محاسبہ قادیانیت جلد پنجم
احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔
احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
| نام کتاب : | احتساب قادیانیت جلد پنجم |
| افادات: | شیخ المشائخ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ |
| صفحات: | ۵۴۴ |
| قیمت : | ۲۰۰ روپے |
| طبع اول : | جنوری ۲۰۰۲ء/ذیقعدہ ۱۴۲۲ھ |
| ناثر: | عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان |
| ph. 0614783486 |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تعارف……حضرت مولانا اللہ وسایا
۴
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱……مولانا عبدالعزیزؒ، مولانا عبدالوحیدؒ
۵
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲……مولانا عبدالعزیزؒ، مولانا عبدالوحیدؒ
۱۳
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۳……مولانا عبدالوحیدؒ
۱۹
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۴……مولانا عبدالعزیزؒ
۲۹
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۵……پروفیسر سید انور حسینؒ
۳۷
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۶……مولانا سید محمد علی مونگیرویؒ
۶۳
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۷……مولانا سید محمد علی مونگیرویؒ
۸۷
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۸،۹……مولانا سید محمد علی مونگیرویؒ
۱۲۱
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۰……مولانا حکیم محمد یعسوب مونگیرویؒ
۱۹۱
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۱،۱۲……مولانا حکیم محمد یعسوب مونگیرویؒ
۲۱۳
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۳……خواجہ غلام الثقلینؒ (ایڈیٹر عصر جدید)
۲۵۷
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۴……مولانا عبدالغفار خانؒ، مولانا لکھنویؒ
۲۷۵
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۵……مولانا حکیم محمد یعسوب مونگیرویؒ
۲۹۷
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۶……پروفیسر مولانا سید محمد انور حسینؒ
۳۱۷
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۷……مولانا محمد اسحق مونگیرویؒ
۳۴۵
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۸……مولانا محمد اسحق مونگیرویؒ
۳۸۱
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۹……یکے از متوسلین خانقاہ مونگیر
۴۱۳
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲۰……مولانا محمد اسحق مونگیرویؒ
۴۲۳
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲۱……مولانا محمد اسحق مونگیرویؒ
۴۳۳
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲۲……مولانا محمد اسحق مونگیرویؒ
۴۶۷
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲۳……مولانا محمد اسحق مونگیرویؒ
۵۰۳
صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲۴……مولانا محمد اسحق مونگیرویؒ
۵۴۱
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریv (پ:۲۸؍جولائی ۱۸۴۶ء، و:۱۳؍ستمبر ۱۹۲۷ء) اس دھرتی پر اللہ رب العزت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ آپ کی خانقاہ مونگیر سے سو سے زیادہ ردقادیانیت پر کتب ورسائل شائع ہوئے۔ جن میں سے اکثر وبیشتر آپ کے رشحات قلم ہیں۔ باقی آپ کے شاگردوں ومریدوں میں سے علماء کرام کی جماعت کے تحریر کردہ ہیں۔ آپ کی خانقاہ عالیہ سے صحائف رحمانیہ مختلف اوقات میں شائع ہوئے جن کی تعداد ’’۲۴‘‘ ہے۔ اس جلد میں ان تمام صحائف رحمانیہ کو یکجا شائع کیا جارہا ہے۔ یہ صحائف جن حضرات نے تحریر فرمائے فہرست میں ان کے نام دے دئیے گئے ہیں۔ وہاں کی مراجعت فرمائی جائے۔ یہ صحائف ’’صحیفہ رحمانیہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ البتہ بعض صحائف کا ’’صحیفہ رحمانیہ‘‘ کے ساتھ مستقل نام بھی دیاگیا ہے۔ جیسے ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۶‘‘ کا نام مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۷‘‘ کا نام دعوت نبوت مرزا، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۸،۹‘‘ کا نام عبرت خیز، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۱،۱۲‘‘ کا نام نمونہ القائے قادیانی، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۴‘‘ کا نام اسلامی چیلنج، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۶‘‘ کا نام مرزائی نبوت کا خاتمہ، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۷‘‘ کا نام النبوۃ فی الاسلام کے نوجواب اور مرزاقادیانی کے جھوٹ، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۸‘‘ کا نام چیلنج محمدیہ وصولت فاروقیہ، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۹‘‘ کا نام چشمہ ہدایت کی صداقت اور مسیح قادیان کی واقعی حالت، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲۱‘‘ کا نام خاتم النّبیین یعنی کلام الٰہی میں ختم نبوت کی بشارت، ’’صحیفہ رحمانیہ نمبر:۲۳‘‘ کا نام نامہ حقانی درکذب مسیح قادیانی ہے۔
صحائف رحمانیہ کی اشاعت دسمبر ۱۹۱۳ء سے شروع ہوکر ۳۰؍اگست ۱۹۲۴ء تک اختتام پذیر ہوتی ہے۔ گویا دس سال میں یہ چوبیس رسائل شائع ہوئے۔ ۱۹۱۳ء کے بعد اب ۲۰۰۱ء میں ان کی اشاعت پر تقریباً ۹۰سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ نوے سال بعد بھی ان مضامین کی آب وتاب جوں کی توں باقی ہے۔ یہ مکمل رسائل کس طرح جمع ہوئے یہ مستقل کہانی ہے۔ ’’ترکت الحساب لیوم الحساب‘‘ کے تحت اس کہانی کو یہاں بیان نہیں کرتے۔
خاکپائے حضرت مونگیریv… فقیر اللہ وسایا
۷؍رمضان المبارک ۱۴۲۲ھ، ۱۲؍نومبر ۲۰۰۱ء
مولانا عبد العزیزؒ،مولانا عبد الوحیدؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ناظرین باتمکین کو واضح ہوکہ مدت سے مرزائی جماعت نے مسئلہ حیات حضرت عیسیٰk کو اپنی کمزوری کے لئے سپر بنارکھا تھا اور ہر مناظرہ میں اسی مسئلہ کو پیش کرتے تھے چونکہ مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے یہ مسئلہ فقط دھوکہ ہی دھوکہ ہے اور حقیقت میں اگر حضرت مسیحk کی موت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت ’’اور یہ کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ایک ہی شخص ہیں۔ وغیرہ!‘‘
دعاوی باطلہ ہرگزہرگز ثابت نہیں ہوسکتے تھے اور نیز اس مسئلہ میں چونکہ بہت آیات وحدیث کا ذکر آتا ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی نے بھی اپنے تئیں مفید تیس آیات کو پیش کیا تھا۔ (گو ان میں سے مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے ایک بھی مفید نہیں) اس وجہ سے بہت سے مسائل علمیہ بھی آجاتے ہیں اور عوام کو ان کے سمجھنے میں دقّت ہوتی ہے۔ بوجوہ مذکورہ علمائے اسلام نے نہایت قوی پہلو اختیار فرمایا اور یہ کہا کہ اس مسئلہ میں گفتگو کا حاصل تو یہی ہے کہ حضرت عیسیٰk کی موت ثابت کی جائے۔ ہم مرزاقادیانی پر احسان کر کے مسیحk کی موت کو تسلیم کئے لیتے ہیں۔ مگر یہ تو مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی تمہید ہے۔ اصل دعویٰ مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ ہے کہ مسیح موعود اور مہدی مسعود میں ہی ہوں اور خدا کی طرف سے ۱۳سوبرس کے بعد تمام امت سے کیا حضرت عیسیٰk سے بھی افضل واعلیٰ ہوکر آیا ہوں اور جو مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت کو نہ مانے وہ ویسا ہی کافر ہے جیسا محمدرسول اﷲa کا منکر کافر ہے اور منکر ہی نہیں بلکہ متردّد اور تأمل کرنے والا۔ غرض جو مرزاغلام احمد قادیانی کو تمام دنیا میں نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ یہ تمام دعاوی فقط حضرت عیسیٰk کی موت سے کیسے ثابت ہوں گے؟ مگر چونکہ قادیانی جماعت نے سچ نہ کہنے کی قسم کھائی ہے اور شکست تو ان کی قسمت میں لکھی ہی نہیں۔ مونگیر میں ہارے تو اس کا نام فتح عظیم رکھا۔ لدھیانہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب سے منشی قاسم علی مرزائی نے مات کھائی اور تین
سو روپے بھی دینے پڑے۔ مگر اس کا نام فتح روحانی رکھ لیا۔ حسینا میں مولوی سہول صاحب سے شکست کھائی۔ اس کا نام فتح المبین شائع کر دیا۔ غرض اس جماعت کی فتح بہرصورت ہے اور کیوں نہ ہو جب شکست کا نام فتح اور ذلت کا نام عزت ہے تو اب بجز فتح کے اور کیا ہوگا؟ اس وجہ سے مرزائیوں نے نتیجہ یہ نکالا کہ علمائے اسلام حضرت عیسیٰk کی حیات ثابت ہی نہیں کر سکتے اور مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ کو مسئلہ حیات وممات سے پورا تعلق ہے اور جہاں کہیں مناظرہ ہوتا ہے اسی مسئلہ کو سرغزل رکھا جاتا ہے۔
چونکہ حضرت مولانا مولوی ابواحمد صاحب رحمانی دامت برکاتہم خلیفہ اعظم قطب وقت حضرت خاتم الاولیاء گنج مرادآبادی قدس سرہ العزیز کی توجہ سے کئی سال ہوئے، قادیانی جماعت سے مونگیر میں بڑے پیمانہ پر مناظرہ ہوا اور کئی ضلع کے عوام اور خواص کے سامنے قادیانیوں کی اس میں شکست ہوئی جس میں مرزائیوں کی کوئی تاویل بھی کام نہ آئی اور جس قدر اس برگزیدہ قوم نے جھوٹ لکھ کر شائع کیا۔ شرکائے جلسہ کو اور نفرت اور ان کے کذب کی دلیل تام ہوگئی۔ اس کے بعد حضرت ممدوح نے فیصلہ آسمانی حصہ اوّل ودوم وتتمہ ومعیار صداقت، معیار المسیح، شہادت آسمانی وغیرہ ایسے رسائل لکھے کہ قادیانی جماعت کے خواص کو بھی پسینہ آگیا اور زندوں ہی نہیں مردوں میں بھی ’’زلزلۃ الساعۃ شیٔ عظیم‘‘کا نمونہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا اور مرزاغلام احمد قادیانی کے اصل ہی دعویٰ کو حضرت ممدوح نے ایسا خاک میں ملایا کہ قادیانیوں کا دل ہی خوب جانتا ہے اور وہ کاری زخم لگا جس کا اندمال محال ہے۔ قطع وتین کی دلیل سے ان ہی کی گردنیں کٹیں۔ آفتاب وماہتاب کے گرہن سے بھی قادیانی قمرالانبیاء قیامت تک کے لئے بے نور ہو گیا۔ ’’یصبکم بعض الذی یعدکم‘‘کا وہ مطلب بیان فرمایا کہ: ’’شفاء لما فی الصدور‘‘ہوگیا۔ پھر سچے اور جھوٹے مسیح کی حقیقت کو معیار المسیح میں ایسا کھول کر بیان فرمادیا کہ باید وشاید۔ اﷲتعالیٰ نے حضرت ابواحمد رحمانیv کو مسلمانوں کے لئے رحمت بنا دیا اور کیوں نہ ہوں صاحبالبیت ادریٰ بمافیہ، حدیث وقرآن کو اگر ان جیسے نسبی اور روحی خاندان نبوت ہی نہ سمجھیں تو کیا مرزاقادیانی اور مغل سمجھیں گے؟ یا للعجب ولضیعۃ الادب! پہلے تو ہمارا اعتقاد ہی تھا کہ فیصلہ
آسمانی لاجواب ہے۔ مگر عبدالماجد قادیانی کے جواب القاء ربانی نے تو اس کا ایسا یقین دلادیا ہے کہ اس کا ازالہ نہ اب ازالۃ الاوہام سے ہوسکتا ہے نہ حقیقت الوحی سے۔ تانت باجی اور راگ بوجھا۔ عبدالماجد قادیانی کا بھرم بھی القاء ربانی نے کھول دیا جس کے جواب یکے بعد دیگرے عنقریب ان شاء اللہ شائع ہونے والے ہیں۔
بوجوہ مذکورہ حضرت ابن شیر خدا، اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ، جناب مولانا مولوی سید محمد مرتضیٰ حسن چاندپوری مدرس مدرسہ عالیہ دارالعلوم دیوبند نے جلسہ بھاگلپور منعقدہ ۲۵؍محرم الحرام ۱۳۲۳ھ مطابق ۲۴؍دسمبر ۱۹۱۳ء کو جلسہ میں عنوان یہی رکھا جو درج اشتہار ہے۔
۱… حضرت عیسیٰk کی حیات وممات سے مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ کو کیا تعلق ہے؟
۲… اگر حضرت عیسیٰk کی موت ثابت ہو جائے تو کیا مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ مسیحیت ومہدویت ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں؟
۳… واقعی مسلمانوں کا اعتقاد اس مسئلہ کے متعلق کیا ہے؟
۴… آیا قرآن وحدیث سے بھی یہ مسئلہ ثابت ہے یا نہیں؟
اور ان چاروں نمبروں پر وہ عالمانہ تقریر فرمائی کہ حضّار (حاضرین) جلسہ کا پہلے تو حضرت عیسیٰk کی حیات پر ایمان ہی تھا۔ مگر اس روز عیاں ہوگیا۔ ’’وبقولہم انا قتلنا المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اﷲ (نساء:۱۵۷)‘‘کو اخیر تک تلاوت فرما کر قرآن کی فصاحت وبلاغت وغیرہ سے وہ بحث کی کہ حاضرین پر وجد کا عالم طاری ہو گیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ قادیانی جماعت اپنے دعویٰ نبوت میں بالکل پست اور مردہ اور بے جان ہے۔ فقط علمائے اسلام نے جو موجودہ مذکورہ مسئلہ میں گفتگو نہ کی تھی اس وجہ سے بوجہ ناواقفیت کے یہ لوگ دلیر ہوگئے تھے۔ ورنہ شہادت القرآن حصہ اوّل ودوم مصنفہ مولوی محمدابراہیم سیالکوٹیv کا اس بحث میں ایسا کافی وشافی رسالہ ہے جس کا جواب خود مرزاغلام احمد قادیانی بھی نہ دے سکے تو اب مرزائیوں میں کون ہے جو اس کا جواب لکھے گا؟ اب تو قادیانی
کسی دوسرے نبی کا انتظار کریں۔ ورنہ جب ان کے نبی ہی کچھ نہ کر سکے تو ان مسکینوں سے کیا شدنی ہے۔ اگر واقعی ہمت ہے تو پہلے شہادۃ القرآن کا جواب دے لیں پھر مسلمانوں سے آنکھیں ملائیں۔ اگر کچھ حیاوشرم ہے اس جلسہ میں مولانا موصوف نے بھی مرزائی دلائل پر خوب جرح فرماکر بالکل توڑ دیا اور جناب مولانا مفتی عبداللطیف صاحب رحمانیv نے بھی ختم نبوت پر نہایت مدلل تقریر فرمائی جس میں مذہب کی ضرورت اور اسلام کا کامل ہونا، پیغمبر اسلام کے فضائل اور جمیع کمالات میں ایسے درجہ پر ہونا کہ جس کے بعد ترقی کے لئے کوئی درجہ باقی نہیں نہایت خوبی سے ثابت کیا اور تمام مضمون مسلسل تھا جس سے سامعین پر وجد کی کیفیت طاری تھی اور منشی قاسم علی (قادیانی) کے رسالہ ’’النبوۃ فی خیرالامۃ‘‘ کی پوری حقیقت کھول دی اور جناب مولانا مولوی ابوالخیر انور حسین صاحب نے آیت: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ پر نہایت ہی دلچسپ بیان فرمایا اور مرزاغلام احمد قادیانی کے دلائل پر نہایت کاری جرح کی۔ اگر قادیانی جماعت کو شوق ہو تو عیسیٰk کی موت کے دلائل بیان کر کے دیکھ لیں پھر ہمارے علماء بھی ان کے دلائل کے توڑنے کو موجود ہیں۔
۲۶؍محرم مطابق ۲۵؍دسمبر۱۹۱۳ء کو عبدالماجد قادیانی پورینی نے بھی اشتہار دیا اور ان پانچ نمبروں پر بیان کرنے کا وعدہ فرمایا۔
۲… حضرت عیسیٰk کی وفات چونکہ ثابت ہے اس لئے مرزاغلام احمد قادیانی کی مسیحیت ومہدویت بھی ثابت کر دی جائے گی۔
۳… واقعی عام مسلمانوں کا اعتقاد دربارۂ حیات حضرت عیسیٰk ونزول از آسمان بالکل غلط ہے۔
۴… قرآن وحدیث سے بخوبی ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰk مثل اور انبیاؤں کےفوت ہوچکے ہیں۔
۵… جو جھوٹے الزامات ہمارے امام پر لگائے جاتے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ اس
کے متعلق بھی قرآن وحدیث سے باتیں مسلمانوں کو سمجھا دی جائیں گی۔
مگر افسوس ایک وعدہ بھی پورا نہ کر سکے اور نہ ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک پورا کر سکتے ہیں۔ اگر ان میں کچھ بھی شائبہ صدق ودیانت کا ہے تو جیسے ان امور مذکورہ کے ثابت کرنے کا وعدہ کیا ہے اور خود مدعی بھی ہیں ان کو ثابت فرمائیں اور مناظرہ کی تاریخ مقرر فرمائیں۔ ہم بھی اپنے علماء میں سے کسی کو تکلیف دیں گے ایک ایک حکم طرفین سے ہو اور ایک بینچ مسلّم فریقین ہو اور گفتگو ہو جائے مگر ہماری وجدانی پیشین گوئی ہے کہ عبدالماجد قادیانی ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔ ہزارطرح کی باتیں بنائیں گے مگر ان امور کو ثابت نہ کر سکیں گے۔ ’’الحمدﷲ‘‘کہ حق واضح ہوگیا۔
اخیر میں مولانا انور حسین نے جو مرزاغلام احمد قادیانی کے چند جھوٹ بیان فرمائے ہیں۔ تمام قادیانی جماعت کیا قادیانی خلیفہ سے عرض ہے کہ ان جھوٹوں کو سچا ثابت کریں۔ ورنہ مرزاغلام احمد قادیانی کے کذاب اور مفتری ہونے میں کیا تأمل ہے۔ مگر واضح ہو کہ اس میں بھی کسی قادیانی کا قلم نہیں اٹھ سکتا۔ ’’جف القلم بما ہو کائن‘‘ان کے قلم سربریدہ اور دواتیں خشک ہو گئیں ہیں۔
ان جھوٹوں اور افتراؤں کی فہرست جن کو مولانا انور حسین نے بیان فرمایا تھا اور قادیانی خلیفہ نورالدین اور عبدالماجد قادیانی اور جملہ قادیانی مل کر بیان فرمائیں کہ جھوٹے کیسے سچے ہوں گے؟ اگر قادیانی جماعت اس کو ثابت نہ کر سکے تو پھر مرزاغلام احمد قادیانی کے مفتری اور کذاب ماننے میں کیا تأمل ہے؟ اس کا جوب ایک ہفتہ کے اندر ہونا چاہئے۔ ورنہ مرزاغلام احمد قادیانی کا کذب اور عبدالماجد قادیانی کا اپنے دعاوی سے فرار اظہرمن الشمس ہو جائے گا۔
۱… (اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴) میں مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی نے لکھا ہے کہجھوٹا سچے کے سامنے مر جائے گا۔‘‘ یہ صریح کذب ہے۔ فرمائیے کہاں اور کس کتاب میں لکھا ہے؟ دعاوی مرزا میں اس کے ثابت کرنے پر پانچ سو روپے کا انعام بھی ہے۔
۲… (اخبار البدر ج۲ نمبر۵۲ ص۵، ملفوظات ج۹ ص۹۹) میں لکھا ہے کہ: ’’جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے سب کے سب ہلاک ہوئے۔‘‘
حالانکہ صوفی عبدالحق صاحب کے سوا کسی نے مباہلہ نہیں کیا اور وہ زندہ ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی ان کے سامنے مر گئے۔ قادیانیو! یہی ہے آپ کے متنبی کی صدق بیانی یا ثابت کرو ورنہ توبہ چاہئے۔
۳… (اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴) میں لکھا ہے: ’’یہ ضرور تھا کہ قرآن واحادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں یہ لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئیے جائیں گے۔‘‘
مرزائی وہ آیات قرآنی وحدیث نبوی کا حوالہ بتائیں جن میں یہ مضمون بالا بیان کیا گیا ہے؟
۴… (البدر مورخہ ۲۴؍نومبر، یکم؍دسمبر ۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۷ ص۲۴۷، چشمہ معرفت ص۲۸۶، خزائن ج۲۳ ص۲۹۹) میں ہے کہ: ’’ہمارے نبی کریمa کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔‘‘ قادیانی متنبی کی امت! اپنے نبی کے الہام اور وحی اور صدق بیانی کو دیکھو یہ کس حدیث میں آیا ہے؟ بیان فرمائیے۔
۵… (اشتہار مورخہ ۱۲؍اگست ۱۹۰۷ء، ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۶ ش۹ ص۳۶۵، بابت ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء) زیرسرخی: ’’عام مریدوں کے لئے ہدایت‘‘ میں لکھا ہے۔‘‘ آنحضرتa نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑدیں۔ فرمائیے اب بھی مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی کہو گے۔ مسیح موعود مانو گے وہ کون سی حدیث ہے جس کا یہ مضمون ہے؟
۶… (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) ’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے توپہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبردی گئی
ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو صحیح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘
اے قادیانیو! کچھ تو سوچو اور پہلے نہ سوچا تھا تو اب سوچو کہ ایسے شخص کے منہ پر دعویٰ نبوت اور مسیحیت اور مہدویت وافضل الامۃ ہی نہیں بلکہ قمرالانبیاء اور افضل من عیسیٰ روح اللہ ہونے کا زیب دیتا ہے؟ جو اس قدر دلیر جھوٹا ہو، بخاری مسلمانوں کی ایک معروف ومشہور کتاب ہے تمام قادیانی مل کر اور جمع ہوکر بتائیں کہ کس بخاری اور کس باب میں حدیث ہے؟ اور اگر نہ بتا سکیں تو بس اب توبہ کرنے میں کیا دیر ہے؟ یہ تو وہ جھوٹ ہے جن میں نہ کوئی الہام ہوسکتا ہے نہ کوئی شرط لگ سکتی ہے۔ نہ ’’ویمحو اللہ ما یشاء ویثبت‘‘ کا پیچ چل سکتا ہے نہ ’’بعد ولا یوفی‘‘کام دے سکتا ہے۔ نہ چاند اور سورج کا گہن اس کو سچا کر سکتا ہے۔ کیا اسی نبی کی نبوت کی آسمان اور زمین نے شہادت دی تھی؟ آخرخدا نے انسان بنایا ہے کچھ تو غور وفکر سے کام لو۔ کیا مرنا نہیں ہے؟ کیوں مخالفین اسلام کو ہنساتے اور ان کی تعداد کو بڑھاتے ہو۔ ’’من کثّر سواد قوم فہو منہم او کما قال‘‘سے ڈرو۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اسلام کی تائید نہیں کی بلکہ بیخ کنی کی ہے۔ مگر اسلام کا خدا حافظ ہے۔ چراغیکہ ایزد برفروزد۔ الخ! اگر توبہ قسمت میں نہیں ہے تو بس اب اشتہار بازی کا زور دکھاؤ اور ان چھ نمبروں کو سچا کر دکھاؤ اور اگر پروفیسر عبدالماجد قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو ایچ پیچ کی بات نہیں۔ بس اپنے پانچ نمبروں کو جن کے اپنے اشتہار میں مدعی بنے ہیں۔ ثابت کر دیں ورنہ قرآن شریف کی وعید سے ڈرو۔
عام مسلمانوں کے لئے یہ چھ باتیں، ستہ ضروریہ کہ طور لکھ دی گئی ہیں۔ اگر مرزائیوں نے ان کو ثابت نہیں کیا تو پھر اور کسی علمی بات کا نام نہ لیں۔ ورنہ جو اس قدر صحیح کاذب ہو اس کی اور کسی بات پر کس طرح وثوق ہوسکتا ہے؟
المشتہران: عبدالعزیز خان، وعبدالوحید خان عفا اللہ عنہما
معظم چک بھاگلپور، مورخہ یکم؍جنوری ۱۹۱۴ء، مطابق ۳؍صفر ۱۳۳۲ھ
مولانا عبدالعزیزؒ،مولانا عبدالوحیدؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جلسہ بھاگلپور منعقدہ تاریخ ۲۴؍دسمبر ۱۹۱۳ء، مطابق ۲۵؍محرم ۱۳۳۲ھ میں جامع معقول ومنقول مولانا مولوی ابوالخیر سید محمد انور حسین بہولوی مونگیر پروفیسر ڈی۔جے کالج کے بیان کا خلاصہ
بتاریخ ۲۵؍محرم جلسہ تامارپور میں بعد نماز عصر آپ کا بیان شروع ہوا۔ آپ نے آیت کریمہ:’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین وکان اللہ بکل شیٔ علیما‘‘تلاوت فرمائی۔ پھر اس آیت کا شان نزول اور مطلب نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کر کے اس بات پر ایک مدلل تقریر فرمائی کہ مذکورہ بالا آیت بشہادت لغت واحادیث صحیحہ ختم نبوت پر قطعی محض ہے۔ سلسلہ نبوت آنحضرتa پر ختم ہوچکا ہے۔ آپa کے بعد تاقیام قیامت کسی قسم کا نبی، نبوت جدیدہ نہیں آسکتا اور جو شخص بعد آنحضرتa کے دعویٰ نبوت کرے وہ بحکم: ’’انہ سیکون فی امتی دجالون ثلٰثون کذابون کلہم یزعم انہ نبی اﷲ انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘
(ترمذی ج۲ ص۴۵، ابواب الفتن)
دجال کذاب ہے۔ ایسے دجالوں کے قلع وقمع کرنے کے لئے ایک گروہ امت محمدیہ میں ابتدائے اسلام سے قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ اس گروہ کے حق پر ہونے کی خود آنحضرتa نے شہادت دی ہے۔ نواب صدیق حسن خانv نے اپنی کتاب ’’حجج الکرامۃ فی آثار القیامۃ‘‘میں اپنے وقت تک کے جھوٹے مدعیان نبوت کا شمار ستائیس تک بیان کیا ہے۔ اٹھائیسویں شخص مرزاغلام احمد قادیانی ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ مدعی نبوت بھی ہیں اور ان کی تالیفات میں متعدد اور صریح صریح جھوٹ بھی پائے جاتے ہیں۔ پھر مرزاغلام احمد قادیانی کی چند جھوٹی باتوں کو بیان کیا۔ منجملہ ان کے
یہ ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی (اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴) میں لکھتے ہیں: ’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘
حاضرین کو اربعین کا نمبر وصفحہ مذکور دکھلا کر یہ کہا کہ جو قرآن مجید مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اس میں تو اس پیشین گوئی کا نام نشان تک نہیں ہے اور صحاح ستہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں پائی جاتی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے کاذب بلکہ مفتری علی اللہ والرسول ہونے کے لئے یہی ایک مثال کافی ہے۔ مگر ایک اور صریح جھوٹ یہ ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی (اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴) میں لکھتے ہیں: ’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے دے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔‘‘
تین برس سے زیادہ ہوگیا کہ مرزائیوں کو چیلنج دیا گیا تھا کہ مولوی غلام دستگیر اور مولوی اسماعیل دونوں کی کتابوں میں مذکورہ بالا مضمون دکھلادیں تو مبلغ پانچ سوروپیہ انعام لیں۔ مگر آج تک کسی مرزائی کو ہمت نہ ہوئی کہ اپنے پیرومرشد کو سچا ثابت کر کے انعام حاصل کرے۔ کیا ان مثالوں کے بعد بھی کوئی راست باز، مرزاغلام احمد قادیانی کے مذکورہ بالا حدیث کے مصداق ہونے میں شبہ کر سکتا ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں۔
پھر یہ بیان کیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ بھی محض غلط ہے کہ جس طرح
حضرت موسیٰm کے بعد ان کی امت میں سلسلہ نبوت جاری رہا۔ اسی طرح آنحضرتa کی امت میں بھی سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔ اس لئے کہ آیت کریمہ: ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا (المزمل:۱۵)‘‘ میں تشبہ نفس ارسال میں ہے۔ نہ مرسل میں جیسا کہ ’’فاذکروا اللہ کذکرکم ابائکم اواشدّ ذکرا (البقرۃ:۲۰۰)‘‘میں تشبہ نفس ذکر میں ہے نہ مفعول میں۔
پھر (صحیح بخاری، باب ذکر عن بنی اسرائیل ج۱ ص۴۹۱) کی ایک حدیث ہے۔ اس مطلب کو صاف طریقے سے ثابت کر دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے دنیاوی اور مذہبی امور کی سیاست انبیاء کو تھی۔ جب کوئی نبی ہلاک ہوتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہوتے اور چونکہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس لئے ہماری امت میں خلفاء کا سلسلہ رہے گا۔ یہ حدیث اس بارے میں نص صریح ہے کہ آپa کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔ آنحضرتa کی اس پیشین گوئی کے مطابق حضرت ابوبکر صدیقq سے لے کر اس وقت تک امت محمدیہ میں خلافت کا سلسلہ قائم ہے اور آخر وقت تک قائم رہے گا۔ اگر خلفاء کو نبی کہنا جائز ہوتا تو خلفائے راشدین (حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علیi) اس لقب کے زیادہ مستحق تھے۔ مگر حدیثوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان حضرات کو نبی کہنا جائز نہیں۔
مولانا کا یہ بیان قبل مغرب ختم ہوا۔ حاضرین جلسہ اس بیان سے بہت محظوظ اور منتفع ہوئے۔فالحمدﷲ علیٰ ذالک!
پھر حسب خواہش حاضرین جلسہ بعد مغرب مولوی صاحب نے سورۂ والعصر کا وعظ بیان فرمایا اور اسی ضمن میں عبدالماجد قادیانی کے رسالہ القاء ربانی ص۳ سے مکتوبات مجدد الف ثانیv کی ان عبارتوں کو سنا کر جو قادیانی مربی نے نقل کی ہیں۔ انہیں عبارتوں سے
مرزاغلام احمد قادیانی کی مسیحیت اور مہدویت کو غلط ثابت کر دکھایا اور یہ بھی کہا کہ قادیانی مربی نے ان عبارتوں میں سے کسی کے پہلے کی عبارت اور کسی کے بعد کی عبارت حذف کر دی ہے اور یہ بات دیانت کے محض خلاف ہے۔ پھر بتاریخ ۲۷؍محرم روز جمعہ موضع جنانگر کے جلسہ میں عصر سے مغرب تک مولانا کا بیان ہوا۔ آپ نے سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع تلاوت فرما کر قرآن مجید کا اعجاز بحیثیت فصاحت وبلاغت اور بحیثیت تعلیمات وہدایات بیان کر کے مرزاغلام احمد قادیانی کی اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کی حقیقت ظاہر کی اور القاء ربانی سے مرزاغلام احمد قادیانی کی ایک اردو عبارت سنا کر یہ کہا کہ جو شخص باوجود ہندی ہونے کے اردو عبارت لکھنے میں ایسی ایسی صریح غلطیاں کرے وہ شخص فصیح وبلیغ عربی کیا لکھ سکتا ہے؟ علمائے اسلام نے ان کی عربیت کی بھی پوری خبر لی ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! عنقریب اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا جواب شائع ہوگا۔ اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی عربیت کس پایہ کی ہے؟
پھر آپ نے آیت کریمہ:’’یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّٰ (آل عمران:۵۵)‘‘تلاوت فرماکر اس کا مطلب واضح طور پر بیان کر کے یہ کہا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا ’’توفی‘‘ کو موت ہی کے معنی میں منحصر سمجھنا محض غلط ہے۔ لغت میں ’’توفی‘‘ کے اصلی اور وضعی معنی، اخذ الشی وافیا۔ کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ہے، سلادینا۔ موت، تعداد، وصولی قرض، اٹھالینا اس کے انواع ہیں۔ (تفسیر کبیر ج۸ ص۷۲) میں صاف لکھا ہے کہ: متوفی کا لفظ صرف حصول توفی پر دلالت کرتا ہے اور توفی جنس ہے۔ اس کے تحت میں انواع ہیں۔ بعض موت کے ساتھ اور بعض آسمان پر اٹھائے جانے کے ساتھ۔ ’’متوفیک‘‘ کے بعد ’’رافعک الیّٰ‘‘ فرمانا تعیین نوع کے لئے ہے اس میں تکرار نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت میں توفی سے رفع مراد ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کا اس پر بڑا زور ہے کہحضرت ابن عباسq نے متوفی کی تفسیر ممیت فرمائی ہے۔ میں کہتاہوں کہ یہ تفسیر کس طرح
ہمارے مدعا کے خلاف نہیں ہے۔ اس لئے کہ (درمنثور ج۲ ص۳۶) میں بروایت صحیح حضرات ابن عباسq سے یہ ثابت ہے کہ آپ اس آیت میں تقدیم وتاخیر کے قائل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:’’رافعک الیّٰ ثم متوفیک فی آخرالزمان‘‘یعنی حضرت ابن عباسq اس آیت کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ میں آپ کو اٹھالینے والا ہوں اپنی طرف پھر آخر زمانہ میں (بعد نزول) آپ کو موت دینے والا ہوں۔
علاوہ اس کے مرزاغلام احمد قادیانی (ازالہ اوہام ج۲ ص۲۶۱، خزائن ج۳ ص۴۴۵) میں لکھتے ہیں کہ: ’’مات کے معنی لغت میں نام کے بھی ہیں۔‘‘ تو اس رو سے ’’اماتت‘‘ کے معنی سلادینا ہوا اور ’’ممیت‘‘ اور ’’اماتت‘‘ کا اسم فاعل ہے تو ’’ممیت‘‘ کے معنی ہوا سلا دینے والا۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰm سے فرماتا ہے کہ میں آپ کو سلادینے والا ہوں۔ پھر اپنی طرف اٹھالینے والا ہوں۔ (تفسیر خازن ج۱ ص۲۵۵) میں لکھا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰm کو نیند کی حالت میں اٹھالیا تاکہ آپ کو خوف لاحق نہ ہو۔ پس مرزاغلام احمد قادیانی کے بیان کی رو سے بھی اس آیت سے حضرت عیسیٰm کی موت ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں توفی کے معنی سلادینا ہی ہے۔ جو ’’ہو الذی یتوفٰی کم بااللیل (الانعام:۶۰)‘‘خدا وہ ہے جو تم کو سلادیتا ہے رات کو اور جب قرآن مجید میں توفی کے معنی سلادینا موجود ہے تو پھر متوفی کے معنی سلادینے والا لینے میں کون سا مانع ہے؟ مولانا کے اس بیان کو حاضرین جلسہ نے بہت جی لگا کر سنا اور بہت ہی محفوظ ومسرور ہوئے۔فجزاہ اللہ عنا وعن سائر المسلمین خیرالجزاء!
خدا کا شکر ہے کہ دونوں جلسے نہایت ہی کامیابی کے ساتھ ختم ہوئے۔ فقط!
المشتہران: عبدالعزیزخان، عبدالوحید خان عفی اللہ عنہما
۱۵؍جنوری ۱۹۱۴ء، مطابق ۱۷؍صفر۱۳۳۲ھ
مولانا عبدالوحیدؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
صحیفہ تبلیغیہ میں عبدالماجد قادیانی نے جو عنایت میرے حال پر فرمائی ہے۔ میں اس کا ممنون ہوں۔ اعلان حقانی میں حکم سے فیصلہ محض اس بناء پر چاہا ہے کہ میری حقانیت اور تحقیق نے مجھے یقین دلایا کہ آپ نے نہایت صریح امر حق کو پوشیدہ کرنا چاہا ہے اور محض غلط اور باطل باتوں کو عوام کی نظر میں عمدہ اور حقانی دکھانا چاہا ہے۔ اس لئے میری خیرخواہی کا تقاضا یہ ہے کہ عوام پر اسے ظاہر کردوں۔ اس کی سبیل اس سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتی کہ جلسہ میں حکم کے روبرو اس کا اظہار ہو اور جو حضرات خود رسالہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کر سکتے اور ان کی غلطیوں اور قصدی فروگزاشتوں پر واقف نہیں ہوسکتے۔ (اور اکثر ایسے ہی حضرات ہیں) وہ بھی سمجھ لیں اور امر حق سب پر ظاہر ہو جائے۔ چونکہ مجھے مسلمانوں کی خیرخواہی منظور ہے۔ اس لئے مجھے اس میں بھی عذر نہیں کہ آپ کا کوئی شاگرد سامنے آئے۔ مگر اس قدر لیاقت رکھتا ہو کہ اگر کوئی علمی بات آجائے تو سمجھ سکے فیصلہ آسمانی اور القاء میں جو کچھ ہے اسے بھی سمجھتا ہو۔ اگر آپ کا کوئی شاگرد ایسا ہو جو ان امور کی قابلیت رکھتا ہو اور میں بھی اسے جلسہ میں جانچ لوں اور وہ آپ کی طرف سے وکیل ہو۔ یعنی اس کا عجز آپ کا عجز ہو تو بسم اللہ میں حاضر ہوں۔ اب دیر نہ ہونا چاہئے اور حضرت مؤلف (آسمانی فیصلہ) عم فیضہم کی نسبت میں زیادہ نہیں کہتا۔ صرف اس قدر کہتا ہوں کہ جناب خلیفۃ المسیح اپنے سکوت کا جو عذر پیش کر سکتے ہیں یا آپ کے خیال میں ہو وہی یہاں بھی سمجھ لیجئے۔ زیادہ گفتگو نہ کیجئے۔ الراقم: عبداللطیف رحمانی
اعلان حقانی میں یہ کہا گیا تھا کہ القاء واقعی فیصلہ آسمانی کا اگر جواب ہے تو عبدالماجد قادیانی مصنف القاء نے اس ایک ہزار روپے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جس کا فیصلہ کے جواب لکھنے پر وعدہ کیاگیا تھا؟ اس سے کافی شہادت اس امر کی ملتی ہے کہ قادیانی مربی کے نزدیک بھی القاء فیصلہ کا جواب نہیں ہے۔ گو عوام کے دکھلانے کو القاء پر لکھ دیا گیا ہے کہ فیصلہ آسمانی کا جواب ہے اور اگر قادیانی مربی موصوف کو دیانتاً اپنے جواب پر کامل وثوق ہے
تو اس کے لئے طرفین سے حکم مقرر ہو جو یہ فیصلہ کرے کہ فیصلہ آسمانی کا یہ جواب ہے یا نہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ قادیانی جماعت زبانی تو بہت کچھ باتیں بناتی ہے اور کاغذی اوراق دستے کے دستے سیاہ کر ڈالتی ہے۔ لیکن حکم کے سامنے آنے کی جرأت نہیں کرتی۔ چنانچہ (صحیفہ تبلیغیہ نمبر:۱ ص۷) میں بھی قادیانی مربی موصوف نے حکم کے سامنے آنے سے گریز کیا۔
وہ اسی کے (ص۵ سطر۹) میں لکھتے ہیں: (کسی حکم کے ہونے کی ضرورت نہیں) میں کہتا ہوں کہ اس کا فیصلہ بلاحکم کے ہو نہیں سکتا۔ اس لئے کہ فریقین میں جب نزاع ہو تو کوئی فریق اپنے دعوے کو خلاف راستی نہیں کہتا بلکہ ہر فریق اپنے کو راہ مستقیم پر سمجھتا ہے اور حکم ہی ان دونوں میں حق وباطل کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر قادیانی مربی منشی قاسم علی قادیانی کے فیصلہ کے بعد غالباً بہت خائف ہو گئے ہیں۔ خصوصاً عبدالماجد قادیانی کے سامنے نہ آنے کی یہ بھی وجہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ القاء میں بہت کچھ حوالوں اور نقل میں دیدہ ودانستہ کتربیونت اور بددیانتی کی گئی ہے اور اب کسی مرزائی کو اہل حق کے سامنے آنے کی ہمت وجرأت نہیں ہوتی اور ظاہر ہے کہ اہل ہویٰ کبھی اہل حق کے سامنے نہیں آسکتے اور قادیانی مربی کا گریز اس کی روشن شہادت ہے۔
ناظرین! یہ ہر شخص کا اعتقاد ہے کہ حق بات کا کچھ جواب نہیں ہوسکتا اور جوامر قرآن، حدیث، اقوال صحابہi اور ائمہw اور تمام سلفw کے اتفاق سے ثابت ہے وہ بلاشبہ حق ہے اور چونکہ فیصلہ آسمانی میں جو بات لکھی گئی ہے وہ ایسی ہی ہے جس کی شہادت قرآن وحدیث وصحابہi اورائمہ اور سلف صالحینw نے دی ہے۔ اس لئے اگر یہ کہاگیا کہ وہ لاجواب ہے تو اس میں کسی مسلمان کو کیا تردد ہوسکتا ہے؟ باقی رہا قادیانی مربی کا یہ فرمانا کہ اس میں سو سے زائد غلطیاں ہیں۔ اسی کے لئے تو میں چاہتا ہوں کہ مربی صاحب حکم مقرر کر کے اس کو ثابت فرمائیں۔ ورنہ محض کہنے یا لکھنے سے تو کام نہیں چلتا۔ ’’ان کنتم فی ریب فادعوا شہداء کم ان کنتم صادقین فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا‘‘جس وقت مقابلہ ہوگا اس وقت روشن ہوجائے گا کہ ان غلطیوں کے بیان میں قادیانی مربی نے کس قدر غلط بیانیاں کی ہیں اور عوام کو دھوکہ دیا ہے؟ ناظرین! قادیانی مربی کا مرزاغلام احمد قادیانی کی محبت میں یہ حال ہوگیا ہے کہ اب ان کو وہ مضامین بھی نظر نہیں آتے جوکلام پاک میں کثرت سے جابجا وارد ہیں۔ کیا قادیانی مربی ایمان سے خدا کو
حاظرناظر جان کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ ارشاد خداوندی نہیں ہے۔
شاید قادیانی مربی کو یہ دھوکہ ہوا ہے کہ وہ بعینہٖ ان الفاظ کو قرآن کے الفاظ سمجھتے ہیں۔ بے شک یہ الفاظ بعینہٖ قرآن میں نہیں ہیں لیکن فیصلہ میں یہ نہیں کہاگیا بھلا یہ تو فرمائیے کہ ’’یعد ولا یوفی‘‘ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیv کے کہاں لکھا ہے جو آپ کے خلیفہ اور ان کے پیرو، ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ پھر ایسی حالت میں کیا قادیانی مربی کا یہ کھلا اور ظاہر جھوٹ نہیں؟ ہاں! ذرا یہ تو فرمائیے کہ فیصلہ آسمانی میں یہ کہاں ہے کہ:’’اذا اراد اللہ شیئاً فیقول لہ کن فیکون‘‘ہرگز ہرگز فیصلہ میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ یہ آپ کا سفید جھوٹ ہے اگر آپ فیصلہ آسمانی میں اس طرح پر دکھلادیں تو بیس روپے لیں۔ ورنہ اپنے کذب کا اقرار کریں۔ ہاں! ذرا اس کا بھی جواب دیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی (ضرورۃ الامام ص۵) میں لکھتے ہیں: ’’قرآن شریف میں فرمایا گیا: ’’وکانوا یستفتحون من قبل‘‘ فرمائیے اس طرح پر قرآن شریف میں کہاں ہے؟ ہرگز ہرگز اس طرح پر قرآن شریف میں نہیں ہے۔‘‘
پھر (ضرورۃ الامام ص۳۱) میں لکھتے ہیں: اسی طرح اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:’’ اللہ یعلم حیث یجعل رسالۃ‘‘ اس طرح پر قرآن مجید میں ہرگز نہیں ہے۔ غرضیکہ ان چار غلطیوں کا جواب قادیانی مربی تجویز کریں۔ وہی جواب ادھر سے بھی سمجھ لیں۔ اسی صحیفہ کے ص۲ میں قادیانی مربی لکھتے ہیں۔ اب مونگیر بھاگلپور میں سلسلہ احمدیہ کی ترقی دیکھ کر خدا جانے ان کوکیا خیال ہوا اور کس مصلحت سے مخالفت پر کمربستہ ہوگئے۔
یہاں تو قادیانی مربی بہت ہی بھولے اور انجان بن گئے۔ اے جناب مصلحت اور خیال اگر آپ کو نہیں معلوم تو مجھ سے سنئے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اربعین میں مولانا مدظلہ کو مخاطب تو کیا مگر کتاب نہیں بھیجی۔ جب مونگیر میں یہ فتنہ پھوٹ پڑا اور مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں پر نظر پڑی تو اس کا ابطال شروع کر دیا گیا اور اہل حق کا ہمیشہ سے یہ کام رہا ہے اور یہی شارعm کا حکم ہے کہ ضلالت اور بدعت کی دنیا میں جب اشاعت اور ترقیہو تو ہمہ تن وہ اس کی مخالفت کریں اور اس کے مٹانے کی کوشش کریں۔ نہایت افسوس کی بات ہے
کہ آپ اتنا بھی نہیں جانتے یا دیدہ ودانستہ بھولے بنتے ہیں۔ قادیانی مربی نے صحیفہ میں یہ بھی شکایت کی ہے کہ جناب مسیح کی حیات کے متعلق کچھ نہیں لکھا گیا۔ واقعی یہ شکایت آپ کی بجا ہے۔ لیکن وجوہ ذیل سے آپ کی اس خواہش کو پورا کرنے سے معذوری ہوئی۔
۱… مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ مسئلہ محض عوام کے فریب دہی کے لئے چھیڑا ہے۔ جس کو مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ سے تعلق نہیں ہے۔ یعنی اگر ممات مسیح ثابت بھی ہو جائے تو محض اس سے مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی کو اس کے بعد بھی اپنے دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوگی۔ پھر ایسی حالت میں ایسے بے تعلق مسئلہ میں پڑنا بے سود سمجھا گیا۔
۲… جب مرزاغلام احمد قادیانی خود اپنے قول کے مطابق اپنے دعویٰ میں کاذب ٹھہرے تو ایسی حالت میں کسی ذی عقل کو دوسری طرف توجہ کی ضرورت نہیں بلکہ محض ان کے اقوال ہی کا (یعنی جھوٹی پیشین گوئی) کا نقل کر دینا کافی ہے اور اسی بناء پر فیصلہ آسمانی میں مرزاغلام احمد قادیانی کی تکذیب کا معیار ان ہی کی پیشین گوئی کو قراردیا ہے اور یہ محض اس لئے کہ قادیانی جماعت کو پھر حجت باقی نہ رہے۔ کیونکہ ان کے مقتداء کا قول ان کے لئے نہایت تشفی بخش ہوگا۔ یہ اسلوب فیصلہ آسمانی میں محض مرزائی جماعت کی اور آپ کی خاطر اختیار کیاگیا اور یہ بھی لحاظ کیاگیا کہ ایسی بات ہو جسے عوام بھی سمجھ لیں کہ واقعی مرزاغلام احمد قادیانی خود اپنے اقرار سے کاذب ہیں۔
۳… مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹیv نے ’’شہادۃ القرآن‘‘ نہایت عمدہ اور محقق رسالہ عرصہ ہوا مرزاغلام احمد قادیانی کے سامنے ہی اس بارہ میں لکھ کر شائع کیا ہے۔ اس میں دو باب ہیں۔ پہلے باب میں صرف قرآن مجید سے حضرت مسیح کا زندہ اٹھایا جانا اور ان کا زندہ رہنا ثابت کیا ہے۔
دوسرے باب میں ان دلیلوں کو غلط ثابت کیا ہے جن سے مرزاغلام احمد قادیانی نے ممات مسیح ثابت کی تھی۔ مگر نہ مرزاغلام احمد قادیانی کی خود ہمت ہوئی اور نہ اس وقت تک کسی مرزائی نے اس کا جواب دیا۔ مولوی صاحب ممدوح مونگیر میں تشریف لائے اور نہایت دعوے کے ساتھ وعظ میں حیات مسیح کو ثابت کیا۔ مگر کسی کی جرأت تو نہیں ہوئی کہ سامنے آکرکچھ کہتا۔ اس وقت عبدالماجد قادیانی بھی مونگیر میں موجود تھے۔ جب ایک عمدہ صحیح رسالہ اس
بحث میں موجود ہے اور برسوں سے شائع ہورہا ہے اور اس کے مصنف نے خاص مونگیر میں مرزائیوں کے نہایت قریب اس کے مضمون کو بیان کیا اور سامنے آنے کی کسی مرزائی کو جرأت نہ ہوئی تو نہایت ظاہر ہے کہ اب اس بحث میں کچھ لکھنا فضول ہے۔ پہلے اس کا جواب دیجئے پھر کچھ زبان سے نکالئے۔
قادیانی مربی صاحب! اگر فیصلہ آسمانی سے بالفرض پانچ چھ لاکھ کے دل دہلے ہیں تو یاد رہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریر اور دعاوی اور انبیاء کی توہین اور خدا اور رسول پر افتراء کرنے سے روئے زمین کے تینتیس کروڑ مسلمانوں کے دل ہلے اور آسمان وزمین میں لرزہ پڑ گیا۔ اس کے بعد آپ نے جو کچھ ایک بزرگ کی شان میں بے ادبی کی اور ایک معمولی شخص سے بہت کچھ کرائی۔ اس کی وجہ سے جس قدر مسلمانوں کو صدمہ پہنچا ان کی تعداد مرزاغلام احمد قادیانی کے مریدوں سے بہت زیادہ ہے۔ جن میں علماء کثرت سے ہیں۔
افسوس ہے کہ اس کا آپ کو خیال نہ ہوا، اور چند مٹھی بھر جماعت کا خیال کیا، جن کی تعداد محض غلط آپ پانچ لاکھ بیان کرتے ہیں۔ قادیانی مربی صاحب! اگر آپ اپنے اس دعوے میں صادق ہیں کہ وحی الٰہی اور دیگر شواہدات اور بالخصوص حضورپرنور محمد مصطفیa کی شہادت نے مرزاقادیانی ہی کو اس منصب کے لئے متعین کیا ہے تو مہربانی فرماکر اسے ثابت کیجئے اور بس اسی پر قصہ ختم ہے اور فیصلہ ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آپ کبھی ثابت نہ کر سکیں گے اور نہ آپ کی جماعت نے کبھی ثابت کیا ہے۔ اوراق سیاہ کرنے کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ معیار صداقت میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو ماننے سے خدا اور رسول کو چھوڑنا ہوگا۔ اگرچہ بالکل صحیح ہے جس پر ہر مسلمان کا دل گواہ ہے۔ لیکن اس رسالہ نے قادیانی جماعت پر البتہ بڑا ستم کیا ہے اور اس کے حق میں زہر ہلاہل کا حکم رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کے نورانی صفات سے ان کے دجل کی سیاہی کا پردہ چاک ہوگیا۔ رہا لارڈ ہیڈلی کا اسلام لانا، ان شاء اﷲ تعالیٰ! بہت جلد ناظرین اس کی حقیقت سے بھی واقف ہوجائیں گے کہ ان کے اسلام کی بنا محض ان کی اپنی تحقیقات ہے۔ تقریباً وہ بیس برس سے مسلمان ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی تو اب گئے ہیں ان کا کچھ اثر ان پر نہیں ہوا اور کیوں مولانا یہ تو فرمائیے کہ لارڈ ہیڈلی کے قبل جو اسلام لائے ہیں اس میں کس کی سعی ہے۔ کیا وہ بھی قادیانی جماعتہی کی طرف منسوب ہے؟ اور جاپان میں جو لاکھوں مسلمانوں کی تعداد ہوگئی ہے وہاں بھی کوئی
قادیانی پہنچا ہے؟ ذرا شرم کیجئے اور بے پرکی نہ اڑائیے۔ اس صحیفہ میں قادیانی مربی لکھتے ہیں کہ ہم نے پانچ خط حضرت قبلہ عالم مولانا محمد علی صاحب عم فیضہم کی خدمت میں لکھ کر مصنف فیصلہ آسمانی کا نام دریافت کیا۔ لیکن حضرت ممدوح نے اپنا نام ظاہر نہیں فرمایا۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اس الف لیلہ کے قصہ سے قادیانی مربی کی کیا غرض ہے؟ اے حضرت! آپ کو مصنف کے نام کے دریافت کا کیا حق ہے اور آپ دریافت کرنے والے ہوتے کون ہیں اور ہم کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایسے جعفر زٹلی کی تحریر کا جواب دیں؟ اسی بناء پر ممکن ہے کہ حضرت ممدوح نے اس طرف توجہ نہ فرمائی ہو۔
قادیانی مربی صحیفہ میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ نصرت یزدانی اور برق آسمانی موجب ازدیاد مادہ طاعون ہوچکا تھا۔ قادیانی مربی یہ تو آپ نے بہت ہی صحیح فرمایا۔ ناظرین! ذرا اس طرف متوجہ ہو جائیے اور اسے خوب یاد رکھئے کہ اب بقول قادیانی مربی بھی قادیانی جماعت کی کتابیں مسلمانوں کے حق میں مادہ طاعون ہیں۔ پھر کیا مسلمانوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ اس وبا اور طاعونی بلا کی سیاہی کو دور کریں اور کثرت استغفار اور لاحول سے اس کثافت ونجاست سے صفائی اور پاکی حاصل کریں۔ مربی صاحب! ایک مولوی ابوالحسن مرحوم کیا ہزاروں ہزار اہل اسلام کے لئے آپ کی جماعت کی کتابیں اور تحریریں غم وہم کا باعث ہوئیں۔ بھلا کون خداپرست دیندار ہوگا جس کا دل حضرت مسیحm اور حضرت سید الشہداء جناب امام حسینq کی توہین سے پاش پاش نہ ہو جائے گا اور اس کو سن کر مر نہ جائے گا؟ کیا عجب ہے کہ اسی بناء پر مرزائی جماعت کو مسیحm کی موت کا یقین ہوگیا ہے کہ مولوی ابوالحسن کی طرح اس مادہ طاعونی نے حضرت مسیح پر بھی اثر کیا ہے۔ مسیح کاذب کے مصنف کی اس پیشین گوئی کی تصدیق کہ آپ فیصلہ کا جواب نہیں دے سکتے۔ آپ کے القاء سے پوری ہوگئی۔ کیا القاء کے دیکھنے کے بعد بھی کسی انصاف پرست کو اس میں شک رہے گا کہ فیصلہ کا جواب آپ کی طاقت سے باہر ہے؟ اور کچھ کم دوسال کی مدت تک قادیانی جماعت کے تمام افراد نے سر سے پیر تک زور لگایا اور ناکوں پسینہ آیا۔ لیکن اب تک ان سے جواب نہ ہوسکا۔
ناظرین! معلن اعلان حقانی نے اگر حکم کے ذریعہ سے فیصلہ چاہا تو اس میں نہ کوئیشرعی جرم ہے نہ عقلی، نہ عرفی، پھر معلوم نہیں کہ عبدالماجد قادیانی کس لئے اس پر اس قدر برا فروختہ اور غضب ناک ہوکر ناظرین صحیفہ سے دریافت فرماتے ہیں۔کیوں ناظرین معلن
صاحب کون ہوتے ہیں؟ قادیانی مربی آپ کے ناظرین صحیفہ معلن صاحب کو نہیں بتاسکتے۔ ان کی ہم سے پوچھئے اور ان کی حالت ہم سے سنئے۔ جناب مولانا مفتی عبداللطیف صاحب معلن اعلان ان اہل کمال اور ارباب فضل سے ہیں جن کی نظیر اس زمانہ میں بہت کم ہے۔ جن کے حلقہ درس سے سینکڑوں طلبہ سند فضیلت پاکر آج مسند درس پر ممتاز ہیں۔ اسی صوبہ بہار میں بہت علماء ہیں جنہوں نے مولانا ممدوح کے دامن فیض میں تربیت پائی ہے اور معقول تنخواہ پاتے ہیں۔ علامہ ممدوح عرصہ تک ندوۃ العلماء میں جہاں بڑے بڑے علماء کا مجمع تھا مفتی تھے اور ان ہی کا فتویٰ جاری تھا اور اسی کے ساتھ دارالعلوم ندوہ میں طلبہ کو تعلیم بھی دیتے تھے۔ اس کے بعد مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں عرصہ دراز تک صدر مدرس رہے۔ جہاں قاذان، روس، بخارا، حجاز، کوفہ، بصرہ، ہندوستان وغیرہ کے طلبہ ان سے مستفیض ہوتے رہے اور اس وقت تک جناب مفتی صاحب کے لئے ہر طرف سے طلبی کے خطوط آرہے ہیں اور اہل مدارس نہایت متمنی ہیں اور سوروپے مشاہرے دیتے ہیں۔ لیکن مفتی صاحب نے ان تمام پرخاک ڈال کر حضرت قبلہ عالم جناب مولانا سید محمد علی صاحب (مونگیری) کے فیض صحبت کو اپنے لئے فلاح دارین سمجھا اور اپنا سرمایہ سعادت جانا اور اسی لئے وہ اب اس آستانہ عالی پر پڑے ہوئے ہیں اور عبدالماجد قادیانی تو شاید اردو، فارسی اور کچھ معمولی عربی پڑھانے کے لئے پچاس ساٹھ روپے پاتے ہیں جس سے زیادہ مفتی صاحب کے شاگرد پاتے ہیں۔
اب ناظرین انصاف فرمائیں کہ عبدالماجد قادیانی کی یہ بے نیازانہ اداء اور یہ دریافت فرمانا کہ معلن صاحب کون ہیں۔ کیسی غضب کی بات ہے؟ اور اس پر طرۂ یہ ہے کہ جناب مفتی صاحب کے سامنے آتے ہوئے انہیں حجاب اور شرم آتی ہے اور اس کے لئے اپنے شاگرد کو پیش کرنے کو فرماتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا قادیانی مربی نے آج تک کسی مدرسہ میں تعلیم دی ہے یا نہیں اور اردو، فارسی اور کچھ عربی کے سوا تمام کتب درسیہ پڑھائی بھی ہیں یا نہیں؟ اگر قادیانی مربی کو اس کا ادّعاء ہے تو وہ مہربانی فرماکر ان شاگردوں کا نام تو لیں جو آپ کے حلقہ درس سے سند فراغ حاصل کر چکے ہیں۔ اگر ہماری واقفیت میں غلطی نہ ہوتو میں کہہ سکتا ہوں کہ قادیانی مربی ایک شاگرد بھی ایسا نہیں پیش کر سکتے۔ ہاں!کہنے اور لکھنے کے لئے میدان نہایت وسیع ہے۔ مگر عمل کی جگہ صفر ہے۔ ہاں! قادیانی مربی ایک بات مجھے اور آپ سے عرض کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ حضرت قبلہ عالم جناب مولانا
سید محمد علی صاحب سے مباحثہ کے آرزومند ہیں اور ہم نہیں سمجھتے کہ اس سودائے خام کا منشاء کیا ہے؟ شاید آپ کا خیال ہوگا کہ جس طرح آفتاب عالمتاب کی شعاعوں سے ذرات چمکنے لگتے ہیں۔ ایسے ہی آپ بھی اس فضل وکمال اور صلاح اور تقویٰ زہدوورع کے آفتاب کی چمکتی دمکتی شعاعوں سے ذرات کی طرح چمک اٹھیں گے ؎
این خیال است و محال است و جنون
ہمیں تعجب ہے کہ آپ باجودیکہ حضرت مولانا ممدوح کے رفعت شان اور علوء مقام سے واقف ہیں کہ آج جناب ممدوح کے فیوضات ظاہری اور باطنی سے تمام اہل ہند بلکہ اہل عرب، عجم، چین، وقاذان وغیرہ مالامال ہیں اور اس وقت یہی ایک آفتاب ہدایت ایسا ہے۔ جس کے کمالات ظاہری وباطنی کی شعاعوں سے دنیا اکثر حصہ منور ہے۔ آپ کے رشدوہدایت وفیوض وبرکات کی مثال کے لئے یہ کہنا کافی ہے کہ آپ کے حلقہ ارادت کا دائرہ مشرقی بنگال چاٹگام سے لے کر احاطہ بمبئی تک اور کابل وغزنی سے افریقہ اور حجاز (بہت تھوڑے دن گزرے ہیں کہ مسجد الحرام مسجد نبوی کے نہایت معزز امام اور خطیب ابوبکر حماد مرید ہوکر گئے ہیں اور ان کے خطوط آتے ہیں) عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ خصوصاً اضلاع پٹنہ ومونگیر وگیا وبھاگلپور مظفرپور ودربھنگہ وپورنیہ وغیرہ وغیرہ میں بہت ہی کثرت آپ کے حاشیہ برداروں کی ہے اور خدا کے فضل سے ان کا تدین وتورع اس پر فتنہ زمانہ کے باوجود بہت ہی غنیمت ہے۔ ان مقامات میں نظر اٹھا کر دیکھئے کہ وہاں کے مسلمانوں کی اصلاح جس خوشاسلوبی سے کی گئی اس کی مثال ہمارے پیش نظر نہیں معلوم ہوتی۔ سینکڑوں شرابی ونشہ باز وبے نمازی ہزاروں آوارہ منش جن کی عمر فسق وفجور وحرکات شنیعہ میں صرف ہوئی اور ان کی اوقات منہیات وملاہی میں صرف ہوئی۔ وہ حلقہ ارادت میں آتے ہی کیسے دیندار ہوگئے اور کس قدر پابند شریعت بن گئے اور ان میں کیسی صلاحیت پیدا ہو گئی کہ ان کی اگلی حالت پر نظر کرنے سے غرق حیرت ہونا پڑتا ہے اور ان ہی علاقوں میں طرح طرح کے شرک اور رسوم بدعت کا بازار گرم تھا اور ان کی تعزیہ پرستی جو نہایت تشدد کے ساتھ تھی اور وہ اس میں ایسےمنہمک اور مستعد تھے کہ ان مراسم اور دوسرے فضولیات مروجہ کے روکنے والے اور منع کرنے والے واعظین اور مولویوں کو برابھلا کہہ کر اپنے گاؤں میں ٹھہرنے نہیں دیتے تھے اور ان کی
باتیں سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ اب ان کی حالت ناگفتہ بہ کی کیسی کایا پلٹ ہوگئی؟ اور ماشاء اللہ ان بدعات وفضولیات سے سچے تائب ہوکر راہ راست پر آگئے اور اچھے خاصے دیندار بن گئے۔ یہ ہے آپ کی توجہ کاملہ کا اثر اور آپ کی اسلامی تعلیم کا نتیجہ۔
آج حضرت مولانا کے حلقہ بگوشی میں بڑے بڑے نامی اور مقتدر صاحب فضل وکمال داخل ہیں جو کہ اپنی اپنی جگہ پر بجائے خود مقتداء اور مجدد وقت ہیں۔ مولانا حکیم عبدالباری صاحب مرحوم جو مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور جن کی نسبت مولانا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی شخص ایسا ذہین اور مستعد ہمارے حلقہ درس میں نہیں آیا اور غالباً آپ کو بھی اس سے انکار نہ ہوگا۔ پھر دیکھئے کہ آخر میں حکیم صاحب مرحوم کس ذوق وشوق سے خدام حضرت والا کے حلقہ میں داخل ہوئے اور اس کو اپنا سرمایہ سعادت سمجھا۔ اب ایسی حالت میں آپ کی ایسی جرأت اور دلیری کا باعث اندرونی تاریکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ علاوہ اس کے ایسی خواہش کا آپ کو کیا حق ہے؟
فیصلہ آسمانی میں علامہ ممدوح (حضرت مونگیریv) نے خلیفہ جی نورالدین قادیانی کو اصل مخاطب بنایا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ خلیفہ قادیانی مولوی نورالدین ساکت ہیں۔ آپ اگرچہ چند اوراق سیاہ کر کے پانچویں سواروں میں داخل ہو گئے۔ مگر قادیانی خلیفہ نے تصدیق کیوں نہ کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بددیانتیوں کی شہادت ان کا دل بھی دے رہا ہے۔ باقی رہا آپ کا یہ فرمانا کہ فیصلہ اور القاء کو پڑھو جس سے معلوم ہوگا کہ مرزاقادیانی کی پیشین گوئی منہاج نبوت پر پوری ہوئی۔ وغیرہ وغیرہ!
جناب والا! اسی لئے تو آپ سے گزارش ہے کہ القاء کے مضامین کو حکم کے سامنے پیش کیجئے تو اس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ اپنے اس دعویٰ میں کہاں تک صادق ہیں اور فیصلہ آسمانی کو آپ نے سمجھا ہے یا نہیں؟ مرزاقادیانی کے معیار پر جن مدعیان نبوت کو فیصلہ میں موٹے حرفوں سے لکھ کر پیش کیا ہے۔ جب وہی آپ کو نظر نہیں آئے تو اس کے مضامین عالیہ ودقیقہ تک آپ کے ذہن نارسا کی رسائی معلوم؟ اور اس پر ادّعاء یہ کہ ہم خود مصنف سے مباحثہ کریں گے۔ سچ ہے ؎
بے حیاء باش ہرچہ خواہی کن
مولانا عبدالعزیزؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اسلام وہ سچا اور مقدس مذہب ہے جس نے راست گوئی اور صداقت کو اپنا شعار بتلایا ہے اور اس کے بانیk نے صاف طور سے کہہ دیا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ اب جو شخص یا جو گروہ جھوٹ کو اپنا شعار بنائے اور جھوٹ بول کر اور خلاف واقع بات کو مشتہر کر کے اپنا فروغ چاہے۔ اسے اپنے آپ کو مسلمان کہنا اسلام کے لئے نہایت عار ہے۔ اسلام میں اور دروغگوئی میں ایسا تباین اور مخالفت ہے کہ ایسے شخص کو اور ایسے گروہ کو سچے مسلمان اور اس کے پاک مذہب نے بے تأمل کہہ دیا کہ مسلمان نہیں ہیں۔
اس وقت جو ایک جدید گروہ مرزاقادیانی کا پیدا ہوا ہے جس نے ۳۳کروڑ مسلمانوں کو کافر بناکر اپنے چند ہزار شخصوں کا نام مسلمان رکھا ہے جن کے چند اشخاص مونگیر وبھاگلپور میں بھی نظر آتے ہیں یہ غل مچارکھا ہے کہ لارڈ ہیڈلے خواجہ کمال الدین مرزائی کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور اس دروغ کے اعلان میں اشتہار بھی دیا ہے۔ ایسے معزز اور مشہور شخص کا تبدیل مذہب ایسا نہیں ہے کہ اس کی واقعی حالت پوشیدہ رہے اور کوئی ناراست گو اپنے یا اپنے گروہ کے لئے اپنے فخر ومباہات کا ذریعہ قرار دے۔
لارڈ موصوف کے اسلام لانے کی حالت انگریزی اخبارات اور لندن کے خطوط سے ظاہر ہوئی ہے کہ لارڈ موصوف بیس برس سے مسلمان ہیں اور صرف اسلامی عقائد ہی نہیں رکھتے بلکہ اسلامی نماز بھی پڑھتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی تو اب گئے ہیں پھر یہ کہنا کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کی وجہ سے وہ مسلمان ہوئے، کیا صریح جھوٹ ہے؟ لارڈ موصوف کی تحریر سے ظاہر ہے کہ ان کا مسلمان ہونا کسی مسلمان کی ترغیب اور اثر کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خود ان کی تحقیق اور کتب بینی کا نتیجہ ہے۔ ۲۰؍دسمبر۱۹۱۳ء کے کامریڈ میں لارڈ موصوف کا یہ جملہ موجود ہے کہ خواجہ کمال الدین نے مجھ پر ذرا سا بھی اثر ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ ۹؍دسمبر
۱۹۱۳ء کے انگریزی اخبار ڈیلی نیوز نے لارڈ موصوف کے اظہار اسلام کی کیفیت اس طرح لکھی ہے۔
لارڈ ہیڈلی یہ پانچواں بیرن ہے۔ (بیرن ایک معزز عہدہ کا نام ہے) اس خطاب کا جس کو کہ یہ عالی عہدہ (پیرج کا) سال گزشتہ کے جنوری میں ملا ہے۔ بعد مرجانے چچیرے بھائی کے وہ مسلمان ہو گئے ہیں اور ان کے مسلمان ہونے کی خبر انجمن ملت اسلام لندن کے سالانہ ضیافت کے روز جس میں خود لارڈ ہیڈلی شریک تھے مشتہر کی گئی۔ لارڈ ہیڈلے نے جو اپنے مسلمان ہونے کی بابت اس جلسہ میں کہاوہ یہ ہے۔
’’عام طریقہ سے مجھے مذہب اسلام کے اختیار کرنے کی اشاعت کرنے میں یہ کہنا ضرور ہے کہ میں اپنے ان عقائد اسلامیہ سے جس کو میں نے بیس برس سے اختیار کر رکھا ہے علیحدہ نہیں ہوسکتا۔ لارڈ ہیڈلے نے عندالملاقات کسی سے اپنے مسلمان ہونے کے بارہ میں یوں کہا ہے۔‘‘
’’جب کہ انجمن اسلامیہ کی طرف سے مجھ کو اس شب کے کھانے کی دعوت دی گئی۔ میں نے کہا کہ مجھے از حد خوشی ہوگی کہ میں اس میں شرکت کروں اور ان کے ممبران پر خود جاکر ظاہر کروں کہ مجھے ان کے مذہب سے کیسی گہری الفت ہے۔ میں نے ابھی تک کوئی کارروائی عملی طریقہ سے نہیں کی ہے کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ میں چرچ آف انگلینڈ کی (یعنی وہ مذہب جو ولایت میں جاری ہے اور سلطنت برطانیہ کا مذہب ہے) ممبری سے کنارہ کش ہوا اور جس مذہب میں یا جس مذہب کے طریقہ پر میری تعلیم وتربیت ہوئی تھی اور نہ ہم نے رسماً کوئی اعلان ایجاب دین اسلام کا کیا ہے۔ تاہم مذہب اسلام پر میرا عقیدہ ہے۔ میرے مذہب عیسائی کے چھوڑنے کا باعث زیادہ تر تعصب سے ان لوگوں کو ہوا ہے جو اپنے کو عیسائی کہتے ہیں۔‘‘ دسمبر ۱۹۱۳ء کے مسلم انڈیا میں لارڈ ممدوح کی تحریر چھپی ہے اور اس میں لکھا ہے:
’’یہ ممکن ہے کہ میرے بعضے احباب خیال کرتے ہوں کہ مجھ پر مسلمانوں کا اثر پڑاہے۔ مگر یہ بات نہیں ہے کیونکہ میرا موجودہ خیال صرف میری مدتوں کے خیال کا نتیجہ ہے۔
میری اصلی گفتگو تعلیم یافتہ مسلمانوں سے مذہب کے بارے میں چند ہفتہ گزرے کہ شروع ہوئی اور کیا مجھے اس کے کہنے کی ضرورت ہے کہ مجھ کو یہ دیکھ کر کہ میرے کل اصول ونتائج پورے طور سے اسلام کے مطابق ہیں۔ بہت خوشی ہوئی، میرے دوست خواجہ کمال الدین مرزائی نے مجھ پر ذرا سا بھی اثر ڈالنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔‘‘ ان اخباروں سے نہایت صفائی سے ظاہر ہوگیا کہ لارڈ ہیڈلے کے مسلمان ہونے میں خواجہ کمال مرزائی کو کچھ دخل نہیں ہے۔ البتہ خواجہ کمال مرزائی نے اور ان کے ہم خیال اہل اخبار وغیرہ نے ہندوستان میں ایسی باتیں بنائی ہیں جن سے مسلمان متأثر ہوں اور مرزائی باطل مذہب کی طرف ان کا عمدہ خیال ہو۔
شاہ نعمت اللہ صاحب رئیس مونگیر عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں۔ حضرت اقدس مولانا سید ابواحمد رحمانی نے ان سے لارڈ موصوف کی حالت دریافت کی تھی۔ تاریخ ۱۸؍جنوری ۱۹۱۴ء کو ان کا خط آیا۔ وہ لکھتے ہیں: The London… لارڈ ہیڈلے کے بارے میں حضور نے جو دریافت فرمایا ہے اس کی حقیقت میرے خیال میں یہ ہے کہ مرزاغلام احمد (قادیانی) کا غالباً ابھی تک نام بھی انہوں (لارڈ ہیڈلے) نے نہیں سنا ہے۔ وہ آدمی بہت معقول وسنجیدہ ہیں۔ تعلیم بھی ان کی بہت اچھی ہوئی ہے اور فقط اسلام کی خوبیوں سے محو ہوکر مسلمان بالاشتہار ہوگئے ہیں۔ ہم نے ان سے ایک دفعہ کہا کہ نماز میں سجدہ وغیرہ میں آپ کو دقّت ہوتی ہوگی۔ اس کا جواب دیا کہ آج سے بیس سال سے ہم روزانہ اسی طور سے عبادت کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوگا کہ خواجہ کمال الدین (مرزائی) کے آنے کے بیس سال قبل سے وہ مسلمان ہیں۔ انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کی وجہ یہاں اخباروں میں لکھی تھی اور صاف طور سے کہا ہے کہ بغیر کسی کے ترغیب دلائے ہوئے فقط کتابی معلوماتسے وہ مسلمان ہوئے ہیں۔ یہاں ایک بزرگ لیڈی کبولڈ Lady Qwlyn Cobbow of London نام سے مشہور ہیں۔ ہم سے ان کی عرصہ سے ملاقات ہے اور وہ یہاں کے معزز خاندان سے ہیں۔ ان کا خاندان لارڈ ہیڈلے سے زیادہ معزز یہاں سمجھا جاتا ہے اور ماشاء اللہ وہ پورے مسلمان ہیں۔ کلام اللہ شریف کا اکثر حصہ ان سے ازبر (زبانی) سن لیجئے اور عربی بھی بولتی ہیں۔ خواجہ کمال مرزائی نے ہم کو ان سے بھی ملانے کو کہا تھا مگر ابھی ہم کو ایسا موقع نہیں ملا ہے کہ ملائیں۔ انہوں نے اپنے لڑکے کو پوری عربی کی اچھی تعلیم دی ہے۔‘‘
ملاحظہ کیا جائے کہ لارڈ ہیڈلے کے ملنے والے کس قدر صاف لکھتے ہیں کہ لارڈ موصوف، خواجہ کمال مرزائی کے آنے سے بیس برس پہلے مسلمان ہوچکے تھے اور نماز پڑھتے تھے۔ ایک نہایت معزز خاندان کی خاتون مسلمان ہوکر اکثر حصہ قرآن مجید زبانی یاد کرچکی ہیں۔ جن کے پاس آج تک خواجہ کمال (مرزائی) کی رسائی نہیں ہوئی۔
ان کے علاوہ بہت مردوں کو اور خاتون کو اسلام کی طرف رغبت ہے اور بہت مسلمان ہیں۔ مثلاً Mr & Maseerr جنہوں نے اسلامی نام عبدالحمید رکھا ہے۔ یہ سیلون میں مجسٹریٹ ہیں اور پندرہ سولہ برس سے مسلمان ہیں اور لارڈ الڈر نے مرنے کے وقت اپنے اسلام کی شہرت دی تھی۔ Lord Aler Mr. Lehuwra جن کا اسلامی نام خالد ہے۔ یہ نوجوان عرصہ دس بارہ سال سے مسلمان ہیں۔ ایک معزز خاتون لیڈی بلوم فیلڈ Lady Bloom Field فرقہ بہائیہ میں داخل ہوئی ہے اور بہت لوگ لندن کے اس فرقہ میں داخل ہوچکے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا کہ اس فرقہ کے سردار عبدالبہاء لندن میں گئے تھے اور بہت کچھ احترام ان کا وہاں کے لوگوں نے کیا۔ ان کا لیکچر بھی بڑے زوروشور سے ہوا۔ ان کی دعوتیں بھی ہوئیں۔ جن میں بڑے اہتمام سے ایرانی کھانے پکوائے گئے تھے اور شہر مونگیر کے رئیس شاہ محمد یحییٰ صاحب بیرسٹر بھی اس میں شریک تھے۔ پھر عبدالبہاء لندن سے فرانس گئے تھے۔ خواجہ کمال (مرزائی) نے فرانس جانے کا غل تو مچایا۔ مگر ہوا کچھ نہیں۔ عبدالبہاء علی محمد بابی ولایتی کے خلیفہ ہیں جنہوں نے ۱۲۵۷ء سے کچھ پہلے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس وقت اس کے ماننے والے کلکتہ، بمبئی، لندن، رنگون اور استنبول، مصر،شام، امریکہ وغیرہ میں کثرت سے ہیں اور ظاہری اخلاق ان کے اچھے سنے گئے ہیں۔ جس قدر جھوٹ اور فریب مرزائیوں میں دیکھا جاتا ہے۔ ان میں نہیں سنا گیا۔ ایک جھوٹا دعویٰ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ خواجہ کمال (مرزائی) کے سوا یورپ وغیرہ میں جاکر تبلیغ اسلام کسی نے نہیں کی۔ یہ دعویٰ بھی ایسا جھوٹا ہے جیسا پہلا دعویٰ تھا۔
سرسید احمد خان لندن گئے اور وہاں جاکر خطبات احمدی انگریزی کراکے مشتہر کی اور اپنے خیال کے بموجب تبلیغ اسلام کی اور جو اعتراضات ایک بڑے معزز عیسائی نےجناب رسول اﷲa پر کئے تھے ان کے جوابات دے کر عیسائیوں کو اسلام کی طرف بلایا اور
مصر سے مصطفی کمال پاشا لندن میں گئے اور تبلیغ اسلام کی اور جاپان میں مولوی برکت اللہ ایم۔اے گئے ہیں اور عرصہ سے وہاں قیام رکھتے ہیں اور اچھی طرح تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔ چنانچہ مسٹر حسن ہٹانو جو خاندان وزارت شاہی کا ایک معزز شخص ہے مولوی صاحب مذکور کی وجہ سے مسلمان ہوا اور سنا گیا ہے کہ مسٹر حسن ہٹانو نے ایک اسلامی اخبار بھی جاری کیا ہے جس کی شہرت اور آمد ہندوستان میں بھی ہے۔ اخبار وکیل سے ظاہر ہوا ہے کہ وہاں تین لاکھ مسلمان ہوئے ہیں۔ چنانچہ ۱۰؍جنوری ۱۹۱۴ء کا وکیل لکھتا ہے کہ ترکی ہم قلم اقدام قسطنطنیہ روسی اخبار ’’نودی وریمیا‘‘ سے یہ خبر نقل کرتا ہے کہ مسلمانان چین نے ایک جدید انجمن مسلمانان چین وجاپان کو متحد بنانے کی غرض سے قائم کی ہے۔ اس انجمن کا صدر دفتر شہر ٹانکن میں ہے اور اس دفتر کا حال میں ایک قابل توجہ رپورٹ مسلمانان جاپان کے حال کے متعلق موصول ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ ٹوکیو کے مدرسہ اسلامیہ کے منتظم اور پرنسپل حسن خورشید نے مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ سے عیاں ہوتا ہے کہ جاپان میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھنفوس تک پہنچ چکی ہے۔ اب مجھے مرزائی جماعت بتائے کہ خواجہ کمال مرزائی نے لندن میں کتنے آدمیوں کو مسلمان کیا؟ جیسا کہ ان کی جماعت غل مچا رہی ہے اور اس حیلہ سے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہے۔ میرے خیال میں خواجہ کمال صاحب (مرزائی) کی نسبت پوسٹ ماسٹر پیر بخش صاحب سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور کی جو رائے ہے وہ نہایت صحیح ہے اور اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
’’پوشیدہ نہیں کہ خواجہ کمال الدین (مرزائی) مریدان مرزاغلام احمد قادیانی مدعی نبوت، مہدویت، مسیحیت، وکرشنیت وغیرہ وغیرہ کے رکن رکین ہیں اور اہل اسلام ہندوستان وپنجاب پر پھر ایسی ہی غلطی عظیم کا وقت آگیا ہے جو کہ مرزاقادیانی کے اشتہار براہین احمدیہ کا تھا۔ جب کہ انہوں نے اسلام کی حمایت کے بہانہ سے مسلمانوں سے روپیہ بٹورا اور بجائے اشاعت اسلام کے مرزائیت (یعنی اپنے دعاوی نبوت وغیرہ) کی اشاعت کے واسطے اشتہارات اور تالیف کتب پر اس بے رحمی سے دل کھول کر خرچ کیا کہ لاکھوں کی تعداد میں اشتہارات مسیح موعود ہونے کے واسطے تمام ممالک غیرتک پہنچائے اور یہ وہ روپیہ تھاجو اس واسطے مسلمانوں سے لیا تھا کہ قرآن اور محمدa کی صداقت پر تین سو دلائل کل ادیان
کے رد میں بیان کئے جائیں گے اور اسلامی تعلیم اور مذہب کو سچا ثابت کیا جائے گا۔ مگر وہ وعدہ بالکل وفا نہ کیاگیا اور روپیہ بے محل خودستائی اور اپنی نبوت ورسالت کے اثبات میں خرچ کیا اور وفات مسیحm کی خاطر تمام اسلاف اہل اسلام کو غلطی پر بتایا گیا۔ تمام تفاسیر کو ردی قرار دے دیا گیا۔ ائمہ اربعہ کے اجماع امت کو کورانہ تقلید کا خطاب دیاگیا اور اسلام کے تمام مسائل کے الٹ پلٹ میں کتابیں واشتہارات اس کثرت سے لکھے کہ ممالک متمدنہ یورپ کے کسی ہوشیار سے ہوشیار دوکاندار نے بھی اس قدر شائع نہ کئے ہوں گے اور وہ روپیہ جو خدمت وحمایت اسلام کے واسطے جمع کیاگیا تھا۔ وہی تخریب دین میں اور اسلام اور مسلمانوں کی دل آزاری پر خرچ کیاگیا اور مرزائیت کی اس قدر اشاعت ہوئی کہ کوئی شہر وقصبہ پنجاب وہندوستان میں نہیں کہ مرزائیوں کی اڑھائی اینٹ کی مسجد (مرزاڑہ) الگ نہ ہو اور تفرقہ امت محمدی میں اس قدر ڈالا کہ بھائی بھائی سے، میاں۔ جورو سے، جورو، میاںسے، خویش واقارب تمام اجزاء جو اسلام کے تھے الگ کر دئیے گئے۔ حتیٰ کہ نمازیں اور جنازے پڑھنے بھی بند ہوگئے اور یہی مرزاقادیانی کی پیدا کردہ چھوٹی سی جماعت تمام موجودہ واسلاف اہل اسلام کو یہودی وکافر کا لقب دینے لگی۔ حتیٰ کہ اب تک کتابوں میں ایسا ہی لکھتے ہیں اور امت محمدی میں وہ فساد ڈالا ہوا ہے کہ کوئی جگہ نہیں جس جگہ چرچا نہ ہو اور اب تو ہندوپنجاب کے علاوہ بلاد غیر میں جاپہنچے ہیں۔ منہ سے قرآن ومحمدa کہتے جاتے ہیں اور اپنے آپ کو اسلام کا خیرخواہ بتاتے ہیں۔ مگر جب انہوں نے تمام مسلمانوں کو جو مرزاقادیانی کو نبی ورسول نہیں مانتے، کافر قرار دے دیا تو اب مسلمانوں سے کیا واسطہ ہے؟ لیکن یہ عیاری دیکھئے کہ چندہ لینے کے واسطے اور مال وزر وصول کرنے کے واسطے ان یہودیوں (معاذ اﷲ) کو مسلمان کہہ دیتے ہیں اور جس طرح بھی بن پڑے۔ مسلمانوں سے روپیہ بٹورلیتے ہیں۔ مگر خود ایسے گرہ کے پکے اور تعصب کے پتلے ہیں کہ سوا قادیان کے ٹیکس کے ایک پیسہ کسی قومی کام میں نہیں دیتے۔ انجمن حمایت اسلام کو دینا گناہ سمجھتے ہیں۔ مگر جب اپنا مطلب ہو تو یہی یہودی، بھائی مسلمان ہیں اور گندم نمائی کر کے اپنا مطلب نکال لیا تو پھر وہی علیحدگی اور قطع تعلق تو کون اور میں کون؟‘‘وہی وقت اب مسلمانوں پر آگیا ہے اور ویسی غلطی میں مسلمان مبتلا ہونے لگے
ہیں کہ چندہ جمع کر کے خواجہ کمال الدین (مرزائی) کو روانہ کر رہے ہیں یا ارادہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ اخیروہی پشیمانی ہوگی جو مسلمانوں نے مرزاقادیانی کو چندے اور براہین کی قیمت پیشگی ادا کرنے سے ہوئی تھی۔ روپیہ مسلمانوں کا ہوگا اور مرزائیت کی اشاعت میں خرچ ہوگا اور برائے نام مسلمانوں کا منہ بند کرنے کے لئے کسی انگریز کی تبلیغ کے نام سے بھی خرچ کیا جائے گا۔ مونگیر اور بھاگلپور کے مرزائیوں کو دیکھا جائے کہ ایک خاص غرض کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے۔
جب مرزاقادیانی نے نہایت صفائی سے (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵) وغیرہ میں اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا۔ ان کے بیٹے محمود نے تمام مسلمانوں کے کافر ہونے کے باب میں خاص رسالہ (تشہیذ الاذہان ج۶ نمبر۴ ص۱۲۲، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء، آئینہ صداقت) لکھا۔ ان کے خلیفہ نے اس کی تصدیق کی۔ اب ان کے اس خط سے اس کا ثبوت ہورہا ہے جو انہوں نے خواجہ کمال (مرزائی) کو لکھا ہے اور پیغام صلح میں شائع ہوا ہے اور اخبار (وکیل ج۱۹ نمبر۷۹، مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۱۴ء) نے اسے نقل کیا ہے۔ عبدالماجد (قادیانی) جو ان کے ہاتھ پر بیعت کر آئے ہیں اور تمام دنیا کے علماء اور اہل اللہ کو خصوصاً علماء کاملین حرمین شریفین کو چھوڑ کر اور انہیں فاسق سمجھ کر مرزاقادیانی اور ان کے خلیفہ کو اپنا مقتداء اور پیشوا مان چکے ہیں۔ اس لئے کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتداء کے خلاف عقیدہ رکھتے ہوں گے؟ یہ ہرگز ہو نہیں سکتا مگر چونکہ سمجھتے ہیں کہ عام مسلمان کافر کہہ دینے سے برہم ہو جائیں گے اور اس مذہب کو برا سمجھنے لگیں گے۔ اس لئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے اور مرزاقادیانی کے بیٹے نے جو لکھا ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ یہ صرف فریب ہے۔ جب نماز میں شریک نہ ہوں۔ جنازے میں شریک نہ کریں، لڑکی دینے سے انکار۔ ان کے خاص اخبار میں شائع ہو کہ جو غیرقادیانی کو لڑکی دے وہ قادیانی نہیں۔ تمام باتیں کفاروں کی برتیں۔ مگرزبان سے کہہ دیں کہ ہم کسی کو کافر نہیں کہتے۔ صریح دلیل ہے کہ وہ فریب دیتے ہیں۔ دراصل تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ مگر اپنی خاص غرض سے اپنے دلی عقیدہ کو ظاہر نہیں کرتے۔ بلکہ جس طرح اور جھوٹی باتیں کہتے ہیں یہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ہمیں سخت افسوس ہے کہ ہمارے بھائی نے ہم سے جدا ہوکر نہایت بری روش اختیار کی ہے۔ اﷲتعالیٰ ان کو راہ راست پر لائے اور پھر پیارا سچا بھائی بنائے۔
عبدالعزیز رحمانی
پروفیسر مولانا سید انورحسینؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس میں مرزا حسام الدین احمد مرزائی کے اس اشتہار کا جو جلسہ مسیحی ۸؍مارچ ۱۹۱۴ء کے متعلق تھا۔ مدلل جواب دیاگیا ہے اور قرآن مجید سے اور نیز مرزاغلام احمد قادیانی کے بیان کردہ معنی کی رو سے حضرت مسیحm کی حیات جسمانی اور رفع آسمانی کا ثبوت دے کر مرزاقادیانی کی نبوت اور مسیحیت کے ثبوت کا مطالعہ کیاگیا ہے۔
نہیں ہے دین مرزائی میں کچھ بھی نور ایمانی
ادھر آؤ تمہیں اب نور دین انور دکھائے گا
ایک اشتہار مرزاحسام الدین احمد احمدی (مرزائی) اکبرآبادی کا ہماری نظر سے گزرا۔ اس اشتہار میں کوئی مضمون ایسا نہیں ہے جس کا جواب علمائے اسلام نے نہ دیا ہو بلکہ وہی باتیں ہیں جو مرزاغلام احمد قادیانی نے پیش کی تھیں اور علمائے اسلام نے ان کی حیات ہی میں ان کا مفصل اور مدلل جواب دے دیا تھا۔ مشتہر صاحب نے یا تو ان جوابوں کو دیکھا نہیں ہے یا جواب الجواب سے عاجز آکر مرزاقادیانی ہی کی پیش کردہ باتوں کو دہرایا ہے۔ چونکہ اس اشتہار سے اس بات کا احتمال ہے کہ جن مسلمانوں کو یہ خبر نہیں ہے کہ علمائے اسلام، مرزاقادیانی کی ہر ایک بات کا مفصل اور مسکت جواب دے چکے ہیں۔ وہ شبہ اور فتنہ میں پڑجائیں۔ اس لئے علمائے اسلام کی تحقیقات کے مطابق مذکورہ بالا اشتہار کا مدلل جواب دیا جاتا ہے۔ ناظرین بنظر انصاف ملاحظہ فرمائیں۔ ’’وما توفیقی الا باﷲ‘‘
مشتہر صاحب لکھتے ہیں: ’’ناظرین! ۸؍مارچ ۱۹۱۴ء کو منجانب مسیحی صاحبان جلسہ مذہبی مقرر تھا۔ ہر شخص کو تقریر کرنے کی اجازت تھی۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے اخویم خیرالدین صاحب نے وفات مسیح پر تقریر شروع کی۔ ہنوز بیان تمام نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں
مولوی عبدالکریم صاحب مدرس اوّل ندوۃ العلماء لکھنؤ ومولانا عبدالشکور صاحب ایڈیٹر اخبار النجم نے دخل دینا شروع کیا اور کہا کہ مرزاقادیانی نے جمیع انبیاء سے حضرت محمدa کو افضل الرسل اور فرد کامل کہا ہے۔ کیا ان سے پہلے تمام انبیاء فرد کامل نہ تھے۔ ایسا کہنا مرزاقادیانی کا انبیاء ماسبق کی صریح توہین ہے اور اسی طرح اپنی دعویٰ نبوت کے لئے توفی کے معنی خلاف محاورہ قرآن کریم سے تراشے ہیں۔ لہٰذا ہرسہ حالت میں وہ کافر ہیں۔‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی عبدالشکور صاحب ہرگز ہرگز ایسے غیرمہذب نہیں ہیں کہ کسی کے اثنائے تقریر میں بلاوجہ دخل دیں یا تو یہ بات ہی غلط ہے یا مقرر صاحب نے کوئی ایسی تقریر کی ہوگی جس کا بروقت جواب دینا ضروری ہو گا۔ ورنہ بقول مشتہر صاحب ہرشخص کو تقریر کرنے کی اجازت تھی۔ مولوی صاحبان مرزائی مقرر کی تقریر کے بعد ان کا جوابدے سکتے ہیں۔ اثنائے تقریر میں دخل دینے کی کوئی خاص وجہ ضرور ہوئی ہوگی۔ کیا اس جلسہ میں کوئی صدر انجمن نہ تھا؟ اور کیا اس کو یہ اختیار نہیں دیاگیا تھا کہ کسی کے اثنائے تقریر میں دخل دینے والوں کو روک دے۔ یہ بات بھی سراسر غلط معلوم ہوتی ہے کہ مولوی صاحبان نے مرزاقادیانی کی تکفیر کی ایک یہ وجہ قرار دی کہ مرزاقادیانی نے آنحضرتa کو افضل الرسل اور فرد کامل کہا ہے اور اس سے انبیائے ماسبق کی توہین ہوتی ہے۔ (اور توہین انبیاء کفر ہے) اس لئے کہ مولوی صاحبان عقیدتاً اہل سنت والجماعت ہیں اور تمام اہل سنت والجماعت کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرتa افضل الرسل ہیں۔
(شرح عقائد نسفی ص۲۰۵، مطبوعہ مطبع انوار احمدی، افضل الانبیاء محمد)
یہ بات ہرگز قابل قبول نہیں ہے کہ مولوی صاحبان نے آنحضرتa کو افضل الرسل کہنے کی وجہ سے دوسرے انبیاء کی توہین استنباط کر کے مرزاقادیانی کو کافر کہا:’’سبحانک ہذا بہتان عظیم‘‘ بلکہ قرین قیاس یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مولوی صاحبان نے یہ کہا ہوگا کہ مرزاقادیانی نے اپنی فضیلت ثابت کرنے کے لئے بعض انبیاء الوالعزم کی سخت توہین کی ہے۔ چنانچہ (دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳) میں لکھتے ہیں: ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘
پھر اسی رسالہ کے ابتداء میں لکھتے ہیں: ’’بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سناگیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
(دافع البلاء ص۴ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰ حاشیہ)
اس عبارت میں مرزاقادیانی ان غلط قصوں کی تصدیق کرتے ہیں جو حضرت مسیحm کی طرف منسوب کئے گئے ہیں اور ان قصوں کو آپ کے حصور (پاک دامن) نہ ہونے کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے اعتقاد میں حضرت مسیحm پاک دامن نہ تھے اور اس میں شک نہیں کہ حضرت مسیح کو پاک دامن نہ سمجھنا ان کی سخت توہین ہے۔ بلکہ ان کی نبوت سے ایک طرح کا انکار ہے۔ (نعوذ ب اللہ منہ)
یہ بات بھی صحیح نہیں معلوم ہوتی کہ مولوی صاحبان نے یہ کہا ہو کہ: ’’اپنے دعویٰ نبوت کے لئے توفی کے معنی خلاف محاورہ قرآن کریم کے تراشے ہیں۔ لہٰذا ہرسہ حالت میں کافر ہیں۔‘‘
اس لئے کہ مرزاقادیانی نے توفی کے جو معنی تراشتے ہیں۔ اگر وہ معنی تسلیم بھی کر لئے جائیں تو اس سے صرف حضرت عیسیٰm کی وفات ثابت ہوگی۔ اس سے مرزاقادیانی کی نبوت کس طرح نہیں ثابت ہوسکتی اور پھر صرف حضرت عیسیٰm کی وفات کے قائل ہونے سے کفر نہیں لازم آتا۔ گو یہ عقیدہ جمہور اہل سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ ہاں! یہ کہا ہو تو عجب نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰm کی وفات کا قائل ہوکر خود مسیح موعود بن بیٹھا اور آیت کریمہ خاتم النّبیین اور احادیث ختم نبوت کے خلاف دعویٰ نبوت ونزول وحی کرنا کفر ہے۔ بہرکیف مشتہر صاحب وجوہ ثلاثہ کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ناظرین! شق اوّل کے لئے تو ہمارا یہی مذہب ہے کہ جناب سرور کائنات محمدa سے افضل کوئی نبی نہیں ہے۔ جیسا کہ فرمایا نبیa نے کہ: ’’لوکان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعہما الّٰا اتباعی‘‘
(ابن کثیر ج۱ ص۳۷۸)
’’اگر موسیٰ وعیسیٰn زندہ ہوتے تو ان کو بجز ہماری اطاعت کے اور کچھ چارہ نہ ہوتا۔‘‘
امام احمد اور بیہقی نے حضرت جابرq سے جو روایت کی ہے اس میں حضرت عیسیٰm کا نام نہیں ہے۔ صرف حضرت موسیٰm کا نام ہے۔ چنانچہ (مشکوٰۃ شریف ص۳۰، کتاب الاعتصام باالسنہ) میں ہے: ’’لوکان موسٰی حیا ما وسعہ الّٰا اتباعی‘‘کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو سوائے ہماری پیروی کے اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔
جس حدیث کو مشتہر نے پیش کیا ہے کتب حدیث میں اس کا کہیں پتہ نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشتہر صاحب نے مذکورہ بالا حدیث (ابن کثیر) کی کوئی سند بیان نہیں کی اور نہ حدیث کی کسی کتاب کا حوالہ دیا صرف ابن کثیر کے حوالہ دینے سے حدیث کی صحت ثابت نہیں ہوسکتی۔ مشتہر صاحب پر لازم تھا کہ حدیث مع سند بیان کرتے اور پھر ہر ایک راوی کا ثقہ ہونا ثابت کرتے یا محدثین کی تصحیح نقل کرتے بغیر اس کا مذکورہ بالا حدیث سے استدلال صحیح نہیں ہوسکتا اور اگر اس حدیث کی صحت ثابت بھی ہو جائے تو مشتہر صاحب کا مدعا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ:
۱… ایک یادو نبی کے تابع ہونے سے کل انبیاءo پر فضیلت نہیں ثابت ہوسکتی ہے۔
۲… مجرد کسی نبی کا تابع ہونا نبی متبوع کی افضلیت کی دلیل نہیں ہے۔
دیکھو اﷲتعالیٰ آنحضرتa کو کہتا ہے کہ: اے محمدa’’ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا (نحل:۱۲۳)‘‘پھر میں نے آپa کی طرف وحی کی کہ آپa ملت ابراہیم کی پیروی کیجئے یکسو ہوکر۔
’’اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرتa حضرت ابراہیمm کے تابع تھے اور حضرت ابراہیمm متبوع تھے۔ مگر افضل الرسل آنحضرتa ہی ہیں نہ حضرت ابراہیمm، معلوم ہوتا ہے کہ مشتہر صاحب کو آنحضرتa کے افضل الرسل ہونے کی دلیل معلوم نہیں ہے۔ ورنہ وہ ایسی حدیث پیش نہ کرتے جس کی نہ تو سند کا پتہ ہے اور نہ اس کے الفاظ سے اصل مطلب ثابت ہوتا ہے۔ اچھا تو مجھ سے سنئے۔ آنحضرتa کے افضل الرسل ہونے کی تین دلیلیں ہیں۔‘‘
۱… آنحضرتa کی ذات بابرکات پر دین کی تکمیل کی گئی جیسا کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘آج ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام ہی کو پسند کیا۔
اور ظاہر ہے کہ یہ فضیلت سوائے آپa کے کسی نبی کو نہیں ملی۔
۲… آپa کی امت افضل ترین امم قرار پائی ہے جیسا کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ:’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر (آل عمران:۱۱۰)‘‘{تم لوگ بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ اچھی باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو۔}
اور ظاہر ہے کہ امت کی فضیلت اس رسولa کی فضیلت پر موقوف ہے جس کے وہ تابع ہے۔ پس آپa کی امت کا افضل امم ہونا آپa کے افضل الرسل ہونے کی بیّن دلیل ہے۔
۳… (مسلم شریف ج۱ ص۱۹۹، باب مساجد وضع الصلوٰۃ) میں حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اﷲa نے فرمایا کہ: ’’عن ابی ہریرۃq ان رسول اﷲa قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت بجوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطہوراً وارسلت الٰی الخلق کافۃ وختم بی النبیون‘‘
(مشکوٰۃ باب فضائل نبیناa ص۵۱۲)
’’میں دوسرے نبیوں پر چھ باتوں میں فضیلت دیا گیا ہوں۔ (۱)مجھ کو جامع کلمے دئیے گئے۔ (۲)اور میں اپنے رعب کی وجہ سے فتح یاب ہوا۔ (۳)اور مال غنیمت میرے لئے حلال ہوا۔ (۴)اور ساری زمین میرے لئے نماز اور تیمم کے لائق بنائی گئی۔ (۵)اور میں سارے لوگوں کے لئے رسول ہوں۔ (۶)اور نبیوں کے آنے کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا۔‘‘
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ آپa نے کسی نبی کے تابع ہونے کو اپنی فضیلتکی دلیل نہیں قرار دی پس مشتہر صاحب کا استدلال غلط ہوگیا۔
پھر مشتہر صاحب لکھتے ہیں کہ شق ثانی کے جواب میں ابوالحسنات مولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی کا قول درج کرتے ہیں کہ بعد آنحضرتa کے یا زمانہ میں آنحضرتa کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں ہے۔ بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔
(دافع الوسواس فی اثر بن عباس علوی مطبوعہ لکھنو ص۱۲، سطر۸)
اس کا جواب یہ ہے کہ مشتہر صاحب کو اس مسئلہ میں نہ کوئی آیت قرآنی ملی اور نہ کوئی حدیث نبوی، نہ کسی صحابی کا اثر، نہ کسی مجتہد کا قول، مجبور ہوکر مولانا مرحوم کا ایک قول پیش کردیا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید اور احادیث کے نصوص قطعیۃ الدلالت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرتa پر نبوت اور رسالت ختم ہوچکی ہے۔ آپa کے بعد کسی کو نبوت ورسالت نہیں مل سکتی ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘ {نہیں ہیں محمد(a) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اﷲتعالیٰ کے رسول ااور سب نبیوں کے بعد آنے والے۔}
خاتم النّبیین میں لفظ خاتم بالفتح یا بالکسر ہر حالت میں اس کے معنی آخر کے ہیں۔
(لسان العرب ج۴ ص۲۵، مجمع البحار ج۲ ص۱۵)
یہ آیت اس بارہ میں نص قطعی ہے کہ نبوت آپa پر ختم ہوچکی ہے۔ احادیث صحیحہ بھی اس بارہ میں کثرت سے وارد ہیں۔ ان میں سے چند پیش کی جاتی ہیں۔
۱… (بخاری ج۱ ص۵۰۱، باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲa، مسلم ج۲ ص۲۶۱، باب فی اسمائہa)میں جبیر بن مطعمq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا: ’’انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی (متفق علیہ)‘‘
(مشکوٰۃ ص۵۱۵، باب اسماء النبیa وصفاتہ)
’’کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘
۲… بخاری میں ابوہریرہq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ:’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء‘‘
(بخاری ج۱ ص۴۹۱، باب ذکر عن بنی اسرائیل، فتح الباری پ۱۳ ص۸۳)
’’بنی اسرائیل پر انبیاءo سیاست کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پاتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہوتے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔‘‘
ان دونوں حدیثوں سے یہ بات بعبارۃ النص ثابت ہوتی ہے کہ آپa کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں مل سکتی ہے۔ اس لئے کہ ان دونوں حدیثوں میں لفظ نبی نکرہ ہے اور تحت نفی میں واقع ہے اور نکرہ تحت نفی میں عام ہوتا ہے۔ یعنی اس نکرہ کے ہر فرد کی نفی ہو جاتی ہے اور ’’سیکون خلفاء‘‘ سے اس عموم کی پوری تائید ہورہی ہے۔ پس ان دونوں حدیثوں کا صریح مطلب یہی ہے کہ آپa کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا۔ صاحب شرع جدید ہو یا نہ ہو۔ ہاں! دوسری حدیث میں خلفاء کے لفظ سے صراحۃً یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرتa کے جانشینوں کا لقب خلفاء ہے۔ انبیاء نہیں ہے۔ اسی وجہ سے خلفائے راشدینi اس لقب کے ساتھ ملقب نہیں ہوتے۔
(ترمذی ج۲ ص۲۰۹، باب مناقب عمر ابن الخطابq) میں عقبہ بن عامرq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq ہوتے۔
صحیحین میں سعد بن وقاصq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے غزوہ تبوک میں جاتے وقت حضرت علیq سے فرمایا کہ آپ ہماری غیبت میں اسی طرح ہمارے جانشین ہیں جس طرح موسیٰm کے جانشین ہارونm تھے۔ مگر فرق یہ ہے کہ ہمارے بعد (ہماری نبوت کے بعد) کوئی نبی نہیں۔ یعنی ہارونm نبی تھے اور چونکہ ہماری نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی ہے۔ اس لئے آپ نبی نہیں ہوسکتے ہیں۔
(بخاری ج۱ ص۵۲۶، باب مناقب علی ابن ابی طالبq، مسلم ج۲ ص۲۷۸، باب فضائل علیq ابن ابی طالب)
ان روایتوں سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرq اور حضرت علیq سے نبوت کی نفی اسی بناء پر کی گئی ہے کہ آنحضرتa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ کیا کوئی ایماندار اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ مرزاقادیانی توفنافی الرسول کے درجہ پر پہنچ کر ظلی یا بروزی نبی اور رسول بن جائیں اور حضرت عمرq اور حضرت علیq کو یہ درجہ نہ ملے اور ظلی اور بروزی نبوت سے بھی محروم رہ جائیں۔ (نعوذ ب اللہ منہ)
۳… (بخاری ج۱ ص۵۰۹، باب علامات النبوۃ فی الاسلام) میں ابوہریرہq سے روایت
ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا: ’’لا تقوم الساعۃ حتی یبعث الدجالون کذابون قریب من ثلٰثین کلہم یزعم انہ رسول اﷲ‘‘
(مشکوٰۃ ص۴۶۵، باب الملاحم)
قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس کے قریب دجال وکذاب پیدا ہوں۔ ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ خدا کا رسول ہے۔
(مسلم ج۲ ص۹۷، فصل فی قولہ صلعم ان بین یدی الساعۃ کذابین قریباً من ثلاثین) میں حضرت ثوبانq سے اس طرح مروی ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ:’’سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘(ابوداؤد ج۲ ص۱۲۷، باب ذکر الفتن ودلائلہا، ترمذی ج۲ ص۴۵، باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، مشکوۃ ص۴۶۵، کتاب الفتن)
میری امت میں تیس فریب دینے والے بڑے جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں۔ ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ خدا کا نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اس دوسری حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ آنحضرتa کی امت ہی میں سے ہوں گے۔ یعنی اپنے کو امتی بھی کہیں گے اور نبی بھی۔ نبوت تشریعی کے مدعی ہوں یا غیرتشریعی کے۔ پس جو شخص آپa کے بعد کسی قسم کی نبوت کا مدعی ہو تو وہ بحکم حدیث مذکور دجال وکذاب کہلانے کا مستحق ہے۔’’فتدبر ولا تکن من الغافلین‘‘ مولانا عبدالحئی صاحب کا جو قول مشتہر صاحب نے نقل کیا ہے وہ ان لوگوں کے جواب میں ہے جو کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰm آخر زمانہ میں آئیں گے تو آنحضرتa خاتم النّبیین نہیں رہیں گے۔ مولانا مرحوم کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آنحضرتa کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے۔ اس لئے کہ آپ زجر الناس علی انکار اثر بن عباس کے ص۸۴ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’لکن ختم نبیناa الٰی جمیع انبیاءوجمیع الطبقات بمنی انہ لم یعط بعدہ النبوۃ لاحد فی طبقۃ‘‘
(زجر الناس ص۸۴)
کل طبقات کے انبیاء کے اعتبار سے آنحضرتa کا خاتم النّبیین ہونا حقیقی ہے۔ اس معنی کے کہ بعد آپa کے کسی کو کسی طبقہ میں نبوت نہیں دی جائے گی۔
پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ:’’لاشبہ فی بطلان الاحتمال الثانی وہوان یکون وجود الخواتم فی تلک الطبقات بعدہ لما وردانہ لا نبی بعدہ وثبت فی مقرہ انہ خاتم الانبیاء علی الاطلاق واستغراق‘‘
(زجرالناس ص۸۴،۸۵)
اس احتمال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں کہ دیگر طبقات میں آنحضرتa کے بعد خواتم کا وجود ہو اس لئے کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہو چکی ہے کہ آپa کے خاتم الانبیاء ہونے میں کوئی قید نہیں ہے۔ علی الاطلاق والاستغراق سے یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے کہ مولانا مرحوم اس بات کے قائل ہیں کہ آپa کے خاتم الانبیاء ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپa کسی خاص طبقہ میں خاتم الانبیاء ہیں یا کسی خاص قسم کی نبوت کے خاتم ہیں۔ بلکہ جمیع طبقات جمیع اقسام نبوت کے خاتم ہیں۔ آپa کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں مل سکتی۔ تشریعی ہو یا غیرتشریعی۔
مشتہر صاحب نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ آنحضرتa کے بعد مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔ حاشیہ میں سورۂ اعراف کی ایک آیت نقل کی ہے اور خود ہی ترجمہ بھی کیا ہے کہ:’’یا بنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (اعراف:۳۵)‘‘
اے اولاد آدم! کی جب آئیں رسول تمہارے پاس تمہارے ہی نوع سے، پڑھیں تم پر آیتیں میری کتاب کی یاخبردیں تم کو احکام شریعت سے، پھر جو کوئی پرہیزکرے گا۔ شرک وتکذیب سے اور اصلاح کرے گا اپنے کاموں کی، بس کوئی خوف نہیں ان پر اور نہوہ غمگین ہوں گے۔
میں کہتا ہوں کہ اس آیت سے بعد آنحضرتa کے مجرد کسی نبی کے ہونے کا امکان اور صاحب شرع جدید کے ہونے کا امتناع ثابت کرنا غلط اور محض غلط ہے۔ اس لئے کہ رسول کا لفظ ہر قسم کے رسولوں کو شامل ہے۔ صاحب شرع جدید ہو یا نہ ہو اسی طرح آیتوں
کوپڑھ کر سنانے میں بھی کوئی قید نہیں ہے۔ دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ (۱)وہ آیتیں جو کسی پہلے نبی پر نازل ہوئی ہوں اور بعد کو آنے والا نبی پڑھ کر سنائے۔ (۲)وہ آیتیں اسی نبی پر نازل ہوئی ہوں جو پڑھ کر سناتا ہے۔ اگر اس آیت سے رسولوں کے آنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے قیامت تک جاری سمجھا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آنحضرتa کے بعد نبی صاحب شرع جدید کا ہونا بھی ممکن ہے اور آنحضرتa کا خاتم الانبیاء ہونا جو آیت’’قطعیۃ الدلالۃ ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کسی معنی سے صحیح نہ ہو اور یہ صرف باطل ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اس وقت کا تذکرہ ہے۔ جب کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت آدمm اور ان کی اولاد سے رسولوں پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا۔ سورۂ بقرہ میں بھی اس کا ذکر ہے۔ جیسا کہ شاہ ولی اﷲv اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: ’’گفتم یعنی برزبان حضرت آدم چناں کہ درسورہ بقرہ اشارت است‘‘
(درمنثور ج۳ ص۸۲)
تفسیر درمنثور میں ہے کہ ابن جرید نے ابویسار سلمی سے روایت کی ہے کہ: ’’ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم اور ان کی اولاد کو اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ اے بنی آدم! اگر آئیں تمہارے پاس پیغمبر تم ہی میں سے، کہ سنائیں تم کو میری آیتیں تو جس نے تقویٰ کیا اور اپنی اصلاح کر لی اس پر کوئی ڈر نہیں اور نہ وہ غمگین ہوگا۔‘‘
اس روایت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ تذکرہ حضرت آدمm کے وقت کا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ بحکم آیت مذکور حضرت آدم ہی سے رسولوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہو اور برابر جاری رہا۔ جب آنحضرتa کی بعثت ہوئی اور آیت کریمہ: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ نازل ہوئی تو معلوم ہوگیا کہ وہ سلسلہ ختم ہوگیا اسی لئے آنحضرتa نے فرمادیا کہ ’’ختم بی النبیون‘‘ یعنی نبیوں کا آنا مجھ پر ختم ہوگیا اور یہ بھی فرمایا کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ یعنی میری نبوت کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ حضرت مسیح بن
مریمm کا نبوت کے ساتھ دوبارہ دنیا میں تشریف لانا آنحضرتa کے خاتم النّبیین اور ’’لا نبی بعدی‘‘ کے منافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ حضرت مسیحm کو آنحضرتa سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے۔ تفسیر ’’ارشاد العقل السیلم الی مزایا الکتاب الکریم‘‘میں لکھا ہے:’’لا یقدح فیہ نزول عیسٰی بعدہm لان معنی کونہ خاتم النّبیین انہ لا ینباء احد بعدہ وعیسٰی ممن نبیّ قبلہ‘‘
(شہادۃ القرآن حصہ دوم ص۱۰۶)
کہ آپa کے خاتم النّبیین ہونے میں نزول عیسیٰm سے کوئی ہرج واقع نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ آپa کے خاتم النّبیین ہونے کے معنی ہیں کہ آپa کے بعد کسی کونبوت نہ ملے گی اور حضرت عیسیٰm تو ان میں سے ہیں جو آپa سے پہلے نبی بنائے گئے۔
تفسیر بیضاوی، تفسیر خازن (ج۵ ص۲۱۸، زیر آیت: ماکان محمد ابا احد) تفسیر مدارک، تفسیر فتح البیان وغیرہ سب میں یہی لکھا ہے۔ مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم بھی لکھتے ہیں کہ:’’ولہذا یاتی عیسٰی فی آخرالزمان علی شریعۃ وہو نبی کریم علٰی حالہ لا ینقص عنہ شی‘‘
(زجرالناس ص۸۵)
اسی سبب سے حضرت عیسیٰm آخر زمانہ میں آنحضرتa کی شریعت پر تشریف لائیں گے اور وہ اپنی نبوت سابقہ پر نبی ہی رہیں گے۔ ان کی نبوت میں کمی نہیں ہوگی۔
یہ بھی واضح رہے کہ نبوت کی تقسیم تشریعی اور غیرتشریعی کی طرف یا نبی کی تقسیم اصلی اور ظلی وبروزی کی طرف قرآن مجید یا حدیث شریف سے ثابت نہیں ہے۔ ’’ومن ادعی فعلیہ البیان‘‘
مشتہر صاحب لکھتے ہیں: ’’اب رہی شق ثالث تو توفی کا لفظ علاوہ متنازعہ فیہ کے قرآن میں ۲۳جگہ لکھا ہے جس کے معنی بجز قبض روح کے اور نہیں اور ایک بھی ایسا مقام نہیں جس میں توفی کا لفظ آسمان پر جانے کے معنی میں استعمال کیاگیا ہو۔‘‘
اس کے چند جواب ہیں:
۱… یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ اگر ایک لفظ کے چند معنی ہوں اور وہ لفظ ان معانی میں سے کسی ایک معنی میں قرآن مجید میں کثرت سے استعمال کیاگیا ہو تو پھر اس لفظ کے دوسرے معنی کسی جگہ قرآن مجید میں نہ لے سکیں۔ بلکہ قرآن مجید میں غور کرنے سے اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں ’’اصحاب النار‘‘ کا لفظ متعدد مقامات میں واقع ہے اور تمام جگہ اس کے معنی آگ میں جلنے والے کے ہیں۔ مگر سورۂ مدثر(آیت:۳۱)’’وما جعلنا اصحاب النار الا ملٰئکۃ‘‘ میں ’’اصحاب النار‘‘ سے مؤکلان دوزخ مراد ہیں۔ علیٰ ہذا! قرآن مجید میں ’’ریب‘‘ کا لفظ بکثرت وارد ہوا ہے اور تمام جگہ اس کے معنی شک کے ہیں۔ مگر ’’ریب المنون‘‘ میں حوادث دہر مراد ہیں۔ اس کے نظائر قرآن مجید میں بہت ہیں۔ بغرض اختصارد وہی نظیروں پر اکتفاء کیاگیا۔ اب اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ قرآن مجید میں ۲۳مقامات پر توفی سے قبض روح ہی مراد ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ توفی سے کوئی دوسرے معنی مراد نہیں لئے جاسکتے۔
۲… اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ توفی سے قبض روح ہی مراد ہے جب بھی لفظ توفی سے حضرت مسیحm کی ممات ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ قبض روح دو طرح پر ہوتا ہے۔ ایک موت میں، دوسرے نیند میں، نیند میں جو قبض روح ہوتا ہے وہ موت نہیں ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔
’’ اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا (زمر:۴۲)‘‘{اﷲتعالیٰ جانوں کو لیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو جانیں مری نہیں ہیں یعنی جن کی موت نہیں آئی ہے ان کو نیند کی حالت میں لیتا ہے۔}
’’لم تمت‘‘ کا لفظ صاف دلالت کرتا ہے کہ نیند کی حالت میں موت نہیں ہوتی۔پس قبض روح پائے جانے سے موت نہیں ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ کہنا کہ نیند میں روح قبض کی جاتی ہے اور جسم معطل کیا جاتا ہے، صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ نیند میں جسم معطل نہیں کیا جاتا ہے بلکہ بیداری کے اعتبار سے نیند میں اصلاح جسم زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ نیند میں حرارت غریزی بالکلیہ باطن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ہضم غذا کامل طور پر ہوتا ہے اور کمال ہضم کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے اور خون سے
’’بدل ما یتحلل‘‘ ہوتا ہے۔ دیکھو نفیسی بحث نوم۔ اس کے علاوہ نیند میں جسم کے معطل نہ ہونے کا بیّن ثبوت یہ ہے کہ نیند میں احتلام ہوتا ہے اور احتلام میں لذت جسمانی کا احسان ہوتا ہے۔ منی خارج ہوتی ہے۔ اگر نیند کی حالت میں جسم معطل رہتا تو جسمانی لذت نہیں پائی جاتی اور نہ منی خارج ہوتی۔
۳… اس آیت میں کہ: ’’ہو الذی یتوفکیم بالیل (انعام:۶۰)‘‘ {خدا وہ ہے جو سلادیتا ہے تم کو رات کے وقت۔}
توفی کے معنی سلادینا بصراحت موجود ہے اور یہاں پر سلادینے کے سوا کوئی دوسرے معنی بن نہیں سکتے۔ پھر ’’متوفی‘‘ کے معنی سلادینے والا لینے میں کون مانع ہے؟ اس تقدیر پر ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ: ’’اے عیسیٰ! میں آپ کو سلادینے والا ہوں۔ (اور نیند ہی کی حالت میں) آپ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔‘‘
یہ توجیہ بھی تفسیر کبیر (جز۸ ص۷۲)، خازن (ج۱ ص۲۵۵)، درمنثور (ج۲ ص۳۶)، فتح البیان، معالم التنزیل (ج۱ ص۱۶۲) میں مذکور ہے۔ چنانچہ تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ:’’المراد بالتوفی النوم ومنہ قولہ تعالٰی اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا فجعل النوم وفاۃ کان عیسٰی قد نام فرفعہ اللہ وہو نائم لئلّا یلحقہ خوف‘‘
توفی سے مراد نوم ہے۔ جیسا کہ آیت کریمہ اللہ یتوفی الانفس میں توفی کے معنی نوم ہی میں مستعمل ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ سو گئے اور نیند کی حالت میں اﷲتعالیٰ نے آپ کو اٹھالیا تاکہ آپ کو خوف لاحق نہ ہو۔
مذکورہ بالا مطلب کو ہم ایک ایسے طریقہ سے ثابت کر دکھاتے ہیں جس کے تسلیم کرنے میں غالباً مشتہر صاحب کو کوئی عذر نہ ہوگا اور وہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی (ازالۃ الاوہام ص۸۹۲، خزائن ج۳ ص۵۸۷) میں صحیح بخاری سے بڑے زوروں کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسq نے ’’متوفیک‘‘ کی تفسیر ’’ممیتک‘‘ فرمائی ہے اور پھر اسی (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۹۴۳، خزائن ج۳ ص۶۲۱) میں لکھتے ہیں: ’’اماتۃ‘‘ کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں ہے بلکہ سلانا اور بے ہوش کرنا بھی اس میں دخل ہے۔‘‘ پس جب ’’اماتۃ‘‘ کے معنی حقیقی بے ہوش کرنا بھی ہے تو ’’ممیت‘‘ کے معنی بے ہوش کرنے والا بھی
ہوں گے۔ اس لئے کہ ’’ممیت اماتۃ‘‘ کا اسم فاعل ہے۔ اب اس کہنے میں کیا تأمل ہوسکتا ہے کہ آیت زیربحث کے یہ معنی ہیں کہ اے عیسیٰm میں آپ کو بے ہوش کرنے والا ہوں اور (بے ہوشی ہی کی حالت میں) آپ کو اپنی طرف اٹھالینے والا ہوں اور ظاہر ہے کہ کسی شخص کو بے ہوش کر کے اٹھالینے کا مطلب یہی ہوگا کہ وہ زندہ روح مع الجسد اٹھایا گیا۔ پس مرزاقادیانی کے بیان کردہ معنی کے رو سے بھی متوفی کے لفظ سے حضرت عیسیٰm کی حیات اور رفع جسمانی ثابت ہوگئی۔ ’’فالحمدﷲ علٰی ذالک‘‘ اور یہ کہنا کہ اس طور کی تاویل سے اگر کچھ ثابت ہوگا تو یہ ہوگا کہ حضرت مسیحm کی روح خواب کے طور پر قبض کی گئی اور پھرجسم اپنی جگہ زمین پر پڑا رہا۔ محض غلط ہے اس لئے کہ خواب کے طور پر روح قبض کرنے کے لئے صرف متوفی کا لفظ کافی ہے۔ ’’رافعک‘‘ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ’’رافعک‘‘ کا لفظ رفع جسمی ہی کے ثابت کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ اس آیت کے الفاظ ’’ومکروا ومکراﷲ، متوفیک رافعک مطہرک‘‘ پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ توفی مقدمہ رفع ہے اور تطہیر نتیجہ رفع ہے۔ مقصود بالذات اور اصلی فعل رفع جسمی ہی ہے۔ جس سے ’’مکراﷲ‘‘ ثابت ہوتا ہے۔فتدبر!
۴… توفی کا مادہ وفا ہے اور وفا کے معنی پورا کرنا ہے۔ لسان العرب میں ہے: ’’الوفاء ضد الغدر یقال وفی بعہدہ واوفی‘‘
(لسان العرب ج۱۵ ص۳۵۸)
کہ وفا غدر کے خلاف ہے۔ وفی بعہدہ واوفی کے معنی عہد کو پورا کیا۔ یہ مادہ (وفا) جب باب استفعال اور باب تفعل میں لیا جاتا ہے تو وہ لفظ استیفاء اور توفی بنتے ہیں۔ چونکہ باب استفعال کی موافقت (ہم معنی ہونا) باب تفعل کی خاصیت ہے۔ اس لئے دونوں کے ایک معنی ہیں۔ کامل اور پورا لے لینا۔
(شہادۃ القرآن حصہ اوّل ص۱۰۷)
(لسان العرب ج۱۵ ص۳۵۹)
اساس البلاغہ میں ہے کہ: ’’استوفاء وتوفاہ‘‘ دونوں کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اس کو کامل اور پورا لے لیا۔
لسان العرب میں ہے کہ: ’’توفیت المال‘‘ اور ’’استوفیتہ‘‘ دونوں کے معنی یہ ہیں کہ میں نے اس سے اپنا مال پورا پورا لے لیا۔
’’اذا کتالوا علی الناس یستوفون (تطفیف:۲)‘‘ قرآن مجید میں ہے کہ: جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔
اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ استیفاء کے معنی پورا پورا لے لینا ہے اور ائمہ لغت کی تصریح سے یہ ثابت ہوا کہ توفی اور استیفاء کے ایک معنی ہیں۔ پس ان دونوں باتوں سے ثابت ہوگیا کہ توفی کے اصلی اور حقیقی معنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ہے اور جب توفی کے اصلی اور حقیقی معنی معیّن ہو گئے تو اس کے سوا جتنے معانی میں توفی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے مثلاً نیند، موت، تعداد، رفع، وصولی قرض، وہ سب مجازی معنی ہیں اور اس بات کی تو ائمہ لغت نے تصریح کر دی ہے کہ قبض روح توفی کے مجازی معنی ہیں۔
(تاج العروس شرح قاموس) میں ہے کہ:’’ومن المجاز ادرکتہ الوفاۃ ای الموت والمنیۃ وتوفی فلان اذامات وتوفاہ اللہ عزوجل اذا قبض روحہ‘‘
(تاج العروس شرح قاموس ج۱۰ ص۳۹۴)
(اساس البلاغہ شہادۃ القرآن حصہ اوّل ص۱۰۹)
مجاز میں سے ایک یہ ہے: ’’ادرکتہ الوفاۃ‘‘ موت نے اسے پا لیا اور توفی فلاں وہ پورا لے لیا گیا کے معنی ہیں وہ مر گیا اور توفاہ اﷲ، خدا نے اس کو پورا لے لیا کے معنی ہیں۔ خدا نے اس کی روح قبض کر لی اور اساس البلاغہ میں توفی فلاں اور ’’توفاہ اللہ ادرکتہ الوفاۃ‘‘ کے معنی فلاں مرگیا۔ فلاں کو اللہ نے مارڈالا۔ موت نے اس کو پالیا۔ یہ سب مجازی معنی ہیں۔
کوئی ذی علم اس بات سے انکار نہیں کر سکتا ہے کہ معنی مجازی مراد لینے کے لئے قرینہ کا ہونا ضروری ہے۔ پس توفی کا لفظ جہاں کہیں استعمال کیاگیا ہے خواہ قرآن مجید میں ہو یا حدیث شریف میں یا عرب کے دواوین میں۔ سباق وسیاق کلام سے معنی مذکورہ میں جس معنی کا قرینہ ہوگا وہی معنی مراد ہوں گے۔ اگر نیند کے لوازمات کا ذکر ہوگا تو اس کے معنی سلادینا
ہوگا۔ اگر موت کے لوازمات کا ذکر ہوگا تو توفی کے معنی مارڈالنا ہوں گے اور اگر رفع کا ذکر ہوگا تو توفی کے معنی رفع ہوں گے۔وعلیٰ ہذا القیاس!
مشتہر صاحب نے پانچ آیتیں پیش کی ہیں۔ جس آیت میں جو معنی مراد ہیں اس کا قرینہ موجود ہے۔ نقشہ ذیل ملاحظہ ہو۔
آیت
ترجمہ
بیان قرینہ
حتی یتوفہن الموت (نساء:۱۵)
یہاں تک کہ ان کو وفات دے موت
مرنے کے معنی مراد لینے کے لئے لفظ موت موجود ہے۔
توفنا مع الابرار (آل عمران:۱۹۳)
ہم کو وفات دے نیکوں کے ساتھ
توفی مع الابرار کنایہ ہے خاتمہ بالخیر ہونے سے اور یہ قرینہ ہے موت کے معنی مراد لینے کے لئے۔
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا (بقرہ:۲۴۰)
تم میں سے جو لوگ وفات پاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں
بیبیوں کو چھوڑ جانا اور ان کی وصیت یا عدت وغیرہ کا حکم موت کے معنی کا قرینہ ہے۔
توفنی مسلما والحقنی بالصالحین (یوسف:۱۰۱)
مجھ کو مسلمان وفات دے اور صالحین سے ملا
لحوق بالصالحین بھی کنایہ ہے خاتمہ بالخیر ہونے کے اور یہ موت کے معنی کا قرینہ ہے۔
ہو الذی یتوفکم باللیل ویعلم ماجرحتم بالنہار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی (انعام:۶۰)
خدا وہ ہے جو تم کو سلادیتا ہے رات کو اور جانتا ہے جو تم دن کوکرتے ہو پھر تم کو دن کو اٹھاتا ہے تاکہ مدت مقررہ پوری کی جائے
یہاں لیل کا لفظ سلادینے کا قرینہ ہے۔
مذکورہ بالا آیات میں سے کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں توفی سے قبض روح بلاقرینہ کے مراد ہو۔ کاش مشتہر صاحب قرآن مجید کے ۲۳مقامات اور احادیث سے ۳۴۶مقامات میں سے ایک ہی مقام میں یہ دکھلا دیں کہ بلا کسی قرینہ کے توفی سے قبض روح مراد ہے یا کسی لغت ہی میں یہ دکھلادیں کہ قبض روح توفی کے حقیقی معنی ہیں اور بلاقرینہ عقلی
ونقلی حالی ومقالی کے یہ معنی توفی سے سمجھے جاتے ہیں۔ ہرگز ہرگز نہیں دکھلاسکتے۔ ’’ولو کان بعضہم لبعض ظہیرا‘‘
تصریحات بالا سے روزروشن کی طرح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آیت زیربحث (انی متوفیک ورافعک الیّٰ) میں متوفی کے معنی موت دینے والا یا قبض روح والا بغیر قرینہ کے مراد نہیں لئے جاسکتے اور آیت میں اس معنی کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے بلکہ سباق وسیاق کلام کے ساتھ ’’رافعک‘‘ کا لفظ رفع کے معنی مراد ہونے کے لئے قرینہ صریحہ موجود ہے۔ پس یہاں پر رفع ہی مراد ہوگی اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ میں آپ کو پورا لینے والا اور اٹھانے والا ہوں۔ اپنی طرف (روح مع الجسد)وہو المطلوب!
۵… بڑے بڑے مفسرین نے توفی کی تفسیر ’’رفع الی السماء‘‘ (آسمان پر اٹھانے) کے ساتھ کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
امام فخرالدین رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ: ’’قولہ انی متوفیک یدل علی حصول التوفی وہو جنس تحتہ انواع بعضہا بالموت وبعضہا بالاصعاد الی السماء فلما قال بعدہ ورافعک الیّٰ کان ہذا تعیناً للنوع ولم یکن تکراراً‘‘
(تفسیر کبیر ج۸ ص۷۲ مطبوعہ مصر)
اﷲتعالیٰ کا قول: ’’انی متوفیک‘‘ صرف حصول توفی پر دلالت کرتا ہے اورتوفی جنس ہے۔ جس کی بہت سی نوعیں ہیں۔ بعض موت کے ساتھ اور بعض آسمان پر اٹھانے کے ساتھ جب موفی کے بعد ’’رافعک‘‘ فرمادیا تو یہ تعیین نوع ہے اور تکرار نہیں ہے۔
تفسیر بیضاوی اور تفسیر علامہ ابی سعود۔ تفسیر کبیر میں آیت کریمہ: ’’فلما توفیتنی‘‘ کی تفسیر میں لکھا ہے:’’فلما توفیتنی بالرفع السماء بقولہ تعالٰی ورافعک الیّٰ والتوفی اخذا الشی وافیا والموت نوع منہ‘‘
’’فلما توفیتنی‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ خدا یا جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھالیا بدلیل ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ اس لئے کہ توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا لے لینا اور موت اس کی ایک قسم ہے۔
(تفسیر خازن ج۱ ص۵۲۴، مطبوعہ مصر)
تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ: ’’فلما توفیتنی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدایا جب تو نے مجھ کو آسمان پر اٹھالیا اور (توفی سے یہاں پر) مراد آسمان پر اٹھانا ہے موت مراد نہیں ہے۔
تفسیر (جامع البیان ج۷ ص۱۳۹، معالم التنزیل ج۱ ص۳۰۸) وغیرہ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ الغرض تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں پر توفی سے آسمان پر اٹھانا مراد ہے اور موت مراد نہیں ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بلاموت کے آسمان پر اٹھانے کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ جسم خاکی کے ساتھ اٹھالیا اور اسی پر تمام مفسرین ومحدثین وفقہاء ومتکلمین ومجتہدین ومتصوفین سب کا اتفاق ہے اور جب ایسے بڑے بڑے علماء وارباب بصیرت توفی کے معنی آسمان پر اٹھانا بیان کر رہے ہیں تو پھر کسی کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے کہ اس تفسیر کو توڑ سکے۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ جوان تفاسیر کو نہ مانے وہ درحقیقت اس بات کا قائل ہے کہ گویا ائمہ اور مفسرین نے بھی محض نادانی سے (ایسی تفسیر کی ہے) (نعوذ ب اللہ منہ)
(اربعین نمبر۳ ص۳، خزائن ج۱۷ ص۳۸۸، ملخص)
پھر مشتہر صاحب نے یہ کہا کہ: ’’لفظ توفی کا استعمال رسول اﷲa سے۔ صحیح بخاری سے ایک حدیث پیش کی ہے کہ ابن عباسq سے روایت ہے کہ رسول اﷲa نے فرمایا:’’عن ابن عباس انہ یجاء برجال من امتی فیوخذبہم ذات الشمال فاقول یا رب اصحابی فیقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیدا۔ مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘قیامت کے دن بعض لوگ میری امت میں سے دوزخ کی طرف لائے جائیں گے۔ پس میں کہوں گا کہ اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں کہا جائے گا کہ تم کو ان کاموں کی خبر نہیں ہے۔ جو تمہارے بعد ان لوگوں نے کئے۔ سو اس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندہ نے کہی تھی۔ یعنی مسیح بن مریم نے کہ اے رب جب تک میں ان میں رہا ان پر شاہد تھا۔ پھر جب تم نے مجھ کو وفات دی تو تو خود ان کا نگہبان تھا۔‘‘
(بخاری ج۶۶۵، باب قولہ وکنت علیہم شہید)
اس حدیث میں آنحضرتa نے اپنے قصہ اور مسیح بن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دے کر وہی لفظ ’’فلما توفیتنی‘‘ کا اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔ جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرتa نے ’’فلما توفیتنی‘‘ سے وفات ہی مراد لی ہے۔ کیونکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ آنحضرتa فوت ہوکر مدینہ منورہ میں مدفون ہیں۔‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کہ توفی بمعنی موت بھی مستعمل ہے اور اس سے بھی انکار نہیں کہ آنحضرتa نے توفی کو اپنے حق میں بمعنی موت ہی استعمال کیا ہے۔ مگر آپa کے استعمال سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰm کے قول ’’فلما توفیتنی‘‘ میں بھی توفی بمعنی موت ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ اسی آیت میں حضرت عیسیٰm کا یہ قول بھی ہے کہ: ’’تعلم ما فی نفسی ولا اعلم مافی نفسک (مائدہ:۱۱۶)‘‘ {اے رب جو میرے نفس میں ہے تو اس کو جانتا ہے اور جو تیرے نفس میں ہے اس کو میں نہیں جانتا۔}
اب دیکھو کہ یہاں پر نفس کا لفظ حضرت عیسیٰm اور خداوند تعالیٰ دونوں کے لئے وارد ہے تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ دونوں کے حق میں نفس کے ایک ہی معنی مراد لئے جائیں۔ ہرگز ہرگز نہیں۔ پس آنحضرتa کے حق میں توفی بمعنی موت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰm کی توفی بھی بمعنی موت ہو۔
مشتہر صاحب کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ: ’’آنحضرتa نے اپنے قصہ اور حضرت مسیح بن مریمm کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دے کر ’’فلما توفیتنی‘‘ کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔‘‘ اس لئے کہ آنحضرتa کا قصہ ہرگز حضرت عیسیٰm کے قصہ کے ہم رنگ نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰm کا یہ قول۔ ’’کنت علیہم شہیدا الایۃ‘‘خداوند تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں ہو گا کہ:’’أانت قلت للناس اتخذونی وامیّ الہین من دون اﷲ (مائدہ:۱۱۶)‘‘{اے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ بناؤ مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود خدا کے سوا۔}
اور آنحضرتa سے اس قسم کے سوال کئے جانے کہیں ذکر نہیں ہے۔ مفہوم
حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپa کا اپنے قصہ کے ساتھ حضرت عیسیٰm کے قصہ کو ذکر کرنے سے یہ مقصود نہیں ہے کہ ’’توفیتنی‘‘ کے معنی بیان کریں بلکہ مقصود یہ ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰm باوجود اپنی برأت کرنے کے اپنی امت کے لئے یہ دعا کریں گے کہ خدایا: ’’ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (مائدہ:۱۱۸)‘‘{اگر تو ان پر عذاب کرے تو یہ سب تیرے بندہ ہیں اور اگر بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے۔}
اس طرح میں بھی اپنی برأت کروں گا اور اپنی امت کے لئے انہی الفاظ میں دعا بھی کروں گا جس حدیث کو مشتہر صاحب نے پیش کیا ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ آنحضرتa نے پوری آیت اس طرح تلاوت فرمائی۔ ’’وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علٰی کل شییشہید۔ ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (مائدہ:۱۱۷،۱۱۸)‘‘
مگر افسوس ہے کہ مشتہر صاحب نے حدیث کے اس ٹکڑے ’’الی قولہ العزیز الحکیم‘‘ کو حذف کر دیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپa نے پوری آیت تلاوت فرمائی۔
(بخاری شریف ج۲ ص۶۶۵، مع فتح الباری ص۱۷۶)
مذکورہ بالا مطلب کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیحm کی مذکورہ بالا دعا آنحضرتa کو بہت پسند تھی اور اپنی زندگی شریف میں بھی آپa نے اپنی امت کے حق میں یہ دعا فرمائی ہے۔ (۱)مسلم میں حضرت عمرو بن عاصq سے روایت ہے کہ:’’عن عمروبن العاص ان النبیa تلاقول اﷲتعالٰی فی ابراہیمm رب انہن اضللن کثیرا من الناس فمن اتبعنی فانہ منی۔ الایۃ وقال عیسٰیm ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم فرفع یدیہ وقال اللہم امتی امتی وبکٰی‘‘
(مسلم ج۱ ص۱۱۳، باب دعا النبی لامتہ وبکائہ وشفقتہ علیہم)
نبی کریمa نے وہ آیت تلاوت فرمائی جو حضرت ابراہیمm کی نسبت وارد ہے (کہ آپ اس طرح دعا فرمائیں گے) خدایا ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ پس جس نے میری پیروی کی وہی مجھ سے ہے اور حضرت عیسیٰm کے اس قول کو بھی تلاوت فرمایا کہ (خدایا) اگر تو ان پر عذاب کرے تو یہ سب تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے۔ اس دعا کے پڑھنے کے بعد آپa نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا: ’’اللہم امتی امتی‘‘ (خدایا میں بھی امت کے حق میں یہی دعا کرتا ہوں) اور آپa رونے لگے۔
(رواہ النسائی ج۱ ص۱۰۲، ابن ماجہ ص۹۶، باب ماجاء فی قراہ فی صلٰوۃ اللیل، مشکوٰۃ ص۱۰۷، باب صلٰوۃ اللیل)
نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت ابوذرq سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) آنحضرتa نے نماز تہجد میں ایک ہی آیت میں صبح کر دی اور وہ آیت یہ تھی: ’’ان تعذبہم فانہم عبادک‘‘ اس حدیث کی شرح میں لمعات میں لکھا ہے کہ: ’’یہ آیت حضرت عیسیٰm کا قول ہے اپنی قوم کے حق میں (آپa کا اس آیت کو باربار پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ) گویا آپa نے اپنی امت کا حال خداوند تعالیٰ کے حضور میں عرض کر کے ان کے لئے مغفرت چاہی۔‘‘
پھر مشتہر صاحب نے شمس الدین سرخسی، فوات الوفیات، منتہی الارب سے ایک ایک جملہ نقل کر کے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اس لفظ کے مجرد معنی عرف عام میں بجز موت کے اور کچھ نہیںہوتے۔ چنانچہ ذیل کی حدیث شریف بھی ملاحظہ فرمائیے: ’’واخبرنی انہ اخبرہ امتہ لم یکن نبی الاعاش نصف عمر الذی کان قبلہ واخبرنی ان عیسٰی بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ‘‘
(مجمع الزوائد ج۹ ص۲۶، باب فی مرضہ وخاتمہ)
اس کا جواب یہ ہے:
۱… کہ مجرد معنی سے اگر یہ مراد ہے کہ اس لفظ سے بلاقرینہ کے موت ہی کے معنی سمجھے جاتے ہیں تو غلط اور محض غلط ہے۔ اس لئے کہ جو عبارتیں ثبوت میں پیش کی گئی ہیں ان میں موت کے معنی کے قرینے موجود ہیں۔ نقشہ ذیل ملاحظہ ہو۔
نمبرشمار
اصل عبارت مع ترجمہ
قرینہ
۱
قال ابوحنیفہ رجل توفی عن امراۃ ہی مملوکۃ (شمس الدین سرخی ج۶ ص۵۵)ترجمہ: امام ابوحنیفہ نے فرمایا ایک شخص بی بی چھوڑ کر مر گیا اور وہ مملوکہ ہے۔
عن امراتہبی بی چھوڑنا قرینہ ہے موت کے معنی کا
۲
ابوجعفر امیر المومنین عاش اربعاً وستین سنۃ وتوفی ببیر میمون من ارض الحرام (فوات الوفیات ص۲۳۳)ترجمہ: ابوجعفر منصور امیرالمومنین ۶۴برس زندہ رہا اور بیرمیمون میں جو ارض حرم ہے مرگیا۔
عاش اربعاً وستین سنۃ۶۴برس زندہ رہا یہ قرینہ موت کے معنی کا۔
۳
یقال توفی اللہ تعالٰی القبض روحہ (منتہی الارب ج۴ ص۳۲۵)ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ توفی اللہ یعنی اللہ نے اس کی روح قبض کی۔
توفی کے ایک معنی قبض روح ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے دوسرے معنی نہیں ہیں۔ منتہی الارب میں اس جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے دوسرے معنی تمام گرفتن حقدار بھی ہے۔
الغرض مذکورہ بالا حوالوں سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بلاقرینہ کے لفظ توفی سے موت کے معنی سمجھے جاتے ہیں اور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرف عام میں توفی کے معنی موت ہی ہیں اور اگر مجرد معنی سے کچھ اور مراد ہے تو اس کو نہ ظاہر کیا اور نہ اس کا کوئی ثبوت پیش کیا۔
۲… جو حدیث مشتہر صاحب نے پیش کی ہے اس میں توفی کا لفظ نہیں ہے۔ اس حدیث میں دو جملے ہیں: (۱)’’واخبرنی انہ اخبر انہ لم یکن نبی الاعاش نصف عمر
الذی کان قبلہ‘‘ (۲)’’واخبرنی ان عیسٰی بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ‘‘ چونکہ پہلے جملہ سے مرزاقادیانی کا اصل دعویٰ (مسیح موعود ہونا) ہی غلط ہوجاتا ہے۔ اس لئے مشتہر صاحب نے پہلے جملہ کا ترجمہ تک نہیں کیا۔ صرف دوسرے جملہ کا ترجمہ کر کے یہ لکھاہے کہ: ’’اب جب کہ مخصوص اﷲتعالیٰ نے ذریعہ وحی حضرت مسیح کی عمر کو بتادیا تو اب بھی اس کو زندہ ماننا خداتعالیٰ کے کلام کو نہ ماننا ہے۔‘‘ میں دونوں جملوں کو الگ الگ کر کے ہر جملہ کا مطلب بیان کرتا ہوں تاکہ ناظرین کو اس حدیث کے مطلب سمجھنے میں آسانی ہو اور یہ بھی ثابت ہو جائے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ مسیحیت اس حدیث کی رو سے بھی غلط ہے اور مشتہر صاحب نے اس حدیث سے جو سمجھا ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ (۱)’’واخبرنی انہ اخبر انہ لم یکن نبی الاعاش نصف عمر الذی کان قبلہ‘‘ آنحضرتaفرماتے ہیں کہ جبرائیلm نے مجھ کو یہ خبر دی کہ کوئی نبی نہیں ہوئے، مگر زندہ رہے آدھی عمر اس نبی کی عمر سے، جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی ہر نبی کی عمر پہلے نبی کی عمر کی آدھی ہوتی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی مسیح موعود نہ تھے۔ اس لئے کہ مرزاقادیانی (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) میں لکھتے ہیں: ’’اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی سے پہلے نبی آنحضرتa ہی ہیں اور کوئی نہیں اور یہ ظاہر ہے کہ آنحضرتa کی عمر ۶۳برس کی تھی۔ اگر مرزاقادیانی نبی ہوتے تو اس حدیث کی رو سے ان کی عمر۳۰ برس یا ۳۱برس چھ مہینے کی ہوتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ مرزاقادیانی کی عمر بقول مؤلف آئینہ صداقت ۷۵برس کی ہوئی۔
(آئینہ صداقت ص۱۸)
اس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی نبی نہیں تھے اور جب نبی نہیں ہوئے تو مسیح موعود بھی نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس لئے کہ مسیح موعود نبی ہوں گے۔ جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث سے ثابت ہے۔ (۲)’’واخبرنی ان عیسٰی بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ‘‘آنحضرتa فرماتے ہیں کہ جبرائیلm نے مجھ کو یہ خبر دی کہ عیسیٰ بن مریم نے ایک سو
بیس برس زندگی بسر کی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت حضرت عیسیٰm آسمان پر اٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی۔ بعد نزول جو عمر آپ کی ہوگی وہ اس میں محسوب نہیں ہے۔ دیکھو (حجج الکرامہ فی اثار القیامہ ص۴۲۸) میں لکھا ہے کہ: ’’گویم رفع او (عیسٰیm) بعمرسی وسہ سال زعم نصاری است چنانکہ وہب ابن منبہ گفتہ وثابت در احادیث نبویہ رفع او بعمر یکصدوبست سال است‘‘ میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰm کا ۳۳برس میں اٹھایا جانا نصاریٰ کا قول ہے اور احادیث نبویہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ۱۲۰برس کی عمر میں اٹھائے گئے۔
مشتہر صاحب، الہلال کے ایڈیٹر مولوی ابوالکلام آزادv کی نسبت لکھتے ہیںکہ ’’وہ کبیرالدین احمد سیکرٹری انجمن احمدیہ کو اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح بھی دوسرے نبیوں کی طرح مر گئے۔‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے جن دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ سے حضرت مسیحm کی حیات ثابت کردی ہے ان کے مقابلہ میں ایڈیٹر ممدوح کا قول قابل سماعت نہیں ہوسکتا ہے اور اگر مشتہر صاحب کے نزدیک ایڈیٹر صاحب کا قول مذکورہ بالا دلائل پر مقدم اور واجب التسلیم ہے تو مشتہر صاحب پہلے ایڈیٹر صاحب کے اس قول کو تسلیم کریں جو الہلال نمبر:۱،۲،۷،۱۴؍جنوری ۱۹۱۲ء کے ص۲۴ میں درج ہے۔ ’’نہ تو میں کسی شخص کو مہدی یقین کرتا ہوں نہ مسیح موعود میں اعتقاد توحید ورسالت اور عمل صالح کو نجات کے لئے کافی سمجھتا ہوں۔‘‘
مشتہر صاحب نے مولوی شبلی صاحب کا ایک فتویٰ بھی نقل کیا ہے کہ جو لوگ مرزاغلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں وہ مسلمان ہیں اور تمام احکام مسلمانوں کے ان سے متعلق ہیں اور ان سے بلاتکلف مناکحت جائز ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مشتہر صاحب نے مرزاقادیانی اور ان کے صاحبزادے مرزامحمود احمد قادیانی کے اس فتویٰ کا ذکر تک نہیں کیا جو ان دونوں نے اپنے مخالف مسلمانوں کے حق میں دیا ہے۔ مرزاقادیانی (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷) میں لکھتے ہیں کہ: ’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
پھر اسی صفحہ (خزائن ج۲۲ ص۱۶۸) میں لکھتے ہیں: ’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘ آپ کے صاحبزادے مرزامحمود احمد قادیانی (تشحیذ الاذہان ص۱۲۲) میں لکھتے ہیں: ’’اور جب حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کے بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا۔‘‘
علامہ شبلی اگر مرزاقادیانی اور ان کے صاحبزادہ کے خیالات سے پورے واقف ہوتے تو ایسا فتویٰ کبھی نہیں دیتے۔ مشتہر صاحب کو چاہئے کہ ان اقوال کو مولوی شبلی صاحب کے سامنے پیش کرکے فتویٰ طلب کریں۔
نوٹ: میں نے لفظ توفی کی کامل تحقیقات کردی اور الحمدﷲ کہ لفظ توفی ہی سےنہایت ہی پرزور دلائل کے ساتھ حضرت مسیحm کی حیات جسمانی ثابت کر دی سردست کسی دوسری دلیل کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔ اگر مشتہر صاحب ان دلائل کا تشفی بخش جواب دے دیں گے تب اور دلائل پیش کئے جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! بفضلہ تعالیٰ میں نے مشتہر صاحب کا مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ اب میرا مطالبہ قادیانی جماعت سے عموماً اور مشتہر صاحب سے خصوصاً یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت ومسیحیت قرآن مجید کی کسی قطعی الدلالت آیت سے یامرفوع متصل صحیح حدیث سے ثابت کر دکھائیں ورنہ مرزاقادیانی کے نہ ماننے والوں کو یہودونصاریٰ بنانے سے باز آئیں۔
المجیب ابوالخیر سید محمد انور حسین
ساکن محلہ مہولی شہر مونگیر پروفیسر ڈی۔جی کالج مونگیر
۱۳؍اپریل ۱۹۱۴ء، مطابق ۱۷؍جمادی الاولیٰ ۱۳۳۲ھ
ضروری اطلاع: لکھنؤ کی معتبر تحریر سے معلوم ہوا کہ جس قادیانی اشتہار کا اس رسالہ میں جواب دیاگیا ہے۔ اس کا اصل دعویٰ ہی غلط ہے۔ مشتہر نے محض جھوٹا الزام علمائے اسلام پر لگایا ہے۔ اس کی تفصیل ناظرین رسالہ النجم لکھنؤ میں ملاحظہ کریں گے۔ نمبر:۱۰،۱۱ ج۱، بابت ماہ جمادی الثانیہ رسالہ مذکور کا دیکھنا چاہئے۔
مژدہ! مولانا عبدالشکور کی تقریر سے ایک قادیانی تائب ہوکرمسلمان ہوا۔الحمدﷲ علیٰ ذلک!
مولانا سید محمد مونگیریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مسلمانوں کو نہایت بیدار مغزی سے اس دعویٰ کی طرف توجہ کرنا چاہئے۔ یہ وہ عظیم الشان فتنہ ہے جس نے مسلمانوں میں ایک انقلاب پیدا کر دیا اور پیدا کررہا ہے۔ ہمارے بھائی جب اس دعویٰ کی تفصیل ملاحظہ کریں گے تو متحیّر ہوجائیں گے۔ یہ وہ وقت تھا کہ مسلمان سب اتفاق کر کے اپنے مقدس مذہب کے قائم رکھنے اور دشمنان اسلام سے بچانے کی فکر کرتے۔ مگر افسوس کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے بیرونی حملوں کو اشتعال دے کر اندرونی حملہ ایسا کیاکہ اسلام کاخاتمہ ہی کر دیا۔ وہ آسمانی مذہب جس کی بنیاد حضرت سیدالمرسلین خاتم النّبیینa نے ڈالی۔ جس کی شاخ وبرگ لہلہائے اس وقت تیس چالیس کروڑ شمار کئے جاتے ہیں۔ اس کی بنیاد اکھیڑ کر دوسرا مذہب اسلام کے نام سے قائم کرنا چاہتے ہیں اور نہایت زور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ جو مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ جہنمی ہے کافر ہے۔
بھائیو! کس قدر صدمہ کی بات ہے کہ جس باغ کو جناب رسول اﷲa نے لگایا اور جس کو آپa کے سچے پیروؤں نے ایسا سینچا کہ ساری دنیا میں اس کی شاخیں پھیل گئیں۔ اب اسے مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو برباد کرنا چاہتے ہیں اور اپنے جدید خیالی مذہب پر فخر کرتے ہیں۔ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنی زبان سے، اپنے قلم سے، اپنے افعال سے، چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بناکر ان کے دلوں کو پاش پاش اور دشمنان اسلام کو خوش کر دیا۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کے جھوٹ اور فریب کا دریا موجزن ہے۔ جن کی کتابیں اور رسالے جھوٹی باتوں اور فریب آمیز تقریروں سے بھری ہیں۔ جنہیں اﷲتعالیٰ نے علم کے ساتھ فہم کامل دی ہے وہ غور سے ملاحظہ کریں۔ ان کے زوردار دعوؤں اور محض جھوٹی تعلّیوں پر فریفتہ نہ ہو جائیں۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کے دعوؤں سے کوئی کمال انسانینہیں بچا۔ سب ہی کا انہیں دعویٰ ہے۔
۱… ’’مجدد ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۹۴، خزائن ج۲۲ ص۲۰۱)
۲… ’’امام وقت ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۹، خزائن ج۲۲ ص۸۲)
۳… ’’محدث ہیں۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰)
۴… ’’مہدی ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۴۷)
۵… ’’پہلے مثیل مسیح تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)
۶… ’’اب مسیح موعود ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۹، خزائن ج۳ ص۱۲۲)
۷… ’’نبی ہیں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶)
۸… ’’صاحب شریعت رسول ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳، اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
۹… ’’بعض وقت بعض انبیاء سے افضل ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)
۱۰… ’’اور کسی وقت تمام انبیاء سے افضلیت کا دعویٰ ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)
۱۱… ’’یہاں تک کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa پر بھی فضیلت کا دعویٰ ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)
مگر یہ آخری دعویٰ صاف طور سے نہیں مسلمانوں کے دھوکا دینے کو خادم اور غلام احمد بھی اپنے کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہa کا مطیع اور مؤید بتاتے ہیں۔ مگر آئندہ ان کے بعض اقوال نقل کئے جائیں گے۔ جن سے بخوبی ظاہر ہوجائے گا کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے آپ کو تمام انبیاء اور نیز جناب رسول اﷲa سے افضل اور نہایت افضل سمجھتے ہیں۔ شریعت کی اطاعت کا حال ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے وہی معنی لائق اعتبار ہیں جو میں بیان کروں اور حدیث وہی لائق اعتبار ہے جسے میں صحیح کہہ دوں۔ ورنہ ردی میں پھینک دینے کے لائق ہے۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۰، خزائن ج۱۷ ص۵۱ حاشیہ)
صاحب عقل کے نزدیک تو اس کا یہی حاصل ہے کہ جو مرزاغلام احمد قادیانی کہیں وہی شریعت ہے۔ شریعت کا نام لینا اور اس کا مطیع بتانا برائے نام ہے۔ ورنہ قرآن کے جو معنی تمام صحابہi اور امت محمدیہa نے سمجھے اور بیان کئے اور جس حدیث کو تمام امت
نے مانا اور صحیح قرار دیا اور صحابہi کا جس پر اتفاق ہے اسے نہ ماننا اور ردی میں ڈالنا اور قرآن کے ایسے معنی گھڑنا جو کسی نے سلف اور خلف میں نہیں سمجھے۔ خصوصاً اہل زبان نے اس کے کیا معنی کئے ہیں؟ ذرا اہل فہم وانصاف اس پر غور فرمائیں۔ بایں ہمہ بعض ان کے پیرو کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں کرتے۔ ظلی نبی ہیں۔ نائب رسول ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی ہیں مگر صاحب شریعت نہیں ہی۔ بلکہ امتی نبی ہیں۔ (اتمام حجت برختم نبوت حاشیہ ص۱۱۲،۱۱۳) مگر یہ دونوں قول محض غلط ہیں۔ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے دیدۂ دانستہ ایسا کہتے ہیں۔ یا خود غلطی میں پڑے ہیں۔
بھائیو! میں تمہیں ہوشیار کرتا ہوں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے پیرو اس قسم کا بہت دھوکہ دیتے ہیں۔ ہر شخص کے سامنے اس کے مزاج وخیال کے مناسب مرزاغلام احمد قادیانی کا ذکرکرکے اسے مائل کرتے ہیں۔
بھائیو! اگر تمہیں اپنے ایمان کو سلامت رکھنا ہے تو ایسے حضرات کی باتوں میں نہ آنا اور ان سے علیحدہ رہنا۔ آئندہ ان کے ایسے اقوال نقل کئے جائیں گے جن سے اظہرمن الشمس ہو جائے گا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو مستقل نبی اور صاحب شریعت ہونے کا پختہ دعویٰ ہے۔ جس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو آیت قرآنی: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ سے انکار ہے۔ مگر چونکہ جانتے ہیں کہ ہمارے دعوے کو صرف مسلمانوں ہی نے مانا ہے۔ کوئی ہندو، کوئی آریہ، کوئی عیسائی ان پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے صاف انکار تو نہیں کرتے بلکہ عوام کے دھوکہ دینے کی غرض سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ حدیث سے۔ آیت مذکورہ سے قطعی طور سے ثابت ہے کہ شریعت محمدیہa کی رو سے جسے نبی کہا جائے ان سب کے آپa خاتم ہیں۔ یعنیسب کے بعد آنے والے۔ کیونکہ خاتم النّبیین کے معنی لغت میں اور محاورہ عرب میں آخرالنّبیین کے ہیں۔ یعنی تمام انبیاء اور ہر قسم کے نبیوں کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا آنیو الا نہیں اور یہی معنی صحیح حدیثوں سے بھی ثابت ہیں۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ جس قدر انبیاء بھیجے گئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ آنحضرتa سلطان الانبیاء سرور عالم ہیں۔ آپa کے بعد کسی جدید نبی کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ یہ آپ کی
شان رحمت کے بالکل خلاف ہے۔ علمائے امت وہی کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل کرتے تھے۔ اس کی تفصیل (فیصلہ آسمانی حصہ سوم) میں دیکھنا چاہئے۔ الغرض اب جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بموجب آیت قرآن وحدیث نبوی کے جھوٹا ہے۔ (حدیث یہ ہے)
(ترجمہ) میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ہر ایک اپنے آپ کو نبی سمجھے گا۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے۔
اس مضمون کو (بخاری ج۱ ص۵۰۹، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، مسلم ج۲ ص۳۹۷) قولہ: ’’ان بین یدی الساعۃ کذابین قریباً من ثلاثین‘‘اور ترمذی (ترمذی ج۲ ص۴۵، باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں تأمل کرنے سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
اوّل… یہ کہ حضور انورa پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ میرے بعد جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے۔
دوم… یہ کہ ان کے جھوٹے ہونے کی یہ علامات بیان فرمائی کہ امت محمدی ہونے کا دعویٰ کریں گے اور اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کے مدعی ہوں گے۔ یعنی امتی نبی کہیں گے۔
سوم… ان کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل فرمائی: ’’وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘یعنی وہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ میرا خاتم النّبیین ہونا ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اس سے خاص طور سےاس مدعی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا جو اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کا دعویٰ کرے اور امتی نبی کہے۔
چہارم… نہایت صراحت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لفظ خاتم النّبیین کے معنی فقط آخر النّبیین کے ہیں۔ یہ معنی نہیں کہ جناب رسول اﷲa انبیاء کی مہر ہیں یا زینت ہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ یہ جملہ ان مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں بیان ہوا ہے۔ اگر مہر کے معنی لئے جائیں تو ان مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ جملہ فضول بیکار ہو جائے گا۔ اہل علم اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ خاتم النّبیین کے بعد جملہ لا نبی بعدی کا اضافہ کیاگیا۔ جس سے نہایت واضح ہوگیا کہ انا خاتم النّبیین کے یہی معنی ہیں کہ میں آخر النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
پنجم… اس حدیث کے الفاظ اور معنی پر نظر کرنے کے بعد جب واقعات پر نظر کی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آنحضرتa کے بعد بعض نبوت تشریعی کے مدعی ہوئے۔ جیسے صالح بن طریف اور بعض غیرتشریعی نبوت کے جیسے ابوعیسیٰ وغیرہ۔ ان سب کے جھوٹے ہونے کی آپa نے یہی دلیل بیان فرمائی کہ میں آخر النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے قطعی اور یقینی طور سے ثابت ہوگیا کہ آپa کے بعد تشریعی غیرتشریعی۔ امتی غیرامتی کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔ خصوصاً جو امتی نبی ہونے کا مدعی ہو اس کا جھوٹا ہونا تو آفتاب نیمروز کی طرح اس حدیث سے روشن ہوگیا۔
ششم… اس حدیث سے آیت قرآنیہ ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ کی تفسیر بھی پورے طور سے ہوگئی اور وحی خداوندی کی تفسیر صاحب وحی نے کر دی اور وہ تفسیر بھی الہام خداوندی سے کی جس کاذکر اوپر کیاگیا۔
الغرض! اس حدیث میں جو علامت جھوٹے مدعیان نبوت کی بیان ہوئی ہے۔ وہ مرزاغلام احمد قادیانی میں یقینی طور سے پائی جاتی ہے اور حدیث کا آخری جملہ بھی انہیں کاذب ثابت کرتا ہے اور خاتم النّبیین اور ’’لانبی بعدی‘‘ کے جو معنی مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین نے بیان کئے ہیں وہ بھی اس حدیث سے محض غلط ثابت ہوئے اور آیت قرآن مجید کی تفسیر بھی ہو گئی۔ اب جسے اﷲتعالیٰ نے علم کے ساتھ کچھ بھی حق پسندی اور خوف خدا دیا ہے وہ پورے طور سے فیصلہ کر لے گا کہ قرآن وحدیث سے بالیقین ثابت ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کاذب تھے۔ اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہوسکتا۔ یہ بیان تو میرا ضمنی طور سے تھا۔ اصل مقصود یہ دکھانا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے صرف مجدد اور مصلح ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ نہایت زور سے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اس کا ثبوت ان کے صریح کلام سے کئی طریقوں سے ہوتا ہے۔ یہاں صرف تین طریقے بیان کئے گئے ہیں۔
ایک یہ کہ وہ اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں اور ایسا کافر جیسا خدا اور رسول کو نہ ماننے والا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے بہت جگہ اس کی تصریح کی ہے۔ میں ان کی آخری کتاب جو تمام مرزائیوں کے نزدیک نہایت معتبر ہے اس کی عبارت نقل کرتا ہوں۔ ان کے کسی مرید نے ان سے سوال کیا ہے وہ سوال یہ ہے۔
’’سوال: حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مؤمنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں۔ صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ: ’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہوجاتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)
یہ سائل مرزاغلام احمد قادیانی کے اقوال میں تناقض پیش کر کے اس کا جواب چاہتا ہے۔ اس کا واقعی اور سچا جواب تو یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی پہلے اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتےتھے۔ آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے اور اپنے مریدین کی حالت پر نظر کرتے کرتے اس مرتبہ کو پہنچے کہ ان کو منکر کافر ٹھہرایا اور ان کے مصلح اور امام ہونے کا نتیجہ ظاہر ہوا۔ اگر اس مرتبہ پر پہنچنے کے بعد بھی دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان۔ مسلمان ہی رہتے تو بقول مرزامحمود احمد قادیانی۔ مرزاقادیانی کی بعثت کافائدہ ہی کیا ہوتا؟ اور سائل کا یہ خیال کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی جو تکفیر کرے وہی کافر ہوتا ہے۔ کوتاہ نظری اور مرتبہ شناسی کے خلاف ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی مرتبہ نبوت مستقلہ پر پہنچ گئے ہیں۔ اب ان کا منکر کافر ہے۔ مگر مرزاغلام احمد قادیانی صاف تحریر نہیں کرتے اور پنچ کے ساتھ اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں۔
مرزاغلام احمد قادیانی کا جواب ملاحظہ ہو: ’’الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک
ایک ہی قسم ہے۔ کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ (اﷲتعالیٰ) فرماتا ہے:’’فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً اوکذب بآیتہ‘‘یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں ایک خدا پر افتراء کرنے والا۔ دوسرا خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا، اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑے گا۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ اس آیت میں خود فرماتا ہے۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷،۱۶۸)
اس جواب پر غور کیا جائے کہ مرزاغلام احمد قادپانی اپنے نہ ماننے والوں کو ویسا ہی کافر کہتے ہیں۔ جیسا خدا پر افتراء کرنے والا اور آیات قرآنیہ کا نہ ماننے والا اس کے یہ معنی کسی طرح نہیں ہوسکتے کہ کفر سے مراد کفر ان نعمت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میرا نہ ماننے والا کامل الایمان نہیں ہے ناقص الایمان ہے۔ اس مطلب کا ثبوت ان کی عبارت سے نہایت ظاہر ہے، تین وجہ سے۔
اوّل… یہ کہ وہ مکفر کو اور نہ ماننے والے کو ایک سا قرار دیتے ہیں اور مکفر پر ویسا ہی کفر عود کرتا ہے۔ جیسا اس نے دوسرے پر دعویٰ کیا ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی لکھ رہے ہیں کہ نہ ماننے والوں نے مجھے بڑا کافر کہا اور جب میں ایسا کافر نہیں ہوں تو بالضرور میرا نہ ماننے والا بڑا کافر ہے۔
دوم… وجہ یہ ہے کہ اگر مرزاغلام احمد قادیانی کا نہ ماننے والا کافر نہیں ہے تو سوال کا جواب یہ دینا چاہئے تھا کہ میں جس طرح پہلے اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا تھا اب بھی نہیں کہتا اور میرا یہ کہنا کہ جس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ کامل مسلمان نہیں ہے۔ اس سے سوال کا جواب بھی پورے طور سے ہو جاتا اور یہ بھی معلوم ہوتا کہ وہ اپنے منکر کو کافر نہیں کہتے۔ جب یہ نہیں کہا تو بالیقین ان کا وہی مطلب ہے جو ان کے ظاہر الفاظ سے ظاہر ہورہا ہے۔ یعنی مرزاغلام احمد قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو ایسا ہی کافر سمجھتے ہیں۔ جیسے تمام مسلمان اہل کتاب اور مشرکین کو سمجھتے ہیں۔
سوم… وجہ نہایت ظاہر ان کا یہ قول ہے کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ اس قول کے بعد کسی طرح کا شبہ اس امر میں نہیں رہتا کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے منکر کو ویسا ہی کافر کہتے ہیں جیسا خدا اور رسول کا منکر ہوتا ہے۔ اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو مستقل نبوت کا دعویٰ تھا۔ کیونکہ غیرنبی کا منکر کافر نہیں ہوسکتا اور مرزاغلام احمد قادیانی نے بہت جگہ اپنے منکر کو کافر کہا ہے۔ ’’مثلاً کفر دو قسم پر ہے۔ اوّل: ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتa کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم: دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہی کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)
ایسی صراحتوں کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی کے بعض مریدوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ کسی صاحب عقل کے نزدیک سچائی پر محمول نہیں ہوسکتا۔ سچائی سے تمام اہل قبلہ کو مسلمان کہنے والا مرزاغلام احمد قادیانی کا معتقد ہرگز نہیں ہوسکتا۔
مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ فتویٰ ہے کہ کسی قادیانی کی نماز اس مسلمان کے پیچھے درست نہیں جو قادیانی نہیں۔ یعنی اس نے مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ کو نہیں مانا۔ اگرچہ وہ مکذب یا مکفر نہ ہو بلکہ متردد یا ساکت ہی ہو۔ مرزاقادیانی (اربعین نمبر۳ ص۲۸، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷) میں لکھتے ہیں: ’’خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا ہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘ مرزاغلام احمد قادیانی اس میں فرماتے ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے کہ غیرقادیانی کے پیچھے نماز قطعاً حرام ہے۔ اب ناظرین مرزاغلام احمد قادیانی کے اس فتوے پر غر فرمائیں اور اسی کے ساتھ شریعت محمدیہa کے اس حکم کو بھی ملاحظہ کریں کہ ہر مسلمان کے پیچھے مسلمان کی نماز ہوجاتی ہے۔ البتہ کافر کے پیچھے نماز حرام ہے۔ اب ان دونوں باتوں کو دیکھنے سے اس امر
میں کسی قسم کا شبہ نہیں رہتا کہ غیرقادیانی کو مرزاغلام احمد قادیانی کافر سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی کا فتویٰ بھی دیکھئے جو فتاویٰ احمدیہ میں منقول ہے۔ ’’سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور (مرزاقادیانی) کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے۔ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔‘‘
(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۸۲)
’’۱۰؍ستمبر ۱۹۰۱ء کو سید عبد اللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں، یا نہ پڑھوں فرمایا۔ مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔ فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب۔‘‘
(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۱۸)
اب دیکھا جائے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے ان صریح احکام کے بعد اگر کوئی ذی علم پختہ قادیانی یہ کہے کہ جو مرزاغلام احمد قادیانی کی تکفیر نہیں کرتا اس کے پیچھے ہم نماز پڑھتے ہیں اور بالفرض اگر کسی وقت غیرقادیانی کے پیچھے پڑھ بھی لے تو اس کی وجہ اس کی ناواقفی تو نہیں ہوسکتی کیونکہ جو ذی علم برسوں سے مرزاغلام احمد قادیانی پر گویا فریفتہ ہے وہ مرزاغلام احمد قادیانی کے ایسے ضروری احکام سے ناواقف ہو۔ اس لئے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے کسی مصلحت سے نماز پڑھ لی۔ تنہائی میں پھر اعادہ کر لے گا۔ اگر پابند نماز ہے اس کے ساتھ مرزاغلام احمد قادیانی کا وہ حکم بھی دیکھا جائے کہ غیرقادیانیوں سے مناکحت جائز نہیں۔ اخبار بدر میں بھی چھپ چکا ہے کہ جو غیرقادیانی کو اپنی لڑکی دے وہ قادیانی نہیں ہے۔ اب قادیانیوں کے عمل اور برتاؤ سے بھی اس کا ثبوت ہورہا ہے کہ وہ کسی غیرقادیانی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اگرچہ امام عالم نہایت متقی پرہیزگار اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہ کہتا ہو۔ بلکہ اپنی جماعت کو علیحدہ کرنے پرلڑتے ہیں۔ اپنی بیٹی غیرقادیانی کو ہرگز نہیں دیتے۔ مسلمانوں کو مثیل یہود ونصاریٰ کے سمجھتے ہیں۔ الغرض یہ احکام نہایت صفائی سے ثابت کرتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو مستقلہ نبوت کا دعویٰ تھا۔
مرزاغلام احمد قادیانی نے صاف طور سے اپنی رسالت اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ان کی وحی میں باربار صدہا جگہ ان کے خدا نے انہیں نبی رسول کہا ہے۔ اب اہل اسلام اس پر غور کریں کہ ہم مسلمان جن انبیاء اور رسولوں کی نبوت ورسالت کے معتقد ہیں ان کی نبوت کی دلیل بجز اس کے ہمارے پاس کیا ہے کہ خدا نے اپنی وحی میں ان کو رسول کہا۔ اب جب مرزاغلام احمد قادیانی کو بھی رسول اور نبی خدا نے وحی میں کہا تو پھر ان کے اس دعوے میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی۔ ورنہ پھر مخالفین خصوصاً دہریہ کو تمام انبیاء میں اسی قسم کی تاویل کا موقع ہوگا۔ بطور نمونہ ان کے اقوال ملاحظہ کئے جائیں۔
۱… قول مرزا:’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الٰیفرعون رسولا‘‘ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اس رسول کے مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا۔
(حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)
مرزاغلام احمد قادیانی کا یہ ترجمہ بالکل غلط ہے۔ آیت قرآنی کے الفاظ نہایت صفائی سے بتارہے ہیں کہ تشبیہ اور مماثلت صرف رسول بھیجنے میں ہے۔ یعنی جس طرح سابق میں فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا، اسی طرح اب تمہاری طرف بھیجا۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ یہ رسول اس رسول کے مانند ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اسی غلطی کی بنیاد پر مرزاغلام احمد قادیانی نے شور مچارکھا ہے کہ آنحضرتa مثیل موسیٰm ہیں۔ یہ کہنا حضرت سرور عالمa کی کسر شان ہے۔ البتہ اسے پورے طور سے سمجھنا اہل علم کا کام ہے۔ مگر ایسے ذی علم جس نے قادیان کے نبی پر اپنی عقل کو قربان نہ کر دیا ہو۔
تشریح: یہ قرآن مجید کی آیت ہے۔ سورۂ مزمل میں اﷲتعالیٰ جناب رسول اﷲa کی رسالت کو بیان فرماتا ہے اور تمام مخلوق سے خطاب کر کے کہتا ہے کہ بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف اسی طرح رسول بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔ مرزاغلام احمد قادیانی یہی وحی الٰہی بعینہٖ اپنے لئے بیان کرتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو ایسی ہی رسالت کا دعویٰ ہے جیسے حضرت موسیٰm وجناب سید
المرسلینk کا تھا۔ یعنی جس طرح آنحضرتa کو مرزاغلام احمد قادیانی مثیل موسیٰm کہتے ہیں اسی طرح اپنے آپ کو بھی مثیل موسیٰm اس الہام سے ثابت کرتے ہیں اور رسالہ (الاستفتاء ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۳) میں ان کا یہ الہام بھی ہے: ’’انت فیہم بمنزلۃ موسٰی‘‘
(تذکرہ ص۲۷۶، طبع سوم)
یعنی تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔ غرضیکہ حضرت موسیٰ کا مثیل ہونا تو اس الہام سے بھی ثابت ہے۔ مگر مذکورہ آیات سے تو مرزاغلام احمد قادیانی اپنے آپ کو حضرت موسیٰm اور حضرت محمدa دونوں کے مثیل قرار دینا چاہتے ہیں۔ اس لئے ان کا صاحب شریعت ہونا بھی ضرور ہے۔ برادران اسلام اس پر غور کریں۔
۲… قول مرزا:’’یٰسین انک لمن المرسلین علٰی صراط مستقیم تنزیل العزیز الرحیم‘‘اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔ راہ راست پر اس خدا کی طرفسے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔
(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)
تشریح: یہ عربی الہام اور اس کا ترجمہ مرزاغلام احمد قادیانی کا ہے۔ یہ وہی الفاظ ہیں جو قرآن مجید میں جناب رسول اﷲa کے لئے اﷲتعالیٰ نے فرمائے ہیں اور آپa کی رسالت کو نہایت تاکید سے ظاہر کیا ہے۔ انہیں الفاظ کو مرزاغلام احمد قادیانی اپنے لئے کہتے ہیں جس کا مطلب یہی ہے کہ جس یقین اور قطعی طور سے جناب رسول اﷲa رسول تھے اور ہیں میں بھی ویسا ہی رسول ہوں اور میرا رسول ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسا جناب رسول اﷲa کا رسول ہونا یقینی ہے۔
ایسے صریح دعوؤں کے بعد بعض مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو مستقل رسالت کا دعویٰ نہیں ہے۔ اس نادانی یا کذب پر سخت افسوس ہے۔
۳… قول مرزا:’’انا ارسلنا احمد الٰی قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۳، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳، تذکرہ ۳۴۵)
تشریح: مرزاغلام احمد قادیانی اپنے لئے الہام الٰہی بیان کرتے ہیں کہ: ’’ہم نے (غلام) احمد کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن قوم نے اس سے اعراض کیا اور کہا کہ جھوٹا ہے۔‘‘
انبیاء سابقین اور بالخصوص جناب رسول اﷲa کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنا
رسول کہا اس کی اطلاع کے لئے جو وحی کے الفاظ ہیں اور جن سے ان کی رسالت ثابت کی جاتی ہے وہ بھی بعینہٖ ایسے ہی ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی بات نہیں ہے۔ پھر اگر مرزاغلام احمد قادیانی کے ان الفاظ میں تاویل کی جائے تو ایسی تاویل ہرجگہ ہوسکتی ہے اور اس طرح پر تمام ہی انبیاء کی نبوت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
۴… قول مرزا:’’فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الی قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اماماً وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولین‘‘ اﷲتعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا اور کہا کہ میں تجھے ایک مفسد قوم کی طرف بھیجنے والا ہوں اور بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور بلاشبہ تجھے اپنی خلافت سےمیں نے معزز مکرم کیا جیسا کہ گزشتہ لوگوں میں میری یہی سنت جاری رہی ہے۔ یعنی دنیا میں فساد کے وقت اہل فساد کے پاس اپنے رسول اور نبی بھیجے ہیں۔‘‘
(انجام آتھم ص۷۹، خزائن ج۱۱ ص۷۹)
تشریح: اس الہام میں بھی وہی الفاظ ہیں جو مستقل انبیاء کی رسالت کے لئے آئے ہیں اور جن سے ان کی رسالت کا ہم نے یقین کیا ہے اور آج ان کی رسالت ثابت کر سکتے ہیں۔ کسی طرح کا فرق نہیں ہے۔ پھر اس پر بھی اب بعض مرزائیوں کا دعویٰ نبوت سے انکار کرنا اور یہ کہنا کہ ہم مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے، کیسی سخت جہالت ہے۔ یا عوام کو دھوکہ دینا مقصود ہے۔ جب مرزاغلام احمد قادیانی نہایت صفائی سے اسی طرح نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جس طرح انبیاء سابقین نے کیا تھا۔ تو اب جو شخص انہیں مانتا ہے وہ ان اقوال کی وجہ سے بالضرور انہیں نبی مانے گا یا انہیں جھوٹا کہے گا اور ان الہامات کو غلط سمجھے گا اور اپنے احمدی ہونے سے توبہ کرے گا۔
۵… قول مرزا: ’’الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)
تشریح: اس میں کئی طور سے رسالت کا دعویٰ ہے۔
اوّل… الہام الٰہی میں مرزاغلام احمد قادیانی کی نسبت کہاگیا کہ یہ خدا کا فرستادہ اور خدا کا مامور ہے اور خدا کا رسول اور نبی وہی ہے جو اس کا فرستادہ اور مامور ہو۔
دوم… جس کی نسبت الہام میں کہا جائے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ وہ بالیقین خدا کا رسول ہے۔ کیونکہ ایمان لانا رسول ہی کے لائے ہوئے پر ضروری ہے۔ رسول کے سوا کسی کے لائے ہوئے پر خواہ وہ قطب الاقطاب ہو، مجدد ہو، محدث ہو، ملہم ہو، ایمان لانا ضروری نہیں اور نہ اس کی ہمیں خدا کی طرف سے تکلیف ہے۔
سوم… یہ کہنا کہ اس کا دشمن جہنمی ہے۔یہ رسالت اور نبوت کا بڑا نشان ہے اور نبوت کا خاصہ، اس لئے کہ نبی ہی کا دشمن یعنی منکر جہنمی ہے۔ کیونکہ وہ کافر ہے اور کافر جہنمی ہے اور نبی کے سوا کسی نائب رسول یا مجدد وقت کا دشمن کافر نہیں ہے۔ پھر وہ اس کی دشمنی سے جہنمی نہیں ہوسکتا۔
۶… قول مرزا: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)
تشریح: اس قول میں تو صاف طور سے زبان اردو میں رسول ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر اس اندھیر نگری کا کیا ٹھکانہ ہے کہ ایسے صریح دعوے رسالت کے بعد بھی بعض مرزائی کہہ دیتے ہیں کہ ہم انہیں رسول نہیں مانتے۔ بزرگ مانتے ہیں۔
۷… قول مرزا: ’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستربرس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کاتخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔ اب اگر خداتعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یاویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے طاعون دور ہوسکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)
تشریح: دافع البلاء کے اس ص۱۱ میں تین جگہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسرے مقام پرایسی شان اور تکبرانہ الفاظ سے کیا ہے کہ کسی رسول برحق نے اس طرح نہیں کیا۔ اس تکبر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس دعویٰ کی صداقت میں تمام مذاہب کے مقابل میں جو دلیل بڑے دعوے اور نہایت زوروں کے ساتھ پیش کی تھی وہ نہایت صفائی کے ساتھ غلط ہوگئی۔ رسالہ کشتی نوح میں دعویٰ کیا تھا کہ: ’’طوفان طاعونی میں
قادیان کشتی نوح کی طرح محفوظ رکھے گا۔‘‘
(کشتی نوح ٹائٹل، خزائن ج۱۹ ص۱)
اس کا یہی مطلب ہوسکتا ہے کہ جس طرح طوفان نوح کے وقت جو کشتی میں تھا وہی ڈوبنے سے بچ گیا اور سب ڈوب گئے۔ اسی طرح جو قادیان میں ہوگا وہی طاعون سے بچے گا اور باقی سب اس میں مبتلا ہوں گے۔ مگر یہ پیشین گوئی بالکل ہر طرح سے جھوٹی ہوئی۔ نہ سارے شہروں اور قریوں کے سب لوگ طاعون میں مبتلا ہوئے اور نہ سب لوگ مرے، اور نہ قادیان کے سب رہنے والے بچے۔ بلکہ جس طرح اور مقامات کے رہنے والے بعضطاعون میں مبتلا ہوکر مرے اور بعض اچھے رہے۔ کہیں موتیں زیادہ ہوئیں اور کہیں کم۔ بعض شہروں میں بعض قریوں میں طاعون جلد آیا اور بعض میں عرصہ کے بعد آیا۔ بعض ایسے بھی گاؤں ہیں کہ وہاں اب تک طاعون نہیں آیا۔ اسی طرح قادیان میں کچھ عرصہ تک نہیں آیا۔ غالباً اسی وجہ سے ان کے طبعی کبر نے ان کے خیال میں پختہ کردیا کہ ہماری وجہ سے یہاں طاعون نہیں آئے گا۔ مگر اﷲتعالیٰ نے ان کا کبرتوڑا اور ۱۹۰۴ء میں قادیان میں طاعون آیا اور ۲۸۰۰ کی آبادی میں ۳۱۳ آدمی مرے اور پھر ان کے نہایت خاص مرید عبدالکریم سیالکوٹی اور ان کا غلام مرا اور ہر حیثیت سے یہ نہایت زور کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی۔ ہمیں افسوس یہ ہے کہ ایک مدعی اسلام تمام منکرین اسلام کے مقابلہ میں نہایت ذلیل اور جھوٹا ٹھہرے۔ اس پیشین گوئی میں جو جو رنگ مرزاغلام احمد قادیانی نے بدلے ہیں اس کی تفصیل مرقع قادیانی اور الذکر الحکیم میں دیکھنا چاہئے۔
الغرض یہ ساتواں حوالہ ہے جس سے اظہر من الشمس ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے نہایت زور کے ساتھ نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا ہے اس سے کوئی صاحب یہ خیال نہ کریں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے خیال کے بموجب نبوت کی کوئی قسم چھوڑ دی ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت تشریعی اور غیرتشریعی دونوں کا دعویٰ کیا ہے اور یہ وہ دعویٰ ہے جس کی نسبت بالاتفاق اہل سنت نے کفر کا فتویٰ دیا ہے اور نہایت قوی وجہ اس کی یہ ہے کہ اس دعوے سے آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘کا انکار ہوتا ہے۔ اگرچہ کسی پوشیدہ وجہ سے زبان سے انکار نہ کیا جائے۔ یعنی اس آیت کے صاف اور صریح معنی یہ ہیں کہ محمدa اللہ کے رسول ہیں اور آخر الانبیاء ہیں۔ آپa کے بعد کوئی جدید نبی کسی قسم کا آنے والا نہیں۔ خاتم النّبیین کے معنی لغت عرب میں یہی ہیں اور تمام
مفسرین کا اس پر اتفاق ہے اور النّبیین میں الف ولام استغراق کا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمام انبیاء یعنی جس کو شریعت کی رو سے نبی کہتے ہیں اور اس لقب کا وہ مستحق ہے خواہ وہ امتی ہو یا نہ ہو، ہر قسم کے انبیاء کے آپaخاتم ہیں۔ یہ کہنا کہ آپa کا امتی ہوکر نبی ہوسکتا ہے عوام کو دھوکہ دینا ہے اور اس پردہ میں اس آیت قرآن سے انکار کرنا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں یا کسی دوسری آیت میں اس استثناء کی طرف اشارہ بھی نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے یہ معنی جس طرح محاورہ عرب سے ثابت ہیں اسی طرح احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ ضرور اس آیت قرآن مجید کا منکر ہے۔ گو ظاہر میں انکار نہ کرے۔ اس کا کافی ثبوت شروع رسالہ میں دیاگیا ہے اور حصہ سوم فیصلہ آسمانی میں اس کا بیان مفصل مرقوم ہے۔ اس کی وجہ بھی نہایت عمدہ بیان کی گئی ہے کہ آپa کے بعد نبی کیوں نہیں آسکتا اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اﷲa کی عظمت ورحمت کی شان اور آپa کی امت کا خیرالامم ہونا اسی کا مقتضی ہے کہ آپa کی امت میں انبیاء نہ ہوں۔ کیونکہ آپa کی نبوت کا آفتاب اور آپ کی شریعت کاملہ کی روشنی قیامت تک قائم رہے گی۔ اس کی حفاظت کا وعدہ خداوندی ہوچکا ہے۔ اس میں تغیروتبدل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے صرف علمائے راسخین اور کاملین کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ شریعت کو سمجھیں اور حسب موقع اسے جاری کریں۔ طلوع آفتاب کے بعد کسی تارے کا نکلنا بے کار ہے۔ اسی طرح آپa کے آفتاب رسالت کے بعد کسی کا اختر نبوت چمک نہیں سکتا۔ اس کا نکلنا بے کار ہے۔ اس کے علاوہ ایک عظیم الشان راز اس میں یہ ہے کہ یہ امر متفق علیہ اور طرفین کا مسلم ہے کہ سچے نبی کا منکر کافر ہے۔ اب اگر حضور انورa کے بعد کوئی نبی آئے حسب عادت مستمرہ آپa کے بعض امتی اسے نہ مانیں گے اور انکار نبوت سے کافر ہوکر جہنم کے مستحق ہوں گے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ آپa کا امتی جو خیرالامم میں داخل ہوچکا تھا۔ وہ نجات ابدی کا مستحق نہیں ہے بلکہ خاص میرے لئے ہے اور متعدد رسالوں میں یہ دعویٰ کیا ہے۔ بہرحال اس دعوے سے بالیقین ثابت ہوا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو نبوت تشریعی کا دعویٰ ہے اور یہ دعویٰ ان کا ایک ہی جگہ نہیں بلکہ مختلف طور سے متعدد مقامات سے ظاہرہو رہا ہے۔ یہاں آیت مذکورہ کے علاوہ دو مقام اور نقل کئے جاتے ہیں۔
۹… قول مرزا: ’’خدا وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور
دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)
تشریح: دیکھا جائے کہ صاف طور سے پہلے رسالت کا دعویٰ ہے۔ پھر صاحب شریعت ہونے کا کیونکہ کہہ رہے ہیں کہ اس عاجز کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تو اس کے یہی معنی ہیں کہ مجھے صاحب شریعت رسول بنایا۔ اب دوسرے مقام سے اس کی کامل تشریح ملاحظہ کیجئے۔
۱۰… قول مرزا: ’’اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو یہ اوّل تو دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امراور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام:’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکٰی لہم‘‘یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
(یہ تو متن ہے، اب اس کا حاشیہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ لکھتے ہیں:)
’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔’’واصنع الفلک باعیننا ووحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ ید اللہ فوق ایدہم‘‘ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے۔ جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو، خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
اب وہ اس نبی کے نہ ماننے سے نجات سے محروم ہوگیا۔ یہ آپa کی شان رحمت کے بالکل خلاف ہے۔ خاتم النّبیین، رحمۃ للعالمین کو مان کر ابدی عذاب کا مستحق نہیں
ہوسکتا۔ اس لئے آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
اب مرزائیوں کی زبان پر اور ان کی تحریروں میں یہ شور ہے کہ رسول اﷲa تشریعی انبیاء کے خاتم تھے۔ مرزاغلام احمد قادیانی تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے۔ مگر اس خیال کو مرزاغلام احمد قادیانی خود ہی غلط ٹھہراتے ہیں اور صاف طور سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اب ذرا متوجہ ہوکر آنکھوں کو کھول کر اپنے امام کا قول دیکھیں اور دل میں شرمندہ ہوں۔
۸… قول مرزا: ’’مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ:ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘
(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)
تشریح: یہ آیت قرآن مجید کی ہے اس میں اﷲتعالیٰ اپنی اور اپنے رسول برحق کی عظمت کو بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی وہ ذات ہے جس نے ملک عرب جیسے جہلاء اور ناشائستہ اور غیرمہذب قوم میں اپنا رسول نہایت شائستہ ہدایتوں اور حقانی مذہب اور کامل شریعت کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں اور نہایت مفید اور پختہ تعلیمات سے دنیا کے تمام دینوں پر اسے فائق اور غالب کر دے۔ یہ صفت کس رسول کی ہے۔ الفاظ قرآنی نہایت صفائی سے بتارہے ہیں کہ وہ رسول اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے آچکا ہے۔ کیونکہ صیغہ ماضی کے ساتھ ارشاد ہے: ’’ارسل رسولہ‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ اس رسول کو بھیج چکا ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ وہ رسول وہی ہیں جن پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی سید المرسلین حضرت محمد مصطفیa الفاظ قرآنی کے علاوہ حضور انور کی شریعت کی خوبیوں نے اس کا کامل یقین دلادیا کہ جن کی صفت اس آیت میں بیان ہوئی ہے وہ آپa ہی ہیں۔ یہاں تک کہ تمام امت محمدیہa کا اس پر اتفاق ہے اور امت محمدیہa کے علاوہ بہت سے مخالفین اسلام نے بھی بکشادہ پیشانی اس کا اقرار کیا ہے کہ شریعت محمدیہa میں جیسی عمدہ اور مفید تعلیم ہرزمانے اور ہر جگہ کے لئے ہے کسی مذہب میں نہیں ہے۔ مگر مرزاغلام احمد قادیانی الفاظ قرآنیہ کے خلاف اجماع امت کے برعکس اس آیت کو اپنے لئے کہتے ہیں۔
’’اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۷ص۴۳۵)
تشریح: مرزاقادیانی کا یہ قول نہایت صاف طور سے شہادت دیتا ہے کہ جس نے ان سے بیعت نہیں کی اور ان کے اقوال باطلہ کو نہ مانا اس کی نجات نہیں ہوسکتی۔ وہ ایسا ہی جہنمی ہے جیسے کافر منکر خدا اور رسول ہوں گے۔ قادیانی جماعت بتائے کہ کس برزگ نے اپنی بیعت کو مدار نجات بتایا ہے اور بیعت نہ کرنے والے کو جہنمی کہا ہے؟ جو جماعت مرزاغلام احمد قادیانی کو بزرگ مان کر تمام اہل قبلہ کو مسلمان سمجھتی ہے وہ اس قول میں غور کرے اور بتائے کہ جب تک قادیانیوں کے سوا تمام اہل قبلہ کو کافر نہ کہا جائے اس وقت تک یہ قول کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے؟ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی تعلیم اور اپنی بیعت کو کشتی نوح بتارہے ہیں۔ یعنی جس طرح طوفان نوح میں اسی شخص نے نجات پائی جو کشتی میں بیٹھ گیا اور جو نہ بیٹھا وہ طوفان میں غرق ہوا۔ یہی حالت میری بیعت کی ہے جس نے میری بیعت کر لی اس نے عذاب ابدی سے نجات پائی اور جس نے نہ کی وہ عذاب ابدی کے طوفان میں غرق ہوا۔ یہ کہنا اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے کہ جتنے مرزاغلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والے ہیں وہ سب کافر ہیں۔ اس قسم کے اقوال مرزاغلام احمد قادیانی کے بہت ہیں۔ جن سے اظہر من الشمس ہے کہ ان کے اقوال پر ایمان لاکر اور انہیں مقدس بزرگ مان کر غیرقادیانی اہل قبلہ کو کوئی مسلمان نہیں کر سکتا جو انہیں مانتا ہے۔ اسے ان کے صریح اقوال مجبور کریں گے کہ غیرقادیانی اہل قبلہ کو وہ کافر کہے اور اگر کسی قادیانی کا ایسا خیال سادہ دلی اور سچائی پر ہے تو اﷲتعالیٰ سے پوری امید ہے کہ جب وہ مرزاغلام احمد قادیانی کے ایسے اقوال کو غور سے دیکھے گا تو وہ ضرور ان سے علیحدہ ہو جائے گا۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز!
