عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

احتساب جلدچہارم

احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلدچہارم (۴)
مصنّفین حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
حضرت مولانا محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ
صفحات : ۵۹۲
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
طبع اوّل : ستمبر۲۰۰۱ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فہرست رسائل مشمولہ … احتساب قادیانیت جلدچہارم

  1. ٭… دیباچہ…… حضرت مولانا اللہ وسایا

    ۴

  2. ٭… مقدمہ…… حضرت ڈاکٹر علامہ خالد محمود، مانچسٹر

    ۵

  3. ۱… دعوت حفظ ایمان (حصہ اوّل) …… حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

    ۹

  4. ۲… دعوت حفظ ایمان (حصہ دوم) …… حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

    ۱۵

  5. ۳… بیان مقدمہ بہاول پور …… حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

    ۲۹

  6. ۴… الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی …… حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

    ۸۳

  7. ۵… قائد قادیان …… حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

    ۱۱۳

  8. ۶… الشہاب لرجم الخاطف المرتاب …… حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

    ۱۶۱

  9. ۷… صدائے ایمان …… حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

    ۲۰۵

  10. ۸… نزول عیسیٰؑ …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۲۱۳

  11. ۹… ختم نبوت …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۳۱۱

  12. ۱۰… سیدنا مہدی علیہ الرضوان …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۳۷۹

  13. ۱۱… دجال اکبر …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۴۲۳

  14. ۱۲… نور ایمان …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۴۵۳

  15. ۱۳… الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۴۶۳

  16. ۱۴… الجواب الحفی فی آیت التوفی …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۴۹۳

  17. ۱۵… انجاز الوفی فی آیت التوفی …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۵۰۹

  18. ۱۶… آواز حق …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۵۵۱

  19. ۱۷… مسک الختام فی ختم النبوۃ خیر الانام …… حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ

    ۵۵۷

3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ اما بعد!

اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے ’’احتساب قادیانیت‘‘ کی چوتھی جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ۱۹۸۸ء میں مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترv کے ردقادیانیت پر مجموعہ رسائل کو ’’احتساب قادیانیت‘‘ جلد اوّل کے نام سے شائع کیا تھا۔ اس وقت خیال بھی نہ تھا کہ یہ سلسلہ آگے جاری رکھا جائے گا۔ قدرت کے کرم اور کریم کے احسانات کو دیکھئے کہ اس نام سے جلد دوم میں حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے رسائل اور جلد سوم میں حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے رسائل کے مجموعہ جات شائع ہو گئے۔ دوسری جلد کی اشاعت پر جامعہ خیرالمدارس ملتان کے استاذ التفسیر حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ کا اصرار کی حد تک حکم تھا کہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کے رسائل کو بھی یکجا شائع کریں۔ ان کی تجویز پر فقیر نے ارادہ کر لیا تھا۔ لیکن تیسری جلد پر کام شروع ہوچکا تھا۔ چنانچہ تیسری جلد کی تکمیل پر فقیر نے شہید ختم نبوت حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سے عرض کیا کہ آپ اجازت بخشیں تو احتساب قادیانیت کی چوتھی جلد میں شیخ الاسلام سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، محدث کبیر حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کے ردقادیانیت کے مجموعہ رسائل کو یکجا کردیا جائے۔ آپ اس تجویز پر بلامبالغہ خوشی سے اچھی گئے۔ فرمایا: ضرور۔ ان کی متبسم شیریں بیانی کا منظر اس وقت بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ فقیر نے عرض کیا کہ آپ دعا بھی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ آسانی پیدا فرمادیں اور یہ چھپ جائے۔ آپ نے وجد بھری کیفیت میں فرمایا: ’’چھپ گئی۔‘‘ آج جب اس کتاب کے دیباچہ کے لئے قلم اٹھایا ہے تو یہ حسرت ومحرومی دل کو گھائل کر رہی ہے کہ کتاب چھپ گئی اور اس کی اشاعت کی منظوری دینے والے منوں مٹی کے نیچے چھپ گئے۔ یہاں پہنچ کر دل کی تار نے ساز وہ چھیڑ دیا ہے کہ اس سے آگے لکھنے کا یارہ نہیں رہا۔ ہر کتاب کا تعارف اس کتاب کے ابتداء میں دے دیا گیا ہے۔ چند ماہ ہوئے حضرت علامہ خالد محمود صاحب دامت برکاتہم سے ملتان دفتر مرکزیہ میں مقدمہ لکھوایا تھا۔ اب اسے پڑھئے۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیق عنایت فرمائیں اور خدا کرے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے۔ آمین!

فقیر اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ، ۲۷؍اگست ۲۰۰۱ء

4

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مقدمہ

از: حضرت ڈاکٹر علامہ خالد محمود (مانچسٹر)

الحمد ﷲ وسلام علٰی عبادہ الذین الصطفٰی۔ اما بعد!

مرزاغلام احمد قادیانی کے بارے میں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت کو استحکام دینے اور جہاد کو احکام اسلام سے خارج کرنے کے لئے مسلمانوں میں ایک مذہبی گروہ پیدا کیا۔ جس نے انگریزوں کے سیاسی مفادات کو پورا کرنے کے لئے قادیان (پنجاب) میں ایک نئی وحی اتاری اور اسلام کے مرکزی عقیدہ ختم نبوت کو بری طرح مجروح کیا۔ بات اس سے بہت آگے بھی نکلی۔ مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ تحریک صرف ہندوستان کے لئے نہیں، پوری دنیائے اسلام کے خلاف ایک زبردست دجالی کارروائی تھی۔ جس نے پورے اسلام کو استعارات کی زد میں لاکر ایک ایک بنیاد اسلام کو تاویل باطل مہیا کی اور دیکھتے دیکھتے پرانے اسلام کے خلاف ایک نیا اسلام لاکھڑا کیا اور مندرجہ ذیل اصولوں پر اپنے اس نئے اسلام کی بنیاد رکھی۔

۱… قرآن سمجھنے میں اب تک امت مسلمہ نے جو ذرائع اختیار کئے تھے اور تفسیر پر تیرہ صدیوں میں جو عظیم ذخیرہ تیار کیا تھا یکسر ناقابل اعتبار ٹھہرایا اور کھل کر کہا کہ پچھلی تیرہ صد سالہ تفاسیر میں ہم کسی کا اعتبار نہیں کرتے۔

۲… مسلمانوں کے حدیثی لٹریچر پر اپنے آپ کو حکم ٹھہرایا کہ جو حدیث ہم کہیں وہی لائق قبول سمجھی جائے اور جو حدیث ہماری وحی کے مطابق نہ چلے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔

۳… صحابہ کرامi کی قرآن فہمی اور حدیث دانی میں غلطیاں نکالی جائیں اور انہیں پرانے اسلام کے لئے معیار حق نہ مانا جائے تاکہ اس نئے اسلام کا پرانے اسلام سے کوئی تسلسل باقی نہ رہے۔

۴… اسلام کا مرکز عقیدت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ نہ رہیں۔ یہ بات کھل کر کہی جائے کہ اب مکہ ومدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہوچکا ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی نے پرانے اسلام پر ان چار ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اکابر علماء اسلام میں سے امام العصر حجۃ الاسلام حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ پہلے بزرگ ہیں جنہوںنے قادیانیت کو پوری امت مسلمہ پر ایک ’’عالمگیر دجالی حملہ‘‘ سمجھا۔ یہ صحیح ہے کہ اس سے

5

پہلے علماء اسلام ختم نبوت اور حیات مسیح کے عنوانات پر قادیانیوں کے خلاف اعتقادی جنگ کا آغاز کر چکے تھے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ احتیاط کی تمام منزلوں سے گزر کر مرزاغلام احمد قادیانی پر حتمی کفر کا فتویٰ دے چکے تھے۔ لیکن ابھی تک بطور جماعت قادیانیت کو ایک غیرمسلم اقلیت نہ کہاگیا تھا اور نہ قادیانیت کو ہندوستان سے آگے گزر کر پوری امت کے خلاف ایک عالمگیر دجالی فتنہ قرار دیاگیا تھا۔ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے مرزاغلام احمد قادیانی کی اس دجالی تحریک کے خلاف ’’دعوت حفظ ایمان‘‘ کی آواز لگادی۔ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خانv نے انجمن دعوت وارشاد قائم کی اور حضرت شاہ صاحبv نے اپنے تمام شاگردوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی اور حکومتی سطح پر قادیانیوں کے مسلمانوں کے ساتھ رہنے کے نقصانات بیان کئے۔ آپ پہلے بزرگ ہیں جن کی عقابی نگاہ نے قادیانیت کو پورے اسلام کے خلاف ایک خطرناک یلغار سمجھا۔ آپ نے دیوبند میں اپنی قیام گاہ واقع محلہ خانقاہ دیوبند سے ۱۲؍ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ کو دعوت حفظ ایمان کے نام سے ایک عظیم فکری دعوت پیش کی۔

آپ نے اپنی اس دعوت میں مرزاغلام احمد قادیانی کے صرف بڑوں کو ہی نہیں اس کے لاہوری فرقہ کے پیروؤں کو بھی برابر ساتھ رکھا اور پھر ۲۲؍ذیقعدہ کو ’’دعوت حفظ ایمان‘‘ کی ایک اور صدا لگادی۔ آپ کی یہ دونوں تحریریں عرصہ سے نایاب تھیں اور ضرورت تھی کہ ہندوستان میں قادیانیت کے خلاف جو اردو میں کام ہوا اس میں کفر واسلام کے جو اصولی فاصلے سامنے آئے ان میں حضرت شاہ صاحبv کی ان تحریروں کو سنگ بنیاد سمجھا جائے۔ آپ کے شاگردوں نے پنجاب میں مجلس مستشار العلماء قائم کی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں اس کی برانچیں قائم کیں۔ آپ نے پورے عالم اسلام کی طرف سے قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے کی صدا بلند کی تو قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے کی بات پورے ہندوستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ انگریزی دستور حکومت میں قادیانی کو مسلمانوں میں سے ہی سمجھے جاتے تھے۔ لیکن نکاح اور فسخ نکاح اور شمولیت نماز جنازہ جیسے مسائل میں قادیانی پورے ہندوستان میں غیرمسلم اقلیت سمجھے جانے لگے اور مقبوضہ ہندوستان کی انگریزی عدالتوں میں بھی خاوند کے قادیانی ہونے پر مسلم خواتین کے نکاح فسخ ہوئے۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے بھی حضرت شاہ صاحبv سے یہ سبق لیا اور انجمن حمایت اسلام لاہور میں یہ تحریک پیش کی کہ کوئی قادیانی اس کا ممبر نہ ہو سکے اور جو پہلے سے اس میں شامل ہیں وہ یکسر خارج کر دئیے جائیں۔

حضرت شاہ صاحبv کا عالم عرب کو انتباہ

آپ نے قادیانیت کو صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ہی خطرہ نہ جانا بلکہ آپ

6

نے حفظ ایمان کی یہ دعوت پورے عالم اسلام میں پھیلا دی۔ عرب دنیا کو اس پر مطلع کرنے کے لئے ’’عقیدۃ الاسلام‘‘اور ’’اکفار الملحدین فی انکار شی من ضروریات الدین‘‘ جیسی مؤثر کتابیں عربی میں لکھیں۔ حضرت شاہ صاحب کی یہ عربی کتابیں تو باربار چھپتی رہیں اور علماء نے ان کی روشنی میں اردو میں بھی اس پر بہت وقیع لٹریچر مہیا کیا۔ لیکن حضرت شاہ صاحب کی حفظ ایمان کی یہ اردو تحریریں عرصہ سے نایاب تھیں جن کو اس مجموعہ میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس طرح سرکاری وعدالتی سطح پر قادیانیت کے کفریہ فیصلہ کے لئے بنیادی کردار حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے اس بیان کا ہے جو آپ نے بہاول پور کی عدالت میں قادیانیوں کے خلاف دیا۔ وہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ’’الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح‘‘ لکھی۔ یہ کتاب مطبع ہلالی سٹیم پریس ساڈہورہ ضلع انبالہ سے چھپی۔ پھر حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ۱۳۳۸ھ میں ’’قائد قادیان‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جو ۱۳۴۰ھ میں شائع ہوا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے دونوں متذکرہ رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ آپ نے اس کی فصل ثانی میں ان کتابوں کی بھی ایک فہرست دی ہے جو خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پورہ مونگیر سے شائع ہوئیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ بھی مرزاغلام احمد قادیانی کی تردید میں بہت سرگرم رہے۔

حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ان تحریروں سے قادیانیت پوری طرح بے نقاب ہوئی۔ انہیں پرھ کر ان کے غیرمسلم ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا جو لوگ پہلے مسلمان تھے۔ پھر وہ قادیانی ہوئے۔ اب وہ محض غیرمسلم نہیں مرتد سمجھے جائیں گے جن کے لئے عام کافروں کا سا حکم نہیں بلکہ مرتد کاحکم اور زیادہ سخت ہے اور جو قادیانی ان کی ذریت ہیں وہ زندیق شمار ہوں گے۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے باز نہیں آتے۔ نام اسلام کا ہو اور عقائد غیراسلامی ہوں تو یہ وہ زندقہ ہے جسے اسلام میں برداشت نہیں کیاگیا۔ یہ زنادقہ مرتدین کے ساتھ شمار ہوں گے۔ جب قادیانی عام سطح پر غیرمسلم سمجھے گئے تو اب اسلامی دنیا کو ان کے حکم سے مطلع کرنا بھی ضروری بنا۔ اس میں بھی پہل علماء دیوبند نے کی۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنے رسالہ ’’الشہاب لرجم الخاطف المرتاب‘‘ میں قادیانیت کا شرعی حکم تحریر فرمایا۔ اس میں آپ نے نہایت سلیس، معقول اور منصفانہ طریقہ سے مرزائیوں کے ارتداد کا ثبوت، قتل مرتد کے شرعی دلائل اور اس کا عقلی فلسفہ اور جہاد بالسیف کی حکمت اور حدود افغانستان کے فیصلہ دربار تعزیر مرتد کی تحسین وتصویب کی۔ آپ نے

7

یہ رسالہ ۱۸؍ربیع الاوّل ۱۳۷۳ھ کو شائع کیا۔ پھر ۶؍فروری ۱۹۲۵ء کو مرزاغلام احمد قادیانی کے لاہوری جانشین مسٹر محمدعلی مرزائی نے اس کے جواب میں ایک رسالہ لکھا۔ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ نے اس کے دو ماہ بعد اپنے رسالہ الشہاب کی ایک تذنیب جمادی الاخریٰ ۱۳۷۳ھ میں شائع کی۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی اس تحریک پر ان کے جن تلامذہ نے ردقادیانیت میں محنت کی ان میں دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز فرزند محدث کبیر حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کے ردقادیانیت پر تمام رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔

ضرورت تھی کہ ان تمام قدیم تالیفات کو جن کے بل بوتے پر ملت اسلامیہ نے پاکستان میں دو دفعہ ختم نبوت کے محاذ کھولے اور بالآخر قادیانیوں کو دستور اور قانون کے تقاضوں میں ایک غیرمسلم اقلیت ٹھہرایا۔ پھر سے بطور تاریخی دستاویزات کے شائع اور محفوظ کیا جائے۔ راقم الحروف اسی سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے علمی احتساب کو نمبروار شائع کرنے کا قصد کیا ہے۔ جب سے برصغیر پاک وہند میں قادیانیت کا پودا لگا۔ الحمدﷲ!

مجلس نے اس سلسلہ میں بہت سا کام کیا ہے۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اتنا عظیم کام کرنے اور کامیابی سے کنارے اترنے پر لائق صد تبریک ہیں۔ اب تک اس سلسلہ میں جن بزرگوں کی تحریریں شائع ہوچکیں۔ ان کے اسماء گرامی، سن ولادت، سن وفات ہدیہ قارئین ہیں۔

۱… حکیم الامت حضرت مولانا سید محمد اشرف علی تھانویؒ(پ:۱۸۶۳ء، و:۱۹۴۳ء)

۲… امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ(پ:۱۸۷۵ء، و۱۹۳۳ء)

۳… شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ(پ:۱۸۸۹ء، و:۱۹۴۹ء)

۴… شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ(پ:۱۸۹۸ء، و:۱۹۷۴ء)

۵… مناظر اسلام حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ(پ:۱۸۹۸ء، و:۱۹۴۸ء)

۶… مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترv(پ:…، و:۱۹۷۳ء)

۷… محدث کبیر حضرت مولانا سید بدر عالم میرٹھیؒ(پ:۱۸۹۸ء، و:۱۹۶۵ء)

اﷲ رب العزت ان تمام حضرات کی مساعی کو قبولیت سے نوازے۔ آمین!

خالد محمود عفاء اللہ

حال مقیم دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان

8

دعوت حفظ ایمان

(اوّل)

حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

9

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ امابعد!

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ردقادیانیت پر مندرجہ ذیل کتب تحریر فرمائیں: (۱)اکفار الملحدین۔ (۲)خاتم النّبیین۔ (۳)التصریح بما تواتر فی نزول المسیح۔ (۴)عقیدۃ الاسلام۔ (۵)تحیۃ الاسلام۔

الحمدﷲ! یہ کتابیں بارہا شائع ہوئیں۔ پہلی تین کتابوں کے اردو میں تراجم بھی ہوگئے۔ آخری دو کتابوں کے ترجمے تاحال طبع نہیں ہوئے۔ خدا کرے ہو جائے تو اسلامیان برصغیر کے لئے گرانقدر علمی اثاثہ ہوں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ عقیدۃ الاسلام کا ترجمہ حضرت مرحوم کے صاحبزادے حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری کر رہے ہیں۔ خدا کرے جلد شائع ہو جائے۔ (اب وہ ترجمہ بھی شائع ہوگیا ہے) ان کے علاوہ حضرت مرحوم کی ’’دعوت حفظ ایمان‘‘ جلد۱،۲ ہے۔ یہ مختصر چند صفحات کے رسائل ہیں۔ دعوت حفظ ایمان نمبر۱ میں حکومت کشمیر کو قادیانی فتنہ کی زہرناکیوں سے باخبر کیاگیا ہے۔ حضرت مولانا ظفر علی خانv، استاذ محترم مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترv، مولانا عبدالحنان ہزارویؒ، احمد یار خانv کی گرفتاری پر بے چینی کااظہار کیاگیا ہے اور اپنے شاگردوں سے ختم نبوت کا کام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ تحریر ۱۲؍ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ کی ہے۔ دعوت حفظ ایمان نمبر۲ میں قادیانی کفریہ عقائد کو طشت ازبام کر کے روزنامہ زمیندار کی اشاعت کی توسیع اور مستشار العلماء پنجاب لاہور (جو آپ کے شاگردوں نے ردقادیانیت کے لئے قائم کی تھی) سے تقویت اور اعانت کے لئے متوجہ فرمایا گیا۔ یہ تحریر پہلی تحریر کے دس دن بعد یعنی ۲۲؍ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ کی ہے۔ یہ رسالے ایک ایک بار شائع ہوئے۔ اب ان کا ملنا مشکل مسئلہ تھا۔ اس لئے ان کو ان مجموعہ میں شامل کیاگیا ہے۔ (باقی ضخیم کتب ہیں جن کے نام اوپر ذکر کر دئیے ہیں) اللہ رب العزت شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

10

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مقدمہ

حامدا ومصلیا ومسلما۔ السلام علیکم یا اہل الاسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ بحیثیت ایمان واسلام واخوت دینی اور امت مرحومہ محمدیہa کے اعضاء ہونے کے لحاط سے کافہ اہل اسلام خواص وعوام کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ اگرچہ فتنے طرح طرح کے حوادث اور وارداتیں اس دین سماوی پر وقتاً فوقتاً گزرتی رہی ہیں اور باوجود اس کے کہ آخری پیغام بر خدائے برحق کا یہ ہے کہ:’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدۃ:۳)‘‘ {آج کے دن میں نے دین تمہارا کمال کو پہنچایا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور اسلام پر ہی تمہارا دین ہونے کے لئے راضی ہوا۔}

’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین۔ وکان اللہ بکل شیٔ علیما (الاحزاب:۴۰)‘‘ {نہیں محمد(a) کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے لیکن ہیں رسول خدا کے اور خاتمہ پیغمبروں کے اور خدا ہر چیز کا اپنے امور میں سے عالم ہے۔}

اور اس کے قطعی الدلالت ہونے پر بھی امت محمدیہa کا اجماع منعقد ہوگیا اور ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدی کا اساسی اصول قرار پایا اور جس امت نے ہم تک یہ آیت پہنچائی اسی امت نے یہ مراد بھی پہنچائی اور اس دعویٰ پر مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کاذب کو قتل کیا اور بڑا کفر دونوں کا یہ دعویٰ قرار دے کر کذاب مشتہر کیا اور باقی جرائم کو کذاب کے ماتحت رکھا۔ مگر پھر بھی بحکم حدیث نبوی بہت سے دجالوں نے نبوت کے دعوے کئے اور ان کی

11

حکومتیں بھی رہیں اور بالآخر واصل بجہنم ہوئے۔ ہمارے اس منحوس دور میں جو یورپ کی افتاد سے ایمان اور خصائل ایمان کی فنا کازمانہ ہے منشی غلام احمد قادیانی کا فتنہ درپیش ہے اور گزشتہ فتنوں سے مزید اور شدید ہے اور حکومت وقت بھی بمقابلہ مسلمانوں کے قادیانی جماعت کی امداد اور اعانت کر رہی ہے۔ یہ جماعت بہ نسبت یہود اور نصاریٰ وہنود کے اہل اسلام کے ساتھ زیادہ عداوت رکھتی ہے۔ کوئی چیز ان کے اور اہل اسلام کے درمیان مشترک اور اتحادی باقی نہیں رہی۔ منشی غلام احمد قادیانی جو اس زمانہ کا دجال اکبر ہے بیس جز، وحی قرآن مجید پر اضافہ کرتا ہے جو کوئی اس کی اس بیس جز، وحی کا انکار کرے اور ان کو نبی نہ مانے، وہ ان کے نزدیک کافر ہے اور اولاد زنا ہے اور کوئی اسلامی تعلق مثل جنازہ کی نماز اور نکاح کے اس کے ساتھ جائز نہیں۔ پھر قرآن مجید کی تفسیر اس نے اپنے قبضہ میں رکھی ہے۔ دوسرے کسی کا کوئی حصہ نہیں لگتا۔ جیسے فارسی مثل ہے: ’’خوردن زمن ولقمہ شمر دن از تو‘‘

اس کی تفسیر کے متعلق خواہ کل امت کا اختلاف ہو وہ سب اس کے نزدیک گمراہ ہیں۔ حدیث پیغمبر اسلامa کی جو اس کی وحی کے موافق نہ ہو اس کی نسبت اس کی تصریح ہے کہ ردی کے ٹوکرے میں پھینک دی جائے۔ ان دو اصول اسلام یعنی کتاب اور سنت کی تو اس کے نزدیک یہ حاصلات ہے اور بحسب تصریح اس کے اس پر شریعت بھی نازل ہوئی ہے اور بمقابلہ اس عقیدہ اسلامیہ کے کہ بعد ختم نبوت کے آئندہ کوئی شریعت نہیں ہوگی۔ صریح ادّعاء شریعت کیا ہے اور نیز اس کا اعلان ہے کہ آئندہ حج قادیان ہوا کرے گا۔ نیز جہاد شرعی اس کے آنے سے منسوخ ہوگیا ہے اور پیغمبر اسلامa کے معجزات توتین ہزار ہی نقل ہوئے ہیں۔ منشی غلام احمد قادیانی کے تین لاکھ اور دس لاکھ تک ہیں۔ جن میں تحصیل چندہ کی کامیابی بھی شمار ہے اور اس کے اشعار ہیں ؎

  1. زندہ شد ہر نبی با آمدنم

    ہر رسولے نہاں با پیرانہم

  2. آنچہ دادست ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرابتمام

(نزول المسیح ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)

12

نیز اپنی مسیحیت کی تولید میں حضرت عیسیٰؑ کی جن پر ایمان، دین محمدی ہے ایسی توہین کی ہے کہ جس سے دل اور جگر شق ہوتا ہے اور اس کے نزدیک تحقیق توہین ہے۔ الزامی یا بقول نصاریٰ تو درکنار رہی توہین عیسیٰ علیہ الاسلام میں علاوہ اپنی تحقیقی توہین کے ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا ہے کہ نقل نصاریٰ کے سر رکھ کر توہین سے اپنا دل ٹھنڈا کرتا ہے۔ ’’گفتہ آید درحدیث دیگراں‘‘ یہ معاملہ اسی پیغمبر کے ساتھ کیا ہے تاکہ عظمت ان کی وثوق سے اتاردے اور خود مسیح بن بیٹھے۔ اسی واسطے ہنود کے پیشواؤں کے ساتھ ایسا نہیں کیا بلکہ توقیر کی ہے اور ایسے ہی بزرگان اسلام امام حسینq وغیرہم کی تحقیر اور اپنی تعلّی میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ غرض یہ کہ اس دجال کی دعوت اس کے نزدیک سب انبیاء اور رسل صلوٰۃ اللہ علیہم سے بڑھ چڑھ کر اور افضل واکمل ہے۔

علماء اسلام نے اس فتنہ کے استیصال میں خاصی خدمتیں کیں مگر وہ خدمتیں انفرادی اور خصوصی تھیں۔ اس وقت کہ ایک لطفیہ غیب نمودار اور نمایاں ہوا ہے کہ مجاہد ملت جناب سامی القاب مولوی ظفرعلی خان صاحب دامت برکاتہم اس خدمت کا فرض ادا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس وقت جناب ممدوح اور ان کے رفقاء جناب مولوی عبدالحنان صاحب ہزاروی، مولوی لال حسین صاحب اختر اور احمد یار خان صاحب سپرد حوالات ہیں۔ ہم کو کچھ حمیت اور حمایت اسلام سے کام لینا چاہئے۔ اہل خطہ کشمیر سمجھ اور بوجھ لیں کہ جو کچھ قادیانی جماعت ان کی امداد کر رہی ہے وہ اہل خطہ کے ایمان کی قیمت ہے اور ناممکن ہے کہ کوئی امداد اور ہمدردی اس فرقہ کی ایمان خریدنے کے سوا ہو:

  1. دانی کہ چنگ وعود چہ تقریر می کنند

    پنہاں خورید بادہ کہ تکفیر می کنند

جن لوگوں نے اس فرقہ کے ساتھ کسی قسم کی رواداری بھی برتی ہے وہ خطرہ میں ہیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ یہ کوئی معمولی بیعت ہے بلکہ (بقول ان کے) ایک چھوٹی پیغمبری سے

13

ایک بڑی پیغمبری ’’قادیانی‘‘ میں تحویل ہونا ہے اور جن کا جی چاہے ان عقائد ملعونہ قادیانی کا ثبوت ہم سے لے اور اس شدید وقت میں کہ (اہل) وطن کو بے خبر کر کے ایمان پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ کچھ غیرت ایمانی کا ثبوت دے۔

جن حضرات نے اس احقر ہیچ میرز سے حدیث شریف کے حرف پڑھے ہیں جو تقریباً دوہزار ہوں گے وہ اس وقت کچھ ہمدردی اسلام کی کر جائیں اور کلمہ حق کہہ جائیں اور انجمن دعوت وارشاد میں شرکت فرمائیں۔

اس فرقہ کی تکفیر میں توقف یا تو اس وجہ سے ہے کہ صحیح علم نصیب نہیں ہوا اور اب تک ایمان اور کفر کا فرق ہی معلوم نہیں اور نہ کوئی حقیقت محصلہ ایمان کی ان کے ذہن میں ہے اور یا کوئی مصلحت دنیاوی دامن گیر ہے۔ ورنہ اسلام کوئی نسبی اور نسلی لقب نہیں ہے۔ جیسے یہود اور ہنود کہ زائل نہ ہو اور جو کوئی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہے بس وہ قوم نسبی لقب یا ملکی وشہری نسبت کی طرح لاینفک رہے بلکہ (اسلام) عقائد اور عمل کا نام ہے اور ضرورت قطعیہ اور متواترات شرعیہ میں کوئی تاویل یا تحریف بھی کفروالحاد ہے۔ جب کوئی ایک حکم قطعی اور متواتر شرعی کا انکار کر دے وہ کافر ہے۔ خواہ اور بہت سے کام اسلام کے کرتا ہو: ’’ان اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری نمبر۳۰۶۲)‘‘ اسی میں وارد ہوا ہے حق تعالیٰ صحیح علم اور صحیح سمجھ اور توفیق عمل نصیب کرے۔ آمین!

انتباہ: آخر میں یہ عاجز بحیثیت رعیت ریاست کشمیر ہونے کے حکومت کشمیر کو متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ قادیانی عقیدہ کا آدمی عالم اسلام کے نزدیک مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت کشمیر وجمیع اہل اسلام اور مذہب قدیمی اہل کشمیر کی رعایت کرتے ہوئے قادیانیوں کی بھرتی اسکولوں اور محکموں میں نہ کرے ورنہ اختلال امن کا اندیشہ ہے۔

محمد انور شاہ کشمیری عفااﷲ عنہ

ازدیوبند، محلہ خانقاہ، ۱۲؍ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ

(منقول از روئیداد مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ص۸تا۱۲…۱۳۸۲ھ)

14

دعوت حفظ ایمان

(دوم)

حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

15

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

السلام علیکم یا اہل الاسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حامدا ومصلیا ومسلما!

بندہ درگاہ الٰہی، محمد انور شاہ کشمیری عفا اللہ عنہ پھر بحیثیت ایمان واسلام وبحیثیت اخوت دینی وبحیثیت اس کے کہ ہم سب امت مرحومہ محمدیہa کے اعضاء واجزاء ہیں۔ جملہ اہل اسلام خاص وعام کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ:

  1. عالم چو کتابے است پر از دانش و داد

    صحاف قضاء و جلد او بدء و معاد

  2. شیرازہ شریعت چو مذاہب اوراق

    امت ہمہ شاگرد و پیمبر استاد

عالم بہ عقیدۂ ادیان سماوی جانبین ماضی ومستقبل سے محدود ہے۔ کیونکہ مستقبل کل قوت سے فعلیت میں نہیں آیا اور میرے نزدیک چونکہ ماضی ومستقبل محض ہمارے اعتبار سے ہیں حق تعالیٰ کے ہاں ایک ہی آن حاضر ہے جیسے طبرانیؒ نے ابن مسعودq سے روایت کیا ہے کہ: ’’لیس عند ربک صباح ولا مساء الشکول (از محمد بن حسین الحارثی ج۱ ص۶۰، کشاف اصطلاحات ج۱ ص۷۵، تفسیر روح المعانی ج۱۱ ص۱۰۰، اللباب فی علوم الکتاب از سراج الدین نعمانی دمشقی ج۱۳ ص۹۶)‘‘

پھر جب ہم حق تعالیٰ سے زمانہ رفع کر دیں تو حوادث آرہے ہیں اور جارہے ہیں۔ آنے کی جانب کو ہم نے مستقبل نام رکھا ہے اور جانے کی جانب کو ماضی۔ اس تقدیر پر یہ دونوں اعتباری اور اضفی ہوئے نہ حقیقی اور حوادث خواہ کیسے ہی غیرمحصور ہوں پھر بھی قدم کی وسعت اور امتداد کو پر نہیں کر سکتے۔

وعلیٰ ہذا ماضی کی جانب بھی میرے نزدیک غیرمتناہی بالفعل نہیں جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے بلکہ عالم دونوں جانب سے غیرمتناہی ’’بمعنی لا یقف عند حد‘‘ ہے اور دونوں طرف سے منقطع اور زمانہ کوئی شئے مستقل برأسہ نہیں بلکہ ان ہی حوادث سے منتزع ہے اور مسئلہ تجدد امثال کا بھی ایک صحیح مسئلہ ہے اور چونکہ مادہ سے کثرت ہوتی ہے اور صورت سے

16

اتحاد جیسے سامان عمارت چونکہ مادہ ہے وہ کثیر اور متعدد ہے اور صورت تعمیری چونکہ صورت ہے اس سے عمارت کی وحدت شخصی آئی۔

علیٰ ہذا القیاس کل عالم کو سمجھئے کہ اس میں ایک وحدت انتظامی ہے اور وہ ایک شخص اکبر ہے نہ محض بے انتظام گدام۔ آدمm سے پیشتر عناصر اور موالید ثلاثہ اور ارض وسماء اور بعض انواع پیدا کئے گئے مگر یہ تاچندے بمنزلہ مادہ کے رہے۔ آدمm کے آنے کے بعد ان متفرقات منتشرہ کو وحدت انتظامی عطاء کی گئی کہ بمنزلہ صورت کے ہے۔ اشیاء متفرقہ کے مجموعہ میں اگر وحدت ہوسکتی ہے تو وحدت انتظامی اور ترتیبی ہی فقط۔ یعنی آدمm کو خلیفہ اور افسر بناکر بھیجا اور عالم کو ان کی ماتحتی میں دے دیا اس سے کل عالم واحد بالشخص اور شخص اکبر ہوگیا۔

اس پیغمبر برحق نے اپنے عمل سے بنی آدم کو یہ تعلیم دی کہ جب کسی ایک پر کسی معاملہ میں فرد جرم لگا کرے وہ بارگاہ خداوندی میں نہ جواب دعویٰ پیش کرے اور نہ صفائی دینے کی کوشش بلکہ اس کا حق صرف ایک ہی راہ ہے وہ یہ کہ مراحم خسروانہ میں درخواست دے کہ: ’’ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین (الاعراف:۲۳)‘‘

عزازیل (ابلیس) نے حق تعالیٰ سے حجت کی وہ ابدالدہر ملعون ہوگیا۔’’لایسئل عما یفعل وہم یسئلون (الانبیاء:۲۳)‘‘ اب اہل سنت کا قدم آدمm کے قدم پر ہے اور اہل اعزال کا قدم عزازیل کے قدم پر اور اس واقعہ سے حق تعالیٰ نے یہ بھی تعلیم کر دی کہ خلفاء سے جو شخص انحراف کرے وہ اصل سلطنت سے باغی ہے یہاں ہی سے انبیاءo پر ایمان لانا جزء ایمان ہوگیا۔

آدمm کے بعد کچھ دیر تک دنیا میں ایمان ہی رہا۔ نوحm کے قبیل دنیا میں قابیل کی ذریت میں کفر نمودار ہوا اور پہلے وہ پیغمبر کہ کفر کے توڑ کے واسطے بھیجے گئے وہ نوحm ہیں۔ اس کے بعد دنیا میں صائبین ظاہر ہوئے۔ صائبین ان کو کہتے ہیں جن کا خیال ہے کہ ہم اعمال سفلیہ سے علویات کو تابع اور مسخر کریں گے۔ جیسے معشوق یا ہمزاد کو کوئی مسخر کرتا

17

ہے۔ اس خیال میں یہ بھی مندرج ہے کہ اس فرقہ کو خدا کی جانب سے ہدایات کی ضرورت نہیں اور نہ کسی ہادی کا واسطہ وثنیت (بت پرستی) بھی صائبیت کا ایک ذلیل تنزل ہے۔ منتر جنتر کے ذریعہ سے خدا کو مسخر کرنا چاہتے ہیں؟

انبیاءo کا دین اس کے بالکل برخلاف ہے ان کا دین یہ ہے کہ خدا کی بارگاہ میں محض بندگی اور عبدیت کی عرض ومعروض رہے گی اور ادھر ہی کی ہدایت پر عمل پیرا ہونا ہوگا وبس۔ صائبین کے مقابلہ میں ابراہیمm کو بھیجا گیا اور ان کا لقب حنیف ہوا۔ حنیف اس کو کہتے ہیں کہ سب کو چھوڑ چھاڑ کر ایک خدا کا ہو جائے جیسے شیخ عطارv فرماتے ہیں:

  1. از یکے گو وزہمہ یک سوئے باش

    یک دل و یک قبلہ و یک روئے باش

اس کے بعد کچھ تکمیل دین سماوی کی کہ ابتداء سے خاتم الانبیاء تک دین واحد ہے۔ باقی تھی وہ خاتم الانبیاءa کے ہاتھ پر تمام کر دی اور اعلان کر دیا کہ:’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:۳)‘‘

’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین۔ وکان اللہ بکل شیٔ علیما (الاحزاب:۴۰)‘‘

پہل آیت میں یہ بھی آگیا کہ اب کوئی جزء ایمان کا باقی نہیں رہا۔ خاتم الانبیاءa پر ایمان لانا کل انبیاءo پر ایمان لانا ہے۔ ایسا نہیں کہ من بعد کسی پر ایمان نہ لانے سے کافر رہے جیسے قادیانی دجال سمجھا ہے کہ: ’’جو دین نبی سازنہ ہو وہ دینی لعنتی ہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

جیسے معلوم ہوا کہ عالم محض متفرقات منتشرہ نہیں بلکہ وہ ایک واحد منظم ہے اسی طرح بتصریح حدیث خاتم الانبیاءa نبوت بھی عمارت کی مثال ہے کہ اس کی اساس رکھی گئی اور تعمیر کی گئی اور تکمیل کو پہنچا کر آخر لبنہ نبی کریمa کو رکھ کر عمارت ختم کر دی گئی۔ قرآن مجید نے اعلان تکمیل وختم سنادیا اور نبوت کی کوئی جزئی باقی نہیں رہی۔ البتہ کمالات نبوت کہ وہ فیوض اور متعلقات نبوت ہیں عین نبوت نہیں۔ باقی ہیں یہاں اجزاء اور جزئیات کافرق بھی اہل معقول پر مخفی نہیں۔ جزء پر کل صادق نہیں اور جزئی پر کلی صادق۔

18

ختم نبوت کا عقیدہ بہ تبلیغ پیغمبر اسلام، خاص وعام کو پہنچ کر ضروریات دین میں سے ہوگیا جس کا انکار یا تحریف کفر ہے۔ صوفیاء کرام نے جو کوئی مقام ولایت کا انبیاء الاولیاء اور نبوت من غیرتشریع ذکر کیا ہے تو ساتھ ہی نہایت مؤکد پیاپے تصریح کی ہے کہ نبوت سے مراد لغوی بمعنے پیشین گوئی ہے نہ نبوت شرعی۔ کیونکہ نبوت شرعی کا جو ایک منصب الٰہی اور وہبی ہے نہ کسبی۔ خواہ شریعت جدیدہ ہو یا نہ ہو اختتام اسلام میں اساسی اصول ہے اور منصوص قرآن واحادیث متواترہ اور مجمع علیہ امت محمدیہa ہے۔ اسی دفعہ کے ماتحت مسیلمہ کذاب کو قتل کیا اور کذاب، فرد جرم لگائی بقیہ شنائع اس کے مادون اور مابعد کے رہے، بلکہ جیسے ابن خلدونv نے ذکر کیا ہے۔ یہ امور صحابہiکو اس کے قتل کے بعد معلوم ہوئے ہیں۔ قتل تو دعویٰ نبوت پر ہوا ہے۔

اس کے بعد دنیا میں بحسب طبیعت دنیا، زندقہ اور الحاد ظاہر ہوا۔ زندقہ اور الحاد اس کو کہتے ہیں کہ سچے دین کو گڑبڑ کردے اور اسماء سابقہ کو بحال رکھ کر حقیقت ان کی بگاڑ دے کہ فلاں چیز کی حقیقت یہ نہیں بلکہ یہ ہے۔ وعلیٰ ہذا القیاس دین کا اسم ہی چھوڑے مسمی فناء کر دے۔ دہلی میں ایک صاحب چارپائی کے پائینتی کے سیروے فقط بغل کے نیچے دبائے ہوئے یہ صدا لگایا کرتے تھے۔ (دو نہیں لمبے تڑنگے، ایک نہیں سرھنے کا، چار نہیں ٹیکن کے اور لوچار پائی) آٹھ لکڑیوں میں سے سات موجود نہیں اور پھر بھی چارپائی ہے۔

ایسے ہی وقتاً فوقتاً ملحدوں اور زندیقوں نے دین برحق کو شکست وریخت کر کے مسمی فنا کیا اور کچھ پردہ باقی رکھنے کی وجہ سے عوام کی نظر میں غیرفرقہ ہونے کی جو کچھ زد پڑتی اس سے بچ گئے۔ اس وقت یورپ کی افتاد جو ایمان اور صفات ایمان پر ہے اس کی پیداوار اور حکومت وقت کی پیداوار منشی غلام احمد قادیانی کی دعوت نبوت ہے۔

یہ شخص معمولی درجہ کی فارسی اور اردو کا مالک ہے نثر ونظم میں کوئی اعلیٰ پایہ نہیں رکھتا۔ عربی میں محض تک بندی یاسرقہ کر سکتا ہے اور صوفیاء کرام جسے فن حقائق کہتے ہیں اس میں سے کسی حقیقت کو صحیح نہیں سمجھ سکا۔ قرآن مجید کی مناسبت سے اس قدر محروم ہے کہ اپنی مطبوعات میں نہایت کثرت سے آیات غلط اور محرف نقل کرتا جاتا ہے۔

19

تعلیم اس کی باب اور بہاء اللہ کی تعلیم سے مسروق ہے۔ بہاء اللہ کی کتابیں یہاں پیشتر موجود نہیں تھیں۔ جس کی وجہ سے کچھ وقفہ رہا اب کہ کتابیں اس کی آگئیں۔ ناظرین نے اس سرقہ فاضحہ کو ثابت کر دکھایا۔ معہذا اس دجال کی دریدہ دہنی اس درجہ تک ہے کہ کہتا ہے:

  1. زندہ شد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں باپیرانہم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہوا ہے۔ (نہیں تو مرے پڑے تھے) اور ہر رسول میرے چولے میں چھپا پڑا ہے۔

پہلوں نے کیا خوب پیشین گوئی کی ہے۔

  1. بنمائے بصاحب نظرے گوہر خودرا

    عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند

اور

کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک

بیٹا اس (مرزاغلام احمد قادیانی) کا اس کی بعثت کو خاتم الانبیاءa کی بعثت سے افضل اور اکمل اعلان کرتا ہے اور اسی پر بیعت لیتا ہے۔ اس کافردجال نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جو کوئی کل عالم اسلام اسے نبی نہ مانے اس کو کافر اعلان کیا اور ولد الزنا کہا،اور دعویٰ وحی کیا جو مساوی قرآن اس کے زعم میں ہے اور بمقابلہ ان علماء کے جنہوں نے آئندہ شریعت ناممکن لکھی ہے (اور کلام ان کی شریعت جدیدہ میں ہے) دعویٰ شریعت کیا۔ اس سے ناظرین خود سمجھ لیں کہ یہ دعویٰ بمقابلہ ان علماء کے دعویٰ شریعت جدیدہ کو مستلزم ہے یا یوں ہی بے سوچے سمجھے کلام بے موقع ولایعنی ہے۔ اس کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ جہاد اسلامی میرے آنے سے منسوخ ہوگیا اور (ظلی) حج آئندہ قادیان کا ہوگا اور جو چندہ قادیان کا نہ دے گا وہ خارج از بیعت یعنی خارج از اسلام ہے زکوٰۃ یہی رہ گئی اور بہت سے ضروریات دین کا انکار کیا جو تاویل سے ہو یا بغیر تاویل کے کفر ہے۔ عالم کو قدیم کہتا ہے اور قیامت کو ایک تجلی فقط اور تجلی کا جو صوفیاء کرام کی اصطلاح ہے کوئی مفہوم محصل اس کے ذہن میں نہیں اور اگر سودفعہ جیئے اور سودفعہ مرے۔ کبھی ان حقائق کو سمجھ نہیں سکتا۔ ناحق صوفیاء کی اصطلاحات میں الجھتا

20

ہے اور منہ کی کھاتا ہے۔ صوفیاء کرام نے اس لفظ کو اور مواضع میں اطلاق کیا ہے۔ کسی نے ان میں سے قیامت کو تجلی نہیں کہا مگر اس دجال نے ان ہی سے اڑایا ہے اور قدم عالم کا مسئلہ ایسا معرکۃ الآراء ہے کہ باپ بیٹا مل کر قیامت کی صبح تک بھی نہیں سمجھ سکتے۔ ناحق ان مشکلات میں ٹانگ اڑائی ہے۔ اپنی کم مائیگی اور تنگ ظرفی سے معمولی سواد کو جواسے حاصل ہے عدیم المثال سمجھتا ہے اور اسی کم حوصلگی کی بناء پر جب کسی جذبہ کے ماتحت غیب گوئی کرتا ہے اور منہ کی کھاتا ہے تو کمال بے ایمانی سے تاویلات مضحکہ کرنے کو آموجود ہوتا ہے۔

بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن

تقدیر کا بھی منکر ہے ملائکہ کرام کو قویٰ کہتا ہے اور ان کے نزول کا جو منصوص قرآن ہے منکر ہے۔ حیات عیسیٰؑ جو متواتر دین محمدی ہے اور معجزہ احیاء میت جو منصوص قرآن ہے اس کو شرک وکفر کہتا ہے اور جو دین نبی ساز نہ ہو اسے لعنتی دین بتلاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!

اور بہت سی چیزوں کا جو دین میں متواتر اور اصول ہیں تحریف کی جو زندقہ اور کفر ہے جیسے کوئی نماز کی تحریف کرے۔ توہین انبیاءo کی گزر گئی کہ کل کے کل کو اپنا چیلا بتلاتا ہے اور عیسیٰؑ کی توہین کو تو العیاذ باﷲ! اپنی تعلیم کا مستقل موضوع بنایا ہے اور رسالے لکھے ہیں نہ تحقیقی توہین میں کمی ہے اور نہ تعریضی میں یعنی دوسرے کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا اور غرض اس دجال کی اس سے یہ ہے کہ عظمت ان کی قلوب سے اتارے اور خود مسیح بن بیٹھے۔ ولہٰذا ہنود کے پیشواؤں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا بلکہ توقیر اور استمالہ کیا ہے۔

ہم نے کسی جماعت میں خواہ علماء ہوں یا عقلاء روزگار بکلی اتفاق علم نہیں دیکھا۔ الاانبیاءo کہ ان میں اتفاق کلی ہے۔ اسی سے ہم سمجھے تھے کہ یہ کوئی اور علم ہے جو حضرت حق نے دیا۔ اس قادیانی دجال نے اس کو بھی بے وزن کردیا اور یہی تعلیم اپنے اذناب کو دے گیا۔ یہ بھی معلوم ہوکہ قادیانی پہلے مسیحیت کے دعویٰ کو تناسخ کہتا تھا اور دعویٰ صرف مثیل ہونے کا تھا۔

چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔‘‘ (اشتہار مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء، مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۱، عسل مصفی ج۲ ص۵۲۸)

21

اس کے بعد جب دوسرا جنم لیا تو یوں کہا: ’’سواس نے قدیم وعدے کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا جو عیسیٰ کا اوتار اور احمدی رنگ میں ہوکر جمالی اخلاق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۴۴۶)

یہاں ضروریات دینیہ کی تفسیر ضروری ہے۔ ضروریات دینیہ ان متواترات شرعیہ کو کہتے ہیں جو بہ تبلیغ پیغمبر اسلام، خاص سے متجاوز ہوکر عوام کو بھی پہنچ گئے اور ان کے علم میں عوام بھی شریک ہوگئے اور شریعت کے بدیہی امور ہوگئے۔

اور مراد، ان کی بھی وہی مقرر رہے گی جو امت نے بوقت تبلیغ سمجھی اور پھر طبقہ بعد طبقہ پہنچاتے اور سمجھاتے آئے۔ اس کی تحریف اور اس سے انحراف کفر والحاد ہے۔ یہاں ضرورت بمعنی بداہت ہے اور یہ ایک مشہور اصطلاح فنون کی ہے جس کاعلم بالا ضطرار ہو۔ متواتر اس کو کہتے ہیں جس کی نقل اس قدر پیہم ہوکہ خطاء کے احتمال کی اس میں گنجائش نہ رہے۔ فنون مدّونہ میں بھی کسی فن کے اصحاب کے نزدیک بکثرت متواترات ہوتے ہیں۔ جیسے صرف ونحو میں بکثرت متواترات ہیں جن میں کوئی بھی شبہ نہیں کرتا اور ایسے ہی علماء لغت جو ایک جماعت مخصوصہ ہے ان کے اتفاق کے بعد بھی کوئی متردد نہیں رہتا۔ اسی طرح قرآن مجید تو حرفاً حرفاً متواتر ہے۔ علاوہ اس کے شریعت میں اور بھی بکثرت متواترات موجود ہیں جیسے مضمضہ واستنشاق (ناک میں پانی ڈالنا اور کلی کرنا) وضوء میں اور مسواک وغیرہ صدہا امور، اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ضروریات دینیہ اعلیٰ درجہ کے فرائض مؤکدہ کو کہتے ہیں بلکہ مستحب بھی اگر صاحب شریعت سے بتواتر ثابت ہو وہ بھی ضروریات میں سے ہے بلکہ بعض مباحات کی اباحت مثلاً جو اور گیہوں کی اباحت ضروریات دینیہ سے ہے جو کوئی ان کی اباحت اور حل کا انکار کرے وہ قطعاً کافر ہے کیونکہ پیغمبر اسلام کے عہد سے لے کر اب تک امت کھاتی آئی اور حلال کہتی آئی۔ کسی کو جو، مرغوب طبیعت نہ ہو وہ بخوشی ترک کر سکتا ہے لیکن حل کے انکار سے کافر ہو جائے گا۔ ضرورت سے یہاں ضرورت اعتقاد وثبوت مراد ہے نہ ضرورت عمل جوارح۔ یہ بھی معلوم رہے کہ یہ کل ضروریات دین، ایمان کے دفعات ہیں نہ فقط توحید ورسالت بلکہ

22

رسالت پر ایمان تو اسی واسطے ہے کہ جو کچھ وہ خدا سے لائیں اور تبلیغ کریں اس پر ایمان ہو۔ وعلیٰ ہذا کہہ سکتے ہیں کہ مسواک سنت ہے اور اعتقاد اس کی سنیت کا فرض ہے اور اس کی معلومات حاصل کرنا سنت ہے اور دانستہ جحود کفر ہے اور جہل اس سے حرمان نصیبی۔

شریعت محمدیہa میں بہ تبلیغ پیغمبر اسلام، بہت کثرت کے ساتھ متواترات ہیں اور بتواتر توارث یعنی نسلاً بعد نسلٍ بتواتر نقل کئے گئے ہیں اور ان میں طبقہ بعد طبقہ تواتر چلا آتا ہے تواتر اسنادی کوئی لازم نہیں۔

حاصل کلام کا یہ کہ کل وہ امور جو دین میں بالبداہت معلوم اور درمیان عام وخاص کے مشتہر اور مسلم ہوں، وہ کل کے کل ضروریات دینیہ میں سے ہیں اور ان سب پر بدون انحراف وتحریف کے ایمان لانا ایمان کی حقیقت میں داخل ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ ایمان کے دفعات وہی امور ہیں جن کی تبلیغ حضرت رسالت پناہ سے ہو اور ان مسائل وعقائد بدیہہ کا انکار کفر اور ارتداد ہے۔ ایمان کے دو جزء یعنی شہادتین ان کل متواترات اور ضروریات کی تسلیم پر حاوی ہیں۔ ورنہ یوں دجال بھی آنحضرتa کی مجمل تصدیق کرے گا جیسے احادیث میں موجود ہے اور اسی میں قرآن نازل ہوا ہے:’’فلا وربک لایؤمنون حتی یحکموک فی ما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیماً (النساء:۶۵)‘‘ {قسم تیرے رب کی کہ مؤمن نہ ہوں گے جب تک کہ تجھے حکم نہ بنالیں ہر اس چیز میں کہ اختلافی ہوگئی ان کے درمیان، پھر نہ پائیں اپنے جیوں میں گھٹن آپa کے فیصلہ سے اور مان لیں ماننے کی طرح۔}

اس بدیہی مضمون کے بعد قادیانی کی تکفیر بدیہی امر ہے۔

توقف کا سبب کوئی علمی مرحلہ نہیں بلکہ بعض کو تو ایمان کے ساتھ کوئی ہمدردی ہی نہیں اور نہ فرق ایمان وکفر سے کوئی سروکار۔ ان کے نزدیک دعویٰ اسلام ہی اسلام ہے۔ جیسے نسب اور شہروملک کی نسبت میں فقط دعویٰ کافی سمجھا جاتا ہے ان لوگوں کو تو مسئلہ تکفیر سے اشتعال اور طیش آجاتا ہے۔

23

وہ خود بہت سی قیود شریعت سے آزاد ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی کا کیا حق ہے کہ ہم پر حرف گیری کرے کفر ہے کس جانور کا نام ؟ اور بعض ایسے ہیں کہ سلامت روی میں ان کا دنیوی فائدہ ہے ان کو اس کی کیا پروہ کہ ایمان پر کیا گزر رہی ہے۔

  1. حافظاگر خیر خواہی صلح کن باخاص و عام

    بامسلماں اللہ اللہ بابرہمن رام رام

بعض روشن خیال زمانہ جن کا نصاب تعلیم فقط انگریزی زبان اور انگریزی خط ہے اور نصاب علم شریعت سے بکلی فارغ اور ان کو اس کا اقرار بھی ہوتا ہے مگر پھر چنے کے چھلکے کی طرح خالی چٹختے رہتے ہیں۔ ’’وما مثلہ الاکفارغ حمص۔ خلی بن معنی ولٰکن یفرقع‘‘ (خزانۃ لادب وغایۃ الارب، ابن حجہ الحموی ج۱ ص۱۷۴)

یہ صاحب زبانی دعوت اتفاق واتحاد دیتے ہیں اور اس میں خلل انداز صرف مولویوں کی تکفیر بازی قراردیتے ہیں۔ اس گمراہ کن مغالطہ میں یہ چند امور یادداشتی ہیں کیا کافر کی تکفیر اگر حق بجانب بھی ہو وہ بھی ترک کرنی چاہئے؟ اس صورت میں تو کفر وایمان میں کوئی فرق ہی نہ رہا۔ اگر یہ صحیح نہیں اور عقیدت اسلام کی ہے تو ضرور کوئی معیار درمیان کفر وایمان کے فارق ہوگا پھر اس معیار کی تحقیق کرنی چاہئے تاکہ اسی پر عمل رہے۔

پھر دیکھنا یہ ہے کہ کیا تکفیر بازی اوّلاً مرزاغلام احمد قادیانی نے کی۔ جس نے کل عالم اسلام کو جو اس کو نبی نہ مانے کافر اور ولد الزنا کہا اور یہ ہی بیخ کن اسلام ہوا یا علماء اسلام؟ جنہوں نے مرزاقادیانی اور اس کے اذناب کی تکفیر کی جن کی تعداد سنا ہے کہ مردم شماری کی اعداد میں ۷۵ہزار دونوں (لاہوری وقادیانی) طائفہ کی ہے اور کیا اتفاق کی جڑ مرزاغلام احمد قادیانی نے کاٹی یا علماء اسلام نے؟

قادیانی کہتا ہے کہ عقیدۂ حیات عیسیٰؑ اور احیاء میت شرک وکفر ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے کہ میں بھی ایک زمانہ دراز سے بتقلید جمہور اہل اسلام اسی عقیدہ پر تھا اب کفر سے اسلام کی طرف آیا ہوں اور علماء اسلام کہتے ہیں نہیں بلکہ قادیانی اسلام سے کفر کی طرف گیا۔ پھر کیا جو انتقال اس نے اپنے اقرار سے کیا، مخول کی طرح ٹال دینے کی چیز ہے یا علماء اسلام کا

24

حق ہے کہ اس کو پرکھیں؟ بات یہ ہے کہ اپنی لینی میں تو کوئی یہ سخاوت اور کرم نہیں کرتا اور جب ایمان کی تقسیم کا وقت ہو سو وہ ہے کیا چیز جس میں سخاء اور جود نہ کریں۔

بخال ہندوش بخشم سمر قند و بخارا را

گھر سے کیا گیا جو حساب واحتیاط ہو۔

جو صاحب لاہوریوں کی تکفیر میں جو قادیان کو مسیح موعود وغیرہ سب کچھ مانتے ہیں اور نبوت ظلی بروزی وغیرہ کہتے رہتے ہیں جس کی کوئی اصل دین میں نہیں، متأمل ہیں وہ بھی سمجھ سے محروم ہیں۔ کیا اگر کوئی یہ کہے کہ مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا ہی نہیں بلکہ ایک محدث وہ بھی ہوا ہے تو اس سے وہ شخص کفر سے نجات پائے گا؟ حق تعالیٰ صحیح سمجھ نصیب کرے اور سلامت فطرت کی دے۔ آمین!

قادیانی کی تعلیم اور دعوت کو کیوں اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ کیا وہ دعویٰ نبوت اسی معنی سے نہیں کرتا جس معنی میں یہ لفظ آسمانی کتابوں میں آیا ہے اور کیا وہ اپنی نبوت نہ ماننے والے کو کافر اور ولدالزنا نہیں کہتا اور کیا وہ اپنی وحی کو قرآن کے برابر نہیں کہتا اور کیا اس نے دعویٰ شریعت اور توہین انبیاء نہیں کی؟ اس کے بعد لاہوریوں کا کتمان اور عمداً مغالطہ ان کے منہ پر کیوں نہ مارا جائے اور ان کو فی النار والسقر کیوں نہ کیا جائے؟

اصل میں اس فرقہ کی تکفیر میں بھی توقف کے وجوہ وہی ہیں جو اوپر گزر گئے کوئی نئی بات نہیں۔ پنجابی دھوبی کپڑے کو پتھر پر مارنے کے وقت بولا کرتے ہیں۔ ’’ساڈا کی جاندے اچھو‘‘ اور اگر کسی کو ان مسائل کا جہل ہو تو اپنے جہل ہی کا اعتراف کرتا رہے۔ جہل کو علم نہ بنائے اور جہل خداداد کو نہ چھپائے اور خلق اللہ کو گمراہ نہ کرے۔

تکفیر کا مسئلہ اگر احتیاط کی چیز ہے تو دونوں جانب سے ہے نہ مسلم کو کافر کہے اور نہ کافر کو مسلم۔ جب مرزاغلام احمد قادیانی قطعاً کافر ہے اور بدیہی کافر اور تاریخ اسلام میں بلافصل مدعی نبوت کو کافر کہتے آئے ہیں اور سزائے قتل دیتے تو اس کے دعاوی کو کتمان کرنے والا اور مصالح سے تحریف کرنے والا جو بداہت کے خلاف ہے کفر سے کیسے بچ سکتا ہے؟

25

بداہت کے خلاف مکابرہ شرعاً وعقلاً قابل التفات نہیں۔ کفار کے ساتھ جہاد کیوں ہوتا ہے۔ کیا ان کے شبہات نہیں؟ یہی تو کہ وضوح حق کے بعد شبہات کی پرواہ نہیں کی گئی اور یہاں تو شبہات بھی نہیں محض بے حیائی اور کتمان ہے اور جنگ زرگری۔

اور سنئے کہ اس جاہلانہ احتیاط میں کیا کچھ مضمر ہے۔ کیا کسی ناپاک ذات کو مسیح موعود ماننا کفر نہیں؟ شریعت تورات میں کہ نبوت جاری تھی اس میں متنبی کاذب کا کیا قتل نہیں؟

کیا کسی رجس خبیث کو مسیح موعود اور مہدی مسعود کہنا شریعت متواترہ اسلامیہ کی تحریف اور تمسخر نہیں؟ شریعت مواترہ کی تحریف کی بجائے خود کفر نہیں۔ کفر کے کوئی سینگ ہیں کہ دروازہ میں نہ سمائیں؟ ہاں! خوب یاد آیا کہ ممکن ہے کہ کفر کی شکل جئے سنگھ بہادر ہو یا رودرگوپال اور ان کے سینگ بھی ہوں۔

اس کے بعد اس جاہل محتاط سے کہنا چاہئے کہ وہ اپنی اس ہمہ دانی میں میاں مٹھو کی طرح اتنے ہی پر اکتفاء کرے کہ قادیانی قطعی بدیہی کافر ہے پھر دنیا کو ان کی سمجھ پر چھوڑ دے وہ خود نتیجہ نکال لیں گے کہ بدیہی کافر کو مسیح ومہدی بنانے والا کیا ہے؟

یہ بھی شریعت میں دیکھنے کی چیز ہے کہ کیا کسی کے لئے سوائے اعتقاد نبوت کے اعتقاد وحی مساوی قرآن رکھنا یا اعتقاد شریعت رکھنا یا اس کے اس قول پر:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفاں نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اعتقاد رکھنا کیایہ کفر نہیں؟

نیز فرض کیجئے کہ کسی شخص نے دعویٰ نبوت بالتصریح کیااور اس کے اذناب ہو گئے بعض نے نبی مانا اور بعض نے عمداً ومصلحتاً ’’توجیہ القائل بملا یرضی بہ قائلہ‘‘ کر کے اس کو نبی نہ کہا۔ لیکن سب خصائص وفضائل انبیاء کے اس کے لئے اعتقاد کر لئے۔ کیا وہ سب کافر نہیں؟ یہ بھی معلوم رہے کہ انبیاء کی نقل اتارنا مثلاً اپنے دو چیلوں کا نام جبریل اور میکائیل رکھے اور کہتا رہے کہ مجھے جبریل نے یہ خبر دی اور میکائیل نے یہ کہا یا یہ کہے کہ مجھ پر

26

میرے حق میں ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ نازل ہوئی ہے۔ (تذکرہ ص۶۱۲)

غرض نقل اتارتا ہو جیسے مسیلمہ نقل اتارتا تھا اور محاکات کرتا تھا۔

آنچہ انساں مے کند بوز زینہ ہم

اس کی دو صورتیں ہیں یا یہ کہ انبیاء کے ساتھ استہزاء کرتا ہو، یا ادعاء ہو کہ مجھے بھی یہ خصائص حاصل ہیں اور واقعی یہ دو فرشتے میرے پاس آتے ہیں اگرچہ اس ادّعاء سے نقل اتارنا مغائیر ہے۔ حکم دونوں صورت کا کفر ہے اور جو کوئی اس کے اس ادّعاء کو صداقت باور کرے وہ بھی کافر ہے۔

ان صاحبوں سے یہ بھی دریافت کیا جائے کہ اس فرقہ کے علاوہ اگر آپ سے بایں عنوان مسئلہ پوچھا جائے کہ اگر کوئی اور خبیث مخبث کھڑا ہو جائے اور دعویٰ مسیحیت کرے اور اس کے پاس مال نہ ہو اور اذناب پیدا نہ ہوں لیکن وہ برابر اسی دعویٰ پر رہے۔ اس کے حق میں آپ کا کیا حکم ہے یا فقط زوردار اسامی ہی دیکھ کر آپ کو مسئلہ بدلتا ہے؟

دجال اکبر جس کے قتل کے لئے حضرت مسیحm آسمان سے اتریں گے اس کی کیا وجہ ہے۔ سوائے اس کے کہ اس نے اپنے آپ کو یہود سے مسیح موعود منوایا ہوگا۔ جسے خدا سمجھ نہ دے اسے خدا سمجھے۔ بالجملہ انبیاءo کی نقل اتارنا مستقل کفر ہے۔ اگرچہ ادّعاء نبوت بلفظ نبوت نہ کرے اور جو کوئی اس کو صداقت باور کرے بلکہ جملہ مقربین سے بڑھ کر مانے اور اس پر ایمان لائے وہ بھی قطعاً کافرہے۔

اسی طرح وہ شخص جو انبیاءo کی اسامی قبضائے اور وہ کہ اس پر ایمان لائے۔ خلاصہ کلام کا یہ ہے کہ قادیانی نے علاوہ دعویٰ نبوت کے دعویٰ وحی، مساوی قرآن اور دعویٰ شریعت اور توہین انبیاء اور تکفیر امت حاضرہ اور ادّعاء خصائص انبیاءo اور ان کی نقل اتارنا اور انکار ضروریات دینیہ اور تحریف دین متواتر اور تمسخر بعض شریعت متواترہ کا کیا ہے اور یہ سب وجوہ متفق علیہ کفر ہیں اور لاہوری اس پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۸ ص۱۹) پر قادیانی کی عبارت دیکھنی چاہئے کہ اپنی

27

جانب سے اپنی تحقیق سے مریم صدیقہ کی طرف زناء کی نسبت کرتا ہے: ’’والعیاذ باﷲ العلی العظیم۔ واﷲ الہادی لاہادی الّاہو‘‘

یہ کل بحث اس صاحب کے ساتھ ہے جس کے نزدیک دین کی کوئی حقیقت محصلہ ہے اور اس پر ایمان وکفر کا فرق گراں نہیں۔ ورنہ جس کا دین محض مصلحت وقت اور ہر دلعزیزی ہے اس کے ساتھ ہمارا تخاطب نہیں۔ بالآخر پھر اپنے احباب سے استدعاء ہے کہ وہ اس وقت کو غنیمت سمجھ کر انجمن دعوت وارشاد میں شرکت فرمائیں اور ہر طرح سے اس کی تقویت وامداد کی سبیل نکالیں۔ تا آنکہ ایک مستقل اور مستقر انجمن ہو جائے اور دین مبین کی خدمت کرتی رہے۔

نیز زمیندار کی توسیع اشاعت میں سعی فرمائیں کیونکہ ان معلومات کا اصل ذخیرہ اور سرچشمہ وہی ہے اور اسی کی فروع میں سے باقی شعبے ہیں۔ حکومت کشمیر کو پھر بحیثیت رعیت ہونے کے متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ کل عالم اسلام، مصر، شام، عرب، عراق، ہندوستان، کابل وغیرہ قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے ان کی بھرتی سکولوں اور محکموں میں مسلمانوں پر احسان نہیں اور ہمیشہ موجب تصادم وخلل امن رہے گی۔ فقط!

اہل کشمیر پر واضح رہے کہ جو قادیانی اخبار کشمیر سے جاری ہوا ہے وہ قادیانی عقائد یعنی کفر کی تخم ریزی ہے۔ عنقریب شاخ وبرگ دکھائے گا۔ مسلمان اپنی جیبیں خالی کر کے کفر نہ خریدیں۔ والسلام!

العارض

محمد انور شاہ کشمیری عفاء اللہ عنہ، از دیوبند

مورخہ ۲۲؍ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ

مجلس مستشار العلماء پنجاب لاہور سے بھی بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ کیونکہ اعضاء اس کے مستند علماء ہیں۔ اصحاب واحباب اسے بھی فراموش نہ کریں۔ اگر اس کی تقویت اور اعانت ہوگئی تو ان شاء اللہ ! بہت سی خدمت مذہب وملت کی انجام دے گی۔ واﷲ الموفق!

28

بیان در مقدمہ

بہاولپور

۲۵؍اگست۱۹۳۲ء۲۷؍۲۸؍۲۹؍

حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

29

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بہاولپور کا معرکۃ الآراء تاریخی مقدمہ

۱۹۳۲ء کی تیسری سہ ماہی میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبv بوجہ علالت چند ہفتوں کے لئے ڈابھیل سے دیوبند تشریف لائے ہوئے تھے۔ جب طبع مبارک قدرے روبصحت ہوئی تو ڈابھیل مراجعت فرمانے کا عزم فرمایا اور رخت سفر تیار کیا کہ اچانک حضرت شیخ الجامع مولانا غلام محمد گھوٹوی صاحبv کا صحیفہ گرامی موصول ہوا جس میں اہالیان بہاولپور کی اس آرزو کا اظہار تھا کہ حضرت بہاولپور تشریف لاکر حق وباطل کے اس مقدمہ میں شہادت قلمبند کرائیں۔

حضرت نے معاملہ کی نزاکت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈابھیل کا سفر معرض التواء میں ڈال کر بہاولپور کا قصد فرمایا اور باوجود پیرانہ سالی وشدید ضعف وعلالت کے دیوبند سے بہاولپور تک کا صعوبت انگیز سفر اختیار فرمایا۔ ۱۹؍اگست ۱۹۳۲ء بروز جمعتہ المبارک سرزمین بہاولپور کو قدوم میمنت لزوم سے سرفراز فرمایا۔

حضرت کی بہاولپور آمد کے ساتھ ہی تمام ہندوستان کی نظریں اس مقدمہ پر مرکوز ہوگئیں اور اس نے لافانی شہرت اختیار کرلی۔ پنجاب اور سندھ کے اکثر علماء دین بہاولپور پہنچ گئے۔ آپ کی قیام گاہ پر ہمہ وقت زائرین کا اژدھام رہتا تھا۔ ۲۵؍اگست ۱۹۳۲ء کو جب یہ رأس المحدثین اپنی شہادت قلمبند کرانے عدالت میں پہنچا تو کمرہ عدالت ذی علم علماء دین ومشاہیر ووزراء واکابرین قوم سے مکمل طور پر معمور تھا۔ عدالت کے باہر میدان میں عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا جس میں اہل ایمان کے علاوہ اہل ہنود بھی شامل تھے اور ہر شخص حضرت کے ارشادات گرامی سننے کے لئے مضطرب تھا۔ آپ کا یہ بیان ۲۸؍اگست ۱۹۳۲ء تک جاری رہا۔ جب کہ ۲۹؍اگست کو جلال الدین شمس قادیانی مختار فریق ثانی نے آپ پر جرح کی۔ حضرت نے مندرجہ ذیل پانچ وجوہ پیش کر کے مرزاقادیانی اوراس کے متبعین کی تکفیر کا ثبوت پیش فرمایا:

30

۱… دعویٰ نبوت۔

۲… دعویٰ شریعت۔

۳… توہین انبیاءo۔

۴… انکار متواترت وضروریات دین۔

۵… سب (گالی دینا) انبیاءo۔

حضرت نے اپنے دلائل قاطع وبراہین ساطع سے مرزاغلام احمد قادیانی کی باطل نبوت اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کا کفر وارتداد پورے عالم میں ابیض من الطمس کردیا (حضرت کا یہ بیان علم وعرفان کا ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائیوں میں گراں قدر اور بے بہا موتی بھرے ہوئے ہیں)

مقدمہ بہاولپور کے ساتھ ویسے تو بہت سے تاریخی واقعات وابستہ ہیں۔ قارئین گرامی کی بہرہ اندوزی کے لئے یہاں پر صرف تین کا ذکر کیا جاتا ہے۔

۱… مورخہ ۲۹؍اگست ۱۹۳۲ء کو جب جلال الدین شمس قادیانی مختار مدعا علیہ حضرت شاہ صاحبv پر لایعنی جرح کر رہا تھا تو حضرت شاہ صاحبv موصوف کی زبان مبارک سے ’’غلام احمد جہنمی‘‘ کا لفظ نکلا جس پر مختار مدعا علیہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے جرح بند کر دی اور عدالت سے درخواست کی کہ حضرت شاہ صاحبv کو حکم فرمایا جائے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ عدالت کا کمرہ علماء فضلاء ومشاہیر سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا ان حضرات نے مشاہدہ کیا کہ حضرت پر ایک خاص کیفیت وجد طاری ہوگئی۔ چہرہ مبارک نور سے منور ہوگیا۔ آپ نے اپنا دست مبارک جلال الدین شمس قادیانی کے کاندھے پر رکھ کر فرمایا: ’’ہاں ہاں! مرزاغلام احمد قادیانی جہنمی ہے۔ دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ جہنم میں کیسے جل رہا ہے؟‘‘

حضرت شاہ صاحبv کے ان الہامی کلمات سے مرزائیوں پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ ان کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جلال الدین شمس قادیانی نے فوراً حضرت شاہ صاحبv کا دست مبارک اپنے کندھے سے ہٹادیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ مرزاغلام احمد

31

قادیانی کو جہنم میں جلتا ہوا دکھابھی دیں تو میں اسے شعبدہ بازی کہوں گا۔

بفضل تعالیٰ آج بھی بہاولپور میں بالخصوص اور برصغیر میں بالعموم ہزاروں افراد موجود ہیں جو اس تاریخی واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔

۲… ۲۶؍اگست ۱۹۳۲ء کو یوم جمعتہ المبارک تھا۔ جامعہ مسجد الصادق بہاولپور میں آپ نے جمعہ کی نماز ادا فرمانا تھی۔ مسجد کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ قرب وجوار کے گلی کوچے نمازیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ نماز کے بعد آپ نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں بواسیر خونی کے مرض کے غلبہ سے نیم جاں تھا اور ساتھ ہی اپنی ملازمت کے سلسلہ میں ڈابھیل کے لئے پابہ رکاب کہ اچانک شیخ الجامعہ صاحب کا مکتوب مجھے ملا جس میں بہاولپور آکر مقدمہ میں شہادت دینے کے لئے لکھا گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ میرے پاس کوئی زادراہ ہے نہیں۔ شاید یہی چیز ذیعہ نجات بن جائے کہ میں حضرت محمدa کے دین کا جانبدار بن کر یہاں آیا ہوں۔‘‘

یہ سن کر مجمع بے قرار ہوگیا۔ آپ کے ایک شاگرد مولانا عبدالحنان ہزاروی آہ وبکا کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور مجمع سے بولے کہ اگر حضرت کو بھی اپنی نجات کا یقین نہیں تو پھر اس دنیا میں کس کی مغفرت متوقع ہوگی؟ اس کے علاوہ کچھ اور بلند کلمات حضرت کی تعریف وتوصیف میں عرض کئے جب وہ بیٹھ گئے تو پھر مجمع کو خطاب کر کے فرمایا کہ: ’’ان صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیا۔ حالانکہ ہم پر یہ بات کھل گئی کہ گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کر سکیں۔‘‘(کمالات انوری)

۳… جب بہاولپور سے بیان دے کر واپس دیوبند جانے لگے تو اپنے شاگرد حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ سے فرمایا کہ اگر فیصلہ میری زندگی میں ہوا تو خود سن لوں گا۔ اگر میرے مرنے کے بعد فیصلہ ہو تو میری قبر پر آکر سنادینا۔ اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ فیصلہ سے پہلے آپ کا وصال ہوگیا۔ چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ نے دیوبند جاکر آپ کی مزار انور پر اس فیصلہ میں اہل اسلام کی کامیابی کی نوید عرض کی۔ (فقیر: اللہ وسایا)

32

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۲۵؍اگست۱۹۳۲ء

  1. بیان گواہ مدعیہ

    باقرار صالح

سید محمد انور شاہ ولد معظم شاہ ذات سید سکنہ کشمیر عمر۵۵سال

ایمان اور کفر کی حقیقت

کسی کے قول کو اس کے اعتماد پر باور کرنے اور غیب کی خبروں کو انبیاءo کے اعتماد پر باور کرنے کو ایمان کہتے ہیں اور کفر کہتے ہیں حق ناشناسی اور منکر ہو جانے کو یا مکر جانے کو۔ ہمارے دین کا ثبوت دو طرح سے ہے یا تواتر سے یا خبر واحد سے۔

اقسام تواتر: تواتر اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی ثابت ہوئی ہو نبی کریمa سے اور ہم تک پہنچی ہو علی الاتصال کہ اس میں احتمال خطا کا نہ ہو۔ تواتر ہمارے دین میں چار قسم کا ہے۔ حدیث ہے کہ:’’من کذب علی معتعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار‘‘{جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔}

پہلی قسم: یہ حدیث متواتر ہے اور تیس صحابہi سے بسند صحیح مذکور ہے۔ اس کو تواتر اسنادی کہا جائے گا۔ نزول مسیح میں چالیس حدیثیں صحیح ہمارے پاس موجود ہیں۔ یہ متواتر ہیں۔ (اگر) اس کا کوئی انکار کرے (تو) وہ کافر ہے۔

دوسری قسم: تواتر طبقہ (کہ جب) یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کس سے لیا۔ بلکہ یہی معلوم ہو کہ پچھلی نسل نے اگلی سے سیکھا۔ جیسا کہ قرآن مجید کا تواتر۔ اس تواتر کا منکر اور منحرف بھی کافر ہے۔ مسواک کا ثبوت بھی دونوں طرح سے متواتر ہے۔ اگر کوئی (مسواک) ترک کر دے تو چنداں وبال نہیں اور اگر اس کا کوئی انکار کردے علم دین سمجھ کر تو وہ کافر صریح ہے۔ اگر کوئی شخص کہہ دے کہ ’’جو‘‘ حرام ہیں تو وہ کافر ہے۔ بحسب شریعت محمدیہ (جو کھانا) کوئی بڑی چیز نہ تھی لیکن پیغمبرa نے جو کھائے اورامت اب تک جو کھاتی آئی ہے۔ اس تواتر قطعی کا انکار کفر ہے۔

33

تیسری قسم: تواتر قدر مشترک ہے۔ حدیثیں کئی ایک خبر واحد آئی ہوں اس میں قدر مشترک متفق علیہ وہ حصہ حاصل ہوا جو تواتر کو پہنچ گیا۔ مثال اس کی کہ معجزات نبی کریمa کچھ متواتر ہیں اور کوئی (کچھ) اخبار احاد ہیں۔ لیکن ان اخبار احاد میں ایک مضمون مشترک ملتا ہے کہ وہ قطعی ہو جاتا ہے۔ اس کا انکار بھی ویسا ہی کفر ہے جیسے پہلی دو قسم کا۔

چوتھی قسم: تواتر توارث ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ نسل نے نسل سے لیا ہو۔ جیسا کہ ساری امت اس علم میں شریک رہی کہ خاتم الانبیاء محمدa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یہ تواتر اس طرح سے ہے کہ بیٹے نے باپ سے لیا اور باپ نے (اپنے) باپ سے لیا۔ اس کا انکار بھی صریح کفر ہے۔

اگر متواترات کے انکار کو کفر نہ کہا جائے تو اسلام کی کوئی حقیقت قائم نہیں رہ سکتی اور نہ کسی اور یقینی چیز کی۔ ان متواترات میں تاویل کرنا مطلب بگاڑنا کفر صریح ہے۔ رد ہے اور مسموع نہیں ہے۔

متواترات کو تاویل سے پلٹنا کفر ہے

میں نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام کے صفحہ اوّل پر متواترات کے پلٹنے کی مثال دی ہے۔ اس کا نام باطنیت ہے۔ اسی کا نام زندیقیت اور الحاد ہے۔

کفر کے اقسام: کفر کبھی قولی ہوتا ہے اور کبھی فعلی ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص ساری عمر نمازیں پڑھتا رہے اور تیس چالیس سال کے بعد ایک دفعہ بت کے آگے سجدہ کرے تو وہ کافر ہے اور تارک نماز سے بدتر ہے۔ یہ کفر فعلی ہے۔ کفر قولی یہ ہے کہ مثلاً یہ کہہ دے کہ خدا کے ساتھ کوئی شریک ہے۔ صفتوں میں، یا فعل میںیا یہ کہ رسول اللہ a کے بعد کوئی اور نیا پیغمبر آئے گا یہ کفر قولی ہے۔

اختلاف مراتب: کوئی شخص اگر اپنے مساوی رتبہ سے کہہ دے کہ کلمہ بکا، تو وہ کوئی چیز نہیں۔ استاد اور باپ سے (یہی کلمہ) کہہ دے تو اسے عاق کہتے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو یہ کفر صریح ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ جب منافقین سے کہا جاتا ہے کہ پیغمبر سے آکر مغفرت کی دعا کراؤ تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔ اس کو بھی پیغمبر کے مقابلے میں قرآن نے کفر قرار دیا ہے۔ کوئی شخص اگر بغیر نیت کے بطور ہنسی کھیل کے کلمہ کفر کہتا ہے تو وہ

34

بھی کافر ہے۔ اگر سبقت لسانی ہوئی تو یہ معاف ہے۔

اس کی تائید میں آیت: ’’ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامہم وہمّوا بما لم ینالوا (توبہ:۷۴)‘‘ {بے شک کہا انہوں نے لفظ کفر اور منکر ہوگئے مسلمان ہو کر اور کہا تھا اس چیز کا جوان کو نہ ملی۔}

اور ’’لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم (توبہ:۶۶)‘‘ {بہانے مت بناؤ تم کفار ہوگئے۔ اظہار ایمان کے بعد۔}

ان دفعات (اسلامیہ) سے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں (جو) انکار کرے تو وہ خدا کا باغی ہے اور اس کی سزا موت ہے۔

مرزائیوں سے اصولی اختلاف

(اہل اسلام) اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے۔ علمائے دیوبند اور علمائے بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے۔ قانون کا نہیں۔

مرزاقادیانی نے اسلام کے اصول بدلے

مرزائی مذہب والے (مرزاغلام احمد قادیانی) نے مہمات دین کے بہت سے اصولوں کی تبدیلی کر دی ہے اور بہت سے اسماء کا مسمی بدل دیا ہے۔

نبوت کے ختم ہونے کے بارے میں ہمارے پاس کوئی دو سو حدیثیں ہیں اور قرآن مجید ہے اور اجماع بالفعل ہے اور ہر نسل اگلی نے پچھلی سے اس کو کیا ہے اور کوئی مسلمان جس کو تعلق ہو اسلام کے ساتھ وہ اس عقیدہ سے غافل نہ رہا۔ اس عقیدہ کی تحریف کرنا اور اس سے انحراف کرنا صریح کفر ہے۔ اگر کوئی آیت قرآنی ہو اور اس کی مراد پر اجماع ہو امت کا، اور صحابہ کرامi کا، اس سے انحراف کرنا اور تحریف کرنا کفر صریح ہے۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ امام احمدv نے کہا ہے کہ: ’’من ادّعی الاجماع فہو کاذب‘‘ تو اس کی مراد یہ ہے کہ لوگ کہیں کہیں اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ اجماعی ہوتے نہیں۔ نہ یہ کہ کوئی چیز دین محمدی میں اجماعی ہے ہی نہیں؟

ہم خود زبان امام احمد سے نقل اجماع کو ہم بہت (خوب) ثابت کر دیں گے۔

35

امت محمدیہa میں پہلا اجماع

پہلا اجماع جو اس امت محمدیہa میں ہوا ہے وہ اس پر ہوا ہے کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔ نبی کریمa کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا۔ صدیق اکبرq نے خلافت کے زمانہ میں مسیلمہ کے قتل کے واسطے صحابہi کو بھیجا۔ کسی نے اس میں تردد نہ کیا۔ یعنی جو خاتم النّبیین کے بعد دعویٰ نبوت کرے تو وہ مرتد اور زندیق ہے اور واجب القتل ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے کہ نبی کریمa کے پاس مسیلمہ کے قاصد آئے کہ تم کہتے ہو کہ وہ نبی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ کہاں۔ فرمایا کہ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن ماردیتا۔(کتاب الجہاد فی باب الرسل، سنن ابوداؤد ص۳۸۰، مطبوعہ لکھنؤ)

