احتساب قادیانیت جلد چھ
احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔
احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
| نام کتاب : | احتساب قادیانیت جلدششم (۶) |
| مصنّفین : | حضرت علامہ قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ |
| صفحات : | ۴۶۴ |
| قیمت : | ۲۰۰ روپے |
| مطبع : | طیب شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور |
| طبع اوّل : | اپریل ۲۰۰۲ء |
| طبع دوم : | فروری ۲۰۲۱ء |
| ناشر : | عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان |
| Ph: 061-4783486 |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
٭…پیش لفظ……حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود
۳
٭…عرض مرتب……حضرت مولانا اللہ وسایا
۴
۱…غایت المرام……حضرت قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
۵
۲…تائید الاسلام……حضرت قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
۱۴۷
۳…مرزاقادیانی اور نبوت……حضرت قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
۳۰۱
۴…ختم نبوت……جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
۳۱۹
۵…شناخت مجدد……جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
۳۳۹
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
از: حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب مدظلہ
الحمد ﷲ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی۔ اما بعد !
مرزاغلام احمد قادیانی گو اپنی ذات میں اور اپنے علم میں کوئی بڑا آدمی نہ تھا، لیکن انگریزی علمداری نے اسے اپنے وقت میں ہی اس مقام پر لاکھڑا کیا تھا کہ اس کے مکروفریب کے پردے چاک کرنے کے لئے اس وقت کے بڑے بڑے آدمی ختم نبوت کے پرچم تلے آ جمع ہوئے۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، ڈاکٹر سرمحمد اقبال، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا محمد علی مونگیری، حضرت مولانا کرم الدین دبیر، پروفیسر محمد الیاس برنی، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ ان بڑے لوگوں کی فہرست میں قاضی محمد سلیمان منصورپوری پٹیالویؒ (۱۳۴۲ھ) کا نام بھی محتاج تعارف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو قلب سلیم، عزم صمیم اور قلم مستقیم کی دولت دے رکھی تھی، اس کا شاہکار ’’رحمتہ اللعالمینﷺ‘‘ کسی صاحب علم سے مخفی نہیں ہے۔ آپ اسی عزم صمیم کے ساتھ قادیانیت کے مقابل صف آراء ہوئے اور مرزاغلام احمد قادیانی کی زندگی میں اس کی کتاب ازالہ اوہام کا جواب دو حصوں میں رقم فرمایا۔ اب ان کی ان خدمات پر ایک صدی پوری ہورہی ہے۔ ضرورت تھی کہ ماضی کے یہ چھپے موتی پھر سے برسرعام لائے جائیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے احتساب قادیانیت کی چھٹی جلد میں مولانا مرحوم اور پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ کی تالیفات کو شائع کر کے عصر حاضر کے مسلمانوں کو بھی ان علوم اور تحقیقات سے متمتع اور آشنا ہونے کا موقع دیا ہے جو پوری امت کے لئے ’’سرمہ بصیرت‘‘ ہے۔ جس کی اس دور میں بھی ضرورت تھی۔ راقم الحروف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس عظیم علمی خدمات پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔ یہ اس عظیم علمی خدمت کا اقرار ہے جس کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہمیشہ بلا کسی مسلکی امتیاز کے ختم نبوت کے ہر مجاہد اور کارکن کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ میرا دل بے اختیار اس پر ہدیہ تحسین پیش کرتا ہے۔
خالد محمود عفا اللہ عنہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ اما بعد !
اللہ رب العزت کے فضل وکرم، احسان وتوفیق سے ’’احتساب قادیانیت‘‘ کی چھٹی جلد پیش خدمت ہے۔ پانچویں جلد جو صحائف رحمانیہ پر مشتمل تھی اس کے بعد خیال تھا کہ چھٹی جلد میں حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریv کے رسائل پیش کریں گے۔ لیکن مخدوم المشائخ خانقاہ عالیہ رائے پور کی روایات کے امین، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت اقدس سید نفیس الحسینیv نے حضرت قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ کے ردقادیانیت پر مشتمل رشحات قلم کو فوری طور پر شائع کرنے کا حکم فرمایا۔ اس لئے اس چھٹی جلد میں ان کو شائع کیا جارہا ہے۔ اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق سے ساتویں جلد میں حضرت مونگیریv کے رشحات قلم کو شائع کیا جائے گا۔ اس کی تیاری کا کام شروع ہے۔ زیر نظر احتساب قادیانیت کی چھٹی جلد میں پانچ عدد کتب ورسائل کو یکجا شائع کیا جارہا ہے۔
۱… غایت المرام:……حضرت قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
۲… تائید الاسلام:……حضرت قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
۳… مرزاقادیانی اور نبوت:……حضرت قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
۴… ختم نبوت……جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
۵… شناخت مجدد……جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
ہر کتاب کے شروع میں اس کا تعارف دے دیا گیا ہے۔ جماعتی رفقاء اور اس عنوان پر کام کرنے والے قدردانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلہ کی قبولیت کے لئے دعا فرمائیں۔ حق تعالیٰ شانہ اسے اپنے فضل وکرم سے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور اس سلسلہ کو جاری رکھنے کی سعادت سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین! بحرمۃ النبی الامی الکریم!
خاکپائے حضرت منصورپوریؒ، حضرت چشتیؒ
فقیر: اللہ وسایا
۲۵؍محرم ۱۴۲۳ھ، بمطابق ۹؍اپریل۲۰۰۲ء
حضرت علامہ قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ اما بعد!
حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ علامہ دوراں، محقق زماں شخصیت تھے۔ قدرت نے آپ کو دینی ودنیاوی دونوں علوم سے بہرہ ور فرمایا تھا۔ آپ ریاست پٹیالہ کے سیشن جج بھی رہے۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں۔ سیرت النبیa پر آپ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’رحمتہ اللعالمین‘‘ ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے انگریزی دور استبداد میں اپنی جھوٹی مسیحیت ونبوت کے جھوٹے دعویٰ کئے۔ مرزاقادیانی ملعون کی توضیح مرام، فتح اسلام اور ازالہ اوہام کے رد میں آپ نے اپنی گرانقدر یہ کتاب ’’غایت المرام‘‘ تصنیف فرمائی۔ اس کے سات ابواب ہیں۔ جن کی تفصیل آپ فہرست میں ملاحظہ کریں گے۔
پوری کتاب انتہائی تہذیب ومتانت سے مرزاقادیانی کے دعاوی جدیدہ کے رد میں عالمانہ مباحث پر مشتمل ہے۔ پہلی بار یہ کتاب ۱۸۹۱ء میں شائع ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ شائع ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مقام اعزاز ہے کہ ایک سو گیارہ سال بعد اسے شائع کیا جارہا ہے۔ یہ کتاب مرزاقادیانی کے زمانۂ حیات میں شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت اوّل کے بعد سترہ سال تک مرزاقادیانی زندہ رہا۔ لیکن جواب دینے کی اسے جرأت نہ ہوئی۔ مصنف مرحوم نے یہ کتاب لکھ کر مرزاقادیانی کے کفر پر اتمام حجت کردیا۔ فاالحمد ﷲ اولاً وآخراً!
فقیر: اللہ وسایا
۲۵؍محرم ۱۴۲۳ھ، بمطابق ۹؍اپریل۲۰۰۲ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
باب اوّل:دیباچہ از مصنفv
۱۰
عرب کے مذاہب اور آپa کا اصلاح فرمانا
۱۱
مسیحm کا دوبارہ دنیا میں آنا
۱۴
انجیل متی سے مسیحm کے نزول کی علامات
۱۹
حدیث رسول سے مسیحm کے نزول کی علامات
۲۲
ضروری نوٹ
۲۶
باب دوم:استعارہ ومجاز
۲۸
استعارہ ومجاز کا مختصر حال
۳۰
اس ضمن میں وضع کے معنی بھی قابل ذکر ہیں
۳۱
حقیقت کی اقسام
۳۱
ایلیاء ویوحنا کے قصے کی صراحت
۳۳
سرسید اور مثیل یوحنا
۳۴
یوحنا وایلیا واواگون
۳۴
باب سوم:رفع عیسیٰm
۳۵
باب چہارم:عیسیٰm کا نزول اور ان کی نبوت کے اشکال
۴۴
باب پنجم:عیسیٰm کا نزول اور قانون قدرت
۴۸
عزیرm
۵۳
اصحاب کہف کے بارہ میں
۵۴
حدیث نزول عیسیٰm
۶۰
ویقتل الخنزیر اور قتل کرے گا خنزیر کو
۶۴
ویضع الجزیۃ اور اٹھا دے گا جزیہ کو
۶۵
ویفیض المال اور مال کو بہائے گا
۶۵
باب ششم:عیسیٰm کا نزول وحیات
۶۹
عیسیٰm اور ان کا زمانہ نزول
۷۶
باب ہفتم:عیسیٰ بن مریمn
۸۱
مماثلت کی بحث
۹۰
مثیل کا معنی
۹۳
عیسیٰm اور زکوٰۃ
۹۶
خلق وخلق کی مماثلت
۹۸
خلاصہ کلام
۹۸
مشابہت تام
۱۰۰
استعارہ کی حیثیت
۱۰۳
محدثیت
۱۰۵
صفات صدیقین
۱۰۶
محدث کی صفات
۱۰۶
ترتیب استحقاق خلافت
۱۰۸
وجود ملائکہ
۱۰۹
الدجال
۱۱۲
غلطی کا امکان
۱۲۶
نبی کریمa کی پیش گوئیاں
۱۳۷
قصیدہ فارسی
۱۴۱
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد للّٰہ حمدًا موافیًا لنعمۃ مکافیًا لمزیدہٖ والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا محمدٍ وآلہٖ وصحبہٖ وجنودہٖ۔ اما بعد!
یہ رسالہ غایت المرام جناب مخدوم ومکرم قاضی محمد سلیمان صاحب سلمان فاضل دوراں نے ۱۸۹۱ء میں مرزاغلام احمد قادیانی رئیس قادیان کے رسالجات متعلق دعاوی مسیحیت کا مطالعہ فرماکر تصنیف فرمایا تھا اور انہی ایام میں یہ رسالہ اسلامیہ پریس لاہور میں مولوی کرم بخش صاحب نے چھاپ کر شائع کیا تھا۔ رسالہ مذکور اس قدر مقبول ہوا کہ اشاعت سے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد نایاب بن گیا۔ حتیٰ کہ مصنف مدظلہ الحال کے پاس بھی اس کی کوئی کاپی نہ رہی۔ اب اہل الصدق والدین کے حسن طلب کو دیکھ کر راقم نے اس رسالہ کی اشاعت کو ضروری سمجھا۔ امید ہے کہ اس کی اشاعت موجب خیروبرکت ہوگی۔
(الملتمس: خلیفہ ہدایت اللہ پنشنر ضلع دار نہر، پٹیالہ)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہم لک الحمد انت نور السمٰوٰت والارض ومن فیہن ولک الحمد انت قیم السمٰوٰۃ ومن فیہن ولک الحمد انت رب السمٰوۃ والارض ومن فیہن ولک الحمد انت الحق وعدک حق وقولک حق والجنۃ حق ولقائک حق والنار حق والساعۃ حق والنبیون حق ومحمد حق اللہم لک اسلمت وعلیک توکلت وبک اٰمنت والیک انبت وبک خاصمت والیک حاکمت فاغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت انت المقدم وانت المؤخر لا الہ الا انت۔ اما بعد!
یہ مختصر مضامین ہیں۔ جو میں نے مرزاغلام احمد قادیانی رئیس قادیان کے رسائل فتح اسلام وتوضیح المرام وازالۃ الاوہام کے پڑھنے اور ان پر غور وفکر کرنے کے بعد تحریر کئے ہیں۔ میرا مقصود اس تحریر سے احقاق حق ہے اور ان دلائل کا واضح کر دینا ہے۔ جو سلف وخلف کے نزدیک مرزاقادیانی کے دعویٰ جدید کے خلاف مسلمہ ہیں۔ امید ہے کہ ان پر غور کیا جائے گا اور صدق وخلوص کے ساتھ صراط المستقیم پر چلنے کو پسند کیا جائے گا۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب!
خاکسار: محمد سلیمان بن قاضی احمد شاہ صاحب دامت فیوضہ الحال
منصورپور ریاست پٹیالہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اما بعد! یہ وہ مضامین ہیں جن کو میں نے فتح الاسلام وتوضیح المرام کے شائع ہونے کے بعد لکھا تھا اور نیازنامہ کے ذریعہ سے مرزاغلام احمد قادیانی سکنہ قادیان کی خدمت میں بھیجنا چاہتا تھا۔ میرے ایک دوست اور مرزاقادیانی کے مرید نے مجھے نیک صلاح یہ دی کہ ازالۃ الاوہام کے شائع ہونے تک میں ان مضامین کو اپنے پاس رہنے دوں۔ ازالہ چھپ گیا اور میں نے نہایت شوق کے ساتھ ایسا دل لے کر جس میں حب وبغض کا نام ونشان نہ تھا، اس کا پڑھنا شروع کیا۔ میں بسا اوقات تنہا بیٹھ کر اس کے مضامین پر غور کرتا اور پلنگ پر لیٹ کر اپنے خیالات کے ساتھ مجادلہ کیا کرتا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں گڑگڑاتا اور سچے دل سے اس کی جناب میں ہاتھ پھیلاتا۔ جس قدر زیادہ میری دعاؤں کو طول ہوتا گیا جتنا زیادہ میرا فکر سلیم اور دقیق ہوتا گیا۔ اسی قدر زیادہ مجھ پر ان رسالوں کے مضامین کی خامی معلوم ہوتی گئی۔ اس لئے مجھ کو اپنے لکھے مضامین کے شائع کرنے کی جرأت ہوئی۔ ناظرین یہ میری ناچیز تحریر ہے۔ جس کو میں ادب کے ساتھ پیش کرتا ہوں اور خداوند کریم سے امید کرتا ہوں کہ اس بارہ میں ایک اور مستقل رسالہ بھی لکھ سکوں گا۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب
محمد سلیمان ولد قاضی احمد شاہ صاحب
منصور پور، ریاست پٹیالہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عرب جس میں ہادی انام، رہبر کل، محمد مصطفیa مبعوث ہوئے، قبل از بعثت اگرچہ اس میں اس قدر تمدنی خرابیاں بڑھ گئی تھیں کہ تمام ملک فسق وفجور، قتل وغارت، قمار وزنا، باہمی جنگ وجدل کی کالی کالی گھٹاؤں سے گھرا ہوا تھا اور ہر چہار طرف مصیبت کی مہیب اور خوفناک صورتیں دکھلائی دیتی تھیں۔ مگر مذہبی دنیا کا اس چھوٹے اور ریگستانی جزیرہ نما میں اس سے زیادہ بدتر حال تھا۔ ہبل کے سایہ میں کھڑے ہونے والے، ودکی چوکھٹ پر ماتھا رگڑنے والے، سواع کے سامنے پیشانی کو خاک آلودہ کرنے والے، یغوث کو معبود جاننے والے، یعوق کی عبادت میں سرگرمی دکھلانے والے، نسر کے پنجہ کے گرفتار، عزیٰ کی عزت کے نثار لات ومنات کو دل وجان سے زیادہ پرستش کرنے والے، اساف ونائلہ کے قدموں کے چومنے اور ان پر ذبیحوں کے چڑھانے والے، عبغب کے جناب سے ناموری وبلندی کے حاصل کرنے والے، دوران طواف میں نوجوان عورتوں کا ہجوم دیکھنے والے، انبیاء کی تصاویر کا تصور باندھنے والے، نامور شخصوں کو مقدس اور پھر معبود کے درجہ تک پہنچا
دینے والے، اپنے گزشتہ بزرگوں کی روحوں کی تعظیم میں استہان قائم کرنے والے، غرض بیسیوں قسم کے بت پرست موجود تھے۔ خدا کی خدائی کے منکر، قیود قانونی سے آزاد، بندش ہائے رسمی سے وابستہ، خواہشات طبعی کے مرید، لامذہبی پر نازش کرنے والے بکثرت پائے جاتے تھے۔ نام کے خدا پرست مگر لامذہبوں کے زیردست۔ وحی اور نبوت سے انکار کرنے والے اور غیرمعلوم قدرت کو اپنے وجود کا خالق ماننے والے بھی موجود تھے۔ صائبی واسماعیلی یہودی وعیسائی بھی اپنے اپنے تقدس وصدق کے دعاوی کو لئے ہوئے تشریف فرما تھے۔ توہمات باطلہ کے گرفتار۔ ارواح طیبہ وخبیثہ کے تصرفات کے قائل۔ سحر وکہانت کے مصدق بھی عموماً سب میں جلوہ گر تھے۔ غرض مدنی ومذہبی لحاظ سے عرب دنیا بھر کی خرابیوں، شرارتوں، بدخصلتوں، کمینہ عادتوں، سرکشیوں، تمردیوں کا ایسا کامل مجموعہ ہوگیا تھا کہ گویا عالمگیر رزائل کی مجلس متحدہ میں دنیا بھر کے فسق وفجور نے اپنے اپنے چیدہ وسربرآوردہ ڈیلی
گیٹ (وفود) جمع کر دئیے تھے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ عرب کی یہی بدترین حالت جو ابتدائے آفرینش سے کسی ملک کے حصہ کی ایسی نہ ہوئی تھی۔ اس رحمت عالم کے نزول کا باعث ہوئی اور اس رحمۃللعالمین کی بعثت کا سبب ومحل ٹھہری۔ جس کی بشارتیں ابراہیم وداؤد وعیسیٰ علٰی نبینا وعلیہم السلام دیتے اور ان کی مدح کا گیت گاتے رہتے تھے۔ میں یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ عرب کی یہ مجموعی اور لاانتہاء خرابیاں ہی خاتم النّبیین کا مقام بعثت قرار دئیے جانے کا موجب تھیں۔ کیونکہ ان مختلف اور لاشمار مذاہب اور رسوم وعقائد وتوہمات کے بندوں کا مہذب وآزاد کردینا تمام دنیا کے (جس میں انہی کے مذاہب کے ظل وعکس موجود تھے اور ہیں) مہذب وآزاد کردینے کا ذریعہ وثبوت تھا۔ وہ ہادی انام سید الرسل رحمۃ للعالمین امی گویان بزبان فصیح از الف آدم ومیم مسیح اپنے سے پیشتر تمام انبیاء کی بعثتوں کو اپنے میں لئے ہوئے ہدایت خلق کے لئے اٹھا اور جھوٹے مذہب اور جھوٹے عقلاء کے بندھنوں کو توڑ تاڑ کر ایک حبل المتین سے ان کے تفرق وانتشار کو مضبوط جکڑ دیا۔ انصاف کی آنکھوں کے اندھے، مذہبی تعصب کی پٹی باندھنے والے بھی اس کامل ہدایت ورشد اور نور کا انکار نہیں کر سکتے۔ جو عرب کے خشک پتھروں سے چمکا اور قیصروکسریٰ کے ملک کو منور اور مشرق ومغرب کو روشن کر گیا۔
اب صاحب ناقوس اکبر، ہادی عالمa کی ہدایت کاملہ راشدہ وبالغہ وعامہ کو دیکھئے کہ کس طرح پر مشرکین عرب وبت پرستان عجم کے کفر وشرک کو بیخ وبن سے اکھیڑا اور کس طرح پر اہل کتاب کی تحریفات واغلوطات کے طلسم کو توڑا ہے اور کیونکر مدنی عالم میں ارتفاقات روحانی اور انتظام ہائے قانونی سے ازسرنو حیات بخشی ہے اور کیونکر اس مقدس قانون کو جس کے ملنے پر مستنجی بنی اسرائیل کو چالیس یوم کا میقات پہاڑی کے اوپر کرنا پڑا تھا اور جس کے اصل صحیفوں کو اوّلاً بابل ونینوا کے ظالم بادشاہوں کے دستبردوں نے پھر ثانیاً حربا سرشت علماء یہود کا گم کر دینا اور کچھ سے کچھ بنادینا چاہتا تھا۔ پاک ترمیمات واصلاحات سے فطرت انسانی کے مطابق بنایا ہے۔ ہاں! نبیa کی رسالت کے فرائض یہ تھے کہ جو طریق منہاج ابراہیمی سے موافق ہوں اور جو سنت ہائے راشدہ کے تغیر وتبدل کے بغیر چلی آتی ہوں ان کو اور زیادہ استحکام کے ساتھ قائم کر دیں اور جن میں تحریف یا افساد یا شعائر شرک
وکفر مل گئے اور شامل ہوگئے ہوں ان کا ابطال فرمادیں اور جن امور کا تعلق عادات ومعاملات سے ہو، اس کے آداب ورسوم ومکروہات وغیرہ کو ظاہر کر دیں اور رسوم فاسدہ سے نہی اور طریق ہائے صالحہ کا امر فرمادیں اور جس مسئلہ شریعت کو پہلی امتوں نے چھوڑ رکھا ہو یا انبیاء سابق نے اس کو مکمل نہ کیا ہو اس کو نہایت تروتازگی دے کر پھر رائج فرمادیں اور اتمام کے ساتھ تکمیل کو پہنچا دیں۔ چنانچہ ہم اس جگہ پر ان چند آیات کو لکھیں گے جن کا تعلق اہل کتاب یہود ونصاریٰ سے ہے۔ نصاریٰ نے اقانیم ثلثہ، باپ، بیٹا، روح القدس، تین ایک، ایک تین، کا مسئلہ کھڑا کیا تو خدائے کریم نے ہمارے سید ومولا کی زبان سے پڑھوایا۔
پھر یہ ثابت کرنے کے واسطے کہ یہ عقیدہ نصاریٰ کی گھڑت ہے۔ نہ عیسیٰm کی تعلیم۔
یوں فرمایا: ’’قل یا اہل الکتٰب تعالوا الٰی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ (آل عمران:۶۴)‘‘
اہل کتاب نے جو نیک بندوں کو بیٹا اور خداوندکریم کو باپ کہنے کی اصطلاح مقرر کی تھی اور بالآخر یوں ہی سمجھنے لگے تھے۔ ان کی تکذیب کی۔
ان سب نظائر پیش کردہ سے ناظرین ’’موقنین‘‘ پر ثابت ہوگیا ہوگا کہ رسول کریمa جو قرآن خدائے کریم کی جانب سے ہمارے لئے لائے اور جو ارشادات کہ آپ نے فرمائے، ان میں برابر اہل کتاب کے عقائد کی لغویت اور ان کے مسلمات کی غلطی آپ ظاہر فرماتے رہے اور جس قدر حصہ ان کے درمیان تحریف وتصریف تغیر وتبدل سے بچ رہا تھااور جو نیک صفتوں کا نمونہ بچا کھچا ان میں پایا جاتا تھا۔ ان کی تصدیق فرما کر ’’مصدق لما بین یدیہ‘‘کے مصداق صحیح بنے۔
اب ہم دیکھنا یہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ میں قرآن کریم اور رسول کریمa نے ہم کو کیا تعلیم دی۔ یہ ظاہر ہے کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا مسئلہ اور اعتقاد کچھ اسلام کا پیدا کردہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد حضرت مسیحm کا وہ ارشاد واخبار وپیشین گوئی ہے جو آپ نے ظالم فریسیوں کے پنجہ میں گرفتار ہونے سے چند روز پہلے ہی یعنی جب کہ آپ کو خدائے کریم نے ان حالات آئندہ کی خبر دے دی تھی۔ جو ان ملحقہ ایام میں آپ پر صادر وارد ہونے والے تھے۔ ملاحظہ فرمائیے متی:۳۰/۲۴، مرقس:۱۴/۱۳، لوقا:۲۵/۲۱، اعمال:۲۰/۲، یوحنا:۲۸،۲۹/۱۵۔
اور اپنے دوبارہ دنیا میں آنے کو مقامات ذیل حاشیہ میں بیان کیا تھا۔ جس میں منجملہ مصالح متعددہ کی ایک یہ بھی مصلحت تھی کہ امت مسیحی آنے والی مصیبتوں اور سختیوں سے ہراساں اور فریسیوں کے ظلم وستم سے درماندہ ہوکر اس پاک ہدایت کو جسے حضرت مسیحm دنیا پر چھوڑ کر جاتے تھے، نہ چھوڑ بیٹھیں۔ تحریف وتصریف بھی نہ کریں اور اس امر کو یاد رکھیں کہ مسیحm تو خود دنیا پر تشریف لائیں گے۔ اس لئے وہ ایسے افعال کے مرتکب نہ ہوں جو ان کے روبرو ان کی ندامت وانفعال کا سبب ٹھہریں۔ غرض یہ عقیدہ اس زاہد اور مظلوم نبیm کی پیشین گوئی کی بناء پر عیسائیوں میں قائم ہوا اور برابر ظہور نبیa تقریباً چھ سو برس تک کمال استحکام کے ساتھ عیسائیوں میں چلا آیا اور مسیحm کا بجسد عنصری آسمان پر سے اترنا اور بادلوں پر سے اترتے ہوئے نظرآنا، مسیحیوں کا نہایت مسلم عقیدہ رہا۔ اب ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ پاک اسلام جس نے ملل متعدد کی افراط وتفریط کو دور کر کے صراط مستقیم کو قائم کیا اور ادیان سابقہ کے دروازہ تحریف کو بند کر کے ابواب تنقیح وتصحیح کو مفتوح فرمایا۔ ہم کو اس عیسائی عقیدہ میں کیا تعلیم دیتا ہے اور وہ رحمۃ للعالمینﷺ جس کی پاک زندگی کی مقصود کو رب العالمین اس آیت کریمہ میں ظاہر فرماتا ہے:’’ہو الذی بعث فی الامییّن رسولاً منہم یتلوا علیہم اٰیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (الجمعہ:۲)‘‘خدا وہ ہے جس نے ان پڑھوں میں اپنا
رسول بھیجا جو ان میں سے ہے نبی ان کو اللہ کی آیتیں سناتا ہے ان کو پاک کرتا ہے ان کو کتاب وحکمت سکھلاتا ہے۔ اگرچہ وہ نبی سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔
ہم کو اس مسیحی عقیدہ کی صحت وسقم کی نسبت کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ کیا جس طرح پر کہ مسیحیوں کے اس عقیدہ پر کہ مسیح ابن اللہ ہیں۔ رسول کریمa نے اس ارشاد ربانی کو پڑھ کر سنایا ہے۔ ’’تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرّ الجبال ہدّاً ان دعوا للرحمن ولداً (مریم:۹۰،۹۱)‘‘
کیا اس عقیدہ نزول مسیح کے تسلیم کر لینے میں یہی سکھایا گیا ہے کہ اس سے خدا کا حتمی وعدہ ٹوٹتا ہے اور مسیح کے لئے خلع نبوت قرار دینا پڑتا ہے اور مسیح کو ’’نعم الثواب وحسنت مرتفقا‘‘کی آسائشوں سے نکال کر دارالغرور میں اتارنا لازم آتا ہے اور اس سے وہ کچھ مسیح کے لئے جائز قرار دینا پڑتا ہے جو رسول کریمa کے لئے باایں علو شان نبوت جائز قرار نہیں دیاگیا؟ یا ان سب امور کا کچھ ذکر نہ کر کے اور ان سے سب خیالی مشکلات پر کچھ بھی نظر نہ ڈال کر اور ان سب قیاسی دقتوں کی کچھ بھی پرواہ نہ کر کے وہ قادر مطلق جس کی قدرت سبب ومسبب کی محتاج نہیں ہے۔ جس کے حکم کی شان:’’انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون‘‘سے آشکار ہے۔ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ خدائے کریم کے حکم سے وحی متلو وغیرمتلو کے ذریعہ سے کافہ انام اہل عالم عیسائیت واسلام کو کھول کھول کر سنادیں کہ مسیحm دنیا میں ضرور آئیں گے اور آئیں گے تو اس شان وشکوہ کے ساتھ آئیں گے اور ایسے زمانہ میں آئیں گے اور دنیا میں آکر یہ یہ کام کریں گے اور اتنے برس دنیا میں زندہ رہیں گے اور پھر وفات پائیں گے اور روضہ رسول میں مدفون ہوں گے اور قیامت کے دن آپ کے ساتھ مبعوث ہوں گے تو گویا وہ ایک مختصر لفظ جس کا استعمال حضرت مسیحm نے اپنی پیشین گوئی میں کیا تھا اور جس کی کیفیت مسیحیوں سے بہت کچھ نہفتہ وپوشیدہ تھی۔ اس کی شرح وتفسیر اس پاک رسولa نے (جس کے ارشادات کی نسبت خداوند عالم وعالمیان) فرماتا ہے:’’وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحٰی (النجم:۳،۴)‘‘{نبی اپنی خواہش سے نہیں بولتا وہ تو وحی ہے جو اسے بھیجی جاتی ہے۔} ایسی فرمائی جس سے بڑھ کر متصور نہیں اور جس میں شائبہ شک ووہم کو دخل تک نہیں۔ لیکن آج کل جو ہم سنتے ہیں اور مختلف اشتہاروں میں دیکھتے ہیں کہ موٹے موٹے حروف سے لکھ کر ظاہر کیا جاتا ہے کہ مسیح نہ
آئیں گے نہ آئیں گے۔ ہاں! جس نے آنے والے مسیح کا انتظار ہے اس کے آنے سے درحقیقت ایک ایسے شخص کا پیدا ہونا مراد ہے جو اپنی ذات میں کمالات مسیحی کو لئے ہوئے ہو اور اپنے لئے مثیل کہلائے۔ (یا یوں کہو کہ اس کا چھوٹا بھائی ہو) تو اس وقت ہمارے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگرچہ انجیل میں تحریف کا ہونا ممکن ہے اور ہمارے علماءw نے اس میں لفظی ومعنوی تحریف اکثر مقامات میں ثابت بھی کر دی ہے تو اس پیشین گوئی میں بھی تحریف وتغیر کا ہونا یا خود گھڑت پیشین گوئی کا انجیل میں شامل کیا جانا ہمارے نزدیک ممکن الوقوع اور مسلّم القیاس ہے۔ لیکن کیا ہم سب مسلمانوں کے عقائد میں اسلام کے جمیع متفرق فرقوں کے عقائد میں کسی کے نزدیک یہ بھی ممکن متیقن مظنہ یا قرین قیاس یا مسلم ہے کہ وہ رسول مقبولa بھی جن کو ’’بلغ ما اننزل الیک (المائدہ:۶۷)‘‘ کا امر واجب الاذعان اور اس کے ساتھ ہی’’وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ (المائدہ:۶۷)‘‘کی تہدید بھی شامل ہے اور جس کی ہدایات کی نسبت رب کریم اہل کتاب کو یوں فرماتا ہے۔ ’’یااہل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثیراً مما کنتم تخفون من الکتاب (المائدہ:۱۵)‘‘ہم سب مسلمانوں کو جو دل وجان سے آپa پر ایمان لائے اور صرف آپa کی ہدایت سے ہم نے قرآن کو قرآن اور خدا کو خدا سمجھا۔ مغضوب عیسائیوں کی تحریف کردہ یا تحدیث کردہ یا وضع کردہ پیشین گوئی پر ایمان لانے کے لئے فرمادیں اور جو رسول خدا کو ’’یا اہل الکتاب لم تلبسون الحق باالباطل وتکتمون الحق وانتم تعلمون (آل عمران:۷۱)‘‘کہہ کر ان کو جھٹلاتے تھے۔ وہ خود تلبیس کرنے لگیں؟ اور حضرت مسیح موعودm نے بھی جن علامات وآثار کو اپنی پیشین گوئی میں بیان نہ کیا تھا، ان کو نبیa باوجود اصل واقعہ کے موضوع ومطرود ہونے کے بیان کریں؟ اور نہایت استحکام کے ساتھ مسلمانوں کے دل میں اس عقیدہ کو جمادیں جو دراصل غلط ہے اور جس کے شعبے قدرت کے قانون کو توڑتے اور مسلمانوں کو جناب نبوت مآب میں گستاخ بناتے؟ یا ایک نبی روح اللہ کے کسر شان کا موجب ہوتے ہیں اور بعض اوقات ہمارے معتقدات کو شرک تک پہنچا دیتے ہیں۔ جب ہمارا سوال دل ہی دل میں اس قدر طول پکڑتا ہے تو ایمان کا جوش اور اسلام کی غیرت اور نبیa کے پاک نام سے مخلصانہ محبت فوراً ان لغویات کی تردید کرتے ہیں کہ خبردار! رسول اللہ a کی جناب پاک میں یہ بیہودہ خیال
نہ کر، معصوم نبی کی شان میں تہمت نہ تراش، چاند پر تھوکنا اپنے منہ پر تھوکنا ہے اور آفتاب پر غبار ڈالنا اپنی آنکھوں کو خاک آلود کرنا ہے۔
کار پاکاں را قیاس خود مگیر
مگر میں کہتا ہوں کہ اگر مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا جو انجیل کی تعلیم ہے اور مسیحائیوں کا عقیدہ ہے۔ اس کا طلسم صرف اتنی اظہار حقیقت سے ٹوٹ سکتا تھا؟ کہ اس کے مثیل کا دنیا میں پیدا ہونا مان لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ رسول اللہ a نے کیوں نہ عیسائیوں کے سامنے ایسا ہی کچھ بیان فرمایا اور کیوں نہ ان کو یقین دلایا کہ تم مجاز کو حقیقت سمجھتے ہو اور مسیحm کی دقیق تعلیم کو نہیں سمجھتے۔ جس مسیح کا تم انتظار کرتے ہو وہ تو میرے امتیّوں میں سے ایک امتی ہوگا۔ جو کمالات باطنی میں مسیح کا ایسا مثیل ہوگا کہ کشفی نظر بھی مشکل سے دونوں میں فرق وامتیاز کر سکے گی اور اسی لئے وہ ابن مریم کہلائے گا۱؎۔ ظاہر ہے کہ نبیa نے ایسا نہیں کیا اور مسیحیوں کا ستون جو ایک فقرہ سے گر سکتا تھا آپa نے نہیں گرایا اور ان کے خیالات کی غلطی اور انجیل کی تعلیمات کی خامی اور عیسائیوں کے مفہومات کی کجی کو ظاہر نہیں فرمایا تو کیا کوئی مخالف مذہب انصاف کے ساتھ اس روئیداد پر فیصلہ دے سکے گا کہ مسلمانوں کے پیغمبر نے اپنے متبعین اور پیروؤں کو کامل تعلیم دی اور اپنی رسالت کا حق ادا کیا؟ نہیں نہیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ تو کہے گا کہ عیسائیوں کے پیغمبر نے ایک پیشین گوئی کو چیستان بنایا اور محمدیوں کے پیغمبر نے اسے اور بھی پیچیدہ کیا۔ نہ پہلے نے حق رسالت ادا کیا نہ دوسرے نے فرض تبلیغ کو نبھایا۔ ’’معاذ اللہ من ہذہ الہفوات‘‘
۱؎اس کا یہ جواب دینا کہ: ’’وہ بغرض آزمائش خلق اللہ ایسے ایسے استعارات کا مستعمل ہونا کوئی انوکھی اور بے اصل بات نہیں۔‘‘ (ازالہ ص۵۲۰، خزائن ج۳ ص۳۷۹) بالکل لغو اور ناکافی ہے۔ نزول مسیح ابن مریم کا مسئلہ کچھ رسول اللہ a نے ہی مسلمانوں میں شائع نہیں فرمایا بلکہ مسیح ابن مریم کے متعلقہ تمام ترقصے میں خواہ ولادت سے متعلق ہیں، خواہ نبوت سے خواہ ان کی صلب وقتل سے خواہ ان کے رفع الیٰ السماء سے خواہ نزول علی الارض ہے۔ یہودونصاریٰ کے دو بڑے گروہوں میں رب کریم نے حکم بن کر انہ لقول فصل وما ہو بالہزل کی شان کو دکھلایا ہے اور دونوں گروہوں کے معتقدات میں سے جو حصہ درست اور صحیح تھا اسے درست وصحیح کہا اور جو حصہ غلطی یا کفر وشرک سے بھرا ہوا تھا اسے غلط یا کفر وشرک بتلایا ہے۔ پس ایسی حالت میں کہ دو فریق متنازعین کے درمیان ایک فیصلہ صادر کیا جائے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
مسلمانو! سمجھے کہ یہی آج کل کا گھڑا ہوا مسئلہ نبیa کی نبوت کی کتنی تکذیب کرتا ہے اور دواولوالعزم مرسلین کو کیسا دغا باز اور ’’یکے وزد باشدد دیگر پردہ دار‘‘ کا مصداق ٹھہراتا ہے تو کیا وہ نبی جو دنیا میں جمہورناس کو ظلمت سے نور میں لانے کے لئے آیا ہے اور جس نے تمام روئے زمین کے مذاہب باطلہ کو ’’جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا (بنی اسرائیل:۸۱)‘‘پڑھ کر سنایا۔ جس نے اہل کتاب کو راست بازی اور انصاف سے ملزم ٹھہرایا۔ جس نے یہود اور نصاریٰ کو ان کے افعال نامرضیہ واعمال ملعونہ پر شرمایا۔ جس نے موسیٰ اور عیسیٰn کی آسمانی تعلیمات کو نفسانی تاویلات سے علیحدہ کر کے دکھلایا۔ اب ہماری اس نئی روشنی کے زمانہ کے عالم اس نبی کی نسبت یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے بھی ہم کو دھوکہ میں رکھا اور جس ناقابل برداشت انتظار کی شدائد مسیحی اٹھا رہے تھے، اسی مصیبت میں شریک ہونے کا اپنی کل امت مرحومہ کو حکم دیا؟ توبہ توبہ اور اگر بالفرض وہ کہیں کہ نہیں۔ نبیa نے ہم کو مسیحیوں کی غلطی کی اطلاع دی اور بتلایا۔ مگر ہم نے اس کو نہ سمجھا اور خیال نہ کیا اور مجاز کو حقیقت سمجھ کر مسیحیوں کے ہم کیش بن گئے تو میں کہتا ہوں کہ کیوں ایسا ہوا؟ اس کا سبب بھی یہی نکلے گا کہ نبیa نے ایسے ناقص المعنی الفاظ کا استعمال کیا اور ایسا مغلق پیرایہ اختیار فرمایا اور ایسے تعقید لفظی ومعنوی کو کام میں لائے کہ خود اس عہد مبارک مشہود لہا
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)کون عقلمند یہ امر تجویز کرسکتا ہے؟ کہ اس فیصلہ میں اصل حقیقت اس لئے ظاہر نہیں کی گئی کہ فلاں تیسرا شخص بھی اصل حقیقت سے واقف نہ ہو جائے۔ یاد رکھو قرآن مجید اور رسول کریم نے کچھ اس مسئلہ ہی میں نہیں کہ فلاں تیسرا شخص بھی اصل حقیقت سے واقف نہ ہو جائے۔ یاد رکھو! قرآن مجید اور رسول کریمa نے کچھ اس مسئلہ ہی میں نہیں بلکہ ان تمام مسائل میں جن میں اس زمانہ کے موجودہ مذاہب کے لوگوں میں اختلاف پڑے ہوئے تھے، خوب کھول کھول کر فیصلے سنائے ہیں۔ خصوصاً اہل کتاب کی تو تواریخی غلطیاں تک بھی ظاہر کر دی ہیں۔ پھر معتقدات وایمانیات میں تو فروگزاشت کیا کرنی تھی۔ کیا تم اس کو تعجب نہیں سمجھتے کہ نصاریٰ کہتے تھے۔ ابن مریم دنیا پر پھر آئے گا۔ بادشاہت کرے گا۔ تلوار چلائے گا اور یہود کہتے تھے کہ وہ مر گیا۔ کبھی مردہ بھی پھر آیا ہے۔ رسول اللہ a دونوں کا بیان سن لیں اور یوں ارشاد کریں۔ ہاں! ابن مریم ضرور آئے گا اور قوانین اسلام پر چلا چلے گا تو اب ان بیانات پر کیا سمجھا جاتا ہے۔ وہی ابن مریم جس کے بارہ میں جھگڑا اٹھایا کوئی اور، اگر اور ہی مراد تھا تو متخاصمین کا کیا فیصلہ ہوا؟ نیز سوال از آسمان وجواب از ریسمان اور کس کو کہتے ہیں؟
بالخیر میں حضور کے فیضان صحبت سے مستفیض ہونے والے اور کلام معجز نظام نبویa کے سننے اور محفوظ رکھنے والے سب کے سب مفہوم نبوی ومقصود محمدیa کو صحیح صحیح سمجھ نہ سکے اور یہی نہ سمجھنے کی ارث وارثان علم نبوت کو طبقہ درطبقہ پشت درپشت آج تک ملتی رہی؟
کیوں حضرت (مرزاجی)! آپ کی یہی توجیہہ کہ علماء نے نہیں سمجھا اور آج تک ۱۳سوبرس سے کسی کا خیال وذہن بھی ان معانی کی جانب منتقل نہیں ہوا۔ جس کو نہایت عمدہ دلیل سمجھا اور پانچوں رسالوں میں دہرایا گیا ہے۔ کس قدر ہادی برحقk کو مضل ومہمل گو قرار دیتی ہے؟ (معاذ اللہ ) اور جو الزام کے علماء پر نہ سمجھنے کا لگایا گیا ہے اس کے ساتھ خود نبیa پر ایک حقیقت کے بیان نہ کر سکنے کا یا دانستہ بیان نہ کرنے کا اتہام کتنا بڑا ہوا جاتا ہے؟ سوچو، سوچو اور ’’تواب الرحیم‘‘ کی درگاہ میں توبہ کرو۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ناظرین کو صاف طور پر دکھلا دیں کہ مسیحیوں اور محمدیوں کا جو اعتقاد مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے پر ہے اس کی بنیاد کیا ہے اور اصل کہاں سے ہے؟
بزرگ مسلمانو! آپ ملاحظہ کریں گے کہ خدا کے دو بزرگ رسول عیسیٰ روح اللہ ومحمد رسول اللہ صلوات اللہ علیہم اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں؟ اور رسول اللہ کا ایک امتی اور مسیح روح اللہ کے منصب کا ایک شریک مدعی کیا کہتے ہیں؟ میں اس جگہ حدیث پاک اور انجیل پاک کو جدا جدا نقل کروں گا۔ گو انجیل کو ہم تحریف سے خالی نہیں جانتے اور اس سے تمسک کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ مگر جس بارہ میں انجیل کا بیان حدیث پاک کے موافق ہو اسے غلط بھی قرار نہیں دے سکتے۔ بلکہ استقرار معنی کے لئے کسی قدر مؤید ہی کہہ سکتے ہیں اور ضمناً اس مدعی کے لئے جو دونوں کے قائلین کو ملزم ٹھہراتا ہو ہم دونوں سے استشہاد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ (پہلے انجیل کے حوالہ سے ناظرین اس مسئلہ کو سمجھیں پھر اقوال رسول اللہ a سے اس پر غور فرمائیں)
۱… اور یسوع ہیکل سے نکل کر چلا گیا اور اس کے شاگرد پاس آئے کہ اسے ہیکل کی عمارتیں دکھائیں۔
۲… یسوع نے کہا کیا تم یہ سب چیزیں دیکھتے ہو۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ یہاں ایک پتھر پتھر پر نہ چھوٹے گا۔ جو گرایا نہ جائے گا۔
۳… جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آکر کہا کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور دنیا کی آخیر ہونے کا نشان کیا ہے۔
۴… یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار ہو۔ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔
۵… کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔
۶… اور تم لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں کی خبر سنو گے۔ خبردار مت گھبرائیو! کیونکہ ان سب باتوں کا ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک آخیر نہیں ہے۔
۷… کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی اور کال اور مری اور جگہ جگہ زلزلے ہوں گے۔
۸… پر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ تب وہ تمہیں دکھ میں حوالہ کریں گے اور میرے نام کے سبب سب قومیں تم سے کینہ رکھیں گی۔
۹… اور اس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑائے گا اور ایک دوسرے سے کینہ رکھے گا۔
۱۰… اور بہت جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔
۱۱… اور بے دینی پھیل جانے سے بہتوں کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۔
۱۲… پھر جو آخر تک سہے گا وہی نجات پائے گا۔
۱۳… اور بادشاہت کی یہ خوشخبری ساری دنیا میں سنائی جائے گی تاکہ سب قوموں پر گواہی ہو اور اس وقت آخر آئے گا۔
۱۴… پس جب تم ویرانی کی مکروہ چیز کو جس کا دانیال نبی کی معرفت ذکر ہوا۔ مقدس مکان میں کھڑے دیکھو گے۔
۱۵… تب جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔
۱۶… جو کوٹھے کے اوپر ہو اپنے گھر سے کچھ نکالنے کو نہ اترے۔
۱۷… اور جو کھیت میں ہو، اپنا کپڑے اٹھا لینے کو پیچھے نہ پھرے۔
۱۸… پر ان پر، ان پر افسوس جو ان دونوں میں حاملہ اور دودھ پلانے والیاں ہوں۔
۱۹… سو دعا مانگو کہ تمہارا بھاگنا جاڑے میں بار کے دن نہ ہو۔
۲۰… کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہو گی جیسے دنیا کے شروع سے اب تک نہ ہوئی ہو اور نہ کبھی ہو گی۔
۲۱… اور اگر وے دن گھٹائے نہ جاتے تو ایک تن بھی نجات نہ پاتا۔ پر برگزیدوں کی خاطر وے دن گھٹائے جائیں گے۔
۲۲… تب اگر کوئی تمہیں کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔
۲۳… کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔
۲۴… دیکھو! میں پہلے سے بھی کہہ چکا ہوں۔
۲۵… پس اگر تمہیں دے کہیں دیکھو وہ جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے تو باور مت کرو۔
۲۶… کیونکہ جیسی بجلی پورب سے کودتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہوگا۔
۲۷… کیونکہ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہوں گے۔
۲۸… اور فی الفور ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔
۲۹… اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاٹی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔
کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور نشان وکرامتیں دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے اور ۲۶، اس وقت انسان کے بیٹے کو بادلوں پر بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے۔
(لوقا:۱۷، باب:۳۶،۲۷تا۳۱، آخر باب)
’’تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ اگر تم مجھے پیار کرتے تو میرے اس کہنے سے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے۔ کیونکہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے۔‘‘
(یوحنا،باب:۱۵، آیت:۲۸)
’’اور اب میں نے تمہیں اس کے واقعہ ہونے سے پیشتر کہا ہے تاکہ جب ہو جائے تم ایمان لاؤ۔‘‘
(یوحنا، باب:۱۵، آیت:۲۹)
’’آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔‘‘
(یوحنا، باب:۱۵، آیت:۳۰)
(رواہ مسلم ج۲ ص۴۰۰تا۴۰۲، باب ذکر الدجال)
نواس بن سمعانq سے روایت ہے کہ حضورa نے فرمایا کہ تمہارے اوپر
دجال کی رسوائی کا خوف مجھ کو زیادہ ہے۔ اگر دجال تم میں نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود ہوا تو ہم سے پہلے میں اس کو الزام دوں گا اور تم کو اس کے شر سے بچاؤں گا اور اگر وہ نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود نہ ہوا تو ہر مرد مسلمان اپنی طرف سے اس کو الزام دے گا اور حق تعالیٰ میرا خلیفہ اور نگہبان ہے۔ ہر مسلمان پر، البتہ دجال نوجوان گھنگرالے بالوں والا ہے۔ اس کی آنکھ میں ٹینٹ ہے۔ گویا کہ میں اس کی مشابہت دیتا ہوں۔ عبدالعزی بن قطن کے ساتھ (یہ ایک کافر تھا) سو جو شخص کہ تم میں سے اس کو پاوے چاہئے کہ سورۂ کہف کے شروع کی آیتیں اس پر پڑھے۔ ہاں! وہ شام اور عراق کے درمیان کے حصہ سے نکلے گا تو خرابی ڈالے گا۔ دائیں اور فساد اٹھائے گا بائیں۔ اے خدا کے بندو! ایمان پر ثابت رہو۔ اصحابi بولے یا رسول اللہ a وہ زمین پر کب تک ٹھہرے گا۔ حضورa نے فرمایا چالیس دن۔ ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر اور دوسرا دن، مہینہ برابر اور تیسرا دن، ہفتہ برابر اور باقی دن تمہارے دنوں جیسے۔ اصحابi بولے یا رسول اللہ a وہ دن جو سال کے برابر ہوگا۔ ہم کو ایک ہی دن کی نماز اس میں کفایت کرے گی۔ حضورa نے فرمایا کہ نہیں تم اندازہ کر لینا۔ اس دن میں بقدر اس کے (یعنی جتنی دیر بعد نماز اب پڑھتے ہو) اصحاب بولے یا رسول اللہ a اس کی شتاب روی زمین پر کیونکر ہوگی۔ حضورa نے فرمایا۔ جیسے وہ مینہ جس کو ہوا پیچھے سے اڑاتی ہے۔ سو وہ ایک قوم کے پاس آئے گا تو ان کو کفر کی طرف بلائے گا۔ وہ اس پر یقین لے آئیں گے اور اس کی بات مانیں گے۔ وہ آسمان کو حکم کرے گا۔ وہ پانی برسائے گا اور زمین کو حکم کرے گا۔ سو وہ گھاس اور اناج جمادے گی اور شام کو ان کے مویشی آئیں گے۔ بہ نسبت سابق کے دراز کوہان اور کشادہ تھن ہوکر اور کوکھیں خوب تن کر یعنی موٹے تازے ہو جائیں گے۔ پھر دجال دوسری قوم کے پاس آئے گا تو ان کو کفر کی طرف بلائے گا تو وہ اس کی بات نہ مانیں گے تو ان کی طرف سے ہٹ جائے گا اور ان پر قحط وخشکی پڑے گی۔ ان کے ہاتھوں میں ان کے مالوں میں سے کچھ نہ باقی رہے گا اور دجال ویران زمین پر نکلے گا اور اس سے کہے گا کہ اے زمین اپنے خزانے نکال تو وہاں کے مال اور خزانے ظاہر ہوکر اس کے پاس جمع ہو جائیں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں رانی کے گرد ہجوم کرتی ہیں۔ پھر دجال ایک جوانمرد کو بلائے گا اور اس کو تلوار سے مارے گا۔ سو اس کو قتل کر کے دو ٹکڑے کر ڈالے گا۔ جیسا نشانہ دو ٹوک ہو جاتا ہے۔ پھر اسے بلائے گا سو وہ جوان سامنے آئے گا۔ چہرہ دمکتا ہوا ہنستا
ہوا سودجال اسی حال میں ہوگا کہ ناگاہ حق تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ تو عیسیٰm اتریں گے سفید مینار پر شہر دمشق کے مشرق کی طرف زرد ورنگین جوڑا پہنے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے تو جب کہ عیسیٰm اپنا سر جھکائیں گے تو پسینا ٹپکے گا اور جب کہ اپنا سر اٹھائیں گے تو موتی سی بوندیں بہیں گی۔ جس کافر کو ان کے دم کی بھاپ لگے گی۔ تو وہ مر جائے گا اور ان کا دم پہنچے گا۔ جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی۔ پھر عیسیٰm دجال کو تلاش کریں گے۔ یہاں تک کہ اس کو باب ’’لد‘‘ پر پائیں گے۔ (’’لد‘‘ اسرائیل میں گاؤں ہے) سو اس کو قتل کریں گے۔ پھر عیسیٰ ابن مریمm کے پاس وہ لوگ آئیں گے۔ جن کو خدا نے دجال سے بچایا ہوگا تو شفقت سے ان کے چہرہ کو سہلا دیں گے اور ان کو ان کے بہشت کے درجات کی خبردیں گے۔ سو اسی حال میں ہوں گے کہ ناگاہ، حق تعالیٰ عیسیٰm کو حکم کرے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالنے ہیں کہ کسی کو ان کی لڑائی کی طاقت نہیں۔ سو پناہ میں لے جا میرے مسلمان بندوں کو طور کی طرف اور خدا بھیجے گا یاجوج اور ماجوج کو اور وہ ہر ایک بلندی سے نکل پڑیں گے تو ان کے پہلے لوگ طبرستان کے دریا گزریں گے تو پی جائیں گے۔ جتنا پانی کہ اس میں ہوگا اور ان کے پچھلے لوگ جب وہاں آئیں گے تو کہیں گے کہ کبھی اس میں بھی پانی تھا۔ پھر چلیں گے یہاں تک اس پہاڑ تک پہنچیں گے۔ جہاں درختوں کی کثرت ہے۔ یعنی بیت المقدس کا پہاڑ تو وہ کہیں گے البتہ ہم زمین والوں کو تو قتل کر چکے۔ آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں۔ تو اپنے تیروں کو آسمان کی طرف چلائیں گے۔ سو خدا ان کے تیروں کو خون آلود کر کے ڈالے گا اور خدا کا پیغمبر عیسیٰm اور ان کے اصحاب گھرے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک بیل کی سری افضل ہو گی۔ سو اشرفی سے جو آج تمہارے نزدیک ہے۔ (یعنی کھانے کی نہایت تنگی ہو گی) پھر عیسیٰ نبی اللہ اور ان کے اصحاب خدا سے دعا کریں گے تو حق تعالیٰ یاجوج ماجوج پر عذاب بھیجے گا۔ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہوگا تو صبح تک مرجائیں گے۔ ایک جان کا سامرنا، پھر عیسیٰm رسول اللہ اور اس کے اصحاب زمین پر اتریں گے تو تمام زمین پر ایک بالشت برابر جگہ ان کے سڑاند اور گندگی سے خالی نہ پائیں گے۔ پھر عیسیٰ رسول اللہ اور اس کے اصحاب خدا سے دعا کریں گے تو حق تعالیٰ یاجوج ماجوج پر پرندے بھیجے گا۔ جیسے بڑی گردنیں اونٹوں کی۔ سو وہ ان کو اٹھا لے جائیں گے اور ان کو پھینک دیں گے۔ جہاں خدا کو منظور ہوگا۔ پھر خدا ایسا پانی برسائے گا
کہ کوئی گھر مٹی کا اور اون کا اس پانی سے باقی نہ رہے گا۔ سو خدا زمین کو دھو ڈالے گا۔ یہاں تک کہ زمین کو حوض یا باغ یا صاف میدان کی طرح کر دے گا۔ پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل جما اور اپنی برکت کو پھیر دے تو اس دن ایک انار کو ایک گروہ کھائے گا اور اس کے چھلکے کو بنگلہ بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھیں گے اور دودھ میں برکت ہوگی۔ یہاں تک کہ دودھار اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کو کفایت کرے گی اور دودھار گائے ایک برادری کے لوگوں کو کفایت کرے گی اور دودھار بکری ایک جدی لوگوں کو کفایت کرے گی۔ سو اسی حالت میں ہوں گے کہ یکایک حق تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجے گا کہ ان کی بغلوں کے نیچے لگی اور اثر کر جائے گی تو ہر مومن اور ہر مسلم کی روح کو قبض کر لے گی اور بڑے بدذات لوگ باقی رہ جائیں گے۔ آپس میں بھڑیں گے۔ گدھوں کی طرح۔ سو ان پر قیامت قائم ہو گی۔
اگرچہ صحاح میں اس مضمون کی احادیث متعددہ ہیں۔ مگر میں نے اسی ایک حدیث پر اکتفا کیا حتیٰ کہ اس حدیث کا ذکر بھی نہیں کیا۔ جس کو امام مسلم نے ابی ہریرہq سے روایت کیا ہے۔ جس میں مسلمانوں کے لشکر کا مدینہ سے نکلنے، ثلث کے بھاگنے، ثلث کے شہید ہونے ثلث کے فتح یاب ہونے۔ فتح قسطنطنیہ۔ ارادہ تقسیم اموال۔ اطلاع خروج دجال۔ مسلمانوں کا مدینہ میں واپس آنا۔ پھر شام میں پہنچنا، عیسیٰk کا اترنا مذکور ہے۔ تاہم اصحاب ایقان واہل ایمان کے لئے نبیa کے ارشادات پر یقین کرنے اور شک وشبہ کو مٹانے کے واسطے یہی کافی ہے۔
اس حدیث کے آدھے حصے کا ترجمہ مرزاقادیانی نے ازالہ میں بھی کیا ہے۔ مگر واہ رے شوخی طبع۔ ترجمہ کرتے کرتے بھی کتنے ایچ پیچ ڈالے ہیں۔ ایک فقرہ کا ترجمہ کیا اور دو تین ورق غیرمربوط لکھ ڈالے۔ پھر اسی طرح تاکہ اصل حدیث کا مطلب ناظرین کی سمجھ میں ذرا نہ آئے۔ غرض اسی حدیث کے آدھے حصہ کے ترجمہ کو ص۲۰۳سے لے کر ص۲۲۸ تک طول دیا ہے اور پھر تمام حدیث کے مضامین کی نسبت لکھا ہے کہ وہ عقل وشرع سے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ اسی ضمن میں جو بعض الفاظ ایسے آگئے ہیں جن کی تاویل آپ (مرزاقادیانی) کر سکتے ہیں۔ ان کی تاویل جھٹ کر کے اپنے آپ کو مصداق صحیح ان کا بنالیا ہے۔ مثلاً زرد کپڑوں سے مراد بیمار ہونا دمشق سے مراد قادیان بتلانا۔ دم کی بھاپ سے حجج قاطعہ
مراد لینا۔ دو فرشتوں سے مراد علوم عقلی ونقلی بیان کرنا۔ منارہ شرقی سے مراد اپنی مسجد کے منارہ کو ٹھہرانا اور اس کے ساتھ ایک الہامی عبارت کا جڑ دینا۔ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء‘‘ (ازالہ اوہام حاشیہ ص۷۵، خزائن ج۳ ص۱۳۹)
لیکن جہاں تاویل سے بالکل ہی رہ گئے ہیں اس کا ترجمہ بھی چھوڑ دیا ہے یا چپ سادھ کر خاموشی سے کنارہ کیا ہے۔ (مثلاً عراق وشام میں دجال کا فساد ڈالنا۔ یا ایک شخص کو قتل کر کے پھر زندہ کرنا۔ حضرت عیسیٰ کا دجال کو باب لد پر قتل کرنا۔ مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جانا۔ میوہ اور دودھ کی برکت۔ ایک ہوا کے جھونکے سے کل ایمانداروں کا مرجانا) غرض اے ناظرین ازالہ میں اس حدیث کے ترجمہ کو جو مرزاقادیانی نے لکھا ہے دیکھو اور جو کچھ ان کے دل پر اس حدیث کے مضامین سے گزرتی ہے اس کا اندازہ کرو۔ حدیث ایک ہے۔ اسی حدیث کو ایک جگہ بالکل صحیح مانتے ہیں اور اپنی بشارت اس میں سے نکالتے ہیں۔ اسی کے ایک حصہ کی نسبت ایسا سکوت ہے گویا حدیث میں اس عبارت کے ہونے کا علم وخبر تک بھی نہیں۔ اسی کے ایک حصہ کی وجہ سے ایسے غیظ وغضب میں بھر جاتے ہیں کہ رسول اللہ a کے ایک صحابی پر وضعی حدیث بنانے کا اتہام لگانے لگتے ہیں اور چیخ اٹھتے ہیں کہ اس کا بانی مبانی نواس بن سمعانq ہے۔ یہ سب کچھ لکھ کر جب بھول جاتے ہیں تو اسی حدیث کے مطالب سمجھنے کے واسطے حکیم نورالدین کا درخواست کرنا اور خود ملتجی بارگاہ الٰہی ہونا اور کشفی طور پر الفاظ حدیث کے معانی کا اپنے پر ظاہر ہو جانا تحریر کرتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ حضرت! اگر اس حدیث کے مضامین عقل وشرع کے خلاف تھے۔ اگر اس کے بانی مبانی نواس بن سمعانq ہی تھے۔ اگر بخاریv نے اس کو موضوع سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ اگر آپ کی تحقیق میں یہ حدیث مسلم کی دوسری حدیثوں سے بھی بالکل منافی ومبائن تھی تو پھر آپ نے اپنے حکیم نورالدین کو بھی یہی جواب کیوں نہ دے دیا اور خدا نے بھی کیوں اس کے معانی آپ کو بتلائے اور یہ نہ کہہ دیا کہ اس کے مضامین تو عقل وشرع کے خلاف اور شرک سے پر اور الوہیت کے تمام اقتدار ایک دجال خبیث کو دینے والے ہیں۔ اللہ اکبر! اس تحریر پر ’’وبعضہ بعضا‘‘پر بھی لوگ خیال کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی بڑے انشاء نگار ہیں۔
اب ہم رفع مظنہ کے لئے دوسری بحث کرتے ہیں۔ ان سب بینات وشواہد اور علامات صادقہ واخبار صحیحہ کا جواب اگر مرزاقادیانی نے کچھ دیا ہے تو یہ کہ یہ سب کچھ استعارہ ومجاز ہیں اور تاکہ اس جواب کے قبول کرنے کے لئے نفوس راغب اور قلوب طالب ہو جائیں۔ مرزاقادیانی نے یہ تمہید بھی بیان کی ہے۔ ’’خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی ارادوں کا خیال بھی رہے۔ نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنی جو ہجو ملیح کے حکم میں ہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خداتعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے۔ صرف دہقانی لفظوں تک محدود خیال کر لیا جائے۔‘‘ جو مرزاقادیانی بتلائیں اگر قرآن کے الفاظ دہقانی ہیں تو پھر ان کا متکلم کون ٹھہرا؟ آپ تو ان سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ جو قرآن کو مخلوق کہتے ہیں۔ فقط! ’’ہم نہیں سمجھتے کہ ان نہایت دقیق اسرار کے مقابلہ پر جو خداتعالیٰ کے کلام میں ہونے چاہئیں اور بکثرت ہیں۔ کیونکر بدشکل اور موٹے اور کریہہ معنی پسند کئے جاتے ہیں۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۴،۱۵، خزائن ج۳ ص۵۸)
ناظرین! یہ ایک ایسی تمہید ہے جو اپنی ظاہری لفظی صورت سے شیدائیان جمال قرآن کے شیفتہ کرنے کے لئے دلکش ہے۔ مگر اس کی معنوی وباطنی حالت پر نظر ڈالو کہ اس سے کیا معنی پیدا ہوتے ہیں کہ قرآن کے مسائل طلسم بطلیموس کے سے اشارہ ہیں اور قرآن کے دقائق رموزات اسقلینوس سے بھی کچھ بڑھ کر ہیں۔ جن کو استاد اور خاص شاگرد کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا اور قرآن کی بادشاہت میں سوا حکماء عظام کے اور کسی کو جگہ ہی نہیں مل سکتی۔ قرآن جاہلوں پر اپنا دروازہ فضل کا بند کرتا ہے اور معرفت الٰہی وعرفان کو فلسفیوں اور اعلیٰ درجہ کے نکتہ رسوں کے لئے خاص ٹھہراتا ہے۔ کیوں حضرت آپ یوں کہیں اور خدائے تبارک وتقدس یوں فرمائے: ’’ہو الذی بعث فی الامیین رسولاً منہم یتلوا علیہم اٰیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتٰب والحکمۃ (الجمعہ:۲)‘‘
اب بتلاؤ کہ مسلمان کسے تسلیم کریں اور کسے رد۔
بھلا وہ جو حق کی راہنمائی کرتا ہے اس کی پیروی ٹھیک ہے یا اس کی جسے خود ہی راستہ نہیں ملتا۔ جب تک کوئی اسے نہ بتلادے۔ سوچو تمہیں کیا ہوگیا اور کیسے غلط فیصلے کرتے ہو۔
مرزاقادیانی اس فلسفہ وہمی کو اپنے پاس رکھیں اور جو حکمت پاک کہ نبیa کو سکھلائی گئی اور جو کتاب کہ دی گئی۔ اسی پر سیدھے سادھے مسلمانوں کو رہنے دیں۔ ان جاہلوں ان پڑھوں پر آپ زحمت نہ کریں اور ان کو اسرار ودقائق قرآنی وایمانی سے محروم نہ سمجھنے والے قرار دیں۔ مگر ان پر اتنا فضل ہے کہ اس کا برگزیدہ نبی انہی میں مبعوث ہوا۔’’اللہم صل علٰی محمد النبی الامی وآلہٖ وبارک وسلم‘‘ اس میں شک نہیں کہ اگر حکمت سے مراد اصول منطقیانہ کا مستحضر رکھنا اور مسلمات فلسفیانہ کا ازبر کر لینا اور اسی کو سرمایہ نازش سمجھنا۔ ’’یا طلیق اللسان وبلیغ البیان‘‘ ہونا یا طبیعیات کی تجارب ومشاہدات کا ہی عمل میںلانا ہے تو صحابہ کرامi ان ملمیع کے زیوارت سے آراستہ نہ تھے۔ لیکن اگر اس سے مراد وہ روحانی ترقیات ہیں جو برکت انفاس قدسیہ نبوی ان کو حاصل ہوئیں اور وہ اعلیٰ مدارج انسانیہ پر پہنچ گئے اور جس طرح کہ آفتاب شبنم کو اٹھالیتا ہے۔ رحمت کاملہ وحکمت بالغہ نے ان کو اپنے لئے چن لیا۔ تب تو حکمت والے وہی امی وہی ناخواندہ، گلہ بان، شترران، دہقانی زندگی کے لطف اٹھانے والے۔ آزادی کے جنگلوں میں رہنے والے۔ وہ خانہ بدوش وہ بادیہ نشین ہی نکلیں گے جن کو آج مرزاقادیانی اسرارودقائق قرآنی سے بے بہرہ قرار دیتا ہے۔
ناظرین! گو مرزاقادیانی نے اپنی من گھڑت تاویلات کے لئے استعارہ ومجاز کی پناہ لی ہے۔ مگر علم بیان ومعانی میں جو تعریفات استعارہ ومجاز بیان کی گئی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ استعارہ ومجاز بھی مرزاقادیانی کی تاویلات کو پناہ نہیں دے سکتے۔ آپ صاحبان کی آگاہی کے لئے مختصر بحث استعارہ ومجاز کی بھی لکھی جاتی ہے۔ نہ سمجھنے کے لئے لفظ پر ایک واقعہ یاد آیا۔
میں اور ایک ہندو افسر فیروزپور میں ایک ہندو سادھو کو ملنے گئے۔ اس نے اپنا رسالہ اثبات تناسخ دیا۔ جس میں ویدوں سے، شاستر سے، توریت سے، انجیل سے، قرآن سے، حدیث سے، تناسخ کا اثبات کیا تھا۔ قرآن وحدیث کی کچھ عبارتیں لکھ کر اس نے یہ بھی
لکھا تھا کہ قرآن وحدیث میں تو تناسخ موجود ہے۔ مگر مسلمان اس کو نہیں سمجھتے۔ مجھ یاد ہے کہ اس نے جعفر طیارq کی حدیث سے انسان سے پرندہ ہونا ثابت کیا تھا اور لکھا تھا کہ مسلمان تسلیم نہیں کرتے۔
واضح ہو کہ استعارہ مجاز کی ایک قسم ہے اور جب تک کہ حقیقت اور مجاز دونوں کے معنی بیان نہ کئے جائیں۔ تنہا مجاز کے معنی سمجھنے میں اشکال ہے۔ حقیقت وہ کلمہ ہے کہ جس معنی کے واسطے وضع کیاگیا ہو۔ اسی معنی میں وہ مستعمل بھی ہو۔ وضع کرنے میں بھی یہ قید ہے کہ جس اصطلاح میں کلام کرتے ہیں۔ اسی اصطلاح میں مستعمل ہو اور دوسری اصطلاح میں نہ ہو۔ یاد رکھو کہ اصطلاحات تین ہیں۔ لغت، شرع، عرف۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر کلام اصطلاح لغت میں ہو رہی ہے۔ تب جو لفظ کہ اصطلاح لغت میں ایک خاص معنی کے لئے وضع کیاگیا ہو اور وہی معنی اس وقت اس کے مراد بھی ہوں تو اس کا نام حقیقت ہے۔ اس تعریف میں ہم نے استعمال ووضع کے دو لفظ بیان کئے ہیں۔ دراصل یہی بڑے قابل غور ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی لفظ کسی معنوں میں نہ استعمال ہوا ہے اور نہ وضع ہوا ہے تو وہ نہ مجاز ہے اور نہ حقیقت۔ مثلاً ہمارا مطلب یہ ہو کہ گھوڑا لاؤ اور ہم کہیں کہ کٹورا لاؤ۔ تو گھوڑا۔ کٹورے کے معنی میں جیسا کہ حقیقت نہیں۔ا سی طرح مجاز بھی نہیں۔ علیٰ ہذا شیر کہیں اور آدمی مراد لیں۔ یہ بھی ٹھیک نہ ہوگا۔ کیونکہ آدمی کے لئے شیر کہنا موضوع نہیں ہے اور اس مثال میں اگر تم کہو کہ متکلم کے علم میں چونکہ آدمی کی شجاعت کا بیان ہے۔ اس لئے درست ہے تو یہ کہنا بھی غلط ہوگا۔ کیونکہ وضع سے ہمیشہ وضع تحقیقی مراد ہوتی ہے اور وضع تاویلی کبھی بھی نہیں ہوتی اور چونکہ ہم نے اس تعریف میں یہ قید لگائی ہے کہ جس اصطلاح میں کلام کرتے ہوں۔ اس لئے ان معافی سے احتراز ہوگیا ہے جو دوسری اصطلاح میں معنی موضوع لہ میں وہ لفظ مستعمل ہو۔ مثلاً صلوٰۃ، جب ہم اصطلاح شرع میں کلام کر رہے ہوں اور پھر اثنائے کلام میں صلوٰۃ کے معنی دعا کے لیں تو اس وقت یہ معنی مجاز ہوں گے۔ کیونکہ یہ تو لغت کے معنی ہیں اور برعکس اس کے اصطلاح لغت میں صلوٰۃ بمعنی نماز حقیقت نہ کہلائیں گے۔ کیونکہ یہ تو شرع کے معنی ہیں۔ یہ تو حقیقت کی حقیقت ہے۔ مجاز وہ کلمہ ہے کہ جس معنی کے واسطے وضع کیاگیا ہے۔ اس معنی میں استعمال نہ کریں۔
بلکہ سوائے اس کے دوسرے معنی میں استعمال کریں اور کوئی ایسا قرینہ قوی بھی قائم ہو۔ جس سے معلوم ہو جائے کہ وہ کلمہ اس وقت معنی موضوع لہ کے غیرمیں مستعمل ہوا ہے۔
وضع کے معنی ہیں۔ کسی لفظ کا ایسے معنی خاص کے لئے معین کر دینا۔ جو بذات خود اس معنی کے لئے دلالت کرے۔ پس ظاہر ہے کہ بذات خود کی قید سے جو تعریف وضع میں لگائی گئی ہے مجاز نکل گیا۔ کیونکہ مجاز وہ ہے۔ جو معنی مرادی پر بواسطہ قرینہ دلالت کرتا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ حقیقت کے معنی ثابت کرنے والی شئے کے ہیں اور اس کلمہ کو جو اپنے موضوع لہ میں مستعمل ہوتا ہے۔ حقیقت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے مکان اصلی پر (یعنی اسمعنی میں جس کے واسطے لفظ بنایا گیا) ثابت ہوتا ہے۔
مجاز مصدر میمی ہے اور بمعنی اسم فاعل مستعمل ہے اور مجاز کے معنی گزرنے والا اور اس کلمہ کو جو اپنے موضوع میں مستعمل نہیں ہوا۔ مجاز اس لئے کہتے ہیں کہ اس نے اپنے مکان اصلی کو چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ یاد رکھو کہ حقیقت کی بھی چار قسمیں ہیں اور مجاز کی بھی چار۔
الف… حقیقت لغوی، حقیقت شرعی، حقیقت عرفی خاص، حقیقت عرفی عام۔
۱… حقیقت لغوی وہ ہے کہ لفظ لغت میں کسی معنی کے لئے وضع کیاگیا ہو۔
۲… حقیقت شرعی وہ ہے کہ لفظ شرع میں کسی معنی کے واسطے وضع کیاگیا ہو۔
۳… حقیقت عرفی خاص وہ ہے کہ لفظ کو کسی خاص فرقہ نحوی، صرفی، منطقی وغیرہ نے کسی معنی کے واسطے وضع کر لیا ہو۔
۴… حقیقت عرفی عام وہ ہے کہ لفظ کو کسی خاص فرقہ نے ہی نہیں بلکہ عام نے اس لفظ کو اس تمام معنی کے لئے مستعمل کر لیا ہو۔
ب…
۱… مجاز لغوی وہ ہے کہ جو لفظ اپنے موضوع کے واسطے لغت میں موضوع تھا۔ وہی لفظ لغت میں اپنے غیر کے واسطے استعمال ہو جائے۔ یعنی کسی نئے معنی میں مستعمل ہو۔
۲… مجاز شرعی، علیٰ ہذا وہ ہے کہ ایک لفظ ہے جو اصطلاح شرع میں ایک معنی کے لئے
موضوع تھا۔ وہ اب شرع ہی میں نئے معنی میں استعمال کیاگیا۔
۳… مجاز عرفی خاص۔
۴… مجاز عرفی عام کا بھی انہی پر قیاس کرو۔
اب ان کی مثالیں سنو۔ شیر درندہ چوپایہ کے معنی میں حقیقت لغوی ہے اور بہادر شخص کے معنی میں مجاز لغوی۔ صلوٰۃ نماز کے معنی میں حقیقت شرعی ہے اور دعاء کے معنی میں مجاز شرعی۔
فعل… اصطلاح نحوی میں ماضی، مضارع، امر نہی کے معنی میں حقیقت عرفی خاص ہے اور کرنے کے معنی مجاز عرفی خاص۔
دابہ… چوپایہ کے معنی میں حقیقت عرفی عام ہے اور انسان کے معنی میں مجاز عرفی عام۔ اس قدر بیان کے بعد ہم مرزاقادیانی سے دریافت کرتے ہیں کہ مسیح کا لفظ انجیل اور عیسیٰ بن مریم نبی اللہ وعیسیٰ بن مریم رسول اللہ کا لفظ احادیث وقرآن میں مستعمل ہوا ہے۔ اگر یہ حقیقت نہیں اور مجاز ہے؟ تو کون سا مجاز ہے۔ لغوی یا شرعی۔ عرفی خاص یا عرفی عام۔ جب تک آپ یہ ثابت نہ کر دیں تب تک صرف ایسے دعویٰ کا قبول کرنا جو لغت اور شرع کی امان ونگرانی کو دور کر دینے والا ہے۔ نہایت دشوار ہے۔ مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمد اور موسیٰ اور عیسیٰ اور سلیمان اور داؤد وغیرہ رکھتے ہیں اور ایسا کرنے کی اجازت بھی پائی جاتی ہے تو اس سے غرض کسی کسی مسلمان کی بھی ان بزرگان خدا کا روپ دھارنا نہیں ہوتا اور جس کا نام احمد ہوتا ہے وہ کبھی اپنے آپ کو عبدالمطلب کا پوتا، جدالحسین والحسن فداہ ابی وامی خیال نہیں کر بیٹھا۔ جو موسیٰ کے نام سے پکارا جاتا ہے وہ کبھی صاحب تورات ومنجی بنی اسرائیل نہیں خیال کیا جاتا۔ جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا اس کو کوئی بھی پاک کنواری مریمp کا جایا، بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کا چرواہا کہہ کر نہیں پکارتا۔ جو سلیمان کہہ کر بولا جاتا ہے اس کو کوئی بھی ’’اے بیت المقدس کے بانی تجھے سلام‘‘ کہہ کر اس کے حضور میں خائف وترساں نہیں کھڑا ہوتا۔ جس کا نام داؤد ہے۔ وہ صاحب زبور نہیں بن سکتا۔
مرزاقادیانی! احادیث وقرآن میں اگر صرف عیسیٰ کا لفظ ہوتا اور کوئی قرینہ قوی ایسا ہوتا۔ جو حقیقت کو چھوڑ کر مجاز پر دلالت کرتا اور احادیث غایت درجہ کے ابہام واہمال میں پائی جائیں اورصریح اخبار کے خلاف بھی نہ ہوتا تو اس وقت شاید آپ کا یہ منتر چل سکتا۔ لیکن احادیث میں تو عیسیٰ ابن مریم آیا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ آیا ہے۔ علم، لقب، کنیت،
خطاب موجود ہے اور ابھی آپ کے نزدیک یہ الفاظ حقیقت پر دال نہیں۔ میں کہتا ہوں، اس بحث کو جانے دو کہ اس جگہ حقیقت مراد ہے یا مجاز۔ لیکن یہ فرمائیے کہ اگر شارع کا مقصود اظہار حقیقت ہی سے ہوتا اور نبیa کو خود حضرت عیسیٰm ہی کے نزول کی خبر دینا منظور نظر عالی ہوتا تو فرمائیے کہ وہ کون سے الفاظ تھے جو رسول اللہ a کو استعمال کرنے واجب اور ضروری تھے؟ اور وہ استعمال نہ کئے گئے ہوں۔ اگر کوئی صاحب الفاظ حدیث کو ناکافی کہنے کی جرأت کریں تو پہلے قرآن کریم کے الفاظ کو غور فرمالیں۔ کیونکہ حدیث میں تو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ نبی اللہ ورسول اللہ بھی آیا ہے اور قرآن مجید میں صرف عیسیٰ بن مریم یا عیسیٰ ہی ہے اور یہ امر مرزاقادیانی کا بھی مسلمہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں یہ لفظ بھی مستعمل ہوا ہے۔ وہاں اس سے حقیقت ہی مراد ہے۔ یعنی وہی پاک کنواری مریم صدیقہ کا جایا۔ استعارہ ومجاز کا بیان ختم کرنے سے پہلے میں ایلیاء کا قصہ بھی لکھ دینا چاہتا ہوں۔
مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ جس طرح مسلمان مسیح کے نزول من السماء کے منتظر ہیں۔ اس طرح یہود ایلیا کے ہیں۔ آنے والے ایلیا کی نسبت مسیحm نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ یوحنا ہے اور اسی خاصیت وطبع وقوت کا لڑکا زکریا کے گھر میں پیدا ہوا تھا۔ یہود نے اس فیصلہ کو غلط سمجھا اور دو نبیوں یعنی مسیح ویوحنا کے مکذب ٹھہرے۔ مسلمان اگر مسیح کو سچا نبی جانتے ہیں۔ اگر قرآن کو جو تصدیق مسیح کرتا ہے سچی کتاب جانتے ہیں ان کو لازم ہے کہ مسیح کے فیصلہ پر عمل کریں اور آنے والے مسیح سے اسی خاصیت وطبع وقوت کا شخص (جو خود مرزاقادیانی اپنے آپ کو فرماتے ہیں) مراد لیں۔ ورنہ وہ قرآن ومسیح کے مکذب ٹھہریں گے۔ (توضیح المرام ص۳تا۷، خزائن ج۳ ص۵۲تا۵۴ملخص، ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۷۰،۲۷۱، خزائن ج۳ ص۲۳۶،۲۳۷ ملخص)
پیارے ناظرین! دراصل مرزاقادیانی کے پاس صرف یہی ایک قصہ ہے جو ان کی تمام تاویلات نفسانی کا ممدو مؤید ہے اور جس میں حقیقت سے مجاز مراد لینے کا ثبوت وہ دے سکتے ہیں۔ بے شک انجیل میں اس کو حضرت مسیح کی زبان سے نکلا ہوا فقرہ بیان کیاگیا ہے۔ آنے والا ’’ایلیا یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو‘‘ اور اس سے یہی نکلتا ہے جو مرزاقادیانی نے سمجھا ہے۔ مگر اسی انجیل میں یہ بھی ہے کہ جب خود حضرت یوحنا سے سوال کیاگیا کہ آپ کون ہیں۔ آیا مسیح ہیں۔ کہا میں نہیں ہوں۔ آیا الیاس (ایلیا) ہیں۔ کہا میں نہیں ہوں۔ آیا وہ ’’نبی‘‘ ہیں۔
کہا میں نہیں ہوں۔ پھر دریافت کیاگیا کہ اگر آپ نہ ایلیا ہیں، نہ مسیح ہیں، نہ وہ نبی ہیں، تو ہیں کون؟ حضرت یوحنا نے جواب دیا میں وہ ہوں جس کی یسعیاہ نبی نے خبر دی تھی۔
اب دیکھو کہ اگر انجیل کا یہ بیان ہے کہ مسیح نے یوحنا کو ایلیا بتلایا تو انجیل ہی کا بیان ہے کہ خود یوحنا نے ایلیا ہونے سے انکار کیا۔ چیلہ نے اپنے گرو کو بنانا چاہا مگر وہ نہ بنا۔
فرمائیے! مسیح جو دوسرے کے بارہ میں کہہ رہا ہے وہ سچا ہے۔ یا یوحنا جو خود اپنے حال کی خبر دیتا ہے، وہ صادق ہے نبی دونوں ہیں۔ نتیجہ کیا نکالو گے؟ یہی کہ نبی دونوں سچے ہیں۔ قصہ جھوٹا ہے۔ کتاب میں تحریف ہے۔ اب مرزاقادیانی اثبات دعاوی کے لئے کوئی اور مثال پیش کریں۔ یوحنا کا ایلیا ہونا تو مرزاقادیانی کو جب مفید ہوتا۔ جب حضرت یوحنا خود اپنے آپ کو آنے والا ایلیا بتلاتے۔ جیسا کہ آپ نے خود اپنے آپ کو ابن مریم کہا ہے۔ رسالے لکھے ہیں۔ اشتہار شائع کئے ہیں۔ یوحنا نے انکار کیا ہے۔ مسیح کی گواہی کے بعد بھی انکار کیا ہے۔ مگر آپ ہیں کہ ان کے انکار کو سنتے ہی نہیں اور مان نہ مان ان کو ایلیا ہی بنا رہے ہیں۔
اسی کے مطابق آپ کے ایک مرید نے بھی کر دکھلایا ہے۔ وہ ایڈیٹر سرمورگزٹ کے خط میں لکھتا ہے۔ سید احمد خان بہادر کیوں مرزاقادیانی کے خلاف ہیں۔ مرزاقادیانی تو عیسیٰ ہیں اور سید صاحب یحییٰ، اس کے ثبوت میں اس نے کئی ورق سیاہ کر ڈالے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہی خط سرسید احمد خان کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے قلم اٹھا کر، یہ ’’فقرہ لکھ دیا۔ بیچارے قادیانی کو اور مجھ کو خوب مسخرا بنایا ہے‘‘ مرزاقادیانی اگر حضرت یوحنا بھی آج زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی جواب دیتے جو آپ کے مرید کو سرسید (مثیل یوحنا) نے دیا ہے۔
مجھے حکیم نورالدین پر رہ رہ کر افسوس آتا ہے۔ وہ خود اس مسئلہ پر اپنی کتاب (فصل الخطاب ج۲ ص۱۱۵،۱۱۶، طبع دوم) پر لکھ چکے ہیں: ’’یوحنا اصطباغی کا ایلیا میں ہونا بالکل ہندوستان کے مسئلہ اواگون کے ہم معنی یا اسی کا نتیجہ ہے۔‘‘ لیکن وہی حکیم نورالدین اب مرزاقادیانی کا عیسیٰ بن مریم میں ہونا یا عیسیٰ بن مریم کا مرزا میں ہونا مان رہے ہیں اور اسی یوحنا والے قصہ پر تمسک۔ شرم، شرم!
مرزاقادیانی تسلیم کر چکے ہیں: ’’مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا۔ اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کے فرع ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)
اسی صفحہ پر وہ اقرار کرتے ہیں کہ جب جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو جائے تو پھر اسی جسم کے ساتھ واپس آنا کچھ مشکل نہیں۔ لہٰذا اب ہم اس جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر جانے کا ثبوت بائبل سے جس سے مرزاقادیانی ہمیشہ تمسک کیا کرتے ہیں پیش کرتے ہیں۔ جب ایلیا اور الیسع باتیں کرتے چلے جاتے تھے۔ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آکے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیا بگولے میں ہوکر آسمان پر جاتا رہا۔
(سلاطین دوم باب:۲، درس:۱۱)
مرزاقادیانی نے آسمان پر ایلیا کا جانا تسلیم کر لیا ہے۔ مگر کہتے ہیں کہ وہ مع جس کے نہیں گئے۔ ان کا بیان ہے کہ اسی باب کے درس۱۲ میں ایلیا کی جس چادر کے گرنے کا ذکر ہے۔ وہ ان کا جسم ہی تو تھا۔ لیکن دراصل یہ ان کا مغالطہ ہے جو اسی کے شروع سے پڑھنے کے بعد بخوبی ظاہر ہو جاتا ہے اور ’’یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیا کو ایک بگولے میں اڑا کر آسمان کو لے جائے۔‘‘
۱… تب ایلیاء الیسع کے ساتھ جنجال سے چلا۔
۲… اور ان کے پیچھے پیچھے پاس انبیا زادوں میں سے روانہ ہوئے اور سامنے کی طرف دور کھڑے ہوئے اور وہ دونوں (ایلیاء، الیسع) لب پردن کھڑے ہوئے۔
۷… اور ایلیاء نے اپنی چادر کو لیا اور لپیٹ کے پانی پر مارا کہ پانی دو حصے ہو کے ادھر ادھر ہو گیا اور وہ دونوں خشک زمین پر ہو کے پار ہوگئے۔
پار ہونے اور ایلیاء کے آسمان پر چلے جانے کے بعد بیان ہے کہ ایلیاء کی چادر گر پڑی اور الیسع اسے اٹھا کر واپس لوٹا اور دریائے پرون پر اسی چادر کو مار کر دریا سے پار اتر آیا۔
ناظرین کرام مرزاقادیانی کی وہ تاویل کہ ایلیاء کے گرنے والی چادر اس کا جسم تھا۔ صحیح ہے تو کیا خود ایلیا نے بھی خود جاتے ہوئے پانی پر اپنے جسم کو لپیٹ کر مارا تھا؟ اور کیا الیسع نے بھی اپنے مرشد کی لاش کو پانی پر پھینک کر مارا تھا؟ غرض ان کی یہ تاویل فضول ہے اور سلاطین دوم کے باب:۲ کے پڑھنے سے ایک جسم کے رفع کا کھلا کھلا نشان ملتا ہے۔ جو لوگ احادیث سے بڑھ کر بائبل کو مستند جانتے ہیں۔ وہ اس طرف رجوع کریں۔
شیخ محی الدین بن العربی نے ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ کے معنی میں لکھا ہے کہ اس سے وہ ارتفاع مراد ہے جو انسانی ترقیات سے بالاتر ہے۔ پھر وہ حضرت عیسیٰm کے اٹھائے جانے پر بحث لطیف کرتے ہیں وہ کہتے ہیں۔ روح کا خاصہ حیات ہے۔ پس جس کے ساتھ روح شامل ومباشر ہوگی۔ اس کو زندہ کر دے گی۔ اب رہی لوازم حیات وہ جسم اور وجود کی قابلیت اور استعداد پر منحصر ہیں۔ دیکھو جب سامری نے دیکھا کہ روح القدس کے گھوڑے کا جہاں قدم پڑتا ہے۔ گھاس اگ آتی ہے۔ (جرم زمین میں گھاس ہی کے اگانے کی قابلیت تھی) تو اس نے چاندی سونے کا بچھڑا بنایا اور اس میں اس گھوڑے کے نشان قدم کی مٹی ڈال دی تو وہ بچھڑے کی طرح بولنے لگا۔ روح کا خاصہ تو حیات تھا۔ اس نے حیات دے دی۔ مگر بچھڑے کی طرح ہی بولنا یہ اس صورت جسمی کی استعداد تھی جس کا نام بچھڑا رکھا گیا تھا۔ اگر وہ شیر کی صورت میں ہوتا تو ڈکارتا اور اگر اونٹ کی طرح پر ہوتا تو بلبلاتا۔ الغرض ثابت ہوا کہ گوروح کا خاصہ حیات ہے۔ مگر جسمانی قابلیت واستعداد کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔
اب حضرت عیسیٰm کی طرف دیکھو کہ ان کو تو خود روح القدس ملی تھی اور ان کا لقب بھی روح اللہ تھا۔ جب ایسے کامل التاثیر اور مکمل القویٰ روح کے لئے جسم بھی وہ ملا جس کی جسمانی ساخت بھی دنیا بھر کے جسموں سے علیحدہ اور عجیب تھی۔ یعنی بغیر واسطہ پیدائش ظاہرہ کے پیدا ہوئے تھے تو ضرور ہے کہ روح القدس جو عالم ملکوت میں سے تھا۔ اپنی حب الوطنی کی تاثیر جسم پر ڈالتا اور جسم اپنی روحانی ساخت کی وجہ سے اس تاثیر کا متاثر ہوتا اور حضرت عیسیٰm معہ جسم کے آسمان پر اٹھائے جاتے۔ مرزاقادیانی قائل ہیں کہ مومنین کی روحوں کو بھی رفع حاصل ہے۔
مجھے تعجب ہے کہ پھر وہ روح اللہ کی رفع کا کیوں انکار کرتے ہیں۔ یہ ظاہر ہی ہے کہ لقب نہ صرف روح کے لئے ہوتا ہے اور نہ صرف جسم کے لئے بلکہ دونوں کے لئے ہوتا ہے۔ پس ہر ایک روشن فطرت جو لفظ روح اللہ پر زیادہ تر تدبر کر لے گا۔ اسے حضرت عیسیٰm کے رفع مع الجسم پر کچھ شبہ باقی نہ رہے گا۔ کیونکہ جب مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ روح کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ رفع حاصل ہے تو پھر روح اللہ کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ کیوں رفع محال ہے؟ میں باور کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰm کا یہ لقب روح اللہ رکھنے میں بہت بڑی حکمت غامضہ الٰہیہ یہ بھی تھی کہ مرزائی عقیدہ کا بطلان اور عیسیٰ نبی اللہ کے رفع مع الجسم کا اثبات ہو جائے۔ فتدبر!
رب کریم نے فرمایا ہے:’’یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّ (آل عمران:۵۵)‘‘{کہ اے عیسیٰ میں تجھے بھرپور لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔}
واضح ہو کہ اگر ان معنی سے قطع نظر کر کے مرزاقادیانی کی پیش کردہ تفسیر کو صحیح مان لیا جائے اور ’’توفی‘‘ سے وفات جسمی اور ’’رفع‘‘ سے عروج روحی مراد لی جائے تو لامحالہ عبارت میں یہ تقدیر ماننی پڑی گی۔ ’’انی متوفی جسدک ورافع روحک‘‘حالانکہ معنی بنانے کے لئے قرآن شریف کی عبارت میں الفاظ کی تقدیر اور تقدیم وتاخیرمرزاقادیانی کے مذہب میں الحاد وکفر ہے۔ لیکن اگر یہ مسئلہ صرف علماء کو ڈرانے کے لئے نہیں گھڑ لیا گیا تو ضروری ہے کہ ’’کاف‘‘ مرجع دونوں صورتوں میں ایک ہی ہو۔ پس اگر ’’توفی‘‘ کا اثر جسم پر مانا جائے تو ’’رفع‘‘ کا اثر بھی جسم پر ہونا چاہئے۔ اس صورت میں حضرت عیسیٰm کے مردہ جسم کا آسمان پر جانا تسلیم کرنا پڑے گا اور اگر ’’توفی‘‘ کا اثر روح پر تسلیم کر لیا جائے (جو غلط ہے) تو لفظ عیسیٰ کا مدلول ومسمٰی صرف روح کو قرار دینا ہوگا۔
لہٰذا مرزاقادیانی کو لازم ہوا کہ نہایت سیدھے سادھے معنی اختیار کریں کہ رب کریم نے حضرت عیسیٰ سے دو وعدے کئے تھے: (۱)’’متوفیک‘‘ (۲)’’رافعک الی‘‘ ایک وعدہ تو ’’بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:۱۵۸)‘‘ میں پورا کردیا۔ دوسرا وعدہ بھی جب چاہے گا پورا کر دے گا۔ یہ معنی تو اس صورت میں ہیں۔ جب ’’متوفیک‘‘ کے معنی مارنا لئے جائیں۔
لیکن اگر ہم رب کا خوف کھا کر قرون مشہور دلہا بالخیر کے مذہب وتفسیر پر نظر ڈالیں اور تفسیر بالرائے کو اپنے نفس پر کفر قرار دے لیں اور صحابہi وتابعینw سے بڑھ کر قرآن مجید کے اسرار وبطون کے سمجھنے کے بودے خیال کو اپنے دل سے دور کر دیں اور عرب سے بڑھ کر لغت وادب میں واقفیت رکھنے کی بیہودہ تمنا کو بھی دماغ سے نکال ڈالیں۔ تب تو ہم نہایت سچائی سے یقین رکھتے اور ایمانداری سے اقرار کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰm کے ساتھ یہی دونوں وعدے مع الجسم اٹھائے جانے کے ساتھ پورے کئے گئے ہیں۔
حکیم الامت شاہ ولی اللہ صاحبv لکھتے ہیں کہ: ’’حضرت عیسیٰ تو گویا زمین پر چلنے والے فرشتہ تھے۔ رب کریم نے ان کے وجود کو صورت مثالیہ کا درجہ دے کر اوپر اٹھالیا۔‘‘
علامہ ابن کثیر نے (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۴،۵۷۵) میں اس آیت: ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘کی تفسیر میں کہا ہے کہ سعید بن جبیرq اور نسائی اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے باسناد صحیح ابن عباسq سے روایت کیا ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰm کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ کیا تو وہ اس وقت ایک کوٹھے میں تھے اور ان کے بارہ حواری بھی ان کے قریب مکان میں تھے۔ حضرت عیسیٰm کمرے سے نکلے۔ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو ایمان لاچکے ہو، ایک شخص بارہ دفعہ میرا انکار کرے گا۔ پھر فرمایا تم میں کون (پسند کرتا) ہے جس پر میری شباہت ڈالی جائے اور وہ میری جگہ مقتول ہو اور میرے ساتھ میرے درجہ (بہشت میں) رہے۔ ایک نوجوان نے عرض کیا میں آپ کی جگہ جان دے سکتا ہوں۔ فرمایا تو بیٹھ جا۔ انہی الفاظ کا پھر اعادہ کیا۔ وہی نوجوان کھڑا ہوگیا۔ فرمایا تو بیٹھ جا۔ انہی الفاظ کا پھر اعادہ کیا۔ وہی نوجوان کھڑا ہوگیا۔ آپ نے فرمایا تو ہی اس قابل ہے۔ پھر اس پر آپ کی شباہت ڈالی گئی اور آپ اس گھر کے روشندان میں سے آسمان کو اٹھائے گئے۔ یہود جو آپ کے خون کے پیاسے تھے وہ آئے اور ان کے شبیہ کو پکڑ کر لے گئے۔ اس کو قتل کیا اور دار پر کھینچا۔‘‘
واضح ہو کہ اس روایت کے تمام رجال، صحیح کے رجال ہیں اور امام نسائی نے ابوکریبq اور معاویہq سے بھی اس کے ہم معنی روایت کی ہے اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن منذر نے بھی اس قصہ کو بیان کیا ہے۔
میں اس حدیث ابن عباسq کی تائید میں برنباس حواری کی انجیل اور جارج سیل کے ترجمہ قرآن میں سے ’’انی متوفیک ورافعک الیّ‘‘کی تفسیر کو بھی پیش کر سکتا ہوں۔ برنباس کا بیان حضرت عیسیٰm تک مرفوع ہے اور برنباس حواری کا معتبر ہونا مرزاقادیانی کے نزدیک بھی مقبول ہے۔ بلکہ مرزاقادیانی نے برنباس کے اس مقام کی تصحیحمیں سرمہ چشم آریہ میں بہت ہی زور دیا ہے۔ ’’جو امر آنحضرتa کے لئے جائز نہیں وہ مسیح کے لئے بوجہ اولیٰ جائز نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۹۰، خزائن ج۳ ص۲۴۸)
مندرجہ بالا فقرہ مرزاقادیانی کا ہے اور چونکہ ہم سب مسلمانوں کا دین وایمان ہے کہ رسول اللہ a جیسا کہ خاتم الانبیاء بھی ہیں ویسے ہی اشرف الانبیاء ہیں۔ اس لئے یہ فقرہ ایسا مؤثر ہے کہ اگر کسی مسلمان کا ذہن اس کی حقیقت تک نہ پہنچے تو اسے پھنسانے کے لئے ہزار دلیلوں سے بڑھ کر یہ ایک فقرہ کام دے گا۔
ناظرین ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ مرزاقادیانی کا مدعا اس فقرے سے کیا ہے؟ ہاں! وہ اس سے حضرت مسیح کا ’’رفع الٰی السماء‘‘ نہ ہونا اور نہ ہوسکنا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے (ازالہ اوہام ص۶۲۵، خزائن ج۳ ص۴۳۷) پر یہ آیت پیش کی ہے: ’’اوترقی فی السماء قل سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا‘‘ اور اس کا ترجمہ یوں کیا ہے: ’’یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں کو دکھلا تب ہم ایمان لے آئیں گے۔ ان کو کہہ دے میرا خدا اس سے پاک ہے کہ اس دار الابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھاوے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی۔‘‘
اس آیت کو پیش کرنے سے انہوں (مرزاقادیانی) نے اپنی دلیل کو منطقی قضیہ بنالیا ہے۔ آسمان پر جانا جسم خاکی کا محال ہے۔ دعویٰ ہے۔
رسول اللہ a باوجود درخواست معجزہ کفار آسمان پر نہیں جاسکے… صغریٰ
جب رسول اللہ a نہیں جاسکے تو کوئی بھی آسمان پر نہیں جاسکتا… کبریٰ
پس جسم خاکی کا آسمان پر جانا محال ہے… نتیجہ
ناظرین جب میں نے اس آیت کو جو مرزاقادیانی نے پیش کی ہے اور اس ترجمہ کو جو انہوں نے تحت آیت لکھا ہے دیکھا تو مجھے دھوکے کا کچھ شک ساگزرا میں سوچتا تھا کہ ترجمہ ’’(تب ہم ایمان لے آئیں گے)‘‘ کن الفاظ قرآنی کا ترجمہ ہے اور اتنی عبارت (اس دارالابتلاء میں ایسے ایسے کھلے کھلے نشان دکھائے) مرزاقادیانی نے کہاں سے لکھ ماری ہے۔ کیونکہ جو الفاظ قرآن کے انہوں نے لکھے ہیں۔ ان کا ترجمہ تو یہ بالکل نہیں۔ میں نے اسی شبہ کی وجہ سے قرآن مجید کو جب کھول کر دیکھا تو آیت کو اس طرح پایا: ’’او ترقی فی السماء ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقروہ قل سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل:۹۳)‘‘
مجھے معلوم ہوگیا کہ ’’او ترقی فی السماء‘‘ اور ’’قل سبحان ربی‘‘ کے درمیان سے قرآن مجید کے اتنے الفاظ کو مرزاقادیانی نے دانستہ چھپا لیا ہے۔ ’’ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ‘‘ اور اس کے چھپا لینے اور سلسلہ الفاظ کو توڑ دینے کے بعد کفار کی درخواست کے مضمون کو پلٹ دیا ہے اور خداوند کریم نے جو جواب کہ ایک دوسری درخواست کا دیا ہے۔ اسی پہلی درخواست کے متعلق (جس کا جواب خود کفار کو بھی لینا منظور نہ تھا) بتلایا گیا ہے۔ اللہ اکبر! میں نہیں جانتا کہ ’’یحرفون الکلم عن مواضعہ‘‘ اور کسے کہتے ہیں؟ (یہ یہودیوں کے وصف میں ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ یہ لوگ کلمات الٰہی کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں)
بزرگ مسلمانو! اب آیت شریفہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے اور اس آیت کو سرے سے ’’وقالوا لن نومن لک حتی تفجرلنا‘‘ سے دیکھتے چلے آئیے کہ کفار نے یہ کہا تھا۔ ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تو ہمارے لئے زمین سے ایک بہتا چشمہ نہ نکالے یا تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا ہو اور تو اس میں نہریں چلا کر بہائے یا ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرائے جیسا کہ تو کہا کرتا ہے۔
۱… یا اللہ کو اور فرشتوں کو ضامن لے آ۔
۲… یا تیرے لئے ایک گھر ستھرا ہو۔
۳… یا تو چڑھ جائے آسمان پر اور ہم تو تیرے چڑھ جانے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ جب تک تو ہمارے لئے ایک نوشتہ نہ اتار لائے۔ جس کو ہم سب پڑھ لیں۔
جواب: (اے محمدa) تو کہہ دے سبحان اللہ ! میں تو ایک بشر اور رسول ہوں۔
ناظرین! یہ تو ظاہر ہے کہ اس آیت سے کفار کی درخواستہائے معجزہ کا پتہ ملتا ہے کہ وہ رسول اللہ a سے کیا کچھ دیکھنے کی درخواست کرتے تھے۔ ان کی درخواستیں یا تو نبوت کے درجہ سے بہت گری ہوئی اور سفلی تھیں اور یا نبوت کے درجہ سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی اور عادت اللہ کے خلاف ان کی سفلی اور گری ہوئی درخواستیں یہ تھیں۔
۱… زمین سے چشمہ کا نکالنا۔
۲… کھجور، انگور کا باغ اس میں نہریں۔
۳… ستھرا محل۔
ظاہر ہے کہ نہ ان کو معجزہ کہہ سکتے ہیں اور نہ ایسا کر دکھلانے سے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ الٰہی طاقت کے سوا کوئی بشر ایسا کچھ دکھلا ہی نہیں سکتا۔ پس یہ درخواستیں تو یوں فضول ٹھہریں، درجہ نبوت سے بڑھی ہوئی باتیں یہ تھیں۔
۱… یا آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرادے۔
۲… یا خدا اور فرشتوں کو ضامن لے آؤ۔
پس ساری درخواستوں میں ایک ہی ایسی درخواست تھی۔ جو منظور کی جاتی اور نبی اللہ اپنا معجزہ دکھا دیتا۔ ’’یعنی آسمان پر چڑھ جانا۔‘‘ لیکن چونکہ کفار کو اس طلب معجزات سے طلب حق مقصود نہ تھا اور ان کا مدعا خرق عادات کے دیکھنے سے ایمان لانا نہ تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ پیمبر اپنے دعووؤں میں سچا اور اس کا خدا ہر ایک فعل پر قادر ہے تو وہ یہ درخواست پیش کرنے کے بعد کہ جب تک تو آسمانوں پر چڑھ کر ہم کو نہ دکھلائے۔ ہم ایمان نہ لائیں گے۔ جھٹ اس شرط سے بھی منکر ہو گئے اور صاف کہہ اٹھے کہ صرف تیرے آسمان پر چڑھ جانے سے ہم کب ایمان لاتے ہیں۔ ہم تو تب ایمان لائیں گے۔ جب تو ہمارے نام کا نوشتہ بھی بارگاہ الٰہی سے لکھوا کر لے آئے اور ہم سب اس کو پڑھ بھی لیں۔
ناظرین! غور تو کرو۔ قرآن کریم تو خود بتلا رہا ہے کہ کفار ہمارے رسول کے آسمان پر چڑھ جانے کے معجزہ کی درخواست پر جمے نہیں رہے اور کفار نے تو یہ معجزہ چاہا تھا کہ ہر ایک کے پاس کتاب الٰہی آجانے اور محمد رسول اللہ a ہر ایک کافر کو رسول صاحب کتاب بنادیں۔ تب وہ ایمان لائیں گے۔ ان کی ایسی بیہودہ درخواست پر (جو ان کی آخری درخواست تھی) اور جس کو انہوں نے نہایت شوخ چشمی سے پیش کیا تھا اور جس پر انہوں نے اس قدر زور دیا تھا کہ اس کے بغیر تو تیرے آسمان پر چڑھ جانے کے بعد بھی ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے۔ رسول کو یہ حکم ہوا کہ ان سے کہہ دو کہ میں خود ایک بشر اور رسول ہوں۔ یعنی دوسرے بندوں کو کیسے رسول بناسکتا ہوں؟ اور کہاں سے یہ مجاز ہوں کہ کافروں پر کتابیں اتاروں؟ اور ان کو مہری نوشتہ دکھلاؤں اور ہر ایک کے نام کے جدا جدا فرمان جاری کرادوں کہ وہ کافر اس کو پڑھ پڑھ کر اور ٹھیک یہ پہچان کر کہ ہاں خدا ہی کے پاس سے یہ لکھا ہوا نوشتہ آیا ہے ایمان لے آئے۔
بے وقوفو! تمہاری اس درخواست کے یہ معنی ہیں کہ میں جو بشر ہوں خدائی طاقتیں بھی رکھتا ہوں؟ ہاں! تمہاری درخواست کے یہ معنی ہیں کہ میں جو رسول ہوں دوسرے کو صاحب کتاب بھی بناسکتا ہوں۔ حالانکہ یہ سب خدا کے کام ہیں اور خدا ایسے نقص سے بھری ہوئی باتوں سے پاک ہے کہ ناپاک روحوں کو اپنا رسول بنائے یا آپ مع اپنے فرشتوں کے کفار کے پاس ضامن ہونے کو آئے۔
مرزاقادیانی دیکھیں کہ خدا نے کہاں رسول کا آسمان پر جانا محال کہا ہے؟ اگر فکر سلیم اور طبع معنی رس ہو تو اس آیت ہی سے معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ a ضرور ان کو معجزہ دکھلا دیتے۔ اگر کفار کی صرف یہی درخواست ہوتی جس آیت سے مرزاقادیانی نے استدلال کیا تھا اور نکالا تھا کہ جسم خاکی کا آسمان پر جانا محال ہے۔ اس سے تو وہ مطلب نہ نکلا بلکہ اس کے برعکس ثابت ہو گیا تو اب کیونکر وہی آیت حضرت مسیحm کے ’’رفع الٰی السماء‘‘کے امتناع کو ثابت کر سکتی ہے اور جب یہ حال ہے تو مرزاقادیانی کا وہ فقرہ ہی غلط ہے۔ جو عنوان مضمون پر لکھا گیا ہے اور یہی جواب ان کے لئے کافی ہے۔
علاوہ اس کے یہ بھی کہہ دیناچاہتا ہوں کہ منصب ورتبہ میں افضل ہونا اور شئے ہے اور خصوصیات ذاتیہ کا افراد میں علیحدہ علیحدہ پایا جانا کچھ اور شئے۔ اگر فضیلت اور اکملیت کی بنیاد خصوصایات ذاتی کے مقابل میں ڈالی جائے تو میں سچ کہتا ہوں کہ نبیa کی بزرگی وفضیلت کا دیگر انبیاء پر ثابت کرنا دشوار ہو جائے گا۔
آپ حضرت مسیحm اور حضرت محمدa کے احوال پر ہی غور فرمالیں۔
۱حضرت مسیحm کی والدہ صدیقہ کو نساء العلمین پر اصطفاء دیا گیا۔
۱اور محمد مصطفیa کی والدہ کو یہ منصب حاصل نہیں ہوا۔
۲حضرت مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوئے
۲ہمارے سید ومولیٰ اپنے والدین کے گھر۔
۳حضرت مسیحm نے پیدا ہوتے ہی کلام فرمائی اور اپنی نبوت کی خبر دی۔
۳لیکن ہمارے سید المرسلین سے ایسا ثابت نہیں ہوا۔
۴حضرت مسیحm کو احیاء موتیٰ وابراء اکمہ وابرص کا مغجزہ دیاگیا۔
۴ہمارے حبیب خدا سے ایسی روایات بیان نہیں ہوئی ہیں۔
۵حضرت مسیحm پر مائدہ آسمان سے اتارا گیا۔
۵رسول اللہ a پر نہیں۔
توکیا آپ یا کوئی اور ان باتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے نبیa کی فضیلت اور بزرگی کا انکار کر سکتا ہے؟ یا شک لاسکتا ہے؟ ہاں! یہ جواب معقول نہ ہوگا۔ کہیں اس سے بڑھ چڑھ کر رسول اللہ a میں یہ کمالات موجود تھے اور اس کی یوں توجیہہ اور اس کی یوں تاویل۔ کیونکہ یہ تو ہم پہلے ہی سے مانتے ہیں کہ اگر عیسیٰm دوسرے فلک تک گئے تو رسول اللہ a عرش بریں اور حجاب عظمت تک اور جہاں تک کہ خداوند کریم حضورa کو لے گیا۔ پہنچے۔للّٰہ درمن قال!
اللہ اللہ عروج توز افلاک گزشت
بمقامیکہ رسیدی نہ رسد ہیچ نبی
مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ استعارہ کو حقیقت سمجھنے میں سب سے بھاری مشکل درحقیقت یہی ہے جس کی وجہ سے ایک نبی کا اس کے منصب نبوت سے محروم ہو جانا تجویز کرنا پڑا اور کہنا پڑا کہ ابن مریم اس دن ایک مرد مسلمان ہوگا۔ جو اپنے تئیں امت محمدیہ میں سے ظاہر کرے گا اور اپنی نبوت کا نام بھی نہ لے گا جو پہلے اس کو عطاء کئے گئے تھے اور گویا جب حضرت مسیح آئیں گے تو وہ اپنے منصب نبوت سے معزول ہو کر آئیں گے؟
(ازالہ اوہام ص۴۰، خزائن ج۳ ص۱۲۳ ملخص)
اس تقریر کی ظاہری مؤثر ہونے کی نہاء یہ ہے کہ عموماً سب مسلمان نبی کا درجہ امتی سے (خواہ وہ امتی صدیق شہید حواری ہی کیوں نہ ہو) برترواعلیٰ مانتے ہیں۔ جب ان کے سامنے ظاہر کیا جائے گا کہ تمہارے معتقدات ومسلمات تو ایک نبی کی بزرگی کو خاک میں ملا رہے ہیں اور خدا کے ایک برگزیدہ ایک رسول کو ’’نحن رجال وہم رجال‘‘ میں شامل کر رہے ہیں تو مسلمان جھٹ مان جائیں گے کہ ہاں غلطی ہے۔
مگر اب آپ صاحبان مرزاقادیانی کے چمکدار لفظوں کی غلطی کو معلوم کرنے کے لئے ادھر توجہ فرمائیں کہ حضرت عیسیٰm کی نبوت کا غایت ومنتہا کیا تھا۔ ہاں! وہی جس کو حضرت عیسیٰm نے خود ظاہر فرمایا۔ ’’میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا او کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘
(متی باب:۱۵، آیت:۲۴)
مرزاقادیانی کے خود ان دونوں رسالوں فتح الاسلام وتوضیح المرام میں تسلیم کیاگیا ہے کہ وہ یہودیت کی خصلتوں اور ذلتوں کے مٹانے کو آیا تھا۔ پس واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰm کا مقصد اس پہلی زندگی میں بھی ایک امت کی ضلالتوں کو کم کرنا اور مذہب موسوی کی تجدید فرمانا تھا۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور جب کبھی کسی دوسرے نے ان سے
استفاضہ کی درخواست کی تو یوں فرمایا کہ: ’’لڑکوں کی روٹی کتوں کو کون دیا کرتا ہے۔‘‘
(متی باب:۱۵، آیت:۲۶)
غور کرو کہ جب مجدددین موسوی ہونے کی حالت میں حضرت عیسیٰm کی کچھ کسر شان نہیں تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مجدددین محمدی ہونے کی حالت میں حضرت عیسیٰm کا رتبہگھٹ جائے گا؟ یہ تو بالکل غلط قیاس ہے۔ بلکہ جیسا کہ حضرت محمد مصطفیa کو حضرت موسیٰ کلیم اللہ پر شرف حاصل ہے۔ اسی طرح ضرور ہے کہ ان کے دین متین کے مجدد ہونے سے مسیح کے رتبہ میں اور فضیلت وشرف شامل ہو جائے۔ کیونکہ مجدددین موسوی ہونے کی حالت میں حضرت عیسیٰm صرف اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے واسطے تھے اور مجدددین محمدی ہونے کی صورت میں وہ اسرائیل واسماعیل دونوں گھرانوں کی کھوئی ہوئی بھیڑوں، نیز ان وحشی ورمیدہ چوپایوں کے واسطے بھی ہوں گے جن کی گردنوں نے شریعت کے جواء کو پھینک دیا ہوگا تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کے منصب میں تنزل ہوگیا۔ دیکھو! الٹی بات کہ جب تک شریعت موسیٰ کے ماتحت رہے تب تک تو ان کا نبی اللہ ہونا بھی درست اور روح اللہ ہونا بھی ٹھیک۔ لیکن جب رب کریم ان کو شریعت غرائے محمدیہa کے ماتحت بھیجے پھر ان کا نہ نبی کہلانا درست ہے نہ سابقہ نبوت میں اور ان میں کسی علاقہ کا رہنا جائز ہے؟ ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘
مرزاقادیانی کے نزدیک تو حضرت عیسیٰm ہی کا متبع شریعت محمدیہa ہونا محل توقف ومتعجب ہے۔ حالانکہ حضرت عیسیٰm کی زندگی اور نبوت کا ماحصل ہی تھا کہ ایک نبی کی شریعت کے متبع رہیں۔ لیکن ادھر دیکھئے کہ رسول اللہ a کیا فرماتے ہیں: ’’لو کان موسٰی حیا لما وسعہ الا اتباعی‘‘
(رواہ احمد ج۳ ص۳۸۷، بیہقی فی شعب الایمان کتاب المشکوٰۃ ص۳۰، باب الاعتصام بالکتاب والسنہ)
موسیٰ جو خود صاحب شریعت وحکومت تھے، جن پر سب سے پہلے روشن احکام کی کتاب تورات جیسے نازل ہوئی۔ جن کو ناپاک فرعونیوں سے بچا کر خدا نے آگ کے بہانہ
سے بلایا اور نور نبوت کا خلعت پہنا کر واپس کیا۔ اگر زندہ ہوتے تو ان کا بھی یہ مقدور نہ تھا کہ قرآن کریم کے روبرو توریت کا نام لے سکتے اور محمدa کی لائی ہوئی شریعت کے سامنے اپنے الواح واحکام کی طرف رخ کرتے۔ اسی کے مناسب ومطابق حال وہ دو حدیثیں ہیں جن میں عبداللہ بن سلامq جیسے راسخ الاعتقاد اور عالم صحف آسمانیہ صحابی کی دعا میں بھی زبور پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور حضرت عمر فاروقq جیسے بزرگوار کو جن کی ہیبت سے شیطان اپنی راہ چھوڑ کر چلتا ہے انجیل کے دیکھنے کی اجازت نہ ہوئی۔ ہاں! امت محمدیہa میں ہونا تو وہ شرف وفخر کا مقام ہے کہ احمد جام کہتے ہیں۔
چیزیکہ انبیاء راگا ہے نشد میسر
آن چیز خود بآساں حاصل شدست مارا
پس خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰm اگر قرآن مجید کے موجود ہوتے انجیل کا نام نہ لیں گے تو اس کی وجہ قرآن مجید کی تعلیم پاک کی اتمیت واکملیت ہوگی۔ نہ یہ کہ حضرت عیسیٰm کو انجیل سے کوئی علاقہ نہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰm کا انصاف اور رسول اللہ a کی عظمت جو ان کے دل میں تھی۔ وہ حضرت عیسیٰm کے اس ارشاد سے واضح ہے کہ علامات قیامت وآثار عروج دجال وآیات نزول خود بیان کرتے کرتے رک گئے اور یوں فرمایا (آیت:۱۵/۲۰) آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں تو ایسے محب نبی اور ایسے محب رسول سے جو رسول اللہ a کے ارشادات کے بھروسہ پر اپنی تعلیم کو نامکمل چھوڑتا ہے۔ کوئی دانشمند یہ توقع کر سکتاہے کہ وہی مسیح باوجود اس نبی کے ارشادات کے پائے جانے اور اس کی آخری اور کامل ومکمل آسمانی کتاب حاصل ہونے کے بدستور اپنی ادھوری تعلیم پر جما رہے؟ اس اعتقاد سے نہ تو صرف قرآن کی کامل تعلیم اور اسلام کے ناسخ ومکمل ادیان ہونے کی تکذیب ہے۔ بلکہ حضرت عیسیٰm کی جناب میں بھی سوء ظنی وسوء ادبی ہے۔ اب رہا یہ کہ نبوت کا نام بھی لیں گے یا نہیں تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ان کی نبوت کی ابتداء سے غایت ومقصود ہی یہ رہا ہے کہ ایک صاحب شریعت رسول کے احکام وشریعت کی تجدید کرنا اور وہ پہلے بھی حاصل تھا اور اب بھی حاصل رہا۔
علاوہ اس کے معجزہ رسول کریمa کو دیکھئے کہ جو اعتراض وشکوک آج پیدا کئے جاتے ہیں۔ ان کا جواب حدیث مذکورہ میں موجود ہے۔ یعنی یہ کہ رسول اللہ a نے جا بجا جہاں حضرت عیسیٰm کا نام لیا ہے۔ وہاں عیسیٰ بن مریم رسول اللہ اور عیسیٰ بن مریم نبی اللہ فرمایا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باوجودیکہ وہ خلعت نبوت سے سرفراز ہوں گے۔ مگر پھر مجدد دین محمدیہ بھی ہوں گے اور یہ اس امت کے لئے نہایت شرف وفخر کا مقام ہے۔ اب اس امر کا ثبوت کہ ایک نبی باوجود نبی ہونے کے رسول اللہ a کا امتی اور شریعت محمدیہ کا مجدد وپیروحامی بھی ہو سکتا ہے۔ میں قرآن شریف سے پیش کرتا ہوں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں:’’واذ اخذ اللہ میثاق النبیٖن لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرّن (آل عمران:۸۱)‘‘{جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر جب تمہاری طرف رسول آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو ضروراس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔}
پس جب رب کریم کل انبیاء ومرسلین سے محمد رسول اللہ پر ایمان لانے اور شریعت محمدیہ کی نصرت وتائید کرنے کا میثاق ازل میں لے چکا ہے تو پھر حضرت عیسیٰm کا بطور مجدددین وحاکم عادل ہوکر آنے میں مرزاقادیانی کو کیوں انکار ہے۔ جس انکار کے ساتھ انکار نص قرآنی بھی لازم آتا ہے۔ میں اس بیان کو ختم کرتا ہوں۔ مگر رسول اللہ a کی حدیث پر جو اس بیان میں آ گئی ہے۔ ناظرین کو مکرر توجہ دلانا چاہتا ہوں رسول اللہ a نے فرمایا ہے:’’لو کان موسٰی حیا لما وسعہ الا اتباعی (مشکوٰۃ ص۳۰)‘‘ تو جس طرح پر موسیٰm کا زندہ نہ ہونا پایا گیا ہے۔ اسی طرح عیسیٰm کا زندہ ہونا بھی ثابت ہوگیا۔ کیونکہ اس میں اتباعی کے لئے حیات کو شرط اور ضروری قرار دیا گیا ہے اور عیسیٰm کا متبع بننا ہم ثابت کر چکے ہیں۔
او منحوس اور نامبارک لفظ تو ہم کو اپنا چہرہ نہ دکھلا اور مسلمانوں کی گھر کی دیواروں سے پرے ہی اپنا سایہ رکھ۔ یہ ثابت ہوچکا کہ سانپوں کی نظر میں ایسا مقناطیس حیوانی ہے کہ جس مصیبت زدہ کی آنکھیں چار ہو جائیں۔ وہ کبھی اس سے نجات نہیں پاسکتا۔ چار آنکھیں ہوتے ہی اثر مقناطیسی سے یہ زہریلا دشمن اپنی معمول بہ کی قوت کو سلب کر دیتا ہے اور جب وہ بے حس وحرکت ہوجاتا ہے۔ تو خون آکر چوس لیتا ہے۔ انسان دیکھتا ہے کہ سانپ ہے اور اس کے کاٹنے کے واسطے چلا آرہا ہے۔ مگر اتنی سکت نہیں ہوتی کہ ہاتھ اٹھائے یا پاؤں چلائے۔ اس زہریلے اثر والے لفظ قانون قدرت میں بھی وہی جذب مقناطیسی موجود ہے کہ عالم ہو، فاضل ہو، خدا کا متقی بندہ ہو، سلیم الطبع ہو، پاک سرشت ہو، غرض کوئی ہو جس کی نگاہ اس کی نگاہ سے لڑ گئی وہ نہایت بیکسانہ حالت میں ہوکر اپنے آپ کو اس کا طعمہ بنایا کرتا ہے اور جنبش تک نہیں کیاکرتا۔
ناظرین! قانون قدرت سے جو معنی لئے جاتے ہیں وہ یہ ہیں کہ محدود انسانوں کے محدود تجربے جو چند بار متواتر ثابت ہو چکے ہیں ان کو خدا پھر نہیں توڑ سکتا ہے۔ افسوس صد افسوس خدا کا وہ بندہ جس نے سرمہ چشم آریہ میں صرف اسی قانون قدرت کی تکذیب پر دلائل مبینہ اور براہین ساطعہ کے دفتر کے دفتر لکھ مارے تھے۔ آج وہ اس زہریلے سانپ کے مقناطیس حیوانی کا معمول بہ بن گیا ہے اور پانچ سال ہوئے جو کچھ اس نے آریوں، دہریوں، برہمو، دیودھرمیوں، لامذہبوں وغیرہ وغیرہ کے مقابل میں جواب دئیے تھے خدا کی شان آج وہی جواب اسے دئیے جاتے ہیں۔ سرمہ چشم آریہ سے بڑھ کر اس مضمون پر کیا کوئی لکھ سکتا ہے۔ میں اسی کی عبارت نقل کرتا ہوں جو مرزاقادیانی پر حجت بھی ہوسکتی ہے۔
(سرمہ چشم آریہ ص۵۵،۵۶، خزائن ج۲ ص۱۰۳،۱۰۴) میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’میری رائے میں فلسفیوں سے بڑھ کر اور کسی قوم کی دلی حالت خراب نہ ہوگی۔ خدا میں اور بندہ میں جو چیز بہت جلد جدائی ڈالتی ہے وہ شوخی اور خود بینی اور متکبری ہے۔ سو وہ اس قوم کے
اصول کو ایسی لازم پڑی ہوئی ہے کہ گویا انہی کے حصہ میں آگئی ہے۔ یہ لوگ خداتعالیٰ کی قدرتوں پر حاکمانہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور جس کے منہ سے اس کے برخلاف کچھ سنتے ہیں اس کو نہایت تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ نوخیزوں کے عام خیالات اسی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ کسی قوی دلیل کا اثر نہیں بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں میں بھیڑ چال چلنے کا بہت سا مادہ موجود ہے جس سے تعلیم یافتہ جماعت بھی مستثنیٰ نہیں۔ سو اس فطرت اور عادت کے جو لوگ ہیں وہ ایک بڑی داڑھی والے کو گڑھے میں پڑا ہوا دیکھ کر فی الفور اس میں کود پڑتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ان کے ہاتھ میں اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ یہ فلاں عقلمند کا قول ہے۔ غرض زہرناک ہوا کے چلنے سے کمزور لوگ بہت جلد ہلاک ہوتے ہیں۔ لیکن ایک روشن دل آدمی جس کی فطرت میں خداتعالیٰ نے وسعت علمی کی استعداد رکھی ہوئی ہے وہ ایسے خیالات کو کہ خداتعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا کسی انسان کا کام ہے۔ بغایت درجہ عقل وایمان سے دور سمجھتا ہے۔ واقعی جتنا انسان عجائبات غیرمتناہیہ حضرت باری جل شانہ پر اطلاع پاتا ہے اتنا ہی غرور اور گھمنڈ اس کا ٹوٹ جاتا ہے اور نئے طالب علموں کی شوخیاں اور بے راہیاں اس کے دل ودماغ سے جاتی رہتی ہیں اور مدت دراز تک ٹھوکریں کھانے کی وجہ سے ابتدائی حالت کے تہہ وبالا ہوئے ہوئے خیالات کچھ کچھ روبراہ ہوتے جاتے ہیں۔ جیسے ایک بڑے فلاسفر کا قول ہے کہ میں نے علم اور تجربہ میں ترقیات کیں۔ یہاں تک کہ آخری علم اور تجربہ یہ تھا کہ مجھ میں کچھ علم وتجربہ نہیں۔ سچ ہے دریائے غیرمتناہی علم وقدرت باری جل شانہ کے آگے ذرہ ناچیز انسان کیا حقیقت ہے کہ دم مارے اور اس کا علم وتجربہ کیا شئے ہے۔ تا اس پر نازل کرے۔ ’’سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا‘‘ کیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خداتعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہ عقیدہ ہے کہ جو کچھ اس سے ہونا ثابت ہے وہ قبول کیا جائے اور جو کچھ آئندہ ثابت ہو۔ اس کے قبول کرنے کے لئے آمادہ رہیں اور بجز امور منافی صفات کمالیہ حضرت باری عزاسمہ، سب کاموں پر اس کو قادر سمجھا جائے اور امکانی طور پر سب ممکنات قدرت پر ایمان لایا جائے۔ یہی طریق اہل حق ہے جس سے خداتعالیٰ کی عظمت وکبریائی قبول کی جاتی ہے اور ایمانی صورت بھی محفوظ رہتی ہے جس پر ثواب پانے کا تمام مدار ہے نہ یہ کہ چند محدود باتیں۔ اس غیرمحدود کے گلے کا ہار بنایا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ گویا اس نے اپنے ازلی وابدی زمانہ میں ہمیشہ اسی قدر
قدرتوں میں اپنی جمیع طاقتوں کو محدود کر رکھا ہے یا اسی حد پر کسی قاسر سے مجبور ہورہا ہے۔ اگر خداتعالیٰ ایسا ہی محدود القدرت ہوتا تو اس کے بندوں کے لئے بڑے ماتم اور مصیبت کی جگہ تھی۔ وہ عظام الشان قدرتوں والا اپنی ذات میں ’’لا یدرک ولا انتہی‘‘ ہے۔ کون جانتا ہے کہ پہلے کیا کیا کام کیا او آئندہ کیا کیا کرے گا۔ ’’تعالٰی اللہ علوا کبیرا‘‘ ایک حکیم کا قول ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بھی گمراہی نہیں کہ انسان اپنی عقل کے پیمانہ سے باری عزاسمہ کے ملک کو ناپنا چاہئے۔ یہ بیانات بہت صاف ہیں جن کے سمجھنے میں کوئی دقت نہیں۔ لیکن بڑے مشکل کی یہ بات ہے کہ دنیا پرست آدمی جس کی نظر مدح وذم پر لگی ہوئی ہے۔ وہ جب ایک رائے اپنی قائم کر کے مشہور کر دیتا ہے تو پھر اس رائے کا چھوڑنا خواہ کیسی ہی وجوہات بینّہ مخالف رائے نکل آئیں اس پر بہت مشکل ہو جاتا ہے اور پھر جب ایسے غلط خیالات میں چند نامی عقلاء مبتلا ہو جائیں تو ادنیٰ استعداد کے آدمی ان خیالات کی تقلید کرنا اور بے سمجھے سوچے اس پر قدم مارنا اپنی عقلمندی ثابت کرنے کے لئے ایک ذریعہ سمجھ لیتے ہیں۔ فلسفی تقلید ہمیشہ اسی طرح پھیلتی رہی ہے۔ کم استعداد لوگ جو بچوں کی سی کمزوری رکھتے ہیں وہ بڑے بابا کا منہ دیکھ کر وہی باتیں کہنے لگتے ہیں جو اس بزرگ کے منہ سے نکلیں۔ گو وہ واقعی ہوں یا غیرواقعی اور صحیح ہوں یا غیر صحیح ان کو اپنی سمجھ تو ہوتی ہی نہیں۔ ناچار کسی نامی صیاد کے دام میں پھنس جاتے ہیں۔ واقعی جتنا انسان تقلید سے نفرت کر کے بھاگتا ہے اتنا ہی تقلید میں باربار پڑتا ہے۔‘‘
سرمہ چشم آریہ کی عبارت ختم ہوئی اور میں نے اس عبارت کے نقل کرنے میں صرف اس قدر کام لیا ہے کہ وہ مقام انتخاب واختیار کیا جس کا ایک ایک لفظ آج کل کے مسلمانوں کی حالت کو جو اس مسئلہ میں مرزاقادیانی پر حسن ظن کی وجہ سے ان کی ہوگئی ہے۔ ظاہر کرتا ہے۔
انسان کی کمزور طبیعت اور خداوند عزوجل کی شان کبریائی کو دیکھو۔ وہی مرزاقادیانی جو اس پر زور پرجوش تحریر کے ساتھ خدا کی ’’لا یدرک ولا انتہاء‘‘قدرتوں کا اظہار کرتا اور خداتعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا۔ بغایت درجہ عقل وایمان سے دور سمجھتا تھا۔ آج وہی مسیحm کی پوشان کی نسبت پوچھتا ہے۔
(توضیح المرام ص۵ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۵۳) ’’یہ پارچات از قسم پشمینہ یا ابریشم ہوں
گے۔ جیسے چوڑیا، گلبدن، اطلس، کمخواب، زربفت، ذری لاہی یا معمولی سوتی کپڑے کی۔ جیسے نین سکھ تن زیب۔ اینک چل گلشن ململ جالی، خاصہ، ڈوریا، چارخانہ اور کس نے آسمان میں بنے اور کس نے سئے ہوں گے۔ اب تک کسی نے مسلمانوں یا عیسائیوں میں سے اس کا کچھ پتہ نہیں دیا۔‘‘
اس تقریر اور پہلی تقریر کو ملا کر سب صاحبان دیکھ لیں اور موازنہ کریں کہ جس درجہ کا ایمان وایقان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر پہلی کلام سے واضح ہوتا ہے کیا وہی ایمان وایقان اور اسی درجہ کی عظمت اور ادب اس پچھلی کلام سے بھی لائح ہے؟ اگر کوئی شخص غور وتأمل سے آیات الٰہی کو دیکھے اور پڑھے تو یہ بودا اور نمود کا قانون قدرت اسے جگہ جگہ ٹوٹتا ہوا نظر آئے گا۔
بائبل سے ثابت ہے کہ جب بنی اسرائیل تہہ میں تھے چالیس سال تک ان کے کپڑے نہ پھٹے نہ پرانے ہوئے۔ مرزاقادیانی کو مسیح کے لباس پر پھر اعتراض کیوں ہے؟
’’واذ قال ابراہیم رب ارنی کیف تحی الموتٰی قال اولم تؤمن قال بلٰی ولٰکن لیطمئن قلبی قال فخذ اربعۃ من الطیر فصرہن الیک ثم اجعل علٰی جبل منہن جزء ثم ادعہن یاتینک سعیا واعلم ان اللہ عزیز حکیم (بقرۃ:۲۶۰)‘‘ {اور جب ابراہیم نے کہا۔ اے رب مجھ کو دکھلا تو کیونکر زندہ کرے گا مردے کو۔ خدا نے کہا، کیا تجھے یقین نہیں۔ حضرت ابراہیم نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن اس لئے کہ میرے دل کو تسلی ہو، خدا نے کہا تو چار جانور اڑتے پکڑ۔ پھر ان کو اپنے ساتھ ملا پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا پہاڑ پر پھینک پھر ان کو پکار تیرے پاس دوڑتے آئیں گے اور جان لے کہ البتہ اللہ زبردست حکمت والا ہے۔}
گوشت کے ٹکڑوں کو جو مختلف پہاڑوں پر پھینک دئیے گئے ہوں۔ انسان کی آواز سنتے ہی زندہ وپرندہ جانور ہو جانا۔ قانون قدرت کے خلاف ہے؟ وہ قانون قدرت جو انسانوں کا ہے۔ مرزاقادیانی نے جو اس کی تاویل یہ کی ہے کہ بعض حشرات الارض (بچھو) بھی ایک خاص ترکیب سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس ان طیور کا جو حضرت خلیل الرحمن کے دکھلانے کو زندہ کئے گئے۔ انہی پر قیاس کرو۔ چند وجوہ سے غلط ہے۔
۱… حضرت ابراہیم کا سوال یہ تھا کہ بار الہا تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا؟ وہ طریق
دکھلادے اور یہ سوال نہ تھا کہ زندوں کو کیونکر پیدا کرتا ہے۔ پس یہ مثال اس کے مفید نہیں۔
۲… یہ کہ حشرات الارض پر یہ قدرت کا کرشمہ دکھلایا بھی نہیں گیا۔ (کیونکہ حشرات الارض کی تو سینکڑوں قسمیں توالدوتناسل کے بغیر پیدا بھی ہوجاتی ہیں) بلکہ چار قسم کے پرند چانوروں کو مار کر اور ان کے گوشت کا قیمہ قیمہ کر کے پھر ان کو زندہ اور پرندہ کر کے دکھلایا ہے اور ان جانوروں کے دوبارہ زندہ ہونے میں حضرت ابراہیمm کی جانب سے کوئی خاص ترکیب یا تدبیر بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔
۳… آیت کے اختتام پر ہے: ’’واعلم ان اللہ عزیز حکیم‘‘ پس اگر بقول مرزاقادیانی کے ہر ایک انسان زندہ کن مردگان ہے اور جو آدم کا بیٹا ہے وہ مردوں کو زندہ بھی کر سکتا ہے تو پھر آخر آیت میں رب کریم کا اپنے عزیز وحکیم ہونے پر استدلال کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔
۴… مرزاقادیانی پر افسوس ہے کہ خود تو یہاں تک یقین رکھتے ہیں کہ ہر انسان مردہ کو ایک خاص ترکیب سے زندہ کر سکتا ہے۔ لیکن باایں ہمہ مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیوں وہ الدجال کے سحروکہانت سے بھرے ہوئے اعجوبہ نما کاموں کا ذکر کر رہے ہیں۔ ہاں! مرزاقادیانی آپ صرف اتنے تصور پر مسلمانوں کے معتقدات کو تو پراز شرک بتاتے ہیں اور اپنے اس اعتقاد کی طرف دھیان بھی نہیں دیتے۔
’’او کالذی مر علی قریۃ وہی خاویۃ علٰی عروشہا قال انی یحی ہذہ اللہ بعد موتہا فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوما او بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام فانظر الٰی طعامک وشرابک لم یتسنہ وانظر الٰی حمارک ولنجعلک آیۃ للناس وانظر الٰی العظام کیف ننشزہا ثم نکسوہا لحما فلما تبین لہ قال اعلم ان اللہ علٰی کل شیٔ قدیر (بقرۃ:۲۵۹)‘‘یا جیسے وہ شخص کہ ایک شہر پر گزرا جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا۔ (وہ) بولا اللہ مر جانے کے بعد اس کو کیسے زندہ کرے گا۔ پس خدا نے اس کو موت دی۔ سو برس تک مردہ رہا۔ پھر اسے اٹھا لیا اور پوچھا تو کتنی دیر (یہاں) رہا۔ بولا میں ایک دن یا دن سے کچھ کم رہا
ہوں،(خدا نے کہا) نہیں تو سو برس تک رہا ہے۔ اب اپنے کھانے اور اپنے پانی کو دیکھ لے کہ وہ سڑ نہیں گئے اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ (ہاں) ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کے لئے تجھ کو نشان بنائیں۔ ہاں! دیکھ ہم ہڈیوں کو کس طرح ابھارتے ہیں اور پھر کس طرح ان ہڈیوں کے اوپر گوشت کو پہناتے ہیں۔ جب اس (شخص) پر یہ کچھ ظاہر ہوا وہ بولا میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ اکبر! کیسے کیسے صاف الفاظ اور واضح بیان میں یہ قصہ فرمایا ہے۔ حضرت عزیرm کا ایک ویران جگہ اور بستی کو دیکھ کر احیائے موت سے تعجب وحیرت کرنا (انکار یا شک نہیں یہ تو خاصان خدا سے بہت بعید ہے) رب کریم کا خود ان پر موت وارد کردینا۔ حضرت عزیرm کا سو برس تک مردہ پڑا رہنا۔ رب کریم کا ان کو دوبارہ زندہ کرنا۔ ان کی سواری کے جانور کا ان کے سامنے زندہ کرنا۔ ہڈیوں کا زمین میں سے بننا ہڈیوں پر گوشت چڑھنے کا معائنہ کرنا۔ حضرت عزیرm کے توشہ کی روٹی پانی وغیرہ پر سو برس کے دراز زمانہ اور زمین کی تاثیرات اور ارضی وسماوی حوادث کا اثر انداز نہ ہونا صدہا فصلوں کی تغیرات کا اثر ایک روٹی اور پیالہ بھر پانی پر نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔ امور کس قدر فلسفیوں کے قانون قدرت کو توڑ رہے ہیں۔ قانون قدرت پکارنے والوں کا جواب خود اس آیت میں موجود ہے اور ’’ولنجعلک آیۃ للناس‘‘کی حکمت معترضین کو ادب سکھلانے کے لئے درّہ کا کام کر رہی ہے۔
مرزاقادیانی اس قصہ میں آکر بالکل دست پاچہ ہوگئے ہیں۔ قرآن کے صاف اور واضح الفاظ سے انکار کرنا بھی دشوار تھا۔ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ: ’’دنیا میں آنا صرف عارضی تھا اور دراصل عزیر بہشت میں ہی موجود تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۶۵، خزائن ج۳ ص۲۸۷،۲۸۸)
مرزاقادیانی یا کوئی ان کا ذی فہم حواری قسم کھا کر بتلا دے کہ اس کے کیا معنی ہیں۔ اس سے آگے چل کر کہتے ہیں کہ: ’’اگر عزیر کو خدا نے اس طرح زندہ کر دیا ہو تو تعجب کیا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۶۵، خزائن ج۳ ص۲۸۷)
صریحۃً الدلالت آیت کے پڑھنے کے بعد بھی یقین نہیں آتا کہ زندہ کر دیا۔ لکھتے ہیں حالانکہ چار سطریں اوپر کی دیکھو تو ان میں حضرت عزیر کا دنیا میں آنا بھی مان چکے ہیں۔
مرزاقادیانی آیت کے متن پر پھر نظر ڈالو تا کہ ’’وانظر الی العظام کیف ننشزہا ثم نکسوہا لحما‘‘بھی آپ کے ملاحظہ میں آ جائے کہ ہڈیوں کا مٹی میں سے بننا اور پھر ہڈیوں کے اوپر گوشت کا چڑھنا ان کی آنکھوں کو دکھلایا گیا تھا۔ چنانچہ ’’فلما تبیّن لہ‘‘ کا زور کلام ہی ثابت کر رہا ہے کہ جب حضرت عزیرm نے اطلاع ربانی سے یہ علم حاصل کر لیا کہ وہ سو برس کی وفات کے بعد اٹھے ہیں اور پھر انہوںنے دیکھا کہ ان کا کھانہ دانہ اسی طرح پڑا ہے تو ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت میں اس وقت دو امر حاصل ہو گئے تھے۔ ایک علم الیقین اور دوسرے حیرت معرفت۔ لیکن جب رب کریم نے خود ان کو ان کی آنکھوں کے سامنے مردے کا زندہ ہونا دکھلایا تو اب ان کا علم الیقین عین الیقین کے درجہ کو پہنچ گیا اور حضرت عزیرm بول اٹھے۔ ’’اعلم ان اللہ علٰی کل شیٔ قدیر‘‘ مرزاقادیانی گو آپ نے اصل مطلب کو ایچ پیچ ڈال کر بہت کچھ چھپانا چاہا۔ مگر آفتاب کی شعاعوں کو گردوغبار آز کہاں تک روک سکتا ہے۔ ہاں! آپ کی خامی اس مسئلہ میں اس سے بھی واضح ہے کہ آپ طعام وشراب کے تغیر پذیر نہ ہونے کی کچھ بھی تاویل نہیں کر سکے۔ گدھے کے بارے میں جو تاویل کی ہے وہ بھی حیوانی سمجھ سے زیادہ نہیں۔
’’ولبثوا فی کہفہم ثلاث مائۃ سنین وازدادوا تسعاً (کہف:۲۵)‘‘اور مدت گزری ان پر اپنے کھوہ میں ۳۰۰ اور ۹برس۔ ۳۰۰برس تک سوئے رہنا اور تغیرات جسمی وحوادث ارضی وسماوی وحاجات جسمانی سے ایسے پاک وصاف رہنا کہ خود ان کو ایک دن یا دن سے بھی کچھ کا عرصہ معلوم ہونا قانون قدرت کو جو فلسفیوں کا ہے توڑ رہا ہے اور حضرت مسیحm کی بابت ان شکوک واعتراضات کو کہ ان کے جسم میں تغیر کیوں نہیں آتا اور وہ کیا کھاتے ہیں۔ کیا پیتے ہیں۔ اگر نہیں کھاتے تو کیونکر زندہ رہتے ہیں؟ وحی الٰہی کے پاک واعلیٰ الفاظ قاہرانہ طاقتوں سے خوب ہی کچل رہے ہیں۔ اصحاب کہف کی زیست وخواب کا حال اور بھی زیادہ قانون قدرت کو پاش پاش کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو آیات!