تشریح: مرزاغلام احمد قادیانی آیت:’’لوتقول علینا بعض الاقاویل‘‘ کے بیان میں بڑا زور لگارہے ہیں اور اپنے دعویٰ نبوت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں سچے اور جھوٹے مدعی نبوت کی معیار بیان ہوئی ہے کہ جھوٹا ہلاک کر دیا جاتا ہے اور سچا کامیاب ہوتا ہے۔ چونکہ میں مفتری نہیں تھا۔ سچا مدعی تھا۔ اس لئے کامیاب ہوا ہلاک نہیں کیاگیا۔ اب اس پر یہ شبہ کر کے جواب دیتے ہیں کہ اگر کوئی یہ کہے کہ
اس آیت میں رسول اﷲa کی طرف خطاب ہے اور آپa صاحب شریعت تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ آیت میں صاحب شریعت کے لئے یہ قاعدہ بیان ہوا ہے۔ یعنی جو جھوٹامدعی نبوت صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کرے وہ ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ تمام مفتری ہلاک نہیں ہوئے۔ مرزاغلام احمد قادیانی پہلے صاحب شریعت کے معنی بیان کرتے ہیں یعنی صاحب شریعت وہ ہے جو وحی کے ذریعے سے چند امرونہی بیان کرے میں نے وحی کے ذریعے سے امرونہی بیان کئے ہیں۔ اس لئے میں صاحب شریعت ہوا۔ اسی مضمون کو حاشیہ میں بیان کرتے ہیں۔
اب ہمارے بھائی متن اور حاشیہ دونوں کو ملاحظہ کریں کہ کس صفائی کے ساتھ اپنی وحی سے اپنا صاحب شریعت نبی ہونا ثابت کر رہے ہیں اور اپنی وحی اور اپنی تعلیم کو نجات کا مدار بتارہے ہیں۔ جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے اور اپنی زبان کو روکے اور ان رسالوں کو پھاڑ کر پھینک دے جن میں لکھا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ رسول اﷲa صاحب شریعت انبیاء کے خاتم ہیں۔
الغرض! جب مرزاغلام احمد قادیانی صاحب شریعت نبی ٹھہرے تو جناب رسول اﷲa کسی طور سے خاتم الانبیاء اور آخرالنّبیین نہ ہوئے اور آیت قرآنی:’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘غلط ٹھہری۔ (نعوذ ب اللہ منہ) پھر کیا وجہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو منکر آیت قرآنی نہ کہا جائے؟ وہ ضرور منکر آیت قرآنی ہیں۔ گو زبان سے نہ کہیں۔ اس دعویٰ کے بعد یہ کہنا کہ یہ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتa خاتم النّبیین ہیں۔ نہایت صریح دجل اور عوام کو فریب دینا ہے تاکہ جہلاء اور کم علم اتنے کہہ دینے سے یہ سمجھیں کہ یہ منکر آیت نہیں ہیں۔ مگر اہل ایمان اس کا یقین کر لیں کہ جب تک یہ آیت کے یہی معنی کریں گے کہ رسول اﷲa آخر النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں مل سکتا اور اس آیت کو مان کر کسی قسم کے نبی کو مستثناء کرنا محض غلط ہے۔ یہ آیت اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے قطعی ہے کہ رسول اﷲa کے بعد کوئی جدید نبی کسی طرح کا نہیں آئے گا اور اس معنی کا ثبوت صرف لغت اور محاورہ عرب سے ہی نہیں ہے بلکہ جس ذات مقدس پر یہ کلام الٰہی نازل ہوا ہے اس نے بوحی الٰہی اس آیت کے یہی معنی بیان کر دئیے ہیں اور ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘فرمادیا ہے۔ اب جو آپa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور جو ایسے مدعی
کو سچا جانتا ہے وہ یقینا قرآن شریف پر حملہ کرتا ہے اور آیت:’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘کو درپردہ ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتا ہے۔ یہ ان شریر لوگوں کا کام ہے جن کوخداتعالیٰ پر بھی یقین نہیں اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں۔
ناظرین! آپ اس تقریر کے حاصل پر بنظر تحقیق حق غور کریں۔ چند باتیں اس مختصر تحریر سے نہایت صفائی سے ثابت ہوتی ہیں۔
۱… نص قطعی اور آیت قرآنی اور حدیث نبوی سے بالیقین ثابت ہوا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کاذب تھے۔
۲… جو تاویلیں اس آیت وحدیث میں مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کرتے ہیں وہ یقینا غلط ہیں۔
۳… اس میں کچھ شبہ نہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے کو کافر یعنی منکر خدا اور رسول کہا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے وجود سے ان کے دعویٰ کے زمانہ میں دنیا کے کچھ کم چالیس کروڑ مسلمان کافر ہوکر مستحق جہنم ہوگئے؟ اور مسلمانوں سے دنیا گویا خالی ہوگئی۔
۴… مرزاغلام احمد قادیانی کو نبوت مستقلہ اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ تھا۔ ان کے خلیفہ اوّل اور ثانی ان دونوں دعوؤں کو مانتے رہے اور خلیفہ ثانی نے تو اس دعویٰ کے ثبوت میں رسالہ (تشحیذ الاذہان ج۶ نمبر۴، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء) لکھا ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی مان کر انہیں کے کلام سے دنیا کے سارے مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے اور یہ رسالہ خلیفہ اوّل کے حکم کے بموجب چھپ کر مشتہر ہورہا ہے۔ چنانچہ خلیفہ ثانی اپنے رسالہ میں اس کی تصریح کرتے ہیں۔ البتہ اخبار بدر کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوا کہ ان سے کئی مرتبہ یہ سوال کیاگیا ہے کہ آپ مرزاغلام احمد قادیانی کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں۔ اس کے جواب میں مرزاغلام احمد قادیانی کی طرح طویل تقریر لکھی ہے۔ جس کا حاصل تو یہی ہے کہ کافر ہیں۔ مگر ایسے پینچ سے لکھی ہے کہ کم علم بخوبی نہ سمجھیں۔
۲۶؍مارچ ۱۹۱۳ء کے پیسہ اخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں کے تین فرقے ہو گئے ہیں۔ ایک وہ ہے جس نے نیا کلمہ بنالیا ہے۔ یعنی ’’لا الہ الا اللہ احمد جری اﷲ‘‘
دوسرا وہ ہے جو قادیانیوں کے سوا ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر کہتا ہے جس کے مقتدأ اور امام اب دوسرے خلیفہ مرزامحمود ہیں۔
تیسرا مرزاغلام احمد قادیانی کو مثیل اولیاء اللہ کے بزرگ مانتا ہے اور غیرقادیانیوں کو کافر نہیں کہتا۔ یہ تیسرا گروہ اگر اپنے دلی خیال کے اظہار میں سچا ہے تو اعتقاد کی بنیاد مرزاغلام احمد قادیانی کا آخری کلام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کوئی صاحب عقل حقیقت الوحی وغیرہ کے مضامین کو سچا مان کر ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا۔ جیسا یہ تیسرا گروہ بیان کرتے ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب جس گروہ میں سنے جاتے ہیں کیونکہ مرزاغلام احمد قادیانی کے کلام میں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے کلام کے سمجھنے میں دقّت ہو یا اس میں دوسرے معنی کا احتمال ہو۔ البتہ جس طرح انہوں نے اور دعوؤں میں آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اسی طرح اس میں بھی پہلے نہ کہتے تھے کہ کوئی اہل قبلہ کافر نہیں ہے اور مسیح موعود کا ماننا کوئی جزو ایمان نہیں ہے۔ مگر جب ان کے ماننے والے کچھ ہوگئے تو اپنی آخری کتاب (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸) میں صاف طور سے کہہ دیا کہ: ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘ یعنی میرا نہ ماننے والا ایسا ہی کافر ہے جیسا خدا اور رسول کو نہ ماننے والا اور یہ بھی کہہ دیا کہ مسیح موعود کا انکار (یعنی میرا) ایسا ہی کفر ہے جیسا جناب رسول اﷲaکا انکار، مرزاغلام احمد قادیانی کے ان صاف وصریح دعوؤں کے بعد جو اس رسالہ میں لکھے گئے ہیں کسی ذی علم قادیانی کا یہ کہنا ہے کہ ہم مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ کسی فہمیدہ آدمی کی عقل میں نہیں آسکتا۔ اس لئے وہ اس خیال پر مجبور ہے کہ بعض قادیانیوں کا ایسا کہنا غالباً اس مصلحت سے ہے کہ اگر اعلانیہ طور سے ہم کافر کہیں گے تو تمام مسلمان دنیا کے برہم ہو جائیں گے اور ہماری بات کو نہ سنیں گے۔ اس لئے اس سے انکار کرتے ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی کو صرف مصلح اور مجدد کہتے ہیں۔ مگر ان سے یہ دریافت کیا جائے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے پچیس تیس برس تک بہت کچھ شور مچایا اور اپنی مدح اور تعلّی میں بے انتہاء کاغذی گھوڑے دوڑائے۔ مگر انہوں نے کیا اصلاح کی اور ان کی ذات سے اسلام کو کیا فائدے پہنچے؟ بجز اس کے کہ دنیا کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر اور ایک جماعت کو جھگڑالو اور فاسق اور فاجر بنادیا۔ نہ نماز ہے، نہ روزہ ہے، جھوٹ کو اپنا شعار
بنالیا ہے۔ اس خیال کی تائید اس سے بخوبی ہوتی ہے کہ مونگیر اور بھاگلپور کے مرزائی یہی کہتے تھے کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ مگر اب خلیفہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت کی جو اعلانیہ طور سے مرزاغلام احمد قادیانی کی بعثت کا یہی فائدہ بتاتے ہیں کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر مانا جائے۔ انہیں اپنا امام اور مقتداء مانا۔ بعض اخبارات میں خلیفہ ثانی نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ ہماری بیعت کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ غیرقادیانی اہل قبلہ کو کافر کہے۔ یہ ایک فریب آمیز اعلان ہے۔ کیونکہ جو شخص بیعت کر لے گا اور اپنا مقتدأ مان لے گا، پھر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے مقتداء کے کفر کے فتوے کو نہ مانے؟ یہ تو ایسا عظیم الشان اختلاف ہے کہ بغیر اس کے طے کئے کوئی سمجھدار بیعت ہی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جب اس کے اعتقاد میں اہل قبلہ کافر نہیں ہیں تو جو انہیں کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہے۔ پھر اس سے بیعت کیسی؟
آئندہ مرزاغلام احمد قادیانی کے اقوال دکھائے جائیں گے جن میں انہوں نے دعویٰ نبوت کے ساتھ انبیاء سابقین پر اپنی فضیلت اور جناب رسول اﷲa سے مساوات دکھائی ہے اور بعض وہ اقوال بھی ہیں جن سے حضرت سرور انبیاءa پر بھی وہ اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ پھر انبیاءB کی توہین جو انہوں نے کی ہے وہ بھی دکھائی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
برادران اسلام! ان دعوؤں پر نظر کر کے ان کی حالت پر غور کریں اور جو ان کے پیروان کے صریح اقوال کے خلاف اپنا عقیدہ ظاہر کر رہے ہیں۔ اس پر غائر نظر ڈالیں تاکہ آئندہ کسی قسم کی پشیمانی نہ اٹھانا پڑے۔وما علینا الا البلاغ المبین!
راقم خاکسار: ابو احمد رحمانی
گزشتہ اشاعت میں ہم حکیم نورالدین رئیس قادیان جماعت کے انتقال کی خبر درج کر چکے ہیں جو رسالہ کے مرتب ہونے کے بعد پہنچی تھی۔ اب جو واقعات شائع ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جماعت میں مسئلہ خلافت اور تکفیر وعدم تکفیر مسلمین کی بناء پر باہم اختلاف ونزاع پیدا ہوگیا ہے۔
ایک عرصہ سے اس جماعت میں مسئلہ تکفیر کی بناء پر دو جماعتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ ایک گروہ کا یہ اعتقاد تھا کہ غیرقادیانی مسلمان بھی مسلمان ہیں۔ گو مرزاغلام احمد قادیانی کے دعوؤں پر ایمان نہ لائے ہوں۔ لیکن دوسرا گروہ صاف صاف کہتا تھا کہ جو لوگ مرزاغلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لائیں وہ قطعی کافر ہیں: ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ آخری جماعت کے رئیس صاحبزادہ بشیرالدین محمود قادیانی ہیں۔ اس گروہ نے انہی کو اب خلیفہ قرار دیا ہے۔ مگر پہلے گروہ نے تسلیم نہیں کیا۔
محمد علی لاہوری ایم۔اے نے اس بارہ میں جو تاریخ شائع کی ہے اور عجیب وغریب جرأت اور دلاوری کے ساتھ قادیان میں رہ کر اظہار رائے کیا ہے۔ (بشرطیکہ ان کے دل میں خود خلیفہ ہونے کی خواہش نہ ہو اور اس خیال کے غلط ہونے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی اور اگر دل میں یہ خواہش تھی تو اس کے خلاف ہونے پر جوش آجانا معمولی بات ہے۔ یہی سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو مقتداء مان کر اور ان کے اقوال پر ایمان لاکر غیرقادیانی کو کافر کیوں نہ کہئے گا۔ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے آپ کو رسول اللہ کہتے ہیں اور نہایت ظاہر ہے کہ جو رسول اللہ کو نہ مانے وہ کافر ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے نہ ماننے والے کو صاف طور سے کافر کہتے ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی بیعت کو مدار نجات ٹھہراتے ہیں۔ یعنی جو مرزاغلام احمد قادیانی سے بیعت نہ کرے اسے نجات نہیں وہ جہنمی ہے۔ یہ صفت تو خاص کافر کی ہے۔ جب مرزاغلام احمد قادیانی کے نہایت صریح اقوال سے غیرقادیانی کافر ٹھہرتے ہیں تو پھر جو انہیں اپنا پیشوا مانتا ہے اسے ضرور ہے کہ ان اقوال کو بھی مانے جس طرح وہ اور اقوال کو مانتا ہے) جہاں زیادہ تر پہلے گروہ کے رؤسا ہیں۔ وہ فی الحقیقت ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمیشہ اس سال کا ایک یادگار واقعہ سمجھا جائے گا۔
اس جماعت کا بیان ہے کہ ان کی تعداد کم ازکم تین لاکھ ہے۔ لیکن مسلمانان عالم کی تعداد آج چالیس کروڑ تک اندازہ کی گئی ہے۔ پس اگر غیرقادیانی کو کافر سمجھ لیا جائے تو اس نئی مردم شماری کی بناء پر چالیس کروڑ میں سے انتالیس کروڑ ستانوے لاکھ کی تعداد نکال دینی پڑے گی۔ پھر افسوس اس دین الٰہی پر جس کا درخت خدا نے لگایا۔ پر آج اس کی شاخوں میں صرف تین لاکھ پھل باقی رہ گئے ہیں۔
(منقول از الہلال مورخہ ۲۷؍ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ)
مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس وقت مذہب اسلام پر دو طرح سے حملے ہو رہے ہیں۔ ایک بیرونی عیسائیوں اور آریوں کا۔ اس کے لئے رسالے دفع التلبیسات اور پیغام محمدی شائع کئے گئے۔ بعض اور رسالے بھی ان شاء اﷲ! شائع ہوں گے۔ مسلمانوں کو اور خصوصاً اہل علم کو اس وقت ان کا دیکھنا اور ان کی اشاعت میں کوشش کرنی ضروری ہے۔ دوسرا حملہ اندرونی گروہ مرزائیہ اور بہائیہ کا، یہ حملہ عوام کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ یہ دونوں گروہ ظاہر میں اسلام کو مان کر دین محمدی اور اسلام قدیم کو مٹاکر نیا مذہب قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسلام اس کا نام رکھتے ہیں۔ اس پیچ سے عوام اور کم علم واقف نہیں ہوسکتے۔ اس لئے بہ نظر خیرخواہی اہل اسلام متعدد رسالے اور تحریریں ایسی شائع کی گئیں جن سے بانی مذہب مرزاغلام احمد قادیانی کی حالت معلوم ہو۔ اس گروہ میں پالیسی اور ناجائز مصلحت بہت برتی جاتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اس میں ایک جماعت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم مرزاقادیانی کو نبی یا رسول نہیں مانتے۔ بلکہ مجدد اور بزرگ مانتے ہیں اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ اس رسالے میں مرزاقادیانی کے صریح اقوال سے ثابت کیاگیا ہے کہ کوئی شخص مرزاقادیانی کے اقوال والہامات پر ایمان لاکر اور انہیں سچا اعتقاد کر کے سچائی سے نہیں کہہ سکتا کہ مرزاقادیانی نبی نہیں تھے اور ان کا منکر کافرنہیں ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی صاف طور سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے آپ کو افضل الانبیاء سمجھتے ہیں۔ البتہ یہ اقوال ان کے آخر کے ہیں۔ پہلے اقوال اس کے خلاف ہیں۔ یعنی بتدریج انہوں نے ترقی کی ہے۔ اس لئے عجب نہیں کہ بعض ان کے ماننے والے بھی مغالطہ میں ہوں۔ طالبین حق کو چاہئے کہ ان کے متخالف اور متعارض اقوال کو غور سے دیکھیں۔ فرقہ بہائیہ جو تھوڑے عرصہ سے رنگون سے ضلع چھپرہ میں آیا ہے وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اطراف عالم میں اس کے ماننے والے بہت ہوگئے ہیں۔ اب ہندوستان اس نجاست سے آلودہ ہوا چاہتا ہے۔ اﷲتعالیٰ بچائے۔ اس وقت تمام مسلمانوں کو اور خصوصاً اہل علم کو بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ اﷲتعالیٰ سب کو ہمت اور توفیق دے۔ آمین!
خاکسار: ابواحمد رحمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس سے پہلے کے صحیفہ۶ میں دکھایا گیا ہے کہ مرزاقادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعویٰ تھا اور تین طریقوں سے اسے ثابت کیا ہے۔
اوّل… یہ کہ مرزاقادیانی نے اپنے آخری زمانے میں دنیا کے ان تمام مسلمانوں کو قطعی کافر کہا ہے جو مرزاقادیانی کے دعوے کو صاف طور سے نہیں مانتے ہیں۔ یہ وہ دعویٰ ہے کہ امت محمدیہa کے کسی عالی مرتبہ بزرگ نے نہیں کیا۔ باوجودیکہ بعض بزرگوں کو کافر کہاگیا۔ مگر انہوں نے کسی کو کافر نہیں بنایا۔
دوم… یہ کہ مرزاقادیانی نے غیرقادیانی کے پیچھے نماز پڑھنے کو قطعاً حرام بتایا ہے اور اسی طرح اس سے رشتہ ناطہ کرنے اور بیٹی دینے کی بھی ممانعت کی ہے اور تمام اہل علم جانتے ہیں کہ مرزاقادیانی کا یہ کہنا اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے کہ ان کے خیال کے بموجب دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر تسلیم کر لیا جائے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اہل سنت نے نہایت اہتمام کی وجہ سے اس مسئلہ کو عقائد کی کتابوں میں داخل کر دیا ہے کہ ہر کلمہ گو فاسد العقیدہ اور نیک وبد کے پیچھے نماز درست ہے۔
سوم… مرزاقادیانی کے بعض اقوال نقل کئے ہیں جن میں انہوں نے نہایت صاف طور سے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اس دعوے کو ثابت کیا جس سے اکثر قادیانی انکار کر رہے ہیں۔ یعنی نبوت تشریعی کو اور مرزاقادیانی صاف طور سے اربعین میں نبوت تشریعی کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ان کے صاحبزادے مرزامحمود نے (جواب خلافت کی گدی پر بٹھائے گئے ہیں) ایک خاص رسالہ لکھا ہے۔ جس میں نہایت شدومد سے اپنے والد یعنی مرزاقادیانی کے اقوال سے دنیا کے سارے مسلمانوں کا کافر ہونا ثابت کیا ہے۔ اس صحیفہ میں مرزاقادیانی کے اسی دعوے کی زیادہ تشریح منظور ہے۔
چہارم… طریقہ سے دعویٰ نبوت ثابت کرکے یہ دکھانا مد نظر ہے کہ ان کا دعویٰ صرف اسی قدر نہیں ہے کہ میں نبی صاحب شریعت ہوں۔ بلکہ یہ دعویٰ ہے کہ میں ’’تمام انبیاء سے افضل
ہوں، یہاں تک کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa سے بھی افضل ہوں۔‘‘ مگر یہ آخری دعویٰ صاف لفظوں میں نہیں ہے۔ البتہ ان کے تمام اقوال دیکھنے اور ان کے ملانے سے بخوبی اظہر من الشمس ہوتا ہے۔ بنظر تحقیق حق ان کے اقوال ملاحظہ کر کے فیصلہ کیا جائے۔
۱… قول مرزا: ’’جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کی ظنّیات بلکہ موضوعات کے ذخیرے کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑدوں جس کی حق الیقین پر بناء ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)
نتیجہ: اس قول سے کئی باتیں ثابت ہوئیں:
اوّل… یہ کہ مرزاقادیانی اپنی وحی کو ایسا ہی قطعی اور یقینی خدا کا کلام جانتے ہیں جیسا قرآن مجید ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ مرزاقادیانی کو ویسا ہی نبوت کا دعویٰ ہے جیسا حضرت موسیٰm اور حضرت عیسیٰm اور حضرت محمد مصطفیa کو تھا۔ ورنہ مرزاقادیانی کی وحی کا قطعی اور یقینی کلام خدا ہونا اور اس پر ایمان لانا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مرزاقادیانی اپنی وحی کے منکر کو ویسا ہی کافر سمجھیں گے جیسا منکر قرآن مجید کو۔ اب جو حضرات ان پر ایمان لاچکے ہیں اور ان کے تمام اقوال کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ ضرور ان کے تمام نہ ماننے والوں کو کافر جانتے ہوں گے۔ اگرچہ کسی مصلحت سے انکار کریں اور تمام کلمہ گو کو مسلمان بتائیں۔
دوم… یہ کہ مرزاقادیانی اپنی وحی کے مقابلہ میں تمام احادیث نبویہ کو بیکار بتاتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی وحی کا ثبوت اور منجانب اللہ ہونا قطعی بتاتے ہیں اور احادیث کا ثبوت ظنی کہتے ہیں۔ بلکہ بلا تعین انہیں موضوع یعنی جھوٹی باتیں بنائی ہوئی کہتے ہیں۔ اس میں دوسرے طریقے سے نبوت کا دعویٰ ہے۔
۲… قول مرزا: ’’میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پراسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)
نتیجہ: دیکھا جائے کہ کس صفائی سے اپنے الہامات پر ایمان لانا ویسا ہی فرض بتاتے ہیں جیسا قرآن مجید پر اور ان کے کلام خدا ہونے پر۔ ایسا ہی انہیں یقین ہے جیسے قرآن مجید کے کلام خدا ہونے پر۔ اس کہنے کے بعد کسی ذی علم کو تأمل نہیں رہ سکتا کہ مرزاقادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے جب ان کی وحی کا مرتبہ کلام الٰہی ہونے میں ایسا ہی ہوا۔ جیسا قرآن مجید ہے تو کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ مرزاقادیانی کے نزدیک ان کے الہامات کا منکر کافر نہ ہو۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کے الہامات کا منکر ویسا ہی کافر ہوگا جیسا قرآن مجید کا منکر۔ اب جو حضرات ان پر ایمان لاچکے ہیں بالضرور انہیں اس قول پر ایمان ہوگا اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو ان کے الہامات پر ایمان نہیں لائے انہیں وہ ویسا ہی کافر سمجھیں جیسا قرآن مجید کے منکر کو تمام مسلمان سمجھتے ہیں۔ برادران اسلام اس قول پر مکرر غور کر کے اس کے نتیجہ کو دیکھیں۔
۳… قول مرزا: ’’جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۴۲۱)
اس رسالہ کے پہلے حصہ میں بھی مرزاقادیانی کے بعض اقوال نقل کئے ہیں جن میں صاف طور سے ان کا بیان ہے کہ میرے ماننے اور میری باتوں پر ایمان لانے پر نجات منحصر ہے۔ بغیر میرے مانے نجات نہیں ہوسکتی۔ اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں۔
۴… قول مرزا: ’’اس بات کو قریباً نوبرس کا عرصہ گزر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیرمقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی۔‘‘
(اربعین نمبر۴ حاشیہ ص۱۱، خزائن ج۱۷ ص۴۴۱)
نتیجہ: ان دونوں اقوال کو دیکھا جائے کہ اپنے یقینی الہام سے اپنا نام ابراہیم بتاتے ہیں اور نجات کا حصہ اس کی پیروی پر کرتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ جو مرزاقادیانی پر ایمان لاکر ان کا پیرو نہیں ہوا وہ کافر جہنمی ہے۔ اس کی نجات نہیں ہے۔ اس کے بعد کے قول میں ایک عالم محدث کو جس نے اپنی عمر کا بڑا حصہ حدیث رسول اﷲa کی خدمت میںاور کلام رسول اﷲa کی تبلیغ میں صرف کیا۔ اسے کافر بتاتے ہیں۔ کیونکہ دعوت اسلام تو کافر ہی کو ہوتی ہے۔ میں نے جو مدعا ان کے اقوال سے بیان کیا ہے۔ اس کی صراحت مرزاقادیانی کے رسالہ سیرۃ الابدال کے باب:۲ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس بات میں حضرت
موسیٰm کا ذکر کر کے انبیائے بنی اسرائیل کو ان کا خلیفہ کہتے ہیں اور آخری خلیفہ حضرت عیسیٰm کو بتاتے ہیں۔ پھر جناب رسول اﷲa کو مثیل موسیٰm بتا کر ان کے بعد سلسلہ خلفاء یعنی انبیاء کا سلسلہ بتاتے ہیں اور اپنے آپ کو خاتم الخلفاء یعنی آخر النّبیین کہتے ہیں۔ پھر لکھتے ہیں: ’’ولکنا الجئنا بنص القرآن الی ان نؤمن بخلیفۃ منا ہو اٰخر الخلفاء علٰی قدم عیسٰیm۔ وما کان المؤمن ان یکفر بہ فانہ کفر بکتاب اللہ ولا یفلح الکافر حیث اتی‘‘ ہم قرآن کے نص کی رو سے اس بات پر مجبور ہوگئے کہ اس بات پر ایمان لائیں کہ آخری خلیفہ اسی امت میں سے ہوگا اور وہ عیسیٰ کے قدم پر آئے گا اور کسی مومن کی مجال نہیں کہ اس کا انکار کرے کیونکہ یہ قرآن کا انکار ہے اور جو کوئی قرآن کا منکر ہے وہ جہاں جاوے۔ خدائی عذاب کے نیچے ہے۔‘‘ یعنی کسی طرح اس کی نجات نہیں۔
(خطبہ الہامیہ ص۷۶،۷۷، خزائن ج۱۶ ص۷۶،۷۷)
یہ عربی عبارت اور اردو ترجمہ مرزاغلام احمد قادیانی کی مذکورہ کتاب کا ہے۔ اس عبارت میں مرزاقادیانی اپنی نبوت کو نص قرآنی سے ثابت بتاتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو ایمان لانے پر مجبور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو میرا منکر ہے وہ قرآن کا منکر ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن کا منکر کافر ہے اور کافر فلاح نہیں پائے گا بلکہ جہاں جائے گا عذاب الٰہی اسے نہ چھوڑے گا۔ یعنی کسی صورت سے اس کی نجات نہیں ہے۔ دنیا کے مسلمان مرزاقادیانی کے اقوال پر نظر کریں کہ کس کس طرح سے نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور دنیا کے کچھ کم چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بتاتے ہیں اور اپنے اوپر ایمان لانے کو نجات کا مدار ٹھہراتے ہیں۔ اب جو حضرات ان کے تمام اقوال پر ایمان لاچکے ہیں وہ کیونکر تمام اہل قبلہ کو مسلمان سمجھ سکتے ہیں اور ان کا یہ کہنا کہ ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ ناقص کہتے ہیں۔ صداقت پر کیونکر محمول کر سکتے ہیں؟ البتہ لفظ اہل قبلہ اور کافر اور ناقص کے معنی اپنے خیال میں ایسے قراردے لئے ہوں جو اس وقت ہم نہیں جانتے تو ہوسکتا ہے کہ ہمیں دھوکہ دینے کے خیال میں صادق رہ کر اپنا کام نکال لیں۔ اس کا فیصلہ میں دوربین اور دانشمند حضرات کے حوالہ کرتا ہوں۔ اس کے بعد اسدعویٰ نبوت کے لئے پانچواں طریقہ بیان کرتا ہوں۔ اس میں ان کے بعض وہ اقوال آپ کو دکھائے جائیں گے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میں تمام اولیاء اور انبیاء سے افضل ہوں۔ جب تمام اولیاء سے افضل ہوئے یعنی حضرت ابوبکر صدیقq اور حضرت عمرq اور
حضرت علیq سے لے کر تیرھویں صدی کے اخیر تک جس قدر اولیائے کرام گزرے ان سب سے مرزاقادیانی کا مرتبہ زیادہ ہے اور اہل علم اور صوفیائے کرام جانتے ہیں کہ ان کے مرتبہ کے اوپر ولایت کا کوئی مرتبہ نہیں ہے۔ نبوت ہی کا مرتبہ ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے اور جب انبیاء سے بھی فضیلت کا دعویٰ ہے تب تو نہایت روشن ہے کہ اعلیٰ مرتبہ کے نبوت کے مدعی ہیں۔ پھر تو کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ ان کا منکر کافر نہ ہو اور ان کے پیرو انہیں کافر نہ سمجھیں۔ اب مرزاقادیانی کا وہ قول نقل کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے اپنے آپ کو تمام اولیاء سے افضل ٹھہرا کر صاف طور سے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
۵… قول مرزا: ’’اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)
نتیجہ: اس عبارت میں صاف طور سے نبوت کا دعویٰ ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صحابہ کرامi خصوصاً خلفائے اربعہ یعنی حضرت ابوبکر صدیقq، حضرت عمرq، حضرت عثمان غنیq، حضرت علیq سے لے کر حضرت جنید، حضرت شبلی، حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت معین الدین چشتی، حضرت غوث پاک جیلانی، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان) کوئی نبی ہونے کا مستحق نہ تھا۔ صرف مرزاغلام احمد قادیانی مستحق تھے۔ اس عبارت میں صاف طور سے تمام صحابہi اور تمام اولیاء اﷲw سے اپنی افضلیت ثابت کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض مرزائی جو یہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہa میں اور بھی نبی ہوئے ہیں اورحضرت مجدد الف ثانیv کو نبی بتاتے ہیں۔ یہ ان کی محض ناواقفی یا دھوکہ دہی ہے۔ اس کے بعد ان اقوال کو ملاحظہ کیا جائے جن میں انہوں نے حضرت مسیحm پر اپنی فضیلت کا دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے۔ حضرت مسیحm صاحب شریعت رسول ہیں جن کی تعریف جابجا قرآن شریف میں آئی ہے اور ان کے معجزات کا ذکر کیاگیا ہے۔
۶… قول مرزا: ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)
نتیجہ: اس قول میں نہایت صاف طور سے نبی مستقل اور صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی اپنی تمام شان کو حضرت مسیحm پر بہت بڑھ کر بتاتے ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ حضرت مسیحm مستقل نبی صاحب شریعت تھے اور جب مرزاقادیانی اپنی ہر شان میں ان سے بہت بڑھ کر ہوئے تو بالضرور ان کا یہ دعویٰ ہوا کہ میں مستقل نبی ہوں۔ بلکہ بعض مستقل انبیاء سے بہت بڑھ کر ہوں۔ صاحب شریعت ہوں اس کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ جناب رسول اﷲa پر تشریعی نبوت بھی ختم نہیں ہوئی۔ آپa کے بعد مرزاقادیانی صاحب شریعت نبی ہوئے۔ (جس طرح دوسری صدی میں صالح بن طریف تھا) اور ان کا نہ ماننے والا کافر ہے۔ اس پر خوب غور کیا جائے کہ جب مسیحm کے انکار سے یہود بالاتفاق کافر ہوگئے تو مرزاقادیانی اپنے آپ کو حضرت مسیحm سے بہت زیادہ علی مرتبہ کہتے ہیں تو ان کے ماننے والے بالضرور تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایسا ہی کافر سمجھتے ہوں گے۔ جیسا تمام مسلمان یہود کو سمجھتے ہیں۔ اب کسی قادیانی کا زبان سے یہ کہنا کہ ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے کسی طرح سمجھ میں نہیں آسکتا بجز اس کے کہ کسی خفیہ مصلحت سے اپنے دلی عقیدہ کے خلاف ظاہر کرتے ہیں۔
۷… قول مرزا: ’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریمm سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضلیت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی بارش کیطرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)
نتیجہ: یہاں صریح طور پر دعویٰ نبوت کے علاوہ نزول وحی کا دعویٰ اس زور سے اور ایسے عنوان سے ہے کہ کسی نبی نے نہیں کیا۔ یہ وہ دعویٰ ہے جس کے مدعی کو بالاتفاق تمام علمائے متاخرین اور متقدمین کافر کہتے ہیں۔ اس قول سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو حضرت مسیحm پر فضیلت کلّی دیتے ہیں اور اس قول کو پیش نظر رکھ کر مرزاقادیانی
کے ان الہاموں پر نظر کرنی چاہئے جن سے جناب رسول اﷲa سے برابری ہورہی ہے اور کہیں افضلیت کا بھی دعویٰ ہے۔ مگر خاص طور سے نہیں عام طور سے۔ غالباً جب اپنی امت پر پورا وثوق ہوجاتا اس وقت دلی منشاء کو ظاہرفرماتے۔ بہرحال نبوت کا دعویٰ اس قول میں صاف وصریح طور سے ہے اور کنایۃً حضرت مسیحm سے افضلیت کا بھی دعویٰ ہے۔ (نعوذ ب اللہ منہ)
۸… قول مرزا: ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)
نتیجہ: ہمارے بھائی، مرزاقادیانی کے الفاظ اور طرز بیان کا ملاحظہ کریں کہ ایک جلیل القدر رسول کے مقابلہ میں اپنی تعلّی اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ ان کی پوری تحقیر ہوتی ہے۔
صادقوں کی یہ شان ہرگز نہیں ہوسکتی۔ جناب رسول اﷲa نے کسی رسول کے مقابلہ میں ایسا نہیں فرمایا بلکہ عموماً فضیلت دینے کو منع کیا۔ قرآن پاک میں: ’’وجیہاً فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘
’’اولوالعزم من الرسل (الاحقاف:۳۵)‘‘ ارشاد ہے۔
۹… قول مرزا: ’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)
نتیجہ: اس قول کا نتیجہ بالضرور یہ ہوا کہ مرزا جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰm سے بہت بڑھ کر کہتے ہیں وہ اعلانیہ جھوٹ بھی بولتے ہیں۔ کیونکہ اس قول میں کئی جھوٹے دعوے ہیں:
۱… خدا نے فرمایا ہے کہ آخر زمانے کا مسیح پہلے وقت کے مسیح سے افضل ہوگا۔
۲… جناب رسول اﷲa نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے۔
۳… تمام انبیائے کرام کا یہی قول ہے۔
۴… آخری زمانے کے مسیح کی فضیلت اس کے عمدہ اور مفید کاموں کی وجہ سے بیان کی ہے۔
مگر چاروں باتیں محض غلط اور جھوٹ ہیں۔ قرآن وحدیث اور کتب سابقہ موجودہ میں کوئی قادیانی دکھلائے کہ آنے والے مسیح کو پہلے مسیح سے افضل کہاں ٹھہرایا ہے اور اس مسیح نے سوائے اپنی شہرت کے کیا کارنامے دکھائے اور اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچایا؟ کوئی قادیانی بیان تو کرے۔ بجز اس کے کہ دنیا کے مسلمانوں کو کافر ٹھہرا دیا اور کیا کیا؟ اور اس کے وقت میں اسلام پر اور مسلمانوں پر ہر طرح کی مصیبتیں آئیں۔
یہاں اس امر پر کامل طور سے نظر کی جائے کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو جناب رسول اﷲa کا ظل کہتے ہیں اور ان کے مریدین بھی ایسا ہی کہہ دیا کرتے ہیں اور کہیں نائب رسول اور خادم رسول اللہ کہتے ہیں۔ اب یہ دیکھا جائے کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو جن کا ظل کہتے ہیں اور جن کا نائب اور خادم بتاتے ہیں انہوں نے بھی کسی نبی کا نام لے کر اپنے آپ کو ان سے افضل کہا ہے اور کم سے کم یہ دکھایا جائے کہ اس کو جائز رکھا ہے؟ مگر ایسا نہیں دکھا سکتے بلکہ نہایت صاف طور سے اس کی ممانعت کی ہے اور خاص یہود کے مقابلہ کے وقت حضور انورa نے فرمایا:’’لا تخیرونی علٰی موسٰی‘‘ یعنی مجھے موسیٰm پر فضیلت نہ دو۔ یہ حدیث صحیح بخاری (ج۱ ص۴۸۴، باب وفات موسیٰm وذکرہ بعد) کی ہے اور صحیح بخاری (ج۱ ص۴۸۱، باب ہل اتک حدیث موسیٰm) اور مسلم (ج۲ ص۲۶۷، باب فضائل موسیٰm) میں حضور انورa کا ارشاد بھی ہے:’’لاینبغی لعبد ان یقول انا خیر من یونس بن متی‘‘یعنی کسی کو یہ کہنا نہ چاہئے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ اب میں حق پسند حضرات سے بمنت کہتا ہوں کہ رسول اﷲa کے ان ارشادوں کو پیش نظر رکھ کرمرزاقادیانی کے ان دعوؤں پر نظر کریں جو ابھی نقل کئے گئے اور اس کا فیصلہ کریں کہ جو نائب اور خادم ہوکر اپنے مخدوم کی ایسی صریح مخالفت کرے وہ کیا ہے؟
اب وہ اقوال نقل کئے جاتے ہیں جن میں مرزاقادیانی نے تمام انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ کیا ہے۔
۱۰… قول مرزا: ’’بلکہ خداتعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزت کا دریا
رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبیa کے باقی تمام انبیاءo میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)
نتیجہ: اس قول میں کامل غور کر کے دیکھا جائے کہ مرزاقادیانی اپنی افضلیت کا دعویٰ کس کس طرح کرتے ہیں اور کیسے کیسے پہلو اس میں ہوتے ہیں؟ پہلے تو یہ کہتے ہیں کہ معجزات کے اعتبار سے میں اکثر انبیاء سے افضل ہوں۔ البتہ بعض انبیاء ایسے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے جس قدر میں نے دکھائے ہیں۔ اس کے بعد اپنے اس قول کو جھوٹا اور غلط ٹھہرا کر سچ اس بات کو ٹھہراتے ہیں کہ جس کثرت کے ساتھ میرے معجزات ہیں اور ان کا ثبوت قطعی اور یقینی ہے اس قدر معجزات کا قطعی ثبوت کسی نبی کے لئے نہیں ہے۔ البتہ حضرت خاتم النّبیینa کو اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں جس سے عوام کم علم یہ سمجھتے ہیں کہ مرزاقادیانی صاف طور سے استثناء کر کے رسول اﷲa سے اپنی افضلیت ثابت نہیں کرتے۔ مگر اہل علم اسے خوب سمجھ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی اس قول میں تو اپنے معجزات کو کثیر بتا کر ان کے ثبوت کو قطعی اور یقینی بتاتے ہیں اور دوسرا قول جو اس کے بعد نقل ہوگا اس میں خدا کی قسم کھا کر اس کی تعداد تین لاکھ بتاتے ہیں۔ ان دونوں قولوں کو ملا کر اہل علم بالضرور یہی نتیجہ نکالیں گے کہ مرزاقادیانی اگرچہ ظاہر میں جناب رسول اﷲa سے اپنے آپ کو فضیلت ظاہرہ نہیں دیتے۔ مگر باطن میں ضرور فضیلت دیتے ہیں۔ کیونکہ تین لاکھ معجزات کے قطعی ثبوت کا دعویٰ نہ کسی ذی علم مسلمان نے جناب رسول اﷲa کے لئے کیا اور نہ ہوسکتا ہے۔ اس لئے یہ کہناضرور ہوگا کہ مرزاقادیانی کے اس دعویٰ کا نتیجہ بالیقین یہی ہے کہ جس قدر مجھ سے معجزات ہوئے رسول اﷲa سے بھی نہیں ہوئے اور جب دونوں قولوں کے ساتھ ان کا وہ قول بھی ملایا جائے جو (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) میں ہے کہ رسول اﷲa سے تین ہزار معجزے ہوئے تو کامل فیصلہ ہو جاتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنے معجزات کو سو حصے زیادہ جناب رسول اﷲa کے معجزات سے بتاتے ہیں۔ اب اہل علم ان تینوں قولوں پر نظر کریں اور پھر اس قول کے استثناء کو دیکھیں کسی منصف کو اب تأمل ہوسکتا ہے؟ کہ یہ استثناء عوام کے خوش رکھنے کے لئے کیاگیا ہے۔ اب ناظرین خود ہی فیصلہ کر لیں کہ یہ کیا بات ہے۔
۱۱… قول مرزا: ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام
سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)
نتیجہ: اس قول میں تین طور سے دعویٰ نبوت ہے اور اس کی صداقت پر قسم کھاتے ہیں۔
۱… یہ کہنا کہ اس نے یعنی خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ رسول ہونے کا دعویٰ ہے جسے خداتعالیٰ ہدایت کے لئے بھیجے وہ بلاشبہ رسول ہے جب مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ ہے تو بالضرور خدا کے مستقل رسول ہونے کا دعویٰ ہوا۔
۲… صریح کہہ رہے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے میرا نام نبی رکھا ہے۔
۳… یہ کہ مسیح موعود اپنے کو کہا اور مسیح موعود نبی ہوں گے اور افضلیت کا دعویٰ اس طرح ہے کہ اپنے معجزات کو تین لاکھ بتاتے ہیں۔ حضرت آدم سے لے کر جناب محمد رسول اﷲa تک کسی نبی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کوئی ان کا ماننے والا لکھتا ہے کہ فلاں نبی سے تین لاکھ معجزے ہوئے۔
یہاں لائق غور بات یہ ہے کہ معجزہ اور نشان خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس سے مقصود اس رسول کی صداقت کا ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس قدر اس رسول کی عظمت اور مرتبت اللہ کے نزدیک زیادہ ہوگی اسی قدر اس کی سچائی اور صداقت کا اظہار زیادہہوگا۔ اب اس پر غور کرنا چاہئے کہ جب مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ میری تصدیق کے لئے تین لاکھ معجزے ظاہر ہوئے تو اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہوا کہ اللہ کے نزدیک میری عظمت اور میرا رتبہ اس قدر عالی ہے کہ کسی نبی کا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ حضرت محمد رسول اﷲa بھی اس مرتبہ کو نہیں پہنچے۔ کیونکہ کسی نبی کے لئے اس قدر نشانات تو کیا اس کے عشر عشیر کا بھی ثبوت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جناب رسول اﷲa کے لئے بھی نہیں ہے۔ بلکہ بقول مرزاقادیانی تین ہزار معجزے آپa سے ہوئے۔ یعنی مرزاقادیانی کے معجزوں کا عشرعشیر، غضب ہے کہ ایسے دعوے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ مرزاقادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں ہے۔ امتی نبی اور ظلی نبی ہیں۔ کیا ظل اور سایہ اپنے اصل سے اس قدر بڑھ سکتا ہے؟
یہاں تک جو اقوال نقل کئے گئے ان سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ مرزاقادیانی کو دعویٰ
نبوت بلکہ تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر میں بنظر توضیح اور بوجہ نہایت مہتمم بالشان ہونے کے مرزاقادیانی کے وہ اقوال پیش کرتا ہوں جن میں وہ اپنی فضیلت جزئی یا کلی جناب رسول اﷲa پر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جس نے مرزاقادیانی کی تحریریں ابتداء سے ان کی آخر عمر تک محققانہ طور سے دیکھیں ہیں۔ وہ یقین کر سکتا ہے کہ مرزاقادیانی نے بہت کچھ دعوے کئے مگر آہستہ آہستہ دعوؤں میں ترقی کرتے گئے۔ یہ دعویٰ نہایت ہی عظیم الشان تھا اور مسلمانوں کے دلوں کوبرہم کرنے والا۔ اس لئے اس میں انہیں بہت ہی آہستگی اور نہایت حکمت عملی برتنی پڑی ہے۔ پہلے تو نعتیہ قصائد اور عشقیہ اشعار بہت کچھ لکھے ہیں۔ پھر پادریوں اور آریوں کے جواب میں بعض رسائل لکھ کر مسلمانوں کے دلوں کا اپنی طرف رجوع کیا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے خادم ہونے اور غلام ہونے کا بھی جابجا دعویٰ کیا ہے۔
اس تمہید کے بعد آہستہ آہستہ کسی کسی فضل وکمال میں اپنی فضیلت دکھائی ہے اور کسی مقام پر جناب رسول اﷲa کے قاصر رہنے کی طبع زاد وجوہ بھی پیش کر دئیے ہیں۔
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)
اس میں شبہ نہیں کہ بہت نیک دل سادہ مزاج ان تمہیدی باتوں کو دیکھ کر ان کے زوردار دعوؤں پر ایمان لے آئے اور پھر جو بات اس کے خلاف ان کے خیال میں آئی اسکی تاویل کے درپے ہو گئے اور افسوسناک اس کی حالت ہوگئی۔ مگر جب کوئی ذی علم حق پسند محققانہ طور سے ان تمہیدی باتوں میں غور کر کے ان کے ان اقوال وافعال پر منصفانہ نظر کرے گا جو ان تمہیدی باتوں کے خلاف ہیں، اس کا کانشنس (ضمیر) اس کی حق پسندی بے اختیار کہہ اٹھے گی کہ یہ تمہید مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے تھی اور اصلی غرض کچھ اور تھی یا کچھ لوگوں کی توجہ سے ان کی حالت بدل گئی اور ان کا حوصلہ حد سے زیادہ بلند ہوگیا۔ مگر ان کی عمر نے وفا نہ کی۔ ابھی تک وہ اپنی بلند پروازی کا پورے طور سے اظہار نہیں کرنے پائے تھے کہ ان کی عمر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ان کی دلی تمنا پوری نہ ہوئی۔ ذرا سرسری طور سے اس تمہید پر غور کر لیجئے۔ یہ تو فرمائیے کہ بہت شعراء کے نعتیہ قصیدے اور عشقیہ اشعار موجود ہیں۔ پھر کیا ان کے مضامین کی بنیاد ان کا سچا عشق ومحبت ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کی خیالی باتیں اور جھوٹے دعوے ہیں اور ان کے کذب کی صداقت ان کے دوسرے اقوال وافعال سے بخوبی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مرزاقادیانی کے اقوال وافعال سے ان کے عشق کی حالت معلوم ہوتی ہے۔
مرزاقادیانی کا ایک شعر بھی ہے ؎
یا نبی اللہ فدائے ہر سرموئے توام
وقف راہ تو کنم گر جان دہندم صد ہزار
(آئینہ کمالات اسلام ص۲۶، خزائن ج۵ ص۲۶)
جس قدر عشق ومحبت مرزاقادیانی کے اشعار سے عموماً اور مذکورہ بالا شعر سے خصوصاً ظاہر ہوتی ہے اگر ان کے دل میں اس کا تخم ہوتا تو کیا ممکن تھا کہ باوجود مقدرت کے وہ روضہ اقدس کی زیارت سے مشرف نہ ہوتے اور جان کا خوف بھی ہوتا تو نہایت جوش سے جان کے قربان کرنے کو موجود ہو جاتے۔ حالانکہ خوف کی کوئی وجہ نہ تھی۔ انہیں تو الہام ہوچکا تھا۔’’و اللہ یعصمک من الناس‘‘
(تذکرہ ص۲۷۹،۲۸۰، طبع سوم)
اور انہیں اپنے الہاموں پر تو ایسا یقین تھا جیسا قرآن شریف پر۔ پھر خوف کی گنجائش کہاں تھی؟ اس کے علاوہ حرمین شریفین میں پوری آزادی ہے۔ کوئی مذہب والا زیارت وحج سے روکا نہیں جاتا۔ دیکھو ان کا بیٹا حج کر آیا مجھے وہاں کے خطوط سے معلوم ہوا کہ شریف مکہ جو وہاں کے حاکم ہیں مرزامحمود کو کافر جانتے تھے۔ مگر کسی قسم کا تعرض ان سے نہیں کیا۔ البتہ باوجود تحریک کے ان سے ملاقات نہیں کی۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑی دلیل ان کے دعوے عشق ومحبت اور دعویٰ غلامی کے غلط بتانے والی اور ان کی اصلی حالت کھولنے والے وہ اشعار ہیں جو انہوں نے قصیدہ اعجازیہ میں اپنی تعلّی اور جگر گوشہ اور قرۃ العینین رسول الثقلینa حضرت امام حسنq اور حضرت امام حسینq کے کسرشان میں لکھے ہیں۔ کیا کسی غلام اور عاشق سے یہ ہوسکتا ہے کہ اپنے محبوب کے محبوب سے اس قدر بے باکی اور بے ادبی سے پیش آئے؟ اور خاص اپنے مقابلہ میں ان کی تحقیر کرے جن کو رسول الثقلینa نے نہایت پیارومحبت سے اپنی گودوں میں کھلایا ہو اور جنہیں اہل جنت کا سردار فرمایا ہو۔
بھائیو! بلاطرفداری اس کا جواب دو۔ مگر جواب سے پہلے قصیدہ کے وہ اشعار بھی ملاحظہ کر لو جن میں مرزاقادیانی نے اپنے دل کا غصہ نکالا ہے۔ پھر کیا کوئی صادق ان باتوں پر نظر کر کے مرزاقادیانی کو محبت وغلامی کے دعوے میں سچا کہہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ اب اس توضیح کے لئے میں نمونہ کے طور پر چندحوالہ پیش کرتا ہوں جن میں انہوں نے مختلف طور سے اپنی افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر نہ اس زور کے ساتھ جس طرح حضرت مسیحm کے مقابلہ میں کیا ہے۔ کیونکہ مصلحت وقت کے خلاف تھا۔
وہ اشعار اور ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
وقالوا علے اتحنسین فضل نفسہ
اقول نعم و اللہ ربی سیظہر
(اعجاز احمدی ص۵۲، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴)
ترجمہ: ’’اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے حسنینr سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔‘‘
وشتان ما بینی وبین حسینکم
فانی ائید کل اٰن وانصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الٰی ہذہ الایام تبکون فانظروا
(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
ترجمہ: ’’میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگرحسین پر تو دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔‘‘
وو اللہ لیست فیہ منی زیادۃ
وعندی شہادات من اللہ فانظروا
وانی قتیل الحب لکن حسینکم
قتیل العدیٰ فالفرق اجلٰی واظہر
(اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
ترجمہ: ’’اور بخدا اس میں (کوئی بات) مجھ سے زیادہ نہیں ہے۔ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو اور میں محبت کا کشتہ ہوں مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘
یہ پانچ اشعار ہیں جو مرزاقادیانی نے قصیدہ اعجازیہ میں حضرات حسنینu اور خصوصاً حضرت امام حسینq کی توہین اور اپنی فضیلت میں لکھے ہیں۔ ان کے مضامین کو عبرت کی نظر سے دیکھنا چاہئے کہ ایک اسلام کا دعویٰ رکھنے والا اور اپنے تئیں خادم رسول اﷲ
اور عاشق رسول کہنے والا اسی سچے رسولa کے جگر گوشہ کے مقابلہ میں اپنی فضیلت اس طرح دکھا رہا ہے۔ پہلے شعر میں اپنی فضیلت کا دعویٰ کر کے اس کے ظہور کی قسمیہ پیش گوئی کر رہا ہے۔ یعنی قسم کھا کر کہتا ہے کہ میری فضیلت امام حسینq پر عنقریب ظاہر ہو جائے گی۔ (مگر اب تک تو اس کے نشان کا بھی ظہور نہ ہوا)
دوسرے اور تیسرے شعر میں اپنی یہ فضیلت دکھاتے ہیں کہ مجھے ہر وقت خداتعالیٰ کی طرف سے مدد پہنچ رہی ہے اور امام حسینq کو تو کربلا میں وہ مصیبت پہنچی تھی جسے یاد کر کے تم اب تک رویا کرتے ہو۔
بھائیو! انصاف سے کہو کہ عاشق رسول کے خیال میں بھی ایسا مضمون گزر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ فضیلت دکھانا ایسا ہی ہے جیسے ہرودس بادشاہ قاتل حضرت یحییٰm یا اور کوئی مخالف کافر دنیا کے ناز ونعمت میں رہنے والا حضرت یحییٰm کی مظلومیت اور شہادت کو دکھا کر حضرت یحییٰm پر فخر کرے۔
مرزاقادیانی کے اس بیان کا یہ نتیجہ ضرور ہوگا کہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ میں جو مؤمنین کے ابتلاء اور کفار کے تنعم دنیا کا ذکر ہے وہ سب غلط ہے۔ (نعوذ باﷲ)
ایک فضیلت تو یہ دکھائی۔ دوسری فضیلت پانچویں شعر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ میں کشتہ محبت خدا ہوں اور امام حسینq دشمنوں کے کشتہ تھے۔ یعنی انہیں محبت الٰہی سے واسطہ نہ تھا۔ ان کی شہادت محبت خدا کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ میں کشتہ محبت خدا ہوں۔ کیونکہ چین سے گزرتی ہے قورما پلاؤ کھانے کو اور مشک وزعفران استعمال کرنے کو ملتا ہے۔
بھائیو! انصاف سے کہو کسی مسلمان کے قلم وزبان سے یہ کلمات نکل سکتے ہیں اور کوئی انسان رسول الثقلینa پر ایمان لاکر اپنے مقابلہ میں ان کے قرۃ العینین کی فضیحتی اس طرح کر سکتا ہے؟ ذرا اپنے ایمان پر نظر کر کے جواب دینا چاہئے۔ ان اشعار میں ایک عظیم الشان عبرتناک مضمون یہ ہے کہ مرزاقادیانی دوسرے اور پانچویں شعر میں تمام مسلمانوں سے خطاب کر کے کہتے ہیں۔ ’’حسینکم‘‘ یعنی تمہارا حسینq۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ جن کا ذکر ہورہا ہے جنہیں تمام دنیا کے اہل سنت اور اہل تشیع اپنا امام اور مقتداء مان رہے ہیں وہی حسینq ہیں۔ جو سید المرسلینa کے نواسہ ہیں جنہیں سید المرسلینa نے اہل جنت کا سردار فرمایا ہے اور نجات کے لئے کشتی نوحm کے مثل ٹھہرایا ہے۔ ان کی
نسبت مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ تمہارا حسین یعنی ہمارا نہیں ہے۔
ناظرین! مرزاقادیانی کی حالت کو اس سے سمجھ لیں میں اب زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔
اس سے پہلے تتمہ حقیقت الوحی سے مرزاقادیانی کا دعویٰ نقل کیاگیا ہے کہ میرے بڑے بڑے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ مگر اس پر بس نہیں کی بلکہ تین لاکھ سے زیادہ اپنے معجزات کو بیان کیا ہے اور لکھا ہے۔
۱… قول مرزا: ’’میری تائید میں اس نے نشان ظاہر فرمائے… وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰)
نتیجہ: اس قول کو پیش نظر رکھ کر جب ان کی عمر کے مہینوں کا حساب کیا جائے اور اس میں متعدد نشانوں کا ہونا مانا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنے دعویٰ نبوت کی عمر میں سواتین لاکھ معجزوں کے مدعی ہیں اور جناب رسول اﷲa کی نسبت (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) میں لکھتے ہیں کہ: ’’تین ہزار معجزے ہمارے نبیa سے ظہور میں آئے۔‘‘
ان دونوں قولوں کے ملانے سے ظاہر ہوا کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میرے معجزات جناب رسول اﷲa کے معجزات سے سو حصے سے بھی زیادہ ہیں۔ یعنی سو حصے سے مجھے زیادہ فضیلت ہے جناب رسول اﷲa پر۔ کیونکہ جس قدر معجزات کا ظہور زیادہ ہوگا اسی قدر اسے قربت خداوندی کا ثبوت زیادہ ہوگا۔ کیونکہ معجزہ کا ظہور خداتعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اپنے رسول کی حمایت اور اس کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے اب جس قدر قرب زیادہ ہے اور اس کی حمایت زیادہ منظور ہے اسی قدر اس نبی سے زیادہ معجزہ ہوں گے۔
برادران اسلام! جناب سید المرسلینa کی اس خفیہ توہین کو ملاحظہ کریں کہ مرزاقادیانی حضور انورa کو اپنے سے سو حصہ کم مرتبہ سمجھتے ہیں۔ یہاں سے بالیقین ثابت ہوا کہ دوسرے مقامات پر آپa کی بہت کچھ تعریف کرنا اور اپنے آپ کو خادم کہنا کسی مخفی غرض سے ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ہمارے بھائی غور نہیں کرتے۔
۲… قول مرزا: ’’لیکن پھر بھی دو نام دونبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں۔ یعنی مہدی کا نام ہمارے نبیa سے خاص ہے اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسیٰm سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے… اور نبیوں کی پیش گوئیوں میں یہ بھی تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھا ہو جائیں گی۔‘‘
(اربعین نمبر۲ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۳۵۸،۳۵۹ حاشیہ)
نتیجہ: اس قول میں غور کیا جائے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک مؤید بروح القدوس ہونے کی صفت رسول اﷲa میں نہ تھی۔ صرف مہدی ہونے کی صفت تھی۔ یعنی ایک عظیم الشان صفت سے جناب رسول اﷲa محروم تھے۔ (نعوذ ب اللہ منہ) مگر مرزاقادیانی دونوں صفت کے جامع ہیں اور جناب رسول اﷲa سے فضیلت رکھتے ہیں۔
۳… قول مرزا: ’’دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)
نتیجہ: اس قول میں مرزاقادیانی صاف طور سے اپنے آپ کو تمام انبیاء پر فوقیت دیتے ہیں۔ کیونکہ تخت اترنے سے مقصود معمولی تخت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ مثالی طور پر عالی مرتبہ رسالت ونبوت کا تخت مراد ہوسکتا ہے۔ جب مرزاقادیانی کا تخت سب سے بلند بچھایا گیا تو معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی تمام انبیاء سے عالی مرتبہ رکھتے ہیں۔
۴… قول مرزا:’’واتانی مالم یؤت احد من العالمین‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)
نتیجہ: اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ مرزاقادیانی کو جو مرتبہ دیاگیا وہ سارے جہاں میں کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں دیاگیا۔ اس میں جناب رسول اﷲa بھی داخل ہیں۔ یعنی حضورa کو بھی وہ مرتبہ نہیں دیاگیا۔ ’’استغفراﷲ‘‘ (قصیدہ اعجازیہ ص۷۰، خزائن ج۱۹ ص۱۸۲) میں اپنے آپ کو جناب رسول اﷲa کی اولاد ٹھہرا کر ص۷۱ میں اپنی فضیلت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔
۵… قول مرزا: ’’لہ خسف القمر المنیر، وان لی غسا القمر ان المشرقان اتنکر‘‘
(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)
ترجمہ: ’’اس کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔‘‘ یعنی جناب رسول اﷲa کے لئے اردو محاورہ کے لحاظ سے حضور انورa کے ساتھ مرزاقادیانی کے ادب کو لحاظ کیا جائے۔ کس بے ادبی سے ترجمہ کر رہے ہیں؟
یہ ان کا شعر ہے اور انہیں کا ترجمہ ہے۔ اس شعر میں پہلے رسول اﷲa کا نشان صرف چاند گہن کو بتاتے ہیں اور اپنا نشان چاند اور سورج دونوں کا گہن کہتے ہیں۔ یعنی رسول اﷲa کے اظہار صداقت کے لئے تو صرف چاند گہن ہوا اور میری صداقت کے لئے چاند اور سورج دونوں کا گہن ہوا۔ اب میں اس سے بحث نہیں کرتا کہ چاند گہن اور سورج گہن کس طرح نشان ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے لئے ایک رسالہ خاص لکھا گیا ہے جس کا نام ’’شہادت آسمانی‘‘ ہے۔ جس کو دیکھنا ہو اس میں دیکھے۔ یہاں یہ کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی جناب رسول اﷲa کے مقابلہ میں اپنی ایک فضیلت بیان کرتے ہیں کہ اس قسم کا نشان حضور انورa کے لئے ایک ہوا اور میرے لئے دو ہوئے۔ یعنی رسول اﷲa پر یہ خاص فضیلت مجھے دی گئی۔ جناب رسول اﷲa کا معجزہ شق القمر تو مشہور اور متواتر ہے اور قرآن مجید سے اس کا پتہ ملتا ہے اور واقع میں یہ خرق عادت ہے۔ تمام عقلاء اسے معجزہ مان سکتے ہیں۔ مگر چاند گہن کو معجزہ اور نشان کہنا مرزاقادیانی ہی کے عقل کا تقاضا ہے۔ کوئی ذی عقل تواسے معجزہ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ چاند گہن اور سورج گہن ہمیشہ ہوا کرتے ہیں اور کسی وقت ایک مہینے میں ان کا اجتماع بھی ہوتا ہے اور بالفرض اگرچہ یہ اجتماع کسی مدعی کے وقت میں نہ ہوا ہو بہرحال کسی ذی علم، صاحب عقل کے نزدیک خرق عادت اور معجزہ نہیں ہوسکتا اور اگر شق القمر کو چاند گہن کہا ہے تو یہ سراسر غلط اور دروغ محض ہے کہ میرے لئے دونوں کا گہن ہوا۔ کیونکہ یہاں بھی گہن کے معنی شق ہونے کے ہوں گے۔ جس کا حاصل یہ ہوگا کہ میرے لئے شق القمر اور شق الشمس دونوں ہوئے۔ مگر ساری دنیا واقف ہے کہ محض غلط ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے دونوں کیا ایک کا بھی شق نہیں ہوا اور اگر نہایت محدود عقل والوں کی طرح مرزاقادیانی اور ان کے پیرو واقعی شق القمر کو محال بتائیں اور خداتعالیٰ کی غیرمحدود قدرت کو اپنی محدود عقل کا پابند کر کے جناب رسول اﷲa کے اس عظیم الشان معجزے سے انکار کریں تو میں اس وقت صرف یہ کہوں گا کہ معمولی چاند گہن یا سورج گہن یا دونوں کا اجتماع ایک مہینے میں معجزہ نہیں ہوسکتا۔
خطبہ الہامیہ مرزاقادیانی کی ایک کتاب ہے جو عربی میں ہے اور موٹے موٹے حرفوں میں چھپی ہے اور درمیان میں اس کا ترجمہ فارسی اور اردو دونوں میں ہے۔ اس کتاب کے (ص۲۸۸،۲۸۹، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸،۲۸۹) میں لکھتے ہیں: میں اس کی عربی عبارت اور اردو ترجمہ نقل کرتا ہوں۔
۶… قول مرزا:’’وقد مضی وقت فتح مبین فی زمن نبینا المصطفٰےa وبقی فتح آخر وہو اعظم واکبر واظہر من غلبۃ اولٰی وقدران وقتہ وقت المسیح الموعود من اللہ الرؤف الودود وارحم الرحمین والیہ اشار فی قولہ تعالٰی سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الٰی المسجد الاقصٰی‘‘اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خداتعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ ’’سبحان الذی اسریٰ‘‘
اب نہایت ظاہر ہے کہ جس نبی کے وقت میں جس رسول کے ذریعہ سے جس قدر یہ فتح زیادہ نمایاں ہوگی اسی قدر وہ رسول عالی مرتبہ زیادہ ہوگا۔ وہ زمانہ زیادہ خیروبرکت کا ہوگا اور جس قدر یہ فتح کم نمایاں ہوگی اسی قدر اس کے مرتبہ میں کمی ہوگی۔ اس وجہ سے اللہ کا ارشاد ہے۔ اب تمام مسلمانوں کا اتفاقی عقیدہ ہے اور قرآن وحدیث اس پر شاہد ہیں کہ جناب رسول اﷲa سید المرسلینa ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ رسالت خداوندی کا نتیجہ جس قدر ان کی ذات بابرکات سے اعظم اور اکبر اور نہایت ظاہر ہوا کسی رسول سے نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے تمام رسولوں کے سردار قرار پائے۔ مگر مرزاقادیانی کا بیان تو اسے غلط بتارہا ہے۔ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ ایسی عظیم الشان فتح مسیح موعود کے وقت میں ہوگی۔ یعنی مرزاقادیانی کے وقت میں اور جو عظیم الشان نتیجہ رسالت کا مرزاقادیانی کے ذریعہ سے ہوگا وہ جناب رسول اﷲa کے ذریعہ سے ظاہر نہ ہوا ہوگا۔ اس لئے مرزاقادیانی سید المرسلین ہوئے۔ جناب رسول اﷲa نہ ہوئے اور خیرالقرون مرزاقادیانی کا زمانہ ہوا۔ جناب رسول اﷲa کا زمانہ نہ ہوا اور مرزاقادیانی کے صحابی اور تابعی جناب رسول اﷲa کے صحابہ اور تابعین سے افضل ہوئے۔ یہ سب دعویٰ ہورہے ہیں مگر پینچ کے ساتھ، اس لئے عوام اور نیم ملّا نہیں
سمجھتے۔ وہ اب تک اسی خیال میں ہیں کہ مرزاقادیانی نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے۔ وہ نائب رسول ہیں یا ظلی، بروزی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بعض نیم ملّاؤں نے عوام کو سمجھا دیا کہ امتی نبی ہیں۔
بھائیو! کچھ تو غور کرو اور خدا سے ڈرو۔ مرزاقادیانی اعلانیہ نہایت صفائی سے نبوت کادعویٰ کر رہے ہیں اور اپنے کو تمام انبیاء سے افضل بتاتے ہیں۔ مگر اسی دعویٰ سے قبل یہ بھی کسی وقت کہہ دیا ہے کہ ایک حیثیت سے امتی ہوں اور ایک حیثیت سے نبی ہوں۔
نتیجہ: اس میں غور کیا جائے کہ مرزاقادیانی دو فتح مبین بیان کرتے ہیں۔ ایک جناب رسول اﷲa کے زمانہ میں، اور دوسرا مسیح موعود یعنی اپنے وقت میں۔ اب خیال کیا جائے کہ فتح مبین سے کیا مراد ہے۔ چونکہ حضور انور سید المرسلینa ہیں اور اسی غرض سے آئے ہیں کہ لشکر شیطان کو شکست دیں اور کفر اور شرک اور بداعمالی کو مٹائیں۔ اس لئے فتح مبین سے مقصود یہی ہوسکتا ہے کہ جناب رسول اﷲa کے وقت میں ملک عرب میںجو لشکر شیطانی کا نہایت غلبہ تھا اور کفر اور شرک اور بداخلاقی کازور تھا جناب رسول اﷲa نے اس لشکر کو زیر کر کے اس پر فتح مبین حاصل کی اور اس ملک سے کفر وشرک اور بداعمالی کو مٹادیا اور آپa کے صحابہ کرامi اور خدام نے دنیا کے اور لوگوں کو درست کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جناب رسول اﷲa نے اپنے زمانے کو اور اپنے وقت کی امت کو خیرالقرون اور خیر امتی قرنی فرمایا ہے اور اس کے بعد صحابہi اور تابعینw کے زمانہ کو، مگر مرزاقادیانی اس فتح کو یعنی جو فتح جناب رسول اﷲa کے وقت میں ہوئی اور صحابہi اور تابعینw کے وقت میں ہوئی، فتح عظیم نہیں کہتے بلکہ جو فتح مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کے وقت میں ہوئی اور ہوگی وہ فتح اکبرہے اور اعظم ہے اور اظہر ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مرزاقادیانی اکبر اور اعظم ہوئے جناب رسول اﷲa سے۔ مرزاقادیانی کے صحابی افضل ہوئے۔ جناب رسول اﷲa کے صحابہi سے، اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ حضور انورa کا وہ قول جو ابھی نقل کیاگیا، جسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے غلط ہے۔نعوذ ب اللہ منہ!
۷… قول مرزا:’’ان اللہ خلق آدم وجعلہ سید اوحاکما وامیراً علی کل ذی روح من الانس والجان کما یفہم من آیۃ أسجدوا لآدم ثم ازلہ الشیطان واخرجہ من الجنان۔ ورد الحکومۃ الی ہذا الثعبان ومس آدم
ذلۃ وخذی فی ہذہ الحرب والہوان وان الحرب سجال وللاثقیاء مآل عند الرحمان فخلق اللہ المسیح الموعود لیجعل الہذیمۃ علی الشیطان فی اٰخر الزمان وکان وعداً مکتوباً فی القرآن‘‘
(خطبہ الہامیہ کا حاشیہ در حاشیہ ص ت، خزائن ج۱۶ ص۳۱۲)
ترجمہ: ’’اﷲتعالیٰ نے آدمm کو پیدا کیا اور اسے تمام انسانوں اور جنوں کا سردار اور حاکم بنایا۔ پھر ان کو شیطان نے بہکایا اور جنت سے نکالا اور حضرت آدمm کی حکومت شیطان کو ملی اور اس لڑائی میں آدم کو ذلت اور رسوائی ہوئی۔ پھر اﷲتعالیٰ نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو پیدا کیا تاکہ آخری زمانہ میں شیطان کو ہزیمت دے۔ یہ وعدہ خداوندی قرآن میں لکھا ہوا ہے۔‘‘
نتیجہ: مرزاقادیانی کے اس بیان سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کو انہیں نہایت غور اور عبرت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔
اوّل… یہ کہ حضرت آدمm اور شیطان سے لڑائی ہوئی اور حضرت آدمm باوجود نبی بلکہ ابوالانبیاء ہونے کے ناکام رہے اور شیطان کے مقابلہ میں انہیں ذلت ہوئی۔ یہاں تک کہ آپ کی سرداری اور حکومت شیطان کو مل گئی اور یہ اس کے محکوم ہوگئے۔
دوم… یہ کہ حضرت آدمm سے لے کر جناب رسول اﷲa تک تمام انبیائے کرام کے وقت میں صحابہ کرامi اور تمام اولیائے عظامw کے زمانے میں شیطان کو ہزیمت نہیں ہوئی بلکہ تمام انبیاء اور اولیاء کے وقت میں شیطان کی حکومت رہی۔ کسی اولوالعزم نبی نے بھی شیطان پر غلبہ نہیں پایا اور نہ اﷲتعالیٰ نے انہیں شیطان کے مغلوب کرنے کے لئے پیدا کیا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت بیکار ہوئی۔ کیونکہ انبیائے کرام اسی لئے آتے ہیں کہ شیطان کو ہزیمت دیں اور مخلوق خدا کو شیطان سے بچائیں۔
سوم… نہایت عظیم الشان دعویٰ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو اﷲتعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا کہ آخر زمانے میں شیطان کو ہزیمت دی۔ یعنی اﷲتعالیٰ کے نزدیک مسیح موعود کا وہ مرتبہ ہے جو کسی کا نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا میں رسول اور پیغمبر بھیجنے کی بہت بڑی غرض تو یہ ہے کہ شیطان کو ہزیمت دیں۔ یعنی کفر وشرک اور بداعمالی کو مٹادیں۔ مگر یہ کسی نبی سے نہیں ہوا۔ اس غرض کے لئے خاص مرزاغلام احمد قادیانی بھیجے گئے۔ انہوں نے آکر اس کام کو کیا۔
بھائیو! کیا کسی مسلمان کا ایمان ان باتوں کو قبول کر سکتا ہے۔ حاشا وکلا، ان باتوں کا ایک نہایت خبیث نتیجہ یہ ہے کہ حضرت آدمm سے لے کر حضرت ابراہیمm، حضرت موسیٰm، حضرت عیسیٰm، حضرت محمد رسول اﷲa سب شیطان سے مغلوب رہے۔ ان تمام انبیاء کرام کے وقت میں شیطان ہی حاکم رہا اور تمام انبیائے کرام محکوم رہے۔ جناب رسول اﷲa کے تیرہ سو برس کے بعد چودھویں صدی میں مسیح موعود یعنی مرزاغلام احمد قادیانی نے شیطان کو مغلوب کیا اور حضور انورa کا جوارشاد تھا کہ زمانوں میں میرا اور میرے صحابہ کا زمانہ عمدہ ہے۔ یہ ارشاد غلط ہے۔ (نعوذ باﷲ) بلکہ مسیح موعود یعنی مرزاغلام احمد قادیانی کا زمانہ تمام زمانوں سے بہتر ہے۔ کیونکہ شیطان کو ہزیمت اسی وقت ہوئی اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔ بھائیو! کوئی مسلمان اس نتیجہ کو سن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
چہارم… بات مرزاقادیانی یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے قرآن مجید میں موجود ہے۔ وعدہ الٰہی ہے کہ اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ قرآن مجید میں وعدے کا نشان بھی نہیں ہے۔
طالبین حق! ان عظیم الشان دعوؤں پر نظر کریں اور پھر اسے دیکھیں کہ کیسے غلط اور محض غلط دعوے ہیں جن کی غلطی کسی ذی علم پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ پھر ایسے غلط دعوے کر کے تمام انبیائے کرام پر اپنی فضیلت ہی ثابت نہیں کرتے۔ بلکہ سخت توہین کرتے ہیں۔ اب کوئی قادیانی ہے کہ مرزاقادیانی کے اس دعوے کو قرآن مجید سے ثابت کر کے مرزاقادیانی کو سچا ثابت کرے؟ یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ تمام قادیانی مل کر تمام عمر سرماریں۔ اب میں آخر میں مجبور ہوکر کہوں گا کہ جو حضرات ایسے غلط دعوؤں پر ایمان لاچکے ہیں جن کے قلوب ایسے صریح غلط دعوؤں کے ماننے سے تاریک ہوگئے ہیں ان سے صداقت کی امید نہیں ہوسکتی۔ اگرچہ وہ اپنی حالت کی وجہ سے معذور خیال کئے جائیں۔
حضرات! یہ ہیں مرزاقادیانی کے دعوے جس سے ہمارے بھائی ناواقف ہیں اور مرزاقادیانی کے قصیدہ نعتیہ دیکھ کر اور وہ عاجزی کے الفاظ ملاحظہ کر کے (جن میں وہ اپنے تئیں خادم رسول اﷲa اور احمد کا غلام کہہ کر مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں) مرزاقادیانی کے معتقد ہیں اور ان سے حسن ظن کر رہے ہیں۔ وہ وقت قریب تھا کہ جس طرح حضرت عیسیٰm کے مقابلہ میں بڑے زور سے کہہ چکے تھے کہ میں ہر شان میں ان سے بڑھ کر ہوں۔ حضرت سرور عالمa کے مقابلہ میں کہتے ہیں، مگر چونکہ مسلمان ہی ان کے سلسلہ میں داخل
ہوئے تھے۔ اس لئے وہ خائف رہے اور صاف طور سے ایسی تعلّی نہ کر سکے اور چونکہ عیسائی ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ اس لئے حضرت عیسیٰm کے مقابلہ میں صاف کہہ دیا۔
۸… مرزاقادیانی کا الہام:’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘
(حقیقت الوحی ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲، تذکرہ ص۶۱۲، طبع سوم)
نتیجہ: مرزاقادیانی اپنی مدح میں یہ الہام بیان کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تو نہ ہوتا یعنی اللہ مجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان وزمین پیدا نہ کرتا۔ تیری ہی وجہ سے تمام عالم کو آراستہ کیا۔
عام طور پر مسلمانوں میں یہ روایت مشہور ہے اور سب یہی جانتے ہیں کہ جناب رسول اﷲa کی شان میں یہ مضمون ہے۔ مگر اب مرزاقادیانی اس مضمون کو اپنا الہام بیان کرتے ہیں اور اپنی فضیلت میں یہ کلام الٰہی بتاتے ہیں۔ غور کے بعد اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ یہ فضیلت خاص میرے لئے ہے۔ رسول اﷲa کے لئے نہیں ہے۔ دووجہ سے، ایک یہکہ مرزاقادیانی کا الہام ہے اور مرزاقادیانی اپنے الہام کو ویسا ہی قطعی اور یقینی بتاتے ہیں جیسا قرآن مجید، اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے مرزاقادیانی اپنے لئے تو اس فضیلت کو یقینی بتارہے ہیں۔ اب رہی دوسرے جانب یعنی تیرہ سو برس سے تمام مسلمانوں کا یہ اعتقاد کہ یہ فضیلت جناب رسول اﷲa کے لئے ہے اس کا غلط ہونا مرزاقادیانی کے اور بیانات سے اظہر من الشمس ہوتا ہے۔ کیونکہ اوّل تو اس روایت کو الفاظ کے لحاظ سے محدثین نے صحیح نہیں جانا۔ اب اگر معنی کے لحاظ سے صحیح بھی ہو تو مرزاقادیانی ازالہ اوہام میں لکھ چکے ہیں کہ اگر صحیح بھی ہو تو مفید ظن ہوگی۔ ’’والظن لایغنی من الحق شیئا‘‘
پھر یہ ظنی ثبوت مرزاقادیانی کے قطعی ثبوت کا کیسے مقابلہ کر سکتا ہے؟ اس کے علاوہ مرزاقادیانی کے وہ اشعار بھی ملاحظہ کیجئے جن میں احادیث نبویہ کی دھجیاں اڑائی ہیں وہ اشعار یہ ہیں۔
(اعجاز احمدی ص۵۶،۵۷، خزائن ج۱۹ ص۱۶۸)
ترجمہ: ’’اور خدا کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔ پس ہم خداتعالیٰ کی
حدیث کے بعد کس حدیث کو مان لیں اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہورہا ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۵۷، خزائن ج۱۹ ص۱۶۹)
ترجمہ: ’’ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی وقیوم اور واحد لا شریک ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
ترجمہ: ’’ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو اور کیا قصے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں۔‘‘
ان اشعار میں مرزاقادیانی اپنی وحی کے مقابل میں حدیثوں کو دو چیزوں سےتشبیہ دے رہے ہیں۔ ایک تو ردی کاغذات سے یعنی جس طرح ردی کاغذات پھاڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں۔ اسی طرح میری وحی کے بعد حدیثیں پھاڑ کر پھینک دی گئیں۔ دوسرے تشبیہ قصے کہانی سے دی ہے۔ یعنی جس طرح قصے کہانیاں لائق اعتبار نہیں ہوتیں۔ خصوصاً جب وہ قصے چشم دید واقعات کے خلاف ہوں۔ اسی طرح حدیثوں کو مرزاقادیانی کہتے ہیں۔ (احادیث نبویہ کی بے وقعتی عبرت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے) الحاصل اس فضیلت کا ثبوت جناب رسول اﷲa کے لئے تو حدیث سے ہوتا ہے اور حدیث کا غیرمعتبر ہونا پوری طرح سے مرزاقادیانی نے بیان کردیا۔ اس لئے یہ فضیلت رسول اﷲa کے لئے ثابت نہیں ہوتی اور مرزاقادیانی کا الہام بقول ان کے چونکہ قطعی ہے۔ اس لئے یہ فضیلت ان الفاظ کے ساتھ مرزاقادیانی کے لئے قطعی الثبوت ہوئی۔ اب جو حضرات جناب رسول اﷲa کو افضل المرسلین اور سید الاولین والآخرین مان چکے ہیں۔ وہ ملاحظہ کریں کہ مرزاقادیانی اس عظیم الشان صفت کو اپنے لئے خاص کرتے ہیں۔ ذرا خیال تو کیجئے کہ جب تمام عالم کے لئے علت غائی ٹھہرے اور ایسے محبوب اور پیارے اللہ کے ہوئے کہ زمین وآسمان اور سید الانس والجان کا وجود بھی انہیں کی وجہ سے ہوا تو ان کی فضیلت کا کیا ٹھکانا ہے؟ اب تو تمام عالم ان کا ظل ٹھہرا اور تمام کمالات انسانی وجود کے تابع ہیں اور جب وجود انسانی مرزاقادیانی کے وجود کا
طفیلی ہوا تو تمام کمالات انسانی بھی مرزاقادیانی کے طفیل ہوئے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ تمام انبیائے کرام اور اولیائے عظام اپنے کمالات ولایت اور نبوت میں مرزاقادیانی کے ظل ہوئے۔ (معاذ اﷲ)
الغرض اس الہام سے مرزاقادیانی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa اپنے وجود اور اپنے تمام کمالات میں میرے ظل ہیں۔ اصل میں ہوں، مگر سخت حیرت ہے کہ ان کے پیروان کی باتوں پر ایمان لانے والے ان کے اس الہام کا مطلب نہیں سمجھتے اور مرزاقادیانی کو ظلی نبی کہتے ہیں۔ اگر مرزاقادیانی نے کسی وقت اپنے آپ کو ظلی نبی کہا ہو تو ایسا ہی سمجھ لیں جیسا حضرت مسیحm کو پہلے اپنے سے افضل سمجھتے تھے اور پھر ہر شان میں اپنے آپ کو ان سے افضل سمجھنے لگے۔ البتہ اس قدر فرق ہے کہ عیسائیوں سے انہیں امید نہیں رہی تھی۔ اس لئے اعلانیہ طور سے ان پر اپنی فضیلت کا اظہار کر دیا۔
مسلمانوں سے انہیں امید تھی کہ یہی لوگ ہم پر ایمان لائیں گے۔ اس لئے اعلانیہ فضیلت کا اعلان مصلحت کے خلاف سمجھا۔ البتہ ایسے الہامات ہورہے تھے جن میں غور کرنے سے فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ شاید بارش کی طرح وحی کا نزول نہیں ہوا تھا۔ اس لئے اصلی مدعا بیان کرنے کی نوبت نہیں آئی اور منتقم حقیقی کا پیام آپہنچا اور مرزاقادیانی کو بے وقت جانا پڑا۔ افسوس ہے کہ ہمارے بہت برادران اسلام ان باتوں سے غافل ہیں اور انہیں خادم رسول جان رہے ہیں اور ان کی اندرونی حالت سے بے خبر ہیں۔ افسوس!
اب میں مرزاقادیانی کا ایک الہام اور نقل کرتا ہوں جس سے مرزاقادیانی اپنی بہت ہی عظیم الشان فضیلت تمام انبیاء پر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ الہام نہایت لائق توجہ ہے۔
الحکم ج۹ نمبر۷، مورخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۵ء کے صفحہ۱۱ میں تو مرزاقادیانی نے ’’الوصیت‘‘ عنوان قائم کر کے مضمون لکھا ہے اور طاعون کے غلبہ اور مخلوق کے تباہ ہونے سے بہت ڈرایا ہے اور اپنی طرف توجہ کیا ہے۔ پھر صفحہ۱۳ کے آخر میں موٹی قلم سے لکھا ہے۔
۱… ’’حضور کی طبیعت ناساز تھی۔ حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی ہے۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ خاکسار پیپر منٹ۔‘‘
(تذکرہ ص۵۲۷)
کشف میں شیشی نظر آنا اور اس پر پیپرمنٹ لکھا ہونا مرزاقادیانی کے مخصوص مکاشفات سے ہے۔ ایسے مکاشفات کسی اہل اللہ کو نہیں ہوئے۔ کیا کہنا ہے چودھویں صدی کے مسیح ہیں؟
۲… ’’انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون‘‘یہ عربی الہام (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) کی پہلی سطر میں بھی لکھا ہے۔ اب دیکھا جائے کہ یہ عربی عبارت بہت تھوڑے تغیر سے قرآن شریف کی آیت ہے۔ سورۂ یٰسین کے آخر میں اﷲتعالیٰ کی عظمت وشان کے بیان میں اس طرح ارشاد ہے۔ ’’انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون (یٰسین:۸۲)‘‘یعنی اﷲتعالیٰ کی یہ شان ہے کہ جب کسی چیز کے ہو جانے کا ارادہ کرے اور اسے کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے گی۔
مرزاقادیانی اپنے الہام میں اسی مضمون کو اپنے لئے بیان کرتے ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ اس میں خداتعالیٰ مرزاقادیانی کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تیری شان یا تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے اور کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے گی۔
اس کا حاصل یہ ہوا کہ خداتعالیٰ کی وہ خاص صفت جس سے اس کی کامل قدرت ہر شئے پر ظاہر ہوتی ہے اور جو کسی ولی اور کسی عالی مرتبہ نبی کو بھی نہیں دی گئی۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ مجھے دی گئی۔ اس میں دو طرح سے کلام ہے۔ ایک یہ کہ مرزاقادیانی کا یہ الہام بتاتا ہے کہ جو قدرت اور فضیلت ومرتبہ مرزاقادیانی کو دیاگیا وہ کسی نبی اور کسی بزرگ کو نہیں دیاگیا۔ یہاں تک کہ حضرت سرور انبیاءk کو بھی نہیں عنایت ہوا۔ کیونکہ آپ نے کسی وقت اس مرتبہ پر پہنچنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ قرآن مجید میں صرف اﷲتعالیٰ کی قدرت کے بیان میں یہ جملہ بیان ہوا۔ یہ وہ عظیم الشان صفت ہے جس کی حدوانتہاء نہیں ہے۔ اس کے عطاء ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے گویا اپنی خدائی مرزاقادیانی کے حوالے کر دی اور اپنا شریک بنالیا اور مرزاقادیانی وہی کام کر سکتے ہیں جو خداتعالیٰ کر سکتا ہے۔ صرف فرق یہہوگا کہ اﷲتعالیٰ خود ہی قادر تھا اور ہے اور مرزاقادیانی کو خدا نے یہ قدرت دے دی اور اس خاص صفت میں اپنے شریک کر لیا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اپنی خدائی میں شریک کر لیا اور مرزاقادیانی کو قادر مطلق کر دیا۔ اس بیان سے اظہر من الشمس ہوگیا کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء سے بہت ہی افضل ہوں۔ حضرت سید المرسلینa سے بھی میرا مرتبہ
بہت ہی عالی ہے۔ کیونکہ اس الہام نے تو مرزاقادیانی کو خدائی کے درجہ تک پہنچا دیا اور خدا تعالیٰ میں اور مرزاقادیانی میں صرف بالذات اور بالغیر کا فرق رہ گیا ہے۔ یعنی اﷲتعالیٰ خود بخود بغیر کسی کے بنائے اس صفت کے ساتھ موجود ہے اور مرزاقادیانی کو خداتعالیٰ نے یہ صفت عنایت کی اس وجہ سے وہ قادر مطلق ہوگئے۔ پھر یہ مرتبہ تو تمام انبیائے کرام کے مرتبہ سے بہت ہی عالی ہے۔ اب تو انبیاء میں اور مرزاقادیانی میں گویا عبدیت اور معبودیت کا فرق ہوگا یا اس کے نہایت قریب (نعوذ ب اللہ من ہذہ الکفریات) دوسرا کلام اس الہام پر ہمارا یہ ہے کہ مرزاقادیانی اور ان کے مریدین حضرت عیسیٰm کے مردے زندہ کرنے کو محض غلط بتاتے ہیں اور اس کے صحیح ماننے کو شرک کہتے ہیں۔ یعنی مردہ کو زندہ کرنا خدا کی صفت ہے۔ بندے میں اس صفت کو ماننا شرک ہے۔ اگرچہ باذن اللہ زندہ کرے۔ ابمیں دریافت کرتا ہوں کہ مردہ کا زندہ کرنا خدا کا ایک فعل ہے اور احیائے موتیٰ اس کی صفت ہے۔ اس ایک صفت کا ظہور باذن خداوندی بھی کسی مقرب بندے سے نہیں ہوسکتا اور جو ایسا اعتقاد کرے کہ اللہ کے کسی مقبول بندے سے باذن خداوندی بطور معجزہ اس صفت کا ظہورہوسکتا ہے اور کسی وقت ہوا بھی ہے تو مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں کے نزدیک وہ مشرک ہے۔ اب جو شخص ایسا دعویٰ کرے کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے مارنے اور جلانے اور تمام باتوں کا اختیار کلی دے دیا ہے اور جس طرح خداتعالیٰ کے لئے لفظ ’’کن‘‘ کہنے سے ہر ایک چیز موجود ہوسکتی ہے اور جسے نیست ونابود کرنا چاہئے۔ یعنی ہو جاوہ نیست ونابود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح میرے ’’کن‘‘ کہنے سے سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اب قادیانی جماعت بتائے کہ وہ مدعی اور اس دعوے پر ایمان لانے والے کتنے بڑے مشرک ہوں گے اور کتنا بڑا پہاڑ شرک کا ان پر ٹوٹے گا۔ غصہ نہ فرمائیں کیا وجہ ہے کہ اس الہام پر ایمان لانے والون کو ابوالمشرکین نہ کہا جائے۔ انصاف سے مرزاقادیانی کے اس الہام میں غور کر کے اس کا فیصلہ کریں۔ اگر مرزاقادیانی کو سچا جانتے ہیں تو انہیں یہ الزام ضرور ماننا ہوگا۔
حضرات! مرزائی اپنی کم علمی اور ناسمجھی سے اس کے جواب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیv کا کلام پیش کرتے ہیں۔ ان عالی مرتبہ بزرگوں کے کلام سمجھنے کے لئے علم ظاہری کے علاوہ نور باطن ہونا چاہئے۔ جس سے قادیانی جماعت بالکل محروم ہے۔ حاصل کلام شیخ بیان کرتا ہوں۔ حضرت شیخ فتوح الغیب میں کسی کتاب سے نقل فرماتے ہیں کہ
اﷲتعالیٰ اپنے مقرب بندے سے فرماتا ہے کہ عالم میں ہر طرح کا تصرف کرنا یعنی ’’کن فیکون‘‘ خاص میرے لئے ہے۔ اگر تو میری کامل تابعداری کرے گا تو میں تجھے ’’کن فیکون‘‘ کا مرتبہ عنایت کروں گا۔ جس سے تمام عالم میں تو تصرف کر سکے۔ یہاں حضرت شیخ یہ نہیں فرماتے کہ یہ مرتبہ مجھے یا کسی کو عنایت کیاگیا بلکہ اﷲتعالیٰ کی عظیم الشان قدرت اس کے فرمانبردار بندوں پر بے انتہاء عنایت کو بیان کرتے ہیں۔ یعنی اگرچہ کسی کتاب الٰہی اور کسی حدیث نبوی سے ثابت نہیں ہوا کہ انبیائے سابقین میں سے کسی نبی کو یہ مرتبہ دیاگیا۔ نہ کوئی نبی اپنی وحی کا یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ مجھے اﷲتعالیٰ نے یہ مرتبہ عنایت کیا۔ مگر چونکہ اﷲتعالیٰ کی قدرت کی انتہاء نہیں ہے اور اس کی بندہ نوازی اور عنایت کی بھی حد نہیں ہے۔ اس لئے اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ اپنے کامل فرمانبردار بندے کو تصرف کا یہ مرتبہعنایت کرے۔ جس طرح اﷲتعالیٰ اپنی قدرت اور غناء کے بیان میں فرماتا ہے۔ ’’یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء (البقرہ:۱۸۴)‘‘مرزاقادیانی نے غالباً حضرت شیخ کا یہ کلام دیکھ کر دعویٰ کر دیا کہ تصرف کا یہ مرتبہ مجھے عنایت کیاگیا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ مجھے وہ فضیلت دی گئی جو کسی ولی نبی کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیa کو بھی یہ مرتبہ نہیں دیاگیا۔ طالبین حق کے لئے مرزاقادیانی کے اسی ایک دعوے کا جانچ لینا کافی ہے۔ جس سے ان کی حالت بخوبی معلوم ہوسکتی۔ اوّل تو یہی ملاحظہ کریں۔ اگر یہ الہام سچا ہوتا تو منکوحہ آسمانی کا تادم مرگ انہیں انتظار نہ کرنا پڑتا اور اس قدر رسوائی نہ ہوتی۔ صرف لفظ ’’کن‘‘ کہہ دینے سے اس کا شوہر مر جاتا، یا طلاق دے دیتا، یا محمدی بیگم خلع کرالیتی اور وہ مرزاقادیانی کے نکاح میں آجاتی۔ غرضیکہ جب تصرف کا پورا اختیار تھا تو سب کچھ ہوسکتا تھا۔ مگر کچھ نہ ہوا اور آخر عمر تک بہت لوگوں کو انتظار میں رکھا اور خود بھی منتظر رہے جس سے یقینی طور سے ثابت ہوا کہ یہ الہام الٰہی نہ تھا۔ دوسرے یہ کہ رسول اﷲa کا اپنے آپ کو ظل کہنا مسلمانوں کو متوجہ کرنے کے لئے تھا۔ دراصل مرزاقادیانی کا خیال اس کے برعکس تھا اور حضور انورa کو خاتم النّبیین نہیں مانتے تھے۔ بلکہ اپنے تئیں خاتم النّبیین اور سرور انبیاء اعتقاد کرتے تھے۔
حاصل کلام! جس قدر اقوال مرزاقادیانی کے نقل کئے گئے ہیں ان سے یقینی طور سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کو نبوت مستقلہ اور تشریعی نبوت کا دعویٰ تھا۔ بلکہ اس سے بھی
زیادہ وہ اپنے آپ کو افضل الانبیاء اور خاتم الخلفاء سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت سید المرسلینa سے بھی اپنے آپ کو بہت افضل سمجھتے تھے اور اپنے منکر کو کافر، جہنمی کہتے تھے اور اپنے اوپر ایمان لانے کو مدار نجات ٹھہراتے تھے۔ اب ان کے ماننے والے دوتین فرقے ہوگئے ہیں۔ ایک تو اعلانیہ طور سے انہیں خدا کا رسول مانتے ہیں اور ان کے منکر کو کافر کہتے ہیں اور مرزاقادیانی کی بعثت کا یہی فائدہ بتاتے ہیں کہ ان کے منکر یعنی تقریباً دنیا کے تیس چالیس کروڑ مسلمان کافر ہوگئے۔
دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم انہیں مجدد اور بزرگ مانتے ہیں اور کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ مگر یہ کسی طرح سمجھ میں نہیں آسکتا اور کوئی صاحب عقل اس کو باور نہیں کر سکتا کہ مرزاقادیانی کو اپنے دعوؤں میں صادق مان کر اور ان کے اقوال پر ایمان لاکر کوئی ذی فہم یہکہہ سکتا ہے کہ مرزاقادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہ تھا اور ان کا منکر کافر نہیں ہے۔ مرزاقادیانی کے نہایت صاف وصریح اقوال پیش کر دئیے گئے اور ایک قول نہیں۔ صحیفہ کے نمبر۶ میں چند اقوال پیش کئے گئے ہیں جن سے ان کا دعویٰ نبوت اور اپنے منکر کو کافر کہنا آفتاب کی طرح روشن ہورہا ہے اور اس دعوے کو تین طریقوں سے ثابت کیا ہے۔ اس نمبر میں بھی یہ دونوں دعوے ان کے اقوال سے ثابت کئے ہیں اور دعویٰ نبوت کو دوطریقوں سے ثابت کیا ہے۔ اس نمبر میں مرزاقادیانی کے وہ اقوال نہایت قابل لحاظ ہیں جن میں انہوں نے تمام انبیاء پر صراحۃً اور جناب رسول اﷲa پر ضمناً اپنی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ سید محمد جونپوری مدعی مہدویت نے دعویٰ نبوت کے ساتھ انبیائے سابقین پر فضیلت کا دعویٰ کیا تھا مگر جناب رسول اﷲa پر اسے اپنی فضیلت جتانے کی ہمت نہ ہوئی۔ صرف برابری کا دعویٰ کر کے رہ گیا۔
مرزاقادیانی اس سے زیادہ بلند حوصلہ تھے۔ اس لئے اس سے ترقی کر گئے اور جناب سید المرسلینa پر بھی فضیلت کا اظہارکیا۔ مگر صاف طور سے اس دعوے کے لئے مصلحت مانع رہی۔ مگر جو اقوال اوپر نقل کئے گئے ہیں ان سے بخوبی ظاہر ہے کہ انہیں دعویٰ افضلیت ہے۔ پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کے ماننے والے انہیں افضل الانبیاء نہ سمجھیں اور ان کی نبوت کی اشاعت نہ کریں۔ البتہ ان کی دانشمندی کا یہ تقاضا معلوم ہوتا ہے کہ جب تک ہماری وقعت دنیا کے تمام مسلمانوں کے دل میں نہ ہو اور ہمیں وہ سچا دین محمدی کا خیرخواہ پورے طور سے نہ سمجھ لیں۔ اس وقت تک مرزاقادیانی کا نام نہ لو جب تمام مسلمان یا اکثر کی
توجہ ہماری طرف ہو جائے گی۔ اس وقت ہم دین قادیانی کا اعلان کریں گے اور جناب مرزاقادیانی کی نبوت پر زور دیں گے۔ اس وقت اس پر زوردینا اور سب کو کافر کہہ دینا تمام مسلمانوں کو برہم کر دینا ہے۔ یہی مصلحت انہیں دلی منشاء ظاہر کرنے کے مانع ہوئی ہے اور ’’دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز‘‘ پر عمل کر رہے ہیں۔
ملاحظہ کیجئے کہ دہلی کی انجمن نے دو لائق اہل سنت کو خواجہ کمال الدین مرزائی کی مدد کے لئے بھیجنا چاہا تھا مگر انہوں نے منظور نہ کیا اور حیلہ کر کے ٹال دیا۔ اپنے ہی گروہ کے شخص کو چاہتے ہیں سمجھنے والے اس سے سمجھ لیں اور اگر سچائی سے مرزاقادیانی کی نبوت سے انہیں انکار ہے اور دنیا کے مسلمانوں کو وہ مسلمان جانتے ہیں تو ہم ان کے خیرمقدم کے لئے ہر طرح حاضر ہیں۔ مگر مرزاقادیانی کے ان اقوال کو غلط کہہ دیں جو اوپر نقل کئے گئے ہیں۔’’ہذا بلاغ لجمیع المسلمین… وما علینا الا البلاغ المبین‘‘
المبلغ: ابواحمد رحمانی
حقانی ہائیکورٹ کا فیصلہ
تمام برادران اسلام سے عموماً اور جدید تعلیم یافتوں سے خصوصاً کچھ کہنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میری گزارش کو توجہ سے سنیں گے اور یقین کریں گے کہ ایک دردمند اسلام کی یہ صدا ہے اور مسلمانوں کے خیرخواہ کے شکستہ دل سے نکلی ہے۔ جنہوں نے مسلمانوں کی گزشتہ اور موجودہ حالت پر پوری قابلیت اور فہم وفراست سے نظر کی ہے۔ وہ جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہر طبقہ میں ہر قسم کے مسلمان تھے اور ہیں۔ بعض کم علم، کم فہم، بعض علّامہ وقت، نہایت عالی فہم، بعض مشائخ وقت اور اسرار شریعت کے جاننے والے، بعض باوجود علم کے اس کوچہ سے بالکل ناواقف، بعض دردمندان اسلام اور شریعت الٰہیہ محمدیہ کے پورے پابند اور اس کے جانثار، بعض صرف زبانی اسلام کے مدعی اور پابندی احکام سے بے نصیب، مگر اہل کمال تاریخ حالات سے پوری اس کی شہادت دے سکتے ہیں کہ گزشتہ زمانہ میں جس قدر اہل فضل وکمال اور سچے دردمند اسلام ہوتے رہے ہیں اور کامل پابندی شریعت کے ساتھ دردمندی کا اظہار ان سے ہوتا رہا ہے۔ اب وہ حالت نہیں ہے۔ اب بہت کم ایسے
حضرات نظر آتے ہیں جنہیں علم وفضل اور تقویٰ کے ساتھ دردمندی اسلام اور مصالح وقت پر ان کی پوری نظر ہو۔ اس سے بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ اسلامی مصالح سے پورے طور سے وہی واقف ہوسکتا ہے جس کو علوم دینیہ اور پابندی شریعت کے علاوہ نور فراست اور کمال دانشمندی اﷲتعالیٰ نے عنایت کی ہے اور اس نے اپنی عمر کا ایک حصہ اسی غوروفکر میں صرف کیا ہے۔ اب عقل وانصاف پورے طور سے اس کا فیصلہ کرسکتا ہے کہ جو حضرات پورے طور سے علوم دینیہ سے واقف نہیں ہیں اور نیز اسلام کی محبت نے ان کے کامل پیروی پر انہیں مجبور نہیں کیا ہے۔ وہ اپنے خیال کے بموجب کیسے ہی دردمند اسلام ہوں اور مصالح وقت پر ان کی نظر ہومگر ان کی سچی خیرخواہی کا مقتضاء یہ ہونا چاہئے کہ ایسے عالم دیندار کے مقابل اپنی رائے کو فوقیت نہ دیں، جس کی حالت ابھی بیان کی گئی البتہ انہیںضروری ہے کہ محبت اسلامی کی وجہ سے اپنی رائے ایسے متبرک عالم کے روبرو پیش کریں۔ اگر ان کی رائے عمدہ ہے اور اس عالی فہم ذی علم نے کسی جزئی ناواقفی سے غلط رائے قائم کی ہے تو وہ ضرور اپنی رائے سے رجوع کرے گا اور نہایت مسرت سے اس دردمند اسلام کی رائے کو قبول کرے گا۔
اس قبول کرنے میں بھی کسی صاحب کو تأمل نہیں ہوسکتا کہ جس طرح عام طور سے جدید تعلیم یافتہ حضرات کو بے دین اور محض ناواقف سمجھ لینا غلط ہے۔ اسی طرح تمام علمائے دیندار سے بدگمانی کرنا اور انہیں مصالح وقت سے ناواقف خیال کر کے اپنے علم کو ترجیح دینا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا۔ ذرا غور کرنا چاہئے کہ جن حضرات کو علوم دینیہ سے پوری واقفیت نہیں ہے شریعت کی پابندی سے انہیں دلچسپی نہیں ہے۔ پھر وہ اسرار شریعت اور مصالح شرعی سے کیونکر واقف ہوسکتے ہیں؟ ہاں! اگر اپنی محض ناواقفی سے اپنے آپ کو واقف سمجھیں اور زمانے کا اثر ان کے قلب میں خود بینی کا تخم بودے تو ہوسکتا ہے مگر درحقیقت اس فیصلہ کے لئے علم دین کے علاوہ کمال دانشمندی اور بے نفسی اور انصاف کن طبیعت کی حاجت ہے تاکہ دونوں گروہ کے افراد کی حالت میں سچا فیصلہ کر سکے۔ میں نہایت ہمدردی سے ان سے سچی بات کہہ رہا ہوں۔
اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ گزشتہ زمانہ میں جس طرح کاملین اور سچے مجدد وقت گزرے ہیں اسی طرح جھوٹے مجدد اور مدعی نبوت بھی گزرے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقq اور دیگر خلفاءi اور حضرت جنیدv وشبلیv اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیv اور
حضرت خواجہ معین الدین چشتیv اور حضرت مجدد الف ثانیv بھی گزرے اور ان کے ماننے والے اور ان پر کفر کا فتویٰ دینے والے بھی گزرے ہیں۔ اسی طرح صالح اور ابوعیسیٰ اور مسیلمہ کذاب وغیرہم متقدمین ہیں اور سید محمد جونپوری اور علی محمد بابی وغیرہ متاخرین ہیں اور ان کا ساتھ دینے والے اور ان پر کفر کا فتویٰ لگانے والے بھی گزرے ہیں۔ اسی طرح اب بھی صلحائے کاملین اور کسی مرتبہ کے مجدد گزر رہے ہیں اور متعدد مہدویت اور عیسویت اور امام وقت اور مجدد ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر چکے ہیں اور بعض کر رہے ہیں۔ مثلاً مرزاغلام احمد قادیانی گزر چکے اور ان کے ماننے والے اور ان کے انکار کرنے والے موجود ہیں اور عبدالبہاء مدعی نبوت ومہدویت اور بعض دیگر مجددین موجود ہیں اور ہر ایک کے کچھ نہکچھ ماننے والے اور بعض کفر کا فتویٰ دینے والے بھی موجود ہیں۔ اب تعلیم یافتہ حضرات انصاف سے فرمائیں کہ وہ ان سب کو یکساں سمجھیں گے؟ اور مسیلمہ اور صالح بن طریف پر کفر کا فتویٰ دینے والے ویسا ہی خیال کریں گے جیسا حضرت صدیق اکبرq اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیv کے منکر اور کفر کے فتویٰ دینے والے کو؟ ذرا اپنے نورایمانی سے ملاحظہ کر کے اس کا جواب دیں۔ کیا ہر ایک جھوٹے مدعی کے ماننے والے صادقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہارا انکار اور کفر کا فتویٰ ایسا ہی ہے جیسا حضرت صدیق اکبرq اور حضرت محبوب سبحانیq کا انکار اور کفر کا فتویٰ ہے۔ ضرور کہہ سکتے ہیں اور کہتے ہیں کیا یہ کہنا ان کا لائق توجہ ہوسکتا ہے اور یہ دونوں انکار اور کفر کے فتویٰ یکساں ہوسکتے ہیں؟ ذرا سوچ کر جواب دیا جائے۔
الغرض یہ مختصر بیان ہر ایک منصف کے نزدیک اس قدر فیصلہ ضرور کرتا ہے کہ ایک مدعی کاذب، بزرگان سلف پر کفر کا فتویٰ پیش کرکے اپنے آپ کو بزرگان سلف کے مثل قرار نہیں دے سکتا اور اپنے کفر کے فتویٰ کو ویسا ہی غلط نہیں کہہ سکتا۔ جیسا بزرگان سلف پر کفر کے فتویٰ کو اہل حق کہتے ہیں۔ اب شخصی فتویٰ کے حق وباطل کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ ہر ایک اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ بعض فتویٰ دینے والے حالات سے ناواقف اور کم عقل ہوتے ہیں اور سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے خیال میں اپنے آپ کو کم علم نہ سمجھتے ہوں اور دینداری کا خیال بھی انہیں ہو۔ بعض تعصب اور نفسانی غرض سے ایسا کرتے ہیں اور حق وباطل سے انہیں غرض نہیں ہوتی۔ اس لئے ضرور ہے کہ فتویٰ دینے والا۔ علوم دینیہ میں کامل مہارت رکھنے والا۔ دیندار، بالخصوص، حق پسند جس پر فتویٰ دے اس کی حالت سے پورا
واقف ہو۔ اب اگر اس کے فتویٰ کی بنیاد صریح قول شارعm کا ہے تو اس کا اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے اور اگر کمال علمی اور دیانت سے اس کا استنباط ہے تو جو حضرات علم اور فضل وغیرہ صفات کمالیہ دینیہ میں اس عالم دیندار کے مرتبہ کو نہیں پہنچے۔ انہیں بہ مقتضائے نص قرآنی ’’واتبع سبیل من اناب الیّٰ (لقمان:۱۵)‘‘ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے جو کامل طور سے میری طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ ان کی پیروی کر۔
اس کے قول کا اتباع چاہئے اور ان کی راستی اور محبت اسلامی کا یہ تقاضا کسی طرح نہ ہونا چاہئے کہ ایسے عالم دیندار پر بدگمانی کریں۔ ’’وما علینا الا البلاغ‘‘
خاکسار: خیرخواہ اسلام ومسلمین: ابواحمد رحمانی
مسیلمہ کذاب کی حالت پر خوب غور کرنا چاہئے۔ اس نے بالکل ابتدائے اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا اور جناب رسول اﷲa کی نبوت کو مان کر مدعی نبوت تھا۔ حضور انورa کی رسالت سے اسے انکار نہ تھا اور یہ وہ وقت تھا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اور گویا تمام دنیا اسلام کے مخالف تھی۔ باایں ہمہ ایسے نازک وقت میں جب بھی جناب رسول اﷲa نے اور آپa کے بعد آپa کے خلیفہ ارشد حضرت صدیق اکبرq نے اس کاذب سے کسی قسم کی پالیسی نہیں برتی اور صاف طریقے سے اس سے مقابلہ اسی طرح کیا جس طرح اس وقت انہوں نے مناسب خیال کیا اور بالآخر انہیں فتح ہوئی۔ اب جس وقت میں مسلمانوں کی تعداد چالیس کروڑ کے قریب بیان کی جاتی ہے اس وقت اگر کوئی سچا مسلمان اپنے بھائیوں کی کثرت پر نظر کر کے رسول اﷲa اور ان کے خلیفہ اوّل کی پیروی کرے اور کسی مدعی کاذب کے فتنہ کو مٹاے اور دین حقانی کی حفاظت اس وقت مناسب کرے۔ اسے اہل حق اسلام کے سچے شیدائی کیا کہیں گے۔ آیا وہ اسلام کا سچا خیرخواہ اور جناب رسول اﷲa اور حضرت صدیق اکبرq کا پورا پیرو ہے یا جھگڑالو مولوی اور مسلمانوں کو کافر کہنے والا؟
ذرا حق پسندی اور مسیلمہ کے قصہ میں غور کر کے اس کا جواب دیا جائے کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ ایسے ذی علم کو جناب رسول اﷲa اور حضرت صدیق اکبرq کا پیرو نہ کہا جائے؟
مولانا سید محمد علی مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں خداتعالیٰ کی عبرت خیز قدرت کا یہ نمونہ دکھایا گیا ہے کہ بعض نہایت مفسد اور خلق کوگمراہ کرنے والے دنیا میں بہت کچھ کامیاب ہوئے اور بعض انبیاء اور برگزیدہ خدا اپنے دشمنوں کے ہاتھ سے شہید کردئیے گئے اور بعض پر نہایت مصیبتیں آئیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی جو اپنی تھوڑی کامیابی کو اپنی صداقت کی دلیل قرار دیتے تھے اس کا غلط ہونا نہایت روشن ہوگیا اور یہ بیان ان کے جھوٹے ہونے کی ایک دلیل تھی۔ یہ رسالہ حضرت اقدس مولانا سید ابواحمد رحمانی کے افادت کاملہ سے ہے۔ جن کی ذات سے صدی کے شروع میں قدیم مسیحیوں کے جواب میں لاجواب رسالہ، پیغام محمدیa، دفع التلبیسات وغیرہ مشتہر ہوئے اور اس وقت جدید مسیحوں (قادیانیوں) کے فریب سے بچانے کے لئے نہایت نادرالوجود رسائل تحریر فرماکر لاکھوں مسلمانوں کو گمراہی سے بچایا اور ان کے ایمان کو محفوظ رکھا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حضور سرور عالمa کا ارشاد ہے کہ قیامت اشرارالناس پر قائم ہوگی جس کا ظہور اس زمانہ میں بخوبی ہورہا ہے۔ اہل نظر عبرت کی نگاہ سے واقعات حال پر نظر ڈالیں کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ نے قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ حضرت خاتم المرسلینa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جس سے معلوم ہوا کہ تشریعی اور غیرتشریعی، ظلی اور بروزی ہر ایک قسم کی نبوت کا ہمیشہ کے واسطے خاتمہ ہوگیا اور حضورa کے بعد اﷲ جل شانہ نے اپنی تمام مخلوق پر قیامت تک کے لئے رسالت ونبوت کو بند کردیا۔ مگر افسوس کہ باوجود اس زبردست دلیل اور قطعی فیصلہ کے کتنے مدعیان نبوت زمانہ گزشتہ اور موجودہ میں ہوئے اور ہورہے ہیں۔ زمانہ حال میں پنجاب میں مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت اور مسیحیت وغیرہ کے دعوے کئے اور ہزارہا بندگان خدا کو گمراہ کردیا۔ یہ بھی منجملہ آثار قیامت کے ایک بڑا نمونہ ہے۔ اب ان کے
پیرو سادہ لوح مسلمانوں کو ہر طرح کی شرمناک ترغیب وتحریص دے کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی کی نبوت ومسیحیت پر ایمان لانے میں ترقی کا راز مضمر ہے۔ حالانکہ ان کی ذات سے کسی قسم کا فائدہ اسلام کو اور مسلمانوں کو نہیں ہوا۔ بلکہ دنیا کو انہوں نے کفر سے بھردیا۔ بھائیو! انہیں ایمان سوز اور گمراہ کن مرزائی تعلیمات اور خیالات کے رد میں خانقاہ رحمانیہ سے محض حسبۃً للّٰہ ایک سلسلہ رسائل عرصہ سے جاری کیاگیا ہے تاکہ واقف مسلمان مرزائیوں کی کید سے محفوظ رہیں۔ یہ رسالہ بھی انہیں مقاصد اور اغراض کی تکمیل کے واسطے شائع کیا جاتا ہے۔ اﷲتعالیٰ اس سے مسلمان بھائیوں کو نفع بخشے اور زمانہ حال کی ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
خیرخواہ مسلمین محمد اسحق غفر اللہ الرزاق
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس خدائے حکیم کی تعریف سے ہماری زبان تر اور دل مسرور ہونا چاہئے۔ جس کی حکمت بالغہ کی انتہاء نہیں ہے جس نے اپنے کرم سے ہماری ہدایت کے لئے انبیاء بھیجے جن کے سردار حضرت محمدa ہیں۔ جن کا ایک خطاب ’’رحمۃ للعالمین‘‘ ہے اور دوسرا خطاب ’’خاتم النّبیین‘‘ یعنی تمام انبیاء کے آخر میں آنے والے، اس خطاب سے مقصد یہ ہے کہ اصل مقصود آپa ہی کا بھیجنا تھا مگر اور تمام انبیاء بطور مقدمۃ الجیش بھیجے گئے تھے تاکہ عالم کو آراستہ کریں اور اس لائق کر دیں کہ آپa کی شریعت کاملہ کے متحمل ہوسکیں۔ آپa کے بعد کسی نبی کی حاجت نہ رہے۔ جس طرح آفتاب نکلنے کے بعد تاروں کی حاجت نہیں رہتی خدائے تعالیٰ نے جو کتاب آپ کو عنایت کی جسے ہم قرآن مجید کہتے ہیں وہ قیامت تک عالم کی ہدایت کے لئے کافی ہے۔ دنیا کے ہر حصہ کا ہر شخص بے تکلف اسے سمجھ کر اس پر عمل کر کے نجات کا مستحق ہوسکتا ہے۔ اس کے معانی اور مطالب نہایت ظاہر ہیں۔ مگر یہ عجب قدرت خدا ہے کہ باوجود ظہور کے اس کے مطالب دقیقہ تک پہنچنا اور کامل طور سے اس کے اسرار غامضہ کا سمجھنا انسانی قدرت سے باہر ہے۔ یہاں یہ شعر مناسب حاصل ہے ؎
ملنا تیرا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
یہی وجہ ہے کہ ہر ایک ذی علم اپنے علم فہم اور کوشش کے مطابق سمجھتا ہے اور اگر علم وفہم کے ساتھ نور قلب بھی اﷲتعالیٰ نے عنایت کیا ہے تو اس پر سچے اور واقعی اسرار کھولے
جاتے ہیں اور جس قدر یہ نور خدا داد زیادہ عنایت ہوتا ہے اسی قدر اس پر زیادہ انکشاف ہوتا ہے اور قرآن مجید کے معانی اور اسرار اس پر زیادہ کھلتے ہیں اور علم وفہم اگرچہ بہت کچھ ہو مگر اﷲتعالیٰ نے وہ نور قلب عنایت نہیں کیا جس کی نسبت کہا جائے کہ: ’’ینظر بنور اﷲ‘‘ تو اب دو حالتیں ہوں گی یا تو معمولی ضروری باتیں سمجھے گا اور بیان کرے گا یا اس کا علم اس کا مصداق ہوگا۔ ’’اے روشنی طبع تو برمن بلاشدی‘‘ اللہ اس سے بچائے۔ اﷲتعالیٰ ان کاملین علماء پر بے انتہاء رحمت نازل کرے جنہوں نے اپنی ہمت اور کوشش کو قرآن مجید کے سمجھنے میں صرف کیا اور بقدر ان کی نورایمانی کے، معانی قرآن اور اس کے حقائق ان پر منکشف ہوئے اور ہم تک ان کے انکشافات پہنچے۔ مگر یہ بھی معلوم کر لینا ضرور ہے کہ بعض نے قرآن دانی کا بہت کچھ دعویٰ کیا اور مسلمانوں پر اس بات کے ظاہر کرنے کی بڑی کوشش کی کہ ہم قرآن مجید کے معارف وحقائق سے اس قدر واقف ہیں کہ دوسرا نہیں۔ مگر میں نہایت سچائی اور مسلمانوں کی خیرخواہی سے کہتا ہوں کہ ان کی تفسیر یا تو بالکل یہودیانہ تحریف معنوی ہے۔ قرآن مجید کا وہ مطلب ہرگز نہیں ہے یا وہ تفسیر خوش کن باتیں ہیں جسے قرآن مجید کے الفاظ سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اتفاقیہ کہیں صحیح تفسیر بھی ہو، مرزاغلام احمد قادیانی کی قرآن دانی کا یہی حال ہے۔ اب میں نمونہ کے طور پر قرآن مجید کے ایسے مضمون کا ذکر کرتا ہوں۔ جس سے اس کا اشکال اور خداتعالیٰ کی بے نیازی دونوں ظاہر ہوں گی۔ مرزاقادیانی نے چونکہ صادق اورکاذب کا معیار دنیاوی کامیابی اور ناکامی کو ٹھہرایا ہے اور قرآن شریف سے اسے ثابت بتایا ہے اس لئے میں اسی مضمون کی بعض آیتیں پیش کرتا ہوں۔ ذرا خوب متوجہ ہوکر اور دل کو طرفداری اور تعصب کے گردوغبار سے صاف کر کے ملاحظہ کیجئے۔ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید کی پہلی سورۂ کے پہلے ہی رکوع میں ایمانداروں کو بشارت دی اور فرمایا: ’’اولئک علٰی ہدی من ربہم واولئک ہم المفلحون (البقرہ:۵)‘‘یعنی یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے راستہ پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے اور مراد کو پہنچنے والے ہیں جو حضرات عربیت سے واقف ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایمانداروں کو فلاح کی بشارت ہی نہیں دی گئی بلکہ اس بشارت کو ان کے ساتھ مخصوص کر دیا۔ یعنی ایماندار ہی کامیاب ہوں گے اور جونعمت ایمان سے محروم ہے وہ فلاح سے بھی محروم ہے۔ اس مطلب کو قرآن مجید میں متعدد جگہ مختلف طور سے بیان فرمایا ہے۔ کہیں ’’ہم المفلحون‘‘ فرمایا ہے۔ کہیں ’’ہم
الفائزون‘‘ ارشاد ہوا ہے۔ جس سے یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ فلاح پانا اور فائز المرام ہونا مسلمانوں ہی سے مخصوص ہے۔ کوئی منکر کوئی کافر فلاح نہیں پاسکتا۔ اس مدعا کو دوسرے مقام پر نہایت صفائی سے فرمایا ہے۔ مثلاً سورۂ مومنون کے آخر میں ارشاد ہوا: ’’انہ لا یفلح الکافرون‘‘ یعنی اس میں شبہ نہیں ہے کہ کافر فلاح نہیں پاتے۔ یہ مدعا متعدد آیات سے ثابت ہے۔ یہ آیتیں نہایت صفائی سے بتاتی ہیں کہ کافر یہودی ہو یا عیسائی، مشرک ہندو ہو یا آریہ، کسی قسم کا ہو سب کے لئے ارشاد خداوندی یہی ہے کہ وہ فلاح نہ پائیں گے اور فائز المرام نہ ہوں گے۔ اب فلاح نہ پانے اور نقصان میں رہنے کو کسی خاص کافر سے مخصوص کرنا مثلاً یہ کہنا کہ وہ مفتری فلاح نہیں پائے گا جو الہام وحی (جیسا کہ مرزاقادیانی اور ان کے پیرو کہتے ہیں) کا جھوٹا دعویٰ کرے۔ قرآن مجیدکے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن میں نہایت صفائی سے مکرر ارشاد ہے کہ کوئی کافر کوئی مفتری فلاح نہیں پائے گا۔ آیت مذکورہ کے علاوہ ذیل کی آیت ملاحظہ کی جائے۔ اس میں وہی حکم دوسرے الفاظ میں انہیں عام منکرین کے لئے بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: ’’ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا او کذب باٰیتہ انہ لا یفلح الظالمون (انعام:۲۱)‘‘
اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ظالم (نافرمان) فلاح نہیں پائیں گے۔ اس آیت سے پہلے مشرکین اور اہل کتاب کا ذکر ہے۔ یہاں انہیں کی مذمت میں ارشاد ہوا کہ مفتری علی اللہ اور مکذب سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔ یعنی مذکورہ دونوں گروہ مفتری بھی ہیں اور مکذب بھی ہیں۔ پھر ان سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔ مفتری اس لئے ہیں کہ بعض محض غلط باتوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں یا حضرت مسیحm کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا محرف شدہ باتوں کو کتاب الٰہی کا حکم بتاتے ہیں۔
الغرض اس آیت میں دو شخصوں کو بہت بڑا ظالم کہا ہے ایک وہ جو خدا پر افتراء کرے۔ دوسرا وہ جو خدائی آیتوں کو اس کی نشانیوں کو جھٹلائے اور انکار کرے۔ اس کے بعد عام ظالموں کے لئے باتاکید یہ ارشاد ہے کہ کوئی فلاح نہیں پائے گا۔ سب نامراد رہیں گےاور جب ہر ایک ظالم کے لئے یہی حکم ہے تو دنیا میں مسلمانوں کے سوا جس قدر فرقے خدا کے ماننے والے ہیں۔ مثلاً یہود، نصاریٰ، مشرک، بت پرست، آریہ اور جو سرے سے خدا ہی کو
نہیں مانتے۔ جیسے اس وقت کے دہریہ سب کے لئے اس آیت میں یہی ارشاد ہے کہ فلاح نہیں پائیں گے۔ نامراد رہیں گے۔ غرضیکہ آیت میں مفتری علی اﷲ کی خصوصیت ہرگز نہیں ہے۔ فلاح نہ پانے میں مفتری اور دوسرے مکذب کلام الٰہی اور معجزات محمدیa دونوں برابر ہیں۔ اب جو کوئی اس حکم خداوندی کو مفتری کے ساتھ خاص کرے اور مفتری کے معنی بھی ایسے کرے جس سے مشرکین اور اہل کتاب خارج ہوجائیں۔ وہ قرآن شریف کی صریح مخالفت کرتا ہے۔ ایک اور آیت ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہے:’’فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا او کذب بایتہ انہ لا یفلح المجرمون (یونس:۱۷)‘‘ کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ، بہتان باندھا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا اس میں شک نہیں کہ ایسے گنہگار فلاح نہیں پائیں گے۔
ان دونوں آیتوں میں دو طرح سے عموم کو بیان کیاگیا ہے۔ پہلے تو یہ ارشاد ہوا کہ مفتری اور مکذب سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے۔ ان دو لفظوں میں سب کافر آگئے۔ خواہ وہ یہود ونصاریٰ ہوں یا کوئی مفتری ہو فلاح نہیں پائیں گے۔ پھر ان سب کو مجرموں میں داخل کیا جو بہت عام لفظ ہے۔ ہرگنہگار کو مجرم کہتے ہیں۔ اس عموم کے ساتھ ارشاد ہوا کہ کوئی مجرم فلاح نہیں پائے گا۔ اس پر بھی نظر کی جائے کہ یہاں تین آیتیں نقل کی گئیں۔ تینوں میں تین طریقوں سے اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ کوئی کافر فلاح نہیں پائے گا۔ یہاں تو مفتری کا لفظ ہی نہیں لایا گیا۔ عام منکرین خدا اور رسول کے لئے عدم فلاح کا حکم سنادیا گیا۔ دوسری اور تیسری آیت میں مفتری کے ذکر کے ساتھ دوسرے عنوان سے عموم کو بیان فرمایا۔ مختلف طریقوں سے اس حکم کے بیان کرنے میں ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ فلاح نہ پانے کی تین وجہیں معلوم ہوئیں۔
اوّل… یہ کہ اپنے پروردگار اور اپنے منعم حقیقی کے منکر ہیں۔
دوم… یہ کہ ظالم ہیں۔
سوم… یہ کہ مجرم ہیں۔ اپنے پروردگار حقیقی کا انہوں نے جرم کیا ہے۔ ان دو آیتوں کے طرز بیان سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ ہر ایک ظالم اور ہر ایک مجرم اس کا مستحق ہے کہ فلاح نہپائے اور اپنی مراد کو نہ پہنچے۔ جب ہر ایک ظالم اور مجرم اس کا مستحق ہے تو جو شخص بہت بڑا ظالم ہے اور بہت بڑا مجرم ہے۔ وہ اس سزا کا بہت زیادہ مستحق ہوگا۔ اﷲتعالیٰ نے ان دونوں
آیتوں میں دوگروہ کو بہت بڑا ظالم فرمایا ہے ایک مفتری علی اللہ کو دوسرے اﷲتعالیٰ کے نشانیوں کے مکذب کو، ان دونوں گروہوں میں کوئی تفرقہ نہیں فرمایا۔ دونوں کو بہت بڑا ظالم ٹھہرا کر یہ وعید بیان فرمائی کہ فلاح نہیں پائیں گے۔ نامراد رہیں گے۔
الحاصل! آیات قرآنیہ اور نصوص قطعیہ سے ثابت ہوا کہ ایمان لانے والے اور نیک کام کرنے والے فلاح پائیں گے اور کامیاب ہوں گے اور جو کافر ہیں یعنی خدا کے کسی رسول کے منکر ہیں اور خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے یا خدا پر افتراء کرتے ہیں۔ وہ نامراد اور ناکام رہیں گے۔ انہیں فلاح ہرگز نہ ہوگی۔ اب جنہیں اﷲتعالیٰ نے عقل وفہم کے ساتھ علم کی نعمت دی ہے اور تحقیق حق ان کا شیوہ ہے اور وہ اس پر غور کریں کہ فلاح پانے اور فائز المرام ہونے سے کیا مقصد ہے؟ آیا دنیاوی مقاصد کا پورا ہونا، مثلاً قورمہ پلاؤ کھانے کو، اور مشک وزعفران استعمال کرنے کو بخوبی ملنے لگے۔ کسی نہ کسی عنوان سے روپیہ ہاتھ میں آنے لگے یا جائیداد اور ملک ہاتھ آجائے یا کہیں کا حاکم یا بادشاہ ہو جائے یا اولاد اور معتقدین زیادہ ہو جائیں۔ کیا قرآن شریف میں ایسے شخص کو فلاح پانے والا اور فائز المرام کہا ہے؟ ہرگز نہیں اور فلاح نہ پانے اور کامیاب نہ ہونے سے یہ غرض ہے کہ دنیا میں وہ ذلیل وخوار ہوں گے۔ ہر طرح کی تنگی ان پر آئے گی۔ یا ذلت سے تباہ وبرباد کے جائیں گے۔ یہ مطلب عوام خیال کر سکتے ہیں۔ مگر جنہیں قرآن مجید پر نظر ہے اور عقل ودانش کے ساتھ دنیا کے حالات پر ان کی نظر وسیع ہے اور نیکوں اور بدوں کے واقعات کو انہوں نے عبرت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ وہ یقین کرتے ہیں کہ ان آیتوں میں فائز المرام ہونے سے دنیا کی کامیابی مراد نہیں ہے۔یعنی جسے دنیا کے لوگ دنیاوی چیزوں کے فریفتہ نفس پرست کامیابی سمجھتے ہیں۔ ان آیتوں میں یہ کامیابی مراد نہیں ہے اور دنیا کی مذمت جو قرآن وحدیث میں آئی ہے وہ بھی اس کی شاہد ہے کہ ایماندار کے فائز المرام ہونے سے دنیا کامل جانا اور اس میں خوش ہو جانا مراد نہیں ہوسکتا۔ اب اس کے شواہد اور دلائل پر نظر کی جائے۔ اس کا ثبوت قرآن مجید کے نصوص صریحہ اور واقعات زمانہ سے اظہر من الشمس ہورہا ہے۔ پہلے قرآن مجید کی آیت ملاحظہ کیجئے۔ حضرت موسیٰm کے مقابلہ کے لئے فرعون نے جس وقت جادوگروں اور اپنے درباریوں اور رعایا کا مجمع کیا اور حضرت موسیٰm وہاں تشریف فرماہوئے۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے فرعون
اور تمام حاضرین جلسہ سے فرمایا: ’’قال لہم موسٰی ویلکم لاتفترون علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقد خاب من افتریٰ (طٰہٰ:۶۱)‘‘
تمہارے حال پر افسوس آتا ہے، تم خدائے تعالیٰ پر افتراء نہ کرو، اگر ایسا کرو گے تو خدائے تعالیٰ تمہیں کسی عذاب سے ہلاک کردے گا۔ (حضرت موسیٰ نے یہ پیش گوئی خاص فرعون اور اس کے لوگوں کے لئے کی پھر عام طور سے فرمایا) اور اس کا یقین کرلو کہ جس نے خداتعالیٰ پر افتراء کیا وہ نامراد رہا، فائز المرام نہ ہوگا۔
اس آیت میں کئی باتیں قابل غور ہیں۔ اوّل! فرعون کو اور اس کے ماننے و الوں کو مفتری علی اللہ کہا گیا۔ حالانکہ ان میں سے کوئی الہام یا وحی کا مدعی نہیں تھا۔ دوم! عام مفتری کے لئے یہ ارشاد ہے کہ جو افتراء کرے گا وہ یقینا نامراد رہے گا۔ اب اس کا افتراء خواہ اس طریقے سے ہو کہ وہ الہام ووحی کا جھوٹا دعویٰ کرے یا دوسرے طریقے سے ہو۔ مثلاً یہود ونصاریٰ وغیرہ کو اﷲتعالیٰ نے مفتری کہا ہے۔ یہ بھی مفتری ہیں۔ مگر دوسرے طریقے سے ان کا افتراء ہے۔ سوم! ایک بڑی بات قابل لحاظ یہ ہے کہ فرعون جس نے چار سو برس تک حکومت کی اور اس کے عروج اور غرور کی یہ نوبت پہنچی کہ خدائی کا دعویٰ کیا اور ’’انا ربکم الاعلٰی (نازعات:۲۴)‘‘ کہا اور باوجود اسی سرکشی اور افتراء پردازی کے ایسا کامیاب رہا کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی اور اس دراز مدت میں کبھی اسے بخار بھی نہ آیا۔ اس کی نسبت بھی ارشاد ہے کہ خائب وخاسر رہا۔ فائز المرام نہ ہوا۔ جب فرعون کی نسبت ایسا کہاگیا جس نے چار سو برس حکومت کی اور دعویٰ خدائی کر کے مخلوق خدا سے اپنے آپ کو خدا منوایا تو اظہر من الشمس ہوگیا کہ دنیا میں کوئی کیسا ہی خوشحال ہو جائے کسی بلند مرتبہ پر پہنچ جائے۔ ہر طرح کی مرادیں اس کی پوری ہوں۔ اس کو قرآن مجید فائز المرام نہیں کہتا۔ اس مقصد کے لئے یہی ایک آیت کافی ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنے دعوے کے ثبوت میں اس آیت کو متعدد جگہ پیش کیا ہے۔ مگر صرف آخر کا جملہ یعنی’’وقد خاب من افتریٰ‘‘نقل کیا ہے۔ پوری آیت نقل نہیں کی۔ چونکہ پوری آیت ان کے مدعا کے خلاف تھی۔ چہارم! اس آیت سے یہ بھی ثابتہوا کہ خدا پر افتراء کرنے والا تین چار سو برس تک نہایت کامیابی سے زندہ رہ سکتا ہے۔ کیونکہ فرعون کو مفتری کہاگیا اور باوجود مفتری ہونے کے غالباً چار سو برس تک اس نے حکومت کی
اور بہت کچھ کامیاب رہا۔ اب یہ کہنا کہ جو الہام ووحی کا جھوٹا دعویٰ کر کے خدا پر افتراء کرے وہ جلد ہلاک ہوتا ہے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کہتے ہیں، محض زبردستی ہے جسے تھوڑی بھی عقل دی گئی ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ بالکل خلاف عقل ہے کہ جو خدائی کا دعویٰ کرے اور خداتعالیٰ کا منکر ہو اور مخلوق سے اپنی خدائی کو منوائے اور خدا کے ماننے والوں کو سخت ایذا پہنچائے وہ تو جلد ہلاک نہ ہو اور جو خداتعالیٰ کو مان کر اپنے نفس کے لئے الہام ووحی کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ جلد ہلاک کیا جائے۔ اسے نہ کوئی عقل باور کر سکتی ہے، نہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اربعین میں ایسے مفتری کی ہلاکت کی وجہ یہی لکھی ہے کہ وہ مخلوق کو ہلاکت کی راہ بتاتا ہے اس لئے وہ خود ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ مگر تأمل سے دیکھا جائے کہ یہ وجہ تو دونوں میں پائی جاتی ہے۔ کیونکہ جس طرح مدعی وحی اپنی جھوٹی وحی کو منوا کر مخلوق کو گمراہ کرتا ہے۔ اسی طرح فرعون نے مخلوق سے اپنی خدائی منوا کر خلق کو گمراہ کیا اور فرعون کی گمراہی جھوٹے ملہم کی گمراہی سے لاکھ حصہ زیادہ ہے۔ کیونکہ یہاں سرے سے خداتعالیٰ جو پروردگار اور منعم حقیقی ہے۔ اسی سے نہایت زور کے ساتھ غضب کا مشتعل کرنے والا اس کا دعویٰ خدائی ہے۔ مگر اس قہار کی آتش غضب نے ایسے مفتری کو چار سو برس کی مہلت دی۔ پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ایسا سخت مجرم گمراہ کرنے والا تو جلد ہلاک نہ ہو اور جھوٹا مدعی الہام جلد ہلاک کیا جائے۔ اسے کوئی عقل سلیم باور نہیں کر سکتی۔ افسوس ہے کہ ان کی عقل پر جو قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے خلاف اور صریح عقل کے مخالف ایسی بدیہی حماقت کو الہامی بات خیال کرتے ہیں اور اہل علم سے کہتے ہیں کہ اسے مان کر گفتگو کرو۔ بہت اچھا! ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں۔ مگر آپ کے راہ راست پر آنے کی امید نہیں ہے۔ البتہ سب ’’ختم اللہ علٰی قلوبہم‘‘ کے مصداق نہیں ہوسکتے۔ اس لئے میں ایسی مثالیں بھی پیش کر چکا ہوں اور اب زیادہ توضیح کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔ جس سے بعض احمدی اہل علم کی بے خبری یا حق پوشی اظہر من الشمس ہو جائے گی۔ جھوٹے مدعیان وحی والہام میں ایک صالح بن طریف بھی ہے۔ اس کی کامیابی اور حالت کو ملاحظہ کیا جائے۔ آئندہ میں صالح کے علاوہ اس کیاولاد کی کچھ حالت اور پھر بعض انبیاء کی حالت بھی دکھاؤں گا۔ تاکہ دنیا کے واقعات سے بھی فلاح اور عدم فلاح کے معنی پر روشنی پڑے اور ہمارے بیان کی صداقت ظاہر ہو۔
انتہائے مغرب میں برغواطہ کا یہ عالم اور صلحائے قوم میں تھا یہ وہ شخص ہے جس کے واقعات اور حالات پر نظر کرنے سے مرزاغلام احمد قادیانی کا بہت بڑا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے اور پھر کسی منصف مزاج کو ان کے کاذب ہونے میں تأمل نہیں رہ سکتا۔ اس کی مختصر حالت ملاحظہ کی جائے۔ اس کا باپ طریف ایک غریب شخص تھا۔ مگر دوسری صدی کے شروع میں اپنی قوم کا بادشاہ اور سردار ہوگیا تھااور نبوت کا دعویٰ بھی اس نے کیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دعویٰ نبوت کے بعد اسے ایسا فروغ ہوا اور اس قدر لوگ معتقد ہوئے کہ بادشاہ ہوگیا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کی سرداری اور حکومت اس کے بیٹے کو ملی۔ چونکہ یہ پہلے سے عالم اور نیک مشہور تھا۔ حکومت اور سرداری ملنے سے اس کی حالت پلٹی اور ایسے خیالات اس کے بلند ہوئے کہ نبوت کا دعویٰ اور زور سے کیا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ مجھ پر قرآن نازل ہوتا ہے اور جس طرح ہمارے قرآن مجید میں سورتیں ہیں۔ اسی طرح اس نے بھی اپنے قرآن میں سورتیں بیان کیں۔ ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
سورۃ الدیک، سورۃ الحمر، سورۃ الفیل، سورۃ آدم، سورۃ نوح۔ اس کے سوا بہت انبیاء وغیرہم کے نام پر سورتوں کے نام تھے۔ سورۃ ہارت وماروت وابلیس، سورۃ غرائب الدنیا۔ ان کے معتقدین کے گمان میں اس سورۃ میں بہت کچھ علم تھا اور کچھ احکامات حلال اور حرام کے متعلق بھی اس میں تھے۔ اس سورۃ کو اس کے مریدین نماز میں پڑھتے تھے۔
اب میں فہمیدہ حضرات کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مدعی اور اس کے پیرو قرآن مجید کو مان کر اور حضرت محمدa کو سچا جان کر یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد مستقل نبی آسکتا ہے اور اس پر ایسے الہامات اور وحی ہوسکتے ہیں کہ اس میں حلال وحرام کے احکام ہوں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانی جماعت جنہیں تشریعی نبی کہتے ہیں وہ بھی آسکتا ہے اور آیت:’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین(الاحزاب:۴۰)‘‘بھی صحیح ودرست رہ سکتی ہے۔ کیونکہ یہ شخص اپنے آپ کو صاحب شریعت نبی کہتا تھا۔ جب اس نے اپنے قرآن کی سورۂ غرائب الدنیا میں حرام وحلال کے احکام بیان کئے تو معلوم ہوا
کہ اس کو صاحب شریعت ہونے کادعویٰ تھا اور اس کے پیرو اس کی تصدیق کرتے تھے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے بھی ایسا ہی دعویٰ کیا ہے اور نہایت صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ مگر چونکہ ان کی باتیں نہایت پیچیدہ ہوتی ہیں اور ان کے کلام میں بہت تخالف ہے۔ ایک ہی دعویٰ کی نسبت کہیں اقرار ہے اور بہت زور کے ساتھ دعویٰ کیا ہے اور کہیں اس سے انکار ہے اور اس میں کوئی قید لگادی ہے اور اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے مختلف مواقع اور مختلف طبیعتوں کا خیال کر کے مختلف باتیں کہیں ہیں تاکہ ہر ایک موقع پر جو مناسب ہو وہ قول پیش کردیا جائے۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ مرزاقادیانی نے نہایت شدومد سے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا ہے۔ (اس کے ثبوت میں خاص رسالہ لکھا گیا جس کا نام ’’دعویٰ نبوت مرزا‘‘ ہے اور صحیفہ رحمایہ نمبر۶،۷ میں چھپا ہے۔ پہلے تو مرزائی اکثر یہی کہتے تھے کہ مرزاقادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ اب دیکھئے کیا باتیں بتاتے ہیں) اور صاحب شریعت نبی ہونے کا انہیں دعویٰ ہے ان کا رسالہ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) دیکھا جائے۔ مگر ان کے مریدین چونکہ جانتے ہیں کہ یہ دعویٰ کرنا صریح آیت قرآنیہ مذکورہ سے انکار ہے۔ اس لئے عوام کے دھوکا دینے کو باتیں بناتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خاتم کے معنی مہر کے ہیں۔ حالانکہ محض غلط ہے۔تمام اہل لغت اور مفسرین خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے لکھتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ رسول اﷲa تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں۔ مگر جب مرزاقادیانی نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا تو یہ جواب بھی غلط ہوگیا۔ کیونکہ جناب رسول اﷲa کے بعد مرزاقادیانی اپنے دعویٰ کے بموجب صاحب شریعت ہی ہوئے۔ یہاں تک کہ بعض احکام بھی منسوخ کئے۔ مثلاً جہاد کو منسوخ کیا۔ حیثیت سے زیادہ دین کو منسوخ کیا۔ اس لئے نبوت کی کوئی قسم باقی نہیں رہی۔ جس کے خاتم جناب رسول اﷲa ٹھہریں اور مرزاقادیانی کے دعویٰ کے بموجب آیت:’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ غلط ہوگئی۔ (نعوذ ب اللہ منہ) مگر جس طرح صالح باوجود دعویٰ صاحب شریعت نبی ہونے کے امت محمدیa ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، اسی طرح مرزاقادیانی اوراس کے پیرو کرتے ہیں اور عوام کے بہکانے کو کوئی بیہودہ بات بنادیتے ہیں۔ مگر صالح مرزاقادیانی سے زیادہ سلطان القلم تھا۔ اس کی وجہ نہایت ظاہر ہے کہ جس طرح جناب رسول اﷲa نے نزول قرآن کا دعویٰ کیا۔
اس نے بھی کیا اور اس ملک کے بہت اہل زبان اس پر ایمان لے آئے۔ یہاں تک کہ نماز میں اسے پڑھتے تھے۔ مرزاقادیانی نے اگرچہ معجز کلام کا دعویٰ کیا۔ مگر ایسا دعویٰ نہ کر سکے۔ جیسا صالح نے کیا تھا۔ صرف اتنا ہی کیا کہ چند آیات قرآنیہ کی نسبت یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا الہام ہے اور بعض اپنے رسولوں کی نسبت اعجاز کا دعویٰ کیا۔ اسی سے بخوبی ظاہر ہوگیا کہ جو جھوٹا بات بنانا چاہے اور الفاظ قرآنیہ میں عام کو خاص اور خاص کو عام کر کے اور نئے معنی تراش کر اپنے موافق کر سکتا ہے اور ماننے والے ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مرزاقادیانی نے ایران کی توران ملائیں اور آیات کے نئے معنی تراش کر سنائے تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جدت پسند طبیعتیں نئی باتوں کو بہت پسند کرتی ہیں۔ ایسے ہی حضرات نے انہیں پسند کیا۔ صالح نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مہدی اکبر میں ہوں۔ جن کی خبریں حدیثوں میں آئی ہیں۔ جن کا ظہور آخر زمانے میں ہوگا۔
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ جھوٹا مدعی جس نے وحی والہام کا اس زور سے دعویٰ کیا کہ دوسرے قرآن کا نزول اپنے اوپر بتایا۔ کس قدر کامیاب ہوا۔ تاریخ ابن خلدون سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ چھیالیس برس یا اس سے بھی کچھ زائد دعویٰ نبوت کے ساتھ اس نے بادشاہت کی اور اس کی اولاد میں کئی سوبرس تک بہت زور سے بادشاہت رہی۔ ملاحظہ کیا جائے۔ تاریخ مذکور کی (جلد۶ ص۲۰۷) میں پہلے لکھا ہے کہ اس کا باپ مرا اور اس کی سلطنت کا یہ مالک ہوا۔ پھر اس کے دعویٰ نبوت اور نزول قرآن کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ صالح کا ظہور یعنی اس کے دعوے کی ابتدا یا اس کا شہرہ ہشام بن عبدالملک کی خلافت میں ہوا۔
نوٹ: صالح بن طریف کے حالات (ائمہ تلبیس ج۱ ص۱۹۱تا۱۹۴) میں مولانا رفیق دلاوریv نے ’’الاستقضاء الاخبار الدول المغرب الاقصٰی‘‘مطبوعہ مصر کے حوالہ سے تحریر فرمائے ہیں جو قابل مطالعہ ہیں۔
(ابن خلدون ج۶ ص۲۰۷،۲۰۸)
’’یعنی ۱۲۷ہجری میں دعویٰ نبوت کے بعد اس نے یہ کہا کہ مہدی اکبر میں ہوں جو آخر وقت میں ظہور کریں گے اور عیسیٰ ان کے ساتھ ہوں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ چونکہ سلف میں یہ امر محقق اور سب کا مسلم تھا کہ مہدی اور عیسیٰ دو ہیں اور مہدی اکبر کے وقت مسیح کا نزول ہوگا اور امام مہدی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔ اس لئے وہ کہتا تھا کہ میں مہدی اکبر ہوں اور عیسیٰ میرے مصاحب ہوں گے۔ عرب کی زبان میں اس کا نام صالح تھا اور سریانی میں مالک اور فارسی میں عالم اور عبرانی میں، روبیا اور بربری میں دریا اس لفظ کے معنی خاتم النّبیین کے ہیں۔ غرضیکہ سینتالیس برس سلطنت اور نبوت کی وجہ سے اپنی قوم کے دینی اور دنیاوی امور کا حاکم رہ کر غالباً زہد کے غلبہ سے مشرق کی جانب کسی پہاڑ کی طرف یا مکہ معظمہ چلا گیا اور اپنے لوگوں سے وعدہ کر گیا کہ تمہاری ساتویں پشت کا جوبادشاہ ہوگا اس وقت میں لوٹ کر آؤں گا۔ یہ وعدہ صاف شہادت دیتا ہے کہ اس پر زہد کا غلبہ ہوگیا تھا اور اس کی وجہ سے اس کے خیال میں سما گیا تھا کہ اس مدت تک میں زندہ رہوں گا۔ اس لئے پیش گوئی کرتا تھا کہ پھر آؤں گا اور اپنے بیٹے کو اپنے مذہب پر چلنے کی وصیت کی اور اس سے عہد لیا کہ اندلس کے حاکم سے دوستی رکھنا اور جب تمہاری حکومت کی حالت بمقابلہ اس کے خوب مضبوط ہو جائے۔ اپنے دین کا اظہار حاکم اندلس سے یا عام طور سے کرنا اس کے جانے کے بعد اس کا بیٹا اس کی حکومت کا مالک ہوا اور اپنے تمام عہد حکومت میں خالص اسلام کا پابند رہا اور جن عقائد کفریہ کی وصیت اس کے باپ نے کی تھی انہیں پوشیدہ رکھا۔ یہ شخص پاکباز اور زاہد تھا۔ شاید اسی وجہ سے اسے اپنے باپ کی نبوت میں تردد ہوگیا ہو اور اس نے اس کے مذہب کا اظہار نہ کیا ہو۔ الیاس پچاس برس حکومت کر کے مرگیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا یونس بادشاہ ہوا۔ اس نے بادشاہ ہوتے ہی اپنے دادا کے مذہب کا اعلان کر دیا اور لوگوں کو اس کے ماننے پر مجبور کیا اور جس نے نہ مانا اسے قتل کیا۔ یہاں تک کہ بعض شہروں کو جلادیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین سو اسی شہر جلادئیے گئے اور ان کے باشندہ تہ تیغ کر دئیے گئے۔ اس کے بعد بقول رمون یونس حج کو گیا اور اس کے علم میں نہ اس سے پہلے اس کے گھر کے لوگوں میں کسی نے حج کیا تھا نہ اس کے بعد (الحاصل باوجود ایسے ظلم وتعدی کے اپنے دادا کی گمراہی کو پھیلاتا رہا۔ مگر چوالیس برس بادشاہت کر کے معمولی موت سے اس نے انتقال کیا اور اس عرصہ دراز تک خدائے قہار کے آتش غضب نے اسے نہیں کھایا)
اس کے بعد یونس کے بیٹے کو سلطنت نہیں ملی بلکہ ابوغفیر کو ملی جو اس کا بھتیجا اور صالح کے دوسرے بیٹے یسع کا پوتا تھا۔ غرضیکہ صالح کا دوسرا پوتا بادشاہ ہوا اور برغواطہ کے تمام ملک پر غالب ہوگیا اور اپنے باپ دادا کے مذہب کو اختیار کیا اور اس کی حکومت وشوکت بہت زور کی ہوئی۔ اس نے چوالیس بیبیاں کیں اور اسی قدر اس کے اولاد ہوئی اور ۲۹برس بادشاہی کر کے مرا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابوالانصار عبداﷲ بادشاہ ہوا۔ اس نے بھی اپنے باپ ابوغفیر کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی اپنے دادا صالح کا مذہب اختیار کیا اور لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف بہت بلاتا تھا۔ اس کے وقت میں دوسرے بادشاہ اس سے ڈرتے تھے اور اس سے میل کر کے اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ یہ شخص اپنے پڑوسی کے حقوق کا لحاظ رکھتا تھا اور اپنے عہد کو پورا کرتا تھا۔ (مگر افسوس ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک خداتعالیٰ اپنے عہد کو پورا نہیں کرتا) ابوالانصار ۴۴برس بادشاہت کر کے ۲۴۱ھ میں مرگیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابومنصور عیسیٰ ۲۲برس کی عمر میں بادشاہ ہوا اور اپنے باپ دادا کا طریقہ اختیار کیا اور نبوت وکہانت کا مدعی ہوا اور اس کی سلطنت بہت زور کی ہوئی اور مغرب کے تمام قبیلے اس کے مطیع ومنقاد ہوگئے۔‘‘ ابن خلدون کا مضمون ختم ہوا اس سے کئی باتیں ثابت ہوئیں۔
۱… صالح نے وحی اور الہام کا دعویٰ کیا۔ اس کا ثبوت دو وجہ سے ہے۔ اوّل یہ کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اس کے لئے ضرور ہے کہ وحی والہام خداوندی کا دعویٰ کئے بغیر اس کے نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ دوسرے یہ کہ اس نے نزول قرآن کا دعویٰ کیا۔ اس کا بھی مطلب یہی ہے کہ جس طرح جناب رسول اﷲa پر قرآن شریف نازل ہوتا رہا۔ اسی طرح صالح کہتا ہے کہ مجھ پر نازل ہوتا رہا۔ جس طرح قرآن مجید میں سورتیں ہیں۔ اسی طرح وہ بھی اپنے قرآن کی سورتوں کا نام بتاتا ہے۔ دعویٰ وحی کے لئے اس قدر کہنا کافی ہے۔ اب اگر کوئی مرزائی کسی تاریخ میں ان سورتوں کو نہ دیکھے تو صالح کا دعویٰ وحی والہام غلط نہیں ہوسکتا۔
۲… دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ صالح کا چلا جانا کسی خوف کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ وہ نہایت اطمینان سے اپنے بیٹے کو بادشاہ بنا کر اور اسے وصیت کر کے گیا۔ جانے کی وجہ اوپر بیان کر دی گئی ہے۔ اب جن کی آنکھیں ہوں اور علم سے انہیں کچھ حصہ ملا ہو وہ ابن خلدون کے ص۲۰۷ کی سطر۲۴ سے ۲۶ تک ملاحظہ کریں۔ جانے کے وقت صالح نے چار باتیں کہیں
اوّل اس نے اپنے سب متعلقین کے روبرو پیشین گوئی کی کہ جس وقت تم میں ساتواں بادشاہ ہوگا اس وقت میں آؤں گا۔ صالح نے پیشین گوئی اپنی قوم برغواطہ سے کی تھی۔ اس قوم میں اوّل بادشاہ طریف ہوا۔ دوسرا صالح اور ساتواں ابومنصور عیسیٰ ہوا جس نے بادشاہت کے ساتھ نبوت کا بھی دعویٰ کیا۔ اس پیشین گوئی سے نہایت صفائی سے ظاہر ہوگیا کہ اسے اپنی قوم میں بلکہ خاص اپنی اولاد میں عرصہ تک سلطنت رہنے کا یقین تھا۔ اب جس طرح مرزاقادیانی کی پیشین گوئیوں میں باتیں بنائی جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پیشین گوئی پوری ہوئی۔ کیونکہ جس طرح یہ بادشاہ اور مدعی نبوت تھا اسی طرح اس کی اولاد میں برغواطہ قوم کا ساتواں بادشاہ نبوت ہوا۔ اس کی نسبت صالح کا یہ پیشین گوئی کرنا کہ میں ساتویں پشت میں آؤں گا، بے جا نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی قوم کا ساتواں بادشاہ اس کی اولاد میں ہونا اور اس کے ساتھ اس کا دعویٰ نبوت کرنا گویا اسی کا لوٹ کر آنا ہے۔
ایک اور طریقے سے بھی اس پیشین گوئی کی صحت ہوسکتی ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح مرزاقادیانی نے مخصوص عقائد اسلامیہ کے اصلی مقاصد کو بدل دیا۔ اسی طرح صالح اگر تناسخ کا قائل ہوتو عجب نہیں۔ اسی لئے ممکن ہے کہ اس کی قوم ابوالمنصور کے جون میں صالح کا آنا خیال کرتی ہو اور ابوالمنصور کے آنے کو صالح کا آنا سمجھتی ہو اور تناسخ کا مسئلہ ایسا ہے کہ بعض (خام خیال) مسلمان بھی اس کے قائل ہوگئے ہیں۔ مولوی قلندر علی پانی پتی جو راجہ کشمیر کے وزیر کر پارام اور اس کے بیٹے اتنت رام کے استاذ تھے۔ وہ قرآن مجید کی آیات سے ثابت کرتے تھے۔ جس طرح مرزائی خداتعالیٰ کی وعدہ خلافی قرآن مجید سے ثابت کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے خدائے قدوس پرجو سخت الزام آتا ہے اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔
الحاصل! جس طرح مرزائی مرزاقادیانی کی پیشین گوئیوں کو پیش کیا کرتے ہیں اسی طرح برغواطہ اس پیشین گوئی کو پیش کرتے ہوں گے یا پیش کر سکتے تھے۔
دوم… جانے کے وقت خاص اپنے بیٹے سے اپنے مذہب کی وصیت کی یعنی اس پر قائم رہنا۔
سوم… تاکید کے ساتھ یہ وصیت کی کہ اندلس کے حاکم سے دوستی رکھیو۔ (یہ حاکم بنی امیہ میں تھا)
چہارم… یہ کہا کہ جب تمہاری سلطنت کے امور (بمقابلہ بنی امیہ کے) قوی ہو جائیں تو اپنا مذہب خاص اندلس کے حاکم پر یا عام بنی امیہ پر پیش کرنا۔ ایسی صراحتوں کے ساتھ کسی ذی علم کا یہ کہنا کہ صالح خوف کی وجہ سے بھاگ گیا۔
سو ائے اس کے کہ وہ قصداً ناواقفوں کو دھوکا دیتا ہے۔ اپنے کسی نفع کے واسطے یا اللہ نے اس کے علم وفہم کو سلب کر لیا ہے اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
۳… تیسری بات یہ ثابت ہوئی کہ صالح نے ۴۷برس دعویٰ نبوت کیا۔ اس کے بعد جب اس دراز مدت تک نبوت اور سلطنت کر چکا اور بوڑھا ہوگیا اس وقت وہ جانب مشرق یعنی مکہ معظمہ کی طرف یا پہاڑوں میں چلاگیا۔ اگر حق طلبی ہے تو اس کی تفصیل ملاحظہ کیجئے۔ اس مقام پر ابن خلدون نے کئی پشتوں تک کسی کا سنہ وفات نہیں بیان کیا۔ بلکہ صرف تخت نشینی کی مدت بیان کی۔ البتہ ابوالانصار کا سنہ وفات اور اس کی سلطنت کی مدت دونوں بیان کی ہیں۔ اب حساب کرنے سے صالح کا دعویٰ نبوت کا زمانہ بخوبی معلوم ہوسکتا ہے۔ ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیا جائے۔ اس نقشہ سے صالح کی نبوت کا زمانہ اور اس کی اولاد کی سلطنت کا وقت معلوم ہوتا ہے۔
نام: ابوالانصار عبداﷲ۔
کیفیت: اس کی وفات اور سلطنت کی مدت ابن خلدون نے لکھی ہے جس سے ظاہر ہے کہ ۲۹۷ھ میں یہ بادشاہ ہوا اور ۳۴۱ھ میں انتقال کر گیا۔
وفات: ۳۴۱ھ، زمانہ۔
سلطنت: ۴۴۔
حساب: ۴۴۳۴۱،۲۹۷۔
سنہ جلوس: ۲۹۷ھ
نام: ابوغفیر محمد۔
کیفیت: یہ ابوالانصار کا باپ ہے۔
وفات: ۲۹۷ھ
سلطنت: ۲۹ سال
حساب: ۲۹۲۹۷، ۲۶۸۔
سنہ جلوس: ۲۶۸ھ
نام: یونس
کیفیت: یہ صالح کا پوتا اور ابوغفیر کا چچا ہے۔ جب اس کے مرنے کے بعد اس کا بھتیجا اور ابوغفیر بادشاہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ابوغفیر کا سنہ جلوس یونس کی وفات کا سنہ ہے۔
وفات: ۲۶۸ھ۔
سلطنت: ۴۴۔
حساب: ۴۴۲۶۸، ۲۲۴۔
سنہ جلوس: ۲۲۴ھ
نام: الیاس۔
کیفیت: یہ صالح مدعی نبوت کا بیٹا اور یونس کا باپ ہے۔ جب اس کے مرنے کے بعد ہی یونس بادشاہ ہوا تو معلوم ہوا کہ ۲۲۴ھ میں اس کی وفات اور ۱۷۴ھ میں اپنے باپ صالح کے بعد بادشاہ ہوا۔
وفات: ۲۲۴ھ۔
سلطنت: ۵۰ سال
حساب: ۵۰۲۲۴، ۱۷۴۔
سنہ جلوس: ۱۷۴ھ
نام: صالح بن طریف۔
کیفیت: یہی مدعی نبوت ہے اس کے دعویٰ کا ظہور ۱۲۷ھ میں ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ۱۷۴ھ میں سلطنت چھوڑ کر اپنے بیٹے الیاس کو اپنا قائم مقام کر کے چلا گیا۔
اس نقشہ سے یقینی طور سے آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ صالح بن طریف۱۷۴ھ میں اپنے بیٹے الیاس کو سلطنت حوالہ کر کے گیا ہے۔ اب اس نقشہ کو سیدھے طورسے جانچ لیجئے اور ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیجئے۔
نام: صالح بن طریف۔
ابتداء ظہور دعویٰ یا ابتدائے سلطنت: ۱۲۷ھ۔
انتہاء: ۱۷۴ھ، مدت دعویٰ یا تخت نشینی: ۴۷برس۔
نام: الیاس۔
ابتداء ظہور دعویٰ یا ابتدائے سلطنت: ۱۷۴ھ۔
انتہاء: ۲۲۴ھ، مدت دعویٰ یا تخت نشینی: ۵۰برس۔
نام: یونس۔
ابتداء ظہور دعویٰ یا ابتدائے سلطنت: ۲۲۴ھ۔
انتہاء: ۲۶۸ھ، مدت دعویٰ یا تخت نشینی: ۴۴ برس۔
نام: ابوغفیر۔
ابتداء ظہور دعویٰ یا ابتدائے سلطنت: ۲۶۸ھ
انتہاء: ۲۹۷ھ، مدت دعویٰ یا تخت نشینی: ۲۹برس۔
نام: ابوالانصار۔
ابتداء ظہور دعویٰ یا ابتدائے سلطنت: ۲۹۷ھ
انتہاء: ۳۴۱ھ، مدت دعویٰ یا تخت نشینی: ۴۴برس۔
اس نقشہ سے بھی پہلے نقشہ کی صحت ظاہر ہوگئی۔ اب معلوم ہوا کہ صالح ۱۷۳ھ کو پورا کر کے ۱۷۴ھ میں گیا۔ کیونکہ مؤرخ نے ابوالانصار کی موت کا جوسنہ لکھا ہے وہ اسی حساب سے مطابق ہوتا ہے جو نقشہ میں لکھاگیا۔ اب اس کا ثبوت کہ ۴۷برس تک صالح نے دعویٰ کیا۔ دو طور سے بخوبی ہوتا ہے۔ اوّل مؤرخ کے بیان سے کہ وہ طریف کے مرنے کا ذکر کر کے لکھتا ہے:’’وولی مکانہ ابنہ صالح وکان من اہل العلم والخیر فیہم ثم انسلخ من آیات اللہ وانتحل دعویٰ النبوۃ‘‘
یعنی طریف کے مرنے کے بعد اس کی جگہ اس کا بیٹا صالح مالک ہوا۔ یہ شخص عالم اور صاحب خیر تھا۔ مگر بادشاہ ہونے کے بعد آیات خداوندی سے علیحدہ ہوکر جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے لگا اور دوسرے قرآن کے نزول کا دعویٰ کیا۔ یہ سب بیان کر کے مؤرخ اس کے ابتدائے دعویٰ نبوت یا اس کی شہرت کے وقت کو بیان کرتا ہے اور لکھتا ہے:’’وکان ظہور صالح ہذا من سنۃ سبع وعشرین من المائۃ الثانیۃ من الہجرۃ‘‘یعنی صالح کے ظہور کا دعویٰ اور اس کی شہرت کی ابتداء ۱۲۷ھ سے ہوئی۔ کیونکہ دعویٰ کا ذکر مؤرخ پہلے بیان کرچکا ہے۔ اب باالضرور ظہور صالح سے یہی غرض ہوسکتی ہے کہ اس کے دعویٰ کا وقت یا دعویٰ کی شہرت کا وقت بیان کرتا ہے۔ اس عرصہ میں صالح کہیں پوشیدہ نہیں تھا، جس کے لئے ظہور کا وقت بیان کیاگیا۔ البتہ اس کا دعویٰ پوشیدہ تھا جس کا ظہور سنہ مذکور میں ہوا۔ اہل علم جن کو عربی عبارت کے سمجھنے کا ذوق ہے وہ یہی مطلب اس عبارت کا کریں گے جو میں نےبیان کیا۔ اس کا ثبوت بعد کی عبارت سے اور محاورہ اہل زبان سے بخوبی کر دیا گیا ہے۔ اب مؤرخ کا یہ قول:’’وخرج الی المشرق بعد ان ملک امرہم سبعا واربعین سنۃ‘‘ یعنی بعد اس بات کے کہ سینتالیس برس رعایا کی تمام باتوں کا مالک رہا اور سیاسی اور مذہبی حکومت اس کے اختیار میں رہی۔ سلطنت چھوڑ کر مشرق کی طرف چلا گیا۔ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صالح کا زمانہ سلطنت اور زمانہ نبوت ایک تھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ تخت نشین
ہوتے ہی اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ظاہر حالت سے بھی یہی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کا باپ پہلے سے بادشاہت حاصل کر چکا تھا۔ اس لئے اس نے اس کی تعلیم میں پوری توجہ کی ہوگی اور چونکہ یہ خود بھی نیک تھا تو علم کا شائق بھی ہوگا اور اپنے باپ کے مرنے سے پہلے ہی علم کے کمال درجہ کو پہنچ چکا ہوگا اور مزاج میں علو اور تکبر سما گیا ہوگا۔ اس لئے تخت سلطنت پر بیٹھتے ہی اس کا خیال علو کمال مرتبہ کو پہنچ گیا اور یہی خیال دعویٰ نبوت کا باعث ہوا اور سینتالیس برس دعویٰ نبوت کے ساتھ بادشاہت کی۔ الغرض اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ صالح نے کامل چھیالیس برس دعویٰ نبوت کیا اور سینتالیسویں برس اپنے بیٹے کو بادشاہت دے کر چلا گیا۔ اس تاریخ میں اس کا کہیں اشارہ بھی نہیں ہے کہ کس خوف سے وہ چلا گیا۔ بلکہ چلنے کے وقت اس نے جو وصیتیں اپنے بیٹے کو کیں ان سے اظہر من الشمس ہے کہ اس نے پورے اطمینان کی حالت میں سلطنت چھوڑ کر جانے کا ارادہ کیا اور سلطنت چھوڑنے کی وجہ بجز اس کے کوئی سمجھ میں نہیں آتی کہ قلبی حالت نے اسے مجبور کیا۔ آخر ابراہیم ادہمv اسی وجہ سے بادشاہت سے علیحدہ ہوکر درویش ہوگئے۔ گو خیالات میں اور حالت میں نوعی اختلاف ہو۔ مگر غرض یہ ہے کہ قلبی حالت ایسی ہوسکتی ہے کہ انسان بادشاہت کو چھوڑ دے۔ جس وقت صالح نے جانے کا ارادہ کیا ہے اس وقت کوئی اس کا مخالف اس پر چڑھ کر نہیں آیا تھا۔ کسی بادشاہ نے اسے دھمکی بھی نہیں دی تھی۔ بلکہ مؤرخ نے کسی مخالف کا ذکر بھی نہیں کیا۔ اس کے قریب ہی بنی امیہ کا جو بادشاہ تھا اس سے ایسی دوستی اور رابطہ تھا کہ جانے کے وقت اپنے بیٹے سے اس سے رابطہ رکھنے کی وصیت کر گیا۔ پھر خوف کس کا اسے ہوتا بلکہ جانے کے وقت اس کا یہ کہنا کہ ساتویں بادشاہ کے وقت میں میں پھر آؤں گا اور اپنے بیٹے کو سلطنت حوالہ کرنا اور اس کے جانے کے بعد اس کی اولاد میں زور شور کے ساتھ سلطنت رہنا نہایت بدیہی دلیل ہے کہ وہ کسی خوف وخطر کی وجہ سے سلطنت سے علیحدہ نہیں ہوا۔ ایسا خیال وہی کر سکتا ہے جس کی عقل وفہم نے جواب دے دیا ہو۔
اب جو حضرات خدا اور رسول کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں کتاب اللہ کے سمجھنے کا شوق ہے وہ غور سے ملاحظہ کریں کہ اس وقت میں نے سات بادشاہوں کا ذکر کیا۔ یعنی فرعون، صالح بن طریف، الیاس، یونس، ابوغفیر، ابوالانصار، ابوالمنصور عیسیٰ۔ یہ ساتوں
شخص باوجود کافر اور مفتری علی اللہ ہونے کے دنیا کے بادشاہ ہوگئے اور ۲۳برس سے زیادہ اور بعض بہت زیادہ نہایت شان سے بادشاہت کرتے رہے۔ ان میں سے سب سے اوّل فرعون ہے جس نے چار سو برس کی عمر پائی اور حکومت کرتا رہا اور اس وقت کے ایمانداروں کو یعنی بنی اسرائیل کو اقسام کی تکلیفیں دیتا رہا اور پھر بادشاہت کے ساتھ خدائی کا دعویٰ بھی کیا اور اس قوت اور فائز المرامی سے کہ کوئی اس کا مخالف نہیں ہوا جو اسے ضرر پہنچاتا اور اتنی مدت میں اسے بخار تک نہیں آیا۔ یہ وہ عظیم الشان کافر ہے جس نے مخلوق کو اپنی خدائی کی طرف بلایا اور خدائے برحق سے انکار کرایا۔ جس کی مذمت باربار قرآن مجید میں کی گئی ہے اور خاص طور پر اسے مفتری علی اللہ ٹھہرا کر قرآن میں ارشاد ہوا: ’’وقد خاب من افترٰی (طٰہٰ:۶۱)‘‘ یعنی جس نے خدا پر افتراء کیا وہ ضرور خائب وخاسر رہا۔ فرعون خائب وخاسر ہوا مگر کئی سو برس کے بعد، دوسرا صالح یہ وہی مدعی نبوت ہے جس کا ذکر ابھی کیاگیا۔ جس نے ۴۷برس تک باوجود جھوٹے دعویٰ وحی والہام اور مفتری علی اللہ ہونے کے بادشاہت کی اور تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا اور اس مدت کے بعد بھی وہ نہ خود مرا اور نہ مارا گیا۔ بلکہ اپنے بیٹے کو بادشاہت حوالہ کر کے چلا گیا۔ تیسرا ان میں الیاس ہے۔ اس نے اگرچہ اپنے باپ کے دین کو فروغ نہیں دیا مگر اس نے انکار بھی نہیں کیا۔ جس سے ظاہر ہے کہ اس کی گمراہی سے یہ راضی رہا۔ چوتھا ان میں یونس ہے جس نے بادشاہ ہوکر اپنے دادا صالح کی گمراہی کو نہایت ظلم وتعدی سے ترقی دی اور ہزاروں بلکہ لاکھوں مخلوق کو گمراہ کیا۔ مگر چوالیس برس بادشاہت کر کے اپنی طبعی موت سے مرا۔ یہ کامیابی صالح مفتری کی وراثت ہی سے ملی تھی۔ اس نے اس کے افتراء کو بہت کچھ ترقی دی۔ اس کی فائز المرامی اس کے دادا صالح کی فائز المرامی ہے۔ مرزاقادیانی کے کہنے کے بموجب صالح کو ۲۳برس کے اندر ذلت کی موت سے مرنا چاہئے۔ مگر یہ نہیں ہوا بلکہ وہ ہر طرح کی کامرانی سے ۴۷برس بادشاہت کر کے اپنے جگر گوشہ کو سلطنت دے گیا۔ پھر اس کے بیٹے اور پوتے نے ۹۵برس تک عیش وعشرت کی اور اپنے باپ دادے کی فائز المرامی کا ثبوت مخلوق کو دکھایا۔ پانچواں ان میں ابوغفیر ہے جس کی نسبت مؤرخ لکھتا ہے کہ اس نے اپنے باپ دادے کا مذہب اختیار کیا۔ یعنی صالح کا۔ ’’واشتدت شوکۃ وعظم امرہ‘‘ یعنی اس کی شوکت اور حکومت بہت سخت اور عظیم الشان ہوئی۔ الغرض باوجود مفتری ہونے کے ۲۹برس تک بادشاہ رہا اور پھر بھی کسی قسم کا زوال نہیں آیا اور سلطنت اپنے بیٹے کو دے
گیا۔ چھٹا ان میں ابوالانصار ہے جس نے اپنے باپ دادے کا طریقہ اختیار کیا اور جس طرح اس کے باپ دادا خدا پر افتراء کر کے کافر ہوئے تھے یہ بھی کافر ہوا۔ مگر اس کی عظمت شوکت ایسی ہوئی کہ اس کے وقت کے بادشاہ اس سے ڈرتے تھے اور تحفہ تحائف بھیج کر اسے راضی رکھتے تھے اور اس شوکت وعظمت کے ساتھ ۴۴برس اس نے بادشاہت کی اور اپنے بیٹے کو بادشاہ کر گیا۔ ساتواں ان میں ابومنصور عیسیٰ ہے۔ یہ ساتواں بادشاہ ہے۔ براغواطہ قوم میں ۲۲برس کی عمر میں ۳۴۱ھ میں اپنے باپ کی سلطنت کا مالک ہوا۔ اس نے سلطنت پر بیٹھتے ہی نبوت کا دعویٰ کیا اور بیان سابق کے لحاظ سے اس کی دادا صالح کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔ اس کی حکومت اور سلطنت بہت زور وشور کی ہوئی اور مغرب کی تمام قومیں اس کی مطیع ہوگئیں اور ایسی مطیع اور معتقد ہوئیں کہ تمام قبائل کے سردار اسے سجدہ کرتے تھے۔ اس شوکت وعظمت کے ساتھ ۲۷برس تک یا اس سے بھی کچھ زیادہ اس نے بادشاہت کی۔ ۳۶۸ھ میں بلکین اس پر چڑھ آیا اور اس کی قوم پر جہاد کیا۔ اس میں یہ مارا گیا۔ مگر دعویٰ نبوت سے ۲۳برس کے بعد مارا گیا۔ اس مدت کے اندرنہ اپنی موت سے مرا اور نہ کسی نے اسے قتل کیا۔
(تاریخ ابن خلدون ج۶ ص۲۰۸،۲۰۹)
بغور دیکھا جائے مؤرخ مذکور اس کے والد ابوالانصار کی موت کو بیان کر کے لکھتا ہے: ’’وولی بعدہ ابنہ ابومنصور عیسٰی ابن اثنین وعشرین سنۃ فسار سیر آبائہ وادعی النبوۃ والکہانۃ واشتد امرہ وعلا سلطانہ ودانت لہ قبائل المغرب‘‘ابوالانصار کے بعد اس کا بیٹا ابوالمنصور عیسیٰ ۲۲برس کی عمر میں اپنے باپ کی سلطنت کا مالک ہوا اور اپنے باپ دادا کی روش اس نے اختیار کی اور نبوت اور کہانت کادعویٰ کیا اور اس کی حکومت اور سطوت زبردست ہوئی اور مغرب کے تمام قبیلے اس کے مطیع ہوگئے۔
(اس جملہ کا عطف ولی پر ہے، یا سار پر اور واؤ عاطفہ کے ساتھ عطف ہے جس سے ولایت اور دعویٰ نبوت کی معیت اور جمعیت ظاہر ہوتی ہے۔ جو اس کے خلاف دعویٰ کرے وہ ثابت کرے)
یہ عبارت صاف طور سے شہادت دیتی ہے کہ ابومنصور جب بادشاہ ہوا ہے اسی وقت اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور دعویٰ نبوت اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس نے وحی
والہام الٰہی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ کیونکہ نبوت کا علم مدعی نبوت کو وحی کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے جھوٹے مدعی کو بھی یہ دعویٰ کرنا ضرور ہے کہ مجھ پر وحی آئی اور خدا نے مجھے اطلاع دی کہ میں نبی ہوں اور دعویٰ نبوت کے ساتھ کہانت کا بھی دعویٰ تھا۔ اس لئے پیشین گوئی کرنا بھی ضرور ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ تمام مغرب کے قبیلے اس کے مطیع اور معتقد ہوگئے۔ یہاں تک کہ اسے سجدہ کرنے لگے۔ بالآخر بقول مشہور ہر کمالے راز والے یہ مارا گیا اس کے بعد بلکین نے اس کی قوم میں بہت خونریزی کی۔ اس کے بعد بھی صالح کی قوم پر جہاد ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ابوبکر نے ان کی بیخ وبنیاد اکھیڑ کر پھینک دی اور روئے زمین سے ان کا نشان مٹا دیا۔ اس قوم کا آخری بادشاہ ابوحفص عبد اللہ تھا۔ ابومنصور عیسیٰ کی اولاد میں یہ آخری بادشاہ پانچویں صدی کے آخر میں تھا۔
ابن خلدون (ج۶ ص۲۰۹) میں لکھتا ہے:’’فزحف الیہم ابوبکر بن عمر امیر ملتوئۃ فی المرابطین من قومہ وکانت لہ فیہم وقائع استشہد فی بعضہا صاحب الدعوۃ عبد اللہ بن یاسین الکبروی ۴۵۰ واستمر ابوبکر وقومہ من بعدہ علی جہادہم حتی استاصلوا شافتہم ومحوا من الارض آثارہم‘‘
الغرض جس طرح صالح بن طریف نے مرزاقادیانی کے دعویٰ کو غلط کر دیا تھا اسی طرح ابومنصور نے بھی ان کے دعوے کو ان کے خیال اور ان کے اقرار کے بموجب غلط کیا۔ یعنی ان کا دعویٰ تھا کہ کوئی جھوٹی وحی والہام کا دعویٰ کر کے تئیس برس زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ اس مدت کے اندر ذلت کی موت سے ہلاک کردیا جاتا ہے۔ ان دونوں مدعیان نبوت نے اسدعویٰ کو غلط ثابت کردیا۔ ان گزشتہ واقعات کو ذہن نشین کر کے اس زمانے کی حالت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھئے۔ کیا ہورہا ہے؟ یہود، نصاریٰ، آریہ، مشرکین وغیرہ کی دنیاوی کامیابی اہل اسلام کے مقابلہ میں کیسی ہورہی ہے۔ اﷲتعالیٰ نے ان سب کو مفتری علی اللہ کہا ہے اور ان میں سے بعض گمراہی بھی بہت کچھ پھیلا رہے ہیں۔ مگر دنیا کے لحاظ سے ہر طرح کامیاب ہیں۔ اب نہایت غور کے قابل یہ امر ہے کہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کافر اور مفتری علی اللہ فلاح نہیں پاتے۔مگر جن کا ذکر پیشتر کیا گیا یہ لوگ باوجود کافر اور مفتری ہونے کے ایسے کامیاب ہوئے کہ بعض بادشاہ ہوگئے اور بعض اگرچہ بادشاہ نہیں ہوئے۔ مگر بہت کچھ
کامیاب ہیں۔ دنیا میں بادشاہت سے زیادہ کامیابی کا مرتبہ نہیں ہوسکتا اور نہ اس سے زیادہ کوئی فلاح کی صورت ہوسکتی ہے۔ یہاں سے بالیقین دوباتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ دنیا کی کامیابی اگرچہ کسی مرتبہ کی ہو صداقت اور برگزیدہ خدا ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ دوسرے یہ کہ کتاب اللہ جو ایمانداروں کے لئے فلاح کی بشارت دی اور کفار کے لئے نامراد ہونا اور فلاح نہ پانا مخصوص کیا۔ اس سے مقصود دنیا کی فلاح اور عدم فلاح نہیں ہے۔ کیونکہ کفارکو اور ان کو جنہوں نے خدا پر افتراء کیا ہر قسم کی فلاح ہوئی اور نہایت اعلیٰ مرتبہ کی فلاح ہوئی۔ بادشاہ ہوگئے۔ لوگوں کے اعتقاد کی یہ حالت ہوئی کہ سجدہ کرنے لگے اور سجدہ کرنے والے سودوسو نہیں ملک مغرب کے تمام قبیلے سجدہ کرنے لگے۔ پھر ایک ملک کے تمام قبیلوں میں لاکھوں کی تعداد سے کم نہیں ہوسکتے۔ یہ بھی خوب سمجھ لینا چاہئے کہ جس طرح جھوٹا مدعی نبوت والہام مفتری ہے اور خلقت کو گمراہ کرتا ہے اسی طرح جو اس کے پیروہیں وہ بھی مفتری ہیں۔ کیونکہ وہ مفتری کی تصدیق کرتے ہیں اور خدا پر یہ افتراء کرتے ہیں کہ خدا نے اسے اپنا رسول بنایا۔ خدا کی وحی اس پر اتری اور یہ کہہ کر مخلوق کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجیدمیں یہود کو،نصاریٰ کو، مشرکین کو، مفتری علی اللہ کہا ہے۔ کیونکہ بہت سی جھوٹی باتوں کو خدا کی طرف سے وہ بیان کرتے تھے اور اب بھی بیان کرتے ہیں۔ اب ان میں جس نے افتراء کے علاوہ اور عظیم الشان گناہ کیا ہے اسے زیادہ مستحق سزا ہونا چاہئے۔ مثلاً فرعون کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا یا صالح کا پوتا یونس کہ اس نے علاوہ کفر وافتراء کے نہایت ظلم سے مخلوق کو تباہ کیا اور جبر سے اپنے دادا کی نبوت کو منوایا۔
اس بیان سے نہایت روشن ہوگیا کہ یہ دعویٰ کہ مفتری ۲۳برس یا بیس برس کےاندر ہلاک ہوجاتا ہے، محض غلط ہے۔ جن بادشاہوں کا ذکر کیاگیا ان کی کامرانی اور فائز المرامی اس غلطی کا روشن ثبوت ہے۔ ان میں ایک دعویٰ نبوت سے بڑھ کر دعویٰ خدائی کرتا رہا اور ایسا کامیاب رہا کہ اس کی نظیر دنیا میں ملنا مشکل ہے۔ فرعون کے طویل العمر ہونے میں تو سب کا اتفاق ہے۔ البتہ بعض مجمل لکھ دیتے ہیں کہ طویل العمر تھا۔ جیسا کہ کامل ابن اثیر وغیرہ میں ہے اور بعض صاف طور سے اس کی عمر کی تعیین کرتے ہیں۔ مثلاً تفسیر فتوحات الٰہیہ میں ہے: ’’وعمر فرعون اکثر من اربع مائۃ سنۃ‘‘ یعنی فرعون کی عمر چارسوبرس سے زیادہ ہوئی۔ بعینہٖ یہی مضمون تفسیر مظہری میں اور تفسیر خازن میں اور تفسیر
معالم التنزیل میں اور مراح البید میں اور فتح البیان میں ہے اور معتبر مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ سلطنت اس کی خاندانی ہے۔ مگر یہ کہ خاص فرعون کتنے دنوں بادشاہ رہا۔ اس کو میں پورے طور سے نہیں کہہ سکتا۔ اکثر کتب تواریخ سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت زمانہ دراز تک اس نے ظلم وتعدی کی ہے اور بنی اسرائیل کو ہر طرح تنگ کرتا رہا ہے۔ مگر بادشاہ اپنے بھائی کے مرنے کے بعد ہوا ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰm اور حضرت ہارونm اس کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اب ممکن ہے کہ جس وقت بھائی بادشاہ تھا اس کی طرف سے یہ گورنر ہو یا اس کا وزیر ہو اور ہر قسم کے ظلم وتعدی اور حکمرانی کا اسے موقع ہو اور جس طرح بادشاہ ہوکر مخلوق کو پریشان وگمراہ کرتا اس طرح گدی نشین ہونے کے پہلے سے گمراہ کر سکتا تھا اور کیا وہ گدی نشین ہونے کے بعد ہی کیا۔ (دوسرے نے نبوت کا دعویٰ کیا اور وہ خود ۴۷برس بادشاہ رہا اور کئی سو برس اس کی اولاد میں بادشاہت رہی… اور اس کی اولاد اس مفتری کے پیرو اور خود مفتری رہے اور اس مفتری کی گمراہی کو اس سے بہت زیادہ پھیلایا اور باوجود مفتری ہونے اور گمراہی پھیلانے کے فائز المرام رہے اور سب نے ۲۳برس سے زیادہ سلطنت کی جو فائز المرامی کا انتہائی مرتبہ ہے) جو حضرات، مرزاغلام احمد قادیانی پر آنکھیں بند کر کے ان کی ہر بات پر ایمان لائے ہیں وہ خدا کے لئے آنکھیں کھولیں اور اس روشن بیان کو دیکھیں۔ کیسی عظیم الشان غلطی مرزاقادیانی کی آپ کو دکھائی گئی۔ محض آپ کی خیرخواہی کے خیال سے، ذرا اس پر نظر کیجئے کہ کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ مفتری ۲۲برس تک تو کامیاب رہ سکتا ہے اور گمراہی پھیلا سکتا ہے مگر ۲۳برس تک نہیں۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ بہت سے مفتری اگر ۱۰برس، ۱۵برس، ۲۰برس، ۲۲برس گمراہی کو پھیلائیں اور مخلوق کو تباہ کریںاور اپنی معمولی موت سے مر جائیں اور میراث اپنی اولاد کو چھوڑ جائیں تو صادق اور کاذب میں اشتباہ نہ ہو۔ مگر ۲۳برس اگر زندہ رہے تو اشتباہ ہو جائے۔ کیا یہ کامل بے عقلی نہیں ہے یا محض زبردستی اس کو نہ کہیں گے۔ ذرا ہوش کر کے جواب دو اوراس قرآن شریف سے ثابت بتانا کلام خداپر الزام لگانا ہے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ سات نظیریں تو میں نے ایسی پیش کیں جنہیں تمام دنیا کے مسلمان ان کی حالت دیکھ کر عبرت پکڑ سکتے ہیں اور مرزائیوں کے لئے خصوصاً ان مثالوں میں کمال عبرت ہے۔
اب میں جماعت مرزائیہ محمودیہ یعنی جنہوں نے مرزامحمود کو خلیفہ اور اپنا مقتدیٰ
مانا ہے جن کا یہ اعتقاد ہے کہ جس نے مرزاقادیانی کو مسیح موعود نہیں مانا وہ کافر ہےسے خاص خطاب کرتا ہوں کہ وہ فرمائیں کہ جن اہل علم نے مرزاقادیانی کا سخت مقابلہ کیا اور ان کی آخری زندگی تک انہیں ہزیمت دیتے رہے اور ان کے مذہب کی اشاعت میں بہت ہی حارج ہوئے اور ساری مخلوق پر مرزاقادیانی کی برائیاں بہت کچھ ظاہر کیں۔ وہ اپنے مطالب میں کیوں کامیاب ہوئے۔ یعنی قرآن مجید میں تو خاص ایمانداروں ہی کے لئے فلاح اور فائز المرامی کو مخصوص کیا ہے۔ پھر مرزاقادیانی کے سخت مخالف کیسے کامیاب ہوئے؟ ان میں سب سے اوّل ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ہیں کہ برسوں ان کے خاص مریدوں میں رہ کر کیسے مخالف ہوئے اور الہام کا بھی دعویٰ کیا اور مرزاقادیانی کے خاص الہاموں میں شریک ہوئے اور مرزاقادیانی کے مقابلہ میں پیشین گوئیاں بھی کیں اور آخر میں وہ پیشین گوئی کی جس نے مرزاقادیانی کا خاتمہ ہی کر دیا اور مرزاقادیانی نے نہایت غیرت اور جوش کے ساتھ اس کے مقابلہ میں پیشین گوئی کی۔ مگر مرزاقادیانی بالکل ناکام رہے اور ڈاکٹر صاحب کے سامنے نہایت ذلت کی موت سے مرے۔ انہوں نے متعدد رسالے ان کے رسالوں کے نام یہ ہیں: اعلان الحق، مسیح الدجال، اس میں ڈاکٹر صاحب نے وہ باتیں لکھی ہیں جن کی وجہ سے مرزاقادیانی کو انہوں نے چھوڑا اور ان کے مخالف ہوئے۔ پہلے بڑے صادق مرید تھے۔ بیس روپیہ ماہوار مرزاقادیانی کے پاس بھیجتے رہے اور ہزاروں روپیہ ان کی صداقت کے اظہار میں صرف کیا۔ پھر نہایت تحقیق اور حق طلبی نے انہیں مجبور کیا کہ انہیں جھوٹا اعتقاد کریں۔ ان کا تیسرا رسالہ الذکر الحکیم ہے۔ اس کے کئی نمبر ہیں نمبر۴،۶ لائق دید ہےمرزاقادیانی کے مقابلے میں لکھے۔ جن کا جواب نہ مرزاقادیانی دے سکا اور نہ کوئی ان کا مرید۔ دوسرے سخت مخالف مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ہیں جن سے مرزاقادیانی نے عاجز ہوکر ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء میں اعلان شائع کیا جس کا عنوان جلی قلم سے یہ تھا۔
اس عنوان کے نیچے مولوی صاحب کی بہت شکایت ہر ایک بیان کر کے لکھتے ہیں: ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ
مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔ (مرزاقادیانی کا یہ قطعی حکم یاد رہے) اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔‘‘ یہ تو مرزاقادیانی نے کذاب اور مفتری کے ہلاک ہو جانے کی خبر دی اور اس کی ہلاکت کی وجہ بھی بیان کر دی۔ اس کے بعد دو مرتبہ اﷲتعالیٰ سے بہت عاجزی سے دعا کی جس سے خوب ظاہر ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی مولوی ثناء اللہ صاحب سے نہایت تنگ ہیں۔ پہلے دعا ملاحظہ ہو۔
’’اے میرے مالک… اگر میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین!‘‘ (یہی پہلی دعا تھی، اب دوسری دعا بھی ملاحظہ کی جائے)
’’اے میرے آقا… اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے… اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین، ثم آمین!‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸،۵۷۹)
