْتَبِرُوْا یٰاُوْلِی الْاَبْصَارِ‘‘(الحشر:۲)

472

ہدیہ عثمانیہ

و

صحیفہ انواریہ

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

473

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ضروری مدعا

اس خاکسار کو یہ صحیفہ دیکھ کر بہت ہی مسرت ہوئی، اس کی دو وجہ ہیں: ایک یہ کہ ایسے بزرگ عالی مرتبہ مرجع خلائق ورہنمائے امت محمدیہ کو اسلامی ریاست کی خیرخواہی کی طرف متوجہ پایا اور حیدرآباد دکن کے فرمانروا ودیگر معززین وعامہ مسلمین کی آگہی ورہنمائی کے لئے باوجود کمال پیری اور اشغال شبانہ روزی کے یہ ہدایت نامہ لکھا اور کیوں نہ ہو آپ خاندان نبوت کے شمس منیر ہیں اور حضرت غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے فرزند ارجمند ہیں۔ اس لئے رشد وہدایت خلق خدا عموماً اور برادران اسلام کے خصوصاً اور محبت اسلامی آپ کی میراث ہے اور اپنے اجداد کے سچے وارث ہیں، اﷲتعالیٰ فرماتا ہے ’’ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا (فاطر:۳۲)‘‘مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے والے۔ رب العزت ان کی فیوض وبرکات کو دائماً قائم رکھے تاکہ خاص وعام آپ سے مستفیض ہوتے رہیں۔ آمین!

دوسری وجہ مسرت کی یہ ہے کہ اس فقیر کے دل میں یہ جوش ہوا کہ میں اس ہدایت نامہ کو چھپوا کر فرمانروائے دکن حضور نظام دامت حشمتہ وشوکتہ کی خدمت میں ہدیہ پیش کروں تاکہ مسلمانوں کے سرتاج والی دکن اس ہدایت نامہ کو اپنے دست مبارک سے اور اپنے خاص حکم سے مقربین وعمائدین کو اور عامہ مومنین کو تقسیم فرما کر اس دعا گو کو رہین منت فرمائیں اور ناواقفوں کو قادیانیوں کی قید سے بچائیں۔ یہ صحیفہ اگرچہ روحانی تعلق کی وجہ سے جناب مولانا مولوی حافظ محمد انواراﷲ خاں صاحب معین المہام وصدروالصدور امور مذہبی سرکار عالی کے نام حضرت اقدس (مونگیریؒ) نے لکھا ہے۔ مگر درحقیقت اس کے مخاطب مسلمانوں کے سرپرست حضور نظام دکن ہیں۔ اﷲتعالیٰ ان کی حکومت اور ان کی ریاست کو قیامت تک قائم رکھے۔

اس لئے میں بھی حسب اجازت حضرت مصنف دامت برکاتہم اس کا نام ہدیہ عثمانیہ وصحیفہ انواریہ رکھتا ہوں اور اس مضمون کو دعا پر ختم کرتا ہوں۔ آفتاب دولت ودین عثمانیہ وماہتاب اقبال وتدین ریاست محبوبیہ نظامیہ تابان ودرخشان باد۔ آمین !

دعا گو خاکسار فقیر محمد کاظم بہاری

474
  1. اگری بینی کہ نابینا وچاہ است

    وگر خاموش بہ نشینی گناہ است

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونستعینہ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم

والا مرتب علامہ زمن استاد فرمانروائے دکن، لازالت شموس اقبالہ بازعتہ!

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ

اگرچہ مشاغل کثیرہ نے آپ کو بعض دینی امور ضروریہ سے بھی روک دیا ہے۔ مگر یہ فقیر آپ کی قدیمانہ محبت کی وجہ سے آپ کی اور اس ملک کے ظل اﷲ کی خیرخواہی اور وہاں کے برادران اسلام کی دردمندی اور اپنے فرض منصبی کے ادا کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔

کچھ عرصہ سے سن رہا ہوں کہ خواجہ کمال الدین (مرزائی) وکیل لاہور مرید خاص مرزا غلام احمد قادیانی وہاں پہنچے ہوئے ہیں اور تمام مسلمانوں میں بہت غل مچا دیا ہے اور اپنا رسالہ صحیفہ آصفیہ شائع کرکے مذہب قادیانی کی تبلیغ کررہے ہیں اور سنا جاتا ہے کہ ہمارے شہر یار دکن کی نظروں میں بھی مقبول ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ ہر ایک کو ان سے بات کرنے کی جرأت نہیں ہوسکتی۔ مجھے سخت حیرت ہے باوجودیکہ وہاں کے فرمانروا آپ کو بہت مانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہی ہوں گے کہ کتاب افادۃ الافہام آپ ہی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے مقابلہ میں لکھی ہے اور بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ پھر اس کے مقابلہ میں صحیفہ آصفیہ خواجہ کمال الدین قادیانی کا تقسیم ہورہا ہے۔ یعنی تریاق کے بعد زہر کی تخم پاشی ہورہی ہے اور آپ خاموش ہیں۔ مولانا اس صحیفہ کو وہ تبلیغ بہ حضور نظام کہتے ہیں۔ اب فرمائیے کہ یہ صریح کفر اور دروغ کی تبلیغ ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ ضرور یہی فرمائیں گے کہ بلاشبہ ایسا ہی ہے۔ کیوں کہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ مرزا قادیانی خدا کی طرف سے بشیرونذیر آئے ہیں انہیں مانو۔ یہی مرزا قادیانی کا صریح دعویٰ ہے۔ یہی دعویٰ نبوت ہے کیوں کہ کوئی مجدد اور بزرگ ایسا دعویٰ نہیں کرسکتا اور اپنے اوپر ایمان لانے کو فرض نہیں بتا سکتا۔

قرآن اور حدیث نے کسی بزرگ پر ایمان لانے کو فرض وواجب نہیں بتایا۔ قرآن مجید میں جابجا جناب رسول اﷲa پر اور انبیاء سابقین پر ایمان لانے کو فرمایاہے۔ یہ کہیں نہیں

475

کہا گیا کہ جو انبیاء بعد کو آئیں گے ان پر بھی ایمان لائو بلکہ آپ کو صاف طور سے خاتم النّبیین فرمایا اور نہایت صحیح حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح فرمادی کہ ’’انا خاتم النّبیین لانبی بعدی‘‘

(ترمذی باب لا تقوم الساعۃ یخرج کذابون ج۲ ص۴۵)

یعنی میں آخرالنّبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی کسی قسم کا مبعوث نہیں ہوگا۔ اس سے بالیقین ثابت ہوا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے (جس طرح مرزا قادیانی نے اعلانیہ کیا) وہ قرآن وحدیث کی رو سے کاذب ہے۔

اب جو اس کے پیام کی تبلیغ کرے اور مسلمانوں کو اس پر ایمان لانے کی ترغیب دے وہ بھی بالیقین کفر ومعصیت کی تبلیغ کرتاہے۔

(خواہ خواجہ کمال الدین مرزا ہو یا مرزا محمود قادیانی)

چوںکہ اس نص قرآنی سے خواجہ کمال الدین مرزائی واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے خیال میں یہ عقیدہ مستحکم ہے کہ جناب رسول خداa خاتم النّبیین ہیں۔ آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ اس لئے مرزا قادیانی کی نسبت دعویٰ نبوت سے ظاہراً انکار کرتے ہیں۔ حالاں کہ مرزا قادیانی نہایت زور سے نبوت کے مدعی ہیں۔ بلکہ بعض اولوالعزم انبیاء سے اپنے آپ کو ہر شان میں افضل جانتے ہیں اور اپنی بڑائی ان کے مقابل میں اس طرح کرتے ہیں جس سے اس عظیم الشان نبی کی نہایت حقارت اور توہین ظاہر ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کے دو شعر ملاحظہ ہوں:

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بہ منبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸ خزائن ج۳ ص۱۸۰)

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاص۲۰ خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

ان دونوں شعروں کو دیکھا جائے وہ عظیم المرتبت پیغمبر یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کی تعریف قرآن شریف میں جا بجا بہت کچھ آئی ہے۔ جن کے بڑے بڑے معجزے اﷲتعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کس حقارت اور بے ادبی سے ان کا نام لے کر اپنے مرتبہ کو بڑھاتے ہیں۔ یہ بھی ان کا قول ہے کہ میں مسیح سے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔‘‘

(دافع البلا ص۱۳ خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

476

جب ایک عظیم الشان نبی سے ہر شان میں بڑھ کر ہیں تو ان کی ایک شان نبوت بھی ہے۔ اس میں بھی وہ بڑھ کر ہوں گے۔ جب ایسے عظیم الشان نبی کے مرتبہ سے وہ اپنا مرتبہ بہت زیادہ بتاتے ہیں تو پھر دعویٰ نبوت نہ کرنے کے کیا معنی۔ اس سے انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی دن کو سورج نکلنے سے انکار کرے۔ البتہ پہلے انہیں دعویٰ نہ تھا جس طرح مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ صحیفہ کے آخر میں مرزا قادیانی کے جو اشعار نقل کئے گئے ہیں وہ اسی وقت کے ہیں جب انہیں نبوت کا دعویٰ نہ تھا۔

اس میں شبہ نہیں کہ آخر میں مرزا قادیانی کا نہایت صاف طور سے نبوت کا دعویٰ ہے۔ اس لئے قرآن مجید اور صحیح حدیث ان کے کاذب ہونے کے شاہد ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی بہت پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں اور ایسی پیشین گوئیاں جن کو انہوں نے اپنا نہایت ہی عظیم الشان معجزہ کہا تھا جس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں اچھی طرح کی گئی ہے اور یہ بات آسمانی کتاب توریت اور قرآن مجید کے نص قطعی سے ثابت ہے کہ جس مدعی نبوت کی پیشین گوئی جھوٹی ہوجائے وہ جھوٹا ہے۔ یہ دوسری دلیل ہے ان کے جھوٹا ہونے کی۔ جب خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد ایسے یقینی دلیلوں سے کاذب ہیں اور قرآن وحدیث اور توریت مقدس ان کے جھوٹے ہونے کے شاہد ہیں تو بالیقین معلوم ہوا کہ صحیفہ آصفیہ میں جو کچھ ان کی تعریف میں لکھا ہے وہ محض غلط ہے اور اس کی غلطی دو طرح پر ثابت ہے۔ اوّل تو یہ کہ جب قرآن وحدیث سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے تو جتنی ان کی تعریف کی باتیں ہیں وہ سب قرآن اور حدیث کی رو سے جھوٹی ثابت ہوئیں۔ دوسرے یہ کہ واقع میں ان کی صداقت کے ثبوت میں جو باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں وہ واقع میں جھوٹی ہیں۔ اس کا نمونہ آئندہ بیان کیا جائے گا اور وہ ایسی جھوٹی باتیں ہیں کہ عرصہ ہوا کہ ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت اعلانیہ طور سے مشتہر کردیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کے ماننے والوں میں سے کسی نے جواب نہیں دیا اور میں نہایت زور سے کہتا ہوں کہ ان باتوں کا جھوٹا ہونا ایسے پرزور دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کا ماننے والا تو کیا معلم الملکوت بھی ان دلائل کو اٹھا نہیں سکتا۔ الحق یعلو ولا یعلٰینہایت سچا معقولہ ہے۔

مولانا! جس طرح مخالفین اسلام کے حملے اعلانیہ طور سے اسلام پر ہورہے ہیں۔

477

اسی طرح علی محمدبابی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے حقیقی مقدس مذہب اسلام کے مٹانے کی تدبیریں کررہے ہیں۔ اگرچہ بعض ان میں ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی بے علمی ونادانی سے یہ بھی خبر نہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی ایک گروہ مرزائی کے لیڈر اور خوش بیان شخص ہیں۔ چوں کہ اس وقت قدرتی طور پر انگریزی تعلیم یافتہ حضرات میں اسلامی جوش پایا جاتا ہے۔ (اگرچہ اسلامی احکام سے انہیں واسطہ نہ ہو) اس لئے خواجہ کمال الدین مرزائی کے اس خوش آئندہ آواز سے کہ ہم اشاعت اسلام کریں گے۔ اکثر ان کے معاون اور مددگار ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ان کی نیت اچھی ہے مگر حقیقت حال سے یہ واقف نہیں ہیں۔ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس پردہ میں کیا راز ہے۔

مولانا! آپ سے غفلت یہ ہوئی کہ آپ نے پہلے سے وہاں کے فرمانروا خلداﷲ ملکہ، کو خواجہ کمال الدین مرزائی کے حالات سے اطلاع نہیں دی اور وہاں کے معززین کو پورے طور پر آگاہ نہیں کیا۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہے یا نہیں کہ ان میں کئی گروہ ہوگئے ہیں۔ ایک گروہ کا تو یہ کلمہ ہے’’لاالٰہ الّااﷲ احمد جری اﷲ‘‘محمد رسول اﷲ اڑا دیا گیا۔ اس جماعت کے سرگروہ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ مرزا محمود ہیں۔

دوسری جماعت کے لیڈر خواجہ کمال الدین مرزائی ہیں۔ دونوں گروہ میں جنگ زرگری ہے خوب تحریریں چھپتی ہیں۔ طرفین نے ایک دوسرے کی خفیہ باتوں کو کھولا ہے۔ خواجہ کمال الدین مرزائی پر ایک یہ بھی الزام ہے کہ جب ان کی وکالت نہیں چلی تو کمائی کا دوسرا ڈھنگ اس سے عمدہ نکالا۔ اس طرز میں دو باتیں سوچی ہیں کمائی تو ہوتی ہی ہے اس کے سوا اپنی وقعت بھی پورے طور سے ہوتی ہے اور قوم کے لیڈر اور خیرخواہ اسلام بنتے ہیں اور اس کے ساتھ درپردہ اپنے مرشد کی وقعت قائم کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ البتہ اپنے مرشد سے سبق لے کر وہی چندوں کی فہرست کھول رہے ہیں۔ یہ مانا کہ مقرر خوش بیان ہیں۔ چند باتیں خوب مشق کرلی ہیں، مسلمان اسے پسند کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ مگر کیا واقف کار حضرات یہ نہیں جانتے کہ بعض نصاریٰ اور بے دین بھی بے نظیر خوش بیان ہوئے ہیں۔

خواجہ کمال الدین مرزائی نے ان اطراف میں بھی دورہ کیا اور ان کے بیان ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ نہایت ذاتی مصلحت اور گہری پالیسی سے کام لے رہے ہیں۔ جہاں کسی

478

واقف کار ذی علم نے کوئی سوال کیا تو اس کے جواب میں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس وقت میں جواب کے لئے تیار نہیں ہوں اور عوام میں بیان کے بعد اکثر یہ کہہ دیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود، مہدی مسعود سے یہ کہہ لیا تھا کہ میں صرف اسلام پر لیکچر دیا کروں گا اور کچھ نہ کہوں گا۔اب اس پر غور کیجئے کہ مرزائی محبت کا تخم مسلمانوں کے دلوں میں بونے کا کیسا عمدہ طریقہ وہ برتتے ہیں۔ یعنی جب مسلمانوں کے روبرو اسلام کے متعلق ایک عمدہ بیان کیا اور ان کے دلوں میں ان کی وقعت اور محبت ہوئی۔ اس کے بعد ہی مرزا قادیانی کی نسبت یہ کہہ دینا کہ حضرت مسیح موعود مہدی مسعود سے میں نے یہ عہد کیا تھا۔ کیسا زہریلا اثر رکھتا ہے۔ اس سے انہوں نے اپنا عقیدہ اور مرزا قادیانی کی عظمت اور مسیحیت کو پورے طور سے بیان کردیا اور سمجھ لیا کہ آہستہ آہستہ اس کا نتیجہ حسب خواہ ہورہے گا۔ پھر خواجہ کمال الدین مرزائی کا یہ کہنا کہ میں مرزا قادیانی کا ذکر نہیں کرتا انہیں نبی نہیں مانتا۔ بندگان خدا کو سخت دھوکہ دینا ہے۔

ہاں نئی تہذیب اور شائستگی اس کو جائز رکھے اور مصلحت وپالیسی بتائے تو میں کچھ نہیں کہتا۔ مگر حیدرآباد میں اعلانیہ طور سے مرزائی مذہب کی تبلیغ ہورہی ہے اور صحیفہ آصفیہ کو تقسیم کررہے ہیں۔ اس لئے اس فقیر کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حالت میں آپ بالکل خاموش کیوں ہیں؟ اپنے فضل وکمال اور خان بہادری صرف کرنے کا تو یہی موقع ہے۔ ہمت کیجئے۔ آپ جانتے ہی ہوں گے اور میں بھی آپ کو اپنے پختہ علم سے آگاہ کرتا ہوں کہ وہ قطعاً یقینا مسلمانوں کو بہکا کر دھوکے سے اپنا معتقد بنانا چاہتے ہیں اور پھر کسی وقت اعلانیہ طور سے مرزا قادیانی کا معتقد بنانے کے لئے لیکچر ہوں گے۔ اس وقت یہ کہنا کہ میں مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا اور کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتا۔ کیسا صریح دھوکا ہے۔ کیوں کہ سمجھتے ہیں کہ نبی ماننے سے مسلمان بھڑکتے ہیں۔ عام مسلمانوں پر بھی یہ بات ظاہر ہے کہ رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس لئے مرزا قادیانی کونبی کہنے سے سب لوگ ہم سے متنفر ہوں گے۔ اسی طرح مسلمانوں کو کافر کہنے سے انہیں غصہ ہوگا اور میرا کام چلنے سے رک جائے گا۔ یہ خیال کرکے انہوں نے دونوں باتوں سے ظاہراً انکار کیا اور اس کا نام پالیسی رکھا۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کس صراحت اور زور کے ساتھ دعویٰ نبوت کیا ہے اور اپنے منکر کو کافر اور جہنمی کہا ہے۔ میں نے ان کے اقوال صحیفہ رحمانیہ نمبر۶،۷،،صحائف رحمانیہ ۱تا ۲۴ مکمل احتساب

479

قادیانیت ج پنجم میں ملاحظہ کریں،،میں اور فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں کچھ نقل کئے ہیں۔ پھر جو شخص ان کو ماننے والا ہے وہ کیسے ان کی نبوت سے انکار کرے گا۔ جب ان کے قولوں سے انکار کرے تو بالضرور ان کو سچا نہیں مان سکتا۔

اور یہ تو خیال فرمائیے کہ جب وہ ہر موقع پر مرزا قادیانی کو مسیح موعود کہہ دیتے ہیں تو پھر نبوت سے انکار کرنا چہ معنی دارد۔ مسیح موعود کا نبی ہونا تو متفق علیہ مسئلہ ہے جو شخص انہیں مسیح موعود مان رہا ہے پھر ان کی نبوت سے کیوں کر انکار کرسکتا ہے؟ اس کے علاوہ نہایت روشن ہے کہ اس وقت اپنا صحیفہ آصفیہ مشتہر کررہے ہیں۔ اس میں مرزا قادیانی کی جو باتیں نقل کی ہیں۔ عام مسلمانوں کو خصوصاً مسلمانان حیدرآباد کو ڈرایا اور دھمکایاہے یہ شان تو انبیاء ہی کی ہوتی ہے۔ کسی دوسرے مجدد کی نہیں ہوسکتی۔

اس کے علاوہ معززین دکن اس پر نظر کریں کہ خواجہ کمال الدین مرزائی اپنی جماعت کے سوا کسی مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے کیسی ہی بھاری جماعت ہو۔ مگر اس میں شریک نہیں ہوتے۔ اگر کسی نے کہا بھی تو کوئی حیلہ کرکے ٹل جاتے ہیں۔ اس کو ہمارے برادران اسلام خوب امتحان کرلیں۔ اگر وہ سب کو مسلمان سمجھتے ہیں تو مسلمانوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ اس اطراف میں ان کا دورہ ہوا۔ یہاں بھی انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ نماز نہیں پڑی۔ ان کی یہ روش کامل شہادت دیتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے کافر سمجھتے ہیں۔ مگر افسوس اور نہایت افسوس ہے کہ سمجھ دار اور اہل علم اس پر خیال نہیں کرتے اور اس راز سربستہ تک نہیں پہنچتے۔

اب جن باتوں سے انہوں نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے وہ کئی باتیں سنی جاتی ہیں۔ سب سے اوّل یہ ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اشاعت اسلام کریں گے اور کافروں کو مسلمان بنائیںگے۔ ذرا آپ غور کیجئے اتنے دنوں لندن میں رہے اور یہی دعویٰ کرتے رہے۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ ان کے مرشد نے اس قدر غل مچایا انہوں نے کتنے عیسائی مسلمان بنائے۔پھر خود خواجہ کمال الدین مرزائی ہندوستان میں لیکچر دے رہے ہیں۔ مگر سوائے چندہ مانگنے کے کسی آریہ یا عیسائی کو مسلمان بنانے کی طرف کبھی توجہ کی یا لندن میں اتنے دن رہ کر آئے سوائے جھوٹی خبروں کے اور کیا کیا؟ ان کی خلاصہ حالت لندن کی صحیفہ رحمانیہ نمبر۴ میں لکھی گئی ہے اور میرے کئی احباب جو لندن میں کئی برس رہ کر آئے ہیں وہ سب ان کی حالت بیان کرتے ہیں۔

480

یہ لوگ یہاں کے معززین میں سے ہیں وہ کہتے ہیں انہیں کوئی وہاں پوچھتا بھی نہیں تھا اور یہ تو خیال فرمائیے کہ ان کے مرشد نے کس زوروں سے دعویٰ کیا کہ ’’میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے آیا ہوں۔ اگر میں توڑ نہ دوں تو گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(اخبار بدر قادیاں نمبر۲۹ ج۲، ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ص۴: مکتوبات ج۱ ص۴۹۸، مکتوب نمبر۲۹ طبع جدید)

یہ بھی انہوں نے کہا کہ’’ اگر سات برس کے اندر خداتعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہوجائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہوجائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۴ خزائن ج۱۱ ص ۳۱۸)

یہ قول مرزا قادیانی کا ۱۸۹۷ء سے کچھ پہلے کا ہے۔ اس قول کے بعد گیارہ برس زندہ رہے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی یا دوسرے صاحب یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے ان دعوئوں کے نتیجہ کا ظہور تو اپنے ہی زمانہ میں فرمایا تھا مگر کسی بات کا ظہور تو نہیں ہوا۔

تثلیث پرستی کا ستون توڑنا تو بہت دشوار تھا ان کی وجہ سے تو سو دو سو بلکہ دس بیس تثلیث پرست بھی ان پر ایمان نہیں لائے۔ البتہ انہوں نے اپنا زور قلم یہ دکھایا کہ دنیا میں مردم شماری کے لحاظ سے جو چالیس کروڑ مسلمان کہے جاتے ہیں۔ ان سب کو کافر بنا دیا۔ کیوں کہ مرزا قادیانی صاف لکھتے ہیں کہ ’’مسیح موعود (یعنی میرا) نہ ماننے والا ویسا ہی کافر ہے جیسا جناب رسول اﷲa کا نہ ماننے والا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۷۹ خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

ملاحظہ کیجئے : ’’اپنے مخالفین کو جہنمی صاف طور پر کہتے ہیں۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۲ خزائن ج۱۱ ص۶۲)

اب اس کی تفصیل وتشریح ان کے صاحبزادے مرزا محمود قادیانی نے اپنے رسالہ تشحیذ الاذہان میں اچھی طرح سے کی ہے۔ اس کا (نمبر۴ ج۶ بابت اپریل ۱۹۱۱ء) ملاحظہ کیجئے۔ جب مرزا قادیانی نے کچھ نہ کیا تو آپ کے خیال میں یہ آسکتا ہے کہ ایسے جھوٹے مدعی کا پیرو اسلام اور مسلمانوں کو کچھ نفع پہنچا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جب ان کے مرشد نے ایسے صریح صریح جھوٹے دعوے کئے تو ان کے مرید سے یہ امید ہوسکتی ہے کہ وہ جھوٹا دعویٰ نہ کریں گے؟ میرے خیال میں کوئی ذی علم مسلمان انہیں سچا نہیں سمجھ سکتا۔

481

دوسری وجہ لوگوں کے متوجہ کرنے کی یہ سنی جاتی ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ خیال تھا کہ قرآن مجید کا ترجمہ متعدد زبانوں میں کیا جائے۔ مگر وہ پورا نہ کرسکے۔ میں اسے پورا کرنا چاہتا ہوں اور اس کے لئے چندہ مانگتا ہوں۔

مولانا! خیال کیجئے کہ یہاں بھی وہ اپنے مرشد کا نام لے کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ نہایت ضروری اور عمدہ کام کا انہیں خیال تھا اور پھر لوگوں سے کہتے ہیں میں مرزا قادیانی کا ذکر نہیں کرتا۔ یہ کیسا دھوکا ہے؟ کہ آہستہ آہستہ مرزا قادیانی کی طرف رجحان کا تخم بوتے جاتے ہیں اور انکار بھی کرتے جاتے ہیں۔

مولانا!اس پر بھی آپ خیال کیجئے کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد اوّل براہین احمدیہ کا نمونہ دکھلا کر اس کا غل مچایا کہ ہم حقانیت اسلام پر دو سو یا تین سو براہین لکھیں گے اور چھپوائیں گے۔ اس کا اشتہار کئی جزئوں میں بہت موٹے موٹے حرفوں میں چھپوا کر شائع کیا اور اس ذریعہ سے انہوں نے لوگوں سے دس ہزار روپیہ کا چندہ لیا اس کے بعد غالباً بیس پچیس برس تک زندہ رہے اور برابر لکھنے ہی کے مشغلہ میں رہے۔ مگر بجز جھوٹے دعوئوں اور تعلّیوں کے اور اپنی جھوٹی باتوں کے اظہار کے اور کچھ نہیں کیا اور تحریروں میں اس قدر انہیں مشغولی رہتی تھی کہ کئی کئی وقت کی نمازیں بھی قضا کرتے رہے۔ مگر اس پر بھی براہین کا وعدہ پورا نہ کیا اور دو سو براہین میں سے دوچار بھی نہیں لکھیں اور جن لوگوں نے روپیہ دیا تھا۔ بعض نے طلب کیا تو چند گالیاں انہیں سنائیں۔ یہ حضرت انہیں کے مرید ہیں جو مختلف رسالوں کی تالیف کا چندہ، بہشتی مقبرہ کا چندہ، مناروں کا چندہ، مکان کے وسیع کرنے کا چندہ۔

غرض کہ مختلف قسم کا چندہ تمام عمر جمع کرتے رہے اور اپنی شہرت اور اپنی جسمانی راحت میں صرف کرتے رہے اور اپنی اولاد کے لئے سرمایہ چھوڑ گئے اور مریدوں کو چندہ دینے کا عادی کرگئے۔ اس لئے ان کے مریدوں میں بھی عادت ہوگئی ہے کوئی چندہ دیتا ہے کوئی چندہ مانگتا ہے۔ خواجہ کمال الدین مرزائی بھی انہیں میں سے ہیں۔ ان سے کیا امید ہوسکتی ہے۔ خدا کے لئے اس پر غور کیجئے اور تمام برادران اسلام کو اس سے آگاہ کیجئے کہ ہوشیار ہوجائیں۔ یہ ان کے خاص مرید ہیں۔ پھر خصوصیت کی وجہ سے ان کی باتوں کا اثر ان میں ضرور آیا اور اس وقت وہ گہری پالیسی سے اپنا کام کررہے ہیں۔ اس سے کوئی تجربہ کار انکار نہیں کرسکتا۔

482

ان باتوں کے سوا میں آپ سے کہتا ہوں کہ قرآن مجید کا ترجمہ کرنا اس قدر مشکل ہے کہ اچھے اچھے ماہرین قرآن بھی ترجمہ پورے طور سے نہیں کرسکتے۔ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ ترجمہ کرنے کے لئے اوّل ان دونوں زبانوں کا کامل ماہر ہونا چاہئے جس کا وہ ترجمہ کرے اور جس میں وہ ترجمہ کرے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی عربی زبان سے تو ناآشنا ہیں۔ پھر وہ قرآن کا ترجمہ کیا کریں گے؟ سوا اس کے کہ وہ اردو اور فارسی کے ترجموں کو دیکھیں اور سب سے اوّل اپنے مرشد کے قول کو مدنظر رکھیں اور آیات قرآن کا مطلب وہی بیان کریں جو ان کے مرشد نے بیان کیا ہے۔ میں ان کے مرشد کے اقوال بعض آیات کے مطالب میں آپ کو دکھلاتا ہوں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ (آیت) ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

(اعجاز احمدی ص۷ خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

یہ آیت خاص میرے ہی شان میں اتری ہے۔ رسول اﷲa کی شان میں نہیں ہے۔ اب خیال فرمائیے کہ کیسا اندھیر ہے کہ تیرہ سو برس قبل مرزا قادیانی کے لئے جناب رسول خداa پر آیت اترے اور اس میں بصیغہ ماضی کہا جائے ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ الخ‘‘ اور اس سے وہ مدعی مراد ہو جو تیرہ سو برس بعد آئے گا اور وہ مدعی جو قرآن وحدیث سے اور اپنے اقرار سے جھوٹا ہوگا اس کے لئے یہ آیت ہے۔ (نعوذباﷲ)

(۲)اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہٖ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصٰی الّذی بٰرکنا حولہ (الخ)‘‘

اب اس کی تفسیر میں مرزا قادیانی یوں درفشانی کرتے ہیں اور (ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص۲۵ خزائن ج۱۶ ص۲۵) میں چندہ منارہ کا اشتہار دیتے ہیں ’’آیت ’’سبحان الذی اسریٰ الخ‘‘ کو لکھ کر اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں ’’مسجد اقصیٰ سے مراد اس جگہ پر یروشلم (یعنی بیت المقدس) نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کی مسجد ہے جو باعتبار بعد زمانہ کے خدا کے نزدیک مسجد اقصیٰ ہے اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے جس مسجد کی مسیح موعود بنا کرتے ہیں وہ اس لائق ہے کہ اس کو مسجد اقصیٰ کہا جائے جس کے معنی ہیں مسجد ابعد الخ‘‘ اس کے بعد (ص۵حاشیہ) میں لکھتے ہیں:

’’مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔‘‘ (ایضاً)

کہئے مولانا! یہ ترجمہ اور مطلب آیت موصوفہ کا تیرہ سو برس کے عرصہ میں صحابہ کرامؓ

483

سے لے کر اس وقت تک کسی حقانی عالم کے خواب میں بھی نہیں آیا۔ یہ تو مسیح قادیانی کی قرآن دانی کا نتیجہ ہے۔ خیال فرمائیے کہ کیسے کیسے مہملات اپنی چرب زبانی سے وہ بیان کررہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے مریدوں نے ان کو سلطان القلم کا خطاب دیا ہے۔ پھر ان کے رشید مرید جن کے نام میں کمال پڑا ہوا ہے اگر وہ لوگوں کے دلوں کو اپنے بیان سے مؤثر کریں تو کون سی بعید بات ہے۔ مولانا کسی مسلمان یا کسی سمجھدار کے خیال میں یہ آسکتا ہے کہ حضرت سرورکائنات علیہ السلام شب معراج میں مکہ معظمہ سے مرزا قادیانی کی خیالی مسجد قادیان میں تشریف لے گئے جس وقت اس مسجد کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ آپ اس پر غور کریں کہ جب خواجہ کمال الدین مرزائی مرزا قادیانی کو مامور من اﷲ اور مسیح موعود مانتے ہیں اور خود انہیں علوم عربیہ سے تعلق نہیں ہے تو بالضرور وہ ان آیتوں کے وہی معنی کریں گے جو مرزا قادیانی نے کئے ہیں۔

(۳) سورہ صف (آیت ۴) میں اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول اس طرح نقل فرماتا ہے ’’واذ قال عیسٰی ابن مریم یا بنی اسرائیل انّی رسول اﷲ الیکم مصدقاً لما بین یدیّ من التوراۃ ومبشّراً برسول یّاتی من بعدی اسمہٗ احمد‘‘ اس آیت میں صاف طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جناب رسول اﷲa کے آنے کی بشارت دیتے ہیں۔ چوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آپa ہی کا ظہور ہوا اور آپ کا نام احمد بھی تھا۔ اب مرزا قادیانی باوجود غلام احمد ہونے کے اپنا ’’نام احمد کہتے ہیں اور اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ٹھہراتے۱؎ ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۵ خزائن ج۳ ص۴۶۴)

حالاں کہ قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جناب رسول خداa کے بعد کوئی سچا نبی نہ ہوگا بلکہ صاف طور سے حدیثوں میں مذکور ہے کہ میرے بعد میری امت میں سے جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے۔ حالاں کہ میں خاتم النّبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا (یہ حدیث صحیحین کی ہے)

۱؎

اس تحریر کے بعد معلوم ہوا کہ خواجہ کمال الدین مرزائی اس آیت کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں کہتے مگر ان کے بیٹے اور خلیفہ کہتے ہیں۔ دونوں میں اختلاف ہے۔ ہم نے مانا کہ اس آیت کے معنی وہ صحیح کہیں مگر ان کے مرشد نے بہت جگہ غلط معنی بیان کئے ہیں۔ خواجہ کمال الدین قادیانی کہاں تک ان سے انکار کریں گے۔ جب انہیں مسیح موعود مان چکے ہیں تو ان کے تراشیدہ معنی کو ضرور مانیں گے اور ترجمہ دیکھنے والوں کوانہیں مسیح موعود منوانا چاہیں گے۔

484

اب خواجہ کمال الدین مرزائی ان آیتوں کا وہی معنی کریں گے جو ان کے مرشد نے کئے ہیں۔ اگر اس کے خلاف کریں گے تو انہیں جھوٹا قرار دینا پڑے گا۔ مگر خواجہ کمال الدین مرزائی نے یہ خیال کرلیا ہوگاکہ ترجمہ تو انگریزی وغیرہ زبان میں ہوگا جس سے اکثر اہل علم واقف نہ ہوں گے۔ پھر اس کے حسن وقبح کو کون دریافت کرسکتا ہے۔ اب دیکھنے والے اگر ایمان لائیں گے تو اسی بات پر لائیں گے جو انہوں نے ترجمہ کیا ہوگا۔ مرزا قادیانی کی قرآن دانی کی ایسی مہمل اور واہی مثالیں بہت ہیں۔ مگر میں نے بطور نمونہ آپ کو تین آیتیں پیش کردیں۔

مولانا! یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ وہ ’’اپنے الہام کو مثل قرآن مجید کے نص قطعی بیان کرتے ہیں اور احادیث نبویہa سے اس کا بہت بڑھا ہوا مرتبہ کہتے ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۱۱ خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

اب اس کے بعد ان کا یہ الہام ملاحظہ ہو’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ یہ روایت بہت مشہور ہے اور سب جانتے ہیں کہ جناب رسول خداa کی شان میں ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کو غلط ٹھہرا کر یہ کہتے ہیں کہ یہ میرا الہام ہے۔ یعنی ’’میری نسبت اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو زمین وآسمان کچھ نہ بناتا۔‘‘

(الاستفتاء ۸۵ خزائن ج۲۲ ص۷۱۳: تذکرہ ص۶۱۲طبع سوم: ص۵۲۵ طبع چہارم)

اس میں مرزا قادیانی ’’تمام عالم کے وجود کو اپنا طفیلی اور اپنا ظل کہتے ہیں‘‘ جس کا حاصل یہی ہوا کہ تمام انبیاء کرام اور جناب رسول خداa بھی مرزا قادیانی کے طفیلی ہیں۔

مولانا! کون مسلمان ہے کہ اس بات کو سن سکتا ہے اور حضرت سرور انبیاء حبیب کبریاa کی توہین پر تحمل کرسکتا ہے؟ اب کہیں اپنے آپ کو ظلی بروزی کہہ دینا صرف مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے۔ مولانا! خواجہ کمال الدین مرزائی انہیں کے مرید ہیں انہیں کی تعریف میں صحیفہ آصفیہ شائع کررہے ہیں۔ کیا ایک دن علماء سے اس کی جواب دہی نہ ہو گی۔ خصوصاً آپ جیسے معزز اور مقتدر اہل علم سے؟ ذرا ہمت سے کام لیجئے اور اپنی صداقت اور حمایت دین کو کام میں لائیے۔ مرزا قادیانی کا ایک قول (صحیفہ رحمانیہ نمبر۷ ص۲۴) میں دیکھئے کہ مرزا قادیانی اپنی فضیلت تمام انبیاء پر کس طرح دکھلا رہے ہیں۔ غرض کہ اس مختصر بیان سے فہمیدہ حضرات سمجھ سکتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین مرزائی اگر قرآن کا ترجمہ کریں گے تو اس سے اسلام کی اشاعت تو ہرگز نہ ہوگی بلکہ مسیح قادیانی کے جھوٹے مذہب کی اشاعت البتہ ہوگی۔ اس سے برادران اسلام بالکل

485

ناواقف ہیں اور خواجہ کمال الدین مرزائی کی باتوںمیں آگئے ہیں۔ چوں کہ پہلے سے بھی وہاں مرزا قادیانی کے ماننے والے اور معاون ومددگار موجود تھے۔ اس لئے خواجہ کمال الدین مرزائی کو وہاں بہت مدد ملی اور کچھ نئے خیال کے حضرات ان کے بیان کو پسند کرکے ان کے مددگار ہوگئے۔ ان کی کوشش سے ان کو اس قدر وثوق ہوگیا۔ مگر آپ کی شان یہ تھی کہ کچھ ہمت کرکے اثر ڈالتے تو اس جھوٹی سحر بیانی اور چرب زبانی کا کچھ بھی اثر نہ پڑتا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ کے مقتدر ملک میں مرزا قادیانی کی نبوت کی خوب تبلیغ ہورہی ہے۔ یعنی صحیفہ آصفیہ تقسیم ہورہا ہے۔ میرے پاس بھی بھیجا گیا ہے۔ اس لئے مجھے خاص اس کی طرف توجہ کرنا ضرور ہوا۔ مولانا مجھے بار بار حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے صحیفہ آصفیہ کی غلط باتوں کا نمونہ بھی مسلمانوں کو نہیں دکھایا۔ اس میں تو سوائے جھوٹے دعوئوں کے اور کچھ نہیں ہے مشاغل متعلقہ کے علاوہ شاید آپ کسی تصنیف میں مشغول ہوں گے۔ مگر یہ فقیر اس کی اشاعت کے دیر ہونے میں نہایت خطرہ خیال کرتا ہے اس لئے اس کا نمونہ لکھ کر بھیجتا ہوں اسے مشتہر کیجئے۔ مجھے اس میں ذرا شبہ نہیں ہے کہ آپ کے نزدیک اس کے دلائل تار عنکبوت سے زیادہ زور دار نہیں ہیں۔ مگر اس وقت تو مسلمانوں کی خیرخواہی اور آپ کا فرض منصبی بآواز بلند یہ کہہ رہا ہے کہ اس کے مضامین کی حقیقت حال کو نہایت روشن کرکے دکھلائیں شاید آپ کسی موقع اور وقت کے منتظر ہوں گے یا انہیں بے حقیقت سمجھ کر توجہ نہ ہوتی ہوگی۔ مگر آپ خوب سمجھ لیں کہ ہمارے علماء کی ایسی بے توجہی اور ایسے ہی خیال نے مرزا قادیانی کو اس قدر فروغ دے دیا۔ اگر ابتدا میں مخصوص علماء کو اس طرف پوری توجہ ہوجاتی تو یہ فتنہ فروغ نہ پاتا۔

یہ خاکسار بہت دور ہے مگر اس وقت کسی قدر آپ کو سبکدوش کرتا ہے اور صحیفہ آصفیہ کا نمونہ دکھاتا ہے، ہمارے فرمانروائے دکن اور تمام معززین ملاحظہ فرمائیں! میری اس محنت کا نتیجہ کامل طور پر اسی وقت ہوسکتا ہے کہ آپ اور آپ کے مخصوص احباب اس کی اشاعت میں کوشش فرمائیں اور تمام معززین کے ہاتھوں تک پہنچائیں۔

صحیفہ آصفیہ کا پہلا نمونہ

رسالہ کے (ص۲۰) میں امام مہدی کے خروج کی کئی نشانیاں بیان کی ہیں۔ وہ سب غلط ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی تو علوم دینیہ کی تحقیق سے معرّا ہیں ان کا مایہ علمی صرف مرزا

486

قادیانی کے اقوال ہیں ان میں ایک علامت یہ بیان کی ہے کہ’’ ایام مہدی میں ایک رمضان کے مہینہ تیرہویں اور اٹھائیسویں تاریخ پر چاند اور سورج کا کسوف وخسوف ہوگا۔‘‘(ص۲۰ سطر ۳،۴) اس کی سند میں حاشیہ پر دارقطنی کی ایک روایت لکھی ہے۔ مگر اس کی غلطی رسالہ شہادت آسمانی اوّل اور دوسری شہادت آسمانی میں اس خوبی اور وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ اسے دیکھ کر ذی علم حق پسند تو وجد کرنے لگتا ہے اور مخالف ناحق کوش حیران رہ جاتا ہے۔ یہ دونوں رسالے خاص اسی نشان کے ذکر میں لکھے گئے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ جس روایت سے خواجہ کمال الدین مرزائی اپنے مرشد کی صداقت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اسی روایت سے متعدد طریقوں سے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا آفتاب کی طرح روشن کرکے دکھایا ہے۔ وہ طریقے مجملاً ملاحظہ ہوں:

۱…جس روایت سے یہ دعویٰ ثابت کیا جاتا ہے وہ روایت ہرگز اس لائق نہیں ہے کہ ایسا عظیم الشان دعویٰ اس سے ثابت کیا جائے۔ اس کا روایت کرنے والا ایک جھوٹا دجّال کذّاب ہے۔ اس کی روایت ہرگز اس لائق نہیں ہوسکتی خود دار قطنی کے طرز بیان سے اس حدیث کا صحیح نہ ہونا ظاہر ہے۔ (دوسری شہادت آسمانی ص۵۴ سے ۵۹تک) ملاحظہ ہو!