’’وتری الشمس اذا طلعت تزاورعن کہفہم ذات الیمین واذا غربت تقرضہم ذات الشمال وہم فی فجوۃ منہ ذالک من اٰیات اللہ ۔ من
یہد اللہ فہو المہتدو من یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشد او تحسبہم ایقاظ وہم رقودو نقلبہم ذات الیمین وذات الشمال (کہف:۱۷،۱۸)‘‘{اور تو دیکھے دھوپ جب نکلتی ہے۔ ان کی کھوہ سے داہنے کو بچ کر جاتی ہے اور جب ڈوبتی ہے تو بائیں جانب کو کتراتی ہے اور وہ اس کے میدان میں ہیں۔ یہ ہے اللہ کی قدرتوں سے جس کو خدا راہ دکھلا دے وہی راہ پر آئے اور جس کو وہ بچلا دے۔ اس کا کوئی رفیق راہ پر لانے والا تم کو نہ ملے گا اور تو سمجھے (ان کو دیکھ کر) کہ وہ جاگتے ہیں۔ حالانکہ وہ سوتے ہیں اور ہم ان کو داہنے اور بائیں کروٹ دلاتے ہیں۔}
دیکھو ہزاروں سال تک سونا اور ایسی جگہ پڑے رہنا جہاں آفتاب کی روشنی تک نہ پہنچے ان کے جسموں کا نہ گلنا نہ سڑنا نہ تغیر پذیر ہونا۔ ہاں! ان کا نہ کھانا نہ پینا اور کل ظاہری اسباب حیات کے بغیر اسی عنصری عالم میں ہزاروں سال ادھر سے ادھر کروٹیں لیتے رہنا۔ کتنا کچھ دہریوں کے قانون قدرت کو توڑتا ہے اور محدثہ عقائد کو بیخ وبن سے برکندہ کرتا ہے۔
مرزاقادیانی نے اصحاب کہف کو بھی مسلم کی سو برس والی حدیث کی دلیل پر زور دیا ہے۔ لیکن یہاں آکر آپ حدیث عرض کو کیوں بھول گئے؟ اور مجمل حدیث کے ساتھ مفصل قرآن کو کس طرح رد کرنے لگے۔ کیا یہی اصول اور جگہ ٹوٹ جانا بھی آپ پسند کریں گے؟ یہاں تو آپ نے حدیث سے قرآن کو رد کر دیا۔
’’واتخذ سبیلہ فی البحر عجبا (کہف:۶۳)‘‘{اس نے دریا کی راہ لی عجب سے۔} یہ بھی مرزاقادیانی کے قانون قدرت کے خلاف ہے۔
رسول اللہ a کے حکم سے درختوں کا حاضر ہونا۔ طے ارض، پتھروں کا بولنا، جانوروں کا عرض داشت کرنا، درندوں کا اخبار، ہرنی کا ایفاء وعدہ، حم شاہت الوجوہ پڑھ کر مٹھی بھر کنکریوں کا پھینک دینا۔ ہزاروں اعداء اللہ کی آنکھوں میں اس کا پہنچنا اور ان کا بھاگ جانا۔ غرض ہزاروں معجزات وآیات جو قرآن وحدیث سے ثابت ہیں۔ دہریہ کے بیان کردہ قانون قدرت کے خلاف ہیں۔ رب ذوالجلال اپنی لامحدود قدرت دکھلا رہا ہے اور جگہ جگہ فلسفیوں کے قانون قدرت کو توڑ رہا ہے۔ لیکن باایں ہمہ اب ہم سے مرزاقادیانی دریافت کرتے ہیں کہ جب چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر ایسی ہوا ہے کہ اس میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا تو عیسیٰm کیونکر اٹھائے گئے یا اتارے جائیں گے؟
خلاصہ اس تمام بحث کا یہ ہے کہ قانون قدرت کوئی ایسی شئے نہیں ہے کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہر سکے۔ اس لئے ساری عقلمندی اور حکمت اور فلسفیت اور ادب اور تعلیم اسی میں ہے کہ ہم چند موجودہ مشہودہ قدرتوں کو جن میں ابھی صدہا طور کا اجمال باقی ہے۔ مجموعہ قوانین قدرت ربانی خیال نہ کر بیٹھیں اور اس پر نادان لوگوں کی طرح ضد نہ کریں کہ ہمارے مشاہدات سے خداتعالیٰ کا فعل ہرگز تجاوز نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ صرف احمقانہ دعویٰ ہے۔ جو ہرگز ثابت نہیں کیاگیا اور نہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہ مانا کہ کوئی شخص ۴۰۰۰ فٹ کی بلندی پر اپنے ارادہ سے نہ جا سکے اور زندہ نہ رہ سکے۔ لیکن کیا جس کو اللہ تعالیٰ لے جانا اور زندہ رکھنا چاہے۔ اس کے لئے بھی محال ہے؟ بائبل کو دیکھو کہ نوحm کی کشتی ستر ہزار فٹ کی بلندی سے بھی زیادہ اونچائی پر تھی وہ کشتی جس میں انواع حیوانات شامل تھے اور وہ سب کے سب زندہ صحیح وسالم رہے۔
حکماء کا یہ بھی قول ہے کہ بعض تاثیرات ارضی یا سماوی ہزاروں بلکہ لاکھوں برس کے بعد ظہور میں آتی ہیں جو بڑے بڑے فلسفیوں کو حیرت میں ڈالتی ہیں اور پھر فلسفی لوگ ان کے قطعی ثبوت اور مشاہدہ سے خیرہ ونادم ہو کر کچھ نہ کچھ تکلّفات کر کے طبعی یا ہیت میں ان کو گھسیڑ دیتے ہیں۔ تا ان کے قانون قدرت میں فرق نہ آجائے۔ جب تک متواتر دم کے کٹنے پر دم کٹے کتے پیدا نہ ہونے لگے۔ اس خاصیت کا کوئی فلاسفر اقراری نہ ہوا اور جب تک بعض زمینوں میں کسی سخت زلزلہ کی وجہ سے ایسی آگ نہ نکلی کہ پتھروں کو پگھلا دیتی تھی۔ مگر لکڑی کو جلا نہ سکتی تھی۔ تب تک فلسفی لوگ ایسی خاصیت کا آگ میں ہونا قانون قدرت کے خلاف سمجھتے رہے۔
اب مرزاقادیانی یہ فرمائیے کہ جب فلسفیوں کی آنکھ اس وقت ہی کھلتی ہے جب کہ کوئی خارق عادت یا خلاف قانون قدرت واقعہ ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت اسے تکلّفات کر کے طبعی وہیت میں گھسیڑ دیتے ہیں تو کیا آپ بھی واقعات مندرجہ صدر مذکورہ قرآن کو طبعی یا ہیت میں جگہ دیتے ہیں یا نہیں۔ اگر ان کے لئے کوئی مقام تجویز کر دیا گیا ہے تو پھر براہ شفقت بزرگانہ آپ ان آیات پر بھی توجہ فرمادیں گے۔
اور کہا ہم نے اے آدم پس رہو تو اور تیری عورت جنت میں اور کھاؤ اس سے محفوظ ہوکر جس جگہ پر چاہو اور نزدیک نہ جاؤ اس درخت کے پھر تم بے انصاف ہو گے۔ پس ڈگمگایا ان کو شیطان نے اس سے پھر نکالا ان کو وہاں سے جس آرام میں تھے اور کہا ہم نے تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو تم کو زمین میں ٹھہرنا ہے اور ایک وقت تک کام چلانا ہے کہ آدم وحواn جو بہشت میں تھے وہ دنیا پر کیونکر آئے۔ چیل کی طرح چونچ کھولے، پر لٹکائے یا خدا کی حکمت بالغہ کے ساتھ اور ایسی شان کے ساتھ جو اس کے نزدیک مناسب تھی اور پھر گزارش یہ ہے کہ جب آدم وحواn کا آسمان پر سے دنیا پر آنا ہوچکا ہے اور فلسفیوں کا قانون فلسفیوں کے پیدا ہونے سے بھی پہلے ٹوٹ چکا ہے اور اسی لئے ان پر لازم تھا اور ہے کہ اس کو طبعی یا ہیت کے اندر جگہ دیں اور اگر اپنی کم علمی اور قصور فہم کی وجہ سے جو امر کہ واقع ہو چکا ہے۔ اس کو ثابت نہیں کر سکتے تو آئندہ کے لئے اس کو ناممکن ومحال تو نہ بتلائیں تو کیوں حضرت مسیحm کے دوبارہ آسمان سے دنیا پر آنے کا انکار وخلاف کیا جاتا ہے؟ ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘رب کریم نے خود فرمایا ہے اور اگر آدم بہشتی بہشت میں ہی رہے اور آدم خاکی ان کے مثیل پیدا کئے گئے تو پھر پہلے کا گناہ دوسرے پر کیوں تھوپا جاتا ہے اور ’’فتلٰقی آدم من ربہ کلمٰت‘‘ کے ساتھ ’’فتاب علیہ‘‘ کہہ کر کیوں احسان جتایا جاتا ہے اور اسی کو سجدہ نہ کرنے کی شامت میں شیطان کو ملعون اور آدم خاکی نیز اس کی اولاد کا دشمن کیوں بنایا جاتا ہے؟ کوئی یہ نہ کہے کہ جنت میں ہونے کا ذکر ہے۔ آسمان پر ہونے کا ذکر کہاں ہے سو بہشت کا آسمان پر ہونا حدیث میں آیا ہے اور اس حدیث کو لائق تمسک مرزاقادیانی نے بھی سمجھا اور اس سے حلیہ مسیح لیا ہے تو صاف ثابت ہوگیا کہ حضرت آدم اور ان کی زوجہ حوّٰا دونوں عنصری اور خاکی وجود کے ساتھ (بلکہ یوں کہو کہ اور طاؤس بھی اور آتشی نژاد شیطان بھی اپنے اپنے عنصری جسموں کے ساتھ) آسمان سے زمین پر اترے۔ ان کا آسمان پر زندہ رہنا بھی ثابت ہوگیا اور وجود عنصری کے ساتھ زمین پر آنا بھی۔ پس جب کہ رب کریم نے ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘ کہا ہے تو آدمm ہی کی طرح عیسیٰm کا آنا کیوں بعید از عقل سمجھا جاتا ہے اور کیوں کہا جاتا ہے کہ ایسے ایسے خوارق کا
اس ’’دارالبوار‘‘ میں دکھلانا حکمت ایمان بالغیب کو توڑتا ہے۔ کیونکہ اگر یوں ہی ہوتا تو کوئی نبی کبھی کوئی معجزہ نہ دکھلاتا۔ معجزہ شق القمر جس کے اثبات میں آپ کی کتاب سرمہ چشم آریہ موجود ہے اور جس کی حدیث صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ کیا آپ کے نزدیک اس درجہ کو نہیں پہنچا کہ ایمان بالغیب کی حکمت کو توڑ دے؟ کیونکہ اس کو آپ نے بہ سہولت تسلیم کر لیا ہے۔ دوسری آیات یہ ہیں۔
’’اذ قال الحواریون یا عیسٰی ابن مریم ہل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء قال اتقوا اللہ ان کنتم مؤمنین قالوا نرید ان ناکل منہا وتطمئن قلوبنا ونعلم ان قد صدقتنا ونکون علیہا من الشہدین قال عیسی ابن مریم اللہم ربنا انزل علینا مائدۃ من السمآء تکون لنا عیدا لا ولنا واٰخرنا واٰیۃ منک وارزقنا وانت خیر الرازقین قال اللہ انی منزلہا علیکم فمن یکفر بعد منکم فانی اعذ بہ عذاباً احداً من العالمین (مائدہ:۱۱۲، ۱۱۵)‘‘{جب کہا حواریوں نے اے عیسیٰ بیٹے مریم کے تیرے رب سے ہوسکتا ہے کہ اتارے ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے، بولا ڈرو اللہ سے اگر تم کو یقین ہے۔ بولے ہم چاہتے ہیں کہ کھاویں اس سے اور اطمینان پائیں ہمارے دل اور ہم جانیں کہ تو نے ہم کو سچ بتایا اور رہیں ہم اس پر گواہ۔ بولا عیسیٰm مریم کا بیٹا۔ اے اللہ رب ہمارے اتار تو ہم پر ایک خوان بھرا ہوا آسمان سے کہ وہ دن عید رہے۔ ہمارے پہلوں اور پچھلوں کو اور ہو نشانی تیری طرف سے اور روزی دے، ہم کو اور تو ہے بہتر روزی دینے والا۔ کہا اللہ نے میں اتاروں گا وہ خوان تم پر پھر جو کوئی تم میں ناشکری کرے اس پیچھے تو میں اس کو وہ عذاب کروں گا جو نہ کروں گا کسی کو جہان میں۔}
مجسم کھانوں اور خوانوں کے آسمان سے اترنے کا ثبوت ملتا ہے تو کیا کھانوں کے بھرے خوان کا اترنا ممکن اور جائز ہے اور یہ امر ایمان بالغیب کی حکمت کے بھی منافی نہیں؟ اگر کوئی کہے کہ: ’’منزّلہا‘‘ آیا ہے اتاروں گا۔ شاید خدا نے وہ خوان اتارا بھی یا نہیں تو میں کہتا ہوں: ’’یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر‘‘ میں یرید آیا ہے۔ کیا پتہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ بھی پورا کیا ہے یا نہیں اور علیٰ ہذا آیت تطہیر میں ’’انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا‘‘ میں بھی ’’یرید،
یذہب‘‘ اور ’’یطہرکم‘‘ کہا ہے۔ پس اگر ان ارادوں کو پورا کیا ہے اور ہم سب کا ایمان ہے کہ ضرور پورا کیا ہے تو ایمان لانا چاہئے کہ ’’منزّلہا‘‘ کو بھی پورا کیا ہے۔ کیونکہ وہ وعدہ تھا اور یہ ارادہ اور وعدہ اور ارادہ فرق بیّن آشکار ہے۔ وعدہ کی بابت تو اللہ تعالیٰ نے خود فرمادیا ہے: ’’ان اللہ لا یخلف المیعاد (آل عمران:۹)‘‘
اس جگہ اگر مرزاقادیانی اجازت دیں تو ہم بھی ادب کے ساتھ دریافت کر لیں کہ یہ خوان کھانوں کا جو اترا تھا وہ کس نے پکایا تھا۔ گوشت، چاول، مصالحہ، قند اور لوازم کس نے خریدے۔ کس نے پکائے۔ جن برتنوں میں وہ کھانا آیا وہ کاہے کے تھے۔ مٹی کے یا چینی تانبے کے یا کانسی کے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب انسانوں اور حیوانوں کا اجسام عنصری کے ساتھ آسمان پر سے اترنا ثابت ہے اور کھانوں اور خوانوں کا اترنا منصوص ہے تو حضرت عیسیٰm کے اترنے پر کیوں خلاف نصوص قرآنیہ ونبویہ شک کیا جاتا ہے اور کیوں اہل حق کے عقائد پر سو فسطائیوں اور سیمراویوں کے عقائد وتوہمات کو ترجیح دی جاتی ہے اور ان مثالوں پر بھی کچھ موقوف ومنحصر نہیں ہے اور بھی ایسے اجسام واشیاء ہیں جن کا آسمان سے نزول یا زمین سے صعود ہوتا رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملائکہ کے بارہ میں مرزاقادیانی کا وہ فقرہ کہ ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ اسی پیش بندی کے لئے ہے کہ آسمان سے ہر چیز کے اترنے کا خواہ کوئی ہو، انکار کرنا چاہے تاکوئی یوں نہ کہے کہ یہ کیوں مانا اور وہ کیوں نہیں مانتے۔ ورنہ قرآن مجید کی بیسیوں آیات اس کے ابطال میں موجود ہیں۔
دیکھو! یہ سب آیات فرشتوں کا زمین پر اور انبیاء کے پاس آنا ثابت کر رہی ہیں اور
کلم طیب کے صعود کا بھی نشان دے رہی ہیں۔ اسی طرح حدیث شریف میں ہے: ’’ینزل البلاء فی عالجہا الدعاء‘‘ احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ ملائکہ مردے پر اترتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں یا ملائکہ جان سپار شخص پر اترتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں حریر یا پارچہ پاس ہوتا ہے تو یہ سب امور ثابت کر رہے ہیں کہ آسمان وزمین میں اور اس ملک وملکوت میں نزول وصعود کا سلسلہ لگاتا جاری ہے۔ ورنہ فرمائیے اگر ملک وملکوت میں کوئی علاقہ نہیں تو خود آپ کے اس شعر کے کیا معنی ہیں۔ جو اس روشن خیالی اور مثیلیت کے عالم میں لکھا گیا ہے۔
حکم است ز آسمان بزمین مے رسانمش
اب ہم حدیث نزول عیسیٰm کی طرف توجہ کرتے ہیں: جب مرزاقادیانی نے دیکھا کہ احادیث نبوی نہایت شرح وبسط کے ساتھ موجود ہیں اور خروج دجال ونزول عیسیٰm کی علامات وآثار اور نشان کو رسول کریمa نے مقامات کا نام لے لے کر ظاہر فرمادیا ہے تو کوئی ایسی مفر کی صورت نہ ملی۔ جس سے اپنے دعاوی پر جمے رہتے اور مسلمانوں کی نگاہوں میں بظاہر منکر احادیث بھی نہ ہونا پڑتا۔ اس لئے آپ نے امام بخاری کی صحیح کی ایک حدیث لے کر اپنی طرف سے یہ حاشیہ چڑھایا۔
’’بخاری جو فن حدیث میں ایک ناقد بصیر ہے ان تمام روایات کو معتبر نہیں سمجھتا۔ یہ خیال ہرگز نہیں ہوسکتا کہ بخاری جیسے جدوجہد کرنے والے کو وہ تمام روایات رطب ویابس پہنچی ہی نہیں بلکہ صحیح اور قرین قیاس یہی ہے کہ بخاری نے ان کو معتبر نہیں سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ دوسری حدیثیں اپنی ظاہری صورت میں ’’امامکم منکم‘‘ کی حدیث سے معارض ہیں اور یہ حدیث غایت درجہ کی صحت پر پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اس نے ان مخالف المفہوم حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ کر۔ اپنی صحیح کو ان سے پر نہیں کیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۷۴، خزائن ج۳ ص۱۷۳)
افسوس کیسا مصیبت انگیز واقعہ اور ماتم خیز سانحہ ہے کہ اسلام کے نام لیوا اور اسلام کے خادم۔ بلکہ یوں کہو اسلام کے موئید اسلام کے مجدد اب یہ رہ گئے؟ کہ سروبن سے اس کے قطع کرنے اور کاٹنے چھانٹنے کے لئے چار طرف سے تیشہ وتبر لے کر اس پر حملہ کر رہے ہیں اور اسلام کے سدرۃ المنتہیٰ پر اپنی توہمات کا پیوند چڑھا رہے ہیں۔ بزرگ مسلمانو! آپ نے اس کو
سوچا اور سمجھا بھی مطلب اس کا یہ ہے کہ بخاری کی صحیح کے سواء اور جتنی کتب حدیث ہیں خواہ صحیح ہیں۔ خواہ مسند! سب ساقط الاعتبار ہیں اور سب رطب ویابس سے پر ہیں اور ان پر اعتماد کرنا نہ قرین قیاس ہے نہ مسلم عقل، افسوس صد افسوس اس ایک ہی تمہید نے رسول اللہ a کے ہزار درہزار حدیثوں اور ارشادوں کا خون کر دیا اور ہزاروں شرعی مسائل کو جن کا استنباط اور مآخذ ان حدیثوں سے تھا۔ ’’نسیاً منسیاً‘‘ بنادیا۔ لیکن ہم مرزاقادیانی سے یہ عرض کئے دیتے ہیں کہ آپ کل مسائل اسلامی کو صرف صحیح بخاری ہی سے ثابت نہ کر سکیں گے۔ حجتہ الوداع کا قصہ اور مسلم کی حدیث جو جابرq سے ہے صحیح بخاری میں کہاں ہے؟ حالانکہ یہ حدیث ایسے جامع احکام اور اسرار سمجھی گئی ہے کہ ڈیڑھ سو سے زیادہ مسائل علماء نے اس سے نکالے ہیں اور رسول اللہ a نے آخری وعظ اور آخری نصیحت جو فرمائی تھی اور شہادت جو اپنی تبلیغ نبوت پر لوگوں سے لی تھی اور خدا کو گواہ بنایا تھا۔ وہ سب کچھ اسی میں ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’’وانتم تسالون عنی فما انتم قائلون قالوا نشہد انک قد بلغت وادیت ونصحت فقال بصبعہ السبابۃ یرفعہا الی السماء وینکتہا الی الناس اللہم اشہد اللہم اشہد ثلث مرۃ‘‘
(مسلم ج۱ ص۳۹۷، باب حجۃ النبیa)
برائے مہربانی آپ ثابت فرمادیں گے کہ امام بخاریv نے اس حدیث کو کیوں نہیں لیا۔ یہ توجیہہ جو آپ نے تراشی ہے بالکل اصول کے خلاف ہے اور عقل اس کے کسی حصہ پر گواہی نہیں دے سکتی۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ امام بخاریv ہی حامل علم نبوی تھے تو صریح ان نصوص کے خلاف ہوگا جو مرویات صحابہi کے بارہ میں صحاح میں ملتی ہیں۔
صحیح بخاری میں کوئی حدیث نہ ہونے سے یہ معنی تراش لینا کہ امام بخاریv نے اس حدیث کو غیر صحیح سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ ایسا جھوٹ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ امام بخاریv تو خود مقدمہ البخاری ص۵ میں فرماتے ہیں: ’’ما ادخلت فی کتابی ہذا الّٰا ماصح وترکت کثیراً من الصحاح‘‘دوسری جگہ اس سے واضح ترقول موجود ہے۔ ’’حفظت من الصحاح مائۃ الف حدیث ومن غیر الصحاح مأتی الف‘‘حالانکہ ان لاکھ صحیح حدیثوں سے کتاب میں پانچ ہزار سے بھی کم حدیثیں ہیں۔
علیٰ ہذا کہنا کہ کل احادیث رسولa امام بخاریv کو مل گئی تھیں۔ بالکل لغو ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر دیگر ائمہ حدیث کیوں طلب حدیث میں سرگردان ہوتے اور کیوں
ابوعبداللہ حاکمv اور حافظ ضیاء الدینv المقدسی جیسے محدثین شرط شیخین پر مستدرک لکھنے بیٹھتے اور امام الائمہ بن خزیمہ وابن حبان وسیوطی ودارمی جیسے بزرگوں کی کتابیں صحیح کے لقب سے کیونکر نام پاتیں۔ ہمارے اس قدر لکھنے پر بھی اگر مرزاقادیانی اپنے طبع زاد اصول پر قائم رہیں اور ایک حدیث کے صحیح بخاری میں نہ ہونے کی وجہ سے اس کا صحیح نہ ہونا بھی سمجھتے رہیں تو براہ مہربانی وہ فرمائیں کہ پھر کس دلیل سے آپ مسلم والی حدیث سو برس سے اور ابی داؤد کی حدیث حارث حراث سے اور ابن ماجہ کی حدیث ’’لا مہدی الا عیسٰی‘‘ سے اور مسلم کی حدیث فوت ابن صیاد سے (وغیرہ وغیرہ) استشہاد واستمساک کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ کے اصول کی رو سے تو امام بخاری ان سب کو غیر صحیح وموضوع قرار دے چکے ہیں۔
خیر! ہم اس داستان غم وغصہ ورنج اندوہ کو مختصر کر کے یہ کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے نزدیک بخاریv کی بھی سب حدیث جو اس کی صحیح میں جمع ہیں اور اگر سب نہیں تو صرف جو اس بیان ابن مریم کے متعلق ہیں۔ صحیح ہیں یا نہیں؟ ماسوائے اس لفظ حدیث کے جس کو آپ نے لیا ہے اور اس کے معنی کچھ کے کچھ بنائے ہیں اور کوئی حدیث جو ابن مریم کے بارہ میں ہو اور خواہ بخاری میں ہی کیوں نہ ہو وہ صحیح ہو ہی نہیں سکتی؟ اگر مرزاقادیانی صحیح مان سکتے ہیں تو بخاری ہی کی حدیث یہ بھی غور طلب ہے۔ (صرف بخاری کی نہیں بلکہ متفق علیہ ہے)
’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)‘‘{قسم ہے اس خدا کی کہ بقا میری جان کی اس کے ہاتھ میں ہے۔ تحقیق اتریں گے تم میں بیٹے مریم کے۔}
’’والذی نفسی بیدہ‘‘ پر یہ اعتراض کیاگیا ہے کہ جب مسلمان رسول کریمa کے ہر ایک ارشاد کو تسلیم کر لیا کرتے تھے تو قسم کھانے کی کیا ضرورت تھی؟ سواصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰm کے بارہ میں جو کچھ ارشاد نبوی ہوتاتھا اس میں مؤمنین مخلصین کے علاوہ یہود ونصاریٰ بھی مخاطب ہوتے تھے۔ افسوس! آج کل کے مسلمان رسول کریمa کی قسمیہ کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے اور معلوم ہوتا ہے کہ قسم کھانے کی کیا ضرورت یہ تھی کہ ان پر اتمام حجت ہو جائے۔ (۱)’’حکماً‘‘ (۲)’’عدلاً‘‘ حاکم عادل ہوکر۔
رسول کریمa نے ابن مریم کی صفت ’’حکماً عدلاً‘‘ فرمائی ہے۔ جس سے
ثابت ہوتا ہے کہ ظاہری اقتدار وحکومت وسیاست بھی اس کو حاصل ہو گی اور اس کا جنگ اس کی فتح صرف قلمی اور کاغذی ہی نہ ہوگی اور وہ نہ کوئی زمیندار ہوگا نہ جاگیردار۔ جو خود اپنے قیام وغیرہ کی اجازت کے لئے اپنے منہ سے بولی ہوئی قوم دجال کی اجازت کا محتاج ہو گا۔ بلکہ وہ تو خود صاحب حکومت وسیاست ہوگا۔ جس کے سامنے مہمات سلطنت ومقدمات خلق پیش کئے جائیں گے اور جو اپنے ہر ایک کام میں عدالت وانصاف کو کام فرمائے گا۔
مرزاقادیانی نے جوابی داؤد کی حدیث دربارہ حارث اپنے پر صادق کر لی ہے اور اپنی زمینداری کو اس مطابقت کی وجہ ثبوت میں پیش کیا ہے۔ اس کو حدیث کا یہی لفظ ’’حکماً عدلاً‘‘ خوب توڑ رہا ہے اور بتلا ہے کہ ابن مریم اور ہے حارث اور۔ پس مرزاقادیانی کواگر ابن مریم بننا منظور ہے تو یہ صفت بھی پیدا کریں اور حارث بننے کی ہوس کو ترک کریں۔ اگرچہ حارث بننے میں زیادہ سہولت ہے۔ گوسیدوں کے ساتھ ناشائستہ برتاؤ اس کی تکذیب کر رہا ہے۔
۳…’’فیکسر الصلیب‘‘ پس توڑیں گے صلیب کو۔
حضرت عیسیٰm صلیب کو اسی طرح توڑیں گے جس طرح ابراہیم خلیل الرحمنm اور محمد رسول اللہ a نے بتوں کو توڑا تھا۔ جو شخص حضرت عیسیٰm کے اس فعل پر اعتراض کرتا ہے وہ ان اولوالعزم نبیوں پر بھی اعتراض کرتا ہے۔ ہاں! صلیب کے توڑنے میں چند اسرار ہیں۔
۱… اس جھوٹے قصہ سے برأت۔ جو یہودونصاریٰ نے حضرت عیسیٰm کی نسبت مصلوب ہونے کی وجہ سے گھڑ رکھا ہے اور صرف صلیب کی وجہ سے ہی یہود نے اس کا لعنتی ہونا اور نصاریٰ نے اس کا فدیہ عالم اور فرزند خدا ہونا نکال لیا۔
۲… اس جھوٹے ذریعہ نجات کی تذلیل جس کو نصاریٰ اپنے فدائی عالم کی یادگار سمجھتے ہیں۔ عیسائیو! یہ کیسی یادگار ہے جس کو خود صاحب یادگار آکر توڑے گا۔
۳… شعار کفر سے نفرت۔
۴… ابواب تحریف کا انسداد۔
۵… خالص توحید کا استحکام اور ان سب کی نظائر ہم کو مل سکتی ہے۔
رسول اللہ a کا حضرت اسماعیلm وابراہیمm کی تماثیل کا ازلام کی تماثیل سے بھی پہلے محو فرمانا اساف ونائلہ وہبل کا توڑنا۔ شراب کے لئے نوخرید کردہ برتنوں کا
بھی توڑ دینا۔ پرستش غیر کے تمام مقاموں کو ویران کر دینا۔ درختوں کا کاٹ دینا۔ حضرت کلیم اللہ کا گئوسالہ کو ریزہ ریزہ کرنا۔
ابوداؤد نے (باب فی الصلیب فی الثواب ج۲ ص۱۱۸) میں حضرت عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے: ’’ان رسول اللہ a لا یترک فی بیتہ شیئًا فیہ تصلیب الا قضبہ‘‘ {رسول اللہ a اگر اپنے گھر میں کوئی ایسی چیز پاتے جس پر صلیب بنی ہوئی تو اسے پھاڑے یا توڑے بغیر کبھی نہ چھوڑتے۔}
اب رہا مرزاقادیانی کا یہ فرمانا کہ صلیب کے توڑنے سے روحانی طور پر صلیب کو توڑنا اور صلیبی مذہب کو پاش پاش کرنا مراد ہے۔
سو مرزاقادیانی کو واضح رہے کہ روحانی طور پر تو قرآن مجید نے تثلیث اور صلیب پرستی کو خوب پاش پاش کر دیا ہے اور رسول کریم نے اس صلیبی مذہب کو براہین ودلائل الٰہیہ سے خوب ہی کچل دیا ہے۔ آپ یا مسیحm ان سے زیادہ کیا کر سکیں گے؟ اگر آپ سچے ہیں تو ایسی دلیل صلیبی مذہب کی شکست پر پیش کر کے دکھلا دیں جو قرآن مجید میں نہ ملتی ہو اور وہ حجت رسول خدا نے نصاریٰ پر قائم نہ کر دی ہو۔ سچ ہے: ’’وﷲ الحجۃ البالغۃ‘‘
جو شخص یہ جانتا ہے کہ عیسیٰm نے پہلی زندگی میں خنزیروں کو قتل کیا تھا۔
(متی باب:۸، آیت:۲۴)
نیز جانتا ہے کہ ان کی تعداد تین ہزار تھی۔ اس پر افسوس کہ وہ آمد دوم میں قتل خزیر کے فعل پر کیوں اعتراض کرتا ہے۔ ہاں! ضرور ہے کہ حضرت عیسیٰm قتل خنزیر فرمادیں۔ جس طرح رسول کریمa نے اپنے عہد میں کتوں کو ایک بار اور علی المرتضیٰq نے دوبار قتل کرایا تھا۔ تاکہ پولوس رسول کے جھوٹے خواب کی تحقیر ہو۔ جس نے خنزیر کو صرف اس بناء پر حلال کر دیا ہے۔ (حالانکہ توریت میں حرام ہے) کہ اس نے خواب میں اس کو کھالیا تھا تا کہ معلوم ہو جائے کہ شریعت کے سامنے کسی بزرگ کا خواب یا الہام یا مکاشفہ کوئی چیز نہیں۔ میں مرزاقادیانی سے جو صلیب کو کسر سے اور خنزیر کو قتل سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب بقول آپ کے عہد مسیح میں سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔
(توضیح المرام ص۱۳، خزائن ج۳ ص۵۷)
تو کیا مسلمان ہوکر بھی وہ صلیب پرستی اور خنزیر پروری کرتے رہیں گے؟
مرزاقادیانی نے یضع الجزیۃ کی جگہ یضع الحرب بنادیا ہے۔ جزیہ کے موقوف کر دینے پر یہ اعتراض کہ اس سے حضرت مسیح ناسخ احکام اسلام ٹھہرتے ہیں۔ بالکل غلط ہے اگر حضرت مسیح عیسیٰ بن مریمm جزیہ قبول نہ کریں گے تو سیدنا محمدa کے اسی حکم کی تعمیل کی وجہ سے جو آج سے بھی تیرہ سو برس پہلے سے موجود ہے۔
ویفیض المال سے لے کر آخر حدیث تک کے الفاظ کو مرزاقادیانی نے اپنی کتاب میں سے اڑا دیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص۲۰۱، خزائن ج۳ ص۱۹۸)
اگر ایمانداری کے ساتھ ان کو یقین ہے کہ وہ نزول عیسیٰm کی تمامتر حدیثوں کے خود مصداق صحیح ہیں تو ان الفاظ کی بھی تاویل کرتے۔ دراصل مرزاقادیانی کو ان الفاظ کی تاویل میں یہ مشکل آپڑی کہ یہاں تو نبی کا ایک صحابی اور قرآن کی ایک آیت کی تفسیر صحابی جو مرفوع فی الحکم ہے اور مسیح کے زمانہ کی ضروری اور لازمی علامت یہ سب کی سب کھلے طور پر ان کے عقیدہ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اب ان کا جوب کیونکر دیں۔ اس لئے مرزاقادیانی نے یہی بہتر سمجھا کہ مریدوں کی نگاہ سے الفاظ حدیث نبوی کو چھپا دیا جائے۔ خدائے پاک کی قسم ہے مجھے مرزاقادیانی کی تاویلات سے اتنا رنج وافسوس نہیں ہے جتنا کہ ان کی اس عادت سے ہے کہ الفاظ حدیث میں سے کو جو کچھ منشاء کے مطابق پایا وہ لکھ دیا اور جو کچھ خلاف منشاء وعقیدہ دیکھا وہ کاٹ دیا۔ بے شک اتنی جرأت ایک سچے ایماندار سے بعید ہے۔ مرزاقادیانی نے جو ازالہ کے ایک مقام پر مال کی تاویل جواہر ومعارف علوم سے کی ہے وہ سراسر غلط ہے۔
۱… کیونکہ (مسلم ج۱ ص۳۲۶،کتاب الزکوٰۃ) کی ایک دوسری حدیث ’’عن ابی ہریرہq‘‘ میں ہے۔ ’’قال رسول اللہ a لا تقوم الساعۃ حتی یکثر المال ویفیض حتی یخرج الرجل زکوٰۃ مالہ فلا یجد احدا یقبلہا منہ‘‘{قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مال کثرت سے ہوگا اور بہت ہی ہوگا۔ حتیٰ کہ آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا اور کوئی شخص اس سے زکوٰۃ نہ لے گا۔}
یہاں بھی مال کا لفظ اور زکوٰۃ کا نکالنا اور یفیض سب غور طلب ہیں۔
۲… اگر مرزاقادیانی کی تاویل مانی جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت عیسیٰm کے عہد میں لوگ جواہر اور معارف علوم کے حاصل کرنے سے بیزار ومتنفر ہوجائیں گے۔ اس سے چند اعتراض پیدا ہوتے ہیں۔
(۱)اوّل معارف الٰہی سے سیری اور نفرت۔
(۲)حضرت عیسیٰm کی صحبت وتعلیم کا الٹا اثر۔
(۳)حدیث کے اگلے الفاظ: ’’حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا ومافیہا‘‘خود اس تاویل کا رد کر رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ یہ سب امور بہ بداہت باطل ہیں۔
’’حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا وما فیہا ثم قال ابوہریرۃ فاقروا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنّن بہ قبل موتہ‘‘{حتیٰ کہ اس کو (مال) کوئی ایک قبول نہ کرے گا۔ حتیٰ کہ فقط ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔} روایت کر کے کہتے اگر تم چاہو (رفع شک کے لئے) یہ پڑھو آیت، کوئی اہل کتاب نہیں ہے مگر یہ کہ عیسیٰm کے مرنے سے پہلے وہ ان پر ایمان لائے گا۔
اس حدیث کو اگر تفکر وتدبر کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ a جو اللہ تعالیٰ کی پاک وبا جلال ذات کی قسم کھاتے ہیں تو کیا قسم کھانے کے بعد بھی حقیقت کو چھپائیں گے اور توریہ یا استعارہ کو اختیار کریں گے۔ دوسرے یہ کہ حضرت مسیحm کے زمانہ میں مال کی کثرت وبہتات وبے قدری کو بطور مستحکم علامت کے بیان فرمایا ہے۔ نیز اس عہد میں حرص برطاعات کا ذکر کیا۔ حضرت ابوہریرہq نے بھی جو اس حدیث کے نیز حدیث ’’وامامکم منکم‘‘ والی کے راوی ہیں۔ قرآن مجید کی آیت سے استدلال کر کے جیسا کہ مضمون حدیث کو تقویت دے دی۔ ویسا ہی یہ بھی ثابت کر دیا کہ آیت کے معنی اور نہیں ہوسکتے اور حضرت ابوہریرہq کا عین روایت حدیث کے ساتھ آیت پڑھ کر سنانا اور اسے دلیل قرار دینا یقین دلاتا ہے کہ انہوں نے آیت کے معنی رسول اللہ a سے ہی سیکھے تھے تو گویا یہ تفسیر بھی مرفوع فی الحکم ہے۔ پس باایں ہمہ وجوہ ثابت ہو گیا کہ کیا قانون قدرت اور کیا قرآن کریم اور کیا حدیث پاک۔ سب کے سب متفق ہوکر نزول عیسیٰm کا اثبات کر رہے ہیں اور مومن کو قدرت لامحدود الٰہی پر ایمان لانے کے لئے تائید فرمارہے ہیں۔
’’ان فی ذالک لآیات لقوم یتفکرون (الجاثیہ:۱۳)‘‘ اب میں آخر میں یہ بھی گزارش کردیتا ہوں کہ معجزہ شق القمر ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر (القمر:۱)‘‘میں آپ (مرزا) نے یہ توجیہہ فرمائی ہے جو عقول وافہام میں نہایت دلچسپ وپسندیدہ معلوم ہوئی ہے کہ ’’چونکہ رب کریم کو پہلے سے علم تھا اور وہ عالم الغیوب جانتا تھا کہ فلاں زمانہ اور فلاں ملک میں ہمارے فلاں رسول اور حبیب سے جب کہ وہ دعوت اسلام کر رہا اور سرکش بندوں کو مالک کی درگاہ کی طرف بلارہا ہوگا۔ کفرہ، فجرہ، معجزہ انشقاق قمر کے خواہاں وطالب ہوں گے اور چونکہ معجزات اکثر لازمہ نبوت ہوتے ہیں۔ رسول خدا بھی معجزہ دکھلانے پر مستعد ہوگا تو اس لئے خلق قمر سے پہلے قمر کے لئے اس زمانہ میں شق ہونا کفار کی درخواست اور رسول کا معجزہ سب کچھ مقدر تھا اور جب یہ حال ہے کہ جب کسی وجود کا اپنے طبعی اور خلقی خواص کا ظاہر کرنا خلاف قانون قدرت نہیں تو چاند کا پھٹنا بھی خلاف نہیں۔‘‘
تو اب میں کہتا ہوں کہ چونکہ عیسیٰm کے لئے روز اوّل سے محمدa کے دین کی تجدید کرنا اور قرب قیامت اخیر عالم کا نشان ہونا مقدر ہوچکا ہے اور آسمان سے اترنا لوح محفوظ میں لکھا جاچکا ہے تو نہ یہ خلاف قانون قدرت ہے نہ خلاف وعدہ نہ ان کی نبوت کے منافی ہے۔ نہ رسول اللہ a کی شان کے خلاف جیسا کہ ہم نے ہر ایک پر جدا جدا مضمون لکھے ہیں۔ بلکہ یہ تو ایک طے شدہ اور مقدر امر کا ظہور میں آنا ہے۔ معجزہ شق القمر میں تو یہ بھی تھا کہ اس کے واقع ہونے سے پہلے اس کی خبر نہ دی گئی تھی۔ لیکن برخلاف اس کے نزول عیسیٰm کی خبریں تو ۱۸۹۱ء برس سے دی جارہی اور ۱۳۲۰ برس سے قرآن اور حدیث اسی عقیدہ کو سکھلا رہے ہیں۔
سورۂ مریم آیت:۳۴ میں ہے: ’’ذلک عیسٰی بن مریم قول الحق الذی فیہ یمترون‘‘ دیکھو یہاں صاف نام موجود ہے انجیل میں ہے۔ ہمیں کہہ کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور دنیا کا آخر کا نشان کیا ہے۔
(متی باب:۱۳، آیت:۲۴)
قول جمیل کے قادیانی مصنف نے جو ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی ایک توجیہہ یہ کی ہے کہ ضمیر کی دلالت قرآن پر ہے تو اس صورت میں نہ صرف مسیح کا آنا جاتا رہتا ہے۔ بلکہ انکار سے مثیل مسیح کا وجود بھی اڑتا ہے۔ دوسری توجیہہ میں اس حدیث مسلم سے تمسک کیا ہے کہ رسول اللہ a نے حدیث جبرائیلm میں علامات قیامت بیان فرمائیں تو ان میں
حضرت عیسیٰm کا نزول ذکر نہیں کیا اور اس سے ثابت یہ کیا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰm کا نزول دراصل علامت قیامت ہوتا تو رسول اللہ a ضرور اس حدیث میں فرمادیتے۔ میں اس کو سخت مغالطہ سمجھتا ہوں۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ ایسا لائق شخص ایک حدیث میں ایک علامت کے بیان نہ ہونے سے اس کے وجود کا بھی انکار کر بیٹھے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ایسی متعدد احادیث ملیں گی کہ سائل کے سوال اسلام پر رسول اللہ a نے پانچ ارکان اسلام میں سے کسی حدیث میں حج کا ذکر نہیں فرمایا۔ یا زکوٰۃ کا نام لیا۔ یا کلمہ شہادت کو بیان نہیں فرمایا تو اب صاحب قول جمیل نتیجہ یہ نکالیں گے کہ حج فرض نہیں یا اسلام لانے کے لئے کلمہ شہادت پڑھنے کی ضرورت نہیں؟ میرے خیال میں اس بیان میں جو کچھ تحریر کر چکا ہوں وہ میرے خیالات کے لحاظ سے بہت کافی ہے۔
قول جمیل کے قادیانی مصنف نے ص۸۴ پر لکھا ہے۔ بیضاوی شریف میں یوں لکھا ہے: ’قیل ان الضمیر القرآن قال فیہ الاعلام بالساعۃ والدلالۃ علیہا‘‘اس نے یوں لکھا ہے کے لفظ سے ثابت کرنا چاہا کہ گویا بیضاوی میں اس کے سوا اور کچھ اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہی نہیں۔ مگر جو کچھ انہوں نے چھپایا ہے ہم اس کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسی بیضاوی کی عبارت ذیل کو آپ دانستہ چھوڑ بھی گئے ہیں۔
کیوں حضرت یہ عبارت جو آپ کے نقل کردہ فقرہ سے پہلی ہے۔ کیا یہ اس بیضاوی میں درج نہیں ہے جو آپ کے پاس ہے؟ یہ بھی واضح رہے کہ صرف بیضاوی میں ہی نہیں بلکہ کشاف میں بھی یہی عبارت ہے۔
مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’ایک بھی ایسی آیت نہیں پائی جاتی جو مسیح کے زندہ ہونے، زندہ اٹھائے جانے پر ایک ذرہ بھی اشارہ کرتی ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۵۶، خزائن ج۳ ص۵۰۸)
نیز لکھتے ہیں: ’’امام بخاری صاحب اوّل درجہ پر ہمارے دعاوی کے شاہد اور حامی ہیں اور مخالفوں کے لئے ہرگز ممکن نہیں کہ ایک ذرہ بھر بھی اپنے خیالات کی تائید میں کوئی حدیث صحیح بخاری کی پیش کر سکیں۔ سو درحقیقت صحیح بخاری سے وہ منکر ہیں نہ ہم۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۹۰۵، خزائن ج۳ ص۵۹۴)
مرزاقادیانی کے فقرات کا خلاصہ یہ ہے:
۱… حضرت مسیحm کے زندہ ہونے پر ایک آیت بھی اشارہ نہیں کرتی۔
۲… حضرت مسیحm کے زندہ اٹھائے جانے پر ایک آیت بھی اشارہ نہیں کرتی۔
۳… صحیح بخاری میں کوئی بھی حدیث نہیں ہے جو حیات مسیح کو ثابت کرتی ہو۔
اب ہم ان ہی تینوں امور کو ثابت کر دکھلاتے ہیں اور امام بخاریv کی ایک ہی حدیث کے ضمن میں حیات مسیح، نزول مسیح، مذہب صحابہ، مذہب بخاری ثابت اور واضح کر کے منصف مسلمانوں کو مرزاقادیانی کے فقرات مندرجہ بالا کے موازنہ کرنے کے لئے توجہ دلاتے ہیں۔
امام بخاریv نے باب باندھا ہے۔ ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم کے نزول کا باب۔ خدا ماں بیٹے پر رحمت بھیجے۔‘‘
رسول اللہ a نے فرمایا۔ اس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بے شک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل ہوکر اتریں گے۔ صلیب توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھادیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی اور اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے سب مال، متاع سے ایک سجدہ اچھا معلوم ہوگا۔ ابوہریرہq فرماتے تھے۔ اگر تم نزول عیسیٰm کی دلیل اس ارشاد نبوی کے ساتھ قرآن سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ ’’ان من اہل الکتاب الّٰا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کیونکہ اس میںصاف طور پر رب کریم نے فرمایا ہے کہ جتنے اہل کتاب ہیں وہ حضرت عیسیٰm کی موت پانے سے پہلے حضرت عیسیٰm پر ایمان لے آئیں گے۔
۱… مرزاقادیانی دیکھیں کہ یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے یا نہیں؟
۲… براہ مہربانی بتلادیں کہ امام بخاری اس حدیث کو کیوں اپنی کتاب میں لائے ہیں؟
۳… وہ غور کریں کہ ’’ان من اہل الکتاب الّٰا لیومنن بہ قبل موتہ‘‘قرآن مجید کی آیت ہے یا نہیں۔
(سورۂ نساء:۱۵۹)
۴… وہ فرمائیں کہ ابوہریرہq جو روایت حدیث کے وقت شکی اور ضدی طبیعت والوں کو اس حدیث پر ایمان لانے کے لئے اس آیت کے پڑھنے کو فرماتے ہیں تو ان کا مذہب کیا تھا؟
۵… عنایت فرماکر وہ یہ بھی ظاہر کر دیں کہ آپ نے کیوں اس حدیث کو دانستہ چھپا لیا ہے اور کیوں اس آیت کو مخفی رکھ کر اس کی تفسیر صحابی کو پنہاں رکھا ہے؟
مرزاقادیانی خواہ ان امور کا جواب دیں یا نہ دیں۔ لیکن تمام مسلمانوں پر مرزاقادیانی کے وہ تینوں امور تنقیح طلب جوان کے فقرات مندرجہ بالا سے اخذ کئے گئے ہیں بخوبی ثابت ہو گئے اور ایک ہی حدیث متصل صحیح۔ مرفوع سے اتنی باتیں بپایہ ثبوت پہنچ گئیں۔ امام بخاری کا مذہب، حضرت عیسیٰm کے نزول کی بابت رسول اللہ a کا ارشاد، علامات زمانہ نزول، حضرت عیسیٰm کی حیات، آیت۵ کی تفسیر، صحابی کا مذہب۔
اب یہ امر ثابت کرنے کے لئے کہ دیگر صحابہ بھی اس آیت کے یہی معنی لیتے تھے جو ابوہریرہq نے لئے ہیں۔ ہم حضرت ابن عباسq کی تفسیر کو پیش کرتے ہیں۔ جن کو ابن جریر نے سعید بن جریح کے طریق سے اسناد صحیحہ کے ساتھ ابن عباسq سے روایت کیا ہے کہ ابن عباسq نے انہی معنی پر جزم کر لیا تھا کہ موتہ سے موت عیسیٰm ہے۔ علیٰ ہذا یہی معنی اور مذہب ابی بن کعب صحابی نے اختیار کیا ہے۔
مرزاقادیانی فرمادیں کہ کیا وہ اس جگہ ایسی حدیث کو جو امام بخاری اور امام مسلم دونوں کے معتمد علیہ ہے اور جس میں ایک آیت کی تفسیر اور مذہب صحابی بھی ہے۔ قبول فرمائیں گے یا نہیں؟ وہ یہ بھی فرمادیں؟ کہ ابوہریرہq کی تفسیر کو جس کو ابن عباسq کی تفسیر اور ابی بن کعب کا مذہب بھی تائید کر رہے ہیں اور امام بخاریv کے مذہب کی بناء اسی پر ہے۔ کیوں قبول نہیں کرتے؟
امام جلال الدین سیوطی نے جن کی نسبت مرزاقادیانی کو اقرار ہے کہ وہ کشفی طور پر رسول کریمa سے احادیث کو صحیح کر لیتے تھے (ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷) اپنی تفسیر اکلیل میں لکھا ہے کہ حاکم نے ابن عباس سے اور امام احمد نے ابوہریرہq سے روایت کی ہے کہ اس آیت: ’’ان من اہل الکتاب الّٰا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ سے حیات ونزول عیسیٰm مراد ہے۔ اب جریر نے ابورجا کے طریق سے حسن کا قول یہ روایت کیا ہے کہ قبل موتہ سے موت عیسیٰ مراد ہے۔ امام حسن نے کہا کہ خدا کی قسم عیسیٰm اس وقت زندہ ہیں اور آسمان پر خدا کے پاس ہیں۔ مجاہد، قتادہ، کعبi سے بھی اسی طرح مروی ہے اور یہ کثرت طرق بتلا رہے ہیں کہ اس کو مستفیض ومتواتر کا درجہ حاصل ہے۔
ایک ہی حدیث سے ان تینوں امور کو ثابت کرنے کے بعد میں چاہتا ہوں کہ حیات عیسیٰm کے بارہ میں دیگر دلائل کو پیش کروں۔ قرآن مجید میں ہے۔
’’وانہ لعلم للساعۃ (زخرف:۶۱)‘‘ تفسیر کبیر، کشاف، بیضاوی، معالم وغیرہ کل تفاسیر متفق ہیں کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر حضرت ابن مریمn کے نزول وحیات کو ثابت کرتی ہے۔ حضرت ابن عباسq مفسر قرآن بھی یہ فرماتے ہیں۔ لیکن مرزاقادیانی پر افسوس ہے کہ انہوں نے اس جگہ مذہب ابن عباس کو چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ وہ سب سے بڑھ کر مفسر قرآن ہیں۔
اور زیادہ تر افسوس یہ بھی ہے کہ آیت میں اس تابعی کے مذہب کو بھی خیرباد کہہ دیا ہے۔ وہی مثل ’’پیش طبیب ملا پیش ملا طبیب پیش ہر دو ہیچ وپیش ہیچ ہر دو‘‘ ان پر بخوبی صادق آتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ’’یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّ (آل عمران:۵۵)‘‘
یہ آیت حضرت عیسیٰm کے زندہ اٹھائے جانے پر نص قطعی ہے۔ مرزاقادیانی نے اسی آیت کے معنی پلٹنے کے لئے جزوں کے جزو سیاہ کر ڈالے ہیں اوراپنے دعویٰ کی صداقت کی بناء پر لفظ ’’متوفیک‘‘ یا ’’توفی‘‘ پر قائم کی ہے۔ وہ نہیں غور کرتے کہ ’’توفی‘‘ کا مادہ ’’و،ف،ی‘‘ ہے۔ جس کے معنی صرف پورا کرنا ہیں اور لفظ اپنے مادی معنی سے کبھی علیحدہ نہیں ہوتا۔ ’’توفی‘‘ کے معنی لغت میں مارنا اور بھرپور اٹھانا۔ کسی چیز کا تمام تر لے لینا ہیں اور ظاہر ہی ہے کہ لغوی معانی خواہ دس ہوں خواہ بیس، سب کے سب تابع حقیقی معانی ہوتے ہیں۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ گو ’’توفی‘‘ کے معنی مارنا اور کسی چیز کا تمام تر لینا دونوں ہیں۔ لیکن فیصلہ طلب یہ ہے کہ بالجزم اس جگہ کون سے معنی لینے چاہئیں اور جو معنی ’’توفی‘‘ کے لئے جائیں ان کے لئے آیت میں کون سا قرینہ صحیح ہے۔ پس واضح ہو کہ ’’توفی‘‘ کے معنی تمام تر لینے کے لئے اور مارنا کے نہ لینے کے لئے اوّل قرینہ تو ’’ورافعک‘‘ ہی کا ہے جو اسی آیت میں موجود ہے۔ کیونکہ اگر اس جگہ ’’متوفی‘‘ کے معنی مارنا لئے جائیں تو وہ ’’ورافعک‘‘ بیکار ہو جاتا ہے۔ ’’رافعک الیّ‘‘ کے معنی قرب کے لینا فضول ہیں۔ کیونکہ جو خدا کا نبی ہوتا ہے وہ مقرب خدا بھی ہوتا ہے بلکہ وہ تو اوروں کو خدا سے مقرب کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ پس نبی اللہ کو یہ کہنا کہ تجھ کوماروں گا اور عزت دوں گا اور مقرب بناؤں گا۔ بالکل فضول اور تحصیل حاصل کا وعدہ ہے اور درپردہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ زندگی اور نبوت کی حالت میں حضرت عیسیٰm کو قرب الٰہی حاصل نہ تھا۔ ’’علٰی ہذا رافعک الیّٰ‘‘ کے معنی ’’عزت کے ساتھ مارنا‘‘ لینے بالکل پوچ ہیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ صلیب پر لٹکائے جانے اور ایک مرید کے وسیلہ سے زندہ بھاگ آنے کے بعد حضرت عیسیٰm نے نہایت گمنامی سے اپنی عمر پوری کی اور معمول موت سے مر گئے تو ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا گمنامی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اور تادم زیست یہودیوں کے خوف سے چھپے رہنا اور معمولی طور پر (جس طرح پر کہ پردۂ زمین پر فی سیکنڈ ۶۰ آدمی ہرروز مرتے ہیں) مرنا ایسی باعزت موت ہوسکتی ہے۔ جس کا وعدہ حضرت عیسیٰm کو دیاگیا اور جس کا مذکور قرآن میں فرمایا گیا ہے؟
دوسرا قرینہ جو ’’توفی‘‘ کے معنی تمامتر لینے پر ہے وہ ’’وما قتلوہ وما صلبوہ یقینا‘‘ اور ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ ہے۔ ’’وما قتلوہ‘‘ اور ’’وما صلبوہ‘‘ میں قتل وصلب کی نفی لفظ یقینا کے ساتھ اور ’’بل‘‘ کا اضراب یہ سب ثابت کر رہے ہیں کہ ’’متوفیک‘‘ کے معنی مارنا لینے غلط ہیں۔ مرزاقادیانی نے ’’متوفیک‘‘ میں مارنا کے معنی لینے کے لئے ابن عباسq کے اس قول کو پیش کیا ہے کہ ’’متوفیک‘‘ کے معنی ’’ممیتک‘‘ ہیں۔ ہم حضرت ابن عباسq کے قول کو دل وجان سے مانتے ہیں۔ لیکن مرزاقادیانی ذرا غور سے ملاحظہ فرمادیں کہ ابن عباسq جو ’’متوفیک‘‘ کے معنی ’’ممیتک‘‘ فرماتے ہیں۔ وہ اپنی تفسیر میں تقدیم وتاخیر کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: ’’رافعک الیّٰ الاٰن۔ وممیتک بعد نزول علٰی الارض‘‘ مگر مرزاقادیانی یہاں آکر ایسے بگڑتے ہیں کہ تقدیم وتاخیر کو الحاد قرار دے دیا ہے اور حضرت ابن عباسq کو جن کے مذہب وتفسیر پر اعتماد کئے ہوئے تھے۔ نعوذ باللہ درپردہ ملحد قرار دیا ہے۔ مرزاقادیانی کو واضح رہے کہ ابن عباسq کے ساتھ حضرت قتادہq کا بھی یہی مذہب ہے۔ اس لئے اپنے فتویٰ میں ان کو بھی شریک حال ابن عباسq فرمالیں۔ باوجود اس قدر معلوم کر لینے کے اگر مرزاقادیانی یہفرمائیں کہ ابن عباسq کا صرف اتنا ہی مذہب مقبول ہے کہ ’’متوفیک‘‘ کے معنی ’’ممیتک‘‘ ہیں اور تقدیم وتاخیر کے بارہ میں ابن عباسq کا مذہب مردود اور الحاد ہے تو بہتر ہے کہ وہ ’’ممیتک‘‘ کے معنی ہی کا حصر کر لیں۔ کیونکہ لفظ ’’متوفیک‘‘ کی طرح لفظ ’’ممیتک‘‘ ہے بھی عربی ہے اور غیرزبان میں اس کے ترجمہ اور مفہوم کا ہونا ضروری ہے۔ آپ نے مان لیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص۹۴۳، خزائن ج۳ ص۶۲۱) کہ: ’’موت اور اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا، موت دینا ہی نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی ہیں۔‘‘ پس جب موت واماتت کے معنی سلانا اور بے ہوش کرنا بھی ویسے ہی حقیقت ہیں۔ جیسے کہ مارنا اور موت دینا اور بقول آپ کے لغت کی رو سے موت کے معنی ہر قسم کی بیہوشی اور نیند بھی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ابن عباسq کے لفظ ’’ممیتک‘‘ کے معنی بھی یہ ہیں کہ اے عیسیٰm میں تجھے سلا کر یا بیہوش کر کے آسمان پر اٹھاؤں گا۔ ’’ممیتک‘‘ میں خواب یا بیہوش کے معنی لینے کے لئے ہمارے پاس قرینہ یہ ہے کہ ابن عباسq ’’ان من اہل الکتاب الّٰا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ میں ’’رفع مسیح الی السماء‘‘ کے اور ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ (تفسیر ابن عباس ص۵۲۲) میں
نزول حضرت عیسیٰm کے قائل ہو چکے ہیں۔ اگر اس لفظ ’’ممیتک‘‘ کے معنی سواء خواب یا بیہوشی کے اور لئے جائیں گے تو ہرسہ مقامات پر ان کو اور ان کے مذہب کو جھٹلانا لازم آئے گا اور ابن عباسq کی تردید انہیں کے قول سے لازم آئے گی۔‘‘
میں نے معنی ’’ممیتک‘‘ میں خواب یا بیہوشی کے بتلائے ہیں۔ اسی کا موئید، امام حسن بصریv کا مذہب بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مراد وفات سے منام ہے۔ یعنی اللہ نے ان کو خواب میں اٹھا لیا۔ یہاں آکر مرزاقادیانی حسن بصریv کی تفسیر کو بھی جن پر ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ میں بڑا اعتماد کیا تھا اور جس کی پاسداری کے لئے مذہب ابن عباسq کو ترک کر دیا تھا چھوڑ دیں گے۔ پیارے مسلمانو! حضرت ابن عباسq اور حسن بصریv پر بھی کچھ موقوف نہیں۔ خدائے تبارک وتعالیٰ نے خود ہی اپنی کتاب مجید میں ’’توفی‘‘ کے لفظ کو منام وخواب کے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’’ہو الذی یتوفاکم بالیل‘‘ (اللہ وہ ہے جو تم کو رات کو سلادیتا ہے)
’’متوفیک ورافعک الیّ‘‘ کے معنی اور ان معنی کے لینے کے لئے (جو حقیقی اور لغوی ہیں) قرائن صحیح کے بیان کر دینے کے بعد میں پیارے ناظرین کو احادیث رسول کریمa کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ جو نزول اور حیات حضرت عیسیٰm کو ثابت کر رہے ہیں۔
امام احمدv نے اپنی مسند میں ابن مسعودq سے روایت کی ہے: ’’عن النبیa قال لقیت لیلۃ اسریٰ لی ابراہیم وموسٰی وعیسٰی قال فتذاکروا امر الساعۃ فردو الامر الٰی ابراہیم فقال لا علم لی بہا فردو الامر الی عیسٰی فقال اما وجبتہا فلا یعلمہا احد الا اللہ عزوجل وفیہا عہد الی ربی عزوجل ان الدجال خارج ومعی قضیبان فاذا ارانی ذاب کما یذوب الرصاص‘‘
رسول اللہ a نے فرمایا۔ شب معراج میں حضرت ابراہیم وموسیٰn سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیمm کے سپرد کیاگیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت موسیٰm کو فیصلہ کے لئے کہاگیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی خبر نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰm پر اس کا فیصلہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں! خدا نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ شمشیر برندہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو یہ پگھلنے لگے گا جیسے
رانگ پگھل جاتا ہے۔
(مسند احمد ج۱ ص۳۷۵)
یہ حدیث (ابن ماجہ ص۲۹۹، باب خروج عیسیٰm) میں بھی ہے۔ امام حسن بصریv سے روایت ہے:’’قال رسول اللہ a للیہود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ کذافی جامع البیان (ابن جریر طبری ج۳ ص۲۸۹)‘‘ {رسول اللہ a نے یہود کو (جو حضرت عیسیٰm کی وفات کے قائل تھے) فرمایا: حضرت عیسیٰ m ہرگز نہیں مرے وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔}
حدیث میں ’’لم یمت‘‘ کا لفظ غور طلب ہے اور یہ حدیث ٹھیک ترجمہ ’’وان من اہل الکتاب لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کا ہے۔ (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۴، باب خروج الدجال) کی حدیث عن ابی ہریرہq کے آخر میں ہے:’’یہلک اللہ فی زمانہ الملل کلہا الّٰا الاسلام ویہلک المسیح الدجال فبمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصل علیہ المسلمون‘‘خدا حضرت عیسیٰm کے زمانہ میں اسلام کے سوا سب مذاہب کو نابود کر دے گا وہ دجال کو ماریں گے اور زمین پر چالیس سال تک رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
حدیث میں ’’ثم یتوفی‘‘ اور ’’فیصلی علیہ‘‘ کے الفاظ تدبر طلب ہیں اور یہ سب احادیث جن کا مرزاقادیانی نے اپنی تصانیف میں ذکر تک نہیں کیا۔ مجموعی اور انفرادی طور پر حیات مسیحm کو بخوبی ثابت کر رہی ہیں۔ ان احادیث کے علاوہ دیگر احادیث جو حیات مسیحm پر نص قطعیہ ہیں۔ ہمارے مضمون عیسیٰ ابن مریمm کے ذیل میں لکھی گئی ہیں۔ وہاں ملاحظہ فرمائیے اور یہ بخوبی جان لیجئے کہ وہ سب احادیث اور آیات جن میں حضرت عیسیٰm کے نزول کا ذکر اور اثبات ہے۔ حضرت عیسیٰm کی حیات کے دلائل ہیں۔ کیونکہ نزول کے لئے حیات کا ہونا ضروری ہے۔ مثلاً ہم یوں کہیں کہ آج سے دس روز کو مرزاقادیانی پٹیالہ آئیں گے تو اس سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور ان کا آنا حیات کے ساتھ ہے۔ فتدبر!
ناظرین! پہلے اس سے کہ میں اس مضمون کو ختم کر دوں۔ حیات عیسیٰm پر ایک اور دلیل پیش کرتا ہوں۔ مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۴۴۸، خزائن ج۳ ص۳۳۸) پر اولیاء الرحمن کی انیسویں علامت میں لکھتے ہیں: ’’خدا ان کو موت نہیں دیتا جب تک وہ کام پورا نہ ہو
جائے جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں اور جب تک پاک دلوں میں ان کی قبولیت نہ پھیل جائے۔ تب تک البتہ سفر آخرت ان کو پیش نہیں آتا۔‘‘
اس سے پہلے (ازالہ اوہام ص۳۱۰،۳۱۱، خزائن ج۳ ص۲۵۸) میں لکھ چکے ہیں: ’’گو حضرت مسیحm جسمانی بیماروں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعے سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کا کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔‘‘
مرزاقادیانی کے ان دونوں فقرات کے ملانے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیحm آج تک عام سنت اللہ کے موافق جو بدوآفرینش سے لے کر چلی آئی ہے برابر زندہ ہیں۔ کیونکہ ص۴۴۸ کے فقرہ سے واضح ہے کہ اولیاء الرحمن کے بارہ میں عادت الٰہی اور قانون قدرت اسی طرح جاری ونافذ ہے کہ جب تک ان کا وہ کام پورا نہ ہو جائے جس کے لئے وہ دنیا پر بھیجے گئے تھے۔ تب تک ان کو سفر آخرت پیش نہیں آتا اور ص۳۱۰ کے فقرہ سے ثابت ہے کہ مسیحm آمد اوّل میں اور تو اور توحید ربانی کے وعظ میں بھی ناکامیاب رہے ہیں۔ وہ ہدایت بالکل نہیں کر سکے اور دینی استقامتوں کو کامل طور پر قائم نہیں فرما سکے تو ثابت ہو گیا کہ جب تک کہ حضرت مسیحm نبوت کے اس عام اور گراں مایہ اور اصل فرض ومقصد اعلیٰ کو جس سے تعلیم توحید الٰہی اور ہدایت خلق مراد ہے جو ہر ایک نبی کی بعثت کا سبب رہا ہے اور جس کے لئے کل انبیاء ومرسلین دنیا پر بھیجے گئے ہیں۔ بخوبی پورا نہ کر سکیں گے۔ اس وقت تک رب کریم کی لازوال وغیرمتغیر عادت وسنت کے مطابق حضرت مسیحm وفات بھی نہ پائیں گے۔
مرزاقادیانی کو اس دلیل پر ذرا زیادہ غور کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس دلیل میں کوئی آیت یا حدیث سے استدلال نہیں بلکہ انہیں کے قائم کردہ اصول سے تمسک کیاگیا ہے اور انہی کے الہامی کلام سے بالہام ربانی یہ دلیل نکالی گئی ہے۔
بزرگ مسلمانو! رب کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم کو اپنے حبیب سید ولد آدم، فخرالمرسلین، محمد مصطفیa کی امت میں پیدا کیا۔ وہ جس کے وجود باجود کی غائت ہمارا مولیٰ کریم آیت:’’ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ‘‘میں بتلاتا ہے اور جس
کی احادیث کے ہر لفظ کی تصدیق فرما کر ہم کو حدیث وقرآن کے یکساں قابل اتباع ہونے کا اعتقاد بطور رکن ایمان سکھلاتا ہے۔’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما انزل الیہم (نحل:۴۴)‘‘
بزرگو! ہمارے سید آقا محمد مصطفیa نے جہاں نزول عیسیٰm کے متعلق مقام نزول عیسیٰm اور مہمات عیسیٰm اور خروج وفتن دجال کو مفصلاً بیان فرمادیا ہے وہیں زمانہ نزول حضرت ابن مریمn بھی بااعلام ربانی ووحی آسمانی ہم سب مسلمانوں کو بتلادیا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں آیا ہے۔
(کتاب الفتن واشراط الساعۃ ج۲ ص۳۹۱)
حضرت ابوہریرہq نے بیان کیا۔ رسول اللہ a نے فرمایا۔ قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا وابق میں اترے گا۔ (حلب کے قریب دو مقاموں کے نام) پھر مدینہ سے ان کی طرف ایک لشکر نکلے گا جو ان دنوں میں تمام زمین والوں میں بہتر ہو گا۔ جب صف بندی ہو گی تب نصاریٰ کہیں گے تم ان مسلمانوں سے جنہوں نے ہمارے جورو، لڑکے پکڑے اور لونڈی غلام بنائے ہیں الگ ہو جاؤ ہم صرف ان سے لڑیں گے۔ مسلمان (لشکر مدینہ) کہیں گے بخدا ہم اپنے بھائیوں سے الگ نہ ہوں گے۔ پھر لڑائی ہو گی۔ مسلمانوں کا ثلث لشکر بھاگ نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ کرے گا۔ ثلث لشکر مارا جائے گا۔ وہ خدا کے پاس سب شہیدوں میں افضل ہوں گے اور ثلث لشکر کی فتح ہو گی۔ وہ عمر بھر کسی فتنے اور بلا میں نہ پڑیں گے۔ یہی قسطنطنیہ کو (جس پر نصاریٰ کا قبضہ ہو چکا ہو گا) فتح کریں گے اور غنیمت کے مالوں کو بانٹ رہے ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتونوں کے درختوں پر لٹکا دیا ہوگا کہ شیطان آواز کرے گا کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے بال بچوں میں آ پڑا۔ تب مسلمان وہاں سے نکلیں گے۔ حالانکہ یہ خبر جھوٹ ہو گی۔ جب وہ ملک شام میں پہنچیں گے تب دجال نکلے گا۔ سو جس وقت مسلمان لڑائی کے لئے مستعد ہوکر صفیں باندھتے ہوں گے نماز کی تیاری ہوگی۔ اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریمn اتریں گے اور مسلمانوں کے امیر بنیں گے اور جب دشمن خدا دجال ان کو دیکھے گا یوں گھلنے لگ جائے گا جیسے نمک پانی میں۔ اگر حضرت عیسیٰm اسے یونہی چھوڑ دیں۔ تب بھی وہ گھل جائے گا۔ لیکن خدا حضرت عیسیٰm کے ہاتھ پر اس کو ہلاک کرے گا اور حضرت عیسیٰm اس کا خون اپنے نیزہ پر سب کو دکھلادیں گے۔
نصاریٰ کا شہر قسطنطنیہ کو لے لینا۔ پھر مسلمانوں کا اس شہر پر فتح حاصل کرنا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد خروج دجال اور اس کے بعد حضرت عیسیٰm کا نزول یہ سب ایسے واقعات ہیں جو چپکے چپکے طے نہیں ہوسکتے۔ اللہ اکبر! جس روز شہر قسطنطنیہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور نصاریٰ کا اس پر قبضہ ہو گا اس روز عجب ہولناک مصیبتیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گی اور تمام برّاعظموں، ایشیاء، یورپ، افریقہ میں انقلاب عظیم واقعہ ہو جائے گا۔
جب کہ آج تک نہ قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضہ سے نکلا۔ نہ نصاریٰ کا پھریرا اس کے قلعہ پر اڑایا گیا نہ مکرر مسلمانوں نے اس کو پھر فتح کیا تو آنے والا مسیح کہاں سے آگیا؟ حدیث کے لفظ ’’عیسیٰ بن مریمn‘‘ بھی قابل غور ہیں کہ مثیل کو ثابت کر رہے ہیں یا اصیل کو؟
(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب امارات الملاحم) میں معاذ بن جبلq سے روایت ہے کہ بیت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی خرابی کا اور مدینہ کا خراب ہونا سبب ہے جنگ عظیم کے واقعہ ہونے کا اور جنگ عظیم کا واقع ہونا سبب ہے قسطنطنیہ کے فتح کا اور قسطنطنیہ کا فتح ہو جانا وقت ہے خروج دجال کا۔
اس حدیث میں یہی واقعات کے تسلسل اور تلازم قابل غور ہیں اور یہ فقرہ یاد دلانے کی تو کچھ ضرورت ہی نہیں کہ خروج دجال سبب ہے نزول عیسیٰ بن مریمn کا۔
(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب تواتر الملاحم) کی حدیث میں عبداللہ بن بسرq سے روایت ہے کہ جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ میں چھ سال کا فاصلہ ہے اور دجال کا خروج ساتویں سال میں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث صحیح تر ہے۔
اس حدیث کو اور تعین سنین کو دیکھو اور ان تمام احادیث اور پیشین گوئیوں پر نظر ڈالو کہ رسول اللہ a نے زمانہ نزول عیسیٰ بن مریمn کو کیسی کیسی روشن علامات وواقعات عظیمہ کے ساتھ ظاہر فرمایا ہے۔
(مسلم ج۲ ص۳۹۲، کتاب الفتن واشراط الساعۃ) میں حضرت ابن مسعودq نے رسول اللہ a سے اس جنگ کے حالات کو یوں روایت کیا ہے کہ دشمن مسلمانوں سے لڑنے کے لئے اور مسلمان ان سے لڑنے کے لئے جمع ہوں گے۔ یسیر بن جابرq نے پوچھا دشمن سے آپ کی مراد نصاریٰ ہیں۔ کہا ہاں! اس وقت لڑائی سخت شروع ہو گی۔ مسلمان ایک لشکر کو
آگے بھیجیں گے جو مرنے کے لئے بڑھے گا اور غلبہ کے بغیر نہ لوٹے گا۔ پھر دونوں فرقے رات تک لڑیں گے۔ رات کو فوجیں لوٹ جائیں گی کسی کو غلبہ نہ ہوگا۔ جو لشکر آگے بڑھا تھا وہ فنا ہو جائے گا۔ پھر دوسرے اور تیسرے دن مسلمان ایک لشکر آگے بڑھائیں گے۔ مرنے یا غالب ہونے کے لئے شام تک لڑائی رہے گی اور پھر فوجیں لوٹ جائیں گی۔ کسی کو غلبہ نہ ہو گا اور وہ لشکر فنا ہو جائے گا جب چوتھا دن ہو گا تو باقی ماندہ سب آگے بڑھیں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو شکست دے گا اور ایسی لڑائی ہو گی کہ ویسی کسی نے نہیں دیکھی۔ یہاں تک کہ پرندہ آدمیوں کے سر پر اڑے گا اور آگے نہ بڑھے گا اور یہ کہ وہ مردہ ہوکر گریں گے۔ (اس میں نو ایجاد توپوں وغیرہ کے جنگ کی پیشین گوئی ہے) ایک جدی (خاندان کے) لوگ جو شمار میں ۱۰۰ہوں گے۔ ان میں سے ایک بچے گا۔ ایسی حالت میں کون سی خوشی ہو گی اور کون سا ترکہ بانٹا جائے گا۔ پھر مسلمان اسی حالت میں ہوں گے کہ اور ایک بڑی آفت کی خبر سنیں گے۔ ایک پکار، ان کو آئے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں میں آگیا۔ یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہو گا اس کو چھوڑ کر روانہ ہوں گے اور دس سواروں کو اطلاع حاصل کے طور پر دجال کے خبر لانے کو روانہ ہوں گے۔ رسول اللہ a نے فرمایا۔ میں ان سنیں گے۔ ایک پکار، ان کو آئے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں میں آگیا۔ یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہو گا اس کو چھوڑ کر روانہ ہوں گے اور دس سواروں کو اطلاع حاصل کے طور پر دجال کے خبر لانے کو روانہ ہوں گے۔ رسول اللہ a نے فرمایا۔ میں ان سواروں کے اور ان کے باپوں کے نام جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ جانتا ہوں۔ وہ اس دن ساری زمین کے بہتر سوار ہوں گے کہ جب نزول عیسیٰm کا زمانہ قریب ہو گا۔ اس وقت یثرب (مدینہ النبیa) کی آبادی گھٹ جائے گی اور بیت المقدس کی آبادی کامل ہو جائے اور بڑھ جائے گی اور ان علامات کے بعد مسلمانوں کا وہ لشکر جو مدینہ سے نکلے گا اور اپنے برادران دینی باشندگان شام کو نصاریٰ کے دست ظلم سے بچانے کو آئے گا۔ وہ حلب کے قریب لڑائی کرے گا۔ لڑائی ایسی ہوگی کہ ۹۹فیصد مقتول ہوں گے۔ تین روز متواتر ناکامیوں اور شہادتوں کے بعد چوتھے روز مسلمان غالب آئیں گے۔ نصاریٰ مقہور ہوں گے۔ اس جنگ سے چھ سال بعد مسلمان قسطنطنیہ کو بھی نصاریٰ کے ہاتھ سے چھین لیں گے۔ جب یہ سب کچھ ہو چکے گا تو جنگ عظیم سے ساتویں سال اور فتح سے چھ سال کامل بعد دجال کا خروج ہو گا۔ جب دجال کے فتنے پھیل جائیں گے اور مسلمانوں کا لشکر اس کا مقابلہ کرنے کے ارادہ سے شام میں (بیت المقدس) میں اترا ہو گا۔ اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریمn
کا نزول ہو گا۔ اب ہم ان واقعات عظیمہ اور اخبار بیّنہ پر نیز مرزاقادیانی کے تمام تر دعاوی پر نظر غائر ڈالتے ہیں۔ مرزاقادیانی کے اپنے تینوں رسالوں فتح الاسلام، توضیح المرام، ازالۃ الاوہام میں یہ دعاوی ہیں:
۱… حضرت عیسیٰm مر گئے جو مر جاتا ہے وہ پھر دنیا میں نہیں آتا۔
۲… حضرت عیسیٰm کے نزول سے مراد ان کے مثیل کا ظہور ہے اور تمام احادیث میں استعارہ ہے۔
۳… وہ مثیل حسب الہام مرزاقادیانی خود ہیں۔
کہ اگر مرزاقادیانی کے پہلے دو دعوؤں کو قبول بھی کر لیا جائے اور جس قدر احادیث وآیات ہمارے پاس ان دو دعوؤں کی تردید میں موجود ہیں ان سے قطع نظر بھی کر لی جائے۔ تب بھی مرزاقادیانی وہ مسیح نہیں ہوسکتے۔ جس کے نزول کی حدیثوں میں خبر ہے۔ کیونکہ آنے والے مسیح کے نزول سے پہلے ان واقعات کا ظہور پذیر ہونا ضروری اور لازمی ہے اور ان تمام واقعات سے پہلے دعویٰ کرنے والا شخص جھوٹا مسیح ہے۔ میں بزرگ مسلمانوں کی خدمت میں یہ بھی عرض کرنا مناسب جانتا ہوں کہ ان احادیث کا مرزاقادیانی کے کسی مرید نے اپنے رسالہ میں اشارۃً یا صراحۃً ذکر تک نہیں کیا۔ تاویل کرنا تو کجا، مرزاقادیانی ان احادیث کا نہ ذکر کرتے ہیں نہ تاویل۔
صحیحین میں ہے کہ مدینہ کی آبادی آباب تک پہنچ جائے گی۔ حالانکہ آج ہمارے زمانہ میں وہاں تک آبادی نہیں پہنچی اور ترمذی میں ہے کہ اسلامی شہروں میں سے سب سے آخر میں مدینہ ویران ہو گا۔ خدا کے فضل سے آج تک کل اسلامی شہر آباد وبارونق ہیں۔
مرزاقادیانی جو (ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰) میں مان چکے ہیں کہ: ’’نزول عیسیٰm کی پیشین گوئی کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہوچکا ہے اور یہ کہنا کہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ ان لوگوں کا کام ہے جن کو خداتعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی حصہ بخرہ نہیں دیا۔‘‘ وہ مانتے ہیں کہ نزول عیسیٰm کا انکار ویسا ہی ہے جیسا وجود خلفاء وراشدین اور وجود محمد مصطفیa کا انکار۔ اس لئے ہم کو امید ہے کہ وہ ان احادیث پر مؤمنانہ غور فرمائیں گے اور اپنی حدیث نفس سے رجوع کریں گے۔
مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ کہ ابن مریم سے مراد غلام احمد ہے اور احادیث میں استعارہ ہے۔ تمام ہندوستان میں ان کے اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعے سے مشہور ہوچکا ہے۔ مگر میں مسلمانوں کو اسی زمانہ کے ایک اور شخص کے حال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ جو ریلوے لائن راجپورہ سے بھنڈہ کو جاتی ہے۔ اس کے اسٹیشن دھوری سے دو میل کے فاصلے پر ایک گاؤں کھیروعلاقہ ریاست پٹیالہ کا ہے۔ اس گاؤں میں ایک شخص نور محمد نامی ہے۔ اس کا بیان ہے کہ مرزاقادیانی کا وہ موعود بیٹا جس کی بابت ان کو یہ الہام ہوا تھا۔
فرزندوارجمند ’’مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء‘‘میں نور محمد ہوں۔ جب اس سے کہا گیا کہ وہ تو خاص مرزاقادیانی کے صلب سے ہو گا۔ جواب دیا کہ ہاں! صحیح ہے۔ مگر صلب روحانی مراد ہے نہ صلب جسمانی۔ پس مرزاقادیانی کا موعود بیٹا روحانی طور پر میں نور محمد ہوں۔ جب اس سے کہاگیا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ مرزاقادیانی کے الہام میں یوں ہو اور تم اس کو یوں تاویل کرو۔ اس نے کہا میں تاویل نہیں کرتا۔ جس طرح پر مرزاقادیانی روحانی طور پر ابن مریم ہیں۔ نور محمد بھی اسی طرح روحانی طور پر ابن مرزا ہے۔
غالباً اس کو ان مرزاقادیانی کے بیٹے بننے کی یہ ضرورت پڑی کہ بیٹا اپنے کمالات میں باپ سے بڑھا ہوا ہے۔ ورنہ یہ ایک اعتبار سے خدا کا بیٹا بھی ہے۔ کیونکہ اس کا مرشد کہ وہ بھی ریاست پٹیالہ کا باشندہ ہے۔ اپنے آپ کو خدا کہتا اور کہلاتا ہے۔ اس کے مریدوں کی تعداد ہزاروں پر ہے۔ پڑھے لکھے بھی بہت ہیں۔
اس نے ایک دفعہ اپنے مریدوں کو کہا کہ آج مرزاقادیانی یہاں تشریف لائیں گے۔ سامان درست کرو۔ گاؤں سے پہلے آدھ میل تک کچے راستے میں پانی کا چھڑکاؤ کیاگیا۔ رات بھر دف ودہل بجتا رہا۔ مشعلیں روشن رہیں۔ ہر وقت یہی آواز تھی۔ اب آئے اب آئے۔ اس کی بیوی نے مراقب ہوکر نیم شب کے بعد کہا تم جانتے ہو۔ مرزاقادیانی کیوں نہیں آئے۔ تمہاری ان مشعلوں کا دھواں جو سرسوں کے تیل سے روشن ہیں۔ ان کے
دماغ کو اذیت دیتا ہے۔ جاؤ اسی وقت گاؤں سے روغن گھی اکٹھا کر کے لاؤ۔ گھی لایا گیا۔ مشعلیں جلائی گئیں۔ سپیدہ دم اس نے حکم دیا۔ چلو لوٹ چلو۔ مرزاقادیانی آئے تھے۔ مگر واپس چلے گئے۔ لوگوں نے کہا کب آئے تھے۔ کب چلے گئے۔ ہم نے تو زیارت بھی نہ کی۔ کہا روحانی طور پر آئے تھے۔ تم آنکھوں کے اندھے ان کو نہیں دیکھ سکے۔ اس کا قول ہے کہ: ’’انہ کان توابا‘‘ میں مرزاقادیانی کا آنا ثابت ہے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ خدا پھر آنے والا یعنی دوبارہ آنے والا ہے۔ سو مرزاقادیانی آگئے۔ اس کے بہت سے اقوال عجیبہ ہیں۔ موعود بیٹا ہونے کا دعویٰ اس کو چھ سال سے ہے۔
جو کچھ میں نے کہا ہے وہ اس کے حقیقی بھائی اور اپنے دوست مولوی عطاء اللہ صاحب نے یا اپنے دوست منشی رحیم بخش صاحب سے سنا ہوا ہے۔
اس مضمون سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس لفظ کا صحیح صحیح مدلول ومسمٰی۔
۱… آیا وہ شخص ہوسکتا ہے یا نہیں جس نے دنیا بھر کو اپنی محبت وغضب کی حیرت بخش جذبات سے بھر دیا؟
۲… جس نے توریت کی شریعت کے سامنے اپنے انجیل کے فصل کو پیش کیا۔
۳… جو اپنے اعلیٰ درجہ کے اعداء کے کلمات متہمہ سے ایسا ہی پاک ہے جیسا کہ اپنے اعلیٰ درجہ کے نام لیواؤں کی مبالغانہ توصیفات سے بکلی بری ہے۔
۴… وہ جس کی ماں بیت المقدس پر خدا کے نام پر چڑھائی گئی اور زکریاm اس کا متکفل ہوا۔
۵… وہ جس کی شبیہ کو سولی چڑھا دینا یہودیوں نے اس کے لعنتی ہونے کی دلیل ٹھہرایا۔
۶… وہ جس کی بردار کشیدہ تصویر کو عیسائیوں نے اس کی الوہیت کا اعلیٰ نشان بتایا۔
۷… وہ سرائیلیوں کا بادشا، یہودیوں کا رہبر۔
۸… اور ٹھیک وہ جس کے اس قدر نشانات وعلامات بیان کر دینے کے بعد بھی ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں۔
اگرچہ بہت سے عقلاء کے نزدیک یہ بحث ہی عجیب ہوگی کہ آیا اسم (مسند الیہ) اپنے مسمٰی پر دال ہوتا ہے یا نہیں؟ مگر ہم کیا کریں زمانہ ہی ایسا آگیا ہے جو کہتا ہے کہ لاہور کو لاہور نہیں کہتے۔ کوئین وکٹوریہ کو کوئین وکٹوریہ نہیں کہتے۔ ہندوستان کا نام ہندوستان نہیں۔ رات کو رات بولنا غلط ہے اور دن کو دن خیال کر بیٹھنا حماقت ہے۔ ہم نے لفظ کی تعریف میں پڑھا ہے کہ ذہن میں کسی شئے یا خیال کا جو مفہوم ہو، اس کے خواص، آثار، حالات ایسے شرع واضح بیان کر دئیے جائیں جن سے وہی چیز یا وہی خیال سمجھا جائے۔
علیٰ ہذا! اشیاء کی تعریف میں دیکھا ہے کہ اس شئے کے وہ خواص جو اس کے مخصص ہوں بیان کر دئیے جائیں اور اس کی جنس قریب وفصل قریب بھی جتلا دی جائے تاکہ اس کے وہ خواص بھی جو اس کی حقیقت میں داخل ہیں اور جس کے سبب سے وہ اور اشیاء سے متمیز ہوتی ہے۔ اس بیان میں آجائیں۔
اگر ہم ان تعریفوں پر جو ہر ایک ایچ پیچ کی لمبی چوڑی تقریروں پر حاوی ہیں۔ اکتفاء کریں اور اپنے عنوان کے اسم ’’عیسیٰ بن مریمn‘‘ پر نظر غائر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ اس میں یہ سب خواص موجود ہیں اور جب سے کہ یہ لفظ زبان اور نطق بیان پر آیا ہے۔ اپنے مفہوم ومدلول ومسمٰی پر نہایت واضحیت وکاملیت کے ساتھ دال رہا ہے اور سوا اس کے اور کسی پر کبھی بھی ہرگز ہرگز اس کا اطلاق نہیں ہوا اور نہ صرف ’’عیسیٰ بن مریمn‘‘ مرکب صورت ہی ہیں بلکہ بسا اوقات صرف ’’عیسیٰ اور بسا اوقات‘‘ ابن مریم بھی تو اس سے واضح ہوگا کہ ہمارے عنوان کے الفاظ نہ صرف بہ ہیت مجموعی بلکہ انفرادی طور پر بھی اپنے مدلول اور مسمٰی کے لئے ویسے ہی کامل ہیں جیسا کہ کوئی اور اسم ہونا چاہئے۔ مثلاً آدم صفی اللہ ، ابراہیم خلیل اللہ ، محمد رسول اللہ صلواۃ اللہ علیہم اجمعین!
اب میں اوّل قرآن مجید کی چند آیات کو پیش کرتا ہوں۔
۱… صرف عیسیٰ کی مثال: ’’ولما جاء عیسٰی بالبینات (زخرف:۶۳)‘‘ وغیرہ۔
۲… عیسیٰ بن مریم کی مثال:’’وقفینا علٰی اٰثارہم بعیسٰی ابن مریم (مائدہ:۴۶)‘‘
۳… صرف ابن مریم کی مثال:’’ولما ضرب ابن مریم (زخرف:۵۷)‘‘وغیرہ۔
۴… مسیح ابن مریم کی مثال: ’’قالو ان اللہ ہو المسیح ابن مریم (مائدہ:۷۲)‘‘
۵… صرف مسیح کی مثال: ’’وقالت النصاریٰ المسیح ابن اللہ (توبہ:۳۰)‘‘ وغیرہ۔
اور اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ جس طرح پر کہ قرآن مجید میں ان تمام ناموں یعنی (۱)عیسیٰm، (۲)عیسیٰ بن مریم، (۳)ابن مریم، (۴)مسیح ابن مریم، (۵)مسیح سے ایک ہی شخص مراد ربانی ہے جو اسرائیلی اور صاحب انجیل ہے۔ اسی طرح احادیث پاک میں بھی ان ناموں میں سے ہر ایک نام میں مراد اسی ایک شخص سے ہے اور باوجودیکہ احادیث میں ان کے نام کا ہونا ہی ان کے وجود مزکی پر دلالت کرتا ہے۔ تاہم احادیث میں ایسے کھلے کھلے نشان بھی ہیں جو بتلاتے ہیں کہ اس عیسیٰ بن مریمn کے سوا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، احادیث میں بھی کسی دوسرے شخص سے استعارۃً یا مجازاً بھی ہرگز ہرگز مراد نہیں لی گئی ہے۔
میں ناظرین موقنین کے تدبر وغور کے لئے وہ احادیث پیش کرتا ہوں۔
دلیل نمبر۱: (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج) کی حدیث ہے: ’’عن ابی ہریرۃq عن النبیa قال لیس بینی وبینہ نبی یعنی عیسٰیm وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الٰی الحمرۃ والبیاض بین ممسرتین کأن رأسہ یقطرو ان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویہلک اللہ فی زمانہ الملل کلہا الا الاسلام ویہلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون‘‘
رسول اللہ a نے فرمایا: میرے اور عیسیٰ کے درمیان میں نبی کوئی نہیں اور وہ تم میں اتریں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لو۔ قد ان کا درمیانہ ہو گا۔ رنگ سرخ وسپید اور لباس زردی مائل۔ گویا ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے پانی ٹپکتا ہوگا۔ وہ اسلام کے لئے لوگوں سے لڑیں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ خدا ان کے زمانہ میں تمام مذاہب کو محو کر دے گا۔ صرف اسلام باقی رہے گا۔ وہ دجال کو ہلاک کریں گے اور زمین پر چالیس سال تک قیام کریں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
اس حدیث میں چند امور لائق تدبر ہیں۔
اوّل: تو اسی عیسیٰ نبی اللہ اسرائیلی ہونے کا ثبوت اس فقرہ سے ’’لیس بینی وبینہ نبی وانہ نازل‘‘ کہ وہ عیسیٰ نبی اتریں گے جس کے بعد میرے سوا کوئی نبی نہیں ہوا۔
دوسری: ان کے چہرہ کی رنگت اور لباس کے رنگ کی جداگانہ تشریح جس سے مرزاقادیانی کی وہ تاویل کہ زردرنگ سے بیمار ہونا مراد ہے غلط ٹھہرتی ہے۔
تیسری: اسلام کے لئے قتل وجنگ فرمانا۔ مرزاقادیانی کے دعویٰ روحانی فتح کو شکست دیتا ہے۔
چہارم: ان کے زمانہ میں کل مذاہب کا اسلام کے سوا نابود ہو جانا۔ مرزاقادیانی کے زمانہ سے جس کو وہ بھی کفر وظلمت کا زمانہ مانتے ہیں۔ حضرت عیسیٰm کے زمانہ کا علیحدہ اور ممتاز ہونا ثابت کر رہا ہے۔
پنجم: ’’ثم یتوفٰی‘‘ کے لفظ سے حیات بالفعل ثابت ہے۔
ششم: ’’یصلی علیہ المسلمون‘‘ سے ثابت ہے کہ ان کی آمد دوم اور ممات اسلام پر ہوگی۔ اگر وہ عیسائیت کے لئے آتے تو عیسائی ان کی نماز جنازہ پڑھتے۔
دلیل نمبر۲: (ترمذی ج۲ ص۲۰۲، ابواب المناقب) میں حضرت عبداللہ بن سلامq سے (جو صحابہi میں عالم ترین صحف آسمانیہ اور بنی اسرائیل میں اشرف ترین اسباط تھے) روایت ہے: ’’مکتوب فی التوراۃ صفت محمد وعیسٰیm ابن مریم یدفن معہ‘‘توریت میں محمدa کا وصف اور عیسیٰ بن مریم کا وصف لکھا ہوا ہے۔ توریت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰm محمد رسول اللہ کے پاس دفن ہوں گے۔
دلیل نمبر۳:’’وقال ابومودود وقد بقی فی البیت موضع قبر‘‘
(ترمذی ج۲ ص۲۰۲، ابواب المناقب)
ابومودود سے روایت ہے کہ روضہ رسول اللہ a میں اب تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔
اس حدیث میں بھی چند امور لائق تدبر ہیں۔
۱… توریت میں رسول اللہ a اور حضرت ابن مریمn کا وصف ایک جگہ مذکور ہے۔ مرزاقادانی سادگی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a کی بشارت کھلے طور پر توریت میں موجود ہی نہیں۔ حالانکہ قرآن مجید نے فرمایا ہے: ’’یجدونہ
مکتوباً عندہم فی التوراۃ والانجیل (الاعراف:۵۷)‘‘ محمدa کا وصف توراۃ وانجیل میں لکھا ہوا موجود پاتے ہیں۔
۲… حضرت عیسیٰm بن مریم کا روضۂ رسول خدا میں مدفون ہونا۔
اور اس سے چند امور ظاہر ہوتے ہیں۔
الف… حضرت عیسیٰm کی حیات بالفعل کیونکہ جس جگہ انہوں نے بعد وفات مدفون ہونا ہے وہ جگہ اب تک خالی ہے۔
ب… ایک زبردست پیشین گوئی چونکہ ارادت الٰہی میں مقدر ہوچکا ہے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰm ہی مدفون ہوں۔ اس لئے باوجود کوشش ہائے بلیغہ بہت سے بزرگان دین کا اس جگہ مدفون نہ ہوسکنا۔ اہل بیت میں سے حضرت عائشہ صدیقہt کا باوجود اپنا گھر ہونے کے۔ امام حسنq کا باوجود وصیت واستحقاق کے۔ اصحاب میں سے حضرت عثمانq کا باوجود ذوالنورین اور خلیفہ ہونے کے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفq کا باوجود امیر اور عشرہ مبشرہ میں سے ہونے کے۔
ج… نکتہ جلیلہ اور سردقیقہ یہ ہے تاسب پر واضح ہو جائے کہ حضرت عیسیٰm کی نزول بعد رسول اور تجدید فی الاسلام کی مثال ایسی ہی ہے جیسے رسول اللہ a کے خلفائے راشدین کی ہے اور اسی لئے وہ حضرت شیخینr کی طرح روضۂ رسول خداa میں دفن کئے جائیں گے۔
واضح ہو کہ ترمذی کی یہ حدیث جو حضرت عبداللہ بن سلامq تک موقوف ہے۔ دوسرے طریق سے رسول اللہ a تک مرفوع بھی ثابت ہوچکی ہے اور اس میں آپa نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں اور عیسیٰm ابوبکرq اور عمرq کے درمیان سے اٹھیں گے۔
(مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ ابن مریم)
دلیل نمبر۴: (صحیح مسلم ج۱ ص۹۵، باب الاسراء برسول اللہ ) میں ہے: ’’عن جابر قال قال رسول اللہ a لا تزال طائفۃ من امتی یقاتلون علی الحق ظاہرین الی یوم القیامۃ قال فینزل عیسٰی بن مریم فیقول امیرہم تعال صل لنا فیقول لہ ان بعضکم علی بعض امرا تکرمۃ اللہ ہذا الامتہ‘‘
جابرq سے روایت ہے رسول اللہ a نے فرمایا: ہمیشہ میری امت کی ایک جماعت حق پر لڑتی رہے گی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پھر عیسیٰ بن مریمn اتریں گے۔ امیر جماعت کہے گا آئیے نماز پڑھائیے۔ فرمائیں گے نہیں۔ تم ایک دوسرے کے امام ہو۔ خدا نے اس امت کو بزرگی دی ہے۔
اس حدیث پاک میں بھی چند امور پر تدبر کرنا ضروری ہے۔
۱… ایک گروہ مجاہدین کی بابت پیشین گوئی جو تاقیامت ہمیشہ رہے گا۔
۲… اس امر کا اظہار کہ آنے والا عیسیٰ نہ خود کاغذی گھوڑے دوڑانے والا ہوگا اور نہ وہ جماعت جس میں اس کا نزول ہوگا۔ ایسی ہی ہوگی بلکہ وہ مجاہد فی سبیل اللہ اور ان کی جماعت قاتلین علی الحق ہوں گے۔
۳… ’’ہذا الامۃ‘‘ کا لفظ ثابت کر رہا کہ آنے والا مسیح اس امت محمدیہ میں سے نہیں ہے۔ (جیسا کہ مرزاقادیانی ہیں) اور بتلا رہا ہے کہ اسرائیلی عیسیٰm ہی آئیں گے اور یہی لفظ نزول رسول کے ساتھ مل کر ان کی حیات بالفعل پر بھی دلیل ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ بعد نزول اس امت میں شمار ہوں گے اور وہ اس امت کے امام وقت کا اقتداء کریں گے۔
۴… صحیح مسلم کی حدیث صحیح کے مقابلہ میں ’’لا مہدی الا عیسٰی‘‘ والی بے اصل روایت کی اصلیت بھی کھل گئی۔
دلیل نمبر۵: (مسلم ج۱ ص۹۶، باب الاسراء) کی حدیث میں جس کے راوی ابی ہریرہq ہیں۔ رسول اللہ a نے فرمایا ہے: ’’رأیتنی فی جماعۃ من الانبیاء فاذا موسٰیm قائم یصلی فاذا ہو رجل ضرب جعد کانہ من رجال شنوۃ واذا عیسٰی قائم یصلی اقرب الناس بہ شبہا عروۃ بن المسعود الثقفی‘‘
میں نے اپنے آپ کو انبیاء کی جماعت میں کھڑے پایا۔ میں نے دیکھا کہ موسیٰ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ وہ تو میانہ قد گتھے ہوئے بدن کے آدمی ہیں۔ جیسے قبیلہ شنوہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ پھر میں نے عیسیٰm کو دیکھا وہ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ شکل وصورت میں سب آدمیوں میں سے مشابۃ عروہ بن مسعود ثقفی (صحابی رسول) ہیں۔
میں اس حدیث میں اس مقام پر صرف یہ نتیجہ نکالنا چاہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰm نبی کو (جس کو رسول اللہ a نے معراج میں دیکھا ہے) شکل وصورت حضرت عروہ بن مسعودq صحابی جیسی ہے۔
(مسلم ج۲ ص۴۰۳، باب ذکر الدجال) کی دوسری حدیث میں ہے۔ جس کے راوی عبداللہ بن عمرو ہیں۔ ’’یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین لا ادری اربعین یوما اواربعین شہر او اربعین عاماً فیبعث اللہ عیسٰی بن مریم کانہ عروۃ بن مسعود فیطلبہ فیہلک‘‘
دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس تک ٹھہرے گا۔ راوی کا بیان ہے میں نہیں جانتا ۴۰دن، ماہ یا ۴۰سال۔ پھر خدا عیسیٰm بن مریم کو بھیجے گا۔ وہ تو عروہ بن مسعودq جیسے ہیں۔ وہ دجال کو تلاش کر کے ہلاک کریں گے۔
اور اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آنے والا اور دجال کا قتل کرنے والا وہی ہے جو شکل وصورت میں عروہ بن مسعودq جیسا ہے۔ پس ان احادیث کے ملانے سے یہ امور متحقق ہوگئے کہ:
۱… آنے والا مسیح وہ حضرت ابن مریم نبی اللہ m ہیں۔ جن کو گروہ انبیاء میں حضرت محمد مصطفیa نے دیکھا تھا اور جن کی شکل وصورت عروہ بن مسعودq صحابی جیسی ہے۔
۲… یہ ہے کہ آنے والے مسیح میں اور عیسیٰ روح اللہ میں حلیہ کا اختلاف ہرگز نہیں ہے اور اسی لئے مرزاقادیانی کا یہ شعر غلط ہے۔
رنگم چو گندم است وبموفرق بین ست
سید جدا اکندر مسیحائے احمرم؟
دلیل نمبر۶: رزین کی روایت میں ہے اور اس کے راوی حضرت امام جعفر صادقv سے لے کر علی المرتضیٰq تک کل ائمہ اہل بیت نبی ہیں۔ علیہم الصلوٰۃ والسلام! رسول اللہ a نے فرمایا وہ امت کیونکر ہلاک ہو گی جس کے اوّل میں میں اور بیچ میں مہدی اور آخر میں عیسیٰm ہیں۔
(مشکوٰۃ ص۵۸۳، باب ثواب ہذہ الامۃ)
اس حدیث میں مہدی اور عیسیٰm علیحدہ علیحدہ ثابت کئے گئے ہیں اور حضرت عیسیٰm کی جلالت شان اور رفعت ذات کو جس طرح پر دکھلایا گیا ہے۔ وہ ماہرین حدیث سے پوشیدہ نہیں۔
دلیل نمبر۷: اس دلیل میں امام بخاری کا مذہب اور یہ کہ ابن مریم کا مفہوم ومسمی ان کے نزدیک کیا ہے؟ ثابت کیا جاتا ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے جابجا یہی جال پھیلایا ہے کہ: ’’دراصل حضرت اسماعیل بخاری صاحب کا یہی مذہب تھا کہ وہ ہرگز اس بات کے قائل نہ تھے کہ سچ مچ مسیح ابن مریم آسمان سے اتر آئے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۹۶، خزائن ج۳ ص۱۵۳) میں روشن ضمیر مسلمانوں کے سامنے مذہب امام بخاری ظاہر کر دیتا ہوں۔ یہ یاد رکھو کہ امام بخاری کا نام محمد بن اسماعیل ہے نہ کہ اسماعیل۔
واضح ہو کہ امام بخاریv نے اپنی صحیح میں کتاب الانبیاء جدا گانہ لکھی ہے اور انہی انبیاءo کا ذکر ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ انہوں نے حضرت آدمm سے لے کر آخر کتاب تک یہ طرز اختیار کی ہے کہ ہر نبی کے لئے جداگانہ باب باندھا ہے اور ہر باب کو قرآن مجید کی ایک ایک آیت سے شروع کیا ہے۔ گویا ہر ایک نبی کے متعلق جو آیت قرآنی ہے۔ اس آیت کی تفسیر نبوی ایک ایک حدیث کے ذریعہ سے ظاہر کی ہے۔ میں اختصار کے لئے اپنے رسالہ کو حضرت مریمp کے باب سے شروع کرتا ہوں۔
ذرا غور سے دیکھئے کہ کس طرح پر ہر ایک باب میں حضرت مریم کی پیدائش سے لے کر حضرت عیسیٰ کی ولادت ونبوت ونزول کو پایہ بپایہ لکھا ہے اور باب نزول عیسیٰ بن مریمn لکھ کر چند امور کو ثابت فرمادیا ہے۔ اوّل: یہ کہ حدیث میں جو ابن مریم کا لفظ ہے
اس کا مفہوم عیسیٰ بن مریم ہے اور دوسرے: یہ کہ وہی عیسیٰm بن مریم ہیں۔ جو نبی اللہ ہیں۔ ’’m‘‘ کا لفظ اس پر دال ہے۔ تیسرے: یہ کہ مریم وہی مریم ہیں جو اس قدر بشارات ربانی سے ممتاز ہیں اور اس پر بھی لفظ ’’p‘‘ دلالت کرتا ہے۔
پھر دیکھئے کہ امام بخاریv کا تبحر اور دقیقہ رسی کتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اگرچہ ہر باب کو آیت قرآنی سے شروع کیا ہے مگر اس باب کو صرف نزول عیسیٰ بن مریمn سے آغاز فرمایا ہے اور باب کے شروع پر ہی کسی آیت کو درج نہیں کیا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ جو حدیث نزول ’’والذی نفسی بیدہ‘‘ میں لکھنے والا ہوں۔ اس کے آخر میں آیت قرآنی آتی ہے جس سے ابوہریرہq کا استدلال ثابت ہے جو میرے (امام بخاری) استدلال سے بدرجہا قوی اور مستند تر ہے تو مجھے اپنے استدلال کے نمائشی کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ اب میں ناظرین سے پوچھتا ہوں کہ وہ عیسیٰm بن مریم جس کا احادیث بالا میں ذکر ہے۔ نزول رسول اللہ سے پہلے زمانہ کا ہی شخص ہے۔ یا ۱۳۰۸ھ کا۔
وہ عیسیٰ بن مریم جس کی ماں کا اس کے نزول کی احادیث سے پہلے آیات قرآنی پر تمسک کر کے ذکر کیاگیا ہے۔ یہ وہی نبی اللہ اسرائیلی ہے یا کوئی مرزا؟
وہ عیسیٰ جس کے نزول کو امام بخاریv وابوہریرہq نے آیت وحدیث سے ثابت کر دکھلایا ہے یہ نبی اللہ ہے یا کوئی عامی؟ کیونکہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ احادیث بخاری میں حضرت مریم سے مراد تو حضرت مریم ہی ہوں اور حضرت ابن مریم سے مراد حضرت ابن مریم نہ ہوں۔
بزرگو! اگر تم ذرا غور کرو گے تو حق آپ کو آفتاب نیمروز سے زیادہ تاباں نظر آئے گا اور جس قدر احادیث رسول مقبول مطاع عالم میں لکھ چکا ہوں ان سے آپ پر ثابت ہو جائے گاکہ حضرت عیسیٰ بن مریم سے کون شخص مراد ہے اور بقول مرزاقادیانی (آج کل) ان متواترات سے انکار کر کے (کون شخص) اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈال چکا ہے۔
(ازالہ اوہام ص۵۵۶، خزائن ج۳ ص۳۹۹)
مرزاقادیانی نے جہاں بہت سے دعاوی کئے ہیں۔ میں مجدد ہوں، میں محدث ہوں، میں ملہم ہوں، میرا الہام آمیزش شیطانی سے منزہ وپاک ہے، میں وہی ہوں کہ اصلاح
خلق کے لئے وقت پر آیا، میں نذیر ہوں، میں ایک قسم کا نبی ہوں، میں خدا کے احکام جو آسمان سے میرے پاس آتے ہیں زمین پر پہنچاتا ہوں، میں مرسل ربانی ہوں، میں مامور رحمانی ہوں۔ وہاں مرزاقادیانی نے ایک یہ بھی فرمایا ہے کہ میں مشابہت تام اور مماثلت شدید کی وجہ سے مسیحm بن مریم کا مثیل بھی ہوں۔
دراصل مثیل کا لفظ بطور مغالطہ مرزاقادیانی استعمال فرماتے ہیں۔ ورنہ ان کی تصنیف پر غوروتدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح کا مثیل کہلانا پسند نہیں کرتے۔ بلکہ یہ ہتک عزت وکسر شان سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص مرزاقادیانی کو حضرت عیسیٰm جیسا ہی لفظ سمجھا کرے اس کا ثبوت ان عبارات ذیل سے مل سکتا ہے۔
۱… ’’یہ تو ثابت ہے کہ اس مسیح (غلام احمد قادیانی) کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزئی فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کی دعوت عام ہے اور اس کی خاص تھی اور اس کو طفیلی طور پر تمام مخالف فرقوں کے اوہام دور کرنے کے لئے ضروری طور پر وہ حکمت ومعرفت سکھلائی گئی ہے جو مسیح ابن مریم کو نہیں سکھلائی تھی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۴۸، خزائن ج۳ ص۴۵۰)
۲… ’’اگر یہ عاجز اس عمل ومعجزات مسیحی کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۰۹، خزائن ج۳ ص۲۵۸ حاشیہ)
(مسیح جیسے معجزات دکھلانے سے) اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے۔ اس کے (دکھلانے والے کے) ہاتھ (سے) بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۱۰، خزائن ج۳ ص۲۵۸ حاشیہ)
۳… (حضرت مسیح کا نمبر) ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں، ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۱۱، خزائن ج۳ ص۲۵۸)
مسلمان غور کریں کہ جب حضرت مسیح نے نہ ہدایت سکھلائی نہ توحید کی تعلیم دی نہ دینی استقامتوں کو دلوں میں قائم کیا تو پھر وہ نبی کس بات کے تھے؟ پس درپردہ یہی مسئلہ مرزاقادیانی مریدوں کے ذہن نشین کرنا چاہتے ہیں۔
۴… ’’خداتعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں مودّع ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۲۱، خزائن ج۳ ص۲۶۳)
۵… عیسیٰ کجاست تابہ نہد پابہ منبرم۔
(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)
۶… ’’میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲، خزائن ج۳ ص۱۰۴)
(یوحنا باب:۵، آیت:۲۴) میں مسیح کا یہ قول ہے کہ: ’’میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں وہ جو میرا کلام سنتا ہے اور اس پر جس نے مجھے بھیجا ہے ایمان لاتا ہے۔ ہمیشہ کی زندگی اس کی ہے۔‘‘
(یوحنا باب:۸، آیت:۵۱) میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے تو ابد تک موت کو ہرگز نہ دیکھے گا۔
(یوحنا باب:۱۰، آیت:۲۳۸) میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں۔ وے کبھی ہلاک نہ ہوں گے۔
مرزاقادیانی نے یہ فقرہ مسیح کے ان فقرات سے (اڑا کر تعریضاً انہی پر وارد کیا اور سعدی کا شعر سچ کر دکھلایا)
کس نیا موخت علم تبراز من
کہ مرا عاقبت نشانہ نہ کرد
وغیرہ وغیرہ بہت سے مقامات ہیں جن میں مرزاقادیانی نے ظاہر کیا ہے کہ مثیل مسیح بننے سے ان کو بہت بڑی عار ہے۔ ہاں! عبارت میں بہت سے ایسے نمونہ بھی پائے جاتے ہیں کہ ان کو رسول اللہ a پر بھی گویا فضیلت حاصل ہے۔ صحابہ اور ائمہ ہدیٰ سے فضیلت رکھنے کا اقرار تو خود انہوں نے کر ہی لیا ہے۔ پس بدیں صورت میں نہیں جانتا کہ آج تک انہوں نے کیوں اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کا مثیل بتانے پر ہی اکتفا کی ہے۔ جس کے فعل مکروہ اور قابل نفرت اور کھیل ولہو ولعب ہیں۔ شاید کوئی مصلحت غامضہ ہو گی۔ آئندہ چل کر یہ راز بھی کھل جائے گا۔
مثیل کے معنی لغت میں، مانند، افزوں، بزرگ، فاضل، نیکو، برگزیدہ ہیں۔ لیکن کسی مقام پر نہیں جتلایا گیا کہ آپ کن معنی کے اعتبار سے مثیل بنتے ہیں۔ عیسیٰm سے بزرگ وافزوں ہونے میں یا مانند ہونے میں۔ اگر مانند ہونے میں ہی مراد ہے تو جس طرح کہ عیسیٰ بن مریم کا نزول قرآن وحدیث سے لیا گیا ہے۔ معلوم نہیں کہ آپ نے یہ لفظ کہاں سے لیا ہے اور بطور لغت شرعی کے کہاں سے اس کا استعمال فرمایا ہے۔ مرزاقادیانی نے جو ازالۃ الاوہام میں لکھا ہے: ’’ہماری اس بات کو وہ حدیث اور بھی تائید دیتی ہے جو مثیل مصطفی کی نسبت ایک پیشین گوئی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مہدی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ کیونکہ اس حدیث میں ایسے لفظ ہیں جن سے بصراحت یہ پایا جاتا ہے کہ آنحضرتa پیشین گوئی میں اپنے ایک مثیل کی خبر دے رہے ہیں۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ مہدی خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا۔ ’’یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی‘‘ یعنی میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا اور میرے باپ کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام اب دیکھو کہ خلاصہ اس حدیث کا یہی ہے کہ وہ میرا مثیل ہوگا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۴۷، ۱۴۸، خزائن ج۳ ص۱۷۵)
ناظرین! ہم مثیل کے اوصاف وشرائط سے بہت کم واقف تھے۔ اس لئے مرزاقادیانی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ رسول اللہ a کی حدیث ہم کو ان اوصاف کا مصداق انہوں نے بتلادیا۔ اب ہم مرزاقادیانی کی عطاء کردہ کسوٹی پر ان کے دعویٰ کو بھی کس لینا مناسب سمجھتے ہیں۔ اگر بمنشائے خبر نبویa مثیل کے لئے خلق میں اور خلق میں مانند ہونا اور نام میں، باپ کے نام میں، ایک ہونا ضروری ہے تو مرزاقادیانی حضرت عیسیٰm کے ساتھ کس پہلو اور کس وجہ سے مماثلت شدید رکھتے ہیں؟بیّنوا ولا تکتموا!
۱… آیا خلق میں کہ وہ پاک کنواری کے بطن سے اور روح القدس کی بشارت سے پیدا ہوئے تھے؟
۲… یا خلق میں جنہوں نے دنیا کو یہ تعلیم دی کہ جو ایک کوس بیکار چلے۔ اس کے ساتھ دو کوس چل۔ جو ایک گال پر طمانچہ مارے اس کی طرف دوسرے گال بھی کر دے؟
۳… یا نام میں کہ وہ عیسیٰm تھے اور آپ غلام احمد ہیں؟
۴… یا باپ کے نام میں کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور آپ کے والد کا نام مرزاغلام مرتضیٰ تھا؟
اگر کسی بات میں بھی نہیں تو حسب حدیث نبویa ہم جرأت اور صفائی کے ساتھ عرض کر سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی میں مثیل عیسیٰm بننے کے کوئی صفت نہیں۔ اگر مہدی کے بارہ میں ان حدیثوں کا بھی خیال رکھیں۔ جن میں رسول اللہ a نے مہدی کو اپنا بیٹا فرمایا ہے اور اپنے خاندان میں سے بتلایا ہے۔ جب بھی افسوس کے ساتھ جو نتیجہ ہم نکال چکے ہیں اس کی تائید بڑھ جائے گی۔
اس باب میں صرف دو امور تحقیق طلب ہیں۔
اوّل… یہ کہ کسی بزرگ کو کسی بزرگ کا مثیل کہا بھی گیا ہے یا نہیں؟
دوم… یہ کہ تحقیق مماثلت کے واسطے کن امور کا لازمی طور پر پایا جانا ضروری ہوتا ہے؟
مہدیm کی جو حدیث ازالہ اوہام میں لکھی گئی ہے اس سے چار امور کا پایا جانا مماثلت کے لئے ثابت ہوتا ہے۔ یعنی نام، باپ کا نام، خلق، خلق، نام اور باپ کا نام ان دونوں کو تو بحث سے علیحدہ کر دینا چاہئے۔ کیونکہ اثبات مماثلت کے وقت مرزاقادیانی ان پر ہرگز بحث نہیں کر سکتے۔ اب رہے خلق، خلق تو جہاں تک کہ میرا خیال ہے ان دونوں میں یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں موافقت، مناسبت ومشابہت ہونے کی حالت میں بھی نہ مماثلت مانی گئی ہے اور نہ سلف سے خلف تک لغوی یا شرعی طور پر کسی کو کسی کا مثیل قرار دیا اور پکارا گیا ہے۔ خلق کے بارہ میں دیکھو: (بخاری ج۱ ص۵۳۰، باب مناقب الحسن والحسین) صحیح بخاری میں ہے: ’’کان الحسن یشبہ‘‘ مگر امام حسنq کو مثیل مصطفی کہہ کر نہیں پکارا گیا۔ خلق کے لحاظ سے ملاحظہ کرو۔ اسی صحیح میں ہے: ’’عن عبدالرحمن بن یزید قال سالنا حذیفۃ عن رجل قریب السمت والہدیٰ من النبیa حتی نأخذ عنہ قال لا اعلم احد ااقرب سمتاً وہدیاً ودلاً بالنبیa من ابن ام عبد‘‘
(بخاری ج۱ ص۵۳۱، باب مناقب عبداللہ بن مسعودq)
باایں ہمہ محامد حضرت ابن مسعودq کو مثیل مصطفی کا خطاب نہیں دیا گیا ہے۔
خلق، خلق دونوں کے اعتبار سے نظر کرو کہ صحیحین میں حضرت جعفرq ابن ابی طالب کی منقبت میں ارشاد نبوی موجود ہے۔ ’’اشبہت خلقی وخلقی‘‘
(بخاری ج۱ ص۵۲۶، باب مناقب جعفرq ابن ابی طالب الہاشمی)
لیکن ان کو بھی مثیل مصطفی سے مخاطب نہیں کیا گیا۔
اب قرآن شریف کی طرف آئیے اور دیکھئے کہ دوبزرگوار بندوں اور رسولوں میں خلق، خلق میں کیسی موافقت ظاہر کی گئی ہے اور دونوں کے لئے ایک ہی الفاظ قرآن مجید جیسی اعلیٰ بلاغت اور فصاحت والی کلام میں استعمال کئے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ امر جب تک کوئی خاص خوبی نہ ہو۔ بلاغت اور فصاحت کے خلاف ہے۔
۱… حضرت یحییٰ کی خبر ولادت فرشتہ سے سن کر حضرت زکریاm کہتے ہیں: ’’رب انّی یکون لی غلام وکانت امراتی عاقر، وقد بلغت من الکبر عتیا (مریم:۸)‘‘
۲… حضرت عیسیٰm کی خبر ولادت فرشتہ سے سن کر حضرت مریمp کہتی ہیں: ’’اذا قالت انی یکون لی غلٰم ولم یمسنی بشرولم اک بغیاً (مریم:۲۰)‘‘
۳… حضرت زکریاm کو فرشتہ نے جواب دیا۔ قال کذالک قال ربک ہو علی ہین (مریم:۹)‘‘ حضرت مریمp کو فرشتہ نے جواب دیا۔
۴… حضرت یحییٰm کو جو ارشاد الٰہی ہوا: ’’یا یحیٰی خذ الکتٰب بقوۃ وآتینا الحکم صبیا وحناناً من لدنا وزکوٰۃ وکان تقیا وبرا بوالدیہ ولم یکن جبارا عصیاً وسلام علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا (مریم:۱۱-۱۵)‘‘حضرت عیسیٰm نے جو قدرت ربانی سے ماں کی گود میں کہا۔
دیکھئے دونوں نبیوں میں قرابت خاندانی کے علاوہ کس قدر خلقی وخلقی یگانگت پائی جاتی ہے۔ مگر ان میں سے بھی ایک کو دوسرے کا مثیل کسی نے نہیں قرار دیا اور اس خطاب سے کوئی نہیں پکارا گیا۔ بلکہ اس بات کا نشان ملتا ہے کہ مراتب قلبی وروحانی اور احوال وجدانی پر اگر نظر ڈالی جائے تو ان دونوں بزرگواروں میں بھی فرق بیّن آشکار ہوگا۔
چنانچہ حدیث میں وارد ہے اور اس کو شیخ محی الدین ابن عربیv نے فصوص الحکم میں بھی مذکور کیا ہے کہ یحییٰm نے عیسیٰm کو کہا کہ تم نے تو اللہ کے غیض وغضب کو گویا فراموش ہی کر دیا۔ مسیح نے جواب دیا کہ تم نے تو اللہ کے رحم اور عفوکو گویا بھلا ہی دیا۔ اللہ اکبر! ایک سراپایم ہیں اور ایک سراپا رجاء۔
جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ حضرت عیسیٰm کے متعلق قرآن مجید میں ہے: ’’اوصانی باالصلٰوۃ والزکوۃ مادمت حیاً‘‘ اس جگہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر عیسیٰm زندہ ہیں تو ان پر تو جب تک زندہ ہیں نماز، زکوٰۃ فرض ہے۔ ’’آسمان پر حضرت عیسیٰ زکوٰۃ کہاں سے دیتے ہوں گے۔ کون لیتا ہو گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۳۶، خزائن ج۳ ص۳۳۱)
اس تقریر میں کچھ شوخانہ استہزاء بھی کیاگیا ہے۔ اس دلیل کو ہمارے بھائیوں نے وفات عیسیٰm کے لئے ایسا قوی ومستحکم خیال کیا ہے۔ جس کا ان کے زعم میں کوئی جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ سو یہ عقدہ یوں حل ہوتا ہے۔
۱… کل نبیوں پر جیسا کہ زکوٰۃ کا لینا حرام ہے۔ ویسا ہی دینا بھی حرام ہے۔ (ترجمہ مشکوٰۃ نواب قطب الدین) جس کی وجہ یہ کہ ان کا کل مال خدا کی راہ میں وقف ہوتا ہے۔
۲… زکوٰۃ تو اہل نصاب پر فرض ہے اور حضرت عیسیٰm کا اہل نصاب ہونا، اس سے ظاہر ہے کہ کبھی ایک کپڑے سے زیادہ دو کپڑے ان کے بدن مطہر پر نہیں دیکھے گئے اور جو کپڑا پہنتے بھی وہ بھی بسا اوقات ٹاٹ، کمبل کا کبھی دو وقت رات دن میں شکم سیر ہوکر کھانا نہیں کھایا۔ کبھی دورات ایک مقام پر قیام نہیں کیا۔ کیا ایسا شخص جس کا یہ حال ہو کہ بالشت بھر زمین سکنی یا زرعی کا مالک نہ ہو اور سیر آٹا یا دانہ جس کے پلہ میں کبھی بندھانہ ہو۔ ٹاٹ کمبل کے سوا اس کے پاک جسم سے کوئی کپڑا چھوا نہ ہو وہ اہل نصاب ہوسکتا ہے۔
اب رہا یہ کہ حضرت عیسیٰm نے ’’اوصانی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سو اس کے معنی سمجھنے کے واسطے تمام قرآن شریف کو پڑھ کر ملاحظہ کیجئے۔ احکام کے نازل ہونے کی دو صورتیں ملیں گی یا تو ’’یاایہا الذین امنوا‘‘ کہہ کر سب کو مخاطب کیاگیا ہوگا اور یا صرف رسول ہی کو’’یاایہا النبی، یاایہا الرسول، یاایہا المزمل، یاایہا المدثر‘‘ وغیرہ وغیرہ کہہ کر تو اس سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جن احکام میں صرف جناب رسول اللہ a مخاطب ہیں۔ وہ جناب نبی امی کے لئے خاص حکم ہیں اور امت پر نہ وہ فرض ہیں اور نہ امت کو ان کی تعمیل ضروری؟
تو کیا ان سے ثابت کر سکتا ہے؟ کہ یہ شریعت نہیں بلکہ احکام مختص بہ ذات خاص ہیں۔ پس اگر مرزاقادیانی بھی ان کو شریعت مانتے ہیں تو ’’اوصانی بالصلٰوۃ والزکٰوۃ‘‘ میں بھی یہی ہے اور سیاق عبارت بھی یہی چاہتا ہے۔ کیونکہ جب عیسیٰm نے اپنا نبی ہونا ظاہر کیا تو اپنے ارکان شریعت کا بتلانا بھی ضروری تھا اور وہ زکوٰۃ وصلوٰۃ آپ نے بتلا دئیے اور چونکہ ’’اتانی الکتب‘‘ کہا تھا۔ اس لئے ضرور تھا کہ پہلے صاحب کتاب ہی مکلف ٹھہرے۔ میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ ’’اوصانی بالصلٰوۃ والزکٰوۃ‘‘ میں ایک اور راز لطیف ہے۔ یعنی رد نصاریٰ جو یوں ہے کہ جب مسیح خود مکلف احکام تھے اور نماز وزکوٰۃ ان پر اور ان کی امت پر فرض کی گئی تھی تو ایسا عبادت گزار بندہ معبود یا معبود کا کوئی جزو نہیں ہوسکتا۔ اب دیکھئے بیضاوی شریف میں (جس سے مریدان مرزاقادیانی نے استدلال کیا ہے) کیا لکھا ہے: ’’واوصانی وامرنی بالصلٰوۃ والزکٰوۃ۔ زکٰوۃ المال ان ملکتہ اوتطہیرا النفس عن الرذائل‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ مال ہے۔
اگر وہ صاحب نصاب ہوں ورنہ نفس کو رزائل سے پاک صاف رکھتا ہے اور چونکہ ہم لکھ چکے ہیں اور بالمقابل لکھ کر دکھا چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰm یحییٰm کے لئے بھی والزکوٰۃ کا لفظ استدلال ہوا ہے اور وہاں بھی بیضاوی کہتے ہیں: ’’وزکٰوۃ طہارۃ من الذنوب اوصدقۃ ای تصدق اللہ تعالٰی بہ علٰی ابویہ اومکنہ ووقف التصدق علی الناس‘‘ اور واضح ہو کہ اس مقام پر زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی لینے کے لئے یہ قرینہ بھی ہے کہ روح القدس نے حضرت مریمp کو کہا تھا کہ: ’’لاہب لک غلاماً زکیا‘‘ ظاہر ہے کہ ’’زکیا‘‘ کے معنی زکوٰۃ دینے والا نہیں ہے۔ بلکہ صاحب زکوٰۃ وطہارت ہیں۔ آخر میں ہم مرزاقادیانی کو یہ کہہ دینا چاہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰm کا زمین پر زکوٰۃ کا مال دینا وہ ثابت کر دیں گے تو ہم ان کا آسمان پر زکوٰۃ ادا کرنا بھی ثابت کر دکھلائیں گے۔
۱… جس طرح پر کسی بزرگ کو خلق اور خلق میں رسول کریمa کے ساتھ مشابہت رکھنے کی وجہ سے مثیل مصطفی نہیں کہا گیا اسی طرح کسی بزرگ کو خلق خلق مسیحm کے ساتھ مشابہت رکھنے کے اعتبار سے مثیل مسیح بھی نہیں کہا گیا۔
مسلم کی حدیث میں رسول خداa کا حضرت عروہq کے حق میں ارشاد موجود ہے کہ وہ خلق میں مسیح سے قریب تر ہیں اور مسند احمد میں نبی کریمa کا ارشاد بحق علی مرتضیٰq پایا جاتا ہے کہ وہ عوام کے جذبات غضب ومحبت کی رو سے حضرت مسیحm سے مشابہت رکھتے ہیں۔ لیکن کسی نے بھی ان اعتبارات سے ان بزرگوں کو مثیل مسیح کہہ کر نہیں پکارا۔ حق تو یہ ہے کہ اگر تحقق مماثلت کے واسطے یہی قاعدہ عام ہو تو کل کو مرزاقادیانی بول اٹھیں گے کہ ’’تخلّقوا باخلاق اللہ ‘‘ کی دلیل سے وہ مثیل خدا بھی ہیں اور ان کا کوئی حواری کہہ دے گا کہ: ’’ما انا الا بشر‘‘ کی برہان سے وہ مثیل محمد بھی ہے۔ ’’نعوذ باللہ من ہذہ الہفوات‘‘
خلاصہ کلام: خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب تک آپ اپنی پیش کردہ حدیث رسول کریمa کے موافق اور ہماری پیش کردہ آیات قرآن مجید کے موافق واحادیث صحیحین کے مطابق مثیل ہونے کا ثبوت نہ دیں گے اس وقت تک آپ کا مثیل ہونا دشوار ہے۔
میں اس جگہ دوبارہ کہتا ہوں کہ اوّلاً رسول اللہ a کو مثیل موسیٰ کہنے اور ثانیاً حضرت مہدی کو مثیل مصطفی بتلانے میں دونوں طرح پر رسول اللہ a کی عظمت وبزرگی پر سخت حملہ ہوا ہے اور دونوں پہلوؤں سے سید الرسل احمد مصطفیa کی قدر ومنزلت کا تنزل کیاگیا ہے۔ جس طرح پر کہ احادیث گزشتہ سے ثابت ہوچکا ہے کہ وہ بزرگ جو نام باپ کے نام خلق، خلق میں رسول اللہ a سے ملتا جلتا ہو اور کیا وہ بزرگ جو خلقت میں نبیa سے قریب تر ہو اور کیا وہ بزرگ جو خلق خلق دونوں میں جناب نبویa سے مشابہت رکھتا ہو اور کیا وہ بزرگ جو اخلاق ووقار وسیرت محمدیہa سے قریب تر ہو۔ غرض کسی کو بھی باوجود تحقق مدارج مختلفہ مذکورہ کسی اعتبار سے بھی مثیل مصطفی نہیں پکارا گیا تو ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی نے جناب رسالت مآبa میں نہایت سوء ادبی کی ہے۔ اصل وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب ان کومثیل مسیح بننے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے چاہا کہ سنگ بنیاد ودعویٰ دو ایک ایسے بزرگوں کے نام بنائے جائیں جن کی عظمت وعزت ایمانی طور ہر مسلمان کے دل نشین ہو۔ پس مرزاقادیانی نے محمدa کو جن کے مقام محمود وکمال تک آدم وولد آدم کو پہنچنا نصیب نہیں ہوا۔ موسیٰm کا مثیل بنایا اور پھر اس امر کے اظہار کے لئے کہ ایک رسول کا مثیل ایک امتی بھی ہوسکتا ہے۔ امام مہدیm کو نبیa کا مثیل بتایا تاکہ خود مرزاقادیانی کے دعویٰ مثیل مسیح کے لئے حجت وقوت ہو۔ مگر جیسا کہ مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو حضرت مسیح کا روحانی طور پر مثیل بنایا ہے اور حضرت مہدی کو اپنے خیال میں مصطفیa کا مثیل بتایا ہے۔ اس طرح پر کسی عبارت اور جملہ میں یہ تحریر نہیں کیا کہ موسیٰ کے مثیل رسول اللہ a کی وجہ مماثلت کیا تھی؟ اگر مرزاقادیانی نے اپنے ذہن عالی میں ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا (مزمل:۱۵)‘‘سے مماثلت قائم کی ہے۔ تو سخت غلطی کھائی ہے یا مغالطہ دیا ہے۔
واضح ہو کہ ائمہ لغت کے نزدیک ’’کما ارسلنا‘‘ میں ’’کاف‘‘ تشبیہ نہیں۔ بلکہ ’’کاف‘‘ تعلیل ہے اور اس کی مثال انہوں نے: ’’واذکروہ کما ہٰدکم‘‘ پیش کی ہے۔ یعنی ’’واذ کروہ لا جل ہدایتہ‘‘ پس آیت مذکورہ میں بھی اس کے معنی لاجل ارسال ہوئے۔ ’’ک‘‘ جو حرف تشبیہ ہے اور لفظ ’’ارسلنا‘‘ جو سبب تشبیہ ہے اس سے وہ وہی نتیجہ نکال سکتے ہیں جو خداوند کریم نے اس سے نکالا ہے اور فرمایا ہے کہ: ’’فعصٰی
فرعون الرسول فاخذناہ اخذاً وبیلاً (مزمل:۱۶)‘‘نہ کہ اس میں اپنے قیاس کو دخل دیں اور علم معانی سے آنکھ بند کر لیں اور رسول اللہ a کو مثیل موسیٰ کا خطاب عطاء فرمائیں۔ یہ بالکل واضح امر ہے کہ اگر مماثلت کوئی شئے ہے تو وجہ مماثلت بھی کوئی شئے ہونی چاہئے۔ اگر محمدa اور موسیٰ کلیم اللہ میں مماثلت اتحاد وشریعت ورسالت ہے تب تو بموجب آیت کریمہ: ’’شرع لکم من الدین ماوصٰی بہ نوحاً والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم وموسٰی ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (الشوریٰ:۱۳)‘‘
رسول کریمa کو مثیل نوحm کہنا چاہئے تھا جو خدا کے پہلے رسول تھے اور آیت کریمہ میں بھی نوحm کے بعد بلافصل رسول اللہ a کا ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ امر کہ شریعت محمدی وہی شریعت ہے۔ مجاہد کی تفسیر سے کہ آیت ہذا سے ظاہر ہے کہ:’’اوصیناک یا محمد وایاہم دینا واحداً‘‘اور خداوند کریم کے اس ارشاد سے ’’وان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ‘‘سے بخوبی واضح ولائح ہے۔
جو کچھ ہم نے رسول اللہ a کو مثیل نوحm یا مثیل ابراہیمm کہنے میں بیان کیا ہے۔ دراصل اس سے مقصود یہ ہے کہ مثیل موسیٰ کا مسئلہ ہر پہلو سے غلط ثابت کیا جائے۔ ورنہ دراصل رسول کریمa کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے کہ آپ کو کسی کا مثیل بتایا جائے۔ بات یہ ہے کہ پہلے نبی جو ہوتے رہے وہ اپنے سے پہلی شریعت میں کچھ نہ کچھ زیادہ تو کرتے رہے۔ لیکن پہلی شریعت میں سے کم کرنے یا بدل ڈالنے کا ان کو اختیار نہ ہوتا تھا۔ حضرت ابراہیمm نے شریعت نوحm پر مناسک اعمال فطرت ختنہ وغیرہ کو ایزاد کیا اور موسیٰm شریعت ابراہیمیa پر اونٹ کو حرام کرنا، سبت کو واجب کرنا۔ زنا کی سزا، رجم وغیرہ وغیرہ کو ایزاد کیا۔ مگر نبیa پہلے شریعتوں میں ایزاد، تنقیص وتبدیل تینوں امور عمل میں لاتے رہے تو پھر کیونکر اتحاد شریعت میں وجہ مماثلت متحقق ہوسکتی ہے۔
اور اگر وجہ مماثلت مشابہت تام ومتابعت شدید ہے تو رسول کریمa کو مثیل ابراہیمm کہنا زیادہ تر موزوں ہوتا۔ جیسا کہ قرآن شریف کے مقامات متعدد سے روشن وآشکار ہے۔
دیکھو! ان سب آیات سے پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ a ملت ابراہیمی پر مبعوث تھے اور یہودونصاریٰ کی شرائع ومصالح کے مقابلہ میں شرائع حنیفہ کو ترجیح دیتے رہے اور اس سے بڑھ کر وجہ مماثلت یہ ہونی چاہئے کہ آپa کا وجود مبارک دعائے ابراہیمی کا نتیجہ تھا اور اگر وجہ مماثلت خلق وخلق میں متحقق ہو تو صحیح بخاری کی حدیث میں ہے: ’’ورأیت ابراہیم وانا اشبہ ولدہ (ابوعوانہ ج۱ ص۱۳۰)‘‘میں نے ابراہیمm کو دیکھا میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔
غرض ان سب وجوہات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے محمد رسول اللہ a کو مثیل موسیٰm کہنے میں جو غلطی کھائی ہے وہ غلطی نہیں بلکہ مغالطہ بھی ہے اور صرف آپ کی طبع معنی خیز کا نتیجہ ہے۔
اس قدر بیان مماثلت کے بعد میں پھر توضیح المرام کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان میں نہایت گہرے پیرایہ میں ایک خاص بات کا ذکر کیاگیا ہے جس تک عام ذہنوں کی رسائی محال ہے۔ یعنی یہ کہ مرزاقادیانی نے اپنے اور مسیحm میں خاصیت وقوت روحانی ثابت کرنے کے لئے حضرت مریم صدیقہ کے قصہ اور حضرت عیسیٰm کے واقعہ پیدائش کو بدل دینا چاہا ہے۔ حضرت مریمp کا روح القدس کو دیکھنا اور اس کا بشارت فرزند دینا، ان کا تعجب کرنا روح القدس کا حضرت صدیقہ کو قدرت وحکم ربانی کو سنا کر بشارت پر ایمان دلانا، نفخ روح اور پیدائش عیسیٰ کا قصہ جو قرآن میں مفصل ومتعدد جگہ مذکور ہوا ہے۔ مرزاقادیانی نے اس کو روحانی اور عرفانی مرتبہ بتایا ہے اور اس مرتبہ کے حصول کو ایک روحانی پیدائش تعبیر کیا ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب خدا کی روح اس محب کو ’’نیا تولد بخشتی ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص۲۲، خزائن ج۳ ص۶۲)
اس سے کیا نکلتا ہے؟ حضرت عیسیٰm کا بغیر باپ کے پیدا نہ ہونا اور جو قصہ کہ
قرآن مجید میں ان کے تولد وپیدائش کی نسبت ہے۔ اس کا سراسر استعارہ ومجاز ہونا۔ مسلمان بیچارے جو حضرت عیسیٰm کی ولادت کو نشان قدرت ربانی سمجھتے تھے وہ سمجھیں کہ حضرت عیسیٰm کی پیدائش کا جو قصہ کہ قرآن مجید میں نہایت صاف وواضح الفاظ میں ہے۔ وہ ہمارے بننے والے عیسیٰm کے نزدیک حضرت عیسیٰm کی پیدائش کا قصہ نہیں بلکہ وہ تو حضرت عیسیٰm کے ایک ایسے روحانی وعرفانی منصب کا ذکر ہے کہ اس کا وجود روحانی تولد وپیدائش سے ہوا کرتا ہے اور اس روح کو جس کو منصب حاصل ہوتا ہے۔ خداتعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے۔ استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان غور کریں کہ حضرت عیسیٰm جن کو یہ منصب حاصل تھا۔ ان کو (بقول وتحقیق مرزاقادیانی) بطور استعارہ ابن اللہ کہنا بھی ٹھیک ہوا اور اگر کوئی ان کو اس طرح ابن اللہ یا روح القدس کو جو ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے ابن کہہ دے تو یہ شرک نہیں بلکہ پاک تثلیث ہے۔
(توضیح المرام ص۲۱،۲۲، خزائن ج۳ ص۶۲)
اب ہم اس امر پر غور کریں گے کہ ان دونوں صفحوں کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ:
۱وّل… تو حضرت مریم وحضرت عیسیٰn کے قصہ سے انکار ہے۔
دوم… بطور استعارہ حضرت عیسیٰm کو ابن اللہ کہنا درست ہے۔
سوم… روح القدس کو ابن اللہ کہنا ٹھیک ہے۔
چہارم… اور چونکہ یہ منصب ایک وجدانی، عرفانی وروحانی منصب ہے۔ اس لئے جس کسی کو یہ منصب حاصل ہوجائے اس کو ابن اللہ کہنا درست ہے۔
پنجم… چونکہ مرزاقادیانی اور عیسیٰm دونوں اس منصب میں شریک ہیں اور قوت طبع وخاصیت میں متحد ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی کو ابن اللہ کہنا ٹھیک ہے۔
اسی کتاب (توضیح المرام ص۲۷، خزائن ج۳ ص۶۴) ’’جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔‘‘ اے اہل توحید! آپ صاحبان کے لئے یہ بھی قابل غور ہے کہ جب مرزاقادیانی استعارہ کے طور پر ابن اللہ بن گئے تو استعارہ کے طور پر وہ محمد مصطفیa کے معبود بھی بن گئے۔ کیونکہ قرآن مجید میں ہے: ’’قل ان کان للرحمن ولد فانا اوّل العابدین (زخرف:۸۱)‘‘کہلائے
اگر کوئی خدا کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔ آج تک تو یہ سمجھا گیا تھا کہ نہ کوئی خدا کا بیٹا ہی ہے اور نہ کوئی خدا کے سوا محمدa کا معبود ہے۔ لیکن اب مرزاقادیانی جب خدا کے بیٹے بن گئے تو وہ بگمان، خود رسول اللہ a کے معبود بھی بن گئے۔ نعوذ باللہ !
ششم… اور ہر ایک ایسی تثلیث جو بندہ کی محبت کو مادہ اور خدا کی محبت کو نر اور جوان سے تیسری چیز پیدا ہوتی ہے اس کو ابن فرض کرنے سے قائم ہوسکتی ہے۔ وہ پاک تثلیث ہے۔
مسلمانو، بزرگو! دیکھا بھی، پاک توحید کے ساتھ کیسی پاک تثلیث نکالی گئی ہے۔ بے شک ہم اس معنی کے لحاظ سے تو مرزاقادیانی کو مجدد ہی کہہ سکتے ہیں۔
جہاں تک بڑے بڑے انگریز فلاسفروں اور پادریوں کی تحریرات ہمارے تک پہنچی ہیں ہم نے ان میں دیکھا ہے کہ وہ تثلیث کی کیفیت بیان کرنے سے عاری وعاجز ہوتے ہیں بلکہ ان کا متفقہ بیان یہ ہوتا ہے کہ تثلیث کا پاک مسئلہ جس کی بنیاد اعلیٰ درجہ کے فلسفہ پر ہے اس کی کیفیت فہم انسانی سے بالاتر ہے۔ مرزاقادیانی نے نصاریٰ پر نہایت احسان فرمایاکہ تجدید فرماکر اس سربستہ معمہ کو کھولا اور توحید کی طرح تثلیث کو بھی پاک ٹھہرایا اور استعارہ کے وسیع میدان میں لاکر خدا کی ایک مخلوق کی خدا کے ساتھ ابن ہونے کی نسبت کو صحیح کردیا اور اس ارشاد ربانی کو فراموش فرمادیا کہ: ’’تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبار ہدّاً ان دعوا اللرحمن ولدا (مریم:۹۰،۹۱)‘‘ رب کریم اس گندے عقیدہ کو جو سبب بعثت نبیa کا بیکار ثابت کر رہا ہے مسلمانوں کے دلوں سے دور کرے اور سب کو یہ سمجھ دے کہ مثیل عیسیٰm کے بننے کے دعویٰ میں اسلام کے سب سے بڑے رکن توحید کو بھی کتنا بڑا صدمہ پہنچایا گیا ہے اور کیسے کیسے معانی تراشے گئے ہیں۔
اسلام کے ہر ایک ایسے لفظ کا استعمال جس میں ذرا سا دوسرا پہلو اور شک کی صورت ہو منع کر دیا ہے۔ مسلمان جب رسول اللہ a کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے تو ’’راعنا‘‘ کہا کرتے۔ یعنی ہماری طرف دیکھئے۔ یہود آتے اور اسی موقعہ پر جب اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو عین کی کسرہ ذرا کھینچ کر کہتے جو ’’راعینا‘‘ ہو جاتا۔ یعنی ’’اے ہمارے
چرواہے‘‘ اللہ تعالیٰ کو یہ ناگوار ہوا کہ مسلمان ایسے لفظ کا استعمال کریں۔ جس میں بانک لہجہ رسول کی ہتک شان کی صورت نکلتی اور یہود کی مشابہت ہوتی ہو۔ اس لئے یہ حکم ہوا کہ: ’’یاایہا الذین امنوا الا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا‘‘مسلمانو! تم ’’راعنا‘‘ کے لفظ کا استعمال ہی چھوڑ دو۔ اس کی جگہ انظرنا کہا کرو تو اب میں کہتا ہوں کہ اہل کتاب کی کتب سماویہ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ابتداء میں یہودونصاریٰ میں بھی انسان کو ابن اللہ کہنے کی رسم بطریق استعارہ پڑی تھی۔ کہیں یعقوبm کو خدا کا پہلوٹا بیٹا کہا۔ کہیں داؤدm کے کل لشکر والوں کو خدا کے بیٹے پکارا۔ کہیں فرمانبردار آدمیوں اور عورتوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں کہا گیا۔ وہ انسان کو خدا کا بیٹا کہا کرتے اور اس سے برگزیدہ اور محبوب مراد لیتے۔ چنانچہ اس آیت میں بھی یہی واضح ہے۔’’وقالت الیہود والنصاریٰ نحن ابناء اللہ واحباوہ (مائدہ:۱۸)‘‘کہ ابن محبوب بطور مترادف کے معنی کے استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن شریعت اسلام میں جو سب کو توحید کے صافی چشمہ کا آب زلال پلانے والی تھی اس اصلاح کو بیخ وبن سے اکھاڑا اور سب اصطلاحوں اور استعاروں کو شرک خالص بتلایا اور یوں پڑھ کر سنایا:’’لقد کفر الذین قالو ان اللہ ثالث ثالثۃ‘‘اور یہی وجہ ہے کہ آیت مندرجہ متن میں ’’دعوا للرحمن ولدا‘‘ کہاگیا ہے تاکہ استعارہ وکنایہ ومجاز وحقیقت سب کے لئے حاوی ہو۔ پس جب اسلام نے اخلاق میں اصلاح کی ہے کہ ’’راعنا‘‘ کی جگہ ’’انظرنا‘‘ کہنے کی تعلیم دی۔ تو اب مرزاقادیانی اعتقادات میں ابن اللہ بننے کے جو دعویدار بنتے ہیں اور اس کو استعارہ کی راہ سے جائز قرار دیتے ہیں وہ اسلام کو کیا سمجھے ہوئے ہیں؟ جب جناب موصوف جانتے ہیں کہ یہودونصاریٰ جس لفظ ’’ابن‘‘ کو ابتداء میں استعارہ سمجھے تھے۔ بالآخر اسی کو حقیقت سمجھنے لگ گئے اور اسی شرک کو دور کرنے اور توحید قائم کرنے کے واسطے رسول اللہ a بھیجے گئے تو پھر کیوں پچھلے زمانہ کی مشرکانہ تاویلات ومجازات کی تعلیم کو مسلمانوں کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ ہاں! قرآن مجید کی تعلیم پاک تو یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتq کو جو صحابہ بوجہ کمال محبت وعنایت رسول کریم، زید بن محمد رسول اللہ a کہہ کر پکارا کرتے تھے اور اپنے اس قول کو حقیقت بالکل نہیں سمجھتے تھے ان کو بھی منع کیاگیا اور حکم ہوا۔ ’’ادعوہم لا بائہم ہو اقسط عند اللہ (احزاب:۵)‘‘کہ
جس کا باپ معلوم ہو اس کے اصلی باپ کا نام لے کر پکارو۔ خدا کے ہاں یہی سچی اور انصاف کی بات ہے۔
مرزاقادیانی بتلائیں کہ خدا تو استعارہ کے طور پر ایک انسان کو بھی ایک انسان کا بیٹا کہنا ناجائز قرار دے اور آپ خود خدا کے بیٹے بننے کو تیارہوں اور اس دانش پر نصاریٰ کے رد کا بھی ارادہ کریں؟
مرزاقادیانی کی رائے یہ ہے کہ: ’’خداتعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے۔‘‘
(فتح الاسلام ص۱۵، خزائن ج۳ ص۱۱)
مسلمانوں کو لازم ہے کہ اپنی کل شرائع واصول وارکان وقصص کو جناب مرزا کے روبرو پیش کر کے خدا کے مقصود، اصلی معانی کو سمجھ لیں۔ ورنہ جو کچھ کہ وہ آج تک سمجھے ہوئے ہیں سب غلط ہے۔ کیونکہ ان سے مراد ہے استعارہ اور سمجھے ہوئے ہیں حقیقت۔
تاریخی واقعات کو جو دنیا کے صفحہ پر ہوچکے ہیں اور بتواترثابت ہیں اور اس بارہ میں ہمعصروں کے چشم دید واقعات اور عینی شہادات کا سلسلہ ہمارے تک پہنچا ہے اور سینکڑوں سال تک لاکھوں کروڑوں اشخاص کا وہ ایک مسلمہ اعتقاد رہا ہے۔ اس کو استعارہ کہہ دینا کچھ مرزاقادیانی کا ہی پہلا کام نہیں ہے۔ ’’مہابھارت‘‘ کتاب کے مترجم بنگالی بابو نے جو دس سال سے انگریزی میں اس کتاب کا ترجمہ کر رہا ہے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کورو اور پانڈوں کی لڑائی اور پانچ بھائیوں کا ایک عورت سے بیاہ کر لینا وغیرہ وغیرہ۔ جو قصے مہابھارت میں مذکور ہیں یہ سب استعارات ہیں۔ کورو سے نفس امارہ مراد ہے جو جواء کھیل کر اور ٹھگ کر دوسرے کا ملک لینا چاہتا تھا اور پانڈوں سے نفس مطمئنہ مقصود ہے جو اگرچہ ملک کا مالک بالاستحقاق ہے۔ مگر بھولا بھالا ہے پانچ بھائیوں سے حواس خمسہ مراد ہیں اور ایک جورو سے شہوت نفس مراد ہے۔ اسی طرح اس نے تمام قصوں کو استعارہ کہہ کر بدل دیا ہے۔
پس اگر بنگالی بابو سے دس سال بعد مرزاقادیانی نے واقعات کو مسلمہ استعارہ کہہ دیا تو اس میں نہ ان کی جدت طبع ہے اور نہ ایک مبصر کی نگاہ میں یہ نئی بات۔
’’اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے
محدث ہوکر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰)
یقین کا ذکر کرتے کرتے فرماتے ہیں کہ شعب یقین میں سے صدیقیت ومحدثیت بھی ہے اور ان دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ امت میں سے کوئی شخص اپنی اصل فطرت سے انبیاء کا ایسا مشابہ ہو۔ جیسا دانا شاگرد محقق استاد کا ہوتا ہے۔ پس اگر یہ مشابہت قوائے عقلیہ میں ہوتی ہے تو اس کا نام شہید وحواری ہوتا ہے اور ان ہی دونوں اقسام کی جانب اس آیت میں اشارہ ہے۔ ’’والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء (حدید:۱۹)‘‘
اور صدیق ومحدث کے درمیان فرق یہ ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث میں صاف طور پر یہ آگیا ہے:’’ماکان فی ماقبلکم یکلمون وفی روایۃ محدثون من غیر ان یکونوا انبیاء‘‘ (مناقب عمرqج۱ ص۵۲۱) محدث نبی نہیں ہوتے۔ لیکن مرزاقادیانی برخلاف حدیث صحیح اپنی طرف سے یہ مستزاد کئے دیتے ہیں کہ وہ نبی ہی ہوتا ہے۔ اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ محدث امت محمدیہ حضرت فاروق اعظمq نے تو جن کی منقب میں یہ حدیث بھی موجود ہے ’’لوکان بعدی نبیا لکان عمر‘‘ساری عمر میں کبھی بھی اپنے آپ کوایک قسم کا نبی نہ کہا۔ پھر مرزاقادیانی خود محدث بن کر کس منہ سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کو ان احادیث صحیحہ کے ابطال سے بھی شرم نہیں آتی۔
صدیق کا نفس، نفس نبی سے نہایت قریب الماخذ ہوتا ہے۔ جیسا کہ کبریت کو آگ سے نسبت ہوتی ہے۔ پس صدیق جو کچھ نبی سے سنتا ہے اس کے نفس میں وہ نہایت شاندار ہوکر واقع ہوتا ہے اور اس کے نفس پر شہادت کا تلقی شروع ہوتا ہے اور یہ حالت ہو جاتی ہے کہ جو علم اس کو حاصل اور روشن ہوگیا ہے گویا وہ خود اسی کے اندر سے ملا ہے۔ کسی کی تقلید سے نہیں۔
اور انہی معنی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے: ’’ان ابابکر الصدیق کان یسمع دوی صوت جبریل حین کان ینزل بالوحی علی النبیa‘‘
(باب فضائل ابوبکرq، مسلم ج۲ ص۲۷۲)
ہاں! صدیقq کی شان یہ ہے کہ اس کی ذات میں محبت رسول اللہ a نہایت کاملیت کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ جس سے بڑھ کر افزونی ممکن نہیں۔ پس صدیق اپنے نفس اپنے مال کے ساتھ نبی کی خدمت کرتا اور ہر حال میں اس کی موافقت میں رہتا ہے۔ چنانچہ نبی اللہ نے حضرت ابوبکرq کے حال سے یوں خبر دی ہے۔ ’’ان امن الناس علی فی ما لہ وصحبۃ‘‘ اور نبیa نے حضرت صدیق کے حق میں یہ شہادت بھی دی ہے:’’لو کنت ان یتخذا خلیلاً لا تخذت ابابکر خلیلاً‘‘
(مسلم ج۲ ص۲۷۲، باب فضائل ابی بکرq)
اگر انسانوں میں سے کسی کو خلیل بنانے کا امکان ہوتا تو ابوبکر ہی حضور کا خلیل ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انوار وحی نبیa کے نفس مقدس سے صدیق کے نفس مبارک پر پے در پے اترا کرتے ہیں اور جہاں تک کہ تأثر اور تاثیر فعل اور انفعال متواتر ومکرر ہوتے رہتے ہیں فنا وفداء کے مراقب حاصل ہو جاتے ہیں اور چونکہ صدیق کا کمال جو کہ اس کا غایت مقصد ہوتا ہے نبیa کی صحبت میں رہنے اور کلام نبی سننے پر موقوف ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ سب سے زیادہ حاضر صحبت نبوی صدیق ہی ہو اور صدیق کی علامت میں سے یہ بھی ہے کہ تعبیر خواب میں سب سے بڑھ کر دانا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدیق پرادنیٰ ادنیٰ اسباب سے امور غیبیہ کا تلقی کیا جانا مقدر ہونا ہے اور یہی باعث ہے کہ واقعات کثیرہ میں نبیa حضرت صدیقq سے تعبیر پوچھا کرتے تھے۔
محدث وہ ہے کہ اس کا نفس علم ملکوت کے بعض معاون کی طرف مبادرت کیا کرتا ہے۔ پس جتنا کچھ کہ خدا نے اس کے لئے مہیا کردیا ہوتا ہے۔ محدث اس علم میں سے لے لیتا ہے تاکہ نبیa کی شریعت کے لئے باعث امداد اور انتظام بنی آدم میں سبب اصلاح ہو۔ اگرچہ رسول اللہ a کے بعد وحی نہیں اترتی۔ مگر اس کی مثال اس شخص کی سی سمجھو۔ جو خواب میں اکثر حوادث کو جو ابھی ملکوت میں جمع ہوتے ہیں۔ ان کی وضع ایجاد ہی پر دیکھ لیتا ہے اور یہ محدث کا خاصہ ہے کہ قرآن اس کی رائے کے موافق اکثر حوادث میں نازل ہو اور یہ بھی ہے کہ وہ خواب میں نبیa کو دیکھے۔ گویا حضور نے دودھ سے خود سیر ہوکر پھر اپنا پس خوردہ محدث کو عطاء کیا ہے۔
صدیقq خلافت کے لئے سب آدمیوں سے مقدم واولیٰ ہوتا ہے۔ کیونکہ جو عنایت الٰہی کہ نبی کے ساتھ ہوتی ہے اور جو نصرت وتائید خاص کہ نبی کو خدا کی جانب سے ملی ہوتی ہے۔ صدیق کا نفس بھی ان سب کا محل ومورد ہوتا ہے اور یہ حال ہوجاتا ہے کہ گویا نبیa کی روح مبارک صدیق کی زبان پر بول رہی ہے۔ ہاں! حضرت عمرq کے اس قول کے یہی معنی ہیں۔ جب کہ آپ لوگوں کو بیعت صدیق کے لئے بلارہے تھے۔ تو آپ نے کہا تھا: ’’فان یک محمدa قدمات فان اللہ قد جعل بین اظہرکم نوراً تہتدون بہ ہدی اللہ محمدa وان ابابکر صاحب رسول اللہ a وثانی اثنین وانہ اولٰی المسلمین بامور کم فقوموا فبایعوہ‘‘
(بخاری ج۲ ص۱۰۷۲، باب استخلاف)
اور رسول اللہ a کی اس حدیث کے یہی معنی ہیں کہ: ’’اقتدوا بالذین من بعدی ابابکر وعمر‘‘
(ترمذی ج۲ ص۲۰۷، باب مناقب ابی بکر الصدیقq)
اور یہی معنی ہیں اس آیت کے: ’’والذی جاء بالصدق وصدّق بہ اولئک ہم المتقون (الزمر:۳۳)‘‘
اور رسول اللہ a نے یہ بھی فرمایا ہے: ’’لقد کان فیما قبلکم محدثون فان یکن فی امتی احد فعمر‘‘ (بخاری ج۱ ص۵۲۱)
اور بخاری ومسلم وترمذی کی ایک روایت میں ابن عباسq کا یہ قول بھی مروی ہے کہ رسول اللہ a کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ محدث ہے۔
ہم افسوس کرتے ہیں کہ (فتح الاسلام ص۱۶، خزائن ج۳ ص۱۱ حاشیہ) پر اس حدیث کا جو ترجمہ کیاگیا ہے وہ درست نہیں ہے۔ بزرگو، مسلمانو! اس بیان سے جو شاہ ولی اللہ صاحبv کا ہے اور ان آیات واحادیث صحیح سے جن پر شاہ صاحب مرحوم نے تمسک کیا ہے کیسا صاف اور روشن ہوگیا کہ سوائے حضرت عمرq کے امت محمدیہ میں کوئی محدث نہیں۔ جیسا کہ ابوبکر صدیقq کے سوا بھی کوئی نہیں اور ان صفات وخواص سے جو محدث میں ہوتے ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ محدث کا عہد سعادت عہد محمد رسول اللہ a میں ہی ہونا ضروری
ہے۔ کیونکہ قرآن کا اکثر حوادث میں اس کی رائے کے موافق نازل ہونا زمانہ نزول قرآن کو اور اس زمانہ میں وجود محدث کو چاہتا ہے اور صدیق کے بعد مستحق ترخلافت کا ہونا بھی عہد خلافت راشدہ کے اندر ہی وجود محدث کو ثابت کرتا ہے نہ کہ چودہ سو صدی بعد کے زمانہ کو۔
مرزاقادیانی نے وجود ملائکہ کی نسبت یونانی خیالات فسلفیانہ تاویلات بیان کی ہیں اور تعلیم اسلام پر دساتیر ووید کی تعلیم کو ترجیح دی ہے۔ ملائک کے فی الخارج وجود کا انکار کیا ہے اور وید ودساتیر کے مذہب کے موافق ان کو ارواح کواکب بتلایا ہے۔ ان کا چلنا، پھرنا زمین پر آنا محال کہا ہے۔
(توضیح المرام ص۳۳، خزائن ج۳ ص۶۷)
’’ولما جاء ت رسلنا لوطا سیٔ بہم وضاق بہم ذرعاً وقال ہذا یوم عصیب وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ ومن قبل کانوا یعملون السیئات قال یقوم ہولاء بناتی ہن اطہر لکم فاتقوا اللہ ولا تخزون فی ضیفی الیس منکم رجل رشید قالوا لقد علمت مالنا فی بناتک من حق وانک لتعلم ما نرید قال لو ان لی بقوۃ او اوی الٰی رکن شدید قالوا یا لوط انا رسل ربک لن یصلوا الیک فاسر باہلک بقطع من اللیل ولا یلتفت منکم احد الا امراتک انہ مصیبہا ما اصابہم ان موعدہم الصبح الیس الصبح بقریب فلما جاء امرنا جعلنا عالیہا سافلہا وامطرنا علیہا حجارۃ من سجیل منضود (ہود:۷۷-۸۲)‘‘جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے وہ ان کے آنے سے تنگ دل ہوا اور اپنے جی میں رک گیا اور بولا آج کا دن بڑا سخت ہے اور اس کے پاس اس کی قوم بے اختیار دوڑتی آئی۔ یہ پہلے سے برے کام کرتے تھے (حضرت لوطm) نے کہا لوگو یہ میری بیٹیاں ہیں جو تم کو ان سے پاک تر ہیں۔ تم اللہ سے ڈرو اور مجھ کو میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی نیک راہ نہیں ہے (لوگوں نے) کہا تو جان چکا ہے کہ ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ دعویٰ نہیں اور تجھ کو معلوم ہے جو کچھ ہم چاہتے ہیں (لوط) نے کہا اگر مجھ کو تمہارے سامنے زور ہوتا یا میں مضبوط جگہ میں ہوتا (تو تم ایسا نہ کر سکتے) مہمان بولے اے لوطm ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں۔ یہ لوگ تجھ تک ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے۔
تم کچھ رات سے اپنے گھر والوں کو (اپنی عورت کے سوا) لے کر نکلو اور تم میں کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ تیری عورت پر تو وہی کچھ آئے گا جو ان پر آئے گا۔ ہاں! ان کے وعدہ کا وقت صبح ہے۔ کیا صبح نزدیک نہیں؟ پس جب ہمارا حکم پہنچا۔ ہم نے وہ بستی زیر زبر کر دی اور اس پر تہہ بہ تہہ کنکر پتھریاں برسائیں۔
قوم لوطm جیسے فساق فجار کا ملائکہ کو جو متمثل بہ بشر تھے دیکھنا۔ حضرت لوطm کا گھر گھیر لینا۔ حضرت کی پریشانی۔ فرشتوں کا نبی اللہ کو اطمینان دلانا۔ اگلی صبح تمام بستی کو خراب وتباہ کر دینا۔ کیا یہ سب کچھ ارواح کواکب کا بیان ہے۔ روح تو حیوانات کی بھی نظر نہیں آتی۔ ان غیرمادی اجرام کی روح نے تمثیل کیونکر حاصل کر لیا اور اگر فرشتے ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ (توضیح المرام ص۳۲، خزائن ج۳ ص۶۷) تو یہ کون تھے جو یہ سب کرشمے لوط اور قوم لوط کو دکھلا گئے؟
’’ہل اتاک حدیث ضیف ابراہیم المکرمین (الذاریات:۲۴)‘‘{کیا تجھ کو ابراہیم کے عزت والے مہمانوں کی خبر پہنچی ہے۔}
حضرت ابراہیمm کے گھر فرشتوں کا مہمان بن کر آنا۔ خلیل الرحمن کا ان کے لئے کھانا تیار کرنا۔ فرشتوں کا نہ کھانا۔ بیٹے کی ولادت کا وعدہ اور بشارت خدا کی طرف سے دینا کیا یہ ارواح کواکب کا کام ہے۔ جو ذرہ بھر آگے پیچھے نہیں ہوتے ہیں؟
’’اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلاثۃ الاف من الملائکۃ منزلین بلٰی ان تصبروا وتتقوا ویاتواکم من فورہم ہذا یمددکم ربکم بخمسۃ الاف من الملائکۃ مسومین (آل عمران:۱۲۴،۱۲۵)‘‘ {جب تو مومنوں کو کہنے لگا کیا تم کو کفایت نہیں کہ تمہارا رب تم کو مدد بھیجے۔ تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے ہوں۔ البتہ اگر تم ٹھہرے رہو اور پرہیزگاری کرو اور وہ اسی دم تم پر آئیں تو مدد بھیجے تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو پلے ہوئے گھوڑے پر ہوں۔}
پہلے تین ہزار فرشتوں کی تعداد کا بتلانا اور منزلیں ان کی صفت لانا۔ پھر پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ امداد کا کیا جانا اور مسوّمین ان کی صفت بتلانا۔ کیا یہ سب ارواح کواکب ہیں۔ کیا یہی وہ ارواح ہیں جن کو ذرہ بھر جنبش نہیں؟
’’فارسلنا علیہا روحنا فتمثل لہا بشراً سویا (مریم:۱۷)‘‘{پھر ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اس کے سامنے بھر پور مرد بن کر کھڑا ہوا۔}
غور کیجئے یہاں بھی روح کواکب ہی بھیجی گئی یا روح القدس۔ پھر بھرپور مرد بن کر کون کھڑا ہوا تھا اور یہ جواب بھی کس نے دیا تھا۔
اس نے کہا میں تیرے خدا کا فرشتہ ہوں۔ اس لئے آیا ہوں کہ تجھ کو ایک ستھرا لڑکا دے جاؤں۔ کیا یہ روح کواکب کے ہی کرشمے ہیں۔ جس کو ذرہ برابر جنبش نہیں؟
اب احادیث کی طرف رجوع کیجئے۔ اوّل اس حدیث کو لیجئے جس میں ایک سائل آیا۔ اس کی صورت، وضع، لباس، صحابہ کو حیرت میں ڈال دینے والے تھے۔ اس نے اسلام اور ایمان کے متعلق سوال کئے اور چلا گیا۔ رسول اللہ a نے فرمایا: ’’فانہ جبرئیلm اتاکم لیعلمکم دینکم‘‘ {یہ حضرت جبرائیلm تھے۔ اس لئے آئے تھے کہ تم کو تمہارا دین سکھلائیں۔}
(بخاری ج۱ ص۱۲ باب سوال جبرائیل النبیa عن الایمان، مسلم، ترمذی، ابی داؤد، نسائی، ابن ماجہ)
یاد رہے اس کے راوی بھی حضرت عمر فاروقq ہیں۔ دوسری حدیث:’’عن ابن عباسq ان النبیa قال یوم بدر ہذا جبرائیل اخذ براس فراسہ علیہ ادأۃ (البخاری ج۲ ص۵۷۰، باب شہود الملائکتہ ببدر)بدر کے دن فرمایا: یہ جبرائیلm ہے جو سلاح جنگ پہنے گھوڑا پکڑے کھڑا ہے۔ مسلح ہوکر گھوڑے پر سوار ہو کر آنا روح کوکب کا کام ہے یا خداتعالیٰ کے فرشتہ کا؟ جبرائیلm کا گھوڑے پر چڑھ کر آنا جنود فرعون کا ان کو دیکھنا۔ سامری کا خاک نعل اسپ اٹھالینا۔ جملہ تفاسیر قرآن مجید میں موجود ہے۔
احادیث صحیحہ اور بھی اس امر میں بے شمار مل سکتی ہیں۔ امام بخاری نے (ج۱ ص۴۵۵) پر مستقل باب ذکر الملائکۃ قائم فرمایا ہے۔ مثلاً دوروز تک جبرائیلm کا رسول اللہ a کو نماز پڑھوانا۔
ی… رمضان میں رسول کریم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرنا۔
ک… دحیہq صحابی کی شکل پر آنا۔
ل… رسول کریم کا ام المؤمنین عائشہt یا صدیق اکبرq سے فرمانا کہ جبرائیل ہے اور تم کو سلام بھیجتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
سچے مسلمانوں کو لازم ہے کہ بمقابلہ ارشادات نبوی کے معتقدات مجوس کو صحیح نہ سمجھیں تاکہ وہ اس حدیث کے مصداق نہ ہو جائیں۔ ’’أمتہوکون انتم کما تہوکت الیہود والنصاریٰ‘‘کیا تم بھی یہودونصاریٰ کی طرح بھٹک جانا چاہتے ہو۔
دجال کی بحث کا آغاز کرنے سے پہلے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ ابن صیاد کا قصہ بھی لکھ دوں۔ کیونکہ اکثر اشخاص اس قصہ میں آکر سرگرداں ہو جاتے ہیں۔
واضح ہو کہ رسول اللہ a نے انبیاءo کی اس سنت کے مطابق جو حضرت نوحm کے عہد سے معمول بہا چل آتی تھی۔ اپنی امت کو دجال کے فتنہ سے ڈرایا اور یہ بھی فرمایا کہ دجال کے ماں باپ کے گھر میں تیس برس تک تو اولاد ہی نہ ہوگی۔ تیس برس کے بعد ایک لڑکا پیدا ہو گا۔ کانا، بڑی بڑی داڑھوں کچلیوں والا (پیدا ہونے والے) لڑکوں میں اس کی منفعت کم ہو گی۔ اس کی آنکھیں سویا کریں گی۔ اس کا دل نہ سوئے گا۔ ہاں! اس کا باپ قد کا لمبا خشک گوشت ہوگا۔ اس کی ناک ایسی ہوگی جیسے چونچ اس کی ماں موٹی چوڑی لمبی ہوگی۔ جس کے دونوں ہاتھ لمبے ہوں گے۔ ابی بکرہq صحابی کہتے ہیں۔ ہم نے سنا کہ مدینہ کے یہود میں ایسا ہی لڑکا پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن العوامq مل کر گئے۔ مولود کے ماں باپ ویسے ہی تھے جیسا کہ رسول کریمa نے فرمایا تھا۔ ہم نے پوچھا تمہارے کوئی لڑکاہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تیس برس تک تو ہمارے گھر میں اولاد نہیں ہوئی۔ پھر ہمارے ایک لڑکا، کانا، بڑے دانتوں والا منفعت میں کم پیدا ہوا جن کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ ابوبکرہq کہتے ہیں۔ ہم (یہ باتیں کر کے) نکلے وہ لڑکا بھی دھوپ میں چادر لئے پڑا تھا۔ اس کی ہلکی ہلکی آواز ایسی نکل رہی تھی جو سمجھ میں نہ آئے۔ اس نے سرکھولا اور کہاتم کیا کہتے تھے۔ ہم نے کہا کیا تو نے ہماری بات کو سن لیا ہے؟ لڑکا بولا ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں۔ میرا دل نہیں سوتا۔
(ترمذی ج۲ ص۵۰، باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد)
ناظرین یہی لڑکا ابن صیاد ہے۔
رسول کریمa نے دجال کا حلیہ، دجال کے ماں باپ کا حلیہ جو ابن صیاد کی پیدائش سے پہلے فرمادیا تھا۔ جب صحابہ کرامi نے دیکھا کہ وہ ابن صیاد اور اس کے والدین پر ٹھیک ٹھیک مطابق ہے تو ان دلداد گان صداقت نبوی نے یقین کر لیا کہ دجال معہود یہی ہے۔ چنانچہ اسی بناء پر حضرت عمر فاروقq کی قسم تھی اور اسی بناء پر حضرت ابن عمرq کا یہ قول:’’ما اشک ان المسیح الدجال ابن صیاد‘‘ مجھے ابن صیاد کے الدجال ہونے میں کچھ شک نہیں۔
(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۷، فی خبر ابن صیاد)
ابن صیاد کے قصہ نے اتنا طول پکڑا کہ خود رسول کریمa بھی اسے دیکھنے کے واسطے تشریف لے گئے۔ ایک بار تشریف لے گئے۔ ابن صیاد سورہا تھا اور کچھ بڑبڑاتا تھا۔ رسول کریمa نے چاہا اس کی بڑبڑاہٹ کو سن پائیں۔ مگر اس کی ماں نے اسے اٹھا دیا۔ ایک دفعہ آپa تشریف لے گئے۔ جن ابن صیاد قریب ببلوغ تھا۔ نبیa نے دو ایک سوال کئے اور پھر فرمایا: ’’اخسا فلن تعد قدرک‘‘ دور ہو تو اپنی قدر سے نہ بڑھ سکے گا۔
(مسلم ج۲ ص۳۹۷، باب ذکر ابن صیاد)
رسول کریمa کی اس الہامی پیشین گوئی پر خیال کرو اور ان الفاظ کے معانی سمجھو کہ ابن صیاد کا اپنی زندگی بھر کوئی فتنہ برپانہ کر سکنے۔ نیز کوئی معتد بہا عزت وشہرت نہ پا سکنے کو کیسے واضح لفظوں میں بیان کر کے خود ابن صیاد کو، نیز صحابہ کو سنادیا کہ یہ وہ دجال نہیں ہے۔ جس کے فتنہ وشر سے ’’اعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال‘‘پڑھ کر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ بلکہ یہ تو ایک ایسا شخص ہے جو نہایت کسمپرسی کے ساتھ اپنی زندگی کو پورا کرے گا اور اسلام یا مسلمانوں کو ذرا بھی نقصان ومضرت نہ پہنچا سکے گا اور الدجال کے سحروکہانت کے عشرعشیر اور اس کے فتنہ وفساد کی قدر یسیر کو بھی نہ پہنچ سکے گا۔ اس کلام کے سامعین میں حضرت ابوبکر صدیقq وعمرفاروقq بھی ہیں۔
حضرت عمرq نے عرض کی اجازت ہے اسے قتل کردوں؟ آپ نے فرمایا:’’ان یکن ہو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسٰی ابن مریم ولا یکن وہو فلیس لک ان تقتل رجلاً من اہل العہد‘‘
(مشکوٰۃ ص۴۷۹، باب قصہ ابن صیاد)
یعنی اگر یہ (ابن صیاد) وہی (ابن صیاد) وہ (دجال معہود) ہے۔ جب تو تو اس کا قاتل نہیں بلکہ اس کے قاتل عیسیٰ بن مریم ہیں اور اگر یہ (ابن صیاد) وہ (دجال معہود) نہیں ہے تو اہل ذمہ میں سے ایک شخص کا قتل کردینا سزاوار نہیں۔
یہ ہیں رسول کریمa کے الفاظ ان الفاظ پر اصول بلاغت ومعانی سے نظر ڈالو کہ مفہوم فاروقی سوال میں اور مقصود محمدی جواب میں کیا تھا؟ چونکہ ابن صیاد ان علامات میں جو دجال معہود کی نسبت رسول اللہ a بیان کر چکے تھے۔ دجال معہود کا مثیل تھا۔ اس لئے ان قرائن کے مجتمع ہو جانے سے حضرت عمر فاروقq نے اس کے دجال معہود ہونے کا گمان کر لیا اور گمان کرتے ہی چاہا کہ چشمہ اسلام کو اس کے ناپاک فتنوں سے صاف رکھنے کے لئے اس کا کام تمام کر ڈالیں۔ اس خیال کی تصدیق اور اجازت کے لئے انہوں نے نبیa سے حکم مانگا تو سبحان اللہ ! کیا لطیف جواب دیا ہے کہ اے عمرq کیا تو ابن صیاد کو دجال معہود سمجھ بیٹھا ہے۔ ہاں! اگر یہ دجال معہود ہوتا تو پھر تیرا قتل کر سکنا اور قتل کی قدرت رکھنا۔ (جیسا کہ اس وقت حضرت عمر فاروقq کو حاصل تھی) کیا معنی رکھتا ہے؟ کیونکہ دجال معہود کو تو عیسیٰ ابن مریمn کے سوا اور کوئی قتل نہ کر سکے گا اور جب یہ یقینی بات ہے اور ابن صیاد یقینا وہی نہیں تو پھر کیوں عہد نامہ کے خلاف یہودیوں کا ایک شخص قتل کیا جائے۔ اس ارشاد نبوی سے حضرت عمرq سمجھ گئے کہ محض حلیہ کی مماثلت ومشابہت کافی نہیں اور صرف اسی بناء پر ایک ذمی کا قتل کرنا ٹھیک نہیں۔ چنانچہ وہ چھوڑ دیا گیا اور رسول کریمa نے وقتاً فوقتاً دجال معہود کی علامات ونشانات کی زیادہ تر توضیح فرمادی جس کو ہم لکھیں گے تو کیا ان سب مراتب کے بپایہ ثبوت پہنچ جانے کے بعد بھی کوئی شخص خیال کرتا رہے گا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے؟
(مرزاقادیانی اس جگہ پر بھی غور فرمائیں گے کہ اگر دجال معہود کے حلیہ میں مثیل ایک ابن صیاد تھاتو عیسیٰ ابن مریم کے مثیل سیدھے بال اور گیہوں رنگ والے اکیلے ہندوستان کے ملک میں کروڑوں ہیں۔ پس نہ تو جناب کی کچھ خصوصیت ہی ہے اور نہ اثبات دعاوی کے لئے کچھ مفید ہے)
ابن صیاد کا قصہ ختم کرنے سے پہلے میں ناظرین کو دو نتیجوں پر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
اوّل… سب صاحب اس فقرہ پر غور فرمائیں جو معصوم نبی کی پاک زبان سے نکلا ہوا فقرہ ہے: ’’ان یکن ہو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسی ابن مریم‘‘
(مشکوٰۃ ص۴۷۹، باب قصہ ابن صیاد)
کہ اگر ابن صیاد کو حسب تحقیق مرزاقادیانی دجال معہود مانا جائے تو اس کا مرزاقادیانی کے زمانہ تک (جو عیسیٰ بن مریم کے لفظ سے اپنی ذات کو مراد لیتے ہیں) زندہ رہنا ضروری ولازمی امر ہے اور اس طول حیات سے اس کے لئے وہ سب کچھ جائز رکھنا پڑتا ہے جس کو مرزاقادیانی حضرت مسیحm کے لئے جائز نہیں رکھتے۔ مثلاً صدیوں تک انحطاط جسمی وتغیرات دوری سے محفوظ رہنا اور علاوہ اس کے کہ مرزاقادیانی کے بہت سے دعاوی واصول پر پانی پھیر دیا ہے۔ دجال کا مرتبہ ان کو مسیح کے منصب سے زیادہ ماننا لازم آتا ہے۔
لیکن اگر یہ جائز ہو کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہو اور وہ بننے والے مسیح مرزاقادیانی سے تیرہ سو برس پہلے بھی مر جائے اور عیسیٰ بن مریم کے لفظ سے کلام نبوی میں مراد مرزاقادیانی ہی کی ذات ہو تب ’’انما صاحبہ عیسی ابن مریم‘‘ کے کیا معنی ہوں گے؟
دوم… نتیجہ یہ ہے کہ صحابہi نے رسول اللہ a کے الفاظ کو جو دجال اور اس کے ماں باپ کے حلیہ میں استعمال ہوئے تھے ظاہر ہی پر محمول کیا۔ چنانچہ بعض علامات کی مطابقت کی وجہ سے ابن صیاد کو دجال کہنے کا یہی باعث تھا۔ ہاں! نہ صرف صحابہi ہی نے ان الفاظ کو ظاہر اور حقیقت پر محمول کیا بلکہ خود رسول کریمa نے بھی اپنی پیشین گوئی کو استعارہ یا مجاز نہیں سمجھا اور لفظ دجال کو اسم جنس وغیرہ قرار نہیں دیا۔ بلکہ ٹھیک حقیقت ہی سمجھا تھا۔ رسول کریمa کا خود ابن صیاد کو دیکھنے کے واسطے تشریف لے جانا ہمارے مدعا کو خوب ثابت کر رہا ہے۔
اب (براہ مہربانی) مرزاقادیانی بتلائیں کہ انہوں نے دجال کے لفظ سے برخلاف مفہوم محمدی واصحاب محمدی کے کئی کروڑ شخصوں کو دجال کہاں سے کہہ دیا ہے؟
لطیفہ: پادریوں کو دجال کہنے میں ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ رسول کریمa نے فرمایا ہے کہ نوحm سے لے کر سب نبی اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈراتے رہے ہیں۔ نوحm سے رسول اللہ a تک انبیاء کے اندر حضرت عیسیٰm بھی آگئے ہیں۔ اگر دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے تو حضرت عیسیٰm کا اپنی قوم کو ڈرانا یہ معنی رکھتا ہے کہ
مسیحm نے اپنی قوم کو خود علماء قوم سے ڈرایا اور اپنے پیروکاران مذہب کو خود حاملان مذہب سے خوف دلایا۔ نہیں بلکہ یہ ثابت کیا کہ ان کے مذہب میں جو کوئی شخص علم دین حاصل کرے گا وہی دجالی منصب کو پہنچ جائے گا۔ ہاں! (مسلم ج۲ ص۳۰۷، باب فضائل غفار، بخاری) کی حدیث میں جس کے راوی ابی ہریرہq ہیں۔ یہ بھی ہے کہ: ’’بنی تمیم میری امت میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت ہیں۔‘‘ پس اگر پادری دجال ہیں تو بنی تمیم کی ان پر سختی آج تک کیا ثابت ہوئی ہے؟
اس نتیجہ سے یہ امر بھی ثابت ہے کہ جب دجال معہود خاص ایک ہی شخص سے کلام نبوی میں مراد ہے خواہ وہ شخص مرزاقادیانی کی تحقیقات کے بموجب ابن صیاد ہے خواہ ہمارے استدلالات کی رو سے کوئی اور۔ بہرحال وہ ایک شخص واحد ہوسکتا ہے اور چونکہ اس شخص واحد نے اب تک خروج نہیں کیا اور مرزاقادیانی نے بھی آج تک اپنے زمانہ کے کسی شخص واحد کو دجال کہہ کر اس کے خروج کو ثابت نہیں کیا۔ (اور نہ وہ ثابت کر سکیں گے) تو ثابت ہوا کہ خروج دجال معہود سے پہلے دعویٰ کرنے والا شخص مسیح نہیں ہوسکتا۔ دیکھو یہی اصول مسلمہ مرزاقادیانی کے نزدیک بھی مسلم ہے۔ مرزاقادیانی نے لکھا: ’’یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۲۱، خزائن ج۳ ص۴۸۸)
ابن صیاد کا قصہ اس قدر لکھنے کے بعد اب ہم دجال کے بارہ میں ان احادیث کو لکھنا چاہتے ہیں جن میں علاوہ ان علامات ونشانات کے جن کی مطابقت ومماثلت ہو جانے کی وجہ سے بعض صحابہ کرامi کا گمان ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر ہوگیا تھا۔ رسول کریمa نے دجال معہود کی بہت سی ایسی علامات ونشانات کا ذکر فرمایا ہے جو ابن صیاد میں نہ پائی جاتی تھیں بلکہ دجال معہود کی ذات سے خاص ہیں تاکہ ارباب تحقیق استلذاذ ایمانی کے ساتھ اپنی چشم بصیرت کو روشن کر سکیں۔ (ترمذی ج۲ ص۴۷، باب ماجاء فی من این یخرج الدجال) میں ابی بکر صدیقq سے روایت ہے: ’’دجال زمین مشرق سے نکلے گا۔ جس کا نام خراسان ہے۔ اس کے ساتھ کتنی ہی قومیں ہوں گی جن کے چہرے سپر جیسے بتہ بتہ پھولے ہوئے ہیں۔‘‘
اس حدیث سے ثابت ہواکہ نہ تو ابن صیاد ہی دجال معہود تھا کیونکہ وہ عرب میں پیدا ہوا اور عرب میں ہی مرا اور نہ گروہ پادریان ہے جو امریکن اور یورپین ہیں۔ دجال معہود تو
خراسانی ہو گا اور اس کے لشکر کا اکثر حصہ تاتاری لوگ ہوں گے۔ (مسلم ج۲ ص۴۰۵، باب فی بقیۃ من احادیث الدجال) میں حضرت انسq سے روایت ہے کہ: ’’اصفہان کے سترہزار یہودی دجال کے تابع ہوں گے ان پر سیاہ چادریں ہوں گی۔‘‘
یہ دجال کے بقیہ لشکر کا بیان ہے۔ سیاہ چادریں قومی وردی کے طور پر استعمال کریں گے۔ ابن صیاد یا پادریوں وغیرہ پر یہ بات کب صادق آتی ہے؟
(بخاری ج۲ ص۱۰۵۶، باب لایدخل الدجال المدینۃ) میں حضرت انسq سے روایت ہے کہ: ’’دجال مدینہ کو آئے گا تو فرشتوں کو پائے گا کہ اس کی چوکیداری کرتے ہیں۔ سو اس کے نزدیک نہ آئے گا اور ان شاء اللہ مدینہ میں طاعون بھی نہ آئے گی۔‘‘ ابن صیاد کا جنم مدینہ کا ہے۔ وہ الدجال نہیں ہوسکتا۔
(بخاری ج۲ ص۱۰۵۶، باب ذکر الدجال ومسلم) میں حضرت انسq سے روایت ہے: ’’ہر ایک نبی نے اپنی امت کو کانے بڑے جھوٹے سے ڈرایا ہے۔ خبردار ہو کہ وہ کانا ہوگا اور بے شک تمہارا خدا کانا نہیں اور دجال کی آنکھوں کے درمیان ک۔ف۔ر (کافر) لکھا ہوگا۔‘‘ (یہ اعتراض کہ اگر اس کی پیشانی میں ’’ک۔ف۔ر‘‘ لکھا ہوگا تو رسول اللہ a اور عمر فاروقq نے ابن صیاد پر دجال معہود ہونے کا گمان کیوں کیا۔ محض ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ امر متحقق یہ ہے کہ جب لوگ ابن صیاد کو ان علامات کی وجہ سے جن میں وہ الدجال کا مثیل تھا۔ الدجال گمان کرنے لگے تو باعلام ربانی الدجال کی وہ دیگر علامات بھی بتلائی گئیں جو پہلے بیان میں نہ آئی تھیں اور نہ ابن صیاد میں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً اس کا زمین مشرق وارض خراسان سے نکلنا، اولاد کا نہ ہونا، مکہ ومدینہ میں داخل نہ ہوسکنا، پیشانی پر ’’ک۔ف۔ر‘‘ لکھا ہونا۔ وغیرہ وغیرہ! پس یہ کوئی اشکال نہیں ہے)
اس حدیث میں رسول کریمa نے واضح کیا ہے کہ الدجال خدائی کا دعویدار اور الوہیت کا مدعی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول خدا نے خدائے عزوجل کی نقص وعیب سے تنزیہہ اور دجال کی اس علامت بیّنہ ومکتوبہ سے تذلیل فرمادی اور ظاہر فرمادیا کہ اس کی پیشانی پر ’’کافر‘‘ لکھا ہو گا۔ ابن صیاد نے نبوت کا خیال تو باندھا تھا لیکن خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ بعد میں مسلمان بھی ہوگیا تھا۔
(صحیح مسلم ج۲ ص۴۰۴،۴۰۵، باب قصۃ الجساسہ) میں فاطمہ بنت قیسt سے روایت ہے کہ: ’’رسول اللہ a نے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں نے تم کو کس واسطے جمع کیا ہے؟ سب نے کہا اللہ اور اس کا رسول دانا تر ہے۔ آنحضرتa نے فرمایا میں نے تم کو خوشی سنانے یا ڈرسنانے کے لئے اکٹھا نہیں کیا۔ میں نے تو تم کو اس واسطے جمع کیا ہے کہ تمیم داریq ایک مرد نصرانی تھا وہ آیا اور اس نے بیعت کی اور مسلمان ہوا اور مجھ سے ایسی بات کہی جو اس بات کے موافق پڑی جو میں تم کو دجال مسیح کے بارہ میں کہا کرتا تھا۔ اس نے مجھے یوں کہا کہ تمیم سمندر کے جہاز میں تیس آدمیوں کے ساتھ جولخم اور جذام کی قوم سے تھے سوار ہوا۔ سمندر میں ایک مہینہ بھر تک موج ان سے کھیلتی رہی۔ (یعنی طوفان رہا) پھر وہ لوگ سمندر میں مغرب کے وقت ایک جزیرہ کو جا لگے اور جہاز سے پلوار (کشتی) میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہو گئے تو ان کو ایک دابہ بھاری دم موٹے بالوں والا ملا کہ اس کا آگا پیچھا بالوں کے ہجوم سے دریافت نہ ہوتا تھا۔ لوگوں نے کہا او کمبخت تو کیا ہے؟ اس نے کہا میں جاسوس ہوں۔ لوگوں نے کہا جاسوس کیا؟ اس نے کہا: لوگو! اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے۔ اس واسطے کہ وہ تمہاری خبر کا نہایت مشتاق ہے۔ تمیم نے کہا جب اس نے مرد کا نام لیا تو ہم اس سے ڈرے کہ کہیں شیطان نہ ہو۔ پھر ہم جلدی جلدی چل کر دیر میں جا داخل ہوئے۔ یکایک اس میں ایک بڑا دہشت ناک آدمی نظر آیا۔ ہم نے ویسی مخلوق اور ایسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ دونوں زانوؤں کے درمیان دونوں ٹخنوں تک لوہے سے جکڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے کہا کم بخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تم میری خبر پر قابو پاؤ گے۔ (یعنی تم کو کچھ تو میرا حال معلوم ہوگیا اور کچھ اور زیادہ معلوم ہو جائے گا) اب تم مجھ کو بتلاؤ کہ تم کون ہو؟ لوگوں نے کہا ہم عرب کے باشندے ہیں۔ ہم سمندر کے جہاز میں سوار ہوئے تھے۔ ہم نے سمندر کو جوش میں پایاا ور دریائی موجیں ایک مہینہ تک ہم سے کھیلتی رہیں۔ پھر ہم اس ٹاپو سے آلگے اور چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر یہاں آداخل ہوئے۔ پھر ہم کو ایک بھاری دم کا دابہ بہت بالوں والا ملا۔ اس کے بالوں کی کثرت سے اس کا آگا پیچھا ہم نہ جانتے تھے۔ ہم نے اس سے کہا کم بخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا جاسوس۔ ہم نے کہا جاسوس کیا؟ اس نے کہا اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے۔ البتہ وہ تمہاری خبر کا مشتاق ہے۔ سو ہم جلدی کرتے
ہوئے تیرے پاس آئے اور اس سے بھی ڈرے کہ کہیں بھوت پریت نہ ہو۔ پھر اس مرد نے کہا مجھ کو بیسان کے نخلستان کی خبر دو۔ ہم نے کہا تو اس کا کون سا حال پوچھتا ہے؟ اس نے کہا میں اس کے نخلستان سے پوچھتا ہوں کہ پھلتا ہے؟ ہم نے کہا ہاں پھلتا ہے۔ اس نے کہا خبردار ہو عنقریب ہے کہ وہ عنقریب نہ پھلے گا۔ پھر اس نے کہا مجھ کو طبرستان کے دریا سے بتلاؤ۔ ہم نے کہا کون سا حال اس کا پوچھتا ہے۔ اس نے کہا اس میں پانی ہے؟ لوگوں نے کہا اس میں پانی بہت ہے۔ اس نے کہا البتہ اس کا پانی عنقریب جاتا رہے گا۔ اس نے کہا مجھ کو زعز کے چشمہ کی خبر دو۔ لوگوں نے کہا کون سا حال چشمہ کا پوچھتا ہے؟ اس نے کہا اس میں پانی ہے؟ اور وہاں کے لوگ اس چشمہ کے پانی سے کھیتی کیا کرتے ہیں؟ ہم نے کہا ہاں اس میں پانی بہت ہے اور لوگ اس پانی سے کھیتی کیا کرتے ہیں۔ اس نے کہا مجھ کو امیوں کے نبی کی خبر دو کہ اس نے کیا کیا؟ لوگوں نے کہا وہ مکہ سے نکلا اور مدینہ میں اترا۔ اس نے کہا کیا عرب اس نبی سے لڑے؟ ہم نے کہا ہاں۔ اس نے کہا اس نبی نے ان کے ساتھ کیونکر کیا؟ ہم نے کہا وہ اپنے گردوپیش کے عرب پر غالب ہو گیا اور انہوں نے اس کی اطاعت قبول کی۔ اس نے لوگوں سے پوچھا کیا یہ بات ہوچکی؟ ہم نے کہا ہاں۔ اس نے کہا خبردار ہو کہ یہ بات ان کے حق میں بے شک بہتر ہے کہ اس کے فرمانبردار ہوں اور میں تم کو اپنی خبر بتاتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں۔ (آنکھ کے ممسوح ہونے کی وجہ سے مسیح ٹھہرا) اور البتہ عنقریب ہے کہ مجھ کو نکلنے کی اجازت ہو۔ سو نکلوں گا اور سیر کروں گا اور کسی گاؤں کو نہ چھوڑوں گا۔ مگر یہ کہ میں اس میں اتروں گا۔ چالیس رات کے اندر۔ سوا مکہ اور طیبہ کے کہ وہاں کا جانا مجھ پر حرام ہے۔ جب میں چاہوں گا کہ ان دو بستیوں میں سے کسی میں جاؤں تو میرے آگے ایک فرشتہ بڑھ آئے گا اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہو گی کہ مجھ کو وہاں کے جانے سے روکے گا۔ البتہ اس کے ہر ایک ناکہ پر فرشتہ ہوں گے کہ اس کی حفاظت کرتے ہوں گے۔ پھر رسول اللہ a نے اپنے عصاء سے اپنے منبر کو ٹکورا دیا اور فرمایا طیبہ یہی ہے۔ طیبہ یہی ہے۔ خبردار ہو بھلا میں تم کو اس حال کی خبر دے چکا؟ اصحاب نے عرض کی ہاں۔ رسول اللہ a نے فرمایا کہ مجھ کو تمیم کی بات جو اس بات کے موافق پڑی جو میں تم کو دجال اور مکہ ومدینہ کے حال سے خبردیا کرتا تھا۔ اچھی لگی۔ خبردار ہو کہ دجال دریائے شام یا دریائے یمن میں ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی
طرف ہے۔ (پھر حضورa نے مشرق کی طرف اشارہ بھی کیا۔ پہلے نبیa نے دریائے شام ویمن فرمایا۔ مگر فوراً اعلام ربانی سے آگاہ ہوکر مشرق کی طرف فرمادیا اور اسی کو خوب ذہن نشین مردم کرنے کے لئے یہی فقرہ تین بار دہرایا اور پھر دست مبارک سے مشرق کی جانب اشارہ بھی کر دیا۔ ترمذی میں جو صدیق اکبرq کی روایت سے حدیث ہے اس میں صاف طور پر ارض مشرق وخراسان مذکور ہے)
(جناب مرزا قسم ہے آپ کو اس ذات پاک کی جس کے الہام سے مشرف ہونے کا آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک صحابی کی روایت، اکتیس شخصوں کی رویت نبیa کا اس رویت اور روایت کا تصدیق کرنا اور صحابہ کے بہت بڑے مجمع میں یہ کہہ کر ’’تمیم کی بات مجھے اچھی لگی جو اس بات کے موافق پڑی جو میں تم کو دجال اور مکہ مدینہ کے حال سے خبردیا کرتا تھا۔‘‘ اس باب کی کل احادیث پر ایک قول جامع فرمادینا ابن صیاد وغیرہ آپ کے مقرر کردہ دجالوں کی نفی کر دینا۔ واقعات کثیرہ کا ذکر جن کی تاویلیں آج تک آپ سے بن نہیں پڑیں۔ کیا یہ سب کچھ مل کر آپ کے نزدیک آپ کے کانشنس کے نزدیک، آپ کی قوت ایمانی کے نزدیک، کریم بخش نمازی کی روایت کے برابر بھی نہیں۔ جس کو وہ ایک مجذوب خارج از عقل وہوش سے بیان کرتا ہے۔ کیا کریم بخش کی سچائی رسول کریمa سے بھی زیادہ ہے؟ کیا ایک دیوانہ کی بڑ اکتیس آدمیوں کی رویت سے جو شرف یافتہ صحبت نبویa بھی ہیں زیادہ وقعت رکھتی ہے؟ کیا چند گاؤں کے رہنے والوں کی تصدیق کہ کریم بخش نمازی ہے اس کو اصول روایت میں اتنا ثقہ ثابت ہو سکتی ہے کہ صحابہ کے ایک گروہ کی روایات ہیچ سمجھی جائیں۔ بیّنوا وتوجروا!)