دیکھا جائے کہ کیسی عاجزانہ اور پر مغز دعا ہے۔ اس دعا کے کچھ دنوں کے بعد خداتعالیٰ کی رحمت عامہ کا مقتضا یہ ہوا کہ مولوی صاحب کے سامنے مرزاقادیانی وبائی مرض میں مبتلا ہوکر بہت جلد اپنی دعا کے بموجب ہلاک ہو گئے اور اس دعا کی قبولیت میں تقریباً ایک سال کی دیر ہوئی۔ زیادہ نہیں ہوئی، اور خدا کے فضل سے مولوی صاحب اب تک زندہ ہیں۔ (پاکستان بننے کے بعد سرگودھا میں فوت ہوئے) اس دعا کی قبولیت کا نہایت عمدہ اور مفید نتیجہ یہ ہوا کہ نہایت صفائی سے امر حق ظاہر ہوگیا۔ یعنی مرزاقادیانی اپنے مکرر اقرار سے مفسد اور کذاب ٹھہرے اور جو علامت مفسد وکذاب کی انہوں نے بیان کی تھی وہ ان میں پائی گئی اور مرزاقادیانی کے مقدمہ میں گویا اقراری ڈگری ہوگئی۔ اب حق پسند حضرات ان دعاؤں کو اور ان کے انجام کو دیکھیں اور مرزاقادیانی کے ان الہاموں پر نظر کریں جو انہوں نے اپنی قرب خداوندی اورعالی مرتبہ ہونے میں بیان کی ہیں۔ مثلاً: ’’تو بمنزلہ میرے توحید کے ہے اور تو میرے مثل ولد کے ہے۔‘‘ مرزاقادیانی اپنے لئے یہ الہامات خداوندی بیان
کرتے ہیں۔ ہمارے بھائی انصاف فرمائیں کہ جو ایسا مقرب بارگاہ خداوندی ہو وہ اس عاجزی سے دعا کر کے مشتہر کرے اور پھر اس دعا کا یہ نتیجہ ہو کہ اپنے اقرار کے بموجب تمام دنیا کے سامنے مفسد وکذاب ٹھہرے۔ یہ ہوسکتا ہے۔ اس میں غور کر کے مرزاقادیانی کے بارے میں فیصلہ کیجئے۔ ان دونوں حضرات کے علاوہ اور بھی مرزاقادیانی کے مخالفین ہیں۔ مثلاً مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کہ تازندگی ان سے سخت مقابلہ رہا۔ بالآخر مرزاقادیانی ہی ان حضرات کے سامنے نہایت حسرت کے ساتھ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اب یہ دیکھا جائے کہ فلاح پانے والے کون ہوئے؟
جو قادیانی حضرات مسلمانوں کو ڈرایا کرتے ہیں کہ جو مرزاقادیانی کا مخالف ہوا، جس نے انہیں برے الفاظ سے یاد کیا وہ ضرور مر جائے گا یا مصیبت میں مبتلا ہو گا۔ وہ بتائیں کہ یہ حضرات جن کا ذکر کیاگیا ان سے زیادہ مرزاقادیانی کا مخالف کون ہے اور انہیں نہایت برا کہنے والا ان کے معائب کا ظاہر کرنے والا کون ہے۔ پھر دیکھئے کہ باوجود سخت مخالفت کیسے کامیاب رہے؟ اور صرف مرزاقادیانی ہی ان کے سامنے ہلاک نہیں ہوئے بلکہ ان کے خلیفہ اعظم اور جانشین اوّل بھی ان حضرات کے روبرو ہلاک ہوئے اور انہیں کے سامنے مرزاقادیانی کی جماعت میں نہایت تفرقہ پڑ گیا اور دوتین گروہ ہوگئے اور ہر ایک گروہ کے نصیحت کن حالات اخبار وں میں شائع ہورہے ہیں۔ اخبار وطن وغیرہ ملاحظہ کیا جائے۔ اگر بقول بعض مرزائیاں انہیں ڈھیل دی گئی تو یہ فرمائیے کہ بعض مخالف جو مرزاقادیانی کےسامنے انتقال کر گئے تو مرزاقادیانی نے کیوں غل مچایا اور اپنی مخالفت کا نتیجہ ظاہر کیا۔ کیونکہ جس طرح یہاں ڈھیل دینے کے لئے کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کے متبعین یہ کہیں گے کہ اس وقت مرزاقادیانی کو ڈھیل دی گئی تھی اور اس ڈھیل دینے کی عمدہ وجہ وہ یہ پیش کر سکتے ہیں کہ مشیت الٰہی نے یہ قراردے رکھا تھا کہ وہ اپنے ایک سخت مخالف کی پیشین گوئی کے مطابق ہلاک ہوں اور کاذب قرار پائیں اور دوسرے مخالف کے مقابلہ میں اعلانیہ طور سے اپنے اقرار سے مفسدوکذاب ثابت ہوں۔ اگر اس سے پہلے مرتے تو اس امر حق کا ثبوت اس طور سے نہ ہوتا۔ ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘اب میں پھر آپ کو اصلی مطلب کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ گزشتہ بیان سے اظہر من الشمس ہوگیا کہ دنیا میں کسی قسم کی فلاح ایمان اور صداقت کی علامت نہیں ہے۔ کیونکہ منکر خدا اور منکر رسول اور ہر قسم کے مفتری اور جھوٹے بہت کچھ
کامیاب ہوئے اور ہورہے ہیں۔ (منکر خدا میں فرعون کی کامیابی دکھائی گئی اور مفتری اور جھوٹوں میں صالح بن طریف اور اس کی اولاد کی فیروز مندی اور بادشاہت دکھائی گئی اور اس وقت کی حالت مشاہدہ ہورہی ہے۔ دیکھا جائے کہ آریہ کس قدر مخالف اسلام ہیں۔ اسی طرح پادریوں کو دیکھا جائے۔ پھر ان کی ترقی اور کامیابی کو ملاحظہ کیا جائے۔ یہ بھی خیال رہے کہ اس کامیاب جماعت میں وہ بھی ہیں جنہوں نے وحی والہام کا جھوٹا دعویٰ کیا جن کی کامیابی سے مرزاقادیانی انکار کرتے ہیں) بالتخصیص یہ بھی دکھادیا گیا کہ جھوٹے مدعی وحی والہام میں بھی بہت کچھ کامیاب ہوئے۔ یہاں تک کہ بادشاہ ہوگئے۔ بے شمار خلق نے انہیں نبی ورسول مانا اور ان کے اعتقاد کی یہ نوبت پہنچی کہ لاکھوں نے انہیں سجدہ کیا اور سینکڑوں برس تک ان کی کامیابی کا آفتاب چمکتا رہا اور دعویٰ نبوت ورسالت کا پھریرا اڑتا رہا۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو بالاتفاق جھوٹے اور مفسد تھے اور ان حضرات کی کامیابی کوبھی دکھایا جو خاص مرزاقادیانی کے مخالف تھے۔ جن کی ناکامی اور موت کے لئے مرزاقادیانی نے ایڑی سے چوٹی تک زور لگایا۔ مگر ان کا کچھ نہ ہوا۔ بلکہ مرزاقادیانی ہی ناکام رہے اور جنہیں وہ مفسد وکذاب کہتے تھے۔ وہ ہی کامیاب ہوئے۔ (اس کی نظیر میں ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب جو الہام کے بھی مدعی ہیں اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبدالحق صاحب غزنوی پیش کئے گئے۔ آخر الذکر مولوی صاحب وہ ہیں جنہوں نے مرزاقادیانی سے مباہلہ کیا تھا اور کامیاب ہوئے تھے)
(اعلان اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی برغلام احمد قادیانی مطبوعہ ۱۳۱۲ء ملاحظہ ہو)
اب دوسرے پہلو پر نظر کیجئے اور بعض مؤمنین کاملین کی حالت ملاحظہ فرمائیے۔ اگرچہ قرآن مجید میں عام سچے مسلمانوں کے لئے فلاح کو خالص کیا ہے۔ مگر ہم بعض مؤمنین کاملین کی دنیاوی ناکامی دکھا کر یہ ثابت کریں گے کہ قرآن مجید میں فلاح سے مراد دنیا کی کامیابی نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا کی ناکامی اگرچہ نہایت درجہ کی ہو مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ شخص مسلمان نہیں ہے یا یہ مدعی جھوٹا ہے۔ خوب متوجہ ہوکر دیکھئے۔ کامل مسلمانوں میں سب سے اعلیٰ مرتبہ انبیاء کرامo کا ہے۔ اس لئے میں بعض انبیاء کی حالت دکھاتا ہوں اور ان میں سے حضرت یحییٰm اور حضرت زکریا اور حضرت ایوبo کی حالت پیش کرتا ہوں۔ ذرا عبرت کی نگاہ سے دیکھئے۔ ان میں حضرت یحییٰm وہ ہیں جنہیں مرزاقادیانی
حضرت عیسیٰm سے بہت افضل بتاتے ہیں۔
(رسالہ دافع البلاء ص آخر، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰ حاشیہ)
اور قرآن مجید میں ان کی فضیلت خاص طور سے بیان ہوئی ہے اور علمائے محققین نے انہیں سید الشہداء کہا ہے۔
حضرت یحییٰm حضرت عیسیٰm کے ماموں اور ہمسن تھے۔ صرف چھ مہینے بڑے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ تین برس آپ کی تعریف میں تفسیر درمنثور میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس کا نقل کردینا کافی ہے۔ جس سے حضور انورa کی حالت اور حضرت یحییٰm کی مرتبت ظاہر ہوتی ہے۔ صحابہ کرامi انبیاءo کی فضیلت کا ذکر کر رہے تھے۔ حضور انورa تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا ذکر کر رہے ہو۔ صحابہi نے عرض کیا جن انبیاء کی فضیلت کا ذکر اس وقت آیا ان میں حضرت یحییٰm کا ذکر نہیں تھا۔ ’’فقال اما انہ لا ینبغی ان یکون احد خیرا من یحیٰی بن زکریا اما سمعتم اللہ کیف وصفہ فی القرآن یا یحیٰی خذ الکتاب بقوۃ‘‘
(درمنثور ج۴ ص۲۶۲، عن ابن عباس)
قرآن مجید میں جو اوصاف حضرت یحییٰm کے آئے ہیں۔ اس کی بناء پر جناب رسول اﷲa نے اپنا خیال صحابہi سے ظاہر فرمایا کہ زیبا نہیں ہے کہ یحییٰm پر کسی کو فضیلت ہو، تم نے اللہ کا کلام نہیں سنا۔ اﷲتعالیٰ قرآن میں ان کی کیسی تعریف کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے یحییٰ کتاب مضبوط پکڑ۔ آپ لڑکپن ہی سے بڑے عابد اور پرہیزگار اور اعلیٰ درجہ کی فہم رکھتے تھے۔ ایک روز لڑکوں نے آپ سے کھیلنے کو کہا تو فرمایا کہ ہم اس لئے نہیں بنائے گئے۔ آپ کی خوراک درختوں کے پتے اور جنگل کی گھاس تھی۔ آپ کے پاس دنیا کے مال ومتاع سے کچھ بھی نہ تھا اور نہ رہنے کو مکان تھا۔ کمبل پہنتے اور جہاں رات ہوتی پڑ رہتے۔ عبادت کرتے کرتے آپ بالکل نحیف ولاغر ہوگئے تھے اور خوف خدا سے روتے روتے آپ کے رخساروں کا گوشت جاتا رہا تھا۔ جس سے آپ کی داڑھیں معلوم ہوتی تھیں۔ جس پر آپ کی والدہ نے دو ٹکڑے سوتی کپڑے کے رکھ دئیے تھے تاکہ دانت کو ڈھانپ لیں۔ خداتعالیٰ کی خشیت اور زہد ایسا غالب تھا کہ دنیا کی کسی شئے پر نظر نہیں پڑتی تھی اور نہ دنیا کی
کوئی خواہش آپ کے دل میں پیدا ہوتی تھی۔ اسی لئے تمام عمر آپ نے عورت کی صورت نہیں دیکھی۔ آپ کے والد حضرت زکریاm اگر وعظ فرماتے اور اس میں آپ ہوتے تو حضرت زکریاm آپ کے خیال سے دوزخ وجنت کا ذکر نہ فرماتے۔
یہاں آپ کی تمام عمر کی گزران پر نظر کی جائے کہ کس عسرت اور تنگی سے آپ نے اپنی زندگی بسر کی۔ اب اہل دنیا اور مرزاقادیانی ایسے سخت گزران کو کیا کہیں گے اور اس وقت جو حضرت یحییٰm کے مخالف تھے۔ وہ آپ کو کس قدر نامراد اور ناکام کہتے ہوں گے اورخصوصاً اس واقعے سے جو انجام کار آپ کے ساتھ پیش آیا اور باوجود نہایت عالی مرتبہ نبی ہونے کے کس مظلومانہ حالت سے شہید کئے گئے۔ تقریباً ۳۰برس کی عمر میں بادشاہ نے آپ کو قید کیا اور دوبرس تک قید میں رہے۔ حضرت عیسیٰm ابھی آسمان پر اٹھائے نہیں گئے تھے کہ آپ (حضرت یحییٰm) کا سر مبارک بادشاہ نے کٹوا کر آپ کے مخالف دشمن کے حوالہ کیا۔ غرضیکہ ۳۲برس کا آپ کا سن تھا کہ آپ شہید کئے گئے۔ آپ کی پوری حالت بیان کرنے کے لئے تو ایک رسالہ ہونا چاہئے۔ اس مقام پر صرف اس امر کی ضرورت ہے کہ آپ کے شہید ہونے کا ذکر کیا جائے۔ اس لئے میں نہایت معتبر شہادتوں سے اس کا ثبوت پیش کرتا ہوں اور اس قدر کتب تفاسیر اور تواریخ وغیرہ کے حوالے آپ کو دکھاتا ہوں کہ آپ کو بجز سرتسلیم خم کرنے کے کچھ چارہ نہ ہوگا۔
۱… نام تفسیر: تفسیر عزیزی۔
اصل عبارت: ’’ویقتلون النّبیین‘‘ یعنی ’’وی گفتند پیغمبران را چنانچہ حضرت شعیا وزکریا ویحییٰo راکشتند وحضرت عیسیٰm رانیز بزعم خود بردار کشیدند۔‘‘
حاصل مطلب: یہود نے پیغمبروں کو شہید کیا۔ چنانچہ حضرت شعیا کو اور زکریا اور یحییٰo کو قتل کیا اور حضرت عیسیٰm کو بھی اپنے گمان میں سولی دے دی۔
۲… نام تفسیر: بیضاوی ص۷۹۔
اصل عبارت: ’’وقتلہم الانبیاء فانہم قتلوا شعیاء زکریا ویحیٰی‘‘وغیرہمo۔
حاصل مطلب: بلاشبہ یہود نے حضرت شعیا اور حضرت زکریا وحضرت یحییٰ وغیرہ کو قتل کیا۔ o
۳… نام تفسیر: مدارک التنزیل جز ص۴۱۔
اصل عبارت:’’وقد قتلت الیہود وشعیا وزکریا ویحیٰی صلٰوۃ اللہ علیہم‘‘
حاصل مطلب: یہود نے حضرت شعیا وحضرت زکریا وحضرت یحییٰ کو قتل کیا۔
۴… نام تفسیر: جلالین مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۴۔
اصل عبارت:’’وفریقا تقتلون ای قتلتم زکریا ویحیٰی‘‘
حاصل مطلب: یعنی تم نے قتل کیا حضرت زکریا اور حضرت یحییٰn کو۔
۵… نام تفسیر: معالم التنزیل (مطبوعہ بمبئی) ج۱ ص۳۸۔
اصل عبارت:’’وفریقا تقتلون ای قتلتم مثل زکریا ویحیٰی وشعیا وسائر من قتلوا من الانبیاءo‘‘
حاصل مطلب: یہود سے خطاب ہے کہ تم نے قتل کیا زکریا کو یحییٰ کو اور شعیا کو اور سوا ان کے اور انبیاءo۔
۶… نام تفسیر: مراح اللبید مطبوعہ مصر مصنفہ امام نوویv
اصل عبارت:’’روی ان الیہود قتل سبعین نبیا فی اوّل النہار ولم یغتموا حتی قاموا فی اٰخرالنہار یتسوقون مصالحا وقتلوا زکریا ویحیٰی وشعیا وغیرہم من الانبیاءo لم یجعل لہ من قبل سمیا ای شبیہا فی الفضل والکمال فانہ لم یعص ولم یہم بمعصیۃ من حال الصغر وانہ صار سید الشہداء علی الاطلاق‘‘
حاصل مطلب: امام نووی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہود نے ابتدائے دن میں سترانبیاء کو قتل کیا اور اس کا کچھ غم والم انہیں نہ ہوا۔ یہاں تک کہ سہ پہر کو اپنے کام کے لئے بازار گئے اور حضرت زکریا اور یحییٰ اور شعیاo وغیرہ کو قتل کیا۔ حضرت یحییٰ کی تعریف میں اللہ کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس کا ساصاحب فضل وکمال کسی کو نہیں کیا۔ انہوں نے بچپن سے آخر عمر تک گناہ کرنا تو کیسا گناہ کا خیال بھی نہیں کیا اور جتنے انبیاء واولیاء وغیرہ شہید ہوئے
مرتبہ شہادت میں سب کے سردار آپ ہوئے۔ اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی شہادت کا واقعہ نہایت ہی عبرت خیز ہے۔ جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔
۷… نام تفسیر: الوجیز فی تفسیر القرآن العزیز۔
اصل عبارت:’’ففریقاً کذبتم مثل عیسٰی ومحمدa وفریقاً تقتلون مثل یحیٰی وزکریا‘‘
حاصل مطلب: تم نے انبیاء کے ایک گروہ کی تکذیب کی جیسے عیسیٰ اور محمدa اور ایک گروہ کو قتل کیا۔ مثلاً یحییٰ اور زکریاn۔
۸… نام تفسیر: نیشاپوری برحاشیہ طبری جلد اوّل۔
اصل عبارت:’’وقتلہم الانبیاء وقد قتلوا الیہود یعنوا شعیا وزکریا ویحیٰی وغیرہم‘‘
حاصل مطلب: یہود ملعون نے شعیا اور زکریا اور یحییٰo وغیرہ کو بلاشبہ قتل کیا۔
۹… نام تفسیر: مظہری ج۱ ص۷۱۔
اصل عبارت:’’روی ان الیہود قتلت سبعین نبیا فی یوم واحد اوّل النہار وقتلتم مثل زکریا ویحیٰی وشعیا وغیرہم‘‘
حاصل مطلب: مروی ہے کہ یہود نے ایک دن میں بیشتر انبیاء کو قتل کردیا۔ تم نے (یہود نے) حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت شعیا کوقتل کیا۔
۱۰… نام تفسیر: کشاف جلد اوّل ص۱۴۶۔
اصل عبارت:’’ذلک ای بسبب کفرہم وقتلہم الانبیاء وقد قتلو الیہود لعنو اشعیا وزکریا ویحیٰی وغیرہم‘‘
حاصل مطلب: یہود ملعون نے حضرت شعیا اور زکریا اور یحییٰo وغیرہم کو قتل کیا۔
۱۱… نام تفسیر: رحمانی ص۴۶۔
اصل عبارت:’’ویقتلون النّبیین شعیا وزکریا ویحیٰی وغیرہمo‘‘
حاصل مطلب: یہود نے قتل کیا شعیب کو اور زکریا اور یحییٰ وغیرہ کو۔ o
۱۲… نام تفسیر: تفسیر خازن جلد اوّل ص۵۸۔
اصل عبارت: ’’یرویٰ ان الیہود قتل سبعین نبیا فی اوّل النہار وقامت الی السوق بقلہا فی آخرہ وقتلوا زکریا ویحیٰی وشعیا وغیرہم من الانبیاء‘‘
حاصل مطلب: روایت ہے کہ یہود نے ابتداء دن میں ستر انبیاء کو قتل کیا اور دن کے آخر میں اپنے بازار کا کام کیا اور حضرت زکریا اور یحییٰ اور شعیا وغیرہ انبیاء کو قتل کیا۔
۱۳… نام تفسیر: تفسیر علامہ ابی السعود جلد اوّل جز اوّل ص۱۰۷۔
اصل عبارت: ’’ویقتلون النبین بغیر الحق کشعیا وزکریا یحیٰیo‘‘
حاصل مطلب: یہود نے انبیاء کو قتل کیا۔ مثلاً حضرت شعیا کو اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰo کو۔
۱۴… نام تفسیر: درمنثور ج۴ ص۲۶۲، ایضاً ج۱ ص۷۳۔
اصل عبارت:’’قال النبیa ابن اشہید ابن اشہید یلبس الوبرو یاکل الشجر مخافۃ الذنب یحیٰی بن زکریاo‘‘
حاصل مطلب: صحابہi انبیائوںo کی فضیلت کا ذکر کر رہے تھے کہ حضورa نے ارشاد فرمایا کہ شہید کے بیٹے کہاں ہیں۔ ان کا ذکر نہیں کرتے جو کمبل پہنتے تھے اور پتے کھاتے تھے۔ یعنی یحییٰ، زکریاn کے بیٹے۔ یہاں صاف حدیث سے حضرت یحییٰ اور زکریاn کا شہید ہونا ثابت ہوا۔ تفسیر درمنثور کے حوالے مرزاقادیانی نے اپنے دعوؤں کے اثبات میں بہت دئیے ہیں۔ اس لئے ان کے متبعین کو ضرور ہے کہ اس روایت کو تسلیم کریں۔ حدیث کا یہ ٹکڑا کنزالعمال میں ابن شہاب زہری سے مرسل مروی ہے اور اب مرزائیوں کے کنزالعمال کے حوالے دیکھے جاتے ہیں۔ اس لئے یہ روایت بھی انہیں ماننا ہوگی۔ غرضیکہ حضرت یحییٰ اور حضرت زکریاn کا شہید ہونا حدیث مرفوع اور حدیث مرسل دونوں سے ثابت ہوگیا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودq فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ ایک روز میں تین سو انبیاء کو قتل کیا اور پھر دوسرے وقت بازار ہاٹ کا کام کیا۔ یعنی ایسے برگزیدگان خدا کے قتل کی کچھ پرواہ نہیں کی۔ اس روایت کو ابوداؤد طیالسی نے نقل کیا ہے۔
۱۵… نام تفسیر: النہر الماد برحاشیہ بحر محیط ج۱ ص۲۳۶۔
اصل عبارت:’’ویقتلون النبیین یحیٰی وشعیا وزکریا قیل قتلوا ثلٰث مائۃ نبی اوسبعین‘‘
حاصل مطلب: یہود نے انبیاء کو قتل کیا۔ یعنی حضرت یحییٰ اور شعیا اور حضرت زکریا کو یہ بھی کہاگیا ہے کہ تین سو انبیاء کو بنی اسرائیل نے قتل کیا یا ستر کو یعنی دونوں روایتیں ہیں۔
۱۶… نام تفسیر: بحرمحیط ج۱ ص۲۳۶۔
اصل عبارت:’’ویقتلون النبیین قتلوا یحیٰی وشعیا وزکریا وروی عن ابن مسعود قتل بنو اسرائیل سبعین نبیا وفی روایۃ ثلث مائۃ نبی فی اوّل النہار وقامت سوق بقلہم فی آخرہ‘‘
حاصل مطلب: یہود نے حضرت یحییٰ اور شعیا اور زکریا کو قتل کیا اور حضرت عبد اللہ بن مسعودq سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل نے ستر نبیوں کو قتل کیا اور ایک روایت میں تین سو انبیاء کا قتل ہونا آیا ہے۔
۱۷… نام تفسیر: تفسیر ابن عباس برحاشیہ درمنثور ج۱ ص۳۹۔
اصل عبارت:’’وفریقا تقتلون وفریقا قتلہم یحیٰی وزکریاn‘‘
حاصل مطلب: حضرت عبد اللہ ابن عباسq کی تفسیر جو مشہور ہے اس میں بھی وہ فرماتے ہیں کہ یہود کے ایک گروہ نے حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا کو قتل کیا۔
۱۸… نام تفسیر: جمل ج۱ ص۷۲۔
اصل عبارت:’’روی ان الیہود قتلت سبعین نبیاً فی اوّل النہار ولم یبالوا ولم یغتموا حتی قاموا فی اٰخر النہار یتسوقون مصالحہم وقتلوا زکریا ویحیٰی وشعیا وغیرہم من الانبیاء‘‘
حاصل مطلب: مروی ہے کہ یہود نے ایک دن دوپہر سے پہلے ستر انبیاء کو قتل کیا اور کچھ پرواہ اس کی نہ کی کہ ہم نے خدا کے برگزیدہ رسولوں پر یہ ظلم کیا۔ یہاں تک کہ سہ پہر کو بازار ہاٹ کا کام بے تکلف کیا اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت شعیا وغیرہ انبیاء کو بھی قتل کیا۔
۱۹… نام تفسیر: کبیر ج۲ ص۶۶۴۔
اصل عبارت:’’قال ابن عباس ثم قتتل یحیٰی قبل رفع عیسٰیn‘‘
حاصل مطلب: حضرت عبد اللہ بن عباسq فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰm کے اٹھائے جانے سے قبل یحییٰm قتل کئے گئے۔
حضرت یحییٰm کی نسبت اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز حالت زندگی میں اٹھائے جائیں گے۔ امام رازی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ لفظ حیا نے متنبہ کردیا کہ حضرت یحییٰm شہیدوں میں ہیں۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ شہیدوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں۔ جب حضرت یحییٰ کی نسبت خاص طور پر ارشاد خداوندی ہے کہ وہ قیامت کے روز زندہ میدان حشر میں لائے جائیں گے بغیر مرکر جلائے جانا اور میدان میں ان کا لانا تو حضرت یحییٰm سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مخلوق کا یہی حال ہوگا تو حضرت یحییٰm کی نسبت یہ کہنا کہ وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔ اسی غرض سے ہے کہ وہ شہید ہوکر اللہ کے پاس زندہ رہے اور اسی زندگی کی حالت میں میدان حشر میں آکھڑے ہوں گے۔ حضرت یحییٰm کے شہید ہونے پر امام رازی کا یہ عمدہ استدلال ہے۔ الحاصل حضرت
یحییٰm کا شہید ہونا امام رازی قرآن مجید سے ثابت کرتے ہیں اور اس سے پہلے قول میں حضرت عبد اللہ بن عباسq کے قول سے ان کا شہید ہونا بیان کیا تھا۔ امام رازی کی تفسیر کا حوالہ مرزاقادیانی اپنے قول کے ثبوت میں شدومد سے پیش کرتے ہیں۔ انجام آتھم دیکھا جائے اسی سے معلوم ہوا کہ تفسیر کبیر بہت مستند تفسیر ہے۔
۲۰… نام تفسیر: ابوالمسعود ج۱ جز ثانی ص۳۲۔
اصل عبارت:’’قال ابن عباسq ان یحیٰی کان اکبر من عیسٰیn بستۃ شہر وقیل بہ ثلث سنین وقتل قبل رفع عیسٰیm بمدۃ یسیرۃ‘‘
حاصل مطلب: عبد اللہ بن عباسq فرماتے ہیں کہ یحییٰm عیسیٰm سے چھ مہینے بڑے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ تین برس اور حضرت عیسیٰm کے اٹھائے جانے کے کچھ دنوں پہلے حضرت یحییٰm قتل کئے گئے۔
۲۱… نام تفسیر: روح المعانی جز۲ ص۱۲۹۔
اصل عبارت:’’سمی یحیٰی لانہ علم اللہ سبحانہ ان یستشہد والشہداء احیأ عند ربہم یرزقون‘‘
حاصل مطلب: صاحب روح المعانی نے یحییٰ نام رکھنے کی کئی وجہ بیان کی ہیں۔ ایک وجہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ کا نام اﷲتعالیٰ نے یحییٰ اس لئے رکھا کہ اﷲتعالیٰ کے علم میں وہ شہید ہونے والے تھے اور شہداء اﷲ کے نزدیک زندہ ہیں۔ انہیں موت نہیں ہے اور یحییٰ کے معنی زندہ کے ہیں۔ اس لئے ان کا نام یحییٰ رکھاگیا۔ یعنی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
حضرت یحییٰm اور زکریاm اس ملعونہ عورت کے قصہ کی وجہ سے قتل کئے گئے۔ (جس کا ذکر آئندہ آئے گا)
۲۲… نام تفسیر: فتح البیان ج۱ ص۱۲۰۔
اصل عبارت:’’لان الانبیاء لم یعارضوہم فی مال ولا جاہ بل ارشد وہم الی مصالح الدین والدنیا کما کان من شعیا وزکریا ویحیٰی فانہم قتلوہم وہم یعلمون ویعتقدون انہم ظالمون وانما حملہم علی ذلک حب الدنیا واتباع الہوے‘‘
حاصل مطلب: انبیاءo نے کسی کے مال وجاہ میں جھگڑا نہیں کیا۔ بلکہ دین اور دنیا کے مصالح کی طرف انہیں ہدایت کی۔ مثلاً حضرت شعیا اور زکریا اور یحییٰ(o) نے مگر انہوں نے ان انبیاء کو قتل کیا۔ حالانکہ جانتے تھے کہ ہم ظالم ہیں اور دنیا کی محبت اور نفس کی پیروی نے انہیں اس پر آمادہ کیا تھا۔ مرزائیوں کی حالت سے اس کا معائنہ ہورہا ہے۔ قتل کرنے سے تو مجبور ہیں مگر اور سب کچھ کر رہے ہیں، جنہیں کوئی سچا مسلمان نہیں کہہ سکتا۔
عبد اللہ بن مسعودq فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ ایک دن میں انہوں نے تین سو انبیاء کو قتل کیا اور شام کو ترکاری کا بازار لگایا۔ یعنی کچھ پروہ نہیں کی۔
۲۳… نام تفسیر: الفتوحات الٰہیہ ج۱ ص۷۲۔
اصل عبارت:’’قولہ ویقتلون النبیین الخ روی عن الیہود قتلت سبعین نبیاً فی اوّل النہار ولم یبالوا ولم یغتموا حتی اقاموا فی اٰخر النہار یتسوقون مصالحہم وقتلوا زکریا‘‘
حاصل مطلب: روایت ہے کہ یہود نے ستر انبیاء کو سویرے شہید کر دیا اور کچھ پرواہ نہ کی اور ایسے بے پرواہ ہوئے کہ شام کو بازار کے کام کئے اور زکریا اور یحییٰ اور شعیاo وغیرہ کو قتل کیا۔
انبیاء کے قتل کی تعداد بعض روایتوں میں تین سو ہے اور بعض میں ستر ہے۔ اس کی ظاہر وجہ یہ ہے کہ قتل کا ایک واقعہ نہیں ہے۔ متعدد واقعے ہیں۔ کسی وقت ستر انبیاء کو قتل کیا اور کسی وقت تین سو کو۔ یہ دونوں واقعے علیحدہ علیحدہ روایت ہوتے چلے آتے ہیں۔
یہ ۲۳تفسیروں کی شہادتیں پیش کی گئی۔ اب چند مؤرخین کی گواہیاں بھی ملاحظہ ہوں۔
نمبرشمار: ۱/۲۴
نام کتاب: تاریخ طبری جلد۲ ص۱۳،۱۴۔
اصل عبارت:’’ان یحیٰی قتل قبل ان یرفع عیسٰی قال حاجتی ان تذبح لی یحیٰی بن زکریا فقال سلینی غیر ہذا قالت مااسئلک الاہذا قال فلما ابت علیہ دعا یحیٰی ودعا بطست فذبحہ انتہی ملتقطاً‘‘
مطلب: علامہ مؤرخ طبری لکھتے ہیں کہ حضرت یحییٰm حضرت عیسیٰm کے اٹھائے جانے سے پہلے شہید کئے گئے اور مؤرخ ممدوح حضرت یحییٰm کی شہادت کی وجہ اس طرح روایت کرتا ہے کہ اس وقت کا بادشاہ اپنی بھتیجی پر فریفتہ تھا اور اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا اور بسبب ممنوع ہونے کے حضرت یحییٰ اسے منع کرتے تھے۔ ایک روز وہ آئی اور بادشاہ نے اس سے کہا تو کیا مانگتی ہے۔ اس (ملعونہ) نے کہا کہ حضرت یحییٰ کو ذبح کر کے مجھے دے دے۔ بادشاہ نے کہا کچھ اور مانگ۔ لڑکی نے کہا میں اور کچھ نہیں مانگتی۔ یہی مانگتی ہوں۔ بادشاہ نے حضرت یحییٰm کو بلایا اور ایک طشت منگایا اور سر مبارک کاٹ کر اس میں رکھ دیا۔ اس کے بعد مؤرخ نے حضرت یحییٰ کے قتل کرنے کی مفصل وجہ ص۱۴،۱۵ میں حضرت عبد اللہ بن عباسq اور حضرت عبد اللہ بن مسعودq سے روایت کی ہے۔
نمبرشمار: ۲/۲۵
نام کتاب: ابن خلدون جلد۲۔
اصل عبارت:’’وقتل فیہم یحیٰی صلٰوۃ اللہ علیہ وقد ذکر فی قتلہ اسباب کثیرۃ‘‘ ص۱۴۴۔ اختصار کے خیال سے پوری عبارت نقل نہیں کی گئی۔ صرف حضرت یحییٰ کے قتل کے متعلق جملہ لکھ دیا گیا ہے۔
مطلب: ابن خلدون نے حضرت عیسیٰ کی پیدائش اور ان کی نبوت اور آسمان پر اٹھالئے جانے کے ذکر میں حضرت یحییٰ کی ولادت اور شہادت کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس وقت یہود کا بادشاہ ہیرودس تھا اور بڑا شریر اور فاسق تھا۔ اس نے کتنے حقانی علماء کو قتل کیا اور حضرت یحییٰ کو بھی شہید کر دیا اور آپ کے شہید کر دینے کے مختلف وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔
نمبرشمار: ۳/۲۶
نام کتاب: تاریخ طبری فارسی جلد۲ ص۲۴۵۔
اصل عبارت: پس ملک دراں مستی بفرمود کہ سریحییٰ رابیارند ویحییٰm راسر بریدند ودرطشتی نہادہ بہ پیش ملک بردند وملک آن طشت رابا سربریدۂ یحییٰm پیش آن دخت نہاد۔
مطلب: تاریخ طبری فارسی میں علامہ ابوعلی محمد نے حضرت مریم کے انتقال اور حضرت یحییٰ کے شہید ہونے کی نسبت خاص باب منعقد کر کے حضرت یحییٰ کےشہید ہونے کی حالت لکھی ہے کہ بادشاہ ہیرودس نے نشہ میں سرشار ہوکر اپنی محبوبہ کے کہنے سے حضرت یحییٰm کے سرکاٹنے کا حکم دیا اور اس کے لوگ سرمبارک کاٹ کر لائے اور طشت میں رکھ کر بادشاہ کے سامنے پیش کیا اور بادشاہ نے وہ طشت معہ اس سرمبارک کے اپنی محبوبہ لڑکی کو دے دیا۔
نمبرشمار: ۴/۲۷
نام کتاب: تاریخ کامل ج۱ ص۲۳۰،۲۳۱، باب ذکر المسیح عیسیٰ بن مریم ویحییٰ بن زکریاo۔
اصل عبارت:’’وبعث اللہ عیسٰی رسولا نسخ بعض احکام التوراۃ فکان ممانسخ انہ حرم نکاح بنت الاخ وکان الملکہم واسمہ ہیرودس بنت اخ تعجبہ یرید ان یتزوجہا فنہاہ یحیٰی عنہا وکان بہا کل یوم حاجتہ یقضیہا لہا فلما بلغ ذلک امہا قالت لہا اذا سالک الملک ماحاجتک فقولی ان تذبح یحیٰی ابن زکریا فلما دخلت علیہ وسالہا ماحاجتک قالت ارید ان تذبح یحیٰی بن زکریا فقال سئل غیر ہذا قالت مااسالک غیرہ فلما ابت دعا یحیٰی ودعا بنطع بسطت فذبحہ فلما رات الراس قالت الیوم قرب عینی‘‘
مطلب: علامہ ابن اثیر اپنی مشہور تاریخ کامل میں لکھتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰm کو اپنا رسول کہا۔ انہوں نے توریت کے بعض احکام منسوخ کئے جو احکام منسوخ کئے گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ بھائی کی بیٹی سے نکاح حرام ہے۔ پہلے حرام
نہ تھا۔ اس وقت جو بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا اس کی ایک بھتیجی تھی وہ اسے بہت چاہتا تھا اور اس سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ حضرت یحییٰm نے اسے منع کیا وہ لڑکی اس بادشاہ کے پاس آیا کرتی تھی اور جو خواہش وہ کرتی تھی بادشاہ اسے پورا کرتا تھا۔ اتفاق سے لڑکی کی ماں کو خبر پہنچی کہ حضرت یحییٰ لڑکی کے نکاح کو منع کرتے ہیں۔ اس نے اپنی لڑکی سے کہہ دیا کہ بادشاہ جس وقت پیار میں تجھ سے دریافت کرے کہ تو کیا چاہتی ہے تو کہیو کہ یحییٰ کو ذبح کر دے۔ اس کے بعد جو وہ لڑکی بادشاہ کے پاس گئی اور بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تو کیا چاہتی ہے اس نے حضرت یحییٰ کا سر مانگا۔ بادشاہ نے کہا کہ اس کے سوا اور کچھ مانگ۔ لڑکی نے کہا کہ میں اس کےسوا اور کچھ نہیں مانگتی۔ جب اس لڑکی نے انکار کیا تو بادشاہ نے حضرت یحییٰ کو بلایا اور ایک طشت منگایا اور حضرت یحییٰ کا سر مبارک کاٹ کر طشت میں رکھ دیا۔ اس لڑکی نے جب سر مبارک کو طشت میں رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ آج میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔
نمبرشمار: ۴/۲۸
نام کتاب: الاخبار الطوال ص۴۲۔
اصل عبارت: ’’لما انبعث اللہ عیسٰی بن مریم فاقبلت الیہود لقتلہ فرفعہ اللہ الیہ اتویحیٰی بن زکریا فقتلوہ‘‘
مطلب: جب حضرت عیسیٰm مبعوث ہوئے تو یہود ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ انہیں اﷲتعالیٰ نے اٹھالیا۔ حضرت یحییٰ تشریف لائے۔ انہیں یہود نے قتل کردیا۔ ظاہر عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ کے رفع کے بعد قتل کئے گئے۔ مگر اور کتب تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ پہلے شہید کئے گئے ہیں۔ شاید مؤرخ کا مقصود دونوں واقعوں کا بیان کرنا ہے۔ ترتیب واقعہ کا ذکر مقصود نہیں ہے۔ حاصل یہ کہ حضرت یحییٰ کا شہید ہونا جس طرح اور مؤرخین نے بیان کیا اسی طرح صاحب اخبار الطوال بھی بیان کرتا ہے۔
نمبرشمار: ۶/۲۹
نام کتاب: تاریخ الفدأ ج۱ ص۳۴۔
مطلب: حضرت زکریا حضرت مریم کے خالو تھے۔ اس لئے مریم انہیں کی کفالت میں تھیں۔ قدرت خدا سے جب یہ حاملہ ہوئیں تو یہود نے حضرت زکریا پر تہمت لگائی اور انہیں پکڑنا چاہا۔ یہ بھاگے اور ایک بہت موٹے درخت میں پوشیدہ ہوگئے۔
یہود نے اس درخت کو کاٹ ڈالا۔ حضرت زکریا بھی اس میں کٹ گئے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کی وجہ بھی بیان کی ہے کہ ہیرودس بادشاہ اپنی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔ حضرت یحییٰ نے منع فرمایا۔ اس وجہ سے اس لڑکی کی ماں دشمن ہوگئی۔ اس لئے اس نے اور اس کی بیٹی نے بادشاہ سے بہت اصرار سے کہا کہ یحییٰ کو مار ڈال۔ بادشاہ نے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ ان کے روبرو قتل کرائے گئے۔
نمبرشمار: ۷/۳۰
نام کتاب: انجیل متی باب:۱۴، آیت۳ا۱۱ ص۲۰،۲۱۔
مطلب: ہیرودس نے یوحنا (یحییٰ) کو ہیرودیاس کے سبب جو اس کے بھائی فیلبوس کی جورو تھی گرفتار کیا اور باندھ کے قیدخانہ میں ڈال دیا تھا۔ (اس لئے کہ یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ تجھے اس کو رکھنا روا نہیں) اور ہیرودس نے چاہا کہ اسے مارڈالے پر عوام سے ڈرا۔ کیونکہ وہ اسے نبی جانتے تھے۔ پر جب ہیرودس کی سالگرہ لگی ہیرودیاس کی بیٹی ان کے درمیان ناچی اور ہیرودس کو خوش کیا۔ چنانچہ اس نے قسم کھا کے وعدہ کیا کہ جو کچھ تو مانگے گی میں تجھے دوں گا۔ تب وہ جیسا اس کی ماں نے اسے سکھا رکھا تھا بولی کہ یوحنا (یحییٰ) بپتسمہ دینے والے کا سرتھالی میں یہیں مجھے منگوادے… تب اس نے لوگوں کو بھیج کر قید خانہ میں یوحنا (یحییٰm) کا سرکٹوایا اور اس کا سرتھالی میں لاکے اس لڑکی کو دیا۔
نمبرشمار: ۷/۳۱
نام کتاب: انجیل مرقس باب:۶۔
مطلب: اس میں بھی وہی مضمون ہے جو ابھی انجیل متی سے نقل کیاگیا۔
یہ دونوں حوالے تاریخی حیثیت سے نقل کئے گئے ہیں۔ یعنی اگرچہ اس کتاب سے نقل کئے ہیں۔ جسے تمام نصاریٰ انیس سو برس سے آسمانی کتاب مقدس مانتے چلے آئے ہیں اور مرزاقادیانی نے بھی انہیں کتاب مقدس مانا ہے اور اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲،۵۳ ملاحظہ کیا جائے) مگر میں اس وقت تاریخی حیثیت سے اس کا حوالہ دے رہا ہوں۔ عیسائیوں کا محقق اور طے شدہ قول ہے کہ پہلی انجیل حضرت مسیحm کے مقرب حواری کی لکھی ہے اور تمام عیسائی مانتے ہیں۔ یہ حواری حضرت یحییٰ کے
ہم عصر تھے اور دوسری انجیل حواری کے ایک شاگرد نے لکھی ہے۔ غرضیکہ یہ دونوں تاریخیں حضرت یحییٰ کی شہادت کے قریب لکھی گئیں اور ایک عظیم الشان گروہ اس کتاب کو مقدس اور آسمانی کتاب اعتقاد کر کے اس کی حفاظت کرتا رہا ہے اور کرتا ہے۔ اس لئے کم سے کم تاریخی حیثیت سے اسے معتبر ماننے میں کلام نہیں ہوسکتا۔ یہ ۳۱شہادتیں تو معتبر مفسرین اور مؤرخین کی ناظرین ملاحظہ کر چکے۔ اب میں خاص ان کی شہادت پیش کرتا ہوں۔ جن کے مرید حضرت یحییٰ کی شہادت کو جھوٹ بتاتے ہیں۔
بقول خود مجدد دوراں مسیح قادیان مرزاغلام احمد قادیانی اپنی مایہ فخر کتاب ازالۃ الاوہام کے حصہ اوّل میں فرماتے ہیں: ’’حضرت یحییٰ نے بھی یہودیوں کے فقیہوں اور بزرگوں کو سانپوں کے بچے کہہ کر ان کی شرارتوں اور کارسازیوں سے اپنا سرکٹوایا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۶، خزائن ج۳ ص۱۱۰)
(حضرت یحییٰm کے قتل کئے جانے کی وجہ ہم نے انجیل سے اور متعدد تاریخوں سے نقل کی ہے جو نہایت معقول وجہ ہے۔ مگر مرزاقادیانی ایسی معتبر وجہ کو نہیں لکھتے۔ چونکہ انبیاء کی عظمت مرزاقادیانی کے قلب میں نہیں ہے اور اپنی بدزبانی کے الزام کو اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس لئے حضرت یحییٰ کے شہید کئے جانے کی وجہ انجیل کے اور مؤرخین ومفسرین کے خلاف ایسی بیان کرتے ہیں جن سے ان کی تیز زبانی ثابت ہو)
اب مرزاقادیانی کے وہ مرید اور سلطان القلم کے شاگرد کہاں ہیں جو حضرت یحییٰ کے واقعہ شہادت کو جھوٹ بتاتے ہیں؟ اب انہیں چاہئے کہ اپنے مرشد کو جھوٹا کہیں۔ کیونکہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ حضرت یحییٰ نے سخت کلامی کر کے یہود سے اپنا سرکوایا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ یہود نے آپ کو شہید کیا۔
اب جماعت قادیانیہ مرزائیہ کی بے خبری اور بے علمی لائق ملاحظہ ہے کہ جس واقعہ کو تیرہ سو برس سے تمام علماء حقانی تسلیم کرتے رہے، صحابہ کرامi اور تابعینw کے اقوال سے اس کی تصدیق ہو رہی ہے حدیث میں اس کا ثبوت موجود ہے۔ بعض مفسرین نے قرآن مجید کے الفاظ کے تحت میں اسے ثابت کیا ہے۔ تمام علماء مفسرین اور محدثین اور مؤرخین ایک
زبان ہوکر اس واقعہ کے مصدق ہیں۔ کسی کا اختلاف اس میں نہیں پایا جاتا۔ بایں ہمہ جماعت مرزائیہ انبیاء کرامo کی شہادت سے انکار کرتی ہے اور بالخصوص اس واقعہ مذکورہ کو جھوٹا کہتی ہے۔ حالانکہ یہ وہ واقعہ ہے کہ اس کے سچے ہونے میں کسی مسلمان کو تأمل نہیں ہوسکتا۔ تیرہ سو برس سے تمام امت محمدیہ کا اس پر اتفاق چلا آتا ہے اور جب اس اتفاق کے ساتھ اس کی پوری تصدیق انجیل سے بھی ہوتی ہے تو معلوم ہوا کہ یہ ایسا سچا واقعہ ہے کہ انیس سو برس سے کسی کا اختلاف اس میں نہیں ہے۔ عیسائی اور مسلمان سب جانتے چلے آتے ہیں اور بلااختلاف سب کی کتابوںمیں اس کی تصدیق موجود ہے۔ یہی وہ مضمون ہے جو فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے (ص۶۷) میں لکھا گیا ہے اور مسیح کاذب (مرزاقادیانی) کے بعض ماننے والوں نے اس سے انکار کیا ہے اور جھوٹ بتایا ہے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ جناب رسول اﷲa سے لے کر اس وقت تک جس قدر کاملین گزرے ہیں اور اس واقعہ کی شہادت دے رہے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔ (نعوذ باﷲ منہ) اور جتنی تفسیریں اور تاریخیں وغیرہ ہیں سب غیرمعتبر ہیں۔ سب نے یہ واقعہ جھوٹ لکھا ہے جس شخص یا جس گروہ کا یہ قول ہو اس کے جھوٹے اور غیر معتبر ہونے میں کسی مسلمان کو تأمل نہیں ہوسکتا۔
برادران اسلام! اس پر غور کریں کہ جو بات ایسی محکم طور سے ثابت ہو کہ حدیث وتفسیر سے اس کا ثبوت ہو، تمام علماء متقدمین اور متأخرین کا اس پر اتفاق ہو، تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی کا اختلاف اس میں ثابت نہ ہو، اس کے ساتھ ایک دوسرے گروہ عظیم الشان کا اتفاق اس پر انیس سوبرس سے پایا جائے۔ اگر ایسی محکم اور متفق علیہ بات جھوٹ اور غیرمعتبر ہو جائے تو دین کی کسی بات پر اعتبار نہیں ہوسکتا۔ یہ شخص درپردہ دین کی بیخ کنی کے درپے ہے اور صرف عوام کے فریب دینے کو قرآن اور حدیث کا نام لیتا ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث کا ثبوت علماء کے روایت واتفاق ہی سے ہے اور یہ شخص اسی کو غیرمعتبر کہہ رہا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کی باتیں اسی طرز کی ہیں۔ اسی لئے ان کے پیرو بھی اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اب یہ ان کی جہالت ہویا قصداً ایسا کرتے ہیں۔ دیکھا جائے کہ یہ گروہ اپنے آپ کو اہل سنت اور حنفی کہتا ہے۔ حالانکہ ان کے عقائد ان کے اعمال اہل سنت کے خصوصاً احناف کے بالکل خلاف ہیں۔ اس میں فریب یہ ہے کہ بظاہر عقیدوں کے بیان میں وہی الفاظ لاتے ہیں جو الفاظ اہل سنت نے لکھے ہیں۔ مگر ان کے معنی ایسے بنارکھے ہیں جو کسی اہل سنت کے اعتقاد
میں کبھی نہیں آئے اور نہ آسکتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیںکہ اللہ پر ہمارا ایمان ہے۔ مگر اہل سنت کے نزدیک اﷲتعالیٰ کی ذات تمام صفات کمالیہ کی جامع ہے اور تمام عیوب سے پاک ہے۔ مگر مرزاقادیانی کے نزدیک اس کی ذات صادق الوعد اور متین نہیں ہے۔ وعدہ کر کے محو کر دیتا ہے جو اس کے ثبوت میں ’’یمحو اللہ مایشاء‘‘ پیش کرتے ہیں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰،۵۷۱)
کبھی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے بعض وعدوں میں پوشیدہ شرطیں ہوتی ہیں کہ بندے کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اس کا کوئی وعدہ لائق اعتبار نہیں ہے۔ اہل سنت کے نزدیک خدا کے رسول معصوم ہیں۔ گناہ نہیں کرتے۔ وحی کے سمجھنے میں انہیں غلطی نہیں ہوسکتی۔ مرزاقادیانی کے نزدیک معصوم ہونا تو بہت بڑا مرتبہ ہے۔ یعنی انبیاء سے ایسے افعال بھی ہوتے ہیں جو کسی شریف دیندار سے بھی نہیں ہوسکتے۔ حضرت عیسیٰm کی طرف جو شرمناک باتیں مرزاقادیانی نے منسوب کی ہیں ان کا زبان قلم پر لانا دشوار ہے۔
(دافع البلاء ص آخر، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰، ضمیمہ انجام آتھم ص۵تا۷، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹تا۲۹۱)
جب انبیاء کی یہ حالت ہے تو کسی فہمیدہ کے نزدیک ان کا کلام لائق اعتبار نہیں ہوسکتا۔ وحی کے غلط معنی سمجھنے کو خطائے اجتہادی کہتے ہیں۔ اس جماعت میں کسی کو اتنا بھی علم نہیں ہے کہ وہ سمجھے کہ وحی کے معنی سمجھنے میں غلطی کرنا اور بات ہے اور خطائے اجتہادی اور شئے ہے۔ اگر وحی کے معنی سمجھنے میں رسول غلطی کرے اور اپنی غلطی کو کلام خدا کہہ دے تو اس کا کسی قوم پر اعتبار نہ رہے۔ فرشتوں کی نسبت جو تیرہ سو برس سے مسلمانوں کا عقیدہ چلا آتا ہے مرزاقادیانی اس سے صاف انکار کرتے ہیں اور مشرکانہ اور ملحدانہ طریقہ ملا کر یہ کہتے ہیں کہ ستاروں کی روح کا نام فرشتہ اور جن ہے۔
(توضیح المرام ص۳۰تا۳۴، خزائن ج۳ ص۶۶تا۶۸)
غرضیکہ تمام اصول عقائد اسلامیہ مرزاقادیانی نے درہم وبرہم کر دئیے ہیں۔ مگر سخت دھوکا یہ دیا ے کہ الفاظ وہی ہیں جو اہل سنت لکھتے ہیں۔ مگر جب حقیقت امر کو پردہ اٹھا کر دیکھا جائے اس وقت واقعی حالت معلوم ہو جاتی ہے۔
برادران اسلام! میں نہایت خیرخواہانہ کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی کے کلام سے جو ان کے عقائد معلوم ہوتے ہیں اگر انہیں سچا مانا جائے تو مذہب اور دین الٰہی کوئی لائق اعتبار چیز نہیں رہتی جو ذی علم وسیع النظر ان کے رسالوں کو دیکھے گا وہ اس کا یقین کرے گا۔ یہ ایک ضمنی
بات تھی۔ اب مجھے حضرت ایوبm کے مصائب کو دکھانا ہے۔ تاکہ اہل اسلام عبرت پکڑیں اور مصیبت میں پریشان نہ ہوں۔ خدا کے برگزیدہ اور اعلیٰ مرتبہ کے برگزیدہ کی حالت کو پیش نظر رکھیں۔
حضرت ایوبm حضرت اسحقm کی اولاد میں سے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یعقوبm کے داماد تھے اور بڑے مالدار صاحب جاہ اور صاحب اولاد تھے۔ مؤرخ ابوالفداء نے لکھا ہے: ’’کان صاحب اموال عظیم‘‘ (یعنی حضرت ایوبm بڑے مالدارتھے) ان کی مختصر حالت میں پہلے تفسیر مراح البید سے لکھتا ہوں۔ پھر کسی قدر تفصیل اور تفاسیر وکتب تواریخ سے لکھی جائے گی۔
(مراح البید ج۲ ص۴۳، علامہ نووی)
حضرت ایوبm روم کے رہنے والے تھے… حضرت اسحق کی اولاد میں اﷲتعالیٰ نے انہیں نبوت عنایت کی اور اس کے ساتھ دنیا کی نعمتیں بھی بہت کچھ دیں۔ گائے، بیل، بکریاں، زمین، زراعت وغیرہ تھیں۔ باغات تھے۔ اولاد بھی اﷲتعالیٰ نے دی تھی۔ بیٹے تھے۔ بیٹیاں تھیں۔ حالت ان کی یہ تھی کہ مسکینوں پر بہت کچھ مہربانی کیا کرتے تھے۔ یتیموں کی اور بیواؤں کی کفالت کرتے تھے۔ مہمان نواز تھے۔ بایں ہمہ انہیں اﷲتعالیٰ نے
آزمائش میں ڈالا۔ مکان گرا۔ اس کے نیچے آپ کی سب اولاد دب کر مر گئی۔ جس قدر مال ومتاع تھا سب تباہ ہوگیا۔ پھر اٹھارہ برس برابر بیمار رہے۔ سر سے پیر تک تمام بدن پر دنبل نکل آئے اور تمام بدن میں کھجلی اس قدر ہوتی تھی کہ بے اختیار ہوجاتے تھے اور کھجلاتے کھجلاتے ناخن گر گئے۔ پھر ٹاٹ سے کھجلانے لگے۔ پھر کنکر پتھر سے۔ الغرض کھجلاتے کھجلاتے تمام بدن کا گوشت پھٹ گیا اور نہایت بدبو آنے لگی اور گاؤں کے لوگوں نے گاؤں سے نکال کر ایک گھوڑے (تھڑا) پر ڈال دیا اور وہیں ایک جھونپڑا بنادیا۔ اسی گھوڑے (تھڑے) پر پڑے رہتے تھے اور کوئی پاس نہ آتا تھا۔ غالباً یہی الفاظ تفسیر کبیر میں ہیں۔ اس کی تفصیل اور تفسیروں میں اور مؤرخین نے بہت کچھ لکھی ہے۔
الغرض حضرت ایوبm صاحب مال تھے۔ صاحب جائیداد تھے۔ پانچ سو ہل اور ایک ہزار بیل تھے۔ ہل چلانے والے اور ہر ایک ہل کے لئے ایک نوکر تھا۔ اسی قدر اونٹ اور بکریاں تھیں اور ان کے چرواہے۔ اب مشیت الٰہی کا تقاضا حضرت ممدوح کے امتحان کا ہوا اور صبر وتحمل کا سبق تمام عالم کے ایمانداروں کو دیاگیا تاکہ آئندہ کی نسلیں بھی عبرت پکڑیں اور اس دنیائے دنی کی حالت پر غور کریں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایسے مقرب بارگاہ الٰہی پر بعض وقت ایسی مصیبتیں آیا کرتی ہیں۔ وہ مصیبتیں حضرت ایوبm پر آئی ہیں کہ ان کے سننے سے بدن کانپنے لگتا ہے اور عقل حیران ہو جاتی ہے۔ مسلمان خیال کریں کہ جس کے جاہ وثروت کا یہ حال ہو اس پر رفتہ رفتہ مشیت ایزدی سے ایسی بلائیں آئیں کہ تمام مال ومتاع اور زینت دنیا کے متعدد اسباب یکے بعد دیگرے تباہ ہونے شروع ہوئے اور انجام کار نہ وہ مال ومتاع رہا نہ وہ جاہ وثروت رہی۔ نہ اس جائیداد کا پتہ رہا جس کے لئے ہزار بیل اور ان کے لئے سینکڑوں نوکر تھے۔ یہاں تک کہ رہنے کے لئے مکان تک بھی نہ رہا۔ ساری اولاد مکان کے نیچے دب کر مر گئی۔ پھر اس عظیم الشان مصائب کے بعد جسمانی مصیبت شروع ہوئی اور سخت جذام ہوگیا اور بجز بیوی کے ان کے پاس کوئی نہ آتا تھا اور مختلف طور سے لوگ طعنہ دینے لگے اور اس مصیبت میں اٹھارہ برس تک رہے۔ سات برس خاص گھوڑے (تھڑے) پر پڑے رہے۔
(الکامل فی التاریخ ج۱ ص۹۹، قصہ ایوبm)
علامہ ابن اثیر کامل میں لکھتے ہیں کہ سات برس گھوڑے (تھڑے) پر پڑے رہے اور اس مدت میں کبھی دعا نہیں کی کہ اﷲتعالیٰ اس مصیبت کو ہٹا دے۔ حالانکہ روئے زمین پر اس وقت اللہ کے نزدیک کوئی مکرم ان کے مثل نہ تھا۔
ابن اثیر کا یہ جملہ نہایت ہی عبرت انگیز ہے۔ جن کے دل میں کچھ بھی خوف خدا ہے وہ یہاں دو باتوں پر غور کریں گے۔ ایک یہ کہ حضرت ایوبm اس وقت ایسے خدا کے پیارے اور معظم تھے کہ اس وقت ان کی مثل کوئی دوسرا دنیا میں نہ تھا اور ایسا برگزیدہ ایسی سخت مصیبتوں میں اتنی دراز مدت تک مبتلا رہا اور اس وقت کے مرزائی صفت لوگوں سے کیسے کیسے طعن وتشنیع سنتا رہا؟ وہ دوسری اس مقبول خدا کی ہمت اور تحمل وصبر کو دیکھنا چاہئے کہ اللہ کی رضا پر ایسے راضی رہے کہ اس کے خلاف دعا مانگنا بھی پسند نہیں۔ (اﷲاکبر جل جلالہ) آپ پر تین شخص ایمان لائے تھے۔ وہ بھی بدگمانی کرنے لگے تھے اور بعض وقت طعنہ دیتے تھے۔ اگرچہ مرتد نہیں ہوگئے تھے۔ مگر حضرت ایوبm ان کے لئے بھی کوئی سخت لفظ نہیں کہتے تھے۔ اب خیال کیجئے کہ جب کچھ پاس نہیں ہے اور کوئی پاس بھی نہیں جاتا۔ سب بدگمان بھی ہوگئے ہیں تو کھانے پینے کی کیا سبیل تھی۔ اتنی مدت تک جیتے کیسے رہے؟ یہی لکھتے ہیں کہ وہی نیک بیوی جس کا نام رحمت تھا اس نازک وقت میں رحمت الٰہی تھی وہ کچھ مزدوری کر کے لاتی تھی اور کھلاتی تھی۔ بالآخر اس دراز مدت کے بعد ایک امتی کے طعنے سے یا کسی دوسرے کے ناشائستہ کلمات سے ان کی زبان سے عاجزانہ نکلا۔ ’’رب انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین (الانبیاء:۸۳)‘‘ اس دعا کے کرتے ہی دریائے رحمت جوش زن ہوا اور اللہ نے صحت دی اور اولاد وغیرہ بھی عنایت کی۔ اللہ کے رسولوں کی اور برگزیدہ بندوں کی یہ شان ہوتی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کی طرح نہیں کہ سخت مخالف سے عاجز ہو کر اپنی صداقت ظاہر کرنے کے لئے نہایت ہی عاجزانہ دعا کی ہے۔ (مولوی ثناء اﷲ صاحب اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب میں کیسی عاجزانہ دعا کی ہے۔ مگر دونوں جگہ معاملہ برعکس ہوا جس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کاذب تھا۔ ان دعاؤں کو مرزاقادیانی نے خود چھپوا کر مشتہر کیا ہے) مگر ایک شنوائی نہیں ہوئی اور مخالف کے روبرو نہایت ذلیل ہوئے۔
(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸ نیز مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۱،۵۹۲)
الغرض ہمارے بھائی خوب معلوم کریں اور یقین کرلیں کہ دنیا کی مصیبت کسی پرآنا اس کے کافر یا مرتد ہونے کی یا کسی کے مخالف ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ البتہ احادیث صحیحہ اور دنیا کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا میں ایمانداروں کو زیادہ مصیبتیں آتی ہیں۔ اب میں مسلمانوں کو اس امر پر خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ حضرت یحییٰm اور حضرت ایوبm کے واقعات کو پیش نظر رکھ کر حضرت امام حسینq کے عبرت خیز واقعہ کو ایک تیسری نظیر سمجھیں اور پھر مرزاغلام احمد قادیانی کے بے باکانہ اور بے ادبانہ جملوں کو دیکھیں کہ قرۃ العین رسول الثقلینa کی نسبت کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کے رسالہ اعجاز احمدی کے یہ اشعار ہیں۔
(اعجاز احمدی ص۵۲، خزائن ج۱۹ ص۱۶۳)
لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے (مرزاغلام احمد قادیانی) امام حسنq اور امام حسینq سے اپنے تئیں اچھا سمجھا میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔ یعنی میری فضیلت ظاہر ہو جائے گی۔ مگر مرزائی افسوس کریں کہ کچھ نہ ہوا اور مرزاقادیانی جھوٹے ٹھہرے۔
(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
مرزاقادیانی کے اس شعر کو برادران اسلام عبرت کی نظر سے ملاحظہ کریں کہ حضرت حسینq جناب رسول اﷲa کے قرۃ العینین نواسہ ہیں۔ جس کی نسبت وہ اصدق الصادقین اپنی امت کی نجات کے لئے کشتی نوح سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ ان کی مصیبت کو دکھا کر اپنی عیش وکامرانی پر مرزاقادیانی فخر کرتے ہیں۔ کیا سچے مسلمان کا دل اس سے شق نہ ہوتا ہوگا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ عاشق رسول الثقلینa کی زبان پر ایسے الفاظ آسکیں؟ کیا ایسے ہی مدعی کو خادم رسول اللہ اور فنا فی الرسول کوئی کہہ سکتا ہے۔ دنیا میں اگر ایمان ہے تو کوئی ایماندار ایسے مدعی کو سچا مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا۔ چہ جائیکہ اسے عاشق رسول اور فنافی الرسول سمجھے۔
جس طرح کے کلمات مرزاقادیانی نے حضرت امام حسینq کی نسبت ہمارے مقابلہ میں کہے ہیں اسی طرح فرعون حضرت ایوبm کے مصائب دکھا کر حضرت موسیٰm اور ان کی امت کے مقابلہ کہہ سکتا تھا۔ ’’وشتان مابینی وبین نبیکم فانی اؤید کل اٰن وانصروا‘‘(یعنی جس طرح مرزاقادیانی نے مسلمانوں کے مقابلہ میں حضرت امام حسینq کی مصیبت کو دکھایا ہے اور پھر اپنی عیش وعشرت کو تائید الٰہی بتایا ہے۔ اس طرح فرعون حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں حضرت ایوبm کے مصائب کو دکھا کر اپنی عیش وکامرانی پر فخر کرسکتا تھا اور وہی مرزاقادیانی والا شعر پڑھ سکتا تھا۔ صرف ایک لفظ بدل کر یعنی حسین کی جگہ نبی کہہ دیتا) اور فرعون پر کیا ہے جو منکرین انبیاء دنیا میں کامران رہتے ہیں۔ وہ اکثر انبیاء کی نسبت ایسا ہی فخر کر سکتے ہیں اور مقبولان خدا کی مصیبتوں کو دکھا کر ااور اپنی کامرانی پیش کر کے اپنا مؤید من اللہ ہونا بیان کر سکتے ہیں۔ ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘
شاید اس قسم کے حالات بعض مرزائیوں نے دیکھے اس لئے فائز المرامی اور کامیابی کی یہ صورت بتاتے ہیں کہ مخلوق اسے زیادہ ماننے لگی۔ مگر یہ جواب بھی ان کی بے خبری اور کم علمی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ حضرت ایوبm کی حالت تو ابھی ذکر کی گئی۔ حضرت نوحm کا حال بھی اس کی غلطی کی شہادت کے لئے نہایت کافی ہے۔ یہ تو قرآن مجید سے ثابت ہے کہ حضرت نوحm نے ساڑھے نو سو برس دعوت دی۔ مگر اب دیکھا جائے کہ اس دراز مدت میں کتنی مخلوق آپ پر ایمان لائی۔ قرآن مجید میں مجمل طور پر ارشاد ہے: ’’وما اٰمن معہ الا قلیل (ہود:۴۰)‘‘یعنی حضرت نوحm پر بہت تھوڑے ایمان لئے تھے۔ مفسرین نے اس تھوڑے کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے۔ صاحب مدارک التنزیل لکھتے ہیں کہ آٹھ شخص ایمان لائے اور زیادہ سے ۷۸آدمیوں کا ایمان لانا لکھتے ہیں۔ بعض محققین اسی کی تعداد بیان کرتے ہیں۔ الغرض وہ سچے رسول ہیں جن کی اولاد میں عظیم الشان سلسلہ رسولوں کا ہے۔ ان کی دعوت سے نوسو پچاس برس کے عرصہ میں اس قدر قلیل مقدار مخلوق کی ان پر ایمان لائی جو کسی شمار میں نہیں ہوسکتی۔ اب اس کے مقابل صالح اور ابوعیسیٰ مدعیان کاذب کی جماعت کو خیال کیجئے کہ تمام قبائل مغرب ان پر ایمان لے آئے تھے۔ تھوڑی مدت میں اس لئے جماعت مرزائیہ کے قاعدے کے بموجب ان جھوٹے مدعیوں کو صادق ہونا چاہئے اور حضرت نوحm کو کاذب (نعوذ ب اللہ منہ) الغرض دنیا کی کسی قسم کی کامیابی یا ناکامی صداقت یا عدم صداقت کی دلیل نہیں
ہوسکتی۔ ہاں! بعض وقت اس کامیابی کے ساتھ ایسے قرائن اور وجوہ پیش آتے ہیں کہ عقلی طور سے ایسی کامیابی کو صداقت کی دلیل کہتے ہیں اور ناکامی کو کذب کی علامت، اب میں اس دعوے کی تصدیق صحیح حدیثوں سے آپ کو دکھاتا ہوں۔
جناب رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ جس قدر لوگوں نے مجھے مانا کسی نبی کو نہیں مانا۔ بعض انبیاء ایسے گزرے جنہیں ایک ہی شخص نے مانا اور ان کی دعوت کا ثمرہ اسی قدر ہوا۔
دوسری حدیث میں حضور انورa کا یہ مقولہ ہے کہ انبیاءo کی امتیں حالت کشفی میں میرے سامنے پیش کی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ بعض انبیاء کے ہمراہ چند آدمی ہیں یعنی تین چار آدمی بعض کے ہمراہ دو ایک شخص ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ ان کے ہمراہ ایک امتی بھی نہیں ہے۔
ایک متفق علیہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں۔
یعنی حضرت عبد اللہ بن عباسq فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اﷲa تشریف لائے اور فرمایا کہ انبیاء کی امتوں کی حالت مجھے معلوم کرائی گئی۔ میرے سامنے سے ایک نبی گزرے ان کے ہمراہ ایک ہی امتی تھا دوسرے نبی گزرے ان کے ہمراہ دو امتی تھے۔ ایک اور گزرے ان کے ہمراہ چند امتی تھے۔ بعض نبی ایسے گزرے جن کے ہمراہ ایک امتی بھی نہیں تھا۔
حضرت نوحm کا واقعہ معلوم کر کے اور ان حدیثوں کے مضمون میں غور کر کے مسلمانوں کو عبرت پکڑنا چاہئے کہ بہت سے خدا کے پیارے اس کے سچے رسول جو دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ان کی سینکڑوں برس کی محنت اور مشقت کا نتیجہ کیا ہوا۔ حضرت نوحm کچھ کم ایک ہزار برس تک خلق کو ہدایت کرتے رہے اور ان کے ہاتھوں سے ہر قسم کی تکلیفیں اٹھائیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آٹھ دس یا ستر، اسی شخص ایمان لائے اور بعض کی محنت کا نتیجہ یہ کہ دو ایک شخص مسلمان ہوئے اور بعض برگزیدہ ایسے ہوئے کہ ان کی برسوں کی محنت دنیا کی نظر میں بیکار ہی گئی۔
اس وقت کے مرزائیوں کی طرح اس وقت کے منکرین ان انبیاء سے کیسا مضحکہ کرتے ہوں گے؟ کہ یہ حضرات اس قدر غل مچارہے ہیں۔ مگر کوئی نہیں سنتا۔ پھر کیا قادیانی حضرات ان انبیاء کے الہام کو غلط بتائیں گے۔ ذرا ہوش کر کے جواب دیں۔
الغرض! سچے مسلمانوں کو مجھے یہ دکھانا ہے کہ خدا کے برگزیدہ حضرات پر دنیا میں کیسے کیسے معاملے گزرے ہیں اور ہر قسم کی دینوی انہیں ناکامی ہوئی ہے۔ حضرت یحییٰm کی تمام گزران کو دیکھو کہ کس تنگی سے ان کی عمر بسر ہوئی اور انجام کار دشمن کے ہاتھ سے شہید کر دئیے گئے۔ یہ ان کے عشق الٰہی کو کمال مرتبہ تک پہنچا کر عاشقوں کو دکھانا تھا۔ حضرت ایوبm کی مصیبتوں پر نظر کرو کہ خوشحالی کے بعد اٹھارہ برس تک کیسی مصیبتوں کو برداشت کیا اور دم نہیں مارا۔ یہ ان کی محبت کا امتحان اور گزشتہ مدتوں راحت میں رہنے کا کفارہ تھا اور جن انبیاء کی ہدایت کا نتیجہ کچھ نہ ہوا یا بہت ہی کم ہوا۔ یہاں یہ دکھانا تھا کہ دنیادار الابتلاء ہے۔ یہاں بعض جھوٹے مفتری علی اللہ دنیا میں بہت کچھ کامیاب ہوئے اور ہوتے ہیں۔ اس لئے نہایت عبرت کا مقام ہے۔ یہاں بہت سے ذی علم بھی بہک جاتے ہیں۔ ہمارے بھائی اس بیان سے یقینی طور سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ دنیا میں کسی قسم کی کامیابی صداقت اور برگزیدہ خدا ہونے کی معیار نہیں ہے۔ اس سے آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا اور ان کے مریدوں کا دنیاوی کامیابی کو اپنی صداقت میں پیش کرنا ان کی عظیم الشان غلطی ہے۔ اوّل تو وہ یہی بتائیں کہ انہیں دنیاوی کامیابی کیا ہوئی۔ جس قدر انہوں نے
اپنی شہرت اور اپنی خودستائی میں محنت کی ہے اور کاغذی گھوڑے دوڑائے ہیں اس کے مقابلہ میں انہیں کچھ بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ اس زمانے میں بعض بعض تاجر اپنے اشتہاروں کے ذریعہ سے لکھ پتی، کروڑ پتی ہوگئے۔ مرزاقادیانی کی خود ستائی اور مدح سرائی کا صرف اس قدر نتیجہ سنا جاتا ہے کہ عمدہ کھانے کو اور مشک وزعفران استعمال کرنے کو ملے اور کچھ زمین ہاتھ آگئی اور کچھ مکانات بھی بن گئے۔ پھر یہ تو ان تاجروں کے مثل بھی کامیابی نہ ہوئی جو جھوٹے اشتہاروں سے کمالیتے ہیں۔ باقی رہا مریدوں کازیادہ ہونا محض زبانی دعویٰ ہے۔ پہلے لوگوں کو جانے دیجئے۔ اس وقت کے لحاظ سے کہتا ہوں کہ ایک حاجی وارث علی صاحب تھے۔ باوجودیکہ انہوں نے اپنی مدح سرائی میں ایک اشتہار بھی نہیں دیا۔ مگر لاکھوں مریدان کے ہوگئے۔ اسی طرح اور بھی حضرات ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کارخانہ الٰہی اور دنیا کی حالت میں غور نہیں کیا اور اس کے واقعات پر نظر نہیں ڈالی کہ کیسے کیسے لوگ کامیاب ہوتے ہیں یا جان کر مخلوق کو دھوکا دیا اور دے رہے ہیں۔ کیونکہ ناواقف اور عوام کے خیال میں دنیا کی کامیابی صداقت کی دلیل ہوسکتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے مسلمان بہک گئے۔ اب میں دنیا کا مقام ابتلاء اور محل امتحان ہونا کلام خدا اور اقوال واحوال حضرت سرور انبیاءk سے مختصراً بیان کرتا ہوں۔ خوب متوجہ ہوکر ملاحظہ کرنا چاہئے۔
حضرت سرور انبیاءk کی گزران کا نمونہ دیکھا جائے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم ج۲ ص۴۰۹، فصل فی صبر علی قلۃ مایجد ودخول الفقرا المہاجرین الجنۃ) میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہt سے روایت ہے:’’ماشبع اٰل محمد من خبز الشعیر یومین متتابعین حتی قبض رسول اﷲa‘‘کہ رسول اﷲa کے اہل وعیال نے آپa کی وفات تک دو دن برابر جوکی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔
بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ جناب رسول اﷲa نے تمام عمر کبھی جوکی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔
ایک اور حدیث متفق علیہ ہے:’’عن عمرq قال دخلت علٰی رسول اﷲa فاذا ہو مضطجع علی رومال حصیر۔ الخ! متفق علیہ‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح ص۴۴۷، باب فصل الفقراء وماکان من عیش النبیa)
حضرت عمرq فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲa کے پاس حاضر ہوا۔ آپa چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ اس پر بچھونا نہ تھا۔ اس وجہ سے آپa کے دونوں جانب چٹائی کے نشان پڑ گئے تھے اور چمڑے کے تکیہ پر ٹیک لگائی تھی۔ اس تکیہ میں میں کھجور کا چھلکا بھرا تھا۔ (حضرت عمرq فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲa! اللہ سے دعا کیجئے کہ آپa کی امت سے تنگی دور ہو، فراخی ہو، فارس اور روم کیسے خوشحال ہیں۔ باوجودیکہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ جناب رسول اﷲa نے فرمایا۔ اے عمرq! تم اس خیال میں ہو۔ (یعنی جو اللہ کی عبادت کریں وہ دنیا میں خوشحال رہیں اور جو اس کی عبادت نہ کریں وہ خوشحال نہ رہیں) ایسا خیال نہیں چاہئے کیونکہ ان کی کمائی یا مقررہ عیش وآرام دنیا ہی میں دے دیا گیا۔ آخرت میں سوائے تکلیف کے کچھ ان کے لئے نہیں ہے۔
دوسری روایت میں آنحضرتa کا ارشاد اس طرح ہے کہ کیا تم اس میں خوش نہیں ہو کہ انہیں دنیا ملی اور ہمیں آخرت، ان حدیثوں سے آپa کی تنگی گزران کا نمونہ معلوم ہوا۔ مگر دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی گزران آپa نے بخوشی منظور کی تھی اور اللہ سے ایسی ہی گزران کی آپa خواہش کرتے تھے۔ چنانچہ متفق علیہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں۔ ’’اللہم اجعل رزق اٰل محمد قوتا‘‘
(ابن ماجہ ص۳۰۵، باب القناعۃ مسلم ج۲ ص۴۰۸، فصل فی صبر قلۃ)
’’یعنی اے اﷲ! محمدa کے اہل وعیال کو بقدر قوت لایموت کے روزی عنایت فرما۔‘‘
دنیا کی گزران میں اس قدر تنگی اختیارکرنا حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اگرچہ بے دین نافہم اسے نہ سمجھیں اور طعنہ کریں۔ تنگی اختیار کرنے کی مصلحتیں پوری طور پر تو خدا اور اس کا رسول ہی جانتا ہے۔ مگر یہ نہایت ظاہر ہے کہ اس حالت میں رہنا غربائے امت کی کمال دل دہی ہے۔ کیونکہ جب وہ سردار دو جہاںa کی یہ حالت معلوم کریں گے تو اپنی غربت کو بھول جائیں گے اور خوشی کے مارے پھولے نہ سمائیں گے۔ اس کے علاوہ اللہ کے نزدیک دنیا نہایت بے حقیقت چیز ہے بلکہ ملعون اور مردود ہے۔ اس لئے اللہ والے اسے کبھی پسندنہیں کرتے۔ مگر کسی وقت کسی مصلحت سے اﷲتعالیٰ انہیں دیتا ہے۔ ایک حدیث میں رسول اﷲa کا ارشاد ہے:’’لوکانت الدنیا تعدل عند اﷲ جناح بعوضۃ
ماسقی کافر منہا شربۃ‘‘
(ابن ماجہ ص۳۰۲، باب مثل الدنیا، ترمذی ج۲ ص۵۶، باب ماجاء فی ہوان الدنیا علی اﷲ)
کہ اللہ کے نزدیک دنیا کی حقیقت اگر مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی دنیا میں نہ ملتا۔
دوسری حدیث ملاحظہ ہو۔ رسول اﷲa فرماتے ہیں:’’الاان الدنیا ملعونۃ وملعون مافیہا الاذکر اﷲ وما والاہ وعالم اومتعلم‘‘
(ترمذی ج۲ ص۵۸، باب ماجاء فی ہوان الدنیا علی اﷲ، ابن ماجہ ص۳۰۲،۳۰۳، باب مثل الدنیا)
کہ خبردار ہو جاؤ دنیا پر اللہ کی لعنت ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب پر خدا کی پھٹکار ہے۔ البتہ دنیا میں اللہ کی یاد اور وہ اعمال صالحہ جنہیں اللہ پسند کرے اور علم دین کے جاننے والے ہوں۔ سیکھنے والے یہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
ان دونوں حدیثوں پر غور کیا جائے۔ پہلی حدیث سے اﷲتعالیٰ کے نزدیک دنیا کا نہایت بے حقیقت ہونا اور دوسری حدیث سے اس کا ملعون ومردود ہونا ظاہر ہورہا ہے۔ پھر برگزیدگان خدا جو اس ذات پاک کے عاشق ہیں اور نہایت عالی خیال بلند حوصلہ ہیں۔ وہ ایسی بے حقیقت چیز کو کیونکر پسند کرسکتے ہیں اور پھر یہ کہ وہ شئے اس ذات مقدس کے ایسی ناپسند ہوکہ اس نے اس پر لعنت بھیجی ہو۔ وہ کبھی اس کو پسند نہیں کرسکتے۔ پسند کیا اس طرف توجہ کرنا بھی انہیں ناگوار ہوگا۔ قرآن مجید میں بھی دنیا کی حقارت بہت آئی ہے۔ مگر اﷲتعالیٰ نے اپنی کسی مصلحت اور دینی فائدے کے لئے اپنے کسی برگزیدہ کو بھی دنیا کا مال ومتاع دیا۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دنیا کی کامیابی صداقت کی دلیل ہے یا اس بے حقیقت کامیابی کو فلاح کہہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
اب ہم قرآن شریف کی آیت پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ دنیا میں عزت وآبرو کا ہونا، مال ودولت کا ملناخدا کی خوشنودی اور صاحب مال کی صداقت فلاح کی دلیل نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’فاما الانسان اذاما بتلہ ربہ فاکرمہ ونعمہ فیقول ربی اکرمن واما اذا ما ابتلہ فقدر علیہ رزقہ فیقول ربی اہانن (الفجر:۱۵،۱۶)‘‘
پروردگار جب انسان کی اس طرح آزمائش کرتا ہے کہ اس کو عزت ونعمت دیتا ہے تو بندہ اپنے دل میں خوش ہوکر یا گھمنڈ کر کے کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری عزت کی اور جب پروردگار اس طرح آزماتا ہے کہ اس کی روزی اس پر تنگ کرتا ہے تو بندہ تنگ دل ہوکر کہتاہے کہ میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا۔
اس آیت سے ظاہر ہوا کہ فراخی اور تنگی دونوں صدق یا کذب کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ دونوں کسی وقت صرف امتحان کی غرض سے ہوتے ہیں اور امتحان مسلمان اور کافر دونوں کا ہوتا ہے۔ کسی کا مال ودولت، عزت وجاہ کے ساتھ ’’انما اموالکم واولادکم فتنۃ‘‘ ارشاد خداوندی ہے۔ کسی کا فقرواحتیاج کے ساتھ کسی وقت مسلمان بھی مال ودولت سے بہک جاتا ہے اور کسی وقت فقرواحتیاج سے کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ’’کادالفقران یکون کفرا‘‘ اور کافر تو بہکتا ہی ہے۔ البتہ دنیا کی کامیابی اکثر کفار ہی کے حصہ میں رہی ہے۔ اس کی حکمت بالغہ تو وہی حکیم مطلق جانتا ہے مگر ہماری عقل کی رسائی جہاں تک ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت مال ودولت کی ترقی اور اس کی حفاظت میں وہ ایسا پریشان وسرگرداں رہتا ہے اور بہت لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مال اس کے لئے وبال ہوتا ہے اور دنیا ہی میں ایک صورت عذاب کی اس کے لئے ہوتی ہے۔ اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی صاف طور سے موجود ہے۔ سورۂ الفجر ملاحظہ ہو کسی وقت میں منکر کے اعمال حسنہ کا بدلہ اسے دیا جاتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا: ’’اعطیت لہم طیباتہم‘‘ یہ ایک ضمنی بات تھی اصل مدعا یہ تھا کہ دنیا کی کامیابی کو فلاح نہیں کہہ سکتے۔ اس کا ثبوت تین دلیلوں سے دیاگیا۔ ان میں ہر ایک دلیل نہایت روشن اور ایسی قوی ہے کہ کسی فہمیدہ حق پسند کو اس کے ماننے میں تأمل نہیں ہوسکتا۔
پہلی دلیل: بعض کفار اور مفتری علی اللہ جن کا ذکر شروع رسالہ میں کیاگیا۔ ان کے حالات سے ظاہر ہے کہ باوجود مفتری علی اللہ ہونے کے ایسے کامیاب ہوئے کہ دنیا میں اس سے زیادہ کامیابی اور فلاح نہیں ہوسکتی۔ اس سے بالیقین ثابت ہوا کہ اﷲتعالیٰ نے جس فلاح کو ایمانداروں سے مخصوص کیا ہے۔ وہ دنیا کی کامیابی نہیں ہے۔ اب مرزاقادیانی کی کامیابی کو دکھا کر ان کی صداقت ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسا فرعون اور صالح وغیرہ کا معتقدان کی کامیابی دکھا کر ان کی صداقت ثابت کرے۔
دوسری دلیل: بعض انبیائے کرام کی دنیاوی حالت دکھائی گئی۔ اس سے بھی بخوبی واضح ہوا کہ جس فلاح کی بشارت ایمانداروں سے مخصوص ہے وہ دنیا کی کامیابی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ان انبیاؤں کی دنیا میں یہ حالت ہرگز نہ ہوتی جو اس رسالہ میں دکھائی گئی ہے۔
تیسری دلیل: تین حدیثیں پیش کی گئیں جن سے پوری تصدیق ہوگئی کہ دنیا ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کی کامیابی کو اﷲتعالیٰ فلاح کہے اس سے اظہر من الشمس ہوا کہ جو فلاح ایمانداروں کے لئے مخصوص ہے اور منکرین اور مفتری اس سے محروم ہیں وہ عالم آخرت کی فلاح ہے جہاں انسان کے لئے دائمی راحت یا ہمیشہ کی تکلیف ہے۔ یہ بھی حدیث سے ثابت کردیاگیا کہ بہت سے لوگوں کا مطیع ہوجانا بھی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ بعض انبیاء ایسے گزرے ہیں کہ ان کا ایک بھی امتی نہیں ہوا اور بعض کے دو ایک ہوئے جو مثل نہ ہونے کے ہے۔ اب اگر مریدوں کی کثرت کو صداقت کا معیار قرار دیا جائے گا تو بہت سے انبیاء کی نبوت سے انکار کرنا ہوگا۔ حضرت نوحm کو ملاحظہ کیجئے کہ ابوالانبیاء ہیں۔ مگر ساڑھے نو سوبرس کی کوشش میں آٹھ دس یا ۷۰،۸۰اشخاص ان پر ایمان لائے تھے۔
حضرت سرور انبیاءk کی امت کا زیادہ ہونا اور حضورa کا ارشاد فرمایا:’’انی اباہی بکم الامم‘‘ ایک خاص فضیلت آنحضرتa کی ہے۔ اسے صداقت کامعیار ٹھہرانا جاہلانہ خیال ہے۔ البتہ وہ مدعی نبوت جسے بہت سے انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ ہو اس کی وجہ سے کوئی جہنمی جنت کا مستحق نہ ہو اور کروڑوں جنتی جو جنت کے مستحق ہوچکے تھے وہ جہنم کے مستحق ہو جائیں۔ اس کے جھوٹے ہونے میں کوئی عقل سلیم تأمل نہیں کرسکتی۔ اب یہاں نہایت غور کے قابل یہ امر جو کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو حضور سرور انبیاءa کا ظل کہتے ہیں اور جس طرح حضورa کی بعثت عام تھی۔ اسی طرح مرزاقادیانی اپنی بعثت کو عام کہتے ہیں یعنی ان کا یہ دعویٰ ہے کہ میں تمام خلق کے لئے مبعوث ہوا ہوں میرے ماننے پر نجات موقوف ہے۔
(رسالہ دعویٰ نبوت)
اور ’’صلیب پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے آیا ہوں۔‘‘
(اخبار بدر قادیان ج۲ نمبر۲۹ ص۴تا۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء)
مگر اب کامل غور اور انصاف پسندی سے اس دعویٰ کو ملحوظ خاطر رکھ کر دیکھا جائے کہ مرزاقادیانی نے کیا کہا اور ان کے بعثت کا نتیجہ کیا ہوا۔ ساری دنیا دیکھ چکی کہ غالباً پچیس برس تک انہوں نے بہت کچھ غل مچایا اور اپنی شہرت اور خلق کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ اشتہاروں، اور رسالوں اور خطوط کی انتہاء کر دی۔ بایں ہمہ ان کی ذات سے کوئی جہنم کا مستحق جنتی نہیں ہوا۔ یعنی کوئی ممتاز عیسائی، کوئی آریہ، کوئی بت پرست، کوئی یہود، مسلمان نہ ہوا اور تیس چالیس کروڑ مسلمان جو مردم شماری کے لحاظ سے دنیا میں کہے جاتے ہیں جنہیں مرزاقادیانی بھی اپنے اس دعویٰ کے قبل مسلمان اور جنت کا مستحق کہتے تھے اور متعدد رسالوں میں لکھ چکے تھے کہ کوئی اہل قبلہ کافر نہیں ہے۔ آخر میں انہیں کی نسبت کہا کہ جس نے مجھے نہیں مانا وہ ویسا ہی کافر ہے جیسا خدااور رسول کو نہ ماننے والا۔ غرضیکہ ان کا آخری قول یہی ہے کہ جنہوں نے مجھے نہیں مانا وہ سب کافر ہوکر جہنم کے مستحق ہوگئے۔
مرزاقادیانی کے اقوال دعویٰ نبوت مرزا میں نقل ہوچکے ہیں۔ ان کے بیٹے جواب ان کے دوسرے خلیفہ ہوئے ہیں وہ اپنے رسالہ (تشہیذ الاذہان ج۶ نمبر۴ ص۱۲۲، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء) میں تحریر فرماتے ہیں۔ ان کا قول یہ ہے: ’’جب تبت اور سوئٹزرلینڈ کے باشندے رسول اللہ کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود کو نہ ماننے سے کیونکر مومن ٹھہرسکتے ہیں… (الی ان قال) جب حضرت (مرزاقادیانی) کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا۔ (یعنی مرزاقادیانی)‘‘
برادران اسلام! ملاحظہ کریں کہ مرزاقادیانی کے خلیفہ اور فرزندارجمند تمام ہندوستان بلکہ ساری دنیا کے غیرقادیانی مسلمان کو کس صراحت سے کافر بتاتے ہیں اور مرزاقادیانی کی بعثت کا بھی فائدہ بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے غیرقادیانی مسلمان مسلمان نہ رہے۔ یعنی مرزاقادیانی اسی لئے بھیجے گئے تھے کہ مسلمانوں سے دنیا کو خالی کر دیں۔
حاصل یہ کہ جنہوں نے نہیں مانا انہیں تو مرزاقادیانی نے جہنم کا مستحق کردیا اور جنہوں نے مانا وہ تو پہلے سے مسلمان اور جنت کے مستحق تھے۔ خود مرزاقادیانی کے قول سے مرزاقادیانی کی وجہ سے کوئی نئی بات نہیں ہوئی۔ اس لئے ان کی بعثت کا نتیجہ یہی ہوا کہ بجز معدودے چند مسلمانوں کے ساری دنیا کے مسلمان کافر ہوگئے اور دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے خاندانی ثروت وعزت جو زمینداری کے جاتے رہنے کی وجہ سے چلی گئی تھی یا اس میں بہت
کچھ کمی ہوگئی تھی۔ وہ دنیاوی عزت وثروت انہیں اور ان کی خاص اولاد کو مل گئی۔ بلکہ شہرت اور ثروت اس سے بہت زیادہ ہوگئی۔
اب برادران اسلام اس پر غور کریں کہ مرزاقادیانی کی وجہ سے مسلمانوں کو اور اسلام کو کس قدر مضرت ہوئی کہ اسلام دنیا سے گویا مفقود ہوگیا اور ۳۰،۴۰کروڑ مسلمان جو جنت کے مستحق تھے وہ جہنمی ہوگئے۔ جناب رسول اﷲa کے وقت میں آپa کی ذات مبارک سے غالباً دو لاکھ یا کچھ کم وبیش مسلمان ہوئے تھے۔ یعنی یہ تعداد جو قطعاً جہنم کی مستحق ہوچکی تھی۔ وہ جنتی ہوگئی اور کوئی جنت کا مستحق جہنمی نہیں ہوا۔ کیونکہ اس وقت عرب میں تین گروہ تھے، یہود، نصاریٰ، مشرکین ان میں سے کوئی مسلمان نہ تھا۔ کیونکہ یہود حضرت عیسیٰm کے انکار سے اور نصاریٰ تثلیث پرستی اور مشرکین بت پرستی سے کافر تھے۔ غرضیکہ آپa کے دعویٰ کے وقت میں کوئی جنت کا مستحق نہ تھا۔ اس لئے جس قدر مشرکین یہودونصاریٰ جناب رسول اﷲa پر ایمان لائے وہ وہی تھے جو پہلے جہنم کے مستحق ہوچکے تھے اور ایمان لانے کی وجہ سے جہنم سے علیحدہ ہوکر جنت کے مستحق ہوئے۔ یہ اسلامی جماعت ایسی عالی ہمت وجاں نثار اسلام ہوئی کہ بہت جلد دنیا میں اسلام کو پھیلا دیا اور کروڑوں جہنم کے جانے والوں کو جنت کا مستحق بنادیا۔ مرزاقادیانی کی حالت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یعنی ان اقرار کے بموجب تیئس کروڑ اور واقعی مردم شماری کے لحاظ سے ۳۰،۴۰کروڑ مسلمان مستحق جنت تھے۔ مرزاقادیانی نے انہیں میں سے بہت تھوڑی جماعت کو علیحدہ کر کے باقی سب کو جہنم میں دھکیل دیا۔ کس قدر حیرت خیز معاملہ ہے کہ ایسے شخص کو خاتم النّبیین، رحمت اللعالمین کا ظل مانا جاتا ہے اور اس پر مزید یہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنے الہام کی رو سے اپنے آپ کو رحمۃ اللعالمین بھی کہتے ہیں۔ یہ عجیب رحمت ہے جس کی وجہ سے کروڑوں مستحق جنت، جہنمی ہوگئے اور جنتی ایک بھی نہ ہوا۔ بایں ہمہ ماننے والے انہیں رحمت مان رہے ہیں اور باعث نجات جانتے ہیں۔ دوچار صلیب پرستوں کو بھی مسلمان نہیں بنایا۔ مگر ان کے ماننے والوں نے مان لیا کہ مرزاقادیانی نے صلیب پرستی کا ستون توڑ دیا۔ مرزاپرستی کا جب یہ اثر ہے تو ان کے سمجھنے اور راہ راست پر آنے کی کیا امید ہوسکتی ہے۔ مگر اﷲتعالیٰ کو سب قدرت ہے۔
عالم کے واقعات سے تو اظہر من الشمس ہوگیا اور ہورہا ہے کہ تمام کفار اور خاص خدا پر افتراء کرنے والے اور وحی والہام کے مدعی دنیا میں بہت کچھ کامیاب رہ چکے ہیں اور ان کے فلاح نہ پانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا میں وہ ذلیل ورسوا ہوں گے۔ اب بعض آیات قرآنیہ سے بھی ثابت کیا جاتا ہے کہ ہر قسم کے مفتری اور مکذب کی سزا کا وقت موت کے بعد ہے اور کامل سزا کا زمانہ عالم آخرت ہے۔ دنیا اس کا وقت نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ مفتری دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے۔ محض غلط ہے۔ واقعات عالم اور نصوص قرآنیہ دونوں اسے غلط بتارہے ہیں۔
پہلی آیت اس کو معہ تفسیر علامہ نووی اور ترجمہ کے نقل کیا جاتا ہے: ’’فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا وکذب بآیتہٖ اولئک ینالہم (فی الدنیا) نصیبہم من الکتاب (ای مما کتب لہم من الارزاق والاعمار) حتّٰی اذا جاء تہم رسلنا (ای ملک الموت واعو انہ) یتوفونہم (ای حال کونہم قابضین ارواحہم) قالوا (لہم) اینما کنتم تدعون من دون اﷲ قالوا ضلوا (ای غابوا) عنا وشہدوا علٰی انفسہم انہم کانو کٰفرین قل (تعالٰی یوم القیمۃ) ادخلوا فی امم قدخلت من قبلکم من الجن والانس فی النار (ای ادخلوا فی النار فیما بین الامم الکٰفرین)‘‘
اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء کرے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلاوے۔ ان دونوں گروہ کا حصہ جو روزازل میں مقرر ہوچکا ہے، یا لوح محفوظ میں لکھاجاچکا ہے۔ یعنی ان کی روزی ان کی مقرر کردہ عمر وہ انہیں دنیا میں ملے گی اور اس وقت تک ملے گی جس وقت ملک الموت اور اس کے مددگار اس کی جان قبض کرنے کو آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ یہ جواب دیں گے کہ وہ تو ہم سے پوشیدہ ہوگئے اور اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ پھر قیامت کے دن اﷲتعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم سے پہلے جو کفار جہنم میں جاچکے ہیں۔ انہیں کے پاس تم بھی جہنم میں جاؤ۔
(سورۂ اعراف:۳۷،۳۸، مراح البید ج۱ ص۲۷۸)
(تفسیر روح المعانی ج۸ ص۱۰۰) میں جملہ ’’اولئک ینالہم نصیبہم من
الکتاب‘‘کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:’’ای مما کتب لہم وقدر من الارزاق والاجال مع ظلمہم وافترائہم لایجرمون ماقدر لہم من ذلک الی انقضاء اجلہم فالکتاب بمعنی المکتوب‘‘ ان مفتریوں اور مکذبوں کے لئے جس قدر رزق ان کا مقدر ہوچکا ہے اور ان کی عمر کی مدت مقرر ہوچکی ہے وہ انہیں ضرور ملے گی۔ یہ دونوں گروہ اپنے ظلم اور افتراء کی وجہ سے اس سے محروم نہ رہیں گے۔
جن کو اﷲتعالیٰ نے علم کے ساتھ عقل وفہم بھی عنایت کی ہے وہ اس آیت سے کئی باتوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
اوّل: یہ آیت کسی اصل مفتری یا مکذب کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ عام ہے اس آیت کے جملہ ’’من افتریٰ‘‘ میں جو لفظ ’’من‘‘ ہے وہ عموم پر دلالت کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں ہر قسم کے مفتری کا حکم بیان کیاگیا ہے اور آیت کا ماسبق بھی اس عموم کا شاہد ہے۔
دوم: ہر قسم کا افتراء کرنے والا اور اس کی آیتوں سے انکار کرنے والا ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی حکم میں ہے۔ ان دونوں کے لئے نہ دنیا میں کوئی فرق ہے نہ آخرت میں۔
سوم: ان کی افتراء پردازی اور تکذیب کی وجہ سے دنیا میں ان دونوں گروہوں کی مقدار راحت وآرام اور معینہ رزق اور مقررہ عمر میں کچھ کمی نہیں ہوتی۔ اگر اس کا رزق بہت وسعت اور آرام وراحت کے ساتھ لکھا گیا ہے وہ اسے ضرور پہنچے گا اور جس قدر ان کے عمر کے ایام زیادہ یا کم مقرر ہوچکے ہیں ان ایام کو وہ ضرور پورا کرے گا۔ ان میں کمی نہیں ہوسکتی۔ اس مدعا کا ثبوت قرآن مجید کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ مگر میں نے پانچ تفسیروں کے حوالے بھی دے دئیے ہیں۔ جن سے ان کا ثبوت ظاہر ہورہا ہے۔ اب دیکھا جائے کہ اس آیت سے مرزاقادیانی کے کتنے اقوال غلط ہوگئے۔ ان کا یہ کہنا کہ مفتری دست بدست سزا پالیتا ہے۔ خدا کی آتش غضب اسے جلد ہلاک کرتی ہے۔ کیسا غلط اور خدا پر افتراء ثابت ہوا۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر وغیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۴۹، خزائن ج۱۱ ص۴۹)
دوسری آیت (فیصلہ آسمانی حصہ دوم ص۵۹) میں بھی لکھی گئی ہے۔ اس میں اس کی تفصیل دیکھنا چاہئے۔ یہاں اس آیت کے خاص مضمون کا ذکر کیاجائے گا۔
اﷲتعالیٰ فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے خدا پر افتراء کیا یا یہ کہا کہ مجھ پر وحی کی گئی۔ حالانکہ اس پر کچھ وحی نہیں کی گئی۔ (محض جھوٹا دعویٰ وحی کرتا ہے) یا کوئی اپنے کمال کے غرور پر یہ کہے کہ جیسی باتیں خدا کی طرف سے اس رسول پر اتری ہیں ایسی ہم بھی اپنی طرف سے اتار سکتے ہیں۔ یعنی اپنے ذہن اور دماغی قوت سے بیان کرسکتے ہیں۔ ان تینوں گروہوں کو بڑا ظالم فرماکر ظالموں کی حالت اﷲتعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ اے مخاطب! اگر تو ان ظالموں کی حالت کو دیکھے تو تیرا عجب حال ہو کہ موت کی بیہوشی میں پڑے ہیں۔ (جانکنی ہورہی ہے) اور فرشتے جان نکالنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اپنی جانیں نکالو۔ (اب تک تو تم نے چین کیا، یا جس طرح رہے مگر) اب تمہارے کئے کا بدلہ تم پر عذاب کیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے تم ذلیل ورسوا ہو گے۔ یہ عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ تم خدا پر افتراء کرتے تھے اور جھوٹی بات اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ آیت کا پورا ترجمہ اور مطلب فیصلہ آسمانی میں بیان کیاگیا ہے۔
یہاں آیت کا مطلب معلوم کرنے کے بعد اس پر نظر کرنا چاہئے کہ اس آیت کے نازل کرنے سے اصل مقصود کیا ہے۔ اس کو فہمیدہ حضرات خوب سمجھ سکتے ہیں کہ اصل مقصود اس آیت میں مفتری علی اللہ کی حالت بیان کرنا ہے۔ وہ حالت یہ ہے کہ ایسا شخص بہت بڑا ظالم ہے۔ اس سے زیادہ کوئی ظالم نہیں ہوسکتا اور اس ظالم کی سزا کا وقت اس کے مرنے کے بعد ہے۔ اس کی حالت سے ہر ایک مخاطب کو عبرت پکڑنا اور خوف کرنا چاہئے۔ غرضیکہ اس آیت میں چار باتوں کا بیان کرنا مقصود ہے۔ ایک یہ کہ مفتری علی اللہ بہت بڑا ظالم ہے۔ دوسرے یہ کہ جانکنی کے وقت اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ ظاہر میں کسی کو اس کا نمونہ معلوم ہو
ناظرین! آیت کے صریح الفاظ نہایت صفائی سے شہادت دے رہے ہیں کہ اس میں ہر قسم کے مفتری کی حالت کو بیان کیا ہے۔ مفتری کی کوئی قسم اس سے مستثنیٰ نہیں ہے اور بالخصوص وہ مفتری جو جھوٹی وحی کا دعویٰ کرے۔ اس کا ذکر مکرر اور نہایت وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ ملاحظہ کیا جائے۔ پہلے ارشاد ہوا: ’’ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً‘‘جن کو عربی میں متوسط درجہ کا علم ہے وہ بھی جانتے ہیں کہ لفظ من الفاظ عموم میں ہے۔ جس جملہ پر یہ لفظ آئے گا معنی کے اعتبار سے اس صفت میں جتنے شریک ہوں گے سب کو شامل ہوگا۔ اس لئے ’’ممن افتریٰ علی اللہ کذباً‘‘ ہر اس شخص کو کہیں گے جو اللہ پر افتراء کرے، اب وہ افتراء کسی قسم کا ہو، اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہوسکتی۔ اس عام بیان میں وہ مفتری بھی شامل ہے جو وحی الٰہی کا مدعی ہو… اور کسی رسالہ یا کتاب کے نزول کا جھوٹا دعویٰ کرے۔ اس کے بعد اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے۔’’اوقال اوحی الیّ ولم یوحٰی الیہ شیٔ‘‘ پہلے ارشاد ہوا تھا کہ جس نے افتراء کیا اس کے بعد ارشاد ہوا کہ جس نے یہ کہا کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے۔ حالانکہ اﷲتعالیٰ نے اس پر کوئی وحی نہیں کی یہ دونوں گروہ بڑے ظالم ہیں۔یہاں صاحب علم پر یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ جس طرح پہلے جملے میں عموم ہے اور ہر قسم کے مفتری اس سے سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس جملے کا مضمون بھی عام ہے۔اس کی وجہ
یہ ہے کہ جس طرح من افتریٰ آیا ہے اور اس وجہ سے اس جملہ کا مضمون بھی عام ہوگیا۔ اسی طرح عطف کی وجہ سے قال پر من آیا اور اس نے اس جملہ کے مضمون کو عام کر دیا اور ہر ایسے شخص کا ذکر ہے جو جھوٹی وحی کا دعویٰ کرے۔ اب اس میں وہ کوئی رسالہ یا کتاب پیش کرے یا چند جملے پیش کر کے کہے کہ یہ مجھ پر وحی کئے گئے۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ایسا جھوٹا دعویٰ کرنا بھی دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی وجہ سے کسی امر کی خواہش میں اسے غلبہ ہوا اور پختہ خیال ہوگیا کہ ایسا ہوگا اور اس پختہ خیال کو یہ وحی الٰہی سمجھا۔ دوسرے یہ کہ بغیر ایسے خیال کے یونہی اپنی بزرگی جتانے کو ایسا دعویٰ کردیا۔ مگر یہ دونوں اللہ کے نزدیک مفتری ہیں۔ بعض کم علم حضرات کو یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ جب یہ گروہ بھی مفتری ہے تو پہلے جملہ میں اس کا بیان ہولیا۔ اس کے بعد اسے علیحدہ بیان کرنا بیکار ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک اس گروہ کابیان بھی پہلے جملہ میں ہوچکا ہے۔ مگر اہل علم اس کو خوب سمجھتے ہیں کہ بعض وقت ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ پہلے ایک حکم کو بطور عموم بیان کیا جائے۔ پھر اسی بات کو کسی خاص گروہ یا خاص شخص کے لئے بیان کیا جائے۔ اس کو تخصیص بعد تعمیم کہتے ہیں۔ اس طرز بیان سے اس کا اظہار منظور ہوتا ہے کہ اس وقت اس گروہ یا اس شخص کی طرف توجہ زیادہ ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کی مذمت یا تعریف مدنظر ہے۔
الحاصل! اس آیت میں ایسے جھوٹے کی حالت بیان کرنا زیادہ مدنظر ہے جو وحی کا جھوٹا دعویٰ کرے اور دعویٰ کرنے کا کوئی وقت بیان نہیں کیا اور نہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ آیت میں جرم کابیان ہے وہ جرم افتراء کرنا ہے۔ اس کے بعد اس کی سزا کا بیان ہے۔ پھر اس کے لئے وقت کی تعیین نہیں ہوسکتی۔ حاکم نے جب کسی جرم کی سزا مقرر کر دی۔ وہ سزا جرم کے بعد ہر وقت ہوگی۔ اس کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ اب اس جرم کا وقوع جناب رسول اﷲa کے وقت میں ہو یا آپa کے بعد بارہ تیرہ سو برس کے بعد ہو۔ اس آیت میں سب کا بیان ہے۔ جس طرح روزے اور نماز کا حکم ہے کہ اس وقت کے اصحاب پر بھی تھا اور اس کے بعد قیامت تک ہے۔ ایسا ہی جس نیک کام کے لئے وعدہ اور برے کام کے لئے وعید کی گئی ہے وہ اس وقت کے لئے بھی تھی اور قیامت تک کے انسانوں کے لئے ہے۔ اہل علم اس کا یقین کرتے ہیں۔ جہلاء کا ذکر نہیں ہے۔
الغرض ان سب گروہوں کی نسبت وہ وعید بیان کی گئی ہے جس کا ذکر اس کے بعد
کی آیت میں ہے اور جو وقت اس وعید کا ہے اسی وقت اس کا ظہورہوگا۔ یعنی مرنے کے بعد دنیا میں اس کا وقت بتانا محض غلط ہے۔ اس آیت میں جس مفتری کو خاص طور سے بیان کیا ہے یہ وہی مفتری ہے جس کی نسبت مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا میں دست بدست سزا پاتا ہے اور یہ غلط اور جھوٹا دعویٰ باربار انہوں نے کتب الٰہیہ کی طرف منسوب کیا ہے۔
اب یہاں یہ بھی معلوم کرنا ضرور ہے کہ قرآن مجید میں اور احادیث میں اکثر احکام یا وعدہ ووعید کا نزول ظاہر میں کسی خاص سبب سے ہوا ہے۔ مگر اس سے یہ سمجھنا کہ یہ حکم یا یہ وعدہ یا وعید اسی سبب سے مخصوص ہے۔ کسی فہمیدہ ذی علم کا کام نہیں ہے بلکہ ہر ایک ذی علم یہی سمجھتا ہے کہ اس وعید یا وعدہ کے نزول کا سبب اگرچہ کوئی شخص ہوا ہے۔ مگر یہ وعید یا وعدہ اس سے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ عام ہے جو شخص جس وقت اس جرم کو کرے گا وہ اس سزا کا مستحق ہوگا۔ اسی طرح وعدہ میں جزا کامستحق ہوگا۔ اب میں اس کی تائید اور تشریح میں بعض تفسیروں کی عبارت نقل کرتا ہوں۔ جس سے ناواقف حضرات اپنے جہل مرکب پر متنبہ ہوں۔ تفسیر فتح البیان کی جلد سوم ص۱۹۲ میں پہلی آیت کا اوّل جملہ لکھا ہے، جو یہ ہے۔
جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا نزول وحی کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ (پھر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں) اس میں شبہ نہیں کہ یہ شان ان جھوٹوں کی ہے جو گمراہوں کے سردار ہیں۔ جیسے مسیلمہ کذاب (اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں عام مفتریوں کا ذکر ہے اور مسیلمہ کذاب کو ان کی مثال میں پیش کیا ہے۔ پھر چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں) کہ اہل علم کہتے ہیں کہ آیت کے اس بیان میں ہر وہ شخص داخل ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے۔ اس زمانہ میں (یعنی رسول اﷲa کے وقت میں) یا اس کے بعد کیونکہ سبب کا خاص ہونا حکم کے عام ہونے کو منع نہیں کرتا۔
قادیانی مؤلف القاء اس تفسیر کو ملاحظہ کریں اور اپنی غلطی پر متنبہ ہوں۔ علامہ طبری اپنی تفسیر (جامع البیان ج۷ ص۲۷۴) میں آیت مذکورہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’فقد دخل فی
ہذہ الایۃ کل من کان مختلقاً علی اللہ کذبا وقائلاً فی ذٰلک الزمان وفی غیرہ اوحی اللہ الی اوہو فی قبلہ کاذب لم یوح اللہ الیہ شیئا فاما التنزیل فانہ جائز ان یکون نزل بسبب بعضہم وجائز ان یکون نزل بسبب جمیعہم‘‘
اس میں شبہ نہیں کہ اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا اور وحی الٰہی کے نزول کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اب یہ دعویٰ جناب رسول اﷲa کے زمانہ میں ہو یا دوسرے وقت میں۔ (یعنی اس میں نہ وقت کی تخصیص ہے نہ کسی مدعی کی اس میں پہلی اور دوسری صدی اور چودھویں صدی سب برابر ہیں) اب رہا آیت کے نازل ہونے کا سبب اس میں ہوسکتا ہے کہ نزول کا سبب بعض جھوٹے ہوں، مثلاً مسیلمہ کذاب اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام جھوٹوں کے لئے آیت کا نزول ہوا۔ اگرچہ اس وقت مسیلمہ کذاب وغیرہ جھوٹے بطور اتفاق موجود تھے۔
علامہ طبری نے نہایت عمدہ فیصلہ کر دیا۔ یعنی یہ فرمایا کہ آیت میں جو حکم جھوٹے مدعی کے لئے بیان ہوا ہے وہ تو ہر طرح عام ہے۔ کسی خاص جھوٹے مدعی سے مخصوص نہیں ہے۔ البتہ آیت کے نزول کا سبب خاص بھی ہوسکتا ہے اور عام بھی ہوسکتا ہے اور جنہوں نے اس کے نزول کا خاص ہی سبب بیان کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت مسیلمہ وغیرہ جھوٹے موجود تھے۔ اس لئے اس وقت بعض حضرات کے خیال میں یہ آیا کہ اسی کی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی۔ غرضیکہ یہ کوئی پختہ بات نہیں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کا سبب مسیلمہ اور عنسی ہی ہیں۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اﷲتعالیٰ کے علم میں اس قسم کے جھوٹے مدعی ہونے والے تھے۔ اس لئے اس نے یہ وعید نازل فرمائی۔ البتہ جس وقت یہ وعید نازل ہوئی اس وقت بعض ایسے جھوٹے موجود تھے اور عقل سلیم جب اس پر غور کرے گی تو اس کو ترجیح دے گی۔ کیونکہ علم الٰہی میں مسیلمہ کے سوا بہت سے جھوٹے مدعی تھے جن کا ظہور اس وقت تک ہوا۔ پھر ان کی حالت کا بیان ہونا قرآن مجید میں ضرور تھا۔ اس لئے آیت مذکورہ میں ان کا بیان ہوا۔ مسیلمہ کی خصوصیت کی وجہ نہیں ہے۔ بجز اس کے کہ نزول کے وقت یہ موجود تھا اور اسی وجہ سے بعض نے اسے نزول کا سبب خیال کیا اور بالفرض اگر نزول کا سبب ہو تو بھی آیت کا حکم اور اس کی وعید اس سے مخصوص کسی طرح نہیں ہوسکتی۔ بعض مفسرین
نے مسیلمہ کو باعث نزول آیت قرار دیا ہے اور بعض نے اسے بطور مثال پیش کیا ہے۔ اس سے آیت کے حکم کو اس سے مخصوص سمجھنا کمال درجہ کی نافہمی ہے۔ مؤلف القاء اس تحقیق میں غور کریں اور اپنی نافہمی اور غلطی پر متأسف ہوں۔ علم اصول فقہ میں یہ مسئلہ مصرح ہے توضیح کا یہ جملہ اہل علم کے زبان پر مشہور ہے۔
یعنی قرآن وحدیث میں لفظ کے عموم کا اعتبار ہے۔ اگرچہ اس کے نزول کا سبب خاص ہو۔ (علامہ تفتازانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ لفظ کے عموم کا اعتبار اس لئے ہے) تمسک اور دلیل تو (قرآن وحدیث کے) الفاظ سے ہوتی ہے اور سبب نزول کا خاص ہونا عموم لفظ کے منافی نہیں ہے۔ (ممکن ہے کہ سبب نزول خاص ہو اور کلام الٰہی کے الفاظ عام ہوں اور اس وجہ سے اس کلام الٰہی کا حکم عام ہو) سبب کا خاص ہونا اس کا مقتضی نہیں ہے کہ کلام الٰہی کا حکم اس سے خاص کر دیا جائے (اور ایسے کلام کے عام رکھنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ) صحابہ اور تابعین وغیرہم سے یہ بات درجہ شہرت کو پہنچ چکی ہے کہ جس کلام الٰہی کے لفظ عام ہیں اور اس کے نزول کا سبب خاص ہے۔ اس سے ان تمام بزرگوں نے عام حکم ثابت کیا ہے۔ خاص اس سبب پر منحصر نہیں رکھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ اجتماعی مسئلہ ہے کہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہے۔ (جیسا کہ مذکورہ آیت میں لفظ من ہے) سب کے خاص ہونے کا لحاظ نہیں ہے۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کلام الٰہی میں کسی حکم کو ایسے لفظ سے بیان کیا ہے کہ اس کے معنی عام ہیں تو بالاتفاق اس سے عام حکم ثابت ہوگا۔ اگرچہ اس کے نزول کا سبب خاص ہو یہ دونوں کتابیں کتب درسیہ میں متوسط درجہ کے طالب علم پڑھتے ہیں۔ پھر کیا مؤلف القاکے مطالعہ میں یہ کتابیں نہیں آئیں۔ اگر ان کتابوں پر ان کی نظر نہ ہو تو نورالانوار ہی کو ملاحظہ کریں۔ اسے تو ادنیٰ مرتبہ کے طلباء پڑھتے ہیں۔ اس میں اس مسئلہ کو متعدد جگہ مختلف طور سے بیان کیا ہے۔ اس کی عبارت لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قادیانی مربی نے پڑھا ہے وہ نکال
کر دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ اگر مرزاقادیانی کی بیعت نے تمام علوم کو اور حقانی باتوں کوان کے سینہ سے محو کر دیا ہے تو اس کا علاج انسانی اختیار سے باہر ہے۔ کیونکہ ’’انک لا تہدی من احببت‘‘ارشاد خداوندی ہے۔
الغرض یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ ان دونوں آیتوں کی وعید تمام مفتریوں کے لئے ہے۔ مفتری کی کوئی قسم اس سے علیحدہ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ جو وعید ان آیتوں میں بیان ہوئی ہے وہ دنیا کی وعید نہیں ہے بلکہ دوسرے عالم کے لئے ہے جس میں انسان مرنے کے بعد جاتا ہے۔ پہلی آیت سے تو اس کا ثبوت ہولیا۔ اب دوسری آیت کو ملاحظہ کیجئے۔
اﷲتعالیٰ نے پہلے تو افتراء پردازوں کو بہت بڑا ظالم ٹھہرا کر اجمالی طور سے ہر قسم کے مفتریوں کو ڈرایا۔ اس کے بعد کسی قدر اس کی تفصیل کے لئے جناب رسول اﷲa سے یا عام مخاطبین سے ارشاد ہوتا ہے۔
(آیت قرآن مع تفسیر بحر محیط ج۴ ص۱۸۱ سورۂ انعام)
اگر ان ظالموں کی حالت موت کے وقت تو دیکھے کہ کس سختی سے ان کی جان نکلتی ہے اور عذاب کے فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور ان کے اظہار عجز کے لئے کہہ رہے ہیں کہ اپنی جانوں کو اپنے جسم سے نکالو یا اس عذاب سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اب تمہاری افتراء پردازی اور ہر قسم کے کفریات کی تمہیں سزا دی جائے گی۔ اب یہاں غور کیا جائے کہ اﷲتعالیٰ نے ان ظالموں کو مفتری کہہ کر انہیں بہت بڑا ظالم فرمایا۔ اس کے بعد اس ظلم کی سزا ذلت کا عذاب قرار دیا اور اس عذاب کی ابتداء موت کے وقت سے بتائی۔ چنانچہ ارشاد ہوا: ’’الیوم تجزون‘‘ یعنی جس وقت فرشتے جان نکال رہے ہیں۔ اس وقت وہ کہتے ہیں کہ اب تمہارے افتراء پردازی کی سزا دی جائے گی۔ یہ ارشاد ایسا ہے کہ دنیا میں
کوئی بدمعاش مدت دراز تک پکڑا نہ جائے اور چین سے بدمعاشی کرتا پھرے اور جب وہ پکڑا جائے اور حاکم کا پیادہ اس کی مشکین کسے اور لات جوتا بھی رسید کرے اور یہ کہے کہ بہت بدمعاشی کرتے رہے۔ اب تمہاری خبر لی جائے گی اور پوری سزا کی جائے گی۔ یہ مشکیں کسی جانا اور کسی قدر جوتے اور لات سے اس کی خبر لینا سزا میں داخل نہیں سمجھا جاتا۔ سزا کا مقام تو جیل ہے۔ اس میں جانے کے وقت سے اس کی سزا کی ابتداء ہے۔ اس سے پیشتر جو کچھ اس کی گت بنائی گئی وہ سزا کی تمہید تھی۔ مجرم انسان کی جان نکالنے کے لئے فرشتوں کا آنا اور اس کی روح کو نکالنا ایسا ہے جیسا کہ دنیوی مجرم کی مشکیں کسی گئیں۔ قرآن مجید کے اس جملہ نے یقینی طور سے ثابت کر دیا کہ مفتری کی سزا کا وقت مرنے کے بعد ہے اور جانکنی کے وقت جو کچھ تکلیف ہے وہ اس کی تمہید ہے۔ جس طرح بدمعاشوں کو جیل میں جانے کے پہلے کچھ مار پیٹ ہو جاتی ہے۔ اس آیت میں مفتری کے دنیاوی گزران کا کچھ ذکر نہیں ہے۔ مگر اس وقت اس آیت کو پہلی آیت سے ملا کر دیکھا جائے تو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں انہیں مفتری علی اللہ کی نسبت ارشاد ہے۔ ’’اولئک ینالہم نصیبہم من الکتاب حتی اذا جاء تہم رسلنا یتوفونہم‘‘ ان مفتریوں کا مقدرہ رزق وغیرہ انہیں پہنچتا رہے گا۔ یہاں تک کہ ان کی جان لینے کے لئے ہمارے رسول یعنی ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے پہنچیں۔
اور جب دنیا کے تاریخی واقعات پر نظر کی جاتی ہے تو مسلمان اور غیرمسلمان سب ہی کو اس کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ عالم دنیا مفتری کی سزا کا مقام نہیں ہے اور نہ ان کی گرفت کے لئے کوئی میعاد مقرر ہے۔
حاصل کلام! یہ ہے کہ مفتریوں اور صادقوں کے واقعات اور قرآن مجید کی متعدد آیات سے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمانوں کے لئے جو کامیابی اور فلاح کی بشارت دی گئی ہے اور مفریوں اور کافروں کے لئے ناکامی اور عدم فلاح کی وعید سنائی گئی ہے۔ ان دونوں کا وقت مرنے کے بعد ہے۔ آیت:’’لوتقول علینا بعض الاقاویل‘‘سے مرزاقادیانی کا یہ استدلال کرنا محض غلط ہے کہ مفتری کو بیس برس یا تیئس سے زیادہ مہلت نہیں دی جاتی ہے۔ اﷲتعالیٰ کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو جلد کھاتی رہی ہے۔ اس لمبے عرصے تک اس جھوٹے کو (یعنی مرزاقادیانی کو) چھوڑ دے۔
کیونکہ آیت سورۂ الحاقہ جو بالاتفاق مکی ہے اور کوئی آیت اس کی مدنی نہیں ہے۔ اس میں ارشاد ہے:’’تنزیل من رب العالمین ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین فما منکم من احدٍ عنہ حاجزین (الحاقہ:۴۳تا۴۷)‘‘
یعنی پورا قرآن پروردگار کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ (کسی دوسرے کا بنایا ہوا نہیں ہے) اگر (ہمارا رسول محمدa سچے الہاموں کے ساتھ) بعض جھوٹی باتیں ملادیتا تو ہم اسے مضبوط پکڑتے یا اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے۔ (اور وہ بری حالت کرتے کہ تم دیکھ لیتے) اس کے بعد اسے ہلاک کر دیتے یا ایسی مصیبت میں مبتلا کرتے کہ زندہ درگور ہو جاتا۔ اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ اس آیت میں جو بعض کا لفظ آیا ہے وہ جھوٹے ملہم کو سزا سے خارج کر دیتا ہے۔ کیونکہ مطلب یہ ہے کہ سچا ملہم اگر اپنے سچے الہاموں کے ساتھ بعض جھوٹے الہام بیان کر دے تو اس کی سزا اﷲتعالیٰ نے اس آیت میں بیان کی ہے۔ غرض بعض الاقاویل کی قید نے نہایت صفائی سے جھوٹے ملہم کو اس آیت سے نکال دیا۔ چونکہ یہ آیت مکی ہے۔ یعنی اس وقت نازل ہوئی ہے جس وقت تھوڑا سا قرآن شریف نازل ہوا تھا۔ اس لئے بعض کے معنی کل کے کسی طرح نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ بعض مرزائیوں نے اپنی نافہمی سے لکھا ہے۔ پوری بحث (فیصلہ آسمانی حصہ دوم) میں دیکھو۔ (ص۶۸تا۷۸) تک ملاحظہ ہو۔
پس اگر کسی صادق کو دنیا میں کچھ کامیابی اور خوشحالی ہو اور کسی کافر کو کیسی ہی بدحالی ہو تو اس جزا اور سزا کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ہے۔ جو اپنے وقت اور موقع پر انہیں ملنے والی ہے۔ اس لئے وہ کسی شمار میں نہیں ہوسکتی۔ اب اس کے خلاف جو دعویٰ کرتا ہے اور قرآن مجید کی آیت سے اس کا ثبوت بتاتا ہے وہ محض جاہل اور قرآن مجید سے بالکل بے بہرہ ہے یا کلام الٰہی میں وہ سخت عیب لگانا چاہتا ہے۔ یعنی درپردہ دہریہ یا منکر اسلام ہے اور یہ کہتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسے مضامین بھی ہیں جو واقعات کے خلاف ہیں اور اس کی باتوں میں تعارض اور تخالف ہے۔ چنانچہ اس رسالے کے مضامین بالا سے کامل طور سے اس کا ثبوت ہوگیا۔ ’’وآخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العلمین‘‘
مولانا یعقوب محمد یعسوب مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں نہایت متانت اور کامل سنجیدگی سے مسیح قادیان کی نسبت اپنے پاکیزہ خیالات بیان کئے ہیں۔
جس میں مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت ورسالت کے ذکر میں عبدالماجد قادیانی بھاگلپوری کے رسالہ القائے ربانی کی چند سطروں میں عظیم الشان دس غلطیاں دکھا کر انہیں متنبہ کیا ہے۔
عبدالماجد قادیانی بھاگلپوری نے اپنے رسالہ القائے ربانی کے آخر میں مرزاقادیانی کی نبوت ورسالت کو اپنے خیال فاسد میں اس طرح ثابت کرنا چاہا ہے کہ جناب رسول اﷲa کے خاتم النّبیین ہونے کے منافی اور معارض نہ ہو۔ مگر ’’ایں خیال است ومحال است وجنوں‘‘ حضرت سرور انبیاءk کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔ چونکہ نہایت غلط دعویٰ کے اثبات میں بے سروپا باتیں بنائی ہیں اور امر حق پر پردہ ڈالنا چاہا ہے۔ اس لئے ان سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس نمبر میں صرف دس غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ ان شاء اﷲ! آئندہ کے نمبر میں المضائف بلکہ اس سے بھی زیادہ دکھائی جائیں گی تاکہ انہیں تنبیہ ہو۔
والسلام!
خاکسار: محمد یعسوب غفر اللہ لہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس میں شبہ نہیں کہ رسالہ فیصلہ آسمانی مؤلفہ حضرت مونگیریv مرزاقادیانی کے باب میں واقعی آسمانی فیصلہ ہے جو کچھ اس میں لکھاگیا ہے وہ نہایت صحیح ہے۔ اس کا کچھ جواب
نہیں ہوسکتا۔ اس رسالہ نادرہ میں ضمناً مرزاقادیانی کے کاذب ہونے کی یہ دلیل بھی لکھی ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور قرآن مجید کے نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa کے بعد کوئی جدید نبی نہیں آئے گا۔ آپa کے بعد کوئی امتی یا غیرامتی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بموجب صریح آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کذاب ودجال ہے۔ جن قادیانی مربی کا نام میں نے عنوان پر لکھا ہے یہ بھاگلپور کے مشہور قادیانی مربی ہیں۔ مگر یہ مذہبی حالت ہمیشہ بدلتے رہے۔ کچھ دنوں سے مرزائی احمدی ہوگئے ہیں اور قادیان کے خلیفہ المسیح کی فرمائش سے فیصلہ آسمانی حصہ دوم کا جواب لکھا ہے۔ مگر اہل علم کو ان کا جواب دیکھ کر ان کی حالت پر افسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ ذی علم حضرات ان کے رسالہ میں صریح غلطیاں اور کھلی بددیانتیاں اور بے سروپا باتیں دیکھ کر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا مشہور علم وفضل کیا ہوگیا۔ علم کے سوا ان میں تو دیانت وتہذیب کا بھی پتہ نہیں لگتا۔ اس کے اظہار کے لئے ایک رسالہ انوار ایمانی مؤلفہ مولانا ابوالخیر محمد انور حسین صاحب مونگیری کا چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔ دوسرا رسالہ ’’محکمات ربانی‘‘ جو ان کے نہایت اخص عزیز مولوی حکیم ولی الدین صاحب بھاگلپوری نے لکھا ہے وہ زیرطبع ہے۔ بنظر خیرخواہی مسلمانان، محرر سطور کا بھی خیال ہوا کہ قادیانی مربی کی بعض غلطیوں کو اظہر من الشمس کر کے مسلمانوں کو واقف کرے تاکہ ان کی باتوں سے ناواقف حضرات بچیں۔ اﷲتعالیٰ توفیق عنایت کرے۔ آمین! میں اس مضمون میں صرف انہیں غلطیوں کا نمونہ دکھاؤں گا جو انہوں نے دعویٰ نبوت مرزاقادیانی کے بیان میں کی ہیں۔
معزز ناظرین! آپ کو خوب یاد ہوگا کہ ایک زمانہ میں مونگیر بھاگلپور میں قادیانی جماعت کا کس قدر زور تھا۔ علماء اسلام کی صلح کن حکمت عملی نے ان کو اس قدر جری کر دیا کہ ان کا جاہل، اجہل بھی بازاروں میں سڑکوں پر چیلنج دیتا پھرتا تھا اور ذرا بھی ہوشیار ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ بلکہ خدائی ڈھیل پر ان کی جرأت زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب یہ بہت بڑھ چڑھ گئے تو موافق سنت الٰہی کے ایک بارگی خداوند ذوالجلال کی غیرت جوش میں آئی اور ایک باخدا مقدس انسان کے دل میں القاء فرمایا کہ اٹھو اور ان کی بیخ وبنیاد کو متزلزل کردو۔ چنانچہ یہ باخدا شخص خدا کا نام لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور مرزائی فتنہ کے فرو کرنے پر متوجہ ہوگئے۔ جن کے ادنیٰ فیوضات وبرکات کا نتیجہ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ
فوراً بساط مناظرہ قائم ہوگئی۔ جس میں بیچارے مرزائیوں کو اپنے ہی مقرر کردہ شرائط کو نامعقول کہہ کر سرپرالٹی کرسیاں لے کر بھاگنا پڑا اور دوسری طرف اس مقدس انسان کا فیض دائمی یہ ہوا کہ فیصلہ آسمانی حصہ اوّل، دوم، سوم وشہادت آسمانی وحقیقت المسیح ودیگر بیش بہارسالجات کی میگزین تیار فرمائی۔ جس سے نہ صرف مرزاقادیانی کا مصنوعی قلعہ ’’ہباء منثورا‘‘ہوگیا۔ بلکہ مونگیر بھاگلپور کے مقامی مرزائیوں پر بھی ایسا گولہ پڑا کہ بالکل بے پناہ ہوگئے۔ مثل فراری چوروں کے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ اس طرف مردان خدا اظہار حق کے لئے ہر طرح موجود ہیں۔ ان کے صدر انجمن سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح چاہے مناظرہ کر لیجئے۔ مباہلہ کر لیجئے۔ عام جلسہ میں کیجئے۔ خاص میں کیجئے۔ سامنے آنے میں اگر آپ کو شرم آتی ہے تو اپنی طرف سے اپنے کسی شاگرد کو یا کسی دوسرے کو پیش کیجئے۔ مگر صدائے برنہ خاست کا مضمون ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کسی نفسانی غرض یا طعنہ دہی کی شرم نے ان کو پکڑ رکھا ہے۔ نہیں تو کب کے مسلمان ہو جاتے۔
معزز ناظرین! مذکورہ رسالے ایسی تحقیق اور لاجواب طریقے سے لکھے گئے ہیں کہ کوئی حق پسند ان کے مضامین سے انکار نہیں کر سکتا اور کوئی معاہدان کا صحیح جواب نہیں دے سکتا۔ مگر عبدالماجد قادیانی بھاگلپوری نے اتنے عرصہ میں صرف فیصلہ آسمانی حصہ دوم کا جواب دینا چاہا ہے۔ بلکہ بزعم خود دے بھی دیا ہے اور ایک کتاب بنام ’’القاء ربانی‘‘ پبلک میں پیش کردی ہے۔ جسے القاء نفسانی کہنا نہایت صحیح ہے۔ اس سے اور کچھ تو نہیں ہوسکتا ہے۔ صرف اس جنرل کے مشابہ ضرور ہوگئے ہیں جو جنگ میں شکست فاش کھایا ہوا اور نوک دم بھاگ کر گرتے پڑتے۔ اپنی جان بچائی ہو۔ اس کے بعد پھر اپنی شرم مٹانے کے لئے اپنے بھاگتے ہوئے سپاہیوں کو جمع کرکے انہیں ٹوٹے پھوٹے ہوئے ہتھیاروں سے ایک مرتبہ مقابلہ کے لئے اور بھی ٹھان لی ہو، لیکن ہر شخص آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ بھگوڑے سپاہی نکمّے ہتھیاروں سے ایک جرار حوصلہ مندیا حربہ وہتھیار فوج کا کیونکر مقابلہ کر سکتے ہیں؟ غور سے نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ قادیانی مربی نے جواب لکھ کر صرف مناظرہ ہونے کی شرم مٹانی چاہی ہے یا خلیفۃ المسیح قادیانی کی شرم رکھنے کے لئے قلم فرسائی کی ہے۔ کیونکہ فیصلہ آسمانی کے جواب کے لئے اوّل انہیں سے درخواست کی گئی تھی اور ان سے کچھ نہ ہوسکا اور قادیانی مربی کو اپنے جواب کا ضعف اچھی طرح معلوم ہے۔ نہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ فیصلہ آسمانی کے جواب کے لئے جو
ایک ہزار نقد جھناجھن کا وعدہ کیاگیا ہے۔ اس کے حاصل کرنے کی ذرہ بھی کوشش نہیں فرماتے اور اشتہار دینے والے کو ایک پرزہ تک نہیں لکھا۔ ہم اس کو نہیں تسلیم کرسکتے کہ قادیانی مربی روپیہ سے بے پرواہ ہیں۔ کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک قلیل ماہانہ تنخواہ کے واسطے روزانہ سرمغزی کرتے ہیں اور بنچ اور کرسیوں پر سرپٹختے ہیں۔ ایک ہزار تو بہت بڑی رقم ہے اور اگر قادیانی مربی یہ عذر پیش کریں کہ ایسے ایسے اشتہارات ایفاء وعدہ کے خیال سے نہیں دئیے جاتے ہیں تو پھر ان سے یہ سوال ہوگا کہ مرزاقادیانی بھی تو بہت اشتہار چارہزاری وپنج ہزاری دیاکرتے تھے۔ کیا ان کا خیال بھی آپ نے اسی ذیل میں شمار کیا ہے؟ مگر ہم کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے اشتہاروں کو آپ جو کچھ خیال کریں یہ آپ کو اختیار ہے۔ مگر یہاں اسلامی وعدہ ہے ایک سچے مسلمان نے کیا ہے۔ اس میں خلاف نہیں ہوسکتا۔ بھاگلپوری، مونگیری، لکھنوی قادیانی وغیرہ جہاں قادیانی جماعتیں ہیں جلسہ کر کے فیصلہ کر لیں۔ اشتہاری شرائط میں حکیم نورالدین قادیانی کا بھی ذکر ہے۔ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اگر کوئی قادیانی فیصلہ کے لئے تیار ہو تو مشتہر منشی ابراہیم حسین صاحب رتن پوری سے طے کر سکتاہے اور راقم سے بھی طے کر سکتا ہے۔ مگر ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی قادیانی یہ ہمت نہ کر سکتا ہے۔ کیونکہ ان کا دل رسائل مذکورہ کی قوت دلائل کو مان چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مناظرہ مونگیر کے زمانہ یعنی ۱۹۱۱ء سے اس وقت تک پچیس رسالے شائع ہوچکے ہیں اور پانچ رسالے زیرطبع ہیں۔ ان سب کے نام یہ ہیں:(۱)فیصلہ آسمانی حصہ اوّل۔ (۲)فیصلہ آسمانی حصہ دوم۔ (۳)فیصلہ آسمانی حصہ سوم۔ (۴)تتمہ فیصلہ آسمانی۔ (۵)شہادت آسمانی۔ (۶)حقیقت المسیح۔ (۷)معیار المسیح۔ (۸)تنزیہہ ربانی۔ (۹)معیار صداقت۔ (۱۰)حق نما۔ (۱۱)آئینہ قادیانی۔ (۱۲)تکذیب قادیانی۔ (۱۳)اہل حق کو بشارت۔ (۱۴)انوار ایمانی۔ (۱۵)ادّعا مرزا۔ (۱۶)مسیح کاذب۔ (۱۷)تائید ربانی برہزیمت قادیانی۔ (۱۸)مرزاغلام احمد قادیانی کا فیصلہ۔ (۱۹)مسیح قادیانی کا فیصلہ۔ (۲۰)صحیفہ رحمانیہ نمبر:۱۔(۲۱)صحیفہ نمبر:۲۔ (۲۲)صحیفہ نمبر:۳۔ (۲۳)صحیفہ نمبر:۴۔ (۲۴)صحیفہ نمبر:۵۔ (۲۵)صحیفہ نمبر:۶۔ (۲۶)صحیفہ نمبر:۷۔ (۲۷)رسالہ دعویٰ نبوت مرزا نمبر:۶،۷ میں چھپا ہے۔ مگر ہر ایک نمبر مستقل رسالہ ہے۔ مندرجہ ذیل کتابیں زیر طبع ہیں۔ (۲۸)عبرت خیز۔ (۲۹)النجم ثاقب۔ (۳۰)محکمات ربانی۔ (۳۱)صواعق ربانی۔
بعض مرزائی حضرات ان رسائل کا بے سود اور فضول ہونا اس جملہ سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ’’مونگیر سے رسالہ پر رسالہ نکل رہا ہے۔ مگر قادیانی ہیں کہ کچھ خیال نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ رسالے بے سود ہیں۔ اس کا تفصیلی جواب تو دوسرے مقام پر دیا جائے گا مگر قادیانی یہ بتائیں کہ مرزاقادیانی نے آریوں کے مقابلہ میں کتاب لکھی۔ پیشین گوئیاں کیں۔ مگر کوئی آریہ ایمان لایا؟ پادریوں کے مقابلے میں کتاب لکھی۔ بہت غل مچایا۔ مگر کسی پادری نے اس پر توجہ بھی کی؟ پھر آپ کے خیال کے بموجب مرزاقادیانی باوجود مامور من اﷲ ہونے کے کیا حاصل کیا؟
اس وقت ہمارے پچیس رسالے چھپ کر شائع ہوچکے ہیں۔ اس میں مطول اور مختصر اور متوسط ہر قسم کے رسالے ہیں اور متعدد طریقہ سے سمجھایا گیا ہے اور مرزاقادیانی کا کاذب ہونا ثابت کیاہے۔ مگر نہ راہ مستقیم کو قادیانی جماعت اختیار کرتی ہے اور نہ رسالوں کا جواب دے سکتی ہے۔ اس چار برس کے عرصہ میں صرف فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے مقابلے میں دو رسالے لکھے گئے ہیں۔ ایک برق آسمانی جس کا دندان شکن جواب صواعق ربانی زیرطبع ہے۔ دوسرا القاء ربانی ہے۔ جس پر دوریمارک ہوچکے ہیں۔ ایک انوار ایمانی (یہ رسالہ چھپ کر شائع ہوچکا ہے اور مؤلف القاء کو پہنچ چکا ہے۔ دوسرا زیرطبع ہے اور یہ تیسرا رسالہ ہے جن حضرات کو قادیانی مربی کے علم ودیانت پر بڑا اعتماد ہے۔ وہ برائے خدا ان رسالوں کو ملاحظہ فرمائیں اور جب القاء کا پورا جواب لکھا جائے۔ اس کو بنظر انصاف وتحقیق دیکھیں۔ اگر کچھ بھی انصاف اور حق طلبی ہو تو قادیانی مربی کے علم ودیانت دونوں کی قلعی کھل جائے گی) دوسرا رسالہ محکمات ربانی ہے۔ قادیانیوں کا رسالہ ماسٹر عبدالمجید قادیانی کا ہے۔ ’’حق طلب کی فریاد‘‘ اس میں ماسٹر عبدالمجید قادیانی نے کہیں کہیں اپنی نافہمی سے چوٹ کی ہے۔ فیصلہ آسمانی حصہ دوم پر اور اپنے خیال میں مرزاقادیانی کی صداقت ثابت کرنا چاہی ہے۔ مگر الحمدﷲ! اس مختصر رسالے کے جواب میں ان کے مسلمان دوست نے ایک بے نظیر اور محققانہ مبسوط رسالہ لکھا ہے جس کا نام ’’النجم الثاقب‘‘ ہے۔ اس کے دو یا تین حصے ہیں۔میں نے پہلا حصہ دیکھا ہے جو ایک سو چوبیس صفحوں پر چھپا ہے۔ ان رسالوں کے ذخیرہ میں سے عبدالماجد قادیانی نے ایک رسالہ کا جواب لکھا ہے۔ اس سے صاف روشن ہورہا ہے کہ قادیانی مربی نے سکوت محض مناسب نہیں سمجھا۔ اپنے ساتھیوں کے رکھ رکھاؤ کے لئے ایک
رسالہ پر کچھ لکھ کر اپنی قابلیت اور دیانت کا ثبوت دیا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ جناب مؤلف کو اتنی خبر نہیں ہے کہ اس رسالہ نے تو ان کی فضیحت کن حالت کو طشت ازبام کر دیا۔ مگر جہل مرکب کا علاج نہیں ہے۔ خیر ان سب باتوں میں بالتفصیل بحث کرنا اس شخص کافرض ہے جو اوّل سے آخر تک کتاب پر ریویو کرے۔ میں ناظرین کی توجہ کتاب القاء ربانی کے صرف ایک باب کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں جس میں قادیانی مربی نے اپنے امام کی پردہ داری کرتے ہوئے اپنی قابلیت اور دیانت کی پوری حالت دکھلائی ہے۔ اس لئے جماعت قادیانی کی خیرخواہی نے مجھ کو مجبور کیا کہ یہ پردہ فاش کر کے ان کو دکھایا جائے کہ یکے دزد باشدیکے پردہ دار۔ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتا۔ قادیانی مربی اپنی کتاب کے صفحہ۱۰۷ میں مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی رسالت ونبوت کی سرخی قائم کر کے تحریر فرماتے ہیں: ’’ابواحمد صاحب نے چونکہ اپنے اس فیصلہ نفسانی میں کئی ایک جگہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی نبوت کا ذکر کر کے مسلمانوں کو دھوکا دیا ہے اور حصہ اوّل کے ضمیمہ میں بھی خاتم النّبیین کی تھوڑی بحث کرنے کے علاوہ اپنی علمی پردہ داری کے اس بات کی کوشش کی ہے کہ حضور پرنور محمد رسول اﷲa نے مسیح موعود کو نبی اﷲ کا خطاب دیا ہے۔ اس پر پردہ ڈال کر مسلمانوں میں بدظنیپھیلائیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے معاذ اللہ کوئی ایسا دعویٰ کیا ہے جو منافی ختم رسالت اور ختم نبوت حضور پرنور ختمی مآب محمد رسول اﷲa ہے۔‘‘ اس عبارت کے چندسطروں کے بعد قادیانی مربی نے نبی ورسول کے چند معنی بیان فرمائے ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ معنی قرآن مجید سے ثابت ہے۔ ’’(۱)صاحب شریعت۔ (۲)غیرصاحب شریعت۔ گو ان کو بھی براہ راست وحی الٰہی ہوتی ہو جیسے حضرت ہارونm۔ (۳)نائب رسول۔‘‘
اب اس معنی کے بیان کے بعد قادیانی مربی نتیجہ نکالتے ہیں۔ ’’اب قرآن مجید کی اصطلاح کے مطابق حضرت مسیح موعود مرزاغلام احمد قادیانی چونکہ نائب رسول اکرم نبی معظم احمد مجتبیٰa اور اس معنی کی رو سے بھی نبی ورسول ہیں تو مضائقہ کی بات نہیں۔ چہ جائیکہ خاتم النّبیین، افضل مرسلین نے مسلم کی حدیث میں ایک بار نہیں تین تین بار ان کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے اور ۲۳برس کی متواتر وحی نے بھی حضور ختمی مآبa کے اس نبی اللہ کے خطاب کی تصدیق کی ہے کہ آپ (مرزاقادیانی) کو رسول ونبی کے لفظ سے اس وحی میں مخاطب کیاگیا ہے اور اس میں کوئی معذور شرعی بھی نہیں ہے۔‘‘
معزز ناظرین! قادیانی مربی کی یہ اردو عبارت کس صفائی سے شہادت دے رہی ہے کہ انہیں اردو لکھنا نہیں آتا۔ وہ اپنے مطلب کو صاف طور سے خوبی کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے۔ اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لفظ محض غلط لکھتے ہیں مگر میں اس وقت لفظی غلطی دکھانا نہیں چاہتا۔ جنہیں اردو نویسی سے مذاق ہے وہ اس عبارت کو دیکھ کر میرے قول کی بلاتأمل تصدیق کریں گے۔ میں ان کے مطالب کی غلطیاں ظاہر کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔ معزز ناظرین! مرزاقادیانی نے نہایت زور کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ افضل الانبیاء ہونے کے مدعی ہیں جس سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیa کی ختم نبوت کے منکر ہیں۔ مگر اس انکار پر پردہ ڈالنے کے لئے عجیب عجیب طرح کی باتیں بنائی ہیں۔ حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی نے آسمانی فیصلہ میں مختصراً اس کا ذکر کیا ہے۔ مؤلف القاء اپنے دجل کو چھپانے کے لئے اپنی قابلیت اور دیانت کا خون کر کے متعدد دعوے کرتے ہیں۔
پہلا دعویٰ: قرآن مجید سے انبیاء کی تین قسمیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک صاحب شریعت، دوسرا غیرصاحب کتاب وشریعت۔ تیسرا نائب رسول۔ مگر یہ محض غلط ہے۔ ان تینوں قسموں کا ثبوت قرآن مجید سے ہرگز نہیں ہوتا۔ آئندہ معلوم ہو جائے گا۔ اس لئے یہ دعویٰ غلط ہے۔
دوسرا دعویٰ: مرزاقادیانی نے ایسے رسول ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جو منافی ختم رسالت ہو بلکہ نائب رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ بھی غلط اور محض غلط ہے۔ کیونکہ اس دعویٰ کا ثبوت اوّل تو اس پر موقوف ہے کہ قرآن مجید میں نبوت اور رسالت کی کوئی ایسی قسم بیان کی ہو جو رسول اﷲa کی ختم نبوت کے منافی نہ ہو۔ مگر اس قسم کے نبی کا ثبوت نہ قران مجید میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں۔ اس لئے یہ دعویٰ غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ مرزاقادیانی نے ہر طرح کی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ثبوت میں خاص رسالہ لکھاگیا ہے۔ جس کا نام: ’’دعویٰ نبوت مرزا‘‘ ہے۔ میں مرزاقادیانی کا ایک قول نقل کرتا ہوں جسے اہل حق دیکھ کر قادیانی مربی کی حق پوشی اور غلط بیانی کی تصدیق کریں گے۔ مرزاقادیانی صاف کہتے ہیں کہ رسول اﷲa کے بعد سے چودھویں صدی تک میرے سوا کوئی نبی کا خطاب پانے کا مستحق نہیں ہے۔ میں ہی مستحق ہوں۔ پھر کیا جناب رسول اﷲa کے بعد
سے کوئی نائب رسول نہیں ہوا؟ کیا حضرت ابوبکر صدیقq اور دیگر خلفائے راشدینi نائب رسول نہ تھے؟ گزشتہ تیرہ صدی میں جو مجددین گزرے یہ نائب رسول نہ تھے؟ نہیں ضرور تھے۔ مرزاقادیانی اور ان کے پیرو اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ اس سے بخوبی روشن ہوگیا کہ مرزاقادیانی ایسی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا مرتبہ نائب رسول سے بہت اعلیٰ ہے۔ یہی وہ دعویٰ ہے جو حضرت سرور انبیاءa کی ختم نبوت کے منافی ہے۔ اب مرزاقادیانی کا قول ملاحظہ ہو: ’’اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خداتعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ اور مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ (چونکہ مرزاقادیانی کو محض غلط اور جھوے دعوے کرنے کا شوق ہے اس لئے ہر جگہ ان کے غلط دعوے دیکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ ہے حضرت محیی الدین ابن عربی نے ایک خاص کتاب اپنے مکاشفات کی لکھی ہے اور قیامت تک کے مکاشفات لکھے ہیں۔ مثلاً سلطنت ترک کے متعلق مکاشفات لکھے ہیں۔ قسطنطنیہ کے تمام بادشاہوں کے نام اور ان کی حالت اور مدت سلطنت لکھی ہے۔ مگر خاص اصطلاحات میں بیان ہے۔ اس لئے ہر ذی علم اسے نہیں سمجھ سکتا۔ علمائے مغرب اس سے واقف ہیں۔ مرزاقادیانی نے جو پیشین گوئیاں صاف وصریح کیں وہ تو بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ پھر وہ کون سے مکاشفات ہیں جن کی نسب یہ دعویٰ ہورہا ہے اور تمام صحابہ کرامi اور اولیاء عظام پر فضیلت بیان کی جاتی ہے۔ کوئی مرزائی سامنے آئے اور ان مکاشفات کو دیکھائے۔) تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)
کہئے قادیانی مربی اب تو آنکھیں کھلیں اب فرمائیے کہ آپ کے مرشد کس نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جب تیرہ سو برس میں کوئی بزرگ اس مرتبہ کونہیں پہنچا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیقq اور حضرت فاروقq بھی نہیں پہنچے تو اب نائب رسالت اور ولایت کا
مرتبہ تو ختم ہولیا۔ مرتبہ صدیقیت کے اوپر نبوت مستقلہ کا ہی مرتبہ ہے جو بلاشک وشبہ ختم نبوت کے منافی ہے۔ مکتوبات امام ربانی دیکھئے جسے آپ نے سند میں پیش کیا ہے۔ غرضیکہ مذکورہ عبارت سے نہایت صفائی سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی مستقل نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہایت صاف طور سے صاحب شریعت نبی ہونے کے مدعی ہیں۔ الغرض قادیانی مربی کے دعوے کی غلطی دوشاہدوں سے تو ثابت ہوگئی۔ تیسرا شاہد جناب رسول اﷲa کا ارشاد ہے جسے امام ربانی مجدد الف ثانیv نے بھی نقل کیا ہے۔ یعنیلوکان بعدی نبی لکان عمرq‘‘
(مکتوب بست وچہارم دفتر دوم حصہ ہشتم ص۳۲۷)
رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq ہوتا۔ اگر شریعت میں نبی کے معنی نائب رسول کے ہوتے تو آنحضرتa کبھی یہ نہ فرماتے جو میں نے ابھی نقل کیا۔ کیونکہ اس میں تو شک نہیں ہے کہ حضرت عمرq نائب رسول تھے۔ اس حدیث نے فیصلہ کر دیا کہ شریعت محمدیہ میں نائب رسول کو نبی نہیں کہتے۔
تیسرا دعویٰ: ’’حضرت موسیٰm صاحب کتاب اور صاحب شریعت تھے اور حضرت ہارونm اور بہت سے انبیاء صاحب کتاب اور صاحب شریعت نہ تھے۔‘‘ اس دعویٰ کے ثبوت میں مؤلف القاء لکھتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید کی آیات: ’’ان الیاس لمن المرسلین (الصٰفٰت:۱۲۳) وان یونس لمن المرسلین (الصٰفٰت:۱۳۹) وان لوطا لمن المرسلین (الصٰفٰت:۱۳۳) ووہبنا لہ من رحمتنا اخاہ ہارون نبیا (مریم:۵۳) واذکر فی الکتاب ادریس انہ کان صدیقا نبیا (مریم:۵۶)‘‘اس پر شاہد ہیں مؤلف القاء نے یہاں پانچ آیتیں نقل کی ہیں جن میں پانچ انبیاء کا ذکر ہے۔ (۱)حضرت الیاسm۔ (۲)حضرت یونسm۔ (۳)حضرت لوطm۔ (۴)حضرت ہارونm۔ (۵)حضرت ادریسm۔
ان پانچوں آیتوں کی نسبت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ آیتیں ہمارے دعویٰ کی شاہد ہیں کہ یہ پانچ انبیاء صاحب شریعت نہ تھے۔ اس سے غرض یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ انبیاء صاحب شریعت نہ تھے۔ ویسا ہی مرزاقادیانی نبی تھے۔ مگر صاحب شریعت نہ تھے۔ اکثر صاف طور سے یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر ناظرین ملاحظہ کریں کہ یہ ایسا صریح غلط دعویٰ ہے کہ کسی کم علم پر بھی اس کی غلطی پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ ان آیتوں کا صرف یہ مطلب ہے کہ یہ
حضرات جن کا ذکر کیاگیا رسول اور نبی ہیں۔ ان آیتوں میں اس کا اشارہ بھی کسی طرح میں نہیں ہے کہ یہ انبیاء صاحب شریعت تھے یا صاحب شریعت نہ تھے۔ اب ان کو اپنے دعویٰ کا شاہد بتانا کیسا صریح غلط ہے؟
اس کے بعد مرزائی رسالہ القائے ربانی ص۱۵۸ میں دوسرا غلط دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ تمام اہل اسلام متفق ہیں کہ باوجود رسول اور نبی ہونے کے یہ لوگ صاحب شریعت نہ تھے۔ اب میں دریافت کرتا ہوں کہ مؤلف کا یہ قول دلیل سابق کا تتمہ ہے یا مستقل ایک دلیل ہے۔ یعنی ان کی یہ غرض ہے کہ آیتوں سے انبیائے مذکورہ کا نبی ہونا ثابت ہوتاہے اور اس اتفاق واجماع سے ان کا صاحب شریعت نہ ہونا۔ اگر ان کا ایسا خیال ہے تو مذکورہ آیات کو اپنے دعوے کا شاہد کہنا محض غلط ہے۔ وہ آیتیں صرف اس کی شاہد ہیں کہ یہ پانچ حضرات خدا کے رسول تھے۔ اب یہ قول خواہ پہلی دلیل کا تتمہ ہو یا علیحدہ دلیل ہو جو کچھ ہو مگر غلط ہے اور محض غلط ہے۔ قادیانی مربی کو کسی کتاب کا حوالہ دیتے شرم آئی۔ یہ اتفاقی مسئلہ کس معتبر کتاب میں لکھا ہے؟ مگر خوب خیال رہے کہ ان انبیاء کا صاحب شریعت نہ ہونا دکھائیں۔ لفظ نبوت تشریعی اور غیرتشریعی صوفیائے کرام کی کتابوں میں تو مرزائیوں نے دیکھ لیا۔ مگر اس کے معنی جو ان کی اصطلاح میں ہیں اس سے بے خبر ہیں۔ ہمیں تفصیل کی ضرورت نہیں ہے اس قدر کہنا کافی ہے کہ حضرت آدمm سے لے کر جناب محمد رسول اﷲa تک جتنے انبیاء آئے سب صاحب شریعت تھے۔ سب کی نبوت تشریعی تھی۔ شیخ اکبر فصوص الحکم میں لکھتے ہیں: ’’اما نبوۃ التشریعی والرسالۃ ممتنعۃ فی نبیاa فلا نبی بعدہ مشرعا او مشرعاً‘‘مولانا حاجی صاحب اس کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’مشرعاً ای آتیا بالاحکام الشریعۃ غیر متابعۃ لنبی اخر قبلہ کموسیٔ وعیسٰی ومحمدB اوشرعا لہ ای فتبعاً لما شرعہ النبی المتقدم کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ اس کے ترجمہ کی ضرورت نہیں۔ مؤلف اس کا غالباً کر سکیں گے۔ حاصل یہ ہے کہ جتنے انبیاء گزرے سب صاحب شریعت تھے اور نبوت ورسالت منقطع ہوگئی۔ ہمارے نبیa کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اب نہ کوئی ایسی نبی آسکتا ہے کہ کوئی جدید شریعت لائے نہ ایسا نبی کہ آپa کی شریعت کا پابند ہوکر نبوت کا دعویٰ کرے۔ الغرض اس مقام پر قادیانی مربی نے تین غلط دعوے کئے۔ (۱)قرآن کی اصطلاح میں دو قسم کے حضرات کو نبی کہا ہے ایک صاحب شریعت
دوسرے غیرصاحب شریعت قرآن مجید میں یہ تقسیم ہرگز نہیں ہے۔ (۲)مذکورہ آیتوں کو اس دعوے کا شاہد بتایا حالانکہ وہ آیتیں اس کی شاہد ہرگز نہیں ہیں۔ (۳)مذکورہ انبیاء کا صاحب شریعت نہ ہونا اجماعی اور اتفاقی مسئلہ بتایا۔ اس دعویٰ کی غلطی کے ثبوت میں شیخ اکبر اور مولانا حاجی کا قول پیش کردیا۔ اب میں ان دعوؤں کی غلطی آیات قرآنیہ اور دوسرے اقوال صحیحہ سے بیان کرتا ہوں۔ ناظرین ملاحظہ کریں۔ تین غلط دعویٰ پہلے گزر چکے ہیں۔ تین یہ ہیں۔ تو یہ کل چھ غلط دعویٰ ہوئے۔
سورۂ انعام کا دسواں رکوع ملاحظہ کیا جائے۔ اس رکوع میں اٹھارہ انبیاء کا ذکر آیا ہے۔ یعنی (۱)حضرت ابراہیم۔ (۲)حضرت اسحق۔ (۳)حضرت یعقوب۔ (۴)حضرت نوح۔ (۵)حضرت داؤد۔ (۶)حضرت سلیمان۔ (۷)حضرت ایوب۔ (۸)حضرت یوسف۔ (۹)حضرت موسیٰ۔ (۱۰)حضرت ہارون۔ (۱۱)حضرت زکریا۔ (۱۲)حضرت یحییٰ۔ (۱۳)حضرت عیسیٰ۔ (۱۴)حضرت الیاس۔ (۱۵)حضرت اسماعیل۔ (۱۶)حضرت الیسع۔ (۱۷)حضرت یونس۔ (۱۸)حضرت لوط۔ (B)
ان انبیاء کا صریح نام بیان کر کے ارشاد ہوتا ہے۔ ’’اولئک الذین اتیناہم الکتاب والحکم والنبوۃ (الانعام:۸۹)‘‘ {یہ ہی ہیں جنہیں ہم نے کتاب دی اور شریعت دی اور نبوت دی۔}
اس آیت میں ان چار انبیاء کا بھی ذکر ہے۔ جنہیں قادیانی مؤلف القأغیر صاحب شریعت بتاچکے ہیں۔ یعنی (۱)حضرت الیاسm۔ (۲)حضرت یونسm۔ (۳)حضرت لوطm۔ (۴)حضرت ہارونm۔ ان چاروں کو اسی طرح صاحب کتاب اور صاحب شریعت کہا ہے جس طرح حضرت موسیٰm اور حضرت عیسیٰm کو۔ غرضیکہ اس آیت سے نہایت صفائی سے ان بہت سے انبیاء کا صاحب شریعت ہونا ثابت ہوگیا۔ جنہیں قادیانی مربی اپنے معمولی علم کے مطابق سمجھے ہوئے تھے کہ یہ صاحب شریعت نہیں ہیں۔ البتہ اس آیت میں حضرت ادریسm کا ذکر نہیں ہے۔ ان کا ذکر سورۂ مریم میں ہے۔ یہ صاحب حضرت نوحm کے دادا ہیں۔ ان کا صاحب شریعت ہونا اوّل تو اس طرح ثابت ہے کہ قرآن مجید میں جس قدر انبیاء کا ذکر ہے ان میں کوئی تفریق صاحب شریعت اور غیرصاحب شریعت کی کسی مقام پر نہیں کی گئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ جن انبیاء کا ذکر قرآن مجید
میں آیا ہے وہ سب صاحب شریعت ہیں اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ادریسm بھی صاحب شریعت ہیں۔ اب جو اس کے خلاف کا مدعی ہے وہ ثابت کرے قرآن شریف سے۔ اس کے علاوہ مفسرین محققین لکھتے ہیں کہ حضرت ادریسm پر تیس صحیفے نازل ہوئے۔ تفسیر مدارک التزیل اور تفسیر کبیر وغیرہ ملاحظہ ہو۔ پھر جس پر تیس صحیفے نازل ہوں۔ انہیں یہ کہنا کہ صاحب شریعت نہ تھے۔ کسی ذی علم کا کام نہیں ہے۔
اب چونکہ حضرت ہارونm کا ذکر خاص طور سے کیاگیا ہے۔ اس لئے میں خاص ان کے باب میں دو آیتیں اور پیش کرتا ہوں تاکہ قادیانی مربی کی اور ان کی جماعت کی بے خبری قرآن مجید سے خوب روشن ہو جائے۔ سورۂ والصٰفٰت کے چوتھے رکوع میں اوّل ارشاد خداوندی ہے۔ ’’ولقد مننا علٰی موسٰی وہارون (الصٰفٰت:۱۱۴)‘‘{ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا۔} پھر ان احسانات کے بیان میں ارشاد ہے: ’’واتینہما الکتاب المستبین (الصٰفٰت:۱۱۷)‘‘ {اور ہم نے دی ان دونوں کو واضح کتاب۔}
دیکھا جائے کہ کس صفائی سے حضرت موسیٰm اور حضرت ہارونm دونوں کا صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہونا اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ اب تیسری آیت ملاحظہ ہو، جس میں خاص حضرت موسیٰm اور حضرت ہارونm کا ذکر ہے۔’’ولقد اتینا موسٰی وہٰرون الفرقان وضیاع وذکرا للمتقین (الانبیاء:۴۸)‘‘
اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰm اور ہارونm کو فرقان دیا یعنی وہ چیز جس سے حق وباطل میں تمیز ہو سکے۔ وہ کتاب اللہ توریت تھی اور قلب میں روشنی جس سے صراط مستقیم اور راہ نجات نہایت صفائی سے نظر آنے لگے اور نصیحت خدا سے ڈرنے والوں کو۔
غرضیکہ تینوں باتوں میں حضرت موسیٰm اور حضرت ہارونm یکساں قراردئیے گئے۔ کوئی فرق اﷲتعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا۔ اب اس کے مقابلہ میں فرق کرنا اور ایک کو تشریعی اور دوسرے کو غیرتشریعی کہنا ایجاد بندہ ہے اورصریح قرآن مجید کی مخالفت ہے۔
الغرض قادیانی جماعت نے جو انبیاء میں تشریعی اور غیرتشریعی کافرق نکالا ہے۔ یہ محض غلط ہے جن انبیاء کو اس جماعت نے غیرتشریعی سمجھا ہے وہ بموجب نص قرآنی صاحب شریعت ہیں۔ اس کے ثبوت میں تین آیتیں اور بعض کاملین صوفیائے کرام کے اقوال یہاں پیش کئے گئے۔ یہاں تک جو کچھ غلطیاں اور بے خبریاں دکھائی گئیں۔ وہ صرف اس وجہ سے
کہ انہیں اپنی واقعی حالت کی خبر نہیں ہے۔ بمقتضائے جہل مرکب اپنے آپ کو بڑا واقف خیال کرتے ہیں۔ اب میں ان کی خاص عظیم الشان غلطی اصل مطلب کے متعلق دکھاتا ہوں۔ اسے بغوروانصاف دیکھا جائے۔ قادیانی مؤلف القاء کا اصل مدعا یہ ہے کہ جس قسم کی نبوت کا دعویٰ مرزاقادیانی نے کیا ہے۔ وہ جناب رسول اﷲa کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ کیوں منافی نہیں ہے؟ آپ نے بڑی قابلیت صرف کر کے انبیاء کی دو قسمیں بیان کیں۔ تشریعی اور غیرتشریعی ہم محض آپ کی خاطر سے آیات قرآنیہ اور تحقیق مذکورہ سے آنکھ بند کئے لیتے ہیں اور آپ کے دعوے کو تسلیم کرتے ہیں کہ انبیاء کی دو قسمیں ہیں۔
اب قرآن شریف کے پہلے پارہ سے لے کر ۲۲تک دیکھا جائے کہ ان دونوں قسم کے انبیاء کا ذکر ہے جنہیں قادیانی تشریعی اور غیرتشریعی کہتے ہیں۔ ان سب کے بعد سورۂ احزاب میں۔
جناب رسول اﷲa کی نسبت ارشاد ہے:’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘یعنی آپa اللہ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔ یعنی سب نبیوں کے آخر میں آنے والے اب جنہیں اللہ نے عقل وفہم دیا ہے۔ وہ ملاحظہ کریں کہ طرز بیان بتارہا ہے کہ آپa دونوں قسم کے انبیاء کے خاتم ہیں۔ یعنی دونوں قسم کے انبیاء کا ذکر کر کے حضورa کا خاص نام لے کر آپa کی یہ صفت بیان کی کہ آپa آخر النّبیین ہیں۔ اس سے ہر ایک صاحب عقل سمجھ سکتا ہے کہ اس بیان سے پہلے جو دو قسم کے انبیاء ذکر کئے گئے ہیں سب کے آپa خاتم ہیں۔ اس کے بعد جب عربی الفاظ کے قاعدے پر نظر کی جائے کہ لفظ النّبیین جمع ہے اور اس پر الف ولام آیا ہے جس سے ثابت ہورہا ہے کہ حضورa تمام انبیاء کے آخر میں آئے۔ خواہ تشریعی ہوں یا غیرتشریعی۔ اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ لفظ خاتم النّبیین پر مضاف کیاگیا جس کے معنی محاورہ عرب کے لحاظ سے آخر النّبیین کے ہیں کہ سب نبیوں کے آخر میں آنے والے۔ اب اس قرینہ سباق وسیاق اور محاورہ عرب سے جو معنی ثابت ہوتے ہیں وہی معنی جناب رسول اﷲa نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمادئیے اور اس طرح بیان فرمائے کہ قرآنی الفاظ کی کامل توضیح ہوگئی۔ یعنی صحیح حدیثوں میں حضورa کے یہ الفاظ ہیں۔ ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘یعنی میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے
بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یعنی اگرچہ خاتم النّبیین سے سمجھا جاتا تھا کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ مگر جب خاتم النّبیین کے بعد ’’لا نبی بعدی‘‘ فرمادیا تو آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ کوئی نبی کسی طرح کا آپa کے بعد نہیں ہے۔ یعنی کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ یہاں لفظ نبی نکرہ ہے اور اس پر لائے نفی لایا گیا۔ اس لئے قاعدے کی رو سے ہر قسم کے نبی کی نفی ہوگئی۔ یعنی کسی قسم کا کوئی نبی آپa کے بعد نہ ہوگا۔
الغرض قرآن مجید کا سیاق وسباق اور محاورہ عرب اور حدیث نبوی کی تفسیر سب متفق ہو کر شہادت دے رہے ہیں کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت بلاشک وشبہ جناب رسول اﷲa کی ختم رسالت کے منافی ہے۔ یہی علمی باتیں حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے پیش نظر ہیں۔ اس لئے بہ نظر خیرخواہی مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ مگر قادیانی مؤلف القاء کو ان علمی باتوں کی خبر نہیں۔ باطل کی پیروی نے دینی علوم کو ان کے قلب سے محو کر دیا۔ افسوس کہ باوجودایسی بے خبری کے قادیانی مربی ایک علامہ حقانی کی لاجواب کتاب ہدایت مآب کا جواب دینے بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا عالم خیال کرتے ہیں۔ ذرا ہوش کیجئے اور راہ حق چھوڑ کر اور ایک علامہ ہادی خلق پر بدزبانی کر کے اپنے آپ کو ’’خسر الدنیا والآخرۃ‘‘ کا مصداق نہ بنائیں۔
یہ تو آپ کی غلطیاں اور جہالتیں تھیں۔ اب اپنی دیانت بھی ملاحظہ کیجئے کہ کیسا صریح ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور نبوت تشریعی اور غیرتشریعی کا خواہ مخواہ تفرقہ پیش کر کے مغالطہ میں ڈالتے ہیں۔ آپ کے مرزاقادیانی تو اعلانیہ نہایت زور سے تشریعی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کا رسالہ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶) ملاحظہ ہو۔ ’’اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: ’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لہم‘‘یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی
مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ امر باطل ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:’’ان ہذا لفی الصحف الاولٰی صحف ابراہیم وموسٰی‘‘یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔‘‘
اربعین کا یہ تو متن تھا اب اس کا حاشیہ ملاحظہ ہو۔ ’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ ’’واصنع الفلک باعیننا ووحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ ید اللہ فوق ایدہم‘‘یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوحm کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵ حاشیہ)
کہئے مربی صاحب! اب تو آپ کے تمام تاروپود کے بخیہ آپ کے مرشد نے ادھیڑ دئیے۔ دیکھئے کس صفائی سے صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اپنی بیعت کو مدارنجات قرار دے رہے ہیں۔ اب بتائیے کہ کس نائب رسول نے ایسا دعویٰ کیا ہے اور کس ظلی اور بروزی نے اپنی بیعت کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔ اب کون سی نبوت رہ گئی جس کے خاتم جناب رسول اﷲa ہیں۔ اب سوائے بغلیں جھانکنے کے آپ کوئی جواب دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ناظرین! یہ بھی معلوم کر لیں کہ مرزاقادیانی منقولہ عبارت میں نبوت تشریعی کا دعویٰ کر کے یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں۔
بھائیو! یہ کیسا صریح دجل اور عوام کو دھوکہ دینا ہے۔ جب نبوت مستقلہ تشریعی کا دعویٰ کر رہے ہیں، پھر رسول اﷲa کے خاتم النّبیین ہونے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ مرزاقادیانی
اپنے معتقدین کی بے وقوفی معلوم کر چکے ہیں۔ اس لئے سب کچھ کہہ کر ختم نبوت پر اپنا ایمان ظاہر کردیا تاکہ عوام کے سامنے کہنے کو ہو کہ مرزاقادیانی ختم نبوت کا انکار نہیں کرتے۔
ذرا آنکھیں کھول کر ہوش کو سنبھال کر ملاحظہ کیجئے۔ اب فرمائیے کہ کون سی نبوت باقی رہ گئی جس کے خاتم جناب سرور انبیاءa ہیں۔ آپ کے امام جس طرح پہلے مثیل مسیح تھے اور مسیح موعود ہونے سے صاف انکار کرتے تھے، اسی طرح پہلے ظلی اور بروزی اور غیرتشریعی اور نائب رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اسے لوگ مان گئے تو اعلانیہ نبوت مستقلہ شرعیہ کا دعویٰ کر دیا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ جناب رسول اﷲa خاتم النّبیین نہیں ہیں۔ مگر ابھی صاف طور سے اس کہنے کا وقت نہیں آیا تھا۔ اس لئے صاف طور سے زبان قلم سے اسے نہیں نکالا اور جس طرح مسیح موعود ہونے سے انکار کر کے پھر اس کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح سے یہاں بھی کسی وقت ہوتا۔ مگر ان کے خیال میں اس کا وقت نہیں آیا تھا۔ اگرچہ دعویٰ تو نہایت صراحت سے کیا۔ مگر باتیں بنانے کی گنجائش چھوڑ گئے اور اپنے مریدوں کو بھی دھوکہ دے گئے۔
اب فرمائیے کہ حضرت علامہ مؤلف فیصلہ آسمانی بدظنی پھیلاتے ہیں یا آپ اور آپ کے مرشد مرزاقادیانی اعلانیہ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے مسیح کی تصانیف اور ان کے سلسلہ کے رسائل سراسر دجل وفریب سے بھرے ہیں اور متناقض اور جھوٹے دعوؤں کا انبار ہے۔ سامنے آئیے تو ہم آپ کو دکھائیں اور آپ کو شرمائیں قلم کی گھس گھس سے پورا کام نہیں چلتا اور عوام نہیں سمجھتے۔ اب آپ اچھی طرح دیکھیں ایک دعویٰ آپ کا یہ بھی کہ مرزاقادیانی کو نائب رسول ہونے کا دعویٰ ہے۔ اس کا غلط ہونا تو ہم آپ کے دوسرے دعوے کی غلطی میں بیان کرآئے ہیں۔ خود مرزاقادیانی کے قول سے اب غیرتشریعی نبوت آپ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اس کا غلط ہونا بھی آپ کے امام ہی کے قول سے ثابت کردیا گیا اور دکھادیا گیا کہ مرزاقادیانی ضرور حضرت سرور عالمa کی ختم رسالت کے منکر ہیں۔ اگرچہ زبان سے نہ کہیں لوگوں کو دام میں لانے کے خیال سے۔ اب خوب آنکھیں کھول کر دیکھئے۔ اس دعوے کے بیان میں پانچ غلطیاں آپ نے کیں۔ تین غلطیاں تو میں نے شمار کر کے بتادی ہیں۔
چوتھے یہ ہے کہ آپ آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘کے معنی نہیں سمجھے اور لفظ النّبیین جو عام ہے اس کے خاص معنی لیتے ہیں۔ پانچویں آپ کو یہ خبر نہیں کہ اس محل پر نبوت کی دو قسمیں تشریعی اور غیرتشریعی بتاکر مرزاقادیانی کی پردہ پوشی کرنا بے کار ہے۔ وہ تو اعلانیہ نبوت تشریعی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ الحاصل یہاں تک آپ کی سات غلطیاں عظیم الشان بیان ہوئی ہیں۔
آٹھواں غلط دعویٰ یہ ہے کہ قرآن مجید میں نائب رسول کو بھی رسول کہا ہے۔ یہ دعویٰ اسی وقت ثابت ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید میں کسی کو صاف طور سے نائب رسول کہہ کر اسے رسول خدا کا خطاب دیا ہو۔ مگر جن کی نظر قرآن مجید پر ہے وہ یقین کر سکتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یعنی قرآن مجید میں کسی کو نائب رسول کہہ کر اسے رسول کا خطاب نہیں دیا اور جب تک یہ دونوں باتیں قرآن مجید سے ثابت نہ ہوں اس وقت تک کسی ذی علم کے نزدیک قرآن مجید کی یہ اصطلاح نہیں ہوسکتی اور انطاکیہ والے رسولوں کو نائب رسول کہنا قادیانی مربی کی ویسی ہی ناواقفی ہے جیسی پہلے ان کے دعوؤں میں بیان کی گئی۔ اس پر مزید یہ ہے کہ جو صحیح حدیث دوسرے دعویٰ کی غلطی میں پیش کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ شریعت محمدیہ میں نائب رسول کو نبی نہیں کہتے اور آئندہ ایک حدیث پانچویں دعویٰ کے بیان میں آئے گی۔ جس سے ظاہر ہوگا کہ حدیث وقرآن میں نائب رسول کو رسول یا نبی نہیں کہا۔ اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ صاحب انطاکیہ نائب رسول نہ تھے بلکہ رسول تھے۔
حیرت ہے اس پر نظر نہیں کرتے کہ جب خداوند تعالیٰ ہی نے انہیں نہایت صراحت سے مکررسہ کرر رسول فرمایا ہے تو دوسرے کو نائب رسول کہنے کا کیا حق ہے۔ ممکن ہے کہ پہلے وہ نائب رسول ہوں۔ پھر اللہ کا فضل ان پر ہوا اور اس نے انہیں رسالت مستقلہ کا مرتبہ عنایت کیا۔ جس کسی نے انہیں نائب رسول کہا وہ پہلی حالت کے خیال سے کہا۔ مگر جنہیں صاف طور سے خداوند تعالیٰ نے مکرر رسول فرمایا ہے اور ان کے بھیجنے کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور صاف فرمایا ہے۔: ’’اذ ارسلنا الیہم اثنین‘‘(یعنی اﷲتعالیٰ انہیں انطاکیہ کے رسولوں کی نسبت فرماتا ہے کہ انہیں ہم نے بھیجا) اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ انہیں رسول خدا نہ کہا جائے۔ بالخصوص جب کہ احادیث صحیح سے ثابت ہے کہ نائب رسول کو نبی نہیں کہتے۔
اب اگرچہ اس کی تائید میں کوئی اور روایت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر قادیانی مربی کی بے خبری کے علاوہ ان کی ایک دوسری حالت پر بھی روشنی ڈالنا منظور ہے۔ اس لئے لکھتا ہوں کہ امام المفسرین حضرت عبداﷲ ابن عباسq انطاکیہ والے رسولوں کو نائب رسول نہیں کہتے، بلکہ رسول اﷲ کہتے ہیں۔ قادیانی مربی نے تفسیر فتح البیان کے اکثر حوالے دئیے ہیں۔ یہ مقام بھی انہوں نے دیکھا ہوگا۔ مگر اس کا ذکر نہیں کرتے جو روایت حدیث وقرآن کے مطابق ہے۔ اسے دبا کر اس کے خلاف پر زور دے رہے ہیں۔ کیا دیانت ہے اور کیا علم ہے؟ اہل علم کو اگر میرے قول کی تصدیق منظور ہے تو تفسیر فتح البیان میں سورۂ یٰسین کی تفسیر ص۹ ملاحظہ فرمائیں۔
نواں غلط دعویٰ یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa نے مسلم کی حدیث میں تین مرتبہ مرزاقادیانی کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے۔ مربی صاحب ناواقفوں کو کس قدر دھوکا دیتے ہیں۔ اس حدیث کا بیان آگے آئے گا۔ یہاں اس قدر کہتا ہوں کہ اس حدیث میں مرزاقادیانی کو نبی اللہ ہرگز نہیں کہا بلکہ حضرت عیسیٰm مسیح موعود کا ذکر ہے اور مرزاقادیانی مسیح موعود ہرگز نہیں ہیں جو علامتیں، اس حدیث میں مسیح موعود کی بیان ہوئی ہیں وہ مرزاقادیانی میں ہرگز پائی نہیں گئیں۔ اب کوئی قادیانی مربی سے دریافت کرے کہ آپ نے یا آپ کے پیرومرشد نے کس سچی دلیل سے یہ ثابت کیا کہ مرزاقادیانی مسیح موعود ہیں اور ان کے مخالفین نے اسے مان لیا۔ یہ تو ہرگز نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے۔ جب ان سے یہ نہیں ہوسکا تو کس منہ سے ہمارے سامنے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی کو حضرت سرور انبیاءa نے نبی کہا ہے۔ پھر ان علماء کے مقابلہ میں جنہوں نے مرزاقادیانی کا کاذب ہونا دلائل بیّنہ سے ثابت کر دیا ہے اور اظہر من الشمس ہوگیا ہے کہ مرزاقادیانی مسیح موعود ہر گز نہ تھے۔ بلکہ وہ اپنے اقرار سے کاذب تھے۔ البتہ ہم دعویٰ کر سکتے ہیں کہ جناب رسول اﷲa نے مرزاقادیانی کو دجال اور جھوٹا فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم ج۲ ص۳۹۷) وغیرہ میں حضور پرنورa کا ارشاد ہے: ’’سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلّہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ اس حدیث کو مسلم کے سوا (ترمذی ج۲ ص۴۵، ابوداؤد ج۲ ص۱۲۷، کتاب الفتن) وغیرہ نے بھی بیان کیا ہے۔ اس حدیث میں جناب رسول اﷲa خبر دیتے ہیں کہ میری امت میں
تیس جھوٹے پیدا ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی علامت اس حدیث میں یہ بیان ہوئی کہ امتی ہونے کا دعویٰ کر کے نبی ہونے کے مدعی ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل یہ بیان فرمائی کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس لئے جو کوئی میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ میں پورے عموم کے ساتھ نفی کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی سچا نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ اس حدیث نے پورا فیصلہ کر دیا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور خاص کر وہ جو امتی ہوکر دعویٰ کرے۔ اب نہ تشریعی اور غیرتشریعی کا فرق کام دیتا ہے اور نہ نبی کے معنی نائب رسول کے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اس حدیث سے جس طرح یہ ثابت ہوا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی ثابت ہوا کہ شریعت محمدیہ میں نائب رسول کو نبی نہیں کہتے۔ ورنہ جناب رسول اﷲa اس مدعی کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں عام طور سے یہ نہ فرماتے کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں ہے۔ کیونکہ آپa کے بعد نائب رسول اور ورثۃ الانبیاء کا ہونا تو ضرور تھا اور ہوئے۔ اگر انہیں نبی کہنا صحیح ہوتا تو اس طرح عام طور سے نبی ہونے کا انکار آنحضرتa نہ فرماتے۔ خوب خیال رہے کہ مربی صاحب کا دوسرا دعویٰ صحیح حدیثوں سے غلط ثابت ہوا۔ ایک یہ حدیث اور دوسری اسی دعویٰ کے بیان میں مذکور ہوئی۔ یعنی ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوا کہ شریعت محمدیہ میں نبی کے معنی نائب رسول کے نہیں ہیں۔
دسواں غلط دعویٰ یہ ہے کہ تیئس برس کی متواتر وحی نے نبی اللہ کے خطاب کی تصدیق کی ہے۔ یعنی مرزاقادیانی کی وحی نے۔ اس دعوے کے غلط ہونے کے متعدد وجوہ ہوسکتے ہیں۔ پہلی وجہ مرزاقادیانی کی وہ وحی ہے جس کو انہوں نے اپنی صداقت میں پیش کیا تھا جس کے سچے ہونے پر مرزاقادیانی کو آخر وقت تک وثوق رہا۔ یہاں تک کہ کچہری میں حاکم کے سامنے اپنا یقین ظاہر کیا اور ایسی پختہ وحی جس کا باربار نزول برسوں ہوتا رہا جس میں کسی طرح کی غلطی کا احتمال نہیں ہوسکتا۔ بالآخر وہ وحی غلط ثابت ہوئی۔ (یعنی منکوحہ آسمانی والی وحی) اور غلطی کا ثبوت بھی اس طرح ہوا کہ مرزاقادیانی اپنے پختہ اقرار سے کاذب اور ہربد سے بدتر ٹھہرے۔ (اس کی تفصیل فیصلہ آسانی حصہ اوّل، حصہ سوم میں ملاحظہ ہو) جب
ایسی موثق وحی جس پر برسوں مرزاقادیانی کو اصرار رہا وہ غلط نکلی تو کوئی صاحب عقل مرزاقادیانی کی وحی کو وحی الٰہی نہیں سمجھ سکتا۔ بلکہ شیطانی وحی کہے گا۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ(۱)اس کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے خدائے قدوس پر خلاف وعدگی کا الزام آیا۔ (۲)اور اس دراز مدت تک مرزاقادیانی اس غلطی کی وجہ سے مخلوق میں مطعون ہوتے رہے۔ (۳)اور آخرکار جسے انہوں نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا وہ غلط نکلا۔ (۴)اور اﷲتعالیٰ نے اس غلطی پر کسی وقت متنبہ نہ کیا۔ حالانکہ متنبہ کرنا ضرور تھا تاکہ مخلوق بدگمانی سے بچے اور سچے کو جھوٹا نہ سمجھ لے۔ جس کی وحی کا یہ حال ہو۔ اس سے سند پکڑنا اور تصدیق میں پیش کرنا کسی فہمیدہ دیندار کا کام نہیں ہوسکتا۔
دوسری وجہ جب قرآن مجید کے نص قطعی سے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت سرور انبیاءa کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اب جس کسی کو یہ وحی ہو کہ میں نبی اللہ ہوں وہ یقینا جھوٹا ہے۔ اس وحی کے جھوٹے ہونے پر قرآن وحدیث دونوں شاہد ہیں۔ ایسے شخص کی وحی کوکوئی مسلمان لائق توجہ نہیں خیال کر سکتا۔ چہ جائیکہ اسے سند میں پیش کرے۔
تیسری وجہ یہ کہ امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی پر وحی نہ آئے گی جو کوئی اس کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ شفاء قاضی عیاض ملاحظہ ہو۔’’ومن ادعی النبوۃ لنفس اوجوز اکتسابہا والبلوغ بصفاء القلب الی مرتبتہا وکذالک من ادعٰی منہ انہ یوحٰی الیہ وان لم یدع النبوۃ فہؤلاء کلہم کفار مکذبون للنبیa لانہ اخبرانہ خاتم النّبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علٰی حمل ہذا لکلام علٰی ظاہرہ وان مفہومہ المراد بہ دون تاویل ولا تخصیص فلاشک فی کفر ہؤلاء الطوائف کلہا قطعاً واجماعاً وسمعاً‘‘
(الشفاء فی حقوق المطفٰی ج۲ ص۲۴)
شفائے قاضی عیاض کی یہ عبارت ہے جس سے نہایت صفائی سے ثابت ہورہا ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے یا نزول وحی کا مدعی ہو یعنی کہے مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے وہ کافر ہے اور اس کا کفر قطعی ہے۔ قرآن وحدیث سے اور اجماع امت سے اس کا کفر ثابت ہے۔ مربی صاحب کی عقل پر سخت افسوس ہے کہ علوم دینیہ کی
کتابوں سے بے خبر ہیں اور مسلمانوں کے مقابلہ میں مرزاقادیانی کی وحی کو سند میں پیش کرتے ہیں۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘
یہ پوری دس غلطیاں ہیں جو مربی صاحب نے چند سطروں میں کی ہیں۔ غرضیکہ مرزاقادیانی کی ۲۳برس کی وحی کو ماننا اور اسے لائق تصدیق سمجھنا کسی ایماندار کا کام نہیں ہوسکتا۔ اب مربی صاحب کی علمیت کو ملاحظہ کیا جائے کہ جو دعویٰ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہو جسے بالاتفاق امت محمدیہ نے کفر ٹھہرایا ہو اس کی نسبت مربی صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی محذور شرعی نہیں ہے۔ (قادیانی مربی نے اپنے لئے قابلیت کی وجہ سے اس لفظ کو معذور شرعی لکھا تھا۔ مگر پرانی تحقیق اور محاورہ سے غلط بتاتا ہے۔ اس لئے میں نے صحیح لفظ لکھا جو موقع کے مناسب ہے)
جناب مربی فرمائیں کیا مرزاقادیانی پر ایمان لانے سے آپ ایسے ہی عالم ہوگئے ہیں کہ چند سطروں میں دس جھوٹے دعوے کئے۔ کیا اسی قابلیت پر فیصلہ آسمانی کے جواب لکھنے کا دعویٰ ہے اور اس میں غلطیاں دکھانے بیٹھے ہیں۔ میں نے نہایت اختصار کے ساتھ یہ غلطیاں دکھائی ہیں۔ اگر اس کے جواب کی ہمت قادیانی مربی کو ہوگی اس وقت ان بیانوں کی تشریح اچھی طرح کی جائے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ مربی صاحب جو غلطیاں میں نے آپ کو دکھائیں ہیں یہ ایسی قطعی اور تحقیقی ہیں کہ آپ یا آپ کی جماعت کا کوئی ذی علم (اگر کوئی ہے) ان غلطیوں کا جواب نہیں دے سکتا۔
آپ کو یا آپ کی جماعت کو اگر طلب حق ہے تو چند اہل علم کے مجمع میں یا عام جلسہ میں بیٹھ کر فیصلہ کر لیجئے۔ میں ہر وقت حاضر ہوں۔ مگر آپ سے اور آپ کی جماعت سے ہرگز امید نہیں۔ نومہینے کئی روز ہوتے ہیں کہ جناب استاذی مولانا مفتی محمد عبداللطیف صاحب نے بنظر خیرخواہی کے اعلان دیا تھا کہ مربی صاحب جس طرح چاہیں جلسہ خاص میں یا جلسہ عام میں امر حق کو سمجھ لیں یا ہمیں سمجھا دیں۔ فیصلہ ہو جائے۔ رسالے اور بلٹنوں کی ضرورت نہ رہے۔ مگر مربی صاحب اور ان کی تمام جماعت ایسے خاموش ہوئے کہ گویا شہر خاموشاں میں چلے گئے۔ پہلے اعلان کا نہایت مہمل جواب دیا تھا۔ پھراس کے جواب میں اہل حق کی طرف سے صحیفہ رحمانیہ نکلا اور ان کی بات کو تسلیم کر کے مستعدی ظاہر کی گئی۔ مگر پھر تو قادیانی مربی ایسے دم بخود ہوئے کہ اب تک سانس نہیں لیتے۔ (باقی وارد)
خادم اطباء: محمد یعسوب
مولانا حکیم محمد یعسوب مونگیریؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تشریح اور قادیانی مربی عبدالماجد بھاگلپوری مرزائی کی چند غلطیوں کو خوب روشن کر کے دکھایا ہے جن سے حیرت ہوتی ہے کہ مربی صاحب کیا سے کیا ہوگئے۔ ان کی مشہور قابلیت ان کی دیانت کہاں چلی گئی؟ عبارتوں کے نقل کرنے میں کیسی کیسی بددیانتیاں کی ہیں۔ اس کا مطلب سمجھنے میں کیسی ٹھوکریں کھائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔
ہواخواہان اسلام! اس وقت کے فتنوں میں مرزاغلام احمد قادیانی کا فتنہ بھی بڑا فتنہ ہوا۔ مگر الحمدﷲ! کہ مونگیر کے ایک مقدس اہل فضل وکمال کو اﷲتعالیٰ نے اس فتنہ کے فروکرنے کی طرف متوجہ کردیا اور ان کے فیضان توجہ سے یہ فتنہ کم ہوا اور زوال پذیر ہورہا ہے۔ دردمندان اسلام اس پر غور فرمائیں کہ اس نازک وقت میں مرزاقادیانی نے کیسا تفرقہ مسلمانوں میں ڈالا اور مناظرہ اور مباہلہ کرنے کا کس قدر غل مچایا اور تمام علماء اور مشائخین ہند کے نام لکھ کر اپنے رسالوں میں شائع کئے اور سب کو اپنے مقابلے کے لئے بلایا۔ مگر جب کوئی مقابلے کے لئے کھڑا ہو گیا تو حیلے حوالے کر کے بھاگتے نظر آئے۔ ان کے بعد بھی ان کے چیلے زبانی اور اشتہاروں میں مناظرے کے لئے بلاتے رہے۔ مگر جب سے حضرت ابواحمد رحمانی عم فیضہم نے اس طرف ہمت فرماکر پہلے مناظرے کا جلسہ کرایا جس میں مرزائیوں کو نہایت فاش شکست ہوئی۔ اس کے بعد بیش بہا فیصلہ کن تحریر کی طرف متوجہ ہوئے اور اس وقت تک آپ کے اور آپ کے خدام کے تقریباً تیس بتیس رسالے شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں بڑا رسالہ فیصلہ آسمانی ہے۔ یعنی اس رسالے میں مرزاقادیانی کے کاذب ہونے کی وہ دلیلیں پیش کی گئی ہیں جن کا فیصلہ منجانب خدا ہوا ہے۔ اس کے تین حصے ہیں۔ ہر ایک حصہ ایک مستقل رسالہ ہے اور علیحدہ علیحدہ چھپا ہے۔
پہلا حصہ سواپانچ جز میں دوسری مرتبہ امرتسر میں چھپا ہے۔ دوسرا حصہ پہلی مرتبہ چار جز دو ورق مطبع مجیدی کانپور میں چھپا ہے۔ تیسرا حصہ پونے نوجز میں امرتسر میں چھپا
ہے۔ ان میں سب سے اوّل دوسرا حصہ چھپا۔ جس وقت یہ شائع ہوا تو مرزائیوں میں کھلبلی مچی اور خلیفۃ المسیح قادیانی سے جواب لکھنے کی درخواست کی گئی۔ قادیانی خلیفہ حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے علم وفضل سے کسی قدر واقف تھے۔ اس لئے وہ تو دم بخود ہوگئے۔ ان کی ہمت تو سامنے آنے کی نہ ہوئی۔ مگر مریدوں کے پھنسا رہنے کے لئے قادیانی مربی عبدالماجد بھاگل پوری کو جواب کے لئے آمادہ کیا۔ تاکہ جواب میں جو کچھ ذلت ہو وہ انہیں کی ہو ہم بدنام نہ ہوں۔ قادیانی مربی نے خلیفہ صاحب کے حکم کی تعمیل کسی خاص وجہ سے کسی مگر اس جواب نے قادیانی مربی کا بھرم کھول دیا اور جس قدر ان کی ناواقفی اور کم علمی اور بددیانتی اس رسالے سے ظاہر ہوئی۔ اس کا وہم وگمان بھی اس سے پہلے نہ تھا۔ اس رسالہ کی اصل باتوں کا جواب تو حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی (مولانا محمد علی مونگیریv) کے رسالوں میں موجود ہے۔ جسے حق کی طلب ہو وہ رسالہ تنزیہہ ربانی، معیار صداقت اور فیصلہ آسمانی حصہ سوم غور سے ملاحظہ کرے۔ اس پر آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو جائے گا کہ مرزاغلام احمد اپنے پختہ اقرار سے کاذب ہیں۔ اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔ مرزائیوں نے جو کچھ اس کے جواب میں ہرزہ سرائی کی تھی۔ اس کا قلع وقمع پورے طور سے تین رسالوں میں ہے اور چوتھا رسالہ عبرت خیز ہے۔ جس سے مرزاقادیانی کی کامیابی والی دلیل محض غلط ہوجاتی ہے جسے وہ عظیم الشان دلیل خیال کرتے ہیں۔ اس محققانہ تحریر میں فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے آخر مضمون کی شرح ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی کامیابی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ ان چاروں رسالوں سے عبدالماجد قادیانی کے القاء کا کامل جواب ہو جاتا ہے۔ مگر حضرت مؤلف نے انہیں لائق خطاب نہیں سمجھا۔ اس لئے انہیں مخاطب نہیں بنایا۔ اپنے رسالہ فیصلہ آسمانی کے اصل مدعا کو نہایت خوبی سے ثابت کردیا ہے۔ اب رہیں ان کی غلطیاں اور بددیانتیاں ان کے اظہار کرنے کے لئے بھی متعدد رسالے لکھے گئے ہیں۔ میرے علم میں رسائل ذیل میں ان کا اظہار کیاگیا ہے۔
۱… انوار ایمانی عرصہ ہوا یہ رسالہ چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔
۲… محکمات ربانیہ رسالہ سات جز کا مطبع الپنچ بانکے پور میں چھپا ہے۔ اس کے شائع ہونے سے بھاگلپور کے مرزائیوں میں عجب بے چینی اور کھلبلی مچی ہے۔
۳… نمونہ القائے قادیانی جو صحیفہ رحمانیہ کے تین نمبروں میں یعنی نمبر۱۰،۱۱،۱۲ میں آپ دیکھ رہے ہیں۔
۴… القاء کی ایک غلطی میں تیس غلطیاں۔
یہ چار رسالے اس وقت تک ہوئے ہیں اور مستقل کامل رسالہ کے جواب کا جماعت مرزائیہ انتظار کرے۔ چونکہ اس جماعت کو خدا سے واسطہ نہیں ہے۔ اس لئے جواب سے عاجز ہوکر فحش کلامی اور بیہودہ گوئی کر کے حضرت مخدوم بہاری (مولانا محمد علی مونگیریv) اور حضرت مجدد الف ثانیv وغیرہ بزرگوں کو درپردہ اور حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کو اعلانیہ گالیاں دینا اور عوام کو بہکانا شروع کیا ہے اور ایک رسالہ چھپ کر شائع کرچکے ہیں اور سنا جاتا ہے کہ کچھ اور لکھ رہے ہیں۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ اگر حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی ناخوش نہ ہوئے تو ان کے خدام اس قسم کے رسالوں کا جواب بھی ترکی بہ ترکی ایسا دیں گے کہ مرزاقادیانی کی ہڈیاں بھی قبر میں سلگ اٹھیں گی اور بزبان حال اپنے چیلوں کا اندرون دل سے کوسیں گی۔ الحمدﷲ! اسی وقت اس کے نمونے کا ظہور ہورہا ہے۔ اب جو قادیانی جماعت میں تہذیب وشائستگی کے مدعی ہیں وہ اپنے گروہ اہل علموں کی شائستگی کو دیکھیں اور فرمائیں کہ مرزاقادیانی کی حقانیت کا یہی نمونہ ہے کہ جو ایسے عاجز ہوکر ایسی بیہودہ گوئی کریں اور بزرگوں سے ایسی بے ادبی سے پیش آئیں۔ مرزائیوں میں یہ بھی نبوت کا معیار ہوگا جس طرح پیشین گوئیوں کا غلط ہونا ان کے خیال میں معیار نبوت ہے۔
اے عزیزو! ہوش کرو۔ اپنی عاقبت برباد نہ کرو اپنی قبر میں آگ نہ سلگاؤ۔ میں نہایت خیرخواہی سے کہتا ہوں۔
خاکسار: محمد یعسوب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!