اس کے بعد معجم طبرانی میں ہے کہ عبداﷲ بن مسعودq کو ان قاصدوں میں سے ایک (ابن نواحہ) کوفہ میں ملا۔ حضرت فاروقq یا عثمانq کے زمانہ میں۔ وہ مسیلمہ کا نام لیتا تھا۔ فرمانے لگے کہ اب تو یہ قاصد نہیں ہے۔ حکم دیا کہ اس کی گردن ماری جاوے۔(جامع المسانید والسنن ج۲۷ ص۱۶۳،۱۴۴،۱۴۳،۶۷،۶۸)

نیز یہ روایت بخاری کی کتاب کفالت میں بھی مختصراً موجود ہے۔ معجم طبرانی کتب خانہ مولوی شمس الدین بہاولپوری۔ ورق:۲۹ جو روایت معجم طبرانی سے نقل کی گئی ہے وہ بھی (سنن ابی داؤد ج۱ ص۲۷۴) میں موجود ہے۔

اسلام میں عقیدہ ختم نبوت متواتر ہے

ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدیa میں متواتر ہے۔ قرآن، حدیث سے اجماع بالفعل سے اور یہ پہلا اجماع ہے۔ ہر وقت (زمانہ) میں حکومت اسلامی نے اس شخص کو جس نے دعویٰ نبوت کیا سزائے موت دی ہے۔ ایک شاعر کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے بہ فتویٰ علماء دین ایک شعر کے کہنے پر قتل کرادیا تھا۔

  1. کان مبداء ہذا الدین من رجل

    سعی فاصبح یدعی سید الامم

(صبح لا عشیٰ فی ضاعۃ الانشاء احمد بن علی بن احمد الغزاری ج۱۳ ص۳۰۶)

36

آغاز اس دین کی ایک شخص سے تھی کہ اس نے کوشش کی اور وہ سردار ہوگیا امتوں کا۔

اس شعر سے قرار دیا گیا کہ یہ شخص نبوت کو کسبی کہتا ہے جو کہ ریاضتوں سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس لئے اسے قتل کردیا گیا۔

ختم نبوت کی آیت: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین۔ وکان اللہ بکل شیٔ علیما (الاحزاب:۴۰)‘‘{محمد رسول اللہ (a) تم بالغوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن رسول ہیں اللہ کے اور ختم کرنے والے ہیں پیغمبروں کے۔}

اس آیت میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ نبی کریمa کی ابوت (باپ ہونے) کا علاقہ دائماً دنیا سے منقطع ہے اور اس کے عوض رسالت اور نبوت کا علاقہ دائماً ثابت ہے۔ گویا ساری جگہ نبوت اور رسالت کی محمدa نے گھیر لی۔ کوئی جگہ خالی نہ رہی۔ احادیث تواتر کو پہنچ گئی ہیں کہ یہ عہدہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ نبی کریمa اشخاص نبوت کے بھی خاتم ہیں اور آپa کے تشریف لانے سے نبوت کا عہدہ منقطع ہوگیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کا آنا علامت ہے اس بات کی کہ انبیاء کے عدد میں کوئی باقی نہیں۔ اس لئے پہلے نبی کو لانا پڑا۔

مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدa کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمدa ہی نبی ہے نہ اور کوئی۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص۲۶۶)

مطلب یہ کہ میں آئینہ بن گیا ہوں محمد رسول اللہ کا اور مجھ میں تصویر اترآئی ہے رسول کریمa کی۔ اس سے مہر نبوت نہ ٹوٹی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ تمسخر ہے۔ خدا اور خدا کے رسولa کے ساتھ (یعنی مہر لگی رہی اور مال میں سے مال چرا لیا گیا)

مرزاغلام احمد قادیانی خاتم کے یہ معنی کرتے ہیں۔ رسول کریمa مہر ہیں اور آپa کے منظور کرنے سے نبی بنتے ہیں۔(حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

چند شبہات کے جوابات

۱… علمائے اسلام حنفیہ نے یہ لکھا ہے کہ اگر کسی کے کلمہ کفر میں ۹۹احتمال کفر کے ہوں

37

اور ایک (احتمال) اسلام کا ہو تو ننانوے احتمالات کو نظرانداز کر دیا جاوے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صرف ایک ہی کلمہ کفر کسی کا پایا گیا ہو۔ حالات اس کے معلوم نہیں تو اس وقت یہ صورت ہوگی، ورنہ اگر حالات معلوم ہوں اور وہ ۳۰سال اگر عبادت کرتا رہے اور ایک کلمہ کفر کا کہے وہ کافر ہے۔

۲… تکفیر اہل قبلہ: یہ مسئلہ مشہور ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ بس اس کی مراد میں علماء نے تصریح کی ہے کہ اہل قبلہ سے مراد یہ ہے کہ وہ کل متواترات اور ضروریات دینی پر ایمان لایا ہو۔(فتاویٰ عالمگیری کتاب السیر ص۴۲۰، ردالمختار باب۴۴۷، شرح فقہ اکبر تحریر شیخ ابن ہمام ص۱۸۹)

۳… میں نے شروع بیان میں جو یہ کہا تھا کہ اجماع کا منکر کافر ہے اور اجماع صحابہi حجت قطعی ہے۔ حافظ ابن تیمیہ کی کتاب (اقامتہ الدلیل ج۳ ص۱۳۰) پر ہے۔ واجب ہے اس اجماع صحابہi کا اتباع بلکہ وہ قوی ترحجت ہے اور مقدم ہے اور حجتوں پر۔ اسلام شناخت ہے مسلمانوں کی اور مسلمانوں کے اشخاص شناخت ہیں اسلام کی۔ (اگر اجماع کو درمیان میں سے اٹھادیا جاوے تو دین ڈھے گیا)

(صحیح بخاری ج۲ ص۱۰۲۴) میں ایک حدیث ہے: ’’فان لہ اصحاب‘‘ اس کی ذریت سے کہ ایک نسل آئے گی کہ ان کے روزے اور نماز کے سامنے تمہارے (یعنی صحابہi کے) نماز اور روزے ہیچ ہوں گے۔ اس جھٹ (تیزی) سے نکل جائیں گے دین سے۔ جس طرح تیر نکل جاتا ہے شکار سے۔ ایک اور حدیث ہے کہ اگر میں نے پایا ان کو تو جیسے عاد اور ثمود قتل کئے گئے میںبھی ان کو قتل کردوں گا۔

۴… حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ گناہوں سے تکفیر نہ چاہئے۔ ان گناہوں سے مراد وہ ہیں جو کفر کی حد تک نہیں پہنچے اور جو کفر کے کلمے یا فعل ہیں اس سے ہر طرح سے تکفیر کی جائے۔ ایسے گناہ مثلاً زنا، شراب خوری، ڈاکہ زنی سے تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اگر نماز کوئی شخص ترک کرے دانستہ، وہ کافر نہیں فاسق ہے اور شدید عاصی ہے اور اگر تاویل کر جائے نماز میں کہ نماز سے کچھ اور مراد ہے تو وہ کافر ہے۔ قطعاً نماز کا اگر کوئی شخص اقرار کرے اور دانستہ نہ پڑھے وہ کافر نہیں بلکہ فاسق ہے اور اگر ایک دفعہ قبلہ سے روگردانی کر کے دوسری طرف دانستہ نماز پڑھ لے تو وہ کافر ہے۔ نماز کا تارک کافر نہیں ہے۔ فاسق

38

ہے اور اگر بے وضو نماز پڑھے تو کافر ہے۔

اصل کافروں سے بدتر وہ کافر ہے۔ جن کارلاؤ (ملے جلے) ہو اسلام کے ساتھ جہنم کے کافروں سے۔ کیونکہ اصل کافروں سے نفع جاتا ہے اور دوسروں سے پونجی جاتی ہے۔

شیطان کا کفر: کبھی کفر ایسا ہوتا ہے کہ نہ خدا کی تکذیب کی نہ پیغمبر کی تکذیب کی۔ پھر بھی کافر جیسے ابلیس نے نہ خدا کی تکذیب کی نہ آدم کی۔

کافر، منافق اور زندیق میں فرق

جو اقرار نہ کرے دین محمدی کا اس کو کافر کہتے ہیں۔ جسے اندر سے اعتقاد نہ ہواسے منافق کہتے ہیں حکم اس کا بھی وہی ہے بلکہ کافر سے اشد۔ جو زبان سے اقرار کرتا ہو لیکن دین کی حقیقت بدلتا ہو۔ اسے زندیق کہتے ہیں وہ پہلی دو قسموں سے زیادہ شدید کافر ہے۔

امام ابوحنیفہv سے بالاسناد احکام القرآن ص۵۳ (منقول ہے) امام محمد فرماتے ہیں کہ:’’ومن انکر شیئاً من شرائع الاسلام فقد ابطل قول۔ لا الہ الا اللہ (السیر الکبیر ج۱۴ ص۲۶۵)‘‘ کہ جس نے انکار کیا کسی چیز کا اسلامی امور میں سے اس نے باطل کردیا۔ قول: ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا۔

۲۷؍اگست ۱۹۲۳ء

تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ

اسلام کفر اور ارتداد کے معنی

اس وقت تک جو اجمالی طور پر کفر وایمان کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ارتداد کے معنی یہ ہیں کہ دین اسلام سے ایک مسلمان کلمہ کفر کہہ کر اور ضروریات ومتواترات دین میں سے کسی چیز کا انکار کر کے (اسلام سے) خارج ہو جائے اور ایمان یہ ہے کہ سرور عالمa جس چیز کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت بدیہیات اسلام سے ہے اور ہر مسلمان عام وخاص اس کو جانتے ہیں اس کی تصدیق کرنا۔ عبارت ذیل سے یہ دونوں مسئلہ ثابت ہیں۔

39
’’ہو الراجع عن دین الاسلام ورکنہا اجراء کلمۃ الکفر علی للسان بعد الایمان وہو تصدیق محمدa فی جمیع ماجاء بہ عن اللہ تعالٰی مما علم مجیئہ ضرورۃ‘‘ (درمختار برتحشیہ شامی ج۴ ص۲۲۱، باب المرتد)

مرتد وہ ہے جو پھر جائے دین اسلام سے اور حقیقت اس کی جاری کرنا کفر کا زبان پر ایمان کے بعد، اور ایمان کیا چیز ہے تصدیق کرنا نبی کریمa کی سب ان چیزوں میں جو خدا کی طرف سے لائے۔ ثبوت ان کا بدیہی ہوگیا۔

دوسری عبارت بالفاظ ذیل: ’’الایمان تصدیق سیدنا محمدa فی جمیع ماجاء بہ من الدین ضرورۃ۔ الکفر تکذیب محمدa مما جاء من الدین ضرورۃ ولا یکفر احد من اہل القبلۃ بجہود‘‘ (شرح الاشباہ والنظائر نول کشور ص۲۶۳)

ضروریات دین

’’معنی التصدیق قبول القلب، واذعانہ لما علم الضرورۃ انہ من دین محمدa بحیث تعلمہ العامۃ من غیرافتقار الی نظر واستدلال کالوحدانیۃ والنبوۃ والبعث الجزاء ووجوب الصلوۃ‘‘

ضروریات دین وہ ہیں کہ پہچانیں ان کو خواص وعوام کہ یہ دین سے ہیں جیسے اعتقاد توحید کا رسالت کا اور پانچ نمازوں کا اور مثل ان کے اور چیزیں۔(ردالمختار ج۱ ص۲۴۷، باب الامامت)

مرزائی تاویلات کا رد

جو لوگ ضروریات دین کا انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں وہ عموماً اپنے کفر کو چھپانے کے لئے مختلف تاویلیں اور تدبیریں اختیار کرتے ہیں:

40

۱… کبھی کہتے ہیں ہم اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔

۲… کبھی کہتے ہیں ہم تمام ارکان اسلام، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ تبلیغ اسلام میں سرگرم کوششیں کرتے ہیں۔ ہمیں کیسے اسلام سے خارج کیا جاسکتا ہے؟

۳… کبھی کہتے ہیں کہ بہ تصریح فقہائے (اسلام) اگر ایک شخص کے کلام میں ۹۹وجوہ کفر کی اور صرف ایک (وجہ) اسلام کی موجود ہو تو مفتی کا فرض ہے کہ اس ایک وجہ کو اختیار کر کے اس کو مسلمان کہے۔ کفر کا حکم نہ لگائے۔ پھر ہمیں کیسے خارج از اسلام کہا جاسکتا ہے؟

۴… اور کبھی کہتے ہیں کہ بتصریح فقہا جو لوگ کوئی کلمہ کفر کسی تاویل کی بناء پر کہیں اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔ ان چاروں شبہات کے جواب ترتیب وار یہ ہیں۔

پہلا شبہ: اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ یہ بے علمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے۔ چونکہ حسب تصریح واتفاق علماء، اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے چاہے سارے عقائد اسلام کا انکار کرے۔ قرآن مجید میں منافقین کو عام کفار سے زیادہ بدتر کافر ٹھہرایا گیا ہے۔ حالانکہ وہ فقط قبلہ کی طرف منہ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ تمام ظاہری احکام اسلام ادا کرتے تھے۔

قرآن مجید کا ارشاد ہے:’’لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب ولٰکن البر من اٰمن باﷲ والیوم الاٰخر والملئکۃ والکتٰب والنبیین (البقرہ:۱۷۷)‘‘ {نیکی کچھ یہی نہیں ہے کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف۔ لیکن بڑی نیکی یہ ہے جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر۔}

اس مضمون کی تصریح کتب ذیل میں ہے:’’ثم اعلم ان المراد باہل القبلۃ الذین اتفقوا علی ماہو من ضرورات الدین حدوث العالم وحشر الاجساد وعلم اللہ تعالٰی بالکلیات والجزئیات وما اشبہ من المسائل المہمات فمن وظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم اونفی الحشر نفی علمہ سبحانہ بالجزائیات لایکون من اہل القبلہ‘‘ (شرح فقہ اکبر بیان موجبات الکفر ص۱۲۳، مطبع احمدی)

41

جس کا مطلب یہ ہے کہ جان تو کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتفاق کیا ضروریات دین پر جیسے حدوث عالم، حشراجساد، علم اللہ تعالیٰ کا کل خبروں کے ساتھ اور جو اس کی مثالیں ہوں مسائل مہمہ میں سے۔ پس جس شخص نے مداومت کی ساری عمر اطاعت اور عبادت پر باوجود اعتقاد قدم عالم کے اور نفی حشر کے اور جزئیات مادیات کے ساتھ علم الٰہی کی نفی کی۔ وہ اہل قبلہ میں سے نہیں اور یہ جو مسئلہ کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں اس کی مراد یہ ہے کہ کافر نہیں ہوگا جب تک کہ نشانی کفر کی اور علامتیں کفر کی اور کوئی چیزیں موجبات کفر میں سے نہ پائی گئی ہو۔

’’والمراد… قطعاً‘‘ مراد متبدع سے وہ ہے جو اپنی بدعت رسوم سے کافر نہیں اور ایسے ہی گنہگار اہل قبلہ میں سے وہ شخص مراد ہے جو موافق ہو ضروریات دین کے جیسے حدوث عالم۔ حشر اجساد۔ سوائے اس کے کہ صادر ہو۔ اس سے کوئی چیز موجبات کفر کی۔(تقریر شرح تحریر الاصول ج۳ ص۳۱۸)

اس کتاب کے اسی صفحہ پر ہے: ’’ثم… الخ!‘‘ {کافر نہ کہنا کسی اہل قبلہ کو کسی گناہ سے تصریح کی ہے اس کی امام ابی حنیفہv نے فقہ اکبر میں فرمایا کہ ہم کافر نہیں کہتے کسی کو کسی گناہ سے اگرچہ وہ گناہ کبیر ہو۔ جب تک اس گناہ کو حلال نہ سمجھے جیسے کہ منتقی حاکم شہید کی کتاب میں ہے۔}

دوسرا شبہ: یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تمام ارکان اسلام کے پابند اور تبلیغ اسلام میں کوشش کرنے والے ہیں۔ پھر ان کو کیسے کافر کہا جائے؟ اس کا جواب صحیح بخاری کی حدیث میں ہے۔ کتاب: ’’استتابۃ المعاندین والمرتدین باب قتال الخوارج، ج۲ ص۱۰۲۴‘‘ جس کو میں پہلے اپنے بیان میں کہہ چکا ہوں۔

اس حدیث میں تصریح ہے کہ یہ قوم جس کے متعلق آنحضرتa فرماتے ہیں کہ دین اسلام سے صاف نکل جائے گی اور ان کے قتل کرنے میں بڑا ثواب ہے۔ یہ لوگ نماز روزے کے پابند ہوں گے۔ بلکہ ظاہری خشوع وخضوع کی کیفیات بھی ایسی ہوں گی کہ ان کے نماز، روزے کے مقابلے میں مسلمان اپنے نماز، روزے کو بھی ہیچ سمجھیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب کہ بعض ضروریات دین کا انکار ان سے ثابت ہوا تو ان کی نماز روزہ ان کو حکم کفر سے نہ بچا سکے۔

42

تیسرا شبہ: یہ کہا جاتا ہے کہ فقہاء نے ایسے شخص کو مسلمان ہی کہا ہے جس کے کلام میں ۹۹ وجہ کفر کی موجود ہوں اور صرف ایک وجہ اسلام کی ہو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا منشاء بھی یہی ہے کہ فقہاء کے بعض الفاظ دیکھ لئے گئے اور اس کے معنی سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور نہ ان کے وہ اقوال دیکھے جس میں صراحتاً بیان کیاگیا کہ یہ حکم اپنے عموم پر نہیں ہے بلکہ اس وقت ہے جب کہ قائل کا صرف ایک کلمہ مفتی کے سامنے آوے اور قائل کا کوئی دوسرا حال معلوم نہ ہو اور نہ اس کے کلام میں ایسی تصریح ہو جس کا معنی کفریہ متعین ہو جائے تو ایسی حالت میں مفتی کا فرض ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط برتے اور اگر کوئی خفیف سے خفیف احتمال نکل سکے، جس کی بناء پر یہ کلام کلمہ کفر سے بچ جائے تو اس احتمال کو اختیار کرے اور اس شخص کو کافر نہ کہے۔ لیکن ایک شخص کا یہی کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات والفاظ مختلفہ موجود ہوں جس کو دیکھ کر یہ یقین ہوجائے کہ یہ شخص بھی یہی معنی کفریہ مراد لیتا ہے یا خود اپنے کلام میں اس معنی کفریہ کی تصریح کر دے تو باجماع فقہاء ہرگز ہرگز اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے بلکہ قطعی طور پر ایسے شخص کے لئے کفر کا حکم لگایا جائے گا۔

’’اذا کان فی المسئلۃ وجوہ توجب الکفر ووجہ واحد یمنع فعلٰی المفتی ان یمیل الی ذلک الوجہ الا اذا صرح بارادۃ توجب الکفر۔ فلا ینفعہ التاویل حینئذ۔ کذافی البحر الرائق‘‘(فتاویٰ عالمگیری الباب التاسع باحکام المرتدین قبیل باب البغاۃ ج۲ ص۴۲۰)

{جب مسئلہ میں کئی وجہیں ہوں کہ واجب کریں کفر کو اور ایک وجہ ہو کہ منع کرتی ہو کفر کو۔ لازم ہے مفتی کو کہ دیکھئے اس ایک وجہ کی طرف۔ مگر جب تصریح کی ایسی مراد کی جو کفر واجب کرے تو کوئی مانع نہ ہو دیگر تاویل اس وقت فائدہ نہ دے گی۔ ایسا ہی ہے البحرالرائق میں۔ ایسا ہی ہے خلاصہ بزازیہ میں۔}

چوتھا شبہ: یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی کلمہ کفر کسی تاویل کے ساتھ کہا جاوے تو کفر کا حکم نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں بھی وہی تصریحات فقہاء سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ حضرات فقہاء اور متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل اس کلام اور اس چیز میں مانع تکفیر ہوتی ہے جو ضروریات دین میں سے نہ ہو۔ لیکن ضروریات دین میں اگر کوئی تاویل

43

کرے اور اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی نیا معنی تراشے تو بلاشبہ اس کو کافر کہا جائے گا۔ اسے قرآن مجید الحاد کہتا ہے اور حدیث نے اس کا نام زندیق رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں جو مذہبی لٹریچر بدلے۔ الفاظ کی حقیقت بدل دے۔

محمد بن ابی بکرq حاکم مصر نے حضرت علیq کی خدمت میں لکھا کہ دو مسلمان زندیق ہو گئے ہیں۔ ادھر سے جواب دیاگیا اگر توبہ کر لیں تو قتل سے بچ گئے۔ نہیں تو گردن ماردو۔ روایت کیا اس کو امام شافعی اور بیہقی نے زندیق کا لفظ کنزالعمال ج۳ ص۹۳ سے لیا ہے۔ زندیق فارسی لفظ ہے جس کو عربی میں لیاگیا ہے۔ علماء کی کتابوں میں اس کا نام باطنیت آتا ہے۔ یہ تینوں چیزیں ایک ہی معنی رکھتی ہیں۔ کفر صریح ہیں۔ معانی آلاثار کتاب الحدود، (باب حد الخمر ج۲ ص۸۹) میں ہے۔ امام طحاویؒ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت نقل کی ہے اہل شام کی ایک جماعت نے شراب پی اور آیت کریمہ:’’لیس علی الذین اٰمنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا (المائدہ:۹۳)‘‘ کی تحریف کر کے شراب کو حلال قرار دیا۔ اس وقت یزید ابن ابی سفیان شام کے حاکم تھے۔ انہوں نے حضرت فاروق اعظمq کو یہ واقعہ لکھا۔ فاروق اعظمq نے جواب میں لکھا کہ ان لوگوں کو گرفتار کر کے میرے پاس بھیجئے۔ جب یہ لوگ حضرت فاروق اعظمq کی خدمت میں پہنچے تو صحابہi اور تابعینw سے ان کے معاملہ میں مشورہ ہوا۔ سب نے یہ رائے دی کہ یا امیرالمؤمنینq’’تریٰ انہم قد کذبوا علی اللہ وشرعوا فی دینہم مالم یاذن بہ اللہ فاضرب اعناقہم‘‘ {یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ پر افتراء کی ہے اور دین میں ایک ایسی بات جاری کی جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔ اس لئے ان کی گردنیں ماردیجئے۔ لوگوں نے یہ رائے دی۔}

مگر حضرت علیq ساکت رہے۔ حضرت فاروق اعظمq نے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا:’’اریٰ ان تستیبہم فان تابوا ضربتہم ثمانین بشربہم الخمرو ان لم یتوبوا ضربت اعناقہم قدکذبوا علی اللہ وشرعوا فی دینہم مال یاذن بہ اللہ فاستتابہم فتابوا فضربہم ثمانین ثمانین‘‘ {میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ ان سے کہیں کہ اس خیال سے توبہ کرو۔ اگر وہ توبہ کریں تو ہر ایک کو ۸۰،۸۰ کوڑے لگائیں اور اگر توبہ نہ کریں تو ان کی گردنیں ماردی جائیں۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر افتراء

44

کرتے ہیں اور دین میں ایسی بات جاری کرتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔}

یہ واقعہ حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانیؒ نے شرح فتح الباری میں بحوالہ مسند عبدالرزاق مصنف ابن ابی شیبہ نقل فرمایا ہے۔(فتح الباری الحدود باب ضرب بالجرید والنعال پارہ:۲۷، ج۱۲ ص۶۰)

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت کے کسی لفظ کو بحال رکھے اور اس کی حقیقت کو بدل دے اور مقابلہ ہو متواترات کا تو وہ کفر صریح ہے۔ (ان لوگوں نے قرآن کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ بے جا تاویل کی تھی جس پر قتل کا حکم دیاگیا)

وزیر حمد بن ابراہیم یمانی لکھتے ہیں:’’مثل کفرا الزنا دقۃ والملاحدۃ۔ الی ان قال وتلعبوا بجمیع آیات کتاب اللہ عزوجل فی تاویلہا جمیعا بالبواطن التی لم یدل علی شیٔ منہا دلالۃ ولا امارۃ ولالہا فی عصر السلف الصالح اشارۃ۔ وکذلک من بلغ مبلغہم من غیرہم فی تصفیۃ آثار الشریعت ورد العلوم الضروریۃ التی نقلتہا الامۃ خلفہا عن سلفہا‘‘ (ایثار الحق علی الخلق ص۴۴۵)

{جیسے کفر زندیقوں اور ملحدوں کا کھیل اور تمسخر کیا انہوں نے قرآن مجید کی سب آیتوں کے ساتھ اور تاویل کی ان آیتوں کی ان باطنی چیزوں کے ساتھ جس پر نہ لفظوں کی دلالت ہے نہ نشان ہے۔ نہ سلف کے زمانہ میں کوئی اشارہ ہے اور اس طرح ان زندیقوں اور ملحدوں جیسے وہ لوگ بھی ہیں جو ان ہی کی صفت کے ہوں اور شریعت کے نشان مٹانے میں اور بدیہی علوم کو رد کرنے میں جس کو پچھلی نسلوں نے اگلی نسلوں سے لیا ہے۔}

یہاں تک میرے بیان سے اصولی طور پر کفر اور ایمان کی شرعی حقیقت اور یہ بات واضح ہوچکی کہ ایک مسلمان کس قسم کے افعال یا اقوال کی وجہ سے کبھی کافر اور خارج از اسلام ہوجاتا ہے۔

کفر مرزا پر علماء کا فتویٰ

اس کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ قادیانی مدعی نبوت نے کن ضروریات

45

دین کا انکار کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ باجماع امت کافر مرتد قرار دئیے گئے اور ہندوستان کے تمام اسلامی فرقے باوجود سخت اختلاف خیال اور اختلاف مشرب کے۔ ان کے کفر اور ارتداد پر نیز ان کے متبعین کے کفر اور ارتداد پر متفق ہوگئے۔

رسالہ (القول الصحیح فی مکائد المسیح ص۱۵) مرتبہ مولوی سہول صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند، الحال پرنسپل کالج شمس الہدیٰ پٹنہ عظیم آباد نے ایک فتویٰ مرتب کیا ہے جس پر بہت سے علماء کے دستخط ہیں اور مولانا محمود حسن صاحب شیخ الہندv کے بھی اس پر دستخط ہیں۔ شیخ الہندv صاحب نے ایک دو سطریں ہی لکھی ہیں جو بالفاظ ذیل ہیں: ’’مرزا علیہ مایستحقہ کے عقائد واقوال کا امور کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے جس کا انکار کوئی منصف صاحب فہم نہیں کر سکتا۔ جس کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔‘‘

مصر کا فتویٰ بھی اس کے متعلق چھپا ہوا موجود ہے۔ شام کا بھی موجود ہے۔ شام کا مشہور رسالہ ’’خلاصۃ الرد فی انتقاد مسیح الہند‘‘ از قلم محمد ہاشم الرشید الخطیب الحسینی القادری ۱۳۴۴ھ ہے۔ اس میں سے چند سطور کا مطلوب یہ ہے کہ تیسری کلام وہ جو کہ میں نے رسالہ کے ص۲،۳،۴ پر نقل کی ہے۔

’’وہ شہادت دیتی ہے اور حکم کرتی ہے تجھ پر کہ تو کافر ہے۔ نہیں داخل ہوا تو دین اسلام میں اور ایسا ہی تیرا مسیح ہندی اور جو اس کا پیرو ہے۔‘‘ آگے لکھتے ہیں: ’’اسکندرانی اور دیگر سب جرائد نے تمہارے رد کا اعلان کیا ہے۔ مضامین لکھے ہیں۔ سارے مسلمان اس یقین پر ہیں کہ تم ملحد اور کافر ہو۔‘‘

دوسرا فتویٰ علمائے ہندوستان کا ہے جو شائع شدہ ہے اور جس کا نام ’’استنکاف المسلمین‘‘ ہے جو سال ۱۳۳۸ھ میں شائع ہوا۔ مصر کے فتویٰ کا ترجمہ جو انجمن تائید الاسلام گوجرانوالہ نے اپنے رسالہ ’’کفر مرزا‘‘ میں شائع کیا ہے کہ:

غلام احمد ہندی کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا محمدa خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر غلام احمد نے کہا کہ میرا مقصد ختم نبوت سے ختم کمالات نبوت ہے۔ جو سب سے افضل رسول اور انبیاء ہمارے نبی پر ختم ہوئے اور میرا عقیدہ ہے کہ بعد آنحضرتa کے کوئی نبی نہیں۔ بجز اس کے جو آپ کی امت میں ہو اور پوری طرح سے آپ کا پیرو ہو۔ جس نے سارا فیض آپ کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ کی روشنی سے روشنی پائی ہو تو وہاں پر مغائرت اور

46

غیریت کا مقام نہیں اور نہ کوئی دوسری نبوت ہے اور یہ کوئی حیرت کا مقام نہیں۔ وہ تو خود احمد ہی ہیں جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوئے ہیں۔ کوئی شخص اپنی صورت کو جس کو اللہ تعالیٰ آئینہ میں دکھاتا اور ظاہر کرتا ہے۔ غیریت نہیں کرتا۔ پس جو شخص نبی سے ہو اور نبی کے اندر ہو تو وہ ہوبہووہی ہے۔

یہ کلام اس باب میں بالکل صاف ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی بھی آپa کے بعد نبوت کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہے۔ یعنی کہ نبی کریمa کے بعد وہ بھی نبی، آپa کے اتباع سے ہے اور وہ صورت نبیa سے ہے اور ہوبہو محمدa ہے۔ یہ صریح کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘ کے صریح مخالف ہے۔ یہ ان بہت سے دعوؤں میں سے ایک قلیل ہے جو کذب غلام احمد ہندی پر دلالت کرتے ہیں اور جن کو اس نے اپنی کتاب (مواہب الرحمن ص۶۹،۷۰، خزائن ج۱۹ ص۲۸۷) میں تحریر کیا ہے۔

مغفور مصطفی کامل پاشارئیس حزب الوطن اور مالک اخبار اللواء نے بھی اس کا رد لکھا ہے۔ غلام احمد کو ضال اور مضل لکھا ہے اور اس کے اقوال کو دیوار پر پھٹکنے اور نجاست کی طرح الاؤ پر ڈال دینے کے لئے کہا ہے۔

کاتب فتویٰ مفتی ملک مصر محمد نجیب اور علامہ طنطاوی جوہری ہیں۔ اصل فتویٰ میں نے دیکھا ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ جو اوپر بیان کیاگیا ہے درست ہے۔ یہ فتویٰ مصر میں علیحدہ شائع ہوا تھا اور میں محمد نجیب اور علامہ طنطاوی دونوں کو جانتا ہوں۔

رسالہ ’’استنکاف الاسلام‘‘ میں مفتی بھوپال کے بھی دستخط اور مہر ہے۔ انہوں نے اس سوال نکاح کے متعلق بھی ایک فتویٰ دیا ہوا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں کا اگر استیعاب کیا جاوے تو بہت سے متواترات شرعیہ کا انکار اور خلاف صریح سے صریح طور پر اس کے کلام میں موجود ہے۔ جن میں سے اس وقت چند چیزیں پیش کی جاتی ہیں جو ہمارے نزدیک اور ساری امت کے نزدیک موجبات کفر سے ہیں:

۱… ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف۔

۲… نبوت کا دعویٰ اوراس کی تصریح کہ ایسی ہی نبوت مراد ہے جیسے پہلے انبیاء کی ہوتی رہی ہے۔

47

۳… وحی کا دعویٰ اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح واجب الایمان قرار دینا۔

۴… عیسیٰؑ کی توہین۔

۵… آنحضرتa کی توہین۔

۶… عام امت محمدیہ کی تکفیر کرنا، بجز اپنے چند مریدوں کے سب کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا۔ پچاس کروڑ مسلمانوں کو اولاد زنا قرار دینا۔ ان سب چیزوں کا دعویٰ کرنا۔

میں اپنے آخر بیان میں خود مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں سے پیش کروں گا۔

اس سے پہلے ہر ایک نمبر کے متعلق یہ بتلادینا چاہتا ہوں کہ یہ (مرزاقادیانی کی) سب چیزیں متواترات اور ضروریات دین کے خلاف ہیں اور اجماعی کفر ہیں۔

ختم نبوت کا انکار: ختم نبوت کا انکار کفر ہے۔ آیت:’’ماکان محمد ابا احد من … الخ‘‘ خداوندی مشیت میں یہ مقدر تھا کہ انبیاء کی عمارت کو نبی کریمa پر ختم کیا جاوے اور جتنے کمال ہیں وہ آپa پر ختم ہو جائیں۔ اس کے بعد سلسلہ پیغمبری کا باقی رکھنا مشیت نہیں ہے۔ اسی مشیت کے ماتحت آپa کی اولاد نرینہ باقی نہ رہی۔

اس مقصود سے فرمان ہے قرآن مجید کا کہ نبی کریمa کی ابوت کا علاقہ تاآخر کسی کے ساتھ نہیں۔ ابوت کا علاقہ کسی بالغ مرد کے ساتھ تاآخر نہیں ہے۔ اس کی جا (جگہ) میں خاتم الانبیاء کی رسالت ہے۔ آپa کی رسالت کا علاقہ مستقبل کے لئے اور خاتم النّبیین کا علاقہ ماضی کے لئے ہے۔ پہلی کتابوں میں بھی آپa پر سلسلہ پیغمبر ختم کیاگیا اور تورات میں بالفاظ عربی یہ آیت ہے: ’’فابی مقرنج کا موخ یا قیم یخ۔ الاوتسما یمون بنی من قربک نعما انیمک کمثلک لملک مقیم لک الہک الیہ تسمعون‘‘ پیغمبر ایک، نبی ایک، تیرے قرابت داروں میں سے، تیرے بھائیوں میں سے، تجھ میں قائم کرے گا۔ تیرے لئے خدا تیرا، اس کی اعانت کرنی ہوگی۔

انجیل میں بلفظ عبرانی یوں ہے:’’یحوہ مینائی وزادم مساعیر ہو منع تودباران‘‘ خدا سینا سے آیا۔ طلوع اس کا ساعیر پر ہوا اور استوا اس کا فاران پر ہوا۔

نبوت موسوی اور عیسوی اور محمدیa کی طرف اشارہ ہے اور ان کو کمال پر پہنچا کر چھوڑ دیا ہے۔ یہ عبارتیں کتاب ’’الملل والنحل‘‘ میں موجود ہیں اور دونوں عبارتیں تورات کی ہیں۔

48

ختم نبوت کے متعلق یہ آیت ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ بایں معنی کہ آنحضرتa کی نبوت کے بعد کسی کو عہدہ نبوت نہ دیا جائے گا۔ بغیر کسی تاویل وتخصیص کے ان اجماعی عقائد میں سے ہے۔ جو اسلام کے اصولی عقائد میں سے سمجھا گیا ہے اور آنحضرتa کے عہد مبارک سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلٍ ہر مسلمان جس کو اسلام سے کچھ بھی تعلق رہا ہے اس پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے اور احادیث متواتر المعنی سے جس کا عدد دوسو سے بھی زیادہ ہے اور قطعی اجماع امت سے روزروشن کی طرح ثابت ہے۔ جس کا منکر قطعاً کافر مانا گیا ہے اور کوئی تاویل وتخصیص اس میں قبول نہیں کی گئی۔ منجملہ آیات کے اس وقت صرف ایک آیت پر اکتفاء کرتاہوں: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالک ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘

اس آیت سے ختم کا ثبوت بایں معنی کہ آنحضرتa کی نبوت کے بعد کسی شخص کو عہدہ نبوت ہرگز نہ دیا جائے گا باجماع صحابہi تابعینw اور باتفاق مفسرینw ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے جو شخص اس میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص نکالے۔ وہ ضروریات دین میں تاویل کرنے کی وجہ سے منکر ضروریات دین سمجھا جائے گا۔ اس کے ثبوت کے لئے میں ائمہ تفسیر وحدیث کے اقوال بطریق اختصار پیش کرتا ہوں۔

حافظ ابن کثیر اس آیت کے تحت میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فہذہ الایۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ واذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الاولٰی والاخریٰ لان مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوۃ فان کل رسول نبی ولا ینعکس وبذلک وردت احادیث المتواترۃ عن رسول اللہ a من حدیث جماعۃ من الصحابۃ‘‘ (ج۸ ص۷۹، طبع قدیم)

{یہ آیت نص (صریح ہے) اس میں کہ کوئی نبی نہیں ہے بعد خاتم الانبیاء محمدa کے اور جب کوئی نبی نہیں ہے تو کوئی رسول بھی نہیں ہے بطریق اولیٰ، کیونکہ مقام رسالت کا خاص ہے مقام نبوت سے۔ ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں اور اس کے موافق وارد ہوئیں متواتر حدیثیں نبی کریمa سے ایک جماعت صحابہi کی روایت سے۔}

امام موصوف کے اس کلام سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ختم نبوت کو ثابت کرنے کی حدیثیں متواتر ہیں جن کا ایک بہت بڑا حصہ امام موصوف نے اس کے بعد نقل فرما کر فرمایا ہے:

49

’’فمن رحمۃ اللہ تعالٰی بالعباد ارسال محمدa الیہم ثم من تشریفہ لہم ختم الانبیاء والمرسلین بہ واکمال الدین الحنیف لہ قد اخبر اللہ فی کتابہ ورسولہa فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ہذا المقام بعدہ فہو کذاب۔ افاک۔ دجال۔ ضال۔ مضل ولو تحرق وشعبد واتی بانواع السحر والطلاسم والنیرنجیات فکلما محال وضلال عند اولی الالباب (تفسیر ابن کثیر ج۸ ص۹۱)‘‘ {خدا کی رحمت ہے اپنے بندوں پر کہ اپنے رسول محمدa کو بھیجا۔ پھر خداتعالیٰ نے آپa کو ختم نبوت اور رسالت سے مشرف فرمایا اور آپa پر دین حنیف کامل کیا۔ خبر دی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سے اور اس کے رسول نے اس کو اپنی سنت متواترہ میں کہ کوئی نبی نہیں ہے۔ بعد محمد رسول اللہ a کے تاکہ جانے کہ جس نے دعویٰ کیا ہے۔ اس عہدہ کا بعد خاتم الانبیاء کے وہ جھوٹا ہے، بہتان تراش ہے، دجال ہے، گمراہ ہے، گمراہ کن ہے۔ اگرچہ کتنے حیلے اور شعبدے ایجاد کرے اور کتنے ساحرانہ طلسمات اور نیرنگیاں پیدا (ظاہر) کرے یہ سب محال اور گمراہیاں ہے۔}

اس آیت کی تفسیر میں شیخ محمود آلوسی، مفتی بغداد تحریر فرماتے ہیں روح المعانی میں جو ان کی تفسیر ہے اس پر ہے: ’’والمراد بکونہ علیہ الصلٰوۃ واسلام خاتمہم انقطاع حدوث وصف النبوۃ فی احد من الثقلین بعد تحیۃ علیہ الصلٰوۃ والسلام بہا فی ہذا النشاۃ ولا یقدح فی ذلک… الٰی قول النبوۃ‘‘ (ج۷ ص۶۰، طبع قدیم)

{مراد نبی کریمa کے خاتم ہونے کی یہ ہے کہ بعد نبی کریمa کے کوئی اور اس عہدہ سے سرفراز نہ ہوگا۔ یہ نہیں ہے قدح کرنے والا (معارض) اس اجماع میں۔ جس میں امت نے اجماع کیا ہے اور حدیثیں تواتر کو پہنچ چکی ہیں اور قرآن مجید میں بھی یہ ہے بعض تفسیروں کی رو سے اور ایمان اس پر واجب ہے اور منکر اس کا کافر مانا گیا ہے۔}

قاضی عیاض اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ:’’باب ماہو من الکفر اجمعت الامۃ علی حمل ہذا الکلام علی ظاہرہ وان مفہومہ المراد بہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ہؤلاء الطوائف کلہا قطعاً اجماعیا وسمعا‘‘ (شفاء مطبوعہ بریلی ص۳۶۲)

50

{اجماع کیا امت نے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر ہے اور یہی مفہوم اس کی مراد ہے اس کے سوا کسی تاویل اور تخصیص کے تو کوئی شک نہیں ان سب طائفوں کے کفر اور الحاد میں۔ (جو اوپر بیان ہوئے)}

ازروئے اجماع کے اور ازروئے نصوص کے۔ حدیث کے ذخیرہ میں سے میں صرف ایک حدیث پر اکتفاء کرتا ہوں:’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثروں قالوا فماتأمرنا فوابیعۃ الاول فالاوّل اعطوہم حقہم (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ص۲۹۱)‘‘ {نبی کریمa نے فرمایا: بنی اسرائیل کی نگرانی (نگہبانی) انبیاء کرتے تھے۔ جب ایک پیغمبر فوت ہو جاتا تو دوسرا آجاتا تھا۔ میرے بعد میں کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ عرض کی گئی کہ پھر کیا ہدایت (حکم) ہے اس وقت۔ فرمایا کہ وفاداری کرو۔ بیعت اوّل فی الاول کی (ہر ایک کے بعد کے دوسرے کی بیعت پوری کرو) عطا کرو ان کو حق ان کا، کیونکہ حقداروں سے پوچھ لے گا۔ جو رعیت ان کی حوالگی (سپردگی) میں دی گئی تھی۔}

یہی حدیث امام مسلم نے کتاب الامارۃ میں دی ہے۔ اس کے بعد اجماع امت اور چند بزرگان ملت کے اقوال پیش کرکے اس بحث کو ختم کرتاہوں۔

سب سے پہلا اجماع

اسلام میں سب سے پہلا جو اجماع منعقد ہوا وہ اس پر تھا کہ مدعی نبوت کو بغیر اس تحقیق اور تفتیش کے کہ اس کی تاویل کیا ہے اور کیسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے؟ کفر اور ارتداد ہے اور سزا اس کی قتل ہے۔ صحابہ کرامi کے اجماع سے صدیق اکبرq کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدعی نبوت پر جہاد کیاگیا اور اس کو قتل کیاگیا۔ عبارت اس حدیث کی بالفاظ ذیل ہے جو ایک صفحہ تک چلی جاتی ہے۔

ملا علی قاری فرماتے ہیں: ’’مع نبیناa ای فی زمنہ کمسیلۃ الکذاب والاسود العنسی اوادعی نبوۃ احد بعدہ فانہ خاتم النّبیین بنص القرآن والحدیث فہذا تکذیب اللہ ورسولہa کالعیسویۃ (شرح شفاء ج۴

51

ص۵۰۶تا۵۰۹)‘‘ {جس نے دعویٰ کیا نبی کریمa ہمارے کے بعد نبوت کا۔ جیسے مسیلمہ کذاب کے اور اسود عنسی کے یا بعد کے عیسوی فرقہ کے یا تجویز (جائز) کیا نبوت کا کسب ریاضت سے ان سب کا حکم کفر ہے۔ (بلاشبہ وہ کافر ہیں)}

خفّاجی نے شرح شفاء میں اسی قسم کا مضمون لکھا ہے جو کتاب مذکورہ بالا کے حاشیہ پر ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں: ’’فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہm نبیا فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اللہ a فی الآثار المسندۃ الثابۃ فی نزول عیسٰی بن مریمm فی آخرالزمان (کتاب الملل والنحل ج۴ ص۱۸۰، باب ذکر العزائم الموجبۃ الی الکفر)‘‘ {کیسے جائز ہے کہ کوئی مسلمان ہو ثابت کرے نبی کریمa کے کوئی پیغمبر زمین میں سوائے اس کے استثناء کیا خود نبی کریمa نے متواتر حدیثوں میں۔ وہ کیا ہے، نزول حضرت عیسیٰ ابن مریم۔}

وہی مصنف ابن حزم اس کتاب کے (ج۳ ص۲۴۹) پر لکھتے ہیں:’’اوان بعد محمدa نبیاً غیر عیسٰی ابن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیر لصحۃ قیام الحجۃ بکل ہذا علی کل احد‘‘ {یا یہ کہ بعد محمدa کے کوئی نبی ہو۔ سوائے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے۔ کیونکہ دو آدمیوں کا بھی اختلاف ایسے شخص کے کفر میں نہیں ہے۔}

یہاں تک تحقیق کے ساتھ یہ بات ثابت ہوگئی کہ ختم نبوت اپنے مشہورومعروف معنی کے ساتھ قرآن وحدیث کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے اس کا منکر یا تاویل وتحریف کرنے والا کافر ہے۔

دعویٰ نبوت:

۲… امردوم (ب) کے متعلق کہ ادعاء نبوت کفر ہے۔ میں دلائل بیان کرتا ہوں اس امر کے ثابت کرنے کے لئے وہ تمام آیات واحادیث اور اقوال سلف کافی دلائل ہیں۔ مزید برآں چند عبارات اور پیش کی جاتی ہیں۔ ملا علی قاری کلمات کفر کی بحث میں فرماتے ہیں: ’’دعوی النبوۃ بعد نبیناa کفر بالاجماع (کتاب شرح فقہ اکبر مطبوعہ گلزار محمدی لاہور ص۱۹۱)‘‘{دعویٰ نبوت کرنا ہمارے نبیa کے بعد اجماعی کفر ہے۔}

52

’’اذا لم یعرف الرجل ان محمداa آخر الانبیاء فلیس بمسلم کذافی یتیم الدہر (فتاویٰ عالمگیری باب۹ ص۲۶۳، کتاب السیر ج۲)‘‘ {جب نہ پہچانے (کوئی) شخص کہ نبی کریمa آخرانبیاء ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ اسی طرح یتیم الدہر میں ہے۔}

دعویٰ وحی:

۳… ادّعاء وحی کفر ہے۔ اس کے تحت حسب ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔ وحی لازم نبوت ہے جو شخص اس کا دعویٰ کرے اگرچہ (بظاہر) نبوت کا مدعی نہ ہو۔ وہ درحقیقت نبوت ہی کا مدعی ہے اور کافر ہے۔ جیسا کہ بحوالہ شرح شفاء پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بعض الفاظ یہ ہیں: ’’وکذالک فمن ادعٰی منہم انہ یوحی الیہ وان لم یدع ان النبوۃ الی ان قال فہولاء کلہم کفار مکذبون النبیa‘‘

جس نے دعویٰ کیا ان لوگوں میں سے کہ اس کی طرف وحی آتی ہے۔ کافر ہے۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کیا ہو۔(نسیم الریاض شرح ملا علی قاری ج۴ ص۵۰۸)

کشف اسے کہتے ہیں کہ کوئی پیرایہ (واقعہ) آنکھوں سے دکھلایا۔ جس کی مراد کشف والاخود نکالے۔ دل میں کچھ مضمون ڈال دیا اور سمجھا دیا جاوے تو یہ الہام ہے۔

خدا نے پیغام بھیجا اپنے ضابطہ کا۔ وہ وحی ہے۔ وحی قطعی ہے اور کشف والہام ظنی ہیں۔ بنی نوع آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیروں کے لئے کشف یا الہام۔ یہ تصوری (معنوی) وحی ہوسکتی ہے شرعی نہیں۔

حضرت عیسیٰؑ کی توہین

موجبات کفر قادیانی میں امر چہارم! یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی توہین اور امرپنجم! آنحضرتa کی توہین ہے۔ توہین دو قسم پر ہے۔ صریح یا تعریض۔ تعریض اسے کہتے ہیں کہ دوسرے کے حوالہ سے نقل کی اور مقصود اس سے یہ ہو کہ اس شخص کے عیوب اور نقائص لوگوں میں قبول ہو جائیں۔ گویا کہ کام اپنا کرتا ہے کندھے پر دوسرے کے رکھ کر۔ یہ کفر صریح ہے مگر میں توہین کی صریح مثالیں پیش کروں گا۔

بعض توہینوں کو مستند کرتا ہے قرآن سے یعنی قرآن اس کی سند میں پیش کیا کرتا ہے

53

اور تفسیر قرآن کی اس سے کی جاتی ہے اور کسی چیز کو کہتا ہے کہ حق بات یہ ہے کہ یعنی اس پر اپنا فیصلہ دیتا ہے۔ اب میں سندات پیش کرتا ہوں کہ توہین انبیاءo کفر ہے۔

یہ بات اوّل تو محتاج دلیل نہیں بلکہ ہرمذہب پرست انسان کے نزدیک مسلمات میں ہے۔ تاہم چند مختصر دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ نص قرآن نبی کا کلام سن کر بطور اعراض سرپھیر دینا بھی کفر قرار دیا گیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ’’واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووّا رؤسہم ورایتہ یصدون وہم مستکبرون (المنافقون:۵)‘‘ {جب کہا جاتا ہے انہیں کہ آؤ استغفار کریں تمہارے لئے رسول اللہ ۔ پھیرتے ہیں اپنے سروں کو اور دیکھے گا تو انہیں اعراض کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔}

اور بحکم آیت کریمہ:’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ یہ حکم تمام انبیاء پر شامل ہے۔ اس لئے فتاویٰ کی مشہور کتاب پر ہے: ’’الکافر بسب نبی من الانبیاء فانہ یقتل حداولا تقبل توبتہ مطلقاً‘‘ (درمختار اور شامی (طبع جدید) باب المرتدین ج۴ ص۲۳۱)

’’جو شخص سب کرے یعنی برابھلا کہے یا ناسزا کہے کسی نبی کو وہ قتل کیا جائے گا حد کے طور پر اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔‘‘

دنیا میں اور جو کوئی شک کرے اس کے کفر میں اور عذاب (سزا) میں وہ بھی کافر ہے۔ حافظ ابن تیمیہ حافظ حدیث کہتے ہیں: ’’فعلم ان سب الرسل والطعن فہم ینبوع جمیع انواع الکفر وجماع جمیع الضلالات وکل کفر فرع منہ‘‘ (الصارم المسلول ص۲۴۳)

’’جانا گیا سب (گالی) اور ناسزا کہنا پیغمبروں کو اور طعن کرنا سرچشمہ ہے۔ جمیع انوار کفر کا اور مجموعہ ہے جملہ گمراہیوں کا اور ہر کفر اس کی شاخ ہے۔‘‘

قاضی عیاض کی شفاء ص۳۲۰ میں اس بحث پر چند فصلیں لکھی گئی ہیں۔ جس میں ثابت کیا ہے کہ کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرنا بھی کفر ہے۔ عبارت باب اوّل سے شروع ہوکر اخیر باب ثانی تک جاتی ہے۔ اسی کتاب پر توہین انبیاء کرنے والے کے قتل کے متعلق لکھا ہے: ’’الدلیل السادس۔ اقاویل الصحابہ فانہا نصوص فی تعیین قتلہ مثل قول عمر من سب اللہ تعالٰی اوسب احداً من الانبیاء فاقتلوا‘‘ (الصارم المسلول ص۲۸۲)

54

’’چھٹی دلیل اقوال ہیں صحابہi کے۔ وہ نص ہیں تعیین میں قتل کرنے اور ایسے شخص کے جیسے قول عمر فاروقq کا جس نے ناسزا (گالی دی) کہا خدایا کسی پیغمبر کو، اس کو قتل کردو۔‘‘

اس کتاب کے ص۵۲۷ پر ہے کہ:’’قال اصحابنا التعریض بسب اللہ وسب رسول اللہ a ردۃ وہو موجب للقتل کالتصریح‘‘ {امام احمد فرماتے ہیں جس نے ناسزا کہا نبی کریم کو یا تنقیص کی، مسلمان ہو یہ شخص یا کافر ہو۔ سزا اس کی قتل ہے۔ کہا ہمارے علماء نے اشارہ کرنا یعنی تعریض کرنا خدا کی سب (گالی) کا اور رسول کی سب (گالی) کا۔ ارتداد ہے اور موجب قتل ہے جیسے صریح۔}

تکفیر امت: ساری امت حاضرہ کی تکفیر کرنے والا بھی خود کافر ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی، مدعی نبوت نے اپنے چند مریدوں کے سوا چالیس پچاس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دیا ہے اور سب کو اولاد زنا کہا۔ یہ بھی منجملہ موجبات کفر کے ہے۔ مرتد کا حکم شرعی یہ ہے قرآن مجید میں ہر قسم کے کافروں کے متعلق یہ فیصلہ صاف مذکور ہے: ’’لاہن حل لہم ولاہم یحلون لہن (الممتحنہ:۱۰)‘‘

’’ویبطل منہ اتفاقا ما یعتمد الملۃ وہی خمس، النکاح۔ الذبیحۃ والصید والشہادۃ۔ والارث‘‘ (درمختار اور شامی (طبع ثانی) ج۴، باب المرتدین ص۲۴۹)

’’باطل ہے بسبب ارتداد کے ہر وہ شئے جس کی بناء ہو ملت پر۔ وہ پانچ چیزیں ہیں جو بناء ہیں ملت پر۔ نکاح، ذبیحہ، شکار، شہادت اور ارث یعنی ارتداد سے یہ چیزیں منقطع ہو جائیں گی۔‘‘

اسی کتاب کے جلد ثانی باب نکاح الکافر میں ہے: ’’وارتداد احدہما ای الزوجین (فسخ) فلا ینقض عددا (عاجل) بلا قضاء‘‘ ارتداد، احد الزوجین کا یعنی مرد عورت میں سے ایک فسخ (نکاح) ہے۔ فوری محتاج نہیں ہے حکم حاکم کا۔

توہین انبیاء: اب توہین انبیاء کے قول مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں سے نقل کئے جاتے ہیں:

  1. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرابتمام

  2. انیباء گرچہ بودہ اندبسے

    من بہ عرفان نہ کمترم زکسے

55
  1. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست و لعین

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

باہمی فضیلت کا باب انبیاء میں فرق مراتب کا ہے اور جو پیغمبر افضل ہے وہ کسی قرینہ سے ظاہر ہو جائے گا وہ دوسرے سے افضل ہے اور نبی کریمa نے اپنی امت تک یہ پہنچایا ہے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس سے فوق متصور نہیں ایسی فضیلت دینا ایک پیغمبر کو اگرچہ واقعی ہو کہ جس میں دوسرے کی توہین لازم آتی ہو کفر صریح ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسٰی کجا است تا بنہد پابہ منبرم

(ازالہ اوہام ج۱ ص۶۹، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

قرآن مجید نے یہود اور نصاریٰ کے عقائد کی بیخ کنی کی ہے اور ایک حرف بھی موسیٰ اور عیسیٰn کی ہتک کا اشارۃً یا کنایۃً ذکر نہیں فرمایا۔ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور یہ کہ:

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

پہلی عبارت کے ساتھ آگے یہ الفاظ ہیں کہ: ’’اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید سے مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

’’مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہود ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔‘‘(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

اس سے تعریض اور تصریح دونوں قسم کی توہین ظاہر ہوتی ہے۔ ’’عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

اس سے صریح عیسیٰؑ کی توہین ٹپکتی ہے۔ ’’حق بات‘‘ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مرزاغلام احمد قادیانی کے اپنے فیصلہ کے الفاظ ہیں۔

56

لفظ یسوع دراصل عبرانی میں ہے۔ ایشوع جس کا ترجمہ ہے نجات دہندہ۔ اس سے یسوع بنا اور اس کی تعریب ہو کر یعنی زبان عربی میں آکر لفظ عیسیٰ بنا اور یہ تعریب قرآن پاک سے شروع نہیں ہوئی۔ نزول قرآن سے پہلے عرب کے نصاریٰ عیسیٰؑ کو عیسیٰ ہی بولتے تھے۔

مرزاقادیانی کے ہاں بھی یسوع اور عیسیٰ ایک ہی ذات ہیں۔ جیسے لکھتا ہے کہ: ’’مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘(توضح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)

اس سے ثابت ہوا کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ نبی کی ہی توہین کی۔ توہین کی ایک تیسری قسم لزومی ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ عبارت اس لئے نہیں لائی کہ تنقیص کرے لیکن وہ عبارت صادق نہیں آتی۔ جب تک تنقیص موجود نہ ہو۔ اس قسم کے تحت نبی کریمa کی تنقیص پائی جاتی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی ’’جناب رسول اللہ a کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

’’اور اپنے معجزات کی دس لاکھ لکھی ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ ج۵ ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

اس ضمن میں ایک شعر بالفاظ ذیل ہے:

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسا القمران المشرقان اتنکر

(کتاب اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

’’نبی کریم کے لئے گہن لگا چاند کو اور میرے لئے گہن لگا سورج اور چاندکو۔ کیا تجھے اے مخاطب اس سے کچھ انکار ہے۔‘‘ یہ بھی توہین لزومی ہے۔

ادّعاء نبوت: صریح وجہ کفر ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

۱… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۲… ’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ:ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

57

۳… ’’اور اگر کہو صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری۔ تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوئے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امراور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

۴… ’’ہاں! اگر یہی اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)

۵… ’’اب یہ ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کافرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (دشمن سے مراد یہ ہے کہ جو اسے نہ مانے)‘‘ (انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

۶… ’’میں صرف پنجاب کے لئے ہی مبعوث نہیں ہوا ہوں بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔‘‘ (حاشیہ حقیقت الوحی ص۱۹۲، خزائن ج۲۲ ص۲۰۰)

۷… ’’تم سمجھو کہ قادیان صرف اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

۸… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

حضرت عیسیٰؑ کی توہین کے متعلق ایک اور صریح عبارت یہ ہے کہ: ’’اور جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے

58

کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ کہا جاوے کہ کیوں تم اپنے تئیں مسیح ابن مریم سے افضل قرار دیتے ہو۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)

تکفیر امت: تکفیر امت حاضرہ کے بارے میں مرزاغلام احمد قادیانی کے حسب ذیل اقوال ہیں: ’’ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔ اوّل یہ کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرتa کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

مرزاغلام احمد قادیانی نے کہا ہے:’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المؤدۃ والمحبۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الاذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علٰی قلوبہم وہم لایقبلون‘‘ (آئینہ کمالات ص۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۸)

’’میری کتابیں پھیل چکی ہیں۔ دیکھتا ہے ان کی طرف ہمہ (تمام) مسلمان محبت اور مؤدت کی آنکھ سے۔ نفع پاتا ہے ان کے معارف سے اور مجھے قبول کرتا ہے اور تصدیق کرتا ہے میرے دعویٰ کی۔ مگر نسل زانیہ عورتوں کی جن کے دل پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ قبول نہیں کرتے۔‘‘

وحی کا دعویٰ اور اس کو قرآن کے برابر ٹھہرانا

۱… مرزاقادیانی کہتا ہے کہ: ’’میں خداتعالیٰ کی ۲۳برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتا ہوں میں اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جومجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

۲… ’’مگر میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اس طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن

59

شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خداکا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۲۲۱، خزائن ج۲۲ ص۲۱۱)

۳… ’’پھر اس کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینہم‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

۴… ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانیوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھا سکتاہوں کہ وہ وحی پاک میرے پر نازل ہوتی ہے۔ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ وحضرت عیسیٰ وحضرت محمدa پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اسی طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔ مگر پیش گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص۲۶۴)

۲۸؍اگست ۱۹۳۲ء

تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ بااقرار صالح

میں آج حضرت صدیق اکبرq اور فاروق اعظمq کا قول سب (گالی) نبی کے متعلق پیش کرتا ہوں۔ حرب کی ایک روایت امام ابن تیمیہ حافظ حدیث سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص فاروق اعظمq کے سامنے لایا گیا جس نے سب (گالی) کی تھی نبی کریمa کی۔ فاروق اعظمq نے اسے سزائے موت دی۔(الصارم المسلول حافظ ابن تیمیہ ص۱۹۵، ۴۱۸ پر یہ واقعہ کتاب مذکور میں درج ہے)

فاروق اعظمq کا ارشاد ہے:’’ثم قال عمر من سب اللہ تعالٰی وسب احدا من الانبیاء فاقتلوہم‘‘ جس نے ناسزا (برابھلا) کہا خدا کو یا کسی پیغمبر کو اسے سزائے موت دی جائے۔

60

صدیق اکبرq کا حکم

کسی عورت نے سب کی ہوئی تھی نبی کریمa کی نجران میں۔ وہاں کے حاکم مہاجر ابن امیہ نے اسے کوئی سزا دی ہوئی تھی۔ صدیق اکبرq کا حکم پہنچا کہ پہلے مجھے اطلاع ہوتی تو سب نبی کی یہ سزا نہیں بلکہ اس کی سزا قتل ہے۔ لفظ صدیق اکبرq کے یہ ہیں:’’فلولا ما قد سبقتنی فیہا لا مرتک بقتلہا۔ لان حد الانبیاء لایشبہ الحدود فمن تعاطی ذلک من مسلم فہو مرتد ومعاہد فہو محارب غادر‘‘ اگر تو پہلے کچھ نہ کر چکا ہوتا میں امر کرتا اس عورت کے قتل کا کیونکہ انبیاء کے سب کے حد اور حدوں کے مشابہ نہیں جو کوئی مسلمان ایسا کرے وہ مرتد ہے اور جو کوئی ذمی ایسا کرے وہ جنگ کرنے والا ہے۔ ہم سے اور غدر کرنے والا ہے۔

یہ تین خلیفوں کے احکام ہیں۔ اس مسئلہ پر کل امت محمدیہa کا اجماع بلافصل ہے۔ حافظ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ سب نبی پر ایک علیحدہ کتاب لکھی ہے جو ’’الصارم المسلول‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ دوسری کتاب السبت المسلول جو شیخ تقی الدین السبکی کی تصنیف شدہ ہے دونوں آٹھویں صدی کے حافظ حدیث ہیں۔

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی یہ نہیں سنایا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس پر عطر ملا تھا یا اپنے ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھواء تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘ (دافع البلاء ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

ایک شعر مرزاغلام احمد قادیانی کا بالفاظ ذیل ہے:

  1. ہر نبی زندہ شد با آمدنم

    ہر رسول نہاں با پیراہنم

(کتاب نزول مسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

علماء نے جب تورات اور انجیل محرف سے کوئی چیز محرف نقل کی ہے۔ نتیجہ یہ نکالا ہے کہ یہ کتابیں تحریف شدہ ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰؑ نالائق تھے۔ (معاذ اللہ ) علماء کے طریق میں اور مرزاغلام احمد قادیانی کے طریق میں کفر واسلام کا فرق ہے جو عبارت (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵) سے پڑھی گئی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قادیانی اور مرزاغلام احمد قادیانی اپنے منکرین کو کافر کہتے ہیں۔ یہی مضمون ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ’’اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘(حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان اعلیٰ رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘(حاشیہ تریاق القلوب ص۳۲۵، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

تریاق القلوب کی عبارت مذکورہ کو پہلی عبارتوں کے ساتھ جمع کرنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزاغلام احمد قادیانی فقط نبوت ہی کے مدعی نہیں ہیں بلکہ شریعت جدیدہ کے بھی مدعی ہیں۔ جیسا کہ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲) کی عبارت سے بھی یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے۔

اصول یہ باندھا کہ جو صاحب شریعت ہو اس کا انکار کفر ہے۔ پھر ساری امت حاضرہ کو جو منکر ہو اس کو کافر کہا۔ تو گویا دعویٰ شریعت جدیدہ کا کیا۔ پھر اس پر بس نہیں کی۔ تصریح کر دی کہ شریعت امرونہی کا نام ہے۔ امر جیسا میری وحی میں موجود ہے لیکن محض مسلمانوں کو مغالطہ دینے کے لئے چند الفاظ ظلی، بروزی وغیرہ گھڑے ہوئے ہیں۔ جس کی آڑ میں ذیل کی تحریف کرتے ہیں۔ اس لئے میں ان الفاظ کی حقیقت خود مرزاغلام احمد قادیانی کے کلام سے واضح کر دینا چاہتا ہوں۔

61

بروزی، ظلی، مجازی نبوت کی اصلیت

خود مرزاغلام احمد قادیانی کا کلام ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود یہ دوریہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیمm نے اپنی خو، طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداﷲ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔‘‘(تریاق القلوب حاشیہ ص۳۷۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷)

یہ ہے حقیقت مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک بروزی، ظلی اور مجازی کی۔ دوسرے جنم کا عقیدہ اسلام میں کفر ہے اور یہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کا قول اس طرح مذکور ہے: ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔ وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمa سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے… پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریمa کے خاص خاص صفات اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمa کے ظل ہیں۔‘‘(کتاب قول فیصل ص۶، بحوالہ اخبار الحکم ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء، ملفوظات احمد ج۴ ص۱۴۲، مرتبہ منظور الٰہی)

ان عبارات سے نتائج ذیل برآمد ہوتے ہیں:

الف… ’’مرزاغلام احمد قادیانی نے جو اپنے کو ظلی اور بروزی نبی کہہ کر دنیا کو یہ دھوکا دینا چاہا ہے کہ اس کی نبوت، نبوت محمدیہ:’’علی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ‘‘ سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ یہ بالکل لغو اور بیہودہ خیال ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو مرزاغلام احمد قادیانی کے اس قول مذکور سے یہ لازم آتا ہے کہ سرکاردوعالمa معاذ اللہ کوئی چیز نہیں تھے بلکہ آپa کا تشریف لانا بعینہٖ حضرت ابراہیمm کا تشریف لانا ہے۔ گویا کہ ابراہیمm کے یہ دور ہیں۔ گویا اصل ابراہیمm ہوئے اور آئینہ رسولa ہوئے اور چونکہ ظل اور صاحب ظل میں مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک عینیت ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے کو عین محمدa کہتے ہیں جب محمدa بروز ابراہیمm ہوئے تو عین ابراہیمm ہوئے۔ اس سے صاف لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ a کا کوئی وجود بالاستقلال نہیں اور نہ آپa کی نبوت کوئی مستقل شئے ہے۔‘‘

62

ب… ’’رسول اللہ a، ابراہیمm کے بروز ہوئے اور خاتم النّبیین آپa ہوئے تو اس سے معلوم ہوا کہ خاتم بروز اور ظل ہوتا ہے۔ صاحب ظل اور اصل نہیں ہوتا۔ اس طرح مرزاغلام احمد قادیانی، آنحضرتa کے بروز ہوا تو خاتم النّبیین مرزاغلام احمد قادیانی ہوا نہ کہ آنحضرتa۔‘‘

ج… ’’الحکم کی عبارت مذکورہ سے یہ ثابت ہوا کہ جملہ انبیاء سابقین رسول اللہ a کے ایک ایک صفت میں ظل ہیں اور سارے کمالات رسالت رسول کریمa میں پائے جاتے ہیں۔ جب رسول اللہ a حضرت ابراہیمm کے بروز ہوئے تو جملہ کمالات نبوت اگر مجتمع ہوں گے تو حضرت ابراہیمm میں نہ کہ آنحضرتa میں۔ یہ باطل اور بے معنی ہیں۔ یہ صریح توہین ہے سرور عالمa کی۔ اس کے علاوہ یہ مضمون بھی فی نفسہ کہ آنحضرتa حضرت ابراہیمm کے بروز ہیں اور ابراہیمm آنحضرتa کے بروز ہوں۔ بے معنی اور فضل ہے۔ (جو کھلا ہوا دور ہے)‘‘

ظل، بروز، تناسخ: اس کے بعد میں ظل اور بروز کی اصطلاح (تحقیق) فلسفہ سے ذکر کرتا ہوں۔ فلسفہ یونانی میں بروز اسے کہا ہے کہ ایک روح دوسرے ذی روح میں حلول کرے۔ یعنی ایک بدن میں دوروحیں ہو جائیں تناسخ اسے کہتے ہیں کہ روح ڈھانچے بدلتی رہے۔

نسخ: اسے کہتے ہیں کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو۔

رسخ: اسے کہتے ہیں کہ ایک حیوان نباتات میں تبدیل ہو۔

مسخ: اسے کہتے ہیں کہ حیوان جماد بن جائے۔

یہ پانچوں اصطلاحیں آسمانی دینوں میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔

غلام احمد قادیانی کا اقرار ختم نبوت

’’وماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم الکافرین‘‘ (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور قوم کافرین سے مل جاؤں۔(منقول از ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص۵۹)

63

’’مسیح کیونکر آسکتا ہے وہ رسول تھا اور خاتم النّبیین کی دیوار اس کو آنے سے روکتی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ج۲ ص۲۱۶، خزائن ج۳ ص۳۸۰)

لکھتا ہے کہ: ’’یہ ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النّبیین کے بعد پھر جبریل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے۔ ایک نئی کتاب اللہ جو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو۔ پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو۔ وہ محال ہوتا ہے۔ فتدبر!‘‘ (ازالہ اوہام ج۲ ص۲۴۱، خزائن ج۳ ص۴۱۴)

لکھتا ہے: ’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا کیونکہ رسول کو علم وحی بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘ (ازالہ اوہام ج۲ ص۳۱۰، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

یہ مضمون اختلاف بیان مرزاغلام احمد قادیانی میں پیش کیاگیا ہے جو انہوں نے ابتداء ہی سے زندقہ اور الحاد کا ارادہ کیا ہوا تھا۔

مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے متعلق

آیت کریمہ: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین۔ وکان اللہ بکل شیٔ علیما (الاحزاب:۴۰)‘‘ یہ آیت اس واسطے آئی ہے کہ نبی کریمa کی نسل نرینہ چھوڑنا ہماری مشیت میں مقدر نہیں ہے کیونکہ آپa کے بعد میں تاآخر دنیا نبوت کی اسامی آپa کے وجود ذی جود سے پر ہے۔ آپa مستقبل کے لئے تاآخر دنیا رسول ہیں اور جملہ انبیاء سابقین کے خاتم ہیں۔ نسبی سلسلہ کے بدلہ میں اس نبوی سلسلہ کو عوض میں رکھ لو۔

اس عقیدہ کے موافق کوئی دو سو حدیث نبی کریمa سے وارد ہوئیں اور رسالہ (ختم نبوت کامل) مفتی حال دیوبند (مولانا) محمد شفیع کی طرف سے شائع ہوچکا ہے اور اس عقیدہ پر اجماع رہا ہے۔ امت محمدیہa کا۔ ابتداء سے لے کر آج تک بلافصل۔

اور جیسے قرآن امت کو پہنچا ہے اسی طرح یہ عقیدہ بھی پہنچا ہے اور جب سے لے کر اب تک اس کا بھی اجماع ہوا ہے کہ اس آیت میں کوئی تاویل نہیں ہے اور اس عقیدہ میں کوئی

64

فرق نہیں۔ خلفاء اور سلاطین اسلام نے جب سے لے کر اب تک مدعیان نبوت کو سزائے موت دی اور انہیں کافرومرتد سمجھا اصلی کافر کے وجود کو برداشت کیا اور ایسے مرتد کے وجود کو برداشت نہیں کیا اور خود مرزاغلام احمد قادیانی کا جب تک مسلم تھے یہی عقیدہ رہا ہے۔

نبوت ایک صفت اصلی قائم ہے۔ نبی کی ذات کے ساتھ نہ وہ کسب سے حاصل ہو اور نہ وہ کبھی سلب ہو یہ عقیدہ یہود کا ہے کہ نبوت سلب بھی ہوسکتی ہے۔

اگر نبوت کسبی ہو تو سلب بھی ہوسکتی ہوگی۔ یہ عقیدہ اسلام کا نہیں۔ ولایت ایسی چیز ہے کہ کسب سے حاصل ہو اور زائل بھی ہو جائے۔ یہ صفت نبوت جو نبی کی ذات کے ساتھ قائم ودائم باقی ہے۔ احکام شرعیہ کی تبلیغ اس کے وقتی ثمرات میں سے ہے اور توابع میں سے ہے۔

کسی محدود وقت میں اگر نبی نے ضروری احکام نہ پہنچائے تو وہ نبی بذات خود نبی برحق ہے۔ صفت نبوت جو اس کی ذات کے ساتھ قائم تھی کسی طرح زائل نہیں ہوتی۔ تبلیغ ایک کارگزاری تھی۔ پیغمبر کی کہ حاجت پر دائر ہوگی۔ عیسیٰؑ کا تشریف لانا بعینہٖ ایسا ہے کہ جیسا گزشتہ زمانہ میں یعقوبm مصر چلے گئے تھے اور وہاں بطور رعایت کچھ دن گزارے۔

نبوت وولایت: صوفیائے کرام نے نبوت کو بمعنی لغوی لے کر مقسم بنایا اور اس کی تفسیر خدا سے اطلاع پانا دوسرے کو اطلاع دینا کی اور اس کے نیچے انبیاء اور اولیاء کرام دونوں کو داخل کیا اور نبوت کو دو قسم کردیا۔ نبوت شرعی اور نبوت غیرشرعی۔

نبوت شرعی کے نیچے انبیاء اور رسل دونوں درج کر دئیے اور اب ان کے لئے نبوت غیرشرعی اولیاء کے کشف اور الہام کے لئے نکھر گئی اور مخصوص ہوگئی۔ صوفیائے کرام کی تصریح ہے کہ کشف کے ذریعے سے مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اسرار ومعارف۔ مکاشف اس کا دائرہ ہیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرے کہ مجھ پر مستحب کا حکم آیا ہے۔ پس یہ اگر پہلے سے شریعت محمدیہa میں موجود ہے تو ثابت اور اگر موجود نہیں ہے اور پھر وہ دعویٰ کرتا ہے اضافہ کا تو گردن زدنی ہے اور یہ تصریح فرماتے ہیں کہ ہمارا کشف دوسرے پر حجت نہیں۔ ہمارا کشف ہمارے لئے ہے۔

کتاب (الیواقیت والجواہر ص۱۷۹) پر حسب ذیل الفاظ ہیں:’’فقد بان لک… الخ!‘‘

65

’’پس روشن ہوگیا تیرے لئے کہ دروازے اوامرالدین کے اور نواہی کے بند کر دئیے گئے۔ جس نے دعویٰ کیا امرونہی کا بعد محمدa کے پس وہ مدعی شریعت کا (ہے) جو اس کی طرف بھیجی گئی۔ برابر ہے کہ وہ موافق ہو امر شریعت کے یا مخالف ہو۔ پس اگر ہے عاقل بالغ یہ مدعی اتاریں گے ہم اس کی گردن، اور اگر عاقل بالغ نہیں ہے اس سے اعراض کریں گے۔‘‘

شطحیات: صوفیاء کے ہاں ایک باب ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں اور خود فتوحات میں اس کا باب ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان پر حالات گزرتے ہیں اور ان حالات میں کوئی کلمات ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں جو ہمارے ظاہر قواعد پر چسپاں نہیں ہوتے اور بسا (اوقات) غلط راستہ لینے کا سبب ہو جاتے ہیں۔ صوفیاء کی تصریح ہے کہ ان پر عمل پیرانہ ہو اور تصریحیں کرتے ہیں کہ جن پر یہ احوال نہ گزرے ہوں۔ وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ نہ کرے۔ مجملاً ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص جو کسی حال کا مالک ہوتا ہے۔ دوسرا خالی آدمی ضرور اس سے الجھ جائے گا لیکن دین میں کسی زیادتی۔ کمی کے صوفیاء میں سے کوئی بھی قائل نہیں اور ایسے مدعی کو کافر بالاتفاق کہتے ہیں۔ ہم نے اولیاء اللہ قدس اللہ اسرار ہم کو ان کی طہارت تقویٰ اور تقدس کی خبریں سن کر اور ان کے شواہد افعال، اعمال اور اخلاق سے تائیدپا کرولی مقبول تسلیم کر لیا ہے۔ ان قرائن اور نشانیوں سے جو خارج مبحوث عنہ سے ہوں۔ یعنی انہی شطحیات سے ان کی ولایت ثابت نہیں کرتے ہیں بلکہ ولایت ان کی خارج سے پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے جو طریقہ ثبوت کا ہے۔ اس کے بعد ہم نے کسی کی ولایت تسلیم کی اور ہم اس تسلیم میں صواب پر تھے تو اس کے بعد اگر کوئی کلمہ مغائر یا موہم ہمارے سامنے پڑھتا ہے تو ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی توجیہہ کریں اور محمل نکالیں کہ ٹھکانہ اس کا کیا ہے۔ شطحیات کو ہی پہلے پیش کرنا اور اس پر ولایت کا جمگھٹا جمانا، نافہم اور جاہل کا کام ہے۔ کسی شخص کی راست بازی اگر جدا گانہ تجارب سے اور جو طریقہ راست بازی ثابت کرنے کا ہے۔ ثابت ہوئی تو پھر اگر کہیں، کوئی کلمہ موہم اور مغالطہ میں ڈالنے والا اس کا سامنے آگیا تو مصنف طبیعتوں کے ذہن اس کی توضیح کریں گے اور محمل نکالیں گے۔

یہ عاقل کا کا نہیں کہ راست بازی کسی کی ثابت ہونے سے پیشتر وہی کلمات مغالطہ پیش کر کے مسلم الثبوت مقبولوں پر قیاس کرے اور کہے کہ فلاں نے ایسا کیا۔ فلاں نے ایسا

66

کیا۔ اس کا جواب مختصر یہ ہوگا کہ فلاں کی راست بازی جداگانہ اگر ہمیں کسی طریقہ اور دلیل سے معلوم ہے تو ہم محتاج توجیہہ ہوں گے اور اگر زیربحث یہی کلمات ہیں اور اس سے پیشتر کچھ سامان خیر کا ہے ہی نہیں تو ہم یہ کھوٹی پونجی اس کے منہ پر ماریں گے۔

خلاصہ بیان: میرے کل بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی مدعی نبوت حسب تصریحات قرآن وحدیث اور باجماع امت کافر مرتد ہے اور جو شخص ان کے عقائد باطلہ اور دعویٰ نبوت ووحی پر مطلع ہونے کے باوجود ان کو کافر نہ سمجھے۔ ان کی نبوت کو تسلیم کرے یا مسیح موعود کہے۔ وہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔

اور حکم یہ ہے کہ ان کانکاح کسی مسلمان مرد عورت کے ساتھ جائز نہیں اور اگر بعد نکاح کے کوئی شخص ایسا عقیدہ اختیار کرے تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ قضاء قاضی اور عدت کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور اس کے بعد اگر زن وشوہر کے تعلقات باقی رکھے گئے تو جو اولاد ہوگی وہ اولاد ثابت النسب نہ ہوگی۔ یعنی وہ حرام کی ہوگی۔ جیسا کہ شامی کے حوالہ سے اوپر بیان کیا جاچکا ہے اور موجبات کفر مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے لئے میرے بیان میں چھ وجوہ آئے ہیں۔

اوّل… ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف اور جس مذہب میں سلسلہ نبوت منقطع ہو اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔

دوم… دعویٰ نبوت مطلقہ اور تشریعہ۔

سوم… دعویٰ وحی اور ایسی وحی کو قرآن کے برابر قرار دینا۔

چہارم… حضرت عیسیٰؑ کی توہین۔

پنجم… آنحضرتa کی توہین۔

ششم… ساری امت محمدیہa کو بجز اپنے متبعین کے کافر کہنا یہ اصول ہیں۔ جن کے تحت میں اور بھی ایسے فروع موجود ہیں جو نشاء موجبات کفر ہوسکتے ہیں۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں کو دیکھنے والے پر یہ بات پوری طرح روشن ہوجاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے۔ ایک مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے۔

67

خود مرزاغلام احمد قادیانی کو ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے جس سے نتیجہ گڑبڑ رہے اور ان کو بوقت ضرورت کے مخلص اور مفر، باقی رہے۔ یہی ذکر میں آیا ہے کہ زنادقوں نے ہمیشہ یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ کہیں ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنی کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں پر ایسا عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰؑ کے نزول کو تمام امت محمدیہa کے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔ ان کا سب پورے غور کرنے سے دوچیزیں معلوم ہوتی ہیں۔

اوّل یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی چونکہ مادرزاد کافر نہ تھے۔ ابتداء ان کی تمام اسلامی عقائد پر نشوونما ہوئی۔ (اس لئے) انہی کے پابند تھے اور وہی لکھے۔ پھر تدریجاً ان سے الگ ہونا شروع ہوا،۔ یہاں تک کہ آخری اقوال میں بہت سی ضروریات دین کے قطعاً مخالف ہوگئے۔

دوسرے یہ کہ انہوں نے باطل اور جھوٹے دعوؤں کے رواج دینے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی کہ اسلامی عقائد کے الفاظ وہی قائم رکھے۔ جو قرآن اور حدیث میں مذکور ہیں۔ عام وخواص مسلمانوں کی زبانوں پر جاری ہیں۔ لیکن ان کے حقائق کو ایسا بدل دیا جس سے بالکل ان عقائد کا انکار ہوگیا جس کے متعلق پہلے بیان میں آچکا ہے کہ ایسا کرنا کفر صریح ہے اور اس قسم کے کفر کا نام قرآن مجید نے الحاد رکھا ہے اور حدیث نے زندقہ اور عام محققین نے باطنیت کے نام سے اس کو پکارا ہے۔ اس لئے اب قادیانی صاحب کی کتابوں سے ایسے اقوال پیش کرنا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بعض عقائد میں عام اہل سنت والجماعت کے ساتھ شریک ہیں۔ ان کے اقوال وافعال کفریہ کا کفارہ نہیں بن سکتے۔ جب تک اس کی تصریح نہ ہو کہ ان عقائد کی مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی اور پھر اس کی تصریح نہ ہو کہ جو عقائد کفریہ انہوں نے اختیار کئے تھے ان سے توبہ کر چکے ہیں اور جب تک توبہ کی تصریح نہ ہو۔ چند عقائد اسلام کے الفاظ کتابوں میں لکھ کر کفر سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ زندیق اس کو کہا جاتا ہے جو عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن وحدیث کے اتباع کا دعویٰ کرے۔ لیکن ان کی