نوٹ: مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ: ’’آنحضرتa پر ابن مریم اور الدجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)
حالانکہ (بخاری ج۱ ص۴۵۹، باب اذا قال احد کم آمین والملائکۃ فی السماء یقولون آمین، مسلم کی حدیث عن ابن عباسq) میں ہے کہ رسول اللہ a فرماتے ہیں: ’’میں نے شب معراج موسیٰm کو دیکھا وہ گندم گوں، دراز قد، پر گوشت ہیں۔ جیسے غفورہ کے آدمی۔ میں نے
m کو بھی دیکھا۔ وہ متوسط پیدائش، سرخ وسفید سیدھے بال والے ہیں۔ میں نے مالک کو جو خازن نار ہے دیکھا۔ میں نے الدجال کو دیکھا۔‘‘ یہ سب آیات ربانی کے ملاحظہ کے وقت دیکھنے میں آئے۔ ابن عباسq اس حدیث کی روایت کے ساتھ آیت بھی پڑھتے تھے۔ ’’فلا تکن فی مریۃ من لقائہ‘‘ یعنی لوگو! جو کچھ حضرت نے وہاں دیکھا اور معلوم کیا ہے تم اس میں شک نہ کرو۔ چونکہ یہ حدیث بخاری ومسلم کی ہے اور اس کے راوی بھی ابن عباسq ہیں جو مفسر قرآن بھی ہیں اور انہوں نے اپنی روایت میں ایک آیت سے بھی تمسک کیا ہے۔ لہٰذا امید ہے کہ مرزاقادیانی اپنے ادّعاء سے کچھ شرم کو کام میں لاویں گے۔
ناظرین! ان احادیث نبوی اور کلام معجز نظام مصطفوی کے ایک ایک فقرہ پر نظر ڈالو اور اس الدجال کے حالات پڑھنے کے بعد تم بھی وہی پڑھو جو معمول بہ محمدیہ تھا۔ ’’اللہم انی اعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال‘‘
اب میں چاہتا ہوں کہ ناظرین کے سامنے (جو ابن صیاد کا تمام تر قصہ اور دجال معہود کی حدیث پڑھ آئے ہیں) مرزاقادیانی کی تحقیقات لطیف کو پیش کروں۔ ما شاء اللہ یہ تحقیقات کشفی ہیں اور توافق احادیث کا دعویٰ بھی اسی سرمایہ (ازالہ اوہام ص۷۶، خزائن ج۳ ص۱۴۰) پر ہے۔
۱… ’’ہر ایک حق پوش دجال دنیا پرست، یک چشم، جو دین کی آنکھ نہیں رکھتا (دجال ہے)‘‘
(فتح الاسلام ص۱۴، خزائن ج۳ ص۱۰)
اس تعریف میں مرزا کے عندیہ میں کل مسلمان جو ان کے معتقد نہیں۔ نیز روئے زمین کے کل ادیان مختلفہ کے پیرودجال ٹھہرے۔
۲… ’’دجال سے مراد بااقبال قومیں ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۴۶، خزائن ج۳ ص۱۷۴)
اس تعریف میں اقبال مندی کو دجالیت کی علامت ٹھہرایا۔
۳… ’’صحابہ کا اس پر اجماع تھا کہ ابن صیاد دجال معہود ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۲۲، خزائن ج۳ ص۲۱۱ حاشیہ)
۴… رسول اللہ a نے بھی اپنی رائے ظاہر کر دی کہ درحقیقت دجال معہود ابن صیاد ہی تھا۔
(ازالہ اوہام ص۲۲۳، خزائن ج۳ ص۲۱۱)
نیز مرزاقادیانی کے یہ فقرات بھی غور طلب ہیں۔
۱… ’’صحابہ نے قسمیں کھاکر کہا کہ ہمیں اس میں اب شک نہیں کہ یہی دجال معہود ہے اور آنحضرتa نے بھی آخرکار یقین کر لیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۲۱۳)
۲… ’’آنحضرتa کا اوّل اوّل یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے مگر آخر میں یہ رائے بدل گئی تھی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۸۹، خزائن ج۳ ص۴۷۲)
اجماع صحابہ اور رائے رسول کریمa بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
۵… ’’عیسائی واعظوں کا گروہ بلاشبہ دجال معہود ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۲۳، خزائن ج۳ ص۴۸۹)
کوئی نہیں پوچھتا کہ حضرت! اگر آپ کی تحقیقات میں، اجماع صحابہi میں، رائے رسول کریمa میں، یہ قرار پاچکا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے تو اب عیسائی گروہ کو بلاشبہ دجال معہود کہنے کی آپ کو جرأت کیونکر ہوئی؟
ناظرین! اس تحقیقات پر بھی بس نہیں۔ یہ بھی تحریر کر دیا۔
۶… ’’آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۳۷، خزائن ج۳ ص۲۲۰)
اچھا صاحب! اگر آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے اور آپ کا یہ اصول مسلمہ بھی صحیح ہے کہ:
۷… ’’یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام موسوم ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۲۱، خزائن ج۳ ص۴۸۸)
اس کے یہ معنی نکلیں گے کہ پھر آپ کا مسیح ہونا بھی سراسر غلط ہے۔ خصوصاً جب اس اصول کے ساتھ یہ فقرہ بھی ملالیا جائے۔
۸… ’’ادھر تو ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر کل صحابہ کا اجماع ہوچکا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۲۲ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۱۱ ملخص)
’’اور ادھر نزول عیسیٰ کی پیشین گوئی پر اجماع امت بھی نہیں ہوا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۴۲، خزائن ج۳ ص۱۷۲)
نیز اس فقرہ کو بھی شامل کر لیا جائے۔
۹… یہ بیان کہ: ’’صحابہ کرامi کا دجال معہود اور مسیح بن مریم کے آخری زمانہ میں ظہور فرمانے کا ایک اجماعی اعتقاد تھا کس قدر ان بزرگوں پر تہمت ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۳۹، خزائن ج۳ ص۲۲۱)
تو یہ سب فقرات نہایت پرزور الفاظ میں ثابت کر رہے ہیں کہ نہ کوئی دجال معہود آئے گا اور نہ کوئی مسیح موعود نازل ہوگا۔ نہ عیسائیوں کا گروہ دجال ہی ہے نہ مرزاقادیانی ہی مسیح ہیں۔ خیر مرزاقادیانی کی یہ تحقیقات اس کو مبارک ہوں۔
میری التماس یہ ہے کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر اجماع صحابہ کا دعویٰ ایک کو رانہ دعویٰ ہے اور یہ کہنا کہ رسول کریمa کی رائے میں بھی ابن صیاد ہی دجال معہود تھا۔ ایک ملحدانہ گفتگو ہے۔ خروج الدجال کی احادیث کے راوی مختلف حدیثوں میں جو جو اصحاب رسول اللہ a ہیں۔ ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
۱۔۔ابوبکر الصدیقq
۲۔۔ام المومنین عائشہ صدیقہt
۳۔۔عثمان بی ابی العاصq
۴۔۔امین الامت ابی عبیدہ بن جراحq
۵۔۔عبداللہ بن عباسq
۶۔۔عبداللہ بن عمرq
۷۔۔عبداللہ بن بسرq
۸۔۔عبداللہ بن مغفلq
۹۔۔عبداللہ بن مسعودq
۱۰۔۔ابوہریرہq
۱۱۔۔معاذ بن جبلq
۱۲۔۔صعب بن خبامہ اللیثیq
۱۳۔۔ابی سعید خدریq
۱۴۔۔سعدq
۱۵۔۔حذیفہ القلعانیq
۱۶۔۔اسماء بنت الصدیقt
۱۷۔۔جابر بن عبداللہ q
۱۸۔۔ابی بکرہ الثقفیq
۱۹۔۔انس بن مالکq
۲۰۔۔فلتان بن عاصم الجرمیq
۲۱۔۔محجنq
۲۲۔۔اسامہ بن زیدq
۲۳۔۔سمرہ بن جندبq
۲۴۔۔مجمع بن جاریہq
۲۵۔۔فاطمہ بنت قیسt
۲۶۔۔عمران بن حصینq
۲۷۔۔نافع بن عتبہq
۲۸۔۔ابی ذرۃ الحارثq
۲۹۔۔حذیفہ بن اسیدq
۳۰۔۔کیسانq
۳۱۔۔عمرو بن عوفq
۳۲۔۔حذیفہ بن الیمانq
۳۳۔۔نواس بن سمعانq
۳۴۔۔ابی امامہq
نوٹ:ان روایات کو حضرت سید محمد انور شاہ کشمیریv نے اپنی کتاب ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘میں جمع کر دیا ہے۔ فقیر اللہ وسایا!
اب دیکھو کہ اجماع کدھر ہے کیا اتنی بڑی تعداد صحابہ کی روایتیں (جن میں سے اکثر فقہاء ومفسر واہل بیت نبوی واکثر شرف امتیاز میں ممیز بین الاقران ہیں) اس کو متواتر کے درجہ تک نہیں پہنچاتیں؟ اور کیا اس قدر مقتدایان ملت وائمہ ہدیٰ کی روایات اجماع کو ثابت نہیں کرتیں؟ اجماع صحابہ کا تو یہ حال ہے اور مرزاقادیانی کی تحقیقات کا یہ حال کہ کہیں کچھ ہے اور کہیں کچھ۔ اس صفحہ پر ایک معاملہ کو بہت زور دے کر غلط ثابت کیا ہے۔ دوسرے صفحہ پر اسی معاملہ کو اس سے زیادہ زور لگا کر صحیح کہہ دیا۔ (مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ بانی مبانی اس تمام حدیث کا نواس بن سمعان ہے)
(ازالہ اوہام ص۲۰۲، خزائن ج۳ ص۱۹۹ حاشیہ)
اب وہ اس لمبی فہرست کو دیکھیں اور حضرت نواس بن سمعانq پر جھوٹ بولنے کا اتہام دینے اور وضع حدیث کا الزام لگانے سے بچیں۔ یہ رسول اللہ a کے صحابی بن صحابی ہیں۔ جماعت کثیر نے ان سے روایت کی ہے
اجی مرزا (قادیانی)! اگر بااقبال قومیں اور حق پوش شخص اور عیسائیوں کا واعظین گروہ وغیرہ وغیرہ سب ہی دجال معہود کا لقب پانے کے مستحق ہوتے تو کیا ضرور تھا کہ رسول کریم اپنی احادیث پاک میں دجال کا بیان اس کی علامات ونشانات وحلیہ اور اس کے ساحرانہ وکاہنانہ شعبدوں اور کرشموں کا پتہ دے دے کر فرماتے اور ایک ذہنی ووہمی شخص کے انداز میں اس قدر تکلیف گوارا فرماتے یا ایک شخص میں بعض علامات دجال کے پائے جانے کی خبر پاکر اس کے دیکھنے کو معہ صحابہ تشریف لے جاتے؟ بلکہ اس وقت کی جوحق پوش بااقبال قومیں تھیں۔ مثلاً ایران میں مجوس تھے جو آگ کو خدا کا نور سمجھتے تھے اور ژند کو خدا کی آسمانی کتاب جانتے تھے اور ہمارے انبیاء کرامo میں سے کسی ایک کو بھی نبی نہ سمجھتے تھے جو ملت
حنیفہ کے سخت مخالف تھے اور شرک کی نجاست میں چوٹی تک غرق تھے یا ہند میں ہنود تھے۔ جو بدترین مشرکوں کی طرح خدا کا جامہ بشری میں جلوہ گر ہونا بھی مانتے تھے جو مظاہر قدرت کو بھی معبود گردانتے تھے جو عجائبات کے سامنے سرجھکاتے۔ پتھر کے بتوں یا آگ کے شعلوں کو وجود باری یقین کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کی طرف اشارہ فرمادیتے اور اگر عیسائی واعظین کا گروہ ہی دجال تھا تو اس وقت کے نصاریٰ کی طرف ہی ایماء کر دیتے جو حق پوشی ظلم گستری اقبال مندی میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھے جو حضرت عیسیٰm کی سولی پر چڑھی ہوئی تمثیل اور مریمp کی (گود میں بچہ کو لئے ہوئے) تمثیل کے سامنے سجدہ کیا کرتے تھے جو ہر ایک نصرانی مرد کو خدا کا بیٹا اور ہر ایک نصرانی عورت کو خدا کی بیٹی کہہ کر اور واقعی سمجھ کر پکارتے تھے۔ بے شک ایسا کرنے سے امت کو عام حیرت وسرگردانی سے نجاتمل جاتی اور ایک خاص گروہ یا خاص شخص سے محترز رہنے کا حکم مل جاتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ کیا مرزاقادیانی ثابت کر سکتا ہے کہ جس کو رسول کریمa نے (نصاریٰ) کو لعنتی اور گمراہ قرار دیا ان کی تثلیث کو توڑا۔ ان کے عقائد کی لغویت ظاہر کی۔ اسے ان کو دجال کہہ دینے میں کون سا امر مانع تھا؟
یہ ایک تعجب خیز امر ہے کہ رسول اللہ a کی احادیث سے، صحف انبیاء گزشتہ سے، اجماع صحابہ سے، اجماع امت سے، تو دجال معہود ایک شخص مفہوم ہوتا ہے اور مرزاقادیانی کی تحقیق میں ۳۹کروڑ (اور اب ۲۰۰۲ء میں ایک ارب چوبیس کروڑ) مسلمانوں کے مقابلہ میں ایک ارب سے بھی زیادہ اشخاص دجال قرار دئیے جاتے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ خانہ زاد مثل’’لکل دجال عیسٰی‘‘ کی پکار بھی بلند آواز سے دے رہے ہیں۔
مرزاقادیانی نے ریل کو خردجال بتایا۔ ’’ﷲ درمن قال‘‘
خر دجال یہ کیسا کہ جس پر ثانی عیسیٰ
بایں شان و بایں منصب کرایہ دے کے چڑھتا ہے
تمیم داری کی حدیث پر مرزاقادیانی اعتراض کرتا ہے اور ہنسی اڑاتا ہے کہ: ’’یاجوج ماجوج کا آدمی یا دجال کی جساسہ یا ابن صیاد کو ہی کسی جنگل سے پکڑ کر لے آویں۔‘‘
(ازالہ ص۵۰۵، خزائن ج۳ ص۳۷۱)
میں کہتا ہوں اصحاب کہف کا قصہ تو واضح لفظوں میں قرآن مجید میں مرقوم ہے۔ وہ پہاڑ اور پہاڑ کا غار بھی دنیا ہی میں ہے۔ پھر آپ ہی ان کو دکھلادیں۔ ورنہ یہ کہاں کا منطق ہے کہ جو چیز ہم نے دیکھی نہیں دنیا پر اس کا وجود بھی نہیں؟ بے شک نئی نئی معلومات کی رو سے نئے نئے انواع خلق کا معلوم ہوتے چلے جانا اس امر کی دلیل ہے کہ سب کچھ معلوم نہیں ہوچکا۔ اگر چودھویں صدی میں کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا ہے تو انیسویں صدی میں سٹینلی نے افریقہ کے نامعلوم مقامات اور اقوام کا پتہ لگایا ہے۔ یہ نامور سیاح اب بھی اپنی تحقیقات جاری رکھنے کو ہے۔ اگر بقول مرزامعمورہ دنیا کی حقیقت بخوبی کھل گئی ہے تو اب نامعلوم مقامات اور اقوام کا روزروز کہاں سے پتہ لگتا جاتا ہے۔
مرزاقادیانی! الدجال کی سحر وکہانت کے کرشموں کے دکھلانے کی قابلیت کا یقین کرنے کے لئے سامری کا قصہ یاد فرمائیے۔
اب ہم اس دلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کو ’’قول فصیح‘‘ کے قادیانی منصف نے نہایت اعلیٰ درجہ کی فلسفی دلیل ٹھہرا کر پھر اس کو مرزا پر مطابق کیا ہے۔ جو یہ ہے: ’’ولقد لبثت فیکم عمرا‘‘ میں کہتا ہوں کہ رسول خداa کی مقدس ومطہر زندگی کے حالات کو مرزاقادیانی کے حالت سے تشبیہ دینا سخت غلطی ہے۔ دشمن ودوست کی تواریخ شاہد ہیں کہ رسول اللہ a کی پاک زندگی قبل از اظہار نبوت وبعثت بھی پاک ومقدس تھی او ررسول کریمa کے اعلیٰ اخلاق، روحانی اور ورع وتقویٰ وصدق وصفا کا عوام وحشی عرب پر اتنا پر تو تھا کہ صغیر وکبیر غریب وامیر آنحضرتa کو بجائے نام لے کر پکارنے کے کبھی صادق اور کبھی امین کہہ کر پکارتے تھے اور بڑے بڑے مقدمات میں جن میں آدھا عرب ایک طرف اور آدھا ایک طرف ہوتا۔ آنحضرتa ہی کو حکم اور ثالث قرار دیتے تھے اور آنحضرتa کی عزت اور عظمت وجلالت قدروبلندی شان کا یہ حال تھا کہ خود گھرانے کے لوگ (جو بزرگی خویش کے بہت کم مقر ہوتے ہیں۔ چچا، تایا، دادا، بابا تک) آنحضرتa کی نگاہ میں اپنے آپ کو مؤدب وخادم ثابت کرنا چاہتے تھے۔ برخلاف اس کے مرزاقادیانی کے اس دعویٰ مماثلت سے بھی پہلے عین اس زمانہ میں جب کہ مرزاقادیانی
کی براہین احمدیہ پر ملک لٹو ہوا جاتا تھا اور خریداری واستفادہ کا جوش نہایت ترقی پر تھا اور تحسین وآفرین کے غلغلوں کا شور بلند تھا۔ مختلف گوشوں سے رک رک کر آنے والی آوازیں کبھی کبھی سامعین وشائقین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی تھیں کہ دیکھنا دھوکہ میں نہ پھنسنا۔ یہ بڑا حلّاف بڑا احراف وعیار ہے۔ سینکڑوں شخصوں سے ہزاروں روپیہ کھا گیا ہے اور ڈکار تک نہیں لیا۔ ایک طرف تعلیم یافتہ گروہ کہہ رہا تھا کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے سب بناوٹ اور واہیات ہے۔ یہ سب کچھ مرزاقادیانی کے ساتھ اسی زمانہ میں ہوچکا ہے اور مرزاقادیانی کا دامن اعتراضوں اور بدظنیوں ملامتوں وغیرہ وغیرہ کے گردوغبار کے دھبوں سے پاک وصاف نہیں رہا تو ظاہر ہے کہ ہم ان کی زندگی کو رسول کریمa کی پاک زندگی سے تشبیہ نہیں دے سکتے اور اسی لئے جو دلیل کہ قرآن مجید نے رسول اللہ a کی صداقت کے لئے قائم کی۔ اس کو مرزاقادیانی کے لئے قائم نہیں رکھ سکتے۔ پس اس سے درگزر کر کے ہم اس دلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جس کو صاحب قول فصیح قادیانی نے دوسری دلیل اسی مقصد کے لئے ٹھہرایا ہے جو یہ ہے:’’ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوحٰی الیہ شیٔ او قال سانزل مثل ما انزل اللہ (انعام:۹۲)‘‘
اس جگہ بھی غور کا مقام ہے کہ اگر ہر ایک دعویٰ کی سچائی اور اس کا ظاہر کردینا ہی مان لیا جائے اور سوائے اس ادّعا واظہار کے اور کسی دلیل وبرہان کی ضرورت نہ خیال کی جائے اور صرف حسن ظنی کی راہ سے قائل کے قول کو خواہ وہ کتنا ہی بعید کیوں نہ ہو تسلیم کر لیا جائے یا صرف اسی لحاظ سے کسی لکھنے والے کے لکھنے پر ’’آمنّا وصدّقنا‘‘ کہا جائے کہ اس میں اس کی ذاتی غرض بظاہر معلوم نہیں ہوتی تو میں کہتا ہوں اور سب مانیں گے کہ جن جن اشقیاء اور ملاعنہ کو جھوٹے نبی کا خطاب دیا گیا ہے یا خدا کہنے والوں کو کافر بتلایا گیا ہے۔ اس میں ان مدعیان خدائی ومظہر ان نبوت پر ظلم ہوا ہے؟ اور ان پر ناحق الزام لگایا گیا ہے۔ بے شک ہم کو ہر ایک نیک بندہ سے حسن ظنی رکھنی چاہئے۔ لیکن ایک حد تک یعنی جہاں تک کہ اس حسن ظنی سے ہمارے معتقدات یا ہمارے مذہب کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔ شاید ہمارے برادران اسلام اس سے واقف ہوں گے کہ رسول اللہ a کے بعد کتنے لوگوں نے نبوت کا کھلم کھلا دعویٰ کیا ہے۔ یا نبی کہلانے کے پہلو کو بچا کر دیگر جملہ خصائص کو اپنے میں ثابت
کرنے اور اس لئے خلق خدا کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے تدبیروں کا جال بچھایا ہے۔ میں آپ کو بطور نمونہ دکھلاتا ہوں کہ کیسے کیسے ذی علم اور بڑی بڑی کتابوں کے مصنف اور اسلام کی خدمت میں جان قربان کر دینے کا دعویٰ کرنے والے اور بعض ممالک میں اسلامی سلطنتوں کی بناء ڈالنے والے مہدویت یا مجددیت کے دعویٰ میں آخر کیسی کیسی ضلالتوں اور گمراہیوں کے موجد اور مقلد ہوگزرے ہیں اور اپنے اپنے وقت میں ڈنکے بجا گئے ہیں۔ مگر آج ان فلسفیوں اور نئے نئے مذاہب وعقائد کے بانیوں کا صفحہ ارض پر نام ونشان بھی باقی نہیں۔ بلکہ وہی مسلمان اور ان کا پاک ستھرا اسلام جو ابتدائے عہد سعادت مہد رسول کریمa سے چلا آتا تھا۔ آج تک چلا آرہا ہے اور مکہ ومدینہ کے مالک ہمیشہ وہی لوگ رہے ہیں جن کو ان مدعیوں کی فلسفیانہ تاویلات سے کبھی بھی تعلق خاطر نہیں ہوا۔ یہی مسلمان خدا کے بے حد فضل ورحمت سے دنیا کے تمام برّاعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں اور اپنے سچے اصولوں اور اپنی سادہ زندگی کی وجہ سے بڑے بڑے فلاسفروں اور مدبروں کی حسرت وحیرت کا باعث ہو رہے ہیں۔فللّٰہ الحمد!
اب ہم اس امر کے ثابت کرنے کے واسطے کہ مسلمان کہلانے والے مگر تاویل کرنے والے اور حقیقت کو مجاز بتلانے اور حدیث وقرآ ن کی تفسیر خود ساختہ دلائل اور خود پسندی سے کرنے والے اور ان طریقوں سے اپنا نیا مذہب بنالینے والے پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ جو موسمی حشرات الارض کی طرح یک بارگی پیدا ہوئے اور مر گئے۔ یہاں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اس کا بانی عبداللہ ابن سبا شہر ہواز صوبہ خورستان ملک فارس کا باشندہ تھا۔ یہی شخص خاندان فاطمیہ کا بانی ہے۔ اس کی اولاد سے کئی خلیفے قاہرہ، مصر وغیرہ میں فرمانروا ہو چکے ہیں۔ اس کی قوم عرب فاتحان فارس کی دلی دشمن تھی اور اپنی گزشتہ سلطنت فارس کے لئے وقت کے منتظر عبداللہ نے سوچا کہ اگر اپنا دلی ارادہ دفعتہ ظاہر کر دوں تو عوام الناس قابو میں نہ آئیں گے۔ اس لئے اس نے ایک جال بچھایا اور امامت کے سات نمبر قراردئیے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے لے کر جعفر صادقq تک ۶؍امام ہوئے۔ ساتواں خلیفہ اسماعیل تھا۔
وہ کہا کرتا کہ خدا نے آسمان وزمین سات دن میں بنائے۔ دنوں کا شمار بھی سات پر رکھا۔ سیارات بھی سات ہیں۔ اسی طرح امام بھی سات۔ ساتویں پر امامت ختم ہوگئی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ حضرت علیq وحضرت فاطمہt کا اصلی وحقیقی وارث میں ہوں۔ مغربی عرب بھی اس کے فریب میں آگئے اور کہنے لگے کہ محمد رسول اللہ a نے بھی پیشین گوئی کی ہے کہ ۳۰۰برس کے بعد میرا بیٹا مغرب سے ظاہر ہو گا سو وہ یہی ہے۔
اس نے اپنے مذہب کی تعلیم کے واسطے فری میسن کی طرح لاج مقرر کئے تھے۔ جو شخص اس کے مذہب میں آتا اسے اپنی بنائی ہوئی سات ابواب کی کتاب دیتا اور اس کو لاج میں تعلیم دی جاتی۔ ایسا لاج پہلے پہل قیروآن میں پھر شہر مہدیہ (مصر) میں تعمیر ہوا تھا۔ ایک مورخ لکھتا ہے کہ جب لاج مصر میں تعمیر ہوا ہے اس وقت اس کے سات درجوں کی بجائے نودرجے مقرر کئے گئے تھے اور ہر ایک درجہ میں یوں تعلیم ہوتی تھی۔
پہلا درجہ: مسائل قرآن پر شکوک اور شبہات پیدا کئے جاتے اور پیچیدہ اعتراض بتلائے جاتے تاکہ طالب کی روح میں اس مذہب کے راز سننے کی طاقت اور جاننے کا شوق پیدا ہو جائے جو شبہ یا اعتراض قرآن پر کرتے تھے۔ اس کا جواب اپنے طریق پر دیتے تھے۔ اس درجہ کی تعلیم ختم ہونے سے پہلے قسم لی جاتی تھی کہ ہم اس تعلیم سے کبھی نہ پھریں گے اور اپنے معلم کی حد سے زیادہ اطاعت کریں گے۔
دوسرا درجہ: امامت کے معنی اور اس کی خاصیت کہ خدائی راز ہے۔
تیسرا درجہ: امام سات ہیں۔ ہر ایک پر وحی آتی تھی۔ ہر ایک امام اپنے سے پہلے امام کے مسائل کا ناسخ تھا۔ اسماعیل ساتواں امام سب سے بڑا ہے۔
چوتھا درجہ: سات پیغمبر ناطق ہیں۔ صاحب شریعت ووحی اپنے سے پہلے پیغمبر کی شریعت منسوخ کرتے رہے۔ آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، محمد(o) اسماعیل (ان کا امام) سات پیغمبر ساکت ہیں جو ان کے تابع تھے اور ان کے احکام کے پیرو، شیث، سام، اسماعیل بن ابراہیم، ہارون، شمعون، پطرس، علی محمد بن اسماعیل امام۔
پانچواں درجہ: ہر ایک ساکت پیغمبر کے بارہ شاگرد ہوتے ہیں۔ داعی علی الخیر ومجدد مذہب ان کا رتبہ سات پیغمبروں سے کچھ کم ہوتا ہے۔ (مرزاقادیانی نے مثیل ومماثل کا مسئلہ اسی اسماعیلیہ مذہب کے ناطق وساکت کے مسئلہ سے لیا ہے)
چھٹا درجہ: مسائل شرعیہ کے اسرار یعنی احکام میں ظاہر وباطن کا فرق ہے اور اس درجہ کی تعلیم کے آخر میں یہ ہے کہ شریعت کو فلسفہ کے تابع رکھنا چاہئے۔
ساتواں درجہ: راز الٰہی اور الٰہیات کی تعلیم۔
آٹھواں درجہ: افعال انسانی غیرمعتبر ہیں اور حسن وقبح اشیاء وہمی وخیالی ہے۔
نواں درجہ: کسی بات کا یقین نہ کرو ہر ایک شئے کے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
اس کا نام علی محمد تھا۔ یہ شیراز کا سوداگر بچہ تھا۔ فارسی وعربی میں کسی قدر استعداد پیدا کی۔ پھر تکالیف برنفس وریاضت شاقہ کے بعد موجد مذہب ہوگیا۔ پوشیدہ پوشیدہ لوگوں کو سکھلایا کرتا تھا۔ ’’انا باب اللہ فادخلوا البیوت من ابوابہا‘‘
(میں خدا کا دروازہ ہوں اور گھروں میں دروازہ کے راستہ سے داخل ہونا چاہئے) جو لوگ اس کے مرید خاص ہوتے ان سے کہا کرتا کہ مہدی موعود میں ہوں۔ چونکہ مہدی موعود کا ظہور مکہ سے ہوگا۔ اس لئے میں آئندہ سال کو مکہ معظمہ سے تلوار کے ساتھ نکلوں گا اور اپنے منکرین کو قتل کروں گا۔ اس نے حکم دیا تھا کہ ابھی سے شنگرف وسرخی سے خطوط لکھا کرو کہ تلوار کا زمانہ قریب ہے۔ وہ کچھ عبارت بناتا اور کہتا کہ یہ کلام خدا ہے جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ جب علماء اس کے کلام کی غلطیاں بتاتے تو کہتا کہ نحو نے گناہ کیا تھا۔ اس واسطے اب تک قواعد کی زنجیر میں جکڑا ہوا تھا۔ میری شفاعت سے اس کی رستگاری ہوئی ہے۔ اب مرفوع کی جگہ مجرور یا منصوب پڑھ لو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ میں امام برحق ہوں۔ میں علی ومحمد کی شکل پر ہوں۔ علی اور محمد جدا جدا شخص تھے۔ میں دونوں ملک کر ایک بنا ہوں۔ اسی لئے نام علی محمد ہے۔ میری بیعت پہلے محمد نے کی ہے پھر علی مجھ پر ایمان لایا ہے۔ میرا کلام میرا معجزہ ہے۔ میں ایک دن میں ہزار بیت لکھ سکتا ہوں۔ یہ کیا کم معجزہ ہے؟ ایک دن مجلس علماء میں باب کو بلوایا گیا حاکم شہر نے اس سے کہا کہ آپ علماء پر وہ مذہب حق جو آپ پر نازل ہوا ہے ظاہر کریں۔ کیونکہ جب یہ لوگ مان لیں گے تب عوام الناس کا ماننا سہل ہے۔ یہ کلام سن کر باب شیر ہوگیا اور گرج کر بولا کہ تم لوگ کس واسطے میری اطاعت نہیں کرتے اور کیوں میری اطاعت اپنے پر فرض نہیں سمجھتے۔ پیغمبر نے تو تم کو صرف قرآن دیا۔ یہ دیکھو میری کتاب قرآن سے زیادہ فصیح اور اچھی ہے۔ کیا تم اسی
وقت مانو گے کہ تلوار کھنچے اور خونریزی ہو؟ بہتر ہے کہ اپنے جان ومال کی حفاظت واجب جانو اور مجھ سے خلاف اور نفاق کے راہ پر مت چلو۔ یہ سن کر علماء چپ ہو گئے۔ حاکم شہر نے کہا کہ جوآپ نے فرمایا بجا اور درست ہے۔ مگر بہتر ہے کہ اپنے اصول لکھ کر ان کو دیجئے۔ تاکہ ہر شخص پڑھ کر ایمان لے آئے۔یہ سن کر قلم اٹھا کر اس نے چند سطریں لکھیں۔ علماء نے دیکھا تو اس میں بہت غلطیاں تھیں۔ اس وقت حاکم شہر غضب میں آیا اور کہنے لگا کہ تجھ کو دو سطریں صحیح لکھنے کا شعور نہیں اس پر یہ بیہودہ دعویٰ کرتا ہے کہ خاتم الانبیاء پر اپنے تئیں فضیلت دیتا ہے۔ حکم کیا ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے اور بید پڑنے لگے تب تو رونے اور استغفار کرنے لگا اور اپنی نادانی کا اظہار کیا اس کا کالا منہ کر کے مسجد میں شیخ ابوتراب کی خدمت میں لے گئے۔ وہاں جاکر اس نے اپنے فعل اور عقیدہ پر لعنت کی یہ ۱۸۴۷ء میں مرگیا۔
دعویٰ کیا کہ میں مثیل مسیح ہوں اور حضرت عیسیٰ کی روحانیت مجھے مل گئی ہے اور نزول عیسیٰ کی احادیث میری شان میں ہیں۔ امام ابن تیمیہv نے اس کے ساتھ مناظرہ ومباہلہ کیا۔
دعویٰ کیا کہ میں رسول اللہ a کا مختار ہوں اور وحی مجھ پر آتی ہے۔
معتمد باللہ کے عہد میں دعویٰ کیا کہ دعوت خلق کے لئے بھیجا گیا ہوں کہا کرتا تھا کہ مجھے مغیبات کا علم ہے۔ مگر نبی نہیں ہوں۔
مکتفی باللہ کی خلافت میں وحی کا دعویدار تھا اور اس کا دعویدار تھا اور اس کا چچازاد بھائی عیسیٰ کہتا تھا کہ قرآن میں ’’یایہا المدثر‘‘ میری شان میں ہے۔
مقتدر باللہ کے عہد میں اس نے مردہ زندہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
مطیع باللہ کے عہد میں تناسخ کی قائل تھی۔ ان کا سرگروہ کہتا تھا میں جبریل ہوں اور علیq کی روح بھی مجھ میں ہے۔ اس کی بیوی کہتی تھی فاطمہ کی روح مجھ میں ہے۔
مغرب کا باشندہ تھا وہ کہتا تھا: ’’لا نبی بعدی‘‘ حدیث میں آچکا ہے۔ میں وہی لا نبی ہوں جو رسول اللہ کے بعد ہوا ہوں۔
یہودی نے بیت المقدس میں دعویٰ کیا کہ مسیح بن مریم میں ہوں۔ خوش بیان شریں زبان تھا۔
اس نے کہا کہ میں مجدد الف ثانی ہوں۔ ہر صدی کا مجدد شریعت میں کچھ کم وبیش کر سکتا ہے اور مجدد الف تو خود صاحب شریعت ہوتا ہے۔ میں وہی ہوں کہ ٹھیک وقت پر آیا ہوں اور اصلاح خلق میرا کام ہے۔ اس نے عبادات وغیرہ کے طریق بھی نکالے تھے۔ الہام بھی شائع کیا کرتا تھا۔ شکر ہے کہ مرنے سے پہلے توبہ کر کے مرا۔
ٹونس میں نبوت کا دعویٰ کیا مردہ کے زندہ کرنے اور جذامی کے اچھا کرنے کو معجزہ بتلاتا تھا۔
آج کل امریکہ میں ہے وہ کہتی ہے کہ آنے والا مسیح میں ہوں۔ سینکڑوں معتقد ہوگئے۔
ایک عورت نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس نے کہا: ’’لا نبی بعدی‘‘ کی حدیث میں نبی کی نفی ہے۔ نبیہ کی کہاں ہے؟ اس لئے عورت کا نبی ہوکر آنا درست ہے۔
حشاشین کا پیشوا مرید اس کی اتنی تعظیم کرتے کہ نام کی جگہ علی ذکرہ السلام کہا کرتے اور اس کے نفس کو قیامت سے تعبیر کیا کرتے وہ خود اپنے آپ کو قیامت اور امام زماں بتلایا کرتا۔ اس نے کل رسوم شرعیہ کو نیست ونابود کردیا تھا۔ وہ کہا کرتا کہ شریعت تکمیل نفس کے لئے ہے اور قیامت سے پہلے جب میں نے سب کو کامل بنادیا اور واصل بحق کر دیا اور میں جو قیامت تھا آگیا۔ اب شریعت کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا اعتقاد تھا کہ عالم قدیم ہے اور بہشت ودوزخ معنوی ہیں اور زمانہ لامتناہی اور ماعد روحانی ہے۔ ۵۶۳ہجری میں اپنے سالے کے ہاتھ سے مقتول ہوا۔
اس فرقہ کا ایران وشام میں ایسا تسلط ہوگیا تھا کہ بادشاہ اپنے وزیر سے امیر اپنے مصاحب سے شوہر اپنی بیوی سے اس کے خلاف کہتے ہوئے ڈرتا تھا۔
مرزاقادیانی کا قول ہے: ’’اکثر پیشین گوئیاں اس آیت کا مصداق ہوتی ہیں کہ ’’یضل بہ کیثرا ویہدی بہ کثیرا‘‘ اسی وجہ سے ہمیشہ ظاہر پرست لوگ امتحان میں پڑ کر پیشین گوئی کے ظہور کے وقت دھوکا کھا جاتے ہیں اور زیادہ تر انکار کرنے والے اور حقیقت مقصودہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ حرف حرف پیش گوئی کا ظاہری طور پر جیسا کہ سمجھا گیا ہو پورا ہو جائے۔ حالانکہ ایساہرگز نہیں ہوتا۔‘‘
(ازالہ ص۶۲تا۶۴، خزائن ج۳ ص۱۳۳،۱۳۴)
دوسری جگہ اس پہلے دعویٰ کے لئے بطور دلیل کے یہ فرماتے ہیں: ’’ایسی کوئی وصیت پیغمبر خداa کی طرف سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی کہ تم نے پیش گوئیوں کو ظاہر پر حمل کرتے رہنا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۴۱، خزائن ج۳ ص۱۷۲)
مرزا اپنے ان اصولوں سے وہی مطلب نکالنا چاہتے ہیں جو اس فقرہ سے ان کو منظور ہے۔ ’’خداتعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے۔‘‘
(فتح الاسلام ص۱۵، خزائن ج۳ ص۱۱ حاشیہ)
مرزاقادیانی کا مطلب یہ ہے کہ الفاظ پر سے لغت اور شرع کی امان کو اٹھا دیاجائے اور ہر شخص کو مختار کر دیا جائے کہ خواہ وہ کوئی الفاظ استعمال کرے اور ان سے کچھ بھی معانی مراد
لے۔ مثلاً دریا کہے اور جنگل مراد لے۔ کوڑی کہے اور روپیہ کو اپنا مفہوم بنالے۔ وغیرہ وغیرہ! لیکن ان نقصوں کے علاوہ جو ان کے استعارہ ومجاز کے اصول پر عائد ووارد ہوتے ہیں۔ پیش گوئی کے یہ معنی لینے سے جو مرزا نے بتلائے ہیں بہت بڑا نقص کمالات نبوی پر بھی لاحق ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیش گوئی جو حتمی اور واضح الفاظ کے ساتھ ہو۔ انسانی طاقت سے باہر ہے اور عالم الغیب والشہادۃ اعلام کے بغیر کسی بشر کی یہ طاقت نہیں کہ وہ پیش گوئی کر سکے۔ پس جس پیش گوئی کا ظہور اس کے ظاہری الفاظ کے رو سے نہ ہو وہ دو صورتوں سے خالی نہ ہوگی۔
اوّل… یہ کہ علّام الغیوب (خدا) کے علم میں نقص ہے جو زمانہ مستقبل کے اخبارووقائع کو احد الناس کی طرح حتمی اور یقینی الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا اور ہمارے نزدیک یہ قطعاً باطل ہے۔
دوم… یہ کہ جس پر وہ پیش گوئی ظاہر کی جاتی ہے اس کی استعداد علم وفہم ناقص ہے کہ وہ باوجود اعلام الٰہی اس خبر کو صاف طور پر سمجھ نہیں سکتا یا باوجود سمجھ لینے کے اس کی تفہیم سے عاجز ہے اور یہ باطل ہے۔ رب کریم خود فرماتا ہے: ’’الم نشرح لک صدرک (الم نشرح)‘‘رسول مقبولa کی زبان وحی ترجمان کے الفاظ مبارک ہیں۔ ’’علمنی ربی فاحسن تادیبی‘‘(مرزاقادیانی نے نہایت جرأت کر کے یہ اصول قائم کیا ہے کہ رسول اللہ a بھی اپنی بیان کردہ ان پیش گوئیوں کو نہ سمجھ سکے تھے) مرزاقادیانی کے الفاظ یہ ہیں: ’’اگر آنحضرتa پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو… تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)
اپنے اس اصول پر مرزاقادیانی نے یہ دلیل قائم کی ہے کہ خداتعالیٰ ان کو خود مبہم ومجمل رکھا کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ مرزاقادیانی اپنے اس اصول ودلیل کو کریم بخش نمازی اور مجذوب کی بڑ کے سامنے بالکل بھول گئے اور غلام احمد قادیان کا رہنے والا عیسیٰ ہے۔ اس کی زبان سے کہلا دیا۔ غور کرو کہ رسول اللہ a کسی نمونہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے حقیقت کاملہ کو سمجھ نہ سکے تھے تو اس مجذوب کو کون سے نمونہ کے موجود ہونے کی وجہ سے یہ حقیقت موبمومنکشف ہوگئی؟ اور جس امر کو مصلحتاً خدا نے چھپایا ایک مجذوب نے کیونکر اس مصلحت کو توڑا؟ ناظرین! صرف یہی بیان مرزاقادیانی کی خود غرضانہ تاویلات اور حربا طبعی کا کافی ثبوت ہے۔
پس جب یہ دونوں صورتیں بداہتہً غلط وباطل ہیں اور پیش گوئی کے اس اصول سے بھی بالکل مغائر ہیں جو سبب اظہار پیش گوئی ہوتا ہے تو ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کا قائم کردہ اصول بالکل غلط ہے۔ واضح ہو کہ پیش گوئی سے دو بہت بڑے عظیم الشان نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔
اوّل… جو پیش گوئی کرتا ہے اس کی جلالت قدر اور عظمت شان اور اس کا امور غیبیہ پر مطلع اور مؤید بروح القدس ہونا ثابت ہو جایا کرتا ہے۔
اوّل… جو پیش گوئی کرتا ہے اس کی جلالت قدر اور عظمت شان اور اس کا امور غیبیہ پر مطلع اور مؤید بروح القدس ہونا ثابت ہو جایا کرتا ہے۔
دوم… ظہور پیش گوئی کے وقت ایمانداروں کی مسرت ونصرت اور معاندین کی حیرت وندامت وذلت کا ثبوت بیّن مل جاتا ہے۔
اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ اگر پیش گوئی اپنی ظاہری صورت ہی میں جلوہ گر نہ ہو تو پیش گوئی کرنے والے اور قیافہ شناسوں رمّالوں میں کچھ فرق نہیں رہتا اور اس کے ظہور کے وقت مومنین کو بھی وہ مسرت اور اطمینان قلب حاصل نہیں ہوسکتا جو کلیجہ کو ٹھنڈک اور دل کو سکون دہ ہو۔ نیز معاندین کے خلاف سرکشی کی وہ تمام راہیں بھی چاروں طرف سے محصور اور بند نہیں ہوسکتیں کہ پھر ان کے لئے ذرا بھی جائے قیل وقال نہ رہے۔ کیونکہ اگر پیشین گوئی نے اپنی ظاہری صورت والفاظ کے خلاف ہی ظاہر ہونا ہے تو کیا ضرور ہے کہ تاویل کرنے والے کی تاویلوں کو بھی قطعی سمجھ لیا جائے اور کیوں مخالفین ان تاویلوں کا خاکہ نہ اڑا سکیں اور اسی لئے ان کی بدگمانی وکفر کیوں پہلے سے بھی زیادہ استعار ومحکم نہ ہو جائے۔
اس قدر تمہید کے بعد میں عام مسلمانوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ ایسے نبی کریمa کی امت مرحومہ ہیں جس کو علم اوّلین وآخرین دیا گیا تھا جس پر حقائق اشیاء اور معارف کون وفساد واسرار عالمین کھولے گئے تھے جس کی چشم جہاں بین کے سامنے سے تمام حجاب اٹھا دئیے گئے تھے۔ جس کے دل حقائق منزل سے علم ویقین نے وجود پکڑا ہے اور جس کے نور کی پیدائش کے بعد ہست ونیست کا فرمان حوادث پر جاری ہوا ہے۔ یعنی محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ، سید المرسلین، فخرالاولین والآخرینa یہی وجہ ہے کہ حضور کے خواب بھی اکثر اپنی ظاہری صورت میں جلوہ گر ہوتے تھے۔ چہ جائیکہ پیش گوئی کے وہ الفاظ جو رب کریم خود ان کی زبان سے کہلاتا اور اس طرح پر اپنا پاک اور قدیم کلام بندوں تک پہنچاتا تھا۔
رب کریم خود فرماتا ہے:’’لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا باالحق لتدخلن المسجد الحرام انشاء اللہ آمنین محلقین روسکم ومقصرین لاتخافون
(فتح:۲۷)‘‘{خدا نے اپنے رسول کے خواب کو سچ کر دکھایا جو یہ تھا کہ ان شاء اللہ ! تم مسجد الحرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گئے۔ سر منڈوائے ہوئے یا بال کترائے ہوئے تم کوکسی کا ڈر نہ ہوگا۔}
اس آیت مبارکہ پر تدبر کرو اور دیکھو کہ رسول خداa کا خواب بھی کیسے ظاہری صورت میں جلوہ گر ہوتا تھا۔ محلقین اور مقصرین کے الفاظ بھی (جس میں مرزائی دل ودماغ کا شخص بہت تاویلات کر سکتا ہے) کیسی سچی صورت میں رونما ہوئے تھے۔
پس چونکہ اس جھوٹے اصول سے جو مرزاقادیانی نے قائم کیا ہے۔ ایک تو ان کے ہوس زر مقاصد کی تائید ہوتی ہے۔ دوسرے عوام کے دلوں سے انبیاء کرامo کی عموماً اور ہمارے شفیع اممa کی خصوصاً عظمت کم ہو جاتی ہے۔ اس لئے میں چند نظائر سے پیارے مسلمانوں کو ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریمa کی تمام تر پیش گوئیاں ہمیشہ اپنے ظاہری الفاظ میں ظہور پذیر ہوتی رہی ہیں اور صحابہ کرامi اور سلف صالحین کا ایمان بھی ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہمارے رسول کریمa کی پیش گوئی ظاہری صورت میں ہی نور گستر ہوئی۔ مؤمنین دیکھیں اور اس ایمان کو جو ان کو رسول کریمa کی ذات مبارک پر پہلے سے حاصل ہے اور بھی زیادہ مستحکم وقوی کر لیں۔مرزاقادیانی نے یہ ثابت کرنے کے لئے پیش گوئی میں بالکل ظاہری الفاظ مراد نہیں ہوتے۔ یہ حدیث پیش کی ’’اسرعکن لحوقا بی اطولکن یداً‘‘ اور افتراء یہ کیا ہے کہ رسول اللہ a کے سامنے ازواج مطہرات اپنے ہاتھوں کو ناپتی تھیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۰۰، خزائن ج۳ ص۳۰۷)
صاف ظاہر ہے کہ ’’طویل الیہ‘‘ کے معنی ’’سخی‘‘ کے ہیں اور ’’طول‘‘ کے معنی لغت میں فزودنی، توانائی، تونگری، دستگاہ، فراخی، فخر کرنا، احسان کرنا ہیں۔ پس ’’اطولکن یداً‘‘ کے حقیقی اور لغوی معنی احسان کرنے والی اور سخاوت کرنے والی ہوئے۔ پیش گوئی اپنے لغوی معنی میں جو ظاہری الفاظ کا مفہوم ہیں پوری ہوئی اور ازواج میں سے وہی بی بی زینب بنت جحش ام المؤمنین سب سے پہلے حضرتa کو جاملیں۔ جس میں احسان وسخاوت کرنے کی صفت سب سے زیادہ پائی جاتی تھی۔ بالفرض اگر سامعین حدیث میں سے کسی نے ’’اطولکن یداً‘‘ سے یہی مراد کی ہو تو ان کی مراد کا لینا نبیa کی ذات پاک پر کچھ اعتراض نہیں پیدا کر سکتا۔ جب کہ لفظ طول کے معنی سخاوت وغیرہ موجود ہیں۔ اسی طرح کوئی
شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ رسول اللہ a کے کلام معجز نظام میں حقیقی معنی سے عدول کیاگیا ہے۔ مرزاقادیانی نے لفظ ’’اطولکن‘‘ کو طول سے سمجھا اور غلط اصول قائم کیا
۱… ایک شخص ایمان کے بعد مرتد ہوگیا۔ مشرکین سے جا ملا۔ آپa نے فرمایا اس شخص کو زمین قبول نہ کرے گی سو ایسا ہی ہوا کہ جب وہ شخص مرا اس کو زمین میں کئی دفعہ دفن کیاگیا ہر دفعہ زمین اس کو باہر پھینک دیتی تھی۔ یہاں تک کہ کفار نے تنگ آکر اس کو باہر ہی پڑا رہنے دیا۔
(بخاری ومسلم عن انس ج۲ ص۳۷۰، کتاب صفات المنافقین واحکامہم)
۲… رسول اللہ a فرماتے تھے مسلمانوں کی ایک جماعت بادشاہ فارس کے اس خزانہ کو حاصل کرے گی جو سفید محل میں ہے۔ چنانچہ حضرت فاروقq کی خلافت میں مسلمانوں نے کسریٰ کے سفید محل سے خزانہ نکالا۔
(مسلم عن جابر بن سمرہ مسند احمد ج۵ ص۸۶)
۳… ایک شخص رسول خداa کے سامنے بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا۔ آپa نے اس کو داہنے ہاتھ سے کھانے کے لئے فرمایا۔ اس نے (شرارت یا کذب سے) کہا میں کھا نہیں سکتا۔ آنحضرتa نے فرمایا: ’’تو کھا نہ سکے‘‘ اس فرمودہ کے بعد وہ شخص کبھی اپنا داہنا ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکتا تھا۔
(عن سلمہ بن اکوع مسلم ج۲ ص۱۷۲، باب آداب والشراب واحکامہا)
۴… آنحضرتa نے فرمایا آج کی رات ایک سخت ہوا چلے گی۔ جو شخص اس میں کھڑا ہو گا اس کو ضرر پہنچے گا۔ چنانچہ اسی رات ہوا چلی اور ایک شخص جو ہوا میں کھڑا ہوگیا تھا اس کو ہوا نے اٹھا کر دو پہاڑوں میں جا پھینکا۔
(بخاری ومسلم عن ابوحمید ساعدی مسند احمد ج۵ ص۴۲۴)
۵… رسول مقبولa نے فرمایا تم مصر کو فتح کرو گے (یہاں غور کیجئے گا مصر سے مصر مراد ہے۔ فتح سے فتح۔ ایک اینٹ کی جگہ سے مراد ایک اینٹ کی جگہ جھگڑنے سے جھگڑنا۔ علیٰ ہذا اور سب پیش گوئیوں پر غور کرو) ابوذرq سے فرمایا تھا کہ جب تو
دو شخصوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتا دیکھے تب تو وہاں سے نکل آنا۔ ابوذرq فرماتے ہیں ایسا ہی ہوا۔ مسلمانوں نے مصر کو بھی فتح کیا اور میں نے عبدالرحمن بن شرجیلq اور اس کے بھائی کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتے بھی دیکھا۔ سو میں مصر سے نکل آیا۔
(مسلم عن ابوذرq)
۶… حذیفہq فرماتے ہیں۔ مجھے آنحضرتa نے بارہ منافقوں کا پتہ دے کر فرمایا تھا کہ ان میں سے آٹھ بیلہ پھوڑے کی مرض میں مریں گے۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ آنحضرتa نے خبر دی تھی۔
(مسلم عن حذیفہ بن الیمان ج۲ ص۳۶۹، کتاب المنافقین واحکامہم)
۷… آنحضرتa نے خبر دی تھی کہ انتقال شریف کے بعد، زید بن ارقمq اندھے ہو جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا۔
(دلائل النبوۃ)
۸… فاطمہ زہرہt سے آنحضرتa نے فرمایا تھا۔ میرے بعد میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے تو مجھ کو ملے گی۔ ایسا ہی ہوا۔
(بیہقی عن ابن عباسr وبخاری ج۲ ص۶۳۸، باب مرض النبیa ووفاتیہ عن عائشہt)
یہ غلمہ کا ترجمہ ہے۔ مرزاقادیانی کا ایک حواری لکھتا ہے کہ دیکھو غلمہ بچوں کو کہتے ہیں اور بچوں سے جوان مراد لی مگر ان کو یہ معلوم نہیں غلام کے معنی سیانہ سال مرد کے ہیں اور غلمہ تیزی شہوت جماع کو کہتے ہیں۔ اغلام اور مختملہ اور غلم اور غنیم یہ سب اس سے لغات ہیں۔
۹… رسول اللہ a نے فرمایا تھا میری امت کی ہلاکت چند نوجوانان قریش کے ہاتھ پر ہے۔
(بخاری عن ابوہریرہq)
ان نوجوانوں سے مراد قاتلان حضرت عثمانq وحضرت علی المرتضیٰq وحضرت حسن مجتبیٰq وامام حسینq کے قاتل لوگ مثلاً یزید، ابن زیاد، عبدالملک بن عبدالملک مختار، ابن سعد وغیرہ وغیرہ ہیں۔ مجمع البحار میں ہے کہ ابوہریرہq ان اشخاص کو اور ان کے اسماء کو جانتے تھے۔ مگر خوف فتنہ سے ظاہر نہ کرتے تھے۔
۱۰… رسول اللہ a نے فرمایا۔ تم اپنے پہلے لوگوں کی عادتوں اور طریقوں کی پیروی کرو گے۔ بالشت بالشت، شبر شبر، وزراع زراع یہاں تک کہ اگر وہ سوراخ میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ویسا کرو گے۔ آنحضرتa سے دریافت کیاگیا کہ (پہلوں سے مراد) یہودونصاریٰ ہیں۔ فرمایا تو اور کون۔
(بخاری ومسلم عن ابی سعیدq)
یہودیوں اور عیسائیوں کی اور خصلتوں میں تو بہت لوگوں نے پیروی کی ہی تھی۔ مگر مرزا نصاریٰ کی طرح خود ابن اللہ بن بیٹھے۔ یہود کی طرح حضرت ابن مریمn کو گالیاں دینے لگے اور ان کے معجزات کا انکار کر کے معجزات کو شعبدہ، مسمریزم، لہو ولعب بھی قرار دے دیا۔
۱۱… آنحضرتa نے فرمایا تھا جب کہ امت تکبر کی چال چلے گی۔ بادشاہ زادگان فارس وروم ان کی خدمت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اخیار پر ان کے اشرار کو مسلط کر دے گا۔
(ترمذی ج۲ ص۵۲، ابواب الفتن، باب بغیر عنوان عن ابن عمرr)
فارس وروم کی فتح کے بعد حضرت عثمان غنیq کا قتل اور بنی ہاشم پر بنی امیہ کا غلبہ اس کا مصداق ہے۔
۱۲… آنحضرتa نے فرمایا تم میرے بعد جزیرۂ عرب سے جنگ کرو گے۔ خدا تم کو فتح دے گا۔ پھر الدجال کے ساتھ جنگ کرو گے۔ خدا اس پر بھی فتح دے گا۔
(مسلم ج۲ ص۳۹۳، کتاب الفتن واشراط الساعۃ عن نافع بن عتبہq)
مرزاغور کریں کہ الدجال کے ساتھ جنگ ظاہری صورت میں ویسی ہی پوری ہو گی جیسے عرب کے ساتھ جنگ ظاہری صورت میں ہوئی۔
۱۳… فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ زمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی۔ جو بصرہ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔
(بخاری ج۲ ص۱۰۵۴، باب خروج النار ومسلم ج۲ ص۳۹۳، کتاب الفتن واشراط الساعۃ عن ابی ہریرہq)
یہ آگ جمعہ کے دن تیسری جمادی الآخر ۶۵۰ھ کو ظاہر ہوئی اور یک شنبہ ۱۳؍رجب یعنی ۵۲دن تک رہی۔ اس کی عجائبات وخواص کے بارہ میں بڑی ضخیم کتاب موجود ہے۔ یہ آگ لوہے پتھر کو گلا دیتی تھی اور گھاس لکڑی اس میں نہ جلتا تھا اور جب تک یہ آگ رہی بصرہ میں رات کو اونٹ اس کی روشنی میں چلتے تھے اور مدینہ کے لوگوں نے رات کو چراغ نہیں جلایا۔ دن جیسی روشنی تھی۔
۱۴… فرمایا میری امت ایک پست زمین پر اترے گی۔ جس کا نام وہ بصرہ رکھیں گے۔ یہ ایک نہر کے پاس ہو گا۔ جس کا نام دجلہ ہو گا۔ اس پر پل ہو گا اور شہر کے باشندے بہت ہوں گے۔ یہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ایک شہر ہوگا۔ آخر
زمانہ میں اس شہر والوں سے لڑنے کے لئے ترک (تاتاری مغل) آئیں گے۔ ان کے منہ چوڑے چکلے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی۔ اس شہر کے کنارہ پر اتریں گے۔ شہر والوں کے تین گروہ ہو جائیں گے۔ ایک گروہ بیلوں کی دموں کے ساتھ نکلے گا اور جنگل میں پناہ پکڑے گا۔ یہ فرقہ ہلاک ہو گا۔ دوسرا فرقہ ان سے امان طلب کرے گا۔ یہ بھی ہلاک ہو گا۔ تیسرا فرقہ اپنی اولاد ونساء کو پس پشت رکھے گا اور ترکوں سے لڑیں گے۔ ان میں سے اکثر مارے جائیں گے اور وہ شہید ہوں گے۔
(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۳، باب فی ذکرہ البصرہ عن ابوبکرہq)
معتصم باللہ خلیفہ کے عہد میں یونہی ہوا۔
۱۵… فرمایا مجھے قرآن بھی دیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کی مثل بھی۔ خبردار ہو قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا (کھاتا پیتا مغرور) شخص اپنی چھپرکٹ پر بیٹھا یہ کہے گا کہ تم صرف قرآن ہی کو لو اور جو اس میں حلال ہو اس کو حلال سمجھو جو حرام ہو اس کو حرام خیال کرو۔ تحقیق یہ ہے کہ جس کو رسول اللہ a حرام کرتے ہیں وہ بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ خدا نے اسے حرام کیا ہے۔
(ابن ماجہ، دارمی، ابوداؤد عن مقدام بن معدی کرب مسند احمد ج۴ ص۱۳۱)
(مرزاقادیانی: ’’اوتیت القرآن ومثلہ معہ‘‘ کے لفظ پر تدبر فرمائیں کہ اگر وہ حدیث کو جو مثیل قرآن ہے نہیں مانتے تو بننے والے مسیح کو کیا استحقاق ہے کہ کوئی اسے مانے گا)
یہ پیش گوئی ۱۳۰۸ھ میں ظاہر ہوئی۔ مرزاقادیانی نے مسئلہ عرض نکالا اور احادیث سے اعراض کیا۔
احادیث میں اور بہت سی عظیم الشان پیش گوئیاں ہیں جو پوری ہو چکی ہیں یا ہونے والی ہیں یا ایک حصہ حدیث کا اپنے ظاہری لفظوں میں ظہور پذیر ہو چکا ہے اور ایک حصہ کا ظاہر ہونا ہنوز باقی ہے۔ لیکن ان سچی عقیدت والوں کے قلب کے واسطے جو نبی معصومa پر ایمان لائے ہیں میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور شکر کرتا ہوں کہ میری کتاب کا اختتام ایک ایسے مضمون پر ہوا ہے جو ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیa کے بے شمار دلائل وشواہد نبوت میں سے ایک عمدہ دلیل ہے جو سرکشوں کی گردنوں کے توڑنے اور ہٹ دھرمیوں کے پرخچے اڑانے کے واسطے کافی ووافی ہے۔ ’’وﷲ الحمد حمداً کثیراً‘‘
جائیکہ از مسیح دنزولش سخن رود۱؎
گویم حدیث صدق کہ گیری برو قرار
گفتند دشمنان حقیقت یہودما
کردیم برصلیبش و حق گشت آشکار
زیرا کہ گفتہ بود خداوند در کتاب
بردار آں رود کہ بود لعنتی و خوار
گفتند منکران صداقت سہ تن پرست
اوخویش رانمود زخود برہمہ نثار
تاعدل بے نیاز بجا ماند و درست
تافضل کردگار نماید ہمہ عیار
گفتند سرکشان کہ بمرد او زکرب و درد
کشتیم وہم صلیب برآورد زدو بار
یک ہفتہ پاسبانی گورش نمودہ ایم
تادزد نعش و نشود باز کامگار
گفتند پیروان کہ بیاسود تاسہ روز
درقبر ابن مریم و فرزند مرزگار
از خاک جست و روز سوم شد بر آسماں
دیدند دہ و دازدہ اش روئے پر بہار
چوں ایں خلاف صورت فتنہ فراگرفت
ہر یک در اضطراب فتاد و دراضطرار
آں یک بہ عبد صبح خطاب مسیح کرد
ایں یک ورابہ پور خداداد اشتہار
آں مدعی کہ فتنہ کذاب دور شد
چون ریختیم خون لعینے بفرق دار
ایں مفتخر کہ گرد معاصی ہمہ بشست
آں فدیۂ عباد علی رغم روزگار
حق خواست تا نزاع کندد در زین دو قوم
کزجہل گشتہ اند سراپا وقود نار
از بارگار خویش فرستادیک رسول
بخ بخ رسول کش پدر و مادرم نثار
منشور خاص حضرت حق دریمین او
آیات باہرات خداوند دریسار
ہم صادق و امین بقش کردہ منکراں
ہم ذات او بچشم خلائق بزرگوار
مرزاقادیانی نے ازالہ میں ایک فارسی قصیدہ لکھا ہے جس کا پہلا شعر یہ ہے ؎
جائیکہ از مسیح دنزدلش سخن رود
گویم سخن اگرچہ ندارند بادرم
قصیدہ کا جواب قصیدہ میں دیا گیا۔
آں کعبہ صفا و رسول پیمبراں
آں حجت خدا بسوئے خلق تا شمار
ایں ہر دورا بمجلس حالیٔ خویش خواند
فرمود چند زین سخن زشت و ناگوار
ہر لحظہ برزبان شما حرف ہا رود
ہر صبح این گمان بدل و سرکند قرار
دانید اے یہود کہ فرمان کبریاست
عیسیٰ است ہمچو آدم خاکی در اعتبار
مابرکشیدہ ایم چوازما وطین بشر
از بے پدر مسیح دگرچیست اغترار
آں مادرش کہ محصنہ و پاک فطرت ست
درعصمتش کلام میارید زینہار
البتہ از سعادت و رحمت برید بہر
نسبت با و کنید اگر اینک استوار
ہاں اے مسیحیان غلط فہم مرشما
دانید آفریدہ بود آفرید گار؟
بشگا ذر آسمان و بترقد دگر زمین
ہم پارہ پارہ گشتہ بیفتند کوہسار
گوید اگر کسے کہ خدا را پسربود
اے قوم ناشناس ازین شرک ہوشیار
ہر گز نمیرسد بمسیح و بمادرش
کز بندگی خالق برتر کنند عار
ہاں اے یہود معتقد مرشما بود
کاں بر صلیب کردہ شدد بیوقار و خوار؟
ہاں اے مسیحان اسیر ہو اے دل
گوئید مرشما کہ شمار است او نثار
گوئید مرشما بجہنم خزید او
تابرشماز آتش دوزخ کشد حصار
آوخ چہ کذبہا کہ شماہردو بستہ آید
بے ترس ہول پرسش و بے خوف درد نار
اکنوں مرا رسید چنین حکم کبریا
ایں ہر دو قوم را زچہ جہل و ظن برآر
ہنگام زہق باطل و ظلمت فرارسید
وقت طلوع نور یقین است مہروار
دانید ہر دو قوم کہ آں برگزیدہ را
از قتل و صلب داشت خدا پاک و برکنار
دانید ہر دو قوم کہ حق آں رسول را
بے مرگ برکشید سوئے خویش در جوار
من گفتم آنچہ گفت مرا وحی ذوالجلال
بدبخت آنکہ گفتن من سازدش فگار
البتہ تا بگفتۂ من سرنہد جہاں
آیندہ واقعات نمایکم بآشکار
شک نیست شہر قسطنطنیہ نصاریٰ ز اہل شرک
گیرند پیروان من از فتح کارزار
تاقرب حشر دولت شان راگزند نیست
ایں نخل را ہمیشہ بود برگ و زہردو بار
بازآنچناں بود کہ برین شہر دشمناں
یابند دست و باشد ازان قوم شہریار
زیناں یکے سپاہ بہ اعماق رد نہد
یا بر زمیں دابق دا و راکشد حصار
آید بروں زطیبہ سپاہے ز مسلمیں
از ہیبت و جلال جہاں کردہ تا ر و مار
آں فوج را سپاہ بدے باشد آنکہ ہست
نامش محمد ولقبش مہدی کبار
کوشند سخت و خون عزیزان رود بخاک
جانے نہ تاسہ روز سلامت برو سوار
چوں روز چار میں بجہاں نور گسترد
ہم ظلمت سپاہ عدو خواند الفرار
شش سال چوں برین بسر آید موحداں
گیرند شہر قسطنطنیہ بہ گیرو دار
تہلیل شان و نعرۂ تکبیر شاں کند
آئینہ حال معنی قدد مرالدّیار
آرے ہمیں سپاہ مظفر بود کہ او
برشہر باز نصب کند رأیت وقار
برفتح و جنگ چوں بسر آنید ہفت ماہ
دجال در جہاں فگند فتنہ و شرار
ایں لشکر مظفر و مسور مسلمیں
آید بسوئے شام ہمہ برق شعلہ بار
آنگہ کند نزول نبی خدا مسیح
برچہرۂ قطرہائے عرق در شاہوار
زیں ہر دو قوم کس نبود آنکہ ازیقین
ایماں بردنیارد و برقول استوار
اے حسرت ایں گروہ تہیدست پر فنون
اے حسرت ایں گروہ عزیزان روزگار
ایں علم پاک رابہ بشیزے نمے خرند۱؎
کردند از فراست خود ہیچ اعتبار
من روز و شب بحیرت و فکرم ازیں گروہ
یا للعجب چہ شان خدائی ست آشکار
ہم مدعی عشق محمد شدند وہم
از مہر علم دے بگریزند سایہ دار
گویند جان و دل برد و درسر طبیب
باگفتۂ حبیب ندارند ہیچ کار
دعویٰ گوہری ست ولے از سبک سری
بالائے بحرتیرہ و تارند چوں بخار
اظہار نوش نحل نمایند در سخن
اما زبان کاک ہمہ تیز نیش خار
لختے اگر بہ خویش کشایند باب دل
زیں گفتہا ہمہ بس آیند و شرمسار
عیسیٰ کجا و یک نفر از حامیان عجب۲؎
از قطرۂ چکیدہ مجو جوش آبشار
مرزاقادیانی کا مصرعہ ہے: ’’ین علم تیرہ را پشیزے نمے خرم‘‘
۲؎مرزاقادیانی کا مصرعہ ہے: ’’عیسیٰ کجاست تابنہد پانمبرم‘‘
آں تخم را کہ ریشہ نرست ست در زمیں
نسبت درست نیست نخل پر از بہار
آں ذرہ را کہ ماندہ ہنوزست زیر سنگ
چشمک زند بمہر جہان تاب ظن مدار
آں قطرہ راکۂ درہن افعی است جا
دور است از صدف کہ کند درشاہوار
بارنگ ہمچو گندم و باموئے راست راست۱؎
دشوار نیست بودن عیسیٰ برایں دیار
ازبر گریز تازگ بوستان مجو
ہرچند پائے نخل نہد نام او بہار
آں کود کے کہ کردہ سواریٔ نے درست
نتواند ایں کہ راہ برد پہلوئے سوار
ہدی نکوست ہدی محمد نہ غیر او
گمراہ آنکہ سست دگر راہ تنگ و تار
ماراکہ زیر ظل محمد غنودہ ایم
بانوح قادیانی و باکشتیش چہ کار۲؎
گلزار رابگو کہ بیاندیشد از خزاں
ماہم نخل جنت و مستغنی از بہار
از آفتاب صدق منور حریم ماست
گو مشعل و ستارہ شود گم ازیں دیار
کاسات وصل گر نہ کشد کس زمصطفیٰ
آں کیف تلخ سکر ہمے بخشد و خمار
آں راہ تنگ کش نہ سپردست رہنما
شدراہ غول بادیہ و اژدہائے غار
صد شکرآن کہ چشم بہ شپر ہمے دہد
خورشید ما کہ تافتہ از عرش کردگار
اے آنکہ بوئے بادۂ ذوق است درسرت
حسن ارادت آردسر از خاک برمیار
خمخانۂ ازل کہ صبوحی کشان عشق
سرشار زودشدند ہمیں جارہ سپار
محردم رشحہ نیست ازیں خم ستاں کسے
بارے کشا زبان طلب چشم انتظار
چوں کرم پیلہ این ہمہ اخبار صادقہ
برخویشتن تنیدن بیہودہ درگزار
اے آنکہ چشم دوختۂ نور ایمنی
خوش دل مشو بتابش ہر کرمک و شرار
مردانہ خیز و درکف ہمت عصا بگیر
تکبیر فتح خواں بسرد دوادی و قفار
مرزاقادیانی کا مصرعہ تھا: ’’رنگم چون گندم است وبموفرق بین است‘‘
۲؎مرزاقادیانی کا مصرعہ: ’’حقا کہ ہمچو کشتی نوحم درین دیار‘‘
بگزر زشوخ چشمی و تکذیب مرسلاں
زیں شیوۂ یہود بکن ترک اختیار
اے آنکہ دل بسینہ و مغزست در سرت
دانی دو نقطہ رانبود جزیکے قطار؟
ایں جا بیاد شاہرہ مصطفیٰ نگر
گام طلب براہ حبیب خدا گزار
آنسو مروکہ نور نہفتہ است۱؎ از جہاں
ایں سوبیاکہ طور تجلے است کوہسار
لا الفین خواں کہ رسول کریم ما
اخبار زیں گروہ نمودست باربار
اشعار من کہ ماء معین است درمذاق
دربوستان و کشت کند کار نو بہار
وآں جا کہ نیست از اثرا و نتیجہ
لا تنبت الکلاء درست ست شورہ زار
ما کیستیم تا سخن مافتد قبول
آں جا کہ شاعریست رسول بزرگوار
گویند استعارہ نمودست ایں رسول
گویند ایں مجاز بگفت ست کردگار
اے دشمن حقیقت واے والۂ مجاز
زیں استعارہ بگذرد از عقل مستعار
آں چشمہ را کہ موسی و خضرند تشنہ اش
بہر خداز آب تنک پایہ کم مدار
آں حسن را کہ صورت و معنی ست والہ اش
بادر ہماں بخس بہ بیع و شریٰ میار
الہام نیست آنکہ خلاف شریعت ست
گربشنوی زیاد۲؎ برد دل بحق گمار
تابہتر و درست تراز وے بتورسد
ایں ست آنچہ گفت خداوند گوش دار
مامور نیست آنکہ بترسد ز فلسفی
دیوانہ را قیاس نگیرند ہوشیار
فارغ نشین زفلسفیان و کلام شاں
عنقاز دام و دانہ نگردد گہے شکار
دنبال سگ گزار کہ او بانگ میزند
چندانکہ ماہ برسر دنیاست نوربار
مرزاقادیانی کا مصرعہ یہ تھا: ’’من نور خود نہفت زچشمان شپرم‘‘
۲؎مرزاقادیانی کا مصرعہ یہ تھا
گر بشنوم نگوئش آنرا کجا برم
بتلایا گیا از یاد تیر
کم سنگ آنکہ مے نہداز پستیٔ نژاد
یک وزن وحی ایزد و عقل خطا شعار
ہم تیرہ آنکہ روزن دورمے کند فراز
تاشمع را بردزدہد جاے شمس بار
یارب زلطف خویش سوئے مانگاہ کن
برکشت ایں گروہ زرحمت یکے ببار
من از محبتے کہ باسلامیان مراست
ازدرد ایں گروہ شدم بس نزار و زار
تاکے بود میان عزیزان چنین خلاف
تاکے بود درامت اسلام انتشار
دریاب اے خدائے رحیم از سرکرم
زاں پیشترکہ دست گزند از زیان کار
محمد سلیمان منصورپوری ۱۸۹۳ء
اردنا باللسان جہاد دینا
لننصر دین رب العالمینا
نجاہد من بخالفنا بدین
جدید فیہ تبع الکافرینا
فصار مصدقاً نقل النصارے
فاید دینہم کفراً مبینا
فصدق بالصلیب لکلمۃ اللہ
وصار النصر کفر المشرکینا
وقال بان مذہبہ قریباً
لدین الکفر دون المؤمینا
فہذا الدین دین الکادیانی
غدا ضداً لدین المسلمینا
فنسال ربنا نصراً عزیزاً
لدین اللہ دین المرسلینا
فنحن ندین دین اللہ حقاً
ونبغض من یحب الملحدینا
حضرت علامہ قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تعارف
۱۵۰
دیباچہ طبع دوم
۱۵۹
پہلی آیت: ’’انی متوفیک‘‘ کا جواب
۱۶۰
دوسری آیت: ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ کا جواب
۱۶۸
تیسری آیت: ’’توفیتنی‘‘ کا جواب
۱۷۰
چوتھی آیت: ’’لیؤمنّٰن بہ قبل موتہ‘‘ کا جواب
۱۷۷
پانچویں آیت: ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ کا جواب
۱۸۰
چھٹی آیت: ’’وما جعلناہم جسد الا یاکلون الطعام‘‘ کا جواب
۱۸۳
ساتویں آیت: ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ کا جواب
۱۸۶
آٹھویں آیت: ’’وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد‘‘ کا جواب
۱۸۸
نویں آیت: ’’تلک امۃ قد خلت‘‘ کا جواب
۱۸۹
دسویں آیت: ’’اوصانی باالصلٰوۃ… ما دمت حیا‘‘ کا جواب
۱۹۰
گیارھویں آیت: ’’یوم ولدت ویوم اموت‘‘ کا جواب
۱۹۲
بارھویں آیت: ’’ومنکم من یردّ الٰی ارزل العمر‘‘ کا جواب
۱۹۴
تیرھویں آیت: ’’ولکم فی الارض مستقر‘‘ کا جواب
۱۹۵
چودھویں آیت: ’’ومن نعمّرہ ننکسہ فی الخلق‘‘ کا جواب
۱۹۷
پندرھویں آیت: ’’اللہ الذی خلقکم من ضعف‘‘ کا جواب
۱۹۹
سولہویں آیت: ’’انما مثل الحیوۃ الدنیا‘‘ کا جواب
۱۹۹
سترھویں آیت: ’’ثم انکم بعد ذالک لمیّتون‘‘ کا جواب
۲۰۰
اٹھارھویں آیت: ’’الم تر ان اللہ انزل من السماء‘‘ کا جواب
۲۰۰
انیسویں آیت: ’’لیا کلون الطعام ویمشون فی الاسواق‘‘ کا جواب
۲۰۱
بیسویں آیت: ’’اموات غیر احیاء‘‘ کا جواب
۲۰۲
اکیسویں آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ کا جواب
۲۰۵
بائیسویں آیت: ’’فاسئلوا اہل الذکر‘‘ کا جواب
۲۰۸
تیئسویں آیت: ’’فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ کا جواب
۲۱۶
چوبیسویں آیت: ’’ثم یمیتکم ثم یحییکم‘‘ کا جواب
۲۱۷
پچیسویں آیت: ’’کلّ من علیہا فان‘‘ کا جواب
۲۱۸
چھبیسویں آیت: ’’انّ المتّقین فی جنت ونہر‘‘ کا جواب
۲۱۹
ستائیسویں آیت: ’’مااشتہت انفسہم خالدون‘‘ کا جواب
۲۲۱
اٹھائیسویں آیت: ’’اینما تکونوا یدرکم الموت‘‘ کا جواب
۲۲۱
انتیسویں آیت: ’’ما آتاکم الرسول فخذوہ‘‘ کا جواب
۲۲۳
تیسویں آیت: ’’او ترقٰی فی السماء‘‘ کا جواب
۲۲۶
مسیح موعود
۲۳۵
بعد المأتین کا جواب
۲۳۶
مکاشفات اولیاء کا رد
۲۳۸
دجال، ریل گاڑی، یاجوج ماجوج کا رد
۲۳۹
چودھویں صدی کا رد
۲۴۱
الف ششم کا رد
۲۴۲
اس کے دم سے کافر مریں گے کا رد
۲۴۴
عقائد کی درستی کا رد
۲۴۴
نبی اللہ کی حقیقت
۲۴۸
مکاشفہ عبداللہ غزنوی کی تردید
۲۵۰
مجذوب کا کشف
۲۵۱
اعداد جمل کی تردید، دجال کا خروج
۲۵۶
علامات مسیح ومہدی
۲۶۲
الہام ومکاشفہ
۲۷۹
امام محمد بن عبداللہ المہدی
۲۹۲
علامات شناخت مہدی
۲۹۵
احادیث مہدی
۲۹۶
نزول مسیحm کی احادیث
۲۹۷
خصوصیات زمانہ نزول مسیح
۲۹۸
سیرت مسیح
۳۰۰
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ اما بعد!
یہ کتاب تائید الاسلام دراصل پہلی کتاب غایت المرام کا حصہ دوم ہے۔ مرزاقادیانی ملعون نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں دجل وفریب سے تیس آیات قرآنی میں تحریف وتلبیس کر کے بزعم خود ان سے سیدنا عیسیٰm کی وفات ثابت کرنا چاہی۔ یہ کتاب دراصل انہیں تیس آیات قرآنی کے صحیح مفہوم ومعانی بیان کرنے اور مرزاقادیانی کے دجل وفریب کو تارتار کرنے کے مباحث پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں بے شمار دیگر مفید وبرمحل مباحث بھی شامل ہیں۔ یہ کتاب ۱۸۹۸ء میں مصنف مرحوم نے تحریر فرمائی اور اس زمانہ میں شائع بھی ہوگئی۔ پہلے ایڈیشن کے ص۱۱۶ پر آپ نے ایک پیش گوئی شائع فرمائی۔ آپ تحریر فرماتے ہیں: ’’(بموجب حدیث شریف) حضرت مسیحm مقام روحاء میں آ کر حج وعمرہ (احرام باندھیں گے اور نیت) کریں گے۔ میں (مصنف) نہایت جزم کے ساتھ بآواز بلند کہتا ہوں کہ بیت اللہ مرزاقادیانی کے نصیب میں نہیں۔ میری اس پیش گوئی کو سب صاحب یاد رکھیں۔‘‘
(احتساب قادیانی جلد ہذا ص۲۶۹)
اس کتاب کے شائع ہونے کے دس سال بعد تک مرزاقادیانی (م:۱۹۰۸ء) زندہ رہا۔ لیکن مرزاقادیانی کو حج کرنا نصیب نہ ہوا۔ مرزاقادیانی مدعی مسیحیت ونبوت نے جتنی پیش گوئیاں جس زور سے پیش کیں اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کو جھوٹا کیا۔ اس کی ایک بھی پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ لیکن اس کے مدّمقابل حق تعالیٰ کی رحمت کے سہارے پر رحمت دو عالمa کے ایک امتی (مصنف) نے ایک پیش گوئی کی جو نہ صرف پوری ہوئی۔ بلکہ مرزاقادیانی کے کذب پر مہر تصدیق ثبت کر گئی۔ یہاں ایک وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس کتاب میں مرزاقادیانی کی طرف سے پیش کردہ وفات مسیح پر تیس آیات کے صحیح مفہوم اور مرزاقادیانی کے دجل وافتراء کو واضح کرتے ہوئے کتاب میں آیت نمبر۲۸ کا جواب شائع نہ ہوسکا۔ غالباً کاپیاں جوڑتے ہوئے یا اشاعت دوم میں (جو ہمیں میسر آئی) یہ ہوا۔ فقیر نے نمبر۲۸ کے جوابات لکھ کر اس میں شامل کر دئیے ہیں۔ یہ کتاب ۱۸۹۸ء کی ہے۔ اب اسے ایک سو چار سال بعد شائع کرنا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مقام شکر اور باعث افتخار ہے۔فلحمد ﷲ اوّلاً وآخراً!
فقیر: اللہ وسایا
۲۵؍محرم ۱۴۲۳ھ، مطابق ۹؍اپریل ۲۰۰۲ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’الم۔ اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم۔ نزّل علیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ وانزل التوراۃ والانجیل من قبل ہدی للناس وانزل الفرقان ان الذین کفروا بایت اللہ لہم عذاب شدید واللہ عزیز ذوانتقام ان اللہ لا یخفٰی علیہ شی فی الارض ولا فی السماء وہو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ہو العزیز الحکیم ہو الذی انزل علیک الکتاب منہ اٰیت محکمٰت ہنّ ام الکتٰب واخر متشبہت فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تاویلہ وما یعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم یقولون امنّا بہ کلّ من عند ربنا وما یذکر الا اولوالالباب ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب ربنا انک جامع الناس لیوم لاریب فیہ ان اللہ لا یخلف المیعاد‘‘ {خدا ہے کوئی مگر وہی زندہ دنیا کی تدبیر فرماتا ہے۔ اسی نے تجھ پر راستی اور حق کے ساتھ کتاب اتاری جو اپنے سے پہلی کی تصدیق کرتی ہے۔ اسی نے قبل ازیں لوگوں کی ہدایت کے لئے توریت وانجیل اتاری اور معجزہ نازل کیا۔ بے شک جو خدا کی نشانیوں کے منکر بنے ان کے لئے سخت عذاب ہے اور خداوند غالب بدلہ لینے والا ہے۔ بے شک خدا سے نہ زمین میں نہ آسمان میں کوئی چیز چھپی نہیں۔ وہی ہے جو رحم کے اندر جیسے چاہتا ہے صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ غالب حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی۔ جس کی بعض آیتیں تو جو کتاب کی اصل میں واضح ہیں اور بعض متشابہ ہیں۔ جن کے دل میں کجی ہے۔ وہ شبہ والی کی پیروی کرتے ہیں گمراہی کے لئے اور تاویل وحقیقت چاہنے کے واسطے۔ حالانکہ اس کی حقیقت کوئی نہیں جانتا۔ مگر خدا اور جو علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں ہمارا اس متشابہ پر ایمان ہے۔ یہ سب کچھ پروردگار کی جانب سے ہے۔ ہاں! نصیحت نہیں پاتے مگر دانشمند۔ وہ عرض کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہدایت دکھلانے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈال اور ہم کو اپنے ہاں کی رحمت سے حصہ دے۔ کیونکہ تو ہی عطاء کنندہ ہے۔ اے خدا تو لوگوں کو اس دن اکٹھا کرنے والا ہے جس میں کچھ شک نہیں۔ بے شک خدا کے وعدہ میں خلاف نہیں۔}
خدائے عزوجل کے لئے ہے شکر نعم
زیادہ حد وعدہ سے ہیں جس کے فضل و کرم
وہی ملک ہے وہی مستعان وہی معبود
وہی ہمارے لئے ہادی رہ اقوام
وہی گناہ کو بخشے وہی سنے توبہ
مجید وصاحب عرش عظیم و لوح و قلم
وہی ہے رافع عز و علا و مجدد عطا
وہی ہے دافع درد و بلا و رنج و سقم
جلال اس کا ہی آفاق کے لئے ہے محیط
نوال اسی کا ہی ارزاق کے لئے مقسم
کمال عقل بشر اس جناب میں مجہول
زبان نطق ہے خود اس کے وصف میں ایکم
نمونہ قدرت باری کا ہے کہ صفحہ چرخ
ہجوم نجوم سے ہوتا ہے دیبہ معلم
ہے شان صنعت صانع کہ ارض کا یہ کرہ
وفور سبزہ سے بنتا ہے صفحہ ملحم
اسی کے حکم سے قائم جبال شامخہ ہیں
اسی کے امر سے سائر ہے نیرّ اعظم
اسی کی غایت حمد و ثنا ہے لا احصی
اسی کے اوّل ادراک پر ہے لا اعلم
اسی کے رحم کی امید تھی کہ طبع بشر
ہوئی ہے بعد صدور خطا ندیم ندم
اسی کے فضل نے تھی جو عذاب کی صورت
بنائی مشغلہ زیست محنت آدم
اسی کی واد سے مہ کو ملا ہے سکہ سیم
اسی کے جود سے ماہی کو کیسہ درہم
اسی کے شوق میں پویندہ ہیں الوف و ملل
اسی کی مدح میں گویندہ ہیں صنوف امم
اسی جناب میں ہوتی ہے عرض رب اغفر
اسی سے کہتے ہیں وارحم کہ سب سے ہے ارحم
اسی کے فیض سے باغ حدوث ہے شاداب
اسی کے نام سے قلب سلیم ہے خرم
اسی کا نور ہے عالم میں سائر و ساری
اسی کا حکم جزو کل پہ ثابت و مبرم
اسی نے فرش زمین کو بچھا دیا ہموار
اسی نے سلک ثریا کو کر دیا درہم
اسی کے خوض میں ہے تہ نشین دریا در
اسی کے شوق میں ہے آسمان گرا شبنم
اسی کی آیت قدرت سے ہے کہ خاک سیاہ
ہزاروں بیش بہا گنج کی رہے مدغم
ہزار نسل بشر مٹ گئی ہے ہو ہو کر
رہے پر اس کے موالید تازہ و خرم
یہ دیکھ صنعت صانع کہ سخت ہے نہ رقیق
ولیک حسب ضرورت ہے نرم و مستحکم
اسی کی آیت قدرت سے ہے نزول میاہ
کہ اس سے سبزہ و دانہ نکلتے ہیں پیہم
اسی کی آیت قدرت سے برق کی ہے چمک
بچشم خوف و طمع جس کو دیکھتے ہیں ہم
اسی کی آیت قدرت سے ہے کہ مردہ زمین
حیات تازہ سے باردگر ہوئی منضم
اسی کی آیت قدرت سے ہے کہ لیل و نہار
ہمیں سکھاتے ہیں طرز و طریق راش و رم
اسی کی آیت قدرت سے ہے کہ بیّن بحار
بنا دئیے ہیں جزیرے مثال باغ ارم
اسی کی آیت قدرت سے ہے کہ انسان کی
لسان ولون میں نوعین جدا جدا ہیں علم
اسی کی آیت قدرت سے ہے کہ گنبد چرخ
مثال سقف بغیر عمد رہا ہے تھم
اسی کی آیت قدرت سے ہے کہ ہوتا ہے
یہ موسموں کا تغیر یہ انقلاب امم
اسی کے حکم سے ٹھہرے ہوئے ہیں یہ ابحار
کہ موج رکھتی نہیں بڑھ کے اپنی حد سے قدم
اسی کے امر سے تھامے ہوئے ہیں سب طائر
فضا میں جسم کو اپنے بلا تردد و غم
اسی کے نور تجلے سے طور ہے روشن
اسی کی بندہ نوازی سے نحل ہے ملہم
اسی کی ذات مقدس کے سامنے سجدہ
اسی کے اسم معظم کے واسطے ہے قسم
وہی ہے ایک خدا اور لاشریک لہ
کہ ملک و حمد اسی کو ہے اور کبر و قدم
غنی و مقتدر و مالک و کریم و رحیم
حلیم و موتمن و مامن حدوث و قدم
سلام و مومن و قدوس و خالق و باری
میہمن وجبروتی خدیو عزوحکم
احدت اور صمد لم یلد ولم یولد
ولم یکن لہ کفواً احد ہے وصف اتم
یہ شرک ہے کہ کہے کوئی اس کو رب النوع
وہ ہے مصور اشیاء و خالق عالم
شریک خلق میں اس کے نہ مادہ ہے نہ روح
مشیر امر میں اس کے وزیر ہیں نہ خدم
اسی کے خلق ہیں اور اس کو پا نہیں سکتے
فواد سمع و بصر عقل درک لمس اور شم
ولیک صدق طلب ہو تو پر پر گیاہ
ہے بام معرفت حق کے واسطے سلم
مرے کریم مرے چارہ ساز بندہ نواز
کثیر ہیں تیرے انعام و فیض اور اعم
ہے ایک حکم میں تیرے حیات اور ممات
ہے سب کا تیرے ہی دو حروف میں وجود و عدم
نہیں وجود سے خلقت کے تیرے قدرت بیش
نہ کچھ عدم سے ہے عالم کے تیری صنعت کم
ہو تیری عفو ورحیمی کا جس جگہ اظہار
ہے مستحق کرامت گناہ اور ظلم
خواص ہیں متاثر تیرے بہ خوف و رجا
کہ ہے حجاب عدالت میں رحمت اور کرم
فرشتگان مقرب کہ انبیائے کرام
بیان حمد میں سب کا ہے مہمل و مبہم
نہ یہ مجاز کہ اک حرف بیش و کم بولیں
نہ ان کی تاب کہ حد سے بڑھائیں ایک قدم
تیری جناب میں سب کی ہے التماس دعا
تیری حضور میں سب کا سر ارادت خم
نہ مال میرا مآل طلب نہ دولت و جاہ
کہ سب ہیں مشتمل اس فیض میں بنی آدم
یہ التجا ہے یہی آرزو یہی خواہش
مدام دل کی تمنا یہی بدیدۂ نم
رہوں سدا متمسک نبی کی سنت سے
قدم ہوں میرے صراط وہدیٰ پہ مستحکم
رگوں میں جوش لہو میں محبت اسلام
بدن میں جان ہے یہ جب تک اور دم میں دم
تیرے حبیب نے جو امیوں کو دی تعلیم
وہی ہو میرا عقیدہ نہ اس سے بیش نہ کم
رسول سید ابرار و احمد مختار
نبی جہاں کے لئے رحمت اور مطاع امم
سراج و شاہد و داعی مبشر و منذر
رسول کافہ ناس و بادشاہ حرم
ہماری جان پہ ہم سے سوا رؤف و رحیم
حمید و حامد و مکرم مکرم و اکرم
عوام کا اب وجد سے ہے مایۂ نازش
ہیں اس کی ذات سے نازاں خلیل اور آدم
درود اس پہ اور اصحاب و آل پر اس کے
بھرا ہے جن کے فضائل سے مصحف محکم
تو قبر کی متوحش جگہ میں ہو مونس
تو ہولناک قیامت میں بن مراہمدم
نہ۱؎ فلسفہ میرا ایمان ہو نہ یہ طبعی
جھکا ہوا ہے ادھر آج گرچہ اک عالم
نصیب احمد و سماں بیٹے کے
نماز مسجد پاک نبی و طوف حرم
یہ رسالہ یکم؍محرم الحرام ۱۳۱۲ھ کو ختم کیا جاکر چھپنے کے لئے مطبع میں بھیج دیا گیا تھا۔ چند در چند وجوہ سے چھپنے میںدیر ہوئی قصیدہ کا یہ شعر اس وقت ہی لکھا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس ناچیز کی دعا قبول فرمائی اور اس کا ایک حصہ پورا بھی ہوگیا۔ یعنی ۱۳۱۳ھ میں والد بزرگوار کو حج اور زیارت مدینہ منورہ کا شرف حاصل ہوا۔ بندہ ناچیز کو اپنے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہی امید ہے اور توقع ہے کہ جس پر یہ دعا قبول فرمائی گئی ہے۔ اسی طرح یہ ناچیز عمل (کتاب تائید الاسلام) بھی درگاہ ایزدی میں درجہ قبولیت پائے گا۔
(محمد سلیمان عفی عنہ)
تیری جناب میں سجدہ کہ اس سے قرب بڑھے
درود تیرے نبی پر کہ اس سے ہوں مکرم
اما بعد! ناظرین والا تمکین کو واضح ہو کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے عقائد محدثہ پر نیازمند نے ایک مختصر رسالہ ’’غایت المرام‘‘ لکھا تھا۔ رب کریم کے محض افضال وکرم سے اس رسالہ کو قبولیت عام حاصل ہوئی اور اس دوسرے رسالہ کے لئے احباب واخوان نے نہایت شوق ظاہر کیا۔ لہٰذا ادب کے ساتھ یہ رسالہ بھی پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری نیت سے خوب آگاہ ہے۔ نہ مجھے مرزاقادیانی سے کچھ مخاصمت، نہ عناد، نہ ذاتی کاوش، نہ رنج۔ صرف دین خالص اور اسلام پاک کی محبت (جس پر رب کریم میری حیات اور موت کرے) اور حفاظت ونصرت کے خیال نے مجھے مجبور کیا کہ اس بارہ میں جو فہم اور سمجھ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دی ہے اپنے بھائیوں کے سامنے ظاہر کروں اور ان عقائد محدثہ میں جو جو غلطیاں اور مغالطے مرزاقادیانی کی تحریر سے مجھے معلوم ہوئے ہیں ناظرین کے سامنے بیان کردوں۔ انصاف مسلمان خود کر لیں گے اور اس ناچیز خدمت کا اجروثواب میری نیت میرے عمل کو اللہ تعالیٰ دیکھ کر خود عطاء فرمائے گا۔
اس مختصر رسالہ میں مرزاقادیانی کے رسالہ ’’ازالہ اوہام‘‘ کے تمام ضروری مطالب کا جواب لکھ دیا گیا ہے۔
محمد سلیمان ولد قاضی احمد شاہ، منصورپور، علاقہ ریاست پٹیالہ
مؤرخہ ۵؍ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
’’الحمد ﷲ نحمدہ ونستعینہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیاٰت اعمالنا من یہدی اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ہادی لہ ونشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ الذی لا نبی بعدہ وصلی اللہ تعالٰی علٰی نبیہ خیر خلقہ محمد والہ واصحابہ وبارک وسلم‘‘
اما بعد! یہ رسالہ تائید الاسلام مصنفہ جناب فاضل اجل علامہ قاضی حاجی محمد سلیمان صاحب زید مجدہم العالی کا ہے۔ جو ان کے رسالہ ’’غایت المرام‘‘ کا دوسرا حصہ ہے۔ یہ دوسرا حصہ علامہ ممدوح نے ۱۸۹۸ء میں اور پہلا حصہ ۱۸۹۳ء میں تحریر فرمایا تھا۔ دونوں کتابیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ شائع ہونے سے چند ماہ کے بعد ان کی کوئی جلد بازار میں نہ رہی۔ لوگ اب تک ان کتابوں کے نہایت شائق تھے۔ اس لئے اس احقر نے اب ان کتابوں کو مکرر چھپوایا ہے۔
علامہ مصنف کی یہ ہر دو تصنیفات ایسی جامع ہیں کہ ان کے بعد ہر ایک تصنیف میں ان سے مدد لی گئی ہے اور ’’عصائے موسیٰ‘‘ کے قابل مصنف نے کشادہ دلی سے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ امید ہے کہ ناظرین اس کتاب کے ملاحظہ سے نہایت خوش ہوں گے۔
احقر: خلیفہ ہدایت اللہ پنشنر، ضلع دار نہر
ساکن پٹیالہ ریاست (پنجاب)
تیس آیتوں کا مضمون (ازالہ اوہام ص۵۹۸، خزائن ج۳ ص۴۲۳) سے شروع ہوا ہے۔ مرزاقادیانی نے اس سب سے پہلی آیت سے وفات مسیح پر کوئی دلیل قائم نہیں کی۔ صرف آیت کا ترجمہ کردیا ہے۔ یہ تو اوّلین آیت مستدلہ پر آپ کا حال ہے۔
سالیکہ نکوست از بہارش پیدا
البتہ ترجمہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں: ’’میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا۔‘‘ اس ترجمہ پر بحث آگے آتی ہے۔
اس آیت: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ کی نسبت مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۳۹۴، خزائن ج۳ ص۳۰۳) پر یہ اقرار کر لیا ہے کہ یہ آیت وعدۂ وفات ہے۔ (یعنی دلیل وخبر وفات نہیں) مگر میں حیران ہوں کہ وعدۂ وفات دینے میں کیا مصلحت الٰہی ہوسکتی ہے؟ کیا حضرت عیسیٰm کبھی یہ خیال کر بیٹھے تھے کہ ان پر موت وارد نہ ہوگی؟ حالانکہ ہر شخص خواہ مومن ہو خواہ کافر:’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘کو مانتا ہے۔ مرزاقادیانی کا بیان ہے کہ: ’’یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب یہود نے حضرت مسیح کو پکڑ کر صلیب پر کھینچنا چاہا۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔ رب کریم نے یہود کے اس ارادۂ فاسد کے مقابلہ میں حضرت مسیحm کا اطمینان فرمایا کہ تم صلیب پر نہیں مرو گے۔ بلکہ اپنی موت سے۱؎ مرو گے۔ عزت پاؤ گے۔ ان کافروں کے ارادۂ فاسد سے پاک صاف رہو گے۔‘‘
۱؎میں کہتاہوں مرزاقادیانی کی اس وجہ اور سبب وعدۂ وفات کے غلط ہونے کی یہ دلیل بھی ہے کہ حضرت عیسیٰm کو یہ تو اپنی پیدائش کے دن ہی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ نہ قتل کئے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
میرے نزدیک مرزاقادیانی کی یہ خودتراشیدہ وجہ بھی وعدۂ وفات کی مصلحت کے ظاہر کرنے میں بودی اور کمزور ہے۔ مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ: ’’حضرت مسیح صلیب پر لٹکائے گئے۔ صلیب کی سختیوں سے ایسے قریب بہ مرگ ہو گئے کہ یہود نے مر جانے کا خیال کر لیا۔ سبت بھی قریب تھا۔ جلدی سے اتار کر دفن کر دئیے گئے۔ حضرت مسیح کے یارو احباب نے آکر ان کو نکال لیا۔ پھر وہ خفیہ زندہ رہے اور اپنی موت سے مر گئے۔‘‘
یہ وجہ اس لئے کمزور اور بودی ہے کہ مرزاقادیانی مانتے ہیں کہ صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد پھر زندہ رہے اور مدتوں جئے۔ تو اندریں صورت اقتضائے مقام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو وعدہ نجات دیتا کہ یہود تو تجھے صلیب پر لٹکانا چاہتے اور بے عزتی کے ساتھ ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں تجھے ان کے ہاتھوں سے نجات دوں گا اور تو اپنی زندگی اور عمر کا بقیہ حصہ خاموشی اور امن کے ساتھ پورا کرے گا نہ کہ برخلاف اس کے کہ ایک شخص جو موت کا سامان اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے اور اپنے مرنے کا یقین کر رہا ہے اس کی تسلی اور تشفی ان الفاظ میں کی جائے کہ میں تجھے ماروں گا اور وفات دوں گا۔ درانحالیکہ مارنے اور وفات دینے میں ہنوز عرصہ دراز باقی ہے۔ ایسے موقعہ دل دہی اور اطمینان پر ایسے الفاظ کا استعمال دنیا کی کسی زبان میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ چہ جائیکہ رب کریم کے کلام میں ہو۔ جس کی بلاغت بدرجہ غایت پہنچی ہوئی ہے۱؎۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی نے اس آیت کاجو
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) جائیں گے اور نہ صلیب پر لٹکائے جائیں گے۔ بلکہ سلامتی کی موت کے ساتھ اپنی انفاس حیات پوری کریں گے۔ پڑھو یہ آیت: ’’وسلام علیّ یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم:۲۳)‘‘ پر یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ: ’’انی متوفیک‘‘ کے معنی موت دوں گا ہرگز صحیح نہیں۔
۱؎آیت: ’’انی متوفیک ورافعک الی‘‘ کے جو معنی مرزاقادیانی نے کئے ہیں اور اس معنی پر جو اعتراض ہم نے کیا ہے کہ آپ اس آیت کہ حضرت مسیح کے لئے اطمینان دہ اور تسلی بخش مانتے ہیں۔ مگر آپ کا ترجمہ اس آیت کو ان کے حق میں ایک پروحشت خبر اور پیام مرگ بتارہا ہے اور ایک مقید واسیر کو جو اپنی آنکھوں سے صلیب کو اپنے لئے تیار اور قوم کو اپنے قتل پر آمادہ دیکھے۔ موت فوری اور قتل ذلت کا یقین دلا رہا ہے۔ ہمارے اس اعتراض کا صحیح ہونا مرزاقادیانی نے خود تسلیم کرلیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’واضح ہو کہ مسیح کو بہشت میں داخل ہونے اور خدا کی طرف اٹھائے جانے کا وعدہ دیاگیا تھا۔ مگر وہ کسی اور وقت پر موقوف تھا جو (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
ترجمہ کیا ہے وہی اپنی غلطی پر اندرونی شہادت رکھتا ہے اور بآواز بلند پکار رہا ہے کہ الفاظ ربانی کے ایسے معانی کرنا جس کے ایک پہلو سے اللہ تعالیٰ پر فعل عبث اور کلام بے محل کا الزام آتا ہو اور دوسرے پہلو سے حضرت عیسیٰ پر غلط فہمی کا اعتراض قائم ہوتا ہو۔ بالکل بے بصیرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کو اس کے درجہ علیا سے متنزل کر دینا ہے اور ’’متوفیک‘‘ کا ترجمہ تجھے ماروں گا کرنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ترجمہ ’’ورافعک الیّ ومطہرک من الذین کفروا‘‘ پہلے الفاظ سے کچھ مناسبت نہیں رکھتا۔ کیونکہ جس عزت کی موت کا وعدہ تھا یا تو وہ عزت جسمانی ہوسکتی ہے جو بقول آپ کے حضرت مسیح کو نصیب نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ تادم زیست یہودیوں کے خوف سے چھپے ہی رہے۔ گمنامی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اور معمولی طور پر مر جانا جسمانی لحاظ سے باعزت موت نہیں ہوسکتی۔ ایسی کہ اس کا وعدہ بھی منجانب اللہ دیاگیا ہو اور یا وہ عزت روحانی ہوسکتی ہے یعنی اعلیٰ علیین میں روح کا جاگزین ہونا وغیرہ وغیرہ۔
تو یہ سب امور تو انبیاء کو یقینا حاصل ہوتے ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس کو سوء خاتمہ کا خوف ہو۔ یا سلب ایمان کا ڈر۔ پس اس اعتبار سے بھی یہ وعدہ ایک فعل لا یعنی ہوا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود کی مخالفت دیکھ کر خود حضرت مسیح کو بھی اپنی صداقت اور نبوت میں شک ہوگیا تھا۔ جس کا دفعیہ خداتعالیٰ کو کرناپڑا کہ نہیں تو شک نہ کر۔ تو سچا ہے اور
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) مسیح پر ظاہر نہیں کیاگیا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ وارد ہے۔ سو اس سخت گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہوگا۔ چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس نے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مرجاؤں گا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۹۴، خزائن ج۳ ص۳۰۳)
مرزاقادیانی ’’مسیح اک انسان تھا‘‘ کہہ کر اپنے معنی کا نقص چھپانا چاہتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں مسیح ایک رسول تھا۔ جس کے پاس یہود کے ہاتھوں سے نجات پا جانے کا وعدہ حتمی اللہ تعالیٰ کے پاس سے آچکا تھا۔ اس لئے لازمہ نبوت تھا کہ وہ ان کمزور ہیچ کاربندوں کے اسباب کو بیت العنکبوت سے زیادہ کمزور خیال کرتا اور ذرا گھبراہٹ اس کے لاحق حال نہ ہوتی۔ بے شک ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کے استقلال واستقامت وصبر میں کبھی لغزش ظاہر نہیں ہوئی۔ یہود اور سلطنت کے مخالفوں کے سامنے ان کا بھروسہ خدا کریم پر تھا اور اس نے اس کو بچا بھی لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح کے استقامت احوال پر یہ جو اعتراض ہوتا ہے وہ بھی مرزاقادیانی کے ترجمہ کی خرابی کا موجب ہے۔ ورنہ نبی کی شان اس سے اعلیٰ وبرتر ہے۔
اس لئے تو عزت کے ساتھ ہمارے پاس آئے گا۔ ’’متوفیک‘‘ کے ترجمہ ماروں گا کی غلطی تو لفظ ’’مطہرک من الذین کفروا‘‘ بھی ظاہر کرتا ہے۔ جب مرزاقادیانی کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح یہود کے ہاتھوں صلیب پر لٹکائے گئے (گو ان کو صلیب پر وفات پانے کا انکار ہے) اور توریت کے خاص الفاظ یہی ہیں کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا (دیکھو صلیب پر لٹک کر مر گیا توریت بھی نہیں کہتی) وہ لعنتی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کو یہود کی آنکھوں میں تطہیر حاصل نہیں ہوئی۔ حالانکہ وعدہ تطہیر کا تھا۔
اب ناظرین! یہ بھی خیال فرماویں کہ مرزاقادیانی نے ان ہر چہار فعلوں میں ترتیب طبعی کو تسلیم کر لیا ہے۔ حالانکہ ان کی بتلائی ہوئی وجہ سے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ ’’مطہرک من الذین کفروا‘‘ کو ’’متوفیک ورافعک‘‘ پر تقدم زمانی حاصل ہے۔ کیونکہ تطہیر کے معنی ان کے نزدیک صلیب پر لٹکے ہوئے وفات نہ پانا ہے جو واقعہ تصلیب سے اگلے روز ہی ان کو حاصل ہو گئی تھی اور جب یہ تقدم زمانی ثابت ہوئی تو پھر ان کا یہ مذہب کہ تقدیم وتاخیر الفاظ قرآنی صریح الحاد ہے۔ انہی پر لوٹ پڑے گا۔ غرض یہ ترجمہ ہی اپنی بطلان پر خود شاہد ہے۔
اس جگہ تقدیم وتاخیر الفاظ کی نسبت بھی مجھے کچھ گزارش کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابن عباسr کا مذہب یہ ہے کہ: ’’متوفیک‘‘ کے معنی ’’ممیتک‘‘ ہیں۔ اس پر وہی اعتراضات وارد ہوتے۔ جواب مرزاقادیانی کے ترجمہ پر ہوئے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کا یہ مذہب بھی ہے کہ الفاظ ’’متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے۔ مرزاقادیانی اس مقام پر آکر اس سے غضب میں بھر جاتے ہیں کہ تقدیم وتاخیر الفاظ کا نام الحاد قرار دیتے ہیں اور ان کے خوش فہم مرید بھی بحق صحابی رسول۔ مفسر قرآن فقیہ فی الدین۔ برادر عمزاد بن ابن عباسi اس فتویٰ الحاد پر بڑے نازاں ہورہے ہیں۔ اگر ان کو نظم قرآنی پر ذرا غور کا موقع بھی ملا ہوتا تو یہ حرف کبھی زبان پر نہ لاتے۔
امام جلال الدین سیوطیv نے (جس کی نسبت مرزاقادیانی کو اقرار ہے کہ: ’’وہ کشف میں رسول اللہ a سے تحقیق مسائل اور تصحیح احادیث کر لیتے تھے‘‘)
(ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
لکھا ہے: ’’النوع الرابع والاربعون فی مقدمہ ومؤخرہ وہو قسمان الاول مااشکل معناہ بحسب الظاہر فلما عرف انہ من باب التقدیم والتاخیر۔ اتضح وہو جدیر ان ینفرد بالتصنیف وقد تعرض السلف لذلک فی آیات فاخرج ابن ابی حاتم عن قتادہ فی قولہ فلا تعجبک اموالہم واولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم بہا فی الحیوۃ الدنیا۔ قال ہذا من تقادیم الکلام یقول لا تعجبک اموالہم ولا اولادہم فی الحیوۃ الدنیا۔ انما یرید اللہ لیعذبہم بہا فی الآخرۃ واخرج عنہ ایضاً فی قولہ ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی قال ہذا من تقادیم الکلام یقول لولا کلمۃ واجل مسمی لکان لزا ماواخرج عن مجاہد فی قولہ انزل علی عبدہ الکتاب ولم یجعل لہ عوجا قیما قال ہذا من التقدیم والتاخیر انزل علی عبدہ الکتٰب قیما ولم یجعل لہ عوجا واخرج عن قتادہ فی قولہ انی متوفیک ورافعک قال ہذا من المقدم والمؤخر الی رافعک الیّ ومتوفیک واخرج عن عکرمہ فی قولہ تعدلہم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب قال ہذا من التقدیم والتاخیر یقول لہم یوم الحساب عذاب شدید بما نسوا واخرج ابن جریر عن ابن زید فی قولہ ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطان الا قلیلا۔ قال ہذہ الایۃ مقدمۃ ومؤخرۃ انما ہی اذا عوابہ الا قلیلاً منہم ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لم ینج قلیل ولا کثیر۔ واخرج ابن عباس فی قولہ فقالوا ارنا اللہ جہرۃ قال انہم اذاراو اللہ فقدراؤہ انما قالوا جہرۃ ارنا اللہ قال ہو مقدم ومؤخر قال ابن جریر یعنی ان سوالہم کان جہرۃ ومن ذالک قولہ واذ قتلتم نفساً فالدارتم فیہا قال البغوی ہذہ اوّل القصۃ وان کان موخرا فی التلاوۃ وقال الواحدی کان الاختلاف فی القاتل قبل ذبح البقرۃ وانما اخر فی الکلام لا نہ تعالٰی لما قال ان اللہ یا مرکم (الآیۃ) علم المخاطبون ان البقرۃ لا تذبح الا لدلالتہ علی قاتل خفیت عینہ علیہم فلما استقر
علم ہذا فی نفوسہم اتبع بقولہ واذ قتلتم نفسا فالدارتم فیہا۔ فسالتم موسی فقال ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ ومنہ افرایت من اتخذ الہا لہ ہواہ والاصل ہواہ الہ لان من اتخذ الہہ ہواہ غیر مذموم فقدم المفعول الثانی للعنایۃ بہ وقولہ اخرج المرعی فجعلہ غشاء احوی علی تفسیر احوی بالاخضر۔ وجعلہ نعتا للمرعی ای اخرہ فجعلہ غشاء وأخر رعایہ للفاصلۃ وقولہ غرابیب سود والاصل سود غرایب لان الغرابیب الشدید السواد۔ وقولہ فضحکت فبشرناہا ای فبشرناہا فضحکتہ… وقد ألف فیہ العلامۃ شمس الدین ابن السائغ کتابہ المقدمہ فی سرالا الفاظ المقدمۃ الخ‘‘ (اتقان ج۲ ص۲۱،۲۲)
ترجمہ: چوالیس فصل، قرآن مجید کے الفاظ کی تقدیم وتاخیر کے بیان میں، اس کی دو صورتیں ہیں۔ اوّل یہ کہ ظاہر عبارت کے معنی کرنے مشکل ہوں۔ مگر جب یہ معلوم ہو جائے کہ یہاں تقدیم وتاخیر ہے تو معنی واضح ہو جائیں۔ یہ قسم اس قابل ہے کہ اس میں جداگانہ تصنیف کی جائے۔ چنانچہ سلف نے بہت سی آیات میں توجہ بھی کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے قتادہq سے روایت کی ہے کہ آیت: ’’فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم بہا فی الحیوۃ الدنیا‘‘میں تقدیم ہے۔ یعنی ’’لاتعجبک اموالہم ولا اولادہم فی الحیٰوۃ الدنیا انما یرید اللہ ان یعذبہم فی الآخرۃ‘‘ ہے۔ قتادہq سے مروی ہے کہ ’’ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی‘‘میں بھی تقدیم کلام ہے۔ گویا یوں ہے: ’’لولا کلمۃ واجل مسمی لکان لزاما‘‘ ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ: ’’انزل علٰی عبدہ الکتاب قیما ولم یجعل لہ عوجا‘‘ ’’قیما‘‘میں تقدیم وتاخیر ہے۔ گویا یوں ہے: ’’انزل علیٰ عبدہ الکتب قیما فلم یجعلہ عوجا‘‘اور قتادہ سے مروی ہے کہ: ’’انی متوفیک ورافعک‘‘میں تقدیم وتاخیر ہے۔ گویا یوں ہے: ’’انی رافعک الیّ ومتوفیک‘‘عکرمہ سے مروی ہے کہ آیت: ’’لہم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے۔ یعنی ’’یوم الحساب عذاب شدید بما نسوا‘‘
ہے اور ابن جریر نے ابن زید سے روایت کی ہے کہ آیت: ’’اذجاء ہم امر من الامن اوالخوف اذا عوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامرمنہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطان الا قلیلا‘‘میں تقدیم وتاخیر ہے۔ یعنی ’’الا قلیلا‘‘ جو آیت کے آخر میں ہے۔ یہ ’’اذا عوابہ‘‘ کے متعلق ہے۔ کیونکہ اگر فضل اور رحمت الٰہی نہ ہو۔ تب تو کیا قلیل کیا کثیر کوئی بھی نہیں بچ سکتا اور ابن عباسr سے مروی ہے کہ: ’’فقالوا ارنا اللہ جہرۃ‘‘ کی کیا ضرورت ہے۔ پس آیت اور معنی یہ ہیں۔ انہوں نے کھلم کھلا آکر کہا کہ ہم کو خدا دکھلادے۔ ابن جریر نے تشریح کر دی ہے کہ ان کا یہ سوال یہ جہر تھا۔ علیٰ ہذا! آیت: ’’اذ قتلتم نفسا فالدرتم فیہا‘‘بغوی نے لکھا ہے کہ یہ اوّل قصہ ہے۔ گو تلاوت اور نظم وترتیب کلام میں مؤخر ہے۔ واحدی نے بیان کیا کہ ’’ذبح بقر‘‘ سے پہلے قاتل میں اختلاف تھا اور اس کے مؤخر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب خداتعالیٰ نے ’’بارء کم‘‘ فرمایا تو مخالفین سمجھ گئے کہ بقر اس لئے ذبح ہوتا ہے کہ قاتل پر دلالت کرے۔ پہلے تو یہ بات ہی ان کی سمجھ میں نہ آئی۔ مگر جب یہ علم ان کے نفسوس میں قائم ہوگیا تب ’’واذ قتلتم نفسا‘‘ فرمایا۔ حضرت ابن عباسr ہی سے مروی ہے کہ: ’’افرایت من اتخذ الٰہہ ہواہ‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے اور اصل میں ’’من اتخذہواہ الہ‘‘ہے۔ کیونکہ نظم موجودہ کی صورت میں یہ معنی ہیں کہ جو شخص اپنے معبود کو ہی اپنی خواہش بتاتا ہے اور یہ غیرمذموم ہے۔ اس جگہ مفعول ثانی کو اس پر عنایت کی راہ سے مقدم کیا ہے۔ اس آیت: ’’فجعلہ غشاء‘‘میں بھی تقدیم وتاخیر ہے۔ جب کہ احوی کے معنی اخضر ہوں۔ اس کو مؤخر صرف رعایت فواصل سے کیاگیا ہے اور اس آیت: ’’غرابیب سود‘‘ میں بھی تقدیم وتاخیر ہے اور اصل میں ’’سود غرابیب‘‘ ہے۔ کیونکہ ’’غرابیب‘‘ سخت سیاہ کو کہتے ہیں اور اس آیت: ’’فضحکت فبشرناہا‘‘میں بھی تقدیم وتاخیر ہے۔ یعنی ’’فبشرناہا فضحکت‘‘ہے۔ علامہ شمس الدین بن السائغ نے اس مضمون میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’المقدمہ فی سر الالفاظ المقدمہ‘‘ ہے۔
اس امام ہمام کی تحقیقات نفسیہ سے ناظرین کومعلوم ہوا ہوگا کہ حضرت ابن عباسr کا یہ مذہب نہ صرف آیت متنازعہ فیہ میں یہ ہے کہ الفاظ میں تقدیم وتاخیر ہے۔
جب کہ دیگر آیت میں بھی یہی مذہب ہے اور ائمہ ملت نے اس تقدیم وتاخیر کو ایسا مہتمم بالشان سمجھا ہے کہ جداگانہ تصنیف اس کے لئے کی ہے اور تقدیم وتاخیر الفاظ میں جو راز دقیقہ اور بلاغت بالغہ ہے۔ اس کے انکشاف میں سعی فرمائی ہے۔
ناظرین! مرزاقادیانی کے الفاظ ترجمہ پر مکرر غور فرماویں کہ اگر ان کے ترجمہ کے موافق ’’متوفیک‘‘ سے وفات جسمی اور ’’رفع‘‘ سے عروج روحی مراد لی جائے تو لامحالہ عبارت میں یہ تقدیر ماننی پڑے گی۔’’انی متوفی جسدک ورافع روحک‘‘ حالانکہ معنی بتانے کے لئے قرآن شریف کی عبارت میں الفاظ کی تقدیر مرزاقادیانی کے مذہب میں الحاد اور کفر ہے۔
خیال کرنا چاہئے کہ اس جگہ چار فعل ہیں اور ان چاروں فعلوں کا فاعل باری تعالیٰ ہے اور ان چاروں فعلوں میں مخاطب یا عیسیٰ ہیں۔ جن پر ان افعال کا اثر مرتب ہوتا ہے۔ اب یہ طے کر لینا چاہئے کہ لفظ عیسیٰ جو اسم ہے یہ مسمی کے صرف جسم یا صرف روح پر دلالت کرتا ہے یا جسم وروح دونوں پر، مرزاقادیانی کا مذہب بہت ہی عجیب ہے۔ وہ ’’انی متوفیک‘‘میں ’’ک‘‘ کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف جسم مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ ’’توفی‘‘ کے معنی وہ روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتلاتے ہیں اور ’’رافعک الیّٰ‘‘ میں ’’ک‘‘ کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف روح عیسیٰ لیتے ہیں اور ’’مطہرک‘‘ اور ’’اتبعوک‘‘ میں عیسیٰ کا مرجع جسم وروح دونوں کو اور اس طرح پر وہ آیت کا ترجمہ کر سکنے کے قابل ہوتے ہیں۔ جو سراسر نظم قرآنی کے خلاف اور شان کلام ربانی سے بعید ہے۔
ناظرین! یہ بھی یاد رکھیں کہ براہین احمدیہ میں جس کو خدا کے حکم والہام سے مرزاقادیانی نے لکھا اور جس کو کشف میں حضرت سیدہ فاطمتہ الزہراt نے مرزاقادیانی کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ تفسیر علی المرتضیٰq ہے۔
(براہین احمدیہ ص۵۰۴، خزائن ج۱ ص۵۹۹ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
اس میں مرزاقادیانی نے آیت ’’یا عیسٰی انی متوفیک‘‘ کا اپنے اوپر الہام ہونا لکھا ہے اور پھر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے۔ ’’اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔‘‘
(براہین احمدیہ چہار حصص ص۵۲۰، خزائن ج۱ ص۶۲۰ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
ظاہر ہے کہ اگر ’’متوفیک‘‘ کے معنی حقیقی ’’تجھے ماروں گا۔‘‘ ہوتے تو الہامی کتاب اور کشفی تفسیر میں یہ ترجمہ اس کا نہ کیا جاتا۔ مرزاقادیانی اس وقت بھی کچھ جاہل نہ تھے۔ جو ’’توفی‘‘ کے معنی نہ جانتے ہوں۔ پس اگر یہ ترجمہ ان کے لئے جائز اور صحیح ترجمہ تھا تو حضرت مسیح کے لئے کیوں یہ ترجمہ صحیح نہیں؟ اگر مرزاقادیانی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کے الہام میں تو اس وقت بھی ’’متوفیک‘‘ کے معنی ماروں گا۔ مراد تھی مگر ترجمہ کرنے میں غلطی ہوئی تو خیر یہ بھی سہی۔ مگر ظاہر ہے کہ براہین میں اس الہام کو چھپے ہوئے یعنی مرزاقادیانی کو خبر وفات منجانب باری تعالیٰ ملے ہوئے پندرہ سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور مرزاقادیانی کو اب تک موت نہیں آئی تو اس سے واضح ہوا کہ جس طرح مرزاقادیانی کے لئے بعد از خبر وفات پندرہ سال کا عرصہ اوپر گزر جانا جائز ہے اسی طرح حضرت مسیح کے لئے صدیوں کا عرصہ گزر جانا بھی جائز ہے اور اس صورت میں حضرت ابن عباسr کا مذہب ماننا پڑے گا۔ توفی کی لغوی بحث آگے آتی ہے۔
مرزاقادیانی نے وفات عیسیٰm پر ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ پیش کی ہے۔ انہوں نے اس کا ترجمہ بدیں الفاظ کیا ہے۔ ’’بلکہ خداتعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔‘‘ ترجمہ کے بعد پھر لکھا ہے: ’’اس جگہ رفع سے مراد موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ورفعناہ مکانا علیا ‘‘
(ازالہ اوہام ص۵۹۹، خزائن ج۳ ص۴۲۳)
مرزاقادیانی نے مراد کا لفظ لکھ کر ثابت کر دیا کہ وہ اس جگہ مرادی ترجمہ کرتے ہیں اور ترجمہ آیت میں حسب مراد خود جو چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں۔ نیز ثابت کر دیا کہ اس جگہ ’’رفع‘‘ کے لغوی معنی مرزاقادیانی کے مذہب کو دفع کر رہے ہیں۔ آیت:’’ورفعناہ مکانا علیا‘‘ جو حضرت ادریسm کی شان میں ہے۔ وہ نہ ان مرادی معنی پر دلالت کرتی ہے اور نہ مرزاقادیانی کے کچھ مفید ہی ہے۔ کیونکہ یہاں ’’رفع‘‘ کا لفظ ’’مکانا علیا‘‘ سے مضاف ہے اور جس کے یہ معنی ہیں کہ رب کریم نے حضرت ادریس کو رتبہ ’’علیا‘‘ پر فائز کیا اور منصب برتر پر ممتاز فرمایا۔ ایسا ہی دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’تلک
الرسل فضلنا بعضہم علٰی بعض ورفعنا بعضہم درجٰت‘‘ یہ رسول ہیں۔ جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ہے اور بعض کے درجے ہم نے بلند کئے ہیں۔ اس میں ’’رفع‘‘ کو درجات کی طرف مضاف کیا ہے۔ پس واضح ہوا کہ مرزاقادیانی نے یہ مرادی معنی تو اللہ تعالیٰ کے مقصود ومطلوب کلام کے خلاف کئے ہیں۔ لہٰذا روشن ہوا کہ ’’رفع‘‘ کے معنی یہاں بھی وہی ہیں جو لغت میں ہیں اور جو ہر جگہ لئے اور سمجھے سمجھائے بولے جاتے ہیں یعنی بلند کرنا اب چونکہ یہاں ’’رفع‘‘ کا لفظ ہے اور وہ ’’الیّٰ‘‘ کی طرف مضاف ہے تو صاف اور سیدھے معنی جن کو لغب کی امان حاصل ہے۔ یہ ہیں کہ ہم نے عیسیٰ کو اپنی طرف اوپر اٹھالیا۔ ’’الی‘‘ کے معنی ہیں فوق۔ جہت، علو کی بحث (جو مسئلہ صفات کا حصہ ہے) شامل کی جاسکتی ہے۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان صفات الٰہی سے منکر نہ ہوں گے اور مسئلہ صفات میں اہل سنت والجماعۃ کا مذہب چھوڑ نہ بیٹھے ہوں گے۔
ناظرین! بجائے اس کے کہ مرزاقادیانی اس آیت سے وفات عیسیٰm ثابت کر سکتے۔ ان کو شروع تقریر میں ہی اپنے ضعف استدلال کا خود اقرار کرنا پڑا اور یہ ماننا لازمی ہوا کہ جو معنی ہم نے کئے ہیں۔ وہ مرادی معنی ہیں۔ مجھے نہایت تعجب آتا ہے کہ ’’توفی‘‘ کے لفظ پر تو مرزاقادیانی نے اتنا زور دیا ہے کہ گویا تم بحث کا لب لباب اور کل دلائل کا عطر مجموعہ یہی لفظ ہے اور وہ سارا زور صرف اس بات پر ہے کہ ’’توفی‘‘ کے لغوی اور اصلی معنی وفات کے ہیں۔ مگر ’’رفع‘‘ میں آکر اس تمام جوش وخروش کو سینہ میں دبا کر چاہتے ہیں کہ اس کے لغوی اور اصلی معنی کو چھوڑ کر مرادی معنی لے لیں اور اس طرح پر آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مثل کے موافق تب ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘کا ترجمہ کر سکتے اور ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘سے استدلال کرنے کے قابل ہوں۔ میں اس مقام پر زیادہ بحث اس لئے نہیں کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی بھی اس دلیل کے موقع اور مقام پر بجز مرادی معنی لکھ دینے کے اور کچھ نہیں لکھ سکے۔ آگے چل کر اس کی بحث پھر آئے گی۔ تاہم میں مرزاقادیانی کے غور کے لئے اس قدر یہاں اور بھی لکھ دینا چاہتا ہوں کہ حضرت وعدہ تو ہوا تھا۔ ان الفاظ میں ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘اور پھر جب اس وعدہ کے ایفاء کی خبر دی تو ان الفاظ ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘میں دی۔ آپ نے ازالہ کے مختلف مقامات پر واضح لفظوں میں تسلیم کر لیا
ہے کہ ’’ورافعک الیّٰ‘‘کے معنی باعزت موت لینے کے لئے یہ قرینہ ہے کہ ’’متوفیک‘‘ اس سے پہلے پڑا ہوا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ اگر ’’متوفیک‘‘ اس سے پہلے نہ ہوتا تو ’’ورافعک الیّٰ‘‘ کے معنی باعزت موت کے لینے جائز نہ تھے۔
لیجئے جناب! خبر ایفائے وعدہ میں اللہ تعالیٰ نے ان دو وعدوں کے لفظوں میں سے ایسے لفظ پر اختصار فرمایا ہے۔ جس کے معنی کو نہ حقیقتاً نہ مجازاً موت سے کچھ بھی تعلق نہیں کیا۔ آپ اس کا راز بیان کر سکتے ہیں۔ دیکھنا کہیں ابن عباسr کا مذہب جس کو آپ نے الحاد قرار دیا ہے وہی صحیح نہ ہو جائے کہ: ’’رافعک الیّٰ الان ومتوفیک بعد نزول علی الارض‘‘
ناظرین! یہ مرزاقادیانی کا دوسری مستدلہ آیت میں حال ہے کہ نصوص شرعیہ کے الفاظ کو مرادی معنی کے تابع کیا جاتا ہے۔
وفات عیسیٰm پر مرزاقادیانی نے ’’فلما توفیتنی‘‘ پیش کی۔ اس آیت کے ضمن میں لفظ ’’توفی‘‘ پر نہایت پرجوش اور زوردار لفظوں میں بحث کی ہے۔ لکھا ہے توفی کے معنی اماتت اور قبض روح ہیں۔ بعض علماء نے الحاد اور تحریف سے اس جگہ ’’توفیتنی۱؎‘‘ سے ’’رفعتنی‘‘ مراد لیا ہے اور اس طرف ذرا خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں۔ پس یہی تو الحاد ہے۔ قرآن شریف نے اوّل سے آخر تک بلکہ صحاح ستہ میں بھی انہی معنی کا التزام کیاگیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص۶۰۰، خزائن ج۳ ص۴۲۴)
۱؎مرزاقادیانی دیکھیں کہ جب آپ نے محض ایک لفظ ’’توفیتنی‘‘ کے معنی ’’رفعتنی‘‘ لینے سے سینکڑوں سال کے مرے ہوئے ہزاروں علماء پر فتویٰ الحاد جاری کردیا اور ان کو ملحد کہنے میں ان کے ایمان واسلام، اقرار شہادتین وغیرہ کا کچھ خیال نہ کیا۔ تب آپ کو حال کے علماء سے اپنے فتویٰ تکفیر کے بارہ میں کیا شکایت ہوسکتی ہے؟ جنہوں نے آپ کی تصانیف میں ہزاروں ایسے نمونہ پائے ہیں جن کو وہ نیز تیرہ سو سال کے پہلے مسلمان کفر سمجھتے رہے ہیں۔ (گو آپ کے زمانہ مجددیت نے اب ان کو تجدید اسلام کا نام عطاء فرمادیا ہو) کیا ’’من صلّی صلو تناوا ستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا‘‘ کی حدیث کو آپ صرف اپنے بچاؤ کا حصار جانتے ہیں؟ مگر خود حملہ کرنے کے وقت حریف کو اس کی آڑ لینے بھی نہیں دیتے۔ میں مولوی محمد حسن امروہوی (قادیانی) سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اپنی کتاب ’’تحذیر المؤمنین عن کفار المسلمین‘‘ سب سے پہلے اپنے پیرومرشد کے ملاحظہ کے لئے پیش کریں۔
اب مجھے لازم ہے کہ ’’توفی‘‘ کے لفظ پر بحث کروں اور لغت نیز قرآن مجید سے اس کے معنی اماتت اور قبض روح کے سوا اور بھی ثابت کردوں۔
۱… صحاح میں ہے ’’اوفاہ حقہ‘‘ (باب افعال سے) اور ’’وفاہ حقہ‘‘ (باب تفعیل سے) ’’استوفاہ حقہ‘‘ (باب استفعال سے اور توفاہ باب تفعل سے جو زیر بحث ہے) سب ایک ہی معنی رکھتے ہیں کہ اس کا حق پورا دے دیا۔ ’’توفاہ اللہ ‘‘ کے معنی قبض روح ہیں اور توافی کے معنی نیند۔
۲… ایفاء گزار دن حق کسے بہ تمام۔ ’’ویقال منہ واوفاہ حقہ ووفاہ اسیتفاء وتوفی‘‘ تمام گرفتن حق ’’وتافہ اللہ ای قبض روحہ وفاہ مردن۔ موافاۃ‘‘ رسیدن وآمدن۔ ’’وتوا فی القوم ای تناموا‘‘
۳… قاموس میں ہے: ’’اوفی فلانا حقہ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ اس کو پورا حق دے دیا۔ جیسے ’’وفاہ‘‘ اور ’’اوفاہ‘‘ اور ’’استوفاہ‘‘ اور ’’توفاہ‘‘ کے یہی معنی ہیں۔ وفات بمعنی موت ہے۔ ’’توفاہ اللہ ‘‘ کے معنی قبض روح ہیں۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ کتب مذکورہ بالا سے ان کو کوئی ایسی مثال یا محاورہ دکھلا دیا جائے جس میں لفظ ’’توفی‘‘ بمعنی قبض جسم بولا گیا ہو۔ اب وہ ’’توفاہ حقہ‘‘ کے محاورہ پر غور کریں۔ جس سے درہم ودینار وغیر اجسام کا قبض کرنا ثابت ہے۔
اب تفاسیر کی طرح آئیے۔ تفسیر بیضاوی میں ہے: ’’توفی‘‘ کسی چیز کے پورا لینے کو کہتے ہیں۔ مرزاقادیانی جو ’’توفی‘‘ کے معنی روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتاتے تھے اور کہتے تھے اس کے سوا اور کوئی معنی نہیں۔ وہ ذرا اس لفظ پر خیال فرماویں جو بیضاوی جیسے متبحر وماہر نے لکھا ہے: ’’التوفی اخذا وافیا‘‘ مارنا اس کی ایک قسم ہے۔ (اور نیند اس کی دوسری قسم) ان دونوں قسموں کا اس قول ربانی میں ذکر ہے۔ خدائے تعالیٰ جانوں کو موت کے وقت پورا لیتا ہے۔ (یعنی مارتا ہے) اور جو نہیں مرتے ان کو نیند میں پورا لیتا ہے۔ (یعنی سلادیتا ہے)
تفسیر کبیر میں ہے: ’’توفی‘‘ کے معنی قبض کرنا ہے۔ اس لفظ سے عرب کے محاورات یہ ہیں۔ ’’وفانی فلان دارہمی۔ واوفانی وتوفیتہا منہ‘‘یعنی فلاں شخص نے میرے درہم میرے قبضہ میں دے دئیے اور میں نے اس سے پورے کر لئے۔ خیال فرمائیے یہ محاورہ قبض جسم کی مثال ہے۔ (جس کے مرزاقادیانی منکر ہیں) جیسے یہ محاورات ہیں۔ ’’سلم فلان دراحمی الیّٰ وتسلمتہا منہ‘‘یعنی فلاں شخص نے میرے درہم مجھے سپرد کر دئیے اور میں نے اس سے لے لئے اور کبھی ’’توفی‘‘ بمعنی ’’استوفی‘‘ آتا ہے۔ جس کے معنی پورا لینے کے ہیں۔ اس دونوں معنی کے اعتبار سے کہ خود ’’توفی‘‘ کے معنی بھی قبض کرنا ہے اور ’’توفی‘‘ کے معنی ’’استوفی‘‘ بھی ہیں۔ حضرت مسیح کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر چڑھا لے جانا ان کی ’’توفی‘‘ ہے۔اس پر اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب ’’توفی‘‘ بعینہٖ رفع جسم ہوا تو ’’متوفیک‘‘ کے بعد ’’رافعک الیّٰ‘‘ کہنا تکرار بلافائدہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’متوفیک‘‘ فرمانے سے صرف قبض کرنا معلوم ہوا جو ایک جنس اور عام مفہوم ہے اور اس کے تحت میں کئی انواع واقسام پائے جاتے ہیں۔
۱… موت۔ (جس میں صرف روح کو قبض کرنا ہوتا ہے)
۲… جسم کو آسمان پر لے جانا۔ (جس میں روح کی شمولیت بھی پائی جاتی ہے)
۳… نوم جس میں ایک قسم کا قبض روح ہوتا ہے۔
پس جب ’’متوفیک‘‘ فرمانے کے بعد ’’ورافعک الیّٰ‘‘ بھی فرمادیا تو اس سے اس جنس کی ایک نوع کا تقرر ہوگیا اور تکرار لازم نہ آیا۔
اسی تفسیر میں آیات زیر بحث کی تفسیر میں ہے: ’’یتوفاکم باللیل‘‘ کے معنی ہیں۔ خداتعالیٰ تم کو رات کو سلادیتا ہے اور تمہاری ان ارواح کو قبض کر لیتا ہے۔ جس سے تم ادراک اور تمیز کر سکتے ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ خداتعالیٰ ارواح کو نیند کے ساتھ قبض کرتا ہے۔ جیسا کہ موت کے ساتھ قبض کرتا ہے۔ لغات اور تفاسیر کے بعد آپ قرآن مجید کی آیات ذیل پر غور فرمائیے:’’ہو الذی یتوفاکم باللیل ویعلم ماجرحتم بالنہار ثم یبعثکم فیہ لیقضٰی اجل مسمی (انعام:۶۰)‘‘{خدا وہ ہے جو تم کو رات کے وقت پورا قبض کر لیتا ہے اور جو تم دن کو کیا کرتے ہو۔ اس کو جانتا ہے پھر تم کو دن میں اٹھاتا ہے تاکہ تمہاری میعاد حیات پوری کرے۔}
مرزاقادیانی جو (ازالہ اوہام ص۶۰۰، خزائن ج۳ ص۴۲۴) پر ’’توفی‘‘ کے معنی صرف اماتت یعنی ماردینا اور روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتاتے تھے۔ اپنے ان معنی کو ملحوظ رکھ کر ذرا اس آیت کا ترجمہ تو کر دیں۔ مگر یاد رکھیں کہ اگر اس شبانہ روزی موت کا آپ نے اقرار کر لیا تو آپ کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے گا۔
’’اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا فیمسک التی قضٰی علیہا الموت ویرسل الاخرٰی الٰی اجل مسمی (زمر:۴۲)‘‘{خداتعالیٰ موت کے وقت جانوں کو پورا قبض کر لیتا ہے اور جو نہیں مرتے۔ ان کی توفی نیندمیں ہوتی ہے۔ یعنی نیند میں ان کو پورا قبض کر لیا جاتا ہے۔ پھر ان میں جس پر موت کا حکم لگا چکتا ہے اس کو روک لیتا ہے اور دوسری کو (جس کی موت کا حکم نہیں دیا) (نیند میں توفی کے بعد) ایک وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔}
مرزاقادیانی کو لازم بلکہ واجب ہے کہ اس آیت میں: ’’توفی‘‘ کے معنی ضرور ہی اماتت کے لیں۔ کیونکہ یہاں نفس انسانی مفعول اور خدافاعل بھی ہے۔ لیکن اگر ان کو اس جگہ ’’توفی‘‘ کے معنی اماتت لینے میں کچھ پس وپیش ہو۔ جیسا کہ (ازالہ اوہام ص۳۳۲، خزائن ج۳ ص۲۶۹) پر اس تذبذب اور اندرونی بے چینی کو ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے کہ یہ دو مؤخر الذکر آیتیں اگرچہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں۔ مگر درحقیقت ان دونوں آیتوں میں نیند بھی نہیں مراد لی گئی تو ان کو (ازالہ اوہام ص۶۰۱، خزائن ج۳ ص۴۲۴) لکھے ہوئے الفاظ سے ذرا شرم فرمانی چاہئے کہ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک ’’توفی‘‘ کے معنی اماتت کا ہی التزام کیاگیا ہے۔ حوالہ کتب لغت اور نقل محاورات اور ثبوت آیات قرآنیہ کے بعد میں بہتر سمجھتا ہوں کہ (ازالہ ص۶۰۱) کے جواب میں اسی کا (ص۳۳۲) پیش کر دوں۔ جس میں آپ نے ’’توفی‘‘ کے معنی اس جگہ بظاہر نیند ہونا قبول کر لئے ہیں اور پھر لکھا ہے کہ ’’اس جگہ ’’توفی‘‘ سے حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔ ہم کو آپ کا اس قدر اقرار بس ہے۔ کیونکہ خواہ آپ نے لفظ بظاہر کی قید لگائی یا مجاز کی۔ بہرحال آپ کا وہ دعویٰ (ازالہ اوہام ص۹۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰۳) کہ قرآن مجید میں لفظ توفی بجز قبض اور وفات دینے کے دوسرے معنی میں مستعمل ہی نہیں ہوا۔ غلط ثابت ہوگیا۔
لفظ توفی پر اس قدر بحث وتحقیق کے بعد اب میں مرزاقادیانی کی وجہ استدلال کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ جس سے آپ نے اس آیت کو تیسری دلیل وفات مسیح پر قرار دیا ہے۔
مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’فلما توفیتنی‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے: ’’واذ قال اللہ یا عیسیٰ… (الخ) قال‘‘ ماضی کا صیغہ ہے اور ’’اذ‘‘ جو خاص ماضی کے واسطے آتا ہے اس سے پہلے موجود ثابت ہوا۔ یہ قصہ نزول آیت کے وقت ایک ماضی قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا۔ پھر جو جواب حضرت عیسیٰ کی طرف سے ہے یعنی ’’فلما توفیتنی‘‘ وہ بھی صیغہ ماضی ہے۔
(ازالہ ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵ ملخص)
غرض اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ مرچکے اور اس مرنے کا اقرار خود ان کی زبان کا موجود ہے۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہم حضرت عیسیٰ اور رب العالمین کے اس سوال وجواب کو زمانہ مستقبل کا سوال وجواب ثابت کر دیں اور پھر ’’توفیتنی‘‘ کے بعد معنی ’’رفعتنی الی السماء‘‘ علماء مفسرین نے لئے ہیں۔ اس کا قرینہ اسی آیت میں سے نکال دیں تو کچھ شک نہیں کہ مرزاقادیانی کی یہ دلیل بھی ان کے حق میں بالکل بودی اور ضعیف ثابت ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ ’’قال‘‘ کے ماضی ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔ مگر یہ غلط ہے کہ ’’اذ‘‘ صرف ماضی کے واسطے آتا ہے یا جب ماضی پر آتا ہے تو اس جگہ زمان مستقبل مراد ہونا ممتنع ہوتا ہے۔ دیکھو ’’ولو ترا اذ فزعوا (السباء:۵۱) اذ تبر الذین اتبعوا (البقرۃ:۱۶۶)‘‘میں ماضی پر ’’اذ‘‘ آیا ہے۔ مگر وہی حال قامت کے لئے۔ علیٰ ہذا مضارع پر بھی ’’اذ‘‘ آیا ہے۔ پڑھو یہ آیت: ’’واذ یرفع ابراہیم القواعد (البقرۃ:۱۲۷)‘‘ اور ’’واذ تقول للمؤمنین (آل عمران:۱۲۴)‘‘مگر ہاں! سنت اللہ یہ ہے کہ زمان مستقبل کے جن امور کا ہونا یقینی اور ضروری ہے ان کو بصیغہ ماضی بیان کیا جایا کرتا ہے۔ جس شخص کو نظم قرآنی کے سمجھنے میں ذرا بھی مناسبت ہو گی۔ جس نے تھوڑی سی توجہ بھی قرآن مجید کے ایک پارہ کی تلاوت کی ہو گی وہ ہمارے بیان کی صداقت سے بخوبی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ قیامت کا ذکر خصوصیت سے ایسا ذکر ہے جس کو جابجا صیغہ ماضی سے بیان کیاگیا ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح واقعات گزشتہ کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اسی طرح احوال
قیامت میں کسی کو مجال انکار ومقام شبہ باقی نہ رہ جائے۔ مثلاً حدیث صحیح میں آیا ہے: ’’جاء ت الراجفۃ تتبعہا الرادفۃ‘‘پہلا نفخ صور آ گیا۔ اس کے ساتھ دوسرا بھی ہے۔ قرآن میں ہے: ’’اتی امر اللہ ‘‘ قیامت آ گئی۔ گو ’’جاء ت‘‘ اور ’’اتی‘‘ صیغہ ماضی ہیں۔ مگر زمان مستقبل کی خبر دیتے ہیں۔ اس طرز کلام میں یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ ان امور کا واقع ہونا ذرا بھی غیریقینی نہیں۔
اب یہ معلوم کرنے کے لئے کہ یہ پرسش وگزارش یہ سوال اور جواب زمانہ ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ ’’یوم الدین‘‘ کے وقوعی امر کا اخبار ہے۔ آپ قرآن مجید کی طرف توجہ فرمائیں کہ شروع قصہ مسیح ابن مریم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علّام الغیوب (المائدۃ:۱۰۹)‘‘ {جس دن خداتعالیٰ رسولوں کو اکٹھا کر کے فرمائے گا تم کو تمہاری امتوں نے کیا جواب دیا۔ عرض کریں گے ہم کو اس کی خبر نہیں۔ تو علّام الغیوب ہے۔} ’’الرسل‘‘ لانے کے بعد ایک اولوالعزم رسول کے ساتھ جو سوال وجواب ہوں گے ان کی خصوصیت سے تصریح بھی فرما دی اور اس سوال وجواب کے لکھنے سے پہلے مسئول عنہ کی قدر ومنزلت دکھلانے کے واسطے ان نعمتوں، عزتوں کا شمار بھی فرمایا جو حضرت عیسیٰ کو عطاء کی گئی تھیں۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس ہولناک دن میں کیسے کیسے ممتاز رسولوں کو اپنی اپنی پڑی ہو گی اور مشرکین کو ان کے معبود ذرا بھی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے۔
پھر دیکھو کہ اس جواب وسوال کے ختم ہونے اور حضرت عیسیٰ کی بے گناہی کو تسلیم کر لینے کے بعد حضرت عیسیٰ کے الفاظ ’’ان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (المائدۃ:۱۱۸)‘‘ کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے:’’قال اللہ ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم (المائدۃ:۱۱۹)‘‘آج تو وہ دن ہے کہ صادقین کو ان کا صدق نفع پہنچائے۔ اب اس میں تو شک نہیں کہ ’’ہذا یوم‘‘ اس سوال وجواب کے دن ہی کو کہا گیا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ ’’ینفع الصادقین صدقہم‘‘ کا ظہور قیامت کے روز ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کو چاہئے کہ اب ’’اذ قال‘‘ کی کوئی اور توجیہ پیش کریں۔
اب ناظرین آیت ومعنی آیت ملاحظہ فرمائیں: ’’فکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (المائدۃ:۱۱۷)‘‘{میں ان کی نگہبانی کرتا رہا۔ جب تک ان کے درمیان موجود رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان کا نگہبان اور رکھوالا تھا۔} واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دینے کے وقت ’’ان متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘فرمایا تھا۔ ’’توفی‘‘ کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ یہ ایک جنس ہے جس کے تحت میں بہت انواع ہیں۔ ’’رفع‘‘ بھی اسی کی ایک نوع ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ کے لفظ سے خبر دی ہے تاکہ تعیّن ہو جائے اور اس لئے جب مفسرین نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ خود اس جنس سے تعیّن ایک نوع کی فرماچکا ہے تو انہوں نے ’’فلما توفیتنی‘‘ کے معنی بھی مراد سبحانی وتعیّن ربانی کے موافق کئے جس کو مرزاقادیانی نے خود نہیں سمجھا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے سب مفسرین پر الحاد اور تحریف کرنے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ حضرت! اس میں مفسرین کا کچھ قصور نہیں۔ اگر تحریف اسی کا نام ہے تو وہ خود اس کلام پاک اور قدیم کے متکلم کی طرف سے وقوع میں آئی ہے جو فتویٰ لگانا ہو اس پر لگائیے۔ (معاذ اللہ ) میں یہ بھی کہتا ہوں کہ خارجی دلائل کو تائید میں لانے سے پہلے خود اس آیت کے اندر دلائل کی تلاش کرنے سے بہت کچھ ملتا ہے۔ حضرت عیسیٰ نے یوں عرض کیا ہے: ’’کنت علیم شہیدا مادمت فیہم‘‘یعنی جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا تب تک ان کا نگہبان تھا۔ یہ الفاظ بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰm کے رہنے یعنی زندگی بسر کرنے کا کوئی ایسا زمانہ بھی ہے جب کہ وہ اپنی امت میںموجود نہیں رہے اور ان کو منصب رسالت وتبلیغ ووعظ وانذار سے کوئی علاقہ بھی نہیں رہا اور کچھ شک نہیں کہ وہی زمانہ صعود برسماء کا ہے۔
حضرت عیسیٰm کے قول ’’ما دمت فیہم‘‘کے معنی سمجھنے کے لئے حضرت عیسیٰm کے دوسرے قول ’’مادمت حیا‘‘پر بھی نظر ڈالنی چاہئے کہ پہلے قول میں آپ نے فرمایا ہے: ’’جب تک میں ان کے درمیان رہا۔‘‘ اور دوسرے قول میں ہے: ’’جب تک میں زندہ رہوں۔‘‘ پہلے میں ان کے درمیان رہنے کی قید اور دوسرے قول میں ’’نماز وزکوٰۃ کے لئے حیات کی قید۔‘‘ کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر ’’فلما توفیتنی‘‘میں حضرت عیسیٰ کو اپنی
موت کا بیان کرنا تھا تو اس کے لئے نہایت واضح لفظ یہ تھے کہ یوں فرماتے: ’’کنت علیہم شہیدا مادمت حیا فلما توفیتنی کنت انت الرقیب‘‘جب کہ ایسا نہیں فرمایا تو ثابت ہوا کہ آپ کی یہ تیسری مستدلہ آیت بھی آپ کے دعویٰ کا کچھ ثبوت نہیں۔ بلکہ روشن ہوگیا کہ حیات مسیح کے لئے ہماری دلیل ہے۔ ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ مرزاقادیانی نے اپنی دیگر مستدلہ آیات کی نسبت تو دلالت کا لفظ استعمال کیاہے۔ یعنی یہ آیت دلالت کرتی ہے اور وہ آیت دلالت کرتی۔ مگر اس تیسرے نمبر کی آیت کی نسبت یہ الفاظ لکھے تھے کہ یہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے مرنے پر کھلی کھلی گواہی دے رہی ہے اور جو آیت ان کے زعم میں کھلی کھلی گواہی دیتی تھی، اسی میں ان کا ضعف استدلال اس قدر ہے۔
جس کا موت مسیحm پر دلالت کرنا مرزاقادیانی نے تحریر کیا ہے، وہ یہ ہے: ’’ان من اہل الکتٰب الا لیؤمنّن بہ قبل موتہ‘‘اس کی وجہ استدلال مرزاقادیانی نے اس جگہ کچھ نہیں لکھی۔ صرف یہ تحریر کیا ہے کہ اس کی تفسیر اسی رسالہ میں ہم بیان کر چکے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۳، خزائن ج۳ ص۴۲۵)
حالانکہ تمام روئے زمین کے علماء علم نحو کا اس قاعدے پر اتفاق ہے کہ جب مضارع پر لام تاکید اور نون ثقیلہ واقع ہوتے ہیں تو فعل مضارع اس جگہ خالص مستقبل کے لئے ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا قاعدہ ہے جس کو مرزاقادیانی آج تک غلط ثابت نہیں کر سکے اور نہ کر سکیں گے۔ بلکہ جب یہاں آکر نہایت دست پاچہ ہو گئے تو یہ جواب بنایا: ’’ہمارے پر اللہ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف ونحو کو اپنے لئے ایسا رہبر قرار دے دیں کہ باوجودیکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کسی آیت کے معنی کھل جائیں اور
اس پر اکابر مؤمنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ صرف یا نحو کو ترک نہ کریں۔ اس بدعت۱؎ کے الزام کی ہمیں حاجت کیا ہے۔‘‘
(مباحثہ دہلی ص۵۳، خزائن ج۴ ص۱۸۳)
اس جواب سے جو علمیت وقابلیت اور پھر اس پر زبان دانی اور الہام یابی کا افتخار ظاہر ہورہا ہے۔ وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیسری آیت کی وجہ استدلال میں جب مرزاقادیانی نے حرف ’’اذ‘‘ اور ’’قال‘‘ پر نحوی بحث کی تھی اس وقت تو اس بدعت کے التزام کی ان کو حاجت تھی۔ اب کہ اس التزام سے دعویٰ ٹوٹتا ہے اور بے شمار وساوس ودورازکار خیالات (جن کو بڑی آب وتاب کے ساتھ مجموعہ اوہام میں جلوہ دیا گیا ہے) ’’ہبآء منثورا‘‘ کی طرح اڑے جاتے ہیں تو اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ کو اس التزام بدعت کی کچھ حاجت نہیں رہی۔ مگر اس لئے کہ آپ کو اس کی حاجت نہیں رہی۔ لازم نہیں آتا کہ قاعدہ نحوی کی صحت بھی باقی نہیں رہی۔ ناظرین یاد رکھیں کہ ’’لیؤمنن۲؎‘‘ خالص مستقبل کے لئے ہے۔
۱؎صرف ونحو کو بدعت کہنا یہی مرزاقادیانی کی بدعت ہے۔ شاہ اسماعیل صاحب شہیدv اپنے رسالہ ’’ایضاع الحق الصریح‘‘ میں فرماتے ہیں: جمع قرآن وترتیب سورونماز تراویح واذان اوّل برائے نماز جمعہ واعراب قرآن مجید ومناظرہ اہل بدعت بدلائل نقلیہ وتصنیف کتب حدیث۔ تبین قواعد نحو، وتنقید رواۃ حدیث، واشتغال یا استنباط احکام فقہ بقدر حاجت۔ ہمہ از قبیل ملحق بالسنۃ ست کہ درقرون مشہود لہا بالخیر مروج گردیدہ۔ وبآں تعامل بلانکیر درآں قرون جاری شدہ۔ چنانچہ برمہرہ فن مخفی نیست۔ مرزاقادیانی دیکھیں کہ قواعد نحو کو کن علوم ہمایوں کے پہلو میں جگہ دی گئی ہے۔ پھر اس ملحق بالسنۃ ہونا، قرون مشہود لہا بالخیر میں بلاانکار احد سے مروج ہونا اور تعامل کے زبردست سلسلہ میں (جس کی اوٹ آپ اکثر لیا کرتے ہیں) آ جانا یہ سب امور کس وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں اور اگر فقرہ میں یہ بھی ظاہر فرمادیا ہے کہ ان سے انکار کرنے والا تاریخ اسلامی سے ناواقف محض ہے۔
۲؎ایک دوسری آیت میں ہے: ’’ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنّٰن بہ ولتنصرنہ (آل عمران:۸۱)‘‘ صرف حاضر وغائب کا فرق ہے۔ مرزاقادیانی اس کو بھی ماضی بنا کر ترجمہ کر دکھلائیں۔
دوسری بحث ’’بہ‘‘ کی ضمیر پر ہے کہ اس کا مرجع کون ہے۔ مرزاقادیانی ’’بہ‘‘ کا مرجع بیان مذکورہ بالا کو بتاتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱) اور ہم حضرت عیسیٰm کو۔ لیکن بیان مذکورہ کو مرجع قرار دینے سے ہمارا کچھ حرج نہیں۔ یعنی محض بہ کا مرجع بیان مذکورہ قرار دینے سے مرزاقادیانی کا مذہب ثابت ہونا ممکن نہیں۔ تیسری بحث ’’قبل موتہ۱؎‘‘ کی ضمیر پر ہے اور یہ بھی ’’لیؤمنن‘‘ کی طرح ضروری بحث ہے۔ کیونکہ جو کوئی ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع قرار دیا جائے گا، اسی کی حیات بالفعل ثابت ہو جائے گی۔ بعض مفسرین نے ’’قبل موتہ‘‘ کے مرجع قرار دینے میں مختلف اقوال لکھے ہیں۔ مگر اہل سنت والجماعت کے جمہور کا مختار مذہب یہ ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰm ہیں۔ مرزاقادیانی نے بھی مسلمانوں کے حال پر رحم فرما کر (ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱) پر ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰm کو قرار دیا ہے اور گو آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے بڑے بڑے لمبے لمبے جملہائے معترضہ بیچ میں ڈال کر معنی کچھ کے کچھ کر گئے ہیں۔ مگر ہم اس کو لاکھ غنیمت سمجھتے ہیں کہ ’’قبل موتہ‘‘ کے مرجع میں وہ ہم سے خلاف نہیں۔
(ازالہ اوہام ص۳۸۵، خزائن ج۳ ص۲۹۸)
۱؎مرزاقادیانی نے بہ کی ضمیر کا مرجع بیان مذکورہ اور ’’قبل موتہ‘‘ کا مرجع کتابی ہی بتایا ہے۔ مگر معلوم نہیں کہ ’’یوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ میں ’’یکون‘‘ کا فاعل کس کو قرار دیں گے۔ اگر حضرت عیسیٰm کو ہی قرار دیں گے تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ضمائر میں اس قدر بعد وانفعال تقیہ کلام میں داخل ہے جو فصاحت وبلاغت سے سخت مخالف ہے۔ پھر ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع کتابی کو کہنا اس لئے غلط ہے کہ اس صورت میں ’’قبل موتہ‘‘ کا جملہ کلام میں ذرا بھی فائدہ نہیں دیتا۔ کیونکہ ’’لیؤمنّن‘‘ میں جو ایمان لانے کی خبر ہے وہ خود حیات کتابی کی مقتضی ہے۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ بعد از موت یقین کرنے کا نام بھی شرع میں ایمان رکھا گیا ہے اور یہ بالبداہت باطل ہے۔ واضح رہے کہ شرع میں حالت نزع بھی بعد از موت میں داخل اور زمانہ حیات سے خارج ہے۔ دیکھو جب فرعون نے اپنے غرق ہونے کو یقینی معلوم کر کے ’’امنت برب بنی اسرائیل‘‘ کہا تو اس کے جواب میں اس کو یہی کہا گیا: ’’والان وقد حصحص الحق‘‘ غرض مرزاقادیانی کے معنی ہر طرح سے نظم قرآنی کے خلاف ہیں۔ اگرچہ ان کے وہ معنی بھی کسی طرح سے مفید مطلب نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ لیؤمنّن صیغہ ماضی نہیں بن سکتا۔
پھر قند مکرر کے طور پر اس شہادت کو ادا کیا ہے اور تسلیم کر لیا کہ ’’قبل موتہ‘‘ کا مرجع عیسیٰm ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’قبل موتہ‘‘ کی تفسیر یہ ہے کہ ’’قبل ایمانہ بموتہ‘‘ ہم کو ان معنی سے کچھ سروکار نہیں۔ ضمیر کا مرجع جس کو ہم نے قرار دیا تھا اسی کو مرزاقادیانی نے تسلیم بھی کر لیا۔ ’’وللّٰہ الحمد‘‘ اب اس تسلیم کے بعد مرزاقادیانی اور ان کے تمام اعیان وانصار کے لئے محال کلی ہے کہ اس آیت سے وفات عیسیٰm کی (صراحت تو کیا) دلالت بھی ثابت کر سکیں۔ اب اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