مؤلف القاء نے مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت میں عجب طرح سے دام تزویر پھیلایا ہے اور اس پر زور لگایا ہے کہ مرزاقادیانی کی نبوت بھی قائم رہے اور عوام کی نظروں
میں حضرت سرور انبیاءk خاتم النّبیین بھی رہیں۔ مگر باوجود کئی ورق سیاہ کردینے کے صاف طریقے سے یہ نہیں بیان کر سکے کہ مرزاقادیانی کو کس قسم کا دعویٰ نبوت تھا اور قرآن مجید میں جو حضرت محمد مصطفیa کی صفت میں خاتم النّبیین آیا ہے اس کے کیا معنی ہیں؟ باوجودیکہ اس کے معنی کی تشریح حدیث کے صریح الفاظ سے کر دی گئی ہے۔ (فیصلہ آسمانی کا حصہ سوم، صحیفہ رحمانیہ نمبر۶ دیکھا جائے) گر مؤلف القاء چونکہ صریح امر حق اور علمائے حقانی کے مخالف اور مقابل ہوگئے ہیں اس لئے کچھ بدحواس سے معلوم ہوتے ہیں۔ کوئی بات ٹھکانے کی نہیں کہتے۔ یہ معلوم ہوتاہے کہ ایک طولانی تقریر کر کے اور متعدد کتابوں کے حوالے دے کر عوام پر اپنی قابلیت ثابت کریں اور دکھائیں کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت حضرت سرور انبیاء کے خاتم النّبیین ہونے کے منافی نہیں تھا اور اس کے ساتھ حضرت مونگیریv مؤلف فیصلہ آسمانی کی نسبت بیہودہ گوئی کر کے مسلمانوں کو بدگمان کرنا چاہا ہے۔ مگر خوب یاد رکھیں کہ پہلے گمراہوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور مقدس بزرگوں کو تکلیفیں پہنچائی ہیں۔ مگر بمقتضائے ارشاد خداوندی (و اللہ متم نورہ۔ الخ!) کے ان بزرگوں کی شان میں کچھ کمی نہیں ہوئی اور ان کے تقدس کی روشنی کو چھپانے والے ہی خائب وخاسر ہوئے۔ چنانچہ ان لاجواب رسالوں کا نکلنا اور مؤلف القاء اور ان کی جماعت کا دم بخود رہنا ان کے خائب و خاسر ہونے کی کیسی بیّن دلیل ہے۔ میں نے اس مضمون کے پہلے حصہ میں مؤلف القاء کی قرآن دانی پر روشنی ڈالی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت جناب رسول اﷲa کی ختم رسالت کے منافی ہے اور چند سطروں میں دس غلطیاں عبدالماجد قادیانی کی دکھائی ہیں۔ اس حصہ میں ان الزامات کا جواب دیا جائے گا جو مؤلف القاء حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی پر لگانا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں ان کی تصوف دانی کی حالت بھی دکھائی جائے گی۔ نیز ان کے ان دلائل کا قلع وقمع کیا جائے گا جو اقوال بزرگان کے پردے میں ظاہر کئے ہیں اور ان کے ساتھ جس حدیث شریف کو مرزاقادیانی کی نبوت میں پیش کیا ہے اسی حدیث سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا جائے گا۔
غرضیکہ پہلے حصہ میں عبدالماجد قادیانی کی دس غلطیاں دکھائی گئی تھیں اور اس حصہ کے شروع میں اٹھارہ غلطیاں مختلف عنوان سے دکھائی ہیں اور ۲۸غلطیاں اس حدیث کے سمجھنے میں کی ہیں جس سے وہ مرزاقادیانی کی نبوت ثابت کرتے ہیں۔ اس کے سوا بھی
غلطیاں ہیں۔ غرض کہ اس مختصر تحریر میں پچاس غلطیوں سے کم نہ ہوں گی جو میں نے دکھائی ہیں۔ اس غرض سے کہ انہیں اپنی حالت پر تنبیہ ہو اور ناواقف حضرات بھی واقف ہوں۔
مؤلف القاء اپنے رسالہ کے ص۱۸۷ میں گستاخانہ طور سے حضرت مولانا ابواحمد رحمانی مونگیریv کو ناواقف اور غافل ٹھہرا کر اپنی قابلیت ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’ابواحمد صاحب کے مریدین ذرا سوچیں کہ مسیح موعود کی مخالفت میں ابواحمد صاحب کہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ باوجود شیخ بن بیٹھنے اور تقویٰ کے دعویٰ کے اپنے بزرگان سلسلہ کی تحقیقات سے بھی کس قدر غافل ہیں یا عمداً مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ ’’حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ یہاں مؤلف القاء چھ دعوے کرتے ہیں۔ بعض اشارۃً اور بعض صراحۃً!
اوّل: حضرت قبلہ کے مریدین کو یہ دکھاتے ہیں کہ حضرت مولانا ابواحمد صاحب عم فیضہم مسیح موعود حضرت عیسیٰm کے مخالف ہیں۔ حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ صرف عوام کے دھوکا دینے کو ایسا لکھاگیا ہے۔ ہمارے حضرت، حضرت مسیحm کے ہرگز مخالف نہیں ہیں۔ بلکہ جھوٹے مدعی مرزاقادیانی کے مخالف ہیں۔ جس نے محض غلط اور جھوٹا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا کیا ہے اور اس کا جھوٹا ہونا نہایت قوی دلائل سے ثابت کر کے تمام مسلمانوں کو گمراہی سے بچایا۔ آپ کے رسائل محققانہ شہادت آسمانی اور حقیقت المسیح اور فیصلہ آسمانی وغیرہ ملاحظہ کئے جائیں۔ ان میں سے صرف ایک ہی رسالہ یعنی حصہ سوم فیصلہ آسمانی ملاحظہ کیا جائے۔ کس محققانہ طور سے مرزاقادیانی کا کاذب ہونا قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے اور صحیح حدیثوں سے اور خود مرزاقادیانی کے اقوال سے اس طرح ثابت کیا ہے کہ اب جائے دم زدن نہیں رہی۔ حضرات مرزائی جو جوابات دیا کرتے تھے ان کی دھجیاں اڑادی ہیں۔ وعدہ الٰہی اور وعید کی بحث ایسی نفیس اور محققانہ اس رسالہ میں کی گئی ہے کہ اس وقت تک اس روشن طریقے سے متقدمین اور متاخرین کی کسی کتاب میں نہیں دیکھی گئی۔ اہل علم ضرور ملاحظہ
کریں۔ ان کے جواب سے تمام قادیانی مشن عاجز ہے۔ مگر آنکھ بند کئے مرزاقادیانی کو مسیح موعود مان رہے ہیں۔ یہ بجز نفس پرستی یا زرپرستی کے سوا اور کیا ہے کہ بلادلیل ایک جھوٹے مدعی کو مسیح موعود مان رکھا ہے اور علماء کاملین کو عوام کے سامنے مسیح موعود کا مخالف بناکر انہیں بدظن کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم نہایت خیرخواہانہ اور کامل یقین سے کہتے ہیں کہ حضرت اقدس
مولانا ابواحمد صاحب عم فیضہم اسی کے مخالف ہیں جن کی مخالفت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حضرت مولانا وہی کام کر رہے ہیں جو علمائے کاملین اور ہادیان امت کو کرنا چاہئے۔ ہم مؤلف القاء کو ہدایت کرتے ہیں کہ پہلے مذکورہ رسالوں کا جواب دیں اور مرزاقادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت کریں (جو ازقبیل محالات ہے) اس کے بعد مسلمانوں کے روبرو انہیں مسیح موعود کہیں۔
دوم وسوم: حضرت اقدس مولانا کی نسبت گستاخانہ یہ کہتے ہیں کہ شیخ بن بیٹھے اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ وہ اس قابل تونہ تھے مگر ایسا دعویٰ کیا اس میں دو دعویٰ ہیں۔ پہلے یہ کہ حضرت شیخ بننے کے لائق نہ تھے مگر بن بیٹھے۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے ایسا دعویٰ کیا۔ مگر یہ دونوں دعویٰ غلط ہیں۔ اگر حضرت کے خاندان کو دیکھا جائے تو آپ علاوہ سید آل رسول حسنی حسینی ہونے کے حضرت پیران پیرv کی اولاد میں سے ہیں جن کے شیخ اور مقتدیٰ ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے جن کے زیرقدم رہنا تمام اولیاء اللہ اپنا فخر سمجھتے ہیں۔ پھر یہ کہ آپ کا سلسلہ آبائی صوری ومعنوی دونوں حیثیت سے آپ سے لے کر حضرت غوث پاک بلکہ حضور پرنور سید کونین حضرت رسول اﷲa تک آفتاب کی طرح روشن وہادی شریعت وطریقت رہا ہے۔ آپ کے سلسلہ نسب کا ہر رکن تاج ہدایت کادرخشاں ہیرا رہا ہے۔ آپ کے پیرومرشد حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی قدس سرہ ہیں جن کی بزرگی کا شہرہ چاردانگ عالم میں ہے۔ جس کے لئے نہ اشتہار بازی ہوئی نہ رسالے شائع ہوئے۔ صرف کمال روحانیت سے مقبول ومخدوم عالم ہوگئے اور ہزاروں کو ولی اللہ بنادیا۔ انہیں برگزیدہ خدا ومقبول انام نے حضرت اقدس مولانا ابواحمد صاحب کو شیخ طریقت بنادیا ہے اور اپنی زبان مبارک سے آپ کے جدامجد حضرت غوث علی شاہv کی تعریف فرمایا کرتے تھے جو کانپور ونواح کانپور میں ایک مشہور مقتدیٰ وبزرگ تھے۔
غرض کہ آپ کا سلسلہ آبائی اور پیران طریقت دونوں اس بات کی پوری شہادت دیتے ہیں کہ آپ شیخ ہونے کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ اس مرتبہ پر پہنچنے کی شہادت مؤلف القاء کے اوّل مرشد حضرت اقدس مولانا فضل الرحمن علیہ الرحمۃ دے چکے ہیں۔ ان خوبیوں کے ساتھ جب آپ کی ذات اطہر کی طرف نظر کی جائے تو آپ کے مقدس بزرگ ہونے پر اور بھی کامل شہادت ہوجاتی ہے کہ اﷲپاک نے جیسا آپ کو اعلیٰ علمی فضل وکمال سے مالامال بنایا ہے ویسا
ہی تقویٰ شعار بھی بنایا ہے۔ آپ کے تقویٰ کی یہ حالت ہے کہ باوجود اس ضعف ونقاہت کے ایک سنت ومستحب چھوٹنے نہیں پاتا ہے۔ چلنے کی طاقت نہیں ہے۔ لیکن نماز تراویح عمدہ قاری کے پیچھے اور تہجد وتمام اور ادمسنونہ ترک نہیں ہوتے۔ آپ کی سخاوت بھی اللہ اللہ بے مثل ہے۔ میں نے خود بارہا دیکھا ہے کہ جو کچھ تحویل میں رہا کوڑی کوڑی غربا ومساکین وچندوں میں دے دیا ہے۔ حالانکہ نہ کوئی ذاتی آمدنی ہے نہ مریدین سے آمدنی کا دسواں حصہ وصول کیا جاتا ہے۔ نہ بہشتی مقبرہ کا چندہ ہے۔ نہ منارے کے نام سے وصول کیا جاتا ہے اور باوجود اس علم وفضل دادہش ذاتی وصفاتی تقدس کے کسی قسم کا دعویٰ نہیں ہے اور نہ اشتہار ہے لیکن خلق اللہ ہر چہار طرف سے جوق درجوق چلی آتی ہے اور شرف بیعت حاصل کرتی ہے اس کو بن بیٹھنا نہیں کہتے ہیں۔ البتہ بن بیٹھنا یہ ہے کہ نہ سید آل رسول ہیں نہ شیخ صدیقی نہ فاروقی ہیں بلکہ مرزاکہلاتے ہیں اور محض اپنی زبان درازی سے اور قلم فرسائی کی بدولت سید آل رسول بنی فاطمہ، امام مہدی کی گدی پر بیٹھنے کے مدعی ہوگئے اور اس کا غل دنیا میں مچادیا۔ بن بیٹھنا اسے کہتے ہیں۔
پیشتر افغاں بودم بعدازاں مرزا شدم
غلہ چوں ارزان شود امسال سید می شوم
چہارم: اس کا دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت اقدس تقویٰ کے مدعی ہیں مگر تمام وہ حضرات جو برابر حضوری کا شرف رکھتے ہیں یا کبھی کبھی حاضر خدمت ہوتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ قول محض غلط ہے اور حضرت اقدس نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ انکساری ہی کے الفاظ فرمایا کرتے ہیں۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہدایت کی غرض سے جھوٹوں اور مخالفین اسلام کے مقابل میں ان کے غلط دعویٰ کے اظہار میں بعض ایسے جملے لکھے گئے ہوں جنہیں جھوٹوں کے پیروناجائز دعویٰ خیال کرتے ہوں مگر درحقیقت وہ ناجائز دعویٰ نہیں ہوسکتا ہے بلکہ مناسب طریقے سے مخالفین اسلام کو عاجز کرنا ہے۔
پنجم وششم: مؤلف القاء کا یہ دعویٰ ہے کہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تحقیقات سے حضرت اقدس غافل ہیں اور ہم اس سے واقف ہیں۔ یہاں درحقیقت دو دعوے ہیں۔ ایک یہ کہ حضرات نقشبندیہ کی تحقیقات سے حضرت مولانا ناواقف ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم واقف ہیں مگر یہ دونوں دعوے بھی سرتاپا غلط ہیں۔ ان دونوں دعوؤں کے ثبوت میں مثنوی مولانا رومv کے دو شعر اور مولانا اسماعیل دہلویv کا قول منصب امامت سے اور حضرت مجدد
الف ثانیv کے دو قول سند میں لائے ہیں۔ میں نہایت سچائی سے کہتا ہوں کہ عبدالماجد قادیانی کو ان بزرگوں کی اصطلاحات سمجھنے سے کیا واسطہ ہے جو بزرگوں کی صحبت میں نہ رہا ہو۔ تقویٰ شعاری سے وہ بالکلیہ علیحدہ ہو اور کچہری کی مقدمہ بازی کا اسے شوق ہو جو منظر عام پرحاکم کے روبرو جاہلوں کی سی بے سروپا بلکہ محض جھوٹ باتیں کہے وہ صوفیائے کرام کی غامض باتوں اور ان کی اصطلاحات کو کیا سمجھ سکتا ہے۔ اب اپنی ناواقفی مؤلف القاء ملاحظہ کریں۔ میں بالاختصار کہتا ہوں کہ صوفیائے کرام کی اصطلاح میں جو اولیاء کرام اپنے اپنے وقت میں عالی مرتبہ ہوتے ہیں۔ انہیں یہ حضرات نبی وقت اور پیغمبر وقت کہتے ہیں۔ نبوت رسالت شرعی اور چیز ہے شرعی نبی کا تمام خلق کو جس کے لئے وہ بھیجا گیا ہے اس کا ماننا اور اس پر ایمان لانا فرض ہے اور جو اس سے انکار کرے کافر ہے اور حضرات صوفیائے کرام کے اصطلاحی نبی (ولی) کا نہ یہ دعویٰ ہوتا ہے اور نہ ان کا ماننا ہر ایک پر فرض ہے نہ ان کے انکار سے کوئی کافر ہوتا ہے۔ آج تک کسی بزرگ صاحب ولایت نے ہوش وحواس کی حالت میں ایسا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ مولانا روم جنہیں نبی وقت کہہ رہے ہیں انہیں ایسا نبی نہیں کہتے ہیں جس پر ایمان لانا فرض ہو یا جس کا منکر کافر ہو بلکہ وہ اصطلاحی نبی (ولی) وقت ہیں اور مرزاقادیانی تو اعلانیہ اپنے آپ کو شرعی نبی کہتے ہیں۔ سارے خلق پر اپنا ماننا فرض بتاتے ہیں اور اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ آنکھ کھول کر رسالہ دعویٰ نبوت مرزا دیکھو۔ اس لئے اصطلاحی نبی کے ہونے سے حضور پرنور خاتم النّبیینa کی ختم رسالت سے انکار لازم نہیں آتا ہے۔ تمام صوفیائے کرام کے نزدیک آنحضرتa خاتم النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا جس کو قرآن وحدیث نے نبی کہا ہو بلکہ جو نبوت کا دعویٰ کرے گا کذاب ودجال ہے۔ مثنوی کے حوالے کی حالت تو معلوم ہوگئی۔ اب مکتوبات امام ربانی کا حال بھی معلوم کیجئے جس کو قادیانی مربی نے بڑی تلاش ومحنت سے نکالا ہوگا۔ الزام دینے کی غرض سے۔ چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ سیدنا ابوبکر صدیقq وسیدنا عمر فاروقq کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ایں ہر دو بزرگوار ازبزرگی وکلانی درانبیاء معدود اند وبہ فضائل انبیاء محفوف تا آخر۔
(مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر۲۵۱ ص۶۴،۶۵، دفتر اوّل حصہ چہارم ترکی)
جو عبارت عبدالماجد قادیانی نے یہاں نقل کی ہے اس سے حضرت مولانا مؤلف
فیصلہ کو توغافل بتاتے ہیں اور اپنے آپ کو واقف وہوشیار جانتے ہیں۔ اس لئے ہم ان کی واقفیت اورہوشیاری کی قلعی کھولتے ہیں اور ان کی غفلت کو دکھاتے ہیں۔
پہلی غفلت: وہ یہ تو بتائیں کہ آپ نے حضرت شیخ احمدv کو مجدد الف ثانی تحریر فرمایا ہے۔ آپ کا یہ لکھنا صداقت کے طور سے ہے؟ اور آپ کا عقیدہ بھی ایسا ہی ہے تو مرزاقادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد ماننا غلط ہے۔ کیونکہ جب حضرت مجددv کو الف ثانی یعنی دوسرے ہزار کا مجدد مان چکے ہیں تو ضرور ہے کہ اس دوسرے ہزار میں دوسرا مجدد نہ ہوگا۔ ورنہ انہیں مجدد الف ثانی کہنا غلط ہوگا اور اگر ہر صدی میں مجدد ہونے اور چودھویں صدی میں مرزاقادیانی آئے تو حضرت شیخ احمدv کو مجدد الف ثانی کہنا صحیح نہ ہوا بلکہ مجدد مائۃ احدی عشر کہنا چاہئے۔ اس قول میں مؤلف القاء کی یہ پہلی غلطی یا غفلت ہوئی۔
دوسری غفلت: حضرت مجددv کا یہ ارشاد ہے کہ ایں ہر دو بزرگوار در بزرگی وکلانی درانبیاء معدوداند۔ اس کے کیا معنی ہیں۔ آیا جس طرح مرزاقادیانی نبی ہیں یہ دونوں بزرگوار بھی نبی تھے تو اس قول سے آپ کے مرشد ہی جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ ہم اس رسالے کے پہلے حصہ میں مرزاقادیانی کا قول نقل کر آئے ہیں۔ جس میں مرزاقادیانی نے نہایت صراحت سے دعویٰ کیا ہے کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں کوئی نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں ہے۔ میں ہی ہوں۔
اور قول مذکور سے اور اس کے بعد کے قول سے تین نبی اور بھی نکل آئے ہیں۔ یعنی حضرات شیخین اور حضرت مجدد الف ثانی۔ اس لئے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں میں ہی نبی کے نام کا مستحق ہوں محض غلط ثابت ہوا۔ مؤلف القاء قادیانی یہ کیسی غفلت آپ کے مرشد کے قول سے ثابت ہوئی۔
تیسری غفلت: حضرت مجددv کے کلام کے یہ معنی سمجھنا کہ وہ حضرت صدیق اور حضرت عمر فاروقr کو شرعی نبی کہتے ہیں جیسا مرزاقادیانی اپنے آپ کو سمجھتے ہیں تو آپ کی صریح بددیانتی ہے۔ جس صفحہ کی عبارت آپ نے نقل کی ہے۔ اس صفحہ کی پانچویں سطر میں یہ عبارت ہے۔ ’’کمالات حضرات شیخینr شبیہ کمالات انبیاء است علیہم الصلوات والتسلیمات۔‘‘
اس عبارت میں صاف طور سے ان دونوں کے نبی ہونے سے انکار ہے بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ ان کے کمالات انبیاء کے مشابہ ہیں۔ مثلاً انبیاء میں صفت ہدایت اور مخلوق پر مہربانی کامل درجہ کی ہوتی ہے۔ اس کے مشابہ حضرات شیخینr میں یہ صفت اور یہ کمال ہے اس کو نبوت سے کیا واسطہ۔ مگر قادیانی عبدالماجد صاحب کی دیانت ہے کہ اس عبارت کو ظاہر نہیں کیا۔ عوام کے فریب دینے کو ایک جملہ لکھ دیا تاکہ ناواقف سمجھ لیں کہ جس طرح حضرات شیخینr کو حضرت مجدد صاحب نبی کہتے ہیں اسی طرح مرزاقادیانی کو نبوت کادعویٰ ہے۔
دوسری بددیانتی اور ملاحظہ ہو۔ جو جملہ قادیانی عبدالماجد نے لکھا ہے اس کے بعد اس سے ملا ہوا یہ جملہ ہے۔ ’’قال النبیa لوکان بعدی نبی لکان عمرq‘‘
(مشکوٰۃ ص۵۵، باب مناقب عمرq مکتوبات امام ربانی دفتر اوّل حصہ چہارم ص۶۵)
یعنی رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq ہوتے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت عمرq نبی نہیں تھے۔ حضرت مجددv نے اس جملہ کو غالباً اس لئے زیادہ کیا کہ کم علم حضرات جملہ درانبیاء معدوداند۔ سے یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ حضرات مرتبہ نبوت کو پہنچ گئے اور نبی ہوگئے۔ مگر بددیانتی کا کیا علاج ہے۔ حضرت مجددv کے خیال میں یہ ہرگز نہ ہوگا کہ ذی علم بھی ایسے بددیانت ہوتے ہیں۔ اب اس کی تشریح دوسرے مکتوب سے دیکھئے۔ مکتوبات کی جلد۳ حصہ ہشتم مکتوب۲۴ ص۳۲۷ میں فرماتے ہیں: ’’درشان حضرت فاروقq فرمودہ است علیہ وعلی اٰلہ الصلٰوۃ والسلام لوکان بعدی نبی لکان عمرqیعنی لوازم وکمالاتیکہ درنبوت درکاراست ہمہ را عمرq دارداماچوں منصب نبوت نجاتم الرسل ختم شدہ است (علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام) بدولت منصب نبوت مشرف نگشت۔‘‘
حضرت مجددv کے اس قول سے کئی باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ حضرت عمرq کا نبی نہ ہونا اور مقام نبوت پر نہ پہنچنا حدیث نبوی سے ثابت ہے۔ دوسرے یہ کہ کمالات نبوت اور چیز ہیں اور منصب نبوت اور مقام نبوت اور چیز ہے۔ مؤلف القاء ان دونوں باتوں سے غافل ہیں۔ اس کلام سے یہ تو بخوبی ثابت ہوگیا کہ عبارت درانبیاء معدوداند کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرات شیخینr نبی ہیں۔ کیونکہ حضرت ممدوح صاف طور سے لکھتے ہیں کہ منصب نبوت بخاتم الرسل ختم شدہ است اور حدیث میں تو اس سے بھی زیادہ
صراحت ہے۔ اس غفلت میں دوبددیانتیاں بھی مؤلف القاء کی ثابت ہوئیں۔ مذکورہ مکتوب میں حضرت مجددv فرماتے ہیں۔
’’مقرراست کہ ہیچ ولی امتی بمرتبہ صحابی آن است نرسد فکیف بہ نبی ان امت‘‘
(مکتوبات امام ربانی مکتوب بست وچہارم دفتر دوم حصہ ہشتم ص۳۲۷)
اب اگر مؤلف القاء حضرت مجددv کے کلام کو صحیح اعتقاد کرتے ہیں اور انہیں مجدد الف ثانی سمجھتے ہیں تو ضرور ہے کہ اپنے مرشد قادیانی کو اپنے دعویٰ میں کاذب سمجھیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی کو باوجود امتی ہونے کے یہ دعویٰ ہے کہ میں تمام صحابہ سے بلکہ بعض انبیاء سے بھی افضل ہوں اور اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی امتی کیسا ہی مرتبہ عالی رکھتا ہو مگر کسی نبی کے مرتبہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس لئے مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ کہ میں حضرت مسیح سے ہر شان میں بڑھ کر ہوں۔ عقائد اہل سنت کے بالکل خلاف ہے کسی ظلی اور بروزی نبی کی یہ شان نہیں ہوسکتی۔ مرزاقادیانی کا بعض انبیاء سے افضلیت کا دعویٰ تو صاف لفظوں میں ہے اور اگر غور سے ان کے کلام کو دیکھا جائے تو انہیں افضل سمجھتے ہیں۔ ان کا الہام: ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘
(تذکرہ ص۶۱۲، طبع سوم، حقیقت الوحی ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲)
اس کا شاہد ہے اس کی تفصیل دعویٰ نبوت مرزاقادیانی میں دیکھئے۔ مؤلف القاء کی یہ کیسی بھاری غفلت ہے کہ اپنے سلسلہ کے بزرگوں کی بلکہ اپنے مرشد کے کلام کی بھی خبر نہیں ہے۔ مؤلف القاء کی یہ چوتھی غفلت ہے۔ حضرت مجددv مکتوبات کی پہلی جلد کے ۱۸مکتوب ص۴۱ میں لکھتے ہیں۔ ’’فوق مقام شہادت مقام صدیقیت است… وفوق آں مقامے نیست الا النبوۃ علی اہلہا الصلوٰۃ والتسلیمات‘‘
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مرتبہ نبوت اور مقام نبی، صدیقیت کے مقام سے بلند ہے اور صدیقq مقام صدیقیت میں تھے۔ اس سے بخوبی ثابت ہوا کہ حضرت صدیقq نبی نہیں تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ درانبیاء معدوداند کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرات شیخین نبی ہیں اور مرزاقادیانی تو صاف طور سے نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ انتہاء یہ کہ بعض اولوالعزم انبیاء سے اپنے آپ کو ہر شان میں افضل بتاتے ہیں۔ اپنے تئیں تشریعی نبی کہتے ہیں۔ پھر وہ کون سا مرتبہ نبوت ہے جو حضرت سرور انبیاء کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔
یہ پانچویں غفلت ہے جس سے ظاہر ہے کہ مؤلف القاء حضرت مجددv کے کلام کو نہیں سمجھتے اور اپنے جہل مرکب سے ایک علامہ نقشبندی مجددی کو غافل سمجھتے ہیں۔ غرض کہ اس قسم کی غلطیاں اور غفلتیں مؤلف القاء کی بہت ہیں۔ اب ناظرین کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ مؤلف القاء نے ص۱۵۹ میں حضرت مجدد کے چند جملوں کا ترجمہ کیا ہے۔ اس سے ان کی قابلیت اور اردونویسی کی حالت کو ملاحظہ فرمائیں۔ اسی اردو نویسی اور قابلیت پر فیصلہ آسمانی کا جواب لکھنے بیٹھے ہیں۔ طوالت اور سمع خراشی کا خوف نہ ہوتا تو اس کی تفصیل کر دیتا۔ مگر قارئین حضرات صفحہ مذکور کو دیکھ کر میرے بیان کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ مذکورہ اقبال کے سوا بھی مؤلف القاء نے اپنی کوشش کو دکھایا ہے اور چند علماء کے اقوال نقل کئے ہیں اور مامور من اللہ کی مخالفت میں بڑی سرگرمی ظاہر کی اور وہ جواب بھی ایسا ہے کہ مؤلف القاء کا پسندیدہ ہے۔ اس لئے میں انہیں کی کتاب سے نقل کرتا ہوں۔ القاء کے صفحہ۹ میں لکھے ہیں:
ابواحمد صاحب حضرت مجدد صاحب کی اس عبارت کو بھول گئے۔
’’قائل آل سخناں شیخ کبیر یمنی باشد یا شیخ اکبر شامی کلام محمد عربیa درکار است نہ کلام محی الدین عربی ونہ صدر الدین قونوی۔‘‘
اب میں کہتا ہوں کہ حضرت علامہ ابواحمد صاحب تو اس کلام کو نہیں بھولے۔ اس مقام پر آپ کا یہ الزام آپ کی خوش فہمی پر پوری روشنی ڈالتا ہے۔ جس مقام پر آپ نے یہ الزام نقل کیا ہے۔ وہاں اس الزام کا موقعہ ہرگز نہیں ہے۔ البتہ اس الزام کا یہ موقعہ ہے کہ آپ نے متعدد علماء کے اقوال کو اپنے مطالب کے لئے سند پکڑ کے الزام دینا چاہا ہے اور کوئی حدیث نہیں پیش کی۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ برائے سند کلام محمد عربیa درکاراست نہ کلام دہلوی ولکھنوی ونانوتوی وغیرہ۔ اس لئے بہت سی عبارتیں نقل کرنا فضول بلکہ نہایت ناسمجھی ہے۔ آپ کو چاہئے کہ فیصلہ آسمانی میں جو اعتراض کیاگیا ہے اس کا جواب کسی صحیح حدیث یا قرآن کی آیت سے دیں۔ بہت سی عبارتیں نقل کر کے عوام کو دھوکا نہ دیں۔ الغرض اپنے مسلمہ اور منقولہ قاعدے کی پابندی سے غافل نہ ہو جائیے۔ مگر یہاں آپ غافل ہوئے اور بڑی غفلت کی۔ یہ آپ کی چھٹی غفلت ہے اور اگر آپ کو ان حضرات کے اقوال پر ایسا اعتماد ہے کہ قرآن وحدیث کی طرف توجہ دشوار ہے تو ہم اس کے لئے بھی حاضر ہیں اور نہایت
استحکام سے کہتے ہیں کہ آپ کے مرشد کی عیسویت اور مہدویت کی بنیاد انہیں کے اقوال سے اکھیڑ کر پھینک دیں گے۔ ان سب اقوال میں زیادہ مستند اور لائق اعتبار حضرت مجددv کا قول ہونا چاہئے۔ کیونکہ انہیں آپ مجدد الف ثانی لکھ چکے ہیں اور کچہری میں آپ نے انہیں نبی مانا ہے اور آپ اور آپ کے خلیفۃ المسیح اپنے آپ کو اس خاندان میں منسلک بتاتے ہیں۔ اس لئے میں ان کا قول پیش کرتا ہوں۔
مکاتیب کی جلد۲ مکتوب ۶۷ ص۱۳۲ میں حضرت مجددv فرماتے ہیں۔
’’جماعۃ از قاوانی گمان کنند شخصے را کہ دعویٰ مہدویت نمودہ بود۔‘‘
از اہل ہند مہدی موعود بودہ است پس بزعم ایناں مہدی گزشتہ است وفوت شدہ ونشان مید ہند کہ قبرش درفرہ است۔ دراحادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است چناچہ آں سرور علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام مہدی راعلامات فرمودہ است دراحادیث کہ درحق آں شخص کہ معتقد ایشان است آں علامات مفقود اند۔ دراحادیث نبوی آمدہ است۔ علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام۔
۱… کہ مہدی موعود بیرون آید وبرسروے پارہ ابرکہ بودوراں ابر فرشتہ باشد کہ نداکند کہ ایں شخص مہدی است اور امتابعت کنید۔
۲… وفرمودہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ تمام زمین رامالک شدند چارکس دوکس از مؤمنان ودوکس از کافران ذوالقرنین وسلیمان از مؤمناں ونمرود وبخت نصر از کافران ومالک خواہد شدآں زمین را شخص پنجم از اہل بیت من یعنی مہدی۔
۳… فرمود علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام دنیا نرودتا آنکہ بعث کند خداتعالیٰ مردے را از اہل بیت من کہ نام اوموافق نام من بودونام پدر اوموافق پدر من باشد پس پرسازد زمین رابداد وعدل چنانچہ پرشدہ بود بجور وظلم۔
۴… ودرحدیث آمدہ است کہ اصحاب کہف اعوان حضرت مہدی خواہند بود۔
۵… وحضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام درزمان وے نزول خواہد کردو موافقت خواہد کردبا حضرت عیسیٰm درقتال دجال۔
۶… ودرزمان ظہور سلطنت اودرچہاردہم شہر رمضان کسوف شمس خواہش شدودر اوّل آں ماہ خسوف قمر برخلاف عادت زماں وبرخلاف حساب منجمان۔
(مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر۶۷، دفتر دوم ص۱۹۰،۱۹۱، طبع ترکی)
مطلب: ہندوستان میں ایک شخص نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعض اہل ہند نے اس کے دعویٰ کو مانا تھا۔ ان کے گمان میں مہدی موعود گزر گئے۔ (جس طرح اب مرزائی کہتے ہیں) اور اس کی قبر مقام فرہ میں ہے۔ (حضرت مجددv فرماتے ہیں) کہ صحیح اور مشہور حدیثیں جو تواتر معنوی کی حد کو پہنچ گئیں اس جماعت کو جھوٹا بتاتی ہیں۔ کیونکہ ان حدیثوں میں رسول اﷲa نے مہدی کی علامتیں بیان فرمائی ہیں اور وہ علامتیں اس شخص میں نہ تھیں جس کے یہ لوگ معتقد ہیں۔ (اب وہ علامتیں شمار کے ساتھ لکھی جاتی ہیں۔ انہیں غور کے ساتھ ملحوظ رکھئے)
پہلی علامت: مہدی موعود جب ظاہر ہوں گے تو ان کے سرپر ابر کا ٹکڑا ہوگا اور اس میں فرشتہ ہوگا۔ وہ بآواز بلند کہتا ہوگا کہ یہ مہدی ہے۔ اس کی پیروی کرو۔ (اس سے معلوم ہوا کہ مہدی موعود کو اپنی زبان سے دعویٰ کرنے کی ضرورت نہ ہوگی)
دوسری علامت: جناب رسول اﷲa نے یہ فرمایا کہ چارشخص تمام دنیا کے بادشاہ ہوچکے ہیں۔ دو مسلمان اور دو کافر۔ مسلمانوں میں ذوالقرنین اور حضرت سلیمان اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر اور پانچواں شخص جو تمام روئے زمین کا مالک ہوگا وہ میرے اہل بیت سے ہوگا۔ یعنی مہدی (مرزاغلام احمد قادیانی تو ایک شہر کے بھی مالک نہیں ہوئے)
تیسری علامت: یہ فرمایا کہ دنیا کا خاتمہ نہ ہوگا جب تک کہ میرے خاندان سے ایک ایسا شخص پیدا نہ ہو کہ اس کا نام میرے نام پر ہو اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہو۔ اس کے ظہور کے وقت دنیا جورو ظلم سے بھری ہوگی۔ یہ شخص دادودہش اور عدل وانصاف سے دنیا کو بھر دے گا۔
چوتھی علامت: یہ فرمایا کہ حضرت مہدی کے مددگار اصحاب کہف ہوں گے۔
پانچویں علامت: یہ کہ امام مہدی کے وقت میں حضرت عیسیٰm نزول کریں گے اور امام مہدی آپ کے ہمراہ ہوکر دجال سے لڑیں گے۔
چھٹی علامت: یہ فرمایا کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت میں رمضان کی چودہ تاریخ کو سورج گہن اور پہلی تاریخ کو چاند گہن ہوگا۔ یعنی زمانے کی عادت اور منجموں کے حساب کے خلاف یہ دونوں گہن ہوں گے۔
اب مؤلف القاء سنبھل کر بیٹھیں اور بتائیں کہ مکتوبات میں حضرت مجددv نے (جنہیں آپ بھی مجدد الف ثانی کہتے ہیں اور ان کے کلام کو سند میں پیش کر رہے ہیں) یہ چھ علامتیں امام مہدی کی بیان فرمائیں۔ ان میں سے ایک بھی مرزاقادیانی میں پائی گئی؟ یہ تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ ان میں سے ایک علامت بھی ان میں نہ پائی گئی۔ پھر اب حضرت مجدد الف ثانی کے خلاف انہیں مہدی مان کر اپنا ایمان کیوں تباہ کر رہے ہیں؟ یہ آپ کی ساتویں غفلت ہے اور بہت ہی بڑی غفلت ہے۔ اب تو آپ کو یقین کرنا چاہئے کہ حضرت مجدد الف ثانیv نے ان کے جھوٹے ہونے کی چھ علامتیں یا چھ دلیلیں بیان فرمائیں۔ اس پر بھی آپ نے غور نہیں کیا کہ حضرت مجددv کے وقت میں ایسا ہی مدعی مہدویت گزرا ہے جیسا آپ کے وقت میں مرزاقادیانی۔ حضرت ممدوح اسی کے رد میں یہ دلیلیں بیان فرمارہے ہیں۔ اس کے بعد اس کے ماننے والے سے کہتے ہیں کہ:
عبارت مکتوب: بنظر انصاف باید دید کہ ایں علامات درآں شخص میت بودہ است یا نہ وعلامات دیگر بسیارست کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام شیخ ابن حجر رسالہ نوشتہ است درعلامات مہدی منتظر کہ بدویست ۲۰۰ علامت می کشد۔ نہایت جہل است کہ باوجود وضوح امر مہدی موعود جمعی درضلالت مانند ہداہم اللہ سبحانہ سواء الصراط (ص۱۳۲ج۲)
(مکتوبات امام ربانی دفتر دوم نمبر۶۷، ص۱۹۱، طبع ترکی)
انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہئے کہ یہ علامتیں اس مردہ مہدی میں تھیں یا نہ تھیں۔ ان علامتوں کے سوا اور بھی بہت سی علامتیں رسول اﷲa نے بیان فرمائی ہیں۔ شیخ ابن حجر نے مہدی منتظر کی علامات میں ایک رسالہ لکھا ہے اور ان علامتوں کو دو سو تک پہنچایا ہے۔ نہایت جہالت ہے کہ باوجود مہدی موعود کی حالت واضح ہونے کی ایک جماعت گمراہی میں پڑ گئی۔ اﷲتعالیٰ انہیں ہدایت دے۔
یہاں یہ بات بھی لائق دیکھنے کے ہے کہ حضرت مجددv کے بیان سے ظاہر ہے کہ مہدی موعود کے وقت میں حضرت عیسیٰm نزول فرمائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہدی اور مسیح دو ہیں ایک نہیں ہیں اور عیسیٰm آسمان سے اتریں گے اور اس وقت میں معمول کے خلاف نہایت عجیب طور سے سورج گہن اور چاند گہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہو گا۔ یعنی پہلی تاریخ میں چاند گہن اور چودھویں تاریخ میں سورج گہن ہوگا۔ یہ تین باتیں وہ ہیں جن کے انکار میں مرزاقادیانی نے رسالے لکھے ہیں اور اپنے نزدیک حضرت مجددv کو جھوٹا ثابت کردیا۔ استغفراﷲ!
اب عبدالماجد قادیانی فرمائیں کہ وہ کسے جھوٹا سمجھیں گے۔ ایک کو مجدد الف ثانی اور نبی مان چکے ہیں اور دوسرے کو مسیح موعود تسلیم کر چکے ہیں۔ ذرا ہوش سنبھال کر جواب دیں۔ مگر عبدالماجد قادیانی کیا جواب دیں گے۔ کاذب کی پیروی اور اہل حق کے مقابلہ نے عقل وفہم اور علم سب سلب کر دیا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ قادیانی مربی کے تو ظاہری علم کا بھی اس مقابلہ میں پتہ نہیں ہے۔ اگر دعویٰ تصوف دانی کا بھی ہورہا ہے اور حضرات صوفیہ کے کلام پیش ہورہے ہیں۔
بایں خواری امید ملک داری
سچ ہے جہل مرکب بری بلا ہے۔ اس کا علاج نہایت دشوار ہے۔ خاتم النّبیین کے معنی حدیث میں اور لغت عرب میں نہایت وضاحت سے مصرح ہیں۔ مگر قادیانی مربی کو خبر نہیں اپنے جہل مرکب کی بنیاد پر لکھتے ہیں: ’’مولانا واستاذنا ابوالحسنات عبدالحئی صاحب محدث لکھنوی کی کتاب دافع الوسواس یا تو دیکھی نہیں۔ الخ! (ص۱۶۱)‘‘
قادیانی عبدالماجد کو اس کی خبر نہیں کہ حضرت اقدس مولانا ابواحمد مدظلہم کو مولانا عبدالحئی صاحب سے کیا تعلق تھا۔ حضرت اقدس کو علمی مسائل کی تحقیق کا شوق تھا اور خاص اسی غرض سے لکھنؤ میں تشریف لے جاتے تھے اور اپنے پیربھائی مولوی یحییٰ صاحب کے پاسقیام فرماتے تھے اور فرنگی محل میں آکر کتابیں ملاحظہ کیا کرتے تھے۔ مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم سے دوستی تھی۔ اکثر مسائل میں محبانہ گفتگو ہوتی تھی۔ آپ مولانا مرحوم کی یاد اور کتب بینی کی بہت تعریف کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلہ میں گفتگو شروع ہوتی تو
کتابوں کے حوالے دینا شروع کرتے کہ فلاں نے یہ لکھا ہے اور اس نے یہ لکھا ہے۔ مگر جب حضرت نے یہ کہا کہ ہاں! لکھا تو ہے مگر اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے۔ اس کا کیا جواب ہے۔ اس کے بعد مولانا خاموش ہو جاتے تھے اور عمر میں بھی برس دوبرس چھوٹے تھے۔ اسی لئے اپنی تصانیف وتالیفات برابر حضرت مولانا کی خدمت اقدس میں پیش کیا کرتے تھے اور عنوان تحریر ہمیشہ ویسا ہی ہواکرتا تھا جیسا چھوٹا بڑے کے ساتھ یا کم سے کم برابر والوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جیسے لفظ بخدمت کہ یہ اپنے سے چھوٹے کو ہرگز نہیں لکھ سکتے ہیں۔ مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم کے ہاتھ کا میں نے خود دورسالوں (الکلام المبرور اور دافع الوسواس) پر لکھا ہوا دیکھا ہے جو حضرت مولانا کی خدمت میں مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم نے بھیجے تھے۔ پھر حضرت کے روبرو دافع الوسواس کو پیش کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کے علاوہ معلوم ہوتا ہے کہ عبدالماجد قادیانی نے مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم کے نہ کلام کو سمجھا اور نہ ان کی اور تصانیف کو دیکھا ہے۔ نہیں تو اس قسم کی نادانی کی باتیں نہ بناتے۔ جب قرآن مجید اس پر ناطق ہے اور تمام امت کا اجماع ہے کہ حضرت پرنور رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں۔ آپ کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں مل سکتی ہے۔ اس اجماعی مسئلہ کی کسی فردامت نے تاویل بھی نہیں کی تو مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم کیسے جرأت کر سکتے ہیں۔ اس کے خلاف کہیں افسوس ہے کہ عبدالماجد قادیانی کو خلاف عقل ونقل عقیدہ کو اپنے استاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم زجر الناس میں لکھ رہے ہیں۔
عبارت:’’لکن ختم نبیناa الی جمیع الانبیاء جمیع الطبقات بمعنی انہ لم یعط النبوۃ لا حد فی طبقۃ‘‘
یہاں مولانا کے لفظ علی الاطلاق والاستغراق پر اہل علم خوب غور کریں۔ اس سے بخوبی ظاہر ہو جائے گا کہ عبدالماجد قادیانی اپنے استاد کے کلام کو نہیں سمجھے۔ دو لفظوں کے بڑھانے کا یہی مقصد ہے جو میں نے بیان کیا۔ ناظرین! یہاں پر مؤلف قادیانی القاء کی دو
بھاری غلطیاں ہیں۔ اوّل تو دافع الوسواس کی سند کو پیش کرنا محض بے موقعہ ہے۔ دوسرے یہ ہے کہ اس کے مطلب کو نہیں سمجھے۔
مطلب: کل طبقات کے اعتبار سے آنحضرتa کا خاتم الانبیاء ہونا حقیقی ہے۔ اس اعتبار سے کہ آپa کے بعد کسی کو کسی طبقہ میں نبوت نہیں دی گئی۔
اس احتمال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ دیگر طبقات میں آنحضرتa کے بعد خواتم کا وجود ہو۔ اس لئے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہو چکی ہے کہ آپa خاتم الانبیاء ہیں۔ مطلقاً یعنی جس کو نبی کہا جاسکے چاہے ظلی ہو یا بروزی یا کسی قسم کا نبی ہو سب کے آپa خاتم ہیں۔ مگر اس ختم نبوت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آپa کا فیض روحی بند ہوگیا۔ آپa کے فیض ہی کی وجہ سے تو ابدال اقطاب اولیاء ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ البتہ مرتبہ نبوت کسی کو نہیں مل سکتا ہے۔ جس کی نہایت معقول وجہ فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں لکھی گئی ہے۔
قادیانی عبدالماجد نے مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم کی جو آڑ پکڑی تھی ناظرین پر اس کا حال ظاہر ہوگیا۔ اب حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کے توسل سے اپنے مسیح کی نبوت کو جوثابت کرنا چاہا ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ قادیانی عبدالماجد نے تحذیر کے حوالے سے اپنی کتاب القاء کے ص۱۶۱ سطر۹ سے سطر۱۷ تک ایک عبارت نقل کی ہے جس سے آپ نے اپنی فہم کامل کے زور سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بعد حضورa کے نبی آسکتا ہے۔ خاتمیت آنحضرتa کے منافی نہیں ہے۔
قادیانیو! تم ہمیشہ شور مچایا کرتے ہو کہ مرزاقادیانی کو کیوں لوگ دجال، مفتری، کذاب وغیرہ وغیرہ سخت الفاظ سے یاد کیا کرتے ہیں تو گوش ہوش سے سن لو کہ ان سب الفاظ کے ذمہ دار تمہارے مرزاقادیانی اور خود تم ہو۔ خود اپنے قول وفعل سے اس کو ثابت کر رہے ہو تو دوسروں کو اس کے کہنے میں کیا تأمل ہوسکتا ہے۔ مرزاقادیانی کے اقوال وپیشین گوئیوں میں کچھ کذب بیانی وافتراء لوگوں نے ظاہر کیا۔ اس کو تو تم کہہ دیا کرتے ہو کہ یہی منہاج نبوت ہے اور یہی سنت اللہ ہے۔ لیکن عبدالماجد قادیانی کون سے منہاج نبوت پر ہیں۔ جو
مولانا، مولوی، مقتداء وغیرہ وغیرہ ضخیم وفہیم القابوں کے باوجود مولانا محمد قاسمv کی عبارت میں دجل کرنے سے ذرا بھی نہیں شرمائے۔ بلکہ ڈھٹائی سے اس کو پیش کر دیا۔
مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم نے اپنے رسالہ تحذیر الناس میں یہ ثابت کیا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ حضورپرنورa (روحی فداہ) سب سے آخر میں آنے والے نبی ہیں۔ یعنی صرف خاتم زمانی ہی نہیں ہیں بلکہ آپa جیسے خاتم زمانی ہیں خاتم ذاتی بھی ہیں۔ یعنی آپa پر تمام کمالات نبوت بالذات ختم ہیں۔ اس مضمون کو ثابت کرنے کے لئے مولانا مرحوم نے ایک طولانی علمی تحریر کی ہے جس میں عبدالماجد قادیانی نے جو مرزاقادیانی کے خاص پیروکاروں میں سے ہیں یہ دجل کیا ہے کہ چند جگہوں سے کلمات تراش تراش کر ایک عبارت بنائی ہے اور پبلک کے سامنے پیش کر کے حضرت رسول اﷲa کی خاتمیت سے مولانا مرحوم کا انکار ثابت کرنا چاہا ہے اور لطف یہ کہ مولانا مرحوم نے انہیں صفحات پر جس صراحت سے خاتمیت زمانی کا اقرار بلکہ اس کے منکر کو کافر کہا ہے اس کو ایک دم ہضم کر گئے۔
قادیانیو! نوحہ کرو بلکہ دھاڑیں مار مار کر رؤو۔ چلّاؤ کہ تمہارا مقتداء بھاگلپوری قادیانیوں کا امام اس قدر دجل صریح سے کام لیتا ہے جس کو لوگ ضرور مرزاقادیانی کے پیروکار ہونے کا اثر سمجھیں گے۔ جو کو سمجھتے تھے مسیحا وہ ہلاکو نکلا اور صحبت اور پیروی کے اثر میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔
ناظرین! عبدالماجد قادیانی نے اپنی کتاب القاء ربانی میں جو عبارت پیش کی ہے وہ تحذیر الناس کے ص۳،۱۴،۲۸ سے تراش خراش کر کے پیش کی ہے۔ میں یہاں نقل کرتا ہوں۔
عبدالماجد قادیانی نے جو عبارت بنائی ہے وہ یہ ہے:
۱… عوام کے خیال میں تو رسول اﷲa کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپa کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانے کے بعد اور آپa سب میں آخر ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدیر یاتأخر زمانے میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔
۲… غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپa کا خاتم
ہونا انبیائے گزشتہ کی نسبت خاص نہ ہوگا کہ بالفرض آپa کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو۔ جب بھی آپa کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔
۳… بلکہ اگر بالفرض آپa کے زمانے میں کہیں اور کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
اس کے نمبروار میں نے تین ٹکڑے کر دئیے ہیں۔ جو مختلف تین صفحات ص۳،۱۴،۲۸ سے لئے گئے ہیں۔ آپ ان کی کتاب اٹھا کر دیکھیں کس چالاکی سے اس کو ایک مضمون بنا کر پیش کیا ہے اور کہیں پر اس کا نشان بھی نہیں ہے کہ یہ تین جگہوں سے لیاگیا ہے تاکہ ناظرین کو اس کا وہم وگمان بھی نہ ہو کہ یہ دراصل تین عبارتیں ہیں۔ جن کو ایک بنادیاگیا ہے۔ یہ کیوں؟ صرف اس واسطے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم پر انکار خاتمیت کا الزام لگا کر مرزاقادیانی کا بوجھ ہلکا کیا جائے۔ لیکن افسوس کہ عبدالماجد قادیانی کا یہ فریب تحذیر کے دیکھ لینے سے نہ چل سکا اور مرزاقادیانی کا بوجھ ہلکا ہونے کے بجائے ان کی قبر پر اور لاکھ من مٹی پڑ گئی۔ فالحمدﷲ!
اس قدر بیان سے عبدالماجد قادیانی کا فریب تو ظاہر وروشن ہوگیا لیکن اب دیکھنا چاہئے کہ یہ فریب عبدالماجد قادیانی کے لئے مفید مطلب بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ یعنی بالفرض اگر یہ تین عبارتیں ایک ہی عبارت مان لی جائیں تو کیا اس سے مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کا یہ عقیدہ ظاہر ہوسکتا ہے کہ رسول اﷲa کے زمانے میں نبی ہوسکتے ہیں؟ میں نہایت زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔ ایک عامی شخص بھی عبدالماجد قادیانی کی پیش کردہ عبارت سے ایک منٹ کے لئے بھی مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کو آنحضرتa کے زمانے میں کسی دوسرے نبی کا قائل ومجوز نہیں مان سکتا۔ عبدالماجد قادیانی کو تو ذی علم ہونے کا دعویٰ ہے۔ معلوم نہیں یہ کیسے نتیجہ نکالا؟ عبدالماجد قادیانی نے مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم کی جو عبارت پیش کی ہے اس میں تو صاف صاف اگر ’’بالفرض‘‘ کا لفظ لکھا ہوا ہے۔ جس کے تو یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہوسکتی۔ مگر ہم فرضی مان رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے ابھی چار سطر اوپر لکھا ہے کہ اگر بالفرض یہ عبارت ایک مان لی جائیں تو کیا اس سے کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ہم نے واقعی مان بھی لیا۔ اس کے علاوہ عام طور سے لوگ۔ فرضی نام، فرضی بیع، فرضی ہبہ، فرضی قبالہ وغیرہ بولتے ہیں۔ جس کے ہمیشہ معنی غیرواقع ہوتے ہیں۔
اوّل تو اس پھلانگ کو ملاحظہ فرماویں کہ ص۳ کے بعد ص۱۴ پر جا بیٹھے اور وہاں سے کودے تو چودہ دونی۲۸ پر۔
ماشاء اﷲ! واہ رے رست خیز۔ کیوں قادیانیو! کیا کسی عبارت کے پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے؟ اگر یہ تحریف ہے تو تحذیر الناس کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید سے جو مطلب چاہتے ثابت کر دیتے۔ قرآن مجید میں غلام اور احمد اور رسول اللہ وخاتم النّبیین سب کچھ الفاظ آئے ہیں۔ ان سب کو ملا کرکہہ دیتے کہ قرآن میں غلام احمد رسول اللہ وخاتم النّبیین آیا ہے۔ بس پھر کیا تھا مرزقادیانی کی رسالت بلکہ خدائی بھی ثابت ہو جاتی۔
مرزائیو! تم سے سچ کہتا ہوں ماتم کرو ماتم۔ کیونکہ اس کے ساتھ دوسرا دجل بھی ہے۔ جس صفحہ۳ کی عبارت عبدالماجد قادیانی نے اپنی موافقت میں نقل کی ہے اسی صفحہ پر یہ عبارت بھی ہے۔ بلکہ بناء خاتمیت اور بات ہے جس سے تأخر زمانی اور سدباب مذکور خود بخود لازم آجاتا ہے اور فضیلت نبوی دوبالا ہو جاتی ہے۔
(تحذیر ص۳)
اس عبارت سے حضرت مولانا مرحوم اس بات کی صراحت کیسے روشن طریقے سے فرماتے ہیں کہ بناء خاتمیت ایسی بات پر ہے جس سے آپa کا نبی آخرالزمان ہونا خودبخود لازم آجاتا ہے اور فضیلت نبوی دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ص۱۰ میں تو آنحضرتa کو نبی آخرالزمان نہ ماننے والے اور آپa کے بعد دوسرے نبی پیدا ہونے کے قائل کو کافر قرار دیتے ہیں۔ قادیانی جماعت آنکھوں سے پردہ اٹھا کر غور سے دیکھے۔ لیکن حیا کا پردہ نہ اٹھ جائے۔ مولانا فرماتے ہیں: ’’سواگر اطلاق عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل: : ’’انت منی بمنزلۃ ہارن من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی او کما قال‘‘جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النّبیین سے ماخوذ ہے۔ کافی کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا۔ گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا۔ جیسا تواتر اعداد رکعت فرائض وغیرہ، وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہے۔‘‘
(تحذیر الناس ص۱۰)
ان دو اقتباسوں کے متعلق ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ عبدالماجد قادیانی نے ان عبارتوں کو دیکھا اور ضرور دیکھا۔ لیکن اپنی کتاب کے ناظرین کو فریب دینا مقصود تھا۔ اس لئے قصداً قلم انداز کر دیا۔ یہ دو اقتباس تو خاص تحذیر کے تھے۔ ان کے علاوہ مولانا مرحوم کے اور اقوال بھی نقل کر دینا مناسب سمجھتا ہوں تاکہ دروغ گو بخانہ باید رسانید صحیح ہو جائے اور کسی قادیانی اور غیرقادیانی کو آئندہ لب کشائی کا موقعہ نہ ملے۔
۱… ’’مولانا! حضرت خاتم المرسلینa کی خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلم ہے اور یہ بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ آپa اوّل المخلوقات ہیں۔‘‘
(مناظرہ عجیبہ ص۳)
پھر ملاحظہ ہو ص۲۷۔
۲… ’’مولانا! خاتمیت زمانی کی میں نے توجیہ اور تائید کی ہے، تغلیط نہیں کی۔ مگر ہاں! گوشہ عنایت وتوجہ سے دیکھتے ہی نہیں تو میں کیا کروں۔‘‘ انتہی ایضاً ص۳۹۔
۳… ’’مولانا! خاتمیت زمانی اپنا دین وایمان ہے ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ علاج نہیں۔ سو اگر ایسی باتیں جائز ہو، تو ہمارے منہ میں بھی زبان ہے۔‘‘
(ایضاً ص۱۰۳)
۴… ’’مولانا! امتناع بالغیر میں کسے کلام ہے۔ اپنا دین وایمان ہے بعد رسول اﷲa کے کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تأمل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔‘‘
اس قدر حوالہ جات کے بعدمیں امید کرتا ہوں کہ عبدالماجد قادیانی موافق قول حضرت مولانا مرحوم کے وہ بھی بعد رسول اﷲa کے مجوز نبی کو کافر سمجھیں گے اور آئندہ سے ہمیشہ کے لئے اپنے منہ پر مہر کر لیں گے۔ اتنے بیان کے بعد اب عبدالماجد قادیانی اپنے قول کو دیکھیں جو اسی صفحہ میں ہے۔ اگر دیکھی ہے تو دیدۂ ودانستہ مریدین کے خوش کرنے اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے خیال سے خاتم النّبیینa کی بحث میں اس قدر غلط بیانات کرتے ہیں جس سے اہل علم کو تعجب ہوتا ہے۔ قادیانی مربی ایمان سے فرمائیے یہ آپ راستی اور سچے دل سے کہہ رہے ہیں یا خلیفۃ المسیح اور چند نوگرفتاروں کے خوش کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ پہلے معتقدین کی نظروں میں تو ذلیل وخوار ہوگئے۔ اب قادیانی خلیفہ اور ان کی قلیل ہی جماعت میں کچھ اوراق سیاہ کر کے اپنی سرخ روئی دکھا کر کچھ فائدہ اٹھائیں۔ یہ الزام آپ پرخوب چسپاں ہے اور حضرت اقدس مؤلف فیصلہ آسمانی تو پہلے سکوت ہی میں زیادہ آرام میں تھے۔ سب آپ سے خوش تھے۔ یہاں تک کہ خلیفہ صاحب
بھی راضی تھے اور آپ بھی۔ اب جس وقت سے مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کو فتنہ عظیم سے بچانے کے لئے دردسری مول لی ہے اس وقت سے گمراہ جماعت گویا دشمن ہو گئی ہے۔
مؤلف القاء اپنی ہستی کو خیال کریں اور ان ناشائستہ کلمات کو دیکھیں جو انہوں نے اپنے مہمل رسالے القائے شیطانی میں لکھے ہیں جو جہالتوں اور جھوٹی باتوں کا انبار ہے جس کے چند صفحات کا نمونہ میں نے دکھایا ہے۔ یہ تو فرمائیے کہ وہ اہل علم کون ہیں جنہیں واقعی اور سچی بات پر تعجب ہوتا ہے۔ خدا کے لئے کسی کا نام لیجئے جھوٹی ترنگ نہ ہانکئے۔ آپ کی جماعت میں کوئی اہل علم ہے؟ جسے تعجب ہے۔
خاتم النّبیین کے معنی پہلے تو اجمالی طور سے بیان کئے گئے تھے۔ اس کے بعد فیصلہ آسمانی کے حصہ سوم میں اور رسالہ دعویٰ نبوت مرزا میں تو ایسے عمدہ مضامین لکھے ہیں کہ ہر ایک ذی علم اور ذی فہم دیکھ کر سبحان اللہ کہتا ہے۔ عبدالماجد قادیانی تو کیا ان کے گرو مرزاقادیانی کا ذہن بھی ایسے مضامین حقہ سے خالی ہوگا۔ قرآن وحدیث کے الفاظ سے عرب کے محاورہ سے نہایت خوبی سے ثابت کیا ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد امتی، غیرامتی، تشریعی، غیرتشریعی، کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا اور امت محمدیہ کی فضیلت اس میں دکھائی ہے کہ آپa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے۔ نہایت ہی عمدہ تقریر ہے اور مرزاقادیانی کے اقوال سے یہ دکھایا ہے کہ انہوں نے ہر قسم کا نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ بلکہ افضل الانبیاء ہونے کے مدعی ہیں۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر۶،۷ کو دیکھئے اور خوف خدا بھی دل میں رکھئے۔ آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ قرآن مجید کی اصطلاح میں تین قسم کے حضرات کو رسول کہا ہے۔ اس کا غلط ہونا اس مضمون کے پہلے حصہ میں ثابت کرچکا ہوں اور یہ جو آپ نے بزرگوں کے کلام سے رسول اﷲa کے بعد نبی کا ہونا ثابت کرنا چاہا ہے یہ آپ کی بے خبری ہے۔ صوفیائے کرام کے کلام کا مطلب سمجھنا آپ حضرات کا کام نہیں ہے۔ جنہوں نے برسوں بزرگوں کی خدمت کی ہے دنیا کے سب کام چھوڑ کر یاد الٰہی میں مشغول رہ کر ایک خاص حالت پیدا کی ہے۔ وہی ان کی باتوں کا پورے طور سے مطلب سمجھ سکتا ہے۔ اگر یہ بات اسے نصیب نہیں ہوئی تو ان بزرگوں کے رسائل دیکھنے کے بعد بھی ایران کو توران سمجھے گا اور بے تکی باتیں بولے گا۔ جیسے آپ بول رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کو خوف خدا اور حق طلبی ہے تو رسالہ ختم نبوت دیکھئے۔ اس میں مختصر طور سے بزرگوں کے کلام کے معنی بیان کر دئیے ہیں اور کچھ میں نے بھی پہلے حصہ میں
لکھا ہے۔ میں مختصر بات کہتا ہوں کہ کوئی بزرگ اس کا قائل نہیں ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ ملے گا اور کوئی ایسانبی ہوگا جس پر تمام مخلوق کو ایمان لانا فرض ہو اور ان پر ایمان لانا نجات کا مدار ہو۔ ایسا کوئی نبی کسی صوفی کے نزدیک بھی اس تیرہ سو بتیس برس کے عرصہ میں نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوسکتا ہے۔ مرزاقادیانی ایسے ہی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ (اربعین نمبر۴، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،مع حاشیہ ۴۳۶) کو آنکھیں کھول کر دیکھا جائے جو بالیقین حضرت سرور انبیاءk کے ختم رسالت کے منافی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آپ نے یہاں کئی غلطیاں کیں۔
پہلی غلطی: نبوت شرعی اور اصطلاحی میں آپ نے فرق نہیں کیا۔ یعنی صوفیائے کرام کے اصطلاح میں نبی کسے کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ میں کسے کہتے ہیں۔ میں اس فرق کا حاصل بیان کرتا ہوں۔ صوفیاء کی اصطلاح میں ولایت کے ایک مرتبہ خاص کا نام ہے مگر اس کا ماننا اور اس پر ایمان لانا کسی پر ضروری نہیں اور نہ اس کے انکار سے کوئی کافر وجہنمی ہوسکتا ہے اسی وجہ سے کسی عالی مرتبہ صاحب ولایت نے اپنے منکر کو کافر نہیں کہا باوجودیکہ مخلوق نے ان میں سے بعض کو کافر کہا۔
دوسری غلطی: نبی حکمی اور نبی حقیقی میں فرق نہیں کیا۔ جو صلاح وتقویٰ کے ساتھ ہدایت خلق اور رفاہ خلق کرے اس نے وہ کام کیا جو نبی کرتے ہیں۔ اس لئے انہیں حکمی نبی کہہ دیتے ہیں۔ اس کو منصب نبوت سے کیا واسطہ؟ عبدالماجد قادیانی کو اتنا بھی نہیں معلوم اور ایک حقانی علامہ کا مقابلہ کرنے چلے ہیں۔
تیسری غلطی: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو چھوڑ کر علماء کے اقوال پیش کئے مگر اتنا نہیں معلوم کہ اس مقابلہ میں علماء کے اقوال لائق توجہ ہوسکتے ہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام پر اپنی قابلیت اور وسعت نظر جتانا منظور ہے تاکہ عوام سمجھیں کہ عبدالماجد قادیانی نے اتنی کتابیں دیکھ لی ہیں۔ اتنا انہیں علم کہاں کہ یہ کتاب کس کی تالیف ہے۔ وہ کس پایۂ کے عالم تھے۔
چوتھی غلطی: یہ نہیں سمجھے کہ کمالات نبوت پر پہنچنا اور بات ہے اور منصب نبوت پر فائز ہونا اور بات ہے۔ کمالات نبوت میں ایک کمال یہ ہے کہ مثلاً مخلوق خدا پر شفقت اور ہدایت خلق کا شوق ہونا۔ اب اس شفقت اور شوق کے مراتب ہیں جو ان دونوں صفتوں کے
مرتبہ عالی کو پہنچا وہ بعض کمالات نبوت پر پہنچا اس پایہ کے علمائے امت ہوئے اور ورثۃ الانبیاء کہلائے۔ نبی نہیں کہلائے منصب نبوت اس سے بہت عالی ہے۔ مرزاقادیانی کو تو یہاں تک پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا۔ وہ ہمیشہ خلق کے لئے بددعا کرتے رہے اور ان کے لئے طاعون اور زلزلوں اور سخت آفتوں کو بلاتے رہے اور خلق کی مصیبتوں پر خوش ہوتے رہے اور علمائے امت کے ساتھ نہایت سختی اور بدزبانی سے پیش آتے رہے۔
شان شفقت اور شوق ہدایت اسے کہتے ہیں کہ منکرین رسول اﷲa آپa کے خون کے پیاسے تھے اور آپa کے شہید کردینے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ مگر اس خاص جنگ کی حالت میں اس رحمت للعالمینa کی شان رحمت نے یہ جلوہ دکھایا کہ کوئی سخت لفظ زبان مبارک پر نہیں آیا۔ بلکہ یہی ارشاد ہوا کہ: ’’اللہم اہد قومی فانہم لا یعلمون‘‘
(درمنثور ج۲ ص۲۹۸)
یعنی اے خدا میری قوم کو تو ہدایت کر یہ واقف نہیں ہیں نادان ہیں۔ شوق ہدایت اور شفقت خلق کی یہ شان ہے۔ پھر ایسے شفیق امت اور رحمت خلق کے ظل ہونے کا دعویٰ اور یہ سختیاں پھر یہ دعویٰ جھوٹا نہیں تو اور کیا ہے؟
پانچویں غلطی: مؤلف القاء اپنے مرزاقادیانی کا وہ قول یاد کریں جو میں نے اس تحریر کے پہلے حصہ میں ان کے دعویٰ کی غلطی میں پیش کیا ہے۔ وہ قول تو ان بزرگوں کے قول کو غلط بتارہا ہے۔ وہ تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں میرے سوا کوئی نبی نہیں ہوا اور کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملا اور قادیانی مربی کے خیال کے بموجب مذکورہ عبارتیں یہ بتاتی ہیں کہ اور بھی انبیاء ہوئے اس لئے قادیانی مربی کو چاہئے کہ پہلے مرزاقادیانی کے دعویٰ کو غلط مان لیں۔ اس کے بعد صوفیائے کرام کی وہ عبارتیں پیش کریں۔ ورنہ ان کا پیش کرنا محض بیکار ہے۔ میں ایک اور سچی بات کہنا چاہتا ہوں۔ قادیانی مربی معاف فرمائیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ بزرگوں کے اقوال کو سند میں پیش کریں۔ کیونکہ ان حضرات کی اصطلاحات اور اقوال سمجھنے کے لئے وسعت نظر کے علاوہ نہایت قابلیت اور روحانیت کی ضرورت ہے۔ جس سے قادیانی جماعت محروم ہے۔ کیونکہ روحانیت بغیر تقویٰ اور یاد خدا کے اور کسی بزرگ کی صحبت کے نہیں ہوسکتی اور اظہر من الشمس ہورہا ہے کہ قادیانی جماعت اس سے کوسوں دور ہے۔ انہیں تو سوائے وظیفہ مرزا کے اور کچھ نہیں ہے جس طرح پادری کفارہ پر
ایمان لانا نجات کے لئے کافی سمجھتے ہیں، اسی طرح قادیانی جماعت مرزاقادیانی پر ایمان لانے کو کافی خیال کرتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ صوفیائے کرام جناب رسول اﷲa کو خاتم المرسلین اور آخرالنّبیین سمجھتے ہیں اور صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی تشریعی غیرتشریعی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ قادیانی مربی ودیگر قادیانی حضرات صرف اسی بات پر غور کر لیں کہ مذکورہ بالا عبارتوں سے جن بزرگوں کی نبوت کو قادیانی مربی سمجھتے ہیں (جیسے حضرت مجدد صاحب وغیرہ) ان میں سے کسی کے نبی ہونے کا کوئی فرقہ اہل اسلام کا قائل نہیں ہے اور نہ ان کے منکر کو کافر، جہنمی، یہودی کا خطاب دیتے ہیں۔ بخلاف مرزاقادیانی کے کہ وہ اپنے منکر کو جہنمی یہودی قابل مواخذہ سب کچھ خطابات دیتے ہیں۔
(دیکھو حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷ وغیرہ) میں مرزاقادیانی کیا فرماتے ہیں۔
معزز ناظرین! ہماری اس قدر تحریر نے ضرور ثابت کردیا کہ قادیانی مربی نے قرآن مجید وقول بزرگان کی جو آڑ پکڑی تھی وہ محض دھوکہ تھا۔ قادیانی مربی کی نظر نہ قرآن مجید پر ہے اور نہ بزرگوں کے کلام کو وہ سمجھ سکتے ہیں۔ میں نے دلائل سے، پہلے حصہ میں اور اس حصہ میں دکھا دیا کہ قرآن مجیدمیں نبوت کی تین قسمیں ہرگز نہیں ہیں۔ اس کو قادیانی مربی کبھی نہیں ثابت کر سکتے ہیں اور نہ اس کو ثابت کر سکتے ہیں کہ قرآن مجید میں نائب رسول کو رسول کہا ہے اور یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ مرزاقادیانی فقط نائب رسول ہونے کی وجہ سے اپنے کو رسول نہیں کہتے ہیں بلکہ ان کا دعویٰ نبوت مستقلہ کا ہے جو آیت ختم رسالت کے صریح خلاف ہے۔ قادیانی مربی باتیں بنا کر اس کو چھپانا چاہتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے اگرچہ اپنے آپ کو خادم آنحضرتa اور آپa ہی کی نبوت کا فیض یافتہ لکھا ہے۔ لیکن اگر ان کے تمام اقوال پر نظر کی جائے تو ان کی تصنیفیں بآواز دہل پکار رہی ہیں کہ صرف یہی نہیں کہ مرزاقادیانی مستقلہ نبوت کے دعویدار ہیں بلکہ ہر قسم کے کمال نبوت کے مرجع ہیں۔ افضل الانبیاء ہیں۔ تمام کمالات نبوت انہیں کی وجہ سے انبیاء کو پہنچے ہیں۔ (معاذ اﷲ)
رسالہ دعویٰ نبوت مرزاقادیانی ملاحظہ کیا جائے۔ باایں ہمہ کہیں پر اپنے کو ظلی وبروزی نبی کہتے ہیں۔ یہ متعارض اقوال ان کی طرف سے بدگمان کرتے ہیں اور اس بھاری اختلاف کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بجز اس کے کہ مسلمانوں کے متوجہ کرنے کو خادم اور
فیض یافتہ ہونے کا دعویٰ ہے اور ان کا ظل اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ لیکن جب موقعہ ہاتھ آتا ہے تو اپنا مقصود اصل بھی صاف صاف آواز کے ساتھ ظاہر کر دیتے ہیں۔ دیکھئے۔ آپ حضرات تو جانتے ہی ہیں کہ مرزاقادیانی اپنے کو ظلی نبی، متبع نبی، غیر صاحب شریعت نبی کہا کرتے ہیں اور عبدالماجد قادیانی نے بھی ابھی اسی کا اقرار کیا ہے۔لیکن خود مرزاقادیانی (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) میں لکھتے ہیں: ’’اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ اس کے ماسوا یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: قل للمؤمنین یغضون من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکٰی لہم‘‘
یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔
یہ تو متن ہے اب اس کا حاشیہ ملاحظہ ہو۔
’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا نے میری وحی، تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ ’’واصنع الفلک باعیننا ووحیینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ ید اللہ فوق ایدیہم‘‘ یعنی اس تعلیم وتجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
اب یہاں عبدالماجد قادیانی کیا تاویل کریں گے؟ مرزاقادیانی کی اس تحریر نے تو قادیانی مربی کا صاحب شریعت وغیرہ کی قسمیں نکالنے کی مٹی پلید کر دی جب خود بدولت ہی اپنی
اب یہاں عبدالماجد قادیانی کیا تاویل کریں گے؟ مرزاقادیانی کی اس تحریر نے تو قادیانی مربی کا صاحب شریعت وغیرہ کی قسمیں نکالنے کی مٹی پلید کر دی جب خود بدولت ہی اپنی شریعت منوا رہے ہیں تو حاشیہ نشین کا راز پنہاں بتانا فریب نہیں تو اور کیا ہے؟ کسی نائب رسول اور ظلی نبی نے کہا ہے کہ میری بیعت کو خدا نے مدار نجات ٹھہرایا ہے؟ یعنی جس نے مجھ سے بیعت نہ کی اس نے نجات نہیں پائی وہ کافر جہنمی ہے۔ اس قول کے بعد بھی قادیانی مربی یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں ہے؟ وہ اپنے منکر کو کافر نہیں سمجھتے۔ ذرا خوف خدا دل میں کر کے اس کا جواب دیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اس قدر بیان سے قادیانی مربی کا نبوت کی تین قسمیں نکال کر مرزاقادیانی کو نائب رسول کے زمرہ میں شامل کر کے نبی کا خطاب دینا باطل ہوگیا اور مرزاقادیانی کا نبی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ آفتاب کی طرح ظاہر ہوگیا اور یہی میرامقصود تھا جو حاصل ہوگیا۔ لیکن تابخانہ باید رسانید کے مصداق سے میں صرف یہی نہیں دکھلاؤں گا کہ مرزاقادیانی مستقلہ نبوت کے دعویدار ہیں بلکہ ان کی تصنیفیں اس سے بھی بھری پڑی ہیں کہ وہ اپنے کو تمام انبیاء سے افضل اور حضور انورa سے برتر سمجھتے ہیں۔ وہو ہذا!
’’صرف میں یہ ہی جواب نہیں دوں گا کہ میںمعجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا کے فضل سے اور کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)
’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)
’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۵۳، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)
ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزاقادیانی کے نزدیک بہت کم ایسے نبی ہیں جن سے مرزاقادیانی کے معجزات زیادہ نہ ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ معجزہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ سچے نبی کی صداقت کے اظہار میں، اور جس قدر اس نبی کا مرتبہ زیادہ ہے۔ اسی قدر
اس کی صداقت کے اظہار میں معجزات کا ظہور زیادہ ہوگا۔ غرض کہ اس قول کا حاصل یہ ہوا کہ میں اکثر انبیاء سے افضل ہوں۔ قادیانی مربی یہ تو میں نے پوشیدہ راز آپ کے روبرو پیش کیا۔ مگر مرزاقادیانی نے تو صاف طور سے ایک نبی اولوالعزم حضرت عیسیٰm پر اپنی فضیلت کا دعویٰ کیا اور جوش میں آ کے اس کی تصدیق خدا اور رسول اور تمام انبیاء کے ذمہ لگا دی۔ اب ان کے مستقل نبی ہونے میں قادیانی مربی کو کیا عذر ہوسکتا ہے؟ کوئی نائب رسول کسی ادنیٰ نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ چہ جائیکہ اس کے ایک اولوالعزم رسول سے افضل ہو جائے۔ اب تو مرزاقادیانی کی نبوت مستقلہ اور بعض انبیاء بلکہ اکثر انبیاء سے ان کا افضل ہونا ان کے کلام سے ایسا ظاہر ہوگیا کہ قادیانی مربی کو کہنا چاہئے کہ اگر کسے شک آرد کافر گردد۔ مگر قادیانی مربی کا صاف طور سے یہ نہ کہنا اور نائب رسول کی رٹ لگانا صرف عوام کا دھوکا دینے کی غرض سے ہے۔ قادیانی مربی دیانتاً فرماویں کہ کیا کوئی نائب رسول انبیاء سے افضل ہوسکتا ہے؟ قادیانی مربی یہ فرمائیں کہ آخر زمانے کے مسیح کو خدا اور رسول نے اور تمام انبیاء نے افضل کہاں فرمایا ہے۔ کیا روئے زمین پر کوئی کتاب ہے جس میں خدا اور رسول کا یہ قول لکھا ہے؟ قرآن وحدیث میں تو یہ مقولہ نہیں ہے۔ سب سے زیادہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مرزاقادیانی آنحضرتa کی غلامی کا بظاہر دم بھرتے ہیں اگر ان کے مریدوں کی عقل صحیح وسالم ہے تو وہ دیکھیں کہ مرزاقادیانی نے حضور پرنورa سے بھی مساوات کا دعویٰ کیا ہے اور خوب زوروں سے کیا ہے۔ لیکن ان کے دام افتادوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی گئی ہے جو اس قسم کی باتوں پر ان کی نظر نہیں پڑتی۔ قادیانی مربی نے قصداً اگر دھوکا نہیں دیا ہے تو مرزاقادیانی کی محبت میں ایسے کوتاہ نظر ہوگئے ہیں کہ اس قسم کی باتیں ان کی آنکھوں سے نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیجئے! میں بتاتا ہوں آنحضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیa کی خاص فضیلت ہے کہ آپa رحمت للعالمین ہوکر تشریف لائے ہیں۔ یہ کسی نبی کو نہیں فرمایا گیا ہے۔ لیکن مرزاقادیانی کو بھی بعینہٖ بلفظہ یہی الہام ہوا کہ:’’وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین‘‘
(تذکرہ ص۸۱ طبع سوم، حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۵)
نمبر۲: مقام محمود صرف آنحضورa کے لئے خاص ہے۔ لیکن مرزاقادیانی کو بھی الہام ہوا۔ ’’اراد اللہ ان یبعثک مقاماً محموداً‘‘
(تذکرہ ص۶۰۹ طبع سوم، حقیقت الوحی ص۱۰۲، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)
اور حضرت حضورa ختمی مآب کی فضیلت میں نازل ہوا۔ ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘
قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اللہ کی وہ ذات ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ تمام دینوں پر اسے غالب کرے۔ جب کہ اس آیت کا نزول مرزاقادیانی اپنے لئے بیان کرتے ہیں۔ (تذکرہ ص۴۵، طبع سوم، حقیقت الوحی ص۷۱، خزائن ج۲۲ ص۷۴) تو اب اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ انہیں صاحب شریعت بننے کا دعویٰ ہے؟
مرزاقادیانی کہتا ہے کہ یہ خاص میری شان میں ہے ان کے اس الہام سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ صاحب شریعت ہونے کے مدعی تھے۔ جیسے آنحضورa صاحب شریعت تھے۔ معزز ناظرین! آپ نے دیکھ لیا کہ ایک غلام نے اپنے آقاa سے مساوات کا کس الفاظ میں ادّعاء کیا ہے؟ لیکن غلامان باوفا کے لئے اس سے بھی زیادہ سخت تعجب وتکلیف میں ڈالنے والی یہ بات ہے کہ اس غلام نے آقاa کی صرف مساوات ہی کا دعویٰ نہیں کیا ہے بلکہ جابجا افضلیت کا دعویٰ کر کے بھی اپنی تہذیب ووفاداری کا ثبوت دیا ہے؟
۱… قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں کہیں اشارتاً وکنایۃً بھی اس کا ذکر نہیں ہے کہ حضور سرور کونینa کو خدائی صفت یا اس کا ایک حصہ بھی ملا ہو۔ بلکہ قرآن مجید میں صاف صاف ارشاد ہے کہ ’’انک لا تہدی من احببت (القصص:۵۶)‘‘ ہر اس شخص کو جس سے تم کو محبت ہو تم ہدایت نہیں دے سکتے ہو۔
پھر دوسری جگہ ہے کہ مشرکین کے لئے تم اگر ستر مرتبہ بھی استغفار کرو تو خدا نہیں بخشے گا۔ اللہ اللہ حضورa تو اپنی تمام خواہشوں میں روکے جاتے ہیں لیکن ایک غلام دعویٰ کرے کہ:
۱… ’’انما امرک اذا اردت شئیا ان تقول لہ کن فیکون‘‘ (تذکرہ ص۵۱۷، حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) جس کے معنی یہ ہوئے بس تیرا (مرزاقادیانی) مرتبہ یہ ہے کہ جب تو ارادہ کرے کسی چیز کا اور فرمادے کہ ہو جا پس ہو
جائیں گے۔ یہ خاص خداوندی صفت ہے جو رسول اللہ کو نہ ملے اور مرزاقادیانی پیٹ بھرکر حصہ پائیں۔ اس کے جواب میں مرزائیوں نے لکھا ہے کہ حضرت غوث پاک کو بھی یہ الہام ہوا تھا اور فتوح الغیب کا حوالہ بھی دے دیا ہے۔ افسوس ہے کہ جو پہلے نیک تھے۔ مگر مرزاقادیانی نے انہیں بھی ایسا کر دیا کہ صاف طور سے جھوٹ بولنے لگے اور پھر یہ بھی شرم نہیں کہ یہ ایسا جھوٹ ہے کہ پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ یعنی یہ کہنا کہ یہ الہام حضرت شیخ عبدالقادرv پر ہوا تھا۔ محض غلط ہے۔ فتوح الغیب موجود ہے اس میں ہرگز یہ نہیں ہے جس کا دعویٰ ہو وہ دکھائے کہاں ہے؟
۲… رسول اﷲa کو تو ’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ نہیں ارشاد ہوا لیکن مرزاقادیانی اپنے خود ساختہ قرآن میں اپنے بارہ میں فرمارہے ہیں جس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
۳… رسول اکرم کو خداوند تعالیٰ نے سوائے رسول وغیرہ الفاظ کے بیٹا نہیں کہا۔ لیکن مرزاقادیانی کو ’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ کا الہام ہوا۔
(تذکرہ ص۵۲۶، طبع سوم، حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)
جس کے معنی یہ ہوئے کہ ’’اے مرزا تو ہمارے نزدیک بمنزلہ ہماری توحید کے ہے اور تو بجائے بیٹا کے ہے۔‘‘ اب مرزاقادیانی کو یہ مرتبہ ہوگیا کہ خدا کا بیٹا کہے جانے لگے اور جن کی غلامی کا ہمیشہ بظاہر دم بھرتے ہیں۔ یعنی آقائے دو جہاں آنحضرتa ہمیشہ اپنے کو خدا کا غلام ہی ظاہر کرتے رہے۔ ایک مرتبہ بھی بیٹا کے لفظ سے نہ پکارے گئے۔ مرزاقادیانی جابجا اپنے کو حضورa کا غلام کہہ دیا کرتے ہیں اور قادیانی مست ہیں کہ دیکھو وہ تو غلام کہتے ہیں۔ دعویٰ ہمسری نہیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ چال نہیں تو اور کیا ہے؟ کیونکہ مرزاقادیانی باوفا غلام اسی وقت تصور کئے جاسکتے ہیں۔ جب آقاa کے اعزازی وتمیزی خطابات میں اپنے کو برابر کا شریک نہ ثابت کرتے اور ان سے فوقیت کا خیال نہ کرتے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اپنے خطابات ودعویٰ نبوت ورسالت کا انہیں زوردار الفاظ میں اظہار کیا ہے جو آنحضرتa کو دربار احدیت سے پروانہ تقرری میں ملے ہیں۔ یعنی ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی بادشاہ اپنے دو معتمدوں کو ایک ہی قسم کے الفاظ میں پروانہ تحریری دے کر اپنے ممالک محروسہ کا
یکے بادیگرے والی بنا کر بھیجے تو ان دونوں کا مرتبہ ایک ہی خیال کیا جائے گا۔ ایک دوسرے کا نائب وغلام نہیں ہوسکتا۔ جیسے ہندوستان کے جتنے گورنر جنرل آئے یا آتے رہیں گے سب کا مرتبہ بہ اعتبار عہدے کے ایک ہی ہے۔ ان میں سے اگر کوئی اپنے کو پیشرو کا غلام کہے تو کسی پالیسی یا انکسار پر محمول ہوگا۔ اسی طور سے مرزاقادیانی کا باوجود حضورa کے پروانہ تقری میں برابر کا شریک ہونے کے امتی امتی کی رٹ لگانا کسی مذموم پالیسی پر محمول ہوگا۔ جو ان کو ایک مرد باخدا بھی ثابت نہیں ہونے دیتی ہے۔ نبوت تو ایک بڑی چیز ہے۔
ناظرین! قادیانی مربی کی تمام دلیلوں کی بفضلہ قلعی کھل گئی اور ان کا بطلان اظہر من الشمس ہوگیا۔ البتہ ایک بات رہ گئی جس کے متعلق میں نے ابھی تک کچھ نہیں لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ قادیانی مربی نے تحریر فرمایا ہے کہ رسول اللہ نے بھی مسلم شریف کی حدیث میں مسیح موعود کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے۔ ملخصاً! اب قطع نظر اس کے کہ انہیں یہ دعویٰ کرنا اس وقت زیبا ہوسکتا تھا کہ پہلے کسی ایسی دلیل سے مرزاقادیانی کو مسیح موعود ثابت کرتے کہ مخالفین بھی مان لیتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں۔ مگر اس سے ہم قطع نظرکر کے اسی حدیث سے ان کے دعویٰ کی غلطی ثابت کرتے ہیں۔
اب حضرات اس دلیل کا بھی رنگ ملاحظہ کرلیں۔ یہ بحول اللہ آپ کو دکھلاتا ہوں کہ قادیانی مربی نے بھی سخت دھوکا دیا ہے۔
۱… میں قادیانی مربی سے دریافت کرتا ہوں کہ کیوں مربی صاحب۔ آنحضرتa نے حضرت عیسیٰm کو نبی اللہ کا خطاب دیا ہے۔ وہ حقیقی نبی کا یا مجازی کا؟ اگر حقیقی نبوت مراد ہے تو ہیرپھیر کر وہی بات آگئی کہ مرزاقادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور امتی امتی کی رٹ دھوکہ کی چال ہے۔ دوسرے خود مرزاقادیانی نے جہاں پر حضرت عیسیٰ ناصریm کے دوبارہ دنیا پر تشریف لانے کو رد کیا ہے۔ بڑے زروں میں حقیقی نبوت کو بعد خاتم النّبیین کے ناجائز قرار دیا ہے بلکہ (کتاب البریہ ص۱۹۹،۲۰۰، خزائن ج۱۳ ص۲۱۷،۲۱۸) میں مرزاقادیانی آیت خاتم النّبیین کے معنی اس قدر سخت مانتے ہیں کہ آنحضرتa کے قبل کے انبیاءo کا بھی بعد آپa کے دوبارہ آنا سخت ناجائز ہے بلکہ مرزاقادیانی کی عبارت محولہ بالا نے
آسانی سے اس کا بھی فیصلہ کردیا ہے کہ بعد حضورa کے امتی وظلی نبی کا آنا بھی ویسا ہی حرام ہے۔ جیسا کہ صاحب شریعت نبی کا۔ کیونکہ حضرت عیسیٰm کو مرزاقادیانی اور ان کی جماعت امتی نبی ہی کہتے ہیں اور باوجود امتی نبی کے ان کا آنا آیت خاتم النّبیین کے خلاف وسخت خلاف کہتے ہیں تو اب دوسرے امتی نبی کا آنا کیونکر جائز ہوگیا؟ یہ مرزاقادیانی کی عین ہوشیاری ہے کہ ایک جگہ یعنی حضرت عیسیٰm کے دوبارہ آنے کو اس وجہ سے ناجائز قرار دیا کہ بعد آنحضرتa کے نبی اﷲ کا آنا آیت قرآنی کے خلاف ہے اور جہاں پر اپنی نبوت دکھلائی ہے وہاں پر یہ کہہ دیا کہ بعد آپa کے نبی اللہ کے آنے میں کوئی معذور شرعی نہیں ہے۔ (یہ لفظ اس مقام پر غلط ہے مگر عبدالماجد قادیانی کے باوجود دعویٰ قابلیت کے اپنے رسالہ میں اسی طرح لکھا ہے اس لئے میں نے ان کی قابلیت کے اظہار کے لئے اسی طرح رہنے دیا تاکہ اہل علم دیکھیں کہ اس قابلیت پر فیصلہ آسمانی کا جواب دینے بیٹھے ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے بایں خواری امید ملک داری) اور نہ کسی آیت کے خلاف ہے۔ یہ تو مرزاقادیانی کا فعل ہے۔ اس کے جواب دہ قادیانی مولوی نہیں ہوسکتے ہیں۔ لیکن ان کی چالاکی یہاں پر یہ ہوئی ہے کہ دلیل پیش کی حقیقی نبوت کی اور تمغہ دیا مستقلہ رسالت کا۔ لیکن جب آیت ختم رسالت کا تذکرہ کیا گیا تو فوراً فرمانے لگے کہ نائب رسول ہونے کے سبب سے مرزاقادیانی کو رسول کہتے ہیں اور اس کو ایک قلم بھلا دیتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے حقیقی نبوت سے کہیں بڑھ چڑھ کر دعویٰ کیا ہے اور اپنے کو صاحب شریعت انبیاء سے بھی بلند تر کہا ہے۔
کیا اب بھی کسی قادیانی کا منہ ہوسکتا ہے کہ مرزاقادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ہے؟ اور ان کی نبوت مجازی ہے کیا مجازی نبوت کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ وہ تمام حقیقی انبیاء سے بھی بالاتر ہو۔ غرض کہ اس حدیث میں اگر نبی اللہ کا خطاب مرزاقادیانی کو مل رہا ہے تو دونوں صورت میں مرزاقادیانی ملزم ہوتے ہیں۔ اگر حقیقی نبوت مراد ہے تو خود بدولت ہی اس کو بعد آنحضرتa کے ہونے کو روک چکے ہیں اور مجازی نبوت لیں گے تو وہی اعتراض ہوگا کہ اس سے بڑھ چڑھ کر دعویٰ مرزاقادیانی نے کیا ہے۔
۲… اوپر کی چالاکی تو خیر ایک معمولی چالاکی تھی۔ ہاں! اصل یہ دوسری چالاکی ہے۔ جو اس کو ہم فریب وسخت فریب کہیں تو مبالغہ نہیں ہوگا۔
قادیانی مربی نے جب مسلم کی حدیث سے استدلال کیاہے تو ان کو چاہئے تھا کہ حدیث معہ ترجمہ نقل کر دیتے تاکہ ہر شخص کو غور کرنے کا موقعہ ملتا لیکن افسوس قادیانی مربی نے ایسا نہیں کیا بلکہ صرف اس کی طرف اشارہ کردیا۔ اس کا راز یہ ہے کہ حدیث شریف اوّل سے آخر تک مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت ’’مہدویت‘‘ مسیحیت کی سخت مخالف ہے اور صرف لفظ نبی اللہ کا ان کے حسب خواہ ہے۔ اب حدیث نقل کرنے میں تو یہ خوف ہوا کہ چلے ہیں۔ مرزاقادیانی کی رسالت ثابت کرنے کہیں ان کی مہدویت ورسالت ہی کے نہ لالے پڑ جائیں اور واقعہ بھی یہی ہے لیکن صرف اشارہ کرنے میں پوری حدیث پر پردہ پڑا رہا اور لوگ سمجھے کہ ماشاء اﷲ! مرزاقادیانی کی نبوت کا استدلال حدیث شریف سے کیاگیا ہے۔ بس پھر کیا چوپڑی اور دو، دو۔
افسوس ہے قادیانی مربی یہ عذر بھی نہیں پیش کر سکتے ہیں کہ طوالت کے خوف سے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ اس سے بڑی بڑی عبارت اپنی کتاب میں نقل کی ہے اس کے علاوہ زیادہ نہیں تو صرف ترجمہ ہی نقل کر دیتے۔
۳… قادیانی مربی نے حدیث کو نقل نہ کرنے کے علاوہ ایک چالاکی یہ بھی کی ہے کہ اس کا پتہ مطلق نہیں دیا ہے کہ کس جلد اور کس صفحہ میں ہے۔ سمجھتے ہیں کہ کس کو غرض پڑی ہے جو اتنی بڑی کتاب کی دو جلدوں میں تلاش کرنے کی تکلیف اٹھائے گا اور ہمارے استدلال کے جانچنے کی فکر کرے گا۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ تاڑنے والے غضب کے ہوتے ہیں وہ گہری پردہ داری تک کو جان جائیں گے۔ بفضلہ تعالیٰ میں نے حدیث کو تلاش ہی کر لیا ہے اور بآواز بلند کہتا ہوں کہ:
صرف اسی حدیث پر ہو جائے۔ جتنی باتوں کو یہ حدیث بتاتی ہے ہم اور قادیانی مربی بلاچون وچرا تسلیم کر لیں۔ اب زیادہ قصہ وقضایا کی ضرورت نہیں ہے اور نہ زیادہ کاغذ سیاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک روز ہم اور وہ مع دس بیس آدمیوں کے مونگیر میں یا بھاگلپور میں بیٹھ جائیں اور سامنے حدیث رکھ دی جائے اور میں یا خود قادیانی مربی ترجمہ کر کے سنائیں میرا ان کا فیصلہ ہے۔ ترجمہ لغت اور محاورہ عرب کے مطابق ہوگا اور مطلب وہی جو
حدیث کے الفاظ سے سمجھا جاتا ہے اس بات کو قادیانی مربی سرسری نہ خیال فرمائیں بلکہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں مربی قادیانی عبدالماجد کو چیلنج ہے۔
قادیانی مربی نے ثنائی چکر وغیرہ میں علماء اسلام کو جو غیرت وحیاء وغیرہ کے الفاظ لکھے تھے یا لکھوائے تھے۔ انہیں سامنے رکھ کر ہمت کریں۔ اب میں قادیانی عبدالماجد کی غیرت کو جنبش دیتا ہوں اگر وہ مرزاقادیانی کو واقعی نبی اللہ مانتے ہیں تو ضرور سامنے آکر اس حدیث سے ثابت کر کے فیصلہ کر لیں گے۔
عبدالماجد قادیانی سے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر وہ ڈر کر سامنے نہ آنا چاہیں اور علمی تکبر کا حیلہ کر لیں تو ہماری دوست فضیلت مآب قادیانی حکیم خلیل احمد ہی کو ہمارے سامنے کر دیں۔ ہم دونوں سے فیصلہ کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن غیرت کا تقاضا تو یہ ہونا چاہئے کہ خود عبدالماجد قادیانی سامنے آجائیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قادیانی حکیم کو اس قدر قابلیت نہیں ہے کہ حدیث میں گفتگو کر سکیں۔
میں عبدالماجد قادیانی کی خاطر اتنی آسانی اور دیتا ہوں کہ اگر حدیث شریف کو اپنے خلاف سمجھ کر فیصلہ کے لئے نہ آنا چاہیں اور کوئی بہانہ کرنا چاہیں تو مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی سے بھی قادیانی مربی اپنے موافق دلیل لائے ہیں۔ بس مکتوبات حضرت مجدد ہی پر فیصلہ ہو جائے۔
معزز ناظرین! اس قدر خطاب تو میاں عبدالماجد قادیانی سے تھا۔ اب میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ عبدالماجد قادیانی کا حکیم خلیل احمد قادیانی کا صحیح مسلم کی حدیث سے فیصلہ کرنے کے لئے آنا معلوم۔ ان کا اگر حدیث کے مطابق ایمان ہوتا تو جیسے دوسری کتابوں سے لمنبی لمنبی عبارتیں نقل کی ہیں ضرور اس کو بھی نقل کرتے یا کم سے کم نشان وحوالہ ہی بتاتے پورے طور سے۔ غرض کہ حدیث شریف کا مضمون وترجمہ آپ کے کانوں تک پہنچنا بہت مشکل تھا۔ اس واسطے میں آپ کے دیکھنے کے خیال سے اور ان بھولے بھالے قادیانیوں کی خیرخواہی کے واسطے جو قادیانی عبدالماجد کے واسطے اگر آخرت کا خیال فرمائیں۔ اس حدیث شریف سے جتنی باتیں نکلتی ہیں نقل کرتا ہوں۔ جس میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر فیصلہ کر لے۔ حدیث شریف یا اس کے لفظی ترجمہ کو اس وقت میں اس وجہ سے نہیں نقل
کرتا ہوں کہ قادیانی عبدالماجد کی ہمت ومردانگی کو آزماؤں۔ اگر انہوں نے مردانگی کے ساتھ اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور ان کو اس حدیث سے کچھ خوف نہیں ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس قدر غیرت دلانے والے الفاظ کو دیکھ کر ضرور اپنے کسی آئندہ رسالہ میں حدیث شریف مع ترجمہ کے نقل کر کے داد مردانگی لیں گے۔ اس وقت میں قادیانی حضرات ودیگر ناظرین کے لئے صرف اس حدیث شریف کے مضامین کو نمبروار بیان کرتا ہوں اور اس کے مقابل میں نفس مضمون حدیث کے متعلق مرزاقادیانی وعبدالماجد قادیانی کا خیال اعتقاد لکھتا ہوں۔
آپ حضرات خود دیکھ لیں کہ قادیانی مربی اس حدیث کے مضامین کو کہاں تک اور کس حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں اور کس منہ سے اس حدیث کو مرزاقادیانی کی نبوت کی دلیل میں لائے ہیں۔
نمبرشمار
مضمون حدیث
مرزاقادیانی کا خیال
۱
دجال ایک شخص واحد ہوگا۔
دجال پادریوں کی ایک جماعت ہے۔
۲
دجال جوان ہوگا۔
دجال زیادہ تربوڑھے ہوں گے (کیونکہ پادری کا خطاب زیادہ تر بڑھاپے میں ملتا ہے)
۳
اس کے بال بہت گھونگر والے ہوں گے۔
مطلق گھونگر والے نہیں ہوں گے (پادریوں کو ملاحظہ کر لیں)
۴
اس کی ایک آنکھ مثل انگور کے ابھری ہوگی۔
ایسا نہیں ہوگا۔ (پادریوں کو ملاحظہ کر لیجئے)
۵
وہ شام وعراق کے درمیان سے نکلے گا۔
وہ یورپ سے نکلیں گے۔ (کیونکہ پادری زیادہ وہیں سے آتے ہیں)
۶
وہ بہت فساد برپا کرے گا۔
وہ بہت امن کے ساتھ سلطنت کریں گے (کیونکہ انگریز بہت امن پسند ہوتے ہیں) خود مرزاقادیانی نے بھی انگریزوں کی سلطنت کی بڑی تعریف کی ہے۔
۷
وہ زمین پر چالیس دن رہے گا۔
وہ زمین پر سینکڑوں برس رہیں گے۔
۸
دجال کے وقت ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی ایام مثل معمولی دنوں کے ہوں گے۔
یہ کیونکر ممکن ہے نظام قانون کے خلاف ہے۔
۹
وہ زمین پر بادل کی طرح تیز چلے گا۔
ان کی چال معمولی ہوگی۔ (اور ریل گاڑی کے ذریعہ سے تیز چلیں گے تو دجال،عیسیٰ، کافر، مسلمان، سب کے سب چلتے ہیں دجال کی خصوصیت نہیں ہے)
۱۰
وہ ایک جوان شخص کو تلوار سے دو ٹکڑے کر کے دوبارہ زندہ کرے گا۔
یہ غلط ہے مرکر کسی کا زندہ ہونا قانون قدرت کے خلاف ہے۔ (دہریہ بھی ایسا ہی کہتے ہیں)
۱۱
ایسے ہی زمانہ میں حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے۔
نزول عیسیٰ کے وقت میں ایسی ایسی دورازعقل باتیں نہ ہوگی۔
۱۲
حضرت عیسیٰ دمشق کے منارہ شرقی سے نزول فرمائیں گے۔
قادیان میں نازل ہوں گے اور منارہ ادھورا بنوا کر چھوڑ جائیں گے۔
۱۳
دوزردچادر اوڑھے ہوں گے۔
جسم کا اعلیٰ واسفل حصہ بیماری کی وجہ سے زرد ہوگا۔ زرد چادر نہیں ہوگی۔
۱۴
دوفرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔
دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھنا کافی ہے۔
۱۵
سر سے صاف قطرے پانی کے ٹپکیں گے۔
اس کی ضرورت نہیں۔
۱۶
ان کی سانس سے کافر مریں گے۔
نہیں بددعا سے۔
۱۷
ان کی سانس ان کے منتہائے نظر تک جائے گی۔
قانون قدرت کے خلاف ہے۔
۱۸
حضرت عیسیٰ دجال کو تلاش کرتے ہوئے باب لد پر پکڑیں گے اور وہیں قتل کر ڈالیں گے۔ (باب لد بیت المقدس کے قریب شہر ہے)
قتل کا مضمون غلط ہے۔ بلکہ دجال کے سامنے حضرت عیسیٰ ہی تشریف لے جائیں گے۔ ہاں! لدھیانہ میں مناظرہ ہوگا اور متعدد مناظروں سے مرزاقادیانی فرار کریں گے۔
۱۹
اللہ پاک حضرت عیسیٰ کے پاس وحی بھیجے گا کہ ہم نے تمہارے واسطے ایک ایسی جماعت تیار کر رکھی ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت فنا نہیں کرسکتی۔
مرزائی جماعت کو تو ہندوستان کا ایک رئیس چاہے تو تباہ کر دے۔ چنانچہ امیر کابل نے ایک مرزائی کو تربیت کی غرض سے ذلت سے مارا اور کسی مرزائی سے کچھ نہ ہوسکا۔
۲۰
حضرت عیسیٰ کے وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے اور بحیرۂ طبریہ کا پانی ان کا ایک گروہ پی جائے گا۔
یاجوج ماموج بھی یورپ کے معمولی انسان ہوں گے۔
۲۱
حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی محصور ہو جائیں گے۔
مرزاقادیانی کبھی محصور نہیں ہوئے۔
۲۲
اس وقت میں گائے کا سرا اشرفیوں سے زیادہ پیارا ہوگا۔
براہین احمدیہ کی قیمت ہی پیاری ہوگی۔
۲۳
یاجوج ماجوج پرخدا کیڑا برسائے گا اور ایک ہی رات میں سب کے سب مر جائیں گے۔
یاجوج ماجوج پر کم اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں پر اور ہندوؤں اور منکر مکذب مسلمانوں پر (طاعونی) کیڑے زیادہ گریں گے اور ایک رات میں مرنے کی ضرورت نہیں۔
۲۴
ایک بالشت زمین بھی لاشوں کی بدبو سے خالی نہ ہوگی۔
یہ کہاں؟ مبالغہ بلکہ غلط ہے۔
۲۵
اس کے بعد ایک ایسی عام بارش ہوگی کہ زمین کو دھوکر صاف کر ڈالے گی۔
ایسا نہیں ہوگا۔
۲۶
حضرت عیسیٰ کے وقت ہر چیز بڑھ جائے گی۔ ایک انار کے چھلکے سے چھتری تیار ہو سکے گی اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کو کافی ہوگا۔
گرانی زیادہ ہو جائے گی۔ لوگ دانوں کو ترسیں گے۔ دودھ گراں ہو جائے گا۔
۲۷
اس کے بعد ایک ایسی خوشبودار ہوا چلے گی کہ سب مسلمان ایک ہی مرتبہ مر جائیں گے۔
سب غلط ہے۔ (یہ ستائیس غلط خیالات مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کے ہیں جن کو عبدالماجد قادیانی بھی مان رہے ہیں اور پھر جہل مرکب یہ ہے کہ اس حدیث سے مرزاقادیانی کی نبوت ثابت کرنا چاہتے ہیں جو ۲۷باتوں میں مرزاقادیانی کے دعویٰ کو غلط بتارہی ہے)
۲۸
حضرت عیسیٰ نبی اللہ ہوں گے۔ (مگر وہ عیسیٰ جن کے نزول کی ۲۷علامتیں اسی حدیث میں بیان کی گئیں)
ہاں ہاں ضرور ہوں گے۔ (مگر یہ بھی ضرور کہنا ہوگا کہ مرزاقادیانی وہ نہیں ہیں)
حدیث میں یہ ستائیس علامتیں مسیح موعود کی بیان ہوئیں۔ اٹھائیسویں بات یہ ہے کہ وہ عیسیٰ جو نزول کریں گے وہ نبی ہوں گے۔ افسوس ان کی عقل پر ہے کہ اس سے مرزاقادیانی کی نبوت ثابت کرتے ہیں۔ یہ کیسی عظیم الشان غلطی ہے کہ جس حدیث کی ۲۷باتیں صاف صاف بتارہی ہیں کہ مرزاقادیانی مسیح موعود نہیں ہیں۔ اس حدیث سے مرزاقادیانی کا نبی اﷲ ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔ الحاصل اس حدیث کے بیان سے ۲۸غلطیاں قادیانی عبدالماجد کی معلوم ہوئیں۔
اس موقع پر قادیانی مربی کی ایک ہوشیاری مجھ کو یاد آئی کہ شروع باب میں تو نائب رسول، مرزاقادیانی کو کہا اور نبوت سے انکار تھا۔ لیکن حدیث سے دلیل دی تو نبوت کی دی۔ جس میں لوگ ان کی شروع تحریر دیکھ کر خیال کریں کہ نبوت، نبوت، لوگ غلط الزام دیتے ہیں۔ لیکن حدیث کے مضمون پر پہنچ کر ان کی نبوت سے کچھ مانوس ہو جائیں گے اور آہستہ آہستہ قائل بھی ہو جائیں گے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہماری اس تحریر سے مرزاقادیانی نہ نائب رسول رہے اور نہ رسول، بلکہ حدیث شریف کے مندرجہ بالا مضامین کو اور مرزاقادیانی کے خیال کو دیکھ کر ہر شخص آسانی سے سمجھ لے گا کہ حدیث میں جو لفظ نبی اللہ ہے۔ وہ مرزاقادیانی کی شان میں ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ان کے سخت مخالف ہے۔ قادیانی مربی کی یانافہمی یا حدیث سے بے علمی ہے جو اس کو اپنے موافق خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ حدیث میں نبی اﷲ
کالفظ ہے اور قادیانی مربی نے مرزاقادیانی کے نائب رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں اوپر حدیث سے ثابت کرچکا ہوں کہ شریعت غرّاء میں نائب رسول کو نبی اللہ کہنا کسی صورت سے جائز نہیں ہوسکتا۔ پس صاف ظاہر ہوگیا کہ حدیث کا خطاب مرزاقادیانی کو (جو بزعم خود نائب نبی اﷲ ہیں) نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ اس حدیث کے لفظ نبی اللہ کا خطاب اسی شخص کو مل سکتا ہے۔ جس کے وقت میں حدیث کی باقی ۲۷علامتیں پائی جائیں اور ظاہر ہے کہ یہی شخص مسیح موعود بھی ہوگا۔ اب دیکھ لو کہ مرزاقادیانی میں ۲۷میں سے ایک علامت بھی نہیں پائی جاتی ہے تو صرف نبی اللہ کے خوبصورت لفظ کو اختیار کر لینا کیا قرین دیانت ہوسکتا ہے؟ اور اگر یہ کہو کہ نبی اللہ کے علاوہ جو ۲۷علامتیں ہیں ان کی تاویل کی گئی ہے۔ جیسا کہ قادیانی کہہ دیا کرتے ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ پھر مسیح موعود کا کیا ثبوت ہے؟ اگر اس قسم کی نصوص قطعیہ کی تاویل ہو جایا کرے تو نہ خدا باقی رہتا ہے نہ رسول، نہ کتاب اللہ اور جس بے تکا پن سے ان ۲۷علامتوں کی تاویل کی گئی ہے۔ دوسرا شخص بھی نبی اللہ کے معنی عدو اللہ بیان کردے گا اور ثابت کر دے گا۔ پھر نہ مسیح موعود کا ثبوت ہے اور نہ مہدی کا۔
دیکھو حقیقت المسیح میں مسیح کے آنے کی کیا اچھی تاویل کی گئی ہے۔ جو نہ لغت کے خلاف ہے اور نہ عقل کے۔ مرزاقادیانی کے لفظ نبی اللہ کو چن لینے سے اس واقعہ کے مشابہ ہو جاتا ہے کہ ایک آریہ کے گھر گرو مہاراج آئے اور عورتوں سے کہا کہ آج کوئی لیلا (ڈرامہ) ہونا چاہئے۔ عورتوں نے کہا بہت اچھا مہاراج۔ آپ ہی مقرر بھی کر دیجئے کہ کون سا ڈرامہ ہو۔ پنڈت جی نے وہ ڈرامہ کی شکل اختیار کی جس میں مہاراجہ کرشن عورتوں کے نہاتے وقت ساڑھیاں اٹھا کر درخت پرلے بھاگا اور اس شرط پر واپس کیں کہ سب پانی سے نکل کر ننگی میرے پاس ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوں۔ غرض کہ مردوں کو باہر نکال دیا گیا کہ عورتیں پوجا کریں گی اور رات یہ ڈرامہ ہوا۔ آریہ کے دل میں کھٹکا ہوا تو اس نے چھپ کر سب ماجرا دیکھا۔ بہت غصہ ہوا اور صبح کو اپنے کو بنا کر کہا کہ مہاراج آج رات کو وہ ڈرامہ کیجئے جس میں مہاراج کرشن جی نے ایک انگلی پر پہاڑ کو اٹھا لیا تھا۔ گرو جی بولے تم عجیب بے وقوف آدمی معلوم ہوتے ہو۔ سوائے مہاراج کے کس میں یہ طاقت ہے؟ اتنا کہنے پر آریہ لاٹھی لے کر اٹھا یہ تم کو کرنا ہوگا۔ مزے والا ڈرامہ تو تم کرو پھر زور وطاقت والا ڈرامہ
کون کرے؟ لوگ کہتے ہیں بعینہٖ یہی حالت مرزاقادیانی کی ہے جن باتوں میں کام کرنا پڑتا تھا۔ مثلاً قتل دجال وغیرہ اس کو تو قبول کیا نہیں تاویل کردی اور خطاب کے لئے دعویٰ ہے۔ ضد ہے شور ہے۔ لیکن مرزاقادیانی کی نبوت کے خواہش مند حضرات یاد رکھیں کہ اس حدیث سے مرزاقادیانی کی نبوت کسی طرح ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔ بلکہ انہیں اچھے لوگوں کے شمول میں بھی نہیں رہنے دیتی ہے۔ نبی اللہ کا خطاب ملنا تو بڑی بات ہے جس کو یہ خطاب ملنا تھا مل چکا۔ یعنی کلمۃ اﷲ، روح اﷲ، حضرت عیسیٰm کی شان میں یہ لفظ ہے۔ حضرت عیسیٰm کا نبی اللہ ہونا آیت ختم رسالت کے منافی نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ پہلے سے نبی اللہ ہیں۔ بخلاف اس کے مرزاقادیانی جناب رسول اﷲa کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ ضرور ختم رسالت کے منافی ہو گا اور وہی دوبارہ دنیا پر مشرقی بیت المقدس سے نزول فرمائیں گے اور وہی دجال کو حقیقت میں قتل فرمائیں گے اور مرزاقادیانی کی طرح صرف مناظرہ وگالی گلوچ کا نام قتل نہ رکھیں گے۔ انہیں کے وقت میں مفسد اور کانا دجال پیدا ہوگا۔ اس لئے یہ حدیث بھی کافی طریقے سے ثابت کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰm اب تک زندہ ہیں اور ہرگز ہرگز نہیں مرے۔
قادیانی مربی کا یہ کہنا محض غلط ہے کہ حضرت عیسیٰm کا مرنا قادیانیوں نے قرآن مجید سے ثابت کیا ہے اور علمائے اسلام نے اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ مربی کہلا کر ایسی غلط بات کہتے ہیں۔ جس کے صریح جھوٹ ہونے میں کسی منصف کو تأمل نہیں ہوسکتا۔ اس مسئلہ کے متعلق جو ہمارے علماء کے رسالے ہیں اور میں نے دیکھے ہیں۔ ان کا تذکرہ کرتا ہوں۔
۱… شمس الہدایہ ۱۳۲۲ھ میں مطبع مصطفائی لاہور میں چھپا ہے۔ اس کے مؤلف مولانا پیرمہرعلی شاہ صاحبv ہیں۔
۲… سیف چشتیائی۔ اس کا جواب مرزاقادیانی سے نہیں ہوسکا۔ اس رسالہ کے مؤلف بھی پیر صاحبv ہیں۔
۳… الفتح الربانی۔ یہ رسالہ اصل عربی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ اردو میں ۱۳۱۱ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔
۴… ’’الحق الصریح فی حیات المسیح‘‘ ۱۳۰۹ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔ یہ وہ رسالہ ہے جس کے دلائل کے جواب بالمقابل مرزاقادیانی نہ دے سکے اور دہلی چھوڑ کر قادیان بھاگ گئے تھے۔ اس کے مؤلف مولانا محمد بشیرصاحب سہسوانی ہیں۔
۵… ’’البیان الصحیح فی حیاۃ المسیح‘‘ یہ رسالہ عمدۃ المطابق لکھنؤ میں چھپا ہے۔
۶…’’حصر الشارد فی ردہفوات المولوی عبدالواحد الملقب تشنید المبانی لردالقادیانی‘‘ اس کے مؤلف جناب مولانا حافظ ابو محمد عبد اللہ صاحب چھپراوی مقیم کلکتہ ہیں۔ آپ سے اور عبدالواحد مرزائی سے تحریری مناظرہ ہوا ہے اور مرزائی بالکل ساکت ہوگئے اور مولانا نے خوب تفصیل سے جناب مسیح کی حیات کو ثابت کیا ہے۔ بسیط رسالہ ہے مگر اس وقت تک طبع نہیں ہوا۔
۷… شہادۃ القرآن اس کے دو باب ہیں اور علیحدہ علیحدہ چھپے ہیں۔
پہلے باب میں آیات قرآنیہ سے حضرت عیسیٰ کی حیات ثابت کی ہیں اور دوسرے باب میں مرزاقادیانی کی دلیلوں کا جواب دیا ہے۔ یہ رسالہ دوبارہ لاہور میں ۱۳۳۰ھ میں چھپا ہے۔ اس کے مؤلف مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی ہیں۔ مولوی صاحب نے قادیانیوں کے تمام دلائل کو رد کر کے حیات عیسیٰm کے دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کا خزانہ اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ اب تک نہ مرزاقادیانی سے اور نہ کسی قادیانی سے اس کا جواب ہوسکا۔ اس کے علاوہ مولوی ابراہیم صاحب مناظرہ مونگیر میں آئے تو حیات عیسیٰm کے دلائل کو شیروں کی طرح للکار للکار کر بیان فرمایا۔ قادیانیوں کو اصرار کر کے نکتہ چینی کے لئے بلایا اور تو اور خود عبدالماجد قادیانی باوجود شہرت قابلیت کے سامنے نہ آسکے۔ اسی طور سے تھوڑا عرصہ ہوتا ہے کہ بھاگل پور میں جناب مولوی مرتضیٰ حسن صاحب نے حیات مسیح پر خوب خوب بیان فرمایا اور عبدالماجد قادیانی کو ان کی جماعت نے خاص طور سے اس موقع کی مدد کے لئے بلایا اور بہت کچھ ہمت بندھانا چاہا۔ مگر سامنے نہ آئے۔
۸… رسالہ مذاہب الاسلام مطبوعہ ۱۹۰۴ء آخر میں حیات مسیح پر عمدہ تقریر کی ہے اس کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔
۹… صحیفہ رحمانیہ نمبر۵ میں جناب مولوی انور حسین صاحب نے لفظ توفی پر خوب اچھی بحث لکھی ہے۔ جس سے ممات عیسیٰm ثابت کرنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی۔
۱۰… کچھ عرصہ ہوتا ہے کہ غلام سرور شاہ قادیانی مفتی صادق قادیانی لکھنؤ آئے تھے۔ علمائے اسلام نے مرزاقادیانی کی مہدویت ومسیحیت کے دلائل طلب کئے۔ ان دونوں نے انکار کیا اور حیات وممات کے مسئلہ پر بحث کرنے پر راضی ہوئے اور مدعی بھی علماء اسلام ہی کو بنایا۔ علمائے کرام نے دلائل لکھ کر قادیان بھیجے لیکن جواب ندارد۔ اس پر تقاضے کئے گئے لیکن صدائے برنہ خاست۔ مولوی عبدالشکور صاحب نے اس تحریر کو شائع بھی کر دیا۔
(دیکھو النجم لکھنؤ ج۱۰ نمبر۱۳)
یہ نو رسالے اور تحریریں اثبات حیات عیسیٰm پر میں نے دیکھی ہیں جو مونگیر میں موجود ہیں۔ اب کوئی قادیانی بتائے کہ ان کے جواب میں کسی قادیانی نے لب کشائی یا قلم فرسائی کی ہے؟ پھر کس منہ سے ممات مسیح کا دعویٰ ہورہا ہے۔ اس وجہ سے حضرت مولانا ابواحمد صاحب مدظلہم نے اس طرف توجہ نہیں فرمائی اور فضول سمجھا۔
اس کے علاوہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حضرت مسیح مرگئے اور دوسرے مسیح آئیں گے مگر اب اس کا ثبوت کہ وہ دوسرے مسیح مرزاقادیانی ہیں نہ خود مرزاقادیانی دے سکے اور نہ ان کا کوئی چیلہ اس پر قلم اٹھا سکا اور نہ کوئی اسے ثابت کر سکتا ہے۔ پھر مسیح کی حیات وممات پر گفتگو فضول ہے۔ اس لئے حضرت مولانا بلکہ اکثر دوسرے اہل کمال اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ الحمدﷲ! کہ ہماری مختصر تقریر سے ثابت واضح ہوگیا کہ مرزاقادیانی نہ سچے رسول ہیں اور نہ نائب رسول ہیں۔ مگر انہیں رسالت ونبوت کا دعویٰ ہے جو بالیقین ختم رسالت کے منافی ہے۔ اس لئے وہ ضرور یقینی طور سے حدیث ’’سیکون فی امتی دجالون کذابون‘‘کے مصداق ہیں جس کو ابوداؤد ومسلم وغیرہ کی روایت سے نقل کر چکا ہوں۔ قادیانی عبدالماجد اس پر غور کریں اور راہ باطل کو چھوڑیں۔و اللہ الموفق والمعین!
مسلمانوں کا خیرخواہ: محمد یعسوب
خواجہ غلام الثقلینؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں قابل مضمون نویس نے نہایت عمدگی سے یہ دکھایا ہے کہ نبوت وتقدس کی جو شان ہے، اس کے مطابق مرزاقادیانی کی باتیں ہرگز نہیں تھیں اور مسلمانوں کو ان کی ذات سے سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اس لئے وہ مسیح موعود ہرگز نہیں ہوسکتے۔
مونگیر اور بھاگلپور کے مرزائی، علمائے حقانی کے تو دشمن ہوگئے ہیں اور جواب سے عاجز آکر گالیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ مگر چونکہ ہمارے مذہب مقدس اسلام میں دوسروں کی خیرخواہی ایک بہت بڑا اسلامی فرض ہے۔ اس لئے ہمیں کسی وقت اس کو چھوڑنا نہ چاہئے اور جس وقت جو طریقہ مناسب ہو اسی طریقہ سے خیرخواہی کرنی چاہئے۔ اس وقت ایک نہایت عمدہ مضمون جو نہایت تہذیب سے لکھاگیا ہے اور مسیح قادیانی کی حالت کو عمدگی سے ظاہر کیا ہے اور اس کے لکھنے والے مشہور علماء سے نہیں ہیں بلکہ ایک اخبار کے ایڈیٹر اور قوم کے سچے خیرخواہ ہیں اور چونکہ مرزاقادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے اس لئے وہ دردمندی سے سمجھانے کے لئے لکھتے ہیں۔
مرزاقادیانی اور ان کے حواری اور واعظ اور اخبار نویس اس بات کو دہراتے نہیں تھکتے کہ مسلمانوں کی حالت نہایت سقیم ہے۔ اس لئے ایک جدید رسول اور مجدد اور ہادی اور مرسل یزدانی کی ضرورت ہے۔ اس دعویٰ کے پہلے حصہ سے ہم کو پورا اتفاق ہے اور جس شخص نے ہمارے گروہ کے رسالے اور لیکچر اور کتابیں ملاحظہ کی ہوں گی اس کو قبول کرنا ہوگا کہ اس قومی اصلاح کی ضرورت کو محسوس کرنے میں ہم ایک قدم پیچھے نہیں رہنا چاہتے اور اگر صاف صاف دلائل اور مفید اور برحق تعلیم ہم کو ملے تو ہم بے تأمل ایک ہادی اور ایک رسول کو لینے
کے لئے آمادہ ہیں۔ خواہ وہ ہادی مستقل رسول ہو یا کسی رسول کا اوتار یا بروز۔ خواہ اپنے الہامات سے اصلاح عالم کرے یا بابیوں اور دوسرے فرقوں کے انتخابات کو اپنی طرف سے شائع کرے۔ اگر خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی حق رسول مل جائے تو ہم اس کے سامنے اپنی پرانی احادیث اور روایات کو بھول جانے پر آمادہ ہیں۔ ہم پیغمبر اسلامa کی اس متواتر اور صحیح اور متفق علیہ حدیث سے انکار کرنے یا اس کی تاویل پر آمادہ ہو جائیں گے۔ جہاں آپa نے غزوہ تبوک میں جاتے وقت علیq ابن ابی طالب سے فرمایا تھا:’’قالm لعلی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی‘‘
(مشکوٰۃ ص۵۶۳، باب مناقب علی بن ابی طالب)
اے علیq! تو میرے ساتھ میں ایسا ہے جیسا ہارونmنبی موسیٰm کے ساتھ تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اس سے بھی زیادہ ہم قرآن شریف کی اس آیت کے معنی وہی لے لیں گے جو مرزاقادیانی لیتے ہیں کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ پہلے انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں۔ نبیوں کے مہر کے بھی معنی سہی اور یہ بھی سہی کہ مہر آخر میں نہیں ہوتی بلکہ مہر کے بعد عبارت ہوتی ہے۔ مگر قرآن وحدیث کے ان معنوںسے جو تیرہ سو برس سے مسلم ہیں اور اجماع امت محمدی کے چھوڑتے وقت کم ازکم یہ ضرور کہیں گے کہ ہم کو دین ودنیا کے فائدہ کی کوئی ایسی چیز ضرور دو جس کی وجہ سے ہم اپنا یقین واعتقاد قربان کر ڈالیں۔
ہاں! ہم بیمار ہیں، کمزور ہیں۔ ہم کو شفاء چاہئے اور ہم کو طاقت کی حاجت ہے۔ ہم نے کوئی عہد نہیں کیا کہ انگریزی طب یا یونانی طب یا ویدک ہی ہم کو اچھا کرے تو اچھے ہوں گے۔ اگر بیچم صاحب یہ ثابت کر دیں کہ ان کی گولیاں طاعون اور زلزلہ اور قحط کو دفع کر دیں گی تو ہم آج طب اور ڈاکٹری اور طبقات الارض اور پولٹیکل اکانومی کی تمام کتابوں کو دریا میں ڈبو کر بیچم صاحب کی اور علماء اور اطباء پر خدا کی مار پکارنے پر آمادہ ہیں۔ کیونکہ ہم نے اوّل ہی یہ بیان کیا ہے کہ ہم تعصب کے راستہ سے حق تک پہنچنے کو محال سمجھتے ہیں۔
وفات مسیح: اوّل ہم مرزاقادیانی کی نبوت کے دلائل پر غور کرتے ہیں۔ پہلی دلیل اور نہایت زبردست شہادت ان کی یہ ہے کہ مسیح ابن مریم وفات پاگئے۔ اس لئے میں غلام احمد مسیح موعود ہوسکتا ہوں۔ ہم ان دونوں دعوؤں کو بہت آسانی سے قبول کر لیتے ہیں۔ آپ بے شک مسیح موعود ہوسکتے ہیں۔ جیسے آپ کروڑ پتی یا ممبر پارلیمنٹ یا شہنشاہ جرمن ہوسکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ ایسے ہیں بھی؟ جو چیز محال نہیں وہ ممکن ہے۔ فرض کیجئے کہ ایک امتی مسلم کا مسیح ہونا ممکن ہے۔ مگر اس کی صفات اور آیات دیکھنی چاہئیں۔ سرسید احمد خان بے شک نپولین بوٹا پارٹ ہوسکتے تھے۔ کیونکہ نپولین مرچکا تھا اور مسلمانوں کو ایک زبردست جرنیل کی ضرورت تھی۔ مگر کیا سید احمد خان نپولین تھے؟ ہرگز نہیں۔ پس جب تک اپنی کوئی خصوصیت ظاہر نہ ہو مرزاقادیانی کا مسیح ہونا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کسی اور مؤلف یا مصنف کا۔
معجزات: ہر مذہب کے پیرو عام طور پر حقانیت ہادی کی دلیل معجزات اور آیات کو سمجھتے ہیں۔ معجزات کی نسبت مرزاقادیانی کا عقیدہ سرسید کے عقیدے کے موافق ہے اور ناچیز ایڈیٹر عصر جدید کے نزدیک محض غلط ہے۔ ہر معجزے یا خرق عادت کو محال سمجھنا، اوّل درجہ کی ناواقفیت حقائق الٰہیات سے ثابت کرتا ہے۔ میں اگر چاہوں تو ایک کام ایسا کر سکتا ہوں جو میں نے برس دن سے نہیں کیا تھا۔ میرا قلم اگر چاہے تو وہ مجھ سے ایسا کام نہیں کراسکتا۔ خداتعالیٰ اگر چاہے تو وہ بموجب اپنی مصلحت یا بموجب قوانین کے جو خاص اس کے علم میں ہیں ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے جو ظاہر میں لوگوں کو حیرت میں ڈال دیں۔ مگر انسان خدا کو مجبور کر کے اس سے معجزہ نہیں دیکھ سکتا۔ یہی معنی اس آیت کے ہیں۔ ’’قل انما الایات عند اللہ (انعام:۱۰۹)‘‘کہہ دے کہ نشانیاں خدا کے پاس ہیں۔ یعنی ان کا اظہار خدا کی رائے کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ بندہ کی خواہش کے موافق۔ نبی کا کام دنیا کو نیک راہ بتانا ہے اور بس۔ البتہ خداتعالیٰ خود اس کی تائید مناسب مواقع پر معجزات سے کرتا ہے۔ دوسرے ہمارا علم قوانین قدرت کا اس قدر محدود ہے جیسے ایک مچھر کا علم بمقابل افلاطون کے
قلیل ہے۔ جس طرح مچھر کو حق نہیں کہ افلاطون کی باتوں کا انکار اپنے علم کے گھمنڈ پر کرے اس طرح ہم کو انکار معجزات کا حق نہیں۔ ’’ولا یحیطون بشیٔ من علمہ الا بما شاء (البقرہ:۲۵۵)‘‘بندے اس کے علم میں سے ذرا اسی چیز کا احاطہ بھی نہیں کئے ہوئے ہیں۔ مگر جتنا اس نے بتادیا ہے۔
یہ بات نہایت کھلی ہوئی ہے اور اس لئے سر سید اور مرزاقادیانی سے تعجب معلوم ہوتا ہے۔ پھر بھی سید توکل انبیاء کے معجزات کی تاویل کرتے تھے۔ مرزاقادیانی مسیحm کے احیاء موتی کو تو شعبدہ اور بیماروں کے اچھا کرنے کو مسمریزم کہتے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص۱۲۸تا۱۳۰ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۶تا۲۵۸)
حضرت ابراہیمm کے اس قصہ کو جس کا ذکر پرندوں کے زندہ کرنے کا قرآن میں ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ پرندے زندہ نہیں ہوئے تھے۔ صرف پرندوں کو پرچایا گیا تھا۔
(ازالہ اوہام ص۷۵۲، خزائن ج۳ ص۵۰۶)
مگر اپنے لئے بڑے بڑے معجزات کے قائل ہیں۔ چنانچہ اپنے ایک پسر مردہ کو زندہ کرنے کا دعویٰ بھی ان کے اخبار نے بشہادت ان کی زوجہ کے شائع کیا ہے۔ اگر مرزاقادیانی ایسے معجزات دکھا سکتے تو دوسرے انبیاء کے لئے کیوں منکر ہوئے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں قوت معجزہ نہیں ہے اور انہوں نے یا ان کے تنخواہ یاب قصیدہ خوانوں نے۔ لومردہ زندہ ہوگیا کا دعویٰ غلط طور پر گھڑا ہے۔
پیشین گوئیاں: پیشین گوئیاں بھی جب کہ صاف اور بلاشرائط کے ہوں اور ان مہمل اور مجمل الفاظ سے بری ہوں جن سے کہانت کا شبہ ہو ایک قسم کا معجزہ ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی کادعویٰ ہے کہ میری کئی ہزار پیشین گوئیاں سچی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جو شخص صبح سے شام تک دس حکم سوچ کر بلاعلم غیب کے لگادے گا ان میں سے چار ضرور صحیح ہو جائیں گے۔ مگر یہ امر حیرت انگیز ہے کہ جس قدر معرکہ کی پیشین گوئیاں بطور تحدی کے مرزاقادیانی نے کی ہیں سب کی سب (سوائے ایک پیشین گوئی کے جس کے حالات شک سے خالی نہیں اور جو انسان کے ہاتھ سے پوری ہوئی) اس قدر صریح غلط نکلیں کہ تاویل ان کو معنی پہناتے
پہناتے شرمانے لگی۔ یہاں تک کہ مرزاقادیانی کو وہ وتیرہ اختیار کرنا پڑا جو حد درجہ خطرناک ہے اور جس کی وجہ سے ہم کو خاص طور پر ان کے اوپر شبہ کرنا پڑا۔ اس شبہ کا اظہار اس قدر وضاحت کے ساتھ ہم نے اس غرض سے نہیں کیا کہ مرزاقادیانی یا ان کے حواریوں اور داعیوں کی وہ جماعت جو مشاہرہ یاب ہے متنبہ ہوں گے۔ ان لوگوں سے ہم کونہ کچھ امید ہے اور نہ ہمدردی ہے۔ البتہ مسلمانوں کا وہ خاصا بڑا گروہ جو جال میں پھنس گیا ہے اور جس کو یہ تنخواہ یاب یا جاہ طلب گروہ یہ کہہ کر لوٹتا ہے کہ زندہ اسلام کا نمونہ دیکھنا ہو تو قادیان میں چلو۔ ان سے ہم کو ہمدردی ہے۔ اس وجہ سے ہم یہ مضمون لکھتے ہیں۔ اگر ہم ایک منٹ کے لئے بھی سمجھتے کہ مرزاقادیانی کی تحریک مذہبی ہے تو کبھی اس بحث میں نہ پڑتے۔ مگر ہمارے نزدیک یہ کارخانہ محض دنیاداری کا ہے۔ اس لئے بغرض اصلاح معاش مسلمین متنبہ کرنا ضرور ہوا۔ مذہبی معاملہ میں ہم کو دخل دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ معتقدات کا فیصلہ قادر مطلق اپنی بارگاہ میں کرے گا۔
منہاج نبوت: مرزاقادیانی نے جب دیکھا کہ وہ اپنی صداقت اور معجزات اور پیشین گوئیوں کی صحت کی وجہ سے نبوت کے معارج تک نہیں چڑھ سکتے تو انہوں نے انبیاءo کو اپنے درجہ پر نیچے گھسیٹنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا۔ حضرت عیسیٰm کے ساتھ گستاخیاں کیں اور ان کی اور ان کے رشید شاگرد سیالکوٹی کی بے ادبیاں اس نبی معصوم کی نسبت اب تک جاری ہیں۔ شاہ ولایت، علیq ابن ابی طالب کی ہجو، ان کے ایک منہ پھٹ اور بے تمیز حواری نے شائع کی۔ حسین ابن علیr کی شہادت اور منزلت کو اپنے سے بہت کمتر بتایا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک کرشٹان (عبد اللہ آتھم) کی بابت حتمی اور مؤقت موت کی پیشین گوئی کے غلط ہو جانے پر سید انبیاء محمد مصطفیa کو بھی مثل اپنے خاطی، اور غلط فہم ظاہر کیا۔ جس سے خود آنحضرتa کی نبوت پر شک واقع ہوتاہے۔ (معاذ اﷲ)
سب مسلمان قرآن مجید کو کلام الٰہی کہتے ہیں۔ قرآن میں جس خواب کو پیغمبرm نے دیکھا اس کی صریح تصدیق آئی ہے۔ ’’لقد صدق اللہ رسولہ الرؤیا (الفتح:۲۷)‘‘مرزاقادیانی اور ان کے حواری حکیم نورالدین قادیانی نے اپنی تاویل سے
تصدیق الٰہی کو غلط قرار دیا یا قرآن شریف کو انسانی گھڑت قرار دیا یا انہوں نے نبی کو جس کی اطاعت مثل اطاعت خدا ہے کج فہم قرار دیا کہ وہ وحی کے معنی سمجھنے میں غلطی کرتے تھے۔ غرض انہوں نے آنحضرتa کی خبر فتح مکہ کو جو بالکل راست تھی مرزاقادیانی کی موت آتھم کے برابر کر دیا جو صراحتاً غلط تھی۔ (معاذ اﷲ)
پس اپنی بچت کے لئے مرزاقادیانی نے عظمت انبیاء اور بنیاد دین میں ایسی سرنگ لگائی ہے اور بعض انبیاء واولیاء کی نسبت ایسی بدزبانی کی ہے جس کی وجہ سے وہ جرأت کے ساتھ اعمال ناشائستہ کرنے لگے اور ضعیف الاعتقاد لوگوں کو اس طرح پرچانے لگے کہ یہ سب منہاج نبوت ہے۔ جیسے وہ تھے ویسے ہی ہم ہیں یا ہم کو بھی مانو یا ان کو بھی مکار کہو۔ (معاذ اﷲ)
مرزاقادیانی نے جو دعویٰ اکثر انبیاء کے اوتار ہونے کا کیا ہے یا مستعار طور پر ابن اللہ وغیرہ کا بلکہ ابو اللہ کا بھی کیا ہے۔ اس کو میں مذہبی خطرہ نہیں سمجھتا۔ کیونکہ دس پندرہ برس میں بعد ان کی وفات کے یہ باتیں سب مفقود ہو جائیں گی۔ سب سے بڑا صدمہ مرزاقادیانی کے مشن اور زیادہ تر ان کے مریدوں سے یہ پہنچا ہے کہ موجودہ نسل کے لامذہب اور ملحد گروہ کی انہوں نے نامعلوم طور پر سرپرستی کی ہے۔ جب یہ لوگ ایک شخص کو دیکھتے ہیں کہ وہ افعال۔ (۱)خلاف عدالت۔ (۲)خلاف اجتماع قومی۔ (۳)خلاف کفایت شعاری۔ (۴)خلاف سعی ومحنت یعنی برخلاف ہر چہار اصول اصلاح اور اصول دین کے کرتا ہے۔ مگر اپنے افعال کو نمونہ دوسرے انبیاء کا قرار دیتا ہے اور سوائے ایک کے کل انسانوں سے اپنے آپ کو افضل بتاتا ہے۔ مگر جب اس پر اعتراض ہوتا ہے تو اس ایک ہادی کو بھی مثل اپنے خاطئی وغلط فہم ظاہر کرتا ہے۔ جب یہ لوگ ایسا دیکھتے ہیں اور پھر ہزاروں آدمیوں کا اعتقاد اس کی طرف دیکھتے ہیں اور اخبارات وکتب ورسائل اس کی مدح سے مملو پاتے ہیں۔ تب یہ لوگ بغیر جانچ کے یہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اجی پہلے زمانہ میں بھی ایسے ہی ڈھکوسلے اور کرایہ کے حواری اور تعریف کرنے والے ہوں گے۔ جب اس تعلیم وتہذیب کے زمانہ میں ایک معمولی شخص نبی بن گیا تو اس وقت نبی بن جانا کیا مشکل تھا؟ (نعوذ باﷲ)
میں جوسچے دل سے سلسلہ انبیاءo کو جس کا ذکر قرآن میں سچا اور منزل من اللہ مانتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ غلط نمونہ نبی اور مرسل کا یہ تعلیم جس کی غرض ذاتی تعلّی اور جلب منفعت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایک درد انگیز صدمہ دینداروں کے لئے ہے۔ یہ شکر ہے کہ متواتر پیشین گوئیوں کے غلط ہو جانے سے اس دعوت جدید کی وقعت نہیں ہونے پائی۔ ورنہ جہلاء جو یہ نہیں جانتے کہ کامل انسان میں اور افضل ترین نمونہ انسانی میں کیا صفات ہونی چاہئیں۔ دین کو بھی اشتہاروں کے ذریعہ سے خرید لیتے۔ جس طرح وہ مہلک امراض کی دواؤں کو اشتہاری طبیبوں سے لیتے ہیں۔ دراصل ان اناڑی طبیبوں اور اشتہاری نبیوں میں امور مشابہ فیہ بہت ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ صحت وزر کو لیتے ہیں اور یہ ایمان وزر کو۔
میں نے لیکچر اصول اصلاح میں قومی ترقی کے لئے چار اصول قرآن شریف سے اخذ کئے تھے۔ اگر مرزاقادیانی کی زندگی میں ان کا ظہور دیکھا جاتا تو ہم نہایت خوشی کے ساتھ جہاں ہم نے ان پر اعتراض کئے ہیں۔ وہاں عملی اخلاق کے لحاظ سے ان کی تعریف بھی کرتے۔ مگر نہایت افسوس کے ساتھ دیکھا جاتا ہے کہ تقدس کے لمبے چوڑے وعظوں اور دعاوی کے ساتھ قومی ترقی کے اصل معاملات سے مرزاقادیانی اور ان کے حواری بالکل بے پردہ ہیں۔
۱… عدالت یا انصاف ایک لازمی شرط انسانی ترقی کی ہے اس کا یہ حال ہے کہ مرزاقادیانی نے ایک بالغہ عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے (جس میں ان کو ناکامیابی ہوئی) اوّل تو خود اس لڑکی کی رضامندی حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی جو لازمی چیز ہر معاہدہ میں ہے۔ دوسرے جس لڑکے سے اس کا عقد ہوا اس کو موت کی دھمکی دی جو باوجود گزرنے مقررہ معیاد پوری نہیں ہوئی۔ تیسرے اپنی بیوی کو طلاق کی دھمکی دی اور اپنے ایک بیٹے کی زوجہ پر تشدد کیا کہ اس نکاح میں کوشش کرے اور اگر بیٹا زوجہ خود کو طلاق نہ دے تو بیٹے کو عاق کرنے کی دھمکی دی۔ ان کے ان پرائیویٹ خطوط کی نقول بلاتردید کے مولوی ثناء اللہ صاحب ’’رسالہ الہامات مرزا‘‘ میں چھاپ چکے ہیں۔
۲… اتفاق قومی میں نبوت کے دعویٰ سے جو اختلاف پڑا اس سے میں قطع نظر کرتا ہوں۔ مگر مرزاقادیانی نے علاوہ اس کے قوم کی بدخواہی میں کوئی کمی نہیں کی۔ اوّل انہوں نے خود جہاد باالسیف سے انکار کیا۔ اپنی اور مولویوں کی مخالفت کی یہ وجہ بتائی کہ علماء جہاد کے اور خونی مہدی کے قائل ہیں۔ گویا ایک غیرمہذب اور غیرقوم گورنمنٹ کی نگاہ میں اپنے تئیں خیرخواہ اور عام مسلمانوں کو ایک خونی مذہب کا قائل اور بدخواہ سرکار کا ظاہر کیا۔ صرف یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ مرزاقادیانی کوئی نیک نیت خیرخواہ مسلمانوں کے نہیں ہیں۔ دوسرے امام مہدی علیہ الرضوان کو خونی قرار دینا درپردہ جہاد نبوی کی ہتک اور تذلیل ہے۔ ان کا مقابلہ سرسید کی خیرخواہی سے کیا جائے۔ جس نے وہابیوں کو بچانے کے لئے اعلان کیا کہ میں خود وہابی ہوں۔ تب فرق معلوم ہوگا۔ دوسری دلیل اس بات کی کہ مرزاقادیانی اپنے ذرا سے آرام کو قوم اور انسانوں کی بہبود واتفاق پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ہے کہ وہ خاص مسلمانوں کی موت اور ہلاکت کی برابر پیشین گوئیاں کرتے رہے اور اس میں کسی قلبی تکلیف کی پرواہ نہ کی۔ کیونکہ بقول خود خدا کی طرف سے مامور ہوچکے تھے۔ مگر ایک مجسٹریٹ درجہ اوّل کے دھمکانے اور مچلکہ لینے پر صاف وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہ کروں گا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی نبی الہامات کی اشاعت ایک ادنیٰ مجسٹریٹ کے دھمکانے سے کیسے بند کرسکتا ہے؟ عوام الناس دھوکانہ کھائیں کہ نبی یا ولی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مسیحm نے تن تنہا مصلوب ہونا اور حسینq نے تین دن کی بھوک وپیاس میں ہزاروں زخموں سے شہید ہونا قبول کیا اور کلمہ حق کو نہ چھوڑا۔ اگر ایسی مثالیں نہ ہوں تو لوگ مذہب اور خدا سے منحرف ہو جائیں اور اگر ایسے لوگ نہ ہوں جو مرزاقادیانی کو مسیحm اور حسینq سے افضل سمجھتے ہیں تو دنیا میں دین اور عقل کو کارگزاری اور ہدایت کی گنجائش نہ ملے۔ نبی اور مصلح کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ اکثر لوگ کم عقل ہوتے ہیں اور مکاروں کے جال میں پڑ جاتے ہیں۔
۳… کفایت شعاری، ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو کچھ دولت یا قوت بندوں کو ملی ہے وہ خدا کی طرف سے امانت ہے۔ اس کو نہایت احتیاط سے صرف کرنا چاہئے۔ برخلاف اس کے اپنی دولت نہیں بلکہ چندہ کے روپیہ سے جو مسلمانوں کی گاڑھی کمائی سے آتا ہے۔ مرزاقادیانی
اعلانیہ اسراف کرتے ہیں۔
ایک ظاہر ثبوت وہ عرضی ہے جو بعض نیک نفس غریب مریدوں نے مرزاقادیانی کے نام بھیج کر لکھا تھا کہ چندہ بے دردی سے خرچ ہوتا ہے۔ لنگر خانہ جو مسافروں کے لئے ہے اس میں آپ کے ذاتی ملازم (خانگی باغ کے) کھانا کھاتے ہیں۔ اس کا جواب الحکم میں مرزاقادیانی نے شائع کیا ہے کہ میں کوئی بنیا نہیں کہ حساب رکھوں۔ جس طرح میں چاہوں گا خرچ کروں گا۔ العجب! ہر شخص امانت کے روپے کے لئے بنیا ہوتا ہے۔ منہاج نبوت پر مرزاقادیانی اس قدر زوردیا کرتے ہیں۔ کیا انہوں نے وہ قصہ نہیں پڑھا کہ عقیلq نے حضرت علیq کی دعوت کی تھی۔ تین دن کی خوراک میں سے بچا کر چند روٹیاں تیار کیں تاکہ اپنی مفلسی کو ظاہر کریں۔ حضرت علیq نے اسی نسبت سے ان کے روزینہ میں کمی کر دی۔ کیا ان کو خلیفہ دوم کی چادر کا قصہ نہیں معلوم؟ پھر ایک شخص کس جرأت سے کہتا ہے کہ میں بنیا نہیں۔ یہی فقرہ سمجھداروں کے لئے کافی ہے۔ ہم کو سخت افسوس اور حیرت ہے حکیم نورالدین قادیانی پر جو اپنے زعم میں یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے ایک ایسا رسول اور ایک ایسا منہاج بناکر اسلام پر یا مسلمانوں پر احسان کیا ہے۔ بڑے سے بڑا دشمن اسلام کواس سے زیادہ سبک کیا کرسکتا ہے کہ ایسے شخص کو امین خاتم النّبیین محمد بن عبد اللہ کا بروز بتائے؟
۴… سعی ومحنت، ہمارا صیغہ گداگری اور سستی کا سخت مخالف ہے اور یہ چاہتا ہے کہ سب لوگ محنت اور سعی سے گزر کریں۔ یہی تعلیم اسلامی ہے۔ گداگری اس لئے منع ہے کہ وہ انسان کو دوسرے پر بار کرتی ہے۔ کہنے کو گداگر کہتا ہے کہ مجھ کو دو تو دنیا اور دین میں آرام پاؤ گے۔ مگر چونکہ وہ اپنے نفس کے لئے مانگتا ہے۔ اس لئے برا کرتا ہے۔ ربوٰ کی حرمت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ اس سے توکل جاتا رہتا ہے۔ کیونکہ توکل تو جائیداد سکنی وزرعی کافی ہواس وقت بھی نہیں رہے گا۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہر وقت محنت اور سعی جو انسانی ترقی کا لازمہ ہے۔ اس میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ جائیداد وتجارت کے باقی رکھنے کے لئے بہت توجہ درکار ہے اس لئے سعی فرض ہے۔
مرزاقادیانی نے سب مولویوں اور پیروں اور فقیروں سے زیادہ دوسرے کی محنت
سے گزر کرنے اور اپنی جائیداد بڑھانے کی مثال قائم کی ہے۔ ہم نے قرآن وحدیث وتوراۃ وانجیل میں تلاش کیا۔ مگر کہیں پتہ نہ ملا کہ کسی نبی یا امام برحق نے اپنی تعلیم کی وجہ سے اپنی مالی حالت درست کی ہو۔ برخلاف اس کے ہم مرزاقادیانی کا اشتہار کشتی نوح میں صفحہ۶ پر دیکھتے ہیں۔ جس کے پڑھنے سے ہم پر اس قدر حقائق ان کی تعلیم کے ظاہر ہوتے ہیں جن کے بیان کرنے کے لئے ایک بڑا مضمون درکار ہے۔ وہ اشتہار یہاں پر نقل کیا جاتا ہے۔
’’چونکہ آئندہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس کے بعض حصوں میں مرد مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں، سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چاردیوار کے اندر ہوں گے حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا۔ جس میں ہمارا حصہ ہے اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہوگئے ہیں کہ ہمارا حصہ دے دیں۔ میری دانست میں یہ حویلی جو ہماری حویلی کا ایک جزو ہوسکتی ہے۔ دو ہزارتک تیار ہوسکتی ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا۔ اس لئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ خدا پر بھروسہ کر کے جو خالق ورازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے کوشش کرنی چاہئے۔ میں نے بھی دیکھا کہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے۔ مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے۔ نہ عورت کی اس لئے توسیع کی ضرورت پڑی۔ ’’والسلام علی من اتبع الہدی‘‘المشتہر مرزاغلام احمد قادیانی۔‘‘
(کشتی نوح ص۶،۷، خزائن ج۱۹ ص۸۶)
اس کے مفصلہ ذیل امور معلوم ہوئے۔
۱… مرزاقادیانی کا گھر کشتی نوح ہے اور طاعون سے محفوظ رہے گا۔
۲… مرزاقادیانی کے جس قدر گھر قریب ہیں وہ بھی شامل ہو جائیں تو کشتی نوح بن جائیں گے۔
۳… مرزاقادیانی کو مریدوں کی طرف سے کثیر ہائے زرمل جائیں تو وہ اس قاعدہ کے رو
سے اپنے مکان کو وسیع کرتے کرتے ایک دنیا کو طاعون سے بچا سکتے۔ گویا طاعون اس لئے بھیجا گیا ہے کہ لوگ مرزاقادیانی کا مکان وسیع کر کے اس طاعون سے بچ جائیں اور چونکہ طاعون بقول ان کے ایک عذاب الٰہی ہے جو اس وجہ سے آیا ہے کہ لوگ ان کی نبوت اور مسیحیت سے انکار کرتے ہیں۔ اس لئے ان کی نبوت اس وجہ سے ہوئی ہے کہ ان کے مکان اور جائیداد میں وسعت ہو۔ کیونکہ (۱)مسیحیت علت طاعون۔ (۲)طاعون علت توسیع مکان۔ (۳)توسیع مکان علت چندہ۔ پس مسیحیت کا مقصد تحصیل زر ہوا۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس سے زیادہ صریح گداگری کیا ہوگی؟ شاید یہ شبہ غلط ہو اس لئے میں صاف صاف طور پر بذریعہ اس مضمون کے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ یوم دعویٰ الہام سے اب تک مرزاقادیانی نے اپنی یا لواحقین کی جائیداد بڑھائی یا نہیں اور جو جائیداد خریدی ہے وہ وقف ہے یا ذاتی۔ وقف نامہ رجسٹری شدہ ہے یا نہیں۔ اس کی نقل شائع کی جائے۔ اس معیار پر اگر مرزاقادیانی صحیح اترے (بشرطیکہ بے لاگ شخص تحقیق کریں) تو ہم بہ معذرت اس چوتھے اعتراض کو واپس لیں گے۔ ورنہ سب مسلمانوں سے کہیں گے کہ اصلاح تمدن چاہتے ہو تو ایسے مدعیوں سے بھاگو۔
خلاصہ: الغرض اس تمام غل وشور سے جو جدید مسیحیت کا پھیلا ہے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بغیر کسی تمدنی فائدے کے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ انبیاء کی ہتک ہوئی۔ مذاہب الہامی پر اعتراض کرنے کا ملحدین کو بہت اچھا بہانہ ہاتھ آیا۔ بہت سے لوگوں نے دین کے نام سے اچھی اچھی تنخواہیں وصول کرنا اور روپیہ پیدا کرنے کا شیوہ کرلیا۔ ایک شخص کی تعریف میں خدا اور رسول کی تعریف کو گرد کر دیا۔ کیونکہ خدا اور انبیاء اولوالعزم کی تعریف بھی ایسی نہ ہوئی ہوگی۔ بدنما تاویلات اور بدنام کن مقدمہ بازیاں ہوئیں۔ اگر یہ سب باتیں کسی تمدنی مفید نتیجے تک پہنچنے کے واسطے ہوتیں۔ تب بھی ایک تسلی تھی۔ مگر یہ سب اس لئے ہوا کہ چند آدمیوں کو ایک مشغلہ ناموری اور حیلہ، رزق درکار تھا۔ مگر کیا یہ تحریک محض بیکار ہے ہرگز نہیں؟ اس سے کم ازکم لوگوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں میں زود اعتقادی بہت ہے اور اس کی اصلاح جب ہی ہوسکتی ہے۔ جب دین کے پختہ اصول پر وہ قائم ہوں۔ اس سے سمجھداروں کو اطمینان ہوگیا کہ استقلال کے ساتھ ہر کام میں خاصی کامیابی ہوسکتی ہے۔
کیونکہ ذاتی اور شخصی تحریک میں جب یہ رونق ہے تو قومی تحریک میں کیوں نہ ہوگی؟ بعض لوگ جو اس مذہبی تحریک کو (اپنی بدگمانی یا گہری فراست سے) زرکشی اور مذہب کی ہنسی اڑانے کا ایک ایسا جال سمجھتے ہیں جو چند شخصوں نے جن کے دل میں نہ خوف خدا ہے نہ یقین قیامت کھڑا کیا ہے۔ ان کو بھی اطمینان ہے کہ الٰہی قوت ضرور موجود ہے۔ جس نے اس تحریک میں کوئی بڑی کامیابی نہ ہونے دی۔ ہر سمجھدار آدمی کے تین چار اٹکل کی باتوں میں ایک آدھ صحیح ہوجاتی ہے۔ اس تحریک کے بانی یہ بھی نہ کر سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی لاٹھی بغیر آواز اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ آخر میں اس بات کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے مرزائی دوست اور معتقد اس مضمون کو پڑھ کر برافروختہ نہ ہوں۔ کیونکہ یہ ان کی خیرخواہی کے لئے لکھا گیا ہے۔ اگر ان کو تکلیف پہنچے تو معاف کریں جس طرح وہ جراح کو معاف کرتے ہیں۔ جو زخم آلائش دور کرتاہے۔ وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آیا ایسا انسان افضل ترین عباد خدا، بعد رسولa عرب کے ہوسکتا ہے؟ وہ غور کریں کہ ہم نے کون سی غلط بات اس مضمون میں لکھی ہے اور پھر بھی اگر ان کو کوئی فائدہ اس مضمون سے نہ ہو تب بھی وہ اس کو نیک نیتی پر محمول کریں۔
فقط: غلام الثقلین
سال گزشتہ میں قادیانی تحریک کے عنوان سے ہم نے ایک مضمون ہند کے ایک جدید مسیح کے متعلق لکھا تھا۔ جس کا اثر جماعت کے بعض ارکان پر اچھا پڑا۔ چند مضامین جواب کے نام سے مسیح قادیانی کے بعض پیروؤں نے اس زمانہ میں شائع کئے تھے۔ جن میں سے دو مضامین کا ذکر اکتوبر ۱۹۰۵ء کے عصر جدید میں کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے ایک تو قابل جواب ہی نہ تھا اور دوسرا یعنی خواجہ کمال الدین مرزائی کا مضمون تمہید ہی میں رہا اور باوجود وعدہ آگے نہ بڑھا سکے۔ اس جماعت کے لیڈر قوم اور مخدوم الملت یعنی عبدالکریم سیالکوٹی آنجہانی جیسا کہ ان کے زمانہ بیماری کے ملفوظات سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہمارے مضمون کا جواب نہ دے سکنے کا داغ حسرت اپنے ساتھ لے گئے۔
اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویران کر دی
مگر اسی زمانہ میں ریویو آف ریلیجنز کے قابل ایڈیٹر مسٹر محمد علی لاہوری ایم۔اے نے ایک مضمون اپنے رسالہ میں بعنوان ایک نیا معترض شائع کیا تھا۔ مگر یہ رسالہ ہمارے پاس نہیں بھیجا گیا۔ چند ماہ ہوئے ہم نے اس ریویو کے پرانے پرچے منگوائے تو یہ مضمون نظر پڑا اور اب اس کے متعلق مختصر رائے دینا اس لئے ضروری ہے کہ صاحب مضمون نے کئی جگہ ہم سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم سچے اور جھوٹے مدعی کا نشان بتائیں۔ اس کے متعلق ایڈیٹر موصوف نے خود ایک نشان پیش کیا ہے۔ جو ٹھیٹ ہندی میں اس طرح بیان ہوسکتا ہے کہ: ’’چلتی کا نام گاڑی‘‘ اور اس کاثبوت صاحب موصوف نے اس آیت مبارکہ سے اخذ کیا ہے۔ ’’انا لننصر رسلنا والذین اٰمنوا فی الحیٰوۃ الدنیا (المؤمن:۵۱)‘‘یعنی ہم بے شک مدد کرتے ہیں اس دنیاوی زندگی میں اپنے رسولوں کی اور ان آدمیوں کی جو ایمان لاتے ہیں۔
اور اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ چونکہ مرزاقادیانی کا کام روبہ ترقی ہے اور مزید بڑھتے جاتے ہیں اس لئے وہ یقینا سچے مسیح ہیں۔
آیت مذکورہ بالا کے علاوہ اسی مضمون کی اور بھی آیات قرآن شریف میں موجود ہیں اور اگر ان آیتوں کا وہی مطلب ہے جو مسٹر محمد علی لاہوری اور دیگر مرزائیوں نے سمجھا ہے اور امداد الٰہی کے یہی معنی ہیں کہ کسی مدعی کی دولت یا مریدوں کی تعداد میں زیادتی ہو تو ہم ایک لمحہ کے لئے مرزاقادیانی کے ابتدائی دعویٰ سے لے کر انتہائی الہام تک بلادلیل وحجت ماننے پر آمادہ ہیں۔ بشرطیکہ وہ ان دو باتوں کو جو بطور امور تنقیح طلب کے ہم نے اوپر لکھے ہیں۔ قرآن یا عقل یا ہر دو سے ثابت کر دیں۔
ہم کو یہ معلوم ہے کہ عبدالکریم سیالکوٹی مرزائی نے سرطان کا پھوڑا نکلنے سے قبل جو آخری مضمون ’’الحکم‘‘ میں شائع کیا تھا وہ زیادہ تر اسی آیت مذکورہ کے غلط معنی پر مبنی تھا اوراسی غلط تفسیر کی وجہ سے متوفی نے ائمہ اہل بیت کی نسبت نہایت گستاخانہ الفاظ لکھے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو ’’بت ناہنجار‘‘ کہنے میں اس شخص کی دریدہ دہنی نے تأمل نہیں کیا تھا اور وجہ اس کی یہی ظاہر کی تھی کہ خدا نے ان کو ہمیشہ ’’ناکامیاب‘‘ اور ’’خاسر‘‘ اور ’’مغضوب علیہم‘‘
رکھااور ان کے مخالفوں کی مدد کی۔ اس زمانہ میں میرے ایک لائق دوست نے بذریعہ تحریر نہایت ہمدردی کے ساتھ فرقہ قادیانی کے اس رکن رکین کو ایک طویل تحریر لکھی تھی جس میں ظاہر کیا تھا کہ اگر اس شخص کا یہی عقیدہ رہا تو بموجب کلام مجید اس کا انجام انتہاء درجہ کا کفر وگمراہی میں ہوگا۔ جو بے شمار آیات اس تحریر میں درج کی گئی تھیں۔ ان کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔ مگر چند متواتر اور نہایت کثرت سے بیان کئے ہوئے قرآنی یا متواتر قصص کی طرف ہم ایڈیٹر ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم اصرار کے ساتھ مطالب کا جواب چاہتے ہیں۔
خدا نے بیان کیا ہے کہ ہم نے انسان کو صرف عبادت واطاعت کے لئے پیدا کیا ہے اور شیطان نے خدا کی عزت کی قسم کھائی ہے کہ وہ سب کو گمراہ کر دے گا۔ ’’الا عبادک منہم المخلصین (الحجر:۴۰)‘‘ مگر صرف تیرے خاص بندوں کو، خدا نے دوسری جگہ کہا ہے:’’ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ (سبا:۲۰)‘‘ شیطان نے اپنے اس خیال کو سچا کر دکھایا۔ اب قادیانی فرقہ بتائیں کہ کون قابل اطاعت اور لائق پرستش ہے؟ خدا، یا ابلیس؟ اور اس دنیا میں کس کی اطاعت کرنے والے زیادہ ہیں؟
۲… بنی اسرائیل کی عورتوں کو چھوڑ کر فرعون اور قوم فرعون ان کے بچوں کو قتل کر دیتی تھی اور اس نسبت قرآن مجید میں کہاگیا ہے: ’’وفی ذالک بلاء من ربکم عظیم (الاعراف:۱۴۱)‘‘ پس حکماء سلسلہ قادیانیہ جواب دیں کہ طریقہ فرعون حق پر تھا یا ملت ابراہیمی، اور قتل ہونے والوں کی اس زندگی میں خدا نے کیا مدد کی؟
۳… بقول مرزاقادیانی مسیحm مصلوب ہوئے اور یہود نے فتح حاصل کی ان دونوں میں کون حق پر تھا اور کس کی اطاعت کا خدا نے حکم دیا ہے؟
۴… خلفاء اربعہi اور سبطینq میں سے منجملہ چھ کے پانچ نفس دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک ہوئے۔ اس صورت میں حیات دنیا میں ان کی کیا مدد خدا نے کی؟ جب کہ اس نے وعدہ کیا ہے: ’’کان حقا علینا نصر المؤمنین (الروم:۴۷)‘‘ ان چند مثالوں سے ہم
نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر مرزائیوں کی تفسیر صحیح ہے تو دنیا میں اکثر ظالم، فاجر، بدکار، فاسق، جھوٹے، قابل اطاعت اور خدا کے سچے رسول مامور اور مومن ہیں اور سب کو انہیں کی پیروی کرنی چاہئے۔ اگر یہ معنے صحیح ہیں (اور جاہلوں کو بہکانے کے واسطے کوئی اخبار یا رسالہ یا کتاب قادیانی جماعت کی ایسی نہیں نکلتی جس میں نشان کامیابی پر زور نہیں دیا جاتا) تو قرآن شریف کی باقی تعلیم اخلاق وصبر وتحمل وتقویٰ وغیرہ کی فضول اور بیکار ہے۔
اگر دنیاوی کامیابی معیار حق وباطل کا ہے تو یہ نشان جس پر اس قدر زور دیا جاتا ہے ایک خوفناک گمراہی اور ایک ہولناک غار ہے۔ پس آیت قرآنی کے ہرگز وہ معنی نہیں ہیں جو مرزاقادیانی یا حکیم نورالدین قادیانی لیتے ہیں۔
شاید یہ کہا جائے کہ نشان بالا صرف مامور من اللہ کے ساتھ خاص یعنی جو شخص خدا کی طرف سے مرسل ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کو کامیابی ہو تو وہ شخص جھوٹا نہیں ہوسکتا اور ہم بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ آیت:’’لوتقول علینا بعض الاقاویل (الحاقہ:۴۴)‘‘ سے مدد لے کر یہی معنے پہنائے جائیں گے۔ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اے محمدa! اگر تو ہماری طرف غلط باتیں منسوب کرے تو ہم تیری گرفت کرلیں گے اور رگ گردن تیری منقطع کر دیں گے۔ اس آیت کے معنی بیان کرنے میں بھی یا تو حد درجہ کا دھوکا دیا جاتا ہے یا انتہاء درجہ کی سادہ لوحی برتی جاتی ہے۔ دعویٰ صرف اس قدر ہے کہ اگر سچا پیغمبر (بفرض محال) جھوٹے الہام بنانے لگے تو اس کو سخت سزا ملے گی۔ اس سے اگر یہ لازم بھی آئے کہ اس دنیا میں سزا ملے گی تو یہ کہاں سے لازم آیا کہ جھوٹے پیغمبر کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا یا جس کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہ جھوٹا پیغمبر ہے؟’’یقتلون الانبیاء بغیر الحق (البقرہ:۶۱)‘‘(نبیوں کو بلاوجہ قتل کرتے ہیں) اس آیت کی تاویل سادہ لوحوں کے سمجھانے کے لئے ممکن ہے۔ مگر تاریخی تواتر ومذہبی شہادت اور تمام دنیا کے اجماع کو باطل کرنا کہ حضرت زکریاm یا حضرت یحییٰm شہید نہیں ہوئے۔ ایک ایسا جرأت کا کام ہے جس کے سامنے دہلی کےایک مرزا کا دعویٰ بھی کہ حضرت امام حسینq شہید نہیں ہوئے۔ پھیکا اور ہلکا معلوم ہوتا ہے۔
پس آیت مذکورہ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جو شخص جھوٹا دعویٰ کرے وہ جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ کسی صحیح عقل اور متعارف منطق کے رو سے نہیں چل سکتا اور اس سے یہ بھی نتیجہ نکلے گا کہ دنیا میں نہ کوئی جھوٹا مذہب چلا ہے اور نہ چل سکتا ہے۔
حالانکہ جھوٹے سلسلے ہمیشہ موجود رہے ہیں اور اب بھی ہر مذہب میں موجود ہیں اور مدت تک ان کے بانی رونق کے ساتھ رہے اور عزت کے ساتھ مرے۔
ہم نے اس مختصر مضمون میں ابھی تک مسٹر محمد علی لاہوری بلکہ کل فرقہ مرزائیہ کی عمدہ ترین دلیل کو جس پر انہیں بہت ناز ہے مخزن اور منبع تمام خرابیوں اور فسادات کا ثابت کیا ہے۔ لیکن دو باتیں بتانی اور باقی ہیں۔
۱… اوّل یہ کہ آیت مذکورہ کے اصل معنی کیا ہیں۔
۲… یہ کہ سچے اور جھوٹے میں امتیازی نشان کیا ہے۔
مگر ان ہر دو مباحث کو ہم اس وقت اس لئے ملتوی کرتے ہیں کہ اوّل ایڈیٹر ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ اپنے اس امتیازی نشان کو واپس لیں اور آیت مذکورہ کے معنی سمجھنے میں استفادہ کے خواہشمند ہوں۔ اگر وہ کسی تعلیم یافتہ اور بے لاگ جیوری کو جسے وہ خود غیرمرزائیوں میں سے منتخب کریں یہ یقین دلاسکیں کہ جو امتیازی نشان انہوں نے مقرر کیا ہے وہ قابل قبول ہے یا ان کے بتائے ہوئے معنے قرآن کی آیات کو ملانے سے نکلتے ہیں کہ جو مذہب چل جائے وہ ضرور سچا ہے۔ تب ہم کو دوسرے تنقیحات پر بحث کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ لیکن اگر وہ اپنے دعویٰ سے عاجز ہوں تو ہم کسی آئندہ تحریر میں اس بحث کے باقی حصے کو ہدیہ ناظرین کریں گے۔ اگرچہ اس نمبر میں ہم اس مضمون پر مفصل بحث نہیں کریں گے۔ مگر بطور مشورہ حکیم نورالدین قادیانی اور محمد علی قادیانی سے عرض کریں گے کہ حیات دنیا کی امداد کے وعدے کی تفسیر اور توضیح کرنے سے پہلے وہ اس آیت کو بھی اپنے سامنے رکھیں۔
’’کلما جاء ہم رسول بما لا تہویٰ انفسکم استکبرتم ففریقا کذبتم وفریقا تقتلون (البقرہ:۸۷)‘‘جس وقت کوئی رسول ان کی نفسانی خواہش کے
خلاف آیا تو ایک گروہ کو انہوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کیا۔
دوسرے ان آیات پر غور کریں جہاں کافروں اور بدکاروں کو اس دنیا میں مہلت دینے کا ذکر ہے اور یہاں تک لکھا ہے کہ لوگ دھوکے میں نہ پڑ جاتے تو کفار کے مکانوں کی چھتیں ہم سونے چاندی کی کر دیتے۔
اور وہ اس پر بھی غور کریں کہ حضرت مسیحm کی بے ادبی بمقابل مرزاقادیانی کے اس وجہ سے الحکم اور متوفی سیالکوٹی نے بارہا کی ہے کہ ان کے مددگار کم تھے۔ اس سے قادیانی جماعت کی قوت ایمانی اور خوف خدا کا پتہ کہاں تک چلتا ہے اور کیوں ہم ان کے سلسلہ کو محض اس وجہ سے مسیحی سلسلہ سے بہتر سمجھ لیں؟ کہ گورنمنٹ انگریزی بہ نسبت رومیوں کے زیادہ فیاض طبع اور عادل ہے اور مدعیان مذہب کو سخت سزائیں نہیں دیتی۔ (غلام الثقلین)
ضمیمہ: خواجہ غلام ثقلین صاحب کا یہ مضمون چونکہ نہایت متانت اور تہذیب اور انصاف سے لکھا گیا ہے۔ اس لئے عصر جدید سے اس مضمون کو علیحدہ کر کے طبع کرایا گیا۔ خواجہ صاحب کے اس مضمون کی زیادہ تحقیق اور تفصیل رسالہ عبرت خیز اور فیصلہ آسمانی حصہ دوم میں ص۳۱سے۸۰ تک ہے۔ ناظرین اسے دیکھیں۔ ان دونوں رسالوں میں تاریخی تواتر اور آیات قرآنی سے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں نبی ایسے بھی ہوئے ہیں جو قتل کئے گئے۔ سخت سے سخت مصیبت میں مبتلا رہے۔ ہر قسم کی تکلیفیں اٹھائیں۔ اس کے خلاف بہت جھوٹے مدعیان نبوت اور کافر۔ فاسق، عمر بھر راحت اور چین کی زندگی بسر کرتے رہے اور کرتے ہیں اور ایمانداروں سے زیادہ عیش وآرام میں ہیں۔ بلکہ ان میں سے ایسے بھی ہوئے جنہیں تمام عمر کبھی سر میں درد بھی نہ ہوا۔ ان دونوں باتوں سے یہ ثابت کیاگیا ہے کہ دنیا کی راحت اور عیش وآرام سچوں کی فلاح اور کامیابی کا معیار ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ’’وما متاع الحیٰوۃ الدنیا الا غرورا‘‘اس پر وہی فخر کر سکتا ہے جس کا مقصد اعلیٰ صرف دنیا ہو۔ ان دونوں رسالوں کو دیکھنے کے بعد قادیانی جماعت کی ایک اعلیٰ قابل ناز وفخر دلیل بیکار ہو جاتی ہے اور رسالہ معیار المسیح دیکھنے سے مرزاغلام احمد قادیانی کی کامیابی کی حقیقت بھی کھلتی ہے۔ فقط!