68

ایسی تاویل وتحریف کرے جس سے ان کے حقائق بدل جائیں اس لئے جب تک اس کی تصریح نہ دکھائی جائے کہ قادیانی صاحب ختم نبوت اور انقطاع وحی کا اس معنی کے اعتبار سے قائل ہے جس معنی سے صحابہ وتابعین اور تمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اس وقت تک ان کی کسی ایسی عبارت کا مقابلہ میں پیش کرنا مفید نہیں ہوسکتا۔ جس میں خاتم النّبیین کے الفاظ کا اقرار کیا ہو۔ اسی طرح حشر اجساد، نزول مسیح وغیرہ عقائد کے الفاظ کا اقرار کر لینا یا لکھ دینا بغیر تصریح مذکور کے ہر گز مفید نہیں ہوگا۔ خواہ وہ عبارت تصنیف میں مقدم ہویا مؤخر۔ اسی طرح مسئلہ توہین ہے کہ جب ایک جگہ توہین کے کلمات ثابت ہوگئے تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثناء خوانی بھی کی ہو تو وہ اس کو اس کے کفر سے نجات نہیں دلاسکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلم اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کو اتباع اور اطاعت گزاری اور مدح وثناء کرتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کی سخت ترین توہین بھی کی تو کوئی انسان اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔ الغرض اوّل تو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی آخر عمر تک دعویٰ نبوت پر وحی پر قائم رہا ہے اور اپنی کفریات سے کوئی توبہ نہیں کی۔ جیسا کہ ان کے آخری خط سے واضح ہوتا ہے جو موت سے تین دن پہلے اخبار عام لاہور کے ایڈیٹر کے نام لکھا ہے اور اگر یہ بھی ثابت نہ ہوتا تو کلمات کفریہ اور عقائد کفریہ لکھنے اور کہنے کے بعد اس وقت تک اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ جب تک وہ ان عقائد سے توبہ کا اعلان نہ کرے اور توبہ کا اعلان جہاں تک ہم نے کوشش کی ان کی کسی کتاب یا تحریر میں نہیں پایا گیا۔ اس لئے تکفیر کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ بھی فرض کرلیا جاوے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت وغیرہ سے توبہ کی تھی جب بھی ہمارا مدعا علیہ چونکہ ان کو عام انبیاء کی طرح نبی اور رسول ماننے کی تصریح اپنی کلام میں کرتا ہے۔ اس لئے اس کے کفر وارتداد میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ازروئے عقائد اسلام ومسائل فقیہ اجماعیہ کا اس کانکاح جو مسلمان عورت کے ساتھ ہوا تھا قطعاً فسخ ہوچکا۔

’’وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد وعلٰی الہ اجمعین‘‘

دستخط: جج محمد اکبر

۲۸؍اگست۱۹۳۲ء

69

جرح بربیان امام العصر سید محمد انور شاہ صاحبv گواہ مدعیہ

مورخہ ۲۹؍اگست۱۹۳۲ء

صحیح مسلم میں ہے کہ جس کو پہنچے میرا کلمہ، اور تصدیق نہ کرے: ’’ماجئت بہ‘‘ کی وہ مسلم نہیں ہے۔ جبرائیلm کی دریافت پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایمان کی یہ تشریح کی کہ ایمان لانا خدا پر، ملائکہ پر، کتب سماویہ پر، رسل پر، یوم آخرت پر، تقدیر خیروشر من اللہ ہونے پر۔ یہ اجزاء ایمان کے فرمائے اور اسلام میں عبادت حق تعالیٰ کی (وحدہ لاشریک لہ) اقامت صلوٰۃ، ایتاء زکوٰۃ، صوم رمضان پر، جبرائیلm نے اس کی تصدیق کی۔ یہ بات حدیث کے متن میں موجود ہے جس جس چیز کو قرآن (پاک) ایمان کہے گا وہ ایمان ہے۔ اس کا منکر خارج از اسلام ہے۔

احادیث میں پانچ چیزوں پر بنائے اسلام رکھی گئی ہے۔ دو شہادتین، یعنی توحید اور رسالت کی شہادت، نماز کا قائم کرنا، زکوٰۃ کا دینا، رمضان کا روزہ رکھنا اور حج کرنا جو طاقت رکھے۔ یہ حدیثیں قدرے مشترک کے تواتر تک پہنچی ہیں۔

تواتر کی قسمیں علماء کی اپنی طرف سے ایجاد شدہ نہیں ہیں بلکہ انہوں نے قرآن اور حدیث کا ثبوت جس حال سے پایا اس کو ادا کردیا۔ علماء نے حال واقعی جیسا پایا اس کو یونہی ادا کیا۔ یہ تواتر کے اقسام علماء کی اصطلاحات ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی خود اپنی کتابوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تواتر معنوی میں جو حصہ قدر مشترک ہے۔ اس کا ثبوت اگر واضح ہے تو اس کا منکر کافر ہے اور اگر خفی ہے تو مجمل ایمان فرض ہے اور تفصیل کو خدا کے سپرد کریں۔

ایک خبر واحد کو اگر کوئی شخص حجت نہ مانے تو کافر نہیں۔ بدعتی ہے۔ کتاب مسلم الثبوت کے ص۱۷۱ پر امام رازیؒ کا جو قول بیان کیاگیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا درجہ تواتر معنوی پر نہیں پہنچا اور مسئلہ پر دلیل ہونا اس میں تردد ہے۔ یہ نہیں فرماتے کہ وہ تواتر معنوی کو پہنچا ہو اور پھر اس کا منکر کافر نہیں۔ حنفیہ کا اصول ہے کہ اجماع صحابہi کا قطعی ہے اور منکر اس کا کافر ہے اور مابعد کے اجماع کا منکر

70

مبتدع اور فاسق ہے۔ اجماع صحابہi کے قطعی ہونے میں امام ابن تیمیہv کی کتاب سے حوالہ دیا جاسکتا ہے۔

نزول مسیح علامات قیامت میں سے ہے جو خبریں اخبار مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان پر اجماع ہوسکتا ہے اور ہوا ہے۔ نزول مسیح کے سوال پر فقط اجماع ہی نہیں بلکہ نصوص احادیث کا تواتر ہے۔

’’امام فی المستقبلات… ہذا‘‘ (کتاب مسلم الثبوت ج۲ ص۱۹۵)

اس عبارت سے مراد یہ ہے کہ واقعہ پیش آگیا ہو اور اس کا حکم دینا ہو مجتہدین کو تو اتفاق واجماع کریں اور آئندہ چیزیں جو یقینی ہیں ان میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ عقیدہ کافی ہے۔ یعنی تواتر اگر ہو جائے تو اس عقیدہ کو ایمانی عقیدہ قرار دو اور ان کی تفصیل اور مصداق ڈھونڈنے میں نہ پڑو۔ جب وہ واقعات پیش آ جائیں گے اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو خلیفہ کا خلیفہ ماننا اجزاء ایمان میں داخل نہیں ہے۔ واجبات میں سے ہے۔ مسئلہ کی جیسی حقیقت ہو گی ویسے ہی اس پر اجماع رہے گا۔ ثبوت اس کا قطعی ہو جائے گا۔ حکم اس کا ویسا ہی رہے گا۔ جیسی اس کی حقیقت ہے۔

صحابہi کا اجماع کسی مسئلہ پر ہو اس کا منکر کافر ہے لیکن مسئلہ تعدد خلیفہ کا اور وحدت کا صدر اوّل میں مختلف فیہ ہے۔ اجماع کسی مسئلہ پر ہوتا ہے یا کسی کارروائی پر کسی مسئلہ پر جو اجماع ہو،ا س کا وہی حکم رہا جو اجماع صحابہi کا ہے اور کسی عملی استصواب پر یا کارروائی پر ہوا تو وہ اجماع اس قسم کا نہیں جس پر بحث ہورہی ہے۔ ’’ولو انکر… یکفر‘‘ (کتاب شرح فقہ اکبر ص۱۴۷)

اس کی مراد یہ ہے کہ روافض جو منکر ہیں۔ خلفائے ثلاثہi سے اس بناء پر کہ وہ خلافت کے مستحق نہ تھے تو وہ کافر ہیں اور اگر صحابہi صدیق اکبرq کے سوا کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کرتے تو کوئی خلاف جزو ایمانی نہ تھا۔ حیات مسیح اجماعی مسئلہ ہے۔ صحابہi میں اور تواتر ہے حدیث کا اور سوائے ملحدوں کے کسی نے انکار نہیں کیا۔ روح المعانی کا حوالہ پیش کیا جاچکا ہے جو تفسیر سورۂ احزاب میں ہے۔(ج۷ ص۶۰)

’’امارفع عیسٰی… فارفعت‘‘ (تلخیص الحبیر ص۳۱۹)

لیکن اٹھایا جانا عیسیٰؑ کا پس اتفاق کیا اصحاب اخبار اور تفسیر نے کہ عیسیٰؑ

71

اٹھائے گئے بدن کے ساتھ، زندہ ہیں۔ اگر اختلاف ہے تو اس میں ہے کہ موت آئی تھی رفع سے پہلے، یا سو گئے اور اٹھالیا گیا۔

حیات کے متعلق چند سلف کا اختلاف ہے لیکن عام طور پر اتفاق ہے کہ عیسیٰؑ آسمان پر زندہ ہیں ہمارے نزدیک حیات اور نزول عیسیٰؑ کا مسئلہ ایک ہی شئے ہے۔ میری بحث اجماع اور تواتر پر ہے۔

سوال یہ تھا کہ حیات مسیح پر صحابہi کے اجماع کی سند دی جائے اس کا جواب گواہ ابھی دینا چاہتا ہے جواوپر بیان کیاگیا۔ حضرت امام مالکv نے نہیں کہا کہ عیسیٰؑ وفات پاگئے۔ وہ حیات ونزول عیسیٰ کے قائل ہیں۔ ’’قال مالک… ثلاثین سنۃ‘‘ (کتاب اکمال الاکمال ج۲ ص۲۶۵ مصری)

امام مالکv کا یہ قول بھی ان کی اکمال سے لکھا جو عطیہ کے نام سے موسوم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ موت آئی حضرت عیسیٰؑ کو وہ ۳۳سال کے تھے۔ اس کتاب میں دوسری جگہ ہے کہ امام مالکv نے فرمایا دریں اثناء کہ لوگ کھڑے ہوں گے، سنتے ہوں گے، کان لگائے ہوں گے۔ اقامت صلوٰۃ کے لئے ڈھانک لے گا۔ ان کو ایک بادل اس میں حضرت عیسیٰؑ اترآئیں گے۔ ابن حزم کا جو قول تفسیر جلالین سے بیان کیاگیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہوگئے۔ یہ الفاظ غلط نقل ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ابن حزم کی کتاب میں اس کی نقیض ہے اور بیان میں لکھوائی گئی ہے۔ جو حدیث ’’الفرق بین العبد وبین الکفر‘‘ ترک الصلوٰۃ ہے۔ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔

تین اماموں کا اتفاق ہے کہ تارک الصلوٰۃ کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ فاسق کہا جائے گا اور امام احمد بن حنبلv کہتے ہیں کہ وہ کافر ہے۔ سنن ابی داؤد کی وجہ سے اس مسئلہ میں اختلاف پڑگیا۔ دوسری حدیث جو بیان کی گئی ہے وہ بھی اسی قسم کی ہے۔ الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ عقیدۃً نماز کی فرضیت کو چھوڑ دے تو باجماع امت کافر ہے:’’وکذلک ترک صلوٰۃ موجب للقتل عند الشافعیؒ‘‘ (شرح فقہ اکبر ص۱۶۳)

یہ تشریح کہ جو شخص نماز کو فرض جان کر ترک کرے وہ کافر ہے۔ سنن بی داؤد کی احادیث سے پیدا ہوتی ہے جس حدیث میں بناء اسلام پانچ بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ پانچ نمازیں فرض کیں خدا نے جس نے اچھا کیا

72

وضو ان کا اور پڑھیں اپنے وقت پر اور پورا کیا رکوع ان کا اور خشوع، تو خدا کی ضمانت میں ہے کہ مغفرت کرے اسے اور جس نے نہ کیا۔ خدا کی ضمانت میں نہیں ہے۔ چاہے مغفرت کرے چاہے عذاب کرے۔(سنن ابوداؤد)

اس پر مجتہدین کی رائے ہوگئی جو مسائل: ’’کذالو قال عند شرب الخمر والزانی بسم اللہ عمدا او باعتقاد انہما حلالان وکذا لو افتی لامراۃ لتبین من زوجہا‘‘ (شرح فقہ اکبر ص۱۵۶،۱۶۰،۱۶۲)

استخفاف علماء کفر ہے جو اشارہ سے مشابہت کرے کفر ہے۔ جو عالم کو مولوی طولوی کہہ دے کافر ہو جائے گا۔ جو شراب پیتے وقت بسم اللہ کہہ دے وہ کافر ہو جائے گا جو بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب میں یہ مسئلہ ہے۔ میرے بیان میں آچکا ہے کہ کوئی چیز کسی حال میں کفر ہوتی ہے۔ کسی حالت میں کفر نہیں ہوتی۔ میں اس کی مثال دے چکا ہوں۔ کلمات مذکورہ بالا بعض حالات میں موجب کفر ہو جائیں گے۔ بعض حالات میں نہیں ہوں گے۔ لیکن ہم نے عقائد باطلہ پر حکم لگایا ہے۔ کسی ایک اختلافی چیز سے مدد نہیں لی اور نہ اپنے حکم کی بناء کسی مختلف حصہ پر رکھی ہے۔ اختلافی حصہ کو پہلے سے نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ہمارے حکم کی بناء اس دین پر ہے جو نبی کریمa کے زمانہ سے بلافصل اب تک چلا آرہا ہے۔ جو مسائل اوپر بیان کئے گئے ہیں یہ مسائل اختلافیہ ہیں۔

علماء بریلی نے جن واقعات پر علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے وہ عقائد علمائے دیوبند نے ظاہر نہیں کئے۔ غلط فہمی ہوئی جن عقائد کی بناء پر علمائے بریلی نے علماء دیوبند کے خلاف کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ علمائے دیوبند ان عقائد کے قائل نہ تھے۔

۲۹؍اگست ۱۹۳۲ء

تتمہ بیان جرح سید انور شاہ صاحبv گواہ مدعیہ بااقرار صالح

ضروریات دین کاانکار کرنا یعنی عقیدہ چھوڑ دینا کفر ہے۔ لیکن عمل نہ کرنا کفر نہیں وہ فسق اور معصیت ہے کفر نہیں۔ جو عقیدہ ترک کرے وہ ایمان سے نکل جاتا ہے اور جو عمل ترک کرے وہ عاصی ہے۔ جو شخص دستور ملکی کی بناء پر باوجود طاقت رکھنے کے شرعی حکم کو

73

چھوڑے، اس کی بابت بھی یہی حکم ہے۔

اگر عقیدہ حق ہونے کا ترک کیا اور کہتا ہے کہ یہ شریعت غلط ہے اور اگر کہتا ہے کہ یہ عقیدہ صحیح اور مسئلہ درست ہے۔ عمل ہم اپنی بدقسمتی سے نہیں کرتے۔ وہ داخل ایمان اور عاصی ہے۔ مدعی نبوت اور اس کی طرف بلانے والے کی سزا قتل ہے۔ صاحب شریعت (نبی) دستور ملکی کی رو سے اگر کوئی چیز بیان کرے وہ بھی شریعت ہے۔ وہ جو کچھ فرمائے، کرے۔ کل شریعت ہے اور جو کچھ صاحب شریعت کے روبرو ہوا وہ اس پر سکوت کرے تو وہ بھی شریعت ہے۔ ابن صیاد جس نے رسول اللہ a کے سامنے دعویٰ نبوت کیا۔ اسے اس لئے قتل نہ کیاگیا کہ وہ نابالغ تھا۔ نابالغ کو قتل نہیں کیا جاتا۔ اس امر کی تصریح ہے کہ وہ نابالغ تھا۔ صحیح بخاری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ وہ نابالغ تھا۔

صدیق اکبرq خلیفہ ہوئے۔ مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا تھا اور کچھ نفری (جماعت) اس کے ساتھ شریک ہوگئی تھی۔ صدیق اکبرq نے مہم تیار کی۔ اس کے جہاد کے واسطے بعض صحابہi نے عرض کی کہ مدینہ میں اس وقت لوگ کم ہیں اور خطرہ ہے۔ مدینہ کی حفاظت کے لئے لوگوں کو موجود رہنے دیا جاوے۔

صدیق اکبرq فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں بہادر تھے اور اسلام میں آکر بزدل ہو گئے۔ یہ مجھے برداشت نہیں صحابہi نے اس پر کوئی تخلف نہ کیا۔ اصول میں یہ اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع کے معنی یہ ہیں کہ مسئلہ پیش کیا جاوے اور اس پر سب اتفاق کر گئے۔ کسی نے مخالفت نہ کی اسے اجماع کہا جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک کے سامنے وہ مسئلہ پیش ہو اور وہ کہے کہ مجھے اتفاق ہے۔

مسیلمہ نے نبی کریمa کے بعض احکام میں تغیروتبدل کیا تھا لیکن جو دو شخص نبی کریمa کے سامنے پیش ہوئے ان سے دریافت کیاگیا کہ وہ وہی کچھ کہتے ہیں جو مسیلمہ کہتا ہے یعنی کہ وہ نبی ہے۔

کتاب (حجج الکرامہ ص۲۳۴،۲۳۵) میں ہے جو واقعات مسیلمہ کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں یہ وقوع میں ظاہر ہوئے ہیں۔ لیکن وقت اس کتاب میں ترتیب سے نہیں لکھا گیا۔ مسیلمہ کو قتل کرنے کی بڑی وجہ دعویٰ نبوت تھی اور جو چیزیں اس کے متعلق اس کتب میں بیان کی گئی ہیں وہ اس کے لگ بھگ تھیں اور یہ چیزیں نبوت کے تحت میں تھیں۔ اگر اخبار احاد کی

74

تاویل کوئی شخص قواعد کے مطابق کرے تو اس کے قائل کو مبتدع یعنی بدعتی نہیں کہیں گے اور اگر قواعد کی رو سے صحیح نہیں ہے تو وہ خاطئی ہے۔

آیات قرآن متواتر ہیں

قرآن اور حدیث جو نبی کریمa سے ہم تک پہنچا اس کی دو جانبیں ہیں۔ ایک ثبوت اور ایک دلالت۔ ثبوت قرآن کا تواتر ہے اور اس تواتر کا اگر کوئی انکار کرے تو پھر قرآن کے ثبوت کی اس کے پاس کوئی صورت نہیں اور ایسا ہی جو شخص تواتر کے حجت ہونے کا انکار کرے اس نے دین ڈھا (گرا) دیا۔ دوسری جانب دلالت ہے دلالت قرآن کی کبھی قطعی ہوئی ہے اور کبھی ظنی۔ ثبوت قطعی ہے۔

دلالت کا معنی ہے کہ مطلب پر رہنمائی کرنا۔ اگر اجماع ہو جائے صحابہi کا اس کی دلالت پر یا کوئی اور دلیل عقلی یا نقلی قائم ہو جائے کہ مدلول یہی ہے تو پھر دلالت بھی قطعی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن سارا بسم اللہ سے والناس تک قطعی الثبوت ہے۔ دلالت میں کہیں ظنیت ہے اور کہیں قطعیت۔ لیکن قرائن کے ملنے سے دلالت بھی قطعی ہو جاتی ہے۔

حدیث ہے کہ:’’لکل آیۃ ظاہر وباطن‘‘ لیکن قوی نہیں باوجود قوی نہ ہونے کے مراد اس کی میرے نزدیک صحیح ہے۔

محدثین نے لکھا ہے کہ اس کی اسناد میں کچھ کلام ہے۔ اس حدیث میں لفظ بطن سے تو جو کچھ رسول اللہ a کے دل میں تھا وہ سب منکشف نہیں ہے۔ مجملاً ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی ایک مراد وہ ہے کہ قواعد لغت اور عربیت سے اور ادّلہ شریعت سے علماء شریعت سمجھ لیں اور اس کے تحت میں قسمیں ہیں۔

بطن سے یہ مراد ہے کہ حق تعالیٰ اپنے ممتاز بندوں کو ان حقائق سے سرفراز کر دے اور بہتوں سے وہ خفی رہ جائیں لیکن ایسا کوئی بطن جو مخالف ظاہر کے ہو اور قواعد شریعت رد کرتے ہوں وہ مقبول نہ ہو گا اور رد کیا جائے گا اور بعض اوقات میں باطنیت اور الحاد کی حد تک پہنچا دے گا۔ حاصل یہ کہ ہم مکلف فرمانبردار اپنے مقدور کے موافق ظاہر کی خدمت کریں اور بطن کو سپرد کردیں خدا کے۔

اگر اخبار احاد متعدد جب باہم مل کر تواتر کے درجہ کو پہنچ جائیں تو وہ قطعیت میں

75

قرآن مجید کے ہم مرتبہ ہیں اور کوئی متواتر چیز قرآن کے منافی دین میں ممکن نہیں کہ پائی جاوے اور اگر اخبار احاد تواتر کے درجہ کو نہ پہنچیں اور ظاہر ان کی مغائرت معلوم ہوتی ہو قرآن سے تو علماء کا فرض ہے کہ اس کی تطبیق اور توفیق ڈھونڈھیں یعنی (آپس میں) ملائیں۔ خبر واحد کے بھی دو پہلو ہیں: پہلو ثبوت کا۔ دوسرا دلالت کا۔ ثبوت وہ ظنی ہوتی ہے جب تک کئی مل کر تواتر کو نہ پہنچ جائیں اور دلالت میں کبھی قطعی اور کبھی ظنی۔

دین میں کوئی متواتر چیز نہیں پائی جاتی جو قرآن کی ناسخ ہو۔ کوئی حدیث متواتر یا خبر واحد ایسی نہیں ہے کہ جس کو علماء نے قرآن کے ساتھ جوڑا نہ ہو۔ نسخ کا باب اگر کوئی چھیڑے تو فرضی ہے۔ وقوع اس کا نہیں، خوارج کے قتل کی وجہ میں اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کفر کی وجہ سے قتل ہوئے اور کوئی کہتا ہے کہ بغاوت کی وجہ سے۔ (فتح الباری ج۱۲ ص۲۵۲) میں ہے کہ خوارج کو بعض کہتے ہیں کفر کی وجہ سے قتل کیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ بغاوت کی وجہ سے۔

حضرت علیq کا قول خوارج کے بارے میں جو کتاب (منہاج السنۃ ج۳ ص۶۱) سے بیان کیاگیا ہے وہ اسی کتاب میں ہے۔ ان خوارج میں سے جو منکر ہوں گے ضروریات دین کے ان کی تکفیر ہوگی اور جو ضروریات دین کے منکر نہ ہوں گے وہ باغی رہیں گے اور ان کے ساتھ قتال یعنی جنگ ہوگی۔

نزدیک است کہ علماء ظواہر

چوں مہدیm مقاتلہ پر… تفصیل سے کتاب میں یہ عبارتیں ہیں۔(کتاب مکتوبات امام ربانی ج۲ ص۱۷، کتاب حجج الکرامہ ص۳۶۳)

شیخ مجددv میرے نزدیک مسلم صاحب کشف ہیں۔ کشف ظنی چیز ہے۔ مجھے احادیث سے اور روایات سے جو امام مہدی کے متعلق آئی ہیں کوئی شبہ معلوم نہیں ہوا۔ جس سے یہ پتہ چلے کہ ایسی نوبت آئے گی یعنی ان کے ظہور کے وقت میں علماء کی طرف سے یہ نوبت آئے گی۔ باقی رہا کشف مجدد صاحب کا، وہ اللہ کو معلوم ہے مجھے روایات پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ حدیث ہے کہ میری امت کے ۷۲فرقے ہوجائیں گے اور آگے ہے کہ سارے نار میں جائیں گے مگر ایک فرقہ۔ اس پر عرض کی گئی کہ وہ کون ہوگا۔ فرمایا کہ وہ ہوگا جو میرے راستہ پر اور میرے صحابہi کے راستہ پر ہوگا۔

76

ملل والنحل میں اس حدیث کے ساتھ یہ الفاظ ہیں کہ وہ جماعت ہوگی۔

اس جماعت سے مراد اس کے مصنف شہرستانی مراد اہل سنت والجماعت ہے۔ یہ الفاظ بعض روایات میں ہیں اور بعض میں نہیں ہیں۔ اس سے یہ اصلاً مراد نہیں کہ وہ چھوٹی جماعت ہوگی۔

محمد ہاشم خطیب سے جس نے شام میں مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق فتویٰ دیا ہے مجھے اس سے تعارف نہیں ہے۔ نبی کی اولاد کے لئے نبی ہونا ضروری نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں صحابیq کے متابعت میں آیت کی مراد میں یہ ذکر کیا ہے۔ ورنہ کوئی حاجت نہیں اور نہ میرا اس پر مطلب موقوف ہے۔ قول صحابیq کا حجت نہیں ہوتا جیسا کہ نبی کا قول ہوتا ہے لغت والوں نے تصریح کی ہے کہ خاتم بفتح تا ہو کر مہر کے معنی میں ہی ہے اور آخر کے معنی میں بھی ہیں۔ جو شخص یہ کہے کہ عیسیٰ ابن مریم کے سوا جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ رسول اکرمa کے بعد کوئی دوسرا نبی آسکتا ہے وہ کافر ہے۔

قرآن شریف میں تین طریقے انسان کے ساتھ خدا کے کلام کے بیان کئے گئے ہیں لیکن ان کو احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے اپنے بیان میں وحی کی تعریف نہیں کی۔ اقسام بیان کئے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ وحی کے متعدد طریقے ہیں جو پیغمبر کا معاملہ اور خدا کا معاملہ ہے۔ اس کی انتہاء میرے مقدور سے باہر ہے۔ وہ مخصوص معاملہ ہے۔ خدا کا اور پیغمبر خدا کا، اور جب وہ صفت مجھے حاصل نہیں تو میں اس کی پوری حقیقت اور کنہ کو نہیں پاسکتا۔ لیکن حرف شناسی اور طالب العلمی کی مد میں آیت کی تفسیر کرتا ہوں:’’وما کان لبشرا ان یکلمہ اللہ الا وحیاً اومن ورای حجاب اویرسل رسولاً فیوحی باذنہ مایشاء۔ انہ علی حکیم (الشوریٰ:۵۱)‘‘

مناسب نہیں ہے کسی بشر کو کہ کلام کرے اس کے ساتھ خدا۔ مگر بطور وحی یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے اس کی طرف قاصد اور قاصد کے ذریعہ سے پیغام دے۔ اپنی مشیت اور ارادے سے جو پیغمبر ثابت ہوچکا ہے جداگانہ طریق پر۔ اس پر جو وحی ہوتی ہے وہ وحی قطعی ہے۔ دوسرے شخص پر جو وحی ہو وہ ظنی ہے جو شخص خاتم الانبیاءa کے بعد وحی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے اور عیسیٰؑ کو پہلے نبی مانتے ہیں۔ اس کے سوا جو وحی ہے وہ وحی نبوت نہیں ہے۔ لفظ وحی کا اس پر اطلاق ہوگا۔ وحی قرآن کا لفظ ہے اور لغت میں جتنے معنی وحی کے

77

لئے گئے ہیں ان پر وحی کا لفظ اطلاق ہوسکتا ہے۔ حضرت مریم اور ام موسیٰ (والدہ موسیٰ) کی طرف جس وحی کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ چونکہ پیغمبر نہیں ہیں اس لئے اس وحی سے وہ دوسری وحی مراد ہوگی۔ جو ظنی ہے۔

قرآن شریف میں جو تین طریقے وحی کے مذکور ہیں ام موسیٰ اور حضرت مریم کی طرف جو وحی آئی ہوگی وہ ان تینوں طرق میں سے ہوگی۔ مگر عام مفسرین نے اس آیت:’’وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا اومن ورآی حجاب… الخ!‘‘ کو وحی نبوت پر ہی اتارا ہے۔

میں نے سنا ہے: ’’اس میں جو کچھ کہاگیا ہے وہ کشفی ہے یا الہامی ہے جو حجت قطعی نہیں ہے۔ شیخ مجدد کا کلام کشف والہام میں ہے۔‘‘(مکتوبات امام ربانی ج۲ ص۹۹، مکتوب ۵۱)

توہین انبیاء کے بارے میں میں نے تصریح کر دی ہے اپنے بیان میں کہ سب (گالی) کی قسم تعریض سے بھی ہوتی ہے اور لزوم سے بھی ہوتی ہے۔ لیکن میں نے وجہ ارتداد مرزاغلام احمد قادیانی میں تعرض کو نہیں لیا بلکہ جس ہجو کو انہوں نے قرآن مجید سے مستند کیا اور اسے قرآن مجید کی تفسیر گردانا اور جس ہجو کو اپنی جانب سے حق کہا میں اسے ارتداد سمجھتا ہوں اور اسی کو ارتداد کی وجہ قرار دیا۔

مرثیہ شیخ رشید احمد صاحب گنگوہیؒ ص۶،۸ کے اشعار ص۳۳ کے اشعار متعلق مسیح کا جواب۔

شیخ الہند صاحب کے جو شعر نقل کئے گئے اس کے متعلق یہ جواب ہے کہ جو مدحیہ اشعار ہوں وہ تحقیقی نہیں ہوتے بلکہ بشر کی کلام اٹکل کے ہوتے ہیں اور شاعرانہ محاورہ، نئی نوع کلام کی تسلیم کیاگیا ہے۔ فرق اس میں یہ ہے کہ جو خدا کی کلام ہوگی وہ عقیدہ ہوگا اور وہ تحقیق ہوگی اور وہ کسی طرح سے اٹکل نہ ہوگی۔ حقیقت حال ہوگی۔ نہ کم نہ بیش۔ بشر انتہاء کو حقیقت کی نہیں پہنچتا تخمینی لفظ کہتا ہے اور دنیا نے اس کو تسلیم کیا کہ شاعرانہ، نوع، تعبیر، عام اطلاق الفاظ نہیں ہے اور وہ تخمینہ پر عبارت کہہ دیتے ہیں جو آس پاس (قریب قریب) ہوتی ہے۔ ٹھیک حقیقت نہیں ہوتی اور خود شاعر کی نیت میں اور ضمیر میں منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا۔

جھوٹ میں اور شاعر میں یہ فرق ہے کہ جھوٹا کوشش کرتا ہے کہ میرے کلام کو لوگ سچ مان لیں اور شاعر کی اصلاً یہ کوشش نہیں ہوتی بلکہ وہ خود سمجھتا ہے کہ حاضرین بھی میرے

78

اس کلام کو حقیقت پر نہیں سمجھیں گے بلکہ اگر کوئی حقیقت پر سمجھے تو اس کی اصلاح کے در پے ہوتا ہے۔ دوسرے وقت ایسے وقائع دنیا میں بہت پیش آچکے ہیں۔ مبالغہ شاعروں کے ہاں ہوتا ہے اور یہ ایک قسم ہے کلام کی جو فنون علمیہ میں درج ہے اور اس مبالغہ کی حقیقت یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑا ادا کرنا اور بڑی چیز کو چھوٹا ادا کرنا۔ بشرطیکہ نہ اعتقاد ہو، نہ مخلوق کو منوانا ہو۔ پس اگر کوئی شخص کوئی ایسی چیز کہتا ہے کہ جس سے مغالطہ پڑتا ہے نبوت کے باب میں اور وہ ساری کوشش اس میں خرچ کرتا ہے وہ اور جہاں کا ہے اور یہ حضرت شاعر اور جہاں میں ہیں۔

کتاب ازالۃ الاوہام مصنفہ مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی اور اشعار مولوی آل حسن صاحب سے جو مشکوٰۃ شریف میں جو قصہ حضرت عمرq کے تورات کا ورق پڑھنے اور رسول اللہ a کا جواب دینے کے متعلق مذکورہ ہے۔ اس سے رسول اللہ a کے جواب سے حضرت موسیٰ کی کوئی توہین ظاہر نہیں۔

جواب میں موجب ارتداد مرزاغلام احمد قادیانی میں اس قسم کی کوئی چیز پیش نہیں کرتا۔ جس میں کہ مجھے نیت سے بحث کرنی پڑے بلکہ میں نے اس چیز کو لیا ہے جسے انہوں نے قرآن کی تفسیر بنایا ہے اور اسے حق کہا ہے اور جن چیزوں میں مجھے نیت کی تلاش رہتی وہ میں نے اپنی بحث سے خارج کر دئیے ہیں اور انہیں موجب ارتداد قرار نہیں دیا۔ میں اپنے بیان میں تصریح کر چکا ہوں کہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کی نیت پر گرفت نہیں کروں گا۔ زبان پر کروں گا۔ میں نے مرزاغلام احمد قادیانی کی تمام کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا۔ جس قدر مجھے حکم دینے کی ضرورت ہوئی اسی قدر میں نے مطالعہ کیا ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور بغیر توبہ کے مرے۔ اس لئے میرے نزدیک وہ کافر ہیں۔

بروز… نسخ… رسخ… فسخ… مسخ… کے جو الفاظ میں نے بیان کئے تھے اس سے میں نے یہ دکھلایا تھا کہ ان کی کوئی حقیقت دین سماوی میں نہیں ہے اور کہ یہ لفظ نہ آئے ہوں۔ یہ غلط ہے۔ نہ میرے بیان میں ہے علماء نے ان لفظوں کو لیا ہے اور رد کیا ہے۔

میرا عقیدہ نہیں ہے کہ مسیح کی شکل دوسرے کسی مردود میں ڈالی گئی ہو لیکن بعض مفسرین نے اہل کتاب سے نقل لی ہے۔ ’’کونوا قردۃ خاسئین‘‘ کے متعلق میرا عقیدہ

79

کہ وہ لوگ مسخ ہو گئے تھے۔ مولانا محمد حسین بٹالوی نے جو کچھ مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق کہا ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کہاں تک درست کہتا ہے۔

(دستخط جج) محمد اکبر!

سوال مکرر: میں نے کل اس سوال سے کہ اسلام کی بناء پر جو پانچ چیزوں پر بیان کی گئی ہے اس سے مراد میں نے یہ لی تھی کہ صاحب شریعت نے جو بناء اسلام کی پانچ چیز پر رکھی ہے مظہر نے بہت سے دفعات کا اضافہ کیا ہے۔ اس کا جواب میں نے اس وقت یہ دیا تھا کہ جو جو چیز قرآن شریف میں سے لے جائے گی وہ ایمان میں داخل ہو جائے گی اور جو متواتر حدیث ہوگی وہ ایمان میں داخل ہو جائے گی اور یہ جو ہے کہ بناء اسلام کی پانچ چیز پر ہے۔ ایک شہادت توحید کی اور شہادت رسالت کی۔ اس شہادت رسالت کے تحت سارا دین پیغمبر کا داخل ہوگیا۔ رسول کا ماننا ان کی شریعت کی اطاعت کو حاوی ہے۔ انہی پانچ کے اندر بلکہ ایک ہی لفظ کے اندر رسول کی رسالت کو ماننا سارا دین آگیا۔

میں نے کوئی دفعہ جو اضافہ کی ہے مطلق اضافہ نہیں نیز مقنن اگر کئی ایک قانون کہے تو یہ اعتراض بے معنی ہے کہ ایک ہی دفعہ کے تحت ذیلی منشاء کو کیوں ادا نہ کر دیا؟ بلکہ سارے قوانین اس کے واجب الانقیاد یعنی واجب الاطاعت ہوں گے اور اس میں میں نے صحیح مسلم کی حدیث کا حوالہ کل دیا تھا کہ نبی کریمa فرماتے ہیں کہ جو کوئی ان سب پر جو میں لایا ہوں خدا کی طرف سے ایمان نہ لائے وہ مومن نہیں۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ فرمایا نبی کریمa نے کہ میں امر کیاگیا ہوں کہ میں مقابلہ کروں لوگوں کے ساتھ یہاں تک کہ شہادت دیں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی اور ایمان لائیں مجھ پر اور اس چیز پر جو میں لے کر آیا ہوں۔

بناء اسلام کے جو پانچ ارکان بیان کئے گئے ہیں یہ مہم (اہم) ارکان ہیں۔ بڑے ستون تو یہ ہیں اور حدیث میں اور چیزیں بھی ہیں۔ یعنی ایمان کے دیگر بھی کئی شعبے ہیں۔ خلافت شیخینi کے اجماع کے متعلق میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ جو شخص ان کے مستحق خلافت ہونے کا انکار کرے کہ وہ خلافت کے لائق نہ تھے وہ شخص کافر ہے۔

’’لعل المراد انکار استحقاقہما الخلافۃ فہو مخالف لاجماع الصحابۃi لاانکار وجودہا‘‘ (شامی باب الامامت نقل عن البحر الرائق ج۱ ص۵۶۱)

شاید مراد انکار ہے استحقاق شیخینi کا ایسا شخص مخالف ہے اجماع صحابہi کے یہ مراد نہیں ہوسکتی کہ وہ وقوع خلافت سے کوئی انکار کرے۔

80

حیات مسیح کے سوال پر امت کا اجماع ہے اور امت کہتے ہیں یہاں سے لے کر پیغمبر کے زمانے تک کے مسلمان اور صحابہi بھی اس میں داخل سمجھے جائیں گے۔

دیوبندیوں کے خلاف جو فتویٰ علماء بریلی کا پیش کیاگیا تھا۔ اس میں جو فقرے کتاب تحذیر الناس سے نقل کئے گئے ہیں وہ مختلف مقامات سے جوڑ کر ان کی مولانا محمد قاسم صاحبv کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ مولانا کی تصریح یہ ہے کہ جو ختم زمانی کا انکار کرے وہ بسبب تواتر کافر ہے۔ کتاب تحذیر الناس کے ص۱۰ پر سواگر سے… کافر ہوگا تک۔

مولانا نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جو ختم زمانی کا انکار کرے وہ قرآن سے۔ تواتر سے اور اجماع سے کافر ہے۔ میں نے یہ کہا تھا کہ قرآن اور حدیث جس طریقہ پر ہمارے پاس پہنچا اس طریقہ کو علماء نے ادا کیا اور جو شخص تواتر کاانکار کرے وہ قرآن کوثابت نہیں کر سکتا اور دین ابتداء سے آخر تک منہدم ہو جائے گا۔ اس میں پس وپیش کرنا کہ متواتر خبر، حدیث قطعی ہے۔ مستلزم ہوگا کہ قرآن میں بھی پس وپیش کرے کہ اس واسطے کہ ثبوت قرآن کا اور حدیث متواتر کا تواتر ہی ہے۔ تواتر میں اگر جھگڑا ڈالا تو اس شخص کے پاس دین محمدیa کی کوئی جڑ نہیں۔

کل یہ سوال کیاگیا تھا کہ امور مستقبلہ پر اجماع ہوتا ہے یا نہیں۔ امور مستقبلہ میں اجماع نہ ہونا کی مراد یہ ہے کہ حکم عملی جو ہاتھ پیر سے کرنا ہو، اسے مستقبل پر چھوڑا جاوے۔ پہلے سے اجماع کا کوئی اثر نہیں۔ وقت پر دیکھا جائے گا اور جو عقیدہ قرآن وحدیث میں آچکا ہے۔ مستقبل کے متعلق اس پر اجماع منعقد ہونا معقول ہوگا اور حجت ہوگا۔ کہیں فرض ہوگا:’’ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع‘‘

شرح مسلم الثبوت ص۵۱۹، کتاب اکمال الاکمال کے حوالہ سے جو کل بیان کی گیا تھا کہ امام مالکv فرماتے ہیں کہ عیسیٰؑ ۳۳سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔ اس کتاب کے دوسرے صفحہ پر ہے کہ عیسیٰؑ اتریں گے امام مالکv کی مراد یہی ہوگی کہ برائے چند ساعت موت دی گئی ہے اور بعد میں اٹھائے جائیں گے۔ ایک ہی صاحب کے مقولہ کے دو قطعہ ہیں۔

سن کر تسلیم کیاگیا

دستخط: جج صاحب، مورخہ ۲۹؍اگست۱۹۳۲ء

81

الخطاب الملیح

فی

تحقیق المہدی والمسیح

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

82

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ امابعد!

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ردقادیانیت پر گرانقدر تصنیف ’’الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح‘‘ اس مجموعہ میں شامل کرنے کی سعادت پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جو مرزاقادیانی کے زمانہ حیات میں شائع ہوئی۔ مگر بدباطن مرزاقادیانی کی کورباطنی اور بدعقلی پر ماتم کیجئے کہ وہ اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۹۹، خزائن ج۲۱ ص۳۷۱) پر اسے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی تصنیف قرار دے کر جواب کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ قادیانی کرم فرما، مرزاقادیانی کی بدعقلی وسوئے فہمی پر ماتم کریں کہ ٹائٹل پر لکھے ہوئے مصنف کے نام کو جو شخص پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس نے جواب کیا دیا ہوگا؟ قادیانی اس کتاب کو پڑھیں اور مرزاقادیانی کے جواب سے تقابل کریں کہ مرزاقادیانی کو جواب دہی سے سوائے رسوائی وندامت کے اور کیا حاصل ہوا ہے؟

اس کتاب کی تصنیف کی تقریب یوں ہوئیں کہ انبالہ کے منشی کرم خان نے چند سوالات لکھ کر حضرت تھانویؒ سے ان کا جواب طلب کیا۔ آپ نے مرزائیوں کے سوالات کو ’’قول مرزا‘‘ اور اس کے رد کو ’’جواب‘‘ کا عنوان دے کر یہ کتاب تحریر فرمادی جو قدرت حق کی طرف سے مرزاقادیانی کے منہ پر طمانچہ تھا اور اہل اسلام کے لئے بہت بڑا علمی سرمایہ۔ یہ کتاب ایک آدھ بار شائع ہوئی۔ اب اس مجموعہ میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

83

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ الذی ہدانا بالکتاب والسنۃ وجعلنا متبعین للسواد الاعظم من الامۃ فنحمدہ علی ما انعم علینا بہذہ المنۃ ونصلی علی سیدنا محمد نبیہ ورسولہ الذی بہ من علینا بتلک النعمۃ وعلی آلہ وصحبہ ومن معہم الذین ہم السواد الاعظم فیالہم من ائمہ فمن حادعن سبیلہم فلا ریب ان قلبہ فی اکنہ وامرہ لا بدوان یکون علیہ غمہ۔ اما بعد!

چونکہ مرزاغلام احمد قادیانی کی غلطیوں کو بہت اہل علم ظاہر فرمارہے ہیں۔ اس لئے کبھی اس باب میں لکھنے کا خیال نہیں ہوا۔ مگر بعض احباب سے جو کچھ زبانی سوال وجواب کا اتفاق ہوا اور بفضلہ تعالیٰ ان کے شبہات کو شفا ہوئی۔ انہوں نے تقید بالقلم کا اصرار کے ساتھ مشورہ دیا چونکہ نفع کی امید پائی گئی اس لئے خود بھی اس کا خیال ہوگیا۔ اسی اثناء میں منشی کرم خان صاحب نائب محافظ دفتر ڈپٹی کمشنر انبالہ نے کچھ سوالات بعض اقوال کی نسبت محض نیک نیتی سے بغرض جواب بھیج دیئے۔ وہ اس خیال کے لئے اور بھی مؤید اور مؤکد ہوگئے۔ اس لئے ان سوالات کا جواب لکھ کر آخر میں ایک مستقل مختصر مضمون جو اجمالاً ان شاء اللہ ایسے تمام شبہات کے جواب کے لئے کافی ہوسکتا ہے۔ اضافہ کر دیا اور اس مجموعہ کو ایک رسالہ کی شکل میں بنا کر ’’الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح‘‘ کے ساتھ نامزد کر دیا۔ اوّل سوال مرقوم ہے پھر جواب مذکور ہے پھر اسی آخری مضمون پر کتاب ختم ہے۔

’’واﷲ تعالٰی ولی الہدایۃ ومنہ البدایۃ والیہ النہایۃ‘‘

نقل خط منشی صاحب موصوف متضمن سوال

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

جناب ہدایت مآب مولانا صاحب مکرم معظم دام ظلکم وفضلکم از جانب احقر العباد پر عصیان کرم خان، بعد اوائے مراسم ماوجب نہایت ادب سے عرض ہے۔ میں ایک معمولی اردو خوان ملازم ہوں۔ لیکن بفضل خدا کتب شرعی دیکھنے کا شوق ہے۔ ان ایام میں جو شور

84

مرزائیوں کا ہورہا ہے اور اکثر لوگ بے علم جو بگڑ رہے ہیں وہ ظاہر ہے۔ بعض میرے احباب آپس میں گفتگو رکھتے ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی کے دلائل وفات مسیح کی پیش کیا کرتے ہیں۔ گو بفضل خدا اور برکت علماء سے یہ خاکسار اس کے عقائد اور اقوال سے بیزار ہے۔ کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے لیکن بعض مقامات کو برائے ازدیاد تقویت ویقین کبھی کبھی بعض مامور علماء سے پوچھ لیا کرتا ہے۔ چنانچہ دو تین مرتبہ جو مقامات کی نسبت بابت مسائل مختلفہ وتقلید وتراویح ہشت رکعت جناب مولانا مخدومنا حضرت مولانا رشید احمد صاحب مدظلہم (گنگوہیؒ) سے دریافت کیا تو حضرت مولانا صاحب ممدوح نے میرے سوالات پر رسالہ ’’سبیل الرشاد‘‘ اور رسالہ ’’الرائے النجیح فی عدد رکعات التراویح‘‘ تحریر فرمادیا ہے۔ اسی طرح آپ سے مجھ کو بعض امور کی بابت تحقیق ہے۔ گو جناب مولانا رشید احمد (گنگوہیؒ) صاحب سے ایک گونہ نیاز حاصل ہے لیکن مجھ کو شرم آتی ہے کہ شاید مولانا موصوف یہ خیال نہ فرمادیں کہ یہ شخص ہمیشہ سائل رہتا ہے۔ چونکہ ان امور مندرجہ ذیل کا معلوم کرنا ضروری ہے۔ پس اس وقت مجھ کو بھی ضروری ہوا کہ ان امور کو بامید جواب شافی وتسلی کافی کے حضور ہی کی خدمت میں پیش کروں۔ بعض تصانیف حضور کی میرے پاس ہیں اور جو فضل وکمال وخلق محمدی وتوجہ وتبحر معلوم حضور کو ہے وہ اظہر من الشمس ہے اور نیز مخدومی مکرمی مولوی انوار الحق صاحب نقل نویس جو میرے دفتر میں ہیں اور نیز مولوی اکرام حسین صاحب نے بھی مجبور کیا کہ تم کو مولانا ہی جواب سے جلد مشرف فرمادیں گے۔ گو جناب کو بھی علاوہ درس وتدریس وذکر اللہ کے کتب بینی وتصانیف وتحریر فتویٰ بے شمار میں ایک مشغلہ عظیم ہے۔ لیکن میں امید قوی رکھتا ہوں کہ حضور ان امور کا جواب دینا بھی ضروری خیال فرمائیں گے۔ کیونکہ آپ کی برکت سے امید کہ بعض لوگ جو عقائد مرزا میں گرفتا ہو جاتے ہیں شاید بچ جاویں۔ اس واسطے جناب کی خدمت میں عرض ہے۔ اوّل قول مرزاغلام احمد قادیانی کا پھر امور تحقیق طلب لکھتا ہوں۔

قول مرزا نمبر۱:

عیسیٰؑ اور ان کی والدہ نے بمقام کشمیر وفات پائی ہے۔ چنانچہ آیت قرآن شریف: ’’واٰویناہما الٰی ربوۃ‘‘ سے مراد ہے۔ کیونکہ کشمیر بہت بلند جگہ ہے جب کہ مسیحm صلیب سے بھاگ کر کشمیر چلے گئے تو ہر دو مسیح ووالدہ حضرت مریمn نے وہاں وفات پائی۔ اسی جگہ ان ہر دو کی قبر ہے۔

85

جواب نمبر۱:

ربوہ کی تفسیر دمشق یا فلسطین یا بیت المقدس غرض ملک شام کے کسی مقام سے کی گئی ہے۔ کشمیر سے تفسیر کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور علی سبیل التنزل کہتا ہوں کہ اگر کشمیر تشریف لانا مان بھی لیا جاوے تو اس کو اصل مدعا منکر رفع جسمانی الیٰ السماء سے کیا تعلق ہے۔ کیا سفر کشمیر کے بعد وہاں سے جانا اور پھر مرفوع الیٰ السماء ہونا ممتنع ہے؟ رہا دعویٰ وہاں قبر ہونے کا محض بے اصل ہے۔ تخمین وقیاسات وافواہی حکایات کا بمقابلہ دلائل شرعیہ کوئی اعتبار نہیں ہے۔ رہی تحقیق قبر حضرت مریم کی اس کی ضرورت نہیں۔

قول مرزا نمبر۲:

حضرت مریمp نے حالت حمل میں نکاح کرلیا تھا۔ چنانچہ مسیحm کے حقیقی برادر وہمشیرگان بھی تھیں۔

جواب نمبر۲:

کہیں ثابت نہیں، قبل حمل اس کا قائل ہونا صریح تکذیب قرآن ہے اور بعد حمل تکذیب اجماع ہے۔ پس دونوں امر باطل ہیں اور جنت میں نکاح کئے جانے کی مجھ کو تحقیق نہیں نہ تحقیق کی ضرورت سمجھی۔

قول مرزا نمبر۳:

حضرت عبداﷲ بن عباسq اور نیز بخاریؒ کا وفات مسیحm پر مذہب ہے۔ چنانچہ کتاب التفسیر بخاری میں قول عبداﷲ بن عباسq کا ہے۔ ’’متوفیک ای ممیتک‘‘ یعنی توفی بمعنی فوت ہے۔ نہ نیند وغیرہ اور امام بخاریؒ حدیث لائے ہیں کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ قیامت کو میری امت سے بعض اشخاص ننگے سروپاؤں لائے جائیں گے۔ ان کو اپنے اصحاب کہوں گا۔ ندا ہوگی کہ یہ تیرے بعد گمراہ ہوگئے تھے تو اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عیسیٰ نے کہا یعنی ’’انی اقول کما قال العبد الصالح‘‘ پس یہ فرمانا ان حضرات کا اس وقت یعنی زبان حضرت میں، ایک قصہ ماضی کا ہو گیا۔ حضرت نے کما قال فرمایا یقول نہیں فرمایا اور مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح قیامت کو جواب دیں گے حالانکہ یہاں صیغہ ماضی کا بولا گیا ہے۔

جواب نمبر۳:

اگر ممتیک کو اپنی ظاہری معنی پر کہا جاوے پھر بھی منکر رفع جسمانی کو کچھ مفید نہیں۔ اوّل تو اس وجہ سے کہ ممکن ہے کہ یہ موت بعد النزول الیٰ الارض ہو۔ جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو پہلے سے دے دی اور داؤ ترتیب کے لئے موضوع نہیں۔ اس لئے اس کا تحقق ورافعک الیّٰ سے پہلے ضروری نہیں۔ رہی یہ بات کہ ذکر میں

86

کیوں مقدم فرمایا۔ سو گو اس نکتہ کی تحقیق کو اصل مبحث سے تعلق نہیں مگر تبرعاً نکتہ کا بیان بھی کئے دیتا ہوں۔ حضرت عیسیٰؑ کے باب میں دو فرقوں کو افراط وتفریط تھا۔ ایک نصاریٰ کو کہ ان کو الہ مانتے تھے دوسرے یہود کو۔ وہ ان کو غیر طاہر جانتے تھے اور نصاریٰ کی غلطی یہود کی غلطی سے بڑھی ہوئی تھی کیونکہ غیرالہ کو الہ ماننا زیادہ بعید ہے۔ نبی کو غیرنبی جاننے سے۔ اگرچہ کفر دونوں ہیں۔ اس لئے متوفیک کو جب کہ معنی ممیتک ہو مقدم کیا کہ اس میں ابطال ہے عقیدہ نصاریٰ کا۔ کیونکہ موت منافی ہے الوہیت کے۔ پھر رد فرمایا عقیدہ یہود کو اس طرح سے کہ ان کے لئے رفع الیٰ السماء ثابت کیا جو مستلزم ہے طہارت جسمانی کو اور تطہیر مطلق ثابت کی جو مستلزم ہے طہارت روحانی کو، اس طرح دونوں فرقوں پر رد ہوگیا اور متوفیک کی تقدیم مناسب ہوئی اور اگر ترتیب ذکری کے ساتھ ترتیب وقوعی بھی مان لی جائے۔ تب بھی منکر رفع کو مفید نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ قبل رفع تھوڑی دیر کے لئے آپ کو وفات دی گئی ہو اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھالئے گئے ہوں۔ جیسا کہ بعض سلف اس کے قائل بھی ہوئے ہیں۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں ہے:’’الثانی متوفیک اے ممیتک وہو مروی عن ابن عباس ومحمد بن اسحاق قالوا والمقصود ان لا یصل اعداء من الیہود الی قتلہ ثم انہ بعد ذلک اکرمہ بان رفعہ الی السماء۔ ثم اختلفوا علی ثلثۃ اوجہ احدہا قال وہب توفی ثلث ساعات ثم رفع۔ ثانیہا قال محمد بن اسحاق توفی سبع ساعات ثم احیاہ اللہ تعالٰی ورفعہ۔ الثالث قال الربیع بن انس انہ تعالٰی توفاہ حین رفعہ الٰی السماء‘‘

بہرحال ممیتک کے ساتھ تفسیر کرنا بھی کسی طرح منکر رفع کو مفید نہ ہوا اور امام بخاری کا اس تفسیر کو نقل کرنا، اوّل تو مستلزم نہیں کہ ان کا بھی یہی مذہب ہو اور اگر ہو بھی تو منکر رفع کو مفید نہیں جیسا کہ ابھی بیان ہوا کہ موت اور رفع العبد الیٰ السماء میں تنافی نہیں۔ ایک کے اثبات سے دوسرے کی نفی لازم نہیں آتی۔ رہا استدلال کرنا قال کے ماضی ہونے سے یہ بھی محض ضعیف ہے۔ اوّل تو اس لئے کہ ماضی بمعنی مضارع بکثرت قرآن میں وارد ہے:’’ونفخ فی الصور… واشرقت الارض… وضع الکتب… وجئی باالنبیئن والشہداء… وقضی بینہم الذین… وسیق… وغیر ذلک‘‘

87

پس قال بمعنی یقول ہوسکتا ہے۔ رہا یہ امر کہ ماضی سے کیوں تعبیر فرمایا۔ سو گو بیان نکتہ کو اصل مقصود میں کوئی دخل نہیں۔ مگر تبرعاً بیان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضورa نے جو اپنی حکایت بیان فرمائی کہ میں قیامت میں اس طرح کہوں گا۔ اس بیان سے پہلے صحابہi یہ آیت سن چکے تھے: ’’ان تعذبہم فانہم عبادک۔ الایۃ‘‘ پس مقتضا بلاغت کا ہوا کہ حکایت کے ماضی ہونے کو بمنزلہ محکی عنہ کے ماضی ہونے کے ٹھہرا کر صیغہ ماضی استعمال فرمایا۔ یایوں کہا جائے کہ قیامت کے روز حضرت عیسیٰؑ کا یہ قول پہلے ہوچکے گا۔ پھر ہمارے حضورa کا یہ قول صادر ہوگا تو حضورa کے قول کے وقت چونکہ وہ قول ماضی ہوچکا ہے اس لئے صیغہ ماضی سے تعبیر فرمایا۔ قرآن مجید میں بھی اس کی نظیر ہے: ’’قال تعالٰی یوم یأتی بعض اٰیات ربک لاینفع نفسا ایمانہم لم تکن اٰمنت من قبل‘‘ یہ یقینی بات ہے کہ تکلم کے وقت کے اعتبار سے: ’’لم تکن اٰمنت‘‘ مستقبل ہے۔ مگر بااعتبار وقت حکم ’’لا ینفع‘‘ کے ماضی تھا۔ اس لئے ماضی لائے بلکہ اس سے بڑھ کر بعض جگہ تو مستقبل سے مستقبل کو بھی ماضی سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ’’قال تعالٰی وعلی الاعراف رجال یعرفون کلابسیماہم ونادو اصحاب الجنۃ‘‘ اس میں یقینا نداء بعد معرفت کے ہے پھر یعرفون کو مستقبل لائے اور نداء جو اس مستقبل سے بھی مستقبل ہے اس کو ماضی سے تعبیر فرمایا اور اگر قال کو ہم ظاہری معنے پر ہی محمول کریں، تب بھی استدلال منکر رفع کا غلط ہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ مخاطبت فیما بین اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰؑ کے بعد رفع الیٰ السماء واقع ہوچکی ہو۔ جیسا احادیث میں وارد ہے کہ شہداء سے بمجرد پیشی قبل قیامت ہی باتیں ہوا کرتی ہیں۔ غایت مافی الباب یہ لازم آیا کہ جب عیسیٰؑ سے یہ باتیں ہوچکی ہیں تو توفی بھی واقع ہوچکی ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی اشکال لازم نہیں۔ اگر توفی بمعنی اخد الشی باالتمام کی ہو جیسا بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں اور اس بناء پر توفی عین مفہوم رفع عیسیٰؑ مع الجسد والروح ہوگا۔ تب تو ظاہر ہے کہ کوئی اشکال نہیں اور اگر بمعنی وفات ہی لے لیا جائے۔ تب بھی اوپر تحقیق ہوچکی ہے کہ وفات میں اور رفع مع الجسم میں کوئی منافاۃ نہیں بہرحال کسی تفسیر پر بھی منکر رفع کو مفید نہیں۔

قول مرزا نمبر۴:

میں نبی ہوں، رسول ہوں، مگر بروزی طور پر میں صاحب شریعت نہیں

88

ہوں لیکن جزوی نبی ہوں اور ایسا دعویٰ اکابر نے بھی کیا ہے جیسے منصور نے انا الحق وبایزید بسطامیؒ نے انانوح۔ وغیرہ کیا ہے ثابت ہے۔

جواب نمبر۴:

رسالت ونبوت ووحی کے جو معانی اصطلاح شرعی میں ہیں ان کا منقطع ہو جانا، دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اور ہمارے حضورa ان امور کے خاتم ہیں اس کے انکار کی تو گنجائش ہی نہیں۔ رہا قصہ بروز کا سو یہ ایک اصطلاح مستحدث ہے۔ اگر اس کی تعریف جامع مانع ایسی کی جائے جو قواعد شرعیہ کے مخالف نہ ہو تو گو بحکم قول لامشاحۃ فی الاصطلاح محل نزاع نہیں، مگر چونکہ یہ حکم بھی شرعی ہے کہ الفاظ موہمہ سے احتراز واجب ہے۔ چنانچہ اسی بناء پر: ’’لاتقولوا راعنا‘‘ فرمایا گیا اور احادیث میں بہت سے الفاظ کی ممانعت اسی بناء پر وارد ہے۔ اس لئے جس جگہ اس قسم کا الہام اور عوام کے لئے مغلط اور مفسدہ کا احتمال ہوگا ایسے الفاظ کے استعمال کو حرام ومعصیت کہا جائے گا اور اگر ان الفاظ اصطلاحی کے تعریف ہی میں کوئی جزو مخالف قواعد شرعیہ ہوگا تو اس وقت اس کو فی نفسہٖ بھی باطل قراردیں گے۔ اس کے علاوہ میں کہتا ہوں کہ اگر لفظ بروز کے بڑھادینے سے رسالت ونبوت کا دعویٰ جائز ہے تو اسی قید کے ساتھ خدائی کے دعویٰ کی بھی اجازت ہونا چاہئے۔ کیونکہ آخر مخلوق میں صفات الٰہیہ کا کم وبیش: ’’علی قدر العطاء الوہبی‘‘ ظل تو ضروری ہے کیا کوئی عاقل متدین اس امر کو گوارا کر سکے گا؟ جب خدائی کا دعویٰ گوارا نہیں تو رسالت کا کیونکر گوارا ہے؟ رہا استدلال کرنا فعل اکابرسے سو اگر ان قصوں کو صحیح مان لیا جائے تو وہ حضرات غلبہ حال سے معذور تھے۔ چنانچہ حضرت بایزید بسطامیؒ کا قصہ مشہور ہے کہ جب ان کو حالت صحت میں اس کی اطلاع کی گئی تو توبہ ظاہر فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اگر میں پھر ایسی بات کہوں تو مجھ کو بلاتردد قتل کر ڈالو۔ چنانچہ لوگوں کا اس طرح سے قصد کرنا اور پھر آپ کی کرامت سے زخموں کا اثر نہ ہونا مشہور ہے۔ بہرحال قصدوعمد سے کبھی نہیں کہا نہ اس پر اصرار تھا۔ پس کجا وہ حالت اور کجا یہ حالت کہ اگر کوئی ذرا کلام کرو تو اس کے رد میں رسالہ اور اشتہارات تیار کئے جائیں۔

  1. کار پاکان راقیاس از خود مگیر

    گرچہ ماند نوشتن شیرو شیر

  2. تو صاحب نفسی اسے غافل میاں خاک خون میخود

    کہ صاحب دل اگر زہری خورد آن انگبین باشد

قول مرزا نمبر۵:

رفع بمع عزت کے موت دینا ہے یا بعد مرنے کے روحانی طور پر

89

بہشت میں داخل ہونا ہے۔ چنانچہ ’’ورافعک الیّٰ‘‘ بحق مسیحm اور لفظ ’’ورفعناہ مکانا علیا‘‘ بحق ادریسm ہی بولا گیا ہے۔ نہ بالجسم اٹھانا مراد ہے۔

جواب نمبر۵:

رفع کے معنی لغوی مشہور ہیں۔ شرعی اصطلاح اس میں جداگانہ نہیں۔ عزت کی موت اس کے کوئی معنی نہیں۔ البتہ رفع بمعنی درجہ کے بھی مستعمل ہے اور بمعنی رفع روح جس کا حاصل موت ہے بھی مستعمل، لیکن دونوں معنی کا مجموعہ کہ اس میں دونوں قیدیں ہوں اس میں کہیں مستعمل نہیں دیکھا گیا اور اگر کہیں مستعمل ہوتا بھی ہو تو بھی حضرت عیسیٰؑ کے باب میں جو لفظ رفع آیا ہے وہ تو یقینا اس معنی میںمستعمل نہیں۔ کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ احادیث میں نزول عیسیٰؑ کی خبر دی گئی ہے اور اس نزول کو بمقابلہ ان کے مرفوع ہونے کے فرمایا گیا ہے چنانچہ سیاق احادیث سے ظاہر ہے۔ پس جب دونون لفظ اس حیثیت سے متقابل ٹھہرے تو یقینا ایک لفظ کے جو معنی ہوں گے دوسرے لفظ میں اس کا مقابل مراد ہوگا۔ پس اگر رفع سے مراد مع الجسم آسمان پر جانا مراد لیا جائے جیسا جمہور کہتے ہیں تو نزول سے مراد مع الجسم زمین پر آنا مراد ہوگا جس میں نہ تقابل فوت ہوا نہ کوئی خرابی لازم آئی۔ اگر بقول منکر رفع جسمانی سے مراد عزت کی موت لی جائے تو نزول سے مراد بقرینہ مقابلہ ذلت کی پیدائش لینا چاہئے۔ پس معنی حدیث نزول کے یہ ہوں گے کہ پھر عیسیٰؑ نعوذ باﷲ ذلت کے ساتھ پیدا ہوں گے اور اگر یہاں یہ معنی نہ لئے جائیں تو مقابلہ فوت ہو جائے گا۔ جس کا لزوم اوپر ثابت ہوچکا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ عزت کی موت کے معنی مراد لینا صحیح نہیں اور اگر کوئی کہے کہ ہم مطلق موت مراد لے لیں گے تو ہم کہیں گے کہ اوّل تو اس کی دلیل چاہئے اور اگر بلادلیل ہم تسلیم بھی کر لیں جب بھی منکر رفع جسمانی کو مفید نہیں۔ کیونکہ رفع جسمانی اگر اس لفظ سے ثابت نہ کہا جائے گا دوسری دلیل شریعی یعنی اجماع سے ثابت رہے گا اور موت کا رفع جسمانی کے منافی نہ ہونا اوپر ثابت ہوچکا ہے اور اگر: ’’رفعناہ مکانا علیا‘‘ میں صرف رفع روح مراد ہو جب بھی ہم کو مضر نہیں کیونکہ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ رفع روحانی میں اس کا استعمال نہیں آتا۔ اسی وجہ سے تحقیق قصہ ادریسm کی حاجت نہیں۔ ہمارا تو یہ قول ہے کہ دونوں معنی میں استعمال ہوسکتا ہے مگر چونکہ حضرت عیسیٰؑ کا مرفوع بالجسم ہونا اجماع سے ثابت ہے۔ اس لئے ان کے قصہ میں اس معنی کو ترجیح ہے اور علیٰ

90

سبیل التنزل کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قرآن میں بمعنی رفع الجسم نہ بھی لے تب بھی ہمارا دعویٰ رفع مع الجسم کا اجماع سے ثابت ہے۔ جیسا عنقریب بیان ہوچکا ہے اور چونکہ لفظ رفع بمعنی رفع مع المادۃ میں لغت مستعمل ہے۔ اس لئے نظیر کی حاجت نہیں اور تبرعاً نظیر بھی پیش کرتے ہیں: ’’قال تعالٰی رفع السموات بغیر عمد وقال تعالٰی رفع سمکہا‘‘ حدیث صحاح میں ہے:’’قالت عائشۃ ولقد کنا لنرفع الکراع (ترمذی ج۱ ص۲۷۷)‘‘ اور حدیث ’’حج صبی‘‘ میں: ’’فرفعت امرأۃ صبیاً (ترمذی ج۱ ص۱۸۵)‘‘ دیکھئے۔ یہ سب اشیاء مادی ہیں جو مع المادہ مرفوع ہوئیں۔

قول مرزا نمبر۶:

لفظ نزول جو بحق مسیحm احادیث میں وارد ہے وہ مراد آسمان سے اترنا نہیں ہے بلکہ پیدا ہونا مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا خدا نے: ’’وانزلنا الحدید‘‘ کیا یہاں لوہا بھی آسمان سے اترا ہے یا لفظ: ’’انزلنا الکتاب‘‘ میں مراد یہ ہے کہ قرآن مجید آسمان سے اترا ہے اور کسی نے دیکھا ہے۔

جواب نمبر۶:

گو نزول بھی دوسرے معانی میں حقیقتاً یا مجازاً مستعمل ہوتا ہے جس کا انکار نہیں۔ مگر نزول عیسیٰؑ کا یقینا باعتبار معنی ظاہر متبادر کے ہے۔ اوّلاً حدیث مسلم باب ذکر الدجال میں ہے: ’’فینزل الٰی قولہ بین مہروزتین واضعا کفیہ علی اجخۃ ملکین‘‘ اگر بقول منکر نزول ’’من السماء‘‘ یہاں پیدائش کے معنی لئے جائیں تو استغفراﷲ حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ عیسیٰؑ دو رنگین کپڑے پہنے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے پیدا ہوں گے۔ اوّل: تو یہ مطلب کیسا مہمل ہے؟ پھر افسوس کہ مدعی مسیحیت میں یہ صفت بھی نہیں پائی جاتی۔ پس حدیث کے قرائن معنی متبادر کا تعین کر رہے ہیں۔ دوسرا اس معنی پر اجماع بھی ہے۔

قول مرزا نمبر۷:

آسمان پر اس جسم خاکی کا جانا محال ہے اور ’’معاذ اللہ ‘‘ یہ لفظ لکھا ہے آنحضرتa اس جسم کثیف سے معرج کو نہیں گئے بلکہ معراج کشفی ونومی تھا اور حضرت عائشہt کا قول لاتا ہے کہ وہ بھی جسمی معراج کی قائل نہ تھیں اور وجہ یہ ہے کہ آسمان پر کرہ نار، یاز مہریر ہے۔ خاکی جسم کا جانا محال ہے بلکہ بڑے پہاڑوں پر جانے سے انسان نہیں زندہ رہ سکتا ہے۔

91

جواب نمبر۷:

بلاشک جاسکتا ہے اور اگر کوئی شخص محال کہے تو اس سے پوچھنا چاہئے کہ یہ محال عقلی ہے یا شرعی ہے یا عادی ہے۔ اگر محال عقلی یا شرعی ہے تو دلیل لانا چاہئے۔ کون سی دلیل عقلی نے اس کی نفی کی ہے؟ کون سی دلیل شرعی اس کا انکار کررہی ہے؟ ان شاء اللہ تعالیٰ! قیامت تک کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہوسکے گی اور اگر محال عادی ہے تو مسلم، مگر یہ مفید نہیں کیونکہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جب کسی امر کا امکان عقل سے ثابت ہو اور دلیل شرعی اور اس کے وقوع کی خبر دے اور اس کے وقوع کا اعتقاد واجب ہے۔ چنانچہ یہ امر بہت ہی ظاہر ہے پس جب اس میں کوئی استحالہ عقلی ہے نہیں اور دلیل شرعی اس کا اثبات کر رہی ہے تو واجب ہوگا کہ اس کو خرق عادت قرار دے کر اس کا اعتقاد کیا جائے اور ممکنات عقلیہ کی نسبت: ’’ان اللہ علی کل شیٔ قدیر‘‘ عقیدہ قطعیہ ہے بلکہ میں ترقی کر کے کہتا ہوں کہ یہاں ممکن ہے کہ کوئی مانع عادی طبعی بھی نہ ہو۔ کیونکہ یہ امر مشاہدہ سے ثابت ہے کہ اگر آگ یا مثل اس کے کسی تیز چیز کے اندر سے بہت جلدی سے انگلی کو باربار نکالیں تو کوئی صدمہ نہیں پہنچتا اور فلسفہ میں یہ طے ہوچکا ہے کہ سرعت حرکت کی کوئی حد نہیں۔ پس ممکن ہے کہ جسم محمدی وجسم عیسویn کو کرہ زمہریر وکرہ ناریہ کے اندر سے نہایت سرعت وعجلت کے ساتھ نکال کر آسمان پر پہنچا دیا ہو اور بوجہ سرعت جسم کو کوئی گزند نہ پہنچا ہو تو اس میں کیا استعباد ہے اور بڑی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محال عادی پر قادر ہیں۔ جو چاہیں واقع کر دیں۔ زمہریر اور نار سب ان کے مسخر اور محکوم ہیں۔ جب اس کا امکان ثابت ہو گیا تو بلندی کشتی نوحm کے تحقیق کی کچھ حاجت نہیں اور قول حضرت عائشہt کا یا بمقابلہ دیگر روایات صحیحہ مرجوح ہے یا تعدد واقعہ پر محمول ہے اور صریح دلیل معراج کے جسمانی ہونے کی یہ ہے کہ منکرین نے اس کی کس شدت سے تکذیب کی۔ اگر روحانی ونومی ہوتی استعجاب واستعباد کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پھر حضورa خود فرما دیتے کہ اس میں استعباد کیا ہے یہ نومی ورحانی ہے۔

قول مرزا نمبر۸:

مسیح کا آنا محال ہے کیونکہ اگر وہ بحالت نبوت آئے تو خاتم النّبیین کی آیت کا نقض ہے۔ اگر بلا نبوت آئے تو ان سے کیا قصور ہوا ہے کہ نبوت سے معزول ہوگئے۔

جواب نمبر۸:

اس مدعا کی توتحقیق نہیں نہ تحقیق کی حاجت۔ مگر حضرت عیسیٰؑ کا تابع شرعی محمدیa ہوکر تشریف لانا یقینی ہے اور اس میں نہ ختم نبوت میں قدح لازم آتا ہے

92

نہ حضرت عیسیٰؑ کا نبوت سے معزول ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت نبی بھی ہوں گے اور تابع دوسرے نبی یعنی ہمارے حضورa کے تابع بھی ہوں گے۔ جس طرح حضرت ہارونm خود بھی نبی تھے اور شریعت میں حضرت موسیٰm کے تابع تھے اور پھر بھی تابع ہونے سے معزول ہونا لازم نہیں آتا۔ البتہ اگر حضرت عیسیٰؑ اس وقت خود صاحب شریعت مستقلہ ہوتے تو حضورa کی شریعت کو منسوخ ہونا اور اگر حضرت عیسیٰؑ کو اس وقت نبوت عطاء ہوتی اور پہلے زمانہ میں نبوت نہ مل چکتی تو حضورa پر نبوت کا ختم نہ ہونا بے شک لازم آتا۔ مگر جب ایسا نہیں ہے بلکہ ایک ایسے نبی جن کو حضورa کے زمانہ سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ حضورa کے تابع شرع ہوکر آویں گے تو اس صورت میں نہ حضورa کی ابدیۃً شریعت میں کوئی خلل ہوا اور نہ ختم نبوت میں کوئی قدح ہوا اور اگر صرف اتباع کا نام معزولی ہے تو حدیث میں صاف تصریح ہے: ’’لوکان موسٰی حیا لما وسعہ الااتباعی (مشکوٰۃ ج۱ ص۳۰، باب الاعتصام باالکتاب والسنۃ)‘‘ اس بناء پر معنی حدیث کے یہ ہونا چاہئے کہ اگر موسیٰm میرے وقت میں زندہ ہوتے تو نبوت سے معزول ہوجاتے۔ پس یہی سوال ہم کرتے ہیں کہ اس صورت میں حضرت موسیٰm کی کیا خطا تھی جو وہ نبوت سے معزول کر دئیے جاتے؟

قول مرزا نمبر۹:

آیت: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ میں ہر دو ضمائیر میں ایک ضمیر اوّل میں قرآن شریف یا آنحضرتa مراد ہیں اور ضمیر دوم میں ایک کتابی، چنانچہ تفاسیر میں لکھا ہے کہ ہر ایک کتابی بوقت موت خود مسیح پر ایمان لے آتا ہے۔ پس ضمیرہ کی مسیح کی طرف پھیرنا اور قیامت کو صیغہ مستقبل لانا غلطی ہے۔

جواب نمبر۹:

اس ضمیر میں کئی قول ہیں۔ چونکہ ہمارا مدار استدلال اس پر نہیں ہے۔ اس لئے ہماری طرف سے گنجائش ہے جس قول کو چاہے کوئی اختیار کر لے ہمارا کچھ ضرر نہیں۔ اگر حضرت عیسیٰؑ کی طرف ضمیر راجع ہوتب تو ظاہر ہے کہ ہم کو مفید ہے ہی اور اگر کتابی کی طرف ہو تو حیات وموت عیسیٰؑ اس آیت میں مسکوت عنہا ہوگی۔ سو ہمارے پاس دوسرے دلائل موجود ہیں۔ اس لئے ایک جگہ مسکوت عنہا ہونا ہم کو مضر نہیں۔

قول مرزا نمبر۱۰:

آیت:’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ صاف دلالت وفات مسیح

93

ہے کیونکہ لفظ خلا بمعنی موت ہے اگر گزرنا معنی لئے جاویں تو وہ گزرنا مراد ہے جو پھر واپس نہ آوے۔ جیسا کہ مرنا ہے کہ پھر کوئی نہیں آیا۔

جواب نمبر۱۰:

خلا بمعنی مطلق مضی ہے نہ حیات اس کے مفہوم کا جزو ہے نہ موت۔ قرینہ مقام سے جیسے مضیی مناسب ہوگی مراد لے لی جائے گی۔ خواہ وہ مضیی بالموت ہو یا مع الحیٰوۃ۔ پس خلت کو بالتعیین بمعنی ماتت لینے کی کوئی دلیل نہیں۔ رہا یہ کہ کوئی ایسی نظیر ہو جس میں حیات کے ساتھ استعمال خلت کا آیا ہو۔ جواب سوال ششم میں اس کا جواب ہوچکا ہے کہ بعد اثبات حجت استعمال کے نظیر پیش کرنے کی حاجت نہیں۔ مگر ہم تبرعاً نظیر بھی پیش کرتے ہیں: ’’قال اللہ تعالٰی وان من امۃ الاخلافیہا نذیر‘‘ فے الصراح ای مضی وارسل، گو دلیل خارجی سے نذیر کا میت ہونا معلوم ہوا ہے مگر جو مقصود ہے اس کلام سے کہ کوئی امت بلانذیر نہیں۔ یہی جیسا صاحب صراح نے مضی کی تفسیر ارسل سے کر کے اس کی تصریح کر دی، اس مقصود میں خلا کا صدق حیاۃ فاعل خلا کے ساتھ ہوا ہے۔ کیونکہ حالت موت میں مرسل ہونے کے کوئی معنی نہیں۔ جیسا ظاہر ہے ورنہ آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ جتنی امتیں ہوئی ہیں سب میں ایک ایک نذیر مرچکا ہے۔ سو اس کا مخالف مقصود قرآنی ہونا ظاہر ہے اور اگر قد خلت کو بمعنی قدماتت ہی لے لیا جائے تب بھی منکر رفع جسمانی کو مفید نہیں۔ کیونکہ موت اور رفع الجسم میں منافات نہ ہونا اوپر محقق ہوچکا ہے۔

قول مرزا نمبر۱۱:

مجمع بحار الانوار ص۲۸۶ میں قول مالک مات بحق مسیح لکھا ہے اور امام ابن قیم اور ابن تیمیہ مسیح کی وفات کے قائل ہیں۔

جواب نمبر۱۱:

ہم کو تحقیق حوالہ وتحقیق مذہب ابن تیمیہ وابن القیم کی حاجت نہیں۔ کیونکہ تسلیم موت میں بھی منکر رفع جسمانی کو کوئی نفع نہیں جیسا کئی بار گزر چکا اور اگر کسی کے کلام میں رفع جسمانی کی نفی مصرح ہو بوجہ خلاف اجماع ہونے کے قابل قبول نہیں۔

قول مرزا نمبر۱۲:

قرآن شریف میں ۲۳جگہ وفات یعنی توفی بمعنی موت ہے اور انی متوفیک میں صاف ظاہر ہے کہ معنی میں ماردوں گا تحریر ہے۔ نہ مراد لینا ہے اور کہیں قرآن یا حدیث یا قول صحابہi یا محاورہ عرب میں توفی بمعنی رفع لینا نہیں ہے۔ کیونکہ جہاں خدا فاعل اور ذی روح مفعول اور فعل توفی ہو وہاں صرف قبض روح اور جسم بیکار چھوڑ دینا ہے۔ ایسے

94

موقع پر کہیں سوائے قبض روح، اور مراد نہیں ہے۔

جواب نمبر۱۲:

جب آیت: ’’وہو الذی یتوفکم بالیل (الانعام:۶۰)‘‘ میں غیر موت میں (توفی کا) استعمال ثابت ہے تو اور نظائر کی کیا ضرورت ہے؟ ورنہ مثل اس نظیر کے اور نظائر کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سب نظائر کے سوا اور کوئی نظیر بھی ہے؟ بلکہ میں کہتا ہوں کہ بعد اثبات حجت استعمال کے ایک نظیر کی بھی حاجت نہیں ہے اور صحت استعمال لغت سے ثابت ہے۔ توفی کے معنی ’’تمام گرفتن حق‘‘ لکھا ہے۔ نیز مجمع البحار میں ہے: ’’متوفیک ورافعک علی التقدم والتاء خروقدیکون الوفاۃ قبضا لیس بموت‘‘

قول مرزا نمبر۱۳:

آیت: ’’فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون‘‘ سے صاف مراد ہے کہ انسان زمین ہی پر رہے گا نہ آسمان پر۔ اگر آسمان پر مسیح کا جانا مانا جاوے تو یہ آیت مخالف ہے۔

جواب نمبر۱۳:

اگر دلیل حصر بجز تقدم معمول کے اور کچھ ہے تو ظاہر کرنا چاہئے اور اگر معمول کی تقدیم دلیل ہے تو استدلال غلط ہے کیونکہ تقدیم کے اور فوائد بھی اہل بلاغت نے ذکر کئے ہیں۔ پس اس کی کیا دلیل ہے کہ یہاں حصر کے لئے ہی ممکن ہے اور بلکہ واقعی یہی ہے کہ یہاں تقدیم اہتمام شان کے لئے ہے چونکہ مقام ذکر معائنہ حضرت آدمm کا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ تمہارے لئے جزائے اکل شجرہ میں ملکوت سے بعد ہوگیا اور بجائے اس کے زمین سے تعلق وتلبس ہوگیا۔ پس اس مقام پر مناسب تھا کہ زمین کے ذکر کو مقدم کیا جاتا، حیات میں بھی، موت میں بھی، دوبارہ خروج میں بھی، تاکہ جمیع احوال میں تلبیس بالارض مؤکد ہو جائے۔ پس اس کو حصر پر کوئی دلالت نہیں اور قرآن مجید میں ایسی تقدیم بہت مواقع پر ہے۔ ’’قال اللہ تعالٰی ان اللہ بما تعملون بصیر‘‘ اور ظاہر ہے کہ یہاں حصر کے معنی محض باطل ہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ غیراعمال مخاطبین پر بصر نہ ہوںنعوذ باﷲ منہ! پس جب حصر پر کوئی دلیل نہیں پھر حصر پر کسی حکم کو مبنی کرنا کس طرح درست ہوگا؟ بلکہ ترقی کر کے کہتا ہوں کہ آیت:’’فیہا تحیون‘‘ میں اگر حصر مانا جاوے تو لازم آتا ہے کہ انسان کی حیات جنت میں بھی نہ ہو۔ کیونکہ جنت زمین سے خارج ہے حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا۔ اگر کہا جائے کہ اس حصر سے زمان آخرت مستثنیٰ ہے۔ ہم کہیں گے کہ مکان

95

آخرت بھی مستثنیٰ ہے۔ آسمان مکان آخرت میں داخل ہے۔ پس جو شخص مکان آخرت میں ہو اس کی حیات غیرارض پر ہوسکی ہے اور یہی جواب ہے: ’’ولکم فی الارض مستقر‘‘ سے استدلال کرنے کا۔ مزید برآں یہ ہے کہ اگر فی الارض کی تقدیم حصر کے لئے ہے تو لکم کی تقدیم بھی مفید حصر ہونا چاہئے جس سے یہ لازم آوے گا آپ کا، کہ بجز انسانی اور کوئی مخلوق زمین پر نہیں رہتی اور بطلان اس کا ظاہر ہے۔

قول مرزا نمبر۱۴:

آیت: ’’اوصانی بالصلٰوۃ والزکوٰۃ وکانا یا کلان الطعام‘‘ وغیرہ میں صاف ہے کہ انسان بلاغذا نہیں رہ سکتا ہے۔ پس مسیح آسمان پر کس طرح قائم ہوگئے اور زکوٰۃ آسمان پر کس کو دیتے ہوں گے؟

جواب نمبر۱۴:

زکوٰۃ سے مراد اگر یہی زکوٰۃ بالمعنی المشہور ہوتب بھی کچھ اشکال نہیں۔ رہا یہ شبہ کہ آسمان پر کس کو دیتے ہوں گے۔ محض ’’پادر ہوا‘‘ ہے۔ کیونکہ زمین پر رہتے بھی یہ حکم ایسا نہیں جو کسی عارض سے ساقط نہ ہو جاوے۔ مثلاً مامور بالزکوٰۃ کے پاس مال نہ رہے اب وہ مامور نہ رہے گا اور کوئی امر مانع وجوب پایا جاوے وجوب نہ رہے گا۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ منجملہ شرائط وجوب زکوٰۃ کے یہ بھی ہے کہ وہ شخص زمین پر رہتا ہو اور مالدار ہو۔ چونکہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر تشریف لے گئے اور وہاں ان کے پاس مال بھی نہیں۔ اس لئے شرط وجوب مفقود ہوگی۔ پس مشروط یعنی وجوب بھی ساقط ہوگیا۔ پس اوصانی بالزکوٰۃ کے معنی یہ ہوں گے، اوصافی بشرط اجتماع اشرائط دار تفاع الموانع، جیسا جمیع احکام میں بالاجماع یہی دونوں قیدیں معتبر ہوتی ہیں اور حضرات انبیاءB پر زکوٰۃ واجب ہونے نہ ہونے کی تحقیق کی حاجت نہیں۔ اگر ان پر واجب نہ ہونا ثابت بھی ہو جاوے تو اوصانی بالزکوٰۃ کے معنی ہوں گے۔ ’’اوصانی بان آمرامتی بالزکوٰۃ‘‘ رہا ‘‘کانا یا کلان الطعام‘‘ سے یہ استدلال کرنا کہ بلاغذا انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور اس سے حیات عیسویہ کو آسمان پر ممتنع کہنا نہایت ہی غلطی ہے۔ اس آیت میں صرف ان کے اکل طعام سے ان کے ابطال الوہیت پر استدلال کیا ہے جس کا عمر بھر میں ایک بار بھی متحقق ہو جانا استدلال کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ اکل طعام دلیل احتیاج کی ہے اور وہ دلیل حدوث کی ہے اور وہ منافی ہے۔ وجوب کے، جو الوہیت کے لئے لازم ہے اور ظاہر ہے کہ ایک بار کے اکل طعام سے بھی حدوث ثابت ہو

96

جاوے گا اور حادث کا واجب بالذات ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس لئے ایک فرد بھی اکل طعام کی استدلال کے لئے کافی ہوگی۔ یہ حاصل ہے آیت کا۔ پس مقصود آیت کا جب ایک بار کے اکل طعام سے بھی حاصل ہوسکتا ہے تو دوام اکل طعام پر آیت کی دلالت کہاں ہے؟ جب آیت دوام اکل طعام پر دلالت نہیں کرتی تو ضرورت اکل طعام پر توکب دلالت کر سکتی ہے۔ جیسا کہ عقلاء پر ظاہر ہے۔ پھر آیت سے امتناع حیات بدون غذا کا حکم کرنا جو موقوف ہے اثبات ضرورت اکل طعام پر کب صحیح ہوگا۔ پس یہ دعویٰ محض غلط ہوا کہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بلاغذا انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ دوسرے کا نادوام کے لئے ضروری الدلالۃ بھی نہیں۔ جیسا اہل عربیۃ پر ظاہر ہے۔ تیسرے یہ کہ اگر دوام کے لئے مان بھی لیا جاوے تو باعتبار زمان ماضی کے اور اس میں بھی زمان سکونت ارض کے اعتبار سے دوام ہوسکتا ہے۔ پس آسمان پر غذا کی ضرورت یادوام کی کیا دلیل ہے۔ رہا اگر کوئی آیت سے قطع نظر کر کے باعتبار اقتضائے مزاج انسانی کے دعویٰ کرے کہ بدون غذا کے حیات ممتنع ہے تو جواب دیا جاوے گا کہ یہ ظاہر ہے کہ یہ امتناع عقلی یا شرعی تو ہے نہیں، صرف عادی ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کی قدرت ہے۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اقتضاء مزاج کو بدل ڈالیں کہ غذا کی حاجت نہ رہے۔ دنیا میں جب ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاکر بعض مقتضیات مزاجیہ بدل جاتے ہیں تو آسمان وزمین کے خواص میں تو بہت فرق ہونا ممکن ہے۔

چنانچہ حضرت قتادہq کا قول روح المعانی میں منقول ہے: ’’رفع اللہ تعالٰی عیسٰیm فکساہ الریش والبسہ النور وقطع عنہ لذۃ المطعم والمشرب فطار مع الملائکۃ‘‘ بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ خروج وجال میں اہل ایمان کو کل کو، یا بعض کو بجائے غذا کے صرف ذکر اللہ کافی ہو جایا کرے گا۔ (مشکوٰۃ ص۴۷۷، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال) میں ہے:’’قالa یجزیہم مایجزی اہل السماء من التسبیح والتقدیس‘‘ اور اگر بدون غذا کے زندہ رہنا سمجھ میں نہیں آتا تو ہم کہیں گے کہ کیا آسمان پر اللہ تعالیٰ غذا نہیں دے سکتے۔ اگر جنت کے میوے کھلا دیتے ہوں تو کیا مشکل ہے؟

قول مرزا نمبر۱۵:

مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ مسیح فوت ہو گئے اور جو فوت ہو جاتا

97

ہے وہ پھر واپس نہیں آتا۔ یہ سنت اللہ ہے۔ غیر متغیر ومتبدل اور حضرت عزیرm کا زندہ ہونا واقعی نہ تھا اور دیگر مرد مان کا زندہ ہونا، مراد وہاں موت سے غشی ہے نہ حقیقی موت۔

جواب نمبر۱۵:

جن قصص میں مردوں کا زندہ ہونا قرآن مجید میں آیا ہے ان الفاظ کے حقیقی معنی تو یہی ہیں کہ بے جان سے جاندار کردئیے گئے۔ موت کو غشی پر اور احیاء کو ازالہ غشی پر محمول کرنا مجاز ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک حقیقی معنی کے تعذر کی کوئی وجہ نہ ہو اس وقت تک مجاز پر عمل کرنا درست نہیں۔ لہٰذا یہ تاویل یقینا باطل ہے اور اگر بلادلیل سے ایسے احتمالات کا اعتبار کیا جاوے تو حشرونشر میں بھی ایسی تاویلیں ہوسکتی ہیں۔ جیسا ملحدین نے کہا ہے۔ پس جیسا ملحدین کے شبہ کو اسی قاعدہ اصالتہً معنی حقیقی سے باطل کیا جاتا ہے تو اسی قاعدہ پر یہاں بھی عمل ضروری ہے۔ کیونکہ دونوں جگہ لفظ احیاء اور اماتت آیا ہے۔ البتہ جہاں کوئی دلیل ترک معنی حقیقی کی ہو وہاں مجاز لینے میں کسی کو کلام نہیں۔ لیکن جہاں کوئی قرینہ مانعہ معنی حقیقی سے نہ ہو وہاں کوئی وجہ نہیں کہ معنی مجازی لئے جاویں۔ اگر یہ کہا جاوے کہ یہاں دلیل قائم ہے معنی حقیقی نہ لینے کی۔ وہ یہ کہ سنت اللہ جاری ہے کہ مرکر کوئی زندہ نہیں ہوتا۔ ’’ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا‘‘ ہم کہتے ہیں کہ اگر سنت اللہ کی تبدیل کے یہ معنی ہوں تو پھر قیامت میں مردوں کو زندہ کرنا تو سب سے بڑھ کر سنت اللہ کی تبدیل ہے کیونکہ اس کی قبل تک تویہی سنت چلی آتی تھی کہ سب مردہ تھے۔ بلکہ قبل قیام ساعت تو یہ سنت اس قدر پرانی نہیں ہوئی جس قدر قیام ساعت تک پرانی ہو جاوے گی۔ پس اگر اس روز اس سنت اقدام کی تبدیل ہوگئی تو اس وقت تواقدام بھی نہیں ہوئی۔ صرف سنت قدیمہ ہی کے تبدیل ہے۔ جب اقدام میں تبدیل جائز ہے تو قدیمہ میں توبدرجہ اولیٰ جائز جاننا چاہئے اور لیجئے عالم اہل حق کے نزدیک حادث بالزمان ہی قبل حدوث ایک غیرمتناہی مدت اس پر عدم کی گزر گئی اور یہ معدوم رکھنا سنت اللہ تھا۔ پس عالم کو پیدا کرکے اس سنت اللہ کو کیسے بدل دیا گیا اور پھر پیدا کرنے کے بعد جب اس کا وجود مظہر سنت اللہ ہوگیا پھر موت مسلط کر کے اس سنت کو کیسے بدل دیا جاتا ہے۔ غرض یہ چند بار تبدیل سنت اللہ کیسے واقع ہوا۔ اس پر اگر یوں کہا جاوے کہ یہ مجموعہ حالات کا من حیث المجموع سنت اللہ ہے اور اس میں تبدیل نہیں ہوئی۔ ہم کہیں گے اسی طرح اکثر مردوں کو دنیا میں زندہ نہ کرنا اور کسی کسی مردے کو زندہ کر دینا یہ مجموعہ بھی

98

سنت اللہ ہے۔ پس کسی کسی کا زندہ کرنا موجب تبدیل سنت اللہ نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ آیت کے یہ معنی ہی نہیں کہ ہم خود بھی اپنے طریقہ کو نہیں بدلتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی اور شخص اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ ہمارے طریقہ کو بدل سکے۔ جیسے ارشاد ہوا: ’’لا مبدل لکلماتہ‘‘ اور اگر تبدیل کا فاعل اللہ تعالیٰ ہی کو مانا جاوے تو سنت سے مراد سنت قولیہ یعنی وعدہ قولی ہے۔ اس میں وہ خود بھی تبدیل نہیں فرماتے اور اس تمام تر تقریر کی اس وقت ضرورت ہے جب وفات مسیحm کو مان لیا جاوے اور یہی اس میں گنجائش کلام ہے۔ جیسا تفسیر متوفیک کے ضمن میں معلوم ہوا ہے۔

قول مرزا نمبر۱۶:

مسلم کی حدیث ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ اس وقت سے سو برس کے اندر جس قدر نفوس زمدہ ہیں وہ مرجاویں گے۔ اگر بقول مسلمانان مسیح زندہ بھی تھے تو اس حدیث سے مر گئے۔

جواب نمبر۱۶:

یہ حدیث اہل ارض کے باب میں ہے نہ کہ اہل سماء کے بارہ میں۔ چنانچہ حدیث میں: ’’علی ظہرالارض‘‘ کی قید صاف مذکور ہے اور اہل ارض میں سے بھی باعتبار اکثر کے فرمایا ہے ورنہ خود ابلیس بھی ایک نفس منفوسہ ہے اور اب تک زندہ ہے۔ مقصود اصلی اس حدیث کا یہ فرمانا ہے کہ ایک صدی کے بعد یہ قرن گزر کر دوسرا قرن لگ جاوے گا اور زمانہ کا نیا رنگ ہو جاوے گا۔ گو بعض لوگ اس قرن کے زندہ بھی رہیں۔ چنانچہ راوی حدیث ابن عمرq نے خود یہی تفسیر کی ہے۔ رواہ البخاری، پس حضرت عیسیٰؑ چونکہ وقت ارشاد اس حدیث کے، اہل سماء میں سے ہیں۔ اس لئے وہ اس حدیث میں داخل ہی نہیں اور اگر زبردستی باعتبار ماکان کے ان کو علی ظہرالارض مانا جاوے تو دوسرا جواب دے دیا جاوے گا کہ یہ حدیث باعتبار اکثر کے ہے۔ نہ باعتبار کل کے اور بعد ان جوابوں کے حیات خضرm واصحاب کہف وقصص جن کی تحقیق کی حاجت نہیں۔ کیونکہ یہ سب نظائر ہوں گے اور ہر واقعہ کے لئے اگر نظیر کی ضرورت ہو تو وہ نظیر بھی ایک واقعہ ہوگا۔ اس قاعدہ کے موافق اور اس کے لئے ایک اور نظیر چاہئے۔ اس طرح میں بھی کلام ہوگا۔ پس یا تو سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوگا تو تسلسل محال لازم آوے گا اور اگر کہیں ختم ہوگا تو وہ واقعہ بلانظیر مان لیا جاوے گا تو وہ قاعدہ غلط ہوگا۔

99

قول مرزا نمبر۱۷:

حدیث میں ہے کہ میری امت کی عمر بہت کم ہوگی۔ اگر بقول مولویان مسیح زندہ ہیں تو اس وقت دوہزار برس کی ان کی عمر ہوگی اور یہ خلاف ہے۔ کیونکہ مسلمان مسیح کو امتی بھی آنحضرتa کا مانتے ہیں۔

جواب نمبر۱۷:

اس قسم کی حدیثوں میں حضرت عیسیٰؑ داخل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اس ارشاد کے وقت وہ حضورa کی امت میں داخل نہیں ہوئے جو اس حدیث میں داخل کئے جاویں اور جب امتی ہوکر تشریف لاویں گے تو بمقتضائے ان احادیث کے معمولی عمر کے بعد وفات فرماجاویں گے۔ دوسرے یہ حکم باعتبار اکثر کے ہے۔ کیونکہ بعض روایات میں: ’’مابین ستین الٰی سبعین‘‘ آیا ہے۔ حالانکہ مشاہدہ ہے کہ بعض امتیوں کی عمر اس مدت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بہرحال ان احادیث سے حضرت عیسیٰؑ کی وفات کا اثبات سخت مغالطہ ہے۔

قول مرزا نمبر۱۸:

کہ نبی کے معنی خبردہندہ ہے اور وحی اور ان پر بھی سوائے انبیاء کے نازل ہوئی ہے۔ پس باب وحی ونبوت من کل الوجوہ بند نہیں ہوا۔ البتہ نبی صاحب شریعت کا خاتمہ ہے۔ بطور ظلیت محمدیa کے جزوی نبی اس امت میں ہوتے رہیں گے۔ فقط!

جواب نمبر۱۸:

اس کی تحقیق جواب سوال چہارم میں گزر چکی۔

قول مرزا نمبر۱۹:

اگر جناب کے پاس انجیل برنباس کی ہووے تو اس میں سنا ہے کہ حضرت مسیح کے زندہ آسمان پر جانے اور پھر آنے اور آنحضرتa کی پیشین گوئی کا ذکر درج ہے یہ تحریر فرماویں۔

جواب نمبر۱۹:

انجیل نہ میرے پاس ہے نہ بعد اقامتہ دلائل شرعیہ اس سے تحقیق کرنے کی حاجت ہے۔

قول مرزا نمبر۲۰:

آیت: ’’ان ارادان یہلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا‘‘ میں صاف حیات مسیح نکلتی ہے۔ مگر لفظ امہ کی کیا توجیہ ہے؟ کیونکہ نزول آیت کے وقت حضرت مریمp فوت شدہ تھیں۔

جواب نمبر۲۰:

ہمارا مدار استدلال یہ نہیں لہٰذا اس غرض سے توجیہ کی حاجت نہیں۔ گو تحقیق تفسیر کے مقام میں توجیہ کی جائے جس کا ذکر کرنا یہاں ضروری نہیں۔

100

قول مرزا نمبر۲۱:

سنا ہے کہ محی الدین ابن عربیؒ نے فتوحات مکیہ کے باب۳۶۰ یا ۲۶۰ میں ایک حدیث ابن عمرq سے ایک حواری مسیح کا قصہ صعود ونزول مسیح میں لکھا ہے اور وہی روایت کتاب ازالتہ الخفا حضرت شاہ ولی اللہ v میں بھی ہے۔ ان کی صحت تحریر فرمائیے کہ کہاں ہے اور ازالتہ الخفا میں کیا عبارت ہے اور سنا ہے کہ محی الدین ابن عربی نے اس حدیث کی صحت کشفی طور پر کی ہے۔

جواب نمبر۲۱:

  1. مجھ کو تحقیق نہیں نہ تحقیق کی حاجت

    فی طلعتہ الشمس ما نیعنیک عن زحل

قول مرزا نمبر۲۲:

بوقت وفات جناب سرور کائنات روحی فداہ حضرت عمرq نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص آنحضرتa کو مردہ کہے گا میں ماروں گا اور فرماتے تھے کہ محمدa نہیں مرے بلکہ ’’رفع کما رفع عیسٰی‘‘ کہا یعنی حضرت مسیح کی طرح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ پھر حضرت صدیق اکبرq نے خطبہ پڑھا اور سمجھایا۔ یہ پورا قصہ کہاں ہے اور یہ الفاظ: ’’رفع کما رفع عیسٰی‘‘ ہیں یا کیا الفاظ ہیں۔

جواب نمبر۲۲:

یہ الفاظ مجھ کو یاد نہیں۔ اگر ہوں تو تشبیہ مطلق رفع میں ہے گو مشبہ میں رفع روحانی ہواور مشبہ بہ میں رفع جسمانی مع الروح ہو۔ صحت تشبیہ کے لئے ادنی مشارکت کافی ہے۔ البتہ بخاری میں یہ الفاظ پیش نظر ہیں: ’’ولیبعثنہ اللہ ‘‘ سو اس میں کوئی امر قابل بحث ہی نہیں۔

قول مرزا نمبر۲۳:

حضرت مہدیm کا بعد اختلاف اس کے کہ وہ بنی ہاشم سے ہوں گے یا کسی اور قوم سے قول فیصل اور اکثر کیا ہے۔

جواب نمبر۲۳:

احادیث میں حضرت امام مہدیm کی نسب:’’من اہل بیتی ومن عترتی ومن الاولاد فاطمۃ‘‘ منصوص ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ بنی ہاشم سے ہیں۔

قول مرزا نمبر۲۴:

مرزا’’لا مہدی الا عیسٰی۔ وامامکم منکم‘‘ کے احادیث سے کہتا ہے کہ مہدی کوئی نہیں ہوگا فقط مسیح ہوگا۔ چنانچہ میں مسیح ہوں اس کی کیا عمدہ توجیہ ہے؟

جواب نمبر۲۴:

چونکہ احادیث سے قطعاً تغائر وتمائز حضرت عیسیٰؑ وحضرت مہدیm کا ثابت ہے اور نیز اجماع اس پر منعقد ہے۔ اس لئے حدیث:’’لا مہدی

101

الاعیسٰی‘‘ بالاجماع (ضعیف وناقابل حجت ہے۔ صحیح ہوتی تو تب بھی) ماؤل ہے۔ علماء نے چند تاویلیں ذکر کی ہیں جو مناسب معلوم ہو، اختیار کر لینا جائز ہے۔ میرے نزدیک توجیہ حدیث کی یہ ہے کہ یہ ترکیب مستعمل ہوتی ہے۔ کمال تشابہ کے لئے۔ پس مطلب یہ ہے کہ ان دونوں بزرگوں میں باعتبار صفات کمال کے ایسا تشابہ ہوگا کہ گویا مہدی عین عیسیٰؑ کے ہیں۔

جیسا کسی کا قول ہے شعر:

  1. من توشدم تومن شدی من تن شدم تو جان شدی

    تاکس نگوید بعد ازین من دیگرم تو دیگری

اور ’’امامکم منکم‘‘ میں امام سے مراد حضرت مہدیm ہیں اور اس سے قبل اس حدیث میں یہ ہے کہ:’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم‘‘اور ’’امامکم منکم‘‘ مبتداء خبر مل کر حال واقع ہوگا۔ اس میں تو کوئی وجہ شبہ اتحاد کی بھی نہیں بلکہ مطلب صاف ہے کہ عیسیٰؑ ایسی حالت میں آویں گے جب کہ تم میں مہدی بھی موجود ہوں گے۔ غرض کسی حدیث سے دونوں کا ایک ہونا ثابت نہیں۔ رہا اپنی نسبت دعویٰ کرنا اس کے متعلق خاتمہ ملاحظہ کیا جاوے۔

قول مرزا نمبر۲۵:

بخاری شریف میں عامر بن فہیرہq کا بیرٔمعونہ کے دن مقتول ہونے کے بعد بجسد عنصری آسمان پر اٹھ جانا درج ہے۔ ایک کتاب میں دیکھا ہے۔ امید کہ اس کی صحت باب بخاری وغیرہ سے پتہ دیں اور یہ بھی ثبوت دیں کہ انسان کا آسمان پر جانا ممکن ہے یا نہیں۔ کتب شرح الصدور ص۱۷۴ کا حوالہ بھی لکھا ہے۔ بابت خبیب بن عدی کے۔ چونکہ یہ ایک بڑا مجموعہ سوالات کا ہے اور میں بفضل خدا اور برکت سرور کائناتa وعلمائے شریعت سے اپنے عقائد اہل سنت حنفی المذہب پر بہت معتقد وقائم ہوں۔ لوگوں کی چھیڑ چھاڑ اور بعض احباب کے بگڑ جانے اور بعض کے مستقیم رہنے کی وجہ سے یہ تکلیف حضور کو دی ہے۔ بخدا، خدا ہی عالم ہے کہ یہ امر بطور بناوٹ اور خود غرضی کی وجہ سے نہیں۔ اگر حضور کل کا جواب تحریر فرمادیں گے تب بھی میں جناب کا مشکور اور اگر بعض کا، تب بھی حضور کا ممنون ہوں۔

جواب نمبر۲۵:

بخاری جلد ثانی ص۵۸۷ میں اس قصہ کے یہ الفاظ ہیں: ’’قال لقد رایتہ بعد ما قتل رفع الٰی السماء حتی انی لا نظر الٰی السماء بینہ وبین

102

الارض ثم وضع‘‘ اس میں رفع مع الجسم کی تصریح ہے اور شرح الصدور میرے پاس نہیں ہے نہ اس میں تحقیق کرنے کی حاجت اور ممکنات کے ثبوت کا قاعدہ وطریقہ جواب ہفتم میں مذکور ہوچکا ہے اور استحالہ کسی دلیل سے ثابت نہیں۔

قول مرزا نمبر۲۶:

اور ایک امر یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے حضرت مسیحm اور حضرت حسینq وعلیq کے اوپر طعن وتشنیع بہت کیا ہے اور آخر میں یہ فقرہ لکھ دیتا ہے کہ میں تو اپنے عیسیٰ کو جو نبی تھے یا حضرت حسینq وعلیq کو جو ہمارے میں نہیں کہا ہے۔ بلکہ عیسائیوں کے مسیح کو جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور جس کا قرآن میں ذکر نہیں ہے کہا ہے اور شیعوں کے حسینq اور علیq کو کہا ہے۔ چونکہ عیسائیوں نے ہمارے حضرت کو اور شیعوں نے ہمارے خلفاء ثلاثہ کو بہت برا کہا ہے۔ اس وجہ سے ہم نے بھی ان کے مسلمہ وموضوعہ بصفات موصوفہ بخیال ان کے، کو کہا ہے۔ آیا ایسا پیرایہ اور حیلہ کر کے حضرت حسینq، مسیحm، علیq پر کس قدر حملہ جائز ہے؟ یا قطعی ناجائز ہے اگر کوئی الزام ان پر دیا جاوے تو اس کی کیا صورت ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں بحق مسیحm علماء سلف وخلف نے ایسا حملہ کیا ہے اور علماء اہل سنت نے بمقابلہ شیعان کے برتاؤ کیا ہے۔ یہ کہاں تک صحیح ہے۔

جواب نمبر۲۶:

گو مناظرین کی ایسی عادت ہے مگر قرآن مجید کی ایک آیت کے دیکھنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ امر قبیح ہے۔ وہ آیت ہے: ’’لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء (آل عمران:۱۸۱)‘‘ اس کا شان نزول مفسرین میں مشہور ہے کہ حضورa نے صدقات کی ترغیب فرمائی تھی جس پر یہود نے یہ بات کہی۔ یہ یقینی ہے کہ ان کا یہ عقیدہ نہ تھا بلکہ محض الزام کے طور پر کہا تھا کہ حضورa کی ترغیب سے (نعوذ باﷲ) اللہ تعالیٰ کا حاجت مند ہونا لازم آتا ہے۔ مگر انہوں نے اس قضیہ شرطیہ کو سورۃ حملیہ میں کہا اللہ تعالیٰ نے اس کی تقبیح فرمائی۔ گو اس کو بطور قضیہ شرطیہ کے کہنا بھی بوجہ لزوم تکذیب حضورa کے قابل تقبیح کے ہے۔ مگر اس مقام پر اس کا ذکر نہیں فرمایا۔ صرف امر اوّل کی تقبیح پراکتفاء فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس طرح کا پیرایہ قبیح ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا اس کی تاویل کریں گے کہ مقصود الزام ہے اور کہیں گے کہ انہوں نے آیت میں غور نہیں کیا ہوگا اور

103

خاص کر جب یہ کہنامخالفین کی زبان سے اپنے بزرگوں کو برا بھلا کہلانے کا سبب بن جاوے۔ اس صورت میں تو دوسری وجہ سے بھی ممنوع ہونے کی پائی جاوے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ’’ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبواﷲ عدواً بغیر علم (الانعام:۱۰۸)‘‘ اور سلف کے کلام میں ایسے عنوانات نظر سے نہیں گزرے۔

قول مرزا نمبر۲۷:

چونکہ بعض اوقات بعض مسلمان کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا کلمہ گو ہے اور اس کو برانہ کہو اور خاص کر صوفی المشرب میں تو برا کسی کو کہنا ہی نہیں آیا ہے۔ اس میں حضور کی کیا رائے ہے؟ کیونکہ مرزا مدعی نبوت ورسالت ومہدیت ومسیحیت وغیرہ کا ہے اور ظاہراً اہانت انبیاء وعلماء کی کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ! پس ایسے شخص کی نسبت کیا حکم ہے۔ علماء کی مواہیر اس کے ضال ومضل وبعض بکفر وغیرہ ثبت ہیں۔ امید کہ مفصل جواب نمبروار سے مشرف فرماویں گے اور جس کتاب کا حوالہ دیں باب یا فصل سے مطلع فرماویں۔ چونکہ مرزا بخاری شریف پر اور قول ممیتک حضرت ابن عباسq پر بہت ناز کرتا ہے۔ اگر زیادہ تر حوالہ بخاری شریف اور حضرت عبداﷲ ابن عباسq کا حوالہ دیں تو عمدہ ہے اور اکابر علماء جن میں محی الدین ابن عربیؒ یا جلال الدین سیوطیؒ اور خصوصاً حضرت امام مالکv کی بابت اگر کہیں اقوال ہوویں تو ضرور تحریرفرماویں یا اصحاب مالکv سے حوالہ دیں اور مجمع البحار کی عبارت سے تسلی بخشیں۔ حضور کے جواب کا میں منتظر رہوں گا۔ اگر کاغذات جواب زیادہ ہو جاویں تو بیرنگ ارسال فرماویں یا جو صورت ہووے۔ زیادہ والسلام! خدا حضور کو سلامت باکرامت رکھے۔ امید رکھتا ہوں کہ جناب بندہ کو محروم نہ رکھیں گے۔

بندہ خاکسار: کرم خان نائب محافظ دفتر فارسی صاحب ڈپٹی کمشنر انبالہ،

شہر انبالہ محلہ نیابانس مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۰۳ء

جواب نمبر۲۷:

بلاضرورت تو کسی کو برابھلا کہنا واقعی برا ہے۔ گو وہ شخص برا ہی کیوں نہ ہو لیکن جہاں بندگان خدا کے دین اور عقیدہ کی حفاظت مقصود ہو ایسے وقت واجب ہے کہ جس شخص کی وجہ سے دین میں فتنہ ہوتا ہو اس کی غلطیوں کو مسلمانوں پر ظاہر کرے۔ البتہ سب وشتم فضول حرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’ولا تجادلوا اہل الکتٰب الا بالتی ہی احسن (العنکبوت:۴۶)‘‘ پھر اللہ فرماتے ہیں:’’وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن۔ ان الشیطٰن ینزغ بینہم (بنی اسرائیل:۵۳)‘‘

104

اب ہم اس مقام پر مناسب سمجھتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے بعض اقوال مع حوالہ نقل کریں۔ ناظرین اگر اہل علم وفہم ہیں تو خود ورنہ علماء محققین کے روبرو ان کو پیش کر کے تحقیق کر لیں کہ ایسے وقوال کا شریعت میں کیا اثر اور قائل کا کیا حکم ہے؟

قول اوّل:

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

قول دوم:

مشتمل بر چند قول (ازالہ اوہام ص۳۰۸، خزائن ج۳ ص۲۵۷،۲۵۸):

’’اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل التراب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے تھے… اگر یہ عاجز اس عمل التراب کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ تھا… جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کی رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی ودماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہوجاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘ حالانکہ مرزاغلام احمد قادیانی نے (ازالہ اوہام ص۳، خزائن ج۳ ص۱۰۴) پر لکھا ہے کہ: ’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔‘‘ اور بھی اس قسم کے اقوال ہیں جو ان کے اور ان کے مقابلین کے تالیفات میں نظر پڑتی ہیں۔ ’’اللہم اعذنا من کل قول اوعمل لا یرضیک‘‘

قول مرزا نمبر۲۸:

حضرت الیاس یعنی ادریسm کے نزول کا صحیح حوالہ تحریر فرمائیں۔

جواب نمبر۲۸:

چونکہ ہمارا استدلال نہیں اس لئے کچھ حاجت نہیں۔

105

قول مرزا نمبر۲۹:

اور حضرت عزیرm کے دوبارہ شہر میں آنے کا اور توریت اور ان سے پھر کہنے یا صحیح کرنے کا قصہ جو مشہور ہے اس کا پتہ صحیح کیا ہے۔

جواب نمبر۲۹:

قرآن مجید میں بعد قصہ مناظرہ حضرت ابراہیمm کے ایک قصہ مذکور ہے جس میں صاحب قصہ کا مرجانا پھر بعد سو برس کے زندہ ہونا صراحۃً مذکور ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ صاحب قصہ حضرت عزیرm ہیں۔ غرض صاحب قصہ کوئی ہو حیات بعد موت ثابت ہے اور حفظ توریت وغیرہ کے قصہ کی تحقیق کی حاجت نہیں۔

قول مرزا نمبر۳۰:

اگر کسی مردہ کا زندہ ہونا کسی اولیاء اللہ سے بصحت کتاب معتبر ہو تو تحریر فرمائیں۔

جواب نمبر۳۰:

کچھ حاجت نہیں: ’’تمت الجوابات والحمد ﷲ الذی بنعمۃ تتم الصاحات‘‘

خاتمہ مفیدہ جس میں خلاصہ اختلاف

مرزاقادیانی وجمہور مسلمین کا بیان ہے

جاننا چاہئے کہ جمہور اہل اسلام کا عقیدہ مشترکہ اس باب میں صرف اس قدر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ مع الجسم مرفوع الیٰ السماء ہوئے اور پھر مع الجسم آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ مثل دیگر اموات کے میت ومقبور نہیں ہوئے۔ اب اس رفع ونزول کے درمیان کی حالت کو کوئی شخص خواہ حیات کہے یا موت کہے یا حیات بعد الموت کہے اس کو اختیار ہے کوئی شق اصل مدعا میں قادح نہیں۔ اس بناء پر اگر آیات متضمنہ لفظ توفی وخلت وغیرہا کو معنی موت پر بھی محمول کر لیا جائے تو مدعائے مذکور میں مضر نہیں۔ چنانچہ چند جگہ ضمن اجوبہ اسئلہ میں اس کا مذکور ہوچکا ہے۔ اس حالت کو یا اصطلاحاً موت کہا جائے گا یا تشبیہاً جیسا بعض مفسرین نے توفی کے معنی میں لکھا ہے: ’’السابع انی متوفیک ای اجعلک کالمتوفی لانہ اذا رفع الیٰ السماء وانقطع خبرہ عن الارض کان کاالمتوفی (کبیر)‘‘ اور حاصل دعویٰ مرزاغلام احمد قادیانی کا دوامر ہیں۔ ایک دعویٰ مسیح ہونے کا دوسرا دعویٰ مہدی ہونے کا اور ان دنوں دعوؤں پر دو دلیلیں قائم کرتے ہیں۔ ایک

106

تفصیلی، دوسری اجمالی۔ تفصیلی دلیل دونوں دعوؤں پر جدا جدا اس طرح ہے کہ دعویٰ اولیٰ کی بناء پر مقدمات ہیں۔

۱… حضرت عیسیٰؑ کا انتقال ہوگیا۔

۲… بعد وفات پھر کوئی زندہ نہیں ہوسکتا۔

۳… پس احادیث نزول میں عیسیٰ مجازی مراد ہے اور وہ میں ہوں۔

میں کہتا ہوں کہ مقدمہ اولیٰ میں اگر وفات سے مراد مع دفن الجسم فی الارض ہے تو بوجہ مخالف ہونے ظاہر آیات ونصوص حدیث ومحکم اجماع کے غلط ہے۔ جیسا بضمن اجوبہ مذکور بیان کیا گیا ہے اور اگر مطلق وفات ہے تو مضر نہیں۔ کیونکہ مطلق وفات اور رفع الجسم الیٰ السماء میں منافات نہیں جیسا اوپر ذکر ہوچکا اور مقدمہ ثانیہ میں اگر مراد امتناع سے امتناع عادی ہے تو جمہور کو مضر نہیں۔ کیونکہ دلائل یقینیہ سے وقوع خوارق عادات کا ثابت ہے اور اگر امتناع عقلی یا شرعی ہے تو غلط ہے یہ بھی ضمن اجوبہ میں گزر چکا ہے۔ مقدمہ ثالثہ مبنی ہے۔ پہلے دو مقدموں پر، ان کے انہدام سے یہ بھی منہدم ہوگیا۔ پھر علی سبیل التنزیل کہا جاتا ہے کہ اگر بفرض محال عیسیٰ مجازی ہی مراد لیا جائے تب بھی تعیین مدعا کی کیا دلیل ہے کہ میں ہی ہوں ممکن ہے کہ کوئی اور شخص ہو۔ رہا تشابہ صفات کا سو ایسی تاویلات بعیدہ سے تو سینکڑوں آدمی مرزاغلام احمد قادیانی سے بڑھ کر حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ مشارکت صفاتی رکھنے والے نکل سکتے ہیں اور اگر تعین پر بعض مکاشفات سے استدلال کیا جائے۔ جیسا کہ تحفہ گولڑویہ میں نقل کیا ہے تو بعد تسلیم صحت روایت اور ان صاحبوں کے صاحب کشف صحیح ہونے اور اس کشف میں غلطی نہ ہونے کے ان مکاشفات کو بوجہ مخالف دلائل شرعیہ کے تاویلات مناسب سے ماؤل کیا جائے گا۔ رہا دوسرا دعویٰ اس کی بناء دو مقدموں پر ہے۔

۱… مہدی وعیسیٰ ایک ہیں۔

۲… میں مسیح ہوں نتیجہ نکلا کہ میں ہی مہدی ہوں۔

میں کہتا ہوں کہ مقدمہ ثانیہ میں دعویٰ اولیٰ ہے جس کا ابطال ابھی ہوچکا ہے اور مقدمہ اولیٰ اس لئے صحیح نہیں کہ احادیث سے صاف دونوں کا جداجدا ہونا صریحاً ثابت ہوتا ہے اور تاویل حدیث کی اوپر مذکور ہوچکی اور اگر نفی تغائر میں المسیح والمہدی کے لئے احادیث

107

وارد فی حق المہدی کا انکار کیا جائے۔ جیسا بعضوں کو مقدمہ ابن خلدون سے شبہ پڑ گیا ہے تو اس کے جواب میں احقر کی ایک تحریر ملاحظہ فرمائی جائے جس کو مہتمم مطبع آسی مدراسی لکھنو اپنے جریدہ البیان میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ غرض کہ جب یہ دونوں مقدمے بھی ثابت نہ ہوئے دوسرا مدعا بھی ثابت نہ ہوا اور اگر اجتماع کسوف وخسوف سے مارہ رمضان میں جو کوئی سال ہوئے واقع ہوا تھا۔ اس مدعا میں سہارا ڈھونڈ رہا ہے تو اوّل تو اس میں یہی کلام ہوسکتا ہے کہ تعین کی کیا دلیل ہے۔ ممکن ہے کہ یہ علامت قرب خروج مہدی اصلی کی ہو اور وہ بعد چندے متحقق ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ حدیث میں جس کیفیت سے خسوف وکسوف کے اجتماع کی خبر آئی ہے۔ بعد قطع نظر ضعف حدیث کے وہ اجتماع ابھی واقع بھی نہیں ہوا۔ دارقطنی میں وہ حدیث یوں مروی ہے:’’روی الدار قطنی من طریق عمرو بن شمر عن جابر عن محمد عن علی قال ان لمہدینا آیتین لم یکونا منذ خلق اللہ السموات والارض تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم یکونا منہ خلق اللہ السموات والارض (ص۱۸۸)‘‘

یعنی رمضان کی پہلی تاریخ چاند گہن ہوگا اور نصف ماہ پر سورج گہن ہوگا۔ حاصل یہ کہ دونوں خلاف قاعدہ ہیت ہوں گے اورجو کسوف وخسوف رمضان میں ہوچکا ہے وہ قواعد ہیت کے موافق تھا اور اس حدیث دارقطنی میں یہ تاویل کہ اوّل لیلہ سے مراد اوّل تواریخ خسوف قمر ہے نہ خود اوّل تاریخ رمضان کی، اس تاویل کو خود الفاظ حدیث ’’لاول لیلۃ من رمضان‘‘ صراحۃً رد کرتے ہیں۔ کیونکہ عبارۃ مذکور کا ترجمہ: ’’یعنی رمضان کی اوّل شب۔‘‘ جو شخص سنے گا وہ یقینا اس تاویل کو باطل سمجھے گا اور تاویل مذکور پر اس سے استناد کرنا کہ پہلی شب کے چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے۔ محض ضعیف ہے بعد قیام قرینہ تعذر معنی حقیقی کے استعمال فی المعنی المجازی کے امتناع کی کیا دلیل ہے؟ اور قرینہ یہاں وہ حدیث کی عبارت مذکور ہے جیسا ابھی بیان ہوا ہے اور خود قرآن مجید میں بالمعنی العام وارد ہے: ’’قال تعالٰی والقمر قدرناہ منازل حتّٰی عاد کالعرجون القدیم‘‘ دوسری جگہ فرمایا ہے: ’’وقدر منازل لتعلموا عدد السنین والحساب‘‘ اور ظاہر اور یقینی ہے کہ سیر منازل کا آلہ حساب بن

108

جانا اوّل ہی شب سے شروع ہوجاتا ہے۔ باوجود اس کے پھر اس حالت میں بھی اس کو قمر ہی کہاگیا۔ ’’زمخشری‘‘ کہ لغت وعربیت میں مسلم وماہر ہیں۔ تفسیر میں لکھتے ہیں:’’وہی ثمانیۃ وعشرون منزلا ینزل القمر کل لیلۃ فی واحد منہا لا ینخطاہ ولا یتقاصر عنہ علی تقدیر مستولا یتفاوت یسیر فیہا من لیلۃ المستہل الٰی الثمانیۃ والعشرین ثم یستر لیلیتین اولیلۃ اذا نقص الشہر‘‘ اس میں لیلتہ المستہل کی تصریح اس عموم کی مؤید ہورہی ہے۔ اس طرح حدیث مذکور میں احتمال قرب ظہور پر یہ استعباد کہ علامت تو اب ہو اور ذی علامت ایک صدی بعد ہو اور اس احتمال کو بے مزگی قرار دینا بھی عجیب ہے۔ اوّلاً: ایک صدی کا فصل لازم نہیں آتا۔ ممکن ہے کہ اسی صدی میں اس کا وقوع ہو جائے۔ رہا صدی کے شروع پر ہونا سو اوّل تو اس پر کوئی حجت قویہ نہیں دوسری نصف سے پہلے پہلے شروع ہی کے حکم میں ہے۔ ثانیاً: اگر اس سے زیادہ بھی فصل ہو تو مضر نہیں اور علامت ہونے میں مخل نہیں۔ احادیث میں قیامت کی جو علامات آئی ہیں اس میں بہت سی علامتیں گزر چکیں اور قیامت اب تک بھی نہیں آئی۔ چنانچہ اہل علم پر مخفی نہیں۔ اب بعد تقریر عدم الاثبات کے اثبات العدم کے لئے کہتا ہوں کہ جو شخص خالی الذہن ہو کر ان احادیث کو جو حضرت مسیحm اور حضرت مہدیm کی شان میں وارد ہیں یا اگر اصل احادیث نہ سمجھ سکے تو ترجمہ مشکوٰۃ میں ان ابواب کو فہرست میں صفحہ دیکھ کر نکال کر ترجمہ ان کا دیکھے گا وہ یقین کے ساتھ سمجھ لے گا اور اس کے نزدیک کا لمعائینہ متیقن ہو جائے گا کہ ابھی تک ان صفات وعلامت کا مصداق ظاہر نہیں ہوا اور کھینچ تان کر کے کسی کا مصداق بن جانا یا بنادینا تو تمام شریعت مطہرہ سے امن واطمینان اٹھائے دیتا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے احتمالات تو نصوص صلوٰۃ وزکوٰۃ میں بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور ملاحدہ نے نکالی بھی ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ اعمال میں تو ان احتمالات کو فاسد باطل قرار دیا جائے اور عقائد میں ان کو صحیح وحق سمجھا جاوے۔ مقتضاء تدین وتقویٰ کا تو یہ ہے کہ غرض نفسانی وہوا پرستی کو چھوڑ کر نظر حق طلبی سے کتاب وسنت کو دیکھ کر عقائد واعمال میں ان کا اتباع کیا جائے۔ ورنہ غلبہ ہوائے نفسانی سے حق ہر گز واضح نہیں ہوتا۔ اس پر حضرت مولانا رومیؒ کے چند اشعار یاد آتے ہیں۔

  1. تازہ کن ایمان نہ از گفت زبان

    اے ہوا را تازہ کردہ درنہان

109
  1. تاہوا تازہ است ایمان تازہ نیست

    چون ہوا جز قفل آن دروازہ نیست

  2. کردہ تاویل حرف بکررا

    خویش راتاویل کن نے ذکرا

  3. برہوا تاویل قرآن مے کنی

    پست و کزشد ازتو تو معنی سنی

  4. ماند احوالت بدان طرفہ مگس

    کوہمی پنداشت خودرا ہست کس

  5. از خودی سرمست گشتہ بے شراب

    ذرہ خودرا شمردہ آفتاب

  6. وصف بازان راشنیدہ درزمان

    گفت من عنقائے وقتم بیگمان

  7. آن مگس بربرگ کاہ و بول خر

    ہمچو کشتیباں ہمی افراشت فر

  8. گفت من کشتی ودریا خواندہ ام

    مدتے درفکر آن مے ماندہ ام

  9. اینک ابن دریا واین کشتی ومن

    مرد کشتیبان واہل رائے دفن

  10. برسر دریا ہمیراند او عمد

    مے نمودش اینقدر بیرون زحد

  11. بود بیحد آن چیمن نسبت بدو

    آن نظر کو بیند اورارا ست کو

  12. عالمش چندان بود کش بنیش ست

    چشم چندین بحرہم چند نیش ست

  13. صاحب تاویل باطل چون مگس

    وہم او بول خر و تصویر خس

  14. گرمگس تاویل بگذارد برائے

    آن مگس رابخت گرداند ہمائے

  15. آن مگس نبود کش این غیرت بود

    روح ادنی در خور صورت بود

یہ کلام تو تھا ان کی تفصیلی دلیل میں اور اجمالی دلیل اپنے سب دعوؤں پر یہ پیش فرماتے ہیں کہ اگر میں (مرزاقادیانی) کاذب ہوتا تو اب تک ہلاک کر دیا جاتا اور اس باب میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: ’’ولو تقول علینا بعض الاقاویل۔ لا خذنا منہ بالیمین۔ ثم لقطعنا منہ الوتین۔ فما منکم من احد عنہ حاجزین (الحاقہ:۴۷)‘‘ میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں اگر مراد مطلق تقول ہے تو تمام کفار اپنے کفروشرک میں متقول علی اللہ ہیں۔ چنانچہ ظاہر ہے اور قرآن مجید میں بھی ان کو متقول علی اللہ کہاگیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:’’واذ فعلوا فاحشۃ قالوا وجدنا علیہا اٰبآء نا واﷲ امرنا بہا قل ان اللہ لا یامر بالفحشآء اتقولون علی اللہ مالا تعلمون (الاعراف:۲۸)‘‘ جیسے کہ اور آیات میں بھی ہے کہ حالانکہ بہتیرے ان میں ہلاک

110

نہیں ہوتے بلکہ ان کی شان میں جابجا اس قسم کی آیتیں فرمائی گئیں ہیں:’’سنستدرجہم من حیث لا یعلمون۔ واملی لہم ان کیدی متین (قلم:۵۴)‘‘اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’قل من کان فی الضلٰلۃ فلیمدد لہ الرحمن (مریم:۷۵)‘‘ پس یہ تو یقینا ثابت ہوگیا کہ مطلق تقول مراد نہیں کوئی خاص تقول ہے پھر یہ کہ وہ خاص کیا ہے؟ سو ظاہر یہ ہے کہ جس دعویٰ کے باب میں یہ آیت آئی ہے یعنی نبوت کا دعویٰ جو حضورa نے کیا اور جس حالت میں یہ نازل ہوئی ہے یعنی اس وقت شرائع کی تکمیل نہ ہوئی تھی اور اس لئے دلائل شرعیہ سے ایسے امور میں اتمام حجت نہ ہوسکتی تھی۔ ویسا ہی دعویٰ اور اسی حالت کا مراد ہے۔ پس حاصل آیت کا یہ ہوا کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ حجج شرعیہ سے لوگوں کا التباس رفع نہ ہوسکے۔ نبوت بالمعنی الشرعی کا دعویٰ کرے وہ بمقتضائے حکمت ورحمت خداوندی کہ خلق گمراہ نہ ہو ضرور ہلاک کیاجاوے گا۔ سو اب اگر کوئی شخص تقول کرے اوّل تو وہ نبوت کا دعویٰ نہیں اور اگر بالفرض کوئی ایسا بھی کرے تو بوجہ تکمیل اصول فروغ شرعیہ کے اس پر بھی احتجاج ہوسکتا ہے اور لوگوں کو بھی بوجہ وضوح دلائل شرعیہ کے التباس واشتباہ واقع نہیں ہوسکتا۔ پس ایسا تقول مستلزم اہلاک نہیں ہے جب اہلاک لازم ہی نہیں تو اس کی نفی سے تقول کے نفی پر استدلال کرنا باطل ہے۔ پس یہ اجمالی دلیل بھی باطل ہو گئی۔ یہ ملحض ہے مکالمہ فمابین مرزاغلام احمد قادیانی وجمہور کا۔ احقر کے نزدیک منشاء ان کے خیالات کا فساد قوۃ متخیلہ ہے جو اس بات میں ہوگیا ہے۔ جس کا سبب گاہے طول خلوت بھی ہو جاتا ہے اور گاہے اس میں کچھ کشف بھی ہونے لگتا ہے۔ جیسا شرح اسباب وغیرہ میں مذکور ہے۔ اگر اس سے زیادہ تفصیل دیکھنے کا شوق ہو تو دوسرے اہل علم کی تصانیف جو اس باب میں لکھی گئی ہیں جیسے سیف چشتیائی وعصائے موسیٰ وصحیفۃ الولا، وردالشبہات وغیرہا ان کا مطالعہ کیا جاوے اور امید تو اللہ سے یہ ہے کہ طالب حق وتابع انصاف کے لئے یہ مختصر اوراق ہی ان شاء اللہ تعالیٰ کافی شافی ہیں اور سخن پرور کے کئے تو ہزاروں دفتر بھی غیروافی ہیں۔ ولیکن:’’ہذا آخر ما ارونا ایرادہ وکان ہذا التحربدو تمامہ فی یوم عرفہ من ۱۳۲۰ھج وجمع اسبابہ الضرویۃ قبلہ بیوم فی یوم الترویۃ وصلی اللہ تعالٰی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین تمت‘‘

111

قائد قادیان

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

112

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ امابعد!

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی گرانقدر تصنیف ’’قائد قادیان‘‘ ۲۲؍شوال ۱۳۳۸ھ کی ہے۔ اس کی پہلی فصل میں مرزاقادیانی ملعون کے اقوال نقل کر کے اس کا رد کیاگیا ہے جو اہل علم کے لئے ایک علمی تحفہ ہے۔ اس میں مرزاقادیانی ملعون کے ۲۵اقوال کا رد لکھاگیا ہے۔ مرزاقادیانی کے اقوال ودعاوی کی تردید کے بعد اسی فصل اوّل کا ضمیمہ تحریر فرمایا ہے۔ جس میں مرزاقادیانی کے علم واعمال واخلاق کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ فصل ثانی میں ردقادیانیت کی کتب کی فہرست بمع مختصر تعارف کے نقل فرمائی۔ حیات مسیح پر لکھے گئے رسائل کا علیحدہ تعارف تحریر فرمایا ہے اور آخر میں مونگیر سے شائع شدہ رسالہ ’’جماعت احمدیہ سے خیرخواہانہ گزارش اور مسیح قادیان کی حالت کا بیان‘‘ کو بطور ضمیمہ اپنی کتاب کا حصہ بنادیا ہے۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی یہ تصنیف لطیف رسالہ النور تھانہ بھون میں قسط وار شائع ہوئی۔ ۸۴سال بعد ’’النور‘‘ سے پہلی بار اسے کتابی شکل میں شائع کرنے پر جتنی خوشی ہورہی ہے اس کی کیفیت قلم سے بیان کرنا ممکن نہیں۔

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

113

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بعد الحمد والصلٰوۃ!

قادیان ایک گاؤں کا نام ہے۔ ضلع گورداسپور پنجاب ہندوستان میں۔ اس رسالہ میں اس گاؤں کے ایک قائد یعنی پیشوا کی حالت باطلہ کا بقدر ضرورت بطور نمونہ بہیٔت رسالہ انموذج کے تذکرہ ہے جس سے ناظرین کافی تبصرہ حاصل کر کے اپنے دین کی حفاظت کر سکیں۔ ’’ ’’والرسالۃ مشتملۃ علی ثلثۃ فصول۔ شرفنا اللہ تعالٰی بالنفع والقبول‘‘ (کتبہ اشرف علی ۲۲؍شوال ۱۳۳۸ھ)

فصل اوّل درفہرست بعضے اکاذیب واباطیل قادیانی کہ بعضے از انہا بدرجہ کفر رسیدہ است:’’اعاذنا اللہ تعالٰی منہما‘‘

قول مرزا نمبر۱:

’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن واحادیث کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو علماء اسلامی کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘(اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴)

کیفیت قول:

قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں محض افتراء علی اللہ والرسول ہے۔

قول مرزا نمبر۲:

’’مولوی غلام دستگیر قصوری نے اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کردیا کہ کاذب کون تھا۔‘‘(اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴)

کیفیت قول:

مرزائیوں کو چیلنج دیاگیا کہ ان کی کتابوں میں یہ مضمون دکھادیں مگر کسی کو ہمت نہ ہوئی۔(صحیفہ رحمانیہ نمبر۲ ص۳)

114

قول مرزا نمبر۳:

’’جس طرح حضرت موسیٰm کے بعد ان کی امت میں سلسلہ نبوت جاری رہا۔ اسی طرح آنحضرتa کی امت میں بھی سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔‘‘(نورالدین ص۱۲۰ ملخص)

کیفیت قول:

حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ ونص خاتم النّبیین سے اس کا بطلان ظاہر ہے۔

قول مرزا نمبر۴:

’’توفی کو موت ہی کے معنی میں منحصر سمجھنا۔‘‘

کیفیت قول:

تفسیر کبیر میں ہے کہ توفی جنس ہے۔ اس کے تحت میں انواع ہیں۔ موت اور آسمان پر اٹھایا جانا،رافعک الیّٰ فرمانا تعین نوع کی ہے۔ اس میں تکرار نہیں۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر۲ص۳ خود قرآن مجید کی آیت:’’وہو الذی یتوفٰکم بالیل (الانعام:۶۰)‘‘ میں اس کے معنی سلادینا ہے۔ خود مرزاغلام احمد قادیانی (ازالہ اوہام ص۶۴۰، خزائن ج۳ ص۴۴۵) میں لکھتا ہے کہ: ’’مات کے معنی لغت میں نام کے ہیں۔‘‘

آیت کا یہ مطلب ہوا کہ میں آپ کو سلادینے والا ہوں۔ پھر اپنی طرف اٹھالینے والا ہوں۔ چنانچہ خازن میں ہے کہ نیند کی حالت میں اٹھالیا تاکہ خوف لاحق نہ ہو۔ (صحیفہ نمبر۲ ص۵،۶) اور یہ بات کہ کثرت جس معنی میں ہو ہر جگہ اس پر محمول کریں گے خود ہی قاعدہ غلط ہے۔ اصحاب النار کا لفظ قرآن میں بکثرت معذبین بالنار کے معنی میں ہے۔ مگر سورۂ مدثر میں ملائکہ کو اصحاب النار کہاگیا ہے جہاں یہ معنی نہیں ہیں۔

قول مرزا نمبر۵:

’’حضرت ابن عباسq نے متوفی کی تفسیر ممیت فرمائی ہے۔‘‘

کیفیت قول:

درمنثور میں بروایت صحیح حضرت ابن عباسq سے ثابت ہے کہ اس آیت میں تقدیم وتاخیر کے قائل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’رافعک الیّٰ ثم متوفیک فی آخرالزمان‘‘ (صحیفہ رحمانیہ نمبر۲ ص۵)

قول مرزا نمبر۶:

’’خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

پھر اسی رسالہ (دافع البلاء ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰) پر لکھتے ہیں: ’’بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سناگیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے

115

بدن کو چھواء تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

کیفیت قول:

اس میں حضرت مسیحm کی سخت اہانت ہے کہ ان کو پاک دامن نہ سمجھا اور یہ کفر ہے۔

قول مرزا نمبر۷:

ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷) اسی صفحہ میں ہے علاوہ اس کے: ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘

کیفیت قول:

یہ بالکل نبوت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔ پس توجیہ ظلی اور بروزی کی محض آڑ اور تلبیس ہے۔

قول مرزا نمبر۸:

’’قرآن مجید کے وہی معنی لائق اعتبار ہیں جو میں بیان کروں اور حدیث وہی لائق اعتبار ہے جسے میں صحیح کہہ دوں ورنہ ردی میں پھینک دینے کے لائق ہے۔ حاشیہ میں ہے کہ حدیث کا ردی کی طرح پھینکنا اور غیرمعتبر ہونا رسالہ (اعجاز احمدی ص۳۰،۳۱، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۱۰، خزائن ج۱۷ ص۵۱) میں مرقوم ہے۔‘‘

کیفیت قول:

کتنا بڑا باطل اور بلادلیل بلکہ خلاف دلیل دعویٰ ہے۔ کیا بجز صاحب وحی کے ایسا دعویٰ کوئی کر سکتا ہے؟ پس ایسا مدعی، وحی قطعی کا مدعی ہے۔

قول مرزا نمبر۹:

’’(مرزاغلام احمد قادیانی) کہتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۲۷)

کیفیت قول:

یہ بالکل نبوت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔

قول مرزا نمبر۱۰:

’’خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور یا مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘(حاشیہ اربعین نمبر۳ ص۲۸، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷)

قول مرزا نمبر۱۱:

’’سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز، حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر، ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ

116

تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے۔ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔‘‘(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۸۲)

کیفیت قول:

نماز ہر مسلمان کے پیچھے درست ہے تو پھر غیراحمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا اس کو کافر سمجھنا ہے۔

قول مرزا نمبر۱۲:

’’دعویٰ نبوت کے متعلق مرزاغلام احمد قادیانی کے بعض الہامات واقوال:

۱… ’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولاً‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

۲… ’’یٰسین انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم تنزیل العزیز الرحیم‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

۳… ’’انا ارسلنا احمد الٰی قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۳۸۴)

۴… ’’فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الٰی قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اماما۔ وانی مستخلفک اکراما۔ کما جرت سنتی فی الاولین‘‘ (انجام آتھم ص۷۹، خزائن ج۱۱ ص۷۹)

۵… ’’الہامات میں میری نسبت بارہا بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘ (انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

۶… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۷… ’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے، گو ستربرس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘(دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)

۸… ’’مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور توہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی

117

الدین کلّہ‘‘(اعجاز احمدیہ ص۱۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

۹… ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

۱۰… ’’سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

کیفیت قول:

ان سب اقوال میں رسالت کا دعویٰ ہے جو صریح آیت ختم نبوت کے خلاف ہے اور بعض میں رسالت مستقلہ تشریعہ کا دعویٰ جو تاویل ظلیت اور بروزیت کو باطل کرتا ہے جیسے قول۹، ۱۰ میں ہے اور بعض میں مزید تحریف بھی ہے جیسے قول۸ میں ہے کہ بجائے رسول اللہ a کے خود کو مصداق بتایا ہے اور چونکہ قول۷ کی تکذیب قادیان میں طاعون کے آجانے سے ہوگئی۔ چنانچہ ۱۹۰۴ء میں قادیان میں طاعون آیا اور ۲۸۰۰ کی آبادی میں سے ۳۱۳مرے جن میں ان کے خاص مرید عبدالکریم سیالکوٹی بھی تھے اور صدق لوازم رسالت ووحی سے ہے اور لازم کی نفی سے ملزوم کا انتفاء یقینی ہے، تو علاوہ نصوص شرعیہ کے خود ان کا یہ قول بانضمام واقعہ طاعون ان کے کاذب ہونے کی کافی دلیل ہے اور اگر طاعون کی پیشین گوئی میں کوئی قید ہے جو معلوم نہیں تو پھر توسیع مکان کے لئے چندہ کیوں مانگا؟ ممکن ہے کہ اس مکان میں رہنے کے بعد بھی اس وجہ غیرمعلوم سے مبتلائے طاعون ہو تو چندہ بھی برباد گیا اور یہ صریح دھوکہ ہے۔ کیونکہ دینے والا تو اسی خیال سے دے رہا ہے کہ محفوظ رہیں گے تو چندہ کی ترغیب کے وقت اس کو کیوں نہیں ظاہر کیا۔

قول مرزا نمبر۱۳:

۱… ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت وانجیل وقرآن کریم پر۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)

۲… ’’میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف اور خداوند تعالیٰ کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خداتعالیٰ کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر

118

نازل ہوتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

۳… ’’اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ بس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

۴… ’’خداتعالیٰ نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

۵… ’’اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

’’اور رسول اللہ a سے بقول مرزا تین ہزار معجزے ظاہر ہوئے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۶۷، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

۶… ’’لیکن پھر بھی دو نام دو نبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں۔ یعنی مہدی کا نام ہمارے نبیa سے خاص ہے اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسیٰؑ سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے… اور نبیوں کی پیشین گوئیوں میں یہ تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھا ہو جائیں گی۔‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۱۲، خزائن ج۱۷ ص۳۵۸،۳۵۹)

۷… ’’لہ خسف القمر المنیر وانّٰ لی غسا القمران المشرقان اتنکر‘‘ ترجمہ: اس کے لئے (یعنی رسول اللہ a کے لئے۔ ذرا ترجمہ کا ادب قابل لحاظ ہے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔(قصیدہ اعجازیہ اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

۸… ’’اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خداتعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے: سبحان الذی اسریٰ‘‘(خطبہ الہامیہ ص۱۹۳،۱۹۴، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸)

119

۹… ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ (استفتاء ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۲)

۱۰… ’’انما امرک اذا اردت شیأ ان تقول لہ کن فیکون‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸)

کیفیت قول:

ان سب اقوال میں مضمون مشترک دعویٰ ہے نبوت مستقلہ قطعیہ کا، جو تاویل بروزیت وظلیت کا مبطل ہے کیونکہ اس تاویل سے تو دوسرے بزرگوں کے لئے بھی ثابت ہوسکتی ہے جس کی نفی قول(۳) میں کی ہے اور قول(۴) میں دعویٰ افضلیت کا ہے۔ حضرت مسیحm سے، جو کہ نبی مستقل ہیں افضل نہیں ہوسکتا اور دعویٰ افضلیت کے ساتھ ان کی تحقیر وتنقیص بھی ہے اور قول(۵) میں رسول اللہ a پر افضلیت کا دعویٰ ہے اسی طرح قول(۶) میں کہ رسول اللہ a سے زیادہ جامع کمالات اپنے کو بتایا ہے اور اس سے بڑھ کر قول(۷،۸،۹) میں حضورa پر اس طرح فضیلت کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث حضورa کے باب میں لفظاً تو غیر ثابت اور معنی ثابت مگر ظنی اور مرزاغلام احمد قادیانی کے حق میں الہامی جو کہ ان کے نزدیک قطعی ہے کہ ظاہر ہے کہ فضیلت قطعیہ والا افضل ہوگا۔ فضیلت ظنّیہ والے سے اور سب سے بڑھ کر قول(۱۰) میں تو معراج ترقی انتہاء کو پہنچ گئی کہ حق تعالیٰ کی خاص صفت میں شریک ہوگئے اور جو خدا کا مساوی ہوگا وہ نبی کا ظل کیوں ہوگا؟

قول مرزا نمبر۱۴:

’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جاوے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)

کیفیت قول:

چونکہ کوئی نائب رسول کسی ادنیٰ نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا چہ جائیکہ ایک اولوالعزم رسول سے افضل ہو جاوے تو اس میں صاف نبوت مستقلہ غیرظلیہ وغیربروزیہ کا دعویٰ ہے۔

قول مرزا نمبر۱۵:

۱۸۸۸ء کے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ: ’’ہر ایک روک کے دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)

’’خداتعالیٰ نے… ظاہر فرمایا کہ احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار۔ تمہارے نکاح میں آئے گی اور آخر کار ایسا ہی ہوگا۔‘‘(ازالہ اوہام ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵)

120

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ ان میں سے وہ پیشین گوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں:

۱… مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری تین سال کی معیاد کے اندر فوت ہو۔

۲… اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔

۳… اور پھر یہ کہ مرزااحمد بیگ تاروز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔

۴… اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تاایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔

۵… اور پھر یہ کہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔

۶… اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔(شہادت القرآن ص۸۰، خزائن ج۶ ص۳۷۶)

کیفیت قول:

اس پیشین گوئی کا کاذب ہونا اظہر من الشمس ہے۔ چنانچہ ۱۸۹۳ء میں اس کا نکاح ہوا اور ۱۹۰۸ء میں مرزاغلام احمد قادیانی مرے اور وہ دونوں آپس میں میاں، بی بی نہ ہونے کی حالت پر زندہ رہے اور کاذب ہونے کا نتیجہ وہ خود لکھ رہے ہیں کہ: ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجاوے گی۔‘‘ (انجام آتھم ص۳۱ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۱)

احمد بیگ کے مرنے سے وسوسہ نہ کیا جاوے۔ کیونکہ مرکب صادق وکاذب سے کاذب ہے اور یوں تو کیف ما اتفق کوئی شخص دس پیشین گوئی کر دے تو کسی نہ کسی کا واقعہ ہو جانا اتفاقی بات ہے۔ دلیل صدق نہیں۔

قول مرزا نمبر۱۶،۱۷:

پیشین گوئی ہے کہ: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس نہ آئیں تو۔‘‘(اعجاز احمدی ص۲۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲ ملخص)

مرزاقادیانی نے پیر مہر علی شاہ صاحبv سے مناظرہ کا اشتہار دیا۔ یہ بھی لکھ دیا کہ: ’’اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو پھر میں کاذب سمجھا جاؤں گا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۳۱، ملخص)

121

نیز مرزاغلام احمد قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحبv کی نسبت میں آخری فیصلہ کا اعلان دیا اور اس طرح دعا کی کہ: ’’اے میرے آقا! اب میں تیرے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھالے… اے میرے مالک! تو ایسا ہی کر۔‘‘(اخبار الحکم ج۱۱ نمبر۱۳، ۱۹۰۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹)

’’مجھے خدا نے اطلاع دی ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں پٹیالوی میری زندگی میں مرجائے گا۔‘‘(چشمہ معرفت ص۳۲۱، خزائن ج۲۳ ص۳۳۶، ملخص)

کیفیت قول:

مگر مولوی ثناء اللہ صاحب ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء کو قادیان پہنچے اور مرزاغلام احمد قادیانی نے بجز اظہار غیض وغضب اور زبردستی کی باتوں کے اور کچھ نہیں کیا۔(الہامات مرزا ص۱۶،۱۱۰)

اسی طرح پیر مہر علی شاہ صاحبv تاریخ مناظرہ سے ایک روز پہلے ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ء کو لاہور پہنچے اور ۲۹تک مرزاقادیانی کے منتظر رہے۔ مگر مرزاغلام احمدقادیانی گھر سے نہ نکلے۔(حاشیہ فیصلہ آسمانی حصہ۳ ص۴۳)

مباہلہ ثنائیہ میں مرزاغلام احمد قادیانی پہلے مرگئے۔ اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب غزنوی وڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے مباہلہ ومقابلہ بددعا میں ہوا۔(شہادت آسمانی حصہ دوم ص۱۱۴)

قول مرزا نمبر۱۸:

شعر فارسی:

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تابنہد پا بمنبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

اردو میں اس کا ترجمہ یہ ہے کہ:

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

  1. آنچہ داد است ہر نبی راجام

    داد آں جام رامرا بہ تمام

  2. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

  3. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)

122
’’ولما ترک یونس بسوء فہمہ الاستقامۃ والاستقلال‘‘(انجام آتھم ص۲۲۵، خزائن ج۱۱ ص۲۲۵)

کیفیت قول:

کھلی اہانت ہے ایک نبی اولوالعزم کی، کیا اس کے کفر ہونے میں کوئی شبہ ہوسکتا ہے؟ اور صریح تفضیل ہے اپنی سب انبیاء پر کیونکہ جو سب کمالات انبیاء کا جامع ہوگا۔ سب سے افضل ہوگا اور ایک قول میں اہانت ہے۔ یونسm کی کہ ان کو بدفہم کہا ہے۔

قول مرزا نمبر۱۹:

’’مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔‘‘(خطبہ الہامیہ ص۲۱، خزائن ج۱۶ ص۲۱)

کیفیت قول:

تمام علماء اسلام کی تفسیر کے خلاف اور تواتر کے بھی خلاف۔ کیا رسول اللہ a شب معراج میں قادیان کی مسجد میں تشریف لائے تھے؟ جس کا نام ونشان بھی نہ تھا۔

قول مرزا نمبر۲۰:

’’جب احمد بیگ کے مرنے کی پیشین گوئی معیاد کے اندر پوری نہ ہوئی تو مرزاغلام احمد قادیانی کو، قرار کرنا پڑا کہ اس وعید کی معیاد میں تخلف ہوگیا۔‘‘(انجام آتھم ص۲۹، خزائن ج۱۱ ص۲۹ حاشیہ)

کیفیت قول:

مرزاقادیانی کی صریح نصوص کے خلاف ہے۔

قول مرزا نمبر۲۱:

۱… ’’انت منی وانا منک‘‘ (حقیقت الوحی ص۷۴، خزائن ج۲۲ ص۷۷)

۲… ’’ظہورک ظہوری‘‘ (تذکرہ ص۷۰۴، طبع سوم)

۳… ’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘ (حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)

۴… ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ (حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)

۵… ’’میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔‘‘ (کتاب البریہ ص۸۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

کیفیت قول:

خدا ہونا، یا خدا کا بیٹا ہونا یا خدا کے ساتھ اتحاد، شرعاً وعقلاً ہر شخص جانتا ہے کہ باطل ہے۔

قول مرزا نمبر۲۲:

۱… ’’یأتی قمر الانبیاء‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۰۶، خزائن ج۲۲ ص۱۰۹)

123

۲… ’’یا نبی اللہ کنت لاعرفک‘‘ (الاستفتاء تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۳)

۳… ’’خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی اور لفظی میں آلودہ ہیں اور یاسرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہوکر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کر دے۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۰، خزائن ج۱۷ ص۵۱)

’’ہم اب تک سمجھتے ہیں کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گووہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۲۹، خزائن ج۱۹ ص۱۳۹)

قول مرزا نمبر۲۳:

’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں… اس حالت میں، میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔‘‘ (کتاب البریہ ص۷۸،۷۹، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳،۱۰۴)

کیفیت قول:

جس کو کوئی عذر شرعی نہ ہو وہ بلا تاویل ایسا دعویٰ کرے اس کا جو شرعاً حکم ہے ظاہر ہے۔

قول مرزا نمبر۲۴:

۱… ’’آپ (حضرت عیسیٰؑ) کے ہاتھ میں سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہ تھا۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۲… ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ (یعنی حضرت عیسیٰؑ) کو جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

۳… ’’آپ (حضرت مسیحm) کا خاندان بھی نہایت پاک او مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۲۹۱)

۴… ’’آپ (حضرت عیسیٰؑ) کا کنجریوں (کسبیوں) سے مناسبت اور صحبت بھی اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری

124

(کسبی) کو ایسا موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سرپر اپنے ناپاک ہاتھ لگادے اور زناکاری کا عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کواس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۵… ’’یسوع (یعنی حضرت عیسیٰؑ) کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے۔ ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سامال حرام کاری میں ضائع کیا۔‘‘ (معیار المذاہب ص۲۱، خزائن ج۹ ص۴۷۹)

کیفیت قول:

عیاں راچہ بیاں اور جواب الزامی میں بھی اس عنوان کا اختیار کرنا خلاف ایمان ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے کہ اگر تمہارا قول مان لیا جاوے تو، یہ یہ امور لازم آویں گے۔ نعوذ باﷲ منہ! اور خصوص جب کہ انجام آتھم میں یہ لکھتے ہیں کہ: ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

پھر لکھتے ہیں کہ: ’’ممکن ہے کہ اپنی معمولی تدبیر سے کسی شکور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔‘‘

اور اسی صفحہ میں ہے کہ: ’’آپ کے ہاتھ میں سوائے مکروفریب کے کچھ نہ تھا۔‘‘

اور توہین انبیاء ذی شان یہ صریح ہے کہ یہ الزاماً نہیں بلکہ اسی کو حق سمجھ کر لکھا ہے۔ نیز دافع البلاء کی عبارت جو خانہ(۶) میں ہے جس میں یہ قصے نقل کر کے لکھا ہے کہ: ’’اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام نہیں کیونکہ پادریوں پر قرآن کا حوالہ حجت نہیں بلکہ خود اپنی تحقیق ہے۔ قرآن سے اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں: ’’ثم الفہرس المختصر الکاشف عن عقائد القائد القادیانی۔ حفظ اللہ تعالٰی جمیع المسلمین عن امثال ہذہ الضلال الشیطانی وان اشتقت الٰی السبط فی الاطلاع علیہا وعلٰی جوابہا فانظر ما فی الفصل الثانی‘‘

ضمیمہ فصل اوّل

یہ تو قائد قادیان کے اقوال ودعاوی تھے جن سے عقائد کا پتہ لگتا ہے۔ اب کچھ

125

نمونہ کے طور پر ان کے علم واعمال واخلاق کی کیفیت بھی دکھلائی جاتی ہے۔

علم

۱… میں نے ایک کتاب عربی زبان میں ان (مرزاغلام احمد قادیانی) کی دیکھی ہے جس کا نام یاد نہیں رہا۔ (الہدیٰ) اس میں ایک حدیث کی عجیب مضحکہ خیز شرح کی ہے۔ حدیث یہ ہے کہ عیسیٰؑ دجال کو باب لد پر (ایک مقام ہے شام میں) قتل کریں گے۔

انہوں نے اس میں عجیب تحریف کی ہے۔ لکھا ہے کہ: ’’لد مخفف ہے لدھیانہ کا۔‘‘(الہدیٰ والتبصرۃ لمن یری ص۹۲، خزائن ج۱۸ ص۳۴۱)

میں نے لدھیانہ میں پادریوں کو مغلوب کیا تھا۔ یہ اس کی پیشین گوئی ہے اس کے صریح جہل ہونے میں کچھ شبہ ہوسکتا ہے؟

۲… دعویٰ کیا ہے کہ: ’’دجال ایک شخص کا نام نہیں ہے بلکہ ایک جماعت کا لقب ہے۔‘‘(تحفہ گولڑویہ ص۸۵، خزائن ج۱۷ ص۲۳۵،۲۳۶)

اور دلیل میں ایک عجیب جہل ظاہر کیا ہے۔ ترمذی کی ایک حدیث ہے: ’’سیکون رجال یختلون الدنیا بالدین‘‘ اس بندۂ خدا نے رجال کو دجال سمجھا ہے اور ’’یختلون‘‘ میں جو ضمیر جمع کی اس کی طرف راجع ہے۔ اس سے اس پر استدلال کیا ہے اور منشاء اس غلطی کا یہ ہوا کہ انہوں نے حدیث کو کنزالعمال سے نقل کیا ہے وہ ٹائپ کا چھاپہ ہے۔ اس میں حرف (ر) کا سرا ذرا آگے کو مڑ گیا ہے جس سے اس کو (د) سمجھا۔ مگر جس شخص کو ذرا بھی علم سے مناسبت ہوگی وہ کبھی ایسی غلطی نہیں کر سکتا اور طرفہ یہ کہ میرے لکھنے سے حافظ عبدالقدوس مرحوم سابق ایڈیٹر صادق الاخبار بہاولپور نے ان کے خلیفہ (نورالدین) کو اس کے متعلق خط لکھا تھا تو وہاں سے جواب آیا کہ حدیث میں تو دجال ہی ہے باقی مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں، بھلا اس جہل مرکب کی بھی کوئی حد ہے۔ ماشاء اللہ ! وزیرے چنیں شہریارے چناں۔ پھر بھولے لوگ ان کو ذی علم کہتے ہیں۔ انا ﷲ! پری نہفتہ رخ ودیودر کرشمہ وناز۔

۳… متعدد رسائل میں یہ مضمون منقول ہے کہ اگر میرے بیٹے نے اپنی بی بی کو طلاق نہ دی تو میں اس کو عاق کردوں گا۔ اس جہل میں عالم کیا طالب علم کا صحبت یافتہ بھی مبتلا نہیں ہوسکتا۔

126

عمل

۱… ’’مجھ سے ایک ثقہ راوی کاپنوری نے جو قادیان میں ایک معتدبہ مدت تک اپنی ایک دنیوی حاجت کے لئے رہے تھے۔ بیان کیا کہ ان کے روبرو عید کے روز ظہروعصر کو ظہر کے وقت میں بلاعذر جمع حقیقی کیاگیا اور عصر کی نماز کے وقت مسجد میں میز کرسیاں بچھا کر مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے خواص کا فوٹو لینے کا انتظام کیاگیا۔‘‘

۲… ’’مجھ سے میرے ایک ہم وطن نے جو کہ ان (مرزاقادیانی) کے مرید تھے بیان کیا کہ میں نے نماز میں وساوس کی شکایت کی تو انہوں نے یہ عمل بتلایا کہ بعد قومہ کے اردو زبان میں اس کے ازالہ کی دعا کیا کرو۔ سبحان اللہ کیسی اچھی نماز کی تعلیم ہے؟‘‘

۳… ’’عبداللطیف رئیس خوست جو حج کو جاتے ہوئے ان (مرزاقادیانی) کے پاس آئے تھے۔ ان کو حج سے روک کر تبلیغ کے واسطے وطن واپس کر دیا جو امیر عبدالرحمن خان صاحب کے وقت میں ہلاک کئے گئے۔ جس کا ذکر خود ’’تذکرہ الشہادتین‘‘ میں لکھا ہے اور اس فعل کا: ’’یصدون عن سبیل اللہ ‘‘ میں داخل ہونا ظاہر ہے اور اسی عبداللطیف کے قصے میں خود ہی اپنا ایک علمی نمونہ بھی دکھلایا ہے۔ اوّل: ابوداؤد کی عیسیٰؑ کے باب میں ایک حدیث نقل کی ہے: ’’بین ثوبین ممصرتین… الخ!‘‘ یعنی دو زرد کپڑوں میں نزول فرماویں گے۔ پھر آگے اس پر ایک سوال نقل کیا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی زرد کپڑے کہاں پہنتا ہے۔ پھر اس کا جواب نہایت پاکیزہ خوشبودار دیا ہے کہ زرد کپڑوں سے مراد پیشاب اور سردرد ہیں (کہ دونوں کا رنگ زرد ہے) اور میں ان ہی دو امراض میں مبتلا ہوں۔ اس طرح سے یہ مجھ پر صادق آگیا۔ یہ علم اور یہ عمل ہے مسیح الزمان کا۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین ص۴۳، خزائن ج۲۰ ص۴۶)

اخلاق

حسن اخلاق کا شعبہ اعظم وہ ہے جس کو شیخ شیرازی نے اس شعر میں جمع کیا ہے ؎

  1. مرا شیخ دانائے روشن شباب

    دو اندر زفرمود برروئے آب

  2. یکے آنکہ بر خویش خودبین مباش

    دوم آنکہ بر غیر بدبیں مباش

127

یہاں ماشاء اللہ ! دونوں تعلیموں کا روزوشب جس بیدردی سے خون کیا جاتاتھا مخفی نہیں۔ ان کی تمام تحریرات میں بے حد تعلیوں اور دعوؤں سے بھری ہوئی ہیں اور اسی طرح اپنی مخالفین کو خصوص علماء کو وہ مغلظ گالیاں دی ہیں کہ نقل کرنے کو بھی لوگ خلاف شرافت سمجھتے ہیں۔ عصائے موسیٰ میں گالیوں کی ایک الف۔ب۔ت ہے۔ یعنی ہر حرف سے بہت بہت گالیاں شروع ہوئی ہیں۔ جس کا دل چاہے دیکھ لے۔

نتیجہ: ظاہر ہے کہ ایسے اوصاف کا آدمی صلحاء میں بھی داخل نہیں۔ چہ جائیکہ ولی یا مہدی یا نبی ہو۔ نعوذ باﷲ! اگر اب بھی کوئی ایسے شخص پر فریفتہ ہو تو بجز’’ختم اللہ علٰی قلوبہم‘‘ کے کیا کہا جائے۔

فصل ثانی

درفہرست بعضے کتب ردقادیانی

یہ فہرست مولوی محمد اسحاق صاحب نے خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پور مونگیر سے بصورت ایک رسالہ مسمی ’’حفاظت ایمان کی کتابیں‘‘ کے شائع کی ہے جو بعد حذف اکثر مضامین ذیل میں منقول ہے۔

فہرست موعود

۱… فیصلہ آسمانی حصہ اوّل معہ تتمہ: اس میں مرزاغلام احمد قادیانی کے نہایت عظیم الشان نشان کو غلط ثابت کر کے اور ان کی ذاتی حالت کو دکھا کر نہایت روشن طریقہ سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے اور ان کے جوابات کی غلطی نہایت روشن طریقہ سے دکھائی ہے۔

۲… فیصلہ آسمانی حصہ دوم: اس میں مرزاقادیانی کے پختہ اقراروں سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے اور ان کی عظیم الشان دلیل کا بطلان نہایت محققانہ طور سے کیا ہے۔

۳… فیصلہ آسمانی حصہ سوم: اس میں نہایت محققانہ طریقہ سے قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے مرزاقادیانی کا، کاذب ہونا ثابت کیا ہے اور رسالہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کی حالت دکھا کر ان کی خطرناک حالت پر متنبہ کیا ہے۔ پھر ان کی غلط پیشین گوئیاں دکھا کر قرآن مجید کی متعدد آیات سے مرزاقادیانی کے دعویٰ کی غلطی دکھائی ہے۔ خلف فی الوعید کی

128

بحث ایسی تحقیق سے لکھی ہے کہ اب تک متقدمین اور متاخرین کی کتاب میں دیکھی نہیں گئی۔ بڑے صفحوں پر صفحات۱۳۶ ہیں۔

۴… حقیقت المسیح: صحیح حدیث سے اور مرزاقادیانی کے حالات سے ثابت کیا ہے کہ وہ مسیح موعود ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس (مرزاقادیانی) نے سوا، اپنے والوں کے تمام مسلمانوں کو کافر بنایا اور کچھ نہیں کیا۔

۵… معیار المسیح: بعض وہ آیتیں جن سے مرزاقادیانی کی صداقت ثابت کی جاتی ہے۔ انہیں سے ان کا کذب ثابت کیا ہے۔

۶… تنزیہہ ربانی از تلویث قادیانی: اس مختصر رسالہ میں قرآن مجید کی آیتوں اور خود مرزاقادیانی کے اقرار سے انہیں جھوٹا ثابت کیا ہے اور خاص مرزائی نے جو جواب دیا تھا اس کی غلطی اظہر من الشمس ہے۔ ان سب رسالوں کے مکرر چھپنے کی سخت ضرورت ہے۔

۷… معیار صداقت: اس میں اصل مضمون وہی ہے جو تنزیہہ میں ہے۔ مگر طریقے اور دلائل دوسرے ہیں۔

۸… شہادت آسمانی: اس میں مرزاقادیانی کی آسمانی شہادت کو نہایت تحقیق اور تفصیل سے غلط ثابت کیا ہے اور ان کی ناگفتہ بہ باتیں دکھائی ہیں۔

۹… دوسری شہادت آسمانی: پہلی شہادت آسمانی مختصر تھی۔ یہ ۱۲۸صفحوں پر مشتمل ہے۔

۱۰… صحیفہ رحمانیہ نمبر۶: اس میں مرزاقادیانی کا دعویٰ مستقلہ ثابت کر کے قرآن اور حدیث سے انہیں کاذب ثابت کیا ہے۔

۱۱… صحیفہ رحمانیہ نمبر۷: اس میں (مرزاقادیانی کا) دعویٰ نبوت کے علاوہ یہ ثابت کیا ہے کہ انہیں افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ ہے ان کے اقوال نقل کر کے ان کا نتیجہ دکھایا ہے۔ مثلاً یہ کہ حضرت آدمm سے لے کر حضرت محمد مصطفیa تک تمام انبیاء کی بعثت بے کار ہوئی۔ کسی نے شیطان کو ذلیل نہیں کیا۔ مگر مرزاقادیانی نے کیا۔ بھائیو! مرزاقادیانی کی ایسی باتوں میں غور کرتے جاؤ۔ جن سے ان کی خاص حالت پر روشنی پڑتی ہے۔

۱۲… صحیفہ رحمانیہ نمبر۸،۹: اس میں رسالہ عبرت خیز ہے جس میں مفتریوں اور کذابوں کی عبرت خیز حالت دکھا کر مرزاقادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے اور نہایت خوبی سے عبدالماجد صاحب کی غلطیوں کو پردہ پوشی کے ساتھ دکھایا ہے۔ یہ ایک ہی رسالہ

129

مرزاقادیانی کے کذب کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ یہ رسالے نہایت شائستگی اور کامل تحقیق اور وضاحت سے لکھے گئے ہیں۔ ہر ایک منصف طالب حق کی ان سے تسلی ہوسکتی ہے اور ایسی قابلیت اور تحقیق سے اعتراضات کئے گئے ہیں کہ ان کاجواب نہیں ہوسکتا۔ ان میں ہر ایک رسالہ مرزاقادیانی کو کاذب ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اب حیات وممات مسیحm پر گفتگو کرنا اور مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کی دلیل پوچھنا بے کار ہے۔ کیونکہ ان رسالوں میں قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے اور احادیث صحیحہ سے اور خود مرزاقادیانی کے متعدد اقوال سے یقینی طور سے ان کا کاذب ہونا ثابت کر دیا ہے۔ اب مرزائیوں سے ان اعتراضات کے جواب کی درخواست کرنا چاہئے۔ اس کے سوا اور تمام گفتگو فضول ہے۔ اب حضرت مسیح کی ممات کا عقیدہ کا کام نہیں آسکتا۔ ان رسالوں نے قطعی طور سے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح زندہ ہوں یا مر گئے ہوں۔ مگر مرزاقادیانی ہر طرح کاذب ہے۔ اس کا صادق ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوسکا۔