۲…اس غیر معتبر روایت کی صحت ثابت کرنے میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جو غلط باتیں بنائی ہیں اور نہایت صاف وصریح دھوکا دیا ہے اس سے ہر ایک فہمیدہ حق پسند پر مرزا قادیانی کی فریب دہی نہایت روشن ہوجاتی ہے۔

۳…جس روایت کو مرزا قادیانی نے اپنی شہادت میں پیش کیا ہے اسے اپنے اوپر صادق کرنے کے لئے ایسے غلط معنی بیان کئے ہیں کہ کوئی ذی علم خصوصاً جسے زبان عرب سے پوری واقفیت ہے، وہ ہرگز نہ کرے گا بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے معنی کو بالیقین غلط بتائے گا اور صحیح معنی کے لحاظ سے وہ روایت مرزا قادیانی کے لئے نشان کسی طرح نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ اس کا ظہور اس وقت تک نہیں ہوا۔

۴…۱۳۱۲ھ کے گہن کو مہدی کا نشان مرزا قادیانی نے بتایا ہے۔ مگر ماہرین علم ہیئت ونجوم خوب واقف ہیں کہ یہ ایک معمولی گہن تھا جو اپنے مقررہ وقت پر ہوا، اس طرح کے گہن پہلے بھی بہت ہوچکے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ پھر ایک ایسی معمولی اور مقررہ بات کو عظیم الشان امر کا نشان کہنا صرف بے عقلی اور جہالت ہی نہیںہے بلکہ جناب رسول اﷲa پر

487

سخت الزام ہے۔ کیوں کہ مرزا قادیانی اس بات کو حضور انورa کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان گہنوں کو رسول اﷲa نے مہدی کا نشان کہا ہے۔ اب جو ماہرین نجوم اس قول کو دیکھیں گے تو حضور انورa پر (نعوذباﷲ منہ) مضحکہ کریں گے۔

۵…اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے تو بھی مذکورہ گہن مہدی کی علامت اور اس حدیث کا مصداق ہرگز نہیں ہوسکتا۔ روایت کے چار جملے اس غلطی کو نہایت صفائی سے ظاہر کررہے ہیں۔ ان باتوں کی تصریح شہادت آسمانی میں کامل طور سے کی گئی ہے۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے اوّل خلیفہ حکیم نورالدین قادیانی کے پاس بھیجا گیا تھا اور ان کے سوا اور بھی بعض اہل علموں کو دیا گیا۔ مگر اس وقت تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس رسالہ سے پہلے عام وخاص مرزائی ہر ایک سے کہتے تھے کہ دیکھو اب مرزا قادیانی کے مہدی ہونے میں کیا شک ہے۔ اب تو اعلانیہ آسمان نے ان کو شہادت دے دی۔ مگر اس رسالہ شہادت آسمانی کے بعد جب انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ تو الٹی شہادت ہوگئی۔ یعنی مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی آسمانی شہادت ہوگئی۔ اس لئے بالکل خاموش ہوگئے۔ چوں کہ وہ رسالہ حیدرآباد دکن میں بخوبی شائع نہیں ہوا۔ لہٰذا خواجہ کمال الدین قادیانی کو اپنے رسالہ میں اس کے شائع کرنے کی جرأت ہوئی اور ممکن ہے کہ انہوں نے اسے دیکھا ہی نہ ہو۔ کیوں کہ مرزا قادیانی کے پختہ ماننے والے اپنے حقیقی بہی خواہوں کے رسالوں کو دیکھتے ہی نہیں۔ بلکہ ان کے بزرگ کہہ دیتے ہیں کہ مخالفین کے رسالے دیکھنے سے ایمان جاتا رہے گا۔ انہیں مت دیکھو لیکن یہ خاکسار بہ نیت خیرخواہی خواجہ کمال الدین قادیانی سے کہتا ہے کہ اس رسالہ کو ضرور ملاحظہ فرمائیںاور خوف خدا دل میں لاکر انصاف دلی سے دیکھیں۔ میں بالیقین کہتا ہوں کہ اگر حق پسندی کی نظر سے ملاحظہ کریں گے تو اپنے رسالہ صحیفہ آصفیہ کو ردی میں پھینک دیں گے۔ کیوں کہ اس میں ذرا شبہ نہیں ہے کہ دوسری شہادت آسمانی کے نہایت مشرح بیان نے مرزا قادیانی کو متعدد دلیلوں سے نہایت صفائی سے یقینا کاذب ثابت کردیا ہے۔ جیسی غلط اور جھوٹی باتیں خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد نے گہنوں کے اجتماع کی نسبت بنائی ہیں، کوئی دیندار صاحب عقل ایسی باتیں نہیں کرسکتا اور اہل اﷲ اور مسیح موعود کی تو بڑی شان ہے۔

شہادت آسمانی میں صرف غلطی ہی نہیں دکھائی گئی ہے بلکہ مرزا قادیانی کی صریح دھوکا

488

دہی ثابت کی گئی ہے۔ اس لئے صحیفہ آصفیہ کی تمام باتیں ہبائاً منثوراً ہوگئیں اور محض غلط ثابت ہوئیں۔ کیوں کہ انسان کے جھوٹا اور غیرمعتبر ہونے کے لئے ایک جھوٹ کا ثابت ہوجانا کافی ہے۔ میں ان سے خیرخواہانہ کہتا ہوں کہ اگر وہ اس کا جواب دینا چاہیں تو ہرگز نہیں دے سکتے۔ البتہ ہدایت ہادی مطلق کے اختیار میں ہے قرآن مجید میں بہت جگہ ارشاد ہے۔ ’’یضلّ بہ کثیراً وّیہدی بہ کثیراً (بقرہ:۲۶)‘‘ پھر کسی انسان کی تصنیف کی کیا ہستی ہے۔

(ص۱۷) میں لکھتے ہیں ’’کہ صدی کا سر بھی گزرچکا تھا اور بموجب قول پیغمبر ضروری تھا کہ کوئی مجدد مبعوث ہو، اور اس مبارک انسان کے سوا کسی اور شخص نے آج تک اس صدی کے لئے دعویٰ مجددیت بھی نہیں کیا تھا۔‘‘

یہ سب باتیں خواجہ کمال الدین کی بے علمی اور بے خبری ثابت کرتی ہیں ملاحظہ کیجئے:

۱…رسول اﷲa نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ مجدد اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ بھی کرے گا۔ البتہ وہ کام کرے گا جس سے دین کو فائدہ پہنچے اور اس کی تجدید ہو یہی وجہ ہے کہ پہلے صدیوں میں کسی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ دوسرے علماء نے ان کی حالت دیکھ کر انہیں مجدد کہا ہے۔ غرض کہ مجدد ہونے کے لئے دعویٰ ضروری نہیں ہے۔ مدعی تو اکثر جھوٹے ہوئے ہیں۔ جیسے دوسری صدی میں طریف اور صالح گزرا ہے۔ جس کی حالت تاریخ ابن خلدون میں لکھی ہے اور مرزا قادیانی سے بہت زیادہ اسے عروج ہوا تھا اور کئی سو برس اس کے اولاد میں بادشاہت قائم رہی۔ اس سے مرزا قادیانی کا وہ دعویٰ بھی غلط ہوجاتا ہے کہ کوئی مفتری کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کی تفصیل رسالہ عبرت خیز میں ملاحظہ کی جائے۔

۲…یہ کہناکہ اس صدی میں کسی نے مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ محض غلط ہے۔ دیکھئے مولوی احمد رضا خاں بریلوی اپنے آپ کو مجدد مائۃ حاضرۃ کہتے ہیں۔ یعنی میں اس موجودہ صدی کا مجدد ہوں یہ دعویٰ ان کا مرزا قادیانی کے سامنے بھی تھا اور اب بھی ہے اور مرزا قادیانی کو کافر کہتے ہیں اور سخت مخالف ہیں اور بھی بعض نے دعویٰ کیا ہے اور بمبئی سے اشتہار جاری کیا ہے اور مکہ معظمہ پہنچ کر دعوے کا اعلان کیا ہے۔ مگر اس کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک مدعی کا نشان دینا کافی ہے۔ وہ ہندوستان میں موجود ہیں۔

۳…اے معززین اسلام ذرانظر کو وسیع کرکے ملاحظہ کیجئے کہ مجدد وہی ہے جو دین

489

اسلام کو معتدبہ فائدہ پہنچائے۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے اسلام کو کیا فائدہ پہنچایا اس کا ذکر میں نے بعض رسالوں میں کیا ہے جو علامتیں مسیح موعود کی حدیث میں آئی ہیں وہ علامتیں تو مرزا قادیانی میں ہرگز پائی نہیں گئیں۔مجھے ابتدائے صدی سے اس کا خیال رہا ہے اور متعدد پادریوں سے مناظرہ تقریری اور تحریری ہواہے اور انہیں کامل طور سے عاجز کیا ہے اور ایسی تدبیریں کی ہیں کہ جابجا منادی کرنا پادریوں نے شروع کردیا تھاوہ بند ہوگیا۔ اسی وقت متعدد رسالے نہایت تحقیق وتہذیب سے لکھے ہیں ان میںپیغام محمدیa، آئینہ اسلام، دفعہ التلبیسات اور ترانہ حجازی وغیرہ کتابیں چھپ کر شائع ہوچکی ہیں۔ وہ سب موجود ہیں آج تک کسی پادری نے جواب نہ دیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک پادری سے مناظرہ کیا تھا مگر ان کو پیشین گوئی کرنے کا ایسا شوق تھا کہ اس مناظرہ میں پادری آتھم کی نسبت پیشین گوئی کردی کہ پندرہ مہینے کے اندر یہ مرجائے گا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ پیشین گوئی بھی جب جھوٹی ہوئی اور وہ نہ مرا تو ۶؍ستمبرروز مقررہ پر پادریوں نے الٰہ آباد سے لے کر تمام پنجاب میں بڑی خوشیاں منائیں۔ گویا مرزا قادیانی نے اسلام کا مضحکہ اڑوایا۔ اس کی تفصیلی حالت اشاعۃ السنۃ اور الہامات مرزا میں لکھی گئی ہے۔ مخالفین اسلام سے مناظرہ کرنا اسلامی کام تھا۔ مگر اس عمدہ کام کو جھوٹی پیشین گوئی کرکے مرزاغلام احمد قادیانی نے مضحکہ بنا دیا۔

دوسرا اسلامی کام مرزا نے یہ کیا تھا کہ براہین احمدیہ لکھنا شروع کیا اور ایک دلیل نمونہ کے طور پر لکھ کر اسے چھاپا اور اشتہار دیا کہ میں اسلام کی حقانیت پر تین سو دلیلیں لکھوں گا اور اس کتاب کی قیمت کا پیشگی چندہ مانگنا شروع کیا۔ برسوں اس کا غل رہا اور بہت مسلمانوں نے اس کی قیمت پیشگی بھیج دی۔ اس کی قیمت بھی مختلف ہوتی رہی۔ آخر میں غالباً پچیس روپے کردی گئی تھی بعض واقف الحال ان کے پرانے آشنا لکھتے ہیں کہ اس ذریعے سے دس ہزار روپے مرزا قادیانی کے پاس آئے۔ اب خواجہ کمال الدین قادیانی بتائیں کہ وہ تین سو دلیلیں حقانیت اسلام پر کہاں ہیں؟ مرزا قادیانی پچیس تیس برس تک زندہ رہ کر لکھنے ہی کا کام کرتے رہے۔ مگر انہوں نے جو وعدہ کیا تھا اور جس کا اشتہار بڑے موٹے موٹے حرفوں میں دیا تھا اور جس کے لئے دس ہزار روپے پیشگی لئے وہ کہاں ہے؟ ان کی کتابوں میں کہیں ان کا وجود دکھائیے۔ پھر کیا کسی بزرگ سے ایسی باتیں ہوتی ہیں؟ کیا مسیح موعود جھوٹے اور ناجائز طریقے سے روپیہ کمانے کے

490

لئے مسلمانوں کو دھوکا دے سکتے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ خوف خدا دل میں لاکر انصاف سے کہئے۔ کیا فرضی کتاب کی قیمت معین کرکے مسلمانوں سے روپیہ لینا جائز ہے؟ کیا ایسا وعدہ کرکے جس کی شہرت ساری دنیا میں مخالفین اسلام کے مقابلہ میں کی ہو۔ اس کا پورا نہ کرنا اور مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع دینا عقلاً اور شرعاً درست ہے؟ اور جب مرزا قادیانی نے یہ وعدہ پورا نہ کیا اور زمانہ گزر گیا تو جنہوں نے قیمت دی تھی وہ قیمت واپس کردینے کے لئے لکھا تو مرزا قادیانی نے بجائے روپیہ واپس کرنے کے ان پر غصہ کا اظہار کرکے سخت کلامی کی۔

اب حق پسند حضرات فرمائیں کہ بزرگ اور مجدد ایسے ہوسکتے ہیں؟ نہایت غور کر کے اس کا جواب دیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مذہبی تحقیق اور عقل سلیم یہی کہے گی کہ یہ باتیں ہرگز جائز نہیں اور کسی بزرگ اور مجدد کی یہ شان نہیں ہے کہ ایسے منہیّات شرعی کا وہ اعلانیہ مرتکب ہو۔ اس قسم کی بہت سی باتیں فیصلہ آسمانی اور شہادت آسمانی وغیرہ رسالوں میں ثابت کی گئی ہیں اور مرزائیوں کی طرف سے سوائے سکوت کے کچھ جواب نہ ہوا۔ اگر خواجہ کمال الدین مرزائی انہیں دیکھتے تو اپنے رسالہ صحیفہ آصفیہ کے شائع کرنے کی جرأت ہرگز نہ کرتے۔

صحیفہ کا دوسرا نمونہ

خواجہ کمال الدین قادیانی(ص۸۱) میں لکھتے ہیں:

’’آپ کی بعثت۱؎ سے آپ کے وصال تک صدہا مکذب آپ کے مقابل میںاٹھے۔ جنہوں نے آپ کی ذات پر کمر باندھی لیکن: (۱)خدائے تعالیٰ نے انہیں ذلیل وخوار کیا (۲)جو آپ کے مقابل آیا ہلاک ہوا۔ (۳)جس رنگ میں کسی نے آپ کی ذلت کا ارادہ کیا اسی طرح کی ذلت اسے نصیب ہوئی۔‘‘

یہاں خواجہ کمال الدین قادیانی نے ہمارے ظل اﷲ حیدرآباد دکن کے ڈرانے کے لئے تین دعوے کئے ہیں اور میں نہایت سچائی اور زور سے کہتاہوں کہ یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں۔ چوں کہ ہمارے والی دکن خلد اﷲ ملکہٗ غالباً ان باتوں سے ناواقف ہیں۔ اس لئے انہیں مخاطب کرکے خواجہ کمال الدین مرزائی نے صحیفہ آصفیہ میں صریح کذب بیانی کی جرأت کی ہے، حالانکہ یہ تینوں باتیں ایسی غلط ہیں کہ ہندوستان میں ان کے غلط ہونے کا معائنہ ہورہا ہے۔

۱؎

یعنی مرزا قادیانی کی بعثت اہل علم جانتے ہیں کہ لفظ بعث انبیاء سے خاص ہے۔

491

ہمارے ظل اﷲ اگر تھوڑی توجہ فرمائیں تو ان تینوں دعوئوں کے کاذب ہونے کی کامل تصدیق ہوجائے۔ مختصر اس کا بیان ملاحظہ ہو: میں مرزا قادیانی کے بعض سخت مخالفین کے نام لکھتا ہوں۔

اوّل … امیرعبدالرحمن خان والی کابل

(اﷲتعالیٰ ان کی اولاد میں ریاست اور امارت کو قائم رکھے اور ان کی عقل وہمت میں ترقی عنایت کرے۔ آمین) کابل سے ایک مولوی حج کرنے کے لئے چلے تھے۔ صاحبزادہ عبداللطیف ان کا نام تھا چوں کہ مرزا قادیانی کی طرف سے جابجا ان کی تعریف کرنے والے رہتے تھے اور رہتے ہیں کسی سے تعریف سن کر شامت اعمال نے ان کو قادیان پہنچایا اور کئی مہینے رہ گئے چوں کہ مذہبی تحقیقات کامل نہ تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی کے دام میں آگئے۔ اس کے بعد جب حج کو جانا چاہا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ تمہارا حج ہوگیا۔ اب تم کابل جاکر تبلیغ کرو۔ وہ واپس گئے اور امیر صاحب کو ان کی حالت معلوم ہوئی۔ انہوں نے بلا کر علما کو جمع کرکے سمجھایا مگر اس نے نہ مانا۔ بالآخر نہایت ذلت کے ساتھ وہ مارا گیا۔ اس کے بعد امیر صاحب مرحوم مرزا جی کے فکر میں رہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی ہوشیاری سے انہیں ثواب سے محروم رکھا۔ اس وقت کابل کے ایک معزز مہمان میرے یہاں موجود ہیں۔ وہ مفصل حالت چشم دید بیان کررہے ہیں، میں سب نہیں لکھتا۔ مولوی عبداللطیف کابلی کا واقعہ بہت مشہور ہے مرزا قادیانی نے بھی اس واقعہ کو تذکرۃ الشہادتین خزائن ج۲۰ میں لکھا ہے۔ اسے خواجہ کمال الدین مرزائی مدنظر رکھ کر فرمائیں کہ امیر کابل کسی سختی سے مرزا قادیانی کے مقابل آئے۔ مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ کیا خدانخواستہ انہیں کسی قسم کی ذلت پہنچی؟ ذرا اپنی زبان سے اس کا جواب عنایت کریں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ بفضلہ تعالیٰ ان کی ہر طرح سے عزت اور ملک میں ترقی ہورہی ہے۔ برٹش گورنمنٹ میں بھی ان کاپورا اعزاز ہے۔ پھر کیا خواجہ کمال الدین مرزائی اس کو نہیں جانتے؟ ضرور جانتے ہیں پھر قصداً دھوکا دینے کو یہ کہتے ہیں کہ جو مقابل ہوا وہ ہلاک ہوا، ذلیل وخوار ہوا۔

دوم … مولوی ثناء اﷲ امرتسری

(اﷲتعالیٰ ان کی عمر میں ترقی دے) مرزا قادیانی کے سخت مخالف رہے اور بہت کچھ مقابلہ کیا اور اب تک مقابلہ ان کا کررہے ہیں اور مناظرہ کے لئے تمام مرزائیوں سے اعلان ہے حال میں بھی بمقام لدھیانہ مرزائیوں سے مناظرہ کرکے تین سو روپیہ کی ڈگری منشی

492

قاسم علی ایڈیٹر الحق اخبار قادیان دہلی سے نقد حاصل کی۔ مولوی صاحب نے صحیفہ آصفیہ کا جواب بھی لکھا ہے، صحیفہ محبوبیہ اس کا نام ہے۔ یہ وہ مقابل ہیں جن سے مرزا قادیانی نے تنگ آکر آخر میں یہ فیصلہ شائع کیا تھا جو نہایت قابل دید ہے جس کے دیکھنے کے بعد مرزا قادیانی کی حالت کا فیصلہ ہر ایک حق پسند کے نزدیک کامل طور سے ہوجاتا ہے میں اس مشتہرہ فیصلہ کی نقل ملاحظہ کے لئے پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے سرتاج شہریار دکن اور اراکین سلطنت آصفیہ نظامیہ اس کے معائنہ اور اس کے نتیجہ پر واقف ہونے کے بعد خواجہ کمال الدین مرزائی اور ان کے مرشد کی حالت سے بخوبی واقف ہوجائیں گے اور ان کے صحیفہ کو ردّی میں پھینک دیں گے۔

اب آپ کا یہ سچا خیرخواہ منت سے کہتا ہے کامل توجہ فرما کر اچھی طرح ملاحظہ کریں اور جس جملے پر میں نے خط کردیاہے اسے ذہن نشین کرکے اس کے نتیجہ کو چشم عبرت سے معائنہ کرکے قدرت خدا کا نظارہ فرمائیں کہ کتنا عظیم الشان دعویٰ کرنے والا مخلوق کے سامنے کس طرح ذلیل ہوتا ہے وہ قابل دید فیصلہ یہ ہے۔

مولوی ثناء اﷲ کے ساتھ آخری فیصلہ

مرزا کی عبارت

’’بخدمت مولوی ثناء اﷲ صاحب! مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ اپنے پرچہ میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجّال ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔‘‘ (یعنی اب صبر نہیں ہوسکتا۔)

۱… ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجائوں گا۔‘‘

(مرزا قادیانی نے اپنے مفتری ہونے کی یہ پہلی معیار بتائی۔)

۲… ’’اور اگر میں کذاب ومفتری نہیں ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اﷲ کے موافق آپ مکذّبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔‘‘

(یہ اپنے صادق ہونے کی معیار مرزا قادیانی نے بتائی ہے، یاد رہے!)

493

۳… ’’پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘

(یہ دوسری معیار مرزا قادیانی نے اپنے مفتری ہونے کی بتائی)

مرزا قادیانی کی پہلی دعا

’’اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے آمین۔‘‘

(مرزا قادیانی کی یہ دعا قبول ہوئی اس دعا پر اور اس کے آخر میں آمین کہنے پر خوب نظر رہے)

مرزا قادیانی کی دوسری دعا

’’اگر مولوی ثناء اﷲ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر‘‘

(یہ دعا مرزا قادیانی کی قبول نہ ہوئی۔)

’’میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوئوں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے۔ اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے! اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اﷲ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ اے میرے مالک تو ایسا کر آمین۔‘‘ (یہ کیسی عاجزانہ دعا ہے اس پر خوب نظر رہے۔) ’’بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

الراقم: عبداﷲ الصمد مرزا غلام احمد مرقومہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم؍ ربیع الاوّل ۱۳۲۵ھ‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸، ۵۷۹)

494

یہ فیصلہ مرزا قادیانی کے خاص اخبار( الحکم ج۱۱ نمبر۱۳) میں ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزا قادیانی کے مرنے سے ۱۳ماہ پہلے چھپا ہے:

چنداں امان نداد کہ شب را سحر کند

۱…حضرات اس پر نظر کیجئے کہ مرزا قادیانی کے اس کلام سے مولوی ثناء اﷲ صاحب کا سخت مخالف ہونا کس قدر روشن ہورہا ہے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی ان کی مخالفت سے گویا عاجز ہورہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے اس فیصلہ نے عقلاً اور شرعاً تحقیقاً اور الزاماً ہر طرح مرزا قادیانی کی حالت کا سچا فیصلہ کردیا۔ اﷲتعالیٰ چشم بینا عنایت فرمائے اور دل میں طلب حق کی روشنی دے۔

۲…اس فیصلہ میں پہلی دو معیاریں مرزا قادیانی نے اپنے کاذب ہونے کی اور ایک معیار اپنے صادق ہونے کی لکھی ہے۔ میں نے ہر ایک معیار کے نیچے لکھ دیا ہے جو دو معیاریں مرزا قادیانی نے اپنے کاذب ہونے کی بیان کی تھیں وہ ان میں پائی گئیں اور جو معیار صادق ہونے کی بیان کی تھی وہ نہیں پائی گئی۔ اس لئے تینوں معیاروں کے بموجب مرزا قادیانی کاذب قرار پائے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر۳ ص۹ خزائن ج۱۷ ص۳۹۴) میں مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسماعیل علی گڑھی کی نسبت جھوٹ بولا ہے۔ اس سے بھی مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ مذکورہ تین معیاروں کے بعد مرزا قادیانی نے تین دعائیں کی ہیں۔ اور تیسری عاجزانہ دعا تو نہایت ہی قابل لحاظ ہے جس سے واقعی طور پر سچا فیصلہ یقینی نظر آتا ہے۔

اب کسی کے خیال میں یہ نہیں آسکتا کہ اگر خدا کا وہ برگزیدہ بندہ جس کا مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہو اور جسے یہ دعویٰ ہو کہ امت محمدیہ میں حضرت ابوبکرصدیقؓ اور عمرفاروقؓ سے لے کر تیرہ سو برس میں کوئی میرے مثل نہیں ہوا، نبی کے نام پانے کا میں ہی مستحق ہوں۔ اس کی ایسی عاجزانہ دعا اس کی آرزو کے موافق قبول نہ ہو۔ مگر بایں ہمہ ایسا نہ ہوا۔ بلکہ اپنے دونوں مقرر کردہ معیار کے بموجب اور اپنی عاجزانہ دعا کے مطابق کذاب اور مفتری ثابت ہوئے۔ کیوں کہ تاریخ دعا سے ۱۴؍ماہ کے اندر بتاریخ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء مطابق ۲۴؍ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ میں مرزا قادیانی نہایت حسرت سے داخل عالم برزخ ہوئے اور اپنے مریدوں پر اس فیصلہ کا داغ ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے۔

اب دسمبر ۱۹۱۵ء ہے مگر بحمداﷲتعالیٰ مولوی ثناء اﷲ صاحب نہایت خیروخوبی سے زندہ

495

ہیں۔ امرتسر میں جا کر یا انہیں بلا کر جس کا دل چاہے دیکھ لے اور مرزا قادیانی کے علاوہ خواجہ کمال الدین مرزائی کا کذب بھی معائنہ کرلے کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب باوجود سخت مخالف ہونے کے خوبی اور عافیت کے ساتھ موجود ہیں اور مرزا قادیانی ہی ان کے روبرو ہلاک ہوگئے۔

۳…خواجہ کمال الدین مرزائی اب ذرا سنبھل کر اس کا جواب دیں۔ اس فیصلہ کے بعد ذلیل وخوار اور ہلاک کون ہوا؟ مرزا قادیانی اور ان کے مریدین یا ان کے مکذب اور مخالفین۔ مرزا قادیانی ہلاک ہوئے یا ان کا سخت مخالف؟ ان کے مخالف مولوی ثناء اﷲ صاحب کو تو آپ نے مرزا قادیانی کی ہلاکت کے بعد اکثر دیکھا ہوگا۔ اب فرمائیے کہ آپ نے کس کے ہلاک ہونے کا معائنہ کیا؟ یہ بھی بتائیے کہ مرزا قادیانی نے جس رنگ کی ذلت اپنے مقابل مولوی ثناء اﷲ صاحب کو دینا چاہتے تھے اسی رنگ کی ذلت اور ہلاکت مرزا قادیانی کو نصیب ہوئی یا کوئی کسر باقی رہ گئی؟ اس بیان سے خواجہ کمال الدین مرزائی اور ان کے مسیح موعود مرشد کی حالت بخوبی ظاہر ہوگئی۔ مگر چوں کہ مرزا قادیانی کی دعا کا ذکر آگیا ہے اس لئے کچھ اور بھی بیان کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کو تقریب الٰہی کا اس قدر دعویٰ ہے جس کی انتہا نہیں مثلاً کہتے ہیں کہ ’’اﷲتعالیٰ نے مجھے اپنا بیٹا کہا ہے یعنی بمنزلہ بیٹے کے قرار دیا ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۳۹۹ طبع سوم، ص۳۲۵ طبع چہارم)

یہ بھی ان کا دعویٰ ہے کہ’’ میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اﷲتعالیٰ نے تین لاکھ سے زیادہ معجزے مجھ سے ظاہر کرائے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۶۷ خزائن ج۲۲ ص۷۰)

یہ وہ دعویٰ ہے کہ کسی نبی نے نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کو تمام انبیاء پر فضیلت۱؎ کا دعویٰ ہے، مگر الحمدﷲ! ان کے تمام دعوئوں کی حالت بیان سابق سے اہل حق پر روشن ہوگئی۔

۱؎

مرزا قادیانی نے (تحفہ گولڑویہ ص۴۰ خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) میں جناب رسولa کے تین ہزار معجزے بیان کئے ہیں اور اپنے تین لاکھ سے زیادہ۔ (حقیقت الوحی ص۶۸ خزائن ج۲۲ ص۷۰) اور ظاہر ہے کہ معجزات کا ظہور پیغمبر کی تائید میں اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اب جس قدر معجزات زیادہ ہوں گے اسی قدر اس کا مرتبہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک زیادہ معلوم ہوگا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ انہیں دعویٰ ہے کہ جناب رسول اﷲa سے سو حصے میں افضل ہوں۔ مگر عوام کو بہکانے کے لئے کہیں کہہ دیا کہ میں ظلی ہوں، احمد کا غلام ہوں۔ کیا خواجہ کمال الدین ان فریب آمیز باتوں سے واقف نہیں ہیں۔

496

البتہ مجھے بعض مقربان خدا کی دعا کا اثر دکھا کر مرزا قادیانی کی حالت کو زیادہ روشن کرکے دکھانا منظور ہے تاکہ معززین دکن معلوم کریں کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد مقربان الٰہی کے درجہ کو ہرگز نہیں پہنچے تھے۔ یہ ان کے دعوے محض غلط ہیں۔

نہایت لائق دید

میں یہاں بعض مقبولان خدا کی دعا کی تین مثالیں دکھاتا ہوں، انہیں غور سے ملاحظہ کیجئے تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ مقربان الٰہی ایسے ہوتے ہیں اور ان کی دعا کا یہ اثر ہوتا ہے:

پہلی مثال:حضرت نوح علیہ السلام جب اپنے منکرین اور مخالفین کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تنگ آکر سیدھے سادے الفاظ میں اس طرح دعا کی:ربّ لا تذر علی الارض من الکافرین دیّارا (نوح:۲۶) اے پروردگار تو کسی منکر کو دنیا میں آباد نہ چھوڑ سب کو تباہ کردے۔‘‘حضرت نوح علیہ السلام کی اس معمولی دعا نے تمام مخالفوں کو طوفان سے تہہ وبالا کردیا اور ان کا نشان تک باقی نہ رہا۔ اے حضرات مقبولان خدا کی دعا اپنے مخالفوں کے مقابلہ میں یہ اثر دکھاتی ہے اس کو پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کی دعا کو اس پر ملاحظہ کیجئے کہ کس عاجزی اور منت سے اپنے ایک مخالف کے مقابلہ میں نہایت عاجزی سے دعا کی اور تمام مخلوق کے روبرو اپنے صدق اور کذب کو اس پر منحصر کردیا۔ مگر پھر بھی ان کے موافق قبول نہ ہوئی بلکہ ان کے سخت مخالف کو اﷲتعالیٰ نے ایسا عمدہ نتیجہ اس دعا کا دکھایا کہ دنیا کے روبرو خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد جنہیں وہ مسیح موعود کہتے ہیں کذاب اور مفتری ٹھہرے۔

اب خواجہ کمال الدین مرزائی یا مرزا محمود قادیانی انصاف سے فرمائیں کہ ایسے شخص خدا کے مقبول اور اس کی طرف سے مبعوث ہوسکتے ہیں جو خدا کے روبرو ایسی عاجزی کے بعد اپنے اقرار سے کذاب اور مفتری ٹھہرے۔ میں نہایت سچائی اور خیرخواہی سے کہتا ہوں کہ ایسے شخص مقبولان خدا کی فہرست میں ہرگز مندرج نہیں ہوسکتے۔

دوسری مثال: اب امت محمدیہa کے بعض مقبولان خدا کی دعا کا نمونہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے مبارک عہدمیں مصر فتح ہوا، وہاں دریائے نیل بہتا تھا، قدرت خدا تھی کہ کبھی کبھی اس کا پانی رک جاتا تھا اور بہتا نہ تھا۔ اس سے بہت نقصان ہوتا تھا۔ ایام کفر میں وہاں یہ معمول تھا کہ جب وہ دریا رک جاتا تھا تو اس کے جاری کرنے کے لئے ایک وقت خاص

497

پر ایک ناکتخدا (غیر شادی شدہ)لڑکی جو اپنے والدین کی اکلوتی ہوتی تھی اسے عمدہ لباس اور زیور سے آراستہ کرکے دریا میں ڈال دیتے تھے، پانی جاری ہوجاتا تھا۔

جب مصر فتح ہوا، عمروبن العاصؓ وہاں کے حاکم تھے حسب معمول اپنے وقت پر دریائے نیل بند ہوگیا۔ وہاں کے لوگوں آکر شکایت کی اور وہاں کا دستور بیان کیا۔ حضرت عمروبن العاصؓ نے کہا کہ اسلام تو ایسی بدرسموں کے مٹانے کے لئے آیا ہے۔ وہ اس کو کسی طرح جائز نہیں رکھ سکتا اس پر کچھ روز تو مسلمان خاموش رہے۔ مگر انہیں جب بہت اندیشہ ہوا تو سب نے مصر کے چھوڑنے کا ارادہ کیا۔ حضرت عمروبن العاصؓ نے اس واقعہ کی خبر حضرت عمرفاروقؓ کو دی۔ حضرت عمرفاروقؓ نے عمروبن العاصؓ کو خط لکھا اور اس میں ایک پرچہ دریائے نیل کو لکھ کر رکھ دیا۔ اس پرچہ میں لکھا تھا ’’کہ اے نیل! اگر تو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو نہ بہہ رکا رہ اور اگر خدائے تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے جاری کردے۔‘‘

حضرت عمروابن العاصؓ نے یہ پرچہ دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اس پرچہ کے چھوڑتے ہی دریائے نیل جاری ہوگیا اور پھر کبھی بند نہ ہوا۔ اس وقت تک حضرت عمرؓ کی دعا کا اثر لوگ دیکھ رہے ہیں۔

(تاریخ الخلفاللسیوطیؒ ص۹۹ طبع کراچی)

تیسری مثال: امام بخاریؒ نے حضرت سعد بن وقاصؓ کی دعا کی حالت (صحیح بخاری باب وجوب القرأت لامام والماموم ج۱ ص۱۰۴) میں لکھی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اسامہ (بن قتادہ کوفی)نے حضرت سعدؓ کی جھوٹی شکایت کی۔ حضرت سعدؓ نے فرمایا کہ خدا سے میری تین دعائیں ہیں۔ اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو اے خدا (۱)اس کی عمر دراز کر (۲)اس کو فقیر اور محتاج رکھ (۳)اس کو فتنہ میں مبتلا کر۔ اس دعا کے بعد اسامہ (بن قتادہ کوفی) کی یہ حالت ہوئی کہ بڑھاپے سے اس کی بھویں آنکھوں پر آپڑی تھیں اور راستوں میں فاحشہ جوان لڑکیوں کے ہاتھ پائوں دباتا پھرتا تھا۔ جب کوئی کہتا کہ یہ تیری کیا حالت ہے تو کہہ دیتا تھا کہ حضرت سعدؓ کی دعا کا اثر ہے۔‘‘

دیکھا جائے کہ حضرت سعدؓ کوئی مبعوث من اﷲ اور مجدد نہ تھے۔ مگر ان پر معمولی غلط الزام لگانے پر ان کی بد دعا کا یہ اثر ہوا اور مرزا قادیانی ایسے تقرب الٰہی کے مدعی اور ان کا ایسا سخت مخالف اس کے لئے مرزا قادیانی نے نہایت عاجزی سے بد دعا کی۔ مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ ان مقبولان خدا کے حالات دیکھ کر ایمان تازہ کیا جائے اور مرزا قادیانی کے حالات تو ایسے ہیں کہ

498

مخالفین اسلام انہیں معلوم کرکے اسلام پر مضحکہ کرتے ہیں، مولوی صاحب ممدوح کے مثل مرزا قادیانی کے ایک اور سخت مخالف ہیں۔ یعنی: (۳)ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پنجاب صاحب تصانیف ہیں جو بیس برس تک مرزا قادیانی کے جان نثار مرید رہے۔ پھر واقعی حالت معلوم کرکے ان سے علیحدہ ہوگئے اور نہایت سخت مخالف ہوئے اور متعدد رسالے مرزا قادیانی کے رد میں لکھے:

(۱)اعلان الحق۔۔۔ (۲)مسیح الدجال

(۳) الذکر الحکیم نمبر۴و۶ یہ سب رسالے لائق ملاحظہ ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے بھی بہت سی پیشین گوئیاں کی ہیں اور مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں سے مقابلہ کیا ہے۔ ایک پیشین گوئی یہ ہے کہ’’ ۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء کو اﷲتعالیٰ نے مجھے الہاماً بتلا دیا کہ مرزا مسرف ہے کذاب ہے اور عیار ہے، صادق کے سامنے شریر فنا ہوجائے گا اس کی میعاد تین سال کی بتلائی گئی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۵۹)

یعنی ’’میرے سامنے مرزا تین برس کے اندر ہلاک ہوجائے گا،، یہ تو ڈاکٹر صاحب کی پیشین گوئی تھی جو بالکل سچ اتری۔ اس کے بعد مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اس کے مقابل پر وہ پیشین گوئی جو خداتعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں ’’خداکے مقبولوں میں (۱)قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور (۲)وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں (۳)ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا (۴) فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا (۵) ’’ربّ فرّق بین صادق وکاذب انت تری کلّ مصلح وصادق‘‘اے میرے رب تو صادق اور کاذب کے درمیان فق کر کے دکھلا تو ہر مصلح اور صادق کو دیکھتا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۵۹، ۵۶۰)

نیز یہ مضمون (حقیقت الوحی ص۹۶،۹۸ خزائن ج۲۲ ص۱۰۱،۱۰۰) میں بھی ہے اور (ص۹۷ خزائن ج۲۲ ص۱۰۱حاشیہ) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشین گوئی عبدالحکیم خان کی نسبت ہے۔ اس عبارت میں خدا کے مقبول بندوں کی تین علامتیں بیان کی ہیں اور پانچویں جملے میں عبدالحکیم خان کو ڈرایا ہے اور چھٹے جملے میں دعا ہے۔ اب طالبین حق دیکھیں کہ خداکے مقبول بندوں کی جو تین علامتیں بیان کی ہیں، ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئی۔ کوئی بادشاہ اور

499

صاحب جبروت ان کا معتقد نہیں ہوا۔ ہندوستان میں ایک بادشاہ نظام دکن صاحب جبروت ہیں (خلداﷲ عظمتہ) ان کے پاس صحیفہ اور رسالے بھیجے۔ انہوں نے توجہ بھی نہ کی۔ خواجہ کمال الدین قادیانی سعی وسفارش کے ساتھ بہت امیدیں لے کر حیدرآباد پہنچے بہ مشکل وہاں تک رسائی ہوئی اور ان کا لیکچر قرار پایا۔ مگر شاہ دکن نے ان کے کلام پر کیسی گرفت کی اور متنفر ہو کر اٹھ گئے۔ نواب رام پور نے مناظرہ کرایا اور مرزا قادیانی سے متنفر ہوئے۔ خصوصاً مرزا قادیانی کے اس شعر پر:

  1. کربلا است سیر ہر آنم

    صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص۹۹ خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اس میں شبہ نہیں کہ اس شعر میں حضرت امام حسینؓ کی ایسی بے ادبی کی ہے کہ مسلمان کو خصوصاً عاشق رسول اﷲa کو اسے سن کر تحمل کرنا دشوار ہے۔ ان کے سوا کسی اور صاحب جبروت تک نہ مرزا قادیانی کی رسائی ہوئی نہ ان کے کسی مرید کی۔ تیسری اور چوتھی علامت کا نہ پایا جانا بھی ظاہر ہے۔ سلامتی کے شہزادہ ہونے کی یہ حالت ہے کہ اپنے سخت مخالفوں کے روبرو باوجود اعلانیہ دعا کرنے کے سلامت نہ رہے اور ان کے روبرو ہلاک ہوگئے۔ اس لئے مغلوب بھی ہوئے اور مناظرہ اور مباہلہ کا بہت کچھ غل مچایا مگر جب کوئی اہل کمال متوجہ ہوگیا مرزا قادیانی اس سے بھاگے۔ پیرمہرعلی شاہ صاحب سے مناظرہ ٹھہرا۔ مگر مقابلہ پر نہ آئے۔

دہلی میں مولوی محمدبشیر صاحب سے مناظرہ شروع کیا۔ مگر درمیان میں چھوڑ کر بھاگے ان کے مریدین کا بھی یہی حال ہے۔ اب کوئی سامنے نہیں آتا۔ پہلے بہت کچھ غل مچاتے تھے۔ یہ مرزا قادیانی کے مغلوب ہونے کی پوری نشانی ہے غرضیکہ مرزا قادیانی نے جو نشانیاں خدا کے مقبول بندوں کی بیان کی تھیں۔ ان میں سے ایک بھی ان میں نہیں پائی گئی۔ پھر انہیں مجدد اور مسیح ماننا کس قدر ناسمجھی اور ناعاقبت اندیشی ہے۔

پانچویں جملے میں عبدالحکیم خان صاحب کے اوپر تلواروں کا کھینچا جانا لکھتے ہیں اور یہ خدا کا قول بتاتے ہیں۔(حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ خزائن ج۲۲ ص۱۰۱) میں لکھتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے کہ ’’کیوں آگے بڑھتا ہے کیا تو فرشتوں کی تلواریں نہیں دیکھتا۔‘‘ مگر اس کہنے کے بعد تو مرزا قادیانی ہی ہلاک ہوگئے۔ ڈاکٹر صاحب تو بفضلہ تعالیٰ اب تک بخیر خوبی موجود ہیں۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ اگر فرشتوں کی تلواریں کھینچی ہوئی تھیں تو مرزا قادیانی کے لئے تھیں نہ ڈاکٹر صاحب