مولانا عبدالغفار خانؒ،مولانا لکھنویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یہ چیلنج اس بات پر دیا گیا ہے کہ ہمارے علمائے کاملین نے کامل طور سے ثابت کر دیا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ کی رو سے مرزاغلام احمد قادیانی جھوٹے تھے۔ اب حضرت مسیحm کی حیات وممات کے ذکر کو خواہ مخواہ چھیڑنا صرف مرزاقادیانی کے کذب پر پردہ ڈالنے کی غرض سے ہے اور اصل مدّعا سے گریز کا ایک طریقہ نکالا ہے۔ اب مرزائیوں کا فرض ہے کہ اس بحث کے پیش کرنے کی وجہ بیان کریں۔ مگر اس چیلنج کو اچھی طرح دیکھ کر۔ اسے خوب سمجھ لیں کہ جس کا جھوٹا ہونا ہر طرح ثابت ہوگیا ہو۔ اس کے ماننے والے اس کی صداقت ثابت کرنے سے عاجز ہوں۔ وہ مسیح موعود کیسے ہوسکتا ہے۔ ایسے جھوٹے کی صداقت قرآن شریف سے ثابت سمجھنا، اللہ ورسول کو سخت الزام دینا ہے۔ اگر کچھ عقل ہے تو اسے سمجھو؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمد اللہ العظیم ونصلی علٰی رسولہ الکریم!
مرزائی حضرات مرزاغلام احمد قادیانی کو خدا کا رسول اور اس کا برگزیدہ سمجھتے ہیں اور صرف مانتے ہی نہیں ہیں بلکہ دوسروں سے منوانے کے لئے بڑے کوشاں ہیں۔ اعلانیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی خداکے برگزیدہ تھے۔ انہیں مانو، اہل حق نے ان کے سمجھانے کے لئے بہت کوشش کی اور کر رہے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ وہ توجہ ہی نہیں کرتے۔ ہمارے رسالوں کو تحقیق اور انصاف کی نظر سے دیکھتے ہی نہیں۔ جو ان کے مرشد نے کہہ دیا ہے اسی پر ان کا عمل ہے۔ اگرچہ وہ عقلاً ونقلاً کیسا ہی غلط ہو، میں نے اسلامی اعلان میں چالیس سے زیادہ ان رسالوں کے نام بتائے ہیں۔ جن میں مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن سے، صحیح حدیثوں سے، عقل سے، مرزاقادیانی کے پختہ اقراروں سے، ان کے جھوٹے دعویٰ
سے، یقینی طور سے ثابت کر دیا ہے۔ میں نے اسلامی اعلان میں بہ نظر خیرخواہی اس کا نمونہ دیکھایا ہے اور اسے کثرت سے شائع کیا ہے۔ اب مرزائیوں کا فرض تھا کہ ان رسالوں کو منگوا کر دیکھتے اور ہمارے الزام کا جواب دیتے اور اپنے جھوٹے نبی کی صداقت ثابت کرتے۔ یہ تو کسی سے نہ ہوسکا۔ مگر ایک سیالکوٹی مرزائی نے ہمارے اعلان کے جواب میں اپنا چیلنج ہمارے پاس بھیجا۔ جس میں انہوں نے اپنے جاہلانہ خیال کے موافق حضرت مسیحm کی موت ثابت کی ہے اور مسلمانوں کے اس خیال کو غلط بتایا ہے کہ حضرت مسیحm زندہ ہیں اور ہم سے اس کا جواب طلب کیا ہے۔ اس سے ان کی کمال ناواقفی اور تیرہ دونی ثابت ہوتی ہے دووجہ سے۔
ایک! یہ کہ ہر فہمیدہ اس کو سمجھتا ہے کہ جو اعلان میں نے بھیجا تھااگر وہ ان کے خیال کے بموجب غلط تھا تو اس کا جواب دیتے اور اس جواب کے ساتھ اپنا چیلنج بھیجتے۔ مگر یہ نہیں کیا۔
دوسرے یہ کہ حیات مسیحm کے ثبوت میں بہت رسالے لکھے گئے ہیں۔ رسالہ ’’حفاظت ایمان‘‘ میں پندرہ رسالوں کے نام بتائے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے رسالے ہیں۔ عبدالکریم سیالکوٹی مرزائی کے رسالے کی تو کیا حقیقت ہے۔ ان کے مرشد نے جو ازالہ اوہام میں حضرت مسیح کی ممات ثابت کرنے پر زور لگایا ہے اس کی ایسی دھجیاں اڑائی ہیں کہ بایدوشاید اور کسی نے ان کا جواب نہیں دیا۔ پھر کس منہ سے اس بحث کا چیلنج دیا جاتا ہے۔ سیالکوٹی صاحب! میرے اسلامی اعلان کے جواب میں اپنا چیلنج بھیجنا ایسا ہی بے جوڑ ہے جیسے مشہور مثال میں کہا جاتا ہے کہ ’’ماروں گھٹنا سر لنگڑائے۔‘‘
میاں! جب ہم نے نہایت پختہ اور یقینی دلیلوں سے آپ کے مرشد کا جھوٹا ہونا ثابت کر کے اظہر من الشمس کر دیا تو حضرت مسیحm کا مردہ ہونا ایسے جھوٹے کو سچا کیسے کر سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی صاحب عقل اس کو باور نہیں کرسکتا کہ اگر مسیحm مرگئے تو ان کی جگہ ایسا جھوٹا شخص جسے قرآن وحدیث نے جھوٹا ثابت کر دیا ہو وہ مسیح موعود ہو جائے؟ سیالکوٹی صاحب! ذرا ہوش کر کے اس کا جواب دو؟ مگر ہم کہتے ہیں نہیں دے سکتے۔ اگر دعویٰ ہے تو ہمارے الزاموں کا شافی جواب دیجئے۔ اس کے طے ہونے کے بعد دوسری بات پیش کیجئے
گا۔ اگر ہوش باقی رہے، بھلا اور رسالوں کا جواب تو کیا دیں گے میں نے اعلان کے ابتداء میں ان کے عقیدے لکھے ہیں، جن سے ان کا جھوٹا ہونا ہر طرح ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً پہلے یہ عقیدہ مرزاقادیانی کا دکھایا ہے کہ: ’’خدا جھوٹ بولتا ہے (نعوذ باﷲ) دوسرے یہ کہ وعدہ خلافی کرتا ہے۔‘‘ اب میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ میرا کہنا صحیح ہے یا نہیں۔ اگر ان کے خیال میں صحیح نہیں تھا تو مجھے لکھتے کہ تمہارا یہ الزام غلط ہے۔ اس کا ثبوت دو۔ مگر یہ نہیں کیا اس سے کامل طور سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی میرا لکھنا صحیح ہے۔ یعنی مرزاقادیانی کے نزدیک خدا جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔ جب میرا قول صحیح ہے تو اب فرمائیے کہ کون عقلمند۔ ایسے خدا کو اور اس کے رسول کو مان سکتا ہے؟ اور جو کوئی مانے تو اس وقت کے دہریہ کس قدر اس کا مضحکہ کریں گے اور اگر میں نے غلط لکھا ہے تو آپ کو چاہئے تھا کہ مجھے اس غلطی کا الزام دیتے اور مجھ سے دریافت کرتے۔ مگر ایسا نہیں کیا۔ بلکہ بے جوڑ ایک چیلنج بھیج دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اس الزام کے جواب سے عاجز ہیں۔ مگر بات کو ٹالنا چاہتے ہیں اور دوسری بحث چھیڑ کر اپنے مرشد کے کذب پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
مرزائی صاحب! یہ چیلنج آپ کا ایسا ہی ہے جیسے کوئی ہمارے اسلامی اعلان کے مقابلہ میں یہ چیلنج دے کہ تم جو آسمان کی گردش مانتے ہو یہ غلط ہے۔ بلکہ زمین چکر کھاتی ہے۔ آسمان کی گردش کو ثابت کرو۔ اس کا جواب ہم ہی دیں گے کہ ہم نے توبہ نظر خیرخواہی آپ کو اس امر پر متنبہ کیا کہ آپ بہک گئے ہیں۔ آپ کی عاقبت خراب ہو گی۔ ہمارے اعلان کو دیکھ کر اپنے ایمان کو درست کیجئے۔ آسمان کی گردش کے غلط ہونے سے آپ کا ایمان درست نہیں ہوسکتا اور زمین کی گردش صحیح ہونے سے آپ کے مرشد سچے نہیں ہوسکتے۔ اس طرح حضرت مسیحm کے مر جانے سے مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ قطعاً جھوٹے کذاب ہیں۔ اس لئے آپ کو ان سے علیحدہ ہونا ضروری ہے۔ اﷲتعالیٰ کاارشاد ہے: ’’من یکفر بالطاغوت ویؤمن ب اللہ فقداستمسک بالعروۃ الوثقٰی (البقرہ:۲۵۶)‘‘{یعنی جس نے طاغوت سے انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی کو پکڑا۔} یہاں اﷲتعالیٰ نے طاغوت سے انکار کرنے کو ایمان ب اللہ سے پہلے بیان فرمایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ جھوٹے سے علیحدہ ہونا اور اسے برا سمجھنا ایمان کا پہلا جز ہے اور
اللہ پر ایمان لانا اس کا دوسرا جز ہے۔ اس لئے اس لئے آپ اپنے طاغوت یعنی مرزاقادیانی سے پہلے انکار کیجئے۔ پھر آپ کا ایمان درست ہوگا۔ ورنہ آپ کا ایمان ب اللہ بے کار ہے۔
اب اگر کسی کو میرے قول میں تردد ہو اور کہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسالت ونبوت کا دعویٰ کر کے خدا پر ایسا الزام لگائے تو میں کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی کی یہی حالت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا اور رسول کو درحقیقت نہیں مانتے۔ مسلمانوں کو فریب دینے کو ظل اور بروز اور محبت رسول کا دعویٰ تھا۔
اب اس کا ثبوت ملاحظہ کیجئے۔ اﷲتعالیٰ حضرت مسیحm کی نسبت فرماتا ہے:’’واٰتینا عیسٰی ابن مریم البینات (البقرہ:۸۷)‘‘ہم نے اسے معجزات دئیے۔ دوسری جگہ ان معجزات کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ ’’انی قد جئتکم بایۃ من ربکم (آل عمران:۴۹)‘‘ یہاں نہایت صاف طور سے حضرت عیسیٰm کے معجزات اﷲتعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ مرزاقادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰) میں اس سے صاف انکار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ: ’’حق بات یہ ہے کہ آپ (یعنی حضرت عیسیٰm) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
کہئے یہ صریح قول خداوند کی تکذیب ہوئی یا نہیں اور اس قدوس لم یزل کو حضرت مسیحm کے معجزات کے بیان میں قادیانی نے جھوٹا ٹھہرایا یا نہیں؟ یہ نہ کہہ دینا کہ الزاماً لکھا ہے۔ کیونکہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ’’حق بات یہ ہے کہ ان سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک جو امر واقعہ اور حق ہے اسے بیان کرتے ہیں۔ صرف الزام نہیں دیتے۔
دوسرا شاہد ملاحظہ کیجئے۔ وہی منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی دیکھئے۔ (جس نے مرزاقادیانی کو بہت بدنام ورسوا کیا) اس کے نکاح میں آنے کی نسبت کیسے پختہ وعدے خداوندی مرزاقادیانی نے بیان کئے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص۲۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵) میں الہام الٰہی کے الفاظ انہوں نے اس طرح لکھے ہیں۔ ’’انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی… خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا… اور ہر یک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔‘‘ اس بیان پر غور کیا جائے کہ کیسا
حتمی وعدہ ہے اور کس قدر تاکیدوں کے ساتھ وعدہ کیاگیا ہے اور برسوں وعدہ ہوتا رہا مگر آخر کار پورا نہ ہوا۔
اب یہاں مرزاقادیانی کے قول کے بموجب خداتعالیٰ کی کیسی کذب بیانی اور وعدہ خلافی ثابت ہوئی۔ بلکہ فریب ثابت ہوا۔ یا یہ کہئے کہ وہ عالم الغیب نہ تھا۔ قادر مطلق نہ تھا۔ ورنہ یہ وعدہ ضرور پورا ہوتا۔ جب یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو بالضرور خدا کا جھوٹا ہونا اور اس کے رسول یعنی مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا لازم آیا۔ کیونکہ انہوں نے بڑے زور سے اس پیشین گوئی کو اپنے لئے صداقت کا نہایت عظیم الشان معجزہ کہا تھا۔ جب اس معجزہ کا ظہور نہ ہوا تو اس دعویٰ میں وہ جھوٹے ٹھہرے اور قرآن مجید کے نص قطعی اور تورات کے صریح بیان سے جھوٹے قرار پائے۔
اب سیالکوٹی عبدالکریم مرزائی فرمائیں کہ حضرت مسیحm کی موت کا ثبوت مرزاقادیانی کے اس جھوٹ کا جواب ہوسکتا ہے؟ کیا ان کا مہمل چیلنج اس اعلانیہ کذب کے دھبہ کو دھو سکتا ہے؟ کیا اس وعدہ کے پورا نہ ہونے سے مرزاقادیانی قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے بموجب کذاب ومفتری نہیں ہوئے؟ ضرور ہوئے۔ حضرت مسیحm کی ممات کا ثبوت ان نصوص قطعیہ کو مٹا کر مرزاقادیانی کا سچا ہونا ثابت نہیں کر سکتا؟ یہ آپ کا چیلنج محض بے کار ہے۔ ہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کے مرشد کا جھوٹا ہونا ثابت نہ کیا ہوتا تو ہم اس طرف توجہ کرتے۔ کچھ عرصہ ہوتا ہے کہ مونگیر سے ایک مضمون قادیان بھیجا گیا تھا۔ جس میں مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن وحدیث سے ثابت کیاگیا ہے۔ وہ بھی ایک چیلنج تھا۔ مگر اس وقت تک تو آپ کے خلیفہ کی جرأت نہ ہوئی کہ کچھ جواب دیتے۔ پھر آپ کس منہ سے چیلنج دیتے ہیں؟ اب میں اسے نقل کر کے آپ کو دکھاتا ہوں۔ آپ قادیان سے اس کا جواب منگوا کر ہمیں بھیجئے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک پختہ دلیل یہ بھی ہے کہ انہیں نبوت کا دعویٰ ہے اور وہ اپنے آپ کو مستقل نبی صاحب شریعت سمجھتے ہیں اور نہایت صفائی سے بعض عظیم المرتبت انبیاء سے اپنے آپ کو بہت افضل
کہتے ہیں اور اپنے نہ ماننے والے کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس وقت یہ بیان کیا جاتاہے کہ قرآن مجید سے اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ یقینا جھوٹا ہے۔ اس کے جھوٹا ہونے میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہوسکتا۔ ان کے اس دعویٰ سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کو آیت قرآنی: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘سے دلی انکار ہے۔ مگر چونکہ جانتے ہیں کہ ہمارے دعویٰ کو صرف مسلمانوں ہی نے مانا ہے۔ کوئی ہندو، کوئی آریہ، کوئی عیسائی ان پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے صاف انکار تو نہیں کرتے بلکہ صاف طور سے نبوت تشریعی کا دعویٰ کر کے کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ عوام کے دھوکا دینے کی غرض سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ حدیث سے۔ آیت مذکورہ سے قطعی طور سے ثابت ہے کہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبا الصلوٰۃ کی رو سے جسے نبی کہا جائے اور قرآن وحدیث میں جس کو رسول یا نبی کہا ہے۔ ان سب کے آپa خاتم النّبیین ہیں۔ یعنی سب کے آخر میں آنے والے کیونکہ خاتم النّبیین کے معنی لغت میں اور محاورہ عرب میں آخر النّبیین کے ہیں۔ یعنی تمام انبیاء اور ہر قسم کے نبیوں کے بعد آنے والے۔ پھر آپa کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا آنے والا نہیں اور قرآن مجید کے بیان کا قرینہ بھی اسی کا شاہد ہے۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ نے شروع قرآن مجید سے اکیس پارہ تک بہت سے انبیاء تشریعی وغیرتشریعی امتی وغیرامتی کا ذکر کرکے بائیسویں پارہ میں یہ آیت نازل کی اور جناب رسول اﷲa کی ایک خاص صفت خاتم النّبیین ہونے کی بیان فرمائی۔ اس میں النّبیین جمع ہے اور اس پر الف اور لام استغراق کا ہے۔ جس سے اشارہ ان تمام انبیاء کی طرف ہے جن کا ذکر اس سے پہلے ہو لیا ہے اور خاتم کا لفظ جب النّبیین کی طرف مضاف کیاگیا تو محاورہ عرب کے لحاظ سے اس کے معنی آخرالنّبیین کے ہوئے۔ اب خاتم کے معنی مہر کے لینا یا یہ کہنا کہ آپa تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ لغت سے اور بیان مذکورہ سے نہایت ظاہر ہے کہ جتنے انبیاء تشریعی اور غیرتشریعی کا ذکر اس آیت سے پہلے ہولیا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰm اور
ہارونm اور ان کے بعد والے سب کے آخر میں آپa آنے والے ہیں۔ جس طرح سورج تمام تاروں کے بعد سب کے آخر میں صبح کو نکلتا ہے اور بے شمار تاروں کی روشنی چھپ جاتی ہے اور ایک سورج کی روشنی ان بے شمار تاروں کی روشنی سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت سرور عالمa کا آفتاب نبوت اس لئے آخر میں چمکا، تاکہ معلوم کرنے والے خوب جان لیں کہ آپa کا وہ مرتبہ عالی ہے کہ آپa کے فیوضات اور انوار نبوت کے بعد کسی کا چراغ نہیں جل سکتا۔ تمام انبیاء مثل تاروں کے ہیں اور آپa مثل آفتاب کے ہیں۔ قیامت تک آپa کی نبوت کی روشنی چمکتی رہے گی اور جس طرح سورج کے غروب ہوتے ہی دن کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح آپa کی نبوت کے ختم ہوتے ہی دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ آپa کی نبوت کے زمانہ میں کوئی نبی کسی طرح کا نہیں آئے گا اور مقتضائے ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘کے علماء وہی کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل کرتے تھے۔ لسان العرب (ج۴ ص۲۵) جو عربی لغت کی نہایت مستند کتاب ہے اور اس وقت عرب میں اس کا نہایت اعتبار ہے اس میں لکھا ہے۔ ’’ختم الوادی اقصاہ وختام القوم وخاتمہم آخرہم… وفی التنزیل العزیز ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین ای آخرہم‘‘یعنی عرب اپنے بول چال میں جو ختام الوادی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں اس میدان کی انتہاء یعنی جس مقام پر میدان کی انتہاء ہوئی ہے اسے ختام الوادی کہتے ہیں۔ اسی طرح جب اہل عرب لفظ ختام کو یا خاتم کو قوم کی طرف مضاف کرتے ہیں اور ’’خاتم القوم یا خاتم القوم‘‘کہتے ہیں تو اس کے معنی آخرقوم کے ہوتے ہیں۔ یعنی جسے خاتم القوم کہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ ساری قوم کا آخر، مطلب یہ ہوا کہ مثلاً ایک قوم کے آدمی یکے بعد دیگرے آئے۔ سب کے آخر میں جو آیا اسے خاتم القوم کہیں گے۔ اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ختام اور خاتم جب کسی ایسی چیز کی طرف مضاف ہو جس میں وسعت ہے تو اس کی وسعت جہاں ختم ہوئی ہے اس جگہ کو ختام کہتے ہیں اور جب لفظ خاتم ایسے لفظ کی طرف مضاف ہو جس کے بہت سے افراد ہیں۔ مثلاً لفظ قوم
ہے اور خاتم القوم ہیں تو اس کے یہی معنی ہیں کہ ساری قوم کا آخر۔ اسی طرح جب اس لفظ کو النّبیین کی طرف مضاف کریں گے تو اس کے معنی آخرالنّبیین کے ہوں گے
اس بیان کے بعد صاحب لسان، قرآن مجید کی مشہور آیت: ’’ماکان محمد‘‘ نقل کر کے خاتم النّبیین کے معنی آخرہم کے بیان کرتے ہیں۔ یہ معنی اگرچہ پہلے بیان سے معلوم ہوگئے تھے مگر بالتخصیص آیت کو نقل کر کے اس کے وہ معنی بیان کرنا جو بیان سابق سے سمجھے جاتے ہیں اسی غرص سے ہے کہ صاحب کتاب محققین کی طے شدہ بات کو بیان کرتا ہے تاکہ کوئی ناواقف دوسرے معنی نہ لے اور اگر کوئی گمراہ دوسرا معنی لے تو اسے الزام دیا جاسکے۔ یعنی خاتم کے معنی اگرچہ مہر کے بھی آتے ہیں۔ مگر یہاں وہ معنی نہیں ہیں۔ یہاں بالاتفاق اس کے معنی آخر کے ہیں۔ تمام محققین اہل لغت یہی معنی بیان کرتے ہیں چنانچہ قاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے: ’’الخاتم من کل شیٔ عاقبتہ واٰخرتہ والخاتم اٰخر القوم کالخاتم ومنہ قولہ تعالٰی وخاتم النّبیین ای آخر‘‘ (یعنی ہر شئے کے انجام کو خاتم کہتے ہیں۔ اسی طرح خاتم القوم آخر قوم کو کہتے ہیں اور قرآن مجید میں جو خاتم النّبیین ہے اس کے معنی آخر النّبیین کے ہیں اور یہی بات مختار الصحاح سے ظاہر ہے) اب قادیانی مربی ان کتابوں کی صراحت کو دیکھیں کہ کس صفائی سے خاتم النّبیین معنی آخرالنّبیین کے بیان کئے ہیں اور خاص قرآن مجید کے الفاظ نقل کر کے وہی معنی بیان کر دئیے جو ہم بیان کرتے ہیں۔
جب قطعی طور سے معلوم ہوا کہ خاتم النّبیین کے معنی محاورہ عرب میں آخرالنّبیین کے ہیں تو بالیقین ثابت ہوا کہ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں جناب رسول اﷲa کو آخرالنّبیین فرمایا ہے۔ یعنی حضور انورa تمام انبیاء کے آخر میں آئے ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جس کے انکار سے کوئی مسلمان کافر ہو جائے۔ کیونکہ قرآن مجید لغت عرب میں نازل ہوا ہے۔ اس لئے اس کے وہی معنی لئے جائیں گے جو محاورہ عرب میں آئے ہیں اور بیان مذکور سے ثابت ہوا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں۔ اب
میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح قرآن مجید کے نص قطعی سے ثابت ہوگیا کہ حضور انور جناب رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی طرح صحیح حدیثوں سے بھی ثابت ہے کہ حضور انورa کے بعد کوئی سچا نبی نہیں آئے گا۔ جھوٹے مدعی نبوت ہوں گے۔
آپa کے آخرالانبیاء ہونے کا مقصد یہ ہے کہ جس قدر انبیاء بھیجے گئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے اور آنحضرتa سلطان الانبیاء سرور عالم ہیں۔ آپa کے بعد کسی جدید نبی کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ یہ آپa کی شان رحمت کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ تجربہ اس کا شاہد ہے کہ جب نبی آئے تو بعض پہلے نبی کے ماننے والوں نے بھی انکار کیا اور وہ مسلمان نہ رہے۔ جہنم کے مستحق ہوئے۔ اب اگر حضور انورa کے بعد بھی نبی مبعوث ہوتے تو حسب عادت بعض آپa کے امتی بھی ان سے انکار کرتے اور جہنم کے مستحق ہوتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ جناب رسول اﷲa کے بعض ماننے والے بھی جہنم میں جائیں۔ مگر کسی سچے مسلمان کے دماغ میں یہ خیال کسی طرح نہیں آسکتا کہ جس نبی کریم کی صفت رحمت ہو۔ جس کی شان کو اﷲتعالیٰ رحمت فرمائے۔ جس سے خاص خطاب کر کے فرمائے۔ ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء:۱۰۷)‘‘ یعنی ہم نے تجھے سارے جہان کی رحمت کے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔ اس کی شان کسی وقت ایسی ہوسکتی ہے کہ اس کا ماننے والا جہنمی ہو جائے اور وہ ایسی عام رحمت سے محروم رہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ مرزاغلام احمد ہی کی دریدہ دہنی ہے کہ دنیا کے کچھ کم چالیس کروڑ اس حبیب کبریا رحمۃ للعالمینa کے ماننے والوں کو جہنمی کہتا ہے اور حضور انورa کی شان میں سخت دھبہ لگاتا ہے۔ حضورa کے بعد نبی کی اس لئے بھی ضرورت نہیں ہے کہ اﷲتعالیٰ نے آپa کی امت کے علماء کو وہ شرف دیا ہے کہ انبیائے بنی اسرائیل جو کام کرتے تھے وہی علمائے امت کریں گے۔ اب وہ حدیثیں بھی ملاحظہ کیجئے جن سے آیت مذکور کی تفسیر اور مرزاقادیانی کا کاذب ہونا یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہیں:
۱… حدیث: (ابن ماجہ ص۲۹۷، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) میں ابوامامۃ الباہلیq سے دجال کے بیان میں ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اس میں رسول اﷲa کا یہ ارشاد ہے۔ ’’انا اٰخر الانبیاء وانتم اٰخر الامم‘‘اس پر خوب غور کیا جائے کہ اس حدیث میں صاف لفظ آخرالانبیاء ہے۔ خاتم الانبیاء نہیں ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ خاتم الانبیاء کے معنی آخرالانبیاء کے ہیں۔
مطلب: یعنی رسول اﷲa اپنی امت سے خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں ہو۔ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی دوسری امت ہے۔ اے عزیز! دیکھو جس طرح لغت اور محاورہ عرب سے ثابت ہوا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں اسی طرح حدیث رسول اﷲa سے بھی نہایت صراحت سے ثابت ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین ہیں اور حضور آخرالنّبیین ہیں۔
۲… حدیث: ’’سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی اﷲ وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ یعنی میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا نبی سمجھے گا۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ یعنی میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا اور جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
اس مضمون کو امام بخاری (ج۱ ص۵۰۹، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، مسلم ج۲ ص۳۹۷، فصل فی قولہ ان بین یدی الساعۃ کذابون، ابوداؤد ج۲ ص۱۲۷، باب ذکر الفتن ودلائلہا، ترمذی ج۲ ص۴۵، باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں تأمل کرنے سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
اوّل… یہ کہ حضور انورa پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ میرے بعد میری امت میں جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے۔
دوم… یہ کہ ان کے جھوٹے ہونے کی یہ علامت بیان فرمائی کہ امت محمدی ہونے کا دعویٰ کریں گے اور اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کے مدعی ہوں گے۔ یہ علامت مرزاقادیانی میں پورے طور سے پائی گئی۔ اس لئے وہ جھوٹے مدعیوں میں ہوئے۔
سوم… ان کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل فرمائی:’’وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘یعنی وہ جھوٹے نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ میرا خاتم النّبیین ہونا ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اس سے خاص طور سے اس مدعی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا جو اپنے آپ کو امتی کہہ کر نبوت کا دعویٰ کرے اور اپنے آپ کو امتی نبی کہے اور مرزاقادیانی نے ایسا ہی کیا۔ اس لئے بموجب ارشاد جناب رسول اﷲa کے مرزاقادیانی جھوٹے ٹھہرے اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔
چہارم… نہایت صراحت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لفظ خاتم النّبیین کے معنی فقط آخرالنّبیین کے ہیں۔ جس طرح محاورہ عرب اور لغت سے پہلے ثابت کیاگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں۔ اسی طرح اس حدیث سے بھی نہایت صفائی سے یہ ثابت ہوا اور یہ معنی نہیں ہیں کہ جناب رسول اﷲa انبیاء کی مہر ہیں، یازینت ہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جملہ ان مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں بیان ہوا ہے۔ اگر مہر کے معنی لئے جائیں تو ان مدعیوں کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل نہیں ہوسکتی۔ یعنی پہلے یہ ارشاد ہوا کہ میری امت میں جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے۔ پھر ان کی یہ حالت بیان فرمائی کہ ان میں ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اس ارشاد کے بعد آپa فرماتے ہیں: حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کا نہایت صاف مطلب یہی ہے کہ خدا نے مجھے خاتم النّبیین بنایا ہے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس لئے ان کا دعویٰ نبوت کرنا ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اب اگر خاتم النّبیین کے معنی مہر کے لئے جائیں تو کوئی مرزائی بتائے کہ حدیث کے کیا معنی ہوں گے؟ مگر یہ یقینی بات ہے کہ اگر یہاں خاتم کے معنی مہر کے لئے جائیں تو یہ جملہغلط ہو جائے گا۔ بلکہ حدیث کے مطلب کو بگاڑ دے گا۔ دوسرے یہ کہ خاتم النّبیین کے بعد جملہ ’’لا نبی بعدی‘‘کا اضافہ کیاگیا۔ جس سے نہایت واضح ہو گیا کہ: ’’انا خاتم النّبیین‘‘
کے یہی معنی ہیں کہ میں آخر النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ بیان دوطریقوں سے ثابت کرتا ہے کہ یہاں خاتم کے معنی مہر کے نہیں بلکہ آخر کے ہیں۔
پہلا طریقہ: یہ کہ جملہ ’’انا خاتم النّبیین‘‘ مدعیان نبوت کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی وہ مدعی اس لئے جھوٹے ہوں گے کہ میں آخر النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس لئے اس کا یہ دعویٰ اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔
دوسرا طریقہ: یہ ہے کہ اس کے بعد ’’لا نبی بعدی‘‘ کہہ کر اس کی شرح کر دی اور فرمادیا کہ میرے بعد کوئی نبی کسی طرح کا نہیں ہے۔ کیونکہ عربی دان واقف ہیں کہ یہاں لا نفی جنس کا ہے اور لفظ نبی نکرہ ہے۔ اس لئے ہر قسم کے نبی کی نفی ہوگئی۔
پنجم… اس حدیث کے الفاظ اور معنی پر نظر کرنے کے بعد جب واقعات پر نظر کی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آنحضرتa کے بعد بعض نبوت تشریعی کے مدعی ہوئے۔ جیسے صالح بن طریف متقدمین میں اور بہاء اللہ بابی متأخرین میں اور بعض غیرتشریعی نبوت کے جیسے ابوعیسیٰ وغیرہ ان سب کے جھوٹے ہونے کی آپa نے یہی دلیل بیان فرمائی کہ میں آخر النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ اس لئے وہ جھوٹے ہیں۔ اس سے قطعی اور یقینی طور سے ثابت ہوگیا کہ آپa کے بعد تشریعی غیرتشریعی، امتی، غیرامتی، ظلی، بروزی کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔ کیونکہ خاتم کی اضافت نے اور ’’لا نبی بعدی‘‘کے لائے نفی جنس نے ہر قسم کے نبی کی نفی کر دی۔ اس کو اہل علم خوب جان سکتے ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ جو رسول خداa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔ خصوصاً جو امتی نبی ہونے کا مدعی ہو اس کا جھوٹا ہونا تو آفتاب نیمروز کی طرح اس حدیث سے روشن ہوگیا۔
ششم… اس حدیث سے آیت قرآنیہ ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘کی تفسیر بھی پورے طور سے ہوگئی اور وحی خداوندی کی تفسیر صاحب وحی نے کر دی اور وہ تفسیر بھی الہام خداوندی سے کی جس کا ذکر اوپر کیاگیا اور یہ تفسیر بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے۔ آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ مذکورہ حدیث میں جو تیس جھوٹے مدعیوں کے آنے کی خبر ہے اس کا یہ مطلب
نہیں ہے کہ قیامت تک تیس ہی جھوٹے آئیں گے اور ان کے سوا اگر اور مدعی ہوں گے تو سچے ہوں گے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ غرض یہی ہے کہ میرے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے۔ اس کا اثبات بالمشافہ کیا جائے گا اور آپ اور حاضرین جلسہ دیکھ لیں گے کہ الفاظ حدیث سے کس خوبی سے ثابت کردیا گیا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔ اگرچہ تیس ہزار مدعی ہوں۔
الغرض اس حدیث میں جو علامت جھوٹے مدعیان نبوت کی بیان ہوئی وہ مرزاقادیانی میں یقینی طور سے پائی جاتی ہے اور حدیث کا آخری جملہ بھی انہیں کاذب ثابت کرتا ہے۔ اس حدیث کے سوا اور بھی حدیثیں اس مضمون کی اس قدر ہیں کہ اس کے متواتر ہونے میں کوئی تردد نہیں ہوسکتا۔ بعض روایتیں اور بیان کی جاتی ہیں۔
۳… حدیث:’’انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘
(صحیح بخاری ج۱ ص۵۰۱، باب ماجاء فی اسماء رسول، مسلم ج۲ ص۲۶۱، باب فی اسمائہa)
مطلب: رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ جس طرح پہلی حدیث سے ثابت ہوا تھا کہ حضور انورa کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اسی طرح اس حدیث سے بھی ثابت ہوا۔
ابوموسیٰ اشعریv کہتے ہیں:
۴… حدیث:’’کان رسول اﷲa یسمی لنا نفسی اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفٰی‘‘
(صحیح مسلم ج۲ ص۲۶۱، باب فی اسمائہa)
مطلب: رسول اﷲa نے اپنے متعدد نام بیان فرمائے ہیں اور فرمایا ہے کہ میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور مقفٰی ہوں اور مقفٰی کے معنی محدثین نے وہی بیان کئے ہیں جو عاقب کے ہیں۔ یعنی آخر الانبیاء۔ اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (نووی شرح مسلم وغیرہ دیکھو)
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جناب رسول اﷲa کا نام احمد بھی ہے۔، یہ وہ نام مبارک ہے جوقرآن شریف میں نہایت صراحت سے آیا ہے اور کلام الٰہی بتا رہا ہے کہ یہ نام مبارک جناب رسول اﷲa کا ہے۔ اس حدیث میں اس اجمال کی جو قرآن شریف
میں تھا اور زیادہ تفصیل کر دی۔ اب کسی کاذب کو جائے دم زدن نہیں ہے۔ اب بعض قادیانیوں کا یہ کہنا کہ یہ نام حضور انورa کا نہیں ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کا ہے۔ محض غلط ہے۔ غلام ہوکر مولیٰ بننا چاہتا ہے۔
(صحیح بخاری ج۱ ص۴۹۱، باب ماذکر عن بنی اسرائیل)
مطلب: بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے۔ جب کوئی نبی انتقال کرتا تو ان کی جگہ دوسرا نبی قائم ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے (جو مسلمانوں کے تمام امور کا نظم کریں گے) اور ان کی کثرت ہوگی۔ صحابہi نے عرض کیا کہ آپa ہم کو کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ یعنی جب بہت سے ہوں گے تو ایک وقت میں کئی ہوئے تو ہم کو کیا کرنا چاہئے۔
’’حکم ہواجس سے پہلے بیعت کر لو اس کو پورا کرو اور ان کے حقوق کو پورا کرتے رہو۔ اﷲتعالیٰ خلفاء سے ماتحت کی نسبت سوال کرے گا کہ کس طرح انہوں نے رعیت سے برتاؤ کیا۔‘‘
اس حدیث سے نہایت صفائی سے ظاہر ہوگیا کہ آپa کے بعد کوئی نبی کسی قسم کانہیں ہوگا۔ اس میں لفظ ختم یا خاتم نہیں ہے۔ جس کے معنی میں گفتگو کی گنجائش ہوسکے۔ بلکہ صاف طور سے یہ ارشاد فرمایا: ’’لا نبی بعدی‘‘ جس کے معنی قطعی طور سے یہی ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی کسی طرح کا نہیں ہے۔ اس کے معنی سوا اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتے۔ یہ حدیث اس کتاب کی ہے کہ جس کی صحت کا مرتبہ بعد قرآن مجید کے مسلمات سے ہے اور اس کا مضمون وہ ہے جس کی تائید قرآن مجید سے صاف طور سے ہوتی ہے۔ سورۂ نور میں اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم (النور:۵۵)‘‘
مطلب: جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اﷲتعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ بلاشک وشبہ ہم تمہیں ملک میں خلیفہ اور حاکم بنائیں گے۔ جیسا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں بنائے تھے۔
اس آیت میں اﷲتعالیٰ امت محمدیہa پر اپنا انعام ظاہر فرماتا ہے اور نہایت صاف طور سے صرف خلافت کا وعدہ دیتا ہے۔ چنانچہ اوّل ظہور اس کا خلفاء راشدین سے ہوا۔ سب سے اوّل حضرت ابوبکر صدیقq خلیفہ ہوئے۔ ان کے بعد حضرت عمرq ان کے بعد حضرت عثمان غنیq اور ان کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہوئے۔ یہ زمانہ خلافت راشدہ کا ہوا۔ اس کے بعد اور خلفاء ہوتے رہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔ مگر اس آیت میں یا کسی اور آیت میں یہ وعدہ ہرگز نہیں ہے کہ تم میں ہم نبی پیدا کریں گے۔ حالانکہ اس آیت میں اس کے ذکر کا موقع تھا۔ کیونکہ اﷲپاک اپنا احسان ان پر جتا رہا ہے۔ اگر کوئی نبی آنے والا ہوتا تو آیت میں ضرور اس کا بھی وعدہ ہوتا۔ حدیث مذکورہ نے اس آیت کی کامل تفسیر کر دی کہ امت محمدیہa میں خلافت ہوگی نبوت نہ ہوگی۔ آیت سے ضمناً اور طبعاً سمجھا جاتا تھا۔ حدیث نے اس کی تفسیر کر دی اور اس آیت وحدیث سے خاتم النّبیین کے معنی کی شرح بھی ہوگئی۔ یعنی رسول اﷲa آخر الانبیاء ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
رسول اﷲa فرماتے ہیں:
۶… حدیث:’’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤیا الصالحۃ‘‘
(بخاری ج۲ ص۱۰۳۵، باب مبشرات)
مطلب: اب نبوت باقی نہیں رہی۔ البتہ اچھے خواب باقی ہیں۔ مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورa کا ارشاد مرض موت میں تھا۔
اس وقت میں یہ ارشاد فرمانا نہایت صاف دلیل ہے اس بات کی کہ آپa اپنی امت کو متنبہ کرتے ہیں کہ دیکھو نبوت ختم ہوگئی ہے۔ میری نبوت کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے اسے سچا نہ سمجھنا۔ یہ معمولی حدیث نہیں ہے۔ یہ صحیحین کی حدیث ہے۔ اس کی صحت پر امت محمدیہ کا اتفاق ہے۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ
اس حدیث کا مضمون متواتر ہے۔ بطور نمونہ یہاں چند حدیثیں پیش کی گئی ہیں۔
۷… حدیث:’’قال یاایہا الناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرؤیا الصالحۃ‘‘
مطلب: رسول اﷲa نے فرمایا اے لوگو! نبوت کی بشارتوں سے کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر اچھے خواب یہ حدیث بھی مرض موت میں حضور انورa نے بیان فرمائی ہے۔
(امام احمد کنزالعمال ج۱۵ ص۳۷۷، حدیث نمبر۴۱۴۶۰ ج۶ نمبر۳۳۸۱، ابن ماجہ ج۱ ص۱۹۱، باب النہی عن قرأۃ القرآن فی الرکوع وسجود، طبرانی ج۳ ص۱۷۹، حدیث نمبر۳۰۵۱) روایت کرتے ہیں۔
(ابن ماجہ ص۲۷۸، باب الرؤیا الصالحہ)
مطلب: نبوت ختم ہوچکی اور مبشرات باقی ہیں۔ یعنی رسول اﷲa کے بعد نبوت باقی نہیں رہی۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا البتہ خواب باقی ہیں۔
جناب رسول اﷲa کے بعد نائب رسول اﷲa اور کاملین امت کو سچے خواب ہوتے رہیں گے۔ جس سے امت کو آئندہ کی خبریں معلوم ہوتی رہیں گی۔ جن سے انہیں بشارت ہوتی رہے گی۔ اس حدیث کو طبرانی اور ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے۔ یہ دونوں بڑے محدثوں میں ہیں۔
محدث ابی یعلی روایت کرتے ہیں:
(واللفظ لہ فلا رسول بعدی ولا نبی، مستدرک حاکم ج۵ ص۵۵۷، حدیث نمبر۸۲۳۹)
مطلب: رسول اﷲa نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی۔ میرے بعد اب نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول ہوگا۔
یہاں تک قرآن مجید کی دو آیتوں اور نوحدیثوں سے ثابت کردیا گیا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور پہلی حدیث میں نہایت صاف طور سے رسول اﷲa اپنے آپ کو آخر النّبیین فرمارہے ہیں اور چھ حدیثوں میں لفظ خاتم نہیں ہے۔ جس کے معنی میں جائے دم زدن ہو۔ دوسری حدیث میں لفظ خاتم النّبیین کا آیا مگر اس کے بعد ’’لا نبی بعدی‘‘ نے اس کی پوری شرح کر دی کہ خاتم کے معنی آخر کے ہیں۔ مہر کے نہیں ہیں۔ اب ان نصوص صریحہ کے بعد امت محمدیہ میں نبوت کو باقی رکھنا صریح خدا اور رسولa کے فیصلہ سے انکار کرنا ہے۔ مگر صراحۃً نہیں۔ باتیں بنا کر، اس میں شبہ نہیں کہ مرزاغلام احمد کو سچا مان کر یہ کہنا کہ ہم قرآن وحدیث کو مانتے ہیں۔ ایسا ہی ہے جیسا یہود گؤسالہ پرستی کرنے کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ ہم توریت کو مانتے ہیں۔
غرضیکہ اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد منصب نبوت باقی نہیں رہا۔ اس لئے اب جو دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے۔ اس کے جھوٹا ہونے میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کے نص قطعی سے ثابت ہوا کہ رسول اﷲa آخر النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہ ملے گا۔ اسی طرح احادیث صحیحہ متواتر سے بھی نہایت صراحت سے بالیقین ثابت ہوگیا کہ آپa کے بعد مرتبہ نبوت کسی کو نہ ملے گا۔ اس کی وجہ بھی نہایت معقول بیان کر دی گئی۔ اب بعض جاہل قادیانیوں کا بعض آیت قرآنیہ کو پیش کر کے امت محمدیہa میں نبوت کو ثابت کرنا محض ان کی جہالت اور بے خبری کی دلیل ہے۔ میاں قاسم علی نے اس بات میں رسالہ لکھا تھا۔ اس کے دو جواب لکھے گئے ہیں۔ ایک منشی پیر بخش لاہوری نے لکھا۔ دوسرا صوبہ بہار کے ایک عالم نے لکھا ہے اور وہ مشتہر ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد قاسم علی مرزائی اور ان کے معین ومددگار سب دم بخود ہیں۔
اب سیالکوٹی کلرک آنکھیں کھول کر اپنے مرشد کے کذب کے دلائل کو دیکھیں کہ کس صفائی سے قرآن مجید سے۔ صحیح حدیثوں سے مرزاقادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ اب وہ یہ بتائیں کہ ان کا چیلنج انہیں سچا ثابت کر سکتا ہے؟ جو انہوں نے میرے اعلان کے جواب
میں بھیجا ہے۔ کیا حضرت مسیح کی موت کے ثبوت سے یہ آیات واحادیث دنیا سے نیست ونابود ہو جائیں گی اور مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت لائق توجہ ہوسکے گا؟ کیا ان کی پیشین گوئیوں کے جھوٹا ہونے اور ان نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ سے قطعاً اور یقینا کاذب نہیں ہوئے؟ ضرور ہوئے۔ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا۔
مولانا عبداللطیف صاحب کے چیلنج کو ایک سال سے زیادہ ہوا مگر کسی قادیانی مربی کی جرأت نہ ہوئی کہ جواب دے۔ یہی مضمون فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں لکھاگیا ہے اور مرزاقادیانی کو جھوٹا ثابت کیاگیا ہے۔ اس کو چھپے ہوئے چوتھا برس ہے۔ اب عبدالکریم مرزائی سیالکوٹی دکھائیں کہ کس نے اس کا جواب دیا۔ پھر کس منہ سے وہ ایک بیکار چیلنج ہمارے پاس بھیجتے ہیں اور اپنے مربیوں کو اور خلیفہ کو شرم نہیں دلاتے کہ جب تک ان رسالوں کا جواب نہ دیا جائے تو کس منہ سے مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کا اعلان دیا جاتا ہے اور اس جھوٹے دعوے پر پردہ ڈالنے کے لئے خواہ مخواہ حضرت مسیحm کی حیات وممات کی فضول بحث کو چھیڑا جاتا ہے۔ اگر حضرت مسیحm مرگئے اور دوسرا کوئی شخص مسیح موعود ہے تو وہ ایک مقدس پاک باز شخص ہوگا۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ آنے والا مرزاقادیانی کی طرح جھوٹا ہو؟ جس کا جھوٹا ہونا قرآن وحدیث سے، اس کے اقوال سے، عقل سلیم سے، ہر طرح ثابت ہوگیا ہو اور آنے والے مسیح کی جو علامتیں حدیث میں بیان ہوئی ہیں وہ بھی نہیں پائی گئیں۔ حقیقت المسیح اور ہدیہ عثمانیہ کے دوسرے حصہ میں ان کا ذکر ہوا ہے۔
غرضیکہ جب ہم نے مرزاقادیانی کا کاذب ہونا کامل طور سے ثابت کر دیا ہے تو اب ہمیں حضرت مسیحm کی حیات وممات پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر سیالکوٹی مرزائی یا کوئی مرزائی ضرورت ثابت کرے تو سامنے آئے اور ثابت کر کے دکھائے۔ مگر ہر گز ثابت نہیں کر سکتا۔ آخر میں راقم یہ بھی کہتا ہے کہ حیات مسیحm کے ثبوت میں متعدد رسالے لکھے گئے ہیں اور مرزاقادیانی نے جو کچھ حضرت مسیحm کی ممات کے ثبوت میں اپنی جدت دکھائی ہے اس کی ایسی دھجیاں اڑائی گئی ہیں کہ باید وشاید اور بڑے بڑے رسالے لکھے گئے ہیں۔ میں چند نام مع مختصر کیفیت کے لکھتا ہوں۔
۱… الحق الصریح فی حیات المسیح: مولانا محمد بشیر مرحوم سے مرزاقادیانی کا دہلی میں اسی مسئلہ پر مناظرہ ہوا۔ مگر مرزاقادیانی اسے ناتمام چھوڑ کر قادیان بھاگے اور مولانا نے یہ رسالہ پورا کر کے ۱۳۰۹ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپوایا۔
۲… الالہام الصحیح فی حیات المسیح: یہ رسالہ ۱۳۱۱ھ میں مولانا غلام رسول صاحب نے عربی زبان میں نہایت قابلیت سے لکھ کر چھپوایا ہے اور تازندگی کہتے رہے کہ اگر مرزاقادیانی نے یا حکیم نورالدین قادیانی نے اس کے جواب میں قلم اٹھایا تو پھر ایسا جواب دیا جائے گا کہ ہوش جاتی رہے گی۔ مگر دونوں صاحبوں نے دم نہیں مارا اور دنیا سے تشریف لے گئے۔
۳… شہادۃ القرآن: اس میں دو باب ہیں۔ پہلے باب میں آیات قرآنیہ سے حضرت مسیحm کی حیات ثابت کی ہے اور دوسرے باب میں مرزاقادیانی کے دلائل ممات کو غلط ثابت کیا ہے۔ یہ باب دوم ۱۳۲۳ھ میں اور پہلا باب اس سے دو برس پہلے چھپا ہے۔ یہ دونوں باب ۳۰۶صفحوں پر چھپے ہیں۔
۴… السیف الاعظم: مقام کٹک میں بعض مرزائیوں نے مناظرہ کا غل کیا تھا۔ وہاں کے ایک ہمدرد اسلام سید مکرم علی صاحب رئیس اعظم نے مولوی غلام مصطفی صاحب سہسوانی کو مناظرہ کے لئے بلایا۔ مگر قادیانی صاحب کسی طرح سامنے نہ آئے۔ انہوں نے ایک رسالہ لکھا تھا۔ ممات مسیحm پر مولانا نے اسی کے جواب میں ۱۳۲۸ھ میں یہ رسالہ لکھا اور ۱۹۱۰ء میں مطبع فخر المطابع لکھنؤ میں چھپوایا ہے۔ مگر اس کے جواب سے بھی قادیانی عاجز رہے۔
یہ چار رسالے تو مدت سے چھپے ہوئے مشتہر ہیں۔ پہلا رسالہ ۲۶برس سے اور دوسرا ۲۴برس سے مشتہر ہے۔ پھر کیا ہیڈ کلرک سیالکوٹی نے ان رسالوں کو نہیں دیکھا اور اگر دیکھا ہے تو ان باتوں کا جواب نہیں پایا ہے جو انہوں نے اپنے چیلنج میں لکھی ہیں۔ ان رسالوں کو مکرر دیکھیں اور پھر ہمیں لکھیں کہ ہماری فلاں بات کا جواب نہیں دیا گیا۔ حالانکہ اس کا جواب دینا ضرور تھا۔ پھر ہم انہیں سمجھا دیں گے اور ان کی نادانی اور ناواقفی کو دکھادیں گے۔ ایک
جدید رسالہ جو خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں حیات مسیحm پر لکھاگیا ہے وہ عجیب رسالہ ہے۔ اس میں قرآن مجید سے اور احادیث سے اور اجماع امت سے اور مرزاقادیانی کے مسلمات سے حضرت مسیحm کی حیات کو ثابت کیا ہے اور مرزاقادیانی کے دعوے قرآن دانی کی وہ دھجیاں اڑائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ مگر یہ رسالہ اب تک چھپا نہیں ہے۔ حیات مسیح اس کا نام ہے۔
آخر میں پھر کہوں گا کہ ہم نے مرزاقادیانی کو نہایت قطعی دلیلوں سے جھوٹا ثابت کردیا ہے۔ اب ہمیں حضرت مسیحm کی حیات وممات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرزائی پہلے ہمارے الزامات کو اٹھائیں اور ان کا راست باز اور نیک ہونا ثابت کریں۔ پھر اس کے بعد حیات وممات پر بحث کریں۔
سرکاری محکمہ میں جگہ خالی ہونے سے اسی کو جگہ مل سکتی ہے جو پاس حاصل کرچکا ہو اور جس نے کوئی پاس نہیں کیا اور اس کا چال وچلن بھی اچھا نہیں ہے۔ وہ اس جگہ کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ مرزاقادیانی نے تو اسلامی سرکار میں راست بازی کا پاس بھی حاصل نہیں کیا۔ پھر وہ حضرت مسیح کے عہدۂ جلیلہ پر کیونکر فائز ہوسکتے ہیں؟ حضرت مسیح کے انتقال کر جانے سے مرزاقادیانی سے وہ الزامات نہیں اٹھ سکتے جن سے وہ قطعی کاذب ثابت ہوچکے ہیں۔ خیال کیجئے کہ جو آیت واحادیث میں اوپر نقل کر آیا ہوں جن سے مرزاقادیانی یقینی طور سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں انہیں قرآن وحدیث سے مرزائی نکال کر صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے؟ کیا ہمارے علماء کے سامنے ان کے معنی میں تحریف کر کے اپنے مدعا کے موافق کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اس کے خلاف دعویٰ ہو تو اپنے کسی بڑے مربی کو سیالکوٹی سامنے لائیں۔ مگر ہم یہ بھی پیشین گوئی کرتے ہیں کہ کوئی مرزائی سامنے نہ آئے گا۔ ’’و اللہ متم نورہٖ ولو کرہ الکافرون‘‘
اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مسیحm کی حیات وممات کے مسئلہ کو سب سے اوّل پیش کرنا خاص اس غرض سے ہے کہ مرزاقادیانی کے کذب پرپردہ ڈالا جائے۔ چونکہ ان کے بڑے خوب جان چکے ہیں کہ ہم مرزاقادیانی کی صداقت ثابت نہیں کر سکتے۔ اس لئے اس بحث کو اپنی سپر بنا رکھا ہے۔ جانتے ہیں کہ اس میں علمی بحث پیش آئے گی اور عوام اسے نہیں
سمجھیں گے اور بحث بھی طویل ہے۔ اس لئے اس میں اس قدر دیر ہوگی کہ مرزاقادیانی کی پردہ دری کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ یہ طریقہ مرزاقادیانی نے ہی تعلیم کیا ہے۔ کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ حضرت مسیحm کی ذات میں جو خوبیاں ہیں وہ مجھ میں نہیں ہیں۔ ان کے آنے کی جو علامتیں صحیح حدیثوں میں آئی ہیں وہ اس وقت ہرگز نہیں پائی گئیں۔ مگر چونکہ انہیں مذہب سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ اس لئے جھوٹی باتیں بنا کر بہت مسلمانوں کو گمراہ کیا اور مخالفین اسلام کو اعتراض کا موقع دیا۔ انہیں کے پیروسیالکوٹی ہیں۔ چند ورق کا چیلنج لکھ کر اپنی جہالت سے یہ خیال کر لیا کہ ہماری تحریر لاجواب ہے۔ انہیں چاہئے کہ ذرا ہمت کر کے ہماری تحریر کا جواب دیں۔ اس کے بعد دوسری بات کریں۔
جن کو خوف خدا اور حق طلبی ہے انہوں نے دیکھ لیا کہ قادیانی مرزا کا جھوٹا ہونا قرآن شریف اور احادیث اور خود ان کے اقراروں سے ثابت کر دیا گیا اور اس باب میں تیس چالیس رسالوں سے زیادہ لکھ کر شائع کر دئیے گئے اور تمام مرزائی ان کے جواب سے عاجز ہیں۔ مگر جس طرح قدیم عیسائی پادری باوجودیکہ لاجواب ہو جائیں گے اپنے مذہب کی اشاعت میں کوشاں ہیں۔ اسی طرح مرزائی بھی کوشاں ہیں اور اب دو طرح سے انہوں نے فریب دینا اختیار کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ جہلاء کو قرآن شریف میں تحریف کر کے جابجا غلط معنی سکھادئیے ہیں وہ اپنی جماعت میں بیٹھ کر قرآن شریف کا درس دیتے ہیں اور مرزاقادیانی کی تعریف قرآن شریف سے ثابت کرتے ہیں اور عوام کو فریب دیتے ہیں۔ بھائی مسلمان اس اندھیر کو ملاحظہ کریں کہ جس کا جھوٹا ہونا یقینی طور سے دکھادیاگیا ہو اس کی تعریف قرآن شریف میں ہوسکتی ہے؟ اگر ایسا ہو تو قرآن مجید منجانب اﷲ نہ رہے۔ (نعوذ باﷲ) دوسرا فریب یہ ہے جب کوئی ان سے مناظرے کی درخواست کرتا ہے تو حضرت مسیح کی حیات وممات کی بحث کو پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر حضرت مسیح مر بھی گئے تو ایسا جھوٹا شخص کیونکر مسیح ہوسکتا ہے؟ جس کا جھوٹا ہونا قرآن وحدیث کے علاوہ اسی کے پختہ اقراروں سے ثابت ہوگیا ہو۔ اس لئے مرزائیوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ ان کی صداقت ثابت کریں اور ہمارے رسالوں کا جواب دیں۔ فقط!
مولانا حکیم محمد یعسوب مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں ختم نبوت پر دلائل اور امت محمدیہ کے فضائل بیان کر کے مرزاغلام احمد قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن واحادیث سے ثابت کیا ہے اور جناب رسول اﷲa کے بعد نبی نہ آنے کا ایک عجیب سیرعظیم دکھایا ہے۔ جس سے حضور سرور انبیاءa کی شان رفعت اور امت محمدیہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔
مونگیر خانقاہ رحمانی سے مولانا مفتی عبداللطیف صاحب ومولانا محمد عبدالشکور صاحب لکھنوی تبلیغ واشاعت کی غرض سے بھاگلپور وپورینی تشریف لے گئے تھے۔ دونوں صاحبوں کی وہاں تقریریں ہوئیں اور عبدالماجد قادیانی سے جو قادیانیوں کے سرکردہ شمار کئے جاتے ہیں۔ مناظرہ کی باربار درخواست کی گئی۔ مگر عبدالماجد قادیانی گریز کرتے رہے۔ ایک دن عبدالماجد قادیانی کچھ بہکے ہوئے اشخاص کو پختہ کرنے کے لئے اپنے دولت کدہ پر وعظ کا سامان کر رہے تھے کہ اچانک حضرات علمائے کرام ایک جماعت کے ساتھ عبدالماجد قادیانی کے مکان پر پہنچ گئے اور مولانا عبدالشکور صاحب نے مرزاقادیانی کے صدق وکذب پر گفتگو کرنی شروع کر دی۔ چنانچہ جب مرزاقادیانی کا کذب ثابت کر دکھایا گیا تو عبدالماجد قادیانی نے اپنے نبی کی صداقت میں ایسی باتیں پیش کیں۔ جس کا غلط ہونا قرآن مجید سے اس وقت ثابت کیاگیا اور اس کے بعد عبدالماجد قادیانی پر ایسی بدحواسی طاری ہوئی کہ قرآن مجید ہاتھ میں لے کر بسم اللہ تک صحیح نہ پڑھ سکے اور ان کی اس حالت نے مرزاقادیانی کے کذب ودجل کا گویا معائنہ کرادیا۔ اگر مرزائی حضرات کے قلب میں حق طلبی اور خوف خدا ہوتا تو اسی وقت مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے پر ایمان لے آتے۔ مگر اس کے خلاف محض حقانیت کے چھپانے کے لئے مرزائی حضرات نے دو اشتہار شائع کر دئیے جس میں دروغ بے فروغ کا انبار اور علمائے کرام پر سب وشتم کی بوچھاڑ کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ جس کا صریح مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو غصہ دلا کر اصل مقصد سے علیحدہ کر کے دوسری باتوں کی طرف متوجہ کر دیا جائے۔
اسی طرح ظریف مرزائی نے اپنے اشتہار میں صرف یہ کہہ کر اپنے مذہب کے پیروؤں کو خوش کر دیا کہ کتاب فیصلہ آسمانی پاگل کی بڑ ہے۔ جس کا آج تک بڑے سے بڑے مرزائی سے جواب نہ ہوسکا اور نہ مشتہر انعام لینے کی ہمت کر سکے۔
اس کے علاوہ مسیح قادیان کے جھوٹے ہونے کی دلیلوں میں بہت رسالے لکھ کر شائع کئے گئے۔ جس کے جواب سے مرزائی امت اب تک عاجز ہے۔ جن میں: (۱)قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے۔ (۲)صحیح حدیثوں سے۔ (۳)خود ان کی پیشین گوئیوں کے جھوٹے ہو جانے سے۔ (۴)جھوٹے حوالوں اور اعلانیہ دروغ گوئیوں سے۔ (۵)اپنے پختہ اقراروں سے جھوٹے اور کاذب تمام دنیائے اسلام کے نزدیک ثابت ہوئے اور ان کا کذب ودجل آفتاب کی طرح روشن اور ظاہر کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کے اصحاب اور خواص کی روش، ان کی تہذیب وشائستگی، ان کی بدزبانی مرزاقادیانی کے حالات اور اثرات کا آئینہ بن کر مسلمانوں کے سامنے موجود ہے۔ جس سے مرزاقادیانی کا نیک انسان ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔ بزرگی اور نبوت تو بڑی بات ہے۔
محمد یعسوب مونگیریv
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس خدائے برتر وتوانا کا صدہزار احسان اور شکر ہے کہ اس نے ہم لوگوں کو اپنے ایسے نبی مرسل کی امت میں پیدا کیا جس کی شان رفعت کا اندازہ ہماری محدود عقل صحیح طریقہ پر کرنے سے معذور ہے اور جو دنیا میں رحمتہ اللعالمین اور خاتم النّبیین بن کر اسلام جیسا محکم اور سچا دین لایا اور جس نے نور کو ظلمت سے جدا کر کے اللہ کے بتلائے ہوئے راہ کی رہنمائی فرمائی جو عقل وفہم کے عین مطابق ہے۔
صوبہ پنجاب کے ایک قصبہ میں جو قادیان کے نام سے موسوم ہے وہاں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا جو کبھی بروزی ظلی کے رنگ میں، کبھی تشریعی اور کبھی غیرتشریعی کے رنگ میں اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرتا رہا اور شیطانی الہاموں، پیشین گوئیوں، وحی کی بارشوں میں اس قدر بدحواس ہوگیا کہ کبھی ابن اللہ اور کبھی خود خدا ہونے کا بھی دعویٰ کر بیٹھا اور اس غلط روی کے باوجود ایک جماعت نے اسے اپنا امام، مجدد، مرسل، نبی مان لیا۔ جسے عام مسلمان اپنی ناواقفیت اور جہالت سے اسلام کا سچا خیرخواہ تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ جماعت اپنے اصول کے لحاظ سے اسلام سے کوسوں دور ہے اور ایک عظیم گمراہی میں مبتلا
ہے۔ چنانچہ حضور سرور عالمa پر نبوت کا ختم ہونا قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ مگر یہ جماعت اس امر کے ثبوت کے باوجود مدعی نبوت قادیانی کو اپنا پیشوا اور نبی مانتی ہے اور اس کو اس پر اصرار ہے۔ ہر وہ انسان جسے امت محمدیہ میں ہونے کا فخر حاصل ہے اور اس امر پر وہ کامل یقین رکھتا ہے کہ انسان کو حیات ابدی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب کہ وہ جناب محمد رسول اﷲa کا پورا پیرو اور تمام باتوں کو ماننے والا ہو۔ بتقاضائے نفس ’’نؤمن ببعض ونکفر ببعض‘‘ اس کی حالت نہ ہو تو اپنے رسول برحق جناب نبی کریمa کی پیشین گوئیوں پر پورا اعتقاد رکھے گا اور اس کا ایک ایک حرف پر کامل ایمان ہوگا۔
رسول برحقa کی پیشین گوئی ملاحظہ ہو:
میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (اس لئے ان کا یہ دعویٰ کرنا ہی ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے) میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ حق پر رہے گا اور غالب رہے گا۔ اس کے مخالف اسے ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ خدا کاحکم وقیامت آجائے۔ اس حدیث میں جناب رسول اﷲa نے خبر دی ہے کہ میرے بعد میری امت میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یعنی میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا ہے۔ اس سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ خصوصاً وہ جو اپنے آپ کو امت محمدی میں قرار دے کر نبوت کا مدعی ہو اس کا جھوٹا ہونا نہایت ظاہر ہے۔
اس حدیث سے اس کا بھی فیصلہ ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں۔ یعنی کلام خدا اور رسول میں جن کو نبی کہاگیا ہے ان سب کے بعد آنے والے جناب رسول اﷲa کو خاتم النّبیین مان کر یہ کہنا کہ آپ تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں یا تمام انبیاء کے لئے زینت یا مہر ہیں۔ محض غلط اور قرآن شریف میں تحریف کرنا ہے۔ ان دونوں
تراشیدہ معنوں کی غلطی اس حدیث نے ظاہر کر دی۔ اگر خاتم النّبیین کے معنی میں کوئی تخصیص کی جائے یا اس کے دوسرے معنی لئے جائیں تو جملہ ’’وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ ان کاذبوں کے جھوٹے ہونے کی وجہ نہیں ہوسکتی۔ واقعات اور تاریخ سے ظاہر ہے کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت نے جناب رسول اﷲa کو مان کر دعویٰ کیا ہے ان میں سے کل یا اکثر ایسے ہی ہیں جنہوں نے نبوت غیرتشریعی کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے ان کے کذب کے لئے حضورa کا یہ ارشاد صحیح نہ ہوگا۔ (نعوذ باﷲ)
الحاصل یہ حدیث قرآن مجید کے مطابق اور آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘کے بعض مضمون کی تفسیر ہے اس حدیث نے اوّل تو خاتم النّبیین کے معنی بیان کر دئیے۔ یعنی تمام انبیائے کرام بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ حضرت محمد رسول اﷲa سلطان الانبیاء ہیں۔ آپa آخر میں آئے۔ اب آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ آپa ہی کی ہدایت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا اور آپa کی شریعت حقہ کاملہ کی روشنی عمل کرنے والوں کے دلوں کو منور کرتی رہے گی اور کسی جدید شریعت کی انہیں حاجت نہ ہوگی۔ ہاں! علمائے امت اور مجددین ہوں گے جو آپa کے دین مستقیم کی حقانیت کو ظاہر کرتے رہیں گے اور مسلمانوں کی خراب حالت کی درستگی ان کا کام ہوگا اور یہ بھی بشارت حضور انورa نے دے دی کہ یہ گروہ حقانی، جھوٹوں اور گمراہوں پر غالب رہے گا۔ اس لئے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہ رہی۔ اس مضمون کی شہادت میں بہت حدیثیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند حدیثوں کے بعض الفاظ آپ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تاکہ میرے دعویٰ کی صحت میں آپ کو تأمل نہ رہے۔
’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq بن الخطاب ہوتا۔ اس سے نہایت صاف ظاہر ہے کہ رسول اﷲa کے بعد آپa کی امت میں کوئی نبی نہ ہوگا۔ اب جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ حضور انورa کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔‘‘
’’میرے بعد نبوت نہیں ہے مگر مبشرات ہیں۔‘‘
’’بلاشبہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ہے۔‘‘
۴… عبد اللہ بن عمرq کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اﷲa مکان سے تشریف لائے اور تین مرتبہ فرمایا: ’’انا محمد النبی الامی ولا نبی بعدی‘‘
(مسند احمد ج۲ ص۱۷۲)
’’میں نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یہ حدیثیں امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہیں۔‘‘
یعنی رسول اﷲa فرماتے ہیں: انبیاء کا خاتمہ مجھ پر کیاگیا۔
اس مضمون کی روایتوں سے حدیث کی کتابیں بھری ہیں۔ بیس صحابی اس مضمون کی روایت کرنے والے اس وقت میرے پیش نظر ہیں اور کامل تلاش سے کس قدر ہوں گے۔ اسے میں نہیں کہہ سکتا؟ الغرض عام طور سے ختم نبوت کا ثبوت قرآن وحدیث سے کامل طور سے ہے۔ مگر نبوت تشریعی اور غیرتشریعی کا فرق کر کے کسی ضعیف روایت میں بھی پتہ نہیں چلتا کہ نبوت غیرتشریعی ختم نہیں ہوئی۔ جن صحابہ نے ختم نبوت کی حدیثیں روایت کی ہیں ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔ جابر بن عبداﷲ، ابوسعید خدری، ابوالطفیل، ابوہریرہ، انس بن مالک، عفان بن مسلم، ابی معاویہ، جبیر بن طعم، عبد اللہ بن عمر، ابی بن کعب، حذیفہ، ثوبان، قتادہ، عبادۃ بن الصامت، عبد اللہ ابن مسعود، جابر، عبد اللہ ابن عمر، عائشہ، عبد اللہ ابن عباس، عطار ابن یسارi۔
مگر یہاں حدیث مذکور کے علاوہ صرف تین حدیثیں نقل کی جاتی ہیں:
۲… (ابن ماجہ ص۲۹۷، باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) میں دجال کے بیان میں ایک بڑی حدیث روایت کی گئی ہے۔ اس میں یہ ارشاد ہے: ’’انا اٰخر الانبیاء وانتم اٰخر الامم‘‘یعنی جناب رسول اﷲa اپنی امت سے خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں ہو۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے
بعد کوئی دوسری امت نہیں۔ امت محمدیa پر دنیا کا خاتمہ ہے۔ اب جن گمراہوں کا یہ خیال ہے کہ آخری امت احمدی ہے، محمدیa نہیں ہے، محض غلط ہے۔ جس کی غلطی رسول اﷲa نے نہایت صاف طور سے بیان فرمادی اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ (امام بخاری ج۱ ص۵۰۱، باب ماجاء فی اسمائہ رسول اﷲa، مسلم ج۲ ص۲۶۱، باب فی اسمائہa) دونوں رسول اﷲa کا ارشاد اس طرح روایت کرتے ہیں:
۳… ’’انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘میں عاقب ہوں۔ (پیچھے آنے والا) اور عاقب وہ ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے۔
جناب رسول اﷲa کے نام بہت ہیں۔ ان میں ایک نام عاقب بھی ہے۔ اس کے معنی پیچھے آنے والا۔ اس حدیث میں جناب رسول اﷲa نے اس نام کی شرح فرمادی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام انبیاء کے پیچھے آنے والا اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ناظرین ان دونوں حدیثوں کو ذرا غور سے ملاحظہ کریں کہ کس صفائی سے جناب رسول اﷲa کا ارشاد ہے کہ میں آخر النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ان تینوں حدیثوں نے خاتم النّبیین کے معنی کی نہایت واضح شرح کر دی۔ یعنی پہلی حدیث میں تھا۔ ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘یعنی میں خاتم النّبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یہاں تو جملہ ’’لا نبی بعدی‘‘ نے خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین متعین کئے تھے۔ دوسرے حدیث میں صاف طور سے حضورa نے اپنے آپ کو ’’انا اخر الانبیاء‘‘ فرمایا۔ یعنی میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں۔ تیسری حدیث میں اس کی جگہ ارشاد ہوا۔ ’’انا العاقب‘‘ یعنی میں سب نبیوں کے بعد آنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کے معنی بعینہٖ وہی ہیں جو دوسری حدیث کے ہیں۔ ان تینوں حدیثوں سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ غرض کہ اس الہامی لفظ کے معنی صاحب الہام نے بیان فرمادئیے اور حضور انورa کی زبان مبارک سے مرزاقادیانی اور مرزائیوں کی غلطی ظاہر ہوگئی۔ اب اس کی تائید کے لئے چوتھی حدیث ملاحظہ ہو۔
۴… (صحیح بخاری ج۱ ص۴۹۱، باب ماذکر عن بنی اسرائیل) میں ہے:’’کانت بنوا اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تامرنا یا رسول اللہ قال فوابیعۃ الاول
فالاول اعطوہم حقہم فان اللہ سائلہم عما استرعاہم‘‘یعنی بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے۔ جب کوئی نبی انتقال کرتا تو ان کی جگہ دوسرا نبی قائم ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔ (جو مسلمانوں کے تمام امور کا نظم کریں گے اور ان کی کثرت ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپa ہم کو کیا ارشاد فرماتے ہیں (یعنی جب بہت سے ہوں گے تو اگر ایک وقت میں کئی ہوئے تو ہم کو کیا کرنا چاہئے) حکم ہوا کہ جس سے پہلے بیعت کر لو اس کو پورا کرو اور ان کے حقوق کو ادا کرتے رہو) اﷲتعالیٰ خلفاء سے ماتحت کی نسبت سوال کرے گا کہ کس طرح انہوں نے رعیت سے برتاؤ کیا۔ تم بری الذمہ ہو۔ اس حدیث سے نہایت صفائی سے ظاہر ہوگیا کہ آپa کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ یہ مدعا ان چاروں حدیثوں سے بعبارۃ النص ثابت ہے۔ اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔
الحاصل ان حدیثوں سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ حضور انورa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں دیاجائے گا۔ البتہ جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے جن کا ظہور ہورہا ہے۔
اب میں مختصر طور سے یہ بیان کرتا ہوں کہ خاتم النّبیین کے جو معنی احادیث مذکورہ سے معلوم ہوئے وہی معنی محاورہ عرب سے ثابت ہیں۔ کیونکہ خاتم النّبیین میں لفظ خاتم ہے اس میں حرف تا کوزیر بھی ہے اور زبر بھی ہے۔ اگرچہ روایت کے لحاظ سے زیر پر زیادہ مستند اور معتبر ہے۔ کیونکہ زبر کی روایت کرنے والے صرف دو آدمی ہیں۔ باقی جتنے ماہرین قرآن اور قراء ہیں وہ سب زیر کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ البتہ ہندوستان میں زبر کے ساتھ مستعمل اور مشتہر ہوگیا ہے۔ اس لئے عوام اسی کو اپنی ناواقفیت ہی صحیح سمجھتے ہیں۔
کلام عرب میں خاتم کے کئی معنی ہیں۔ انگوٹھی، مہر، آخر القوم یعنی جو سب سے آخر میں ہو، مگر یہ لفظ جب مضاف ہو جاتا ہے اس وقت کوئی معنی نہیں رہتے۔ بلکہ مضاف الیہ کے اعتبار سے اس کے معنی خاص ہو جاتے ہیں۔ مثلاً خاتم فضۃ یعنی انگوٹھی چاندی کی، یہاں خاتم خاص انگوٹھی کے معنی میں ہے۔ دوسرے معنی نہیں ہیں۔ اسی طرح جس وقت خاتم کو قوم وغیرہ کی طرف مضاف کریں گے مثلاً خاتم القوم کہیں گے تو اس کے معنی صرف آخر قوم کے ہوں گے۔ دوسرے معنی نہیں ہوں گے۔ لسان العرب جو اہل زبان کے نزدیک نہایت مستند لغت ہے اس میں لکھا ہے: ’’ختام القوم وخاتمہم وخاتمہم۔ آخرہم وفی التنزیل
العزیز ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین ای اٰخرہم‘‘ (لسان العرب ج۴ ص۲۵)
یعنی لفظ ختام اور خاتم اور خاتم، تینوں کو جب مضاف کرتے ہیں اور مثلاً خاتم القوم کہتے ہیں تو اس کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں۔ یعنی ساری قوم کے آخر میں آنے والا اور قرآن مجید میں جو ’’ماکان محمد‘‘ میں جو لفظ خاتم النّبیین ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد(a) تمام انبیاء کے آخر میں ہیں۔ اسی طرح جب خاتم لفظ ’’نبیین‘‘ کی طرف مضاف ہوگا اور خاتم النّبیین کہیں گے تو اس کے معنی یہی ہوں گے کہ سب انبیاء کے آخر میں آنے والا۔ اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اگر اس کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ دیا جائے تو وہ آخر الانبیاء نہ ہوا۔ یہی معنی اور ماہرین لغت نے لکھے ہیں۔ چنانچہ قاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے:’’الخاتم من کل شیٔ عاقبتہ واٰخرتہ والخاتم اٰخر القوم کالخاتم ومنہ قولہ تعالٰی وخاتم النّبیین ای اخرہم‘‘ یعنی ہر شئے کے انجام اور اس کے آخر کو خاتم کہتے ہیں۔ اسی طرح خاتم القوم آخر قوم کو کہتے ہیں اور اﷲتعالیٰ نے جو جناب رسول اﷲa کو خاتم النّبیین فرمایا ہے اس کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ یعنی سب انبیاء کے آخر میں آنے والا۔
لغت کی ان تین کتابوں میں پہلے خاتم کے معنی محاورہ عرب سے ثابت کر کے خاص قرآن مجید کی وہ آیات والفاظ جن میں لفظ خاتم آیا ہے اور النّبیین کی طرف مضاف ہے اس کے معنی بیان کر دئیے اور نہایت وضاحت سے بتادیا کہ اس کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ اگرچہ ان تینوں کتابوں کے بیان سابق سے آیت کے معنی معلوم ہوگئے تھے کہ آخر النّبیین کے معنی ہیں۔ مگر آخر میں آیت کے الفاظ کو نقل کر کے یہ کہنا کہ یہاں بھی خاتم کے وہی معنی ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔ غالباً اسی دوراندیشی کی غرض سے ہے کہ کسی وقت کوئی جاہل یا گمراہ آیت میں دوسرے معنی بتاکر مسلمانوں کو گمراہ نہ کرے۔
اب نہایت ظاہر ہے کہ قرآن مجید عرب کی زبان میں اتارا گیا ہے تاکہ وہ اسےسمجھ کر اس کی ہدایتوں پر عمل کریں اور دوسروں کو سمجھائیں۔ اس لئے تمام دنیا کے لئے ضرور ہے کہ اس کے وہی معنی کرنے جو عرب کے محاورہ میں آئے ہیں۔ اس کے خلاف معنی کرنا یقینی تحریف ہے اور بیان سابق سے قطعی طور پر آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ عرب کے محاورہ
میں خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں۔ یعنی سب کے آخر میں آنے والا۔ اس کے سوا دوسرے معنی نہیں ہوسکتے۔ اس لئے بخوبی ثابت ہوگیا کہ آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘
اس باب میں نص قطعی ہے کہ جناب محمد رسول اﷲa آخرالانبیاء ہیں۔ آپa کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملے گا۔ آپa کے وجودباجود سے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ کی نبوت اور آپa کی شریعت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا۔ اس آیت سے یہ بھی قطعی طور سے ثابت ہوگیا کہ آپa کے بعد امتی غیرامتی جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
اہل علم اس کو سمجھے ہوں گے کہ قرآن مجید میں اور حدیثوں میں اس مقام پر لفظ النّبیین جمع سالم معروف بالام آیا ہے۔ ایسے لفظ کو اصول فقہ وغیرہ میں الفاظ عام میں شمار کیا ہے۔ اس لئے خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ جس کو نبوت کا مرتبہ دیاگیا اور جس پر نبی کا اطلاق کیا جائے خواہ وہ ظلی اور بروزی نبی ہوں یا تشریعی اور غیرتشریعی جس قسم کے بھی ہوں سب کے آپa خاتم ہیں۔ یہی بات بعض کاملین امت محمدیہ کے کلام سے بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ کلام بھی روحانیت افزاء ہے۔ حضرت شاہ ولی اﷲv وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ایں فقیر از روح پر فتوح آنحضرتa سوال کرد کہ حضرت چہ می مایند درباب شیعہ کہ مدعی محبت اہل بیت اندو صحابہ رابدمی گونید۔ آنحضرتa بنوعی از کلام روحانی القافر مودند کہ مذہب ایشاں باطل است وبطلان مذہب ایشاں از لفظ امام معلوم فی یشود چوں ازاں حالت افاقت دست داد، در لفظ امام تامل کردم معلوم شد کہ امام باصطلاح ایشاں معصوم مفترض اطاعت منصوب الخلق است ووحی باطنی درحق امام تجویز می نمایند وپس درحقیقت ختم نبوت رامنکر اند گوبزبان آنحضرتa را خاتم الانبیاء می گفتہ باشند۔‘‘
اس کے بعد جناب شاہ صاحب کے قول کی شرح میں قاضی صاحب فرماتے ہیں:’’فقیر محمد ثناء اللہ گوید کہ آنچہ حضرت شیخ رادربطلان مذہب امامیہ از جناب رسالت پناہm القاشدہ وواضح گشتہ کہ عقیدہ ایشاں مستلزم انکار ختم نبوت است بطریق توارد بریں فقیرہم واضح شدہ کہ فقیر آخر درشمشیر برہنہ باستیعاب نوشتہ۔‘‘
یہ دو بزرگ ان کاملین علماء اور واصلین بخدا میں سے ہیں جن کے علم وفضل پر امت محمدیہ ناز وفخر کرتی ہے۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ شیعہ کا مذہب اس وجہ سے باطل ہے کہ آل اطہار اور ائمہ کبار کے ساتھ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں جس سے ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہے۔ اس عقیدے میں شاہ صاحبv چار باتیں لکھتے ہیں:
۱… امام کو معصوم جانتے ہیں۔
۲… اس کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہیں۔
۳… یہ بھی اعتقاد کرتے ہیں کہ مخلوق کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔
۴… وحی باطنی ان پر اترتی ہے۔
ان چار باتوں میں آخر کی دو باتیں انبیاء سے مخصوص ہیں اور پہلی دو باتیں ان کو لازم ہیں۔ البتہ چوتھی بات میں اس قدر کی ہے کہ انبیاء کو ظاہری وباطنی ہر قسم کی وحی ہوتی ہے اور امام کو صرف باطنی ہوتی ہے۔ مگر باوجود اس کمی کے ان کے عقیدہ کو انکار ختم نبوت لازم ہے اور یہ دونوں حضرات کاملین، شیعہ کو منکر ختم نبوت فرماتے ہیں۔ ان کے کلام سے یہ بھی ظاہر ہے کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں اور وہ نبی تشریعی یا غیرتشریعی جس طرح کا ہو جناب رسول اﷲa سب کے خاتم ہیں۔ کیونکہ شیعہ اماموں کو تشریعی نبی نہیں جانتے۔
مرزائی حضرات تو مرزاقادیانی کورسول بلکہ انبیاء اولوالعزم سے افضل اعتقاد کرتے ہیں اور کامل وحی الٰہی کا ان پر اترنا ان کے عقیدہ میں ہے۔ مرزاقادیانی تو نزول وحی کا اس طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی نبی نے نہیں کیا۔ چنانچہ (حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳) میں لکھتے ہیں: ’’بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
ملاحظہ کیا جائے کہ بارش کی طرح نزول وحی کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا۔ مگر مرزاقادیانی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ صاف طور سے یہ بھی کہتے ہیں کہ صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا۔ اس لئے بموجب ارشاد حضرت شاہ ولی اﷲv وقاضی ثناء اﷲv بھی مرزائی حضرات منکر ختم نبوت ہیں اور رسول اﷲa کو خاتم النّبیین نہیں مانتے۔ گو زبان سے اس کا اظہار کریں اور اپنے اشتہاروں اور رسالوں میں چھاپیں کہ ہم رسول اﷲa کو خاتم النّبیین مانتے ہیں۔ جب کوئی دریافت کرتا ہے کہ جب تم مرزا قادیانی کو نبی
مانتے ہو تو پھر جناب رسول اﷲa کیسے ختم الانبیاء ہوئے؟ تو عجیب طرح کی باتیں بناتے ہیں اور تشفی بخش جواب دینے سے جان چراتے ہیں۔ حاصل یہ کہ خلاف قرآن واحادیث صحیحہ اور محاورہ عرب کے خاتم النّبیین کے معنی قرار دے کر خوش ہیں اور کسی وقت ظلی یا بروزی غیراصلی نبی بھی کہتے ہیں۔ ایسے لوگ یہ بتائیں کہ جب مرزاقادیانی خود اپنے اوپر نزول وحی کا ایسا پرزور بیان کرتے ہیں کہ کسی اولوالعزم نبی نے بھی بیان نہیں کیا اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ صریح طور سے مجھے نبی کا خطاب دیاگیا۔ پھر اصلی نبی میں اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے جو اس سے انکار کیا جاتا ہے۔ الغرض اس میں شبہ نہیں کہ مرزاقادیانی اعلانیہ نبوت کادعویٰ کرتے ہیں اور صاف طور سے ختم نبوت کے منکر ہیں۔ مگر ان کے مریدین عوام کے دھوکہ دینے کو باتیں بناتے ہیں۔
الغرض جس طرح صحیح حدیثوں سے ثابت ہوا تھا کہ حضرت رسول اﷲa کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی۔ اسی طرح قرآن مجید کی اس آیت نے اس مطلب کی کامل صراحت کر دی۔ اب طالب حق کے لئے قرآن مجید کے نص قطعی اور مستند اور متعدد احادیث کے صریح الفاظ سے یقینی طور سے ثابت ہوگیا کہ حضور انور جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا۔ اس لئے آپa کے بعدجو نبوت کا دعویٰ کرے وہ یقینا جھوٹا ہے۔ البتہ علمائے کاملین آپa کے نائب ہوتے رہیں گے اور وہ وہی کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل کرتے تھے۔ یہ ایک عمدہ وجہ ہے۔ اس امت کو خیرالامم ہونے کی کہ باوجود امت ہونے کے وہ کام کریں گے جو گزشتہ انبیاء نے کیا ہے۔ اس مختصر بیان سے اظہر من الشمس ہوگیا کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا اور ان کی جماعت کا انہیں کسی قسم کا نبی سمجھنا قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔ اب اس کے خلاف، ختم نبوت کی حقیقت کرنا محض عوام کو فریب دینا ہے۔ اگر کسی مرزائی نے کچھ اس کے خلاف لکھا ہے تو ہمارے سامنے پیش کرے اور پھر اپنی جہالت وفریب کو دیکھے کہ ہم کس طرح اسے آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھاتے ہیں اور کوئی رسالہ لکھ کر اپنے جاہل گمراہوں میں شائع کرنا اور ہم سے پوشیدہ رکھنا کسی اہل حق کا کام نہیں ہے۔ پوشیدہ رکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں اپنے بیان پر وثوق نہیں ہے۔ مگر اپنے پیروؤں کو اپنے فریب میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان جاہلوں کو تھامنے کے لئے کچھ لکھ دیتے ہیں۔
دعویٰ کیاگیا ہے کہ قادیانی جماعت کے سرگروہ قرآن مجید کا مشغلہ زیادہ رکھتے ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ ایسی صریح باتوں سے بے خبر ہیں اور سورۂ اعراف کی اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اﷲa کے بعد بھی رسول آئیں گے۔ وہ آیت یہ ہے: ’’یابنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (اعراف:۳۵)‘‘ اس آیت سے یہ ثابت کرنا کہ حضرت ختم الانبیاء محمد مصطفیa کے بعد انبیاء آئیں گے۔ بہت بڑی غلطی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جماعت علوم قرآنیہ سے بالکل ناواقف ہے۔ قرآن مجید میں انبیائے سابقین کے حالات اور واقعات بہت بیان ہوئے ہیں۔ انہیں واقعات کے بیان میں یہ آیت بھی ہے۔ اس سے پہلے حضرت آدمm کے زمین پر آنے کا قصہ ہے۔ اس کے بعد اﷲتعالیٰ نے ان کی اولاد سے یہ خطاب کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی آدم میرے رسول تمہارے پاس آئیں گے اور میری باتیں تم سے کہیں گے۔ پھر جس نے انہیں مانا اور میری باتوں پر عمل کیا اسے کچھ خوف وخطر نہیں ہے اور جس نے نہ مانا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
۱… اس کے بعد اﷲتعالیٰ نے بعض ان انبیاء کا ذکر کیا جو اس عام حکم سنانے کے بعد آئے۔ یعنی حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب، حضرت موسیٰo اس سے ظاہر ہے کہ آیت میں اسی وقت کا ذکر ہے۔ ایسے اعلانیہ قرینہ ہونے کے بعد بھی مرزائی قرآن مجید کو نہیں سمجھتے۔
۲… اس کے علاوہ اگر قرآن مجید پر نظر ہے تو سورۂ بقرہ کے ذیل کی آیت ملاحظہ کیجئے۔ جس میں یہی مضمون اس طرح ہے کہ میرے بیان کی اس سے پوری تصدیق ہوجاتی ہے۔
’’فتلقی اٰدم من ربہٖ کلمات فتاب علیہ انہ ہو التواب الرحیم۔ قلنا ہبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولئک اصحٰب النارہم فیہا خالدون (بقرۃ:۳۵تا۳۹)‘‘یعنی آدمm نے اپنے پروردگار سے (معافی مانگنے کے لئے) چند کلمات سیکھ لئے (جن کی برکت سے) خدا نے ان کی توبہ قبول کی۔ بے شک وہ بڑا ہی معاف کرنے والا مہربان ہے۔ ہم نے حکم دیا کہ تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ۔ (اور یہ بھی کہہ دیا کہ) جب میری طرف سے تمہیں ہدایت پہنچے تو اس پر
عمل کرناکیونکہ جو ہمارے حکم کی پیروی کریں گے اور ہماری ہدایت پر چلیں گے انہیں (آخرت میں) نہ کسی بات کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو ہماری ہدایت سے انکار کریں گے اور ہماری نشانیوں کی تکذیب کریں گے وہ جہنمی ہوں گے اور اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
یہ آیت اور سورۂ اعراف کی آیت دونوں مضمون کے اعتبار سے ایک ہیں۔ حاصل معنی میں کچھ فرق نہیں ہے۔ البتہ کچھ لفظوں کا اختلاف ہے اور جب اس آیت میں صاف ہے کہ یہ خطاب حضرت آدمm کو جنت سے جدا ہونے کے وقت کیاگیا تھا اس لئے سورۂ اعراف کی اس آیت کے خطاب کا بھی یہی وقت ہے۔ کیونکہ یہ دونوں آیتیں ایک مطلب کو بیان کر رہی ہیں۔ غرضیکہ یہ دوروشن قرینے جو قرآن مجید سے ظاہر ہورہے ہیں اس بات کی کامل شہادت دیتے ہیں کہ سورۂ اعراف کی آیت مذکورہ میں امت محمدیہ سے خطاب نہیں ہے۔ بلکہ حضرت آدمm کے وقت میں ان کی اولاد سے خطاب ہے۔
۳… اب اس کی کامل تائید حدیث سے بھی ملاحظہ کر لیجئے:’’اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی قال ان اللہ تبارک وتعالٰی جعل اٰدم وذریتہ فی کفہ فقال یا بنی اٰدم امایاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیتی فمن اتقی۔ الخ!‘‘
(تفسیر درمنثور ج۳ ص۸۲)
اس روایت میں خاص اسی آیت کی تفسیر ہے جس کا ذکر ہورہا ہے اور نہایت صفائی سے وہی تفسیر کی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ یعنی اس آیت میں امت محمدیہa سے خاص خطاب نہیں ہے۔ بلکہ حضرت آدمm کے وقت میں یہ خطاب کیاگیا ہے اور اس کی صورتحال اس روایت میں بیان کی گئی ہے۔ چونکہ مرزاقادیانی نے:
۴… اس تفسیر سے بہت حوالے دئیے ہیں۔ اس لئے اس تفسیر سے لکھنا میں نے مناسب سمجھا۔ اس تفسیر کے علاوہ جب خاتم النّبیین کے معنی محاورہ عرب اور احادیث صحیحہ سے معلوم ہوئے کہ آخر النّبیین کے ہیں تو آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘ نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ سورۂ اعراف کی آیت میں قیامت تک کے بنی آدم مراد نہیں ہیں بلکہ خاص حضرت آدمm کے وقت کا ذکر ہے۔ چونکہ جناب رسول اﷲa آخرالنّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یہ چار دلیلیں قرآن مجید اور حدیث
سے بیان کی گئی ہیں جن میں نہایت روشن طریقے سے ثابت ہوگیا کہ سورۂ اعراف کی آیت کا مطلب وہ نہیں ہے جو مرزائی بیان کرتے ہیں بلکہ وہ مطلب ہے جو ہم نے بیان کیا۔
اب اہل علم انصاف پسند قادیانی جماعت کے سرگروہوں کی قرآن دانی معلوم کر لیں کہ قرآن مجید کے معنی سے کس قدر ناآشنا ہیں اور نص قطعی کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور عوام کے دھوکا دینے کو حضرت غوث اعظمv اور شیخ محی الدین عربیv کا قول پیش کرتے ہیں۔ مگر نص قطعی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ان حضرات کا قول پیش کرنا یہ دعویٰ کرنا ہے کہ ان مقدس حضرات نے صریح قرآن وحدیث کے خلاف ایک بات کہی۔ مگر یہ بڑی غلطی ہے۔ ان بزرگوں کی شان نہایت اعلیٰ وارفع ہے ان کا کوئی کلام خلاف قرآن وحدیث کے نہیں ہوسکتا۔ جو حضرات صوفیہ کی اصطلاحات نہیں جانتے اور ان کے حالات سے واقف نہیں ہیں ان کا یہ منصب نہیں ہے کہ اپنے دعویٰ کی دلیل میں ان کے کلام کو پیش کریں۔
یہاں اس کا بھید معلوم کرنا چاہئے کہ جب خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ یعنی سب انبیاء کے بعد آنے والا تو اس میں کیا خوبی اور فضیلت ہوئی؟ بظاہر خوبی تو اسی میں معلوم ہوتی ہے کہ آپa کے بعد آپa کی شریعت کے پیرو بہت سے انبیاء آتے۔ جس طرح حضرت موسیٰm کے بعد شریعت موسوی کے پیرو بہت انبیاء آئے۔ یہ خیال ظاہر میں کم علم کو ہوسکتا ہے۔ مگر جن کو خداوندتعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اسرار شریعت پر آگاہی بخشی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرتa کا وجود باجود سب کے بعد اس لئے ہوا کہ آپa کی ذات مقدس سے اﷲتعالیٰ کو دین کا کمال منظور تھا۔ آپa کو شریعت کاملہ دی گئی اور ارشاد ہوا: ’’الیوم اکملت لکم دینکم (مائدہ:۳)‘‘ حضرت ابراہیمm اور حضرت موسیٰm کے وقت سے لے کر حضرت عیسیٰm کے زمانہ تک دنیا کے لوگ اس لائق نہ تھے کہ انہیں کامل شریعت دی جاتی۔ پہلے انبیاء جس قدر آئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ حضرت محمد مصطفیa سلطان الانبیاء ہیں۔ تمام انبیاء سابقین نے آہستہ آہستہ بنی آدم کو آراستہ اور اس لائق کیا کہ شریعت کامل دی جائے۔ اس لئے سب کے بعد آنے والے کی زیادہ عظمت ہونی چاہئے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ سے شریعت کاملہ مخلوق کوملی جو
اصل مقصود انبیاء کے بھیجنے کا ہے۔ چونکہ آپa صفت رحمت کے مظہر کامل ہیں اور رحمۃللعالمین آپa کا خطاب ہے۔ اس کا مقتضی یہ ہوا کہ آپa کے بعد نبوت کا مرتبہ کسی کو نہ دیا جائے۔ کیونکہ شرعی نبی وہی ہے جس کا منکر کافر ہو۔ یعنی وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اب اگر آپa کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حسب عادت قدیمہ ضرور بہت لوگ ایسے ہوتے کہ حضرت سرور انبیاءk پر ایمان لائے ہوتے اور اس نبی پر ایمان نہ لاتے جو آپa کے بعد ہوا اور اس وجہ سے وہ دائمی عذاب کے مستحق ہوتے۔ یہ آپa کی شان رحمت کے بالکل خلاف تھا اور ہے کہ آپa کو مان کر کسی وجہ سے دائمی عذاب میں مبتلا رہے۔ اس لئے آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس سے حضور انورa کی کمال فضیلت حضرت موسیٰm اور حضرت عیسیٰm اور تمام انبیاء پر ظاہر ہوتی ہے کہ یہ شان رحمت کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور کسی کی امت کو یہ شرف نصیب نہ ہو اور اس کی وجہ سے دوسرا شرف آپa کی امت کو یہ ملا کہ اس امت کے علمائے کاملین کی عظمت وشان وہی ہے جو انبیاء کی ہونی چاہئے۔ یعنی یہ وہی کام کریں گے جو انبیائے بنی اسرائیل نے کئے ہیں۔ علامہ سیوطی (خصائص کبریٰ ج۳ ص۲۱۹، باب اختصاصۃ بان امتہ اوتیت العلم الاوّل والعلم الآخر) میں امت محمدیہ کی خصوصیات میں یہ بھی لکھتے ہیں:’’علمائہم کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ یعنی امت محمدی کے علماء انبیائے بنی اسرائیل کے ماند ہیں۔ جناب رسول اﷲa نے اپنے علماء کی شان میں فرمایا: ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور یہ بھی فرمایا: ’’فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادنٰکم‘‘
(ترمذی ج۲ ص۹۳، باب فی فضل الفقہ علی العبادۃ)
یعنی رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ عالم کی فضیلت عابد یعنی عبادت کرنے والے پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت میرے ادنیٰ امتی پر۔ یہ ظاہر ہے کہ انبیاء کا ترکہ مال ودولت نہیں ہوتا بلکہ عظمت وبزرگی اور کلام الٰہی کا علم ان کا ترکہ ہے۔ اس لئے حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ انبیاء کی شان اور عظمت اور ہدایت وعلم شریعت علماء کو ملتا ہے۔ جب علماء امت کی شان انبیاء کی شان سے ہوئی تو جس طرح حضرت موسیٰm کے بعد انبیاء کے ہونے سے حضرت موسیٰm کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح یہاں علمائے کاملین سے آپa
کی عظمت کا اظہار نہایت کامل طور سے ہوتا ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ حضرت رحمۃ للعالمینa کو مان کر پھر کسی بزرگ اور عالم کے نہ ماننے سے کافر نہیں اور عیسائی حضورa کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اس فرق سے حضرت رحمۃ للعالمینa کی شان بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ دوسری حدیث سے تو علماء کاملین کی بہت ہی بڑی عظمت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی فضیلت کو حضور انورa اپنی فضیلت کے مشابہ فرماتے ہیں اور مسند امام احمدv کی روایت بھی دیکھی جائے۔
امام احمد نے (مسند احمد ج۵ ص۳۲۲) میں جناب رسول اﷲa کا یہ ارشاد لکھا ہے: ’’الابدال فی ہذہ الامۃ ثلاثون مثلاً ابراہیم خلیل الرحمن عزوجل کلمامات رجل ابدال اللہ مکانہ رجلا‘‘ رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ اس امت میں تیس ابدال ابراہیم خلیل اللہ کے مثل ہوتے رہیں گے۔ ان میں سے جب ایک کا انتقال ہوا کرے گا اس کی جگہ دوسرا قائم مقام ہوگا۔ یعنی ایسے بزرگ ذی مرتبہ سے امت محمدیہ خالی نہیں رہے گی۔ یہاں ان بزرگوں کو حضرت ابراہیمm کے مثل کہا ہے۔ اس سے کوئی صاحب یہ خیال نہ کریں کہ ان کا مرتبہ بعینہٖ حضرت ابراہیمm کا سا ہوگا اور وہ ظلی اور بروزی نبی حضرت ابراہیمm کے مثل ہوں گے اور ان کا منکر کافر ہے۔ (استغفراﷲ)
یہ ہرگز نہیں ہے بلکہ جس طرح مثال دی جاتی ہے زید کالاسد یعنی زید شیر کے مانند ہے۔ اس مثال سے یہ غرض ہرگز نہیں ہوتی کہ جو حالتیں اور خواص شیر کی ہیں وہ سب یا اکثر زید میں پائی جاتی ہیں۔ بلکہ مقصود یہ ہے کہ شیر کی ایک خاص صفت جو انسان کے مناسب اور اس کے لئے خوبی ہوسکتی ہے۔ وہ ایک حد تک زید میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ان ابدال میں قرب خداوندی اور دوسری حالت حضرت ابراہیمm کے مشابہ ہوگی۔ مگر جس قسم کے دعویٰ مرزاقادیانی نے کئے یہ ہرگز نہ کریں گے۔ الغرض امت محمدیہ میں ولایت اور نبوت کے مشابہ کمالات ہوں گے۔ جس کی وجہ سے ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ اور ’’علمائہم کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ کہا جاسکے۔ مگر نبوت کا وہ خاص درجہ جس کی وجہ سے اس کا منکر کافر ہو جاتا ہے کسی کو نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ ایساہونا آپa کی شان رحمت کے منافی ہے۔
اب خیال کرنا چاہئے کہ اس فضیلت کی کیا انتہاء ہے۔ اﷲاکبر! یہ خیال کہ اگر نبوت ختم ہو جائے تو خدائے تعالیٰ کی صفت کلام معطل ہوجائے گی۔ جاہلانہ خیال ہے ذرا غور کرو کہ جس طرح خداتعالیٰ کی ذات پاک ازلی وابدی ہے۔ اس طرح اس کی صفات بھی ازلی وابدی ہیں اور انسان کا وجود اور اس نبوت کا سلسلہ حضرت آدمm سے چلا۔ جن کی نبوت کو آٹھ نو ہزار برس سے زیادہ مؤرخین نہیں بتاتے۔ اس سے پہلے نبوت کا سلسلہ نہ تھا۔ اس وقت اس کی صفت کلامیہ کا کیا حال تھا۔ اگر اس نبوت کے ختم ہو جانے سے اس کی صفت کا معطل ہوجانا لازم آئے تو حضرت آدمm کے وجود سے پہلے جب اس نبوت کا سلسلہ ہی نہ تھا تو اس خیال کے بموجب اس غیرمتناہی زمانے میں خدائے پاک کی یہ صفت معطل ماننی ہوگی۔ حالانکہ اس خیال کی بنیاد محض نادانی اور ناواقفی پر ہے۔ خدا کے مقربین میں فرشتے بھی ہیں جن سے وہ ہمیشہ کلام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ مگر افسوس ہے کہ مرزاقادیانی فرشتوں کے وجود شرعی سے بھی منکر ہیں اور توضیح المرام میں بے دینوں کی طرح باتیں بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ خدا کی مخلوق کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ’’وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (الاسرا:۸۵)‘‘اس کا ارشاد ہے پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا کلام کس کس طرح اور کن کن طریقوں سے ہوتا ہے اور کون کون بندے اس سے ممتاز ہوتے ہیں۔ انسا ن کا علم اس کو احاطہ نہیں کر سکتا۔ مگر اس قدر ضرور کہیں گے کہ اس کے مخصوص فرشتے اور خاص خاص اولیاء اللہ اس کے خطاب اور کلام سے ممتاز ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس کے لئے رسالت اور نبوت کی ضرورت نہیں ہے۔
اس تمام بیان کا نتیجہ بھی معلوم کر لینا چاہئے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی نص قطعی اور چار صحیح حدیثوں سے مسیح قادیان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا اور اس کے جھوٹے ہونے پر بیس صحابہ کرامi نے شہادت دی۔ بلکہ اس کے سوا جس قدر صحابہi نے ختم نبوت کے مضمون کو روایت کیا ہے۔ ان کا یقینی اعتقاد ہے کہ رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے۔ اس لئے آپa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ ان صحابہi کی زبان سے جھوٹا ہے۔ اب جو ایسے یقینی جھوٹے اور مفتری کو سچا کہتا ہے وہ حقیقت میں اللہ ورسول سے سخت گستاخی کرتا ہے اور تمام قرآن مجید اور مذکورہ احادیث صحیحہ کو نہیں مانتا۔ اگرچہ ظاہر میں زبان
سے انکار نہ کرے اور مسلمانوں کو فریب دے۔ اب اہل دانش سمجھ لیں وہ کیسا شخص ہے اور اس سے کیسا معاملہ کرنا چاہئے اور اس کے اصحاب کو کیا سمجھنا چاہئے۔
یہاں تک جو عبارت نقل کی گئی وہ بعینہٖ فیصلہ کے تمہید کی ہے۔ اس میں دس حدیثیں ہیں اور پانچ آیات قرآنی ہیں اور ان کے معنی ہیں۔ ان کو یہ قادیانی مسخرہ پاگل کی بڑ کہتا ہے اور یہ وہ قادیانی ہے جو شب وروز قادیانی مربیوں کی صحبت میں رہتا ہے۔ ان ہی کے مشورہ سے ایسے کام کرتا ہے اس کا یہ حال ہے کہ کلام خدااور کلام رسولa کی کیسی بے حرمتی کر رہا ہے؟ اب ہمارے بھائی، قادیانیوں کی ایمانی حالت کا اندازہ کریں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیوں کا یہ کہنا کہ ہم مسلمان ہیں اور قرآن وحدیث کو مانتے ہیں۔ مسلمانوں کو محض فریب دینا ہے یا مرزاقادیانی کی بیعت کا اثر ہے کہ عقل سلب ہوگئی ہے۔ تیرہ درونی نے انوار حقانیت کو پوشیدہ کردیا ہے۔ اس لئے کلام خدا اور رسول بھی ان کے نزدیک پاگل کی بڑ ہے۔ (نعوذ باﷲ)
اب دیکھیں کون قادیانی مربی اس مدلل اور محکم تحریر کا جواب دیتا ہے۔ ہم منتظر ہیں۔ اگر دوماہ کے اندر اس کا جواب نہ دیا تو کامل طور سے سمجھا جائے گا کہ تمام قادیانی کسی خاص وجہ سے ایک یقینی جھوٹے کے پیرو ہیں اور کسی طرح اس کی صداقت ثابت نہیں کرسکتے۔
آخر میں دوباتیں میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایک تو قادیانیوں کی جہالت کا نمونہ دکھاتا ہوں۔ ملاحظہ کیا جائے۔ جن حدیثوں میں جناب رسول اﷲa نے یہ فرمایا ہے کہ: ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ یعنی میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کے معنی میں اپنی قابلیت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ کوئی کامل نبی میرے بعد نہیں، ناقص نبی آئیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ تو ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی ناقص نبی ہیں۔
۱… اس کے علاوہ یہ فرمائیں کہ جب ’’لا نبی بعدی‘‘ کے بعد یہ معنی ہوئے کہ کوئی کامل نبی میرے بعد نہیں ہے۔ ناقص نبی ہوں گے تو ان کے نزدیک ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی بڑا معبود کامل نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے معبود ہیں۔ یعنی مشرکین عرب وغیرہ کا جو خیال تھا اور ہنود کا ہے وہ صحیح ہے۔ اسلام نے انہیں مشرک نہیں
ٹھہرایا۔ قادیانی مربی کہیے یہی عقیدہ آپ کا ہے؟ اگر نہیں ہے تو دونوں جملوں میں فرق بیان کیجئے۔
۲… تمہید کی چوتھی حدیث دیکھئے اس میں جناب رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں انبیاء سیاست کرتے تھے۔ جب ایک نبی انتقال کرتا تھا اس کی جگہ دوسرا نبی اس کے قائم مقام ہوتا تھا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اب اگر اس کے یہ معنی ہوں کہ میرے بعد کوئی کامل نبی نہیں ہے تو حدیث سے یہ ثابت ہوگا کہ حضرت موسیٰm کے بعد جتنے بنی اسرائیل میں ہوئے وہ سب کامل نبی تھے۔ جناب رسول اﷲa کے مثل امت محمدیہ میں ویسے نبی نہ ہوں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جناب رسول اﷲa افضل الانبیاء نہ تھے بلکہ انبیائے بنی اسرائیل کے مثل تھے اور مرزاقادیای کا مرتبہ ان سے بہت کم ہے۔ قادیانی ذرا ہوش کر کے باتیں کیجئے۔ تمہارے اس دعویٰ کے غلط ہونے کے اور بھی وجوہ ہیں جو اہل علم الفاظ حدیث سے بخوبی سمجھتے ہیں۔ وقت ضرورت ہم بھی بیان کردیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت تک اہل حق کی طرف سے بہت سے رسالے مرزاقادیانی کے کذاب ومفتری ہونے کے ثبوت میں مشتہر ہوچکے ہیں اور قرآن وحدیث کے علاوہ خود مرزاقادیانی کو ان کا جھوٹا ہونا، مردود ہونا، ملعون ہونا، ہربد سے بدتر ہونا ثابت کردیا گیا ہے۔ ان کا اعلانیہ جھوٹ دکھادیا گیا ہے۔ مگر سخت حیرت ہے کہ مرزائی گروہ کی عقل کس طرح سے سلب ہو گئی کہ کچھ خیال نہیں کرتے اور ایسے اعلانیہ جھوٹے کو خدا کا رسول مان رہے ہیں اور افسوس یہ ہے کہ اپنی عاقبت تباہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی انہیں خیال نہیں ہوتا کہ کئی برس سے رسائل مشتہر ہورہے ہیں اور یہاں سے قادیان تک کسی مرزائی کی مجال نہیں ہوئی کہ ان کا جواب دے۔ پھر ان کے جھوٹے ہونے میں کیا شک رہا؟
بھائیو! جان بوجھ کر اپنی عاقبت تباہ نہ کرو اور ان رسالوں کو غور سے دیکھو۔ جہاں تمہیں شبہ پیش آئے اسے دریافت کرو۔ جواب دینے کے لئے میں حاضر ہوں جو تمہیں ان رسالوں کے دیکھنے سے منع کریں انہیں اپنا دشمن سمجھو اور یقین کر لو کہ تمہیں راہ حق دیکھنے سے روکتے ہیں اور اندھا بنا کر جہنم میں گرانا چاہتے ہیں۔ ہم تمہاری خیرخواہی سے کہتے ہیں۔
خادم الحکماء: محمد یعسوب
پروفیسر مولانا سید انور حسینؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں ختم نبوت کے قطعی دلائل بیان کئے گئے ہیں اور یقینی طور سے ثابت کردیا ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا اور جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ بموجب ارشاد نبویa جھوٹا دجال ہوگا۔ ختم نبوت کی بحث میں یہ ساتواں مضمون ہے۔ اس سے پہلے تتمہ فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں پھر مرزامحمود کی تشریف آوری والے مضمون میں دعویٰ نبوت مرزا اور صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۴،۱۵ میں یہ مضمون بعنوان مختلف لکھاگیا ہے اور اس وقت تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ مگر باایں ہمہ مرزائی جھوٹی نبوت کا دعویٰ ہورہا ہے۔
تاریخ ۵؍اگست ۱۹۱۷ء کو انجمن حمایت اسلام مونگیر کے مکان میں قادیانی فرقہ کے عقائد باطلہ کے رد میں ایک شاندار جلسہ ہوا۔ جس میں فاضل مولانا نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا۔ اما بعد!’’فقد قال اللہ تبارک وتعالٰی ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین وکان اللہ بکل شیٔ علیما (احزاب:۴۰)‘‘
مسلمانو! افسوس ہے کہ یہ ایک ایسا پرآشوب زمانہ آیا ہے کہ مقدس مذہب اسلام کے ان مسائل وعقائد پر جو نصوص قطعیہ سے ثابت ہیں اور جن پر تمام اہل اسلام کا اتفاق اور اجماع ہوچکا ہے۔ ایک ایسا شخص نکتہ چینیاں کرنے کو کھڑا ہو جاتا ہے کہ جو نہ تو آیات قرآنیہ کی حقیقت سمجھ سکتا ہے اور نہ احادیث نبویہ سے خبر رکھتا ہے۔ ایک جھوٹے مدعی نبوت کے اردو رسالوں کو دیکھ کر اسلام کے منصوص اور اجماعی مسئلوں اور عقیدوں کو غلط ثابت کرنے کا مدعی ہوتا ہے اور غلط غلط شبہات پیش کر کے مسلمانوں میں بیہودہ خیالات پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ دیکھو تمام مسلمانوں کا عموماً اور اہل سنت والجماعت کا خصوصاً اجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرتa خاتم النّبیین ہیں۔ یعنی نبوت اور رسالت آپa پر ختم ہوچکی ہے۔ آپa کے بعد کوئی نبی یا رسول نہ ہوگا۔ آج کل اس کے خلاف یہ آواز اٹھائی گئی ہے کہ نبوت ورسالت ہنوز ختم نہیں ہوئی ہے۔ آپa کے بعد بھی نبی ہوسکتا ہے اور اس کے
ساتھ ہی ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی آنجہانی نبی اور رسول ہیں۔ اس لئے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ مسئلہ ختم نبوت پر مفصل اور مدلل تقریر کی جائے اور مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھا دیا جائے کہ آنحضرتa کا خاتم النّبیین ہونا اور آپa کے بعد کسی کا نبی نہ ہونا قرآن مجید کی قطعی الدلالت آیت سے اور صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اور اہل اسلام کا عموماً اور اہل سنت والجماعت کے تینوں فرقے (۱)فقہاء، (۲)محدثین، (۳)صوفیہ، کا خصوصاً اسی پر اجماع ہے۔ جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ اہل سنت والجماعت بلکہ اہل اسلام سے خارج ہے اور جو شخص آپa کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ کذاب اور دجال ہے۔
مذکورہ بالا آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ حضرت زیدq صحابی آنحضرتa کے پسر متبنی (لے پالک) تھے۔ حضرت زیدq کی شادی حضرت زینبt سے ہوئی تھی۔ میاں بیوی میں سخت نااتفاقی رہا کرتی تھی۔ آخر حضرت زیدq نے حضرت زینبt کو طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد عدت گزرنے پر خداوند تعالیٰ کے حکم سے حضرت زینبt آنحضرتa کے عقد نکاح میں آئیں اور ازواج مطہرات میں داخل ہوگئیں۔ اس پر مخالفین اسلام نے طعن اور طنز کی راہ سے یہ کہنا شروع کیا کہ محمدa نے اپنے بیٹے کی بیوی (بیوہ) سے نکاح کر لیا ہے۔ حالانکہ بیٹے کی بیوی (بہو) قرآن مجید کے رو سے حرام ہے۔ اسی بیہودہ اعتراض کا جواب اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘ محمد(a) تمہارے مردوں میں سے کسی کے (حقیقی اور نسبی) باپ نہیں ہیں اور زیدq تمہارے مردوں میں ہیں تو زیدq کے بھی حقیقی باپ نہیں ہیں۔ پس زیدq آپa کے حقیقی اور نسبی نہیں ہوئے اور زیدq کی بیوی آپa پر حرام نہیں ہوئیں۔ پس مذکورہ بالا اعتراض لغو ہے اورناسمجھی پر مبنی ہے۔ یہاں پر دو شبہ پیدا ہوتے ہیں۔
پہلا شبہ یہ ہے کہ آنحضرتa کے تین بیٹے تھے۔ (۱)ابراہیم، (۲)قاسم، (۳)طاہر۔ جب آپa کے تین بیٹے موجود تھے تو پھر یہ کہنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ محمدa تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ اس کا جواب تو پھر یہ کہنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ محمدa تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رجال
رجل کی جمع ہے اور رجل عربی میں بالغ مرد کو کہتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمدa تمہارے بالغ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ چونکہ آنحضرتa کے تینوں صاحبزادے بالغ ہونے سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔ اس لئے یہ کہنا بہت صحیح ہے کہ آنحضرتa تمہارے بالغ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ اس شبہ کا جواب لفظ رجل کے معنی پر غور کرنے ہی سے ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس شبہ کے جواب میں کوئی دوسری عبارت نہیں لائی گئی اور ’’من رجالکم‘‘ ہی کو اس کے جواب میں کافی سمجھا گیا۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرزاقادیانی (اخبار البدر قادیان مورخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۷ء ملفوظات ج۷ ص۲۴۷) میں فرماتے ہیں کہ: ’’ہمارے نبی کریمa کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔ حالانکہ یہ محض غلط بات ہے۔ نہ کسی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور نہ تاریخ کی کتابوں میں کہیں لکھا ہے کہ آپa کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔ یہ مرزاقادیانی کا جاہلانہ جھوٹ ہے۔ اگر کسی مرزائی کو کچھ بھی غیرت ہے تو اس روایت کا ثبوت پیش کرے۔ ورنہ اس بات کا اقرار کرے کہ مرزاقادیانی محض بے باک جھوٹے تھے۔‘‘
دوسرا شبہ یہ ہے کہ جب آپa سے ابوۃ کی نفی کی گئی یعنی یہ کہاگیا کہ آپa تمہارے مردوں میں سے کسی کے حقیقی باپ نہیں ہیں تو اس سے سمجھا جاتا ہے کہ آپa میں حقیقی باپ جیسی شفقت بھی نہ ہوگی۔ اس شبہ کے دور کرنے کے لئے اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:’’ولٰکن رسول اﷲ‘‘لیکن محمد(a) خدا کے رسول ہیں اور رسول کی شفقت امت پر اس شفقت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو شفقت حقیقی باپ کو اپنی اولاد پر ہوتی ہے۔ انبیائے کرام کے واقعات زندگی پر غور کرو کہ انہوں نے امت کی بہی خواہی کے لئے کیسی کیسی مصیبتیں جھیلی ہیں۔ حق تو یوں ہے کہ اپنا باپ بھی اپنی اولاد کے لئے اتنی تکلیفیں نہیں برداشت کرسکتا ہے جتنی تکلیفیں انبیائے کرامo نے اپنی امت کے لئے برداشت کی ہیں۔ بس اس کہنے سے کہ محمدa خدا کے رسول ہیں۔ وہ شبہ تو جاتا رہا کہ آپa میں حقیقی باپ جیسی شفقت نہیں ہوگی۔ مگر یہ بات ثابت نہیں ہوتی تھی کہ آپ کی شفقت تمام انبیائے کرامo کی شفقت سے بڑھی ہوئی ہے۔ اس لئے فرمایا: ’’وخاتم النبیین‘‘آپa تمام نبیوں کے ختم کرنے والے اور آخر الانبیاء ہیں اور جب آپa آخرالانبیاء ہیں تو آپa کے بعد
کوئی نبی نہ ہوگا اور چونکہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ اس لئے ضرور ہے کہ آپa میں وہ نبوی شفقت اعلیٰ واتم واکمل درجہ پر ہو۔ چنانچہ آپa کی اعلیٰ تعلیمات وہدایات سے اس کی کافی شہادت ملتی ہے۔ جیسا کہ آپa کی تعریف میں کہاگیا ہے۔ ’’ماترک خیر الاہداکم الیہ وما ترک شرا الا حذرکم وبالہ الوخیم‘‘
آپa نے ہر ایک بھلی بات کی ہدایت فرمادی اور ہر ایک بری بات کے ناقابل برداشت عذاب سے ڈرادیا۔
اس آیت میں لفظ خاتم النّبیین کی قرأت میں اختلاف ہے۔ سات قاریوں میں سے چھ قاریوں کے نزدیک خاتم النّبیین بکسرتا ہے اور یہی مشہور قرأت ہے اور ایک قاری عاصم کے نزدیک خاتم النّبیین بفتح تا ہے۔ گویہ قرأت مشہور نہیں ہے۔ مگر ہندوستان میں اسی قرأت کا رواج ہوگیا ہے۔ چنانچہ یہاں کے قرآن مجید میں خاتم النّبیین بفتح تا ہی ہے۔ بہرکہف اگر خاتم کو بکسرتا پڑھئے تو یہ صیغہ اسم فاعل کا ہے۔ ختم یختم باب ضرب یضرب سے اور اس کے معنی ختم کرنے والا یا مہر کرنے والا ہوگا۔ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہوں گے کہ نبیوں کا ختم کرنے والا یا نبیوں پر مہر کرنے والا۔ چونکہ مہر کرنا خدا کی صفت ہے۔ اس لئے اس معنی کے رو سے خاتم النّبیین آپa کی صفت نہیں ہوسکی۔ پس یہاں پر سوائے ختم کرنے والے کے اور دوسرے معنی صحیح نہیں ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں نبوت کا ختم ہوجانا روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے۔ تھوڑی سمجھ کا آدمی بھی اس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
اور اگر خاتم بہ فتح تا پڑھئے تو خاتم کے تین معنی ہیں:
۱… انگوٹھی جیسے خاتم فضۃ، چاندی کی انگوٹھی۔
۲… مہر جیسے خاتم الکتاب خط کی مہر۔
۳… آخر جیسے خاتم القوم قوم کا آخری شخص،عر بی لغات اور عربی محاورات پر غور کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ختام، خاتم بالکسر وخاتم بالفتح یہ الفاظ جب کسی وسعت والی چیز کی طرف مضاف ہوتے ہیں تو جہاں پر وسعت ختم ہوتی ہے اسی جگہ کو ختام، خاتم بالکسر، خاتم بالفتح کہتے ہیں۔ ختام الوادی اسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر میدان ختم ہو جائے۔ اسی طرح یہ الفاظ جب کسی ایسی چیز کی طرف مضاف ہوتے ہیں جس کے بہت سے افراد ہوں تو ختام، خاتم بالکسر خاتم بالفتح ہر ایک کے معنی آخر کے ہوتے ہیں۔ جیسے خاتم القوم، قوم کا آخری شخص مجمع
البحار جو احادیث کی ایک معتبر لغت ہے اور قاموس اور اس کی شرح تاج العروس اور لسان العرب وغیرہ عربی کی مشہور لغتوں میں صاف لکھا ہے:’’ختام الوادی اقصاہ ختام القوم وخاتمہم وخاتمہم آخرہم‘‘
(لسان العرب ج۴ ص۲۵)
کہ ختام الوادی کے معنی انتہائی وادی ہے اور ختام القوم کے معنی آخر قوم ہیں اور اس کے ساتھ ان کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ: ’’خاتم النّبیین‘‘ یا ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ پس ’’خاتم النّبیین‘‘ پڑھو یا ’’خاتِم النّبیین‘‘ ہر حالت میں یہی مطلب ہوگا کہ آنحضرتa آخرالنّبیین ہیں۔ یعنی تمام انبیائے کرام کے آخر ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہے کہ اس آیت میں لفظ رسول اللہ کے بعد خاتم النّبیین کا لفظ صرف اس بات کے ثابت کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ وہ شفقت جو انبیائے کرام کی اپنی اپنی امت پر رہا کرتی ہے، آپa میں سب سے زیادہ تھی اور آپa اس شفقت میں نہایت ہی اعلیٰ واتم واکمل درجہ پر ہیں اور یہ مطلب اس آیت سے اسی وقت ثابت ہوسکتا ہے جب کہ خاتم یا خاتم کے معنی آخر یا ختم کرنے والا لیا جائے اور اگر خاتم بالفخ کو بمعنی مہر بھی لیا جائے۔ جب بھی ہمارے مطلب کے منافی نہیں۔ اس لئے کہ کسی چیز پر مہر لگ جانے کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ چیز بند کر دی گئی۔ پس اس جملہ کا مطلب کہ آپa نبیوں پر مہر ہیں۔ یہی ہوگا کہ آپa کے وجود باجود سے نبیوں کا آنا بند ہو گیا۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ وہو المطلوب!
حضرات ناظرین! یہاں تک میں نے محض عربی لغتوں کے رو سے خاتم النّبیین کے معنی بیان کئے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی کہ یہ آیت مسئلہ ختم نبوت پر قطعی الدلالۃ نص ہے۔ اس میں کسی طرح دوسرے معنی کی گنجائش نہیں۔ اب میں یہ بیان کرنا چاہا ہوں کہ جس مقدس ذات پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اس نے اس آیت کا کیا مطلب سمجھا اور سمجھایا ہے اور اپنی امت مرحومہ کو مسئلہ ختم نبوت میں کیا تعلیم دی ہے۔
پہلی حدیث: (سنن ابن ماجہ ص۲۹۷، باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) میں دجال کے بارہ میں ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اس میں جناب رسول اﷲa اپنی امت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:
۱…’’انا آخرالانبیاء وانتم آخرالامم‘‘ کہ میں سب نبیوں کا آخری شخص
ہوں اور تم سب امتوں میں آخری امت ہو۔
یعنی نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی دوسری امت۔ جب خود حضور پرنورa نے اپنے کو آخرالانبیاء فرمادیا تو اس سے صاف ثابت ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنبیین ہیں۔ جیسا کہ اہل لغت لکھتے ہیں۔ اب کسی مسلمان کی مجال نہیں ہے کہ آخر کے سوا خاتم کے کوئی دوسرے معنی لے۔ اس لئے کہ مسلمان کی شان یہ ہے ؎
ہر کجا قول رسول آمدہ لنگر گیرند
بلکہ مرزائیوں کی بھی مجال نہیں ہے کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین ہونے میں چون وچرا کر سکیں۔ اس لئے کہ مرزاقادیانی اور ان کے خلیفہ اوّل نورالدین قادیانی کا مذہب یہ ہے کہ وحی والہام کے معنی جو صاحب وحی والہام بیان کرے وہی صحیح ہے اور اس کے سوا سب غلط۔ یہاں پر جب خود صاحب وحیk نے ’’انا آخر الانبیاء‘‘ فرمادیا تو اب آخر کے سوا خاتم کے دوسرے معنی لینا کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا۔وہو المراد!
دوسری حدیث: جبیر بن مطعمq کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲa سے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں:
(بخاری ج۱ ص۵۰۱، باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲa، مسلم ج۲ ص۲۶۱، باب فی اسمائہa)
میرے بہت سے نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں۔ اﷲ میرے ذریعہ سے کفر مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں۔ میرے بعد لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔ میں عاقب ہوں اور عاقب اسی کو کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ عاقب کی تفسیر میں ’’لیس بعدہ نبی‘‘ فرمایا۔
اس میں نبی کا لفظ نکرہ ہے اور نفی کے تحت میں واقع ہے اور جب نکرہ تحت نفی میں واقع ہوتا ہے تو عام ہوتا ہے۔ یعنی اس نکرہ کے ہر فرد کو شامل ہوتا ہے۔ پس ’’لیس بعدہ نبی‘‘ کا یہ مطلب ہوا کہ آپa کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہے۔ تشریعی ہو یا غیرتشریعی، ظلی ہو یا بروزی، علاوہ اس کے عاقب کے لغوی معنی بھی پیچھے آنے والا ہے اور پیچھے آنے والا اسی
کو کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نہ ہو۔ پس لغوی معنی کے رو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں۔وہو المقصود!
یہ بھی واضح رہے کہ قرآن مجید سے یا کسی حدیث صحیح سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی اور رسول دو قسم کے ہوتے ہیں۔ (۱)تشریعی۔ (۲)غیرتشریعی۔ (۱)اصلی۔ (۲)ظلی وبروزی۔ بلکہ قرآن مجید کی ایک صریح آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نبی صاحب کتاب اور صاحب شریعت تھے۔ دیکھو سورۂ انعام میں اﷲتعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحق، حضرت یعقوب، حضرت نوح، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت ایوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ، حضرت الیاس، حضرت اسماعیل، حضرت الیسع، حضرت یونس، حضرت لوطB کا ذکر کر کے فرمایا۔ ’’اولئک الذین اٰتیناہم الکتٰب والحکم والنبوۃ (انعام:۸۹)‘‘ {یہ وہ جماعت ہے جن کو میں نے کتاب اور شریعت اور نبوت دی ہے۔}
پس کسی نبی کو تشریعی یعنی صاحب کتاب وصاحب شریعت قرار دینا اور کسی نبی کو غیرتشریع یعنی غیرصاحب کتاب وغیرصاحب شریعت قرار دینا۔ اس آیت کے صریح خلاف ہے۔
اسی طرح آیہ کریمہ ’’لا نفرق بین احد من رسلہ (البقرہ:۲۸۵)‘‘سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ نبوت ورسالت میں سب رسول برابر ہیں۔ کسی میں کچھ فرق نہیں ہے۔ اب تشریعی وغیرتشریعی کا فرق نکالنا اور کسی نبی کو تشریعی کہنا اور کسی کو غیرتشریعی یا کسی کو اصلی کہنا اور کسی کو بروزی کہنا باطل ہے۔ ہاں! باعتبار درجہ کے بعض نبی کو بعض نبی پر فضیلت ہے۔ جیسا کہ :’’تلک الرسل فضلنا بعضہم علٰی بعض (البقرہ:۲۵۳)‘‘ سے ثابت ہوتا ہے۔ مگر فضیلت کی یہ وجہ نہیں ہے کہ بعض نبی تشریعی ہیں اور بعض غیرتشریعی۔ بلکہ وجوہ فضیلت دوسری باتیں ہیں۔
تیسری حدیث: ابوہریرہq کہتے ہیں کہ رسول اﷲa نے فرمایا:
کہ میں دوسرے نبیوں پر چھ باتوں میں فضیلت دیا گیا ہوں۔
۱… مجھ کو جامع کلمے دئیے گئے۔
۲… میں اپنے رعب کی وجہ سے فتح یاب ہوں۔
۳… مال غنیمت میرے لئے حلال کیاگیا۔
۴… ساری زمین میرے لئے نماز اور تیمم کے لائق بنائی گئی۔
۵… میں سارے لوگوں کے لئے رسول ہوں۔
۶… نبیوں کے آنے کا سلسلہ مجھ پر ختم کیاگیا۔
اس حدیث سے بعبارت النص ثابت ہوا کہ رسالت آپa پر ختم ہوچکی ہے۔ اب آپa کے بعد کوئی رسول ہو نہیں سکتا۔
مسلمانو! مرزائی جماعت کی گستاخی اور بے ادبی دیکھو کہ رسول اﷲa نے تو ختم رسالت کو اپنے وجوہ فضیلت میں بیان فرمایا ہے اور یہ جماعت کہتی ہے کہ بنی اسرائیل میں تو حضرت موسیٰm کے بعد زمانہ دراز تک نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رہا اور بدقسمتی سے مسلمانوں کے وقت میں نبوت ورسالت ختم کر دی گئی۔ جس بات کو رسول اﷲa نے اپنی فضیلت میں شمار کیا ہے۔ یہ بے ادب جماعت اس بات کو بدقسمتی قرار دیتی ہے۔ یہ ہے مرزائیوں کا اسلام اور ایمان۔
میں کہتا ہوں کہ مرزائیوں کا یہ خیال کہ جس طرح بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰm کے بعد نبی اور رسول آتے رہے، اسی طرح امت محمدیہ میں بھی آنحضرتa کے بعد قیامت تک نبی اور رسول آتے رہیں گے۔ غلط اور محض غلط ہے۔
چوتھی حدیث: بخاری شریف میں ابوہریرہq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا:
کہ بنی اسرائیل پر انبیاء(o) حکومت کرتے رہے۔ جب کوئی نبی وفات
پاتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہوتے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔
اس حدیث سے صاف طور سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جس طرح بنی اسرائیل میں ایک نبی کے جانشین دوسرے نبی ہوتے تھے۔ اس طرح سے آنحضرتa کا کوئی جانشین نبی نہ ہو گا۔ اس لئے کہ نبوت آپa پر ختم ہوچکی ہے۔ آپa کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا اور یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپa کے جانشینوں کا لقب خلفاء ہے۔ انبیاء نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بعض خلفائے راشدین کی نسبت آنحضرتa نے صاف لفظوں میں فرمادیا ہے کہ ان میں نبی ہونے کی صلاحیت تھی۔ مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس وجہ سے وہ نبی نہ ہوسکے۔
پانچویں حدیث: (ترمذی ج۲ ص۲۰۹، باب مناقب عمرq) میں عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا:
۵… ’’قال رسول اﷲa لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب‘‘ کہہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq بن خطاب ہوتے۔
چھٹی حدیث: صحیحین میں سعد بن وقاصq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے غزوۂ تبوک میں جاتے وقت حضرت علیq سے فرمایا:
۶…’’قال رسول اﷲa انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی (بخاری ج۱ ص۵۲۶، باب مناقب علی ابن ابی طالب، مسلم ج۲ ص۲۷۸، باب فضائل علیq ابن ابی طالب)‘‘کہ آپ ہمارے غیب میں اسی طرح ہمارے جانشین ہیں۔ جس طرح موسیٰm کے جانشین ہارونm تھے۔ مگر فرق یہ ہے کہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں۔ یعنی ہارونm نبی تھے اور چونکہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس لئے آپ نبی نہیں ہوسکتے۔
اس روایت سے روز روشن کی طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپa کے بعد حضرت ہارونm جیسی نبوت بھی کسی کو نہیں مل سکتی ہے اور مرزائیوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت ہارونm کی نبوت غیرتشریعی تھی تو ثابت ہوا کہ غیرتشریعی نبوت بھی کسی کو نہیں مل سکتی۔
کیا کوئی مسلمان اس بات کو مان سکتا ہے کہ مرزاقادیانی تو فنافی الرسول کے درجہ پر پہنچ کر غیرتشریعی اور ظلی وبروزی نبی بن جائیں اور حضرت عمرq، حضرت علیq کو یہ درجہ نہ ملے اور غیرتشریعی وظلی وبروزی نبوت سے بھی محروم رہ جائیں۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ (واقف کار حضرات جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ صحابہ کرامi سے اور بالخصوص حضرت عمرq سے اسلام کو کس قدر نفع پہنچا اور اسلامی حکومت کو ترقی ہوئی اور مرزاقادیانی کے وجود سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کس قدر نقصان ہر طرح کا پہنچا۔ باایں ہمہ مرزاقادیانی کو اپنی فضیلت کا دعویٰ ہے۔ افسوس!)
بایں خواری امید ملک داری
مسلمانو! اس وقت تک جتنی حدیثیں میں نے بیان کیں ان سے یہ بات اچھی طرح ثابت ہو گئی کہ آنحضرتa پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔ آپa کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہوگا۔
اب ایک اور حدیث بیان کرتا ہوں جس سے علاوہ اس مضمون کے کہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہوگا۔ یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ آپa کے بعد جو شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرے وہ محض کذاب ودجال ہے۔
ساتویں حدیث: (ابوداؤد ج۲ ص۱۲۷، باب ذکر الفتن ودلائلہا، ترمذی ج۲ ص۴۵، باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتی یخرج الکذابون) میں حضرت ثوبانq سے مروی ہے:
۷…’’قال رسول اﷲa اذا وضع السیف فی امتی لم ترفع عنہا الٰی یوم القیامۃ ولا تقوم الساعۃ حتی تلحق قبائل من امتی بالمشرکین وحتی تعبد قبائل من امتی الاوثان وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی ولا تزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاہرین لا یضرہم من خالفہم حتی یأتی امر اللہ وفی روایۃ البخاری دجالون کذابون‘‘ کہ رسول اﷲa نے فرمایا کہ ہماری امت میں جب لڑائی شروع ہو جائے گی تو قیامت تک موقوف نہ ہوگی اور قیامت قائم نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ ہماری امت کے چند قبیلے مشرکین کے ساتھ مل جائیں گے اور یہاں تک کہ چند قبیلے ہماری
امت کے بت پرستی کرنے لگیں اور بے شک ہماری امت میں تیس کے قریب کذاب ہوں گے۔ (بخاری شریف میں ہے دجال وکذاب ہوں گے) ہر ایک ان کا دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں سب نبیوں میں آخری شخص ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور ہماری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ جو ان کی مخالفت کرے گا۔ ان کو ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔
اس حدیث میں دو لفظ قابل غور ہیں۔ (۱)کذاب۔ (۲)دجال۔ کذاب کے لغوی معنی ہیں کثرت سے جھوٹ بولنے والا۔ دجال کے لغوی معنی ہیں کثرت سے فریب دینے والا۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک معمولی انسان جب جھوٹ بولتا ہے یا کسی کو فریب دیتا ہے تو بڑے بڑے عقلاء اس کے جھوٹ کو سچ سمجھ لیتے ہیں اور اس کے فریب میں آجاتے ہیں۔ بھلا جو شخص کہ مدعی نبوت ہوگا اس کا کذب وفریب کیسا ہوگا؟ خصوصاً ایسی حالت میں کہ وہ کثرت سے جھوٹ بولے اور کثرت سے فریب دے۔ یقینا معمولی انسان کے کذب وفریب سے کہیں زیادہ ہوگا، جو لوگ اہل علم ہیں۔ وہ تو قرآن وحدیث کی رو سے اس کذاب ودجال کو پہچان سکتے ہیں اور ان کے فریب سے بچ سکتے ہیں۔ مگر جولوگ قرآن وحدیث سے واقف نہیں ہیں۔ ان کا بچنا بہت دشوار ہے۔ اس لئے حضورa نے ان کذاب ودجال کی نشانی ایسے عام فہم لفظوں میں فرمادی ہے کہ جس کو تھوڑی عقل والا آدمی بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ وہ نشان یہ ہے:’’کلہم یزعم انہ نبی اﷲ‘‘یعنی ہر ایک ان کا یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی اللہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرتa کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے، وہی کذاب ودجال ہے۔ یعنی آپa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا ہی کذاب ودجال ہونے کی نشانی ہے۔ اس لئے کہ ہر قسم کی نبوت آپa پر ختم ہوچکی ہے۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ جیسا کہ حضورa نے فرمایا: ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘
اگر آپa کے بعد کسی قسم کے نبی کا ہونا جائز ہوتا تو آپa کذاب دجال کی یہ نشانی نہیں بتاتے اور ہرگز عام لفظوں میں نہ فرماتے کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ یہاں پر لا نبی بعدی میں لانفی جنس ہے جو استغراق کے لئے ہے۔ جس کا صاف طلب یہ ہے کہ آپa کے بعد کوئی شخص کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ جملہ کہ ’’انا خاتم النّبیین‘‘آپa کے بعد مدعیان نبوت کے کاذب ہونے کی دلیل ہے اور یہ جملہ کہ: ’’لا نبی بعدی انا خاتم النّبیین‘‘کی تفسیر ہے۔ یعنی ’’انا خاتم النّبیین‘‘کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس حدیث سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت کے ظہور کی حضورa نے پیشین گوئی فرمائی ہے ان میں تین صفتیں پائی جائیں گی۔ (۱)باوجود دعویٰ نبوت کے اپنے کو امتی کہیں گے۔ (۲)کثرت سے جھوٹ بولیں گے۔ (۳)بڑے فریبی ہوں گے۔
اس حدیث کی رو سے جب مرزاقادیانی کی حالت پر غور کرتا ہوں تو یہ تینوں صفتیں مرزاقادیانی میں نہایت صفائی کے ساتھ پاتا ہوں۔ مرزاقادیانی کی تالیفات کو اٹھا کر دیکھو، قریب قریب ہر تالیف میں ان کا یہ اقرار موجود ہے کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ مرزاقادیانی میں اس پہلی صفت کا پایا جانا ان کا اقرار ہے۔ کوئی مرزائی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ دوسری صفت یعنی کثرت سے جھوٹ بولنا بھی مرزاقادیانی میں روز روشن کی طرح پائی جاتی ہے۔ دیکھو صحیفہ محمدیہ نمبر۱،۸،۱۳ وغیرہ۔ مرزاقادیانی جھوٹ بولنے میں ایسے دلیر ہیں کہ بے شمار جھوٹ باتیں قرآن وحدیث کی طرف منسوب کر دینے میں کچھ بھی باک نہیں کرتے اور مادشما کی طرف جھوٹ بات کا منسوب کر دینا تو ان کا شعار ہے۔ دیکھو (اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴) میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہوتیں، جس میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے قویٰ دئیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘ حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے۔ کہیں قرآن مجید اور احادیث میں ان مضامین کا پتہ نہیں ہے۔ کوئی غیرت مند مرزائی ہے جو قرآن واحادیث میں ان مضامین کو دکھا سکے۔ اگر نہیں دکھلائے (اور ہرگز نہیں دکھلا سکتا ہے) تو اس کو مرزاقادیانی کے کاذب تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے؟ مرزاقادیانی کا ایک اور صریح جھوٹ دیکھو (اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴) میں لکھتے ہیں کہ: ’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم
سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کرچکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کردیا کہ کاذب کون تھا۔‘‘ حالانکہ یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ نہ مولوی غلام دستگیر صاحب نے ایسا لکھا اور نہ مولوی اسماعیل صاحب سے عرصہ سے مطالبہ کیاجارہا ہے کہ دونوں صاحبوں کی کتابوں میں دکھلاؤ مگر کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دیتا ہے۔ ’’دعا مرزا‘‘ میں جو عین جلسہ مناظرہ مونگیر میں شائع کی گئی تھی جس کو یہ ساتواں سال ہے۔ مبلغ پانچ سو رپے کا چیلنج دیا ہوا ہے کہ جو مرزائی مذکورہ بالا مضمون دونوں مولوی صاحبوں کی کتابوں میں دکھلا دے وہ مبلغ پانچ سو روپیہ مجھ سے انعام لے۔ جلسہ مناظرہ میں مرزائی جماعت کے بڑے بڑے مربی موجود تھے۔ مگر صدائے برنخاست یہ ہے مرزاقادیانی کے کذاب ہونے کا قطعی ثبوت، اب رہی تیسری صفت یعنی دجال، بڑا فریبی ہونا۔ اس صفت میں بھی مرزاقادیانی اپنی نظیر آپ ہے۔ اگر مرزاقادیانی کی دھوکا بازیوں اور فریبوں کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب ہو جائے۔ میں اس وقت ان کا ایک فریب دکھلاتا ہوں۔ سنو۔
مرزاقادیانی نے جس طرح مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی طرح خاتم الخلفاء ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ میں آنحضرتa کا آخری خلیفہ ہوں۔ کسی نے ان پر اعتراض کیا کہ ازروئے حدیث شریف کے خلافت تو تیس برس تک ختم ہوچکی۔ اب آپ خاتم الخلفاء کیونکر ہوسکتے ہیں۔ اس کے جواب میں مرزاقادیانی (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) میں لکھتے ہیں: ’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہے۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسب بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ: ’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی ہے علماء کو اس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے۔‘‘
اس جواب میں مرزاقادیانی کا فریب یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے اس حدیث کو
جس میں یہ ذکر ہے کہ بعض خلیفہ کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ:’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ بخاری شریف کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ پھر اہل سنت وجماعت کے اس مشہور قول کو کہ قرآن مجید کے بعد تمام کتابوں سے صحیح تر کتاب بخاری شریف ہی ہے۔ ذکر کر کے اس پر زور دے دیا ہے تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ حدیث بہت صحیح ہے اور جو حدیث معترض نے پیش کی ہے بمقابلہ اس حدیث کے ضعیف ہے۔ حالانکہ یہ بات محض غلط ہے۔ بخاری شریف میں اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں ہے۔ نہ تو ان لفظوں کے ساتھ یہ حدیث بخاری میں ہے اور نہ اس مضمون کی کوئی حدیث بخاری میں ہے۔ عرصہ ہوا کہ میں نے اس کو بھاگلپور کے جلسہ میں بھی بیان کیا تھا اور صحیفہ رحمانیہ نمبر۱،۲ میں بھی طبع کراکر شائع کر دیا ہے۔ مگر آج تک مرزائیوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آج پھر مرزائیوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ اس حدیث کو یا اس کے مضمون کو بخاری شریف میں دکھلائیں یا مرزاقادیانی کے جھوٹے اور فریبی ہونے کا اقرار کریں۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک معترض کے جواب میں تو مرزاقادیانی نے اس حدیث کو بخاری شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اس وجہ سے اس کی صحت پر بڑا زور دے رہے ہیں اور اس سے پیشتر اپنی مایہ ناز کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۶، خزائن ج۳ ص۳۷۸) میں لکھا ہے کہ: ’’اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیرمنفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگوار شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسماعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنے اپنے صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے۔ لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعویٰ کر کے بتلادیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہوگا۔ لیکن امام محمد مہدی کا تو نام تک بھی تو نہیں لیا۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کے رو سے ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیرمنفک ٹھہرا رہی ہیں۔‘‘
اب کوئی مرزائی مجھے بتلائے کہ جب امام بخاری نے امام مہدی کا نام تک نہیں لیا تو پھر یہ حدیث کہ: ’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘صحیح بخاری میں کیونکر پائی جاسکتی ہے؟ یہ ہے مرزاقادیانی کا دوسرا فریب کہ جہاں ان کو یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت عیسیٰm کے ساتھ
مہدی نہیں ہوں گے وہاں یہ لکھ دیا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب میں امام مہدی کا نام تک نہیں لیا ہے اور جب ایک معترض نے ان کے خاتم الخلفاء ہونے پر اعتراض کیا تو اس کے جواب میں لکھ دیا کہ ’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘بخاری شریف میں ہے یا یوں کہئے کہ مرزاقادیانی کو معترض کے جواب لکھتے وقت اپنے حافظہ کے قصور کی وجہ سے اپنی پہلی تحریر یاد نہیں رہی تو اس صورت میں بھی مرزاقادیانی مشہور مثل کے مطابق کہ دروغ گورا حافظہ نباشد دروغ گو ثابت ہوتے ہیں۔
الغرض مرزاقادیانی جس طرح قرآن وحدیث کی رو سے کاذب ثابت ہوتے ہیں اسی طرح ایک مشہور مثل کی رو سے بھی دروغ گو ثابت ہوتے ہیں۔ ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘
مسلمانو! آپ حضرات نے ہمارے مذکورہ بالا بیان سے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا کہ ہم لوگوں کا یہ عقیدہ کہ سید المرسلین، شفیع المذنبین، حضرت محمد مصطفیa پر نبوت ورسالت ختم ہو چکی ہے۔ آپa کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت ورسالت نہیں مل سکتی۔ نہایت ہی پختہ عقیدہ ہے اور قرآن مجید کی آیت قطعی الدلالت اور صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اور مذکورہ بالا آیت اور احادیث کے وہی معانی ہیں جو ابھی بیان کئے گئے۔ ان کے سوا دوسرے معانی نہیں ہوسکتے۔ جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے اور آنحضرتa کے بعد کسی کے نبی ورسول ہونے کا قائل ہو وہ شخص اہل سنت وجماعت بلکہ اہل اسلام سے خارج ہے۔ جیسا کہ قاضی عیاض اپنی مشہور کتاب (شفاء جز۲ ص۲۴۷، فصل فی بیان ماہو فی من المقالات کفر وما یتوقف) میں لکھتے ہیں: ’’ومن ادعی النبوۃ لنفسہ اوجوز اکتسابہا والبلوغ بصفاء القلب الی مرتبتہا کالفلاسفۃ وغلّاۃ المتصوفۃ وکذلک من ادعی منہم انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ وانہ یصعد الی السماء ویدخل الجنۃ ویا کل من ثمارہا ویعانق حورالعین فہؤلاء کلہم کفار مکذبون للنبیa لانہ اخبرa انہ خاتم النّبیین لا نبی بعدہ واخبر عن اللہ تعالٰی انہ خاتم النّبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علی حمل ہذا الکلام علی ظاہرہ وانہ مفہومہ المراد بہ دون تاویل وتخصیص فلا
جو شخص خود نبی ہونے کا دعویٰ کرے یا یہ دعویٰ کرے کہ محنت سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے یا یہ دعویٰ کرے کہ صفائی قلب سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچ سکتاہے۔ جیسا کہ فلاسفہ اور غالی صوفیاء قائل ہیں یا یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔ گو نبوت کا دعویٰ نہ کرے یا یہ دعویٰ کرے کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے۔ جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کا میوہ کھاتا ہے۔ حوروں کو گلے لگاتا ہے۔ پس یہ سب کے سب کافر ہیں۔ رسول اﷲa کی تکذیب کرنے والے ہیں۔ اس لئے کہ آپa نے یہ خبر دی ہے کہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور آپa نے یہ بھی خبر دی ہے کہ اﷲتعالیٰ نے آپa کو خاتم النّبیین کہا ہے اور آپa کو تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے اور امت محمدیہa نے اس پر اجماع کیا ہے کہ ختم نبوت کے بارہ میں جو آیت یا حدیث آئی ہے اس کے وہی معنی ہیں جو اس کے الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں اور وہی مراد ہیں اور اس میں کسی طرح تاویل یا تخصیص جائز نہیں ہے۔ پس اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سب گروہ یقینی کافر ہیں۔ ان کے کفر پر اجماع ہو گیا ہے اور ان کا کفر قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص اسلام سے خارج ہے نہ تو اس کے جنازے کی نماز درست ہے نہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اب میں اپنا بیان اس دعاء پر ختم کرتا ہوں۔
اس تقریر کے ختم ہونے کے بعد مولانا محمد عمر صاحب نے فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے جو شخص آنحضرتa کے بعد کسی کے نبی ہونے کا قائل ہو وہ مسلمان نہیں ہے۔ جس طرح اس کے جنازہ کی نماز اور اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اس سے شادی بیاہ بھی ناجائز ہے۔ نہ اپنی لڑکی اس کو دو اور نہ اس کی لڑکی لو۔
ناظرین! مذکورہ بالا تقریر برجلسہ حقانی میں بتاریخ مورخہ ۵؍اگست ۱۹۱۷ء ہوئی
تھی۔ اس کے بعد تاریخ ۱۰؍اگست مذکور کو مرزائیوں کی طرف سے ایک اشتہار اس عنوان سے شائع کیا گیا۔ حکیم خلیل احمد (مرزائی) کا نبوت پر تیسرا لیکچر، اس تاریخ میں مسلمانوں کی طرف سے چند حضرات مرزائیوں کے جلسہ میں بھیجے گئے اور غازی مولوی سعیدالحسن صاحب مختار نے حکیم خلیل احمد (مرزائی) سے مناظرہ کیا جس کی مختصر کیفیت صحیفہ محمدیہ نمبر۱۲ میں شائع کی جاچکی ہے۔
اس جلسہ میں حکیم خلیل نے مناظرہ کے قبل اپنی تقریر میں یہ بیان کیا تھا کہ ہمارے مخالفین ختم نبوت کی دلیل میں آیت خاتم النّبیین پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ خاتم النّبیین کے یہ معنی نہیں ہیں کہ نبوت آپa پر ختم ہوگئی ہے۔ بلکہ خاتم کے معنی مہر کے ہیں۔ یعنی جس طرح مہر اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جس پر مہر ہے۔ اسی طرح آپa سارے نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس رو سے خاتم النّبیین کے معنی ہیں نبیوں کا تصدیق کرنے والا۔ پس اس آیت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ نبوت ختم ہوچکی ہے۔ سی طرح لا نبی بعدی کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپa فرماتے ہیں کہ ہمارے بعد ہمارے جیسا کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپa سے کم درجہ کا نبی ہوسکتا ہے۔ جس طرح ’’اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس جیسا دوسرا کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہو تو گا اس جیسا دوسرا قیصر نہ ہوگا۔
(مسلم ج۲ ص۲۹۶، فصل فی ہلک قیصروکسریٰ)
ہر چند اس جواب کا جواب مذکورہ بالا تقریر میں موجود ہے۔ لیکن اس وجہ سے کہ مرزائی مقرر نے اس جواب میں محض دھوکا دیا ہے اور صریح فریب سے کام لیا ہے۔ پھر بہ چند وجوہ جواب دیتا ہوں۔ سنو!
۱… اگر ہم اس بات کو تسلیم کر لیں کہ خاتم النّبیین میں خاتم کے معنی مہر کے ہیں اور خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپa سب نبیوں کے مہر ہیں تو بھی اس آیت سے نبوت کا ختم ہو جانا ہی ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس معنی کے رو سے مطلب یہ ہوگا کہ آنحضرتa کو مہر کے ساتھ اس بات میں تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح مہر آخر میں لگائی جاتی ہے اسی طرح
آپa سب نبیوں کے آخر ہیں۔ دیکھو حاشیہ بیضاوی میں لکھا ہے: ’’فشبہ النبیa بالخاتم لکونہ فی خاتمتہم‘‘ یا یوں کہئے کہ جس طرح کسی چیز کو بوتل وغیرہ میں بند کر کے مہر کر دیتے ہیں تاکہ دوسری چیز اس میں داخل نہ ہو سکے۔ اسی طرح سلسلہ نبوت کو بند کر کے آپa کو مہر بنایا تاکہ اب کوئی دوسرا سلسلہ نبوت میں داخل نہ ہوسکے۔
یہاں یہ کہنا کہ جس طرح مہر تصدیق کرنے والی چیز ہے اسی طرح آپa انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ دو وجہوں سے غلط ہے۔
وجہ اوّل: یہ ہے کہ اگر ہم تسلیم کر لیں کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپa سب نبیوں کے تصدیق کرنے والے ہیں تو یہ صفت سب نبیوں میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ ہر نبی کل انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ کسی نبی نے کسی نبی کی تکذیب نہیں کی ہے۔ پس یہ صفت آپa کے ساتھ خاص نہیں ہوئی۔ حالانکہ حضورa نے ختم نبوت کو ان چھ چیزوں میں شمار کیا ہے جو آپa کے سوا کسی نبی کو نہیں دی گئی۔ مذکورہ بالا تقریر میں تیسری حدیث کو بغور دیکھو۔
وجہ دوم: یہ ہے کہ خاتم کو بمعنی مہر لے کر پھر اس کو تصدیق کرنے والے کے معنی میں لینا عربی لغات اور عربی محاورات کے محض خلاف ہے۔ کہیں عربی محاورہ میں خاتم تصدیق کرنے والے کے معنی میں مستعمل نہیں ہے تو قرآن وحدیث میں اور نہ دیگر کلام عرب میں۔ اگر کسی مرزائی کو کچھ بھی علمیت کا دعویٰ ہے تو اس بات کو کلام عرب سے ثابت کرے کہ خاتم کے معنی مصدق کے ہیں۔ اگر نہیں ثابت کر سکتا اور ہرگز نہیں ثابت کر سکتا تو اس کو یقین کرنا چاہئے کہ وہ اس طرح کی تفسیر میں اس حدیث شریف کا مصداق ہے جو (ترمذی ج۲ ص۱۱۹، ابواب تفسیر القرآن) میں ابن عباسq سے مروی ہے کہ:
۸…’’عن النبیa من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبؤ مقعدہ من النار‘‘کہ حضورa نے فرمایا کہ جو شخص تفسیر محض اپنی رائے سے کرے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔
۲… اس آیت میں مشہور قرأت کی رو سے خاتم بالکسر ہے جس کے معنی ہیں ختم کرنے والا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اسی قرأت کو لیا ہے اور یہی معنی کیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی مشہور کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱) میں لکھتے ہیں۔ وہ اکیسویں آیت یہ ہے: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘یعنی محمدa تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔‘‘
اب مرزائی لیکچرر بتائے کہ جب اس کے پیرومرشد خاتم النّبیین کے معنی نبیوں کا ختم کرنے والا لکھ چکے ہیں تو اب وہ اس معنی کو چھوڑ کر کس منہ سے دوسرے معنی بیان کرتا ہے۔ اس کو اپنے پیرومرشد کے خلاف معنی بیان کرنے میں شرم نہیں آتی ہے۔ شرم! شرم!! شرم!!!