۱۳… صحیفہ رحمانیہ نمبر۱: اس میں جلسہ بھاگلپور کی کیفیت اور مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کے بیان کا خلاصہ ہے۔

۱۴… صحیفہ رحمانیہ نمبر۲: اس میں وہ تقریر ہے جو مولانا سعید انور حسین صاحب پروفیسر کالج مونگیر نے جلسہ بھاگلپور میں ختم نبوت پر کی تھی۔

۱۵… صحیفہ رحمانیہ نمبر۳: اس میں مرزائیوں کے صحیفہ تبلیغیہ نمبر۱ کا جواب ہے جس کے بعد مرزائیوں کو صحیفہ نکالنے کی ہمت نہ ہوئی۔

۱۶… صحیفہ رحمانیہ نمبر۴: اس میں لارڈ ہیڈلے کے مسلمان ہونے کی واقعی حالت بیان کر کے خواجہ کمال (مرزائی) کے غلط دعوؤں کا اظہار کیا ہے۔

۱۷… صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۰: اس میں مولوی عبدالماجد (مرزائی) کی بددیانتی اور فاش غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔

۱۸… صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۱،۱۲: مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کی تشریح کر کے مولوی عبدالماجد (مرزائی) کی غلطیاں دکھائی ہیں۔

۱۹… محکمات ربانی لنسخ القائے قادیانی: اس میں پوری تحقیق سے القائے قادیانی کا جواب دیا ہے اور عبدالماجد (مرزائی) کی بددیانتیاں دکھائی ہیں۔

130

۲۰… انوارایمانی: القائے قادیانی میں جو عبدالماجد (مرزائی) نے غلطیاں اور بددیانتیاں کی ہیں۔ ان کا نمونہ اس میں دکھایا ہے اور اصل بات کا جواب دے کر مرزاقادیانی کا کذب ثابت کیا ہے۔

۲۱… مرزائی ماجد کی پہلی غلطی میں تیس غلطیاں: اپنے القاء میں جو انہوں نے پہلی غلطی قرار دی ہے اس میں تیس غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ اس وقت تک ۵رسالے القائے قادیانی کی غلطی کے اظہار میں طبع ہوچکے ہیں۔

۲۲… صواعق ربانی برمؤلف برق آسمانی: اس میں میاں خلیل احمد مرزائی کے برق آسمانی کا جواب ہے۔

۲۳… تذکرہ حضرت یونسm: چونکہ مرزاقادیانی نے اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے حضرت یونسm کی پیش گوئی کو بہت پیش کیا ہے۔ اس لئے اس رسالہ میں اس کی پوری حقیقت اور واقعی حالت دکھا کر مرزاقادیانی کے فریب کو ظاہر کیا ہے۔

۲۴… ابطال اعجاز مرزا: اس کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں مرزاقادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کی غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ دوسرا حصہ عربی کا قصیدہ ہے۔ ’’قصیدہ اعجازیہ‘‘ مرزاقادیانی کے جواب میں۔

۲۵… دعائے مرزا: اس میں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ مرزاقادیانی کا آخری فیصلہ یعنی اس کا مفتری اور کذاب ہونا خدا کی مشیت کے مطابق ہوا ہے۔

۲۶… مسیح کاذب: اس میں مرزاقادیانی کی چوبیس پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا ہے اور مرزائیوں کی بدزبانی کا دندان شکن جواب دیا ہے۔

۲۷… تنبیہ قادیانی: مرزاغلام احمد قادیانی کے بڑے صحبت یافتہ ایڈیٹر اخبار بدر نے بے تہذیبی سے کچھ لکھا تھا اس کا کافی جواب ہے۔

۲۸… تائید ربانی: اس میں ملک منصور مرزائی طالب علم کے رسالہ نصرت یزدانی کا دندان شکن جواب ہے۔

۲۹… آئینہ قادیانی: اس میں مرزاغلام احمد قادیانی بانی مذہب جدید کے چند اقوال دکھا کر ان کی مخفی حالت دکھائی گئی ہے۔

131

۳۰… حق نما: اس میں مختصر تمہید کے ساتھ اس مناظرہ لاہور کی کیفیت ہے۔ جس سے مرزا قادیانی گریز کر گئے تھے اور اپنے اقرار سے کاذب ملعون قرار پائے۔

۳۱… حق طلب کی سچی فریاد: اس میں مرزاقادیانی پر چند لاجواب اعتراض ہیں۔

۳۲… اظہار حق: مناظرہ مونگیر کی کیفیت اور بعض رسالوں کی فہرست ہے۔

۳۳… رسالہ ختم نبوت: نہایت محققانہ طور سے ثابت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ a کے بعد مستقل غیرمستقل ظلی بروزی کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔ مختصر رسالہ ہے۔

۳۴… النجم الثاقب: اس کے تین حصے ہیں۔ حصہ اوّل کے شروع میں مرزاقادیانی کے دعویٰ کو قرآن اور حدیث سے غلط ثابت کیا ہے۔ اس کے بعد ان کی غلط پیشین گوئیاں اور غلط الہامات کو دکھایا ہے۔ جس سے ان کا کاذب ہونا بالیقین ثابت ہوتا ہے۔ یہ حصہ ۱۲۴صفحوں پر چھپا ہے۔

۳۵… النجم الثاقب حصہ دوم: حصہ دوم میں مرزاقادیانی کی اکیس پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔

۳۶… النجم الثاقب حصہ سوم: حصہ سوم میں ماسٹر عبدالمجید مرزائی کے رسالہ اظہار حق کا جواب دیاگیا ہے۔ ہر ایک حصہ درحقیقت مستقل رسالہ ہے۔

۳۷… دوستانہ نصیحت: اس میں مولوی علاؤالدین احمد صاحب بی۔اے وکیل کا خط ہے۔ مولوی صاحب نے ماسٹر عبدالمجید صاحب بی۔اے کے مقابلہ میں مرزاقادیانی پر لاجواب اعترضات کئے ہیں۔ وکٹوریہ پریس بدایوان میں چھپا ہے۔

۳۸… خیرخواہی وتائید خیرخواہی: یہ مختصر رسالہ قاضی منشی اشرف حسین صاحب نے ایک احمدی (قادیانی) کے خط کے جواب میں بنظر خیرخواہی لکھا ہے اور مؤلف اسرار نہانی کی جہالت کو دکھایا ہے۔ اس کی تائید میں مولوی عزیزالحسن صاحب بدایونی نے اچھا مضمون شائع کیا ہے۔

۳۹… جواب حقانی: قاضی صاحب ممدوح نے اس میں احمدی (قادیانی) مذکور کے دوسرے خط کا دندان شکن جوب دیا ہے۔

۴۰… تکذیب قادیانی از نشان آسمانی: اس میں مرزاقادیانی کے اقوال سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت کیاگیا ہے۔

132

۴۱… قہرربانی برنشان آسمانی: اس میں حکیم خلیل (قادیانی) کے اشتہار کا دندان شکن جواب دیاگیا ہے۔

۴۲… دروغ قادیانی منتخب از نشان آسمانی: اس میں خلیل (قادیانی) کے اشتہار کے کذب کو نمبروار دکھا کر جواب دیاگیا ہے۔

۴۳… عتاب ربانی: اس میں رسالہ فیصلہ آسمانی کا لاجواب ہونا دکھلا کر مرزائی کی دروغ گوئی کا جواب دیاگیا ہے۔

۴۴… مرزاغلام احمد کا منصب: اس میں مرزاقادیانی کے اقوال سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت کیاگیا ہے۔

۴۵… مسیح قادیانی کا فیصلہ: اس میں بھی اس کے اقوال سے اس کی حالت دکھائی گئی ہے۔

۴۶… اہل حق کو بشارت: اس میں نہایت واضح طریقہ سے دکھلایا گیا ہے کہ مرزاقادیانی کا مسیح موعود ہونا، قرآن وحدیث یا کسی دلیل صحیح سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اپنے اقرار سے کاذب ہے۔

یہ رسائل خدام ومحبین حضرت مولانا ممدوح (مولانا محمد علی مونگیریؒ) دام فیضہم کے ہیں۔ آخر کے سات رسالے چھوٹے چھوٹے ۱۳۳۰ھ،۱۳۳۲ھ میں لکھے گئے ہیں جس وقت مرزائیوں کے دعویٰ کا غل تھا اور سمجھتے تھے کہ ہماری باتیں لاجواب ہیں۔ جب ہماری طرف سے پردہ دری کی گئی اور بنظر خیرخواہی مرزاقادیانی کی واقعی حالت دکھائی گئی تو اب یہ حضرات دم بخود ہیں۔ کسی کو غیرت نفسانی اور کسی کو دنیاوی طمع حق بات کے قبول کرنے سے مانع ہے۔

۴۷… الہامات مرزا: اس میں مرزاقادیانی کی مخصوص پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کر کے اس کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے۔

۴۸… مرقع قادیانی: یہ ماہوار رسالہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے جاری کیا تھا۔ سال بھر یا کچھ زیادہ جاری رہا۔ چونکہ مولوی صاحب، مرزاقادیانی کے حالات سے خوب واقف ہیں۔ اس لئے خوب ہی ان کی اصلی حالت کو کھولا ہے۔ یکم؍جون ۱۹۰۷ء سے جاری ہوا تھا۔

133

۴۹… صحیفہ محبوبیہ: حکیم نورالدین نے مرزاقادیانی کی مدح میں ایک رسالہ چھپوا کر والئی حیدرآباد دکن کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ اس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ نے یہ صحیفہ بھیجا۔ ۱۹۰۹ء میں چھپا ہے۔

۵۰… فاتح قادیان: اس میں اس آخری فیصلہ کا بیان ہے۔ جس میں مرزاقادیانی اپنے الہامی اقرار سے کذاب ومفتری ثابت ہوئے۔ یہ فتح بھی مولوی ثناء اللہ صاحب کے حصہ میں رہی اور مرزاقادیانی کے عاجزانہ دعا بھی قبول نہ ہوئی۔

۵۱… السیف الاعظم: مولوی غلام مصطفی صاحب کی تالیف ہے اور سید مکرم علی صاحب رئیس کٹک نے اپنی عالی ہمتی سے اسے چھپوایا ہے۔

۵۲… افادۃ الافہام: مرزاقادیانی کی مایۂ فخر کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ کا نہایت عمدہ اور مبسوط جواب دو جلدوں میں ہے۔ استاد حضور نظام حیدرآباد دکن مولانا محمد انوار اللہ صاحب کی تصانف سے ہے۔ ۱۳۲۵ھ میں چھپی ہے۔

۵۳… مفاتیح الاعلام: اس میں افادۃ الافہام کے دونوں حصوں کے مضامین کی فہرست ہے۔ جس سے مجملاً مرزاقادیانی کی حالت معلوم ہوتی ہے۔

۵۴… انوارالحق: مولوی حسن علی بھاگلپوری کے تائید الحق کا مدلل جواب ہے۔ ۱۳۳۲ھ حیدرآباد میں چھپا ہے۔

۵۵… الخبر الصحیح عن قبر المسیح: اس میں مرزاقادیانی کے اس دعویٰ کی تکذیب کی گئی ہے کہ حضرت مسیح کا مزار کشمیر میں ہے۔

۵۶… سلم الوصول: اس میں حضورa کی معراج جسمانی کا ثبوت دیاگیا ہے جس کا مرزاقادیانی منکر ہے۔

۵۷… الذکر الحکیم نمبر۳: اس میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے وہ خطوط ہیں جن میں انہوں نے مرزاقادیانی سے علیحدہ ہونے کی نہایت معقول وجوہ بیان کئے ہیں۔

۵۸… الذکرالحکیم نمبر۶: اس رسالہ میں مرزاقادیانی کے تمام دلائل ودعاوی کی کامل تردید ہے۔

۵۹… اتمام الحجۃ عرف کانا دجال: اس میں مرزاقادیانی کی ہلاکت اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی فتح کا بیان ہے۔

134

۶۰… المسیح الدجال: اس میں ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے وہ وجوہ بیان کئے ہیں جن سے وہ مرزاقادیانی سے علیحدہ ہوئے اور ان کے ساتھ تعلق رکھنے کو حرام سمجھا۔ اس میں نہایت معقول طریقے سے مرزاقادیانی کے مکروفریب ثابت کئے ہیں۔

۶۱… عصائے موسیٰ: مرزاقادیانی کے ایک دوست منشی الٰہی بخش اکاؤنٹینٹ نے مرزاقادیانی کی خوب حقیقت کھولی ہے اور خوب اعتراضات کئے ہیں۔ یہ رسالہ مرزاقادیانی کے رسالہ ضرورۃ الامام کا جواب ہے۔ بڑا رسالہ ہے مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔ اب نہیں ملتا۔

۶۲… چودھویں صدی کا مسیح: چونکہ اس وقت ناول دیکھنے کا مذاق زیادہ ہوگیا ہے۔ مؤلف نے مرزاقادیانی کے واقعی اور سچے حالات ناول کے طریقہ پر لکھے ہیں تاکہ اہل مذاق دیکھ کر واقف ہوں۔ خوب لکھا ہے مگر اب نہیں ملتا۔

۶۳… الخلافۃ فی خیرالامۃ رد علی النبوۃ فی خیرالامۃ: قاسم علی مرزائی نے ایک رسالہ میں لکھا تھا کہ امت محمدیہ میں نبوت قائم رہے گی اور مرزاقادیانی نبی ہے۔ اس کے جواب میں اس رسالہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ نبوت نہیں رہ سکتی۔ البتہ خلافت رہے گی۔ عمدہ رسالہ ہے۔

۶۴… تردید نبوت قادیانی جواب نبوت فی خیرالامۃ: یہ بھی قاسم علی (مرزائی) کے اسی رسالہ کا جواب ہے۔ قاسم علی نے اشتہار دیا تھا کہ جو کوئی میرے رسالہ کا جواب دے اسے ایک ہزار روپیہ دیا جائے گا۔ مگر جب جواب دیاگیا اور مجیب نے اعلان دیا کہ روپیہ لاؤ اگر جواب میں تردد ہو تو جلسہ کر کے طے کر لو۔ مگر ہمت کہاں تھی ہزار کا اشتہار تو عوام کے فریب کے لئے تھا کہ اگر کسی نے جواب کی طرف توجہ نہ کی تو پھر غل مچا کر عوام کو بہکائیں گے اور اب اگر راست بازی کا دعویٰ ہے تو دوہزار روپے دونوں رسالوں کے مؤلف کو دیں۔ ورنہ آئندہ جھوٹی گپوں سے توبہ کریں۔

۶۵… معیار عقائد قادیانی: مرزائیوں کے عقائد بیان کر کے ان کا رد کیا ہے۔

۶۶… مرزائی صاحبان کے ہینڈ بل کا جواب: یہ پرچہ لاہور سے شائع ہوتا ہے۔ بھاٹی دروازہ منشی پیر بخش صاحب پوسٹ ماسٹر پنشنر سے طلب کرنا چاہئے۔

135

۶۷… کلمہ فضل رحمانی: یہ کتاب ۱۳۱۴ھ قاضی فضل احمد کورٹ انسپکٹر لدھیانہ مؤلف میزان الحق نے مرزاقادیانی کے رسالہ انجام آتھم وضمیمہ وغیرہ کے جواب میں لکھی ہے۔

۶۸… کاشف اسرار نہانی یعنی روئیداد مقدمات قادیانی: اس میں مرزائیوں کے مقدمہ بازی کے مفصل حالت لکھی ہے جو ۱۸۹۸ء میں مرزاقادیانی پر دائر ہوا تھا۔

۶۹… بیان للناس: مطبوعہ ۱۳۰۹ھ انصاری دہلی۔ اس میں وہ خط وکتابت ہے جو درمیان مولوی عبدالمجید دہلوی اور مولوی محمد احسن مؤلف اعلام الناس حواری مسیح قادیانی ہوئی تھی۔

۷۰… شفاء للناس: مطبوعہ ۱۳۰۹ھ انصاری دہلی۔ اس میں مولوی عبداﷲ صاحب شاہ جہانپوری نے اعلام الناس کا جواب دیا ہے اور مرزاقادیانی کی حالت پر خوب روشنی ڈالی ہے۔

۷۱… نمونہ لیاقت علمی: اس کا مضمون نام سے ظاہر ہے۔ یعنی جس طرح عبدالماجد بھاگلپوری (قادیانی) کی دیانت اور لیاقت کا نمونہ کئی رسالوں میں دکھلایا گیا ہے۔ (محمد احسن قادیانی) امروہی کی لیاقت کا نمونہ ایک ہی رسالہ میں دکھایاگیا ہے۔

۷۲… اعلاء الحق الصریح بتکذیب مثیل المسیح: اس میں بھی مرزاقادیانی کی حالت کو ظاہر کیا ہے۔ کیونکہ پہلے ان کو دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا تھا۔ اس لئے اس دعویٰ کی تکذیب کی گئی ہے۔

۷۳… الشاعۃ السنۃ ج۱۶ وغیرہ: اس کے لکھنے والے مرزاقادیانی کے خاص دوست مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔ جب تک مرزاقادیانی حد سے نہیں بڑھے۔ یہ ان کے معاون رہے۔ جب ان کے دعوے حد سے بڑھے تو پھر مولوی صاحب نے خوب خبر لی چار برس تک زور شور سے تحریریں ہوتی رہیں۔ اس کا ذکر ۱۳۱۱ھ کے جلد۱۷ میں مولوی صاحب نے کیا ہے۔ جلد۱۵ اور ۱۶ وغیرہ دیکھی جائے اس میں آتھم کے مناظرہ کی حالت بھی پوری لکھی ہے۔

۷۴… اشتہار واجب الاظہار: مرزاقادیانی نے مسلمانوں کا جلسہ کر کے یہ ظاہر کیا تھا کہ میں دعویٰ نبوت نہیں کرتا۔ مولوی مجھ پر اتہام کرتے ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی امرتسری نے اس میں ان کا دعویٰ نبوت اور توہین انبیاء ثابت کی ہے۔ اسی طرح مولوی

136

صاحب ممدوح کی متعدد تحریریں مرزاقادیانی کے دعوؤں اور ان کی غلطیوں کے اظہار میں چھپی ہیں۔

۷۵… کتاب اعجاز مسیح پر ریویو: اس میں مرزاقادیانی کے رسالہ اعجاز المسیح کی غلطیاں بطور اختصار دکھائی گئی ہیں۔ دو جز میں ہے۔

۷۶… حفاظت ایمان کی کتابیں: یہی فہرست ہے جس میں مفید مضامین بھی ہیں جو ناظرین کی خدمت میں پیش کی گئی ہے۔

۷۷… تنقیح امامت قادیانی ابطال امامت قادیانی: مولانا عبدالرحیم صاحب صادق پوری کے حکم سے چھپی ہے اور مدرسہ اصلاح المسلمین بانکی پور سے قادیانی کو مفت دی جاتی ہے۔

وہ رسالے جن میں حضرت مسیحm کی حیات کو ثابت کیا ہے

تمہید

رسائل ذیل میں حضرت مسیحm کی حیات وممات کا تذکرہ ہے اور حیات کو ثابت کیا ہے۔ اسی بحث کو مرزائی حضرات اپنی پناہ خیال کرتے ہیں اور اوّل اسی مسئلہ کو پیش کر کے ایسی باتیں بناتے ہیں کہ گفتگو کی نوبت نہ آئے۔ چونکہ مرزائی اپنے مرشد مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت ومہدویت وغیرہ ثابت نہیں کر سکتے۔ اس لئے اس فضول گفتگو کو چھیڑ کر اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر الحمدﷲ! ہماری طرف سے اس کا مسألہ (حل) بھی تیار ہے۔ البتہ ہمارے بھائیوں کو چاہئے کہ اس گفتگو میں نہ پڑیں۔ کیونکہ حضرت مسیح کی حیات (یاممات) کو مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ اسے لازم وملزوم کہنا یا موقوف علیہ ٹھہرانا محض غلط ہے اور یہ غلطی ایسی بدیہی ہے کہ کسی فہمیدہ پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ نہایت ظاہر ہے کہ حضرت مسیحm کے مرجانے سے ایسا شخص مسیح موعود کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ جس کا کذب قرآن مجید سے، صحیح حدیثوں سے، ثابت ہو اور وہ اپنے متعدد اقوال سے کاذب قرار پائے اور دوسرے ناشائستہ اقوال اس کے ایسے ہوں جو کسی بزرگ کے نہیں ہوسکتے اور مہدی اور مسیح کی تو بڑی شان ہے۔ پھرایسا شخص مسیح موعود کیسے ہوسکتا ہے؟ مگر میں برادران اسلام کی واقفیت کے لئے چند کتابوں کے نام لکھتاہوں جو حضرت مسیحm کی حیات وممات کی بحث

137

میں لکھی گئی ہیں اور مرزاقادیانی کی دلیلوں کو خاک میں ملا کر ثبوت حیات کے پایہ کو چرخ چہارم تک پہنچایا ہے۔ مرزامحمود (پسر مرزاقادیانی) لاہور میں آئے تھے۔ وہاں کی انجمن تائید اسلام نے انہیں خط لکھا کہ مرزاقادیانی کے دعویٰ کے اثبات میں گفتگو کیجئے۔ مگر صاحبزادے صاحب حضرت مسیح کی حیات وممات کا تذکرہ چھیڑ کر اور اسے مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کو لازم وملزوم کہہ کر بھاگے۔ انہیں اس کی بھی خبر نہیں ہے کہ لزوم کسے کہتے ہیں اور اس کی کتنی قسمیں ہیں اور ان دونوں میں لازم کون ہے اور ملزوم کون ہے؟ اگر صداقت کا دعویٰ ہے تو پہلے یہ ثابت کریں کہ حضرت مسیح کی موت کو مرزاقادیانی کا مسیح موعود ہونا لازم ہے یا جو مرزائی اسے موقوف علیہ کہتے ہیں وہ اپنے دعویٰ کو ثابت کریں مگر یہ بالکل غیر ممکن ہے۔ مرزامحمود تو کیا کوئی مرزائی ثابت نہیں کر سکتا۔ ’’ولوکان بعضہم لبعض ظہیرا‘‘ اور اس کا بدیہی ثبوت وہی ہے جو پہلے کہاگیا کہ حضرت مسیحm مرگئے تو ایسا شخص ان کا قائم مقام کس طرح نہیں ہوسکتا۔ جس کا کاذب ہونا متعدد وجوہ سے اظہر من الشمس ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور پہلو گریز کا نکالا ہے وہ بھی لائق ملاحظہ ہے۔

حضرات! مرزائی جب مقابلہ کے لئے مسیح کی حیات وممات کی بحث کو اپنی پناہ قرار دیتے ہیں تو ہماری طرف سے محض ان کے سمجھانے اور ان کا عجز دکھانے کے لئے بعض وقت یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے مان لیا کہ حضرت مسیحm مرگئے۔ ہم بحث میں کسی وقت حضرت مسیحm کی حیات کو پیش نہ کریں گے نہ کسی اعتراض میں نہ کسی جواب میں۔ مگر یہ حضرات ہمارے اس احسان کو بھی نہیں مانتے کہ ہم نے ان کی خاطر سے بحث کو مختصر کرنے کے لئے حضرت مسیح کی موت کو مان لیا اور اثبات موت کا بار ان پر سے ہلکا کر دیا۔ ہمارے اس کہنے کے بعد کہتے ہیں کہ وفات مسیح کو مان لینا اور فرض کر لینا کام نہیں دے سکتا۔ (یعنی جیسا کہ مرزامحمود نے لاہور میں کہا تھا) اب ان عقل کے دشمنوں سے یہ دریافت کیا جائے کہ کیوں کام نہیں دے سکتا؟ جب ہم کہتے ہیں کہ اسرائیلی مسیح کا ذکر ہم بحث میں نہ کریں گے جب تم کوئی حدیث پیش کرو گے ہم ہرگز نہ کہیں گے کہ یہ حدیث اسرائیلی مسیحm کے باب میں ہے۔ بلکہ یہ کہیں گے کہ جو علامتیں مسیح موعود کی اس حدیث میں آئی ہیں وہ مرزاقادیانی میں ثابت کرو اور جن دلیلوں سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کیاگیا ہے ان کا جواب دو۔ مگر یہ کسی مرزائی سے نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اپنا عجزپوشیدہ کرنے کے لئے یہ حیلہ نکالا کہ فرض کر لینا کام

138

نہیں دے سکتا۔ اے صاحب! کیوں کام نہیں دے سکتا۔ جب ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی اعتراض یا جواب میں حضرت مسیح کی حیات کو پیش نہ کریں گے۔ پھر کام نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ مونگیر کے مرزائیوں کو بھی اس پر بہت خوش ہوتے سنا کہ حضرت مسیح کی موت کو اب تو مانا جاتا ہے۔ پہلے تو وہ کبھی اس کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔ اے نادانو! ہمارا یہ ماننا اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم حیات مسیح ثابت نہیں کر سکتے اور مرزاقادیانی نے جو موت ثابت کر دی تو ہم اسے مان گئے۔ بلکہ محض بطور فرض ہم نے اسے مانا ہے تاکہ فضول گفتگو میں وقت ضائع نہ ہو۔ ورنہ ہمیں ماننے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کا بدیہی ثبوت یہ ہے کہ رسائل ذیل ہمارے پاس موجود ہیں۔ جن میں حیات مسیح کو ثابت کیا ہے اور کوئی مرزائی ان کا جواب نہیں دے سکا۔ ان کی فہرست ملاحظہ ہو۔

۷۸… الالہام الصحیح فی حیات المسیح: یہ رسالہ نہایت قابلیت سے مرزاقادیانی کے ابتدائی وقت میں لکھاگیا ہے۔ نہایت معقولانہ طریقہ سے حیات مسیح کو ثابت کیا ہے اور مرزاقادیانی کے دلائل کا جواب دیا ہے۔ اس کے مؤلف نہایت زور سے دعویٰ کرتے تھے کہ اگر مرزاقادیانی یا ان کے خلیفہ نورالدین نے اس کے جواب میں کچھ بھی قلم اٹھایا تو پھر ایسا ان کا رد کیا جائے گا کہ ہوش جاتے رہیں گے۔ اس رسالہ کے بعد دونوں صاحب برسوں زندہ رہے۔ مگر جواب میں قلم نہیں اٹھا سکے۔ مؤلف رسالہ مولانا ابوزبیر غلام رسول عرف رسل بابا امرتسری ہیں۔ ۱۳۱۱ھ میں چھپا ہے۔ اب گویا نایاب ہے۔ مگر الحمدﷲ! یہاں موجود ہے جس کا جی چاہے آکر دیکھے۔ (الحمدﷲ! دفتر ختم نبوت ملتان میں بھی موجود ہے)

۷۹… الفتح ربانی: یہ رسالہ اصل عربی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ اردو ۱۳۱۱ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔

۸۰… حضر الشارد فی رد ہفوات المولوی عبدالواحد الملقب بہ تشئید المبانی لرد القادیانی: اس کے مؤلف مولانا حافظ ابوعبداﷲ صاحب چھپراوی مقیم کلکتہ ہیں۔ آپ سے اور مولوی عبدالواحد صاحب مرزائی سے تحریری مناظرہ ہوا ہے۔ مرزائی صاحب بالکل ساکت ہوگئے اور مولانا نے خوب تفصیل سے جواب دیا۔ حضرت مسیحm کی حیات کو ثابت کیا۔ بڑا رسالہ ہے مگر ابھی تک طبع نہیں ہوا۔

139

۸۱… شمس الہدایۃ: یہ ۱۳۲۳ھ میں مطبع مصطفائی لاہور میں چھپا ہے۔ اس کے مؤلف مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ ہیں۔

۸۲… سیف چشتیائی: اس کا جواب مرزا سے نہ ہوسکا۔ اس رسالہ کے مؤلف بھی پیر صاحبv ہیں۔

۸۳… الحق الصریح فی حیات المسیح: ۱۳۰۹ھ میں مطبع انصاری دہلی میں چھپا ہے۔ یہ وہ رسالہ ہے جس کے دلائل کے جواب بالمقابل مرزاقادیانی نہ دے سکے اور دہلی چھوڑ کر قادیان بھاگ گئے تھے۔ اس کے مؤلف مولانا محمد بشیر احمد صاحب سہوانی ہیں۔

۸۴… البیان الصحیح فی حیات المسیح: یہ رسالہ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں چھپا ہے۔

۸۵… شہادت القرآن (باب اوّل): اس رسالہ کے اس باب میں آیات قرآنیہ سے حضرت عیسیٰؑ کی حیات ثابت کی ہے۔

۸۶… شہادت القرآن (باب دوم): اس رسالہ میں مرزاقادیانی کے دلائل ممات کو غلط ثابت کیا ہے۔ یہ باب دوبارہ لاہور میں ۱۳۳۰ھ میں چھپا ہے۔ اس کے مؤلف مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹیؒ ہیں۔ ہر ایک باب مستقل رسالہ ہے اور علیحدہ علیحدہ چھپا ہے۔ مرزاقادیانی تمام عمر اس کا جواب نہ دے سکا اور اب کوئی کیا دے گا۔

۸۷… رسالہ مذہب الاسلام: اس کے آخیر میں حیات مسیحm پر عمدہ بحث کی ہے۔ اس کا جواب بھی کسی مرزائی نے نہیں دیا۔ ۱۹۱۴ء میں چھپا ہے۔

۸۸… صحیفہ رحمانیہ نمبر۵: اس میں مولانا سید انور حسین صاحب پروفیسر کالج مونگیر نے لفظ توفی پر خوب اچھی بحث کی ہے جس سے ممات حضرت عیسیٰؑ کے ثابت کرنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی۔

۸۹… رسالہ النجم لکھنؤ جلد۱۰،۱۳: مولوی غلام سرور (قادیانی) اور مفتی صادق (قادیانی) لکھنو میں آئے تھے۔ علمائے اسلام نے مرزاقادیانی کے مہدی ومسیح موعود ہونے کے دلائل طلب کئے۔ اس سے انہوں نے بالکل گریز کیا۔ مگر حیات وممات کے مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لئے راضی ہوئے۔ مگر وہ بھی بالمقابل گفتگو نہ کر سکے اور یہ کہا کہ لکھ کر قادیان بھیج

140

دینا۔ ہم جواب دیں گے۔ مولوی عبدالشکور صاحب مدیر النجم نے نمبر مذکور میں جواب لکھ کر بھیجا مگر اس وقت تک وہاں سے کچھ جواب نہ آیا۔ مگر صاحبزادے (مرزامحمود) صاحب لاہور پہنچ کر پھر اسی مسئلہ پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ اے جناب! مدیر النجم نے تو آپ کی سب باتیں مان کر اثبات حیات پر مضمون لکھا تھا۔ اس کا جواب کیوں نہ دیا گیا۔ اس وقت مہر سکوت منہ پر کیون لگی رہی؟

۹۰… موازنۃ الحقائق: مؤلف رسالہ نے حیات وممات مسیح کے رسالے دیکھ کر بلاتعصب حاکمانہ فیصلہ کیا ہے۔ زبان فارسی میں اور حضرت مسیح کی حیات کو ترجیح دی ہے۔(مؤلفہ مولوی محمد اکبر صاحب کارخانہ پیسہ اخبار لاہور)

۹۱… درۃ الدرانی علٰی ردالقادیانی: اس میں بھی حضرت مسیح کی حیات کو ثابت کیا ہے۔ علاوہ اس کے جس قدر عقائد باطلہ ولغویات وکفریات مرزاقادیانی کے قول میں پائے جاتے ہیں اس کی تشریح اور پوری تردید عمدہ طور سے کی گئی ہے۔ (مؤلفہ مولوی محمد حیدراﷲ خاں مجددی مطبع ہاشمی میرٹھ میں چھپا ہے)

یہ چودہ رسالے اس وقت تک میرے علم میں حضرت مسیحm کی حیات وممات کے بحث میں لکھے گئے ہیں۔ پھر کسی مولوی مرزائی کی جرأت نہ ہوئی کہ ان کا جواب دے۔ مگر حضرت مسیحm کی ممات کا دعویٰ ہورہا ہے اور جب کوئی بحث کو کہتا ہے تو حیات وممات کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں ہمارے علماء نے تو اتنے رسالے اس بحث میں لکھ کر شائع کر دئیے اور مرزاقادیانی کی کتاب کا بھی جواب دے دیا۔ اب تمہیں کسی طرح حق نہیں ہے کہ بغیر ان رسالوں کا جواب دئیے اس بحث کو پیش کرو۔ اس کے علاوہ اب تو تمہارا اوّل فرض یہ ہے کہ پہلے ان الزامات کو اٹھاؤ جو مرزاقادیانی پر کئے گئے ہیں اور مذکورہ رسالوں میں مندرج ہیں۔ جن سے قطعی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ بموجب قرآن وحدیث مرزاقادیانی کاذب ہیں اور خود ان کے پختہ اقرار انہیں جھوٹا اور ہربد سے بدتر ثابت کرتے ہیں۔ ان الزاموں کے اٹھانے کے بعد قرآن وحدیث سے ان کے دعویٰ نبوت کو ثابت کیجئے۔ مگر میں قطعی پیش گوئی کرتا ہوں کہ یہ کسی مرزائی سے نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ نے ان کے کاذب ہونے کا فیصلہ کر دیا ہے اور وہ اپنی زبان سے کاذب ٹھہر چکے ہیں۔ اب جو کوئی ان کی صداقت میں قرآن مجید کی کوئی آیت پیش کرے اسے بالیقین سمجھو کہ فریب دیتا ہے یا جاہل

141

ہے۔ آیت کے مطلب کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ یہ غیرممکن ہے کہ جس کے کذب کا فیصلہ خود کلام الٰہی کر چکا ہو۔ جس کا کذب بدیہی طور سے دنیا پر ظاہر ہوگیا ہو۔ پھر وہی کلام بھی دوسرے مقام پر اسے صادق ٹھہرائے۔ آسمان وزمین ٹل جائیں مگر یہ نہیں ہوسکتا۔

مسلمانو! اس پر غور کرو کہ ۹۱کتابیں (اور اب تو ۲۰۰۱ء میں ۱۵۰۰ سے بھی زائد) مرزاغلام احمد قادیانی کے کذب کے ثبوت میں ہمارے علماء نے لکھی ہیں ان میں سے بہت کتابیں مرزاقادیانی کی زندگی میں لکھی گئی ہیں اور باوجودیکہ وہ بڑے لکھنے والے تھے اور اس قدر لکھنے میں منہمک ہوتے تھے کہ نماز کی بھی پرواہ نہیں رکھتے تھے۔ مگر ان کا جواب نہ دے سکے۔ ان کے خلیفہ اوّل بھی عاجز رہے۔ اس واقعہ سے ہرایک مسلمان سمجھ سکتا ہے کہ یہ کتابیں لاجواب ہیں اور مرزاقادیانی کا کاذب ہونا قطعی اور یقینی ہے بایں ہمہ اگر کوئی مرزائی کسی مسلمان کے دل میں شبہ ڈالے، اسے چاہئے کہ ان کتابوں کو اچھی طرح دیکھے۔ اگر پھر بھی شبہ رہے تو بالضرور ہمیں اطلاع دے۔ ان شاء اللہ ! یہاں سے اس کا کافی جواب دیا جائے گا اور ان کی تسلی کر دی جائے گی۔

مکرر التماس! میں محض خیرخواہانہ فہرست شائع کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اسے آپ دیکھیں گے اور ان کتابوں کو منگوائیں گے اور اشاعت کی کوشش کر کے اس کا ثواب عظیم حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہمیشہ توفیق خیر عنایت کریں۔ آمین!

راقم: خاکسار محمد اسحاق خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پور مونگیر

مورخہ ۲۶؍شوال یوم پنج شنبہ۱۳۲۳ھ

آخری التماس از مشتہر موصوف

میں نے آپ کے روبرو ان کتابوں کی فہرست پیش کی ہے کہ اگر آپ خالی الذہن ہو کر ان کو دیکھیں گے تو اس جدید فتنہ سے آپ کا ایمان محفوظ رہے گا۔ اب میں ان کی خدمت میں التماس کرتا ہوں جو مرزاقادیانی کی بعض باتوں کو قانون قدرت کے موافق خیال کر کے ان کی سب باتوں پر ایمان لے آئے۔ وہ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی جھوٹا کبھی سچ نہیں بولتا اور کوئی عمدہ بات نہیں کہتا؟ مجھے ہر عقلمند سے امید ہے کہ اس سے انکار نہ کریں گے۔ اس لئے ضرور ہے کہ مدعی نبوت ورسالت کے دعویٰ کی تصدیق اسی وقت کرنی چاہئے کہ جب وہ اپنے خاص

142

دعویٰ میں سچا ہو۔ مرزاقادیانی تو اپنے دعویٰ میں کسی طرح صادق نہیں ہوسکتے۔ اس کے نہایت کافی وجوہ ان رسالوں میں لکھے گئے ہیں جن کی فہرست میں پیش کرچکا ہوں۔

ختم شد التماس!

ضمیمہ فہرست مذکور جو دوسرے مقامات سے نقل کیاگیا ہے بہ ترتیب سلسلہ مذکورہ اصل فہرست۔

۹۲… حدیبیہ والی پیشین گوئی کی صداقت:

۹۳… اعلان الحق از ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب:

۹۴… بقیہ نمبرہائے الذکر الحکیم علاوہ نمبرہائے مذکورہ فہرست:

۹۵… ہدیہ عثمانیہ:

۹۶… ہدیہ ناظرین منصف مزاج:

۹۷… شہاب ثاقب:

۹۸… ایک ہمدرد مخلص کی فریاد:

۹۹… القول الصحیح فی مکائد المسیح:

۱۰۰… مرزائی جماعت کا تنزل:

۱۰۱… مسیح قادیانی کے جھوٹے الہامات:

۱۰۲… مسیح قادیان کا عالم برزخ میں واویلا:

۱۰۳… عبرت خیز:

۱۰۴… حیات مسیح:

۱۰۵… اشتہار مرزا محمود کی تشریف آوری:

۱۰۶… جماعت احمدیہ سے خیرخواہانہ گزارش:

۱۰۷… مسیح قادیان اور توہین انبیاء ذی شان:

۱۰۸… اسلامی اعلان:

۱۰۹… تبلیغ رحمانی:

۱۱۰… الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح از احقر:

143

۱۱۱… بعضے پرچے اخبار اہل سنت والجماعت امرتسر:

۱۱۲… تغلیط منہاج نبوت قادیانی:

تمت الضمیمہ

تنبیہ

۱… فہرست مذکوروضمیمہ مذکورہ کی بعض کتب کی نسبت مااخذ میں غیرمطبوع لکھا ہے۔ اب کا حال معلوم نہیں۔

۲… بہت سی کتابیں اور بعض کے ملنے کا پتہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر محلہ مخصوص پور مولوی محمد اسحاق صاحب سے ملے گا اور بعض کا اور مختلف مقامات سے۔ مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مگر ان حضرات سے اوّلاً ہی بھیجنے کی درخواست نہ کی جائے۔ بلکہ جوابی کارڈ پر دریافت کیا جائے کہ اگر آپ کو معلوم ہوتو فلاں کتاب کے ملنے کا پتہ بتلادیجئے۔

تسہیل فی المشورہ: اگر سب کتابوں کا جمع کرنا یا دیکھنا دشوار ہو تو رسائل ذیل تو ضروری دیکھ لینا اور پاس رکھنا چاہئیں۔

ان رسائل کے نام مع خلاصہ مضمون

۱… مسیح کاذب: اس میں ۲۴کذب فاحش مرزاقادیانی کے ہیں۔

۲… معیار المسیح: ان آیتوں کی شرح جن سے مرزائی مرزاقادیانی کا صدق ثابت کرتے ہیں اور اسی میں ان کے خطوط منکوحہ آسمانی کے باب میں قابل ملاحظہ ہیں۔

۳… ابطال اعجاز مرزا: قابل ملاحظہ اہل علم قصیدہ اعجازیہ کے اغلاط دکھلائے ہیں۔

۴… اشتہار مرزا محمود کی تشریف آوری: اس میں ختم نبوت کے دلائل اور خاتم النّبیین کی تفسیر ہے۔

۵… جماعت احمدیہ سے خیرخواہانہ گزارش: اس مختصر تحریر میں مرزاقادیانی کے اکاذیب متعدد دکھلائے ہیں۔

۶… شہادۃ القرآن مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی: حضرت عیسیٰؑ کا اثبات حیات۔

۷… صحیفہ رحمانیہ نمبر۴: لارڈ ہیڈلے کے اسلام کی تحقیق۔

۸… صحیفہ رحمانیہ نمبر۵: ختم نبوت وتوفی۔

144

۹… صحیفہ رحمانیہ نمبر۶،۷: دعویٰ نبوت وجواب دلائل وفات۔

۱۰… فیصلہ آسمانی حصہ اوّل: منکوحہ آسمانی کی کامل بحث ہے اور آخر میں توفی کی تحقیق۔

۱۱… فیصلہ آسمانی حصہ دوم: اس میں قطع وتین کی بحث اور مدعیان کاذب کا مدت دراز تک ہلاک نہ ہونا۔

۱۲،۱۳… شہادت آسمانی حصہ اوّل ودوم: اس میں خسوف وکسوف رمضان المبارک کے اجتماع سے استدلال کا بہت اچھا جواب ہے۔

۱۴… الذکر الحکیم کے سب نمبر:

۱۵… اعلان الحق:

۱۶… مسیح دجال:

۱۷… النجم الثاقب: اس میں بعض اکاذیب مرزاقادیانی کے بیان کئے گئے ہیں۔

۱۸… معیار صداقت: نکاح والی پیشین گوئی کے جواب۔

۱۹… حفاظت ایمان کی کتابیں: اس میں ان کتابوں کا تذکرہ ہے جن کا پاس رکھنا نہایت ضروری ہے۔

۲۰… عصائے موسیٰ: از منشی الٰہی بخش صاحب یہ پہلے معتقد تھے۔

ذیل کی پانچ تحریریں جو نہایت مختصر ہیں۔ ان کا تو پاس رکھنا ہر شخص کو بہت ہی آسان ہے۔ وہی ہذہ!

۲۱… جماعت احمدیہ سے خیرخواہانہ گزارش: اس میں مرزاغلام احمد قادیانی کے حالات اور اکاذیب کا بیان ہے۔

۲۲… مسیح قادیان کا عالم برزخ میں واویلا: اس میں مرزاقادیانی کے متعلق عبرتناک خواب ہیں۔

۲۳… مسیح قادیان اور توہین انبیاء ذیشان: مضمون کے نام سے ظاہر ہے۔

۲۴… اسلامی اعلان: اس میں مختصراً مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ اور عقائد اور علماء کرام کا فتویٰ اور قادیانی مشن کے مبلغین کی اور ان کے اخباروں کی فہرست اور رسائل ردمرزاقادیانی کی فہرست معہ قیمت اور بعض رسائل ردمرزاغلام احمد قادیانی کی فہرست جن کا جواب نہیں ہوسکا اور مرزاقادیانی کی درخواست چندہ۔ توسیع مکان کے متعلق مرزاقادیانی

145

کے بڑے بھائی کی طرف ایک خط اور صفحہ آخر میں کچھ اقوال جو بیخ کن اسلام ہیں۔ اس مقام پر فصل سوم کے عنوان سے ان پانچ تحریروں میں سے صرف تحریر اوّل کو بعینہٖ نقل کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

فصل فالث درنقل مضمون معنون جماعت احمدیہ سے خیرخواہانہ گزارش

اور مسیح قادیانی کی حالت کا بیان از مولانا ابواحمد صاحب رحمانی مونگیر

ہم نے نہایت خیرخواہی سے تمام مسلمانوں کو اور خصوصاً جماعت احمدیہ کو مرزاقادیانی کی حالت سے آگاہ کیا اور متعدد رسالے لکھ کر ان کے سامنے پیش کئے۔ مگر افسوس ہے کہ مرزائی جماعت کچھ توجہ نہیں کرتی اور ان کے سرکردہ ہمارے رسالوں کو دیکھنے نہیں دیتے اور ایک یقینی جھوٹے کی پیروی میں سرگرم ہے اور نہایت ناجائز طریقوں سے جھوٹ کی اشاعت میں کوشاں ہے اور کچھ خیال نہیں کرتی کہ دنیا میں بہت تھوڑے دن رہنا ہے۔

سخت حیرت یہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنے اعلانیہ جھوٹ اور فریب چھپانے کے لئے خداتعالیٰ پر جھوٹ اور فریب کا الزام لگاتے ہیں اور یہ خوشی سے مان رہی ہے۔ ان کے مولوی نہایت غلط اور شرمناک باتوں کو مرزاقادیانی سے الزام اٹھانے کے لئے اعلانیہ پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے خدا پر الزام آئے گا اور شریعت الٰہی بے کار ہو جائے گی۔ مگر ان کی اس بے رخی اور بے اعتنائی کے ساتھ بھی ہم ان کی خیرخواہی سے باز نہیں رہ سکتے اور مخلوق خدا کو اس عظیم الشان گمراہی سے بچانے کے لئے مستعد ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے اور بھائیوں کو بھی مستعد کرے۔ اس تحریر میں ہم خاص طور سے مرزاقادیانی کی کذب بیانی دکھانا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ملتجی ہیں کہ وہ ہادی، مطلق مرزائی جماعت کو ہدایت کرے اور راست بازی اور حق پسندی کا جوش ان کے دل میں عنایت فرمائے۔ پہلے اس کو اپنے ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ہمارا مذہب مقدس اسلام ایسا عالی مرتبہ ہے کہ راستی وسچائی کا بڑا جزو ہے۔ ہمارے نبی کریم سید المرسلین خاتم النّبیینa نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ کیسا پیارا اور سچا مقولہ ہے جس کی خوبی اور صداقت پر ایک انسان شہادت دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ برگزیدہ اسلامی صفت، مرزائیوں کے مرشد میں نہیں پائی جاتی اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت اس سے بہت دور ہے اور ناراستی اور بے باکی ان کی سرشت میں سرایت کر گئی ہے۔ پھر

146

ایسے شخص کو مقدس اور بزرگ ماننا اسلام کی ہتک کرنا اور ارشاد نبوی کو پامال کرنا ہے۔ جس میں حدیث رسول اللہ a کے بموجب اسلام کا جزو اعظم نہ پایا جائے۔ اسے بزرگ اور مسیح موعود سمجھنا اور تمام اولیائے کرام سے اسے افضل بنانا کس قدر اسلام پر اور کاملین اسلام پر مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع دینا ہے۔ مخالفین علانیہ کہیں گے کہ جس مذہب کے بڑے بزرگ جنہیں خواجہ کمال (قادیانی) لکچرار تمام اولیائے امت سے افضل قرار دیں اور ایک جماعت کے مفروض الطاعۃ امام میاں محمود (قادیانی) انہیں خدا کا رسول بتائیں وہ ایسے جھوٹے اور کذاب ہوں پھر اور اولیائے امت کا کیا حال ہو گا اور تمام شریعت الٰہی کے معتبر ہونے کی کیا وجہ ہوگی؟ حیرت یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو جھوٹ بولنے میں اس قدر جرأت ہے کہ نہایت بے اصل اور اعلانیہ جھوٹ کو اس قدر زور اور دعوے سے بیان کرتے ہیں کہ ناواقف کے ذہن میں اس کی صداقت اثر کر جاتی ہے اور اس کے جھوٹے ہونے کا خطرہ بھی اسے نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سادہ لوحوں اور کج طبیعت حضرات نے انہیں مان لیا اور ماننے کے بعد اس میں سرشار ہوگئے اور بہتوں کو تنخواہیں ملنے لگیں۔ بعض کو بات کی پچ لگ گئی اور ابن الدنیا کے پیرو ہوگئے۔ اب مرزاقادیانی کی ناراستی اور کذب بیانی کا نمونہ ملاحظہ ہو۔

ذرا اس صحیفہ کا پہلا نمبر ملاحظہ کیجئے کہ اس میں کئی جھوٹ مرزاقادیانی کے بیان ہوئے اور کئی پیش گوئیاں جو انہوں نے اپنی سخت مخالفت کے مقابلہ میں کی تھیں وہ جھوٹی ہوئیں۔ پیام صلح والے (لاہوری مرزائی) اور محمودی پارٹی (قادیانی) آنکھیں کھول کر دیکھے اور انہیں شمار کرے اس نمبر کے شروع میں سات کتابوں کے نام لکھ کر یہ بتایا ہے کہ پہلے رسالہ میں ۱۵۹جھوٹ وفریب مرزاقادیانی کے دکھائے ہیں اور دوسرے میں ۶۹ اور تیسرے میں ۹۰ اور چوتھے میں ۴۵ اور پانچویں میں ۴۲ اور چھٹے میں ۲۴ اور ساتویں میں ۱۷۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے مقابلہ کی معرکۃ الآراء پیش گوئی کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے اور اس سے کئی جھوٹ مرزاقادیانی کے ثابت کئے ہیں۔ انہیں دیکھئے:

۱… ان (مرزاقادیانی) کا یہ کہنا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم میرے روبرو ہلاک ہوگا۔

۲… دنیا میں وہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔

۳… میں اس کی زندگی میں ہرگز نہ مروں گا۔ میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔

۴… ڈاکٹر عبدالحکیم مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔

147

یہ چاروں باتیں مرزاقادیانی کی جھوٹی ثابت ہوئیں اور اپنے اقرار سے لعنت کی موت سے مرے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کو مرے ہوئے آٹھ برس ہوگئے اور ڈاکٹر صاحب نہایت خیروخوبی سے اب تک بیٹھے ہوئے تالیف کر رہے ہیں اور مرزاقادیانی کے کذب کو دکھا رہے ہیں۔ اسی صحیفہ کے آخری صفحہ میں تین پیش گوئیوں کا جھوٹا ہونا دکھایا ہے۔ غرض کہ سات جھوٹ اور چار جھوٹی پیش گوئیاں دکھائی گئی ہیں۔ اب ان کو سابقہ رسائل والے جھوٹوں کے ساتھ شمار کر لیجئے اور جمع کیجئے کہ کتنے سو جھوٹ ہوئے؟ اور پھر تھوڑی سی عقل کو دخل دیجئے کہ جھوٹ ایسا جرم ہے کہ اگر ایک جھوٹ بھی کسی کا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہتا اور جو ایسا جھوٹ بولے جس سے خدا پر الزام آئے تو حسب ارشاد خداوندی وہ جھوٹا ہے۔ مرزاقادیانی نے تو ہر قسم کے جھوٹ بولے ہیں۔ پھر ایسا جھوٹا شخص مسیح موعود مانا جائے حیرت ہے۔ یہی حضرت ہیں جنہیں خواجہ کمال (مرزائی) مسیح موعود اور تمام اولیاء اللہ سے افضل مانتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی مدح میں یہ مصرعہ پڑھتے ہیں۔

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

کہتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔ غیر معتبر اور جھوٹا ہونے کے لئے ایک جھوٹ کا ثبوت کافی ہے اور یہاں تو دوورق میں اس قدر جھوٹ ثابت کردئیے گئے اور دکھایا گیا کہ مرزاقادیانی مسیح موعود تو کیا ہوتے صلحاء اور راست باز جماعت میں بھی ان کا شمار نہیں ہوسکتا اور مونگیر سے لے کر بنگال اور حیدرآباد تک اور حیدرآباد سے قادیان اور لاہور اور پشاور تک ہزاروں دو ورقے شائع کردئیے۔ مگر کسی قادیانی کی مجال تو نہ ہوئی کہ جواب دے۔ اگر ہم نے غلط کہا ہے تو مرزائی جواب دیں۔ مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ اس صحیفہ کے نمبر۲ میں دوسرے طریقہ سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے۔ یعنی احادیث صحیحہ سے یہ دکھایا گیا ہے کہ شریعت محمدیہa میں انبیاء کی توہین تحقیقاً اور الزاماً کسی طرح جائز نہیں ہے اور مرزاقادیانی نے اس ناجائز فعل کا ارتکاب بڑی شدومد سے کیا ہے اور انبیاء کرام کی سخت توہین کی ہے جس سے وہ علانیہ دائرہ اسلام سے علیحدہ معلوم ہوتے ہیں اور اس توہین میں اپنی عادت مستمرہ کے بموجب محض جھوٹی باتیں کہی ہیں۔

مثلاً مسیح کی نسبت لکھا ہے کہ: ’’حق بات یہ ہے کہ ان سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

148

ملاحظہ ہو یہ وہ جھوٹ ہے جس کی شہادت کلام الٰہی دیتا ہے اور ارشاد خداوندی سورۂ بقرہ کے دسویں رکوع میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات دئیے اور سورۂ مائدہ میں ان معجزات کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

اب مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا، کیسا صریح جھوٹ ہے؟ اور یہ جھوٹ الزاماً نہیں بولا ہے بلکہ ان کا یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے۔ بخوبی ثابت کرتا ہے کہ اس امر میں ان کے نزدیک جو امر حق ہے اسے بیان کیا ہے۔ اب ان کا حضرت مسیح کے معجزات سے انکار کرنا اور اس انکار کو حق بات کہنا، قرآن مجید کی آیات مذکور سے صریح انکار ہے۔ مگر چونکہ مسلمانوں کو فریب دینا ہے اس لئے صاف انکار نہیں کرتے۔ باتیں بنا کر فریب دیتے ہیں۔ مولوی عبدالماجد مرزائی سے اسی پر گفتگو ہوئی تھی اور مولانا محمد عبدالشکور صاحب (لکھنویؒ) نے انہیں ایسا عاجز اور ساکت کر دیا کہ وہ اپنے عجز کے خود مقر ہوگئے اور تمام حاضرین جلسہ نے اس کا معائنہ کر لیا۔ اسی صحیفہ میں ایک جھوٹ یہ بھی دکھایا ہے کہ حضرت مسیح کی نسبت لکھتے ہیں: ’’آپ کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

برادران اسلام! ایک اولوالعزم نبی کی شان کو خیال کریں اور مرزاقادیانی کی اس گستاخی اور بے ادبی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت عیسیٰؑ وہ عالی مرتبہ پیغمبر ہیں، جن کی عظمت ورسالت اور معجزات اور تقرب الٰہی کا ذکر قرآن مجید میں غالباً دس جگہ آیا ہے۔ ان کی نسبت مرزاقادیانی کا قول ہے کہ ان کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے کچھ نہ تھا۔ یہ کیسی صریح ان آیات کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ پر الزام ہے جن میں ان کی عظمت ورسالت بیان ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرماتے ہیں: ’’واٰتینا عیسی ابن مریم البینٰت وایدنٰہ بروح القدس (البقرۃ:۸۷)‘‘ {ہم نے عیسیٰ کو معجزے دئیے اور روح القدس کے ذریعہ سے ان کی مدد کی۔} بعض مقام پر ان کی تعریف اس طرح فرمائی: ’’وجیہاً فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘ {عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں جہان میں صاحب وجاہت اور مقبولان خدا سے ہے۔}

برادران اسلام! ملاحظہ کریں کہ جن کی برگزیدہ صفات اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں بیان فرمائے۔ ان کی نسبت مرزاقادیانی نہایت بے باکی سے یہ لکھتے ہیں کہ: ’’ان کے

149

ہاتھ میں سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہ تھا۔‘‘ یہ کیسی صریح تکذیب ہے کلام الٰہی کی کسی مسلمان کو ایسی جرأت نہیں ہوسکتی۔ یہ کہنا کہ الزاماً ایسا کہا ہے۔ محض جہالت یا فریب دہی ہے۔ اوّل تو انبیاء کی نسبت ایسی گستاخیاں تحقیقاً اور الزاماً ہر طرح منع ہیں۔ حدیث سے ثابت کر دیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ الزام دینے کا یہ طریقہ ہرگز نہیں ہے۔ اہل علم اسے خوب جانتے ہیں۔ یہی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کو مذہب سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ البتہ مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے اپنے آپ کو اسلام کا مطیع کہتے تھے اور قرآن وحدیث سے استدلال پیش کرتے تھے مگر اس میں ایسی تحریف کرتے تھے جسے اہل علم ہی خوب سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی دلی خواہش کو مسلمانوں سے منوانے کے لئے قرآن مجید کو پیش کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے ہمارا مدعا ثابت ہے۔ ان باتوں کے علاوہ اس تحریر میں اور بھی جھوٹ وفریب بیان ہوئے ہیں۔ ناظرین اس نمبر کو ملاحظہ فرمائیں۔ اب یہاں دوسرے قسم کے جھوٹ آپ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔

مسیح قادیان کے بعض اعلانیہ جھوٹ

جن میں بعض وہ بھی ہیں جو کئی برس ہوئے دکھا کر جواب طلب کیاگیا تھا۔ مگر اب تک یہاں سے قادیان تک سب کا ناطقہ بند ہے۔ جواب سے عاجز ہیں۔ مگر سخت افسوس ہے ان کے حال پر، کہ ایسے علانیہ جھوٹ دیکھ کر بھی اس کی پیروی سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ مقابلہ پر کبھی دم بخود ہو جاتے ہیں۔ کچھ نہیں کہتے۔ کبھی کہتے ہیں کہ حوالہ غلط ہے۔ پوری عبارت نہیں لکھی گئی۔ اصل کتاب دکھاؤ۔ چونکہ جانتے ہیں کہ ہر وقت ہر شخص کے پاس کتاب موجود نہیں رہتی۔ اس لئے ٹالنے کے لئے ایسا کہہ دیتے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ جو حوالے ہم نے مرزاقادیانی کی کتاب سے دئیے ہیں اگر مرزاقادیانی کی کتاب میں یہ مطلب نہ ہو تو ہم مجمع میں اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کریں گے اور ہر غلط حوالہ کے عوض ہزار روپے دینے کو موجود ہیں۔ اگر حوالہ غلط نہ ہو اور جو مطلب ہم نے ثابت کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہو تو تمہیں مرزاقادیانی کو جھوٹا ماننا ہوگا۔ میں تمام برادران اسلام سے کہتا ہوں کہ جب کوئی مرزائی ہمارے حوالہ پر الزام لگائے اس سے یہی کہیں اور نہایت زور سے کہیں اب مرزاقادیانی کے جھوٹوں کا نمونہ ملاحظہ ہو۔

150

پہلا جھوٹ:

مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری… اور مولوی محمد اسماعیل صاحب علی گڑھی نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا۔‘‘(اربعین نمبر۳ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴)

یہ مرزاغلام احمد قادیانی کا صریح کذب ہے۔ ان دونوں حضرات نے ایسا کہیں نہیں لکھا۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے تو بتائے کہ کہاں اور ان کی کس کتاب میں ہے؟ دعاوی مرزاقادیانی میں یہ بھی استفتاء کیاگیا ہے اور مجیب کے لئے پانچ سو روپے کا اشتہار دیا ہے اور یہ رسالہ صحیفہ رحمانیہ سے بہت پہلے چھپا ہے۔ پھر صحیفہ رحمانیہ نمبر اوّل میں اس جھوٹ کو دکھایا گیا ہے۔ صحیفہ صفر ۱۳۳۲ھ میں چھپا ہے اور اب ۱۳۳۵ھ ہے۔ (اور اب ۱۴۲۱ھ ہے) مگر اس وقت تک کوئی مرزائی اس جھوٹ کے داغ کو مٹا نہیں سکا اور نہ قیامت تک مٹا سکتا ہے۔

دوسرا جھوٹ:

لکھا ہے کہ: ’’جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے مقابلہ میں آئے خداتعالیٰ نے سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘(اخبار بدر مورخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۹ ص۹۹)

یہ دعویٰ بھی محض غلط اور سراسر جھوٹ ہے۔ صوفی عبدالحق صاحب کے سوا کسی سے مرزاقادیانی نے مباہلہ نہیں کیا اور صوفی صاحب اب تک زندہ موجود ہیں اور مرزاقادیانی کو ہلاک ہوئے آٹھ برس ہوگئے۔ مگر مریدوں کی کذب پرستی کا یہ حال ہے کہ اپنے مرشد کے اس جھوٹے دعوے کو سچ مان کر بڑے زور سے اب تک یہی دعویٰ کررہے ہیں۔

چنانچہ لکھا ہے کہ: ’’کئی ایک مخالفین بالمقابل کھڑے ہوکر اور مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔‘‘(۲۱؍دسمبر ۱۹۱۶ء، پیغام صلح)

اب دیکھا جائے کہ یہ کیسا اعلانیہ جھوٹ ہے۔ مگر کاذب کی پیروی نے دل کو تاریک اور عقل وہوش کو بے کار کر دیا کہ متنبہ کرنے کے بعد بھی واقعی بات کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس دعویٰ کا جھوٹا ہونا ۱۹۱۳ء میں صحیفہ رحمانیہ نمبر۱ میں دکھایا گیا ہے۔ بایں ہمہ ۱۹۱۶ء میں کس جرأت سے لکھتے ہیں کہ مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔ اگر اور کچھ نہیں دیکھا تھا اور مرزاقادیانی کے جھوٹ کو بھی وہ سچ سمجھتے تھے تو صوفی عبدالحق صاحب کو بھی انہوں نے دیکھایا سنا نہ تھا کہ مباہلہ کرنے والے اس وقت تک زندہ امرتسر میں موجود ہیں۔ پھر ایسا اعلانیہ جھوٹ بولتے انہیں شرم نہیں آئی اور یہ بھی خیال نہیں کیا کہ باوجود اس شوروغل کے تمام عمر میں ایک صوفی صاحب سے مباہلہ کی نوبت

151

آئی اور ان کی زندگی میں مرزاقادیانی ہلاک ہوئے اور اس سے اہل حق کی صداقت پر مہر لگا گئے۔ اب اس اعلانیہ سچے واقعہ کے خلاف بیان کرنا کسی صاحب شرم وحیاء کا کام ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ خواجہ کمال (مرزائی) کی پارٹی کا جھوٹ ہے جو اشاعت اسلام کا دعویٰ کر کے مسلمانوں سے روپیہ بٹور رہے ہیں۔

لطف یہ ہے کہ ۱۷؍جنوری ۱۹۱۷ء کے اہل حدیث میں ان مباہلین کے نام دریافت کئے ہیں جو مرزاقادیانی سے مباہلہ کر کے مر گئے تو بڑی جرأت سے تاریخ مذکور کے پیغام صلح میں ان پانچ شخصوں کے نام بتائے جنہوں نے مرزاقادیانی سے کسی وقت مباہلہ نہیں کیا۔ البتہ جس طرح دنیا کے بہت لوگوں نے مرزاقادیانی کے سامنے انتقال کیا اسی طرح ان پانچوں صاحب نے انتقال کیا مگر اس جماعت کے کذب کی پیروی اور راستی اور سچائی سے بیزاری قابل ملاحظہ ہے کہ باوجودیکہ اپنا اور اپنے مرشد کا جھوٹ معلوم کر چکے۔ مگر عوام ناواقفوں کے سامنے مجمع کر کے اپنی سچائی دکھانا چاہتے ہیں اور پانچ شخصوں کا نام گناتے ہیں۔ تاکہ ناواقف یہ سمجھیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مباہلہ کیا اور مر گئے۔ حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔ ان لوگوں نے مباہلہ نہیں کیا۔ یہی حضرات اشاعت اسلام کا دعویٰ کر رہے ہیں؟ اور مسلمانوں سے چندہ مانگتے ہیں اور ہمارے سیدھے سادھے مسلمان انہیں سچا سمجھ کر چندہ دے رہے ہیں۔

تیسرا جھوٹ:

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’ضرور تھا کہ قرآن کریم اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئیے جائیں گے۔‘‘(اربعین نمبر۳ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴)

یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ قرآن وحدیث میں کہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف حدیثوں میں آیا ہے کہ امام مہدی اور مسیح جب آئیں گے تو مسلمانوں کے دلوں میں ان کی محبت اس قدر ہوگی کہ ہر وقت ان کا ذکر کریں گے اور بلا ان کی خواہش کے بیعت ان سے کرنا چاہیں گے اور کریں گے۔ ملاحظہ ہو: ’’البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان‘‘

مرزاقادیانی نے مذکورہ قول میں تین باتیں قرآن اور حدیث کی طرف منسوب کی ہیں:

۱… یہ کہ علماء کے ہاتھ سے مسیح موعود دکھ اٹھائے گا۔ یعنی اسے ماریں پیٹیں گے۔

152

۲… اسے کافر قرار دیں گے۔

۳… اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔

اور یہ تینوں باتیں قرآن وحدیث کی طرف منسوب کی ہیں یعنی قرآن مجید میں یہ تینوں باتیں آئی ہیں اور حدیث میں بھی۔ مگر یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں نہ قرآن میں ان دعوؤں کا پتہ ہے اور نہ حدیث میں۔ اس لئے یہ چھ جھوٹ ہوئے۔ اب جس کو ان کے سچے ہونے کا دعویٰ ہے وہ قرآن وحدیث سے ثابت کرے ورنہ خدا سے ڈرکر ایسے جھوٹے سے علیحدہ ہو جائے۔ آٹھ جھوٹ تو یہ ہوئے۔ اب نواں جھوٹ دیکھئے۔

نواں جھوٹ:

مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’ہمارے نبی کریمa کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔‘‘ (قادیانی اخبار البدر مورخہ ۲۴؍نومبر، یکم؍دسمبر ۱۹۰۴ء، ملفوظات ج۷ ص۲۴۷)

دیکھئے یہ کیسا بے تکا جھوٹ ہے۔ا ب قادیانی پارٹی یا لاہوری پارٹی کوئی اپنے مقتداء کی صداقت ثابت کرے اور کوئی معتبر روایت اس مضمون کی دکھائے۔ یہ اس قسم کے جھوٹ ہیں جن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی جھوٹ بولنے میں ایسا بے باک تھا کہ جب جو جی چاہا ہے کہہ دیا۔ اب خیال کیا جائے کہ جو شخص ایسا اعلانیہ جھوٹ بولے جو تھوڑی سی تحقیق سے معلوم ہوسکتا ہے اس کے اس قول کو کہ مجھے یہ وحی والہام ہوا ہے کون سی عقل باور کر سکتی ہے؟

دسواں جھوٹ:

۱۲؍اگست ۱۹۰۷ء کو مرزاقادیانی نے اشتہار دیا تھا جس کی سرخی تھی ’’عام مریدوں کے لئے ہدایت‘‘ اس میں لکھا ہے کہ: ’’آنحضرتa نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔‘‘

یہ قول بھی حضور سرور انبیاءm پر افتراء ہے۔ اس افتراء کی ضرورت مرزاقادیانی کی یہ پیش آئی کہ قادیان میں جب طاعون آیا تو مرزاقادیانی باہر بھاگے۔ اس لئے اس بھاگنے کو حضورa کا حکم ظاہر کرنا چاہتے ہیں اب اگر سچا ماننے والوں کو کچھ غیرت ہو تو کسی حدیث کی کتاب سے کوئی معتبر روایت اس مضمون کی دکھائیں مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں دکھا سکتے۔

گیارھواں جھوٹ:

مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی

153

ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ: ’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے کہ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ میں ہے۔‘‘ (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)

اس مضمون کو بخاری کی روایت بتانا بھی اس کی شہادت دیتا ہے کہ مرزاقادیانی کی طبیعت میں اختیار اور راست بازی کا بالکل خیال نہ تھا جو دل میں آگیا۔ وہ زور سے بیان کردیا اور جس کی طرف چاہا اس کی طرف اس خیال کو منسوب کر دیا۔ اگر اتفاقیہ سچ ہوگیا تو مدعا حاصل ورنہ باتیں بنانا کچھ مشکل نہیں ہیں اور ماننے والے ہر طرح مان ہی لیتے ہیں۔ عیاں راچہ بیان۔ مرزاقادیانی کے مرید اس کی کامل شہادت دیتے ہیں۔ اگر میں غلط کہتا ہوں تو تمام دنیا کے مرزائی مل کر تلاش کریں اور بخاری کی اس روایت کو دکھائیں۔

اے مرزائیو! کچھ تو سوچو اور اگر اب تک غفلت میں تھے تو اب سوچو کہ ایسے شخص کے منہ پر دعویٰ نبوت اور مسیحیت اور مہدویت وافضل الامۃ ہی نہیں بلکہ قمرالانبیاء اور افضل من عیسیٰ روح اللہ ہونے کا زیب دیتا ہے جو اس قدر دلیر جھوٹا ہو؟ بخاری شریف مسلمانوں کی ایک مشہورومعروف کتاب ہے۔ تمام احمدی (قادیانی) مل کر اور جمع ہوکر، بتائیں کہ بخاری کے کس باب میں یہ حدیث ہے؟ اور اگر نہ بتاسکیں تو بس اب توبہ کرنے میں کیوں دیر کرتے ہیں؟ یہ تو وہ جھوٹ ہیں جن میں نہ کوئی الہام کی غلط فہمی کام آسکتی ہے نہ کوئی شرط لگ سکتی ہے۔ نہ ’’یمح اللہ ماشاء اللہ ویثبت‘‘ کا پیچ چل سکتا ہے نہ یعد ولا یوفی کام دے سکتا ہے نہ چاند اور سورج کا گہن اس کو سچا کرسکتا ہے۔ کیا اسی نبی کی نبوت کی آسمان اور زمین نے شہادت دی تھی؟ اسی کی نبوت قرآن وحدیث سے ثابت کرتے ہو۔ آخر خدا نے انسان بنایا ہے کچھ تو غوروفکر سے کام لو۔ کیا مرنا نہیں ہے۔ کیوں مخالفین اسلام کو ہنساتے ہو اور ان کی تعداد کو بڑھاتے ہو؟

بارھواں جھوٹ:

مرزاقادیانی نے اپنی مدح میں ایک پیش گوئی گھڑی ہے اور اسے حدیث رسول اللہ a ٹھہرایا ہے۔ لکھتا ہے کہ: ’’واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرتa کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

154

یہ پیشین گوئی کسی حدیث میں نہیں آئی۔ مرزاقادیانی نے جاہلوں کے بہکاوے کے لئے جناب رسول اللہ a پر افتراء کیا ہے۔ اگر ہم غلط کہتے ہیں تو کوئی مرزائی اس روایت کو کسی معتبر کتاب سے ثابت کر دے۔ مگر نہیں کر سکتا۔ اس قول میں مرزاقادیانی اپنے لئے پیش گوئی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مریدوں کو خوش کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ اردو محاورے کے لحاظ سے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ درحقیقت تو وہ عیسیٰ اور ابن مریم نہیں ہوگا۔ مگر دوسروں سے کہلائے گا۔ یعنی لوگوں سے کہے گا کہ مجھے عیسیٰ اور ابن مریم کہو۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں سے جھوٹ بلوائے گا اور عیسیٰ اور ابن مریم بنے گا اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ نام تو اس کا کچھ اور ہوگا مگر کسی وجہ سے لوگ اسے عیسیٰ اور ابن مریم کہنے لگیں گے۔ وہ خود نہیں کہلائے گا۔ اب یہ قول پہلے معنی کے لحاظ سے تو صاف طور سے ایک جھوٹے کی پیشین گوئی ہوئی جیسے دجال کی پیشین گوئی ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مرزاقادیانی اس کے مصداق نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ لوگوں نے انہیں خود عیسیٰ اور ابن مریم نہیں کہا بلکہ انہوں نے بہت جھوٹی اور فریب آمیز باتیں بناکر اپنے کو عیسیٰ اور ابن مریم بنایا ہے۔ تاکہ مسیح موعود کے مصداق بنیں۔ بہرحال جو معنی ہوں کسی حدیث میں یہ پیش گوئی نہیں ہے کہ میری امت میں ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ ایک جملہ اس قول میں یہ ہے کہ نبی کے نام سے موسوم ہوگا۔ یہ جملہ مرزاقادیانی نے بڑی ہوشیاری اور عیاری سے لکھا ہے۔ اب مرزائی حضرات یہ فرمائیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ ظاہراً اردو کے محاورے کے لحاظ سے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ درحقیقت تو وہ نبی یعنی خدا کا رسول نہ ہوگا بلکہ اس کا نام نبی رکھا جائے گا۔ جس طرح اس وقت لکھنؤ میں ایک مشہور بیرسٹر ہیں۔ ان کا نام نبی اللہ ہے۔ جاکر دیکھ لیجئے۔ مگر یہ مطلب اس لئے غلط ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا نام نبی نہیں رکھا گیا بلکہ غلام احمد ان کا نام ہے۔ غرضیکہ برائے نام بھی انہیں نبی کہنا غلط ہے۔ مگر مرزاقادیانی نے یہ جملہ اس لئے تراشا ہے کہ خاص وعام میں مشہور ہے کہ جناب رسول اللہ a خاتم النّبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ان کی تسکین کے لئے کہتے ہیں کہ وہ حقیقی نبی نہیں ہوگا بلکہ نبی اس کا نام رکھا جائے گا۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ ہم پر یہ الزام لگایا جائے کہ ہم رسول اللہ a کے خاتم النّبیین ہونے سے منکر

155

ہیں۔ بلکہ اسے مان کر ہم نبی کہلانے کے مستحق ہیں۔ ہمیں حدیث میں نبی کہاگیا ہے مگر یہ محض فریب ہے۔ حدیث میں جنہیں نبی کہاگیا ہے وہ واقعی نبی ہیں مگر انہیں رسول اللہ a سے پہلے نبوت کا مرتبہ مل چکا ہے۔ رسول اللہ a کے بعد انہیں نبوت نہیں ملی۔ جو حضورa کے خاتم النّبیین ہونے کے مخالف ہو۔ بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ کسی حدیث صحیح میں رسول اللہ a کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ میری امت میں ایسا شخص پیدا ہوگا جس میں یہ تین باتیں ہوں گی۔ یعنی یہ کہ وہ عیسیٰ کہلائے اور ابن مریم بھی اسے لوگ کہیں اور نبی کے نام سے بھی موسوم ہو۔ البتہ صحیح مسلم میں حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ہے۔ مگر اس میں ۲۷باتوں سے زائد ایسی بیان ہوئی ہیں جن سے مرزاقادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر۱۱،۱۲ کا ص۴۲تا۵۱ملاحظہ ہو۔ اس حدیث میں پہلے حضرت عیسیٰ کا آنا اور کافروں کا مارا جانا بیان کر کے یاجوج ماجوج کا آنا اور حضرت عیسیٰ کا پہاڑ پر محصور ہونا بیان ہوا ہے۔ پھر ارشاد ہے: ’’فیرغب نبی اللہ عیسٰی واصحابہ‘‘ یعنی اس وقت خدا کے رسول جن کا نام عیسیٰ ہے اور ان کے اصحاب خدا کی طرف متوجہ ہوں گے اور دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نیست ونابود کر دے گا۔ اس کے بعد دنیا کی ایسی عمدہ حالت کی پیش گوئی ہے کہ اس کا ظہور اس وقت تک کبھی نہیں ہوا۔ قادیانی مسیح کے وقت کی حالت تو ایسی خراب تھی اور ہے کہ کبھی ایسی نہیں ہوئی۔ اس حدیث میں کسی امتی کا نام نبی یا نبی اللہ ہرگز نہیں بتایا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ کی صفت نبی اللہ بیان ہوئی۔

تیرھواں جھوٹ:

لکھتا ہے کہ: ’’جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ a کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہوچکی ہے کہ خداتعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں (صدی) کے لئے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہوسکتا۔‘‘(نشان آسمانی ص۱۸، خزائن ج۴ ص۳۷۸)

مرزاقادیانی نے یہ عظیم الشان دعویٰ کیا اور اکثر عمر رسائل لکھنے میں گزاری۔ مگر کسی رسالہ میں ان اشاروں کا اجمالی ذکر بھی کہیں دکھایا نہیں گیا۔ اگر کوئی دکھا سکے تو دکھائیے۔ مگر

156

یہ بات قطعاً اور یقینا جھوٹی ہے کہ چودھویں صدی کے مجدد کے لئے مخصوص اشارے کسی حدیث میں ہیں جو اور مجددوں کے لئے نہیں ہیں۔ اس مضمون کی ایک روایت صرف ابوداؤد میں ہے۔ جس کے معنی کے اشکال سے اگر قطع نظر کی جائے تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجدد کو پیدا کرے گا۔ جو دین کو بہت کچھ نفع پہنچائے گا۔ حدیث: ’’ان اللہ یبعث لہٰذہ الامۃ علٰی رأس کل مائۃ سنۃ من یجددلہا دینہا (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲)‘‘{اﷲتعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے شروع میں ایسا مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔}

اب قادیانی جماعت بتلائے کہ اس حدیث میں وہ کون سا لفظ ہے جس سے معلوم ہو کہ چودھویں صدی کا مجدد ممتاز ہوگا۔ جو عبارت سمجھ سکتے ہیں وہ بخوبی معلوم کر سکتے ہیں کہ:

۱… اس حدیث میں صرف اس قدر بیان ہے کہ ہر صدی پر جو دین کو فائدہ پہنچائے گا اس کے سوا کوئی اشارہ اس میں نہیں ہے۔ اس حدیث کے بموجب مرزاقادیانی مجدد ہرگز نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ انہوں نے دین اسلام کو کوئی نفع ایسا نہیں پہنچایا جو دوسرے علماء نے نہ پہنچایا ہو۔ بلکہ نہایت نقصان پہنچایا۔ مثلاً یہ کہ:

۱… چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر دنیا کو اسلام سے خالی کر دیا۔

۲… خدا اور رسولa پر ایسے الزام لگائے جس سے منکرین اسلام کو اس مقدس مذہب پر مضحکہ کا موقع دیا۔ اس وقت تو یہ چند جھوٹ مسیح قادیانی کے آگئے۔ آئندہ اس سے زیادہ دکھائے جائیں گے جس سے معلوم ہوجائے گا کہ قادیانیوں کے سردار جھوٹوں کے سرکردہ ہیں۔ انہیں کو خواجہ کمال (مرزائی) مسیح موعود اورتمام صحابہ کرامi اور ائمہ سے افضل کہتے ہیں اور درپردہ وہ ہمارے مقدس بزرگوں کی سخت توہین کرتے ہیں۔(خاکسار ابو احمد رحمانی ماہ رجب ۱۳۳۵ھ، رحمانیہ پریس مونگیر)

’’فصل الثالث وبتمامہ تمت رسالۃ قائد القادیان حفظنا اللہ تعالٰی وجمیع اہل الایمان کان ومن کل زیغ وطغیان۔ آمین بحرمۃ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلٰی انبیاء واہل بیتہم وصحابہم اجمعین، ذنابۃ الرسالۃ فی بعض الاشعار المناسبۃ للمقام‘‘
157

از اخبار اہل سنت وجماعۃ امرتسر جلد۱،۳… یکم؍جون ۱۹۱۸ء، تحت عنوان

’’مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اور اس کا جواب‘‘

  1. ومرزا یدعی وصلا للیلیٰ

    ولیلے لاتقرلہ بذاک

از ٹائٹل ص۲، رسالہ ’’مسیح کاذب‘‘ تحت عنوان لسان الغیب از صائب۔

  1. نظرے گوہر خودرا عیسیٰ

    نتواں گشت بتصدیق خرے چند

فارسی از ٹائٹل ص۱، رسالہ تنبیہ قادیانی

  1. ہوش داریداے مسلمان جہاں کز قادیان

    فتنہ در دین محمد مصطفی خواہد شدن

  2. گاہ عیسیٰ گاہ موسیٰ گاہ فخر انبیاء

    گاہ ابن اللہ گاہ خود خدا خواہد شدن

منقول از حاشیہ رسالہ تنبیہ قادیانی ص۲۰، منقول از اشاعت السنۃ ج۱۴ ص۱۲، بعنوان: ’’اہل البیت ادری بمافیہ‘‘ اشعار تصنیف خسر مرزاغلام احمد قادیانی:

  1. ہر گھڑی ہے مال داروں کی تلاش

    تا کہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش

  2. ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو

    رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو

  3. کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض

    حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض

  4. بدمعاش اب نیک از حد بن گئے

    بو مسیلمہ آج احمد بن گئے

اس اخیر مضمون کی مناسبت سے ایک تحریر مرزاقادیانی کے بڑے بھائی کی یاد آگئی جو تبلیغ رحمانی میں بھی چھپی ہے۔ گو وہ نظم نہیں مگر اہل بیت (مرزاقادیانی) کی دوسری شہادت ہونے کے سبب مکمل نصاب شہادت تھی اس لئے نقل کی جاتی ہے۔ تحت عنوان ’’درخواست چندہ خوردار مرزاقادیانی طال عمرہ‘‘ بعد دعائے درازی عمر کے واضح ہو کہ میں تمہارے دعویٰ ہمیشہ سے سنتا ہوں اور دوردراز تک تمہاری خبر پہنچی ہوئی ہے اور لوگ جوق درجوق آتے ہیں۔ مگر افسوس میں تمہارا بڑابھائی اور بزرگ ہوں۔ میری طرف تم نے کوئی خاص توجہ نہ کی جو تمہاری نالائقی کا ثبوت ہے۔ آخر میں بھرے دل سے ازخود تم کو اطلاع کرتا ہوں کہ میں تمہارے ذاتی عیوب سے قطع نظر تمہاری پیش گوئیوں کو ایک گوزشتر سمجھتا ہوں۔ تم نے تو مولوی ثناء اللہ امرتسری کوفی پیش گوئی سو روپے دینا کیا تھا جو ان کے آنے پر تم گھر سے بھی نہ نکلے۔ مگر میں تم کو فی پیش گوئی ہزار روپے دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ اگر تم اپنی پیش کردہ پانچ پیش گوئیاں بھی مجھے سچی کردو۔ توفی پیش گوئی ہزار روپے تم کو دوں گا اور اگر نہ ثابت کر سکو

158

تو صرف تم کو مسلمان ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ پس ایک ہفتہ تک اس دعوت کا جواب بذریعہ اشتہار جلدی دینا کیونکہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبیa کو بھی حکم فرمایا ہے: ’’وآت ذالقربی حقہ‘‘ یعنی قریبوں کے حقوق ادا کرو۔ قریبوں کا حق دوسروں سے زیادہ ہے۔ بھلا یہ کیا انصاف ہے کہ کشتی نوح کے آخر صفحہ پر تو ہم کو اپنا شریک اور قرابتی بتاؤ اور یہ ظاہر کرو کہ ہمارے شرکاء مکان دینے کو راضی ہیں۔ دو ہزار روپے چندہ جمع کرلیا ہے حالانکہ ہمیں اس کی کوئی خبر ہی نہیں اور نہ ہم دینا چاہتے ہیں۔ ایسے جھوٹ کا بھی کوئی علاج ہے۔ خیر ان باتوں کے ذکر کو تو ایک دفتر چاہئے جو میں الگ سے کسی وقت تفصیل سے بیان کروں گا۔ سردست میں اس اشتہار کا جواب کا منتظر ہوں۔ رقیمہ مولائی مرزاامام الدین برادر کلاں مرزاقادیانی مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۳ء مطبوعہ اہل حدیث پریس۔

لطیفہ شریفہ

اشعار بالا کی نقل کے بعد جی چاہا کہ مثنوی معنوی کی طرح بطور تائید کے، نہ کہ احتجاج کے: ’’لان الاحتجاج لم یبق الیہ احتجاج‘‘ رجوع کیا جائے سات بار بسم اللہ پڑھ کر بے ساختہ کتاب کھولی۔ اوّل ہی میں یہ اشعار نکلے (دفتر چہارم ص۳۴۰) اور سچ تو یہ ہے کہ موضع بحث کا بالکل فوٹو ہی کھینچ دیا ہے۔ وہ یہ ہیں:

  1. نفس بعہداست زان او کشتنی ست

    اودنی و قبلہ گاہ ادنی ست

  2. نفس ہارا لائق ست این انجمن

    مردہ را درخور بود گور و کفن

  3. نفس اگرچہ زیرک ست و خوردہ دان

    قبلہ اش دیناست اورا مردہ دان

  4. بانگ وصیتے چوکہ آن خائل نشد

    تاب خورشیدی کہ آن آفل نشد

  5. رونق و تاب وطرتب و سحر شان

    گرچہ خلقان راکشد گردن کشان

  6. سحر ہائے ساحران داں جملہ را

    مرگ چوبے دان کہ آن شد اثردہا

  7. جادو انیہا را ہمہ یک لقمہ کرد

    یک جہاں پر شب بدآنرا صبح خورد

وہذا آخر الکلام۔ فی ہذا المرام۔ وصلے اللہ تعالٰی علٰی خیر الانام وعلٰی آلہ الکرام واصحابہ العظام فقط۔

یکم؍ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ، یوم الاحد

159

الشہاب لرجم

الخاطف المرتاب

بمعہ ضمیمہ

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

160

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ امابعد!