500

پر۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی کہیں کہ آپ کے مرشد جو اﷲتعالیٰ کا یہ مقولہ بیان کرتے ہیں کہ عبدالحکیم کے روبرو فرشتوں کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں۔ یہ خدا پر صریح افتراء ثابت ہوا یا نہیں۔ اگر ڈاکٹر صاحب پر تلواریں کھینچی ہوتیں تو وہ ضرور مرزا قادیانی کے روبرو مرتے۔ ان کی دعا کا نتیجہ جو کچھ ہوا وہ بھی ظاہر ہوگیا۔

الحاصل اب اس پر نظر کرنا چاہئے کہ اس پیشین گوئی کے بعد دونوں میں سے پہلے کون شخص نابود، ہوا مرزا قادیانی یا ڈاکٹر صاحب؟ یہ تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو نابود ہوئے، برسیں گزرچکیں اور ڈاکٹر صاحب نہایت خیرخوبی سے بیٹھے ہوئے تصانیف کررہے ہیں۔

خواجہ کمال الدین مرزائی بھی اسے خوب جانتے ہوں گے۔ اب وہ فرمائیں کہ ڈاکٹر صاحب سے زیادہ مرزا قادیانی کی توہین اور مقابلہ کس نے کیا؟ اس کے بعد وہ بتائیں کہ اس قدر سخت توہین اور مخالفت کا اثر ڈاکٹر صاحب پر کیا ہوا؟ کیا ان کو زندہ اور عمدہ حالت میں دیکھ کر بھی آپ کی دلی صداقت یہی کہی جائے گی کہ جنہوں نے مرزا قادیانی کی توہین پر کمر باندھی خداتعالیٰ نے انہیں ذلیل وخوار کیا اور مرزا قادیانی کے سامنے وہ ہلاک ہوئے۔ کیا صداقت کے مبلغ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ تبلیغ کا دعویٰ کرکے ایسی صریح دروغ بیانیاں کسی راست باز سے ہوسکتی ہیں؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ اسے تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب زندہ موجود ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو پنجاب جا کر دیکھ لے۔ نہایت تعجب ہے کہ اسلام جیسا پاک اور سچا مذہب جس میں جھوٹ سب سے بدتر گناہ سمجھا گیا ہے جس کی نسبت جناب رسول اﷲa کا ارشاد ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔

خواجہ کمال الدین مرزائی جن کی طرف سے تبلیغ کررہے ہیں انہیں نبوت کا دعویٰ ہے اور بہت باتیں صحیفہ آصفیہ میں ان کی نسبت ایسی بیان کی ہیں کہ وہ نبی اور رسول ہی کی شان ہوسکتی ہے۔ دوسروں کی نہیں ہوسکتیں۔ غرضے کہ خواجہ کمال الدین مرزائی ایک نبی (جھوٹے) کے صحابی ہیں اور مرزا قادیانی کے قول کے بموجب انہیں یہ بھی دعویٰ ہوگا کہ ہم رسول اﷲa کے صحابہ میں داخل ہیں جیسا کہ خود مرزا نے ’’اپنے مریدوں کو رحمت عالمa کے صحابہ قرار دیا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۵۸ خزائن ج۱۶ ص۲۵۸)

اور اسلام کے سچے خیرخواہ بننا چاہتے ہیں اور اشاعت اسلام کرنے کے مدعی ہیں یا

501

ایں ہمہ اپنے مرشد کی تعریف میں ایسا صریح کذب اپنے رسالہ میں لکھ کر بڑے فخر سے شائع کررہے ہیں اور اپنے مرشد کی جلالت دکھا رہے ہیں۔ کیا انہوں نے سب کو ناواقف اور بیوقوف سمجھ لیاہے؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایسی عظیم الشان اسلامی ریاست میں اس دروغ گوئی کے ثبوت دیں اور مثالیں بھی ملاحظہ ہوں۔

سوم … مولوی عبدالحق غزنوی

مرزا قادیانی کے سخت مخالف ایک مولوی عبدالحق صاحب غزنوی وامرت سری بھی ہیں ان کی تو متعدد تحریریں مرزا قادیانی کی تکذیب میں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ یہ وہ بزرگ ہیں جن سے مرزا قادیانی نے مباہلہ کیا ہے اور (ضمیمہ انجام آتھم ص۴۵-۴۶ خزائن ج۱۱ ص۲۲۹-۲۳۱) میں بہت سخت الفاظ سے انہیں بار بار یاد کیا ہے اور اپنا غیظ وغضب بہت کچھ دکھایا ہے۔ اس مباہلے اور غیظ وغضب کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی صاحب کے سامنے مرزا قادیانی کو ہلاک ہوئے کئی برس ہوگئے اور مولوی صاحب بفضلہ تعالیٰ بخیروخوبی اب تک موجود ہیں۔

چہارم … مولوی محمد حسین بٹالوی

یہ ابتدا زمانہ میں مرزا قادیانی کے دوست تھے اور ان کی شہرت کے زیادہ تر یہی باعث ہوئے ہیں۔ مگر جب مرزا قادیانی کے دعوے حد سے زیادہ ہونے لگے اس وقت اسلامی حمیت سے یہ مخالف ہوگئے اور مرزا قادیانی کے کفر پر فتویٰ تمام دنیا سے آپ ہی نے لکھوایا اور جس رسالہ اشاعۃ السنۃ میں مرزا قادیانی کی اور ان کی براہین کی بہت کچھ تعریف کی تھی اس میں ان کے غلط دعوئوں کا برسوں اظہار کرتے رہے اور بہت کچھ الزامات دئیے۔ مگر انہیں تو مخالفت کے بعد زمینداری مل گئی۔ سرکار انگلشیہ نے ان کی عزت کی اور اب تک بخیروخوبی زندہ ہیں اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے سات برس سے زیادہ ہوئے۔ ان کے بڑے خلیفہ بھی مر گئے۔

پنجم … مولوی سید مہرعلی شاہ

مولوی سید مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ ملک پنجاب۔ یہ بھی سخت مخالف اور مقابل مرزا قادیانی کے رہے۔ پنجاب میں ان کے ماننے والے بہت ہیں اور کثرت سے وہاں کے مسلمان ان کے مرید ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعوئوں کے رد میں آپ نے دو کتابیں لکھیں ہیں:

502

۱…سیف چشتیائی۔۔۔۲…شمس الہدایہ

مرزا قادیانی نے آپ سے مناظرہ کرنے کا بہت غل مچایا تھا اور شاہ صاحب کے پاس خطوط اور اشتہار چھپوا کر بھیجے۔ شاہ صاحب آمادہ ہوگئے اور تاریخ ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء کو لاہور میں مناظرہ قرار پایا اور پیر صاحب ممدوح ۲۴تاریخ کو سیالکوٹ سے لاہور پہنچ گئے۔ مگر مرزا قادیانی نہ آئے بہت کوشش کی گئی۔ کئی روز تک علما اور معززین رؤسائے اطراف کا بڑا مجمع رہا اور ان کے مریدوں نے بھی تار پر تار دئیے۔ مگر مرزا قادیانی ایسے دم بخود ہوگئے کہ صدائے برنخواست کا مضمون ہوا۔ اس کی مفصل۱؎ کیفیت لائق دید ہے جس سے مرزا قادیانی کی حالت اور بہت سے ان کے مخالفین فائزین کے نام معلوم ہوسکتے ہیںاور خواجہ کمال الدین قادیانی کی اس صریح کذب بیانی پر خوب روشنی پڑ سکتی ہے۔

بطور نمونہ پانچ اہل علموں کے نام میں نے بیان کئے ہیں۔ یہ پانچوں حضرات جن کا نام میں نے لکھا ہے مرزا قادیانی کے سخت مخالف رہے اور اب تک مخالف ہیں اور ایسے مخالف رہے کہ ان سے بڑھ کر کوئی مخالف نہیں ہوا۔ اگر ہو گا تو اتنا ہی ہوگا۔ مگر خدا کے فضل سے ہر ایک بخیرخوبی اب تک موجود ہے اور مرزا قادیانی ہی ان کے روبرو ہلاک اور نابود ہوگئے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی کی اس صحت بیانی پر نظر کی جائے جو (ص۸۱) میں نہایت عموم کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ’’جو آپ (یعنی مرزا کے) مقابل آیا ہلاک ہوا۔‘‘

کیسا صریح اور اعلانیہ جھوٹ ہے۔ اس کے مطالعہ کے بعد مرزا قادیانی کے خلیفہ اوّل حکیم نورالدین قادیانی کا وہ قول ملاحظہ کیا جائے جو صحیفہ آصفیہ کے اوّل اپنے خط کے (ص،ز) میں لکھتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے ایک مجدد الوقت امام (یعنی مرزا) کو مبعوث فرمایا جس نے سالہا سال کی محنت شاقہ سے ایک جماعت کو قرآن پر عمل کے لئے قائم کیا۔‘‘

اب معززین حضرات اس قول کی صداقت کا اندازہ کرلیں اور ملاحظہ کریں کہ حکیم نور الدین قادیانی اور خواجہ کمال الدین مرزائی اس جماعت کے سر دفتر اور اوّل درجہ کے عمل کرنے

۱؎

یہ کیفیت دوسری مرتبہ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں رسالہ صورت میں النجم کے ہمراہ ماہ رمضان ۱۳۳۱ھ میں چھپی ہے، حق نما اس کا نام ہے۔ اس میں بہت مخالفین کے نام ہیں جو کامیاب ہوئے اور مرزا قادیانی ان کے روبرو ہلاک ہوئے۔

503

والے ہیں۔ مگر انہوں نے ایسا صریح جھوٹا دعویٰ مشتہر کیا جس کا کذب اس وقت تک معائنہ اور مشاہدہ ہورہا ہے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی سے دریافت کیا جائے کہ قرآن مجید پر عمل کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں؟ ایسی ہی جماعت مرزا قادیانی نے قائم کی ہے؟ افسوس صد افسوس!

مولانا! اب فرمائیے اور ہمارے شاہ دکن زادہم اﷲ عزاً ومنزلۃً سے بھی استمزاج لیجئے کہ جس قدر لکھا گیا ہے وہ خواجہ کمال الدین مرزائی اور ان کے مرشد کی حالت معلوم کرنے کے لئے کافی ہے یا نہیں؟ میرے خیال میں تو نہایت کافی ہے اور اگر آپ یا ہمارے فرمانروائے دکن یا اور معززین اس سے زیادہ کے خواہش مند ہوں تو یہ فقیر اسلامی خدمت اور مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے حاضر ہے۔

اس میں کسی واقف کار ذی علم کو کسی طرح کا تردد نہیں ہوسکتا کہ صحیفہ آصفیہ میں جس قدر دعوے کئے گئے ہیں اور مرزا قادیانی کی تعریف کی گئی ہے وہ بالکل غلط اور محض جھوٹ ہے۔ ہر ہر بحث میں ایک مستقل رسالہ لکھا جاسکتا ہے اور ان کی غلطی اور کذب بیانی اسی طرح ظاہر ہوسکتی ہے جس طرح دوسرے نمونہ میں دکھائی گئی۔ کیا خوب ہو کہ جن اہل علموں کے نام میں نے لکھے ہیں ان میں سے کسی کو ہمارے شاہ دکن خلّدہ اﷲ ملکہٗ بلا کر خواجہ کمال الدین مرزائی کے کذب کا معائنہ فرما لیں اور کامل طور سے ان کی حالت سے واقف ہوجائیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ جس شاہد یا مبلغ کا دروغ ایسے بین طریقہ سے ثابت کردیا جائے تو نہ دنیاوی سرکار میں اس کا کوئی قول لائق اعتبار رہ سکتا ہے نہ دینی سرکار میں۔

اب ہمیں امید نہیں کہ کوئی فہمیدہ تعلیم یافتہ ہم سے ناخوش ہوں کیوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کا گویا معائنہ کرادیا ہے۔ اب اگر کوئی متوجہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے باایں ہمہ اگر بعض تعلیم یافتہ ہم سے ناخوش ہوں تو مجبوری ہے۔ مگر یہ سمجھ لیں کہ ڈاکٹر اور طبیب مرض کو تشخیص کرکے دوا دیتا ہے۔ اب اگر مریض کو یا اس کے نادان ہوا خواہوں کو دوا ناپسند ہو اور ڈاکٹر کو ناملائم کلمات کہے اور اس کی نہ سنے اور اس کے کہنے پر عمل نہ کرے تو وہ جلد ہلاک ہوگا۔

اگر خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کی حالت اور زیادہ معلوم کرنا ہو تو دوسری شہادت آسمانی اور فیصلہ آسمانی درباب مسیح قادیانی ہر ۳حصہ ضرور مطالعہ فرمائیں:

بر رسولاں بلاغ باشد وبس

504

ہندوستان میں بلائیں آنے کی وجہ

مولانا! ایک ضروری بات کہنی رہ گئی اسے بغور ملاحظہ کیجئے۔ خواجہ کمال الدین مرزائی نے اس زمانہ کی نیرنگی دکھا کر مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہا ہے کہ مرزا قادیانی کے وجود کے وقت سے اور بالخصوص ان کے دعوئوں کے زمانے سے دنیا پر خصوصاً ہندوستان پر اقسام اقسام کی آفتیں آئیں اور آرہی ہیں کسی وقت امن نہیں ملتا۔ کبھی طاعون ہے۔ کبھی ملیریا ہے کسی وقت ہیضہ کی شدت ہے کہیں زلزلہ ہے، طوفان ہے قحط ہے (یہ سب مرزا قادیانی کے قدم کی برکت ہے) مرزا قادیانی جس طرح اور کمالات میں بے نظیر ہیں اسی طرح دنیا پر بلائیں اور مصیبتیں لانے میںبے مثل ہیں۔ اس تیرہ سو برس میں کسی مجدد کے وقت یہ مصیبتیں نہیں آئیں۔ اب وہ فرماتے ہیں کہ یہ سب بلائیں مرزا قادیانی کے نہ ماننے کی وجہ سے آرہی ہیں۔ خصوصاً حیدرآباد کے طوفان کا ذکر ہمارے شہر یار دکن اور معززین حیدرآباد کے ڈرانے اور دھمکانے اور مرزا قادیانی کی طرف متوجہ کرنے کا ایک ذریعہ انہیں ہاتھ آیا ہے۔

اس کی حقیقت کھولنے کے لئے تو تفصیلی طور سے تاریخی واقعات بیان کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے دکھانے کی کہ دنیا کے دانش مندوں نے اپنے اپنے خیال کے بموجب تغیرات عالم کے اسباب بیان کئے ہیں۔ مگر اس میں طول ہوجائے گا۔ کیوں کہ اس میں دکھایا جائے گا کہ صحابہ کرامؓ کے وقت سے لے کر اس وقت تک مثلاً طاعون کس کس وقت ہوا اور کس زور وشور سے ہوا اور کون کون اور کتنے مقبولان خدا اور ان کی اولادیں اس میں شہید ہوئیں اور طوفان کیسے کیسے آئے اور وہ آفتیں کس وجہ سے آئیں۔ اس وقت میں کسی مجدد اور مبعوث کا انکار اس کا باعث ہوا یا اس وقت کوئی مدعی نہ تھا۔ مگر سخت آفت آئی۔

یہ ایک طولانی بحث ہے اس لئے اس وقت میں لکھنا نہیں چاہتا بلکہ صرف یہ کہتا ہوں کہ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے وقت ان بلائوں کی ابتدا ہوئی اور جس قدر ان کی کوشش اور شہرہ زیادہ ہوتا گیا اور ان کے ماننے والوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ اسی قدر اقسام کی آفتیں زیادہ ہوتی گئیں اور جاننے والے خوب واقف ہیں اور معائنہ کرنے والے دیکھ رہے ہیں کہ یہ تمام آفتیں عام ہیں۔ اس میں مرزا قادیانی کے ماننے والے اور نہ ماننے والے سب شریک ہیں۔ کسی قسم کا امتیاز نہیں ہے۔ سب کے لئے طاعون ہے اور سب کے لئے قحط ہے اور

505

بیماریاں ہیں۔ جس طرح نہ ماننے والے مبتلا ہوئے اور ہوتے ہیں اسی طرح ان کے ماننے والے بھی۔ جس طرح بعض وقت بہت مسلمان اور خاص مقامات مثلاً طاعون کی آفت سے محفوظ رہے اور اب تک محفوظ ہیں۔ اسی طرح قادیان بھی کچھ عرصہ تک محفوظ رہا جس کی وجہ سے مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کرنا شروع کردی اور اپنے مکان کے وسیع کرنے کے لئے چندہ مانگنے کا انہیں موقع مل گیا اور خوب زور سے دعویٰ کیا کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ کیوں کہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۰ خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)

اس میں صاف طور سے رسول خدا ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر ان کی یہ پیشین گوئی اور ایسا عظیم الشان دعویٰ غلط ثابت ہوا اور ایک وقت ایسا آیا کہ طاعون نے قادیانی رسول کے تخت گاہ میں نزول اجلال فرما کر ایک مہینے کے اندر بہتوں کو فنا کردیا۔ اس وقت مرزا قادیانی کی فریب آمیز۱؎ باتیں بنانی قابل دید ہیں۔

جب یہ آسمانی آفتیں سب میں مشترک ہیں تو یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ یہ آفتیں ان کے نہ ماننے کی وجہ سے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ قادر مطلق انہیں ضرور بچاتا جو مرزا قادیانی کو مان چکے تھے۔ جس طرح طوفان نوح علیہ السلام کے وقت میں منکرین ڈوبے اور جس قدر ایمان لائے تھے، وہ سب محفوظ رہے، کیوں کہ اگر وہ آفت کسی عالی شان بزرگ کے نہ ماننے کی سزا ہے تو جو اس جرم سے محفوظ ہیں ان پر وہ سزا نہیں ہوسکتی۔ اس کے علاوہ منکرین کے سامنے ماننے والوں کی ایسی عزت کرنا ہدایت کا نہایت عمدہ طریقہ ہے۔

۱؎

(کشتی نوح ص۲، ۴و ۱۰ خزائن ج۱۹ ص۲،۴و۱۰) دیکھا جائے (ص۲) میں اس پیشین گوئی کو مقید کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ’’مگر ایسے لوگ ان میں سے جو اپنے عہد پر پوری طور پر قائم نہیں یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ مخفی ہو جو خدا کے علم میں ہو ان پر طاعون وارد ہوسکتی ہے۔‘‘(کشتی نوح ص۲ خزائن ج۱۹ ص۲)

یہ دونوں باتیں قابل لحاظ ہیں اگر طاعون میں تمام قادیان تباہ ہوجائے تب بھی مرزا غلام احمد قادیانی پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔ کیوں کہ خدا کے علم میں مخفی وجہ تو ایسی عام ہے کہ پیشین گوئی کرنے والا کسی طرح جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اس طرح کی پیشین گوئی ہر شخص کر سکتا ہے۔ مگر یہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد ہی کی ہمت ہے کہ ایسی فریب آمیز پیشین گوئی کرکے مکان فراخ کرنے کے لئے چندہ مانگتے ہیں رسالہ مذکورہ کا (ص۷۶) دیکھا جائے۔

506

اگر لوگ پے درپے اس حالت کو دیکھتے۱؎ تو ہزاروں کیا لاکھوں ان کے ماننے پر ٹوٹ پڑتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا جس سے ثابت ہوا کہ ان کا ماننا دنیا میں بھی نافع نہ ہوا اور یہ بلائیں ان کے نہ ماننے کی وجہ سے نہیں۔

ہندوستان میں بلائیں آنے کی اصلی وجہ

اس لئے اب یہ فقیر کہتا ہے کہ بلائوں کا آنا اس وجہ سے ہوا اور ہورہا ہے کہ مسلمانوں کو دینی امور کی طرف توجہ نہیں رہی خصوصاً اس فتنہ عظیم کے دفع کرنے میں نہ پہلے کوشش کی اور نہ اب کرتے ہیں اور کوشش کرنا کیا معنی ادھر انہیں خیال بھی نہیں ہوا، اور نہ اب تک ہے۔ اس گروہ کی کوشش کو دیکھئے کہ تمام دنیا میں ان کی طرف سے تبلیغ کرنے والے مرد اور عورتیں پھرتی ہیں اور سب کو وہ تنخواہ دیتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی کو دیکھئے کہ ساری دنیا میں دورہ کررہے ہیں اور کس ترکیب سے چندہ وصول کرتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ ہماری طرف سے دوچار شخص بھی اس فتنہ کو روکنے کے لئے اور نادانوں کو سمجھانے کے لئے مقرر نہیں کرتا۔ ہاں خواجہ کمال الدین مرزائی کو ہزاروں روپیہ دیا جاتا ہے اس خیال پر کہ وہ تبلیغ اسلام کریں گے۔ مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کے مرشد نے باوجود عظیم الشان دعوئوں کے اور اس کہنے کے کہ میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑ دوں گا (حوالہ گزر چکا ہے) مگر کچھ نہیں کیا۔ دس بیس تثلیث پرست بھی ان کی وجہ سے مسلمان نہ ہوئے۔ خواجہ کمال الدین مرزائی کے پیرمرشد (جنہیں وہ مسیح موعود کہتے ہیں) جب ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے اور معلوم ہوا کہ وہ سب دعوے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے تھے تو ان کے مرید کے دعوئوں پر کون صاحب عقل واقف کار اعتماد کرسکتا ہے؟

اے حضرات! مسلمانوں کو اسلام پر قائم رکھنا بہت زیادہ ضروری ہے اس سے کہ غیر مسلمانوں کو مسلمان بنایا جائے اس پر غور کرو کہ مرزا قادیانی کے فتنہ کی وجہ سے حقیقی اسلام میں کس قدر رخنہ ہورہا ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو دینی امور کی طرف توجہ نہیں ہے۔ صحبت کے اثر نے دل کو مردہ کردیا ہے۔ حق وباطل میں انہیں تمیز دشوار ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے تھوڑے ہی عرصے میں مسلمانوں میں کئی گروہ ہوگئے۔

۱؎

یعنی نہ ماننے والوں پر بلائیں آئیں اور ماننے والے محفوظ رہے۔

507

تیرہویں صدی کے وسط میں علی محمد بابی ایران میں ہوا۔ اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا عبدالبہاء اس کا خلیفہ تمام یورپ اور ایشیائے کوچک میں اپنا مذہب پھیلا رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی اسے مسلمان مان رہے ہیں۔ رنگون، کلکتہ، بمبئی، چھپرہ وغیرہ میں اس کے ماننے والے موجود ہیں۔ پنجاب میں ایک گروہ قرآنی ہے، دوسرا گروہ قادیانی ہے ان میں کئی گروہ ہوگئے ہیں۔ یہ سب گروہ اسلام کا نام لے کر اور مسلمانوں کو متوجہ کرکے اسلام کو پلٹ دینا چاہتے ہیں۔ مگر خاص ہندوستان میں قادیانی گروہ کی زیادہ کوشش ہے۔ اس لئے اس گروہ کے لوگ یہاں زیادہ ہیں اور اپنے مذہب کی اشاعت میں اور مسلمانوں کے ایمان تباہ کرنے میں نہایت کوشاں ہیں۔

اب ہمارے برادران اسلام میں تین طبقہ کے لوگ ہیں: علماء، امراء، عامۃ المسلمین،

ان میں سے بجز معدود حضرات کے کسی کو توجہ نہیں دیکھی گئی اور نہ سنی گئی۔ علماء نے تو کہہ دیا کہ بے حقیقت ہیں توجہ کرنے کے لائق نہیں ہیں۔ بعض اداروں نے بھی ایسا ہی کہہ دیا۔ تعلیم یافتہ کہنے لگے کہ کلمہ گو ہیں ان سے لڑائی فضول ہے۔ ہاں پنجاب کے بعض اہل علم کچھ دنوں متوجہ رہے اور بعض اب بھی کچھ کرتے ہیں۔ مگر ان کی کوشش ایسی نہیں ہے کہ ساری یا تمام ہندوستان ہی کے لئے کافی ہو باایں ہمہ جو انہوں نے کیا اور کررہے ہیں۔ لائق آفرین ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ وہ کوشش محض ناکافی ہے۔

وہ ضروری امر جس سے بے توجہی ہوئی

ہندوستان کے علماء کو چاہئے تھا کہ متفق ہوکر مختلف مقامات پر اس فتنہ کے فرو کرنے کی تدبیریں کرتے رسائل تصنیف کئے جاتے۔ اخبار رسالے ہفتہ وار، ماہوار جاری ہوتے ان میں شائستہ طور سے مضامین ہدایت لکھے جاتے، اطراف میں دیہات میں اہل علم عام مسلمانوں کے خیال درست رکھنے کے لئے بھیجے جاتے اور عام اہل اسلام خصوصاً امراء ان کی مدد کرتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا اور اس فتنہ کو کسی نے نہیں روکا اور ایک دو شخص کے روکنے کا کام تھا بھی نہیں۔ اس لئے یہ بلائیں اور آرہی ہیں۔ حیدرآباد میں خاص طور کا طوفان آیا۔ جس کا اثر تمام رعایا پر ہی نہیں پڑا بلکہ وہاں کے بادشاہ رعایا پرورپر بھی بہت کچھ اثرا ہوا۔

اس کی وجہ یہی ہوئی کہ وہاں کے فرمانروا مسلمان تھے۔ وہاں کے مقتدر معززین بھی دربار رحمۃ للعالمینa کے خدام اور ان کے مقدس مذہب کے خادم اور ماننے والے ہیں۔ انہیں

508

ہر طرح کی قدرت تھی کہ اس فتنہ کے فرو کرنے کی طرف متوجہ ہوتے۔ اگر وہ چاہتے تو تمام ہندوستان میں اثر پھیلا کر اس فتنہ کو روکتے اور کم از کم ادنیٰ مرتبہ یہ تھا کہ اپنی ریاست میں اس مرزائی فتنہ کو نہ آنے دیتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ایسی عظیم الشان ریاست جس میں علما اور مشائخ کثرت سے ہیں بجز ایک مخصوص ذات کے کسی نے خیال بھی نہ کیا۔ کسی نے وہاں کے ظل اﷲ فرمانروا کو اس فتنہ کے فرو کرنے کی طرف توجہ نہ دلائی۔ اس لئے اس گروہ کے بعض حضرات کو یہ ہمت ہوئی کہ ایک حیلہ بنا کر ریاست میںپہنچے اور ہلچل مچادی اور صحیفہ تقسیم کرکے گمراہی کی تبلیغ شروع کردی۔ ان کے دوسرے برادر جو اب خلیفہ کہلاتے ہیں، قادیاں سے تحفۃ الملوک بھیج رہے ہیں۔ یہ معززین ریاست کی بے توجہی کا نتیجہ ہے۔ البتہ ہمارے مولانا محمد انواراﷲ خان صاحب بہادر نے ہمت کی اور بڑی کتاب لکھی اور بہت کچھ صرف کیا۔ اﷲتعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔

مگر اس کام کے لئے جو باتیں ضروری تھیں ان کی طرف مولانا کو بھی خیال نہیں ہوا اور یہ کام بھی ایک شخص کے کرنے کا نہیں۔ اس کے علاوہ جیسے شخص کی ضرورت تھی اور ہے وہ اور قسم کے حضرات ہیں۔ دیکھا جائے کہ خواجہ کمال الدین مرزائی ایک ہی شخص ہیں اور ان کے چند ہم خیال ان کے معین ہوگئے ہیںاس لئے باوجود دھوکا دینے کے حیدرآباد جیسی اسلامی ریاست میں مسیح قادیانی کی مسیحیت کا رنگ جمانے کی کوشش کی اور اپنی خاص مصلحت کی باتیں بنا کر مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں زور لگایا۔ مگر الحمدﷲ کہ ہمارے فرمانروائے دکن (دام اقبالہ وحشتمہ) نے ان کی فریب آمیز باتوں کا احساس کرکے ان کا رنگ جمنے نہ دیا اور ناکام تشریف لے گئے۔

اب میں نہایت خیرخواہی سے کہتا ہوں کہ اگر اب بھی اپنے دین کے سنبھالنے میں کوشش نہ کی اورمرزا محمود قادیانی یا خواجہ کمال الدین مرزائی کی چرب زبانی اور لن ترانیوں میں آگئے تو مرنے کے جو آفتیں دیکھیں گے انہیں تو وہ خود ہی معائنہ کریں گے اور برداشت کریں گے۔ مگر نہایت خوف اس کا ہے کہ عجب نہیں کہ دنیا میں ہی پھر ویسی ہی بلا، یا اس سے بھی کچھ زیادہ آئے جیسی آچکی ہے۔ کیوں کہ آفتیں دیکھ کر بھی متوجہ نہیں ہوتے اور عبرت نہیں پکڑتے۔ اپنے بہی خواہوں کی باتوں کو دل سے نہیں سنتے۔

خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کی باتیں ایسی نہیں جن کے غلط ہونے میں کسی قسم کا تردد ہو۔ ذرا خوف خدا دل میں لا کر وہ رسالے دیکھیں اور انہیں شائع کریں۔ جن میں مرزا

509

قادیانی کی حالت کوآفتاب کی طرح روشن کرکے دکھایا ہے۔ ان رسالوں کو دیکھ کر معلوم کریں گے کہ مرزا قادیانی نے اسلام کی خیرخواہی میں کیسے کیسے دعویٰ کرکے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ کبھی کہا کہ میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑ دوں گا۔ کبھی دعویٰ کیا کہ ’’سات برس کے اندر اسلام میں نمایا ترقی میرے سبب سے نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۱،۳۵ خزائن ج۱۱ ص۳۱۵،۳۱۹)

اس کہنے کے بعد بارہ برس زندہ رہے۔ مگر جو کچھ کیا وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے مرید کو ویسا ہی خیال نہ کیا جائے جورسالے ان کی حالت کے بیان میں لکھے گئے ہیں، ان میں فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ اور حقیقت المسیح اور دوسری شہادت آسمانی اگرچہ چھوٹے چھوٹے رسالے ہیں۔ مگر نہایت کافی ہیں۔ البتہ ہزار دو ہزار کے چھپنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان شمار کئے جاتے ہیں۔ پھر ایسی عظیم الشان جماعت کے لئے یہ مقدار کیوںکر کافی ہوسکتی ہے۔

مولانا محمد انواراﷲ خان صاحب کی افادۃ الافہام بڑی کتاب ہے۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کے مایہ فخر رسالہ ازالۃ الاوہام کا نہایت عمدہ جواب ہے۔ مگر افسوس یہ کہ اس کے بڑے ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے استفادہ نہ کر پائے۔

خواجہ کمال الدین کے مرشد کی سوانح عمری

آخر میں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد مرزا قادیانی کے چند دعوے نقل کئے جائیں جن سے ان کی مجمل حالت معلوم ہوسکے اور اگر مرزا قادیانی کی مفصل سوانح عمری معلوم کرنی ہو تو حکیم مظہر حسین صاحب سیالکوٹی نے ایک کتاب لکھی ہے ’’چودہویں صدی کا مسیح‘‘ اس کا نام ہے۔ اسے دیکھیں چوں کہ اس وقت میں اکثر حضرات کو خصوصاً نئے تعلیم یافتوں کو ناول دیکھنے کا زیادہ شوق ہے۔ اس لئے حکیم صاحب نے ان صحیح واقعات کوناول کے طریقہ سے لکھا ہے قابل دید رسالہ ہے۔ پانچ سو صفحے سے زیادہ کا ہے۔ اس کے دیکھنے سے خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کی پوری حالت معلوم ہوجاتی ہے۔ نہایت مناسب اور باعث اجر عظیم ہے کہ ہمارے شاہ دکن اسے طبع کراکے اپنی ریاست میں مشتہر کریں۔ میں یہاں مرزا قادیانی کے بعض دعوے مختصر طور سے انہیں کی کتابوں سے نقل کرتا ہوں۔

510

مگر طوالت کے خیال سے ان کی پوری عبارت نقل نہیں کی گئی، مختصر دعویٰ لکھا گیاہے۔ صرف ان دعوئوں سے ان کی حالت معلوم ہوجائے گی۔ مرزا قادیانی نے آہستہ آہستہ اپنے دعوئوں میںترقی کی ہے جس قدر مسلمان انہیں مانتے گئے اسی قدر وہ دعوئوں میں ترقی کرتے گئے۔

مرزا قادیانی کے دعوے

۱…پہلے مجدد اور امام وقت اور مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ تھا۔ (ازالہ ص۱۹۹ خزائن ج۳ ص۱۹۷) اور مسیح موعود ہونے سے انکار۔

(ازالہ اوہام ص۱۹۰ خزائن ج۳ ص۱۹۲)

۲…اس کے بعد مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہوا (خزائن کی تمام جلدوں کا ٹائٹل ملاحظہ ہو جس میں مسیح موعود ومہدی موعود کا القاب واضح لکھے ہوئے ہیں) اور ظلی اور جزوی نبوت کے مدعی ہوئے۔

(توضیح مرام ص۱۹ خزائن ج۳ ص۶۰)

۳…’’میں تمام امت محمدیہa سے افضل ہوں مرتبہ نبوت میرے سوا کسی کو نہیں دیا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱ خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

یعنی حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت عمرؓاور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ اور حضرت محبوب سبحانی غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وغیرہ اولیائے کرام سے بہت بڑھ کر ہوں۔ قرۃ العینین رسول الثقلین حضرات امامینؓ کی نسبت تو اپنی فضیلت اس طرح بیان کی ہے جس سے جگر گوشہ رسول اﷲa کی تحقیر تو ہوتی ہے۔ بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کہنے والے کو حضرت سرور انبیاءa سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ مثلاً ان کا ایک فارسی کا شعر تو پہلے نقل کیا گیا ہے جس کا مصرع ثانی یہ ہے:’’صد حسین است درگریبانم‘‘

(نزول المسیح ص۹۹ خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

بھائیو کوئی عاشق رسول جس کے دل میں سیدالمرسلینﷺ کی کامل عظمت بیٹھی ہو اس کی زبان قلم سے ایسا مصرع نکل سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ان کے بعض عربی کے شعر ملاحظہ کئے جائیں:

  1. وقالوا علی الحسنین فضّل نفسہٗ

    اقول نعم واﷲ ربی سیظہر

یعنی ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ مرزا اپنے آپ کو امام حسینؓ اور امام حسنؓ پر فضیلت دیتے ہیں۔ ’’میں کہتا ہوں کہ ہاں فضیلت دیتا ہوں خدا کی قسم میرا پروردگار عنقریب ظاہر کردے گا۔ یعنی میری فضیلت اور بزرگی دنیا پر ظاہر ہوجائے گی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۵۲ خزائن ج۱۹ ص۱۶۴)

511

خواجہ کمال الدین مرزائی فرمائیں کہ اس وقت تک اس پیشین گوئی کا کیا ظہور ہوا؟ اہل علم وفہم اس پر غور کریں کہ مقابلہ میںحضرت امامینؓپر اپنی فضیلت کا دعویٰ کرکے یہ کہنا کہ میرا پروردگار اس کو ظاہر کردے گا۔ یہ ثابت کررہا ہے کہ ہمارا مخالف جن کی فضیلت کو مان رہا ہے جن کی فضیلت رسول اﷲa نے بیان فرمائی ہے وہ کوئی چیز نہیں ہے۔ میں اﷲ کا پیارا ہوں، میری فضیلت کو وہ عنقریب ظاہر کردے گا۔ دوسرا شعر ان کا یہ ہے:

  1. وشتّان ما بینی وبین حسینکم

    فانّی ائیدکلّ اٰن وانصر

’’یعنی مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مجھے تو ہر لحظہ اﷲ کی تائید اور اس کی مدد ہورہی ہے۔‘‘

  1. فامّا حسین فاذکرو دشت کربلا

    الٰی ہٰذہ الایّام تبکون فانظروا

’’اور تم اپنے حسین کے دشت کربلا کو یاد کرو۔ جس کی وجہ سے تم اب تک رویا کرتے ہو۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۶۹ خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)

اس میں غور کرو کہ وہ کس مصیبت سے مارے گئے اور ہم کس عیش وآرام میں ہیں۔ اسی قسم کے اور بھی اشعار ہیں سب کے نقل کرنے سے دل بے تاب ہوتا ہے۔

ان دونوں شعروں نے فیصلہ کردیا کہ خواجہ کمال الدین قادیانی کے پیرمرشد (مرزا قادیانی) کو جگر گوشہ رسول اﷲa یعنی حضرت امام حسینؓ سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ کیوں کہ صاف کہہ رہے ہیں کہ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام حسینؓ ہمارے ہیںان کے نہیں ہیں۔

دوسرے یہ کہ حضرت کی مظلومیت کا ہمیں رنج وغم ہے انہیں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کو حضور سرور دو عالمa کے جگر گوشہ اور آپa کے محبوب جنہیں آپa نے اہل جنت کا سردار فرمایا ہے ان سے واسطہ نہیں ہے تو نہایت روشن ہوگیا کہ انہیں حضور سرور عالمa سے بھی دلی رابطہ نہیں ہے۔ نہایت ظاہر ہے کہ اگر حضور انورa سے دلی رابطہ ہوتا تو آپa کے نواسہؓ کی نسبت ایسی بے ادبی کے الفاظ ان کے قلم سے کبھی نہ نکلتے اور ان کے مقابلہ میں اس طرح اپنی فضیلت کا اظہار نہ کرتے۔

اب دوسرے مقامات پر واسطہ بیان کرنا اور کہیں اپنے کو حضور انورa کا ظل کہنا اور

512

کہیں تعریف کرنا صرف اس لئے ہے کہ مسلمان ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہمیں اپنا مقتدا مانیں اور ہمارے لئے اپنی جان ومال کو وقف کریں کیوں اس وقت تک مسلمانوں کے سوا کسی اہل مذہب نے انہیں نہیں مانا صرف مسلمان ہی ان کے دام میں آئے۔

اب اگر حضور انورa کی تعریف کرکے انہیں خوش نہ کریں تو وہ بھی ہاتھ سے نکل جائیں۔ مگر کہیں کہیں ان کا دلی خیال ظاہر ہوتا ہے۔

۴…’’صاحب شریعت نبی ہوں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶ حاشیہ خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

’’جناب رسول اﷲa میں اور مجھ میں کچھ فرق نہیں ہے جس نے فرق کیا اس نے مجھے نہیں پہچانا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۵۹خزائن ج۱۶ ص۲۵۹)

’’جس نے مجھے قبول نہیں کیا جہنمی ہے‘‘

(تذکرہ ص۱۶۳ و ۳۳۶طبع ۳، ص۱۳۰ و ۲۸۰طبع۴)

’’مرزا کا منکر کافر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۷۹ خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

پہلے جناب رسول اﷲa کے خادم اور ظل ہونے کا دعویٰ تھا اس کے بعد برابری کا دعویٰ ہوا اور متعدد آیتیں اور بعض حدیثیں جو جناب رسول اﷲa کی مدح میں آئی ہیں انہیں مرزا قادیانی نے اپنے لئے بتایا ہے۔

۵…’’بعض انبیا ء سے افضل ہوں اس رسالہ میں لکھا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں میں حضرت مسیح علیہ السلام سے ہر شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔‘‘

اب خواجہ کمال الدین قادیانی فرمائیں کہ انہیں اپنے مرشد کے اس قول پر ایمان ہے یا نہیں۔ اگر ایمان ہے تو آپ کا یہ کہنا کہ ہم انہیں نبی نہیں مانتے بالکل غلط ہے۔ آپ ضرور انہیں نبی مانتے ہیں۔ کیوں کہ یہ نہایت ظاہر ہے کہ کوئی غیر نبی ایسے عظیم المرتبت نبی پر فضیلت نہیں رکھ سکتا۔ آپ جب انہیں حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل مانتے ہیں تو انہیں نبی ضرور مانتے ہیں۔ مگر دنیاوی مصلحت سے دلی اعتقاد کے خلاف ظاہر کرتے ہیں۔

اس دعوے کے اثبات میں مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص۱۱۵ خزائن ج۲۲ ص۱۵۹) میں لکھا ہے کہ ’’جب خدا نے اور اس کے رسولa نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘

اس قول کا صاف مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ خداتعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کے

513

رسول نے حدیث میں یہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ کا مسیح یعنی مرزا حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل ہے۔ اسی طرح تمام انبیاء نے فرمایا ہے اور یہ فرمانا ان کا اس مسیح کے کارناموں کی وجہ سے ہے یعنی وہ ایسے بڑے بڑے کام کرے گا جو حضرت مسیح ابن مریم نے نہیں کئے۔ اس قول میں چار دعوے ہیں:

(۱)آخر زمانہ کے مسیح کو اﷲتعالیٰ نے مسیح ابن مریم سے افضل قرار دیا ہے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی یا مرزا محمود قادیانی خدا کا وہ کلام دکھائیں جس میں یہ مضمون لکھا ہے۔ قرآن مجید جو ہمارے اور تمام امت محمدیہ کے ہاتھ میں ہے اس میں تو یہ مضمون کہیں نہیں ہے۔

(۲)دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول نے اسے افضل قرار دیا ہے۔ یہ قول کسی حدیث میں ہونا چاہئے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ دونوں صاحب وہ حدیث دکھائیں جس میں یہ ارشاد جناب رسول اﷲaکا ہو۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ قیامت تک کوئی صحیح حدیث نہیں دکھا سکتے جس میں یہ مضمون ہو۔

(۳)تیسرا دعویٰ یہ ہے کہ ’’تمام نبیوں نے بھی کہا ہے کہ آخر زمانہ کا مسیح حضرت مسیح ابن مریم سے افضل ہوگا۔‘‘ یہاں بھی ہم اس کہنے پر مجبور ہیں کہ خواجہ کمال الدین قادیانی بتائیں کہ وہ تمام انبیاء کا قول کہاں ہے کس زمین وآسمان پر وہ کتاب ہے؟ جس میں تمام انبیاء کا یہ قول لکھا ہے مگر یہاں بھی ہم نہایت استحکام سے کہتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین قادیانی کیا ان کے تمام معین ومددگار کوشش کریں تو ہرگز نہیں دکھا سکتے۔ کیوں یہ دعوے اور پہلے دونوں دعوے محض غلط اور بالکل جھوٹ ہیں۔