۳… تمام اہل لغت اور تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ خاتم النّبیین میں خاتم کو بالکسر پڑھو یا بالفتح دونوں حالت میں اس کے معنی آخرالنّبیین ہیں اور متعدد صحیح صحیح حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور پرنورa نے اپنے کو ’’انا آخرالانبیاء انا العاقب انا اللبنۃ‘‘
صحیحین میں حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ حضورa نے فرمایا: ’’میری اور دوسرے نبیوں کی مثل ایک مکان کی ہے کہ کسی نے عمدہ مکان بنایا لوگ اس کو پھر پھر کر دیکھتے ہیں اور اس کے حسن کی تعمیر پر تعجب کرتے ہیں۔ مگر اس مکان میں ایک اینٹ کی جگہ باقی ہے۔ پس میں نے آکر اس اینٹ کی جگہ کو بھر دیا اور وہ ناتمام مکان مجھ سے پورا ہوگیا اور رسولوں کے آنے کا سلسلہ مجھ پر ختم ہوگیا۔ پس میں پیغمبروں میں اس آخری اینٹ کے مانند ہوں یعنی میں خاتم النّبیین ہوں۔‘‘
اس روایت میں آپa نے دین کو ایک مکان کے ساتھ تشبیہ دی اور تمام انبیاء
کو اینٹ کے ساتھ تشبیہ دی اور اپنے کو آخر اینٹ فرمایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ آپa آخری نبی ہیں۔ آپa کے بعد اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ ایسی صحیح صحیح اور صاف صاف حدیثوں کے ہوتے ہوئے ختم نبوت کا انکار کرنا یا اس کی تاویل کرنی کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔
اور چند موقع پر ’’لا نبی بعدی‘‘ فرما کر بتلادیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین ہیں۔ اب کون ایماندار ہے کہ ان تصریحات کو چھوڑ کر خاتم النّبیین کے دوسرے معنی کرے۔ باوجود ان تصریحات کے مرزائی جماعت اگر ختم نبوت کی قائل نہیں ہوتی ہے تو صاف یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم کو قرآن وحدیث کے ماننے میں کلام ہے۔ اگر ایسا کہہ دیں تو ہم آئندہ اس کے مقابلہ میں قرآن وحدیث پیش نہیں کریں گے۔ بلکہ دوسرے طریقہ سے ان کے غلط دعوے کو باطل کر دکھائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
مرزائی لیکچرر کایہ کہنا کہ ’’لانبی بعدی‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ آپa کے بعد آپa جیسا کوئی نبی نہ ہوگا۔ آپa سے کم درجہ کا نبی ہوسکتا ہے۔ محض فریب دہی ہے۔ اس لئے کہ اگر مرزائی لیکچرر کا یہ بیان صحیح ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کے یہ معنی ہوں کہ خدا جیسا کوئی معبود نہیں ہے۔ خدا سے کم درجہ کا معبود ہوسکتا ہے۔ (نعوذ باﷲ منہ) اسی طرح یہ بھی لازم آتا ہے کہ ’’لا مہدی الا عیسٰی‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰm جیسا کوئی مہدی نہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰm سے کم درجہ کا مہدی ہوسکتا ہے۔ حالانکہ مرزاغلام احمد قادیانی ’’لامہدی الا عیسٰی‘‘ کا یہ مطلب لکھتے ہیں کہ اس وقت بجز عیسیٰ کے کوئی مہدی نہیں ہوگا۔
اب مرزائی لیکچرر بتلائے کہ کلمہ طیبہ کے صحیح معنی کیا ہیں اور مرزاقادیانی نے جو معنی ’’لا مہدی الا عیسٰی‘‘ کے لکھا ہے صحیح ہے یا غلط؟ اس موقع پر میں ایک اور صحیح حدیث پیش کرتا ہوں جو (ترمذی ج۲ ص۵۱، باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات، مسند امام احمد بن حنبل ج۳ ص۲۶۷) میں انس بن مالکq سے مروی ہے۔
۱۰…’’قال رسول اﷲa ان الرسالۃ والنبوۃ قد القطعت فلا رسول بعدی ولا نبی‘‘کہ حضورa فرماتے ہیں کہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی۔ پس کوئی رسول اور نبی میرے بعد نہیں۔
مرزائی لیکچرار اپنے بڑے بڑے مربیوں سے پوچھے کہ اس حدیث کے پہلے جملہ ’’ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت‘‘کا کیا مطلب ہے؟ اور پھر اس جملہ کے بعد فاء تفریع کے ساتھ ’’لا رسول بعدی ولا نبی‘‘لانے سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اگر مرزائی جماعت میں کسی کو بھی کچھ علمیت کا دعویٰ ہے تو باقاعدہ اس حدیث کا جواب دے ورنہ مسئلہ ختم نبوت میں چون وچرا کرنے سے باز آئے۔
اصل بات یہ ہے کہ مرزائی لیکچرار نہیں جانتا کہ لائے نفی جنس سے کس جگہ نفی ذات مراد ہوتی ہے اور کس جگہ نفی صفت سچ ہے ؎
وہ لوگ نکتہ موزوں کی قدر کیا جانیں
جو مبتداء و خبر کی خبر نہیں رکھتے
مرزائی لیکچرار کا ’’اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ‘‘ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس حدیث کے شان نزول سے محض ناواقف ہے۔ اگر اس حدیث کے شان نزول سے واقف ہوتا تو کبھی اس حدیث کو پیش نہیں کرتا۔
سنو! اس حدیث کا شان نزول یہ ہے کہ قریش اسلام قبول کرنے سے پہلے شام اور عراق میں تجارت کے لئے جایا کرتے تھے۔ جب ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تو ان کو اس بات کا خوف ہوا کہ شام میں قیصر کی سلطنت ہے اور عراق میں کسریٰ کی سلطنت ہے اور یہ دونوں ہمارے مذہب اسلام کے مخالف ہیں۔ ہم لوگوں کو مسلمان ہو جانے کی وجہ سے اپنے اپنے ملک میں تجارت نہیں کرنے دیں گے۔ اس وقت حضورa نے قریش کو یہ خوشخبری سنائی کہ شام سے قیصر کی سلطنت اور عراق سے کسریٰ کی سلطنت بہت جلد زوال پذیر ہو جائے گی۔ پھر شام میں قیصر کی سلنت اور عراق میں کسریٰ کی سلطنت نہ ہوگی۔ پس ’’فلا کسریٰ بعدہ ولا قیصر بعدہ‘‘کا مطلب یہ ہے۔ ’’فلا کسریٰ بالعراق ولا قیصر بالشام‘‘اور یہی واقع بھی ہوا کہ عراق سے کسریٰ کی سلطنت گئی تو پھر کوئی کسریٰ کا مالک نہیں ہوا اور شام سے قیصر کی سلطنت گوئی تو پھر شام کا مالک کوئی قیصر نہیں ہوا۔
اس حدیث کا یہ مطلب امام شافعیv نے بیان فرمایا ہے اور یہی مطلب شان نزول کے مطابق ہے۔
(فتح الباری شرح بخاری)
اب مرزائی لیکچرار بتائے کہ اس حدیث سے اس کو کیا فائدہ پہنچا؟
نوٹ: ناظرین اس بات پر بھی غور کریں کہ علمائے اسلام مرزائیوں کے رد میں جو تقریریں کرتے ہیں ہم ان کو قلمبند کر کے چھاپ کر شائع کر دیتے ہیں تاکہ غیرحاضرین جلسہ بھی ان تقریروں سے فائدہ اٹھائیں اور مرزائی جماعت کو اگر ان تقریروں پر کوئی اعتراض ہے تو پیش کریں اور جواب سنیں۔ مگر آج تک مرزائیوں کو جرأت نہیں ہوئی کہ ان تقریروں پر کوئی اعتراض کر سکیں۔ اس کے خلاف مرزائیوں کی یہ حالت ہے کہ اپنے اشتہاروں میں یہ تو لکھ دیتے کہ فلاں مضمون پر پہلا لیکچر، دوسرا لیکچر، تیسرا لیکچر مگر کسی لیکچر کا مضمون چھاپ کر شائع نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مضامین ’’اوہن من بیت العنکبوت‘‘ہیں۔ یعنی مکڑے کے جالے سے بھی زیادہ کمزور۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ذی علم مسلمان کے سامنے منہ کھولنے کی انہیں جرأت نہیں ہوتی۔ مونگیر کے جلسہ کے بعد بھاگلپور عبدالماجد قادیانی کی مدد کو میاں خلیل قادیانی پہنچے۔ وہاں بھی بجز مرزائی جہلاء کے کسی کے سامنے نہ آئے۔ ایک لائق انگریزی دان نے مناظرہ کو کہا کہ مرزا کی نبوت پر بحث کی جائے۔ مگر بالکل دم سے بخود اور کچھ نہ بولے۔ پھر یہ حضرت نبوت پر لیکچر دیں گے۔ ان کی باتیں صرف جہلاء کے بہکانے کے لئے ہیں۔ مکڑے کے جالے سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔ اگران مضامین میں کچھ بھی قوت ہوتی تو وہ ضرور شائع کرتے۔
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
ضمیمہ: مذکورہ بالا تقریر کی کاپیاں تیار ہو چکی تھیں۔ تصحیح ہو رہی تھی کہ مولوی عبدالشکور صاحب بے۔اے بھاگلپوری کا ایک خط پہنچا۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے قادیانی عبدالماجد سے دو سوال کئے تھے جن کا جواب انہوں نے لکھا ہے۔ اب جواب الجواب ہونا چاہئے۔ یہ خط مولانا ابوالخیر مولوی سید محمد انور حسین کو دیا گیا کہ آپ جواب الجواب لکھ دیں اور وہ آپ کی تقریر ختم نبوت کا ضمیمہ بنادیا جائے۔ چنانچہ مولانا ممدوح نے جواب الجواب تحریرفرما کر دیا جو درج ذیل ہے۔
کیا آپ قرآن شریف سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ بعد محمد(a) کے کوئی نبی یا
رسول یا پیغمبر تشریف فرما ہوں گے۔ اگر اس کا ذکر ہے تو آپ مہربانی کر کے حوالہ دیں گے۔ مگر لفظ پیغمبر، نبی، رسول کا ہونا ضرور ہے۔ میں منطق اور فلسفہ نہیں جانتا۔
آپ کے دو سوالوں میں سے اوّل سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جب تک بنی آدم موجود ہیں خداوند تعالیٰ کے رسول آیا کریں گے۔ کسی زمانہ کی تخصیص نہیں کی گئی ہے۔ سورۂ اعراف کے تیسرے رکوع میں یہ ہے کہ ’’یبنی اٰدم امایاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (اعراف:۳۵)‘‘ اسی طرح ایک اور آیت سورۂ حج میں ہے: ’’ اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس ان اللہ سمیع بصیر (الحج:۷۵)‘‘
قادیانی مربی عبدالماجد کا جواب پچند وجوہ غلط ہے۔
۱… جواب، سوال کے مطابق نہیں ہے۔ اس لئے کہ سوال میں یہ ہے کہ حضرت محمد(a) کے بعد رسول یا نبی کا آنا قرآن مجید سے ثابت کیجئے۔ مربی صاحب کی پیش کردہ دو آیتوں میں سے کسی میں یہ قید نہیں ہے کہ آنحضرتa کے بعد بھی رسول آئیں گے۔ یہاں پر دعویٰ خاص اور دلیل عام ہے۔ پس جواب غلط ہوا۔ ماہرین فن مناظرہ سے پوچھ لو۔ علاوہ اس کے ’’یاتینکم‘‘ نون تاکید ہے اور مرزاقادیانی اور ان کی تمام جماعت کو اس بات سے سخت انکار ہے کہ نون تاکید زمانہ استقبال پر دلالت کرتی ہے۔ پس مرزائی علم نحو کی رو سے اس آیت سے زمانہ استقبال میں کسی رسول کا آنا کسی طرح ثابت نہیں ہوسکتا۔ اگر قادیانی مربی عبدالماجد یہاں پر اس بات کے قائل ہو جائیں کہ نون تاکید استقبال پر دلالت کرتی ہے تو ان کو ماننا پڑے گا کہ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ میں بھی نون تاکید استقبال کے لئے ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مولوی قادیانی کو ممات مسیح کے اعتقاد سے توبہ کر کے حیات مسیح کا قائل ہونا پڑے گا۔ جس سے مرزاقادیانی کی مسیحیت کا
بنیادی پتھر اکھڑ جائے گا اور سارا مرزائی کارخانہ درہم وبرہم ہو جائے گا۔ ہم اس آیت کا صحیح مطلب آگے چل کر بیان کریں گے۔
۲… یہ آیت جملہ شرطیہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس رسول آئیں تو جو شخص صلاح وتقویٰ اختیار کرے گا وہ خوف زدہ ومخزون نہ ہوگا اور جملہ شرطیہ کے لئے اس کا واقع ہونا ضروری نہیں ہے۔ مثلاً کسی نے یہ کہا کہ اگر زید ہمارے یہاں آئے گا تو ہم اس کو دس روپے دیں گے۔ اس کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ زید کا آنا ضروری ہو۔ پس مجرد اس آیت سے کسی زمانہ میں بھی رسولوں کے آنے کا ضروری ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ یہ ثابت ہو کہ آنحضرتa کے بعد بھی رسول آیا کریں گے۔
۳… عبدالماجد قادیانی اپنے ایک چھوٹے سے رسالہ ’’احیاء موتی‘‘ میں یہ بات تسلیم کر چکے ہیں بلکہ اسی پر ان کا استدلال ہے کہ جب کوئی مضمون کسی آیت سے قطعی طور پر ثابت ہو جائے اور حدیث سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہو تو جو دوسری آیت وحدیث اس کے معنی کے خلاف ہو تو اس دوسری آیت وحدیث کے وہ معنی کرنے چاہئے جو پہلی آیت وحدیث کے خلاف نہ ہو۔ پس اسی قاعدہ کی رو سے ہم یہ کہتے ہیں کہ آیہ کریمہ: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘
قطعی طور پر ازروئے لغات ومحاورات عرب اور نیز باتفاق مفسرین یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آنحضرتa پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔ آپa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا اور اس کی کامل تائید متعدد صحیح صحیح حدیثوں سے ثابت کر کے دکھائی گئی ہے۔ بلکہ یہ ثابت کر دیاگیا ہے کہ آپa کے بعد جو شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ دجال وکذاب ہے تو اگر قادیانی مربی کی سمجھ میں کوئی آیت یا حدیث ایسی ہے جس سے ختم نبوت کے خلاف ہمیشہ رسول کا آنا ثابت ہوتا ہو تو ان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ اس آیت وحدیث کے ایسے معنی تراشیں جو آیت خاتم النّبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے خلاف ہو۔
۴… سورۂ اعراف کی آیت میں اس وقت کا تذکرہ ہے جس وقت حضرت آدمm جن سے جدا ہوئے۔ خداوند تعالیٰ نے بنی آدم سے عالم ارواح جس طرح اور عہدوپیمان لیا
تھا اسی طرح سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ اے بنی آدم اگر ہمارے رسول تمہارے پاس آئیں اور ہماری آیتیں سنائیں تو جو شخص ان کے کہنے کے مطابق صلاح وتقویٰ اختیار کرے گا وہ خوف زدہ اور محزون نہ ہوگا اور جو تکذیب وانکار کرے گا وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اس کے دو ثبوت ہم پیش کرتے ہیں۔
پہلا ثبوت: جناب شاہ ولی اللہ صاحبv (جن کو قادیانی عبدالماجد اپنے حلفی اظہار میں اسی طرح کا نبی مان چکے ہیں جس طرح کا نبی مرزاقادیانی کو مانتے ہیں) اسی آیت کے تحت میں فرماتے ہیں: ’’یعنی برزبان آدم چنانکہ از سورۂ بقرہ اشارت رفت۔‘‘ یعنی اس آیت میں بزبانی حضرت آدمm کے بنی آدم کو خطاب کیاگیا ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ میں صاف طور سے مذکور ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’فتلقٰی اٰدم من ربہ کلمات فتاب علیہ انہ ہو التواب الرحیم فقلنا اہبطوا منہا جمیعا فامایاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون والذین کفروا وکذبوا بایاتنا اولئک اصحاب النارہم فیہا خالدون (بقرہ:۳۷تا۳۹)‘‘
بس سیکھ لئے آدمm نے اپنے رب سے چند کلمے تو خدا نے ان کی توبہ قبول کی۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ کہا ہم نے کہ تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ۔ بس اگر تمہارے پاس ہماری ہدایت (کتاب ورسول) پہنچیں تو جو کوئی ہماری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ کبھی خوف زدہ ومخزون نہ ہوگا اور جو انکار وتکذیب کرے گا وہ دوزخی ہوگا اور ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
سورۂ اعراف کی آیت اور سورۂ بقرہ کی آیت دونوں کا ایک مطلب اور ایک وقت ہے۔ اس آیت سے روز روشن کی طرح سے ثابت ہوگیا کہ سورۂ اعراف میں جس خطاب کا ذکر ہے وہ خطاب اس وقت ہوا تھا جس وقت حضرت آدمm جنت سے دنیا میں آئے تھے اور اس میں شک نہیں کہ اس کے بعد حضرت آدمm سے لے کر حضرت محمدa تک رسولوں کے آنے کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ جب آیت خاتم النّبیین نازل ہوگئی تو معلوم ہوگیا کہ اب وہ سلسلہ ختم ہوچکا۔
دوسرا ثبوت: (تفسیر درمنثور ج۳ ص۸۲) میں (جس کا مرزاقادیانی نے بھی اپنے تالیفات میں اکثر حوالہ دیا ہے) سورۂ اعراف کی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ’’اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمیq قال ان اللہ تبارک وتعالٰی جعل آدم وذریتہ فی کفہ فقال یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون الآیۃ‘‘ کہ ابن جریر نے ابی یسار سلمیq سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ نے آدمm اور ذریت آدم کو اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ اے بنی آدم! اگر تمہارے پاس ہمارے رسول آئیں اور تم پر ہماری آیتیں پڑھیں تو جو شخص ان کے کہنے کے مطابق صلاح وتقویٰ اختیار کرے گا وہ خوف زدہ محزون نہ ہوگا اور جو انکار وتکذیب کرے گا وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا۔
اس روایت میں خاص اسی آیت کی تفسیر ہے جو قادیانی مربی عبدالماجد نے پیش کی ہے۔ اس روایت سے یأتیّن کی نون تاکید کا زمانہ استقبال کے لئے ہونا بھی صحیح ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ خطاب حضرت آدمm کے وقت کیاگیا تھا اور اس خطاب کے مطابق رسولوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہوا اور رہا، جب آیت خاتم النّبیین نازل ہوگئی تو معلوم ہوگیا کہ یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ خاتم النّبیین کی آیت کے نازل ہونے کے بعد اس آیت سے قیامت تک کے لئے رسولوں کے آنے پر استدلال کرنا یا تو محض حماقت ہے یادیدہ ودانستہ آیہ خاتم النّبیین کا انکار ہے۔
سورۂ حج میں ہے کہ:’’ اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس ان اللہ سمیع بصیر‘‘ اﷲتعالیٰ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسولوں کو اور انسانوں میں سے۔ بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
اس آیت کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ خدا کے رسول فرشتہ بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی۔ یہ مطلب کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ فرشتہ اور انسان ہمیشہ قیامت تک رسول بنا
کریں گے۔ ’’یصطفی‘‘ مضارع مطلق ہے۔ مضارع دوامی نہیں ہے۔ قادیانی عربی علم صرف کی کتاب ملاحظہ فرمائیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مضارع دوامی کا صیغہ عربی میں کس طرح بنتا ہے اور مضارع مطلق اور مضارع دوامی میں کیا فرق ہے؟ اس کے علاوہ جب ایک آیت سے قطعاً ثابت ہوگیا کہ رسالت ونبوت ختم ہوگئی۔ اب کوئی نبی ورسول چنا نہیں جائے گا۔ پھر اس آیت سے یہ سمجھنا کہ ہمیشہ انسانوں سے رسول چنے جائیں گے۔ کیسی ناسمجھی ہے۔ مولوی مربی کی حالت پر نہایت افسوس ہے کہ وہ ایسے رکیک رکیک استدلالات پیش کر کے خود اپنی علمی پردہ دری کا باعث ہوتے ہیں۔
اگر میں مرزاقادیانی کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانوں تو میری شفاعت بروز قیامت ہوگی یا نہیں؟
شفاعت کے متعلق رسول اﷲa نے فرمایا ہے: ’’شفاعتی لاہل الکبائر من المؤمنین‘‘اب آپ اپنے علماء سے دریافت کر لیجئے کہ مسیح موعود کے منکر کی شفاعت ہے یا نہیں۔
تمام علمائے اسلام کا عموماً اور علمائے اہل سنت وجماعت کا خصوصاً یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ مسیح موعود وہی حضرت عیسیٰ ابن مریمm بنی اسرائیلی نبی ہیں۔ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص مسیح موعود نہیں ہوسکتا۔ حضرت عیسیٰ ابن مریمm بنی اسرائیلی نبی کا منکر مومن نہیں ہے۔ اس کی شفاعت ہرگز نہیں ہوگی اور جو شخص جھوٹے مدعیان مسیحیت کا منکر ہے وہ مومن ہے۔ اس کی شفاعت ضرور ہوگی۔
راقم بندہ آثم: ابوالخیر سید محمد انور حسین عفی عنہ
پروفیسر ڈی۔جی کالج مونگیر، مورخہ ۹؍دسمبر ۱۹۱۷ء
مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دیکھیں تو کون مرزائی ان کا جواب دیتا ہے
بغیر جواب دیئے منہ دکھانا سخت بے غیرتی ہے
راقم الحروف عرصہ سے دیکھ رہا ہے کہ اہل حق نے مرزاغلام احمد قادیانی کی حالت کو نہایت روشن کر کے دکھایا اور اس قدر رسالے لکھے گئے کہ غالباً دوسرے کسی مدعی کاذب کی نسبت نہ لکھے گئے ہوں گے اور نہایت روشن بات یہ دکھائی گئی ہے کہ مرزاقادیانی نے بہت کچھ دعویٰ کئے اور مختلف طور سے چندے لئے۔ مگر ان کی ذات سے مسلمانوں کو اور اسلام کو بجز نقصان کے کسی قسم کا نفع نہیں ہوا۔ یعنی وہ نفع جوان کی ذات سے مخصوص ہو اور دوسرے ذی علم سے نہ ہوا ہو؟ اس کے جواب میں ہر ایک واقف کار نہایت یقین سے بے تأمل یہی کہے گا کہ کسی قسم کا نفع نہیں ہوا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مخالفین اسلام کا رد کیا۔ مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ خاص انہوں نے کی ہو۔ بلکہ اور علماء اسلام نے ان سے بہت زیادہ کیا اور اس کا نفع بہت زیادہ ہوا۔ حضرت مولانا ابواحمد صاحب عم فیضہ نے عیسائیوں کے جواب میں تیرھویں صدی کے آخر میں اور اس صدی کے شروع میں اس قدر کوشش کی کہ مرزاقادیانی نے اس کی عشر عشیر بھی نہیں کی۔ بہت رسائل لکھے اور متعدد مناظروں میں انہیں عاجز کیا اور بہت تدبیریں کیں۔ جن سے پادریوں کا غل وشور اس وقت ایسا کم ہوا کہ گویا نہیں رہا۔ مرزاقادیانی نے ایک مناظرہ کیا اور اس قدر غل وشور مچایا کہ خدا کی پناہ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پادریوں نے بہت خوشیاں منائیں اور مسلمانوں کو شرمندہ کیا۔ اس کی تفصیل الہامات مرزا میں ملاحظہ ہو۔
آریہ کے جواب میں رسالہ لکھا مگر کانپور کے مدرسہ الٰہیات کو دیکھا جائے کہ اس نے بہت رسالے لکھے۔ اطراف میں آریوں کا اثر مٹانے کے لئے اہل علم بھیجے گئے اور بہت کچھ فائدہ ہوا۔ مرزاقادیانی کی تحریروں سے اگر کچھ فائدہ ہوا ہو، مگر مضرت اس سے بہت
زیادہ ہوئی۔ براہین احمدیہ میں اسلام کی حقانیت پر ایک دلیل لکھ کر نہایت زور سے یہ اشتہار دیا کہ ہم تین سو دلیلیں اسی طرح کی حقانیت اسلام پر لکھیں گے اس کے چھپنے کے لئے پیشگی قیمت دو۔
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳،۲۴)
چونکہ اس وقت پادریوں نے زور کیا تھا۔ اس لئے مسلمانوں نے قیمت بھیجی اور ہزاروں روپیہ آیا۔ (رسالہ اشاعۃ السنہ ملاحظہ ہو) مگر باوجود پختہ وعدہ کے اور اس وعدے کے نہایت مشتہر ہونے کے مرزاقادیانی نے تین سو کی جگہ تین دلیلیں بھی نہ لکھیں اور مسلمانوں کے علاوہ مخالفین اسلام نے اچھی طرح معائنہ کیا کہ مسلمانوں کا مجدد اور مسلمانوں کے امام اور مسیح اور نبی ایسے جھوٹے ہوتے ہیں اور جھوٹ بول کر روپیہ کماتے ہیں؟ اس قسم کے الزامات اور بھی ہیں۔ اگر کوئی حق طلب دریافت کرے گا تو بیان کیا جائے گا۔ خدا پر جھوٹ کے اور وعدہ خلافی کے الزام لگائے۔ انبیاء کی بہت کچھ توہین کی۔ خود اس قدر جھوٹ بولے ہیں کہ ان کا شمار مشکل ہے۔ متعدد رسالوں میں انہیں دکھایا گیا ہے۔ صرف ایک صحیفہ محمدیہa نمبر۸ میں بائیس جھوٹ دکھائے ہیں اور اس رسالہ میں دکھائے جائیں گے اور جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ حضرت سرور انبیاءa کا ارشاد اس کی نسبت ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ بایں ہمہ اس صحیفہ کو چھپے ہوئے سال بھر سے زیادہ ہوگیا۔ مگر کسی مرزائی نے جواب تو نہیں دیا، البتہ یہ کہتے سنا کہ انبیاء جھوٹ بولتے ہیں اور حضرت ابراہیمm کے جھوٹ پر ایک روایت پیش کر دی۔ حالانکہ قرآن شریف میں ان کی نسبت ارشاد خداوندی ہے: ’’انہ کان صدیقاً نبیاً (مریم:۴۱)‘‘
اور حدیث میں آیا ہے کہ صدیق وہ ہے جو ہمیشہ سچ بولے اور سچائی کی تلاش میں رہے۔ اب جو روایت اس کے خلاف ہو اسے مرزائیوں کو اپنے قول کے بموجب نہ ماننا چاہئے۔ البتہ اس اعلانیہ کذب وافتراء پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک رسالہ مشتہر کیا جس میں ایک مقدس بزرگ مجدد وقت کو گالیاں دی ہیں۔ اسی بازاری پاجی نے پہلے بھی اسی مضمون کا رسالہ لکھا تھا اور اس کا محققانہ اور مہذبانہ جواب دو رسالے ’’تعبیر رویائے حقانی وجواب حقانی‘‘ میں دیاگیا تھا۔ مگر بازاری اور پھر قادیانی کے مقابلہ میں تحقیق وتہذیب سے کام نہیں چلتا۔ ان کے مقابلہ میں تو انہیں کے مثل بازاری شہدہ ہو اور ایک گالی کے عوض دس گالیاں دے۔ جب وہ خاموش ہوتے ہیں چونکہ اہل حق ایسی بیہودگی نہیں کر سکتے۔ اس لئے اس بے
حیا نے اسی مضمون کا دوسرا رسالہ لکھ دیا جس سے مرزاقادیانی کی اور ان کے مریدوں کی حالت معلوم ہوتی ہے۔ اس کے بعد دوسرا رسالہ اسی گروہ کا دیکھا گیا جس کا نام ’’النبوۃ فی الاسلام‘‘ ہے جس میں اپنے خیال میں یہ ثابت کیا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ جناب رسول اﷲa کے بعد بھی نبی ہوتے رہیں گے اور بہت سی جاہلانہ فریب باتیں اس میں بتائی ہیں اور عوام کو فریب دینے کے لئے بعض قرآن مجید کی آیتیں بعض حدیثیں، بعض بزرگوں کے اقوال پیش کئے ہیں۔ مگر یہ راقم نہایت خیرخواہی اور کمال وثوق سے کہتا ہے اور مجمع عام میں ثابت کرنے کے لئے تیار ہے کہ جو کچھ اس میں لکھا گیا ہے وہ قطعاً اور یقینا غلط ہے۔ آیتوں کے معنی میں تحریف کی ہے۔ غیرمعتبر روایتیں پیش کی ہیں اور ان کا مطلب نہیں سمجھے۔ بزرگوں کے کلام کو نہ سمجھنے کے علاوہ عبارت پوری نقل نہیں کی۔ اس میں شبہ نہیں کہ امت محمدیہa کے تمام علمائے کرام اور صوفیائے عظام کا اس پر اتفاق ہے کہ نبوت شرعیہ یعنی شریعت محمدیہ میں جس کو نبوت کہتے ہیں وہ قرآن وحدیث کی رو سے ختم ہوگئی۔ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا۔ حضرت سید المرسلینa کا آفتاب نبوت ایسا تاباں ودرخشاں ہوا اور قیامت تک روشن رہے گا کہ کسی چھوٹے یا بڑے کوکب کی حاجت نہ رہی اور اس آفتاب روشن جہان نبوت کے سامنے ایک کوکب کیا ہزار دس ہزار نبوت کے تارے بیکار ہیں۔ اس روشنی اور تابانی کے علاوہ حضور سرور دوجہاںa کی شان کا یہی تقاضا ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبیa نہ ہو اور آپa کی امت جسے اﷲتعالیٰ نے بہترین امت کا خطاب دیا ہے، راحت جاودانی کے بدلے عذاب دائمی کی مستحق نہ ہو۔ مدعیان نبوت نے اس شاہ دو جہاںa کی ان دونوں امتیازی اور عظیم الشان صفتوں سے انکار کیا اور حضور انورa کی امت کو جہنم کا مستحق بنا کر کلام الٰہی ’’کنتم خیر امۃ‘‘ سے انکار کر دیا۔ گو زبان سے نہ کہیں، چنانچہ مرزاقادیانی نے دعویٰ نبوت کر کے یہ اعلان کر دیا کہ جس نے مجھے نہ مانا وہ کافر جہنمی ہے۔
(تذکرہ ص۱۶۳، طبع سوم)
اس کا حاصل یہ ہوا کہ چودھویں صدی میں جو امت محمدیہa کی تعداد چالیس کروڑ ہوئی تھی ان سب کو بجز چند افراد کے جہنمی بنادیا۔
کہو میاں ارادت قادیانی آپ کے رسالہ ’’النبوۃ فی الاسلام‘‘اور آپ کے نبینے امت محمدیہa کو یہی فخر عنایت کیا کہ حضور سرور عالمa کی غلامی سے جو مخلوق کثیر نجات
دائمی کی سند حاصل کر چکی تھی اسے اس جدید نبی نے چھین کر اس معزز جماعت کو ہمیشہ کے عذاب کا مستحق بنا دیا؟ اور نبوت فی الاسلام کا یہ نتیجہ ہوا۔ ہوش کر کے اس کا جواب دو اور تم تو کیا دو گے کوئی قادیانی مربی اس کے جواب میں دم نہیں مار سکتا۔ مجمع عام میں گفتگو کر کے دیکھ لو۔
ہمیں میداں ہمیں چوگاں ہمیں گوی
اب میں اس رسالے کے جواب میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے اور آپ کی اصل گفتگو تو مرزاقادیانی کی نبوت میں ہے۔ ہم نے ان کا جھوٹا ہونا متعدد طریقوں سے ثابت کر دیا ہے۔ یعنی قرآن مجید سے، احادیث صحیحہ سے، ان کی ان پیشین گوئیوں کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے۔ جنہیں آپ کے مرشد نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان بڑے زوروشور سے بتایا تھا اور اپنے مرنے کے ایک سال قبل تک ان کی صداقت پر وثوق کرتے رہے۔ یہ وہ جھوٹ ہے جس کی صداقت معائنہ اور مشاہدہ سے ہورہی ہے۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں گواہ اس کی شہادت دل سے کرتے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی پیشین گوئی اشتہاروں اور اخباروں کے علاوہ (شہادۃ القرآن، خزائن ج۶ ص۳۷۵، ازالہ اوہام، خزائن ج۳ ص۳۰۵) وغیرہ میں کس زور سے کی گئی ہے اور خدا کا وعدہ بتایا گیا ہے کہ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد وہ عورت تیرے نکاح میں ضرور آئے گی اور سب موانعات دور ہوں گے۔ مگر معائنہ اور مشاہدہ اور تواتر اس کو ثابت کر رہا ہے کہ وہ عورت اور اس کا شوہر اس وقت تک زندہ موجود ہے اور مرزاقادیانی کو مرے ہوئے آٹھ برس سے زیادہ ہو گئے۔ اس پیشین گوئی کے جھوٹا ہو جانے سے مرزاقادیانی نے صرف اپنا ہی جھوٹا ہونا ثابت نہیں کیا بلکہ خداتعالیٰ پر جھوٹ وفریب کا الزام لگایا۔ اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔ اپنے جہاں کو خوش کر دینا اور بات ہے۔ اگر دعویٰ ہے تو معززین کے جلسہ میں آکر اس کا جواب دیجئے اور پھر دیکھئے کہ ہم اس کی کیسی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود ان کے پختہ اقراروں سے ان کا قطعی جھوٹا ہونا، ہر بد سے بدتر ہونا، ملعون ہونا ثابت کردیا ہے۔ (فیصلہ آسمانی دیکھو اور اب رسالہ مسیح قادیان پر اقراری ڈگریاں چھپا ہے اس میں دیکھ لیجئے گا) جب ہم ایسے مستحکم طریقوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کر چکے ہیں جن کے لئے آپ نے یہ رسالہ لکھا ہے تو اب ہم فضول گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ نبوت ختم ہو گئی یا نہیں ہوئی۔ مگر ایسا جھوٹا شخص ہرگزاس مقدس عہدہ کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ پہلے جس طرح آپ حضرات حضرت مسیحm کی حیات
وممات کو ضروری بنا کر مرزاقادیانی کے کذب پر پردہ ڈالتے تھے۔ اب ایک دوسرامسئلہ اسی غرض سے نکالا ہے۔
اے نادان دشمنو! اس پر غور کرو۔ جو دلیلیں مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی بیان کی گئیں ان کے علاوہ ان کے اعلانیہ جھوٹ بھی دکھائے گئے۔ محض تمہاری خیرخواہی کے خیال سے ان کا جواب تو تم نہیں دے سکے۔ ایک بے جوڑ مسئلہ پر رسالہ لکھ دیا۔ اس رسالے سے مرزاقادیانی سچے نہیں ہوسکتے۔ صحیفہ محمدیہ نمبر۸ میں بائیس جھوٹ حیرت ناک دکھائے ہیں ان کا جواب دیجئے اور اسی صحیفہ کے نمبر۱۳ میں بہت جھوٹ دکھائے ہیں ان جھوٹوں سے اپنے مرشد کی برأت ثابت کیجئے۔ پھر اور کچھ لکھئے گا۔ مگر تم اپنی عمر میں تو ان کا جواب نہیں دے سکتے۔ بطور مثال ایک عبارت مرزاقادیانی کی پیش کرتا ہوں۔ (انجام آتھم ص۳۰، خزائن ج۱۱ ص۳۰ حاشیہ) میں لکھتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور (۱)پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا (۲)وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی (۳)شرط نہیں تھی۔ جیسا کہ (۴)تفسیر کبیر ص۱۶۴ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں (۵)احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔ مگر وہ وعدہ پورا نہ ہوا۔‘‘
اب میاں ارادت قادیانی اور ان کے گمراہ کرنے والے بتائیں کہ وہ قطعی طور سے چالیس دن کا وعدہ کس یقینی آسمانی کتاب میں ہے۔ قرآن وحدیث متواتر میں کہیں اس کا پہ نہیں ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ یہ پانچ دعویٰ جن پر میں نے ہندسہ دے دیا ہے۔ قطعی پانچ جھوٹ ہیں۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ اوّل تو نزول عذاب کا وعدہ ہی ثابت نہیں ہوتا بلکہ قرآن مجید سے اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے۔ (اس کی تفصیل رسالہ تذکرہ یونسm میں کی گئی ہے۔ ناظرین اسے ضرور ملاحظہ کریں تاکہ مرزاقادیانی کے اس کامل جھوٹ کا معائنہ ہو جائے جس کو مرزاقادیانی نے باربار بول کر خوب مشق کر لیا ہے) اس لئے (۱)پہلا جھوٹ تو یہی ہے اور جس ضعیف روایتوں میں وعدہ کا ذکر ہے ان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ وعدہ الٰہی ہے بلکہ حضرت یونسm نے امم سابقہ پر قیاس کر کے اپنی امت کو ڈرایا ہے۔ البتہ ایک ضعیف روایت سے وعدہ الٰہی معلوم ہوتا ہے۔ مگر اسی روایت میں اس وعدے کا پورا ہونا بھی آیا ہے۔ اب مخلوق پر ظاہر کرنا کہ منکوحہ آسمانی والا وعدہ اسی طرح پورا نہ ہو جس طرححضرت یونسm سے نزول عذاب کا وعدہ الٰہی ہوا تھا اور پورا نہ ہوا (۲)یہ دوسرا جھوٹ ہے اور
صرف جھوٹ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو سخت فریب دیا ہے اور اس قدوس پر عیب لگایا ہے جو ہر عیب سے پاک ہے۔ (۳)تیسرا جھوٹ یہ ہے کہ اس وعدہ کا بلاشرط کہتے ہیں۔ جب وعدہ ہی کا ثبوت نہیں ہے تو پھر اس میں شرط اور بے شرط کیسا؟ اس کے بعد جو تفسیر کبیر کا حوالہ دیاہے۔ اس سے مقصود تینوں دعوؤں کا ثبوت ہے یا صرف آخر کے دعوے کا یعنی شرط کا نہ ہونا۔ مگر ہر طرح غلط ہے۔ تفسیر کبیر سے کوئی دعویٰ مرزاقادیانی کا ثابت نہیں ہوتا اور اگر صرف تیسرے دعویٰ کے ثبوت میں حوالہ دیا ہے تو بھی محض غلط ہے۔ اسی تفسیر کبیر کی (ج۶ ص۱۸۸) میں صاف طور سے شرط موجود ہے کہ اگر ایمان نہ لائیں گے تو ان پر عذاب آئے گا اور تفسیر روح المعانی وغیرہ میں بھی شرط موجود ہے۔
اس کی عبارت یہ ہے: ’’فاوحی اللہ تعالٰی الیہ قل لہم ان لم یؤمنوا جاء لہم العذاب‘‘ یہی عبارت شیخ زادے محشے بیضاوی کی ہے اور ان کا ایمان لانا قرآن سے ظاہر ہے۔ چنانچہ حضرت یونسm کی نسبت ارشاد ہے: ’’وارسلنہ الی ماۃ الف اویزیدون فامنوا‘‘
ہم نے یونس کو ایک لاکھ بلکہ زائد کافروں کی طرف بھیجا پس وہ ایمان لے آئے۔ مرزاقادیانی پر تو نہ ان کی منکوحہ آسمانی ایمان لائی نہ اس کا شوہر وغیرہ۔ پھر اپنی پیشین گوئی کے جھوٹا ہونے پر حضرت یونس کو پیش کرنا کیسا صریح فریب ہے؟ یہ بھی خیال رہے کہ ہمارا حوالہ مرزاقادیانی کے حوالے کی طرح بے تکا نہیں ہے کہ تفسیر کا نام لکھ کر صفحہ لکھ دیا اور جلد کا پتہ ندارد۔ غرضیکہ یہ حوالہ (۴)چوتھا جھوٹ ہے اور تفسیر درمنثور کا حوالہ دیگر احادیث صحیحہ سے اسے ثابت بتانا (۵)پانچواں جھوٹ ہے۔ احادیث صحیحہ سے ان دعوؤں کا ثبوت ہرگز نہیں ہے۔ سب دعوؤں کا کیا ثبوت ہوتا ایک دعویٰ کا بھی ثبوت صحیح حدیثوں سے نہیں ہے۔ انجام آتھم میں اس قسم کے بہت جھوٹ ہیں اور اس کو خلیفہ قادیان بھی معلوم کر چکے ہیں۔ مگر یہ جھوٹ تو ایسے ہیں کہ مرزاقادیانی نے متعدد رسالوں میں ان کا استعمال کیا ہے۔ تتمہ حقیقت الوحی میں بھی نہایت زور سے حضرت یونسm پر یہ افتراء کیا ہے اور اس کے پورا نہ ہونے کو بیان کیا ہے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۷۱)
اصل بات یہ ہے کہ جب مرزاقادیانی کی بڑی عظیم الشان پیشین گوئی جھوٹی ہوئی ہیں تو انہوں نے ان جھوٹی پیشین گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے حضرت یونسm کی پیشین
گوئی کے جھوٹا ہونے کا ذکر کیا ہے۔ مگر ناظرین اس کا خیال رکھیں کہ حضرت یونسm نے کوئی ایسی پیشین گوئی نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ کسی ضعیف روایت سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہے اور قطعی اور یقینی ثبوت تو بڑی بات ہے۔ جن حضرات کے ایسے قطعی اور یقینی جھوٹ ثابت ہوں اور جس نے اعلانیہ افتراء، ایک مقدس نبی پر کیا ہو۔ اس پاک ذات کا برگزیدہ ہوسکتا ہے؟ جسے جھوٹ سے کمال نفرت ہے جس کے برگزیدہ رسول کا ارشاد ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا؟ ہرگز نہیں۔
اب ایک نمونہ ان کی جھوٹی تعلّیوں کا ملاحظہ کر لیجئے۔ (انجام آتھم ص۴۹، خزائن ج۱۱ ص۴۹) میں لکھتے ہیں:
۱… ’’خدا نے میری سچائی کے سمجھنے کے لئے بہت سے قرائن واضح ان کو عطاء کئے تھے۔‘‘ (محض غلط، خدا کی طرف سے کوئی قرینہ ان کی صداقت کا نہیں ہوا)
۲… ’’میرا دعویٰ صدی کے سر پر تھا۔‘‘ (یہ قرینہ مدعی کے سچے ہونے کا ہرگز نہیں ہے، اس کو صداقت کا قرینہ کہنا صریح جھوٹ ہے، جس مدعی کا جھوٹا ہونا متعدد دلیلوں سے ثابت ہوگیا ہو اس کا دعویٰ صدی کے سر پر ہویا پیر پر ہو، وہ ہر وقت جھوٹا ہے۔ اگر مجدد کے لئے دعویٰ کی ضرورت ہوتی تو حدیث میں اس کا ذکر ہوتا، تیرہ صدیوں میں جو مجدد آئے وہ دعویٰ کرتے اور دنیا کو اس کی اطلاع ہوتی۔ مگر کہیں خبر نہیں ہے اور بجز دو ایک کے کسی نے دعویٰ نہیں کیا)
۳… ’’میرے دعویٰ کے وقت میں خسوف وکسوف رمضان میں ہوا تھا۔‘‘ (یہ صداقت کا قرینہ ہرگز نہیں ہے اس کو قرینہ کہنا محض غلط اور صریح جھوٹ ہے۔ دوسری شہادت آسمانی میں نہایت تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہ معمولی گہن جیسے ۱۳۱۲ھ میں ہوئے تھے۔امام مہدی کی علامت ہرگز نہ تھی۔ مرزاقادیانی نے اس دعویٰ میں بہت جھوٹ فریب سے کام لیا ہے)
۴… ’’میرے دعویٰ الہام پر پورے بیس برس گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔‘‘ (یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ بعض مفتریوں کو بہت کچھ مہلت دی گئی ہے)
۵… ’’میری پیشین گوئی کے مطابق خدا نے آتھم کو کچھ مہلت بھی دی اور پھر مار بھی دیا۔‘‘ اوّل تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی اور یوں مرنے کو لوگ دنیا میں مرتے ہی ہیں۔ اس کی تفصیل الہامات مرزا میں دیکھئے۔ دوسرے یہ کہ پیشین گوئی کے پورا ہونے کو صداقت کا قرینہ کہنا محض غلط ہے۔ پہلے کاہن پیشین گوئیاں کرتے تھے اور وہ پوری ہوتی تھیں اور اب بھی رمّال
وغیرہ کرتے ہیں اور اکثر پوری ہوتی ہیں اور اخباروں میں چھپتا ہے۔ یہ دو جھوٹ ہوئے
۶… ’’مجھ کو خدا نے بہت سے معارف اور حقائق بخشے۔‘‘ (یہ محض غلط ہے۔ البتہ جھوٹی باتیں بنانا اور جہلاء کو بہکانا اور بڑے زور سے جھوٹے دعوے کرنا خوب آتا ہے۔ اﷲتعالیٰ نے انہیں صفت اضلال کا نمونہ بنایا تھا۔ حقائق اور معارف صوفیائے کرام کی کتابوں میں دیکھی جائیں۔ مثلاً فتوحات مکیہ، الیواقیت والجواہر، ان میں حقائق کا بیان ہے۔ مرزاقادیانی کے یہاں تو جھوٹ وفریب کا انبار ہے۔ چنانچہ یہاں چار سطروں میں سات جھوٹ ہوئے)
پھرلکھتے ہیں:
۱… ’’قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت جلد اس کو کچل ڈالتی ہے اور ہلاک کرتی ہے۔‘‘
پھر ایک سطر کے بعد لکھتے ہیں: ’’ایک مفتری کا اس قدر دراز عرصہ تک افتراء میں مشغول رہتا اور خداتعالیٰ کا اس کے افتراء پر اس کو نہ پکڑنا۔‘‘ ایسا امر ہے کہ:
۲… ’’جب سے خداتعالیٰ نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے اس کی نظیر ہرگز نہیں پائی جاتی۔‘‘
(انجام آتھم ص۴۹، خزائن ج۱۱ ص۴۹)
(محض غلط، اس کی متعدد نظریں دکھائی گئی ہیں) اور پھر یہی مضمون (رسالہ مذکور ص۶۳، خزائن ج۱۱ ص۶۳ حاشیہ) میں ہی لکھتے ہیں:
۱… ’’توریت اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے۔‘‘
۲… ’’کوئی نام لینے والا اس کا باقی نہیں رہتا اور انجیل میں بھی لکھا ہے۔‘‘
پھر اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:
۳… ’’ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔‘‘
۴… ’’خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔‘‘ اور ہم لکھ چکے ہیں کہ
۵… ’’توریت بھی گواہی دیتی ہے اور انجیل بھی۔‘‘
۶… ’’فرقان مجید بھی۔‘‘
ان دونوں قولوں میں مرزاقادیانی نے پانچ جھوٹے دعوے کئے ہیں اور تین کا ثبوت کتب مقدسہ ثلاثہ سے بتایا ہے۔
(حالانکہ کسی کتاب الٰہی سے ان دعوؤں کا ثبوت نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ نو جھوٹ ہوئے۔ کیونکہ تین جھوٹے دعویٰ کئے اور ہر ایک کا ثبوت تینوں آسمانی کتابوں سے بتایا۔ اس لئے نو جھوٹ ہوئے) وہ تین دعویٰ یہ ہیں:
۱… قرآن شریف کے متعدد نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ جھوٹا مدعی وحی والہام دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور جلد تباہ ہو جاتا ہے اور اس کا ثبوت متعدد آیات سے بتاتے ہیں۔ مگر محض غلط ہے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون ہرگز نہیں ہے۔
۲… توریت سے بھی یہ دعویٰ ثابت ہے۔
۳… انجیل سے بھی ثابت ہے۔ مگر یہ تینوں دعویٰ محض غلط ہیں۔ ان دعوؤں کا جھوٹا ہونا واقعات سے اور قرآن مجید کی متعدد آیات سے ثابت ہے۔ (رسالہ عبرت خیز ملاحظہ کیا جائے) غرضیکہ یہ تین جھوٹے دعویٰ ہیں اور پھر ہر ایک کے ثبوت کے لئے چھوٹا حوالہ دیا ہے۔ اس لئے نو جھوٹ تو یہ ہوئے اور دو جھوٹ وہ ہیں جن کے ثبوت میں وہ اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ اس لئے ان دونوں قولوں میں گیارہ جھوٹ ہوئے۔ چھ سات سطروں میں اور سات جھوٹ اس سے پہلے قول میں اور پانچ اوّل قول میں۔ غرضیکہ ان تین قولوں میں پورے تیئس جھوٹ ہوئے۔ ان کا یہ کہنا کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانے میں چل نہیں سکا۔ محض غلط ہے۔ بعض مدعیان نبوت کا افتراء ایسا چلا ہے کہ مرزاقادیانی ان کے جوتے کے گرد کو بھی نہ پہنچے۔ چنانچہ طریف اور صالح اور ابوعیسیٰ کا دعویٰ اور ان کی بادشاہت تاریخ ابن خلدون سے دکھائی گئی ہے اور آئینہ کمالات مرزا عنقریب چھپا ہے۔ اس میں غالباً اسی قدر جھوٹ مرزاقادیانی کے دکھائے گئے ہیں۔ اب دونوں کا مجموعہ کر لیجئے اور اگر نظر کو اور وسیع کیجئے تو جھوٹ کا دفتر دیکھئے۔ مثلاً ان کے اعجاز احمدی کا جواب لکھا گیا ہے۔ جس میں قصیدہ کی سینکڑوں غلطیاں دکھا کر قصیدہ جوابیہ کی تمہید میں ان کے جھوٹ دکھائے ہیں۔ چنانچہ ص۲۴ حصہ دوم میں اس رسالہ کی نسبت لکھتے ہیں کہ: ’’مرزاقادیانی نے سینکڑوں جھوٹ لکھے ہیں اور افتراء سے اس کو بھردیا ہے۔ آپ خود خیال فرمائیں کہ جب سات صفحے میں موٹے موٹے
اور سرسری نظر میں ۲۳جھوٹ ہوئے اور یہ کتاب اشتہار سمیت نوے صفحے کی ہے تو اس حساب سے سینکڑوں جھوٹ اس میں کہنا بالکل صحیح ہے۔‘‘
یہاں انجام آتھم کی چند سطروں میں تیئس جھوٹ دکھائے گئے۔ اب سات صفحوں میں ۳۳جھوٹ کا ہونا کچھ تعجب نہیں ہے۔ جناب والا کو جھوٹ بولنے کی ایسی مشق تھی کہ ان کا شمار دشوار ہے۔ ان کی کچھ تعداد صحیفہ محمدیہ کے نمبر۸ اور ۱۳ میں دکھائی گئی ہے۔ آخر نمبر میں کروڑوں تک اس کا شمار پہنچ گیا ہے۔ متعجب ہوکر انکار نہ کر دیجئے گا۔ نمبر۱۳ کو ملاحظہ کر لیجئے۔ یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ صالح ابن طریف نے حضرت خاتم النّبیینa کو مان کر نبی اور مہدی اکبر ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے اوپر کتاب الٰہی کے نزول کا بھی مدعی تھا اور اس میں اسی طرح کی سورتیں بنائی تھیں۔ جس طرح قرآن مجید میں ہیں اور اس کے پیرو انہیں نماز میں پڑھتے تھے اور دعویٰ نبوت تشریعی کے ساتھ اڑتالیس برس تک بادشاہی کرتا رہا اور لاکھوں کروڑوں اس کے مطیع اور امتی رہے اور پھر بھی نہیں مرا اور اپنے بیٹے کو تخت سلطنت پر بیٹھا کر جنگل چلا گیا۔ (رسالہ عبرت خیز دیکھو) مرزاقادیانی تو بیس ہی برس اپنے عروج کا بیان کر رہے ہیں جس میں دس بیس گاؤں کے بھی مالک نہ ہوئے اور نہ ان کے مرید اس قدر ہوئے اور نہ انہیں نبوت صراحۃً تشریعی کرنے کا حوصلہ ہوا۔ البتہ بڑے زور سے جھوٹ بولنے اور افتراء پردازی کرنے کا بڑا حوصلہ تھا۔
ایک اور نمونہ ملاحظہ کیجئے اس انجام آتھم مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان کے ص۴۶ میں فرماتے ہیں: ’’اس بات کی کسی کو خبر نہیں کہ دنیا میں اس زمانے میں ایک ہی فتنہ ہے جو کمال کو پہنچ گیا ہے اور الٰہی تعلیم کا سخت مخالف ہے۔ یعنی کفارہ اور تثلیث کی تعلیم، جس کو صلیبی فتنہ کے نام سے موسوم کرنا چاہئے۔ کیونکہ کفارہ اور تثلیث کے تمام اغراض صلیب کے ساتھ وابستہ ہیں… پس خدا نے اپنے وعدے کے موافق چاہا کہ اس صلیبی فتنہ کو پارہ پارہ کرے۔ (خوب خیال رہے کہ یہ وعدہ الٰہی تھا اور مشیت الٰہی بھی ہوگئی کہ صلیبی فتنہ پارہ پارہ کیا جائے) اور اس نے ابتداء سے اپنے نبی مقبولa کے ذریعہ سے خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کافرکش ہے۔ یہ فتنہ فرو ہوگا اسی کا نام عیسیٰ اور مسیح موعود ہوگا۔‘‘
(انجام آتھم ص۴۶، خزائن ج۱۱ ص۴۶)
ناظرین خوب ملاحظہ کریں۔ اس قول کا حاصل یہ ہے کہ صلیبی فتنہ سے مراد تثلیث اور کفارہ کی تعلیم ہے اور مسیح موعود کی وجہ سے یہ تعلیم نیست ونابود ہو جائے گی یا بہت کم ہو جائے گی۔
اب مرزائی بتائیں کہ بیس پچیس برس سے زیادہ مرزاقادیانی کا بیان اور تحریر اور انفاس کافرکش رہی اور بہت کچھ غل مچایا مگر کیا نتیجہ ہوا؟ ان کے بیان کو سن کر کتنے تثلیث پرست مسلمان ہوئے ان کے تاثیر کلام سے کتنے کفارہ پر ایمان رکھنے والے تائب ہوئے۔ ان کا فرکش انفاس نے کتنے صلیب پرستوں کی کشی کر کے دکھایا؟
اے بھائیو! اس کا کوئی معقول جواب ہوسکتا ہے؟ سوا اس کے کچھ نہیں ہوا اور مرزاقادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے۔ ساری دنیا کے علاوہ صرف ہندوستان میں جس قدر تثلیث پرست تھے ان میں سے سو پچاس بھی کم نہ ہوئے۔ اس مسیح کی وجہ سے بلکہ اس کے برعکس یہ ہوا کہ جو کفارہ اور تثلیث کے مخالف اور مسلمان تھے۔ انہیں اس مسیح (مرزاقادیانی) نے کافر جہنمی بناکر دنیا کو اسلام سے خالی کر دیا۔ اب غضب ہے کہ انہیں سچا مسیح موعود کہا جائے جن کا جھوٹا ہونا ان کے اعلانیہ اقرار سے آفتاب کی طرح روشن ہو رہا ہے جن کے جھوٹ ثابت کر رہے ہیں کہ ایسا شخص تو صالح مسلمان بھی نہیں کہلا سکتا۔ تعجب ہے کہ اسے نبی اور مسیح موعود کہا جائے۔ دیکھئے ان دل کے اندھوں پر کیا بلانازل ہونے والی ہے۔ ان روشن باتوں پر کچھ نظر نہیں ہے۔ ان کا کچھ جواب نہیں دیا جاتا۔ نبوت فی الاسلام ثابت کی جاتی ہے۔
بایں خواری امید ملک داری
اب یہ فرمائیے کہ جس شخص کے ایسے اعلانیہ جھوٹ ثابت ہوں جن کا نمونہ یہاں ۲۳جھوٹ دکھائے گئے ہیں اور بے شمار جھوٹوں کا حوالہ دیا ہے۔ اسے آپ کا رسالہ کوئی نفع پہنچا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر ہم ایسی اعلانیہ باتوں کو چھوڑ کر آپ کے رسالہ کی بے تکی باتوں اور غلط بیانیوں کی طرف توجہ کر کے اپنا وقت کیوں ضائع کریں؟ اس کے علاوہ ہمارے علمائے حقانی نے متعدد طریقے سے متعدد رسالوں میں ختم نبوت کو ثابت کر کے حجت تمام کر دی ہے۔ مگر دل کے نابینا ان حقانی رسائل کو کیا دیکھیں گے اور سچی باتوں کو کیوں مانیں گے؟ جو رسالے اس مضمون پر لکھے گئے ہیں طالبین حق کے لئے ان کے نام لکھتا ہوں۔
قادیانی اخباروں میں نبوت کے ختم نہ ہونے پر آیت قرآنی اور بعض صوفیاء کے
اقوال پیش کئے تھے۔ ان کا جواب نہایت خوبی اور کمال تہذیب سے مولانا حسن پھلواری مرحوم نے اس رسالہ میں دیا ہے اور مطبع اخبار اہل فقہ امرتسر میں یہ رسالہ ۱۳۳۱ھ چھپا ہے۔ اس کے ہمراہ ایک ضمیمہ ہے جس میں مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کو جھوٹا ثابت کر کے مرزائی اقوال کو اسلامی عقائد کے بالکل مخالف ثابت کیا ہے۔ ۳۶صفحے کا رسالہ ہے۔
یہ رسالہ ۲۲۴صفحہ کا ہے اور قاسم علی مرزائی نے جو اسی مضمون پر رسالہ ’’النبوۃ فی خیر الامۃ‘‘ لکھا تھا۔ اس کا یہ جواب ہے اور مرزاقادیانی کی صداقت کی بنیاد اکھیڑ کر پھینک دی ہے۔ یعنی ان کی صداقت میں جو باتیں پیش کی جاتی ہیں سب کا غلط ہونا نہایت محققانہ طور سے ثابت کر دیا ہے۔ قابل دید رسالہ ہے اس کے مؤلف منشی پیربخش صاحب بڑے ہمدرد اسلام ہیں جن کا ماہواری رسالہ قادیانی جھوٹ کی اشاعت میں بھاٹی دروازہ لاہور سے نکلتا ہے۔ ۱۳۳۱ھ میں یہ رسالہ چھپا ہے۔ چھ برس ہوئے مگر اب تک کسی نے جواب نہیں دیا اور نہ کوئی دے سکتا ہے۔
یہ بھی قاسم علی مرزائی کے رسالہ مذکورہ کا جواب ہے اور ثابت کیا ہے کہ نبوت ختم ہوگئی۔ خلافت باقی ہے اور آخر میں امامت قادیانی پر عمدہ بحث کر کے نہایت تحقیق وتہذیب سے مرزاقادیانی کا امام نہ ہونا ثابت کیا ہے۔ یہ رسالہ ۱۳۳۳ھ مطبع قیومی کانپور میں چھپا ہے۔ اس کا جواب بھی کوئی نہیں دے سکا۔
مونگیر میں یہ خبر مشہور ہوئی تھی کہ مرزامحمود قادیانی مونگیر سے ہوتے ہوئے کلکتہ جائیں گے۔ اس خوشی میں جناب مولانا مفتی عبداللطیف صاحب نے ایک خط مرزامحمود قادیانی کو لکھا تھا کہ اگر آپ یہاں تشریف فرماہوں تو ہم مرزاقادیانی کی نبوت پر گفتگو کریں گے۔ آپ وہاں سے تیار ہوکر آئیے گا اور بطور نمونہ قرآن وحدیث سے ختم نبوت کو ثابت کر کے دکھایا تھا اور قادیان بھیجا تھا۔ یہ ۱۳۳۴ھ کا واقعہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کے مربی اس کا جواب کئی برس تک سوچتے رہے۔ تیسرے برس نبوت فی الاسلام نکالا ہے۔ مگر چونکہ ان
کا دل شاہد تھا کہ اس کا جواب دیا جائے گا اور غلطیاں دکھائی جائیں گی۔ اس لئے ایک جاہل کے نام سے مشتہر کردیا تاکہ قادیان کے لوگ بدنامی سے بچیں۔ مگر لطف توجب تھا کہ کوئی قادیانی سامنے آتا اور بالمشافہ گفتگو ہوتی۔ مگر قادیانیوں میں اس قدر جان کہاں وہ اپنی حالت کو جان چکے ہیں۔ مگر بعض کو ضد اور جاہلانہ غیرت اس سے علیحدہ ہونے سے مانع ہے۔ بعض کی روٹیاں اسی پر ہیں۔ جس طرح پادریوں کے مشن سے بہت کرسٹاں (پادری) تنخواہ پاتے ہیں اس لئے اسے جھوٹا جان لینے کے بعد بھی علیحدہ نہیں ہوتے۔ چنانچہ ایک کرسٹان نے پیغام محمدی دیکھ کر صداقت کا اقرار کیا۔ مگر جب کہا گیا کہ آپ جھوٹ سے علیحدہ کیوں نہیں ہوتے تو صاف جواب دیا کہ اس قدر تنخواہ کون دے گا۔ بال بچوں کی پرورش کس طرح ہوگی؟ یہ قدیم مسیحی ہیں۔ انہیں کے پیروجدید مسیحی مرزائی ہیں۔
ایک مرزائی نے اپنا رسالہ حضرت مسیحm کی ممات پر لکھ کر خانقاہ رحمانیہ میں بھیجا تھا اس کا نام چیلنج ہے۔ اس کے جواب میں یہ رسالہ لکھا گیا۔ اس میں مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا متعدد طریقوں سے دکھاکر یہ لکھا گیا ہے کہ ہم نے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کردیا۔ اب ہمیں مسیحm کی حیات وممات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت مسیح زندہ ہوں یا نہ ہوں، مگر ایسا جھوٹا شخص مسیح موعود ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ مرزائی اس کے جواب سے عاجز رہا۔ اس میں بھی ختم نبوت کو قرآن وحدیث سے ثابت کیاگیا ہے۔
اس میںبھی وہی مضمون ہے مگر اس میں اس آیت کے معنی بھی لکھے ہیں۔ جس سے مرزائی حضرات اپنا مدّعا ثابت کرتے ہیں اور اس معنی کا قرینہ ثبوت قرآن مجید کی دوسری آیت سے دیا ہے اور جناب رسول اﷲa کے بعد نبی نہ آنے کی وجہ نہایت ہی عمدہ بیان کی ہے۔ جس سے جناب رسول اﷲa کی عظمت وشان اور امت محمدیہ کی شان کامل طور سے ثابت ہوتی ہے۔ رسالہ ص۱۷تا۲۰ تک دیکھا جائے۔ مگر امر حق کو ماننا تو طالبین حق کا کام ہے۔ راقم الحروف اس آیت کی توضیح کامل طور سے کرے گا۔ جس سے اہل حق بہت مسرور ہوں گے اور قادیانی مربی حیران ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
اس میں نہایت پرزور تقریر سے آیت قرآنی اور احادیث صحیحہ پیش کر کے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے اور مرزائیوں کے شبہات کا جواب دیا ہے اور آیت: ’’یابنی اٰدم امایاتینکم رسل (اعراف:۳۵)‘‘ سے جو دوام نبوت ثابت کیا جاتا ہے اس کے متعدد جواب دئیے ہیں۔ ص۲۹تا۳۲ تک دیکھئے۔ یہ رسالہ ماہ دسمبر ۱۹۱۷ء میں چھپا ہے۔
اس آیت کی نسبت میں مختصر بات کہتا ہوں کہ ’’اما یاتینکم‘‘ جملہ شرطیہ کا مقدم ہے۔ وعدہ الٰہی نہیں ہے جس کا پورا ہونا ضرور ہو۔ یعنی یہ کہاگیا ہے کہ اگر رسول آئیں اس سے تو یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ رسولوں کا آنا ضروری ہے۔ پھر یہ ثابت کرنا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد رسول آتے رہیں گے، سخت جہالت ہے۔ یہ جملہ تو ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے کہ میاں ارادت اگر کچھ سمجھ رکھتے اور بھائی وغیرہ کے بہکانے میں نہ آتے تو گمراہ نہ ہوتے۔ اب وہ یہ فرمائیں کہ اس جملہ شرطیہ کا مقدم واقعی ہے یا ان کا سمجھدار ہونا ضروری ہے۔ اگر واقعی نہیں ہے اور نہ جملہ شرطیہ کے لئے یہ ضرور ہے بلکہ کسی اپنی مصلحت اور ضرورت کی وجہ سے ایسے جملے بولے جاتے ہیں تو پھر ایسے جملہ کو دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرنا جہالت نہیں تو کیا ہے؟ اور لطف یہ ہے کہ وہ حضرات اس جملہ سے اپنا دعویٰ قطعی طور سے ثابت کرنا چاہتے ہیں جن کے خلیفہ اوّل (قادیانی) کا اﷲتعالیٰ کی نسبت یہ جملہ مشہور ہو:’’یعد ولا یوفی‘‘یعنی اﷲتعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور پورا نہیں کرتا۔
اب دیکھا جائے کہ جب وعدہ الٰہی لائق اعتبار نہیں ہے اور کسی وقت وہ پورا نہیں ہوتا تو پھر اس جملہ شرطیہ کو وعدہ سمجھ کر اس کے پورا ہونے پر کیونکر اطمینان ہوسکتا ہے اور انبیاء کے آنے کا یقین کر لینے کی کیا وجہ ہے؟ اور یہ بھی یاد رکھئے کہ لفظ’’یاتینکم‘‘استقبال کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ جس سے آپ آئندہ نبی کا آنا قطعی طور سے ثابت کریں۔ اس کی تفصیل مرزائیوں کی معتبر کتاب عسل مصفٰی میں دیکھئے۔ جو لفظ’’لیؤمنن‘‘ کی تفسیر میں اس کے مؤلف نے کی ہے اور مرزاقادیانی نے مولوی محمد بشیر صاحب کے مقابلہ میں ’’لیؤمنن‘‘کے بیان میں لکھا ہے۔
غرض کہ اس آیت سے آپ کا مدّعا ہرگز ثابت نہیں ہوتا اور قرآن مجید کی آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ سے تمہارے دعویٰ کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ چنانچہ سات رسائل مذکورہ میں دیکھا گیا ہے۔ اب آٹھواں رسالہ یہ پیش کیا جاتا ہے جس کا نام: ’’ختم النبوۃ فی الاسلام‘‘ہے۔ اس میں نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ اور اکابر امت محمدیہ کے اتفاق سے اور مرزاقادیانی کے اقوال سے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا ہے اور قادیانی رسالہ کے مہملات اور اس کے اغلاط ضمناً کچھ بیان کئے گئے ہیں۔ اگر پوری توجہ کی جائے تو صرف اس کے اغلاط کے بیان میں ایک بڑا رسالہ ہو جائے جس میں تضیع اوقات کے علاوہ تضیع مال بھی ہے۔
اب میں چاہتا ہوں کہ اس رسالہ کے بیان کا نمونہ بھی قادیانی حضرات کے روبرو پیش کروں۔ رسالہ مذکور میں آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ اور اقوال ائمہ امت محمدیہ نقل کر کے لکھا ہے۔ افسوس ہے مرزائی جماعت کی تیرہ درونی اور نفسانی ضد پر یا ان کی جہالت پر کہ بعض آیتوں کو ان نصوص قطعیہ کے خلاف سمجھتے ہیں اور قیامت تک نبی کا آنا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ یقین کر لیں کہ اگر ان کی ساری جماعت قیامت تک زور لگاتی رہے تو یہ جھوٹا دعویٰ ہرگز ثابت نہیں کر سکتی۔ سب سے بڑا استدلال ان کا آیت ذیل سے ہے۔ اس پر طالبین حق خوب غور فرمائیں۔
آیت:’’یٰبنی اٰدم امایاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون والذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنہا اولئک اصحٰب النار ہم فیہا خلدون (الاعراف:۳۵،۳۶)‘‘اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس رسول آئیں تمہاری جنس کے اور میری نشانیاں تم سے بیان کریں جو انہیں سن کر خدا سے ڈرا اور اپنی اصلاح کی، انہیں کسی بات کا خطرہ نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جس نے ان نشانیوں کو جھلایا اور ان کے ماننے سے سرکشی کی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
اس آیت میں کئی لفظ قابل غور ہیں۔ اوّل:’’یا بنی اٰدم‘‘یہ خطاب عام نبی آدم سے ہے یا خاص امت محمدیہ سے اس پر غور کرنے کے لئے دیکھا جائے کہ اس کے دوسرے رکوع سے حضرت آدمm کا ذکر ہے اور سارے رکوع میں انہیں کا قصہ ہے۔ پھر تیسرا رکوع اسی خطاب سے شروع ہوا ہے۔ ’’یا بنی اٰدم قد انزلنا علیکم
(الاعراف:۲۶)‘‘ اس میں اﷲتعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کر کے اپنا عام احسان بیان فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو لباس عنایت کیا تاکہ تم اپنے ظاہری جسم کو ڈھانکو اور زینت کرو اور تقویٰ اور پرہیزگاری کا لباس اندرونی حالت درست کرنے کے لئے نہایت خوب ہے۔
اس بیان کے بعد پر اسی عام خطاب ’’یا بنی اٰدم‘‘ سے تمام بنی آدم کو متنبہ کیا جاتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ شیطان کے فتنہ سے بچو۔ ایسا نہ ہو کہ جس طرح تمہارے ماں باپ آدمm وحوّا کو بہکا کر جنت سے نکالا۔ اسی طرح تمہیں جنت سے محروم کر دے۔ اس پر خوب نظر رکھئے کہ پہلے حضرت آدمm کی پوری حالت بیان کر کے ان کی اولاد کو ہدایت کی۔ پھر بعض احکام ایسے بیان کئے جو سب بنی آدمm کے لئے ضروری تھے۔ اس کے بعد پھر وہ قول نقل کیاگیا جو حضرت آدمm کے نزول کے وقت ارشاد ہوا تھا۔ یعنی وہ آیت جو ابھی نقل کی گئی اب یہ تمام بیان اور روانی کلام اس کا شاہد ہے کہ یہ خطاب عام بنی آدم سے ہے اور صرف یہ سوق کلام (روانی کلام) ہی شاہد نہیں ہے بلکہ اس خطاب کے عام ہونے کے نہایت روشن متعدد وجوہ اور بھی موجود ہیں۔ ملاحظہ کئے جائیں۔
پہلی وجہ: یہ خطاب الٰہی ’’یا بنی اٰدم‘‘ ان الفاظ سے ہے جو بالکل عام ہیں جن سے ظاہر ہورہا ہے کہ کل بنی نوع انسان سے یہ خطاب ہے۔ کسی امت سے مخصوص نہیں ہے۔
دوسری وجہ: یہ ہے کہ عام خطاب کر کے جو یہاں خبر دی گئی ہے وہ قرآن مجید میں تین جگہ ہے۔ ایک تو یہی آیت ہے جس میں گفتگو ہے۔ دوسری سورۂ بقرہ کے چوتھے رکوع میں حضرت آدمm کے جنت میں رہنے کا ذکر ہے۔ پھر شیطان کے بہکانے کے بعد ارشاد خداوندی اس طرح ہے۔
’’قلنا اہبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (بقرہ:۳۸)‘‘یعنی اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آدمm اور اس کی تمام نسل سے کہا کہ تم سب یہاں سے اترو۔ اس کے بعد اگر میری طرف سے رہنمائی کی باتیں تمہارے پاس پہنچیں تو جس نے ان کی پیروی کی اور ہماری راہ پر چلا اسے کچھ خوف وخطر نہیں ہے اور نہ وہ کسی وقت غمگین ہوگا۔
اس مضمون کو اعراف کی آیت مذکورہ کے مضمون سے ملائیے۔ اس آیت میں آدمm کے اتارے جانے کا ذکر فرما کر اسی مضمون کا بیان ہے جو سورۂ اعراف کی مذکورہ
آیت میں بیان ہوا ہے وہ خاص لفظ جس سے رسول کے آنے اور ہدایت کے پہنچنے کی خبردی گئی ہے۔ وہ دونوں آیتوں میں ایک ہے۔ یعنی ’اما یاتینکم‘‘ اس کے بعد تمام بنی آدم کی دو حالتیں دونوں آیتوں میں بیان ہوئی ہیں۔ ایک مطیع وفرمانبردار دوسرے نافرمان، اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ اسی ارشاد کی تکرار پھر کی گئی ہے۔ جس کا ذکر سورۂ اعراف میں ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحبv صاف طور سے اس کی صراحت کرتے ہیں اور ترجمہ آیت: ’’یا بنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم‘‘میں لکھتے ہیں: ’’گفتیم اے فرزندان آدم اگر بیایند بشما پیغمبران از جنس شما‘‘ اس ترجمہ میں گفتیم کا لفظ شاہ صاحب نے زیادہ کیا اور اس پر یہ حاشیہ لکھا۔ یعنی بزبان آدم چنانچہ در سورۂ بقرہ اشارت رفت، یعنی جس طرح اﷲتعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں ’’قلنا‘‘ کہہ کر بنی آدم سے خطاب کیا تھا۔ اسی طرح سورۂ اعراف میں وہی قول خداوندی منقول ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ اﷲتعالیٰ کے یہ دونوں خطاب تمام بنی آدم سے ہیں۔ خاص امت محمدیہ سے کوئی خطاب نہیں ہے۔ پھر یہی مضمون سورۂ طہ کے چھٹے رکوع میں ہے۔ یعنی حضرت آدمm کے جنت میں رہنے اور پھر وہاں سے نکالے جانے کا حکم اس طرح ہوا ہے۔’’قال اہبطا منہا جمیعا بعضکم لبعض عدو فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا یضل ولا یشقٰے (طٰہٰ:۱۲۳)‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ نے حضرت آدمm وحوّا اور ان کی نسل سے فرمایا کہ تم سب جنت سے اترو۔ تمہاری نسل میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ پس اگر تمہارے پاس ہدایت پہنچے تو جس نے اس کی پیروی کی وہ نہ بہکے گا اور نہ نامراد رہے گا۔
قرآن مجید کے اس حوالے نے بھی کامل شہادت دی کہ سورۂ اعراف میں جو ’’یابنی اٰدم‘‘ کر کے خطاب ہوا ہے وہ حضرت آدمm سے ہوا ہے اور اس واقعہ کے بیان کرنے کے لئے اﷲتعالیٰ نے رسول اﷲa سے فرمایا: ’’قل‘‘ یعنی اپنی امت سے اس واقعہ کو کہہ دے۔ اب ان صریح قرائن قرآنیہ کے خلاف اس خطاب کو امت محمدیہ سے مخصوص بتانا کس قدر جہالت ہے۔ اس کے بعد اس پر بھی نظر کرنا چاہئے کہ جس طرح اس خطاب کے الفاظ سے اور دوسری آیات سے عموم سمجھا جاتا ہے اور خاص حضرت آدمm اور ان کی نسل سے خطاب معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حدیث سے اور علمائے کاملین کے اقوال سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تیسری وجہ سے خطاب کے عام ہونے کی امام طبری اپنی تفسیر ۔جامع البیان ج۸
ص۱۶۷،۱۶۸۔میں لکھتے ہیں: ’’یا بنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم (الی ان قال) معرفا خلقہ مااعد لحزبہ واہل طاعتہ… وما اعد لحزب الشیطان واولیائہ (پھر اس عام معنی کی سند میں ذیل کی روایت پیش کرتے ہیں) عن ابی یسار السلمیq قال ان اللہ تعالٰی جعل اٰدم ذریتہ فی کفہ فقال یا بنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم‘‘
اس آیت میں اﷲتعالیٰ اپنی مخلوق کی حالت بیان کرتا ہے کہ میری مخلوق میں دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ رحمانی ہے جو اﷲتعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ ان کے لئے ہمیشہ کی راحت اور عیش ہے۔ دوسرا گروہ شیطانی ہے جو اس کے پیرو ہیں۔ ان کے لئے جہنم ہے۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اس عموم کی سند یہ ہے کہ ابی یسار سلمیq فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے آدم کو اور ان کی تمام اولاد کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور آیت کا مضمون ارشاد فرمایا۔ یعنی جس طرح روز ’’الست‘‘ میں تمام مخلوق سے ارشاد ہوا تھا کہ: ’’الست بربکم قالوا بلٰی‘‘اسی طرح تمام بنی آدم سے یہ ارشاد ہوا۔
چونکہ یہ مضمون کوئی قیاسی بات نہیں ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ راوی نے رسول اﷲa سے سن کر بیان کیا ہے۔ جس تفسیر سے یہ مضمون نقل کیاگیا اس کا نہایت معتبر اور مستند ہونا پہلے بیان کیاگیا ہے۔ (تفسیر الدرالمنثور ج۳ ص۸۲) میں آیت مذکور کی تفسیر اسی عموم کے ساتھ اس روایت کی سند سے بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ تفسیر جسے مرزاقادیانی بھی معتبر سمجھتے ہیں اور اکثر اپنے دعوؤں کی سند میں اس کے اقوال اور اس کی روایات کو پیش کیا ہے۔ انجام آتھم وغیرہ دیکھا جائے۔
صاحب تفسیر مظہری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’الخطاب الٰی ذریۃ آدم‘‘ یعنی یا بنی آدمm کی اولاد سے خطاب ہے اور بھی بہت تفسیروں میں ایسا ہی ہے اب اس کے خلاف اس خطاب کو امت محمدیہ سے مخصوص سمجھنا اس آیت کے الفاظ ظاہری اور دوسری آیات قرآنی کے خلاف اور ان نصوص قطعیہ کے معارض سے جو ختم نبوت کے بارہ میں پیش کئے گئے ہیں اور اس آیت سے قبل جو لفظ ’’قل‘‘ آیا ہے اس سے خیال کرنا کہ یہ خطاب امت محمدیہ سے خاص ہے۔ ایک سخت جہالت ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں جس قدر مضامین بیان ہوئے ہیں خواہ وہ قصص انبیائے سابقین ہوں یا ان کی کتابوں کے بیان ہوں۔ سب
کے ساتھ ہی ارشاد خداوندی ہے۔ یعنی ارشاد ہوا ہے کہ اس مضمون کو کہو، بیان کرو، اب لفظ ’’قل‘‘ وہاں ظاہر میں ہو یا نہ ہو اس لئے ’’قل‘‘ کا ہونا اس بات کی دلیل ہرگز نہیں ہوسکتی کہ یہ بیان خاص امت محمدیہ کے لئے ہے۔ البتہ یہ قصہ سابقہ امت محمدیہ کے معلوم کرنے کے لئے بیان ہوا ہے اور (تفسیر روح المعانی ج۸ ص۹۹) میں بعض محققین کا قوال اسی آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے:’’ان ہذا حکایۃ لماوقع مع کل قوم‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ نے اس آیت میں پہلی امتوں کی سرگزشت بیان فرمائی ہے کہ ہر ایک گروہ سے اس طرح کہاگیا ہے۔
چوتھی وجہ: نہایت قابل لحاظ یہ ہے کہ ہمارے سرور انبیاءk کی بہت کچھ عظمتیں بیان ہوئی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اﷲتعالیٰ نے آپa کا نام لے کر کہیں خطاب نہیں کیا۔ جس طرح اور انبیاء مثلاً حضرت موسیٰm حضرت عیسیٰm وغیرہما کا اکثر نام لیا ہے اور یا موسیٰ یا عیسیٰ کہا ہے۔ مگر یا محمدa کہیں نہیں فرمایا۔ اس طرح آپa کی امت کو خیرامت یعنی بہترین امت فرمایا اور عظمت کے ساتھ انہیں پکارا ہے۔ یعنی’’یاایہا الذین اٰمنوا‘‘فرمایا ہے۔ یعنی اے ایمان والو! یہ کیسا پیارا لفظ ہے جس میں جنت کی بشارت پوشیدہ ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ جب تک حضور سرور عالمa مکہ معظمہ میں رہے اور مسلمان بہت کم تھے اور مشرکین کا غلبہ تھا اس وقت تک اس غلبہ کی وجہ سے ’’یا ایہا الناس‘‘سے قرآن مجید میں خطاب الٰہی رہا اور جب حضورa مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ اس سرزمین مقدس میں مسلمان کا غلبہ تھا۔ وہاں:’’یا ایہا الذین اٰمنوا‘‘ سےخطاب ہوا۔ اتفاقیہ پہلا خطاب کسی وقت آیا ہے۔ مگر ایک معمولی خطاب ’’یا بنی اٰدم‘‘سے امت محمدیہ مخاطب نہیں بنائی گئی۔
دوم… اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ جملہ ’’یاتینکم‘‘ اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے جس سے حال واستقبال کی خبر معلوم ہوتی ہے اور نون تاکید سے استقبال کی تائید ہوتی ہے۔ مگر اسی لفظ سے حال ماضی کی حکایت بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک محقق کا قول ابھی نقل کیاگیا۔ جب یہ احتمال بھی ہے اور امت محمدیہ کے بعض محققین نے بیان بھی کیا ہے تو بفحوائے قول مشہور: ’’اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال‘‘آیت مذکور سے یہ ثابت کرنا کہ آئندہ رسول ضرور آئیں گے۔ محض غلط ہوگیا اور اس پر اضافہ یہ ہے کہ نصوص قطعیہ سے ثابت کر دیا گیا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یہ کہنا ضروری ہے کہ اس آیت میں حال گزشتہ
کی حکایت کی گئی ہے۔ یعنی انبیائے سابقین اور بالخصوص حضرت آدمm کی امت سے عام طور سے خطاب کیاگیا ہے کہ اگر تمہارے پاس رسول آئیں تو ان کی بات مانیو۔
سوم… یہ کہ جملہ ’’یاتینکم‘‘ کے ساتھ لفظ ’’امّا‘‘ بھی آیا جو ان حرف، شرط اور ماتاکیدیہ سے مرکب ہے اور یہ سب اہل علم جانتے ہیں کہ جب حرف شرط مضارع پر آتا ہے تو مضارع میں جس بات کی خبر دی گئی ہے وہ یقینی نہیں رہتی ہے بلکہ وہ بالکل مشکوک ہو جاتی ہے اور حرف ما اور آخر کے نون تاکید نے شک کی کامل تاکید کر دی ہے۔ اس لئے جملہ مذکورہ میں جو رسولوں کے آنے کی خبر دی گئی ہے وہ یقینی نہیں ہے بلکہ بالکل جملہ شرطیہ ہے جس کا وقوع ضروری نہیں۔ اس سے ثابت کرنا کہ بالضرور رسول آئیں گے، محض غلط ہے۔ پھر ایسی بات پر ایمان رکھنا اور دوسروں کو اس پر ایمان لانے کی رغبت دلانا ’’ضلّوا فاضلّوا‘‘ کا مصداق بننا ہے۔ اﷲتعالیٰ اس سے بچائے۔
چہارم… یہ امر بہت غور طلب ہے کہ رسولوں کے آنے کی خبر جودی گئی ہے ان سے مراد اصطلاحی اور شرعی رسول ہیں۔ جن پر وحی نبوت آتی ہے یا لغوی مراد ہیں یعنی جو پیام لے کر جاتے ہیں۔
جناب رسول اﷲa کا ارشاد اپنی مخصوص امت سے ہے: ’’بلّغوا عنی ولوا اٰیۃ‘‘یعنی میری باتوں کو پہنچاؤ ساری دنیا پر جس قدر ہوسکے۔ اب جو امتی آپa کے ارشاد کی تعمیل کرے اور احکام شریعت اور پیام رسالت کو پہنچاوے وہ رسول ہے۔ اب کیا وجہ ہے کہ اس آیت میں یہ رسول مراد نہ ہوں، رسول کے معنی عام پیامبر کے ہیں۔ چنانچہ سورۂ یوسف میں بادشاہ کے پیامبر کی نسبت ارشاد ہے:’’فلما جاء ہ الرسول‘‘ اور جناب رسول اﷲa حضرت معاذq کو تبلیغ کے لئے یمن بھیجنے لگے تو آپa نے چند سوال کئے اور حضرت معاذq نے آپa کی حسب مرضی جواب دئیے۔ اس کے بعد آنحضرتa نے فرمایا: ’’الحمد ﷲ الذی وفق رسول رسولہ بما یرضٰی رسولہ‘‘ یہاں رسول اﷲa نے اپنے پیامبر کو رسول فرمایا۔ اسی طرح اس آیت میں خدا کے پیامبروں کو رسل کہاگیا ہے۔ عبدالماجد قادیانی نے بھی اپنے رسالہ القاء میں لکھا ہے کہ قرآن شریف میں تین قسم کے رسولوں کا ذکر ہے۔ تشریعی، غیرتشریعی، نائب رسول، اس آیت میں تیسرے قسم کے رسولوں کا ذکر ہے، یہ قیامت تک ہوتے رہیں گے اور یہاں اس
معنی لینے کی دو وجہ معلوم ہوتی ہیں جن سے یہ معنی نہایت ظاہر اور صاف معلوم ہوتے ہیں۔
ایک وجہ یہ ہے کہ رسول کے آنے کی خبر ہر ایک انسان کو دی گئی ہے۔ لفظ ’’کم‘‘ کا خطاب ہر فرد بشر سے ہے اور یہ کہاگیا ہے کہ اگر تمہارے پاس رسول آئیں تو ان کی باتوں کو سنو اور ان پر عمل کرو۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ جس قدر انبیائے کرامB آئے وہ ہر ایک انسان کے پاس نہیں گئے اور نہ جاسکتے تھے۔ مثلاً ہمارے رسول کریمk صرف عرب میں رہے اور کہیں تشریف نہیں لے گئے اور چونکہ آپa کی رسالت سارے عالم کے لئے تھی۔ اس لئے دنیا کے ہر شخص کے پاس آپa کو پہنچنا چاہئے تھا۔ مگر یہ امر بالکل غیرممکن تھا اس لئے اس آیت کے لحاظ سے جس کے پاس آپa تشریف نہیں لے گئے ان کو ایمان لانا ضرور نہ ہو اور آپa انہیں کے لئے رسول ہوں۔ جن سے بالمشافہ آپa نے تبلیغ کی حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں اور اگر رسول سے مراد پیام رسول اﷲa پہنچانے والا کیا جائے تو بے تکلف معنی بنتے ہیں۔ کیونکہ ایسے رسول تو بے شمار ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ یہ ہر جگہ ہر شخص کے پاس پہنچ سکتے ہیں اور ہر ایک فرد بشر پر حجت تمام ہوسکتی ہے اور آیت کے صریح معنی بے تکلف بنتے ہیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ضروری ہے کہ وہ مالک الملک عالم الغیب رسولوں کے آنے کی خبر شرط کے ساتھ دیتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ اگر وہ آئیں تو یہ کرو، اب دیکھا جائے کہ رسولوں کا پہنچنا اس کے اختیار میں ہے۔ ان کا آنا اور تبلیغ کرنے کا بھی اسے علم ضرور ہے۔ پھر یہ شرط لگا کر واقعی اور ضروری خبر کو مشکوک کر دینے کی کیا وجہ ہے اور اس مختار الکل پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ پھر اس کی کیا ضرورت تھی کہ یہ جملہ شرطیہ بیان کیا جاتا؟ غرضیکہ شرعی رسول مراد لینے سے یہ شبہات ہوتے ہیں اور اگر لغوی رسول مراد لیا جائے تو جس طرح پہلا شبہ وارد نہیں ہوتا۔ اسی طرح یہ شبہ بھی وارد نہ ہو گا۔ کیونکہ مبلغین بہت جگہ پہنچ سکتے ہیں مگر بعض جنگل اور پہاڑ ایسے ہوسکتے ہیں کہ وہاں انسان ہیں مگر کوئی مبلغ وہاں اپنی لاعلمی سے یا نہایت دشواری کی وجہ سے نہیں پہنچ سکا۔ اس لئے اس عالم الغیب نے ان دشواریوں سے واقف ہوکر اس میں شرط لگا دی۔ جس سے وہ انسان جسے رسول خدا کی خبر نہیں پہنچی اور کوئی مبلغ اس کے پاس نہیں گیا وہ معذور ہے۔ اس پر رسول کا ماننا فرض نہیں ہے۔ اسی طرح مبلغین کو ایسی جگہ جانا جس کا انہیں علم نہیں ہے یا وہاں کا جانا نہایت دشوار ہے۔ وہاں وہ نہیں گئے تو گنہگار نہ
ہوں گے۔ اس لئے وہ کریم ورحیم نے شرطیہ خبر دی تاکہ ان دونوں گروہوں پر تکلیف مالایطاق نہ ہو، اس کا ارشاد ہے: ’’لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا‘‘ اب شرطیہ خبر دینا اور ہر ایک انسان کے پاس رسول کا پہنچنا بے تکلف صحیح ہوتا ہے اور ختم نبوت میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔
الغرض ان نہایت قوی سات وجہوں سے آیت مذکورہ سے یہ استدلال کرنا کہ رسول اﷲa کے بعد رسول شرعی آتے رہیں گے۔ محض غلط ثابت ہوا۔
آٹھویں وجہ یہ ہے کہ یہ دعویٰ نصوص قطعیہ کے خلاف ہے اور نویں وجہ یہ ہے کہ احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔ دسویں وجہ یہ ہے کہ اجماع امت محمدیہa اسے غلط بتا رہا ہے۔
لو! میاں ارادت قادیانی اب تو تم نے دیکھ لیا کہ کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو حضور سرورعالمa کے خاتم النّبیین ہونے کے مخالف ہو تم نے ایک آیت: ’’یا بنی اٰدم امّا یاتینکم‘‘پر الٹا سیدھا زور لگایا تھا کہ کسی صورت سے جاہلوں کے سامنے ایک آیت پیش کر کے ان کو دھوکے میں ڈال کر ایک کذاب ودجال کو نبی منواؤ۔ مگر یاد رکھو کہ مسلمان تمہارے دام تزویر سے خوب واقف ہو گئے ہیں۔ وہ تمہارے الٹے سیدھے معنی کو جو مفسرین عظام ومحدثین کرام کے خلاف ہوں ہرگز نہیں مان سکتے۔ بلکہ اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور جس کتاب وکاغذ میں تمہاری دروغ بافی کو دیکھتے ہیں۔ اس کی جگہ ردی کی ٹوکری بناتے ہیں۔
بھائیو! اب ملاحظہ کیجئے کہ اس آیت کو میں نے سات وجہوں سے تو مدلل کر کے ثابت کر دیا کہ اس سے سلسلہ نبوت کا باقی رہنا کسی صورت سے ثابت نہیں ہوتا ہے۔ اب کوئی شرعی رسول نہیں آئے گا۔ ہاں! علمائے امت قیامت تک تبلیغ احکام الٰہی کرتے رہیں گے اور خلق اللہ برابر ان کے نور ہدایت سے مستفیض ہوتی رہے گی اور ’’علماء امتی کانبیاء بی اسرائیل‘‘کی شان ظاہر ہوتی رہے گی۔
میاں ارادت قادیانی! اس کے بعد مجھے اس کی ضرورت تو نہیں تھی کہ میں تمہاری پیش کردہ موضوع حدیث کی طرف جو تم نے اپنے رسالہ کے ص۱ میں لکھی ہے توجہ کرتا۔ مگر چونکہ عام پبلک کو تمہاری لیاقت علمی کا جتلانا اور تم کو بھی تمہاری غلطی پر متنبہ کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اس لئے میں تمہاری روایت کا غلط اور بے بنیاد ہونا دو طریقے سے ثابت کرتا ہوں۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ ختم نبوت جن احادیث سے ثابت ہوتی ہے وہ حدیثیں صحاح ستہ کی ہیں یعنی ان کتابوں کی جن کو امت محمدیہ کے ائمہ دین نے معتبر اور مستند مانا ہے اور ان کی حدیثوں کو صحیح بتایا ہے وہ چھ کتابیں ہیں۔ پھر ان میں سے دو کتابیں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو بالخصوص صحیحین کا خطاب دیا ہے اور پھر اس میں خاص صحیح بخاری کو یہ شرف ہے کہ اسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ سب نے مانا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے مقتداء آپ کے بہکانے والے مرزاقادیانی بھی اس کتاب کو انہیں الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہتے ہیں۔ ان مستند کتابوں کی روایات سے ہم نے رسول اﷲa کے بعد نبوت کے ختم ہونے کو ثابت کیا ہے اور مختلف عنوان سے اس اسلامی عقیدہ کو جناب رسول اﷲa نے بیان فرمایا ہے۔ میں چند حدیثیں پیش کرتا ہوں۔ خدا کے لئے بہ نظر انصاف انہیں ملاحظہ کیجئے۔
حدیث نمبر۱:’’انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘
(بخاری ج۱ ص۵۰۱، باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲa، مسلم ج۲ ص۲۶۱، باب فی اسمائہ)
جناب رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یعنی عاقب کے لفظی معنی آخر میں آنے والے کے ہیں۔
مگر جناب رسول اﷲa اس کے شرعی معنی یہ فرماتے ہیں کہ عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہ ہو۔ یعنی وہ سب انبیاء کے آخر میں ہو، یہ بیان اس کو ثابت کرتا ہے کہ جس طرح آپa کا نام آپa کے والدین نے محمد(a) رکھا تھا اسی طرح اﷲتعالیٰ کی طرف سے ایک نام آپa کا عاقب رکھا گیا تاکہ امت محمدیہa معلوم کر لے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
حدیث نمبر۲: ’’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات قالوا وما المبشرات قال الرؤیا الصالحۃ‘‘
(بخاری ج۲ ص۱۰۳۵، باب الرؤیا الصالحہ، مسلم ج۱ ص۱۹۱، باب النہی عن قرأۃ القرآن)
رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ نبوت کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہا۔ مگر مبشرات، صحابہ کرامi نے دریافت کیا کہ مبشرات کیا ہیں۔ آپa نے فرمایا کہ سچی خوابیں۔
اس حدیث میں جناب رسول اﷲa نے نہایت صفائی سے اپنی امت کو آگاہ کر دیا کہ نبوت کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہا۔ یعنی ظلی اور بروزی، مستفید، غیرمستفید، کامل یا
ناقص، عالی مرتبہ یا کم مرتبہ، کسی قسم کا کوئی نبی میرے بعد نہیں ہوسکتا۔ یہی معنی ہیں: ’’لا نبی بعدی‘‘ کے یعنی لفظ نبی پر لائے نفی جنس کا لاکر یہ ظاہر کر دیا کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہوگا یہ وہ طرز بیان ہے کہ کم علم اور عامی عرب بھی اس سے اسلامی اعتقاد کو پورے طور سے جان سکتے تھے کہ رسول اﷲa کے بعد کسی طرح کا نبی نہ ہوگا۔ یہ حدیث بھی صحیحین کی ہے۔ یعنی اصح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری اور صحیح مسلم کی۔
حدیث نمبر۳:’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلّما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء‘‘
(بخاری ج۱ ص۴۹۱، باب ماذکر عن بنی اسرائیل)
بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔
اس حدیث میں تیسرے طریقے سے ختم نبوت کو بیان فرمایا جس سے مرزائی خیال کے موافق نبوت تشریعی اور غیرتشریعی، مستفید اور غیرمستفید وغیرہم ہر قسم کی نبوت کی نفی ہوگئی۔ کیونکہ پہلے حضورa نے تمام انبیاء سابقین کے سلسلہ نبوت کی حالت بیان فرمائی کہ ہر ایک نبی کے بعد نبی ہوتے رہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ انبیائے سابقین میں نبی تشریعی اور غیرتشریعی بھی ہوئے اور مستفید اور غیرمستفید بھی اور عالی مرتبہ اور کم مرتبہ بھی۔ مثلاً حضرت نوحm، حضرت ابراہیمm، حضرت موسیٰm، حضرت لوطm، حضرت یونسm اس میں ہر قسم کے انبیاء ہیں۔ کوئی قسم خاص نہیں ہے۔ اب جملہ ’’لا نبی بعدی‘‘ میں لائے نفی جنس کا لاکر ہر قسم کے نبی کی نفی کر دی اور ختم نبوت کو نہایت شائستہ پیرائے سے عام فہم طریقہ سے سمجھا دیا۔ یہ حدیث اس کتاب کی ہے جسے مرزاقادیانی بھی اصح الکتب بعد کتاب اللہ لکھتے ہیں۔ یعنی صحت کے لحاظ سے اس کا مرتبہ قرآن مجید کے بعد ہے۔
حدیث نمبر۴:’’کان رسول اﷲa یسمی لنا نفسہ اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفٰی‘‘
(صحیح مسلم ج۲ ص۲۶۱، باب فی اسمائہ)
جناب رسول اﷲa اپنے متعدد نام بیان فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرا نام محمد ہے اور احمد ہے اور مقفی ہے اور مقفی کے معنی محدثین نے وہی بیان کئے ہیں۔ جو ابن ماجہ کی روایت میں جناب رسول اﷲa نے اپنی صفت میں فرمایا ہے یعنی ’’انا اٰخر
الانبیاء‘‘ میں سب انبیاء کے آخر میں ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ یہی معنی مقفی کے ہیں۔ اس سے بوضاحت ظاہر ہورہا ہے کہ رسول اﷲa کے بعد ختم نبوت کا مسئلہ اور کسی نبی کے نہ آنے کا اعتقاد ایسا ضروری اور مہتمم بالشان ہے کہ رسول اﷲa کے متعدد نام مبارک ایسے رکھے گئے جن سے ظاہر ہورہا ہے کہ حضورa آخر النّبیین ہیں۔ اس میں کسی کو شک وشبہ نہ رہے اور ان حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے جو رسول اﷲa کی خاص صفت خاتم النّبیین بیان فرمائی ہے اس کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں جن کا بیان مختلف طور سے حضور انورa نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی روشن ہوا کہ جناب رسول اﷲa کا نام احمد بھی ہے اور حضور انورa اپنی زبان مبارک سے اپنا نام احمد فرماتے ہیں۔ مگر باایں ہمہ محمودی مرزائی کہتے ہیں کہ یہ نام جناب رسول اﷲa کا نہیں ہے بلکہ مرزاغلام احمد کا ہے۔ اب یہ مرزائی غلام کو مولیٰ اور مولائے دوجہان سرور صادقانa کو جھوٹا بنانا چاہتے ہیں اور اسفل السافلین میں اپنا ٹھکانا بناتے ہیں۔ افسوس! اب اس فرقہ قادیانی کو دیکھا جائے کہ ان صحیح حدیثوں کو خلاف قرآن شریف قرار دے کر رسول اﷲa کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ (معاذ اﷲ)
اے مرزائیو! مجدد کی حدیث سے یہ حدیثیں بہت زیادہ معتبر اور کمال درجہ کی مستند ہیں۔ جس سے تم مرزا کا مجدد ہونا ثابت کرتے ہو، مگر تمہارے زور لگانے سے رسول اﷲa (روحی فداہ) جھوٹے نہیں ہوسکتے۔ ان صحیح اور نہایت مستند حدیثوں کے مقابلہ میں ابن عساکر کی موضوع روایت پیش کرنا تمہاری اور تمہارے مربیوں کی جہالت اور سخت جہالت ہے۔ اوّل تو یہ دیکھو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کے مقابلہ میں ابن عساکر کی روایت کیا حیثیت رکھتی ہے؟ کہ یہ متعدد احادیث صحیحہ اس کی روایت سے مردود ہو جائیں۔ (استغفراﷲ)
اس کے علاوہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جس حدیث پر آپ کے دعوے کا دارومدار ہے اور صحیح حدیثوں کو اس کے مقابلہ میں (نعوذ باﷲ) ردی میں آپ ڈالنا چاہتے ہیں اسے ائمہ محدثین نے موضوع اور جھوٹی کہا ہے۔ چنانچہ علامہ ’’محمد بن علی بن محمد الشوکانی الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعہ‘‘کو ص۱۰۳ میں اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’قال الخطابی وضعتہ الزنا دقۃ ویدفعہ اوتیت الکتاب ومثلہ معہ وکذا قال الغانی قلت وقد سبقہما الی نسبۃ
وضعہ الی الزنادقۃ ابن معین کما حکاہ عنہ الذہبی علی ان فی ہذا الحدیث الموضوع نفسہ ما یدل علی ردہ لا نا اذا عرضناہ علی کتاب اﷲ خالفہ ففی کتاب اللہ عزوجل ما اتٰکم الرسول فخذوہ وما نہٰکم عنہ فانتہو ونحو ہذا من الایات‘‘ اس کا یہ ہے کہ خطابی اور صغانی دونوں نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے اور ان سے پہلے علامہ ابن معین نے اس روایت کو زندیقون کا بنایا ہوا کہا ہے۔ غرض کہ ان تین کاملین اور نقادین حدیث نے اس روایت کو موضوع کہا ہے اور وہ بھی اس طور سے کہ اس کے بنانے والے کو زندیق قرار دیا ہے۔ (یعنی پکے کافر) اور ان ماہرین حدیث کے اقوال کے علاوہ اس روایت کا نفس مضمون کتاب اللہ کے مخالف ہے۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ جو چیز تمہارے رسول لائیں اس کو لے لو اور جس چیز سے تم کو روکیں اس سے رک جاؤ۔ اس مضمون کی متعدد آیتیں ہیں۔
حاصل اس کا یہ ہے کہ دونوں حدیثیں اور دوسری حدیثیں جو اس کے ہم معنی ہوں وہ ہرگز حدیث الرسولa نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ وہ آیت:’’ما اتٰکم الرسول‘‘ کے بالکل خلاف ہیں۔ اسی طرح صاحب ’’افادہ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ‘‘لکھتے ہیں۔ وروایت عرض احادیث برقرآن مختلق وموضوع است نزدائمہ ایں شان۔ اوزاعی گفتہ الکتاب ’’احوج الی السنۃ من السنۃ الی الکتاب ویحیٰی ابن کثیر گفتہ السنۃ قاضیۃ علی الکتاب وخلاف نمی کنددراں مگر ہر کہ بہرہ از اسلام ندارد‘‘ (چنانچہ پیروان مرزائے قادیانی)
یہ روایت میں جو آیا ہے کہ حدیث کو قرآن مجید پر پیش کرو۔ وہ روایت محدثین کے نزدیک جھوٹی اور بنائی ہوئی ہے۔ امام اوزاعیv کہتے ہیں کہ قرآن مجید کو حدیث کی طرف زیادہ حاجت ہے۔ بہ نسبت حدیث کے، اور امام یحییٰv کہتے ہیں کہ قرآن مجید کے معنی کا فیصلہ حدیث سے ہوتا ہے اور اس میں وہی شخص خلاف کر سکتا ہے جو اسلام سے بے نصیب ہے۔ (اس کے مصداق مرزائی ہیں)
اب رہی وہ حدیث یعنی ’’لوعاش ابراہیم لکان نبیا‘‘اور دوسری’’لوعاش لکان صدیقا نبیا‘‘
ان دونوں حدیث پر بھی میاں ارادت قادیانی کے مربیوں نے ایڑی چوٹی کا زور
لگا کر یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ اس حدیث سے آپa کے بعد نبی آنے کا امکان ثابت ہوتا ہے۔ اس کا کامل جواب بڑے رسالہ ’’ختم النبوۃ فی الاسلام‘‘میں لکھا گیا ہے۔ اس میں صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ پہلی حدیث سرے سے حدیث ہی نہیں ہے۔ دوسری حدیث ابن ماجہ ص۱۰۸ کی ہے۔ مگر اس کے راوی ابراہیم بن عثمان بن خواشی ہیں اور ان کی نسبت (صاحب تہذیب التہذیب ج۱ ص۹۵) محدثین کے حسب ذیل اقوال نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: ’’قال الترمذی منکر الحدیث وقال النسائی متروک الحدیث وقال ابوحاتم ضعیف الحدیث سکتواعنہ وترکوا حدیثہ‘‘یعنی یہ شخص منکر الحدیث ہے۔ اس کی روایت کو محدثین نے لینے کے لائق نہیں سمجھا۔ اس کی حدیث کی طرف توجہ نہیں کی۔ قادیانیوںکے اس جہل پر افسوس ہے کہ ایسے شخص کی روایت کو سند میں پیش کرتے ہیں۔ اگر تہذیب التہذیب کا دیکھنا میسر نہیں ہوا تھا تو ابن ماجہ میں اسی نام کے نیچے لکھا ہے۔ متروک، مگر چشم بداندیش اس کے دیکھنے سے قاصر رہی۔ آپ کے مربیوں کی جہالت پر افسوس ہے کہ متروک الحدیث کی روایت کو اپنے دعویٰ کی سند میں پیش کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صحیحین کی روایات صحیحہ مردود ہو جائیں۔ اسی نافہمی اور جہالت کا نتیجہ ہے کہ ایک متروک الامۃ اور بقول سرور امتa دجال کو اپنا پیشوا مان رہے ہیں۔
لو میاں ارادت! اب تو تمہاری اور تمہارے قادیانی مربیوں کی تمام گندم نمائی جو فروشی ظاہر ہوگئی۔ ان محققین کاملین کی تحقیق کی بناء پر تمہارے رسالہ النبوۃ فی الاسلام کی وقعت ہرگز ردی کی ٹوکری کے چند ورقوں سے زیادہ نہیں رہی۔ لو یہ مختصر رسالہ اپنے بھاگلپوری اور قادیانی مربیوں کو دو اور کہو کہ اس کا جواب لکھو۔ ہم دعویٰ کے ساتھ چیلنج دیتے ہیں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ! قیامت تک نہیں لکھ سکتے۔ آپ کے رسالہ کا طرز تحریر یہ بتارہا ہے کہ آپ کے صدر انجمن کا لکھا ہوا ہے جنہوں نے قریب میں مولانا عبدالشکور صاحب کے مقابلہ میں عام جلسہ کے روبرو سخت ہزیمت اٹھائی تھی اور اعلانیہ کہتے تھے کہ میں مناظرہ کے لئے تیار نہ تھا۔ میری مثال تو ایسی ہوئی کہ ’’طفل بمکتب نمیر دو ولے برندش‘‘ یعنی بے پڑھے لکھے بچے بن گئے تھے۔ اس لئے میں ان کے خاص رسالے القائے شیطانی کا ذکر کرتا ہوں جسے مرزائی حضرات فیصلہ آسمانی کا جواب سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ رسالہ قادیانی خلیفہ اوّل کی مدد اور مشورہ
سے لکھا گیا ہے۔ مگر ہمارے حضرت قبلہ ابواحمد صاحب عم فیضہم کی توجہ سے اس شیطانی القاء کے اغلاط کا اظہار دس رسالوں میں کیاگیا ہے۔
۱… قریب میں رسالہ ’’حقیقت رسائل اعجازیہ‘‘ شائع ہوا ہے اس میں القاء کے ایک صفحہ میں آٹھ غلطیاں دکھائی ہیں۔ ص۴۵سے۵۵ تک ملاحظہ کیجئے تاکہ مرید ومرشد دونوں کا نمونہ معلوم ہو جائے۔
۲… رسالہ اغلاط ماجدیہ میں القاء کے ایک ورق میں ۳۲غلطیاں دکھائی ہیں۔ غرضیکہ تین صفحوں میں چالیس غلطیاں ہوئیں۔ جن کی تالیف کا یہ حال ہو وہ ایک لاجواب رسالہ فیصلہ آسمانی کا جواب لکھیں گے؟
بایں خواری امید ملک داری
۳… صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۰: یہ ۲۹صفحوں کا رسالہ ہے۔ اس میں اسی القاء کی بہت بڑی غلطی اور ان کے جھوٹ دکھائے ہیں۔ یہ رسالہ ۱۹۱۴ء میں چھپا ہے۔ چار برس ہوگئے مگر ایک غلطی کا بھی جواب نہیں دیاگیا۔
۴… نمونہ القائے قادیانی: یہ پونے چارجز کا رسالہ ہے اس میں قادیانی مربی کی حیرت ناک بددیانتیاں اور غلطیاں اور نافہمیاں دکھائی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی علم ودیانت کیا ہوگئی اور وہ کیا سے کیا ہوگئے۔ انہیں چاہئے کہ اپنے چہرۂ مبارک کو آئینہ انصاف میں دیکھیں۔
۵… محکمات ربانی: یہ رسالہ سات جز کا ہے۔ مطبع البنچ بالکی پور میں چھپا ہے۔ نہایت ہی محققانہ اور مہذبانہ طریقہ سے لکھا گیا ہے۔ اس کے مؤلف عبدالماجد قادیانی کے خاص عزیز ہیں۔ بہت خوبی سے پہلے قادیانی مربی کے فریب دکھائے ہیں۔ پھر ان کے مرشد کی غلطیاں بیان کی ہیں۔ اس رسالہ کے تمہیدی اشعار بڑے لطف کے ہیں، نمونہ ملاحظہ ہو۔
مجھے حیرت ہوئی ہے دیکھ کر القائے ربانی
نہیں القائے ربانی یہ ہے اغوائے شیطانی
کہہ دیتی ہے خود تحریر میں حق سے معریٰ ہوں
دبائے سے کہیں دبتا ہے حضرت جوش نفسانی
طریقہ یہ نہیں دیندار کا سچے مسلماں کا
طریقہ یہ مسیحی ہے عقیدہ ہے یہ نصرانی
غلط تحریر پر ایسی تعلّی واہ رے جرأت
نہیں ہے نور دیں کچھ بھی نہیں ہے آنکھ میں پانی
یہ حالت زار اپنے بھائی کی دیکھی نہیں جاتی
تجھی پر خوب روشن ہے میرے دل کی پریشانی
طبیعت مضطرب ہے اشک کی تجھ سے دعا یہ ہے
بہت بگڑی سنبھال ان کو دکھا اپنی درخشانی
یہ رسالے تو قادیانی مؤلف القاء سے خطاب کر کے لکھے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت مؤلف ’’فیصلہ آسمانی‘‘ عم فیضہم نے اپنے کئی رسالوں میں قادیانی مربی غلط فہمیوں کا نہایت محققانہ جواب دیا ہے۔ مگر انہیں مخاطب نہیں بنایا۔ کیونکہ وہ اس قابل نہ تھے وہ رسائل یہ ہیں:
۶… فیصلہ آسمانی حصہ سوم کا نصف آخر جس میں کامل طور سے مرزاقادیانی کی پیشین گوئیوں کو جھوٹا ثابت کر کے انہیں قطعی کاذب ثابت کر دیا ہے۔ وہاں القاء کے سارے مہملات ردی ہوگئے ہیں۔
۷… معیار صداقت:
۸… تنزیہہ ربانی: یہ دونوں رسالے اگرچہ اخبار البدر مرقومہ۸؍اگست ۱۹۱۲ء کے ایک مضمون کے جواب میں ہیں۔ مگر مضمون وہی ہے جو فیصلہ آسمانی میں ہے اور القاء میں اس کی نسبت کچھ کہاگیا ہے۔ مگر یہ مختصر رسالے اس تحقیق اور متانت سے لکھے گئے ہیں کہ مرزاقادیانی کی جھوٹی پیشین گوئیوں کے لئے جو جھوٹی باتیں سنائی گئی تھیں۔ سب کا نہایت محققانہ جواب دے کر مرزاقادیانی کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔
۹… عبرت خیز: اس بے نظیر رسالے میں نہایت محققانہ طور سے عبرت خیز مضمون دکھایا ہے اور فیصلہ آسمانی حصہ دوم کے آخری حصہ کے مضامین کی تحقیق اس خوبی سے کی ہے کہ القاء کے شبہات پادر ہوا ہوگئے ہیں اور مرزاقادیانی جو اپنی دنیاوی کامیابی کو اپنی صداقت کی عظیم الشان دلیل قرار دیتے تھے۔ وہ بیکار ہوگئی اور واقعات زمانہ اور آیات قرآنی سے ثابت کر دیا کہ یہ ایک فریب تھا مرزاقادیانی کا۔
۱۰… انوار ایمانی: اس میں پہلے قادیانی مؤلف القاء کی بددیانتیاں دکھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مولانا مؤلف فیصلہ آسمانی کی اصل باتوں کا کچھ جواب نہیں دے سکے اور جو کچھ
لکھا ہے وہ محض غلط ہے۔ یہ دس رسالے تو القائے قادیانی کے جواب میں لکھ کر مشتہر ہوچکے ہیں اور ایک نہایت محققانہ رسالہ خاصان کے منہاج نبوت پر لکھا گیا ہے اور ان کی شرمناک غلطیاں اس میں دکھائی گئی ہیں مگر وہ ابھی تک چھپا نہیں ہے۔ مگر مذکورہ دس رسالے جو عرصہ سے مشتہر ہیں کسی کا جواب تو نہیں دیا گیا۔ البتہ عوام کو فریب دیا جاتا ہے کہ القاء فیصلہ آسمانی کے تینوں حصوں کا جواب ہے اور اس کہنے سے شرم نہیں آتی۔ جن کے ایک ایک صفحہ میں آٹھ آٹھ اور آٹھ دونی سولہ سولہ غلطیاں ہوں وہ ان کی محققانہ تصنیف کا جواب دے سکتے ہیں۔ جن کے علم وفضل کا دنیا میں شہرۂ ہے۔ جن کے مجدد ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے؟
میاں ارادت قادیانی! ان دس رسالوں میں سے ایک کا جواب لکھوا کر اپنے مرزا کی صداقت ثابت کی ہوتی۔ النبوۃ فی الاسلام سے مرزاقادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہوسکتی۔ فیصلہ آسمانی حصہ کا تتمہ جو چھپا ہے اس میں القاء کی ضروری باتوں کا جواب دے دیا گیا ہے اور درحقیقت القاء کے گیارہ جواب دئیے گئے ہیں۔ اسی القاء پر فخر کیا جاتا ہے اور اسے ردی میں نہیں پھینکا جاتا؟
ناظرین! جب القاء کا حال معلوم کر چکے کہ اس کی کیسی دھجیاں اڑائی گئی ہیں جس کے مصنف مرزائیوں کے صدر اور بڑے مربی کہلاتے ہیں۔ پھر برق آسمانی کیا چیز ہے؟ جس رسالہ کا جواب القاء میں لکھا گیا ہے اسی کے جواب کا مؤلف برق بھی دعویٰ کرتا ہے۔ جو مؤلف القاء کے مقابلہ میں ایک جاہل شخص ہے۔ اس لئے جو رسالے القاء کے جواب میں لکھے گئے وہی برق کے جواب بھی ہیں اور علیحدہ بھی اس کا جواب لکھا گیا ہے۔ مگر بے ضرورت سمجھ کر اس کے چھپوانے کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ پھر یہ کہنا کہ برق کا جواب کوئی نہیں دے سکا۔ کیسا اعلانیہ جھوٹ اور ابلہ فریبی ہے اور نصرت یزدانی کا جواب تائید ربانی لکھا گیا ہے جو ۱۳۳۱ھ میں چھپا ہے۔
مرزائی یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقت المسیح کا جواب تصدیق المسیح دیاگیا ہے۔ یہ محض غلط ہے۔ اس کا جواب ہو نہیں سکتا۔ اگر دعویٰ ہے تو کوئی مرزائی دکھائے کہ وہ تصدیق المسیح کہاں ہے؟ کسی کانگی اخبار میں کچھ لکھ دینے سے جواب نہیں ہوسکتا۔ رسالہ یہاں بھیجو۔
میاں ارادت قادیانی! یہ تو مختصر رسالہ ہے جو تمہارے رسالہ النبوۃ فی الاسلام کے
جواب میں لکھا گیا ہے۔ اس کے بعد ختم النبوۃ فی الاسلام بھی عنقریب چھپ کر شائع ہوگا۔ جس میں قرآن شریف کی دس آیتوں سے اور ۱۶مفسرین کی تفسیروں سے اور متعدد احادیث صحیحہ اور اجماع امت محمدیہa سے اور نیز مرزاقادیانی کے متعدد اقوال سے ثابت کیاگیا ہے کہ حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ نبوت ختم ہوگئی۔ مگر مرزائی ان باتوں سے بے خبر ہیں اور اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الالباب!
حضرت قبلہ عالم مولانا سید ابواحمد رحمانی دام اللہ فیوضاتہم علیٰ سائرالمسلمین کی توجہ باطنی اور تالیفات نادرہ کا بہترین نتیجہ
باخبر حضرات پر روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ صوبہ بہار کے شہر مونگیر اور بھاگلپور اور اس کے اطراف میں قادیانی گمراہی کا ایک سیلاب آیا تھا اور قریب تھا کہ ان دونوں شہروں کے اہل ایمان کا اکثر یا کل اپنے ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھیں اور پھر یہ سیلاب دور تک ایمانی عمارات کو بہالے جائے۔ عنایت خداوندی کا شکر ہے کہ اس نے حضرت ممدوح کو متوجہ کردیا اور ان کی توجہ ظاہری اور باطنی سے ہزاروں بلکہ لاکھوں مخلوق خدا سخت گمراہی اور دہکتی آگ سے بچ گئی۔ آپ کے رسائل نادرہ نے مرزاغلام احمد قادیانی کے غلط دعوؤں اور ان کے جھوٹ وفریب کو تمام دنیا پر روشن کردیا کہ ہر ایک دیکھنے والا مرزاقادیانی کی حالت سے واقف ہوگیا اور اس گمراہی سے بچا اور بہت ناواقف مسلمان جو اس دام گمراہی میں پھنس چکے تھے اور قریب تھا کہ بہت سے اس بلا میں مبتلا ہو جاتے۔ مگر آپ کے رسائل ہدایت مآب کے دیکھتے ہی اس سے علیحدہ ہوگئے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے انصاف پسند اور حق بین حضرات ناواقف ہوں جو دام گرفتہ ان پر ہدایت رسائل کے دیکھنے سے روک دئیے گئے ہیں۔ وہ اس پر غور فرمائیں کہ روکنے والے اپنے مذہب کو ایسا ضعیف سمجھتے ہیں کہ کوئی سمجھداران مفید اور حقائق رسائل کو دیکھ کر ہمارے دجل وفریب سے ناواقف نہیں رہ سکتا۔ اس کا نمونہ مونگیر وبھاگلپور والے حضرات تو دیکھ چکے ہیں جو حضرات ناواقف ہیں۔ وہ معلوم کریں کہ ان رسالوں کا اثر صوبہ بہار تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ ساری دنیا میں پھیلا، صوبہ
پنجاب، مدراس، بمبئی، گجرات، حیدرآباد تمام بنگال یعنی کلکتہ سے لے کر چاٹگام، سلہٹ، ڈھاکہ، نواکھالی، میمن سنگہ وغیرہ تک جہاں قادیانی پہنچے ہیں۔ وہاں سے ان رسالوں کی طلب آئی ہے اور رسائل پہنچنے کے بعد عاجز ہوکر بھاگ گئے ہیں یا خاموش ہوگئے ہیں اور چونکہ حضور ممدوح الصدر کی شہرت اور فیض محمدی ہندوستان تک محدود نہیں ہے بلکہ اکثردنیا میں ہے۔ اس لئے آپ کے رسائل مفیدہ حرمین شریفین بھی گئے ہیں اور رنگون اور ملک افریقہ میں بہت گئے ہیں اور جہاں جہاں رسالے پہنچے ہیں وہاں سے گمراہی پھیلانے والے بھاگے ہیں اور مسلمان، قادیانی گمراہی سے محفوظ رہے ہیں اور بعض جو فریب میں آگئے تھے وہ راہ راست پر آگئے۔ اسی طرح سرحد کی طرف بھی اثر ہوا۔ الحمدﷲ! بعض رسائل کا ترجمہ انگریزی میں بھی ہوگیا اور گجراتی زبان میں بھی اور بنگلہ زبان میں ہورہا ہے۔
اب میں اسی فیضان بے پایان کا ایک نمونہ دکھانا چاہتا ہوں۔ صوبہ اڑیسہ میں کٹک اور اس کے اطراف میں ان گمراہوں کی جماعت ہوگئی تھی اور اس کی ترقی ہورہی تھی۔ وہاں کے مدرسہ سلطانیہ کے صدر مدرس مولوی سید محمد قاسم صاحب بہاری نے رحمانیہ رسائل منگوا کر شائع کئے۔ اس کا اثر وہاں کے مسلمانوں پر جو کچھ ہوا وہ ذیل کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے۔ کئی روز ہوئے مولوی محمد عبدالستار صاحب اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر مسلم سیمنری کٹک کا خط آیا ہے وہ نقل کیا جاتا ہے۔
جناب قبلہ وکعبہ حضرت مولانا صاحب دام ظلکم!۔۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضور سے گرچہ شرف زیارت حاصل نہیں ہے۔ مگر تصانیف اور تالیفات جو حضور کے برابر یہاں آتے رہتے ہیں۔ اس سے گویا غائبانہ شرف زیارت حاصل ہے۔ حضور کی تصنیفات کے سبب سے حضور کا تذکرہ اکثر یہاں رہتا ہے۔ خصوصاً اس زمانے میں جب کہ ہر معاملات میں مولوی محمد قاسم صاحب اپنے زمانہ قیام میں ہماری مدد کرتے تھے۔ مجھے چند دنوں سے یہ معلوم ہوا کہ کٹک کے قادیانیوں کے متعلق کوئی صحیح خبر حضور کے نزدیک نہیں پہنچتی ہے۔ اس واسطے یہ کام اپنے ذمہ لیتا ہوں کہ وقتاً فوقتاً یہاں کی خبر سے حضور کو اطلاع دیتا
ہوں۔ حضور کے رسالوں اور کتابوں کا اس ملک میں اچھا اثر پڑا۔ مسلمانوں کے عقائد بہت درست ہوگئے۔ ایک جم غفیر اور بڑی جماعت جو قادیانی ہونے والی تھی انہی کتابوں کی بدولت قادیانی ہونے سے بچ گئی اور اب یہ حالت ہے کہ کسی قادیانی کو اپنے مذہب سے دلچسپی نہیں رہی۔ ہم لوگوں نے ہمیشہ سے قادیانیوں کی سخت مخالفت کی اور اب بھی ان کی بیخ کنی میں حتی المقدور کوشاں ہیں۔ اسی قادیانی جماعت کو کمزور اور اپنی جماعت کو مضبوط کرنے کے واسطے ہم لوگوں نے ایک سکول مسلم سیمنری کھولا ہے جو مذہبی رنگ لئے ہوئے ہے اور وہاں انٹرنس تک انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ کٹک میں سکول تو بہت ہیں مگر اس کی بنیاد ڈالنے کی ہم بانیان سکول کی یہی غرض تھی کہ جب ہم لوگوں نے مسلمانوں کا زیادہ رجحان قادیانی مذہب کی طرف دیکھا تو ہم لوگوں نے اپنی ایک بڑی جماعت قائم کر لی اور اسی سکول کو قائم کیا جس میں جوق درجوق مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنا شروع کیا اور اس طرح ہماری ایک بڑی جماعت قادیانیوں کے مقابلہ میں قائم ہوگئی۔ جس کی سب سے قادیانی جماعت پر جو قلیل جماعت ہے بہت گہرا اثر پڑا۔ ہم بانیان سکول نے ہمیشہ قادیانیوں سے نفرت ظاہر کی۔ اس سکول کے قائم کرنے سے بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے لڑکے جو اور سکولوں میں اس مذہب کے زہریلے اثر سے متاثر ہو جاتے تھے اس سے محفوظ رہے۔ کیونکہ اور سکولوں میں ماسٹر اوربعض لڑکے بھی قادیانی ہیں۔ ہمارا سکول اس سے پاک ہے اور ہم بانیان سکول کا اہم ترین مقصد یہ بھی ہے کہ اس سے پاک رکھا جائے۔ اسی سکول میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینیات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس کے متعلق ایک مسجد بھی قائم کی گئی ہے جس میں سکول کے وقتوں میں لڑکے ظہر اور عصر کی نماز بھی پڑھتے ہیں۔ اب ایک سال سے ایک مطبع بھی بنام مصدر فیوض جاری کیاگیا ہے۔ جس میں دوسری چیزوں کے علاوہ اکثر قادیانیوں کی تردید میں اشتہار وغیرہ چھپتے رہتے ہیں۔ ہمارے سکول کے خزانچی اور پریذیڈنٹ جناب مکرم علی صاحب رئیس کٹک ہیں جو سکول سے بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور قادیانیوں کی تردید میں اکثر ہم لوگوں کو ان سے مدد ملتی رہتی ہے۔ حضور کو شاید معلوم ہوگا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ یہاں سونگڑے مفصلات کے قادیانیوں کا جو مقدمہ مسجدوں کے بارے میں تھا وہ فیصلہ ہوگیا ہے۔
جناب مجسٹریٹ صاحب نے ایک آرڈر بھی پاس کیا ہے۔ جس میں یہ لکھا ہے کہ کل مسجدیں سنیوں کی ہیں اور اس میں قادیانی آنہیں سکتے۔ اس خط کے ہمراہ ایک اشتہار ارسال خدمت ہے۔ جس میں اس آرڈر کا مفصل ذکر ہے۔ قادیانی تو اب مسجدوں سے محروم ہوگئے۔ اب وہ ایک نیا فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اپنے مردوں کو مسلمانوں کے مقبروں میں دفنانے کا حق جتانا چاہتے ہیں۔ چند دن قبل ایک قادیانی لڑکا اس شہر میں انتقال کر گیا۔ انہوں نے شہر میں دفنانا چاہا۔ پولیس سے مدد چاہی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ آخر شہر کے باہر ایک ٹکڑا زمین خرید کر کے وہاں دفنایا۔ دس بارہ دنوں کی بات ہے کہ سونگڑے میں ایک نیا اور تازہ واقعہ پیش آیا۔ ایک قادیانی عورت مر گئی۔ قادیانی لوگ اسے مسلمانوں کے مقبرے میں دفنانا چاہتے تھے۔ مسلمانوں نے منع کیا۔ مگر قادیانی نہیں مانے اور موقع پاکر قبر کھود کر لاش کو گاڑ آئے۔ جب یہ بات مسلمانوں کے کان میں پڑی۔ سب لوگ جمع ہوگئے۔ اس لاش کو قبر سے نکال کر اس کے مکان کے سامنے پھینک آئے۔ قادیانیوں نے مخالفت کی۔ بہت بے جا طور پر مسلمانوں کو گالیاں دیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مارپیٹ شروع ہوگئی۔ ایک قادیانی کا سر پھٹ گیا۔ دوسرے قادیانی کو کسی نے ایسے زور سے ایک اینٹ رسید کی کہ عینک ٹوٹ کر بیچارے کی ناک کو زخمی کر دیا۔
سنا ہے کہ قادیانیوں نے پولیس کو خبر دی ہے۔ کل پولیس تدارک کے واسطے گیا تھا۔ دیکھئے خداتعالیٰ کی مرضی کیا ہے۔ ان شاء اﷲ! اس مقدمہ کی حالت حضور کی خدمت میں پہنچتی رہے گی۔ ہم لوگوں کی یہ دلی خواہش ہے کہ حضور سے زیارت کا شرف حاصل کریں اور اس بات کی دلی تمنا اور آرزو رکھتے ہیں اور اسی خیال میں ہیں کہ جب موقع ہو حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف زیارت حاصل کریں۔ میرے ایک دوست مولوی عبدالمجید صاحب بی۔اے جو ہمارے سکول کے سیکرٹری ہیں۔ ان کو حضور کی جدید تصنیفات کو دیکھنے کا بہت ہی شوق ہے۔ ازراہ مہربانی ذیل کے پتہ پر نئے رسالے بھیج دئیے جائیں۔
آپ کا خادم: محمد عبدالستار
اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر مسلم سیمنری کٹک
یہ سب کچھ ہمارے حضرت قبلہ عالم مدظلہ کے فیض باطنی کا اثر ہے۔ الحمدﷲ! پہلے مونگیر کی مسجد کے مقدمہ میں ہائیکورٹ تک مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور مرزائی ذلیل ورسوا رہے اور مسجد سے نکالے گئے۔ دوسرا واقعہ پورینی ضلع بھاگلپور کی عیدگاہ کا ہے۔ وہاں بھی ان کی مدد اور توجہ خاص سے ان کو ناکامی ہوئی اور عبدالماجد مرزائی کے جھوٹے اظہاروں سے ان کی بہت رسوائی ہوئی۔ صوبہ بہار کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ وہاں کے حضرات نے بھی یہاں سے مدد چاہی۔ ہائیکورٹ کی نظیر کی نقل منگوائی۔ الحمدﷲ! کہ یہ یہاں بھی کامیابی ہوئی۔ وہاں کے حاکم نے جو فیصلہ لکھا ہے اس کی یہاں نقل کی جاتی ہے۔
’’ہم احمدیوں کی التجاء کے مطابق کما حقہ تدارک کے بعد صاف حکم صادر کرتے ہیں کہ قادیانی لوگ رسول پور، کوسمبی، محی الدین پور اور دہواں ساہی کی چاروں مسجدوں میں یعنی جن مسجدوں میں قادیانی اپنا دخل اور حق جتا کر دعویدار ہوتے تھے اور نیز انہوں نے کی ہوئی تعمیر کو اپنے آباؤاجداد کی طرف منسوب کر رہے تھے، قدم رکھ نہیں سکتے۔ کیونکہ ان مسجدوں کے تیار کنندگان اہل سنت والجماعت میں سے تھے۔ اگر وہ اپنی دانست میں کوئی استحقاق رکھتے ہیں تو صاف عدالت دیوانی کی طرف رجوع کریں اور کسی مسجد کی جانب رخ نہ کریں۔ اگر کئے تو فوجداری آئین کے دفعہ ۱۰۷ کے مطابق ان کے خلاف عملدرآمد ہوگا۔ اب اس سے زیادہ صاف حکم ہم نفاذ کر نہیں سکتے۔‘‘
اب مرزائیوں کو چاہئے کہ مرزاقادیانی کا وہ قول یاد کریں کہ جھوٹا ناکام ہوتا ہے اور سچا کامیاب ہوتا ہے۔ اس لئے مرزائی اپنے مرشد کے قول سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ الحمدﷲ علٰی ذالک!
آخر میں نہایت خیرخواہانہ عرض کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی کے کذب کے دلائل میں اس قدر رسالے لکھے گئے ہیں کہ دنیا میں کسی جھوٹے مدعی کے کذب میں نہیں لکھے گئے۔ ابھی ایک فہرست جس میں ۳۶رسالوں کے نام ہیں۔ ان کو ملاحظہ کیجئے اور اس کا یقین کیجئے کہ یہ وہ رسالے ہیں کہ ان کا کچھ جواب نہیں ہوسکتا۔ جھوٹی اور غلط باتیں لکھ کر چھاپ دینا اور بات ہے۔
الراقم: محمد اسحق غفرلہ الرزاق
نگران تعلیم مسلمانان ضلع مونگیر
مورخہ ۵؍جنوری ۱۹۱۸ء
مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طالبین حق اس پر غور فرمائیں کہ یہ مختصر رسالہ ۱۳۳۷ھ مطابق ۱۹۱۹ء میں گروہ مرزائی قادیانی اور لاہوری دونوں کی ہدایت وخیرخواہی کے لئے مشتہر ہوا تھا اور جواب کے لئے تمام دنیا کے قادیانیوں کو چیلنج دیاگیا تھا۔ اب ۱۳۴۰ھ ہے۔ اس وقت تک نہ کسی نبی ماننے والے نے اور نہ کسی مجدد کہنے والے نے دم مارا۔ ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ قادیان کے نام مکرر بھیجا گیا۔ مگر عجز اور سکوت، اس وقت تک کچھ جواب نہیں آیا۔ اب قادیانی خلیفہ کے خاص چیلے میاں اللہ مارا عرف اللہ دتہ کا چیلنج آیا ہے۔ انہوں نے اپنے خیال میں ممات مسیح ثابت کی ہے۔ اس کے جواب میں ہم ساتویں روز ایک رسالہ بھیج چکے ہیں۔ جس کا نام ’’رسائل لاثانی درکذب مسیح قادیانی‘‘ ہے۔ اب یہ رسالہ بھیجتے ہیں جس میں مرزاقادیانی کا جھوٹا اور بدترین خلائق ہونا نہایت ان کے پختہ الہامی اقراروں سے خوب روشن کر کے دکھایا ہے اور ان کے اعلانیہ افتراء پردازیوں اور کذب بیانیوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔ اب اس رسالہ کے دوبارہ طبع میں کچھ اضافہ ہوا ہے اور انجام آتھم کی تھوڑی سی عبارت میں مرزاقادیانی کے چون(۵۴) جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔ اب اللہ دتہ بتائیں کہ ایسا اقراری جھوٹا اور ہر بد سے بدترمسیح موعود ہوسکتا ہے؟ حضرت مسیحm کا مرنا ایسے کذاب کو مسیح موعود نہیں بناسکتا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’الحمد ﷲ رب العٰلمین والصلٰوۃ علٰی سید المرسلین وخاتم النّبیین لا نبی بعدہ‘‘
اس کے بعد یہ خیرخواہ تمام مرزائی گروہ کو کلکتہ سے قادیان اور حیدرآباد سے افریقہ تک چیلنج دیتا ہے کہ میرے رسالہ کا جواب دیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تقریری جواب دیں یا تحریری، تقریری کی صورت یہ ہے کہ کلکتہ میں، قادیان میں، لکھنؤ میں، دہلی میں، جلسہ عام کریں اور مجھے اطلاع دیں۔ میں اس جلسہ میں تن تنہا یا اپنی جماعت کے ہمراہ حاضر ہوں گا اور اسی جلسہ میں ایک ایک قول حاضرین جماعت کو سناؤں گا اور جواب طلب کروں گا۔ مگر کامل دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی مرزائی کسی مقام کا جواب نہیں دے سکتا اور ہرگز نہیں دے سکتا۔ اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے کہ ہادی مطلق نے نہایت روشن طریقے سے مخلوق پر ایک بڑے ہوشیار کذاب ومفتری کے کذب کو اسی کے اقوال سے دکھادیا اور کامل طور سے حجت تمام کر دی۔ پانچواں مہینہ ہے کہ اس کی لاجوابی کا ثبوت خداتعالیٰ نے اس طرح دکھایا۔ واقعہ یہ ہوا کہ قادیانی اور علمائے دیوبند سے تحریری مناظرہ ہورہا تھا اور علمائے دیوبند کے متعدد رسالے اور اشتہارات چھپ رہے تھے۔ مگر ایڈیٹر الفضل کے گیارھویں نمبر کا جواب غالباً علمائے دیوبند نے اس وقت تک مشتہر نہیں کیا تھا۔ ایڈیٹر الفضل سمجھے کہ ہمارے جواب سے علمائے دیوبند عاجز ہوگئے۔ اس لئے وہ نمبر فخر یہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں بھیج دیا۔ چونکہ علمائے دیوبند سے مباہلہ پر بحث شروع ہوئی تھی۔ اس وجہ سے اس چیلنج محمدیہ کے پہلے ہی صفحہ پر یہ مضمون لکھ کر جس مدعی کا جھوٹا ہونا اس کے پختہ اقراروں سے ثابت کر دیا ہو جیسا کہ اس رسالہ میں دکھلایا گیا ہے جس میں سات اقرار مرزاقادیانی نے اپنے جھوٹے ہونے کے لئے ہیں۔ پھر ایسے اعلانیہ جھوٹے کی صداقت پر کوئی فہمیدہ مباہلہ کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کچھ دنوں کے بعد پھر اسی اشتہار کے سرورق پر یہ لکھا آیا کہ مباہلہ تو آخری فیصلہ ہے۔ ۲۰؍رجب ۱۳۳۸ھ کو یہاں سے جواب گیا کہ آخری فیصلہ اگر ہے تو اس کے لئے ہے۔ جس کا فیصلہ نہ ہوا ہو، جس کا فیصلہ خود مدعی کی زبان سے ہوگیا اور قطعاً اور یقینا اس کا جھوٹا ہونا ثابت کردیا گیا ہو۔ پھر اس کے لئے دوسرا فیصلہ بے کار ہے۔ اس مضمون کو کچھ تفصیل سے لکھ کر اور چھپوا
(۲۸؍شعبان ۱۳۳۸ھ میں رحمانیہ پریس مونگیر میں چھپا ہے) کر ایڈیٹر الفضل اور مرزامحمود خلیفہ قادیان کو بھیج دیا گیا۔ اب دوسرا سال تمام ہوتا ہے۔ اس وقت تک تو صدائے برنخواست کا مضمون ہے اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔ مگر افسوس ہے کہ اس اعلانیہ طور سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ مگر ایسے جھوٹے کو چھوڑنے کا نام نہیں لیتے۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر۲۰ میں اس جواب کی تفصیل ملاحظہ ہو۔
برادران اسلام! پورے طور سے متوجہ ہوکر میری دردمندی کو ملاحظہ کریں۔ ان دنوں کلکتہ میں ایک دشمن اسلام مرزائی غلمدی آیا تھا اور اپنے ترلقمہ کو ہضم کرنے کے لئے علمائے اہل اسلام اور خصوصاً ان مجدد وقت کو چیلنج دیتا تھا۔ جنہوں نے پچاس ساٹھ رسالے مرزاقادیانی کی کذابی کے بیان میں شائع کر کے دنیا کے مسلمانوں کو آگاہ کر دیا اور عظیم الشان گمراہی سے بچایا۔ فیصلہ آسمانی کے تین حصوں کو مشتہر ہوئے برسیں گزر گئیں جس میں توریت مقدس اور قرآن مجید سے اور صحیح حدیثوں سے اور ان کے اعلانیہ کذابیوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا گیا اور اس کے جواب دینے والے کو ہزاروں روپیہ کا انعام دینے کے لئے کہاگیا۔ مگر اس وقت تک قلم نہ اٹھا سکے۔ دوسری شہادت آسمانی میں ان کی آسمانی شہادت کو کیسا خاک میں ملایا ہے اور ان کے جھوٹ اور فریب دکھائے ہیں۔ مگر کسی مرزائی کی مجال تو نہ ہوئی کہ سامنے آئے اور اپنے مرشد کی روسیاہی کو مٹائے اور اس کا جواب دے۔ عنقریب (قریب میں) رسالہ چشمہ ہدایت چھپا ہے۔ جس میں ان کے اٹھارہ اقوال دکھائے گئے ہیں۔ جن سے مرزاقادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ اس رسالہ میں یہ اقوال بھی ہیں جو اس چیلنج میں لکھے گئے اور ان کے علاوہ اور بھی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے جھوٹے ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے اقوال، ان کے نہایت پختہ اقرار، انہیں جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ مگر چونکہ مرزاقادیانی کا وجود چودھویں صدی میں نمونہ قہر الٰہی تھا۔ اس لئے اس کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ اس فتنہ کی طرف سے مسلمانوں کو کچھ توجہ نہیں ہے۔ قادیانی جماعت کی عقل سلب کر دی گئی ہے۔ وہ اپنی اس خیر خواہی کو دیکھتے ہی نہیں اور دہکتی آگ میں گرے پڑے ہیں اور دوسروں کو اپنے ہمراہ زبردستی گھسیٹتے ہیں۔ انتہاء یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے محض اپنے کرم سے اتمام حجت کے لئے مرزاقادیانی کو ان کے پختہ اقراروں سے ان کا مفتری اور جھوٹا ہونا ثابت کر دیا اور وہ اقرار جس کے سچے ہونے پر انہوں نے
نہایت سخت قسم کھائی ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر یہ میرا قول سچا نہ ہو تو میں جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ہوں اور انہیں نہایت پختہ اور سچا الہام الٰہی کہا ہے۔ یعنی ان اقراروں کو انہوں نے اسی طرح الہام الٰہی کہا ہے۔ جس طرح اپنے مسیح اور مہدی اور مجدد اور نبی ہونے کے الہام کو کہا ہے۔ ان دونوں الہاموں میں کوئی فرق نہیں ہوسکتا۔ مگر مرزائی حضرات کچھ خیال نہیں کرتے اور ان کے مسیح اور مہدی ہونے کے الہام کو سچا سمجھ کر انہیں مہدی اور مسیح مان رہے ہیں اور اسی قسم کے وہ الہامات جن سے وہ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی طرف کچھ خیال نہیں کرتے اور ایسے اقراری کذاب سے علیحدہ نہیں ہوتے اور اپنے سچے اور بہی خواہوں کے عجزونیاز پر بھی رحم نہیں کرتے اور ایسے اعلانیہ کذاب سے علیحدہ نہیں ہوتے اور دہکتی آگ میں گرنا قبول کرتے ہیں۔ راقم خیرخواہ اس قسم کے چند اقرار، ان کی صرف ایک کتاب انجام آتھم سے یہاں نقل کرتا ہے اور قدرت خدا کا نمونہ دکھاتا ہے کہ ایسا ہوشیار اور چالاک شخص اپنے ایک رسالہ میں ایک ہی واقعہ کے بیان میں آٹھ نو اقرار ایسے کرتا ہے جن سے وہ خود جھوٹا اور ہربد سے بدتر ثابت ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے جھوٹے ہونے پر قسم کھائی ہو۔ وہ اقرارات ملاحظہ ہوں۔ پہلا اقرار:
۱… ’’میںباربار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو۔‘‘ (یہ عبارت محاورہ اردو سے غلط ہے۔ مرزاقادیانی کو تانیث وتذکیر میں امتیاز نہ تھا)
۲… ’’اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
۳… ’’اور اگر میں سچا ہوں تو خداتعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے۔‘‘
۴… ’’جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔‘‘
(انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱ حاشیہ)
مرزاقادیانی کے قول سے ثابت ہوا کہ وعید کی پیشین گوئی رونے دھونے سے رک نہیں سکتی۔ یہ اقرار مرزاقادیانی نے ۲۲؍جنوری ۱۸۹۷ء سے کچھ قبل کیا ہے۔ اس اقرار کے الہامی اور سچے ہونے پر اس قدر اصرار وپختگی ہے کہ صرف انہیں چار سطروںمیں نہایت زوردار چار طریقوں سے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کو بیان کیا ہے۔ لیکن الحمدﷲ! ہر
طریقہ سے مرزاقادیانی کا کذب ہی ثابت ہوتا ہے۔ تفصیل ملاحظہ ہو۔
اوّل طریقہ: بیان مرزاقادیانی کا یہ ہے۔ ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔‘‘ (جس بات کا پورا ہونا علم الٰہی میں قرار پاچکا ہو اسے تقدیر مبرم کہتے ہیں) اس لئے مرزاقادیانی کے قول کا مطلب یہ ہوا کہ داماد احمد بیگ کا میرے سامنے مرنا علم الٰہی میں قرار پاچکا ہے۔ وہ ضرور میرے سامنے مرے گا۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ (مرزا۱۹۰۸ء میں مرا اور مرزاسلطان بیگ پاکستان بننے کے بعد فوت ہوا۔ مرتب!) جس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کا اسے تقدیر مبرم کہنا محض جھوٹ اور اﷲتعالیٰ پر افتراء تھا اور نہایت ظاہر طریقہ سے مرزاقادیانی کاذب ومفتری علی اﷲ ثابت ہوئے اور جب اس جھوٹ کو مرزاقادیانی باربار بولے تو اس طریقہ سے کم سے کم تین جھوٹ مرزاقادیانی کے ثابت ہوئے۔ یعنی ایک جھوٹ تین مرتبہ بولے اور اگرقادیانی جماعت مرزاقادیانی کو اس دروغ گوئی سے مبرا سمجھتی ہے تو دہریوں کی مؤید ہے۔
دوسرا طریقہ: نہایت ظاہر طور سے اپنا کمال وثوق اس کے پورا ہونے پر اس طرح ظاہر کیا ہے کہ: ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘ ہمارے دینی برادران طالبین حق اس پر غور فرمائیں کہ مرزاقادیانی نے اپنی صداقت کے ا ظہار میں اور اپنی نبوت کی دلیل میں نہایت روشن بات پیش کی ہے۔ جس کی صداقت آنکھوں سے معائنہ ہوتی ہے اور جس کا یقین متواتر خبروں سے ہوسکتا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ مرزاقادیانی کو مرے ہوئے بارہ برس ہوگئے اور خدا جانے ان کی ہڈیوں کی کیا حالت ہوئی ہوگی اور احمد بیگ کا داماد اب تک موجود ہے اور اپنے چہرے کو دکھا کر ان کی کذابی کا معائنہ کرارہا ہے۔ مگر ان کے مریدین ایسے اندھے ہیں کہ ایسی اعلانیہ بات پر بھی ایمان نہیں لاتے اور اس کذاب کو جھوٹا نہیں سمجھتے۔ جس کے کذب کا معائنہ ان کی آنکھوں سے ہورہا ہے۔ اس پر نظر رہے کہ یہ قول مرزاقادیانی کا معمولی نہیں ہے کہ اتفاقیہ کوئی بات کہہ دی ہو۔ بلکہ اپنی نبوت کی دلیل میں یہ پیشین گوئی کی ہے اور اس دلیل نے انہیں جھوٹا ثابت کر دیا۔
تیسرا طریقہ: ’’اور اگر میں سچا ہوں تو خداتعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا دخل ہو جاتا ہے۔‘‘ مرزاقادیانی تیسرے طریقے میں تمثیل
دے کر اپنی پیشین گوئی پوری ہونے کی توضیح کرتے ہیں اور احمد بیگ اور مسٹر آتھم کی نظیر پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں پیشین گوئیاں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ اس کی تفصیل الہامات مرزا اور فیصلہ آسمانی میں کی گئی ہے اور اس قول میں مرزاقادیانی نے چار جھوٹ بولے ہیں۔ (۱)یہ کہ پیشین گوئی پوری ہوگی۔ (۲)احمد بیگ کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ (۳)آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ (۴)وقتوں میں کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے۔ یہ چوتھی بات بھی محض دروغ اور بناوٹ ہے۔ انبیاء کے مقرر کئے ہوئے اوقات میں کبھی استعارہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ مرزاقادیانی کی ڈھٹائی ہے۔ اس تیسرے طریقہ میں چار جھوٹ مرزاقادیانی کے ہوئے۔
چوتھا طریقہ: ’’جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘ اس چوتھے جملہ میں مرزاقادیانی اپنی پیشین گوئی کی مزید توثیق کے خیال سے اس کو خدا کے یہاں کی ٹھہری ہوئی بات بیان کرتے ہیں۔ جب یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ خدا کے یہاں کی ٹھہری ہوئی بات نہ تھی بلکہ مرزاقادیانی نے جھوٹ بولا اور اﷲتعالیٰ پر افتراء کیا۔ مرزاقادیانی اپنے پہلے اقرار کے تمام طریقوں سے جھوٹے ٹھہرے۔ البتہ ان کا یہ اقرار سچا نکلا۔ ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘ مرزاقادیانی عمر بھر میں غالباً سوائے اس جملہ کے کوئی سچ نہ بولے ہوں گے۔ اب قادیانی جماعت بتائے کہ جب آپ مرزاقادیانی کے تمام الہاموں اور ان کے اقوالوں کو سچا اعتقاد کر کے ان پر ایمان لائے ہیں تو اس پختہ اور یقینی اقرار پر ایمان لاکر انہیں جھوٹا کیوں نہیں مانتے اور اس اقرار میں انہیں جھوٹا کیوں سمجھتے ہیں؟ اگر آپ کے خیال میں نبی جھوٹ بولتا ہے یا کسی وقت وحی والہام کے معنی نہیں سمجھتا تو پھر کسی صاحب عقل کے نزدیک نبی کی کوئی بات لائق اعتبار نہیں ہوسکتی اور نبوت بے کار ہو جاتی ہے۔ ذرا اس میں غور کرو۔ عقل کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ جب مرزاقادیانی کا وہ قول جو اس نے باربار کہا ہو اور اس کو خدا کا الہام بتایا ہو اور اسے اپنی صداقت کا معیار ٹھہرایا ہو اور عرصہ دراز تک وہ اپنے اس غلط دعوے کو مشتہر کرتا رہا ہو اور اﷲتعالیٰ اس غلطی پر اسے کسی وقت متنبہ نہ کرے اور دنیا کے روبرو اسے جھوٹا اور رسوا کرے ایسا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور میں نہایت خیرخواہانہ کہتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے مخلوق اور بالخصوص مسلمانوں پر بڑا احسان کیا کہ مرزاقادیانی کے کذب کو دنیاپر روشن کر
کے دکھادیا اور کس نافہم اور جاہل کو بھی جائے دم زدن نہ رہی۔ کیونکہ مرزاقادیانی اس کے لائق تھے۔ وہ جھوٹ بولنے میں ایسے بے باک اور عوام کے فریب دینے کو ایسے جھوٹ بے باکانہ بولے ہیں کہ اہل فہم ان کے جھوٹ کو اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ اسی اقرارمیں مرزاقادیانی کے آٹھ جھوٹ دکھائے گئے اور اس سے پہلے اسی انجام آتھم کے تیسویں صفحہ میں حضرت یونسm کا ذکر کیاہے۔ اس میں متعدد جھوٹ بولے ہیں۔ اس کے ساتھ مرزاقادیانی کے اس پیشین گوئی کے جھوٹ کو بھی ملالیا جائے تو مرزاقادیانی کے جھوٹ کی تعداد اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ناظرین مختصرلفظوں میں اس کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔
مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ نے یونسm نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی۔ جیسا کہ تفسیر کبیر کے ص۱۶۴ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔‘‘
(انجام آتھم حاشیہ ص۳۰، خزائن ج۱۱ ص۳۰ حاشیہ)
اس قول میں مرزاقادیانی کئی دعوے کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ اﷲتعالیٰ نے نزول عذاب کا قطعی وعدہ کیا تھا۔ یعنی حضرت یونسm کی قوم پر بالیقین عذاب نازل ہوگا۔ دوسرا دعویٰ یہ کہ نزول عذاب کی مدت چالیس دن ہے اور اس مدت کا ثبوت بھی قطعی ہے۔ کچھ شک وشبہ نہیں ہے۔ اس کے بعد پھر نزول عذاب کی وعید کو قطعی اور یقینی کہتے ہیں اور اپنے پہلے قول کی تاکید کرتے ہیں۔
تیسرا دعویٰ یہ کہ نزول عذاب کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ نزول عذاب کے لئے اگر کوئی شرط ہوگی تو یہی ہوگی کہ اگر ایمان نہ لائیں تو ان پر عذاب آئے گا۔ مگر مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شرط نہ تھی۔ اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں ان پر عذاب ضرور نازل ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک خداتعالیٰ کسی وقت ظلم بھی کرتا ہے۔ مرزاقادیانی کے یہ تینوں دعوے جھوٹے ہیں اور کہیں سے ثابت نہیں ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے قطعی طور سے بلاشرط بطور نادری حکم کے عذاب کا وعدہ کر دیا تھا۔ تین جھوٹ یہ ہوئے۔
چوتھا دعویٰ یہ ہے کہ یہ تینوں دعوے تفسیر کبیر ص۱۶۴ سے ثابت ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ یہ دعویٰ نہ تفسیر کبیر کے کسی مقام سے ثابت ہے اور نہ تفسیر کبیر کے اس صفحہ سے کیونکہ تفسیر کبیر کی آٹھ جلدیں ہیں اور آٹھوں جلدوں کے اس صفحہ سے اس پیشین گوئی کا قطعی ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ دو جھوٹ ہوئے اور چونکہ تفسیر کبیر سے تین دعوے ثابت کر رہے ہیں۔ اس لئے اس میں درحقیقت تین دونی چھ جھوٹ ہوئے۔
پانچواں دعویٰ یہ ہے کہ تفسیر درمنثور سے بھی یہ تینوں دعوے ثابت ہیں۔ یہ بھی محض جھوٹ ہے اور چونکہ تین دعوؤں کا ثبوت اس کتاب سے بھی دے رہے ہیں۔ اس لئے تین جھوٹ یہ بھی ہوئے اور شروع سے یہاں تک شمار میں بارہ جھوٹ ہوئے اور چونکہ ان تفسیروں میں احادیث صحیحہ سے ان دعوؤں کا ثبوت بتاتے ہیں اور احادیث جمع کا صیغہ ہے جس کے لئے کم سے کم تین صحیح حدیثوں کا ہونا ضرور ہے۔ اس لئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر دعویٰ کے متعلق تین صحیح حدیثیں ہیں اور دعوے تین ہیں تو اس لحاظ سے نو صحیح حدیثیں ہونا چاہئیں اور چونکہ ان حدیثوں کا حوالہ دو کتابوں سے دے رہے ہیں۔ اس لئے نو دونی اٹھارہ صحیح حدیثیں دونوں کتابوں میں ملاکر ہونا چاہئے تھا۔ لیکن افسوس کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ اٹھارہ تو کیا ہوئیں ایک صحیح حدیث بھی ان دعوؤں کے ثبوت میں نہیں ہے تو اس اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ تعداد حدیث کے لحاظ سے اٹھارہ جھوٹ یہاں پر مرزاقادیانی کے ہوئے اور بارہ پہلے ہوئے تھے تو اب کل میزان تیس ہوئے۔ اب ایسی حالت میں کہ مرزاقادیانی کی پیشین گوئی جھوٹی نکلی اور دنیا پر اس کا جھوٹا ہونا آفتاب کی طرح روشن ہوگیا تو مرزاقادیانی نے اپنی پیش گوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہہ دیا کہ جس طرح حضرت یونسm کا وعدۂ عذاب ٹل گیا۔ اسی طرح مرزااحمد بیگ کے داماد کی موت کا وعدہ ٹل گیا۔ یہ مرزاقادیانی کا اکتیسواں جھوٹ ہے۔ کیونکہ حضرت یونسm کا وعدہ عذاب پورا ہوا اور عذاب آیا جو قرآن شریف کی نص قطعی سے ثابت ہے اور سورۂ یونس میں مذکور ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ان پر سے وہ عذاب جوان پر نازل ہوچکا تھا خدا نے دور کر دیا اور یونسm کا وعدہ پورا ہوا۔ بخلاف اس کے کہ مرزاقادیانی نے احمد بیگ کے داماد کی موت کے لئے قطعی طور سے باربار کہا مگر وہ نہ مرا۔
علاوہ اس کے حضرت یونسm کے واقعہ کو پیش کرنا اور اپنی پیش گوئی کے ہم شکل بتانا اس وجہ سے بھی غلط اور سراسر کذب وفریب ہے کہ حضرت یونسm کی قوم پر سے عذاب اس وجہ سے خداوند تعالیٰ نے نازل کرنے کے بعد اٹھا لیا کہ ان کی قوم ایمان لے آئی اور یہاں تو مرزاقادیانی پر وہ لوگ جن کے متعلق مرزاقادیانی نے پیشین گوئی کی تھی آخری دم تک ایمان نہیں لائے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کی پیشین گوئی حضرت یونسm کی پیشین گوئی سے دوسرے معنی کے اعتبار سے بھی مختلف ہے اور اس لحاظ سے مرزاقادیانی کا اپنی پیشین گوئی کو حضرت یونسm کے واقعہ کے ہم شکل ٹھہرا کر لوگوں کے سامنے پیش کرنا بتیسواں جھوٹ ہوا۔ اس کے بعد اسی پیشین گوئی کے ضمن میں مرزاقادیانی کی چار سطر کی عبارت بھی قابل دید ہے کہ بالکل بے باک ونڈر ہوکر جھوٹ بولتے گئے ہیں۔ میں ناظرین کے سامنے وہ عبارت پیش کر کے اس کے جھوٹ دکھاتا ہوں۔ مرزاقادیانی (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۳۱،۳۲، خزائن ج۱۱ ص۳۱،۳۲) میں لکھتے ہیں: ’’تو پھر اگر خدا کا خوف ہو تو اس پیشین گوئی کے نفس مفہوم میں شک نہ کیا جائے۔ کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری جز ہے۔ جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیش گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘
اس عبارت میں پہلا جھوٹ تو یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کو وقوع یافتہ بات کا ایک جز قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ محض غلط ہے۔ کیونکہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ پیشین گوئی کا کوئی حصہ پورا نہیں ہوا۔ جیسا کہ اس کو (الہامات مرزا) میں خوب اچھی طرح ثابت کیاگیا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشین گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو۔ تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ اس عبارت کا مطلب آسان ہے۔ اس لئے تشریح نہیں کرتا ہوں۔ اس میں ایک جھوٹ خدا پر ہوا۔ قرآن مجید میں کہیں اس کا ثبوت نہیں ہے کہ عذاب کی پیشین گوئی خوف سے ٹل جاتی ہے۔ اگر کسی مرزائی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے۔ بلکہ اس کے خلاف متعدد جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔ فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں متعدد آیات سے اس دعویٰ کو ثابت کیا ہے کہ خدا کا وعدہ
اور وعید میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ مرزاقادیانی کا دوسرا جھوٹ ہوا۔ تیسرے یہ کہ اسی مضمون کو رسول اﷲa کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن حدیثوں میں بھی اس کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ یہ تیسرا جھوٹ ہے۔ چوتھے یہ کہ اس کے مضمون کو پچھلی کتابوں کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں۔ پچھلی کتابیں دس ہیں تو گویا دسوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ ایک کتاب میں بھی یہ مضمون نہیں ہے۔ اس لئے دس جھوٹ یہ ہوئے۔ اس کے بعد غضب کی ڈھٹائی کے ساتھ مرزاقادیانی اسی مضمون کو اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہیں۔ یہ کس قدر بے باکی وجسارت ہے کہ جس بات کے دس بیس علماء بھی قائل نہ ہوں۔ اس کو اجماعی عقیدہ بیان کردیا۔ اپنے اس قول میں مرزاقادیانی نے صرف ایک دو علماء پر اتہام نہیں باندھا ہے۔ بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی طرف جھوٹی بات منسوب کر دی ہے۔ کیونکہ اجماعی عقیدہ وہی کہلاتا ہے جس کو تمام مسلمان تسلیم کر لیں۔ اب خیال کرو کہ رسول اﷲa سے لے کر اس وقت تک کتنے مسلمان گزرے ہوں گے اور اگر تم تمام مسلمانوں کو نہ لو صرف علماء ہی کا شمار کرو اس وقت بھی کروڑوں کی تعداد ہو جائے گی تو گویا اس قول میں مرزاقادیانی نے کروڑوں جھوٹ بولے اور اگر کروڑوں جھوٹ اس کو نہ کہو گے تو کروڑوں جھوٹ کے مقابلہ کا ایک جھوٹ تو شمار کرو گے۔ اس لحاظ سے اس چار سطر کی عبارت میں ۱۴جھوٹ ہوئے اور بتیس پہلے ہوئے تھے اور اب اس سے قبل آٹھ تو اب میزان کل چوّن(۵۴) ہوتی ہے۔ خدا کی پناہ جس شخص کے ایک اقرار کی چند سطروں میں چوّن(۵۴) جھوٹ ظاہر ہوں۔ اس کو لوگ نبی مانیں۔ سوا اس کے کیا کہا جائے کہ مرزائیوں کی عقلیں سلب ہو گئی ہیں۔ اب جو شخص مرزاقادیانی کی صداقت کا مدعی ہو وہ مجمع کر کے ہمارے سامنے ان کی صداقت ثابت کرے۔ پھر دیکھے کہ ان کا جھوٹا ہونا کس طرح ثابت کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارا چیلنج ہے اور اس جلسہ میں ہم اس کے لئے انعام بھی مقرر کر دیں گے۔ اس قدر عرض کرنے کے بعد اب میں پھر مرزاقادیانی کے اقرار کی طرف لوٹتا ہوں۔ جس وقت مرزاقادیانی نے داماد احمد بیگ کے اپنے سامنے نہ مرنے پر اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار عام طور سے مشتہر کیا تو خاص طور سے بعد میں علماء کو بھی خط لکھا ہے اور عربی اور فارسی کی قابلیت دکھائی ہے اور ۲۱صفحوں پر اسی پیشین گوئی کا ذکر کیا ہے اور علماء کی شکایت کی ہے کہ احمد بیگ کا داماد پیشین گوئی کی میعاد میں نہیں مرا۔ ’’وایں برخلاف
آں وعدہ تاکیدی است کہ درالہام بود‘‘ پھر اس کے جواب میں ایک طوفان بے تمیزی کا اٹھایا ہے اور ص۲۱۴ پر پہنچ کر اس کے مرنے کا جدید الہام بیان کیا ہے اور الہام سابق کی اسے تفصیل قرار دی ہے اور ص۲۱۵ میں اس مضمون کا اعادہ کیا ہے۔ پھر (انجام آتھم ص۲۱۶، خزائن ج۱۱ ص۲۱۶) میں تیسرا الہام اسی داماد احمد بیگ کی موت کی بابت بڑے زور سے پیش کرتے ہیں اور اس میں کسی شرط کو بیان نہیں کرتے اور اس کی تعریف عربی اور فارسی میں اس طرح کرتے ہیں۔
’’وایں الہام در ظہور مانند نور تجلی کردوہمہ حجاب ہا کہ برراز پوشیدہ بود از میان برداشت وایں الہام برائے الہامات سابقہ بطور شرحے بود مبسوط وبرائے کشوف مجملہ تفصیلے بود واضح۔‘‘
اس کا حاصل یہ ہے کہ اس کے مرنے کی اس تیسرے الہام نے پہلے الہاموں کی ایسی واضح شرح کر دی کہ کسی طرح کا شبہ نہ رہا اور آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہوگیا کہ احمد بیگ کا داماد ضرور میرے سامنے مرے گا۔ ان مکرر الہاموں اور یقینی مشرح بیانوں سے یہ امر بھی بخوبی ظاہر ہو گیا کہ جس طرح مرزاقادیانی کو اپنے مجدد اور مسیح اور نبی ہونے کا یقینی الہام ہوا تھا یہ الہام بھی یقین اور وضوع میں اس سے کم نہیں ہے۔ بلکہ الہام کی یہ شرح تو اس کی مقتضی ہے کہ مسیحی الہام سے یہ الہام زیادہ واضح اور یقینی ہے۔ کیونکہ ان الہاموں کی ایسی تعریف کہیں دیکھی نہیں گئی۔ اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ جب اس الہام سے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا تو مسیحی الہام بھی قابل اعتبار نہ رہا۔ خوب خیال رکھئے کہ یہ محکم اور مشرح الہام جس کا بیان ابھی کیاگیا، مرزاقادیانی نے عربی اور فارسی دونوں میں لکھا ہے۔ مگر صرف ان کی فارسی نقل کرتا ہوں۔
’’بیان آن این است خداتعالیٰ مرا دربارہ قبیلہ من مخاطب کردو گفت کہ ایں مردم
مکذب آیات من ہستند وبدانہا استہزامی کنند۔ پس من ایشاں رانشانے خواہم نمود۔ وبرائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد۔وآں زن را کہ زن احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد۔ یعنی چونکہ اواز قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیروں شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواہد شد۔در کلمات خداوعدہ ہائے اوہیچکس تبدیل تنواند کردوخدائے تو ہرچہ خواہد آں امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ درمعرض التوا بماند پس خدائے تعالیٰ بہ لفظ ’’فسیکفیکہم اﷲ‘‘ سوئے ایں امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ رابعد میرانیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد۔ واصل مقصود میرانیدن بود۔ تو میدانی کہ ملاک ایں امر میرانیدن ست وبس۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۱۶،۲۱۷، خزائن ج۱۱ ص۲۱۶،۲۱۷)
مطلب: مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے میرے کنبہ کے باب میں فرمایا کہ یہ لوگ میرے نشانوں کے منکر ہیں اور انہیں ہنسی اور مذاق میں اڑاتے ہیں۔ ان کو میں ایک معجزہ دکھاؤں گا (اور وہ معجزہ یہ ہے) کہ احمد بیگ کی لڑکی تو تیرے پاس واپس لاؤں گا۔ یعنی اس لڑکی کا نکاح ایک جنبی غیرکفو سے ہوگیا ہے۔ اس لئے وہ اپنے قبیلہ سے خارج ہوگئی ہے۔ مگر تیرے نکاح میں آنے سے پھر اپنے قبیلہ میں آجائے گی۔ خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ خداتعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے۔ کسی طرح ملتوی نہیں رہ سکتا۔ (اس لڑکی کا مرزاقادیانی کے نکاح میں آنا خدائے تعالیٰ کی انہیں باتوں میں ہے جو کسی وقت ملتوی نہیں ہوسکتیں) اﷲتعالیٰ کے الہام میں لفظ’’فسیکفیکہم اﷲ‘‘ اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح میں آنے کے جو مانع ہیں اور روک رہے ہیں انہیں مار کر اس لڑکی کو میرے نکاح میں لائے گا اور اس مقصود خداوندی ان مانعوں کا مارڈالنا ہے۔
اس قول سے پانچ باتیں ثابت ہوئیں:
۱… اﷲتعالیٰ مرزاقادیانی کے کنبے کے لوگوں کو نشان یعنی ایک خاص معجزہ دکھانے کا وعدہ کرتا ہے۔
۲… وہ معجزہ یہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح جو غیرکفو میں ہوگیا ہے اس کا شوہر مرے گا اور وہ لڑکی مرزاقادیانی کے نکاح کے ذریعے سے اپنے قبیلہ میں آئے گی۔ یہ دو وعدۂ الٰہی
ہیں۔ ایک یہ کہ احمد بیگ کا داماد مرے گا۔ دوسرا یہ کہ اس کی بیوی مرزاقادیانی کے نکاح میں آئے گی۔
۳… خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔
۴… اس لڑکی کا مرزاقادیانی کے نکاح میں آنا خداتعالیٰ کی ان باتوں میں ہے جس کی نسبت مرزاقادیانی یا ان کا الہام یہ کہتا ہے کہ بہرحال شدنی است ممکن نیست کہ درمعرض التوا بماند۔
۵… اصل مقصود خداوندی، احمد بیگ کے داماد وغیرہ کا مارڈالنا ہے۔ ان باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کاوعدہ اور اس کی مشیت یہ ہوچکی ہے کہ اس لڑکی کا شوہر مرے گا اور وہ لڑکی مرزاقادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ یہ امر کسی طرح ملتوی نہیں ہوسکتا۔ یعنی مذکورہ دونوں وعدے پورے ضرور ہوں گے اور نکاح میں آنا کیا معنی بلکہ نکاح میں آچکی ہے۔ کیونکہ بقول مرزاقادیانی! اﷲتعالیٰ نے اس کا نکاح آسمان پر کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا لقب منکوحہ آسمانی دنیا میں مشہورہوگیا۔
اب خیال کیا جائے کہ اﷲتعالیٰ نے پہلے اس کے نکاح میں لانے کا پختہ وعدہ کیا۔ پھر اس کے ظہور کی پختگی کے لئے آسمان پر نکاح بھی خود پڑھادیا۔ اس لئے اس کاظاہر ہونا ہرحالت میں ضروری ہے۔ کسی وجہ سے یہ ملتوی نہیں ہوسکتا۔ اس کو نہ کوئی شرط روک سکتی ہے اور نہ کسی کا رونا دھونا اسے ملتوی کر سکتا ہے۔ اگر ایسا پختہ وعدہ بھی پورا نہ ہو تو اس کے کسی وعدہ پر اطمینان نہ رہے گا اور اس کے نبی کی نبوت اور اس کا تمام کلام بیکار ہو جائے گا۔ کسی پر اعتماد نہ رہے گا۔ اب مرزاقادیانی کی خبط الحواسی یادفع الوقتی اور فریب دہی ملاحظہ کیجئے۔ مدت کے بعد جب وہ احمد بیگ کا داماد نہ مرا اور اس کی بیوی مرزاقادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو اس وقت ایک نے دریافت کیا کہ وہ عورت تو تمہارے نکاح میںنہ آئی اور تم جھوٹے ہوئے تو اپنے رسالہ حقیقت الوحی میں اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ وہ پیشین گوئی شرطی تھی اور اس عورت نے شرط کو پورا کر دیا۔ اس لئے وہ پوری نہ ہوئی۔ اب مرزائی حضرات دیکھیںکہ یہاں تو نہایت صاف طور سے کہہ رہے ہیں کہ ’’بہرحال شدنی است ممکن نیست کہ درمعرض التوا بماند‘‘ یعنی اس نکاح کا ملتوی ہونا ممکن نہیں۔ ہر طرح اس کا ظہور ہوگا اور حقیقت الوحی میں اس کے التواء
کے لئے ایک جھوٹی شرط پیش کرتے ہیں۔ یہ اعلانیہ فریب نہیں تو اور کیا ہے؟
ناظرین! اس پر خوب غور فرمائیں کہ یہاں مرزاقادیانی نے تین وعدہ الٰہی بیان کئے ہیں جن کا پورا ہونا وہ ضرور بیان کرتے ہیں جنہیں کوئی شے روک نہیں سکتی۔ ایک یہ کہ اﷲتعالیٰ مرزاقادیانی کے کنبے کے لوگوں کو معجزہ دکھائے گا۔ دوسرا یہ کہ احمد بیگ کی لڑکی خاص مرزاقادیانی کے نکاح میں لائے گا۔ تیسرا وعدہ یہ کہ احمد بیگ کے داماد وغیرہ کو مرزاقادیانی کے روبرو مارے گا۔ اس کا مرنا مرزاقادیانی کے لئے وعدہ ہے اور اس کے لئے وعید ہے اور تیسرا وعدہ کی نسبت کہتے ہیں کہ اصل مقصود خداوندی اس وعدہ کا پورا کرنا ہے۔ یعنی مرزاقادیانی کی زندگی میں احمد بیگ کے داماد کو مارنا۔ اب دنیا نے دیکھ لیا کہ ان تین وعدوں میں سے کوئی وعدہ الٰہی پورا نہ ہوا۔ یہاں تک کہ جس وعدہ کا پورا ہونا عین مقصود خداوندی بتایا تھا وہ بھی پورا نہ ہوا۔ اس لئے اس قول سے خدائے قدوس پر دو عیب مرزاقادیانی نے ایسے لگائے جس سے اس کی خدائی درہم برہم ہوگئی۔ کیونکہ یہ وہ وعدے ہیں جو اس نے نہایت پختگی سے باربار مرزاقادیانی سے کئے ہیں اور ایسے پختہ وعدوں کو اس نے پورا نہ کیا۔ اس لئے اس کے تمام وعدے جو شریعت محمدیہa میں اس نے کئے ہیں وہ سب بیکار ہوگئے۔ ان میں کوئی وعدہ قابل وثوق نہیں رہا۔ تیسرے وعدے کے پورا نہ ہونے سے وعدہ خلافی کے علاوہ اس کا عاجز ہونا بھی ثابت ہوا۔ کیونکہ مرزاقادیانی کے قول کے بموجب وہ اپنے اصلی مقصود کو پورا نہ کر سکا اور احمد بیگ کے داماد کو نہ مار سکا اور اپنے اور اپنے رسول کے قول کو جھوٹا اور دنیا کے نزدیک غیرمعتبر ٹھہرادیا اور پورے طور سے دہریوں کی تائید کی۔
اے مرزائیو! اس اعتراض کا کوئی جواب ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ پرانے اعتراض نہیں ہیں بلکہ نئے ہیں اور اس طرح کے ہیں کہ ان سے آپ کے پرانے جوابات ردی ہوگئے اور آپ کے مرشد اپنے اقراروں سے یقینا مفتری اور دہریوں کے مؤید بلکہ پوشیدہ دہریہ ثابت ہوئے۔ اس کے بعد ص۲۲۲ تک وہ میعادی جھوٹی پیشین گوئی کے متعلق اپنی سلطان القلمی دکھائی ہے اور خوب جھوٹی باتیں بنا کر یہ دکھایا ہے کہ وہ پیشین گوئی اس وجہ سے ملتوی ہوگئی۔ یعنی احمد بیگ کا داماد اس وقت تک نہیں مرا مگر اب ص۲۲۳ میں اس کے مرنے کے لئے پھر پیشین گوئی کرتے ہیں۔
جس سے قدرت خدا نظر آتی ہے کہ ایسے چالاک اور ہوشیار مدعی کو اس کے نہایت صاف اور مستحکم اور قسمیہ اقرار سے دنیا کو جھوٹا دکھا کر اپنی قدرت کا نمونہ معائنہ کرایا ہے۔ طالبین حق ملاحظہ کریں کہ ایک پیشین گوئی ہے۔ داماد احمد بیگ کی اب اس کی صداقت اور اپنے اعتماد کا اظہار متعدد زبانوں اور مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ یہ دوسرا طریقہ ہے۔ یہاں اپنی قابلیت کے اظہار میں عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں اپنا مدعا بیان کیا ہے۔ مگر عربی میں زیادہ زور ہے اور ان کا مدعا بھی عربی زبان میں زیادہ واضح ہوتا ہے۔ اس لئے میں ان کی عربی عبارت نقل کر کے اس کا مطلب لکھتا ہوں۔ ’’ثم ماقلت لکم ان القضیۃ علی ہذا القدر تمت والنتیجۃ الاخرۃ ہی التی ظہرت وحقیقۃ النباء علیہا ختمت بل الامر قائم علی حالہ‘‘ (انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)
مطلب: (میں پھر تم سے کہتا ہوں کہ میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ اس پیشین گوئی کی حالت اسی پر ختم ہوگئی۔ (یعنی مذکورہ وجوہات سے احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اور اب وہ ہمارے حیات میں نہ مرے گا اور پیشین گوئی کی حقیقت اسی پر ختم ہوگئی۔ ایسا ہرگز نہیں ہے) بلکہ اصل بات بدستور اپنی حالت پر قائم ہے۔ یعنی وہ پیشین گوئی ضرور پوری ہوگی اور احمد بیگ کا داماد میری زندگی میں مرے گا۔ (یہاں مدعا تمام ہوگیا) اب اس پر کمال وثوق اور اعتبار کے لئے تاکیدی جملے تحریر کرتے ہیں)
(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)
۱… ’’کوئی شخص اسے کسی طرح ٹال نہیں سکتا۔‘‘
۲… ’’کیونکہ خدائے بزرگ کی طرف سے اس کا ہونا تقدیر مبرم ہے۔ (یعنی اس کا ظہور میں آنا علم الٰہی میں قرار پاچکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا اور اس کا علم بعض وقت انبیاء کو دیا جاتا ہے۔ اس میں اجتہادی غلطی نہیں ہوسکتی)‘‘
۳… ’’اور اس کے ظہور کا وقت عنقریب آنے والا ہے۔ (اس کے بعد اپنے بیان کے سچے ہونے پر قسم کھاتے ہیں)‘‘
۴… ’’اس خدائے بزرگ کی قسم ہے جس نے حضرت محمد مصطفیa کو مبعوث فرمایا اور انہیں بہترین مخلوقات بنایا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اور پیشین گوئی کر رہا ہوں اس کا ظہور میں آنا حق ہے۔ اس کا ظہور تو عنقریب دیکھ لے گا۔‘‘
۵… ’’اور میں اس پیشین گوئی کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار قرار دیتا ہوں۔‘‘ اگر یہ پیشین گوئی سچی ہو جائے تو میں سچا ہوں اور اگر جھوٹی نکلے تو جھوٹا ہوں۔
۶… ’’اور جو کچھ میں نے کہا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کہا ہے۔ بلکہ وہی کہا ہے جو میرے پروردگار نے مجھے اطلاع دی ہے۔‘‘
مذکورہ عربی عبارت بعینہٖ نقل کی گئی ہے جسے انہوں نے اپنے کامل اعتماد وظہور کے لئے بقلم جلی لکھا ہے اور کسی مقام پر اس کے شرطی ہونے کا ذکر نہیں کیا بلکہ قسم کھا کر ہر طرح اس کا پورا ہونا بیان کیا ہے۔ ناظرین! اس پر خوب نظر کریں کہ داماد احمد بیگ کے مرنے کی پیشین گوئی کی نسبت لکھتے ہیں کہ وہ بدستور قائم ہے اور وہ میری زندگی میں ضرور مرے گا۔ اب اس کے وثوق اور اعتماد ظاہر کرنے کے لئے چھ جملے مرزاقادیانی نے لکھے ہیں۔ جن پر میں نے ہندسہ دے دیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تاکیدی جملہ وہ ہے جس میں مرزاقادیانی نے اس خبر کے سچے ہونے پر قسم کھائی ہے اور قسم بھی بڑے زوروں کی ہے جس میں انہوں نے اپنی ذہانت سے ایک لطیف اشارہ رکھا ہے وہ یہ کہ قسم کھانے والا اس خدائے عالی ذات کا بندہ ہے۔ جس نے حضرت محمد مصطفیa جیسے عالی صفات پیغمبر بنا کر بھیجے اور اسی عالی مرتبہ نبی کا ارشاد ہے کہ مسلمان یعنی میرا امتی جھوٹ نہیں بولتا۔ پھر جھوٹی قسم کیسے کھا سکتا ہے؟ اس طرح قسم کھانے کی یہ وجہ ہے کہ اہل علم اس قسم پر کامل وثوق کریں۔ آخری جملہ میں ان کا یہ کہنا کہ
میں نے وہی کہا ہے جو اﷲتعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے۔ اپنی صداقت کے اظہار کی تاکید ہے۔ کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ پیشین گوئی بغیر خدا کے خبر دئیے کوئی نہیں کر سکتا اور کسی کے مرنے کی خبر دینا پیشین گوئی ہے۔ اس لئے پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ خدا سے خبر پاکر یہ پیشین گوئی کر رہے ہیں۔ مگر مرزاقادیانی تو سلطان القلم ہیں۔ اپنے اظہار صداقت کو انتہاء مرتبہ تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ مخاطب کے دل میں کمال مرتبہ وثوق بیٹھ جائے۔ مگر یہاں خدا کی قدرت نمائی قابل ملاحظہ ہے۔ ان کی سلطان القلمی اور اظہار قابلیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دربار اسلام میں اپنے نہایت محکم بیان اور پختہ قسم سے جھوٹے ہوئے اور اپنے مقرر کردہ معیار سے کاذب اور مفتی علی اللہ ثابت ہوئے۔ ’’الحمدﷲ علٰی احسانہ‘‘اس نے اپنی بہت مخلوق پر رحم فرمایا کہ واقعی کذاب کے کذب کو اسی سے قسمیہ اقرار سے دنیا پر آشکارا کر کے ہر ایک پر اپنی حجت تمام کر دی جس کے مرنے کی نسبت اس قدر وثوق ظاہر کیا گیا اور باربار مختلف عنوان سے اسے بیان کر کے اس پر وثوق دلایا گیا۔ مگر ان کے اس تمام اہتمام نے ان کے کذب کو خوب روشن کر دیا۔ وہ احمد بیگ کا داماد جس کے جلد مرنے کی نسبت یہ زوردار بیان ہورہا ہے اور اس پر قسم کھائی جاتی ہے۔ وہ اب تک موجود ہے اور مرزاقادیانی کی ہڈیاں بھی قبر میں سڑ کرخاک میں مل گئی ہوں گی اور ان کی روح پر خدا جانے کس طرح کا عذاب ہورہا ہوگا۔ جس کا جی چاہے قبر کھول کر دیکھ لے۔ اے حضرات مرزائیو! اس کا کچھ جواب ہوسکتا ہے۔ اے قادیانی اور لاہوری مرزائیو! یہ تو بتاؤ کہ ۱۹۰۸ء میں احمد بیگ کا داماد مرکر بہشتی مقبرے میں دفن ہوا؟ یا مرزاقادیانی آپ کے مرشد اپنی پیشین گوئی کو نہایت حسرت سے جھوٹی دیکھتے ہوئے اپنے دشمن کے روبرو دنیا سے گزر گئے اور اپنے مقرر کردہ معیار سے دنیا کے روبرو جھوٹے ثابت ہوئے۔ خدا کے لئے یہ بتادو کہ اب تمہیں ان کے جھوٹے ماننے میں کیا عذر ہے؟ اب تو ان کے اقرار سے ان کے تمام نشانات جھوٹے ہوگئے۔ ان کے تمام دعوے جھوٹے۔ نکلے۔ جیسے امت محمدیہ کے دوسرے جھوٹے مدعیوں کے۔ کہو میاں حیدرآبادی جنرل مرچنٹ! انہیں دعوؤں پر آپ کا چیلنج ہے۔ مدعی سست گواہ چست!
اے جناب! جب آپ کے مدعی جن کے دعوے آپ نے اپنے چیلنج میں نقل کئے ہیں خود اپنے اقراروں سے جھوٹے ہورہے ہیں اور ان کا مقرر کردہ معیار انہیں کاذب کہہ رہا
ہے تو آپ کو ان دعوؤں کے جھوٹا ماننے اور مدعی کے کاذب یقین کرنے میں کیا عذر ہے؟ بیان کیجئے۔ کیا ممکن ہے کہ ایسا اقراری جھوٹا اور خدائے قدوس پر اتہام لگانے والا سچا ہو جائے اور اسے بزرگی کا خطاب دیا جائے؟ استعفراﷲ! آسمان وزمین ٹل جائے مگر یہ نہیں ہوسکتا۔ جس طرح چاہئے اس کی تصدیق کر لیجئے۔ کلکتہ کی مرزائی انجمن سے بھی ہم یہی کہے ہیں۔ انجام آتھم سے تو مرزاقادیانی کی صداقت کا خاتمہ ہولیا۔ اب اس کا ضمیمہ ملاحظہ کیجئے۔ اس کے ص۱۴ میں اپنے مخالفوں کے روبرو اپنی صداقت کے ثبوت میں دو الہام لکھتے ہیں:
’’پہلا الہام ’’ایتہا المرأۃ توبی فان البلاء علی عقبک‘‘ یعنی اے عورت! (عورت سے مراد احمد بیگ ہوشیارپوری کی بیوی کی والدہ ہے) توبہ کر توبہ کر کہ تیری دختر اور دختر کی دختر پر (یعنی تیری بیٹی اور نواسی پر) بلانازل ہونے والی ہے۔ سو ایک بلا تو نازل ہوگئی کہ احمد بیگ فوت ہوگیا۔ اب بنت البنت (یعنی نواسی) کی بلا باقی ہے۔ جس کو خداتعالیٰ نہیں چھوڑے گا۔ جب تک پورا نہ کرے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، خزائن ج۱۱ ص۲۹۸)
یہ چوتھا اقرار ہے اس میں بھی نہایت زور سے مذکورہ پیشین گوئی کی نسبت اپنا وثوق بیان کر رہے ہیں۔ اس پر خوب نظر رہے کہ اس الہام سے مرزاقادیانی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ احمد بیگ کی خوش دامن یعنی ساس پر دو بلا آئیں گی۔ ایک اس کی بیٹی پر یعنی اس کا شوہر احمد بیگ مرے گا۔ دوسری بلا اس کی نواسی پر یعنی اس کا شوہر بھی مرے گا اور وہ بیوہ ہوگی۔ پہلا کا ظہور تو ہوگیا یعنی احمد بیگ تو چھ ماہ میں مر گیا۔ اب نواسی کی بلا باقی ہے۔ یہ امر لائق یاد رکھنے کے ہے کہ ۱۸۸۸ء میں مرزاقادیانی نے پیشین گوئی کی تھی کہ احمد بیگ تین برس کے اندر مرے گا اوراس کا داماد اڑھائی برس کے اندر مگر اس مدت میں نہ مرا اور ان کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی اس کے بعد پھر پیشین گوئی کی جس کا حاصل یہ ہے کہ میری زندگی میں وہ ضرور مرے گا اور اس کی بیوی ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ رسالہ انجام آتھم میں اس پیشین گوئی کے سچا ہونے پر نہایت اصرار ہے اور مختلف طور سے اس کی صداقت کا اظہار کرتے
ہیں۔ یہ چوتھا طریقہ ان کے اصرار کا ہے اور لکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ اس کو بھی نہیں چھوڑے گا اور اس وعید کو بھی ضرور پورا کرے گا۔ اس بیان سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ پیشین گوئی شرطی تھی یا غیرشرطی۔ مگر یہ وعید ہر طرح پوری ہوگی۔ مگر اب تو آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر ہوگیا کہ احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اور مرزاقادیانی کو مرے ہوئے برسیں گزر گئیں اور وہ اب تک زندہ موجود ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی اپنے پختہ اقراروں اور اپنے الہام سے جھوٹے ثابت ہوئے اور انہوں نے خداتعالیٰ پر جھوٹ کا الزام لگایا۔
دوسرا الہام دہلی میں شادی ہونے سے پہلے کا وہ یہ ہے کہ: بکر وثیب یعنی مقدریوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور پھر بعدہ ایک بیوہ سے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، خزائن ج۱۱ ص۲۹۸، سطر۱۶)
مرزاقادیانی کو کیسے کیسے الہام ہوتے ہیں۔ جیسے بقول مشہور بلی کو خواب میں بھی چھیچھڑے نظر آتے ہیں اور ایسے جملے القاء ہوتے ہیں کہ بقول ’’المعنی فی بطن الشاعر‘‘سوائے مرزاقادیانی کے کوئی انہیں سمجھ نہیں سکتا۔ اس الہام کو ملاحظہ کر لیجئے۔ یہ الہام اور اس کا مطلب بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔ ’’جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس کو الہام سنایا تھا اور احمد بیگ کے قصہ کا ابھی نام ونشان نہ تھا اور نہ ابھی اس دوسری شادی کا کچھ ذکر تھا۔ پس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ (الہام) خدا کا نشان تھا جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا (یعنی دہلی میں کنواری لڑکی سے شادی ہوگئی) اور دوسرا حصہ جو ’’ثیب‘‘ یعنی بیوہ کے متعلق ہے دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، خزائن ج۱۱ ص۲۹۸)
یعنی احمد بیگ کی لڑکی بیوہ ہوگی۔ اس کا داماد مرے گا اور اس کی بیوی ’’ثیبہ‘‘ سے میرا نکاح ہوگا اور اس الہام کا دوسرا حصہ پورا ہوتے، شیخ محمد حسین بٹالوی دیکھ لے گا۔ اب ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ پہلے حصہ کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے کہ کیا ہوا۔ مگر دوسرے حصہ کی نسبت تو آسمانی فیصلہ ہو گیا کہ اس کا ظہور نہیں ہوا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ احمد بیگ کی لڑکی بیوہ نہیں ہوئی۔ یعنی احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اوراس کی بیوی ’’ثیبہ‘‘ جسے منکوحہ آسمانی کا خطاب ہوچکا تھا۔ مرزاقادیانی کے بیان کے بموجب اﷲتعالیٰ نے اس کا نکاح مرزاقادیانی سے
پڑھا دیا تھا مگر وہ فرضی منکوحہ مرزاقادیانی کے نکاح میں کسی وقت نہ آئی اور اس سے صرف مرزاقادیانی ہی جھوٹے نہیں ہوئے۔ بلکہ انہوں نے اپنے خدا پر سخت عیب لگایا کہ اسے آئندہ کی حالت معلوم نہ ہوئی اور ایک عبث فعل آسمان پر کر کے مرزاقادیانی کو رسوا کیا۔ اس کے بعد بعض اور جھوٹے نشانات بیان کر کے داماد احمد بیگ کی پیشین گوئی پورا نہ ہونے کی وجہ میں باتیں بنائیں ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ احمد بیگ کے مر جانے سے چونکہ اس کو بہت خوف اور غم ہو اور اس نے توبہ کی اس لئے اس کی موت میں تاخیر ہوگئی۔ مگر اس کا پورا ہونا ضرور ہے۔ یہ محض غلط ہے۔ اس کا جھوٹا ہونا دکھا دیا گیا۔ پھر ص۵۳میں مذکورہ پیشین گوئی کے ظہور پر کمال وثوق واعتبار نہایت شائستہ اور مہذب الفاظ سے بیان کرتے ہیں اور اپنی تہذیب اور جمالی ظہور کا معائنہ کراتے ہیں۔ (مرزامحمود کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی وہی جناب رسول اﷲa ہیں، یعنی حضور انورa نے دوسرا جنم لیا ہے۔ مگر پہلا ظہور جلالی تھا اور مرزائی جنم میں جمالی ہے۔ یعنی کسی قسم کی سختی نہیں ہے۔ مگر ان کے اس قول کو دیکھا جائے کہ مسلمانوں کی سچی بات کہنے پر کس قدر سخت کلامی کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ جلال تو ان کے اختیار میں نہیں تھا) ملاحظہ ہو۔
مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی (یعنی احمد بیگ کا داماد مر جائے گا اور اس کی بیوی میرے نکاح میں آجائے گی) تو کیااس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے؟ اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے؟ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)
سبحان اﷲ! کیا تہذیب اور شائستگی ہے۔ انہیں کو حضرت رحمت للعالمین کا ظل اور دوسرا جنم اور جمالی ظہور کہا جاتا ہے اور حضورa کو جلالی مظہر، اب کوئی ان دل کے اندھوں سے دریافت کرے حضور انورa کو مخالفین نے کیسی کیسی تکلیفیں دی ہیں؟ مگر کسی وقت کسی قسم کے سخت الفاظ آپa نے نکالے ہیں؟ کوئی ثابت کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔
بلکہ اس نازک وقت میں جس وقت جان لینے کے واسطے مخالفین حملے کر رہے تھے اس وقت حضور انورa نے یہ فرمایا کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت کر یہ جانتے نہیں ہیں۔ یہ ناواقفی سے میرے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ اب مجھے یہ کہنا ہے کہ مرزاقادیانی نے جو صفات اپنے مخالفوں کے لئے تجویز کیں تھیں وہ اس وقت کے لئے کی تھیں۔ جس وقت ان کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہو جائیں گی یعنی منکوحہ آسمانی ان کی آغوش میں آجائے گی اور اس کا شوہر مر جائے گا۔ جس کے لئے وہ قسمیہ اقرار کر چکے ہیں۔ مگر اب تو قدرت خدا نے آفتاب کی طرف روشن کر دیا کہ مرزاقادیانی کی ان دونوں مرادوں سے ایک بھی پوری نہ ہوئی اور دم واپسیں تک اپنی نامرادی پر کف افسوس ملتے ہوئے جان دی۔ وائے برناکامی ایشاں!