مرزاقادیانی ملعون کے پانچ مریدوں (مرتدوں) کو افغانستان میں مختلف اوقات میں بجرم ارتداد سنگسار کیاگیا اور اللہ تعالیٰ کی شان کو دیکھو اس وقت بھی افغانستان کی انہی روایات کے باعث آج افغانستان میں طالبان کی ناصرف خالصتاً اسلامی حکومت قائم ہے بلکہ ارتداد کی شرعی سزا بھی نافذ ہے۔ جہاں تک قادیانیوں کو سنگسار کرنے کا تعلق ہے سب سے پہلے عبدالرحمن قادیانی کو ۱۹۰۱ء میں والئی افغانستان جناب امیرعبدالرحمنv نے سنگسار کرایا۔ اس کے بعد عبداللطیف قادیانی کو ۱۴؍جولائی ۱۹۰۳ء میں والئی افغانستان جناب امیرحبیب اللہ v کے زمانہ میں بجرم ارتداد سنگسار کیاگیا۔(تاریخ احمدیت ج۳ ص۵۲۸)

اس زمانہ میں مرزاقادیانی زندہ تھا۔ افغانستان کے امیر خان عبدالرحمنv اور امیر حبیب اللہ v کے خلاف اس نے بدزبانی کی اور تذکرۃ الشہادتین نامی کتاب تحریر کی۔ اللہ رب العزت کے کرم کو دیکھو کہ مرزاقادیانی کی تحریری بکواسات کا اسلامی مملکت افغانستان پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ خان امان اللہ خانv والئی افغانستان کے زمانہ میں قادیانیوں نے پھر وہاں ارتدادی مہم چلانے کی کوشش کی تو ۳۱؍اگست ۱۹۲۴ء کو نعمت اللہ قادیانی اور ۱۲؍فروری ۱۹۲۵ء کو عبدالحلیم اور قاری نور علی قادیانی کو بجرم ارتداد قتل کیاگیا۔(تذکرہ ص۵۸۹، طبع سوم)

نعمت اللہ قادیانی کی سنگساری پر لاہوری گروپ کے چیف گرو ولاٹ پادری محمد علی نے پیغام صلح میں ایک مضمون میں ارتداد کی سزا قتل کے خلاف سخن سازی کی۔ اللہ رب العزت کی کروڑوں رحمتیں ہوں۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ پر آپ نے ’’الشہاب لرجم الخاطف المرتاب‘‘ نامی رسالہ تحریر فرماکر قادیانیوں ولاہوریوں کی سخن سازیوں پر علم کے قفل چھڑا دئیے۔ ڈیڑھ دو ماہ بعد لاہوری گروپ کے محمد علی کی باسی کڑی میں ابال آیا تو اس نے پھر ایک مضمون لکھا۔ آپ (حضرت علامہ عثمانیؒ) نے ’’تذنیب یعنی ضمیمہ الشہاب‘‘ تحریر کردیا۔ قادیانی کیا خاموش ہوئے گویا ان کو سانپ سونگھ گیا۔ اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کے صدقہ میں اس رسالہ کو بمع ضمیمہ کے آپ ملاحظہ فرمائیں۔

161

اسلامیان پاکستان نوٹ کریں کہ پاکستان کے پہلے شیخ الاسلام حضرت عثمانیؒ کی یہ تحریر ہے۔ پاکستان کی نظریاتی کونسل نے ارتداد کی سزا قتل کی سفارش کر دی۔ حکومت کب اسے قانون کا درجہ دیتی ہے؟ لیکن یہ ظاہر ہے کہ جب بھی پاکستان میں سرکاری سطح پر ارتداد کی سزا نافذ ہوئی وہ دن قادیانیت کے خاتمہ کا دن ہوگا۔ ان شاء اللہ العزیز!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العلمین والصلٰوۃ والسلام علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین!

کابل میں نعمت اللہ قادیانی کی سنگساری کے واقعہ سے ہندوستان کے اخباروں میں قادیانیوں کے ارتداد کی بحث پھر تازہ ہوگئی اور ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی زیربحث آگیا کہ اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے؟ مسٹر محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور نے ’’پیغام صلح‘‘ کے ضمیمہ کے طور پر ایک پمفلٹ ’’نعمت اللہ خاں کی سنگساری‘‘ بھی اسی مضمون کے متعلق بڑی تعداد میں شائع کرایا ہے۔ جس میں پورے زور خطابت سے حکومت افغانستان اور علمائے دیوبند کے خلاف (جو افغانستان کے اس فعل کی سب سے بڑھ کر تحسین کرنے والے ہیں) نفرت اور اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اگرچہ مجھے یقین ہے کہ مسلمان اب بہت کچھ قادیانیوں کی فتنہ پردازیوں اور اسلام کے خلاف ان کی دسیسہ کاریوں سے واقف ہوگئے ہیں اور اسی لئے ان کا کوئی پروپیگنڈہ افغانی گورنمنٹ یا علماء دیوبند کے خلاف ان شاء اللہ ! مؤثر نہیں ہوسکتا۔ تاہم سلسلہ تحریرات جس حد تک پہنچ گیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس باب میں توسع کے ساتھ کچھ عرض کیا جائے۔

اس ضمن میں پہلی بحث جو ہمارے سامنے آئی ہے وہ قادیانی جماعت کے ارتداد کا مسئلہ ہے اور پھر یہ دیکھنا ہے کہ مرتد کی نسبت اسلام کیا فیصلہ کرتا ہے؟ تو ضروری ہوا کہ اوّلاً ارتداد کے معنی سمجھ لئے جائیں۔

162

ارتداد کی تعریف

مرتد کے معنی لغت میں (راجع) یعنی کسی چیز سے لوٹنے اور پھر جانے والے کے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں مرتد اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دین اسلام کو اختیار کر کے اس سے پھر جائے۔ امام راغبv ارتداد کے معنی لکھتے ہیں: ’’ہو الرجوع من الاسلام الٰی الکفر‘‘ اسلام سے کفر کی طرف پھر جانا۔(مفردات ص۱۹۲)

محمد علی مرزائی اپنے پمفلٹ میں لکھتے ہیں کہ: ’’ارتداد یہ ہے کہ محمد رسول اللہ a کی رسالت کو قبول کر کے پھر اس سے انکار کر دے اور کہہ دے کہ آپ رسول نہیں۔‘‘ (نعمت اللہ خان کی سنگساری ص۵)

لیکن یہ بات صاف ہوجانی چاہئے کہ امام راغبv کی تعریف میں کفر، اور محمد علی (مرزائی) کی تعریف میں رسول اللہ a کی رسالت سے انکار کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا رسالت کا انکار اسی وقت سمجھا جائے گا کہ وہ زبان سے کہہ دے کہ میں آپa کو رسول نہیں جانتا۔ یا رسول اللہ a کی کسی یقینی خبر اور قطعی فرمان کا انکار کرنے سے بھی رسالت کا منکر ٹھہرے گا؟ فرض کیجئے! ایک شخص زبان سے اقرار کرتا ہے کہ جناب محمدa خدا کے رسول ہیں۔ نماز بھی قبلہ کی طرف پڑھتا ہے۔ زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے۔ مسلمان کا ذبیحہ بھی کھاتا ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ میرے خیال میں سورۂ احزاب یا سورۂ نساء قرآن کی سورۃ نہیں۔ یا حضرت عیسیٰؑ مثلاً خدا کے پیغمبر نہیں (معاذ اللہ ) باقی سارے قرآن اور سارے انبیاء کی میں تصدیق کرتا ہوں تو کیا ایسی تصریحات کے باوجود بھی محمد علی (مرزائی) اسے مسلمان سمجھتے رہیں گے اور رسول اللہ a کی رسالت پر ایمان رکھنے والا تصور کریں گے اور ان بعض انبیاء یا ان بعض اجزائے قرآن کی تکذیب کو خود محمد رسول اللہ a بلکہ رب محمد کی تکذیب قرار نہ دیں گے؟

اگر ایسے شخص کو باوجود زبانی اقرار رسالت کے وہ رسول اللہ a کی رسالت بلکہ خود خدا وند رب العزت کا منکر ہی قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ:’’ان الذین یکفرون باﷲ ورسلہٖ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ۔ ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض ویریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلاً۔ اولئک ہم الکفرون حقاً (النساء:۱۵۰)‘‘ کے تحت میں انہوں نے لکھا ہے: ’’اﷲ اور اس کے رسولوں میں تفریق

163

سے مراد صرف یہی نہیں کہ اللہ کو مان لیا اور رسولوں کا انکار کر دیا۔ جیسے برہمو ہیں بلکہ یہ بھی کہ بعض رسولوں کو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ جیسے تمام اہل کتب کی حالت ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ کے کسی رسول کا انکار گویا اللہ کا ہی انکار ہے۔‘‘(بیان القرآن ص۳۹۲)

ان کے مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) لکھتے ہیں کہ: ’’کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرتa کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اوراس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

لکھتے ہیں کہ: ’’وہ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)

تو اس قسم کے اقرار اور تسلیم سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک بھی اللہ اور اس کے رسول کے انکار کی صرف یہ ہی صورت نہیں کہ ایک شخص زبان سے صریح طور پر یوں کہے کہ میں خدا کو یا اس کے پیغمبر رسول عربیa کو نہیں مانتا بلکہ بسا اوقات بعض نہایت ہی قطعی اور ضروری چیزوں کا انکار کرنے والا بھی جن کی اطلاع خدا اور اس کے رسول نے دی ہو خدا اور اس کے رسول ہی کا انکار کرنے والا سمجھا جائے گا جو قرآن کی تصریح اور مرزاقادیانی کے اقرار کے موافق کفر ہے۔

پس جب کہ امام راغبv کی تصریح کے موافق اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کا نام ارتداد ہے اور محمد علی (مرزائی) اور ان کے مسیح موعود کی تصریحات سے یہ ثابت ہوچکا کہ کفر صرف یہی نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا صریح طور پر زبان سے انکار کیا جائے۔ بلکہ بعض قطعیات اسلام کا انکار کرنا بھی حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنا ہے جو کفر ہے۔ تو معلوم ہوا کہ ارتداد یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کی دو صورتیں ہیں:

۱… ایک یہ کہ کوئی مسلمان صریحاً اسلام سے کفر کر بیٹھے۔

۲… دوسرے یہ کہ ایسا نہ ہو۔ مگر بعض ضروریات دینیہ اور قطعیات شرعیہ سے انکار کرے۔

دونوں صورتوں میں ایسا شخص مرتد یعنی اسلام سے نکل کر کفر میں جانے والا ہے۔ (العیاذ باﷲ)

164

کیا مرزاقادیانی اور اس کی امت مرتد ہیں؟

جو لوگ مرزاغلام احمد قادیانی کو مرتد کہتے ہیں ان کے نزدیک معیار ارتداد وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مرزاقادیانی پہلے مسلمان تھے اور جمہور اہل اسلام کے سے عقائد رکھتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بتدریج ایسی باتیں لکھیں اور شائع کیں جن کا ماننا کھلے طور پر رسول اللہ a کی رسالت کا نہ ماننا ہے وہ اگرچہ باربار زبان سے یہ بھی اظہار کرتے رہے کہ حضرت محمد رسول اللہ a خدا کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور تمام انبیاء ومرسلین خدا کے پاک اور برگزیدہ بندے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ قلم اور زبان سے نہایت اصرار کے ساتھ ایسی چیزیں بھی نکالتے رہے جو ان کے پہلے ادّعاء کی مکذب ہیں۔

وہ جب کہتے ہیں کہ رسول کریمa قرآن کی تصریح کے موافق خاتم النّبیین ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میں آپa کے بعد نبی ہوکر آیا ہوں۔ پھر یہ نبوت جس کا انہیں دعویٰ ہے صرف وہ ولایت ومحدثیت نہیں جسے صوفیاء نے (مثلاً شیخ اکبرv) نے اپنی اصطلاح میں نبوت کے لفظ سے تعبیر کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ گروہ اولیاء میں موجود ہوتی ہے۔ گو اس کی وجہ سے وہ انبیاء نہیں کہلاتے اور نہ کبھی آج تک کسی ولی نے حتیٰ کہ اس محدث نے بھی جس کے محدث ہونے کی تصدیق زبان رسالت سے ہوچکی تھی (حضرت عمرq) اپنی اس نبوت پر ایمان لانے کی طرف لوگوں کو دعوت دی ہے اور نہ مرزاقادیانی ایسی گھٹیا نبوت کے مدعی ہیں جو ایک سچا خواب دیکھنے سے بھی کسی مومن صالح کو فی الجملہ حاصل ہوسکتی ہے۔’’فالاتصاف بکمالات النبوۃ لایلزم الاتصاف بالنبوۃ‘‘ (عبقات ج۱ ص۱۵۹)

پس کمالات نبوت سے متصف ہونا اتصاف بالنبوۃ کو مستلزم نہیں۔

’’فاخبر رسول اللہ a ان الرؤیا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقی للناس من النبوۃ ہذا وغیرہ ومع ہذا لا یطلق اسم النبوۃ ولا النبی الا علی المشرع خاصۃ فحجر ہذالاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ‘‘ (فتوحات ج۲ ص۳۷۶)

رسول اللہ a نے ہم کو بتلایا کہ خواب (سچا) اجزاء نبوت میں سے ایک چیز ہے تو لوگوں کے واسطے نبوت میں سے یہ جز (رؤیا) وغیرہ باقی رہ گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی

165

نبوت کا لفظ اور نبی کا نام بجز مشرع (امرونہی لانے والے) کے اور کسی پر بولا نہیں جاسکتا تو نبوت میں ایک خاص وصف معین کی موجودگی کی وجہ سے اس نام (نبی) کی بندش کر دی گئی ہے۔

’’کمن یوحٰی الیہ فی المبشرات وہی جزء من اجزاء النبوۃ وان لم یکن صاحب المبشرۃ نبیا فتقظن لعموم رحمۃ اللہ فما تطلق النبوۃ الا لمن اتصف بالمجموع فذلک النبی وتلک النبوۃ التی حجزت علینا وانقطعت فان من جملتہا التشریع بالوحی الملکی فی التشریع وذلک لا یکون الا لنبی خاصۃ‘‘ (فتوحات ج۳ ص۵۶۸)

جیسے کسی کی طرف مبشرات کی وحی آئی اور وہ مبشرات اجزاء نبوت میں سے ہیں۔ اگرچہ صاحب مبشرۃ نبی نہیں ہوجاتا۔ پس رحمت الٰہیہ کے عموم کو سمجھو تو نبوت کا اطلاق اسی پر ہوسکتا ہے جو تمام اجزاء نبوت سے متصف ہو۔ وہی نبی ہے اور وہی نبوت ہے جو منقطع ہوچکی اور ہم سے روک دی گئی۔ کیونکہ نبوت کے اجزاء میں سے تشریع بھی ہے جو وحی ملکی سے ہوتی ہے ور یہ بات صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت

بلکہ وہ محدثیت وغیرہ سے آگے بڑھ کر مدعی ہوئے ہیں۔ ایسی نبوت کے، جس پر نہ صرف قادیان کو، نہ صرف پنجاب کو، نہ صرف انڈیا کو بلکہ خاتم النّبیینa کی نبوت کی طرح تمام عالم کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ پھر جو کوئی اس دعوت کے پہنچنے پر بھی ایمان نہ لائے وہ دائرہ ایمان واسلام سے خارج اور جہنمی ہے۔ جس طرح آنحضرتa کی دعوت پر ایمان نہ لانے والا بے ایمان اور جہنمی ہوتا ہے بلکہ ان (مرزاقادیانی) کا نہ ماننے والا بعینہٖ خدا اور رسول کو بھی نہ ماننے والا ہے۔

نہ صرف یہی کہ ان (مرزاقادیانی) کو معمولی نبی تسلیم کر لیا جائے بلکہ اولوالعزم پیغمبر اور خاتم انبیاء بنی اسرائیل سیدنا حضرت عیسیٰ بن مریمm پر بھی ان کی فضیلت کا اقرار کیا جائے۔ پھر فضیلت بھی کوئی جزئی فضیلت نہیں بلکہ کلی فضیلت اور ہر شان میں ان سے بڑھ کر مانا جائے اور اگر ہو سکے تو ان سب کے بعد ذرا ادبی زبان سے تشریعی (صاحب شریعت) نبی بھی تسلیم کر لیا جائے۔

166

ملاحظہ ہوں مرزاغلام احمد قادیانی کی عبارات ذیل: ’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

’’بہرحال جب کہ خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘ (نہج المصلی ج۱ ص۳۰۸، تشحیذ الاذہان ج۶ نمبر۴ ص۱۳۵، تذکرہ ص۶۰۷ طبع سوم)

’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشین گوئی موجود ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)

’’اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خداتعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہوسکتا ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۶۴، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)

’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگربعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)

’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

کافر کس طرح کے رسول کا نہ ماننے والا ہوتا ہے؟

اس کے متعلق مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا نہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خداتعالیٰ کی طرف

167

سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘(تریاق القلوب حاشیہ ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیزہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی… اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ان ہذا لفی الصحف الاولٰی۔ صحف ابراہیم وموسٰی‘‘ یعنی قرآنی تعلیم، تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اوراگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہوتو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔‘‘(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)

شیخ اکبرv فرماتے ہیں کہ:’’فما بقی الاولیاء الیوم بعد ارتفاع النبوۃ الا التعرف وانسدت ابواب الاوامر الالہیۃ والنواہی فمن ادعاہا بعد محمدa فہو مدع شریعۃ اوحی بہا الیہ سواء وافق بہا شرعنا اوخالف‘‘ (فتوحات مکیہ ج۳ ص۳۹)

نبوت اٹھ جانے کے بعد آج اولیاء کے لئے بجز تعریفات کے کچھ باقی نہیں رہا اور اوامر ونواہی کے سب دروازے بند ہوچکے۔ اب جو کوئی محمد رسول اللہ a کے بعد امرونہی کا مدعی ہو۔ (جیسے مرزاغلام احمد قادیانی) وہ اپنی طرف وحی شریعت آنے کا مدعی ہے۔ خواہ وہ شریعت ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔

شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ اس عبارت کے ساتھ اس قدر اور اضافہ کرتے ہیں: ’’فان کان مکلفاً ضربنا عنقہ والاضربنا عنہ صفحاً‘‘ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۸)

پھر اگر یہ مدعی وحی شریعت مکلف ہے (یعنی مجنوں وغیرہ نہیں ہے) تو ہ اس کی گردن ماریں گے اور اگر مکلف نہیں تو ہم اس سے کنارہ کشی کریں گے۔

168
’’قال الشیخ (الاکبر) فی الباب الحادی والعشرین من الفتوحات من قال ان اللہ تعالٰی امرہ بشیٔ فلیس ذلک بصحیح انما ذلک تلبیس لان من الامر قسم الکلام وصفتہ وذلک باب مسدود دون الناس‘‘ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۸)

’’شیخ اکبر فتوحات کے اکیسویں باب میں فرماتے ہیں کہ جو کوئی (بعد نبی کریمa کے) یہ دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کسی چیز کا حکم کیا ہے (جیسا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی) تو یہ دعویٰ صحیح نہیں یہ محض تلبیس ہے۔ کیونکہ ’’امر‘‘ کلام کی قسم اور اس کی صفات میں سے ہے اور یہ (کلام کا دروازہ) لوگوں پر بند کیاجاچکا ہے۔‘‘

کیا مسٹر محمد علی (مرزائی) اور بے خبری سے ان کی تائید کرنے والے یہ عبارتیں سن رہے ہیں؟ کیا یہی وہ صوفیوں کی اصطلاحی یا مجازی یالغوی نبوت ہے؟ جس کا ثبوت رؤیا کی حدیث یا شیخ اکبر کے کلام میں پایا جاتا ہے۔ کیا قادیانیوں کا یہی ظلی اور بروزی نبی ہے جو اصلی اورحقیقی نبیوں سے بڑھ گیا ہے؟ کیا امتی نبی نام رکھ دینے سے اصل حقیقت پر پردہ پڑ سکتا ہے؟ اور کیا یہ سخت حیرت انگیز اور مضحکہ خیز منطق نہیں ہے کہ کسی پرانے نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا دوبارہ آنا تو یہ آیت خاتم النّبیین کے خلاف ہو۔ لیکن پچھلے نبیوں پر فضیلت کلی رکھنے والا ایک نیا نبی قادیان میں آجائے۔ یہ خاتم النّبیین کے خلاف نہ ہو؟ گویا آنحضرتa کے وجود باجود نے مفضول انبیاء کے آنے کا سلسلہ تو بند کردیا۔ لیکن ان سے اعلیٰ اور افضل انبیاء کی تشریف آوری کا دروازہ کھول دیا ہے۔ کاش کہ قرآن میں بھی خاتم النّبیین کی آیت کے ساتھ فاتح النّبیین کی کوئی آیت ہوتی اور جس صراحت اور تکرار کے ساتھ حضورa سے پہلے آنے والے انبیاء کا تذکرہ ہوا ہے۔ اس کا عشر عشیر ہی پیچھے آنے والے نبی کے متعلق ہوتا کہ امت کو زیادہ کام ان ہی پچھلوں سے پڑنا تھا اور یہ ان پہلوؤں سے افضل بھی تھے۔

کیا مرزائیوں میں کوئی بھی خوف خدا رکھنے والا نہیں؟ کیا ان کے دلوں پر مہر ہو چکی ہے؟ کیا ان کے قلوب پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں؟ جو ایسی ایسی صریح عبارتوں کے بعد بھی ایک مفتری علی اللہ کو سچا پیغمبر بناتے چلے جاتے ہیں۔ عجیب تماشا ہے کہ اس مفتری نے اپنے تئیں سچا ثابت کرنے کے لئے آتھم کے قصہ میںاور محمدی بیگم کے آسمانی نکاح میں معاذ

169

اﷲ خدا کو اور اس کی قضا مبرم تک کو جھوٹا ٹھہرادیا۔ مگر وہ محروم الخیر جماعت جو آج علماء دیوبند پر خدا کو جھوٹا کہنے کا محض فرضی الزام رکھ کر اپنے لئے اور نئی لعنت خرید رہی ہے۔ اس مفتری کا برابر کلمہ پڑھتی جاتی ہے جو اپنی سچائی کا ثبوت ہی جب پیش کر سکتا ہے۔ جب پہلے خدا کو جھوٹا ثابت کردے۔ ’’کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم (کہف:۵)‘‘

شاید محمد علی (مرزائی) کو علماء دیوبند کے آئینہ اعتقاد میں اپنا چہرہ نظر آگیا ہے جو معاذ اللہ خدا کے جھوٹ بولنے کی تصویر سامنے آگئی۔ ’’ان فی ذٰلک لذکری لمن کان لہ قلب او القی السمع وہو شہید (ق:۳۷)‘‘

خوب سمجھ لو کہ جھوٹے حیلے اور بیہودہ عذر تراش کر ختم نبوت جیسے قطعی اور اسلام کے بنیادی عقیدہ کی تکذیب کرنا رسول اللہ a کی رسالت اور صدق وراست بازی اور قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے سے انکار کرنا ہے۔’’فانہم لا یکذبونک ولٰکن الظلمین باٰیت اللہ یجحدون (الانعام:۳۳)‘‘ {یہ لوگ تجھے نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم خدا کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔}

اور جیسا کہ ابتداء میں عرض کرچکا ہوں یہی ارتداد ہے کہ آدمی اسلام کا اقرار کرنے کے بعد پھر اس سے صریحاً انکار کرنے لگے یا ایسی قطعی اور صاف چیزوں کا انکار کر بیٹھے جو انکار رسالت کو مستلزم ہو۔

ارتداد کی اس قسم خفی کا نام یعنی یہ کہ آدمی زبان سے اسلام کا نام بھی لیتا رہے اور کلمہ بھی پڑھتا رہے مگر نامعقول تحریفات اور ناقابل قبول تاویلات باطلہ سے قطعیات کے انکار پر بھی تلا ہو۔ سلف کی زبان میں ’’زندقہ‘‘ ہوگیا ہے اور جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ زنادقہ کا حکم بھی وہی عام مرتدین کا سا ہے۔

اس تمام تقریر سے یہ نتیجہ نکلا کہ مرزاقادیانی جس کی ختم نبوت کو رد کرنے والی تصریحات ہم نقل کر چکے ہیں۔ اسلام کے ایک قطعی عقیدہ کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مرتد اور زندیق ہے اور جو جماعت ان تصریحات پر مطلع ہوکر ان کو صادق سمجھتی رہے اور اس کی حمایت میں لڑتی رہے۔ وہ بھی یقینا مرتد اور زندیق ہے۔ خواہ وہ قادیان میں سکونت رکھتی ہو یا لاہور میں۔ جب تک وہ ان تصریحات کے غلط اور باطل ہونے کا اعلان نہ کرے گی۔ خدا کے عذاب سے خلاصی پانے کی اس کے لئے کوئی سبیل نہیں۔

170

یہاں تک ہم نے مرزاقادیانی اور ان کے اذناب کے ارتداد کا صرف ایک سبب بیان کیا ہے۔ کیونکہ محمد علی مرزائی نے اپنے پمفلٹ میں اس کا تذکرہ کیا تھا۔ دوسرے موجبات ارتداد مثلاً توہین انبیاءo وغیرہ سے عمداً اغماض کیاگیا ہے۔ شاید اس خدمت کو میرا کوئی دوسرا بھائی انجام دے گا اور بہت سے بزرگ مجھ سے پہلے بھی فی الجملہ انجام دے چکے ہیں۔ آپ یقین کیجئے کہ ہم کو مرزاقادیانی یا کسی ایک کلمہ گو کے کافر اور مرتد ثابت کرنے میں کوئی خوشی نہیں ہے۔ ہماری حالت تو یہ ہے کہ نہ ہم غیر مقلدین کو کافر کہتے ہیں نہ تمام شیعوں کو، نہ سارے نیچریوں کو، حتیٰ کہ ان بریلویوں کو بھی کافر نہیں کہتے جو ہم کو کافر بتلاتے ہیں اور ہماری تمنا تھی کہ کوئی صورت ایسی نکلی آتی کہ مرزائیوں کی تکفیر سے بھی ہم کو زبان آلودہ نہ کرنی پڑتی۔ لیکن ان کے ملحدانہ دعاوی نے جن سے بارگاہ رسالت میں سخت گستاخی ہوتی ہے اور کسی طرح ختم نبوت کا ستون کھڑا نہیں رہ سکتا۔ ہم کو مضطر کردیا ہے کہ بادل نخواستہ ان کی گمراہی سے لوگوں کو بچائیں کہ جو زہردودھ یا مٹھائی میں مخلوط ہوگیا ہو، وہ سخت خطرناک ہے۔

جو عبارتیں مرزاقادیانی کی میں اوپر نقل کر چکا ہوں کیا ان کے مطالعہ کے بعد اس مسئلہ کا اعلان نہیں ہو جاتا کہ جو کوئی ان کو نبی اور مسیح موعود مانے وہ دائرہ ایمان واسلام سے خارج ہے۔ اب تم خود دنیا کی مردم شماری کر لو کہ تمہارے کافر بنائے ہوئے غیرمسلموں کے سوا کتنے آدمی مسلمان رہ جاتے ہیں؟ حالانکہ یہ کروڑوں غیرمسلم (فی زعمکم)’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کا اقرار بھی کرتے ہیں اور سارے احکام بجالاتے ہیں۔

مسٹر محمد علی مرزائی اپنے اس فقرہ میں:’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کا اعتراف کرنے والے کو کافر کہنا بڑی خطرناک غلطی ہے۔ خواہ مرزامحمود کہیں یا مولوی کفایت اللہ صاحب۔(نعمت اللہ خان کی سنگساری ص۴)

کیا دونوں ناموں سے پہلے مرزاقادیانی کااور اضافہ کریں گے؟ اور ان کی قبر پر جا کر: ’’ولا تقولوا لمن القی الیکم السلٰم لست مؤمنا (النساء:۹۴)‘‘ کی تلاوت فرمائیں گے؟

ایک طرف تو آپ کے مسیح موعود (مرزاقادیانی) سارے جہان کے کلمہ پڑھنے والوں کو بجز لاکھ نفوس کے مسلمانی سے نکال رہے ہیں اور دوسری طرف آپ شاید ہر اس شخص کو جو مسلمانوں کو سلام کر لے (خواہ وہ ہندو ہو یا یہودی یا نصرانی یا دہریہ) مؤمن تسلیم کرتے

171

ہیں۔ اس سے نبی قادیانی اور امتی دونوں کی شریعت فہمی اور قرآن دانی کی حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے۔

کہا گیا ہے کہ قادیانی بڑے نمازی ہیں۔ قرآن بہت پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اگر اس پر بھی وہ مسلمان نہیں، تو بڑی حسرت اور حیرت کا مقام ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایک ایسی ہی بدبخت قوم کا تذکرہ حضور نبی کریمa نے صحیحین کی احادیث میں فرمایا ہے کہ جو قرآن کی تلاوت بھی کریں گی اور بظاہر سچے مسلمانوں سے بھی زیادہ نمازیں پڑھے گی۔ روزے رکھے گی۔ مگر ان کا قرآن ان کے حلقوم سے آگے نہ بڑھے گا اور وہ اسلام میں سے ایسی ہی نکل چکی ہوگی جیسے تیر شکار کا جسم چھید کر صاف نکل جاتا ہے۔ آپa نے فرمایا کہ اگر میں نے ان کو پایا تو عادوثمود کی طرح ان کو قتل کروں گا۔

حق تعالیٰ شانہ اپنی پناہ میں رکھے اور اس دنیا سے ایمان پر اٹھالے کہ یہ مقام بڑے خوف اور عبرت کا ہے۔

مرزائیوں کو بڑا فخر ہے اور بعض سادہ لوح آزاد منش مسلمان بھی ان کی مدح سرائی میں رطب اللسان ہو جاتے ہیں کہ وہ آج اسلام کی ایسی خدمت کر رہے ہیں جو کسی دوسری جماعت مسلمین سے بن نہیں پڑی۔ یعنی یورپ میں اسلام پھیلاتے ہیں۔ ملکانوں کو شدھی ہونے سے روکتے ہیں۔ آریوں وغیرہ کے مقابلہ پر سینہ سپر ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!

ان کایہ فخر اور منقبت اگرچہ سمجھدار مسلمان اس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ جس چیز کی وہ اشاعت اور حمایت کرتے ہیں۔ وہ صحیح اسلام نہیں ہے بلکہ یا تو وہ مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت کی تبلیغ ہوتی ہے اور یا مرزاقادیانی کا ترمیم کیا ہوا اسلام۔ جسے انہوں نے بہت سے اصول وفروع کاٹ کر نوجوانان یورپ یا یورپ کی وحی پر ایمان لانے والوں کے اہواء وظنون کے سانچہ میں ڈھالا ہے۔ لیکن میں اس سے قطع نظر کر کے علیٰ سبیل التنزل کہتا ہوں کہ ان کا یہ سب امتیاز اور فخر اور خدمات اسلام کو تسلیم کرنے کے بعد بھی ان کا مومن اور ناجی ہونا ضروری نہیں ہے۔

صحیح مسلم کے ابواب ایمان میں اس شخص کا واقعہ پڑھئے جو رسول کریمa اور صحابہ کرامi کے ہمرکاب جہاد میں تھا اور اس نے وہ خدمت اور اعانت اسلام اور مسلمانوں کی، کی تھی جس کا اعتراف صحابہi نے حضورa کی جناب میں ان الفاظ سے کیا ہے:

172

’’مااجزأمنا الیوم احدکما اجزأ فلان‘‘ {آج کے دن ہم میں کوئی بھی ایسا کافی نہیں ہوا جیسا کہ فلاں آدمی ہوا ہے۔} مگر لسان نبوت سے باوجود ان خدمات جلیلہ کے ارشاد ہوا:’’لما انہ من اہل النار‘‘ {یاد رکھو وہ دوزخی ہے۔}(مسلم ج۱ ص۲۶۷، باب تغلظ تحریم قتل الانسان نفسہ عن سہل بن سعد)

حضور نبی کریمa نے یہ بھی فرمایا کہ:’’ان اللہ یؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر‘‘ {بے شک حق تعالیٰ اس دین کو مدد پہنچا دیتا ہے بدمعاش آدمی سے۔} (مسلم ج۱ ص۲۶۷، باب تغلظ تحریم قتل الانسان کتاب الایمان عن ابی ہریرۃq)

جامع صغیر میں حدیث ہے کہ:’’سیشددہذ الدین برجال لیس لہم عند اللہ خلاق‘‘ (السراج المنیر شرح جامع الصغیر ج۳ ص۲۲۷)

قریب ہے کہ اس دین کی تائید اور تقویت ایسے لوگوں کے ذریعہ سے ہو جائے گی جن کے لئے خدا کے یہاں حصہ نہیں۔

عبداﷲ بن عمرq نے ایک ایسی جماعت کے متعلق جو قرآن کو اور رسول اللہ a کو سب کو مانتی تھی صرف تقدیر کا انکار کرتی تھی۔ فرمایا:’’اذا لقیت اولئک فاخبرہم انی بری منہم وانہم برأؤ منی والذی یحلف بہ عبداﷲ بن عمر لوان لاحدہم مثل احذہبا فانفقہ ما قبل اللہ منہ حتی یؤمن بالقدر (صحیح مسلم رقم الحدیث:۸، سنن ابی داؤد رقم:۴۶۹۵)‘‘ {جب تم ان سے ملو تو کہہ دو کہ میں (عبداﷲ بن عمرq) ان سے علیحدہ ہوں اور وہ ہم سے بے تعلق ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کی عبدﷲ بن عمر قسم کھا سکتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد (پہاڑ) کے برابر سونا ہو پھر وہ اسے خرچ کر ڈالے۔ تب بھی اللہ ہرگز اسے قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ وہ تقدیر پر ایمان لے آئے۔}

ابوطالب سے بڑھ کر اسلام اور پیغمبر اسلام کی حمایت اور اعانت ایسی نازک ترین ساعت میں کس نے کی ہوگی؟ لیکن وہ ساری خدمات اور جانبازیاں بھی اس کو ضحضاح نار سے نہ بچا سکیں۔ روایات بالا کو پڑھ کر کس کی ہمت ہے کہ قادیانیوں کی محض نام نہاد خدمات اسلامیہ کو دیکھ کر ان کے مؤمن یا ناجی ہونے کا فتویٰ دے دے اور ان کے عقائد کفریہ کی طرف کچھ التفات نہ کرے۔

173

عہد رسالت میں منافقین کا گروہ برابر اپنے کو مسلمان کہتا تھا۔ رسول اللہ a کی رسالت پر قسمیں کھا کر گواہی دیتا تھا۔ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے کا اظہار کرتا تھا۔ مسجدوں میں مسلمانوں کے ساتھ ان کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتا تھا اور ان کا ذبیحہ بھی کھاتا تھا۔ لیکن اس پر بھی ان کو جھوٹا اور بے ایمان کہا گیا اور مسلمانوں کو ان کے مکائد سے بچتے رہنے کی ہدایت کی گئی۔ کیونکہ ان کے دوسرے قرائن واحوال اور مخاطبات سریہ ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب کرتے تھے:’’ولتعرفنہم فی لحن القول (محمد:۳۰)‘‘ اور ان کا دل ایمان سے خالی تھا اور وہ لوگ بھی ہمارے یہاں کے پنجابی نبی کی امت کی طرح اندر ہی اندر اسلام اور مسلمانوں کی جڑ کاٹتے رہتے تھے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ پنجابی نبی اور اس کی امت نے تنگ ظرفی سے اسلام کے خلاف بعض عقائد کا اعلان بھی کر دیا اور اس لئے وہ منافق کے بجائے مرتد کے حکم کے تحت میں آگئے اور امیر افغانستان ان کو منافقین کی سی مہلت نہ دے سکے۔ اگر قادیانی پارٹی منافقین میں شامل ہوکر افغانی حدوتعزیر سے بچنا چاہتی ہے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ جہاراً (اعلانیہ) اپنے خبیث عقائد کا اقرار کرنا چھوڑ دے۔ پھر ان کے دلوں کا حال خدا کے اور یوم آخرت کے حوالہ کردیا جائے۔ غالباً مرزامحمود نے جو مشورہ نعمت اللہ کے واقعہ کے بعد اپنی پارٹی کو دیا ہے اس میں اسی نفاق کی تعلیم کی طرف ایک قدم اٹھایا ہے۔

محمد علی (مرزائی) کو اس کی بڑی فکر ہے کہ: ’’اگر علماء دیوبند قادیانیوں کو کافر بتلاتے ہیں۔ سنیوں کو شیعہ اور شیعوں کو سنی۔ مقلدوں کو غیرمقلد اور غیرمقلدوں کو مقلد۔ علی ہذا القیاس دیوبندیوں کو بریلوی اور بریلویوں کو دیوبندی کافر قرار دیتے ہیں۔ اس صورت میں تو کوئی مسلمان نہ رہے گا اور ایک دوسرے کو مرتد سمجھ کر قتل کردیں گے۔‘‘(نعمت اللہ خان کی سنگساری ص۶، تلخیص)

لیکن اوّل تو یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ ان میں سے ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کو کافر اور مرتد اور واجب القتل سمجھتا ہے۔ دوسرے واقعات آپ کے اس خطرہ کی تردید کرتے ہیں۔ کیا اس وقت تک افغانستان کے تین مرتد قتل نہیں کئے گئے؟ پھر بھی خدا کے فضل سے کوئی موقعہ ایسا پیش نہیں آیا کہ کوئی مسلمان محض فرضی جرم ارتداد پر کسی جگہ قتل کر دیا گیا ہو اور اگر کسی جگہ آئندہ ایسا ہی کیاگیا تو آپ دیکھ لیں گے کہ اس کا خون بحول اللہ وقوتہ رنگ لائے بدون نہیں رہے گا۔

174

محمد علی (مرزائی) کو ایسا لکھتے وقت اسلام کے نام اور اپنی نام نہاد امامت کی شرم کرنی چاہئے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ مسلمان یہود ونصاریٰ کو اور وہ سب لوگ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں تو کیا اس اختلاف کے وقت یہود ونصاریٰ کے کافر کہنے سے آپ کو اپنے مزعوم اسلام میں کچھ تردد ہو جاتا ہے یا آپ کے ہاتھ میں کوئی معیار ایسا دیاگیا ہے جس پر آپ اپنے اسلام اور ان کے کفر کو پرکھ سکتے ہیں؟

اسی طرح کیا قرآن وسنت نے کوئی معیار صحیح ومحکم ہمارے ہاتھ میں ایسا نہیں دیا کہ ہم مدعیان اسلام کے اختلاف کے وقت ہر ایک کے کفر وایمان کو اس پر کس کر دیکھ لیں؟ تو صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہر ایک فرقہ دوسرے کو کافر ومرتد کہتا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ ’’ان میں کوئی کافر ومرتد نہیں یا سارے کافر ومرتد ہی ہیں۔‘‘(نعمت اللہ سنگساری ص۶، ملخص)

خدا نے اگر تم سے نورایمان چھین لیا ہے تو کیا عام انسانوں کو جو نور فہم عطاء ہوتا ہے وہ بھی سلب کر لیاگیا ہے؟ تم کو بڑا غیظ ہے کہ جب مرزائی افغانستان میں قتل کئے جاتے ہیں تو بابی اور بہائی شاہ ایران اور ترکوں کے حکم سے کیوں قتل نہیں کئے جاتے؟

یہ سوال یا تو آپ کو کب ہندوالے سید محفوظ الحق سے کیجئے اور یاشاہ ایران اور ترکی پارلیمنٹ سے اور یا ان ملعونین مرجومین سے جو کابل کے قلمرو میں اس علم کے بعد کہ وہاں خالص اسلامی حدوتعزیر کی تلوار چمکتی رہتی ہے ارتداد کا جھنڈا اٹھا کر لے گئے اور انجام کار آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ان کو حق تعالیٰ کے غضب وانتقام کا موروبننا پڑا۔

کیا اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے؟

اب میں دوسرے مسئلہ کی طرف آتا ہوں۔ وہ یہ کہ اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے اور افغانستان کا فعل کس حد تک اصل قانون اسلام پر منطبق ہوسکتا ہے؟ اسلامی اصول کے موافق کسی مسئلہ شرعی کے اثرات کے لئے چار دلیلیں ہوسکتی ہیں۔ کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجماع مجتہدین، قیاس واستنباط۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ ہر مسئلہ کا ثبوت چاروں طریقوں سے ہو اور نہ ہر ایک دلیل ہر مسئلہ میں کارآمد ہوسکتی ہے۔ تاہم مسئلہ زیربحث (قتل مرتد) میں اتفاق سے چاروں دلیلیں جمع ہوگئی ہیں۔

175

چونکہ بارہا کہاگیا ہے کہ قتل مرتد کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کرو۔ (حالانکہ مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت جس کے نہ ماننے سے مسلمان خارج از اسلام ہو جاتے ہیں۔ قرآن، حدیث، اجماع وغیرہ سب کو چھوڑ کر صرف ایک دو صوفیوں کی ناتمام عبارتوں سے ہی ثابت کی جاتی ہے) اس لئے ہم نے بہمہ وجوہ اتمام حجت کے لئے مناسب سمجھ اہے کہ اوّلاً مرتد کے بارہ میں قرآن ہی کا فیصلہ سنایا جائے۔

مرتدین کے بارے میں قرآن کا فیصلہ

یوں تو قرآن کریم کی بہت سی آیات ہیں جو مرتد کے قتل پر دلالت کرتی ہیں۔ لیکن ایک واقعہ جماعت مرتدین کے بحکم خدا، قتل کئے جانے کا ایسی تصریح اور ایضاح کے ساتھ قرآن میں مذکور ہے کہ خدا سے ڈرنے والوں کے لئے اس میں تاویل کی ذرا گنجائش نہیں۔ نہ وہاں محاربہ ہے نہ قطع طریق۔ نہ کوئی دوسرا جرم۔ صرف ارتداد اور تنہا ارتداد ہی وہ جرم ہے جس پر حق تعالیٰ نے ان کے بے دریغ قتل کا حکم دیا ہے۔

حضرت موسیٰm کی برکت سے بنی اسرائیل کو جب خدا نے فرعون کی غلامی سے نجات دی اور فرعونیوں کی دولت کا مالک بنادیا تو حضرت موسیٰm ایک ٹھہرے ہوئے وعدہ کے موافق حضرت ہارونm کو اپنا خلیفہ بنا کر کوہ طور پر تشریف لے گئے جہاں آپ نے چالیس راتیں خدا کی عبادت اور لذت مناجات میں گزاریں اور تورات شریف آپ کو عطاء کی گئی۔

ادھر تو یہ ہورہا تھا اور ادھر سامری کی فتنہ پردازی نے بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت کو آپ کے پیچھے راہ حق سے ہٹا دیا۔ ’’واضلہم السامری (طٰہٰ:۸۵)‘‘ یعنی سونے چاندی کا ایک بچھڑا بنا کر کھڑا کر دیا۔ جس میں سے کچھ بے معنی آواز بھی آتی تھی۔ بنی اسرائیل جو کئی صدی تک مصری بت پرستوں کی صحبت بلکہ غلامی میں رہے تھے اور جنہوں نے عبور بحر کے بعد بھی ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر حضرت موسیٰm سے یہ بیہودہ درخواست کی تھی کہ: اجعل لنا الٰہاً کما لہم الٰہۃ (الاعراف:۱۳۷)‘‘ {ہمارے لئے بھی ایسا ہی معبود بنادیجئے جیسے ان کے معبود ہیں۔}

وہ سامری کے اس بچھڑے پر مفتون ہوگئے اور یہاں تک کہہ گزرے کہ یہی تمہارا

176

اور موسیٰm کا خدا ہے جس کی تلاش میں موسیٰ بھول کر ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ حضرت ہارونm نے موسیٰm کی جانشینی کا حق ادا کیا اور اس کفر وارتداد سے باز آجانے کی ہدایت کی: ’’یٰقوم انما فتنتم بہٖ وان ربکم الرحمٰن فاتبعونی واطیعوا امری (طٰہٰ:۹۰)‘‘ {اے لوگو! تم اس بچھڑے کے سبب فتنہ میں ڈال دئیے گئے ہو حالانکہ تمہارا پروردگار (تنہا) رحمان ہے تو تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔}

لیکن وہ اپنی اس سخت مرتدانہ حرکت پر جمے رہے۔ بجائے توبہ کے یہ کہا کہ: ’’لن نبرح علیہ عٰکفین حتی یرجع الینا موسٰی (طٰہٰ:۹۱)‘‘ {ہم برابر اپنے اس فعل پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ خود موسیٰm ہماری طرف واپس آئیں۔}

ادھر حضرت موسیٰm کو پروردگار نے اطلاع کی کہ تیری قوم تیرے پیچھے فتنہ (ارتداد) میں پڑ گئی۔ وہ غصہ اور غم میں بھرے ہوئے آئے۔ اپنی قوم کو سخت سست کہا۔ حضرت ہارونm سے بھی باز پرس کی۔ سامری کو بڑے زور سے ڈانٹا اور ان کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر راکھ کر دیا اور دریا میں پھینک دیا۔

یہ سب ہوا لیکن ان مرتدین کی نسبت خدا کا کیا فیصلہ رہا۔ جنہوں نے موسیٰm کے پیچھے گوسالہ پرستی اختیار کرلی تھی؟ تو دنیا میں تو ان کے لئے خدا کا فیصلہ یہ تھا:’’ان الذین اتخذوا لعجل سینالہم غضب من ربہم وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا وکذلک نجزی المفترین (الاعراف:۱۵۲)‘‘ {جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ضرور ان کو دنیا میں ذلت اور خدا کا غضب پہنچ کر رہے گا اور مفترین کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔}

اور اس غضب وذلت کے اظہار کی صورت عباد عجل کے حق میں یہ تجویز ہوئی جو سورۃ بقرہ میں ہے: ’’انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبوا الٰی بارئکم فاقتلوا انفسکم (البقرۃ:۵۴)‘‘ {اے قول بنی اسرائیل! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اب خدا کی طرف رجوع کرو۔ پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو۔}

اور ’’فاقتلوا انفسکم‘‘ میں ’’انفسکم‘‘ کے معنی وہی ہیں جو ’’ثم انتم ہولاء تقتلون انفسکم‘‘ میں ہیں اور قتل کو اپنے اصلی اور حقیقی معنی سے (جو ہر طرح کے قتل کے خواہ لوہے سے ہو یا پتھر سے شامل ہے) پھیرنے کی کوئی وجہ وجود نہیں بلکہ غضب اور ذلت ’’فی الحیوٰۃ الدنیا‘‘ کا لفظ اس کے نہایت ہی مناسب ہے اور یہی غضب کا لفظ

177

دوسری جگہ عام مرتدین کے حق میں بھی آیا ہے۔

جیسا کہ فرماتے ہیں:’’من کفر باﷲ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ولٰکن من شرح بالکفر صدراً فعلیہم غضب من اللہ ولہم عذاب عظیم (النحل:۱۰۶)‘‘

اس حکم کا نتیجہ جیسا کہ روایات میں ہے یہ ہوا کہ کئی ہزار آدمی جرم ارتداد میں خدا کے حکم سے موسیٰm کے سامنے قتل کئے گئے اور صورت یہ ہوئی کہ قوم میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کو نہیں پوجا تھا۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے عزیزوقریب کو جس نے گوسالہ پرستی کی تھی۔ اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے قاتلین کا اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنا یہ اس کی سزا تھی کہ انہوں نے اپنے آدمیوں کو ارتداد سے روکنے میں کیوں تساہل کیا؟

’’ولما سقط فی ایدیہم وراوا انہم قدضلوا قالوا لئن لم یرحمنا ربنا ویغفرلنا لنکونن من الخٰسرین (الاعراف:۱۴۹)‘‘ {جب وہ نادم ہوئے اور معلوم کر لیا کہ وہ رستہ سے بھٹک رہے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہ فرمائے گا اور ہم کو نہ بخشے گا تو ہم ضرور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔}

لیکن اس توبہ نے بھی ان کو دنیا کی عقوبت سے نہیں بچایا۔ جیسا کہ اب بھی بعض اقسام مرتد کے متعلق علماء کا یہی فتویٰ ہے کہ وہ توبہ کے بعد بھی حداً قتل کیا جائے گا۔ خواہ توبہ آخرت کے عذاب کو اس سے اٹھاوے۔ اسی طرح گوسالہ پرستوں سے بھی اگرچہ دنیا میں خدا کی تعزیر ساقط نہیں ہوئی۔ لیکن قتل کئے جانے کے بعد خدا نے احکام اخروی کے اعتبار سے ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان قاتلین کی بھی جنہوں نے اپنے اقرباء کے ارتداد کے معاملہ میں مداہنت کی تھی:’’ذٰلکم خیر لکم عند بارئکم فتاب علیکم انہ ہوالتواب الرحیم (البقرہ:۵۴)‘‘ {یہ تمہارے خالق کے یہاں تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پھر خدا نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔}

محمد علی (مرزائی) جن کی تفسیر پر مرزائیوں کو بڑا ناز ہے۔ لکھتے ہیں کہ:’’سینا لہم غضب من ربہم وذلۃ فی الحیٰوۃ الدنیا وکذلک نجزی المفترین‘‘ کے بعد: ’’والذین عملوا السیئات ثم تابوا من بعدہا وامنوا ان ربک من

178

بعدہا لغفور رحیم‘‘ واقع ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کے بعد جرم معاف ہو جاتا ہے۔ (بیان القرآن ص۵۳۷)

لیکن ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جو مرتد توبہ کے بعد بھی حداً یا تعزیراً قتل کیا جائے۔ جیسا کہ عباد عجل کئے گئے۔ اس کے حق میں یہ معافی کی آیت ایسی ہے جس طرح سارق کے بارہ میں: ’’والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما جزآء بما کسابانکالاً من اللہ واﷲ عزیز حکیم (المائدہ:۳۸)‘‘ کے بعد:’’فمن تاب من بعد ظلمہٖ واصلح فان اللہ یتوب علیہ۔ ان اللہ غفور رحیم (المائدۃ:۳۹)‘‘ سے اس کی معافی کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ سرقہ کی سزا دنیا میں اس سے ساقط نہیں ہوتی۔

الحاصل واقعہ عجل سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی کہ مرتدین کی ایک جماعت کو جس کی تعداد ہزاروں سے کم نہیں تھی۔ حق تعالیٰ نے محض ارتداد کے جرم میں نہایت اہانت اور ذلت کے ساتھ قتل کرایا اور ارتداد بھی اس درجہ کا قرار دیا گیا کہ توبہ بھی ان کو خدائی سزا سے محفوظ نہ کر سکی۔ بلکہ توبہ کی مقبولیت بھی اسی صابرانہ مقتولیت پر مرتب ہوئی۔

کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعہ موسوی شریعت کا ہے۔ امت محمدیہa کے حق میں اس سے تمسک نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پہلی امتوں کو جن شرائط اور احکام کی ہدایت کی گئی ہے اور قرآن نے ان کو نقل کیا ہے۔ وہ ہمارے حق میں بھی معتبر ہیں اور ان کی اقتداء کرنے کا امر، ہم کو بھی ہے جب تک کہ خاص طور پر ہمارے پیغمبر، ہماری کتاب اس حکم سے ہم کو علیحدہ نہ کر دیں۔

چند انبیاء ومرسلین کے تذکرہ کے بعد جن میں حضرت موسیٰm بھی ہیں۔ نبی کریمa کو خطاب ہوا ہے کہ:’’اولئک الذین ہدی اللہ فبہدٰہم اقتدہ (الانعام:۹۰)‘‘ {یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت کی تو آپ بھی ان کی ہدایت پر چلئے۔}

یہ خطاب فی الحقیقت ہم کو سنانا ہے۔ خود محمد علی (مرزائی) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ’’قرآن شریف میں کسی انسان کا ذکر ہو یا کسی قوم کا سب مسلمانوں کی تعلیم کے لئے ہے۔‘‘(بیان القرآن ص۵۴)

پس اس قاعدہ سے بنی اسرائیل کے مرتدین کو قتل کئے جانے کے حکم میں بھی تعلیم ہم ہی مسلمانوں کو ہوگی۔

179

مرتد کا فیصلہ سنت رسول اللہ a سے

خصوصاً جب کہ دوسری آیت کی معیت میں خود رسول اللہ a کا عام وتمام فیصلہ بھی (جو: ’’لتبین للناس ما نزل الیہم (النحل:۴۴)‘‘ کے تحت میں داخل ہے) یہی ہوا کہ: ’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘ {جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔} (صحیح بخاری ج۱ ص۴۲۳، ص۲ ص۱۰۲۳)

محمد علی (مرزائی) نے بخاری کی اس حدیث کے ساتھ خوب ٹھٹھا کیا ہے اور اس طرح اپنے دل کی گندگی کو اور بڑھایا۔ کہتے ہیں کہ: ’’یہاں دین سے کیا مراد ہے۔ کیا ہر ایک دین کو بدلنے والا واجب القتل ہے تو یہودی سے کوئی نصرانی بنے یا ہندو سے عیسائی وہ بھی واجب القتل ہوگا۔‘‘ (نعمت اللہ کی سنگساری ص۵، ملخص)

کیا محمد علی (مرزائی) ایمان سے کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ یہ لکھ رہے تھے خود ان کا ضمیر اندر سے ان پر لعنت نہیں کر رہا تھا؟ کیا واقعی طور پر وہ رسول اللہ a کے کسی ایک لفظ کا بھی کوئی ایسا مطلب لینا جائز سمجھتے ہیں جس سے یہ لازم آتا ہو کہ ہر شخص جو اپنا پرانا مذہب چھوڑ کر اسلام میں آتا جائے اسے تم قتل کرتے جاؤ۔ یہاں تو آپ معنی ڈالنے پر سوامی دیانند سے بھی گوئے سبقت لے گئے۔ جس وقت آپ کے دل میں یہ سوال آیا تھا کہ حدیث میں جو مسلمانوں کوخطاب ہے:’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘ اس میں کون سا دین خدا کے رسول کی مراد ہے تو اس کے جواب میں قرآن کی آواز پر کان دھرا ہوتا۔ جو کہتا ہے کہ:’’ان الدین عند اللہ الاسلام (آل عمران:۱۹)‘‘ {بلاشبہ دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔}

’’ومن یبتغ غیرالاسلام دیناً فلن یقبل منہ (آل عمران:۱۹)‘‘ {جو کوئی اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔}

مگر آپ کے دل میں تو وہ خدا کا دین ہے ہی نہیں۔ اس لئے آپ مجبور ہیں کہ کافروں کے دین کی طرف جائیں۔ (الاناء یترشع بما فیہ)

بہرحال حدیث صحیح نے مرتد کے معاملہ میں خواہ وہ برسرپیکار ہویا نہ ہو فیصلہ کر دیا کہ وہ واجب القتل ہے اور لطیفہ یہ ہے کہ حضورa نے کمال بلاغت سے ’’من ارتد عن دینہ‘‘ نہیں فرمایا کہ شاید کسی کو شبہ ہوتا کہ یہ صرف اس کے حق میں ہے جو مثلاً یہودیت وغیرہ

180

کسی مذہب باطل کو چھوڑ کر اسلام میں آیا تھا۔ پھر ادھر ہی لوٹ گیا بلکہ ’’من بدل دینہ‘‘ فرمایا کہ واجب القتل ہونے کے لئے خدائی دین کو تبدیل کرنا کافی ہے۔ ضرورت نہیں کہ جس مذہب سے آیا تھا اس میں لوٹ کر جائے۔

خدائے عزوجل اور رسول خداa دونوں کا فیصلہ مرتد کے متعلق

یہاں تک تو آپ نے مرتد کے بارہ میں خدا اور رسولa کا الگ الگ فیصلہ سنا۔ اب یک جائی بھی سن لیجئے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریq اور معاذ بن جبلq پر رسول اللہ a نے یمن کا علاقہ تقسیم کر دیا تھا۔ دونوں اپنے اپنے حلقہ میں کام کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت معاذq حضرت ابوموسیٰq کے پاس بغرض ملاقات آئے دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس بندھا کھڑا ہے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ مرتد ہے یعنی پہلے یہودیت سے اسلام لایا۔ پھر یہودی بن گیا۔ حضرت ابوموسیٰq نے حضرت معاذq سے کہا کہ تشریف رکھئے۔ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک یہ قتل نہ کردیا جائے۔ تین مرتبہ یہی گفتگو ہوئی۔ معاذ بن جبلq نے فرمایا: ’’قضاء اللہ ورسولہ‘‘ یعنی یہ اللہ کا اور اس کے رسولa کا فیصلہ ہے۔ چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا۔(صحیح بخاری ج۲ ص۱۰۲۳، مسلم رقم الحدیث:۱۴۵۶، سنن ابی داؤد۴۳۵۴، السنن الکبریٰ النسائی ۱۳۱۵)

زنادقہ کے متعلق حضرت علیq کا فیصلہ

یہ تو آپ نے ان دو صحابیوں کا ذکر سنا جو غالباً آپ کے خیال میں علماء دیوبند سے بھی زیادہ تنگ نظر ہوں گے۔ اب نبیa کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی (بقول آپ کے) تنگ نظری بھی ملاحظہ کیجئے: ’’عن عکرمۃq قال اتی علیq بزنادقۃ فاحرقہم فبلغ ذلک ابن عباسq فقال لوکنت انالم احرقہم لنہی رسول اللہ a لاتعذبوا بعذاب اللہ ولقتلتہم لقول رسول اللہ a من بدل دینہ فاقتلوہ (صحیح بخاری ج۲ ص۱۰۲۳)‘‘ {حضرت علیq کے پاس چند زنادقہ لائے گئے۔ انہوں نے ان کو جلادیا۔ یہ خبر ابن عباسq کو پہنچی انہوں نے فرمایا کہ اگر میں

181

ہوتا تو ان کو جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو سزا مت دو۔ البتہ میں ان کو قتل کرتا کیونکہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ جو اپنا دین تبدیل کرے۔ اس کو قتل کر دو۔}

حافظ ابن حجرv نے فتح الباری میں روایات نقل کی ہیں۔ جن میں تصریح ہے کہ یہ زنادقہ مرتدین تھے۔ پھر بعض علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: ’’ومن الزنادقۃ الباطنیۃ وہم قوم زعموا ان اللہ خلق شیئاً ثم خلق منہ شیئا آخر فدبر العالم باسرہ۔ وبسمونہا العقل والنفس الٰی قولہ ولہم مقلات سخیفۃ فی النبوات وتحریف الاٰیات وفرائض العبادات (فتح الباری ج۱۲ ص۲۳۹)‘‘ {اور زنادقہ میں ہی سے باطنیہ فرقہ ہے۔ (جن کے خیالات تخلیق عالم کی نسبت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں) کہ نبوت اور تحریف آیات وعبادات میں ان کے اقوال نہایت زئیل (بیہودہ) ہیں۔}

اس سے ظاہر ہوا کہ جس کو فقہاء زندیق کہتے ہیں وہ مرتد ہی ہے اور زنادقہ ومرتدین کا حکم آپ کو معلوم ہوچکا۔

قتل مرتد کا فیصلہ اجماع ائمۃ الاسلام ہے؟

قرآن وسنت کے بعد تمام ائمۃ الاسلام کا متفقہ فیصلہ بھی قتل مرتد کے متعلق سن لیجئے۔ امام عبدالوہاب شعرانیؒ میزان کبریٰ میں تحریر فرماتے ہیں:’’وقد اتفق الائمۃ علی ان من ارتد عن الاسلام وجب قتلہ وعلی ان قتل الزندیق واجب وہو الذی یسر الکفر ویتظاہر بالاسلام (میزان ج۲ ص۱۶۵)‘‘ {تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے یا زندیق ہو اس کا قتل واجب ہے اور زندیق وہ ہے جو اندرونی کفر کے باوجود اسلام سے مظاہرہ کرتا رہے۔}

اس عبارت کو پڑھ کر یہ آیت بھی تلاوت فرمائیے: ’’ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدٰی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہٖ ماتولی ونصلہٖ جہنم وسآء ت مصیراً (النساء:۱۱۵)‘‘ {جس کسی نے رسول کی، مخالفت کی ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنین کے راستہ کے سوا کسی اور راستہ پرچلا تو ہم اس کو حوالے کریں گے اس چیز کے جس کو وہ اختیار کرتا ہے اور داخل کریں گے دوزخ میں اور وہ براٹھکانہ ہے۔}

182

قتل مرتد کے متعلق قیاس شرعی اور عقل سلیم کا کیا حکم ہے

چونکہ مضمون اندازہ سے زیادہ طویل ہوتا جارہا ہے۔ اس لئے قرآن، سنت اجماع پیش کرنے کے بعد چند الفاظ حافظ ابن قیمv کے نقل کرتا ہوں جن سے معلوم ہوگا کہ کافر حربی اور مرتد کا قتل کیا جانا عقل سلیم اور قیاس صحیح کا اقتضاء ہے۔ فرماتے ہیں: ’’فاما القتل فجعلہ عقوبۃ اعظم الجنایات کالجنایۃ علٰی الانفس فکانت عقوبۃ من جنسہ وکالجنایۃ علی الذین بالطعن فیہ والارتداد عنہ وہذہ الجنایۃ اولٰی بالقتل وکف عدو ان الجانی علیہ من کل عقوبۃ اذا بقاء ہ بین اظہر عبادہ مفسدۃ لہم ولا خیریر جی فی بقاء ہ ولا مصلحۃ فاذا حبس شرہ وامسک لسانہ وکف اذاہ والتزم الذل والصغار وجریان احکام اللہ ورسولہ علیہ واداء الجزیۃ لم یکن فی بقائہ بین اظہر المسلمین ضرر علیہم والدنیا بلاغ ومتاع الٰی حین وجعلہ ایضا عقوبۃ الجنایۃ علٰی الفروج المحرمۃ لما فیہا من المفاسد العظیم واختلاط الانساب والفساد العام (اعلام الموقعین ج۲ ص۲۱۸)‘‘ {خداتعالیٰ نے کئی طرح کی سزائیں مقرر کی ہیں۔ ان میں سے قتل سب سے بڑے جرم کی سزا ہوسکتی ہے۔ مثلاً کسی بے گناہ کو ہلاک کر دینا یا کسی عورت کی آبروریزی کر کے منہ کالا کرنا یا دین حق پر طعن کرنا اور اس سے پھر جانا اور جب قتل عمد کی سزا قتل ہے تو دین برباد کرنے کی سزا بطریق اولیٰ قتل ہونی چاہئے۔ کیونکہ ایک نفس کا اہلاک دین کی تباہی سے زیادہ قبیح نہیں ہے۔ پس اس شخص کا وجود جو دین حق پر طعن کرے ا اس سے پھر جائے مسلمانوں کی جماعت کے اندر بڑی خرابی کا باعث ہے جس کے باقی رکھنے میں کسی نیکی اور بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ہاں! اگر وہ طعن کرنے والا اپنی زبان کو روک لے اور اپنی شرارت سے باز رہے اور مسلمانوں کو دکھ نہ دے اور ذلیل وخوار اور خدا اور رسول کے احکام کے سامنے پست ہوکر رہنا پسند کرے تو اس چند روزہ زندگی میں اس کے لئے گنجائش ہے۔}

یہاں تک ہم نے ادّلہ اربعہ سے قتل مرتد کا بقدر کفایت ثبوت پیش کردیا ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو آئندہ اس کی مزید تشریح کی جائے گی۔ یہ بات رہ گئی ہے کہ بعض

183

لوگوں نے قرآن کی وہ آیات پیش کی ہیں جن میں مرتد کے اعمال حبط ہونے یا ان پر لعنت برسنے یا آخرت میں غضب اور عذاب ہونے کا ذکر ہے۔ ان آیات میں ساتھ کے ساتھ اس کے قتل کئے جانے کا حکم مذکور نہیں۔ لیکن اس میں تو غالباً مرزائیوں کو بھی تردد نہ ہوگا کہ قتل عمد کی سزا اسلام میں قتل ہے۔ پر حق تعالیٰ نے جس جگہ قرآن میں یہ فرمایا ہے: ’’ومن یقتل مؤمناً متعمداً فجزآوہ جہنم خالداً فیہا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذاباً عظیما (النساء:۹۳)‘‘ {اور جو شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو آخرت میں اس کی سزا جہنم ہوگی۔ جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا اور اس پر اللہ غضب اور لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے خدا نے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔}

تو اس کا بدلہ صرف یہ قرار دیا ہے کہ اس کو دوزخ میں خلود ہوگا اور اللہ کا غصہ اور اس کی لعنت اس پر ہے اور خدا نے اس کے لئے بڑا عذاب تیارکر رکھا ہے تو کیا اس جگہ صرف اخروی سزا مذکور ہونے سے مرزائیوں کے مایۂ ناز مفسر کے نزدیک قاتل کو بھی دنیا میں آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟ اگر یہی آپ کی قرآن فہمی اور نکتہ سنجی ہے تو اپنے نام نہاد اسلام اور اس کے فلسفہ کو آپ دنیا میں خوب نیک نام کریں گے۔

اگر آپ قاتل کی نسبت فیصلہ کرنے میں آیت مذکورہ کے ساتھ قرآن کی دوسری آیات کو بھی ملاتے ہیں تو مرتد کے متعلق فیصلہ کرتے وقت ایسا کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ کتنی ہی کوشش کیجئے اور احادیث وآثار سے بھاگ کر قرآن کی پناہ لیجئے۔ مگر قرآن آپ کو ضرور دھکے دے گا اور آپ کے حیل فاسدہ کے منہ پر طمانچے مارے گا۔ کیونکہ رسول اللہ a سے بھاگنے والے کے واسطے خداوند تعالیٰ کے یہاں کوئی پناہ نہیں ہے۔

مرتد کی نسبت اسلامی حکومت کا فیصلہ

قرآن، حدیث، اجماع، قیاس کے فیصلوں کے بعد ایک خالص اسلامی حکومت (افغانستان) کا فیصلہ بھی وہی ہونا تھا جو ہوا۔ لیکن جب سے دولت عالیہ افغانیہ کی سب سے بڑی شرعی عدالت نے نعمت اللہ قادیانی کو اس کے ارتداد کے جرم میں نہایت ذلت اور رسوائی کے ساتھ قتل کرایا ہے۔ مرزائی امت نے اس خالص اسلامی قانون کی تنفیذ اور رسول اللہ a کی ایک محکم سنت کے احیاء کے خلاف سخت شوروہنگامہ بپا کر رکھا ہے۔ کبھی وہ افغانستان کے

184

مقابلہ پر امریکہ اور یورپ کو ابھارتے ہیں۔ کبھی ہندوؤں سے فریاد کرتے ہیں، کبھی آزاد منش لیڈروں کو اکسانا چاہتے ہیں اور سب سے آخر میں رائے عامہ سے اپیل کی جاتی ہے۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ قتل مرتد کا قانون نہ تو یورپ وامریکہ کی حکومتوں کا بنایا ہوا ہے اور نہ کانگریس یا کسی اور دنیوی انجمن کی منتظمہ کمیٹی سے اس کی منظوری میں رائے لی گئی ہے اور نہ ہی پبلک کے غوغائے عام یا ووٹروں کی کثرت کو اس کے پاس کئے جانے میں کچھ دخل ہے۔ وہ تو ایک آسمانی فیصلہ ہے جو خدا کے ان وفادار بندوں کے ہاتھوں سے نفاذ پذیر ہوتا ہے۔ جن کی نسبت قرآن حکیم میں یہ ارشاد ہوا ہے:’’فسوف یأتی اللہ بقوم یحبہم ویحبونہ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکٰفرین۔ یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء (مائدہ:۵۴)‘‘ {تو قریب ہے کہ خدا لائے گا ایک ایسی قوم کو جن کو وہ محبوب رکھتا ہے اور وہ خدا کو محبوب رکھتی ہے کافروں کے مقابلہ میں غالب اور مومنین کے سامنے خاکسار، جو جہاد کرے گی خدا کے راستہ میں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرے گی۔ یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہے دے۔}

وہ ایک فرمان رسالت ہے جس کا امتثال ان ہی سعید روحوں کا حصہ ہے جن کو حق تعالیٰ نے اپنے باغیوں کی سرکوبی کے لئے سارے جہان میں سے چن لیا ہے اور جن کو اس نے محض اپنے افضال سے:’’اشدآء علی الکفار رحمآء بینہم (الفتح:۲۹)‘‘ کا تمغہ مرحمت فرمایا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اس دور فتن میں جب کہ الحاد اور لامذہبیت کی رو کے خلاف کوئی کام کرنے کی بہت ہی کم جرأت ہوسکتی ہے۔ اعلیٰ حضرت امیرغازی ایدہ اللہ بعونہ ونصرہ نے اس سنت سنیہ کو زندہ کر کے بارگاہ الٰہی اور قلوب مؤمنین میں وہ عزت پیدا کر لی ہے جو انسانوں کی دی ہوئی اور بادشاہوں کی تسلی کی ہوئی عزتوں سے بالاتر ہے۔ قاعدہ ہے کہ جو شخص جس گورنمنٹ کے قانون کو قبول کرتا اور اس کی حمایت کرتا ہے اس کی پشت پر اس گورنمنٹ کی ساری طاقت ہوتی ہے پس ضرور ہے کہ جو بادشاہ خدائی قانون کی حمایت اور تنفیذ کرے۔ خدائی طاقت اس کی حامی اور سرپرست ہو۔ اسی لئے ہم کو یقین رکھنا چاہئے کہ اعلیٰ حضرت امیر غازی جس وقت تک قانون الٰہی کو بلاخوف ’’لومۃ لائم‘‘ اپنا دستور العمل بناتے رہیں گے۔ خدائی طاقت ان کو ہر شیطانی طاقت کے مقابلہ میں مظفرومنصور کرے گی۔

185

’’فان اللہ ہومولٰہ وجبریل وصالح المؤمنین۔ والملئکۃ بعد ذٰلک ظہیر (تحریم:۴)‘‘

آج تاجدار افغانستان نے اقامت حدود الٰہیہ سے قرن صحابہi کی یاد تازہ کر دی اور رسول کریمa کی روح مبارک کو خوش کرنے میں اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کی کہ دنیا ان کو وحشی سمجھے گی یا جاہل۔

انہوں نے بڑی دلیری کے ساتھ اسلام کے حقیقی حسن وجمال اور قدرتی سادگی وخوبصورتی سے پردہ اٹھادیا اور اس نے بناوٹی خوبصورتی اور مصنوعی رنگ وروپ سے اس کو بے نیاز ثابت کر دیا۔ جس میں اسلام کے نادان دوست یا دانا دشمن اسے پیش کر رہے تھے۔

امیر کابل جیسے خالص خود مختار اسلامی فرمانروا سے اسلام کی یہ خدمت کچھ زیادہ عجیب نہیں۔ لیکن تعجب اور تعجب سے زیادہ مسرت ہم کو اس بات پر ہے کہ غلام ہندوستان کے اسلامی اخباروں کو (جن میں معزز ’’زمیندار‘‘ اور ’’سیاست‘‘ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں) حق تعالیٰ نے ایسی سیدھی سمجھ اور مؤمنانہ جرأت اور صراط مستقیم پر چلنے کے لئے بصیرت کی وہ روشنی عطاء فرمائی ہے جس نے حضرت محمد رسول اللہ a کے لائے ہوئے اسلام کی اصلی ہیئت اور فتنہ عظیمہ مرزائیت کے کفریات اور بدنتائج کا مشاہدہ کرنے کے لئے غافلوں اور بے خبروں کی آنکھوں کے سامنے اجالا کر دیا ہے۔

مسلمان قوم کے حق میں یہ بڑی مبارک فال ہے کہ اس کے مؤقر اخبار تجارتی مقاصد اور لومۃ لائمین کی پرواہ نہ کرکے ٹھیک ٹھیک اسلامی تعلیمات لوگوں کے سامنے پیش کریں اور ان کی حمایت پر علیٰ وجہ البصیرۃ کمربستہ ہوں۔

ان اخباروں کی روش افغانستان کے اس فعل کی تائیدوتحسین میں حق پرست مسلمانوں پر یہ ثابت کر رہی ہے کہ یہ اخبار محض کسب زرکا آلہ نہیں بلکہ اسلام کے بہترین خادم ہیں جو چاہتے ہیں کہ حد سے بڑھے ہوئے آزاد مسلمانوں کے جذبات ومحسوسات کی ٹرین کو کچھ پیچھے ہٹا کر اسی سیدھی لائن پر کھڑا کر دیں جو رسول اللہ a اور آپ کے صحابہi نے عرب کی زمین پر بچھائی تھی۔

لاہوری پارٹی کے امیر (محمد علی مرزائی) تو لکھتے ہیں کہ: ’’افغانستان کے ایک فعل نے اسلام کی ترقی کو دس سال اور پیچھے ڈال دیا۔‘‘ (نعمت اللہ کی سنگساری ص۱۰)

186

مگر میں انہیں خوشخبری سناتا ہوں کہ دس سال نہیں۔ اس نے اولوالامر مسلمانوں کو نہایت ہی مہلک آزادی کی طرف ترقی کرنے سے تیرہ سو سال پیچھے ہٹادیا ہے۔ مرزائیوں کو بڑی فکر ہے کہ افغانستان کا یہ فعل جب اسلام کی طرف منسوب ہوگا تو غیرمسلم قومیں اسلام سے نفرت کرنے لگیں گی اور یہ سمجھ جائیں گی کہ اسلام صرف تلوار کے زور سے قائم رکھا جاسکتا ہے اوریہ ایک بڑی روک اشاعت اسلام کے راستہ میں ہوگی۔

لیکن قرون اولیٰ کا تجربہ ہم کو یہ بتلاتا ہے کہ جب صدیق اکبرq اور دوسرے خلفاءi کے عہد میں ارتداد کا فیصلہ حضورa کے حکم کے موافق تلوار کی نوک سے کیا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ بعض اوقات سرزمین عرب کا وسیع رقبہ مرتدین کے خون سے رنگین ہوگیا۔ اس وقت اشاعت اسلام کی رفتار ترقی اس قدر سریع اور حیرت میں ڈالنے والی تھی کہ جسے حضورa کے ایک عظیم الشان معجزہ کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

جیسا کہ تھوڑی دیر پہلے میں ثابت کرچکا ہوں۔ صحابہ کرامi رسول اللہ a کے حکم:’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘ کی تعمیل میں ایک لمحہ کا توقف بھی روانہ رکھتے تھے۔ لیکن مرزائیوں کے لئے یہ کس قدر تعجب اور غصہ کا مقام ہوگا کہ ان ہی صحابہi کے عہد میں بے شمار کفار، اسلام کے حلقہ بگوش بنتے گئے۔ نہ تو وہ قتل مرتدین کو دیکھ کر اسلام سے بدگمان ہوئے اور نہ انہوں نے حاملین اسلام سے نفرت کی۔ بلکہ وہ یہ دیکھ کر کہ مسلمان حکمرانوں کے زیرسایہ جہاں تمام یہودونصاریٰ اور دوسری غیرمسلم اقوام اس طرح آزادانہ زندگی بسر کرتے اور اپنے مذہبی وظائف کو بلاروک ٹوک بجالاتی ہیں۔ کسی مرتد کا بیدریغ قتل کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان صرف ایک ہی چیز کے خواہاں ہیں اور وہ یہ کہ ان کے دین میں زیریلے جراثیم کی تولید نہ ہونے پائے اور کبھی ہو جائے تو اس کو ترقی اور تعدیہ کا موقع نہ ملے۔ جراثیم ارتداد کا فنا کرنا فی الحقیقت بقیہ سچے ایمانداروں کی حفاظت کرنا ہے۔ مرتد کا وجود ایک مجسم فتنہ ہے جس سے کمزور اور سادہ لوح مسلمانوں کے خیالات میں تشویش اور ان کے جذبات میں تلاطم پیدا ہوسکتا ہے۔

جو لوگ عہد رسالت میں اپنے آدمیوں کو ’’اٰمنوا بالذی انزل علی الذین اٰمنوا وجہ النہار واکفروا اٰخرہ (آل عمران:۷۲)‘‘ کا مشورہ دیتے تھے ان کی غرض بھی ’’لعلہم یرجعون‘‘ ہی تھی۔ یعنی یہ کہ کچھ مصنوعی مسلمانوں کو اسلام سے پھرتے

187

ہوئے دیکھ کر سچے مؤمنین کو بھی جھوٹ اور باطل کی طرف آنے کی ترغیب ہوگی یا کم ازکم یہ خیال کر کے کہ آخر کچھ تو وجہ ہے کہ یہ لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے منحرف ہوگئے ہیں۔ ان کے دلوں میں بھی ایک طرح کا تردد اور تذبذب پیدا ہو جائے گا۔ اسی لئے اسلام نے ارتداد کے مہلک جراثیم کو تباہ کرڈالنے کے لئے پوری قوت استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔

بہتر ہے کہ مرتد کو اوّلاً سمجھاؤ۔ اس کے شبہات کا ازالہ کرو۔ اگر وہ خدا کی کھلی کھلی آیات دیکھنے اور واضح دلائل سننے کے بعد بھی اپنی معاندانہ ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور اپنی ہواوہوس یا اوہام باطلہ کی پیروی سے باز نہ آئے تو مسلمانوں کی جماعت کو اس کے زیریلے وجود سے پاک کر دو کہ: ’’تبین رشد من الغی‘‘ کے بعد دین میں کوئی اکراہ نہیں ہے۔ ’’لیہلک من ہلک عن بینۃ ویحیٰی من حی عن بینۃ (الانفال:۴۲)‘‘

ایک شخص اتفاقاً گھوڑے سے گر پڑا۔ ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ہڈی کے ریزے ادھر ادھر گھس گئے۔ سول سرجن کا کام یہ ہے کہ ہڈی کو جوڑے، زخم صاف کرے، پٹی باندھے اور مرہم لگائے۔ لیکن اگر کسی تدبیر سے زخم مند مل نہ ہوسکے بلکہ اس کے سرایت کرنے اور باقی ٹانگ کو بھی خراب اور مسموم کر ڈالنے کا اندیشہ ہو تو کیا اس وقت اس سول سرجن کا یہ ایک مشفقانہ فرض نہیں ہوجاتا کہ وہ ٹانگ کے مسموم حصہ کو کاٹ کر پھینک دے اور فاسد عضو بدن پر یہ سمجھ کر کچھ رحم نہ کھائے کہ گھوڑے سے گرنا اور ٹانگ ٹوٹ جانا اور مریض کا زخم مند مل نہ ہونا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ اس وقت سول سرجن کا فرض یہ دیکھنا نہیں کہ آیا مریض نے اپنے اختیار سے مرض کو پیدا کیا ہے یا بے اختیاری طور پر پیدا ہوگیا ہے۔ بلکہ اپنے اختیار کو دیکھنا ہے جسے وہ مریض کے بقیہ اعضاء بدن کو بچانے کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔

یاد رکھو کہ ارتداد ایک سخت زہریلا مادہ ہے جو جسم مسلم میں پیدا ہو جاتا ہے۔ خدائی سول سرجن جب اس کی تحلیل یا اخراج کی تدبیر سے تھک جاتے ہیں تو: ’’السیف آخر الحیل (فیض الباری علی صحیح البخاری از کشمیری رقم الحدیث۳۰۰۹)‘‘ کے قاعدہ سے اس عضو فاسد کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں اور وہ ایسا کرنے کے وقت خدا کی طرف سے ’’ولا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ (النور:۲)‘‘ اور ’’واغلظ علیہم (توبہ:۷۳)‘‘ کے مخاطب ہوتے ہیں۔

کسی سخت آپریشن کا مشاہدہ کرنے سے بعض اوقات نازک دل عورتیں یا بعض

188

ضعیف القلب مرد بھی غش کھا کر گر پڑتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کمزور دل ڈاکٹر اس سے متاثر ہوکرآپریشن چھوڑ بیٹھے تو نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بڑا رحم دل ہے بلکہ کہا جائے گا کہ وہ اپنے منصب سے معزول کر دینے کے قابل ہے۔