۱… اور نہیں کوئی اہل کتاب سے۔ مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے۔ (شاہ رفیع الدینv)
۲… اور جو فرقہ کتاب والوں میں سے ہے۔ سو اس پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے۔ (شاہ عبدالقادرv)
۳… ونباشد ہیچ کس از اہل کتاب الایمان آورد بہ عیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ۔ (شاہ ولی اللہ v) ان ہرسہ تراجم میں ’’بہ‘‘ اور ’’قبل موتہ‘‘ دونوں کی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰm ہیں۔ یہی مذہب جمہور ہے۔
۴… اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لاوے گا وہ قرآن کے بیان مذکورہ بالا پر پہلے حضرت عیسیٰ کی موت کے۔ (مرزاغلام احمد قادیانی) یہ معنی مرزاقادیانی کے مذہب پر ہیں جو ’’بہ‘‘ کا مرجع بیان کو اور ’’موتہ‘‘ کا حضرت عیسیٰ کو کہتے ہیں۔
اور ان سب صورتوں میں حیات مسیحm ثابت ہوتی ہے۔ وفات کا کیا ذکر ہے اور اس آیت سے مرزاقادیانی کو استدلال کرنے کی کیا وجہ ہے؟
یاد رکھو کہ جب تک مرزاقادیانی ’’لیؤمنن‘‘ کو مفید معنی ماضی ثابت نہ کر سکیں۔ تب تک وہ اس آیت سے استدلال کا نام بھی نہیں لے سکتے اور وہ ثابت کرنا اس وقت تک ان پر محال ہے۔ جب کہ موجودہ علم نحو کی تمام کتابوں کو ڈبو کر اور تمام عرب اہل زبان کو دریا برد کر کے ازسر نو ملک عرب آباد نہ کریں اور اس میں اپنا نو ایجاد کردہ صرف ونحو جاری نہ فرمادیں۔
مرزاقادیانی نے وفات مسیح کے ثبوت میں تحریر کی ہے:’’ما المسیح ابن مریم
الّا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یا کلان الطعام‘‘ آیت مذکورہ کو مرزاقادیانی نے موت مسیح پر نص صریح لکھ کر بتایا ہے کہ وجہ استدلال یہ ہے کہ: ’’کانا‘‘ حال کو چھوڑ کر گزشتہ کی خبر دیا کرتا ہے۔ اس جگہ ’’کانا تثنیہ‘‘ ہے۔ دونوں اس ایک ہی حکم میں شامل ہیں۔ یہ نہیں بیان کیا گیا کہ حضرت مریمp تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکی گئیں۔ لیکن حضرت ابن مریم کسی اور وجہ سے۔‘‘ اس کے بعد مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اگر اس آیت کو ’’ما جعلناہم جسداً لا یاکلون الطعام‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھیں… تو اس یقینی وقطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقع حضرت مسیح فوت ہو گئے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۴، خزائن ج۳ ص۴۲۶)
ناظرین! یہ غلط ہے کہ: ’’کان‘‘ ہمیشہ حال کو چھوڑ کر گزشتہ زمانہ کی خبر دیا کرتا ہے۔ اگر یہی صحیح ہے تو ’’کان اللہ علی کل شیٔ قدیر‘‘ کا ترجمہ مرزاقادیانی کر کے دکھلائیں۔
اب حقیقت حال سنئے۔ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے دو فرقوں کی تردید وتکذیب دلائل عقلی سے فرمائی ہے اور ان کے کفر کا ثبوت دیا ہے۔
۱…’’لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم۔ وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدو اللہ ربی وربکم (المائدۃ:۱۷)‘‘ البتہ وہ کافر ہوئے جن کا یہ قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے۔ کیونکہ مسیح نے تو خود کہا ہے۔ لوگو! میرے اور اپنے خدا کی عبادت کرو۔
۲…’’لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثہ (المائدۃ:۷۳)‘‘ البتہ وہ بھی کافر ہوئے جو خدا کو تثلیث کا ایک اقنوم کہتے ہیں۔
۳…’’ما المسیح ابن مریم الّا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامّہ صدیقہ۔ کانا یا کلان الطعام (المائدۃ:۷۵)‘‘ اور مسیح ومریم تثلیث کے دوسرے دو اقنوم جیسا کہ رومن کیتھولک کا اعتقاد ہے بھی خدا نہیں۔ کیونکہ مسیح بن مریم تو رسول ہے۔ اس سے پہلے بھی رسول ہو چکے ہیں اور اس کی ماں صحابیہ وصدیقہ ہے۔ دونوں طعام کھایا کرتے تھے۔
صاف ظاہر ہے کہ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ کو عیسائیوں کی غلطی ثابت کرنا اور ان کے کفر پر دلیل قائم کرنا منظور تھا جو مسیح کو خدا قرار دیتے تھے۔ ان پر یوں دلیل قائم کی کہ مسیح
خود لوگوں کو یوں کہا کرتا تھا کہ میرے رب اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ اگر وہ خود خدا ہوتا تو وہ یوں کہا کرتا۔ ’’لوگو! میں جو تمہار رب ہوں۔ میری عبادت کرو۔‘‘ لیکن جب مسیح نے خدا کی ربوبیت کا اقرار کیا ہے تو اس تربیت یافتہ کو رب کہنا کفر ہے۔
جو لوگ ایک خدا کو تین خدا اور تین خدا کو ایک خدا کہتے اور خدا، مسیح۔ مریم کو اقانیم ثلثہ قرار دیتے تھے۔ خداوند کریم نے ان پر دلیل قائم کی کہ جب ہزاروں، لاکھوں شخصوں نے ان دونوں ماں بیٹا کو لوازم بشری کے محتاج اپنی طرح پایا اور دیکھا ہے اور باایں ہمہ پھر ان کو خدا کہنے کی جرأت کی ہے۔ یہ بھی ان کا کفر ہے۔ اب ہر شخص خیال کر سکتا ہے کہ اس میں موت وحیات کی کیا بحث ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ سے وہ مراد ہی نہیں لی تو مرزاقادیانی متکلم کے خلاف ان الفاظ سے معافی نکالنے کے کیا مجاز ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ تفسیر بالرائے کا کیا حکم ہے؟
علاوہ اس کے مرزاقادیانی کو خود اقرار ہے کہ: ’’حضرت مریمp کے طعام نہ کھانے کی وجہ موت اور ابن مریم کے طعام نہ کھانے کی کوئی دوسری وجہ بیان نہیں کی گئی۔ صرف ’’کانا‘‘ کہا گیا ہے۔‘‘ تو اس صورت میں مرزاقادیانی کا کیا حق ہے کہ جس امر کی وجہ اس آیت میں بیان نہیں ہوئی۔ اس کو آپ خود بیان کریں۔ بلکہ اس پر جزم بھی کر دیں۔ کیا ممکن نہیں کہ دو شخصوں کا ایک مشترکہ فعل سے جدا ہونا مختلف اسباب سے ہو۔ مثلاً زید اور عمرو پارسال دونوں لاہور رہتے تھے۔ زید نے تعلیم چھوڑ دی اور عمر ولایت چلا گیا۔ اس مثال میں دیکھو۔ لاہور میں رہائش دونوں کا مشترک فعل ہے۔ مگر اس سے جدا ہونے کے مختلف اسباب ہیں۔
مرزاقادیانی اگر ایسے ایسے دلائل ہی آپ کے مذہب کے مؤید ہیں تو اس کے مقابلہ میں کوئی شخص یہ آیت پیش کر سکتا ہے ’’قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یہلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا (المائدۃ:۱۷)‘‘ اور کہہ سکتا ہے کہ نہ کبھی ’’جمیع من فی الارض‘‘ ہلاک ہوئے اور نہ مسیح اور نہ ان کی مادر
۱؎ترجمہ یہ ہے: ’’کہہ دے کون سی چیز خدا کی روک بن سکتی ہے۔ اگر وہ یہ چاہے کہ مسیح اور اس کی ماں کو نیز تمام مخلوق کو جو کل صفحہ زمین پر ہے۔ ہلاک کر دے۔‘‘ اگر ہلاک کر دے۔ بتا رہا ہے کہ اب تک اللہ تعالیٰ نے ہلاک نہیں کیا۔
صدیقہ ہی کو ہلاکت نے اپنا اثر پہنچایا۔ جس طرح آج ’’جمیع من فی الارض‘‘ زندہ ہیں۔ مسیح اور اس کی ماں بھی زندہ ہے۔ اگر آپ اس کو صحیح نہیں مان سکتے تو وہ آپ کا استدلال باولیٰ غیر صحیح اور سراپا غلط ہے۔
اس آیت کو آپ نے نص صریح کہہ کر پھر استدلال کے وقت اس کے ساتھ دوسری آیت کو ملانے اور پھر یقینی نتیجہ پر پہنچنے کی نسبت جو لکھا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک بھی یہ آیت نص صریح ’’لذاتہا‘‘ نہیں اور نہ ہوسکتی ہے۔ دوسری آیت جس کو ملا کر آپ نے اس دلیل کو کامل بنایا ہے۔ اس کی بحث ذیل میں آتی ہے۔
مرزاقادیانی نے یہ لکھی ہے: ’’وما جعلناہم جسداً لا یاکلون الطعام‘‘ اور تحریر کیا ہے کہ: ’’درحقیقت یہی اکیلی آیت۱؎ کافی طور پر مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا… تو پھر حضرت مسیح کیونکر اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۴، ۶۰۵، خزائن ج۳ ص۴۲۶)
ناظرین! اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جسے طعام (غذا) کی حاجت نہ ہو۔ مگر آیت میں یہ کہاں ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جو فلاں مدت تک بغیر طعام کے زندہ نہ رہ سکے اور جب یہ نہیں تو مرزاقادیانی کے لئے یہ دلیل بھی نہیں۔ مرزاقادیانی کا خیال ہے کہ جو شخص ان کی طرح ہر روز دووقت کھانا نہ کھاتا ہو، وہ مردہ ہے۔ اگر یہی صحیح ہے تو فرنچ قوم کے نزدیک جو دن میں آٹھ دفعہ کھاتے ہیں، کل ہندوستان مردہ ہے اور جو جینی، بودھ پچاس پچاس روز کا برت رکھتے ہیں وہ مردہ درگور ہیں۔ ناظرین! آپ خیال فرماسکتے ہیں کہ کسی جسم کا ایک خاص مدت معین تک اکل وشرب سے جدا رہنا نہ تو اس جسم کے مردہ
۱؎اس فقرہ کے الفاظ ’’درحقیقت یہی اکیلی‘‘ کافی طور پر ناظرین کی توجہ کے لائق ہیں جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس اکیلی کے سواء مرزاقادیانی کی دیگر مستدلہ آیات درحقیقت مسیح کی موت پر دلالت نہیں کرتیں اور اگر ان کو حقیقت کے خلاف اس مسئلہ کی دلیل بتایا بھی جائے تو وہ کافی طور پر دلیل نہیں کہلا سکیں۔ ناظرین! یہ کیسا صاف قرار ہے کہ مرزاقادیانی کے دل میں بھی باقی ۲۹آیتیں ان کے مذہب کی تائید پر نہیں۔ ’’قضی الرجل علی نفسہ‘‘ یاد رکھو کہ ’’یہی‘‘ حصر کے لئے آتا ہے۔ اکیلی نے اس کو اور بھی پرزور کر دیا۔
ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے اور نہ اس جسم کے لوازم جسمانی سے بے نیاز ہونے کی حجت بن سکتا ہے۔ پھر مرزاقادیانی کے لئے یہ آیت کیا دلیل ہے۔ مرزاقادیانی نے اسی موقع پر حفظ ماتقدم پر کاربند ہو کر لکھا ہے: ’’اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بھی تو بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ان کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی ان کو بھی مار چکی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۵، خزائن ج۳ ص۴۲۶)
ان کو واضح رہے کہ اگر مسلم کی حدیث ان کو مار چکی ہے تب بھی ہماری دلیل قائم ہے۔ قرآن مجید اس امر کا گواہ ہے کہ: ’’ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سنین وازدادو تسعا (کہف:۲۵)‘‘ اصحاب کہف ۳۰۹ برس تک اسی معمورہ دنیا کے ایک پہاڑ میں اکل وشرب کے بغیر زندہ رہے۔ ۳۰۹برس بعد ان کو طعام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ان میں سے ایک اس وقت طعام لینے کو پہاڑ سے نکلا۔ مرزاقادیانی غور کریں کہ جس طرح پر تحقیقات حکماء کو جن کا یہ قول ہے کہ زیادہ سے زیادہ ابن آدم ۷۰دن تک بلاطعام کے زندہ رہ سکتا ہے۔ ۳۰۹برس نے غلط ثابت کر دیا۔ اسی طرح مسیح کا دوہزار برس تک بغیر طعام کے زندہ رہ سکنا اور پھر اکل وشرب کی ضرورت کا محسوس کرنا ثابت ہو گیا۔ اگر آپ کی سمجھ میں اب تک یہ بات نہیں آئی تو پہلے تھوڑی سی غلط فہمی کا اقرار کیجئے اور دوسری دلیل کو سماعت فرمائیے۔ شاید آپ یہ جانتے ہیں کہ طعام کا لفظ زبان شرع میں صرف نباتاتی اور زمین کی روئیدگی یا حیوانی غذاء کے لئے آتا ہے اور یہی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ آپ یاد رکھیں کہ زبان شرع میں ان انوار وبرکات کو بھی طعام کہا گیا ہے جو خواص بشر کی جسمانی اور روحانی تربیت ایسی ہی کرتے ہیں جیسے دیگر ماکولات اور روئیدگی زمینی عوام کی تربیت جسمانی کا کام آتی ہیں۔ روزہ وصال کی حدیث میں رسول اللہ a نے فرمایا ہے:’’ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی‘‘
(بخاری ج۲ ص۱۰۱۲، مسلم وغیرہ)
میں تمہاری طرح نہیں (کہ ماکولات میرے حیات کا ذریعہ ہوں) میں رات کاٹتا ہوں اور میرا خدا مجھ کو طعام کھلا دیتا اور سیراب کر دیتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے: طعام کا لفظ موجود ہے اور اس طعام کے مربی بدن ہونے کا بھی اظہار ہے۔ مگر دنیا کے ماکولات سے اس کی نوعیت بھی جداگانہ ہے۔ کیونکہ اگر طعام ربانی بھی دنیوی ماکولات میں سے ہو تو اس کے
کھانے سے تو روزہ باقی نہیں رہتا۔ آنحضرتa روزہ وصال بھی رکھا کرتے اور یہ ربانی اکل وشرب بھی فرمایا کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ اگر ہر جسم طعام کا محتاج ہے تو یہ ضرور نہیں کہ سب کے لئے طعام بھی یکساں ہو۔ جس طرح ایک گڈرئیے اور بادشاہ کے طعام میں اس دنیوی عالم میں بہت بڑا تفاوت ہوتا ہے، اسی طرح ضرور ہے کہ سفلی اور کثیف زندگی والوں کا طعام نوعیت میں اور ہو اور علوی ولطیف زندگی والوں کا طعام اور۔ مسیحm نے کہا ہے: ’’لکھا ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہر ایک بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے جیتا ہے۔‘‘
(متی ولوقا باب:۴، درس:۴)
حضرت مسیحm نے لکھا ہے کہ لفظ سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ صحف انبیاء گزشتہ میں بھی یہ مسئلہ اسی طرح پر مرقوم ہے کہ خاصان خدا کے بدن میں کلام ربانی وہی تاثیر پیدا کردیتا ہے جو عوام کے جسموں میں طعام، اسی کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جس کو ابوداؤد اور امام احمد بن حنبل اور طیالیسی نے روایت کیا ہے۔’’فکیف بالمؤمنین یومئذ۔ قال یجزیہم مایجزی اہل السماء من التسبیح والتقدیس‘‘
(مشکوٰۃ باب علامات بین یدی الساعۃ ص۴۷۷)
راوی نے دریافت کیا یا رسول اللہ ہم ہی بھوک برداشت نہیں کر سکتے۔ اس روز جب کہ طعام الدجال کے ہاتھ میں ہو گا۔ مؤمنین کا کیا حال ہو گا؟ فرمایا: جس طرح آسمان پر رہنے والوں کا طعام اور مایۂ حیات اللہ تعالیٰ کا ذکر تسبیح وتقدیس ہے، اسی طرح مؤمنین بھی ’’سبحان الملک القدوس‘‘ کا ذکر کریں گے اور یہی ذکر ان کا طعام اور مایۂ حیات بن جائے گا۔ غور سے دیکھو کہ مسیحm جب اپنے ارشاد میں انسان کا بلاطعام کے کلام ربانی کی برکت سے زندہ رہنا تجویز کرتے ہیں تو کیا خود ان کو یہ منصب حاصل نہیں ہوسکتا۔ پھر دیکھو کہ رسول کریمa خبر دیتے ہیں کہ اہل السماء تو عموماً ذکر تسبیح وتقدیس سے زندہ رہتے ہی ہیں۔ مگر اہل ارض میں بھی خداتعالیٰ اس ابتلاء کے دنوں میں یہ علوی تاثیر قائم فرمادے گا۔ اب مرزاقادیانی کو واضح ہو کہ ہمارے اعتقاد میں حضرت مسیحm آسمان پر ہیں اور اس لئے تانزول وہ بھی اہل السماء میں سے ہیں۔ لہٰذا ان کا طعام دنیوی طعام نہیں ہوسکتا۔ گو وہ طعام کھاتے بھی ہوں۔ لہٰذا آپ کی مستدلہ آیت آپ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہے۔
مرزاقادیانی نے وفات مسیحm پر یہ پیش کی ہے: ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم‘‘ اس آیت کا ترجمہ مرزاقادیانی نے بدیں الفاظ کیا ہے۔ ’’محمدa صرف ایک نبی ہیں۔ ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔ اب کیا اگر وہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۶، خزائن ج۳ ص۴۲۷)
ناظرین! قابل غور یہ ہے کہ ترجمہ میں یہ الفاظ ’’ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔‘‘ قرآن مجید کے کن الفاظ کا ترجمہ ہیں۔ ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ: ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مگر مرزاقادیانی براہ نوازش کسی لغت کی کتاب میں یہ تو دکھلائیں کہ ’’خلت‘‘ یا ’’خلا‘‘ بمعنی موت زبان عرب میں آیا بھی ہے؟ آپ اس جگہ صرف اپنے دعویٰ کی تائید میں ایسے مصروف ہوئے ہیں کہ خواہ لغت اور محاورہ آپ کے ترجمہ کی غلطی کو صاف ظاہر کر رہا ہو۔ مگر آپ کو اس کی ذرہ پرواہ نہیں۔ اچھا صاحب! اگر ’’خلت‘‘ کے معنی فوت ہو جانا ہی ہیں تو آپ اس آیت:’’سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل (الفتح:۲۳)‘‘کا کیا ترجمہ کرتے ہیں۔ کیا یہی کہ وہ سنت الٰہی ہے جو تم سے پہلے فوت ہو چکی ہے؟ اگر آپ ایسا ترجمہ کریں گے تو آیت ہذا کے ساتھ ملے ہوئے الفاظ: ’’ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا‘‘آپ کے اس ترجمہ کی سخت تکذیب کریں گے۔
پس جب آیت مستدلہ میں مرزاقادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے تو استدلال کی صحت کہاں رہی؟ مرزاقادیانی کے ترجمہ میں اتنے الفاظ تخمینہ زاہیں ’’تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا۔‘‘ حالانکہ نہ ان الفاظ کی کچھ ضرورت تھی اور نہ کسی الفاظ قرآنی کا ترجمہ ہیں۔
ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ آیت کا نزول جنگ احد میں ہوا تھا۔ رسول کریمa اس جنگ میں زخمی ہوکر کشمکش کے اندر ایک غار میں گر پڑے تھے۔ شیطان نے پکار دیا کہ محمدa مارے گئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کا تمام لشکر (بجز خواص اصحاب کے) بھاگ نکلا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ احکام شریعت کی تعمیل صرف اس وقت تک
کی جاتی ہے جب تک نبی اپنی امت میں بہ نفس نفیس موجود رہے؟ یہ تمہارا خیال غلط ہے۔ ذرا خیال کرو کہ کس قدر نبی اور رسول ہو چکے ہیں۔ کیا وہ سب اپنی امت میں موجود ہیں یاان کے متبعین نے اپنا دین محض اسی جہ سے ترک کر دیا ہے؟ اور جب کسی نے بھی ایسا نہیں کیا تو کیا تم ایسا کرو گے؟ پہلے حکمت سے سمجھایا۔ پھر تنبیہ کے لئے رجز آمیز کلمات فرمائے۔ خیال کرو اس میں وفات مسیح کی کون سی دلیل ہے۔
واضح ہو کہ ’’خلت‘‘ کا مصدر ’’خلوا‘‘ ہے اور چند معنی میں مستعمل ہے۔ جدا ہونا یا تنہاء ہونا۔ چنانچہ اس آیت میں ہے: ’’واذا خلا بعضہم الٰی بعض (البقرۃ:۷۶)‘‘جب ایک دوسرے کے پاس سے تنہاء ہوتے ہیں ہوتے رہنا۔ چنانچہ اس آیت میں ہے: ’’وان من امۃ الا خلافیہا نذیر (فاطر:۲۴)‘‘کوئی امت نہیں مگر اس میں ڈرانے والا ہوا ہے اور اس آیت میں ہے: ’’وقد خلت من قبلکم سنن (آل عمران:۱۳۷)‘‘ تم سے پہلے کئی دستور ہوتے رہے ہیں۔ چلے آنا۔ چنانچہ اس آیت میں ہے: ’’سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل (الفتح:۲۳)‘‘یہ سنت الٰہی ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے۔ پس ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ’’ہوتے رہے ہیں ان سے پہلے رسول۔‘‘
یہ یاد رکھو کہ ’’خلا‘‘ اور ’’خلت‘‘ لغت میں زمانہ کی صفت کے لئے آتا ہے۔ (دیکھو قرون خالیہ) مثلاً عرب بولتے ہیں:’’خلت یا خلون من شہر رمضان‘‘ (رضان کی فلاں تاریخ گزری) اور اہل زمانہ کے لئے مجازاً اور اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ ’’خلت‘‘ کا سیدھا اثر رسالت پر ہے نہ رسولوں کے وجود پر۔ لہٰذا آیت: ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرتa سے پہلے بھی بہت رسول رسالت کر چکے ہیں۔ تبلیغ احکام رسالت کرچکنا متضمن اس امر کا نہیں کہ سب کے سب مر بھی چکے ہیں۔ گو ان میں سے اکثر مر بھی چکے ہوں۔ مثلاً (بلاتشبیہ) کوئی اخبار ہندوستان کے نووارد وائسرائے وگورنر جنرل لارڈ ایمچن کو مخاطب کر کے کہے کہ آپ سے پہلے بھی بہت لارڈ وائسرائے کر چکے ہیں تو کیا اس سے لازم آتا ہے کہ لارڈنارتھ بروک، رپن، ڈفرن، لینسڈون جو اب تک زندہ صحیح سالم ولایت میں موجود ہیں، یہ سب مر بھی گئے۔ گو ان میں سے لارڈ لٹن مر بھی گیا ہو اور لارڈ میو قتل بھی ہو چکا ہو۔
ناظرین! بلاغت قرآنی سمجھنے کے لئے یہ غور کرنا چاہئے کہ ’’خلت‘‘ کا لفظ کیوں
استعمال کیاگیا ہے۔ مقتضائے مقام اور بظاہر تناسب کلام تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: ’’قدماتوا وقتلوا من قبلہ الرسل افان مات اوقتل‘‘ (محمدa سے پہلے جتنے رسول تھے یا وہ مر گئے یا قتل ہو گئے۔ پھر اگر آپ بھی قتل ہو جائیں یا مر جائیں) مگر ایسا نہیں فرمایا:’’وﷲ الحجۃ البالغۃ‘‘ وجہ یہ ہے کہ منکرین پر حجت بھی قائم ہو جائے اور آنحضرتa سے پہلے رسولوں اور نبیوں کے زمان رسالت کے منقضی ہونے کی خبر بھی دی جائے اور حضرت مسیح ابن مریمm کی حیات پر دلیل بھی قائم رہے۔’ایہا الناس تفکروا‘‘
اس تمام بیان سے ناظرین کو معلوم ہو گیا ہو گاکہ اللہ تعالیٰ نے لشکر مسلمین پر جو دلیل قائم کی ہے، وہ صحیح ودرست ہے۔ مگر جو مطلب مرزاقادیانی ان الفاظ میں ڈھونڈتے ہیں اسے پاش پاش کرنے کے لئے عرب کا لغت اور قرآن کریم کا اسلوب شمشیر بکف کھڑے ہیں۔تعالیٰ اللہ عن ذلک!
یہ پیش کی ہے: ’’وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افان مت فہم الخالدون‘‘ اور بہت صحیح لکھا ہے کہ: ’’اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے نہیں بچا اور نہ آئندہ بچے گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۷، خزائن ج۳ ص۴۲۷)
مگرناظرین غور کریں کہ اس کو وفات مسیح سے کیا علاقہ ہے؟ اب رہی اس آیت سے مرزاقادیانی کی یہ وجہ استدلال کہ خلود کے مفہوم میں داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنا اور نفی خلود سے ثابت ہے کہ ہر شخص کی حرکت موت کی طرف ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے فوت ہو گیا۔ یہ بالکل مرزاقادیانی کے مذہب کے خلاف ہے۔ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کا نام وہی شخص لے سکتا ہے جس کا یہ مذہب ہو کہ مسیحm آسمان پر تو گئے تھے، مگر شیخ فانی ہوکر اور امتداد زمانہ سے ضعف ہرم وغیرہ میں آ کر پھر فوت ہو گئے۔ جب آپ کا مذہب ہی یہ ہے کہ مسیحm آسمان پر نہیں گئے تو یہ آپ کے سینہ زار شاعرانہ الفاظ بھی آپ کی دلیل نہیں بن سکتے۔ بسم اللہ ! آپ مسیحm کا آسمان پر جانا تسلیم فرمائیے اور پھر یہ وجہ استدلال پیش کیجئے۔ ’’واذ لیس فلیس‘‘ اب میں
مرزا سے یہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی حد بطور کلیہ قاعدہ کے آپ کو معلوم ہے؟ کہ جب کوئی بنی آدم اس حد کو پہنچ جائے تو وہ شیخ فانی بھی ضرور ہی ہو جائے۔ اگر معلوم ہو تو براہ مہربانی بیان فرمائیں تاکہ درایۃً وروایۃً اس کی جانچ پڑتال کر لی جائے۔ ناظرین خوب یاد رکھیں کہ اس کا جواب مرزاقادیانی کچھ نہیں دے سکتے اور اسی لئے نہ وہ اس آیت سے استدلال ہی کر سکتے ہیں اور نہ ان کی وجہ استدلال درست ہی ہوسکتی ہے۔
وفات مسیح پر مرزاقادیانی نے یہ پیش کی ہے: ’’تلک امۃ قد خلت‘‘ اس آیت کا صرف ترجمہ ہی کر گئے ہیں اور وجہ استدلال وغیرہ کچھ تحریر نہیں کی۔ ہاں! ترجمہ میں یہ الفاظ ضرور لکھ دئیے ہیں: ’’یعنی اس وقت سے جتنے پیغمبر پہلے ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۷، خزائن ج۳ ص۴۲۸)
ناظرین! آپ بخوبی اور بآسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے یہ الفاظ: ’’اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں‘‘ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ غالباً ’’تلک‘‘ کا ترجمہ ہے۔ جس کا ترجمہ ہے ’’یہ‘‘ جو اسم اشارہ ہے۔ اب اگر تم اس کا مشار الیہ معلوم کرنا چاہتے ہو تو قرآن شریف کھول کر دیکھ لیجئے کہ کون کون سے نام اس سے پہلے آیت میں آچکے ہیں۔ (اس سے پہلی آیت کی تخصیص ہم نے اس لئے کر دی ہے کہ ’’تلک‘‘ اشارہ قریب کے لئے ہے)
ناظرین! دیکھیں کہ اس سے پہلے آیت یہ ہے: ’’ام تقولون ان ابراہیم واسمٰعیل واسحٰق ویعقوب والاسباط کانوا ہوداً اونصری قل ء انتم اعلم ام اللہ ومن اظلم ممن کتم شہادۃ عندہ من اللہ ۔ وما اللہ بغافل عما تعملون تلک امۃ قد خلت (البقرۃ:۱۴۰،۱۴۱)‘‘{تم کیا کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصاریٰ تھے۔ کہہ دیجئے تم زیادہ جانتے ہو یا خدا، اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو شہادت کو چھپاتا ہے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں۔ یہ ایک امت تھی جو گزر چکی۔} ’’خلت‘‘کے لفظ پر بحث میں ساتویں آیت میں کر آیا ہوں۔ اعجاز قرآن ہے کہ آیت میں عیسیٰ کا نام نہیں۔
’’واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیا‘‘پیش کی ہے اور پھر لکھا ہے: ’’اس کی تفصیل ہم اسی رسالہ میں بیان کر چکے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کے لئے حضرت عیسیٰm کو وصیت کی گئی تھی اور وہ آسمان پر عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت یحییٰ ان کی نماز کی حالت میں ان کے پاس یوں ہی پڑے رہتے ہیں۔ ’’مردے جو ہوئے‘‘ اور جب دنیا میں حضرت عیسیٰ آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے امتی بن کر مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں گے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۷، خزائن ج۳ ص۴۲۸)
مرزاقادیانی کا یہ بیان سقم اور غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس آیت سے وفات مسیح پر مرزاقادیانی کی وجہ استدلال ازالہ میں یہ ہے کہ حضرت مسیح نے تاحیات خود صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا ادا کرنا فرائض میں شمار کیا ہے۔ اگر وہ زندہ ہیں تو ان کا زکوٰۃ دینا ثابت کرو۔ ورنہ وہ مردہ ہیں۔ اس تقریر میں متانت مثیلیت اور وقار مہدویت کو بالائے طاق رکھ کر مرزاقادیانی نے شوخانہ استہزاء بھی کیا ہے اور دریافت کیا ہے کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ زکوٰۃ کہاں سے دیتے ہوں گے اور کون لیتا ہو گا۔
واضح ہو کہ کل نبیوں پر جیسا کہ زکوٰۃ کا لینا حرام ہے۔ ویسا ہی دینا بھی حرام ہے۔ کیونکہ ان کا کل مال خدا کی راہ میں وقف ہوتا ہے۔ اب رہا یہ امر کہ ’’اوصانی‘‘ کیوں کہا۔ یہ بطور تعلیم ارکان شریعت کے ہے۔ کیونکہ جب فرمایا: ’’اتانی الکتٰب وجعلنی نبیا‘‘خدا نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا تو ساتھ ہی اپنی شریعت کے ارکان بھی ظاہر کر دئیے۔
۲… زکوٰۃ سے مراد اس جگہ زکوٰۃ مال نہ ہو بلکہ زکوٰۃ نفس ہو۔ قرینہ اس پر روح القدس کا حضرت مریم کو کہنا ہے: ’’لا ہب لک غلاما زکیا‘‘ ظاہر ہے کہ اس جگہ ’’زکیا‘‘ کے معنی زکوٰۃ مال نکالنے والا نہیں بلکہ صاحب زکوٰۃ وطہارت ہیں۔
بیضاوی میں ہے: ’’واوصانی وامرنی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ زکوٰۃ المال ان ملکتہ اوتطہیر النفس عن الرزائل‘‘زکوٰۃ سے زکوٰۃ مال مراد ہے کہ جب صاحب نصاب ہوں۔ ورنہ نفس کو رزائل سے پاک صاف رکھنا بھی زکوٰۃ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کے حق میں فرمایا ہے: ’’واتینہ الحکم صبیا وحنانا من الدنا وزکوٰۃ (المریم:۱۲، ۱۳)‘‘ ہم نے اس کو لڑکپن ہی میں حکم، نرم دلی اور پاکیزگی عنایت کی۔ یہاں لفظ زکوٰۃ خصوصیت سے بمعنی پاکیزگی ہے۔
۳… زکوٰۃ تو اہل نصاب پر فرض ہے۔ اگر مرزاقادیانی حضرت مسیح کا اس دنیا پر زکوٰۃ دینا ثابت کر دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ مسیحm کا آسمان پر زکوٰۃ دینا بھی ثابت کر دوں گا۔
مرزاقادیانی کی اس بیان میں دوسری غلطی یہ ہے کہ ان کو انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کی وصیت کی گئی تھی۔ ’’وہ عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں۔‘‘ اس غلطی کا منشاء یہ ہے کہ ان کو معنی نبوت معلوم نہیں۔ امام اعظمv جن کی قرآن دانی اور اسرار فہمی کی توصیف مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۵۳۱، خزائن ج۳ ص۳۸۵) میں کی ہے کا مذہب یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہر اور باطن پر یکساں ہوتا ہے۔ مگر آپ تو نبوت کو بھی ظاہر اور باطن کے لئے نہیں سمجھتے۔ ہمارے سید ومولیٰ محمد رسول اللہ a تو جس طرح پر تمام کافہ ناس کی طرف مبعوث ہوئے ہیں، اسی طرح جن وملک کی طرف بھی کوئی ذوی العقول متنفس ایسا نہیں۔ خواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی۔ جس پر آپa کے احکام اور شرائع ومناہج کی پیروی واطاعت فرض نہ ہو اور آپa کی رسالت کے بعد سابقہ شرائع واحکام پر چلنا حرام نہ ہو گیا ہو۔ پس جب حالت یہ ہے تو آپ کا خیال کرنا کہ اب وہ انجیلی طریق پر نماز پڑھتے ہیں اور نزول کے بعد برخلاف وصیت مسلمانوں کی طرح پڑھیں گے۔ معنی رسالت کے نہ سمجھنے ہی پر محمول ہوسکتا ہے۔ مرزاقادیانی دیکھئے۔ اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے: ’’واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنّن بہ ولتنصرّنہ (آل عمران:۸۱)‘‘ جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر جب تمہاری طرف رسول موعود آئے جو تہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔
اب سمجھ لو کہ مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰ کا نماز پڑھنا برخلاف وصیت نہیں بلکہ موافق میثاق ازلی ہے۔ اس معنی کی طرف صحیح مسلم کی حدیث عن ابوہریرہq میں اشارہ ودلالت ہے کہ آنحضرتa نے موسی، عیسیٰ، ابراہیمo کا امام بن کر نماز پڑھائی۔
(مسلم ج۱ ص۹۶، باب الاسراء)
تیسری غلطی اس بیان میں مرزاقادیانی کی یہ ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰm نماز پڑھتے ہوں گے اور حضرت یحییٰm پاس پڑے رہتے ہوں گے۔ مردہ جو ہوئے۔‘‘ یہ غلطی بھی وجہ انبیاء سے عدم معرفت کی وجہ سے ناشی ہوئی ہے۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ گو مرجانے کے بعد تکلیف احکام سے انسان سبکدوش ہو جاتا ہے۔ مگر انبیاء اللہ جن کے جسم میں عبادت الٰہی بمنزلہ روح کے ہے جن کے دل میں محبت ربانی بجائے حرارت غریزی کے ہے وہ مر جانے کے بعد بھی طاعات میں مشغول رہا کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم ج۱ ص۹۵، باب الاسراء) کی حدیث عن ابن عباسq میں ہے۔ جب رسول اللہ a مکہ اور مدینہ کے درمیان وادی ارزق میں پہنچے تو فرمایا: میں نے اس وادی میں موسیٰm کو کانوں میں انگلیاں دئیے، لبیک لبیک پکارتے گزرتے دیکھا ہے۔ جب ہرشہ میں پہنچے تو فرمایا: میں نے یونسm کو جبہ صوف (لباس احرام) پہنے اونٹنی پر سوار اس وادی سے گزرتے دیکھا ہے۔ صحیح مسلم عن ابوہریرہq کی حدیث میں حضرت ابراہیم وموسیٰn کا نماز پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ حضرت یحییٰm پڑے ہی نہیں رہتے بلکہ وہ بھی حضرت عیسیٰm کی طرح نماز پڑھا کرتے ہیں۔
ناظرین! بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ آیت بھی مرزاقادیانی کے دعویٰ کے لئے کچھ مفید نہیں اور آیت کو وفات مسیح سے ذرا تعلق نہیں۔ نیز دعویٰ اثبات وفات مسیح کے علاوہ دیگر زوائد جو مرزاقادیانی نے لکھے تھے ان کا ایک حرف بھی صحیح نہیں۔
یہ ہے: ’’والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا‘‘ مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح کے وجود کے متعلق تھے صرف تین بیان کئے گئے ہیں۔ حالانکہ اگر ’’رفع‘‘ اور ’’نزول‘‘ واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔ کیا نعوذ باللہ ! ’’رفع‘‘ اور ’’نزول‘‘ حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الٰہی نہیں ہونا چاہئے تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۸، خزائن ج۳ ص۴۲۸)
میں مرزاقادیانی کے ان فقرات کو باربار حیرت اور تعجب سے دیکھتا ہوں کہ وہ
اسرار دانی اور قرآن فہمی کہاں ہے۔ کیا کسی شئے کا کسی جگہ مذکور نہ ہونا اس کے عدم وجود کی بھی دلیل ہو سکتی ہے۔ صحیحین بلکہ صحاح ستہ میں بیسیوں ایسی احادیث ملیں گی کہ سائل نے آکر رسول کریمa سے اسلام کا سوال کیا اور آنحضرتa نے بیان ارکان میں کبھی کلمہ شہادت، کبھی زکوٰۃ، کبھی حج کو بیان نہیں فرمایا تو کیا مرزاقادیانی مجرد، ان احادیث پر اکتفاء کر کے ان ارکان اسلام کے رکن ہونے سے انکار کر جائیں گے؟ اگر نہیں تو یہاں بھی وہی عمل کریں۔ دوم: مرزاقادیانی کو یاد کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح کا یہ کلام اس وقت کا تھا جب مریم صدیقہ ان کو جن کو گود میں لے کر قوم میں آئی تو کیا ضرور ہے کہ حضرت مسیح اسی وقت اپنی زندگی کے مفصلانہ کل واقعات عظیمہ سے واقف بھی کئے گئے ہوں۔ بلکہ قرآن کریم اس امر کا شاہد صادق ہے کہ ’’رفع‘‘ کی خبر حضرت کو حالت نبوت میں دی گئی تھی۔ پڑھو:’’یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اور یاد کرو کہ مرزاجی نے بھی اس کو وعدۂ وفات تسلیم کر لیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ’’سلام علیّ یوم ولدت ویوم اموت‘‘ اسی قبیل کا جملہ ہے۔ جیسے: ’’الحمد ﷲ اولہ واخرہ۔ یا بسم اللہ اولہ واخرہ‘‘جو ابتداء سے لے کر آخر تک کی تمام حالتوں پر شامل ہے۔ اب اگر ان فقرات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تو ’’سلام علیّ‘‘ پر کیوں ہے۔ ہمارے نزدیک ’’رفع‘‘ اور ’’نزول‘‘ حضرت مسیح دونوں مورد اور محل سلام الٰہی کے ہیں اور اسی لئے دوسلامتیوں کے اندر اور وسط میں واقع ہوئے ہیں۔ ہاں! مرزاقادیانی جو ان الفاظ کا درمیانی واقعات پر اثر انداز نہ ہونا تسلیم کرتے ہیں ان کو اس امر کا ضرور جواب دینا چاہئے کہ جب بقول ان کے مسیحm صلیب پر لٹکائے گئے۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونکی گئیں اور ان اذیتوں اور تکلیفوں کے بعد دروازہ مرگ پر پہنچ کر پھر وہ بچ رہے تو کیا ان کی یہ جان جری مورد اور محل سلام الٰہی کا نہ تھی؟ کیا مسیح کا صحیح وسلامت رہنا ربانی سلامتی کے بغیر تھا؟ اگر ایسے دشمنوں کے نرغہ میں سے ایسے برصلیب کشیدہ کے سلامت رہنے کو تم سلام الٰہی تسلیم نہیں کرتے تو اور کسے کرو گے۔ لیکن اگر تسلیم کرتے ہو تو بتاؤ کہ آیت میں ایسی نہایت ہی حیرت بخش جان بری اور ایسی آفت کے بعد سلامتی کا ذکر کیوں نہیں؟ میں چاہتا تھا کہ آیت کے بعض اسرار اور معارف کو یہاں درج
کرتا۔ مگر مرزاقادیانی کے استدلال کا بودا ہونا اسی سے ثابت ہو گیا ہے۔ ناظرین کو معلوم رہے کہ مرزاقادیانی اپنے اس بیان میں مدعی وفات مسیح ہیں۔ مدعی کا کام الزامی دلائل بیان کرنا نہیں ہوتا اور جو ایسا کرتا ہے سمجھا جاتا ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس آیت کے ضمن میں مرزاقادیانی کی ساری تقریر الزامی ہے۔
’’ومنکم من یتوفی ومنکم من یردا الی ارزل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیئا‘‘مرزاقادیانی کہتا ہے: ’’یہ آیت بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اگر زیادہ عمر پاوے تو دن بدن ارذل عمر کی طرف حرکت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بچے کی طرح نادان محض ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۹، خزائن ج۳ ص۴۲۹)
ناظرین کو واضح ہو کہ یہ آیت مرزاقادیانی کی تب دلیل ہے جب وہ مسیحm کا زیادہ عمر پانا تسلیم کر لیں۔ مگر اس کے ساتھ ’’رفع الی السماء‘‘ بھی ملا ہوا ہے۔ یہ بھی مرزاقادیانی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
۲… مرزاقادیانی کو لازم ہے کہ وہ ایک حد قرار دیں کہ جب عمر کے فلاں سال تک کوئی انسان پہنچے گا تو وہ ضرور ہی ارذل عمر میں داخل ہو جائے گا۔ قرآن کریم تو اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ حضرت نوحm نے ساڑھے نو سو برس تک دعوت کی۔ نبوت حاصل ہونے سے پہلے کی عمر اور دعوت کے بعد طوفان آنے اور بعد از طوفان آپ کے زندہ رہنے کی عمران ساڑھے نوصدیوں کے علاوہ ہے۔ پھر رب کریم کا یہ کلام پاک ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ سینکڑوں سالوں کے وہ تغیرات وانقلابات (جن سے قومیں مفقو ہو جاتی ہیں، خرابہ آباد اور آباد خرابہ بن جاتے ہیں۔ سلطنتیں بدل جاتی ہیں۔ بولیاں تبدیل ہو جاتی ہیں) بعض جسموں پر اسی طبقہ ارض کی موجودگی کی حالت میں اتنا اثر بھی نہیں ڈال سکتے کہ وہ اتنا بھی معلوم کر لیں کہ اس طبقہ ارض پر اور اس حصہ ملک میں کبھی کوئی تغیر آیا بھی تھا؟ اور کسی قسم کا انقلاب ہوا بھی تھا یا نہیں؟ وہ سینکڑوں برسوں کا ممتد زمانہ اور دراز عرصہ ان کی نگاہ میں ایسا قلیل نظر آیا کرتا ہے
کہ یہ خاصان خدا اسے ’’یوما اوبعض یوم‘‘ سے تعبیر کیا کرتے ہیں۱؎۔ کیا مرزاقادیانی کے نزدیک یہ بیانات ہدایت اور نور نہیں ہیں؟ کیا انسان ضعیف البنیان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تحکم کی راہ سے یہ قرار دے کہ جو کچھ آج کل ہو رہا ہے رب کریم نے نہ کبھی اس سے تجاوز فرمایا ہے اور نہ فرمائے گا۔ کیا ان کو لقمان ذوالنثور کاحال معلوم نہیں جس کی عمر دوہزار سال کی تھی۔ کیا ان کو عمرو معد یکرب کی تاریخ پر نظر ہے جو دوسوپچاس سال کی عمر میں ایرانیوں کے بیسیوں جنگ آزما، عربدہ جوفیلوں کو تلوار سے کاٹ کاٹ کر پھر شہید ہوا تھا؟ کیا مرزاقادیانی کا حق ہے کہ وہ ارزل عمر کی بھی حد سنین کا تعین کر کے اپنی طرف سے خود ہی مقرر کر دیں۔ ’’اتقوا اللہ ایہا الناس‘‘
’’ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین‘‘ لکھ کر پھر مرزاقادیانی نے تحریر کیا ہے۔ ’’یعنی تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی رہو گے۔ یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ ’’لکم‘‘ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر جا نہیں سکتا۔ بلکہ زمین ہی سے نکلا اور زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہو گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۰۹، خزائن ج۳ ص۴۲۹)
ناظرین! دیکھیں ترجمہ میں ’’جسم خاکی اور مرجاؤ گے‘‘ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ مرزاقادیانی ’’لکم‘‘ کو مفید تخصیص جانتے ہیں اور قرآن مجید کا سیاق کلام شاہد ہے کہ آیت کے مخاطب ابلیس وآدم وحوّا ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’فازلّہما الشیطٰن عنہا فاخرجہما مما کانا فیہ وقلنا اہبطوا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین (البقرۃ:۳۶)‘‘پس شیطان نے آدم وحوّا دونوں کو پھسلا دیا اور بہشت سے جس میں وہ رہتے تھے ان دونوں کو نکال دیا اور ہم نے کہا تم اترو۔ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا اور فائدہ ہے ایک وقت تک۔
۱؎ان فقرات میں قصہ اصحاب کہف کی طرف تلمیح ہے۔
’’ازلّہما‘‘میں تثنیہ ہے۔ وہ ذکر شیطان کے بعد ضمائر جمع مرزاقادیانی ’’لکم‘‘ کو ضمیر خطاب اور اعرف معارف ہے جب مفید تخصیص تسلیم کر چکے تو پھر ان کا مخاطبین کے سواء اوروں سے مراد لینا ان کی تسلیم کے خلاف ہے۔ غرض اگر آیت کے یہ معنی ہیں کہ مخاطبین زمین سے اٹھ کر آسمان پر نہ جاسکیں تو یہ کہاں سے مرزاقادیانی نے نکال لیا کہ جو لوگ خطاب کے وقت ہنوز کتم عدم میں مستور تھے وہ بھی اسی حکم میں شامل وداخل ہیں۔ اس کی دلیل انہوں نے کچھ نہیں دی بلکہ ’’لکم‘‘ مفید تخصیص مان کر اپنے دعویٰ کو ضعف پہنچایا۔
۲… اگر بلاکسی دلیل کے مان لیا جائے کہ ’’لکم‘‘ میں ابلیس اور آدم کے سواء ان کے ذریات بھی شامل ہیں۔ تب بھی آیت بالا مفید معنی ومقصود مرزاقادیانی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جب ثابت ہو چکا کہ ’’لکم‘‘ میں ابلیس وآدم وحوّا کی طرف خطاب ہے تو قرآن مجید کے بیسیوں مقامات سے یہ ثابت اور واضح ہے کہ شیاطین آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں اور ملائک سے قریب ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ شہاب ثاقب ان کے پیچھے لگ کر ان کو خاک کر دیتا ہے۔ بقول مرزاقادیانی آیت کا اثر مخاطبین پر یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ سب زمین سے اونچے اٹھ نہ سکیں۔ فضاء میں جا نہ سکیں۔ مگر شیاطین کا چڑھ جانا دیگر آیات سے معلوم ہو گیا اور آیت مستدلہ ان کے لئے مانع نہ ہوئی۔ اب مرزاقادیانی فرمائیں کہ یہ آیت انبیاء خدا کے لئے آسمان پر جانے سے کیوں مانع ہے؟
۳… مستقر کا ترجمہ ٹھیک ٹھیک ہیڈکوارٹر ہے جس کو صدر مقام بھی بولتے ہیں۔ عربی زبان کی تاریخوں میں اسی لئے تخت گاہ کو ’’مستقر الخلافہ‘‘لکھا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی شخص کا اپنے ہیڈکوارٹر میں موجود ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ دوسری جگہ جا نہیں سکتا۔ علیٰ ہذا اس کا ہیڈ کوارٹر سے علیحدہ ہونا بھی اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کو اپنے صدر مقام سے اب کوئی مناسبت نہیں رہی۔ سید الانبیاء محمد مصطفیa بھی بشر تھے جو شب معراج کو بالائے سدرۃ المنتہیٰ تشریف لے گئے تھے۔ اگر آنحضرتa کے لئے یہ آیت مانع نہ ہوئی تو حضرت مسیحm کے لئے بھی نہیں ہو سکتی۔ معراج جسمانی کا ثبوت اس مضمون میں آگے آئے گا۔
۴… مرزاقادیانی نے ’’الی حین‘‘ کا ترجمہ ’’یہاں تک کہ مر جاؤ گے‘‘ کیا ہے۔ مگر وہ کسی لغت کی کتاب سے حین کے معنی موت ثابت نہ کر سکیں گے۔ حین کے معنی وقت کے ہیں
اور اسی لئے ’’الی حین‘‘ کا ترجمہ ایک وقت تک ہے۔ ہر شخص کے لئے ’’استقرار فی الارض‘‘ کا ایک معین عرصہ رب کریم نے مقرر کر رکھا ہے۔ حضرت عیسیٰm بھی ایک وقت تک زمین پر رہے اور جب ’’متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ کا وعدہ پورا ہونے کو آیا تو وہ آسمان پر تشریف لے گئے۔ ظاہر ہے کہ ’’الیٰ حین‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایک وقت زمین پر ہے تو دوسرے وقت زمین پر سے اٹھ کر چلا بھی جائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی جسم کابھی بوجہ جسم ہونے کے آسمان پر جانا محال نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ رب کریم اس جسم کو آسمان پر لے جانا چاہے یا نہ چاہے۔ حضرت عیسیٰm کے لئے آسمان پر لے جانے کا اظہار اس نے خود فرمایا اور خود ہی اپنے منشاء کو پورا فرمایا۔
بالفرض مرزاقادیانی نے زور لگا کر ’’حین‘‘ بمعنی موت ثابت بھی کر دیا۔ تب اور بھی زیادہ ان کے معنی قابل اعتراض ہو جائیں گے۔ یعنی اس وقت ترجمہ آیت یہ ہو گا اور تمہارے لئے زمین میں استقرار اور فائدہ۱؎ موت تک ہے۔ جس سے یہ نکلا کہ موت کے بعد اموات کی لاشیں زمین سے اٹھائی جاتی ہیں۔ قبروں میں نہیں دبائی جاتیں۔ بلکہ وہ فضاء میں چلی جاتی ہیں۔ اس معنی کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ اس وقت آپ کو ’’حین‘‘ کا ترجمہ مجبوراً وقت کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ شاہ رفیع الدین وشاہ عبدالقادرv نے کیا ہے۔ غرض بہرصورت آپ کے استدلال کا بودا اور کمزور اور غلط ہونا ظاہر ہو گیا اور کھل گیا کہ گو آپ نے آیت کا ترجمہ بھی غلط کیا اور اپنی طرف سے الفاظ بھی زیادہ کئے۔ مگرایں ہمہ مساعی پھر بھی مرزاقادیانی حصول مرام میں ناکامیاب ہی رہے۔
’’ومن نعمّرہ ننکسہ فی الخلق‘‘مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک
۱؎اگر یہ جواب ہو کہ موت کے بعد جسم گوزمین میں ہی رہتے ہیں۔ مگر ان کو زمین سے کچھ فائدہ نہیں ملتا تو اس کے رد میں آیت: ’’ثم اقبرہ‘‘ اور آیت: ’’الم نجعل الارض کفاتاً احیاء وامواتا (مرسلات:۲۵)‘‘ پر نظر کرو۔
مدت دراز سے ان کی انسانیت کے قویٰ میں بکلی فرق آ گیا ہو گا اور یہ حالت خود موت کو چاہتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۰، خزائن ج۳ ص۴۲۹)
مرزاقادیانی کے اس وجہ استدلال کا جواب میں آٹھویں اور بارھویں آیت کے تحت میں لکھ آیا ہوں۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔ میں باربار یہی عرض کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی بطور کلیہ قاعدہ کے عمر کی وہ مقدار قرار دیں جس کو ارذل عمر کہہ سکیں اور جس پر تنکیس فی الخلق صحیح ثابت ہو سکے۔ ہم توریت وغیرہ کتابوں میں لکھا دیکھتے ہیں کہ حضرت آدمm کی ۹۳۰برس، حضرت شیثm کی ۹۱۲، حضرت نوحm ۱۰۰۰، حضرت ادریسm ۳۶۵، حضرت موسیٰm ۱۲۰، حضرت ابراہیمm ۱۷۵ سال کی عمریں تھیں اور باایں ان کے انسانیت کے قویٰ میں کچھ فرق نہ آیا تھا۔ اصحاب کہف کا قصہ پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض انسانی جسموں کو صدیوں کے زمانہ کا اثر محض اتنا ہوتا ہے جتنا ہم لوگوں پر ۶؍گھنٹے یا ۱۲؍گھنٹے یا ۲۴؍گھنٹے یا ۴۸؍گھنٹے گزر جانے سے اگر ناظرین اور مرزاقادیانی کے نزدیک ایک ۳۳سال کا جوان شخص ایسا پیرہرم اور شیخ فانی ہو سکتا ہے کہ اس کی قوت جسمانی اور قوی بشریٰ بالکل ہی اسے جواب دے جائے تو حضرت مسیحm کی نسبت بھی مرزاقادیانی کو ایسا خیال باندھ لینے کا حق ہے۔ لیکن اگر یہ ایک قابل تمسخر بات سمجھی جائے کہ کوئی نوجوان شخص معمولی قاعدہ انحطاط بدنی کے لحاظ سے ۴۸گھنٹے میں شیخ فانی ہو سکے تو یقینا حضرت عیسیٰm کا پیرضعیف ہو جانا بھی غلط ہے۔
حکیم نورالدین جو فصل الخطاب میں مان چکے ہیں کہ الہامی زبان میں ایک یوم ایک سال کو کہتے ہیں۔ وہ اس بیان سے زیادہ تر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں کہ وحی ربانی میں ۲۰۹برس کو ایک یوم یا ایک یوم کا حصہ کہا گیا ہے۔ ان کو اربعہ لگا لینا چاہئے کہ جب الہامی زبان میں ۳۰۹ برس برابر ہیں ایک دن کے، تو دوہزار برس کتنے دن کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ سوال حل کرنے سے پہلے یہ بھی غور فرما لینا چاہئے کہ ۳۰۹برس کا بعض یوم کے برابر ہونا تو اسی طبقہ ارض پر ثابت ہے۔ مملکت آسمانی کا حساب اس سے نرالا ہے۔ رب کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’انّ یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون (الحج:۴۷)‘‘جس کو تم ہزار سال شمار کرتے ہو وہ پروردگار کے ہاں ایک یوم ہے۔ اب مرزاقادیانی حسب
لگائیں کہ عیسوی سال کتنے دن کے برابر ہوئے۔ پھر ان کو پیرہرم اور ضعیف القویٰ ہو جانے کی حقیقت معلوم ہو جاوے گی۔
واضح ہو ’’انّ یوما عند ربّک‘‘ کو مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۶۹۶، خزائن ج۳ ص۴۷۵) پر درج کیا ہے اور اس حساب سے روز ششم کو الف ششم کا قائم مقام بتا کر اپنی پیدائش اس میں ثابت کی ہے۔ اس لئے اب مرزاقادیانی اس حساب سے انکار نہیں کر سکتے۔
’’اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃٍ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبہ‘‘ترجمہ: خدا وہ خدا ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ پھر ضعف کے بعد قوت دے دی۔ پھر قوت کے بعد ضعف اور پیرانہ سالی دی۔ یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ کوئی انسان اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔
(ازالہ اوہام ص۶۱۰، خزائن ج۳ ص۴۲۹، ۴۳۰)
یہ سچ ہے۔ مگر آیت میں مسیح کے مرچکنے کی دلیل اور مرزاقادیانی کے بیان میں حضرت عیسیٰm کے وفات کر جانے کی وجہ استدلال ذرا بھی موجود نہیں۔ اچھا اگر کوئی شخص مشہور کر دے کہ مرزاقادیانی کا انتقال ہوگیا۔ (کتاب ہذا کی تصنیف کے وقت مرزاقادیانی زندہ تھا) اور جب کوئی اس سے پوچھے کہ تم کو کیونکر معلوم ہوا تو وہ یہی آیت پڑھ دے تو آپ اس کی وجہ استدلال کو کیا کہیں گے؟ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ اس وقت مسیحm’’ثم جعل من بعد ضعف قوۃ‘‘کے مصداق حال ہیں۔ نزول برزمین کے بعد ’’ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ‘‘ کی حالت ان پر طاری ہو گی۔
وفات مسیح پر مرزاقادیانی نے یہ پیش کی ہے: ’’انما مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض مما یأکل الناس والانعام‘‘ اور لکھا ہے کہ کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے۔ اوّل کمال کی طرف رخ کرتا ہے۔ پھر اس کا زوال ہوجاتا ہے۔ کیا اس قانون قدرت سے مسیح باہر رکھا گیا ہے؟
(ازالہ اوہام ص۶۱۱، خزائن ج۳ ص۴۳۰)
کاش! مرزاقادیانی اس مثال سے ہی فائدہ اٹھاتے اور سمجھتے کہ سب روئیدگی کی قسمیں زمین سے اگنے، کمال تک پہنچنے اور بڑھنے اور پھر زوال کی جانب مائل ہو کر خشک ہونے میں درجہ مساوی نہیں رکھتیں۔ چینا ان ہرسہ مراتب کو دو ماہ میں طے کر لیتا ہے اور نیشکر کو کمال تک پہنچنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ سن اور ہالوں کا بیچ چند پہر میں زمین سے اگ آتا ہے اور گنوارے اور کھنڈی کا بیج سال بھر تک زمین میں جوں کا توں پڑا رہتا ہے۔ افسوس کہ آپ حارث وحراث ہونے کے دعویدار ہوکر بھی ان مثالوں سے بہت کم مستفید ہوتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ مسیح اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔ مگر اس قانون میں مساوات شخصی نکال کر آپ دکھا دیجئے۔
’’ثم انّکم بعد ذلک لمیتون‘‘ وجہ استدلال میں مرزاقادیانی کے پاس وہی پرانے لفظ ہیں۔ ’’یعنی اوّل رفتہ رفتہ خداتعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر تم اپنا کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو۔ یہاں تک کہ مر جاتے ہو… یہی قانون قدرت ہے۔ کوئی بشر اس سے باہر نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۱، خزائن ج۳ ص۴۳۰)
ناظرین! زبان عرب میں حرف ’’ثم‘‘ تراخی اور ترتیب کے لئے آتا ہے اور اسی لئے ہم نہایت صدق دل سے گواہی دیتے ہیں۔ ’’والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فینا ابن مریم حکما عدلا ثم انہ بعد ذلک لمیتون‘‘ مرزاقادیانی قانون قدرت کے موٹے موٹے حروف تو پڑھ لیتے ہیں۔ مگر کیا اچھا ہو کہ اس کی تشریحات بھی ملاحظہ کر لیا کریں۔
’’الم تران اللہ انزل من السماء ماء فسلکہ ینابیع فی الارض تا اولی الالباب (الجزو:۲۳)‘‘اس آیت کے تحت میں مرزاقادیانی نے صرف یہ الفاظ لکھے ہیں۔ ان آیات میں بھی مثال کے طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان کھیتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پورا کر لیتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔
(ازالہ اوہام ص۶۱۲، خزائن ج۳ ص۴۳۰)
مرزاقادیانی موت مسیح پر اس آیت سے استدلال کی وجہ کچھ نہیں لکھ سکے۔ کھیتی کی مثال سچ ہے۔ مگر اس مثال میں مرزاقادیانی کی غلط فہمی کا اظہار سولہویں آیت کے تحت میں ہم کر چکے ہیں۔
’’وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انہم لیاء کلون الطعام ویمشون فی الاسواق (الفرقان)‘‘اس آیت کا ترجمہ مرزاقادیانی نے ان الفاظ میں کیا ہے: ’’ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔‘‘ اور پہلے ہم بنص قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم میں سے طعام کا کھانا ہے۔ سوچونکہ وہ اب تمام نبی طعام نہیں کھاتے۔ لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جن میں کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۲، ۶۱۳، خزائن ج۳ ص۴۳۱)
ناظرین! اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان منکرین نبوت کے جواب میں نازل فرمائی ہے جو رسول اللہ a کی نبوت کا انکار کرتے اور رسالت کو بنظر حقارت دیکھتے اور یوں کہا کرتے تھے: ’’مالہٰذ الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق‘‘یہ رسول کیسا ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتa کو ان کی اس بیہودہ گفتگو کے جواب میں بطور تشفی وتسکین قلب فرمایا ہے کہ بازاروں میں پھرنا اور طعام کھانا اگر رسالت کے منافی ہے تو سارے کے سارے پیغمبر ایسے ہی گزرے ہیں جن میں یہ صفات لوگوں نے دیکھے اور معلوم کئے اور باایں ہمہ یہ معترض ان میں سے بعض کی نبوت کا یقین بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً نصاریٰ اور یہود اور عرب کے اکثر قبیلے، اب آپ خیال فرمائیں کہ اس میں کون سی دلیل وفات مسیح کی ہے۔
حضرت مسیح کے طعام کھانے یا نہ کھانے کی بحث ساتویں آیت کے تحت میں ہوچکی۔ مرزاقادیانی آپ نے ان تین آیتوں کو دلیل وفات مسیح بنانے میں حصر اور تعمیم سے بہت ہی کام لیا ہے اور یہ دل میں ٹھان لی ہے کہ اگر ایک تعمیم کی دوسری نص تخصیص کر دیتی ہو تو اس تخصیص کا ہرگز اعتبار نہیں کریں گے۔ مگر یہ کاغذ کی ناؤ چلتی نظر نہیں آتی۔ ’’اولم
یرالانسان انا خلقناہ من نطفۃ فاذا ہو خصیم مبین (یٰسین:۷۷)‘‘کیا انسان نے نہیں دیکھا اور غور کیا کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا اور وہ جھوٹ کھلم کھلا خصومت رکھنے والا بن گیا۔ آیت میں ’’الانسان‘‘ کل انسانوں پر شامل ہے جس سے کوئی باہر نہیں۔ حالانکہ اسی آیت میں دو جگہ آپ کو تخصیص ماننی پڑے گی۔ اوّل: ’’من نطفہ‘‘ میں۔ کیونکہ حضرت آدمm انسان تھے۔ مگر نطفہ سے پیدا نہ ہوئے تھے۔ دوم: ’’خصیم مبین‘‘ میں کیونکہ ہم یقینا اور ایماناً جانتے ہیں کہ انبیاء اور صدیقین نہایت فرمانبردار بندے ہوتے ہیں اور کبھی اپنے پروردگار سے خصومت نہیں کرتے۔
۲… مرزاقادیانی… یہ فرمائیں کہ طعام کھانا اور بازاروں میں پھرنا یہ مرسلین کا لازم حال تھا یا منجملہ صفات بشری کی ایک صفت۔ اگر لازمۂ حال تھا تو لازم آتا ہے کہ ہر ایک نبی اور مرسل نے وقت پیدائش سے لے کر زندگی کی آخری ساعت تک غرض اپنی تمام تر عمر کا کوئی لمحہ کوئی لحظہ کوئی منٹ کوئی سیکنڈ ایسا گزرنے نہ دیا ہو کہ وہ بازار میں پھرتے ہوئے اور کچھ نہ کچھ کھاتے ہوئے نظر نہ آئے ہوں۔ غرض کہ ان کا منہ اور ان کے پاؤں ہر وقت چلتے ہی رہتے تھے۔ کیوں مرزاقادیانی آپ کے مذہب میں یہی معنی اس آیت کے ہیں؟ اگر یہی معنی ہیں تو اس کا بطلان نہایت صریح ہے۔ لیکن اگر باوجود آیت کے الفاظ بالا کے یہ معنی آپ نہیں کرتے اور جائز رکھتے ہیں کہ ان کے کھانے اور بازاروں میں پھرنے کے خاص اوقات ہوں اور دیگر اوقات میں ’’اکل طعام‘‘ اور ’’مشی فی السوق‘‘ ان میں پایا بھی نہ جاتا ہو۔ تب آیت بالا آپ کے کیا مفید ہے؟ اگرکسی معتکف وصائم کو دیکھ کر کوئی شخص یہ حکم لگا سکتا ہے کہ طعام کھانے اور بازاروں میں پھرنے کی صفت اس سے جاتی رہی تو اس کے دانشمند ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے کیا مرزاقادیانی ان نمونوں سے بھی مستفید نہیں ہوتے۔
’’والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیئا وہم یخلقون اموات غیر احیاء وما یشعرون ایان یبعثون‘‘ترجمہ: یعنی جو لوگ غیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیداشدہ ہیں، مرچکے ہیں۔ زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ اس کے بعد مرزاقادیانی لکھتے
ہیں: ’’یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور ان سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں۔ جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہراتے تھے… اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن ماننے میں کلام ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۳، ۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱)
ناظرین! مرزاقادیانی نے اپنی عبارت میں انسانوں کی قید اپنی طرف سے لگا دی ہے۔ آیت میں تعمیم ہے اور اس لئے ایسے تین صفات بیان ہوئے ہیں جن سے کوئی مخلوق جن وملک، انسان وحیوان وغیرہ اس تعمیم سے باہر نہیں رہ سکتے۔
۱… ’’من دون اللہ ‘‘ اس میں کل مخلوق شامل ہے۔
۲… کسی شئے کا خالق نہ ہونا۔ یہ بھی سب پر محیط ہے۔
۳… مخلوق ہونا۔ یہ بھی بجز خدا کے سب کو گھیرے ہوئے ہے۔
پس ان صفتوں والا اگر کسی قوم اور قبیلہ کا معبود سمجھا یا مانا گیا ہے تو وہ مردہ ہے۔
جب ہم نصاریٰ کے مذہب پر نظر ڈالتے ہیں جو خدا کو ثالث ثلثہ جانتے ہیں اور اس کے ساتھ دو اور اقنوم قائم کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خدا کے سواء ایک تو مسیح کو معبود جانتے ہیں۔ دوسرے روح القدس کو۔ ان دونوں کی پرستش بھی کرتے ہیں اور ان دونوں کو پکارتے بھی ہیں۔ مرزاقادیانی اس آیت پر تمسک کر کے حضرت مسیح کی وفات ثابت کرتے ہیں۔ میں ان سے دریافت کر لینا چاہتا ہوں کہ وہ روح القدس کو بھی مردہ جاتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیوں۔ کیا وہ ’’من دون اللہ ‘‘ نہیں یا وہ کسی شئے کا خالق بھی ہے یا وہ خود مخلوق نہیں یا نصاریٰ اس کو اسی طرح نہیں پکارتے۔ جس طرح مسیح کو پکارتے ہیں۔ اگر یہ سب صفات اس میں موجود ہیں تو پھر… روح القدس کو آیت کی تعمیم سے جدا رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ اگر مرزاجی کے پاس روح القدس کو اس عمومیت سے جدارکھنے اور جدا باور کرنے کی کوئی وجہ ہے تو یقین رکھئے کہ ہمارے پاس بھی ہے اور اگر وہ روح القدس کو بھی مردہ سمجھتے ہیں تو بسم اللہ اس کا اقرار فرمائیں تاکہ ان کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے اور میں پھر معنی آیت گزارش کروں۔
ناظرین! ایک لطیف قصہ یاد رکھنے کے قابل ہے جب قرآن مجید میں ’’انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (الانبیاء:۹۸)‘‘ نازل ہوا تو مشرکین نے
اس تعمیم کو دیکھ کر خوب تالیاں لگائیں اور خوش ہوکر کہا کہ اگر ہم اور ہمارے بت جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ہم کو کچھ نہیں۔ کیونکہ اسی قاعدہ ’’وما تعبدون‘‘ کے بموجب نصاریٰ کے ساتھ مسیح کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا اور ہم اس پر خوش ہیں کہ جب مسیح جہنم میں جائے تو ہم اور ہمارے بت بھی وہیں ڈالے جائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ’’وما ضربوہ لک الا جدلا بل ہم قوم خصمون (الزخرف:۵۸)‘‘ یعنی حضرت عیسیٰm کی نظیر جو ان کفار نے پیش کی ہے۔ یہ ان کا مجادلہ ہے۔ یہ لوگ محض خصومت سے ایسی باتیں کرتے ہیں:’’ان ہو الا عبد انعمنا علیہ (الزخرف:۵۹)‘‘حضرت عیسیٰ تو خدا کے ایسے بندہ ہیں جن پر خدا نے نعمت کی ہے۔ پس آیت کریمہ کی اس تعمیم میں وہ منعم علیہ جس کی تخصیص واستثناء دیگر آیات سے ہو چکی ہے۔ کیونکر شامل ہو سکتا ہے؟
مرزاقادیانی ملاحظہ فرمائیں کہ ایسی تعمیمات سے تمسک واستدلال کرنا اور دیگر آیات پر نظر نہ ڈالنا وہ شیوہ اور وہ مسلک ہے جس پر مشرکین مکہ گامزن ہو چکے ہیں اور جن کی تکذیب قرآن مجید فرما چکا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کا استدلال نہ شرعی ہے نہ عالمانہ۔ بلکہ آیت مذکورہ ایسے استدلال کا نام مجادلہ رکھتی اور مستدل کو ’’قوم خصمون‘‘میں شامل کرتی ہے۔ ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘
۲…’’اموات غیر احیاء‘‘ پھر بھی غور فرمائیے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ یہ ’’من دون اللہ ‘‘ جن کو پکارا جاتا ہے یہ ’’اموات غیر احیاء حالاً‘‘ہیں یا ’’مآلاً‘‘ ہیں۔ یعنی کیا آیت کے یہ معنی مرزاجی کرتے ہیں کہ جب چند شخصوں نے کسی ’’من دون اللہ ‘‘ کو پکارنا شروع کیا تو وہ فوراً مر بھی جاتا ہے اور اس کی حیات بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اگر وہ یہی معنی کرتے ہیں۔ تب کچھ شک نہیں کہ یہ معنی خلاف واقع ہیں اور کلام ربانی کی شان عظیم اس سے برتر واعلیٰ ہے۔ ہم نے خود سینکڑوں ایسے شخص دیکھے ہیں اور مرزاقادیانی نے نیز ناظرین رسالہ نے بھی دیکھے ہوں گے کہ ان کے بے وقوف معتقد اور مریدان کو خدائے حاضر ناظر کی طرح ہر وقت ہر جگہ موجود جانتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے، جاگتے سوتے یا پیر یا پیر ہی پکارا کرتے ہیں۔ ان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خدا روٹھ جائے تو پیر ملا دیتا ہے اور پیر روٹھ جائے تو خدا نہیں ملا سکتا۔ اس لئے وہ ہمیشہ پیر کا درجہ رسول اور خدا سے برتر وافضل جانا کرتے ہیں اور باایں ہمہ
طغیانی کفر وشرک یہ ’’من دون اللہ ‘‘ معبود اپنی تمتع اور کامرانی کے دن بڑی عیش وشادمانی سے پورے کیا کرتے ہیں۔ یہ واقعات جن کا ظہور ہر شخص ہر روز دیکھ سکتا ہے بتلا رہے ہیں کہ مرزاقادیانی کے معنی غلط اور خلاف واقع ہیں۔
اب رہا ان کا’’مآلاً اموات‘‘ اور ’’غیر احیاء‘‘ ہونا۔ یعنی بالآخر ان مشرکین کے معبودوں نے ایک روز مرنا ہے۔ یہ بے شک صحیح ہے۔ مگر اب آیت میں مسیحm کی وفات بالفعل پر ذرا بھی اشارت باقی نہ رہے اور مرزاقادیانی کا ہم پر کچھ اعتراض نہ رہ گیا۔ کیونکہ حضرت مسیح کی وفات بزما نہ آئندہ کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں اور ’’کلّ نفس فان‘‘کا اثر ونفاذ مسیح پر بھی تسلیم کرتے ہیں۔
۳… جوابات بالا مرزاقادیانی کی تفہیم کے لئے عرض کئے گئے ہیں۔ ورنہ مفسرین نے آیت کو بحق اصنام یعنی بتوں کے لئے لکھا ہے اور ’’اموات غیر احیاء‘‘کے یہ معنی کئے ہیں کہ ان بنائے ہوئے معبودوں کو تو کبھی بھی حیات حاصل نہیں ہوئی۔ ان میں کبھی بھی لوازم زندگی پائی نہیں گئی اور اس لئے عدم محض ہیں۔ اس معنی پر کوئی اعتراض مرزاقادیانی کا وارد نہیں ہوتا اور وفات مسیح کی دلیل کا تو اس میں ہونا ذرا بھی تعلق نہیں رکھتا۔
وفات مسیحm پر مرزاقادیانی نے یہ پیش کی ہے: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النبین‘‘ اور وجہ استدلال یہ لکھی ہے کہ محمد رسول اللہ خاتم النّبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی رسول نہیں آسکتا۔ حضرت عیسیٰ بھی رسول ہیں۔ وہ بھی نہیں آ سکتے۔ جب نہیں آ سکتے تو ان کی حیات کی کوئی ضرورت نہ رہی۔ ثابت ہوا کہ لامحالہ وہ فوت ہو گئے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱، ۴۳۲ ملخص)
ناظرین! یہاں مرزاقادیانی سے سخت غلط فہمی ہوئی ہے اور منشاء غلطی یہ ہے کہ سیدالانبیاء محمد مصطفیa کی شان رفیعہ کے سمجھنے میں قصور ہوا ہے۔ قرآن مجید میں یہ آیت صریح اور نص قطعی موجود ہے۔ ’’واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ترجمہ: جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر جب تمہاری
طرف رسول موعود آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔
اور اس کا مفہوم ومنطوق یہ ہے کہ جس قدر انبیاء ورسل حضرت آدمm سے حضرت عیسیٰm تک گزرے ہیں۔ یہ سب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ کی امت کے شمار میں اپنے آپ کو داخل وشامل سمجھیں گے اور امتیوں کی طرح آپ کا کلمہ پڑھیں گے۔ اسی آیت کی عملی تفسیر اس حدیث معراج میں ہے جو صحیح مسلم میں ابوہریرہq سے مروی ہے کہ رسول خداa نے امام بن کر نماز پڑھائی اور موسیٰ وعیسیٰ وابراہیمo وغیرہ نے آپ کے پیچھے مقتدی بن کر پڑھی۔ پس جب انبیاء گزشتہ کا شمار پہلے ہی سے حضرت کی امت میں حضرت کی رسالت کے بعد ہوتا ہے تو حضرت عیسیٰm کا اس میثاق ازلی کے ایفاء کے طور پر دنیا میں آنا اور خلیفہ مسلمین بننا رسول کریمa کے اعلیٰ درجہ رسالت کا مظہر ہے۔ نہ کہ آنحضرتa کے درجہ خاتمیت کے منافی۔ یہ امر کہ مسیحm آنحضرتa کی امت میں شمار ہوتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے انیسویں آیت کے تحت میں (ازالہ اوہام ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶) پر ان الفاظ میں مان لیا ہے۔ ’’یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آ گئے ہیں۔‘‘ یہ اقرار کرنے کے بعد مرزاقادیانی سے نہایت مستعبد معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسیح بن مریم کے آنے کا انکار اس آیت کے تمسک سے کریں اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ انبیاء گزشتہ میں سے اگر کوئی نبی اس میثاق ازلی کے موافق جس کی خبر قرآن مجید میں دی گئی۔ ہمارے سید محمد مصطفیa کی نصرت وخدمت کے لئے دنیا میں تشریف لائے تو مرزاقادیانی اس آیت کو اس کے لئے مانع خیال کرتے ہیں۔ مگر خود اپنے لئے ایک پہلو نکال کر یوں تحریر کرتے ہیں۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ ہونا ہمارے نبیa کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں! ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں۔ وہ اس تجدید سے باہر ہے۔ کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنافی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے۔ جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔
(ازالہ اوہام ص۵۷۵، خزائن ج۳ ص۴۱۰)
دیکھو کیسے صاف لفظوں میں لکھ گئے کہ میں نبی ہوں اور یہ آیت میرے لئے مانع نہیں۔ کیونکہ فنافی الرسول ہو کر میں بھی محمد رسول اللہ a کا جزو بن گیا ہوں۔
اچھا مرزاقادیانی! اگر بباعث اتباع اور فنافی الرسول ہونے کے کوئی نبی ختم المرسلین کے وجود میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کی نبوت جداگانہ شمار نہیں ہوتی۔ تب بھی حضرت عیسیٰ مسیحm کا آنا اور نزول فرمانا ثابت ہو گیا۔ کیونکہ صحیح مسلم کی حدیث معراج عن ابوہریرہq سے ثابت ہو چکا ہے کہ مسیحm نے حضرت محمد مصطفیa کا اتباع کیا ہے اور فنافی الرسول ہونے کی شہادت حضرت عیسیٰm کے اس وعظ سے ملتی ہے جس میں انہوں نے اپنی امت کو وجود باجود محمدی کی بشارت سناسنا کر فرمایا تھا۔ ’’آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔‘‘ (یوحنا:۱۵، باب:۳۰ آیت) دنیا کا سردار اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔ خیال کرو کیسے الفاظ ہیں اور کس سچے دل اور صادق زبان سے نکلے ہیں۔ اگر فنافی الرسول کا درجہ اس قول کے قائل کو بھی حاصل نہیں۔ (جس کا اپنے قول میں صادق ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے) تو اور کس شخص کو ہوسکتا ہے؟ اس کے بعد مرزاقادیانی اس حدیث پر نظر فرمائیں جس میں آنحضرتa نے انبیاء کو علّاتی بھائی فرما کر آخر میں فرمایا ہے: ’’وانا اولی الناس بعیسی ابن مریم‘‘ یہاں آپ ذرا غور سے دیکھیں کہ آپ کی اصطلاح کے موافق عیسیٰ بن مریمm تو محمد رسول اللہ a میں اور محمد رسول اللہ a حضرت مسیحm میں کس طرح داخل ہیں۔ غرض ثابت ہوا کہ آپ کی مستدلہ آیت کے مفید نہیں ہوسکتی۔ بچند وجوہ!
۱… قرآن مجید شہادت دیتا ہے کہ جملہ انبیاء آنحضرتa کی امت میں ہیں۔ لہٰذا اس میں سے کسی ایک کا آنا اور خلیفہ بننا بعینہٖ صدیق اور فاروق جیسا خلیفہ بننا ہے۔
۲… مرزاقادیانی نے مان لیا کہ مسیح بھی اسی امت محمدیہ کے شمار میں آچکا ہے۔
۳… مرزاقادیانی کہتے ہیں میں نبی ہوں اور میرے لئے آیت خاتم النّبیین مانع نہیں۔ کیونکہ مجھے درجہ فنافی الرسول حاصل ہے اور میں رسول خدا سے کچھ جدا نہیں ہوں۔
۴… فنا فی الرسول کا قاعدہ کلیہ حضرت مسیح پر زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ انجیل اور صحیح مسلم اس کے گواہ ہیں۔
پس ثابت ہو گیا مرزاقادیانی نے اس آیت سے استدلال میں بڑی غلطی کھائی ہے یا صریح مغالطہ دیا ہے۔
ناظرین! یہ بھی یاد رکھیں کہ حضرت مسیحm جو خدا کے نبی ہیں وہ ہمارے سیدومولا محمد مصطفیa کے صحابی بھی ہیں۔ صحابی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے ایمان کے ساتھ اس زندگی میں رسول اللہ a کو دیکھا ہو۔ آنحضرتa کا حضرت مسیح سے شب معراج کو ملاقات کرنا ثابت ہے۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ اگر صدیقq وفاروقq کی خلافت کے لئے آیت خاتم النّبیین مانع ہے تو حضرت عیسیٰm کی خلافت کے لئے بھی ہے اور اگر ان کے لئے مانع نہیں تو حضرت عیسیٰm کے لئے بھی مانع نہیں۔ ایک نبی کا نبی ہوکر پھر صحابی ہونا بھی بعید نہیں۔ حضرت ہارون ویحییٰn کی مثالیں موجود ہیں۔ ہارونm تو موسیٰm کے صحابی تھے۔ یحییٰm زکریاm کے۔
وفات مسیحm پر یہ پیش کی ہے: ’’فاسئلو اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم کو معلوم نہ ہو۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گزشتہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو وہی آجاتا ہے یا ایسی عبارتوں کے کچھ اور معنی ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہم شکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم آپ ہی فیصل کر چکے ہیں۔ دیکھو کتاب سلاطین وکتاب ملاکی، نبی اور انجیل جو ایلیا کا دوبارہ آسمان۱؎ سے اترنا کس طور سے حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۶، ۶۱۷، خزائن ج۳ ص۴۳۳)
۱؎اے مرزاقادیانی! اگر آپ ’’فاسلوا اہل الذکر‘‘ پر ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو یوں ہی فیصلہ کر لیں۔ آپ نے الفاظ: ’’ایلیا کا دوبارہ آسمان سے اترنا۔‘‘ لکھ کر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ایلیا آسمان پر چڑھایا گیا۔ آپ یہ دریافت کرتے ہیں کہ اس کا اترنا کس طور کا بیان کیاگیا ہے تو پہلے یہ دریافت کر لیجئے کہ: ’’ایلیاء کا آسمان پر چڑھ جانا کس طرح بیان کیاگیا ہے‘‘ اور یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیاء کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لے جاوے۔ تب ایلیا الیسع کے ساتھ جل جلال سے چلا اور ایلیا نے الیسع کو کہا تو یہاں ٹھہر۔ اس لئے کہ خداوند نے مجھے بیت ایل کو بھیجا ہے۔ سو الیسع بولا۔ خداوند کی حیات اور تیری جان کی سوگند میں تجھے چھوڑوں گا۔ سووے بیت ایل کو اتر گئے اور انبیاء زادے جو بیت ایل میں تھے نکل کے الیسع کے پاس آئے اور اس کو کہا تجھے آگاہی ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا ہاں! میں جانتا ہوں تم چپ رہو۔ تب ایلیا نے اس کو کہا۔ اے الیسع! (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
ناظرین! اس بیان میں مرزاقادیانی نے چند غلطیاں کی ہیں۔ اوّل یعنی آیت کے
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) تو یہاں ٹھہر کہ خداوند نے مجھ کو یریحو کو بھیجا ہے۔ اس نے کہا خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا۔ چنانچہ وہ یریحو میں آئے اور آنبیاء زادے جو یریحو میں تھے الیسع کے پاس آئے اور اس سے کہا تو اس سے آگاہ ہے کہ خداوند آج تیرے آقا کو تیرے سر پر سے اٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا: میں جانتا ہوں۔ تم چپ رہو اور پھر ایلیا نے اس کو کہا تو یہاں درنگ کر، کہ خداوند نے مجھ کو یرون بھیجا ہے۔ وہ بولا: خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ کو نہ چھوڑوں گا۔ چنانچہ دے دونوں آگے چلے اور ان کے پیچھے پیچھے پچاس آدمی انبیاء زادوں میں سے روانہ ہوئے اور سامنے کی طرف دور کھڑے ہو رہے اور وے دونوں لب یرون (ناخ ریا) کھڑے ہوئے اور ایلیا نے اپنی چادر کو لیا اور لپیٹ کر پانی پر مارا کہ پانی دو حصے ہو کے ادھر ادھر ہو گیا۔ اوروے دونوں خشک زمین پر ہو کے پار ہو گئے۔
اور ایسا ہوا کہ جب پار ہوئے۔ تب ایلیا نے الیسع کو کہا کہ اس سے آگے کہ تجھ سے جدا کیا جاؤں۔ مانگ کہ میں تجھے کیا کچھ دوں۔ تب الیسع بولا۔ مہربانی کر کے ایسا کیجئے کہ اس روح کا جو تجھ پر ہے مجھ پر دوہرا حصہ ہو۔ تب وہ بولا تو نے بھاری سوال کیا۔ سو اگر مجھے آپ سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے گا تو تیرے لئے ایسا ہو گا اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہو گا۔
اور ایسا ہوا کہ جوں ہی وے دونوں بڑھتے اور باتیں کرتے چلے جاتے تھے تو دیکھ کر ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آ کے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیا بگولے یں ہو کے آسمان پر جاتا رہا اور الیسع نے یہ دیکھا اور چلایا۔ اے میرے باپ! میرے باپ اسرائیل کی رتھ اور اس کے ساتھی۔ سو اس نے پھر نہ دیکھا اور اس نے اپنے کپڑوں پر ہاتھ مارا اور انہیں دو حصے کیا اور اس نے ایلیا کی چادر کو بھی جو اوپر سے گر پڑی تھی اٹھا لیا اور الٹا پھر لب یرون کے کنارے پر کھڑا ہوا اور وہاں اس نے ایلیا کی چادر کو جو اس پر سے گر پڑی تھی لے کر پانی پر مارا اور کہا کہ خداوند ایلیا کا خدا کہاں ہے اور اس نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا تو پانی ادھر ادھر ہو گیا اور الیسع پار ہو گیا۔ مرزاقادیانی ایلیا کے آسمان پر چڑھ جانے کی یہ کیفیت مفصل پڑھ کر اب اپنے اس فقرہ کو یاد کریں کہ: ’’جب کہ ایک شخص کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو گیا ہے تو پھر اسی جسم کے ساتھ واپس آنا اس کا کیا مشکل ہے۔ نیز فقرہ ’’مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶) اور ملاحظہ کیجئے کہ ایلیا کا جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھنا کس وضاحت سے اہل کتاب کے صحف سماوی میں مندرج ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ ایلیا کی جس چادر کے گرنے کا ذکر ہے۔ وہ اس کا جسم ہی تو تھا۔ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اوّل تو شروع باب میں یہ فقرہ ہے یہ خدا نے چاہا کہ ایلیا کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لے جاوے۔ بگولے میں اڑا کر لے جانا روح سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ دوم یہ فقرہ ایلیا نے اپنی چادر کو لپیٹ کر دریا پر پھینک کر مارا۔ پانی ادھر ادھر ہو گیا۔ اگر چادر سے مراد جسم ہے تو ایلیا نے خود اپنے جسم کو کس طرح لپیٹ کر دریا پر مارا تھا۔ سوم یہ فقرہ الیسع نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا۔
(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
سمجھنے میں آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر تم کو معلوم نہ ہو تب اہل کتاب سے پوچھو۔ خدا کے فضل سے نزول مسیحm کا مسئلہ ایسا نہیں جو ہم کو معلوم نہ ہو۔ قرآن مجید سے لے کر صحاح ستہ اور دیگر تمام دواوین حدیث میں نزول مسیحm کی مفصل خبریں درج ہیں۔ بلکہ میں دعویٰ کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ احادیث نزول مسیح میں اس قدر تفصیل اور تشریح ہے کہ آج تک کسی پیش گوئی کو تو کیا گزشتہ واقعہ کو بھی کسی مؤرخ نے ایسی خوبی اور صفائی سے شاید ہی بیان کیا ہو۔ میرا یہ کہنا تو مرزاقادیانی کو ناگوار خاطر ہو گا کہ انہوں نے ان احادیث پر نظر نہیں ڈالی۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان کی تحریر میں ان احادیث کا علم ہونے کی ذرہ بھی دلالت نہیں۔
الف… مرزاقادیانی! جغرافیائی طور پر اس پیش گوئی کے متعلقہ احادیث اس طرح پر ہیں۔
۱… مدینہ کی آبادی اہاب تک پہنچ جائے گی۔ (صحیحین مسلم ج۲ ص۳۹۳، کتاب الفتن واشراط الساعۃ) ناظرین آج ہمارے زمانہ تک اس حد تک آبادی نہیں پہنچی۔
۲… اسلامی شہروں میں سے سب سے آخر میں مدینہ ویران ہو گا۔ (ترمذی ج۲ ص۲۲۹، باب فضل المدینۃ) خدا کے فضل سے آج مدینہ آباد وبارونق ہے۔
۳… بیت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی خرابی کا۔ مدینہ کا خراب ہونا سبب ہے جنگ عظیم کا۔ جنگ عظیم کا واقع ہونا سبب ہے قسطنطنیہ کی فتح کا۔ قسطنطنیہ کا فتح ہو جانا وقت ہے خروج دجال کا۔ (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب امارت الملاحم) یہ فقرہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ خروج الدجال سبب ہے نزول مسیح کا۔
۴… حضرت مسیح شہر بیت المقدس میں اور مسلمانوں کے لشکر میں نازل ہوں گے۔
(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج دجال، ابن ماجہ ص۲۹۷، باب فتنہ الدجال)
ب… اس کے بعد ملکی انقلابات سے متعلقہ احادیث پر نظر ڈالئے۔
۱… مسلمانوں کا لشکر جو نصاریٰ کی طلب میں نکلا ہو گا اس فوج کے مقابل ہوں گے جس نے قسطنطنیہ فتح کر لیا ہو گا۔ تین روز تک مسلمانوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ چوتھے روز مسلمانوں کو فتح کامل حاصل ہو گی۔ اس جنگ سہ روزہ میں ۹۹فیصدی مقتول ہوں گے۔ اس
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) کیا الیسع نے اپنے پیرومرشد کی لاش کو پھینک کر مارا تھا۔ غرض یہ تاویل فضول ہے اور سلاطین باب۲سے ایک جسم کا آسمان پر جانا ثابت ہے۔ اگر مرزاقادیانی کو ’’فاسئلوا اہل الذکر‘‘ پر ایمان ہے تو پہلے اس صعود جسمی کو تو مان لیں۔
فتح کے بعد مسلمان قسطنطنیہ کو فتح کر لیں گے۔ فتح کے بعد جب ملک شام میں پہنچیں گے تب الدجال خروج کرے گا اور پھر نماز صبح کے وقت حضرت عیسیٰm نزول فرمائیں گے۔
(مسلم ج۲ ص۳۹۱، ۳۹۲، کتاب الفتن واشراط الساعۃ عن ابوہریرہؓ وابن مسعودؓ)
۲… الدجال زمین مشرق، خراسان سے نکلے گا۔ (ترمذی ج۲ ص۴۷، باب ماجاء فی الدجال عن ابوبکر صدیقؓ وہ بجز مکہ مدینہ سب جگہ پھر جائے گا)
(مسلم ج۲ ص۴۰۵، باب فی بقیہ من احادیث الدجال)
۳… حضرت عیسیٰm مسیح باب ’’لد‘‘ پر الدجال کو قتل کریں گے۔
(مسلم ج۲ ص۴۰۱، باب ذکر الدجال)
ج… تعین زمانہ اور سنین کے اعتبار سے ملاحظہ فرمائیے۔
۱… جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ میں ۶سال کا فاصلہ ہے اور الدجال کا خروج ساتویں سال میں ہے۔
(ابوداؤد صححہ ج۲ ص۱۳۲، باب فی تواتر الملاحم)
گو میں نے ان احادیث کی طرف نہایت مختصر لفظوں میں اشارہ کیا ہے۔ مگر حق کے طالب اور صداقت کے جو یا ان بیانات سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ میری غرض ان احادیث کو دکھانے سے یہ ہے کہ جب اسلام نے اپنی تعلیم کو خود مکمل کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ناچیز بندوں پر اپنی نعمت کو تمام فرمادیا ہے اور مبحث فیہ مسئلہ میں بھی ایسی صراحت سے مسلمانوں کو آگاہ فرمایا ہے تو ان نعمتوں کی قدر نہ کرنا اس پاک اور آخری تعلیم پر اعتبار نہ کرنا اور پھر اہل کتاب سے پرسش کا اپنے آپ کو محتاج جاننا کیا ہی لغو فعل ہے جس طرح بہت سے شوم طبع بھکیاری (جن کے اندوختہ سے ان کے نفس کو بھی منفعت حاصل نہیں ہوتی) سینکڑوں اشرفیاں اپنی سڑی بسی گڈری میں چھپا رکھتے ہیں اور پیسہ پیسہ کے لئے دربدر بھٹکتے پھرا کرتے ہیں۔ بس اس جگہ بھی ٹھیک وہی مثال ہے۔
دوسری غلطی مرزاقادیانی کی یہ رائے ہے کہ نصاریٰ کی کتابوں سے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جب کسی نبی کے آنے کا وعدہ دیاگیا ہو تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ مرزاقادیانی کیوں یہ دیکھنا نہیں چاہتے کہ ان کتابوں میں خاص حضرت مسیح کے آنے کے بارہ میں کیا لکھا گیا ہے۔ کیونکہ اس جگہ عمومیت کا سوال نہیں بلکہ خصوصیت کا ہے۔
میں معزز ناظرین کی نزہت طبع کے لئے مسیح کے آنے کے بارہ میں جو کچھ انجیل میں لکھا ہے پیش کرتا ہوں۔ متی:۲۴، باب میں یہی بیان ہے:
۱… یسوع ہیکل سے نکل کر چلا گیا اور اس کے شاگرد اس کے پاس آئے کہ اسے ہیکل کی عمارتیں دکھلائیں۔
۲… پریسوع نے کیا کیا تم یہ سب چیزیں دیکھتے ہو۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ یہاں پتھر پتھر پر نہ چھوٹے گا جو گرایا نہ جائے گا۔
۳… جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شاگرد اس کے پاس آئے اور بولے کہ یہ کب ہو گا اور تیرے۱؎ آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔
۴… اور یسوع نے جواب دے کے انہیں کہا۔ خبردار رہو کہ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔
۵… کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح۲؎ ہوں اور بہتوں کو
۱؎ناظرین! تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔ یہ الفاظ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کا ترجمہ ہیں۔ مرزاقادیانی نے ’’انہ‘‘ کی ضمیر میں جو مختلف وجوہ پیش کئے ہیں، احادیث نبوی کے الفاظ اور انجیل کے الفاظ اس کا تصفیہ کرتے ہیں۔ حواریوں کے الفاظ سوال سے یہ بھی معلوم ہے کہ اس سوال سے پہلے بھی ان کو حضرت عیسیٰm کے آسمان پر جانے اور پھر قرب قیامت میں باردوم آنے کا حال معلوم ہو چکا تھا۔ یعنی وہ یہ وقت تھا جب اللہ تعالیٰ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ کا وعدہ حضرت عیسیٰm کو دے چکا تھا اور ان الفاظ کے معنی حضرت عیسیٰm نیز ان کے حواری وہی سمجھے تھے جو آج جمہور مسلمانوں نے سمجھے ہیں۔ ورنہ تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا کیا نشان ہے۔ بالکل بے معنی ہوا جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح تو خود ان میں موجود تھے اور آنے میں کیا کسر رہ گئی تھی۔
۲؎حضرت عیسیٰm نے پیش گوئی کیسے صاف اور واضح الفاظ میں حتمی طور پر فرمائی ہے اور اطلاع دی ہے کہ بہت سے لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو مسیح کا نام اور درجہ اپنے لئے ثابت کریں گے۔ پھر علامت اور نشان کے طور پر فرمادیا کہ جھوٹے مسیح اس زمانہ میں پیدا ہوں گے۔ جب لڑائیاں شروع ہوں گی یا لڑائیوں کی افواہ قوم قوم پر بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی۔ کال، وبائیں، زلزلے آئیں گے۔ اب ان علامات پر نظر غور سے دیکھو۔ پہلے مرزاقادیانی کا وہ دعویٰ یاد کرو۔ ’’جعلنک مسیح ابن مریم‘‘ یعنی میں مسیح ہوں۔ (ازالہ اوہام ص۶۳۴، خزائن ج۳ ص۴۴۲) پھر فرانس کی جنگ۔ سیام سے سوڈانیوں کا۔ مصر سے انگریزوں کا۔افریقہ میں وحشی لوگوں سے ہندوستان میں برہما اور شمالی پہاڑی والوں سے وغیرہ وغیرہ پر نگاہ ڈالو۔ پھر روس اور انگلستان کی اور جرمن وفرانس کی اور یونان وروم کی جنگ کی افواہیں یاد رکھو اور پھر اس نتیجہ کو جو مسیحm نے نکالا ہے انصاف سے دیکھو کہ وہ جھوٹے مسیح بہتیروں کو گمراہ کرنے والے ہوں گے۔
گمراہ کریں گے۔
۶… اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار مت گھبراؤ۔ کیونکہ ان سب باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک اخیر نہیں ہے۔ (یعنی قیامت نہیں)
۷… کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی اور کال، وبائیں اور جگہ جگہ زلزلے ہوں گے۔
۸… پھر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ تب وے تمہیں دکھ میں حوالے کریں گے اور میرے نام کے سبب سب قومیں تم سے کینہ رکھیں گی۔
۹… اور اس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے سے کینہ رکھے گا۔
۱۰… اور بہت جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔
۱۱… اور بے دینی پھیل جانے سے بہتوں کی محبت ٹھنڈی ہو جاوے گی۔
۱۲… پر جو آخر تک سہے گا وہی نجات پاوے گا۔
۱۳… اور بادشاہت کی یہ خوشخبری ساری دنیا میں سنائی جاوے گی تاکہ سب قوموں پر گواہی ہو اور اس وقت آخر آوے گا۔
۱۴… پس جب ویرانی کی مکروہ چیز کو جس کا دانیال نبی کی معرفت ذکر ہوا ہے مقدس مکان میں کھڑے دیکھو گے۔ (یعنی جب الدجال بیت المقدس پہنچے)
۱۵… تب جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔
۱۶… جو کوٹھے کے اوپر ہو اپنے گھر سے کچھ نکالنے کو نہ اترے۔
۱۷… اور جو کھیت میں ہو اپنا کپڑا اٹھا لینے کو پیچھے نہ پھرے۔
۱۸… پر ان پر افسوس جو ان دنوں میں حاملہ اور دودھ پلانے والیاں ہوں (کیونکہ جب بچہ پیٹ یا گود میں ہوتا ہے بھاگا نہیں جاتا)
۱۹… سودعا مانگو کہ تمہارا بھاگنا جاڑے میں بار کے دن نہ ہو (اس سے ظاہر ہے کہ ادجال بیت المقدس میں موسم سرما اور یوم شنبہ کو پہنچے گا) (بھاگنا نہ ہو سے مطلب یہ ہے کہ خدا تم کو وہ دن نہ دکھلائے)
۲۰… کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہو گی جیسی دنیا کے شروع سے اب تک نہ ہوئی ہو اور نہ کبھی ہو گی۔
۲۱… اور اگر وے (دن) گھٹائے نہ جاتے تو ایک تن بھی نجات نہ پاتا۔ پربرگزیدوں کی خاطر وے دن گھٹائے جائیں گے۔
۲۲… تب اگر کوئی کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔
۲۳… کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔
۲۴… دیکھو میں پہلے سے ہی کہہ چکا ہوں۔
۲۵… پس اگروے (لوگ) تمہیں کہیں دیکھو وہ (مسیح) جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے (جس کا نام مرزاقادیانی نے بیت الذکر رکھا ہے) تو باور مت کرو۔
۲۶… کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہو گا۔
۲۷… اور فی الفور ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔ یوحنا کی انجیل میں دیکھئے۔
۲۸… تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ اگر تم مجھے پیار کرتے تو میرے اس کہنے سے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے۔ کیونکہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے۔
۲۹… اور اب میں نے تمہیں اس کے واقع ہونے سے پیشتر کہا ہے تاکہ جب وہ جائے تم ایمان لاؤ۔ ۱۵باب۔ مرقس کے ۱۳باب اور لوقا کے ۱۷باب میں بھی اسی طرح ہے۔
اب مرزاقادیانی انصاف اور حق پسندی کی راہ سے فرمادیں کہ آپ حضرت مسیح کا بیان ان کے نزول کے بارہ میں جو اس قدر مفصل ہے اور اناجیل اربعہ میں منقول ہے، کیوں منظور نہیں فرماتے۔ انجیل یوحنا کا یہ فقرہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ زیادہ ترتدبر اور غور کے قابل ہے۔ ظاہر ہے: ’’پھر آتا ہوں۔‘‘ وہی شخص کہا کرتاہے جو پہلے جایا کرتا ہے۔ پہلے جانا حضرت مسیحm کا ہمارے اور مرزاقادیانی کے نزدیک مسلم ہے۔ (گو اس کی کیفیت میں اختلاف ہو) مگر ’’پھر آتا ہوں‘‘ کی مرزاقادیانی بڑے زور
سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کا پھر آنا محال اور قدرت کے خلاف ہے۔ اندریں حالت کہ مرزاقادیانی ’’فاسئلوا اہل الذکر‘‘ کار رہے ہیں اور انجیل حضرت مسیح کا بذات خود دنیا پر مکرر آنا بآواز بلند پکار رہی ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ مرزاقادیانی نے کیوں اور کیونکر اس آیت کو وفات مسیحm کی دلیل بنایا ہے اور نہ صرف خوش اعتقاد مریدوں کو بلکہ کل مسلمانوں کو کیسی صریح غلطی میں ڈالنا چاہا ہے۔
یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اہل کتاب کی آسمانی کتاب میں نزول مسیحm کی کیفیت کیا لکھی ہے؟ اب میں ایلیا کے اس قصہ پر توجہ کرتا ہوں جس کا حوالہ اس آیت مستدلہ کے تحت میں مرزاقادیانی نے دیا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ یہود حضرت ایلیا کی آمد کے منتظر تھے۔ جب حضرت مسیح نے نبوت کا اظہار کیا تو یہود نے یہ اعتراض کیا کہ پہلے ایلیا آنا چاہئے تھا۔ اگر تو مسیح ہے بتا ایلیا کہاں ہے؟ حضرت مسیحm کا جواب اس بارہ میں انجیل میں یوں تحریر ہے کہ حضرت یوحنا کی طرف اشارہ کر کے آپ نے فرمایا۔ آنے والا ایلیا یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو اس جواب کا وہی مطلب ہے جو مرزاقادیانی نے سمجھا ہے۔ مگر ناظرین! انجیل کو ذرا تأمل سے ملاحظہ فرمائیے۔ اسی انجیل میں یہ بھی ہے کہ جب علماء یہود کے فرستادوں نے خود حضرت یوحنا سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں؟ آیا مسیح ہیں کہا میں نہیں ہوں۔ پوچھا: کیا آپ ایلیا ہیں؟ فرمایا: میں نہیں ہوں۔ آیا وہ نبی ہیں۔ (وہ نبی ترجمہ ہے آنحضرتa کا) کہا میں نہیں ہوں۔ انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اگر آپ نہ مسیح ہیں نہ ایلیا ہیں نہ وہ نبی ہیں تو پھر کون ہیں۔ حضرت یوحنا (یحییٰm) نے جواب دیا میں وہ ہوں جس کی یسعیاہ نبی نے خبر دی تھی۔
اب دیکھو کہ اگر انجیل کا یہ بیان ہے کہ مسیح نے یوحنا کو ایلیا بتایا تو انجیل ہی کا یہ بیان ہے کہ یوحنا نے ایلیا ہونے سے انکار کیا۔ چیلہ نے اپنے گرو کو (کچھ) بنانا چاہا، مگر وہ نہ بنا۔ فرمائیے! مسیح جو دوسرے کے بارہ میں کہہ رہا ہے وہ سچا ہے یا یوحنا جو خود اپنے حال کی خبر دیتا ہے وہ صادق ہے۔ نبی دونوں ہیں۔ نتیجہ کیا نکالو گے؟ یہی کہ نبی تو دونوں سچے ہیں۔ ہاں! مسیح کے قول میں تحریف ہو گئی ہے۔ اس قدر لکھنے کے بعد جس سے ایلیا کا یوحنا میں ہونا غلط محض ثابت ہو چکا۔ یہ بھی درج کر دینا چاہتا ہوں کہ یہودی اگر حضرت ایلیا کے آنے کے
قائل بھی تھے تو ان کے اعتقاد میں یہ ہرگز نہ تھا کہ وہ خود آسمان پر سے اترے گا۔ دیکھو علماء یہود نے حضرت یوحنا سے آ کر یہ پوچھا ہے کہ تو مسیح ہے یا ایلیا یا وہ نبی۔ اگر ایلیا کے آسمان سے نزول فرمانے کے وہ قائل ہوتے تو حضرت یوحنا پر مسیح اور وہ نبی ہونے کا شبہ نہ کرتے اور جب انہوں نے شبہ کیا تو اس کے صرف دو معنی ہیں یا تو یہود مسیح اور وہ نبی اور ایلیا تینوں کے نزول ’’من السماء‘‘ کے قائل تھے اور یہ ببدایت باطل ہے۔ کیونکہ مسیح اور وہ نبی و ہنوز بار اوّل بھی دنیا میں پیدا نہ ہوئے تھے یا یہ کہ وہ ایلیا کے بجسدہ آسمان سے نازل ہونے کے قائل نہ تھے اور یہی فقرہ کا مطلب ہے۔ بدیں صورت مرزاقادیانی کی وجہ ستدلال کچھ بھی نہ رہی اور ثابت ہو گیا کہ مرزاقادیانی نے اس آیت سے استدلال کرنے میں چند درچند غلطیاں کیں اور مغالطے دئیے ہیں۔
’’یاایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ {اے اطمینان والے نفس اپنے رب کی طرف پھر جا تو اس سے راضی وہ تیرے سے راضی۔ پھر میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں چلا آ۔} مرزاقادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ گزشتہ جماعت میں دخل جب مل سکتا ہے جب انسان مر جائے اور صحیح بخاری کی حدیث معراج سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی فوت شدہ نبیوں کے گروہ میں شامل تھے۔ لہٰذا یہ نص وفات مسیح پر دلالت صریح رکھتی ہے۔
(ملخص ازالہ اوہام ص۶۱۷، خزائن ج۳ ص۴۳۳)
ناظرین! مرزاقادیانی کا صغریٰ وکبریٰ دونوں غلط ہیں۔ صحیح بخاری کی اسی حدیث پر جس کا مرزاقادیانی نے حوالہ دیا ہے، اگر تدبر کرتے تو اس غلطی پر وہ جلد مطلع ہو جاتے۔ مرزاقادیانی فرمائیے نبیوں کی فوت شدہ جماعت میں حضرت عیسیٰ کو دیکھنے والا کون تھا؟ ظاہر ہے ہمارے سید مولیٰ محمد رسول اللہ a تھے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس وقت آپa اسی دنیوی حیات میں تھے۔ پس جس طرح محمد رسول اللہ a کا گزشتہ انبیاء کے گروہ میں داخل ہوا، دخل مل جانے کے بعد کچھ تفاوت نہیں کہ تھوڑی دیر کے لئے ہو یا زیادہ دیر کے لئے۔ اسی
طرح مسیح بھی اس وقت اس گروہ میں موجود تھے۔ اس غلطی کے بعد دوسری غلطی مرزاقادیانی کی یہ ہے کہ انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا۔ اگر وہ ’’یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اور ’’یاایتہا النف المطمئنۃ ارجعی‘‘دونوں پر چشم بصیرت سے نظر فرماتے تو ان کو صداقت کا نور درخشاں نظر آتا۔ پہلی آیت میں عیسیٰ مخاطب ہیں۔ (عیسیٰ میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں) اور دوسری میں صرف نفس یعنی روح مخاطب ہے۔ پہلی آیت میں ’’رافعک الیّٰ‘‘ ہے اور دوسری میں ’’ارجعی‘‘ دنیا بھر کے لغات میں تلاش کر لو۔ نہ رجوع بمعنی ’’رفع‘‘ ملے گا اور نہ ’’رفع‘‘ بمعنی رجوع پھر ایک کو دوسری سے کیا مناسبت ہے؟ اس سے ثابت ہوا کہ ’’رفع‘‘ کے معنی کلام الٰہی میں وہی ہیں جو اس کے لغوی اور حقیقی معنی ہیں اور مرزاقادیانی نے اپنی تقویت کے لئے لفظ کو اس کے اصلی معنی سے پھیر کر کچھ کا کچھ بنا دیا ہے۔
مرزاقادیانی آپ نے ’’رافعک الیّٰ‘‘ کو ’’ارجعی الی ربک‘‘ کے ہم معنی بنادیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ’’ارجعی الی ربک‘‘ اور ’’الی ربک فارغب‘‘ بھی ہم معنی ہیں تو آپ کیا جواب دیں گے۔
’’اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم‘‘{خدا وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ پھر رزق دیا۔ پھر مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔} مرزاقادیانی فرماتے ہیں: یہی چار واقعات زندگی کے ہیں۔ اس سے کوئی باہر نہیں یعنی مسیح بھی۔
(ملخص ازالہ اوہام ص۶۱۸، خزائن ج۳ ص۴۳۴)
ناظرین! یہ سچ ہے کہ ان واقعات چارگانہ میں کل مخلوق داخل ہے۔ مگر حرف ’’ثم‘‘ جو ہر حالت کے ساتھ لگا ہوا ہے بتاتا ہے کہ یہ تمام واقعات آن واحد ہی میں شخص واحد پر گزر نہیں لیتے بلکہ ان سب میں تراخی (دیر اور فاصلہ) اور ترتیب کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستمعین کے لئے آیت: ’’خلقکم ثم رزقکم‘‘ کے الفاظ صیغہ ماضی کے ساتھ ہیں اور ’’ثم یمیتکم ثم یحییکم‘‘ کے الفاظ مضارع سے جس کے یہ معنی ہیں کہ گو م
ستمع پر دو واقع گزر لئے ہوں اور گزر رہے ہوں۔ مگر دو امور آئندہ پیش آئیں گے۔ پس جب آیت کا مفہوم زندہ جانداروں کی وفات بالفعل کا مقتضی نہیں بلکہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب نے مر جانا ہے اور سب پر ان واقعات چارگانہ نے گزر لینا ہے تو وفات مسیح پر استدلال کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے کہ آج کل حضرت مسیح ’’ثم رزقکم‘‘ کے مصداق حال ہیں؟
’’کلّ من علیہا فان ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘ یعنی جو چیز زمین پر ہے وہ فنا کی طرف میل کر رہی ہے۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ نے فان کا لفظ اختیار کیا۔ ’’یفنی‘‘ نہیں کہا۔ مطلب یہ کہ فنا کا سلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔ ہمارے مولوی صاحبان یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح بن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ… بلاتغیر وتبدل آسمان پر بیٹھا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۹، ۶۲۰، خزائن ج۳ ص۴۳۴)
ناظرین! ہمارا ایمان ہے کہ ہر شئے کے ساتھ فنا لگی ہوئی ہے۔ ہم مرزاقادیانی کے بیان کو سچ جانتے ہیں کہ ’’یفنی‘‘ کی جگہ ’’فان‘‘ لفظ اختیار کرنے میں یہی بلاغت اور حکمت تھی۔ مگر مرزاقادیانی یہ فرمائیں کہ اس میں وفات بالفعل کی دلیل کہاں ہے۔ یہ بھی جناب ممدوح کا مولوی صاحبان پر افتراء محض ہے کہ مسیح بلاتغیر وتبدل آسمان پر بیٹھا ہے۔ ہاں! ہم یہ ضرور اعتقاد رکھتے ہیں کہ زمانہ کے تغیر وتبدل کا اثر بعض جسموں پر (غیرمعمولی کہو خرق عادات کے طور پر سمجھو) ایسا خفیف ہوتا ہے کہ وہ اثر نہ خود اس جسم کو محسوس ہوتا ہے اور اس کے دیکھنے والے کو۔ اصحاب کہف جب ۳۰۹ برس کے بعد اٹھے تو انہوں نے اپنے خواب کی درازی مدت کو صرف ’’یوم اوبعض یوم‘‘ خیال کیا تھا۔ علیٰ ہذا! جب ان میں سے ایک بازار میں گیا تو بازار والے بھی جسمی ساخت وغیرہ سے اس کو اپنے ہی زمانہ کا ایک شخص سمجھ کر (کیونکہ ان کو بھی کوئی ایسا تغیر نہ معلوم ہوا جس سے وہ ان کو گزشتہ چار صدیوں کا آدمی خیال کر لیتے) اور ان کے ہاتھوں میں نہایت پرانے عہد کا سکہ دیکھ کر دوردراز کے خیالات میں پھنس گئے تھے۔ تغیروتبدل کے اثر کا تفاوت طبقات ارض پر بھی ہے۔ گرم ولایت میں مردوزن جلد جوان ہو
جاتے ہیں اور سرد میں ان سے کئی سال بعد، گرم ولایت کے رہنے والے جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ سردولایت کے بہ دیر۔ آسمانی زمین پر رہنے والوں میں تغیروتبدل ایسا کم اور غیرمحسوس ہے جس کے لئے کسر اعشاریہ کے صفر بھی مشکل سے کفایت کر سکتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ’’کل من‘‘ کے تحت میں آسمان کے فرشتے بھی شامل ہیں اور مرزاقادیانی بھی جانتے ہیں کہ ’’فان‘‘کا اثر ان پر بھی ہے۔ یعنی سلسلہ فنا ان کے ساتھ ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ مگر یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ہزاروں برس سے عبادت کرنے والے ہنوز ایسے زمانہ تک جس کی حد انسانی وہم وگمان سے برتر ہے زندہ رہیں گے۔ اب مرزاقادیانی کے نزدیک اگر مولوی صاحبان نے مسیحm کے جسم پر جوزمین آسمانی پر ہے نامعلوم تغیروتبدل کا تانزول ہونا مان لیا ہے اور اس ماننے سے ان کی توحید اور ان کی اطاعت قرآن کریم کے دعویٰ باطل ہو گئے ہیں تو کیا خود مرزاقادیانی پر وہی اعتقاد دربارہ فرشتگان رکھنے میں وہی اعتراض عائد نہ ہوں گے؟ ’’سبحان اللہ قضی الرجل علی نفسہ‘‘اسی کو کہتے ہیں۔
مرزاقادیانی یہ آفتاب جو آپ کے نزدیک جسم جبرائیل کا نام ہے۔ اس کے وجود میں ایسا کم تغیروتبدل ہے کہ آپ کے فلسفیوں کے نزدیک (جن کی تحقیقات پر بھروسہ کر کے اور جن کی ہنسی اڑانے کے خوف سے ڈر کر آپ نے رفع مسیح کا انکار کیا ہے) اس کی اتنی حدت اور حرارت جو دنیا کو گرم نہ رکھ سکے پچاس کروڑ برس میں جاکر کم ہو گی۔
’’ان المتقین فی جنت ونہر فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘اس کا ترجمہ مرزاقادیانی نے بدیں الفاظ کیا ہے: ’’متقی لوگ جو خداتعالیٰ سے ڈر کر ہر ایک قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہر میں ہیں صدق کی نشست گاہ میں۔ بااقتدار بادشاہ کے پاس۔‘‘ اور وجہ استدلال یہ لکھی ہے کہ: ’’مرنا اور مقربین کی جماعت میں شامل ہوجانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ’’رافعک الیّٰ‘‘ کے یہی معنی ہیں کہ مسیح خداتعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلاشبہ وہ جنت میں بھی داخل ہو گیا۔‘‘
(ملخص ازالہ اوہام ص۶۲۰، ۶۲۱، خزائن ج۳ ص۴۳۵)
ناظرین! ترجمہ اور وجہ استدلال میں چند غلطیاں ہیں۔ ترجمہ میں: ’’فوت ہو جانے کے بعد۔‘‘ بناوٹی الفاظ ہیں جو مرزاقادیانی کی مضمون آفرین طبیعت نے خود شامل کر دئیے ہیں۔ اس آیت مستدلہ کا تعلق مرنے کے بعد سے نہیں بلکہ روز قیامت سے ہے۔ الفاظ قرآنی یہ ہیں:’’بل الساعۃ موعدہم والساعۃ ادھٰی وامر ان المجرمین فی ضلال وسعر (القمر:۴۷)‘‘ آگے چار آیتیں مجرمین ہی کے بیان میں ارشاد فرما کر فرمایا: ’’ان المتقین فی جنّٰت ونہر‘‘
معزز ناظرین! نہ صرف مرزاقادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے بلکہ یہ بھی کہ مرزاقادیانی نے اسی آیت کی بناء پر جو یہ اصول قائم کیا تھا (حالانکہ الفاظ میں اسی اصول کی طرف صراحت تو کیا دلالت بھی نہیں)کہ انسان مرنے کے ساتھ ہی بہشت میں چلا جاتا ہے۔ وہ سراپا غلط ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ’’یوم نقول لجہنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید ہذا ماتوعدون لکل اواب حفیظ من خشی الرحمٰن بالغیب وجاء بقلب منیب ادخلوہا بسلام ذلک یوم الخلود (قٓ:۳۱-۳۴)‘‘
جس روز ہم جہنم کو پوچھیں گے تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کیا اور کچھ بھی ہے؟ اور (جس روز) متقین کے واسطے جنت کو آراستہ کر کے قریب لائیں گے۔ یہ وہ بہشت ہے جس کا وعدہ ہر رجوع کنندہ (احکام کے) محافظ کو دیاگیا تھا جو شخص بن دیکھے رحمن سے ڈرا اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آیا۔ اس کو اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل کر دو۔ یہ دن یوم خلود ہے۔ یہ آیت کس قدر مرزاقادیانی کے تلازم اور ایک آن کے مسئلہ کو باطل کر رہی ہے؟ احادیث صحیحہ میں بھی بڑی تفصیل وتشریح ہے سب کی جامع ایک ہی حدیث ہے۔ رسول اللہ a فرماتے ہیں: میں سب سے پہلے دروازہ جنت جاکر کھٹکھٹاؤں گا۔ رضوان پوچھے گا آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا محمدa! رضوان دروازہ کھول دے گا اور کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپa سے پہلے کسی کے لئے دروازہ نہ کھولوں۔
(مشکوٰۃ ص۵۱۱، باب فضائل سید المرسلین)
اگر مرزاقادیانی کا یہ مذہب ٹھیک ہے تو ان کو اس حدیث کے بعد بتلانا پڑے گا کہ وفات محمد مصطفیa سے پہلے تک جس قدر برگزیدگان خدا انتقال کرتے رہے وہ سب کہاں جنت کے باہر رہے۔
یہ تمام تقریر تو مرزاقادیانی کی اصولی غلطی ظاہر کرنے کے لئے لکھی گئی۔ اب میں یہ عرض کرتا ہوں کہ آیت مستدلہ مرزاقادیانی کے دعویٰ پر ذرا دلیل نہیں۔ بالفرض ان کا یہ بیان صحیح ہے کہ انسان مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے تو وفات مسیح پر کیا دلیل ہے۔ برگزیدہ بندوں میں داخل ہونا اگر دلیل وفات ہوتی تو شب معراج میں ہی رسول کریمa کا وفات پانا ایک مسلّم واقع ہوتا۔ جب ایسا نہیں ہوا تو آپ کا یہ استدلال ایسا بودا اور ضعیف ہے جس کو دعویٰ سے ذرا مناسبت نہیں۔
’’ان الذین سبقت لہم منا الحسنٰی اولئک عنہا مبعدون لا یسمعون حسیسہا وہم فی ما اشتہت انفسہم خٰلدون‘‘ جن لوگوں کو ہماری طرف سے پہلے سے بھلائی مل چکی ہے وہ دوزخ سے دور رہیں گے اور بہشت کی آسائشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ مرزاقادیانی کی وجہ استدلال وہی پرانی ہے کہ انسان مرتے ہی بہشت میں داخل ہو جاتا ہے اور مضمون آیت یہ ہے کہ: ’’نیک بندے بہشت میں داخل ہوں گے۔ لہٰذا حضرت مسیح مر گئے۔‘‘
(ملخص ازالہ اوہام ص۶۲۲، خزائن ج۳ ص۴۳۵، ۴۳۶)
مرتے ہی بہشت میں داخل ہونے کا غلط ہونا میں ثابت کر چکا ہوں۔ بالفرض یہ عقیدہ صحیح ودرست ہے۔ تاہم اس اصول سے کہ مردے فوراً داخل بہشت ہوتے ہیں وفات مسیح بالفعل کہاں ثابت ہو گئی؟
نوٹ: تائید الاسلام میں حضرت مصنف نے مرزاقادیانی کی طرف سے اپنے غلط عقیدہ وفات مسیح سے ۳۰آیات میں تحریف کے جوابات دئیے۔ آیت ۲۸ کے جواب تائید الاسلام میں شائع نہیں ہوئے۔ غالباً وہ مسودہ سے کاتب نے کھو دیا ہو گا۔ ذیل میں اپنی طرف سے جواب شامل کر کے اسے مکمل کیا جارہا ہے۔ (فقیر)
’’این ماتکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیّدۃ‘‘یعنی جس جگہ تم ہو اسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی۔ اگرچہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بودوباش
اختیار کرو۔اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر یک جگہ جسم خاکی پر وارد ہو جاتے ہیں۔ یہی سنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا۔ پس بلاشبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض وآفات حنجرہ الی الموت تک پہنچاتا ہے۔ اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔
(ازالہ اوہام ص۶۲۲، خزائن ج۳ ص۴۳۶)
۱… یہاں بھی مرزاقادیانی نے تحریف قرآنی کا ارتکاب کر کے غلط نتیجہ کشید کرنے کی نامراد کوشش کی ہے اس کے لئے سب سے پہلے آیت کے صحیح معنی ومفہوم پر نظر کرنا ضروری ہے۔ آپa جب صحابہ کرامi کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے، کفار مکہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ آپa نے کفار کے مقابلہ کے لئے تیاری کا حکم فرمایا تو بعض کمزور طبع حضرات یا منافقین نے جنگ سے جی چرانا چاہا۔ ان کی تنبیہ کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں۔ کئی رکوع اسی مضمون سے متعلق نازل ہوئے۔ ان میں یہ آیت کریمہ بھی ہے کہ: ’’جنگ میں جانے سے جی چرا کر تم موت سے نہیں بچ سکتے۔ موت تو کہیں بھی آسکتی ہے۔ اگرچہ بلند وبالا برجوں میں کیوں نہ رہو۔ پھر بھی موت آئے گی۔‘‘ اب اس آیت میں موت کا آنا یقینی ہے اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ کہاں ہے کہ عیسیٰm فوت ہو گئے؟
۲… تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوق کی طرح سیدنا عیسیٰm پر موت آئے گی۔ بحث اس میں ہے کہ اس وقت زندہ ہیں یا فوت ہو گئے۔ مرزاقادیانی کا مؤقف ہے کہ فوت ہو گئے۔ اس آیت میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ثابت ہو کہ وہ فوت ہو گئے۔ پس مرزا کا یہ دجل اور تحریف ہے۔ مرزا کے دل کا چور بھی مرزا کو ملامت کرتا تھا کہ تم غلط استدلال کر رہے ہو۔ اس لئے مجبوراً اسے کہنا پڑا: ’’یہ اشارہ النص بھی مسیح بن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔‘‘ مرزا نے غلط کہا۔ اس میں اشارۃ النص نہیں بلکہ مرزاقادیانی کی ’’شرارۃ النفس‘‘ نے اسے اس تحریف پر مجبور کیا ہے۔
۳… مرزا کا کہنا کہ: ’’موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔‘‘ یہاں بھی مرزا کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح مسلمان وکافر… اور نبی کی کیفیت موت میں
فرق ہے اس طرح زمین پر رہنے والے اور آسمان پر رہنے والے اجسام کے لوازم موت یا اثرات میں بھی فرق ہے۔ سیدنا عیسیٰm نفخہ جبرائیلm سے پیدا ہوئے۔ اس لئے آسمانوں پر قیام فرشتوں کی طرح ان کے جسم مبارک پر اثرات کے مرتب کا فرق ظاہر وباہر ہے مرزا کا مرشد ابلیس بھی اگر اب تک زندہ ہے تو اس کے جسم پر اثرات موت ولوازم موت میں مرزا کی نسبت تفاوت ہے تو زمین پر رہنے والوں اور ساکنان سماء کا اجسام پر لوازم موت کے اثرات سے انکار نہیں کرنا چاہئے؟
۴… اور زمانہ سے جسم پر لوازم موت وارد ہوتے ہیں۔ یہ صرف مرزاقادیانی کا عقیدہ نہیں بلکہ کفار مکہ، مادہ پرست، منکرین بعثت یہی کہتے تھے۔ ’’وقالوا ماہی الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیی وما یہلکنا الا الدہر (جاثیہ:۲۴)‘‘وہ (کفار) کہتے تھے کہ ہمیں دنیوی زندگانی ہی کافی ہے۔ ہم مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اور حوادث زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتے ہیں۔ کفار مکہ ومنکرین بعثت حوادث زمانہ کو موت اور لوازم موت سمجھتے تھے۔ یہی روگ آج مرزاقادیانی الاپ رہا ہے جب کہ مسلمانوں کے نزدیک موت صرف اور صرف مشیت الٰہی ’’یفعل ما یشاء‘‘ اور ’’حمیت‘‘ ذات باری کی مرضی ومنشاء پر منحصر ہے۔ کوئی ماں کے پیٹ سے مردہ برآمد ہوا۔ کوئی چند ساعات، کوئی چند سال، کوئی چند صدیاں۔ جس کو جتنا چاہے زندہ رکھے۔ یہ خالق کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب چاہے جس کو چاہے موت دے۔ عیسیٰm ابھی زندہ ہیں۔ ان کی وفات کے وقوع کا اس آیت میں اشارہ یا شائبہ تک نہیں۔ پس جب کہ مرزا اخسر الدنیا والآخرہ کا مصداق ہے۔
۵… مرزاقادیانی نے اپنی غلط برآری کے لئے آیت میں تحریف کر کے ’’اشارۃ النص‘‘ ثابت کرنا چاہا۔ جب کہ:’’صراصۃ النص بل رفعہ اللہ (القرآن) ان عیسیٰ لم یمت (الحدیث) ینزل فیکم (الحدیث)‘‘کی موجودگی اس بات پر دلیل بیّن ہے کہ مرزاقادیانی نے یہاں بھی تحریف سے کام لیا ہے۔
’’مااتکم الرسول فخدوہ ومانہٰکم عنہ فانتہو‘‘رسول جو کچھ تمہیں علم ومعرفت عطاء کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔
(ازالہ اوہام ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)
آئیے! مرزاقادیانی اسی آیت پر عمل کریں اور دیکھیں کہ رسول اللہ a نے حیات مسیح اور نزول مسیحm کے بارہ میں کیا فرمایا ہے:
۱… امام حسن بصریv سے مروی ہے: ’’قال رسول اللہ a للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶، ۵۷۶، ابن جریر ج۳ ص۲۸۹)
رسول خداa نے یہود کو (جو وفات عیسیٰ کے قائل تھے) فرمایا: حضرت عیسیٰm ہر گز نہیں مرے اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔ حدیث میں ’’لم یمت‘‘ کا لفظ غور طلب ہے۔ کیونکہ ’’لم‘‘ نفی تاکید کے لئے آتا ہے اور مضارع کو بمعنی ماضی کر دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس وقت تک حضرت عیسیٰm نہیں مرے۔ اس حدیث پر شاید جرح ہو سکتی ہے کہ مرسل ہے۔ امام حسن بصری نے صحابی کا نام نہیں لیا۔ مگر یہ جرح مرزاقادیانی اور ان کے اخوان الصفا کی طرف سے تو ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے مباحثہ لدھیانہ میں تسلیم کر لیا ہے۔ ’’مجرد ضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔‘‘ مرسل حدیث بکلی پایۂ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض نہیں ہوتی۔ اب رہے اہل حدیث وہ بھی اس حدیث پر کچھ جرح نہیں کر سکتے۔ کیونکہ امام حسن بصریv سے بروایت صحیح ثابت ہو چکا ہے کہ جب وہ روایت حدیث میں ارسال کرتے ہیں تو اس حدیث کے راوی حضرت علی المرتضیٰq ہوتے ہیں۔ مگر بنی امیہ کے خلاف اور شورش کے خوف سے آپ نام نہیں لیا کرتے۔ اس سے واضح ہوا کہ حدیث بالا مرفوع ہے اور اس کی سند بھی جید اور عالی ہے۔ مرزاقادیانی اگر ’’مااتکم الرسول‘‘ پر ایمان رکھتے ہیں تو اس حدیث کے سامنے سراطاعت خم کریں۔
۲… ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال کی حدیث میں ہے: ’’لیس بینی وبین عیسیٰ نبی وانہ نازل‘‘ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہی عیسیٰ تم میں نازل ہوں گے۔ ان الفاظ کو مرزاقادیانی ایمانی نظر سے دیکھیں کہ کس کا آنا ثابت ہوتا ہے اور کس کی زندگی واضح ہے۔
۳… امام احمد کی مسند اور ابن ماجہ ص۲۹۹، باب خروج الدجال میں ہے۔ رسول اللہ a نے فرمایا: میں شب معراج کو حضرت ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰo سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیم کے سپرد کیا گیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ کو فیصلہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا: قیامت کے وقت کی خبر تو خدا کے سواء کسی کو بھی نہیں۔ ہاں! خدا نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برندہ ہو گی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو یوں پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔
مرزاقادیانی کیا یہ احادیث ’’ما اتکم الرسول‘‘ میں داخل ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو آپ ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اگر آپ کے نزدیک ’’ما اتکم الرسول‘‘ میں جملہ احادیث نبوی میں سے صرف وہ دو حدیثیں داخل ہیں جو آپ نے اس آیت کی تحت میں لکھی ہیں تو واضح ہو کہ یہ دو حدیثیں بھی آپ کے مدعا کے لئے ذرا مثبت نہیں۔
۱… (ترمذی ج۲ ص۱۹۵، ابواب الدعوات) کی یہ حدیث آپ نے پیش کی ہے کہ: ’’اعمار امتی ما بین الستین الی السبعین واقلہم من یجوز ذلک‘‘جس کا ترجمہ بھی آپ نے صحیح کیا ہے کہ: ’’میری امت کی اکثر عمریں ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ بھی ’’اقلہم‘‘ میں داخل ہیں پھر یہ حدیث کیا دلیل آپ کے لئے ہے؟‘‘
۲… دوسری حدیث (مسلم ج۲ ص۳۱۰)’’ابواب الفضائل باب معنی قولہ علی رأس مائۃ سنۃ‘‘کی یہ پیش کی ہے:’’ماعلی الارض من نفس منفوسۃ یأتی علیہا مائۃ سنۃ وفی روایۃ وہی حیۃ‘‘ جو زمین کے اوپر جاندار ہے۔ ایسا مخلوق نہیں کہ اس پر سو برس گزریں اور وہ زندہ ہو۔ ’’ما علی الارض‘‘ کا لفظ بتاتا ہے کہ یہ حکم صرف ان نفوس منفوسہ کے لئے ہے جو اس وقت زمین پر موجود تھے۔ ورنہ ’’ماعلی الارض‘‘ کی شرط لغو ٹھہرتی ہے بلکہ زیادہ تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ متکلم کو یہ تخصیص کرنے کے وقت حضرت مسیح کا ضرور خیال گزرا ہے اور اس لئے ایسے الفاظ استعمال فرمائے جو روئے زمین کے کل انسانوں پر تو حاوی ہو سکیں مگر حضرت مسیحm اس سے مستثنیٰ بھی رہیں۔ لفظ ’’الارض‘‘ پر جن
علماء نے علمی بحث کی ہے اور آیات ربانی کے قرائن سے الارض کے الف لام کی تعیین کے لئے قرار دیا ہے اس بحث میں تو مرزاقادیانی الارض کو ربع مسکون پر بھی اطلاق نہ کر سکیں گے۔ بلکہ جزیرہ عرب ہی مختص ہو جائے گا۔ الغرض یہ احادیث بھی آپ کے لئے کچھ ممدومعاون نہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی ’’مااتکم الرسول‘‘ کے امرواجب الاذعان کو جو نہایت وسیع اور عام ہے۔ صرف دو حدیثوں کے اندر (جن کو آپ نے بہزار دقت اپنے مفید بنایا تھا۔ مگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوئے) محدود جانتے ہیں بلکہ جہاں کہیں رسول معصوم کے ارشادات جن کی اطاعت ہم پر فرض کی گئی ہے ان (مرزا) کے اوہام نفسانی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس جگہ آپ نہایت دلیری اور جرأت سے احادیث رسول پر مخالفانہ حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نگاہ میں احادیث نبوی کی وقعت کو پرکاہ سے بھی کم ظاہر کر دیں۔ اس بیان کے ثبوت میں کہ انہوں نے کس طرح پر جابجا احادیث نبوی پر حملہ کئے ہیں اور کیسے کیسے پیرایہ میں ان کا ساقط الاعتبار ہونا زوروشور سے تحریر کیا ہے۔ مجھے زیادہ حوالے دینے کی ضرورت نہیں۔ میں اس جگہ صرف اس قدر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ’’ما اتکم الرسول‘‘کا امر واجب الاذعان اس وقت فراموش ہو جایا کرتا ہے؟
یہ ہے: ’’اوترقی فی السماء… قل سبحان ربی ہل کنت الا بشراً رسولاً‘‘اس کا ترجمہ مرزاقادیانی نے یوں کیا ہے: ’’یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا۔ تب ہم ایمان لے آویں گے ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دار الابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھاوے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی‘‘ ترجمہ کے بعد لکھا ہے کہ: ’’کفار نے آنحضرتa سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا۔ انہیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۲۵، خزائن ج۳ ص۴۳۷)
ناظرین! اس آخری آیت کے تحت میں مرزاقادیانی نے اپنی تمام اندرونی چالاکیاں ختم کر دی ہیں۔ پہلے تو ایک آیت کے اوّل اور آخر کے الفاظ کو ملا کر اور بیچ کے الفاظ کو بالکل اڑا کر اس کو ایک مستقل آیت بنا دیا اور پھر اس کے ترجمہ میں بہت کچھ کمی بیشی
کی۔ مثلاً ہم کو معلوم نہیں ہوتا کہ: ’’تب ہم ایمان لے آئیں گے۔‘‘ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ ناظرین! جس آیت کو مرزاقادیانی نے الفاظ بالا کے ساتھ لکھا ہے۔ وہ قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ ہے۔ ’’اوترقی فی السماء ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقروہ قل سبحان ربی ہل کنت الا بشراً رسولا (بنی اسرائیل:۹۳)‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ: ’’اوترقی فی السماء‘‘ کے بعد اور ’’قل سبحان ربی‘‘ سے پہلے اس قدر الفاظ ’’ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرء ہ‘‘ مرزاقادیانی نے دانستہ قلم انداز کر دئیے اور اس طرح قرآن مجید کو بھی اپنی تحریف سے محروم نہ چھوڑا۔ پہلے تو احادیث کو ظنی وغیرہ کہہ کر قرآن مجید پر مدار ڈالا اور جب قرآن مجید کو بھی اپنے مطالب کے مخالف پایا اور تاویل وتعقید سے بھی کام نہ چلا۔ تب الفاظ اور آیتوں کو بھی قلم انداز کرنا شروع کیا۔ اللہ اکبر! اگر رب کریم نے اس کتاب مجید کی حفاظت کا خود ذمہ نہ فرمایا ہوتا۔ اگر باری تعالیٰ نے اپنے فضل ورحمت سے اپنی کلام قدیم کو کروڑوں مسلمانوں کے دل وسینہ اور قلب وزبان پر نہ لکھ دیا ہوتا تو پیارے مسلمانو! تم دیکھتے کہ کتب سابقہ میں تو کیا تحریف ہوئی تھی جو ایسے شیربہادروں کی بدولت قرآن مجید میں ہو جاتی۔ پاک ہے وہ رب العالمین جس نے ’’وانا لہ لحافظون‘‘کہہ کر قرآن کی حفاظت خود فرمائی ہے۔
غرض پیارے ناظرین! مرزاقادیانی نے عمداً آیت کے الفاظ کو قلم انداز کر کے اور سلسلہ کلام کو توڑ کر پہلے تو کفار کے بیان کو پلٹ دیا اور پھر اس جواب کو جو دوسری درخواست کے متعلق تھا۔ پہلی درخواست سے متعلق کر کے ایک خیالی قانون قدرت کی مدد فرمائی اور غالباً دل میں بہت ہی خوش ہوئے ہوں گے کہ ہم نے کیسی خوبی سے اپنے مذہب کو ثابت کر دیا۔ بزرگ مسلمانو! اب آیت شریفہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیںاور اس آیت کو سرے سے ’’وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجرلنا‘‘سے دیکھتے چلے آئیں۔ کفار نے یہ کہا تھا۔ ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے۔
۱… جب تک تو ہمارے لئے زمین سے ایک چشمہ بہانہ نکالے۔
۲… یا تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا ہو اور تو اس میں نہریں چلا کر بہالے۔
۳… یا ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرادے۔ جیسا کہ تو کہا کرتا ہے۔
۴… یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو ضامن۔
۵… یا ہو تیرے لئے ایک ستھرا گھر۔
۶… یا تو چڑھ جائے آسمان پر اور ہم تو تیرے آسمان پر چڑھ جانے سے بھی ایمان نہ لائیں گے۔
۷… جب تک تو ہمارے لئے ایک نوشتہ نہ اتارے۔ جس کو ہم سب پڑھ لیں۔ اے محمدa! تو کہہ دے سبحان اللہ ! میں تو ایک بشر اور رسول ہوں۔
اس تمام آیت سے پتہ چلتا ہے کہ کفار اپنی درخواست ہائے معجزہ میں کیا کچھ دیکھنے کی تمنا کرتے تھے۔ ان کی درخواستیں یا تو نبی کے درجہ رفیعہ سے بہت ہی گری ہوئی اورسفلی تھیں اور یا منصب نبوت سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی اور عادت اللہ کے خلاف۔ ان کی سفلی اور گری ہوئی درخواستیں یہ تھیں۔
۱… زمین سے چشمہ کا نکالنا۔
۲… کھجور اور انگوروں کا باغ۔
۳… اس میں نہریں۔
۴… ستھرے گھر۔ ظاہر ہے کہ نہ ان کو معجزہ کہہ سکتے ہیں اور نہ ایسا کر دکھلانے سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ الٰہی طاقت کے سواء اور کوئی بشر ایسا کچھ دکھلا ہی نہیں سکتا۔ پس یہ درخواستیں تو یوں فضول ٹھہریں۔
عادت اللہ کے خلاف ان کی درخواستیں یہ تھیں۔
۱… آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرادے۔
۲… خدا اور فرشتوں کو ضامن لے آ۔
پس آیت میں تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ساری درخواستوں میں سے صرف ایک ہی ایسی درخواست تھی جو منظور کی جاتی۔ یعنی ’’آسمان پر چڑھنا‘‘ لیکن چونکہ کفار اپنا کاذب اور رسول خداa کا صادق ہونا اپنے دلوں میں جانتے تھے اور ان کو کامل یقین تھا کہ جو معجزہ اس رسول سے چاہا جائے گا۔ باذن الٰہی یہ ضرور دکھادے گا۔ لہٰذا یہ درخواست کرنے کے بعد کہ جب تک تو آسمان پر چڑھ کر ہم کو نہ دکھلائے۔ ہم ایمان نہ لائیں
گے۔ پھر جھٹ اس اقرار اور اس شرط سے بھی منکر ہو گئے اور صاف کہہ اٹھے کہ ہم تو آسمان پر تیرے چڑھ جانے سے بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہاں! تب ایمان لائیں گے جب تو ہمارے نام کا نوشتہ بھی بارگاہ الٰہی سے لکھوا کر لے آئے اور ہم سب اس کو پڑھ بھی لیں۔
ناظرین! کفار کے اس آخری اور شوخانہ استہزاء کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے نبی! ان کو سنا دے۔ میرا خدا اس سے پاک ہے کہ ہر ایک کے پاس کتاب الٰہی نازل کرے اور تمام مخلوق کو صاحب کتاب اور رسول بنا دے۔ پھر یہ بھی کہہ دے۔ میں تو ایک بشر ہوں یا رسول۔ یعنی بشر کسی پر کتاب الٰہی نازل نہیں کر سکتا اور رسول دوسرے کو رسول نہیں بنا سکتا۔
آیت کے الفاظ اور اس کے ترجمہ اور مطلب پر غور کرنے کے بعد ناظرین معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے اپنی مستدلہ آیات میں سے سب سے آخری آیت کو جو عدم رفع برسماء کی دلیل قرار دیا تھا اور پھر اس کو وفات مسیح پر چسپاں کیا تھا وہ ان کے دعویٰ کی کتنی مبطل ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کفار کا قول یوں نقل فرماتا ہے: ’’ولن نؤمن لرقیک‘‘ ہم آسمان پر تیرے چڑھ جانے سے ایمان نہ لائیں گے اور مرزاقادیانی قول کفار میں یہ الفاظ اداء کرتے ہیں تو آسمان پر ہمیں چڑھ کے دکھا۔ تب ہم ایمان لے آئیں گے۔
اب مسلمان خود اندازہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صادق ہے یا مرزاقادیانی دونوں سے صرف ایک صادق بن سکتا ہے اور چونکہ ہمارا اور مرزاقادیانی کا بھی یہی مذہب ہے کہ رب العالمین سے بڑھ کر اصدق الحدیث کوئی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مرزاقادیانی سے امید ہے کہ وہ اپنے ان الفاظ پر کہ: ’’کفار نے آنحضرتa سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں جواب صاف ملا کہ یہ عادت اللہ کے خلاف ہے۔‘‘ مکرر غور فرمائیں گے کہ قرآن مجید نے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کے جواب میں ہرگز ہرگز یہ نہیں فرمایا کہ یہ عادت اللہ کے خلاف ہے۔
پس جب قرآن مجید ہی ان کی وجہ استدلال کو پاش پاش کر رہا ہے تو پھر ان کی دلیل کیا رہی؟ مرزاقادیانی! قرآن مجید کی وہ لمبی چوڑی تعریفیں جو آپ جابجا لکھا کرتے ہیں کیا ان کا عملی ثبوت یہی ہے کہ مطلب ومفہوم کلام پاک ایک طرف آپ الفاظ قرآنی اور نظم کلام فرقانی میں بھی تصرف فرمایا کرتے ہیں؟ حیف حیف!!!