(۴)آخری زمانہ کے مسیح کے بڑے کارنامے ہوں گے۔ یعنی اسلام کے فائدے کے وہ بڑے بڑے کام کرے گا اور اسلام کو بہت کچھ نفع پہنچائے گا۔

اب خواجہ کمال الدین قادیانی اور مرزا محمود قادیانی دکھائیں کہ وہ کون سے کارنامے ہیں جو مرزا قادیانی نے دکھائے اور اسلام کو کیا فائدہ پہنچایا اور وہ فائدہ اس قسم کا ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور دوسرے بزرگوں نے نہ دکھایا ہو۔ البتہ مرزا قادیانی کے وہ کارنامے جو حضرت مسیح ابن مریم نے نہیں دکھائے وہ چند معلوم ہوتے ہیں ایک یہ کہ حضرت مسیح نے نکاح نہیں کیا اور کسی سے نکاح کرنے کی خواہش بھی ظاہر نہیں کی اور مرزا قادیانی نے کئی نکاح کئے اور ایک نکاح کی آرزو میں مر گئے۔ مگر وہ بیوی میسر نہ ہوئی۔ دوسرے یہ کہ اپنی جھوٹی تعریف میں بہت دفتر سیاہ

514

کئے اور بذریعہ خطوط اور اخبارات اور رسائل اور کتابوں کے اپنے آپ کو بہت کچھ مشہور کیا اور اسی قسم کی باتیں لکھیں جن کا نمونہ میں نے اس رسالہ میں دکھایا ہے۔ تیسرے یہ کہ متعدد طریقے نکال کر چندہ کا غل مچایا مسلمانوں سے روپیہ لیا اور اپنی خواہش میں صرف کیا۔ یہ باتیں البتہ حضرت مسیح علیہ السلام نے نہیں کیں۔ اگر ان کارناموں سے مرزا قادیانی افضل ہوسکتے ہیں تو خدا اور اس کے رسول پر افتراء پردازی کے علاوہ عقل انسانی سے بھی دست برداری کرنا ہوگی کیوں کہ عقل سلیم ان باتوں کو سچے نبی کے کارنامے نہیں کہہ سکتی بلکہ نفسانی خواہشوں کا پورا کرنا اس کو کہا جاتا ہے۔ جس طرح بعض جھوٹے مدعیوں کو کہا گیا ہے۔

اب خواجہ کمال الدین قادیانی سے دریافت کیجئے کہ اگر مذکورہ قول کو آپ سچا سمجھتے ہیں تو ان چاروں دعوئوں کو یکے بعد دیگرے ثابت کیجئے اور اگر ثابت نہیں کرسکتے اور اس میں شبہ نہیں کہ وہ ثابت نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ یہ دعوے بالیقین غلط ہیں۔ پھر ایسے جھوٹے مدعی مجدد اور مسیح موعود ہوسکتے ہیں؟ انہیں کی تبلیغ صحیفہ آصفیہ میں کی گئی ہے؟ انہیں کے جھوٹے نشانات دکھائے گئے ہیں۔ افسوس صد افسوس! ذرا ہوش کرکے جواب دیجئے۔

۶… چھٹا دعویٰ یہ کیا کہ ’’میں افضل الانبیاء ہوں یعنی حضرت سیدالمرسلین محمد مصطفیa سے بھی افضل ہوں۔‘‘ مگر چوں کہ جانتے ہیں کہ مسلمان اس لفظ کے کہنے سے برہم ہوجائیں گے اس لئے صاف طور سے یہ دعویٰ نہیں کیا مگر ان کے اور دعوے اور الہامات موجود ہیں جن سے صاف طور سے یہ دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔

(۱) ان کا ایک الہام ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘

(تذکرہ ص۶۱۲ طبع سوم، ص۵۲۵ طبع چہارم)

اوپر بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہی ہے کہ تمام انبیاء اور ان کے کمالات میرے طفیلی ہیں۔ کیوں کہ اصل مقصود اﷲتعالیٰ کو میرا پیدا کرنا تھا میرا وجود تمام انبیاء اور اولیاء کے وجود کا سبب ہوا۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ تمام اشیاء کا وجود میرے طفیل سے ہوا۔ اس میں رسول اﷲa بھی داخل ہیں۔ جب سب کا وجود مرزا قادیانی کا طفیلی ہوا تو کمالات تو وجود کے تابع ہیں۔ اس لئے وہ بھی طفیلی ہوں گے اس کے بعد اس پر نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کو مثل قرآن مجید کے یقینی بناتے ہیں تو اب دونوں قولوں کے ملانے سے

515

یہ نتیجہ ضرور ہوگا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں جناب رسول اﷲa سے اور تمام انبیاء سے افضل ہوں اور میرا افضل ہونا ایسا یقینی ہے جیسے مضامین قرآن مجید یقینی ہیں۔

(۲)مرزا محمود نے رسالہ (حقیقت النبوۃ ص ٹائٹل بار اول) کے شروع میں نزول المسیح سے مرزا قادیانی کے تین شعر نقل کئے ہیں وہ ملاحظہ ہوں:

  1. آنچہ داد ست ہر نبی را جام

    داد آں جام رام مرا بہ تمام

  2. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم ز کسے

  3. کم نیم ز اں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص۹۹،۱۰۰ خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)

ان شعروں میں دو طریقے سے مرزا قادیانی اپنی فضیلت ثابت کرتے ہیں کیوں کہ پہلے شعر میں کہتے ہیں کہ جو فضل وکمال ہرایک نبی کو دیا گیا وہ سب مجھے دیا گیا۔ جب تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہوئے تو بالضرور سب سے افضل ہوئے۔ تیسرے شعر میں کہتے ہیں کہ یہ یقینی بات ہے کہ میں تمام گزشتہ انبیاء سے کم مرتبہ نہیں ہوں سب انبیاء کے کمالات کا میں جامع ہوں جو کوئی میرے اس دعوے کو جھوٹا سمجھے وہ مردود ہے، خدا کی لعنت اس پر ہے۔ جب کسی سے کم نہیں تو ہر ایک کے فضائل کے جامع ہوئے۔ جب سب کے فضائل ان میں جمع ہیں تو سب سے افضل ہوئے غرضیکہ تمام انبیاء کرام جو مرزا قادیانی سب سے پیشتر گزرے ہیں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت سید المرسلین محمد رسول اﷲa تک سب سے مرزا قادیانی اپنے آپ کو افضل کہتے ہیں اور اس کی تائید اس شعر سے بخوبی ہوتی ہے جو مرزا محمود نے اپنے رسالہ (حقیقت النبوت ٹائٹل) کے سر عنوان پر لکھا ہے اور اسے الہامی قرار دیا ہے وہ شعر یہ ہے:

  1. مقام او مبین از راہ تحقیر

    بدو رانش رسولان ناز کردند

(ٹائٹل بار اول)

جب ان کا یہ مرتبہ ہے کہ پیغمبروں نے ان پر نازل کیا ہے تو ان کے مرتبہ کا کیا ٹھکانہ ہے۔ ان کے افضل الانبیاء ہونے میں مرزائیوں کو کیا شک ہوسکتا ہے۔ اب بمصلحت کوئی زبان سے نہ کہے یا انکار کرے۔

(۳) ایک عظیم الشان الہام ان کا یہ ہے کہ ’’مجھے کن فیکون کا اختیار دیا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۵ خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)

516

زمین وآسمان میں جو کرنا چاہوں وہ کرسکتا ہوں یعنی جس طرح اﷲتعالیٰ کے صرف کہہ دینے سے ہر ایک چیز موجود ہوسکتی ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے کہہ دینے سے ہر ایک چیز ہوسکتی ہے۔ غرضے کہ خدا کے اختیارات مرزا قادیانی کو مل گئے۔ یہ الہام کسی نبی کو نہیں ہوا۔ سب اپنے کو عاجز سمجھتے رہے اور کہتے رہے۔ بہرحال جب خدائی کے اختیارات ملنے کا انہیں دعویٰ ہے تو اگر یہ دعویٰ صحیح مان لیا جائے تو یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ افضل الانبیاء ہیں۔ کیوں کہ یہ ایسا عظیم الشان دعویٰ ہے کہ کسی نبی نے نہیں کیا اور خدائی کے اختیارات کسی کو نہیں ملے بلکہ قرآن مجید وحدیث میں بہت جگہ رسول اﷲa نے اپنا عجز ظاہر فرمایا ہے۔

مثلاً کفار معجزہ طلب کرتے ہیں تو اﷲتعالیٰ ان کے جواب دینے کو اس طرح تعلیم فرماتا ہے ’’قل سبحان ربّی ہل کنت الّا بشراً رسولا (بنی اسرائیل:۹۳)‘‘یعنی کہہ دے کہ اﷲتعالیٰ پاک ہے اور میں بجز ایک بشر اور رسول ہونے کے اور کچھ نہیں ہوں۔ یعنی مجھ میں قدرت نہیں کہ خود معجزہ دکھائوں۔ یہ تعلیم صریح اس الہام کن فیکون کے خلاف ہے۔ اس الہام میں تو ہر بات کا اختیار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ’’اذا اردتّ شیئاً ان یقول لہ کن فیکون‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۵ خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)

یعنی جب کسی چیز کے ہوجانے کا تو ارادہ کرے اور کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی۔ جناب رسول اﷲa سے ایسا نہیں کہا گیا بلکہ یہ تعلیم ہوئی کہ اپنے عجز کا اظہار کردے۔ نمونے کے لئے اس قدر لکھنا کافی ہے۔ جن صاحب کو تفصیل دیکھنا منظور ہو وہ رسالہ دعویٰ نبوت۱؎ مرزا دیکھیں۔ اس میں ان کے دعویٰ نبوت کو زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا ایسا صاف وصریح دعویٰ ہے اور مختلف عنوان سے اس دعوے کا اظہار انہوں نے کیا ہے کہ ان کا ماننے والا اس سے انکار نہیں کرسکتا اور جو انکار کرتا ہے وہ پالیسی اور مصلحت ذاتی کی وجہ سے کرتا ہے۔

۱؎

یہ رسالہ صحیفہ رحمانیہ نمبر۶،۷ (احتساب قادیانیت ج پنجم میں شامل) میں چھپا ہے۔ اب نظر ثانی کے بعد مستقل رسالے کی صورت میں چھپے گا ان شاء اﷲتعالیٰ اب تو مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے ایک رسالہ لکھا ہے اور مرزا قادیانی کے اقوال سے ان کے دعویٰ نبوت کو ثابت کیا ہے۔ ’’حقیقت النبوۃ‘‘ اس کا نام ہے اور اپنے باپ کے مثل جھوٹے دعوے اس میں کئے ہیں۔

517

خواجہ کمال الدین نے جو صحیفہ پیش کیا ہے اس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ کمال الدین انہیں خدا کا رسول مانتے ہیں اور اگر خواجہ کمال الدین قرآن وحدیث کو سچے دل سے مانتے ہیں تو انہیں بالضرور مرزا قادیانی کو ان دجالوں میں ماننا ہوگا۔ جن کی خبر جناب رسول اﷲa نے دی ہے اور فرمایا ہے کہ میری امت میں دجال ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے اور ان کا جھوٹا ہونا اس سے ظاہر ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین اور آخر النّبیین۱؎ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

اس سے ثابت ہوا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی خدا اور رسول کے ارشاد کے بموجب جھوٹے ثابت ہوئے اور مرزا قادیانی کا صرف یہی دعویٰ جھوٹا نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنی تعریف میں اور اپنے دعوے کے اثبات میں بہت سے جھوٹے دعوے کئے ہیں جن کا نمونہ اس رسالہ میں بھی دکھایا گیا ہے۔

اے برادران اسلام! میں نہایت خیرخواہی سے کہتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود اور ان کے خاص مریدین کا یہ زور شور اور یہ دعویٰ اسلام کے اور مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک ہیں خبردار ہوجائو اور فتنہ کے مٹانے میں کوشش کرو اور بموجب ارشاد نبوی سو شہیدوں کے اجر کے مستحق بنو۔وما علینا الّا البلاغ المبین!

آخر میں مجھے یہ بھی کہہ دینا ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کے اقوال کے جو حوالے دئیے ہیں وہ بلفظ نہیں ہیں اختصار کے خیال سے ان کا مطلب لکھ دیا گیا ہے۔ اگر کسی قادیانی کو ادائے مطلب میں تردد ہو یا حوالے کو غلط بتائے تو اس فقیر کو اطلاع دے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ نقل کرکے وہی مدعا دکھا دیا جائے گا جس کا دعویٰ کیا گیاہے۔واﷲ الموفق والمعلن!

خاکسار محمد علی قادری عفا عنہ القادر القوی

۱؎

یہ بات لغت عرب سے اور بہت حدیثوں سے ثابت ہے کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں اور قادیانی حضرات جو اس مقام پر مہر کے معنی کہتے ہیں یعنی حضور انورa سب انبیاء کے لئے مہر ہیں۔ یہ محض غلط ہیں یہ معنی لغت عرب اور صحیح حدیثوں کے بالکل خلاف ہیں اس کی تشریح کسی قدر فیصلہ آسمانی حصہ سوئم میں کی گئی ہے۔ مگر ان شاء اﷲتعالیٰ اس بحث میں خاص رسالہ لکھا جائے گا۔

518

حقیقت رسائل

اعجاز مرزائیہ

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

519

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دردمندان اسلام! اسے ضرور ملاحظہ کریں

بعض عالی مرتبہ دردمندان اسلام نے اس وقت کے عظیم خطرناک مرزائی فتنہ کوفرو کرنے کے لئے کامل توجہ فرمائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی واقعی حالت کو متعدد طریقوں سے آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھایا اور خدا کے فضل سے بہت کچھ فائدہ ہوا، ہزاروں مسلمان گمراہی سے بچے اور بہت گمراہ، راہ راست پر آئے، مگر مرزائی جماعت اپنی گمراہی کی اشاعت میں نہایت سرگرم ہے۔ ہزاروں روپیہ ماہوار صرف کرتی ہے، سارے ہندوستان میں، سندھ میں، کاٹھیاواڑ، حیدراآباد دکن، بمبئی میں، تمام بنگال میں، تمام افریقہ میں، خصوصاً زنجبار، ممباسہ، مورسش میں ان کے ماہواری رسالے اور ہفتہ وار اخبارات شائع ہوتے ہیں۔

اب ہمارے علماء اور تمام دردمندان اسلام فرمائیں کہ ان گمراہی کے روکنے کے لئے وہ کیا کرتے ہیں۔ اس فتنہ کا فرو کرنا تو تمام مسلمانو ں کا خصوصاً نائبان رسول کا فرض ہے اور ایسا فرض ہے کہ جو کام وہ اپنے خیال میں مسلمانوں کی اصلاح کا کر رہے ہیں اس پر یہ ہر طرح مقدم ہے۔ کیونکہ اول اس کی کوشش ضرور ہے کہ مسلمان اسلام پر قائم رہیں۔ اس کے لئے مسلمانوں کی ایک جماعت کو مستعد ہونا چاہئے، جس کے سرگروہ مخصوص علماء ہوں اور حسب موقع اس فتنہ کے فرو کرنے کی کوشش کی جائے۔

اس وقت سب سے اول کوشش یہ ہے کہ جو رسالے بعض بزرگان دین اور ہمدردان اسلام نے لکھے ہیں انہیں خوب شائع کریں ان رسالوں کی فہرست ایک خاص رسالہ میں شائع کی گئی ہے اور اس رسالہ کے آخر صفحہ میں کچھ نام لکھے گئے ہیں ان رسالوں کا دیکھنا اور پاس رکھنا ایسا ہی ضروری ہے جیسا دشمن جانی کے خوف کے وقت اپنے اور بھائیوں کے بچانے کے لئے ہتھیار رکھنا ضرور ہے۔

الحمدﷲ یہ وہ رسالے ہیں جن کے جواب سے ساری دنیا کے مرزائی عاجز ہیں۔

مسلمانوں کا خیر خواہ

محمد اسحق عفی عنہ

520

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُ اللّٰہ الْعَلِی الْعَظِیْم وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم۔امّا بعد!

مسلمانوں کو ہوشیار ہوکر متوجہ ہونا چاہئے کہ اس وقت کے فتنوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا فتنہ ہے، اس خاکسار نے باوجود ضعف وناتوانی کے متعدد رسالوں میں ان کا جھوٹا ہونا نہایت روشن دلیلوں سے ثابت کر کے دکھایا ہے، مگر دیکھتا ہوں کہ زمانے کی تاریکی اور کفروالحاد کی ظلمت نے دلوں کو تاریک کر دیا ہے، دینی امور کی ضرورت انہیں نظر نہیں آتی، اکثر حضرات کو اس طرف توجہ ہی نہیں ہے۔ بہر حال اہل علم خدا ترس کا جو فرض ہے وہ حتی الوسع ادا کیا گیا اور کیا جاتا ہے۔

رسالہ فیصلہ آسمانی میں کامل طور سے دکھایا گیا کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں اور ایسی یقینی جھوٹی ہوئیں کہ کوئی شک وشبہ اس میں نہیں رہا۔ خصوصاً منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی جسے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا اور تقریباً بیس برس تک اس کے ظہور کے متمنی رہے مگر وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور قرآن مجید کی صریح آیتوں سے اور توریت مقدس کے صریح بیان سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ اس کا کامل ثبوت فیصلہ آسمانی کے سارے حصہ میں اور کچھ تیسرے حصہ میں کیا گیا ہے۔ دوسرے اور تیسرے حصہ میں ان کے رسائل اعجازیہ کا ذکر بھی آگیا تھا، ان کی حالت بھی دکھائی گئی اور ثابت کر دیا گیا کہ جس طرح منکوحہ آسمانی والا معجزہ جھوٹا ثابت ہوا، اسی طرح یہ بھی جھوٹا ہے۔ مگر چونکہ ان کی حالت ایک بڑے رسالے کے ضمن میں بیان ہوئی ہے اس لئے یہ امید کم ہے کہ مسلمانوں کی پوری توجہ اس طرف ہو۔

اب میں برادران اسلام کی آسانی کے لئے اس مضمون کو علیحدہ کر کے طالبان حق کو دکھانا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے دو رسالے لکھے ہیں ایک کا نام اعجاز احمدی اور دوسرے کا نام اعجاز المسیح ہے۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ جس طرح جناب رسول اﷲa کا معجزہ قرآن مجید ہے کہ اس کے مثل کوئی نہیں لا سکتا اسی طرح مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرا معجزہ یہ دو رسالے ہیں، ایک نظم اور ایک نثر۔ اس رسالہ میں ان کی واقعی حالت پیش کر کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ جس طرح وہ آسمانی نکاح ان کے کاذب ہونے کا کامل نشان ہوا اسی طرح یہ دونوں رسالے

521

متعدد طور سے ان کے کاذب ہونے کی دلیل ہیں اور انہیں کامل جھوٹا اور فریبی ثابت کرتے ہیں۔ براہ مہربانی تحقیق اور حق پسندی کی نظر سے ملاحظہ کریں۔

ناظرین! ان دونوں رسالوں کو معجزہ کہنا اور ان سے اپنی صداقت ثابت کرنا، عوام کو فریب دینا ہے۔ یہ دونوں رسالے مرزا قادیانی کے لئے معجزہ ہرگز نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے جھوٹا ہونے کی نہایت روشن دلیل ہیں۔ اور ایک طریقہ سے نہیں بلکہ کئی طریقوں سے اہل حق غور سے ملاحظہ کریں۔ ان دونوں رسالوں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس طرح قرآن مجید جناب رسول اﷲa کا معجزہ ہے کہ آپ نے عرب وعجم کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اس کے مثل لاؤ اور پھر یہ کہہ دیا کہ تم ہرگز نہ لاسکو گے اور ایسا ہی ہوا کہ کوئی اس کے مثل نہ لاسکا، اسی طرح مرزا قادیانی نے یہ دو رسالے پیش ایک نظم دوسرا نثر اور ایسا ہی دعویٰ کیا اور کوئی ان دونوں کے مثل نہ لاسکا۔

مناظرہ مونگیر کیفیت میں جو انہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کی ہیں ان میں وہ آیت بھی ہے جو رسول اﷲa نے اپنی رسالت کے دعویٰ میں پیش کی تھی۔ یعنی آیت: وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ (البقرۃ:۲۳) یعنی اﷲ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تمہیں قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس کی ایک ہی سورت کی مثل تم بنا لاؤ۔

جناب رسول اﷲa کے وہ صفات کاملہ جو آپa کی ذات مقدس سے مخصوص تھے، ان میں مرزا نے کہیں برابری کا اور کہیں تفوق کا دعویٰ کیا ہے۔ حضور انورa نے جو کلام الٰہی ہدایت خلق کے لئے پیش کیا اس کے بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی نہایت زور سے فرمادیا کہ تم کسی وقت اور کسی طرح اس کے مثل نہیں لا سکتے۔

یہ امر بھی غور کے لائق ہے کہ حضور انورa نے کسی معجزے یا کسی پیشین گوئی کو اپنی صداقت میں پیش نہیں فرمایا کیونکہ منکر متعصب ہر ایک میں احتمال نکال سکتا ہے کہ کم سے کم ساحر کہہ دینا آسان ہے اور ایسا ہی کفار نے کہا مگر اس معجزے میں کوئی جائے دم زدن نہیں ہے اس لئے اس میں دعویٰ کیا مگر مرزا اپنے باطل خیال میں اس کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے اور اپنی تفوّق کا اظہار اسے مد نظر ہے۔ اس دعوے سے مرزا کا مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبر نے تو صرف ایک کتاب نثر میں جواب کے لئے پیش کی تھی، میں نظم اور نثر دونوں پیش کرتا ہوں اور کوئی جواب نہیں دے سکتا یعنی میں اس میں بھی پیغمبر اسلام سے بڑھ گیا ہوں۔ یہاں جن حضرات نے مرزا

522

قادیانی کے مدحیہ اشعار اور غلامی کا دعویٰ دیکھا ہوگا انہیں اس بیان سے تعجب ہوگا، مگر آئندہ بیان سے انہیں یہ تعجب جاتا رہے گا۔ یہاں حق پسند حضرات کامل طور سے توجہ فرمائیں اور اس فریب مرزائی اور اعجاز محمدیa میں فرق ملاحظہ کریں۔ یہاں کئی باتیں میں کہنا چاہتا ہوں۔

(۱) پہلے سمجھ لینا چاہئے کہ جناب رسول اﷲa کا مقصد اس دعویٰ سے یہ تھا کہ اس وقت اہل عرب کلام کی فصاحت وبلاغت میں اعلیٰ درجہ کا کمال رکھتے ہیں اور شب وروز انہیں فصیح وبلیغ نظم و نثر لکھنے کا مشغلہ ہے اور مضامین لکھ کر ایک دوسرے پر فخر اور مباہات کیا کرتے ہیں اور دوسرے ملک کے لوگوں کو عجم کہتے ہیں یعنی بے زبان، گونگے۔ اس لئے ایسے وقت میں ان کاملین فصحاء کے مقابلہ میں ایک ایسا شخص دعویٰ کرے جو معمولی طور سے بھی کچھ پڑھا لکھا نہ ہو اور پھر وہ فصحائے عرب جن کی حالت ابھی بیان کی گئی اس کے جواب سے عاجز ہوجائیں اور ان کی غیرت وحمیت اور اس فن میں دعویٰ فضل وکمال انہیں جواب لکھنے کی ہمت نہ دے۔یہ بلا شک وشبہہ بدیہی طور سے نہایت عظیم الشان معجزہ ہے اور ایسا معجزہ ہے کہ سخن شناس فصحاء کسی احتمال سے بھی اس کو غلط نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ قرآن شریف کی عبارت اور اس کے مضامین عالیہ ان کے پیش نظر تھے وہ مہر سکوت ان کے منہ پر لگا رہے تھے اور مرزائیوں کی طرح بے شرم بھی نہ تھے۔ پھر اس کا معجزہ ہونا ایک طور سے نہیں بلکہ کئی طور سے ہے (۱) اس کی عبارت ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ دوسرا کوئی فصیح وبلیغ ایسی عبارت نہیں لکھ سکتا (۲) اس کے مضامین ایسے عالی اور باعث ہدایت عالم ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا ریفارمر اور مقنن ایسی کامل ہدایت کی باتیں اور پبلک کے لئے مفید قانون نہیں بنا سکتا اور پھر وہ قانون بھی ایسا ہو جو کسی وقت لائق منسوخ ہونے کے نہ ہو، یہ صفت صرف قرآن مجید ہی میں ہے اور اس کا اقرار بڑے بڑے عقلاء مخالفین اسلام نے بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کا یہ دعویٰ کسی وقت اور کسی شخص سے خاص نہیں ہے یعنی کوئی شخص خود لکھ کر پیش کرے یا کسی دوسرے کا لکھا ہوا ہو اور کسی وقت کا لکھا ہو وہ سامنے لائے یا آئندہ کوئی لکھے مگر اس وقت اہل زبان نہ اپنا کلام پیش کر سکے نہ اپنے کسی گذشتہ بزرگ کی تحریر اس کے مثل دکھا سکے اور اب تیرہ سو برس سے زیادہ ہوگیا مگر کوئی مخالف اس کے مثل نہ لاسکا۔ ایسے کلام کے لئے یہ آیت پیش کی جاتی ہے جن میں سینکڑوں غلطیاں الفاظ کی ہوں اور وہ دوسروں سے لکھوایا جائے اس کے مقابل میں متعدد رسالے اور قصیدے ان سے نہایت اعلیٰ موجود ہیں۔

(۲) قرآن مجید امور ذیل کی وجہ سے معجزہ بینہ قرار پایا (۱) ایسے انسان کی زبان

523

سے نکلا جو معمولی طریقہ سے کچھ لکھے پڑھے نہ تھے، اُمی کہلاتے تھے اور یہ بدیہی بات ہے کہ ایسا شخص ایسی بے نظیر کتاب نہیں بنا سکتا جیسا قرآن مجید ہے، یہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔ مرزا ایسے نہ تھے بلکہ لکھے پڑھے تھے (۲) قرآن مجید جس ملک میں نازل ہوا اسی ملک کی زبان میں لکھا گیا جس کو اس ملک والے کامل طور سے جانتے تھے اور اس کے جاننے کا انہیں دعویٰ تھا اور اس دعویٰ کے وقت اس زبان کی فصاحت وبلاغت انسانی کمال کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ پر پہنچی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی نے ایسا نہیں کیا اگر اُردو میں لکھ کر دعویٰ کرتے تو فصحائے ہند پر بالمعائنہ ان کی فصاحت کا انکشاف ہوجاتا۔ اب رہی عربی کی عبارت، نہ اس کا حال ویسا ہے جیسا کہ عرب کی جاہلیت میں تھا اور نہ اس قدر توجہ علما کو ہے جیسی اس وقت عرب کو تھی (۳) اُس ملک کے رہنے والوں کو اس وقت اپنی زبان میں کمال پیدا کرنے کا نہایت شوق ہی نہ تھا بلکہ اسے مایۂ فخر سمجھتے تھے (۴) پھر یہ خالی شوق ہی نہ تھا بلکہ اس کمال کو حاصل کرتے تھے اور نظم ونثر لکھنا ان کا مشغلہ تھا۔ مرزا کے وقت میں یہ ہرگز نہ تھا، اب اگر ان کے رسالوں کی طرف کوئی توجہ نہ کرے تو اعجاز کا ثبوت نہیں ہو سکتا (۵) اس تحصیل کمال کے ساتھ ان کے دماغ میں کبر بھی تھا کہ ہر ایک دوسرے کو اپنے سے زیادہ کمال میں نہیں دیکھ سکتا تھا اور اپنی عمدہ نظم ونثر کو دعوے کے ساتھ عام جلسوں میں پڑھتے تھے اور بعض وقت یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ کوئی اس کے مثل لائے۔ جس وقت حضور انورa پر قرآن پاک کا نزول شروع ہوا ہے اس وقت اس قسم کے سات قصیدے سات شخصوں کے لکھے ہوئے خانہ کعبہ پر لٹکے ہوئے تھے اور جب قرآن مجید کہ فصاحت وبلاغت کو دیکھا تو وہ قصائد اُتار لئے گئے اس بنیاد پر کہ قرآن مجید نے ان کی فصاحت وبلاغت کو گرد آلو دکر دیا، اب وہ اس لائق نہ رہے کہ قرآن مجید کے مقابلہ میں انہیں خانہ کعبہ پر لٹکا کر ان پر دعویٰ کیا جائے۔ ایسے وقت میں ان عربوں کے مقابلہ میں جن کا مایہ ناز فصیح وبلیغ عبارت کا لکھنا تھا، قرآن مجید کا یہ دعویٰ پیش ہوا اور ان کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ تم ہرگز نہ لاسکوگے، باوجودیکہ جواب کے لئے میدان نہایت وسیع رکھا گیا تھا، نہ اس کے لئے کوئی میعاد معین کی تھی نہ کسی زمانے کی تخصیص تھی کہ آئندہ کوئی لکھے، گذشتہ کا لکھا ہوا نہ ہو، بلکہ الفاظ آیت کا عموم صاف طور سے یہ مطلب بتا رہا ہے۔ (۶) کہ تم خود اس کا جواب لکھ کر لاؤ: (۱)یا کسی استاد، (۲)یا کسی گذشتہ شخص کا لکھا ہوا پیش کرو، (۳)یا آئندہ کسی وقت کوئی لکھے اور (۴)یہ بھی ضرور نہیں کہ (۵)سارے قرآن کا جواب ہو بلکہ اس کی ایک ہی سورت کا جواب لاؤ۔ غرض کہ قرآنی تحدی ایسی عام ہے کہ مذکورہ پانچ حالتیں اس میں داخل ہیں۔

524

اب غور کیا جائے کہ ان امور کے ساتھ ان مخالفین عرب سے جواب کا طلب کرنا کس قدر غیظ وغضب کا باعث ہوسکتا ہے اور اپنی طبعی حالت کی وجہ سے انہیں کس قدر جواب دینے کا جوش ہوا ہوگا مگر چونکہ کلام کی فصاحت وبلاغت میں کامل مہارت رکھتے تھے اس لئے اپنے آپ کو عاجز سمجھے۔ نہ خود جواب دیا اور نہ کسی دوسرے کا کلام پیش کیا اور نہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں کوئی پیش کرسکا تمام دنیا کے مخالفین عاجز رہے اس وجہ سے قرآن مجید معجزہ باہرہ اور اعجاز بینہ ٹھہرا اور اس کے اعجاز میں کسی طرح کا شبہ نہ رہا۔ اسی لئے جناب رسول اﷲa نے اپنے دعوے کی صداقت میں اسے پیش کیا اور ارشاد خداوندی ہوا ’’فاتوا بِسُورۃ مِن مِثلہ‘‘ یعنی اس وقت کفار قریش سے کہا کہ اگر تمہیں قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس کی ایک ہی سورت کے مثل لے کر آؤ، مگر کوئی نہ لاسکا اور کسی طرح کا کوئی شبہہ نہ کر سکا۔ اب اس آیت کو مرزاکے رسالوں کے لئے پیش کرنا محض غلط اور صریح فریب ہے۔ ان کے اعجازیہ رسالوں کی حالت ملاحظہ کیجئے کہ متعدد طریقوں سے ان کا دعویٰ اعجاز غلط ہے اور اعلانیہ فریب ثابت ہوتا ہے۔ اول تو یہ دیکھا جائے کہ یہ چھ باتیں جو قرآن مجید کے دعوی کے وقت تھیں مرزا کے وقت ان میں سے ایک بات بھی تھی؟ ہرگز نہیں۔

معجزہ نہ ہونے کی پہلی دلیل

مرزا قادیانی امی نہ تھے، اچھے لکھے پڑھے تھے اور ان کے مقابل کے علماء جن میں ان کا نشو ونما ہوا تھا، انہیں عربی عبارت لکھنے کا شوق تو کیا توجہ بھی نہ تھی اور یہ تو بڑی بات تھی کہ کمال درجہ فصیح وبلیغ عبارت لکھنے کا خیال ہوا اور لکھنے کا مشغلہ رکھتے ہوں، ایسی حالت میں اگر کسی کو عربی ادب سے طبعی مناسبت ہو تو تھوڑی توجہ سے وہ ایسی عبارت لکھ سکتا ہے کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے۔ خصوصاً جس وقت یہ لکھنے والا دوسروں کے لئے میعاد مقرر کردے اور وہ میعاد ہی اس قدر کم ہو کہ مشاق لکھنے والے کو بھی لکھنا اور چھپواکر بھیج دینا اس کی وسعت سے باہر ہو۔ نہایت ظاہر ہے کہ اگر ایسی حالت میں کوئی جواب نہ دے تو اس شخص کی عربی تحریر معجزہ کسی طرح نہیں ہو سکتی، اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک معمولی مولوی زبان فارسی یا اردو میں رسالہ لکھ کر اپنے قریب کے دیہات میں پیش کر کے یہ کہیں کہ ہم نے جیسا یہ رسالہ لکھا ہے تم تو ایسا لکھ دو، وہاں اگرچہ پڑھے لکھے اشخاص بھی ہوں، لیکن اس طرح کا رسالہ نہیں لکھ سکتے، مگر اس سے اس کا اعجاز ثابت نہیں ہو سکتا۔ اب مرزا قادیانی کے رسالوں کا جواب نہ لکھنے کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں مثلاً

525

(۱)علماء کو عربی تحریر کی طرف توجہ نہیں ہے اس لئے نہیں لکھا۔دوسری وجہ (۲) یا یہ کہ لکھنے کی میعاد اس قدر کم رکھی گئی تھی کہ اس میں لکھنا اور چھواکر بھیجنا ممکن نہ ہوا اور میعاد کے بعد بھیجنا بے کار سمجھے اس لئے نہیں لکھا۔ یہ ایسی بدیہی باتیں ہیں کہ کوئی صاحب عقل انکار نہیں کر سکتا۔ یہ وہ وجہ ہے مذکورہ رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی اور نہایت سچی اور قوی وجہ ہے۔ (۳) میرے بیان سے کوئی صاحب یہ نہ سمجھ لیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے وقت ہندوستان میں عربی تحریر کا مذاق کسی ذی علم کو نہ تھا، مرزا قادیانی اس فن میں اس وقت کے لحاظ سے اپنا مثل نہیں رکھتے تھے، میری یہ غرض ہرگز نہیں ہے، بلکہ اکثر اہل علم کے لحاظ سے کہا گیا ہے کہ انہیں عربی نظم ونثر کی طرف توجہ نہیں تھی۔ جن حضرات کو عربی تحریر کا مذاق ہے اور عربی نظم ونثر میں کسی قدر کمال رکھتے ہیں یا رکھتے تھے وہ مرزا قادیانی کی نظم ونثر سے بدر جہا زائد عمدہ عبارت لکھتے تھے اور اب لکھ سکتے ہیں، ان کی توجہ نہ کرنے کی نہایت روشن وجوہ بھی موجود ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ توجہ اور وہ ذوق جو اہل عرب کو اس وقت تھا وہ اس وقت کسی کو نہیں ہے اور نہ اس طرح کا مشغلہ کسی کا سنا گیا، جیسا کہ اہل عرب کو تھا، مگر اس فن میں ایک حد تک کمال رکھنے والے موجود ہیں اور اس وقت بھی موجود تھے مگر نہایت ظاہر ہے کہ اہل کمال جسے اس فن میں لائق نہیں سمجھتے اس کی تحریر کو ردی کی طری پھینک دیتے ہیں اور اس طرف توجہ کرنے کو ننگ وعار سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے توجہ نہ کی، البتہ یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے باطل کرنے کے لئے لکھنا ضرور تھا، صرف اس لئے لکھتے کہ مخلوق اس غلطی میں نہ پڑے، یہ کہنا میرے خیال میں کسی قدر صحیح ہے۔ مگر اس پر نظر کرنا ضرور ہے کہ یہ توجہ اسی وقت ہو سکتی ہے کہ علماء کے قلب میں مرزا قادیانی کی اور ان کے دعویٰ کی کوئی وقعت ہوتی، یا انہیں یہ خیال ہوتا کہ ایسے بے سروپا دعوے سے کوئی گمراہ ہوگا اور جو گمراہ ہونے والے ہیں وہ ہر طرح ہوں گے۔ نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے عظیم الشان دعویٰ غلط ثابت کر دیئے گئے، پھر کسی ماننے والے نے اسے مانا؟ ہرگز نہیں، ایسا ہی ان رسالوں کے جواب کے بعد بھی ہوتا۔

اب خیال کیجئے کہ منکوحہ آسمانی والے نشان پر کس قدر زور تھا اور تمام عمر اس کے پورا ہونے کا دعویٰ کرتے رہے اور آخر میں تمام دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ دعویٰ غلط تھا اور کامل طور سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے، مگر مرزائیوں نے اس کا کچھ بھی خیال نہیں کیا، ایسے ہی یہاں بھی ہوتا۔ ہندوستان کے ادیب اور اہل کمال کے نزدیک مرزا قادیانی کی جو وقعت ہے وہ ذیل کے دو شاہدوں سے معلوم ہو سکتی ہے۔

526

مرزا کے قصیدہ اعجازیہ اور تفسیر کی مہمل غیر فصیح ہونے پر دو ادیبوں کی شہادت

پہلا شاہد: ہندوستان میں عربی کے مشہور ادیب مولوی شبلی صاحب نعمانی ہیں۔ ان سے ان دونوں رسالوں کی حالت دریافت کی گئی، وہ لکھتے ہیں:

’’قادیانی کو عربیت سے مطلق مس نہ تھا ان کا قصیدہ اور تفسیر فاتحہ میں نے خوب دیکھی ہے نہایت جاہلانہ عبارت ہے مصر کے مشہور رسالے نے لوگوں کے اصرار سے اس کی غلطیاں بھی نہایت کثرت سے دکھائی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ عربیت اس قدر مفقود ہے کہ قادیانی کو ایسی جرأت ہوسکی۔‘‘(۵؍جولائی ۱۹۱۱ء کا یہ خط ہے)

دوسرا شاہد: مولوی حکیم شاہ محمد حسین صاحب الٰہ آبادی بھی مشہور عالم ہیں، انہیں بھی عربی ادب سے پورا مذاق تھا۔ ان سے کہا گیا کہ اعجاز المسیح کا جواب لکھیں، انہوں نے رسالہ منگوایا اور رسالہ کو دیکھ کر کہا کہ:

’’اس کا جواب کیا لکھوں، جس کتاب میں نہ عمدہ مضامین ہوں، نہ اس کی عبارت فصیح وبلیغ ہو اس کے جواب میں کون ذی علم اپنے اوقاتِ عزیز کو خراب کر سکتا ہے۔ اگر مضامین کچھ عمدہ ہوتے یا عبارت ہی فصیح وبلیغ ہوتی تو اس کے جواب دینے میں دل لگتا۔‘‘

غرض کہ کوئی ادیب ذی علم تو اس کو عمدہ اور فصیح بھی نہیں کہہ سکتا اور معجزہ کہنا تو عظیم الشان بات ہے اور جن میں یہ مادہ ہی نہیں ہے کہ عمدہ مضامین اور معمولی باتوں اور فصیح وغیر فصیح عبارت میں تمیز کر سکیں، یا مرزا کی محبت نے ان کی عقل وتمیز کو کھو دیا ہے ان کے لئے ایک سو جواب لکھے جائیں گے تو وہ ہرگز نہ مانیں گے، جیسا کہ مرزا کی متعدد باتوں میں تجربہ ہورہا ہے۔ کیسے کیسے صریح اقوال انہیں کے قلم سے لکھے ہوئے ان کے کاذب ہونے کے ثبوت میں پیش کئے جاتے ہیں، مگر سوائے بے ہودہ باتیں بنانے کے کچھ نہیں کہتے، پھر ایسے حضرات کی خیر خواہی میں محنت کرنا بے کار ہے، جواب نہ لکھنے کی یہ وجہ دوسرے حصہ میں لکھی گئی ہے۔

رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی دوسری وجہ

اس کے جواب میں حضرات مرزائی دم نہیں مارتے مگر رسالوں کے اعجاز کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی نے جواب نہ دیا۔ اے جناب! اگر ہم یہ مان لیں کہ جواب نہیں دیا تو اس سے اعجاز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان رسالوں کی کمال حقارت ثابت ہوتی ہے کہ اہل کمال

527

کے لائق توجہ نہیں ہیں، جب ان رسالوں کی یہ حالت ہے تو انسانی نیچر کا اقتضاء یہ ہے کہ ایسی لچر تحریر کی طرف اہل کمال کی توجہ نہ ہو اگرچہ ناواقف کیسا ہی عمدہ اسے سمجھیں۔ مگر اہل کمال اس کی طرف توجہ کرنا عار سمجھتے ہیں اس لئے ان رسالوں کی طرف کسی ذی علم صاحب کمال نے توجہ نہ کی۔ یہ ایسی روشن وجہ ہے کہ کوئی حق پسند اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ یہ دوسری وجہ ہے ان رسالوں کے جواب نہ لکھے جانے کی۔اب انہیں معجزہ خیال کرنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔

یہ کہنا کہ جب یہ رسالے فصیح وبلیغ نہ تھے تو ان کا جواب لکھنا زیادہ آسان تھا، پھر کیوں نہ جواب دیا گیا، سخت نادانی ہے۔ افسوس ہے کہ جو مرزا قادیانی کے معتقد ہوگئے ہیں ان کی عقل کی حالت بعینہ ایسی ہوگئی ہے جیسے تثلیث پرست عیسائیوں کی کہ دنیا کی باتوں میں اگرچہ وہ کیسے ہی دانشمند اور ذی رائے ہیں، مگر تثلیث وکفارہ کے ماننے پر نجات کو منحصر جانتے ہیں اور کیسی ہی یقینی اور روشن دلیلوں سے اسے غلط ثابت کیا گیا اور کیا جاتا ہے مگر وہ اپنے غلط اعتقاد سے ہرگز نہیں ہٹتے۔

اسی طرح مرزائیوں کا حال ہے کہ مرزا کے کاذب ہونے کی کیسی روشن اور کھلی کھلی دلیلیں پیش ہو رہی ہیں، مگر ایک نہیں سنتے اگر کسی کو شبہ ہوا اور کسی مرزائی نے کوئی لچر اور مہمل سی بات اس کے جواب میں کہہ دی اسے وہ فوراً ماننے لگتے ہیں اور اہل حق کیسی ہی سچی اور محقق بات کہے مگر وہ خیال بھی نہیں کرتے۔

میں کہہ رہا ہوں کہ اہل کمال کا نیچرل اقتضاء یہ ہے کہ ایسی تحریر کی طرف ان کی توجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ اس طرف توجہ کرنے کو عار سمجھتے ہیں، پھر وہ حضرات کیوں قلم اٹھانے لگے۔ یہی آسمانی مانع ہے جس کو مرزا قادیانی نے عوام کے خوش کرنے کے لئے الہام کے پیرایہ میں ظاہر کیا ہے اس بے توجہی سے ان رسالوں کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا، بلکہ کمال درجہ کی ان کی بے وقعتی ثابت کرنا ہے کہ اہل کمال نے انہیں نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور قابل توجہ نہ سمجھا۔

رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی تیسری وجہ

اس کے علاوہ اہل کمال، صاحب قلب ان کے طول طویل متضاد تحریروں کو دیکھ کر اور ان کے اثر میں ظلمت قلب کا معائنہ کر کے ان کی تحریروں سے اجتناب کرتے ہیں اور بعض تو انہیں مجنوں ہی خیال کرتے ہیں اور جو کوئی ان کے جواب کی طرف توجہ کرے اسے روکتے ہیں۔

528

چنانچہ مؤلف سوانح احمدی ص۳۳۷ میں لکھتے ہیں ’’جب یہ کتاب چھپ رہی تھی اس وقت ایک بزرگ باشندہ پنجاب جو پہلے مجدد وقت ہونے کے دعویدار تھے اور اب جھٹ پٹ ترقی کر کے مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہو بیٹھے، پہلے تو اس دعوے کو خلاف اپنے اعتقاد قدیم کے دیکھ کر مجھ کو بھی تعجب ہوتا تھا مگر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ مسیح ابن مریم بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے، اس کا ثانی نہ آج تک کوئی پیدا ہوا اورنہ آئندہ پیدا ہوگا، ان بزرگ کا یہ کہنا کہ میں مسیح موعود ہوں مجھ کو قبول کرو ٹھیک ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک دیوانہ آدمی یہ کہے کہ میں ہندوستان کا بادشاہ ہوں اور فلاں فلاں دلائل میرے دعوی کے ثبوت میں میرے پاس موجود ہیں اور فلاں فلاں حکیم اور مولوی نے میرے دعوی کو تسلیم کر لیا ہے۔ اے ناظرین صاحب بصیرت! مسیح ابن مریم بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے اس کو اپنے ثبوت میں دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہ ہوگی، یہ مدعی اگر دراصل مسیح موعود ہے تو عنقریب اس کے جلال واقبال کا نشان ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور اگر وہ جھوٹا اور مکار اور مسیلمہ کذاب کا ہم مشرب ہے تو بہت جلد مثل کاذب دعویداران نبوت ومہدویت اور مسیحیت کے جھک مار کے تھوڑے دنوں کے بعد خود ہلاک ہوجائے گا اور ہزارہا۱؎ مسلمانوں کے ایمان کو تباہ کر جائے گا۔‘‘ انتہی مختصراً۔

طالبین حق غور فرمائیں کہ مخصوص علماء کا یہ خیال ہے پھر وہ مرزا قادیانی کے اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی طرف کیوں توجہ کریں گے اور یہ بے توجہی کسی دانشمند کے نزدیک ان کے اعجاز کا باعث نہیں ہوسکتی۔یہ تیسری وجہ ہے اُن رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی۔ یہ تین وجہیں تو عام تھیں جن سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی کا رسالہ اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی دونوں معجزہ نہیں ہو سکتے، اب ہر ایک کے معجزہ نہ ہونے کے وجوہ علحدہ علحدہ ملاحظہ کئے جائیں۔

اعجاز المسیح کی حالت

تفسیر کے معجزہ نہ ہونے کی چوتھی وجہ

چونکہ کیفیت مناظرہ مونگیر میں قادیانی حضرات نے مرزاقادیانی کی نبوت کے ثبوت میں وہ آیت پیش کی تھی جو قرآن مجید میں حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کے ثبوت نبوت میں پیش کی گئی ہے اور اس میں قرآن کے مثل دوسری کتاب طلب کی گئی ہے، جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔

۱؎

مؤلف سوانح احمدی کی یہ پیشین گوئی نہایت صحیح ثابت ہوئی۔

529

اس لئے میں نے اعجاز المسیح کے جواب میں دو کتابیں پیش کی تھیں، (ایک) مدارج السالکین (دوسری) اعجاز البیان یہ دونوں کتابیں سورہ فاتحہ۱؎ کی عربی تفسیر ہیں، پہلی تفسیر دو جلدوں میں ہے اور دوسری ایک جلد میں، مگر ۳۵۰ صفحوں میں ہے اور ہر صفحہ میں ۲۰ سطریں ہیں اور ہر سطر میں گیارہ بارہ الفاظ ہیں، یہ دونوں تفسیریں مرزاکے رسالہ اعجاز المسیح سے بہت بہت عالی مرتبہ رکھتی ہیں اور ان کا حجم بھی اعجازالمسیح سے بہت زیادہ ہے اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٔ اعجاز اپنی تفسیر کی نسبت محض غلط ہے اور ان کے بیان سے صرف ان کے دعوے کی غلطی ہی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ان کا اعلانیہ فریب ظاہر ہوتا ہے، ملاحظہ ہو:

مرزا قادیانی کا اعلانیہ فریب

مرزا قادیانی نے جو غل مچایا ہے کہ میں نے ستر دن میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے صریح فریب دیا ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ ستر دن میں لکھے، جب ہم تفسیر کی لکھائی دیکھ کر ان کے ساڑھے بارہ جز کے دعوی کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار دلی صداقت یہی کہتی ہے کہ صریح دھوکا دے رہے ہیں کہ تخمیناً ڈھائی جز کو موٹے موٹے جزوں میں لکھ کر ساڑھے بارہ جز لکھنے کا دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے، جب اس فریبی حالت کا ہم معائنہ کر رہے ہیں تو ان کے اس قول پر کیونکر اعتبار کریں کہ ستر دن میں لکھی، اس کی مفصل حالت ملاحظہ کر کے انصاف کیجئے۔

اس تفسیر کے اعلان میںدو شرطیں لگائی تھیں۔ ایک یہ کہ ستر دن میں لکھی جائے، دوسرے یہ کہ چار جز سے کم نہ ہو۔ اب کیونکر معلوم ہوا کہ یہ تفسیر اعلان کے بعد لکھی؟ اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ رسالہ ان اعلان کے پہلے کل یا اکثر نہیں لکھا گیا ؟مذکورہ فریب تو اس کی پوری تائید کرتا ہے کہ یہ رسالہ پہلے لکھا گیا اس کے بعد زیادہ قابلیت دکھانے کے لئے یہ اعلان بڑے دعوے سے کیا گیا کہ ہم نے اس میعاد میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے اور ہمارے مخالف نے ایک ورق بھی نہ لکھا اب کوئی انصاف پسند ساڑھے بارہ جز کی حالت کو دیکھے۔ اول تو رسالے کو دیکھا جائے کہ کیسے کیسے موٹے حرفوں میں لکھا گیا ہے، پھر یہ کہ صفحہ میں اصل عبارت کی دس سطریں ہیں، اب بنظر تحقیق حق تفسیر اعجاز التنزیل مطبوعہ دائرۃ العارف حیدرآباد دکن کی صرف لکھائی اور مقدار تحریر سے مقابلہ کیا جائے، اگرچہ اعجاز التنزیل بھی نہایت کشادہ لکھی گئی ہے

۱؎

اسی طرح میں دس بارہ تفسیروں کے نام بتا سکتا ہوں جو خاص سورہ فاتحہ کی تفسیر میں لکھی گئی ہیں مگر جب مقابلہ میں کوئی طالب حق راستباز نہیں ہے تو کلام کو طول دینا بے کار ہے۔۱۲

530

مگر اسی واضح تحریر سے اعجاز المسیح کی تحریر کا مقابلہ کیا جائے توبالیقین معلوم ہوجائے گا کہ جنہیں ساڑھے بارہ جز کہا جاتا ہے وہ معمولی واضح تحریر سے تقریباً ڈھائی تین جز سے زیادہ نہیں ہیں جسے تحقیق کرنا منظور ہو وہ دونوں تفسیروں کے صفحات کے الفاظ شمار کر کے دیکھ لے۔ اور پھر اس پر بھی نظر کرے کہ مرزا قادیانی کی تفسیر میں جو دو سو صفحوں کی مقدار ہے وہ صرف سورہ فاتحہ کی تفسیر میں نہیں ہے بلکہ شروع سے ۶۶صفحوں تک تو تمہید ہے جس میں مرزا قادیانی نے اپنی تعریف اور دوسرے علماء کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے۔ اس صفحہ پر پہنچ کر لکھتے ہیں ’’وسمیۃ اعجاز المسیح‘‘ یعنی میں نے اس کا نام اعجاز المسیح رکھا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ مصنفین یہ جملہ اکثر پہلے یا دوسرے صفحہ میں لکھتے ہیں، مگر مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر کے بڑھانے کو چار جز فضول باتوں میں سیاہ کر کے یہ جملہ لکھا۔ اس حساب سے اصل تفسیر کے تقریباً آٹھ ہی جز ہوتے ہیں، اس لئے مقتضائے دیانت یہ ہے کہ اسی آٹھ جز کا اندازہ کیا جائے، اگر اس مقدار کا اندازہ کیا جائے گا تو فاتحہ کی تفسیر میں دو سوا دو جز سے زیادہ نہ ہوگا، اب اس قلیل مقدار کی تحریر کو بڑے زور سے ساڑھے بارہ جز بار بار کہا جاتا ہے پھر یہ ابلہ فریبی نہیں تو کیا ہے۔ خدا کے واسطے خلیفہ صاحب یا اور اہل علم کہیں تو غور کر کے انصاف سے کہیں، مگر ان سے ایسا نہیں ہوسکتا۔ افسوس!

اب خیال کیا جائے کہ جب اس اعلانیہ بات میں ایسا صریح دھوکہ دیا جاتا ہے تو اس کہنے پر کیوں کر اعتبار کر لیا جائے کہ ستر دن میں لکھی، جو حضرت اظہار فخر کے لئے ایسی صریح ابلہ فریبی کریںان سے ظہور اعجاز کی امید رکھنا کسی ذی عقل کا کام نہیں ہے۔ ان دونوں تفسیروں کو میں نے اس لئے پیش کیا تھا کہ یہ دونوں تفسیریں بلحاظ عمدگی مضامین اور باعتبار فصاحت وبلاغت عبارت کے اس قدر بلند پایہ اعجاز المسیح سے ہیں کہ کوئی ذی کمال ادیب ان کی فصاحت وبلاغت اور ان کے مضامین نادرہ اور مفیدہ دیکھ کر اگر اعجاز المسیح کو دیکھے گا تو نفریں کرنے لگے گا اور پھر اس کی طرف نظراٹھا کر نہ دیکھے گا، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اس قابل سمجھے کہ اس کا جواب دیا جائے۔

بھائیو! اگر کچھ علم وفہم ہے تو ان صریح اسباب میں غور کرو اور خدا سے ڈر کر انصاف سے کہو کہ جب ان رسالوں کی طرف توجہ نہ کرنے کے یہ اسباب ہیں تو ان کے جواب نہ لکھے جانے سے ان کا اعجاز کیونکر ثابت ہوجائے گا۔

مرزائیوں کے جواب کا رد

اس کے جواب میں بعض جہلاء یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے جواب میں ان کتابوں

531

کو پیش کرنا مرے مردوں کی ہڈیاں اُکھیڑنا ہے، ایسے ہی بے ہودہ جوابوں کی وجہ سے کوئی ذی علم ان کے جواب کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اعرض عن الجاہلین پر عمل کرتا ہے، مگر بعض کی خیر خواہی نے خاکسار کو کسی قدر ان کی طرف متوجہ کردیا، اب جنہیں کچھ علم وفہم ہو وہ ملاحظہ کریں۔

اعجاز المسیح کے فصیح وبلیغ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور اُسے اعجاز بتایا ہے(حقیقۃ الوحی ص۳۷۹، خزائن ج۲۲ ص۳۹۳) اسی لئے اُس کا نام بھی اعجاز المسیح رکھا ہے۔

کلام معجز کسے کہتے ہیں

اب یہ سمجھنا چاہئے کہ کلام معجز کسے کہتے ہیں،اگر کسی قادیانی کو علم ہے تو علم معانی وبیان کی کتابیں دیکھے ان میں کلام کی دو طرف بیان کی ہیں۔ ایک اعلیٰ دوسری ادنیٰ۔اعلیٰ مرتبہ کو اعجاز کہا ہے اور طاقت بشری سے اسے خارج بتایا ہے‘ یعنی کوئی انسان کسی وقت ویسا کلام نہیں لکھ سکتا ہے، اس سے ظاہر ہو گیا کہ اعجاز اور معجزہ اسی کلام کو کہیں گے جس کے مثل لانے پر انسان عاجز ہو، نہ زمانہ گذشتہ میں اس کا مثل لکھ سکا ہو نہ حال اور آئندہ میں کوئی لکھ سکے۔ اسی تحقیق علمی کی بنیاد پر میں نے ان تفسیروں کو پیش کیا تھا جس سے بالیقین ثابت ہوگیا کہ اعجاز المسیح کو اعجاز کہنا محض غلط ہے کیونکہ اس سے ہر طرح نہایت عمدہ سورۃ فاتحہ کی تفسیریں موجود ہیں اب تفسیر لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بے کا ر وقت ضائع کرنا ہے، مگر چونکہ جماعت مرزائیہ علم وفہم سے بے بہرہ ہے اس لئے سچے علمی جواب کو مذاق میں اڑاتی ہے اور یہ نہیں سمجھتی کہ اس جواب سے ظاہر ہوگیا کہ جن تفسیروں کا ہم نے حوالہ دیا ہے وہ مرزائی پنڈتوں کے نزدیک بھی ایسی ہی عمدہ اور اعجاز المسیح سے ہر طرح افضل ہیں جیسے ہمبیان کرتے ہیں اور جب یہ مسلم ہے تو یقینی طور سے ثابت ہوا کہ اعجاز المسیح معجزہ ہرگز نہیں ہے۔

یہ چوتھی وجہ ہے اعجاز المسیح کے معجزہ نہ ہونے کی

یعنی جب اعجاز المسیح سے عمدہ تفسیریں بلحاظ عبارت اور مضمون کے پہلے سے موجود ہیں تو اہل علم کے نزدیک اعجاز المسیح معجزہ نہیں ہوسکتی، اسے اعجاز کہنا اور معجزہ سمجھنا محض غلط ہے۔اب اعجاز المسیح کا شان نزول بھی ملاحظہ کرنا چاہئے۔

پیر مہر علی شاہ صاحب جو پنجاب اور خصوصا سیالکوٹ کے نواح میں زیادہ مشہور بزرگ ہیں، مرزا قادیانی نے ان سے مناظرہ کا اشتہار بڑے زور وشور سے دیا تھا، اس کی تفصیل علامہ فیضی کے اس خط سے معلوم ہوگی جو انہوں نے سراج الاخبار میں مشتہر کیا ہے۔

532

نقل چٹھی فیضی مرحوم مطبوعہ سراج الاخبار ۱۳؍اگست ۱۹۰۰ء ص۶

مکرمی مرزا صاحب زید اشفاقہ،

والسلام علی من اتبع الہدی

آپ ۲۰؍ اور ۲۲؍جولائی ۱۹۰۰ء کے مطبوعہ اشتہار کے ذریعہ سے پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف اور دیگر علماء کو یہ دعوت کرتے ہیں کہ لاہور میں آکر میرے ساتھ بپاندی شرائط مخصوصہ فصیح وبلیغ عربی میں قرآن کریم کی چالیس آیات یا اس قدر سورۃ کی تفسیر لکھیں، فریقین کو سات گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ ملے اور ہر دو تحریرات ۲۰ ورق سے کم نہ ہوں، آپ تجویز کرتے ہیں کہ ان ہر دو تحریرات کو تین بے تعلق علماء کے حوالہ کردیا جائے گا، جس تحریر کو وہ حلفًا فصیح وبلیغ کہہ دیں گے وہ فریق سچا اور دوسرا جھوٹا ہوگا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دو فریق کی تحریرات کے اندر جس قدر غلطیاں نکلیں گی وہ سہو ونسیان پر محمول نہیں کی جائیں گی بلکہ واقعی اس فریق کی نادانی اور جہالت پر محمول کی جائیں گی، مجھے آپ کے اس معیار صداقت پر بعض شکوک ہیں جن کو میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔

(۱)کسی عربی عبارت کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ اس کے مقابلہ میں کوئی شخص اس انداز وفصاحت کی دوسری عبارت معارضہ کے طور پر نہیں لکھ سکتا۔ آج سے پہلے صرف قرآنی عبارت کا خاصہ تھا، بشر کا کلام اعجاز کی حد پر نہیں پہنچ سکتا حتیٰ کہ افصح العرب حضرت سید الرسلa نے بھی اپنے کلام کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ معارضہ کے لئے فصحائے عرب کو بلایا۔ اگر مان لیا جائے کہ بجز کلام خدا کے دوسرے کلام بھی حد اعجاز تک پہنچ جاتے ہیں، تو پھر فرمائیے کہ الٰہی کلام اور بندہ کے کلام میں ما بہ الامتیاز کیا رہا۔

(۲)ہزارہا غیر مسلم عربی کے اعلیٰ درجہ کے فاضل اورمنشی گذرے ہیں اور ان کی تصانیف عربی میں موجود ہیں، اور ان کے عربی قصائد اور نثر اعلیٰ درجہ کے فصیح اور بلیغ مانے گئے ہیں۔ کئی ایک غیرمسلم قرآن کریم کے حافظ گذرے ہیں بعض غیر مسلم شاعروں کے قصائد کے نمونے میں نے اپنے ایک مضمون میں دیے ہیں، جو ۱۸۹۹ء کے رسالہ انجمن نعمانیہ میں پھر اخبار چودھویں صدی کے کئی پرچوں میں چھپا ہے۔

(۳)مجھے سمجھ میں نہیں آئی کہ چالیس علماء کی کیا خصوصیت ہے، اگر یہ الہامی شرط ہے تو خیر ورنہ ایک عالم بھی آپ کے لئے کافی ہے اور یوں تو چالیس علماء بھی بالفرض اگر آپ کے

533

مقابلہ میں ہار جائیں تو دنیا کے علماء آپ کے دعوے کی تصدیق نہیں کریں گے کیو ںکہ مجددیت، محدثیت، رسالت کا معیار اس زمانہ ۱؎ میں عربی نویسی کسی طرح بھی تسلیم نہیں ہوسکے گی۔

(۴)تعجب کی بات ہے کہ آپ اپنے اس اشتہار کے ضمیمہ کے ص؍۱۱ مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۳۶ پر تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’مقابلہ کے وقت پر جو عربی تفسیریں لکھی جائیں گی ان میں کوئی غلطی سہو ونسیان پر حمل نہیں کی جائے گی۔‘‘

مگر افسوس کہ آپ خو د اسی اشتہار میں لفظ محصنات کو جو قرآن کریم میں مذکور ہونے کے علاوہ ایک معمولی اور مشہور لفظ ہے دو دفعہ محسنات لکھتے ہیں، س اور ص کی تمیز نہ ہونا اتنے بڑے دعویدار عربیت کے حق میں سخت ذلت کا نشان ہے۔ یہ لفظ اگر ایک دفعہ غلط لکھا ہوتا تو شاید سہو پر حمل کیا جاسکتا، مگر دو دفعہ غلط لکھا اور پھر شرط یہ ٹھہراتے ہیں کہ دوسروں کی غلطیوں کو سہو اور نسیان پر حمل نہیں کیا جائے گا۔

اخیر میں میری التماس ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہر ایک مناسب شرط پر عربی نظم ونثر لکھنے کو تیار ہوں، تاریخ کا تقرر آپ ہی کردیجیے اور مجھے اطلاع دیجیے کہ میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو حاضر کروں، مگریاد رہے کہ کسی طرح بھی عربی نویسی کو مجددیت یا نبوت کا معیار تسلیم نہیں کیا گیا،والسلام علی من اتبع الھدی!

(راقم محمد حسن حنفی ۲؎ بھی ضلع جہلم تحصیل چکوال مدرس دارالعلوم نعمانیہ لاہور ۵؍اگست ۱۹۰۰ء)

۱؎

کیونکہ آج کل عربی کے وہ اہل کمال نہیں ہیں جو آںحضرتa کے زمانہ میں تھے جن کے عاجز ہو جانے سے یہ ثابت ہوجائے کہ کوئی انسان اس کے مثل نہیں لاسکتا۔

۲؎

یہ وہی علامہ فیضی مرحوم ہیں جن کا ایک مضمون اسی سراج الاخبار سے نقل ہوچکا ہے اس میں یہی علامہ مرحوم نے مناظرہ کا چیلنج دیا تھا اور ہر طرح مناظرہ کے لئے آمادہ تھے مگر مرزا قادیانی نے دم نہیں مارا اسی طرح اس خط میں مناظرہ کا چیلنج ہے اس کے جواب میں بھی مرزا قادیانی مناظرہ پر آمادہ نہ ہوئے اور عربی نویسی کا اعجاز نہ دکھایا، اس سے ان کے اعجاز یہ رسالو ںکی حقیقت اہل دانش سمجھ سکتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ علامہ ممدوح مرزا قادیانی کے سامنے انتقال کرگئے اور انہیں خوشیاں منانے کا موقع ملا، مگر جب ان کے بڑے مقابل فاتح قادیان مولانا ثناء اﷲ اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب ان کی آخر زندگی تک ان کی سرکوبی کرتے رہے اور اب تک ان کی روح کو مناسب ثواب پہنچاتے ہیں تو ان کی خوشیو ں کی تلافی کافی طور سے ہوجاتی ہے اور جب فاتح قادیانی مرزائیوں کو ترک دیتے ہیں تو ان کی روح تڑپ تڑپ کر رہ جاتی ہوگی۔

534

یہ خط تاریخ مناظرہ کے پہلے کا ہے، تاریخ مناظرہ ۲۵؍اگست۱۹۰۰ء مقرر ہوئی تھی، مرزا قادیانی کے مشتہرہ مضمون میں قدرت خدا کا نمونہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے تکبر کے جوش میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جائوں تو میں ملعون جھوٹا ہوں، (مجموعہ اشتہارات ج۳ص۳۳۱)اور اس شدومد کے اشتہار واقرار کے بعد قدرت خدا سے صداقت کا ظہور نہایت آب وتاب سے اس طرح ہواکہ باید وشاید۔ اس کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ پیر صاحب مرزا قادیانی کی تمام شرطیں منظور کرکے مناظرہ پر آمادہ ہوگئے اور ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء مناظرہ کی تاریخ مقرر ہوگئی اور پیر صاحب اپنے اقرار کے بموجب ۲۴؍اگست۱۹۰۰ء کو مع دیگر علماء اور معززین اہل اسلام کے لاہور پہنچے اور ۲۹ ؍اگست ۱۹۰۰ء تک منتظر رہے، مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے، اس نواح کے مریدوں نے بہت زور لگایا مگر وہ نہ آئے اور اپنے اس اشتہاری اقرار کی بھی پرواہ نہ کی جو لکھ چکے تھے کہ اگر مقابلہ پر لاہور نہ جائوں تو میں جھوٹا اور ملعون ہوں مہتممان جلسہ نے اس جلسہ کی روداد طبع کراکے مشتہر کرائی تھی، اس میں ذیل کا مضمون لائق ملاحظہ ہے۔

جملہ حاضرین جلسہ کے اتفاق رائے سے یہ قرار پایا کہ ’’یہ شخص (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) مخاطب ہونے کی حیثیت نہیں رکھتا ہے اور شرمناک دروغگوئی سے اپنی دوکانداری چلانا چاہتا ہے، اس لئے آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا قادیانی یا اس کے حواریوں کی کسی تحریر کی پرواہ نہ کریں۔ ‘‘یہ روئیداد مسلمانوں میں بہت شائع ہوئی ہے جس سے مرزا قادیانی کے دعوئوں کی حالت اظہر من الشمس ہوگئی اور اپنے پختہ اقرار سے جھوٹے اور ملعون ٹھہرے اس شرمناک ذلت مٹانے کے لئے مرزا قادیانی نے تفسیر اعجاز المسیح لکھی یا لکھوائی اور پیر صاحب سے جواب۱؎ طلب کیا اور ’’مَنَعَہٗ مَانِعٌ مِّنَ السَّمَآء‘‘ کا الہام بھی سنا دیاکیونکہ روئیداد سے معلوم کرچکے تھے کہ

۱؎

چنانچہ قادیانی اخبار الحکم مورخہ ۱۷؍جنوری۱۹۰۴ء ص۵ میں ہے، اعجاز المسیح حضرت حجۃ اﷲ مسیح موعود کی عربی تصنیف ہے جو ستر دن کے اندر باوجودیکہ چار جز کا وعدہ تھا ساڑھے بارہ جز پر شائع ہوگئی،اور ۲۳؍ فروری ۱۹۰۱ء کو پیر صاحب گولڑہ کو بصیغہ رجسٹری بھیجی گئی اور بالمقابل پیر صاحب کی طرف سے ان ستر دن کے اندر چار جز اور ساڑھے بارہ جز تو کجا ایک آدھ صفحہ بھی اعجازی عربی کا شائع نہیں ہوا اور اس طرح پر الہام ’’منعہ مانع من السماء‘‘ پورا ہوگیا اور پیر گولڑہ کی علمیت وقرآن دانی کا راز طشت ازبام ہوگیا۔‘‘ اس الہام سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس تفسیر میں اعجازی عربی نہیں ہے کہ اس طرح کی عربی پر پیر صاحب قادر نہ تھے، بلکہ کوئی مانع پیش آگیا اور اصلی مانع کو میں نے ظاہر کردیا جس سے مرزا قادیانی کا راز طشت ازبام ہوگیا اور ان کے دعویٰ اعجاز کی حقیقت کھل گئی۔

535

پیر صاحب اور تمام علمائے حاضرین جلسہ مجمع عام میں ہزاروں معززین اسلام کے روبرو کہہ چکے ہیں کہ کوئی مسلمان، مرزا قادیا نی کو مخاطب نہ بنائے اور نہ ان کی کسی بات کا جواب دے اور ظاہر ہے کہ یہی ر استباز علماء اپنے قول کے خلاف ہرگز نہ کریں گے اس لئے مرزا قادیانی نے عمدہ موقع پاکر اپنی تفسیر پیش کی اور جواب طلب کیا اور پیر صاحب اور دیگر علماء نے انہیں قابل خطاب نہیں سمجھا اور اپنے اقرار کے پابند رہے، اور مرزا قادیانی کی طرح بدعہد اور جھوٹا ہونا پسند نہیں فرمایا اور مرزا قادیانی نے یہ موقع پاکر اپنے اعجاز کا غل مچادیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ پیر صاحب اور دیگر علماء کے لئے یہ آسمانی مانع تھا کیونکہ اپنے قول پر قائم رہنا آسمانی حکم ہے اس لئے الہام کا مضمون بلاشبہ صحیح ہے، مگر مرزا قادیانی نے اصلی حالت کو پوشیدہ کرکے ایسے پیچ سے اسے بیان کیا ہے کہ مریدین اسے معجزہ سمجھ رہے ہیں۔

ایک اور راز ملاحظہ کیجیے وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خیال کیا ہوگا کہ جو علماء اس جلسہ میں شریک تھے وہ تو اپنے عہد کے خیال سے جواب نہیں دیں گے اور دوسرے علماء جو دور دراز جگہ کے رہنے والے ہیں انہیں کیا خبرہوگی اور اگر کسی کو ہوئی بھی تو دیر میں ہوگی،اس لئے جواب کے لئے ستر دن کی قید لگا دی اور معلوم کرلیا کہ اول تو اس میعاد کے اندر دوسرے علماء کو خبر ہی نہیں ہوسکتی اور اگر کسی کو ہوئی بھی اور جوش اسلامی نے انہیں آمادہ بھی کیا تو انہیں اتنی مدت نہیں مل سکتیکہ وہ اس قدر تفسیر لکھیں اور چھپوا کر بھیج دیں اس لئے یہ میعاد مقرر کردی۔

اب اہل حق اس دائو پیچ کے اعجاز کو ملاحظہ کریں جس سے مرزا غلام احمد قادیانی کی حالت آفتاب کی طرح چمک رہی ہے ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘۔

یہ وہ سچا بیان ہے کہ کسی مرزائی کی مجال نہیں کہ اسے غلط ثابت کرسکے الغرض اس بیان سے دنیا پر دو باتیں نہایت روشن طریقے سے ثابت ہو گئیں۔ ایک یہ کہ اعجاز المسیح کے جواب نہ لکھے جانے کی اصل وجہ کیا تھی دوسرے یہ کہ ان کے صریح اقرار سے یہاں۱؎ بھی ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا اسی وجہ سے قدرت الٰہی نے انہیں مناظرہ کے لئے لاہور جانے نہ دیا اور روک لیا، اگرچہ جانے کے بعد بھی جھوٹے ٹھہرتے مگر وہ جھوٹ دوسرے کی زبان سے ثابت ہوتا اور نہ جانے سے ان کی زبان سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا اور ان کے دعوئوں کی حالت بھی معلوم ہوگئی۔

۱؎

یعنی متعدد مقامات پر مرزا اپنے اقرار سے کاذب ثابت ہوئے ہیں یہاں بھی اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے۔

536

اس زور وشور سے مناظرہ کا اشتہار دیا اور پیر صاحب کو نہایت سخت اور توہین کے الفاظ لکھ کر انہیں آمادہ کیا اور جب وہ آمادہ ہوکر میدا ن میں آگئے تو گھر سے باہر نہ نکلے، اسی طرح ان کے بعض مریدین بھی کرتے ہیں۔

حق پرست حضرات اس واقعہ پر انصاف سے نظر کریں اور بہتر ہے کہ روئیداد جلسہ اسلامیہ لاہور کو ملاحظہ کرلیں،پھر فرمائیں کہ خدا کے برگزیدہ رسول اس کے نیک بندے سے نہایت سخت کلامی کرکے عہد وپیمان کریں اور نہایت پختہ اقرار کرکے اسے پورا نہ کریں،ایسا ہوسکتا ہے؟ خدا کو عالم الغیب جان کر جواب دیجیے، کیا ممکن ہے کہ خدا کے مقبول کسی سے ایسا پختہ وعدہ کریں کہ اس کے پورا نہ ہونے پر اپنے کذب کو منحصر کریں اور خدا ان کی اس قدر مدد نہ کرے کہ وہ وعدہ پورا کرسکیں حالانکہ ’’وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ‘‘ کا الہام ہو چکا ہو یہ ہرگز نہیں ہوسکتا اور سنا گیا کہ نہ جانے کا عذرمرزا قادیانی نے یہ کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ولایتی مولوی مجھے مار ڈالیں گے۔

بھائیو! ذرا تو غور کرو کہ مرزا قادیانی نے خود ہی مناظرہ کا اشتہار دیا اور نہایت غیرت دار الفاظ لکھ کر پیر صاحب کو آمادہ کیا اور جب مناظرہ کا ٹھیک وقت آپہنچا اور مقابل سامنے آگیا اس وقت یہ الہام ہوتا ہے کہ ولایتی مولوی مارنے کے لئے بلاتے ہیں، کیا اس عالم الغیب کو پہلے سے اس کا علم نہ تھا کہ اگر مناظرہ میں اجتماع ہوگا تو وہ مار ڈالنے کی فکر کریں گے،اس ملہم نے اشتہار دینے کے وقت یہ الہام نہ کیا کہ اشتہار نہ دے، ورنہ روکا جائے گا اور جھوٹا اور ملعون ٹھہرے گا، خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس فعل سے تو نہ روکا جس سے تمام خلق کے نزدیک بدعہد اور جھوٹا قرار پائے اور اس کی اس رسوائی اور کذب کو پسند کرکے اس کے بچانے کے لئے الہام کیا، کون صاحب عقل اسے باور کر سکتا ہے۔ مگر ان کے معتقدین خوب خیال کرلیں کہ اگر یہاں مرزا قادیانی کو سچا مانا جائے گا، تو اﷲ تعالیٰ کو جھوٹا اور وعدہ خلاف ماننا ہوگا کیونکہ مقربین خدا خصوصاً انبیاء بغیر الہام الٰہی ایسا اعلان ہرگز نہیں کرسکتے اور اگر غلطی کریں تو انہیں فوراً اطلاع خداوندی نہ ہو یہ نہیں سکتا، کیونکہ عام مخلوق کے روبرو وہ اپنی زبان سے جھوٹے ٹھہرتے ہیں، اس کے علاوہ ایسے مقام پر انبیاء کی حمایت نہ ہو اور انبیاء کو اس کی حمایت پر اعتماد نہ ہو، یہ بھی نہیں ہوسکتا۔

جماعت مرزائیہ انبیاء کے قتل نہ ہونے پر آیت ’’لاغلبن انا ورسلی‘‘ پیش کرتی ہے، پھر کیا مرزا قادیانی کو اس وقت تک اس آیت پر نظر نہ تھی جو ولایتی مولویوں سے ڈر گئے اور

537

یہ بھی خیال نہ کیا کہ نہ جانے سے میں جھوٹا ٹھہروں گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی خجالت مٹانے کے لئے یہ دعویٰ کیا کہ ستر دن کے اندر سورۃ فاتحہ کی تفسیر ہم بھی لکھیں اور تم بھی لکھو، مگر چار جز سے کم نہ ہو، اب مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ہم نے اس میعاد کے اندر تفسیر لکھی، اور پیر صاحب لکھنے سے عاجز رہے، اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم مان لیں کہ یہ تفسیر خود مرزا قادیانی نے لکھی اور اسی مدت میں لکھی اور کسی دوسرے نے مدد نہیں دی، پھر اس میں اعجاز کیا ہوا، اتنی بات معلوم ہوئی کہ مرزا قادیانی کو ادب میں اس قدر مذاق تھا کہ دو ڈھائی مہینہ میں ڈھائی تین جز تفسیر کے عربی عبارت میں لکھ سکتے تھے اور وہ بھی اتنی محنت اور مشغولی کے بعد کہ نمازیں بھی بہت سی قضا کیں، اتنی مدت میں ایسی شدید مشغولی کے ساتھ ڈھائی تین جز عربی عبارت لکھ دینا کوئی کمال کی بات نہیں ہے، اگر شب و روز میں ایک صفحہ بھی لکھا جاتا تو چار جز سے زیادہ ہوتا، اور مرزا قادیانی کی تفسیر تو معمولی طریقے سے اگر لکھی جائے تو تین جز سے زیادہ کسی طرح نہیں ہوتی، پھر شب وروز کی محنت میں نمازیں قضا کرکے ایک صفحہ تفسیر کا لکھ دینا کوئی بڑی قابلیت کی دلیل ہے کہ دوسرے نہیں کرسکتے، ذرا کچھ تو انصاف کرناچاہئے اور بہت اچھا ہم نے مانا کہ اس وقت چونکہ اکثر علماء کو عربی تحریر کا مذاق نہیں ہے مرزا قادیانی عربی میں ایسی عبارت اور مضمون لکھ سکتے تھے کہ دوسرے نہیں لکھ ۱؎ سکتے، اس سے ان کے رسالے کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا، زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی میںاتنی قابلیت تھی کہ شب وروز کی محنت میں ایک صفحہ عربی عبارت لکھ سکتے تھے اور وہ چند علماء جنہیں ان کے اعلان کی خبر بھی پہنچی مگر وہ اس لئے نہ لکھ سکے کہ عربی لکھنے کی مشق نہیں رکھتے تھے، یا بوجہ مذکورہ بالا متوجہ نہ ہوئے اس میں مرزا قادیانی کا اعجاز کیا ہوا۔

الحاصل اس رسالہ کو معجزہ کہنا اور اس کا نام اعجاز المسیح رکھنا محض غلط ہے اور اس کی تصدیق خود مرزا قادیانی کا دل بھی کرتا تھا، اسی وجہ سے انہوں نے ستر دن کے اندر لکھنے کی قید لگائی ورنہ اعجاز کے لئے کوئی قید نہیں ہوسکتی۔

۱؎

فرضی طور پر یہ لکھا گیا ہے ورنہ اس وقت بھی جن کو عربی تحریر کا مذاق ہے وہ مرزا قادیانی سے بدرجہا عمدہ تفسیر لکھ سکتے ہیں، البتہ عرب کا سا مشغلہ اور ان کے سے خیالات کسی ذی علم کے نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کو ذلیل کرنے کے لئے جواب لکھنے پر آمادہ ہو جائیں اور اپنی قابلیت کا اظہار کریں اور خصوصا ایسے شخص کے مقابل میں جسے وہ لائق خطاب نہیں سمجھے جس کی تحریر کو جاہلانہ عبارت سمجھتے ہیں

538

رسالہ اعجاز احمدی کی حالت اور قصیدہ اعجازیہ کی بنیاد

۵؍نومبر ۱۸۹۹ء میں مرزا قادیانی نے اس مضمون کا اشتہار دیا کہ: ’’اے میرے مولیٰ اگر میں تیری طرف سے ہوں تو ان تین سال میں جو آخر دسمبر۱۹۰۲ء تک ختم ہو جائیں گے، کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو، اگر تین برس کے اندر جو جنوری؍۱۹۰۰ء سے شروع ہوکر دسمبر۱۹۰۲ء تک پورے ہوجائیں گے، میری تائید اور تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے تو میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا‘‘

(ملخص مجموعہ اشتہارات ج۳ص۱۷۱،۱۷۵)

مرزا قادیانی نے متعدد مقامات پر تو صرف اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا ہے مثلا احمد بیگ کے داماد کی نسبت کہا ہے کہ ’’اگر وہ میرے روبرو نہ مرے تو میں بد سے بدتر ہوں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ص۳۳۸)

یہ بھی کہا ہے کہ اگر تثلیث پرستی کے ستون کو نہ توڑدوں تو میں جھوٹا ہوں۔

(اخبار بدر قادیان ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ص۴کالم۲)

’’اعجاز المسیح کے شان نزول میں بیان کیا گیا کہ مرزا قادیانی نے اپنے لئے تین لقب تحریر کئے تھے اور لکھا تھا کہ اگر میں علماء کے جلسہ میں نہ جائوں تو میں مردود، ملعون جھوٹا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۳۱)

الحمدﷲ کہ اس جلسہ میں نہیں گئے اور اپنے اقرار سے ان تین صفتوں کے مستحق ہوئے۔ یہاں اپنے پانچ لقب بیان فرمائے مردود، ملعون، کافر، بے دین، خائن خدا کا ہزار شکر ہے کہ اس نے اپنی حجت سارے خلق پر تمام کردی اور انہیں اپنے اقرار سے جھوٹا، مردود، ملعون ثابت کردیا۔ اس قول میں انہوں نے اپنی پانچ صفتیں بیان کیں ہیں، اس کا ثبوت کس طرح ہوا اس کی حالت ملاحظہ کیجیے، اس پیشین گوئی کے پورے ہونے کی میعاد تین برس بیان کی تھی۔

اب ظاہر ہے کہ اس نشان کے دکھانے کا خیال کس قدر ہوگا اور کیا کیا تدبیریں سوچ رہے ہوں گے، مگر بحمداﷲ یہ تین برس خالی گذر گئے صرف ایک مہینہ باقی تھا کہ اتفاق سے اسی ۱۹۰۲ء میں موضع مد ضلع امرتسر میں مولوی ثناء اﷲ صاحب نے مرزائیوں کو مناظرہ میں بڑی زک دی، اس میں مرزائی بہت ذلیل ہوئے جس کی کیفیت ضمیمہ شحنہ ہند(میرٹھ) مورخہ

539

۲۴؍نومبر۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے جب مرزا قادیانی کو اس ذلت کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے رسالہ اعجاز احمدی کا اشتہار دیا کہ اگر مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو عربی نظم میں جیسا میں نے بنایا ہے پانچ روز میں بنا دے تو میں دس ہزار روپیہ انہیں انعام دوں گا، اور اگر وہ اس کے جواب سے عاجز رہے تو سمجھ لیا جائے کہ یہی قصیدہ وہ نشان ہے جس کے ظہور کے لئے میں دعا کی تھی کہ تین سال کے اندر اس کا ظہور ہو۔

(ضمیمہ نزول المسیح ص۳۶، خزائن ج۱۹ص۱۴۷ملخص)