ہم کو خدا کا بڑا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے موجودہ عہد انحطاط میں امیر غازی امان اللہ خان اور ان سے پہلے ان کے والد مرحوم کو وہ اختیارات بخشے اور ان اختیارات کے استعمال کی توفیق مرحمت فرمائی جو جسم مسلم کو نہایت ہی سمی آلائشوں سے پاک کرنے اور اصلاح پر لانے کے لئے ضروری تھے۔ اگر بفرض محال یہ صحیح بھی ہو کہ امیر صاحب کے اس فعل سے اشاعت اسلام میں کچھ رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس میں پھر بھی کوئی شبہ نہیں کہ حفاظت اسلام میں اس سے بڑی بھاری مدد ملے گی اور شاید قادیان کی کسی چوتھی بکری کو اب مدت تک یہ ہوس نہ ہوگی کہ اعلانیہ افغانیوں کے اسلام یا ان کی متحدہ قومیت میں سینگ مار کر کابل کے ذبیحہ خانہ سے شہادت کا فخر حاصل کرے۔

مرزامحمود (قادیانی) ہو یا محمد علی (لاہوری) ان کو چاہئے کہ وہ دول یورپ یا سوارجی ہندو مسلمانوں کو اتنا بے قوقف نہ سمجھیں کہ وہ سب کے سب امیر کابل کو آپ کے کہنے سے اتنا سفاک اور جاہل سمجھ لیں گے کہ وہ دول غیر کے تمام سفراء کو اس قدر مأمون ومصئون رکھنے اور افغانی ہندوؤں کو ہندوستانی ہندوؤں سے زیادہ آزادی اور طمانیت عطاء کرنے کے باوجود مشق تیغ آزمائی یا بجبر واکراہ اسلام پھیلانے کے لئے قادیان کی ایک بکری (نعمت اللہ ) پر شمشیر چلا کر خوش ہوتے ہیں۔

کوئی شبہ نہیں کہ کسی آدمی کو عمداً قتل کر ڈالنا بڑی سخت چیز ہے۔ مگر قرآن نے جس کو فتنہ کہا ہے وہ قتل سے بھی بڑھ کر سخت ہے:’’والفتنۃ اشد من القتل (البقرہ:۱۹۱)‘‘ ’’والفتنۃ اکبر من القتل (البقرۃ: ۲۱۷)‘‘

یہ فتنہ دین حق سے ہٹنے یا ہٹائے جانے کا فتنہ ہے۔ جس پر: ’’واحذرہم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک (مائدہ:۴۹)‘‘ میں متنبہ کیاگیا ہے اور جس کو حضرت ہارونm نے اپنی قوم کے مرتد گوسالہ پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے: ’’یٰقوم انما فتنتم بہٖ (طٰہٰ:۹۰)‘‘ سے تعبیر فرمایا تھا اور جو ان کفار کا ہمیشہ مطمع نظر رہتا ہے۔

جن کی نسبت قرآن میں کہاگیا ہے: ’’ودّوالو کفرون کما کفروا فتکونون

189

سوآء (النساء:۸۹)‘‘ {وہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ خود کافر ہیں تم کافر ہوکر ان کے برابر ہو جاؤ۔}

’’ودّکثیر من اہل الکتٰب لویردّونکم من بعد ایمانکم کفاراً۔ حسداً من عند انفسہم (البقرۃ:۱۰۹)‘‘ {بہت سے اہل کتاب ازراہ حسدیہ آرزو رکھتے ہیں کہ تم کو ایمان لانے کے بعد پھر کافر بناڈالیں۔}

’’ولا یزالون یقاتلونکم حتّٰی یردّوکم عن دینکم ان استطاعو (البقرۃ:۲۱۷)‘‘ {وہ ہمیشہ تم سے اس لئے جنگ کرتے رہیں گے کہ اگر ان کا بس چلے تو تم کو تمہارے دین سے ہٹادیں۔}

اسی فتنہ کے روکنے اور مٹانے کے لئے وہ جارحانہ اور مدافعانہ جہاد بالسیف مشروع کیاگیا جس کا خیال مسلمانوں کے دلوں سے محو کرنے کے لئے لاہوری پارٹی کا لغوی اور محمودی پارٹی کا بروزی نبی مبعوث ہوا ہے۔ پڑھو: ’’وقٰتلوہم حتّٰی لاتکون فتنۃ ویکون الدین ﷲ (البقرۃ:۱۹۳)‘‘ {دشمنان اسلام سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ کا وجود نہ رہے اور خدا کا دین ہی غالب ہوکر رہے۔} (جیسا کہ:’’لیظہرہ علی الدین کلہٖ (الفتح:۲۸)‘‘ سے مفہوم ہوتا ہے)

صحیح بخاری میں ابن عمرq سے اور سنن ابن ماجہ میں عمران بن حصینq سے منقول ہے کہ اس فتنہ سے مراد ارتداد کا فتنہ ہے۔ (دیکھو فتح الباری ج۱۳ ص۴۰) اور اسی طرح اشارہ صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاصq کی روایت میں موجود ہے۔

پس اسلام کا سارا جہاد وقتال خواہ ہجوم کی صورت میں ہو یا دفاع کی، صرف مرتد بننے یا بنانے والوں کے مقابلہ میں ہے۔ جس کی غرض یہ ہے کہ فتنہ ارتداد، یا اس کے خطرہ سے مؤمنین کی حفاظت کی جائے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ مرتدین کا جو مجسم فتنہ ہیں۔ استیصال ہو اور مرتد بنانے والوں کے حملوں اور تدبیروں اور ان کی شوکت وقوت کو جس سے وہ مسلمانوں کے ایمان کو موت کی دھمکی دے سکتے ہیں۔ ہر ممکن طریقہ سے روکا جائے یا توڑا جائے۔

چنانچہ کفار اگر جزیہ دے کر اسلامی رعایا بننے یا مسلمانوں کے امن میں آجانے یا باہمی مصالحت اور معاہدہ کی وجہ سے مسلمانوں کو عملاً مطمئن کر دیں کہ وہ ان کے دین میں کوئی رخنہ اندازی نہ کریں گے اور ان کے غلبہ اور شوکت کی وجہ سے مسلمانوں کو مرتد بنائے جانے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے گا تو ایسی اقوام کے مقابلہ میں مسلمانوں کو ہتھیار اٹھانا جائز نہیں۔

190

’’حتّٰی یعطوا الجزیۃ عن یدوہم صاغرون (التوبۃ:۲۹)‘‘ {یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں ہاتھ سے ذلیل ہوکر۔}

’’وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتّٰی یسمع کلام اللہ ثم ابلغہ مامنہ (التوبۃ:۶)‘‘ {اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پناہ دے دو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دو۔}

’’وان جنحوا للسلم فاجنح لہا وتوکل علی اللہ (الانفال:۶۱)‘‘ {اگر وہ صلح کے لئے جھکیں تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ اور خدا پر بھروسہ کرو۔}

’’فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیہم سبیلاً (النساء:۹۰)‘‘ {پھر اگر وہ تم سے علیحدہ رہیں اور نہ لڑیں اور صلح کی سلسلہ جنبائی کریں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلہ میں تم کو کوئی راستہ نہیں دیا۔}

’’وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر (التوبۃ:۱۲)‘‘ {اگر عہدوپیمان کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر زبان درازی کریں تو لڑو تم کفر کے سرداروں سے۔}

پس جہاد بالسیف خواہ ہجومی ہو (یعنی بطریق حفظ تقدم) یا دفاعی (یعنی بطریق چارہ سازی) صرف مؤمنین کی حفاظت کے لئے ہے اور یہ ایک ایسا فطری حق ہے جس سے کوئی عقلمند اور مہذب انسان مسلمانوں کو محروم نہیں کر سکتا۔ اس لئے احکام جہاد کی نسبت جو قرآن میں بکثرت موجود ہیں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ: ’’لااکراہ فی الدین (البقرۃ:۲۵۶)‘‘ اور ’’افانت تکرہ الناس حتّٰی یکونوا مؤمنین (یونس:۹۹)‘‘ کے معارض ہیں بلکہ کہا جائے گا کہ دین میں کوئی اکراہ نہیں۔ البتہ جو فتنے دین میں رخنہ ڈالتے ہوں ان کے روکنے میں ضرور اکراہ ہے۔ یعنی جہاں تک مسلمانوں کی طاقت میں ہوگا فتنہ کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے سر نکالے یا نشوونما پائے۔

اگر اسلام کی اسی حفاظت خود اختیاری کے معنی، اس کا بزور شمشیر پھیلایا جانا ہے تو میں اقرار کرتا ہوں کہ بے شک ایسی حفاظت کے لئے شمشیر استعمال ہوتی ہے اور برابر ان لوگوں کے ہاتھوں سے جنہیں خدا ایسی قوت اور توفیق بخشے گا۔ استعمال ہوتی رہے گی۔’’الجہاد ماض الیٰ یوم القیامۃ (مجمع الزوائد ج۱ ص۱۱۱، سنن ابی داؤد ج۱

191

ص۲۴۷ حاشیہ، کتاب الجہاد)‘‘ خواہ قادیان کا متنبی اپنے قلم کی چوں چوں سے کتنا ہی اس تلوار کی جھنکار کو پست کرنا چاہے۔

ہم بحمداﷲ! خوب سمجھتے ہیں کہ اسلام کے بہت سے دانا دشمنوں نے اس امر کی حمایت میں کہ اسلام ہرگز بزور شمشیر نہیں پھیلا موٹی موٹی کتابیں لکھی ہیں اور کیسی خوبصورتی اور دانائی سے ایک سچی بات کہہ کر دوسری سچی بات (جہاد بالسیف) کی اہمیت اور ولولہ کو مسلمانوں کے دلوں سے محو کرنا چاہا ہے اور اسلام کے بہت سے نادان دوست بھی ان کی اس منافقانہ ہمدردی کا شکار ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنی اصلاح کی قینچی سے مسئلہ جہاد کے بازو کتر ڈالے ہیں۔ لیکن یاد رکھئے کہ قائمین بالحق کا گروہ نہ تو کسی کی تجہیل وتحمیق سے ڈرتا ہے اور نہ کسی کی مکّاری اور چرب لسانی سے پسیجتا ہے۔ وہ بلاخوف تردید کہتا ہے کہ تم حقیقت جہاد سے جاہل ہو، اور خدائے قدوس کی انتہائی وفاداری اور اس کی راہ میں شجاعانہ سرفروشی کو اگر تم وحشیانہ حرکت اور مذہبی دیوانگی سے موسوم کرتے ہو تو ہم اپنی دیوانگی اور تمہاری فرزانگی کی نسبت مولانا رومیؒ کی زبان میں صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں:

  1. آزمودم عقل دور اندیش را

    بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را

  2. اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد

    اوست فرزانہ کہ فرزانہ نہ شد

بہرحال قتل مرتد یا جہاد بالسیف کا حکم مسلمانوں کو فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ہے جس کا اوّل مخاطب امام، صاحب اقتدار ہوتا ہے۔ جن ممالک میں مسلمانوں کا امام، صاحب اقتدار نہ ہو وہاں عام مسلمان اس قسم کے احکام کے مکلف نہیں ہیں۔ (جیسے ہندوستان ہے) بناء علیہ ہندوستان کے مرتد یا غیرمسلم اقوام کو نعمت اللہ خان کے قتل سے خوف کھانے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ خود افغانستان کی غیرمسلم رعایا یا مستامنین کو بھی جیسا کہ مشاہدہ کیا جارہا ہے کوئی خطرہ نہیں۔ لاہوری پارٹی کے (مرزائی) امیر کی سمجھ میں ابھی تک یہ فلسفہ نہیں آیا کہ: ’’ایک ہندو، پیغمبر اسلامa کو نعوذ باﷲ جھوٹا سمجھ کر حکومت افغانستان کے ماتحت آزاد ہے۔ ایک عیسائی یا یہودی آپa کو نعوذ باﷲ مفتری قرار دے کر حکومت افغانستان کے کسی عہدہ پر بھی فائز ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان یہ کہہ کر کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں یہ نہیں۔ (یعنی خاتم النّبیین کا تاویل باطل کے پردہ میں انکار کر کے) واجب القتل ہوجاتا ہے۔‘‘(نعمت اللہ کی سنگساری ص۸)

192

مجھے افسوس ہے کہ ایسی سیدھی اور موٹی سی بات امیر جماعت احمدیہ کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟ وہ کروڑوں انسان جو برٹش قلمرو سے باہر رہتے ہیں اور انہوں نے آج تک انگریزوں کی حکومت اپنے اوپر قبول نہیں کی، آزاد ہیں کہ جو چاہیں قانون اپنے لئے بنائیں اور جس طرز سے چاہیں زندگی بسر کریں۔ انگریزی حکومت کو ان سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن وہ شخص جو برٹش حکومت اور برٹش قانون کو قبول کر کے انگریزی رعایا بن چکا ہے۔ وہ چاہے بغاوت کا جھنڈا کھڑا کر دے اور سڈیشن یا انارکی پھیلائے اور حکومت کے قانون کو توڑے۔ ساتھ ہی زبان سے یہ بھی کہتا رہے کہ میں انگریزوں کی وفادار رعایا میں سے ہوں۔ حکومت اس سے اغماض نہیں کرسکتی۔ حکومت اگر اس کے لئے پھانسی یا حبس دوام کی سزا تجویز کرے تو یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ جب کروڑوں آدمی دنیا میں انگریزی حکومت سے باہر ایسے موجود ہیں جو انگریزی قانون اور اس کی حکومت کو قطعاً نہیں مانتے اور حکومت ان سے کوئی تعرض نہیں کرتی تو کیا وجہ ہے کہ رعیت ہونے کا اقرار کرنے والے شخص کو سڈیشن کے جرم میں اس قدر سخت اور سنگین سزا دی جارہی ہے۔

خوب سمجھ لو کہ جو شخص اسلام میں داخل ہو وہ اس کے حلقہ حکومت میں آگیا اور اس نے اسلام کے پورے قانون کو اپنے حق میں قبول کر لیا۔ اب اگر وہ اسلام کا زبانی دعویٰ رکھتے ہوئے اسلام سے نکلنا چاہتا ہے اور اس کے قانون کو توڑنا چاہتا ہے اور خاتم النّبیین کی رعیت بننے کے بعد کسی کذاب کو جدید نبی مان کر فی الحقیقت آپa کے دعوائے خاتم النّبیین کو جھٹلاتا ہے وہ اسلام کا باغی ہے۔ پس اسلام کی طرف سے وہ یقینا ایسی سزا کا مورد ہوگا جس کے مورد وہ غیرمسلم لوگ نہیں ہیں جو ابھی تک اسلام کے حلقہ میں داخل ہی نہیں ہوئے اور جو ’’فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر (کہف:۲۹)‘‘ کی تہدید آمیز آزادی سے ابھی تک متمتع ہو رہے ہیں۔ امیر جماعت احمدیہ سوال کرتے ہیں کہ: ’’اگر مسلمان حکومتیں اپنے ملکوں میں یہ قانون بنائیں گی کہ کسی غیرمسلم کو ان کے ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت نہیں تو اس کے بالمقابل کیا عیسائی طاقتیں اسی قسم کا قانون اسلام کے خلاف بنانے میں حق بجانب نہ ہوں گی کہ ان کی حکومت میں تبلیغ اسلام کی اجازت نہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہی کہ تبلیغ اسلام کا کام دنیا میں قطعی طور سے رک جائے گا۔‘‘(نعمت اللہ کی سنگساری ص۱۱)

193

اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام اپنے اختیار سے کسی شخص کو مرتد بنائے جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسلام کا یہی قانون افغانستان میں بہت پہلے سے رائج ہے۔ اب اگر اس کے جواب میں محمد علی (لاہوری) یا مرزامحمود (قادیانی) کے مشورہ سے غیرمسلم حکومتیں اپنی قلمرو میں تبلیغ اسلام کو روک دیں تو اگرچہ ہم مسلمان اپنے اس عقیدہ کے موافق کہ آج دنیا میں صرف ایک مذہب اسلام ہی سچا اور مکمل اور عالمگیر مذہب ہوسکتا ہے ان کی اس بندش کو حق بجانب نہیں کہہ سکتے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ وہ ایسا کر گزریں تو ان کو روک بھی نہیں سکتے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک طرف اگر نومسلموں کا سلسلہ رک جائے گا تو دوسری جانب پرانے مسلمانوں کا اسلام سے نکلنا بھی بند ہو جائے گا اور میں خیال کرتا ہوں کہ موجودہ دولت کی حفاظت غیرموجود دولت کی تحصیل سے اہم اور مقدم ہے۔ کسی چھوٹی سے چھوٹی اور ضعیف سے ضعیف سلطنت کی غیرت بھی اس کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ اپنے حاصل شدہ حقوق وفوائد کی حفاظت کے لئے فوج بھرتی کرنے اور بڑی سے بڑی طاقت کی ٹکر اٹھانے سے پہلو تہی کرے۔ حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اس تحفظ کے سلسلہ میں اس کے سپاہیوں کا نقصان غنیم کے سپاہیوں سے بہت زیادہ ہوگا۔

پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام اپنے پیروں کے ایمان کی حفاظت میں ایسی غیرت اور مضبوطی نہ دکھلادے۔ اس خوف سے کہ اس کو دوسری جگہ بعض غیرحاصل شدہ فوائد سے محروم ہونا پڑے گا۔ اپنے حاصل شدہ حقوق کی حفاظت سے دست بردار ہوجائے۔

مرزامحمود قادیانی اور محمد علی مرزائی مع اپنی ذریات کے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر عیسائی طاقتوں سے ایسا قانون بنوالیں اور تبلیغ اسلام کے قانوناً روک دئیے جانے کا گناہ اور قتل مرتد کا جواب میں قتل کئے جانے والے نو مسلموں کا خون اپنی گردن پر اٹھالیں۔ لیکن وہ یہ امید ہرگز نہ رکھیں کہ افغانی حکومت ان کی ان دھمکیوں سے مرعوب ہوکر اپنا اسلامی قانون بدل ڈالے گی اور ان کو یہ موقعہ دیا جائے گا کہ افغانستان کے نہایت ہی پکے اور سچے مسلمانوں میں ایک جھوٹے نبی کا نام لے کر اور غیرمسلموں کے ایجنٹ بن کر تفرقہ اندازی کرتے پھریں۔ محمد علی (مرزائی) کہتے ہیں کہ: ’’اسلام کی فتح اس میں نہیں کہ مسلمان ملکوں میں دوسرے مذہب کی تبلیغ رکی رہے بلکہ اسلام کی فتح یہ ہے کہ اسلام کے مخالف اپنی ساری مادی

194

طاقتوں کو خرچ کر لیں اور جس قدر زور اسلام سے لوگوں کو نکالنے کے لئے لگاسکتے ہیں لگالیں اور آخر دیکھ لیں کہ کس طرح پروہ ناکام رہتے ہیں۔‘‘(نعمت اللہ کی سنگساری ص۱۱)

بے شک اس نتیجہ کا ہم کو بھی یقین ہے اور خدا کی مہربانی اور امداد سے ہم کو پورا وثوق ہے کہ اسلام کے خلاف سب دجالانہ کوششیں اندرونی ہوں یا بیرونی آخر کار ناکام ہوکر رہیں گی۔ لیکن اس یقین اور وثوق سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم برائی کی جس کوشش کو ظہور میں آنے سے پہلے روکنے پر قادر ہوں، نہ روکیں اور جس بدی کو نمودار ہونے سے قبل ہی ہم بند کر سکتے ہیں بند نہ کریں۔

اسلام صرف بہادر ہی نہیں، حکیم بھی ہے۔ وہ اپنی بہادری کے جوش میں اور آخری فتح کے یقین پر احتیاطی تدابیر اور حفاظتی وسائل کو نظرانداز نہیں کرتا۔ بلکہ بطور انجام بینی جہاں تک ممکن ہو فتنہ کے آنے سے پہلے ہی بند لگاتا ہے۔ اگر اس پر بھی فتنہ کسی جگہ نہ رک سکے تو پھر بہادرانہ مقابلہ کرتا ہے اور ہر صورت میں انجام یہی ہوتا ہے کہ حق کی فتح اور باطل کا سرنیچا ہو۔

حضرت ابوبکرq نے مرتدین پر چڑھائی کی۔ لیکن جب انہوں نے مانعین زکوٰۃ سے (حکم زکوٰہ نہ ماننے کی وجہ سے) قتال کا ارادہ کیا تو حضرت عمرq اور دوسرے صحابہ مانع آئے کہ تم کلمہ پڑھنے والوں کے ساتھ قتال کیسے کرو گے؟ آپ نے فرمایا کہ: ’’واﷲ لا لاقاتلنّٰ من فرّٰق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ‘‘ {خدا کی قسم میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا۔}(بخاری ج۲ ص۱۰۲۳، رقم الحدیث:۱۳۹۹)

چنانچہ حضرت عمرq اور دوسرے معترضین کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور حق تعالیٰ نے ابوبکر صدیقq کے ہاتھ سے فتنہ ارتداد کا استیصال کر دیا اور حق کو وہ فتح ونصرت نصیب ہوئی کہ بعد میں صحابہi ابوبکرq کے اس کارنامہ پر رشک کرتے تھے۔

غور کرنے کا مقام ہے کہ مانعین زکوٰۃ اگر خلیفہ کے مقابلہ میں چڑھ کر آئے تھے تو کیا حضرت عمرq جیسے جلیل القدر صحابہi اس کی مدافعت سے حضرت ابوبکر صدیقq کو روکتے تھے۔ کیا انہوں نے:’’فقاتلوا التی تبغی حتّٰی تفیٔ الٰی امراﷲ (الحجرات:۹)‘‘ قرآن میں نہیں پڑھا تھا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقq نے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ یہ لوگ باغی ہیں اور خلافت کے مقابلہ پر انہوں نے چڑھائی کی ہے۔ اس لئے ان

195

سے لڑنا ضرور ہے جو جواب دیا وہ صاف بتلاتا ہے کہ اگر کوئی جماعت مسلمان ہونے کے بعد نماز یا زکوٰۃ یا اسلام کے کسی قطعی حکم کے ماننے سے انکار کرے گی تو اس سے ضرور قتال کیا جائے گا۔ تاوقتیکہ وہ راہ راست پر نہ آجائے۔

ہاں! حنفیہ نے قتل مرتد کے حکم سے عورت کو مستثنیٰ کہا ہے۔ اگرچہ حبس دوام کا حکم وہ بھی دیتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ جرم ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ ایک ہی جرم کی دو سزائیں مجرمین کے احوال کے تفاوت کی بناء پر ہیں۔ میں پہلے ثابت کرچکا ہوں کہ ارتداد اسلام سے بغاوت کا نام ہے تو کیا حکمت وانصاف کی بڑی بڑی مدعی گورنمنٹوں کے یہاں بھی بغاوت کے جرم کی سزا ہر ایک مجرم کے حق میں یکساں ہے؟

پس اگر امام ابوحنیفہv نے بعض نصوص کے اشارہ سے دو مجرموں کے لئے ایک ہی جرم کی دو سزائیں تجویز کی ہیں تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ کیا شریعت میں آمہ (لونڈی) اور حرہ کی حد میں فرق نہیں ہے۔ حالانکہ جرم ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا ایک ہی فعل زنازانی کے محصن اور غیرمحصن ہونے کے فرق سے الگ الگ سزاؤں کا موجب نہیں ہے؟ اسی پر مرتد اور مرتدہ کے جرم ارتداد اور اس کے مدارج کو قیاس کر لو۔ یعنی مرتد اور مرتدہ کی سزاؤں کے تفاوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ سزا جرم ارتداد کی نہیں ہے۔ زیادہ توضیح چاہو تو برادر محترم مولانا سراج احمد صاحب اور مولانا میرک شاہ صاحب کے مضامین کا مطالعہ کرو۔

اب میں مضمون ختم کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ اس کے جواب میں مجھے بہت سی گالیاں دی جائیں گی۔ لیکن میری پھر بھی یہی دعا ہوگی کہ خدائے قادر وتوانا مرزائیوں کو ارتداد کی دلدل سے نکال کر دنیا وآخرت کی سزا سے بچائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر کرے اور بادشاہ اسلام امیر افغانستان کو اجراء حدود اسلامیہ اور محافظ حقوق مسلمین کی بیش از بیش توفیق مرحمت فرمائے: ’’ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب۔ ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا اواخطأنا ربنا ولا تحمل علینا اصراً کما حملتہ علی الذین من قبلنا۔ ربنا ولا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہٖ۔ واعف عنا۔ واغفرلنا۔ وارحمنا۔ انت مولٰنا۔ فانصرنا علی القوم الکٰفرین‘‘

شبیر احمد عثمانی عفاء اللہ عنہ

۱۸؍ربیع الاوّل ۱۳۷۳ھ

196

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تذنیب یعنی ضمیمہ الشہاب

’’حامداً ومصلیاً‘‘

خدا کا شکر میں کس زبان سے ادا کروں جس نے میرے ناچیز رسالہ ’’الشہاب‘‘ کو عام وخاص میں وہ حسن قبول عطاء فرمایا جس کا مجھے لکھتے وقت کچھ بھی اندازہ نہ تھا۔ الشہاب کی اشاعت شروع ہوئی اور چاروں طرف سے اس کی مانگ ہونے لگی۔ شکریہ اور تحسین کے بہت سے خطوط آئے۔ مسلمانوں کو توقع سے بڑھ کر فائدہ پہنچا اور حق تعالیٰ نے باطل پرستوں کے دلوں میں ایسی ہیبت ڈال دی کہ آج ڈیڑھ ماہ سے زائد اس کی اشاعت کو ہوا۔ لیکن مرزائیوں کی کوئی پارٹی بھی جواب سے عہدہ برآہ نہ ہوسکی۔ رسالہ کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر مرزائی دانت پیس رہے ہیں اور ان کے سینوں پر آرے چل رہے ہیں۔ لیکن جس طرح انہیں قبول حق کی توفیق نہیں ہوئی۔ جواب دینے کی ہمت بھی نہیں ہوسکی۔

البتہ آج ۶؍جنوری ۱۹۲۵ء کو ایک رسالہ مسٹر محمد علی مرزائی امیر جماعت احمدیہ لاہور کا اتفاقاً ہمارے ہاتھ آیا جو سزائے ارتداد کے متعلق ان کے پہلے رسالہ کی صدائے باز گشت سے زیادہ نہ تھا۔ اس رسالہ پر ۲۲؍دسمبر کی تاریخ پڑی ہے اور دیوبند سے ۱۹؍نومبر کو الشہاب خود ان کے نام روانہ ہوچکا تھا۔ لیکن آپ اپنے رسالہ کے بالکل آخر میں لکھتے ہیں کہ: ’’مضمون یہاں تک پہنچ چکا تھا کہ رسالہ الشہاب ملا۔ گویا دیوبند سے لاہور ایک ماہ سے زائد میں رسالہ پہنچا۔‘‘

بہرحال آپ (محمد علی مرزائی) کے جدید رسالہ کا خلاصہ چند الفاظ میں یوں ہوسکتا ہے کہ: ’’کسی شرعی مسئلہ کے اثبات کے لئے تین چیزیں ہیں۔ قرآن، حدیث، اجتہاد، ائمہ۔‘‘

اجتہاد ائمہ میں خطا ہوسکتی ہے۔ حدیث بھی غلط روایتوں اور غلط فہمیوں سے محفوظ نہیں ہے۔ لہٰذا ان دونوں سے علیحدہ ہوکر صرف قرآن رہ گیا جو محفوظ ہے۔ پس اس کے خلاف جو چیز آئے گی رد کر دی جائے گی اور خلاف کا مطلب بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کے مزعوم معنی اور تفسیر کی رو سے جس مسئلہ میں قرآن خاموش بھی ہو اس کے متعلق صحیح سے صحیح اور

197

ناطق سے ناطق حدیثیں بھی یہ کہہ کر نظرانداز کر دی جائیں گی کہ ان کا ذکر قرآن میں ان کی بتلائی ہوئی تفسیر کے موافق نہیں ہے۔

اس طرح تمام مسائل اور مباحث کا فیصلہ اس ایک اصول سے ہو جاتا ہے اور کسی قسم کی کدوکاوش کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس تمہید کے بعد آپ نے وہ آیات قرآنیہ پیش کی ہیں جن میں مرتد کے قتل کئے جانے کا حکم نہیں ہے۔ نہ یہ کہ اس کے قتل نہ کرنے کا ذکر ہے۔ بلاشبہ ان کا یہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص: ’’ومن یقتل مؤمناً متعمداً فجزآؤہ جہنم خالداً فیہا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعد لہ عذاباً عظیماً (النساء:۹۳)‘‘ کو پیش کر کے یہ کہنے لگے کہ قتل عمد کی سزا بھی قتل نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت میں باوجودیکہ قتل عمد کا ذکر کیا گیا۔ مگر ساتھ کے ساتھ قاتل کی سزا قتل نہیں بتلائی گئی۔

اس کے جواب میں وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں سزا دینا اور نہ دینا دونوں سے سکوت ہے اور دوسری جگہ قرآن میں: ’’کتب علیکم القصاص فی القتلٰی (البقرہ:۱۷۸)‘‘ فرما کر قاتل کی سزا بتلادی گئی۔

ٹھیک اسی طرح ان کو سمجھنا چاہئے کہ: ’’فاقتلوا انفسکم‘‘ بھی جو مرتدین ہی کے متعلق قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے اس میں ہم کو تعلیم دے دی گئی کہ ارتداد کی سزا اللہ کے نزدیک قتل ہے۔

آپ نے میرے استدلال قرآنی پر پیچ وتاب تو بہت کھائے اور علماء کو گالیاں بھی دیں جو اس نبی (مرزاقادیانی) کے امتی کے لئے نہایت زیبا ہیں جو ذمائم اخلاق، سب وشتم اور لعن وطعن کی تکمیل ہی کے لئے شاید مبعوث ہوا تھا۔ لیکن آیت قرآنی: ’’فاقتلوا انفسکم‘‘ کا کوئی مطلب پھر بھی نہ بتلا سکے۔ آپ نے میرے استدلال پر جو سوالات کئے ان کا نمبروار جواب سنئے:

سوال۱: کیا گوسالہ پرستی سے بنی اسرائیل مرتد تھے؟ اگر یہ صحیح ہے تو کسی قوم کا عقیدہ خواہ کچھ ہو کیا عملی طور پر کسی تعلیم سے انحراف پر ارتداد کا فتویٰ صادر ہوسکتا ہے اور کیا آج لاکھوں مسلمان جو قبر پرستی اور کئی قسم کی:’’من دون اللہ ‘‘ پرستش میں مبتلا ہیں۔ ان پر ارتداد اور سنگساری کا حکم صادر ہوسکتا ہے؟

198

جواب۱: کیا ایمان لانے کے بعد گوسالہ پرستی جس کے ساتھ یہ بھی اعلان ہو کہ:’’ہذا الٰہکم والٰہ موسٰی فنسی (طٰہٰ:۸۸)‘‘ اس کے ارتداد ہونے میں بھی آپ کو کچھ تردد ہیں؟ پھر تو کھلی سے کھلی بت پرستی بھی آپ کے نزدیک کفر نہیں ہوگی۔ کیا قبر پرست یہ کہتے ہیں کہ یہ قبر یا صاحب قبر ہی مسلمانوں کا اور حضرت محمدa کا معبود ہے۔ (معاذ اللہ )

سوال۲: قرآن شریف میں صاف مذکور ہے کہ سامری کو جو اس ساری شرارت کا بانی تھا قتل نہیں کیاگیا۔ سوال یہ ہے کہ حکم شریعت کو سب سے بڑے مرتد پر کیوں نہ صادر کیاگیا؟ کیا وہ اس قوم کا مولوی تھا اور اس لئے حکم شریعت سے مستثنیٰ تھا۔

جواب۲: سامری اس شرارت کا ایسا ہی بانی تھا جیسا آنحضرتa کے عہد میں عبداﷲ بن ابی: ’’رئیس المنافقین، قصہ افک‘‘ کا بانی اور: ’’والذی تولّٰی کبرہ (النور:۱۱)‘‘ کا مصداق اعظم تھا۔ مگر آپ کو شاید یہ خبر نہ ہو کہ حسب روایات صحیحہ اس پر حد قذف جاری نہ کی گئی۔ حالانکہ حضرت حسان بن ثابتq وغیرہ مؤمنین پر حد قذف جاری ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ منافقین سب سے بڑھ کر شرارتیں کرتے ہیں۔ لیکن اپنے نفاق کی وجہ سے دنیا میں قانونی گرفت سے اپنے کو بچاتے رہتے ہیں۔ جھوٹ بولنے اور بات بنادینے میں ان کو کوئی باک نہیں ہوتا۔ ساری کارروائی کرکے بھی قانونی زد سے اپنے کو بچالیتے ہیں۔ جیسا کہ لاہوری پارٹی باوجودیکہ مرزاقادیانی کی ان کتابوں کے حرف بحرف صحیح وصادق ہونے پر ایمان رکھتی ہے۔ جو دعاوی نبوت پر مشتمل ہیں۔ مگر ازراہ خداع وفریب زبان سے یہی کہتی ہے کہ ہم ان کو نبی نہیں مانتے۔ سامری کا نفاق ان سے بھی زیادہ عریق تھا۔ وہ شروع ہی سے مومن نہ تھا۔ بلکہ ایک پکا منافق تھا جو ملت موسوی کی گھات میں رہتا تھا۔ گویا وہ اس عہد کا عبداﷲ بن ابی تھا۔ علامہ سید محمود آلوسی بغدادیؒ روح المعانی میں بہت سے اقوال نقل کر کے فرماتے ہیں۔

’’وبالجملۃ کان عند الجہور منافقا یظہر الایمان وببطن لکفر‘‘ (روح المعانی ج۵ ص۸۹)

پس جیسا کہ میں رسالہ ’’الشہاب‘‘ میں بتلا چکا ہوں منافق کے احکام کھلے ہوئے مرتد سے علیحدہ ہیں۔ اس لئے سامری ان مرتدین کے ذیل میں نہیں آیا۔ ہاں! اس کے فتنہ سے محفوظ کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے اس کو یہ سزا دی: ’’فان لک فی الحیٰوۃ

199

ان تقول لامساس وان لک موعداً لن تخلفہ (طٰہٰ:۹۷)‘‘

سوال۳:اگر ’’فاقتلوا انفسکم‘‘ کے یہ معنی درست ہیں کہ شرک کرنے والے لوگوں کو قتل کر دو تو اس شرک میں ساری قوم مبتلا ہے۔ اس کے بعد جس قوم بنی اسرائیل کا ذکر ہے وہ کہاں سے آئی تھی۔

جواب۳: یہ آپ ثابت کیجئے کہ گوسالہ پرستی میں ساری کی ساری قوم مبتلا تھی۔ لفظ قوم تو بارہا قرآن میں ایسے واقعات کے ذیل میں استعمال ہوا ہے جن کا تعلق مخصوص جماعت یا افراد سے تھا۔

سوال۴: قرآن شریف میں ان کی توبہ قبول کرنے کا بھی ذکر ہے اور اسی واقعہ کا ذکر کر کے یہ بھی فرمایا ہے: ’’ثم عفونا عنکم من بعد ذلک لعلکم تشکرون (البقرۃ:۵۲)‘‘ {ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر گزار بنو۔} اگر قتل کر دئیے گئے تو وہ معافی جس پر شکر گزاری کا حکم ہوتا ہے اور جو اسی دنیا کی زندگی سے تعلق رکھتی ہے کیا تھی؟

جواب۴: اگر اس آیت میں ان ہی مقتولین کی معافی کا ذکر ہے تو بے شک نجات اخروی کے اعتبار سے ان کی توبہ مقبول ہوچکی اور جب اس کی مقبولیت کی اطلاع باقی قوم کو دی گئی تو باہمی تعلقات کی بناء پر ان کو بھی شکرگزار ہونا چاہئے۔

اگر کسی کے ماں، باپ، بھائی، بہن کا جرم حق تعالیٰ معاف کر دے اور اس سے اپنا عذاب اٹھالے تو کیا یہ ایک طرح کا احسان اس شخص پر نہیں ہے؟ دیکھو: ’’یٰبنی اسرائیل اذکروا نعمتی الّتی انعمت علیکم (البقرۃ:۴۰)‘‘ میں ان بنی اسرائیل کو خطاب ہورہا ہے جو آنحضرتa کے عہد میں موجود تھے اور جس انعام کا ان پر ذکر کیاگیا ہے مثلاً فرعون کے ہاتھ سے نجات دلانا، دریا سے پار کرنا وغیرہ وغیر! وہ ان بنی اسرائیل سے متعلق نہیں بلکہ ان کے اسلاف سے متعلق تھا۔ اسی طرح یہاں بھی سمجھ لو اور اگر آپ کے نزدیک دنیا میں ہی ان کا جرم معاف ہوچکا تھا تو: ’’انّ الذین اتخذوا العجل سینا لہم غضب من ربہم ذلّٰۃ فی الحیٰوۃ الدنیا (الاعراف:۱۵۲)‘‘ کس طرح صحیح ہوگا کیا خداتعالیٰ ایک جرم معاف کر کے پھر اسی پر سزا بھی دیتاہے۔

سوال۵: کیا یہ صحیح ہے کہ راغب جیسے امام لغت نے ’’فاقتلوا انفسکم‘‘ کے معنی یہ بھی لکھے ہیں: ’’قیل عنی بقتل انفس اماطۃ الشہوات‘‘ یعنی قتل نفس سے مراد شہوت کا

200

دور کرنا ہے تو وہ تصریح اور ایضاح کہاں رہی جس کا مولوی صاحب کو دعویٰ تھا۔

جواب۵: راغب نے یہ معنی خود اختیار نہیں کئے۔ کسی اور کا قول نقل کیا ہے۔ وہ بھی بصیغہ تمریض اور یہ پتہ نہیں کہ اس کا قائل کون ہے اور کس رتبہ اور درجہ کا ہے۔ ایک ایسے مجہول قائل کے غیرمعروف قول کے مقابلہ میں کیا۔

’’انّ الذین اتّخذوا العجل سینا لہم غضب من ربہم وذلۃ من الحیٰوۃ الدنیا (الاعراف:۱۵۲)‘‘ سے آپ دست بردار ہوجائیں گے؟ کیا ’’اماطۃ الشہوات‘‘ اور نفس کشی بھی خدا کا غضب اور ذلت ہے۔ ایسے غیرناشی عند الدلیل احتمالات کسی مضمون کی صراحت اور وضوح کو باطل نہیں کر سکتے۔

یہ تو امیر جماعت احمدیہ لاہور کی قرآن دانی کا حال تھا۔ اب حدیث فہمی کا نمونہ دیکھئے۔ میں نے سنت رسول اللہ a کے ذیل میں چند احادیث قولیہ صحیحہ پیش کی تھی۔ آپ (محمد علی مرزائی) فرماتے ہیں کہ یہ تو نبی کریمa کے اقوال وارشادات ہیں۔ سنت رسول اللہ a تو آپ کا عمل ہوتا ہے۔ عمل دکھلاؤ۔

بلاشبہ جو لوگ احادیث رسول اللہ a سے گھبراتے اور بھاگتے ہیں خداکی لعنت سے کچھ ایسے خبطی ہوجاتے ہیں کہ موٹی موٹی چیزوں کے سمجھنے کا مادہ بھی ان میں نہیں رہتا اور دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی سب کو بھول جاتے ہیں۔ کسی ادنیٰ طالب علم سے پوچھ لیا ہوتا کہ علمائے حدیث واصول صرف فعل رسول اللہ a ہی کو سنت کہتے ہیں یا حضورa کے قول کو بھی؟ بلکہ اگر قول فعل میں معارضہ ہو تو قول کو فعل پر ترجیح دیتے ہیں۔

امیر جماعت احمدیہ کا احمال اور قول وفعل میں امتیاز اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ حضرت معاذ بن جبلq کی صحیح حدیث: ’’قضاء اللہ ورسولہ‘‘ کو قرآن کے مقابل صحابی کا ایک فعل قرار دیتے ہیں اور پھر کھسیانے ہوکر کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اپنی ساری تفصیلات کے ساتھ مذکور نہیں۔ ہمیں کیا علم ہے کہ اس مرتد نے اور کیا کچھ کیا تھا۔ گویا آپ کا جہل (نہ جاننا) بھی بخاری کی صحیح حدیث کو رد کرسکتا ہے؟

یہ امتی تو اپنے نبی سے بھی بڑھ گیا۔ کیونکہ مرزاغلام احمد قادیانی تو کسی حدیث کو رد کرنے کے لئے اپنی وحی کی آڑ پکڑتے تھے۔ لیکن آپ (محمد علی مرزائی) کے یہاں ایک چیز کا نہ معلوم ہونا بھی اس کے رد کرنے کے لئے کفایت کرتا ہے۔ اجماع ائمہ جو میں نے امام

201

شعرانیؒ کی کتاب سے نقل کیا تھا۔ اس کا جب کچھ جواب نہ بن پڑا تو فرماتے ہیں کہ: ’’یستتاب ابدا‘‘ اور ’’لاقتل الابحراب‘‘ اس کے معارض ہے۔

مگر یہ نہ بتلایا کہ یہ جملے اجماع کے مخالف کس طرح ہیں۔ جن بعض لوگوں کی رائے یستاب ابداً کی ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرتد قتل سے پہلے ارتداد سے توبہ کر لے۔ پھر ارتداد کیا پھر توبہ کر لی اور اس طرح کرتا رہا تو توبہ قبول ہوتی رہے گی۔ اجماع اس پر ہے کہ مرتد واجب القتل ہے اور ان حضرات کے نزدیک جب توبہ قبول ہو جاتی ہے تو وہ بعد توبہ مرتد ہی نہیں رہتا۔ پھر کیوں قتل کیا جائے۔ فی الحقیقت یہ جملہ ان علماء کے مقابلہ میں ہے جو فرماتے ہیں کہ تیسری دفعہ مرتد ہونے والے کی توبہ بھی قبول نہیں۔

اور ’’لاقتل الابالحراب‘‘ جس جگہ لکھا ہے وہیں اس کی تفصیل بھی موجود ہے کہ حراب سے بالفعل جنگ کرنا مراد نہیں اور آپ خود بھی: ’’انما جزآؤ الذین یحاربون اللہ ورسولہ (المائدۃ:۳۳)‘‘ کی تفسیر میں تسلیم کر رہے ہیں کہ ہر جگہ حراب کے معنی جنگ کرنے کے نہیں ہوتے اور اس کے شواہد قرآن شریف سے پیش کرتے ہیں۔ (بیان القرآن ص۶۱۵)

قیاس شرعی جو میں نے حافظ ابن قیمv سے نقل کیا تھا اس کا آپ نے کچھ ذکر نہ کیا بلکہ اس کی جگہ ایک دوسری عبارت جو میں اس سیاق میں نہیں لکھی تھی نقل کر دی اور افسوس کہ اس کا بھی کچھ جواب نہ دے سکے۔

میرے مضمون میں ایک جگہ ’’آخر الحیل السیف‘‘ عربی کا یہ جملہ آگیا تھا جسے کاتب نے نسخ میں لکھ دیا۔ آپ اسے آیت قرآنی سمجھ کر قرآن میں تلاش کر رہے ہیں۔ حالانکہ بہتر ہوتا کہ آپ اسے کابل کے اسلحہ خانہ میں تلاش کرتے۔ آپ کہتے ہیں کہ جس طرح خلیفۃ المسلمین کو یورپین طاقتوں کے دباؤ سے قتل مرتد کا قانون بدلنا پڑا۔ ان علماء کو بھی ذلیل ہو کر ایک دن ایساکرنا پڑے گا۔

مگر آپ کو یہیں سے سمجھ لینا چاہئے تھا کہ علماء ربانیین کو حق تعالیٰ نے کیا جرأت اور قوت قلبی بخشی ہے کہ جو چیز آپ کے ادّعاء کے موافق یورپین طاقتوں کے دباؤ سے خلیفۃ المسلمین تک کو ماننی پڑی ہے اسے آج تک ہندوستان کے محکوم مولویوں نے نہ مانا تم تمام علماء کو

202

مرزاقادیانی کی طرح بزدل اور ڈرپوک نہ سمجھو۔ بحول اللہ وقوتہ ایسے علماء قلیل کثیر برابر موجود رہیں گے جو تلواروں کی چمک اور بندوقوں کی کڑک کے نیچے بھی حق کا اظہار کریں گے۔

اور خدا نہ کرے اگر افغانستان بھی ایک قانون اسلامی کو تبدیل کر دے گا۔ وہ (علماء) جب بھی تبدیل نہ کریں گے۔ آپ نے تو آخر میں چند سوالات جو پمفلٹ میں کئے تھے۔ پھر اعادہ کیا ہے لیکن ان سب کا جواب یہ ہے کہ ناظرین کرام ایک مرتبہ ازراہ مہربانی پھر رسالہ ’’الشہاب‘‘ کو پڑھ لیں۔

ان شاء اللہ ! تمام وساوس شیطانیہ کے لئے لاحول کا کام دے گا اور کوئی ضروری سوال ایسا نہ ملے گا جس کا جواب اس میں موجود نہ ہو۔ میں تطویل کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ کیونکہ آپ نے عملاً میرے رسالہ کے سارے مضامین کو تسلیم کر لیا ہے اور جن ایک دو امور کی نسبت یہ دو ایک ورق سیاہ کئے ہیں۔ اس کی شافی اور مبسوط بحث ہمارے رسالہ میں پہلے سے موجود ہے: ’’ومن لم یجعل اللہ لہ نوراً فمالہ من نور‘‘

تم ہزاربار برا کہو لیکن جو کاری ضرب ’’الشہاب‘‘ نے تمہاری اصل بنیاد پر لگائی ہے وہ خدا کے فضل سے بے اثر نہیں گئی۔ جن کروڑوں مسلمانوں کو آپ کے مرزاقادیانی نے دائرہ اسلام سے نکالا تھا وہ اس رسالہ سے اطمینان پارہے اور دنیا میں جو چند نفوس مرزاقادیانی نے مسلمان چھوڑے تھے ان کے دلوں میں حق تعالیٰ نے ایسا رعب ڈال دیا ہے کہ وہ اب ’’الشہاب‘‘ کے کسی مطالعہ کرنے والے سے اپنے ارتداد کو نہیں چھپا سکتے۔

ایک طرف اگر مرزائی اور آریہ اور عیسائی چند جاہلوں کو مرتد بنا رہے ہیں تو دوسری طرف خداتعالیٰ حق کا نور پھیلا رہا ہے۔ بہت سے غافلوں کی آنکھیں کھلتی جاتی ہیں اور بہت سے لوگ اسلام کی فطری کشش سے اسلام کی طرف جذب ہوتے جاتے ہیں۔

’’کلاً نمد ہؤلآء وہؤلاء من عطاء ربک۔ وماکان عطاء ربک محظوراً (بنی اسرائیل:۲۰)‘‘

تم جلتے رہو اور غیظ کھاتے رہو۔ ہماری طرف سے یہ جواب ہے۔

’’قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذاب الصدور (آل عمران:۱۱۹)‘‘

الراقم شبیر احمد عثمانی دیوبند

۱۰؍جمادی الثانی ۱۳۷۳ھ

203

’’صدائے ایمان‘‘

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

204

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ امابعد!

قادیانیوں کے ایک مضمون کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کے کچھار کے ایک شیر اور پاکستان کے پہلے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے یہ مضمون تحریر کیا۔ جس کا نام ’’صدائے ایمان‘‘ تجویز ہوا۔ یہ جمادی الثانی ۱۳۵۰ھ کی تحریر ہے اور جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ میں ٹھیک بہتر سال بعد دوبارہ شائع کرنے کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سعادت حاصل کر رہی ہے۔فالحمد ﷲ اولاً واخراً!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اما بعد! رسول کریمa کی ذات مبارک کچھ ایسی کفر توڑ ہے کہ ہر شخص جس کے دل میں کفر کی کوئی رگ ہو آپa سے دشمنی رکھتا ہے اور آپa کی مقدس ذات پر حملہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپa کی ترقی میں اس کا زوال اور آپa کی زندگی میں اس کی موت ہے۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ قرآن کریم پر اپنا یقین ظاہر کرتے ہیں۔ درود پڑھتے ہیں اور سلام بھیجتے ہیں۔ باجود اس کے رسول کریمa کی ذات پر حملہ کرنے سے نہیں ڈرتے اور ایسے عقائد وخیالات پھیلاتے ہیں جن سے رسول اللہ a کی شان مبارک کی سخت تنقیص ہوتی ہے اور اس طرح عوام الناس کے دلوں سے آپa کی محبت کم کر کے اپنی محبت وتعظیم کا سکہ بٹھا لانا چاہتے ہیں۔

دیکھو! قادیان کا متنبی سرور کائنات جناب سیدنا محمد رسول اللہ a کے معجزات کی کل تعداد تین ہزار بتلاتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

205

لیکن خود اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ بیان کی ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

گویا سیدالانبیاءa اپنی عظمت وشان میں اس مفتری سے تین سو تینتیس درجہ کم ہوئے۔ (العیاذ باﷲ)

قرآن کریم میں خداوند قدوس نے ہمارے حضورa کی نسبت فرمایا ہے:’’انا فتحنا لک فتحاً مبینا (الفتح:۱)‘‘

یہ مفتری اس کو بھی برداشت نہ کر سکا اور صاف لکھ دیا کہ: ’’فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (یعنی خود اس مفتری) کا وقت ہو۔‘‘(خطبہ الہامیہ ص۲۸۸، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸)

گویا حضورa کی فتح اگر مبین تھی تو اس مفتری کی فتح ابین ہے اور وہ ظاہر تھی تو یہ اظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور سرور کائناتa کی نسبت فرمایا:’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلّہٖ (الفتح:۲۸)‘‘ {وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ سب ادیان پر اس کو غالب کر دے۔}

یہ مفتری کہتا ہے کہ: ’’اس آیت کا مصداق تو میں ہوں اور قرآن میں یہ میری خبر دی گئی ہے۔‘‘(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

غرض اس نے قسم کھائی ہے کہ جو بزرگی اور سیادت ہمارے آقا ومولیٰ سیدنا محمد رسول اللہ a کے لئے ثابت ہوگی اس کو کسی نہ کسی طرح کم کر کے یا جھوٹ اور غلط ثابت کر کے رہوں گا۔ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء اور بذریعہ انبیاء کے ان کی امتوں سے عہد لیا تھا کہ جو کوئی ان میں سے خاتم الانبیاء کا زمانہ پائے ان پر ایمان لائے اور ان کی تائید وحمایت کے لئے کمربستہ رہے۔

اسی لئے سرور کائنات خاتم الانبیاء حضورa نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ: ’’اگر موسیٰm زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع سے چارہ نہ تھا۔‘‘

206

لیکن یہ سب باتیں صرف قرآن وحدیث کے ماننے والوں کی عقیدت وبصیرت میں اضافہ کرنے والی تھیں۔ خداوند کریم کا ارادہ یہ ہوا کہ امام الانبیاء سید المرسلینa کی سیادت وامامت کے عقیدہ کو محض کاغذی دستاویزوں یا زبانی شہادتوں اور خوش عقیدہ مسلمانوں کے حلقوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کا ایک ایسا خارق عادت مظاہرہ کیا جائے جس کے سامنے موافق ومخالف کو طوعاً وکرہاً سرتسلیم جھکا لینا پڑے۔ اس کی صورت یہ قرار دی کہ جب دنیا میں اسلام وکفر یا بلفظ دیگر حق وباطل کی فیصلہ کن معرکہ آرائی اور بالکل آخری کشمکش کا وقت آجائے۔ اس وقت انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم، حضرت عیسیٰ مسیحm کو خاتم مطلق وسید برحق حضرت محمد رسول اللہ a کا نائب اور امت محمدیہ کا قائد بنا کر نہایت اکرام واجلال کے ساتھ آسمان سے زمین پر لایا جائے۔ آپ زمین پر نزول فرماکر یہودیت کا استیصال اور نصرانیت کی اصلاح فرمائیں۔ باطل کو محو کریں، حق کو پھیلائیں۔ گھر گھر میں اسلام کا غلغلہ بلند کریں اور یہ سب کچھ اپنا نام لے کر نہیں بلکہ اس سید وآقا کے نام سے ہو جس کے آپ نائب بناکر بھیجے گئے ہیں۔

اس وقت آپ اپنی رسالت کی طرف کوئی خصوصی دعوت نہ دیں گے بلکہ محمد رسول اللہ a کی طرف مخلوق کو بلائیں گے اور بائبل کے دستور وآئین پر نہیں، خالص قرآن وسنت کے احکام پر بندوں کو چلائیں گے۔ جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا تھا ان کو بتلائیں گے کہ میں خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں۔ بلکہ اس کے سب سے بڑے بندے اور رسول کا متبع بن کر اور ایک طرح ان کی امت میں شامل ہوکر آیا ہوں۔ اس وقت آشکارا ہوگا کہ جو عہد انبیاء سے لیا گیا تھا اس کی نوعیت کیا تھی؟ دنیا دیکھ لے گی کہ ہمارے حضورa کی اور اس امت محمدیہ مرحومہ کی وہ شان ہے کہ جو مقدس ومکرم وجود اس قدر تعظیم وتکریم سے آسمان رفعت پر اٹھایا گیا تھا۔ آج ان کی خاطر آسمان سے اترتا ہے اور خالص ان کی کتاب وسنت کا اتباع کر کے بتلادیتا ہے کہ بڑے اونچے مقام والے بھی بارگاہ محمدی سے انتساب اور آئین محمدی کی

207

پیروی کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔

سبحان اللہ ! وہ منظر کیسا عجیب اور کیا قابل فخر ہوگا جب سرور کائناتa کی سروری اور انبیاء پر آپa کی فضیلت وسیادت اس خارق عادت طریق سے علیٰ رؤس الاشہاد ظاہر ہوگی۔ ایک مومن محمدی کے لئے کون سا موقعہ اس سے زیادہ مسرت وانبساط کا ہوسکتا ہے۔ شاید اسی لئے حدیث میں ارشاد ہوا کہ: ’’کیف انتم اذا نزل۔ ابن مریم فیکم… الخ!‘‘ {تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ابن مریمm تمہارے اندر نزول فرمائیں گے۔}

شیخ اکبرv نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ آخرت میں بھی مسیحm کا حشر دو مرتبہ ہوگا۔ ایک دفعہ انبیاء ورسل کے زمرہ میں اور ایک مرتبہ امت محمدیہa کے ذیل میں۔ (واﷲ اعلم!) خیال کرو کہ اس صورت میں ہمارے دین اور ہمارے پیغمبرa (فداہ ابی وامی) کا کس قدر اعزاز واکرام ہے اور وہ وقت نئے اور پرانے عیسائیوں کے لئے کس قدر ذلت اور رسوائی کا ہونا چاہئے۔

قادیان والوں کو یہ بھی ناگوار ہوا کہ کسی وقت ان کے سفید فام عیسائی آقاؤں کو خود حضرت مسیح آسمان سے اتر کر اس طرح خفیف ورسوا کریں۔ انہوں نے فوراً قادیان سے ایک جھوٹا مسیح کھڑا کردیا تاکہ آسمان سے اس سچے مسیح کو اترنے نہ دیں۔ ٹھیک اسی طرح جو تم نے سنا ہوگا کہ ایک ’’پرندہ‘‘ رات کو اس غرض سے پاؤں اوپر کر کے سوتا تھا اگر کہیں آسمان گرنے لگے تو اس کو اپنے پاؤں پر روک سکے۔ ’’یریدون ان یبدلوا کلٰم اللہ (الفتح:۱۵)‘‘

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ہرگزسرور کائناتa کی اس نمایاں شان امامت وسیادت کا جلوہ دنیا کو دیکھنے نہ دیں گے کہ حضرت مسیح آسمان سے آئیں۔ حضرت محمد رسول اللہ a کے ایک اعلیٰ ترین نائب اور وفادار جرنیل کی حیثیت سے امت محمدیہ میں شامل ہوں اور اپنے نفس کو درمیان سے بالکل الگ کر کے اعلان کریں کہ: ’’میں سارے جہاں کو محمدی پرچم کے نیچے جمع کرنے اور ان کے دشمنوں کو ختم کرنے کے لئے آیا ہوں۔‘‘

208

کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے بڑے نبی کو آسمان پر نہ اٹھایا تو حضرت مسیحm کی عزت ان سے بڑھ کر کیوں کی جائے کہ وہ بجائے قبر میں دفن کئے جانے کے آسمان پر ہیں اور اتنے زمانہ تک نہ مریں؟ لیکن ان کو رباطنوں کو یہ معلوم نہیں کہ محمد رسول اللہ a تو وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ایک آسمان پر نہیں، تمام آسمانوں سے بھی اوپر لے گیا اور حضرت مسیح کو آسمان پر لے جاکر صحیح وسالم رکھنا بھی ان ہی محمدa کے طفیل میں ہوا تاکہ وقت موعود پر ان کی نیابت کافرض ادا کرنے کے لئے اسی عزت کے ساتھ اتارے جائیں جس عزت کے ساتھ چڑھائے گئے تھے۔

پس فی الحقیقت ان کا آسمان پر لے جایا جانا، دوبارہ زمین پر لانے کے لئے تھا۔ اگر دنیا پر محمد رسول اللہ a کی عظمت وسیادت اور اس امت کے خیرالامم ہونے کا مظاہرہ مدنظر نہ ہوتا تو نہ حضرت مسیح کو آسمان پر (جوموطن کون وفساد نہیں ہے) سے جانے کی ضرورت تھی اور نہ اتنے طویل زمانہ تک زندہ رکھنے کی۔

مسلمان جانتے ہیں کہ تمام آسمان فرشتوں سے آباد ہیں اور کتنی طویل مدت سے فرشتے ایک حالت پر ’’الان کما کان‘‘ موجود ہیں۔ لیکن صرف اتنی بات سے انبیاء ورسل پر ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوئی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ چاند، سورج، ستارے آج تک یکساں حالت پر زمین سے کس قدر بلند مقام پر ہیں۔ کیا ان ستاروں کو انبیاءo سے جو اسی زمین پر پیدا ہوئے، جوانی اور بڑھاپے کی منزلیں طے کیں اور آخر اسی زمین کے نیچے دفن کئے گئے۔ افضل کہا جائے گا؟ اس پر بھی اگر کوئی جاہل عیسائی عیسیٰؑ کے ’’رفع الٰی السماء‘‘ سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اٹھانے دو۔ اس کی حماقتوں اور ہماری مصلحت بینیوں سے حقائق واقعیہ بدلی نہیں جاسکتیں اور نہ کسی کو اس بات کا موقعہ دیا جاسکتا ہے کہ مسیحm کی موت سے فائدہ اٹھا کر خود مسیح بن بیٹھے۔

مرزامحمود نے بہت رورو کر بیان کیا ہے کہ: ’’آنحضرتa نے مکہ میں ایسی

209

ایسی سختیاں اٹھائیں اور صحابہ نے ایسی ایسی قربانیاں کیں جن کا عشر عشیر بھی حضرت مسیح اور ان کے حواریوں سے ظاہر نہیں ہوا۔ (گو قادیانی مسیح جو تمام شانوں میں اپنے کو اصل مسیح سے بڑھ کر بتلاتا ہے اس کا عشرعشیر بھی نہ دکھلا سکا) پھر کیونکر مان لیا جائے کہ حضرت محمدa تو آسمان پر نہ اٹھائے جائیں اور حضرت مسیح اٹھالئے جائیں۔ خدا کو کیا ضرورت تھی کہ وہ یہودیوں سے ڈر کر اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیتا۔ وہ اسی زمین میں ہی ان کی حفاظت کرسکتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تباہ کر سکتاتھا۔‘‘

بلاشبہ ہمارے آقا وسید محمد رسول اللہ a نے نہایت طویل مدت تک جو سختیاں اٹھائیں ان سے آپ کا مرتبہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔

’’کما قالa فی الحدیث ان اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل (سنن کبریٰ للنسائی رقم:۷۴۴۰، سنن دارمی رقم:۲۸۲۵)‘‘ اور جیسا ہم اوپر لکھ چکے ہیں اور حضور کے اسی علو مرتبت کے آثار وثمرات میں سے یہ ایک اثر اور ثمرہ ہے کہ حضرت مسیحm کو دوبارہ آپa کی امت کے زمرہ میں شریک کرنے کے لئے آسمان پر محفوظ رکھا گیا۔ پس مسیح کا آسمان پر اٹھانا اگر کوئی عزت وفضیلت کی چیز ہے اور بے شک ہے تو وہ عزت وفضیلت بھی نتیجہ اور غرض وغایت کے اعتبار سے حضرت خاتم الانبیاءa کی ہوئی۔

رہا یہ کہنا کہ آسمان پر لے جانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ کیا زمین پر خدا حفاظت نہ کر سکتا تھا؟ تو کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ محمدa کو مکہ سے مدینہ، ابراہیمm کو عراق سے شام لے جانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اللہ اس پر قادر نہیں تھا کہ ان کو وطن عزیز ہی میں رہنے دیتا اور اس سرزمین سے جس کی نسبت حضورa فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم سب شہروں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہے، الگ نہ کرتا اور سب دشمنوں کو وہیں رہتے ہوئے زیرکردیتا اور دوستوں کو وہیں کھینچ لاتا؟ اس طرح کے سوال ہزاروں ہوسکتے ہیں جن سب کا جواب حافظ شیرازی نے دیا ہے کہ:

210
  1. حدیث از مطرب ومی گودراز ہر کمتر جو

    کہ کس نکشو دو نکشاید بحکمت ایں معمہ

پس تمام سچے ایمانداروں کو لازم ہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور ان عظیم الشان فتنوں کی شب دیجور میں قرآن مجید وسنت کی روشنی سے علیحدہ نہ ہوں۔ بہت سے لٹیرے، ڈاکو، چور، اچکے گھات میں لگے ہیں تم سے دولت ایمان چھین لیں اور بظاہر نبی کریمa کی محبت وعظمت کا دم بھرتے ہوئے بہت ہوشیاری سے اندر ہی اندر تمہارے دلوں سے ان چیزوں کو نکالنے اور اپنی عظمت ومحبت کا سکہ بٹھانے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن اوّلاً: اللہ کی توفیق اور ثانیاً: مؤمنین کی فراست سے امید ہے کہ وہ رہبر ورہزن میں فرق کریں گے اور ان عیاروں کو اپنے ملعون مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیں گے۔

مسلمانو! ہوشیار وبیدار رہو۔ ان دجالوں کے مغالطات میں مت آؤ۔ قرآن وسنت کی حبل متین کو مضبوط تھامے رکھو اور اپنے سید وآقا سرور کائناتa کے نائب اعظم حضرت مسیحm کو آسمان سے آنے دو کہ ان کا آنا عیسائیت، یہودیت اور ہر قسم کے کفر کا جانا ہے۔ ان کی زندگی دجالوں کے لئے پیام موت ہے۔ اس لئے یہ دجال صفت ہمیشہ ان کی آمد کی طرف سے لوگوں کو توجہ ہٹاتے رہے ہیں۔ تم ان کی آمد پر یقین رکھو۔ کیونکہ یہ چیز قرآن کریم واحادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہوچکی ہے۔

ہاں! ان کی آمد سے پہلے اپنی سرتوڑ کوششوں اور مجاہدانہ قربانیوں سے ثابت کرو کہ ہم:’’واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم (الجمعہ:۳)‘‘ بھی اسی سچے مسیح کے ہر اوّل ہیں جو سارے جہاں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ a کے ایک جرنیل اعظم کی حیثیت سے دنیا کو علم اسلام کے نیچے جمع کرنے والا ہے۔

واﷲ الموفق والمعین وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ واصحابہ اجمعین!

جمادی الثانی ۱۳۵۰ھ

211

سیدنا عیسیٰؑ

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

212

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ اما بعد!

محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف ترجمان السنۃ (جلد سوم ص۵۲۱تا۵۹۳ تک کا حصہ) حضرت سیدنا عیسیٰؑ کی شخصیت، حیات، رفع ونزول کے مباحث پر مشتمل ہے۔ علیحدہ کتابی شکل میں ’’نزول عیسیٰؑ‘‘ کے نام سے بھی سورت ضلع گجرات انڈیا سے شائع ہوا۔ اس کو کتاب ہذا کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

قرآن وسنت اور عقل کی روشنی میں اس کے مباحث ایمان پرور ہیں۔ مطالعہ فرمائیں گے تو قلب وجگر، ایمان وایقان کو جلاء نصیب ہوگی۔

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ، مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سیدنا حضرت عیسیٰؑ کی حیات طیبہ کی ایک اہم سرگزشت کے متعلق چند جدید

علمی اور منصفانہ نکات قرآن وحدیث اور تاریخ کی روشنی میں

حضرت عیسیٰؑ کا نزول قیامت کی بڑی علامت ہے۔ اس لئے اس کو عالم کے تعمیری نظم ونسق کی بجائے تخریب عالم کے نظم ونسق پر قیاس کرنا چاہئے۔ حضرت عیسیٰؑ کے حیات طیبہ میں رفع ونزول کی سرگزشت بے شک عجیب تر ہے۔ لیکن اس پر غور کرنے سے قبل سب سے پہلے یہ سوال سامنے رکھنا چاہئے کہ یہ مسئلہ کس دور اور کس شخصیت کے ساتھ متعلق ہے۔ کیونکہ دنیا کے روزمرہ معمولی واقعات بھی زمانہ اور شخصیتوں کے اختلاف سے بہت مختلف ہوجاتے ہیں اور ان کی تصدیق وتکذیب میں بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی زمین پر ایک خطہ زمین ایسا بھی ہے۔ جہاں مہینوں کی رات اور مہینوں کا دن ہوتا ہے اور ان ہی سمندروں میں ایک سمندر ایسا بھی ہے جس پر مسافر موسم سرما میں خشکی کی طرح سواریوں پر چلتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کا اختلاف بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ شجاعت وطاقت اور دانائی وفرزانگی کے وہ بعید سے بعید کارنامے جو رستم واسفند یار، انور بے اور ہٹلر، اسٹالن اور لینن

213

وغیرہ کے حق میں بے تأمل قابل تصدیق سمجھے جاتے ہیں۔ وہ عام انسانوں کے حق میں بڑے تأمل کے بعد بھی بمشکل قابل تصدیق ہوسکتے ہیں۔ پس صرف عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے یا صرف اپنے دور اور اپنے زمانہ کے حالات پر قیاس کر کے کسی صحیح واقعہ کا انکار کر دینا کوئی معقول طریقہ نہیں ہے۔

لہٰذا مسئلہ نزول پر بحث کرنے کے وقت بھی سب سے پہلے اس پر غور کرلینا ضروری ہے کہ یہ واقعہ کس دور اور کس زمانہ سے پھر کس شخصیت سے متعلق ہے۔ جب آپ ان دو سوالوں پر محققانہ نظر ڈالیں گے تو پوری وضاحت سے ثابت ہوگا کہ یہ واقعہ تخریب عالم یعنی قیامت کے واقعات کی ایک کڑی ہے اور تخریب عالم کا ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو عالم کے تعمیری دور کے واقعات سے ملتا جلتا ہو۔ پس اگر تخریب عالم کے وہ سب واقعات جو تعمیری دنیا کے بعد کے واقعات سے مختلف ہونے کے باوجود قابل تصدیق ہیں تو پھر اس ایک واقعہ کی تصدیق میں آپ کو تأمل کیوں ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ عالم کی تخلیق اور اس کی تخریب کے دونوں واقعات اتنے عجائبات پر مشتمل ہیں کہ جو انسان ان دونوں جانبوں سے غائب ہے۔ وہ بیچارہ اپنے موجودہ حالات کی دنیا دیکھ کر ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آپ عالم کی تخلیق کے واقعات پر ذرا نظر ڈالیں۔ زمین کس طرح بنائی گئی۔ پھر کس طرح بچھائی گئی۔ آسمان کس طرح بنائے گئے۔ آدم کس طرح پیدا ہوئے۔ ان کا جوڑا کس طرح پیدا ہوا۔ پھر کس طرح خلافت ارضی قائم ہوئی۔ اسی طرح بہت سے واقعات ہیں جو ایک سے ایک عجیب تر ہیں اور ان سب ہی کے بیان کی ذمہ داری خود قرآن کریم نے اپنے سر رکھی ہے۔ اگر آپ ان میں سے ایک واقعہ بھی عالم کے تعمیری دور کے نظم ونسق سے ملاکر دیکھیں تو آپ کو ان میں سے ایک واقعہ کے فہم میں بھی سخت الجھن پیش آئے گی اور اسی بناء پر ایک جماعت نے تو سرے سے تخلیق عالم ہی کا انکار کر کے قدم عالم کا راستہ لے لیا ہے۔ مگر آپ کے نزدیک کیا اس کا یہ طریقہ کار صحیح ہے؟

اسی طرح جب آپ تخریب عالم کے واقعات پر نظر ڈالیں گے تو وہ بھی عجیب درعجیب ہی نظر آتے ہیں۔ یعنی کبھی نہ پھٹنے والے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ آفتاب وماہتاب اور یہ تمام روشن ستارے بے نور ہوکر گرپڑیں گے اور کبھی جنبش نہ کرنے والے یہ بڑے بڑے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے نظر آئیں گے اور یہ سارا کا سارا

214

عالم ہستی عدم محض اور صرف نیستی کے تحت آجائے گا۔ یہ اور ان جیسے اور بہت سے عقل سے بالاتر واقعات کے بیان کی ذمہ داری بھی خود قرآن کریم ہی نے اٹھائی ہے۔ اب اگر آپ ان کی تصدیق کا فیصلہ موجودہ عالم کے واقعات کے پیش نظر کرنے بیٹھ جائیں تو کیا آپ کوئی صحیح فیصہ کر سکیں گے۔ لیکن ہاں! جب آپ عالم کی تخلیق اور اس کی تخریب کے دونوں سرے ملا کر دیکھیں گے تو دونوں آپ کو بالکل یکساں صورت میں نظر آئیں گے۔

پس چونکہ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا مسئلہ بھی عالم کے درمیانی واقعات کا مسئلہ نہیں بلکہ تخریب عالم کے واقعات کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس لئے اپنی جگہ وہ بھی معقول ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تمام مردوں کے زندہ ہوہو کر ایک میدان میں جمع ہونے کا زمانہ قریب آرہا ہو تو اس سے ذراقبل صرف ایک زندہ انسان کا آسمانوں سے زمین پر آنا کون سی بڑی بات ہے؟ بلکہ اس طویل گمشدگی کے بعد یہ جسمانی نزول مجموعہ عالم انسانی کے جسمانی نشاۃ ثانیہ کے لئے ایک بدیہی اور محکم برہان ہے۔ اسی لئے حضرت عیسیٰؑ کی شان میں ارشاد ہے: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی حضرت عیسیٰؑ قیامت کی ایک مجسم علامت ہیں۔ درمنثور میں حضرت ابن عباسq اور حسنq اور قتادہq سے منقول ہے کہ اس آیت کا مصداق قیامت سے قبل حضرت عیسیٰؑ کی تشریف آوری ہے۔

اس کے بعد جب آپ اس پر غور کریں گے کہ یہ پیش گوئی ہے کسی شخصیت کے متعلق، وہ شخصیت کسی عام بشری سنت کے تحت کوئی بشر ہے یا ان سے کچھ الگ ہے تو آپ کو یہی ثابت ہوگا کہ وہ صرف عام انسانوں ہی سے نہیں بلکہ جملہ انبیاءo کی جماعت میں بھی سب سے الگ اور سب سے ممتاز خلقت کا بشر ہے۔ جتنے انسان ہیں وہ سب مذکر ومؤنث کی دو صنفوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر حضرت عیسیٰؑ ایک ایسے انسان ہیں جن کی تخلیق صرف ایک صنف انسانی سے وجود میں آئی ہے۔ پھر اس میں تمثل جبرئیلی اور نفخہ ملکی اور تکلم فی المہد کے واقعات اور بھی عجیب تر ہیں۔ ان کے معجزات دیکھئے تو وہ بھی کچھ نرالی شان رکھتے ہیں۔ ان میںسے ہر ہر معجزہ ایسا ہے جس میں ’’باذن اللہ ‘‘ کی قید لگانی پڑتی ہے۔ ان کے گزشتہ دور حیات میں ملکیت کا اتنا غلبہ ہے کہ کھانے پینے، رہنے سہنے، شادی ونکاح کا کوئی نظم ونسق ہی نہیں ملتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ ان سب ضروریات سے منزہ ومبرّا سچ مچ کے ایک فرشتہ ہیں۔ پھر جب ان کی ہجرت کا مرحلہ سامنے آتا ہے تو یہاں بھی ان کی شان سب سے نرالی نظر

215

آتی ہے۔ یعنی ان کی ہجرت کسی خطۂ ارضی کی بجائے اس عالم کی طرف ہوتی ہے جو ملکوت اور ارواح کا مستقر ہے۔ غرض ان کی حیات کے جس گوشہ پر نظر ڈالئے وہ ملکوتیت کا ایک مرقعہ نظر آتا ہے۔ یہاں قرآن کریم نے جو لقب ان کو عطاء فرمایا ہے وہ بھی سب سے ممتاز ہے اور اس نوع کا لقب ہے جس سے ان کی زندگی کی یہ سب خصوصیات اجمالی طور پر بیک نظر سامنے آجاتی ہیں۔ یعنی ’’روح اللہ ‘‘ اور ’’کلمتہ اللہ ‘‘ گو بنی آدم جتنے بھی ہیں ان سب کی روحیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف اور اسی کے حکم ’’کن‘‘ سے آئی ہیں۔ مگر یہاں اس روح کی آمد میں کوئی ظاہری واسطہ بھی نہ تھا اور جو واسطہ تھا وہ ایسا ہی تھا جس کے موجود ہونے سے عالم قدس کی طرف ان کی نسبت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ یہ تمام کا تمام وہ تذکرہ حیات ہے جو ان کے آسمانوں پر جانے سے قبل سے متعلق ہے۔ اب آپ نازل ہونے کے بعد ان کے حالات پر نظر ڈالیں تو وہ پہلی زندگی کے بالکل برعکس ہیں۔ یہاں ان کے تمام معاملات میں دنیا کا مرتب نظم ونسق ملتا ہے۔ حتیٰ کہ نکاح وولادت کا بھی اور اس سے بھی بڑھ کر ان کی حیثیت ایک امام وامیر کی ثابت ہوتی ہے۔ گویا وہ انسانوں میں بھی کوئی معمولی طبقہ کے انسان نہیں بلکہ اس اعلیٰ طبقہ کے انسان ہیں جن کی قیادت میں اسفل طبقہ کے انسان ترقی کر کے اعلیٰ طبقہ کے انسان بن سکتے ہیں۔ غرض ان کی حیات کے یہ دودور تمام تر قدرت کے ان عجائبات سے مشابہ ہیں جوعالم میں دست قدرت کے براہ راست پیدا کردہ ہیں۔ وہ بیک وقت بن باپ ہوکر آغاز عالم کے واقعات میں حضرت آدمm کے مشابہ ہیں۔ ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم (آل عمران:۵۹)‘‘ اور اتنی طویل غیبت کے بعد عالم کے خاتمہ پر جسمانی نزول فرماکر علامات قیامت میں بھی شمار ہیں: ’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا (الزخرف:۶۱)‘‘ اگر ایک طرف اپنی پہلی حیات میں آسمانوں پر جاکر وہ فرشتوں سے مشابہ ہیں تو دوسری طرف نزول کے بعد موت اور پھر آنحضرتa کے پہلو میں مدفون ہو کر عام انسانوں کی صف میں بھی داخل ہیں۔ اگر پہلی زندگی میں ان کا معجزہ احیاء موتیٰ ہے تو نزول کے بعد دوسرے دور حیات میں اماتت دجال یعنی قتل دجال ہے۔ ان کی یہ تمام سوانح حیات قرآن کی بیان کردہ ہے۔ چنانچہ سورۂ نساء آیت:۱۵۹ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ‘‘ آئندہ ان کی وفات ان کے نزول کی شاہد ہے جیسا کہ آئندہ اس کی تشریح آئے گی۔

216

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک انسان کا آسمانوں پر زندہ جانا اور زندہ رہنا اور آخر زمانہ میں پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ اترآنا۔ نہ عام انسانوں کی سنت ہے اور نہ زمانہ کے عام واقعات کے موافق ہے۔ لیکن اگر آپ یہ دو باتیں ملحوظ رکھیں کہ یہ مسئلہ تخریب عالم کا ایک مقدمہ ہے اور ہے بھی اس شخصیت کے متعلق جس کے دیگر حالات زندگی بھی عالم کے عام دستور کے موافق نہیں تو پھر بنظر انصاف اس میں آپ کو کوئی تردد نہ ہونا چاہئے۔ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰؑ کو حضرت آدمm سے تشبیہ دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی ہستی کو عالم کے درمیانی سلسلہ پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اگر ان کے حالات کو قیاس کرنا ہی ہے تو تخلیق عالم کے حالات پر قیاس کر کے دیکھو تمہارا سب تعجب جاتا رہے گا۔

اصل یہ ہے کہ مادی عقول کے نزدیک کچھ یہی ایک مسئلہ نہیں ہے جو زیر انکار آرہا ہو، بلکہ عالم غیب کے تمام حقائق ہی زیرانکار ہیں اور درحقیقت یہ عقل ونقل کی اصولی جنگ کا ثمرہ ہے۔ ارباب عقل یہ سمجھتے ہیں کہ اخبار انبیاءo سب خلاف عقل ہوتے ہیں اور اصحاب نقل یہ سمجھتے ہیں کہ جو بات بھی عقلی ہو وہ سب شریعت کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ نزاع وجدل درحقیقت عقل وشرع کا صحیح مفہوم متعین نہ کرنے سے پیدا ہورہا ہے۔

حافظ ابن تیمیہv لکھتے ہیں: ’’کون نہیں جانتا کہ قرآن وسنت نے جا بجا عقل کی تعریف فرمائی ہے۔ بلکہ اپنی دعوت کا مخاطب ہی صرف اہل فہم اور اہل عقل کو قرار دیا ہے۔ مجنون اور بچے اس کی دعوت کے احاطہ سے ہی باہر ہیں۔ لیکن جب بعض اہل بدعت نے بعض کلامی مسائل کو جو دراصل قرآن وسنت کے بھی خلاف تھے۔ اصول دین میں داخل کردیا اور اس کا نام عقلیات رکھا تو اب اہل شرع کو عقلیات کے نام ہی سے ایسی نفرت پیدا ہوگئی جو شخص بھی عقلی استدلال کرتا نظر آتا ان کے نزدیک بدعتی اور باطل پرست سمجھا جاتا اور دوسری طرف جب عقلاء نے اہل شرع سے وہ مسائل سنے جوصریح عقل اور یقینی تاریخ کے خلاف تھے۔ اس پر ان کا یہ دعویٰ سنا کہ وہ قرآن وحدیث کے بیان کردہ ہیں تو ان کے دلوں میں نفس قرآن وسنت ہی کے متعلق خلاف عقل ہونے کی بدگمانی بیٹھ گئی۔ حتیٰ کہ اب جو قرآن وسنت سے استدلال کرتا ان کے نزدیک قانون فطرت اور تقاضائے عقل کامخالف ہوتا۔ یہاں غلطی دونوں فریق کی ہے۔ عقلاء کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے تحقیق کئے بغیر ہر خلاف عقل بات کا نام شرع کیوں رکھ دیا؟ اور علماء کی کوتاہی یہ ہے کہ انہوں نے جو عقل صحیح کا تقاضہ نہ تھا۔ اس کو

217

شرع کے مفہوم میں کیسے داخل کردیا؟ حالانکہ شریعت کا ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے جو عقل سلیم کے نزدیک قابل انکار ہو یا محالات کی تعریف میں آتا ہو۔ لیکن جب کسی ابتدائی غلطی پر کچھ مدت گزر جاتی ہے تو وہ غلطی راسخ ہوتے ہوتے عقائد کا رنگ پیدا کر لیتی ہے اور جو کسی صحیح حقیقت پر نتائج وآثار مرتب ہوتے ہیں وہی اس غلطی پر مرتب ہونے لگتے ہیں۔ اس لئے اگر مسائل پر گفتگو کرنے سے قبل عقل وشرع کا صحیح صحیح مفہوم متعین کر لیا جائے تو عقلاء اور علماء کے درمیان بحث وجدل کا یہ وسیع میدان بہت تنگ ہوسکتا ہے۔ علماء ہر خلاف عقل بات کو شرع کے مفہوم میں داخل کرنے کی سعی کرنا ترک کر دیں اور عقلاء شرع کی ہر بات پر خلاف عقل ہونے کی بدگمانی دل سے نکال ڈالیں اور عقل وفکر کا کوئی صحیح معیار مقرر کر لیں۔‘‘(کتاب النبوۃ ص۶۴)

خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ قابل تسلیم نہیں ہے تو پھر آپ کو بھی ایک فیصلہ کرنا ہوگا کہ عالم کے تخلیق وتخریب کے دوسرے تمام واقعات بھی قابل تسلیم نہیں ہیں اور اگر وہ سب قابل تصدیق ہیں تو پھر یہ مسئلہ بھی قابل تصدیق ماننا ہوگا۔ صرف اس لئے آغاز عالم کے تعمیری واقعات سے آپ کی زندگی کا اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ یہ مستقبل بعید کے تخریبی واقعات کے موجودہ دور کے انسانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے ان سب سے صرف نظر کر کے بحث کا رخ صرف مسئلہ نزول میں منحصر کردینا اپنے نفس کو بھی مغالطہ میں رکھنا ہے اور دوسروں کو بھی مغالطہ میں ڈالنا ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کے جزئی معاملات کی اہمیت

واضح رہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی شخصیت اس لحاظ سے بھی سب میں ممتاز ہے کہ ان کے جزئی جزئی واقعات کو بھی قرآن کریم نے اصولی معاملات کی سی اہمیت دی ہے۔ مثلاً ان کی ولادت کا معاملہ یہ ایک جزئی معاملہ ہے۔ مگر ان کی ولادت کو بھی قرآن کریم نے بڑی اہمیت سے ذکر کیا ہے۔ یعنی فرشتہ کا بصورت بشری آنا اور اپنی آمد کی غرض وغایت بتانا اس پر حضرت مریم کا ناکتخدائی کی حالت میں تعجب فرمانا پھر فرشتہ کا جواب اور اس کے بعد ان کے گریبان میں پھونک مارنا یہ سب تفصیلی ذکر ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی والدہ کا دردزہ بھی، پھر ولادت اور اس پر لوگوں کی چہ میگوئیاں بھی ظاہر ہے کہ ان سب معاملات میں سے کس معاملہ

218

کو اصولی اور بنیادی کہا جاسکتا ہے؟ مگر کیا ان میں سے کوئی ایک بات بھی ایسی ہے جس کو آپ صرف ایک جزئی معاملہ کہہ کر ٹال سکتے ہوں اور جس پر عقیدہ رکھنا کوئی ضروری بات نہ ہو پھر عیسیٰؑ کے نزول کے اہم واقعہ کو صرف ایک جزئی معاملہ کہہ کر آپ کیونکر عقائد کی فہرست سے خارج کرسکتے ہیں۔

مسئلہ نزول کی حیثیت کتب عقائد میں

یہی وجہ ہے کہ شروع سے لے کر آج تک کتب عقائد میں اس مسئلہ کو بھی دیگر عقائد کے ساتھ ساتھ ایک عقیدہ ہی شمار کیا ہے۔ حتیٰ کہ محدثین نے جو مؤلفات ترتیب دی ہیں۔ گو ان کو عقائد کی شکل پر مرتب نہیں فرمایا۔ ان کے مقاصددوسرے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امام مسلم نے جن کی کتاب کو بلحاظ ترتیب بخاری شریف پر بھی فوقیت دی گئی ہے۔ نزول عیسیٰؑ کو ابواب ایمان کا ایک جز قرار دیا ہے۔ پھر یہ کہنا کتنی کوتاہ نظری ہے کہ نزول عیسیٰؑ کا مسئلہ چونکہ ایک جزئی مسئلہ ہے۔ اس لئے اس کو عقائد اور ایمانیات کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ معجزات کی بحث میں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ! اس پر اور مبسوط بحث کریں گے کہ رسولوں کی اخبار پر ایمان رکھنا یہ جزئی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ رہا خاص نزول عیسیٰؑ کا مسئلہ تو اس کو اس حیثیت کے علاوہ رسالت اور قیامت کے مسئلہ سے بھی براہ راست تعلق ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کی تفصیل آنے والی ہے۔ یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ذات وصفات، قضا وقدر، حشر ونشر اور رؤیت باری تعالیٰ وغیرہ جن مسائل کو بے چون وچرا عقائد میں داخل سمجھاگیا ہے۔ ان میں توکافی اختلافات بھی ملتے ہیں۔ چنانچہ معتزلہ ان سب مسائل میں اہل سنت والجماعت سے اپنا علیحدہ خیال رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اشاعرہ ماتردیدیہ کے مابین بھی بعض مسائل میں ضرب المثل اختلاف موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان مسائل کو کسی نے عقائد کی فہرست سے خارج نہیں کیا۔ اس کے برخلاف نزول عیسیٰؑ کا مسئلہ ہے۔ جس میں سلف سے لے کر آج تک ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف ثابت نہیں۔ پھر اس کو عقائد کی فہرست سے کس طرح خارج کیاجاسکتا ہے۔ حیرت ہے کہ معتزلہ جو مذکورہ بالا مسائل میں اہل سنت سے کچھ اختلاف بھی رکھتے ہیں۔ وہ بھی اس مسئلہ میں جمہور امت کے ساتھ متفق ہیں۔ جیسا کہ زمخشری نے کشاف میں اس کی تصریح کی ہے۔

219

ابن عطیہ لکھتے ہیں کہ: ’’تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰؑ اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت میں بجسم عنصری پھر تشریف لانے والے ہیں۔ جیسا کہ متواتر حدیثوں سے ثابت ہے۔‘‘ (بحرمحیط ج۲ ص۴۷۳)

مسئلہ نزول کی حیثیت احادیث میں

اس بارے میں اگر حدیثوں پر نظر ڈالیں تو تیس صحابہi سے تقریباً سو حدیثوں میں باسالیب مختلفہ اس مسئلہ کو بتکرار قسمیں کھاکھا کر دہرایا گیا ہے۔ (ان صحابہi کے اسماء مبارکہ یہ ہیں جن کی تفصیل روایات دیکھنی ہوں تو رسالہ)’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ مؤلفہ محترم جناب مولانا محمد شفیع صاحبv مفتی اعظم پاکستان ملاحظہ فرمائیں:

(۱)ابوہریرہ۔ (۲)جابر بن عبداﷲ۔ (۳)نواس بن سمعان۔ (۴)ابن عمر۔ (۵)حذیفہ بن اسید۔ (۶)ثوبان۔ (۷)مجمع۔ (۸)ابوامامۃ۔ (۹)ابن مسعود۔ (۱۰)ابو نضرۃ۔ (۱۱)سمرۃ۔ (۱۲)عبدالرحمان بن جبیر۔ (۱۳)ابوالطفیل۔ (۱۴)انس۔ (۱۵)واثلہ۔ (۱۶)عبداﷲ بن سلام۔ (۱۷)ابن عباس۔ (۱۸)اوس۔ (۱۹)عمران بن حصین۔ (۲۰)عائشہ۔ (۲۱)سفینہ۔ (۲۲)حذیفہ۔ (۲۳)عبداﷲ بن مغضل۔ (۲۴)عبدالرحمن بن سمرۃ۔ (۲۵)ابوسعید الخدری۔ (۲۶)عمار۔ (۲۷)ربیع۔ (۲۸)الحسن۔ (۲۹)عروہ بن رویم۔ (۳۰)کعب۔ (۳۱)الامام جعفر۔ رضی اللہ عنہم اجمعین!