ناظرین! مرزاقادیانی کی پیش کردہ آیات پر وفات مسیح کے متعلق ان کی غلط فہمی کے اظہار کے بعد میں ایک بار پھر آپ کی توجہ ان آیات کی طرف منعطف کراتا ہوں۔
واضح ہو کہ آیات نمبر۸، ۱۲، ۱۴، ۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۸، ۲۴، ۲۵، ۲۸۔ ایسی عام ہیں کہ جن سے کسی شخص کی بھی وفات بالفعل ثابت نہیں ہوتی۔ (خصوصیت سے حضرت مسیحm کی وفات کا تو کیا ذکر) اور اگر الفاظ کو تروڑمروڑ کر ان کو مفید معنی اثبات وفات بالفعل کرلیا جائے تو پھر ان کے اثر سے کوئی شخص بھی (کل بنی آدم میں سے جو ایک ارب کئی کروڑ سطح ارض پر موجود ہیں) زندہ نہیں رہ سکتا۔ حتیٰ کہ خود مستدل صاحب بھی لطف کی بات یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی ان آیات کو مثبت معنی وفات بالفعل جانتے ہیں تو دلائل سے خود اپنی حیات بالفعل تو ثابت کر دکھائیں اور علمی طاقت سے جو مکتب قدس میں آپ نے حاصل کی ہے۔ کام لے کر ذرا بیان تو کریں کہ ’’این ماتکونوا یدرککم الموت کلّ من علیہا فان اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم الم تر ان اللہ انزل من السماء ثم انکم بعد ذلک لمیتون انما مثل الحیوٰۃ الدنیا الذی خلقکم ومن نعمرہ ننکسہ ومنکم من یتوفی وما جعلنا لبشر‘‘ ان آیات میں جس حصر نے حضرت مسیحm کو گھیر لیا ہے تو آپ اس حصر سے کیونکر باہر رہے۔ کیا آپ بھی اپنے آپ کو دستبرداجل سے اچھوتا سمجھتے ہیں؟
آیات نمبر ۵،۶ کا ایک ہی مضمون ہے۔ حتیٰ کہ مرزاقادیانی نے دونوں کو ملا کر ایک قضیہ بنایا ہے۔
علیٰ ہذا!… آیات ۱۲، ۱۵، ۲۴ کا ایک ہی مضمون ہے۔
علیٰ ہذا!… آیات ۱۶، ۱۸ کا ایک ہی مضمون ہے۔
علیٰ ہذا!… آیات ۲۶، ۲۷ دونوں ہم مضمون ہیں۔
اس سے واضح ہو گا کہ مرزاقادیانی کو صرف شمار آیات بڑھا لینا منظور ہے۔ ورنہ دراصل ان کے پاس وفات مسیح کی چند آیات بھی نہیں۔ آیات نمبر۲۲، ۲۹ ایسی عام ہیں۔ جن کا حیات یا ممات سے ذرا تعلق نہیں۔ اب رہ گئیں آیات نمبر ۱، ۲، ۳، ۴، ۱۰، ۱۱۔ یہ ایسی آیات ہیں جن میں مسیحm کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں ایک وعدہ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان
سے کیا۔ دوسری میں ایفائے وعدہ کا اظہار، تیسری میں قیامت کا بیان اور حضرت عیسیٰ کے ساتھ سوال وجواب کا ذکر۔ چوتھی میں ان کا نزول۔ دسویں میں دین مسیحی کے ارکان کا بیان۔ گیارھویں میں ان کی برأت ان تہمتوں سے جوان کی غیرمعمولی پیدائش پر معاندین نے ان کو اور ان کی ماں کو لگائیں۔ نیز ان تہمتوں سے جو ان کے قتل وصلب کے بارہ میں یہود نے مشہور کر رکھی ہیں۔ نیز ان فاسد ظنوں سے جو مشرکین عرب نے ان کی نسبت قائم کر رکھے ہیں کہ ان کے معبودوں کی طرح مسیح بھی حصب جہنم ہوں گے۔ حضرت مسیح کی برأت کی گئی ہے۔ مگر اس آیت میں موت بالفعل کا ذکر کہاں ہے؟
ناظرین! حقیقت یہ ہے کہ خود مرزاقادیانی بھی اپنے دل میں جانتے ہیں کہ میرا استدلال ان آیات سے وفات مسیح پر صحیح نہیں۔ گو وہ دعویٰ کے زور میں آکر ان آیات کو وفات مسیح کی مثبت لکھ گئے ہیں۔ تاہم ؎
بحکم مے تر اووز دلم آنچہ درآوند من ست
دل کی بات بھی توضیح المرام میں لکھ گئے ہیں کہ وفات مسیح پر تین آیات دلالت کرتی ہیں۔ ازالہ کے ص۲۸۵ پر بھی یہی اقرار موجود ہے اور وہ آیات یہ ہیں: ’’یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ دوم: ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ سوم: ’’فلما توفیتنی‘‘ ان تین آیات میں سے دو آیات قابل غور ہیں۔ اوّل: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ دوم: ’’فلما توفیتنی‘‘ آیت اوّل میں ایک وعدہ اور ایک اخبار ہے۔ آیت دوم میں اس وعدہ کے وفاء اور اس خبر کے صدق ظہور کا اظہار ہے۔ لہٰذا اب مدار علیہ صرف ایک آیت یعنی ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ رہ گئی۔ کیونکہ اس آیت وعدہ کے الفاظ سے جو شئے موعود سمجھی جائے گی اس کا آیت دوم اور سوم میں جس میں سے ایک میں صرف رفع کا لفظ ہے۔ ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ اور دوسری میں صرف توفی کا ’’فلما توفیتنی‘‘ وفا وصدق ظہور ثابت ہو جائے گا۔
’’توفی‘‘ کے لفظ پر مکرر بحث کی ہم کو ضرورت نہیں۔ ناظرین! اسی کتاب کے حصہ گزشتہ پر اس کو ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ہاں! اس جگہ یہ لکھ دینا ضروری ہے کہ مرزاقادیانی نے ازالہ میں تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح کو جب موت کا وعدہ دیا گیا۔ ’’اس سے حقیقی موت مراد نہیں
بلکہ مجازی موت مراد ہے۔ یہ عام محاورہ ہے کہ جو شخص قریب المرگ ہو کر پھر بچ جائے۔ اس کی نسبت یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئے سرے سے زندہ ہوا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۹۲، خزائن ج۳ ص۳۰۲)
اور اس تسلیم کر لینے کے بعد ان کے تمام دعاوی دلیل وحجت سے ایسے برہنہ اور عاری ہو گئے۔ جیسے خزاں میں درخت اور ان کی تمام ایچ پیچ کی تقریریں ایسی ہی بے اعتبار ہو گئیں۔ جیسے دیوالیے کہ آڑھت، تاہم اتمام حجت کے لئے ہم مرزاقادیانی کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ اپنے اس اقرار کو واپس لے لیں اور بھولے بھٹکے سے جو الفاظ قلم سے نکل چکے۔ ان کو نسیاً منسیاً خیال کریں اور پھر بھی اس آیت کے معنی کر کے دکھلائیں۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں:’’یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّ‘‘ اوّل یا عیسیٰ پر غور فرمائیے۔ ظاہر ہے کہ ’’یا عیسیٰ‘‘ اور ’’یاایتہا النفس المطمئنۃ‘‘میں بہت بڑا تفاوت ہے۔ دوسری آیت میں صرف نفس مخاطب ہے جس میں بدن مشارک نہیں اور پہلی آیت میں عیسیٰm مخاطب ہیں جس میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں۔
دوم… ’’انی متوفیک‘‘ پر تدبر فرمائیے۔ ’’توفی‘‘ کے معنی قبض تام ہیں اور چونکہ یہ قبض تام عیسیٰ کے لئے ہے جس کے مفہوم میں روح اور جسم دونوں شامل تھے۔ لہٰذا توفی بجسدہ العنصری ثابت ہوا۔
سوم… ’’رافعک الیّٰ‘‘ پر تفکر کیجئے۔ ’’رفع‘‘ کے معنی بلند کرنا ہیں۔ جس کی ضد وضع ہے جو نیچے رکھ دینے کے معنی میں آتا ہے۔
(ازالہ ص۳۳۹، خزائن ج۳ ص۲۷۲ ملخص) پر آپ نے تسلیم کر لیا ہے کہ ’’رافعک‘‘ کا تعلق ’’متوفیک‘‘ کا سے ہے۔ پھر یہ بھی مان لیا ہے کہ جو قبض کیا جاتا ہے وہی اٹھایا بھی جاتا ہے۔
لفظ عیسیٰ کے مفہوم اور توفی کے معنی نے حضرت مسیح کا بجسدہ العنصری قبض کیا جانا اور لفظ ’’رفع‘‘ کے معنی نے اسی جسم کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت کر دیا۔ یہ وہ معنی ہیں جن میں نہ لغت سے عدول ہوا نہ عرف سے نہ کہیں مرادی معنی لئے گئے۔ نہ مجازی ڈھکوسلا لگایا گیا۔ مرزاقادیانی جو اس آیت کے معنی کرتے ہیں۔ وہ ’’یا عیسیٰ‘‘ کے لفظ پر تو کچھ غور
کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ’’انی متوفیک‘‘ میں ’’توفی‘‘ کے معنی صرف قبض روح کرتے ہیں مگر ہم حیران ہیں کہ ’’توفی‘‘ کے معنی صرف قبض روح کس لغت میں ہیں۔ اگر براہ عنایت مرزاقادیانی کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھادیں کہ ’’توفی‘‘ کے معنی صرف قبض روح اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے ہیں تو وہ ایک ہزار روپیہ کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔ اس رقم میں ’’سراج منیر‘‘ بخوبی چھپ سکتا ہے۔ (سراج منیر مرزاقادیانی کا رسالہ ہے۔ ان دنوں مرزاقادیانی اس کی اشاعت کے لئے چندہ کی اپیل کر رہا تھا۔ اس کی طرف اشارہ ہے۔ فقیر اللہ وسایا!)
’’رافعک الیّٰ‘‘ کے معنی وہ لغوی نہیں لیتے بلکہ مرادی معنی لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’رافعک الیّٰ‘‘ سے قرب الٰہی مراد ہے۔ مسلمانوں کا اعتقاد ہے اور لغت ان کا شاہد ہے کہ رفع کسی جسم کے بلند کرنے نیچے سے اٹھا کر اوپر لے جانے کو کہتے ہیں۔ وہ جسم خواہ محسوس ہو یا غیرمحسوس، واضح ہو کہ جس طرح حضرت عیسیٰ کے محسوس۔ جسم کے اٹھالینے پر رب کریم نے اس لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔ اسی طرح رسول خدا نے بھی ایک محسوس جسم کے زمین سے اوپر اٹھائے جانے پر اسی لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔
’’مسری‘‘ کا لفظ غور طلب ہے کہ اس سے معراج جسمانی ثابت ہوتا ہے (جو جمہور اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے) یا کشفی منام والا جو مرزاقادیانی کا مذہب ہے۔ پھر دیکھنا چاہئے کہ اگر آنحضرتa نے اپنا خواب یا کشف بیان کیا ہوتا تو کفار کو اس سے سخت انکار کرنے اور امتحان کی غرض سے مختلف سوالات پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ خواب میں کسی دوردراز مکان کا دیکھ لینا کچھ بھی مستعبد نہیں۔ علیٰ ہذا خواب میں مرئیات کو واقع کے مطابق دیکھنا بھی ضروری نہیں۔ کفار کے سوال اور ان کے اعتراض سے رسول کریمa کی گھبراہٹ اور اللہ تعالیٰ کا اس گھبراہٹ کو دور فرمانا تو جب ہی ٹھیک ہوتا ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آنحضرتa نے اپنے معراج کو جسمانی بتلایا تھا اور آپa کے الفاظ سے صحابہ اور مشرکین نے یہی سمجھا تھا۔
آنحضرتa فرماتے ہیں: شب معراج کے بعد (جب آپ نے لوگوں سے اپنا بیت المقدس تشریف لے جانا اور وہاں سے افلاک پر جانا بیان فرمایا) قریش میرے اس سفر کے متعلق سوال کرنے لگے۔ انہوں نے بیت المقدس کے متعلق چند ایسی چیزیں دریافت کیں جن کا میں نے دھیان نہ رکھا تھا۔ مجھے اس وقت نہایت ہی شاق گزرا۔ (کیونکہ جواب نہ دینے سے کفار کو احتمال کذب کا یارا تھا) رب کریم نے میرے لئے بیت المقدس کو اٹھا کر بلند کر دیا کہ میں اسے بخوبی دیکھتا تھا۔ پھر قریش نے جو کچھ مجھ سے پوچھا میں نے جواب دے دیا۔ جناب مرزا قادیانی ’’رفعہ اللہ الی‘‘ پر کم سے کم تین بار غور فرمائیں۔
’’رفع‘‘ کے جو معنی ’’ورافعک الیّٰ‘‘ میں ہم نے کئے ہیں۔ اسی کا ممد ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ کا منطوق ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے جب ’’متوفیک‘‘ میں صرف قبض روح کے معنی لئے تو ’’رافعک‘‘ میں معزز موت مراد لی۔ ان دونوں فعلوں کا مرجع بہرحال عیسیٰ ہیں۔ مگر جب وہ ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ کے معنی کرتے ہیں تو ان کے بیان میں لغزش آ جاتی ہے۔ کیونکہ ’’ما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع جسم اور روح دونوں ہیں جس کو مرزاقادیانی بھی مانتے ہیں۔ لیکن ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ میں آ کر وہ ضمیر کا مرجع صرف روح کو قرار دے بیٹھے ہیں جس کے واسطے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ یہ تو کلام میں نہایت بھونڈی اور بدنما تعقید ہے جس کا وجود کسی فصیح انسان کے کلام میں بھی نہیں ملتا۔ چہ جائیکہ ایسے معجز کلام الٰہی میں ہو؟ اس وقت مرزاقادیانی کو اپنے وہ الفاظ جو (توضیح المرام ص۱۴، ۱۵، خزائن ج۳ ص۵۸) میں لکھے ہیں۔ یاد کرنے چاہئیں۔ ’’خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی اور بلند ارادوں کا خیال بھی رہے۔ نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنی جو ہجوملیح کے حکم میں ہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خداتعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے صرف۱؎ دہقانی لفظوں تک محدود خیال کر لیا جائے۔‘‘ اب مرزاقادیانی کو دیکھنا چاہئے کہ
۱؎مرزاقادیانی کے نزدیک قرآن مجید کے الفاظ کے دہقانی ہونے میں تو شک ہی نہیں۔ ہاں! وہ چاہتے ہیں کہ معانی میں بلاغت اور نزاکت ہو۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ تفسیر کے لئے روحانی ارادوں کا خیال کرنا مرزاقادیانی نے ضروری ٹھہرایا ہے۔ مگرالفاظ کی موافقت اس تفسیر کے لئے ضروری نہیں بتائی تاکہ ہر شخص آزادی سے جو چاہے وہ آیات کی تفسیر کرے اور جب اس پر اعتراض وارد ہوں تب کہہ دے کہ متکلم کے روحانی ارادہ میں یہی معنی ہیں۔ گو تم الفاظ سے یہ معنی سمجھ نہ سکو۔
متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت کا خیال نہ کر کے غایت درجہ کے سفلی بدنما اور بے طرح موٹے معنی آپ کرتے ہیں یا ہم ایسے معنی کہ اس میں ضمائر بھی ٹھیک نہیں بیٹھتی ہیں۔
مرزاقادیانی نے ازالہ کے خاتمہ پر پھر آیت:’’یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ‘‘ کو لکھا ہے۔ (ازالہ اوہام ص۹۲۲، خزائن ج۳ ص۶۰۶ ملخص)
اور بیان کیا ہے کہ: ’’خداتعالیٰ نے ترتیب وار چار فعل بیان کر کے اپنے تئیں ان کا فاعل بیان کیا ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ ہمارا مذہب بھی یہی ہے اور آیت کے جو معنی ہم نے لکھے ہیں اس میں ترتیب ان فعلوں کی اسی طرح قائم رہتی ہے۔ البتہ ترتیب توڑنے کا جو الزام بڑے زوروشور سے انہوں نے قائم کیا ہے اور ترتیب توڑنے والوں کو پیٹ بھر گالیاں دی ہیں۔ وہ حضرت ابن عباسq کا مذہب ہے۔ وہی ابن عباسq جن کا مذہب امام بخاریv نے ’’متوفیک‘‘ بمعنی ’’ممیتک‘‘ بیان کیا ہے اور وہی ابن عباسq جن کا مذہب (ازالہ اوہام ص۸۹۲، خزائن ج۳ ص۵۸۷) پر آپ نے اپنے لئے سند سمجھا ہے۔
بڑے حیف کی بات ہے کہ حضرت ابن عباسq کے مقولہ کا آدھا حصہ تو آپ قبول کرتے ہیں اور آدھا قبول نہیں کرتے۔ ایمان بعض اور کفر بعض کی۔ اگر کوئی اور مثال ہے تو فرمائیں؟
یہ وہ مضمون ہے جس پر مرزاقادیانی کی تمام کامیابی کا انحصار ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے پر جو ثبوت اور علامات بیان کی ہیں۔ میں ان کو مع اپنی ضروری معروضات کے تحت میں درج کرتا ہوں۔
مرزاقادیانی نے اس مضمون کو (ازالہ اوہام ص۶۸۲، خزائن ج۳ ص۴۶۸) سے شروع کیا ہے۔ آغاز مضمون میں لکھتے ہیں: ’’اب ثبوت اس بات کا کہ وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قرآن کریم میں وعدہ دیاگیا ہے۔ یہ عاجز ہی ہے۔ ان تمام دلائل اور علامات اور قرائن سے جو ذیل میں لکھتا ہوں ہر ایک طالب حق پر بخوبی کھل جائے گا۔‘‘
ازانجملہ… الآیات حدیث: ’’بعد الماتین‘‘ میں آیا ہے۔ الآیات سے آیات کبریٰ مراد ہیں جو تیرھویں صدی میں ظہور پذیر ہوں گی… چنانچہ اس وقت میں نے ہی دعویٰ کیا ہے۔
(ایضاً)
ناظرین! حدیث کا ترجمہ تو یہ ہے کہ نشانیاں دو صدیوں کے بعد ہیں۔ مرزاقادیانی نے یہ حدیث لکھ کر پھر اس سے تیرھویں صدی مراد لی ہے۔ اس کے لئے انہوں نے دو قرینے قائم کئے ہیں۔ اوّل: یہ کہ الآیات سے مراد آیات کبریٰ ہیں۔ کیونکہ آیات صغریٰ تو نبیa کے وقت مبارک ہی سے ظاہر ہونی شروع ہو گئی تھیں۔ دوم: علماء کا اتفاق میں کہتا ہوں کہ الآیات سے اگر آیات کبریٰ ہی مراد لیں تب بھی حدیث کے یہی معنی ہیں کہ دوسری صدی کے بعد آیات کا ظہور ہو گا۔ کیونکہ بقول مرزاقادیانی آیات صغریٰ تو خیرالقرون ہی میں ظاہر ہونے لگی تھیں۔ پس نبیa کا دو صدیوں کے بعد فرمانا اور آیات صغریٰ سے جو اس وقت بھی ظاہر ہو رہی تھیں قطع نظر فرمانا صاف دلیل اس پر ہے۔ مرزاقادیانی کا یہ کہنا بھی کہ علماء کا اتفاق اس حدیث کے معنی میں تیرھویں صدی پر ہوا ہے۔ یہ دو طرح سے غلط ہے۔ اوّل: یہ کہ ان کے نزدیک اتفاق علماء کوئی شئے نہیں یہی وجہ ہے کہ مرزاقادیانی معنی آیات حیات مسیح میں کل مفسرین کے اور معنی احادیث نزول مسیح میں کل محدثین کے اور اصول تنقید احادیث میں تمام فقہاء ومجتہدین کے برخلاف اپنے الہام وکشف کو دلیل شرعی قرار دینے میں جمیع صوفیہ کرام وسالکین کے سخت مخالف اور معاند ہیں اور اسی لئے آپ نے نہایت جوش میں آکر یہ تحریر کیا ہے۔ ’’امت۱؎ کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۴۲، خزائن ج۳ ص۱۷۲)
۱؎ناظرین! اوّل امت کے لفظ پر غور فرماویں جو صحابہ سے لے کر تاایں دم تمام مسلمانوں پر حاوی وشامل ہے۔ پھر تمام امت کے اتفاق اور اجماع کو کورانہ کہنے پر خیال کرو کہ کس طرح پر سب مسلمانوں کو بے بصر اور دورازبصیرت بتلایا ہے۔ حالانکہ حدیث مسلم میں ہے کہ میری امت کا اجماع گمراہی پر نہیں ہوسکتا۔ رب کریم نے بھی ’’غیر سبیل المؤمنین‘‘ کہہ کر اس اجماع کی تصدیق فرمادی۔ یاد رکھو ’’المؤمنین‘‘ میں الف لام استغراق ہے۔
پس جس شخص کے نزدیک تمام امت کے اتفاق اور اجماع کا نام بھی کورانہ ہے وہ اتفاق علماء کو ایک حدیث کے معنی میں کیا دلیل بناسکتا ہے؟ دوم: یہ کہ علماء کا اتفاق ہونا بھی اس معنی پر غلط ہے۔ امام جعفر صادق کا یہی مذہب ہے کہ اس حدیث کی رو سے آیات کبریٰ دو صدیوں کے بعد شروع ہو جائیں گے۔ صاحب اشاعت نے اسی کو راجح بیان کیا ہے۔ نبیa کی دوسری حدیثیں بھی اسی بیان کی تائید کرتی ہیں۔ ’’خیارکم بعد الماتین کل خفیف الحاذ دوم لا یولد بعد المأتین مولود ﷲ فیہ حاجتہ‘‘ اور قرون مشہودلہا بالخیر بھی اسی حدیث کی تائید میں ہیں جو تیسری صدی کے آغاز میں ختم ہو جاتے ہیں۔ پھر تاریخ اسلام اس زبردست پیش گوئی کی شہادت ادا کر رہی ہے کہ تیسری صدی سے کیسی کیسی علامات ظہور پذیر ہونے لگیں۔ جن میں سے ایک ایک نے اہل عالم کے دل کو ہلا دیا اور موت وقیامت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے دکھلا دیا۔ قتل وزلال کی کثرت ہوئی۔ طاعون ووبا آئی۔ ملک کے ملک صاف کر گئی۔ ایک ایک ظالم کے ہاتھ سے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کا خون ہوا۔ خسف ہوئے، مسخ ہوئے۔ باطنیہ نے حج بیت اللہ بند کر دیا۔ حجر اسود کو کعبہ سے اکھاڑ کر لے گئے۔ قحط ایسے ایسے ہوئے کہ قحط یوسف کا نمونہ نظر آ گیا۔ دین کے برباد کرنے کو قرامطہ، باطنیہ، معتزلہ پیدا ہوئے۔ ایک ایک مسئلہ کے اختلاف پر ہزاروں عالمان دین تہ تیغ بے دریغ کئے گئے۔ امام اہل سنت والجماعت احمد بن حنبلv جیسے پابزنجیر مدتوں اسیر رہے۔ بیسیوں نے نبوت کے دعاوی کئے۔ بیسیوں نے مثیلیت کا نقارہ بجایا۔ کوئی مثیل نوح صاحب کشتی کہلایا۔ کوئی مسیح ابن مریم موعود کے مثیل ہونے کا دعویدار ہوا۔ کسی نے ابراہیم، کسی نے جبرائیل، کسی نے سیدہ فاطمہ بی بی، کسی نے علی المرتضیٰq کی روحانیت کا اپنے اندر ہونا مشہور کیا۔ غرض وہ تمام آ ثار وامارات اور نشان وعلامات جن کو آیات قیامت احادیث میں بیان کیا گیا تھا سب کے سب بڑے زور کے ساتھ تیسری صدی ہی میں ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے۔ اس چودھویں صدی میں جو کچھ ان فتن کے نمونے نظر آتے ہیں ان سب کی جڑ تیسری صدی کی سرزمین میں لگی ہوئی ہے اور ان تمام شواہد سے اب ہم بخوبی جانتے اور کامل یقین رکھتے ہیں کہ حدیث میں ’’الایات بعد المأتین‘‘سے دو صدیاں ختم ہو کر تیسری صدی ہی کا پتہ دیا گیا ہے۔ اگر ہم بالفرض تسلیم کر لیں کہ اس سے تیرھویں صدی مراد ہے تو
پھر بھی مرزاقادیانی کے لئے یہ حدیث کچھ مفید نہیں۔ کیونکہ الہام نے عہدہ مسیحائی پر ان کو چودھویں صدی میں ممتاز کیا ہے اور تیرھویں صدی میں خود مرزاقادیانی بھی عامۂ مؤمنین کی طرح یہی مذہب اور اعتقاد رکھتے تھے کہ حضرت مسیحm بہ نفس نفیس جلالی طور پر اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ پس اگر یہ جائز ہے کہ ’’الایات بعد المأتین‘‘ کی حدیث کو تیرھویں صدی کے متعلق کہہ سکیں تو یہ بھی جائز ہے کہ اس حدیث کو تیئسویں صدی کے متعلق بتا سکیں۔ کیونکہ جس طرح تیسری صدی کو خالی دیکھ کر کسی نے یہ گمان کیا تھا کہ ’’مأتین‘‘ کا تعلق ہزار کے ساتھ اور بیچ کی صدیوں سے بکلی قطع نظر کر لی تھی، اسی طرح تیئسویں صدی کو خالی دیکھ کر ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ ’’مأتین‘‘ کا تعلق ’’الفین‘‘ سے ہو گا۔ غرض اس حدیث میں نہ تیرھویں صدی کی تخصیص ہے اور نہ مرزاقادیانی کے مسیح موعود ہونے کی تنصیص۔ اچھا زیادہ سے زیادہ مرزاقادیانی نے اگر تاویلات وتسویلات نفسانی سے کام لیا اور بڑا زور لگا کر یہ معنی پیدا کر لئے کہ حدیث کا تعلق تیرھویں صدی سے ہے اور حدیث کے معنی ہی یہ ہیں کہ آیات کبریٰ کا آغاز تیرھویں صدی سے ہو۔ پھر بھی حدیث میں یہ دلالت کہاں ہے کہ مسیح موعود اسی صدی میں آئے گا؟ یا کل آیات کبریٰ ایک ہی صدی میں عدم وبطون سے نکل کر بروز وظہور میں آجائیں گے۔
ناظرین! ملاحظہ فرمائیں کہ مرزاقادیانی جو اپنے آپ کو مسیح موعود ثابت کرنے لگے ہیں۔ ان کے پاس کیسے کیسے دلائل قاطعہ ہیں اور کیسے کیسے براہین ساطعہ ہیں؟ جوان نصوص شرعیہ کے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں مسیح ابن مریمm کے نزول کی اخبار صحیحہ وامارات صادقہ ظاہر کی گئی ہیں۔ ونعم ما قیل ؎
چہ عذر ہاے موجہ زبہر خود گفتی
بچش لعاب دہانت کہ قندمے خائی
تمام عرصہ محشر مگس فرو گیرد
اگر چنیں بقیامت شکر فروش آئی
مرزاقادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے کی دوسری دلیل مکاشفات اکابر اولیاء کو بتلایا ہے کہ یہ بزرگ بالاتفاق ظاہر کرتے ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی سے پہلے یا چودھویں کے سرپر ہو گا۔ پھر لکھا کہ: ’’اس وقت میں بجز اس عاجز کے اور کوئی دعویدار اس
منصب کا نہیں ہوا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۸۵، خزائن ج۳ ص۴۶۹)
ناظرین! مرزاقادیانی کی اس دلیل میں چند ضعف ہیں۔
۱… مکاشفہ کو دلیل ٹھہرانا۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ حدیث اس کی مخالف ہو۔ چودھویں صدی کے خلاف حدیث میں کئی طرح پر آیا ہے۔ اوّل ’’بعد المأتین‘‘ کی حدیث ہی پر غور فرمائیے۔ پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اکابر کا یہ کشف صاف اور تام نہیں۔ کیونکہ وہ خود چودھویں صدی پر جزم نہیں کر سکے۔ ان کے کلام میں حرف ’’یا‘‘ موجود ہے جو شک کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ پس جب خود ان کے نزدیک اس پر جزم صحیح نہیں تو مرزاقادیانی کو اس پر جزم وحصر کرنا کب درست وروا ہے؟
۲… جن اکابر اولیاء کے مکاشفات کو دلیل ٹھہرایا ہے ان کا نام تک نہیں لکھا۔ لازم تو یہ تھا کہ آپ ان کی اصل عبارتیں نقل کرتے اور اکابر کے اسمائے گرامی سے اطلاع دیتے۔ لیکن مرزاقادیانی نے ایسا نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزاقادیانی آپ کے حوالہ اور نقل کا بھی میں تو بہت کم اعتبار رکھتا ہوں۔ کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ نے کئی جگہ آیات قرآنیہ میں سے کئی جملے اور احادیث میں سے کئی فقرے اور بائبل میں سے کئی درس قلم انداز کر دئیے ہیں۔ جب یہ حال ہے تو مجرد یہ کہنے سے کہ اکابر اولیاء یوں کہتے ہیں کب اعتبار ہو سکتا ہے؟
۳… محض دعویٰ کو دلیل دعویٰ بنایا ہے۔ یعنی چونکہ اس وقت میں نے دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا میں سچا ہوں۔ حالانکہ کوئی بدمعاش سے بدمعاش اور عیار ے عیار بھی کوئی ایسی کارروائی زوروفریب کی نہیں کرتا۔ جب تک اس کے پاس یہ باور کرانے کی وجہ نہ ہو کہ یہ کارروائی اس کی برمحل اور بروقت سمجھی جائے گی۔
۴… ناظرین دیکھیں۔ یہ دوسری دلیل بھی وہی ہے جو پہلی دلیل تھی۔ پہلی دلیل میں بھی علماء کے اتفاق اور اپنے اظہار دعویٰ کو دلیل ٹھہرایا تھا اور دوسرے میں بھی اولیاء کے اتفاق اور اپنے دعویٰ کو دلیل ٹھہرایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی شمار دلائل کے زیادہ کرنے کی فکر میں ہیں۔
تیسری دلیل مرزاقادیانی کی یہ ہے: ’’ازانجملہ مسیح موعود ہونے کی یہ علامت ہے
کہ دجال اور اس کا گدھا ریل خروج کر چکا۔ یاجوج ماجوج، دابۃ الارض، دخان ظاہر ہو چکے۔ ایسے وقت میں مسیح موعود کا دعویٰ اس عاجز نے کیا ہے۔‘‘
(ملخص ازالہ اوہام ص۶۸۵، ۶۸۶، خزائن ج۳ ص۴۶۹، ۴۷۰)
مرزاقادیانی سے یہ امر دریافت کرلینا چاہئے کہ دجال اور اس کے گدھے، یاجوج ماجوج، دابۃ الارض، دخان اور مسیح موعود میں کوئی تلازم اور ان کے ظہور میں کوئی ترتیب ہے یا نہیں۔ کیونکہ جس طرح پر انہوں نے یہ تمام نام احادیث سے لئے ہیں (گو ان کی نوعیت اور ماہیت وکیفیت میں اختلاف کیا ہے) اسی طرح ان کو احادیث کی بیان کردہ ترتیب اور تلازم پر بھی خیال رکھنا چاہئے تھا۔
دجال ان کی رائے میں پادری ہیں۔ پادری لوگ تو شیوع اسلام سے چھ سوبرس پہلے سے چلے آتے ہیںا ور اب تیرہ صدیوں سے برابر اسلام کے ساتھ معاندانہ مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں۔ سپین، غرناطہ، شام میں ان پادریوں کے طفیل جو تیغ بے دریغ لاکھوں مسلمانوں کی گردن پر چل چکی ہے وہ ارباب تواریخ سے مخفی نہیں۔ مگر تعجب ہے کہ اس ضرورت شدید کے وقت میں بھی مسیح نہ آیا۔ شاید یہ عذر تھا کہ ہنوز اس دجال کے پاس گدھا موجود نہیں۔ خیر صدیاں گزر گئیں کہ اس کا گدھا بھی چل نکلا۔ مگر مسیح اس وقت بھی نہ آیا۔
یاجوج ماجوج آپ کی رائے میں روس وانگریز ہیں۔ یہ دونوں سلطنتیں ہزاروں برس سے قائم ہیں اور چند صدیوں سے ان کا درجہ دنیا کی اوّل درجہ کی سلطنتوں میں شمار ہوتا ہے اور ان کی سطوت اور غلبہ قائم ہونے کے زمانہ کو بھی سینکڑوں سال ہو چکے ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ اس وقت بھی مسیح نہ نکلا۔
علماء اسلام کو آپ دابۃ الارض کہتے ہیں۔ یہ دابۃ الارض تو عہد نبویa ہی سے موجود ہیں۔ غرض دابۃ الارض کو نکلے ہوئے صدی پر صدی گزرتی گئی اور مسیح کا ظہور ہونے میں نہ آیا۔
دخان کی تعبیر آپ نے قحط شدید سے کی ہے۔ یہ بھی عہد نبوی سے لاحق حال مملکت اسلام وغیر اسلام رہا ہے اور باایں ہمہ مسیح نے اس ممتد زمانہ میں منہ نہیں دکھلایا۔ مسیح موعود نے ظہور پکڑا بھی تو کب؟ جب ان تمام امارات نے جن کا مسیح کے بعد آنے کا بھی ذکر تھا۔
سینکڑوں سال سے دنیا کو تباہ وویران کر رکھا ہے۔ جناب مرزاقادیانی آپ کی یہ بیان کردہ تاویلات ہی بتلا رہی ہیں کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں۔ اگر مسیح موعود ہوتے تو ضرور تھا کہ دجال کے بعد اور یاجوج ماجوج دابۃ الارض سے پہلے تشریف لاتے۔ اگر آپ کو اصرار ہے کہ مسیح موعود ضرور ہیں تو آپ کی تاویلات دابۃ الارض یاجوج ماجوج وغیرہ صحیح نہیں اور جب یہ صحیح نہیں تو اس کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ آپ مسیح نہیں ہیں۔
مرزاقادیانی کی چوتھی دلیل یہ ہے: ’’اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کی علامت یہ ہے کہ مسیح حضرت موسیٰm سے چوداں سو برس بعد یہودیوں کی اصلاح کے لئے آیا۔ جب توریت کا مغز اور بطن یہودیوں سے اٹھایا گیا تھا۔ علیٰ ہذا ایسے ہی زمانہ میں یہ عاجز آیا۔‘‘
(ملخص ازالہ اوہام ص۶۹۲، خزائن ج۳ ص۴۷۳)
مرزاقادیانی کی اس دلیل میں بھی غلطیاں ہیں۔
۱… مسیح حضرت موسیٰm سے چوداں سو برس بعد نہیں بلکہ سولہ سو برس بعد آئے تھے۔ بائبل دیکھ لو اور (ازالہ اوہام ص۲۷۸، خزائن ج۳ ص۲۴۱) پر اپنا اقرار ملاحظہ کر لو کہ حضرت محمد مصطفیa حضرت موسیٰm سے بائیس صدیوں کے بعد ہوئے۔ سنہ عیسوی وہجری جن میں غلطی کا ہونا محال ہے گواہ ہے کہ آنحضرتa مسیحm سے ۵۷۰برس بعد ہوئے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت مسیحm حضرت موسیٰm سے ۱۶صدیوں کے بعد ہوئے۔
۲… بالفرض مسیح ۱۴صدیوں کے بعد آئے تھے۔ تب بھی توافق زمانہ نہ رہا۔ کیونکہ مرزاقادیانی اپنے سال پیدائش کے لحاظ سے تو بارہ صدیوں کے بعد اور سال دعویٰ کے اعتبار سے کامل تیرہ صدیوں کے بعد مسیح ہوئے ہیں۔ بہرحال اگر یہ قاعدہ مان لیا جائے کہ جس قدر عرصہ کے بعد حضرت موسیٰm سے حضرت مسیحm ہوئے تھے۔ اسی قدر عرصہ کے بعد حضرت محمد مصطفیa سے مثیل مسیح ہو۔ تب بھی تاریخ کی رو سے مسیح موعود کے آنے میں (خواہ وہ اصل ہوں، ہمارے مذہب کے موافق یا مثیل مرزاقادیانی کے موافق) ۳صدیاں اور آپ کے منہ مانی مدت کی رو سے پوری ایک صدی باقی ہے۔
غرض اس سے ثابت ہوا کہ یہ دلیل بھی غلط ہے اور مرزاقادیانی مسیح موعود نہیں۔
مرزاقادیانی کی پانچویں دلیل یہ ہے: ’’ازانجملہ یہ ضرور تھا کہ آنے والا ابن مریم الف ششم کے آخر میں پیدا ہوتا۔ سو وہ یہی عاجز ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۳، خزائن ج۳ ص۴۷۴)
ناظرین! اس بیان میں بھی چند مغالطے اور غلطیاں ہیں۔
مغالطہ یہ ہے کہ آنے والا ابن مریم کے لئے پیدا ہونے کا لفظ استعمال کیا۔ تاسمجھا جائے کہ وہ آسمان سے اترنے والا نہ ہو گا اور لوگ دھوکے میں پڑ جائیں کہ مسیح کی پیدائش کا احادیث میں ذکر صریح ہے۔
اس امر کا ثبوت کہ اس کا الف ششم میں پیدا ہونا ضروری ہے۔ مرزاقادیانی کے کلام میں تو ملتا نہیں ان کے سینہ میں ہو تو ہو۔
اپنے آپ کو آدم اور ابن مریم، آخر الخلفاء بنانے میں براہین احمدیہ کے جو حوالے مرزاقادیانی نے دئیے ہیں وہ بے سود ہیں۔ کیونکہ نزول مسیحm کے بارہ میں جو کچھ انہوں نے براہین میں تسلیم کیا تھا وہ اسے صحیح نہیں سمجھتے اور جائز رکھتے ہیں کہ براہین کا اتنا حصہ غلط اور پرانے خیالات کا فوٹو تسلیم کر لیا جائے۔ لہٰذا اب ان کا کیا حق ہے کہ اسی کتاب کے دوسرے حصہ کو بطور نص قطعی کے پیش کریں اور اسے مان بھی لیا جائے؟ ماسواء اس کے یہ حوالے جو مرزاقادیانی نے دئیے ہیں بالکل بے سود ہیں۔ الہام کے مضمون میں ہم ظاہر کر آئے ہیں کہ جو الہام موافق شرع ہو وہ مفید ظن ہے۔ ورنہ مفید ظن بھی نہیں۔
مرزاقادیانی کی چھٹی دلیل: ’’ازانجملہ نزول مسیح کی یہ علامت لکھی ہے کہ دو فرشتوں کے پروں پر اس نے اپنی ہتھیلیاں رکھی ہوئی ہوں گی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا دایاں اور بایاں ہاتھ جو تحصیل علوم عقلی اور انوار باطنی کا ذریعہ ہے آسمانی مؤکلوں کے سہارے پر ہو گا اور وہ مکتب وکتابوں اور مشائخ سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ سے علم
لدنی پائے گا اور اس کی ضروریات زندگی کا بھی خدا ہی متولی اور متکفل ہو گا۔ اسی لئے خدا نے میرا نام متوکل رکھا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۷، خزائن ج۳ ص۴۷۶)
ناظرین! واضح ہو کہ اس بیان میں بھی بہت غلطیاں ہیں۔
۱… دوفرشتوں کے پروں پر اپنی ہتھیلیاں رکھی ہوئی ہوں گی۔ مرزاقادیانی نے رکھی ہوئی ہوں گی سے یہ ظاہر کرنا چاہا کہ مدت العمر ان کی ہتھیلیاں فرشتوںکے پروں پر رکھی گئی۔ چونکہ یہ عذر بیان قابل تاویل بن گیا تھا۔ لہٰذا آگے چل کر اس کی تاویل کر دی۔ لیکن حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں: ’’فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مہروذتین واضعاً کفیہ علی اجنحۃ ملکین‘‘
(عن نواس صحیح مسلم ج۲ ص۴۰۱، باب ذکر الدجال)
حضرت عیسیٰ شہر دمشق کے شرق میں سفید منارہ کے پاس زرد لباس پہنے دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر نازل ہوں گے۔
ان کی تاویل کرنے کی حاجت نہیں۔ ماسواء اس کے تعجب خیز یہ ہے کہ یہ الفاظ جن کی تاویل کر کے اس کے مصداق مرزاقادیانی خود بنتے ہیں۔ صحیح مسلم کی حدیث: ’’عن ابن سمعانq‘‘کے ہیں اور اس حدیث کی نسبت مرزاقادیانی لکھ چکے ہیں کہ: ’’اس کے مضامین عقل، شرع اور توحید کے خلاف ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۲۹، خزائن ج۳ ص۲۱۴، ۲۱۵ ملخص)
جب ان کا اس حدیث کی نسبت یہ اعتقاد ہے تو پھر اسی حدیث میں سے اپنی تائید کے الفاظ نکالنا اور اسے دلیل ششم بتانا کیا عقل، شرع، توحید کے خلاف نہ ہو گا؟
۲… وہ مکتب اور کتابوں اور مشائخ سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ سے علم لدنی پائے گا۔
(ازالہ اوہام ص۸۱۷، خزائن ج۳ ص۵۴۲ ملخص) پر مرزاقادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ: ’’وہ فضل احمد کے شاگرد ہیں۔ مولوی مبارک علی مرزاقادیانی کے استاد زادہ۔‘‘ اسی طرح اور بیسیوں استاد ہیں جن سے مرزاقادیانی نے پڑھا اور علم حاصل کیا ہے۔ اندریں صورت مرزاقادیانی اپنی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی کے شاگرد نہیں۔ ناظرین! درحقیقت اس عبارت سے مرزاقادیانی کا مقصود یہ ہے کہ نبی امی کا شرف خاص بھی اپنے اندر ثابت کریں اور ’’علمنی ربی فاحسن تادیبی‘‘کے مصداق اپنے آپ کو بھی ٹھہرا دیں۔ لیکن ان کا یہ دعویٰ خود ان کے اقرار مندرجہ بالا سے غلط ہو گیا۔
۳… اور اس کی ضروریات زندگی کا بھی خدا ہی متولی اور متکفل ہو گا۔
رب کریم تو کل مخلوق کی ضروریات زندگی ہی کا متکفل اور متولی ہے۔ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے: ’’وفی السماء رزقکم وما توعدون‘‘ فرماتا ہے:’’نحن نرزقہم وایاکم‘‘پھر مرزاقادیانی کی خصوصیت کیا ہے۔ ہاں! اگر وہ فرمائیں کہ لوگوں کو اسباب کے ذریعہ ملتا ہے اور ان کو بلاتوسط اسباب تو یہ بھی غلط ہے۔ وہ زمینداری کا علاقہ جس نے حارث حراث آپ کو بنا دیا ہے اور نسل درنسل مغلیہ عہد سے خاندان میں چلا آیا ہے۔ کتنا بڑا سبب ہے۔ تصانیف کی آمدنی اور احباب کی فتوح علاوہ برآں۔ اب رہا متوکل نام ہونا۔ چندہ کے لئے ان کی باربار درخواستوں اور التجاؤں نے توکل کی نفی ثابت کر دی ہے۔
مرزاقادیانی کی ساتویں دلیل ازانجملہ ’’علامت مسیح یہ لکھی ہے کہ اس کے دم سے کافر مرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخالف اور منکر کسی بات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ اس کے دلائل کاملہ کے سامنے مر جائیں گے۔ سو عنقریب لوگ دیکھیں گے کہ حقیقت میں مخالف حجت اور دلیل بینہ کی رو سے مر گئے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۹، خزائن ج۳ ص۴۷۷)
ناظرین! اس بیان میں بھی چند غلطیاں ہیں۔
۱… علامت مسیح یہ لکھی ہے کہ اس کے دم سے کافر مرے گا۔ مرزاقادیانی یہ تو فرمائیں کہ یہ علامت کہاں لکھی ہے۔ کیا مسلم کی حدیث: ’’عن نواس بن سمعان‘‘ میں؟ جس کے مضمون کو آپ نے شرک اور حماقت سے پربتایا ہے۔ پھر اس حدیث سے استدلال مرزاقادیانی کے لئے کیا ہوگا؟ وہ خود ہی فیصلہ دیں۔
۲… مرزاقادیانی کو اقرار ہے کہ اب تک تو ان کے دلائل سے کچھ کام نہیں نکلا۔ ہاں! عنقریب ایسا ہو جائے گا۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ صفت ذاتی اپنے موصوف سے جدا نہیں ہو سکتی آپ مسیح بن کر تو آ گئے لیکن ہنوز مسیح موعود کے صفات سے رنگین نہیں ہوئے۔
مرزاقادیانی کی آٹھویں دلیل۔ ازانجملہ علامت مسیح موعود یہ ہے: ’’جب آئے گا تو لوگوں کے عقائد اور خیالات کی غلطیاں نکالے گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۹، خزائن ج۳ ص۴۷۷)
مرزاقادیانی آپ کے صدق وکذب کے دعویٰ کا اسی پر امتحان ہے کہ آپ کسی حدیث سے یا آیت قرآنی سے یہ نکال کر دکھائیں کہ مسیح مسلمانوں کے عقائد میں بھی غلطیاں نکالے گا۔ اگر آپ یہ الفاظ دکھلا دیں تو آپ کے سچے ہونے میں کیا کلام ہے۔ ورنہ خدا سے ڈریں۔ دل سے باتیں بنا بنا کر اتباع نفس وہوا کیوں کرتے ہو؟
اسی بیان میں مرزاقادیانی نے دو غلطیوں کا ذکر کیا ہے جو مسلمانوں کے عقائد سے نکال دی ہیں۔
۱… لوگ سمجھ رہے تھے کہ: ’’وہی مسیح ابن مریم نبی ناصری جو فوت ہو چکا ہے۔ پھر دوبارہ دنیامیں آجائے گا۔ سو پہلے یہی غلطی ان کی دور کر دی گئی اور ان لوگوں کو سچا ٹھہرایا گیا جو مسلمانوں میں سے مسیح کی موت کے قائل تھے یا جیسے عیسائیوں میں سے یونی ٹیرئین فرقہ جو اسی بات کا قائل ہے کہ مسیح مر گیا اور دنیا میں نہیں آئے گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۹، ۷۰۰، خزائن ج۳ ص۴۷۷)
اس بیان میں مرزاقادیانی نے چند مغالطے دئیے ہیں۔ اوّل: یہ لکھ کر کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہی مسیح آئے گا جو نبی ناصری ہے جو فوت ہو چکا ہے۔ بے شک مسلمانوں کا یہی اعتقاد ہے کہ مسیح نبی ناصری ہی آئے گا۔ مگر آپ نے الفاظ جو ’’فوت ہوچکا ہے‘‘ کو مسلمانوں کے اعتقاد سے منسوب کرنے میں پچھلے مسلمانوں پر افتراء کیا اور حالیہ کو مغالطہ دیا۔ دوم: یہ لکھ کر ان لوگوں کو سچا ٹھہرایا گیا جو مسلمانوں میں سے موت مسیح کے قائل تھے۔ مرزاقادیانی نے صاف مغالطہ دیا۔ ورنہ براہ مہربانی وہ طبقہ بعد طبقہ دس دس مسلمانوں کے نام تو لیں جو وفات مسیح کے قائل تھے۔ دس نہیں تو پانچ ہی سہی۔ ’’وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار‘‘
مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں یا شاید کسی دوسری کتاب میں ایک پادری کے جواب میں کیا خوب تحریر فرمایا ہے۔ پادری کا اعتراض یہ تھا کہ جب شریعت توریت لاچکی اور فضل انجیل عنایت کر چکی تھی تو نبوت محمدa کی کیا ضرورت رہ گئی۔ مولوی صاحب مرحوم نے فرمایا۔ عیسائیوں کا یہ مونہہ نہیں کہ ہم پر یہ اعتراض کر سکیں۔ کیا یہودیوں نے مسیح کو تسلیم کیا۔ کیا مریم صدیقہ کی نسبت بہتان لگانے سے وہ باز آئے۔ کیا وہ قائل نہ تھے کہ انجیل آسمانی کتاب نہیں۔ کیا وہ بڑے دعویٰ سے نہ کہتے تھے کہ ہم نے مسیح کو قتل
کر دیا ہے۔ کیا وہ پرزور لفظوں میں نہ کہتے تھے کہ مسیح دوبارہ نہیں آسکتا۔ عیسائی سب کچھ سنتے تھے۔ مگر یہود کے حملوں کا کچھ جواب نہ دے سکتے تھے۔ سیدنا محمدa نے عیسائیوں کو یہود کے ان حملوں سے بچایا۔ حضرت مسیح کے رسول اور کلمتہ اللہ ہونے کی گواہی دی۔ ان کی نبوت کی تصدیق فرمائی۔ حضرت مریمp کا صدیقہ ہونا ظاہر کیا۔ انجیل کو ہدایت اور نور بتلایا۔ مسیحm کے قتل وصلب کی قطعی اور تاکیدی الفاظ میں نفی کی اور بالآخر ’’قالa للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ (ابن کثیر ج۱ ص۲۶۶، ۵۷۶، ابن جریر ج۳ ص۲۸۹) ’’اور ظاہر کر دیا کہ حضرت عیسیٰ ہرگز نہیں مرے وہ تو قیامت سے پہلے پھر دنیا میں آئیں گے۔‘‘ اور ایک عام حکم لگا دیا کہ کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا جو حضرت عیسیٰm کو رسول اللہ a اور اس کی ماں کو صدیقہ نہ سمجھے۔
ناظرین! مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجرv کی تقریر کو دیکھئے کہ وہ نبوت محمدa کے اسباب بعثت میں سے ایک سبب عظمیٰ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ یہود کی غلط فہمیاں دور کی گئیں اور ان کو حیات مسیح اور نزول مسیح کی خبر دی گئی اور اس کے متعلق ان کے عقائد میں جس قدر غلطیاں تھیں وہ رفع کر دی گئیں۔ اب مرزاقادیانی کی تقریر کو بھی ملاحظہ فرمائیے کہ آپ اس مقصد نبوت محمدیہ کے خلاف پھر یہود کا وہی پہلا اعتقاد زندہ کرنا چاہتے ہیں جس کی تکذیب خود رسول کریمa فرما چکے اور قرآن مجید ربانی طاقت سے یہود کے ان معتقدات کو جھٹلا رہا ہے۔
لوگو! اگر ایک ایسے مسئلہ میں جس میں چھ سو سال سے برابر یہود اور نصاریٰ کی بحثیں چلی آتی تھیں اور جس کے فیصل کرنے کے لئے خدا نے بنی اسماعیل میں سے آخرالزمان پیغمبر بھیجا (تاکہ بنی اسرائیل کے دونوں گروہوں میں سے وہ کسی کا جانب دارنہ سمجھا جائے) اور اس نے نیز اس پر اتری ہوئی آسمانی کتاب نے اس بحث اور جھگڑے کا فیصلہ کر دیا۔ تم لوگ ایمان نہیں لاتے تو بجز اس کے کہ ’’فبای حدیث بعدہ یؤمنون‘‘ عرض کیا جائے اور کیا ہوسکتا ہے؟ عمر فاروقq زندہ ہوتے تو وہ دکھلا دیتے کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلہ پر رضا مند نہیں اس کا فیصلہ کیا ہے؟
۲… دوسری غلطی مرزاقادیانی نے جو نکالی وہ یہ بتلائی ہے کہ: ’’لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ مسیح وفات کے بعد آنحضرتa کی قبر میں دفن کیا جائے گا۔ لیکن وہ اس بے ادبی کو نہیں
سمجھتے تھے کہ ایسے نالائق اور بے ادب کون آدمی ہوں گے؟ جو آنحضرتa کی قبر کھو دیں گے اور یہ کس قدر لغو حرکت ہے کہ رسول مقبول کی قبر کھودی جاوے اور پاک نبی کی ہڈیاں لوگوں کو دکھائی جاویں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)
ناظرین! اس تقریر میں بھی چند مغالطے ہیں۔
۱… تیرہ سو برس کے مسلمانوں میں سے ایک مسلمان کا بھی یہ اعتقاد نہیں کہ حضرت مسیحm آنحضرتa کے لحد منور میں دفن کئے جائیں گے اور اس لئے آنحضرتa کی قبر مبارک کھو دی جائے گی اور نبی پاکa کی ہڈیاں نکالی جائیں گی۔ حیف، حیف۔ محض یہ جتانے کے لئے ہم نے مسلمانوں کی کوئی غلطی نکال دی ہے۔ پہلے تو مرزاقادیانی نے مسلمانوں پر افتراء کیا کہ ان کا یہ اعتقاد تھا۔ پھر اپنے اور ہمارے سید وآقاa کی نسبت نہایت مکروہ الفاظ کا دانستہ شوخانہ طرز پر استعمال کیا جس کو پڑھ کر ایک محب رسول کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور جسم لرز جاتا ہے۔ افسوس، افسوس! یہ الفاظ اس شخص کی قلم سے نکلے ہیں جس کو محبت رسول کا سب سے بڑھ کر دعویٰ ہے۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘
مسلمانوں کا بے شک یہ اعتقاد ہے کہ حضرت مسیحm آنحضرتa کے مقبرہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔ اس بارہ میں چند احادیث ہیں۔ اوّل حدیث: (فتح الباری ج۷ ص۵۴، عائشہ صدیقہt) جس میں آپ نے درخواست کی کہ میں بھی آپa کے پہلو میں مدفون ہوں۔ فرمایا: نہیں۔ یہاں تو میں ابوبکرq، عمرq، عیسیٰ ابن مریمm ہی مدفون ہوں گے۔ دوسری حدیث (ابوداؤد احمد وابن حبان وابن جریر نیز مشکوٰۃ ص۴۸۰) کے یہ الفاظ ہیں:’’وید فن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ بن مریم بین ابی بکر وعمر‘‘ ان کو مسلمان نبیa کے قریب دفن کریں گے۔ طبرانی اور ابن عساکر کی حدیث جس کو امام بخاری نے بھی تاریخ میں بیان کیا ہے۔ بہت ہی واضح ہے: ’’فیدفن عیسیٰ بن مریم مع رسول اللہ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً‘‘عیسیٰ ابن مریم ہمارے حضرت اور ان کے دونوں یاروں کے پاس دفن ہوں گے اور ان کی قبر وہاں چوتھی قبر ہو گی۔(یعنی تین قبریں پہلی اور چوتھی یہ)
اب مرزاقادیانی خیال کر لیں کہ ابوبکرq اور عمرq کس طرح پر دفن ہوئے ہیں۔ (ترمذی ج۲ ص۲۰۲، ابواب المناقب) میں ابومودود سے روایت ہے کہ آنحضرتa کے
روضہ مبارک میں اب تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔ گو حضرت عثمان ذوالنورینq اور حضرت عبدالرحمن بن عوفq اور حضرت امام حسنq نے چاہا بھی کہ یہ شرف ان کو حاصل ہو۔ مگر ارادت الٰہیہ میں جس کے لئے یہ زمین مقدر ہوچکی تھی اسی کے لئے اب تک خالی ہے۔
ازالہ کے دوسرے مقام پر مرزاقادیانی کو یہ تو یاد نہیں رہا کہ روضہ رسولa میں عیسیٰ ابن مریمm کے دفن ہونے کو میں مسلمانوں کی غلطی اور اس غلطی نکالنے کو اپنے مسیح موعود ہونے کی دلیل بتا چکا ہوں بلکہ صرف یہ خیال رہا کہ جو کچھ ابن مریم کے حق میں آچکا ہے وہ سب اپنے اوپر منطبق کر لوں۔ لہٰذا نہایت صفائی سے اقرار کر لیا کہ: ’’میں نے خواب میں دیکھا۔ ایک فرشتہ روضہ رسول کی خالی زمین پر سرکنڈا مار کر کہہ رہا ہے کہ یہ تیری اس جگہ قبر ہو گی۔ (ازالہ اوہام ص۴۷۱، خزائن ج۳ ص۳۵۲ ملخص) میں عبارت کے بعد وہ سب اعتراضات جو مرزاقادیانی نے ہم پر کئے تھے۔ ان پر لوٹ پڑے اور ساتھ ہی یہ معلوم ہو گیا کہ جس عقیدہ کو وہ مسلمانوں کی غلطی بتاتے تھے۔ یہ خود ان کی غلطی ہے ؎
میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
مرزاقادیانی نے رسول پاک کی ہڈیوں کا جوذکر کیا ہے یہ ان کی اور غلطی پر غلطی ہے۔ حدیث میں تو آچکا ہے۔ انبیاء کے جسم زمین پر حرام ہوتے ہیں۔ یعنی وہ پاک جسم جوں کے توں پڑے رہتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے۔ خدا کے ہاں! میری عزت اس سے زیادہ ہے کہ میں چالیس دن تک اپنی قبر میں چھوڑا جاؤں۔ اگر آپ کو منصب رسالت کی عظمت کا خیال رہتا تو یہ لفظ زبان پر نہ آتا۔
مرزاقادیانی کی نویں دلیل۔ ازانجملہ ’’مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہو گا۔ یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا… سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)
ناظرین! یہ سچ ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ہو گا۔ مسلم کی حدیث: ’’عن نواس بن سمعان‘‘میں چند بار یہ الفاظ آئے ہیں:’’ویحصر نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ فیرغب نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ ثم یہبط نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ فیرغب
نبی اللہ عیسیٰ واصحابہ الی اللہ ‘‘ عیسیٰ نبی اللہ کا لفظ اس رسول اور کلمۃ اللہ کی ذات والاصفات کے لئے ایسا ہی خاص ہے جیسے غلام احمد قادیانی، مرزاقادیانی کی ذات سے خاص ہے۔ مرزاقادیانی نے بڑے دعویٰ سے لکھا ہے کہ: ’’غلام احمد قادیانی تمام دنیا پر بجز ان کے اور کسی کا نام نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۹۰)
میں رب کریم کی قسم کھا کر اور اس ذات احد وصمد کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ابتدائے دنیا سے لے کر قیام قیامت تک عیسیٰ نبی اللہ بجز اس مریم کے بیٹے، بنی اسرائیل کے رہبر، صاحب انجیل، نبی ناصری کے اور کسی کا نام نہیں۔ نہ ان سے پہلے کوئی عیسیٰ نبی اللہ ہوا اور نہ آئندہ کوئی ہو گا اور حدیث شریف میں انہی کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے پاس وحی جبرائیل کا آنا بھی ہمارا مذہب ہے۔ امام شوکانی اور نواب صدیق الحسن صاحب نے اس پر بالتفصیل بحث کی ہے اور اس مذہب کی بناء بھی اسی حدیث نواس بن سمعان کے یہ الفاظ ہیں: ’’اذ اوحی اللہ الی عیسیٰ‘‘
مگر مرزاقادیانی پر افسوس ہے کہ مسیح موعود کی یہ علامت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نبی اللہ ہو گا جس کے پاس وحی ربانی بھی آیا کرے گی اور باایں ہمہ اپنے ہی آپ کو مسیح موعود خیال کئے بیٹھے ہیں اور جب ان کے سامنے یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہی تشریف لائیں گے تو نہایت غیظ وغضب میں بھرکر فرماتے ہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ آیت خاتم النّبیین روکتی ہے کہ کوئی نبی بھی آئے نیا ہو یا پرانا۔ یہ آیت تو سب کے لئے سدّراہ ہے۔ پھر مسلمانوں کو نہایت تمسخر سے کہتے ہیں۔ اچھا! اگر عیسیٰ نبی اللہ ہی آئے اور ان پر وحی بھی اتری۔ تب تو ایک نیا قرآن اور بن جائے گا۔ یہ قرآن ۲۳سال میں اتنا اترا ہے تو حضرت عیسیٰm کا چہل سالہ اقامت میں اس سے دوگنا قرآن جدید ہو جائے گا۔ مسلمان کلمہ بھی ان کا ہی پڑھنے لگیں گے۔ یہ سب کچھ لکھ کر جب اپنے آپ کو نبی اللہ بنانے اور وحی الٰہی کا مہبط قرار دینے کی ضرورت پڑتی ہے، تب بے چون وچرا مسیح موعود کی علامت میں سے اس کا نبی اللہ اور وحی پانے والا ہونا بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔ گر اس لئے کہ ان کی وہ تلوار جو مسلمانوں کے لئے کھینچی تھی ان پر الٹ کر نہ جا لگے۔ یوں فرماتے ہیں: اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے۔ ناظرین ایسی تفسیر اور شرح کی نسبت ہی’’مالا یرضی بہ قائلہ‘‘کہا
کرتے ہیں کہ حدیث میں نبی اللہ ہے اور مرزاقادیانی اس سے محدثیت کو تعبیر کرتے ہیں اور لطف یہ کہ محدثیت تعبیر کرنے کے بعد اپنے آپ کو وحی پانے والا بدستور قائم رکھتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جب آپ نے حسب الہام خود ہشتاد سالہ عمر تک پہنچنا ہے اور وحی آپ پر بھی آتی ہے تو آپ کا قرآن کس قدر بڑھ جائے گا۔
حضرت عیسیٰm کو تو جس قسم کی وحی آئے گی اس کا ذکر اسی حدیث میں موجود ہے۔ ’’اذ اوحی اللہ الی عیسیٰ انی قد اخرجت عباداً لی لا یدان لاحد بقتالہم فحرز عبادی الی الطور‘‘ (مسلم ج۲ ص۴۰۱، باب ذکر الدجال عن نواس بن سمعانq)
خدا حضرت عیسیٰm کے پاس وحی بھیجے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں کہ ان سے لڑائی کی کسی کو طاقت نہیں۔ سو تو میرے مسلمان بندوں کو طور کی طرف پناہ میں لے جا۔
اور ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ وحی احکام وشرائع پر مشتمل نہ ہوگی۔ ہاں! اب مرزاقادیانی کی وحی کو دیکھنا چاہئے کہ آپ جابجا براہین احمدیہ کی عبارتوں کو دلیل اور مقابلہ کے وقت اس طرح پر پیش کرتے ہیں۔ گویا یہ عبارتیں بھی قرآن مجید کی مانند تمام مسلمانوں پر حجت شرعیہ ہیں جس طرح اکابر دین نزاع فیما بین کے وقت کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کو پیش کیا کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی براہین کی عبارتیں اس طرح ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان کو وحی ربانی جانتے ہیں اور تھوڑے دن کے بعد وحی ’’متلوا‘‘ کا درجہ اس کو عطاء فرمانے والے ہیں۔
مرزاقادیانی کی دسویں دلیل۔ ازانجملہ مکاشفات مولوی عبداللہ غزنوی مسیح موعود ہونے کی علامت ہیں۔ حافظ محمد یوسف راوی ہیں کہ مولوی عبداللہ صاحب نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے یہ پیش گوئی کی تھی۔ ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا۔ مگر افسوس کہ میری اولاد اس سے محروم رہ گئی۔
(ازالہ اوہام ص۷۰۴، خزائن ج۳ ص۴۷۹ ملخص)
ناظرین! اوّل تو کشف خود ہی اعتبار کی شئے نہیں۔ مولوی عبداللہ بیچارہ تو ایک ادنیٰ امتی ہی تھے۔ مرزاقادیانی کا ایک اولوالعزم رسول کی نسبت یہ اعتقاد ہے کہ: ’’مسیح کا مکاشفہ کچھ بہت صاف نہیں تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۰، خزائن ج۳ ص۴۷۲)
پس جب ایک رسول کا کشف مکدر تھا تو مولوی صاحب کے کشف کا کیا درجہ رہا۔
دوم: اس کا راوی بھی اب قابل اعتماد رہا نہیں۔ کیونکہ اس کشف کی روایت اس نے مرزاقادیانی کا مرید ہونے اور آپ کے دعویٰ سے پہلے نہیں کی۱؎۔
سوم: الفاظ کشف کی خصوصیت سے مطابقت مرزاقادیانی آپ کی ذات سے ذرا بھی نہیں۔ بالفرض قادیان میں نور اترنا ایک کشف میں معلوم ہوا۔ مگر اس کی کیا دلیل ہے کہ وہ نور خود مرزاقادیانی ہی ہیں۔ اچھا وہ ہی سہی۔ پھر بھی مسیح موعود ہونے کی علامت اس خواب میں کچھ بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اگر اس کشف کا تعلق مرزاقادیانی کی ذات سے ہو تو آپ ایک صالح مرد ثابت ہو سکیں گے اور جب تک اسی حالت میں مرزاقادیانی نظر آئیں گے جس حالت میں صاحب کشف کے زمانہ میں تھے وہ صلاحیت ان میں پائی جائے گی۔
چہارم: یہ الفاظ جو راوی کشف نے بیان کئے ہیں اپنی بطلان پر اپنے اندر ہی شہادت موجود رکھتے ہیں۔ وہ شہادت ان الفاظ میں ہے۔ مگر افسوس میری اولاد اس سے محروم رہے گی۔ بطلان یہ ہے کہ مولوی عبداللہ صاحب کا اولیاء الرحمن میں سے ہونا ہمارے اور مرزاقادیانی کے نزدیک مسلم ہے اور اولیاء الرحمن کے آثار بیان کرتے ہوئے مرزاقادیانی نے سب سے آخری اثر اور علامت ان کی یہ لکھی ہے کہ: ’’خداتعالیٰ کئی پشتوں تک ان کی اولاد اور ان کے جانی دوستوں کی اولاد پر خاص طور پر نظر رحمت رکھتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۴۸، خزائن ج۳ ص۳۳۸)
پس ثابت ہو گیا کہ راوی کے وہ الفاظ غلط اور باطل ہیں اور جیسا کہ آپ اولیاء الرحمن کے آثار میں لکھ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت مولوی صاحب مرحوم کی اولاد پر برابر ہے اور وہ بھی اپنے نامور باپ کی طرح اتباع سنت میں کامل اور نہایت معمور الاوقات ہیں۔
مرزاقادیانی کی گیارھویں دلیل۔ ازانجملہ ایک کشف ایک مجذوب کا ہے جس کو
۱؎حافظ محمد یوسف نے خود مرزا کی بیعت سے رجوع کیا۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے استاد عبداللہ غزنوی مرحوم سے کچھ نہ سنا تھا۔ (ہدایت اللہ )
کریم بخش نمازی نے بیان کیا اور کریم بخش کے پابند صوم وصلوٰۃ ہونے کی گواہی پچپن۱؎ شخصوں نے دی کہ گلاب شاہ نے ۱۹۱۷ء میں اس سے کہا تھا کہ عیسیٰ قادیان میں ہے اور اب جوان ہو گیا ہے۔ وہ لدھیانہ میں آ کر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔ عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ تو مر گیا۔ وہ نہیں آئے گا۔ ہم بادشاہ ہیں۔ جھوٹ نہیں بولیں گے۔
(ازالہ اوہام ص۷۰۸، ۷۰۹، خزائن ج۳ ص۴۸۲ ملخص)
ناظرین! یہ کشف سراسر لغو اور غلط ہے۔ کریم بخش کا بیان ہرگز ہرگز قابل توثیق نہیں اور کسی مجذوب کو رسول معصوم کے خلاف لب کشائی کی ہر گز ہرگز جرأت نہیں۔ کوئی کشف احادیث صحیحہ ومرفوعہ کی تکذیب نہیں کر سکتا اور سید الانبیاءa کے ارشادات کی صحت کی معیار کسی شخص کا کشف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اوّل: تو کریم بخش کی مضطرب بیانی ہی کو دیکھئے کہ لوگوں کے سامنے جو اظہار دیا ہے اس میں بیان نہیں کیا کہ عیسیٰ کا نام بھی مجذوب نے اسے بتایا تھا۔ بلکہ بعد میں کریم بخش نے آ کر یہ کہا کہ ایک بات بیان کرنے سے رہ گئی اور وہ یہ ہے کہ مجذوب نے مجھے صاف صاف یہ بھی بتلادیا تھا کہ عیسیٰ کا نام ’’غلام احمد‘‘ ہے۔ دیکھو تمام خبر کا عطر اور تمام کشف کی جان تو یہی نام تھا اور وہی کریم بخش سے ابتدائی بیان میں چھوٹ گیا تھا تو اب اس کے حافظہ اور یاد پر کیا بھروسہ ہوسکتا ہے۔
(رسالہ نشان آسمانی ص۱۹، خزائن ج۴ ص۳۸۱) کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کو بھی میاں کریم بخش کی جانب سے شک ہوا اور انہوں نے ازالہ اوہام میں اس کی شہادت دینے کے بعد کسی نہ معلوم وجہ کے باعث اس کو مکرر طلب کر کے اس کی شہادت پھر لی اور اس شہادت لینے سے پہلے اس کو مکرر قسمیں دلائیں۔ پھر جب اس کا بیان لکھا گیا تو اس میں اور بھی زیادہ اضطراب نظر آیا۔ ازالہ میں اس کا بیان ہے کہ مجذوب صاحب نے کہا تھا کہ عیسیٰ قادیان میں ہے۔ تب میں نے کہا قادیان تو لدھیانہ سے تین کوس ہے۔ وہاں عیسیٰ کہاں ہیں۔ اس کا انہوں نے جواب نہ دیا اور مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ ضلع گورداسپور میں کوئی گاؤں ہے جس کا نام قادیان ہے۔ (نشان آسمانی ص۲۲، خزائن ج۴ ص۳۸۴) میں اس نے بیان کیا ہے۔ میں بھول گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں عیسیٰ ہے۔
۱؎پچپن آدمیوں پر بھی نظر ڈالو جو میاں کریم بخش کی توثیق کرتے ہیں۔ انہی میں مشرک وکافر ہیں اور انہی میں جاہل ونادان بھی جو توثیق وتصدیق کو نہیں جانتے۔ انہی میں بعض مرزا کے مرید تھے۔
ناظرین! یہ ایسی فاش غلطیاں ہیں جو کسی راوی میں روا نہیں رکھی گئیں۔ قابل غور ہے کہ جس راوی میں ضبط اور عدالت ہی موجود نہیں تو خود وہ کیا اور اس کی روایت کیا؟ مرزاقادیانی نے پچپن آدمیوں سے کریم بخش کے پابند صوم وصلوٰۃ ہونے کی شہادت لینے میں بے سود محنت فرمائی۔ جناب موصوف خوب واقف ہیں کہ راوی کا صرف پابند صوم وصلوٰۃ ہونا ہی اس کو ثقہ نہیں بنا سکتا۔ افسوس ہے کہ صحیح مسلم کی حدیث کا انکار کرنے کے لئے تو حضرت نواس بن سمعانq صحابی رسولa تک کی ذات پر بھی حملہ کرنے میں آپ تأمل نہ کریں اور کریم بخش پر اعتماد کر لیں کہ متن اور اس معانی میں اس کا اضطراب ثابت ہو جانے کے بعد اس کو ساقط العدالت نہ ٹھہرائیں۔
بہ بیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا
حقیقت یہ ہے کہ اس کشف کے مضامین سراسر عقل اور شرع کے مخالف پڑے ہوئے ہیں جس کو تھوڑا سا بھی ذہن سلیم دیا گیا ہے۔ وہ اس کشف کے صریح البطلان ہونے میں ذرا تأمل نہ کرے گا۔ مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳) پر لکھتے ہیں: ’’ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرتa پر ابن مریم۱؎ اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود
۱؎ناظرین ذرا خیال فرمائیں۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں ابن مریم میں ہوں، دجال پادری ہیں، یاجوج انگریز، ماجوج روس، دابۃ الارض علماء ظاہر۔ گویا ان الفاظ کی حقیقت کاملہ یہی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ ان کے اس مذہب کی کیا حیثیت ہے کہ آنحضرتa پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے منکشف نہ ہوئی ہو۔ کیونکہ اس حقیقت کاملہ کے لئے جو مرزاقادیانی نے ان الفاظ کی خوبیاں بیان کی ہیں کسی اور نمونہ کے موجود ہونے کی ضرورت نہ تھی۔ پادری بھی عہد نبوی میں موجود تھے اور امتی بھی۔ نمونہ کے کیا معنی؟ نوع موجود تھے جس کے ایک فرد نے ابن مریم اور ایک یا چند نے دجال لقب پانا تھا۔ آپ صاف فرمادیتے یہ پادری دجال ہیں۔ اسلام میں فتنہ پھیلائیں گے۔ میری امت سے ایک شخص ہندوستان، پنجاب میں قادیان گاؤں سے غلام احمد نامی پیدا ہوکر ان کے دلائل کی بیخ کنی کر دے گا۔ مگر آنحضرتa نے تو ایسا نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر احادیث میں مرزاغلام احمد ولد غلام مرتضیٰ، قادیان، پنجاب، ہندوستان، چودھویں صدی کے نام صاف صاف طور پر ہوتے تو اس سے انکار کر کے مرزاقادیانی کے نہ ماننے والے کو خود مرزاقادیانی ہی خلود نار کا فتویٰ دیتے۔ جب کہ باوجود نہ ہونے ان تعینات کے آپ اپنے منکرین کو ایک حد تک مستوجب سزا لکھ چکے ہیں۔ اب دیکھئے اس سے بھی بڑھ کر احادیث میں صاف صاف نام موجود ہیں۔ مرزاغلام احمد کی جگہ عیسیٰ نبی اللہ ہے۔ مرزاغلام احمد تو دنیا میں ہزار ہو سکتے ہیں۔ مگر عیسیٰ نبی اللہ ان کے سواء کوئی بھی نہیں۔ ولد غلام مرتضیٰ کی جگہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج، ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃﷲ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے۔ اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب۱؎ کی بات نہیں۔‘‘ مرزاقادیانی کی یہی عبارت اس کشف کے خلاف عقل وشرع ہونے کی کافی دلیل ہے۔
عقل کے خلاف اس کشف کے مضمون اس لئے ہیں کہ مرزاقادیانی نے تسلیم کر لیا ہے کہ جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسان قویٰ کے ممکن تھی آنحضرتa کو سمجھایا گیا۔ مگر حقیقت کاملہ اور اصل کیفیت معلوم نہ ہوسکی۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ جس قدر غیب محض
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ’’ابن مریم‘‘ ولد غلام مرتضیٰ بھی سینکڑوں۔ مگر قرآن وحدیث میں ’’ابن مریم‘‘ بجز عیسیٰm اور کوئی نہیں۔ قادیان پنجاب ہندوستان کی جگہ احادیث میں وابق، قسطنطنیہ، دمشق، باب لد، مکہ، مدینہ، روضہ رسول کے نام ہیں۔ افسوس جس نبی پاک کا بیان اطلاع اخبار آئندہ (پیش گوئی) میں ایسا واضح ہو جیسا کہ جغرافیہ دان سیاح کا ممالک سیرکردہ کے متعلق ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی اس کی نسبت ’’منکشف نہ ہونا‘‘ بیان کریں۔ یاجوج ماجوج انگریز اور روس ہیں تو ان میں کون سی ایسی عمیق تہ ہے کہ وحی الٰہی نے سید الانبیاءa کو بھی اطلاع دینے میں اس سے بخل کیا۔ دابۃ الارض اگر علماء ظاہر ہیں تو اس کی کون سی ماہیت ایسی ہے جو کما حقہ آنحضرتa پر ظاہر نہ ہوئی۔ ناظرین! ابن مریم، یاجوج ماجوج، دابۃ الارض ایسے الفاظ ہیں جو قرآن مجید میں آتے ہیں۔ اپنے لئے تو مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن مجید کے تمام اسرار جمیع رموز سارے بطون، جملہ حقائق اور سب کے سب (دقائق) مجھ پر کھولے گئے ہیں اور آنحضرتa کے لئے جن پر قرآن مجید نازل ہوا جن کے فرمانے سے ہم نے قرآن کو قرآن سمجھا۔ یہ اعتقاد کہ آنحضرتa ان الفاظ قرآنی کے مفہوم سے بھی ناآشنا محض تھے۔ ہاں نہ صرف آنحضرتa پر ان الفاظ کی حقیقت سے نسبت جہل دی گئی ہے۔ بلکہ خدا پر بھی کہ اس کی وحی نے ہی نہ بتلایا ہو۔ ان الفاظ کو ایک منصف غیرمذہب کا شخص بھی ایک مسلمان کے منہ سے پسند نہیں کر سکتا۔ میں نے اس تقریر میں دجال کے گدھے کا ذکر نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ صحاح ستہ میں اس گدھے کا کہیں ذکر نہیں۔ مرزاقادیانی کو جہاں تاویل کرنی آتی ہے وہاں تو خواہ کوئی کلام ہو اور کیسی ہی ہو اس کو فوراً صحیح مان لیتے ہیں اور جس کی تاویل سے عاجز ہو جاتے ہیں خواہ وہ مسلم کی حدیث ہو یا بخاری کی، وہ ان کے نزدیک قرآن کے مخالف ہے۔
۱؎مرزاقادیانی کے نزدیک تعجب کی بات نہ ہو گی۔ ہمارے نزدیک تو یہ بالکل محال ہے کہ خداوند کریم جس کو ’’الم نشرح لک صدرک‘‘ فرمائے۔ وہی الفاظ قرآنی کے مفہوم اور حقیقت سے بے خبر ہو۔
کے وقائع انسانی قویٰ کو سمجھائے جا سکتے تھے وہ اسی قدر ہیں، جس قدر آنحضرتa کو سمجھا دئیے گئے۔ اس سے بڑھ کر سمجھنا انسانی قویٰ کے امکان سے باہر ہے۔ عقل جانتی ہے کہ جو خاصہ جنس کو حاصل نہیں وہ فرد کو بھی حاصل نہیں ہوسکتا اور جو حقائق انسان کامل کے مکمل انسانی قویٰ کے امکان سے برتر واعلیٰ تھے۔ وہ انسان ناقص کے کمزور قویٰ سے ضرور ہی برتر واعلیٰ ہوں گے اور اسی لئے محال ہے کہ ایک مجذوب کو وہ حقیقت معلوم ہو جائے جو آنحضرتa سے پوشیدہ رکھی گئی۔ شرع کے خلاف اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۱…’’انزلنا علیک الذکر لتبین للناس مانزل الیہم (النحل:۴۴)‘‘ {خدا وہ ہے جس نے ذکر تم پر نازل کیا تاکہ تو لوگوں کو واضح کر دے کہ قرآن میں ان کے لئے کیا اتارا گیا ہے۔}
۲…’’ہو الذی بعث فی الامیین رسولا منہم یتلوا علیہم ایاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (الجمعہ:۲)‘‘ {خدا وہ ہے جس نے ان پڑھے لوگوں میں اپنا رسول بھیجا جو خدا کی آیتیں پڑھتا۔ لوگوں کو پاک صاف بناتا۔ کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔}
۳…’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدۃ:۳)‘‘{آج خدا نے تمہارا دین کامل کر دیا اور الٰہی نعمت کو تمام کر دیا اور خدا خوشنود ہے کہ تمہارا دین اسلام ہو۔}
اگر مجذوب کی باتیں صحیح مان لی جائیں تو ان آیات کی تکذیب لازم آتی ہے اور اسی لئے الفاظ کشف سراپا غلط ہیں۔
مجذوب کا یہ کہنا کہ ہم بادشاہ ہیں۔ ہم جھوٹ نہ بولیں گے۔ رسول کریمa کی قسمیہ کلام ’’والذی نفسی بیدہ‘‘ سے زیادہ بڑھ کر نہیں ہوسکتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ فرضی بادشاہ تو جھوٹ نہ بولے اور اصل حقیقت ظاہر کر دے اور وہ سلطان الاصفیاء سید الانبیاءa اصل حقیقت کے خلاف دروغ بیان کریں۔ ’’استغفراللہ استغفراللہ ایہا الناس ء امنتم من فی السمآء ان یخسف بکم الارض فاذا ہی تمورہ ام امنتم من فی السمآء ان یرسل علیکم حاصبا فستعلمون کیف نذیر‘‘
مرزاقادیانی کی بارھویں دلیل۔ ’’ازانجملہ اس عاجز کے مسیح موعود ہونے پر یہ نشان ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کی خصوصیت کے ساتھ یہ علامت ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد نازل ہو… خروج دجال کا زمانہ آیت:’’انا علٰی ذھاب بہ لقادرون‘‘ سے ثابت ہے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد ۱۲۷۴ ہیں۔ ۱۲۷۴ھ ۱۸۵۷ء کے مطابق ہیں۔ سو درحقیقت ضعف اسلام کا یہی زمانہ ہے اور خروج دجال کا بھی یہی۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔ چنانچہ اس زمانہ سے قرآن اٹھایا گیا۔ اب میں ان حدیثوں کے موافق جن میں لکھا ہے کہ ایک مرد فارسی الاصل دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ہو گا۔ میں قرآن کو آسمان پر سے لے آیا ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام، ملخص ص۷۲۱تا ۷۲۵، خزائن ج۳ ص۴۸۸تا ۴۸۹)
ناظرین! یہ بیان بھی مغالطے اور سقم سے بھرا ہوا ہے۔ کسی آیت کے اعداد نکال کر مضمون آیت کو اعداد جمل سے متعلق سمجھنا اور اس کے مضمون کے لئے اسی زمانہ کو خاص متعین کر دینا ایسا لغو بیان ہے جس میں ایک ذرہ برابر بھی سمجھ ہو گی، وہ اس کی لغویت کو فوراً معلوم کر سکتا ہے۔
کسی آیت سے اعداد نکالنے سے پہلے اور اس اعداد کے زمانہ کو مضمون آیت سے تعلق دینے سے پیشتر مرزاقادیانی پر یہ فرض تھا کہ وہ اعداد جمل کو بھی الٰہی تعلیم ثابت کر دیتے اور بتلاتے کہ ’’الف‘‘ کا ایک اور ’’ذ‘‘ کے ۶۰۰ اور ’’ص‘‘ کے ۹۰ ہونے کا ثبوت کس حدیث یا آیت سے ملتا ہے۔ اعداد جمل تو ایک طرف خود سنہ ہجری بھی جو مرزاقادیانی نے نکالا ہے اور اس کو اس آیت میں مراد ربانی بتلایا ہے۔ زمانہ نزول قرآن اور حیات پیغمبرa کے بعد مقرر ہوا ہے اور اس سنہ کا رواج بھی ایک اتفاقی امر ہے۔ نہ کہ وہبی جو ارباب تواریخ سے پوشیدہ نہیں۔ برف پر پتھر کی عمارت بنانا اسی کا نام ہے کہ ایسی ایسی وجوہ پر بناء استدلال قائم کی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر آیات کے مضامین کو اعداد جمل سے متعلق کیا جائے اور اس مضمون کا زمانہ اعداد سے متعین کر دیا جائے تو نصف سے زیادہ قرآن مختص بہ بعض ہو جائے گا اور اس کا عامۃ الناس کے لئے ہدایت اور نور اور واجب الاذعان ہونا صحیح نہ رہے گا۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ قرآن مجید سے اعداد جمل کے موافق تاریخ نکالنا ایک جسارت ہے اور اس پر یہ یقین کرنا کہ آیت کا تعلق بھی زمانہ اعداد سے ہے۔ یک گو نہ کفر ہے۔
مسلمان بادشاہوں کی تاریخوں اور شاعروں کی تصانیف کو کھول کر ملاحظہ کیجئے کہ بیسیوں آیات سے اعداد جمل نکالے گئے ہیں تو کیا مرزاقادیانی ان کو بھی یقین کرتے ہیں کہ ان آیات کا تعلق اسی زمانہ اعداد سے ہے۔
۱… ’’اطیعو اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النساء:۵۹)‘‘ایک ایسی آیت ہے جو مسلمانوں کو اپنے امیر اور حاکم کی اطاعت کرنے کا حکم دیتی ہے۔ رسول اللہ a کے بعد قیام قیامت تک جس قدر امیر ہوئے اور ہوں گے، ہمارا اعتقاد ہے کہ سب کی اطاعت کرنے کا یہ آیت حکم دے رہی ہے۔ اگر اس کے اعداد پر خیال کیا جائے تو ۱۰۶۸ھ ہوتے ہیں۔ سید عبدالرشید تنوی نے یہی آیت، جلوس اورنگزیب کی تاریخ میں پیش کی تھی۔ اعداد پر ایمان لانے والوں کو چاہئے کہ نہ عالمگیر کے سواء کسی کو امیرالمؤمنین سمجھیں اور نہ کسی اور کی اطاعت کو اپنے ذمہ واجب کریں۔ (معاذ اللہ )
۲… ’’قل ہو اللہ احد۔ اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد۔ ولم یکن لہ کفواً احد (الاخلاص)‘‘ شیخ ابوالفیض فیضی کی تفسیر ’’سواطع الالہام‘‘ کی تاریخ تصنیف ہے۔ لازم ہے کہ اس سورۃ کو وصف رب العالمین نہ سمجھیں۔ (معاذ اللہ )
۳… ’’الصلح خیر‘‘ شاہ طماسپ صفوی اور سلطان روم میں باہمی مصالحت کی تاریخ ہے۔ لازم ہے اب زن وشوہر کے متعلق اس کو قرآن کا حکم خیال نہ کریں۔ (معاذ اللہ )
۴…’’غلبت الروم فی ادنی الارض‘‘امیر تیمور کی فتح روم کی تاریخ ہے۔ آیت کا ترجمہ بھی اسی کا مؤید ہے۔ (گوشان نزول مخالف ہو) یعنی ’’روم‘‘ ’’ادنی الارض‘‘ میں مغلوب کیاگیا۔ تاریخ نکالنے والے نے لفظ ’’ارض‘‘ کے حروف ’’ادنی‘‘ یعنی ’’ض‘‘ سے تاریخ نکالی ہے۔ اب مناسب ہے کہ امیر تیمور کی جنگ کو جنگ مقدس قرار دیں جس کی تاریخ خود خدا بیان کر رہا ہے۔ (معاذ اللہ )
۵…’’روح وریحان وجنت نعیم‘‘عالمگیر کی تاریخ انتقال ہے۔ آپ کو اقرار کرنا چاہئے کہ سوائے عالمگیر کے اور کسی کو یہ نعمتیں نہ ملیں گی۔ ورنہ کم سے کم اس بادشاہ کے قطعاً جنتی ہونے کا (جیسا اہل سنت والجماعت کو اصحاب بدر بیعت الرضوان، عشرہ مبشرہ، خلفاء اربعہ کی نسبت ہے) ضرور ہی دعویٰ کیجئے اور ایسی ہی سینکڑوں تاریخیں ہیں اور اگر ان پر مرزاقادیانی کا یقین نہیں تو آیت: ’’وانا علٰی ذھاب بہ‘‘ کو کیوں اعداد سے متعلق کرتے ہیں؟
ناظرین! جب یہ اصول ہی غلط ٹھہرا تو اب مرزاقادیانی کو لازم ہے کہ خروج دجال معہود کا اور کوئی ثبوت شرعی پیش کریں اور تب مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہوں اور اس دعویٰ کے لئے بھی پھر ثبوت شرعی ظاہر کریں۔ (ازالہ اوہام ص۱۸۵، ۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۸۹، ۱۹۰) پر آپ نے لکھا ہے کہ مجھے کشفی طور پر ’’غلام احمد قادیانی‘‘ کے الفاظ پر توجہ دلائی گئی جس کے عدد پورے تیرہ سو ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ’’الایات بعد المأتین‘‘ سے یہی عاجز مراد ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔
ناظرین! یہ تاریخ گویا مسیح موعود ہونے کا اعلیٰ ثبوت ہے جو مرزاقادیانی نے ایسے پرزور الفاظ میں پیش کر دیا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ: ’’غلام احمد قادیانی‘‘ ایسے الفاظ ہیں جو مدح یاذم کچھ بھی ظاہر نہیں کرتے جو اپنے مسمی کے صدق یا کذب پر ذرا بھی شہادت نہیں دیتے۔ اگر اعداد بھی حجت بن سکتے ہیں اور تاریخ بھی دلیل وثبوت کا رتبہ پا سکتے ہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی کے اس کشف سے راقم کا کشف بدرجہا صاف وبرتر ہے۔ جب مرزاقادیانی نے دہلی جاکر شیخنا وشیخ الکل سے درخواست بحث ومناظرہ کی اور طرفین کے مطبوعہ اشتہارات پٹیالہ میں پہنچے تو میرے دل میں آیا کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے۔ فوراً میرے دل میں ڈالا گیا۔ ’’مولوی سید نذیر حسین دہلوی‘‘ میں نے جب اعداد شمار کئے تو پورے ۱۳۰۹ھ جو سنہ مناظرہ تھا۔ ظاہر ہے کہ مولوی اور سید ایسے دو لفظ ہیں جو اپنے مسمی کے شرافت ذاتی وعلمی اور اعزاز حسبی ونسبی پر دلالت کر رہے ہیں اور یہ بھی میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آج دنیا پر ’’مولوی سید نذیر حسین دہلوی‘‘ شیخنا وشیخ الکل کے سواء جن سے مرزاقادیانی مناظرہ کرنے کے شوق میں دہلی پہنچے تھے اور کسی کا نام نہیں۔ برادر عزیز قاضی عبدالرحمن کے دل میں ایسا ہی خیال کرنے پر یہ الفاظ ڈالے گئے۔ سید محمد نذیر حسین دہلوی اس کے اعداد بھی پورے ۱۳۰۹ھ نکلتے ہیں۔ ’’وذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء‘‘ ایک دفعہ پھر اسی عزیز کے دل میں یہ الفاظ ڈالے گئے۔ ’’غلام احمد قادیانی مسیح موعود ہرگز نہیں۔‘‘ اعداد شمار کرنے پر پورے ۱۸۹۱ء نکلے جو مرزاقادیانی کا سنہ دعویٰ ہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی نے اسی موقعہ پر آیت: ’’انا علٰی ذہاب بہ لقادرون‘‘سے یہ ثابت کر کے کہ قرآن مجید ۱۲۷۴ھ میں آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔ پھر لکھا ہے
اب میں اس قرآن کو پھر زمین پر لے آیا ہوں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں اس کی طرف اشارہ تھا۔ ’’لوکان الایمان معلقا عند الثریا لنالہ رجل من فارس‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۲۷، خزائن ج۳ ص۴۹۳ حاشیہ)
ان کے اس دعویٰ اور استدلال میں چند امور غور طلب ہیں:
۱… مرزاقادیانی کو ثابت کرنا چاہئے تھا کہ: ’’ذہاب بہ‘‘ میں جو ضمیر ہے اس کا مرجع قرآن مجید ہی ہے۔ اس آیت سے ماقبل وبعد کی آیتیں ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ ضمیرکا مرجع قرآن مجید ہے۔ آیات پر غور کرو۔ ’’وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علٰی ذہاب بہ لقادرون فانشانا لکم بہ جنت من نخیل واعناب لکم فیہا فواکہ کثیرۃ ومنہا یا کلون (المؤمنون:۱۸)‘‘
ہم نے آسمان سے پانی اندازہ کے موافق اتارا اور ہم اس کے دور کر دینے پر قادر ہیں۔ پھر ہم نے پانی سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے۔ ان باغوں میں بہت میوے ہیں جن سے تم کھاتے ہو۔
آیت میں صاف طور پر ’’ماء‘‘ کا لفظ موجود ہے جس کی طرف ’’ذہاب بہ‘‘ اور ’’بہ جنت‘‘ کے ضمائر کا مرجع ہے۔ لیکن اگر اب بھی مرزاقادیانی اپنی ہٹ دھرمی پر ہی قائم رہے تو ان کو مناسب ہے کہ جس طرح ’’ذھاب بہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع قرآن شریف کو قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح ’’بہ جنت‘‘ کی ضمیر کا مرجع بھی قرآن شریف ہی کو قرار دیں اور پھر ہم کو ترجمہ بھی کر کے دکھادیں۔
۲… مرزاقادیانی قرآن مجید سے قرآن مجید کا زمین سے اٹھایا جانا تو ثابت کرتے ہیں۔ مگر قرآن مجید سے اس کا دوبارہ آنا ثابت نہیں کر سکتے۔ قرآن کے دوبارہ زمین پر آنے کا ثبوت مرزاقادیانی ایک حدیث سے دیتے ہیں اور یہ وہی طرز استدلال ہے جس پر خود مرزاقادیانی حیات ووفات مسیح میں علماء پر اعتراض کیا کرتے ہیں۔ یعنی جب وہ بزعم خود آیات قرآنیہ سے وفات مسیح ثابت کرتے ہیں اور علماء کرام اس کے مقابلہ میں احادیث رسول متضمن حیات مسیح کو پیش کرتے ہیں تو آپ فرمایا کرتے ہیں کہ قرآن مجید قطعی اور متواتر ہے اور احادیث ظنی یا زیادہ سے زیادہ مفید ظن لہٰذا جب قرآن مجید سے وفات مسیح ثابت ہو
چکی تو پھر حدیث ان کی حیات کو ثابت نہیں کر سکتی۔ پس اسی طرح اے جناب مرزاقادیانی! جب قرآن مجید سے قرآن مجید کو بقول آپ کے ۱۲۷۴ھ میں دنیا سے اٹھ جانا ثابت ہو چکا تو اب اس کا دنیا پر موجود ہونا آپ ثابت نہ کر سکیں گے۔ کیونکہ آپ کا قابل اعتراض طرز استدلال اگر علماء کے لئے جائز نہیں تو آپ کے لئے بھی کیوں جائز ہوسکتا ہے۔
۳… مرزاقادیانی نے اپنی فارسی النسل والاصل ہونے کا ثبوت کچھ بھی نہیں دیا بلکہ سمرقندی الاصل ہونے کا اقرار (ازالہ ص۱۲۰، خزائن ج۳ ص۱۵۹ حاشیہ) کر لیا ہے جس نے کسی پرائمری مدرسہ میں بھی جغرافیہ کی تعلیم پائی ہے اور نقشہ ایشیاء ایک آدھ دفعہ بھی دیکھا ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ سمرقند فارس میں نہیں ہے اور اس سے بخوبی واضح ہو گیا کہ مرزاقادیانی حسب اقرار خود فارسی الاصل نہیں۔ اب رہا سمرقندی الاصل ہونا۔ سو یہ بھی غلط ہے۔ ان کا یہ بیان شاید صحیح ہو کہ بادشاہ چغتائی کے زمانہ میں ان کے اجداد سمرقند میں رہتے تھے اور پھر دہلی آ گئے۔ مگر جس طرح پر مرزاقادیانی نویں صدی سے چودھویں صدی تک ہندوستان میں رہنے سہنے اور بودوباش کرنے سے ہندی الاصل نہیں بنے اور نہیں کہلائے۔ اسی طرح سمرقند میں چند روزہ قیام آباء واجداد سے وہ سمرقندی الاصل بھی نہیں ہوسکتے۔ تحقیق انساب واقوام والے فاضل ایسے ادھورے اور ناقابل اطمینان بیان پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ مغل ہیں اور مغل ہی مرزا کہلاتے ہیں۔ وہ پہلا بچہ جس کا نام والدین نے مغل رکھا تاتاری الاصل جس کی نسل چینی تاتار اور دامان تبت میں پھیلی ہوئی ہے چنگیز خان، ہلاکو خان وغیرہ اسی نسل سے ہیں۔ ابوالفضل (جس نے سب سے پہلے خاندان مغل میں الہام کشف، ولایت معبودیت اور محبوبیت کے شرف ثابت کرنے میں بہت کچھ کوشش کی ہے اور جس کی تحریروں کو مرزاقادیانی نے بطور ارہاص سمجھ کر غالباً ان سے فائدہ بھی اٹھایا ہے) اسی تحقیق پر جزم کرتا ہے اور یہ سب تاریخی واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی جو حدیث ’’لنالہ رجل‘‘ کے حوالہ سے فارسی الاصل بنے تھے اور حدیث حارث حراث کے حوالہ میں سمرقندی الاصل ہونے کے مدعی ہوئے تھے، وہ درحقیقت نہ فارسی الاصل ہیں نہ سمرقندی۔ بلکہ تاتاری ہیں اور اس قوم میں سے ہیں جس کو ابوداؤد کی حدیث میں امت کی ہلاک کنندہ قوم فرمایا گیا ہے۔ مجھے نہایت افسوس ہے کہ مرزاقادیانی نے ایک عالی نسب کی جانب خواہ مخواہ نسبت پیدا کرنے کے لئے اتنے ایچ پیچ ڈالے اور اس حدیث کے مورد خود ہی بنے جس میں نسب بدلنے والے کے لئے سخت وعید
حتیٰ کہ اس کا روزہ ونماز بھی قبول نہیں ہوتا۔ ان کو اور ان کے مریدوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب مرزاقادیانی کے کمالات ذاتی وحسبی نے شرافت نسبی واضافی سے ان کو مستغنی کر دیا ہے تو نسب کے اعلیٰ ثابت کرنے کے لئے یہ اضطرار بیانی کیوں؟
۳… مرزاقادیانی نے معنی حدیث بھی غلط کئے ہیں۔ حدیث شریف کے الفاظ: ’’لو کان الایمان عند الثریا‘‘ہیں اور (ازالہ ص۶۰۳، خزائن ج۳ ص۴۲۶) پر مرزاقادیانی لکھ چکے ہیں کہ کان ’’حال کو چھوڑ کر گزشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے۔‘‘ لہٰذا ترجمہ الفاظ حدیث یہ ہے کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو میرے اصحاب میں ایک ایسا شخص موجود ہے جو اس کی طلب وہاں تک کرتا۔ یہ حدیث آنحضرتa نے سلمان فارسیq کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمائی تھی۔ حضرت سلمان فارسیq کا حال پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ کس طرح پر آپ نے سن شعور سے لے کر ضعف پیری تک دین حق کی تلاش میں اپنی عمر عزیز کو صرف کیا اور کس طرح پر سینکڑوں مذہبوں اور ملتوں کے اصول وشرائع سے واقفیت پیدا کرتے اور صراط المستقیم کو ڈھونڈھتے رہے اور بالآخر اس سنت الٰہی کے موافق کہ خدا کسی کی محنت کو ضائع نہیں فرماتا اور طالب حق کو محروم نہیں رکھتا۔ شرف اسلام سے فائز ہوئے تو اس وقت رسول کریمa نے فرمایا کہ یہ اسلام اور یہ صراط المستقیم تو خدا نے دنیا میں ہی بھیج دیا ہے۔ اس کا تلاش کر لینا تو ان پر کیا دشوار ہونا تھا۔ اگر ایمان واسلام ثریا پر بھی ہوتا تو ان کی طلب پھر بھی مطلوب رس ہوتی۔ مرزاقادیانی جو اس حدیث کو اپنے زمانہ سے متعلق بتاتے ہیں اور اس حدیث کے تمسک سے دعویٰ کرتے ہیں کہ آسمان پر اٹھائے گئے قرآن کو میں دوبارہ دنیا پر لے آیا ہوں۔ وہ اس جگہ کان کو بمعنی ’’سوف یکون‘‘ لیتے ہیں۔ یعنی جب زمانہ دراز آئندہ میں ایمان آسمان پر ہو گا۔ لیکن اس ترجمہ میں علاوہ اس نحوی غلطی اور ازالہ کے صفحہ مذکورہ کے خلاف ہونے کے معاذ اللہ ! یہ بھی نکلتا ہے کہ رسول کریم کے عہد میں بھی نزول ایمان زمین پر نہ ہوا تھا۔ ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘
۴… مرزاقادیانی ابن مریم یعنی مسیح موعود بنتے ہیں اور پھر یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کی مسیحیت سے پہلے قرآن مجید دنیا سے اٹھالیا گیا تھا۔ حالانکہ حدیث شریف میں اس کے خلاف ہے۔ (حجج الکرامۃ ص۴۴۲) میں یہ حدیث منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے اور چالیس سال تک قیام کریں گے۔ کتاب اللہ اور میری سنت پر عمل کریں گے۔ پھر موت پائیں گے۔ مسلمان حضرت عیسیٰm کی جگہ ایک شخص کو قبیلہ بنی تمیم
سے جس کا نام ’’مقعد‘‘ ہو گا خلیفہ بنائیں گے۔ جب وہ بھی مر جائے گا تو اس کی وفات کے بعد بیس سال پورے نہ ہوئے ہوں گے کہ لوگوں کے سینہ میں سے قرآن اٹھا لیا جائے گا۔ رواہ ابوالشیخ عن ابی ہریرہq مرفوعاً اس حدیث نے دو باتوں کا فیصلہ کر دیا۔ اوّل: یہ کہ آپ مسیح موعود نہیں۔ دوم: یہ کہ ہنوز رفع قرآن کا زمانہ نہیں آیا۔
ناظرین! یہی بارہ علامات ودلائل ہیں جو مرزاقادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے پر پیش کی ہیں جن کا اغلاط سے پر سقم مملو، مغالطات سے بھرا ہوا ہونا مختصر مختصر طور پر عرض کیا گیا۔ ان بارہ علامات کی طرف ناظرین نظر غائر ڈال کر مکرر خیال فرمائیں کہ ایک حدیث یا ایک آیت بھی جو دلالت بلکہ اشارت بھی اس دعویٰ کی کرتی ہو مرزاقادیانی اس تمام مضمون (مسیح موعود) میں پیش نہیں کر سکے۔ جن الفاظ حدیث کی تاویل کر کے ان کو اپنی طرف لگایا، ان کے اصل لفظ نہیں لکھے۔ تاکہ کوئی سمجھدار معلوم نہ کر سکے کہ اس تاویل کی موافقت ان الفاظ سے ہو نہیں سکتی۔ اس کے جواب میں آپ صاحبان غایت المرام میں اس عاجز کا لکھا ہوا مضمون ’’ابن مریم‘‘ ملاحظہ فرمادیں جس سے واضح ہو جائے گا کہ مسیح موعود کون ہیں اور ان کے علامات حدیث وکتاب اللہ میں کیا کیا درج ہیں۔ اس مقام پر بھی میں چند ایسے علامات کا تحریر کردینا ضروری خیال کرتا ہوں جن سے مرزاقادیانی کا مسیح موعود نہ ہونا یقینی اور قطعی طور پر معلوم ہو جائے۔
۱… مسیح موعود کے زمانہ کی ایک علامت صحیحین کی متفقہ حدیث میں ہے: ’’ویکثر۱؎ المال حتی لا یقبلہ احد‘‘(مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم) کہ مال کی اس زمانہ میں اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ مال کی تفسیر مسلم کی دوسری حدیث
۱؎مرزاقادیانی نے مال کی تاویل معارف اور اسرار کی ہے۔ یعنی مسیح کے وقت میں اسرار قرآنی اور معارف ربانی بکثرت ظاہر ہوں گی۔ اس تاویل پر اوّل تو یہ اعتراض ہے کہ مریدوں کا ان معارف کو قبول نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ مسلم کی تفسیر نے اس تاویل کو بالکل ہی غلط کر دیا۔ سوم مولوی محمد حسن امروہی مال سے مراد مال ہی رکھتے ہیں اور مرزاقادیانی کے انعامات بمقابلہ آریہ صاحبان کو وہ مال قرار دیا ہے جس کو آج تک کوئی حاصل نہیں کر سکا۔ ناظرین کے لئے پیرومرید کے یہ اختلاف بیانی قابل دید ہے۔ پھر مسلم کی تفسیر نے جن میں زکوٰۃ ادا کرنے کا ذکر ہے پیر اور مرید دونوں کی تاویل کو غلط قرار دے دیا ہے۔
میں یہ ہے کہ انسان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا تو کوئی لینے والا نہ ملے گا۔
مرزاقادیانی جو اپنے پیش نہاد پنجگانہ سلسلوں کے لئے احباب سے مال کے خود ملتجی ہیں وہ مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔
۲… مسیح موعود کے زمانہ کی دوسری علامت صحیحین میں ہے: ’’حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرمن الدنیا وما فیہا‘‘ یعنی ہر انسان کی نگاہوں میں دنیا کی جاہ وحشمت مال ودولت بے قدر محض ہو جائیں گے۔ دنیا سے انقطاع تام حاصل ہو گا اور رب العالمین کی جانب ایسا جذب کامل ہو جائے گا اور محبوب حقیقی کی محبت نفس اور طبیعت پر اس قدر غالب آجائے گی کہ اگر تمام دنیا کی حکومت واقتدار اور دنیا بھر کے مال ومتاع کو ایک طرف اور صرف ایک سجدہ کو دوسری طرف رکھ کر مسلمان کو کہا جائے گا کہ دونوں میں سے وہ کسے پسند کرتا ہے تو وہ سجدہ کو پسند کرنے اور اس ایک منٹ کو جو طاعت الٰہی میں صرف ہو مال پر ترجیح دینے میں ذرا بھی تأمل نہ کرے گا۔ گویا زبان حال سے اس شعر کا ورد کرے گا ؎
دیوانہ کنی مال و جہانش بخشی
دیوانہ تو مال و جہاں راچہ کند
مسیح موعود کے زمانہ کی یہ برکت عام ہو گی۔ مرزاقادیانی کے زمانہ میں جو فسق وفجور پھیلا ہوا ہے جس قدر ارتکاب محارم ہو رہا ہے، زنا اور شراب کا استعمال امارت اور فخر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے توحید کو چھوڑ کر قبر پرستی تعزیہ پرستی کو اپنا دین ایمان سمجھ لیا ہے۔ کتاب اور سنت سے منہ موڑ لیا ہے۔ وہ نہ مرزاقادیانی سے پوشیدہ ہے نہ ناظرین سے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ وہ مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔
۳… مسیح موعود کے زمانہ کی تیسری علامت صحیح مسلم وابوداؤد وغیرہ میں یہ ہے: ’’اس کے زمانہ میں تباغض وتحاسد (باہمی بغض وحسد) دور ہو جائے گا۔ انسان کے بچے سانپوں کے ساتھ اور شیر بکری کے ساتھ کھیلیں گے۔ تعصب کی زہریں نکل جائیں گی اور ایک بھائی دوسرے بھائی پر نیک ظن پیدا کرے گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۵۹۴، خزائن ج۳ ص۴۲۰، ۴۲۱ ملخص)
آپ نے یہی الفاظ لکھے ہیں اور ان کو بلاکسی تاویل کے قبول کر لیا ہے۔ بسم اللہ ! اسی کسوٹ پر اپنے دعویٰ کو کس لیجئے اور رسالہ شہادت القرآن کے آخری اشتہار (خزائن ج۶ ص۳۹۶) پر نظر غائر فرمائیے کہ: آپ نے خود اپنی قلم سے اپنے مبائعین کی درندگی وجوش طبعی،
بدتہذیبی، آپس میں بد کلامی، دشنام دہی بلکہ فحش کلمات کے استعمال کرنے کا ذکر کیا ہے اور حکیم نورالدین کی رائے لکھی ہے کہ یہ لوگ قادیان آکر بجائے درست ہونے کے اور زیادہ خراب ہو جاتے ہیں اور آپس میں ذرا بھی پاس اور لحاظ نہیں کرتے۔ لہٰذا یہ سالانہ جلسہ بند کیجئے اور ان مریدوں کا اس طرح جمع ہونا مسدود فرمائیے۔ آپ کی شہادت اور اس پر حکیم نورالدین کی نورانی تصدیق نے ثابت کر دیا کہ آپ مسیح موعود نہیں۔ اگر ہوتے تو تمام اسلامی دنیا میں محبت اور اتحاد پھیلا دیتے۔ نہ کہ مبائعین میں بھی وہ حالت پائی جائے جو کسی نام اور نمود کی مہذب سوسائٹی میں بھی نظر نہ آئے گی۔ سچ ہے درخت ہمیشہ اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔
۴… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر ان ہی کے اقوال ذیل شاہد ہیں:
(۱)’’یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۲۱، خزائن ج۳ ص۴۸۸)
(۲)صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی متفق علیہ حدیثوں نے جو صحابہ کبار کی روایت سے ہیں دو ٹکڑے کر دیا اور ابن صیاد کو دجال معہود ٹھہرا کر آخر مسلمانوں کی جماعت میں داخل کر کے مار بھی دیا۔
(ازالہ اوہام ص۲۴۴، خزائن ج۳ ص۲۲۳)
یہ اقوال صاف بتلا رہے ہیں کہ آپ مسیح موعود نہیں۔ کیونکہ مسیح موعود نے خروج دجال معہود کے بعد آنا تھا۔ دجال معہود قبل از خروج مسلمان ہو گیا اور تیرہ سو برس ہوچکے کہ مر بھی گیا۔
۵… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر ان کا یہ اقرار شاہد صادق ہے۔ ’’ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کوئی مسیح ظاہری جلال واقبال کے ساتھ آئے۔‘‘ ممکن ہے کہ جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آ سکیں۔
(ازالہ اوہام ص۲۰۰ ملخص، خزائن ج۳ ص۱۹۷)
حکیم نورالدین اپنے خط میں جو ازالہ اوہام کے آخر میں لگا ہوا ہے ایک سائل کو اطلاع دیتے ہیں کہ خود خاکسار نے جب مرزاقادیانی کے حضور میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ایک پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا: ’’میں نے تو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ مثیل مسیح بہت آویں اور کوئی ظاہری طور پر بھی مصداق ان پیشین گوئیوں اور نشانات کا ہو جن کو میں نے روحانی طور پر الہاماً اپنے پر چسپاں کیا ہے۔‘‘
(مضمون نورالدین ملخصہ درآخر ازالہ ص۱۱، خزائن ج۳ ص۶۳۳)
مرزاقادیانی اور حکیم نورالدین کی تقریر سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ وہ مسیح آئے گا جو ظاہری طور پر احادیث کی پیشین گوئیوں اور رسول کریمa کے بتائے ہوئے نشانات کا مصداق ہو اور ظاہری جلال واقبال بھی اپنے ساتھ رکھتا ہو گا جس کا ذکر حدیث شریف میں بہ تصریح وارد ہے اور وہ اوّل دمشق میں ہی اترے تو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مرزاقادیانی نے ان علامات کو اپنی ذات پر چسپاں کرنے میں بڑی بھاری جرأت کی ہے اور اس لئے کہ موعود مسیح کی وہ علامات جن کا ظاہری طور پر ظہور ہونا رسول کریمa نے بیان کیا ہے اور انہی علامات سے ہم کو مسیح موعود اور مسیح مدعی میں فرق کرنے کے لئے ’’فاعرفوہ‘‘ فرمایا ہے۔ آپ میں پائی نہیں جاتیں۔ لہٰذا ہم بعد شناخت کامل بیان کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی ہرگز مسیح موعود نہیں۔ مسیح موعود ہی دمشق کے شرق میں اترنے والا اور ظاہری جلال واقبال والا ہے۔ جس کے نزول پر ہم مسلمان ایمانی طور پر اور مرزاقادیانی امکانی طور پر یقین رکھتے ہیں۔
جس وقت یہ مسیح موعود نازل ہو گا اور مرزائیوں سے دریافت کرے گا کہ تم نے باوجود نہ ہونے علامات بیان شدہ کے مرزاغلام احمد کو کیوں مسیح تسلیم کر لیا تھا اور کیوں خود مرزا کے اس تذبذب سے ’’جو امکانی طور پر میرے نزول کی تسلیم میں‘‘ اس کی تقریر کے اندرنمایاں تھا مرزا کی اندرونی حالت اور خود اس کے دعاوی پر اسی کی بے اعتباری سے فائدہ اٹھا کر میرے منتظر کیوں نہ رہے تھے اور ’’تحمل النصوص علٰی ظواہرہا‘‘ کے اصول پر عمل نہ کر کے کیوں تم نے اپنے اعتقادات اور ایمانیات کو استعارہ اور مجاز پر قائم کر لیا تھا۔
تو اس وقت میں نہیں جانتا یہ لوگ کیا جواب دیں گے اور کیونکر مسیلمہ کا کلمہ پڑھنے والے (جو نبوت میں اپنے آپ کو اور آنحضرتa کو سہیم وشریک جانتا تھا اور آنحضرتa کی نبوت کی نفی نہ کرتا تھا) محمد رسول اللہ a کی امت میں شریک ہوسکیں گے۔ ’’یاحسرۃ علی العباد ما یاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزؤن (یٰسین:۳۰)‘‘کیا رسولm کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور بھی استہزاء ہوسکتا ہے کہ ان کے بتلائے ہوئے علامات اور مقرر کردہ نشانات والے مسیح کو تو امکانی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے (جس میں دونوں شقیں برابر ہوتی ہیں) اور اپنے آپ کو یقینی اور قطعی طور پر مسیح موعود کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے۔
۶… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر حضرت مسیحm کے یہ الفاظ ناطق ہیں۔ انجیل میں ہے:
(۲۲)تب اگر کوئی تمہیں کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔
(۲۳)کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھاویں گے۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔
(۲۴)دیکھو میں پہلے سے ہی کہہ چکا ہوں۔
(۲۵)پس اگروے تمہیں کہیں دیکھو۔ وہ جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے تو باور مت کرو۔
(۲۶)کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہو گا۔
(متی باب:۲۴)
ان الفاظ میں جناب مسیح نے اپنے آنے سے پہلے جھوٹے مسیح جھوٹے نبیوں کے آنے کی کیسی صاف پیش گوئی فرمائی ہے۔ مرزاقادیانی کا ان الفاظ کے مقابلہ میں یہ جواب کہ: ’’عیسائیوں میں جن لوگوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ تو جھوٹے مسیح ہیں اور میں سچا مسیح موعود ہوں۔‘‘ بالکل ابلہ فریب جواب ہے۔ جناب چور وہیں پڑتا ہے جہاں مال ہوتا ہے۔ موعود بننے کا دعویٰ وہیں کر سکتا ہے جہاں کسی کے آنے کا انتظار ہوتا ہے۔ اس لئے ضرور تھا اور آئندہ بھی ہے کہ تانزول مسیحm مسلمانوں میں جھوٹے مسیح پیدا ہوتے اور دعویدار بنتے رہیں۔ مرزاقادیانی سے پہلے ’’ابن ہود‘‘ نامی ایک شخص تھا جس کے کئی ہزار مرید تھے اور جو بڑی وجاہت اور شان کا آدمی تھا۔ وہ یہی دعویٰ کر چکا ہے۔ امام ابن تیمیہ الحرافی نے اس کو ساکت کیا تھا۔
۷… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر رزین کی وہ حدیث نص ہے جس کے راوی امام جعفر صادق سے لے کر علی المرتضیٰ تک (i) کل ائمہ اہل بیت نبوی ہیں۔ رسول خدا نے فرمایا: وہ امت کیونکر ہلاک ہو گی جس کے اوّل میں میں، بیچ میں مہدی اور آخر میں عیسیٰm ہیں۔
(مشکوٰۃ ص۵۸۳، باب ثواب ہذہ الامۃ)
مرزاقادیانی جو خود ہی مہدی اور خود ہی مسیح بنتے ہیں وہ مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔ حدیث بالامہدی اور مسیح کو دو جدا جدا شخص بتلا رہی ہے اور مسیح موعود اس کو قرار دیتی ہے جو مہدی کے بعد آنے والا ہو۔
اگر حدیث کے تسلیم کرنے میں کچھ تأمل ہو تو نعمت اللہ ولی کا قصیدہ (جو مرزاقادیانی کے نزدیک ایسا معتبر اورقابل وثوق ہے کہ اس قصیدہ کو شائع کرنے کے لئے ایک علیحدہ رسالہ لکھا اور اس کا نام نشان آسمانی قرار دیا) ایک بار پھر دیکھا جائے۔ اسی میں یہ بھی شعر ہے ؎
مہدی وقت و عیسیٰ دوراں
ہر دورا شہسوارمے بینم
مہدی وقت عیسیٰ دوران کے بیچ میں جو واؤ پڑا ہوا ہے آپ بڑی آسانی سے اس کو واو تفسیر کہہ سکتے۔ جیسا ’’وامامکم منکم‘‘ میں کہا ہے۔ مگر دوسرے مصرعہ میں ہر دو بھی موجود ہے اور ترجمہ یہ ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دونوں کے دونوں شہسوار ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں بزرگوار میدان آرا، جنگ آزما ہوں گے اور سیفی فتح سے تمام دنیا کو مسخر کر دکھلائیں گے جس کو مرزاقادیانی ناچیز سمجھتے ہیں۔
۸… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر دلیل۔ ان کا یہ اقرار ہے: ’’مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہو گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)
اب یا تو مرزاقادیانی اقرار کریں کہ میں نبی اللہ ہوں یا تسلیم فرمائیں کہ میں مسیح موعود نہیں۔
۹… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو جابرq سے (صحیح مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم) میں ہے۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا اور قیامت تک غالب رہے گا۔ عیسیٰ بن مریم انہی میں نازل ہوں گے۔ گروہ کا امیر کہے گا آئیے نماز پڑھائیے۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے نہیں تم آپس میں ایک دوسرے کے امیر ہو۔ یہ خدا نے اس امت کو اکرام دیا ہے۔ یہ حدیث چاہتی ہے کہ حضرت عیسیٰm کا نزول اس گروہ میں ہو جو شروع زمانہ اسلام سے لے کر مسیح کے آنے تک حق کے لئے جنگ وقتال
کرنے والا اور اپنے جنگ وغزا میں نصرت وفیروزی رکھنے والا ہو۔ حدیث کا یہ بھی مطلب ہے کہ نزول عیسیٰ سے پہلے ایک ایسا امیر مسلمانوں میں موجود ہو جس کی امارت تسلیم شدہ ہو۔ حدیث یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس امیر کی امارت کا حق ہونا حضرت عیسیٰm بھی تسلیم فرمائیں اور یہی امر ظاہر کرنے کے لئے نماز میں اس امیر کا اقتداء کریں۔
مرزاقادیانی جو مسیح موعود بنتے ہیں۔ اوّل: یہ فرمائیں کہ ان کا نزول کون سی جنگ جو فتح یاب فرقہ میں ہوا ہے۔ دوم: ان سے پہلے کون سا امیر المسلمین موجود تھا جس کی امارت کو مرزاقادیانی نے تسلیم کر کے اس کی اقتداء کی ہے اور اس نے بھی آپ کی اطاعت بطوع کرنی چاہی ہے۔ ناظرین! اس کا جواب مرزاقادیانی ہرگز نہ دیں گے۔ مگر آپ یاد رکھیں کہ یہ امیر حضرت امام مہدی ہوں گے جن کا ذکر (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم) کی حدیث عن ابوہریرہq میں ان الفاظ میں ہے: ’’وامامکم منکم‘‘ مرزاقادیانی نے ان تمام اعتراضات سے بچنے اور ان قیود سے آزاد ہونے کے لئے اور ہی پہلو اختیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’لا مہدی الّا عیسیٰ‘‘ عیسیٰ کے سواء اور کوئی مہدی ہی نہیں۔ تعجب یہ ہے کہ آپ اس کو حدیث رسولa سمجھتے ہیں۔ حالانکہ بڑے بڑے محدثین نے صاف لکھ دیا ہے کہ یہ ایک وضعی قول ہے جس کا کچھ اعتبار نہیں اور اس کے مقابلہ میں یہ بھی علماء کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ مہدی کا ہونا، آخر زمانہ میں ظہور کرنا۔ رسول خداa کی عترت اور جناب فاطمہp کی اولاد سے ہونا احادیث نبوی سے حدتواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر انکار کے کیا معنی؟ اسی لئے آیا ہے کہ جو شخص دجال کا یا مہدی کا انکار کرے گا وہ کافر ہو جاوے گا۔ ’’رواہ ابوبکر الاسکاف فی فوائد الاخبار۔ وابوالقاسم السہیلی فی شرح السیرلہ‘‘ شرح عقائد تفتازانی میں ہے:’’لولا مہدی الّا عیسیٰ‘‘ پر دھوکا نہ کھاؤ۔ یہ تو احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔
۱۰… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر ابن الجوزی کی حدیث شاہد ہے جس کے یہ لفظ ہیں: ’’عیسیٰ زمین میں اتر کر بیاہ کریں گے۔ ان کی اولاد ہو گی۔‘‘ مرزاقادیانی جوقبل از دعویٰ مسیحیت کئی شادیاں کر چکے ہیں اوران کی اولاد خدا کے فضل سے اس وقت نوکر چاکر بھی ہے وہ اس کے مصداق نہیں ہوسکتے۔
۱۱… مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر حدیث ابوہریرہq جو احمد اور ابن جریر کے نزدیک ہے۔ شاہد ہے کہ حضرت مسیح مقام روحاء میں آ کر حج وعمرہ کریں گے۔
(مسلم ج۱ ص۴۰۸، باب جواز التمتع فی الحج والقران)
میں نہایت جزم کے ساتھ بآواز بلند کہتا ہوں کہ حج بیت اللہ مرزاقادیانی کے نصیب میں نہیں۔ میری اس پیش گوئی کو سب صاحب یاد رکھیں۔
نوٹ: یہ کتاب مرزا کی زندگی ۱۸۹۱ء میں شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت کے بعد سترہ سال مرزاقادیانی زندہ رہا۔ ۱۹۰۸ء میں مرا۔ مگر مصنف کی پیش گوئی کے مطابق اسے حج کی توفیق نہ ہوئی۔ الحمد ﷲ! اس سے مصنف کی عند اللہ مقبولیت اور مرزا کی مردودیت ظاہر ہوئی۔
(فقیر: اللہ وسایا)
ناظرین! میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو یہ مضمون پڑھ کر معلوم اور یقین ہو گیا ہے کہ کیا ان علامات کے اعتبار سے جن کو مرزاقادیانی نے علامات مسیح موعود قرار دے کر پھر ان کی تطبیق اپنی ذات پر کرنے میں سعی مذبوح کی ہے اور کیا ان علامات سے جن کا علامات مسیح ہونا ہمارے سید ومولیٰ محمد رسول اللہ a نے ظاہر فرمایا ہے۔ غرض بہرطور اور بہردو صورت ثابت ہو گیا کہ مرزاقادیانی مسیح موعود ہرگز نہیں ہیں۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ خبردار مرزاقادیانی کا مسیح موعود نہ ہونا تم نے ثابت کر دیا۔ مگر مثیل مسیح نہ ہونے کی منافی تمہارے پاس کچھ بھی نہیں تو شاید مثیل مسیح تو وہ ضرور ہی ہوں۔
ناظرین! یہ بھی اس شخص کا وہم ہی ہے اور ٹھیک یہی مثال رکھتا ہے کہ کوئی مجرم گاؤں میں اپنے آپ کو تھانہ دار ظاہر کرے اور لوگوں سے نذریں وغیرہ لے کر آگے کو چل دے۔ تھوڑی دیر بعد معلوم ہو جائے کہ وہ تھانیدار تھا۔ اس کے مقابلہ میں نذر پیش کرنے والے رفع ندامت کے لئے کہیں۔ خیر اگر تھانہ دار نہ تھا تو کانسٹیبل تو ضرور ہی ہو گا۔ مگر تھا کوئی ضرور۔ حاصل یہ ہے کہ ایمان اور صداقت اور راست بیانی ایسے اوصاف ہیں کہ جب ان کی نفی ہو جاتی ہے تو آدمی میں کوئی صفت بھی باقی نہیں رہتی۔ مماثلت پر مفصل بحث ہماری کتاب غایت المرام میں ہے۔
اسی مضمون کے خاتمہ پر میں مرزاقادیانی کے مضمون ’’قریب تربامن ونزدیک تر بسعادت‘‘ کون لوگ ہیں۔ کیا وہ لوگ جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا ہے یا وہ لوگ جو منکر ہو گئے۔ پر بھی کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ اس مضمون میں مرزاقادیانی نے معتقدین اور مبائعین کو جو انوار وبرکات حاصل ہوئی ہیں ان کا بیان کیا ہے۔ تمہیدی الفاظ میں ہی لکھا ہے: ’’وہ لوگ ہر ایک خطرہ کی حالت سے محفوظ ومعصوم ہیں۔‘‘
ناظرین! انہی الفاظ پر غور کرو۔ ہر ایک خطرہ سے محفوظ ہونے والے اور معصوم بننے والے یہ کون؟ مقام خوف وہ مقام ہے کہ بڑے بڑے اولوالعزم رسول ہیبت وخوف سے کانپا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا تصفیہ فرمادیا ہے۔ ’’فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخٰسرون (الاعراف:۹۹)‘‘ سورۂ یوسف:۵۳ میں ہے: ’’وما ابری نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء‘‘{میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا۔ کیونکہ نفس تو ہمیشہ برائی کا ہی حکم دیتا ہے۔} عثمانq بن مظعون کے جنازہ پر آنحضرتa نے فرمایا: ’’واللہ لا ادری مایفعل بی‘‘ (معجم کبیر ج۹ ص۳۷ نمبر۸۳۱۷)بخدا میں نہیں جانتا۔ حالانکہ میں رسول خدا ہوں کہ میرے ساتھ کیا برتاؤ ہو گا اور تمہارے ساتھ کیا؟ ابن مسعودq کی حدیث میں ہے: ’’الجنۃ اقرب الی احدکم من شراک نعلہ والنار مثل ذلک‘‘ (رواہ البخاری ج۲ ص۹۶۰، باب الجنۃ اقرب الی احدکم) بہشت اور دوزخ تو تمہارے جوتے کے تسمہ سے بھی زیادہ تم سے قریب تر ہیں۔ حضرت انسq کی حدیث میں ہے: تم وہ عمل کرتے ہو جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی زیادہ ترباریک ہیں۔ ہم ان کو عہد رسول اللہ a میں مہلکات سے شمار کرتے تھے۔
(رواہ البخاری ج۲ ص۹۶۱، باب ما یتقی من محقرات الذنوب)
یہ ارشادات ان مقتدایان ملت اور انبیاء کرام کے ہیں جن کی عصمت پر نص قطعی موجود ہے جن کا کوئی لمحہ کوئی لحظہ خوف اور خشیت خدا اور بیم ورجا سے خالی نہ ہوتا تھا۔ آپa نے صحابہi سے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں واللہ ! اگر تم جان لو تو ہنسو کم اور گریہ کرو بہت۔ عورتوں سے فرش پر لذت نہ پاؤ۔ راہوں میں نکل بھاگو اور خدا سے فریاد کرو۔
(ترمذی ج۲ ص۵۷، ابواب الزہد عن ابی ذرq) باوجود ایسے نصوص شرعیہ وقطعیہ کے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو خطرہ سے محفوظ سمجھتا ہے تو بحکم آیت: ’’خاسرین‘‘ میں داخل ہے۔ اب رہا مریدان جناب (مرزا) کا خطرہ سے معصوم ہو جانا۔ یہ خاصہ انبیاء کا ہے اور وہ باوجود معصوم ہونے کے بھی ڈرتے رہے ہیں۔ اوّل: آپ نے عاجز نہ گنہگار بندوں کو معصوم بتایا اور پھر خشیۃ اور خوف کی صفت سے خالی کر کے ان کو ہلاکت کے قریب کر دیا جس طرح نصاریٰ فضل پر بھروسہ کر کے بیٹھ گئے۔ صدق اعمال ان سے اٹھ گیا۔ حسن عبادت جاتا رہا۔ وہی حال ان بیچاروں کا بھی ہونے والا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہو رہا ہے۔ میں تو مرزاقادیانی کے جتنے مریدوں سے واقف ہوں اور بیعت سے پہلے کی واقفیت رکھتا ہوں ان کی حالت ماسبق ومابعد پر اکثر احتیاط اور غور سے فکر کیا کرتا ہوں تو ان کو بدترین حالت میں پاتا ہوں۔ ان میں سنن ہدیٰ بہت کم نظر آتے ہیں۔ اوقات صلوٰۃ کے بھی پابند نہیں ہوتے۔ خیر اب ناظرین ان انوار وبرکات کی تفصیل سنیں جو مرزاقادیانی نے فرمائی ہیں۔
۱… ’’انہوں نے اپنے بھائی پر حسن ظن کیا ہے اور اس کو مفتری یا کذاب نہیں ٹھہرایا اور اس کی نسبت کسی طرح کے شکوک فاسدہ کو دل میں جگہ نہیں دی۔ اس وجہ سے اس ثواب کا انہیں استحقاق حاصل ہوا کہ جو بھائی پر نیک ظن رکھنے کی حالت میں ملتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۷۹، ۱۸۰، خزائن ج۳ ص۱۸۶)
ناظرین! حسن ظن ایک عمدہ صفت ہے اور بے شک ہر مسلمان کو ہر مسلمان پر ہونی چاہئے۔ مگر حسن ظن اس کا نام نہیں ہے کہ ایک شخص پر حسن ظن کرتے کرتے تمام سلف وخلف صلحاء وعلماء سے سوء ظنی پیدا ہو جائے اور صرف ایک شخص کو مفتری یا کذاب نہ کہنے کے لئے صحابہ اور تابعین تک کو ملحد ومحرف تسلیم کر لیا جائے۔ (معاذ اللہ )
میں سچ کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی سے حسن ظن صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب جملہ مفسرین ومحدثین فقہاء وتابعین ائمہ وصحابہ اجمعین کی طرف سے سخت سخت شکوک اور بدظنیوں کو دل میں مستحکم کر لیا جائے۔ اگر ابوہریرہq روایت حدیث کے ساتھ ’’وان من اہل الکتب الّٰا لیؤمنن قبل موتہ‘‘سے حیات عیسیٰ ثابت کرتے ہیں تو کیا کریں؟
اگر ابن جریر وابن کثیر تفسیر طبری ج۶ ص۱۸، امام احمد باسناد صحیح ابن عباسq
سے اس آیت: ’’ان اہل الکتاب‘‘ میں حیات اور نزول مسیح بیان کرتے ہیں توخیر وہ بھی بیان کیا کریں؟
اگر ضحاک اور قتادہ حضرت عبداللہ بن عباسq سے ’’انی متوفیک ورافعک‘‘کے معنی ’’رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان‘‘ روایت کرتے ہیں تو خیر وہ بھی روایت کرتے رہیں؟
اگر امام حاکم وابن مردویہ طبرانی اور ابن ابی حاتم حضرت ابن عباسq سے ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘میں نزول عیسیٰm ’’قبل یوم القیامۃ‘‘کی تفسیر کرتے ہیں تو خیر یہ بزرگوار بھی اپنی کتابیں اپنے پاس رہنے دیں؟
اگر عبد بن حمید نے ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘میں ابوہریرہq کا مذہب بھی یہی نقل کیا ہے کہ قبل از قیامت حضرت مسیحm تشریف فرمائے دنیا ہوں گے تو وہ بھی اس نقل کو اپنے پاس رکھ چھوڑیں؟
اور اگر رئیس المفسرین ابن جریرv نے سند متصل وصحیح کے ساتھ حضرت امام حسن بصریv سے جو جملہ اہل کشف وشہود اولیاء وعلماء کے امام وسرگروہ ہیں: ’’ان من اہل الکتاب الّٰا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘میں حیات عیسیٰ بیان کرتے ہوں اور ’’واللہ انہ لحیی الآن عند اللہ ولٰکن اذا نزل اٰمنوا بہ اجمعون‘‘فرماتے ہوں جس کا ترجمہ یہ ہے۔ بخدا حضرت عیسیٰm اس وقت خدا کے پاس ضرور ہی زندہ ہیں۔ مگر جب نازل ہوں گے تو سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے تو خیر قسم کھایا کریں؟
اگر کعب بن احبار، قتادہ، مجاہد آیات بالا میں نزول اور حیات مسیح ثابت کرتے ہوں تو کیا کریں؟
اگر معالم وبیضاوی، کشاف ودرمنثور وبحر مواج وغیرہ آیات صدر میں معانی بالا پر جزم کرتے ہوں تو کیا کریں؟
اگر سلف وخلف کا اجماع واتفاق اسی عقیدہ پر رہا ہو تو ہوا کرے؟
اگر خروج دجال کی احادیث کے راوی ۳۵صحابہ ہوں تو ہوا کریں۔ اگر قتل دجالونزول عیسیٰm کی احادیث کے راوی ۱۳۰صحابہ ہوں تو خیر؟
مگر وہ حسن ظن جو ایک بھائی کو بھائی سے ہونا چاہئے وہ مانع ہے کہ مرزاقادیانی کو کاذب اور مفتری خیال کیا جائے۔ مرد آدمی حسن ظن کے یہ معنی کس نے کئے ہیں کہ تمام جہان کے عقلائے ملت وعلماء دین ایک طرف ہوں اور ایک مدعی ایک طرف۔ پھر بھی وہ حسن ظن ہی چلا جائے؟
یقین رکھئے کہ یہ بہت بڑی خرابی ہے جو واقع ہو رہی ہے۔ اس کا انجام بخیر ہرگز نہیں ہوسکتا۔مرزاقادیانی اس کے بعد دوسری خوبی یہ بتلاتے ہیں۔
۲… ’’دوسری یہ کہ وہ حق کے قبول کرنے کے وقت ملامت کنندہ کی ملامت سے نہیں ڈرے اور نہ نفسانی جذبات ان پر غالب ہو سکے۔ اس وجہ سے وہ ثواب کے مستحق ٹھہر گئے کہ انہوں نے دعوت حق کو پاکر اور ایک ربّانی مناد کی آواز سن کر پیغام کو قبول کر لیا اور کسی طرح کی روک سے رک نہیں سکے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۸۰، خزائن ج۳ ص۱۸۶)
ناظرین! حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمان صدق دل سے اعتقاد رکھتے ہیں کہ داعی الیٰ اللہ اور ربانی مناد محمد رسول اللہ a تھے اور آنحضرتa کے ان دونوں مراتب رفیعہ کا ذکر قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے۔ ’’یاقومنا اجیبو اداعی اللہ وامنوا بہ یغفرلکم من ذنوبکم (احقاف:۳۱)‘‘دوسری جگہ ہے: ’’وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا (الاحزاب:۴۶)‘‘ حدیث میں ہے: ’’فالداعی محمد والماوبۃ الجنۃ‘‘ربانی مناد کا اس آیت میں ذکر ہے: ’’ربنا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنو بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا وکفرعنا سیاتنا وتوفنا مع الابرار (آل عمران:۱۹۳)‘‘پس جن لوگوں نے محمدa کو داعی الی اللہ قبول کر کے اس کی دعوت حق قبول کر لیا ہے اور احمد مصطفیa کو ربانی مناد صدق دل سے جان کر ان کی ندا کو گوش جان سے سن لیا ہے وہ مجبور ہیں کہ کسی اور کو داعی الی اللہ سمجھیں یا اس کی دعوت کو دعوت حق قرار دیں۔ چونکہ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتa سے بڑھ کر کوئی دعوت حق نہیں کر سکا اور کسی کی ندا اس مبارک ندا سے زیادہ شیریں اور روح بخش نہیں ثابت ہوئی اس لئے اس مبارک دعوت اور ندا کے بعد اور جنتی دعوتیں اور ندائیں ہیں۔ وہ سب گمراہی اور ضلالت کی دعوت اور ندائیں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’فاماذا بعد الحق الا الضلال
(یونس:۳۲)‘‘ پس یہ دوسری مصیبت ہے جو مبائعین مرزاقادیانی پر نازل ہو چکی اور نازل ہو رہی ہے۔ جس مصیبت کا گرنا ان کو برف باری کی طرح خوشنما معلوم ہوتا ہے۔ مگر تھوڑی دیر میں وہ خوش آئند منظر مہلک ثابت ہو گا۔
۳… تیسری بات مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’پیش گوئی کے مصداق پر ایمان لانے کی وجہ سے وہ ان تمام وساوس سے مخلصی پا گئے کہ جو انتظار کرتے کرتے ایک دن پیدا ہو جاتے ہیں اور آخر یاس کی حالت میں ایمان دور ہو جانے کا موجب ٹھہرتے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۸۰، خزائن ج ص۱۸۶)
ناظرین! یہ تیسری برکت ہے جو مبائعین کو مرزاقادیانی سے حاصل ہوئی۔ اگر مرزاقادیانی کے مبائعین کا ایمان یہی ہے کہ وہ ہر چیز پر مشاہدہ کے بغیر ایمان نہیں لاسکتے۔ اگر مبائعین کی اتنی ہی عقل ہے کہ وہ ہر ایک پیش گوئی کو جو ان کے عہد حیات میں پوری نہ ہو قبول نہیں کر سکتے اور اگر وہ ایسے دل کے بودے، طبیعت کے کمزور، ایمان کے کچے ہیں کہ خدا کے وعدوں اور مصلحتوں اور رسول اللہ a کے ارشادوں کو وہ اپنی پیداشدہ وساوس کا دافع نہیں جانتے۔ تب مرزاقادیانی بخوبی یقین رکھیں کہ وہ ان لوگوں کو وساوس سے مخلصی نہیں دے سکتے اور ان کا ایمان جو حالت یاس سے دور ہونے لگ گیا ہے۔ قائم نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ مسیح موعود کی پیش گوئی پر جب یہ وساوس کرنے اور پھر ایمان چھوڑنے لگے۔ تب تو مرزاقادیانی نے احسان فرما کر خود دعویٰ کر دیا اور ان کی روک تھام کر لی۔ لیکن کل کو جب یہ قیامت کے وجود پر وساوس قائم کریں گے اور وہی انتظار کی وجہ سے حالت یاس پیدا ہو کر ازالہ ایمان ان کا ایمان ہو جائے گا۔ تب مرزاقادیانی کیا تدبیر فرمائیں گے۔ آپ کے پنجاب کی ایک مثل ہے: ’’اج نپی کل نپتیی کیسوپھوتے سد انپھتی‘‘ ہاں! اگر حسن بن محمد بن گیاہ بزرگ امید کی آپ نے تقلید کی اور قیامت موعودہ بھی اپنے نفس ہی کو ٹھہرایا۔ تب تو کیا کہنے ہیں۔
غرض یہ تیسری مصیبت ہے کہ ایک پیش گوئی کے انتظار سے اگر آپ نے مریدان عقیدت کیش کو رہائی بخشی ہے تو اور سینکڑوں آنے والی اور ظاہر ہونے والی پیش گوئیوں کی نسبت ان کے دلوں میں وساوس اور اوہام پیدا کر دئیے ہیں اور قریب ہے کہ جلد باز جب
ان ربانی وعدوں کا انتظار نہ کر سکیں گے اور مصلحت الٰہی پر یقین نہ رکھیں گے تو سب کے سب منکر ہو جائیں گے اور وہ وقت بھی آ پہنچے گا جب ’’لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحٰب السعیر‘‘کہنے کی ان کو ضرورت پڑے گی۔
۴… چوتھی بات مرزاقادیانی یہ بتاتے ہیں کہ: ’’وہ خداتعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندہ پر ایمان لاکر اس سخت اور غضب الٰہی سے بچ گئے جو ان نافرمانوں پر ہوتا ہے کہ جن کے حصہ میں بجز تکذیب وانکار کے اور کچھ نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۸۱، خزائن ج۳ ص۱۸۷)
ناظرین! خداتعالیٰ کا بھیجا ہوا بندہ یہ الفاظ ’’عبدہ ورسولہ‘‘ کا ترجمہ ہیں اور ہم رب ریم کو شاہد بنا کر صدق دل سے پڑھتے ہیں:’’نشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ‘‘ ہمارا ایمان ہے کہ محمدa کے بعد جو شخص اپنے آپ کو خداتعالیٰ کا بھیجا ہوا بندہ کہتا ہے وہ اس حدیث کا مورد ہے۔ ’’سیکون فی امتی دجالون کذابون کلہم یزعم انہ نبی اللہ ‘‘(ترمذی ج۲ ص۴۵، ابواب الفتن)
پس یہ چوتھی مصیبت ہے جو مرزاقادیانی کے مبائعین پر نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے مرزاقادیانی کو خداتعالیٰ کا بھیجا ہوا مان کر آیت خاتم النّبیین کا انکار کیا اور اس انکار سے اس مفت اور غضب الٰہی کے مستوجب ٹھہر گئے جو محمد رسول اللہ کی نبوت کے منکرین کے لئے ہے۔ مرزاقادیانی! اگر ہم دعویٰ کرنے والا زبان دراز محض ادّعاء اور زبان درازی سے خداتعالیٰ کا نبی بن سکتا ہے۔ تب آپ سجاح اور مسیلمہ اور اسود کا کیوں انکار کرتے ہیں؟
۵… پانچویں بات مرزاقادیانی نے بتائی کہ: ’’وہ ان فیوض اور برکات کے مستحق ٹھہر گئے جو ان مخلص لوگوں پر نازل ہوتے ہیں جو حسن ظن سے اس شخص کو قبول کر لیتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۸۱، خزائن ج۳ ص۱۸۷)
’’یہ تو وہ فوائد ہیں کہ جو ان شاء اللہ الکریم ان سعید لوگوں کو بفضلہ تعالیٰ ملیں گے۔ جنہوں نے اس عاجز کو قبول کر لیا ہے۔ لیکن جو لوگ قبول نہیں کرتے وہ ان تمام سعادتوں سے محروم ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۸۱، خزائن ج۳ ص۱۸۷)
مرزاقادیانی! یہ پانچویں برکت تو وہی ہے جو پہلی تھی۔ آپ نے خواہ مخواہ ۱۵سطروں کے بعد اس کو نئی برکت بنانا چاہا۔ ’’الحمد ﷲ رب العالمین‘‘ آپ کے وجود
باجود سے مبائعین کو جو فیوض وبرکات حاصل ہونے والے ہیں (بزمانہ مستقبل) ان کی تفصیل وتشریح آپ نے خود ہی فرمادی۔ جناب یہ تو وہ فوائد ہیں جو برہم سماجیوں کو کیشپ چندرسین سے اور دیودھرمیوں کو اگنی ہوتری لاہور سے۔ دتے شاہیوں کو اپنے پیر سے۔ آریہ کو دیانند سرستی سے حاصل ہو چکی ہیں۔ اس میں مسیح موعود نے کیا طرہ لگادیا؟ اب آپ اگر ان سعادتوں کی تفصیل معلوم کرنا چاہیں جو آپ کو قبول نہ کرنے والوں اور رد کردینے والوں کو پہلے سے حاصل وشامل ہیں اور آپ کے انکار سے اور زیادہ ہو گئے ہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ ان کی تفصیل کے لئے دفتر ضخیم بھی کافی نہیں۔ سب سعادات سے اعلیٰ وافضل اجمل واکمل اتباع سنت نبوی کی سعادت ہے جس کے لئے قرآن مجید فرماتا ہے: ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۱)‘‘ نیز ارشاد ہے: ’’ان تطیعوہ تہتدوا‘‘یعنی محمدa کی اطاعت کرو گے تب ہدایت پاؤ گے۔
مرزاقادیانی! آپ نے دافع الوساوس میں ’’بلی من اسلم وجہہ‘‘کی تفسیر کرتے ہوئے ہر ایک مدعی اسلام کے لئے فنا وبقاء اور لقا کے مدارج کا ذکر فرمایا ہے۔ خیر مدعی اسلام تو برطرف، میں گستاخانہ سوال کرتا ہوں کہ آپ کے مریدان باعقیدت کو یہ مراتب کیوں حاصل نہیں ہوئے اور ان انواروبرکات سے کس لئے محروم رہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے وساوس میں ان مضامین کو صوفیہ کی کتابوں سے اخذ کر کے لکھ تو دیا۔ ورنہ نہ خود آپ کو یہ منصب حاصل ہے اور نہ تاحشر آپ کے کسی متبع اور معتقد کو ان ہرسہ مراتب میں سے کوئی مرتبہ مل سکتا یا مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ آپ سچے ہیں تو اقتداری کن کا جلوہ خود دکھلائیں یا کسی مرید کو پیش کریں۔
پیارے ناظرین! اس مضمون کو غور سے ملاحظہ فرمائیں۔ حق تعالیٰ آپ کی بصیرت کو زیادہ کرے۔ مرزاقادیانی کو اپنے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ میں اتنا غلو ہے کہ انہوں نے یہ بھی لکھ مارا: ’’اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعویٰ میں غلطی پر ہے تو پھر آپ لوگ کچھ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے، انہی دنوں میں آسمان سے اتر آوے۔ کیونکہ میں تو اس وقت موجود ہوں مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجود نہیں اور میرے دعویٰ کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصور ہے کہ اب وہ آسمان سے اتر ہی آوے
تاکہ میں ملزم ٹھہر سکوں۔ آپ لوگ اگر سچ پر ہیں تو سب مل کر دعا کریں کہ مسیح ابن مریم جلد آسمان سے اترتے دکھائی دیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۵۴، ۱۵۵، خزائن ج۳ ص۱۷۹)
مرزاقادیانی! ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب کام حکمت کے ساتھ ہیں اور ہر چیز کا اس نے اندازہ کر رکھا اور ہر کام کا ایک وقت مقرر فرما دیا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کوئی چیز اندازہ سے باہر نہیں۔ کوئی کام ایک ساعت آگے یا پیچھے نہیں ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح نازل ہوں گے۔ خواہ ہم شرف زیارت سے مشرف ہوں یا اس مسعود وقت سے پہلے اپنے انفاس وحیات پورے کر کے تہ خاک چلے جاویں۔ بہرحال ہم کو نزول مسیح پر وہی ایمان ہے جس کو سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے ان الفاظ میں ظاہر فرمایا ہے:’’لو کشف العطاء لما ازدت یقینا‘‘اب رہا آپ کا فرمانا۔ مسیح کو جلد بلالو۔ ابھی بلالو۔ اسی زمانہ میں بلالو۔ اس کے جواب میں ہم صرف وہی آیات پڑھ دینا کافی سمجھتے ہیں جو منکرین قیامت کی ایسی ایسی بیہودہ گوئیوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے نبیa کو تعلیم فرمائیں۔ ’ ’’ویقولون متی ہذا الوعد ان کنتم صدقین (یونس:۴۸)‘‘ کہتے ہیں یہ وعدہ کب کا ہے (اور کہاں ہے) اگر تم سچے ہو۔ ’’قل انما العلم عند اللہ وانما انا نذیر مبین فلما راوہ زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا وقیل ہذا الذی کنتم بہ تدعون (ملک:۲۶)‘‘
’’کہہ دے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو ڈر سنانے والا ہوں۔ ظاہر پھر جب دیکھیں گے کہ وہ ان سے نزدیک ہے۔ تب نافرمانوں کے منہ برے برے ہو جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ ہے جو تم اس وقت مانگتے تھے۔‘‘
ناظرین! مرزاقادیانی یہاں بھی اپنی چالاکی سے نہیں چوکے اور اس اعتراض کا کہ دعا سے مسیح کا اترنا ضروری ہے۔ جواب خود ہی دینا چاہا ہے۔ ’’اگر کوئی کہے کہ اہل حق کی دعا اہل باطل کے مقابل پر قبول ہونی ضروری نہیں۔ ورنہ لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے مقابل پر مسلمانوں کی دعا قیامت کے بارہ میں قبول ہوکر ابھی قیامت آ جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مقرر ہو چکا ہے کہ قیامت سات ہزار برس گزرنے سے پہلے واقع نہیں ہوسکتی اور ضرور ہے کہ خدا اسے روکے رہے۔ جب تک وہ ساری علامتیں کامل طور پر ظاہر نہ ہو جائیں
جو حدیثوں میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن مسیح کے ظہور کا وقت تو یہی ہے… اور وہ تمام علامتیں بھی پیدا ہو گئی ہیں جن کا مسیح کے وقت پیدا ہونا ضروری تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۶۲، ۴۶۳، خزائن ج۳ ص۳۴۷)
اس بیان میں ہمارے اعتراض کو مرزاقادیانی درحقیقت اٹھانہیں سکے بلکہ دو اور مغالطے لکھ مارے۔
۱… ’’یہ مقرر ہو چکا ہے کہ قیامت سات ہزار برس گزرنے سے پہلے واقع نہیں ہو سکتی۔‘‘ اس فقرہ میں آپ نے نصوص قطعیہ فرقانیہ اور احادیث نبویہ کا بھی خلاف کیا اور اللہ تعالیٰ کے مکروغضب سے لوگوں کو بے خوف کر دینا بھی چاہا۔ قرآن مجید کی دربارہ قیامت یہ تعلیم ہے: ’’لا یجلیہا لوقتہا الّا ہو (الاعراف:۱۸۷)‘‘ اور حدیث جبرائیلm میں آنحضرتa کا یہ ارشاد موجود ہے۔ ’’ماالمسئول عنہ اعلم من السائل‘‘
(مشکوٰۃ ص۱۱، کتاب الایمان)
یعنی اے جبرائیلm جیسی تمہیں خبر نہیں ویسی مجھے بھی نہیں کہ قیامت کب ہو گی۔ دوسری حدیث میں ہے: اسرافیل صور کو منہ سے لگائے۔ ایک پاؤں پیچھے ایک آگے کئے ہوئے کھڑا ہے۔ کان آواز پر لگے ہوئے ہیں اور آنکھیں عرش کی جانب اٹھ رہی ہیں۔ کیاجانے کس وقت حکم آ پہنچے۔ پس مرزاقادیانی نے سات ہزار برس سے پہلے قیامت نہ آسکنے کا عقیدہ بالکل اسلام کے خلاف بیان کیا ہے۔
۲… دوسرا مغالطہ آپ کا یہ ہے کہ ابن مریم کے آنے کی علامات پوری ہو چکی ہیں۔ جن لوگوں کی احادیث پر نظر ہے یا جنہوں نے کم ازکم غایت المرام میں ہمارا مضمون ’’زمانہ نزول مسیح‘‘ اور اس رسالہ میں مضمون ’’امام محمد بن عبداللہ المہدی‘‘ پڑھا ہے۔ وہ آپ کے قول کی تکذیب بخوبی کر سکتے ہیں اور حاصل کلام جس پر اس مضمون کا خاتمہ ہے۔ یہ ہے کہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا نہ کوئی ثبوت پیش کیا اور نہ مسیح موعود کی صفات کا اپنے اندر ہونا ہی ثابت کر دکھلایا۔ غرض کیا ان دلائل کی قوت سے جو مسیح موعود کے بارہ میں ہم اپنے پاس رکھتے ہیں اور کیا ان اباطیل کی لغویت سے جو آپ نے اس بارہ میں پیش کی ہیں، بخوتی ظاہر ہو گیا کہ آپ مسیح موعود ہر گز نہیں اور اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے قرآن وحدیث میں سے ایک لفظ بھی مرزاقادیانی کے پاس موجود نہیں۔
لغت میں الہام کسی شخص کے حلق میں کھانا ڈالنے کو کہتے ہیں۔ اس طرح پر کہ اس شخص کو ہونٹ اور دانت ہلانے نہ پڑیں۔ اب اصلاح شرعی میں الہام کسی امر کے اس داعیہ کو کہتے ہیں جو دل میں کسی پہلے فکر کے بغیر پیدا ہو۔
’’الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۲۸، خزائن ج۳ ص۴۳۹)
پس اس لئے کہ الہام ربانی اور شیطانی دونوں قسموں کا ہوتا ہے۔ بزرگان دین نے اس کی شناخت کے لئے ایک معیار قائم کیا ہے۔ یعنی کتاب اور سنت اور قرار دیا ہے کہ جب تک اس کی آزمائش نہ کر لی جائے تب تک الہام کو ربانی الہام کہنے کی جرأت نہ کرنی چاہئے۔
الہام کی یہ تعریف جو ہم نے کی ہے ایسی واضح ہے جس پر تمام سلف وخلف کا اتفاق ہے اور وہ بزرگ جن کی تحقیقات شریف تصوف اور علم میں تازگی کی روح ڈالنے والی ہے۔ سب کے سب ایسے ہی الفاظ لکھ گئے ہیں۔
بیہقی وقت قاضی ثناء اللہ ارشاد الطالبین میں لکھتے ہیں کہ الہام اولیاء موجب علم ظنی ہے اور اگر دو ولیوں کا کسی ایک الہام میں اتفاق کلی ہو جائے تو اس کا درجہ ظن غالب کا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ولی کا کشف اور الہام کسی حدیث کے جو احاد میں سے ہو بلکہ کسی قیاس کے جو شرائط قیاس کا جامع ہو مخالف ہو گا۔ تب اس جگہ حدیث کو بلکہ قیاس کو الہام پر ترجیح دینی چاہئے۔ اس کے بعد قاضی صاحب لکھتے ہیں: ’’یہ مسئلہ سلف اور خلف میں مجمع علیہ ہے۔‘‘
ابوسلیمان دارانیv کہا کرتے تھے۔ الہام پر عمل نہ کرو۔ جب تک اس کی تصدیق آثار سے نہ ہو جائے۔ (احیاء العلوم)
پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانیv فتوح الغیب میں لکھتے ہیں: الہام اور کشف پر عمل کرنا ناجائز ہے۔ بشرطیکہ وہ قرآن اور حدیث نیز اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔
’’عروۃ الوثقی‘‘خواجہ محمد معصوم قدس سرہ اپنے مکتوب نمبر۱۷۷ میں لکھتے ہیں کہ کشوف اور منامات اور بشارات صحیحہ صادقہ اور ان کے خلاف میں فرق کرنا دشوار ہے۔
پس ان پر اعتماد کرنا نہ چاہئے اور ان کو اتنا معتبر نہ خیال کرنا چاہئے کہ کمال معتدبہ انہی سے لگا ہوا ہے۔ بے شک اعتماد کے لائق اور نجات دینے والی تو صرف کتاب اور سنت ہے۔ پھر لکھتے ہیں: جو لوگ بلند ہمت ہوتے ہیں وہ ایسے امور کی طرف التفات نہیں کرتے۔ کشف کے معنی لغت میں کھلنے اور آشکار ہونے کے ہیں۔ اصلاح صوفیہ میں کسی ایسے امر کو جو حواس ظاہرہ کے بغیر معلوم ہو جائے کشف کہتے ہیں۔
اس کے چند اقسام ہیں:
۱… نوم ورؤیا یعنی خواب میں کسی امر کا دیکھنا۔ واضح ہو کہ منامات میں روح کے ساتھ نفس کا بھی تعلق ہوتا ہے اور اس لئے اکثر خواب یا خواب کا بیشتر حصہ صحیح نہیں ہوتا۔ صرف انبیاء کرام ہی کی یہ شان ہے جن کے خواب بعینہٖ صحیح ہوتے ہیں اور ان میں تعبیر کی یا تو بالکل ہی ضرورت نہیں پڑتی یا بہت ہی کم۔ جیسا کہ (صحیح بخاری ج۱ ص۲، باب کیف کان بدء الوحی) میں حضرت عائشہt سے مروی ہے کہ آغاز کار نبوت میں رسول اللہ a جو خواب شب کو دیکھتے صبح کو نور صبح کی طرح اسی طرح دیکھ لیتے تھے یا جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل الرحمنm نے اپنے خواب میں فرزند کو خود ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو ذبح کا قصد مصمم کر لیا اور اس کی تعبیر نہیں کی یا حضرت یوسفm نے کواکب وقمرین کا اپنے آپ کو مسجود پایا اور بھائیوں اور والدین کو سجدہ شکرانہ کرتے ہوئے ’’ہذا تاویل رؤیای‘‘ فرمادیا۔
۲… واقعہ یعنی اثناء ذکر واستغراق میں ایسی حالت آکر طاری ہو جائے کہ محسوسات غائب ہو جائیں اور بعض امور غیبی کے بعض حقائق کھل جائیں۔ جیسے نائم پر حالت نوم میں کھل جاتے ہیں۔ ان میں بھی نفس اور روح مشارک ہوتے ہیں۔
۳… مکاشفہ اس میں واقعہ کی طرح محسوسات سے غائب ہونا لازمی نہیں بلکہ وہی حالت حضوری میں ہی ہو جاتی ہے اور اعلیٰ مکاشفہ کی صفت یہ ہے کہ روح انسانی غواشی بدن سے تجرد پا کر مطالعہ مغیبات میں تفرد حاصل کرے۔ یہ تجرد اور تفرد بھی بقدر مراتب ہوتا ہے۔ کیونکہ کشف درحقیقت آئینہ خیال میں صورت مثال کے عکس پڑنے کا نام ہے۔ پس جس قدر زیادہ آئینہ خیال مصفی ومجلی ہو گا اسی قدر کشف بھی درست اور صادق ہوگا۔ ورنہ نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بیہقی وقت ارشاد الطالبین میں لکھتے ہیں کہ انبیاء کے خواب بھی وحی قطعی ہیں اور اولیاء کے رؤیا اور کشف میں بھی خطاء واقع ہوتی ہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی جن کے مجددیت اور مثیلیت کی بنیاد زیادہ تر الہام ومکاشفہ پر ہے، اس بارہ میں علماء وصوفیہ سلف وخلف کی طرح مان چکے ہیں کہ: ’’کشف میں خطاء کا احتمال بہت ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۵۶۷، خزائن ج۳ ص۴۰۵)
’’شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آ جاتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۲۹، خزائن ج۳ ص۴۳۹)
’’الہام ولایت یا الہام عامہ مؤمنین بجز موافقت ومطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۲۹، خزائن ج۳ ص۴۴۰)
بلکہ مرزاقادیانی تو انبیاء کے الہامات اور اولوالعزم رسولوں کے مکاشفات کو بھی صحیح اور قابل اعتماد نہیں سمجھتے ہیں، بلکہ جائز رکھتے ہیں کہ سید الانبیاء محمد مصطفیa کا کشف بھی ایسا مکدر ہو کہ حقائق غیبیہ کا ظہور اس کشف کے خلاف ہو۔ انبیاء کے الہامات صحیح نہ ہونے پر آپ نے (ازالہ اوہام ص۶۲۹، خزائن ج۳ ص۴۳۹) پر لکھا ہے: ’’مجموعہ توریت میں سے سلاطین اوّل باب:۲۲، آیت:۲۹ میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار۱؎ سو نبی نے اس
۱؎معشر مسلمین۔ ناظرین باتمکین۔ جب میں نے ازالہ میں یہ مقام پڑھا تو اس وقت جو کچھ میرے دل پر گزرا میں اس کا بیان نہیں کر سکتا۔ میں حیران تھا کہ ایک وقت اور ایک جگہ میں چار سو نبی کیوں مبعوث ہوئے تھے اور انبیاء کے اتنے جم غفیر کا ایک متفقہ الہام میں کاذب نکلنا کیا معنی رکھتا ہے؟ جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایک نبی کے ایک رؤیا، الہام، کشف میں بھی کذب کا احتمال تک نہیں۔ پھر زیادہ حیرت بخش مرزاقادیانی کی یہ عبارت تھی کہ دراصل ’’وہ الہام ایک ناپاک روح (یعنی شیطان کی طرح) کی طرف سے تھا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۲۹، خزائن ج۳ ص۴۳۹) کہ کیونکر انبیاء کرام پر وحی شیطانی کا نزول ہوسکتا ہے اور کیونکر یہ ممکن یاقرین قیاس ہے کہ سینکڑوں نبی شیطانی الہام کے دھوکے میں آ جائیں اور ایسے کہ اسے ربانی بھی سمجھ لیں۔ میں جس قدر زیادہ ان الفاظ پر غور وتدبر کرتا تھا اسی قدر زیادہ میری حیرانی وپریشانی اور سراسیمگی بڑھتی جاتی تھی۔ مجھے باربار یہی خیال آتا تھا کہ اس مقام پر احبار یہود نے لفظی ومعنوی تحریف کی ہے۔ مگر ایسا یقین کرنے کے لئے بھی میرے پاس کوئی دلیل نہ تھی۔ آخرش میں نے بائبل لی اور سلاطین اوّل کو ابتداء سے لے کر آخر سلاطین دوم تک تمام وکمال پڑھا۔ الحمدﷲ! کہ میری تمام حیرانی وپریشانی جاتی رہی اور مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس مقام میں تحریف بھی نہیں بلکہ صرف مرزاقادیانی کے تجدد طبع کا نتیجہ ہے؟ نہ انبیائے الٰہی میں سے کسی نبی نے کسی بادشاہ کو فتح کی خبر دی۔ نہ ان کا الہام غلط ہی ہوا اور نہ کسی نبی نے شیطانی الہام کا دھوکا کھا کر ربانی ہی سمجھا؟ مرزاقادیانی نے اس جگہ توریت کو بالکل الٹ پلٹ دیا ہے اور اس موقعہ پر ان بے باک لورنڈر یہودیوں کی یاد کو تازہ کر دیا ہے جن کی شان میں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا۔‘‘
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ’’یحرفون الکلم عن مواضعہ‘‘ نازل ہوا تھا۔ دیکھو سلاطین اوّل باب:۱۶، درس:۲۹ سلاطین میں قصہ یہ ہے کہ قوم بنی اسرائیل میں سے ایک بادشاہ کا نام اخی اب اور اس کی بیگم کا نام ایزبل تھا۔ یہ دونوں بعل بت کی پرستش کیا کرتے تھے۔ دیکھو درس:۳ بادشاہ پسندی سے بہت پوجاری اپنے آپ کو بعل کے نبی کہلاتے تھے۔ جن میں سے ساڑھے چار سو اس بت کے مندر پر حاضر رہتے اور چار سو بادشاہ کے دارالخلافہ میں جن کے رہنے کے لئے نہایت سرسبز باغ مقرر کئے گئے تھے اور ان کو خاص بیگم کے دسترخوان پر کھانا ملتا تھا۔ جب اس بادشاہ نے اپنے دشمن پر لشکر کشی کا ارادہ کیا تو ان چار سو بعل کے نبیوں سے (کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو بعل کے نبی کہتے اور کہلاتے تھے) اس بارہ میں دریافت کیا۔ سب نے بتلایا کہ وہ فوج کشی کرے۔ فتح پائے گا۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا: ان نبیوں کے سواء اگر کوئی اور بھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہو تو اس سے بلا کر بھی دریافت کرنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت ایلیاm بلائے گئے اور انہوں نے آتے ہی بادشاہ کو کہہ دیا۔ (سلاطین۱ باب:۱۸، درس:۲۲) خدا کے نبیوں میں سے میں ہاں صرف میں ہی باقی ہوں اور یہ بھی بادشاہ کو کہا (سلاطین باب:۱۸، درس:۱۹) بعل کے ساڑھے چار سو نبیوں کو اور گھنے باغوں کے چار سو نبیوں کو جو ایزبل کے دسترخوان پر کھاتے ہیں۔ کوہ کرمل پر مجھ پاس اکٹھا کر اور پھر ان سب بعل کے نبیوں کے خلاف آپ نے فرمایا کہ بادشاہ کی بیگم نے فلاں غریب ہمسایہ کی زمین جو رستم سے لے کر اور اس کو تہمت دے کر قتل کرایا ہے۔ اس لئے جس جگہ پرکتوں نے نبات (ہمسایہ کا نام ہے) کا لہو چاٹا ہے۔ اسی جگہ تیرا ہاں تیرا بھی لہو کتے چاٹیں گے۔ (باب:۲۱، درس:۱۹، سلاطین اوّل) خدا (تیری بیگم) ایزبل کے حق میں بھی فرماتا ہے کہ یزاعیل کی دیوار کے پاس اس کو کتے کھائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس بعل پرست بادشاہ کو جس کو بعل کے نبیوں نے فتح کی اور خدا کے نبی نے شکست اور قتل وذلت کی خبر دی تھی۔ شکست وقتل وذلت معہ اس کی بیگم کے نصیب ہوئی۔ (سلطاطین اوّل کے باب:۱۸، درس:۴۰) میں یہ بھی ہے کہ ایلیاm نے ان ساڑھے چار سو بعل کے نبیوں کو قتل کیا۔ علیٰ ہذا (سلطاطین دوم کے باب:۱۰، درس:۲۵) میں ہے کہ یا ہونے بعل کے باقی سب نبیوں کو قتل کیا اور سلاطین اوّل میں بعل کے ان سب نبیوں کو حضرت ایلیا نے معجزہ دکھانے پر مجبور کیا اور جب وہ نہ دکھا سکے تو خود دکھلایا۔ اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ بائبل نے جن لوگوں کو بعل کے نبی اور کاذب بتایا ہے اور ان کا خدا کے نبی کے سامنے ذلیل وکاذب اور مقتول وخوار ہونا بیان کیا ہے۔ مرزاقادیانی نے پہلے تو ان کاذبوں کو خدا کے نبی قرار دیا ہے اور پھر خدا کے نبی بنا کر ان کو جھوٹا اور وحی شیطان کا قبول کنندہ بتایا ہے اور اس کے بعد پھر اپنا ان پر تفوق ظاہر کیا ہے اور نہایت عجز سے لکھا ہے: ’’مگر اس عاجز کی کسی پیش گوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۳۲، خزائن ج۳ ص۴۴۱ ملخص) اور تو اور میں اس جگہ مرزاقادیانی کی بلاغت کی تعریف کرتا ہوں کہ عاجز کا لفظ کیسے عمدہ موقع پر تحریر کیا ہے کہ بعل کے ان نبیوں پر مرزاقادیانی کو فوقیت مل بھی سکتی ہے۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
اس حوالہ توریت کے بعد انبیاء کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹے نکلنے کا سبب اسی (ازالہ اوہام ص۶۲۹، خزائن ج۳ ص۴۳۹) پر مرزاقادیانی یہ تحریر فرماتے ہیں: ’’اس کا سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھ لیا تھا۔‘‘ اسی واقعہ کا حوالہ مرزاقادیانی نے ’’رسالہ حقانی تقریر برواقعہ وفات بشیر ص۷ زیر حاشیہ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۹‘‘ میں بدیں الفاظ دیا ہے کہ: ’’بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی اور وہ غلط نکلی۔ یعنی بجائے فتح کے شکست ہوئی۔‘‘
(دیکھو سلاطین اوّل باب:۲۲، آیت:۱۹)
مگر اس عاجز کی کسی پیش گوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں۔
ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی کے نزدیک نہ صرف ایک بلکہ چار سو نبیوں کا الہام اور وہ بھی متفقہ الہام غلط ہوسکتا ہے اور الہام شیطانی بھی ایسے رزق وبرق کے ساتھ ہوا کرتا ہے کہ نبیوں کی تعداد کثیر بھی اسی کے دھوکے میں آسکتی ہے۔ بلکہ آچکی ہے۔
اب رسولوں کی نسبت ملاحظہ فرمائیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’مسیح کا مکاشفہ کچھ بہت صاف نہیں تھا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۹۰، خزائن ج۳ ص۴۷۲) یہ دخل (شیطانی کلمہ کا) کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے۔ (ازالہ اوہام ص۶۲۸، خزائن ج۳ ص۴۳۹) اور سید الانبیاءa کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’کچھ تعجب نہیں کہ آنحضرتa پر ابن مریم، دجال، یاجوج ماجوج، دابۃ الارض، دجال کے ستر باع کے گدھے کی حقیقت کاملہ اور اصلی معلوم نہ ہوئی ہو۔‘‘ (مختصراً) (ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳) ان تمام عبارات کے بعد جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک اولیاء کا الہام اور کشف اور مرزاقادیانی کے
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) افسوس ہے کہ نقل اور حوالہ کتاب میں ایسی ایسی تحریف کی جاتی ہے اور شیطانوں کا نام انبیاء رکھا جاتا ہے۔ (معاذ اللہ ، معاذ اللہ ) اب ہم اصل قصہ سے قطع نظر کر کے کہتے ہیں کہ اگر مرزاقادیانی کو ان کے اس بیان میں سچا بھی فرض کر لیں کہ چار سو نبی پر ناپاک روح یعنی شیطان کا الہام ہوا اور انہوں نے دھوکا کھا کر اس کو ربانی بھی سمجھ لیا اور اس کو مشتہر بھی کر دیا ہو تو مرزاقادیانی خود ہی غور فرمائیں کہ پھر ان کو اپنے الہام پر تمام امت محمدیہ کے خلاف عقائد اور ایمانیات میں اتنا بھروسہ اور اعتبار کرنے کی کون سی وجہ ہے۔ جب کہ ان کو نبیوں کی چار سو کی جماعت کے سامنے کمیۃ وکیفۃ کی نسبت نہیں ہوسکتی۔ (عصاء موسیٰ کے مصنف نے قاضی صاحب مدظلہ کی اسی تحقیقات پر عقائد مرزائیہ سے توبہ کی تھی۔ ہدایت اللہ )
نزدیک انبیاء کا الہام اور کشف بھی جب حجت اور دلیل نہیں بن سکتا تو پھر ہر ایماندار اندازہ کر سکتا ہے کہ ایک عامی کا الہام کیا درجہ رکھ سکتا ہے اور اس کی کیا وقعت ہوسکتی ہے؟ مرزاقادیانی کے نزدیک گو انبیاء اور رسل کے الہام اور مکاشفہ میں غلطی ہوتی رہی ہے۔ مگر ان کے خیال میں یہ نہایت مشکل ہے کہ تمام افراد امت کا بھی یہی حال ہوا ان کا خیال ہے کہ محدث۱؎ جو امت میں سے ہی ایک فرد ہوتا ہے۔ ایسے درجہ کا شخص ہوتا ہے کہ اس کے الہام کو وحی کہنا چاہئے اور یقین کرنا چاہئے کہ: ’’رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰)
پھر (ازالہ اوہام ص۹۱۳، خزائن ج۳ ص۵۹۹) پر لکھا ہے کہ: ’’محدث حالت درربودگی میں جو کلام لذیذ لے آتا ہے وہی وحی الٰہی ہوتی ہے۔‘‘ میں زیادہ تر اسی کی تنقیح کرنا چاہتا ہوں۔ مرزاقادیانی کے اس دعویٰ پر کہ وہ بھی محدث ہیں۔ میں غایت المرام میں بخوبی بحث کر چکا ہوں کہ صحیحین کی حدیث مرفوع، متصل اور سنن ترمذی کی حدیث صحیح اور ابن عباسq کے قول سے جس کو امام بخاری اپنی صحیح کی تعلیقات میں لائے ہیں اور ان خواص سے جن کا محدث میں ہونا لازمی ہے۔ یہی ثابت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمرفاروقq کے سواء امت محمدیہ میں اور کوئی محدث نہیں۔ اب اس جگہ میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ آیا فی الواقع محدث کی وحی۲؎ آمیزش شیطانی سے پاک ہوتی ہے۔ (جیسا کہ مرزاقادیانی کا اعتقاد ہے) یا نہیں؟ (جیسا جمہور سے مروی ہے)
اس بارے میں کتاب الفرقان میں اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان سے میں ایک فصل کا ترجمہ ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ ’’ولی خدا‘‘ کی شروط میں سے یہ بات نہیں کہ وہ معصوم ہو اور غلطی یا خطاء نہ کرے بلکہ جائز ہے کہ علم شریعت کا کوئی حصہ اس سے مخفی رہے اور بعض امور دین اس پر مشتبہ رہیں۔ حتیٰ کہ بعض ممنوع امور کو مامور بہ خیال کر بیٹھے یا وہ بعض خوارق کو کرامات اولیاء میں سے شمار کرنے لگے۔ حالانکہ وہ شیطانی ہوں اور شیطان نے اس کو ناقص کرنے کے لئے تلبیس کر دی ہو اور اس بندۂ خدا کو اس امر کی آگاہی بھی نہ ہو اور باایں ہمہ اس کی ولایت الٰہی میں کچھ فرق بھی، نہ آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت محمدیہ کی خطاء
۱؎محدث کو مرزاقادیانی نے یہ درجہ عطاء فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود محدث ہونے کا دعویٰ ہے۔
۲؎محدث کے الہام کا نام وحی رکھنا۔ یہ بھی مرزاقادیانی کا ہی کام ہے۔ ورنہ اسلام نے لفظ وحی کا استعمال خاص انبیاء کے لئے کیا ہے۔
ونسیان سے درگذر کی گئی ہے اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ ولی خدا سے غلطی کرنا جائز ہے تو ہم کو ضرور نہیں کہ اس ولی خدا کی تمام باتوں کا یقین بھی کر لیا کریں۔ یہ تو نبی کا درجہ ہے بلکہ ولی کو بھی جائز نہیں کہ اگر اس کے دل میں کوئی الہام آئے یا محادثہ وخطاب الٰہی سے وہ مشرف ہونا خیال کرے تو ان پر اعتماد بھی کر لے۔ بلکہ اسے لازم ہے کہ اس الہام وخطاب کو احادیث نبوی کے سامنے پیش کرے۔ اگر احادیث کے موافق ہو تو قبول کرے ورنہ رد کرے اور اگر اسے یہ خبر نہ ہو کہ احادیث سے موافق ہے یا مخالف تو ان میں تؤقف کرنا چاہئے۔ واضح ہو کہ اس بارہ میں لوگوں کی تین صفتیں ہیں۔ ایک وسط میں اور دو افراط وتفریط میں۔ ایک وہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی شخص کو ولی اللہ سمجھ لیتا ہے تو اس کے ان تمام اقوال میں جن کی نسبت ولی اللہ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کے دل میں خدا کی طرف سے آئے ہیں۔ ولی اللہ کی موافقت کر لیتا ہے اور اس کے افعال اسی کو سپرد کر دیتا ہے۔ (خواہ کیسے ہی ہوں) ایک وہ ہے کہ جب کسی نیک شخص سے کوئی ایسا قول یا فعل دیکھ پاتا ہے جو شرع کے موافق نہیں ہوتا تو اس کی ولایت کی ہی نفی کر دیتا ہے۔ گو اس نیک کی یہ غلطی اجتہادی غلطی ہو۔ مگر واضح ہو کہ بہترین امور اوسط ہوتی ہے۔ چاہئے کہ نہ اسے معصوم سمجھے اور نہ۱؎ اجتہادی غلطی پر گنہگار ہی قرار دے۔ لازم ہے کہ عام اقوال میں اس کا اتباع نہ کرے اور اجتہادی غلطی کی وجہ سے کفر اور فسق کا فتویٰ نہ دیا جائے۔ واجب یہ ہے کہ اتباع صرف ان احکام میں کیا جائے جو اللہ اور رسول نے دئیے ہیں۔ مگر جب کسی فقیہ کا قول مخالف شرع اور دوسرے کا موافق پائے تو اس کو یہ الزام دینا کہ یہ شرع کے خلاف کرتا ہے۔ ٹھیک نہیں کیونکہ صحیحین (بخاری ج۱ ص۵۲۱، باب مناقب عمرq) میں نبیa کا یہ ارشاد موجود ہے۔ ’’قد۲؎ کان فی الامم قبلکم محدثون فان یکن فی امتی احد فعمر منہم‘‘ اور ترمذی میں یہ ارشاد نبوی ہے۔ ’’لولم ابعث۳؎ فیکم لبعث
۱؎ناظرین کو یہ یاد رہے کہ مرزاقادیانی کی یہ غلطی اجتہادی غلطی نہیں۔ کیونکہ اجتہاد کو نصوص شرعیہ کے موجود یا معلوم نہ ہونے پر کیا جاتا ہے۔ اگر نصوص صحیحہ وقطعیہ شرعیہ کے ہوتے ہوئے کوئی شخص ان کا خلاف کرے اور اس کا نام اجتہاد رکھے تو ائمہ ملت نے قرار دیا ہے کہ ایسا شخص معاند فی الدین یعنی دین سے عداوۃ کرنے والا ہوتا ہے۔
۲؎تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے۔ پس اگر ان میں سے کوئی ایک میری امت میں ہے تو عمرq ہے۔
۳؎اگر میں تم میں نبی نہ بنایا جاتا تو عمرq بنایا جاتا۔
عمر‘‘ نیز ایک اور حدیث میں ہے:’’ان۱؎ اللہ ضرب الحق علی لسان عمر وقلبہ‘‘ اسی حدیث میں ہے: ’’لو کان۲؎ بعدی نبی لکان عمر‘‘ وروایت شعبی میں سیدنا ومولانا علی بن ابی طالبq سے مروی ہے: ’’ما۳؎ کنا نبعد ان السکینۃ تنطق علی لسان عمر‘‘سیدنا ابن عمرq کا قول ہے:’’ماکان۴؎ عمر یقول بشی انی لاراہ کذا الا کان کما یقول ‘‘ اور قیس بن خارق سے روایت ہے: ’’کنا۵؎ نتحدث ان عمر ینطق علی لسانہ ملک‘‘سیدنا عمر فاروقq اکثر فرمایا کرتے تھے۔ ’’اقربوا من۶؎ افواہ المطیعین واسمعوا منہم مایقولون فانہ تجلی لہم امور صادقۃ‘‘
واضح ہو کہ ان امور صادقہ سے وہ مکاشفات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں پر کھول دیتا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اولیاء اللہ کے مخاطبات اور مکاشفات ثابت ہیں۔ (مگر ان مخاطبات اور مکاشفات کا بمقابلہ شرع اعتبار کرنے کے لئے تم یہ خیال کرو) کہ سیدالانبیاء کے بعد افضل ترین سیدنا ابوبکرq اور ان کے بعد سیدنا عمرq ہیں اور حدیث صحیح حضرت عمرq کا محدث ہونا تعین کر چکی ہے۔ اب امت محمدیہ میں خواہ کوئی شخص محدث اور مخاطب۷؎ فرض کر لیا جائے۔ بہرحال سیدنا عمرq اس سے افضل وبرتر ہوں گے۔ سیدنا عمرفاروقq کا یہ حال تھا کہ واجبات شرعی کے موافق کام کرتے تھے اور اپنے واقعات۸؎ کو احکام شرعی پر پیش کیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ ان کے الہامات اور واقعات موافق شرع نکلتے ہیں اور یہ امر ان کی فضیلت کا باعث سمجھا جاتا۔ جیسا کہ بارہا قرآن مجید حضرت عمرq
۱؎خدا نے عمرq کے دل وزبان پر حق قائم کر دیا ہے۔
۲؎اگر کوئی میرے بعد نبی ہوتا تو عمرq ہوتا۔
۳؎ہم اسے کچھ بعید نہ سمجھتے کہ عمرq کی زبان پر سکینہ بول رہا ہے۔
۴؎حضرت عمرq جس شئے کی نسبت کہتے کہ میں اسے ایسا خیال کرتا ہوں وہ ویسی ہی نکلتی۔
۵؎ہم آپس میں باتیں کیا کرتے کہ عمرq کی زبان پر فرشتہ بول رہا ہے۔
۶؎اطاعت کرنے والوں کے ہونٹوں سے قریب ہو جاؤ اور جو وہ کہتے ہیں سنو۔ کیونکہ ان پر امور صادقہ کی تجلی ہوا کرتی ہے۔
۷؎اس امام نے جو لفظ ’’فرض کیا جائے‘‘ استعمال کیا ہے اس سے واضح ہے کہ ان کا مذہب بھی یہی کہ سواء حضرت عمرq کے اور کوئی محدث نہیں۔ جیسا کہ احادیث کا منشاء ہے۔
۸؎لفظ واقعات علم تصوف میں کشف اور تجلیات اور واردات قلبی کو جو غیب سے ہوں کہتے ہیں۔
کی موافقت میں نازل ہوا اور بارہا رب کریم نے حضرت فاروقq سے موافقت فرمائی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ وہ الہامات وواقعات خلاف شرع ثابت ہوتے تو سیدنا عمر فاروقq ان سے رجوع کر لیتے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے دن ہوا کہ جب رسول اللہ a نے مشرکین کے ساتھ صلح کر لی اور صلح نامہ میں بعض ایسی شروط درج ہوئیں جس میں مسلمانوں کی بظاہر سبکی تھی تو بہت سے مسلمانوں پر یہ صلح گراں گزری۔ سیدنا عمرq بھی انہی میں تھے۔ حتیٰ کہ آپ رسول اللہ a کے پاس آئے اور عرض کی۔ کیا ہم حق پر اور ہمارے اعداء باطل پر نہیں؟ فرمایا: ہاں! عرض کی۔ کیا ہمارے شہید جنت میں اور کفار کے مقتول دوزخ میں نہ جائیں گے؟ فرمایا: ہاں! عرض کی پھر کیوں ہم اپنے دین کو سبک ہونے دیں اور ایسی شروط پر صلح کریں؟ فرمایا: میں خدا کا رسول ہوں اور ہر امر میں وہی مجھے حکم دیتا ہے اور میں اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔ عرض کی۔ کیا آپa۱؎ نے فرمایا تھا کہ اسی سال حضرت عمرq نے کہا۔ نہیں یہ تو نہیں۔ فرمایا: پس تویقین رکھ کہ (ہم ضرور مشرکین پر غالب آکر ایک نہ ایک دن) بیت اللہ پہنچ کر طواف کریں گے۔ حضرت عمرq اس کے بعد سیدنا ابوبکرصدیقqکے پاس آئے اور یہی تقریر کی۔ حضرت صدیق اکبرq نے وہی جواب جو رسول خداa نے دئیے تھے ان کو دئیے۔ حضرت عمرq نے اپنے فہم سے رجوع کیا اور اس کے کفارہ میں بہت سے اعمال کئے۔ اس سے واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقq موافقت نبویa میں سیدنا عمرq سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ایسا ہی حال وفات نبوی پر ہوا کہ حضرت عمرq محدث نے انکار موت کیا اور صدیق اکبرq نے جب خطبہ پڑھا کہ حضور کا انتقال ہو گیا۔ تب حضرت عمرq محدث نے اپنے قول سے رجوع فرمایا۔ علیٰ ہذا! جب صدیق اکبرq نے مانعین زکوٰۃ سے قتال کا ارادہ کیا تو حضرت عمرq نے آکر کہا۔ آپ ان سے کیونکر قتال
۱؎مرزاقادیانی نے اس قصہ سے بھی فائدہ اٹھایا ہے اور اس تائید میں کہ پیش گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو جایا کرتی ہے۔ اس قصہ کا حوالہ دے کر نتیجہ نکالا ہے کہ رسول اللہ a اپنے خواب کے بھروسہ پر مدینہ منورہ سے بہ نیت عمرہ وطواف چل پڑے تھے۔ مگر اس سال مشرکین نے اجازت نہ دی اور تب معلوم ہوا کہ خواب اس سال کے متعلق نہ تھا۔ مرزاقادیانی کو لازم ہے۔ اس مکالمہ نبوی کو جو حضرت عمرq کے ساتھ ہوا۔ دیکھیں اور سمجھیں کہ سال کا تعیّن رسول اللہ a نے کبھی بھی نہ اپنے دل میں نہ اپنے کلام میں کیا تھا اور آپa کا مکہ آنا صرف بتقاضائے شوق صحابہ تھا۔ لہٰذا آپ رسول کریمa کی طرف ایسی غلط نسبت لانے سے احتراز کریں۔
کریں گے؟ رسول اللہ a نے تو یوں فرمایا ہے:’’امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدو ان لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ فاذا قالوہا عصموا منی دمائہم واموالہم الا بحقہا‘‘ (البدایہ والنہایہ ج۶ ص۳۱۱)
حضرت صدیق اکبرq نے فرمایا: جب ’’الا بحقہا‘‘ لفظ موجود ہے تو تم یاد رکھو کہ زکوٰۃ بھی اسی کا حق ہے۔ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں۔ اگر کوئی عہد نبوی سے ایک بچہ شتر بھی مجھ کو کم دے گا تو میں اس سے جنگ کروں گا۔ حضرت عمرq کہتے ہیں کہ اس تقریر کے بعد میں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکرq کے سینہ کو جنگ کے لئے کھول دیا ہے اور حق بھی یہی ہے۔ ایسے ہی اور بہت نظائر ہیں جن سے سیدنا ابوبکرq کا تقدم سیدنا عمرq پر ثابت ہے۔ حالانکہ حضرت عمر محدث ہیں بات یہ ہے کہ صدیق کا مرتبہ محدث سے اوپر ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ صدیق جو کچھ لیتا ہے وہ رسول معصومa کے قول اور فعل سے لیا کرتا ہے۔ مگر محدث اپنے قلب سے بھی بہت اشیاء (الہام مکاشفات وغیرہ) لیا کرتا ہے اور اس لئے کہ محدث کا قلب معصوم نہیں ہوتا۔ اسے ضرور ہوتا ہے کہ اپنی واردات قلبی کو احادیث کے سامنے پیش کرے۔ یہی وجہ ہے (کہ باوجود محدث ہونے کے) حضرت عمرq صحابہ سے مشورہ لیا کرتے اور مناظرہ فرمایا کرتے اور بعض امور میں دوسروں کی رائے کی طرف رجوع کر لیا کرتے تھے۔ علیٰ ہذا صحابہ بھی اکثر امور میں حضرت عمرq سے تنازع کیا کرتے تھے۔ صحابہ آپ پر کتاب اور سنت کے دلائل وارد کرتے اور آپ صحابہ پر آپ ان لوگوں کو برابر تنازع اور بحث کرنے دیتے اور کبھی یہ نہ فرماتے کہ میں محدث ملہم اور مخاطب من اللہ ہوں۔ اس لئے تم کو چاہئے کہ میرا قول قبول کر لو اور مجھ سے معارضہ نہ کرو۔ جب حال یہ ہے تو اب خواہ کوئی شخص خود ولایت اور مخاطب الٰہی کا مدعی ہو یا اس کے مرید اور تجویز کرتے ہوں کہ اس کے مریدوں پر اس کے تمام اقوال وافعال کا ماننا ضروری اور اس کی واردات کا تسلیم کر لینا بلا کتاب اور سنت سے پرکھ لینے کے لابدی ہے تو وہ خود نیز اس کے مرید سب خاطی ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی گمراہ ہیں۔ ان کو یاد کرنا چاہئے کہ سیدنا عمر فاروقq ان سب سے افضل ہیں اور امیرالمؤمنین بھی ہیں۔ مگر مسلمان برابر آپ سے جھگڑا کرتے اور آپ کے مقولوں کا کتاب اور سنت سے معارضہ کیا کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام امت کے ائمہ سلف وغیرہ کا
اس پر اتفاق ہے کہ بجز رسول اللہ a کے اور کوئی ایسا شخص نہیں جس کا کوئی قول لیا اور چھوڑا نہ جائے۔ کیونکہ نبی اور ولی میں صرف یہی فرق ہے۔
اس قدر لکھنے کے بعد ہم مرزاقادیانی کو توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اوّل تو آپ کا محدث ہونے کا دعویٰ ہی ایسا ہے جن کی صحیحین اور سنن کی احادیث مرفوع ومرسل تکذیب کر رہی ہے۔ پھر اس کے بعد جو آپ نے محدث کے یہ نوخواص قرار دئیے ہیں۔
۱… محدث۱؎ بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔
۲… کیونکہ وہ خداتعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔
۳… امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں۔
۴… رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے۔
۵… اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے۔
۶… اور بعینہٖ انبیاء کی طرح مامور ہوکر آتا ہے۔
۷… اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے۔
۸… اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔
۹… اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔
(توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰)
پس اگر ان صفات کا محدث کی ذات میں ہونا ضروری اور لابدی ہے اور محدث وہی ہوتا ہے جس میں یہ صفات پائے جائیں تو مناسب ہے کہ سب سے پیشتر آپ ان صفات کا وجود حضرت عمر فاروقq میں جو بالتحقیق محدث ہیں، ثابت کیجئے۔ بجائے اس کے محدث کا ایک معنی سے نبی ہی ہونا آپ ثابت کر سکیں۔ میں رسول کریمa کا یہ ارشاد پیش کرتا ہوں:’’قد کان فی من قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منہم احد فعمر‘‘ جس میں صاف تصریح ہے کہ
۱؎میں نے صرف ان صفات پر نمبر لگا دئیے ہیں۔ عبارت کل مرزاقادیانی کی ہے جس میں سے نہ ایک حرف کم کیا گیا۔ نہ ایک زیادہ۔
محدث نبی نہیں ہوتا۔ نہ ایک معنی سے نہ دو چار معنی سے اس حدیث کو آپ نے بھی (ازالہ اوہام ص۹۱۴، خزائن ج۳ ص۶۰۰) پر درج کیا ہے اور یہی ترجمہ اس کا کیا ہے۔ اب رسولوں اور نبیوں کی طرح محدث کی وحی کا آمیزش شیطانی سے منزہ ہونا بھی تحقیق طلب ہے کہ حضرت عمرq سے بعض ایسے حرکات سرزد ہوئے ہیں جن کا ان کو کفارہ دینا پڑا۔ تو تنزہ کہاں رہا؟ علیٰ ہذا!