اب یہ کہنا ہے کہ جب یہ دونوں پیشین گوئیاں پوری نہ ہوئیں تو اب انصاف سے فرمایا جائے کہ مرزاقادیانی کے مذکورہ ارشادات کا مستحق خود جناب والا اور ان کے موافقین ہوئے یا نہیں؟ ضرور ہوئے۔ کیونکہ کلام خداوندی نے انہیں مستحق بنایا۔ ارشاد نبوی نے انہیں جھوٹا اور کذاب کہہ کر انہیں ان صفات کا مورد قرار دیا۔ پھر جب مدعی نبوت کی ایسی مستحکم پیشین گوئیاں جھوٹی ہوگئیں تو اس میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ سچائی کی تلوار نے اس مدعی کو اور اس کے ماننے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا؟ اس میں کسی کو کیا تأمل ہوسکتا ہے، جسے خدا اور رسول نے جھوٹا اور کذاب قرار دیا ہو۔ اس کی صورت مسخ ہونے میں کس کو تأمل ہوسکتا ہے۔ مفتری کی سزا موت کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی قبر کو کھول کر ان کی صورت کو دیکھا جائے اور صورت مسخ ہو جانے کا معائنہ کیا جائے۔ جس نے مسیح ومہدی ہونے کا دعویٰ کر کے چالیس کروڑ امت محمدیہ پر کفر کا فتویٰ دے دیا ہو اور کسی کافر کو سچا مسلمان نہ بنایا ہو۔ اس کے جھوٹے ہونے میں کسی کو تأمل ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ پھر یہ ظلم وستم اس مدعی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ایک خلیفہ گزر گئے۔ اب دوسرے خلیفہ کی باری میں مگر ان کا تمام زوروشور مسلمانوں ہی کے تباہ کرنے پر ہے۔ کسی کافر پر ہاتھ صاف نہیں کیا جاتا۔ ہندوستان میں کثرت سے ہنود، آریہ، عیسائی وغیرہ ہیں۔ ان کا کوئی مبلغ یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم نے اتنے ہندو اور عیسائیوں کو قادیانی بنایا؟ ہرگز نہیں۔ جناب رسول اﷲa کے خلیفہ ثانی نے اسلام کو کس قدر ترقی دی تھی۔ ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھو کہ کس طرح یہود ونصاریٰ وغیرہ کفار
وغیرہ کفار کو مسلمان بنایا تھا۔قول مذکور کے بعد آخر میں لکھتے ہیں: ’’خدا کے الہام میں جو ’’توبی توبی ان البلاء علٰی عقبک‘‘ ۱۸۸۶ء میں ہوا تھا اس میں صریح شرط توبہ کی موجود تھی اور الہام ’’کذبو بایتنا‘‘ اس شرط کی طرف ایماء کر رہا تھا۔ پس جب کہ بغیر کسی شرط کے یونسm کے قوم کا عذاب ٹل گیا تو شرطی پیشین گوئی میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور میں نہ آتی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳،۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷، ۳۳۸)
اس عبارت سے نہایت روشن ہوگیا کہ پیشین گوئی کے شرطی ہونے کا یہ نتیجہ ہوا کہ اس کے ظہور میں تاخیر ہوگئی۔ یعنی احمد بیگ کا داماد اڑھائی برس کے اندر نہ مرا۔ اس کے دو سطر بعد نہایت زور سے یہ کہتے ہیں کہ انجام کار اس پیشین گوئی کا ظہور ضرور ہوگا۔ اس کا شرطی ہونا اس کے ظہور کو روک نہیں سکتا۔ وہ قول ملاحظہ ہو بقلم جلی لکھتے ہیں:
’’یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد نہ مرا) تو (۱)میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقینا سمجھو کہ(۲)یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ (۳)وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ (۴)وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)
اس ساتویں اقرار میں مرزاقادیانی چھ باتیں کہتے ہیں:
۱… یہ کہ اگر احمد بیگ کا داماد نہ مرا تو میں بدترین خلائق ثابت ہوں گا۔ یعنی مجھ سے بدتر دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔
۲… یہ کہ یہ پیشین گوئی میرا افتراء نہیں ہے بلکہ الہام ربانی ہے۔
۳… دوسرے عنوان سے یہ کہتے ہیں کہ یہ قول کسی خبیث مفتری کا نہیں ہے۔
۴… اس قول کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ خدا نے دکھادیا کہ یہ خدا کا وعدہ نہیں ہے بلکہ بالیقین خدا پر افتراء ہے۔
۵… اپنی پیش گوئی کو اس خدائے تعالیٰ کی باتوں میں بتاتے ہیں۔ جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔
۶… یہ کہ اپنی بات کو اس قادر مطلق کے ارادوں میں شمار کرتے ہیں۔ جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔
حالانکہ یہ دونوں باتیں بھی محض غلط ہیں۔ کیونکہ یہ پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی اور احمد بیگ کا داماد مرزاقادیانی کے سامنے نہ مرا۔ اس لئے اس پیشین گوئی میں مرزاقادیانی کے پانچ جھوٹ ثابت ہوئے اور ایک قول پہلا وہ سچا ثابت ہوامگر وہ سچا قول ایسا ہے جس نے جھوٹوں کا سرگروہ انہیں قرار دیا۔ کیونکہ ہر بد سے بدتر بالضرور جھوٹوں کا سرگروہ ہوگا۔ اب اس پر غور کرنا چاہئے کہ مرزاقادیانی اپنے جھوٹے دعوؤں پر کس قدر اپنا وثوق اور اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔ ایک طریقے سے نہیں چار طریقوں سے اس کے ظہور پر وثوق بیان کیا ہے۔ پہلے یہ کہا کہ اگر احمد بیگ کے داماد کے متعلق پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ یعنی وہ میرے سامنے نہ مرے تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ یعنی بدترین خلائق ہوں گا۔ مجھ سے بدتر دنیا میں کوئی انسان نہ ہوگا۔ اب خوب خیال کیا جائے کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہو تو مرزاقادیانی اپنے اس اقرار سے بالیقین اس قول کے مصداق ٹھہریں گے۔ کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ ان کے قول کے بموجب انہیں بد سے بدتر نہ کہا جائے۔ کیونکہ جب دنیا نے دیکھ لیا کہ احمد بیگ کا داماد نہیں مرا اور برسیں گزر گئیں۔ مرزاقادیانی تو قبر میں عذاب اٹھاتے ہوئے اور وہ خود زندہ رہ کر مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کا معائنہ کراتا رہا یہاں تک کہ پہلے خلیفہ کو بھی قبر میں ڈال کر دوسرے خلیفہ کی تاک میں ہے۔ اب مرزامحمود قادیانی اپنے باپ کے آغوش میں جائیں یا نہ جائیں مرزاقادیانی کی حالت معلوم ہوگئی۔
دوسرے! یہ کہ اس کے مرنے کو یقینی خدائی دعویٰ کہتے ہیں۔ پھر یہ معمولی وعدہ نہیں ہے۔ جو مرزاقادیانی کے نزدیک کبھی جھوٹا بھی ہو جاتا ہے اور ’’یعد ولا یوفی‘‘ کا مصداق ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ مرزاقادیانی اسے خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ وہ ضرور پورا ہوگا۔
تیسرے! یہ کہ اسے خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ وہ ضرور پورا ہوگا۔
چوتھے! یہ کہ اسے خدا کا وعدہ بیان کر کے اس کی یہ صفت بیان کرتے ہیں کہ اس کی خوابیں نہیں ٹلتیں جو وہ کہتا ہے وہ ضرور پورا ہوتا ہے۔ سچ ہے:’’ما یبدل القول لدی‘‘اس کا ارشاد ہے۔ یعنی اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ میری کوئی بات نہیں بدلتی جو کہہ دیا گیا وہ ضرور
پورا ہوگا۔ اب چونکہ اس نے داماد احمد بیگ کی موت کا وعدہ کیا ہے۔ وہ ٹل نہیں سکتا۔ میری زندگی میں وہ ضرور مرے گا۔
پانچویں! یہ کہ یہ وعدہ اس پروردگار کا ہے جو صاحب جلال ہے۔ کسی وقت اپنے مخالفوں اور منکرین پر عظمت وجلال کی شان ظاہر کرتا ہے کس کی مجال ہے کہ اس ذوالجلال کے ارادوں کو روک سکے۔ احمد بیگ اور اس کا داماد مخالف اور منکر رہا اس لئے وہ رب ذوالجلال ان کی نسبت اپنے جلال کے اظہار کا ارادہ کر چکا ہے۔ اس ارادے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اب وہ ایمان لا ہی نہیں سکتا اور کوئی بات ایسی نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ اگر ایسا ہو تو خدا کا عالم الغیب نہ ہونا اور سچا وعدہ کر کے پھر بھی اسے پورا نہ کرنا اور بدل جانا ثابت نہ ہوگا۔ غرضیکہ خدائی درہم وبرہم ہو جائے۔ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ اب ناظرین حق پسند ان تمام اقراروں کو اور بالخصوص اس اخیر اقرار کو دیکھیں کہ وہ اپنے اقرار اور یقینی الہام کے بموجب جھوٹے اور بدترین خلائق ثابت ہوتے ہیں اور ان کا جھوٹا اور کذاب ہونا دنیا پر مثل آفتاب کے روشن ہورہا ہے۔ اب کسی صاحب عقل وفہم کے نزدیک ایسا شخص بزرگ عالی مرتبہ نہیں ہوسکتا۔ اب اس کو نبی اور مسیح موعود اور مہدی ماننا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ اب اگر مان لیا جائے کہ حضرت مسیح اسرائیلی جنہیں شریعت محمدیہ نے مسیح موعود کہا ہے مر گئے ہوں اور کوئی دوسرا عالی مرتبہ بزرگ مسیح موعود ہو تو وہ مرزاقادیانی کسی طرح نہیں ہوسکتے۔ بالفعل ۲۸؍دسمبر ۱۹۲۲ء کو جو خلیفہ قادیان نے اپنے خاص چیلے میاں اللہ مارا عرف اللہ دتہ سے ایک چیلنج شائع کرایا ہے جس میں انہوں نے اپنے خام خیال کے بموجب حضرت مسیحm کی موت ثابت کر کے یہ سمجھے ہیں کہ مسیح قادیان کا مسیح موعود ہونا ثابت ہوگیا۔ مگر افسوس ہے کہ خود مسیح قادیان کے اقوال نہیں دیکھتے جو اپنے پختہ اقوالوں سے بدترین خلائق ثابت ہوچکے ہیں اور اپنے اقوال سے خدا پر بہت کچھ الزامات لگا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی مرزائی سے مرزاقایانی کی صداقت ثابت کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ پہلے حیات وممات کی بحث کو چھیڑتا ہے یا ختم نبوت کی بحث کو درمیان میں لاتا ہے۔ اب اس سے ہم یہی دریافت کرتے ہیں کہ اس بحث سے کیا فائدہ اگر ہم مان بھی لیں کہ حضرت مسیح مر گئے اور نبوت ختم نہیں ہوئی۔ مگر یقینی بات ہے کہ جو اپنے کرداروں اور اپنے
اقراروں سے جھوٹا کذاب مفتری ہر بد سے بدتر ثابت ہوگیا ہو وہ مسیح موعود اور نبی نہیں ہوسکتا اور ہرگز نہیں ہوسکتا۔
حضرت مسیحm کا مرنا ایسے جھوٹے کذاب کو سچا نہیں بناسکتا۔ اسی طرح میں عام گروہ مرزائیہ سے اور بالخصوص میاں اللہ دتہ سے عرض کرتا ہوں کہ جن کے قولوں پر آپ ایمان لاچکے ہیں اور ان کو مسیح موعود مان چکے ہیں۔ انہیں کے الہامی اقوال کو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ ان کو ملاحظہ کیجئے کہ ان کی صداقت پر اور ان کے الہامی ہونے پر مرزاقادیانی کو کس قدر وثوق ہے۔ ان کو آپ نہ مانیں گے۔ آپ اپنی فہم وعقل کو کیوں برباد کرتے ہیں اور ایسے اقراری جھوٹے کو جھوٹا نہیں مانتے اور اعلانیہ طور سے مسیلمہ کذاب ثانی کو مان کر جہنم میں جانا پسند کر رہے ہیں۔ میں مختصراً مکرر عرض کرتا ہوں غور سے ملاحظہ کیجئے کہ مرزاقادیانی کس زور وشور ویقین سے داماد احمد بیگ کے مرنے کو اپنی زندگی میں بیان کر رہے ہیں اور اسے وعدہ خداوندی کہہ کر اسے یقینی الہام بتا رہے ہیں۔ مگر غضب یہ ہے کہ بایں ہمہ یہ سب جھوٹ کا طومار نکلا اور احمد بیگ کا داماد ان کی زندگی میں ان کے سینہ پر مونگدلتا رہا اور انہیں مرے ہوئے برسوں گزر گئے اور وہ زندہ موجود رہ کر ان کی روح کو تڑپا رہا ہے۔
اے مرزائی حضرات! اب انہیں بدترین خلائق ماننے میں تمہیں کیا عذر ہے؟ کچھ تو کہو۔ اے عقل کے دشمنو! اس قول نے ان کے سارے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کر کے انہیں ہر بد سے بدتر ثابت کر دیا۔ وہ کون دعویٰ ہے جس پر انہوں نے اس سے زیادہ اپنا وثوق ظاہر کیا ہو اور بالفرض اگر کیا بھی ہو تو جب اس قدر مؤکد اور مکرر اقرار جھوٹا ہوگیا اور اپنے مکرر اقراروں سے وہ جھوٹے ثابت ہوئے تو اب کسی اہل حق، صاحب عقل کے نزدیک کسی طرح وہ سچے نہیں ہوسکتے۔ اب اگر کوئی بے ایمان ان کی مجبوری اور معذوری بیان کر کے خدا پر جھوٹ بولنے اور فریب دینے کا اقرار کرے تو اس نے خدائی پلٹ دی، دہریہ ہوگیا۔ جب اس کا خدا ان صفات کا ہے تو اس کے رسول کیا چیز ہوں گے۔ وہ جھوٹوں اور فریبیوں کے رسول ہوں گے اور انہیں جھوٹ کی تعلیم دیں گے اور اپنے ہمراہ جہنم میں انہیں لے جائیں گے۔ کلکتہ کے مرزائی ایسے بدترین خلائق کے ماننے پر ترقی کا مدار بتاتے ہیں۔ کیسا فریب نکالا ہے۔ خیال کیا جائے کہ جس نے دنیا کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر ٹھہرا کر دنیا کو اسلام سے گویا خالی
کر دیا ہو اور گروہ کفار میں کروڑوں کی ترقی دے دی ہو اس سے اسلام کو ترقی ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں جو اپنے اقرار سے ہربد سے بدتر بالیقین ثابت ہوگیا ہو، اسے ترقی اور نجات کا سبب بتانا اپنے کو مسلوب العقل ثابت کرنا یا دنیا کو اعلانیہ فریب دینا ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ مرزاقادیانی اپنے اقرار کے بموجب بدترین خلائق شخص تھا۔ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہمارے گروہ کو بہت کچھ ترقی ہورہی ہے۔ جھوٹی تعلّی کے علاوہ یہ ان کے فخر کی بات نہیں ہے۔ آریوں کو بہت زیادہ ترقی ہورہی ہے۔ ہزاروں مسلمان آریہ ہوگئے۔ کئی مولوی آریہ ہوگئے۔ ضلع فرخ آباد میں وہ تبلیغ کرتے ہیں۔ پادریوں کی دس سالہ رپورٹ دیکھو، ہزاروں کیا لاکھوں کی تعداد ہردس برس میں عیسائی ہوجاتے ہیں۔ یہ کوشش وسعی اور روپیہ صرف کرنے کا نتیجہ ہے۔ (عیسائی کروڑوں صرف کرتے ہیں اس کا نتیجہ بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔ مرزائی اس قدر نہیں دیکھتے ہیں) گروہ بابی نے تو یورپ اور امریکہ میں ترقی کی ہے اور کثرت سے انگریز اور بڑی بڑی میمیں بابی ہوگئی ہیں۔ غرضیکہ نصاریٰ کو انہوں نے اپنے طور کا مسلمان بنایا ہے۔ مرزاقادیانی نے اور ان کے گروہ نے تو کسی جماعت کفار کواپنا سا مسلمان بھی نہیں بنایا۔ مسلمانوں کو ہی کافر بنایا اور بناتے ہیں۔ غرضیکہ ہر طرف سے کفر کی ترقی ہے۔ مسلمانوں کو دین کا خیال نہیں۔ دین کی تائید اور گمراہی کے مٹانے کو جھگڑا سمجھتے ہیں۔ کسی طرح مدد کرنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ قیامت قریب ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ اشرار ناس پر قیامت آئے گی۔ یعنی جب تمام دنیا میں شروفساد اور کفر وکفریات پھیل جائے گا۔ اس وقت قیامت آئے گی۔ مرزائیوں کو دیکھنا چاہئے کہ کس طرح سے انہیں گفتگو میں عاجز کیاگیا ہے۔ لاجواب رسالے مرزاقادیانی کے دجل وفریب میں لکھ کر شائع کئے گئے۔ ان کے پاس بھجوائے گئے۔ جواب سے عاجز ہیں۔ مگر دلوں پر تو ان کی مہر ہوگئی ہے اور گمراہ کرنے والے اپنے پیٹ بھرنے کے لئے انہیں حقانی رسائل دیکھنے سے روک دیا ہے۔ پھر وہ ایمان کیسے لائیں۔ مگر ہم خیرخواہی سے باز نہ رہیں گے۔ مرزاقادیانی کا جھوٹا اور ہربد سے بدتر ہونا تو ان کے اقراروں سے ثابت کر دیا گیا۔ اب مرزاقادیانی کے دہریہ ہونے کا ثبوت ملاحظہ ہو۔
ناظرین! آپ نے مرزاقادیانی کا اقراری ویقینی جھوٹا ہونا تو معلوم کر لیا اب میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ بھی معلوم کر لیں کہ مرزاقادیانی صرف جھوٹے ہی نہیں ہیں بلکہ اعلانیہ دہریہ ہیں۔ خدا اور رسول کو نہیں مانتے۔ ان کی متعدد تحریروں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ توہین انبیاء میں ان کی ایک عبارت نقل کر کے دکھاتا ہوں، انبیاء کی توہین بجز منکر نبوت اور دہریہ کے کوئی نہیں کر سکتا۔ مگر مرزاقادیانی نے اعلانیہ طور سے بہت زوروشور سے مسیحm کی توہین کی ہے۔ جن کی تعریف قرآن مجید میں بہت جگہ آئی ہے اور انہیں سچا نبی فرمایا ہے اور ان کے معجزات بیان کئے ہیں۔ مگر مرزاقادیانی اپنے رسالہ (ضمیمہ انجام آتھم ص۶،۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰،۲۹۱) میں انہیں حضرت مسیحm کی نسبت لکھتے ہیں: ’’مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا… (یعنی حضرت مسیحm سے جن کو یسوع بھی کہتے ہیں… دیکھا جائے کہ مرزاقادیانی یہاں حضرت مسیحm کی نسبت ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پرہیزگار انسان بھی نہ تھے اور نبی تو کیا ہوتے اس توہین کی کچھ انتہاء ہے) ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسے بیمار کا اعلاج کیا ہو، مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنارہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہورپذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن
کا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘
صحیفہ رحمانیہ نمبر۲۱ کے صفحہ۲۴سے۲۶ تک یہ عبارت مع اس کی کچھ شرح کے لکھی گئی ہے۔ جس سے دہریت کے علاوہ ان کا جھوٹ وفریب بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسے بھی ملاحظہ کر لیجئے گا۔ طالبین حق کو غالباً یہ شبہ ہوگا کہ مرزاقادیانی نے بہت زوروشور سے اسلام کا دعویٰ کیا ہے اور براہین احمدیہ میں اسلام کی حقانیت پر بڑی دلیل لکھی ہے۔ پھر انہیں دہریہ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟ اس کا جواب غور سے ملاحظہ کیجئے اور مرزاقادیانی کے مختلف رسائل کو دیکھئے۔ مرزاقادیانی کا اصل مقصود یہ تھا کہ تمام دنیا کے انسان یعنی یہود، عیسائی، ہنود، مسلمان عام اور خاص تمام مذہب والے مجھے مقدس اور بزرگ مان لیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جن کو یہود اور نصاریٰ اور مسلمان سب مانتے ہیں اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں نبی اور رسول ہوں اور امام مہدی ہوں جن کو عام اور خاص مسلمان سب مانتے ہیں اورہندوؤں سے یہ کہا کہ میں کرشن اوتار ہوں۔ مگر قدرت خدا یہ ہوئی کہ کسی مذہب کے دس بیس شخصوں نے بھی انہیں نہیں مانا۔ ہمارے بھائی مسلمان ہی ان کے فریب میں آگئے اور اب تک آرہے ہیں اور ان کے مبلغین کہیں کفار پر تبلیغ نہیں کرتے۔ بلکہ جاہل مسلمان کو ہی بہکاتے پھرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جب کسی مذہب والے نے انہیں نہ مانا کچھ مسلمان ہی ان کے پھندے میں آئے تو انہیں ضرور ہوا کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہرکریں۔ دہریہ کو تو جھوٹ بولنا اور فریب دینا کوئی بات نہیں ہے۔ اپنے مطلب کے لئے سب جائز سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے مرزاقادیانی نے اپنا یہ رنگ دکھلایا اور ان کے بیٹے مرزامحمود ہنود کا مذہب اختیار کر کے جناب رسول اﷲa کو مرزائی جنم میں آنا بیان کرتے ہیں۔ (نعوذ باﷲ)
بھائیو! کیا غضب ہے کہ ایسے اعلانیہ جھوٹے دہریہ کو جناب سرور عالمa محبوب کبریا کا جنم بیان کرتے ہیں۔ اب ناظرین اس کو ملاحظہ کریں کہ اس رسالہ کے صفحہ۵سے۱۲ تک ایک مطلب کے بیان میں چون(۵۴) جھوٹ لکھے گئے ہیں۔ اب تم ہی انصاف سے کہو کوئی ایسا جھوٹا شخص مجدد یا نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟ ضرور یہی کہو گے کہ ہرگز نہیں ہوسکتا اور اسی صفحہ۵سے۲۵ تک ان کے سات پختہ اقرار ہیں۔ جن سے وہ جھوٹے ہوتے ہیں اور
پہلے اور ساتویں اقرار میں جو اپنی صداقت میں آٹھ دلیلیں بیان کی ہیں ان دلیلوں سے بھی خود جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ اب میں تمام مسلمانوں سے کہتا ہوں یہ قول تو آپ ان کا دیکھ چکے ہیں۔ جس میں انہوں نے ایک بڑے نبی عظیم الشان کی ہجو کی ہے۔ جن کی عظمت وشان اور ان کا سچا ہونا قرآن شریف میں بہت جگہ آیا ہے اور جن کے متعدد معجزات بیان کئے گئے ہیں۔ انہیں یہ مکاروفریبی کہتا ہے اب میں تمام طالبین حق کی خیرخواہی کے لئے ان کی مذہبی حالت کی عام اطلاع دیتاہوں۔
معززین کلکتہ کو اس کی اطلاع نہ ہوگی کہ اس وقت میں اسلام کے لئے مرزائی فتنہ نہایت خطرناک ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی جو ان کا مرشد اور گمراہ کرنے والا ہے وہ درحقیقت ایک ملحد دہریہ شخص تھا۔ مگر نہایت ہوشیار اور چالاک تھا۔ چاہتا یہ تھا کہ ساری دنیا مجھے مانے۔ اسی لئے انہوں نے یہ دعوے کئے ہیں کہ میں اس وقت کا مجدد، امام، مسیح موعود، امام مہدی، نبی، رسول ہوں۔ مسلمانوں اور یہودوعیسائیوں کے لئے، اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں اور مسلمانوں کے لئے صرف دعویٰ نبوت ہی نہیں ہے بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ ہے اور تمام انبیائے کرام کی مذمت وتوہین کی ہے اور ایک بڑا راز یہ ہے کہ حضرت مسیحm کی نہایت ہی توہین کی ہے۔ باوجود یہ کہ ان کے ماننے والے انہیں خدائی میں شریک کرنے والے دنیا کے بادشاہ ہیں۔ مگر مرزاقادیانی سے کسی پادری نے کچھ گرفت نہیں کی۔ آخر میں مرزاقادیانی نے یہ بھی کہہ دیا کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے خدائی اختیارات دے دئیے ہیں۔ البتہ دعویٰ خدائی میں کچھ دیر تھی۔ غالباً مریدوں کا امتحان لے رہے تھے کہ انہیں اس دعوے کے قبول کرنے میں کوئی عذر تو نہ ہوگا۔ اسی حالت میں بری حالت سے ان کا انتقال ہوگیا۔ خدائے قدوس پر بھی انہوں نے شائستہ طور سے الزامات لگائے ہیں۔ کسی وقت وہ بھی دکھائے جائیں گے۔ یہ سب باتیں ان کے دہریہ ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔ مگر چونکہ ان کے دعویٰ کو بجز مسلمانوں کے کسی گروہ یہودی یا عیسائی، یا ہنود نے نہیں مانا۔ یہ بدنصیبی مسلمانوں ہی کے حصہ میں تھی۔ اس لئے مرزاقادیانی نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا تاکہ یہ گروہ قابو میں
رہے۔ پہلے ان کا بہت شوروغل تھا اور ہر جگہ مناظرہ کے اشتہارات دیتے تھے۔ شہر مونگیر وبھاگلپور میں بہت زور تھا اور بہت مسلمان ان کے فریب میں آنے والے تھے۔ بہت مسلمانوں نے آکر دریافت کیا۔ آپ نے ان کی کتابیں دیکھ کر مرزاقادیانی کی حالت معلوم کی اور ان کی گمراہی سے واقف ہو کر متوجہ ہوئے اور پہلے مناظرہ کرایا اور قادیان کے مخصوص اشخاص مناظرہ کے لئے آے۔ خدا کا شکر ہے کہ قادیانیوں کو اس مناظرہ میں ایسی شکست اور ذلت ہوئی کہ کہیں نہیں ہوئی اور عام جلسہ میں بعض قادیانی بول اٹھے کہ ایسی شکست ہمیں کہیں نہیں ہوئی تھی، جیسی یہاں ہوئی۔ اس کی کیفیت چھپ کر مشتہر ہوچکی ہے اور سیکرٹری انجمن مرزائیہ کلکتہ کو بھیجی گئی ہے۔ اس کے بعد سے اس گروہ نے تقریری مناظرہ سے انکار کیا ہے۔ اس وقت تک حکم مقرر کرنے سے انکار کرتے تھے۔ مگر جس وقت سے فاتح قادیان مولوی ثناء اللہ صاحب کا مناظرہ قاسم علی مرزائی سے ہوا اور اس جلسہ میں ایک معزز غیرمذہب حکم مقرر ہوئے تھے اور تین سوروپیہ انعام کا غالب فریق کے لئے قرار پایا تھا۔ مولوی صاحب غالب ہوئے اور فاتح قادیان کا لقب پایا اور حکم کی منصفانہ رائے سے وہ روپیہ مولوی صاحب کو ملا اور مرزائی نقصان مایہ اور شماتت ہمسایہ کے مصداق ہوئے۔ اس وقت سے مرزائی حضرات کو حکم کے نام سے لرزہ آتا ہے۔ حالانکہ تمام دنیا اس کی شہادت دے سکتی ہے کہ فیصلہ کے لئے حاکم، یا حکم کا ہونا ضرور ہے۔ مگر الحمدﷲ! مرزاقادیانی کے کاذب ہونے کے ثبوت میں ہمیں کسی حکم کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ حاکم حقیقی نے خود مرزاقادیانی کی زبان سے ان کے قلم سے اس کا فیصلہ نہایت کامل طور سے کرادیا اور دیکھنے والوں نے دیکھ لیا اور جن کی آنکھیں ہیں وہ دیکھیں گے اور جن کے کان ہیں وہی دوسروں سے سن لیں گے کہ مرزاقادیانی اپنے متعدد اقراروں سے اپنی پختہ قسم سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ صرف زبانی اور جسمانی اقرار نہیں ہے بلکہ روحانی اور الہامی اقرارات ہیں۔ ان اقراروں کا مجموعہ پہلے چھپ کر مشتہر ہوچکا ہے۔ جس کا نام چشمہ ہدایت ہے اور خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے پہلے قادیان بھیجا گیا ہے۔ اس کے بعد کلکتہ کے مرزائیوں نے جب اپنا چیلنج بھیجا ہے اس کے جواب میں خانقاہ سے متعدد چیلنج اور رسائل پچاس کی تعداد میں بھیجے گئے ہیں۔ ان میں رسالہ
چشمہ ہدایت بھی بھیجا گیا ہے۔ اس چیلنج میں ان کے چند اقرار ہیں۔ اب حضرات مرزائیوں کو بڑا صدمہ یہ ہوگا کہ مرزاقادیانی نے صرف اپنے جھوٹے ہی ہونے پر کفایت نہیں کی بلکہ نہایت زور سے اپنے کامل وثوق والہام سے اپنے بدترین خلائق ہونے کا اقرار کیا ہے اور اپنے تمام ماننے والوں کو عاجز ولاجواب کردیا ہے۔ اب کسی کو جائے دم زدن نہیں رہی۔ کلکتہ کے مرزائیوں کو چاہئے کہ مرزامحمود کو مع ان کے تمام اسٹاف کے بلائیں بلکہ دنیا بھر کے مرزائیوں کو جمع کر کے واویلا کریں اور مرزاقادیانی کی قبر پر جاکر روئیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر ایسے بدترین خلائق سے علیحدہ نہ ہوئے تو یقین کر لیں اور ہم سے اسٹام پر لکھوالیں کہ قیامت تک ان کی روح روئے گی اور پھر ہمیشہ کے لئے بدترین خلائق کے ہمراہ رہیں گے۔ اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ اگر کچھ حوصلہ ہے تو اس چیلنج کا جواب دیجئے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں دے سکتے اور ہرگز نہیں دے سکتے اور اس کو بھی خوب سمجھ لیں کہ ’’النبوۃ فی الاسلام‘‘ اور ’’حق الیقین‘‘ اور دیگر مہملات سے اس کا جواب نہیں ہوسکتا۔ نبوت ختم ہوئی یا نہیں ہوئی مگر مرزاقادیانی اس لائق نہیں کہ وہ نبی یا مجدد ہوسکے۔ اگر اس کی تصدیق چاہتے ہو تو سامنے آؤ۔ مجمع عام میں اس کا فیصلہ کر لو یا خاص تعلیم یافتہ حضرات کے جلسہ میں ہم ہر طرح سے تیار ہیں۔ میاں عبدالرحیم مرزائی حقانی رسائل دیکھ کر کلکتہ سے بھاگے، بھاگلپور میں آئے۔ یہاں بھی رسائل حقانیہ کی بوچھاڑ کی گئی۔ انہیں دیکھ کر مدراس بھاگے۔ وہاں بھی متعدد رسائل بھیجے گئے۔ مگر وہ ایسے دم بخود ہوئے کہ کوئی پتہ ونشان نہ رہا۔ آخر میں میں نہایت خیرخواہانہ کہتا ہوں کہ یہ وقت اسلام کے لئے نہایت نازک ہے۔ اگر اس مقدس مذہب سے پوری محبت ہے تو مستعد ہو جاؤ اور جس طرح جناب رسول اﷲa نے اپنے وقت میں لسانی جہاد کئے تھے اور اپنا جان ومال اللہ کے لئے وقف کر دیاتھا۔ اسی طرح اس وقت ہر مسلمان پر بالخصوص اہل علم اور صاحب مال پر فرض ہے کہ جہاد لسانی وقلمی کریں اور صاحب مال اپنے روپے کو جنت کا ذریعہ بنائیں اور اتفاق کر کے اس کی صورتیں نکالیں۔ ورنہ پچھتانا ہوگا۔
راقم، خیرخواہ اسلام: ابومحمود محمد اسحاق غفرلہ
یکے از متوسلین خانقاہ مونگیر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
خداتعالیٰ نے اپنی قدرت کا عجب نمونہ دکھایا ہے کہ کس طرح مرزاقادیانی کو نہایت روشن طریقوں سے جھوٹا ثابت کر کے دکھایا گیا ہے۔ مگر مرزائی حضرات کچھ نہیں دیکھتے اور اسی طرح کذب پرستی کر رہے ہیں۔ جس طرح ہنود اپنی عقل کو طاق میں رکھ کر بت پرستی کرتے ہیں۔ مگر رسالہ چشمہ ہدایت نے تو یہ ثابت کر دیا ہے کہ مرزاقادیانی بزبان حال اپنی نسبت صائب کا یہ شعر پڑھتے ہیں ؎
بنمائے بہ صاحب نظرے گوہر خودرا
عیسیٰ نتوان گشت بتصدیق خرے چند
یعنی آئندہ معلوم ہوگا کہ مرزاقادیانی نے مسیح موعود کے کام اور ان کی خوبیاں بیان کر کے یہ لکھا ہے کہ میں ان کاموں کے لئے مستعد ہوا ہوں۔ اگر میں نے یہ کام کر کے نہ دکھائے اور جو خوبیاں مسیح موعود میں ہونا چاہیں وہ مجھ میں نہ پائی گئیں تو میں جھوٹا ہوں۔ اس کا حاصل یہی ہوا کہ کسی کے مان لینے سے مسیح موعود نہیں ہوسکتا۔ اس میں خود وہ خوبیاں ہونا چاہئیں جو مسیح موعود کے لئے مخصوص ہیں۔ سچ ہے ؎
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
بہت درد مندان اسلام اس سے واقف ہوں گے کہ اس نازک وقت میں ہمارے پاک مذہب اسلام پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنی گمراہی اور بددینی پھیلا کر اسلام کو مٹانا چاہتا ہے۔ ان سب میں اس وقت بڑا دشمن ہندوستان میں مرزائی قادیانی گروہ ہے۔ اس گروہ کی اصلاح اور اسلام کی حمایت میں خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے بہت رسالے نکلے ہیں جن سے بہت کچھ فائدہ ہوا اور مرزائیوں کا تمام گروہ ان کے جواب سے عاجز ہے۔ سب سے اوّل رسالہ اس مبارک خانقاہ سے فیصلہ آسمانی نکلا ہے۔ اس کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں مرزاقادیانی کے نہایت عظیم الشان نشان کو ایسا پامال کر کے ان کو ایسا جھوٹا ثابت کر دیا ہے کہ ان کا شمار کسی معمولی نیک آدمیوں میں بھی نہیں ہوسکتا۔ مجدد اور ملہم اور نبی ہونا تو بہت بڑی بات ہے۔ خیال کرنے کی بات ہے کہ یہ رسالہ ایک سو بارہ صفحہ کا ہے۔
۱۹۱۷ء میں دہلی میں چھپا ہے۔ اس کے صفحہ انتالیس تک مرزاقادیانی کے بائیس جھوٹ گنائے ہیں اور بقیہ اکاذیب کو ناظرین کے شمار پر چھوڑ دیا ہے۔ مگر اب کئی برس ہوگئے کسی پرانے اور نئے مرزائی کے متعدد اقوال سے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے۔ اس کے جواب میں عبدالماجد قادیانی نے قادیانی خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کی تائید سے کچھ قلم فرسائی کی تھی۔ ان کی ایسی خبر لی گئی کہ پھر بالکل دم بخود ہوگئے۔ ایک رسالہ اس کے جواب میں انہیں کے ایک مسلمان عزیز نے لکھا جس کا نام ’’محکمات ربانی‘‘ ہے۔ اسے ہر ایک سمجھدار دیکھ کر مرزائیوں کی صداقت اور دیانت کا اندازہ کر سکتا ہے کہ مشہور قادیانی مربی ہوکر کیسی کیسی بددیانتیاں اور غلطیاں کی ہیں۔ دوسرا رسالہ ’’انوار ایمانی‘‘ اس کے جواب میں لکھاگیا ہے۔ اس میں بھی ان کی غلطیاں اوربددیانتیاں دکھائی ہیں۔ صحیفہ محمدیہ کے نمبردس وگیارہ وبارہ میں کس قدر ان کی کذابی اور بددیانتی دکھائی ہے۔ مگر کسی کا تو وہ جواب نہیں دے سکے۔
فیصلہ آسمانی کا تیسرا حصہ اب دوسری مرتبہ دہلی میں ایک سو ستر صفحوں پر چھپا ہے۔ اس کے جواب میں بھی اب تک کسی نے قلم نہیں اٹھایا اور نہ کوئی اٹھا سکتا ہے۔ ایک رسالہ دوسری شہادت آسمانی ہے۔ جس میں نہایت تحقیق سے مرزاقادیانی کی آسمانی شہادت کو خاک میں ملایا ہے اور مرزاقادیانی کے جھوٹ اور فریب پورے طور سے دکھائے ہیں۔ غرض ان باتوں کا جواب کوئی نہیں دے سکا اور اب کسی کو دعویٰ ہو تو سامنے آئے اور جواب دے۔ مگر ہم بالیقین کہتے ہیں کہ کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ اگرچہ یہاں سے قادیان تک کے سارے قادیانی مربی جمع ہو جائیں۔ مگر حیرت ہے کہ مرزاقادیانی کو نبی مان رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سے رسائل لکھے گئے۔ اس سال ۱۹۳۷ء میں نہایت نادر رسالہ ’’چشمہ ہدایت‘‘ مشتہر ہوا ہے۔ اس میں مرزاقادیانی کے اٹھارہ اقرار نقل کئے ہیں جنہیں دیکھ کر ہر ایک ذی علم اور جاہل سے جاہل مرزاقادیانی کو جھوٹا یقین کرے گا اور علاوہ ان اقراروں کے محققانہ طور پر بھی ان کو جھوٹا ثابت کیا ہے۔ اس وقت تک کسی مرزائی نے اس کے جواب میں دم نہیں مارا۔ مگر قادیانی چونکہ ’’ختم اللہ علی قلوبہم‘‘ کے مصداق ہوگئے ہیں۔ اس لئے ایسے اعلانیہ جھوٹے سے علیحدہ بھی نہیں ہوتے۔ البتہ ایک ناشائستہ جدید مرزائی شکار حرص وطمع نے اسے دیکھا اور دیکھ کر تمام اصلی باتوں کے جواب سے عاجز رہ کر پانچویں اقرار کی ایک
زائد اور فضول بات پر زور لگایا ہے اور اسے غلط ثابت کرنا چاہا ہے اور یہ ایسی بات ہے کہ اگر اسے ہم غلط ہی مان لیں تب بھی مرزاقادیانی پر جو الزامات ہیں ان میں سے ایک الزام کا بھی جواب نہیں ہوسکتا۔ مرزاقادیانی جتنے اقراروں سے جھوٹے ثابت کئے گئے ہیں وہ بدستور قائم ہیں۔ اب اس ناشائستہ شکار سے دریافت کیا جائے کہ تیری انتیس یا تیس باتوں سے کیا نتیجہ ہوا؟
جس طرح ہم حیات وممات کی بحث کی نسبت کہتے ہیں کہ حضرت مسیحm مرگئے یا زندہ ہیں۔ ہم کو اس سے کچھ بحث نہیں ہے۔ مرزاقادیانی ہر طرح جھوٹے ہیں۔ حضرت مسیحm زندہ ہوں یا مردہ ہوگئے۔ اسی طرح ہم یہاں بھی کہتے ہیں کہ مؤلف رسالہ ’’چشمہ ہدایت‘‘ سے بالفرض اگر کوئی غلطی ہوگئی اور ایک نہیں ایک سو غلطیاں ہوگئیں تو کیا حرج ہے۔ کیونکہ انہیں معصوم ہونے کا دعویٰ نہیں ان غلطیوں کے ہو جانے سے مرزاقادیانی سچے نہیں ہوسکتے۔ وہ باتیں دکھاؤں جن سے مرزاقادیانی سچے ہوں، مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا تو قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے، احادیث صحیحہ سے، ان کے اقوال سے، ان کے اعلانیہ فریبوں سے، ان کے پختہ اقراروں سے آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھادیا گیا ہے۔ وہ رسالے جن میں یہ سب باتیں لکھی گئی ہیں۔ دنیا میں مشتہر ہوئے اور ہورہے ہیں۔ ناشائستہ شکار جدید مرزائی ان باتوں کا جواب دیں۔ اسی چشمہ ہدایت کے آخر میں دس ہزار کا چیلنج دیاگیا ہے۔ آپ پیٹ بھرنے کے لئے مرزائی ہوئے ہیں تو وہ دس ہزار کیوں نہیں حاصل کرتے؟ مگر کیا کریں عاجز ہیں۔ اگر کچھ انہیں علم ہے اور تواریخ پر نظر بھی ہوگی تو اپنے دل میں جانتے ہوں گے کہ مرزاقادیانی کے مثل کوئی ایسا جھوٹا نہیں گزرا۔ جس کا اتنا جھوٹ اس کے اقراروں سے ثابت ہوا ہو۔
اب تمام ہمدردان اسلام اور بالخصوص پیروان مسیح قادیان سے التماس ہے اور ان میں خاص ایڈیٹر الفضل اور ان کے ناشائستہ شکار مضمون نگار سے عرض رسا ہوں کہ آپ بنظر غور وانصاف ملاحظہ فرمائیں کہ جناب مؤلف چشمہ ہدایت نے اس چودھویں صدی کے مسیح کاذب کے جھوٹے ہونے کے دلائل صراحۃً اور اشارۃً کس قدر بیان فرمائے ہیں۔ انہیں شمار کیجئے۔
جناب مؤلف چشمہ ہدایت نے ص۲تا۷ تک ۳۶رسالوں کا حوالہ دیا ہے۔ جن میں مختلف اور متعدد طریقوں سے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا نہایت محققانہ طریقہ سے ثابت کیاگیا ہے اور اس وقت تک کوئی مرزائی ان کا جواب نہیں دے سکا۔ اب ہم ان رسالوں کی متعدد دلیلوں سے قطع نظر کر کے ہر ایک رسالہ کو ایک ایک دلیل مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی قرار دے کر مجموعہ رسائل کو چھتیس دلیلیں ٹھہراتے ہیں۔اس میں تو کسی مرزائی اور خصوصاً ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ مضمون نگار کو جائے دم زدن نہیں ہوسکتی۔ اب وہ دیکھ لیں کہ مرزاقادیانی کے کذابی کی دلیلوں کا شمار ایک مہینہ کے دنوں سے زائد تو صفحہ۷ تک ہوگیا۔ اب آگے چلئے اور آنکھیں کھول کر دیکھئے۔
صفحہ۸ میں ایام صلح سے ایک قول نقل کیا ہے جس میں مرزاقادیانی مسیح موعود کے وقت کی تین علامتیں بیان کرتے ہیں۔ (۳۷،۳۸،۳۹)
۱… اسلام دنیا پر پھیل جائے گا۔
۲… ادیان باطلہ ہلاک ہو جائیں گے۔
۳… راست بازی ترقی کرے گی۔
(ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)
نہایت روشن ہورہا ہے کہ مسیح قادیان کو خروج کئے یا نزول کئے دو قرن سے زائد ہوگئے۔ مگر ان علامتوں کا نشان بھی نہیں پایا گیا۔ بلکہ نہایت ظاہر طور سے ہر ایک علامت کے خلاف ظہور ہورہا ہے۔ اسلامی حالت دیکھ لیجئے اور ادیان باطلہ کی ترقی کا مشاہدہ کر لیجئے۔ جھوٹ اور فریب کی ترقی اظہر من الشمس ہے۔ اس لئے یہ تین علامتیں مرزاقادیانی کے کذب کے لئے ان کے تین اقرار ہوئے۔ (۴۰،۴۱)
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳، حاشیہ در حاشیہ تلخیص) میں مسیح موعود کی علامت بیان کرتے ہیں کہ: ’’ان کے ہاتھ سے دین اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔‘‘ اور آیت: ’’ہو الذی ارسل رسولہ۔ الخ!‘‘ کو اس کی دلیل کہتے ہیں۔ یعنی یہ آیت انہیں کی شان میں ہے۔ اس علامت کا شائبہ بھی ظہور میں نہ آیا بلکہ مرزاقادیانی کے
ظہور کی شومی سے بالکل برعکس معاملہ ہورہا ہے۔ اس قول سے دو طرح مرزاقادیانی جھوٹے ہوئے۔ ایک ان کے وقت میں وہ علامت نہ پائی گئی جو انہوں نے خود بیان کی تھی۔ دوسرے یہ کہ آیت مذکورہ ان کے لئے نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے مضمون کا ظہور ان کے وقت میں نہیں ہوا۔ (۴۲،۴۳)
(چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۱، تلخیص) میں مسیح موعود کی علامت یہی بیان کرتے ہیں کہ: ’’تمام قومیں ایک ہی مذہب پر ہو جائیں گی اور دین اسلام کو ایک عالمگیر غلبہ اس کے ذریعہ سے ہوگا۔‘‘ مگر اس کا جھوٹا ہونا بھی بخوبی ظاہر ہوگیا۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ مرزاقادیانی نے دنیا کو گویا اسلام سے خالی کر دیا۔ کیونکہ چند اپنے ماننے والوں کے علاوہ چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا اور کسی کافر کو مسلمان نہیں بنایا۔
(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷ حاشیہ)
اس لئے دو طرح سے جھوٹے ہوئے ایک یہ کہ جو علامت مسیح موعود کی انہوں نے بیان کی تھی وہ ان میں نہ پائی گئی۔ دوسرے یہ کہ اس کے برعکس پایا گیا۔ یعنی کفر کی ترقی ان کی وجہ سے ہوگئی۔ (۴۴،۴۵،۴۶)
ضمیمہ انجام آتھم میں اپنی صداقت کے ثبوت میں چار باتیں پیش کرتے ہیں۔
۱… میرے ذریعہ سے ادیان باطلہ کا مر جانا۔
۲… اسلام کا بول بالا ہونا اور ہر ایک طرف سے لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا۔
۳… اور عیسائیت کے باطل معبود کا فنا ہو جانا یعنی نیست ونابود ہو جانا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۲تا۳۴، خزائن ج۱۱ ص۳۱۶تا۳۱۸)
ان تینوں باتوں کا سات برس کے اندر ہو جانے کو کہتے ہیں اور پھر اس میں خدا کی قسم کھا کر لکھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہو تو میں اپنے تئیں کاذب خیال کر لوں گا۔ ان کا یہ قول ۱۸۹۷ء میں ہے۔ اس کے بعد گیارہ بارہ برس تک زندہ رہے۔ مگر ان باتوں میں سے ایک کا بھی ظہور نہ ہوا اور اپنے تئیں دعوؤں کے لحاظ سے اپنے قسمیہ اقرار سے جھوٹے ہوئے اور اگر یہ کہا جائے کہ مسلمانوں نے ان کی بات کو نہیں مانا تو اس سے خدائی پیشین گوئی غلط نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ مرزاقادیانی کا یہ قول اس سے قبل نقل ہوچکا ہے۔ حاشیہ ص۱۱ چشمہ ہدایت
دیکھو۔ اب ایڈیٹر صاحب اور ناشائستہ مضمون نگار ملاحظہ کریں کہ آپ کے مرشد کے جھوٹے ہونے کی دلیلوں کا شمار ڈیڑھ مہینے کے دنوں کے شمار سے تو زیادہ ہوگیا۔ اب مرزاقادیانی کا وہ اقرار جس کے تتمہ سے مضمون نگار کو عوام کے فریب دینے کا موقع ملا ہے۔ چشمہ ہدایت میں جو پانچواں اقرار لکھا گیا ہے اس کی ابتداء مرزاقادیانی کی اعجازی تحریر سے ہے۔ ۱۹۰۲ء میں (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) میں اپنی نسبت الہام الٰہی لکھتے ہیں: ’’اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا… اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘یہاں کسر صلیب کو مرزاقادیانی نے جلی قلم سے لکھا ہے۔ اس الہام میں تو کسر صلیب کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کے بعد ۱۹۶۰ء میں اس کام پر مستعدد ہونے کی خبر دیتے ہیں اور (اخبار البدر ج۲ نمبر۲۹ ص۴ کالم۲، مطبوعہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء) میں لکھتے ہیں: ’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرتa کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ فقط: غلام احمد‘‘
ناظرین راست باز عموماً اور ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ جدید مرزائی خصوصاً اس پر اچھی طرح نظر کریں کہ مرزاقادیانی بزبان حال یہاں یہ شعر پڑھ رہے ہیں ؎
بنمائے بصاحب نظرے گوہر خودرا
عیسیٰ نتوان گشت بتتصدیق خرے چند
اس کا حاصل بھی ہے کہ بے وقوفوں کے مان لینے سے کوئی مسیح موعود نہیں ہوسکتا بلکہ اس مدعی کی ذات میں وہ کمالات ہونا چاہیں جو مسیح موعود کے لئے مخصوص ہیں۔ مرزاقادیانی اس قول میں مسیح موعود کے تین کام بیان کرتے ہیں اور ان کی تین علامتیں بتاتے ہیں۔ اوّل یہ کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دینا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں کوئی تثلیث
پرست نہ رہے۔ دوسرا کام یہ کہ تثلیث کی جگہ توحید کو پھیلانا۔ تیسرا یہ کہ آنحضرتa کی جلالت وشان کو ظاہر کرنا۔
مرزاقادیانی یہ کام مسیح موعود کے بیان کرتے ہیں اور اس کے مدعی ہیں کہ میں ان کاموں کے لئے مستعد ہوا ہوں اور انہیں کر کے دکھادوں گا اور اگر یہ کام میں نہ کروں اور مسیح موعود کے آنے کی جو علت غائی ہے وہ ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں اور صرف اپنے کو جھوٹا نبی نہیں کہتے۔ بلکہ اپنے جھوٹے ہونے پر دوسروں کو گواہ بناتے ہیں۔
ناظرین! خوب خیال کریں کہ کس صفائی سے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگرچہ مجھ سے کروڑ نشان ظاہر ہوں اور یہ علامت نہ پائی جائے تو میں جھوٹا ہوں اور خوب خیال کیجئے کہ صرف اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اپنے سب ماننے والوں کو اور سب کو اپنے جھوٹے ہونے کا گواہ قرار دیتے ہیں اور صاف طور سے کہتے ہیں کہ اگر یہ کچھ نہ ہوا۔ (یعنی مسیح موعود کا جو کام ہے وہ میں نے اپنی زندگی میں نہ کیا) اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔
اب یہ خیرخواہ اور تمام بہی خواہان امت مرزاقادیانی کے ماننے والوں سے اور بالخصوص ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ مضمون نگار اور میاں روشن علی قادیانی سے نہایت اخلاص اور ادب سے یہ دریافت کرتا ہے کہ اب آپ ان کے ارشاد کے بموجب ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی کیوں نہیں دیتے؟ خدا کے لئے اپنی عاقبت کا خیال کر کے یہ فرمائیے کہ مرزاقادیانی نے عیسیٰ پرستی کے ستون کے توڑنے میں کچھ کام کیا ہے۔ دنیا میں کسی مقام پر اور کسی جگہ تثلیث پرستی میں کچھ کمی ہوگئی۔ مرزاقادیانی کی ذات سے کسی ملک میں کسی شہر میں کسی قریہ اور دیہات میں تثلیث کی جگہ توحید پھیلی؟ اس کا جواب بجز اس کے اور کوئی نہیں دے سکتا کہ مرزاقادیانی سے یہ کام ہرگز نہیں ہو اور ہرگز نہیں ہوا۔ کیونکہ اس کا تو معائنہ ہورہا ہے اور تمام دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہر جگہ تثلیث پرستی کا زور ہے اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے خلیفہ دوم اپنے اخباروں میں اپنی تحریروں میں اہل تثلیث کی بہت تعریف کر رہے ہیں اور خوب خوشامدانہ باتیں بنارہے ہیں۔ پھر بتائیں کہ مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے میں کیا شک رہا ہے؟ اب تو
کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ انہیں جھوٹا نہ کہا جائے اور ان کے کہنے کے بموجب ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی نہ دی جائے۔ یہاں تو مرزاقادیانی نے اپنے ان تمام نشانات کو بھی خاک میں ملادیا۔ جن کی تعداد تین لاکھ سے زائد بیان کی جاتی ہے۔ اب تو ایڈیٹر الفضل اور روشن علی قادیانی کو ان کے نشانات پیش کرنے کی مجال نہ رہی اور ہر طرح مرزاقادیانی جھوٹے ثابت ہوگئے اور ایک دلیل سے نہیں انچاس دلیلوں سے، پہلی دلیلوں کو اس قول کی تین دلیلوں سے ملا کر دیکھ لیجئے۔ قول مذکورہ کی شرح چشمہ ہدایت کے صفحہ۱۹ سے ۲۸ تک ملاحظہ کر لیجئے۔
اب اگر رسالہ مذکور کی تین سطروں میں کوئی غلطی ہوگئی ہے تو اس سے مرزاقادیانی کی کذابی میں کوئی فرق نہیں آتا اور اس امر کا ایڈیٹر الفضل اور ناشائستہ مضمون نگار کو بھی اقرار ہے۔ کیونکہ ناشائستہ مضمون نگار نے مرزاقادیانی کے ان اقراروں کی نسبت دم بھی نہیں مارا جو اوپر نقل کئے گئے ہیں۔ میں مکرر کہتا ہوں آنکھیں کھول کر دیکھئے کہ مرزاقادیانی نے اس قول میں مسیح موعود کے تین کام بیان کئے ہیں۔ اب بتائیے کہ ان میں سے کون سا کام مرزاقادیانی نے کیا؟
۱… کیا تثلیث پرستی کے ستون کو توڑ دیا؟ اس کے جواب میں دنیا کے ایماندار یہی کہیں گے کہ ہرگز نہیں توڑا۔
۲… کیا مرزاقادیانی نے بجائے تثلیث کے توحید پھیلائی؟ اس کا جواب بھی ہرایک جاننے والا ایماندار یہی کہے گا کہ ہرگز نہیں بلکہ نہایت ظاہر ہے کہ تثلیث کا شیوع ہورہا ہے۔
۳… کیا مرزاقادیانی نے رسول اﷲa کی عظمت وشان کو ظاہر کیا؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔
نہایت ظاہر ہے کہ جب تثلیث پرستی کو ترقی ہے تو جناب رسول اﷲa کی عظمت وشان ظاہر نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں شبہ نہیں کہ مرزاقادیانی کے وجود سے اور ان کے اقوال سے جناب رسول اﷲa کی نہایت تحقیر ہوئی۔ دو وجہ سے، ایک یہ کہ مرزاقادیانی کی پیشین گوئیاں غلط ہوئیں تو انہوں نے خدا اور رسول پر ایسی باتیں لگائی ہیں کہ تمام مذہب درہم وبرہم ہوتا ہے۔ خدا اور رسول کی شان میں نہایت بٹا آتا ہے۔ ان باتوں کا ذکر ایک خاص اعلان میں کیاگیا ہے اور چھپ کر مشتہر ہوچکا ہے۔ا ب دوبارہ مشتہر ہورہا ہے۔ دوسرے یہ کہ
مرزاقادیانی نے امت محمدیہ کو یعنی رسول اﷲa کے جان نثاروں کو جہنم کا مستحق بنادیا۔ یعنی یہ کہہ دیا کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنمی ہے۔ حضرت سرور انبیاء کی یہ کیسی کسر شان ہے کہ آپa کا ماننے والا اور آپa کا جان نثار دائمی جہنم کا مستحق ہوجائے۔ یہ کہنا آپa کی سروری کو خاک میں ملادینا ہے۔ کہو میاں روشن علی قادیانی ان باتوں کا کوئی جواب ہوسکتا ہے۔ ذرا ہوش کر کے جواب دو۔ کیا آپ تذکرہ یونسm پر تنقید کرنا چاہتے ہیں۔
میاں روشن علی اندھیر نہ مچائیے مرزاقادیانی کی کذابی کی دلیلوں کا جواب دیجئے۔ آپ تذکرہ یونسm پر کیا تنقید کریں گے آپ کی کیا مجال ہے۔ تذکرہ یونسm میں جو کچھ لکھا ہے وہ لاجواب بات ہے۔ کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے جو اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے جابجا یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت یونسm نے عذاب کے آنے کی قطعی الہامی پیشین گوئی کی تھی اور وہ پوری نہ ہوئی۔ یہ محض غلط اور مرزاقادیانی کا صریح جھوٹ ہے۔ اس کا ثبوت نہ قرآن شریف سے ہے نہ حدیث صحیحہ سے۔ اگر آپ کو صداقت کا دعویٰ ہے تو ثبوت پیش کیجئے۔ فضول باتیں بنا کر عوام کو فریب نہ دیجئے۔ حضرت یونسm نے کوئی الہامی پیشین گوئی ایسی نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اس جھوٹ کے علاوہ ہم نے مرزاقادیانی کے بہت جھوٹ ثابت کر دئیے ہیں۔ ایسا جھوٹا کوئی مجدد اور بزرگ بھی نہیں ہوسکتا اور نبوت کی تو بڑی شان ہے اور مرزائی جھوٹوں کے جواب میں یہ کہہ دینا کہ حضرت ابراہیمm نے تین جھوٹ بولے تھے۔ محض جہالت یا فریب ہے۔ جس روایت سے حضرت ابراہیم کا جھوٹ ثابت کیا جاتا ہے۔ وہ روایت صحیح نہیں ہے۔ تفسیر کبیرج۶ دیکھئے۔ اس کے علاوہ وہ روایت قرآن شریف کے صریح خلاف ہے اور یہ بات مرزاقادیانی کے نزدیک بھی مسلم ہے جو روایت قرآن شریف کے خلاف ہو وہ صحیح نہیں قرآن شریف میں حضرت ابراہیم کی نسبت نہایت صاف طور سے مذکور ہے۔ ’’کان صدیقاً نبیاً (مریم:۴۱)‘‘ یعنی ابراہیم نہایت سچے نبی تھے۔ صدیق اسی کو کہتے ہیں جو ہمیشہ سچ بولے۔ مرزاقادیانی کے جھوٹوں کی تو انتہاء نہیں ہے۔ پھر ان کو نبوت سے کیا واسطہ؟ ’’و اللہ یہدی من یشاء الٰی صراط مستقیم‘‘
مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حمد خالق را کہ بے چون و چراست
نعت احمد را کہ فخر انبیاء است
مرزائی گروہ کو جب سے شہر مونگیر صوبہ بہار کے مناظرہ میں شکست فاش ہوئی ہے اس وقت سے انہیں مناظرہ کی ہمت نہیں رہی۔ یہ وہ شاندار مناظرہ تھا جس میں قادیان کے مخصوص مربی اور بھاگلپور کے مرزائی صدر مناظر تھے اور جنہیں جلسہ میں اقراری شکست ہوئی تھی۔ اس کے بعد خانقاہ رحمانی مونگیر سے لاجواب رسائل ردقادیانی کی بھرمار ہوئی اور مرزاقادیانی کے دجل وفریب سے ان کے مخصوص حضرات واقف ہوئے تو ان کے خلیفہ کو خوف ہوا کہ یہ رسائل حقانی اگر ہماری جماعت فریب خوردہ دیکھے گی تو بالضرور ہمارے مرشد عیار کے فریبوں سے واقف ہوکر ہم سے علیحدہ ہو جائے گی اور ہماری عزت اور روزی دونوں میں خلل آجائے گا۔ اس لئے اپنی جماعت فریب خوردہ کو قطعی حکم دیا کہ ان رسالوں کو کوئی نہ دیکھے۔ ورنہ ایمان جاتا رہے گا۔ اب ہم قادیانی جماعت سے محبانہ دریافت کرتے ہیں کہ بنظر متعصبانہ قادیانی خلیفہ کے اس حکم پر غورفرما کر اس کا فیصلہ فرمائیں کہ اس حکم نے یہ ثابت کر دیا یا نہیں کہ مذہب قادیان ایسا ضعیف اور کمزور ہے کہ ان حقانی رسائل کے دیکھنے کے بعد قادیانی مذہب کا جھوٹا ہونا پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ آپ کا دلی انصاف اور آپ کا ضمیر بالضرور یہی کہے گا کہ بلاشبہ یہ حکم ان کی کمزوری اور واقف ہوکر ایک کذاب کی پیروی کو آشکارا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پہلے علمائے دیوبند اس گروہ کو بے حقیقت سمجھ کر اس کی طرف مطلقاً توجہ نہیں کرتے تھے۔ اس بناء پر بعض جاہل قادیانیوں کو خیال ہوا کہ یہ علمائے حقانی ہمارے مقابلہ سے عاجز ہیں۔ اس خام خیالی میں آکر انہوں نے اشتہار دیا کہ علماء دیوبند ہم سے مباہلہ کریں گے۔
اس اعلان پر حضرات دیوبند میں کچھ جوش پیدا ہوا اور مناظرہ اور مباہلہ پر مستعد
ہوگئے اور تحریری طریقہ پر جواب دینا شروع کر دیا اور بڑے بڑے اشتہاروں کے ذریعہ عالمانہ اور محققانہ جواب لکھ کر شائع کرائے جو دس گیارہ نمبر تک نکالے گئے۔ مگر مرزائی جماعت چونکہ اپنے مرشد سے جھوٹ اور فریب کی تعلیم یافتہ ہے۔ اس لئے وہ حقانی گروہ جو جھوٹ اور فریب کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا انہوں نے سکوت اختیار کیا اور ایڈیٹر الفضل نے اپنا اشتہار نمبر۱۱ خانقاہ رحمانی مونگیر میں فخریہ بھیجا۔ چونکہ ان اشتہاروں کی بنیاد مباہلہ پر تھی اور ان کا اوّل اشتہار مباہلہ کی طلب میں چھپا تھا اس لئے خانقاہ رحمانی سے صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۸ جس کا نام چیلنج محمدیہ ہے اور اس میں مرزاقادیانی کے نہایت صاف وصریح سات اقرار لکھے گئے ہیں۔ جن سے وہ یقینی جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ثابت ہوتے ہیں۔ مدیر الفضل اور خلیفہ قادیان کے پاس بھیجا گیا اور اس کے لوح پر صرف اس قدر لکھ دیا گیا کہ اشتہار آپ کا پہنچا۔ مگر یہ فرمائیے کہ جو مدعی اپنے پختہ اقراروں سے خود جھوٹا ثابت ہوچکا ہے۔ جیسا کہ اس رسالے میں دکھائے گئے ہیں۔ اس کی صداقت پر مباہلہ کرنا کسی صاحب عقل کا کام ہوسکتا ہے؟ یہ ہرگز نہیں۔ اس کا کچھ جواب نہیں آیا۔ کچھ عرصہ کے بعد وہی اشتہار مدیر الفضل نے پھر بھیجا مگر اس کے حاشیہ پر اسی قدر لکھ دیا کہ مباہلہ تو آخری فیصلہ ہے اور حضرت مجدد صاحبv کا حوالہ دے دیا۔ اس مہمل جواب کے اظہار میں جو تحریر لکھ کر بھیجی گئی وہ ذیل میں مرقوم ہے۔ البتہ اس میں کچھ اضافہ اور پہلی تحریر سے کچھ تغیر ہوگیا ہے مگر اس کا یقین ہے کہ اگر تمام قادیان کی جماعت مل کر اس کا جواب دینا چاہئے تو نہیں دے سکتی اور ہرگز نہیں دے سکتی۔ کیونکہ نہ انہیں علم سے کچھ واسطہ ہے اور نہ حق طلبی کی ان میں بو ہے۔ ان دونوں باتوں کا ثبوت ان کے مختصر جواب سے ظاہر ہے۔ کیونکہ انہیں اب تک مباہلہ کی حقیقت ہی نہیں معلوم زبردستی اور ناحق کوشی کا یہ حال ہے کہ ہم مرزاقادیانی کے اقراری کذب پرستاون دلیلوں سے زیادہ انہیں دکھا رہے ہیں۔ مگر ایک کا بھی جواب نہیں دیتے اور جہلاء کے فریب دینے کو صرف یہ لکھ دیا کہ مباہلہ آخری فیصلہ ہے۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو۔
اگر مباہلہ کو آپ کے لکھنے کے بموجب یقینی حجت شرعی وقطعی فیصلہ امت محمدیہ کے
لئے مان لیا جائے تو اسی وقت یہ فیصلہ قرار پائے گا۔ جس وقت اس مدعی کے کذب پر کوئی دلیل نہ قائم ہوئی ہو اور جب ہم اس کے یقینی کذب پر آپ کے روبرو ستاون دلیلیں پیش کر چکے ہیں اور دو رسالے ایک چیلنج محمدیہ دوسرا چشمۂ ہدایت کی صداقت آپ کے پاس بھیج چکے ہیں جن میں مرزاقادیانی کے ستاون وہ قول نقل کئے گئے ہیں جن سے وہ خود یقینی کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے عقلاً اور شرعاً اور بفحوائے ’’المرء یؤخذ باقرارہ‘‘ وہ قطعاً جھوٹے ثابت ہوئے اس میں کسی طرح چون وچرا کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے بعدکون صاحب عقل مباہلہ کو ایسے یقینی کاذب کے لئے آخری فیصلہ اس کی صداقت کا قرار دے گا؟ برائے خدا اپنے مرشد کے اس قول کو ملاحظہ کیجئے کہ انہوں نے احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی نسبت متعدد طور سے پیشین گوئی کر کے مختلف طور سے اپنا وثوق واعتماد اس پر ظاہر کیا ہے اور یقینی طور سے اس کو الہام الٰہی اور وعدۂ خداوندی فرمایا ہے۔ آخر میں سب سے زیادہ وثوق اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ: ’’اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ کسی انسان کا افتراء نہیں ہے بلکہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہ خدا جس کی باتیں نہیں بدلتیں۔‘‘
پورے الفاظ چیلنج محمدیہ میں (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸) نقل کئے گئے ہیں۔ انہیں دیکھئے جب یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی جسے انہوں نے خدا کا سچا وعدہ کہا ہے تو اب کیا وجہ ہے کہ ان کو ہر بد سے بدتر نہ مانا جائے۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ خدا کو جھوٹا اور سخت وعدہ خلاف ثابت کر رہے ہیں۔ جب ایسا زبردست قول انہیں ہر بد سے بدتر ثابت کر رہا ہے۔ کیا سبب ہے کہ انہیں اس کا مصداق نہ قرار دیا جائے اور امر حق کو پوشیدہ کرنے کے لئے مباہلہ کا حیلہ پیش کیا جائے۔ خصوصاً جب کہ ان کی نہایت عظیم الشان پیشین گوئی کے جھوٹے ہو جانے سے توریت مقدس وقرآن مجید نے انہیں جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ چنانچہ فیصلہ آسمانی میں اس کا ثبوت کامل طور سے دیا گیا ہے اور اگر باایں ہمہ مرزاقادیانی کو سچا مانا جائے تو نعوذ ب اللہ خدا کو جھوٹا اور وعدہ خلاف اور نہایت فریب دہندہ ماننا ہوگا اور شریعت الٰہی کے جتنے وعدے اور وعیدیں ہیں ان سب کو غیر معتبر کہنا پڑے گا۔ (اس کی تصدیق توضیح المرام کے ص۸ میں ملاحظہ ہو) کیونکہ مرزاقادیانی اس پیشین گوئی کو خدا کا سچا وعدہ کہتےہیں۔ باایں ہمہ وہ وعدہ پورا نہ ہوا۔ باوجودیکہ وہ قادر مطلق برسوں وعدہ کرتا رہا۔ اس سے اس کا صرف
جھوٹا ہی ہونا ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کا وعدہ خلاف ہونا اور اپنے نبی کو فریب دینا اور دنیا پر اس کا جھوٹا ہونا ظاہر کر دیا۔ اتنے الزام خدا پر آتے ہیں تو ایسے خدا کے نبی بھی جیسے ہوں گے وہ معلوم ہے۔
اب نہایت تعجب ہے کہ ایسے خدا کے مصنوعی نبی کی صداقت پر مباہلہ کیا جائے اور اس کو آخری فیصلہ کہا جائے۔ دنیا میں کوئی صاحب عقل اس کا قائل نہیں ہوسکتا۔ ذرا ہوش کر کے اس کا جواب دیجئے میں نے شروع میں آپ کے قول کو فرضی طور پر مان کر یہ لکھا ورنہ آپ کا قول ماننے کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ امت محمدیہ میں مباہلہ کی نسبت اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مباہلہ جناب رسول اﷲa سے مخصوص تھا۔ چنانچہ تفسیر بحر محیط کی جلد ثانی میں آیت مباہلہ کے بیان پر لکھا ہے کہ: ’’قال الشعبیv ویدل علٰی ان ذالک مختص بالنبیa‘‘بعض اس میں شرطیں لگاتے ہیں۔ چنانچہ تفسیر جمل میں علامہ شیخ سلیمان لکھتے ہیں:’’وقع البحث عند شیخنا العلامۃ الدوانی قدس سرہ فی جواز المباہلہ ما بعد النبیa فکتب رسالۃ فی شروطہا المستنبط من الکتاب والسنۃ والاثار والکلام الائمۃ‘‘اور اس عبارت کو تفسیر فتح البیان میں بھی نقل کیا ہے۔ ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی اور دلیل سے اس کا فیصلہ نہ ہوتا ہو اور بعض اس کے ظہور اثر کے لئے یہ قید لگاتے ہیں کہ سال ڈیڑھ سال کے اندر ہوتا ہے اور آپ کی جماعت تو یہ غضب کرتی ہے کہ اکثر کو متعین نہیں کرتی۔ یہ دو باتیں بھی مباہلہ کو بیکار کر دیتی ہیں۔ کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے اور ہر ایک حق پسند اس کی شہادت دے سکتا ہے کہ دنیا میں بہت ہی کم ایسے اشخاص ہوں گے جواس مدت کے اندر کم وبیش کسی تکلیف یا کسی مصیبت یا کسی بیماری سے محفوظ رہتے ہوں یا بغیر مباہلہ اس مدت کے اندر کوئی مرتا نہ ہو جب یہ بات ہے تو پھر مباہلہ کرنے والے پر اگر کوئی مصیبت یا بلا آئی یا وہ مر ہی گیا تو اس کو بالیقین اثر مباہلہ کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ ان باتوں سے ظاہر ہے امت محمدیہ کا مباہلہ کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہے۔ اگر یقینی حجت شرعی ہوتا تو اختلاف نہ ہوتا اور اپنے قیاس اور گمان سے اس میں شرطیں زائد نہ کی جاتی اور اس کے اثر کو غیرمتعین نہ رکھا جاتا۔ یہاں تک مباہلہ کے بیکارہونے کی دو وجہ تو بیان ہوگئیں۔ جو ۲۰؍رجب المرجب ۱۳۳۸ھ کو ایڈیٹر الفضل کے پاس
جوابی رجسٹری کر اکے بھیجی گئی ہیں۔ اب تیسری نہایت زبردست وجہ پیش کی جاتی ہے جس سے آپ کے خیال کے موافق مباہلہ کو آخری فیصلہ مان کراور ان کی اقراری ڈگریوں سے چشم پوشی کر کے آپ کے مرشد کو مباہلہ سے جھوٹا ثابت کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
بڑی وجہ مرزائی قادیانیوں کے مباہلہ کے بیکار ہونے کی یہ ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے مرزاقادیانی سے مباہلہ کیا تھا اور پندرہ مہینہ کے بعد ۱۳۱۲ھ میں مطابق ۱۸۹۵ء کے اس کے اثر کا اشتہار دیا تھا جس کا عنوان یہ ہے۔
اس کے بعد عربی کا ایک شعر لکھ کر اس طرح شروع کرتے ہیں۔ کیوں مرزاقادیانی مباہلہ کی لعنت اچھی طرح پڑ گئی یا کچھ کسر ہے۔ اس کے بعد چار پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے۔ اس میں چوتھی پیشین گوئی (حجۃ الاسلام ص۹، خزائن ج۶ ص۴۹) سے نقل کرتے ہیں: ’’پس جب کہ یہ بات ہے تو میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں۔‘‘
اس قول میں مرزاقادیانی دو باتیں کہتے ہیں ایک یہ کہ میرے مباہلہ کا اثر مخالف پر ایک سال کے اندر ظاہرہوگا۔ اس سے زیادہ مدت نہ ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ اگر اس مدت میں مخالف پر بڑا اثر نہ ہو تو میں جھوٹا اور موت کی سزا کے لائق ہوں۔ اس کے لئے مدت متعین نہیں کی۔ مرزاقادیانی کے اس قول کے بعد مولوی صاحب لکھتے ہیں: ’’اب مسلمانوں کو عموماً اور مرزائیوں کو خصوصاً قسم دیتا ہوں کہ میرے اور مرزاقادیانی کے حال کو دیکھ کر تم خود اندازہ کر لو کہ مباہلہ کو پندرہ ماہ گزر گئے۔ اب میرے پر تاثیر مباہلہ کی پڑی یا مرزاقادیانی پر۔ میں نے تو جب سے مباہلہ کیا اللہ عزوجل نے مجھ کو آباد کیا اور زوجہ صالحہ عنایت کی اب اولاد صالح کا امیدوار ہوں۔ آگے میں ہمیشہ بیمار رہتا تھا۔ اب کے سال اﷲکے فضل سے میرے بدن پر پھوڑا پھنسی تک نہیں اور وہ باطنی نعمتیں اور فتوحات جو اللہ عزوجل نے اس عاجز پر کی ہیں نہ
بیان کرتا ہوں اور نہ مناسب جانتا ہوں اور مرزاقادیانی کا حال تو ظاہر ہے اور اس کے مریدوں کا یہ حال ہے۔ (کہ تین خاص مرید مرزاقادیانی کے اسی عرصہ میں عیسائی ہوگئے) ایک کا نام اسماعیل، دوسرے کا یوسف خاں، تیسرے کا نام محمد سعید۔‘‘
اب اہل انصاف دونوں صاحبوں کے قولوں کو ملاحظہ کریں کہ مرزاقادیانی اپنے مخالف پر سال بھر کے اندر اثر مباہلہ کے ظہور کو بیان کرتے ہیں۔ یعنی اس مدت میں لعنت کا ظہور اس پر ہوگا ان کے مخالف مولوی صاحب مباہلہ کا عمدہ اثر ڈیڑھ سال کے بعد خدا کے متعدد انعامات بیان کرتے ہیں۔ ایک انعام یہ کہ پہلے ان کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ مباہلہ کے بعد ان کی شادی ہو گئی یہ وہ بڑا انعام الٰہی ہے جسے خاص وعام سب شادی کہتے ہیں۔ دوسرا انعام یہ ہے کہ نیک بیوی ملی تیسرا انعام یہ ہے کہ بہت تھوڑے عرصہ میں وہ بیوی حاملہ ہوئی اور اولاد کی امید ہوئی۔ اس کے بعد اولاد ہوئی یا نہیں ہوئی۔ اس کا ہم کو علم نہیں ہے۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ جس مدت میں لعنت کا اثر مرزاقادیانی کے کہنے کے بموجب پڑنا چاہئے تھا اس مدت میں کوئی برا اثر نہیں پڑا۔ بلکہ یہ خوشی کی امید ہوئی۔ چوتھا انعام یہ ہے کہ پہلے بیمار رہتے تھے۔ مباہلہ کے بعد اﷲتعالیٰ نے صحت عنایت کی۔ پانچویں باطنی متعدد نعمتوں کا اجمالی اظہار کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے مباہلہ کا برااثر اور لعنت کا ظہور ان پر نہیں ہوا بلکہ مرزاقادیانی پر متعدد اثر ہوئے۔ ایک یہ کہ مرزاقادیانی نے اپنے دعوؤں کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اپنے مخالف سے مباہلہ کیا۔ مگر ان کی لعنت کا اثر مخالف پر کچھ نہ ہوا بلکہ انہیں پر ہوا اور متعدد طریق سے ہوا۔ ایک یہ کہ اپنے اقرار سے اپنے متعدد دعوؤں میں جھوٹے ہوئے۔ کیونکہ صاف لکھتے ہیں کہ: ’’میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو۔‘‘ مباہلہ کے بعد نشان کا ظہور یہی ہے کہ مخالف پر لعنت کا اثر اعلانیہ طور سے ظاہر ہو یہی مرزاقادیانی کی بددعا ہے۔ اس کا ظہور مولوی صاحب پر ہونا چاہئے تھا۔ مگر نہیں ہوا بلکہ مرزاقادیانی پر ہوا اور وہ اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے۔ مولوی صاحب کے اشتہارسے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عرصہ میں تین پیشین گوئیاں مرزاقادیانی کی اور بھی جھوٹی ہوئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توریت مقدس نے اور قرآن مجید نے تین مرتبہ مرزاقادیانی کے
جھوٹے ہونے پر گواہی دی۔ کیونکہ دونوں کلام الٰہی یہ شہادت دیتے ہیں کہ جس مدعی کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں دیکھئے۔ حضرات مرزائیاں آنکھیں کھول کر اس اعلانیہ بیان کو ملاحظہ کریں کہ کس خوبی سے مرزاقادیانی پر لعنت کا اثر ظاہر ہوا اور مرزاقادیانی مولوی عبدالحق صاحب کے مباہلہ سے جھوٹے ثابت ہوئے اور ہزاروں اشتہارات ان کے کذب کے اظہار میں شائع ہوگئے۔ پھر اب ان کے لئے مباہلہ بیکار اور تحصیل حاصل نہیں تو کیا ہے۔ خدا کے لئے کوئی حق بات تو زبان سے فرمائیے۔ مگر یہ آپ سے ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ مرزاقادیانی کے اثر نے آپ کی راست بازی کو مٹا دیا ہے۔ مرزاقادیانی، مولوی صاحب کی یہ اعلانیہ صداقت اور کامیابی دیکھ کر حیران ہوگئے اور دو برس تک سوچتے رہے کہ اس جھوٹ کو کیونکر پوشیدہ کروں۔ تیسرے برس یہ خیال کیا ہوگا کہ ان کا اشتہار ایک دو مرتبہ چھپ گیا اور صرف پنجاب کے بعض مقاموں میں شائع ہوا۔ چند روز کے بعد اس کا پتہ بھی نہ رہے گا۔ اس لئے مخلوق کو فریب دیتے ہیں اور (ضمیمہ انجام آتھم ص۲۵، خزائن ج۱۱ ص۳۰۹ حاشیہ) میں اپنے مخالف علماء کو بہت کچھ لعن طعن کرکے اور کمال بے تہذیبی کا جامہ پہن کر اسی صفحہ۲۵ میں لکھتے ہیں: ’’اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اگرچہ عبدالحق کے مباہلہ میں اس طرف سے کسی بددعا کا ارادہ نہ کیا گیا ہو مگر جو صادق کے سامنے مباہلہ کے لئے آیا ہو۔ کسی قدر تو بعد مباہلہ ایسے امور کا پایا جانا چاہئے۔ جن پر غور کرنے سے اس کی ذلت اور نامرادی پائی جائے اور اپنی عزت دکھلائی دے۔‘‘
ناظرین! مرزاقادیانی کی اس بناوٹ پر غور فرمائیں۔ تحریر فرماتے ہیں کہ اگرچہ عبدالحق کے مباہلہ میں اس طرف سے (یعنی میری طرف سے) کسی بددعا کا ارادہ نہ کیاگیا ہے۔ یہ قول مرزاقادیانی کا ہے۔ وہ بددعا کی نسبت اپنا واقعہ اپنی حالت تردد اور شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگرچہ کسی بددعا کا ارادہ نہ کیاگیا ہو۔ یہ کیسی ابلہ فریبی ہے۔ اے دشمن حق! مباہلہ تو اسی کو کہتے ہیں کہ طرفین سے جھوٹے پر لعنت کی جائے اور جب طرفین سے بددعا نہیں کی گئی تو مباہلہ ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ کہنا کہ عبدالحق سے مباہلہ ہوا۔ محض جھوٹ ہوا مگر بحمد اﷲ! کہ ابھی انہی کے قول سے بددعا کرنا اور اپنے اقرار سے ان کا جھوٹا ہونا
اور مولوی عبدالحق صاحب کا صادق ہونا ثابت کر دیا گیا۔ اس اعلانیہ جھوٹ اور کذب کے بعد جھوٹی باتیں بنانا اور اپنے نعمتوں کا اظہار کرنا ایسا ہی ہے جیسا قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے بعض کفارومنکرین کی نسبت فرمایا ہے۔
یہ مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے۔ مختصراً سورۂ والفجر:۱۵،۱۶ میں ارشاد: ’’فاما الانسان اذا ما ابتلہ ربہ فاکرمہ ونعمہ فیقول ربی اکرمن واما اذا ما ابتلہ فقدر علیہ رزقہ فیقول ربی اہانن‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ بعض انسان کا امتحان اور اس کی آزمائش اس طرح کرتا ہے کہ اس کی عظمت ظاہرکرتا ہے اور اسے دنیاوی نعمتیں دیتا ہے۔ اس سے وہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو اللہ نے مکرم اور معظم بنایا ہے اور جس کا امتحان تنگی معاش وغیرہ سے کیاگیا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری اہانت کی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے مقبول ہونے کی یہ علامت نہیں ہے کہ دنیا میں قورمہ پلاؤ کھائے اور روپیہ پیسہ بہت مل جائے۔ جسے مرزاقادیانی مقبولیت کا نشان سمجھتے ہیں اور دنیا میں کچھ تنگ حالی سے گزارنا اہانت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اکثر انبیاء کی زندگیاں تنگ حالی سے گزری ہیں کہ ہم انہیں مہلت دیتے ہیں اور بہت کچھ انہیں راحت وآرام اور دولت دے کر انہیں بھول میں ڈالتے ہیں اور پھر ایک بارگی انہیں پکڑتے ہیں۔ اسی کا نمونہ اﷲتعالیٰ نے مرزاقادیانی پر دکھایا کہ سمجھدار مخلوق پرپہلے ان کا کاذب ہونا اعلانیہ طور سے ثابت کردیا۔ پھر ان کو ایسی نعمتیں دیں جن سے مرزاقادیانی اپنی ہلاکت اور کلام الٰہی کی شہادت کو بھول گئے اور اپنی سرکشی میں ترقی کر گئے۔ آخر کار نہایت بری حالت اور ایسی ناگفتہ بہ صورت سے مرے کہ خاص مریدوں نے مرنے کے بعد ان کا چہرہ دکھانا روا نہیں رکھا اور غالباً اسی مباہلہ کے اثر سے ایسی موت ان کی ہوئی اور ان کے قول کے بموجب ہوئی۔ کیونکہ خود انہوں نے اپنے مباہلہ کا اثر یہ بیان کیا تھا کہ اگر ایک سال کے اندر میرا نشان ظاہر نہ ہو (یعنی میری لعنت کا اثر مخالف پر ظاہر نہ ہو) تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور موت کی سزا کے لائق ہوں۔ وہی ہوا اور اپنی زندگی کی نسبت جو پیشین گوئی کی تھی اس سے بہت پہلے خاک میں جا ملے۔ اس کی تفصیل شہادت آسمانی مطبوعہ مونگیر ۱۳۳۳ھ کے آخری ورق پر کی
گئی ہے۔ شائقین حق ملاحظہ کریں۔
خلیفہ قادیانی اور مدیر صاحبان کی خدمت میں پیش کر کے قبول حق یا جواب کا یہ خیرخواہ خواستگار ہے پہلے مختصر مضمون ۲۰؍رجب المرجب کو بھیجا گیا تھا۔ چھپنے کے وقت تک ایک مہینے سے زیادہ ہوا مگر جواب کا پتہ نہیں ہے اور ہمارا الہام یہ کہتا ہے کہ مرزائی جواب سے عاجز ہیں۔ اس تحریر سے مرزائی مباہلہ تین وجہ سے بیکار ثابت ہوا۔
پہلی وجہ: مباہلہ اسی بات پر کیا جاتا ہے جس کا حق یا ناحق ہونا ثابت نہ کر دیا گیا ہو اور جس کا کاذب اور ناحق پر ہونا متعدد دلیلوں سے اور مدعی کے پختہ اقراروں سے ثابت کر دیا گیا ہو۔ جیسا کہ مرزا مسیح قادیان کا کاذب ہونا قرآن وحدیث کے علاوہ ان کے قسمیہ اور الہامی اقراروں سے ثابت کر کے وہ رسالے ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ قادیان کے پاس بھیج دئیے گئے۔ جن میں ستاون اقرار مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کے ثبوت میں دکھائے گئے ہیں۔ پھر ایسے یقینی کذاب کی صداقت پر کون ایماندار فہمیدہ مباہلہ کر سکتا ہے اور اس کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے۔
دوسری وجہ: یہ کہ امت محمدیہ میں مباہلہ سے ایسی یقینی بات ثابت نہیں ہوسکتی جس پر کفر واسلام موقوف ہو کہ اس کے ماننے سے مسلمان ہو جائے اور نہ ماننے سے کافر ٹھہرے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لئے مرزاقادیانی مدعی نبوت کے صدق وکذب پر مباہلہ کرنا محض فضول اور بیکار ہے۔
تیسری وجہ: یہ کہ مرزاقادیانی نے مولانا عبدالحق صاحب سے مباہلہ کیا اور بددعا بھی اس میں کی مگر اس بددعا کا اثر مولانا صاحب پر کچھ نہیں پڑا۔ بلکہ وہ اس معیاد میں نہایت خوش وخرم رہے تھے جس میں مرزاقادیانی نے اپنے لعنت پڑنے کا وقت بیان کیا تھا۔ بلکہ مرزاقادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے اور خس کم جہاں پاک کے مستحق ہوئے۔والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ!
خیرخواہ: ابومحمود محمد اسحاق رحمانی
مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں ختم نبوت کے دلائل اور مرزاقادیانی کے کذب کی روشن براہین دکھائی گئی ہیں۔ طالبین حق ضرور ملاحظہ کریں۔
اس کی مختصر توضیح یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے حضرت سرور انبیاءa کی وہ صفت بیان فرمائی جو حضرت موسیٰ وغیرہ انبیاءo میں نہیں پائی گئی۔ مقصود یہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ حضرت محمد مصطفیa کو مثل موسیٰm وغیرہ کے نہ سمجھنا کہ ان کی نبوت کا اثر اور فائدہ ان کی زندگی تک محدود رہا تھا اور ان کے انتقال کے بعد دوسرے نبی کی ضرورت ہوتی تھی۔ محمد مصطفی(a) کی وہ شان ہے کہ آپa کا آفتاب نبوت قیامت تک درخشاں رہے گا اور آپa کی امت اس سے مستفید ہوتی رہے گی اور آپa کی ہدایات اور احکام کی تعلیم آپa کے علمائے کرام کرتے رہیں گے جو بجائے انبیاء کے ہیں اور آپa کا سچا ماننے والا کسی طرح دائمی جہنم کا مستحق نہ ہوگا، مرزاغلام احمد قادیانی جو حضور انورa کو حضرت موسیٰm کے مثیل قرار دے کر آپa کے بعد انبیاء کا آنا قرار دیتا ہے اور ان کے نہ ماننے سے آپa کی امت کو جہنمی کہتا ہے۔ وہ حضور انورa کی اور آپa کی امت کی نہایت ہتک کرتا ہے اور حضور انور سرور انبیاءa کی امت کو بہترین امت نہیں مانتا اور صریح آیات قرآنیہ کا منکر ہے۔ اب اس کی زیادہ تشریح ملاحظہ ہو۔
بعد حمد خدا ونعت سرور انبیاءk کے ناظرین حق بین بغور ملاحظہ کریں۔
لفظ خاتم النّبیین جو اس مضمون کے عنوان پر بقلم جلی لکھا گیا ہے عربی لفظ ہے۔ اس کے وہی معنی ہوں گے اور بالضرور وہی ہونا چاہئیں جو عرب کے محاورہ اور ان کی بول چال میں مروج تھے اور اب تک ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید خاص محاورہ عرب میں نازل ہوا ہے۔ اسی وجہ سے کسی ذی علم یا بے علم کو جائز نہیں ہوسکتا کہ ان معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی بیان کرے۔ اس کو اس طرح سمجھ لینا چاہئے کہ غالب دہلوی کے رسالہ اردو معلی کے ہر جملہ کے وہی معنی ہوں گے جو اہل زبان دہلی سمجھتے ہیں۔ اب اگر کوئی بنگالی یا کابلی اس کے دوسرے معنی اپنے
خیال کے بموجب کرنے لگے تو ہر گز وہ قابل اعتبار نہیںہوں گے بلکہ اس کی جہالت سمجھی جائے گی اور اگر ایسا کرے گا تو اسے تحریف کہا جائے گا جس کی مذمت قرآن مجید میں آئی ہے اور اس کا الزام یہود کو دیاگیا ہے۔ کیونکہ یہودیوں کی عادت یہ ہوگئی تھی کہ اپنے غلط مدعا اور جھوٹی باتوں کے ثابت کرنے کے لئے توریت میں لفظی اور معنوی تحریف کرتے تھے اور توریت کے اصلی معنی اور مطلب بدل کر عوام کو اپنے غلط مدعا کا ثبوت توریت سے بتاتے تھے۔ بعینہٖ یہی حال مرزائیوں کا ہے۔ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ فرماکر لفظی تحریف کا دروازہ تو بندکر دیا، البتہ معنوی تحریف متعدد گروہ کرتے ہیں۔ مثلاً تیرھویں صدی کے درمیان میں ایک گروہ بابی پیدا ہو اجس کے ماننے والے یورپ اور امریکہ اور رنگون میں زیادہ ہیں۔ یہ گروہ قرآن مجید کو مان کر یہ کہتا ہے کہ ہمارے رسول نے شریعت محمدیہ کو بالکل منسوخ کر دیا اور ہماری کتاب نے احکام محمدیہ کو بدل دیا۔ مثلاً ماں، بیٹی، بہن سے نکاح حرام تھا۔ ہماری کتاب کی رو سے ان سے نکاح جائز ہوگیا۔ اب مرشد کی بیوی کے سوا سب سے نکاح کرنا جائز ہے۔ مرزائیوں کو اتنی جرأت تو نہ ہوئی کہ ماں بہن کو اپنے لئے جائز کر لیتے اور دوسری بیوی کی ضرورت نہ پڑتی۔
اب دیکھا جائے کہ یہ گروہ کیسی محکم آیتوں میں تحریف کر کے اپنے مدّعا کو ثابت کرتا ہے۔ اسی طرح مرزائی گروہ اپنے خیال میں غیرتشریعی نبوت کو ثابت کرنے میں خوب زور لگا کر عجیب عجیب طرح کے معنی بیان کر کے عوام کو فریب دیتے ہیں اور یہودیانہ تحریف معنویہ کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ چنانچہ لفظ خاتم النّبیین کی تحریف خوب ہی دل کھول کر کی ہے اور عجیب عجیب طرح کے معنی بیان کئے ہیں اور اعلانیہ جھوٹ بول کرعوام کو فریب دیا ہے۔ صحیح معنی کی شرح ملاحظہ ہو۔
خاتم النّبیین میں دو لفظ ہیں ’’خاتم‘‘ اور ’’النّبیین‘‘ قرآن مجید میں لفظ ’’خاتم‘‘ دو طرح سے آیا ہے۔ یعنی جناب رسول اﷲa کی زبان مبارک سے اکثر پڑھنے والوں نے ’’خاتم‘‘ کی ’’ت‘‘ کو زیر سنا ہے اور بعض نے زبر سنا ہے۔ اگرچہ ہندوستان میں زبر ہی رائج ہوگیا ہے اور جہلاء اسی کو ہی صحیح سمجھتے ہیں۔ (حالانکہ دونوں قرأتیں صحیح ہیں) اس لفظ کے کئی معنی ہیں۔ مہر کو بھی خاتم کہتے ہیں اور انگوٹھی کو بھی کہتے ہیں اور آخرشی کو بھی کہتے ہیں۔ مگر عرب کی بول چال میں جب یہ لفظ کسی جماعت کی طرف مضاف ہوتا ہے جس طرح عنوان بیان
میں انبیاء کرامo کی جماعت کی طرف مضاف کیاگیا ہے اور خاتم النّبیین کہا گیا ہے اس حالت میں اس کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی آخر النّبیین۔ اس کے دوسرے معنی نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ کتاب لسان العرب (جو اہل عرب کے نزدیک نہایت معتبر اور مستند لغت ہے) اس میں محاورہ عرب سے اس کے معنی آخر کے بیان کر کے قرآن مجید کی وہ آیت نقل کی ہے، جس میں حضرت سرور انبیاءk کی صفت میں لفظ خاتم النّبیین آیا ہے اور اس کے معنی اس طرح بیان کئے ہیں۔ اے آخرہم یعنی خاتم النّبیین کے معنی آخرالنّبیین کے ہیں۔ یعنی تمام انبیاءo کے آخر میں آنے والے اس کے سوا کوئی دوسرے معنی نہیں کئے۔ اس کی پوری عبارت اور مطلب ملاحظہ ہو۔ اصل عبارت اس کی یہ ہے:
(لسان العرب ج۴ ص۲۵)
ختام القوم اور خاتم القوم ’’ت‘‘ کو زیر اور خاتم القوم ’’ت‘‘ کو زبر آخر قوم کو کہتے ہیں۔ یعنی جب لفظ ختام یا خاتم وخاتم کو ایک جماعت کی طرف مضاف کریں تو اس کے معنی آخر اور انتہاء کے ہوتے ہیں اور آنحضرتa خاتم الانبیاء ہیں اور خاتم اور خاتم دونوں آپa کے نام بھی ہیں اور قرآن مجید میں جو: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ آیا ہے وہاں خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ یعنی تمام نبیوں کے آخر میں آنے والے آپa کے بعد کوئی جدید نبی کسی مرتبہ کا نہیں آئے گا۔ اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ خاتم النّبیین کے معنی کے بیان میں صاحب لسان العرب نے کس قدر تفصیل کی ہے۔ مگر اس کا کہیں اشارہ بھی نہیں کیا کہ ’’نبیین‘‘ سے خاص انبیاء مراد ہیں۔ اگر کسی طرح کی تخصیص ہوتی تو ضرور بیان کرتے۔ تاکہ اصلی مدعا ظاہر ہو جاتا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ تخصیص کرنا بلادلیل ہے اور تحریف معنوی ہے۔
جب یہ لفظ قرآن مجید کا ہے اور جن کی زبان میں قرآن مجید نازل ہوا ان کا قطعی فیصلہ ہے کہ اس کے معنی آخر النّبیین کے ہیں تو کلام الٰہی کے نص قطعی سے ثابت ہوگیا کہ
حضرت سرور انبیاء محمد رسول اﷲa آخر النّبیین ہیں۔ یعنی حضرت آدمm سے لے کر حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa تک جتنے انبیاءo آئے ہیں خواہ عالی مرتبہ یا کم مرتبہ سب کے بعد آخر میں ہمارے رسول کریمa بھیجے گئے۔ آپa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کہ ومہ پرروشن ہو جائے کہ حضور انورa کی نبوت وہدایت کا ماہتاب قیامت تک روشن رہے گا اور آپa کے خادم علمائے امت اس روشنی سے مستفید ہوکر ساری امت کو فائدہ پہنچاتے رہیں گے اور یہ علماء ’’ورثۃ الانبیاء‘‘ کے معزز خطاب سے مشرف رہیں گے۔ یہ وہ عزت اور مرتبہ ہے جو حضور انورa کے پیشتر کسی نبی کو نہیں ملا۔ پیشتر ہر نبی کے بعد دوسرے نبی کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس مختصر بیان میں تو ختم نبوت کا ثبوت قرآن مجید سے دیاگیا اور اس کی تفصیل رسالہ ختم النبوۃ فی الاسلام میں کی گئی ہے اور قرآن مجید کی دس آیتوں سے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے اور خاتم النّبیین کے معنی متعدد کتب لغات کاملہ سے بیان کئے ہیں۔ جس سے بالیقین ثابت ہوا کہ حضورa کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالیقین جھوٹا ہے۔ اب اس کی تصدیق وتفصیل جناب رسول اﷲa نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمائی ہے اور ایسے جھوٹے مدعیوں کی پیشین گوئی کی ہے جو آپa کے بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
۱…’’وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج۲ ص۴۵، ابوداؤد ج۲ ص۲۲۸)‘‘ {جناب رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ بلا شبہ میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے اور ان میں ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ حالانکہ میں تمام انبیاء کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔}
اس حدیث میں پہلے حضورa نے اپنی امت کے جھوٹے مدعیان نبوت کو جھوٹا فرماکر ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں جملہ ’’وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ فرمایا جس کا حاصل یہ ہوا کہ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں مجھے خاتم النّبیین فرمایا ہے جس کے معنی ہیں آخر النّبیین کے۔ مگر حضورa نے اس کی دوسری تفسیر بیان کرنے کی غرض سے الفاظ بدل دئیے اور ’’لا نبی بعدی‘‘ فرمایا۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہ ہوگا۔ یہ عموم اس وجہ سے ہوا کہ لفظ نبی نکرہ ہے جو ہر قسم کے نبی کو شامل ہو۔ یعنی جس پر نبی کا لفظ بولا
جائے۔خواہ وہ تشریعی ہو یا غیرتشریعی، ظلی ہو یا بروزی، طفیلی ہو یا غیرطفیلی اور جو قسم نکلے سب کو یہ لفظ شامل ہے۔ پھر اس پر لا نفی جنس کالا کر یہ فرمایا کہ کسی قسم کا کوئی نبی میرے بعد نہیں ہے۔ یعنی کسی انسان کو کسی قسم کی نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔ اس سے لفظ النّبیین کے معنی کی کامل تشریح ہوگئی کہ اس پر الف، لام استغراق کا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جناب رسول اﷲa تمام انبیاء کے آخر میں ہیں۔ خواہ کامل ہوں یا کم مرتبہ کے ہوں۔ آپa کا وہ عالی مرتبہ اور وہ شان رحمت ہے کہ آپa کا ماننے والا کسی کے نہ ماننے سے جہنمی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے آپa کے بعد کسی نبی کا آنا آپa کی نہایت کسر شان ہے کہ آپa کا نہ ماننے والا دوسرے کے نہ ماننے سے آپa کے سایۂ رحمت میں آکر پھر وہ سخت زحمت میں پڑ جائے اور جہنم کا مستحق ہو جائے اور آپ کی رحمت عامہ اس کے کچھ کام نہ آئے اور وہ جدید نبی آپa کی شان رحمت کو ملیا میٹ کر دے۔ جیسا کہ مرزائے قادیان نے تمام جہان کے محمدیوں کو جہنمی بنا کر آپa کی عالی شان کو اپنے خیال میں پامال کیا ہے۔ صدہزار لعنت کا ہار ایسے جھوٹے کے گلے میں، کس قدر افسوس ہے کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور دو چار عیسائیوں کو بھی تو مسلمان نہ بناسکے۔ مگر چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بنادیا۔ مسیح موعود اسی لئے آئے تھے؟
اس حدیث کو ثوبان، ابوہریرہ، ابن عمر، سمرہ ابن جندبi اصحاب کرام سے صحیح مسلم اور ترمذی اور ابوداؤد وغیرہم نے روایت کیا ہے۔ یعنی صحاح ستہ کی متعدد اور مستند کتابوں میں متعدد صحابہ کرامi سے منقول ہے۔ یہ حدیث نہایت قابل غور کئی وجہ سے ہے۔ اوّل یہ کہ اس حدیث میں جناب رسول اﷲa دو باتوں کی پیشین گوئی فرماتے ہیں ایک یہ کہ میرے بعد جھوٹے مدعی نبوت آئیں گے۔ دوسرے یہ کہ کوئی نبی میرے بعد مبعوث ہونے والا نہیں ہے۔ اس مدعا کو مختلف اوقات میں متعدد طریقوں سے آپa نے بیان فرمایا ہے، ایک تو یہ بیان ہوا۔
۲… کنزالعمال کی جلد۶ میں ثوبانq کی روایت میں یہی الفاظ ہیں۔ بجز ایک لفظ کے۔
۳… (صحیح بخاری ج۱ ص۵۰۹، باب علامات نبوۃ فی الاسلام) میں قرب قیامت کی علامات میں بیان ہے۔ ’’یبعث دجالون کذابون قریباً من ثلاثین کلہم یزعم انہ رسول اﷲ‘‘یعنی قیامت کے قریب تیس جھوٹے دجال اٹھیں گے اور ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔
۴… ترمذی میں ہے:’’لاتقوم الساعۃ حتی ینبعث کذابون دجالون قریب من ثلاثین کلہم یزعم انہ رسول اللہ (ترمذی ج۲ ص۴۵، باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)‘‘یعنی جب تک دنیا میں قریب تیس کے جھوٹے دجال پیدا نہ ہولیں گے قیامت قائم نہ ہوگی۔
۵… پانچویں حدیث (صحیح مسلم ج۲ ص۱۲۰، باب الناس تبع القریش) میں جابر بن سمرۃq سے روایت ہے: ’’سمعت رسول اﷲa ان بین یدی الساعۃ کذابین فاحذروہم‘‘{جابرq کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اﷲa سے سنا کہ آپa نے اپنی تمام امت سے فرمایا کہ قیامت کے قریب جھوٹے مدعی ہونے والے ہیں۔ ان سے بچو۔}
جھوٹوں کے آنے کی اور ان سے بچنے کی تاکید کس طرح ہورہی ہے؟ مگر کسی جدید نبی کے آنے اور اس پر ایمان لانے کا ذکر کسی حدیث میں نہیں آیا۔ حالانکہ اس کا ذکر بھی ضرور تھا۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں حدیث میں نہایت صاف طور سے یہ بیان ہے کہ ان جھوٹے مدعیوں کے لئے جناب رسول اﷲa کے بعد سے قیامت تک کوئی وقت معین نہیں ہے، بلکہ الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت میں زیادہ ہوں گے۔ یعنی اگرچہ جھوٹے مدعی رسول اﷲa کے آخر وقت سے شروع ہوگئے۔ مگر قیامت تک ان کا سلسلہ آہستہ آہستہ رہے گا۔ کوئی وقت ایسا نہیں ہوسکتا کہ کہا جائے کہ اس پیشین گوئی کا وقت تمام ہوگیا۔ اب سچے نبی آسکتے ہیں؟ کیونکہ حدیث کے الفاظ اس کے بالکل خلاف ہیں۔ اگر سچے نبی آتے تو ان حدیثوں میں ضرور ان کا بیان ہوتا۔ کیونکہ جس طرح جھوٹوں سے ڈرانا اور بچانا ضروری تھا۔ اسی طرح اگر سچے نبی آنے والے تھے تو ان پر ایمان لانے کی ترغیب ہوتی اور ضرور ہوتی۔ کیونکہ جس طرح جھوٹوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح سچوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ اس لئے کسی حدیثوں میں مثلاً آتا کہ: ’’ان انبیاء اللہ سیبعث تحت نبوتی فاٰمنوا بہم‘‘ مگر اس مضمون کا تو ایک روایت میں بھی پتہ نہیں ہے اور جھوٹوں کے بیان میں متعدد حدیثیں مختلف طور سے آئی ہیں اور بعض میں اس کے بعد نہایت صفائی سے ’’لا نبی بعدی‘‘ فرماکر متعدد طریقے سے ہر قسم کے نبی کی نفی فرمائی ہے۔ کسی قسم کی تخصیص کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتی۔ الفاظ حدیث اور قرینہ ماسبق اور مالحق سب عموم پر شہادت
دیتے ہیں اور جنس نبی کی نفی ثابت ہوتی ہے۔ مگر اس کے خلاف آنکھوں پر جہالت اور تعصب کی پٹی باندھ کر ان حدیثوں میں بلادلیل تخصیص کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور عوام کے فریب دینے کو وہ اقوال پیش کئے جاتے ہیں جو کسی دلیل عقلی اور نقلی سے خاص کئے گئے ہیں۔ اس پر ذرا غور نہیں کرتے کہ کس کس طریقے سے حضورa نے سچے نبی کے ہونے کی عام طور پر نفی کی ہے اور خصوصیت کا کہیں اشارہ بھی نہیں فرمایا ہے۔ جس کو دعویٰ ہو وہ کوئی حدیث پیش کرے۔ اس بیان میں پہلا طریقہ ’’لا نبی بعدی‘‘ ہے۔ اس طریقے کی چند حدیثیں اس وقت پیش نظر ہیں جن میں تخصیص کا کہیں اشارہ بھی نہیں ہے۔
۶… طریقہ یہ ہے: ’’انا اٰخر الانبیاء‘‘ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں۔
(ابن ماجہ ص۳۰۷، طبع ایچ۔ایم سعید)
۷… طریقہ تاکید کے ساتھ ’’فانی اٰخر الانبیاء‘‘ اس میں شبہہ نہیں کہ میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں۔
(صحیح مسلم ج۱ ص۴۴۶، باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی)
۸… طریقہ ’’انا خاتم الانبیاء‘‘ میں تمام انبیاء کو ختم کرنے والا ہوں۔
(کنزالعمال ج۱۲ ص۲۷۰، حدیث نمبر۳۴۹۹۹)
ان تین طریقوں میں تو ’’لا نبی بعدی‘‘ کی طرح لانفی جنس کا نہیں ہے اور ’’لافتٰی الاعلی‘‘ کا فریب کچھ چل نہیں سکتا۔
۹… طریقہ ’’انہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء‘‘ اس میں شبہ نہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔
(صحیح بخاری ج۱ ص۴۹۱)
اس میں جناب رسول اﷲa نے لفظ سیکون خلفاء فرما کر نہایت صاف طور پر مطل نبی کے ہونے کی نفی فرمادی اور نہایت صاف طور سے دو پیشین گوئی آپa نے فرمائیں۔ اوّل کسی قسم کے نبی کے نہ ہونے کی اور دوسرے خلیفہ کے ہونے کی اگر کسی قسم کا کوئی نبی ہوتا تو یہاں ضروراس کاذکر فرماتے۔
۱۰… دسواں طریقہ: ’’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات‘‘
(بخاری ج۲ ص۱۰۳۵، باب الرؤیا الصالحۃ مسلم ج۲ ص۹۱، باب النہی عن قرأۃ القرآن فی الرکوع والسجود)
یعنی نبوت کا کوئی حصہ اور کوئی شعبہ اور جز، باقی نہیں رہا۔ صرف عمدہ خوابیں باقی ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ نبوت کے اجزاء میں جن کا ہونا نبی کے لئے ضروری ہے۔ اب
ان اجزاء میں سے کوئی جزء کسی کو نہ ملے گا۔ صرف ایک حصہ اس کا امت محمدیہa کے نیک لوگوں میں پایا جائے گا۔ یعنی صالحین امت محمدیہa خواب دیکھیں گے اور اس کا ظہور ہوگا۔ اس صحیح ترین حدیث نے ظلی، بروزی، ہر طرح کی نبوت کی نفی کر دی اور نہایت صاف طور سے ثابت کر دیا کہ رسول اﷲa کے بعد کسی کو کسی طور کی نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا اور نبوت کا جز اور جو حصہ باقی رہا ہے اس سے کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اسی وجہ سے حدیث میں صاف طور سے فرمادیا کہ ’’لم یبق من النبوۃ‘‘یعنی نبوت کا کوئی جز اور کوئی حصہ باقی نہیں رہا۔ بجز سچی خواب کے۔
۱۱… طریقہ، ابن عساکر روایت کرتے ہیں کہ حضرت آدمm نے حضرت جبرائیلm سے دریافت کیا اور انہوں نے جواب دیا۔ ’’قال اٰدم من محمد قال آخر ولدک من الانبیاء‘‘
(کنزالعمال ج۱۱ ص۴۵۵، حدیث نمبر۳۲۱۳۹)
یعنی حضرت آدمm نے جبرائیلm سے دریافت کیا کہ محمد(a) کون ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جتنے انبیاء تمہاری اولاد میں ہوں گے ان سب کے آخر میں یہ تمہارے بیٹے نبی ہوں گے۔
اس روایت میں کوئی بناوٹ مرزائیوں کی نہیں چل سکتی۔ اس میں تو نہایت صاف طریقہ سے بیان کیاگیا ہے کہ حضرت آدمm کی اولاد میں جس قدر انبیاء ہوں گے۔ عالی مرتبہ یا کم مرتبہ سب کے آخر میں محمد رسولa نبی ہوں گے۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
ناظرین! احادیث مذکورہ اور ختم نبوت کے طریقوں کے بیان سے کس قدر روشن ہورہا ہے کہ جناب رسول اﷲa نے عقیدۂ ختم نبوت کو اس قدر ضروری اور مہتمم بالشان سمجھا تھا کہ متعدد اصحاب سے مختلف اوقات میں صاف بیانی کے مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔
تاکہ کسی کم علم، ناقص فہم، کو بھی اس کے سمجھنے میں کوئی عذر نہ رہے۔ مگر قادیانی مبلغ اپنی کمائی کی دھن میں حواس باختہ ہو گئے ہیں کہ علم احادیث صحیحہ قطعیہ کے مقابلہ میں قول ’’لا فتٰی الا علی‘‘ پیش کرتے ہیں اور ’’لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب‘‘ کو دیکھاتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ’’لافتٰی الاعلی‘‘کی خصوصیت تو چشم دید اور ہاتھوں کے حس معائنہ اور مشاہدہ کرارہی ہے کہ بے انتہاء دوسرے جوان موجود ہیں۔ اس لئے ’’لافتٰی‘‘ سے ایک خاص صفت کے جوان مراد ہیں۔ اگر خاص جوان مردانہ لئے جائیں تو معائنہ اس جملہ کو جھوٹا
کو دوسری حدیث ’’قرأۃ الامام قرأۃ لہ‘‘ سے خاص کر رہی ہے۔ مبلغ قادیان کیوں اپنے ایمان کو تباہ کرتے ہیں اور دائمی جہنم میں گرنا چاہتے ہیں۔ اسے خوب سمجھ لو کہ لائے نفی جنس کا کلام عرب میں عام نفی کے واسطے موضوع ہے۔ ہاں! البتہ جہاں عقلی یا نقلی کافی دلیل اس کے خلاف پر ہوگی۔ اس وقت وہ خاص ہو جائے گا۔ اب قادیانیوں کا ’’لا نبی بعدی‘‘ کو خاص کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی بت پرست ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کو خاص کرے اور یہ معنی کہے کہ جو معبود عالی مرتبہ ہے۔ وہ اللہ ہے۔ اس سے جھوٹے معبودوں کی نفی نہیں ہوتی جو کم مرتبہ کے ہیں۔ اب اگر آپ بت پرستوں کے شریک ہوں اور کلمہ طیبہ کے لائے نفی جنس میں خصوصیت کے قائل ہوں اور جھوٹے معبودوں کو مانیں تو ہم آپ سے خطاب چھوڑ دیں گے اور اگر آپ ان کے معبودوں کو تسلیم نہ کریں اور کلمہ ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ سے عام معبودوں کی نفی ثابت کریں گے تو ’’لا نبی بعدی‘‘ میں بھی آپ کو عام نفی ثابت کرنی ہوگی۔ کوئی خصوصیت آپ ثابت نہیں کرسکتے۔ کیونکہ الفاظ عرب محاورہ عرب میں جس معنی کے لئے موضوع ہیں اس سے جو مطلب سمجھا جاتا ہے۔ وہی مطلب ہر عربی جملہ کا ہونا ضرور ہے۔ البتہ بعض وقت کسی دلیل عقلی یا نقلی سے اس کے خلاف ہو سکتا ہے۔ جس طرح مبلغ قادیانی نے چند جملے لکھے ہیں۔ ان میں دلیل عقلی یا نقلی خاص کرنے کی موجود ہے۔ جیسا کہ بیان کیاگیا۔ یہاں تک ختم نبوت کے ثبوت میں بارہ حدیثیں بیان کی گئیں اور مبلغ مرزائی کے شبہات کا جواب دیاگیا۔ اس کے بعد چند حدیثوں کی تفصیل اور بھی ملاحظہ کیجئے۔
۱۲… حدیث: صحیح ابن ماجہ میں دجال کے بیان میں ایک طویل حدیث مذکور ہے۔ اس میں جناب رسول اﷲa نے نہایت ہی صفائی سے اپنی امت سے مخاطب ہوکر فرمایا ہے۔ ’’انا آخر الانبیاء وانتم اٰخر الامم (ابن ماجہ باب فتنۃ الدجال ص۳۰۷، ایچ۔ایم سعید)‘‘ یعنی میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور تم تمام امتوں کے آخر میں ہو۔ نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہے۔ یعنی امت محمدیہ کے بعد کوئی مرزائی یا غلامی یا غلمدی یا احمدی امت نہ ہوگی۔
خوب خیال رہے کہ یہاں ’’الانبیاء‘‘ میں ’’الامم‘‘ میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہے جو تخصیص کرے وہ بلادلیل حدیث نبوی میں یہودیانہ تحریر معنوی کرتا ہے۔ اس حدیث
میں حضور انورa نے لفظ خاتم نہیں فرمایا۔ بلکہ اس جگہ ایسا صاف لفظ فرمایا جسے جاہل بھی سمجھتا ہے کہ آنحضرتa نے اپنے آپ کو آخر الانبیاء فرمایا۔ جس کے معنی عام وخاص ہر ایک بے تکلف یہی سمجھتا ہے کہ ہمارے رسول اﷲa سب انبیاءo کے آخر میں تشریف لائے۔ آپa کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ یہ تو پہلا جملہ حدیث کا ہے۔ دوسرا جملہ یعنی ’’انتم آخر الامم‘‘ نے پہلے جملے کی تاکید اور تشریح کر دی۔ کیونکہ جب کوئی نبی آتا ہے تو اس کی امت خاص ہوتی ہے اور جب امت محمدیہ کے بعد کوئی امت نہیں ہے تو کوئی نبی بھی نہیں ہوسکتا۔ دیکھا جائے کہ کس صفائی سے اور کیسے عمدہ طریقے سے خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے جناب رسول اﷲa نے فرمادئیے ہیں۔ وہ قادیانی مبلغ جن کی باتوں کا جواب اس کے پہلے دیا گیا ہے۔ چونکہ حقانیت اور سمجھ سے انہیں کچھ واسطہ نہیں ہے اور زبان درازی خوب آتی ہے۔ وہ اس حدیث کو جو اس میں دوسری حدیث اپنی ناسمجھی سے پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے۔
۱۳…’’قال رسول اﷲa فانی اٰخر الانبیاء وان مسجدی اٰخر المساجد (صحیح مسلم شریف ج۱ ص۴۴۶، باب فضل الصلٰوۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ)‘‘میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہیں۔ یعنی جس طرح اس حدیث میں رسول اﷲa نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کہا ہے۔ حالانکہ آپa کی مسجد کے بعد ہزاروں مسجدیں بنیں اور بنتی رہیں گی۔ اسی طرح آپa نے اپنے آپ کو آخر الانبیاء کہا ہے۔ جس طرح آپa کی مسجد کے بعد اور مسجدیں بنیں۔ اسی طرح آپa کی نبوت کے بعد اور انبیاء ہوں گے؟
مبلغ صاحب حدیث کا مطلب بیان کرنے سے عاجز ہیں۔ آنجناب یہ تو فرمائیے کہ آخری مسجد کہنے سے کیا مقصد ہے؟ کیا آخری نبوت حضرت سرور انبیاءa اور آپa کی آخری مسجد میں مشابہت تامہ ہے اور جس طرح آپa کی مسجد کے بعد دنیا میں بے شمار مسجدیں ہوتی رہیں اور ہوتی رہیں گی۔ کوئی قریہ اور کوئی قصبہ مسلمانوں کا مسجد سے خالی نہیں رہا۔ یہی حالت آپa کی نبوت کے بعد انبیاء کی ہونی چاہئے اور آپ کے خیال کے بموجب جس طرح حضرت موسیٰm کی امت میں بہت سے نبی ہوئے۔ اس طرح حضرت سرور انبیاءa کی امت میں بھی بے شمار انبیاء ہونے چاہئیں
اور ہر وقت میں حسب عادت الٰہی ان بے شمار انبیاء کے منکر بھی بے شمار ہوتے رہیں گے۔ جس کا حاصل یہ ہوگا کہ امت محمدیہ کے بے شمارمسلمان قیامت تک جہنم کے مستحق ہوتے رہیں گے۔ اب یہ اندازہ کہ ایک وقت اور ایک نبی کے وجود سے کس قدر جہنمی ہوں گے؟ اس کی حالت مرزاقادیانی کے وجود سے معلوم ہوسکتی ہے۔ آپ کے دعویٰ کے وقت میں مردم شماری کے لحاظ سے چالیس کروڑ امت محمدیہ تھی۔ ان میں سے دو چار ہزار یا دو چار لاکھ تو بچے اور باقی سب جہنم کے مستحق ہوگئے اور یہ چند لاکھ کا جنتی ہونا کچھ مرزاقادیانی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ مرزاقادیانی کے دعویٰ کے پہلے ساری امت محمدیہ جنتی تھی۔ البتہ دعویٰ کے بعد جن کو جہنمی بنایا انہیں مرزائی رحمت قہر کا جنم لے کر جہنم میں ان کی پرورش کرے گی اور وہ دو چار لاکھ بھی اسی میں داخل تھے۔
مبلغ صاحب یہ تو آپ کے بیان سے لازم آتا ہے اب اگر آپ کا مطلب کچھ اور ہے تو صاف بیان کیجئے مگر ایسا مطلب بیان کیجئے جس کی تعیین کسی دلیل سے ہو۔ مگر یہ آپ کے امکان میں نہیں ہے۔ آپ راہ نجات چھوڑ کر بہکے جارہے ہیں۔ اب حدیث کا مطلب مجھ سے سنئے۔ جس طرح اس سے پہلے تیرہ حدیثوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ نبوت ختم ہوچکی۔ حضورa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس طرح اس حدیث میں آنحضرتa نہایت تاکید سے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں آخر الانبیاء ہوں۔ میرے بعد کسی کو نبوت کامرتبہ نہ ملے گا اور اس کے بعد مسجد آخر المساجد اسی مطلب کی تاکید ہے۔ یعنی انبیاء کی مسجدیں مجھ سے پہلے بہت ہوچکیں۔ اب یہ میری مسجد آخری مسجد ہے۔ اس کے بعد نبی کی مسجد کوئی نہ ہوگی۔ اس کی تشریح اور اس مطلب کے دلائل ملاحظہ ہوں۔
۱… اس حدیث میں ایسی صراحت اور تاکید سے ختم نبوت کے عقیدے کو بیان کیا ہے کہ کسی فہمیدہ ایماندار کو انکار کی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ ملاحظہ ہو، رسول اﷲa نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اس میں شبہ نہیں کہ میں آخرالانبیاء ہوں۔ اس لفظ کے معنی زبان اردو میں اور عربی میں یقینی طور سے یہی ہیں کہ رسول اﷲa تمام انبیاء کے آخر میں ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
انبیاء لفظ جمع ہے اور اس پر الف لام استغراق کا ہے یا جنس کا اس لئے ہر قسم کے نبی کو شامل ہے کوئی وجہ نہیں ہے جس سے کسی قسم کی تخصیص کی جائے۔
۲… اس حدیث سے پہلے جو حدیث ہے اس میں ان الفاظ کے سوا جناب رسول اﷲa اپنی امت کو آخرالامم فرماتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اور حاصل یہی ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ کیونکہ اگر آپa کے بعد کوئی نبی ہوتا اور امت محمدیہ کے سوا کوئی دوسری امت ہوتی تو قرآن مجید کی کسی آیت میں یا کسی روایت میں صاف طور سے اس کا ذکر ضرور آتا۔ مگر کہیں نہیں آیا۔
۳… کس قدر عقل وفہم سلب کر دی گئی ہے کہ جھوٹے کذابوں کے آنے کا ذکر تو صاف طور سے باربار آئے اور سچوں کے آنے کا ذکر کہیں نہ پایا جائے۔ یہ کامل تصدیق اس بات کی ہے کہ جناب سرور انبیاءa آخر الانبیاء ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ پہلی حدیث کے بیان میں اس کا بیان دیکھو۔ اب اس بیان کو زیادہ طول نہیں دیتا۔ اس قدر کہتا ہوں کہ علامہ زرقانی نے مؤطا کی شرح میں اس آخری مسجد کے تین معنی ہمارے موافق بیان کئے ہیں۔ اگر کتاب میسر ہو اور دیکھنے کی تاب ہوتو دیکھو اور اگر یہ بھی نہ ہو تو جناب رسول اﷲa کی زبان مبارک سے اپنی جہالت وکذابی پر شہادت ملاحظہ کر کے کچھ تو خوف خدا کرو۔
۱۴…’’انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء (کنزالعمال ج۱۲ ص۲۷۵، حدیث نمبر۳۴۹۹۹)‘‘{میں تمام انبیاء کے آخر میں ہوں اور میری مسجد تمام انبیاؤں کی مسجد کے آخر میں ہے۔ یعنی میرے بعد نہ کوئی نبی ہونے والا ہے اور نہ کوئی نبی کی مسجد ہوگی۔}
جس طرح آپa پر نبوت ختم ہے اور آپa خاتم الانبیاء ہیں۔ اس طرح آپa کی مسجد خاتم مساجد الانبیاء ہے ظاہر ہے کہ جب کوئی نبی نہ ہوگا تو نبی کی مسجد بھی نہ بنے گی۔ حضرت مسیحm آخر وقت میں جب نازل ہوکر آئیں گے تو رسول اﷲa کی مسجد میں نماز پڑھیں گے۔ کوئی نئی مسجد نہیں بنائیں گے۔ (جسے انبیاء کی مساجد میں اضافہ قرار دیا جاسکے) اس لئے آپa کی مسجد آخر المساجد الانبیاء ہوئی۔ دیکھا جائے کہ ایک حدیث میں آپa نے آخری مسجد کاصاف بیان نہیں فرمایا؟ مگر نبی کے آنے کا ذکر تو کسی حدیث میں آپa نے کسی طرح نہیں فرمایا وہ تفصیل رسالہ ختم النبوۃ فی الاسلام میں دیکھئے گا اور
اپنے جہل مرکب کو معائنہ کیجئے گا۔
الغرض جناب رسول اﷲa کے آخر الانبیاء ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ اب جو ان معنی سے انکار کرتا ہے اور دوسرے معنی خلاف قرآن اور احادیث صحیحہ کے اپنی طرف سے لگاتا ہے وہ بالضرور جناب رسول اﷲa کا مکذب ہے اور مسلمانوں کا بہکاتا ہے۔ اگرچہ ظاہر میں بغرض فریب دہی انکار نہ کرے اور تعریف کرتا رہے۔ خود مرزاقادیانی جناب رسول اﷲa کی تعریف بھی کرتے تھے اور سب انبیاء سے افضل بتاتے تھے اور جب اپنی تعریف کے جوش میں آتے تھے تو کہیں تو اپنے کو رسول اﷲa کے برابر اور کہیں اپنے آپ کو بہت بڑھا ہوا کہتے تھے۔ چنانچہ ان کا الہام ہے: ’’اٰتانی مالم یوت احد من العالمین‘‘
(استفتاء ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵)
یعنی اﷲتعالیٰ نے مجھ کو وہ فضائل وکمالات دئیے جو عالم میں کسی کو نہیں دئیے۔
اب ظاہر ہے کہ اس الہام سے مرزاقادیانی کو دعویٰ ہے کہ میں سارے انبیاء اور اولیاء سے افضل ہوں۔ تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں کہ: ’’رسول اﷲa سے تین ہزار معجزے ہوئے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)
جب کہ (حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۷۰، تشحیذ الاذہان) میں اپنے معجزوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ بیان کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اپنے آپ کو سو حصے زیادہ افضل جناب رسول اﷲa سے سمجھتے تھے۔ اب خیال کرنے کا مقام ہے کہ جو جھوٹوں کا سردار اور فریبیوں کا افسر ہو۔ چنانچہ متعدد رسالوں میں ان کے جھوٹ وفریب دکھائے گئے ہیں۔ مگر کسی قادیانی نے دم تو نہیں مارا۔ اسے مبلغ صاحب نبی اور اپنا مرشد مانتے ہیں۔ مذکورہ حدیثوں میں ختم نبوت کے بیان کا جو پانچواں طریقہ بیان کیاگیا ہے اس کی کامل طور سے شرح کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جس سے ’’لا نبی بعدی‘‘ کا عموم آفتاب کی طرح روشن ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور سرور انبیاءk فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ہمیشہ انبیاء سیاست کرتے رہے اور احکام دینی اور دنیاوی سب کا اجراء اس وقت کے نبی کے اختیار میں ہوتا تھا۔ جب ایک نبی کا انتقال ہوتا تو اس کے بعد ہی اس کی جگہ دوسرا نبی اﷲتعالیٰ قائم کرتا تھا۔ اس سے بخوبی ثابت ہوا کہ تمام انبیاء بنی اسرائیل کا فیضان اور اثر ہدایت ان کی زندگی تک محدود رہتا تھا۔ اس لئے ان کے انتقال کے بعد ہی دوسرا نبی ہدایت کے لئے بھیجا جاتا
تھا۔ اس حالت میں حضرت موسیٰm اور تمام انبیائے بنی اسرائیل برابر ہیں۔ مگر اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں کہ ان انبیائے بنی اسرائیل کے مراتب میں فرق تھا۔ بعض عالی مرتبہ اور بعض کم مرتبہ کے تھے ان سب کی حالت یکساں بیان فرماکر حضور انورa اپنی عظمت وشان کو عام فہم طریقے سے تاکید اور عموم کے ساتھ اس طرح بیان فرماتے ہیں: ’’وانہ لا نبی بعدی‘‘ یعنی اس کو اچھی طرح تحقیق سے معلوم کر لو کہ میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے۔ یعنی کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں ملے گا۔البتہ خلفاء ہوں گے جو امت محمدیہ کی سیاسی خدمات کو انجام دیں گے۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ:
۱۵…’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک بنی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء (بخاری ج۱ ص۴۹۱، باب ماذکر عن بنی اسرائیل)‘‘{بنی اسرائیل انبیاء حکومت کرتے تھے۔ جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور وہ سیاست کریں گے۔}
الغرض حضورa نے اس حدیث میں اپنے بعد مطلقاً ہر طرح کے نبی کے آنے کی نفی اس طرح فرمادی کہ کوئی شبہ باقی نہ رکھا۔ کیونکہ اس لفظ نبی کے عموم کا ثبوت پہلے لفظ نبی کے عموم سے بخوبی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلے عام انبیاء کے آنے کا اثبات جناب رسول اﷲa فرمارہے ہیں۔ اس کے متصل ہی اپنے بعد کی حالت اسی لفظ نبی سے بیان کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے نبی کے آنے کو فرمایا ہے اور پھر نبی کے نہ آنے کو اس لئے عمومیت لفظ کے علاوہ بیان سابق دوسری دلیل ہے۔ اس جملہ کے عموم کی، مگر حضورa نے انہیں دو دلیلوں پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ جملہ ’’سیکون خلفاء‘‘ فرماکر ختم نبوت کے عمومی کی تیسری دلیل ارشاد فرمائی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح پہلے نبی کے بعد انبیاء آتے تھے۔ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔ نبی نہ ہوں گے۔ اگر کسی طرح کا کوئی نبی ہونا ہوتا تو خلفاء کے ساتھ اس کا ذکر بھی ضرور ہوتا۔ اگر سیاسی نبی کی نفی ہوتی تو اس طرح ارشاد ہوتا: ’’لا نبی بعدی تسوس امتی بل سیکون خلفاء‘‘ مگر کسی حدیث میں اس کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے۔ جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اﷲ‘‘ مرزاقادیانی نے بھی لکھا ہے۔
(شہادۃ القرآن ج۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)
اس حدیث سے نہایت روشن طریقے سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ جناب رسول اﷲa کے بعد نبوت تشریعی، غیرتشریعی، ظلی، بروزی کسی طرح کی نہیں ہوسکتی۔ یعنی پہلے طریقے میں جو حدیث نقل کی گئی ہے اس کے آخری جملہ ’’لا نبی بعدی‘‘ میں لانفی جنس آیا ہے۔ جس سے ہر قسم کے نبی کی نفی ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ آنحضرتa کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا۔ مگر یہ عموم کا ثبوت علمی طریقے سے ہے۔ جسے عوام نہیں سمجھتے۔ اس لئے مرزائی ان سے جھوٹی باتیں بنا کر فریب دے سکتے ہیں۔ اس طرح دوسرے طریقے میں بھی جاہلوں اور کم فہموں کو بہکا سکتے ہیں۔ مگر حدیث کے اس طریقے میں پہلے عام انبیاءo کی حالت بیان کر کے اپنے بعد کی حالت ایسے الفاظ سے بیان فرمائی۔ جس سے ان کے فریب کے راستے بند ہوگئے۔ کیونکہ پہلے آپa نے ہر قسم کے انبیاء کا آنا بیان فرمایا۔ کسی قسم کی تخصیص نہیں کی اور اپنے بعد نبی کے نہ آنے کو تاکید سے فرما کر خلفاء کا ہونا بیان فرمایا۔ اس سے یقینی طور سے ظاہر ہوگیا کہ رسول اﷲa کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہ ہوگا اور کسی خلیفہ کو نبی کا لقب نہیں ملے گا۔ کیونکہ آپa نے پہلے ’’لا نبی بعدی‘‘ کہہ کر ’سیکون خلفاء‘‘ فرمایا ہے۔ اگر کسی خلیفہ کو نبی کا لقب ملتا تو آپa اس کے پیشتر ’’لا نبی بعدی‘‘ کبھی نہ فرماتے۔ پس آپa کا سب سے پہلے عام لفظ میں انبیاء بنی اسرائیل کا اس طرح ذکر فرمانا کہ بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے۔ جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا اور سیاسی ومذہبی خدمات اس کے متعلق ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد تاکید کے ساتھ عام طریقہ پر یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ محض اسی پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ جو آپa کے بعد ہونے والے ہیں۔ یعنی خلفاء انہیں بیان فرمادیا۔ یہ صاف اس امر پر دلیل ہے کہ آپa کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہ ہوگا۔ کیونکہ نبی کی نفی کرنے کے بعد جملہ ’’سیکون خلفاء‘‘ فرمانے سے یہی مقصود ہے کہ اگر کسی کے دل میں یہ خطرہ ہو کہ بنی اسرائیل کی طرح جب آپa کے بعد انبیاء نہ ہوں گے تو پھر امت محمدیہ کی سیاست کس کے ہاتھ میں رہے گی اور احکام شرعیہ کس طرح نفوذ پائیں گے؟ تو اس کا جواب حضرتa نے دیا کہ جس طرح بنی اسرائیل پر انبیاء سیاست کرتے تھے اور ایک کے انتقال کے بعد دوسرا نبی اس کا جانشین ہو جاتا تھا۔ امت محمدیہ پر خلفاء
سیاست کریں گے۔ کیونکہ نبوت تو مجھ پر ختم ہو گئی۔ لہٰذا جو کام کہ انبیائے بنی اسرائیل انجام دیتے تھے اس خدمت کو امت محمدیہ میں خلفاء انجام دیں گے۔ اب ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر امت محمدیہ میں کسی طرح کے انبیاء کا آنا حضورa کے خاتم النّبیین ہونے کے بعد جائز ہوتا تو ضرور آپa اس کی خبر دیتے۔ کیونکہ آپa اپنے بعد کی حالت بیان فرمارہے ہیں اور نظام شریعت کی سیاست کے متعلق خبر دے رہے ہیں کہ کس کے ہاتھوں یہ کام انجام پائے گا؟ اور جب آپ نے اس کے لئے کسی نبی کی خبر نہیں دی، بلکہ یہ فرمایا کہ خلفاء ہوں گے تو صاف ظاہر ہوگیا کہ آپa کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہیں ہوگا اور تاقیامت یہی خلفاء یکے بعد دیگرے امت محمدیہ پر سیاست کرتے رہیں گے۔
اس میں حضورk کی نہایت عظمت وشان یہ ہوئی کہ تمام انبیائے بنی اسرائیل کی ہدایت کا اثر ان کی زندگی تک محدود رہا اور حضور انورa کی ہدایت کا روشن چراغ قیامت تک درخشاں رہے گا۔ مرزاقادیانی نے جابجا حضور انورa کو مثیل موسیٰm قرار دیا ہے۔ جس سے کمال درجہ کی بے حرمتی حضور انورa کی ہوتی ہے۔ کیونکہ آپa تو حضرت موسیٰm سے بدرجہا بلند مرتبہ ہیں اور مرزاقادیانی کا مثیل موسیٰm کہنا جس کے معنی یہ ہیںکہ سرور انبیاءa موسیٰm کے برابر تو نہیں ہیں مگر ان کے مشابہ تھے۔ اہل علم اس کو بخوبی سمجھیں گے۔
۱۶… اب میں وہ ارشاد نبوی نقل کرتا ہوں جو آپa نے آخر عمر میں جماعت کثیر یعنی ایک لاکھ چوالیس ہزار اصحاب کرامi کے روبرو نہایت زوروشور سے بیان فرمایا ہے۔ یعنی اپنی وفات سے تین مہینے کئی روز پیشتر حجتہ الوداع میں ’’قصواء‘‘ اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر پہاڑی پر چڑھ کر جماعت مذکورہ کے روبرو نہایت ضروری اور ہدایت عامہ آپa نے بیان فرمائے ہیں۔ ان میں خاص طور سے یہ عام ارشاد بھی ہوا۔
’’عن ابن امامۃq قال: قال رسول اﷲa ایہا الناس انہ لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم الا فاعبدوا ربکم۔ الخ! (کنزالعمال ج۵ ص۲۹۵، حدیث نمبر:۱۲۹۲۲)‘‘ کہ اے حاضرین جماعت اس کو معلوم کرو کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہے۔ اس کو اعتقاد کر کے خوب متنبہ ہو جاؤ اور اللہ کی ..