غرض کہ اسی سہ سالہ سے پیشین گوئی کے پورا کرنے اور اپنے مریدین کی رسوائی مٹانے کے لئے یہ اشتہار دیا، اور اعجاز کا دعویٰ کیا یہ رسالہ ساڑھے پانچ جز کا ہے۔ اس میں ۳۸ صفحوں پر اردو عبارت ہے جس میں بہ کثرت جھوٹے دعوے ہیں، اب یہ تو نہایت ظاہر ہے دو تین جز میں جھوٹی سچی باتیں اردو زبان میں بنا دینا تو مشکل بات نہیں ہے البتہ عربی کا قصیدہ لکھنا کمال فصاحت وبلاغت کے ساتھ مشکل ہے۔

اب اس مرزائی اعجاز پر جو اعتراضات ہوتے ہیں جن سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ اعجاز نہیں ہے بلکہ فریب ہے انہیں ملاحظہ کیجیے۔

قصیدہ اعجازیہ معجزہ نہ ہونے کی پانچویں وجہ

(۱)پہلا اعتراض اس اشتہار میں جو دعا ہے(رسالہ اعجاز احمدی ص۸۸ خزائن ج۱۹ ص۲۰۲) میں اسے پیشین گوئی قرار دیا ہے، بہر حال وہ دعا ہے یا پیشین گوئی ہے مگر ایسی عظیم الشان ہے کہ اس دعا کے قبول ہونے پر اور اس پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے پر اپنے آپ کو مردود اور کافر قرار دیتے ہیں۔ اس لئے اس دعا کے بعد تین برس تک اس فکر وتجویز میں ضرور رہے کہ کوئی نشان تراش کر مسلمانوں کو دکھایا جائے تاکہ میں اپنے اقرار سے ملعون وکافر قرار نہ پائوں۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ تدبیر سوچی کہ ہندوستان میں عربی ادب کا مذاق نہیں ہے اس لئے ایک عربی قصیدہ لکھواکر اور اس کی تمہید اردو میں لکھ کر رسالہ شائع کرکے اعجاز کا دعویٰ کیا جائے۔ اسی زمانے میں ایک عرب طرابلس کی طرف کے رہنے والے ہندوستان میں آئے ہوئے تھے جابجا وہ پھرتے رہے اور حیدرآباد میں ان کا قیام زیادہ رہا ہے، یہ عربی کے شاعر تھے اور مزاج میں آزادی بھی شاعروں کی سی رکھتے تھے۔

540

قصیدہ اعجازیہ کا لکھنے والا

اس شہر(حیدرآباد) میں مرزائی زیادہ ہیں انہوں نے مرزا قادیانی سے رابطہ کرادیا، اور خط کتابت ہونے لگی، انہوں نے قصیدے کی فرمائش کی عرب صاحب نے پانچ سو روپیہ لے کر قصیدہ لکھ دیا اس کا ثبوت ملاحظہ ہو۔

نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم کو عربی ادب سے مذاق تھا اس لئے نواب صاحب نے انہیں بلوایا تھا، اتفاق سے جس مکان میں وہ بھوپال میں مقیم تھے اس میں ایک اور مولوی صاحب بھی ٹھہرے تھے جو اطراف امروہہ کے رہنے والے تھے وہ مولوی صاحب کانپور میں میرے پاس آئے اور ان عر ب کے قیام کا تذکرہ کیا۔ اس میں یہ کہا کہ ایک روز وہ مرزا کو خط لکھ رہے تھے میں قریب جاکر کھڑا ہوگیا تو دیکھا کہ خط کے عنوان(پتہ) پر انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح زمان لکھاتھا، میں نے دریافت کیا کہ آپ انہیں مسیح مانتے ہیں، انہوں نے سختی سے کہا کہ میں اس کو۱؎ مسیح کیا مانتا اس نے پانچ سو روپیہ دے کر مجھ سے قصیدہ لکھوایا ہے اس لئے میں اس کی تالیف قلب کرتا ہوں۔

سعید طرابلسی

اس کی تائید میں دو شاہد اور ہیں مولانا غلام محمد صاحب فاضل ہوشیار پوری سے معلوم ہوا کہ سعید نامی ایک شخص طرابلس کا رہنے والا ادیب تھا مگر آزاد مزاج کا شخص تھا جیسے اکثر شاعر ہوتے ہیں، مرزا سے اس کی خط وکتابت تھی۔پانی پت میں آکر اسے بعض معقول کی کتابیں پڑھی تھیں، مولوی محمد سہول صاحب پورنوی بھاگلپوری کہتے ہیں کہ حیدرآباد میں میں نے اس سے ادب کی بعض کتابیں پڑھی ہیں، بڑا ادیب تھا کہتا تھا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت پیش آئی تھی میں نے مرزا کو لکھا اس نے قصیدہ لکھوایا میں نے لکھ دیا، اس نے روپیہ مجھے دیا۔

ان تین شاہدوں کے بیان سے ثابت ہوگیا کہ یہ قصیدہ مرزا کا لکھا ہوا نہیں ہے، مگر ان باتوں کو کون جانتا ہے اور جس نے جانا بھی وہ اس کے شور وغل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا، مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی میعادی پیشین گوئی پوری کرنے کے لئے سامان کرلیا۔

۱؎

یہاں ان کا سخت لفظ بغرض تہذیب نہیں لکھا۔

541

کیونکہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں ادب کا مذاق نہیں ہے اور یہ قصیدہ ایک ادیب عرب کا ہے۔ اس کا جواب یہاں کوئی نہیں دے سکے گا اس کی تمہید میں اپنی تعریف بھی بہت کچھ لکھ لی، اسی عرصہ میں اتفاق سے موضع مد میں ان کے مریدین نے مناظرہ میں بڑی شکست کھائی اور نہایت ذلیل ہوئے اور اپنے مرشد کے پاس جاکر روئے، یہ واقعہ اس کا محرک ہوا کہ وہ قصیدہ جو سعید طرابلسی سے لکھوایا ہے اس میں مناظرہ مد کے متعلق اشعار کا اضافہ کرکے مشتہر کیا جائے اور اعجاز کا دعویٰ کیا جائے، اس لئے اسے چھاپ کر مع اشتہار کے مولوی ثناء اﷲ صاحب کے پاس بھیجا تاکہ عام مریدین اور خاص ان مریدین کو جو مناظرہ کی شکست سے نہایت افسردہ ہوگئے تھے، خوش کریں۔

اس بیان سے مرزائی اعجاز کی حقیقت تو کامل طور سے منکشف ہوگئی، البتہ اس پر یہ شبہہ ہوتا ہے کہ سعید شامی تو بڑا ادیب تھا وہ ایسی غلطیاں نہیں کرسکتا جیسی مرزا کے قصیدہ میں ہیں یہاں تک کہ بعض الفاظ اس میں ایسے ہیں جو عرب ہرگز نہیںبولتے، اس لئے یہ قصیدہ اس شامی کا نہیں ہوسکتا، اس کا جواب نہایت ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ سعید مرزا کو جھوٹا جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ عربی ادب سے مرزا کو مس نہیں ہے، اس لئے اس نے قصداً یہ غلطیاں کی ہیں تاکہ اہل علم اس سے واقف ہوکر اس کی تکذیب کریں۔

چونکہ عرصہ تک ہند میں رہا ہے اور بعض علوم عقلیہ اس نے یہاں پڑھے ہیں اس لئے وہ ہندی محاورات سے بھی واقف تھا، مرزا قادیانی کو فریب دینے کی غرض سے بعض غلط الفاظ بھی اس میں داخل کردیے تاکہ اہل علم انہیں دیکھ کر اس کے اعجاز کی تکذیب کرسکیں۔

الحاصل یہ قصیدہ مرزا قادیانی کا اعجاز نہیں ہے، اگر اسے اعجاز کہا جائے تو سعیدشامی کا اعجاز ہوگا، اس مضمون کی پوری شہادت اس واقعے سے ہوتی ہے جو فاضل ابوالفیض مولوی محمد حسن فیضی مرحو م اور مرزا قادیانی سے ہوا۔

علامہ ممدوح نے جب مرزا غلام احمد قادیانی کی لن ترانیاں بہت کچھ سنیں اور اتفاق سے مرزا قادیانی اپنے مریدوں میں سیالکوٹ گئے ہوئے تھے وہیں علامہ ممدوح پہنچے اور ایک عربی قصیدہ اپنا لکھا ہوا پیش کیا، اس وقت جو گفتگو ہوئی اس کی کیفیت مولانا مرحوم نے سراج الاخبار ۲؍مئی ۱۹۰۲ء میں شائع کی تھی، وہ ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔

542

نقل مضمون سراج الاخبار۲؍مئی ۱۹۰۲ء مشتہرہ فیضی مرحوم

ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی کی حالت پر نہایت ہی افسوس آتا ہے کہ وہ باوجودیہ کہ لیاقت علمی بھی جیسا کہ چاہئے نہیں رکھتے اور کس قدر قرآن وحدیث کا بگاڑ کررہے ہیں سیالکوٹ کے کئی ایک احباب جانتے ہوں گے کہ ۱۳؍فروری ۱۹۰۲ء کو جب یہ خاکسار سیالکوٹ میں مسجد حکیم حسام الدین صاحب میں مرزا غلام احمد قادیانی سے ملاتو ایک قصیدہ عربی بے نقط منظومہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کے ہدیہ کیا۔

جس کا ترجمہ نہیں کیا ہوا تھا اس لئے کہ مرزا قادیانی خود بھی عالم ہیں اور ان کے حواری بھی جو اس وقت حاضر محفل تھے ماشاء اﷲ فاضل ہیں اور قصیدہ میں ایسا غریب لفظ بھی کوئی نہیں تھا اور پھر اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو مجھے آپ کی تصدیق الہام کے لئے یہی کافی ہے کہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنا دیں۔

مزید براں مسائل مستحدثہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت استفسار تھا۔ مرزا اس کو بہت دیر تک چپکے دیکھتے رہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کی عبارت بھی نہ آئی، باوجودیکہ عربی خوش خط لکھا ہوا تھا، پھر انہوں نے ایک فاضل حواری کو دیا، جو بعد ملاحظہ فرمانے لگے کہ اس کا ہم کو تو پتہ نہیں ملتاآپ ترجمہ کرکے دیں۔ یہ پوچھا گیا کہ آپ کیوں مثیل مسیح موعود ہیں آپ سے بہتر آج کل بھی اور پہلے کئی ایک ولی عالم گذرے ہیں وہ کیوں نہیں اور آپ کیوں ہیں، تو فرمایا میں گندم گوں ہوں اور میرے بال سیدھے ہیں جیسے کہ مسیح اﷲ کا حلیہ ہے، افسوس اس لیاقت پر یہ غل۔جناب مرزا قادیانی!وقت ہے توبہ کرلیجیے۔

مرزا قادیانی کا مقابلہ سے عاجز ہونا

اخیر پر میں مرزاکو اشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ عقائد میں سچے ہوں تو آئیں صدر جہلم میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں،میں حاضر ہوں، تحریری کریں یا تقریری، اگر تحریر ہو تو نثر میں کریں یا نظم میں،عربی ہو یا فارسی،یا اردو آئیے سنیے اور سنیے

(راقم ابو الفیض حسن فیضی حنفی۔ساکن بھین ضلع جہلم)

543

قصیدہ عربیہ غیر منقوطہ منظومہ فیضی مرحوم کے چند اشعار

  1. لمالک ملکہ حمد سلام

    علی مرسو لہ علم الکمال

  2. حمود احمد و محمد و

    طھور مع اولاء وال

  3. اما مملوک احمد اھل علم

    والھام و حلال السوال

  4. لودک کم مدی ھمع الدموع

    وطأ وطأ راس اعلام عوال

  5. علی مرالمدی وکع المودہ

    وحمل اھلھا ادھی الحمال

  6. ھواک الدھر مادار السماء

    ورامک اھلہ روم العسال

یہ قصیدہ اکتالیس شعر کا ہے، بغرض نمونہ میں نے چند شعر لکھ دئیے ہیں۔ ناظرین ملاحظہ کریں کہ اس عربی قصیدہ کا ترجمہ نہ کرسکے۔ پھر وہ عربی قصیدہ کیالکھتے ؟(احتساب قادیانیت ج۵۹ میں مکمل قصیدہ بمعہ ترجمہ شائع ہوا ہے، الحمدﷲ!) معلوم ہوتا ہے کہ اول اسی واقعہ کی شرم انہیں ہوئی اور قصیدہ لکھوانے کا خیال ہوا، اور لکھوایا، پھر مدکا واقعہ پیش آگیا، اس کے متعلق اشعار کا اضافہ کرکے قصیدہ کا اعلان کیا۔

علامہ فیضی نے صرف قصیدہ ہی پیش نہیں کیا بلکہ مناظرہ کا دعویٰ کیا، اور مقابلہ کے لئے بلایا، مگر مرزا قادیانی دم بخود رہے، مولانا کے روبرو کچھ نہ کہہ سکے۔ اب حیرت ہے کہ مرزا قادیانی اس طرح علماء کے مقابلہ سے عاجز رہے ہیں، اس پر یہ بے شرمی ہے کہ پھر وہی دعویٰ ہے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہمارے اس دعوی کو بہت ایسے لوگ بھی دیکھیں گے جنہوں نے پہلا واقعہ دیکھا سنا نہ ہوگا اور ہمارے سکوت وعجز سے واقف نہ ہوں گے۔

یہی حالت ان کے مریدوں کی ہے کہ بڑے معرکہ میں نہایت ذلیل ہوتے ہیں، مگر دوسرے وقت وہی دعویٰ ہے۔ بہت رسائل لکھے ہوئے موجود ہیں، خلیفہ اول کے عہد میں ان کے پاس بھیجے گئے ہیں اور اب بھی بھیجے جاتے ہیں اور یہ وہ رسائل ہیں جن میں متعدد طریقے سے نہایت کامل طور سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے اور یہاں سے قادیان تک کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکا،تمام مرزائی ان کے جواب سے عاجز ہیں۔

544

با یں ہمہ ان کے جاہل متبعین پکارتے ہیں کہ ہم مرزا کی نبوت ثابت کریں گے، اور جب اہل حق پکارتے ہیں کہ سامنے آئو تو منہ چھپاتے ہیں۔

(۲)دوسرا اعتراض :پہلے بیان کردیا گیا کہ معجزہ اور نشان وہی کلام ہوسکتا ہے جس کے مثل نہ اس کے پہلے کوئی لکھ سکا ہو نہ اس کے بعد لکھ سکے۔ قصیدہ مرزائیہ کے قبل تو بہت قصیدے عمدہ عمدہ لکھے گئے ہیں اور بعض چھپے ہوئے موجود ہیں، مثلاً شاہ ولی اﷲ صاحبؒ کا قصیدہ نعتیہ دیکھا جائے، کیسے نادر مضامین ہیں اور اس کی تضمین جو شاہ عبد العزیز صاحبؒ نے کی ہے اسے فن ادب کے اہل مذاق ملاحظہ کریں، اسی طرح مولوی فضل حق صاحب مرحوم کا قصیدہ جس میں انہوں نے غدر کے حالات بیان کئے ہیں قابل دید ہے جنہیں اہل علم دیکھ کر مرزا کے قصیدہ کو ردی میں پھینک دینے کے قابل سمجھیں گے۔

آزاد بلگرامی کے قصائد اہل علموں نے دیکھے ہیں مگر مرزائی جہلا کو علمی باتوں سے کیا واسطہ، وہ کیا جانیں کہ کون ذی علم کس فن کا زیادہ جاننے والا ہے، پہلے قصیدوں کے علاوہ مرزا کے دعویٰ کے بعد بھی اس کے جواب میں قصیدے لکھے گئے ہیں۔

پہلا قصیدہ جوابیہ

قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم نے مرزاکی زندگی میں لکھا تھا اور ۱۹۰۷ء کے شروع میں اخبار اہل حدیث میں وہ قصیدہ چھپا ہے اور پھر ۱۹۱۳ء کے رسالہ الہامات مرزا میں اس کے ۶۲ شعر نقل کئے گئے ہیں۔

(یہ قصیدہ بھی احتساب ج ۵۹ میں چھپ گیا ہے۔)

دوسرا قصیدہ جوابیہ

نہایت ہی عمدہ اور لاجواب جو ۱۳۳۱ھ( مطابق ۱۹۱۲ء) میں لکھا گیا ہے یہ قصیدہ چھ سو پچیس اشعار کا ہے، البتہ چھپا نہیں ہے عنقریب چھپنے والا ہے اہل علم اسے دیکھ کر مسرور ہوں گے، چند اشعار اس کے نقل کئے جاتے ہیں جن کے الفاظ ومضمون سے اہل علم مسرور ہوں گے۔ (چھپ گیا تھا ہمارے مرکزی دفتر کی لائبریری میں موجود ہے ان تمام کو احتساب قادیانیت کی مستقل جلد۵۹ میں شائع کیا ہے۔)

545

قصیدہ جوابیہ کے چند اشعار

  1. ۱:وذاک رسول اللّٰہ من جاء رحمۃ

    یُبَشِّرُ بِالْفِرْدَوْسِ حَقًّا وَیُنْذِر

اور وہ جناب رسول اﷲa ہیں جن کا تشریف لانا عالم کے واسطے رحمت تھا۔ وہ جنت کے لوگوں کو بشارت سچی دیتے تھے اور دوزخ سے ڈراتے تھے۔

  1. ۲:نَبِیُّ الْھُدٰی خَیْرُ الْانَامِ مُحَمَّد

    حَبِیْبُ اِلٰہِ الْعَرْشِ لِلْفَضْلِ مَظْھَرَ

نبی ہیں ہدایت کے تمام مخلوقات سے افضل ہیں نام پاک ان کا محمد ہے۔ محبوب ہیں وہ الٰہ عرش کے فضائل وکمالات کے مظہر ہیں۔

  1. ۳:ھَوَ الْمُصْطَفَی الْمُخْتَارُ مِنْ قَبْلِ اٰدَمَ

    وَاٰخِرُ مَبْعُوْثٍ بِہِ الْحَقُّ یَظْھَر

وہی برگزیدہ پسند فرمائے گئے ہیں حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے سے۔ اور سب سے آخر میں بھیجے گئے ہیں ان ہی کے ذریعہ سے حق ظاہر ہوا۔

  1. ۴:حَوَیٰ جَانَبَی فَضْلٍ وَذَاکِ لِحِکْمَۃٍ

    یَرَاھَا لَہٗ الْمَوْلَی الْحَکِیْمُ الْمُقْدِّر

انہوں نے دونوں جانبیں فضل کی گھیر لیں اور یہ بہت بڑی حکمت کی بناء پر۔ جس کو آپ کے واسطے اﷲ تعالیٰ حکیم نے مقدر فرمایا۔

  1. ۵:شَریِْعَتُہٗ الغَرَّائُ حِیْنَ تَلَالَاتْ

    مَصَابِیْحُھَا لَمْ یَبْقِ لِلْغَیْرِ نَیِّر

آپ کی روشن شر یعت کے چراغ جس وقت چمکنے لگے۔تو غیروں کی روشنی ماند ہوگئی۔

  1. ۶:بِہٖ خُتِّمَ الْاِرْسَالُ حَقًّا وَّدِیْنَہٗ

    ھُوَ الْحَقُّ لَا یُمْحٰی اِلٰی یَوْمِ یُحْشَر

آپ ہی کی ذات پر ارسال ختم ہو گیا حقاً ویقینا اور آپ کا دین۔وہی حق ہے جو قیامت تک محونہ ہوگا

  1. ۷:بِہٖ خُتِمَ الْاِرْسَالُ حقًّا وَّلَم یَسُغ

    لِشْخْصٍ سِوَاہٗ بِالنُّبُوَّۃِ یَفْخَرٗ

آپ ہی کی ذات پر ارسال ختم ہوگیا حقیقت میں اور اس لئے کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ آج نبوت پر فخر کرے

  1. ۸:وَمَنْ جَائَ بِالْبُھْتَانِ دَعْویٰ نُبُوّۃ

    فَذٰالِکَ فِی دَعْوَاہُ لاَ شَکَّ یُخْسَر

اور جس شخص نے بہتان اور افتراء سے دعویٰ نبوت کیا تو وہ بے شک اپنے دعوے میں ٹوٹے میں ڈالا جائے گا

  1. ۹:وَمُذْکَانَ خَیرُ الْخَلْقِ لِلرُّسُلِ خَا تِمًا

    ھِدَایَتُہ’ لاَ شَکً اَعْلٰی وَاَکبَر

اور جبکہ خیر الخلقa رسولوں کے ختم کرنے والے ہوئے تو آپ کی ہدایت بے شک اعلیٰ واکبر ہوگی

546
  1. ۱۰:وَمِنْ ذَاکَ یُذْریٰ اَنً تا ثِیرَ ھدیہ

    بَلِیْغٌ اِلیٰ یَومِ الْقِیامِ یُؤَثِّر

اور اس وجہ سے یقین کیا جا تا ہے کہ آپ کے اخلاق اور ہدایت کی تا ثیر یں قیامت تک اثر کرتی ہوئی پہنچیں گی

  1. ۱۱:فَلَمْ یَبْق بَعْدَ الْمُصْطَفٰی حَاجَۃً اِلٰی

    نَبِیٍّ بِہٖ سُبُلُ الْھِدَایَۃِ تَظْھَر

تو بعد حضورa کے کسی ایسے نبی کی حاجت ہی نہ باقی ر ہی جس کے ذ ریعہ سے ہدایت کے راستے ظاہر ہوں

  1. ۱۲:فَذَالِکَ یُذْرِ لِیْ بِالْکَمَالِ اَتٰی

    بِہِ الْمُصْطَفٰی یَھدِی الْوَرٰی وَیُذَکَّر

کیونکہ ایسی حا جت کا با قی رہنا آپ کے اس کمال کو بٹا لگاتا ہے جس کو لے کر آپ تمام عالم کو ہدایت اور نصیحت فر ما تے ہوئے تشریف لائے ہیں

  1. ۱۳:قَدْ صَحَّ اَنَّ الْمُصْطفٰی جَآء رَحْمَۃً

    اِلَی الْخَلْقِ طُرًّا فِی الْکِتابِ یُسَطَّر

اور یہ بھی صحیح طور پر ثا بت ہوا ہے کے آں جناب علیہ السلام تمام مخلو قات کے لئے رحمت ہوکر آئے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں یہ مسطور ہے

  1. ۱۴:وَھَلْ یَقْبَلُ الْعقْلُ السَّلیْمُ بِاَنّ

    مَنْ یُصَدِّقُ خَیْرَ الْخَلْقِ فِی النَّارِ یُدْحَر

تو کیا اس کے بعد عقل سلیم قبول کرے گی تو آپ کا تصدیق کر نے والا دوذخ میں دہکا دیا جائے

  1. ۱۵:وَلَوْ جَازَ بَعْدَ الْمُصْطَفٰی بَعْثُ مُرْسَلٍ

    لَکَانَ عَلٰی تَصْدِیْقِہِ الْکُلُّ یُجْبَر

اگر بعد مصطفی کے کسی رسول کا فرستا دہ ہو ناجا ئزہو تا تو اس نبی کی تصدیق پر تمام آدمی جبر کئے جاتے

  1. ۱۶:ومَنْ لَمْ یُصْدِّ قہُ یُؤَبَّدُفیِ لَظیٰ

    وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لِلْمُصْطَفٰی قطُّ یُنْکِر

جو اس کی تصدیق نہ کرتا وہ ہمیشہ رکھا جا تا دوزخ میںاور اگر چہ وہ مصطفیa کا کبھی بھی انکار نہ کر تا تھا

  1. ۱۷:وَھٰذَا یُنَافِی کَوْ نَہُ جَائَ رَحْمۃً

    اِلَی الْخَلْقِ طُرًّا اَیُّھََا الْمُتَدَبِّر

یہ آپ کی رحمت عا مہ ہونے کی منا فی ہے کیونکہ آپ تما م خلق کے لئے رحمت ہیں پس غور کر اے سوچنے والے

  1. ۱۸:عَلٰی کُلِّ حَالٍ اِنْ اَتی الْقَوْمَ مُرْسَلٌ

    فَلَمْ یَخْلُ اِمَّا مُومِنٌ اَوْ فَمُنْکِر

بہر حال اگر قوم میں کوئی رسول آیا تو دو حال سے لوگ خالی نہ ہوں گے یا مومن ہوں گے یا منکر

  1. ۱۹:وَمُنْکِرُ مبْعُوْثٍ الْاِلٰہٖ مُعَذَّبٌ

    غَدَالحَشْرِ یَوْمِ الدِّیْنِ فِی النَّارِ یُدْحرٗ

منکر فر ستادہ خداوندی عذاب د یا جا ئے گا اور کل کو حشر میں جزاء کے دن دوزخ میں دہکا دیا جائے گا

  1. ۲۰:وَیَلزم مِنْ ذَا اَنْ یُّعَذَّبَ مُوْمِنٌ

    بِخَیْرُ الْوَرٰی الْمُخَتارِ مَنْ جآئَ یُنْذِرَہٗ

اور اس سے لازم آتا ہے کہ جناب رسول اﷲa پرایمان لانے والا بھی عذاب دیا جائے گا

(یہ رحمت کی شان کے بالکل خلاف ہے)

547

اہل علم ان چند اشعار کی خو بی کو ملا حظہ کریں، کیسا بے نظیر مضمون ان میں ہے اور جناب رسول اﷲa کے بعد نبی نہ آنے کی کیسی عمدہ وجہ بیان کی ہے اور جناب رسول اﷲa کی عظمت وشا ن دکھائی ہے اور مرزائیوں کی جہالت ظاہر کی ہے، مرزا کے قصیدہ میں سوائے اپنی تعلیٰ اور دوسرے علماء کی برائی کے اور کوئی مضمون نہیں ہے، جب یہ قصائد قصیدہ مرزائیہ سے نہایت عمدہ موجود ہیں تو مرزا قادیانی کے قصیدہ کو معجزہ کہنا آنکھوں پر پٹی باندھ کر کنو ئیں میں گرنا ہے اور عوام کو فریب دینا ہے۔

(۳) تیسرا اعتراض : اس قصیدہ کے جواب کے لئے تو زیا دہ سے زیادہ بیس روز کی میعاد مقرر کی تھی اور پھر اس قید شدید ہی پر بس نہیں کی بلکہ یہ بھی لکھا کہ اسی میعاد میں رسالہ چھپا کر اور مرتب کرا کے ہمارے پاس بھیج دیا جا ئے یعنی اس اعجاز میں لوہے اور پتھر اور صناع اور کاریگروں کو بھی دخل ہے اس لئے اس کے جواب میں بھی ان کو دخل ہونا چاہئے، محض قلمی لکھ کر بھیجنا کافی نہیں ہے۔ اب جن کے قلب میں کچھ بھی انصاف کی بو ہے وہ صرف ان قیدوں میں تھوڑا سا غور کر کے مرزا قادیانی کی حا لت معلوم کر سکتے ہیں، کیا صادقین کی باتیں ایسی چالاکی اور عیاری کی ہو سکتی ہیں؟ اس پر نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اس کے جواب میں چار قیدیں لگاتے ہیں۔

(۱)باریک قلم سے لکھا ہوا ۹۰صفحہ کا رسالہ ہو (۲) آدھا رسالہ اُردو میں ہو اور آدھا عربی نظم میں (۳) بیس روز کے کے اندر لکھیں (۴) اور اسی میعاد میں چھپوا کر میرے پاس بھیج دیں۔ اہل انصاف اس روشن زبر دستی کو ملا حظہ کریں کہ ان قیدوں کے ساتھ ظاہری اسباب کی نظر سے جواب لکھ کر بھیجا جا سکتا ہے ؟ہر گز نہیں ساڑھے پا نچ جز کا رسا لہ جس کے بعض صفحوں پر ۲۲ سطریں ہوں اور بعــض میں ۲۱ سطر، پھر اتنے بڑے رسالہ کی تالیف کرنا اور تالیف بھی معمولی نہیں؛ ایک عیار بڑے مناظر مشاق کی باتوں کا جواب دینا اور وہ بھی صرف اردو نہیں بلکہ عربی قصیدہ بھی اس طرح کا ہو جیسا کہ اس میں ہے۔ ان قیدوں کو دیکھ کر ہر ایک منصف کہہ دے گا کے مرزا قادیانی اپنے دل میں سمجھتے ہیں کے مولوی ثنا ء اﷲ صاحب اس کا جواب لکھ دیں گے، اس لئے ایسی شرطیں لگا تے ہیں کہ ان کی وجہ سے لکھنا غیر ممکن ہو اور دام گرفتہ مرید خوش ہو جائیں۔

اب ملا حظہ کیجیے کے مرزا کا رسالہ ساڑھے پانچ جز میں ہے، ظاہر ہے کہ ہر ایک ذی علم پانچ روز میں اس کی نقل نہیں کر سکتا، کیونکہ زود نویسی کے عادی بہت ہی کم اہل علم ہوتے ہیں،جب اس مدت میں نقل نہیں ہو سکتی تو تصنیف کرنا کس طرح ہو سکتا ہے، اس قصیدہ کے اول

548

۳۸ صفحوں میں تو مرزا قادیانی نے اپنی جھو ٹی تعلّیـ اور دوسروں کی مذمت کی ہے اور آخر صفحہ میں عوام فریب پیرا یہ سے حضرت امام حسینؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہجو۱؎ کو الہامی بتا کر خود بری الذمہ ہوئے ہیں، اور عوام کو فریب دیا ہے، پھر ان باتوں کا کافی جواب تو ۳۸ یا ۴۸ صفحوں میں نہیں ہو سکتا، اس کے لئے تو اگر آٹھ دس جز میں جواب لکھا جا ئے تو شاید کچھ جواب ہو، پھر دیکھا جائے کہ اتنے جز کتنے روز میں انسان تصنیف کرے گا، پندرہ بیس روزسے کم میں تو لکھنا غیر ممکن ہے، اب عربی قصیدہ کی تالیف کا اندازہ کیجئے۔

غرض کہ بیس روز میں یہ دونوں کام ہر گز نہیں ہو سکتے، یہ بدیہی اور عقلی بات ہے۔ اب اس کے چھپنے کی مدت پر نظر کی جائے اس کی حالت تجربہ کار اور صاحب مطبع خوب جانتے ہیں، اگر دوسرے کے مطبع میں چھپوایا جائے تو حسب خواہ اس قدر جلد چھپوا لینا اس کے اختیار سے باہر ہے۔

ہاں اگر خود مولوی صاحب کسی پریس کے مالک ہوں اور وہ خود لکھیں اور چھپوائیں اور درمیان میں کوئی مانع پیش نہ آئے اور پریس میں وغیرہ صحیح و سالم رہ کر مستعدی سے کام کریں تو چھوٹے پریس میں ایک مہینہ میں اوربڑے میں غالباً بیس روز میں رسالہ تیار ہو سکتا ہے اس کے بعد بھیجا جائے گا، غرضیکہ تخمینًا دوماہ میں ایسے رسالے کا لکھا جانا اور چھپنا ہو سکتا ہے اگر مؤلف کو کوئی بیماری یا کوئی شدید ضرورت نہ آئے اس کے علاوہ رسالہ لکھے جانے کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ لکھنے والے کو مرزا قادیانی یاان کے مریدین کی بات پر ایسا اعتماد ہو کہ اگر محنت شاقہ اٹھا کر جواب لکھوں گا تو کوئی نتیجہ اس پر مرتب ہو گا اور مرزا خود اپنے آپ کو یا ان کے مرید انہیں جھوٹا جانیں گے۔

۱؎

قصیدہ اعجازیہ میں مرزا قادیانی نے اپنی تعلیٰ ایسی کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسینؓ سے اپنا تفوق اس طرح بیان کیا کہ ان حضرات کی کامل ہجو ہوگئی ہے اس لئے انہیں خیال ہوا کہ مسلمان ان سے بدگمان ہوں گے آخر صفحہ میں اس بدگمانی کو مٹانا چاہتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں لکھا یعنی بالہام الٰہی لکھا ہے۔ اگر میں اپنی طرف سے لکھتا تو میں وعید الٰہی میں پکڑا جاتا(اعجاز احمدی ص۴۵،خزائن ج۱۹،ص۱۴۹) یہاں عجب طرح کا فریب دیا ہے کہ ان بزرگوں کی کامل ہجو کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کے برگزیدہ حضرات میں نہیں تھے ورنہ مجھ پر ضرور وعید نازل ہوتی، مگر بایں ہمہ ان کے نام عظمت سے لئے ہیں، جس سے عوام سمجھتے ہیں کہ ان کی عظمت کرتے ہیں مرزا قادیانی کے فریب اسی قسم کے ہوتے ہیں،خدا ان سے پناہ دے،اپنی زبان درازی کو خدا کا الہام بتا کر انہیں مقبولان خدا سے گرادیا، یہاں غور سے دیکھنا چاہئے۔

549

مگر کسی صاحب تجربہ کو اس کی امید نہیں ہو سکتی۔ بہت تجربہ ہو چکا ہے کہ بڑے معرکہ کی پیشین گو ئیاں ان کی جھوٹی ہو ئیں مگر ان کے مریدین کے قلب ایسے تا ریک ہو گئے ہیں کہ کسی کو ایسی اعلا نیہ کذابی نظر ہی نہیں آتی، پھر عربی عبا رت کا اعجاز یا عدم اعجاز مرزائی جہلاء کیا سمجھیں گے۔ انہی مشکلات پر نظر کرکے مرزا نے ایسی قیدیں لگائیں کہ ان قیدوں کی وجہ سے جواب غیر ممکن ہو جائے اور اگر ان قیدوں کو چھوڑ کر کوئی جواب لکھے تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیں گے۔

ان دنوں خلیفہ قا دیانی سے دریافت کیا گیا کہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا اگر کو ئی جواب دے تو وہ جواب سمجھا جا ئے گا یا نہیں ؟ اس کا جواب۔ صادق قادیانی کے ہا تھ کا لکھا ہوا آ یا کہ اعجاز احمدی کے با لمقابل لکھنے کی میعاد ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ ء کو ختم ۱؎ہو گئی اور اعجازالمسیح کی میعاد ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء کو ختم ہوگئی ‘‘

لیجیے جناب خلیفہ قادیان کی تحریر سے بھی معلوم ہوا کہ ان رسالوں کا اعجاز بہت تھوڑی مدت کے اندر محدود تھا اس کے بعد وہ اعجاز سلب ہوگیا، اب اس کے مثل اہل علم لکھ سکتے ہیں، مگر وہ جواب جماعت مرزائیہ کے لا ئق تو جہ نہ ہو گا البتہ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ رحمانی اعجاز کسی میعاد کے اندر محدود نہیں ہو سکتا اگر شیطانی اعجاز ایسا ہو تو ہم نہیں کہہ سکتے، البتہ ایسے اعجاز کو ہمارے رو برو پیش کرنا شیطانی وسوسہ ہے۔

برادران اسلام نے ایسا اعجاز نہ سنا ہوگا کہ بیس دن کے اندر تک تو معجزہ رہے اور اس کے بعد وہ اعجاز جاتا رہے،یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حد بندی کی اطلاع ان کے مریدین اور معتقدین کو ہے یا نہیں،کیونکہ وہ اب تک ان رسالوں کو جواب کے لئے پیش کرتے ہیں اور بآواز بلند کہتے ہیں کہ اب تک کسی نے جواب نہیں دیا مگر جب یہ امر مشتہر ہوچکا ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ ان کی جماعت کو خبر نہ ہو،بلکہ ناواقفوں کو دھوکا دینا انہیں مد نظر معلوم ہوتا ہے۔

۱؎

اس کے ختم ہو نے کی وجہ یہ ہے کہ تین برس کے اندر جو نشان دکھانے کی پیشین گو ئی مرزا قا دیانی نے کی تھی وہ آخر دسمبر ۱۹۰۳ء تک ختم ہوتی ہے اس لئے قصیدہ کو اعجاز بنانا مر زائیوں کا فرض ہے، اگر نہ بنائیں تو مرزا قا دیا نی اپنے اقرار سے جھو ٹے ہو ئے جا تے ہیں، مگر میں کہتا ہوں کہ جب منکو حہ آسمانی والی پیشین گو ئی سترہ اٹھا رہ برس میں پوری نہ ہوئی اور مرزا قا دیانی نے خدا کو جھو ٹا قرار دیا تو اگر اس تین برس میں کوئی نشان ظاہر نہ ہو تو کو ئی الزام خدا پر یا اپنی سمجھ پر لگا دینا آسان تھا ایسی اعلانیہ غلطی اور فریب دہی کی ضرورت نہ تھی۔

550

غرض یہ ہے کہ اگر کوئی جواب نہ لکھے تو اس کا اعلان ہے کہ کسی نے جواب نہیں دیا اعجاز ثابت ہوگیا اور اگر کسی نے جواب دیا تو فوراً کہہ دیا جائے گا کہ جواب کی تاریخ گذر گئی، اب توجہ کے لائق نہیں ہے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کی اور ان کے متبعین کی باتیں عجب پیچ در پیچ ہوتی ہیں، صادقوں کی سی سچائی اور صفائی ہرگز نہیں ہے۔ اس حدبندی کی توجیہہ خلیفہ اول نے جو بیان کی ہے وہ لائق دید ہے۔ کتاب نور دین ص۲۳۳ میں لکھتے ہیں کہ: ’’مرزا قادیانی زمانی تحدید بھی کرتا ہے بلکہ کہتا ہے ایسا بے نظیرکلام فصیح وبلیغ عربی میں پیش کرو پس دونوں قیود سے قرآن کی طرح توسیع نہیں۔…مرزا حقیقتاً واقعی طور پر عین محمد واحمد نہیں بلکہ غلام احمد ہے… آقا کی برابری پسند نہیں کرتا۔‘‘

خلیفہ قادیان کی ایسی باتوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کیا اسی عقل وفہم پر حکیم الامۃ کا خطاب دیا گیا ہے؟ یہ توفرمائیے کہ برابری کا نہ ہونا اور ادب اور غلامی کا ثبوت اسی پر منحصر تھا کہ جواب کے لئے ایسے انداز سے قید لگائی جائے کہ اس میعاد میں جواب لکھ کر اور چھپوا کر بھیجنا غیر ممکن ہو ادب اور غلامی کا ثبوت تو اس طرح بھی ہوسکتا تھا کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب اپنی تمام عمر میں اس کا جواب دیں یا دوسرے سے لکھوائیں اس قدر قید ان کی غلامی کے ثبوت کے لئے بہت کافی تھی، اس طرح کہنے سے اس قول کی بڑی عظمت ہوجاتی اور غلامی بھی قائم رہتی مگر یہ نہیں کیا بلکہ نہایت سخت اور تنگ میعاد مقرر کی اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں ہے جو ابھی بیان کی گئی۔ اس کے علاوہ خلیفہ صاحب یہ تو فرمائیں کہ اگر برابری کا دعویٰ نہیں ہے تو (۱)منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد (تریاق القلوب ص۶ خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)کس نے کہا ہے؟(۲)اعجاز احمدی کا وہ شعر بھی آپ کو یاد ہے جس میں مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں کہ ’’رسول اﷲa کے لئے تو صرف چاند گہن اور میرے لئے چاند گہن اور سورج گہن دونوں ہوئے۔‘‘(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ص ۱۸۲ ) کہیے جناب !یہاں تو برابری سے گذر کر فضیلت کا دعویٰ ہے، یہاں غلامی کہاں چلی گئی۔

(۳)(تحفہ گولڑویہ ص۴۰ خزائن ج۱۷ص۱۵۳)کا وہ مقولہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ رسول اﷲa سے تین ہزار معجزے ہوئے، اس کے بعد اس قول پر نظر کیجیے جہاں لکھتے ہیں کہ مجھ سے تین لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہوئے۔(حقیقۃ الوحی، ص۶۷ خزائن ج۲۲،ص۷۰ ملاحظہ ہو)

اب فرمائیے کہ یہاں سو حصے زیادہ فضیلت کا دعویٰ ہے یا نہیں؟ ضرور ہے، پھر یہاں دعویٰ غلامی کہاں چلا گیا ؟اسی طرح مرزا قادیانی کے دعوی بہت ہیں، مگر جب جیسا موقع ان کے

551

خیال میں آگیا ویسا دعویٰ کردیا حکیم صاحب کچھ تو ہوش کیجیے، آپ کہاں تک بات بنائیں گے، ’’لن یصلح العطار ما افسد الدھر‘‘خلیفہ صاحب کے حال پر سخت افسوس ہے کہ باوجود واقف ہونے کے ایسی مہمل بات کہتے ہیں اور مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں، اگر ان کی عقل پر ایسے پردے پڑے ہوئے نہ ہوتے تو مرزا قادیانی کے حلقہ بگوش ہرگز نہ ہوتے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کی باتوں نے آفتاب کی طرح روشن کردیا کہ اس اعجاز کے دعوے سے مقصود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اور معلوم کرلیا تھا کہ ان شرطوں کے ساتھ جواب دینا غیر ممکن ہے کیو ںکہ جو کام اسباب ظاہری کے لحاظ سے کم سے کم ڈیڑھ دو مہینہ کا ہو وہ بیس دن میں کیوںکر ہوسکتا ہے، مگر قدرت خدا کا نمونہ ہے کہ جماعت مرزائیہ کے پڑھے لکھے بھی ایسی موٹی بات کو نہیں سمجھتے اور ان رسالوں کو معجزہ مان رہے ہیں قصیدہ اعجازیہ کی تفصیلی حالت اور اس کے اغلاط اولاً،الہامات مرزا مطبوعہ (احتساب قادیانیت ج۸ میں چھپ چکا ہے)بار چہارم کے ص۹۳ سے ص۱۰۶ تک دیکھنا چاہئے۔مولوی صاحب نے قصیدہ کی غلطیاں دکھا کر یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے قصیدہ کو ان اغلاط سے پاک کریں اور پھر زانوں بزانو بیٹھ کر عربی تحریر کریں، اس وقت حال کھل جائے گا مگر مرزا قادیانی نے تو اس کے جواب میں دم بھی نہ مارا، اگر عربیت میں دعویٰ تھا اور یہ قصیدہ خود انہوں نے لکھا تھا تو کیوں سامنے نہ آئے؟ یہ بدیہی دلیل ہے کہ قصیدہ دوسرے سے لکھوایا اور اپنے فہم کے موافق سمجھ لیا کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب وغیرہ ایسے ادیب نہیں ہیں جو ایسا قصیدہ عربی میں لکھ سکیں،پھر بطور احتیاط بیس دن کے اندر چھپوا کر بھیجنے کی قید لگا دی اور سمجھ لیا کہ اس مدت کے اندر تو وہ لکھ کر کسی طرح بھیج ہی نہیں سکتے اگرچہ وہ ادیب بھی ہوں اس لئے ایسا دعویٰ کردیا۔