بعینہٖ انبیاء کی طرح محدث کا مامور ہوکر آنا یہ بھی فیصلہ طلب ہے۔ اگرچہ بعینہٖ کی عینیت کے معنی میری سمجھ میں آج تک نہیں آئے۔ کیونکہ جب عینیت ہی ہو گئی تو غیریت کے کیا معنی اور باوجود تحقیق عینیت ایک کو محدث اور دوسرے کو نبی کہنے میں تفریق کی کیا وجہ؟ مگر اس میں بھی مرزاقادیانی کو ثابت کرنا تھا کہ حضرت عمر فاروقq کب اور کیونکر مامور ہو کر آئے تھے۔ اسی کے ساتھ ملا ہوا مرزاقادیانی کا یہ فقرہ ہے کہ بعینہٖ انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے۔ حضرت عمر فاروقq کی محدثیت کا ظہور زیادہ سے زیادہ ان کے زمانہ خلافت میں خیال کیا جاسکتا ہے۔ سو آپ کو معلوم ہے اور کل مؤرخین جانتے ہیں کہ حضرت عمرq کے نام خلافت نامہ لکھ کر جب خلیفہ رسولa نے ان کو طلب کیا تو حضرت عمرq نے صاف فرمایا تھا۔ مرا بخلافت حاجت نیست (ناسخ التواریخ) تو کیا حضرت عمرq نے اسی فرض کو اسی طرح بآوز بلند ظآہر کیا تھا کہ خلافت سے قطعی انکار کیا اور گوشہ خمول میں بسر کرنے کو زیادہ پسند فرمایا تھا۔ اب رہا کہ محدث سے انکار کرنے والا ایک درجہ تک مستوجب سزا ہوتا ہے۔ اس کلیہ میں خدا جانے کتنے صحابہ رسولa داخل ہو گئے ہوں گے جو مسائل اور واقعات میں نہایت آزادی کے ساتھ حضرت عمرq سے بحث کیا کرتے تھے۔ بالخصوص حضرت صدیق اکبرq اور حضرت ابوتراب علی کرم اللہ وجہہ تو ضرور ہی مرزاقادیانی کے نزدیک اس کلیہ میں داخل ہوں گے جنہوں نے بارہا حضرت عمرq کی رأیوں کا خلاف کیا اور ان کو ساکت بھی کر دیا۔ اب رہی سب سے آخری وجہ کہ نبوت کے معنی یہی ہیں کہ امور متذکرہ اس میں پائے جائیں تو میں حیران ہوں کہ پھر محدث کی نبوت کو جزئی کہنے کی جرأت اور مبادرت آپ نے کیونکر کی؟
اجی حضرت! جب نبوت کے معنی ہی یہ ہیں تو پھر جس کو بظاہر محدث کہا جاتا ہے وہ بباطن نبی کیوں نہیں؟ اور جب یہی بات ہے تو آپ اس سے بھی زیادہ صاف جس کی اردو کو
پہلی پڑھنے والے بھی سمجھ لیں۔ کیوں نہیں لکھ دیتے۔ مگر کوئی مصلحت ہے جس نے مہر سکوت لگا دی ہے۔
دل میں حرف آرزو کا خون ہوا
لب پہ رنگ پان جمانا چھوڑ دے
مرزاقادیانی! میں رب کریم کے فضل سے ثابت کر چکا ہوں کہ اولیاء کا کشف اور الہام حجت اور دلیل بننے کی ذرا صلاحیت اور قابلیت نہیں رکھتا اور اسی مضمون میں آپ کی تحریروں سے ثابت کر چکا ہوں کہ آپ کا یہی اعتقاد نہ صرف اولیاء بلکہ انبیاء کے حق میں بھی یہی ہے۔ مگر آپ محدث کو کوئی ایسی شئے سمجھے ہوئے تھے جس کے الہام کو آمیزش شیطانی سے تنزیہہ حاصل ہے۔ میں نے اس فہم کا بھی سراپا غلط ہونا ثابت کر دیا۔ اب آپ بہرخدا آئیے اور اس الہام کے بھروسہ پر جو دعاوی کئے ہیں ان کو خیرباد کہہ دیجئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیںکہ وفات مسیح اور عدم نزول مسیح اور اپنی قائم مقامی بجائے مسیح کے خیالات آپ کو اپنے الہام سے پیدا ہوئے جس کو آپ نے ان الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے۔ ’’مجھے یقینا معلوم ہے کہ میری اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بیّنات الہام سے قائم کیاگیا ہوں بہت سی قلمیں مخالفنہ طور پر اٹھیں گی۔‘‘
(توضیح المرام ص۱، خزائن ج۳ ص۵۱)
اور ان الہامات کو مقدم رکھ کر پھر آپ نے نصوص شرعیہ قرآن اور حدیث کی تاویل کر کے ان کو اپنے سانچے میں ڈھالا ہے اور اس امر میں آپ نے نہایت جرأت فرما کر قرآن وحدیث کو تابع اور الہام کو متبوع ٹھہرادیا ہے۔ لہٰذا آپ خیال فرمائیں اور ان عقائد سے توبہ کریں۔
میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے مرزاقادیانی سے یہ مسئلہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب ایک ہی شخص کے دوالہام آپس میں متضاد اور متناقض ہوں تو ان دونوں میں سے اس کو اور نیز دیگر اشخاص کو کس پر یقین اور عمل کرنا چاہئے۔ خصوصاً جب کہ ایک الہام۱؎ تو کل اہل اسلام کے عقیدہ کے موافق و اور دوسرا کل اہل اسلام کے مخالف اور اس موافق
۱؎(ازالہ ص۱۸۲، خزائن ج۳ ص۱۸۸) پر لکھا ہے: ’’میرے اس دعویٰ پر ایمان لانا جس کی الہام الٰہی پر بناء ہے۔ کون سی اندیشہ کی جگہ ہے۔ بفرض محال اگر میرا یہ کشف اور الہام غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہورہا ہے۔ اس کے سمجھنے میں میں نے دھوکا کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں حرج ہی کیا ہے۔‘‘ ہاں صاحب! حرج صرف اتنا ہے کہ یہ شخص احادیث کو جھٹلانے والا بن جاتا ہے۔ یعنی فقط ایمان جاتا ہے اور بس۔
ومخالف ہونے کا صاحب الہام کو خود بھی اقرار ہو۔ جب آپ اس کا جواب عطاء فرمائیں گے تو حیات اور وفات مسیح کی بحث چارسطروں میں ختم ہو جائے گی۔
مرزاقادیانی نے مثیل مسیح کے دعویٰ کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کر دیا ہے کہ امام مہدی بھی وہ خود ہیں اور عیسیٰ کے سواء اور کوئی مہدی آنے والا نہیں۔ میں اس مقام پر مختصر طور پر کچھ احایث نقل کروں گا جس سے واضح ہو جائے کہ احادیث میں عیسیٰ مسیح سے پہلے آنے والے مہدی کی نسبت کیا ظاہر فرمایا گیا ہے اور وہ کس جلالت شان کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہوں گے۔
۱… اوّل ان فتنوں کا بیان کیا جاتا ہے جو ظہور مہدیm سے پہلے ہوں گے۔ وہ فتنہ سفیانی ہے۔ یہ ملک شام سے خروج کرے گا۔ علی المرتضیٰq سے روایت ہے کہ یہ خالد بن یزید بن ابی سفیان کی اولاد سے ہو گا۔ بزرگ سر، چیچک رو، آنکھ میں سفید نقط۔ یہ اس کا حلیہ ہے۔ وادی یاس سے نکل کر دمشق میں داخل ہو گا۔ ۳۶۰ سوار اس وقت اس کے ساتھ ہوں گے۔ ایک ماہ کے بعد قبیلہ کلب کے تیس ہزار آدمی (جو اس کی ننھیال ہوں گی) اس سے آ ملیں گے۔ اسی زمانہ میں ملک مصر سے ابقع خروج کرے گا اور جزیرہ عرب سے صہب نکلے گا۔ سفیانی دونوں پر غالب آ جائے گا۔ ترک اور روم سے بمقام قرقیا جنگ میں فتح پائے گا۔ قریش کو قتل کرے گا۔ بغداد میں ایک لاکھ، کوفہ میں ستر ہزار کو تہ تیغ بے دریغ کرے گا۔ ایک لشکر مدینہ منورہ کی جانب روانہ کروے گا۔ سادات میں سے جسے پائے گا قتل کرے گا۔ بنی ہاشم مارے جائیں گے۔ بہت سے لوگوں کو پکڑ کر کوفہ لے جائے گا۔ امام مہدی بھاگ کر مکہ میں آ جائیں گے۔
مکہ معظمہ اس سال حج کے موقع پر سات عالم مختلف مقامات سے آئیں گے۔ ہر عالم کے مرید تین سو سے زیادہ ہوں گے۔ آپس میں کہیں گے ہم اس شخص کی تلاش میں آئے ہیں جس کے ہاتھ سے یہ فتنہ دور ہو۔ قسطنطنیہ فتح ہو۔ ہم اس کا نام، اس کے باپ کا نام، اس کی ماں کا نام جانتے ہیں۔ یہ علماء مکہ میں امام مہدی کو تلاش کر لیں گے اور کہیں گے کہ تم فلاں بن فلاں ہو۔ فرمائیں گے میں تو انصار میں سے ایک آدمی ہوں۔ علماء پھر واقف کاروں سے
تحقیقات کرنے لگیں گے اور امام مہدی مکہ سے مدینہ کو تشریف لے جائیں گے۔ علماء ان کی تلاش میں مدینہ پہنچیں گے۔ امام مہدی مکہ میں تشریف لے آئیں گے۔ تین بار اسی طرح آمدورفت ہو گی۔ حاکم مدینہ کو (جو سفیانی کا نائب ہو گا) جب یہ معلوم ہو گا کہ لوگ مہدی کی تلاش میں مکہ سے آتے جاتے ہیں تو وہ مکہ پر لشکر کشی کے لئے ایک فوج تیار کرے گا۔ تیسری بار میں یہ علماء امام مہدی کو بیت الحرام میں درمیان رکن اور مقام کے پائیں گے اور ان کو بیعت لینے پر مجبور کریں گے۔ دیکھو: سفیانی کا لشکر ہمارے تعاقب میں ہے۔ وہ آتے ہی قتل عام کر دے گا۔ اس کا گناہ آپ کے سر ہو گا۔ حضرت امام مہدی نماز عشاء کے وقت رکن اور مقام کے درمیان بیٹھ کر بیعت کر لیں گے۔ ان کے ساتھ رسول اللہ a کی تیغ وعلم اور کرتہ ہو گا۔ ان کا ظہور تین سو تیرہ آدمی کے ساتھ ہو گا۔ یعنی اصحاب بدر اور اصحاب طالوت کے برابر۔ یہ سب کے سب ابدال شام عصائب عراق بخائب مصر ہوں گے۔ رات کو عابد، دن میں شیر، اتنے میں لشکر جو مدینہ سے علماء کے تعاقب میں چلا تھا، آ پہنچے گا۔ یہ لشکر امام کے ساتھ جنگ کر کے شکست پائے گا اور مسلمان ان کا تعاقب کر کے مدینہ کو ان کے قبض وتصرف سے چھڑا لیں گے۔ سفیانی کا دوسرا لشکر جو کوفہ سے چلا ہو گا امام مہدی کے ساتھ جنگ کرنے آئے گا جو زمین بیداء میں پہنچے گا۔ تمام لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔ صرف ایک شخص بچے گا وہ سفیانی کو یہ خبر جا سنائے گا۔
۲… ماوراء النہر سے ایک شخص نکلے گا۔ اس کو حارث کہیں گے۔ وہ کھیتی والا ہو گا۔ اس کے مقدمہ لشکر پر ایک شخص ہو گا جس کا لقب منصور ہو گا۔ وہ آل محمد کو جگہ دے گا جس طرح قریش نے رسول اللہ a کو جگہ دی تھی۔ ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا واجب ہے۔ حارث کا لشکر سفیانی کے ساتھ چند لڑائیاں کرے گا۔ ایک تیونس میں دوسری دوریہ میں۔ تیسری تخوم رنج میں (مرزاقادیانی حارث تو بن گئے مگر یہ جنگ بھی کئے ہوتے) جب یہ لڑائی بلول کو پہنچے گی تو ایک بنی ہاشم سے بیعت کریں گے۔ اس کی سیدھی ہتھیلی میں ایک تل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے کام کو اس کی راہ کو سہل کر دے گا۔ یہ امام مہدی کا عمزاد بھائی ہو گا۔ وہ آخر مشرق میں ہو گا۔ اہل خراسان وطالقان نکلیں گے۔ ان کے ہمراہ چھوٹے چھوٹے کالے نشان ہوں گے۔
حدیث میں آیا ہے جب تم سنو کہ کالے جھنڈے خراسان کی طرف سے آئے تو تم
وہاں پہنچو۔ اگرچہ سینہ کے بل برف پر چلنا ہو۔ حضرت علی المرتضیٰq فرماتے ہیں: اگر میں صندوق کے اندر مقفل ہوں تو قفل وصندوق کو توڑ کر باہر نکلوں اور ان سے جا ملوں۔ اس لشکر کی لشکر سفیانی کے ساتھ بڑی لڑائی میدان اصطخر میں ہو گی۔ گھوڑے خون میں چلیں گے۔ پھر ایک لشکر جرار سجستان سے آئے گا جس پر بنی عدی کا شخص افسر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے انصار وجنود کو غالب کرے گا۔ (یہ خراسانی لشکر مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو جائے گا)
۳… ایک لڑائی مدائن میں ہو گی۔ واقعہ رے کے بعد دوسری عاقرفا میں۔ یہ بہت سخت ہو گی جو بچے گا وہ اس کی خبر دے گا۔ کالے جھنڈے پانی پر اتریں گے۔ (حدیث میں پانی کا لفظ ہے۔ غالباً اس سے دریائے دجلہ مراد ہے)
۴… سفیانی زمین پر فساد کرے گا۔ دن دوپہر مسجد دمشق میں شراب پی کر عورت کے ساتھ کھلم کھلا صحبت کرے گا۔ اس وقت ایک مسلمان اٹھ کر کہے گا۔ افسوس! تم مسلمان ہو کر کافر ہو گئے۔ یہ کام کب حلال ہے۔ سفیانی اس کو معہ اس کے ہمراہیوں کے مسجد میں ہی قتل کر دے گا۔ اس وقت آسمان سے آواز آئے گی: ’’ایہا الناس ان اللہ قد قطع عنکم الجبارین والمنافقین واشیاعہم وولاکم خیر امۃ محمد فالحقوہ بمکۃ فانہ المہدی واسمہ احمد۱؎ بن عبداللہ ‘‘(ترجمہ) لوگو! خدا نے ان ظالموں اور منافقوں وغیرہ کو تمہارے سے جدا کر دیا اور امت محمدیہ میں سے بہترین شخص کو تمہارا والی کر دیا۔ اب تم اسے مکہ میں جا ملو۔ وہ مہدی ہے۔ اس کا نام احمد بن عبداللہ ہے۔
۵… حضرت امام مہدی کا ایک عمزاد بھائی صخری نام ہو گا۔ آپ اس کو اپنی بیعت کے لئے بلائیں گے وہ آکر بیعت کرے گا۔
۶… قبیلہ کلب سے ایک آدمی کنانہ نام پیدا ہو گا۔ اس کی آنکھ میں پھلی ہو گی۔ اس کے بہکانے سے صخری بیعت توڑ دے گا۔ یہ تین سال بعد از بیعت ہو گا۔ امام مہدی کا لشکر ان
۱؎احادیث میں حضرت مہدی کا نام محمد بن عبداللہ ہے اور اس نداء آسمانی میں احمد بن عبداللہ کہا گیا ہے۔ یہ کچھ منافی نہیں۔ حدیث شریف میں ہے: میرا نام زمین پر محمد آسمان پر احمد ہے۔ اس لئے ندائے آسمانی میں محمد کی جگہ احمد کہاگیا۔ شاید اس لئے قرآن شریف میں: ’’ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ فرمایا گیا ہے۔ (یہ آیت بحق نبیa ہے)
سے مقابلہ کر کے فتح پائے گا۔ صخری کو پکڑ کر لائیں گے۔ مہدی اور اس کو وادی طور کے بطن میں زیتا کے رستہ پر کنیسے کے پاس بکری کی طرح ذبح کر ڈالیں گے۔ حدیث میں ہے: بدنصیب وہ ہے جو اس دن غنیمت کلب سے محروم رہا۔
۷… امام مہدی کی جنگ روم والوں سے ہو گی۔ یہ ہلاک سفیانی کے بعد ہو گا۔ اہل روم ۹لاکھ ۶۰ہزار لشکر کے ساتھ مسلمان سے مقابلہ آراء ہوں گے۔ اس کے سوا تین لاکھ بحری فوج ہو گی جس میں چالیس ہزار آدمی جمر کے ہوں گے۔ ان کے دل میں مادہ الفت ومحبت ڈالا جائے گا۔ بحری فوج دوسری سے لڑے گی اور اس کو شکست دے گی۔ پھر مشرکین فارس کی ایک قوم آئے گی۔ ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ثلث لشکر بھاگ نکلے گا۔ ایک ثلث شہید ہو گا جس کو دس اصحاب بدر کے برابر ثواب ملے گا۔ ثلث جو باقی رہے گا اس میں بھی پھوٹک اور نفاق ہو گا۔ مسلمان روم سے لڑنے کو چلیں گے۔ قسطنطنیہ کا دریا ان کے لئے خشک ہو جائے گا برتیے میں مسلمانوں کے خیمے ہوں گے۔ مسلمان شب جمعہ کو تکبیر وتہلیل کہتے ہوئے گھس پڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ قسطنطنیہ ایسی قوموں کے ہاتھ پر فتح کرے گا جو اولیاء خدا ہوں گے۔ موت، بیماری، دکھ کو ان سے اٹھا لے گا۔ یہاں تک کہ عیسیٰm اتریں گے۔ یہی لوگ حضرت عیسیٰm کے ہمراہ ہو کر دجال سے لڑیں گے۔ اس حدیث کو سیوطی نے جامع کبیر میں نہایت طول کے ساتھ بیان کیا ہے۔
۱… دریائے فرات کھل جائے گا۔ اس میں سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہو گا۔
۲… آسمان سے ندا ہو گی۔ ’’الا ان الحق فی ال محمد‘‘لوگو! حق آل محمدa میں ہے۔
۱… ان کے پاس رسولa کا کرتہ تیغ اور علم ہوں گے۔ یہ نشان آنحضرتa کے بعد کبھی نہ نکلا ہو گا۔ اس پر لکھا ہو گا۔ ’’البیعۃ ﷲ‘‘ بیعت خدا کے واسطے ہے۔
۲… امام مہدی کے سر پر ایک بادل سایہ کرے گا۔ اس میں سے ایک پکارنے والا
پکارے گا۔ ’’ہذا المہدی خلیفۃ اللہ فاتبعوا‘‘یہ مہدی خلیفہ خدا ہے۔ اس کا اتباع کرو۔
۳… یہ ایک سوکھی شاخ خشک زمین میں لگا دیں گے۔ ہری ہو جائے گی۔ اس میں برگ وبار آئے گا۔
۴… خزانہ کعبہ کو نکالیں گے اور تقسیم کر دیں گے۔
۵… دریا ان کے لئے یوں پھٹ جائے گا جیسے بنی اسرائیل کے لئے پھٹ گیا تھا۔
۶… ان کے پاس تابوت سکینہ ہو گا جسے دیکھ کر یہود ایمان لائیں گے۔ مگر چند۔
۱… ’’لاتذہب ولا تنقضی الدنیا حتی یملک العرب رجل من اہل بیتی یواطی اسمہ اسمی (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱، کتاب المہدی والترمذی ج۲ ص۴۷، باب ماجاء فی المہدی عن ابن مسعود)‘‘ دنیا ختم نہ ہو گی۔ جب تک میرے اہل بیت سے ایک شخص جس کا نام میرے نام پر محمد ہو گا۔ دنیا کا مالک نہ ہو جائے۔ (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱، کتاب المہدی) کی دوسری روایت میں ہے۔
۲…’’یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی‘‘ اس کا نام میرے نام پر۔ اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہو گا۔ یعنی محمد بن عبداللہ ۔
۳…’’المہدی من عترتی من ولد فاطمہ‘‘ مہدی میرے کنبہ میں سے فاطمہ کی اولاد ہوں گے۔
(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱، عن ام سلمہ)
۴… ان کا مولد مدینہ ہے۔ ’’رواہ نعیم عن علی کرم اللہ وجہہ‘‘
۵… ہجرت گاہ ان کا بیت المقدس ہو گا۔ (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، کتاب الملاحم) کی حدیث میں ہے۔ بیعت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی ویرانی کا۔
۶… حلیہ ان کا یہ ہے۔ گندم رنگ، کم گوشت، میانہ قد، کشادہ پیشانی، بلند بینی، کمان ابرو، دونوں ابروؤں میں فرق، بزرگ اور سیاہ چشم، سرمگین دیدہ، دانت روشن اور جدا جدا، داہنے رخسار پر تل سیاہ، چہرہ نورانی ایسا روشن جیسا کوکب دری، ریش پرانبوہ، کشادہ ران، عربی رنگ، اسرائیلی بدن، زبان میں لکنت جب بات کرنے میں دیر ہو گی۔ توران چپ پر
ہاتھ ماریں گے۔ کف دست میں نبیa کی نشانی ہو گی۔
ناظرین! یہ جملہ احادیث جو نواب صدیق حسن مرحوم کی کتاب اقتراب الساعۃ سے لی گئی ہیں اور جن کے درج کرنے میں میں نے بہت اختصار کیا ہے۔ ایسی احادیث ہیں جن کے ایک حرف سے بھی مرزاقادیانی کو تطبیق حاصل نہیں اور نہ آج تک انہوں نے ان کی تاویل ہی کر کے ان کے معانی کو سمجھائے ہیں۔
اب آپ مختصر طور پر عیسیٰ بن مریم کے نزول کی احادیث بھی ملاحظہ فرمالیں۔
۱… رسول اللہ a نے فرمایا۔ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہ تم میں نزول فرمائیں گے۔ جب ان کو دیکھو تو (اس حلیہ سے) پہچان لو۔قد درمیانہ رنگ سرخ وسفید، لباس زردی مائل۔ گویا ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے پانی ٹپکتا ہو گا۔ وہ دین اسلام کے لئے لوگوں سے جنگ وقتال کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ خدا ان کے زمانہ میں تمام مذاہب کو محو کر دے گا۔ صرف اسلام باقی رہے گا۔ وہ دجال کو ہلاک کریں گے اور زمین پر چالیس سال تک قیام فرمائیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
(عن ابی ہریرہq ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، کتاب الملاحم)
۲… رسول اللہ a نے فرمایا۔ ہمیشہ میری امت کی ایک جماعت حق پر لڑتی رہے گی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پس عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ امیر جماعت کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے، فرمائیں گے نہیں۔ تم ایک دوسرے کے امام ہو۔ خدا نے اس امت کو یہ بزرگی دی ہے (کہ نبی اسرائیل امت محمدی کے پیچھے اقتداء کرے) (مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ) کی یہ حدیث جو بروایت جابر ہے۔ (مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ) کی حدیث بروایت ابوہریرہq’’کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم‘‘ کی بخوبی تفسیر کرتی ہے کہ:’’وامامکم منکم‘‘سے دوسرا امام غیرعیسیٰ ہی مراد ہے نہ کہ حسب قول مرزاقادیانی خود عیسیٰ ہیں جنہوں نے ’’وامامکم منکم‘‘کے معنی بنانے کے لئے ’’وہو امامکم‘‘بنالیا ہے۔
۳… رسول اللہ a نے فرمایا: میں شب معراج ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰo سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیمm کے سپرد ہوا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت موسیٰm پر بات ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰm پر اس کا تصفیہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا: قیامت کے وقت کی خبر تو خداتعالیٰ کے سواء کسی کو بھی نہیں۔ ہاں! خدائے تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برندہ ہو گی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔
(عن ابن مسعودq مسند احمد ج۱ ص۳۷۵)
۴… رسول اللہ a نے فرمایا: مجھے خدائے پاک کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بے شک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھا دیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی اور زرومال کو کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ تمام دنیا اور دنیا بھر کے مال ومتاع سے ایک سجدہ کرنا اچھا معلوم ہو گا۔ ابوہریرہq کہتے تھے۔ اگر تم ارشاد نبویa کے ساتھ قرآن سے دلیل چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ’’ان من اہل الکتاب الّٰایؤمنن بہ قبل موتہ‘‘(ترجمہ) نہیں کوئی اہل کتاب مگر یہ کہ وہ ایمان لاوے گا۔ عیسیٰ پر عیسیٰm کے مرنے سے پہلے (سورۂ آل عمران) یہ حدیث (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰm) کی ہے۔
۵… حضرت عیسیٰm زمین میں چالیس سال قیام فرمائیں گے۔ اگر وہ پتھریلی زمین سے کہہ دیں کہ نرم ہو کر بہ جا وہ بہ چلے۔ پہلی حدیث ابوداؤد، دوسری مسلم، تیسری مسند احمد، چوتھی بخاری، پانچویں مسند کی ہے اور یہ احادیث متعدد صحابہ سے مروی ہیں۔ ناظرین! ان کتابوں کے نام دیکھ کر ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جملہ دواوین حدیث میں کس قدر احادیث نبوی مندرجہ ہوں گی۔ خاتمہ المحدثین امام شوکانی نے کتاب التوضیح میں ان احادیث کو متواتر کہا ہے۔
اب خصوصیات زمانہ نزول مسیح کو ملاحظہ فرمائیے:
۱… ان کے زمانہ میں جزیہ نہ لیا جائے گا۔ کیونکہ مال کی مسلمانوں کو کچھ ضرورت نہ ہو گی۔ آج خود عیسیٰ بننے والے ہی روپیہ کے محتاج، خواستگار اور چندہ کے سائل ہیں۔
۲… مسلمان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا اور اسے زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ملے گا۔ سب متمول اور تونگر ہوں گے۔ آج دنیا کی تمام اقوام میں سب سے زیادہ مفلس اور غریب مسلمان ہیں۔ زکوٰۃ نکالنے والوں کی تعداد نہایت قلیل ہے اور لینے والے ہزاروں۔
۳… آپس کی بغض اور عداوتیں جاتی رہیں گی۔ سب میں اتحاد اور محبت قائم ہو جائے گی۔
آج عیسیٰ بننے والے کے ہاتھ پر جنہوں نے بیعت کی ہے خود ان میں تباغض وتحاسد موجود ہے۔ ایک دسرے کی چارپائی الٹ دیتا ہے۔ گال گلوچ ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی اور حکیم نورالدین کوخود اس کا اقرار ہے۔
۴… ہر زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ وحوش میں سے درندگی نکل جائے گی۔ آدمی کے بچے سانپ بچھو سے کھیلیں گے۔ ان کو کچھ ضرر نہ ہوگا۔ بھیڑ یا بکری کے ساتھ چرے گا۔
نقشہ اموات ملاحظہ ہو کہ صرف ملک ہندوستان میں سانپ کے کاٹے، وحوش کے کھائے ہوئے آدمیوں کی تعداد لاکھوں سے کم نہیں۔ پھر تمام دنیا کی آبادی کو اس سے قیاس کر لو۔
۵… زمین صلح سے بھر جاویں گی۔ لڑائی مفقود ہو جائے گی۔
اس زمانہ کے سلاطین کی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں چھوڑ کر شاہان عظام کی جنگی تیاریوں، جنگی فوج کی تعداد کثیر پر نظر ڈالو جو ایک عالمگیر جہاں آشوب جنگ کی خبر ہے۔
۶… زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل پیدا کر اور اپنی برکت کو لوٹا دے۔ اس دن ایک انار کو ایک گھرانہ کھائے گا اور انار کے چھلکے کو بنگلہ سا بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں برکت ہو گی۔ یہاں تک کہ دودھار اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کو دودھار گائے ایک برادری کے لوگوں کو، دودھار بکری ایک جدی شخصوں کو کفایت کرے گی۔
۷… گھوڑے سستے بکیں گے۔ کیونکہ لڑائی نہ رہے گی۔ بیل گراں قیمت ہو جائیں گے۔ کیونکہ تمام زمین کاشت کی جائے گی۔
اس زمانہ کی بے برکتی سب جانتے ہیں۔ گھوڑوں کا گراں زر ہونا ظاہر ہے۔ یہ سب علامات مرزاقادیانی کے زمانہ میں ایسے مفقود ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ مرزاقادیانی! دعویٰ مسیحائی کرنا آسان ہے۔ ازالہ اوہام کے برابر موٹی موٹی کتابیں چھپانا آسان ہے۔ مگر ان احادیث کی تاویل کرنا مشکل اور محال۔ اگر آپ کو ایمانی طور پر یقین ہے کہ آپ فی الواقع آنے
والے مسیح ہیں تو ان احادیث کی تاویل تو کی ہوتی۔ نہ یہ کہ (ازالہ اوہام ص۲۰۱، خزائن ج۳ ص۱۹۸) پر وعدہ کیا کہ اب ہم وہ احادیث جس سے علماء کو ڈگری ملتی ہے مع ترجمہ کے لکھتے ہیں اور لکھنے کے وقت صحیح بخاری کی چار سطروں کی حدیث بھی پوری پوری نہ لکھی۔
۱… حضرت عیسیٰm جامع دمشق میں مسلمانوں کے ساتھ نماز عصر پڑھیں گے۔ پھر اہل دمشق کو ساتھ لے کر طلب دجال میں نہایت سکینہ ومتانت سے چلیں گے۔ زمین ان کے لئے سمٹ جائے گی۔ ان کی نظر قلعوں کے اندر گاؤں کے اندر تک اثر کر جائے گی۔
۲… جس کافر کو ان کے سانس کا اثر پہنچے گا وہ فی الفور مر جائے گا۔
۳… یہ بیت المقدس کو… دجال نے اس کو محاصرہ کر لیا ہو گا۔ اس وقت نماز صبح کا وقت ہو گا۔
۴… ان کے وقت میں یاجوج ماجوج خروج کریں گے۔ تمام خشکی وتری پر پھیل جائیں گے۔ حضرت عیسیٰm مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جائیں گے۔
۵… یہ روضہ رسول میں نبیa کے پاس مدفون ہوں گے۔ مسلمان ان کی جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
۶… دجال کو باب ’’لد‘‘ پر قتل کریں گے۔ اس کا خون اپنے نیزہ پر لوگوں کو دکھلائیں گے۔
مرزاقادیانی کے پاس یہ صفات کہاں ہیں؟
سچ ہے دعویٰ کرنا۔ آسان اور ثابت ہونا مشکل ’’قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمٰت ربی ولو جئنا بمثلہ مددا۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحٰی الیّٰ انما الہکم الہ واحد۔ فمن کان یرجوا لقآء ربہ فلیعمل عملاً صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احد‘‘
نیاز مند محمد سلیمان عفی عنہ
حضرت علامہ قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ نے زیرنظر کتابچہ مرزاقادیانی کے اشتہار ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کے جواب میں تحریر فرمایا۔ مرزا کا یہ اشتہار (خزائن ج۱۸ میں ص۲۰۶ سے ۲۱۶) تک شامل ہے۔ اس لئے ذیل میں صرف ایک غلطی کے ازالہ کا حوالہ دیں گے۔ خزائن کے حوالہ کو دیکھنے کے لئے اتنا تذکرہ کافی ہے۔ تکرار کی ضرورت نہیں۔
(فقیر اللہ وسایا)
میرے دوست نے مجھے یکم؍رمضان المبارک کو مرزاغلام احمد قادیانی کا اشتہار مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء (ایک غلطی کا ازالہ) دکھلایا جس میں مرزاقادیانی نے اپنا نبی ورسول ومحمد رسول وخاتم الانبیاء ہونے کا اشتہار دیا ہے۔ اس اشتہار میں مرزاقادیانی نے دو باتیں بہت صحیح لکھی ہیں۔
اوّل: یہ کہ مرزائی جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو مرزاقادیانی کے دعویٰ اور دلائل سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔ مرزاقادیانی کی کتابوں کو بھی انہوں نے غور سے نہیں پڑھا اور صحبت میں رہ کر بھی تکمیل نہیں کی۔
ان لوگوں میں ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان بھی شامل ہے جس نے ۱۰؍جون کے اخبار میں مرزاقادیانی کا نبی ورسول نہ ہونا پرزور عبارت میں تحریر کیا تھا۔ قادیان میں آنے والے مریدین کی درندگی، وحوش طبعی، بدتہذیبی، باہمی بدکلامی، دشنام دہی بلکہ استعمال کلمات فحش کا ذکر مرزا نے اپنے ’’رسالہ شہادۃ القرآن‘‘ (خزائن ج۶ ص۳۹۵ ملخص) کے آخری اشتہار میں کیا ہے اور اس پر حکیم نورالدین کی نورانی تصدیق ہے کہ: ’’یہ لوگ درست ہونے کی بجائے قادیان میں آ کر اور زیادہ خراب ہو جاتے ہیں۔‘‘
دوم: یہ کہ نبی اور رسول بننے کا دعویٰ مرزاقادیانی کو مدت مدید سے ہے۔
امر دوم! کے ثبوت میں مرزاقادیانی نے براہین کے حوالے بھی دئیے ہیں۔ ان حوالوں سے اگر مرزاقادیانی کا مدعا اپنی نبوت کی قدامت کا اظہار ہو تو یہ استدلال کچھ کمزور نہیں۔ لیکن اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کے سکوت سے ان کی قبولیت وتسلیم کے معنی نکالنے چاہتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ جب مرزاقادیانی کو خود اقبال ہے کہ ان کے مریدوں نے بھی ان کی کتابوں کو نہیں پڑھا اور ان کے دعویٰ کو نہیں سمجھا تو عام مسلمانوں کا ان کی کسی کتاب کو نہ پڑھنا اور نہ سمجھنا باولیٰ ثابت ہو گیا بلکہ یہ بھی ثابت ہے کہ براہین کے مندرجہ الہامات کو پڑھنے والوں نے سکون کے ساتھ نہیں دیکھا۔ چنانچہ (براہین احمدیہ ص۵۴۴، خزائن ج۱ ص۶۵۱ حاشیہ درحاشیہ نمبر۴) سے آشکار ہے کہ مولوی غلام علی صاحب ومولوی احمد اللہ صاحب امرتسری ومولوی عبدالعزیز صاحب امرتسری نے ان ہی دنوں ان کا سخت انکار کر کے ان الہامات کو مجانین کے خیالات بتلایا تھا۔
ناظرین! مرزاقادیانی نے الہامات مندرجہ اشتہار کو مطبوعہ براہین بتلا کر اپنے دعویٰ کی بنیاد کو پانی تک پہنچایا ہے۔ لیکن براہین سے اس مدعا کی تائید نہیں ہوتی۔ مثلاً آیت: ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کو (براہین احمدیہ ص۴۹۸، ۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳) پر دیکھو۔ مرزا یوں لکھتے ہیں کہ: ’’یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیحm کے حق میں پیش گوئی ہے… اور جب حضرت مسیحm دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘ اب مرزا سے دریافت طلب ہے کہ براہین کے مندرجہ بالا بیان پر بھی آپ کو ایمان ہے یا نہیں کہ مسیحm دوبارہ دنیا میں آئیں گے؟ لیکن اگر خود آپ مسیح ہیں تو جسمانی طور پر سیاست ملکی کی عنان بھی ہاتھ لیجئے گا یا نہیں؟ اگر دونوں باتوں سے انکار ہے تو براہین کا حوالہ آپ کو کیوں کر مفید ہوسکتا ہے؟ مثلاً’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘کو دیکھو اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷) میں تو حلّہ انبیاء کے پہننے سے مراد نبی بن جانا بتلادیا ہے۔
اور (براہین احمدیہ ص۵۰۴، خزائن ج۱ ص۶۰۱ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳) پر لکھا ہے کہ: ’’امت محمدیہ کے بعض افراد کو حلہ انبیاء عطاء ہوتا ہے یہ لوگ نبی نہیں ہوتے۔ پر نبیوں کا کام ہدایت ووعظ، ان کے سپرد ہوتا ہے۔‘‘ براہین میں نبوت سے انکار اور اشتہار میں اقرار نبوت پر اصرار ہے اور ہر دو حالتوں میں تمسک ایک ہی الہام سے ہے۔
تیسری آیت:’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘پر غور کیجئے۔ (توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰ ملخص) پر اس آیت کے تمسک سے اپنے آپ کو رسول اللہ کا صرف ایک جزو اور اپنی نبوت کو غیرتامہ بتلایا تھا۔
اور اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲ ملخص) میں اسی کی دلیل پر ’’اپنا رسول اور محمد خاتم الانبیاء ہونا تحریر کیا ہے۔‘‘ میں حیران ہوں کہ جب ان کی سابقہ الہامی کتابوں اور حاشیہ اشتہار میں باہمی اس قدر تضاد وتناقض ہے تو مرزاقادیانی کو پہلی تصنیفات کے حوالہ جات کی کیونکر جرأت ہوئی ہے؟
اس ضروری تمہید کے بعد میں ناظرین کو اشتہار کے چند مقامات پر خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
مرزاقادیانی (اشتہار مذکورہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷) پر لکھتے ہیں کہ: ’’براہین احمدیہ میں ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علیٰ الکفار رحماء بینہم‘‘موجود ہے اور اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔‘‘
محمد رسول اللہ a کے ساتھ جو کفار کے لئے سخت تھے انہوں نے ہرقل اور پرویز کی سلطنتوں کو فتح کیا تھا اور باہمی رحم ان میں ایسا تھا کہ نزع میں بھی خود پانی نہ پی کر دوسرے کو پلاتے تھے۔ مرزاقادیانی اپنے مریدوں کے باہمی برتاؤ کی شہادت تو شہادت القرآن میں دے چکے ہیں۔ اب پبلک کو یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ شدت برکفار کا کیا نمونہ دکھلاتے ہیں؟
اس الہام کا حوالہ بھی براہین سے دیا گیا ہے۔ میں نے (براہین احمدیہ ص۵۱۹، خزائن ج۱ ص۶۱۹) پر اس الہام کو دیکھا۔ لیکن اس مقام پر صراحۃً تو ذکر کیا کنایۃً بھی مرزا نے تحریر نہیں کیا کہ کتابت مذکورہ بالا کے الہام میں ان کی ذات سے مراد لی گئی ہے۔ براہین تو کیا اور اس
کے بعد متعدد الہامی کتابیں لکھیں۔ اپنی شرف وبزرگی کے مضامین سے بیسیوں ورق پر کئے لیکن کسی جگہ بھی نہ فرمایا کہ میرا نام محمد رسول اللہ ہے۔
بے شک ۵؍نومبر کے اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ) سے پہلے ایسی لمبی خاموشی کے کوئی معنی ہونے چاہئیں؟
اب قابل غور یہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو تصویر محمدa کہتے ہیں اور ظلی وبروزی طور پر محمدa بنتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ الفاظ تصویر ظل اور بروز کے معانی ایک ہی ہیں یا جدا جدا ہیں اور اگر جداجدا ہیں تو پھر مرزاقادیانی کس لفظ کے اعتبار ومعنی سے محمدa ہیں؟
تصویر کو رسول کریم کی صورت پاک سے کیا مناسبت ہوسکتی ہے اور شکل انعکاسی کو وجود باجود کے کمالات کیونکر مل سکتے ہیں؟ فتح مکہ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرتa نے بیت اللہ کے اندر حضرت ابراہیمm، اسماعیلm کی تصاویر کو دیوار پر بنے ہوئے دیکھا۔ اسی وقت ان تصاویر کو محو کروادیا اور تصاویر بنانے والوں پر لعنت فرمائی۔ (بخاری ج۲ ص۶۱۴، کتاب المغازی) اس سے واضح ہے کہ تصویر خواہ کسی نبی یا رسول کی بھی کیوں نہ ہو وہ بہرحال محو اور ازالہ کے لئے ہے۔ اب رہا ظلی طور پر محمد ہونا تو کیا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ کسی وجود کے سایہ میں بھی وہی کمالات موجود ہوتے ہیں جو شخص میں ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو ظلی ہوکر ہی مرزاقادیانی ہرگز ہرگز محمدa نہیں بن سکتے۔ کسی ظل کے تغیر پذیر زوال گیر ہونے کے متعلق کہا ہے۔
سایہ کی طرح ہم نہ ادھر کے نہ ادھر کے
اہل عرب بھی سریع، زوال، لاشی وجود کو ظل زائل سے تشبیہ دیا کرتے ہیں۔ کتب سیر میں کثرت طرق کے ساتھ یہ امر بیان کیاگیا ہے کہ آنحضرتa کے جسم اطہر وجود منور کا سایہ نہ تھا۔ شاید اس کی وجہ یہی ہو کہ کسی مدعی کو بطور مجاز بھی یہ کہنے کی جرأت نہ ہو سکے کہ میں ظل محمد ہوں۔ کیونکہ جس چیز کی حقیقت ہی موجود نہیں اس کے لئے مجاز کیونکر استعمال ہو سکتا ہے؟
اب رہا بروزی طور پر مرزاقادیانی کا محمدa ہونا یہ تو بالکل ہی غلط ہے۔ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ غلط ہے۔ مرزاقادیانی نے لفظ بروز کا استعمال فرمایا ہے۔ جس کے معنی
لوگوں کو بہت کم معلوم ہیں۔ بروز کے معنی ظاہر ہونا اور باہر نکلنا ہے۔ (منتخب اللغات) اور قرآن مجید میں اس لفظ کا استعمال آیات مندرجہ ذیل میں سے قبور مردوں کے نکلنے کے معنی یا اوٹ میں سے نکل کر سامنے آ جانے کے معنی میں لیاگیا ہے۔
سامنے آنے کے متعلق:
۳… ’’فاذا برزوا من عندک (النساء:۸۱)‘‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بروز اس کو کہتے ہیں کہ جو جسم چھپ گیا تھا۔ وہی آشکار ہو جائے۔ اوجھل جسم سامنے آ جائے۔ پس یہ نہیں ہوسکتا کہ اس لفظ کا اطلاق ایک ایسے غیر شخص پر کیا جائے جو خود ہی شخصیت کے لحاظ سے اپنا غیرہونا تسلیم کرتا ہو۔ بروز محمدی کے معنی تو صرف یہ ہیں کہ محمدa مدینہ طیبہ کے مرقد منور اور راحت گاہ پاک سے اٹھ بیٹھیں جس کی بابت ہمارا ایمان ہے کہ ایسا واقعہ نفخ صور کے بعد ہی ہو گا۔ زیادہ تر غور کے قابل یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ظلی وانعکاسی وبروزی طریقوں پر محمدa بن جانے کی فکر میں سیرت صدیقی کا لفظ استعمال کیا ہے اور سیرت صدیقی کی کھڑکی سے داخل ہونے والے کو چادر نبوت کا پہنائے جانا تحریر کیا ہے۔
(اشتہار مذکورہ ص۱،۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷، ۲۰۸ ملخص)
پس ضروری تنقیح یہ ہے کہ چادر نبوت حضرت ابوبکر صدیقq کو بھی کبھی پہنائی گئی یا نہیں؟ اور صدیقq امت کو بھی ظلی یا انعکاسی یا بروزی طور پر کسی دن محمدa تسلیم کیا گیا یا نہیں؟ کیونکہ جب مشبہ بہ میں کوئی صفت حاصل نہ ہو اس وقت تک مشبہ کو اس کے ساتھ کوئی بھی وجہ تشبیہ نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوبکر صدیقq کے لئے کمال فخر کا مقام ہے جس سے
ان کا فنافی الرسول ہونا نکلتا ہے۔ جہاں قرآن مجید میں اللہ پاک نے بعثت رسول کی روایت فرما کر ’’ان اللہ معنا‘‘ کہا اور ان کی معیت کا اظہار فرمایا ہے۔ ہم کو دیکھنا چاہئے کہ انہیں مقام پر ’’معنا‘‘ کا کیا نام رکھا گیا ہے؟ قرآن مجید نے تو جو لفظ استعمال کیا ہے وہ ’’لصاحبہ‘‘ ہے۔ اب مرزاقادیانی دیکھیں جب صدیقq امت اس مقام پر بھی جس کی توصیف قرآن مجید میں موجود ہے۔ اس سے بڑھ کر اور خطاب نہیں پاسکے تو پھر کوئی اور شخص یا خود آپ سیرت صدیقی کی کھڑکی سے داخل ہو کر کیونکر چادر نبوت اوڑھ سکتے اور نبی ورسول کہلایا بن سکتے ہیں؟
مرزاقادیانی اسی اشتہار کے (ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۵) پر لکھتے ہیں: ’’یہ ممکن ہے کہ آنحضرتa نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آ جائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں۔‘‘ اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ بروزی رنگ میں بذات خود محمدa تشریف فرما ہوتے ہیں جس سے معلوم ہو گیا کہ مرزاقادیانی لفظ بروز کو تناسخ کے ہم معنی استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اہل تناسخ کا خود ہی رد اور تفسیر کر چکے ہیں۔
(مرزاقادیانی کا مذہب یہ ہے کہ انبیاءo کی ارواح دوسرے اجسام میں حلول کرتی رہتی ہے اور اسی کا نام بروز ہے وہ اس عقیدہ کو رکن ایمانیہ میں سے سمجھتے ہیں۔ (آئینہ کمالات ص۳۴۲تا۳۴۷، خزائن ج۵ ص ایضاً) تک قابل ملاحظہ ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنی بیوی کو ام المؤمنین کا خطاب دیا ہے۔ (نزول المسیح ص۱۴۶، ۱۴۷، خزائن ج۱۸ ص۵۲۴) اب خدیجۃ الکبریٰt کے رنگ میں بروز فرمانے میں کچھ دیر نہ ہو گی)
مرزاقادیانی سے دریافت طلب اس فقرہ کے متعلق یہ ہے کہ کیا آپ سے پیشتر بھی کوئی شخص بروزی رنگ میں نبوت محمدیہ سے مشرف کیاگیا ہے؟ اگر کوئی شخص ایسا گزرا ہو اور اسے آج تک مسلمان سمجھا جاتا ہو تو اس کا نام پیش کرنا چاہئے اور اگر نہیں تو مرزاقادیانی نے یہ امکان کہاں سے قائم کیا؟ اور جب ہزاروں اشخاص ایسے ہی ہوسکتے ہیں تو اپنا نام محمد خاتم الانبیاء کیوں کر تجویز فرمایا؟ مرزاقادیانی کو خدا سے ڈرنا چاہئے کہ اس انداز کلام سے آپ نہ
صرف اپنے لئے حصول نبوت کے خواستگار ہیں بلکہ زمان مستقبل کے واسطے بھی ہزاروں شوخ دیدہ لوگوں کے لئے جن میں دین ودنیا کی غیرت نہیں ہوتی۔ ادّعائے حصول نبوت محمدیہ کا دروازہ کھولتے ہیں۔
مرزاقادیانی نے اسی (اشتہار ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹) پر اپنا نام ’’نبی‘‘ تجویز کر کے لکھا ہے کہ: ’’میرا نام محدث نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تحدیث کے معنی کسی کتاب لغت میں اظہار غیب نہیں ہے، مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔‘‘ ناظرین! توضیح المرام میں جس کے ٹائٹل پیج پر بھی الہامی چھپا ہوا ہے۔ مرزاقادیانی (توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰) پر لکھ چکے ہیں: ’’اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔‘‘ مرزاقادیانی ان ہر دو فقرات کو دیکھیں اور بتلائیں۔
(ان کو قسم کھانے پر بھی مجبور نہیں کیا جاتا) کہ الہامی کتاب میں آپ نے خدا کی طرف سے محدث ہوکر آنا لکھا تھا اور محدث کا ایک معنی سے نبی ہونا۔ اب اشتہار میں آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام محدث نہ رکھا جائے اور ایک معنی کی شرط بھی اٹھا کر صرف ’’نبی‘‘ کہا جائے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب سے پیشتر توضیح (حوالہ مذکور) کی یہ عبارت بھی پڑھ لیں۔ ’’محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہوتا ہے۔‘‘ براہ مہربانی بتلائیں کہ اب جو آپ نے نبی ورسول بن کر نبوت محمدیہ کا دعویٰ کیا ہے تو آپ کی پہلی نبوت ناقصہ ونبوت جزئیہ میں کیا کسر تھی اور اب وہ کیونکر پوری ہو گئی؟ دونوں حالتوں کا موازنہ بصراحت دکھلانا چاہئے۔ رہا یہ امر کہ محدث پر غیب ظاہر ہوتا ہے یا نہیں۔ سو توضیح المرام میں آپ نے لکھا ہے کہ: ’’محدث‘‘ پر امور غیبیہ ظاہر کئے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اشتہار کی عبارت سچی ہے اور تحدیث کے معنی کسی کتاب لغت میں اظہار غیب نہیں تو آپ نے الہامی کتاب میں یہ معنی کیونکر لکھ دئیے تھے؟ اور اگر الہام نے یہ معنی بتلائے تھے تو اب اس سے انکار کرنے کی کیا ضرورت قوی آ پڑی ہے۔
مرزاقادیانی سے یہ بھی التماس ہے کہ براہ مہربانی وہ حدیث شریف ’’سیکون فی امتی ثلٰثون دجالون کذابون کلہم یزعم انہ نبی‘‘ (ترمذی ج۲ ص۴۵، باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) کی بھی شائع کریں اور مسلمانوں کو سمجھا دیں کہ یہ تیس دجال وکذاب جس میں سے ہر ایک اپنے آپ کو نبی اللہ گمان کرتا ہو گا۔ امت محمدیہ کے اندر کس شان کے ہوں گے۔ آیا ان کا دعویٰ ظلی وبروزی طور پر نبی بننے کا ہو گا یا اور کس طرح؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بیان فرما دیں کہ جب مسیلمہ کذاب آنحضرتa کے حضور میں بھی اقرار شہادتین کر چکا تھا اور تحریروں میں بھی آنحضرتa کا نبی ورسول ہونا تسلیم کرتا تھا۔ صرف اتنی بات تھی کہ اپنے آپ کو بھی رسول کہتا تھا تو پھر اس کو کذاب کہنے کی کیا وجہ تھی اور آپ کے دعویٰ میں اس سے کیا مغائیرت ہے؟ مرزاقادیانی یہ بھی بتلادیں کہ اگر آپ بائیس سال سے نبی ورسول ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مریدان جناب کو اس دعویٰ کی آج تک خبر نہ ہوئی۔ کیا یہ تفہیم جناب کی کوتاہی ہے یا فہم مریدین کا قصور ہے؟ اور اگر مریدین یہ عرض کریں کہ جب آپ خود ہی الہامی کتابوں میں ’’من نیستم رسول‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۷۸، خزائن ج۳ ص۱۸۵) لکھتے اور اپنے آپ کو محدث بتلاتے رہے تو ہم لوگوں کا کیا قصور ہے۔ تب فرمائیے کہ اس رازداری، معما خوانی، چیستاں گوئی، نقاب افگنی سے کیا مدعا تھا؟ کیا انبیاء اللہ میں سے اور کسی نبی نے بھی ایسا کیا ہے کہ ان کے دعویٰ نبوت ورسالت کی خبر ان پر ایمان لانے والوں کو بھی سالہا سال تک نہ ہوئی ہو؟
مرزاقادیانی! آپ اپنی کتاب (تبلیغ مندرجہ آئینہ کمالات اسلام ص۴۳۷، ۴۳۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر ایک نظر ڈالیں۔ آپ نے بیان کیا ہے کہ: ’’جب حضرت عیسیٰm کو معلوم ہوا کہ ان کی امت نے لوگوں کو راہ حق سے دور پھینک کر ہلاک کر ڈالا ہے اور خود بغی وعصیان میں گرفتار ہے تو انہوں نے اللہ سے ایک نائب کی درخواست کی جو انہی کی حقیقت وجوہر کا مشہد ومشابہ اور بمنزلہ ان ہی کے اعضاء وجوارح کے ہو، اللہ نے ان کی دعاء کو قبول فرما کر میرے دل میں مسیح کے دل سے پھونکا گیا اور مجھے توجہات واردات مسیح کا ظرف بنایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ میرا نفس ونسمہ اس سے بہرہ ہو گیا اور اب میں وجود مسیح کے سلک میں اس طرح
پرو دیا گیا ہوں کہ ان کا روح میرے نفس کے اندر عیاں ہے اور ان کا وجود میرے اندر پنہاں مسیح کی جانب سے ایک برق کوند کر آئی اور میری روح نے اس سے کامل طور پر ملاقات کی مجھے وجود مسیح کے ساتھ جو الصاق ہوا ہے وہ تخیل سے بڑھ کر ہے۔ گویا میں خود مسیح بن گیا ہوں اور اپنی ہستی سے جدا ہوچکا ہوں۔ میرے آئینہ میں مسیح کا ہی ظہور وتجلی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل میرا جگر میری عروق میرے اوتار وجود مسیح سے ہی بھرے ہوئے ہیں اور میرا یہ وجود مسیح کے جوہر وجود کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔‘‘
اس وحدت وجود پر غور اور مکرر غور کے بعد مرزاقادیانی بتلائیں کہ جب آپ بالکل مسیح ہی بن گئے تو پھر آپ کا آیت خاتم النّبیین کے بعد نبی ورسول بننا کیوں کر ختمیت محمدی کے منافی نہیں۔ کیونکہ آپ مرزاغلام احمد قادیانی تو رہے نہیں۔ روح اور جسم سے مسیح بن چکے اور اپنی پہلی ہستی سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ نیز قدیم مسلمانوں کے عقیدہ نزول مسیح پر جو خود گھڑت اعتراضات آپ نے کئے ہیں وہ کیوں کر آپ پر وارد نہیں ہوئے؟ اس کا جواب دینے سے پیشتر یہ یاد رکھنا ہو گا کہ آپ گوشت پوست سے بالکل مسیح ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتلادیں کہ ایک دفعہ مسیح بن جانے کے بعد پھر جزوی طور پر آپ آنحضرتa کب اور کیونکر بنائے گئے؟ اور اگر یہ صحیح ہے کہ الہام براہین میں آپ کو محمد رسول اللہ بنایا گیا تھا تو پھر اس کے بعد مسیح بنائے جانے میں جو مقفیت ہوئی اس کی کیا وجہ ہے؟
آنحضرتa کا سید الانبیاء ہونا امید ہے کہ اب تک مرزاقادیانی تسلیم کرتے ہوں گے اور اگر آپ مسیح پہلے بنائے گئے اور محمد خاتم الانبیاء بعد میں تو الہام براہین کے کیا معنی ہیں؟ نیز یہ واقع کب ہوا؟ اور وحدت وجود مسیحی سے آپ کو جدا کر کے وحدت وجود محمدی کا درجہ وشرف کب عطاء ہوا؟
تبلیغ کے بعد (ازالہ الاوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳ ملخص) کو لیجئے۔ آپ نے کہا ہے کہ آیت: ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘میری شان میں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد آنحضرتa نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ آنحضرتa کا نام جمالی وجلالی صفت کے رو سے محمدa ہے اور احمد سے مراد صرف جمالی شخص ہے۔ (جو خود مرزاقادیانی ہیں)
مرزاقادیانی بتلائیں کہ ازالۃ الاوہام لکھتے وقت آپ نے ایک آیت کے تمسک سے آپ سے آپ کو محمدa کا غیر بنایا تھا اور غیرہونے کے وجوہات بھی خود ہی تحریر کئے تھے تو اب آپ خود ہی محمدa کیونکر ہو گئے؟ براہ مہربانی بتلائیے کہ آیت: ’’مبشراً برسول‘‘ سے آپ کا تمسک کرنا غلط تھا یا آیت محمد رسول اللہ سے استدلال غلط ہے اور چونکہ ازالہ بھی الہامی کتاب ہے۔ اس لئے کہ کون سا الہام غلط ہے اور منشاء غلطی کیا ہے؟
ناظرین! مرزاقادیانی کو جواب باصواب پر غور کرنے کے لئے چھوڑ کر مرزاقادیانی کے رنگ آمیز دعاوی کی بہار دیکھیں۔ پہلے آپ مجدد بنے اور پھر براہین کے چند مقامات پر حضرت مسیح کے دوبارہ نزول اور سیاست ملکی کو تسلیم کر کے خود ان کی پہلی زندگی کا نمونہ بننا تجویز وپسند فرمایا۔ پھر (توضیح وازالہ وغیرہ) وفات مسیح کا دعویٰ باندھ کر ان کے مثیل وجانشین بنے۔ پھر مسیح کو اپنے ممبر پر قدم رکھنے سے ڈانٹ بتانے لگے۔ پھر (تبلیغ) خود مسیح کا وجود دکھلائے کبھی حضرت فاروقq کی نظیر پیش کر کے محدث کہلائے اور کبھی ’’لا مہدی الّٰا عیسیٰ‘‘کی وضعی روایت کے تمسک سے مہدی وعیسیٰ (ازالہ) دونوں کود ہی بنے کبھی ملہموں پر فضیلت جتلانے کے لئے خلیفہ وقت وامام زماں کہلائے (رسالہ ضرورت امام) کبھی حضرت سلمان فارسیq والی حدیث (ازالہ) ’’رجل‘‘ کا شرف حاصل کرنے کے لئے فارسی النسل ہونے کا اظہار کیا اور کبھی اپنے آپ کو خاندان شاہی میں بتلانے کے لئے ’’سمرقندی الاصل‘‘ ہونا بتلایا۔ کبھی اپنی زمینداری کو بھی مطابق پیش گوئی بنانے کے لئے حدیث ’’حارث حراث‘‘ کا مصداق خود کو ٹھہرایا کبھی اپنی رسالت کے ثبوت میں آیت:’’ومبشراً برسول‘‘کو پیش کر کے احمد بن گئے۔ اب اشتہار ہذا میں محمدa ہونے کا دعویٰ ہے۔ فارسی النسل بننے کے بعد کی جگہ خاندان سیادت سے تعلق کا اظہار کیا ہے کہ ایک دادی سیدانی تھی۔ محدث کے کمالات کو دل سے محو اور عمرفاروقqکی نظیر کو چھوڑ کر اب سیرت صدیقی کا تذکرہ ہے۔ یہ جملہ مراتب اور جمیع مناسب الہامی کتابوں میں درج ہیں اور مریدان خوش فہم کے لئے بمصداق ’’ہرچہ پیدائے شود از دور پندارم توئی‘‘ ہر ایک پیش گوئی کے مورد خاص اور مصداق صحیح مرزاقادیانی ہی بنے ہوئے ہیں۔
مرزاقادیانی اشتہار مذکورہ میں کہتے ہیںکہ میں صاحب شریعت نہیں اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ محمدa کے کمالات معہ آنحضرتa کی نبوت کے مجھے دئیے گئے ہیں۔ دریافت طلب یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک آنحضرتa بھی صاحب شریعت ہیں یا نہیں اور اگر ہیں تو پھر اس کے کیا معنی ہیں کہ مرزاقادیانی کو نبوت تو محمدa کی ہی ملی اور معہ ذالک صاحب شریعت ہونے کا افتخار حاصل نہ ہو؟ معلوم ہوتا ہے کہ ہنوز اس راز کو مخفی رکھنے میں مصلحت حائل ہے۔ آخر ایک ایسا دن آئے گا جب آپ صاحب شریعت ہونے کا بھی صاف لفظوں میں اقرار کر کے اس غلطی کو بھی بے چارے مریدوں کے سرتھوپیں گے۔ (مصنف کی پیشین گوئی کے مطابق مرزاقادیانی نے اربعین میں صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اللہ وسایا) اور جس طرح آپ نے آج’’من نیستم رسول‘‘کے معنی ’’من رسول ہستم‘‘بتلائے ہیں۔ اسی طرح آگے چل کر ان الفاظ منفیہ کو بھی مثبتہ فرمادیں گے اور اس وقت بتلایا جائے گا کہ مسیح باوجود اتباع شریعت موسوی توریت کے چند احکام منسوخ کر دئیے تھے۔ اسی طرح مجھ کو بھی زیادہ اتباع شریعت محمدی ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ مرزاقادیانی کی تصنیفات کو غور سے دیکھنے والے پر مخفی نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے صاحب شریعت نہ ہونے پر بھی کس قدر ترمیم واصلاح شریعت محمدیہ کی بزعم خود کر دی ہے۔ سب سے زیادہ ضروری حصہ اسلام میں عقائد کا ہے اور اسی میں بہت کچھ مرزا کے خلاف پایا جاتا ہے۔ مسلمان اپنے بچوں کو صفت ایمان مجمل ان الفاظ میں یاد کرایا کرتے ہیں۔’’آمنت باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والبعث بعد الموت‘‘مرزاقادیانی بھی اس جملہ پر اپنا ایمان ہونا تحریر فرماچکے ہیں۔ لیکن جو کچھ انہوں نے ہر ایک نمبر پر شریعت محمدیہ سے عدول کیا ہے اسے مختصراً ظاہر کیا جاتا ہے۔
(مرزاقادیانی کو اپنے کلام پر وہی تحدّی ہے جو قرآن پاک کو، براہین سے تمسک ہے جو مسلمانوں کو قرآن سے، فرقہ کا نام بھی احمدی رکھ لیا ہے۔ حالانکہ الہام (براہین احمدیہ ص۵۲۲، خزائن ج۱ ص۶۲۳) میں محمدی رہنے کی ہدایت ہوئی تھی۔ کیا یہ سب امور صاحب شریعت ہونے کی تمہید نہیں؟)
شرع محمدیہ نے ہم کو بتلایا ہے کہ خدا ایک ہے کسی کا باپ ہونے یا فرزند بننے سے پاک ہے نہ وہ جسم ہے اور نہ وہ کسی جسم میں تشکل لیتا ہے وہ اپنی ذات وصفات میں یگانہ ہے۔ اللہ کو ثالث ثلثہ کہنے والے ملعون ہیں۔ روح القدس، مسیح، جملہ ملائک اور انبیاء سب اس کے بندے ہیں۔ اب مرزاقادیانی کے الہامات وتحریرات کو دیکھئے موعود اور الہامی فرزند کا خطاب ان الفاظ میں درج فرماتے ہیں: ’’فرزند دل بند گرامی ارجمند مظہر الحق ’’والعلا کأن اللہ نزل من السماء‘‘(تذکرہ ص۱۳۹، طبع چہارم) (گویا خود خدا آسمان سے اتر آیا) یہاں آپ نے خدا کا جسم انسانی میں متشکل ہونا مان لیا ہے۔ پھر مسیح کے نزول من السماء پر تو آپ کو سو اعتراض ہیں۔ مگر اللہ پاک کے نزول من السماء پر اور وہ بھی اس کو اپنا فرزند بنا کر ایک اعتراض بھی نہیں۔ اپنے اقتدار سے ’’کن‘‘ کہنے اور زمین وآسمان کے پیدا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)
پھر ایک اور الہام یہ ہے کہ: ’’تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۴، خزائن ج۲۲ ص۷۷)
مرزاقادیانی کے مذہب میں اس کو ’’لم یلد ولم یولد‘‘ کا ترجمہ کہنا چاہئے۔ ایک اور الہام یہ ہے: ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)
یہاں مرزاقادیانی نے اپنا درجہ صفات ربانی کا قرار دیا اور انسان فانی ہو کر ازلی وابدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ توضیح المرام میں تثلیث پاک کا مذہب نکالا اور روحانی طور پر مسیح کا اور اپنا ابن اللہ ہونا صحیح بتلایا۔ ایک اور الہام مرزاقادیانی ہے۔ ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۶ خزائن ج۲۲ ص۸۹)
شرع نے مسلمانوں کو یہ تعلیم ی ہے کہ وہ نورانی جسم والے اللہ کی مخلوق ہیں۔ وہ گروہ درگروہ ہیں۔ کسی گروہ کا کام تسبیح وتقدیس ہے۔ کوئی ہوا پر مؤکل ہے۔ کوئی پانی پر، کوئی
رزق رسانی پر، کوئی قبض ارواح پر، کوئی سوال مقبور پر، کوئی نفخ صور پر، وہ مؤمنین کی شیاطین سے حفاظت کرتے ہیں اور انبیاء اللہ کی نصرت کے لئے بارہا زمین پر اترتے ہیں اور وہ اہل ایمان کے لئے دعائے مغفرت وتوفیق طاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ جبرائیلm انبیاء اللہ کے پاس وحی پاک لایا کرتے تھے۔ آنحضرتa کے ساتھ قرآن پاک کا دور کیا کرتے تھے۔ چند غزوات میں مسلح ہو کر آنحضرتa کی نصرت وخدمت کے لئے آئے تھے۔ عزرائیلm قبض ارواح پر مامور ہیں۔ بہت سے فرشتے جو نیک بندوں اور بدکاروں کی جان نکالنے پر جداجدا مامور ہیں۔ ان کے ماتحت ہیں۔
مرزاقادیانی کو دیکھئے (ازالہ میں) وہ کہتے ہیں کہ ملائک نام ہے۔ ستاروں کی ارواح کی روحیں جو ایک قدم بھی اپنے ہیڈکوارٹر سے آگے پیچھے نہیں ہوتیں۔ آفتاب کی روح کا نام جبرائیلm ہے۔ وہ بھی کبھی زمین پر نہیں آیا۔ جبریلی نور ہر ایک پر پڑتا ہے۔ نبی پر بھی اور فاسق پر بھی۔ اس رنڈی پر بھی جو شراب پئے یار کو بغل میں لئے پڑی ہو۔ فرق صرف اتنا ہے جتنا چھوٹے بڑے آئینہ کا۔ عزرائیل زمین پر نہیں آتے اور اکیلا فرشہ اتنی بڑی دنیا میں خصوصاً بیماری اور جنگ کے ایام میں یہ خدمت کیوں کر سکتا ہے۔
شرع محمدیہ نے ہم کو سکھلایا ہے کہ جملہ کتابوں پر ایمان لانا چاہئے۔ تورات، زبور، انجیل کو نور ہدایت سمجھنا چاہئے اور قرآن پاک کو ان سب کا قول فیصل تسلیم کرنا چاہئے۔ مرزاقادیانی کو دیکھئے کہ تورات میں جو قصہ حضرت ایلیا کے ’’بجسدہ العنصری رفع الی السماء‘‘
کا ہے اس سے انکار کرتے ہیں اور انجیل میں حضرت مسیحm نے جن صاف اور صریح اور نہایت واضح الفاظ میں اپنے دوبارہ قبل از قیامت تشریف لانے کا ارشاد فرمایا ہے۔ اس سے روگرداں ہیں۔ قرآن مجید جب حضرت مسیحm کے قتل وصلب کی نفی کرتا ہے تو مرزاقادیانی پرزور الفاظ میں ان کا صلیب پر لٹکائے جانا بیان کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ آیات قرآنیہ میں جن الفاظ کو اپنے مطلب کے خلاف پاتے ہیں۔ ان کو حذف کر کے ازسرنو نظم قرآنی قائم کرتے ہیں۔ جس کی نظیر ازالہ میں آیت: ’’اوترقی فی السماء‘‘موجود ہے۔
شرع محمدیہ نے ہم کو بتلایا ہے کہ جملہ انبیاء صداقت اور تبلیغ میں مساوی درجہ رکھتے ہیں۔ سب پر یکساں ایمان لانا ہم پر فرض ہے۔ ایک نبی کی تکذیب یا توہین جملہ انبیاء کی تکذیب اور توہین ہے۔ انبیاء کے پاس وحی الٰہی پاک فرشتوں کی حفاظت کے ساتھ بھیجی جاتی ہے جس میں کبھی شیطان دخل نہیں کر سکتا اور نہ انبیاء کو وحی ربانی کے متعلق کوئی غلط فہمی یا شک پیدا ہوسکتا ہے۔ حضرت نوحm، حضرت ابراہیمm، حضرت موسیٰm، حضرت عیسیٰm ، حضرت محمد رسول اللہ a اولوالعزم رسول ہیں اور ان کو خاص فضیلتیں حاصل ہیں۔ محمد رسول اللہ a آخری نبی اور رسول ہیں۔ قیامت تک آپa کے بعد نہ کوئی نبی بنایا جائے گا اور نہ رسول۔ آنحضرتa کے اقرار رسالت اور نصرت کا میثاق جملہ انبیاء سے لیاگیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مرزاقادیانی کی تعلیم وتفہیم یہ ہے۔
انبیاء کی جماعت کثیر نے جھوٹی پیش گوئیاں بھی کی ہیں۔ انبیاء نے دھوکہ کھا کر شیطانی الہام کو ربانی وحی بھی سمجھ لیا ہے۔ شیطانی کلمہ کا دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے۔ کچھ تعجب نہیں کہ آنحضرتa کو قرآن مجید کے بعض الفاظ کے معانی وحقیقت معلوم نہ ہوئی ہو۔
(ازالہ اوہام ص۶۲۸، ۶۲۹، ۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۳۹، ۴۷۳)
مسیح کا مکاشفہ صاف نہ تھا۔ حضرت مسیح ہدایت وتوحید ودینی کام میں ناکامیاب رہے۔ مسیح کے معجزات عجوبہ نمائی تھے۔ میں ان کو مکروہ قابل نفرت سمجھتا ہوں۔
(ازالہ اوہام ص۳۰۱، ۳۰۹، ۶۹۰، خزائن ج۳ ص۲۵۴،۲۵۸، ۴۷۲)
کیا اس تعلیم سے انبیاء ورسل کی عصمت ومعجزات اور معرفت وکمالات کی عظمت وہی قائم رہ سکتی ہے جس کا قائم رکھنا شریعت محمدیہ نے فرض بتلایا ہے؟
اللہ پاک نے قرآن مجید میں حضرت خلیل الرحمن کا قصہ بیان فرمایا ہے جس میں چند زندہ پرند کو ذبح کرنے، ان کے گوشت پہاڑیوں پر پھینک دینے اور پھر حضرت خلیل الرحمن کی آواز پر پرندوں کا زندہ ہونا مذکور ہے اور بتلایا گیا ہے کہ مردوں کا زندہ کیا جانا اس
طرح پر ہو گا۔ پھر ایک بزرگوار کا دوسرا قصہ بیان فرمایا ہے جنہوں نے ایک پرانی بستی کے خرابہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ لوگ کیوں کر زندہ کئے جائیں گے؟ اللہ پاک نے ان کی سواری کو اور ان کو موت دی اور سوسال کے بعد پہلے ان کو زندہ کیا۔ پھر ان کی آنکھوں کے سامنے حمار کے گردوغبار کو گوشت وپوست سے مبدل فرمایا۔ انہوں نے ہڈیوں پر گوشت کو چڑھتے اور مٹی سے جسم حیوانی کو بنتے اور مردہ کو زندہ ہوتے بھی دیکھا اور پھر یہ بھی دکھایا گیا کہ طعام ذرہ بھی نہ بگڑا تھا۔ اس میں دونوں باتیں دکھلائی گئی ہیں کہ خدا اس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اس طرح اپنی حفاظت سے جسے چاہے بچا لیتا ہے۔ مرزاقادیانی کو دونوں قصوں کی حقیقت سے انکار ہے۔ حضرت خلیل الرحمن کے قصہ کو گوبر اور دہی آمیزش سے بچہ پیدا ہو جانے کی ترکیب پر محمول کرتے ہیں اور دوسرے قصہ کو ایک خراب سے بڑھ کر نہیں مانتے۔
ان کا فیصلہ مرزاقادیانی اس طرح کرتے ہیں کہ موت کے بعد ہی انسانی روح جنت یا دوزخ میں چلی جاتی ہے۔ اب اگر ان سے جنت یا دوزخ کی حقیقت پوچھئے تو اور ہی گل کھلاتے ہیں۔ مرزاقادیانی کو موازنہ کرنا چاہئے کہ کیا یہی وہ عقائد ہیں جو شریعت محمدیہ نے تعلیم کئے ہیں اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خود بدولت صاحب شریعت بھی ہیں؟
عقائد کے بعد عادات وعبادات ومعاملات میں بھی ایسی ہی مثالیں مل سکتی ہیں اور معترضین نے پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی شرع محمدی سے دیدہ ودانستہ تخلف کرتے ہیں۔ میں اس لئے ان کا ذکر نہیں کرتا کہ ان سے ذاتیات پر حملہ کرنے کا شبہ ہوتا ہے۔
میرے نزدیک قابل غور صرف یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی محمدa ہی بن گئے ہیں تو پھر صاحب شریعت کیوں نہیں؟ شاید انہوں نے سوچا ہو کہ میں صاحب شریعت ہونے سے انکار کر کے بہت سی ملامتوں اور اعتراضوں سے بچ سکوں گا۔ لیکن یہ خیال نہ کیا جب وہ نبوت محمدیہ کو لے کر بروز فرماتے ہیں تو پھر آنحضرتa کے لئے یہ کس قدر منقصت کا باعث ہے کہ کسی زمانہ میں حضور کی نبوت بلاشریعت بھی پائی جائے۔ یہ مقام تو بہت ہی غور کے قابل تھا۔ اسی اشتہار (ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹) میں مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو محمد ثانی بھی کہا ہے اور اسی اشتہار میں کمال اتحاد کی وجہ سے نفی غیریت بھی کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اوّل اور ثانی کا اطلاق غیریت جتلانے کے لئے کیا جایا کرتا ہے یا غیرت کی نفی کرنے کو؟ مرزاقادیانی نے ’’من تو شدم تومن شدی‘‘ کہہ کر کمال اتحاد کا ثبوت دیا ہے۔
اوّل… تو جب تک ’’من‘‘ کہنے والا اپنے آپ کو ’’من‘‘ اور مخاطب کو ’’تو‘‘ کہنے کی حالت میں ہے۔ اس وقت تک کیوں کر سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ ’’منی‘‘ اور ’’توئی‘‘ کی تقیدات سے نکل گیا ہے؟
دوم… مرزاقادیانی کو تو محمدa بن جانے میں وہ شرف ہو سکتا ہے جو ذرہ ناچیز کو آفتاب جہاں تاب بننے میں۔ مگر سید الانبیاء وفخر رسل کو مرزاغلام احمد قادیانی بننے کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے؟ (معاذ اللہ )
مرزاقادیانی کی تصنیفات دیکھنے سے جو تجربہ مجھے حاصل ہوا ہے اس پر بھروسہ کر کے میں کہہ سکتا ہوں کہ محمد ثانی مرزا اس لئے بنے ہیں کہ: ’’نقاش نقش ثانی بہتر کشدز اوّل‘‘ آپ کے پیش نظر ہے۔ چنانچہ پہلے مرزاقادیانی مثل مسیح بنے تھے۔ مگر پھر مسیح کے مکاشفہ کا مکدر بتلایا اور ان کے معجزات کو اپنے لئے ننگ وعار سمجھا۔ آنحضرتa پر جزوی فضیلت کثرت براہین ودلائل میں آپ اپنے لئے تجویز کر ہی چکے ہیں۔
اب میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ جن پیش گوئیوں کی بنیاد پر مرزاقادیانی نے اپنی غیب اور غیب دانی کی بناء پر نبوت ورسالت کا اظہار کیا ہے وہ کیا حالت رکھتی ہیں۔ مرزاقادیانی نے اپنی پیش گوئیوں کی تعداد دو سو(۲۰۰) سے زیادہ تحریر کی ہے جن کی تفصیل نامعلوم محض ہے۔
نوٹ: یہ ابتدائی بات ہے بعد میں دس لاکھ نشانات کا اعلان کیا۔
(تذکرہ الشہادتین ص۴۱، خزائن ج۲۰ ص۴۳)
اسلامی دنیا کی نگاہ ایک صرف ایک ہی پیش گوئی پر ہے جس کا تعلق مرزاقادیانی کی ذات خاص سے ہے۔ محمدی بیگم کے متعلق الہامی الفاظ جو مرزاقادیانی پر نازل ہوئے ہیں وہ ’’انازوّجناکہا‘‘ ہیں۔
(تذکرہ ص۱۶۱، طبع چہارم)
’’زوجناکہا‘‘ ماضی کا صیغہ ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ اللہ پاک کے حکم سے تزویج ہو چکی ہے۔ اگر یہ ارشاد ربانی ہے تو تعجب ہوتا ہے کہ تدابیر انسانی کیوں کر اسے ملیامیٹ کرسکیں کہ وہ عفیفہ دس بارہ سال اپنے جائز شوہر کے گھر میں آباد وشاد ہے۔
مرزاقادیانی: میں خیال کرتا ہوں کہ اس پیش گوئی کا حوالہ آپ کے دل دردمند کو دکھانا بھی ہے۔ مگر آپ فرمائیں کہ میری غرض نہ گستاخی ہے نہ آپ کو صدمہ پہنچانا۔
بلکہ صرف اس پیش گوئی کا ذکر کیاگیا ہے جس سے بذات خود جناب والا کو قلبی وشغفی اور روحی وجانی تعلق ہے۔ اسی ایک الہام پر آپ کے اظہار غیب کی قابلیت اور اس قابلیت کی بنیاد پر صداقت دعویٰ رسالت ونبوت کا بہت کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس بارہ میں میری التماس یہ ہے کہ مرزاقادیانی ایک مستقل رسالہ تحریر فرمادیں جس میں ناکامی یا دیر کے وجوہ اور دلائل مفصل درج ہوں۔ اس کتاب میں یہ بھی ذکر کیاجائے کہ اصل الہام میں ’’باکرہ‘‘ یا ’’ثیبہ‘‘ کا لفظ کیوں ہے۔ کیا الہام کنندہ کو یہ خبر تو ہو گی کہ اس مستورہ نے آپ کی زوجہ تو ضرور بننا ہے۔ مگر یہ اطلاع کیوں نہ ہوئی کہ اس کا پہلا نکاح ہو گا یا پچھلا۔
صورت سوال یہ ہے کہ حرف ’’یا‘‘ شک کے موقعہ پر بولا جایا کرتا ہے۔ اگر یہ الہام عالم الغیب کی جانب سے ہے تو اسے شک کیوں ہوا، اور جب الہام اظہار غیب کے لئے آپ پر نازل ہوا ہے تو شکیہ جملہ سے حتمی طور پر اظہار غیب کیوں کر متصور ہوسکتا ہے؟ مرزاقادیانی سے یہ بھی التماس ہے کہ جو مرید تکمیل یافتہ ہیں۔ ان کے نام شائع کر دیں تاکہ ناتمام کو مخالفین کے ساتھ حوصلہ بحث نہ رہے اور مسلمانوں کو لازم ہے کہ جن کے پاس مرزاقادیانی کی عطیہ سند نہ ہوا سے ہمیشہ ناقص ہی سمجھتے رہیں۔ مریدان مرزاقادیانی سے التماس ہے کہ کوشش فرما کر داغ ناواقفیت کو مٹائیں۔ ورنہ رسول پاک سے ایسی استغناء ایسی لاپرواہی تو کفران نعمت بلکہ کفر حقیقت ہے۔
والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!
فقط: تمت بالخیر
جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے تمام فرقوں کا متفقہ عقیدہ ہے جس کے متعلق تیرہ سو سال سے کبھی بھی اختلاف آراء نہیں ہوا۔ جھوٹے مدعیان نبوت ضرور پیدا ہوتے رہے لیکن امت مرحومہ نے متفق اللسان ہو کر ان کو خارج از دائرہ اسلام قرار دیا اور اس طرح گلزار اسلام کو پژمردہ ہونے سے محفوظ رکھا۔
مسلمانوں میں بہت سے فرقے پیدا ہوئے۔ مثلاً جبریہ، قدریہ، مرجیہ، معتزلہ، شیعہ، تفضیلیہ، مقلد، غیرمقلد، اہل قرآن، اہل حدیث وغیرہ اور ان میں زبردست مناظرے، مباحثے اور مجادلے بھی برپا ہوئے۔ لیکن آنحضرتa کے آخری نبی ہونے میں کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ سب سے خاتم النّبیین کے معنی یہی کئے کہ: ’’لا نبی بعدہ‘‘ {آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔}
فی الجملہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور مسلمانوں نے ہر زمانہ اور ہر ملک میں توحید الٰہی کے بعد اس عقیدہ کے متعلق بہت کچھ غیرت ایمانی اور جوش مذہبی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات معمولی سا غور وفکر کرنے سے بھی معلوم ہوسکتی ہے کہ اگر توحید الٰہی کا عقیدہ بمنزلہ بنیاد ہے تو ختم نبوت کا عقیدہ بمنزلہ عمارت ہے اور ظاہر ہے کہ اگر آنحضرتa کے بعد بھی انبیاء کا سلسلہ جاری رہتا تو پھر اسلام کا قصر رفیع کبھی کا منہدم ہو گیا ہوتا۔ اگر مسلمانوں نے ہمیشہ اس امر پر زور دیا ہے کہ آنحضرتa کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کو آئندہ انبیاء سے کوئی عداوت ہے۔ بلکہ وہ اس لئے اس عقیدہ پر مصر ہیں کہ اگر آنحضرتa کے بعد بھی کسی نبی کی ضرورت باقی ہے تو پھر آنحضرتa کی وہ خصوصیت جو آپa کو جمیع انبیاء سے ممتاز کرتی ہے باطل ہو جائے گی جو شخص چاہے یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ حضورa خاتم النّبیین نہیں ہیں۔ لیکن پھر وہ دائرہ اسلام سے یکسر اور مطلق خارج ہو جائے گا۔ اسلام سے اسے کوئی علاقہ نہ ہوگا۔
اسی لئے علامہ اقبالv فرماتے ہیں: ’’اسلام نسلی خیال کو کلیتہً ملیامیٹ کر کے اپنی بنیادیں صرف مذہبی خیال پر استوار کرتا ہے۔ ہر مسلمان اس مذہبی تحریک کو جو اسلام ہی کی آغوش میں پل کر جوان ہوئی ہو اور اس کے باوجود اپنی بنیاد کسی نئی نبوت پر رکھنے کی مدعی ہو اور تمام مسلمانوں کو جو اس تحریک کو اور اس کے مفروضہ الہامات کی صداقت کو قبول نہ کریں کافر قرار دے رہی ہو۔ اسلام کی وحدت کے لئے ایک زبردست خطرہ سمجھنے پر مجبور ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ نوع انسانی کی ثقاہت کی تاریخ میں غالباً سب سے پہلا اچھوتا عقیدہ ہے… اسلام جو نوع انسانی کی مختلف اقوام کو ایک سلک میں منسلک کرنے کا مدعی ہے کسی ایسی تحریک کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ کا موجب ہو۔‘‘
(ملخص حرف اقبال ص۱۲۱)
اس اقتباس سے جو دنیائے اسلام کے سب سے بڑے فلسفی شاعر اور عصر حاضر کے ایک نامور مفکر کے خیالات ومعتقدات کا آئینہ ہے۔
ناظرین کو بخوبی واضح ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان ختم نبوت کے عقیدہ پر اس قدر زور کیوں دیتا ہے؟ سبب یہ ہے کہ آنحضرتa کے بعد نبوت کو جاری تسلیم کرنے سے وحدت اسلامی پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔
مخبر صادقk نے پیش گوئی فرما دی تھی کہ میرے بعد میری امت میں تیس نبی جھوٹے پیدا ہوں گے۔ لیکن وہ سب کے سب اپنے دعویٰ میں کاذب ہوں گے۔ کیونکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔
چنانچہ اس پیش گوئی کے مطابق آنحضرتa کے بعد مختلف ممالک اور مختلف زمانوں میں کئی لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث، مختار ثقفی، میمون قداح، طلحہ بن خویلد، ابن مقنع، سلیمان قرمطی، بابک خرمی اور عیسیٰ بن مہرویہ مشہور دجال اور کذاب گزرے ہیں۔ ان افراد نے عرب اور ایران میں کافی تباہی وبربادی پھیلائی اور ہزارہا بندگان خدا کا خون بہایا۔
تقریباً ہزار سال تک اسلامی دنیا میں امن وامان رہا۔ لیکن موجودہ صدی کے آغاز میں پنجاب کی سیر حاصل سرزمین سے ایک مدعی نبوت کا ظہور ہوا جس نے کمال بے باکی سے حضرت ختمی مرتبتa کے فرمان کو پس پشت ڈال دیا اور مسلمانوں میں ازسر نو فتنہ وفساد کا دروازہ کھول دیا۔
اگرچہ مرزاغلام احمد قادیانی نے بہت سی ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ لیکن ان منازل کی وجہ سے ان کے دعویٰ کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عالم دین، زاہد، مناظر، مجدد، مثیل مسیح، مہدی، امام الزمان، لغوی نبی، امتی نبی، عکسی نبی، مجازی نبی، ظلی نبی اور بروزی نبی کے مناصب طے کرنے کے بعد انہوں نے غیرتشریعی مگر مستقل نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور جو شخص کسی زمانہ میں یہ کہا کرتا تھا کہ:
۱… ’’خاتم الانبیاءa کے بعد نبی کیسا؟‘‘
(انجام آتھم ص۲۸، خزائن ج۱۱ ص۲۸ حاشیہ)
۲… ’’یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ باوجود یکہ ہمارے نبی کریمa خاتم الانبیاء ہیں پھر کسی وقت دوسرا نبی آ جائے۔‘‘
(ایام الصلح ص۴۷، خزائن ج۱۴ ص۲۷۹)
۳…
ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بروشد اختتام
(درثمین ص۱۱۴، ضمیمہ سراج منیر ص ح، خزائن ج۱۲ ص۹۵)
اسی شخص نے آگے چل کر یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔
۱…
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آن جام را مرابتمام
(درثمین ص۱۷۱، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
۲…
آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
ازخطاہا ہمین است ایمانم
(درثمین ص۱۷۲، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
۳… ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)
۴… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)
۵… ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)
۶… ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘‘
(خط بنام اخبار عام درمجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۷)
۷… ’’بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ص۲۵، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)
اگرچہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری اور محترمہ محمدی بیگم صاحبہ کے مقابلہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کو شکست فاش ہوئی۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔
الف… ’’ڈاکٹر عبدالحکیم خان… جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی ہی میں ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا… مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا… جو شخص اللہ تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۳۲۱، ۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۶، ۳۳۷)
سب کو معلوم ہے کہ خداتعالیٰ کی قدرت سے انسانوں کی عبرت کے لئے مرزاغلام احمد قادیانی میعاد مقررہ کے اندر ہی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہیضہ میں مبتلاء ہوکر فوت ہو گیا اور ڈاکٹر صاحب چودہ سال تک اس کے بعد زندہ رہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا تھا کہ:
ب… ’’اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھا لے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹)
خدا کی قدرت اور مقام عبرت کہ مولوی ثناء اللہ صاحب تو بفضل خدا ابھی تک (۱۹۳۶ء) زندہ ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی سال بھر کے بعد ہیضہ میں مبتلاء ہوکر فوت ہو گیا۔ (مولانا ثناء اللہ نے ۱۵؍مارچ ۱۹۴۸ء سرگودھا میں انتقال فرمایا۔ مرتب)
مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:
ج… ’’نفس پیش گوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ: ’’لا تبدیل لکلمات اللہ ‘‘ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خداتعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)
خدا کی شان کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی انتہائی کوششوں، ترغیبوں اور ترہیبوں کے باوجود ’’منکوحہ آسمانی‘‘ ان کے نکاح میں نہ آئی اور جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی ۱۹۰۸ء میں انتقال کر گیا اور یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ اس لئے ایک طالب حق کے لئے ظل اور بروز حقیقت اور مجاز کی بحثوں میں الجھنے کی بجائے ان تین حقائق پر نظر ڈال لینی ہی کافی ہے۔ لیکن ان براہین کے باوجود آج ہمارے زمانہ میں بہت سے مسلمان مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کر کے ختم نبوت جیسے اہم اصول سے دستبردار ہو رہے ہیں اور رسول مدنیa کی غلامی سے نکل کر رسول قادیانی کی امت میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔
اس لئے اس ہیچمدان نے مناسب سمجھا کہ عام فہم انداز میں ختم نبوت پر ایک مضمون سپرد قلم کیا جائے تاکہ مسلمان بھائی اس نئے فتنہ کا شکار ہو کر دولت ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ واضح ہو کہ ختم نبوت کا عقیدہ اس قدر اہم ہے کہ خود مرزاغلام احمد قادیانی بھی دعویٰ نبوت سے قبل اس سے انکار کرنے کو اسلام سے خارج ہونے کے مترادف قرار دیتا تھا۔
چنانچہ (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷) پر لکھتا ہے کہ: ’’مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔‘‘
اس اقتباس سے یہ بات روزروشن کی طرح ثابت ہو گئی کہ جو مسلمان نبوت کا دعویٰ کرے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
(انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷ حاشیہ) پر لکھتا ہے کہ: ’’کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے؟ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرتa کے بعد رسول اور نبی ہوں۔‘‘
اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرتa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے (خواہ وہ کسی قسم کی کیوں نہ ہو؟ تشریعی ہو یا غیرتشریعی، ظلی ہو یا بروزی) وہ قرآن پاک پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔ الغرض دعویٰ نبوت سے پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کا بھی یہی مسلک تھا کہ آنحضرتa پر ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
مضمون کی اہمیت واضح کر دینے کے بعد اب میں ختم نبوت پر چار عنوانات کے ماتحت اظہار خیال کروں گا۔
۱… قرآن مجید۔
۲… حدیث شریف۔
۳… اجماع امت۔
۴… عقل سلیم۔
ختم نبوت کا کلام کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ نبوت کا مفہوم سمجھ لیا جائے تاکہ پھر ختم نبوت کے سمجھنے میں آسانی ہو۔
نبی کا لفظ عام ہے (بروزن فعیل) بمعنی اطلاع دینے والا یا اطلاع پہنچانے والا۔ لیکن شریعت اسلامیہ کی رو سے اس کے معنی محدود اور مخصوص ہیں جن کی توضیح آئندہ ہو گی۔
۱… سردست صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ صرف اطلاع دینے کا نام نبوت نہیں۔ اگر نبوت کا معیار لغوی معنی قرار دیا جائے تو پھر اطلاع یا بندگی اور اطلاع دہندگی کے لحاظ سے ہر شخص نبی ہے۔ کی شخص کی تخصیص نہیں کی جاسکتی۔
۲… اگر لغوی معنی میں یہ تخصیص کی جائے کہ اطلاع یا بندگی منجانب اللہ ہو تو اس کو بھی معیار نبوت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ کیونکہ اس صورت میں کم ازکم ہر مسلمان نبی ہے۔ کیونکہ ہر مسلمان قرآن مجید پر ایمان کھتا ہے۔ زید نے بکر سے کہا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے: ’’ان اللہ علٰی کل شیٔ قدیر‘‘ تو اس مفروضہ کی بناء پر زید اور بکر دونوں نبی ہیں۔ زید اطلاع دہندہ ہے۔ بکر اطلاع یا بندہ ہے۔
۳… اگر رؤیائے صادقہ کو نبوت کا معیار قرار دیا جائے تو پھر جس شخص کو سچی خواب آ جائے وہ نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ چونکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ بعض کفار کو بھی سچی خوابین آئیں تو اس معیار کی رو سے کفار بھی نبی ہوسکتے ہی۔ لیکن کوئی مسلمان انہیں نبی تو درکنار راست باز انسان بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔
۴… بعض علماء کا خیال ہے کہ نبی وہ ہے جس کی پاکی اور طہارت کا اعلان خداتعالیٰ کی طرف سے ہو جائے۔ لیکن یہ معیار بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مریمp کی پاکی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن وہ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے نبیہ نہ تھیں۔
۵… اگر صرف مکالمہ ومخاطبہ کو معیار نبوت قرار دیا جائے تو یہ شرف تو ابلیس اور فرعون کو بھی حاصل ہو چکا ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ محض مکالمہ ومخاطبہ کی بدولت یہ افراد نبی نہیں بن گئے۔
۶… اگر یہ کہا جائے کہ نبی وہ ہے جس پر خداتعالیٰ الہام ووحی نازل فرمائے تو اس مفروضہ کی بناء پر شہد کی مکھی، حضرت ام موسیٰm اور حضرت عیسیٰm کے حواریوں ان سب کو نبی تسلیم کرنا پڑے گا۔ بلکہ ہر شخص نبی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’فالہمہا فجورہا وتقوہا‘‘
۷… اگر تبلیغ آیات اللہ کو معیار نبوت قرار دیا جائے تو بھی کام نہیں چلتا۔ کیونکہ اس صورت میں ’’بلّغوا عنی ولو آیۃ‘‘کے مطابق ہر مبلغ نبی ہو جائے گا۔
آئیے اب دیکھیں کہ قرآن مجید نے نبوت کا معیار کس چیز کو قرار دیا ہے؟ قرآن مجید میں تفکر اور تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی وہ شخص ہے جو نجات انسانی کے لئے خداتعالیٰ کے تجویز کردہ نصب العین یا پروگرام سے براہ راست مطلع ہو کر اس کو نسل انسانی کے سامنے کتاب کی شکل میں پیش کرے اور خود اس پر عمل کر کے لوگوں کو دکھاوے تاکہ ان میں بھی اس پر عامل ہونے کی ترغیب پیدا ہو۔ اس نصب العین کو عرف عام میں کتاب، شریعت یا ہدایت کہتے ہیں۔ ہر نبی اپنے ساتھ ہدایت لاتا ہے۔ کیونکہ یہ بات عقلاً محال ہے کہ پیغامبر تو آئے مگر کوئی پیغام نہ لائے۔
اصلی چیز ہدایت ہے جس کے نازل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا سلسلہ قائم کیا اور اس کا عطاء کرنا کمال مہربانی سے اپنے اوپر لازم کر لیا۔ (ظاہر ہے کہ کوئی طاقت خدا کو کسی کام کرنے کے لئے مجبور نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے اپنی مرضی اور اختیار سے کرتا ہے اور یہی مسلمانوں کا مذہب ہے)
قانون ارتقاء کے ماتحت نصب العین کے اس حصہ میں جس کو شریعت کہتے ہیں اختلاف ہوتا رہا۔ لیکن اصل حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں ہوا جو نبی خداتعالیٰ کی طرف سے آیا۔ اس نے ایک ہی حقیقت کو پیش کیا: ’’اعبدوا اللہ ربی وربکم ولا تشرکوا باللہ شیئا‘‘آخر الامرجب قرآن مجید کے نزول کا زمانہ آیا تو مشیّت ایزدی نے مناسب سمجھا کہ اب ہدایت اخروی اور نجات ابدی کا مکمل نظام انسان کو عطاء کر دیا جائے۔ چنانچہ: ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدۃ:۳)‘‘ {آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور میں مذہب اسلام سے راضی ہوا۔}
اس پر شاہد عادل ہے۔ اس کے معنی بالکل صاف اور واضح ہیں جن میں کوئی دشواری یا ابہام نہیں ہے جو ہدایت یا پیغام آنحضرتa کی معرفت دنیا کو عطاء کیا گیا۔ بفحوائے نص قرآنی وہ من کل الوجوہ مکمل ہے۔ جس کے بعد اب کسی مزید ہدایت یا پیغام کی حاجت باقی نہیں ہے۔
پس اگر پیغام اور ہدایت ختم ہو گئی تو پیغمبر اور ہادی کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔
پس ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ عقیدہ ختم نبوت پر نص قطعی الدلالت ہے۔ قرآن مجید خاتم الکتب یعنی آخری کتاب ہے اور حضورa خاتم النّبیین یعنی آخری نبی ہیں۔ آپa پر ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی حقیقت کا اعلان مرزاغلام احمد قادیانی نے کسی زمانہ میں یوں کیا تھا ؎
ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بروشد اختتام
(ضمیمہ سراج منیر ص ح، خزائن ج۱۲ ص۹۵)
اگر کوئی شخص یہ شبہ وارد کرے کہ بعض انبیاء مثلاً یوشع، حزقیل، الیاس، ایوبo کو شریعت یا ہدایت عطاء نہیں کی گئی تو بارثبوت مدعی کے ذمہ ہے وہ ثابت کرے کہ فلاں فلاں رسول کو ہدایت عطاء نہیں کی گئی۔
آنحضرتa کے علاوہ جس قدر انبیاء دنیا میں گزرے ہیں سب کی لائی ہوئی ہدایت یا تو صفحہ ہستہ سے ناپید ہو گئی یا مسخ اور ناکارہ ہو گئی۔
الف… ویدوں کی زبان مردہ ہو گئی۔ آج نہ کوئی انہیں پڑھتا ہے نہ سمجھتا ہے اور نہ ان کی مسخ شدہ تعلیم زمانہ حال کا ساتھ دیتی ہے اور نہ کوئی ہندو ان کی صحت، واقعیت اور صداقت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ نہ اپنے دعویٰ کو ثابت کر سکتا ہے۔ کیونکہ ویدوں کی تصنیف کو کئی ہزار برس گزر گئے اور ہمارے پاس چند ہزار سال کا بھی کوئی قدیم نسخہ موجود نہیں ہے اور نہ خود ویدوں میں کسی جگہ یہ وعدہ موجود ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ محفوظ رہے گی۔
ب… جینی، پارسی اور بودھوں کے مذہبی نوشتوں کا بھی یہی حال ہے۔
ج… توریت، زبور اور انجیل تینوں مفقود ہو چکی ہیں۔ افسوس کہ اس مختصر مضمون میں اس کی تفصیل بیان نہیں ہوسکتی۔ ان کے ضائع ہو جانے کا خود یہودونصاریٰ کو اعتراف ہے۔ علاوہ بریں ان کتابوں کے جس قدر نسخے آج دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ بھی سب کے سب
محرف ہیں اور ان سب میں بکثرت اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لے دے کے دنیا میں صرف قرآن مجید ہی ایک ایسی مذہبی کتاب ہے جو نہ صرف ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہی ہے (اور جس کے غیرمحرف ہونے پر میور جیسا متعصب انسان گواہی دے رہا ہے) بلکہ بجنسہ موجود ہے اور اس کتاب کا دعویٰ ہے کہ باطل اس میں کبھی راہ نہ پا سکے گا اور جو ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے دنیا کو عطاء کی ہے وہ کبھی ناپید نہ ہو گی۔
’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (حجرات:۹)‘‘ {ہم نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور تحقیق ہم خود اس کے محافظ ہیں۔}
پس جب تک یہ کامل ہدایت دنیا میں موجود رہے گی اس وقت تک کسی ہادی کی ضرورت بھی لاحق نہ ہو گی۔ اس لئے آنحضرتa خاتم النّبیین ہیں۔
کسی نبی کا توریت کے مطابق فیصلہ کرنا اس امر کی دلیل نہیں کہ اس نبی کو ہدایت نہیں ملی۔ کیونکہ خود آنحضرتa نے کئی دفعہ توریت کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور سب جانتے ہیں کہ آپ خود صاحب کتاب ہیں۔ ان دو نصوص قرآنی کی روشنی میں یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا کہ آنحضرتa آخری نبی ہیں۔ آپa پر نبوت ختم ہو گئی۔
انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو فوزوفلاح کا بہترین طریقہ، نجات کا صحیح راستہ، زندگی کا ارفع واعلیٰ نصب العین، روحانی مدارج طے کرنے کا یقینی ذریعہ عطاء کر دیا جائے۔ لہٰذا جب کہ بفحوائے نص قرآنی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی شکل میں انسان کو کامل ہدایت عطاء کر دی تو جس مقصد کے لئے انبیاء کا سلسلہ جاری کیاگیا تھا وہ لامحالہ ختم ہو گیا اور منطق کا مسلمہ اصول ہے:’’اذا فات الشرط فات المشروط‘‘ {جب شرط فوت ہو جاتی ہے تو مشروط بھی فوت ہو جاتا ہے۔}
چونکہ آنحضرتa کے وسیلہ سے وہ کامل ہدایت عطاء کی گئی ہے۔ اس لئے منطقی طور پرآپa اس سلسلہ کے خاتم ہیں۔ اس لئے قرآن پاک نے صاف لفظوں میں اعلان
کر دیا کہ:’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘{محمدa تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ خداتعالیٰ کے رسول ہیں اور سلسلہ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔}
مندرجہ بالا تصریحات قرآنیہ کی روشنی میں خاتم النّبیین کی تفسیر بالکل آسان اور واضح ہے۔ ہم اس آیت کا ترجمہ خود نہیں کرتے بلکہ قادیانی حضرات کے امام اور مطاع کے الفاظ پیش کرتے ہیں۔
گواہ عاشق صادق درآستین باشد
’’یعنی محمدa تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبیa کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱)
اگرچہ عبارت اپنے مفہوم کے لحاظ سے کسی مزید تشریح کی محتاج نہیں۔ تاہم ایک حوالہ اور بھی ملاحظہ کر لیجئے: ’’آگاہ ہو کہ خدائے رحیم وکریم نے ہمارے نبیa کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے اور ہمارے نبیa نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ’’لا نبی بعدی‘‘یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)
جب تک مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اس وقت تک ظلی اور بروزی، تشریعی اور غیرتشریعی حقیقی اور مجازی کی تقسیم بھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معنی وہی کئے جاتے تھے جو سارے مسلمان کرتے ہیں۔ ان حوالوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی خدا کی طرف سے نہ تھا۔ ورنہ اس کو ابتداء ہی سے قرآن کا صحیح علم عطاء کر دیتا۔ مگر جیسا کہ ارباب نظر کو معلوم ہے کہ خدا نے ایک عرصہ تک ان کو نبوت کی حقیقت سے بے خبر رکھا۔
عربی زبان میں جس قدر مستند لغات ہیں سب میں خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی لکھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ (تاج العروس ج۱۶ ص۱۹۰، لسان العرب ج۴ ص۲۴، مفردات راغب ص۱۴۲، مجمع البحار ج۲ ص۱۵) چاروں میں خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی ہی ملتے ہیں۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ لغت مرتب کرنے والوں نے اپنا عقیدہ لکھ دیا ہے لیکن یہ محض دھوکہ ہے۔ بارثبوت مدعی کے ذمہ ہوتا ہے۔ وہ ثابت کریں کہ لغت بنانے والوں نے اپنا عقیدہ لکھا ہے۔ اس کے علاوہ E.W. LANE تو عیسائی ہے۔ اس نے اپنی ڈکشنری میں خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کیوں لکھ دئیے؟
اگرچہ قرآن مجید میں ختم نبوت پر متعدد نصوص موجود ہیں۔ لیکن میں اس مختصر مضمون میں صرف انہی تین نصوص پر اکتفاء کرتا ہوں اور اب احادیث صحیحہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔
پہلی حدیث:’’لا تقوم الساعۃ حتٰی یبعث کذابون دجالون کلہم یزعم انہ رسول اللہ وفی روایۃ یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج۲ ص۴۵، ابوداؤد ج۲ ص۱۳۶)‘‘{قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک بہت سے دجال اور کذاب نہ اٹھائے جائیں جن میں سے ہر ایک یہ بکتا ہو کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا۔}
اس حدیث میں خود آنحضرتa نے ایک فیصلہ کن بات فرمادی جس کے بعد کوئی مسلمان جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو گا خاتم النّبیین کے حقیقی مفہوم میں شک نہیں کرسکتا۔ حضورa نے اس کے معنی خود کر دئیے کہ میں سلسلہ انبیاء کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ میں لائے نافیہ جنس کی نفی کرتا ہے۔ یعنی کسی قسم کا نبی نہیں پیدا ہو گا۔ ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔
چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی نے بھی (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) پر لکھا ہے کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔‘‘
سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے بعد کون سی وحی ایسی نازل ہو گئی جس کی رو سے اب ’’لا نبی بعدی‘‘ میں وہی لائے نافیہ جنس کی نفی نہیں کر سکتا۔
بسوخت عقل زحیرت کہ این چہ بوالعجبی است
دوسری حدیث ملاحظہ ہو:’’ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنٰی بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ہلّا وضعت ہذہ اللبنۃ قال فانا لبنۃ وانا خاتم النّبیین (بخاری ج۱ ص۵۰۱، مسلم ج۲ ص۲۴۸)‘‘ {میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ہو اور اس کو آراستہ پیراستہ کیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس کے پاس چکر لگا رہے ہوں اور خوش ہوتے ہوں اور کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ (کہ عمارت مکمل ہو جاتی) فرمایا آنحضرتa نے کہ میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النّبیین ہوں۔}
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالانبیاء کے ہیں اور یہ کہ قصر نبوت مکمل ہو چکا ہے۔ اب کسی اینٹ کی گنجائش نہیں ہے۔
قربان جائیے آنحضرتa کے آپ نے کیسی خوبصورتی کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان فرمادیا کہ میں آخری نبی ہوں۔ آپa فرماتے ہیں کہ سلسلہ بعثت انبیاء کو ایک عمارت تصور کر لو۔ عمارت اینٹوں سے پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ معمار ایک عرصہ تک اس عمارت کو اینٹوں سے بناتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ عمارت پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی اور صرف ایک اینٹ کی کسر باقی رہ گئی۔ آخر ایک دن اس نے وہ آخری اینٹ بھی لگا دی۔ کیا اب کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی بڑا کاریگر کیوں نہ ہو اس عمارت میں کسی اینٹ کا اضافہ کر سکتا ہے؟
اس طرح اس قصر نبوت کی تکمیل کے بعد نہ تشریعی نبوت کی اینٹ کی گنجائش ہے، نہ غیرتشریعی یا ظلی وبروزی ولغوی ومجازی کی۔ ہاں! خلق خدا کو گمراہ کرنے کی بات دوسری بات ہے۔ نبوت کیا چیز ہے انسان نے تو خدا کے دعوے کئے ہیں۔
تیسری حدیث: ’’وختم بی النبیون (رواہ مسلم فی الفضائل ج۱ ص۱۹۹)‘‘ امام مسلم نے اس حدیث کو آنحضرتa کے فضائل کے باب میں درج کیا
ہے۔ اس حدیث میں چھ فضیلتوں کا ذکر ہے۔ چھٹی فضیلت یہ ہے کہ میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کیاگیا۔ اس حدیث میں اس تحریف کی بھی جڑ کاٹ دی گئی جو لفظ خاتم میں کی جاتی ہے۔ خاتم النّبیین کی جگہ ’’ختم بی النبیون‘‘ کہاگیا اور اس میں کسی قسم کے نبی کا استثناء موجود نہیں۔
چوتھی حدیث: ’’انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجہ ص۲۹۷)‘‘ {میں سب نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں آنے والے ہو۔} یعنی آپa کے بعد کوئی شخص اس امت کے لئے نبی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا۔
ان احادیث صحیحہ کی موجودگی میں نہ کوئی مسلمان نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے اور نہ کوئی مسلمان اس مدعی کی تصدیق کی جرأت کر سکتا ہے۔
اب ہم بعض مفسرین کے اقوال پیش کرتے ہیں:
۱… ابوجعفر ابن جریر طبریv اپنی تفسیر میں حضرت قتادہq سے خاتم النّبیین کے معنی یوں بیان فرماتے ہیں: ’عن قتادۃ ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین اے آخرہم (طبری ج۱۰ ص۱۶)‘‘{حضرت قتادہq سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ آپaاللہ کے رسول اور خاتم النّبیین بمعنی آخر النّبیین ہیں۔}
۲… امام سیوطیv نے (درمنثور ج۵ ص۲۰۴) میں بحوالہ عبدابن حمید حضرت امام حسنq سے نقل کیا ہے کہ: ’’عن الحسن فی قولہ وخاتم النّبیین قال ختم اللہ النّبیین بمحمدa وکان آخر من بعث‘‘{حضرت امام حسنq سے آیت خاتم النّبیین کے متعلق یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو آنحضرتa پر ختم کر دیا اور آپa ان رسولوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمائے آخری ہیں۔}
کیا ان صراحتوں کے بعد بھی ظلی اور بروزی کی گنجائش نکل سکتی ہے؟
اس کے علاوہ یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ظلی اور بروزی کی تقسیم سراسر غیرقرآنی ہے۔ قرآن مجید یا احادیث صحیحہ میں کسی جگہ یہ مرقوم نہیں کہ حقیقی نبوت تو بند ہو گئی مگر مجازی نبوت باقی ہے۔ پس خود ساختہ تقسیم کے دامن میں پناہ لینا سراسر خلاف دیانت ہے۔ ’’نعوذ باللہ من شرور انفسنا‘‘
۳… علامہ زمخشریv نے اپنی تفسیر کشاف میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپa کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ نبوت آپa کی ذات پر ختم ہو گئی۔
(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کشاف ج۳ ص۵۴۴)
۴… امام رازیv نے بھی یہی معنی کئے ہیں کہ آنحضرتa کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔
(تفصیل کے لئے دیکھو تفسیر کبیر ج۱۳ جز۲۵ ص۲۱۴)
۵… علامہ آلوسیv بغدادی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ: ’’آنحضرتa خاتم النّبیین ہیں۔ اس لئے خاتم المرسلینa بھی ہیں۔ آپa کے بعد قیامت تک اب وصف نبوت ورسالت کسی جن وانس میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ ختم نبوت کی تصریح قرآن میں موجود ہے اور اس پر ایمان رکھنا ازبس ضروری ہے۔ اس کا منکر کافر ہے۔‘‘
(تفصیل کے لئے دیکھو روح المعانی ج۸ جز۲۲ ص۳۹)
۶… علامہ زرقانیv (شرح مواہب لدنیہ ج۵ ص۲۶۷) میں لکھتے ہیں کہ: ’’آنحضرتa کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپa سب انبیاء اور رسل کے ختم کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ یعنی آخر النّبیین یعنی وہ جس نے انبیاء کو ختم کیا وہ جس پر انبیاء ختم کئے گئے۔‘‘
ناظرین کرام! غور فرمائیں کہ دنیائے اسلام کے بزرگ ترین مفسرین نے خاتم النّبیین کے معنی یہی کئے ہیں کہ آپa کے بعد قیامت تک کوئی نبی پیدا نہ ہو گا۔ کیسے افسوس کا مقام ہے کہ اس قدر تصریحات کے باوجود آج تک بے باکی کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا جارہا ہے اور اپنے نہ ماننے والوں کو کافر بلکہ ’’ذریۃ البغایا‘‘ {کنجریوں کی اولاد} بنایا جارہا ہے اور قرآن مجید کی وہ تفسیر کی جارہی ہے جو تیرہ سو سال میں کسی مفسر، محدث، فقیہ یا عالم کے ذہن میں نہیں آئی تھی۔ کیا خوب کہا ہے حضرت اکبر مرحوم الہ آبادی نے ؎
گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
گلے میں جو آئیں وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
حضورa کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا اور اگرچہ وہ
آنحضرتa کی رسالت اور قرآن مجید کا منکر نہ تھا۔ تاہم جمیع صحابہ کرامi نے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
(تاریخ طبری ج۳ ص۲۴۴) پر مرقوم ہے کہ اگرچہ مسیلمہ کذاب آنحضرتa کی نبوت، قرآن مجیدا ور جمیع اسلامی احکام پر ایمان رکھتا تھا۔ لیکن ختم نبوت کے بدیہی مسئلہ کے انکار کی بناء پر اور عویٰ نبوت کرنے کی وجہ سے تمام صحابہi اور عامۃ المسلمین نے اسے اور اس کی جماعت کو کافر سمجھا اور کسی نے یہ نہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں، کلمہ گو ہیں، نماز پڑھتے ہیں۔ ان کو کس طرح کافر سمجھا جائے؟
قرآن مجید، حدیث شریف، تصریحات آئمہ ومفسرین اور اجماع امت کے بعد اگرچہ عقلی دلائل کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تاہم اتمام حجت کے لئے ہم عقلی پہلو سے بھی اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ دیکھا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ کس واسطے قائم کیا؟ اس کا جواب ہر عقلمند آدمی یہی دے گا کہ جب اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے اور بنی نوع آدم کی جسمانی غوروپرداخت کا اس نے انتظام کیا ہے تو روحانی غور وپرداخت کا بھی کوئی نہ کوئی انتظام کیا ہو گا اور وہ انتظام اس کے سواء اور کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی شخص کو ہم کلامی کا شرف عطاء کرے اور اس کے واسطے سے بنی نوع آدم کو ہدایت عطاء کرے تاکہ وہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
ابتداء میں مختلف اقوام میں جداگانہ طور پر انبیاء مبعوث ہوتے رہے اور خدا کا پیغام بندوں کو پہنچاتے رہے۔ لیکن جب اس کی مشیّت نافذہ نے یہ مناسب سمجھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام دنیا کے لئے ایک کامل قانون نافذ کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے جناب محمدa کی معرفت قرآن مجید نازل کر دیا جو تمام دنیا کے لئے ہے اور اسی لئے آنحضرتa کو تمام دنیا کے لئے رحمت بنادیا۔ ’’وما ارسلنٰک الا رحمۃ للعالمین‘‘
قرآن مجید وہ کتاب ہے جس پر چل کر انسان خلیفۃ اللہ علی الارض کے مرتبہ پر فائز ہو سکتا ہے۔ نجات اخروی کے لئے جن جن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے وہ سب اس میں
موجود ہیں۔ پھر اس نصب العین کی حفاظت کا وعدہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاکہ یہ کتاب قیامت تک انسان کو شمع ہدایت دکھاتی رہے۔
انبیاء کی بعثت کا مقصد صرف یہی تھا کہ انسان ہدایت پائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو گیا تو اب عقلی طور پر بعثت انبیاء کا سلسلہ بند ہو جانا چاہئے تھا۔ چنانچہ اسی لئے آنحضرتa کو خاتم النّبیین فرمادیا کہ اب نہ قرآن مجید کے بعد کوئی ہدایت نازل ہو گی اور نہ آنحضرتa کے بعد کوئی نبی آئے گا۔
جس شئے کا ایک آغاز ہے اس کا ایک انجام بھی ہونا چاہئے۔ جب اللہ تعالیٰ کو کوئی نیا پیغام ہی نازل نہیں کرنا تو پھر پیغمبر کیوں آئے؟
فرض کیجئے آپ ایک مکان بنواتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے معمار اور مزدور عمارت بنانے کے لئے مقرر کرتے ہیں وہ ایک عرصہ معین تک کام کر کے اس مکان کو مکمل کرتے ہیں جب وہ مکان بن کر تیار ہو جاتا ہے تو معمار اور مزدور لامحالہ رخصت ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب ان کا کام ختم ہو گیا کہ یہ ممکن ہے کہ مکان تو بن کر تیار ہو جائے۔ لیکن معمار اور مزدور بیکار بیٹھے رہیں اور آپ انہیں رخصت نہ کریں؟
بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ نبوت تو ایک رحمت ہے۔ اگر آنحضرتa پر نبوت ختم ہو گئی تو (نعوذ باللہ ) آپa قاطع رحمت ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو وہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن مجید بھی ایک رحمت ہے۔ پھر یہی اعتراض وہ قرآن کے خاتم الکتب ہونے پر کیوں نہیں کرتے؟ عجیب منطق ہے کہ قرآن مجید کے بعد کوئی ہدایت نازل نہ ہو تو قرآن مجید پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن آنحضرتa کے بعد کوئی نبی نہ آئے تو حضورa کی ذات مورد اعتراض قرار پائے؟
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے بے جا اعتراضات کرتے ہیں وہ نبوت کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور بے جا تعصب نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے۔ اگر حضورa کے بعد بھی نبیوں کی ضرورت باقی ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ آپa کا فیض ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور اس سے بڑھ کر آپa کی اور کیا توہین ہوسکتی ہے کہ امت
محمدیہ آپa کی غلامی کا حلقہ اتار کر دوسرے نبی کی غلامی کا حلقہ پہن لے۔
اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عصر حاضر کے سربرآوردہ مفکر اور بزرگ ترین اسلامی فلسفی علامہ اقبال مدظلہ نے اپنی زندہ جاوید کتاب ’’رموز بے خودی‘‘ میں ختم نبوت کے متعلق جو خیالات ظاہر فرمائے ہیں۔ ان سے بھی مسلمانوں کو روشناس کردیا جائے۔
رموز بے خودی ص۱۱۸ پر علامہ موصوف یوں گوہر فشانی کرتے ہیں:
۱…
پس خدا برما شریعت ختم کرد
بر رسول ما رسالت ختم کرد
الغرض اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں پر اپنی پسندیدہ شریعت کو اور ہمارے رسول اکرمa پر نبوت ورسالت کو ختم کر دیا۔
۲…
رونق از ما محفل ایام را
او رسل را ختم وما اقوام را
دنیا کی رونق اب قیامت تک ہمارے ہی دم سے وابستہ ہے۔ آنجنابa رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں اور ہم اقوام کے۔
۳…
خدمت ساقی گری برما گذاشت
داد مارا آخریں جامے کہ داشت
اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لوگوں کو توحید کا جام پلانے کا کام ہمارے سپرد کر دیا اور یہ جام (پیغام قرآن) جو آخری جام ہے اس نے ہمیں عنایت فرمادیا۔
۴…
لا نبی بعدی ز احسان خدا است
پردۂ ناموس دین مصطفی است
یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آنحضرتa کو خاتم النّبیین بنا کر بھیجا اور حضورa کا خاتم ہونا ہی آپa کے مذہب کے لئے باعث امتیاز ہے۔ یعنی اسلام کو جمیع ادیان پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ خداتعالیٰ کا آخری پیغام ہے اور ہادی اسلامm اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ کیونکہ خداتعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے اپنی نعمت بندوں پر کامل کر دی۔ اب قیامت تک نہ کسی نبی کی ضرورت ہے نہ کسی پیغام کی۔
اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ:
۵،۶…
قوم را سرمایۂ قوت ازو
حفظ سر وحدت ملت ازو
حق تعالیٰ نقش ہر دعویٰ شکست
تاابد اسلام را شیرازہ بست
یعنی آپa کے آخر الانبیاء ہونے کے سبب ہی ملت اسلامیہ کو قوت وطاقت حاصل ہوئی اور ہو گی اور اسی نکتہ میں ملت کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپa کو آخر النّبیین بنا کر قیامت تک ہر مدعی نبوت کے دجل کا تاروپود بکھیر دیا اور ہمیشہ کے لئے اسلام کا شیرازۂ ملی استوار کر دیا۔ یعنی نہ اب کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ کوئی جداگانہ امت قائم ہوسکتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضورa کو خاتم النّبیین بنا کر وحدت ملی کو پارہ پارہ ہونے سے محفوظ کر دیا۔
غور سے دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ علامہ موصوف نے ان چھ اشعار میں ختم نبوت کے مسئلہ پر قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کا عطر کھینچ کر رکھ دیاہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جو کچھ اس فقیر نے گزشتہ اوراق میں لکھا ہے علامہ موصوف نے کمال بلاغت کے ساتھ اس کو ان چھ اشعار میں قلمبند کر دیا ہے تو مبالغہ نہ ہو گا۔
خداتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو توفیق ارزانی فرمائے کہ خالی الذہن ہو کر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے مطالب پر غور کریں اور اس حقیقت کو حرز جان بنائیں کہ نبوت ورسالت آنحضرتa پر ختم ہو گئی۔ اگر قرآن مجید کامل، مکمل اور آخری ہدایت ہے تو لامحالہ حضورa کامل، مکمل اور آخری نبی ہیں۔ آپa کے بعد کسی شخص کو نبی تسلیم کرنا آپa کی صریح توہین اور تحقیر ہی نہیں بلکہ اسلام سے خارج ہو جانے کے مترادف ہے اور جیسا کہ ان اوراق کے مطالعہ سے ظاہر ہو گا۔ اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
واٰخردعونا ان الحمد ﷲ رب العالمین!