یاد میں مشغول رہو۔
طالبین حق اس حدیث کے معنی اور الفاظ پر خوب غور فرمائیں کہ کس طرح آپa نے اپنے بعد کسی نبی کے نہ ہونے کی بشارت دی۔ ملاحظہ ہو: اس وصیت کے اعلان کے واسطے بہت بڑا مجمع کیا اور اس مجمع میں اونٹنی پر سوار ہوکر عام حاضرین کو متوجہ کر کے پہلے یہی فرمایا کہ: ’’انہ لا نبی بعدی‘‘ جس میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کے متعدد معنی ہوں یا کوئی ایسا لفظ ہو جسے عام طور پر لوگ سمجھتے نہ ہوں۔ غالباً اسی وجہ سے آپa نے خاتم النّبیین کا لفظ نہیں فرمایا کہ بعض ناسمجھ نفس پرست دوسرے معنی لگا کر گمراہ نہ ہوں۔ اس کے علاوہ ہر ایک ذی ہوش سمجھ سکتا ہے کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کسی نبی کا نہ ہونا کیسا مہتمم بالشان مسئلہ ہے کہ اس پر ایمان رکھنے کے لئے حضور انورa نے اپنی عمر کے درمیانی حصہ میں بارہا بیان کرنے پر کفایت نہیں فرمائی۔ بلکہ آخری عمر میں بھی جلسہ عام کر کے بلندی پر کھڑے ہوکر یہ وصیت فرمائی کہ دیکھو ایسا خیال ہرگز نہ کرنا کہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا بلکہ میرے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہ ہوگا۔ پھر اس کی تاکید اس طرح فرماتے ہیں: ’’ولا امۃ بعدکم‘‘ کوئی امت تمہارے بعد نہ ہوگی۔ یعنی امت محمدیہa کے بعد کوئی امت غلمدی، یا احمدی وغیرہ نہ ہو گی۔
ان احادیث نبویہ نے قرآن مجید کی اس نص قطعی کی کیسی تائید اور تشریح فرمائی ہے جس کا ذکر اوپر کیاگیا۔
اب اس کے بعد جس کے دل میں کچھ بھی ایمان ہے۔ اس کے خیال میں کبھی اس کا خطرہ بھی نہیں ہوسکتا کہ جناب رسول اﷲa کے بعد کوئی سچا نبی ہوگا۔ مگر چونکہ مرزائی مذہب کی بنیاد خدا اور رسول کے بالکل خلاف ہے۔ اس لئے یہاں بھی قرآن مجید کے نص قطعی اور بہت سی احادیث صحیحہ کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جناب رسول اﷲa کے بعد بھی رسول آتے رہیں گے اور چونکہ قرآن وحدیث کے اصلی اور صحیح معنی سے انہیں کچھ واقفیت نہیں ہے۔ بلکہ مرزاقادیانی یا ان کے کسی خاص مرید نے یہودیانہ تحریف کر کے جو معنی بنا کر کہہ دئیے ہیں۔ انہیں غلط معنی پر ان کا ایمان ہے۔ اس لئے بمقتضائے جہل مرکب قرآن مجید سے اس کا ثبوت بتاتے ہیں۔
اس مختصر بیان سے قرآن مجید کی ایک نص قطعی اور سولہ احادیث صریحہ صحیحہ سے ثابت ہوگیا کہ جناب رسول اﷲa پر نبوت ورسالت ختم ہوگئی۔ آپa کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملے گا۔ اسی وجہ سے تمام اولیائے کرام کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی اور کسی پر وحی نبوت نہیں آئے گی۔ بالفرض اگر کوئی ولی خلاف صریح قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے کہے تو اس کا قول لائق توجہ نہ ہوگا اور اس کی غلطی سمجھی جائے گی۔ یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ صاحب فتوحات کی نسبت ہمارے علماء میں اختلاف ہے۔ بعض انہیں بہت برائی سے یاد کرتے ہیں۔ بعض انہیں بڑا بزرگ سمجھتے ہیں۔ مگر بعض مسائل میں غلطی کے قائل ہیں۔ فتح الباری ملاحظہ ہو؟ اور بعض ان کے زیادہ معتقد ہیں۔ عبدالوہاب شعرانی انہیں بہت مانتے ہیں اور اپنی کتاب یواقیت میں انہیں کے اقوال نقل کئے ہیں۔ اب اگر بقائے نبوت کے وہ قائل ہیں تو علمائے منکرین کے نزدیک ان کا ایسا ہی حال ہوگا جیسا مرزاغلام احمد قادیانی کا، پھر اسے ہمارے مقابلہ میں پیش کرنا جہالت ہے۔ مگر ہمارے خیال میں گروہ قادیانی کی یہ محض نادانی یا فریب دہی ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے فتوحات میں اصطلاحات صوفیاء بیان کئے۔ اس کا سمجھنا ان اصطلاحوں کے جاننے پر موقوف ہے۔ گروہ قادیانی اور ان کا مرشد ان سے بالکل ناواقف ہے اور بمقتضائے جہل مرکب ان کے بعض قولوں کو اپنے موافق خیال کر کے جواب میں پیش کرتے ہیں۔ مگر یہ یقینی ان کی غلطی ہے۔ فتوحات مکیہ کا مطلب سمجھنا ہر ایک ملّا کا کام نہیں ہے۔ ان کے اصطلاحات کو جاننا کمال واقفیت اور نظر وسیع کو چاہتا ہے۔ میں چند عبارتیں فتوحات کی نقل کرتا ہوں جن سے قادیانیوں کی غلطی اور ہمارے قول کی تصدیق ہوتی ہے۔
پہلا قول: حضرت محی الدین اپنے شیخ ابوالعباس کی دعا نقل کرتے ہیں: ’’اللّٰہم انک سددت باب النبوۃ والرسالۃ دوننا ولم تسد باب الولایۃ‘‘
(فتوحات مکیہ ج۲ باب۷۳ ص۹۷، سوال نمبر۹۳)
’’اے اللہ تو نے ہمارے لئے نبوت ورسالت کا دروازہ تو بند کر دیا ہے مگر ولایت کا دروازہ بند نہیں کیا۔‘‘
شیخ ابوالعباسv محققین صوفیہw میں ہیں۔ وہ کس صفائی سے فرماتے ہیں
کہ امت محمدیہa کے لئے نبوت اور رسالت کا دروازہ اﷲتعالیٰ نے بند کر دیا ہے۔ یعنی رسول اﷲa کے بعد کوئی نبی اور رسول نہ ہوگا۔ البتہ ولایت کا دروازہ بند نہیں کیا۔
دوسرا قول:’’انما انقطع الوحی الخاص بالرسول والنبی من نزول الملک علی اذنہ وقلبہ وتحجیر لفظ اسم النبی والرسول‘‘
(فتوحات مکیہ ج۳ باب۱۵۵ ص۲۵۳)
اس میں شبہ نہیں کہ جو وحی انبیاء اور رسولوں پر آتی تھی وہ موقوف ہو گئی اور کسی کو نبی اور رسول کہنا ممنوع ہو گیا۔ اس میں صاف طور سے شیخ فرماتے ہیں کہ اب کسی کو نبی اور رسول نہیں کہہ سکتے۔ اس مطلب کو شیخ اکبر نے ج۳ میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ یہ ہیں:
تیسرا قول:’’واعلم ان لنا من اللہ الالہام لا الوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اﷲa وقد کان الوحی قبلہ ولم یجی خبر الہی ان بعدہ (a) وحیا کما قال اللہ تعالٰی ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک ولم یذکر وحیا بعدہ‘‘
(فتوحات مکیہ ج۳ باب۳۵۳ ص۲۳۸)
اے مخاطب تو معلوم کر کے کہ امت محمدیہ کے لئے اللہ کی طرف سے الہام ہے۔ وحی نہیں ہے۔ وحی کا آنا رسول اﷲa کے انتقال کے بعد سے بند ہوگیا۔ البتہ آپa سے پیشتر انبیاء کو وحی آتی تھی۔ اﷲتعالیٰ نے رسول اﷲa پر اور آپa سے پیشتر انبیاء پر وحی آنے کی خبر دی ہے اور آپa کے بعد کسی پر وحی آنے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا اور جب وحی نہیں آئے گی تو کوئی نبی بھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ نبی کے لئے وحی کا آنا ضروری ہے۔ اس قول میں شیخ اکبرv نے قرآن مجید سے مرزاقادیانی کو جھوٹا ثابت کردیا۔ کیونکہ مرزاقادیانی اپنے اوپر نزول وحی کے مدعی ہیں اور نئے طور کا نزول ہے کہ حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں کہ بارش کی طرح مجھ پر وحی کا نزول ہوا۔ یہ بارش کی طرح نزول وحی کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا اور نہ اس طرح کا نزول ہوسکتا ہے۔ کہئے مؤلف ختم نبوت اب تو سید الاولیاء نے آپ کے مرشد کو قرآن مجید سے جھوٹا ثابت کردیا۔ حضرت شیخ کو تو آپ سید الاولیاء فرماتے ہیں اور ان کے اقوال کو سند میں پیش کرتے ہیں۔ پھر جب ایسے بزرگ مرزاقادیانی کو جھوٹا فرمارہے ہیں تو آپ کو اپنے مرشد کے جھوٹا ماننے میں کیا عذرہے۔
چوتھا قول:’’وان کان سوألہ عن مقام الانبیاء من الاولیاء ای انبیاء الاولیاء والنبوۃ التی قلنا انہا لم تنقطع‘‘
(فتوحات مکیہ ج۲ باب۷۳ ص۵۳، سوال نمبر۱۹)
’’اگر کوئی ان اولیاء اللہ کے مقام کو دریافت کرے جو مقام نبوت تک پہنچے ہیں جنہیں انبیاء الاولیاء کہا جاتا ہے اور یہی وہ نبوت ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ وہ منقطع نہیں ہوئی ہے۔ قیامت تک باقی رہے گی۔‘‘
یعنی جس نبوت کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے اور جن کو نبی اور رسول شریعت محمدیہ میں کہا گیا ہے اور جن کا ماننا فرض ہے اور ان کے نہ ماننے سے انسان کافر ہو جاتا ہے وہ نبوت ختم ہوگئی۔ اسی نبوت کو صاحب فتوحات نے نبوت تشریعی کہا ہے۔ یعنی وہ نبوت جس کا ثبوت شریعت محمدیہ سے ہے اور انبیاء الاولیاء کی نبوت کو غیرتشریعی اس لئے کہاکہ اس کا ثبوت قرآن وحدیث سے نہیں ہے۔ بلکہ صوفیاء کی اصطلاح میں یہ نبوت اولیاء اﷲ کا ایک عالی مقام ہے۔ اس نبوت کو اور اس نبی کو جو اس مقام پر ہے امت پر ماننا فرض نہیں ہے۔ نہ ان کا منکر کوئی کافر ہوسکتا ہے۔
حاصل یہ ہے کہ نبوت شرعیہ بالیقین ختم ہوگئی جس کا ثبوت قرآن وحدیث سے دیاگیا اور نبوت اصطلاحی ختم نہیں ہوئی۔ لیجئے مبلغ گمراہی قادیانی اب تو آپ کے سید الاولیاء صاحب کے کلام سے بھی نبوت شرعی کا ختم ہو جانا ثابت کر دیا گیا اور آپ کی جہالت بھی اظہر من الشمس ہوگئی۔ اب بھی کچھ شرم کیجئے اور اپنی آخرت کو برباد نہ کیجئے۔
یہاں تک قادیانی مبلغ کی بیہودہ گوئی کا جواب ہو لیا اور ان کی نافہمی یا فریب دہی کو اظہر من الشمس کر دیا گیا۔ اب صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۴ کا وہ مضمون دکھایا جاتا ہے جس کے جواب سے قادیانی مبلغ صاحب عاجز ہیں اور عاجز کیوں نہ ہوں کہ اس تحریر سے مرزاقادیانی کا پختہ دہریہ ہونا ثابت ہوتا ہے اور قرآن شریف کی نصوص قطعیہ سے بھی جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۴ کا ص۴،۵ ملاحظہ ہو۔ (صحیفہ نمبر۱۴ میںاجمال ہے۔ اس میں تفصیل ہے اس لئے اسے یہاں پورا لے لیا ہے۔ مرتب)
اب اگر کسی کو میرے قول میں تردد ہو اور کہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسالت ونبوت کا دعویٰ کر کے خدا پر الزام لگائے تو میں کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی کی یہی حالت ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا اور رسول کو درحقیقت نہیں مانتے تھے۔ مسلمانوں کے فریب دینے کو ظل اور بروز اور محبت رسول کا دعویٰ تھا۔
اب اس کا ثبوت ملاحظہ کیجئے۔ حضرت مسیحm کی وہ شان ہے کہ قرآن مجید میں ان کی تعریف اور عظمت غالباً تیس جگہ سے زیادہ بیان ہے۔ یہاں صرف تین آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
۱…’’واٰتینا عیسی ابن مریم البیّنٰت وایّدناہ بروح القدس (بقرہ:۸۷)‘‘{اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو نشان ومعجزے دئیے اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔} حضرت ممدوح کے نبی ہونے کے ثبوت میں اﷲتعالیٰ دو دلیلیں حضرت سرور انبیاء سے بیان فرماتا ہے۔ ایک معجزوں کا دینا اور دوسرے روح القدس سے ان کی مدد کرنا۔
۲…’’ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسی ابن مریم وجیہا فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘{فرشتوں نے کہا اے مریم، اللہ تعالیٰ تجھے ایک حکم کی خوشخبری دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا ہے (جس کی شان یہ ہے کہ) دنیا وآخرت دونوں میں وہ صاحب مرتبہ ہے اور اﷲتعالیٰ کے مقبول اور مقربین بارگاہ الٰہی میں سے ہے۔}
چونکہ حضرت مسیحm بغیر باپ کے صرف بحکم الٰہی مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ اس لئے اﷲتعالیٰ نے انہیں اپنا حکم اور حضرت مریمp کا بیٹا فرمایا اور ان کے ناموں میں ابن مریم بھی شمار کر دیا۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے حضرت مریمp کے پیٹ سے پیدا کیا تھا۔ یعنی جس طرح حضرت آدمm کو اﷲتعالیٰ نے بغیر باپ اور ماں کے پیدا کر کے اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا تھا۔ اسی طرح حضرت مسیحm کو صرف بغیر باپ کے پیدا کر کے اپنی قدرت کا دوسرا نمونہ دکھایا۔ اسی طرح انبیائے
کرامo سے عجیب وغریب معجزات دکھلا کر اپنی قدرت کے نمونہ دکھلائے ہیں۔ ان آیتوں میں تو اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیحm کی عظمت وشان بتائی اور ان کا صاحب معجزات ہونا، بیان فرمایا۔ اب تیسری آیت ملاحظہ کیجئے جس میں چند معجزات کی تفصیل ہے۔
اس آیت میں ان معجزات کی تفصیل حضرت مسیحm کے اقوال سے بیان ہوتی ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ مسیحm بنی اسرائیل سے کہتے ہیں کہ میں تمہارے پروردگار کا نشان لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس میں شبہ نہیں کہ میں مٹی کی چڑیا تمہارے لئے بنادیتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں وہ اللہ کے حکم سے اڑتی چڑیا ہو جاتی ہے۔ یعنی جاندار ہوکر اڑ جاتی ہے اور چنگا کرتا ہوں۔ مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو اور مردے جلاتا ہوں۔ اللہ کے حکم سے یعنی میری صداقت ظاہر کرنے کے لئے اللہ میرے واسطہ سے مردہ زندہ کرتا ہے اور جو کچھ تم گھر میں کھا کر آتے ہو اور جو کچھ چھوڑ آتے ہو اسے میں تمہیں بتادیتا ہوں کہ تم فلاں چیز کھا کر آئے ہو اور فلاں چیز گھر میں چھوڑ کر آئے ہو۔ یہ کیسے اعلانیہ معجزے ہیں۔ اگر تمہارے دل میں ایمان ہے۔
مگر چونکہ دہریت کا اس وقت زور ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی نے یہودیانہ تحریف کر کے ان معجزات سے انکار کیا ہے اور اپنے جہل مرکب سے ان یقینی باتوں کے ماننے والوں کو مشرک بتایا ہے۔ اس کی بحث تو کسی دوسرے وقت کی جائے گی اور دکھادیا جائے گا کہ ان کی دہریت کا شعبہ اور آزاد تعلیم یافتہ حضرات کو اپنی طرف کھینچنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے انگریزی تعلیم یافتہ انہیں مان گئے ہیں۔
برادران اسلام! ملاحظہ کریں کہ قرآن مجید کی ان آیات کا اور حضرت مسیحm کے مذکورہ معجزات کا مرزاقادیانی صریح انکار کرتے ہیں اور صاف لکھتے ہیں کہ: ’’حق بات یہ
ہے کہ آپ سے (یعنی حضرت عیسیٰm سے) کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰ حاشیہ)
کہئے یہ صریح اقوال خداوندی کی تکذیبب ہوئی یا نہیں اور اس قدوس لم یزل کو حضرت مسیحm کے معجزات کے بیان میں مرزاقادیانی نے جھوٹا ٹھہرایا یا نہیں؟ یہ نہ کہہ دینا کہ الزاماً لکھا گیا محض غلط ہے کیونکہ وہ صاف یہ کہہ رہے ہیں کہ حق بات یہ ہے کہ ان سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک جو امر واقعی اور حق ہے اسے بیان کرتے ہیں۔ صرف الزام نہیں دیتے اور شریعت محمدیہ میں اعلانیہ جھوٹ بولنا نبی کی توہین کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے۔ (قرآن شریف کی یہ مخالفت تو مہذبانہ طریقے سے تھی۔ اب اس کے بعد اسی ضمیمہ کے ص۷) میں ملحدانہ طرز سے ایک عالی مرتبہ نبی کے معجزات کو اپنے خیال سے اڑا کر آیات قرآنی کا انکار کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: ’’ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو، یا کسی اور ایسے بیماری کا علاج کیا ہو۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)
یہ دوسرے طریقہ سے کلام الٰہی کا انکار ہے۔ یعنی تیسری آیت میں تو نہایت صراحت سے اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم بحکم الٰہی اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کرتے تھے اور مردے کو جلاتے تھے۔ مرزاقادیانی ان اعلانیہ معجزات سے انکار کر کے لکھتے ہیں کہ کسی تدبیر سے علاج کرتے ہوں گے۔ اس کے بعد کسی لندنی دہریہ کی کتاب دیکھ کر کلام الٰہی کی تکذیب تیسرے طریقہ سے کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: ’’مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)
دیکھا جائے کہ حضرت یسوع مسیح کے اعلانیہ اور نہایت بیّن معجزات میں دہریوں کے خیالات ظاہر کر کے ان یقینی معجزات سے انکار کر رہے ہیں اور پھر اسی پر بس نہیں ہے بلکہ اس کے بعد اعلانیہ طور سے انہیں مکار اور فریبی ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں: ’’اور آپ کے
ہاتھ میں سوا مکروفریب کے کچھ نہیں تھا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)
یہ کیسا اعلانیہ کلام الٰہی کا انکار ہے اور ایک اولوالعزم رسول خدا کی توہین وتکذیب ہے؟ یہ چوتھا طریقہ انکار کا ہے۔ ’’پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنارہے ہیں آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہے کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)
یہ پانچویں طریقہ سے انکار کلام الٰہی ہے اور صرف انکار ہی نہیں بلکہ خدائے قدوس پر سخت الزامات ہیں اور اس کے مقدس رسول کی نہایت ہتک ہے۔ کیونکہ ان الزامات کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ خداتعالیٰ جھوٹ بولتا ہے۔ کیونکہ مکار اور فریبی کو صاحب معجزہ کہتا ہے اور اس کے معجزے بیان کرتا ہے اور مکار اور فریبی کو رسول بناکر بھیجتا ہے۔ اس کے رسول بازاری شہدوں کی طرح عیاش وبدچلن ہوتے ہیں۔ (نعوذ باﷲ) ان کی ذاتی اور نسبی دونوں طرح کی حالت ایسی خراب بھی ہوتی ہے کہ ہر ایک بھلا آدمی اسے عار سمجھتا ہے۔
ہمدردان اسلام! اس نازک وقت میں مرزاغلام احمد قادیانی کے یہ خیالات دشمنان اسلام اور بالخصوص دہریوں کی کیسی تائید کرتے ہیں۔ یہ تو مرزاقادیانی کے ملحدانہ خیالات کا جوش تھا اور جب ہوش ہوا تو سمجھے کہ یہ مسلمانوں کے بہت خلاف لکھا گیا۔ قرآن مجید میں تو حضرت مسیحm کی بہت تعریف آئی ہے۔ اس لئے اسی ضمیمہ کے حاشیہ میں ناواقف مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے جو یسوع مسیح کو گالیان دیں تو الزاماً دیں اور اس کا دوسرا جواب یہ دیتے ہیں۔
’’اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خداتعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۹، خزائن ج۱۱ ص۲۹۳)
اس فریب کو ملاحظہ کیا جائے کہ قرآن مجید میں نصاریٰ ہی کو سمجھایا ہے جو حضرت عیسیٰm کو خدا کہتے ہیں اور ’’ثالث ثلثۃ‘‘ قرار دیتے ہیں اور جس طرح عیسیٰ اور مسیح ان کا نام ہے۔ اس طرح انجیل میں ان کا نام یسوع بھی ہے اور یسوع حضرت عیسیٰm کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں ہے اور مرزاقادیانی بھی جانتے ہیں۔ چنانچہ (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲) میں لکھتے ہیں کہ: ’’مسیح اور عیسیٰ اور یسوع تینوں ایک ہی شخص کا نام ہے۔‘‘ یہاں وہ مشہور مثل کیسی صادق آئی کہ دروغگورا حافظہ نباشد۔ یعنی اور دلائل کے علاوہ مشہور مثل سے بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔
عرصہ ہوا کہ یہ الزامات صحیفہ محمدیہ نمبر۲ میں دئیے گئے ہیں۔ عبیداﷲ مرزائی بتائے کہ اس وقت تک کس مرزائی نے اس کا جواب دیا ہے؟ ہمارے سامنے پیش کرے۔ ورنہ کسی ناپاک نالی میں ڈوب مرے۔ یہ صحیفہ ماہ محرم۱۳۳۵ھ میں چھپا ہے۔ اس کا عنوان بقلم جلی یہ ہے: ’’مسیح قادیان اور توہین انبیائے ذیشان‘‘ اس کو چھپے ہوئے پانچ برس ہورہے ہیں۔ اب یہ عبید قادیانی دکھائے کہ ان الزاموں کاجواب قادیان یا آپ کے مکان کے کس طاق میں ہے۔ مگر یہ یقینی بات ہے کہ قادیانی مبلغ قطعاً جھوٹے ہیں۔ ہم ہزار روپیہ دیتے ہیں۔ اگر وہ یا ان کا کوئی بھائی اس کا جواب دے۔
اے برادران اسلام! ہوشیار ہو جاؤ اور مرزاغلام احمد قادیانی کی حالت سے واقف ہو کر اس سے دور رہو اور اپنے ایمان کو بچاؤ۔ اور اس مضمون کو مکرر دیکھو۔ (مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا توریت شریف اور قرآن مجید سے) اس کا ثبوت فیصلہ آسمانی کے تینوں حصوں میں کامل طور سے دیاگیا ہے اور قرآن مجید کی متعدد آیتیں دکھائی ہیں۔ دوسرا مضمون اس صحیفہ کے ص۴،۵ میں منکوحہ آسمانی کی پیشین گوئی ہے۔ جس کے ظہور کا انتظار مرتے دم تک انہیں رہا اور مختلف طورسے یقینی الہامات بیان کئے ہیں جن کے غلط ہو جانے سے مرزاقادیانی کا یقینی جھوٹا ہونا قرآن مجید اور توریت مقدس سے ثابت ہوگیا اور صرف جھوٹا ہی ہونا ثابت نہیں ہوا بلکہ ان کا دہریہ اور فریب دہندہ ہونا بھی ثابت ہوا۔ اہل حق حضرات جنہیں اﷲتعالیٰ نے کچھ بھی عقل وفہم دی ہے وہ مرزاقادیانی کی کذابی کو ملاحظہ فرمائیں۔ منکوحہ آسمانی کی نسبت انہوں نے اشتہاروں اور رسالوں میں اس قدر غل مچایا ہے اور دم موت تک اس پر وثوق ظاہر کیا ہے جس کی حد نہیں۔ بایں ہمہ وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی
اور نہایت اعلانیہ طور سے دنیا نے ان کا جھوٹا ہونا معائنہ کر لیا اور کلام الٰہی میں اس کی صراحت دیکھ کر ان کے جھوٹے ہونے پر ایمان لانا فرض ہوگیا۔ (منکوحہ آسمانی کی نسبت چند الہامات) ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء میں مشتہر کرتے ہیں:
۱… ’’ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے باربار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خداتعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میںلاوے گا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)
(فیصلہ آسمانی حصہ اوّل) لفظ انجام کار پر خوب نظر ہے۔
۲… ’’خداتعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔‘‘
(۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)
اس میں بھی وہی لفظ انجام کار ہے اور اس پر اضافہ یہ ہے کہ اسے خدا کی ان باتوں میں بیان کرتے ہیں جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ کوئی شرط وغیرہ اس نکاح کو روک نہیں سکتی۔ انجام کار وہ لڑکی مرزاقادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
(۲۰؍مئی ۱۸۹۱ء حقانی پریس لدھیانہ) میں اشتہار نصرت دین طبع کرایا ہے اور اس میں لکھتے ہیں: ’’مرزااحمد بیگ ولد مرزاگاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیاتھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۲ ص۹، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۱۹)
(فیصلہ آسمانی ص۳۲،۳۳) میں اس اشتہار کی پوری عبارت نقل کر کے اس کی شرح کی ہے۔ اس پر خوب نظر رہے کہ اس میں مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کے علم میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ وہ لڑکی مرزاقادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اب ظاہر ہے کہ وہ لڑکی مرزاقادیانی کے نکاح میں نہ آئی اور ان کے کہنے کے بموجب خداتعالیٰ پر یہ الزام ضرور آیا کہ وہ عالم الغیب نہیں ہے اور اپنے رسولوں کو فریب دے کر جھوٹی پیشین گوئیاں کراتا ہے۔
۴… (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵) میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیارپوری کے دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خداتعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
اس عبارت میں مرزاقادیانی نے اپنے وثوق بیان کرنے کی انتہاء کر دی۔ ذیل کے جملوں کو ملاحظہ کیجئے۔
۱… انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔
۲… آخر کار ایسا ہی ہوگا۔
۳… خداتعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔
۴… ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا۔
۵… اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔
ان پانچوں جملوں نے نہایت صراحت سے بالیقین ثابت کردیا کہ اس نکاح کو شرط وغیرہ کوئی شئے روک نہیں سکتی بلکہ اس کا ظہور ضرور ہوگا۔ اس آخری جملے نے وثوق ویقین کی انتہاء کر دی۔
ناظرین! برائے خدا اس بات پر غور فرمائیں کہ اس مشہور پیشین گوئی کے متعلق میں نے چار قول مرزاقادیانی کے نقل کئے ہیں۔ ان میں پہلا قول ۱۸۸۸ء کا ہے۔ اس کے بعد آخر عمر ۱۹۰۸ء یعنی بیس برس تک اس منکوحہ کے انتظار میں رہے۔ اس مدت میں کسی وقت انہوں نے قطعی مایوسی کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ آخر عمر تک جب کوئی جملہ انہوں نے کہا ہے اس سے امید ہی معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح اس کے شوہر کے مرنے کی نسبت انہوں نے باربار پیشین گوئی کی ہے اور صرف اپنے ایک رسالہ آنجام آتھم میں سات مرتبہ مختلف طور سے اپنا یقین بیان کیا ہے کہ وہ ضرور مرے گا اور ایک جگہ اس پر قسم بھی کھائی ہے مگر انجام اس کا یہی ہوا کہ نہ اس کا شوہر مرا اور نہ وہ فرضی منکوحہ ان کے نکاح میں آئی۔ یہاں تک کہ وہ ان کا رقیب
اب تک زندہ موجود ہے اور یہ واقعے ایسے روشن اور کھلے ہوئے ہیں کہ معائنہ ہورہا ہے۔
بھائیو! اب اس پر غور کرو کہ جب ایسے قطعی الہامات جو تمام عمر یقینی طور پر ہوتے رہے اور مرزاقادیانی انہیں خدا کی طرف سے بتاتے رہے۔ مگر وہ قطعاً جھوٹے ثابت ہوئے۔ اب وہ الہامات جس کی وجہ سے انہوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور نبی اور رسول ہونے کے مدعی ہوئے۔ ان پر کیونکر اعتبار ہوسکتا ہے۔ کوئی معیار ایسی ہوسکتی ہے جو ان دونوں میں فرق ظاہر کر دے اور یہ بتادے کہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی اور اس کے شوہر کے مرنے کے الہامات جھوٹے ہوگئے تو ہوگئے۔ مگر جو الہامات نبوت ورسالت کی نسبت تھے وہ ضرور سچے ہیں؟
بھائیو! کوئی حق پسند یہ نہیں کہہ سکتا۔ جھوٹا ثابت ہونے کے لئے تو ایک جھوٹ کا ثبوت کافی ہے۔ مرزاقادیانی کی ان پیشین گوئیوں کے جھوٹا ثابت ہونے سے مرزاقادیانی کے بہت سے جھوٹ ثابت ہوئے۔ (اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں دیکھی جائے) حاکم وقت کی کچہری میں جس گواہ کا ایک بھی جھوٹ ثابت ہو جائے تو دنیاوی بات میں اس کی پھر شہادت مقبول نہیں ہوتی۔ مگر مرزائی حضرات کی عقل پر کمال افسوس ہے کہ دینی بات میں تمام امت محمدیہ کے خلاف ایسے کذاب کو نبی مانتے ہیں اور کچھ خوف خدا نہیں کرتے۔ اب ان کے کذب پر کلام الٰہی کی شہادت ملاحظہ کی جائے۔ (پرانا عہد نامہ کتاب استثناء باب۱۸، آیت۲۲ ص۱۷۶ برٹش اینڈ مارنی بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور ۱۹۲۷ء) میں ہے کہ: ’’جب کوئی نبی خداوند کے نام سے کچھ اور جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہا ہے۔‘‘ الغرض توریت مقدس میں سچے نبی کی یہ شناخت بیان کی ہے کہ جو پیشین گوئی کرے اور وہ پوری نہ ہو یا جس کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ہو جائے وہ جھوٹا ہے۔ اس نے الہام الٰہی سے پیشین گوئی نہیں کی بلکہ اپنی طرف سے بطور دھوکہ نفس یا علم نجوم وغیرہ سے کی ہے اور قرآن شریف میں ارشاد ہے: ’’فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہٖ رسلہ (ابراہیم:۴۷)‘‘ {یعنی ایسا گمان وخیال ہرگز نہ کرنا کہ اﷲتعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔}
اس آیت میں اﷲتعالیٰ نے رسولوں سے وعدہ خلافی نہ کرنے کو کس زور اور تاکید سے بیان فرمایا ہے۔ اس کا گمان وخیال کرنے کا بھی تاکید سے روکا ہے۔ یعنی یہ کسی طرح
نہیں ہوسکتا کہ اللہ پاک اپنے کسی رسول سے کوئی وعدہ یا وعید کرے اور پھر اسے پورا نہ کرے۔ اب ان وعدوں پر غور کیجئے جو بقول مرزاقادیانی، اﷲتعالیٰ نے ان سے کئے ہیں۔ جن کی نقل گزشتہ چار قولوں میں کی گئی ہے اور پھر وہ پوری نہ ہوئی۔ لہٰذا یقینی طور سے ثابت ہوگیا کہ جس طرح توریت مقدس سے مرزاقادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ اس طرح قرآن مجید کی نص قطعی سے ان کا یقینی جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا اور اس مضمون کی متعدد آیات قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ فیصلہ آسمانی حصہ اوّل وسوم ملاحظہ کیا جائے۔ کہئے جناب عبید اللہ صاحب مرزائی آپ نے صحیفہ رحمانیہ۱۴ کے جواب دینے کا تو دعویٰ کیا ہے۔ مگر ان عظیم الشان دو مضمونوں کے جواب سے ایسے عاجز ہوئے کہ اپنے جھوٹے ہونے کا بھی خیال نہ کیا۔ مگر جن کے پیر نے صدہا جھوٹ بولے ہوں۔ پھر ان کے مرید اگر چند جھوٹ بولیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ قادیانی مبلغ اس کو آپ یقین کر لیجئے کہ آپ کے مرشد بالیقین جھوٹے ہیں اور ان کا جھوٹا ہونا قرآن مجید توریت مقدس احادیث صحیحہ اور ان کے متعدداقراروں سے ثابت کردیا گیا ہے۔ مگر اس وقت کسی نے جواب نہیں دیا اگر کسی کو جواب کا دعویٰ ہو تو سامنے آئے آپ ہوں یا آپ کا کوئی برادر خورد وکلاں ہو۔ ہم اپنے رسالوں کو دکھا کر ان کے اعتراضات آپ کو سنائیں اور آپ ان کے جوابات کو سنائیں۔ عام جلسہ ہو۔ حاضرین جلسہ اس کا فیصلہ کریں گے مگر ہم کہتے ہیں کہ آپ تو کیا کریں گے قادیان میں جو آپ کے سرگروہ کہلاتے ہیں وہ بھی نہیں کر سکتے۔
ہمیں میدان ہمیں چوگان ہمیں گوئے
مرزائی صاحبان کی فریب آمیز کارروائیوں اور ان کی کوششوں سے غالباً اب بہت سے مسلمان واقف ہوچکے ہیں۔ کوئی لندن میں تبلیغ اسلام کا دلفریب نام لے کر مسلمانوں کو شکار کر رہا ہے۔ کوئی افریقہ میں کوئی امریکہ میں کوئی بصرہ میں غرض جس کو جہاں موقع ملا اپنی گرم بازاری کی فکروں میں مشغول ہے۔ سب اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ جس طرح ہوسکے مسلمانوں کو حضرت ختم المرسلa کے سایۂ رحمت سے نکال کر مرزاغلام احمد قادیانی مدعی نبوت کاذبہ کا معتقد بنائیں اور اپنا جتھا بڑھا کر آمدنی کے ذرائع وسیع کریں۔
بظاہر اس وقت ان میں دو پارٹیاں نظر آتی ہیں۔ ایک محمودی پارٹی جو مرزاغلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزامحمود قادیانی کے طرفدار ہیں۔ دوسری کمال پارٹی جو خواجہ کمال (لاہوری گروپ) کے زیراثر ہے۔
محمودی پارٹی برملا ختم نبوت کا انکار کر کے مرزاقادیانی کی نبوت ورسالت کا (نعوذ ب اللہ منہ) اعلان کرتی ہے اور تمام مسلمانان عالم کو جو مرزاقادیانی کو نہیں مانتے کافر کہہ کر اپنے نامۂ اعمال سیاہ کرتے ہیں اور کمال پارٹی (لاہوری گروپ) ایک گہری پالیسی کی بناء پر مرزاقادیانی کو مجدد ومحدث وغیرہ القاب سے یاد کرتے ہیں۔ نبوت ورسالت کا ناواقفوں کے بہکانے کے لئے انکار کرتی ہے۔ مسلمانوں کے کافر کہنے کا وظیفہ بھی جو ان کے خانہ ساز پیغمبر نے انہیں سکھلایا ہے بلند آواز سے نہیں پڑھتی۔
اس پالیسی کا یہ نتیجہ ضرور نکل رہا ہے کہ سادہ لوح مسلمان جس قدر جلد کمالی پارٹی کا شکار ہوتے ہیں محمودی پارٹی کے نہیں ہوتے۔ مگر واقف کار خوب سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں پارٹیان اصولاً متحد ہیں۔ مقصد دونوں کا مرزائیت کی تبلیغ اور تحصیل زر ہے۔ منزل مقصود دونوں کی ایک ہے راستہ بدلا ہوا ہے۔
المختصر چار پانچ ماہ ہوئے کہ خواجہ کمال کا مرکب اجلال رنگون پہنچا تاکہ ملک برما میں مرزائیت کی تخم ریزی کریں اور لندن میں تبلیغ اسلام کا دل آویز سبق سنا کر کوئی معقول رقم حاصل کریں۔ اس سے پہلے محض خط وکتابت پر تقریباً سولہ ہزار روپیہ انگریزی ترجمہ قرآن مجید کے لئے رنگون سے ان کو مل بھی چکا تھا۔ مگر مسلمانان رنگون مستحق صدہزار مرحبا ہیں۔ اﷲتعالیٰ ان کو جزائے خیر دے کہ خواجہ کے لیکچروں کو سن کر وہ چونک اٹھے اورانہوں نے خواجہ کا مرزائی ہونا اچھی طرح محسوس کر لیا اور بڑے زور کے ساتھ مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے۔
یہاں تک کہ لکھنؤ سے جناب مولانا مولوی محمد عبدالشکور صاحب مدیر النجم عم فیضہ کو رنگون تشریف لے جانے کی تکلیف دی۔ رنگون کارروائی زیر طبع ہے جس سے حسب ذیل امور روز روشن کی طرح واضح ہو جائیں گے۔
۱… خواجہ نے ہر چند اپنا مذہب چھپانا چاہا۔ مگر چھپ نہ سکا۔ سب کو معلوم ہوگیا کہ یہ شخص ختم نبوت کا منکر اور ایک جھوٹے اور بدکردار شخص کو نبی ورسول مانتا ہے اور محض مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر سمجھتا ہے۔
۲… مرزاغلام احمد قادیانی کا اصلی مذہب اور دلی مقصد کیا تھا اور مرزاقادیانی کے ماننے کا حقیقی نتیجہ اور ثمرہ کیا ہے۔
۳… مرزاقادیانی اور اس کے ماننے والوں کا خارج از اسلام ہونا ایسا صریح ہے کہ جو شخص اس میں شک کرے وہ تین حال سے خالی نہیں۔ (۱)یا وہ مرزاقادیانی کی تعلیمات کفریہ سے ناواقف ہے نہ اس نے مرزاقادیانی کی تصنیفات دیکھی ہیں نہ اس کے رد میں جو کتابیں علمائے دین نے لکھیں ان کو مطالعہ کیا ہے۔ (۲)یا وہ شریعت الٰہیہ کو لڑکوں کا کھیل سمجھتا ہے کہ جس کا جی چاہے جس بات کو مانے جس کا جی نہ چاہے نہ مانے۔ (۳)یا وہ ایسا جاہل ہے کہ اس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کس چیز سے آدمی مسلمان ہوتا ہے اور کس چیز سے کافر ہو جاتا ہے۔
۴… مرزائیوں کا ترجمہ قرآن مجید سرتاپا مرزائیت کی کفریات صریحہ سے بھرا ہوا ہے اور دین الٰہی کے بالکل خلاف ہے۔
لائق تہنیت ہے کہ:
۱… انہوں نے جناب مولانا مولوی محمد عبدالشکور صاحب مدیر النجم عم فیضہ کے مضامین عالیہ کو جو جمعیۃ علماء رنگون کی طرف سے نکلے۔ اردو، انگلش، چوسیا، گجراتی، برما وغیرہ متعدد زبانوں میں ترجمہ کراکر اور چھپوا کر خوب شائع کیا۔ انہیں کی اس سعی مشکور کانتیجہ ہے کہ صوبہ برما ایک بڑے مہلک فتنہ سے بچ گیا اور اب ان زریں واقعات کی روئیداد بھی اہل رنگون ہی چھپوا رہے ہیں۔
۲… رنگون میں ایک انجمن بنام دعوۃ الاسلام قائم کی اور اس کے دو شعبہ قرار دئیے۔
۱وّل… مسلمانوں میں دینی واقفیت پیدا کرنا شریعت الٰہیہ کے زبانی درس کو جو ایک مدت سے متروک ہو چکا ہے ازسرنو قائم کر کے مسلمانوں کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا۔
دوم… غیرمسلمین کو اسلام کی دعوت دینا۔ اسلام پر جو حملے اندرونی یا بیرونی ہورہے ہیں ان کا مہذب وتشفی بخش جواب دینا۔
یہ انجمن ان دونوں شعبوں کے مقاصد کے لئے علمائے اسلام ایدہم اﷲ تعالیٰ کی مفید تحریرات وتقریرات کی طالب ہے۔ مفید اور ضروری رسائل کی اشاعت بھی کرے گی اور
صوبہ برما میں دورہ کرنے کے لئے اچھی اور مصلح واعظین کا تقرر بھی عمل میں لائے گی۔ غالباً انجمن کے قواعد ومقاصد مرتب ہوچکے ہوں گے اور پہلے شعبہ کا کام بھی شروع ہوگیا ہوگا۔
اس انجمن کے لئے عارف معلم صاحب تاجر رنگون نے پچاس روپیہ ماہوار نقد مقرر کیا اور دو سو روپیہ ماہوار کرایہ کا مکان چھ ماہ کے لئے دیا اور حاجی یوسف صاحب وحاجی داؤد صاحب تاجر رنگون نے بھی بڑی عالی ہمتی کے ارادے ظاہر کئے ہیں۔ خدا پورا کرے اور قبول فرمائے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! اس انجمن کے ضروری حالات وقتاً فوقتاً صحیفہ ہذا میں شائع ہوتے رہیں گے۔
۳… عارف معلم صاحب نے مبلغ ایک ہزار روپیہ اشاعت کتب دینیہ کے لئے مطبع رحمانیہ بھیجا۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ اہل رنگون کی توفیق اور زیادہ کرے اور تمام مسلمانوں کو ایسی خدمات دینیہ کی توفیق دے اور ان کے دلوں کو اپنے دین پاک کے درد ومحبت سے معمور رکھے۔
مرزائی فتنہ روزبروز ترقی پر ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تھوڑی جماعت ہے اور چھوٹی جماعت کو جوش زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے جانی ومالی ہر طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔ سارے ہندوستان میں ان کے مبلغ پھرتے ہیں۔ افریقہ میں ان کے مبلغ ہیں۔ بصرہ میں ان کی کوشش ہورہی ہے۔ امریکہ میں ان کے مبلغ پہنچے ہوئے ہیں۔ جنوبی امریکہ میں محمودی پارٹی کے مبلغ بہت زور وشور سے کام کر رہے ہیں۔ شمالی امریکہ میں خواجہ کمال کا بھیجا ہوا مبلغ مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ وہاں کے مسلمانوں نے خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں چند سوالات بھیجے تھے جن کے جوابات میں یہاں سے ایک رسالہ لکھ کر بھیجا گیا ہے۔ کچھ رسائل قادیانی کے بھی منگوائے تھے وہ بھی بھیجے گئے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ ہمارے برادران اسلام بالکل غافل ہیں۔ کچھ توجہ نہیں فرماتے۔
دوباتوں کی بہت ضرورت ہے۔ ایک یہ ہے کہ کم سے کم دس بارہ مبلغ رکھے جائیں اور حسب مشورہ جابجا انہیں بھیجا جائے۔ دوسرے یہ کہ جو رسائل ردقادیانی میں اور ردآریہ اور عیسائیوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں اور بالخصوص وہ رسائل جو خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں
موجود ہیں وہ چھپوا کر برابر سارے ملکوں میں شائع ہوتے رہیں اور مختلف زبانوں میں ان کا ترجمہ کراکر شائع کیا جائے۔ بالخصوص انگریزی زبان میں اور فارسی میں اور گجراتی میں۔ چند کتابوں کے نام میں یہاں لکھتا ہوں جن کا چھپنا اور بالخصوص انگریزی زبان میں ترجمہ ہوکر خوب مشتہر ہونا بہت ضروری ہے۔ وہ رسالے یہ ہیں:
(۱)پیغام محمدی۔ (۲)دفع التلبیسات۔ (۳)ترانہ حجازی۔ (۴)آئینہ اسلام۔ (۵)مراۃ الیقین۔ (۶)مراسلات مذہبی۔
(۱)فیصلہ آسمانی ہرسہ حصہ۔ (۲)دوسری شہادت آسمانی۔ (۳)ہدیہ عثمانیہ۔ (۴)مسیح قادیان کی حالت کا بیان۔ (۵)آئینہ کمالات مرزا۔ (۶)چشمہ ہدایت۔ (۷)چشمۂ ہدایت کی صداقت۔ (۸)دعویٰ نبوت مرزا۔ (۹)صحیفہ رحمانیہ۔ (۱۰)عبرت خیز یعنی صحیفہ رحمانیہ۔ (۱۱)ختم النبوۃ فی الاسلام۔ (۱۲)رسالہ حیات مسیحm۔ (۱۳)النجم الثاقب ہرسہ حصہ۔ (۱۴)مرقع قادیانی۔
ایک رسالہ انگریزی میں ایک قابل شخص عربی انگریزی دان نے فیصلہ آسمانی کا حاصل بیان کیا ہے۔ اسے باربار چھپوا کر مشتہر کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً تمام انگریزی والوں کے پاس بھیجنا اب میں تمام اراکین انجمن دعوۃ الاسلام سے اور بالخصوص عارف معلم صاحب اور حاجی یوسف صاحب اور حاجی داؤد صاحب تاجران سے نہایت عجز انکساری کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ وقت حمایت اسلام کا ہے۔ یہ سب گروہ اسلام کے مٹانے میں بے حد کوشاں ہیں۔ خدا کے لئے آپ حضرات توجہ کیجئے اور اسلام کی مدد کیجئے۔ تمام ہندوستان میں بجز آپ کے یہاں تو کسی کو خیال نہیں ہے اور نہ اب تک کوئی انجمن اس قسم کی قائم ہوئی۔ جیسی کہ آپ حضرات کی توجہ سے ہوئی۔ یہاں بھی ہمارے حضرت قبلہ مدظلہ العالی چاہتے ہیں کہ ایک انجمن قائم ہو خواہ وہ آپ ہی کی انجمن کی ایک شاخ ہوتا کہ یہ سلسلہ یہاں بھی برابر قائم رہے۔
(الملتمس: محمد اسحاق خادم ابواحمد رحمانی)
مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمام برادران اسلام اور بالخصوص قدیم پیروان مرزا سے خیرخواہانہ عرض کیا جاتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا جھوٹا ہونا قرآن مجید کی ۲۱نصوص قطعیہ سے، چار حدیثوں سے اور توریت مقدس کے صریح بیان سے، ان کی فریب آمیز باتوں سے، ان کے اقراروں سے حدیبیہ والی پیشین گوئی کی صداقت بخاری شریف سے اور توہین انبیاء کی کرنا اور محبوبہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا باوجود تمام عمر کی امید واری کے اور احمد بیگ کے داماد کے سامنے مر جانے سے تو صرف جھوٹے ہی نہیں ہوتے بلکہ اپنے اقرار سے ہربد سے بدتر ٹھہرے اور خداوند قدوس کا جھوٹا اور بالیقین وعدہ خلاف ہونا مرزاقادیانی کے کہنے کے بموجب قرار پاتا ہے۔ (نعوذ باﷲ)
۱… تمام اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرتa کے بعد جو کوئی شخص دعویٰ نبوت یا دعویٰ وحی کرے وہ کافر ہے۔
(فتاویٰ عالمگیری ج۲ ص۲۶۳)
(بحرالرائق ج۵ ص۱۲۱)
(شرح فقہ الاکبری ملا علی قاری ص۲۰۲)
(شفاء ج۲ ص۱۷۲، طبع بیروت)
(الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ص۱۰۲، طبع ایچ۔ایم سعید)
۱… مرزاقادیانی نے دعویٰ نبوت اور وحی کا کیا۔ مرزاقادیانی نے ۱۸۸۰ء میں سب سے پہلے اپنے آپ کو مجدد ظاہر کیا۔
۱… ’’اور پھر جب تیرھویں صدی کا آخر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خداتعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور اﷲتعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ:’’الرحمن علم القرآن لتنذر قوماً ما انذر اباء ہم ولتستبین سبیل المجرمین قل انی امرت وانا اوّل المؤمنین‘‘یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اس کے صحیح معنی تیرے پر کھول دئیے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بدانجام سے ڈراوے کہ جو بباعث پشت درپشت کی غفلت اور نہ متنبہ کئے جانے کی غلطیوں میں پڑ گئے اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اوّل المؤمنین ہوں اور یہ الہام براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے جو ان ہی دنوں میں جس کو آج اٹھارہ سال کا عرصہ ہوا میں نے تالیف کر کے شائع کی تھی۔‘‘
(کتاب البریہ حاشیہ ص۱۶۸،۱۶۹، خزائن ج۱۳ ص۲۰۱،۲۰۲)
’’کتاب البریہ ۱۸۸۸ء کی تصنیف ہے۔ اس کے آٹھ برس قبل اپنا مجدد ہونا اور اس الہام کا شائع ہونا بیان کرتے ہیں۔ یعنی ۱۸۸۰ء میں۔‘‘
۲… بعد مجدد ہونے کے مرزاقادیانی نے اپنے کو مثیل مسیح ظاہر کیا۔ مرزاقادیانی قریب قریب سات برس مجدد بنے رہے۔ پھر مثیل مسیح ہوئے۔ اس کا ثبوت ذیل کی تحریر سے ہوتاہے۔
’’اے برادران دین وعلماء شرح متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج میرے منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خداتعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز
نہیں کیا ہے کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔‘‘
(ازالہ الاوہام حصہ اوّل ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)
۳… قول مرزا: ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں ہے کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہوگیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کا انتظار بے سود ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)
الحاصل ۱۸۸۷ء میں یا اس کے کچھ قبل مثیل مسیح بنے، ازالہ اوہام میں مرزاقادیانی صاف تحریر کر رہے ہیں کہ جو شخص مجھ کو مسیح موعود خیال کرے وہ کم فہم ہے اور مرزاقادیانی مسیح بن مریم بھی نہیں ہیں۔ اس سے بھی انکار کر رہے ہیں جو شخص مرزاقادیانی کو مسیح بن مریم کہے وہ مطابق فتویٰ مرزاقادیانی کے کذاب اور مفتری ہے۔
۱… قول مرزا: ’’۱۸۹۱ء میں بااطلاع الٰہی یہ اعلان دیا گیا کہ آنے والا مسیح تو ہی ہے۔ پھر کیا تھا کامل طور پر مامور من اللہ ہونے کا خلعت مل گیا اور وہ غرض اور غایت جو اس نور کی دنیا میں اترنے کی تھی ظاہر ہوگئی۔‘‘
(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء ص۹)
الہام مرزا:’’الحمد ﷲ الذی جعلک المسیح ابن مریم اس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۲، خزائن ج۲۲ ص۷۵)
۲… قول مرزا: ’’جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں باربار بتصریح لکھا گیا ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۱)
۳… ’’الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں اور میری نسبت کہاگیا ہے کہ ہم اس کو نشان دیں گے اور نیز کہاگیا کہ یہ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۸، خزائن ج۱۹ ص۵۲)
(مرزاقادیانی کا یہ فتویٰ تھا کہ جو کوئی شخص مجھے مسیح بن مریم کہے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ مگر پھر اپنے کو مسیح ابن مریم آپ ہی خود کہتے ہیں۔ مرزاقادیانی کے مسیح ابن مریم بننے کا ثبوت ملاحظہ ہو، تحریر کرتے ہیں) ’’پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس
تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص۴۹۶ میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص۵۵۶ میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)
’’جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۸، خزائن ج۱۹ ص۵۲)
۱… قول مرزا، الہام مرزا: ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولاً ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اسی رسول کے مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)
۲…’’یٰسین انک لمن المرسلین علٰی صراط مستقیم تنزیل العزیز الرحیم اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔ راہ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)
۳…’’انا ارسلنا احمد الٰی قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر ہم نے بھیجا احمد کو اس کی قوم کی طرف۔ پس انکار کیا ان لوگوں نے اور کہا جھوٹا ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳)
۴…’’فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الٰی قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اما ما وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولیناﷲتعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا اور کہا میں تجھے ایک مفسد قوم کی طرف بھیجنے والا ہوں اور بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور بلاشبہ تجھے اپنی خلافت میں سے معزز کیا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ لوگوں میں میری سنت جاری رہی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۷۹، خزائن ج۱۱ ص۷۹)
۵… ’’الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا
دشمن جہنمی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)
۶… ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)
۷… ’’خاکسار محدث ہے ’’المحدث نبی‘‘ یعنی محدث نبی ہوتا ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۹، خزائن ج۳ ص۶۰)
۸… ’’بہرحال جب تک کہ طاعون دنیامیں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)
۹… ’’خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)
۱۰…’’لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون مت ڈر، میرے قرب میں میرے رسول نہیں ڈرتے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۹۱، خزائن ج۲۲ ص۹۴)
۱۱… ’’مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘
(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)
نوٹ: یہ آیت قرآن مجید کی ہے۔ اس میں اﷲتعالیٰ اپنے رسول برحق حضرت محمد مصطفیa کی عظمت کو بیان فرماتا ہے کہ اﷲتعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے ملک عرب کے جہلاء اور ناشائستہ اور غیرمہذب قوم میں اپنا رسول نہایت شائستہ ہدایتوں اور حقانی مذہب اور کامل شریعت کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں اور نہایت مفید اور پختہ تعلیمات سے دنیا کے تمام دینوں پر اسے غالب اور فائق کر دے۔ یہ صفت کس رسول کی ہے۔ الفاظ قرآن نہایت صفائی سے بتارہے ہیں کہ وہ رسول اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے آچکا ہے۔ کیونکہ صیغہ ماضی کے ساتھ ارشاد ہے۔ ’’ارسل رسولہ‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ اس رسول کو بھیج چکا ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ وہ رسول وہی ہے جن پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی سید المرسلین حضرت محمد مصطفیa۔ الفاظ قرآنی سے تو صاف آنحضرتa مراد ہیں۔ مگر
مرزاقادیانی الفاظ قرآنی کے خلاف اور اجماع امت کے برعکس اس آیت کو اپنے لئے کہتے ہیں۔ یعنی رسول اﷲa کے لئے نہیں ہے بلکہ خاص میرے لئے ہے۔
۱۲… ’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امراور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: ’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم‘‘ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس(۲۳) برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)
۱۳… ’’اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں مخصوص کیاگیا اور وہ دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ ان میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)
۱۴… ’’میں خداتعالیٰ کی تیئس(۲۳) برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس خدا کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)
۱۵… ’’میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)
۱…’’قل انما انا بشر مثلکم یوحٰی الیّٰ انما الہکم الہ واحد‘‘ ان کو کہہ
دیں میں ایک انسان ہوں، میری طرف یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔
(حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۴،۸۵)
۲… ’’واتل علیہم مااوحی الیک من ربک اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی۔ وہ ان لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۴، خزائن ج۲۲ ص۷۸)
۱۶… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)
۱۷… ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)
۱۸… ’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدۂ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳)
۱۹… ’’خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے… مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)
۲۰… ’’اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیحm کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں۔ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خداتعالیٰ کی عنایت نے مجھے انجام دینے کو قوت دی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۳، خزائن ج۲۲ ص۱۵۷)
۲۱… ’’جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)
۲۲…’’واتانی مالم یوت احد من العالمین‘‘مجھے وہ دیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا۔
(الخاتمہ استفتاء ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵)
اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ مرزاقادیانی کو جو مرتبہ دیا گیا وہ سارے جہان میں کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس میں جناب رسول اﷲa بھی داخل ہیں۔
۲۳…’’لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا؟‘‘
(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)
یہ ان کا شعر اور ان ہی کا ترجمہ ہے۔ اس شعر میں رسول اﷲa کے معجزہ شق القمر کو چاند گہن بتلاتے ہیں۔ یہ مرزاقادیانی کی عقل کا تقاضا ہے کوئی ذی عقل تو چاند گہن کو معجزہ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ چاند گہن اور سورج ہمیشہ ہوا کرتے ہیں۔ گویا شق القمر کو مرزاقادیانی نے چاند گہن کہا۔ جس کا حاصل یہ ہوا کہ میرے لئے شق القمر اور شق الشمس دونوں ہوئے اور رسول اﷲa کے لئے صرف ایک یعنی شق القمر۔ مگر یہ محض غلط ہے۔ مرزاقادیانی کے دونوں کیا ایک بھی شق نہیں ہوا۔
۲۴… (خطبہ الہامیہ حاشیہ، خزائن ج۱۶ ص۳۱۲) میں مرزاقادیانی ایک عربی عبارت تحریر کرتے ہیں۔ جس کا شروع: ’’ان اللہ خلق اٰدم وجعلہ‘‘ سے ہے۔ جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اور اسے تمام انسانوں اور جنوں کا سردار حاکم بنایا۔ پھر ان کو شیطان نے بہکایا اور جنت سے نکالا اور حضرت آدمm کی حکومت شیطان کو ملی اور اس لڑائی میں آدمm کو ذلت اور رسوائی ہوئی۔ پھر اﷲتعالیٰ نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو پیدا کیا تاکہ
آخری زمانہ میں شیطان کو ہزیمت دے۔ یہ وعدہ خداوندی میں لکھا ہوا ہے۔‘‘
۲… تمام اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰm اب تک زندہ ہیں نہ مقتول ہوئے نہ مصلوب۔
۱…’’وقولہم انّا قتلنا المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اﷲ عزیزا حکیما (نساء:۱۵۷،۱۵۸)‘‘
۲… مرزاقادیانی حضرت عیسیٰm کو فوت شدہ سمجھتے ہیں اور مقول اور مصلوب ہونا کہتے ہیں۔
۱…
ابن مریم مرگیا حق کی قسم
داخل جنت ہوا وہ محترم
مارتا ہے اس کو فرقان سربسر
اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر
وہ نہیں باہر رہا اموات سے
ہو گیا ثابت یہ تیس آیات سے
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۶۴، خزائن ج۳ ص۵۱۳)
۲… ’’ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیحm اسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے۔ بلکہ قرآن کریم کے کئی مقامات میں مسیح کے فوت ہو جانے کا صریح ذکر ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۶، خزائن ج۳ ص۱۲۵)
۳… ’’از انجملہ ایک یہ اعتراض کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر قبول کر لیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی کے سمیت آسمان پر پہنچ گئے تو اس بات کے اقرار سے ہمیں چارہ نہیں کہ وہ جسم جیسا کہ تمام حیوانی وانسانی اجسام کے لئے ضروری ہے۔ آسمان پر بھی تاثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہوگا اور مرور زمانہ لا ابدی اور لازمی طور پر ایک دن ضرور اس کے لئے موت واجب
ہوگی۔ پس اس صورت میں اوّل تو مسیح کی نسبت یہ ماننا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پورا کر کے آسمان ہی میں فوت ہوگئے ہوں اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے۔ اسی کے کسی قبرستان میں دفن کئے گئے ہوں اور اگر پھر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا ان کا تسلیم کر لیں تو شک نہیں کہ اتنی مدت کے گزرنے پر پیر فرتوت ہوگئے ہوں گے اور اس کام کے لائق ہرگز نہ ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کر سکیں۔ پھر ایسی حالت میں ان کا دنیا میں تشریف لانا بجز ناحق کی تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش معلوم نہیں ہوتا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۹، خزائن ج۳ ص۱۲۷)
۴… ’’تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیحm نے صلیبی واقعہ سے نجات پاکر ضرور ہندوستان کا سفر کیا اور نیپال ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے۔ ان کو ہدایت کی اور آخر (۱۲۰) برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوز آسف نبی کے نام سے مشہور ہوگئے۔‘‘
(راز حقیقت ص۹ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۶۱)
۵… ’’حضرت مسیحm واقعہ صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زخم ان کو دکھلائے۔‘‘
(راز حقیقت ص۷،۸ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۵۹،۱۶۰ حاشیہ)
۳… ہم مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰm اولوالعزم نبی ہیں اور کامل اور پاک انسان ہیں۔ یہودنے جوان پر تہمتیں لگائی ہیں وہ ان سے پاک ہیں اور یہ تمام باتیں قرآن مجید سے ثابت ہوتی ہیں۔
۳… مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰm کی توہین کی۔
۱… ’’مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘
(توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)
’’یسوع کی تمام پیشین گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے اگر ایک پیش گوئی بھی اس پیس گوئیوں کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں۔ اس درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں، صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی۔ پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشین گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنالیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں۔ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی۔ اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے۔ یہ تو وہی بات ہوئی جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی، لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتلا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی رات میں خدا نظر آجائے گھا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک وظیفچی کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب نظر آگیا۔ سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں۔ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا۔ یہی آپ کا طریق تھا کہ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے استاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟ آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں۔ سو جیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا۔ اس جگہ بھی وہی کاروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو۔ حالانکہ
حضرت کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ یہودیوں کے لئے یہودی بادشاہ چاہئے نہ کہ مجوسی اسی بناء پر ہتھیار بھی خریدے۔ شہزادہ بھی کہلایا۔ مگر تقدیر نے یاوری نہ کی۔ متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔ ہاں! آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیںجو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوگئیں اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چورا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے گویا میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا۔ جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیر کی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اسی نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہرحال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اس وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔
ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہوگئے تھے… آپ کے عیسائیوں نے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں… ممکن ہے کہ آپ نے معمولی
تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیان اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں (کسبی عورتوں) سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری (کسبی عورت) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔ آپ وہی حضرت ہیں جنہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ابھی یہ تمام لوگ زندہ ہوں گے کہ میں پھر واپس آجاؤں گا۔ حالانکہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ انیس نسلیں اس کے بعد بھی انیس صدیوں میں مرچکیں۔ مگر آپ اب تک تشریف نہ لائے۔ خود وفات پاچکے۔ مگر اس جھوٹی پیشین گوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر باقی ہے۔‘‘
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۴تا۸، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸تا۲۹۲)
۳… تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کی توہین کرنے والا کافر اور شیطانی گروہ میں ہے۔
(فتاویٰ عالمگیری ج۲ ص۲۶۳)
(شفاء ج۲ ص۲۴۶)
(شفاء ج۲ ص۲۴۶)
(اشباہ والنظائر ص۱۰۲، طبع ایچ۔ایم سعید)
(طحطاوی ج۲ ص۴۸۱ حاشیہ)
(شباہ والنظائر ص۱۰۱، طبع ایم۔ایم سعید)
۴… تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰm سے معجزات صادر ہوئے۔ اللہ نے انہیں قدرت دی تھی کہ وہ مردہ کو زندہ کرتے تھے۔ کوڑھی اور مادرزاد اندھے کو اچھا کرتے تھے۔
۱…’’انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرًا باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتٰی باذن اللہ (آل عمران:۴۹)‘‘ دیکھا جائے کہ قرآن مجید نے تو اعلانیہ طور سے حضرت مسیحm کے عظیم الشان معجزوں کو بیان کیا ہے۔ مگر مرزاقادیانی آپ کے معجزات کے بالکل منکر ہیں۔ چنانچہ اس سے پیشتر ان کا قول بیان کیاگیا ہے اور صرف معجزات ہی کا انکار نہیں ہے بلکہ ان کو گالیاں بھی دی ہیں اور بدگمانیوں کا مخزن بتایا ہے۔ ان کے معجزات میں باتیں بھی بتائی ہیں۔
۴… مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰm کے تمام معجزات سے انکار کیا۔
۱… چنانچہ لکھتے ہیں: ’’کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں توپیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجّاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۳ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۴،۲۵۵)
دیکھا جائے کہ نہایت صاف طریقہ سے حضرت مسیح کا باپ قرار دے رہے ہیں۔
۲… ’’پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صنّاع ایسی چڑیاں بنالیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۴ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵)
۵… تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے مسلمان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں عام اس سے کہ وہ فاسق فاجر مسلمانوں کے کسی فرقہ کا ہو۔
(مشکوٰۃ برحاشیہ مرقات ج۱ ص۴۰۹)
۵… مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ غیراحمدی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔
۱… ’’اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جیسا خداتعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ وہی تمہارا امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۶۴)
۶… ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ تمام فرقہ اسلامیہ میں باہم مناکحت وازدواج جائز ہے۔
۶… مرزاقادیانی کا فتویٰ ہے کہ احمدی کو غیراحمدی سے مناکحت وازدواج جائز نہیں ہے۔
۱… گواہ نمبر۴ کے بیان سے ظاہر ہے۔
۷… تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ آنحضرتa کی امت افضل ترین امت ہے اور ثقہ ہے۔
۷… مرزاقادیانی تمام مسلمانوں کو بجز اپنے ماننے والوں کے کافر کہتے ہیں۔
۱… ’’ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔ اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے ہیں اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکرکو ہی کہتے ہیں۔ کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے… دوسرے یہ کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر کافر ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)
۲… ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)
۸… ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ خدا کے کلام قرآن کریم کے سوا اور کسی کا کلام معجزہ نہیں ہے۔
۸… مرزاقادیانی اپنے کلام کو معجزہ کہتے ہیں۔
ثبوت: اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی مرزاقادیانی کے اعجاز ہیں۔
۱… اعجاز المسیح: اس میں سورۂ فاتحہ کی تفسیر ہے۔ ’’رسالہ اعجاز المسیح جب فصیح عربی میں میں نے لکھا تو خداتعالیٰ سے الہام پاکر میں نے یہ اعلان شائع کیا کہ اس رسالہ کی نظیر اس فصاحت وبلاغت کے ساتھ کوئی مولوی پیش نہیں کر سکے گا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۷۹، خزائن ج۲۲ ص۳۹۳)
۲… اعجاز احمدی کے متعلق قول مرزا: ’’میرا حق ہے کہ جس قدر خارق عادت وقت میں یہ اردو عبارت اور قصیدہ تیار ہوگئے ہیں میں اسی وقت تک نظیر پیش کرنے کا ان لوگوں سے مطالبہ کروں۔ جو ان تحریرات کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں اور معجزہ قرار نہیں دیتے اور میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ اتنی مدت تک جو میں نے اردو مضمون اور قصیدہ پر خرچ کی ہے اسی قدر مضمون اردو جس میں میری ہر ایک بات کا جواب ہو کوئی بات رہ نہ جائے اور اسی قدر قصیدہ، جو اسی تعداد کے اشعار میں واقعات کے بیان پر مشتمل ہو اور فصیح وبلیغ ہو۔ اسی مدت مقررہ میں چھاپ کر شائع کر دیں تو میں ان کو دس ہزار روپیہ نقد دوں گا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۹۰، خزائن ج۱۹ ص۲۰۴)
۹… ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ اﷲتعالیٰ کے تمام وعدے ووعیدیں سچی ہوتی ہیں اور جس وعید میں وقت معین کردیا گیا ہے وہ اسی وقت پر پوری ہوتی ہے۔
۱…’’فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ ان اللہ عزیز ذوانتقام (ابراہیم:۴۷)‘‘اﷲتعالیٰ اپنے رسول سے یا عام مخاطبین سے ارشاد فرماتا ہے کہ تو ایسا خیال اور گمان ہرگز نہ کر کہ اﷲتعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں
کہ اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اﷲتعالیٰ کوئی وعدہ ووعید نہیں بدلتا۔ شاہ ولی اﷲv اس کا ترجمہ کرتے ہیں: ’’تغیر دادہ نمی شود وعدہ نزدیک من۔ ونیستم من ستم کنندہ بربندگان۔‘‘ اگر وعید وقت مقررہ پر پوری نہ ہوئی تو کلام الٰہی بدل گیا اور اس کلام الٰہی کے خلاف ہوا۔
۲…’’لا یخلف اللہ وعدہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون (روم:۶)‘‘{اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ہیں جاہل ہیں۔}
۳…’’لن یخلف اللہ وعدہ (حج:۴۷)‘‘{اﷲتعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔}
۴…’’ان اللہ لا یخلف المیعاد (آل عمران:۹، رعد:۳۱)‘‘{بلا شک اﷲتعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔}
۵…’’ویستعجلونک بالعذاب ولن یخلف اللہ وعدہ (حج:۴۷)‘‘ {(اے پیغمبر منکرین) تجھ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ (یہ یقین کر لیں کہ) اﷲتعالیٰ اپنے وعدہ کو خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔}
۶…’’ما یبدّل القول لدّی وما انا بظلّام للعبید (ن:۲۹)‘‘{اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ میری بات میں تغیر نہیں ہوسکتا اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔}
۹… مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کے تمام وعدے اور وعیدیں سچی نہیں ہوئیں۔
۱… قرآن اور توریت کی رو سے یہ امر بتواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی معیاد توبہ اور خوف سے ٹل سکتی ہے۔
(انجام آتھم ص۲۹ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹)
۲… تاریخ عذاب کا ٹل جانا تخلف وعدہ نہیں ہے بلکہ سنت اللہ ہے۔ (برق آسمانی)
۳… ’’وعید کی پیشین گوئی کے ٹل جانے کے بارے میں تمام نبی متفق ہیں۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۹، خزائن ج۱۱ ص۲۹)
۴… ’’یعید ولا یوفی‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض وقت اسے پورا نہیں کرتا۔ (یہ قول خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کا بہت مشہور ہے۔ ملاحظہ ہو ریویو بابت مئی، جون۱۹۰۸ء)
اس رسالہ میں شروع سے یہاں تک ۲۱آیتیں قرآن مجید کی اور ۴حدیثیں بیان ہوئی ہیں جن سے مرزاغلام احمد قادیانی کا قطعی جھوٹا ہونا ثابت ہوا۔ جس کو تردد ہو سامنے آکر سمجھ لے۔ بایں ہمہ ایسے یقینی کاذب کا ثبوت قرآن مجید میں بتایا جاتاہے اور کلام الٰہی میں یہودیانہ تحریف سے مسلمانوں کو فریب دیا جاتا ہے۔ اب میں صرف آخر کی پانچ آیتوں کا خلاصہ بیان کرتا ہوں تاکہ مرزاقادیانی کی کذابی ہرایک پر ایک خاص طریقے سے خوب روشن ہو جائے۔ قرآن مجید کی ان آیتوں میں خداتعالیٰ کی صفت وعدہ اور وعید کا بیان ہے۔ یعنی وہ قادر مطلق، صادق القول ہے۔ جس بندے کو کسی طرح بشارت دیتا ہے یا جس کو سزا کا حکم سناتا ہے وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ اس کا وعدہ اور وعید دونوں ضرور پورے ہوتے ہیں۔ اس کی کامل تحقیق فیصلہ آسمانی حصہ سوم طبع دوم کے ص۹۸ سے ۱۱۶ تک کی گئی ہے۔ لائق دید ہے۔ اس مطلب کو ان آیتوں میں مختلف طور سے متعدد تاکیدوں سے بیان فرمایا ہے۔ مثلاً آخر کی آیت میں نہایت زور کی تاکید سے اﷲتعالیٰ ہرایک بندے کو مخاطب کر کے یا خاص حضرت سرور انبیاءk کو ارشاد فرماتا ہے۔ اے بندے ایسا گمان اور خیال بھی ہرگز نہ کرنا کہ اﷲتعالیٰ کے متعدد اقوال نہایت وضاحت اور یقین سے ثابت کر رہے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کامل پختہ وعدہ کرتا ہے اور ایک بار نہیں متعدد مرتبہ اس وعدے کو یاد دلاتا ہے اور پھر بھی پورا نہیں کرتا۔ فریب دیتا جھوٹ بولتا ہے۔ (نعوذ باﷲ)
ناظرین کو یہ ملحدانہ قول دیکھ کر نہایت حیرت ہوگی اور احمدی حضرات تو جھوٹا ہی سمجھیں گے۔ مگر جلدی نہ فرمائیں آئندہ کا مضمون ملاحظہ کر لیں۔
یہ اقوال مرزاقادیانی نے منکوحہ آسمانی کی نسبت اشتہارات اور رسالوں میں مشتہر کرائے ہیں جن کے فیصلہ آسمانی حصہ اوّل مطبوعہ بار سوم ۱۹۱۷ء اور حصہ سوم میں یہ لفظ نقل کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔
پہلا قول: مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’ان دنوں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے باربار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خداتعالیٰ نے مقرر کر رکھاہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔‘‘
(خاکسار غلام احمد مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)
۱۹۰۸ء میں مرزاقادیانی کا انتقال ہے۔ اب خیال کیجئے کہ کتنے برسوں نکاح کا غل رہا ہے۔ اس قول میں خوب دیکھا جائے کہ کس زور سے وعدہ الٰہی بیان کیا ہے کہ وہ لڑکی خاص مرزاقادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اسے کوئی شرط وغیرہ روک نہیں سکتی۔ کیونکہ نہایت صاف طریقے سے تین جملے اس قول کے بتارہے ہیں کہ کوئی امر اس نکاح کو روک نہیں سکتا۔
پہلا جملہ: خداتعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے جو امر خدائے تعالیٰ کے علم میں مقرر ہوچکا ہے۔ اسے تقدیر مبرم کہتے ہیں اور تقدیر مبرم ہرگز نہیں ٹلتی۔
دوسرا جملہ: ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد اﷲتعالیٰ مرزاقادیانی کے نکاح میں اسے لائے گا۔
تیسرا جملہ: انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔
ان تینوں قولوں کے بعد کسی جاہل کو بھی تردد نہیں ہوسکتا کہ وہ عورت اگر مرزاقادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو اس وقت بھی مرزاقادیانی سچے رہ سکتے ہیں؟ بلکہ ہر ایک یہی کہے گا کہ بالیقین مرزاقادیانی نے خداتعالیٰ پر جھوٹ کا الزام لگایا اور اسے وعدہ خلاف ٹھہرایا اور وہ خود ملحد ثابت ہوئے۔ یہ لاجواب بات ہے کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ کیونکہ یہاں صاف طریقے سے بقول مرزاقادیانی، خداتعالیٰ کی وعدہ خلافی اور فریب دہی ثابت ہوئی۔ اس لئے کہ وہ عورت مرزاقادیانی کے نکاح میں نہ آئی۔ جس کے نکاح میں آنے کا اس نے حتمی وعدہ کیا تھا اور مقرر کر رکھا تھا اور مرزاقادیانی مرتے دم تک اس کے لئے تڑپتے رہے اور وہ دوسرے کے نکاح میں رہی اور مرزاقادیانی کلام الٰہی سے اور نیز اپنے الہامی اقرار سے یقینی جھوٹے ہوئے۔
دوسرا قول: مذکورہ اشتہار میں اسی عورت کی نسبت یہ فرماتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)
اس قول میں بھی دو باتیں ایسی بیان کی ہیں جن سے اس لڑکی کا مرزاقادیانی کے نکاح میں آنا یقینی اور قطعی ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ انجام کار اس لڑکی کا واپس لانا یعنی جس غیر شخص کے نکاح میں وہ لڑکی جاچکی ہے اس سے واپس آئے گی۔ یعنی اس کے نکاح میں نہ رہے گی۔ دوسرے یہ کہ میرے نکاح میں اس کا آنا خداتعالیٰ کی مقرر شدہ باتوں میں سے ہے اور خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ یعنی وہ لڑکی میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ شرط وغیرہ کوئی اسے روک نہیں سکتی۔ پہلے قول میں اس کی زیادہ شرح ہے۔ اب ناظرین غور فرمائیں کہ یہ دو قول ہیں مرزاقادیانی کے، جن میں نہایت قطعی طور سے پیشین گوئی کرتے ہیں کہ محمدی بیگم احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور غالباً بیس برس تک اس پیشین گوئی کا غل کرتے رہے۔ مگر پوری نہ ہوئی اور مرزاقادیانی اس تمنا میں مر کر قبر میں جا سورہے اور اس کی آرزو میں اس کذب کے جرم میں تڑپ رہے ہوں گے۔ (خدا کی پناہ) یہ دو قول مرزاقادیانی کے اس اشتہار میں ہیں جو ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کو گورداسپور سے شائع کیاگیا ہے۔ فیصلہ آسمانی کے ص۱۶تا۳۴ تک اس اشتہار میں سترہ جھوٹ دکھائے ہیں۔ ان جھوٹوں میں اکثر ان کی پیشین گوئیاں ہیں۔ اس لئے تین طریقوں سے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اوّل یہ کہ صرف ایک اشتہار میں انہوں نے سترہ جھوٹ بولے۔ اب غور کیا جائے کہ نبی کی شان تو بہت بڑی ہے۔ وہاں تو ایک دو جھوٹ سے نبوت باطل ہو جاتی ہے۔ کسی مجدد اور بزرگ کی بھی یہ شان نہیں ہوسکتی ہے کہ ایک دو ورق میں اس قدر جھوٹ بولے۔ جھوٹ ایسی بری چیز ہے کہ جناب رسول اﷲa نے فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو جھوٹ بولے وہ مسلمان نہیں۔ دوسرے طریقے سے ان کا جھوٹا ہونا اس طرح ثابت ہوا کہ مذکورہ دونوں قولوں میں ان کی پیشین گوئی جھوٹی ہوئی اور پورے اشتہار میں سولہ پیشین گوئیاں ان کی جھوٹی ہوئیں۔ یعنی ان کے بیان کے بموجب حتمی وعدہ الٰہی ہوا۔ مگر خداتعالیٰ نے وہ اپنا وعدہ پورا نہ کیا اور اس سے پیشتر قرآن شریف کی پانچ آیتیں نقل کی گئی ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے وعدے اور وعید دونوں ضرور پورے ہوتے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اس کا کوئی وعدہ یا وعید پوری نہ ہو۔ اگر ایسا ہو تو نبوت اور رسالت درہم برہم ہو جائے۔ اس میں خوب غور کرو۔ الغرض اس قول میں بھی مرزاقادیانی بموجب اپنے قول کے اور کلام الٰہی سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ تیسرے یہ کہ جس طرح وہ قرآن سے جھوٹے ٹھہرے
اسی طرح توریت مقدس نے بھی ان کے جھوٹے ہونے پر شہادت دی۔ ملاحظہ ہو۔
توریت کی پانچویں کتاب مقدس استثناء کے باب۱۸ آیت نمبر۲۰تا۲۲ میں یہ ارشاد ہے: ’’لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔ (یعنی توریت میں یہ سیاسی حکم ہے کہ جھوٹا نبی قتل کر دیا جائے) اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا واقع نہ ہوا تو وہ بات خداوند نے نہ کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔‘‘
اور نہایت ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنی منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی نسبت خدا کی طرف جانے کتنے مرتبہ بیان کیا ہے۔ مگر وہ نکاح میں نہ آئی یعنی جھوٹ بولا ہے اور وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی نے خداتعالیٰ پر افتراء کیا۔ الحاصل قرآن مجید اور توریت مقدس دونوں اس پر متفق ہیں کہ مرزائے قادیانی بالیقین جھوٹا ہے۔ یہاں تین طریقوں سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا گیا۔ جب ان دوقولوں نے مرزاقادیانی کے کذب کا کامل فیصلہ کر دیا تو اب زیادہ اقوال نقل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ مگر میں خوش طبع حضرات کو دکھانا چاہتا ہوں کہ مرزاقادیانی باوجود سن رسیدہ ہونے کے احمد بیگ کی دختر پر ایسے فریفتہ تھے کہ باربار اس کا ذکر کرتے تھے اور جابجا اس کے اشتہار میں انہیں مزہ ملتا تھا اور یہ بھی خیال ہوگا کہ باربار اعلان واشتہار کو حکم الٰہی بتاتا عوام کو ڈراتا اور توجہ دلاتا ہے۔ خواہ مخواہ انہیں خیال ہوگا کہ اگر مرزاقادیانی کو واقعی الہام الٰہی نہ ہوتا تو باربار اس کثرت سے اس کا ذکر نہ کرتے۔ یعنی اپنے عشق ضعیفی کے ساتھ عوام کی فریب دہی بھی تھی۔ مذکورہ اشتہار تو ۱۸۸۸ء کا تھا۔ ذیل کا اشتہار ۲۰؍مئی ۱۸۹۱ء کو حقانی پریس لدھیانہ میں چھپوایا ہے اور اس کا نام اشتہار نصرت دین رکھا ہے۔ اب اس نصرت دین کا مضمون ملاحظہ ہو۔
تیسرا قول: کہتے ہیں کہ: ’’احمد بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے یہ مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا
خداتعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔‘‘
(اشتہار نصرت دین وقطع تعلق، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۱۹)
ناظرین! یہ نصرت دین کے لئے اشتہار ہے اور بحکم الٰہی اشتہار دیاگیا ہے اور مضمون وہی معمولی مطلوبہ کے نکاح میں آنے کا ہے۔ مگر نہایت تاکید سے لکھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے یہی مقدر قرار پاچکا ہے کہ وہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔ چونکہ یہ اشتہار بحکم الٰہی دیا گیا ہے۔ اس لئے ضرور ہے اس کا مضمون بھی اسی کی طرف سے ہوگا۔ اس لئے حیرت یہ ہے کہ عالم الغیب ہونا اس کی صفت ہے۔ مگر اسے یہ علم نہیں ہے کہ کس حالت میں نکاح ہوگا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے۔ مگر الحمدﷲ! جو کچھ علم تھا وہ جہل مرکب تھا واقعی علم نہ تھا۔ کیونکہ کسی وقت وہ عورت مرزاقادیانی کے نکاح میں نہ آئی اور اشتہار نے مرزاقادیانی کو رسوا کیا اور مرزاقادیانی نے خدائے قدوس پر جہالت یا فریب دہی کا عیب لگایا۔ اسی وجہ سے اسلامی دردمند انہیں دہریہ فتنہ سمجھتے ہیں۔ مسیح کی تثلیث تو ہوگئی۔ یعنی مسیح قادیان کے تین جھوٹے الہام بیان ہوئے۔ اب چوتھا الہام اسی منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی نسبت قرآنی الفاظ میں ہواہے۔ جس سے شک وشبہ نہ مرزاقادیانی کا دور ہوا ہے۔ فرماتے ہیں۔
چوتھا قول: ’’۱۶؍اپریل ۱۸۹۱ء کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے۔ تب میں نے اس پیشین گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے معنی اور ہوں گے۔ (یہ مرزاقادیانی کا فریب ہے کہ میں اس کے معنی نہ سمجھ سکا۔ خیال کیا جائے کہ اس قدر تکرار اور ایسی صاف مادری زبان میں الہام ہوں اور پھر ان میں نہ سمجھنے کا احتمال ہوا۔ اگر انہی کو اپنی وحی کے معنی نہ سمجھنے کا احتمال ہو تو اس کی تمام وحی بیکار ہو جائے۔ کیونکہ ہر وحی پر احتمال ہو گا اور کوئی معنی اس کے یقینی نہ رہیں گے) جو میں سمجھ نہیں سکا تب مجھے اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ ’’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘‘یعنی یہ بات (اس کا نکاح میں آنا) تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۹۸، خزائن ج۳ ص۳۰۶)
خیال کرنے کا مقام ہے کہ اس پیشین گوئی کی صداقت پر یہ زور ہے کہ مختلف عنوانوں کے سوا خاص قرآنی الفاظ میں الہام اتار کر اس کے سچا ہونے کا یقین دلایا جاتا
ہے۔ مگر جب اس قادر مطلق کو ان کی کذابی کا اظہار منظور ہے تو مرزاقادیانی کی چالاکیاں کیا کام دے سکتی ہیں؟ یعنی وہ لڑکی مرزاقادیانی کی بغل میں نہ آئی۔ غرضیکہ یہ چوتھا قول بھی ان کا جھوٹا ہوا اور مرزائیوں کے خیال کے موافق چوتھی مرتبہ مرزاقادیانی نے خداتعالیٰ پر جھوٹ اور فریب کا الزام لگایا۔ کیونکہ وہ تو مرزاقادیانی کو اب تک سچا مان رہے ہیں۔ اس لئے بالضرور اس جھوٹے الہام کا الزام وہ خداتعالیٰ پر لگائیں گے۔
پانچواں قول: اسی پیشین گوئی کی نسبت نقل کرتا ہوں جو سب اقوال سے زیادہ مشرح اور اس لڑکی کے نکاح میں آنے کے لئے بہت زیادہ یقین دلانے والا ہے۔ وہ قول یہ ہے: ’’خدائے تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزااحمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵)
اس قول میں مرزاقادیانی نے مذکورہ پیشین گوئی کے ہر طرح سچے ہونے کے لئے چھ طریقوں سے یقین دلایا ہے جن کے بعد کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ وہ طریقے ملاحظہ ہوں۔
پہلا طریقہ: انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گا۔
دوسرا طریقہ: لوگ کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ اردو کے جاننے والے یقینی طور سے جانتے ہیں کہ لفظ انجام کار آخرکار وہیں بولتے ہیں جہاں ایک شئے میں متعدد باتیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں جو بات بالیقین سب کے آخر میں ہو اسی کو انجام کار یا آخرکار کہتے ہیں۔
تیسرا طریقہ: خدائے تعالیٰ ہر طرح سے تمہاری طرف لائے گا۔ یعنی باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے شرطی ہونے کی حالت میں یا بے شرطی کی حالت میں۔
چوتھا طریقہ: ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا۔ (اس میں شرط وغیرہ جو کچھ ہو سب آگیا۔ اب نکاح میں آنے کا کوئی مانع نہ رہا۔ شرط پوری ہو یا نہ ہو) اب اس کے بعد کے جملہ نے تو اور بھی غضب کیا۔ فرماتے ہیں:
پانچواں طریقہ: اور اس کام کو (یعنی مرزا کے اس نکاح کو) ضرور پورا کرے گا۔ جب مرزاقادیانی کا خدائے قدوس اس نکاح کے کرنے کو ضرور کہتا ہے تو اس کے ظہور میں نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ بجز اس کے کہ قادر نہیں ہے، عاجز ہے۔ (نعوذ باﷲ) ان پانچوں قولوں نے حقیقت الوحی کے اس جواب کو محض غلط ٹھہرا دیا جو اس لڑکی کے نکاح میں نہ آنے کی نسبت مرزاقادیانی نے دیا ہے۔ یہ خوب یاد رہے کہ یہ بھی مرزاقادیانی کا ایک وقتی فریب ہے۔
چھٹا طریقہ: ان کا یہ قول ہے، کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔ اس میں شرط وغیرہ بھی آگئی۔ اس یقین اور کمال وثوق واعتماد کے بعد بھی وہ پیشین گوئی ایسی جھوٹی ثابت ہوئی کہ دنیا نے دیکھ لیا اور مرزاقادیانی کے چھ جھوٹ قطعی اس ایک قول میں ہوئے اور بیس جھوٹ پہلے قولوں میں بیان ہوئے ہیں۔ کل چھبیس جھوٹ ہوئے۔ اب قادیانی پارٹی ان الزاموں کا کچھ جواب دے سکتی ہے۔ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے۔ مگر کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ جب مرزاقادیانی کی مخصوص پیشین گوئی جھوٹی ہوئی جس کا الہام ان کے دعویٰ مجدد ہونے یا نبی ہونے سے زیادہ پکا ہے تو بالیقین قرآن مجید سے اور توریت مقدس سے اور خود اپنے اقراروں سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ اب ایم۔اے صاحب اور خواجہ کمال کہیں کہ یہ جھوٹی پیشین گوئی ایسی ہی ہے جیسا کہ آنحضرتa حدیبیہ والی پیشین گوئی؟ تم کو شرم نہیں آتی کہ ایسے صریح کاذب کی باتوں کو آنحضرتa کی حقانی باتوں سے مشابہت دیتے ہو۔ یہ کون پاجی کہتا ہے کہ حدیبیہ والی پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ اس پیشین گوئی میں تعین وقت نہیں کی گئی تھی اور مرزاقادیانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حدیبیہ والی پیشین گوئی وقت انداز کردہ پوری نہیں ہوئی۔ محض غلط ہے۔ مگر لاہوری ایم۔اے جھوٹ بولنے میں اپنے مرشد سے بھی بڑھ گئے اور بالکل پورا نہ ہونے کے قائل ہوگئے۔ انہیں چاہئے کہ فیصلہ آسمانی حصہ دوم کا ص۲۳تا۳۱ تک دیکھیں۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ قادیانی پیر اور مرید دونوں جھوٹے ہیں۔ میں نے فیصلہ آسمانی کا حوالہ تو دے دیا مگر چونکہ اس رسالے میں کامل طور سے مرزاقادیانی کو جھوٹا ثابت کیا ہے اور دکھادیا ہے کہ وہ نہ مجدد ہیں نہ نبی ہیں نہ رسول ہیں۔ نہ رسولوں کی سی ان کی روش تھی۔ بلکہ وہ نہایت جھوٹے فریب دہندہ، کامل عیار تھے۔ اس لئے جو درحقیقت انہیں نبی مانتا ہے یا ظاہر میں انہیں الہامی مجدد کہتا ہے وہ آسمانی فیصلہ کو ہرگز نہیں
دیکھے گا۔ اس لئے میں اس کا خلاصہ بیان کرتا ہوں جس سے مرزاقادیانی کا اور ان کے جان نثار مرید کا جھوٹا ہونا ظاہر ہو جائے۔ وہ یہ ہے کہ جناب رسول اﷲa کی پیشین گوئی ایسی نہیں ہے جو پوری نہ ہوئی ہو۔ حدیبیہ والی پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے کسی وقت اور کسی طرح حضورa نے وقت کی تعین نہیں فرمائی۔ بلکہ صاف طور سے یہ فرمایا ہے کہ ہم نے پیشین گوئی کی ہے وہ پوری ہوگی۔ الحمدﷲ! وہ دوسرے ہی سال پوری ہوگئی۔ اس لئے قادیانی پیر اور مرید دونوں جھوٹے ہوئے۔ میاں ایم۔اے صاحب صرف ایک منکوحہ والی پیشین گوئی تو جھوٹی نہیں ہوئی۔ ان کی تو تمام صاف پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں۔ خصوصاً وہ جن پر تمام عمر زور لگاتے رہے اور خدا کا سچا وعدہ بتاتے رہے اور قسم کھاتے رہے اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنے آپ کو جھوٹا اور ہر ایک سے بدتر کہتے رہے۔ وہ پیشین گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ بلکہ خدائے تعالیٰ نے متعدد طریقوں سے انہیں ایسا جھوٹا ثابت کر دیا کہ ہر ایک ایماندار آنکھوں سے دیکھ کر ان کا جھوٹا ہونا معائنہ کر سکتا ہے۔ وہ پیشین گوئی ملاحظہ کیجئے۔ انجام آتھم میں فرماتے ہیں: ’’باربار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی… جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی کوئی اسے روک نہیں سکتا۔‘‘
(انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱)
یہ قول ان کا الہامی ہے اور اس کے الہامی ہونے کا وثوق اسی ایک قول میں کئی طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔
اوّل یہ کہ اس پیشین گوئی کے وقوع کو تقدیر کہتے ہیں۔ یعنی اس پیشین گوئی کا وقوع علم الٰہی میں قرار پاچکا ہے۔ اس لئے اس کا ظہور ضرور ہوگا۔ اس کا علم انبیاء کو دیا جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ میں باربار کہہ چکا ہوں کہ محاورہ اردو میں کم سے کم تین مرتبہ کہنے کو بولتے ہیں۔ اس لئے اس کے تقدیر مبرم ہونے کو تین مرتبہ بیان کرچکے ہیں۔ دوم کمال درجہ کا وثوق اور اعتماد اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی۔ دیکھا جائے کہ اس پیشین گوئی کی صداقت پر کس قدر پختہ یقین ہے کہ اس کے خلاف میں اپنے آپ کو نہایت صاف طور سے جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ یعنی اگر اس پیشین گوئی کی صداقت کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔ یعنی میں نے مہدی، اور مسیح اور مجدد اور نبی اور رسول ہونے کے دعوے کئے ہیں۔ سب غلط ہیں۔ مجھے جھوٹا یقین کرو۔
بھائیو! مرزاقادیانی اپنی زبان قلم سے تحریر فرمارہے ہیں اب اس کے بسروچشم ماننے میں کیا عذر ہوسکتا ہے؟ خدا کے لئے کوئی احمدی بیان کرے۔ سوم یعنی تیسرا طریقہ اعتماد کا یہ بیان کرتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے روبرو مرنا خدا کی طرف سے قرار پاچکا ہے اور جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اب خوب غوروانصاف سے دیکھا جائے کہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے پر مرزاقادیانی کو کس قدر وثوق ہے اور یہ کہتے ہیں کہ اس کا ظہور خدا کی طرف سے قرار پاچکا ہے۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اب اس پر نظر کی جائے کہ جب یہ پیشین گوئی اﷲتعالیٰ نے جھوٹی ثابت کر دی تو مرزاقادیانی کے تین جھوٹ اور خدا پر افتراء کرنا ثابت ہوا اور اگر کوئی مرزائی حضرات اس کو نہ مانیں تو اپنے خدا پر جہالت یا فریب دہی کا الزام دیں۔ یعنی خداتعالیٰ کو داماد احمد بیگ کے زندہ رہنے کا علم نہ تھا، یا اس نے مرزاقادیانی کو فریب دیا۔ (نعوذ ب اللہ من ہذہ الکفریات) اب یہ دیکھا جائے کہ جب اس پیشین گوئی کے ظہور کو کوئی روک نہیں سکتا۔ کیونکہ خدا کی طرف سے بالیقین قرار پاچکی ہے تو منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا بھی ایسا ہی ہے۔ شرط وغیرہ کوئی اسے روک نہیں سکتی۔ غرضیکہ مرزاقادیانی نے منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کے لئے جس طرح کے متعدد طریقوں سے اپنا وثوق نو(۹) بیان کیا ہے یہاں تک کہ آخر قول میں چھ طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ جن کا ذکر ابھی ہوا کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنے کا وثوق طریقوں سے مرزاقادیانی نے بیان کیا۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ شرط کے پورا کر دینے سے نکاح میں نہ آئی تو نو طریقوں سے یعنی مرزاقادیانی کے نوقولوں سے یہ قول (یعنی حقیقت الوحی والا جواب) جھوٹا قرار پائے گا اور جب یہ کہنا بھی جھوٹ ہے کہ اس لڑکی کی ماں یا نانی نے توبہ کی تھی تو یہ پورے دس جھوٹ مرزاقادیانی کے ہوئے۔ ان کی پوری تصدیق مرزائی حضرات کو مشکل ہے۔ مگر اس کی تصدیق میں تو ذرا بھی دشواری نہیں ہے۔ مرزاقادیانی خود فرماتے رہے ہیں کہ: ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی‘‘ اور خدا کے فضل سے وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور مرزاقادیانی کی کذابی کا اعلان واظہار اس قدر دنیا میں ہوا اور ہورہا ہے کہ بارہ برس مرزاقادیانی کو قبر میں سڑتے ہوئے ہوگئے اور احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے اور مرزائیوں کو اپنا چہرہ دکھا کر مرزاقادیانی کی کذابی دکھا رہا ہے۔ مگر سخت افسوس ہے کہ یہ حضرات عار کو نار پر ترجیح دے
رہے ہیں اور توبہ کرکے جہنم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پھر اس طرح کے قول صرف ایک ہی تو نہیں ہیں بلکہ بہت ہیں۔ ایک اور ملاحظہ کیجئے۔ اسی پیشین گوئی کی نسبت ضمیمہ انجام آتھم میں بڑے زور سے لکھتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدترٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں، کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقینا یہ سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)
ہر ایک نظر رکھنے والا اس قول کو دیکھے کہ مذکورہ پیشین گوئی کے ظہور پر کس قدر وثوق ہے اور اسے خداتعالیٰ کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ یعنی ’’یعد ولا یوفی‘‘ میں داخل نہیں ہے۔ بایں ہمہ وہ پیشین گوئی جھوٹی ہونے اور مرزاقادیانی کے نہایت پختہ قول سے خدائے قدوس پر وعدہ خلافی کا اور اس کے نہایت پختہ باتوں کے غیرمعتبر ہونے کا اور اپنے ارادہ میں عاجز ہونے کا الزام آیا اور بالیقین مرزاقادیانی کو اپنے اقرار سے جھوٹا اور ہربد سے بدتر یعنی بدترین خلائق ثابت ہوا۔ اے احمدی گروہ! آنکھیں کھول کر صداقت کو دیکھو اور ایسے اعلانیہ کذاب سے علیحدہ ہوکر اپنے آپ کو بچاؤ اور سچے خیرخواہوں کے بھائی بن جاؤ۔ ان اعتراضوں کا جواب کوئی مرزائی نہیں دے سکتا۔ ایک رسالہ ’’چیلنج محمدیہ‘‘ مشتہر ہوا ہے جس کو دو برس سے زیادہ ہوا اور قادیان میں خلیفہ صاحب وغیرہ کے پاس بھیجا گیا اور جابجا مولوی مرزائیوں کو بھیجا گیا۔ مگر کسی کی مجال نہیں ہوئی کہ اس کے مقابلہ میں دم مارے۔
حیرت ہے کہ خواجہ کمال کا گروہ اس پیشین گوئی کے پوری نہ ہونے سے کوئی الزام مرزاقادیانی پر عائد نہیں کرتا بلکہ ایک طرح کی مماثلت حضرت سرور انبیاءa سے بتاتا ہے کہ یہ پیشین گوئی ایسی ہی پوری نہ ہوئی جس طرح جناب رسول اﷲa کی حدیبیہ والی پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تھی۔ (معاذ اﷲ) حالانکہ محض غلط ہے۔ جناب رسول اﷲa کی کوئی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہوئی۔ اس کے بیان میں ایک خاص رسالہ لکھا گیا ہے اور مرزاقادیانی کی تو خاص پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں اور اس طرح جھوٹی ہوئیں کہ خدائے تعالیٰ پر متعدد الزامات ثابت ہوئے۔ جن کا بیان اوپر کیاگیا۔ ایسے کذاب کے ماننے والے اشاعت اسلام کریں گے۔ (استغفراﷲ)
میاں ایم اے صاحب لاہوری، آپ کے مرزابالفرض نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے مگر خدا پر الزام تو لگاتے ہیں۔ اپنے اقرار سے جھوٹے اور بدترین خلائق تو ہیں۔ خداتعالیٰ نے انہیں جھوٹا تو ثابت کردیا۔ پھر ایسے کذاب کو بزرگ مجدد ماننے والا سچے مسلمانوں میں مل سکتا ہے؟ اور ایسے جھوٹے اشاعت اسلام کر سکتے ہیں۔ البتہ بطور فریب اسلام کا نام لیا جاتا ہے۔ درحقیقت انجام میں مرزائیت کی گمراہی پھیلانی مدنظر ہے۔ جس کا بیان ہدیہ عثمانیہ وغیرہ میں کیاگیا ہے۔ اگر حدیبیہ والی پیشین گوئی کی پوری حالت معلوم کرنا ہے تو ملاحظہ کیجئے۔
۶؍ہجری میں جناب رسول اﷲa نے عمرہ کا ارادہ کیا۔ یہ وہ وقت ہے کہ ابھی مکہ معظمہ کفار مشرکین کے قبضے میں ہے۔ مگر وہ اپنے مذہبی خیال سے کسی حج اور عمرہ کرنے والے کو روکتے نہ تھے اور چار مہینوں میں یعنی شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور رجب میں لڑائی کو منع جانتے تھے۔ اسی وجہ سے آپa نے ماہ ذیقعدہ میں عمرہ کا ارادہ کیا اور تشریف لے چلے۔ آپa کے ہمراہ چودہ پندرہ سو صحابہ ہوئے۔ آپa حدیبیہ پہنچ کر یا روانگی سے قبل آپa نے خواب دیکھا کہ ہم مع تمام اصحاب کے بلاخوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور ارکان حج ادا کئے ہیں۔ یہ آپa کا خواب ہے کوئی الہامی پیش گوئی نہیں ہے۔ اس خواب میں کوئی قید اور کسی وقت کی تعیین نہ بطور اندازہ بیان کی گئی ہے۔ نہ حتمی طور پر کوئی بات کہی گئی ہے۔ یہ خواب آپa نے اصحابi سے بیان فرمایا۔ چونکہ حضور انورa اس سال عمرے کا ارادہ فرمارہے تھے اور انبیاءo کا خواب تو سچا ہوتا ہی ہے۔ اس لئے بعض اصحاب کرامi کو یہ یقین ہوا کہ اسی سال ہم بلاخوف وخطر مکہ معظمہ میں پہنچیں گے اور حج کریں گے۔ انہیں یہ خیال نہیں رہا کہ جناب رسول اﷲa نے وقت کی تعیین نہیں فرمائی۔ مگر مقام حدیبیہ میں جب آپa پہنچے تو کفار مانع ہوئے۔ اگرچہ شرائط کے ساتھ اس پر صلح ہوگئی۔ اس سال نہ جائیں آئندہ سال آکر عمرہ کریں۔ حضورa نے حدیبیہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا۔ حضرت عمرq نے عرض کیا کہ حضرت(a) آپ نے تو فرمایا تھا کہ ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے اور طواف کریں گے۔ یعنی آپ نے اپنا خواب بیان فرمایا تھا۔ حضور انورa نے فرمایا کہ ہاں! ہم نے کہا تو تھا مگر کیا یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے اور طواف کرو
گے۔ یعنی ہمارے خواب کا ظہور کسی وقت ہوگا۔ یہ روایت صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد میں ہے۔ خداتعالیٰ نے آئندہ سال میں اس کا ظہور دکھایا اور پھر ایک سال کے بعد فتح مکہ ہوئی اور نہایت کامل طور سے اس پیشین گوئی کی صداقت کا ظہور ہوا۔ غرضیکہ دو برس کے اندر وہ پیشین گوئی کامل طور سے پوری ہوگئی۔ یہاں یہ معلوم کر لینا بھی ضرور ہے کہ ۶؍ہجری میں جو حضور انورa نے عمرہ کا ارادہ کیا تھا۔ اس ارادہ کا باعث آپa کا خواب تھا یا صرف عمرہ کا شوق اور وہاں کے کفار کی حالت کا معلوم کرنا کامل تحقیق اس کی شہادت دیتی ہے کہ عمرہ کرنے کا خیال اس کا باعث ہوا۔ کیونکہ کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خواب کا دیکھنا اس سفر کا باعث ہوا۔ صحیح روایت تو یہی ہے کہ حدیبیہ پہنچ کر حضور انورa نے وہ خواب دیکھا تھا۔ اس کی صحت بہ لحاظ راوی کے اور باعتبار ناقلین کے ہر طرح ثابت ہوتی ہے۔ اس کے راوی مجاہدq ہیں جو حضرت عبد اللہ ابن عباسq کے شاگرد رشید اور نہایت ثقہ ہیں۔ اس روایت کو اکثر مفسرین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ تفسیر درمنثور میں اس روایت کو پانچ محدثین سے اس طرح نقل کیا ہے کہ: ’’عن مجاہد قال اریٰ رسول اﷲa وہو بالحدیبیۃ انہ یدخل مکۃ ہو واصحابہ اٰمنین‘‘
(درمنثور ج۶ ص۸۰)
’’مجاہدq کہتے ہیں کہ رسول اﷲa حدیبیہ میں تشریف فرما تھے کہ آپa نے خواب میں دیکھا کہ آپa اور آپa کے اصحابi بے خوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں۔‘‘
تفسیر جامع البیان طبری اور فتح الباری اور عمدۃ القاری اور ارشاد الساری میں بھی یہی ہے کہ حضور انورa نے حدبیہ میں یہ خواب دیکھا۔ غرضیکہ اس وقت نو کتابوں سے اس دعوے کا ثبوت دیاگیا، جس روایت میں یہ آیا ہے کہ مدینہ پاک میں حضور انورa نے یہ خواب دیکھا وہ روایت ضعیف ہے۔ علاوہ اس کے ضعیف ہونے کے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انورa کا وہ سفر اس خواب کی وجہ سے ہوا۔ برادران اسلام! اس کا یقین کر لیں کہ جو کچھ اس رسالہ میں مختصر طور سے لکھا گیا ہے وہ مرزاقادیانی کے کذب کے لئے نہایت کافی ہے۔ کوئی مرزائی احمدی اس کا جواب دے نہیں سکتا۔
اے بھائیو! خدا سے ڈرنے والو محض تمہاری خیرخواہی اور تم سے محبت دینی کی وجہ سے مسیح قادیان کی حالت کے بیان میں بہت سے رسالے لکھے گئے اور تمہاری خیرخواہی میں جان ومال دونوں کو صرف کیا گیا مگر افسوس ہے کہ تم کو توجہ نہیں ہوتی اور اپنی جان کو ہلاکت سے نہیں بچاتے۔ فیصلہ آسمانی دیکھو کہ کس کس خوبی سے قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے اور توریت مقدس کے صریح بیان سے احادیث صحیحہ سے اور ان کی خود زبان سے اور ان کے قطعی اقراروں سے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے۔ رسالہ چشمہ ہدایت اور چشمہ ہدایت کی صداقت اور چیلنج محمدیہ اپنی جانوں پر رحم کر کے ملاحظہ کرو اور اگر تم کو رسالے دیکھنا ناگوار ہیں تو میں ایک مختصر اعلان آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس میں مرزاقادیانی کے تین قول ہیں۔ کمال مہربانی کر کے انہیں ضرور ملاحظہ کیجئے۔ ان کے دیکھنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ خوب غور سے ملاحظہ کیجئے۔ کسی اور کا قول نہیں ہے۔ بلکہ آپ کے مقتداً مرزاقادیانی کا قول ہے۔
۲۲؍جنوری ۱۸۹۷ء میں فرماتے ہیں اور ۹؍مئی ۱۹۰۸ء میں ان کا انتقال ہے۔ غرضیکہ اپنی موت سے بارہ برس پہلے فرماتے ہیں: ’’پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خداتعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ ظہور میں نہ آئے۔ یعنی خداتعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے۔ جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کر لوں گا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۰تا۳۵، خزائن ج۱۱ ص۳۱۴تا۳۱۹)
اب اس قول میں مرزاقادیانی اپنی صداقت کے ثبوت میں تین باتیں پیش کرتے ہیں۔ یعنی میری سعی وکوشش سے یہ پانچ باتیں ظاہر ہوں گی۔ ایک سال کی میں نمایاں اثر ظاہر ہوگا۔ دوسری مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔ اس لئے میرے
ذریعہ سے جھوٹے دینوں کا ہلاک ہو جانا ظہور میں آئے گا۔ تیسرے اسلام کا بول بالا کرلوں گا۔ اب خدا کے لئے بہ نظر انصاف فرمائیے کہ مرزاقادیانی اس قول کے بعد بارہ برس تک زندہ رہے اور ان باتوں کا ظہور سات برس کے اندر فرماچکے تھے۔ سات برس تو درکنار بارہ برس تک ان کی زندگی میں بھی کسی ایک بات کا بھی ظہور نہ ہوا۔ ان بارہ برس کو بھی جانے دیجئے۔ تحریر کی تاریخ سے آج ۲۴برس سات مہینے ہوئے اس ۲۴،۲۵برس کے اندر بھی کسی بات کا ظہور نہ ہوا بلکہ دن بدن کفر وضلالت ہی کو ترقی ہورہی ہے۔ اب مرزائی حضرات اپنے مرشد کے قول کو غور سے ملاحظہ کریں کہ قسم کھا کر اپنے کو جھوٹا بنا رہے ہیں۔ پھر کیا آپ کو اپنے مرشد کی قسم پر بھی اعتبار نہیں ہے۔ کیا آپ کے نزدیک مجدد ونبی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں کہ جن کی قسم کا بھی اعتبار نہ ہو اور جھوٹے کہلائیں۔ ایسے جھوٹے کذاب کا وحی والہام آپ صحیح مانیں گے اور جھوٹے اور سچے کو ایک ساتھ سمجھیں گے۔ افسوس صد افسوس!
بھائیو! یہ باتیں تو بہت بڑی ہیں ان کو مرزاقادیانی ان کے خلیفہ وصاحبزادے تو کیا پورا کریں گے۔ اس کے بعد میں آپ کو مرزاقادیانی کا دوسرا قول دکھلانا چاہتا ہوں جو خاص اپنی معشوقہ منکوحہ آسمانی کے رقیب کی نسبت ہے۔ اگرچہ اس کے قبل بھی میں نے پیشین گوئی کے اس جملہ کو بیان کیا ہے۔ لیکن پھر بھی مزید توجہ کے لئے اس کو لکھتا ہوں علاوہ اس کے نہ پیش گوئی اس قابل ہے کہ اس کو مکررسہ کرر کثرت سے مسلمانوں کو دکھانا چاہئے۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی داماد احمد بیگ میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)
اس قول میں مرزاقادیانی زوروں کے ساتھ اپنی پیشین گوئی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر پوری نہ ہوئی تو میں ہربد سے بدتر ٹھہروں گا اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس کو خدا کا سچا وعدہ بھی کہا ہے۔ مسلمانو! ذرا غور کرو کہ داماد احمد بیگ نہ تو اڑھائی برس میں مرا اور نہ ان کے سامنے مرا۔ بلکہ اب تک زندہ ہے اور مرزاقادیانی کے ہر بد سے بدتر ہونے کا ثبوت علی الاعلان دے رہا ہے۔ حالانکہ اس کے مرنے کو مرزاقادیانی خدا کا سچا وعدہ بتا رہے ہیں۔
جس سے خود تو جھوٹے ہوئے ہیں لیکن اپنے ساتھ خدا کو بھی جھوٹا اور وعدہ خلاف بنایا۔ اس کی مزید تفصیل فیصلہ آسمانی حصہ دوم میں دیکھئے۔ اب اس کے بعد بھی مرزاقادیانی کو نبی ومسیح ومہدی تو کیا ایک سچا مسلمان ماننا بھی صریح گمراہی نہیں تو اور کیا ہے؟
اب ذرا تیسرا قول بھی مرزاقادیانی کا ملاحظہ کیجئے۔ جس میں اس پیش گوئی کے ساتھ ساتھ اپنے جھوٹے ہونے کی بھی وضاحت کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی مرزاقادیانی کے رقیب داماد احمد بیگ کے مرنے ہی کے متعلق ہے۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ پہلے دونوں قول ضمیمہ انجام آتھم کے تھے اور یہ خاص قول انجام آتھم کا ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
(حاشیہ انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱)
اس میں آپ لکھتے ہیں کہ داماد احمد بیگ کے مرنے کی پیش گوئی تقدیر مبرم ہے۔ یعنی لم یٹل ہے۔ کسی صورت سے اس کے خلاف ہو نہیں سکتا اور طرّہ یہ ہے کہ اس کو آپ لفظ مکرر باربار کے ساتھ اپنے مریدوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ داماد احمد بیگ ضرور مرے گا۔ پھر اس کے بعد والی عبارت سچائی سے کس قدر بھری ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اب اس میں یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ اس کا مرنا مرزاقادیانی کی زندگی ہی میں تقدیر مبرم ہے۔ اب اس دنیا کے رہنے والے عموماً اور مرزائی حضرات خصوصاً غور کریں اور دیکھیں کہ داماد احمد بیگ کے مرنے کی پیش گوئی ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء میں کی گئی تھی اور آج اگست ۱۹۲۱ء ہے جس کو ملانے سے عرصہ ۳۳برس کا ہوتا ہے اور اس کا نکاح ۱۸۹۲ء میں ہوا اور مرزاقادیانی اپنی حسرت وارمان کے ساتھ تشریف لے گئے ۱۹۰۸ء میں، تو اس حساب سے خود مرزاقادیانی کی زندگی میں وہ داماد احمد بیگ سولہ برس تک ان کی تقدیر مبرم اور خدائی وعدہ کا مقابلہ کرتا رہا۔ اب اہل حق خود فیصلہ کر لیں کہ جب داماد احمد بیگ اب تک زندہ ہے اور مرزاقادیانی اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے تو مرزاقادیانی جھوٹے ہوئے یا نہیں اور صرف جھوٹے نہیں بلکہ باربار جھوٹے ہیں اور عربی، فارسی، اردو اور تینوں میں جھوٹے ہوئے اور یہ مسلم ہے کہ ایسا جھوٹا شخص ہرگز نبی، مسیح، مہدی نہیں ہوسکتا۔ وما علینا الا البلاغ المبین!
ابومحمود محمد اسحق غفرلہ الرزاق
یکم؍ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جس میں مرزائیوں کے فریبوں کو ظاہر کر کے مسلمانوں کو ان سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے اور مرزائیوں نے جو اب ایک نیا فریب نکالا ہے کہ علماء کے سامنے پہیلیاں پیش کر دیتے ہیں۔ ان کے اس فریب کی اچھی طرح قلعی کھولی گئی ہے اور مثال میں چند پہیلیاں پیش کر کے دندان شک جواب دیاگیا ہے اور اس کے جواب میں مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کے دلائل اور ان کے اعلانیہ ۸۳جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔
ہمدردان اسلام! یہ خاکسار کچھ ضروری دینی بات آپ سے کہنا چاہتا ہے۔ آپ اسے غور سے ملاحظہ فرمائیں اور گروہ مرزائی قادیانی کو سمجھائیں۔ تمام اہل اسلام اس کو دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت اسلام نہایت ضعیف ہوگیا ہے اور باوجود اس کے کہ دنیا میں تیس چالیس کروڑ مسلمان شمار کئے جاتے ہیں۔ مگر اس تعداد کثیر کے بعد بھی کچھ نہیں کر سکتے اور نہ کچھ کرنے کا خیال ہے۔ ایسے نازک وقت میں مرزاقادیانی اٹھے اور تمام امت محمدیہ یعنی بہترین امت کے خلاف دعویٰ نبوت کر کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہہ دیا کہ بجز چند آدمیوں کے اس کا حاصل یہی ہوا کہ دنیا مسلمانوں سے خالی ہوگئی اور دین اسلام گویا مٹ گیا۔ مرزاقادیانی کی نبوت اور مسیحیت کا یہ نتیجہ ہوا۔ اب مرزاقادیانی اور ان کے خلیفہ اپنے مریدوں سے چندہ لے کر ایک نیا اسلام پھیلانا چاہتے ہیں۔ مگر طالبین حق اور ہمدردان اسلام جنہیں کچھ بھی علم ہے اور اسلام کا درد ہے وہ علمائے اسلام کے رسائل ملاحظہ کر چکے ہوں گے۔ جن میں مرزاغلام احمد قادیانی کا جھوٹا، کذاب ہونا قطعی طور سے ثابت کردیا گیا ہے۔ مگر مرزائی حضرات سے جب مقابلہ ہوتا ہے تو ابتداء سے ان کا یہی معمول رہا ہے کہ پہلے حیات وممات مسیحm پر گفتگو کرنے کو کہتے ہیں اور کبھی ختم نبوت پر بحث کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کرتے ہیں اور مرزاقادیانی کے صادق یا کاذب ہونے کی گفتگو سے بھاگتے ہیں۔ کیونکہ انہیں بھی مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کا یقین ہے۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ ان علمی بحثوں کو چھیڑ کر عوام کو پھنسادیا جائے۔ کیونکہ وہ علمی باتیں سمجھیں گے نہیں۔ اس طور سے مرزاقادیانی کے کذب اور ان کی اصلی حالت پر پردہ پڑا رہے گا۔ حالانکہ علمائے اسلام نے بڑے بڑے
(۱)الالہام الصحیح فی حیات المسیح۔ (۲)شمس الہدایۃ۔ (۳)سیف چشتیائی۔ (۴)الفتح الربانی۔ (۵)الحق الصریح فی حیات المسیح۔ (۶)البیان الصحیح فی حیات المسیح۔ (۷)شہادۃ القرآن حصہ اوّل۔ (۸)شہادۃ القرآن حصہ دوم۔ (۹)رسالہ مذاہب الاسلام۔ (۱۰)صحیفہ رحمانیہ نمبر۵۔ (۱۱)رسالہ النجم لکھنؤ جلد۱۰ نمبر۱۳۔ (۱۲)موازنۃ الحقائق۔ (۱۳)درۃ الدرانی علی رد القادیانی۔ (۱۴)السیف الاعظم۔ (۱۵)رسالہ حیات المسیح۔ یہ آٹھ جز کا رسالہ نہایت خوبی سے لکھاگیا ہے۔ ان شاء اﷲ! عنقریب چھپے گا۔ (۱۶)شفاء للناس۔ (۱۷)بیان للناس۔ (۱۸)فتح ربانی درمباحثہ قادیانی۔ (۱۹)تشہید المبانی لرد القادیانی۔
اب ناظرین اہل حق ملاحظہ کریں کہ حیات مسیحm کا مسئلہ ایسا مہتمم بالشان اور ضروری ہے کہ مرزائی سب سے اوّل اسی مسئلہ کو پیش کرتے ہیں اور اس میں بحث کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ الحمدﷲ! کہ میں نے اس مسئلہ کی تحقیق میں انیس رسالے پیش کئے جن سے معلوم ہوا کہ ہمارے علماء نے یہ انیس دلیلیں مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے میں بیان کی ہیں اور آج تک کوئی قادیانی جواب نہیں دے سکا۔
(۱)تردید نبوت قادیانی ۲۲۴صفحات کا رسالہ ہے۔ (۲)ختم نبوت۔ (۳)الخلافۃ فی خیرالامۃ۔ (۴)ختم النبوۃ فی الاسلام۔ یہ بڑا رسالہ ہے جس میں قرآن شریف کی دس آیتوں اور ۴۳صحیح حدیثوں سے ختم نبوت کو ثابت کیا ہے۔ عنقریب چھپنے والا ہے۔ (۵)صحیفہ رحمانیہ نمبر۵۔ (۶)صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۴۔ (۷)صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۵۔ (۸)صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۶۔ (۹)صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۷۔ (۱۰)صحیفہ رحمانیہ نمبر۲۱۔ (۱۱)صحیفہ رحمانیہ نمبر۲۔
ختم نبوت پر یہ گیارہ رسالے پیش کئے گئے۔
اب ظاہر ہے کہ یہ مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی یہ گیارہ دلیلیں ہوئیں۔ مگر جب یہ دیکھا جائے کہ بعض رسالے متعدد دلائل پر مشتمل ہیں۔ مثلاً ختم النبوۃ فی الاسلام میں اس مسئلہ کو قرآن شریف کی دس آیتوں اور تینتالیس حدیثوں سے اور اجماع امت سے ثابت کیا ہے۔ چونکہ ہر ایک آیت اور ہر ایک حدیث اور اجماع امت ثبوت مدّعا کے لئے ایک کامل دلیل ہے۔ اس لئے ایک رسالہ میں چون دلیلیں مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی بیان ہوئی ہیں۔ا س سے بالیقین ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی چونسٹھ دلیلوں سے جھوٹے ہیں۔ اب مذکورہ انیس دلیلوں کو بھی ملالیجئے تو ۸۴دلیلیں ہوئیں۔ اب میں تمام قادیانیوں سے کہتا ہوں وہ ان دلائل کو خوب یاد رکھیں اور آئندہ اور دلیلیں پیش کی جائیں گی۔ اب یہ کہنا ہے کہ باوجود ان رسالوں کے جن میں تراسی دلیلوں سے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیاگیا ہے پھر بھی باربار کہا جاتا ہے کہ ہم نے مان لیا کہ حضرت مسیحm مرگئے۔ مگر حضرت مسیحm کے مر جانے سے ایسا جھوٹا کذاب جس نے اعلانیہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں جھوٹ بولے ہوں اور انبیائے کرام کی توہین کی ہو اور اپنے پختہ اقراروں سے جھوٹا اور بدترین خلائق ثابت ہوگیا ہو۔ ایسا شخص مسیح موعود ہرگز نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح ختم نبوت کا حال ہے یعنی اگر فرض کر لیا جائے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی مگر نہایت ظاہر ہے کہ ایسا فریب دینے والا دہریہ جیسے مرزاقادیانی ہیں۔ کسی طرح نبی یا مجدد نہیں ہوسکتا۔ یہ دو فریب تو عرصہ سے مرزائی حضرات کے تھے مگر جب ان دو دعوؤں کے ثبوت میں لاجواب رسالے لکھے گئے تو اپنے دل میں عاجز ہوکر ایک نیا فریب نکالا کہ عرب کے چند اشعار اور کچھ عبارت عربی میں میرے پاس بھیجے ان میں پہیلیاں ہیں۔ پہلے دستور تھا کہ مجلسوں میں بطور مذاق یا بطور دوستانہ امتحان کے لئے اشعار بیان کئے جاتے تھے اور اسی طرح نثر عبارت بھی لکھی جاتی تھی اور کسی مجلس میں اپنے احباب کے سامنے پیش کر کے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا تھا۔ اکثر کم سن لڑکیاں اپنی سہیلیوں سے پوچھتی تھیں، اہل علم نے ایسے اشعاروں میں رسالے لکھے ہیں۔ مگر علمائے کاملین کی اس طرف توجہ نہیں دیکھی گئی۔ ناظرین کی طبیعت خوش کرنے کے لئے اور مرزائیوں کے فریب سے واقف ہونے کے لئے تین پہیلیاں عربی وفارسی واردو کی لکھتا ہوں۔ جن کا مطلب بجز ان کے جن کو پہیلیوں سے
واقف ہونے کا مذاق ہو خواہ وہ معمولی ہی پڑھے کیوں نہ ہوں۔ دوسرا نہیں بتا سکتا۔
عربی زبان میں پہیلی
رایت و کم فی الدہر من عجب
شیخا و جاریۃ فی جوف عصفور
فارسی زبان میں پہیلی
بہ تجنیس و بہ تقلیب و بہ تردیف
زروے یار خواہم ضد شرقی
اردو زبان میں پہیلی
اندھا بہرا گونگا بولے گونگا آپ کہاں
دیکھ سفیدی ہوت انگارا گونگے سے بھڑ جائے
بانس کا مندرواہ کا باسا باشی کا وہ کھا جا
سنگ ملی تو سر پر راکھیں واہ کور او راجا
سی سی کر نام بتایا تا میں بیٹھا ایک
الٹا سیدھا ہر پھر دیکھو وہی ایک کا ایک
بھید پہیلی میں کیسی کہی سن لے میرے لال
عربی، ہندی، فارسی تینوں کرو خیال
ناظرین! یہ عربی، فارسی، اردو کی پہیلیاں ہیں۔ اب مرزائی حضرات بتائیں کہ اس کا مطلب کیا ہے اور بخوبی ممکن ہے کہ کوئی معمولی لکھا پڑھا جسے پہیلیوں کے سمجھنے کا مذاق ہو اس کا مطلب بیان کر سکتا ہے۔ مگر اس سے کیا وہ شخص علمائے کاملین سے ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں اور اگر کوئی ذی علم ایسے اشعار کے مطلب سے واقف نہ ہو تو اس کے علم اور کمال میں ہرگز کوئی بٹہ نہیں آسکتا۔ مرزاقادیانی کا جھوٹا اور فریبی ہونا کوئی پہیلی نہیں ہے کہ جو ہر ایک اس سے واقف نہ ہوسکے۔ اس کا جھوٹا ہونا تو اظہر من الشمس ہے۔ اس واقف ہونے کے لئے علم کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی معمولی اردو خواں ہو یا کچھ نہ پڑھا ہو اور صرف اردو زبان جانتا ہو تو وہ مرزاقادیانی کے اقوال دیکھ کر یا سن کر بے تامل کہہ دے گا کہ مرزاقادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے اور ہربد سے بدتر ہیں۔ اس کے علاوہ مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کے ثبوت میں سینکڑوں رسالے ہمارے علماء نے ایسے لکھے ہیں۔ جن سے مرزاقادیانی کا کذاب اور دجال ہونا نصف النہار سے زیادہ روشن ہوگیا۔ اب ان کو جھوٹا جاننے کے لئے قابلیت اور علم کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے میں غیرضروری بات کی طرف توجہ کر کے اپنے اوقات کو خراب نہیں کرتا۔ البتہ اس کے علاوہ مجھے اپنی قابلیت کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ فقرہ!
مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار گوید
ہمارے ایک قابل برادر نے مرزاقادیانی کے اس معجزے کی خوب دھجیاں اڑائی
ہیں۔ جسے مرزاقادیانی نے عربی میں لکھ کر اپنی قابلیت ظاہر کی تھی اور اسے چند روزہ معجزہ کہا تھا اور اعجاز احمدی اس کا نام رکھا تھا۔ مولانا سید غنیمت حسین صاحب نے اس کا کیسا خاکہ اڑایا ہے اور اس کے قصیدہ اعجازیہ میں سینکڑوں ان کے جھوٹ اور سینکڑوں ان کی عربیت کی غلطیاں دکھائی ہیں۔ رسالہ ’’ابطال اعجاز‘‘ مرزاقادیانی اس کا نام رکھا ہے۔ دو حصوں میں وہ چھپا ہے۔ اس میں عربیت کی قابلیت دیکھو کہ مرزاقادیانی نے جس عربیت کا دعویٰ اعجاز کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کے مثل کوئی نہیں بنا سکتا۔ (اس میں درپردہ قرآن شریف کے اعجاز کا ابطال ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جس طرح خدا قرآن مجید میں اپنے کلام کے بینظیر ہونے کا دعویٰ کیا ہے اسی طرح ہم بھی اپنے کلام کے بینظیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی کوئی خصوصیت نہیں ہے) مگر ہمارے مولانا ممدوح نے صرف اس کے مثل ہی نہیں بنایا بلکہ اس سے بہت افضل بنا کر ان کے اعجاز کو پامال کر کے ان کو جھوٹا اور فریبی ثابت کر دیا۔ پھر ہمارے سامنے تھوڑی سی عربی عبارت پیش کر کے اپنی قابلیت دکھلانا چاہتا ہے اور عوام کو بہکاتا ہے۔ جب تیرے بڑے مرشد کو عربیت میں کامل درجہ پامال کر دیا تو تیری اور تیرے بھائیوں کی کیا ہستی ہے؟ مگر عوام کی خیرخواہی کے لئے مرزاہی کے رسالوں سے ان کا جھوٹا اور ہربد سے بدتر ہونا خواص وعوام پر ظاہر کرتا ہوں۔ ان کے رسالے اردو میں بھی ہیں اور فارسی میں بھی ہیں اور ٹوٹی پھوٹی عربی میں بھی ہیں اور مرزاقادیانی نے اپنی عربی کا ترجمہ فارسی اور اردو میں بھی کر دیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے رسالوں سے ان کے اقوال سے ان کے اقراروں سے ان کا جھوٹا ہونا ہم ثابت نہ کر سکیں۔ ہر ایک سمجھدار بے تامل کہہ دے گا کہ ضرور ثابت کر سکتے ہیں۔ مرزاقادیانی کا جھوٹ اور فریب ثابت کرنا اس پر موقوف نہیں ہے کہ عربی کا ادب بھی کمال طور پر جانتا ہو۔ عربی میں بہت سے علوم ہیں۔ منطق وفلسفہ وریاضی، وہیئت، وہندسہ وغیرہ اب ان علوم میں سے تو خلیفہ محمود یا ان کی جماعت کے دوسرے لوگ کوئی علم بھی نہیں جانتے۔ اگر دعویٰ ہو تو سامنے آئیں اور ہماری باتوں کا جواب دیں یا ہم کو اپنے یہاں بلائیں اور ایک جماعت کے سامنے مقابلہ ہو۔ مگر یہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ جب وہ ایسے جاہل ہیں تو اپنے باپ کی حقانیت کو کس طرح جانا بالخصوص اس وجہ سے کہ ہمارے علماء نے مرزاقادیانی کی کذابی پر بہت رسالے لکھے ہیں۔ چنانچہ انیس رسالے حیات مسیحm پر اور گیارہ رسالے ختم نبوت پر پہلے دکھائے گئے ہیں۔ یعنی مرزاقادیانی کی
کذابی پر تیس دلیلیں اجمالی پیش کی گئی ہیں۔ اب میں ان کے علاوہ چند دلیلیں پیش کرتا ہوں جو ان کے کذب کو بصراحت ظاہر کر رہی ہیں اور صرف کذب ہی نہیں ہے بلکہ ان کو بدترین خلائق ثابت کرتی ہیں۔ اگر حوصلہ ہے تو ان کا جواب دیں۔ مگر ہم پیشین گوئی کرتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کیا ان کی ساری جماعت جواب نہیں دے سکتی ہے۔ خلیفہ قادیان اپنی جماعت کی اگرچہ خوب حجامت کرتے ہیں اور ان سے روپیہ لوٹتے ہیں۔ مگر ہماری حقانیت اور سچی باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔ جس طرح چاہیں امتحان ہو جائے۔ مرزاقادیانی قطعاً اور یقینا بلاشبہ جھوٹے، فریبی، دہریہ ہیں۔ اس کے ثبوت میں سینکڑوں رسالے بنظر خیرخواہی لکھ کر اور چھپوا کر مشتہر کئے گئے ہیں۔ مگر ان کا دیکھنا بھی تو خلیفہ قادیان کو اور ان کے مددگاروں کو ناگوار ہے اور اپنے مریدین کو تاکید کر دی ہے کہ مخالفین کا کوئی رسالہ نہ دیکھیں۔ ورنہ ایمان جاتا رہے گا۔ یہ صاف روشن دلیل ہے کہ اگر ہمارے مریدین ان رسالوں کو دیکھ لیں گے تو مرزاقادیانی سے پھر جائیں گے اور انہیں جھوٹا یقین کریں گے۔ لیکن اس پر بھی میں چند دلیلیں نہایت مختصر اور بہت واضح لکھ کر پیش کرتا ہوں شاید اس میں ان کا بھلا ہو جائے۔
پہلی دلیل: مرزاقادیانی اپنے رسالہ (انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱) میں لکھتے ہیں: ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
اے بھائیو! ذرا اس پر غور کرو یہ مرزاقادیانی کا قول اردو زبان میں ہے جس کو ہندوستان میں ہر ذی علم اور جاہل سے جاہل بھی سمجھتا ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنے جھوٹے ہونے کا صریح اقرار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے یعنی میری پیشین گوئی پوری نہ ہو اور میں اس کے سامنے مر جاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔ اب پڑھے لکھوں اور جاہلوں نے جب یہ بات دیکھ لی اور اکثر نے یقینی طور سے اسے سن لیا کہ مرزاقادیانی داماد احمد بیگ کے سامنے مر گئے اور وہ داماد برسوں تک مرزاقادیانی کے بعد موجود رہا اور بہت لوگ بلکہ خود مرزائی اسے دیکھتے رہے تو کوئی ایماندار مرزاقادیانی کے اقراری جھوٹا ہونے میں تردد نہیں کر سکتا۔ اس کے سمجھنے میں کسی طرح کا علم درکار نہیں ہے۔ اس کا یقین خلیفہ قادیان صاحب کو ضرور ہے۔ مگر نفس پرستی اور دنیا کی کمائی اس کے اظہار کو
روکتی ہے اور مرزاقادیانی کے دہریہ پن کا اثر زیادہ انہیں مانع ہوتا ہے۔ ورنہ ایسے اعلانیہ اقرارات مرزاقادیانی کو جھوٹا جاننے کے لئے کسی طرح مانع نہیں ہوسکتے۔
دوسری دلیل: یہ دلیل بھی مرزاقادیانی کا اقرار ہے اور نہایت پختہ اور مستحکم اقرار ہے اور اردو زبان میں اقرار ہے۔ اس کے سمجھنے کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر ایک ذی علم اور جاہل اردو جاننے والا بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ ملاحظہ ہو، مرزاقادیانی اپنے رسالہ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸) میں لکھتے ہیں اور پہلے جملہ کو موٹے قلم سے لکھا ہے۔ ’’یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں، یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں، یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔‘‘
ناظرین! ملاحظہ کریں کہ مرزاقادیانی کا یہ قول نہایت صاف اردو زبان میں ہے جس میں صاف طور سے احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیشین گوئی کی ہے اور بڑے زور سے کہتے ہیں کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہربد سے بدتر ٹھہروں گا۔ یعنی بدترین خلائق ہوں گا۔ دنیا میں مجھ سے بدتر کوئی نہ ہوگا۔ اس دعویٰ کو چھ تاکیدوں سے مؤکد فرمایا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ ہر ایک اردو بولنے والا اور سمجھنے والا سمجھے گا کہ مرزاقادیانی نے احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیشین گوئی جس طرح پہلے کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ میرے سامنے نہ مرے اور میں اس کے سامنے مر جاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔ اب اس قول میں اس سے زیادہ ترقی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے بلکہ میں اس کے سامنے مر جاؤں تو صرف جھوٹا ہی نہیں ہوں گا بلکہ بدترین خلائق ہوں گا۔
اب مرزائی حضرات فرمائیں کہ اس صاف بیان کے سمجھنے کے لئے کون سے علم کی ضرورت ہے۔ جس کے لئے آپ نے چند اشعار یعنی چند پہیلیاں عربی کی لکھ کر بھیجی ہیں۔ (جن کی طرف کسی ذی علم اہل کمال کو توجہ نہیں ہوتی) اور جہلاء کے بہکانے کے لئے ہمارے علم کا امتحان لیا ہے اور لطف یہ ہے کہ مرزاقادیانی اس دعویٰ کو صرف تاکیدوں اور صفائی سے ہی بیان نہیں کرتے بلکہ باربار اسے کہتے ہیں اور توجہ دلاتے ہیں۔ چنانچہ انہیں چار صفحوں میں
یعنی ص۵۴ سے لے کر ص۵۷ تک تین چار جگہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کو بیان کیا ہے۔ یعنی ص۵۴ میں قول مذکور بیان کر کے ص۵۷ میں بیان کرتے ہیں۔ ’’اس کے بعد یوں ہوگا کہ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۷، خزائن ج۱۱ ص۳۴۱)
اس قول میں پہلے جز کی شرح مرزاقادیانی نے یوں کی کہ اس سے مراد مرزااحمد بیگ کی موت ہے اور دوسری جز کی شرح اس طرح کی کہ اس سے مراد احمد بیگ کا داماد۔ یعنی منکوحہ آسمانی کے شوہر کی موت ہے اور پہلے قول میں مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ لکھا گیا: ’’یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘
یہاں ناظرین خیال فرمائیں کہ ہر ایک اردو جاننے والا بخوبی سمجھ لے گا کہ دوسرے جز سے مرزاقادیانی کا مطلب بقول خود احمد بیگ کے داماد کی موت ہے اور وہ ہرگز پورا نہ ہوا۔ یعنی مرزاقادیانی دنیا سے تشریف لے گئے اور احمد بیگ کا داماد نہ مرا اور مرزاقادیانی کی پیشین گوئی نہ ہوئی اور بقول خود ہر ایک بد سے بدتر ٹھہرے۔ اس میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد پھر اس دعویٰ کی تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم سست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے چار سطر کے بعد پھر اس کی تاکید کی۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ اس پیشین گوئی کے سچے ہونے پر مرزاقادیانی کو کس قدر وثوق ہے کہ باربار متعدد مقامات میں مختلف طور پر اس دعوے کو پیش کر کے اس کا یقین دلاتے ہیں۔ تاکیدوں کی بوچھاڑ لگادی ہے۔ مگر بایں ہمہ اﷲتعالیٰ نے مرزاقادیانی کی سچی حالت کو ظاہر کر دیا اور ان کا جھوٹا ہونا دنیا کو دکھا دیا اور ایسا صاف وصریح طور سے کہ کسی عام وخاص بلکہ جاہل سے جاہل پر بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ جس ملک میں مرزاقادیانی پیدا ہوئے اس ملک کی جو زبان ہے اس کے جاننے والے جب مرزاقادیانی کی موت کی حالت معلوم کریں گے اور اس پیشین گوئی کا انہیں علم ہوگا تومرزاقادیانی کو ضرور جھوٹا کہیں گے۔ اس میں کسی علم کا دخل نہیں ہے۔ مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ہر بے علم پر بھی ظاہر ہو جائے گا اور جو اس قول کو معلوم کر کے ان کی موت کو معلوم کر چکے ہیں انہیں ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوگیا ہے۔ اب خلیفہ صاحب اور ان کے خاص پیرو اعلانیہ کذب کی دلیلیں دیکھ کر کچھ توجہ نہیں کرتے اور مخلوق کو گمراہ کرنے میں کوشش کر رہے ہیں۔
اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے تمام مرید انہیں چندہ دیتے ہیں۔ یعنی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ پیش کرتے ہیں۔ جو مرزاقادیانی اپنی اولاد کے لئے مقرر کراگئے تھے اور بڑے لطف اور مزے سے ان کی دنیا گزرتی ہے اور پیٹ بھرتا ہے اور آخرت تو ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں ہے اور نہ اس کی پرواہ ہے۔ اگرچہ وہ زبان سے اقرار نہ کریں مگر مرزاقادیانی اپنے پختہ اقراروں سے نہایت صاف طور سے جھوٹے اور ہربد سے بدتر ہورہے ہیں۔ مگر ان کے ماننے والے انہیں جھوٹا نہیں مانتے۔ اس کے سمجھنے میں اور ان کو جھوٹا جاننے میں کسی علم یا کسی دقیق فہمی کی ضرورت نہیں ہے۔ اب انہوں نے ہمارے امتحان کے لئے چیستان اشعار لکھ کر بھیجے ہیں تو اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ہم نے جو مرزاقادیانی پر اعتراضات کئے ہیں ان کے جواب سے عاجز ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا کہ رسالہ چیلنج محمدیہ لکھ کر ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ محمود کے پاس بھیجا گیا۔ مگر آج تک کوئی جواب وہاں سے نہیں آیا۔ یہ رسالہ ۱۳۳۹ھ میں چھپا ہے۔ یہی رسالہ مکرر مع کچھ اضافہ کے ۱۳۴۰ھ میں چھپا ہے اور ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ محمود کو پھر دوبارہ رجسٹرڈ شدہ بھیجا گیا ہے۔ مگر سوادم بخود رہنے کے جواب نہیں آیا۔ مگر اپنے برادروں کے بہکنے کا خیال ہوا۔ اس لئے ایک فضول بات پوچھتے ہیں تاکہ اپنے برادروں سے کہہ دیں کہ ہماری بات کا جواب نہیں دیا اور اس سے ظاہر ہوگیا کہ مولوی صاحب بالکل جاہل اور ناسمجھ ہیں۔ ہمارے حضرت مرزاقادیانی کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔ اب ہم ان کے برادروں سے خیرخواہانہ کہتے ہیں کہ خدا سے ڈرو۔ ایک دن مرنا ہے اور قیامت میں اﷲتعالیٰ کو منہ دکھانا ہے۔ ہماری تحریر کو ملاحظہ کرو اور ایسے اعلانیہ جھوٹے اور کذاب سے علیحدہ ہو۔ ہم ان کے مہملات کی طرف کچھ توجہ نہ کریں گے۔ مسلمانوں کی خیرخواہی کی غرض سے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا نہایت کامل طور سے ثابت کیا ہے اور کرتے رہیں گے اور یہ یقینی بات ہے کہ خلیفہ صاحب اور ان کے پیرو جھوٹ اور فریب ظاہر کرتے رہیں گے اور قیامت میں اپنے ساتھ اپنے پیروؤں کو لے کر جہنم میں جائیں گے۔
مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی دو دلیلیں ختم ہوئیں۔ یہ کوئی عقلی اور نقلی دلیلیں نہیں ہیں جن کے سمجھنے میں قادیانی جاہلوں کو تأمل ہو بلکہ نہایت ظاہر اور کھلے طور پر مرزاقادیانی نے اپنے جھوٹے اور ہربد سے بدتر ہونے کا اردو زبان میں اقرار کیا ہے۔ اب تیسری دلیل ملاحظہ کیجئے اور مرزاقادیانی کے وہ اقوال دیکھئے جن میں انہوں نے اپنی نبوت
کی خاک اڑائی ہے اور اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کیا ہے۔
تیسری دلیل: جو پانچ دلیلوں پر مشتمل ہے یعنی ان کے پانچ قول نقل کئے جاتے ہیں اور ہر قول انہیں اور ان کے خلیفہ اور ان کے تمام مریدوں کو جھوٹا اور کذاب ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ (انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷ حاشیہ) میں مرزاقادیانی فرماتے ہیں:
پہلا قول: ’’کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت: ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرتa کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔‘‘
ناظرین اس قول کو اچھی طرح ملاحظہ کریں کہ مرزاقادیانی اس قول میں دعویٰ نبوت ورسالت سے قطعی طور سے انکار کرتے ہیں اور تین جگہ لفظ نبوت ورسالت دونوں لائے ہیں اور آخر قول میں نہایت صاف طور سے ظاہر کر دیا ہے کہ نبوت اور رسالت دو چیزیں ہیں۔ کیونکہ لکھتے ہیں: ’’حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت ورسالت دو چیزیں ہیں۔ اس کے دو ہونے کا یہی مطلب ہوسکتا ہے کہ تشریعی وغیرتشریعی۔ اب ظاہر ہے کہ دعویٰ نبوت کے یہ معنی ہیں کہ نبوت غیرتشریعی کا مدعی ہے اور دعوائے رسالت کا یہ مطلب ہے کہ نبوت تشریعی کا مدعی ہے۔ اب مرزاقادیانی کے قول کا حاصل یہ ہوا کہ میں صاحب شریعت یا غیرشریعت کسی طرح کی نبوت کا مدعی نہیں ہوں۔ جب اس قول سے نہایت صفائی سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مرزاقادیانی ہر قسم کی نبوت سے انکار کرتے ہیں تو اس کے بعد پانچ قول ان کے اور نقل کئے جاتے ہیں۔ ان کے معنی بھی بالضرور یہی ہوں گے یعنی ہر قسم کی نبوت سے انہیں انکار ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے قصیدہ نعتیہ میں جناب رسول اﷲa کی مدح لکھتے ہیں۔
دوسرا قول: مصرعہ ’’ہر نبوت را بروشد اختتام‘‘
(سراج منیر خط وکتابت ص ح، خزائن ج۱۲ ص۹۵)
یعنی ہر قسم کی نبوت تشریعی وغیرتشریعی کا آنحضرتa پر خاتمہ ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی نے نہایت صفائی سے اپنے آپ کو اور اپنے خلیفہ کو اور تمام مریدوں کو منکر قرآن اور کافر قرار دیا ہے اور یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ قرآن شریف میں لفظ خاتم النّبیین
ہے۔ اس کے معنی یقینی طور سے آخر النّبیین کے ہیں اور مصدق اور مہر وغیرہ کے معنی جواب قادیانی بنارہے ہیں ان معنی کو مرزاقادیانی کفر ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ اس معنی کو ایسا یقینی کہتے ہیں کہ اس کامنکر کافر ہے۔ قول مذکور کے پانچ سطر کے بعد فرماتے ہیں:
تیسرا قول: ’’اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبیa خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷، حاشیہ)
اس قول کے الفاظ بھی نہایت ظاہر طور سے بتا رہے ہیں کہ مرزاقادیانی کو ہر قسم کی نبوت سے انکار ہے۔
چوتھا قول: اسی طرح مرزاقادیانی رسالہ (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷) میں لکھتے ہیں: ’’ماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘یعنی یہ مجھ سے کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے جا ملوں۔
پانچواں قول: دیکھو (آسمانی فیصلہ ص۴، خزائن ج۴ ص۳۱۳) میں مرزاغلام احمد قادیانی تحریر کرتے ہیں: ’’میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘ دیکھئے اس قول میں بھی کس صفائی سے عام نبوت سے انکار کیا ہے۔
چھٹا قول: (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱) میں تحریر کرتے ہیں: ’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہویا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔‘‘ جب حضرت جبرائیل کا آنا بہ پیرایہ وحی مسدود ہے تو کسی قسم کی نبوت نہیں ہوسکتی۔ یہ چھ قول ان کے جھوٹے ہونے کی چھ دلیلیں ہوئیں۔ جن کو اقراری ڈگری کہنا چاہئے۔
اب دیکھا جائے کہ ان چھ قولوں میں کس صفائی اور کس زور وشور سے مرزاقادیانی نے ختم نبوت کا اقرار کیا ہے اور منکر ختم نبوت کو منکر قرآن اور کافر ٹھہرایا ہے۔ یہ قول مرزاقادیانی کا ایسا سچا اور صحیح ہے کہ گزشتہ تیرہ سو برس کے عرصہ میں جو علمائے کاملین اور بزرگان دین نے فرمایا ہے اور اپنی کتابوں میں لکھا ہے اس کے بالکل مطابق ہے۔ چنانچہ صاحب الیواقیت والجواہر لکھتے ہیں:’’اعلم ان الحق تعالٰی ختم ظہور الانبیاء
بانقطاع النبوۃ والرسالۃ بعد موت محمدa‘‘
(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۲)
صاحب الیواقیت والجواہر فرماتے ہیں کہ: ’’اس کو اچھی طرح معلوم کر لو کہ اﷲتعالیٰ نے جناب رسول اﷲa کے بعد نبوت کو بند کر دیا اور انبیاء کے ظہور کو روک دیا۔ یعنی جناب رسول اﷲa کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہ ملے گا۔‘‘
پھر لکھتے ہیں: ’’اعلم ان اللہ تعالٰی قد سد باب لرسالۃ علی کل مخلوق بعد محمدa‘‘
(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۲)
اﷲتعالیٰ نے محمد رسول اﷲa کے بعد رسالت کا دروازہ تمام مخلوق کے لئے بند کر دیا۔
(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۷، بحث۳۵) میں ہے: ’’اعلم ان الاجماع قد انعقد علی انہa خاتم المرسلین کما انہ خاتم النّبیین‘‘
پھر لکھتے ہیں:’’فنحن نقطع بتحریم خرق اجماع الامۃ سواء علمنا لہم دلیلا فی ذلک ام لم نعلم‘‘
یقینی طور سے معلوم کر لو کہ اس پر امت محمدیہ کا اتفاق ہوچکا ہے کہ رسول اﷲa خاتم المرسلین اور خاتم النّبیین ہیں۔ یعنی نبوت تشریعی اور غیرتشریعی دونوں آپa پر ختم ہوچکی ہیں۔ اب نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی آئے گا۔ اس پر امت محمدیہ کا اتفاق ہوچکا ہے اور ہم یقینی طور سے اجماع امت محمدیہ کے خلاف کرنے کو حرام جانتے ہیں۔ ہمیں اس کی دلیل معلوم ہو یا نہ ہو۔
بغرض اختصار میں نے امت محمدیہ کے دو بزرگوں کے… اقوال نقل کئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ ختم نبوت پر تمام کاملین امت محمدیہa کا اتفاق ہے۔ مرزاقادیانی کے مذکورہ چھ اقوال ان بزرگوں کے قول کے بالکل مطابق ہیں اور یہی چھ اقوال مرزامحمود کو اور ان کی تمام جماعت کو قطعی کافر اور منکر قرآن مجید ٹھہراتے ہیں۔ اب نہایت افسوس ہے کہ مرزاقادیانی ان سچے اقوال کے بعد زوروشور سے دعویٰ نبوت کرتے ہیں اور اپنے سچے اقراروں سے جھوٹے اور کافر بنتے ہیں اور تعجب یہ ہے کہ جماعت مرزائی کے ان سچے چھ قولوں کو جو تمام کاملین امت محمدیہ کے اقوال کے مطابق ہیں ان کو ردی بنا کران اقوال کو جن سے وہ بقول مرزاقادیانی اور بقول کاملین امت محمدیہ جھوٹے اور کافر ٹھہریں، صحیح مانتے ہیں اور ان پر زور دیتے ہیں۔ اب بعض وہ اقوال بھی ملاحظہ ہوں جن سے مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت اور تمام انبیاء پر افضلیت اظہر من الشمس ہورہا ہے۔
پہلا قول: مرزاقادیانی (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) میں لکھتے ہیں: ’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت محمدیہ میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ بس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا۔‘‘
محض جھوٹ ہے کوئی دلیل اس پر نہیں بیان کی گئی اور نہ بیان ہوسکتی ہے۔ اس قول میں مرزاقادیانی اپنے آپ کو حضرت صدیق اکبرq اور حضرت عمر فاروقq بلکہ خلفائے اربعہ اور تمام صحابہ کرامi اور آل عظارمi پر فضیلت دیتے ہیں جنہوں نے دنیا میں اسلام کو پھیلایا اور مرزاقادیانی نے تو بجز اس کے کچھ نہ کیا کہ تمام دنیا میں کفر کو پھیلا دیا۔ کیونکہ چالیس کروڑ مسلمان جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔ سب کو کافر بنادیا اور دنیا میں ایک اسلامی حکومت تھی وہ بھی اس کی نحوست قدم سے جاتی رہی اور وہاں بھی غلبہ کفار ہوگیا اور اب ان کے صاحبزادے تثلیث پرستون پر اپنی جان ومال نثار کرنے کو کہتے ہیں اور اپنے باپ کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ ان کے مرزاقادیانی بڑے زوروشور سے دعویٰ کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا مقولہ ہے کہ: ’’میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور اسی لئے کہ بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرتa کی جلالت شان کو ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میںوہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہو اور مرگیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(اخبار البدر ج۲ نمبر۲۹ ص۴، مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء)
یہ مضمون تو اخبار البدر میں ہیں اور اس کی تائید اجمالی طور سے اس اعلان کے حاشیہ سے ہوتی ہے جو حقیقت الوحی سے پہلے ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے۔
’’میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس دنیا سے اٹھایا نہ جاؤں گا۔ کیونکہ خداتعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رک نہیں سکتا۔‘‘
(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۱۶،۱۷، خزائن ج۲۲ ص۴۲۷ حاشیہ)
اس حاشیہ کے شروع میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ’’میرا یہ اعلان صرف میری اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ (اخبار البدر مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ملاحظہ ہو) اب دعویٰ نبوت مرزاقادیانی کا دوسرا قول ملاحظہ ہو۔
دوسرا قول: ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔
(اخبار بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)
تیسراقول: اسی (حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) میں مرزاقادیانی بیان کرتے ہیں۔ ’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔‘‘
چوتھا قول: مرزاقادیانی (استفتاء ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵) میں لکھتے ہیں: ’’اتانی مالم یوت احد من العلمین‘‘ یعنی مجھے وہ فضل وکمال ملا جو تمام فضیلت بیان کی ہے اور صاف طور سے کہا ہے کہ جو بزرگی اور بڑائی اللہ نے مجھے دی ہے وہ کسی ولی اور کسی نبی کو نہیں دی۔‘‘ اس میں حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیa بھی داخل ہیں۔ مسلمانو! غیرت کرنا چاہئے کہ ایک جھوٹا، کذاب، دجال اپنے آپ کو سرور عالمa سے افضل کہتا ہے۔ (لعنۃ اللہ علیہ وعلٰی تابعیہ)
یہاں صرف چار قول نقل کئے گئے ہیں جن صاحب کو زیادہ تفصیل دیکھنا ہو وہ رسالہ دعویٰ نبوت مرزامطبوعہ وکٹوریہ پریس بدایون کو خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے منگوا کر دیکھیں۔ اس موقع پر یہ بھی خیال رہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت تشریعی اور غیرتشریعی دونوں کا ہے۔ صرف نبوت غیرتشریعی پر ان کو قناعت نہیں ہے۔ اس کا ثبوت متعدد رسالوں اور صحیفوں میں کیاگیا ہے۔ اس جگہ ان کا ایک قول اس باب میں نقل کیا جاتا ہے۔ مرزاقادیانی رسالہ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) میں لکھتے ہیں: ’’اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعۃ ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم‘‘ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’ان ہذا لفی الصحف الاولٰی صحف ابراہیم وموسٰی‘‘ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے
جس میں باستیفا امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔‘‘
دیکھئے اس عبارت میں کیسا وضاحت اور صفائی کے ساتھ مرزاقادیانی تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اس کے قبل میں ان کا دعویٰ فضیلت دکھا چکا ہوں۔ اب مرزاقادیانی کے حرص کو ملاحظہ فرماویں کہ ان کو صرف دعویٰ نبوت وافضلیت تمام انبیاء پر اور صاحب الشریعۃ ہونے پر بس نہیں ہے۔ بلکہ دعویٰ خدائی بھی مرزاقادیانی کے مدنظر ہے۔ چنانچہ (الحکم ج۹ نمبر۷، مورخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۵ء ص۱۲، تذکرہ ص۵۲۷، طبع چہارم، حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸، تذکرہ ص۲۰۳، طبع چہارم) میں لکھا ہے۔
۱… ’’حضور کی طبیعت ناساز تھی۔ حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا خاکسار پیپرمنٹ۔‘‘
۲…’’انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون‘‘مرزاقادیانی اپنا الہام الٰہی یہ بیان کرتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے مجھ سے یہ فرمایا کہ: ’’اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جب تو کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرے اور اسے تو کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے گی۔‘‘
اب ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ مرزاقادیانی صاف طور سے کہہ رہے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے ہر شئے پر قدرت دے دی ہے۔ جس شئے کا ہونا میں چاہوں وہ اسی وقت موجود ہوسکتی ہے۔ اب جن کو اللہ نے آنکھ دی ہے وہ اس قول کا جھوٹا ہونا ایسے ہی روشن رکھتے ہیں جیسے آفتاب چمکتا ہے۔ خاص وعام سب اسے دیکھتے ہیں۔ بھلا ہر چیز کو کیا موجود کرتے ایک ان کی معشوقہ منکوحہ آسمانی کے لئے سترہ اٹھارہ برس تک تڑپتے رہے۔ مگر وہ ان کے پاس نہیں آئی۔ اسی طرح اس کے شوہر کے لئے بہت کچھ رمالی کی اور اس کے مرنے کے لئے بہت کچھ پیشین گوئیاں کر کے جھوٹے اور بدترین خلائق بنے۔
(انجام آتھم اور اس کا ضمیمہ، خزائن ج۱۱ میں پورا ملاحظہ ہو)
مگر وہ نہ مرا اور مرزاقادیانی ہی تڑپتے ہوئے اس کے سامنے قبر میں گئے اور ان کے خلیفہ اور تمام مریدین اس کو زندہ مع الخیر دیکھتے رہے اور مرزاقادیانی کو تڑپاتے رہے۔ اب اس کا اقرار کر لیناچاہئے کہ مرزاقادیانی کے وہ اقوال جو ختم نبوت کے مخالف ہیں اس وجہ سے
ہیں کہ وہ درپردہ دہریہ تھے اور ان کے خلیفہ اور بعض مریدین کا بھی یہی حال ہے اور بعض ناواقف بے علم فریب میں آگئے ہیں اور اب بات کی پچ ہوگئی ہے۔ یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ مرزاقادیانی کے اقوال میں یہ اعلانیہ اختلاف اسی وجہ سے ہے کہ ان کے نزدیک خدا اور رسول کوئی چیز نہیں ہیں۔ پھر نبوت کا ختم ہونا یا نہ ہونا چہ معنی دارد۔ جیسا موقع دیکھا ویسا کہہ دیا۔ طالب حق کو فیصلہ آسمانی کے دیکھنے سے اس کا ثبوت اچھی طرح ہو جائے گا۔ خصوصاً مرزاقادیانی کے ان الہامی اقوال سے جو انہوں نے اپنی معشوقہ فرضی منکوحہ آسمانی کے لئے استعمال کئے ہیں۔ فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ کا ص۲۰،۲۱ مطبوعہ دہلی بار سوم ۱۹۱۷ء وغیرہ ملاحظہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ اللہ ورسول پر کس کس طرح سے الزامات ان اقوال سے آتے ہیں۔ اسی طرح فیصلہ آسمانی کے تیسرے حصہ میں ۱۱۹ سے آخر تک دیکھئے کہ منکوحہ آسمانی کی نسبت جو جو الہامات الٰہی انہوں نے بیان کئے ہیں اس پیشین گوئی کے جھوٹے ہو جانے سے خدائے قدوس پر کس قدر الزامات آتے ہیں۔ بہرحال جماعت احمدیہ سے میں پوچھتا ہوں کہ جو گروہ مرزاقادیانی کو نبی مان رہا ہے وہ مرزاقادیانی کے مذکورہ پانچ قولوں سے کافر ہے یا نہیں؟ ضرور ہے کسی طرح سے اس سے انکار نہیں ہوسکتا اور اس انکار کو نبوت غیرتشریعی سے خاص کرنا سخت جہالت یا فریب دہی ہے۔ ہم ان کے الفاظ سے عموم ثابت کر آئے ہیں۔
یہاں تک مرزاقادیانی کے سات قول نقل کئے گئے۔ پہلے دو قولوں سے تو نہایت صاف طور سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی اپنے پختہ اقراروں سے جھوٹے اور ہر بد سے بدتر یعنی بدترین خلائق ہیں۔ کسی دوسری دلیل وحجت کی حاجت نہیں ہے اور دوسرے مذکورہ پانچ قولوں سے مرزامحمود اور ان کی تمام جماعت کافر اور منکر قرآن مجید ثابت ہوتی ہے اور جب مرزاقادیانی کے وہ اقوال دیکھے جاتے ہیں جن میں ان کا دعویٰ نبوت ہے تو ان اقوال سے خود مرزاقادیانی کافر اور منکر قرآن ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ خلیفہ محمود اپنے والد کو جھوٹا سمجھتے ہیں مگر چھپانا چاہتے ہیں۔ مرزاقادیانی کے ان اقوال سے خلیفہ محمود کے دل میں اپنے والد کا جھوٹا ہونا بخوبی ثابت ہوگیا ہوگا۔ مگر چونکہ اپنے باپ کی جھوٹی نبوت کو نہیں چھوڑتے۔
حاصل یہ ہے کہ خلیفہ صاحب اپنے باپ کے مریدوں کو الٹے استرہ سے مونڈ رہے ہیں۔ مگر سخت افسوس ہے ان ماننے والوں کی عقل پر کہ علاوہ کذب پرستی کے مرزاقادیانی کا خود ان کے اقراروں سے جھوٹا اور بدترین خلائق ہونا دیکھ رہے ہیں اور ان سے علیحدہ نہیں
ہوتے۔ مرزائیوں کا حقانی رسالوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ انہیں نہ دیکھو ان کے دیکھنے سے ایمان جاتا رہے گا۔ صاف ثابت کرتا ہے کہ مرزامحمود اپنے دل میں بالیقین جانتے ہیں کہ ان رسالوں میں کامل طور سے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا گیا ہے۔ اگر ہمارے مرید کسی وقت بنظر انصاف اسے دیکھیں گے تو بالضرور مرزاقادیانی کو جھوٹا مان لیں گے۔ یہاں تک تو مرزاقادیانی کے اعلانیہ اقراروں سے ان کا جھوٹا اور بدترین خلائق ہونا دکھایا گیا۔ اب ان کے چند وہ جھوٹ اور دروغگوئیاں دکھائی جاتی ہیں جن سے ہر ایک غیرت مند انسان پرہیز کرتا ہے اور اس دروغگو کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا اور جناب رسول اﷲa نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ مرزاقادیانی کے اعلانیہ جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔ صحیفہ محمدیہ کے پہلے نمبر کے شروع میں سات کتابوں کے نام لکھے گئے ہیں اور اس میں مرزاقادیانی کے جھوٹ گنائے ہیں۔ پہلا رسالہ یعنی فیصلہ آسمانی معہ تتمہ کے اس میں ۱۵۹جھوٹ وفریب وغلطیاں دکھاتے ہیں۔ دوسرا فیصلہ آسمانی حصہ دوم اس میں ۶۹جھوٹ وفریب وغلطیاں دکھائی ہیں۔ تیسرا فیصلہ آسمانی حصہ سوم اس میں ۹۰جھوٹ ہیں۔ چوتھا دوسری شہادت آسمانی اس میں ۴۵جھوٹ اور فریب مرزاقادیانی کے دکھائے ہیں۔ پانچواں النجم الثاقب اس میں ۴۲جھوٹ ہیں۔ چھٹا مسیح کاذب اس میں ۲۴جھوٹ وفریب دکھائے گئے ہیں۔ ساتواں ہدیہ عثمانیہ حصہ اوّل اس میں ۱۷جھوٹ وفریب دکھائے ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے مقابلہ کی معرکۃ الآراء پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے۔ اس سے کئی جھوٹ مرزاقادیانی کے ثابت کئے ہیں۔ انہیں دیکھئے۔
۱… ان کا یہ کہنا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم میرے روبرو ہلاک ہوگا۔
۲… دنیا میں وہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
۳… میں اس کی زندگی میں ہرگز نہ مروں گا، میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔
۴… ڈاکٹر عبدالحکیم مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔
یہ چاروں باتیں مرزاقادیانی کی جھوٹی ہوئیں اور اپنے اقرار سے لعنت کی موت سے مرے۔ اس کی تفصیل رسالہ آئینہ کمالات مرزا میں دیکھئے۔ جس میں مرزاغلام احمد قادیانی کی پیشین گوئیاں ڈاکٹر عبدالحکیم کے متعلق بیان کر کے ان کا سراسر غلط ہونا تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ علاوہ ان باتوں کے صحیفہ محمدیہ نمبر۱۱ کے آخری صفحہ میں تین پیشین گوئیوں
کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے۔ غرضیکہ سات جھوٹ اور چار جھوٹی پیشین گوئیاں دکھائی گئی ہیں۔ اب ان کو سابقہ رسائل والے جھوٹوں کے ساتھ شمار کر لیجئے اور جمع کیجئے کہ سو جھوٹ ہوئے اور پھر تھوڑی سی عقل کو دخل دیجئے کہ جھوٹ ایسا جرم ہے کہ اگر ایک جھوٹ بھی کسی کاثابت ہو جائے تو پھر اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا اور جو ایسا جھوٹ بولے جس سے خدا پر الزام آئے تو حسب ارشاد خداوندی وہ جھوٹا ہے۔ مرزاقادیانی نے تو ہر قسم کے جھوٹ بولے ہیں۔ پھر ایسا جھوٹا شخص مسیح موعود مانا جائے۔ حیرت ہے یہی حضرت ہیں جنہیں خواجہ کمال مسیح موعود اور تمام اولیاء اللہ سے افضل مانتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی مدح میں یہ مصرعہ پڑھتے ہیں ؎
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
یہ کہتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔ غیرمعتبر اور جھوٹا ہونے کے لئے ایک جھوٹ کا ثبوت کافی ہے اور یہاں تو دو ورق میں اس قدر جھوٹ ثابت کر دئیے گئے اور دکھادیا گیا کہ مرزاقادیانی مسیح موعود کیا ہوتے۔ صلحاء اور راست باز جماعت میں بھی ان کا شمار نہیں ہوسکتا اور مونگیر سے لے کر بنگال اور حیدرآباد تک اور حیدرآباد سے قادیان اور لاہور اور پشاور تک ہزاروں دو ورقے شائع کر دئیے۔ مگر کسی قادیانی کی مجال تو نہ ہوئی کہ جواب دے۔ اگر ہم نے غلط کہا ہے تو مرزائی جواب دیں۔ مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
اس صحیفہ کے نمبر۲ میں دوسرے طریقے سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے۔ یعنی احادیث صحیحہ سے یہ دکھایا گیا کہ شریعت محمدیہa میں انبیاء کی توہین تحقیقاً اور الزاماً کسی طرح جائز نہیں ہے اور مرزاقادیانی نے اس ناجائز فعل کا ارتکاب بڑے شدومد سے کیا ہے اور انبیائے کرام کی سخت توہین کی ہے جس سے وہ اعلانیہ دائرہ اسلام سے علیحدہ معلوم ہوتے ہیں اور اس توہین میں اپنی عادت مستمرہ کے بموجب محض جھوٹی باتیں لکھی ہیں۔ مثلاً (ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰ حاشیہ) میں مسیحm کی نسبت لکھا ہے کہ: ’’حق بات یہ ہے کہ آپ سے (یعنی حضرت عیسیٰm سے) کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
ملاحظہ ہو، یہ وہ جھوٹ ہے جس کی شہادت کلام الٰہی دیتا ہے اور ارشاد خداوندی سورۂ بقرہ کے دسویں رکوع میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزہ دئیے اور سورۂ مائدہ میں ان معجزات کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اب مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ: ’’حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘ کیسا صریح جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ الزاماً نہیں
بولا ہے۔ بلکہ ان کا یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے بخوبی ثابت کرتا ہے کہ اس امر میں ان کے نزدیک جو امر حق ہے اسے بیان کیا ہے۔ اب ان کا حضرت مسیحm کے معجزات سے انکار کرنا اور اس انکار کو حق بات کہنا قرآن مجید کی آیات مذکورہ سے صریح انکار ہے۔ مگر چونکہ مسلمانوں کو فریب دینا ہے۔ اس لئے صاف انکار نہیں کرتے۔ باتیں بناکر فریب دیتے ہیں۔ مولوی عبدالماجد مرزائی سے اسی پر گفتگو ہوئی تھی اور مولانا محمد عبدالشکور صاحب نے انہیں ایسا عاجز اور ساکت کر دیا کہ وہ اپنے عجز کے خود مقرر ہوگئے اور تمام حاضرین جلسہ نے اس کا معائنہ کر لیا۔ اسی صحیفہ میں ایک جھوٹ یہ بھی دکھایا ہے کہ حضرت مسیح کی نسبت لکھتے ہیں: ’’آپ کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)
برادران اسلام! ایک اولوالعزم نبی کی شان کو خیال کریں اور مرزاقادیانی کی اس گستاخی اور بے ادبی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت عیسیٰm وہ عالی مرتبہ پیغمبر ہیں جن کی عظمت اور رسالت اور معجزات اور تقرب الٰہی کا ذکر قرآن مجید میں بکثرت آیا ہے۔ ان کی نسبت مرزاقادیانی کا یہ قول ہے کہ آپ کے ہاتھ میں سوامکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا یہ کیسی صریح ان آیات کی تکذیب اور اﷲتعالیٰ پر الزام ہے۔ جن میں ان کی رسالت وعظمت بیان ہوئی ہے۔ اﷲتعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے:’’واٰتینا عیسی ابن مریم البینات وایدناہ بروح القدس (بقرہ:۸۷)‘‘{یعنی ہم نے عیسیٰ کو معجزے دئیے اور روح القدس کے ذریعہ سے ان کی مدد کی۔}
بعض مقام پر ان کی تعریف اس طرح فرمائی۔ ’’وجیہاً فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘{یعنی اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسیٰ(m) دونوں جہان میں صاحب وجاہت اور مقبولان خدا سے ہیں۔}
برادران اسلام ملاحظہ کریں کہ جن کی برگزیدہ صفات اﷲتعالیٰ قرآن مجید میں بیان فرمائے۔ ان کی نسبت مرزاقادیانی نہایت بے باکی سے یہ لکھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہ تھا۔ یہ کیسی صریح تکذیب ہے کلام الٰہی کی۔ کسی مسلمان کو ایسی جرأت نہیں ہوسکتی۔ یہ کہنا کہ الزاماً ایسا کہا ہے محض جہالت یا فریب دہی ہے۔ اوّل تو انبیاء کی نسبت ایسی گستاخیاں تحقیقاً اور الزاماً ہر طرح منع ہیں۔ حدیث سے ثابت کر دیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ الزام دینے کا یہ طریقہ ہرگز نہیں ہے۔ اہل علم اسے خوب جانتے ہیں۔ یہی
باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کو مذہب سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ البتہ مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے اپنے آپ کو اسلام کا مطیع کہتے تھے اور قرآن وحدیث سے استدلال پیش کرتے تھے۔ مگر اس میں ایسی تحریف کرتے تھے جسے اہل علم ہی خوب سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی دلی خواہش کو مسلمانوں سے منوانے کے لئے قرآن مجید کو پیش کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے ہمارا مدّعا ثابت ہے۔ ان باتوں کے علاوہ اس تحریر میں اور بھی جھوٹ وفریب بیان ہوتے ہیں۔ ناظرین ان کو ملاحظہ فرمائیں۔
جن میں بعض وہ بھی ہیں جو کئی برس ہوئے دکھا کر جواب طلب کیا گیا تھا۔ مگر اب تک یہاں سے قادیان تک سب کا ناطقہ بند ہے۔ جواب سے عاجز ہیں۔ مگر سخت افسوس ہے ان کے حال پر کہ ایسے اعلانیہ جھوٹ دیکھ کر بھی اس کی پیروی سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ مقابلہ پر کبھی دم بخود ہو جاتے ہیں کچھ نہیں کہتے۔ کبھی کہتے ہیں کہ حوالہ غلط ہے۔ پوری عبارت نہیں لکھی گئی۔ اصل کتاب دکھاؤ۔ چونکہ جانتے ہیں کہ ہر وقت ہر شخص کے پاس کتاب موجود نہیں رہتی۔ اس لئے ٹالنے کے لئے ایسا کہہ دیتے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ جو حوالے ہم نے مرزاقادیانی کی کتابوں سے دئیے ہیں۔ اگر مرزاقادیانی کی کتاب میں یہ مطلب نہ ہو تو ہم مجمع میں اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کریں گے اور ہر غلط حوالے کے عوض ہزار روپے دینے کو موجود ہیں اور حوالہ غلط نہ ہو اور جو مطلب ہم نے ثابت کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہو تو تمہیں مرزاقادیانی کو جھوٹا ماننا ہوگا۔ میں تمام برادران اسلام سے کہتا ہوں کہ جب کوئیمرزائی ہمارے حوالہ پر الزام لگائے۔ اس سے بھی کہیں اور نہایت زور سے کہیں اب مرزاقادیانی کے جھوٹوں کا نمونہ ملاحظہ ہو۔
گیارھواں جھوٹ: (اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴) میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی نے لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کے سامنے مر جائے گا۔‘‘
یہ مرزاقادیانی کا صریح کذب ہے۔ ان دونوں حضرات نے ایسا کہیں نہیں لکھا۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو بتائے کہ کہاں اور ان کی کس کتاب میں ہے۔ دعائے مرزا میں بھی استفسار کیاگیا ہے اور مجیب کے لئے پانچ سو روپے کا اشتہار دیا ہے اور یہ رسالہ صحیفہ رحمانیہ
سے بہت پہلے چھپا ہے۔ پھر صحیفہ رحمانیہ نمبر۱ میں اس جھوٹ کو دکھایا گیا ہے۔ صحیفہ ماہ صفر ۱۳۳۲ھ میں چھپا ہے اور اب ۱۳۴۱ھ ہے۔ مگر اس وقت تک کوئی مرزائی اس جھوٹ کے داغ کو مٹا نہیں سکا اور نہ قیامت تک مٹا سکتا ہے۔
بارھواں جھوٹ: (اخبار بدر مورخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۹ ص۹۹) میں لکھا ہے کہ: ’’جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے مقابلہ میں آئے خداتعالیٰ نے سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ یہ دعویٰ بھی محض غلط اور بڑا بھاری جھوٹ ہے۔ صوفی عبدالحق صاحب کے سوا کسی سے مرزاقادیانی نے مباہلہ نہیں کیا اور صوفی صاحب نے مرزاقادیانی سے مباہلہ کے پندرہ ماہ بعد ۱۳۱۲ھ میں اس کے اثر کا اشتہار دیا۔ اس کی شروع کی عبارت یوں ہے: ’’کیوں مرزاجی مباہلہ کی لعنت اچھی طرح پڑ گئی یا کچھ کسر ہے۔‘‘
اس کے بعد مرزاقادیانی کی چار پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اور مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔ کیونکہ توریت اور قرآن مجید سے کہ جس مدعی نبوت کی پیشین گوئی جھوٹی ہو وہ جھوٹا ہے۔ مگر مریدوں کی کذب پرستی کا یہ حال ہے کہ اپنے مرشد کے اس دعویٰ کو سچ مان کر بڑے زور سے اب تک یہی دعویٰ کر رہے ہیں۔ چنانچہ ۲۱؍دسمبر ۱۹۱۶ء کے پیغام صلح میں لکھا ہے۔ ’’کئی ایک مخالفین بالمقابل کھڑے ہوکر اور مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔‘‘
اب دیکھا جائے یہ کیسا اعلانیہ جھوٹ ہے۔ مگر کاذب کی پیروی نے دل کو تاریک اور عقل وہوش کو بیکار کر دیا ہے کہ متنبہ کرنے پر بھی واقعی بات کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس دعویٰ کا جھوٹا ہونا ۱۹۱۳ء میں صحیفہ رحمانیہ نمبر۱ میں دکھایا ہے۔ بایں ہمہ ۱۹۱۶ء میں کس جرأت سے لکھتے ہیں کہ مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔ اگر اور کچھ نہیں دیکھا تھا اور مرزاقادیانی کے جھوٹ کو بھی وہ سچ سمجھتے تھے تو صوفی عبدالحق صاحب کو بھی انہوں نے دیکھا یا سنا نہ تھا کہ مباہلہ کرنے والے اس وقت تک زندہ امرتسر میں موجود ہیں۔ پھر ایسا اعلانیہ جھوٹ بولتے انہیں شرم نہیں آئی اور یہ بھی خیال نہیں کیا کہ باوجود اس شوروغل کے تمام عمر میں ایک صوفی صاحب سے مباہلہ کی نوبت آئی اور ان کی زندگی میں مرزاقادیانی ہلاک ہوئے اور اس اہل حق کی صداقت پر مہر لگا گئے۔ اب اس اعلانیہ سچے واقعہ کے خلاف بیان کرنا کسی صاحب شرم وحیا کا کام ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں یہ خواجہ کمال کی پارٹی کا جھوٹ ہے جو
اشاعت اسلام کا دعویٰ کر کے مسلمانوں سے روپیہ بٹور رہے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ ۱۷؍جنوری ۱۹۱۸ء کے اخبار اہل حدیث میں ان مباہلین کے نام دریافت کئے ہیں جو مرزاقادیانی سے مباہلہ کر کے مرگئے تو بڑی جرأت سے تاریخ مذکور کے پیغام صلح میں ان پانچ شخصوں کے نام بتائے۔ جنہوں نے مرزاقادیانی سے کسی وقت مباہلہ نہیں کیا۔ البتہ جس طرح دنیا کے بہت لوگوں نے مرزاقادیانی کے سامنے انتقال کیا۔ اسی طرح پانچویں صاحب نے انتقال کیا۔ مگر اس جماعت کے کذب کی پیروی اور راستی اور سچائی سے بیزاری قابل ملاحظہ ہے کہ باوجودیکہ اپنا اور اپنے مرشد کا جھوٹ معلوم کر چکے۔ مگر عوام ناواقفوں کے سامنے ملمع کر کے اپنی سچائی دکھانا چاہتے ہیں اور پانچ شخصوں کے نام گنائے ہیں تاکہ ناواقف یہ سمجھیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مباہلہ کیا اور مر گئے۔ حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ ان لوگوں نے ہرگز مباہلہ نہیں کیا۔ یہی حضرات اشاعت اسلام کا دعویٰ کر رہے ہیں اور مسلمانوں سے چندہ مانگتے ہیں اور ہمارے سیدھے سادھے مسلمان انہیں سچا سمجھ کر چندہ دے رہے ہیں۔
تیرھواں جھوٹ: جس میں چھ جھوٹ ہیں۔ (اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴) میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’یہ ضرور تھا کہ قرآن کریم واحادیث کی پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جن میں یہ لکھا تھا کہ مسیح جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اسے کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔‘‘
یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ قرآن وحدیث میں کہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف حدیثوں میں یہ آیا ہے کہ امام مہدی اور مسیح جب آئیں گے تو مسلمانوں کے دلوں میں ان کی محبت اس قدر ہوگی کہ ہر وقت ان کا ذکر کریں گے اور بلا ان کی خواہش کے بیعت ان سے کرنا چاہیں گے اور کریں گے۔
(البرہان فی علامات المہدی آخرالزمان)
اس قول میں تین باتیں قرآن اور حدیث کی طرف منسوب کی ہیں:
۱… یہ کہ علماء کے ہاتھ سے مسیح موعود دکھ اٹھائے گا یعنی اسے ماریں پیٹیں گے۔
۲… اسے کافر قرار دیں گے۔
۳… اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔
یہ تینوں باتیں قرآن وحدیث کی طرف منسوب کی ہیں۔ یعنی قرآن مجید میں بھی یہ تینوں باتیں آئی ہیں اور حدیث میں بھی۔ مگر جب یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں نہ قرآن میں
ان دعوؤں کا پتہ ہے اور نہ حدیث میں۔ اس لئے یہ چھ جھوٹ ہوئے۔ اب جن کو ان کے سچے ہونے کا دعویٰ ہے وہ قرآن وحدیث سے ثابت کرے۔ ورنہ خدا سے ڈر کر ایسے جھوٹے سے علیحدہ ہو جائے۔ اٹھارہ جھوٹ تو یہ ہوئے اب انیسواں جھوٹ دیکھئے۔
انیسواں جھوٹ: قادیانی (اخبار البدر مورخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۷ ص۲۴۷) میں مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’ہمارے نبی کریمa کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔‘‘
دیکھئے یہ کیسا بے تکا جھوٹ ہے۔ اب قادیانی پارٹی یا لاہوری پارٹی کوئی اپنے مقتداء کی صداقت ثابت کرے اور کوئی معتبر روایت اس مضمون کی دکھائے۔ یہ اس قسم کے جھوٹ ہیں جن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی جھوٹ بولنے میں ایسے بے باک تھے کہ جو جی چاہا بے تامل کہہ دیا۔ اب خیال کیا جائے کہ جو شخص ایسا اعلانیہ جھوٹ بولے جو تھوڑی سی تحقیق سے معلوم ہوسکتا ہے اس کے اس قول کو کہ مجھے یہ وحی والہام ہوا ہے۔ کون عقل باور کر سکتی ہے۔
بیسواں جھوٹ: ۱۲؍اگست ۱۹۰۷ء کو مرزاقادیانی نے اشتہار دیا تھا جس کی سرخی تھی: ’’عام مریدوں کے لئے ہدایت‘‘ اس میں لکھا ہے کہ: ’’آنحضرتa نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وباء نازل ہوتو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز ج۶ نمبر۹ ص۳۶۵، بابت ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء) یہ قول بھی حضور سرور انبیاءk پر افتراء ہے۔ اس افتراء کی ضرورت مرزاقادیانی کو یہ پیش آئی کہ قادیان میں جب طاعون آیا تو مرزاقادیانی باہر بھاگے۔ اس لئے اس بھاگنے کو حضورk کا حکم ظاہر کرنا چاہا۔ اب اگر سچا ماننے والوں کو کچھ غیرت ہو تو کسی حدیث کی کتاب سے کوئی معتبر روای اس مضمون کی دکھائیں مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں دکھا سکتے۔
اکیسواں جھوٹ: (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفہ کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ:’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے کہ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘
اس مضمون کو بخاری کی روایت بتانا بھی اس کی شہادت دیتا ہے کہ مرزاقادیانی کی طبیعت میں احتیاط اور راست بازی کا بالکل خیال نہ تھا جو دل میں آگیا وہ زور سے بیان کردیا اور جس کی طرف چاہا اس کی طرف اس خیال کو منسوب کر دیا۔ اگر اتفاقیہ سچ ہوگیا تو مدّعا حاصل ورنہ باتیں بنانا کچھ مشکل نہیں ہیں اور ماننے والے ہر طرح مان ہی لیتے ہیں۔ عیاں راچہ بیان۔ مرزاقادیانی کے مرید اس کی کامل شہادت دیتے ہیں۔ اگر میں غلط کہتا ہوں تو تمام دنیا کے مرزائی مل کر تلاش کریں اور بخاری کی اس روایت کو دکھائیں۔
اے مرزائیو! کچھ تو سوچو اور اگر اب تک غفلت میں تھے تو اب سوچو کہ ایسے شخص کے منہ پر دعویٰ نبوت اور مسیحیت اور مہدویت اور افضل الامت ہی نہیں بلکہ قمر الانبیاء اور افضل من عیسیٰ روح اللہ ہونے کا زیب دیتا ہے جو اس قدر دلیر جھوٹا ہو؟ بخاری مسلمانوں کی ایک معروف ومشہور کتاب ہے۔ تمام قادیانی مل کر اور جمع ہوکر بتائیں کہ بخاری کے کس باب میں یہ حدیث ہے اور اگر نہ بتاسکیں تو بس اب توبہ کرنے میں کیوں دیر کرتے ہیں۔ یہ تو وہ جھوٹ ہیں جن میں نہ کوئی الہام کی غلط فہمی کام آسکتی ہے نہ کوئی شرط لگ سکتی ہے۔ نہ ’’یمحو اللہ ما یشاء ریثبت‘‘ کا پیچ چل سکتا ہے نہ ’’یعد ولا یوفی‘‘کام دے سکتا ہے۔ نہ چاند اور سورج کا گہن اس کو سچا کر سکتا ہے۔ کیا اسی نبی کی نبوت کی آسمان اور زمین نے شہادت دی تھی۔ اسی کی نبوت قرآن وحدیث سے ثابت کرتے ہو؟ آخر خدا نے انسان بنایا ہے۔ کچھ تو غور وفکر سے کام لو کیا مرنا نہیں ہے۔ کیوں مخالفین اسلام کو ہنساتے ہو اور ان کی تعداد کو بڑھاتے ہو؟
بائیسواں جھوٹ: (حقیقت الوحی ص۳۹۰،۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) میں اپنی مدح میں ایک پیشین گوئی گھڑی ہے اور اسے حدیث رسول اﷲa ٹھہرایا ہے۔ لکھے ہیں: ’’واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرتa کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔‘‘
یہ پیشین گوئی کسی حدیث میں نہیں آئی۔ مرزاقادیانی نے جاہلوں کے بہکانے کے لئے جناب رسول اﷲa پر افتراء کیا ہے۔ اگر ہم غلط کہتے ہیں تو کوئی مرزائی اس روایت کو کسی معتبر کتاب سے ثابت کرے۔ مگر نہیں کرسکتا۔ اس قول میں مرزاقادیانی اپنے لئے پیشین گوئی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مریدوں کو خوش کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ اردو محاورے کے لحاظ سے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ درحقیقت تو وہ
عیسیٰ اور ابن مریم نہیں ہوگا۔ مگر دوسروں سے کہلائے گا یعنی لوگوں سے کہے گا کہ مجھے عیسیٰ اور ابن مریم کہو اس کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں سے جھوٹ بلوائے گا اور عیسیٰ اور ابن مریم بنے گا۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ نام تو اس کا کچھ اور ہوگا کسی وجہ سے لوگ اسے عیسیٰ اور ابن مریم کہنے لگیں گے۔ وہ خود نہیں کہلائے گا اب یہ قول پہلے معنی کے لحاظ سے تو صاف طور سے ایک جھوٹے کی پیشین گوئی ہوئی جیسے دجال کی پیشین گوئی ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مرزاقادیانی اس کے مصداق نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ لوگوں نے انہیں خود عیسیٰ اور ابن مریم نہیں کہا بلکہ انہوں نے بہت جھوٹی اور فریب آمیز باتیں بنا کر اپنے کو عیسیٰ اور ابن مریم بتایا ہے تاکہ مسیح موعود کے مصداق بنیں۔ بہرحال جو معنی ہوں کسی حدیث میں یہ پیشین گوئی نہیں ہے کہ میری امت میں ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ ایک جملہ اس قول میں یہ بھی ہے اور نبی کے نام سے موسوم ہوگا۔ یہ جملہ مرزاقادیانی نے بڑی ہوشیاری اور عیاری سے لکھا ہے۔ اب مرزائی حضرات یہ فرمائیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ ظاہر اردو کے محاورہ کے لحاظ سے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ درحقیقت تو وہ نبی یعنی خدا کا رسول نہ ہوگا بلکہ اس کا نام نبی رکھا جائے گا۔ جس طرح اس وقت لکھنؤ میں ایک مشہور بیرسٹر ہیں۔ ان کا نام نبی اللہ ہے جاکر دیکھ لیجئے۔ مگر یہ مطلب اس لئے غلط ہے کہ مرزاقادیانی کا نام نبی نہیں رکھا گیا۔ بلکہ غلام احمد ان کا نام ہے۔ غرض کہ برائے نام بھی انہیں نبی کہنا غلط ہے۔ مگر مرزاقادیانی نے یہ جملہ اس لئے تراشا ہے کہ خاص وعام میں مشہور ہے کہ جناب رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ان کی تسکین کے لئے کہتے ہیں کہ وہ حقیقی نبی نہیں ہوگا بلکہ نبی اس کا نام رکھا جائے گا۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ ہم پر یہ الزام نہ لگایا جائے کہ ہم رسول اﷲa کے خاتم النّبیین ہونے سے منکر ہیں۔ بلکہ اسے مان کر ہم نبی کہلانے کے مستحق ہیں۔ ہمیں حدیث میں نبی کہاگیا ہے مگر یہ محض فریب ہے۔ حدیث میں جنہیں نبی کہاگیا ہے وہ واقعی نبی ہیں۔ مگر انہیں رسول اﷲa سے پہلے نبوت کا مرتبہ مل چکا ہے۔ رسول اﷲa کے بعد انہیں نبوت نہیں ملی جو حضورa کے خاتم النّبیین ہونے کے مخالف ہو۔ بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ کسی حدیث صحیح میں رسول اﷲa کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ میری امت میں ایسا شخص پیدا ہوگا جس میں یہ تین باتیں ہوں گی یعنی یہ کہ وہ عیسیٰ کہلائے اور ابن مریم بھی اسے لوگ کہیں اور نبی کے نام سے بھی موسوم ہوا۔ البتہ صحیح مسلم میں حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشین
گوئی ہے۔ مگر اس میں ۲۷باتوں سے زائد ایسی بیان ہوئی ہیں جن سے مرزاقادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔
(صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۱،۱۲ ص۴۲تا۵۱)
اس حدیث میں پہلے حضرت عیسیٰm کا آنا اور کافروں کا مارا جانا بیان کر کے یاجوج وماجوج کا آنا اور حضرت عیسیٰ کا پہاڑ پر محصور ہونا بیان ہوا ہے۔ پھر ارشاد ہے: ’’فیرغب نبی اللہ عیسٰی واصحابہ‘‘ یعنی اس وقت خدا کے رسول جن کا نام عیسیٰ ہے اور ان کے اصحاب خدا کی طرف متوجہ ہوں گے اور دعا کریں گے تو اﷲتعالیٰ یاجوج وماجوج کو نیست ونابود کر دے گا۔ اس کے بعد دنیا کی ایسی عمدہ حالت کی پیشین گوئی ہے کہ اس کا ظہور اس وقت تک کبھی نہیں ہوا۔ قادیانی مسیح کے وقت کی حالت تو ایسی خراب رہی اور ہے کہ کبھی ایسی نہیں ہوئی۔ اس حدیث میں کسی امتی کا نام نبی یا نبی اللہ ہرگز نہیں بتایا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ کی صفت نبی اللہ بیان ہے۔
تیئسواں جھوٹ: (نشان آسمانی ص۱۶، خزائن ج۴ ص۳۷۸) میں لکھتے ہیں: ’’جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اﷲa کی طرف سے یہ حدیث صحیح ہوچکی ہے کہ خداتعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں صدی کے لئے یعنی اس بشارت کے بارے میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر بشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہوسکتا۔‘‘
مرزاقادیانی نے یہ عظیم الشان دعویٰ کیا اور اکثر عمر رسائل لکھنے میں گزاری مگر کسی رسالے میں ان اشاروں کا اجمالی ذکر بھی کہیں دیکھا نہیں گیا۔ اگر کوئی دکھا سکے تو دکھائے۔ مگر یہ بات قطعاً اور یقینا جھوٹی ہے کہ چودھویں صدی کے مجدد کے لئے مخصوص اشارے کسی حدیث میں ہیں جو اور مجددوں کے لئے نہیں ہیں۔ اس مضمون کی ایک روایت صرف ابوداؤد میں ہے جس کے معنی کے اشکال سے اگر قطع نظر کی جائے تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجدد کو پیدا کرے گا جو دین کو بہت کچھ نفع پہنچائے گا۔ (الفاظ حدیث کو ملاحظہ کیا جائے) ’’ان اللہ یبعث لہٰذا الامۃ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجددلہا دینہا‘‘
(ابوداؤد ج۲ ص۲۳۳، باب مایذکر فی قرن المائۃ)
اﷲتعالیٰ ضرور اس امت کے لئے ہر صدی کے شروع میں ایسا مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ اب قادیانی جماعت بتلائے کہ اس حدیث میں وہ کون سا لفظ ہے جس
سے معلوم ہوا کہ چودھویں صدی کا مجدد ممتاز ہوگا یا اس کے سوا کوئی دوسرے حدیث دکھلائے جس میں وہ الفاظ ہوں۔
جو عربی عبارت سمجھ سکتے ہیں وہ بخوبی معلوم کر سکتے ہیں کہ اس حدیث میں صرف اس قدر بیان ہے کہ ہر صدی پر مجدد ہوگا جو دین کو فائدہ پہنچائے گا۔ اس کے سوا کوئی اشارہ اس میں نہیں ہے۔ اس حدیث کے بموجب مرزاقادیانی مجدد ہر گز نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ انہوں نے دین اسلام کو کوئی نفع ایسا نہیں پہنچایا جو دوسرے علماء نے نہ پہنچایا ہو بلکہ نہایت نقصان پہنچایا۔ مثلاً یہ کہ:
۱… چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر دنیا کو اسلام سے خالی کردیا۔
۲… خدا اور رسول پر ایسے الزام لگائے جس سے منکر اسلام کو اس مقدس مذہب پر مضحکہ کا موقع دیا اور ثابت کر دیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی درپردہ دہریہ ہیں۔ ہر ایک موقع پر ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ ہر ایک مذہب پر خصوصاً اسلام پر مخالفین کو مضحکہ کا موقع ملے اور جاننے والے جان لیں کہ قادیانیوں کے سردار جھوٹوں کے سرگروہ ہیں اور انہیں کو خواجہ کمال قادیانی مسیح موعود اور تمام صحابہ کرام اور اولیاء عظام سے افضل کہتے ہیں اور درپردہ ہمارے مقدس بزرگوں کی سخت توہین کرتے ہیں۔
چوبیسواں جھوٹ: ’’پھر آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ میری دعوت کے وقت میں آسمان پر رمضان میں خسوف اور کسوف عین حدیث کے موافق وقوع میں آیا۔‘‘
(تحفہ غزنویہ ص۱۲، خزائن ج۱۵ ص۵۴۳)
مرزاقادیانی کے علاوہ بہت سے مدعیان نبوت ومہدویت کے وقت میں ایسا خسوف وکسوف رمضان میں ہوا ہے۔ میری دعوت کے وقت میں لکھنا صریح جھوٹ ہے۔ اس کی تفصیل دوسری شہادت آسمانی میں کامل طور سے کی گئی ہے اس کو دیکھنا چاہئے۔
پچیسواں جھوٹ: ’’اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر۳،۴، تتمہ اربعین ص۱۱، خزائن ج۱۷ ص۴۷۷)
قرآن پاک میں اور تمام کتب آسمانی میں جھوٹے نبی اور سچے نبی دونوں کے ہلاک کا ذکر ہے بلکہ جھوٹے نبی کے لئے کوئی خاص قاعدہ ہلاک کا مقرر نہیں ہے۔
(ملاحظہ ہو: رسالہ عبرت خیز)
چھبیسواں جھوٹ: ’’خدا کی ساری پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے۔ اس کو وہ عمر ہرگز نہیں ملتی ہے جو صادق کو مل سکتی ہے۔ تمام صادقوں کا بادشاہ ہمارا نبیa ہے۔ اس کو وحی پانے کے لئے ۲۳برس کی عمر ملی یہ عمر قیامت تک صادقوں کا پیمانہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر۳،۴ ص۱، خزائن ج۱۷ ص۴۷۸)
چونکہ قرآن کریم میں حضرت محمد رسول اﷲa کو ختم الرسل، خاتم النّبیین لکھا ہے۔ اس لئے قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا اور جب نبی نہیں آسکتا تو آئندہ کسی نبی کے آنے کا پیمانہ بتلانے کی ضرورت نہیں رہی۔ البتہ بہت جھوٹے نبی ہوئے اور ۲۳برس سے زیادہ دنیا میں عیش وعشرت سے رہے اور ہلاک نہیں کئے گئے۔
ستائیسواں جھوٹ: ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک سفید کتاب ہزار جز کی کتاب بھی ہو اور اس میں، میں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو میں یقین رکھتاہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶)
ہزار جز کی کتاب تو بڑی کتاب ہوگی۔ اگر ہزار سطروں میں بھی مرزاقادیانی کے صدق کی دلیلیں ہوتیں تو کہا جاتا یہ بھی صریح جھوٹ ومبالغہ ہے۔ ہزار جز کا آٹھ سو ورق ہوا جس کے سولہ سو صفحے ہوئے۔ حقیقت الوحی جو ۳۹۲صفحات کی کتاب ہے جس میں ۱۸۷نشان درج ہیں اور نشان کیا ہیں یہی کہ مجھ کو لڑکا ہوگا۔ لڑکی ہوگی۔ فلاں کی تبدیلی ہوئی۔ فلاں مرے گا۔ اگر اسی کا نام نشان ہے اور یہی صدق کی دلیلیں ہیں تو رمّال جفّار روز ایسی ایسی خبریں دیا کرتے ہیں جو دلیل نبوت نہیں ہوسکتی ہے۔
اٹھائیسواں جھوٹ: ’’مگر آج باوجود مخالفانہ کوششوں کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ میری جماعت مختلف مقامات میں موجود ہے پس کیا یہ معجزہ ہے یا نہیں۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۵، خزائن ج۱۹ ص۹۷)
انتیسواں جھوٹ: ’’اب اگرچہ خاص لوگ اہل علم اور اہل جاہ وثروت دس ہزار کے قریب ہماری جماعت میں موجود ہیں مگر عام تعداد تیس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
(تحفۃ غزنویہ ص۱۳، خزائن ج۱۵ ص۵۴۴)
تحفۃ الندوہ اور تحفہ غزنویہ دونوں کتابیں اکتوبر ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہیں۔ تحفۃ الندوہ
میں صریح جھوٹ سے مرزاقادیانی نے کام لیا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ میری جماعت میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی موجود ہیں۔ تحفہ غزنویہ کی تحریر سے تحفۃ الندوہ کی تحریر غلط ہورہی ہے۔
تیسواں جھوٹ: ’’اگر قرآن کریم نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۵، خزائن ج۱۹ ص۹۸)
مرزاغلام احمد کا نام قرآن کریم نے ہرگز مسیح ابن مریم نہیں رکھا ہے۔ مرزاقادیانی اپنے قول کے مطابق جھوٹے ہیں۔ کیونکہ کشتی نوح میں مرزاقادیانی اپنا مسیح ابن مریم ہونا اس طور سے ظاہر کرتے ہیں کہ میں پہلے مریم بنایا گیا اور مجھ میں نفخ روح کی گئی اور نو مہینے تک حاملہ رہا۔ نو مہینے کے بعد عیسیٰ ہوگیا۔ پس اس طور سے میں مسیح ابن مریم ٹھہرا اور ازالہ اوہام میں مرزاقادیانی تحریر کرتے ہیں کہ: ’’جو کوئی مجھے مسیح ابن مریم کہے وہ کذاب ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)
پس اگر قرآن کریم نے مرزاقادیانی کا نام مسیح ابن مریم رکھا تھا تو پھر مسیح ابن مریم کہنے والے کو مرزاقادیانی مفتری اور کذاب کیوں کہتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص۷۷، رسالہ تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶) میں سات جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔
اکتیسواں جھوٹ: ’’قرآن نے میری گواہی دی۔‘‘ محض غلط ہے۔ قرآن ایسے جھوٹے کی گواہی ہرگز نہیں دے سکتا۔
بتیسواں جھوٹ: ’’رسول اﷲa نے میری گواہی دی ہے۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶)
ہرگز نہیں دی، جناب رسول اﷲa پر بالکل افتراء ہے۔ حضرت سرور عالمa ایسے جھوٹے کی گواہی نہیں دیتے۔ البتہ ان کے جھوٹے ہونے کی گواہی دی ہے اور فرمایا ہے کہ میرے بعد متعدد جھوٹے آئیں گے اور پیغمبری کا دعویٰ کریں گے۔ ان سے بچیو، رسالہ ختم النبوۃ فی الاسلام دیکھواس میں تینتالیس حدیثیں اس مضمون کی ہیں۔
تینتیسواں جھوٹ: ’’پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کردیا ہے۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶)
بالکل جھوٹ ہے کوئی مرزائی سامنے آکر بتائے کہ کس کس نبی نے مرزاقادیانی کے آنے کا زمانہ متعین کیا ہے۔ مگر قیامت تک کوئی ثابت نہیں کرسکتا۔
چونتیسواں جھوٹ: ’’قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶)
محض جھوٹ ہے۔ البتہ قرآن شریف کی دس آیتوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔
پینتیسواں جھوٹ: ’’میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶)
یہ بھی محض جھوٹ اور فریب ہے۔ اس دعویٰ کے جھوٹے ہونے کے ثبوت میں دو رسالے لکھے گئے ہیں۔ ایک شہادت آسمانی اور دوسری شہادت آسمانی۔ ناظرین ان دونوں رسالوں کو اچھی طرح دیکھیں مرزاقادیانی کا جھوٹا اور فریبی ہونا کامل طور سے ظاہر ہو جائے گا۔
چھتیسواں جھوٹ: ’’اور زمین نے بھی (گواہی دی)۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶)
جو زمین پر رہنے والے حق بین ہیں وہ بالیقین اس دعویٰ کو جھوٹا جانتے ہیں۔ اس پانچویں اور چھٹے دعویٰ کا جھوٹا ہونا رسالہ حقیقت المسیح ص۳۳تا۳۵ تک نہایت روشن طریقے سے ثابت کیا ہے۔
سینتیسواں جھوٹ: ’’اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۶)
یہ انبیاء پر اتہام ہے۔ کوئی اللہ کا رسول ایسے جھوٹے کی گواہی نہ دے سکتا ہے جیسے مرزاقادیانی ہیں۔ ہاں! اگر مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کی گواہی دی ہو تو تعجب نہیں۔ مرزاقادیانی کے رد میں جو رسائل لکھے گئے ہیں فیصلہ آسمانی وغیرہ ان سے بخوبی ان دعوؤں کا جھوٹا ہونا معلوم ہوسکتا ہے۔ اب یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ ایسے عالی شان دعویٰ کرنے سے مرزاقادیانی کا کیا مقصد ہے؟ ان کا کلام دیکھنے سے اور یہ معلوم کرنے سے کہ انبیاء سابقین نے ایسے دعویٰ نہیں کئے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ مختلف طور سے اپنا افضل الانبیاء ہونا ثابت کرتے ہیں۔ یہاں سات دعوے کئے ہیں۔ آسمان اور زمین کے قلابے ملائے ہیں۔ جھوٹوں کو تعلیم دی ہے۔ جھوٹ بولے تو ایسا بولے جیسا ہم بول رہے ہیں کہ دیکھنے اور سننے والے حیران ہو جائیں۔ ظاہر میں تو سات جھوٹ ہیں۔ مگر سینکڑوں جھوٹ سے بڑھ کر ہیں۔
بھائیو! ایسے ہی زور کے دعوؤں نے سادہ لوحوں کو ان کا معتقد بنا دیا ہے مگر یہ
خیرخواہ نہایت کامل یقین سے کہتا ہے کہ یہ کل دعوے محض غلط اور صریح جھوٹ ہیں نہ قرآن مجید نے ان کی گواہی دی ہے۔ نہ رسول کریمa نے اور نہ کسی نبی نے ان کے آنے کا وقت متعین کیا ہے۔ یہ پہلے نبیوں پر افتراء ہے۔ صاحبان عقل! اس پر غور کریں کہ ایسا شخص جن کے جھوٹ کا انبار پیش ہورہا ہے جن کے مختلف قسم کے جھوٹ دکھائے گئے جن کی عظیم الشان پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں اور قرآن مجید اور توریت مقدس نے انہیں جھوٹا ٹھہرایا جو اپنے مقرر کردہ معیار سے جھوٹے ثابت ہوئے۔ ان کی صداقت کی شہادت کلام الٰہی اور حدیث نبوی میں ہوسکتی ہے؟ انہیں انبیاء کرام سچا کہہ سکتے ہیں؟ آسمان اور زمین ٹل جائیں مگر یہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ آسمانی کتابوں نے اور کلام الٰہی نے ان کے جھوٹے ہونے کی قطعی شہادت دی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں اور توریت میں جھوٹے نبی کا یہ معیار بیان کیا ہے کہ اس کی پیشین گوئی جھوٹی ہو جائے اور مرزاقادیانی کی پیشین گوئیاں ایسی قطعی طور سے جھوٹی ہوئیں کہ ان کے ماننے والے بھی اس کی تصدیق پر مجبور ہوگئے۔
(رسالہ نبی کی پہچان)
کیا خواجہ کمال کی پارٹی یا مرزامحمود کا گروہ ان دعوؤں کو ثابت کر سکتا ہے؟ میں نہایت استحکام اور کامل وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر تمام مرزائی جماعت سررگڑ کر مر جائے تو ان سات دعوؤں میں سے ایک دعویٰ کو بھی ثابت نہیں کر سکتی۔ ہرگز نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو سامنے آئے۔ مگر بمقتضائے ’’الحق یعلوا ولا یعلٰی‘‘کوئی سامنے نہیں آسکتا۔ یوں عوام کو بہکانا اور قرآن مجید میں تحریف کر کے محض غلط باتیں بنانا ہرایک فریب دہندہ کر سکتا ہے۔ یہاں ساتواں قول قابل لحاظ زیادہ ہے۔ کیونکہ انہوں نے تمام انبیائے کرام پر یہ افتراء کیا ہے کہ کوئی نبی نہیں جو میری گواہی نہیں دے چکا۔ اس کا حاصل یہی ہے کہ تمام انبیائے کرام نے میری گواہی دی ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ انبیائے کرام پر بالکل افتراء ہے۔ خیال تو کیجئے کہ تمام انبیاء جن کی تعداد لاکھ سے زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ ان سب کی کتابیں کیا قادیان کی الماری میں رکھی ہیں؟ جنہیں دیکھ کر مرزاقادیانی یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں پھر کیا کسی ایک یا دو کتاب آسمانی میں سب انبیاء کا یہ قول منقول ہے اور کوئی اسے دکھا سکتا ہے؟ غیرممکن ہے ہرگز نہیں دکھا سکتا۔ جب یہ اقرار عام طور سے تمام انبیاء پر کیا گیا تو بے شمار افتراء ہوئے اور ہزاروں سے زائد جھوٹ ہوگئے۔ ایسے مفتری اور کذاب کو یہ قادیانی حکیم خلیل سچا ثابت کرنے آیا ہے اور صریح جھوٹی معیاریں بتا کر ناواقفوں کو فریب دیتا ہے۔ ایسے معیار بتاتا ہے جس سے تمام
جھوٹے مدعی مثلاً مسیلمہ کذاب جس کا نام احمد اور کنیت ابو مسیلم تھی وغیرہ سب سچے ثابت ہوتے ہیں۔ مگر چونکہ اس کذاب کا نام بھی احمد تھا۔ اس لئے مرزائی ایسے معیار بیان کرتے ہیں کہ یہ کذاب بھی سچا ثابت ہو جائے۔ اب ایک اور جھوٹ بھی قابل ملاحظہ ہے۔
اڑتیسواں جھوٹ: (تحفہ غزنویہ ص۵، خزائن ج۱۵ ص۵۳۵) میں مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔‘‘
اس قول میں مرزاقادیانی اپنی جھوٹی پیشین گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے عوام کو فریب دیتے ہیں اور قرآن مجید کے خلاف تمام اہل اسلام کا عقیدہ بیان کرتے ہیں اور محض جھوٹ بولتے ہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہرگز نہیں ہے۔ قرآن مجید کی نص قطعی: ’’مایبدل القول لدّی (ق:۲۹)‘‘
مسلمانوں کے پیش نظر ہے متعدد آیات قرآنیہ کی رو سے ان کا اعتقاد ہے کہ خدائے تعالیٰ کا وعدہ اور وعید ہرگز نہیں ٹلتی۔ اس کی کامل تحقیق فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں لکھی گئی ہے۔ اس کا ص۱۱۰ تاص۱۱۸ تک متن وحاشیہ دیکھو۔
اب اس کہنے میں ہمیں کیا تامل ہوسکتا ہے کہ تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ بتانا ان پر صریح افتراء ہے اور ظاہر ہے کہ کسی ایک مسلمان پر یہ افتراء نہیں ہے بلکہ اس وقت چالیس کروڑ مسلمانوں پر یہ جھوٹ باندھا گیا ہے۔ اس لئے اس کہنے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا کہ مرزاقادیانی کے اس قول میں چالیس کروڑ جھوٹ ہیں اور اگر بالکل جاہل کالانعام کو چھوڑ دیا جائے تو بھی کروڑوں کی تعداد رہے گی۔ یہاں تو وعید کے ٹلنے کا امکان بیان کیاگیا۔ اس کے بعد ہی اس رسالے میں لکھتے ہیں۔
انچالیسواں جھوٹ: ’’وعید یعنی عذاب کی پیش گوئیوں کی نسبت خداتعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیشین گوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔‘‘
(تحفہ غزنویہ ص۶، خزائن ج۱۵ ص۵۳۶)
یہ دعویٰ مرزاقادیانی نے بہت جگہ کیا ہے۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ یہ دعویٰ محض غلط اور خداتعالیٰ پر افتراء ہے۔ عذاب کی پیشین گوئی یعنی وعید الٰہی اس میں شرط نہیں ہے۔ وہ کسی وجہ سے ٹل نہیں سکتی۔ وہ ضرور پوری ہوتی ہے۔ ایسی وعید جس کے لئے کی جاتی ہے اسے توبہ اور تضرع کی توفیق بھی نہیں ہوتی اور اپنے جھوٹے عقیدہ پر بدستور قائم رہتا ہے اور خدا کا کلام
پورا ہوتا ہے۔ اس بات کا ثبوت کہ وعید الٰہی ہرگز نہیں ٹلتی۔ اس کے خلاف کو سنت اللہ کہنا خدائے تعالیٰ پر عظیم الشان افتراء ہے۔ جواس قدوس عالم الغیب کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ مرزائیوں پر فرض ہے کہ کم سے کم چار پانچ مثالیں ایسی پیش کریں جہاں وعید کی پیشین گوئی صرف خوف سے ٹل گئی ہو۔ مگر فیصلہ آسمانی حصہ سوم کو بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ مرزاقادیانی کی اس طوفان بے تمیزی کی حقیقت انہیں کھل جائے اگر انہیں طلب حق ہے۔
معزز ناظرین! آپ نے مرزاقادیانی کی حالت کا معائنہ کر لیا ملاحظہ کیجئے کہ اسی پر یہ صاحب نبی کہے جاتے ہیں اور لمبے چوڑے خطابات سے یاد کئے جاتے ہیں۔ افسوس! کیوں حکیم صاحب آپ کی دیانت کا یہی تقاضا ہے کہ جس شخص کے لاتعداد جھوٹ ہوں، اس کو آپ نبی ماننے اور منانے کے لئے تیار ہیں۔ یہ فلسفہ آپ نے کہاں سیکھا کہ جھوٹا شخص نبی مانا جائے اور لطف یہ ہے کہ یہ شخص خداوند تعالیٰ کو بھی جھوٹا بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: ’’فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہٖ رسلہ (ابراہیم:۴۷) ان اللہ لا یخلف الیمعاد (آل عمران:۹)‘‘ یعنی اللہ پاک وعدہ خلافی نہیں کرتا اور اللہ پاک کو ہرگز ہرگز ایسا نہ سمجھو کہ اپنے رسولوں سے وعدہ کر کے پورا نہ کرے۔ خدائے پاک کا تو یہ ارشاد ہے لیکن جب مرزاقادیانی کی پیشین گوئیاں غلط ہونے لگیں تو کہنے لگے کہ خدا کی یہ سنت ہے کہ رسولوں کی پیشین گوئیوں کو ٹال بھی دیا کرتا ہے۔ کیونکہ میروزارت حسین صاحب! خدا کے واسطے کچھ تو غور کیجئے۔
میرصاحب اور حکیم صاحب اور پروفیسر مولوی قادیانی اگر آپ کو سامنے آنے کی ہمت ہوگی تو ہم آپ کو آیات قرآنی سے مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کر کے دکھادیں گے ان دونوں آیتوں میں جھوٹے مدعی نبوت کا یہ معیار بتایا ہے کہ جو مدعی نبوت کوئی وعدہ یا وعید الٰہی بیان کرے یعنی وعدہ ووعید کی پیشین گوئی کرے اور وہ پوری نہ ہو تو وہ قطعاً جھوٹا ہے۔ اب مرزاقادیانی کی جھوٹی پیشین گوئیوں کا انبار دیکھئے۔ سب سے بڑی پیشین گوئی منکوحہ آسمانی والی ہے۔ جسے مرزاقادیانی نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان بتایا تھا۔ یعنی عظیم الشان نشان تو اور بھی انہوں نے بتائے ہیں مگر اس منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا نہایت ہی عظیم الشان نشان تھا۔ الحمدﷲ وہ ایسا غلط ہوا کہ خاص وعام پر روشن ہوگیا کہ مرزاقادیانی اس خیالی منکوحہ سے ترستے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئے۔ اب چونکہ
مرزاقادیانی نے اس کے لئے وعدہ الٰہی اس طرح بیان کیا تھا کہ: ’’خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا… اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا۔‘‘
(ازالۃ الاوہام حصہ اوّل ص۳۹۷، خزائن ج۳ ص۳۰۵)
جب یہ منکوحہ مرزاقادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو معلوم ہوا کہ وہ وعدہ الٰہی نہ تھا بلکہ مرزاقادیانی کا افتراء تھا اﷲتعالیٰ پر، ورنہ بموجب ارشاد خداوندی ’’لا تحسبن اللہ مخلف وعدہٖ رسلہ‘‘ وہ وعدہ ضرور پورا ہوتا اسی طرح احمد بیگ کے داماد کی وعید پوری نہ ہونے سے مرزاقادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ مگر مرزاقادیانی اس جھوٹ سے ایسے پریشان ہوئے ہیں کہ اس کے سچ بنانے کے لئے بہت سے جھوٹ بولے ہیں۔ چنانچہ (انجام آتھم ص۲۹، خزائن ج۱۱ ص۳۰) میں وعید کی میعاد کے ٹلنے کا ذکر کر کے ص۳۰ میں لکھتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی۔ جیسا کہ تفسیر کبیر ص۱۶۴ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔‘‘
(انجام آتھم حاشیہ ص۳۰، خزائن ج۱۱ ص۳۰)
اس قول میں مرزاقادیانی کئی دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ اﷲتعالیٰ نے نزول عذاب کا قطعی وعدہ کیا یعنی حضرت یونسm کی قوم پر بالیقین عذاب نازل ہوگا۔
دوسرا دعویٰ یہ کہ نزول عذاب کی مدت ۴۰دن ہے اور اس مدت کا ثبوت بھی قطعی ہے۔ کچھ شک وشبہ نہیں ہے۔ اس کے بعد پھر نزول عذاب کی وعید کو قطعی اور یقینی کہتے ہیں اور اپنے پہلے قول کی تاکید کرتے ہیں۔
تیسرا دعویٰ یہ کہ نزول عذاب کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ نزول عذاب کے لئے اگر شرط ہوگی تو یہی ہوگی کہ اگر ایمان نہ لائیں تو ان پر عذاب آئے گا۔ مگر مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شرط نہ تھی۔ اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں ان پر عذاب ضرور نازل ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک خداتعالیٰ کسی وقت ظلم بھی کرتا ہے۔ مرزاقادیانی کے یہ تینوں دعویٰ جھوٹے ہیں۔ کہیں سے ثابت نہیں ہے کہ اﷲتعالیٰ نے قطعی طور سے بلاشرط بطور نادری حکم کے عذاب کا وعدہ کر دیا تھا۔ تین جھوٹ یہ ہوئے۔
چوتھا دعویٰ یہ ہے کہ یہ تینوں دعویٰ تفسیر کبیر ص۱۶۴ سے ثابت ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ یہ دعویٰ نہ تفسیر کبیر کے کسی مقام سے ثابت ہے اور نہ تفسیر کبیر کے کسی صفحہ سے کیونکہ تفسیر کبیر کی ۸جلدیں ہیں اور آٹھوں جلدوں کے اس صفحہ سے اس پیشین گوئی کا قطعی ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ دو جھوٹ ہوئے اور چونکہ تفسیر کبیر سے تین دعویٰ ثابت کر رہے ہیں۔ اس لئے اس میں درحقیقت تین دونی چھ جھوٹ ہوئے۔
پانچواں دعویٰ یہ ہے کہ تفسیر درمنثور سے بھی یہ تینوں دعویٰ ثابت ہیں۔ یہ بھی محض جھوٹ ہے اور چونکہ تین دعوؤں کا ثبوت اس کتاب سے بھی دے رہے ہیں۔ اس لئے تین جھوٹ یہ بھی ہوئے اور شروع سے یہاں تک شمار میں بارہ جھوٹ ہوئے اور چونکہ ان تفسیروں میں احادیث صحیحہ سے ان دعوؤں کا ثبوت بتاتے ہیں اور احادیث جمع کا صیغہ ہے جس کے لئے کم سے کم تین صحیح حدیثوں کا ہونا ضرور ہے۔ اس لئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر دعویٰ کے متعلق تین صحیح حدیثیں ہیں اور دعویٰ تین ہیں تو اس لحاظ سے نو صحیح حدیثیں ہونا چاہیں اور چونکہ ان حدیثوں کا حوالہ دو کتابوں سے دے رہے ہیں۔ اس لئے نو دونی اٹھارہ صحیح حدیثیں دونوں کتابوں میں ملا کر ہونا چاہئے تھا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ اٹھارہ تو کیا ہوتیں ایک صحیح حدیث بھی ان دعوؤں کے ثبوت میں نہیں ہے تو اس اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ تعداد حدیث کے لحاظ سے اٹھارہ جھوٹ یہاں پر مرزاقادیانی کے ہوئے اور بارہ پہلے ہوئے تھے تو اب کل میزان تیس ہوئے۔ اب ایسی حالت میں کہ مرزاقادیانی کی پیشین گوئی جھوٹی نکلی اور دنیا پر اس کا جھوٹاہونا آفتاب کی طرح روشن ہوگیا تو مرزاقادیانی نے اپنی پیشین گوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہہ دیا کہ جس طرح حضرت یونسm کا وعدہ عذاب ٹل گیا اسی طرح مرزااحمد بیگ کے داماد کی موت کا وعدہ ٹل گیا۔ یہ مرزاقادیانی کا اکتیسواں جھوٹ ہے۔ کیونکہ حضرت یونسm کا وعدہ عذاب پورا ہوا اور عذاب آیا جو قرآن شریف کے نص قطعی سے ثابت ہے اور سورۂ یونس میں مذکور ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ان پر سے وہ عذاب جو ان پرنازل ہوچکا تھا۔ خدا نے دور کر دیا اور یونسm کا وعدہ پورا ہوا۔ مرزاقادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص۳۱،۳۲حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۱،۳۲) میں لکھتے ہیں: ’’جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشین گوئی میں گوبظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی
عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘
اس عبارت میں پہلا جھوٹ تو یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کو وقوع یافتہ بات کا ایک جز قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ محض غلط ہے۔ کیونکہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ پیشین گوئی کا کوئی حصہ پورا نہیں ہوا۔ جیسا کہ اس کو الہامات مرزا میں خوب اچھی طرح ثابت کیاگیا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں۔ خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشین گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔
اس عبارت کا مطلب آسان ہے اس لئے تشریح نہیں کرتا ہوں۔ اس میں ایک جھوٹ خدا پر ہوا۔ قرآن مجید میں کہیں اس کا ثبوت نہیں ہے کہ عذاب کی پیشین گوئی خوف سے ٹل جاتی ہے۔ اگر کسی مرزائی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے۔ بلکہ اس کے خلاف متعدد جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ خدا کے وعدہ اور وعید میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا دوسرا جھوٹ ہوا۔ تیسرے یہ کہ اسی مضمون کو رسول اﷲa کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن حدیثوں میں بھی اس کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ یہ تیسرا جھوٹ ہے۔ چوتھے یہ کہ اس کے مضمون کو پچھلی کتابوں کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں۔ پچھلی کتابیں دس ہیں تو گویا دسوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ ایک کتاب میں بھی یہ مضمون نہیں ہے اس لئے دس جھوٹ یہ ہوئے۔ اس کے بعد غضب کی ڈھٹائی کے ساتھ مرزاقادیانی اسی مضمون کو اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہیں۔ یہ کس قدر بے باکی وجسارت ہے کہ جس بات کے دس بیس علماء بھی قائل نہ ہوں اس کو اجماعی عقیدہ بیان کر دیا۔ اپنے اس قول میں مرزاقادیانی نے صرف ایک دو علماء پر اتہام نہیں باندھا ہے بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی طرف جھوٹی بات منسوب کر دی ہے۔ کیونکہ اجماعی عقیدہ وہی کہلاتا ہے جس کو تمام مسلمان تسلیم کر لیں۔ اب خیال کرو کہ رسول اﷲa سے لے کر اس وقت تک کتنے مسلمان گزرے ہوں گے اور اگر تم تمام مسلمانوں کو نہ لو صرف علماء ہی کا شمار کرو اس وقت بھی کروڑوں کی تعداد ہو جائے گی تو گویا اس قول میں مرزاقادیانی نے کروڑوں جھوٹ بولے اور اگر کروڑوں جھوٹ اس کو نہ کہو گے تو کروڑوں جھوٹ کے مقابلہ کا ایک جھوٹ تو شمار کرو گے۔ اس لحاظ سے اس چار سطر کی عبارت میں چودہ جھوٹ ہوئے اور اس پورے قول میں چوالیس جھوٹ ہوئے۔ مذکورہ چوالیس جھوٹ تو ایسے تھے کہ انہیں ذی علم حضرات معلوم کر سکتے ہیں۔ مگر ذرا عقل سے کام لیجئے کہ انبیاء سے ایسی غلطی ہوسکتی ہے کہ وہ
اپنے اقرار سے مخلوق کے روبرو جھوٹے اور ہربد سے بدترین ٹھہریں اور مرتے دم تک اس غلطی میں رہیں اور اﷲتعالیٰ انہیں آگاہ نہ کرے اور اس کا جھوٹا اور رسوا ہونا پسند کرے۔ کہئے یہی آپ کے نبی ہیں۔ جہلاء کے سامنے انہیں کی نبوت کی معیار بیان کی جاتی ہے۔ ذرا شرم کیجئے اور ان رسالوں کو دیکھئے جو آپ کی خیرخواہی میں مشتہر کئے گئے ہیں اور خدا پر توکل کیجئے۔ مبلغ پر ایمان فروشی نہ کیجئے اور یہ فریب نہ دیجئے کہ وہ ایمان لے آیا تھا۔ اس لئے وعید ٹل گئی۔ وہ ایمان کسی وقت نہیں لایا اور مرزاقادیانی کو نبی ورسول اور مسیح موعود ہرگز نہیں مانا۔ اس کے علاوہ مرزاقادیانی تو اس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں۔ یعنی علم الٰہی میں اس کا مرنا میرے سامنے قرار پاچکا ہے۔ اس لئے اس کی وعید ٹل نہیں سکتی۔ ایمان درست کرنے کے لئے ہرسہ حصہ فیصلہ آسمانی کا دیکھنا کافی ہے۔ اگر اس میں آپ کو شبہ ہو تو سامنے آکر دریافت کیجئے۔جماعت احمدیہ خدا کے لئے اپنی جانوں پر رحم کر کے فیصلہ کے تیسرے حصہ کودیکھئے کہ مرزاقادیانی کو کس کس طرح جھوٹا ثابت کیا ہے اور اس فیصلہ آسمانی کو دکھایا ہے کہ مرزاقادیانی نے جس بات کو اپنی صداقت کا نہایت عظیم الشان نشان بڑے زور سے کہا تھا اور آخر عمر تک اس کی امید رہی۔ مگر اﷲتعالیٰ نے اسے کیسا جھوٹا کر کے انہیں رسوا کیا۔ پھر ان کی خانگی خطوں کو مشتہر کرا کے کیسی ان کی اندرونی حالت کو ظاہر کر کے مخلوق پر حجت تمام کر دی۔ پھر آپ حضرات ان اعلانیہ باتوں پر کیوں غور نہیں فرماتے۔ اس پر نظر کیجئے کہ اس خدائی فیصلہ پر پردہ ڈالنے کے لئے جس قدر باتیں خود مرزاقادیانی نے اور ان کے خلیفہ اور مریدوں نے بنائی ہیں۔ سب کی دھجیاں کیسی اڑائی ہیں اور انہیں کیسا غلط ثابت کیا ہے۔ مرزاقادیانی سے علیحدہ ہونے کے لئے صرف یہی ایک نشان کافی ہے۔ مگر بھائیو! آپ کے مرشد کے جھوٹوں کا انبار ہے۔ دوسری شہادت آسمانی کو ٹھنڈے دل سے ملاحظہ کیجئے کہ کس خوبی وتحقیق سے ان کی آسمانی شہادت کو کیسا خاک میں ملایا ہے اور ان کے جھوٹ وفریب کو کس طرح روشن کر کے دکھایا ہے۔ اگر پورا رسالہ نہ دیکھئے تو شروع کا ایک جز اور آخر کا ص۸۱ سے آخر تک ضرور ملاحظہ کر لیجئے۔ اب آپ کو اس سے علیحدہ ہونے میں کیا عذر ہے۔ یہ آپ کا خیرخواہ بہ منت آپ سے کہتا ہے کہ اس تحریر کو آپ خیرخواہانہ سمجھ کر ملاحظہ کیجئے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو بالیقین آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزاقادیانی ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ انہیں بزرگ مانا جائے اور نبی کی تو بڑی شان ہے۔
فقط: المشتہر: ابومحمود محمد اسحاق رحمانی
مولانا محمد اسحاق مونگیرویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یہ مختصر رسالہ مرزاغلام احمد قادیانی کے بے شمار جھوٹ اور افتراء کا نہایت صاف اور جھلکتا ہوا آئینہ ہے جس سے مرزاقادیانی کی پوری حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے جسے دیکھنے کے بعد ایک باغیرت اور سچا مسلمان ایسے شخص کو نبی اور مجدد تو کیا ایک معمولی مسلمان بھی تصور کرنا پسند نہیں کر سکتا۔ مرزائی حضرات اسی چھوٹے رسالہ کو دیکھ کر خود فیصلہ کر لیں کہ ایسا شخص جس کی کذب بیانی کا یہ حال ہو وہ کس خطاب کا مستحق ہوسکتا ہے اور ایک ایماندار کے لئے ایسے شخص سے علیحدگی کس قدر ضروری ہے اور حصول نجات کے لئے اس کی اتباع کس قدر مضر ہے۔ حسب ارشاد حضرت اقدس مولانا سید محمد علی صاحب متع اللہ المسلمین بطور بقائہ!
برادران اسلام اور بالخصوص ہمارے وہ بھائی جو ہم سے بچھڑ کر علیحدہ ہو گئے ہیں جن پر مرزاقادیانی کا جادو سامری کے سحر کی طرح ایسا غالب ہوگیا ہے کہ میں اس کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ بجائے گوسالہ پرستی کے مرزاپرستی میں ایسے منہمک ہیں کہ اپنے خیرخواہوں کی باتوں پر ذرا بھی غور نہیں کرتے بلکہ میں تو یقین اور دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ قادیانی جماعت پر مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ایسا روشن ہو گیا ہے کہ انہیں بھی ان کے جھوٹے ہونے کا یقین ہے اور وہ مثل یہود ونصاریٰ کے حق وباطل کو خوب سمجھ گئے ہیں۔ مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں ان سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کیوں ایسے جھوٹے کی پیروی میں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ بجز اس کے اور کیا کہا جائے کہ شیطان انہیں راہ راست پر نہیں آنے دیتا۔ خانقاہ رحمانیہ میں سو سے زائد رسالے مرزاقادیانی کی حالت میں لکھے گئے ہیں۔ جنہیں مختلف طور سے ان کے جھوٹ وفریب دکھائے گئے ہیں۔ اس رسالہ میں تھوڑے سے تغیر کے ساتھ ان جھوٹوں کو جمع کر دیا گیا ہے جو صحیفہ محمدیہ نمبر۸،۱۳ میں آٹھ برس سے مشتہر ہورہے ہیں۔ (یہ صحیفے بڑے دوورقوں پر ۱۳۳۵ھ میں رحمانیہ پریس مونگیر سے چھپ کر ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوچکے ہیں۔ یہاں کے علاوہ امرتسر پنجاب سے بھی چھپ کر تمام مشتہر ہوئے ہیں اور تماشہ یہ ہے کہ قادیان کے سالانہ جلسہ میں خوب ان کی اشاعت ہوئی مگر کسی مرزائی کی تو ہمت نہ ہوئی کہ مرزا کے جھوٹوں کو سچ کر کے دکھاتا) جن کی تعداد کا شمار لاکھ سے تجاوز کر کے
اربوں تک پہنچ گیا ہے۔ مگر حیرت ہے کہ مرزائی حضرات ایسی صاف اور اعلانیہ باتوں پر بھی غور نہیں کرتے اور ایسے جھوٹے سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ اے قادیانی جماعت خدا کے واسطے اس مختصر تحریر کو غور سے دیکھئے اور اپنی جانوں پر رحم کر کے اس جھوٹے کی پیروی سے الگ ہو جائیے۔
ہم نے نہایت خیرخواہی سے مسلمانوں کو اور خصوصاً قادیانی جماعت کو مرزاقادیانی کی حالت سے آگاہ کیا اور متعدد رسالے لکھ کر ان کے سامنے پیش کئے۔ مگر افسوس ہے کہ مرزائی جماعت کچھ توجہ نہیں کرتی اور ان کے سر گروہ ہمارے رسالوں کو دیکھنے نہیں دیتے اور یقینی جھوٹے کی پیروی میں سرگرم ہیں اور نہایت ناجائز طریقوں سے جھوٹ کی اشاعت میں کوشاں ہیں اور کچھ خیال نہیں کرتے کہ دنیا میں بہت تھوڑے دن رہنا ہے۔ سخت حیرت ہے کہ مرزاقادیانی اپنے اعلانیہ جھوٹ اور فریب چھپانے کے لئے خداتعالیٰ پر جھوٹ اور فریب کا الزام لگاتے ہیں اور یہ خوشی سے مان رہے ہیں۔ ان کے قادیانی مربی نہایت غلط اور شرمناک باتوں کو مرزاقادیانی سے الزام اٹھانے کے لئے اعلانیہ پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے خدا پر الزام آئے گا اور شریعت الٰہی بیکار ہو جائے گی۔ مگر ان کی اس بے رخی اور بے اعتنائی کے ساتھ بھی ہم ان کی خیرخواہی سے باز نہیں رہ سکتے اور مخلوق خدا کو اس عظیم الشان گمراہی سے بچانے کے لئے مستعد ہیں اور اﷲتعالیٰ ہمارے اور بھائیوں کو بھی مستعد کرے۔ آخر میں اس تحریر میں ہم خاص طور سے مرزاقادیانی کی کذب بیانی دکھانا چاہتے ہیں اور اﷲتعالیٰ سے ملتجی ہیں کہ وہ ہادی مطلق مرزائی جماعت کو ہدایت کرے اور راست بازی اور حق پسندی کا جوش ان کے دل میں عنایت فرمائے۔
پہلے اس کو اپنے ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ ہمارا مذہب مقدس اسلام ایسا عالی مرتبہ ہے کہ راستی اور سچائی اس کا بڑا جز ہے۔ ہمارے نبی کریم سید المرسلین خاتم النّبیین نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ کیسا پیارا اور سچا مقولہ ہے جس کی خوبی اور صداقت پر ہر ایک انسان شہادت دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ برگزیدہ اسلامی صفت مرزائیوں کے مرشد میں نہیں پائی جاتی اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت اس سے بہت دور ہے اور ناراستی اور بے باکی ان کی سرشت میں سرایت کر گئی ہے۔ پھر ایسے شخص کو مقدس اور بزرگ ماننا اسلام کی ہتک کرنا اور ارشاد نبوی کو پامال کرنا ہے جس میں حدیث رسول اﷲa کے بموجب اسلام کا جزو اعظم نہ پایا جائے
اسے بزرگ اور مسیح موعود سمجھنا اور تمام اولیائے کرام سے اسے افضل بتانا کس قدر اسلام پر اور کاملین اسلام پر مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع دینا ہے۔ مخالفین اعلانیہ کہیں گے کہ جس مذہب کے بڑے بزرگ جنہیں خواجہ کمال جیسے لیکچرار تمام اولیائے امت سے افضل قرار دیں اور قادیانی جماعت کے مفروض الطاعۃ امام مرزامحمود احمد قادیانی انہیں خدا کا رسول بتائیں۔ وہ ایسے جھوٹے اور کذاب ہوں۔ پھر اور اولیائے امت کا کیا حال ہوگا اور تمام شریعت الٰہی کے معتبر ہونے کی کیا وجہ ہوگی۔ حیرت یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو جھوٹ بولنے میں اس قدر جرأت ہے کہ نہایت بے اصل اور اعلانیہ جھوٹ کو اس قدر زور اور دعوے سے بیان کرتے ہیں کہ ناواقف کے ذہن میں اس کی صداقت اثر کر جاتی ہے اور اس کے جھوٹے ہونے کا خطرہ بھی اسے نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سادہ لوحوں اور کج طبیعت حضرات نے انہیں مان لیا اور ماننے کے بعد اس میں سرشار ہوگئے اور بہتوں کو تنخواہیں ملنے لگیں۔ بعض کو بات کی پچ پڑ گئی اور طالب دنیا کے پیرو ہو گئے۔ اب مرزاقادیانی کی ناراستی اور کذب بیانی کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ ذرا اس صحیفہ کا پہلا نمبر ملاحظہ کیجئے کہ اس میں کئی جھوٹ مرزاقادیانی کے بیان ہوئے ہیں اور کئی پیشین گوئیاں جو انہوں نے اپنے سخت مخالف کے مقابلہ میں کی تھیں وہ جھوٹی ہوئیں۔ پیغام صلح والے اور محمودی پارٹی آنکھیں کھول کر دیکھے اور انہیں شمار کرے۔ اس نمبر کے شروع میں سات کتابوں کے نام لکھ کر یہ بتایا ہے کہ پہلے رسالہ میں ۱۵۹جھوٹ وفریب مرزاقادیانی کے دکھائے ہیں اور دوسرے میں ۶۹اور تیسرے میں ۹۰ اور چوتھے میں ۴۵ اور پانچویں میں ۲۴ اور ساتویں میں۱۷۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے مقابلہ کی معرکتہ الآراء پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اور اس سے کئی جھوٹ مرزاقادیانی کے ثابت کئے ہیں۔
اے رب العالمین رسول اﷲa کے ان بہکے ہوئے غلاموں کو جو ایک جھوٹے دجال کے اوپر فریفتہ اور شیدا ہیں راہ راست کی ہدایت فرما اور انہیں اس کی توفیق عنایت کر کہ اس سے علیحدہ ہو کر ’’کونوا مع الصادقین‘‘ پر عملدرآمد کریں۔ آمین! بحرمت سید المرسلین وآخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین!
مرتبہ خیرخواہ انام
ابویحییٰ محمد اسحق غفر اللہ لہ، خانقاہ رحمانیہ مونگیر
(نوٹ) صحیفہ رحمانیہ نمبر۲۳ کے مضمون اور اس صحیفہ نمبر۲۴ کے مضامین میں اس قدر توارد تھا کہ یہاں سے اسے حذف کرنا پڑا۔ تکرار سے بچنے کے لئے ایسا کرنا ناگزیر تھا۔
فقیر اللہ وسایا