ثانیاً۱۳۳۳ھ میں رسالہ ابطال اعجاز مرزا کا پہلا حصہ چھپا ہے، جو ۱۰۴صفحہ کا ہے اس میں صرف قصیدے کی غلطیاں دکھائی ہیں اور ہر قسم کی غلطیاں ہیں اور خاص قادیان بھیجا گیا ہے، مگر تیسرا برس ہے اب تک کسی مرزائی کی مجال نہیں ہوئی کہ جواب دے، پھر کیا ایسے ہی مہمل اور پر اغلاط رسالہ کو معجزہ کہا جاتا ہے شرم نہیں آتی،اب اس کو ملاحظہ کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی اس دعویٰ اعجاز کی وجہ سے کئی دلیلوں سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔

پہلی اور دوسری دلیل کلام معجزکی تعریف ان دونوں رسالوں پر صادق نہیں آتی، کلام معجز کے لئے زمانے کی تعیین نہیں ہوتی، مرزا غلام احمدقادیانی نے دو طرح سے زمانہ متعین کیا، ایک یہ کہ آئندہ زمانہ کا کلام جواب میں پیش کیا جائے گذشتہ زمانہ کاکلام نہ ہو، دوسرے یہ کہ چند

552

روز میں جواب دیا جائے ان دونوں وجہو ں سے ان کا اعجاز غلط ثابت ہوا اور یہ دو دلیلیں ان کے جھوٹے ہونے کی قرار پائیں۔

تیسری دلیل جس میں سات دلیلیں ہیں ہم نے اعجاز المسیح اور قصیدہ اعجازیہ کے جوابات پیش کرد یے جو ان دونوں رسالوں سے بدرجہا ہر طرح سے عمدہ ہیں،جب ان کے جوابات ان سے بدرجہا عمدہ موجود ہیں تو وہ معجزہ نہیں ہوسکتے اور ہر ایک جواب مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی دلیل ہے اور بیان سابق میں پانچ جواب قصیدہ کے اور دو اعجاز المسیح کے ذکر کئے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ یہ سات دلیلیں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ہوئیں اور وہ پہلے بیان ہولیں اس لئے یہاں تک نو دلیلیں ہوئیں۔

دسویں دلیل ایک رسالہ اعجاز المسیح پر ریویو، مطبع فیض عام لاہور میں چھپا ہے، اس میں صرف لفظی غلطیاں اعجاز المسیح کی دکھائی ہیں، کئی برس ہوئے اسے چھپے ہوئے مگر کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دے سکا، جو کلام اس قدرغلط ہو وہ تو فصیح و بلیغ بھی نہیں ہو سکتا اور اعجاز تو بہت بلند مرتبہ ہے۔یہ دسویں دلیل ہوئی اس کے معجزہ نہ ہونے کی۔

قادیانی کے سرگروہوں نے اپنے جہلا کو یہ جواب سکھا دیا ہے کہ ایسے اعتراضات تو عیسائیوں نے قرآن مجید پر بھی کئے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ صرف ابلہ فریبی ہے جو ذی علم عیسائی ہیں وہ تو قرآن مجید کی فصاحت اور بلاغت کو ایسا مانتے ہیں کہ جا بجا قرآن مجید کی عبارت کو سند میں پیش کرتے ہیں، اگر کچھ علم ہے تو…اقرب الموارد دیکھو اور اگر کسی جاہل عیسائی نے اعتراض کیا تو وہ قابل عیسائیوں کے اقوال سے لائق توجہ نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید پر جس قدر اعتراضات کئے گئے ہیں ان سب کے جوابات ہمارے علماء نے دیے ہیں، اب اگر کسی قادیانی کو دعویٰ ہوکہ عیسائی کے کسی اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا تو ہمارے سامنے پیش کرے پھر دیکھے کہ ہم اس کو کب جواب دیں گے اور پھر مرزا قادیانی پر اعتراض پیش کریں گے اور پوچھیں گے کہ اس کا جواب کس نے دیا ہے اور اگر کسی نے نہیں دیا تو اب کوئی جواب دے، مگر ہم یقینی پیشین گوئی کرتے ہیں کہ کوئی جواب نہیں دے سکتا، (مرزائی)مؤلف القا فرماتے ہیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ جو اعتراضات اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی پر کئے گئے ہیں اس وقت تک کوئی جواب اس کا نہیں دے سکا۔

(اس کے بعد نزول المسیح وغیرہ کا صرف حوالہ دے کر لکھتے ہیں)اگر ابو احمد صاحب کو

553

دعویٰ علمیت ہے تو ان دونوں کتابوں پر اعتراض شائع کریں، ان شاء اﷲ خود تجربہ ہو جائے گا کہ معاملہ کیا ہے۔‘‘ (ص۱۶) مرزائی صاحب جھوٹ کہہ دینا تو آسان ہے مگر اس جھوٹ کو سچا دکھا دینا مشکل ہے، ایک دو اعتراض کو نقل کرکے اس کا جواب نقل کیا ہوتا، تاکہ نمونہ دیکھتے اور جواب کی حالت دکھاتے، یا یوں لکھا ہوتا کہ مثلاً الہامات مرزا میں جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے جوابات فلاں رسالہ میں ہیں اور پیر مہر علی شاہ صاحب نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کا جواب فلاں رسالے میں ہے۔ رسالہ اعجاز المسیح پر ریویو میں جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کا جواب کامل فلاں رسالہ میں ہے یہ نہیں لکھتے، کیوںکہ سچی اور قابل توجہ بات کہنے سے عاجز ہیں اور یوں کسی وقت کسی رسالہ میں بے تکی بات کہہ دی یا ممکن ہے کہ سو اعتراضوں میں سے کسی اعتراض کا کوئی جواب دے دیا اس سے وہ رسالے اعتراضوں سے بری نہیں ہوسکتے خیر ان مدت کی گذری ہوئی باتوں کو میں اس وقت نہیں چھیڑتا، یہ کہتا ہوںکہ تین برس ہوئے ابطال اعجاز مرزا کا پہلا حصہ ۱۰۴ صفحہ پر چھپا ہے جس میں قصیدہ اعجازیہ پر ہر قسم کے اعتراضات کئے گئے ہیں اور بہت شرمناک اعتراضات ہیں اور قادیان بھیجا گیا ہے مگر اس وقت تک تو اس کے دو چار اعتراض کا جواب بھی دے کر ہمارے پاس نہیں بھیجا گیا تاکہ ہم نمونہ دیکھتے، اب تو تجربہ ہوگیا اور آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ آپ کی ساری جماعت ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز ہے۔ اب فرمائیے کہ بالکل جھوٹی بات کس کی ہے، چونکہ آپ کو ادب میں دخل نہیں ہے اور بے جاشغف محبت نے عقل کو سلب کردیا ہے، اس لئے ایسی باتیں کہتے ہیں اور حق کو قبول نہیں کرتے، یہ تو فرمائیے کہ اس کے علاوہ آپ کے اس قول کے بعد کتنے رسالے مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کے ثبوت میں لکھے گئے ایک کا بھی جواب آپ نے یا آپ کی جما عت نے دیا؟ اس تجربہ کے بعد بھی تو آپ نے امر حق کو قبول نہیں کیا اور اعلانیہ کاذب کی پیروی سے علیحدہ نہیں ہوئے۔

مرزائی صاحب نے اپنے مرشد سے صرف الزام اٹھانے ہی کے لئے راستبازی سے کنارہ کشی نہیں فرمائی بلکہ قرآن مجید پر بھی ایسا ہی الزام لگانا چاہتے ہیں جیسا الزام انسانی تصنیف یعنی مرزا قادیانی کے رسالے اعجاز احمدی واعجاز المسیح پر لگائے گئے ہیں۔ چنانچہ القاء کے ص۱۶ میں لکھتے ہیں کیا ابو احمد صاحب کا یہ غلط دعویٰ کبھی صحیح ہوسکتا ہے کہ مخالفین کے اعتراضات صرف معنی ہی کے لحاظ سے ہیں اور فصاحت اور بلاغت اور قواعد کے لحاظ سے مخالفین اسلام چپ ہیں، کیا غرائب القرآن اور مقالید وغیرہ الفاظ لے کران ہذ ان لساحران کو پیش کرکے

554

تناقض اور اختلاف آیات بینات کو دکھا کر سورۃ اقترب۱؎ الساعۃ بعض فقرات دیوان امراء القیس کے ایک قصیدہ کا اقتباس بتا کر فصاحت اور بلاغت اور قواعد کی غلطی کا اعتراض سرقہ کا الزام مخالفین کی کتابوں میں نہیں ہے۔‘‘اس لمبے چوڑے فقرہ کا اہمال اردو کے ادیب بخوبی جان سکتے ہیں، مطلب صرف اس قدر ہے کہ مخالفین اسلام نے فصاحت وبلاغت اور قواعد صرفیہ ونحویہ کے لحاظ سے قرآن مجید پر اعتراض کئے ہیں اور اس کی سند میں تین لفظ لکھے ہیں:

۱…غرائب القرآن، مگر کسی لفظ غریب کا حوالہ نہیں دیا۔

۲…مقالید ۔ ۳…ان ہذان لساحران۔

اب ہم مؤلف القاء سے دریافت کرتے ہیں کہ جو اعتراض آپ نے نقل کئے یہ تحقیق طلب علمائے اسلام کے شبہات ہیں جو تحقیق کی غرض سے انہوں نے کئے اور ان کے جواب دیے گئے یا کسی خاص مخالف اسلام کے اعتراضات ہیں؟اگر آپ کا خیال ہے کہ یہ اعتراضات مخالفین اسلام کے ہیں تو اس کو ثابت کیجیے کہ کس مخالف اسلام نے سب سے اول یہ اعتراض کیا ہے،مگر آپ ثابت نہیں کرسکتے کہ اعتراض کا بانی مخالف اسلام ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بعض علمائے اسلام نے جو بغرض تحقیق شبہات کئے تھے اور ان کے جوابات دیے گئے مخالف نے بنظر تعصب شبہہ نقل کردیا اور جواب اُڑا دیا، غرضیکہ مخالف کو اعتراض کرنے کا شعور نہیں ہوا، بلکہ دوسروں سے معلوم کرکے ایک بات کہہ دی اس سے ظاہر ہے کہ ابو احمد نے جو لکھا ہے وہ صحیح ہے اس کے علاوہ یہ بتائیے کہ جو اعتراضات لفظی قرآن مجید پر کئے گئے اور ان کے جوابات ہمارے علماء نے دیے ہیںیا نہیں؟ اگر آپ کے علم میں جوابات دیے گئے ہیں تو وہ جواب صحیح ہیں اور آپ کے نزدیک قرآن مجید ان اغلاط سے پاک ہے یا نہیں؟ اگر آپ کے نزدیک قرآن مجید ان اغلاط سے پاک ہے تو اس بات میں ہمارا اور آپ کا اتفاق ہوا، اب انہیں ہمارے مقابلہ میں پیش کرنا کس قدر عوام کو دھوکا دینا ہے کیوںکہ جس کتاب الٰہی پر مخالفین نے اعتراضات کئے ہیںاس کو اعتراضوں سے منزہ آپ بھی اسی طرح مانتے ہیں جس طرح ہم مانتے ہیں اور ان اعتراضوں کو غلط سمجھتے ہیں جس طرح ہم غلط سمجھتے ہیں، پھر اس کتاب الٰہی کا منزہ ہونا تو متفق علیہ ہوگیا مگر جو کتاب آپ پیش کرتے ہیں اسے تو صرف آپ ہی مانتے ہیں اس پر جو اعتراضات ہوں ان کا جواب دینا آپ پر فرض ہے اور اس کے جواب میں مخالفین کے اعتراضات آپ پیش نہیں کر سکتے۔

۱؎

قرآن مجید میں اقتربت الساعۃ ہے مگر مؤلف القا نے اقترب الساعۃ لکھا ہے۔

555

البتہ اگر در پردہ آپ کے دل میں قرآن مجید پر خود شبہ ہے اور مرزا قادیانی کے رسالوں پر شبہہ نہیں ہے تو جواب ملاحظہ ہو۔

جواب: پہلا لفظ آپ نے غرائب القرآن لکھا ہے مگر اس کی ایک مثال بھی نہیں لکھی، پھر ہم کس کا جواب دیں؛ اتنا کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو لائق اعتراض ہو، اگر آپ کو دعویٰ ہے تو کوئی لفظ پیش کیجیے اور پھر ہم سے جواب لیجیے۔ اگر کوئی رسالہ آپ نے دیکھا ہے تو اس کے سمجھنے میں آپ نے غلطی کی، جس زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوا وہ وقت زبان عربی کے کمال عروج کا تھا، اس وقت اس زبان کے ماہرین نے کسی لفظ کو غریب نہیں لکھا اور بہت سے اہل زبان صرف قرآن مجید سن کر ایمان لے آئے اس بیان میں رسالہ لکھا گیا ہے دیکھنے والے دیکھیں گے ان شاء اﷲ۔

دوسرا لفظ آپ نے مقالید لکھا ہے مگر اس کی نسبت کیا اعتراض ہے اسے نہیں لکھا، اگر یہ شبہہ ہے کہ یہ فارسی لفظ ہے تو محض غلط ہے کیو ںکہ لفظ مقالید جمع ہے مقلد کی اور یہ لفظ مختلف معنوں میں مختلف طور سے شائع ہے۔ (لسان العرب ج۴ ص۳۶۷) ملاحظہ کیجیے، عرب میں جو مشہور شاعر الاعشی ہے اس کا شعر بھی اس لفظ کی سند میں لکھا ہے، پھر جس کسی نے اس کو فارسی لفظ سمجھا ہے یہ اس کی ناواقفی ہے اور یہ بھی معلوم کرلیجیے کہ جس کتاب میں اس کے فارسی ہونے کا شبہہ بیان کیا گیا ہے اسی میں اس کے جواب بھی لکھے ہیں، ایک جواب یہ ہے:

’’قال ابن جریر ماورد عن ابن عباس وغیرہ من تفسیر الفاظ من القرآن انھا بالفارسیۃ او الحبشیۃ او النبطیۃ او نحو ذلک انما اتفق فیھا توارد اللغات فیتکلم بھا العرب والفرس الحبشۃ بلفظ واحد‘‘۔(اتقان)

اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن مجید کے جس لفظ کو فارسی وغیرہ کا لفظ کہہ دیا گیا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ لفظ عربی کے سوا فارسی وغیرہ میں بھی ہے اب فرمائیے کہ مقالید کو اگر کسی نے فارسی لکھا ہو تو قرآن پر کیا اعتراض ہوا اور یہ فرمائیے کہ یہ اعتراض کس مخالف اسلام نے کیا ہے؟ آپ تو مخالف اسلام کے اعتراض دیکھنا چاہتے ہیں۔

تیسرا جملہ: ’’اِنْ ھٰذَانِ لَسَاحِرَانِ‘‘یہ جملہ آپ نے لکھا مگر اس پر آپ کا کیا اعتراض ہے، اسے آپ نے کچھ تو بیان کیا ہوتا؟ اب ہم آپ سے کہتے ہیں کہ شاید قرآن مجید آپ کی تلاوت میں نہیں رہتا ہے، آپ کو جدید نبی کی تصانیف کے دیکھنے سے فرصت نہیں ملتی

556

ہوگی اور جو ان پر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے جواب سوچنے میں غلطان پیچان رہتے ہوں گے، مناسبت طبعی کی وجہ سے کاذ ب کے تصانیف زیادہ پسند ہیں، قرآن مجید جو ہندوستان میں مشہور ہے اس میں تو مذکورہ جملہ کا لفظ ان مخفف ہے مشدد نہیں ہے، اس لئے قرآن مجید میں جو الفاظ ہیں وہ بالکل قاعدہ کے موافق ہیں، اگر علم سے ممارست ہے تو آپ کو انکار نہیں ہوسکتا۔

غرضیکہ قرآن مجید پر کچھ اعتراض نہیں ہے اور جس نے ان پر تشدید کیا ہے اس کے متعلق متعدد جواب بھی دیے ہیں، تفاسیر اور رسالہ شرح شذور الذھب فی معرفتہ کلام العرب کا ص۱۴ ملاحظہ کیجیے۔

مؤلف صاحب کے لفظی اعتراضات کا تو خاتمہ ہولیا، اب ص۱۷ میں ان لفظی اعتراضات کی مثال میں پادری فنڈر کے اعتراضات نقل کرتے ہیں وہ چند اعتراض ہیںایک یہ کہ یونانی وغیرہ زبا نو ں میں ایسی کتابیں لکھی گئی ہیں جن کی عبارت قرآن مجید سے عمدہ ہے۔اب مرزائی صاحب سے دریافت کیا جائے کہ یہ معترض عربی اور یونانی کا بڑا ادیب ہے جو دونوں کا مقابلہ کرکے فیصلہ کرتا ہے؟ ہرگز نہیں، پھر اس جاہل متعصب کے قول کو پیش کرنا جہالت کے سوا اور کیا ہے؟ اس کے علاوہ اب آپ تو لفظی اغلاط کا ثبوت دے رہے ہیں پھر کیا پادری کا یہ قول کو ئی لفظی اعتراض ہے؟ ہوش کرکے جواب دیجیے۔ بفرض محال اگر دوسری زبان میں کوئی کتاب عمدہ ہوتو اس سے قرآن شریف کے کسی لفظ یاجملہ پر اعتراض نہیں ہوسکتا، دوسری کتاب کی عبارت عمدہ ہونے سے قرآن کی فصاحت وبلاغت پر کوئی حرف نہیں آتا،نہ اس پر خلاف قاعدہ کا کوئی الزام ہوسکتا ہے، پھر اس کو فصاحت وبلاغت اور قواعد کی غلطی کے مثال میں پیش کرنا ان کے علم وعقل کے سلب ہو جانے کی دلیل ہے۔

دوسرا یہ کہ بعض عیسائیو ںنے مقامات حریری اور مقامات ہمدانی کی عبارت کو قرآن مجید کے برابر بلکہ افضل کہا ہے اس اعتراض سے بھی قرآن کی کوئی لفظی غلطی ثابت نہیں ہوسکتی۔ باقی رہا مقاما ت کی عبارت قرآن مجید سے افضل کہنا ان کی جہالت ہے، صرف کچھ عربی پڑھ لینے سے عبارت کی کمال فصاحت وبلاغت ہرگز معلوم نہیں کرسکتا۔نہایت ظاہر بات ہے کہ ان مقامات کے لکھنے والے ایسے بڑے ادیب اور عربی زبان کے ماہر تھے کہ ان کی کتاب ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ عیسائی پادر ی اسے قرآن کے مثل سمجھ گئے، مگر یہ خیال نہ کیا کہ ان کتابو ں کے مصنف باوجود اس قدر ماہر ہونے کے اس پر ان کا ایمان ہے قرآن مجید کے مثل کوئی کتاب عربی میں نہیں

557

لکھ سکتا، اور اپنی کتابو ں کی حالت اور ان کی عمدگی سے ان عیسائیوں سے بدرجہا زائد واقف ہیں، مگر پھر بھی اپنی کتابوں کو اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں سمجھتے۔

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ مزدار معتزلی نے یہ کہا ہے کہ انسان اس پر قادر ہے کہ جیسا فصیح و بلیغ قرآن مجیدہے اسی طرح کا فصیح وبلیغ وہ کلام لکھے۔

یہاںقادیانی پنڈت صاحب سے ہم دریافت کرتے ہیں کہ آپ تو اس کے مدعی ہیں کہ مخالفین اسلام نے قرآن مجید کے الفاظ میں غلطیاں دکھائی ہیں اور فصاحت وبلاغت میں کلام کیا ہے اس کے ثبوت میں فنڈر کا یہ قول نقل کیا ہے، اب آپ کو یہ بتانا چاہئے کہ اس قول سے قرآن مجید کے کسی لفظ یا جملہ کا غلط ہونا ثابت ہو گیا یا یہ معلوم ہوا کہ اس کی عبارت فصیح وبلیغ نہیں؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ اس قول کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید نہایت فصیح وبلیغ ہے مگر یہ فصاحت وبلاغت ایسی نہیں ہے کہ انسانی قوت سے باہر ہو۔

جب یہ مطلب ہے تو مرزائی صاحب کے علم پر افسوس ہے کہ لفظی غلطی کی مثال میں مزدار کے قول کو سمجھتے ہیں اور ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ بھی معلو م کرلینا چاہئے کہ اس قول سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ مزدار معتزلی قرآن کے اعجاز کا منکر ہے کیوںکہ تمام معتزلی اعجاز قرآنی کو مانتے ہیں مگر چونکہ قرآن مجید کا دعویٰ اعجاز عام الفاظ میں ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اس کے مثل لے آئو، اس کا ذکر نہیں ہے کہ کس بات میں مثل ہو۔ یعنی مرزا غلام احمد تو بار بار کہتے ہیں کہ ایسا فصیح وبلیغ ہو جیسا ہمارا رسالہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ فصاحت وبلاغت میں اس کے مثل ہو قرآن مجید میں ایسا ارشاد نہیں ہے اس وجہ سے اس کے ماننے والوں میں اختلاف ہے کہ قرآن مجید کس بات میں بے مثل ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس میں متعدد باتیں ہیں، مثلا کمال درجہ کا فصیح وبلیغ ہے، خلق کی ہدایت کے لئے اس میں نہایت مفید احکام وہدایات ہیں اس میں گذشتہ اور آئندہ کی ایسی خبریں ہیں کہ کسی کی عقل وفہم انہیں معلوم نہیں کرسکتی اور کسی علم کے ذریعہ سے وہ باتیں معلوم نہیں ہوسکتیں، مثلا قیامت کے حالات اور جنت ودوزخ کی خبریں، ان باتوں میں وہ بے نظیر ہے انسان کی طاقت نہیں ہے کہ ایسی کتاب بنائے جس میں یہ باتیں ہوں۔ بعض صرف احکام وہدایات کی وجہ سے معجزہ کہتے، فصاحت وبلاغت کی وجہ سے نہیں یعنی اگرچہ اس کی فصاحت وبلاغت اعلیٰ مرتبہ کی ہے، مگر یہ نہیں ہے کہ اس کے مثل کوئی نہ لاسکے، یہ ایک طویل بحث ہے جس کو بعض تفسیروں اور عقائد کی بڑی کتابو ں میں لکھا ہے۔

558

پادری فندڈر تو ہمارے علوم سے جاہل ہے اس نے اپنی جہالت سے اس قول کو پیش کردیا اور سمجھ لیا کہ اس قول سے قرآن کا اعجاز غلط ہوگیا۔ افسوس یہ ہے کہ مؤلف القاقادیانی اس کی اس جہالت میں شریک ہوگئے۔میں اہل حق سے پھر کہتا ہوں کہ کسی مخالف ماہر زبان عرب نے قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت پر اعتراض نہیں کیا اور اس میں صرف و نحو اور محاورا ت کی غلطیاں نہیں بتائیں جس کو دعویٰ ہو وہ مخالف عربی کے ادیب کا کلام پیش کرے اور جہلاء نے جو اعتراض کئے اس کے جواب دیے گئے ہیں، مؤلف القاء (عبدالماجد قادیانی) نے جواعتراض پیش کئے تھے ان کے جواب دیے گئے اور مرزا قادیانی پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں اور خاص رسالے اس میں لکھے گئے ہیں ان کا جواب نہیں دیا گیا اگر کسی نے دیا ہو تو ہمارے سامنے پیش کرے پہلے بہت غل مچاتے تھے اب سامنے نہیں آتے جن کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں ہمارے اعتراضوں کے جواب نہیں ہیں۔

ناظرین!مؤلف القا کی علمی حالت ملاحظہ کیجیے کہ ایک صفحہ میں آٹھ غلطیاں کی ہیں، بایں ہمہ بہت بڑی قابلیت کا دعویٰ ہے اہل حق کے اعتراضوں کا جواب دینے کا، دعویٰ کرتے ہیں مگر اہل انصاف غور فرمائیں کہ جو اپنی تحریر میں اس قدر غلطیاں کرے وہ کسی قابل کے اعتراضوں۱؎ کا جواب دے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔

پہلی غلطی: دعویٰ تو یہ ہے کہ مخالفین اسلام نے الفاظ قرآن پر اعتراض کئے ہیں اور اس کے ثبوت میں صرف دو لفظ اپنی طرف سے پیش کئے اور کسی مخالف کا قول نقل نہیں کیا کہ اس مخالف نے یہ اعتراض کیا ہے۔

دوسری غلطی: یہ کی کہ جن کتابوں سے انہوں نے یہ دو لفظ نقل کئے ان کے مصنفین کے مطلب کو نہیں سمجھے۔ یعنی ان کا مقصد تو ان الفاظ کی تحقیق ہے اور جس ناواقف کو شبہہ ہو اس شبہہ کا دورکرنا ہے، مگر مؤلف القا اسے اعتراض سمجھ کر ہمارے روبرو پیش کرتے ہیں۔ الحمد ﷲ ہم نے جواب دے دیا، اب ان اعتراضوں کا جواب دیجیے جو آپ کے نبی پر کئے گئے ہیں۔

۱؎

انہیں مرزائی پرچارک کے رسالہ القا کے ایک ورق میں ۳۱ غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔

رسالہ اغلاط ماجدیہ احتساب قادیانیت ج۱۹ میں ملاحظہ کیا جائے اس کے سوا متعدد رسالے (صحائف رحمانیہ نمبر۱۰،۱۱،۱۲ احتساب قادیانیت ج۵ بنام ’’ عبد الماجد صاحب کی فاش غلطیاں‘‘)ان کے اغلاط میں لکھے گئے ہیں، مرتب۔

559

تیسری غلطی: ہمارے قرآن میں ’’ان ھذان لساحران‘‘ہے اس جملہ میں لفظ ’’ان‘‘ مخففہ ہے اس پر کوئی اعتراض قاعدہ کے روسے نہیں ہے پھر آپ کا اعتراض محض غلط ہے، مگر آپ اس موٹی غلطی کو بھی نہیں سمجھتے۔

چوتھی غلطی: دعویٰ تو صرف الفاظ کی غلطی کا ہے اور اس میں تناقض واختلاف بھی پیش کرتے ہیں، مؤلف صاحب کو شاید یہ بھی خبر نہیں کہ تناقض معانی میں ہوتا ہے الفاظ میں نہیں ہوتا۔

پانچویں غلطی: پادری فنڈر کے تین اعتراض نقل کئے۔ ان تینوں اعتراضوں کو لفظی غلطی یا فصاحت وبلاغت کے نقص میں کچھ دخل نہیں ہے۔ کیوں کہ پادری کی جھوٹی بات کو اگر مان لیا جائے کہ یونانی زبان میں کوئی عمدہ کتاب ہے تو اس سے قرآن مجید کے الفا ظ پر اور ان کی فصاحت وبلاغت پر کیا اعتراض ہوا؟ قرآن مجید عربی زبان میں ہے، عربیت کے قواعد سے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور پادری کا جھوٹا ہونا اس لئے ظاہر ہے کہ ان کی آسمانی کتاب انجیل یونانی میں ہے وہ بھی قرآن مجید سے افضل نہیں ہے، پھر دوسری انسانی تالیف اس سے افضل کیا ہوگی یہ پانچویں غلطی ہوئی۔

چھٹی غلطی: یہ ہے کہ انہوں نے فنڈر کا یہ اعتراض لفظی غلطی کے ثبوت میں پیش کیا کہ مقامات کی عبارت مثل قرآن مجید کے ہے یا اس سے افضل ہے اب ظاہر ہے کہ معترض مقامات کی عبارت کو اغلاط سے پاک اور کامل فصیح وبلیغ سمجھتا ہے اور اس کتاب کو قرآن مجید کے مثل قرار دیتا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو بھی وہ اغلاط سے پاک سمجھتا ہے، پھر اس اعتراض کو لفظی غلطیوں کے ثبوت میں پیش کرنا کیسی صریح غلطی ہے اور پادری کے اعتراض کا جواب دیا گیا۔

ساتویں غلطی:یہ ہے کہ مزدار کے قول کو پیش کرکے قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت پر اعتراض کرنا چاہتے ہیں اور اس کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہیں، اس غلط فہمی پر افسوس ہے، مزدار نہ قرآن کی فصاحت وبلاغت پر کوئی شبہہ کرتا ہے نہ اس کے الفاظ پر بلکہ اسے نہایت فصیح وبلیغ مانتا ہے، مگر یہ کہتا کہ فصاحت وبلاغت ایسی نہیں ہے کہ انسانی قوت سے باہر ہو، پھر اس سے مؤلف القاکا مدعاء کیوںکر ثابت ہوا، مزدار کو قرآن مجید کے اعجاز سے انکار ہرگز نہیں ہے، مگر اعجاز کی وجہ مؤلف القاکے قول کے بموجب وہ دوسری بیان کرتا ہے اور کہتا کہ فصاحت وبلاغت زبان

560

کی اہل زبان کی وجہ سے ہوتی ہے، اس میں وہ کیا عاجز ہوں گے مگر قرآن مجید کا معجزہ یہ ہے کہ باوجود اہل زبان کے قادر ہونے کے پھر وہ اس کے مثل نہ لاسکے، یعنی اﷲ تعالیٰ نے ان کی قدرت کو سلب کرلیا اور قرآن کے مثل نہ لاسکے، یہ اعلانیہ معجزہ ہے جو انسانی طاقت سے باہر ہے۔ یہ ان کی آٹھویں غلطی ہے کہ مزدار کے اصل مدعاء کو نہیں سمجھے اور اس کے مدعاء کے خلاف اسے الزام دینے لگے، یا یوں کہا جائے کہ ایک ناواقف الزام دینے والے کے ہم زبان ہو گئے۔

اب مؤلف القا متوجہ ہوں کہ یہ جو آپ نے اور آپ کے ہم مشربوں نے عوام مرزائیوں سے کہہ دیا ہے کہ مرزا قادیانی کے اعجازیہ رسائل پر اعتراضات ایسے ہی ہیں جیسے قرآن مجید پر مخالفین اسلام نے کئے ہیں، یہ بالکل فریب ہے۔ قرآن مجید پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو، اس وقت نمونہ اس کا آپ نے ملاحظہ کرلیا کہ جو اعتراض آپ نے کئے تھے ان کا فی جواب دیا گیا، مرزا قادیانی کے رسالوں پر جو اعتراضات کئے گئے اور کئے جاتے ہیں ان کے جواب نہیں دیے گئے میں ان کا نمونہ پیش کرتا ہوں، اسی کا جواب دیجیے۔

مرزائی قصیدہ کی بعض لاجواب غلطیاں

پہلی غلطی: سولہویں شعر کا مصرعہ اور اس کا ترجمہ یہ ہے ’’تحروا لھذا البحث ارضًا شجیرۃ‘‘ اور بحث کے لئے ایک زمین اختیار کی گئی جس میں ایک درخت تھا۔‘‘

(ضمیمہ نزول المسیح خزائن ج۱۹ص۱۵۲)

یہاں شجیرۃ کے معنی ایک درخت لکھتے ہیں اور یہ موضع مد کی زمین کا بیان ہے، اسے ان کے مریدین معائنہ کرکے آئے تھے، انہوں نے آکر بیان کیا ہوگا کہ وہاں ایک درخت سے اس کو مرزا قادیانی شجیرہ کہتے ہیں، مگر یہ لفظ اس معنی میں غلط ہے، شجیرہ اس زمین کو کہتے ہیں جہاں بہت درخت ہوں(لسان العرب ملاحظہ ہو)اس شعر میں اور بھی غلطیاں ہیں۔

(دیکھو ابطال اعجاز ص۱۷)

دوسری غلطی: ۹۴ شعر کا دوسرا مصرعہ اور اس کا ترجمہ یہ ہے ’’وان کنت قد اٰنست ذنبی فستر‘‘ اگر تو نے میرا کوئی گناہ دیکھا ہے تو معاف کر۔‘‘ اس مصرعہ میں کئی غلطیاں ہیں۔(۱)ستر امر ہے تستیر سے اور کلام عرب میں یہ لفظ نہیں آیا،اس لئے لفظ ستر محض غلط ہے(۲)ستر کے معنی معاف کرنا بالکل غلط ہیں اس لفظ کا مجرد آیا ہے مگر اس کے معنی ہیں

561

آفتاب کی تیزی سے دماغ اور چہرے کا جھلس جانا، جب اس لفظ کے یہ معنی ہیں، تو بالضرور یہ معنی مرزا کے مقصود کے خلاف ہوں گے(۳)عیب شاعری کے رو سے اقوا ہے۔

تیسری غلطی: ۱۷۹ شعر کا دوسرا مصرعہ ہے’’وآیاتہ مقطوعۃ لا تغیر‘‘ اس کی آیتیں قطعی ہیں جو بدلتی نہیں۔‘‘ آیات کو مقطوعہ کہنا محض غلط ہے، آیات قاطعہ عرب بولتے ہیں۔

رسالہ ابطال اعجاز مرزا میں قصیدہ مرزائیہ کی کئی سو غلطیاں دکھائی ہیں اور اس کی تمہید میں سینکڑو ں ان کے جھوٹ صراحۃً اور کنایۃً بتائے ہیں میں نے بغرض نمونہ تین لفظی غلطیاں پیش کی ہیں۔ مؤلف القاء اس کا جواب دیں یا اس کتاب کا نام اور صفحہ بتائیں جس میں ان کا جواب دیا ہو، مگر مؤلف القا اور ان کی جماعت سررگڑ کر مرزا قادیانی کے ساتھ جا ملیں مگر کچھ نہیں کرسکتے۔ اور ہم انہیں حلف دیتے ہیں کہ قرآن مجید پر کوئی ایسا اعتراض وہ اپنایا کسی مخالف اسلام کا پیش کریںجس کا جواب نہ دیا گیا ہو اور ہم نہ دے سکیں۔ مگر ہم قطعی اور یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی ایسا اعتراض جماعت مرزائیہ پیش نہیں کرسکتی، پھر مرزا کے قصیدہ کی اعتراضوں کو ایسا ہی بتانا جیسے قرآن مجید پر اعتراض کئے گئے ہیں، کس قدر جھوٹ اوراعلانیہ فریب ہے۔

اے ناواقفو!اے فریب دینے والو!تواریخ شاہد ہیں کہ سچے اور جھوٹے ہر قسم کے مدعیوں پر اعتراض کئے گئے ہیں، پھر کیا اس لفظی اشتراک سے جھوٹے سچے ہو جائیں گے اور مطلق اعتراض کا ہونا صداقت کا معیار ہو جائے گا، جیسا مرزائی کہہ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہو تو کوئی جھوٹا مدعی کسی وقت دنیا میں نہ پایا جائے گا اور یہ اعلانیہ صحیح حدیثوں کے خلاف ہے، یہ ہرگزنہیں ہوسکتا۔

مسیلمہ کذاب پر اعتراضات کئے گئے مگر وہ اور اس کی جماعت ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز رہ کر واصل جہنم ہوئے اور حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثناء پر اعتراض کرنے والے اپنے اعتراضوں کا جواب سن کر ہمیشہ کی ندامت اور تکلیف میں پہنچے اور ان کے ماننے والے ان اعتراضو ں کے جواب سے عاجز رہے یہی مرزا کی حالت ہے۔ اب ان کے پیروؤں کی بھی وہی حالت ہونی چاہئے جو مسیلمہ وغیرہ کے پیروؤں کی ہوئی۔

یہ ضمنی بیان درمیان میں آگیا اصل مقصود رسائل اعجازیہ کے جھوٹے ہونے کے دلائل پیش کرنا ہے، دس دلیلیں تو بیان ہولیں۔

گیارہویں دلیل: یہ ہے کہ اعجاز المسیح دو تین جز کا رسالہ ہے اور اسے فریب سے

562

ساڑھے بارہ جز کہتے ہیں، پھر ایسے شخص سے معجزہ ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں، اگر ایسے فریبی شخص سے معجزہ ہوتو انبیا ئے صادقین سے اعتبار اٹھ جائے۔

بارہویں دلیل:اعجاز المسیح کے شان نزول میں بیان کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی باوجود سخت وعدے کے پیر مہر علی شاہ صاحب کے مقابلہ پر نہیں آئے اس شرم مٹانے کو مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر ان کے پاس بھیجی، پیر صاحب چوںکہ جلسہ عام میں عہد کرچکے تھے کہ اب مرزا سے خطاب نہ کریں گے اس لئے سکوت کیا اور مرزا قادیانی کو فریب دینے کا موقع ملا اور منعہ مانع من السماءکا الہام بناکر مریدوں کو خوش کردیا، یہ اعلانیہ فریب ان کے جھوٹے ہونے کو آفتاب کی طرح چمکا رہا ہے۔

تیرہویں دلیل: جواب لکھنے کی میعاد ایسی کم مقرر کی کہ اس میں لکھنا اور چھپوا کر بھیجنا غیر ممکن تھا۔ خصوصا علما ء کی حالت کے لحاظ سے اس لئے نہایت ظاہر ہے کہ یہی دعویٰ اعلانیہ مرزا قادیانی کا فریب ہے، اول تو مدت معین کرنا ہی اعجاز کے خلاف ہے اس کے علاوہ ایسی کم مدت مقرر کرکے اس کا جواب طلب کرنا عوام کو فریب دینا ہے۔

چودھویں دلیل:میں نے شاہدوں کی شہادت سے ثابت کردیا کہ یہ دونوںرسالے معجزہ کیا ہوتے فصیح وبلیغ بھی نہیں ہیں اور متعدد رسالوں سے اس کا ثبوت بھی ہوگیا۔

الحاصل مرزا قادیانی کا یہ عجب طرح کا اعجاز تھا جس کی وجہ سے ہم نے چودہ دلیلیں ان کے جھوٹے ہونے کی قائم کردیں اور ایک آئندہ بیان کی جائے گی۔

جماعت مرزائی کا عاجز ہونا

ان سب باتوں کے قطع نظر اگر اب بھی خلیفہ صاحب کو اور اس جماعت کے دوسرے ذی علموں کو اس کے اعجاز کا دعویٰ ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے فصیح وبلیغ ہیں کہ دوسرا کوئی نہیں لکھ سکتا تو اس کا اعلان دیں کہ اگر کوئی عالم ایسا قصیدہ یا ایسی تفسیر سورہ فاتحہ کی لکھ دے گا تو ہم مرزا قادیانی کو کاذب سمجھیں گے اس کے بعد وہ دیکھیں کہ ان کا جواب کس زور وعمدگی سے ہوتا ہے، اگر اس کے لئے میعاد معین کریں تو اوّل اس بات کو ثابت کردیں کہ اعجاز میں ایسی قیدیں ہوسکتی ہے؟ اس کے بعد ایسی میعاد مقرر کریں جسے چند اہل علم تجربہ کار مجیب کی حالت پر نظر کرکے کہہ دیں کہ اتنے دنوں میں تالیف اور طبع ہوکر خلیفہ صاحب تک پہنچ سکتا ہے، مرزاکی طرح قید نہ لگائی

563

جائے، جس میں لکھا جانا اور چھپ کر ان کے پاس بھیجنا غیر ممکن ہو اس کے سوا یہ بھی بتائیں کہ اس کا فیصلہ کون ذی علم ادیب منصف مزاج کرے گا کہ مرزاکا قصیدہ اور تفسیر عمدہ ہے یا ان کا جواب ہر طرح فائق اور بدرجہا زائد عمدہ ہے، اگر ایسا اعلان ایک ماہ کے اندر نہ دیا جائے گا تو معلوم ہوگاکہ اعجاز کا دعویٰ غلط ہے۔

یہ کتابی اعلان۱۳۳۲ھ( مطابق ۱۹۱۳ء) میں چھپ کر مشتہر ہوا ہے اور اب ۱۳۳۵ھ ( ۱۹۱۷ ء)کا آخر ہے، اس وقت کسی مرزائی کی مجال نہ ہوئی کہ اس مضمون کا اعلان دے اس سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ پنجاب اور بنگال اور حیدر آباد وغیرہ ہر جگہ کے مرزائی دل میں جان گئے ہیں کہ مرزا کا دعویٰ غلط ہے اور مرزا جھوٹا ہے مگر کچھ تو حرام خوری کی وجہ سے خاموش ہیں جس طرح بعض پادریوں نے رسالہ پیغام محمدیa کا مطالعہ کرکے کہا کہ لاجواب رسالہ ہے، ہمارے تمام شبہات کا جواب اس نے دے دیا، اس کے جواب میں ہمارے ایک برادر نے کہا کہ پھر اب توبہ کرنے میں کیو ںدیر ہے جواب دیا کہ سوروپے ماہوار کون دے گا، لڑکے بالوں کی پرورش کس طرح ہوگی بعض کو اپنی بات کی پاس داری ہے، افسوس اس فہم وعقل پر۔

مرزا قادیانی کی عربی دانی کا نمونہ

مرزا قادیانی کے اعجاز کا تو خاتمہ ہولیا، اور ان کے رسالوں کی غلطیاں چھپ کر مشتہر ہوچکی ہیں میں اس کی تائید میں مرزا قادیانی کی ایک عبارت نقل کرکے ان کی عربی دانی کا نمونہ ان حضرات کو دکھائوں جنہیں زبان عربی میں کچھ دخل ہے یا انگریزی میں پورے قابل ہیں اور قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اعجاز المسیح کی لوح پر مرزا قادیانی نے عربی عبارت لکھی۱؎ ہے جس میں اس رسالہ کی نسبت لکھا ہے ’’ھذا رد علی الذین یجھلوننا‘‘یعنی یہ ان لوگوں کا ردہے جو ہمیں جاہل بتاتے ہیں اس کے بعد لکھتے ہیں۔

وانی سمیتہ اعجاز المسیح وقد طبع فی مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یوما من شھر الصیام وکان من الھجرۃ۱۳۱۸ھ ومن شھر النصاری۲۰ فروری ۱۹۰۱ء مقام الطبع قادیان

(اعجاز المسیح ص ٹائٹل خزائن ج۱۸ ص۱ٹائٹل)

۱؎

اصل رسالے کی غلطیاں تو اس کے ریویو جسے چھپے ہوئے برسیں ہوگئی ہیں اور اعجاز احمدی کے اغلاط الہامات مرزا اور ابطال اعجاز مرزا میں نمونہ کے طور پر شائع ہو چکے ہیں، یہاں ٹائٹل کی دوسطر عبارت نقل کرکے اس کی حالت دکھائی گئی ہے۔

564

جن کو علم وفہم سے اﷲ تعالیٰ نے کچھ حصہ دیا ہے وہ غور فرمائیں کہ کیسی لچر عبارت ہے اور جو نہایت معمولی مضمون مرزا قادیانی ادا کرنا چاہتے تھے وہ عربی عبارت میں ادا نہ کرسکے اور بہت غلطیا ں کیں اس عبارت سے مقصود تو مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ اس رسالہ کا نام میں نے اعجاز المسیح رکھا اور مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں یہ رسالہ ستر دن میں چھاپا گیا اور اس کی ابتدا ماہ رمضان سے ہوئی اور ہجری۱۳۱۸ تھا اور عیسوی ۲۰ فروری ۱۹۰۱ تھا۔ اب قدرت خدائی اور اس ہادی مطلق کی رہنمائی کا یہ عجب نمونہ ہے کہ وہ رسالہ جس کی فصاحت وبلاغت کو مرزا قادیانی اعجاز سمجھتے ہیں اس کی لوح کی دو سطر عبارت صحیح نہ لکھ سکے اور جو مضمون لکھنا چاہتے تھے وہ عربی عبارت میں ادا نہ ہو سکا ایسا شخص چار پانچ جز یا بارہ جز معجز نما عربی عبارت کیا لکھے گا۔

اگرچہ اس مضمون کو صحیح طور سے ادا کردینا بڑی قابلیت کی دلیل نہ تھی، مگر اس قادر کریم کی قدر ت کا نمونہ ہے کہ جس مدعی نے اپنے متکبرانہ خیال میں اپنے آپ کو عملی کمال کی نظر سے ایسا بلند پایٔہ سمجھ لیا ہو کہ ایک مضمون میرا لکھا ہوا معجزہ ہوسکتا ہے اور اسی خیال سے اس نے رسالہ لکھا ہو، اس کے اول صفحہ میں دوسطر معمولی مضمون کی عبارت صحیح نہ لکھے اور ایسی غلطی کرے جو کم فہم بھی یقینی طور سے معلوم کرسکیں جن کو عربی صرف ونحو سے واقفیت ہے اور جنتریاں دیکھ لیا کرتے ہیں وہ ملاحظہ کریں۔مرزا قادیانی کا مطلب تو یہ ہے کہ اعجاز المسیح میں نے ستر دن میں لکھی اور انہیں دنوں میں وہ طبع بھی ہوئی اور ستر دن کی ابتداء انتہاء بھی بیان کرنا چاہتے ہیں، مگر منقولہ عبارت کا یہ مطلب کسی طرح نہیں ہو سکتا۔

غلطیاں ملاحظہ ہوں

نہایت ظاہر ہےقد طبع فی سبعین یوماکے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ ستر دن میں چھا پی گئی اس عبارت سے یہ کسی طرح نہیں سمجھا جاتا کہ ان ایام میں تصنیف اور طبع دونوں کام ہوئے اس مطلب کے لئے ضرور تھا کہ صنف کا لفظ زیادہ کیا جاتا۔

(۲)سیاق عبارت یہ چاہتا ہے کہ من شھرالصیام بیان ہو سبعین کا، اس کا حاصل یہ ہوگا کہ ماہ صیام ستر دن سے زیا دہ کا ہے اب نا ظرین اس غلط بیانی کو دیکھ لیں، میں نے اس غلطی سے چشم پوشی کر کے دوسرے پہلو سے ترجمہ کیا ہے۔

(۳)اگر سوق عبارت سے من شھرالصیام کے من کو ابتدائیہ کہا جائے اور یہ

565

مطلب قرار دیا جائے کہ ماہ صیام سے رسالہ کی تالیف کی ابتدا کی گئی تو ضرور تھا کہ تاریخ بھی لکھتے، کیونکہ اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ستر دن میں ہم نے لکھا ہے، یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ بیان مہینے کے ساتھ تاریخ بھی لکھی جائے۔ غرض کہ یہ تین غلطیاں ہو ئیں اب اگر تیسری غلطی سے چشم پوشی کی جائے اور مرزا قادیانی کی دوسری عبارت سے تاریخ معین کرنے کی نوبت آئے تو بھی کوئی تاریخ متعین نہیں ہوتی، سارے احتمالات غلط ہیں اس کی وجہ ملاحظہ ہو!