فقیر فانی یوسف سلیم چشتی عفی عنہ
جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شناخت مجدد
۳۴۲
دیباچہ
۳۴۳
مجدد کا تخیل
۳۴۵
حدیث مجدد
۳۴۵
مجدد کا اصطلاحی مفہوم
۳۴۷
تجدید کی نوعیت
۳۴۷
معیار مجددیت
۳۵۲
۱…علم قرآن وحدیث
۳۵۲
۲…قوت اصلاح
۳۵۳
۳…زہد وتقویٰ
۳۵۴
۴…حریت آموزی
۳۵۴
۵…اعلائے کلمتہ الحق
۳۵۵
۶…خلق
۳۵۶
۷…قبولیت
۳۵۶
۸…دنیادار نہ ہو
۳۵۷
۹…عاجزی وانکساری
۳۵۷
۱۰…کارہائے نمایاں
۳۵۷
مرزاغلام احمد قادیانی
۳۵۸
معیار اوّل:علوم ظاہری وباطنی
۳۶۳
یار محمد قادیانی مدعی نبوت
۳۶۹
احمد نور کابلی مدعی نبوت
۳۶۹
عبداللطیف مدعی نبوت
۳۷۰
چراغ دین جموی مدعی نبوت
۳۷۰
غلام محمد لاہوری مدعی نبوت
۳۷۰
خلیفہ قادیان کے نام مخصوص آسمانی چٹھی
۳۷۰
عبداللہ تیماپوری مدعی نبوت
۳۷۱
صدیق دیندار انجمن مدعی نبوت
۳۷۱
معیار دوم:اصلاح عقائد ورسوم
۳۸۳
معیار سوم:تقویٰ
۳۸۹
محمدی بیگم کی پیش گوئی
۳۹۰
عدالت میں اقرارنامہ
۴۱۹
معیار چہارم:اخلاق حسنہ
۴۲۶
معیار پنجم:اعلائے کلمتہ الحق
۴۳۰
معیار ششم:حریت آموزی
۴۳۳
معیار ہفتم:قبولیت دعاء
۴۳۷
معیار ہشتم:دنیادار نہ ہو
۴۴۲
معیار نہم:عاجزی وانکساری
۴۵۱
معیار دہم:کارہائے نمایاں
۴۵۶
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس عنوان پر عالی جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا مضمون ۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۶ء کے ماہنامہ ’’حقیقت اسلام لاہور‘‘ میں قسط وار شائع ہوا۔ اس کی آخری دو قسطیں تو میسر آگئیں مگر پہلی قسط نہ مل سکی۔۱۹۹۰ء میں کتاب ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ میں لکھا تھا کہ یہ مضمون مکمل مل جائے تو شائع کرنے کے قابل ہے۔ بارہ سال اس مضمون کے حصول کے لئے کئی لائبریریوں کو کھنگالا مگر کامیابی نہ ہوئی۔ ۱۹۹۹ء گرمیوں میں محترم پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب پروفیسر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے توسط سے ’’سردار جھنڈیر لائبریری تحصیل میلسی‘‘ حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہاں ردقادیانیت کی کتب دیکھتے دیکھتے اپنی جہالت پر ترس آیا کہ جسے صرف ماہنامہ رسالہ میں قسط وار مضمون سمجھ رہا تھا وہ تو جون۱۹۳۶ء میں ’’شناخت مجدد‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے۔ کتاب کیا ملی، خزانہ ہاتھ لگ گیا۔ اللہ تعالیٰ ’’سردار جھنڈیرلائبریری‘‘ کے مالکان کو جزائے خیر دیں۔ ان کی علم دوستی کہ انہوں نے کتاب فوٹو کرانے کے لئے مہیا فرمادی۔ قادیانی کتب کے حوالہ جات نئے لگا کر اسے جامع بنادیا گیا ہے۔ آج سے پینسٹھ سال قبل شائع ہونیوالی گرانقدر کتاب پیش خدمت ہے۔ یہ کتاب لاہوری مرزائیوں کے رد میں لکھی گئی ہے۔ اس میں ’’دس اصول‘‘ مقرر کرکے ان پر مرزا قادیانی کو جانچا گیا ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی مجدد تو درکنار شرافت کے معیار پر بھی پورا نہیں اترا۔ لیجئے پڑھئے!
(فقیر اللہ وسایا)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
یہ مضمون جواب کتابی شکل میں شائع ہورہا ہے۔ میں نے پارسال مکرمی ماسٹر محمد احسان صاحب مدظلہ کی خاص فرمائش اور ان کے شدید اصرار پر لکھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنی ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے کوئی مضمون حسب دلخواہ نہیں لکھ سکتا لیکن سخت کفران نعمت ہوگا اگر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کروں کہ اس نے اپنے خاص فضل وکرم سے اس ناچیز خدمت کو رنگ قبول عطاء فرمایا۔ لوگوں نے اس مضمون کو میری توقع سے کہیں زیادہ پسند کیا۔ چنانچہ دفتر میں اب تک متعدد خطوط موصول ہوچکے ہیں جن میں اظہار پسندیدگی کیا گیا ہے۔ چند قادیانی حضرات نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس مضمون کے پڑھنے سے پہلے ہم کٹر مرزائی تھے لیکن اب انشراح صدر حاصل ہوگیا ہے اور دوبارہ مسلمان ہوچکے ہیں۔
اکثر دوستوں نے تاکید فرمائی کہ اس مضمون کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ اس کا حلقہ اشاعت وسیع ہوسکے۔ اگرچہ علامہ دوراں حکیم الامت مفکر اسلام علامہ اقبال مدظلہ کے مضمون ’’اسلام اور احمدیت‘‘ کے بعد اب کسی اور کتاب کی اشاعت کی ضرورت باقی نہیں رہی لیکن محض اس وجہ سے مجھے اس امر کی جسارت ہوئی کہ علامہ موصوف کا مضمون بہت فلسفیانہ اور عالمانہ اور تحقیق پر مبنی ہے جس سے صرف علماء اور فضلاء ہی مستفید ہوسکتے ہیں اور یہ مضمون جو آپ کے سامنے ہے نہایت سلیس عبارت اور سادہ انداز میں لکھا گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ معمولی لیاقت کا آدمی بھی اسے بخوبی سمجھ سکتا ہے۔
میں نے اس مضمون میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا ہے۔ مجدد کی شناخت کا جو معیار پیش کیا ہے وہ عون المعبود، شرح سنن ابی دائود سے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ سب ان کی یا سلسلہ احمدیہ کی مستند کتابوں سے ماخوذ ہے۔ اسلوب بیان اور لب ولہجہ کے متعلق خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ تہذیب اور متانت کے درجہ سے نہ گرنے پائے۔ میرا مقصود اس تحریر سے کسی کی دل آزاری نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی خیرخواہی اور
اصلاح حال۔علامہ اقبال نے اپنے مضمون میں ایک جگہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ کیا اچھا ہو اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی جملہ تصانیف کا مطالعہ کرکے ان کی دعاوی پر نفسیاتی زاویہ نگاہ سے تنقید کرے اور اپنی اس تحقیق کو مسلمانوں کے فائدہ کے لئے کتاب کی شکل میں مرتب کردے۔ ان شاء اللہ ! اگر مجھے فرصت ہوئی تو میں آئندہ سال تک اس اچھوتے موضوع پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھ کر ہدیہ ناظرین کروں گا۔ تاکہ علامہ کے ارشاد کی تعمیل بھی ہوجائے اور مسلمانوں کی خدمت بھی۔
مکرمی ماسٹر محمد احسان صاحب کے دل میں خدمت اسلام والمسلمین کا جو زبردست جذبہ موجود ہے اس کو دیکھ کر مجھے توقع ہوتی ہے کہ ان شا اللہ ! مستقبل قریب میں اسلامی تصنیفات کا ایک مستقل سلسلہ شروع ہوجائے گا جو موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی ضرورت کو پورا کرنے اور مسلمانوں میں مذہبی اور تبلیغی بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔ اس کام کے لئے وسیع پیمانہ پر تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ مسلمانوں کا اخلاقی اور مذہبی فرض یہ ہے کہ کثیر تعداد میں پیکولمیٹڈ کے حصے خرید کر کمپنی کے کارکنوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ اسلامی تصنیفات کو جلد از جلد حلیۂ طبع سے آراستہ کرکے قوم کے سامنے پیش کرسکیں۔
ماسٹر صاحب موصوف نے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم پر بھروسہ کرکے اسلامی خدمات کا بیڑا اٹھا لیا ہے اور ان کی توجہ سے موازنہ مذاہب پر ایک اہم اور مسبوط کتاب کی تصنیف کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اسلامی تعلیمات کا دنیا کے تمام مروجہ مذاہب کی تعلیمات سے موازنہ کیا جائے گا۔ یہ کتاب جس پایہ کی ہوگی، اس کا اندازہ اس پراسپیکٹس سے ہوسکے گا جو اس کے متعلق عنقریب شائع ہونے والا ہے۔آخر میں ان تمام دوستوں کی قدر دانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس ناچیز مذہبی خدمات کو بنظر استحسان دیکھا اور پسند فرمایا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس خدمت کو مزید قبولیت عطاء فرمائے اور بیش از بیش قادیانی حضرات کی ہدایت کا موجب بنائے۔ آمین!
واخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین!
فقیر یوسف سلیم چشتی عفی عنہ
۱۰؍اپریل۱۹۳۶ء، ۱۶؍محرم الحرام ۱۳۵۵ھ
واضح ہو کہ اسلام میں مجددین ومصلحین امت کی بعثت کا تخیل عقائد میں داخل نہیں ہے اور نہ اس پر نجات کا دار ومدار ہے۔ آنحضرتa کی رسالت اور قرآن مجید کی حقانیت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا نجات وفلاح اخروی کے لئے کافی وافی ہے۔ اگر ایک مسلمان قرآن مجید کو اپنا ہادی وپیشواء بنالے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اس بات کی بھی تلاش کرے کہ میرے زمانہ میں کون شخص مرتبہ مجددیت پر فائز ہے اور اگر اسے یہ معلوم بھی ہوجائے کہ فلاں شخص مجدد ہے توبھی اس کے لئے یہ لازمی یا ضروری نہیں کہ وہ اس کی مجددیت پر ایمان لائے۔ کیونکہ اسلام میں کسی مجدد کی مجددیت پر ایمان لانا فرض یا واجب قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے انکار سے اس کے اسلام اور ایمان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کا یہ فعل کسی نص صریح کی تکذیب کو مستلزم نہیں۔ اسی لئے کسی زمانہ میں کسی مفسر، محدث یا امام نے مجددین پر ایمان لانے کو شرط اسلام یا ایمان قرار نہیں دیا۔ آنحضرتa کے بعد کسی شخص پر ایمان لانا یا کسی کو ضامن نجات سمجھنا یا کسی کی اطاعت کو فرض قرار دینا یا فرض سمجھنا فائدہ کے عوض الٹا نقصان کا موجب ہے۔ کیونکہ ایسا سمجھنا صریحی طور پر شرک فی الرسالت ہے اور فقیر کی رائے میں یہ بات سراسر باعث خسران مبین ہے۔ آنحضرتa کے بعدامت اسلامیہ میں کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنی اطاعت کا طالب ہو۔ الاّ بطریق امارت المؤمنین! ورنہ ایسا شخص خواہ وہ کوئی ہو یکسر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آنحضرتa نے شخصیت پرستی کا دروازہ بالکل مسدود کردیا۔ آپa کے بعد قیامت تک کوئی شخص ایسا نہیں پیدا ہوگا جس پر ایمان لانا مسلمانوں کے لئے ضروری ہو۔
ان تصریحات ضروریہ کے بعد اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں شروع سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اس امت میں مجددین ومصلحین پیدا ہوتے رہیں گے۔
اس خیال کا مبنیٰ اور ماخذ سنن ابودائود کی ایک حدیث ہے جسے میں ذیل میں نقل کرتا ہوں:
’’ عن ابی ہریرہq فیما اعلم عن رسول اللہ a قال ان اللہ یبعث لھذہ الامۃ علیٰ راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا ۔۔سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب مایذکر فی قرن المائۃ ج۲ ص۱۳۲‘‘ {حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ اللہ اس امت کے لئے ہر صدی کے آغاز میں ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو دین کی اصلاح کرے گا۔}
سنن ابو دائود، صحاح ستہ میں شامل ہے اور محدثین کا عموماً اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے۔ مثلاً حاکم نے اپنی (مستدرک ج۵ ص۷۳۰ نمبر۸۶۳۹طبع بیروت) میں اور امام بیہقی نے اپنی مدخل میں اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ نواب صدیق حسن خاں مرحوم نے اپنی کتاب (حجج الکرامہ ص۵۱) میں لکھا ہے کہ حدیث مجدد، ہم کو ابودائود، امام حاکم اور امام بیہقی کی معرفت پہنچی ہے اور اس کی صحت مسلم ہے۔ نیز ملا علی قاریv نے (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۱ ص۳۰۲) پر لکھا ہے کہ یہ حدیث جو ہم کو ابودائود کی معرفت پہنچی ہے، صحیح ہے۔ اس کے راوی سب ثقہ ہیں۔
القصہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی صحت روایتاً اور درایتاً دونوں طریقوں سے ثابت ہوسکتی ہے۔ اوّل الذکر طریق اوپر مذکور ہوچکا اوردرایتاً اس لئے صحیح ہے کہ جب آنحضرتa خاتم الانبیاء ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپa کے بعد قیامت تک کوئی شخص نبوت کے مرتبہ پر فائز نہیں ہوسکتا۔ باب نبوت بہ پیرائے وحی رسالت تاقیامت بند ہوچکا ہے۔ تشریعی یا غیرتشریعی کسی قسم کا نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ جب بعثت انبیاء کا مقصد یعنی اعطائے ہدایت حاصل ہوچکا تو پھر نبی کی بعثت ایک فعل عبث ہوا اور اللہ تعالیٰ کی شان اس سے کہیں ارفع ہے کہ وہ کوئی کام ایسا کرے جو حکمت اور مقصد سے خالی ہو:’’فعل الحکیم لایخلوعن الحکمۃ‘‘
لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مرورایام سے دین کی حقیقت عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور بدعات ومحدثات کا رواج ہوجاتا ہے۔ پس لازمی ہے کہ ہر صدی میں کم از کم ایک بندہ خدا کا ایسا پیدا ہو جو لوگوں کو کتاب وسنت کی طرف بلائے اور دین اسلام کو از سر نو زندہ کرے اور اس کی حقیقی خوبیوں کو از سر نو عالم آشکارا کرے تاکہ حق وباطل میں امتیاز ہوسکے۔
مجدد کے لفظی معنی تجدید کرنے والے کے ہیں لیکن اصطلاح میں مجدد اس شخص کو کہتے ہیں جو ان بدعات اور خرابیوں کو دور کرسکے جن کی وجہ سے حقائق ومعارف اسلام دوبارہ اپنی اصلی شان میں نظر آسکیں۔
بظاہر نبی اور مجدد میں بڑی حد تک مشابہت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ دونوں کا کام اصلاح خلق ہے۔ لیکن ایک اہم فرق بھی موجود ہے جو دونوں کو ایک دوسرے سے جدا اور صاف طور سے متمیّز کردیتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ نبی کتاب لاتا ہے اور خدا کا پیغام لوگوں کو سناتا ہے اور اس کتاب اور پیغام کی بناء پر لوگوں کو ایک نئے آئین اور نئے طریق کی طرف بلاتا ہے۔ وہ انبیائے ماسبق کا مطیع اور تابع نہیں ہوتا۔ یعنی وہ پرانے دین کو پیش نہیں کرتا بلکہ اپنا دین اور اپنی شریعت جاری کرتا ہے اور اس کی بناء پر لوگوں کے عقائد واعمال کی اصلاح کرتا ہے۔ لیکن مجدد نہ کوئی کتاب لاتا ہے اور نہ نیا دستور العمل پیش کرتا ہے اور نہ کوئی دعویٰ کرتا ہے اور نہ منکرین ومؤمنین میں امتیاز روا رکھتا ہے، نہ اپنے منکرین کو کافر کہتا ہے اور نہ کسی نئے آئین کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے نہ وہ کوئی امت بناتا ہے اور نہ شریعت میں کمی بیشی کرسکتا ہے۔ وہ جس نبی کی امت میں ہے اس امت کے اندر رہ کر اسی نبی کے دین کو جس کا وہ خود پابند ہے از سر نوزندہ کرتا ہے۔ اس کی بعثت کا مقصد بدعات سیئہ کا دور کرنا ہوتا ہے یعنی وہ لوگوں کو صرف کتاب اور سنت کی طرف بلاتا ہے جن کی طرف سے لوگ غافل ہیں۔ دعویٰ تو بڑی چیز ہے۔ اس کے لئے یہ بھی لازمی نہیں کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ میں مجدد ہوں۔ اگر کسی نے کہا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مجددیت کا دعویٰ کوئی لازمی اور ضروری چیز ہے۔
چنانچہ اپنے قول کی تائید میں فقیر ابودائود شریف کی شرح عون المعبود کی عبارت پیش کرتا ہے:’’قد عرفت مما سبق ان المراد من التجدید احیاء مااندرس من العمل بالکتاب والسنۃ والا مربمقتضا ھما واماتۃ ماظھر من البدع
والمحدثات قال فی مجالس الا برار والمراد من تجدید الدین لامۃ احیاء ما اندرس من العمل بالکتاب والسنۃ والا مربمقتضا ھما وقال فیہ لایعلم ذلک المجدد الا بغلبۃ الظن ممن عاصرہ من العلماء بقرائن احوالہ بعلمہ والا نتفاع اذا لمجدد للدین لا بد ان یکون عالما بالعلوم الدینیۃ الظاھرۃ والباطنۃ ناصراً للسنۃ قامعاً للبدعۃ وان یعم علمہ اھل الزمانۃ وقال القاری فی المرقات اے یبین السنۃ من البد عۃ ویکثر العلم ویعزاھلہ ویقمع البدعۃ ویکسر اھلھا (عون المعبود شرح ابوداؤد باب مایذکر فی قرن المائۃ ج۴ ص۱۸۰)‘‘{بیان مذکورہ بالا سے واضح ہوگا کہ تجدید سے مراد یہ ہے کہ کتاب اور سنت کے عمل میں سے جو باتیں مٹ چکی ہوں ان کو از سر نو زندہ کیاجائے اور لوگوں کو ان دونوں پر عامل ہونے کا حکم دیا جائے اور جو بدعات ومحدثات اور امور غیر شرعی دین میں داخل ہوگئے ہوں ان کو بالکل نیست ونابود کردیا جائے۔چنانچہ مجالس الابرار نے لکھا ہے کہ امت کے لئے تجدید دین سے مراد یہ ہے کہ عمل بالکتاب والسنۃ میں سے جو باتیں مٹ چکی ہوں ان کو از سر نو زندہ کیا جائے اور ان کے اقتضاء کے مطابق حکم کیا جائے اور انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کسی شخص کو یقینی طور پر مجدد نہیں کہا جاسکتا ۔ ہاں! اس کی طرف گمان کیا جاسکتا ہے۔ علمائے امت میں جو لوگ اس کے ہمعصر ہوتے ہیں وہ اس کے احوال کے قرائن اور اس کے علم سے استفادہ کرنے کی بدولت یہ قیاس کرتے ہیں کہ شاید وہ مجدد ہے جو شخص مجدد ہو اس کے لئے یہ لازمی اور ضروری ہے کہ وہ دین کے علوم ظاہری اور باطنی دونوں میں وحید العصر اور فرید الدہر ہو۔ سنت کا حامی ہو۔ بدعت کا قلع قمع کرنے والا ہو اور دنیا کے لوگ اس کے علم سے پیش از پیش بہرہ اندوز ہوں۔ نیز ملا علی قاریv نے مشکوٰۃ شریف کی شرح مرقات میں لکھا ہے کہ مجدد وہ ہوتا ہے جو سنت اور بدعت میں امتیاز کرکے دکھائے اور علوم کے دریا بہائے اور علماء کی عزت کرے۔ بدعات کا قلع وقمع کردے اور اہل بدعت کو ذلیل ورسوا کردے۔}
اس عبارت سے مجدد کا معنی اور مفہوم بالکل واضح ہوگیا۔ یعنی مجدد وہ ہے جو کہ:
۱… کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ a کے عمل میں سے جو کچھ مٹ گیا ہو، اسے از سر نو
یادوبارہ زندہ کردے۔ مثلاً اگر اس کے زمانہ میں لوگ توحید سے دور ہوگئے ہوں یا خداتعالیٰ کے متعلق کوئی طریقہ ایسا رائج ہوگیا ہو جو کتاب اللہ میں مذکور نہ ہو یا شریعت حقہ کے کسی صریح حکم کو پس پشت ڈال دیا گیا ہو تو مجدد کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو دوبارہ توحید کی طرف بلائے۔
۲… کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ a کے مطابق حکم کرے۔ یعنی لوگوں سے کوئی بات ایسی نہ کہے جو کتاب وسنت میں مذکور نہ ہو اور نہ ان کو کسی ایسے کام کا حکم دے جو ان دونوں سے ثابت نہ ہو۔
۳… بدعات اور محدثات کو مٹادے۔ بدعات اور محدثات سے مراد وہ امور ہیں جن کا شارعk نے حکم نہیں دیا لیکن لوگوں نے خود اپنی مرضی سے یا دیگر مذاہب کی تقلید سے داخل مذہب کرتے ہوں اور ان کو نجات کے لئے ضروری سمجھ لیا ہو۔ بدعت کے لفظی معنی ہیں (دین میں نئی بات نکالنا) اور یہی چیز ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ مثلاً دین اسلام میں نبوت کی دو قسمیں قرار دینا تشریعی اور غیر تشریعی۔ حالانکہ کتاب وسنت میں ان کا کسی جگہ ذکر نہیں ہے۔
۴… مجدد وہ ہے جس کے لئے دعویٰ کرنا ضروری نہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ نجات میری اتباع میں منحصر ہے یا ’’ بے بہرہ آنکہ دور بماندز لنگرم‘‘ اس کے ہمعصر علماء اس کی خدمات دینی، اس کی علمیت، اس کے زہد واتقاء، اس کی روحانیت، اس کی پاکیزگی، اس کی فیض رسانی کو دیکھ کر اس کے متعلق حسن ظن قائم کرتے ہیں کہ غالباً یہ شخص مجدد ہے اور آئندہ نسلیں اس کے کارناموں کی وجہ سے اسے مجدد کے لقب سے یاد کرتی ہیں۔ مثلاً ہندوستان میں حضرت مجدد الف ثانیv اور حضرت شاہ ولی اللہ v کہ آج دنیائے اسلام ان کو اپنا سرتاج سمجھتی ہے اور دل وجان سے ان کی دینی خدمات کا اعتراف کرتی ہے۔
عبارت میں دو لفظ قابل غور ہیں۔ نمبرایک: غلبہ ظن اور انتفاع بعلمہ یعنی مسلمانوں کیاکثریت کا گمان غالب یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص مجدد ہے اور یہ گمان کس وجہ سے ہوتا ہے؟ محض اس لئے کہ لوگ اس شخص کے جاری کردہ چشمہ ہائے علوم سے جوق در جوق سیراب ہوتے ہیں۔
۵… مجدد وہ ہے جو اپنے زمانہ میں علوم ظاہری اور باطنی میں اپنا جواب نہ رکھتا ہو۔ واضح ہو کہ مذہب اسلام ایک روحانی مذہب ہے اور اس کے معیار فضیلت بھی روحانی ہیں جس طرح بزرگی کا معیار تقویٰ ہے۔ اسی طرح فضیلت کا معیار علم ہے۔ مجدد کی سب سے
بڑی شناخت یہ ہے کہ وہ علوم ظاہری اور باطنی دونوں میں ایسا بلند پایۂ رکھتا ہو کہ اس کے ہمعصر علماء اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کریں۔ واضح ہو کہ علوم ظاہری کے ساتھ علوم باطنی کی بھی شرط ہے۔ یعنی اگر وہ ایک طرف مبتدعین اور اہل ہواء کی تردید کے لئے علوم عقلیہ ونقلیہ میں نہایت بلند مرتبہ رکھتا ہو کہ بدلائل نیرّہ ان کے وساوس اور اعتراضات کو رفع کرسکے تو دوسری طرف مسلمانوں کو روحانیت کے بلند مقام پر پہنچانے کی صلاحیت اور قابلیت بھی رکھتا ہو۔ یعنی مجدد کے لئے یہی کافی نہیں کہ وہ چند کتابیں لکھ دے یا چند مناظرے کرے یا چند نظمیں شائع کردے یا چند پیش گوئیاں کردے۔ بلکہ ان سب باتوں کے علاوہ علوم باطنی میں بھی اس کا پایۂ اس قدر بلند ہو کہ وہ اپنی روحانیت سے لوگوں میں انقلاب پیدا کرسکے اور جو لوگ خداتعالیٰ سے ملنا چاہیں ان کو خدا سے ملاسکے۔
۶… جو سنت رسول اللہ a کی حمایت کرے اور اس کی کوششوں سے سنت کو بدعت پر فتح حاصل ہو، یعنی وہ سنت کا ناصر ہو اور رسول اللہ a کا نائب ہو۔
۷… جو بدعات کا قلع قمع کردے۔ ان کی لغویت عالم آشکارا کردے۔
۸… جو مسلمانوں میں علوم کا چرچا کردے۔
۹… جو علماء کی عزت کرے۔
۱۰… جو اہل بدعت کو ذلیل ورسوا کردے۔
خلاصہ اس تمام بحث کا یہ ہے کہ:
۱… مجدد کے لئے دعویٰ کرنا ضروری نہیں۔
۲… عام مسلمانوں کے لئے مجدد کی شناخت فرض نہیں۔
۳… اس کے تقدس اور تورع کو دیکھ کر اس کی خدمات دینیہ کو دیکھ کر اس کی طرف گمان کیا جاتا ہے کہ وہ مجدد ہے۔
۴… وہ لوگوں کو کتاب اور سنت کی طرف بلاتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ایک صدی میں صرف ایک ہی مجدد مبعوث ہواور نہ یہ ضروری ہے کہ سارے علماء کا ایک شخص کی ذات پر اتفاق ہوجائے اور یہ اس لئے کہ دین میں مجدد کی حیثیت صرف خادم اسلام کی ہے۔ اس کا کام لوگوں کو خالص اسلام کی طرف بلانا ہے جو
کتاب وسنت میں مندرج ہے اور ممکن ہے کہ اللہ یہ فضل ایک سے زائد اشخاص کو عنایت فرمادے۔ چنانچہ شارح ابودائود نے شرح مذکورہ بالا میں (ص۱۸۱) پر ایک فہرست ان بزرگان ملت کی مرتب کی ہے جن کو امت اسلامیہ نے مجدد وقت تسلیم کیا ہے۔ ذیل میں اسے بھی نقل کئے دیتا ہوں تاکہ میرے دعویٰ پر دلیل ہو۔
پہلی صدی: حضرت عمر ابن عبدالعزیزv
دوسری صدی: حضرت امام شافعیv
تیسری صدی: ابن شریحv
چوتھی صدی: امام باقلانیv یا امام اسفرائینیv یا حضرت سہلv
پانچویں صدی: امام حجۃ الاسلام محمد المدعوبغزالیv
چھٹی صدی: امام رازیv صاحب تفسیر کبیر
ساتویں صدی: ابن دقیق العیدv
آٹھویں صدی: امام بلقینیv یا حافظ زین الدینv
نویں صدی: امام جلال الدین السیوطیv
دسویں صدی: امام شمس الدین ابن شہاب الدین رملیv
گیارہویں صدی: حضرت مجدد الف ثانیv یا امام ابراہیم بن حسن کردیv
بارہویں صدی: حضرت شاہ ولی اللہ یا شیخ صالح بن محمد نوح الفلانیv یا السیدالمرتضیٰ الحسینیv
تیرہویں صدی: مولانا محمد قاسم دیوبندیv یا سید نذیر حسین محدث دہلویv یا قاضی حسین بن محسن انصاریv
اس فہرست کے خاتمہ پر (صاحب عون المعبود ص۱۸۲) پر یوں لکھتے ہیں: ’’ھذا ھوظنی فی ھولاء الا کابر الثلاثۃ انھم من المجددین علی راس المائۃ الثالثۃ عشر واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم‘‘{یعنی میرا گمان یہ ہے کہ ان تین حضرات میں سے کوئی ایک صاحب اس صدی کے مجدد ہیں۔}
ممکن ہے ممالک روم وشام ومصر وعراق میں کسی دوسرے شخص کو یہ مرتبہ نصیب ہوا
ہو۔ کیونکہ یہ تینوں بزرگ ہندوستان کے باشندے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مختلف ممالک میں مختلف بزرگان امت اس مرتبہ پر فائز رہے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مختلف لوگوں نے مختلف بزرگوں کو مجدد تسلیم کیا ہو۔
اس فہرست کے مطالعہ سے یہ بات بھی ظاہر ہوسکتی ہے کہ بعض صدیاں ایسی گزری ہیں جن میں مجدد کی شخصیت کے متعلق علمائے امت میں اتفاق آراء نہیں ہوسکا۔مثلاً چوتھی، آٹھویں، گیارہویں۔ وغیرہ!
صاحب عون المعبود نے اپنے زمانہ کے تین بزرگوں کا نام پیش کرکے لکھا ہے کہ میرے ظن (خیال) کے مطابق ان تین بزرگوں میں سے ایک بزرگ مجدد ہو گا۔ یہاں پر لفظ ظن قابل غور ہے۔ انہوںنے یہ نہیں لکھا کہ میرا یقین ہے کہ فلاں شخص مجدد ہے بلکہ محض اپنا گمان لکھا ہے اور تین صاحبوں کا نام لکھا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نہ مجدد کے لئے دعویٰ کرنا ضروری ہے اور نہ مسلمانوں پر اس کی شناخت فرض اور واجب ہے۔
جب مجدد کی خدمات دینیہ کا آفتاب نصف النہار پر جلوہ گر ہوتا ہے تو مسلمان خود بخود اس کی روشنی سے مستفید ہوکر اس کے آفتاب ہدایت ومرکز کرامت ہونے کے معترف ہوجاتے ہیں اور عوام درکنار خود علماء کا سراس کے سامنے جھک جاتا ہے۔
ان تصریحات کے بعد اب میں وہ شرائط پیش کرتا ہوں جن کا مجدد میں پایا جانا۔میری رائے میں اشد ضروری ہے۔
۱ … علم قرآن وحدیث: پہلی شرط یہ کہ مجدد اپنے زمانہ میں قرآن مجید کا سب سے بڑاعالم ہو، تاکہ اس کے حقائق ومعارف سن کر عوام وخواص دونوں اس کے گرویدہ ہوجائیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک علوم ظاہری کے ساتھ ساتھ علوم باطنی کسی شخص کو حاصل نہ ہوں وہ قرآن مجید کے معارف عالیہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس اگر ایک طرف مجدد منطق اور فلسفہ کا ماہر ہو تو دوسری طرف وہ تصوف اور سلوک کے مقامات بھی طے کرچکا ہو۔
بقول امام غزالیv: ’’جو شخص تصوف میں مرتبہ بلند نہیں رکھتا وہ نبوت ورسالت، وحی والہام وغیرہ کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ سوائے اس کے کہ ان لفظوں کو زبان سے ادا کرلے۔‘‘
مثال کے طور پر میں اس موقع پر حضرت مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندیv کا ذکر کروں گا کہ میری رائے میں وہ تیرہویں صدی کے مجددین میںسے گزرے ہیں۔ مولانا موصوف کے تجرعلمی اور منطقیانہ موشگافیوں کی کماحقہ داد دینا فقیر کے دائرہ اقتدار سے باہر ہے۔ میں تو ان کے شاگردوں کی صف نعال میں بھی بیٹھنے کے لائق نہیں ہوں۔ ان کی تصانیف آج باآسانی دستیاب ہوسکتی ہیں اور ان کے مطالعہ سے ان کی غیر معمولی علمی قابلیت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے جس بات کا میں اس جگہ ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب مسلمانان رڑ کی (ضلع سہارنپور) کی دعوت پر مولانا موصوف کھدر کے لباس میں ملبوث عصا ہاتھ میں لئے پیادہ پاء اس قصبہ میں پہنچے تو پنڈت دیانندآنجہانی کو مناظرے کے لئے رقعہ بھیجا۔ پنڈت مذکور نے جو شاہجہاں پور کے ’’میلہ خدا شناسی‘‘ میں مولانا کی بے پناہ منطق کے سامنے سپر انداز ہوچکا تھا اور اپنے حریف کی علمی قابلیت کا اچھی طرح اندازہ کرچکا تھا مناظرہ سے گریز کیا اور لیت ولعل شروع کردی۔ مولانا نے کہلابھیجا کہ میں بغیر شرائط مناظرہ کے لئے تیار ہوں تم ایک دفعہ مجمع عام میں آکر ان اعتراضات کا اعادہ کردو جو پرسوں تم نے سر بازار اسلام پر وارد کئے ہیں۔ اس نے کہلا بھیجا کہ میں اس شرط پر آپ سے مناظرہ کروں گا کہ آپ اپنے خدا کو مجھے دکھادیں۔ مولانا نے جواب میں لکھا کہ تمہاری شرط منظور ہے۔اس پر پنڈت مذکور کے ہمراہیوں نے کہا چلئے اب کیا دیر ہے؟ نہ آپ کی شرط پوری ہوگی نہ مناظرہ ہوگا۔ دیانندصاحب نے کہا مجھے یقین ہے کہ مولوی قاسم! واقعی خدا کو دکھادے گا اور فوراً اسباب باندھ کر ’’رڑ کی‘‘ سے راہ فرار اختیار کی۔
مقصود اس واقعہ نگاری سے یہ ہے کہ مجدد بننے کے لئے صرف دس پانچ الٹی سیدھی کتابیں لکھ لینا کافی نہیں ہیں۔ مجدد وہ ہے جو ’’کسی گھر بند نہ ہو‘‘ ضرورت پڑنے پر خدا کو بھی دکھا سکے۔ ظاہر ہے کہ اتنا بڑا دعویٰ وہی کرسکتا ہے جو صدرا اور شمس بازغہ کے علاوہ مکتب محمدیہ میں بھی برسوں زانوئے ادب تہ کرچکا ہو:
نہ ہرکہ مو بتراشد قلندری داند
۲… قوت اصلاح: مجدد کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ اس میں اصلاح کی خاص اور غیر معمولی قوت ہو اور یہ بات اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب اس نے پہلے اپنے احوال کی
اصلاح کرلی ہو۔ ورنہ یوں تو ہر شخص وعظ ونصائح کا دفتر کھول سکتا ہے۔ اخلاق حسنہ کا درس دے سکتا ہے لیکن اس زبانی جمع خرچ سے افراد امت کی اصلاح کا عظیم الشان کام سرانجام نہیں دیا جاسکتا۔مجدد وہ ہے جس کی زندگی سراپا قرآن وسنت کے مطابق ہو۔ یہ نہ ہو کہ جب مخالفین اس پر اعتراضات کریں تو وہ جامہ ٔانسانیت سے معرّاء ہوکر انہیں بے نقط سنانے لگے اور اس کی تحریر ایسی سو قیانہ ہوجائے کہ اس کو پڑھ کے بے شرمی وبے حیائی بھی آنکھیںبند کرلیں۔ مجدد وہ ہے جس کے الفاظ میں جادو ہو جس کی باتوں میں اعجاز ہو۔ جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ سکے۔ جو حیوانوں کو انسان بنادے اور انسانوں کو خدا سے ملادے۔
۳… زہد وتقویٰ: مجدد کے لئے تیسری شرط زہد وتقویٰ ہے۔ اس کی زندگی ایسی ہو کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھے اسے یہ معلوم ہو کہ یہ شخص خدا رسیدہ ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں خدا تعالیٰ اور اس کے احکام کو سامنے رکھے۔ اس کا ہر فعل اسلام کی عزت کے لئے ہو۔ نہ یہ کہ وہ اپنی مطلب برآری کے لئے بے گناہ انسانوں کو اذیت دے اور لوگوں کو تہدید آمیز خطوط لکھے کہ اگر تم میرا کہنا نہیں مانو گے تو میں فلاں فلاں طریقہ سے تمہیں ایذا پہنچائوں گا اور اپنے بیٹے سے کہہ کر تمہاری لڑکی کو طلاق دلوا دوں گا۔ ظاہر ہے کہ ایسی بات اس شخص کے قلم سے ہرگز نہیں نکل سکتی جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تقویٰ یا خوف خدا ہوگا۔ مجدد وہ ہے جس کی زندگی زہد واتقاء کی جیتی جاگتی تصویر ہو۔ اس کا اشد مخالف بھی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کا فلاں فعل شرط تقویٰ کے خلاف ہے۔ حاشیہ نشینوں کی گواہی چنداں معتبر نہیں: ’’الفضل ماشھدت بہ الاعداء‘‘بزرگی وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے۔ متقی وہ ہے جس کی زندگی سراپا قرآن مجیدکے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہو اور مجدد بننے کے لئے یہ لازمی شرط ہے جو متقی نہیں وہ مئومن بھی نہیں، مجدد ہونا تو بڑی بات ہے: ’’ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء‘‘ والا مضمون ہے۔
۴… حریت آموزی: چوتھی شرط یہ ہے کہ مجدد مسلمانوں کو حریت کا درس دے۔ حرّیت اسلام کا امتیازی نشان ہے۔ مسلمان اگر حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں تو وہ غلام نہیں رہ سکتے: ’’انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین‘‘اس پر شاہد ہے۔ پس مجدد کی ایک خاص شناخت یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائے کہ اسلام اور اغیار کی غلامی یہ اجتماع
ضدین ہے۔ مجدد کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں میں ایمان کی شمع کو از سر نو روشن کرے نہ یہ کہ انہیں الٹا غلامی کا سبق پڑھائے اور اغیار کی گرفت کو مضبوط کرے۔ مجدد کا فرض یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائے کہ شیر کی حیات یک روزہ روباہ کی حیات صد سالہ سے بہتر ہے۔ اگر وہ نا مساعدہ حالات کی وجہ سے انہیں آزادی سے ہم آغوش نہ کراسکے تو کم از کم اس گوہر گراں مایہ کو حاصل کرنے کا ولولہ تو ان کے اندر پیدا کرے۔ نہ یہ کہ اغیار کی شان میں قصیدہ خوانی کرے اور ان کی پالیسی کو شرط ایمان اور جزو اسلام بنالے۔
۵… اعلائے کلمتہ الحق: پانچویں شرط جو شرط ماسبق کا منطقی نتیجہ ہے۔ اعلائے کلمتہ الحق کی صفت ہے جس کا پایا جانا مجدد میں از بس ضروری ہے۔ حضرت امام شافعیv اور حضرت امام الاحرار امام ابن تیمیہv اور حضرت مجدد الف ثانیv کی زندگیوں میں یہ صفت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ چنانچہ آخر الذکر دو حضرات نے جیل خانہ کی صعوبتوں کو بطیب خاطر برداشت کیا لیکن اعلائے کلمتہ الحق کا دامن کسی حال میں ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
جب معاندین وحاسدین نے جہانگیر کے کان بھرے کہ شیخ سرہندیv حضور کے خلاف سازش میں مصروف ہیں تو ممکن تھا کہ حضرت موصوف جہانگیر کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ لکھ کر نہ صرف رنج قید سے محفوظ ہوجاتے بلکہ دنیا وی حشمت سے بھی بہرہ اندوز ہوتے لیکن آپ نے اپنے دوستوں سے فرمایا کہ امتحان کا وقت آپہنچا۔ دعا ہے کہ پائے ثبات میں لغزش نہ آئے۔ جہانگیر نے آپ کو گوالیار کے جیل خانہ میں بھجوادیا لیکن آپ نے معافی مانگ کر حرّیت اور صداقت کے نام کو بٹہ نہیں لگایا اور دوران اسیری میں تمام قیدیوں کو اسلام کا شیدا بناکر جہانگیر اور اس کے حاشیہ نشینوں کو محو حیرت کردیا۔ پھول کو جس جگہ رکھو گے خوشبو دے گا۔ ان لوگوں نے بھی جن کو عرف عام میں مجدد نہیں کہتے اعلاء کلمتہ الحق کی روشن مثالیں ہمارے سامنے پیش کی ہیں۔ مثلاً سید الشہداء حضرت حسینq اور امام عالی مقام حضرت احمد بن حنبلv۔
الغرض جو شخص مسلمانوں کی اصلاح اور تجدید دین کے لئے معبوث ہو اس کا اوّلین فرض یہ ہے کہ حق بات کہنے سے کسی حال میں بھی باز نہ رہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کام سے اسے باز نہ رکھ سکے۔ میری رائے میں تو مردان حق آگاہ کی یہ پہلی نشانی ہے۔
۶… خلق: چھٹی شرط یہ ہے کہ مجدد خلق محمدیa کا نمونہ ہو۔ کیونکہ انسانیت کا کمال اسی صفت سے ظاہر ہوتا ہے اور اگر مجدد میں خود یہ صفت نہ ہو تو وہ دوسروں کو کیا انسان بناسکتا ہے؟ مجدد وہ ہے جس کی صحبت میں بیٹھ کر خلق محمدیa کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔ مجدد وہ ہے جو دشمنوں کے حق میں بھی دعا کرے نہ یہ کہ انہیں گالیاں دے اور اعتراضات سن کر جامہ سے باہر ہوجائے۔
۷… قبولیت: ساتویں شرط مجدد بننے کے لئے یہ ہے کہ اس میں مقنا طیسی کشش پائی جائے جو دراصل روحانیت اور خدا رسی کی بدولت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت سید احمد صاحب رائے بریلویv کہ صدی سیزدھم کے مجددین میں سے تھے۔ صفت روحانیت سے نمایاں طور پر متصف تھے۔ لوگ ان سے مناظرہ کرنے آتے تھے لیکن ان کے حلقہ بگوش ہوکر واپس جاتے تھے۔ کلکتہ کے زمانہ قیام میں انہوں نے ہزار ہا مسلمانوں کو از سر نو مسلمان بنا دیا۔ کتاب وسنت کو زندہ کرنا ان کا دن رات کا مشغلہ تھا اور یہی ایک مجدد کا مقصد حیات ہوتا ہے۔
اولیاء اللہ بھی اپنے اپنے زمانہ میں اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے ان میں بھی یہ صفت نمایاں ہوتی ہے۔ کون سا مسلمان ہے جو میرے آقا اور مولیٰ حضرت خواجہ معین الدین اجمیریv کی روحانیت سے واقف نہیں ہے۔ جوگی جیپال پر جوفتح حضور نے پائی اسے جانے دیجئے۔ وہ تو حضرت ختمی مرتبت سردار دوجہاں تاجدار مدینہa کی غلامی کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا۔ روزانہ زندگی اس قدر روحانیت سے لبریز تھی کہ جس پر ایک نگاہ پڑگئی اس کی کایاپلٹ گئی۔ وصال کے بعد بھی حضور کا مزار پرانوار مرجع سلاطین رہا۔بڑے بڑے کجکلاہ آستان بوسی اور ناصیہ فرسائی کو اپنے لئے موجب سعادت سمجھتے رہے۔ یہ سب روحانیت ہی کے کرشمے ہیں۔
مجددین میں بھی یہ صفت لازمی طور پر پائی جاتی ہے۔ روحانیت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ روحانیت کو مجدد سے وہی نسبت ہے جو خوشبو کو پھول سے۔ خوشبو نہ ہو تو پھول کس کام کا؟ محض منطق اور فلسفہ سے انسان خود اپنے آپ کو مطمئن نہیں کرسکتا۔ دوسروں کو کیا ایمان اور ایقان عطا کرے گا؟ حکمت نظری کافی ہوتی تو امام غزالیv کیوں نواح دمشق میں بادیہ نشینی اختیار کرتے؟
۸… دنیادار نہ ہو: مجدد کے لئے آٹھویں شرط یہ ہے کہ وہ دنیاوی بکھیڑوں سے بالکل پاک صاف ہو۔ دنیا میں رہے لیکن دنیاوی امور سے بالکل الگ تھلگ۔ باہمہ دلے بے ہمہ خاصان خدا کی ہر زمانہ میں یہی روش رہی ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحبv اور مولانا محمد قاسمv صاحب کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ بزرگ بظاہر دنیا میں رہتے تھے لیکن دنیا دارا نہ تھے۔ ان کی تمام تر توجہ خدا اور اس کے پسندیدہ دین کی طرف مبذول رہتی تھی اور ہر وقت تبلیغ واشاعت اسلام میں مصروف رہتے تھے۔ نہ کسی سے چندہ طلب کرتے تھے نہ اشتہار شائع کرتے تھے۔
۹… عاجزی وانکساری: نویں شرط یہ ہے کہ مجدد میں عاجزی اور انکساری پائی جائے۔ مجدد وہ ہے جو حلم اور فروتنی، ایثار اور تحمل کا ایک پیکر مجسم ہو : ’’نہد شاخ پر میوہ سربر زمین‘‘ باوجود عالم ہونے کے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہ سمجھے جس قدر اس کی شہرت ہوتی جائے وہ خاکساری اختیار کرے۔ مولانا محمد قاسم صاحبv کو جن لوگوں نے دیکھا ہے ان کا بیان ہے کہ وہ سادگی اور فروتنی میں اپنی مثال آپ ہی تھے۔ کبھی کوئی کلمہ غرور یا تکبر کا ان کی زبان سے نہیں نکلا۔ اجنبی لوگوں کو یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ قاسم العلوم کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ تمام عمر نان جویں پر قناعت کی اور کھدر کے علاوہ کوئی کپڑا زیب تن نہیں فرمایا۔اگرچہ ایک دنیا ان کی کفش برداری کو مؤجب سعادت سمجھتی تھی، لیکن ان کے کسی قول یا فعل سے یہ بات کبھی مترشح نہیں ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ جو شخص اپنی حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے وہ اپنے آپ کو ہیچ سمجھتا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کی خدمت قرار دیتا ہے۔ فخرومباحات سے کوسوں دور رہتا ہے کہ یہ بات اس امر کا ثبوت ہے کہ نفس اماّرہ ابھی زندہ ہے۔ ایسے لوگوں سے فوق العادت کام ظاہر ہوتے ہیں لیکن وہ ان پر نازاں نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں اپنے لئے نہیں اور اسی میں سروری کا راز مضمر ہے۔
۱۰… کارہائے نمایاں: دسویں اور آخری شرط مجددیت یہ ہے کہ مجدد اپنی زندگی میں کوئی ایسا کارہائے نمایاں انجام دے جس کو دیکھ کر آنے والی نسلیں بھی اس کے مرتبہ کا اعتراف کریں۔ جیسے ہم انگریزی میں WORK OF PERMANT VALUE
کہہ سکتے ہیں۔ خواہ وہ کام جہاد سے متعلق ہو یا تقریر سے، تحریر سے وابستہ ہو یا تصنیف سے، اصلاح رسوم سے متعلق ہو یا قیام چشمہ فیض سے۔
مثلاً امام غزالیv کی احیاء العلوم، امام رازیv کی تفسیر اور شاہ ولی اللہ صاحبv کی حجتہ اللہ البالغہ ایسی کتابیں ہیں جن کو پڑھ کر ہر مصنف مزاج انسان ان بزرگوں کی جلالت شان کا معترف ہوجاتا ہے۔ ’’مشک آنست کہ خود ببویدنہ کہ عطار بگوید‘‘ لطف تو اسی بات میں ہے کہ مجدد کی ظاہری اور باطنی زندگی ایسی ہو کہ اس کے ہمعصر اور آئندہ نسلیں جب اس کے کارنامے دیکھیں تو غلبہ ظن کی بناء پر اسے خود بخود مجدد کا لقب دے دیں۔ مجدد کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو کتاب اور سنت کی طرف بلائے۔ اسلام کو از سر نو زندہ کردے۔ بدعات کا قلع قمع کردے۔ لوگ اسے خود بخود مجدد کہنے لگیں گے۔ اس کے لئے نہ دعویٰ کرنا ضروری ہے نہ مسلمانوں پر اس کی شناخت فرض ہے۔ دعویٰ تو وہ کرتا ہے جو نئی بات یا نیا پیغام لاتا ہے۔
مجدد تو صرف کتاب وسنت کو پیش کرتا ہے جو پہلے سے موجود ہوتی ہے لیکن لوگ ان دونوں کی طرف سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس کا کام یہ ہے کہ اسلام کی اصلی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرے اور اپنے طریق عمل سے لوگوں میں اسلامی شریعت پر عامل ہونے کی تحریک پیدا کردے اور کوئی کام ایسا کرجائے جس کو دیکھ کر آنے والی نسلیں اس کے مرتبہ کو بآسانی شناخت کرسکیں۔
ہمارے زمانہ میں قادیان میں ایک مدعی پیدا ہوئے جنہوں نے مجددیت اور نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی امت دو حصوں میں منقسم ہوگئی۔ قادیانی اور لاہوری۔ اوّل الذکر فریق کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت تھے اور ان کا منکر اسی طرح کافر ہے جس طرح آنحضرتa کا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! اب بے کار ہے جب تک اس کے ساتھ مرزا قادیانی کی نبوت کا بھی اقرار نہ کیا جائے۔ اس عقیدہ کی تردید میں فقیر نے ایک مضمون بعنوان ’’ختم نبوت‘‘ لکھ کر خدا کی حجت اس گروہ پر پوری کردی۔
آخر الذکر فریق کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت نہ تھے بلکہ چودہویں صدی کے مجدد تھے اور ان کے تسلیم نہ کرنے سے کوئی مسلمان اگرچہ دائرہ اسلام
سے خارج نہیں ہوسکتا لیکن ایک شدید غلطی کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔ پس میں نے مناسب سمجھا کہ مسلمانوں کے فائدہ کے لئے اس فریق کے دعویٰ کو بھی کسوٹی پر پرکھ لیا جائے تاکہ مسلمان اس بات کا فیصلہ کرسکیں کہ آیا مرزا غلام احمد قادیانی اس لائق ہے کہ اسے چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا جائے۔
اس لئے میں نے گزشتہ اوراق میں حدیث مجدد کی حتی المقدور صراحت ووضاحت کرکے وہ معیار ناظرین کے سامنے رکھ دیا ہے جس پر مدعی مجددیت کو پرکھا جاسکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اس معیار پر پرکھنے سے قبل اس فریق کی خدمت میں بعض حقائق پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
۱… مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ محض مجددیت کا نہیں ہے۔ بے شک ان کے دعاوی کا سلسلہ مجددیت سے شروع ہوتا ہے، لیکن متعدد مراتب طے کرتا ہوا ان کی وفات سے قبل نبوت پر منتہی ہوتا ہے اور دعویٰ وہ لائق اعتناء ہے جو آخر میں کیا جائے۔ پس ان کا اصلی دعویٰ نبوت کا ہے نہ کہ مجددیت کا۔کسی زمانہ میں یعنی قبل ۱۹۰۱ء ان کا خیال تھا کہ :’’خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا؟‘‘ لیکن جب ۲۳ سال تک بارش کی طرح متواتر وحی نازل ہوتی رہی تو وہ اس عقیدہ پر کہ :
ہست اوخیر الرسل خیرالانام
ہر نبوت رابروشد اختتام
(درثمین ص۱۱۴، ضمیمہ سراج منیرص ح، خزائن ج۱۲ ص۹۵)
قائم نہ رہے اور انہوں نے بایں معنی دعویٰ نبوت کردیا کہ میں آنحضرتa کے فیض روحانی سے نبی بن گیا ہوں۔ کیونکہ آپ کی توجہ نبی تراش ہے۔ اگرچہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا لیکن میری نبوت ویسی ہی ہے جیسی انبیائے ماسبق کی تھی۔ اس دعویٰ کو انہوں نے ایک غلطی کے ازالہ(خزائن ج۱۸ ص۲۰۶تا۲۱۶) میں شائع کیا۔ یہ اشتہار ۱۹۰۱ء میں منصہ شہود پر آیا تھا جس نے امت اسلامیہ میں ایک نئے فتنہ کا دروازہ کھول دیا اور وحدت ملی کو پارہ پارہ کردیا۔
اس اعلان کے بعد اسلام مردہ ہوگیا اور اس نئی نبوت پر ایمان لانا نجات کے لئے لازمی ٹھہرا۔ چنانچہ۱۹۰۵ء میں جب بعض سربرآوردہ قادیانی افراد نے ’’ حضرت صاحب‘‘
کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ مناسب ہے کہ ریویو آف ریلیجنز میں قادیانیت سے متعلق مضامین شائع نہ ہوں تاکہ غیر قادیانی بھی اسے خرید سکیں تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس تجویز کو ناپسند کیا۔ مجوّزین سے سخت ناراض ہوئے اور فرمایا! مجھے چھوڑ کر مردہ اسلام پیش کرنا چاہتے ہو؟ آج کے دن نجات میرے اوپر ایمان لانے میں منحصر ہے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ وہ مسلمان ہی کب ہے۔
بے بہرہ آنکہ دور بماند زلنگرم
چنانچہ مجوّزین نے توبہ کی اور یہ تجویز رد ہوگئی۔ اس وقت کسی نے یہ نہ کہا کہ جناب آپ نے تو لکھا ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی بناء پر کوئی مسلمان کافر نہیں ہوسکتا۔ پھر آج آپ کیوں کر اپنے وجود کو شرط اسلام قرار دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کا خاموش ہوجانا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھی تبدیلی ٔعقیدہ پرایمان لاچکے تھے اور حضرت صاحب کو نبی یقین کرتے تھے۔
ان مجوّزین میں ایک اللہ کا بندہ ایسا بھی تھا (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب مرحوم پٹیالوی جنہوں نے توبہ کرنے کے بعد بہت سی مفید کتابیں ردقادیانیت میں لکھیں) جس کی قسمت میں ایمان کی دولت لکھی ہوئی تھی۔ اس نے وہی کیا جو ایک مسلمان کو کرنا چاہیے تھا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کو لکھا کہ آپ کا دعویٰ صرف مجددیت کا تھا۔ لیکن اب آپ اپنے وجود کو اسلام کے لئے شرط قرار دیتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک کوئی مسلمان آپ پر ایمان نہ لائے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ نیز اس کے معنی یہ ہیں کہ کلمہ طیبہ اب ناقص اور ناکافی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس مرید کو تسلی نہ دے سکے اور ۱۹۰۶ء میں اللہ کا یہ بندہ مرزا غلام احمد قادیانی کی غلامی سے نکل کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا۔
مقصود اس تحریر سے یہ ہے کہ لاہوری جماعت کے وہ لوگ جو آج مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد اور خادم اسلام قرار دے رہے ہیں ذرا خدا کو حاضرو ناظر جان کر بتائیں کہ اگر فی الحقیقت مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ صرف مجددیت ہی کا تھا اور اگر وہ آنجہانی کو صرف مجدد ہی سمجھتے تھے تو کیوں نہ انہوں نے اس وقت یہ کہا کہ جناب والا! مجدد پر ایمان لانا کونسی نص صریح سے ثابت ہے جو آپ منکرین کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں؟اگر آپ مجدد ہیں تو لوگوں کو کتاب وسنت کی طرف بلائے جائیں:’’لست علیھم
بمصیطر‘‘جس کا جی چاہے آپ کی بات مانے جس کا جی چاہے نہ مانے۔ آپ کا منصب صرف اصلاح ہے۔ اصلاح کئے جائیں۔ اپنے وجود کو شرط اسلام قرار دینا یعنی چہ؟
لہٰذا معلوم ہوا کہ جو لوگ آج ۱۹۳۵ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد قرار دیتے ہیں ۱۹۰۵ء میں انہیں نبی ہی تسلیم کرتے تھے۔ پس آج ان کا یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی نہ تھے کتمان حق بھی ہے اور خلاف واقعہ بھی۔ کیوں نہ یہ بات ۱۹۰۵ء میں کہی۔
اس کے علاوہ لاہوری فریق میں ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے ۱۹۰۶ء کے (ریویو آف ریلیجنز ج۵ شمارہ نمبر۴ص۱۳۲) میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی لکھا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنے اعلانات سے اس عقیدہ پر مہر توثیق ثبت فرمائی۔ پس معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت حقیقی کا تھا اور لاہوری جماعت کے افراد بھی ۔ (کیونکہ ۱۹۱۴ء سے پہلے اس جماعت کا وجود ظاہر میں نہ تھا ان کو نبی ہی سمجھتے تھے)
مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد ظاہر کرنے کی ’’بدعت‘‘ ۱۹۱۴ء سے شروع ہوئی جب حکیم نورالدین خلیفۃ المسیح اوّل کی وفات پر جماعت میں اختلاف پیدا ہوا اور قادیانی اور لاہوری دو فریق بن گئے۔ قادیانی جماعت ۱۹۰۱ء کے بعد کی تحریرات کو مستند سمجھتی ہے اور اس سے پہلی تحریرات کو منسوخ سمجھتی ہے۔ لاہوری جماعت ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تحریرات کو پیش کرتی ہے اور ۱۹۰۱ء کے بعد کی اپنی اور مرزا قادیانی دونوں کی تحریرات کو کالعدم تصور کرتی ہے۔ لاہوری جماعت کے لوگ ۱۹۱۴ء سے پہلے مرزا قادیانی کو منہاج نبوت پر پرکھا کرتے تھے اور ریویو کے فائل اس دعویٰ پر شاہد ہیں۔ اگر یہ لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں سمجھتے تھے تو پھر انہیں منہاج نبوت پر پرکھتے کیوں تھے؟ چنانچہ ۱۹۰۵ء میں جب ریاست حیدر آباد میں موسیٰ ندی میں طغیانی آئی اور ہزار ہا بندگان خدا نذر سیلاب ہوگئے تو لاہوری جماعت کے ایک سر برآوردہ رکن نے ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ لکھ کر حضورنظام کو اس حقیقت کبریٰ کی طرف متوجہ کیا تھا کہ یہ عذاب جو آپ کی رعایا پر نازل ہوا ہے اس لئے ہے کہ انہوں نے اس زمانہ کے نبی کو (جسے نذیر کی قرآنی اصطلاح کے پردہ میں پیش کیا گیا تھا) تسلیم نہیں کیا اور اپنے دعویٰ کے ثبوت میں قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا تھا:
’’ماکنا معذبین حتیٰ نبعث رسولا‘‘ {یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک اس قوم میں ایک رسول مبعوث نہ کردیں۔}
پس صحیفہ آصفیہ کے مصنف کے ذہن میں مرزا غلام احمد قادیانی مجدد نہ تھے بلکہ رسول تھے اور اس کی تائید خود مرزا غلام احمد قادیانی نے یوں فرمادی: ’’ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘
(بدر۵مارچ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ص۱۲۷)
خدا کی شان کہ ۱۹۱۴ء میں ’’خلافت ثانی‘‘ کی تاسیس کے موقع پر انصار اللہ (میاں محمود احمد کے حامی) کی جماعت ’’لاہور کے پاک ممبروں‘‘ پر غالب آگئی اور یہ لوگ اپنی مصلحت کے ماتحت قادیان سے ہجرت کرکے لاہور آگئے اور قادیانی تحریک میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا۔
قادیان سے قطع تعلق کرنے کے بعد صاف ظاہر تھا کہ قادیانی احمدی حضرات جواب’’مبائعین‘‘ کے لقب سے سرفراز تھے۔ ان ’’باغیان خلافت‘‘ کی امداد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لئے الفضل (قادیانی جماعت کا آرگن) اور پیغام صلح(لاہوری جماعت کا آرگن) محمودی اور پیغامی محاذ قائم ہوگیا اور بیک گردش چرخ نیلوفری مرزا قادیانی کو منہاج نبوت پر پرکھنے والے اور موسیٰ ندی کی طغیانی کو عذاب الٰہی سے تعبیر کرنے والے بھولے بھالے مسلمانوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے لگے اور اس کے ثبوت میں بلاد مغرب میں مرزا قادیانی کا ذکر سم قاتل قرار دیا گیا۔
۲… مرزا غلام احمد قادیانی نے ممکن ہے کسی زمانہ میں مجددیت کا دعویٰ کیا ہو لیکن ۱۹۰۱ء سے لے کر ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء تک یعنی وفات سے تین دن پہلے تک انہوں نے کسی کتاب میں کسی تقریر میں کسی اشتہار میں کسی جگہ یا کسی شخص سے یہ نہیں کہا کہ میں مجدد ہوں۔ ہر جگہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے منکروں اور مخالفین کو ’’جنگلی سوروں سے بدتر‘‘ قرار دیا ہے۔ اس نبوت کی خواہ کچھ ہی تاویل کیوں نہ کی جائے وہ مجددیت کی ہم معنی نہیں بن سکتی۔۱۹۰۱ء کے بعد جب کبھی مرزا قادیانی کو ’’ایام الصلح‘‘ میں اپنے قلم سے لکھی ہوئی خاتم النّبیین کی تفسیر دماغی یا عقلی انتشار میں مبتلاء کرتی تھی تو وہ اپنے نفس کو تسکین دینے اور اسلامی روح سے ناواقف مریدوں کو مطمئن کرنے اور واقف حال مسلمانوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لئے اپنی خانہ ساز نبوت کو ظل اور بروز کی اصطلاحات غیر شرعیہ کے پردہ میں پوشیدہ کرلیا کرتے تھے۔ لیکن ان مصطلحات غیر شرعیہ کا مفہوم خود اپنی منشاء کے مطابق معین کرتے تھے تاکہ اپنے منکرین کو خدا اور رسول کا منکر قرار دے سکیں۔
ورنہ اگر ظلی نبوت کے معنی غیر حقیقی یا مجازی نبوت کے لئے جائیں تو ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی بحیثیت غیر حقیقی نبی حضرت عیسیٰ سے افضل نہیں ہوسکتے تھے جو حقیقی نبی تھے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نہایت اطمینان کے ساتھ فرماتے ہیں:
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)
اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مفہوم اور منشائے حقیقی کو ان کے سچے پیرائوں نے آگے چل کر یوں بے نقاب کردیا ہے :
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
(اخبار بدر قادیان ج۲ نمبر۴۳، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر۱۹۰۶ء ص۱۴)
اس شعر کی رو سے مرزا قادیانی اپنی شان کے لحاظ سے آنحضرت ختمی مرتبتa سے بھی چار قدم آگے نظر آتے ہیں اور چونکہ بار گاہ خلافت سے اس شعر پر شاعر کو کافر قرار نہیں دیا گیا۔ اس لئے ہم نامحرمان سرا، پردئہ خلافت قادیان، یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ’’وابستگان دامن محمود‘‘ مرزا قادیانی کو آنحضرتa سے بھی برتر یقین کرتے ہیں۔
الغرض مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور بکرّات ومرّات کیا ہے جس میں کسی شبہ کی مطلق گنجائش نہیں ہے۔ پس ان کو منہاج نبوت ہی پر پرکھنا مناسب ہے۔ لیکن لاہوری حضرات اس امر پر مصر ہیں کہ انہوں نے صرف مجددیت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے اپنے اتمام حجت کرنے اور مسلمانوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لئے ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو منہاج مجددیت پر ہی پرکھیں گے۔
لسان الغیب فرماتے ہیں:
خوش بود گر محک تجربہ آید بمیاں
تاسیہ روئے شود ہرکہ دروغش باشد
علوم ظاہری کے متعلق خود مرزا قادیانی کی شہادت ملاحظہ ہو جو انہوں نے اپنی تالیف (کتاب البریہ ص۱۴۸تا۱۵۰ خلاصہ حاشیہ، خزائن ج۱۳ص۱۷۹، ۱۸۰، ۱۸۱)میں یوں قلمبند کیا ہے: ’’بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح ہر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو
ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں… جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے… جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا… میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا۔‘‘
اس شہادت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جیسا کہ آج سے ایک صدی پیشتر عام دستور تھا۔ درس نظامیہ ختم کیا ہوگا۔ اگرچہ ان کے اساتذہ میں کوئی شخص ہندوستان کا نامور عالم نہیں تھا لیکن یہ بات چنداں اہم نہیں کیونکہ مجدد کی مجددیت کا انحصار اساتذہ پر نہیں ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبv نے بھی معمولی اساتذہ سے درس نظامیہ ہی ختم کیا تھا لیکن جس چیز نے انہیں سر آمد فضلائے روزگار بنادیا وہ ان کی ذاتی قابلیت تھی جو انہیں اللہ تعالیٰ نے ارزانی فرمائی تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے ایک خاص کام لینا چاہتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے حجتہ اللہ البالغہ جیسی معرکتہ الآرا اور غیر فانی کتاب تصنیف کی جس کے سامنے بقول علامہ شبلی نعمانیv، رازیv اور غزالیv کے کارنامے بھی ماند پڑگئے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگرچہ مرزا قادیانی نے چھوٹی بڑی ملاکر پچاس سے اوپر ہی کتابیں لکھ ڈالیں لیکن کوئی کتاب اس قابل نہیں کہ اسے حجتہ اللہ البالغہ تو خیر بڑی چیز ہے علمی کتب کے مقابلہ میں بھی رکھا جائے۔ ان کے متبعین کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے بیاسی کتب تصنیف کیں۔ بہت خوب! ممکن ہے انہوں نے نوے لکھی ہوں لیکن کسی شخص کی علمیت کا اندازہ تصانیف کی تعداد سے نہیں ہوتا۔دیکھنا یہ ہے کہ ان میں لکھا کیا ہے؟ دقّت نظر، اجتہاد فکر، تبحر علم، زوربیان، وسعت معلومات اور ندرت خیال کے اظہار کے لئے بیاسی کتابیں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات صرف ایک کتاب کے لکھنے سے ظاہر ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ لکھنے والے میں کوئی جوہر موجود ہو۔
BRADLAY نے مدۃ العمر میں دو چار کتابیں لکھی ہوں گی لیکن اس کے ایک ہی فلسفیانہ مضمون جس کا عنوان AFFEARUEE AND REALITY ہے۔ اسے
فلاسفہ کی پہلی صف میں جگہ دلوادی۔ ہزار بچگان روباہ، ایک طرف اور ایک بچہ شیر ایک طرف۔ ذوق کا سارا دیوان ایک طرف، غالب کا ایک شعر ایک طرف۔
علامہ اقبالv نے اب تک جس قدر کتابیں تصنیف کی ہیں ان کی تعداد چھ یا سات سے زیادہ نہیں لیکن ان کی صرف ایک ہی تصنیف اس پایہ کی ہے کہ اس کے متعلق عقلائے دہر کا فتویٰ یہ ہے کہ یہ کتاب عصر حاضر کے مظاہر اکبر میں سے ہے اور بالیقین کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی آئندہ نسلیں اس کتاب پر فخر کیا کریں گی۔ اس کتاب کے ایک ایک صفحہ سے حضرت مصنف کی ژرف نگاہی اور بالغ نظری، وسعت معلومات اور تبحرعلمی دقت نظر اور اجتہاد فکر کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ سچ کہا گیا ہے کہ:
ایں سعادت بزوربازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
علاوہ بریں تفسیر کبیر، احیاء العلوم، حجتہ اللہ البالغہ اس پایہ کی کتابیں ہیں کہ ہر زمانہ میں علماء اور فضلاء نے ان سے استفادہ کیا ہے اور ان کے مصنّفین کی علمیت کا اعتراف کیا ہے لیکن مرزا قادیانی کی جس قدر کتابیں ہیں ان میں سے کسی کتاب سے کسی عالم نے کبھی استفادہ نہیں کیا۔ عوام کا اس جگہ ذکر نہیں کیونکہ مجدد وہ ہوتا ہے جس کی تصانیف سے خواص بھی بہرہ اندوز ہوسکیں۔ علاوہ بریں علمیت کا اندازہ عوام نہیں کرسکتے۔
اس جگہ اگر کوئی شخص یہ شبہ وارد کرے کہ بعض علمائے دہر نے قرآن مجید جیسی کتاب سے استفادہ نہیں کیا تو مرزا قادیانی پر کیا اعتراض ہے؟ اس کے دو جواب ہیں۔
پہلا جواب یہ ہے کہ کوئی مسلمان نہیں جو قرآن مجید کی افادیت کا انکار کرسکے۔ اس جگہ غیر مسلم دنیا سے بحث نہیں ہے۔ تمام مسلمانوں نے تفسیر کبیر، احیاء العلوم اور حجتہ اللہ البالغہ سے استفادہ کیا اور اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف کیا لیکن دنیائے اسلام میں کسی عالم نے مرزا قادیانی کی کتب سے استفادہ نہیں کیا۔ استفادہ درکنار ان کی تردید میں ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کو پیش کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ایک نئے مذہب کی حامل ہے اور ہدایت کی مدعی ہے۔ یہ کسی ایسے انسان کی تصنیف نہیں جو مجددیت کا مدعی تھا یا جس کے لئے علوم ظاہری میں بلند مرتبہ ہونا شرط ہو یہ توخدا کا کلام ہے جو
ایک امی انسان پر نازل ہوا اور چونکہ اس کتاب نے کفرو اسلام میں خط فاصل کھینچ دیا۔ اس لئے لامحالہ اس کے منکروں نے اس سے روگردانی کی۔ لیکن مجدد کی تصنیف کفرو اسلام میں حدفاصل کھینچنے والی نہیں ہوتی۔ وہ صرف اس کے تبحر علمی کا نشان ہوتی ہے اور اسے دنیا اس نظر سے دیکھتی ہے کہ مصنف کی پرواز فکر کہاں تک ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کی تصنیف ہوتی ہے جو نبوت کا مدعی نہیں ہوتا۔ چنانچہ یورپ کے اکثر علماء ڈاکٹر اقبالv کی تصنیفSIX LECTURES کے بلند پایۂ فلسفیانہ کتاب ہونے کے معترف ہیں۔ اگرچہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔
لیکن مرزا قادیانی نے کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جس کو پڑھ کر ایک مسلمان ان کے تبحر علمی اور اجتہاد فکر کا معترف ہوسکے۔ اگر میں ان کی تصانیف پر تفصیلی تبصرہ کرنے لگوں تو یہ مضمون ایک ضخیم کتاب بن جائے گا۔ اس لئے یہ بات تو اس وقت ممکن نہیں۔ تاہم بعض اشارات ضروری ہیں تاکہ میرا دعویٰ پایہ ثبوت کو پہنچ سکے۔
مرزا قادیانی نے ۱۸۸۵ء میں براہین احمدیہ کا اشتہار بڑے طمطراق کے ساتھ دیا تھا کہ اس کتاب میں اسلام کی حقانیت پر ایک دو نہیں پورے تین سو دلائل عقلیہ ایسے لکھے جائیں گے جو انسان تو کیا چشم فلک نے بھی نہ دیکھے ہوں گے۔ لیکن پانچ حصے لکھنے کے باوجود ہنوز وہ تین سو دلائل مدعی کے نہانخانہ دماغ سے عالم وجود میں نہیں آئے اور چونکہ ۱۹۰۸ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہوگیا۔ اس لئے اب کوئی امید بھی باقی نہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ :
جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں
جن لوگوں نے علمائے اسلام کی عربی تصانیف پڑھی ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے سرمہ چشم آریہ، نسیم دعوت، آئینہ کمالات اسلام اور نورالقرآن وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب کا سب حکماء اور صوفیائے اسلام کی تصانیف سے ماخوذ ہے۔
حقیقت الوحی، تریاق القلوب، ازالہ اوہام اور توضیح المرام وغیرہ کتب میں جو کچھ خامہ فرسائی کی ہے وہ اپنی نبوت کی تشریح ہے یا وفات مسیح کے اثبات کی کوشش ہے۔
جنگ مقدس، چشمہ مسیحی، آریہ دہرم، ست بچن، انجام آتھم، تحفہ گولڑویہ وغیرہ مناظرہ اور مجادلہ کی کتابیں ہیں اور بالیقین کہا جاسکتا ہے کہ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم نے عیسائیوں کے مقابلہ میں اور مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم نے آریوں کے مقابلہ میں ان
سے بدرجہا بہتر کتب تصنیف کی ہیں۔ مسیحیت کی تردید میں جو دلائل عقلیہ ونقلیہ مولوی صاحب مرحوم کی کتب ازالہ اوہام، ازالۃ الشکوک اور اظہار الحق میں پائے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی تمام کتابوں میں ان کا عشر بھی موجود نہیں اور قاسم العلومv نے تقریر دلپذیر، میلہ خدا شناسی، قبلہ نما، انتصار الاسلام، جواب ترکی بترکی میں جس عالمانہ طریق پر اسلام کی حقانیت آریہ دھرم کے مقابلہ میں ثابت کی ہے وہ انداز بیاں مرزا قادیانی یہاں تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی گدائے بے نوا کے گھر میں سچے موتیوں کی تلاش؟ فلسفیانہ نگارش تو بڑی چیز ہے۔ مرزا قادیانی تو اردو بھی صحیح نہیں لکھ سکتے تھے۔ ہر قسم کی اغلاط ان کی تحریر میں موجود ہیں۔
دوباتیں مرزا قادیانی کی تمام کتب میں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں مسیح کی وفات کا مسئلہ اور برطانیہ کی خیر خواہی، اسی ایک مسئلہ کو انہوںنے ہر کتاب میں لکھا ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو ان کے اس ’’کارنامہ‘‘ میں بھی کوئی جدت نظر نہیں آتی۔ حضرت مسیحm کی وفات پر انہوں نے کوئی دلیل ایسی نہیں دی جو لٹریچر میں پہلے سے موجود نہ ہو۔ ان سے کہیں زیادہ موثر پیرائے میں سرسید نے اس مضمون کو اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سید صاحب کے یہاں مرزا قادیانی کا ساطرز تحریر نہیں پایا جاتا۔
مرزا قادیانی نے نثر کے علاوہ نظم میں بھی داد سخن دی ہے اور اس میدان میں بھی ان کا دامن اغلاط سے پاک نہیں ہے۔ افسوس کہ میں اس مختصر مضمون میں ناظرین کو ان الہامی شاعری کے سب نمونے نہیں دکھا سکتا۔ صرف ایک مصرعہ پر اکتفا کرتا ہوں۔ قیاس کن زگلستان من بہار مرا۔ وہ مصرع یہ ہے:
اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار
(درثمین ص۱۴۳، براہین پنجم ص۱۲۰، خزائن ج۲۱ ص۱۵۱)
مضمون کی رکاکت سے قطع نظر کیجئے اس ’’کہ تا‘‘ کو دیکھئے کم از کم اردو شاعری میں تو اس کا جواب کہیں مل نہیں سکتا۔ غالباً اسی قسم کی ادبی خوبیوں کو دیکھ کر ان کے متبعین نے انہیں سلطان القلم کا خطاب دیا ہے۔
بقیہ تصانیف میں زیادہ تر مخالفین کے حق میں دشنام طرازیاں، فرومعنی پیش گوئیاں، ذاتی تعلّیاں، سرکار کی مدح سرائی، اپنی وفاداری، چندہ کی طلب اور نبوت
ورسالت کی تشریحات لایعنی پائی جاتی ہیں۔ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جو بنی نوع آدم کے لئے دوامی فائدہ کی قرار دی جائے یا جس کو پڑھ کر مسلمانوں کا ایمان تازہ ہوسکے۔ آخر الذکر بات یعنی اپنی نبوت کی تشریح تو اس قدر مبہم اور پیچیدہ ہے کہ لاہوری اور قادیانی دونوں جماعتوں میں مابہ النزاع بنی ہوئی ہے اور میرا خیال تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی خود بھی آخر تک یہ نہ سمجھ سکے کہ میں کس قسم کا نبی ہوں؟ قادیانی پارٹی اس امر کی معترف ہے کہ حضرت صاحب کو ۱۹۰۱ء تک اپنے دعویٰ کی سمجھ نہیں آئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کیفیت ۱۹۰۸ء تک قائم رہی اور ان کی تمام عمر اقرار نبوت اور انکار نبوت کی الجھن میں بسر ہوگئی۔ کیونکہ اگر بقول قادیانی پارٹی ۱۹۰۱ء میں ان کو اپنے نبی ہونے کا حقیقی اور مستقل نبی ہونے کا یقین ہوگیا تھا تو ۱۹۰۴ء میں وہ یہ نہ کہتے: ’’سمیت نبیاًلا علی وجہ الحقیقۃ بل علی طریق المجاز‘‘’’یعنی میرا نام حقیقی طور پر نبی نہیں رکھا گیا بلکہ محض مجازی طور پر۔ ‘‘
(الاستفتا، ضمیمہ حقیقت الوحی ص۶۵، خزائن ج۲۲ ص۶۸۹)
اور یہ ظاہر ہے کہ حقیقی نبی اپنے آپ کو مجازی نبی نہیں کہہ سکتا۔
آخر میں ایک بات ان کے مبلغ علم کے متعلق اور بھی کہنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے کئی خطوط چراغ علی کو لکھے تھے کہ براہ کرم فلاں مبحث پر مجھے اپنی تحقیقات کے نتائج سے مطلع کیجئے اور فلاں مضمون جس کا آپ نے وعدہ فرمایا تھا جلد بھیجئے تاکہ میں اسے اپنی کتاب میں شامل کرسکوں۔ مجدد زماں اور یہ دریوزہ گری موجب صد استعجاب ہے۔
یہ تمام خطوط مولوی سید محمد یحییٰ صاحب تنہاء بی۔اے نے اپنی کتاب سیرالمصنّفین میں درج کئے ہیں اور ان کے مطالعہ سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے مولوی چراغ علی صاحب مرحوم سے علمی رنگ میں استفادہ کیا تھا۔ مولوی صاحب کے مضامین جن لوگوں نے پڑھے ہیں وہ اس بات میں مجھ سے متفق ہوں گے کہ ان کے تمام مضامین میں محققانہ رنگ پایا جاتا ہے اور یہ بات انہیں مرزا قادیانی پر نمایاں فوقیت عطاء کرتی ہے۔ کیونکہ آپ ان (مرزا قادیانی)کی تمام کتابیں پڑھ جائیے کسی جگہ تحقیق (ریسرچ) کی جھلک نظر نہیں آئے گی۔
کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جو شخص سلطان القلم ہو بلکہ مجدد ہو جس کا دعویٰ یہ ہو
میں جب لکھتا ہوں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص مجھے اندر سے تعلیم دے رہا ہے جس کا ذہنی ارتقاء آنحضرتa سے بھی زیادہ ہو۔
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز خان مندرجہ ریویو مئی ۱۹۲۹ء)
وہ شخص علمی مضامین کے لئے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلائے؟:
حالانکہ مجدد کی تعریف یہ ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ عالم ہوتا ہے اور علمائے وقت اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
یہ تو ہوئی مرزا قادیانی کے علوم ظاہری کی مختصر روداد۔ اب رہے باطنی علوم تو ان کے متعلق صرف اس قدر کہنا کافی ہوگا کہ مرزا قادیانی کے متبعین میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جس نے کسب فیض کرکے مرتبہ ولایت حاصل کیا ہو اور اس کا نام مشاہیر اولیائے ہندv کے زمرہ عالیہ میں شامل کیا جاسکے۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ بعض افراد نے ان پر ایمان لاکر نبوت کا درجہ ضرور حاصل کرلیا۔ اگرچہ اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت دونوں نے ان بزرگوں کی کوئی قدر ومنزلت نہیں کی بلکہ انہیں الٹا مخبوط الحواس قرار دے دیا۔ نمونہ کے طور پر ان میں سے بعض کے حالات ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں۔
’’ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان کا نام یار محمد تھا۔ انہیں حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی) سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آگیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو مگر ہم نے تو یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی) کی محبت میں بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہوگیا اور وہ حضرت صاحب کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔‘‘
(ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ج۲۲ ش۱ ص۶، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۹۳۵ء)
’’لاالہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ ! اے لوگو میں اللہ کا رسول ہوں اور میری وحی اللہ کی طرف سے ہے اور اب آسمان کے نیچے میری تابعداری اللہ کا دین ہے۔ میں رحمتہ للعالمین ہوں اور تمام انبیاء کا مظہر ہوں۔‘‘
(لکل امتہ اجل مصنفہ احمد نور کابلی ص۱،۲)
’’سید احمد نور صاحب کابلی کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں، معذور اور بیمار آدمی ہیں۔ پس ان کا کام ہماری طرف کس طرح منسوب کیا جاسکتا ہے؟‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ج۲۲ ش۵۸ ص۱۷، مؤرخہ۱۱؍نومبر۱۹۳۴ء)
’’چونکہ خدا تعالیٰ نے نو سال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لئے اپنا نبی اور رسول اور امام مہدی بناکر مبعوث کیا ہے۔ لیکن میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیانی نے اور ان کی جماعت نے میرے دعاوی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ ان کو سزا دے گا۔‘‘
(عبداللطیف خدا کا نبی اور رسول، گناچور ضلع جالندھر مؤرخہ ۵؍مارچ۱۹۳۰ء)
’’چونکہ اس شخص (چراغ الدین) نے اپنے اشتہارات میں یہ لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم… یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں یہ کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے۔ گویا رسالت اور نبوت بازیچہ اطفال ہے… نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خود ستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے… ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز کریں۔‘‘ (المشتہر خاکسار مرزاغلام احمد قادیانی از قادیان مؤرخہ ۲۳؍اپریل۱۹۰۲ء، دافع البلاء ص۱۹تا۲۲، خزائن ج۱۸ ص۲۳۹تا۲۴۲)
’’ جس طرح تمام نبی ماموریت سے پہلے بالکل خاموش گم شدہ معمولی اور بے علم ہوتے ہیں، ایسا ہی میرا حال تھا… لیکن لیلۃ القدر کی مشہور رات کے بعد میں بڑے شور وغل کے ساتھ غار حرا سے باہر نکل آیا جس کی مثال موجودہ دنیا پیش نہیں کرسکتی۔ ایک ہی رات میں عالم بھی ہوگیا، مصنف بھی، امام بھی ہوگیا اور مصلح موعود بھی۔‘‘
’’آپ کو معلوم ہوگا کہ مجھے حضرت مسیح موعود کی روحانی فرزندیت میں آسمانی
بابرکت مصلح موعود قدرت ثانی کی آسمانی خلافت کا دعویٰ ہے لیکن آپ نے مجھے کوئی معمولی انسان سمجھ کر تکبر سے منہ پھیر لیا۔ اس طرح آپ نے مجھے ہی نہیں ٹھکرایا بلکہ اپنے محسن باپ کو ٹھکرایا جس کی شاہی گدی پر بیٹھ کر آپ ہزاروں آرام کے دن دیکھ چکے ہیں… میری طرف سے اس لاپرواہی کی سزا میں سردست آپ کو ہلکی سزائوں میں مبتلا کیا جارہا ہے… میری اطاعت سے الگ رہنے کی صورت میں آپ کے سارے کاروبار کو ٹھنڈا کردیا جائے گا۔‘‘(ص۱۷، رسالہ نمبر ہشتم منجانب شیخ غلام محمد بشیر الدولہ روحانی فرزند ارجمند مسیح موعود سابق ممبر مجلس معتمدین احمدیہ انجمن اشاعت اسلام احمدیہ بلڈنگز لاہور)
’’ اللہ پاک نے اس عاجز پر اپنے صحیفہ آسمانی کا نزول فرماکے سلسلہ آسمانی کی طرف مخلوق کو دعوت دینے کی تاکید کی ہے۔ بائیس سال کا عرصہ گزرتا ہے خاکسار خدا سے وحی پاکر اس کام کو سرانجام دے رہا ہے۔‘‘
(ام العرفان ص۹، مصنفہ عبداللہ تیماپوری قادیانی)
’’ اگر میں احمدیوں کا مامور موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے جو عین وقت میں یعنی ۱۹۲۴ء میں آیا ہو… اللہ جل شانہ نے اپنی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ابتداء کے زمانہ میں صدیق کا انتخاب کیا ہے۔‘‘
’’حضرت مرزا صاحب نے ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ ایک مامور عنقریب پیدا ہونے والا ہے۔ وہ روح حق سے بولے گا اور اس کا نزول گویا خدا کا نزول ہے۔ مرزا صاحب نے فقیر کی تاریخ پیدائش ۱۸۸۶ء بتائی تھی۔ ان بشارتوں کے مطابق میری پیدائش ۷ جون ۱۸۸۶ء ہے۔‘‘
’’اب حق آگیا۔ اسی کی طرف حضرت صاحب نے اشارہ کیا تھا کہ جب تک روح القدس سے تائید پاکر کوئی کھڑا نہ ہو تم سب مل کر کام کرو۔ بعدہ اس کی اتباع کرنا اسی میں نجات ہے… میری اس ماموریت کے انکار کی صورت میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ موعود میں نہیں ہوں تو اور کون ہے؟‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۹،۱۷ مصنفہ صدیق دیندار چن بشویشور)
ناظرین! یہ ہے مرزا غلام احمد قادیانی کا روحانی فیض کہ متعدد اشخاص نے ان کی بیعت میں داخل ہوکر نبوت کا درجہ حاصل کرلیا اور وحی والہام سے سرفراز ہوگئے۔ مجھے ان لوگوں کے اس رتبہ پر رشک نہیں۔ ہاں! ایک افسوس ضرور ہے:
ہم جو چپ ہوں تو سٹری کہلائیں
شیخ چپ ہوں تو توکل ٹھہرے
مرزا غلام احمد قادیانی دعویٰ نبوت کریں تو صادق۔ لیکن احمد نور کابلی، یارمحمد، عبداللطیف گناچوری، چراغ دین جموی، شیخ غلام احمد لاہوری، عبداللہ تیماپوری، صدیق صاحب دیندار، مرزا صاحب کے متبع ان سے محبت کرنے والے اگر مدعی نبوت ہوں تو کاذب، مفتری اور مخبوط الحواس قرار پائیں:
بسوختہ عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است
جب بقول خلیفہ صاحب قادیان (میاں محمود) نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور مرزا قادیانی کے بعد بھی ہزاروں نبی پیدا ہوں گے تو جس طرح مرزا قادیانی کسب ذاتی اور آنحضرتa کی مہر سے نبی بن گئے اسی طرح اور لوگ بھی نبی بن سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو میاں محمود احمد خلیفہ قادیان ازراہ ہمدردی یہ سمجھایا کرتے ہیں کہ نبوت ایک رحمت ہے اور اس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ پس جب آنحضرتa نبی گر ہیں تو ان کی اتباع سے جس طرح مرزا قادیانی نبی بن گئے اگر یہ لوگ بھی نبوت کے مرتبہ تک پہنچ گئے تو کیا قیامت لازم آگئی؟ اور اگر مرزا قادیانی کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ مرزا قادیانی خاتم النّبیین ہیں۔ اس صورت میں مرزا قادیانی مورد اعتراض قرار پاتے ہیں کہ انہوں نے فیض نبوت کو ہمیشہ کے لئے اس امت پر بند کردیا اور اگر فیضان نبوت کا بند ہوجانا موجب نقصان نہیں تو پھر آنحضرتa ہی کو خاتم النّبیین کیوں نہ تسلیم کرلیا جائے تاکہ بیسویں صدی کے تمام مدعیان نبوت کی ترکی خود بخود ختم ہوجائے۔
آخر میں ایک سوال قادیانی جماعت سے اور کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب مولوی یار محمد، سید احمد نور، شیخ غلام محمد اور مولوی عبداللہ تیما پوری نبوت کا دعویٰ کریں تو آپ حضرات ان لوگوں کو مجنوں، فاتر العقل، مخبوط الحواس اور غلطی خوردہ قرار دیں۔ حالانکہ یہ لوگ آپ کے اصول کی رو سے بالکل راہ راست پر ہیں۔ لیکن جب مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی
کو دعویٰ نبوت کی وجہ سے اسی خانہ میں رکھتے ہیں جس میں آپ نے ان تمام مدعیان نبوت کو رکھا ہے تو آپ لوگ ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ راز آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔
باب نبوت یا کھلا ہوا ہے یا بند ہے تیسری کوئی صورت نہیں۔ اگر نبوت ورسالت آنحضرتa پر ختم ہوگئی تو پھر معاملہ بالکل صاف ہے۔ آنحضرتa کے بعد ہر مدعی نبوت کاذب ہے۔ خواہ وہ غلام محمد ہو یا غلام احمد اور اگر نبوت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے تو پھر جس منہاج پر آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو پرکھا ہے اسی منہاج پر شیخ غلام محمد صاحب لاہوری مصلح موعود کو پرکھ لیجئے۔ آخر یہ امتیاز بین الانبیاء کیسا؟
جس زمانہ میں شیخ غلام محمد لاہوری نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ لاہوری جماعت کے اکثر اکابر کی رائے یہی تھی کہ اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ مولوی یار محمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اکابر قادیان نے بھی یہی رائے ظاہر کی کہ ان کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ پس جب مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تھا اگر اس وقت اکابر ملت اسلامیہ نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ مدعی نبوت کے دماغ میں خلل ہے تو آپ لوگ کیوں چیں بچیں ہوئے تھے؟
قادیانی حضرات مجھے معاف کریں۔ نبوت کا دروازہ تو سب سے پہلے مرزا قادیانی نے کھولا۔ پھر اگر ان کے متبعین نے ان کے نقش قدم پر چل کر وہی مقام حاصل کرلیا جس کے وہ خود مدعی تھے تو اس میں کیا قیامت لازم آگئی؟
اب میں مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء کی تحریرات پیش کرکے ناظرین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان تحریروں کو پڑھ کر خود ہی فیصلہ کرلیں کہ آیا ان کی موجودگی میں کسی قادیانی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مدعیان نبوت کو مخبوط الحواس اور فاتر العقل قرار دے۔
’’اللہ جل شانہ نے آنحضرتa کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۹۶، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰حاشیہ)
’’اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے۔‘‘
(تجلیات الہیہ ص۲۵، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)
’’ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرتa کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہ راست نہیں مل سکتی۔‘‘
(حقیقت النبوت ص۲۲۸، انوار العلوم ج۲ ص۵۴۲مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی)
’’انسانی ترقی کے آخری درجہ کا نام نبی ہے جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہداء اور شہداء سے صدیقوں میں شامل ہوجاتا ہے وہ آخر جب اس درجہ سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سرالٰہی بن جاتا ہے۔‘‘
(حقیقت النبوت ص۱۵۳، ۱۵۴، انوار العلوم ج۲ ص۴۷۳)
’’ ہمارے آنحضرت کو ایسا درجہ استادی ملاکہ آپ کے مدرسہ کو کالج تک بڑھادیا گیا اور آپ کی شاگردی میں انسان نبی بھی بن سکتا ہے۔‘‘
(القول الفصل ص۱۵، انوار العلوم ج۲ ص۲۷۷ مصنفہ مرزا محمود احمد)
’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمدرسول اللہ a سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘
(ملفوظات مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل ج۱۰ ش ۵ ص۵، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)
’’ یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرتa کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۴ مصنفہ مرزا قادیانی)
’’ آنحضرت کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرتa نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا۔‘‘
(حقیقت النبوت ص۱۸۶، ۱۸۷، انوار العلوم ج۲ ص۵۰۴)
غالباً یہ حوالے میرے مقصد کو واضح کرنے کے لئے بالکل کافی ہیں۔
اب میں مرزا قادیانی اور خلیفہ ثانی اور ان کے متبعین سے یہ سوال کرتا ہوں کہ یار محمد، سید نور احمد، ظہیرالدین اروپی، صدیق دیندار، عبداللہ تیماپوری، عبداللطیف گناچوری، شیخ غلام محمد لاہوری اور میاںچراغ دین جموی جملہ مدعیان نبوت اگر آپ صاحبان سے یہ سوال کریں کہ جب آپ مانتے ہیں کہ:
۱… آنحضرتaکی پیروی انسان کو نبی بناسکتی ہے۔
۲… بغیر شریعت کے نبی آسکتا ہے۔
۳… آنحضرت کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔
۴… آنحضرت کی کامل اتباع سے ایک امتی نبیوں کا مرتبہ حاصل کرسکتا ہے۔
۵… اگر کوئی انسان صدیقیت کے مرتبہ سے بھی آگے ترقی کرجائے تو وہ نبی بن جاتا ہے۔
۶… ایک انسان ترقی کرتے کرتے آنحضرت سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
۷… نبوت کو آنحضرتa پر ختم سمجھنا ایک لغو اور باطل عقیدہ ہے۔
۸… ختم نبوت کے عقیدے سے انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں آنحضرت کی توہین ہے اور امت محمدیہ ناقص ٹھہرتی ہے۔
۹… ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ آئندہ آنحضرت کی اتباع سے نبی بناکریں گے۔
۱۰… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی خود بھی آنحضرت کی اتباع کاملہ کی بدولت نبی بن گئے تو اگر ہم لوگوں نے اسی ترکیب سے یہ درجہ حاصل کرلیا تو ہم مورد الزام کیوں ہیں:
درمیاں قعر دریا تختہ بندم کردہ
بازمیگوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش
یہ کس قدر قدر ظلم اور صریح ظلم اور حق پوشی اور ناحق کوشی اور بے انصافی ہے کہ آپ دعویٰ نبوت کریں تو صادق اور ہم دعویٰ نبوت کریں تو کاذب، بلکہ مجنون، فاتر العقل، مخبوط الحواس اور فریب خوردہ کہلائیں:
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اگر اس کے جواب میں خلیفہ قادیانی اور ان کی امت یہ کہے کہ:
۱… مرزا قادیانی نے یہ مرتبہ کامل اتباع آنحضرتa سے پایا تو اس کے جواب میں یہ مدعیان نبوت یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بھی ٹھیک اسی طرح پایا ہے بلکہ مرزا قادیانی نے تو صرف آنحضرتa ہی کے اتباع سے درجہ نبوت حاصل کیا ہم لوگوں نے تو آنحضرتa کی اتباع بھی کی اور مرزا قادیانی کی بھی جن کا ذہنی ارتقاء اپنے استاد سے بھی زیادہ تھا۔ اب رہی بات اتباع کی۔ پس وہ جس طرح مرزا قادیانی کا زبانی دعویٰ تھا ہمارا بھی
زبانی ہی ہے۔ ان کو الہام ہوتا تھا ہمیں بھی الہام ہوتا ہے۔ رہا ثبوت سو وہ نہ ان کے پاس تھا نہ ہمارے پاس ہے بلکہ ان کے الہامات تو بعض اوقات مہمل بھی ہوتے تھے۔ مثلاً: ’’پریشن‘‘، ’’عمرپلاطوس‘‘، ’’خاکسار پیپرمنٹ‘‘ اور ’’ربنا العاج‘‘ لیکن ہمارا کوئی الہام اس قبیل سے نہیں ہے۔
آخر میں ایک سوال میاں محمود احمد خلیفہ قادیان سے اور کرتا ہوں۔ جناب موصوف (حقیقت النبوت ص۱۸۶، ۱۸۷، انوار العلوم ج۱۲ ص۵۰۴) پر لکھتے ہیں: ’’ آنحضرت کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ نے اس انعام کو بند کردیا۔ اب بتائو کہ اس عقیدہ سے آنحضرت رحمتہ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف؟ اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ (نعوذباللہ ) دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔‘‘
اب اگر جس طرح خلیفہ قادیانی نے مسلمانوں سے سوال کیا ہے ایک بہائی (پیرومذہب بہااللہ ایرانی) ان الفاظ میں جناب موصوف سے سوال کرے: ’’آنحضرت کے بعد شریعت وہدایت منجانب اللہ کو بند قرار دینے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ قرآن کی وجہ سے دنیا فیض ہدایت ربانی سے بالکل محروم ہوگئی اور قرآن کے نزول نے اس انعام کو بالکل بند کردیا۔ اب بتائو اس عقیدہ کی رو سے کہ شریعت وہدایت ختم ہوچکی، قرآن دنیا کے لئے موجب رحمت ثابت ہوتا ہے یا اس کے خلاف؟ اگر اس عقیدہ کو تسلیم کرلیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ قرآن مجید دنیا پر بطور ایک عذاب کے نازل ہوا تھا۔‘‘
تو خلیفہ قادیان اسے کیا جواب دیں گے؟
اگر آنحضرتa کے بعد نبوت کو ختم ماننا موجب نقصان ہے تو شریعت کو ختم ماننا موجب نقصان کیوں نہیں؟ جس طرح نبوت جاری ہے شریعت بھی جاری ہے۔ اگر اس کے جواب میں قادیانی حضرات بہائی حضرات سے یہ کہیں کہ جناب شریعت ختم ہوگئی تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ جناب نبوت بھی ختم ہوگئی۔ جس طرح نبوت دنیا کے لئے موجب رحمت ہے قرآن مجید بھی دنیا کے لئے موجب رحمت ہے اور جس طرح نبوت کے بند ماننے سے مفاسد
لازم آتے ہیں۔ جس طرح آنحضرتa کے بعد نئے نبی آنے سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی اسی طرح قرآن مجید کے بعد نئی شریعت آنے سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔ اگریہ کہو کہ شریعت کامل ہوچکی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ نبوت بھی کامل ہوچکی ہے۔
اگر ان اعتراضات کا مرزائیوں کے پاس کوئی جواب ہو تو ہم بھی سننے کے مشتاق ہیں؟
ناظرین! مجھے معاف فرمائیں بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ مقصد اس تمام داستان سے یہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے علوم باطنی کی کرشمہ سازیاں ناظرین اوراق کی خدمت میں پیش کردوں:
لذیذ بود حکایت درازتر گفتم
مختصر یہ کہ علوم ظاہری وباطنی دونوں کے لحاظ سے ہمارے مرزا قادیانی جمیع مجددین امتہ کی صف میں یکتا اور بے ہمتا نظر آتے ہیں۔
خدا کی شان ہے کہ ان جلوہ ریزیوں کے بعد بھی مسلمانوں کی ایک جماعت انہیں مجدد دین تسلیم کرتی ہے اور ان کا کلمہ پڑھتی ہے۔
خرد کانام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
جو جماعت غلو میںاس قدر ترقی کرچکی ہو کہ مرزا قادیانی کے ذہنی ارتقاء کو سرورکائنات فخر موجودات علیہ افضل الثناء والتحیات کے ذہنی ارتقاء سے بڑھ کر قرار دیتی ہو۔ جس جماعت کے افراد کو اپنے پیشواء کو نبی بنانے کے شوق میں یہ کلمہ کہنے سے باک نہ ہو کہ ایک شخص ترقی کرتے کرتے افضل الانبیاء محمد مصطفیa سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس جماعت کے افراد سے تو یہ توقع ہی فضول ہے کہ وہ ان حقائق پر غور کریں گے۔ ہاں! مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد ماننے والوں سے یہ مخلصانہ گزارش ضرور ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ مجھے منہاج نبوت پر پرکھو اور یہ کہ جس قدر نشانات مجھ سے ظاہر ہوئے ان سے صد ہا نبیوں کی نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ جس شخص کا یہ دعویٰ ہو کہ میں نبی اور رسول ہوں جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔ اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں:
آنچہ دادست ہر نبی را جام
داد آن جام را مرابتمام
انبیاء گرچہ بودہ اندبسے
من بعرفان نہ کمترم زکسے
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
ایسے مدعی کو وہ صرف مجدد کس طرح مان سکتے ہیں؟یہ بات تو علیحدہ ہے کہ وہ مجدد بھی ثابت نہ ہوسکیں۔ لیکن انہیں تو حضرت صاحب کے رتبہ کو گھٹانا مناسب نہیں ہے۔
نوٹ: ہمارے زمانہ میں مادہ پرستی کا دور ہے۔ ہر شخص خصوصاً انگریزی دان طبقہ روحانیت اور علم باطنی کو شک اور شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔ دنیا کسی زمانہ میں بھی ہادیان طریقت اور اصحاب باطن سے خالی نہیں رہتی لیکن ان کے دیکھنے کے لئے نگاہ کی ضرورت ہے۔ مجدد چونکہ علوم ظاہر وباطن دونوں کا جامع ہوتا ہے۔ اس لئے وہ لوگوں میں سب سے پہلے یہ نگاہ پیدا کرتا ہے۔ یعنی لوگوں کے اندر خدا طلبی کا ذوق پیدا کرتا ہے اور اس کے بعد انہیں اس راہ پر چلاتا ہے کہ وہ دست بکار اور دل بہ یار کا مصداق بن جاتے ہیں۔ چونکہ اس زمانہ میں بہت کم لوگ ارباب باطن یا علوم باطنی سے آگاہ ہیں اس لئے مختصر طور پر ان دونوں باتوں کی تشریح ضروری ہے تاکہ ناظرین کرام خود فیصلہ کرسکیں کہ مرزا قادیانی کا شمار ارباب باطن یعنی اولیاء اللہ میں ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جو علم حواس خمسہ کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے وہ اور جو علم استقرائی اور استخراجی طریق پر حاصل ہوتا ہے۔ یہ دونوں علوم ظاہری ہیں۔ چونکہ حواس خمسہ اور قوائے عقلیہ سے غلطی بھی ہوسکتی ہے اس لئے ان علوم کی بدولت حق الیقین کا مرتبہ حاصل نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ، اس کی صفات، روح، اس کے افعالم، وحی والہام اور دیگر معاملات روحانی یہ سب حواس اور عقل کی رسائی سے بالاتر ہیں۔ ان کی معرفت کا آلہ دماغ نہیں بلکہ قلب ہے۔ جسے صوفیائے کرام اپنی اصطلاح میں ’’حاسۂ باطنی‘‘ کہتے ہیں۔ اس حاسۂ باطنی کو مؤثر بنانے کے لئے حکمت یا منطق فلسفہ جاننا ضروری نہیں بلکہ تزکیہ نفس شرط لازمی ہے۔ تزکیہ گویا وہ صیقل ہے جس کی بدولت آئینہ قلب منجلی ہوجاتا ہے اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ آئینہ میں عکس اسی وقت نظر آتا اور آسکتا ہے جب کہ اس کی صیقل کامل ہو۔ اس کیفیت کو علم نہیں کہتے بلکہ وجدان سے تعبیر کرتے ہیں۔ وجدان کے لفظی معنی ہیں پالینا۔ جاننے میں غلطی ہوسکتی ہے لیکن جو چیز آپ نے پالی ہے اس کے متعلق آپ کے دل میں یہ شبہ پیدا نہیں ہوسکتا کہ پائی ہے یا نہیں؟ صوفی استدلالی رنگ میں نہیں بلکہ وجدانی رنگ میں خدا کو دیکھ کر اس کی ذات وصفات کے متعلق یقین جازم پیدا کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہی یقین، یقین ہے جو وجدانی طور پر پیدا ہو۔ اسی لئے مولانا رومیv فرماتے ہیں:
گربا استدلال کار دیں بدے
فخر رازی راز دارے دیں بدے
یہ یقین کس طرح پیدا ہوجاتا ہے تزکیہ نفس وتصفیہ باطن کیونکر ہوتا ہے۔ دروغ گوئی، خودبینی، فریب کاری وغیرہ عادات قبیحہ کیونکر دور ہوسکتی ہیں؟ انسان نفس امارہ کے چنگل سے کس طرح رہائی حاصل کرسکتا ہے؟ اس علم کو علم باطن کہتے ہیں۔
چونکہ اس علم کا منتہی مقام ولایت ہے۔ اس لئے جو شخص علم باطنی میں ماہر ہوتا ہے اسے عرف عام میں ولی اللہ کہتے ہیں۔ اگرچہ ہر ولی کے لئے مجدد ہونا ضروری نہیں لیکن مجدد کے لئے ولی اللہ ہونا اشد ضروری ہے۔ کیونکہ دین کی تجدید بچوں کا کھیل نہیں ہے اور میں پھر کہتا ہوں۔ خواہ مجھ پر تکرار مضمون کا الزام ہی کیوں نہ عائد ہو جائے کہ چند کتابیں تصنیف کرلینے یا چند پیش گوئیاں کردینے یا چند لیکچر سنادینے یا مناظرے کر لینے سے کوئی شخص مجدد نہیں بن سکتا۔
اب میں ناظرین کی آگاہی کے لئے چند باتیں اولیاء اللہ کے متعلق لکھتا ہوں تاکہ مجددین امت کا مرتبہ اور مقام سمجھنے میں آسانی ہو۔
ہندوستان میں جو اولیاء اللہ گزرے ہیں ان میں حضرت داتا گنج بخش صاحب لاہوریv، حضرت سلطان الہند خواجہ غریب نواز اجمیریv، حضرت خواجہ قطب الدین دہلویv، حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی دہلویv، حضرت فرید الدین گنج شکر اجودھنیv، حضرت صابر صاحب کلیریv، حضرت خواجہ باقی باللہ v، حضرت بہائوالدین نقشبندv، حضرت خواجہ گیسودرازv بہت مشہور ومعروف ہیں اور ان بزرگان دین کے علمی وعملی کارنامے آج بھی زبان زد خاص وعام ہیں۔ ان کی پاکیزہ زندگیوں پر طائرانہ نگاہ ڈالیئے۔ آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اولیاء اللہ کی زندگی کیسی ہوتی ہے اور اس کی بناء پر آپ بآسانی یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مجدد کی زندگی کیسی ہونی چاہئے کیونکہ ہر مجدد ولی اللہ بھی ہوتا ہے۔ جزوی اختلافات سے قطع نظر کرلیجئے۔ کیونکہ ہر فرد کی سرشت دوسرے سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوتی ہے۔ مفصلہ ذیل امور سب کی پاکیزہ زندگیوں میں مشترک نظر آتے ہیں۔
۱… ان میں سے کسی شخص نے سلاطین وقت یا حکومت کے سامنے دریوزہ گری نہیں کی۔ خدا تعالیٰ کے سواء اور کسی دنیاوی طاقت سے مرغوب نہیں ہوئے بلکہ خود سلاطین وقت
ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ان کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونے کو سعادت اخروی یقین کرتے تھے اور آج بھی جب کہ یہ بزرگان دین بظاہر ہماری نگاہوں سے روپوش ہوچکے ہیں۔ ان کی باطنی کشش کا یہ عالم ہے کہ ایک دنیا ان کی آرام گاہوں کی خاک طوطیائے چشم بناتی ہے اور دامن امید گلہائے مراد سے بھرتی ہے۔
انہی کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے:’’الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون‘‘
اس کے برخلاف مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی سرکار دولت مدار کی چوکھٹ پر ناصیہ فرسائی کرتے گزر گئی اور اس شعر کا مفہوم ورد زبان رہا:
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
اس کی پوری تفصیل اور تحریری شہادت آگے آئے گی۔
۲… ان بزرگان دین نے نہ ذخیرہ احادیث کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا، نہ دین اسلام میں کوئی رخنہ پیدا کیا، نہ غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا، نہ اکابر امت کی توہین کی، نہ عام مسلمانوں کو ذریۃ البغایا کا لقب عطاء کیا، نہ اپنی شان میں قصیدہ خوانی کی، نہ انعامی چیلنج شائع کئے اور نہ زبانی جمع خرچ کیا بلکہ سارا وقت ساری زندگی خلق اللہ کی خدمت میں بسر کی۔ جاہلوں کو عالم بنایا، علماء کو خدا سے ملایا، مسکینوں کی دستگیری کی، مریضوں کی تیمار داری کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اٹھتے بیٹھتے تبلیغ اسلام کی۔ ہزار ہا غیر مسلموں کو کلمہ پڑھایا۔ ہزار ہا گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا اور خود نان جوین اور ایک بوریے پر قناعت کی نہ یاقوتی کھائی نہ مفرح عنبری۔
ڈاکٹر ٹی ڈبلیو آرنلڈ اپنی شہرۂ آفاق کتاب دعوت اسلام میں لکھتے ہیں کہ حضرت داتا گنج بخش لاہوریv کے مواعظ حسنہ میں یہ تأثیر تھی کہ بلا مبالغہ صد ہا غیر مسلم روزانہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ یہی حال حضرات خواجگان چشتv کا تھا اور آج جو ہندوستان میں ۸؍کروڑ سے زائد مسلمان نظر آتے ہیں یہ سب انہی قدسی نفس بزرگان دین کی تبلیغی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ہندوستان میں نہ کوئی باقاعدہ اور منظم طریق پر تبلیغ اسلام کا ادارہ قائم ہوا اور نہ مسلمان بادشاہوں نے بااستثنائے معدودے چند کوئی تبلیغی نظام اس ملک میں قائم کیا۔
اس کے برخلاف مرزا قادیانی نے امت مرحومہ میں ایک مستقل فتنہ وفساد کا دروازہ کھول دیا۔ نبوت کا دعویٰ کرکے وحدت ملی کو پارہ پارہ کردیا۔ نوبت بانیجارسید کہ آج کلمہ طیبہ الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں۔ جب تک ایک مسلمان مرزا قادیانی آنجہانی کی نبوت پر ایمان نہ لائے وہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جل جلالہ غیر مسلموں کو تو اسلام میں کیا داخل کرتے ۵۶؍ہزار مسلمانوں کے علاوہ ساڑھے سات کروڑ کو اسلام سے خارج کردیا۔ چنانچہ شریعت مرزائیہ کی رو سے کوئی مرزائی کسی مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔ دعویٰ تھا کسر صلیب کا۔ لیکن ۲۳ سالہ بارش کی طرح نزول وحی کے باوجود ۲۳ عیسائی بھی مرزا قادیانی آنجہانی کے دست بحق پرست پر مسلمان نہ ہوئے بلکہ جو مغلظات آنجناب نے عیسائیوں کو سنائیں ان کے جواب میں انہوں نے بانی اسلامk کی شان میں وہ دریدہ دہنی کی کہ باید وشاید۔
آنجناب کی سب سے بڑی تحقیق جس پر آئندہ نسلیں فخر کیا کریں گی یہ ہے کہ آپ نے بصد کاوش حضرت عیسیٰm کے مزار کا پتہ مسلمانوں کو بتادیا۔ واقعی تیرہ سو برس میں یہ کام کسی مجدد سے نہیں ہوسکا تھا اور یہ کام فی الحقیقت اس قدر مہتمم بالشان تھا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کو اس زمانہ میں ایک نذیر مبعوث کرنے کی سخت ضرورت تھی اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی دنیا کے مسلمانوں پر ظاہر ہوئی اور اب تو خدا کے فضل سے نبوت کا دروازہ کھل ہی چکا ہے۔ فی الحال سات نبی امت مرزائیہ میں مبعوث ہوچکے ہیں اور ابھی بقول خلیفہ قادیان ہزاروں نبی آنے والے ہیں۔ امت اسلامیہ کا بیڑا عنقریب اس بھّنور سے صاف نکل کر ساحل مراد پر پہنچ جائے گا۔
۳… ان جملہ بزرگان دین نے نہ چندے کے رجسٹر کھولے، نہ کوئی بہشتی مقبرہ بنایا، نہ منارۃ المسیح تعمیر کرایا، نہ ایسی پیش گوئیاں شائع کیں جو پوری نہ ہوئی ہوں۔ انہوں نے کوئی کام اپنے نفس کے لئے نہیں کیا۔
اس کے برخلاف مرزا قادیانی ساری عمر چندوں کی اپیلیں شائع کرتا رہا اور اس کے بعض مرید جن کا ذکر آگے آئے گا۔ اس باب میں ان سے بدظن بھی ہوئے اور آنجناب کی نوے فیصد پیش گوئیاں غلط نکلیں:
ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند
مثلاً:۱۸۸۶ء میں بشیر احمد کے متعلق پیش گوئی کی کہ یہ لڑکا بڑا ہوکر اولوالعزم اور نامور ہوگا:’’کأن اللہ نزل من السماء‘‘ کا مصداق ہوگا۔ لیکن وہ لڑکا ۱۸۸۷ء ہی میں فوت ہوگیا۔
ثانیاً: محمدی بیگم صاحبہ کے متعلق پیش گوئی کی وہ میری زوجیت میں ضرور آئے گی۔ یہ تقدیر مبرم ہے۔ اگر یہ پیش گوئی غلط نکلے تو میں جھوٹا۔ لیکن قدرت خدا وندی ملاحظہ ہو مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۸ء میں انتقال بھی کرگے اور یہ پیش گوئی جس کے متعلق انہیں ’’زوجنکھا‘‘کا الہام بھی ہوچکا تھا پوری نہ ہوئی۔
ثالثاً: ڈپٹی عبداللہ آتھم کی پندرہ ماہ کے اندر موت کی پیش گوئی کی مگر وہ بھی غلط نکلی۔
رابعاً: ڈاکٹر عبدالحکیم مرحوم کے متعلق پیش گوئی کی تھی کہ میرے سامنے مریں گے لیکن ان کا انتقال ۱۹۲۲ء میں ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی کی وفات کے ۱۴ سال کے بعد۔
خامساً: شیر اسلام مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریv کے متعلق ۱۹۰۷ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا تھا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو آپ کی زندگی میں ہلاک ہوجائوں گا مقام عبرت ہے کہ مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء میں بعارضہ اسہال فوت ہوگیا اور مولانا ہنوز زندہ ہیں۔
اگر مرزا قادیانی کو مقام ولایت یا تقرب الی اللہ حاصل ہوتا تو خدا تعالیٰ ان کے مخالفین کو اس طرح ان پر ہنسنے کا موقع نہ دیتے۔ چونکہ عربی فارسی جانتے تھے اس لئے قدمأ مصنّفین کی کتب سے استفادہ کرکے چند کتابیں لکھ دیں اور مطالعہ کتب مروجہ کیا تھا۔ اس لئے چند مناظرے کرلئے۔ لیکن علوم باطنی سے کوئی بہرہ نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے جب اس میدان میں گامزن ہوئے تو ہر قدم پر لغزش ہوئی اور لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا:
کوئی بھی قول مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا
اولیاء اللہ کی زندگی میں وہ کشش اور جاذبیت ہوتی ہے کہ غیر کلمہ پڑھنے اور محبت کا دم بھرنے لگتے ہیں۔ رجوع خلائق کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بادشاہان وقت کو ان کے مرتبہ پر رشک وحسد ہونے لگتا ہے لیکن یہاں معاملہ بنوع دیگرہے جس کی تفصیل آئندہ اوراق میں ملے گی۔
مختصر یہ ہے کہ علم ظاہری اور علم باطنی دونوں کے لحاظ سے مرزا قادیانی کا مرتبہ ایسا نہیں کہ انہیں مجددین اسلام کی زریں فہرست میں شامل کیا جائے جس کو یقین نہ ہو وہ ان کی مبہم اور ژولیدہ تصانیف کو پڑھ کر دیکھ لے۔
دوسری اہم اور ضروری شرط جس کا پایا جانا ایک مجدد میں لازمی امر ہے یہ ہے کہ اس کے اندر اصلاح احوال (ریفارم) کی زبردست قوت وصلاحیت پائی جاتی ہے اور وہ عملاً مسلمانوں کے خیالات ورسوم وعقائد کی اصلاح کردیتا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو یہ ایک مجدد کی سب سے بڑی مگر سب سے آسان شناخت ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام کا اصلی چہرہ از سر نو دکھادیتا ہے۔ خیالات فاسدہ اور رسوم باطلہ اور عقائد ناقصہ سب کی قولاً اور فعلاً بیخ کنی کردیتا ہے اور قرآن و حدیث کے علوم کو دو بارہ زندہ کردیتا ہے اور لوگوں کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ اپنی طرف سے کوئی نئی بات نہیں پیش کرتا۔
ہندوستان میں صرف مجدد الف ثانیv، حضرت شاہ ولی اللہ v، حضرت سید احمد رائے بریلویv اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندیv مشہور مجدد گزرے ہیں۔ ان بزرگوں کی تصانیف اور ان کے کارنامے سب ہمارے سامنے ہیں۔ میں اس مختصر مضمون میں ان کو بالتفصیل بیان نہیں کرسکتا۔ لیکن ’’مشتے از خروارے‘‘ پر عمل کرتا ہوں۔
حضرت مجدد الف ثانیv جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہندوستان میں ایک طرف تشیع کا زور تھا۔ دوسری طرف اکبر نے الحاد کا دروازہ کھول دیا تھا۔ تیسری طرف غیراسلامی تصوف اور تصوف کا غلط مفہوم مسلمانوں میں رائج ہوگیا تھا۔ چوتھی طرف ہندی مسلمانوں میں رسوم راہ پاگئی تھی۔ حضرت مجدد صاحب نے پہلے علوم ظاہری میں مرتبہ کمال حاصل کیا جسے شک ہو وہ مکتوبات کا مطالعہ کر دیکھے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ باقی بااللہ دہلویv سے علوم باطنی حاصل کئے اور ان میں وہ مقام حاصل کیا کہ خود ان کے مرشد علیہ الرحمتہ نے ان کی بزرگی کا اعتراف کیا۔ جب اصلاح امت کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو ایک طرف وعظ اور تقریر کا سلسلہ جاری کیا۔ دوسری طرف روحانیت کے زور سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا۔ تیسری طرف سید المرسلینa کے نقش قدم پر چل کر ایک قابل تقلید نمونہ پیش کیا۔ چوتھی طرف جب حضرت کو دشمنوں نے گوالیار کے جیل خانہ میں مقید کیا تو تمام قیدیوں کو شب بیدار اور تہجد گزار بنادیا۔ ہزار لیکچر ایک طرف اور ایک عمل ایک طرف۔ آپ کی قوت
قدسی کو دیکھ کر ایک جہانگیرہی طالب عفو نہیں ہوا بلکہ ساری دنیا آپ کا کلمہ پڑھنے لگی۔
آپ نے نہ چندہ جمع کیا، نہ اشتہارات شائع کئے، نہ ہنگامہ برپا کیا بلکہ وعظ اور تحریر سے اصلی اسلام لوگوں کے سامنے پیش کیا اور ہزار ہا بندگان خدا کو سیدھا راستہ دکھایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے کارنامے دیکھ کر ہر فرد بشر پکار اٹھا کہ آپ مجدد الف ثانیv ہیں۔
آپ نے علوم ظاہری وباطنی کا وہ چشمہ بہایا کہ ایک عالم سیراب ہوا۔ طالبان حق نے مختلف مسائل میں اپنی تسلی خاطر کے لئے قلمی استفسارات آپ کی خدمت میں بھیجے۔ ان کے جوابات آج ہمارے سامنے مکتوبات کی شکل میں موجود ہیں۔ ان کو پڑھ کر ہر منصف مزاج آپ کی علمیت اور قابلیت کا معترف ہوجاتا ہے۔ ہر مکتوب حرزجاں بنانے کے قابل ہے۔
آپ نے کوئی دعویٰ ظلی یا بروزی نبوت کا نہیں کیا۔ صرف اسلام کی اصلی تصویر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے پیش کی اور یہی مجدد کا اصلی اور حقیقی منصب ہوتا ہے کہ وہ سنت کا احیاء کرے اور بدعات کا قلع قمع۔
آپ کے بعد بارہویں صدی ہجری میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحبv نے خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے اصلاح کا کام سرانجام دیا۔ شاہ صاحبv ۱۱۱۴ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۱۷۶ھ میں وفات پائی۔ علوم ظاہری وباطنی اپنے والد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحبv سے حاصل کئے اور ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ ایسی لاجواب کتاب تصنیف کی جس کے آگے بقول علامہ شبلیv، رازیv اور غزالیv کے کارنامے بھی ماند پڑگئے۔ قرآن مجید کا فارسی ترجمہ کیا اور ساری عمر اشاعت توحید وسنت میں بسر کی۔ علوم دینیہ کے وہ چشمے جاری کئے جن سے سارا عالم اسلامی سیراب ہوگیا۔ نہ نبوت کا دعویٰ کیا، نہ مسلمانوں کو کافر بنایا، نہ دین میں کوئی فتنہ برپا کیا۔
حضرت سید احمد صاحب رائے بریلوی۱۲۰۱ھ میں پیدا ہوئے۔ عین عالم شباب میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحبv کے دست حق پرست پر بیعت کی اور اولاً تحریر اور تقریر کے ذریعہ سے مسلمانوں میں مذہبی بیداری پیدا کی۔ اس کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ملک پنجاب میں شعائر اسلام کی اعلانیہ بے حرمتی ہورہی ہے اور طاغوتی قوتیں اسلام کے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں۔ پنجاب کی مساجد بارود خانوں اور اصطبلوں کی شکل میں تبدیل ہورہی ہیں۔ قرآن مجید کی سیٹرھیاں بنائی جارہی ہیں۔ خدا کا نام لینا یا اذان دینا جرم قرار دیا
جارہاہے۔ اذان دینا ایک طرف رہا مسلمان ہونا موجب ہلاکت ہورہا ہے تو آپ نے سنت رسول اللہ a اور طریق خلفائے راشدینi پر عمل پیرا ہوکر علم جہاد بلند کیا اور ۱۲۴۶ھ میں بمقام بالاکوٹ جام شہادت نوش فرماکر اس دور پر آشوب میں اپنے خون سے اسلام کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است برجریدہ عالم دوام ما
غدر۱۸۵۷ء کے بعد قاسم العلوم مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندیv نے اپنی باطل شکن تحریروں اور ایمان افروز تقریروں کے ذریعہ سے اسلام کی صداقت مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں پر آشکار کی اور دیوبند میں علوم اسلامیہ کا وہ سرچشمہ جاری کیا جس سے آج ایک عالم سیراب ہورہا ہے۔ اگر ان کی زندگی ان کے ہمعصروں کے لئے مشعل ہدایت تھی تو ان کے بعد ان کی تصانیف آج بیسویں صدی میں اپنوں اور غیروں کے لئے موجب ہدایت ہیں۔ غیر مسلموں کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت اس شان کے ساتھ ثابت فرمائی ہے کہ آج تک کسی شخص سے ان کی تصانیف کا جواب نہیں آیا۔ چونکہ یہ زمانہ فلسفہ اور حکمت کا زمانہ ہے اس لئے قاسم العلوم نے اپنی تصانیف میں منطق اور الہیات کے وہ وہ لطیف نکتے پیدا کئے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ ہوجاتی ہے۔ عوام اور علماء دونوں استفادہ کرتے ہیں۔ اس زہد واتقاء، اس علم وفضل اور اس شاندار خدمت اسلامی کے باوجود آپ نے نہ کوئی دعویٰ کیا نہ تفریق بین المسلمین کا دروازہ کھولا۔
اب ان بزرگوں کے مقابلہ میں ’’چودہویں صدی کے مجدد‘‘ کے کارناموں پر نظر ڈال لیجئے۔ زمین وآسمان کا فرق نظر آئے گا۔
تصانیف پر نظر ڈالئے تو تمام کتابوں میں طول کلام، التباس وابہام، لفظی کج کاویاں، اختلافات کے انبار، مباحث ناہموار، پراگندہ تکرار، سخن سازی کی بھرمار، تاویلات کا زور، دعاوی کا شور، کہیں نبوت کا اقرار، کہیں نبوت سے انکار، کہیں دعویٰ کہیں فرار، بیجا تعلیاں، بزرگان امت کا استخفاف، حق وصداقت سے انحراف، اپنوں سے جنگ، غیروں سے پیکار، انعامی چیلنج اور شہرت کے اشتہار، چندوں کی طلب اور ذاتی امراض کے تذکروں کے علاوہ مطلب کی بات مشکل سے ملے گی۔ دیگر مجددین امت نے دعاوی نہیں کئے کام کرکے دکھایا۔ مرزا قادیانی نے مخالفوں کے حق میں بدعائیں زیادہ کیں غیروں کو مسلمان کم
بنایا۔ دیگر مجددین نے اسلام کی حقانیت آشکار کی مرزا قادیانی نے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے صرف اشتہارات پر اکتفاء کی۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصہ اوّل یعنی ۱۸۸۴ء میں دعویٰ کیا کہ اسلام کی حقانیت پر تین سو دلائل سپرد قلم کروں گا۔ آج ۱۹۳۵ء ہے ابھی تک وہ دلائل کتم عدم سے عالم وجود میں نہیں آئے اور مرزا قادیانی کو دنیا سے سدھارے ہوئے ۲۷ سال گزر گئے۔
مجدد کا سب سے بڑا کام خیالات کی اصلاح کرنا ہے۔ اس معاملہ میں مرزا قادیانی افسوس ہے کہ مقرر کردہ معیار پر پورے نہیں اترے۔ کیونکہ انہوں نے خیالات کی اصلاح کے بجائے چند نئی باتیں داخل مذہب کردیں جن کی بدولت خیالات میںاور بھی خرابی رونما ہوگئی۔ مثلاً تیرہ سو سال سے مسلمانوں کی تمام جماعتیں ختم نبوت کو نص صریح سے ثابت شدہ سمجھتی تھیں اور بات بھی دراصل یہی ہے کہ آنحضرتa پر نبوت ختم ہوگئی لیکن مرزا قادیانی کی بدولت ایک نہایت فاسد عقیدہ اسلام اور مسلمین میں پیدا ہوگیا۔ وہ یہ کہ مسلمان کہلانے والے یہ یقین کرنے لگے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کی بنیاد ڈال کر لوگوں کے ایمان اور عمل دونوں کو کمزور کردیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ : ’’ نماز فجر سے کوئی ۲۰ یا ۲۵ منٹ بیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتّیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام بہشتی مقبرہ ہے یعنی جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔‘‘
(ملفوظات ج۴ص۲۱۷، تذکرہ ص۴۳۹، طبع چہارم)
اپنی خواب کا جومطلب مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے وہ ایسا ہے کہ جماعت کے کم علم لوگوں کے لئے لغزش کا سبب بن سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے مریدوں میں سب لوگ خواجہ کمال الدین اور محمد علی لاہوری کے مرتبہ کے نہیں ہیں۔ زیادہ تر لوگ بہت کم لکھے پڑھے اور سادہ مزاج دیہاتی ہیں۔ وہ جب پڑھیں گے کہ جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا تو لازمی طور سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ بہشتی بننے کی ترکیب آسان ہے کیوں نہ اس پر عمل کیا جائے اور وہاں دفن ہونے کی کوشش کی جائے۔ یہ خیال انسان کی قوت عمل کو رفتہ رفتہ مردہ کردے گا اور یہ خیال بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ امام حسینq کے غم میں رونے والے پر دوزخ کی آگ اثر نہیں کرسکتی۔ یہ بت پرستوں کے عقیدہ کفارہ کی ایک مخفی
شکل ہے اور میں اسے شرک خفی سمجھتا ہوں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی خاص مقبرہ کے احاطہ میںدفن ہونے کی وجہ سے بہشتی نہیں ہوسکتا اور :’’لا تزر وازرۃ وزر اخریٰ‘‘ اس پر شاہد ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ آیا سرورکائناتa نے جن کی نیابت کا مرزا قادیانی کو دعویٰ تھا کوئی بہشتی مقبرہ تعمیر کرایا تھا اور اس کے لئے چندہ طلب کیا تھا؟ کسی مجدد نے ایسا کیا؟
اسی طرح طاعون کے زمانہ میں مرزا قادیانی نے اس کا ایک مجرب علاج اپنے مریدوں کو ایسابتایا جس سے اصلاح عقائد کے بجائے تخریب ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اوربعض حصوں میں عورتیں، سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چار دیوار کے اندر ہوں گے حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا جس میں ہمارا حصہ ہے اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہوگئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر باقی حصہ بھی دیدیں۔ میری دانست میں یہ حویلی جو ہماری حویلی کا ایک جزو ہوسکتی ہے دو ہزار تک تیار ہوسکتی ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس کی بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا۔ اس لئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ خدا پر بھروسہ کرکے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے کوشش کرنی چاہئے ۔ میں نے بھی دیکھا کہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی۔ اس کی توسیع کی ضرورت پڑی۔‘‘
(المشتہرمرزا غلام احمد قادیانی کشتی نوح ص۷۶، خزائن ج۱۹ ص۸۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۷۶،۴۷۷)
اب ناظرین اس اشتہار کو پڑھ کر خود ہی اندازہ لگالیں کہ کس خوبصورتی اور دانشمندی کے ساتھ مریدوں کے دلوں میں آثار پرستی کا بیج بویا جارہا ہے۔ مجدد کا کام یہ نہیں کہ مریدوں کے چندہ سے اپنے مکان کی توسیع کے لئے کوشاں ہو اور نہ یہ اس کے شایان منصب ہے کہ وہ لوگوں میں ضعف اعتقاد پیدا کرے۔ یہ بات سراسر اسلامی تعلیمات کے
خلاف ہے کہ کوئی مکان یا احاطہ انسان کو موت کے چنگل سے محفوظ رکھ سکے۔ موت جس وقت آتی ہے ’’بروج مشیّدہ‘‘ میں بھی انسان کو نہیں چھوڑتی مکان مسکونہ کو کشتی نوح سے تعبیر کرنے میں ادبی خوبی ہو تو ہو۔ دینی اور ایمانی خوبی مطلق نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ مریدوں میں پیر پرستی اور آثار پرستی کا رنگ پیدا ہوجائے جو اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف اور موجب نقصان آخرت ہے۔
اس جگہ ایک شبہ یہ پیش کیا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے مریدوں پر پورا اختیار تھا۔ تم اعتراض کرنے والے کون! اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرید تھے تو ملت اسلامیہ ہی کے افراد۔ وہ ہمارے ہی بھائی تھے جو اس عجوبہ پرستی کا شکار ہوگئے اور یقینا ہمارا دل ان کے لئے کڑھتا ہے۔
اس سلسلہ میں لاہوری احمدیوں سے جو مرزا قادیانی کو مجدد تسلیم کرتے ہیں یہ سوال دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اگر فی الواقع بہشتی مقبرہ کے متعلق مرزا قادیانی کے ارشادات صداقت پر مبنی ہیں تو وہ اپنے متعلق کیا کہیں گے۔ جب کہ یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ ۱۹۱۴ء سے اب تک ان کی جماعت کا کوئی فرد بعد وفات اس سعادت عظمیٰ سے بہرہ اندوز نہیں ہوا اور نہ آئندہ اس کی کوئی امید ہے؟ کیا بہشتی مقبرہ کی برکات سے محروم ہوجانا لاہوری احمدیوں کے لئے موجب نقص ایمان نہیں؟ مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ اپنی جماعت کے افراد کے لئے تیار کیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ لاہوری حضرات اب وہاں! بار نہیں پاسکتے تو کیا اس لحاظ سے وہ مرزا قادیانی کی جماعت سے خارج نہیں ہوگئے؟ ان کے اخراج قادیان کے متعلق الفضل نے بالکل بجا طور پر اظہار تاسف کیا ہے۔ چنانچہ الفضل قادیان ج۲۲ ش۱۵ ص۶ کالم۱، مؤرخہ۱۵جنوری۱۹۳۵ء کے پرچہ میں اس طرح اظہار خیالات کیا گیا ہے۔
’’ دافع البلاء میں حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ لیکن غیر مبالعین نے اس مقدس مقام سے بکلی قطع تعلق کرلیا اور محمد علی لاہوری نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے استفسار پر کہا کہ کیا میں قادیان چھوڑ سکتا ہوں؟ لیکن وہ یہاں سے ایسے گئے کہ پھر بھولے سے بھی ادھر کا رخ نہ کیا۔ ہاں! انہوں نے اس قادیان کو چھوڑا جس کے متعلق خواجہ کمال الدین صاحب بھی کبھی یوں کہا کرتے تھے:
شفائے ہر مرض در قادیاں است
شدہ دارالاماں کوئے نگارے
تیسری اہم شرط تقویٰ ہے جس کا پایا جانا ایک مجدد میں اشد ضروری ہے۔ تقویٰ کے معنی ہیں خوف خدا۔ متقی انسان وہ ہے جسے دیکھ کر لوگ یہ پکار اٹھیں کہ یہ شخص ہر وقت خدا کی حضوری میں رہتا ہے۔ تقویٰ، بفحوائے نص قرآنی، ہر انسانی بزرگی اور مکرمت کے لئے سنگ بنیاد ہے جو شخص متقی نہیں وہ مومن بھی نہیں۔ چہ جائیکہ مجدد یا ولی ہوسکے۔ چونکہ اتقاء ایمان کی نشانی ہے اس لئے مجدد کو سراپا زہد واتقاء ہونا چاہئے۔
متقی کو عرف عام میں پرہیز گار بھی کہتے ہیں۔ پرہیز گار سے مراد وہ شخص ہے جو ہر اس بات سے پرہیز کرے جو تعلق باللہ میں خلل انداز ہو۔ اسلام میں جس قدر نامور اولیاء اللہ ، آئمہ اور مجددین گزرے ہیں سب میں یہ صفت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔ ہندوستان کے اولیاء اور مجددین کے سوانح حیات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان کا مطالعہ کرجائیے آپ کو ایک واقعہ بھی ان بزرگوں کی زندگی میں ایسا نہیں مل سکے گا جسے تقویٰ کے خلاف کہا جاسکے۔ اتقاء کی ایک ادنیٰ سی مثال یہ ہے کہ انسان سے فعلاً یا قولاً یا اشارتاً کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو جس سے دوسرے کی دل آزاری متصور ہو یا دل آزاری کا پہلو نکل سکے۔ کما قال:
مباش درپے آزار وہرچہ خواہی کن
کہ در طریقت مابیش ازیں گناہے نیست
افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں کئی باتیں ایسی نظر آتی ہیں جو ایک متقی انسان کے شایان شان نہیں لیکن میں بخوف طوالت صرف ایک واقعہ پر اکتفاء کروں گا۔ جسے میں نے ہمیشہ دلی افسوس کے ساتھ پڑھا ہے۔ میں مرزا قادیانی سے کوئی ذاتی عناد نہیں رکھتا۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے ان سے کوئی پرخاش نہیں لیکن قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتیں انہیں اس زمانہ کا سب سے بڑا انسان قرار دیتی ہیں اور مسلمانوں کو ان کی اتباع کے لئے دعوت دیتی ہیں۔ پس میرا فرض ہے کہ میں مرزا قادیانی کی سیرت کا باامعان نظر مطالعہ کروں اور دیکھوں کہ آیا وہ اس قابل ہیں کہ انہیں اولیاء اور مجددین امت کی صف میں جگہ دی جائے یا ان سے عقیدت رکھی جائے۔ میں مرزا قادیانی کو امام غزالیv یا شاہ ولی اللہ کی صف میں اسی بناء پر نہیں رکھتا کہ ان کے قلم سے احیاء العلوم یا حجتہ اللہ البالغہ جیسی کوئی کتاب نہیں نکلی بلکہ اس وجہ سے بھی کہ ان کی زندگی میں مجھے وہ بات نظر نہیں آتی جو خاصہ خاصان خدا میں ہوتی
ہے۔ اس تنقید سے میرا مقصود کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ محض حقیقت کو بے نقاب کرنا ہے۔
واقعہ بیان کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان افراد کا تذکرہ کردوں جن کا آئندہ صفحات میں مذکور ہوگا تاکہ نفس مضمون کے سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔
۱… مرزا قادیانی ! محمدی بیگم کے خواستگار۔
۲… محمدی بیگم! ایک نوجوان لڑکی اور مرزا قادیانی کی بھتیجی۔
۳… احمد بیگ! مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی اور محمدی بیگم کے والد۔
۴… والدہ محمدی بیگم! مرزا قادیانی کی چچا زاد بہن۔
۵… فضل احمد وسلطان احمد! مرزا قادیانی کے لڑکے۔
۶… عزت بی بی! فضل احمد بن مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی۔
۷… مرزا علی شیر بیگ! عزت بی بی کے والد۔
۸… والدہ عزت بی بی! مرزا حمد بیگ کی بہن۔
۹… مرزا سلطان محمد! مرزا قادیانی کا کامیاب رقیب یعنی محمدی بیگم کا شوہر۔
۱۰… پھجے دی ماں! مرزا قادیانی کی پہلی بیوی۔
۱۱… نصرت جہاں بیگم! مرزا قادیانی کی دوسری بیوی۔
ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی اپنے خدا سے الہام پاکر شائع کی جو (ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵) پر مرقوم ہے: ’’ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزاگاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کوتمہاری (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کرکے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کو مرزا قادیانی نے ایک پوسٹر (اشتہار) شائع کیا جو (تبلیغ رسالت جلد اوّل ص۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۷، ۱۵۸) پر بھی درج ہے: ’’خدائے قادر وحکیم
مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پائو گے۔ جو اشتہار۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۲، ۵۷۳ خزائن ج۵ ص۵۷۲، ۵۷۳) پر مرزا قادیانی یوں رقم طراز ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں اپنی دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور یہ بھی کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور مزید احسانات بھی تم پر کئے جائیں گے، بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کردو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم میری بات مان لو گے تو میں تمہاری بات مان لوں گا۔ ورنہ خبردار ہو جائو کہ خدا نے مجھے یہ بتادیا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوا تو نہ لڑکی کے لئے مبارک ہوگا نہ تمہارے لئے۔ ایسی صورت میں تم پرمصائب نازل ہوں گے جن کا نتیجہ موت ہوگا۔ تم نکاح کے تین سال بعد مرجائو گے اور لڑکی کا شوہر اڑھائی سال کے بعد مرجائے گا۔ یہ حکم اللہ کا ہے۔ پس جو کرنا ہے جلد کرڈالو میں نے تمہیں نصیحت کردی ہے۔ یہ سن کر وہ (مرزا احمد بیگ) تیوری چڑھاکر چلا گیا۔‘‘
اس کے بعد مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو یہ خط لکھا جو ذیل میں درج ہے:
مشفقی مرزا علی بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں لیکن اب جو آپ کو خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔مگر میں محض ﷲ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو
مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمدبیگ کی لڑکی کے بارہ میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہورہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کے دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں، ہندئوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ ورسول کے دین کی بھی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے، ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔
یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کرکے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا؟ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یاننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہوگئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض؟ کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو وہ میری وارث ہو وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیا ہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو، خدا سے خوف کرو، کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے جو فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دیوے۔ ہم راضی ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کراکر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے؟ جو چاہے کرے ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہوسکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا ابھی مرا ہی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی کی مجھے پہنچی ہیں بے شک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی
خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آویں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا بلکہ ایک طرف جب (محمدی کا)کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کروگے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل وجان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کرکے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کرکے روک دیویں۔ ورنہ مجھے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گااور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب ناطے رشتے ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم!
راقم خاکسار غلام احمد از لودھانہ اقبال گنج۴؍مئی۱۸۹۱ء
(کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۵تا۱۲۷)
اس کے بعد ہمارے مرزا قادیانی نے والدہ عزت بی بی کو ایک خط لکھا جو کہ درج ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی
والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی (دختر احمد بیگ)کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزااحمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھادو اور اگر ایسا نہ ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین صاحب اور فضل احمد کو لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آئو تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے
اور اگر وہ (فضل احمد) طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجاوے گا جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی بیگم کا کسی اور سے نکاح ہو جائے، عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہوجاتی مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن (محمدی بیگم) کا نکاح ہوگا، اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا۔
راقم مرزا غلام احمد از لودھانہ محلہ اقبال گنج۴ مئی۱۸۹۱ء
(کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۷، ۱۲۸)
مرزا غلام احمد قادیانی نے مرزا احمد بیگ کو خط لکھا جو درج ذیل ہے:
مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود، فرزندآں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید دنیا میں اور کوئی صدمہ اس کے برابر نہ ہوگا… میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہوجائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا فیصلہ آخری قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کرلیتا ہے۔ سو مجھے خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی
دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدا کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ چونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس کا رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میںملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدائے تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین وآسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی؟ اور آپ کو شاید یہ معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہوچکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا کہ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس کی طرف نظر اس پر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلّہ بھاری ہو۔ لیکن یقینا خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسےلا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کرسکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہرگز نہیں بدل سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین ودنیا کی برکتیں عطاء کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا دونوں خدا تعالیٰ آپ کو عطاء فرماوے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمادیں۔ والسلام!
خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ، ۱۷؍جولائی۱۸۹۰ء
(منقول از رسالہ کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۳تا۱۲۵ مؤلفہ قاضی فضل احمد)
اس پیش گوئی کی تکمیل کے لئے مرزا قادیانی نے بعض اشخاص سے انعام کا وعدہ
بھی کیا تھا۔ چنانچہ ذیل کی تحریر اس حقیقت پر شاہد ہے: ’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرادینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا، اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کرلیا تھا۔‘‘
’’خاکسار (مرزا بشیر احمد) عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بدنیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۷۶، ۱۷۷ روایت نمبر۱۷۹ مولفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، طبع جدید)
جس دن مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو خط لکھا تھا۔ اسی دن ایک اشتہار بھی شائع کیا تھا جس کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے: ’’ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیل دار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے وہی اس مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل وکرم سے ظہور میں لاتا مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہوگئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہوجائیں ورنہ میں تم سے جدا ہوجائوں گا اور تمہارا کوئی حق نہ رہے گا مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا زخم بھی مجھے پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا لیکن انہوں نے دینی مخالفت کرکے اور دینی مقابلہ سے ایذاء دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو
توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کرسکتا اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جائوں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اوّل: اس نے رسول اللہ a کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے۔ اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہوجائیں گے اور دین کی ہتک ہوگی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا…
دوم: سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی … اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ ۲؍مئی ۱۸۹۱ء ہے عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کررہے ہیں، اس کو موقوف نہ کردیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لئے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا۔ بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہوگیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو اور طلاق نہ دے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی وقرابت وہمدردی دور ہوجائے گی اور کسی نیکی وبدی ورنج وراحت شادی وماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی۔ کیونکہ انہوں نے آپ تعلقات توڑ دیئے… سو اب ان سے تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف ہے اور ایک دیوثی کا کام ہے۔
(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی ۲؍مئی ۱۸۹۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۹ تا۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۱۹تا۲۲۱)
جب محترمہ محمدی بیگم کا نکاح مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہوگیا تو مرزا قادیانی نے دونوں فرزندوں مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد سے لکھا کہ اگر مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہو تو ان سب لوگوں سے جنہوں نے اس معاملہ میں میری مخالفت کی ہے قطع تعلق کرنا ہوگا ورنہ میں تم کو عاق کردوں گا۔
مرزا سلطان احمد نے جواب دیا : ’’ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں میں ان سے قطع تعلق نہیں کرسکتا مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے۔ اس پر حضرت صاحب نے جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی (بنت مرزا علی شیر بیگ) کو طلاق دے دو(یہ نیک بخت اور بے گناہ عورت مرزا احمد بیگ پدر محمدی بیگم کی سگی بھانجی تھی) مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کردیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۶، روایت نمبر۳۷، طبع جدید مرزا بشیر احمد قادیانی)
اس کے کچھ عرصہ بعد مرزا قادیانی نے ضلع کچہری گورداسپور میں جو حلفیہ بیان دیا وہ ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے: ’’ احمد بیگ کی دختر (محمدی بیگم) کی نسبت جو پیش گوئی ہے جو اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے اور جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ نہیں بیاہی گئی مگر میرے ساتھ اس کابیاہ ضرور ہوگا جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی جیسا کہ پیش گوئی میں تھا میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے… عورت اب تک زندہ ہے اور میرے نکاح میں یہ عورت ضرور آئے گی۔ (امید کیسی یقین کامل ہے) یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان جلد۵ شمارہ۲۹، ص۱۴ج۱۵، مؤرخہ ۱۰؍اگست۱۹۰۱ء)
مرزا قادیانی کو اپنی اس پیش گوئی کے پورا ہونے کا اس قدر یقین تھا کہ محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے نکاح ہوجانے کے بعد انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ عورت ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ چنانچہ ذیل کی تحریر اس پر شاہد ہے: ’’ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ معاملہ (محمدی بیگم کے نکاح کا معاملہ) اتنے ہی پر ختم ہوگیا اور جو کچھ ظہور میں آیا ہے یہی آخری نتیجہ ہے اور پیش گوئی کی حقیقت اسی پر ختم ہوگئی، بلکہ اصل معاملہ ابھی اسی طرح باقی ہے۔ کوئی شخص کسی حیلہ سے اس کو رد نہیں کرسکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ کو بھیجا اور خیر الرسل اور خیر الوریٰ بنایا کہ یہ بالکل سچ ہے تم جلدی ہی دیکھ لوگے اور اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار
بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پاکر کہا ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)
اس نکاح کے متعلق مرزا قادیانی کو جو الہام ہوا تھا وہ درج ذیل ہے: ’’کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے ہم نے خود اس (محمدی بیگم)سے تیرا(عقد) نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔‘‘
(الہام مرزا قادیانی ۲۷؍ستمبر۱۸۹۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ص۸۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۰۱)
القصہ جب محمدی بیگم کا نکاح مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہوگیا تو لوگوں نے مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے صحیح نہ نکلنے پر اعتراضات کئے۔ اس پر مرزا قادیانی نے اڑھائی سال کی میعاد مقرر کی کہ اس عرصہ میں اس کا خاوند مر جائے گا اور وہ پھر میرے نکاح میں آئے گی یعنی پہلے نفس پیش گوئی محمدی بیگم کا اپنے ساتھ نکاح تھی لیکن جب اس کی شادی مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہوگئی تو نفس پیش گوئی مرزا سلطان محمد کی اڑھائی سال کی اندر موت قرار پائی۔
’’ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
(حاشیہ انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱ مصنفہ مرزاغلام احمد قادیانی)
لیکن جب اڑھائی سال کے عرصہ میں بھی مرزا سلطان محمد کی موت واقع نہ ہوئی تو غالباً اس کی جوانی پر ترس کھاکر مرزا قادیانی نے اس کی زندگی میں بلاتعین وقت توسیع منظور کرالی مگر اس شرط پر کہ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں وفات پاجائے اور اس کی بیوہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آجائے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’لیکن اب بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق (مرزا قادیانی) کا نام کاذب رکھیں گے۔ لیکن وہ دن جلد آتے جاتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر ہوگا اور سچائی کا نور چمکے گا اور خدا تعالیٰ کے غیر متبدل وعدے پورے ہوجائیں گے۔ کیا کوئی زمین پر ہے جو ان کو روک سکے؟… اے بد فطر تو اپنی فطرتیں دکھلائو۔ لعنتیں بھیجو ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغ گو رکھو لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘ عذاب کی معیاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے… لیکن نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ:’’لا
تبدیل لکلمات اللہ ‘‘ یعنی میری یہ بات ہر گز نہیں ٹلے گی۔ پس اگرٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوجائے گا۔‘‘(مرزا قادیانی کا اعلان ۶؍ستمبر۱۸۹۶ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۵،۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳،۴۴)
یہ واضح ہو کہ ’’عورت کا عاجز کے نکاح میں آنا‘‘ یہ بھی نفس پیش گوئی ہے اور ’’ داماد احمد بیگ کی موت‘‘ یہ بھی نفس پیش گوئی ہے اور قاعدہ کی رو سے ان دونوں کا پورا ہونا مرزا قادیانی کی صداقت کے لئے ضروری تھا۔‘‘خیر جب ’’نادان مخالفین‘‘ نے پیش گوئیوں کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے اعتراضات کئے تو مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں جواب دیا: ’’چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف (اس پیش گوئی کے) انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے؟( بے شک سب ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے) ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے۔‘‘
( ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
جب لوگوں نے آتھم کے زندہ رہنے اور محمدی بیگم کے نکاح میں نہ آنے کی وجہ سے پے درپے اعتراضات کئے تو مرزا قادیانی نے جناب باری میں یوں دعا کی: ’’میں (مرزا قادیانی) بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر وعلیم ! اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہوجائے اور اگر اے خداوند یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۸۶، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۱۵،۱۱۶)
حاصل داستاں یہ کہ نہ محمدی بیگم نکاح میں آئی اور نہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مرزا سلطان محمد کی موت واقع ہوئی۔ اغیار کیا اپنوں کوبھی بادل ناخواستہ تسلیم کرنا پڑا کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے مرید لاہوری قادیانیوں کے امام محمد علی
لاہوری لکھتے ہیں: ’’ یہ سچ ہے کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا لیکن ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ صرف ایک پیش گوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیش گوئیوں کو چھوڑ دینا یہ طریق انصاف نہیں ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور مؤرخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۲۱ء)
اس شہادت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی باقی جو کچھ محمد علی لاہوری نے لکھا وہ ان کی عقیدت مندی کا مظاہرہ ہے جس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ اس سے بھی زیادہ عقیدت رکھے تو اس روشنی کے زمانہ میں اسے پورا اختیار حاصل ہے۔
ہاں! ہمیں اس تحریر سے محمد علی لاہوری کا معیار صداقت ضرور معلوم ہوگیا۔ یعنی اگر کوئی شخص دس باتیں کہے اور ان میں سے چار جھوٹی ہوں تو وہ شخص جھوٹا نہیں ہے بلکہ سچا ہی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اس کی گفتگو میں جھوٹ کم اور سچ زیادہ ہے۔
ریاضی کے انداز میں کسی کے جھوٹے یا سچے ہونے کا معیار یہ ہے:
۱… دس میں دس سچی تو وہ آدمی سچا۔
۲… دس میں چھ سچی چار جھوٹی تو بھی وہ آدمی سچا۔
۳… دس میں پانچ سچی پانچ جھوٹی تو وہ آدمی نہ جھوٹا نہ سچا۔
۴… دس میں چھ جھوٹی چار سچی تو وہ آدمی جھوٹا۔
پہلے زمانہ میں اگر کسی شخص کی ایک بات بھی جھوٹی ثابت ہو جاتی تھی تو اس کا نام سچوں کی فہرست سے خارج ہوجاتا تھا اور ہمیشہ کے لئے وہ شخص ناقابل اعتبار قرار پاتا تھا۔ چنانچہ صدر اسلام میں جس شخص کے متعلق کذب کا احتمال بھی ہوجاتا تھا، اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن دنیا کو محمد علی لاہوری کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اب یہ دشواری دور ہوگئی:’’ ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئے۔‘‘ کتنا عمدہ اصول ہے جو محمد علی لاہوری نے جوش عقیدت میں وضع فرمایا ہے۔ اس معیار کی رو سے وہ تمام جھوٹے آدمی جنہوں نے اپنی زندگی میں جھوٹ کم اور سچ زیادہ بولا یا دو چار جھوٹ بولے جھوٹے قرار نہیں دئیے جاسکتے۔ سب صادقوں کی فہرست میں داخل ہوگئے۔ محمد علی لاہوری نے اپنے مرشد کو صادق ثابت کرنے کے جوش میں حق وباطل صدق وکذب دونوں کا معیار ہی بدل
دیا۔ میرا خیال ہے کہ آئندہ زمانہ میں جب لوگوں کی عقلیں بہت زیادہ دقیقہ رس اور نکتہ شناس ہوجائیں گی اس وقت محمد علی لاہوری کا یہ معیار حکمائے وقت سے خراج تحسین حاصل کرے گا اور مذہبی دنیا کا معمول یہ قرار پائے گا۔ کیسا دلچسپ اور روح افروز ہوگا وہ نظارہ جب آئندہ زمانہ میں بعض بلید الذہن لوگ کسی شخص کے متعلق یہ کہیں گے کہ یہ شخص جھوٹا ہے کیونکہ اس نے فلاں فلاں موقعوں پر جھوٹ بولا تو محمد علی لاہوری کے معیار کے ماننے والے جواب میں کہیں گے کہ نہیں پہلے یہ دیکھو کہ اس نے جھوٹ کس قدر بولا اور سچ کس قدر بولا۔ اگر سچ کا پلا بھاری ہے تو جدید نظریہ کی رو سے یہ شخص کاذب نہیں بلکہ صادق ہے۔
سچ کہا ہے کسی نے:’’حبک الشی یعم ویصم‘‘
ناظرین ! یہ تو ایک ضمنی بحث تھی جو درمیان میں آگئی۔ اب میں اصل مطلب کی طرف رجوع کرتا ہوں:
۱… میرا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ مرزا قادیانی کی زندگی کے اس عبرتناک واقعہ کو زیر بحث لائوں لیکن میں مجبور ہوں لاہوری جماعت کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی مجدد تھے، امام وقت تھے، نائب رسول اللہ تھے، خدا کے برگزیدہ تھے اور ان کے دامن سے وابستگی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے جو انہیں مجدد صدی چہاردہم تسلیم نہیں کرتا وہ کافر تو نہیں۔ لیکن ایک شدید غلطی کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے مجھ پر فرض ہے کہ میں ان کی سیرت کا بامعان نظر مطالعہ کروں اور یہ دیکھوں کہ ان کی زندگی میں شان مجدددیت پائی جاتی ہے؟ کیا وہ اس لائق ہیں کہ دینی معاملات میں انہیں حکم اور عدل تسلیم کرلوں؟ ہر مجدد کے لئے حقیقی معنی میں مؤمن ہونا شرط ہے اور مومن کے لئے متقی ہونا لازمی ہے۔ پس میں اس منطقی ترتیب سے چلتا ہوں کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ متقی بھی تھے یا نہیں؟ مجدددیت کا رتبہ تو بہت بلند ہے۔
جاننا چاہئے کہ متقی وہ نہیں جو محض:
۱… نماز روزہ کا پابند ہو …یا
۲… وضع قطع ظاہری مسلمانوں کی سی رکھتا ہو …یا
۳… صاحب تصانیف ہو…یا
۴… مناظرے کرسکتا ہو… یا
۵… اسلام کی حقانیت کے اثبات میں جلی قلم سے اشتہارات شائع کرسکتا ہو… یا
۶… پیش گوئیاں مشتہر کرسکتا ہو …یا
۷… ان کو اپنے صدق وکذب کا معیار بنا سکتا ہو …یا
۸… انعامی اشتہارات نکال سکتا ہو …یا
۹… حکومت کی تعریف وتوصیف میں تیغ قلم کے جوہر دکھا سکتا ہو …یا
۱۰… اپنے مخالفین کو ’’ ذریۃ البغایا ‘‘ کا لقب دے سکتا ہو …یا
۱۱… بہشتی مقبرہ کی بنیاد ڈال سکتا ہو… یا
۱۲… طاعون اور زلزلوں کی خبر دے سکتا ہو ۔
بلکہ متقی وہ ہے جو خدا ترس ہو، تقویٰ اور طہارت کی راہوں پر گامزن ہو۔ اس کے ہاتھ یا زبان سے کسی کو ایذاء نہ پہنچے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کسی کی دل آزاری نہ کرے کسی کو بیجا نہ ستائے، لطف وکرم اور فضل ورحم کا مجسمہ ہو۔
مرزا قادیانی نے محترمہ محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیش گوئی کی۔ اچھا کیا۔ یہ انا الحق کہو اور پھانسی نہ پائو کا زمانہ ہے ہر شخص آزاد ہے۔ میں اگر چاہوں تو ایک نہیں دس پیش گوئیاں شائع کرسکتا ہوں کسی میں طاقت نہیں جو میرا مزاحم ہوسکے۔ لیکن اس پیش گوئی کے سلسلہ میں جو اقوال وافعال مرزا قادیانی سے سرزد ہوئے وہ میری رائے میں ایک مجدد کے شایان شان نہیں ہیں اور یہ بات میں کسی سے سن کر نہیں بلکہ اعلیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں۔ چنانچہ ذیل میں اپنے اس دعویٰ پر دلائل قاطعہ پیش کرکے فیصلہ ناظرین پر چھوڑتا ہوں:
چومی بینم کہ نابنیاو چاہ است
اگر خاموش بنشینم گناہ است
میں نے یہ مضمون محض اپنے مسلمان بھائیوں کی دینی اور مذہبی اور ایمانی خدمت کی نیت سے لکھا ہے۔ حاشا کسی کی دل آزاری یا تنقیص مد نظر نہیں ہے۔ حقیقت حال سے آگاہ کرنا میرا فرض ہے۔ اس کے بعد حق وباطل میں امتیاز کرنا یہ ناظرین کا کام ہے:’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘
لیکن اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے ایک غلط خیال کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو عام طور سے ہمارے قادیانی بھائیوں کے دلوں میں جاگزیں ہوگیا ہے کہ مرزا قادیانی سلطان القلم تھے۔ میں نے اس سے پہلے بھی ایک جگہ لکھا ہے کہ عربی یا فارسی درکنار مرزا قادیانی تو اردو بھی صحیح نہیں لکھ سکتے تھے۔ اس باب میں چونکہ ان کے کئی خطوط نقل کئے ہیں۔
لہٰذا جی چاہتا ہے کہ ان کی انشاء پردازی پر بھی ایک چہچلتی ہوئی نظر ڈال دوں۔ خدا معلوم پھر اس کی باری آئے یا نہ آئے۔
مرزا قادیانی نے مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب کو ہموار کرنے اور راہ راست پر لانے کے لئے جو خط لکھا تھا وہ میں نقل کرچکا ہوں۔ یہ خط مرزا نے ۱۸۹۱ء میں لکھا تھا۔ جب کہ ان کی عمر اپنے ہی قول کے مطابق۵۲ سال کی تھی۔ پس کوئی شخص یہ کہہ کر پیچھا نہیں چھڑا سکتا کہ یہ تحریر مرزا قادیانی کے زمانہ طفولیت کی ہے۔ اس لئے اس میں انشاء اور ادب زبان اور محاورہ کی خامیاں نظر انداز کردینے کے لائق ہیں۔ یہ اس زمانہ کی تحریر ہے جب وہ بہت سی کتابوں کے مصنف بن چکے تھے اور مرتبہ مجدددیت پر فائز ہوچکے تھے۔ ناظرین کی سہولت کی خاطر پہلے میں مرزا قادیانی کی عبارت لکھتا ہوں اورپھر اس کی اغلاط نمایاں کرتا ہوں:
۱… مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
٭… مرزا قادیانی عربی دان تھے۔ علی شیر بیگ سے خطاب کررہے ہیں لیکن سلمہ کی ’’ہ‘‘ صیغہ واحد غائب ہے۔
۲… مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا۔
٭… کس قدر غیر مانوس اور بھونڈی عبارت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میرے دل میں آپ کی طرف سے کوئی فرق نہ تھا۔
۳… میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی سمجھتا ہوں۔
٭… غریب طبع کی ترکیب غیر مانوس اور خلاف محاورہ اہل زبان ہے۔ حلیم الطبع چاہئے۔
۴… آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔
٭… یہ عبارت یوں چاہئے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو لوگ اس نکاح کے حامی ہیں وہ میرے سخت دشمن ہیں۔ نکاح تو اس وقت تک ہوا ہی نہیں تھا پھر نکاح کے شریک کیا معنی؟ دوسری غلطی ہے کہ ’’میرے کیا‘‘ سے پہلے لفظ’’ بلکہ‘‘ زائد ہے۔
۵… یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
٭… لفظ ’’اب‘‘ اس جگہ غیر مناسب ہے کیونکہ ابھی تلوار نہیں چلی ہے۔ یوں لکھتے تو بہتر تھا۔ ’’اس حملہ سے مجھ کو بچانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔‘‘
۶… مگر یہ تو آزمایا گیا۔
٭… غیر مانوس ہے۔ یہ لکھنا چاہئے تھا ’’ مگر یہ تو ثابت ہو گیا۔‘‘
۷… وہی میرے خون کے پیاسے ہیں وہی میری عزت کے پیاسے ہیں۔
٭… عزت کے پیاسے خلاف محاورہ ہے’’ میری بے عزتی کے خواہاں ہیں‘‘ لکھتے تو مناسب تھا۔
۸… اور اس کا روسیاہ ہو۔
٭… خلاف محاورہ ہے۔ یوں بولتے ہیں اور وہ روسیاہ ہو۔
۹… ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہ کریں گے۔
٭… یوں چاہئے ’’ ہم اپنے بھائی کی مرضی کے خلاف نہیں کریں گے۔
۱۰… بیوی صاحب
٭… بیوی صاحبہ چاہئے۔
۱۱… اس سے ہمارا کیا باقی رہ گیا؟
٭… غیر مانوس اور مبہم ہے مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
۱۲… تو میرے بیٹے کے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے؟
٭… تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے؟
۱۳… پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے
٭… پھر کی جگہ ’’تو‘‘ چاہئے
۱۴… یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے۔
٭… ’’ارادہ بند کرنا‘‘ آج تک نہیں سنا تھا۔
۱۵… فضل احمد کو ہر طرح سے درست کرکے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا۔
٭… کیا فصیح وبلیغ اردو ہے؟ مطلب یہ ہے کہ فضل احمد کو ہر طرح سے سمجھا بجھاکر آپ کی لڑکی کی بہبود کے لئے کوشش کروں گا۔
۱۶… اس وقت کو سنبھال لیں۔
٭… یہ محاورہ بھی مرزا قادیانی کے اجتہادات میں سے ہے۔ اردو زبان میں تو کہیں نظر نہیں پڑا۔ مطلب یہ ہے کہ وقت کی نزاکت کا احساس فرمائیے۔
میرا خیال ہے کہ ان اغلاط کے دیکھنے کے بعد ہر مصنف مزاج انسان اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مرزا قادیانی کو اردو زبان پر بھی قدرت حاصل نہ تھی۔ پس انہیں سلطان القلم کہنا ایسا ہی ہے۔ جیسا کسی مرقات کے پڑھنے والے کو فاضل آلہیات کہنا۔
اس کے بعد اب میں نفس مضمون کی طرف واپس آتا ہوں:
۱… مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کی پیش گوئی شائع فرمائی۔
۲… اس پیش گوئی کی تصدیق اور توثیق کے لئے آنحضرتa کی ایک پیش گوئی اپنی طرف منسوب کی کہ :’’یتزوج ویولدلہ‘‘ یعنی وہ (مسیح موعود) بیوی کرے گا اور صاحب اولاد بھی ہوگا۔بقول مرزا قادیانی تزوج سے وہ خاص تزوج مراد ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز (مرزا قادیانی) کی پیش گوئی موجود ہے۔
۳… لڑکی کے والدین اور اقارب اس معاملہ میں مزاحم ہوں گے۔ لیکن انجام کار وہ سب خائب وخاسر ہوں گے اور اس لڑکی کے ساتھ نکاح ہوگا: ’’خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کرکے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھادے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
۴… مرزا قادیانی نے خدا سے الہام پاکر لڑکی کے والدین کو لکھا کہ اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا۔ جس کے ساتھ اس کی شادی ہوگی وہ اڑھائی سال تک اور لڑکی کا والد تین سال تک فوت ہوجائے گا اور ان کے گھر پر بقول مرزا قادیانی: ’’ تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘
۵… مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ کو اس نکاح کے لئے لالچ بھی دیا اور دھمکیاں بھی دیں: ’’ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہشمند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کردو۔ ورنہ خبردار ہو جائو۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر تم نے کسی اور سے اس لڑکی کا نکاح کیا تو تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مرجائوگے۔‘‘
۶… مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی علی شیر بیگ کو خط لکھا کہ آپ اس پیش گوئی کی تکمیل میں میرے معاون بنیں اور میرے مخالفین کو راہ راست پر لائیں۔
۷… مرزا قادیانی نے اپنی سمدھن کو خط لکھا کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا بجھاکر راضی کرو، ورنہ میں اپنے بیٹے سے کہہ کر تمہاری لڑکی کو طلاق دلوادوں گا۔
۸… مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے والد کو خط لکھا جس کا لب ولہجہ نہایت مصالحانہ تھا اور ان سے درخواست کی کہ: ’’آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔‘‘ کیونکہ ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے اس پیش گوئی کے جھوٹی نکلنے کے منتظر ہیں۔
۹… مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ایک ماموں سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کیا تھا اور اس انعام کے متعلق بعض (حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں)
۱۰… ۱۹۰۱ء میں مرزا قادیانی نے عدالت میں حلفی بیان کے سلسلہ میں یہ کہا کہ اگرچہ اس عورت کا (محمدی بیگم کا) نکاح میرے ساتھ نہیں ہوا ہے لیکن: ’’ میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہوکر رہیں گی۔‘‘
۱۱… مرزاقادیانی نے اس نکاح کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار قرار دیا تھا۔
۱۲… خدا نے عرش پر مرزا قادیانی کے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح باندھا۔
۱۳… محمدی بیگم کا نکاح میں آنا تقدیر مبرم قرار دیا۔
۱۴… اپنے مخالفین کی نسبت لکھا کہ جب یہ پیش گوئی پوری ہوگی: ’’ تو ان بیوقوفوں کی ناک نہایت صفائی سے کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے۔‘‘
۱۵… سلطان محمد کی موت کو تقدیر مبرم قرار دیا اور یہاں تک لکھا کہ: ’’ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
۱۶… مرزا قادیانی نے خدا کی جناب میں دعا کی کہ: ’’ اے خدا! اگر یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔‘‘
۱۷… سخت بیماری کی حالت میں جب کہ مرزا قادیانی نے وصیت بھی کردی تھی۔ اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا (کہ میرا دم آخر ہے اور پیش گوئی پوری نہیں ہوئی) تو ایسی حالت میں الہام ہوا: ’’الحق من ربک فلا تکن من الممترین‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۹۸، خزائن ج۳ ص۳۰۶، مصنفہ مرزا قادیانی)
۱۸… جب سب کچھ ہوچکا تو مرزا قادیانی نے اپنے بڑے بیٹے سلطان احمد کو عاق کردیا اور چھوٹے بیٹے فضل احمد نے اپنی زوجہ عزت بی بی کو طلاق دے دی اور طلاق نامہ مرزا قادیانی کے پاس روانہ کردیا۔
۱۹… مرزا قادیانی نے حسب اعلان ۲؍مئی۱۸۹۱ء اپنی پہلی بیوی کو جنہیں لوگ عام طور پر ’’پھجے دی ماں‘‘ کہا کرتے تھے طلاق دے دی۔ کیونکہ انہوں نے مرزا قادیانی کے دشمن مرزا احمد بیگ سے اپنے تعلقات منقطع نہیں کئے۔
۲۰… قصہ مختصر یہ پیش گوئی جسے مرزا قادیانی نے خدا سے الہام پاکر بڑے شد ومد کے ساتھ شائع کیا تھا، جسے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا تھا، جس کے پوری ہونے کے لئے انہوں نے جناب باری میں نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی تھی، بلکہ مرزا علی شیر بیگ اور مرزا احمد بیگ کو نہایت درد بھرے خطوط لکھے تھے، جس کے لئے لڑکی کے ماموں کو حکیمانہ مصالح کے ماتحت انعام کا وعدہ بھی کیا تھا، جس کے پوری نہ ہونے کا انہیں اس درجہ یقین تھا کہ انہوں نے اپنے مخالفین کو نہایت مکروہ اور نازیبا الفاظ میں یاد کیا تھا۔ ہاں! ہاں! وہی پیش گوئی جس کے وقوع کو انہوں نے تقدیر مبرم قرار دیا تھا، جس کی تائید میں حدیث نبوی پیش کی، نصوص قرآنیہ پیش کی تھیں، جس کی تکمیل آسمان پر ہوچکی تھی، جس کی تشہیر زمین پر ہوچکی تھی، جس کے لئے لاہور میں ہزاروں مسلمانوں نے بعد نماز دعا کی تھی، ہاں ہاں! وہی پیش گوئی جو سات سال تک موافقین اور مخالفین دونوں کو سامان ہنگامہ آرائی بہم پہنچاتی رہی، جس کی بدولت مرزا قادیانی نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دی، بڑے بیٹے کو عاق کیا، چھوٹے بیٹے کی بیوی کو طلاق ملی، دشمنوں کے گھر گھی کے چراغ روشن ہوئے، دوستوں پر برسوں بیم ورجاء کی روح فرسا کیفیت طاری رہی اور بالآخر انہیں سخت مایوسی ہوئی۔ دنیا میں رسوائی ہوئی، نہ پوری ہونی تھی نہ پوری ہوئی۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی اس سرائے فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ اغیار تو درکنار اپنوں نے بھی تسلیم کیا کہ: ’’یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی تھی کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔‘‘
(پیغام صلح مؤرخہ ۲۱؍جنوری۱۹۲۱ء)
ناظرین کہیں گے کہ جب اپنوں اور بیگانوں کو مسلم ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی تو پھر اس قدر خامہ فرسائی کی ضرورت کیا تھی؟ جس طرح کسی اختصار پسند بزرگ نے سورہ یوسف کو بایں الفاظ بیان کردیا ہے:’’ پیرے بود پدرے داشت
گم کرد باز یافت‘‘ اسی طرح میں بھی لکھ دیتا کہ مرزا قادیانی نے بذریعہ الہام ربانی یہ پیش گوئی کی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں میرے نکاح میں آئے گی۔ لیکن وہ عفیفہ ان کے نکاح میں نہ آئی اور پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ آخر اس طو مار سے کیا مقصد مد نظر ہے؟
ناظرین کا استعجاب بجا ودرست ہے۔ لیکن اس پیش گوئی کو اس قدر تفصیل کے ساتھ لکھنے سے میرا مقصد یہ دکھانا نہیں تھا کہ مرزا قادیانی کی فلاں پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ اگر یہ محض پیش گوئی ہوتی تو واقعی اس قدر تفصیل کی ضرورت نہ تھی۔ ایک پیش گوئی کے سچی نہ نکلنے سے موجودہ زمانہ میں دعوئے مجددیت باطل نہیں ہوتا بلکہ اب تو مجددیت کا معیار یہ قرار دیا گیا ہے کہ از ابتداتا انتہاء سب پیش گوئیوں پر مجموعی طور سے نظر ڈالو اور یہ دیکھو کہ ان میں کس قدر پوری ہوئیں۔ اگر بیس میں سے پندرہ بھی پوری ہوگئیں تو امیدوار امتحان مجددیت میں کامیاب ہے۔
لیکن افسوس کہ یہ محض پیش گوئی نہیں بلکہ اس کی بناء پر مرزا قادیانی کی سیرت کے متعدد پہلو منظر عام پر آگئے ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ ان کو دیکھ کر میں انہیں مجدد تو درکنار ایک متقی انسان بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔
دلائل ملاحظہ ہوں:
الف… جس زور وشور، تحکم، تحدّی، یقین اور اعتماد کے ساتھ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو تحریر اور تقریر کے ذریعے سے مشتہر کیا وہ ناظرین اوراق ہذا سے مخفی نہیں۔ ان کو اس پیش گوئی کے پوری ہونے کا اس درجہ یقین کامل تھا کہ انہوں نے صاف صاف لفظوں میں اقرار کیا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو میں جھوٹا سمجھا جائوں۔
ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں کہ: ’’میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں۔‘‘(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) اور اس کے معنی یہی ہیں کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ تو میں مامور من اللہ نہیں ہوں۔
جب یہ کیفیت تھی تو میں پوچھتا ہوں کہ انہوں نے مرزا احمد بیگ اور مرزا علی شیر کو یہ کیوں لکھا تھا کہ: ’’آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں؟‘‘ ایک طالب حق اور جویائے صداقت بجا طور پر مرزا قادیانی سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ جناب من جب اس پیش گوئی کے پوری کرنے کا خود خدا تعالیٰ نے آپ سے حتمی وعدہ
کرلیا تھا تو آپ نے خدا کو چھوڑ کر انسانوں سے کیوں درخواست کی کہ وہ اس پیش گوئی کو پوری کریں؟ آپ نے از خود تو یہ پیش گوئی کی نہ تھی جو آپ کو انسانوں سے درخواست کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی جس نے آپ سے اتنی بڑی پیش گوئی کرائی تھی وہ خود اسے پوری کردیتا۔ یہ عجب تماشا ہے کہ پیش گوئی تو کرائے خدا اور اس کی تکمیل قرار دی جائے آپ کے ذمہ! جب آپ کو ’’ زوجنکھا‘‘ کا الہام ہوچکا تھاجو ماضی کے صیغہ میں ہے تو پھر آپ کو لوگوں کی منت سماجت کی کیا ضرورت تھی۔
ب… انہوں نے لڑکی کے ماموں کو انعام دینے کا وعدہ کیوں کیا؟ بقول والدہ صاحبہ مرزا بشیر احمد بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی تھیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ وعدہ ہی کیوں کیا؟ کیا خدا کے وعدہ پر اعتماد نہ تھا جو انسانوں کا سہارا ڈھونڈا؟ اس انعام کی رقم میں کچھ اور رقم ڈال کر حج کو جاسکتے تھے یا کسی یتیم لڑکی کا نکاح کرسکتے تھے۔
ج… والدہ عزت بی بی کو دھمکیاں دینے کی کیاضرورت تھی۔
د… مرزا احمد بیگ کو زمین کا لالچ دینے کی کیا ضرورت تھی۔
میرے خیال میں اگر مرزا قادیانی کو خدا کے وعدوں پر اعتماد ہوتا تو منت سماجت، ترہیت وترغیب کے بجائے خوددارانہ خاموشی اختیار کرتے بلکہ مخالفین اور مانعین کو یہ لکھتے کہ تم شوق سے مزاحمت کرو۔ میرے خدا نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح میرے ہی ساتھ ہوگا۔
ہ… فضل احمد کو یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ نہ کرے تو تم اس کی بھانجی عزت بی بی کو جو تمہارے گھر میں ہے طلاق دے دو۔ ورنہ میں تمہیں عاق کردوں گا۔
میں پوچھتا ہوں کہ اس تمام ہنگامہ آرائی کی کیا ضرورت تھی جب کہ خدا تعالیٰ نے عرش پر نکاح باندھ دیا تھا؟ عجیب تماشا ہے کہ ایک طرف تو مرزا قادیانی مخالفین سے یہ کہتے جاتے ہیں کہ نفس پیش گوئی محمد ی بیگم کا میرے نکاح میں آنا اور نمبردو اس کے خاوند کا اڑھائی سال کے عرصہ میں مرجانا یہ تقدیر مبرم ہے جو ٹل نہیں سکتی اور دوسری طرف اس کے پوری کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جو کام انسان اپنی کوشش سے سرانجام دیتا ہے اس کے متعلق غیر کو یہ یقین کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ کسی پیش گوئی پر مبنی تھا؟ مثلاً میں آج یہ
پیش گوئی کروں کہ زید کل مرجائے گا اور دوسرے دن خود اسے پستول کا نشانہ بنادوں تو کون سا عقلمند یہ کہنے کے لئے تیار ہوگا کہ واقعی میں مامور من اللہ اور مجدد وصدی چہارم دہم ہوں۔
پیش گوئی کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ وہ کسی ایسی بات سے متعلق ہو جس کا وقوع مدعی کے حیطۂ اقتدار سے باہر ہو۔ مثلاً ختمی مرتبت حضور اکرمa نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ: ’’رومی مغلوب ہوگئے ہیں لیکن عنقریب وہ ایرانیوں پر غالب آئیں گے۔‘‘ اس پیش گوئی پر غور کیجئے:
۱… رومیوں کو ایرانیوں پر غالب کردینا حضورa کے اختیار میں نہ تھا لیکن آپa نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر اعلان فرمادیا کہ ایسا ہوگا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپa نے اس واقعہ کی قبل از وقوع اطلاع دے دی اور یہی پیش گوئی کا حقیقی مفہوم ہے۔
۲… آپa نے کسی شخص کو اس مطلب کے خطوط نہیں لکھے کہ اس پیش گوئی کے پوری ہونے کے لئے میری معاونت کرو۔ پیش گوئی تو :
قضائے کرو گار است آں بہر حالت شود ظاہر
کا مصداق ہوجاتی ہے۔ بقول مرزا قادیانی خدا کی بات کو کون ٹال سکتا ہے؟ مگر خدا کی بات ہو بھی تو، اور جو پیش گوئی خدا کی بات ہی نہ ہو وہ کس طرح ظہور میں آسکتی ہے؟ اس کا حشر تو وہی ہوگا جو ہمارے مرزا قادیانی کی پیش گوئی کا ہوا۔
حضور ختمی مرتبت سرکار دو عالمa کے ایک ادنیٰ غلام کی پیش گوئی ملاحظہ ہو تاکہ ناظرین کو پیش گوئی کی حقیقت معلوم ہوسکے۔ سلطان جلال الدین خلجی کو سیدی مولائی حضرت محبوب الٰہی حجتہ اللہ علی الارض سلطان نظام الدین اولیاءv سے کچھ کدورت تھی۔ اس کی تفصیل بھی بیان کردوں کیونکہ آئندہ کام آئے گی۔
خاصان خدا کی معمولی شناخت یہ ہوتی ہے کہ وہ حکومت دنیاوی کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا کرتے کیونکہ اللہ کا یہ فرمان ہر آن ان کے پیش نظر رہتا ہے:’’واخشونی فلا تخشوا ھم‘‘ اور اسی لئے سلاطین وقت کی پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ اسی کلیہ کے ماتحت میرے پیشواء اور روحانی مرشد علیہ الرحمتہ کبھی سلاطین کے دربار میں سلام کی غرض سے حاضر نہیں ہوئے۔ یہ لوگ خود بادشاہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ بقول حضرت مسیح ان کی بادشاہت اس دنیا کی نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے سلطان مذکور حضرت صاحب سے کچھ کبیدہ
خاطر رہتا تھا۔ جب کسی مہم سے فارغ ہوکر دلی کی طرف واپس آرہا تھا تو اس کے بھتیجے نے شہر سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر اس کے استقبال کا انتظام کیا۔ سلطان مذکور نے کہ نشہ حکومت میں چور تھا حضرت صاحب کی خدمت اقدس میں کہلا بھیجا کہ کل میں دہلی پہنچ کر دربار عام منعقد کروں گا۔ تمام امراء، وزراء، علماء، فضلاء اور وابستگان دولت حاضر ہوں گے۔ آپ بھی حاضر ہوں، ورنہ باضابطہ باز پرس کی جائے گی جس وقت قاصد آستانہ عالیہ پر پہنچا۔ حضرت صاحب مریدان عقیدت کیش کے درمیان تشریف فرما تھے۔ بادشاہ کا پیغام سن کر اک خفیف سا تبسم آپ کے روئے انور پر نمودار ہوا اور حاضرین مجلس کی طرف ایک معنی خیز نگاہ ڈال کر قاصد سے فرمایا! اس سے کہہ دینا کہ: ’’ ہنوز دلی دور است‘‘
قاصد جواب باصواب سن کر الٹے پائوں واپس چلا گیا اور بات آئی گئی ہوگئی۔ دوسرے دن تمام خلقت بادشاہ کی موت پر سوگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہوا خواہوں کے یہاں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ حضرت محبوب الٰہی بدستور وعظ وہدایت میں مشغول تھے اور حضور کا لنگر خانہ اسی شان سے چل رہا تھا:
آنکھ والا ترے جلوے کا تماشا دیکھے
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
ناظرین! دیکھا آپ نے پیش گوئی اسے کہتے ہیں اور اس طرح پوری ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ خاصان خدا کو ایک واقعہ کا علم قبل از وقوع ہوجاتا ہے۔ اس نہج پر نہیں کہ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہوتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ انہیں امور غیبیہ پر مطلع فرمادیتا ہے کہ کل ہماری مشیّت کے مطابق ایسا ایسا ظہور میں آئے گا۔ وہ عامۃ الناس کو (بحکم خدا) مطلع کردیتے ہیں نہ خود اپنی پیش گوئی کی تکمیل کے لئے ساعی ہوتے ہیں، نہ دوسروں کے سامنے دست نیاز در از کرتے ہیں کہ اس کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ہماری امداد کرو۔
ضمنی طور پر یہ واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی مصلحت کے ماتحت اپنے محبوب بندوں کو بعض امور سے قبل از وقوع اس لئے مطلع کردیتا ہے کہ وہ ان کا مرتبہ بلند کرنا چاہتا ہے۔ انہیں ہمعصروں پر فضیلت دینی چاہتا ہے اور جب وہ کسی کام کو چاہے تو پھر اس کا ہونا ایسا ہی یقینی ہے۔ جیسا دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کا آنا بلکہ اس سے بھی زیادہ: ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء!
پیش گوئی کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے اللہ اپنے بندوں کی شان محبوبیت
کو دنیا کے بندوں پر ظاہر فرمادیتا ہے۔ اسی لئے پیش گوئیاں عموماً ان امور سے متعلق ہوتی ہیں جو پیش گوئی کرنے والے کے حیطۂ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ جب ہی تو دنیا کے بندے اس کے آستانے پر سرنیاز خم کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پیش گوئی کا صحیح نکلنا نہایت ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کی ایک پیش گوئی بھی غلط نکلے جسے وہ صحیح معنوں میں اس قدر تحکم اور تحدی کے پیش کرے جس طرح کہ ہمارے مرزا قادیانی نے محمدی بیگم والی پیش گوئی پیش کی تھی تو اس کے متعلق عقلائے دہر کی رائے یہی ہوگی کہ یہ شخص ملہم من اللہ ! نہیں ہے۔ پھر اس کا اعتبار ہمیشہ کے لئے اٹھ جائے گا۔ دس میں دو تین باتیں تو نجومیوں اور رمّالوں کی بھی صحیح نکل آتی ہیںتو کیا اس بناء پر وہ بھی نبوت کا دعویٰ کرسکتے ہیں یا دنیا انہیں تسلیم کرسکتی ہے؟
ان اعتراضات کا جواب مرزا قادیانی نے دیا ہے۔ وہ بجنسہ ناظرین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں: ’’ یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے ساتھ نکاح کے لئے کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہیں۔ سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہوجاتا ہے۔(شدت غرض میں بھی بعینہٖ یہی حال ہوجاتا ہے) کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کرسکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۹۱، خزائن ج۲۲ص۱۹۸)
ناظرین ! مرزا قادیانی کا جواب آپ نے پڑھ لیا اب میں اس پر تنقید کرتا ہوں:
۱… پیش گوئی کرنے والے کا اپنی پیش گوئی کو اپنے ہاتھ سے پورا کرنا صرف اس صورت میں عندالعقل صحیح قرار دیا جاسکتا ہے۔ جب کہ:
الف… اپنے ہاتھ سے پوری کرنے کی بناء پر پیش گوئی کی اہمیت اور حقیقت مبدل نہ ہوجائے۔ اس کلّیہ سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش کردہ تاویل بعض پیش گوئی پر صادق آسکتی ہے کل پر نہیں۔
مثلاً زید نے پیش گوئی کہ بکر کل مرجائے گا اور دوسرے دن زید خود اپنے ہاتھ سے بکر کو قتل کردے تو پیش گوئی تو پوری ہوگئی مگر ساتھ ہی اس کی حقیقت بھی باطل ہوگئی اور جو مقصد اس سے مدنظر تھا وہ فوت ہوگیا تو قیر کی بجائے اس پیش گوئی کرنے والے کی توہین وتذلیل ہوگی۔
یا مثلاً زید نے پیش گوئی کی کہ بکر کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور اس کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ لڑکی کا والد کسی مقدمہ میں ماخوذ ہوکر اس مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا جو زید کا دوست یا رشتہ دار ہو۔ اب اگر زید بکر سے یہ کہے کہ اگر آپ اپنے ہاتھ سے میری پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تو میں آپ کی سفارش کروں گا اور بکر اپنی ذاتی مصلحت کی وجہ سے زید کی اس شرط کو منظور کرکے اپنی لڑکی اس کے حبالۂ نکاح میں دے دے تو اگرچہ بادی النظر میں پیش گوئی پوری ہوگئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پیش گوئی کی حقیقت پر پانی پھر گیا۔ پیش گوئی تو اس لئے کی گئی تھی کہ لوگ پیش گوئی کرنے والے کی جلالت شان اور اس کے خدا رسیدہ ہونے کے معترف ہوجائیں۔ لیکن اس طرح پوری ہونے کے بعد ایک شخص بھی اس بات کا معترف نہ ہوگا بلکہ یہی کہیں گے کہ زید نے ناجائز دبائو ڈال کر اپنی بات منوالی۔
پس ان مثالوں سے ثابت ہوگیا کہ کسی پیش گوئی کی تکمیل کے لئے مدعی کا کوشش کرنا اس پیش گوئی کی نوعیت پر موقوف ہے۔ اس لئے سب سے پہلے پیش گوئی کی نوعیت کا اندازہ کرنا چاہئے کہ وہ کس قسم کی ہے؟ ایک مثال ملاحظہ ہو:
ایک معمولی حیثیت کا شخص زید ساکن لاہور پیش گوئی کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ چند سال کے بعد تم امریکہ جائو گے۔ وہاں ایک بڑے فاضل انسان بکر سے تمہارا مناظرہ ہوگا اور تم اس پر غالب آئو گے اور تمہاری تقریر سے متأثر ہوکر وہ شخص مسلمان ہوجائے گا۔ یہ پیش گوئی اخباروں میں شائع ہوجاتی ہے اور لوگ اس بات سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔
چند سال کے بعد زید کو امریکہ کسی علمی مجلس سے جس کے کسی رکن سے زید کی شناسائی نہیں دعوت نامہ موصول ہوتا ہے کہ سفر خرچ ارسال خدمت ہے مؤتمرمذاہب عالم میں شرکت فرمائیے اور اپنے مذہب کی خوبیوں پر لیکچر دیجئے۔
اب اگر زید سامان سفر درست کرتا ہے تو اس پر کوئی الزام نہیں یا اگر وہ لیکچر مرتب کرتا ہے تو کوئی گناہ نہیں یا اگر وہ اس وقت اپنی کسی ایسی بیماری کا علاج کراتا ہے جو اس کے سفر میں حارج ہو یا وہ کسی دوست سے مشورہ لیتا ہے تو کوئی جرم نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ جب تک وہ خود عازم سفر نہ ہوگا امریکہ کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ لیکچر دیتا ہے اس کا لیکچر کامیاب ہوتا ہے اور صدر مجلس جو غیر مسلم ہے اس سے تبادلہ خیال کرتا ہے وہ اس مقصد
کے لئے تیاری کرتا ہے کوئی برائی کی بات نہیں وہ انتہائی کوشش کے ساتھ اسلام کی حقانیت پر دلائل قاطع اور براہین ساطع پیش کرتا ہے۔ رازیv اور غزالیv کی تصانیف سے استفادہ کرتا ہے کوئی جرم نہیں۔ اس کے بعد وہ شخص مسلمان ہوجاتا ہے اور زید مراجعت فرمائے وطن مالوف ہوتا ہے۔ واپسی پر سب لوگ اسے مبارک باد دیں گے اور اس پیش گوئی کی صداقت کا اعتراف کریں گے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ تو نے مطالعہ کتب کیوں کیا تھا؟ یا کسی شخص سے امریکہ جانے کا راستہ کیوں دریافت کیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ نفس پیش گوئی جو تین باتوں پر مشتمل ہے ۔ نمبر ایک : لیکچر کی کامیابی۔ نمبردو:میر مجلس کا تبادلہ خیال کرنا۔ نمبرتین: اسلام لے آنا۔ یہ تینوں باتیں اس کے اختیار میں نہ تھیں۔ خدا ہی نے اس کے لیکچر کو سب لیکچروں پر فوقیت بخشی، خدا ہی نے میر مجلس کے دل میں تبادلہ خیال کی تحریک پیدا کی اور خدا ہی نے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھولا، کسی انسان میں طاقت نہیں کہ دوسرے کے خیالات کو بدل سکے:’’لست علیھم بمصیطر‘‘اس پر دال ہے۔
اور لیجئے! آنحضرتa نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر پیش گوئی فرمائی کہ میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کروں گا اور اگرچہ دشمنوں کے نرغہ میں ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مجھے کوئی شخص گزند نہیں پہنچا سکے گا:’’واللہ یعصمک من الناس‘‘اس پر شاہد ہے۔
چنانچہ آپa نے اپنے یار وفادار، صداقت شعار، ثانی اثنین اذھما فی الغار، افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا وامامنا ابوبکرن الصدیقq سے اور امام الاشجعین، ر ائس المتقین مطلوب کل طالب مولانا ومرشدنا علی ابن ابی طالبq اور چند دیگر جانثاران ازلی اور عقیدت کیشاں سرمدی سے ایک دن روانگی کا ذکر فرمایا اور انتظام سفر درست فرمایا! اوّل الذکر کو ساتھ لیا اور آخر الذکر کو گھر میں چھوڑا اور دشمنوں کی موجودگی میں ان کی آنکھ بچاکر مکہ سے باہر تشریف لائے اور غار میں پوشیدہ ہوگئے۔ اس کے بعد وہاں سے نکل کر بخیر وعافیت مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ آپa کے انتظامات سفر درست کرنے یا امکانی احتیاط عمل میں لانے کی وجہ سے نفس پیش گوئی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وجہ یہ کہ:
۱… دشمنوں نے اعلان کیا تھا کہ آج رات کے وقت (خاکم بدہن) محمدa کو قتل کردیا جائے اور مقدور بھر انتظام کیا تھا کہ حضورa شہر سے باہر نہ جاسکیں۔ ان دونوںباتوں کے بالمقابل حضورa کی پیش گوئی یہ تھی کہ:
۱… میں ہجرت کروں گا۔
۲… دشمن مجھے گزند نہ پہنچاسکیں گے۔
سامان سفر درست کرنا تو حضورa کے ہاتھ میں تھا مگر دشمنوں کے نرغہ میں سے صاف نکل جانا اور بغیر چشم زخم مدینہ منورہ پہنچ جانا یہ دونوں باتیں حضورa کے اختیار میں نہ تھیں۔ اس بات کا قوی امکان تھا کہ دشمن اپنی سکیم میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن بفحوائے: ’’دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست‘‘ جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ دشمن کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کامیابی تو اللہ اور اللہ کے رسول کے لئے مقدر ہوچکی تھی۔
الغرض مذکورہ بالا مثالوں سے ثابت ہوگیا کہ محمدی بیگم والی پیش گوئی اس قبیل سے نہ تھی کہ اس کے لئے مرزا قادیانی کی ذاتی کوشش جائز قرار دی جاسکے۔ لیکن ہم ان کی خاطر تھوڑی دیر کے لئے اس سے قطع نظر کرتے ہیں اور اب ان کے جواب کے دوسرے پہلو پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ’’اگر ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کرسکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کا پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۹۱، خزائن ج۲۲ ص۱۹۸)
چلئے یونہی سہی۔ مرزا قادیانی نے ذاتی کوشش کے لئے دو شرطیں قرار دی ہیں۔ (۱)فتنہ برپا نہ ہو۔ (۲)طریق کوشش ناجائز نہ ہو۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا طرز عمل بعض صورتوں میں ناجائز بھی تھا اور اس کی بناء پر فتنہ بھی برپا ہوا جس کی تفصیل یہ ہے:
اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کسی کو لالچ دینا یا دھمکی دینا۔ حصول مقصد کا ناجائز طریق ہے اور مرزا قادیانی ان دونوں باتوں کے مرتکب ہوئے۔
۱… انہوں نے مرزا احمد بیگ کو لکھا : ’’ اگر تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کردو تو میں تمہیں زمین بھی دوں گا اور دیگر مزید احسانات بھی کروں گا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۲، خزائن ج۵ ص۵۷۲)
دیکھ لیجئے صاف لفظوں میں لالچ دیا جارہا ہے۔
۲… مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو لکھا: ’’اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل وجان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ
میں ہے ہر طرح سے درست کرکے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔‘‘
(خط مرزا قادیانی ۲؍مئی۱۸۹۱ء، کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۶)
دیکھ لیجئے صاف لفظوں میں لالچ دیا جارہا ہے۔
متقی آدمی یا جو اخلاقی زاویہ نگاہ سے نیک آدمی ہو اس کا فرض ہے کہ اگر وہ کوئی نیک کام کرسکتا ہے، کسی کے ساتھ سلوک کرسکتا ہے، کسی مظلوم کی حمایت کرسکتا ہے، کسی کو فائدہ پہنچاسکتا ہے تو بندوں سے مزدوری حاصل کئے بغیر ایسا کرے۔ خالصتاً لوجہ اللہ ایسا کرے تاکہ خدا سے اجر پائے۔
اگر فضل احمد مرزا قادیانی کے قبضہ میں تھا تو ان کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ اس کو درست کرکے ایک معصوم بے گناہ بلکہ مظلوم عورت کی زندگی کو بہتر بناتے خواہ علی شیر بیگ مرزااحمدبیگ کا ارادہ بند کراتا یا نہ۔ اخلاقی فرائض کو ذریعہ تجارت بنانا، متقی انسان کی شان سے بعید ہے بہت بعید ہے۔ یہ باتیں تو جہلاء کو زیب دیتی ہیں مؤمن یا متقی یا مجدد کی شان ایسی رکیک باتوں سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہونی چاہئے۔
۳… والدہ عزت بی بی کو لکھا کہ اپنے بھائی کوسمجھائو ورنہ میں نے اپنے بیٹے فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ جس دن محمدی بیگم کا نکاح ہو اسی دن عزت بی بی (بے گناہ) کو تین طلاقیں یک دم دے دے۔ کیا یہ دھمکی نہیں اور کیا کسی کو ڈرانا دھمکانا حصول مقصد کا ناجائز طریق نہیں؟
۴… فضل احمد کو خط لکھا کہ اگر تم اپنی زوجہ عزت بی بی کو میری خاطر سے طلاق نہ دوگے تو میں تمہیں عاق کردوں گا کیا یہ دھمکی نہیں؟
۵… مرزا احمد بیگ کو لکھا کہ عاجزی اور ادب سے ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے انحراف نہ فرمائیں۔ کیا یہ خوشامد نہیں ہے؟ اسی خط میں ہے کہ یہ عاجز آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ کیا یہ دریوزہ گری نہیں ہے؟
محمدی بیگم کے ماموں سے انعام کا وعدہ کیا۔ کیا یہ حصول مقصد کا ناجائز طریق نہیں ہے؟
اب دوسرا پہلو لیجئے:
۱… مرزا قادیانی نے ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کو اشتہار شائع کیا: ’’اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا اور ان
کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امور پیش آئیں گے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)
غور کیجئے کیا یہ اعلان فتنہ کا موجب نہیں ہوا ہوگا۔ کیا اس اعلان کو پڑھ کر مرزا احمد بیگ اس کی زوجہ، اس کی معصوم لڑکی، اس کے متعلقین کے دلوں میں غم اور غصہ کے جذبات پیدا نہیں ہوں گے۔ کیا مرزا احمدبیگ کے دل میں اپنی معصوم بیٹی کے متعلق اس قسم کی باتیں پڑھ کر مرزا قادیانی کے خلاف نفرت اور عداوت کے جذبات پیدا نہیں ہوئے ہوں گے۔ (جو لوگ اس حقیقت کا انکار کریں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کہ اگر کوئی شخص ان کی جوان بیٹی کے متعلق اس قسم کا اعلان شائع کرے تو ان کی کیا کیفیت ہوگی؟) کیا اس اعلان کو پڑھ کر لڑکی اور اس کے والد کے دل میں تشویش پیدا نہیں ہوگی؟ کیا کوئی شخص اپنے متعلق ایسی منحوس خبر سن کر مسرور ہوسکتا ہے؟ کیا لڑکی کے دل پر غم کی گھٹا نہیں چھاگئی ہوگی؟ کیا اسے اپنا مستقبل تاریک نظر نہیں آنے لگا ہوگا کہ دیکھئے شادی کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کیا سلطان محمد کے دل میں مرزا قادیانی کی طرف سے نفرت اور دشمنی پیدا نہیں ہوئی ہوگی؟ کیا اس قسم کی اندازی پیش گوئی سے ان لوگوں کا سکون خاطر تباہ نہیں ہوا ہوگا؟ اگر یہ اعلان موجب فتنہ نہیں تو پھر نامعلوم فتنہ پردازی اور کسے کہتے ہیں؟
میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ ناظرین اوراق سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ذرا تھوڑی دیر کے لئے اپنے آپ کو مرزا احمد بیگ کی جگہ تصور کرکے پھر میرے مذکورہ بالا سوالات پر غور کریں۔ اندریں حالات اگر بقول مرزا قادیانی ’’ ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کرلیا کہ اس کو ذلیل وخوار کیا جائے‘‘ تو کون سا گناہ کیا؟
اس قسم کی اندازی پیش گوئیاں یقینا بڑے فتنہ کا موجب ہوتی ہیں۔ چنانچہ اسی فتنہ کی وجہ سے مرزا قادیانی کے مخالفین نے ان کے خلاف عدالت میں چارہ جوئی کی اور مرزا قادیانی کا سر عدالت نہایت عاجزی کے ساتھ معافی طلب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ فتنہ برپا ہوا اور عدالت نے فتنہ ہی کو فرو کرنے کے لئے مرزا قادیانی کو معافی نامہ داخل کرنے کا حکم دیا:
گواہ عاشق صادق درآستیں باشد
ذیل میں حضرت مسیح موعود، ومہدی موعود، امام الزماں، جری اللہ فی حلل الانبیاء مرزا غلام احمد قادیانی کا اقرار نامہ درج کیا جاتا ہے: ’’اقرار نامہ مرزا غلام احمد قادیانی
بمقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر وڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور مرجوعہ ۵؍جنوری ۱۸۹۹ء فیصلہ ۲۵؍فروری۱۸۹۹ء سرکار دولتمدار بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ملزم الزام زیر دفعہ۱۰۷ مجموعہ ضابطہ فوجداری:
میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خدا وند تعالیٰ بااقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:
۱… میں ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی وہ مسلمان ہو یا ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ موردعتاب الٰہی ہوگا۔(ناظرین اس موقعہ پر وہ الفاظ پڑھیں جو مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ، مرزا سلطان محمد اور محترمہ محمدی بیگم کے متعلق تحریر فرمائے تھے)
۲… میں خدا کی جناب میں ایسی درخواست کرنے سے بھی اجتناب کروں گا کہ وہ کسی شخص کو ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟
۳… میں کسی ایسی چیز کو الہام بتاکر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا کہ جس کا منشاء یہ ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (مثلاً مرزا احمد بیگ یا مرزا سلطان محمد یا محترمہ محمدی بیگم منجانب راقم مضمون) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
۴… جہاں تک میرے احاطۂ طاقت میں ہے میں ان تمام اشخاص کو جو میرے زیر اثر ہیں یہ ترغیب دوں گاکہ وہ بھی بجائے خود اس طریق پر عمل کریں جس پر کاربند ہونے کا میں نے مذکورہ دفعات میں اقرار کیا ہے‘‘
العبد: مرزا غلام احمد قادیانی بقلم خود
گواہ شد خواجہ کمال الدین بی۔اے، ایل۔ایل۔بی
دستخط جے ایم ڈوئی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور۲۴؍فروری۱۸۹۹ء
(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ ص۵۴۹، ایڈیشن اگست۱۹۹۵ء)
ناظرین! اس وقت اس بات پر حیرت نہ کریں کہ مامور من اللہ ، قمرالانبیاء، خاتم الاولیاء، مجدد زماں، مسیح دوراں، ملہم ربانی، فرستادہ آسمانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام لن ترانیاں اور انذاری پیش گوئیاں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوتی تھیں دنیاوی حکومت کی
ادنیٰ سی گرفت پر ’’ھباء منثورا‘‘ ہوگئیں۔ کیونکہ اس پہلو پر آئندہ بحث ہوگی۔ اس وقت صرف یہ دیکھیں کہ میں نے اپنا دعویٰ خود مرزا قادیانی کے قول سے ثابت کردیا یا نہیں؟ اگر ان کی انذاری پیش گوئیاں موجب فتنہ وفساد نہ تھیں تو انہوں نے ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں یہ عذر کیوں نہ پیش کیا کہ میری پیش گوئیوں سے جب کوئی فتنہ ہی برپا نہیں ہوتا اور نہ برپا ہونے کا احتمال ہے تو میں اقرار نامہ کیوں داخل کروں۔
عدالت کا اقرار نامہ لکھانا اور پھر ان تصریحات کے ساتھ لکھانا اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ عدالت کی نظر میں یہ باور کرنے کے لئے کافی وجوہ ہوں گی کہ مرزا قادیانی کا اس قسم کی پیش گوئی شائع کرنا موجب فتنہ وفساد وباعث نقص امن عامہ ہوسکتا ہے یا ہوگا اور جناب مرزا قادیانی کا اس طرح اقرار نامہ لکھ دینا بھی اسی حقیقت پر دال ہے کہ انہوں نے حالات کا جائزہ لے کر اس امر کا احساس کرلیا ہوگا کہ عافیت اسی میں ہے کہ اقرار نامہ لکھ دیا جائے۔ مبادا فتنہ برپا ہوجائے یہ اقرار نامہ ایک قابل وکیل اور جانثار مرید کے مشورہ سے لکھا گیا تھا اور غالباً اس کا مسودہ بھی اسی نے لکھا ہوگا۔ اس کی نظر میں بھی اس قسم کی انذاری پیش گوئیوں سے فتنہ برپا ہونے کا احتمال ہوگا۔
اچھا اب آگے چلئے:
۲… محترمہ محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد کے ساتھ نکاح ہوگیا۔ اس پر مرزا قادیانی نے لکھا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ معاملہ یہیں ختم ہوگیا۔ اصل معاملہ ابھی اسی طرح باقی ہے۔ یہ تقدیر (مرزا سلطان محمد کی موت، محمدی بیگم کا بیوہ ہونا اور مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس کا وقت آنے والا ہے۔
کیا اس اعلان کو پڑھ کر مرزا سلطان محمد اور محمدی بیگم دونوں کی اہلی زندگی تلخ نہیں ہوگئی ہوگی؟ کیا ان دونوں کا سکون واطمینان خاطر تباہ نہیں ہوگیا ہوگا؟ کیا انہوں نے اپنے دل میں یہ نہیں کہا ہوگا کہ الٰہی یہ فرشتہ عذاب کہاں سے ہم پر مسلط ہوگیا؟ کیا والدہ عزت بی بی کے یہ الفاظ جو مرزا قادیانی نے اپنے اس خط میں نقل کئے ہیں جو انہوں نے مرزا علی شیر بیگ کو لکھا تھا کہ ہم نہیں جانتے یہ شخص کیا بلا ہے؟ یہ شخص مرتا بھی تو نہیں ان کے دلی جذبات کے آئینہ دار نہیں ہیں۔ میں ان لوگوں کے ضبط وتحمل کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے بلاجرم وقصور اپنی نسبت ایسے الفاظ سنے اور چپ رہے۔ کون سی ناملائم بات تھی جو مرزا قادیانی نے ان کے حق میں روا نہ رکھی؟
القصہ کیا یہ اعلان موجب فتنہ نہیں ہوا ہوگا؟
۳… مرزا احمد بیگ نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک شخص کے ساتھ کردیا لیکن عزت بی بی کو بلاقصور طلاق مل گئی کیا یہ فعل موجب فتنہ وفساد وخانہ بربادی نہیں؟ ایک بے گناہ عورت بلا قصور مطلقہ ہوگئی۔ محض اس لئے کہ مرزا قادیانی اپنی پیش گوئی کی تکمیل کے لئے جائز اور مسنون طریق پر کوشش فرمارہے تھے کیا یہ کوشش فتنہ کا موجب نہیں ہوئی۔ ایک عورت کا سہاگ لٹ گیا۔ مطلقہ ہوگئی۔ ساری زندگی تباہ ہوگئی۔ اس سے بڑھ کر اور فتنہ کیا ہوگا؟
سبحان اللہ ! کیا جائز کوشش ہے؟ کیا کسی نبی، ولی، مجدد یا مسیح نے اپنی پیش گوئی کے پوری کرنے کے لئے اس انداز کی کوشش کی جس کے نتائج اس قدر المناک اور دور رس ہوئے ہوں؟
محمدی بیگم کے اعزّا سے دشمنی ہوئی۔ خاندان کے کئی افراد سے قطع تعلق ہوا۔ بڑے بیٹے کو عاق کیا۔ چھوٹے بیٹے کی بیوی کو طلاق نصیب ہوئی۔ پہلی بیوی کو طلاق ملی۔ خاندان میں تفرقہ پڑا۔ برسوں ہنگامہ برپا رہا۔ اشتہار بازی ہوئی۔ اس پر قوم کا روپیہ صرف ہوا۔ طرفین پر حالت بیم ورجاء طاری رہی۔ جگ ہنسائی ہوئی۔ اسلام کی رسوائی ہوئی۔ اپنوں کو بددعائیں دیں۔ بدلے میں بددعائیں لیں۔ عدالتوں میں بیانات ہوئے۔ آمد ورفت میں روپیہ خرچ ہوا۔ مسلمانوں کو بے نقط سنائیں۔ انہوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ دشمنوں کو ہنسنے کا موقع ملا۔ لوگوں کو بیچ میں ڈالا ۔ انعام واکرام کے وعدے کئے۔ اغیار کے سامنے دست سوال دراز کیا۔ ان سب باتوں کے باوجود ہوا وہی جو مشیّت الٰہی میں طے ہوچکا تھا۔ یعنی لڑکی کا نکاح مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہوگیا اور مرزا قادیانی کی نفس پیش گوئی کے پوری ہونے کا ابھی تک وقت نہیں آیا۔
۴… مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کی نسبت لکھا کہ:’’ بھلا جس دن یہ سب باتیں (یعنی مرزا احمد بیگ اور مرزا سلطان محمد کی موت، محمدی بیگم کا بیوہ ہونا اور پھر مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) پوری ہوجائیں گی تو کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے؟ ان بیوقوفوں کو کہیں بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی کے ساتھ ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے۔‘‘
ناظرین! اس امر پر حیرت نہ کریں کہ مجدد وقت، مصلح امت، امام زماں، مسیح دوران اور یہ اخلاق؟ اس پر مفصل بحث آئندہ ہوگی۔ اس وقت صرف یہ دیکھیں کہ یہ الفاظ موجب فتنہ وفساد ہیں یا نہیں؟ اس بحث میں نہ پڑئیے کہ ایک معلم اور مزّکی مصلح اور مجدد کے قلم سے یہ سوقیانہ الفاظ کس طرح سرزد ہوئے؟ دیکھنا یہ ہے کہ یہ طرز نگارش موجب فتنہ وفساد ہے یا نہیں؟
الغرض میں نے بدلائل وشواہد نیرّہ یہ بات ثابت کردی کہ مرزا قادیانی نے خود کوشش کرکے پیش گوئی کی حقیقت کو باطل کردیا اور کوشش بھی اس انداز سے کی جسے ہرگز مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا اور میرا اصولی اعتراض ’’بحمداللہ علی حالہ‘‘قائم ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے فی الحقیقت مرزا قادیانی سے وعدہ کرلیا تھا کہ محمدی بیگم تمہارے نکاح میں آئے گی تو پھر انہوں نے خدا کو چھوڑ کر بندوں کے سامنے دست سوال کیوں دراز کیا؟ یہ بات شان اتقاء سے بہت بعید ہے۔ متقی آدمی خدا پر کامل ایمان رکھتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتاکہ جب خدا تعالیٰ نے بار بار مرزا قادیانی کو مطلع کیا کہ یہ پیش گوئی ضرور پوری ہوگی تو پھر انہیں اس کی کیا ضرورت لاحق ہوئی کہ انہوں نے اس کے پوری ہونے کے لئے زمین وآسمان ایک کردیا؟
خود کوشش کرنا، دھمکیاں دینا، لالچ دینا، انعام کے وعدے کرنا، منت سماجت کرنا، دوسروں کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا، یہ سب باتیں اتقاء کے خلاف ہیں۔ ایک متقی انسان ان کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔
لیکن اس افسوسناک داستان کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ اس پیش گوئی کے سلسلہ میں ایک بے گناہ عورت قربانی کابکرا بن کر ہمیشہ کے لئے وقف آلام ہوگئی اور یہ وہ بات ہے جس نے مجھے ہمیشہ بہت متأثر کیا ہے۔ مجھے کسی زمانہ میں مرزا قادیانی سے عقیدت تھی اور میں ان کو غریب طبع نیک خیال اور اسلام پر قائم سمجھتا تھا لیکن جب سے اس واقعہ کے نتائج مجھ پر منکشف ہوئے میری عقیدت بالکل جاتی رہی اور میری رائے ان کے متعلق بالکل بدل گئی۔
عزت بی بی فضل احمد پسر مرزا قادیانی کی بیوی تھی اور مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم کی بھانجی تھی اور غالباً یہی اس کا سب سے بڑا قصور تھا جس کی پاداش میں وہ یوں راندۂ درگاہ
ہوئی۔ مرزا علی شیر بیگ مرزا احمد بیگ کے بہنوئی تھے جب آخر الذکر پر مرزا قادیانی کا کچھ بس نہ چلا تو انہوں نے سوچا کہ اب کیا کرنا چاہئے:
چیست یاران طریقت بعد ازیں تدبیرما
آخر بفحوائے جوء یندہ یا بندہ ان کی سمجھ میں یہ تدبیر آئی۔ مرزا احمد بیگ کی بہن مرزا علی شیر بیگ کی بیوی ہے اور ان کی بیٹی عزت بی بی میرے بیٹے کی بیوی ہے۔ لہٰذا ایک طرف ان دونوں پر دبائو ڈالنا چاہئے کہ اگر تم دونوں اپنے ذاتی اثر اور رسوخ کو کام میں لاکر مرزا احمد بیگ سے میری پیش گوئی پوری نہ کرادو گے تو میں اپنے بیٹے سے کہہ کر تمہاری بیٹی کو طلاق دلوادوں گا۔ یقینا انہیں اپنی بیٹی کی خانہ بربادی کسی طرح منظور نہ ہوگی۔ اس لئے وہ انتہائی کوشش کریں گے کہ مرزا احمد بیگ راضی ہوجائے۔ دوسری طرف فضل احمد کو لکھنا چاہئے کہ اگر محمدی بیگم کا باپ اپنی لڑکی کی شادی دوسری جگہ کردے تو تم عزت بی بی … بے گناہ عزت بی بی… کو طلاق دے دو۔ یقینا میری بہو کو اس بات کی اطلاع ہوجائے گی اور یقینا وہ اپنے والدین کو لکھے گی کہ خدا کے لئے مرزا احمد بیگ کو راضی کرو (یا بقول مرزا قادیانی سمجھائو) ورنہ کلنک کا ٹیکہ ہمیشہ کے لئے میرے ماتھے پر لگ جائے گا (ہندوستان اور خصوصاً پنجاب میں زن مطلقہ کی جو حیثیت ہوتی ہے اس سے ناظرین یقینا آگاہ ہوں گے)چنانچہ مرزا قادیانی نے اس زریں اور جائز بلکہ مسنون طریق پر عمل درآمد کیا(؟) ترکیب تو واقعی سولہ آنے صحیح تھی مگر اس کو کیا کیا جائے کہ ناکامی نصیب میں لکھی ہوئی تھی:
تہیدستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل
کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آردسکندر را
ناظرین! یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ محض قیاس نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے۔ مرزا قادیانی کے خطوط سے نقل کرچکا ہوں۔ انہیں پڑھ لیجئے۔ آپ بھی اسی نتیجہ پر پہنچیں گے۔
لیکن عزت بی بی کے والدین نے مرزا قادیانی کا کہنا نہ مانا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی نے اپنی ناکامی کے احساس کو کم کرنے کے لئے اور جواباً مرزا احمد بیگ، اس کی ہمشیرہ اور مرزا علی شیر بیگ کو رنج پہنچانے کے لئے اپنے بیٹے فضل احمد کے ہاتھ میں طلاق کی چھری دے کر غریب اور معصوم بے گناہ اور مظلوم عزت بی بی کو ذبح کرادیا۔
میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے کس جرم کی پاداش میں عزت بی۔بی کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا۔ اگر مرزا احمد بیگ نے مرزا قادیانی کا کہنا نہیں مانا تو اس
بے چاری کا اس میں کیا قصور تھا؟ یا تو اس کا کوئی قصور ثابت کیا جائے ورنہ لامحالہ یہی کہنا پڑے گا کہ ایک بے گناہ عورت کی زندگی برباد کرکے مرزا قادیانی نے اپنا دل ٹھنڈا کیا۔ اپنے جلے ہوئے پھپھولے پھوڑے۔
کسی بے کس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا
جو خود ہی مررہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا
سچ ہے کہ نزلہ برعضوضعیف می ریزد، کہنا تو نہ مانا مرزا احمد بیگ نے اور طلاق ملی عزت بی بی کو۔ سبحان اللہ ! کیا شان اتقاء ہے؟
عزت بی بی کو طلاق مل گئی۔ بہت خوب۔ دنیا گزشتی وگزاشتی ہے طلاق پانے والی بھی مرگئی اور طلاق دلوانے والے بھی مرگئے مگر بات باقی رہ گئی اور جب تک سلسلہ عالیہ قادیانیہ باقی ہے یہ بات بھی باقی رہے گی اور لوگ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں گے۔
اب ہم ذیل میں اس واقعہ سے جو نتائج مستنبط ہوتے ہیں ان کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں:
۱… مرزا قادیانی نے اس بے گناہ کو طلاق دلواکر قرآن مجید کی اس آیت کی مخالفت کی:’’ولا تزر وازرۃ وزر اخرٰی‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اب اگر مرزا قادیانی کا اس آیت پر ایمان ہوتا تو وہ سوچتے کہ احمد بیگ کی سرکشی کی سزا معصوم عزت بی بی کو کیونکر مل سکتی ہے؟ واہ کیا انصاف ہے۔ قصور کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔ یہ مانا کہ وہ بے چاری آفت کی ماری مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی لیکن سرکاری عدالتوں میں بھی زید کے جرم کی سزا بکر کو نہیں ملتی۔
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی مسیحی حضرات پر تو یہ اعتراض وارد کرتے ہیں کہ یسوع صاحب جو بے گناہ تھے دوسرے گنہگار انسانوں کے بدلے کس طرح مصلوب ہوگئے؟ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ عیسائیوں کا خدا بھی عجیب ہے کہ گنہگاروں کے بدلے ایک بے گناہ کو سولی پر لٹکا دیا۔ لیکن اپنے طرز عمل پر غور نہیں فرماتے اگر مسیحی حضرات مرزا قادیانی سے یہ سوال کریں کہ جناب یہ کون سا انصاف ہے کہ قصور کرے ماموں، سزا ملے بھانجی کو؟ آپ کے دل میں اگر ذرہ بھر بھی خوف خدا ہوتا جسے اصطلاح میں اتقاء کہتے ہیں تو آپ ہرگز اس بے گناہ عورت کو قربانی کا بکرا نہ بناتے۔
۲… یقینا مرزا قادیانی نے اپنا غصہ اس بے گناہ عورت پر اتارا۔ لیکن قرآن مجید میں
مومنوں کی شناخت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور قصور واروں کو معاف کردیتے ہیں:’’والکا ظمین الغیظ والعافین عن الناس‘‘چنانچہ جس وقت امام حسنq کے غلام کے ہاتھ سے چینی کی قاب گرکر ٹوٹ گئی تو امام موصوف کے چہرہ پر بمقتضائے بشریت غصہ کے آثار نمودار ہوئے۔ غلام نے جب یہ حالت دیکھی تو فوراً یہ آیت پڑھی۔ امام موصوف کا غصہ فوراً فرو ہوگیا اور جب اس نے کہا :’’واللہ یحب المحسنین‘‘ تو آپ نے فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کیا کیونکہ تونے مجھے ارشاد خدا وندی کی تعمیل کا موقع دیا۔
اوّل تو عزت بی بی سے کوئی قصور سرزد نہیں ہوا تھا لیکن اگر بفرض محال اس سے کوئی قصور بھی سرزد ہوا ہو تو مرزا قادیانی کو اس آیت کے ماتحت اس پر احسان کرنا چاہئے تھا۔ ایک متقی یا مجدد کو عام انسانوں کے مقابلہ میں اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھانا چاہئے۔ دوستوں کے ساتھ تو سبھی احسان کرتے ہیں لطف تو جب ہے کہ انسان دشمنوں کے ساتھ احسان کرے۔
۳… اب یہ دیکھنا چاہئے کہ عزت بی بی کے دل پر اس سانحہ کا کیا اثر ہوا ہوگا۔ یقینا اس نے اپنے دل میں کہا ہوگا کہ اگر ماموں صاحب نے میرا کہنا نہ مانا تو اے خدا اس میں میرا قصور کیا ہے؟ مجھے کس قصور کی پاداش میں یہ روز بد دیکھنا پڑا؟ نفسیات کے ماہرین سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ ایسے موقعوں پر انسان کا ایمان متزلزل ہوجانا بعید از قیاس نہیں۔ پس اگر اندریں حالات خدا تعالیٰ کی صفت رحم وکرم کے متعلق عزت بی بی کے دل میں شکوک پیدا ہوگئے ہوں اور اس کے ایمان میں ضعف آگیا ہو (اور ایسا ہونا بعید از قیاس نہیں) تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عزت بی بی مرزا قادیانی کے دعویٰ مجددیت سے ناواقف نہ ہوگی۔ پس لازمی طور سے اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ کیا مجدد ایسے ہی ہوتے ہیں؟ یقینا اس نے اپنے دل میں یہ کہا ہوگا کہ اگر مرزا قادیانی مجدد ہوتے تو فضل احمد کو ہر طرح سے درست کرکے میری آبادی کی کوشش کرتے۔ جو لوگ خدا رسیدہ ہوتے ہیں وہ تو مظلوموں کی ڈھارس بندھاتے ہیں۔ ان کی دستگیری کرتے ہیں بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک روارکھتے ہیں۔ یہ کیسا مجدد ہے کہ بے گناہ انسانوں کو تختہ مشق بنادیا؟
عزت بی بی نے زبان حال سے یہ بھی کہا ہوگا کہ الٰہی تو نے اچھی پیش گوئی کرائی جس کے ظہور پذیر ہونے کے لئے میرے خاوند کے باپ نے دنیا بھر کے جتن کئے مگر وہ پوری نہ ہوئی۔ احمد بیگ، محمدی بیگم، سلطان محمد کسی کا کچھ نہیں بگڑا۔ میں مفت میں برباد ہوگئی۔
کیا اس قسم کے خیالات اس عورت کے دل میں نہ آئے ہوں گے؟ کیا ان خیالات سے اس کے ایمان میں ضعف پیدا نہ ہوا ہوگا؟ اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اس کا وبال کس کی گردن پر ہے؟
الحاصل اس پیش گوئی سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں، ان کو اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کرکے اس بحث کو ختم کرتا ہوں:
۱… یہ عظیم الشان پیش گوئی جو’’ زوّجنکھا‘‘ کے مطابق آسمان پر پوری ہوچکی تھی قدرت کرو گار سے زمین پر پوری نہ ہوئی۔
۲… اس کی وجہ سے کئی بے گناہ انسانوں محمدی بیگم، سلطان محمد اور احمد بیگ کی دل آزاری ہوئی۔
۳… عزت بی بی کی زندگی تباہ ہوئی۔
۴… خاندان میں تفرقہ اور دشمنی کا بیج بویا گیا۔
۵… پیش گوئی کرنے والے کی ذلت اور رسوائی ہوئی۔
۶… دشمنان اسلام کو شادمانی کا موقع ملا۔
۷… پیش گوئی کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے بعض افراد شکستہ خاطر ہوئے۔
۸… بہت سا روپیہ اشتہار بازی پر ضائع ہوا۔
۹… برسوں ہنگامہ برپا رہا۔
۱۰… مرزا قادیانی کا دعویٰ مجددیت باطل ہوگیا۔
کیونکہ مرزا قادیانی نے خود اس پیش گوئی کو اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دکھایا:
من در حریم قدس چراغ صداقتم
دستش محافظ است زہر باد صرصرم
ایک مجدد کے لئے اشد ضروری ہے کہ وہ صاحب اخلاق حسنہ ہو اور سردار دوجہاں، صاحب خلق عظیمa کے نقش قدم پر چلنے والا ہو تاکہ لوگ اس کے علومرتبت کے معترف ہوں اور اس کی طرف مائل ہوں اور ظاہر ہے کہ جب تک مجدد کی طرف لوگوں کا
میلان نہیں ہوگا وہ ان کی اصلاح نہیں کرسکتا اور اصلاح حال اس کا فرض منصبی ہوتا ہے۔ اس لئے حسن اخلاق سے مزّین ہونا اس کے لئے از بس ضروری ہے۔
چونکہ لاہوری جماعت کے عقیدہ کی رو سے مرزا قادیانی مجدد ہیں اس لئے ان کے اخلاق وعادات پر تنقیدی نگاہ ڈالنا ایک جویائے صداقت کا اوّلین فرض ہے۔
مرزا قادیانی کے پیرئوں کا یہ خیال ہے کہ جس بلند پایہ اخلاق کا آپ سے ظہور ہوا اس کی مثال سوائے آپ کے متقدیٰ حضرت محمد مصطفیa کی ذات بابرکات کے دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔
(ذکر حبیب از مصباح الدین احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم ۲۱؍مئی ۱۹۳۴ء)
لیکن مرزا کی تصانیف کچھ اور ہی کہتی ہیں۔ ذیل میں چند اقتباسات پیش کرتا ہوں اور فیصلہ ناظرین پر چھوڑتا ہوں۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ان کی شبیہ اصلی رنگ میں نظر آئے گی۔
یعنی ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مجھے قبول کرتے ہیں اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ کنجریوں کی اولاد ہیں وہ مجھے نہیں مانتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷، ۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۷،۵۴۸)
۲… مرزا قادیانی اپنے ایک مخالف مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کو عربی میں گالی دے کر خود ہی اس کا ترجمہ فرماتے ہیں تاکہ کسی کو مفہوم معین کرنے میں دقت نہ ہو۔ ملاحظہ فرمائیے: ’’رقصت کر قص بغیۃ فی المجالس‘‘ تونے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔
(حجتہ اللہ ص۸۷، خزائن ج۱۲ ص۲۳۵)
۳…’’ویتزوجون البغایا در نکاح خودمے آرند زنان بازاری را‘‘
(لجۃ النور ص۸۶، خزائن ج۱۶ص۴۲۸)
۴…’’فلا شک ان البغایا قد خربن بلد اننا‘‘ہیچ شک نیست کہ زنان فاحشہ ملک مارا خراب کردند۔
(لجۃ النور ص۸۷، خزائن ج۱۶ ص۴۲۹)
۵…’’ان البغایا حزب نجس فی الحقیقۃ زنان فاحشہ درحقیقت پلید اند‘‘
(لجۃ النور ص۸۹، خزائن ج۱۶ ص۴۳۱)
۶…’’ان نساء دار ان کن بغایا فیکون رجالھا دیوثین دجالین‘‘ اگر درخانہ زناں آں خانہ فاسقہ باشندپس مردان آں خانہ دیوث ودجال مے باشند۔
(لجۃ النور ص۹۰، خزائن ج۱۶ ص۴۳۲)
۷…’’اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار با رکہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی… اور ہماری فتح کاقائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں… حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم اور ناانصافی کی راہوں سے پیار کرتا ہے۔ ‘‘
(انوار الاسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱، ۳۲)
۸…’’بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہوجائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے؟ اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے؟ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)
۹…’’یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۲۵، خزائن ج۱۱ ص۳۰۹ حاشیہ)
۱۰…’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘
( نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳)
ممکن ہے بعض حضرات ان گالیوں کی حمایت میں یہ عذر پیش کریں کہ مرزا قادیانی نے یہ مغلظات اپنے مخالفین کو سنائیں ہیں۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ دوستوں کو تو چور اور بٹ ماربھی محبت کے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ مزہ تو جب ہے کہ انسان دشمنوں کے ساتھ بھی تہذیب اور متانت سے گفتگو کرے۔
چنانچہ مرزا قادیانی خود ارشاد فرماتے ہیں: ’’چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی
اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رزیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہوسکے جو امام زماں کہلاکر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوئی ہیں۔ وہ کسی طرح امام الزمان نہیں ہوسکتا۔‘‘
(ضرورت الامام ص۸ خزائن ج۱۳ ص۴۷۸)
’’ تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے ان پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں ہے۔‘‘
(خاتمہ چشمہ معرفت ص۱۵، خزائن ج۲۳ ص۳۸۶،۳۸۷)
میں سمجھتا ہوں کہ لاہوری مرزائی، مرزا قادیانی کی شہادت کو رد نہیں کرسکتے۔ پس جب وہ خود فرماتے ہیں کہ جو شخص غصہ کی حالت میں نفس پر قابو نہ رکھ سکے وہ امام الزماں نہیں ہوسکتا تو میں کس طرح مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد تسلیم کرلوں جنہوں نے اپنے مخالفین کو اعلانیہ طور پر گالیاں دی ہیں؟
ناظرین سے التماس ہے کہ وہ خود ان گالیوں کو پڑھ کر فیصلہ کرلیں کہ جس شخص کے قلم سے ایسی نازیبا باتیں سرزد ہوسکیں وہ کس قسم کے اخلاق کا مالک تھا؟
جب مرزا قادیانی کی خود اپنی حالت یہ تھی کہ اپنے مخالفین کو ذریۃ البغایا، ولد الحرام اور جنگلی سور کے القاب سے یاد کرتے تھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ عام مسلمانوں کی کیا اخلاقی اور روحانی اصلاح کرسکے ہوں گے؟
او خویشتن گم است کر ا رہبری کند
مرزا قادیانی سے پیشتر بھی اس امت میں مجددین گزرے ہیں اور ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ آپ ان کا مطالعہ کرجایئے کسی جگہ اس قسم کی فحش بیانی اور بدزبانی نظر نہیں آئے گی۔ امام رازی، امام غزالی، امام ابن تیمیہ، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ ، سید احمد صاحب، مولانا محمد قاسم صاحبw کسی نے اپنے مخالفین کو کنجریوں کی اولاد یا جنگلی سور اور ان کی عورتوں کو کتیاں نہیں قرار دیا۔ یہ شرف صرف چودھویں صدی کے مجدد کے لئے مقدر تھا اور بلاشبہ اس صفت میں کوئی شخص ان کا شریک نہیں ہے۔
پانچویں شرط جس کا پایا جانا ضروری ہے۔ اعلائے کلمتہ الحق ہے۔ مجدد میں اس قدر اخلاقی جرات ہونی چاہئے کہ جس بات کو وہ حق سمجھتا ہو یا جو بات ظاہر کرنی ضروری ہو یا جس امر کے اظہار کا اسے حکم دیا گیا ہو۔ اس کے اعلان، اظہار اور اشتہار میں وہ کسی طاقت سے خوف نہ کھائے۔ اگر وہ اس صفت سے عاری ہے تو نہ نیابت رسول اللہ a کا حق ادا کرسکتا ہے نہ امت کی اصلاح کرسکتا ہے۔ تمام اولیاء، صلحاء، آئمہ ہدیٰ اور بزرگان دین اس صفت سے متصف تھے۔ امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام ابن تیمیہ، امام شافعی، مجدد الف ثانی، سید احمد صاحب رائے بریلویw ان خاصان خدا کے سوانح حیات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اعلائے کلمتہ الحق میں انہوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی۔ حتیٰ کہ حکومت کی دھمکیاں اور سختیاں بھی ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ پیدا کرسکیں۔ امام احمد بن حنبلv نے کوڑے کھائے، مار کھائی، ذلت ورسوائی برداشت کی مگر جس بات کو وہ حق سمجھتے تھے۔ اس کے اعلان اور اظہار سے باز نہ آئے۔ مامون عباسی کی تمام سطوت شاہانہ ایک طرف تھی یہ اللہ کا بندہ ایک طرف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جس مجلس میں ان کا نام لیا جاتا ہے۔ لوگوں کی گردنیں فرط عقیدت سے جھک جاتی ہیں۔
مقام حیرت ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں یہ صفت نظر نہیں آتی۔ آپ پہلے مجدد ہیں جس نے اس زریں اصول کو جو کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرتا ہے۔ بالائے طاق رکھ دیا اور گورداسپور کی عدالت میں اعلائے کلمتہ الحق سے مجتنب رہنے کا تحریری اقرار نامہ باضابطہ طور پر داخل فرمایا۔
جس کو ہم پیچھے نقل کرچکے ہیں۔(قارئین ایک بار اس کو پھر پڑھ لیں)
حق وصداقت کی خاطر خاصان خدا نے ہمیشہ تکالیف برداشت کی ہیں۔ ذیل میں ان لوگوں کی مثالیں درج کی جاتی ہیں جن کو مرزا قادیانی اپنے سے کمتر اور فروتر سمجھتے تھے:
۱… سقراط (وفات ۳۹۹ ق م) اس حکیم پر حکومت وقت نے یہ الزام لگایا تھا کہ تم امتیہنز (یونان کا مشہور شہر) کے نوجوانوں کے اخلاق خراب کرتے ہو۔ اس لئے یا تو اپنے مسلک کی تلقین سے باز آجائو یا موت قبول کرو۔ حکیم موصوف نے زہر کا پیالہ پینا گوارا کیا لیکن معافی طلب نہ کی۔
۲… حضرت امام حسینq سید الشہداء، یزید نے آپ کو حکم دیا کہ میری بیعت کرو اور میری خلافت کو تسلیم کرو۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایک فاسق کی بیعت نہیں کرسکتا اور جو خلافت خلاف نصوص قرآنی ہو اسے تسلیم نہیں کرسکتا۔ جان دینا آسان ہے لیکن ضمیر کے خلاف عمل کرنا دشوار ہے۔ چنانچہ آپ نے کربلاکے میدان میں اس شان سے جان دی کہ ابتدائے آفرینش سے تا این دم یہ واقعہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے عدیم المثال ہے۔
حجتہ الاسلام حکیم امت صاحب دولت لازوال علامہ فقید المثال سر محمد اقبال نے گوہر سرمدی یعنی رموز بیخودی میں فلسفہ شہادت حسینq بایں الفاظ رقم کیا ہے:
چوں خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
حریت راز ہر اندر کام ریخت
خاست آں سرجلوہ خیر الامم
چوں سحاب قبلہ باراں درقدم
برزمین کربلا بارید و رفت
لالہ درویرانہ ہا کارید و رفت
تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
بہر حق در خاک وخوں غلطیدہ است
پس بنائے لاالہ گرویدہ است
مد عائش سلطنت بودے اگر
خود نکر دے باچنیں ساماں سفر
دشمنان چوں ریگ صحرا لا تعد
دوستان ادبہ یزدان ہم عدد
سر ابراہیم و اسماعیل بود
یعنی آں اجمال راتفصیل بود
عزم اوچوں کو ہساراں استوار
پائدار وتند سیر وکامگار
تیغ بہر عزت دیں است وبس
مقصد اوحفظ آئین است وبس
ماسوا اللہ را مسلمان بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست
خون اوتفسیر ایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ رابیدار کرد
تیغ لا چوں از میاں بیروں کشید
از رگ ارباب باطل خوں کشید
نقش الا اللہ برصحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت
رمز قرآن از حسینؓ اموختیم
زآتش اوشعلہ ہا اندوا ختیم
شوکت شام وفر بغداد رفت
سطوت غر ناطہ ہم ازیاد رفت
تار ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ ازتکبیر او ایماں ہنوز
اے صبا اے پیک دور افتاد گان
اشک مابر خاک پاک اورساں
واضح ہو کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو اس مرد خود آگاہ سے بھی اعلیٰ اور ارفع قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
لہٰذا اگر ہم ان سے سید الشہداء امام حسینq کی قربانی سے افضل اور برتر قربانی کے متوقع ہوں تو بے جا نہیں ہے:
۳… امام احمد بن حنبلv، مامون عباسی خلیفہ بغداد نے آپ کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو مخلوق تسلیم کرو اور اس عقیدہ کا اعلان کرو۔ آپ نے فرمایا میں تم سے ڈر کر اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات کہنے کے لئے تیار نہیں ہوں خواہ کلمتہ الحق کی پاداش میں مجھے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔ مامون نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں لیکن آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
۴… امام ابن تیمیہv آپ کو بھی اعلائے کلمتہ الحق کی پاداش میں محبوس کردیا گیا اور قید خانہ ہی میں آپ کی وفات ہوئی لیکن آپ نے اپنے ضمیر کے خلاف حکومت سے معافی طلب نہیں کی۔
۵… مجدد الف ثانیv نے بھی جیل خانہ جانا گوارا کیا لیکن اعلائے کلمتہ الحق سے باز نہ آئے۔
۶… سید احمد صاحب رائے بریلویv نے اعلائے کلمتہ الحق کی بناء پر بالاکوٹ کے میدان میں جام شہادت نوش کیا۔
مجدد صدی چہاردہم کا طرز عمل آپ کے سامنے ہے۔ اس پر حاشیہ آرائی کی کوئی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کے متبعین ان کو آنحضرت ختمی مرتبتa کا بروز کامل بلکہ ان سے بھی بڑھ کر یقین کرتے ہیں۔ آنحضرتa کے متعلق قرآن مجید میں مرقوم ہے:’’بلّغ ما انزل الیک‘‘ یعنی اے رسول جو کچھ تیری طرف بذریعہ وحی نازل کیا جائے اسے بندوں تک پہنچا دے۔
’’ولو کرہ المشرکون‘‘خواہ وہ مشرکین کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔
مرزا قادیانی وحی والہام کے مدعی تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
ازخطاہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
اور یہ بات محتاج بیان نہیں کہ وحی والہام اسی لئے نازل کیا جاتا ہے کہ اسے مخلوق خدا تک پہنچایا جائے لیکن تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے ڈپٹی کمشنر کے حکم کو خدا تعالیٰ کے حکم پر ترجیح دی اور کتمان حق کا اقرار کرلیا۔ یہ تاویل بھی موجب تسکین نہیں ہوسکتی کہ اب خدا تعالیٰ کی سنت بدل گئی کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے:’’ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا‘‘
یہ بات بھی مجدد کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ اپنی قوم کو جس کی اصلاح کے لئے وہ مبعوث ہوتا ہے حریت کا پیغام دے کیونکہ قوم زندہ نہیں ہوسکتی جب تک حرّیت کا صور بلند آہنگی سے نہ پھونکا جائے۔ قرآن مجید تو اسلام اور غلامی کو دو متضاد چیزیں قرار دیتا ہے اور صاف لفظوں میں اعلان کرتا ہے:’’انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین‘‘ یعنی غالب آنے کے لئے مؤمن ہونا شرط ہے اور مؤمن وہ ہے جس میں حرّیت، اخوت اور مساوات یہ اوصاف ثلاثہ کامل طور سے پائے جائیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں مسلمانوں کو ’’مؤمنین قانتین‘‘بنانے کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔
لہٰذا ایک طالب حق بجا طور پر ان سے درس حرّیت کی توقع کرسکتا ہے۔ لوگ مؤمن بنے یا نہیں یہ تو بعد میں دیکھا جائے گا۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم میں حرّیت کا پیغام بھی شامل ہے یا نہیں۔
واضح ہو کہ یہ صفت مرزا قادیانی کی تعلیم میں گو گرد احمر کا حکم رکھتی ہے۔ دعویٰ تو مجددیت سے بھی بڑھ کر نبوت ورسالت کا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
آنچہ داد است ہر نبی راجام
داد آں جام را مرابہ تمام
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
لیکن وہ جام اس مئے ناب سے بالکل خالی ہے۔ اس میں جو چیز بھری ہوئی ہے وہ یثربی نہیں بلکہ لندنی ہے جس کے متعلق علامہ اقبال فرماتے ہیں:
قدحے خرد فروزے کہ فرنگ داد مارا
ہمہ آفتاب لیکن اثر سحر ندارد
مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو درس حرّیت دینے اور ان کے مردہ قالب میں روح پھونکنے کے لئے جو کوشش فرمائی اس کا اندازہ ذیل کے اقتباسات سے بخوبی ہوسکتا ہے:
۱… ’’ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر کتابیں میں نے تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں… اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیرخواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی؟‘‘
(کتاب البریہ ص۶،۷، خزائن ج۱۳ ص۶،۷، ۸)
۲… ’’التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کرچکی ہے… اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہائے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔‘‘
(درخواست مرزا قادیانی بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۹، ۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۱)
۳… ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘
(درخواست مرزا بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنرپنجاب، تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۹)
۴… ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔‘‘
۵… ’’ پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے، پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟‘‘
(کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۸، اشتہار مؤرخہ ۲۰؍ستمبر۱۸۹۷ء)
یہ سعادت تو مسیح موعود( مرزا قادیانی) کے حصہ میں مقدر ہوچکی تھی۔ دوسرا اس میں کس طرح شریک ہوسکتا تھا؟ ایں کاراز تو آید ومرداں چنیں کنند!
۶… ’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو… سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ شہادت القرآن ص۴، خزائن ج۶ ص۳۸۰)
۷… ’’ ان کے (والد مرزا قادیانی) انتقال کے بعد یہ عاجز (مرزا قادیانی) دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپواکر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ … ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی سچی اطاعت کرے۔‘‘
(ستارہ قیصریہ ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۱۴)
۸… ’’ میں نے ۲۲برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔‘‘
(تحریر مرزا قادیانی ۱۸؍نومبر۱۹۰۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۴۳)
۹… ’’میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘( اشتہار مرزا قادیانی مؤرخہ ۲۲؍مارچ۱۸۹۷ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۶۹، مجموعہ اشتہارات حاشیہ ج۲ ص۳۷۰)
۱۰… ’’بار ہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے اسی گورنمنٹ کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔‘‘
(اشتہار مرزا قادیانی ۱۸؍نومبر ۱۹۰۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۴۵)
۱۱… ’’مگر افسوس مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پرزور تقریریں، اطاعت گورنمنٹ کے بارہ میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔‘‘
(درخواست مرزا قادیانی بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۳)
۱۲… ’’(اس عاجزکو) وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کرسکوں۔ اسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہنددام اقبالہا کے نام سے تالیف کرکے… جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا… مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمۂ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا۔‘‘
(ستارہ قیصریہ ص۱، ۲، خزائن ج۱۵ ص۱۱۲)
۱۳… ’’قیصرہ ہند کی طرف سے شکریہ۔ اب یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر ایک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکریہ کیسا؟ سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں۔‘‘
(البشریٰ ج ۲ص۵۷، تذکرہ ص۳۴۱ طبع چہارم، ضمیمہ تریاق القلوب نمبر۴ ص۲حاشیہ، خزائن ج۱۵ص۵۰۴)
۱۴… ’’قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دل میں برٹش انڈیا کو دار الحرب قرار دیتے ہیں… ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی… اور ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ ونشان یہ ہیں۔‘‘
(تحریر مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج۵ ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۲۷، ۲۲۸)
ان اقتباسات کو پڑھ کر شیخ سعدیv کا یہ شعر بے اختیار زبان پر جاری ہوگیا:
گروزیر از خدا بترسیدے
ہمچناں کز ملک مالک بودے
مجدد صدی چہاردہم کی تعلیم کے اس پہلو پر کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر حافظ نے یہ کہہ کر قلم روک دیا:
آں راز کہ سینہ نہانست نہ وعظ است
بردارتواں گفت بہ منبرنتواں گفت
یہ بھی ایک آسان صورت ہے جس کی مدد سے مدعی مجددیت کو پرکھا جاسکتا ہے کہ اس کی دعائیں کس قدر قبول ہوئی ہیں؟ یعنی روحانیت کے لحاظ سے کیا مرتبہ رکھتا ہے؟
افسوس کہ مرزا قادیانی کی اکثر وبیشتر پیش گوئیاں غلط نکلیں اور جس معاملہ کو یا جس پیش گوئی کو انہوں نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا اس میں تو انہیں یقینا ناکامی ہوئی۔
۱… محمدی بیگم والی پیش گوئی آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں۔ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میری موت آجائے گی اور یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی۔ مقام عبرت ہے کہ مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء میں بعارضہ اسہال مرگیا اور یہ پیش گوئی پوری ہوگئی؟
۲… بشیر احمد اوّل کی ولادت سے قبل ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کو مرزا قادیانی نے سبز اشتہار شائع کیا کہ خدا نے مجھے مطلع کیا ہے کہ: ’’ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا… اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے… بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا وہ کلمتہ اللہ ہے… اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دوشنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلاء کأن اللہ نزل من السماء… یعنی اس
فرزند کا نزول گویا خود خدا تعالیٰ کا نزول ہوگا۔۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے … اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱ ص۵۹،۶۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۱)
ب… واضح ہو کہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی کی دوسری بیوی (نصرت جہاں بیگم) حاملہ تھیں۔
ج… چند روز کے بعد بعض لوگوں نے جو قادیان کے باشندے تھے یہ مشہور کیا کہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرا ہے کہ مرزا قادیانی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوچکا ہے۔ اس پر مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ’’عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء ہے ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے دو لڑکوں کے جن کی عمر۲۰،۲۲ سال سے زیادہ ہے، پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی نوبرس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱ ص۷۲، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۳)
د… اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ نو سال کی مدت بہت طویل ہے۔ اس عرصہ دراز میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا ضرور ہی پیدا ہوجائے گا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ’’ آج ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا (یعنی نو ماہ سے تجاوز نہیں کرسکتا۔للراقم مضمون ہذا) اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱ ص۷۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۷)
ہ… خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند روز بعد یعنی مئی ۱۸۸۶ء میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو جھوٹا کردکھایا۔ بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام عصمت بی بی رکھا گیا اور وہ ۱۸۹۱ء میں فوت بھی ہوگئی: ’’ اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بداعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزا ء کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کردیا… حضور نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا کہ وحی الٰہی میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امیدواری ہے تو یہی وہ پسر موعود ہوگا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۹۴، ۹۵، روایت نمبر۱۱۶، طبع جدید)
و… ایک سال کے بعد مرزا قادیانی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جسے انہوں نے پسر موعود قرار دیا۔ چنانچہ اس کی ولادت کے موقع پر انہوں نے یہ اشتہار شائع کیا۔ ’’اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی تھی … آج۱۶؍ذیقعدہ۱۳۰۴ھ ۷؍اگست۱۸۸۷ء میں رات
۱۲بجے کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہوگیا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱ص۹۹،۱۰۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۴۱)
ذ… لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ یہ مولود مسعود اور پسرموعود ایک ہی سال کے بعد والدین کو داغ مفارقت اور مسلمانوں کو درس عبرت دے کر بتاریخ ۴؍نومبر۱۸۸۸ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔ ’’بس پھر کیا تھا ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہوا… اور یہ یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو (اس پیش گوئی کے غلط نکلنے سے راقم مضمون) ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۹۵، روایت نمبر۱۱۶ طبع جدید)
ح… اگرچہ: ’’حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے لوگوں کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کردی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے… لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا اور مخالفین میں پرلے درجے کے استہزاء کا جوش تھا۔‘‘
(سیرت المہدی ص۹۵ حصہ اوّل روایت نمبر۱۱۶ طبع جدید)
نوٹ: ناظرین! اشتہار خوشخبری کو دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ چہ دلاور است دز دے کہ بکف چراغ دارد!
ط… اس کے بعد مرزا قادیانی نے پسر موعود کی آمد کا انتظار نہ خود کیا نہ لوگوں کو دعوت دی۔ ’’اس کے بعد پھر عامتہ الناس میں پسر موعود کی آمد آمد کا اس شدومد سے انتظار نہیں ہوا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۹۵، روایت ۱۱۶ طبع جدید)
ہمارے خیال میں حقیقت آشکار ہوجانے کے بعد اس انتظار کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی تھی۔
ی… اب صرف ایک سوال باقی ہے، وہ پسر موعود جس کے نزول کو خدا کانزول قرار دیا گیا تھا کب آیا اور اگر نہیں آیا تو کب آئے گا۔ ہم لوگ اس کے منتظر رہیں یا نہ؟
نوٹ: اس پسر موعود کی ایک شناخت الہام الٰہی میں یہ بتائی گئی تھی کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کی بیوی کی روایت ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے: ’’ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں بھی کیسا اخفاء ہوتا ہے(غالباً اسی وجہ سے اکثر پیش گوئیاں صحیح نہیں نکلیں) پسر موعود کے
متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا مگر ہمارے موجودہ سارے لڑکے ہی کسی نہ کسی طرح تین کو چار کرنے والے ہیں۔ چنانچہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ میاں (حضرت خلیفۃ المسیح ثانی) کو تو حضرت صاحب نے اس طرح تین کو چار کرنے والا قرار دیا کہ مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کو بھی شمار کرلیا اور بشیراوّل متوفی کو بھی۔ تمہیں (راقم الحروف) اس طرح پر کہ صرف زندہ لڑکے شمار کرلئے اور بشیر اوّل متوفی کو چھوڑ دیا۔ شریف احمد کو اس طرح پر قرار دیا کہ اپنی پہلی بیوی کے لڑکے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد چھوڑ دئیے اور میرے سارے لڑکے زندہ اور متوفی شمار کرلئے اور مبارک کو اس طرح پر کہ میرے صرف زندہ لڑکے شمار کرلئے اور بشیر اول متوفی کو چھوڑ دیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۷، روایت نمبر۹۲ طبع جدید مؤلفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)
ناظرین! دیکھا آپ نے تین کو چار کرنے والا چکر!
درد دل سے ٹوٹتا ہوں میرا کس کو درد ہے
ہوں یہی لفظ درد جس پہلو سے الٹو درد ہے
کیا آپ کو اب بھی اس الہام کی صداقت میں کچھ شک ہے؟(نیز اس سے تو ہر لڑکا تین کو چار کرنے والا ہوا جس پسر موعود کو تین کو چار قرار دینے والا ہوگا بتایا اس کی خصوصیت نہ رہی۔ پھر الہام تین کو چار کرنے والا چہ معنی دارد)
۳… اپنی عمر کے متعلق مرزا قادیانی نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ: ’’مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ تیری عمر۸۰برس یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ کی ہوگی۔‘‘
(سراج منیر ص۷۱، خزائن ج۱۲ ص۸۱)
اس قسم کی گنجائش ہر جگہ نظر آتی ہے۔ سچ ہے کہ عقلمند آدمی DEFINTEنہیں ہوتا۔
لیکن مقام عبرت ہے کہ حضرت(مرزا قادیانی) کی عمر۶۸یا۶۹ سال سے زیادہ نہیں ہوئی۔ حالانکہ وحی الٰہی کی رو سے کم از کم ۷۵یا۸۶ سال کی ہونی چاہئے تھی۔ ہمیں مرزا قادیانی کا سال ولادت اورسال وفات دونوں معلوم ہیں۔ اس لئے ہماری معلومات صحیح ہیں اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط ہے۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا سترہویں برس میں تھا۔‘‘
(کتاب البریہ حاشیہ ص۱۴۶، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷)
مرزا قادیانی کی وفات ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہوئی۔ لہٰذا ان کی عمر۶۸یا۶۹ سال سے زائد نہیں ہوسکتی۔
۴… مرزا نے ۱۸۹۳ء میں ڈپٹی عبداللہ آتھم سے بمقام امرتسر مناظرہ کیا جو جنگ مقدس کے نام سے مشہور ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی مسیحی مذہب سے کماحقہ واقف نہ تھے۔ اس لئے دلائل کے لحاظ سے فریق ثانی پر غالب نہ آسکے۔ مجبوراً جلسہ کے اختتام پر پیش گوئی کی کہ آتھم نے عمداً حق کو چھپایا ہے۔ اس لئے پندرہ ماہ تک (دسمبر۱۸۹۴ء تک) ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ لیکن خدا کی قدرت کہ آتھم کی وفات ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء کو ہوئی اور پیش گوئی غلط نکلی۔
۵… ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء کو مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ جنوری ۱۹۰۰ء سے لے کر دسمبر۱۹۰۲ء تین سال کے اندر میری صداقت کے لئے خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی نشان ضرور ظاہر کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہوں لیکن افسوس کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔
۶… مرزا قادیانی نے طاعون کو اپنا تائیدی نشان قرار دیا تھا اور لکھا تھا کہ میرے مرید اس وبا سے محفوظ رہیں گے اور ایسا ہونا قرین مصلحت بھی تھا۔ کیونکہ طاعون عذاب الٰہی تھا اور عذاب ہمیشہ منکرین پر نازل ہوتا ہے۔ لیکن مقام حیرت ہے کہ اس عذاب الٰہی نے رسول کے تخت گاہ قادیان کو بھی نہ چھوڑا اور منجملہ اور لوگوں کے ایڈیٹر اخبار بدر کا بھی اسی مرض میں انتقال ہوا۔
۷… مرزا قادیانی نے (چشمہ معرفت ص۳۲۱، ۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۶، ۳۳۷ ملخص) ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرحوم کے متعلق لکھا: ’’ہاں! آخری دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی ہے جس نے میرے متعلق یہ پیش گوئی کی ہے کہ میں (مرزا قادیانی) ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک مرجائوں گا۔ میں اس کے مقابلہ میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر موصوف میری (مرزا قادیانی کی) زندگی میں مرجائے گا اور میں محفوظ رہوں گا۔‘‘ لیکن مقام عبرت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے سابق مرید کی پیش گوئی کے مطابق اگست ۱۹۰۸ء سے پہلے فوت ہوگئے اور ڈاکٹر صاحب ۱۹۲۱ء تک زندہ رہے۔
۸… ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا نام مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ تھا۔ اس میں مرزا قادیانی نے لکھا: ’’یا اللہ ! مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھا لے۔ اے اللہ ! اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذاب ہوں
جیسا کہ مولوی ثناء اللہ میرے متعلق اپنے اخبار میں لکھتے رہتے ہیں تو مجھ کو ان کی زندگی ہی میں ہلاک کردے اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۱۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹ ملخص)
مرزا قادیانی کی یہ دعا جناب باری میں قبول ہوگئی اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ان کے صادق یا غیر صادق ہونے کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ ہوگیا۔
مرزا قادیانی کی طرف ایک ہی دعا قبول ہوئی اور وہ بھی مرزا قادیانی کو کاذب قرار دے گئی۔
آٹھواں معیار مجدد کی شناخت کا یہ ہے کہ اس کی زندگی علائق دنیوی سے یکسر پاک وصاف ہو یعنی اس کی زندگی ایسی بے لوث ہو کہ عیش پسندی، دنیا طلبی، تن آسانی اور خود بینی کا شائبہ بھی نہ پایا جائے۔ باہمہ ہو ولے بے ہمہ ہو، دنیا میں رہتا ہو۔ مگر دنیاوی معاملات میں سروکار نہ رکھتا ہوں۔ اس کی توجہ تمام تر اصلاح امت پر مرکوز ہو۔ اس کے حاشیہ نشین لازمی طور سے اس کی شان استغناء کے معترف ہوں اور اس کی زندگی میں کوئی بات ایسی نظر نہ آئے جس کو وہ دنیا طلبی سے منسوب کرسکیں۔ مالی مناقشات سے اور روپے پیسے کے معاملات سے اس کا دامن یکسر پاک ہو۔ اس کی زندگی کا مطالعہ کرنے والے اس بات کا اقرار کریں کہ وہ زاہدانہ اور عابدانہ زندگی بسر کرتا ہے۔ زخارف دنیوی کی اس کی نگاہ میں مطلق کوئی قدر وقیمت نہیں۔ وہ کوئی کام ایسا نہیں کرتا جسے جلب زر سے نسبت ہو۔
مجھے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں یہ رنگ نظر نہیں آتا اور دنیا طلبی کے اعتراض سے ان کا دامن پاک نہیں ہے۔ جو لوگ ان کی خدمت میں رات دن باریاب تھے جن کے سامنے ان کی زندگی کے تمام پہلو موجود تھے ان کی شہادت مرزا قادیانی کے خلاف پائی جاتی ہے۔ جس کی تفصیل ذیل میں درج کرتاہوں:
الف… ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرحوم مرزا قادیانی کے مریدان باصفا میں سے تھے۔ جب انہوں نے مرزائیت سے توبہ کی تو لاہور میں اپنے ترک مرزائیت پر جو لیکچر انہوں نے دئیے ان میں لوگوں کو بتایا کہ میں مرزا قادیانی کی خدمت گزاری کو اپنی سعادت تصور کیا کرتا تھا۔
میرے سپرد ایک خاص خدمت یہ تھی کہ میں ہر ماہ ایک تولہ مشک خالص بہم پہنچایا کروں جو ساٹھ ستر روپے تولہ دستیاب ہوتی تھی اور حکیم نورالدین قادیانی کے مشورہ سے ایک یا قوتی تیار کیا کرتا تھا جسے مرزا قادیانی استعمال کیا کرتے تھے۔بٹالہ سے روزانہ سوڈے کی بوتلیں اور برف مرزا قادیانی کے لئے جاتی تھیں۔ خوردونوش میں بھی بہت تکلّفات کو دخل تھا۔ ان چیزوں سے مریدوں کا بے دریغ روپیہ صرف ہوتا تھا۔ ایک دن جب کہ میں یاقوتی تیار کررہا تھا۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ہمارے نبی کریمa کی غذا تو بالکل سادہ ہوتی تھی۔ مرزا قادیانی دعویٰ تو فنافی الرسول ہونے کا کرتے ہیں لیکن تنعم دوستی کا یہ عالم ہے؟ جب میں نے اپنا یہ شبہ مرزا قادیانی کی خدمت میں پیش کیا تو پہلے انہوں نے نرمی سے سمجھایا آخر کار قطع تعلق تک نوبت پہنچی اور میں دوبارہ مسلمان ہوگیا۔
ممکن ہے قادیانی دوست اس جگہ یہ اعتراض پیش کریں کہ ڈاکٹر مذکور مرزا قادیانی کا دشمن تھا۔ اس لئے اس کی گواہی لائق اعتبار نہیں۔ لیکن اوّلاً یہ اس شخص کا بیان ہے جو عرصہ دراز تک مرزا قادیانی کا شریک جلوت وخلوت رہا۔ ثانیاً مرزا قادیانی کو ان کے ان اعتراضات کا جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ثالثاً یاقوتی مفرحات اور مشک وعنبر کے استعمال پر خود مرزا قادیانی کی تحریریں شاہد ہیں۔
۱… ’’پہلی مشک ختم ہوچکی ہے، اس لئے پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ دو تولہ مشک خالص دو شیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال فرمادیں۔‘‘(خطوط امام بنام غلام ص۲،۳، مکتوبات مرزا قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور)
۲… ’’مخدومی سیٹھ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کل کی تاریخ عنبر بھی پہنچ گیا۔ آپ میری طرف سے اس مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کردیں جنہوں نے میری بیماری کا حال سن کر اپنی عنایت اور ہمدردی محض اللہ ظاہر کی۔‘‘
( مکتوبات احمدیہ ج دوم ص۳۹۶، مکتوب نمبر۶۷، طبع جدید)
۳… ’’میں اس کو اپنے مولا کریم کے فضل سے اپنے لئے بے اندازہ فخر کا مؤجب سمجھتا ہوں کہ حضور مرزا بھی اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا استعمال فرماتے تھے۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۸، مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی)
۴… ’’پرندوں کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا۔ مرغ اور بٹیر کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا۔ کباب پلائو، انڈے، فرینی اس وقت کہہ کر پکواتے تھے جب ضعف معلوم ہوتا تھا۔ میوہ جات بھی آپ کو پسند تھے۔ موجودہ زمانہ کے ایجادات برف سوڈا لیمنڈ بھی پی لیا کرتے تھے۔ بلکہ موسم گرما میںبرف بھی امرتسر یا لاہور سے خود منگوالیا کرتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ملخص ص۴۲۳ تا۴۲۶، روایت نمبر۴۴۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، طبع جدید)
ان شہادتوں کی موجودگی میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے عائد کردہ الزامات یا اعتراضات بے اصل یا بے حقیقت نہیں کہے جاسکتے۔ فی الجملہ ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی کی زندگی میں آنحضرتa کی زندگی کا رنگ نظر نہیں آیا۔ اس لئے وہ تائب ہوگئے۔
ب… مرزا قادیانی نے اپنے مالی فتوحات کا تذکرہ اس پیرایہ میں کیا ہے کہ اس سے فخر ومباحات کی بو آتی ہے۔ گویا بارش سیم وزر بھی ان کی صداقت کا نشان تھا۔ یہ فخریہ ہم جیسے دنیا داروں کو زیب دے تو دے، اہل اللہ کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔ کیونکہ زخارف دنیوی کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ان کی بلا سے روپیہ آئے یا نہ آئے۔
اولیاء اللہ کو ہم سگان دنیا شروع سے نذر دیتے آئے ہیں لیکن ان خاصان خدا نے کبھی اس روپیہ کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ اس کو اپنی ذات پر استعمال کیا۔ سیدی ومولائی سلطان المشائخ حضرت محبوب الٰہیv کے یہاں بھی لنگر جاری تھا، لیکن حضور نان جویں ہی پر قناعت فرماتے تھے۔ آپ نے کبھی مالی فتوحات کا تذکرہ نہیں فرمایا تھا۔ مرزا قادیانی کو تو وحی بھی منی آرڈروں کی ہوتی تھی۔
۱… ’’منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹینٹ نے مجھ سے کہا کہ ہندوستان میں شادی کرنا ایسا ہے جیسا کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ ان اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرمادیا ہے۔ پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع ہوگیا اور یا وہ زمانہ تھا کہ بباعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز معہ عیال واطفال اور ساتھ اس کے کئی غربا اور درویش اس لنگر خانہ میں روٹی کھاتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۳۶، خزائن ج۲۲ ص۲۴۷)
۲… ’’ایک دفعہ مارچ ۱۹۰۵ء کے مہینہ میں بوقت قلت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت دقت ہوئی… اس لئے دعا کی گئی ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک
شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ ( عام قاعدہ ہے کہ دن کے وقت جس بات کا تصور بندھا رہتا ہے رات کو خواب میں وہی چیز نظر آتی ہے۔ للراقم) میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی، ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت آنے والا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴۵،۳۴۶)
۳… ’’(میں نے خواب میں دیکھا) والد صاحب کے فوت ہونے پر دوسرے یا تیسرے دن ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں دیکھی۔ اس نے کہا میرا نام رانی ہے۔ میں اس گھر کی وجاہت ہوں۔ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔‘‘
(حیات النبی ج۱ص۸۶)
۴… ’’ایک دفعہ صبح کے وقت وحی الٰہی سے میری زبان پر جاری ہوا۔ عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان اور تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص آج کچھ روپیہ بھیجے گا۔ میں نے چند ہندووں کے پاس جو سلسلہ وحی کے جاری رہنے کے منکر ہیں اور بہت کچھ وید پر ختم کر بیٹھے ہیں۔ اس الہام الٰہی کو ذکر کیا اور میں نے بیان کیا کہ آج اگر یہ روپیہ نہ آیا تو میں حق پر نہیں۔ ان میں سے ایک ہندوبشن داس نام، قوم کا برہمن جو آج کل ایک جگہ پٹواری ہے بول اٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاکخانہ میں جائوں گا… اسی وقت ڈاکخانہ میں گیا اور حیرت زدہ ہوکر جواب لایا کہ درحقیقت عبداللہ خان نام ایک شخص نے جو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایکسٹرا اسسٹنٹ ہے کچھ روپیہ بھیجا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۶۳، ۲۶۴، خزائن ج۲۲ ص۲۷۵، ۲۷۶ )
اس میں حیرت کی کیا بات ہے ہر شخص یہ کام کرسکتا ہے دو چار دن پہلے آپ کا دوست آپ کو مطلع کرسکتا ہے اور آپ اطمینان کے ساتھ پیش گوئی کرسکتے ہیں۔
۵… ’’ایک دفعہ مجھے یہ الہام ہوا۔ بست ویک آئے ہیں اس میں شک نہیں… یہ روپیہ ۶؍ستمبر۱۸۸۳ء کو پہنچا۔ پس اس مبارک دن کی یاداشت کے لئے اور آریوں کو گواہ بنانے کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی تقسیم کی گئی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۰۵، خزائن ج۲۲ ص۳۱۸، ۳۱۹)
۶… ’’حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک عرب سوالی یہاں آیا۔ آپ نے اسے ایک معقول رقم دے دی۔بعض نے اس پر اعتراض کیا تو فرمایا یہ (شخص) جہاں بھی جائے گا ہمارا ذکر کرے گا۔ خواہ دوسروں سے زیادہ وصول کرنے کے لئے ہی کرے۔ مگر دور دراز مقامات پر ہمارا نام پہنچا دے گا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ شمارہ۱۰۳ ص۹، مؤرخہ۲۶؍فروری۱۹۳۵ء)
اسی کا نام شہرت پسندی ہے یہ بات خود بینی پر دلالت کرتی ہے اور اہل اللہ میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ اسی کو آج کل کی اصطلاح پروپیگنڈہ کہتے ہیں اور شرعی حیثیت سے ریا کاری اسی کا نام ہے۔
۷… ’’یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۳۳، خزائن ج۲۲ ص۳۴۶)
نوٹ: نشانات کا سلسلہ ۴۰ سال کی عمر سے شروع ہوا اور حقیقت الوحی ۱۹۰۵ء میں لکھی تھی گویا ۲۵ سال میں ۵۰۰۰۰ نشان یعنی ایک سال میں دو ہزار نشان یعنی ایک دن میں چھ نشان۔ ناظرین! کثرت نشانات پر متعجب ہوں۔ اثبات نبوت کے لئے خدا نے تین لاکھ نشان دکھائے۔ یعنی ۳۰ نشان روزانہ۔ (جب شاعری میں مبالغہ جائز ہے تو یہاں کیوں نہ ہو۔ الراقم)
۸… ’’میرے مکان کے ملحق دو مکان تھے جو میرے قبضہ میں نہیں تھے اور بباعث تنگی مکان توسیع مکان کی ضرورت تھی… اور مجھے دکھایا گیا اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری عمارت کے بننے کے لئے دعا کی ہے اور مغربی حصہ کی زمین افتادہ نے آمین کہی ہے… دونوں مکان بذریعہ خریداری اور وراثت کے ہمارے حصہ میں آگئے… حالانکہ ان سب کا ہمارے قبضہ میں آنا محال تھا۔‘‘
( حقیقت الوحی ص۳۷۹، خزائن ج۲۲ ص۳۹۳)
(جب روپیہ پاس ہوتا ہے تو بعض اوقات محال بھی ممکن ہوجاتا ہے)
۹… ’’اوائل میں حضرت صاحب انٹر کلاس میں سفر کیا کرتے تھے اور اگر حضرت بیوی صاحبہ ساتھ ہوتی تھیں تو ان کو اور دیگر مستورات کے ساتھ تھرڈ کلاس میں بٹھادیا کرتے تھے… آخری سالوں میں حضور عموماً ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریزرو کرالیا کرتے تھے اور اسی میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر فرماتے تھے اور حضور کے اصحاب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے۔‘‘
( سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۰۱ روایت۴۲۷)
نوٹ: ہر دانش مند آدمی ایسا ہی کرے گا جتنی چادر دیکھی اتنے ہی پائوں پھیلائو۔
۱۰… ’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت
اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہوجاتے ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶۴،۱۶۵، روایت ۱۵۷)
نوٹ: لیکن ۱۹۳۰ء کی مردم شماری کی رو سے قادیانیوں کی تعداد صرف ۵۶۰۰۰ ہے۔ خدا کو معلوم مرزا قادیانی نے ۴۰۰۰۰ نفسوس کا اضافہ کس طرح فرمادیا؟
ج… اب آسائیش دنیوی کا خلاصہ سنئے: ’’ ہماری معاش اور آرام کا تمام دار ومدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا… پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کرکے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے… اسی (خدا تعالیٰ) نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو… اگر میرے اس بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس کی ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو تامعلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ میری آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی بلکہ ہزار ہا روپیہ کی آمدنی اس طرح ہی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آکر دیتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۱۱،۲۱۲، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰،۲۲۱)
د… ’’تیسری پیش گوئی یہ تھی کہ لوگ کثرت سے آئیں گے سو اس قدر کثرت سے آئے کہ اگر ہر روز آمدن اور خاص وقتوں کے مجموعوں کا اندازہ لگایا جائے تو کئی لاکھ تک اس کی تعداد پہنچتی ہے… اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آچکے ہیں اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں جن کی کثرت کی خبر بھی قبل از وقت گمنامی کی حالت میں دی گئی تھی تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۷، خزائن ۲۱ ص۷۴)
نوٹ: ان تحریروں سے کس قدر پروپیگنڈے اور شہرت پسندی اور مبالغہ کی بو آتی ہے۔ مرزا قادیانی کی علمی زندگی ۱۸۸۳ء سے شروع ہوتی ہے اور ۱۹۰۸ء میں وفات ہوئی تو ۲۵سال اگرمساوی بھی مان لئے جائیں تو روزانہ مہمانوں اور خطوط کا اوسط ایک ہزار پڑتا ہے۔ کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ۱۸۹۰ء میں قادیان میں روزانہ ایک ہزار آدمی اور خطوط آتے تھے؟
آئیے اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے: ’’ اور جس روز مسجد کے چندہ کے واسطے گجرات یا کڑیانوالے کی طرف جارہے تھے اور جناب نواب خانصاب تحصیل دار کے تانگہ پر ہم تینوں سوار کوچوان اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب آگے تھے میں (سید سرور شاہ گیلانی) اور جناب ( محمد علی لاہوری )پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ تو جب ہم اس سٹرک پر پہنچے جوکہ کڑیانوالہ کی طرف جاتی ہے تو خواجہ صاحب نے فرمایا کہ راستہ باتوں سے طے ہوا کرتا ہے اور میرا ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں اسے پیش کرتا ہوں آپ اس کا جواب دیں… صحیح اور یقینی مضمون اس کا یہ تھا کہ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن (موٹا کپڑا) پہنتے تھے اور باقی بچاکر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کرکے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آکر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو ہم نے تو قادیان میں جاکر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں کی عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تم جھوٹے ہو، جو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے اور آئندہ ہم ہرگز تمہارے دھوکہ میں نہ آویں گی۔ پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں ۔
اس پر خواجہ صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو پر تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا۔ کیونکہ میں خود واقف ہوں اور پھر بعض زیورات اوربعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا… ان اعتراضات کے باعث مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ غضب خدا نازل ہورہا ہے اور میں متواتر دعا میں مشغول تھا اور بار بار جناب الٰہی میں یہ عرض کرتا تھا کہ مولا کریم میں اس قسم کی باتوں کے خلاف ہوں میں اس مجلس سے بھی علیحدہ ہوجاتا مگر مجبور ہوں۔ پس تیرا غضب جو نازل ہورہا ہے اس سے مجھے بچانا۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۲تا۱۴ مؤلفہ سید سرور شاہ قادیانی)
ب… ’’پھر جناب کو (محمد علی لاہوری) یاد ہوگا کہ جب میں نے (سید سرور شاہ قادیانی) جناب کو کہا تھا کہ آج مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)
نے گھر میں بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشاء یہی ہے میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر اس کے خلاف ہوا تو لنگر بند ہوجائے گا۔ مگر یہ خواجہ وغیرہ ایسے ہیں کہ بار بار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپرد کردو اور مجھ پر بدظنی کرتے ہیں اور یہ سناکر میں نے بوجہ محبت آپ کو (محمد علی) یہ کہا تھا کہ آپ آئندہ کبھی اس معاملہ میں شریک نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ حضرت اقدس کی زیادہ ناراضگی کا موجب ہو۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۴ مؤلفہ سید سرور شاہ قادیانی)
ج… ’’اور خواجہ (کمال الدین ) بار بار تاکید کرتے تھے کہ ضرور کہنا اور یہ باتیں کررہے تھے کہ دفعتاً آپ کی (محمد علی لاہوری) طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے کہ مولوی صاحب اب مجھے وہ طریق معلوم ہوگیا ہے جس سے لنگر کا انتظام فوراً حضرت صاحب ہمارے سپرد کردیں … آپ نے یہ کہا کہ خواجہ صاحب میں تو اب ہرگز نہیں پیش کروں گا توخواجہ صاحب نے یہ سنتے ہی آنکھیں سرخ کرلیں اور غصہ والی شکل اور غضب والے لہجہ سے کہنا شروع کیا۔ بولے کہ قومی خدمت ادا کرنے میں بڑے بڑے مشکلات پیش آیا کرتے ہیں۔ کبھی حوصلہ پست نہ کرنا چاہئے اور یہ کیسی غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کس محنت سے جمع ہوتاہے اور جن اغراض قومی کے لئے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر روپیہ دیتے ہیں وہ روپیہ ان اغراض میں صرف نہیں ہوتا بلکہ بجائے اس کے شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے ہیں اور روپیہ کی کمی کی وجہ سے پورے نہیں ہوسکتے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی طرح سے سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے وہ سارے کام پورے ہوسکتے ہیں ۔ آپ اچھے خادم قوم ہیں کہ یہ جانتے ہوئے پھر ایک ذرہ سی بات کہتے ہیں کہ میں آئندہ ہرگز پیش نہیں کروں گا تو میں کہتا ہوں کہ میں ضرور پیش کروں گا۔ اس پر آپ (محمد علی لاہوری) نے کہا میں ساتھ چلا جائوں گا مگر بات نہیں کروں گا تو خواجہ صاحب نے کہا میں بھی ساتھ جانے کے لئے کہتا ہوں بات تو میں نہیں کراتا۔ بات تو میں خود کروں گا۔ غرض کہ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جن سے اس بات کا صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ ہی میں مالی اعتراض کا درس خواجہ صاحب نے ہی شروع کردیا تھا۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۵،۱۶ مؤلفہ سید سرور شاہ قادیانی)
د… ’’باقی آپ (یعنی حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل) سے (یعنی مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح ثانی) یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ابتلاء اگر حضرت زندہ رہتے تو ان کے عہد میں بھی آتا۔ کیونکہ یہ لوگ (یعنی خواجہ کمال الدین اور محمد علی لاہوری) اندر ہی اندر تیاری کررہے تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایا کہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی)سے حساب لیا جائے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات پائی اسی دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ صاحب اور مولوی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھاجاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے؟ اور گھر میں آکر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں؟ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق؟ اگر آج میں الگ ہوجائوں تو سب آمدن بند ہوجائے… پھر خواجہ صاحب نے ایک ڈیپوٹیشن کے موقع پر جو عمارت مدرسہ کا چندہ لینے گیا تھا محمد علی لاہوری سے کہا کہ حضرت صاحب آپ تو خوب عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو جس کا جواب محمد علی لاہوری نے یہ دیا کہ ہاں! اس کا تو انکار تو نہیں ہوسکتا مگر بشریت ہے کیا ضرور کہ ہم نبی کی بشریت کی پیروی کریں۔
میرا (میاں محمود احمدکا)ان باتوں کے لکھنے سے یہ مطلب ہے کہ یہ بات ابھی شروع نہیں ہوئی بلکہ حضرت اقدس کے زمانہ سے ہے۔ وہ (مرزا قادیانی) لنگر کا چندہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ (لیکن آخر کار آپ نے وہ بھی ان خواجہ صاحب وغیرہ) کے حوالہ کیا۔ اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو اور بھی سب کچھ چھینو۔ باقی رہا ان کا تقویٰ وہ تو ان کے بلوں اور بجٹوں سے بہت کچھ ظاہر ہوسکتا ہے کہ جس پر شور مچا رہے ہیں وہ کام روز مرہ خود کرتے ہیں۔‘‘
(میاں محمود احمد کا خط بنام نورالدین مندرجہ حقیقت اختلاف ص۵۲،۵۳، مصنفہ محمد علی لاہوری)
ہ… ’’یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتا ہوں۔ وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔ سو ہر شخص کو چاہئے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے سے عہد کرکے اپنی خاص تحریر سے
اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے… اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا۔ اس کے بعد سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا۔‘‘
(المشتہر مرزا قادیانی مسیح موعود از قادیان، لوح لہدی اشتہار لنگر خانہ کے انتظام کے لئے، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۸،۴۶۹)
بعض لوگوں نے جولیئس سیزر کی بیوی کے چال چلن پر کچھ شکوک وارد کئے۔ سیزر کے حکم سے ان اعتراضات کی تحقیقات کی گئی اور ثابت ہوا کہ وہ بے بنیاد تھے لیکن سیزر نے اپنی بیوی کو پھربھی طلاق دے دی۔ لوگوں نے وجہ دریافت کی تو اس نے نہایت متانت کے ساتھ جواب دیا: ’’میرے جیسے عظیم الشان انسان کی بیوی کا چال چلن ایسا اعلیٰ ہونا چاہئے کہ کسی کو اعتراض کرنے کی جرأت ہی نہ ہو۔‘‘
نواں معیار شناخت مجدد کا یہ ہے کہ اس کی تحریر اور تقریر سے عجز وانکسار عاجزی اور فرو تنی نمایاں ہو۔ وہ اگرچہ علم وفضل زہد واتقاء روحانیت اور تقدس کے لحاظ سے سب پر فوقیت رکھتا ہو لیکن نخوت، تکبر، خود بینی اور غرور سے اس کی باطنی اور ظاہری زندگی بالکل پاک ہو:
تواضع کند ہوشمند گزیں
نہد شاخ پرمیوہ سربر زمیں
اسے اس کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی تعریف وتوصیف میں دفتر کے دفتر سیاہ کرڈالے یا’’ انا ولا غیری ‘‘ کا نعرہ بلند کرے۔ لوگ خود بخود اس کے کارنامے دیکھ کر اسے اپنا مخدوم اور مطاع تسلیم کرلیتے ہیں، بلکہ بڑوں بڑوں کا سر اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔ مکتوبات مجدد الف ثانیv اٹھا کر دیکھ لیجئے ایک جگہ بھی خود ستائی کا رنگ نظر نہیں آئے گا۔
لیکن بیسویں صدی عیسوی کے مجدد کی شان انبیاء سے بھی بلند نظر آتی ہے۔ مبالغہ اور تعلّی دونوں باتیں مرتبہ کمال کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اگر کام بھی ویسا ہی ہوتا جیسا کہ نام تھا تو کسی کو مجال دم زدن نہ ہوتی لیکن افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ:’’ طبل بلند بانگ بباطن ہیچ‘‘ والا معاملہ نظر آتا ہے۔ ذیل میں شواہد درج کرتا ہوں:
۱… ’’اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے
نبوت ثابت ہوسکتی ہے… پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)
۲… ’’خدا نے میرے ہزار ہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی ہو۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیںو ہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۵۸۷)
۳… ’’اور اس (خدا )نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے، جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘(گویا از ۱۸۹۱ء تا ۱۹۰۸ء ہر روز چھ نشان ظاہر ہوئے۔ الراقم مضمون)
(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)
۴… ’’میں کوئی نیا نبی نہیں مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں جن دلائل سے کسی نبی کو سچا کہہ سکتے ہیں۔ وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔‘‘
(ملحض اخبار الحکم قادیان ج۱۲ نمبر۲۶ مؤرخہ۱۰؍اپریل۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۲۱۷،۲۱۸)
نوٹ: اب ہم لاہوریوں کے بیان کو سچا تسلیم کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی محض ایک مجدد تھے جیسے اس امت میں ان سے پہلے اور مجدد گزرے ہیں اور یہ کہ ان کا دعویٰ محض مجدد ہونے کا تھا یا قادیانیوں کے مرشد اور مطاع کے دعویٰ کو صحیح تسلیم کریں جس میں وہ صاف الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں جیسے کہ دنیا میں ان سے پہلے بہت سے نبی آچکے ہیں۔
مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ مجھے منہاج نبوت پر پرکھو لیکن ہمارے لاہوری دوست کہتے ہیں کہ نہیں مرزا قادیانی کو منہاج مجددیت پر پرکھو۔ اب ناظرین خود ہی فیصلہ کریں کہ مریدوں کی بات درست ہے یا مرشد کی اور اس بیان میں ظلی اور بروزی یا مجازی نبوت کی بھی قید نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو بلاتکلف جمیع انبیاء ماسبق کاہم پلہ قرار دیا ہے۔
۵… مرزا قادیانی خاتم النّبیین ہیں: ’’ ختمیت ازل سے محمدa کو دی گئی پھر اس کو دی گئی جسے آپa کی روح نے تعلیم دی اور اپنا ظل بنایا۔ اس لئے مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور وہ جس نے تعلیم حاصل کی۔ پس بلا شبہ حقیقی ختمیت مقدر تھی چھٹے ہزار میں جو رحمن کے دنوں میں چھٹا دن ہے۔‘‘
(ماالفرق بین آدم والمسیح الموعود ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۳۱۰)
ناظرین! ایک ہی اقتباس میں تعلّی تناقض، تصوف، تفسیر، اجتہاد سب کچھ موجود
ہے۔ تیرہ سو سال میں کوئی مجدد اس شان کا پیدا نہیں ہوا جو باوصف مجددیت خاتم النّبیین بھی ہو۔ جل جلالہ!
چونکہ مرزا قادیانی نے فرمایا ہے کہ: ’’جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی کوئی اصل صحیح شرع میں نہ ہو خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد تو اس کے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۲۱، خزائن ج۵ ص۲۱)
اس لئے میں بصد ادب مرزا قادیانی اور ان کے رفقاء سے دریافت کرتا ہوں کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے کہ: ’’ختمیت ازل سے محمدa کو دی گئی۔ (۱)پھر اس کو دی گئی۔ (۲)جسے آپ کی روح نے تعلیم دی۔ (۳)اور اپنا ظل بنایا۔ اس فقرہ میں اقوال نمبر۱، ۲، ۳ پر کون کون سی نصوص قرآنی شاہد ہیں؟ یعنی مرزا قادیانی نے یہ عقائد قرآن مجید یا شرع شریف کی کون سی نص سے مستنبط کئے ہیں؟
پھر لکھا ہے کہ حقیقی ختمیت مقدر تھی چھٹے ہزار میں یعنی نبوت کا خاتمہ حقیقی طور پر مجددیت مرزا قادیانی کی ذات بابرکات پر ہوا۔ اس قول نمبر۴ پر کون سی نص صریح دلالت کرتی ہے؟
لاہوری قادیانیوں سے مجبوراً یہ سوال کرنا پڑتا ہے کہ جب مرزا قادیانی خاتم النّبیین ہونے کے مدعی ہیں تو آپ لوگ ان کا مرتبہ گھٹا کر کیوں بیان کرتے ہیں؟ مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں۔
دوسرا حوالہ سنئے: ’’ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کاکامل انعکاس ہے۔ اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد، احمد، مصطفی اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔‘‘
(نزول المسیح ص۳ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۳۸۱)
مرزا قادیانی سے یہ سوال ہے کہ جناب یہ بروز، حلول، عینّیت اور اتحاد کی تعلیم قرآن مجید کی کون سی نص سے ماخوذ ہے؟ یہ آج ہی معلوم ہوا کہ اسلام نے بھی حلول کے عقیدہ کی تعلیم دی ہے۔
لاہوری قادیانیوں سے یہ سوال ہے کہ امت محمدیہ میںکس مجدد نے اپنے آپ کو حقیقی ختمیت کا مصداق قرار دیا ہے اورکس مجدد نے حلول کی تعلیم دی ہے؟ مجدد کا منصب تو صرف اصلاح امت ہوتا ہے نہ کہ دین میں رخنہ اندازی۔ قران مجید کی کون سی آیت میں یہ لکھا ہے کہ چھٹے ہزار میں حضرت محمدaمرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں ظاہر ہوں گے؟
۶… ’’میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اور خدا کی دوسری کتابوں پر قرآن شریف پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)
۷… ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا توریت، انجیل اور قرآن پر۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)
۸… ’’ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)
۹… مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہیں: ’’جہاد (یعنی دینی لڑائیوں) کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبیa کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا… پھر مسیح موعود(مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کردیا گیا۔‘‘
(اربعین نمبر۴ص۱۳حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳)
۱۰… ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘
( حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)
۱۱… ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(تذکرہ ص۶۰۷ طبع سوم)
کیا مرزا قادیانی سے پہلے کسی مجدد نے یہ تعلّی کی ہے اور اپنے وجود کو معیار کفر واسلام قرار دیا ہے؟
۱۲… امام حسینq پر فضیلت:’’ میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
۱۳… حضرت ابوبکر صدیقq پر فضیلت: ’’ میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن
سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔‘‘
(معیار الاخیار اشتہار مرزا قادیانی تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸)
۱۴… ’’مجھ کو وہ چیز دی گئی جو دنیا اور آخرت میں کسی شخص کو بھی نہیں دی گئی۔‘‘
(الاستفتاء، ضمیمہ حقیقت الوحی ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵)
نوٹ: لاہوری دوستوں سے گزراش ہے کہ کسی مجدد نے ایسے دعویٰ کئے ہیں؟
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)
۱۶… حضرت عیسیٰm پر فضیلت:
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تابہ نہد پابہ منبرم
(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)
۱۷… حضرت سید المرسلینa پر فضیلت:’’ہمارے نبی کریمa کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس(مرزا قادیانی کے) وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘
( خطبہ الہامیہ ص۱۷۷، خزائن ج۱۶ ص۲۶۶)
اگر یہ اقتباس کافی نہ ہو تو دوسرا ملاحظہ فرمائیے: ’’اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرتa پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ھی ظاہر فرمائی گئی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)
۱۸… ’’اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۰، خزائن ج۲۱ ص۱۱۷، ۱۱۸)
نوٹ: کیا کسی مجدد نے تیرہ سو سال میں اس قسم کا دعویٰ کیا ہے؟
۱۹… ’’مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبیa سے ظہور میں آئے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۶۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)
’’ میری تائید میں اس (خدا تعالیٰ )نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶؍جولائی ۱۹۰۶ء ہے اگر ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰)
۲۰… ’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیاجس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو۔‘‘
(اربعین نمبر۴ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۲)
غالباً اس قدر اقتباسات میرے دعویٰ کے اثبات کے لئے کافی ہوں گے۔
دسواں معیار ایک مجدد کی شناخت کا یہ ہے کہ اس کی بعثت سے بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو خصوصاً اور دنیا کو عموماً کیا فائدہ پہنچا؟ اسلام اور مسلمانوں کی کس کس رنگ میں اور کس حدتک خدمت کی؟ ان کے خیالات اور معتقدات کی کس حدتک اصلاح ہوئی؟ اسلام کو دیگر مذاہب پر کس قدر غلبہ حاصل ہوا؟ اسلام کی حقانیت پر کس پایہ کی کتابیں لکھیں؟ ان سے علماء اور عوام نے کس قدر استفادہ کیا؟ کیا مجدد نے کوئی علمی کارنامہ اس مرتبہ کا اپنے پیچھے چھوڑا جس کے مطالعہ سے اخلاف کے ایمان وایقان میں اضافہ ہوسکے؟ کیا اس کی کسی تصنیف یا خدمت کے سامنے علماء نے سرتسلیم خم کیا؟ کیا مجدد نے اسلام کا اصلی چہرہ دنیا کو دکھایا؟ کیا اس کی زندگی مسلمانوں کے لئے شمع ہدایت بنی؟
حضرت عمر بن عبدالعزیزv کی اصلاحی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ امام شافعیv کے دینی اور علمی کارنامے روز روشن کی طرح چمک رہے ہیں۔ امام غزالیv کی احیاء العلوم، امام رازیv کی تفسیر کبیر، مجددالف ثانیv کے مکتوبات اور شاہ ولی اللہ v کی حجتہ اللہ البالغہ نے ہر زمانہ میں علمائے اجل سے خراج تحسین وصول کیا ہے۔ امام
ابن تیمیہv اور امام ابن حنبلv کی علمی اور مذہبی کتب اور اعلائے کلمتہ الحق کے معاملہ میں ان کا بے نظیر استقلال کسی دانشمند سے پوشیدہ نہیں۔ سید احمد صاحب رائے بریلویv کے اصلاحی کارنامے بچہ بچہ کی زبان پر ہیں۔ دار العلوم دیوبند اور علمی تصانیف مولانا محمد قاسمv کی مذہبی خدمات پر گواہ ہیں اور اسلامی دنیا ان سب کے احسانات کے بوجھ سے دبی ہوئی ہے اور ان کے خلوص اسلامی خدمات کی معترف نظر آتی ہے۔
لیکن مجدد صدی چہاردہم کا نقشہ ان سب حضرات سے مختلف ہے۔ مرزا قادیانی نے ۲۳سال نبوت کا اعلان کیا۔ عالم، مناظر، امام، مجدد، محدث، مسیح، مہدی، نبی، کرشن، ردّر گوپال، بروز محمد اور ابن اللہ سبھی کچھ بنے لیکن اسلام یا مسلمانوں کو آپ کے وجود باجود سے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔
اگر ہم مرزا قادیانی سے کسی اعلیٰ درجہ کی علمی تصنیف کی اس بناء پر توقع نہیں کرسکتے کہ ان کی دماغی حالت صحیح نہ تھی اور حجتہ اللہ البالغہ کے پایہ کی کتاب لکھنے کے لئے علوم باطنی وظاہری کے علاوہ صحت دماغی اوّلین شرط ہے تاہم مراق اور ہسٹیریا کے دورون کے باوجود مختلف جسمانی اور دماغی عوارض کے باوجود جن کا انہیں اور ان کے اتباع دونوں کو اعتراف ہے جو کچھ خدمت اسلام والمسلمین ان سے بن پڑی اس کا مختصر حال ذیل میں درج کیا جاتا ہے لیکن اس کی تفصیل سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دماغی اور جسمانی حالت کے متعلق چند شواہد پیش کردئیے جائیں تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ یہ باتیں بلاوجہ ان سے منسوب کردی گئی ہیں:
۱… ضعف کی شکایت: ’’دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل ودماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے، دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا توبعض لوگوں نے افسوس کیا کیونکہ میری حالت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مجھے خط لکھا جو اب تک موجود ہے کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے۔‘‘
( حاشیہ نزول المسیح ص۲۰۹، خزائن حاشیہ ج۱۸ ص۵۸۷)
۲… ’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب
السلام علیکم!
مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض کاہلی، سستی ورطوبات معدہ اس سے دور ہوگئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوذ بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرضیکہ میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔ خاکسار مرزا غلام احمد قادیان ۱۹؍جنوری۱۸۸۷ء۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ جدید ج۲ ص۲۰، مکتوب نمبر۱۰)
۳… ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اورہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہوگیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا… پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے… میں پردہ کراکر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گرگیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ (ہسٹیریا کے)دورے پڑنے شروع ہوگئے۔ خاکسار نے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہوجاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶،۱۷، روایت نمبر۱۹، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
۴… ’’مراق کا مرض حضرت (مرزا قادیانی) کو موروثی نہ تھا بلکہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا اور اسکا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔‘‘
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۲۵ شمارہ۸ ص۱۰؍اگست۱۹۲۶ء)
۵… ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۵، روایت۳۶۹، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
۶… ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتa نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپa نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ (چادروں سے مراد بیماریاں ہیں) اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘
(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ تشحیذ الاذہان ماہ جون ۱۹۰۶ء، اخبار بدرقادیان ۷؍جون۱۹۰۶ء ص۵، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)
۷… ’’مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بیتاب ہوجاتا تھا… دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۶۳، خزائن ج۲۲ ص۳۷۶،۳۷۷)
۸… ’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں… ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری… ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر۳،۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰، ۴۷۱)
۹… ’’حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج۲۶ شمارہ۵ ص۲۶، بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء)
۱۰… ’’عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہوگئی ہے … اگر ایک سطر بھی لکھوں یا فکر کروں توخطرناک دوران سر شروع ہوجاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے… ایسا ہی میری بیوی بھی دائم المرض ہے۔ امراض رحم وجگر دامن گیر ہیں۔‘‘
(مندرجہ اخباربدر قادیان ۲۱؍مئی ۱۹۰۶ء، مرزا کی بیوی کو مراق تھا، منظور الٰہی ص۲۴۴)
ناظرین! جس شخص کی دماغی حالت یہ ہو اس سے احیاء العلوم یا حجتہ اللہ البالغہ کے پایہ کے کتاب کی توقع کرنا بے سود ہے۔ تاہم جو کچھ خدمات مرزا قادیانی نے انجام دیں وہ مختصر طور پر ذیل میں درج کی جاتی ہیں:
۱… پہلا کارنامہ مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ آپ نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کو ناقص قرار دے دیا۔ اب یہ کلمہ کسی کو مسلمان نہیں بناسکتا جب تک
آپ کی نبوت کا اقرار اس کے ساتھ نہ کیا جائے۔ آپ سے پہلے کسی مجدد نے اپنے وجود کو شرط اسلام قرار نہیں دیا لیکن آپ کا ارشاد یہ ہے: ’’ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(تذکرہ ص۶۰۷ طبع ۳)
نیز فرمایا مجھے الہام ہوا کہ: ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(تذکرہ ص۳۳۶ط۳،اشتہار معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۲۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵)
۲… مرزا قادیانی دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے جہاد کو منسوخ کردیا۔
(حوالہ مذکور ہوچکا)
۳… تیسرا کارنامہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اسلام کی تین عظیم الشان خوبیوں یعنی حرّیت، اخوت اور مساوات کو مٹا ڈالا۔ تفصیل اس کی یہ ہے:
الف… مرزا قادیانی نے تمام عمر حرّیت کے خلاف جہاد کیا۔ ہزاروں اشتہار طبع کرائے۔ ممالک اسلامیہ میں بھیجے پچاس الماریاں کتابیں لکھ ڈالیں۔ مسلمانوں کو غلامی کے فوائد سے آگاہ کیا۔
ب… مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ کسی مسلمان کے ساتھ نماز نہ پڑھو، نہ کسی مسلمان کا جنازہ پڑھو، نہ اپنی لڑکی دو، نہ برادرانہ تعلقات رکھو۔
ج… اللہ تعالیٰ نے آنحضرتa پر نبوت ختم کرکے تمام انسانوں کو انسانوں کی اطاعت سے آزاد کرکے دنیا میں حقیقی مساوات قائم کردی تھی لیکن مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کرکے مسلمانوں کو اپنی اطاعت کے لئے مجبور کیا اور صفت مساوات کو زائل کردیا۔
۴… مرزا قادیانی چوتھا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے قادیان کو دار الامان قرار دے کر ایک عدد مینارۃ المسیح اور ایک عدد بہشتی مقبرہ وہاں تعمیر کرادیا تاکہ مینارہ پر جب بڑا لالٹین جلایا جائے تو تمام پنجاب کے مسلمانوں کے قلوب اس کی روشنی سے منور ہوجائیں اور بہشتی مقبرہ کی تعمیر نے مسلمانوں کی جملہ مشکلات حل کردیں۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔
(ملفوظات احمدیہ حصہ ۷ص۴۹۶، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری)
۵… پانچواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے مناظرہ میں دشنام طرازی کا پسندیدہ طریقہ ایجاد فرمایا جس کی بدولت فتنہ وفساد کا دروازہ کھل گیا۔
۶… چھٹا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام میں چند غیر اسلامی عقائد مثلاً حلول، بروز اور تناسخ داخل فرمادئیے۔
(خطبہ الہامیہ ص۱۸۰، خزائن ج۱۶ ص۲۷۰) پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’ ہمارے نبی کریمa جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود(مرزا قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔‘‘
یعنی جن کو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں وہ دراصل آنحضرت محمدa تھے جو مرزا قادیانی کی شکل میں ظاہر ہوئے۔جل جلالہ
۷… ساتواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے غیر اسلامی اصطلاحات اور وہ باتیں جن کی قرآن مجید تردید کرتا ہے دوبارہ اسلام میں داخل کردیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’لم یلد ولم یولد‘‘
لیکن آپ کو الہام ہوتا ہے:’’اسمع ولدی‘‘ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج اوّل ص۴۹)
’’انت منی وانا منک‘‘(اے مرزا) تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔
(حقیقت الوحی ص۷۴، خزائن ج۲۲ ص۷۷، تذکرہ ص۴۲۲طبع سوم)
’’انت من مآئناو ھم من فشل‘‘ اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ فشل( بزدلی) سے۔
(انجام آتھم ص۵۹، خزائن ج۱۱ ص۵۵،۵۶، تذکرہ ص۲۰۴ طبع۳)
’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ اے مرزا تو ہمارے نزدیک مثل ہماری اولاد کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹، تذکرہ ص۵۶۲ طبع سوم)
۸… آٹھواں کارنامہ یہ ہے کہ غلط پیش گوئیاں کرکے آپ نے پیش گوئی کے معیار کو پست کردیا اور لوگوں کا ایمان انبیائے سابق کی پیش گوئیوں کی صحت کے متعلق بھی متزلزل ہوگیا۔
۹… نواں کارنامہ یہ ہے کہ آنحضرتa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرکے وحدت ملی کو
پارہ پارہ کردیا بلکہ نبوت کو بازیچہ اطفال بنادیا۔ چنانچہ اس وقت آپ کی امت میں چھ سات آدمی نبوت کے مدعی موجود ہیں جن پر بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہورہی ہے۔
۱۰… دسواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے سب سے پہلے انعامی اشتہارات کی بدعت کو فروغ دیا۔ اس طرح مذہب کو تجارتی رنگ دے کر پروپیگنڈہ میں سہولتیں پیدا کردیں۔
۱۱… گیارہواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے متضاد باتیں بیان کرکے مجددیت کو اس قدر سہل الحصول بنادیا کہ اب ہر شخص اس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ تناقض کی دو مثالیں ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں:
الف… ’’میں جانتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو مخالف ہے قرآن کے وہ کذب والحاد وزندقہ ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)
ب… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ الحکم قادیان ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء، بدر ۵؍مارچ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ص۱۲۷)
ج… ’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزوی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہوسکتی ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۸۱)
د… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میںبہت بڑھ کر ہے۔‘‘ پھر (ریویو ص۴۸۷) پر لکھا ہے کہ: ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)
۱۲… بارھواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے بہت تلاش وتحقیق کے بعد مسیح ناصری کی قبر کا پتہ مسلمانوں کو بتایا جس سے ان کی ایمانی قوت میں بہت اضافہ ہوا؟
۱۳… تیرھواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت عیسیٰm اور ان کی والدہ مریم صدیقہ کی توہین کرکے عیسائیوں کو مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں کے پیغمبرa اور ان کی ازواج مطہرات پر اعتراض کریں۔ (معاذ اللہ )
الف… ’’مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کرلیا گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت کے عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا… مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ کہ قابل اعتراض۔‘‘
(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸)
ناظرین! ملاحظہ فرمایا کیسے طنز آمیز کنایات ہیں اور جو کچھ حمل کے متعلق لکھا ہے وہ خلاف نصوص قرآنیہ بھی تو ہے۔ قرآن مجید تو لکھتا ہے کہ مریم صدیقہ تھیں لیکن مرزا قادیانی کہتا ہے کہ انہیں یوسف نجار سے حمل ہوگیا تھا۔ اس لئے بزرگان قوم کے اصرار سے بوجہ حمل یوسف نجار سے نکاح کرلیا۔ اللہ اللہ کس قدر بے باکی ہے۔
ب… ’’ہاں! آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵، خزائن حاشیہ ج۱۱ ص۲۸۹)
دنیا میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے جب مرزا قادیانی نے عیسائیوں کے پیشواء جناب یسوع مسیح اور ان کی والدہ مریم بتول کی شان میں ایسی گستاخیاں کیں تو انہوں نے بھی آنحضرتa کی شان میں گستاخیاں کیں۔
۱۴… چودھواں کارنامہ آپ کا یہ ہے کہ قادیان کو مکہ معظمہ کا ہمسر بنادیا:
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین اردوص۵۲)
۱۵… پندرھواں کارنامہ آپ کا یہ ہے کہ اپنی برأت کے لئے تمام انبیاء کو اپنی صف میں لاکر کھڑا کیا جب مسلمانوں نے آپ کے کسی فعل پر اعتراض کیا تو آپ نے ہمیشہ یہ کہہ کر مخالفین کا منہ بند کردیا کہ یہ اعتراض تو انبیائے ماسبق پر بھی پڑتا ہے۔
’’میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہوجائیں تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کرسکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)
اب میں لاہوری دوستوں سے صرف ایک سوال کرکے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ آج یہ لوگ ہمیں تلقین کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ محض مجددیت کا تھا اور ہم انہیں صرف مجدد تسلیم کرتے ہیں جن کے انکار سے کوئی شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوسکتا۔ لیکن آج سے ۲۲سال پیشتر یہی لوگ مرزا قادیانی کو جو کچھ تسلیم کرتے تھے ذیل کے اقتباسات سے اس کا اندازہ ہوسکتا ہے:
الف… ’’ہم حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی ورسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں… ہمارا ایمان ہے کہ اب دنیا کی نجات حضرت نبی کریمa اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی۔‘‘
(پیغام صلح ج اوّل نمبر۴۳، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر۱۹۱۳ء)
ب… ’’ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی) اس زمانہ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے تھے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔ ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج اوّل نمبر۲۵، مؤرخہ ۷؍ستمبر۱۹۱۳ء)
کیا میرے لاہوری دوست مجھے اس حقیقت سے آگاہ کرسکتے ہیں کہ ۱۹۱۳ء اور ۱۹۳۵ء میں فرق کیوں ہے؟ ان کے عقائد میں یہ تبدیلی کیوں پیدا ہوگئی ہے؟ آج وہ اس شخص کو جو مرزا قادیانی کو رسول کہتا ہے کافر قرار دیتے ہیں لیکن ۱۹۱۳ء میں مرزا قادیانی کی رسالت کا اعلان ہی معیار ایمان تھا؟ آخر یہ حیرت انگیز انقلاب کیونکر پیدا ہوگیا۔
آخر میں اس حقیقت کا اظہار کرنا ضروری ہے کہ میں نے اس مضمون میں کوئی بات اپنی طرف سے نہیں لکھی ہے۔ سب کچھ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کے بیانات اور اعلانات پر مبنی ہے۔ میں نے اپنی طرف سے نہ کوئی بات زیادہ کی ہے نہ کم۔ صرف وہ نتائج جو ان تحریروں سے برآمد ہوتے ہیں ہدیہ ناظرین کردئیے ہیں۔ میرا مقصد اس مضمون سے کسی کی دل آزاری نہیں ہے بلکہ صرف مسلمان بھائیوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا ہے۔ فقط!