(۴) مذکورہ عبارت کے بعد مرزا قادیانی تالیف اور طبع کا ہجری سال اور عیسوی سال معہ مہینے اور تاریخ کے بیان کرنا چا ہتے ہیں اور لکھتے ہیں:

’’ وکان من الھجرۃ ۱۳۱۸ ومن شھر النصاری ۲۰؍فروری ۱۹۰۱ ء‘‘

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جس ماہ صیام سے رسالہ لکھنے کی ابتداء ہو ئی وہ ماہ صیام ۱۳۱۸ ھ کا تھا، اس عبارت کا ناقص ہونا نہایت ظاہر ہے کیونکہ مہینہ کی تعیین کے ساتھ یہا ں تاریخ کا معین کرنا ضرور تھا تاکہ ستر دن کی ابتداء معلوم ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا، یہ چوتھی غلطی ہے۔

(۵) رسالہ کے ص ۶۵ سے ۶۷ تک دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تفسیر کے لکھنے کی ابتداء ۲۳ رمضان کے قبل نہیں ہو ئی، بلکہ بعد ہوئی ہے مگر بعد کی کوئی تاریخ یہا ں بھی بیان نہیں کی اور اس رمضا ن کی ۲۳ مطابق ہے ۱۵ جنوری۱۹۰۱ء کے اس لئے لکھنے کی ابتداء ۱۵ جنوری یا اس کے بعد ۱۶ - ۱۷ کو ہوگی اس کے بعد یہ جملہ ہے من شھر النصاریٰ ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء عربی کی طرز تحریر کا مقتضایہ ہے کہ جس طرح پہلے جملہ میں لکھنے کی ابتداء نبوی ماہ اور سنہ سے بیان کی گئی ہے اس جملہ میں عیسوی ماہ اور سنہ کا بیان ہو، یہ طرز بالکل مطابق ہے اردو طرز کے کہ اکثر ہجری سنہ کو بیان کرکے عیسوی مہینہ اور سنہ کی مطابقت لکھا کرتے ہیں، مگر سوق عبارت اور عرف عام کے خلاف مرزا قادیانی اس جملہ میں انتہائے تحریر کا زمانہ بتاتے ہیں جیسا کہ لوح کے دوسرے صفحہ سے ظاہر ہے۔ یہ پانچویں غلطی ہے قاعدہ عربیت کے لحاظ سے مگر افسوس ہے اس پر بھی بس نہیں ہے۔

(۶)بلکہ انہیں کے بیان سے فروری کے مہینے میں رسالے کی نہ ابتداء ہوئی نہ انتہا اس لئے یہ بیان بالکل غلط ہے کیو نکہ پہلے بیان سے معلوم ہوا کہ ۱۳۱۸ھ کے ماہ صیام سے رسالہ کی ابتداء ہے اور یہ ماہ صیام ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ء روز دو شبنہ سے شروع ہے اور ۲۱جنوری ۱۹۰۱ء روز دو شنبہ کو ختم ہو گیا اس لئے فروری کی کسی تاریخ سے ابتداء نہیں ہوئی اور اگر ختم کی تاریخ کا بیان ہے تو اس کی ابتداء رمضان کی کسی تاریخ سے نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر پہلی تاریخ سے فرض کرے تو آخری

566

دن فروری کے بعد یکم مارچ کو ہوگا ۲۰ فروری نہیں ہو سکتی اور اگر ابتداء ۲۳ یا ۲۴یا ۲۵ ماہ صیام سے ہے تو اس کا اختتام مارچ کی ۲۵ - ۲۶ یا ۲۷تاریخ مطابق ۴-۵-۶ تاریخ ذوالحجہ ۱۳۱۸ھ روز دو شبنہ سہ شبنہ چہار شبنہ کو ہوگا غرض کہ ۲۰ فروری کو انتہا بھی کسی طرح نہیں ہو سکتی۔

یہ چھٹی غلطی ہے اور ایسی غلطی ہے جس سے بخوبی عیاں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کی عقل سلب کردی ہے تاکہ ان کے دعوے کی غلطی ادنیٰ ذی علم بھی معلوم کر سکے یہ امر بھی لحاظ کے لائق ہے کہ ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو رسالہ کا ختم ہونا کئی مقام پر لکھتے ہیں۔

(۱)ٹا ئٹل کے دوسرے صفحہ پر اطلاع لکھی ہے اس کی پہلی اور دوسری سطر میں ہے خدا تعالیٰ نے ستر دن کے اندر ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء اس رسالہ کو اپنے فضل و کرم سے پورا کر دیا۔

(اعجاز المسیح، ص۲ خزائن ج۱۸، ص۲)

(۲) اس اطلاع کے آخر میں بھی یہی تاریخ لکھی ہے (۳) اس رسالہ کے آخر میں اعجاز کا اشتہار دیا ہے اس میں بھی ۲۰؍فروری ہے اور ٹائٹل کے پہلے صفحہ پر بھی یہی تاریخ ہے اور اس رسالہ کے آخر میں لکھتے ہیں:

قد طبع بفضلک فی مدۃ عدۃ العین۔ فی یوم الجمعۃ وفی شھر مبارکٍ بین العیدین۔

(اعجاز المسیح ص۲۰۲،خزائن ج۱۸ص۲۰۴)

تیرے فضل سے یہ کتاب عین کے عدد کی مدت میں جمعہ کے دن اور مبارک مہینے میں دہ عیدوں کے درمیان چھاپی گئی۔ اس سے تین باتیں ظاہر ہیں۔

اوّل یہ کہ اس رسالہ کا اختتام جمعہ کے دن ہوا۔ دوسرے یہ کہ ماہ مبارک میں ہوا، تیسرے یہ کہ وہ ماہ مبارک دو عیدوں کے درمیان میں ہے۔

اب دیکھا جائے کے ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو رسالہ کا اختتام ہے تو روز جمعہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ تاریخ روز چہارم شنبہ ۳۰ شوال ۱۳۱۸ھ کو ہے۔ اب کہیے کہ ۲۰ فروری کو صحیح مانا جائے یا روز جمعہ کو غرض کہ اسی طرح اس عبارت میں اور بھی اغلاط ہیں، سب کے بیان میں بے کار تقریر کو طول دینا ہے جن کو حق طلبی ہے ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسالہ جس کی نسبت ہے دعویٰ بڑے زور سے ہو رہا ہے کہ اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ اس کے مثل کو ئی نہ لاسکا اور نہ لا سکے گا۔ اس کے لوح کی دو سطر عبارت نہایت خبط اور محض غلط ہے پھر ایسا شخص فصیح و بلیع عبارت کیا لکھے گا؟ اور اگر لکھ سکتا تھا مگر یہاں ایسی غلطیاں ہو گئیں تو یہ روشن دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ نے

567

ایسے مدعی کے دعوی کے غلط کرنے کو اس عبارت کے لکھنے کے وقت اس کے حواس سلب کر دیے کہ ایسی مہمل عبارت لکھی کہ ادنیٰ طالب علم ادب پڑھنے والا نہ لکھے گا، یہ پندرہویں دلیل ہے مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر اب افسوس یہ ہے کہ کذب کے ایسے بین ثبوت موجود ہیں مگر ماننے والے کچھ نہیں دیکھتے اس کے بعد میں مرزا قادیانی کے اس دعوے کی نسبت ایک عظیم الشان بات کہنا چاہتا ہوں، جو حضرات علم ودانش سے حصہ رکھتے ہیں اور خوف خدا سے کسی وقت ان کے دل لرزنے لگتے ہیں وہ متوجہ ہو کر غور فرمائیں۔

اعجازالمسیح اور اعجاز احمدی کے معجزہ کہنے پر گہری نظر

اور مرزا کی اندرونی حالت کا اظہار

حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa سے بہت معجزات ظاہر ہوئے اور کثرت سے پیشین گو ئیاں آپa نے کیں اور جن کے پورا ہونے کا وقت گذر چکا وہ پوری ہو ئیں اور کسی کے پورا ہونے میں سرمو فرق نہیں ہوا، مگر حضور انورa نے بجز قرآن مجید کے کسی کو اپنے دعویٰ نبوت کے ثبوت میں پیش نہیں کیا اور کفار کے معجزہ طلب کرنے کے وقت آپ نے نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں معجزہ دکھایا ہے اس پر نظر کرو، صرف قرآن مجید ہی کو پیش کر کے کہا: ’’فَاْتوُ بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثلِہٖ وَادْعُوْا شُھَدَآئَ کُمْ مِنْ دُونِ اللّٰہٖ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقیِنْ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوْا النَّارَالَّتِیْ وَقُوْ دُھَا النَّا سُ وَالْحِجَارَۃ۔ (البقرۃ:۲۳،۳۴) یعنی اگر تم ( مجھ پر الزام دینے میں ) سچے ہو تو قرآن مجید کی ایک سورۃکے مثل لے آئو اور اﷲ کے سوا اپنے معین اور مددگاروں کو بلائو اور اگر نہ لا سکو اور ہر گز نہ لاسکوگے تو جہنم کی آگ سے ڈرو۔ (اس فرمانے کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی کر دی کہ تم اس کے مثل ہرگز نہ لا سکوگے یہ دعویٰ قرآن مجید سے مخصوص ہے، کسی آسمانی کتاب کے واسطے ایسا نہیں کہا گیا) مرزا قادیانی اپنے زبانی معجزوں کو ہر جگہ پیش کرتے ہے اور انہیں تین لاکھ سے زیادہ بتاتے ہیں۔ اب جناب رسول اﷲa کی عاقلانہ روش پر نظر کی جائے اور مرزا کی لن ترانیوں کو دیکھا جائے اس کے علاوہ اپنے رسالوں کو اپنی تصنیف کہتے ہے مگر بعینہ وہی دعویٰ اپنے دونوں رسالوں کی نسبت کرتے ہیں جو قرآن مجید میں کلام الٰہی کی نسبت کیا گیا اگر چہ قید لگا کر کہا مگر عوام کو قید کا خیال کب رہتا ہے۔

اب میں اہل دل حقانی حضرات سے ملتجی ہوں کے اس بیان میں محققانہ طور سے غور

568

غلط ٹھہرا اور جناب رسول اﷲa کا وہ عظیم الشان معجزہ جسے حضور انورa نے اپنے دعویٰ نبوت میں پیش کیا تھا مرزا قادیانی کے قول کے بموجب باطل ہوا (نعوذ باﷲ) اب اس کا فیصلہ ناظرین اہل علم پر چھوڑتا ہوں کہ جس دعویٰ کا انجام یہ ہے جو ابھی بیان کیا گیا، کس غرض سے کیا گیا، ایسے دعوی کرنے والے کا دلی منشاء کیا معلوم ہوتا ہے، آپ ہی فرمائیں میں اپنی زبان سے کچھ نہیں کہتا۔

اس کے علاوہ اس پر بھی نظر کی جائے رسول اﷲa نے صرف قرآن مجید اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا، جو عربی نثر میں ہے، مرزا قادیانی اسی طرح کے دو رسالے پیش کرتے ہیں ایک نظم اور دوسرا نثر ہے۔ اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa نے قرآن مجید یعنی نثر دونوں طرح کے رسالے لکھ کر مخا لفوں کے سامنے پیش کئے اورتمام مخالفین عاجز رہے، اس لئے ہمارا اعجاز بڑھ گیا۔

اے اسلام کے سچے بہی خوا ہو ! مرزا قادیانی کی باتوں پر خوب غور کرو میں نہا یت خیر خواہی سے تمہیں متنبہ کرتا ہو ں، اس بیان پر روشنی ڈالنے کے لئے اور بھی چند باتیں آپ کے روبروں پیش کرتا ہوں، انصاف دلی سے ان پر آپ نظر کریں، تاکہ آپ کو یقینی طور سے معلوم ہو جائے کہ مرزا در اصل مذہب اسلام کی بے وقعتی ثابت کرنا چاہتا ہے، مگر ایسے طریقے سے کہ مسلمان ماننے والے برہم نہ ہو جائیں اس کے ثبوت میں مذکورہ بیان کے علاوہ امور ذیل ملاحظہ کئے جائیں۔

(۱ ) رسول اﷲa کے قرۃ العین حضرات حسینؓ کی کیسی مذمت کی ہے اور اس پر طرہ

569

یہ کیا ہے کہ اس مذمت کو الہام الٰہی بتایا ہے یعنی یہ مذمت میں نے نہیں کی بلکہ اﷲ تعالیٰ نے کی ہے۔

(اعجاز احمدی ص۳۸،خزائن ج۱۹،ص۱۴۹)

اس مذمت کا نمونہ میں نے حقیقتہ المسیح اور دعویٰ نبوت مرزا میں دکھایا ہے اور ان کے اقوال اعجاز احمدی سے نقل کئے ہیں، پھر کیا عاشق رسول اﷲa امت محمدیa ہو کر ایسا کہہ سکتا ہے ؟ہر گز اس ہجو سے ان کی دلی حالت معلوم ہو تی ہے کہ انہیں جناب رسول اﷲa سے کیسا اعتقاد تھا۔ حضرت سرور انبیاءa کی اولاد کی تو بڑی شان ہے کو ئی سچا مرید اپنے مرشد کی اولاد سے ایسا بدگمان نہیں ہوتا اور ان کی ہجو نہیں کرتا۔ اس کے جواب میں بعض مرزائی حضرت امام کی مدح میں ان کے اشعار پڑھ کر عوام کو فریب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر یہ الزام غلط ہے کہ وہ امام صاحب کی مذمت کرتے ہیں، بلکہ ان کے یہ اشعار ہیں جن میں حضرت امام کی مدح ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہی تو تمہارے جھوٹے امام کی ابلہ فریبی ہے کہ ایک جگہ اپنا دلی خیال ظاہر کرکے دوسری جگہ اس پر روغن قاز ملتے ہیں اور مسلمانوںکو فریب دیتے ہیں۔ مگر احمق ونادان بھی اس چال کو سمجھے گا کہ ایک جگہ نہایت برے طور سے مذمت کرکے اور اس مذمت کو الہامی بتاکر دوسری جگہ ان کی تعریف کرنا ناواقفوں کو فریب دینا ہے کیوںکہ مذمت کو تو انہوں نے الہامی بیان کیا ہے۔

اب ان اشعار کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ الہامی نہیں ہیں اسلئے الہام کے مقابلہ میں ان کا کچھ اعتبار نہیں ہوسکتا،غرض کہ اس سے بھی ہر ایک فہمیدہ ان کا ایک فریب سمجھ سکتا ہے اور اس کی تائید میں مرزا قادیانی کے وہ نعتیہ اشعار وقصیدے ملاحظہ کیجیے جو براہین احمدیہ کی ابتداء میں لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے عاشق رسول ہیں اور دوسری جگہ اپنی فضیلت اس زور سے بیان کرتے ہیں کہ کوئی سچا اسے سن نہیں سکتا،اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔

(۲)کیا جناب رسول اﷲa کو سیدالمر سلین اور خاتم النّبیین مان کر کو ئی یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے نشانات و معجزات جناب سیدالمرسلینﷺ سے سو حصے زیادہ ہیں؟ ہر گز نہیں، یہ تو فضیلت کلی کا دعویٰ ہے۔ اس دعوے کا ثبوت ملاحظہ ہو۔

مرزا قادیانی نے اپنے باب میں ایک فیصلہ شائع کیا جو لائق ملاحظہ ہے۔ اس کی تمہید میں لکھتے ہیں: ’’جو میرے لئے نشانات ظاہر ہو ئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔‘‘

( حقیقۃ الوحی ۶۷خزائن ج۲۲ص۷۰)

570

’’اور کوئی مہینہ نشانوں۱؎ سے خالی نہیں گزرتا الخ۔‘‘

(اخبار بدر مورخہ۱۹جولائی ۱۹۰۲ء)

اس تعداد بیان کرنے سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے نشانات کے شمار کا رجسٹر کہتے تھے اور وہ تعداد اپنی صداقت کے جوش کے وقت مشتہر کی جاتی تھی، اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیا نی کو اور مرزائیوں کو یہ دعویٰ ہے کہ جناب رسول اﷲa کے اتباع و پیروی سے یہ رتبہ انہیں ملا اور ظلی اور بروزی اور اصلی نبی ہو گئے، مگر وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ جناب رسول اﷲa نے اپنی تمام عمر میں ایک مرتبہ بھی ایسا دعویٰ کیا کہ میرے اس قدر نشانات و معجزات ہوئے؟ کوئی ثابت نہیں کر سکتا، پھر بھی اتباع سنت اور رسول اﷲa کی پیروی ہے؟ ہاں مرزا قادیانی حضور انورa کے معجزات شمار کرکے لکھتے ہیں کہ:

’’ تین ہزار معجزے ہمارے نبیa سے ظہور میں آئے۔‘‘

(تحفہ گولڑ ویہ ص ۳۹ خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

یہاں تین ہزار سے زیادہ ایک کا بھی اضافہ مرزا قادیانی بیان نہیں کرتے مگر اپنے تین لاکھ نشانو ں سے بھی بے تعداد اضافہ بیان کرتے ہیں اب اس پر غور کیجئے کہ معجزہ خاص خدا کی طرف سے رسول کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے اب جس قدر نشانات اور معجزات زیادہ ظاہر ہوں گی اس قدر اس رسول کی عظمت اور مرتبت زیادہ ہوگی۔

۱؎

تعجب ہے کہ ابھی تو دعویٰ تھا کہ تین لاکھ سے زیادہ میرے نشانات ہو ئے جس کا حاصل یہ ہے کہ پیدائش کے روز سے مرنے کے دن تک بارہ تیرہ نشان روز صادر ہوتے تھے۔ نشانات اور عمر کے ایام حساب کر کے دیکھ لو پھر اب ایک مہینہ میں چند نشانوں کا دعویٰ کرنا اپنے آپ کو مرتبہ سے گرا دینا ہے، ان نشانوں میں نہایت عظیم الشان نشان یہ ہو ںگے کہ مرزا قادیانی (۱) مرد سے عورت بنے یعنی غلام احمد سے مریم ہو گئے(۲) اور بغیر مرد کی صحبت کے حاملہ ہو گئے اور دس مہینہ حاملہ رہے (۳)پھر وضع حمل اس طرح ہوا کہ گھر کے کسی عورت و مرد نے نہیں دیکھا بلکہ ظاہر میں اسی مرزائی صورت میں نظر آتے رہے اور اس سے مسیح پیدا ہوئے (۴) پھر عجب نشان یہ ہوا کہ مرزائی مریم کا پیٹ ایسا وسیع ہوا کہ جوا ن لڑکا داڑھی مونچھ والا نکل آیا اس کے بعد (۵) پانچواں نشان عجیب و غریب ہوا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر عادت اﷲ اور سنت اﷲ کے خلاف کچھ نہ ہوا کیونکہ مرزا قادیانی تو سنت اﷲ کے خلاف کو غیر ممکن سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے پہلی تاریخ کے چاند گہن کو غیر ممکن خیال کرتے ہیں (۶)چھٹا نشان یہ ہوا کہ صرف لفظ استعارہ کہہ دینے سے واقعی عالم میں مرزا قادیانی مجسم ابن مریم ہو گئے اور حدیث کے مصداق بن گئے ایسے نشانات کا کیا ٹھکانا ہے یہی وجہ ہے کہ مرزائی حضرات اس وقت کو روشن ضمیری کا زمانہ کہتے ہیں ایسے وقت میں مرزا قادیانی کے ان خرافات پر ایمان لانا بڑی روشن ضمیری ہے۔

571

اب مرزا قادیانی اپنے تین لاکھ سے زیادہ معجزات بیان کرتے ہیں اور جناب رسول اﷲa کے تین ہزار اس سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنی عظمت اور مقبولیت کو حضور انورa سے سو حصے زیادہ بلکہ سوا سو حصے سے بھی زیادہ بتاتے ہیں اور ان کے پیروں اس پر اٰمنّا کہہ رہے ہیں اس ایمان پر غور سے نظر کی جائے۔

بھائیو! اس پر غور کرو جو رسول اﷲ سید الا ولین والآخرین ہو، جس پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہو خدا تعالیٰ نے قطعی طور سے جسے آخر الانبیاء قرار دیا ہو اور اسے عالم کے لئے رحمت فرمایا ہو اس کے بعد اس کی امت میں کوئی نبی آئے، وہ سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سو حصے زیادہ عظمت رکھتا ہو، یہ ہو سکتا ہے کسی مسلمان کا دل اسے باور کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں، ہر گز نہیں اس کا حاصل تو یہ ہے کہ آنحضرتa افضل الانبیاء نہیں ہیں، بلکہ مرزا ہیں۔(استغفر اﷲ!)

اب غور کرو کہ مرزا قادیانی کا خیال جناب رسول اﷲa سے کیسا ہے اور ان کی مدح کرنے کا کیا منشاء ہے اس کی تائید میں ان کا الہام ملاحظہ کیجئے۔

(۳)(حقیقۃ الوحی خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۲) میں ان کا الہام ہے ’’لو لاک لما خلقت الا فلا ک‘‘یعنی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے میری مدح میں مجھ سے خطاب کرکے فرمایا کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا، تو آسمان زمین کچھ پیدا نہ کرتا۔

اس کا حاصل یہ ہوا کہ دنیا میں جس قدر مخلوقات پیدا کی گئی وہ سب مرزا قادیانی کا طفیل ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا وجود شریف نہ ہوتا تو اس عالم کا وجود نہ ہوتا،دنیا کے تمام اولیاء انبیاء اور ان کے کمالات نبوت وغیرہ سب مرزا قادیانی کے طفیلی ہیں انہیں کے طفیل سے تمام انبیائے کرام اور حضرت سید الانام کا وجود شریف ظہور میں آیا اور انہیں کی ذلہ ربا نی سے انہیں کمالات نبوت ملے۔ اب یہ فریب دیا جاتا ہے کہ رسول اﷲa کی پیروی سے مرزا قادیانی کو نبوت ملی اور ان کے اس اعلانیہ دعویٰ پر نظر نہیں کی جاتی۔ جس میں وہ حضور انورa کو اپنا طفیلی بنا رہے ہیں۔ (استغفر اﷲ نعوذ با ﷲ!)

بھائیو! اس تعلّی کی کچھ انتہا ہے سچے مسلمان کے لئے یہ تعلیاں کیسی صدمہ رساں ہیں، اب ان دعووں کو دیکھ کر ان کے نعتیہ اشعار کو جو ذی فہم دیکھے گا وہ قطعی فیصلہ کرے گا کہ مرزا قادیانی نے سادہ لوح مسلمان کو فریب دیا ہے۔

572

(۴) اسی طرح ان کا یہ شعر:

  1. تکَدّرَ ماء السابقین وعیننا

    الی اٰخر الایَّام لاتتکدّرٗ

(اعجاز احمدی ص ۵۸ خزائن ج ۱۹ ص ۱۷۰)

اس شعر میں سا بقین جمع ہے اور اس پر الف اور لام استغراق یا جنس کا آیا ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ جتنے اولیاء اور انبیاء پہلے گزر گئے ان کے فیض کا پانی ملا اور مکدر ہو گیا اور میرا چشمہ کبھی میلا نہ ہو گا۔ یہ نہایت بدیہی دعویٰ ہے تمام انبیائے کرام پر فضیلت کا جس میں جناب رسول اﷲa بھی شامل ہیں اور اپنے خاتم الانبیاء ہونے کا اور اپنی نبوت قیامت تک باقی رہنے کا دعویٰ ہے چناچہ مرزا قادیانی کے مریدین مرزا کو خاتم الانبیاء اپنے اخباروں میں لکھتے ہیں۔ اسی طر ح اور بھی فضیلتیں مر زا قادیانی نے اپنی بیان کی ہیں، جس سے ان کا دلی راز اہل دانش معلوم کر سکتے ہیں۔

(۵) کیا ممکن ہے کہ جناب رسول اﷲa کو مان کر آپ کا پیرو ہو کر حضرت مسیح علیہ السلا م کی نسبت ایسے بے ہودہ اور سخت کلمات زبان سے نکالے جیسے مرزا نے ضمیمہ انجام ۱؎ آتھم وغیرہ میںنکالے ہیں اور ایک الوالعزم نبی کی بے حرمتی کی ہے، ہر گز نہیں کسی مسلمان کی زبان یا قلم سے ایسے الفاظ نہیں نکل سکتے، بلکہ قوی الاسلام ان الفاظ کو سن نہیں سکتا، اس کا دل لرز جاتا ہے اگر کوئی دہر یہ خدا کے ساتھ گستاخی کرے یا کوئی مردود حضرت سرور انبیاءa کی نسبت زبان سے بے ادبا نہ کلمات نکالے تو کسی مسلمان سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ یا کسی برگز یدہ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگے۔

۱؎

ضمیمہ انجام آتھم کا حاشیہ ص۴ سے ص۹ تک ( خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۸ تا ۲۹۳ ) دیکھا جائے کہ کیسے سخت اور فحش کلمات لکھے ہیں جب یہ حاشیہ پیش کیا جاتا ہے تو ناواقفوں سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کلمات یسوع کو کہے ہیں۔ جب ان کے رسالہ تو ضیح المرام ( ص ۳ خزائن ج ۳ ص ۵۲ ) سے دکھا دیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع کو ایک بتاتے ہے ہیں تو اور بے ہودہ باتیں کہنے لگتے ہیں،کبھی کہتے ہیں کہ الزاماًایسا کہا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ توہین کی نیت نہ تھی، مگر یہ سب فریب ہے۔ الزام دینا ہم بھی جانتے ہیں اور ہم نے بھی الزام دیے ہیں۔ مگر جس طرز سے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی بے حرمتی کی ہے کو ئی مسلمان کسی طرح نہیں کر سکتا اور نہ شریعت محمدیہ سے اسے اس طرح کہنا جائز ہے۔ (بقیہ حاشیہ ص ۵۷۴ پر)

573

یہ باتیں نہا یت صفائی سے ثابت کر رہی ہیں کہ مرزا قادیانی کے قلب میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی کوئی عظمت نہیں ہے، وہ دہریوں کی طرح کسی نبی کو نہیں مانتے اپنے مطلب کے لئے کسی وقت کسی کی تعریف کردی، یہ نہا یت ظاہر باتیں ہیں، اگر صاف دل ہو کر میرے بیان میں غور کیجئے گا تو خدا کے فضل سے پوری امید ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس کی تصدیق آپ کے دل میں ہو جائے گی۔

اب جناب رسول اﷲa کی مدح سرائی اور ان کی اتباع اور ظلیت کا دعویٰ اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ان کی طرف متوجہ ہو ں کیونکہ باوجود بے انتہا کوشش کے کوئی گروہ ہندو،عیسائی یا دوسرے مذہب کا ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔

(ص ۵۷۳ کا بقیہ حاشیہ) اس واقعہ کو کو یاد کرنا چاہئے جسے امام بخاری ج ۲ ص ۹۶۵ نے روایت کیا ہے کہ ایک صحابی اور یہودی کے مابین لڑائی ہوئی تھی اور یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہاں پر ترجیح اور صحابی نے جناب رسول اﷲa کو، اور اس یہودی کو ایک طمانچہ مارا، اور یہودی جناب رسولa کے پاس فریاد لے گیا اور حضورa نے اس یہودی کے سامنے فرمایا کہ ’’لا تخیرونی علی موسی ‘‘یعنی موسیٰ علیہ السلام پر مجھے بڑھائو نہیں۔ غور کیا جائے کہ صحابی نے کوئی لفظ بے ادبی کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں کہا تھا، صرف جناب رسول اﷲa کو فضیلت دی تھی اور وہ بھی یہودی کے مقابلہ میں الزاماً کہا تھا اور سچی بات تھی، مگر حضورa نے اس کو بھی جائز نہ رکھا اور فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر نہ بڑھا ئو، اس کو حقیقتہ المسیح میں دیکھنا چاہئے۔

جب رسول اﷲa نے صرف یہود کے مقابلہ میں اپنی فضیلت کو منع فرمایا تو ایسی بے ہودہ گوئی اور بے حد فضیحتی پادری کے مقابلہ میں کیوں کر جائز ہو سکتی ہے، جیسے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی کی ہے، یہی رسول اﷲa کی پیروی کا دعویٰ ہے، اسی کی وجہ سے نبوت کا مرتبہ مل گیا یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی، اس کے علاوہ دافع البلا کے آخر میں تو کسی پادری کے مقابلہ میں نہیں لکھتے بلکہ قرآن مجید کا حوالہ دیکر مسلمانوں سے خطاب کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کو شرمناک الزام دیا ہے، اب خلیفہ صاحب فرمائیں کہ جن کی عظمت و شان قرآن مجید میں بار بار بیان کی گئی ہے جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنا بر گزیدہ رسول فرمایا ہے ان کی نسبت کوئی مسلمان ایسے خیالات کر سکتا ہے جیسے مرزا قادیانی نے دافع البلاء کے آخر میں کئے ہیں؟ ہر گز نہیں، یہ وہ باتیں ہیں جن سے ان کی دہریت ثابت ہوتی ہے۔ اب سنا گیا ہے کہ یہ رسالہ پھر چھپا ہے اور اُس میں تصرف کیا گیا ہے مگر میں نے دیکھا نہیں۔

574

اب اگر حضرت سرور انبیاءa کی مدح نہ کرتے اور ان کے اتبا ع و ظلیت کا دعویٰ مسلمان پر ظاہر نہ کرتے تو کوئی مسلمان بھی ان کی طرف متوجہ نہ ہوتا اس لئے اول انہوں نے دین اسلام کی کچھ تائید کی اور رسول اﷲa کی مدح سرائی کی پھر اپنی مدح سرائی اور ضمناً اپنے بیان اور الہامات میں اپنا تفوق جابجا ظاہر کیا، پھر حضرت سرور انبیاءa کے نہایت عظیم الشان معجزہ کا اس انداز سے ابطال کیا کہ مسلمان برہم نہ ہوں۔ یہ سب تمہید آئندہ اپنے مقصود کے اظہار کے لئے کی، جس طرح عبداﷲ چکڑالوی پہلے مقلد حنفی تھا، اس وقت اس نے لوگوں کو اپنا معتقد اور پیروں بنایا پھر وہ غیر مقلد ہو کر اہل حدیث بنا، اور اپنے تئیں حدیث کا پیرو بتایا اور اپنے معتقدین کو غیر مقلد بنایا، پھر کچھ عرصہ کے بعد احادیث نبویہa سے بالکل منہ پھیر لیا اور تمام حدیثوں کو غلط اور جھوٹی کہنے لگا، جب اس کے معتقدین نے اس سے کہا کہ پہلے آپ مقلد تھے اور ہم سے آپ نے تقلید کی ضرورت اور تعریف کی تھی پھر آپ نے غیر مقلد ہو کر عمل بالحدیث کی طرف ہمیں متوجہ کیا، اب آپ اس کی مذمت کرتے ہیں اور حدیثوں کو جھوٹی اور موضوع بتاتے ہیں اور صرف قرآن پر عمل کرنے کو کہتے ہیں یہ کیا بات ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اگر میں آہستہ آہستہ تمہیں بتدر یج راہ پر نہ لاتا تو تم ہر گز میری بات کو نہ مانتے، میرا شروع سے یہی خیال تھا جو میں اب کہہ رہا ہوں۔ چونکہ اس کے معتقدین کا اعتقاد راسخ ہو چکا تھا اس لئے وہ اس کے پیرو رہے اور جو اس نے کہا انہوں نے اسے مانا، یہ واقعہ مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی ڈالتا ہے، اور طالبین حق کے لئے آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کی حالت کو دکھا رہا ہے، مرزا قادیانی نے پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا اور مثیل مسیح بنے اور نہا یت صفائی سے مسیح موعود ہونے سے انکار کیا۔

(ازالہ اوہام ص۱۹۰ خزائن ج۳ص ۱۹۲ )

پھر بڑے زور سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اہل اسلام حضرت مسیح کے منتظر تھے، اور اس نازک وقت میں اس کا بہت زیادہ انتظار تھا اس لئے بعض نیک دل لوگ بھی ان کے معتقد ہو گئے۔ پھر افضل الانبیاء ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور خدائی اختیارات ملنے کے بھی مدعی ہوئے (صحیفہ رحمانیہ نمبر ۷ ملاحظہ ہو) اور کشفی طور سے خدا ہو گئے اور آسمان و زمین بنایا مگر وہ ابھی تک اپنے اصلی مدعا پر کامیاب نہ ہوئے تھے اور مصلحت اعلانیہ دعویٰ خدائی سے مانع تھی کہ یکبارگی اس جہاںفانی سے رحلت کر گئے، مگر اپنے اصلی مقصد یعنی مذاہب

575

کی بیخ کنی کے لئے تخم پاشی کرتے رہے اور بہت سادہ دل حضرات اس سے بے خبررہے۔ جب ان کے بعض مقلدین نے ان کے اختلاف اقوال کی نسبت دریافت کیا تو جب کوئی بات نہ بنی تو کہہ دیا کہ جس طرح مجھ پر خدا کی طر ف سے ظاہر کیا گیا ویسا ہی میں نے کہا، اب یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوںنے خداتعالیٰ پر جھوٹ اور وعدہ خلافی کا الزام اور خدا کے رسولوں پر نا سمجھی اور غلط فہمی کی تہمت لگا کر اپنے آپ کو الزاموں سے بچایا اور شریعت الٰہی اور قرآن مجید کو غیر معتبر ٹھہرایا کیونکہ جب خدا تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے کسی کلام پر اعتبار نہیں ہو سکتا، جب وہ وعدہ خلافی کرتا ہے تو قرآن مجید میں جس قدر وعدے مسلمانو ں کے لئے ہیں اور منکروں کے لئے وعیدیں سب بے کار ہیں کوئی لائق اعتبار نہیں۔اسی طرح جب انبیاء کسی وقت وحی کو نہیں سمجھتے یا غلط سمجھتے ہیں اور وہی غلط مطلب مخلوق سے بیان کرتے ہیں تو تمام وحی قرآنی لائق اعتبار نہ رہی کیونکہ ہر وحی پر غلطی کا احتمال ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی کا مدعا اور راز دلی یعنی خدا اور رسول اور اس کا کوئی کلام لائق توجہ اور قابل اعتبار نہیں ہے مگر مرزا قادیانی کے خیال میں ابھی تک مریدین کی وہ حالت نہ پہنچی تھی کہ ان کے اعلانیہ کہنے سے یہ لوگ حضرت سرور انبیاءa سے انکار کر کے میرے پیرو ہو جائیں گے، اس لئے در پردہ ایسی باتیں کہیں تاکہ آئندہ کسی وقت اصلی منشاء کے اظہار کا موقع رہے اور جب وقت آجائے تو صاف طور سے کہہ دیں کہ فلاں فلاں بات اس لئے کہی تھی، مگر چونکہ تمہاری طرف سے پورا اطمینان نہ تھا اس لئے صاف طور سے نہیں کہا۔

برادر ان اسلام ! اس رسالے کو مکرر ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کیسے کیسے جھوٹ بولے ہیںاور فریب دیے ہیں، مگر الحمد ﷲ انہی کے بیان سے ان کے جھوٹے ہونے کی پندرہ دلیلیں بیان کی گئی اور آخر میں ان کا در پردہ منکر اسلام اور دہریہ ہونا نہایت روشن کر کے دکھا دیا گیا۔اب تو مسلمان کو ضرور ہے کہ ان سے پرہیز کریں اور ان بندۂ درہم و دینار کی باتوں کو نہ سنیں جو ایسے جھوٹے اور فریبی کو ظلی نبی یا خدا کا رسول کہتے ہیں اور دوسروں سے منوانا چا ہتے ہیں، مرتبہ نبوت تو بہت بڑی چیز ہے میں نے تو ثابت کر دیا کہ ایسا شخص تو مسلمان بھی نہیں ہو سکتا وہ تو در حقیقت منکر خدا اور رسول ہے۔

وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقْ والْمعین وَاٰخِرُ دعوانا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔

خاکسار ابو احمد رحمانی

576