اس بڑے ذخیرہ میں سے چالیس حدیثیں تو ایسی ہیں جن کی تصحیح وتحسین محدثین نے صراحت کے ساتھ ثبت فرمادی ہے اور بقیہ کے متعلق گو صراحۃً ان سے تحسین منقول نہ ہو۔ لیکن کوئی صاف جرح بھی ثابت نہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس پیش گوئی کا ربتہ کیا ہے؟ دعویٰ سے کہا جاسکتا ہے کہ متواتر حدیث کی جو بڑی سے بڑی مثال پیش کی گئی ہے اس پیش گوئی کا پلہ کسی طرح بھی اس سے ہلکا نہیں ہے۔ پھر جب کتب سابقہ پر نظر ڈالی جائے تو یہاں انجیل بھی احادیث نبویہ کے ساتھ اس درجہ مطابق ملتی ہے کہ اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور یہ یقین بدیہی بن جاتا ہے کہ عیسیٰؑ کا نزول صرف اسی شریعت کا مسئلہ نہیں بلکہ جملہ ادیان سماویہ کا ایک ایسا متفقہ عقیدہ ہے۔ جس میں اصول دین کی طرح کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا۔

220

مسئلہ نزول کی حیثیت انجیل میں

پھر اس مسئلہ کی حقیقت ایک عام اور مجمل پیش گوئی کے سمجھ لینے میں کتنی بڑی فروگزاشت ہوگی۔ انجیل متی باب:۲۴، آیت:۳ میں ہے: ’’اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آکر کہا ہم سے یہ کہہ کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور زمانہ کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟ تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں کی خبر سنو گے۔ خبردار مت گھبرائیو! کیونکہ ان سب باتوں کا ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک آخر نہیں ہے کہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھ آئے گی اور کال اور مرینی پڑے گی اور جگہ جگہ یہ بھونچال آئیں گے یہ سب کچھ مصیبتوں کا شروع ہے۔‘‘

انجیل متی باب:۲۴، آیت:۲۳تا۳۱ میں ہے: ’’اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔ پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہوگا۔ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائیں گے اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی ساری قوتیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔‘‘

انجیل لوقا باب:۲۱، آیت:۲۶ میں اتنی زیادتی اور ہے: ’’اور ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلاؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی… اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہوکر سر اوپر اٹھانا اس لئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔‘‘

انجیل متی باب:۲۴، آیت۳۲،۳۳ میں ہے: ’’اب انجیر کے درخت کی ایک تمثیل

221

سیکھو جونہی اس کی ڈالی نرم ہوتی ہے اور پتے نکلتے ہیں۔ تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے۔ اسی طرح جب تم ان سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر ہے۔‘‘

اعمال باب:۱، آیت:۹ میں ہے: ’’اور وہ یہ کہہ کے ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے ہوئے جب وہ آسمان کی طرف تک رہے تھے۔ دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے اور کہنے لگے۔ اے جلیل مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا ہے پھر آئے گا۔‘‘

مسئلہ نزول کی حیثیت قرآن کریم میں

خداتعالیٰ کی سب سے آخری کتاب قرآن کریم ہے۔ جب اس پر نظر ڈالیں تو اس میں بھی حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی یہی حیثیت ثابت ہوتی ہے۔ رہا ان کے رفع جسمانی کا مسئلہ تو اس کو تو قرآن کریم نے اہل کتاب کے مقابلہ میں اپنی جانب سے ایک فیصلہ کی حیثیت سے ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ آئندہ اس کی تفصیل آتی ہے:’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہٖ قبل موتہٖ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیداً (النساء:۱۵۹)‘‘ یعنی اہل کتاب میں کوئی ایسا نہ ہوگا جو عیسیٰؑ کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے۔ آیت بالا میں اس کی تصریح ہے کہ عیسیٰؑ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ نیز یہ کہ آئندہ زمانہ میں کسی شبہ کے بغیر اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابوہریرہq حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی صحیح حدیث روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اگر اس پیش گوئی کو تم قرآن کریم کی روشنی میں دیکھنا چاہو تو آیت بالا کو پڑھ لو۔ اس کی مزید تشریح آئندہ آئے گی اور اس مغالطہ کو بھی دور کر دیا جائے گا کہ نزول کا لفظ قرآن کریم میں کیوں نہیں آیا۔ پس اگر یہ مسئلہ جو کتب سابقہ سے لے کر احادیث نبویہ اور خود کتاب اللہ میں اس تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ عقائد کی فہرست میں شمار ہونے کے قابل نہیں ہے تو پھر اور کس مسئلہ کو عقائد میں شمار کیا جاسکتا ہے؟ تعجب ہے کہ یہاں کتب سماویہ کو اس پر جتنا اصرار ہے ہماری مادی عقول کو اس سے اتنا ہی انکار ہے۔فالی اللہ المشتکی!

222

مسئلہ نزول کی اہمیت اور اصول دین سے اس کا تعلق

موجودہ دور کے مبصرین کی نظر یہاں ایک اور واضح حقیقت سے بھی چوک گئی ہے۔ وہ صرف اس بحث میں الجھ کر رہ گئی ہے کہ نزول عیسیٰؑ کی خبر صرف ایک پیش گوئی ہے اور جس طرح دیگر پیش گوئیاں نہ صرف صداقت رسول کا ایک معیار ہوتی ہیں۔ یہ بھی اسی نوع کی ایک پیش گوئی ہے۔ لہٰذا جو امت اس رسول کی تصدیق پہلے سے کرچکی ہے اس کے حق میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ اور اسی غلط فہمی میں انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اصل دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو یہ علم ہی نہیں کہ اس پیش گوئی کو ایک اصولی اہمیت بھی حاصل ہے۔ کیونکہ اہل کتاب کی دومرکزی جماعتوں کا نقطہ ضلالت یہی پیش گوئی ہے۔

حافظ ابن تیمیہv لکھتے ہیں کہ: ’’کتب سابقہ میں دو مسیح کی آمد کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ ایک مسیح ہدایت کی، جس کا مصداق حضرت عیسیٰؑ تھے اور دوسری مسیح ضلالت کی، جس کا مصداق دجال ہے۔ جب حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی تو یہود بے بہبود نے ان کو تو مسیح ضلالت کا مصداق ٹھہرالیا اور اس لئے ان کی ایذارسانی اور قتل کے درپے رہے اور جب مسیح ضلالت ظاہر ہوگا یعنی دجال تو اس کو مسیح ہدایت کا مصداق ٹھہرائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام یہود دجال کی اتباع کر لیں گے۔ اس کے برعکس نصاریٰ ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو گو مسیح ہدایت کا مصداق تو مانا مگر حد سے بڑھا کر ان کو اقانیم ثلاثہ کا ایک جز بنالیا۔ اب یہاں ان دونوں بڑی بڑی جماعتوں کو جو بسیط ارض پر پھیلی پڑی ہیں ایک مسیح کی آمد کا انتظار لگ رہا ہے یہود کو تو اس لئے کہ ان کے نزدیک مسیح ہدایت کی جو پیش گوئی کی گئی تھی اس کا ظہور ابھی باقی ہے۔ لہٰذا مسیح ہدایت کو آنا چاہئے اور نصاریٰ کو اس لئے کہ ان کے زعم میں وہی مسیح دوبارہ آکر مخلوق کا حساب لیں گے اور یہی دن قیامت کا دن ہوگا۔‘‘(الجواب الصحیح ج۱ ص۳۴۱،۱۸۱)

اس مسئلہ پر بحث کے وقت اگر اس اہم تاریخ کو بھی سامنے رکھ لیا جاتا تو یہ واضح ہو جاتا کہ اس پیش گوئی کی حقیقت نہ صرف ایک پیش گوئی کی ہے اور نہ ایک جزئی واقعہ کی بلکہ اس کا تمام تر تعلق اصول دین کے ساتھ ہے۔ کیونکہ رسالت اور قیامت کے دونوں مسئلے اصولی مسئلے ہیں اور اس مسئلہ کو ان دونوں سے گہرا تعلق ہے۔ یہاں یہودیوں کی یہ گمراہی کتنی

223

اصولی گمراہی تھی کہ انہوں نے مسیح ہدایت یعنی خداتعالیٰ کے ایک سچے رسول کو مسیح ضلالت یعنی دجال ٹھہرالیا تھا اور نصاریٰ کی یہ گمراہی بھی کتنی اصولی تھی کہ انہوں نے خداتعالیٰ کے ایک رسول کی آمد کو خدائی آمد اور اس کی آمد کے دن کو قیامت کا دن سمجھ رکھا تھا۔ ان دو اصولی غلطیوں کی اصلاح پر دنیا کی ان دو بڑی بڑی امتوں کے ایمان کا دارومدار ہے۔ اس لئے آنحضرتa نے ان کی آمد کی پیش گوئی کی وہی اہمیت محسوس فرمائی ہے جو کسی اصولی معاملہ کی کی جاسکتی ہے اور مسیح ہدایت اور مسیح ضلالت کی تفصیلات بیان فرمادی ہیں کہ پھر آئندہ ان دونوں کے ظہور کے وقت ان کی شناخت میں دونوں قوموں کو کوئی مغالطہ نہیں لگ سکتا۔ یہود آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جس کو انہوں نے مسیح ضلالت سمجھا تھا (والعیاذ باﷲ)

درحقیقت وہ مسیح ہدایت تھے اور نصاریٰ کو یہ خوب ثابت ہوجائے گا کہ جس کو انہوں نے خدائے تعالیٰ کا شریک ٹھہرالیا تھا۔ درحقیقت وہ اس کا ایک بندہ اور اس کی مخلوق تھا اور ان کی آمد قیامت کا دن نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی علامت تھی اور ساری غلطیاں خود عیسیٰؑ ہی کی زبان سے دور کر دی جائیں گی تاکہ اختتام عالم سے قبل اتحاد ملل کے راستہ میں جتنی رکاوٹیں ہوسکتی تھیں وہ ایک ایک کر کے سب دور کر دی جائیں اور ملل سماویہ کی وحدت کا وعدہ پوری صفائی اور صداقت سے پورا ہو جائے۔ ’’وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً‘‘

حضرت عیسیٰؑ کی اہمیت تاریخی نظر میں

یہ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ ان انبیاءo میں سے نہیں ہیں جن کا تذکرہ تاریخ نے محو کر ڈالا ہو بلکہ ان اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں جن کا تذکرہ ہر دور میں بڑی اہمیت کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اہل کتاب کے دو بڑے بڑے گروہ ان کی ایک ایک علیحدہ تاریخ رکھتے ہیں اور خود اہل اسلام کے پاس بھی ان کی ایک منقح تاریخ موجود ہے۔ یہود کی تاریخ یہ ہے کہ عیسیٰؑ کو انہوں نے قتل کر ڈالا ہے۔ اس لئے ان کے نزدیک تو ان کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہ گئے نصاریٰ تو وہ ان کی دوبارہ تشریف آوری کے قائل ہیں۔ مگر وہ اس دن کو قیامت کا دن سمجھتے ہیں اور مجمل طور پر ان کے سولی چڑھائے جانے اور زندہ ہوکر آسمانوں پر اٹھائے جانے کے بھی قائل ہیں۔ اہل اسلام

224

کا عقیدہ یہ ہے کہ نہ وہ قتل ہوئے اور نہ سولی دئیے گئے۔ بلکہ زندہ اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور قیامت سے پہلے، پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ تشریف لائیں گے اور مدینہ طیبہ میں جوار آنحضرتa میں وفات کے بعد مدفون ہوں گے۔ اب ایسے اولوالعزم رسول کے متعلق یہ حق کس کو پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسی جدید تاریخ بنالے جو دنیا میں کسی جماعت کو بھی مسلم نہ ہو۔ مثلاً یہ کہنا ہے کہ وہ سولی پر چڑھائے گئے پھر نیم مردنی کی حالت میں اتارلئے گئے تھے۔ پھر کہیں جاکر اپنی طبعی موت سے مر گئے اور آخر کشمیر یا کسی اور شہر میں جاکر ایسی گمنامی کی حالت میں مدفون ہوگئے جس کی اطلاع کسی کو نہیں ہوسکی۔ اس جلیل القدر رسول کی اس جدید تاریخ کی مثال بالکل ایسی ہے جیسا آج کوئی شخص آنحضرتa کے متعلق بیان کرے کہ آپa کی وفات اور دفن کا سب افسانہ غلط ہے بلکہ جب کفار نے آپa کو زیادہ ستایا تو آپa اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے گئے اور آئندہ پھر تشریف لانے والے ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی عقال ایسا ہے جو اس رسول اعظم کی اس جدید تاریخ پر غور کرے اور اس کے دلائل سننے کے لئے تیار ہو۔ ہمارے نزدیک ایک مسلم فوت شدہ رسول کے زندہ آسمانوں پر جانے کی تاریخ میں اور ایک مسلم زندہ آسمانوں پر موجود رسول کے متعلق ان کی موت اور دفن کی جدید تاریخ میں کوئی فرق نہیں۔ نہ وہ عقلاء کے نزدیک قابل توجہ ہے، نہ یہ قابل التفات ہوسکتی ہے۔

عیسیٰؑ کی وفات کی اہمیت تاریخ کی نظر میں

یہ بات کتنی عجیب ہے کہ عیسیٰؑ خود نبی اولوالعزم ہیں۔ ان کی امت بھی تسلسل کے ساتھ کسی انقطاع کے بغیر اب تک چلی آرہی ہے۔ پھر ان کی موت اور ان کی قبر کا صحیح حال آج تک ان سب پر کیسے مخفی رہ گیا۔ بالخصوص یہود جوان کے قتل کے مدعی تھے۔ وہ اس اہم واقعہ سے کیسے غفلت اختیار کرسکتے تھے۔ کیونکہ عیسیٰؑ کے مقتول ہونے کے لئے ان کی قبر کی نشاندہی ان کے لئے سب سے کھلا ہوا ثبوت تھی۔ مگر یہاں نہ تو یہودان کی قبر کا پتہ اور نشان بتاسکتے ہیں اور نہ اس بارے میں نصاریٰ کے پاس ہی کوئی صحیح علم ہے۔ ادھر حضرت عیسیٰؑ اور آنحضرتa کی بعثت کے درمیان جو مدت ہے وہ تقریباً چھ سو سال کی مدت ہے۔ یہ اتنی طویل مدت نہیں کہ اس میں کسی ایسی اولوالعزم تاریخی شخصیت کی قبر اتنی لاپتہ

225

ہوجائے کہ نہ اس کے ماننے والوں بلکہ پوجنے والوں کو معلوم ہو اور نہ اس کے دشمنوں کو، اس امت میں نہ معلوم کتنے اولیاء اللہ گزر چکے ہیں جن کی وفات پر اس پر کہیں زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ مگر ان کی قبریں آج تک تازہ یادگاریں معلوم ہوتی ہیں۔ پھر عیسیٰؑ کی موت اور ان کی قبر کی ایسی گمنامی یہ کیسے قرین قیاس ہوسکتی ہے؟ اس سے زیادہ حیرت اس پر ہے کہ آنحضرتa نے تشریف لاکر ان کے حق میں کبھی موت کا ایک حرف نہیں فرمایا اور نہ ان کی قبر کا کہیں نشان بتایا۔ درآنحالیکہ یہ مسائل آپ کی آنکھوں کے سامنے زیربحث چل رہے تھے۔ اس کے برعکس فرمایا تو یہ کہ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے اور ابھی ان کی وفات نہیں ہوئی اور قبر بتائی تو مستقبل بعید میں اپنے پہلو کے قریب مدینہ طیبہ میں، اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے تردید الوہیت کے موقع پر حضرت عیسیٰؑ کے معمولی سے معمولی حالات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ مثلاً ان کا کھانا کھانا ’’کانا یا کلٰن الطعام (المائدۃ:۷۵)‘‘ مگر ان کی الوہیت کے خلاف جو سب سے واضح ثبوت تھا یعنی یہ کہ وہ مرچکے ہیں۔ اس کو ایک جگہ بھی عیسائیوں کے مقابلہ میں ذکر نہیں فرمایا اور نہ کبھی آپa کی زبان مبارک سے یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰؑ کی تو مدت ہوئی وفات ہوچکی ہے۔ پھر وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں؟ حالانکہ بارہا عیسائیوں کے ساتھ آپa کے مکالمات ہوئے ہیں۔ پھر اس تحقیقاتی دور میں جہاں جبل ایورسٹ پر رسائی ہوچکی ہو، فرعون کی لاش دستیاب ہوچکی ہو اور سفینہ نوحm کے نشانات معلوم کئے جاچکے ہوں وہاں کیا اس مقدس رسول کی قبر مخفی رہ سکتی تھی؟ ان حالات میں بھی اگر اپنی جانب سے ہم ان کی موت اور قبر کی نشاندہی کے مدعی بنتے ہیں تو تاریخی دنیا میں اس کی کیا قدر ومنزلت سمجھی جاسکتی ہے؟

اگر حضرت عیسیٰؑ کی وفات ہوچکی تھی تو نصاریٰ اور اہل اسلام خاص

طور پر ان ہی کی حیات کے قائل کیوں ہیں؟

یہاں تھوڑا سا غور اس پر بھی کر لینا چاہئے کہ اگر بالفرض حضرت عیسیٰؑ کی موت واقع ہوچکی تھی تو پھر تمام انبیاءo میں سے ایک ان ہی کی خصوصیت کیا تھی کہ ان ہی کے معاملہ میں نصاریٰ سے لے کر اہل اسلام تک ان کی حیات اور ان کے نزول کے تسلسل کے ساتھ قائل چلے آرہے ہیں۔ چلئے نصاریٰ اگر اپنی فرط عقیدت سے کسی بے اصل بات کا

226

دعویٰ کر ڈالیں تو جائے تعجب نہیں مگر یہاں ان علماء اسلام کے لئے اس کا کیا محل ہوسکتا تھا جو ہمیشہ تردید الوہیت میں سرگرم رہے ہیں۔ بلکہ اس سلسلہ میں کسی کے قلم سے ایسے کلمات بھی نکل گئے ہیں کہ اگر کہیں اتنی بڑی تہمت ان کے سرنہ رکھی جاتی تو وہ کلمات ہرگز ان کے زیرقلم نہ آسکتے تھے۔ پھر کسی غلطی کا اگر امکان تھا تو چلئے یہ کسی خاص فرد میں ہوسکتا تھا۔ لیکن جمہور امت اور صحابہ وتابعین پھر ائمہ دین اور مفسرین وشارحین سب ہی کا ایک بدیہی البطلان غلطی پر متفق ہوجانا کیونکر قرین قیاس مانا جاسکتا ہے۔ چلئے اگر یہ مسئلہ الٰہیات کے دقیق مسائل یا حیات برزخی کے بالاتر ازفہم کیفیات کی طرح کوئی باریک مسئلہ ہوتا تو بھی کسی غلط فہمی کا امکان تھا۔ مگر ایک شخص کی موت وحیات کا مسئلہ تو کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہ تھا جس کے فہم میں کوئی دشواری تھی یا اس میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش تھی۔ یہ تو عام انسانوں سے لے کر انبیاءo کی جماعت تک کی ایک عام سنت بشری تھی۔ پھر انبیاءo کی تمام جماعت میں سے ان ہی کی موت میں غلط فہمی کیوں پیدا ہوگئی اور حیرت در حیرت یہ کہ وہ آنحضرتa کے دور میں بھی صاف نہ ہوسکی۔ بلکہ اور مستحکم ہوتی رہی۔ پس اگر حقیقت حال یہ تھی کہ حضرت عیسیٰؑ کی وفات ہوچکی ہے تو پھر کسی تاریخ سے یہ ثبوت پیش کرنا لازم ہوگا کہ کم ازکم مسلمانوں میں اس کے خلاف ان کی حیات کے عقیدہ کی بنیاد کب سے پڑی۔ لیکن یہاں تو ہم جتنا صحابہ وتابعین اور ان سے اوپر احادیث مرفوعہ کی طرف نظر کرتے چلے جاتے ہیں اتنا ہی ہم کو رفع ونزول کا ثبوت اور بہم پہنچتا چلا جاتا ہے اور اس کے برعکس آخر میں موت کے عقیدہ کی بدعت سئیہ جس کسی فرد نے ایجاد کی ہے تاریخ انگلی رکھ کر اس کا نام ونشان بتاتی ہے اور ہمیشہ اس کو مسلمانوں کے خلاف عقیدہ کا شخص شمار کرتی ہے۔ حتیٰ کہ اس مدت میں جو مدعی مسیحیت گزرے ہیں وہ بھی اپنے دعویٰ سے قبل تمام عمر اس بارے میں عام امت کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ جب زمین ہموار ہوگئی اور انہوں نے خود مسیح ہونے کا دعویٰ شروع کیا تو پھر جس عقیدہ پر ان کی ساری عمرگزری تھی اسی کو انہوں نے مشرکانہ عقیدہ ٹھہرادیا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر اس مضمون کی صحیح سے صحیح حدیثوں کے متعلق ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے مکروہ ترین الفاظ بھی لکھ مارے ہوں۔ ’’کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم۔ ان یقولون الاکذبا‘‘

227

حضرت عیسیٰؑ اگر وفات پاچکے ہیں تو ان کے متعلق

حدیث وقرآن میں کہیں موت کا صاف لفظ کیوں نہیں؟

اس مقام پر یہ دقیقہ بھی قابل فروگزاشت نہیں ہے کہ ایک انسان کی موت کا واقعہ کون سا پیچیدہ واقعہ ہے جس کے بیان کرنے میں ایک معمولی سے معمولی انسان کو بھی کوئی دشواری ہوسکتی ہے۔ اگر قرآن کریم کسی ایک جگہ بھی صراحت کے ساتھ یہ لفظ فرمادیتا کہ: ’’ان عیسٰی مات‘‘ یعنی عیسیٰؑ مرچکے ہیں تو بس اسی ایک لفظ سے ساری بحثیں ختم ہوجاتیں اور بے وجہ لفظ توفی پر دفتر کے دفتر خرچ کر کے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہ رہتی کہ توفی لغت عربی میں موت کے ہم معنی ہے۔ افسوس ہے کہ لفظ توفی کو موت کے معنی میں ثابت کرنے کے لئے تو عمریں فناء کی گئیں۔ مگر اس پر کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی غور نہ کیا گیا۔ جب عربی زبان میں موت کے لئے دوسرا صاف لفظ موجود تھا تو پھر یہاں موضع اختلاف میں اس صاف اور سیدھے لفظ کو چھوڑ کر ایسے مشتبہ لفظ کو کیوں اختیار کیاگیا ہے جو بڑی کاوشوں کے بعد بھی موت میں منحصر نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص جب کہ عیسائی یہ ڈنکہ بجارہے ہیں کہ وہ اللہ تھے۔ والعیاذ باﷲ! تو کیا یہ بات سیدھی اور صاف نہ تھی کہ اللہ کا سب سے پہلا نام: ’’الحیی‘‘ ہے اور عیسیٰؑ مرچکے ہیں۔ سورۂ آل عمران میں جو نصاریٰ ہی کی تردید کے لئے اتری اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو: ’’الحیی القیوم‘‘ کہہ کر ان کی تردید کی گئی مگر ساری سورت میں ایک بار بھی عیسیٰؑ کے حق میں موت کا لفظ نہ بولا گیا۔

حضرت عیسیٰؑ کی موت کا مسئلہ عام انسانوں کی موت پر قیاس کرنا صحیح نہیں

یہ اچھی طرح واضح رہنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰؑ کی موت کا مسئلہ صرف عام انسانوں کی موت پر قیاس کر کے طے نہیں کیاجاسکتا۔ کیونکہ عام انسانوں کی حیات وموت سے قومی تاریخ یا مذہبی عقیدہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس لئے یہاں طویل گمشدگی کو بھی موت کا قرینہ بنالیا جاتا ہے۔ لیکن ایک ایسے اولوالعزم نبی کی وفات کا مسئلہ جس کی حیات وموت کی بحث دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ سے چل رہی ہو پھر جس کی حیات کے واضح اور مستحکم دلائل بھی موجود ہوں اس کو صرف عام انسانوں پر قیاس کر کے کیسے طے کیا جاسکتا ہے۔ یہ بالکل اتنا ہی

228

غیرمعقول ہے۔ جتنا کہ کسی ایسے زندہ شخص کی طویل گمشدگی سے اس کی موت کا حکم لگادینا جس کی حیات کی شہادت معتمد اخبارات کے ذریعے بھی اور خود اس کے بیانات سے بھی مسلسل موصول ہورہی ہو۔ یہاں کوئی عاقل ایسا نہیں ہوگا جو ان حالات میں صرف اس کی مدت سفر کے غیرمعمولی طوالت کی وجہ سے اس کے ترکہ تقسیم کا دعویٰ کسی عدالت میں دائر کر سکے اور نہ کوئی عدالت یہاں اس کی وراثت کی تقسیم کا حکم دے سکتی ہے۔

خوب یاد رکھو جہاں کوئی معاملہ خاص دلائل کی روشنی میں پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے۔ وہاں صرف عام قیاسات سے کوئی حکم لگانا کھلی ہوئی غلطی ہے۔ مثلاً آج جب کہ فرعون کی لاش پختہ ثبوت کے ساتھ دریافت ہوچکی ہے تو اب محض اس بناء پر اس کا انکار کرنا کہ ایک غرق شدہ لاش کا وہ بھی سینکڑوں سال کے بعد صحیح وسالم برآمد ہونا چونکہ عام دستور کے خلاف ہے۔ اس لئے فرعون کی لاش کا برآمد ہونا بھی قابل تسلیم نہیں یا قابل یقین نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قیاس کی عقل وتاریخ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں اس طرح حضرت عیسیٰؑ کی وفات کا مسئلہ بھی ہے یہاں صرف عام قیاسات اور عام دلائل پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کا معاملہ قرآن وحدیث کے واضح سے واضح اور مستقل طور پر علیحدہ بیان میں آچکا ہے۔

حیات وموت کا مسئلہ دنیا کے عام واقعات میں شامل ہے

پھر قرآن وحدیث میں اس کی اہمیت کیوں ہے؟

اس امر پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ حیات وموت دنیا کے عام واقعات میں شامل ہیں۔ بہت سے انبیاءo فوت ہوئے اور بہت سے، نااہل امتوں کے ہاتھوں شہید بھی ہوئے۔ اسی طرح مستقبل میں بہت سے مبارک اور نامبارک افراد و اشخاص کے ظہور کی پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔ مگر آخر ان سب میں حضرت عیسیٰؑ کی آمد اور ان کی حیات کے مسئلہ کی اہمیت کیا تھی کہ کتب سابقہ سے لے کر قرآن کریم تک نے اس کے بیان وایضاح کا اہتمام کیا ہے اور آنحضرتa نے بھی باربار ان کے متعلق نزول کی پیش گوئی فرمائی اور اس کی اتنی تفصیلات بیان فرمائی ہیں جتنی کہ کسی اور دوسرے شخص کے متعلق نہیں فرمائیں۔ یقینا اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان کا تعلق آئندہ زمانہ سے ابھی باقی ہے۔ اگر حضرت عیسیٰؑ بھی دوسرے انبیاءo کی طرح فوت ہوچکے ہوتے تو جس طرح ان کی موت

229

اور سوانح موت کی تفصیلات سے سکوت اختیار کر لیاگیاتھا۔ یہاں بھی سکوت اختیار کر لیا جاتا مگر چونکہ ان کو ابھی دوبارہ تشریف لانا باقی تھا۔ اس لئے آپ نے ان کی آمد کی تفصیلات کا خاص اہتمام فرمایا ہے تاکہ جن کے متعلق پہلی بار دوبڑی قومیں گمراہ ہوچکی تھیں۔ دوسری باراب وہ اپنی اپنی غلطیوں کو صاف طور پر سمجھ جائیں اور اجتماعی حیثیت سے جس طرح وہ پہلی بار کفر پر جمع ہوگئی تھیں۔ اس مرتبہ ایمان پر جمع ہوسکیں اور ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہٖ‘‘ کی پیش گوئی پوری آب وتاب سے پوری ہو جائے۔ آنحضرتa کا یہ واضح اور شافی بیان جس طرح کہ اس امت پر ایک احسان عظیم ہے اسی طرح دوسری امتوں پر بھی ہے کہ ان کو صرف آپa کے طفیل میں حضرت عیسیٰؑ کی صحیح معرفت اور ان پر صحیح ایمان کا سامان میسر آگیا۔ اسی سے آنحضرتa کے فضل وبرتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مسائل جو آج تک الجھے ہوئے چلے آرہے تھے وہ آپa کے دور میں کس طرح سلجھتے چلے جارہے ہیں۔

نافہم لوگ یہ کہتے ہیں کہ جن کی پہلی آمد امتوں کے فتنے کا موجب بنی۔ ان کی دوسری آمد سے ہدایت کی کیا توقع ہوسکتی ہے؟ اور اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اس کی ذمہ داری اگر تمام تر امتوں پر عائد ہوتی ہے تو ان کی دوبارہ آمد میں خطرہ کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ذمہ داری خود ان ہی پر عائد ہے۔ والعیاذ باﷲ! تو یہ براہ راست خدا کے ایک معصوم رسول پر حملہ ہے اور صحیح معنی میں یہود کی اتباع ہے۔ ہمارے بیان سے یہ واضح ہوگیا کہ ان کی دوبارہ تشریف آوری درحقیقت اس عمیق حکمت کے اظہار کے لئے ہے کہ یہ بات عالم آشکارا کر دی جائے کہ جن کو جماعتوں نے مرکز ضلالت ٹھہرایا تھا، یہ ان کی شقاوت تھی درحقیقت وہ مرکز ہدایت تھے اور اس طرح جہاں ایک طرف ان کی بزرگی ثابت ہو، دوسری طرف آنحضرتa کی عظمت شان بھی ظاہر ہو کہ اب جو جہان بھر کے نافہم تھے وہ آپ کے دور میں کتنے بافہم بن چکے ہیں۔

خاص حضرت عیسیٰؑ کے حق میں لفظ نزول کی اہمیت

یہ امر بھی خاص طور پر قابل غور ہے کہ اگر حضرت عیسیٰؑ کی وفات ہو چکی ہے اور اب وہ دوبارہ تشریف نہیں لائیں گے تو حدیثوں میں نزول کی پیش گوئی خاص اسی نام

230

ونسب کے شخص کے متعلق کیوں کی گئی ہے اور کیوں صاف طور پر دنیا کے دستور کے موافق اس کا وہی نام ذکر نہیں کیاگیا جو اس کا اصل نام تھا؟ نیز یہ سوال بھی اہم ہے کہ کسی ایک حدیث میں ان کے متعلق ولادت کا سیدھا لفظ کیوں نہیں فرمادیا گیا تاکہ یہ بات صاف ہو جاتی کہ جو شخص آئندہ آنے والا ہے وہ عام انسانوں کی طرح کسی وقت پیدا ہوگا اور وہ مسیح اسرائیل نہیں بلکہ کوئی اور دوسرا انسان ہے۔ بالخصوص جب کہ امام مہدی اور دجال جو بھی مبارک ونامبارک انسان آئندہ ظاہر ہونے والے تھے ان کے حق میں ولادت ہی کا صاف لفظ بولاگیا ہے اور ان کے وہی نام ونسبتیں ذکر فرمائی گئی ہیں جو ان کے اصل نام ونسبتیں تھیں۔ پس کوئی وجہ نہیں ہے کہ اگر مسیح ابن مریم درحقیقت فوت ہوچکے تھے اور ان کی بجائے کوئی اور شخص ان کا ہمرنگ اس امت میں پیدا ہونے والا تھا تو اس کے حق میں کہیں ولادت کا لفظ بولا نہ جاتا اور کسی ایک حدیث میں اس کے اصل نام ونسبت کی تصریح نہ کی جاتی اور کہیں اس کے اصل شہر اور محل پیدائش کا پتہ بتایا نہ جاتا بلکہ ہر ہر مقام پر وہی نام ونسبت وہی شہر وہی تمام صفات اور وہی حلیہ ذکر کیا جاتا جو درحقیقت مسیح اسرائیل کا تھا۔ کیا جس نام ونسبت والے شخص کے متعلق عیسائی قوم دوبارہ آمد کا انتظار کر رہی تھی اسی نام ونسبت والے شخص کی دوبارہ آمد کی پیش گوئی کر کے عیسائیوں کی کھلے طور پر تائید کرنی نہیں ہے؟ اس انداز بیان کا مطلب ایک سیدھی بات کو اور الجھا دینا اور ہدایت کی بجائے اور گمراہی میں مبتلا کرنا ہے۔ والعیاذ باﷲ!

پس اگر صرف اسی ایک بات پر غور کرلیا جاتا کہ حدیثوں میں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں باربار کیوں نزول کا لفظ استعمال کیاگیا ہے اور کیوں ایک مرتبہ بھی ولادت کا لفظ نہیں بولا گیا اور کیوں تمام مقامات پر اسی اسرائیلی رسول بزرگ کے نام نسبت اور شکل وشمائل کو ذکر کیاگیا ہے اور کیوں اس کا اصل نام ونسب ذکر نہیں کیاگیا تو یہ بات بالکل صاف ہوجاتی کہ یقینا وہی حضرت عیسیٰؑ آنے والے ہیں جو ایک بار پہلے آچکے ہیں اور وہ زندہ ہیں اور آئندہ زمانہ میں ان کو نازل ہونا ہے۔ حدیثوں کے اس واضح بیان کے باوجود حضرت عیسیٰؑ کی شان میں حدیثوں کی تاویل کرنا اور ان کو بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک پیدا ہونے والا انسان شمار کرنا ٹھیک اسی طرح تحریف ہوگا جیسا امام مہدیm یادجال کے بارے میں ولادت کے صاف لفظ مذکور ہو جانے کے باوجود یہ دعویٰ کرنا کہ امام مہدیm اور دجال بھی حضرت عیسیٰؑ کی طرح آسمان سے نازل ہوں گے۔ پس جس طرح امام

231

مہدیm کے حق میں ان کے نزول کی بجائے امت کو ان کی ولادت ہی کا انتظار ہے اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کے حق میں ان کی پیدائش کی بجائے ان کے اترنے ہی کا انتظار ہونا چاہئے۔ ہم کو اس کا کوئی حق نہیں کہ حدیثوں میں جہاں صاف طور پر نزول کا صاف لفظ آچکا ہے، وہاں اس کے معنی ولادت کے اور جہاں ولادت کا صاف لفظ وارد ہے اس کے معنی نزول کے کرڈالیں۔

غیرمؤقت پیش گوئیوں کا انکار یا تاویل دونوں خطرناک اقدام ہیں

جو پیش گوئیاں مؤقت نہیں ہیں ان کے متعلق قبل از وقت تھک کر یہ کہنا کہ مسلمانوں کا مسیح ومہدی جب آج بھی نہ آیا تو آخر کب آئے گا؟ بالکل کفار کے اس قول کے مشابہ ہے جو انہوں نے انبیاءo کے مقابلہ میں قیامت کے بارے میں کہا تھا:’’ویقولون متٰی ہو۔ قل عسی ان یکون قریباً (بنی اسرائیل:۵۰)‘‘

حقیقت یہ ہے کہ اسلام چونکہ قیامت تک باقی رہنے والا مذہب ہے۔ اس لئے اس کی پیش گوئی کا دامن بھی قیامت تک وسیع رہنا چاہئے۔ بہت سی پیش گوئیاں ہیں جو آنحضرتa کے زمانہ میں پوری ہوچکیں۔ پھر کچھ حصہ ہے جو صحابہ کرامi کے زمانہ میں پورا ہوا۔ اس کے بعد اسی طرح ہر دور میں ان کا ایک ایک حصہ پورا ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ کا کوئی دور خالی نہیں گزرا جس میں آپa کی پیش گوئی کا کوئی نہ کوئی حصہ آنکھوں کے سامنے نہ آتا رہا ہو۔ ۱۹۴۷ء میں ہنگاموں کی سرگزشت بہت مختصر اور جامع الفاظ میں اگر آپ کو پڑھنی ہو تو آپ ان الفاظ میں پڑھ لیجئے جو صحیح مسلم میں موجود ہیں۔ ایک زمانہ آئے گا جس میں ایسی جنگ ہوگی کہ قاتل کو یہ بحث نہ ہوگی کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے اور مقتول کو یہ علم نہ ہوگا کہ وہ کس جرم میں قتل کیاجارہا ہے۔ ہم نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ان ہنگاموں میں قتل کا یہی نقشہ تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان اور ایک جماعت دوسری جماعت کے قتل کے درپے تھی اور کسی کو اس تحقیق کی ضرورت نہیں تھی کہ یہ اس کا موافق ہے یا مخالف، قتل کرنے والا کس گناہ میں دوسرے کو قتل کر رہا ہے اور مقتول کیوں مفت مارا جارہا ہے؟

خلاصہ یہ کہ آپa کی پیش گوئیوں کو صرف گزشتہ زمانہ میں ختم کردینا اور

232

مستقبل میں پوری ہونے والی پیش گوئیوں کا قبل ازوقت انتظار کر کر کے تھک جانا اور ان کے انکار پر آمادہ ہو جانا درحقیقت یہ آپa کی عموم بعثت کا انکار ہے۔ کیونکہ اگر آپa کی بعثت قیامت تک کے لئے ہے تو پھر اس کی صداقت کے نشانات بھی دنیا کے ہر دور کے انسان کے سامنے آنے چاہئیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ آپa کی پیش گوئیاں آپa ہی کی حیات طیبہ میں پوری ہوں گی۔ بلکہ بعض یعنی کچھ کا لفظ فرمایا ہے:’’واما نرینک بعض الذی نعدہم اونتوفینک فالینا مرجعہم (یونس:۴۶)‘‘

’’وان یک کاذباً فعلیہ کذبہ۔ وان یک صادقاً یصبکم بعض الذی یعدکم (المؤمن:۲۸)‘‘

اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ عیسیٰؑ کے متعلق بھی آپ قبل ازوقت انتظار کر کے خودبخود تھک جائیں اور پھر صریح حدیثوں کی ایسی ایسی تاویلیں کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں جو دنیائے عالم میں قابل مضحکہ اور سارے دین میں شبہ کا باعث بن جائیں۔ کیونکہ جب دین کے ان واضح الفاظ کی یہ حقیقت ثابت ہو تو پھر کیا اطمینان کیا جاسکتا ہے کہ ذات وصفات اور حشرونشر اور جنت ودوزخ کے واضح الفاظ کی صحیح حقیقتیں کیا ہوں گی اور اس طرح پورے کے پورے دین پر کیا اطمینان باقی رہ سکتا ہے؟

قرآن کریم میں نزول کا مسئلہ بھی رفع جسمانی کی طرح

صاف طور پر کیوں ذکر میں نہیں آیا

قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر جانے اور مقتول نہ ہونے کا تذکرہ صرف یہود کے اسباب لعنت کے بیان کے ضمن میں آگیا ہے۔ اس ضمن میں قرآن شریف نے یہ نقل کیا ہے کہ یہود واقع کے خلاف ان کے قتل کرنے کے مدعی ہیں اور نصاریٰ گوبہت سی بے تحقیق باتیں بناتے ہیں مگر اجمالاً ان کے رفع کے قائل ہیں۔ اس لئے یہاں قابل توجہ صرف یہی مسئلہ تھا کہ وہ مقتول ہوئے یا نہیں اور اگر مقتول نہیں ہوئے تو آسمان پر اٹھائے گئے یا نہیں۔ رہا ان کے نزول کا مسئلہ تو وہ کسی مقام پر بھی زیربحث نہیں آیا۔ پھر ہم کو کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا کہ نزول یا عدم نزول کا مسئلہ کبھی اہل کتاب

233

نے آپa کے سامنے پیش کیا تھا۔ لہٰذا جب یہ مسئلہ کہیں آپ کے سامنے زیربحث ہی نہیں آیا اور نہ قرآن کریم ہی کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تو اب صراحت کے ساتھ نزول کا لفظ ذکر ہوتا تو کیسے ہوتا۔ ہاں! اگر نزول کا مسئلہ بھی اس وقت کہیں زیربحث آجاتا تو جس طرح یہاں رفع کا لفظ صراحت کے ساتھ مذکور ہوا تھا نزول کا لفظ بھی یقینا اسی طرح صراحت کے ساتھ ذکر ہوجاتا۔ لیکن جب یہ مسئلہ کہیں زیربحث آیا ہی نہیں تو اب قرآن کریم میں صراحۃً لفظ نزول کا مطالبہ کرنا کتنی بڑی بے انصافی ہے اور اگر بالفرض یہ لفظ مذکور ہو بھی جاتا جب بھی حیلہ جو طبیعتوں کو فائدہ کیا تھا؟ آخر صحیح سے صحیح حدیثوں میں یہ لفظ باربار آیا اور آنحضرتa کی جانب سے قسموں کے ساتھ آیا مگر پھر ان کو کیا فائدہ ہوا؟

پس حضرت عیسیٰؑ کے نزول یعنی آمد ثانی کا مسئلہ خواہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو مگر اس وقت وہ زیربحث ہی نہ تھا۔ ہاں! قومی تاریخ کے لحاظ سے جو فرقہ ان کے رفع جسمانی کا قائل تھا وہ ان کی آمد ثانی کا بھی منتظر تھا اور اب تک ہے اور جو ان کے قتل کا مدعی تھا ان کے نزدیک ان کی آمد ثانی محل بحث ہی کیا ہوسکتی تھی؟ پس اگر یہاں قرآنی فیصلہ ان کے رفع کا ہو جاتا ہے تو ان کے نزول کا مسئلہ خودبخود ثابت ہو جاتا ہے اور تحقیق یہ ہو کہ وہ مقتول ہو گئے۔ (والعیاذ باﷲ) تو پھر ایک شخص کے دوبارہ آمد کی بحث ہی پیدا نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا اگر قرآن کریم کی کسی آیت میں رفع کے صاف لفظ کی طرح نزول کا لفظ مذکور نہیں تو اس سے مسئلہ نزول کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر خاص نزول کا لفظ مذکور ہونا ہی کیوں ضروری ہے؟ جب کہ قرآن کریم یہ تصریح کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے ابھی وفات نہیں پائی اور قیامت سے پہلے تمام اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا باقی ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور ابھی تک اس کو موت نہیں آئی ضرور ہے کہ وہ زمین پر نازل ہو۔ تاکہ اہل کتاب ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ان پر ایمان لے آئیں اور وہ اپنی مقررہ مدت عمر پوری کر کے دنیا کی آنکھوں سے سامنے وفات پاکر مدفون ہوں۔ اسی لئے حضرت ابوہریرہq حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی حدیث روایت کر کے فرماتے ہیں کہ اگر اس پیش گوئی کو تم قرآن کریم کے الفاظ میں دیکھنا چاہو تو سورۂ نساء کی یہ آیت پڑھ لو: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘

آیت بالا میں حضرت عیسیٰؑ کی حیات کے لئے جو سب سے زیادہ صاف اور

234

واضح لفظ ہوسکتا تھا وہ ’’قبل موتہ‘‘ کا لفظ ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ جس زندہ شخص کی اب تک وفات ثابت نہیں ہوئی اس کی حیات کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت کیا ہے۔ یہاں جو شخص ان کی موت کا مدعی ہو یہ فرض اس کا ہے کہ وہ ان کی موت ثابت کرے۔ پھر آیت بالا میں خاص اہل کتاب کے ایمان کا ذکر کیاگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل اسلام کو ان پر اس وقت بھی صحیح ایمان حاصل ہے۔ لہٰذا جن کا ایمان لانا قابل ذکر ہوسکتا تھا وہ صرف اہل کتاب کا ایمان ہے۔ اب اگر فرض کر لوکہ اہل اسلام بھی نصاریٰ کی طرح ان کے سولی پر چڑھنے کو تسلیم کرتے ہوں یا یہود کی طرح ان کے مردہ ہونے کے قائل ہوں تو پھر اہل اسلام کا ایمان بھی ان پر صحیح ایمان نہیں رہتا۔ اہل کتاب اگر اس بارے میں ایک غلطی پر ہیں تو اہل اسلام بھی دوسرے اعتبار سے غلطی میں مبتلا ہیں۔ پھر اس تخصیص کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ قرآن کریم نے جہاں ان کی موت کی صاف نفی فرماکر یہ بتایا ہے کہ ابھی آئندہ زمانہ میں اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا باقی ہے اسی طرح دوسری طرف یہ بھی تصریح کی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو ان پر شہادت دینا باقی ہے۔ ان دونوں باتوں کے لئے ان کی تشریف آوری لازم ہے۔ کیونکہ شہادت شہود سے مشتق ہے۔ لہٰذا عیسیٰؑ جب تک کہ پھر تشریف لاکر ان میں موجود نہ ہوں ان پر گواہی کیسے دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت میں حضرت عیسیٰؑ فرمائیں گے:’’وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (المائدہ:۱۱۷)‘‘ یعنی میں ان پر گواہ تھا جب تک کہ میں ان میں موجود رہا اور جب تو نے مجھ کو اٹھالیا تو تو ہی ان کا نگران حال تھا۔

آیت بالا سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ پر دوزمانے گزرے ہیں ان میں سے آپ کی شہادت کا زمانہ صرف وہ ہے جس میں آپ ان کے اندر موجود تھے اور دوسرا زمانہ جس میں کہ آپ ان میں موجود نہ تھے۔ وہ آپ کی شہادت سے خارج ہے۔ پس آئندہ اہل کتاب پر آپ کی شہادت کے لئے دوبارہ آپ کی تشریف آوری ضروری ٹھہری۔ اسی لئے حضرت ابوہریرہq اس آیت کو حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی دلیل فرماتے ہیں۔ حیرت ہے کہ یہ صحابی جلیل القدر تو نزول کی پیش گوئی کو قرآنی پیش گوئی کہتا ہے ایک بدنصیب جماعت وہ ہے جو اس کو حدیثی پیش گوئی بھی کہنے کو تیار نہیں: ’’ومن لم یجعل اللہ لہ نوراً فمالہ من نور‘‘

235

قرآن کریم کے رفع جسمانی اور حدیث کے نزول جسمانی

کے اہتمام فرمانے کی حکمت

حجیت حدیث کے مضمون میں ہم یہ بات پوری وضاحت سے لکھ چکے ہیں کہ حدیث وقرآن کے مابین متن وشرح کی سی نسبت ہے۔ آیات قرآنیہ اور تشریحات حدیثیہ پر آپ جتنا غور کرتے چلے جائیں گے، یہ حقیقت آپ کو اتنی ہی روشن ہوتی چلی جائے گی۔ اسی لئے آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں کہیں قرآن کریم کسی مصلحت کے پیش نظر کسی مسئلہ کا ایک پہلو اپنے بیان میں لے لیتا ہے تو فوراً اس کا دوسرا پہلو حدیث لے لیتی ہے اور اس طرح مسئلہ کے دونوں پہلو صاف ہوتے چلے جاتے ہیں اور درحقیقت حدیث کے بیان کہلانے کا منشاء بھی یہی ہے۔ مثلاً جب حضرت لوطm کی قوم نے صف رجال میں ایک تباہ کن فاحشہ کی بنیاد ڈالی تو قرآن کریم نے اس عمل کی حرمت کا تذکرہ بھی صرف رجال یعنی مردوں ہی میں فرمایا اور صنف نساء میں بے وجہ اس عمل کی حرمت پر زور دینا اپنے انداز بلاغت کے خلاف سمجھا۔ ظاہر ہے کہ جب اس ماحول میں اس نوع کا وجود ہی نہ ہو تو پھر اس کا تذکرہ کر کے خواہ مخواہ ذہنوں کو اس طرف متوجہ کیوں کیا جائے۔ لیکن چونکہ شرعی نظر میں ان دونوں عملوں کی حرمت یکساں تھی۔ اس لئے حدیث نے صنف نساء میں اس کی حرمت کا اسی شدومد سے اعلان کیا جس طرح کہ قرآن کریم نے صنف رجال میں اس کی حرمت کا اعلان کیا تھا اور اس طرح دونوں صنفوں کے احکام وضاحت سے ہمارے سامنے آگئے۔ ہمارے اس بیان سے یہ سوال بھی حل ہوگیا کہ اس عمل کے حرمت کی قرآن کریم میں صنف رجال کی تخصیص اور حدیث میں صنف نساء کی تخصیص کا سبب کیا ہے؟ اسی طرح سماوی عذر کے ایام میں صنف نساء کے ساتھ حدود اعتزال اور اختلاط کا مسئلہ ہے۔ یعنی اس زمانہ میں عورتوں سے کسی حد تک الگ رہنا چاہئے اور کہاں تک ان سے اختلاط رکھنا جاسکتا ہے یہاں یہود نے تو اجتناب نجاسات کے باب میں اتنا مبالغہ کر رکھا تھا کہ ان ایام میں وہ اپنے گھروں میں بھی داخل نہ ہوتے تھے اور نصاریٰ نے اتنی لاپرواہی اختیار کر لی تھی کہ نجاسات سے اجتناب کرنے کا ان کے ہاں باب ہی ندارد تھا۔(الجواب الصحیح ج۱ ص۲۳۲)

236

جب اس مسئلہ کے متعلق آنحضرتa سے سوال ہوا تو چونکہ یہاں قرآن کریم نے اپنے بیان میں اعتزال کا پہلو لے لیا تھا اور یہی ضعف بشری کے مناسب بھی تھا اور صاف فرمادیا تھا کہ:’’فاعتزلوا النسآء فی المحیض (البقرہ:۲۲۲)‘‘ ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو تو اس کے جواب میں آپ نے اپنے قول وعمل سے فوراً حدود اختلاط بیان فرمائے۔ (صحیح مسلم ج۱ ص۱۴۳) میں ہے کہ جب آیت: ’’فاعتزلوا النسآء فی المحیض‘‘ نازل ہوئی تو آنحضرتa نے فرمایا: ’’اصنعوا کل شیٔ الالنکاح‘‘ یعنی ان ایام میں ہم بستری کے علاوہ سب کچھ جائز ہے۔ اب اندازہ فرمائیے کہ قرآن کریم نے تو لفظ اعتزال کا فرمایا تھا پھر آپa نے اس کی تشریح میں حدود اختلاط کیوں بیان فرمائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدود اعتزال اس وقت تک معین ہی نہیں ہوسکتی تھیں جب تک کہ حدود اختلاط بیان میں نہ آجائیں۔ ’’وبضدہاتبین الاشیاء‘‘ لہٰذا یہاں وہ حدیثیں جو ان ایام میں امہات المؤمنین کے ساتھ آپ کے اختلاط کے متعلق روایت کی گئی ہیں اسی روشنی میں پڑھنی چاہئیں تاکہ یہ بات پورے طور پر حل ہو جائے کہ ان میں آپ نے اس تاکید کے ساتھ اس کی عملی وضاحت کی کیا ضرورت سمجھی تھی۔ غرض جہاں بھی قرآن کریم نے مسئلہ کے عموم کے باوجود کسی وقتی مصلحت سے اس کا ایک پہلو بیان میں لے لیا ہے وہاں اس کا دوسرا پہلو فوراً حدیث نے لے لیا ہے اور درحقیقت حدیث کے بیان ہونے کا یہی منشاء بھی ہے۔ اسی مقام سے حدیث کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا اندازہ کرلینا چاہئے۔

اس مقدمہ کے ذہن نشین کر لینے کے بعد جب آپ حضرت عیسیٰؑ کے اس معاملہ پر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جب قرآن کریم میں حضرت عیسیٰؑ کے رفع کا مسئلہ وضاحت سے آچکا تھا تو یہاں حدیث کا فرض بھی ہونا چاہئے کہ وہ اسی ضابطہ کے ماتحت رفع کے بعد نزول کا مسئلہ جو اس کا دوسرا پہلو ہے پورے طور پر روشن کر دے۔ اسی لئے نزول کا دوسرا پہلو حدیثوں میں اتنی تفصیل وتاکید سے قسمیں کھا کھا کر بیان کیا اور اس کو مختلف صحابہi اور مختلف مجلسوں میں پیرایہ بہ پیرایہ اتنا واضح فرمادیا کہ ایک طرف تو عیسیٰؑ کے نزول میں کسی شبہ کا محل باقی نہیں رہا۔ دوسری طرف قرآن کریم کے لفظ رفع کی ایسی تشریح ہوگئی کہ اب اس میں ادنیٰ سا ابہام بھی باقی نہ رہا۔ اب آپ قرآنی لفظ رفع اور حدیث کے لفظ نزول کو جتنا ملاملا کر پڑھیں گے اتنا ہی ان کے رفع جسمانی اور نزول جسمانی کا مسئلہ آپ

237

کے سامنے کھلتا چلا جائے گا۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ جو شخص جسم کے ساتھ اترے گا وہ یقینا جسم ہی کے ساتھ اٹھایاگیا ہے اور جو جسم کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ اس کو یقینا دوبارہ اپنے جسم ہی کے ساتھ اترنا چاہئے۔

اب یہ عقیدہ بھی حل ہوگیا کہ حدیثوں میں جس کثرت کے ساتھ نزول کا تذکرہ ملتا ہے اس کثرت کے ساتھ رفع جسمانی کا تذکرہ کیوں نہیں ملتا اور اسی طرح قرآن کریم میں جس صراحت کے ساتھ رفع جسمانی کاتذکرہ ملتا ہے۔ اس صراحت کے ساتھ نزول کا تذکرہ کیوں نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب قرآن کریم ان کے رفع کی تصریح فرماچکا تھا تو اب حدیث کی نظر میں یہ مسئلہ تو ایک طے شدہ مسئلہ تھا۔ اس کے تکرار کی ضرورت کیا تھی۔ اس لئے حدیثوں میں اس کے دوسرے پہلو پر یعنی نزول پر زوردیا گیا اور اسی پہلو پر زور دینا مناسب بھی تھا۔

حضرت عیسیٰؑ کے متعلق جتنی تفصیلات ثابت ہوچکی ہیں

کیااس کے بعد بھی یہاں تاویل کرنا معقول ہے؟

حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا مسئلہ ہر ممکن تشریح کے ساتھ معرض بیان میں آچکا ہے۔ یعنی آپ کا اسم مبارک آپ کا نام ونسب اور اس خاص نسب نامہ کی خصوصیت یعنی صرف ماں سے آپ کی پیدائش آپ کا حلیہ مبارک، اس شہر کا نام جہاں آپ کا نزول ہوگا اور پھر خاص اس جگہ کا نام بھی جہاں آپ کا نزول ہوگا۔ نزول کا وقت اور اس وقت آپ کا مکمل نقشہ۔ نزول کے بعد پہلی نماز میں آپ کا امام یا مقتدی ہونا۔ آپ کا منصب۔ آپ کی خدمات مفوضہ۔ آپ کی مدت قیام۔ آپ کی شادی کرنا اور اولاد ہونا حتیٰ کہ آپ کا وفات پانا اور آپ کے مدفن کی مکمل تحقیق۔ اب انصاف سے فرمائیے کہ اس مسئلہ کے سمجھنے کے لئے آپ کو اور کن تفصیلات کا انتظار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی واقعہ کی تعیین وتشریح کے لئے اس سے زیادہ آخر اور کیا طریق اختیار کیا جائے۔ آج دنیوی مقدمات میں صرف مدعی اور مدعی علیہ اور ان کے باپ دادوں کے نام ان کی تعیین کے لئے کافی سمجھے جاتے ہیں اور آئندہ مقدمہ کی تمام کارروائی اسی معین شدہ شخص سے متعلق سمجھی جاتی ہے اسی طرح خطوط، بیمے، منی آرڈر اور رجسٹریاں وغیرہ صرف شہر اور اس شخص کے نام لکھ دینے سے اس کو تقسیم کر دی جاتی

238

ہیں۔ حیرت ہے کہ جب دنیا کے ہر چھوٹے بڑے شعبہ میں معمولی درجہ کی تعیین کافی سمجھی جاتی ہے تو پھر عیسیٰؑ کے معاملہ میں اتنی مفصل تاریخ کیوں ناکافی ہے؟ اچھا فرض کر لیجئے کہ اگر حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا مسئلہ آپ خود اپنی عبارت میں ادا کرنا چاہئیں تو آخر آپ وہ اور کس طرح ادا کریں گے کہ اس کے بعد اس میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ اگر درحقیقت اس پیش گوئی کا مصداق رسول اسرائیل کی بجائے خود اسی امت کا کوئی فرد ہو جو اسی امت میں پیدا ہونے والا ہو جس کا نہ یہ نام ہو، نہ یہ نسب نامہ، نہ یہ جلسہ، نہ یہ جائے نزول، نہ یہ منصب اور نہ یہ کارنامے تو کیا اس بیان کو ایسے شخص کے حق میں ایک گمراہ کن بیان نہ کہا جائے گا۔ کیا آج کسی شخص کی پیدائش کا معمولی مسئلہ کوئی ادنیٰ زبان داں شخص بیان کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اسی طرح اس کو مجازواستعارہ کی بھول بھلیاں میں ادا کرے گا۔ چہ جائیکہ ایک رسول اور رسول بھی ’’افصح العرب والعجم‘‘ ہو۔ پس اگر دنیوی معاملات میں بادشاہوں سے لے کر فقراء اور اولیاء سے لے کر رسولوں تک کی پیدائش کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کئے جاتے تو پھر مجازواستعارہ کی یہ ساری رام کہانی خاص حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں کیوں گائی جاتی ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں سب سے زیادہ اہم لفظ رفع کا ہے توفی

کا لفظ قرآن کریم کی نظر میں اتنا اہم نہیں

حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں سورۂ آل عمران میں تین لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ توفی، رفع الیٰ اللہ اور تطہیر اور سورۂ نساء میں جہاں ان کے مقدمہ پر خاص طور پر بحث کی گئی ہے۔ وہاں صرف رفع الیٰ اللہ کا لفظ استعمال کیاگیا ہے۔ ان تینوں الفاظ میں تطہیر کا لفظ توفی ورفع کے تابع ہے۔ کیونکہ کفار سے ان کی تطہیر کا مقصد ان سے ان کی علیحدگی تھی۔ اب وہ خواہ کسی صورت سے بھی ہو اس لئے قابل بحث دو ہی لفظ ہیں۔ توفی، رفع الیٰ اللہ ان دو میں سے جس لفظ کو ان کے مقدمہ میں بصیغہ ماضی ذکر کیاگیا ہے وہ صرف لفظ رفع کا ہے۔ جس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ توفی اور رفع کے دو وعدوں میں سے رفع کا وعدہ تو آنحضرتa کے دور سے پہلے پہلے پورا ہوچکا تھا اور اسی لئے اس کو بصیغہ ماضی ادا فرمایا گیا ہے اور کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ توفی بمعنی موت کا وعدہ بھی اس وقت پورا ہوچکا تھا۔ اس لئے اس کو بصیغہ

239

ماضی ذکر نہیں فرمایا گیا۔

ہاں! سورۂ مائدہ میں حضرت عیسیٰؑ کی اپنی زبان سے توفی کا لفظ گو بصیغہ ماضی استعمال کیاگیا ہے۔ مگر حسب تصریح قرآن کریم وہ ان کے مقدمہ کے ذیل میں نہیں ہے بلکہ اس سوال کے جواب میں ہے جو محشر میں ان سے ہوگا اور ظاہر ہے کہ قیامت سے قبل ان کی موت واقع ہونا سب کو مسلم ہے۔ لیکن جہاں قرآن کریم نے ان کے مقدمہ پر بحث کی ہے اور ان کے معاملہ کے انکشاف کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ وہاں صرف لفظ رفع ہی استعمال فرمایا ہے اور توفی کا لفظ ذکر نہیں فرمایا جیسا کہ سورۂ نساء میں ہے:’’وما قتلوہ یقینا۔ بل رفعہ اللہ الیہ (آیت:۱۵۷)‘‘ یہ بات یقینی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا۔ اگر توفی کے معنی موت ہوتے اور ان کی موت واقع ہوچکی ہوتی تو ضروری تھا کہ یہاں: ’’بل توفاہ الیہ‘‘ فرمایا جاتا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں اصل فیصلہ کن لفظ رفع کا ہے اسی لئے مقدمہ کے فیصلہ میں خاص طور پر اسی لفظ پر زوردیاگیا ہے اور توفی کے لفظ کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اس لئے یہاں جنہوں نے لفظ توفی کی لغوی تحقیق پر اپنا وقت خرچ کیا ہے وہ بالکل ضائع کیا ہے۔ کیونکہ توفی خواہ کسی معنی میں بھی مستعمل ہومگر قرآن کریم نے اپنے فیصلہ میں اس کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ کیا یہ امر قابل غور نہیں ہے کہ اگر عیسیٰؑ کی موت واقع ہوچکی تھی تو آخر ہر مقام پر اس حقیقت کا اخفاء کیوں کیاگیا ہے اور کیوں صاف الفاظ میں یہ نہیں فرمادیا گیا: ’’وما قتلوہ یقیناً بل مات‘‘

حضرت عیسیٰؑ کا مسئلہ پوری تفصیلات کے ساتھ زیربحث آچکا ہے

یہاں ان کے معاملہ میں ایک ایک لفظ پر علیحدہ بحث کرنا معقول نہیں

یہ بات بھی بڑی اہمیت کے ساتھ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا یہ معاملہ قدرے مشترک طور پر ایک قوی تواتر رکھتا ہے۔ کتب سابقہ سے لے کر قرآن کریم اور احادیث نبویہ تک اس کے جزئی جزئی واقعات کی تفصیل آچکی ہے۔ یہاں کتب لغت اٹھا کر صرف نزول یا صرف لفظ رفع یا صرف توفی کے الفاظ پر علیحدہ علیحدہ بحث کرنی صرف ایک بے معنی بحث ہے بلکہ ایک حقیقت کے مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ ان کے

240

بارے میں جتنے تفصیلی واقعات معرض بیان میں آچکے ہیں ان کی روشنی میں ان الفاظ کے معنی متعین کئے جائیں۔ کیونکہ صورت واقعہ کے بغیر ایک وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہاں واقعہ سے قطع نظر کر کے الفاظ میں مجازواستعارہ کی بے وجہ بحث کھڑی کر دینی حد درجہ غیرمعقول ہے۔ پس کسی لفظ کے معنی حقیقی یا مجازی متعین کرنے کے لئے صرف لغت کی عام بحث شروع کر دینی صحیح طریقہ نہیں بلکہ پہلے اس کے استعمال کا محل اور دوسرے قرائن اور خارجی حالات پر نظر ڈالنی بھی ضروری ہے۔ مثلاً لفظ اسد عربی زبان میں اس کے معنے ’’شیر‘‘ ہیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ عربی اردو محاورات میں ایک بہادر شخص کو بھی مجازاً شیر کہہ دیتے ہیں۔ اب کسی سے صرف ’’ہذا اسد‘‘ کا جملہ سن کر یہی رٹ لگائے جانا کہ اس جملہ کا مقصد صرف کسی بہادر شخص کی طرف اشارہ کرنا ہے اور اس محاورہ کے لئے دواوین عرب اور شعراء کے کلام سے استدلال کرتے چلے جانا کتنی بڑی غلطی ہے۔ بسااوقات اس کے متکلم کے لئے باعث ہلاکت بھی بن سکتی ہے۔ یہاں اس بحث سے پہلے یہ تحقیق کرنی ضروری ہوگی کہ یہ جملہ کس مقام پر کہا گیا ہے۔ بستی میں، یا جنگل میں، کسی عام مجمع میں، یا کسی بیابان میں سیاق کلام کسی کی مدح وثناء کا ہے یا خوف وہراس کا، اب اگر یہ جملہ جنگل میں کسی شخص کی زبان سے نکلتا ہے جس کے سامنے شیرکھڑا ہے۔ اس کی آواز کانپ رہی ہے اور جسم لرز رہا ہے تو اس وقت انصاف فرمائیے کہ لفظ ’’اسد‘‘ کے مجازی معنی یعنی بہادر انسان مراد لینا اور اس کے لئے ہزاروں اشعار پڑھ ڈالنا اور یہی کہے چلے جانا کہ اس شخص کی مراد شیر نہیں بلکہ ایک بہادر انسان کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ کیا ایک صحیح العقل انسان کا کام ہوسکتا ہے؟ اسی طرح عیسیٰؑ کے زیربحث معاملہ میں بھی ان تمام تفصیلات کو پیش نظر رکھنا لازم ہے جو صحیح طریقوں سے ثابت ہیں۔ پھر جب اس طرف بھی نظر کی جائے گی کہ قرآن وحدیث میں جو جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ الفاظ کسی دوسرے شخص کے حق میں بیک وقت آج تک استعمال نہیں کئے گئے تو یقینا یہ ماننا پڑے گا کہ ان کا معاملہ ہی سب سے جداگانہ معاملہ ہے۔ چنانچہ لفظ توفی اور رفع کا علیحدہ علیحدہ استعمال قرآن کریم میں آپ کو بہت جگہ نظر آئے گا۔ لیکن ایک ہی شخصیت کے بارے میں یہ دونوں لفظ ایک ہی سیاق میں کسی دوسری شخصیت کے متعلق آپ کو کہیں نظر نہ آئیں گے۔ سورۂ آل عمران میں حضرت عیسیٰؑ کی شان میں یہ ہر دو لفظ اس طرح سے فرمادئیے گئے ہیں۔ ’’یٰعیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّٰ (آل عمران:۵۵)‘‘ ان

241

کے علاوہ کسی کے حق میں ان دونوں لفظوں کو جمع نہیں کیاگیا۔ اسی طرح نزول کا لفظ بھی محاورات میں بہت جگہ آپ کی نظروں سے گزرے گا لیکن نزول کے ساتھ رفع اور رفع کے ساتھ نزول، پھر نزول کی اتنی تفصیلات کسی ایک مقام پر بھی کسی کے حق میں آپ کی نظروں سے نہیں گزریں گی نہ کسی لغت میں، نہ شعراء کے کلام میں، نہ کسی آیت میں اور نہ کسی حدیث میں۔ پس جب آپ ان جملہ امور پر غور کریں گے کہ حدیث وقرآن میں جو الفاظ حضرت عیسیٰؑ کی شان میں ایک جگہ جمع کردئیے گئے ہیں وہ کسی بشر کے لئے بیک وقت ایک جگہ جمع نہیں کئے گئے تو پھر صرف ایک یہی نتیجہ بدیہی ہو کر آپ کے سامنے آجائے گا کہ ان کا معاملہ بھی یقینا سب سے الگ معاملہ ہے۔ یہاں ایک ایک لفظ کو علیحدہ علیحدہ لے کر بحث کرنا یا اس میں مجازواستعارہ کی آڑ لینا کتنا بے جا ہے؟ سوال سیدھا یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں قرآن وحدیث میں بیک وقت یہ سب الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے یہ تفصیلی سوانح حیات بھی موجود ہیں، کیا اس کے بعد بھی ان میں لغوی موشگافیوں اور مجازواستعارہ کی تاویلات کی گنجائش نکل سکتی ہے؟

اسلام صرف علمی مذہب نہیں بلکہ سلف صالحین سے اس کی عملی صورت بھی منقول

چلی آتی ہے لہٰذا محض کتب لغت کی حدود سے اس کی کوئی اور شکل بنالینا درست نہیں

یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اسلام صرف ایک علمی مذہب نہیں ہے جس کو صرف دماغی کاوشوں نے پیدا کیا ہو بلکہ وہ ایک مجموعی شکل وصورت کے ساتھ عملاً بھی منقول ہوتا چلا آیا ہے۔ ہمارے دین کا تمام تر تعلق اوپر سے ہے ہم نیچے سے کسی نئے دین تراشنے کے مجاز نہیں۔ اس کے بانی آنحضرتa تھے آپ سے صحابہi نے اس کے شعبہ اعمال اور اس کے بنیادی عقائد بھی سیکھے۔ آپa نے ان پر خود بھی ایمان رکھا اور ان ہی پر بعد کی امت کو ایمان رکھنے کی وصیت فرمائی اور پھر کسی درمیانی انقطاع کے بغیر اسی طرح دین سپرد ہوتا رہا ہے۔ ادھر حفاظت الٰہیہ کا یہ عجیب کرشمہ تھا کہ بحث وتمحیص کا جو مرحلہ تھا وہ سب تبع تابعین کے ماحول ہی میں ختم ہوچکا تھا۔ یہ وہ قرن ہے جس کے متعلق خیریت کی شہادت خود لسان نبوت سے نکل چکی ہے۔ اس لئے جب کسی دین کے مسئلہ پر بحث کی جائے تو اس کو محض دماغی کاوش اور لغت کی مدد سے ازسرنو شروع کردینا ایک بنیادی غلطی ہے۔ یہاں

242

ریسرچ کے اصول کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کام خود انبیاءo کا بھی نہیں اس کو قدرت نے براہ راست خود اپنے ہی دست قدرت میں رکھا ہے۔ ان کی بھی مجال نہیں کہ حکم ایزدی کے بغیر وہ ایک نقطہ کا اضافہ یا ایک نقطہ کی ترمیم کر سکیں۔ چنانچہ ارشاد ہے:’’واذا تتلٰی علیہم ایاتنا بینٰت قال الذین لایرجون لقآء ناائت بقرآن غیر ہٰذا اوبدّلہ قل مایکون لی ان ابدّلہ من تلقآیٔ نفسی ان تبع الا مایوحٰی الیّ (یونس:۱۵)‘‘

جب ہمارے کھلے کھلے احکام ان لوگوں کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو ہماری ملاقات کی امید نہیں وہ تم سے یہ فرمائش کرتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا کم ازکم اسی میں کچھ ردوبدل کردو ان سے کہہ دو کہ میرا تو ایسا مقدور نہیں کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی ردوبدل کر سکوں میں تو اسی پر چلتا ہوں جو میرے پاس وحی آتی ہے۔

اس ترمیم وتبدیل کا انحصار کچھ الفاظ ہی پر نہیں ہے بلکہ اس کے معانی کو بھی شامل ہے اور وہ لفظی ترمیم سے زیادہ شدید ہے۔ یہود بے بہبود نے دونوں قسموں کی تحریفیں کی تھیں۔ تورات کے الفاظ میں بھی اور ان کے معانی میں بھی۔ قرآن کریم چونکہ آخری کتاب تھی اس لئے وہ دونوں قسموں کی تحریفوں سے محفوظ ہے۔ لفظی ترمیم کا تو یہاں کوئی امکان ہی نہیں۔ رہی معنوی ترمیم وتحریف تو امت کے بعض ملحد فرقوں نے گواس میں یہود کو بھی مات دے دی ہے۔ مگر اس کی معنوی حفاظت کی وجہ سے وہ اصل دین پر کچھ اثرانداز نہیں ہو سکی اور ہر دور میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی علیحدہ کیاجاتا رہا ہے۔ پس اگر کوئی شخص آج یہ دعویٰ کرنے لگے کہ نمازیں پانچ نہیں صرف دو ہیں اور اسی کے لئے دماغی تراشیدہ دلائل کا ڈھیر لگادے تو بالکل بے سود سعی ہے۔ اس کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ امت اوپر سے بھی صرف دو ہی نمازیں پڑھا کرتی تھیں بلکہ اس کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پانچ نمازوں کی فرضیت اگر غلط ہے تو پھر اس کی بنیاد کس دن سے قائم ہوئی۔ اسی طرح مسئلہ جنت ودوزخ، فرشتے اور جنات وغیرہا کی حقیقتیں صرف لفظی بحثوں سے نئی نئی بناکر پیش کرنا بھی غلط ہیں۔ کیونکہ یہ الفاظ جس طرح اوپر سے منقول ہوتے چلے آئے ہیں اسی طرح ان کے معانی بھی اوپر ہی سے مفہوم اور معلوم ہوتے چلے آئے ہیں۔ اسی طرح ختم نبوت اور نزول مسیحm کے الفاظ کا حال ہے۔ یہ بھی امت میں ہمیشہ سے مستعمل ہوتے چلے آئے ہیں اور ہردور میں اس کے صرف یہی

243

ایک معنی سمجھے گئے ہیں کہ آنحضرتa کے بعد اب کوئی نبی نہیں بنے گا اور اسی کے ساتھ یہ بھی منقول ہوتا چلا آیا ہے کہ عیسیٰؑ دوبارہ آنے والے ہیں۔ اب ذرا اس پر غور فرمائیے کہ ایک طرف نبی کی آمد کی ممانعت بھی منقول ہے اور اسی کے ساتھ اسرائیلی رسول کی آمد بھی منقول ہے۔ اب اگر کوئی صرف اپنی دماغی کاوش سے یہ کہنے بیٹھ جائے کہ جب آپa کے بعد کوئی نبی نہیں تو عیسیٰؑ بھی نہیں یا اگر عیسیٰؑ آئیں گے تو اور نبی بھی آئیں گے۔ اس کا حاصل صرف اپنی دماغی کاوش سے ایک علمی دین بنانا ہوگا۔ اس کو منقول شدہ دین نہیں کہاجاسکتا اور اگر فرض کر لو کہ ہمارا کہنا صحیح نہیں تو پھر آپ کو کسی تاریخ سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ فلاں تاریخ سے اس غلط عقیدہ کی بنیاد قائم ہوئی ہے۔ مگر یہاں اسلامی تاریخ تو درکنار اگر اس بارے میں دوسرے اہل مذاہب سے آپ اس امت کا عقیدہ پوچھیں تو وہ بھی کسی تردد کے بغیر آپ کو یہی بتائیں گے کہ ان کے نزدیک کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ ہاں! وہی عیسیٰؑ اسرائیلی رسول آئیں گے۔ اس وقت یہ بحث نہیں ہے کہ یہ عقیدہ خلاف قیاس ہے یا نہیں اور نزول کے اور خاتم کے لغت میں معنی کیا ہیںاور ختم نبوت اور نزول میں حروف تطبیق کیا ہے۔ بلکہ بحث صرف یہ ہے کہ امت میں ان الفاظ کے معنی کیا سمجھے جاتے رہے ہیں تو آپ صرف اسی ایک مذکورہ بالانتیجہ پر پہنچیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تفسیروں میں اور شروح حدیث میں کتب عقائد میں اور دین کے تمام معتبر لٹریچر میں اسی حقیقت کو دہرایا گیا ہے اور اسی حقیقت کے ماتحت ہرمدعی نبوت اور ہر مدعی مسیحیت کی تکفیر وتردید کی گئی ہے۔ لہٰذا یوں صرف مجازواستعارہ یا ناتمام نقول یا مبہم یا محرف الفاظ سے کوئی ایسی حقیقت تراش لینی جو آج تک امت کے بیان کردہ حقیقت کے برعکس ہو دین محمدی کہلانے کے قابل نہیں اس کو نیا دین کہنا بجا ہے۔

حضرت عیسیٰؑ سے متعلقہ آیات پر غور کرنے سے قبل یہاں ان کے

مقدمہ کی پوری وہ روئیداد جو قرآن کریم نے نقل فرمائی ہے اور فریقین

کے بیانات پیش نظر رکھنا ضروری ہیں

قرآن کریم پر غور کرنے سے قبل یہاں یہ غور کرلینا بھی ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں جو مسئلہ زیربحث آیا ہے وہ کیا مسئلہ ہے اور وہ کیوں زیربحث آیا

244

ہے۔ جب آپ اس طرف توجہ فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ سورۂ نساء میں جس امر کی اہمیت محسوس کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو قوم کل تک خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کا گہوارہ بنی ہوئی تھی آخر کیوں یک لخت وہ ان تمام نعمتوں سے محروم کردی گئی اور کیوں نعمتوں کی بجائے لعنت کا مورد بن گئی۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے ان کے ان پے درپے جرائم کا ذکر کیا ہے جو ایک سے ایک بدتر تھے اور جس کی کہ یہ قوم عادی بن چکی تھی جو جرائم ان کے یہاں شمار کئے گئے ہیں۔ ان میں کچھ تو ان کے حیاناک اقوال ہیں اور کچھ زشت افعال۔ ان کے زشت افعال میں خداتعالیٰ کے مقدس انبیاءo کا قتل کرنا ہے اور ان کے حیاناک اقوال میں معصومہ حضرت مریمp پر بہتان طرازی اور ان کے ملکی صفت فرزند مطہر کے متعلق قتل کرنے کا دعویٰ کاذب ہے۔ اب ہم کو دیکھنا یہ ہے کہ یہاں یہود ملعون کا بیان کیا ہے اور پھر ان بیانات ہی کی روشنی میں قرآنی فیصلہ پر غور کرنا ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ کتاب اللہ کی حیثیت چونکہ ایک حکم اور فعل کی ہے اس لئے ہم کو یہ امر خاص طر پر ملحوظ رکھنا چاہئے کہ جس معاملہ کے متعلق قرآن کریم نے فیصلہ فرمایا ہے۔ اس میں فریقین کے بیانات کیا نقل کئے ہیں۔ یہاں کسی ایک حرف کا اپنی جانب سے اضافہ کرنا جو مقدمہ کی جان ہو قرآن پر خیانت یا عجز کا بڑا اہتمام ہے، یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہر عدالت کے لئے یہ کتنا ضروری ہے کہ وہ فریقین کے بیانات نہایت احتیاط کے ساتھ ضبط کرے اور بالخصوص جو اجزاء کسی فریق کے مقدمہ کی اصلی روح ہوں۔ ان کو پورے طور پر واضح کر دے۔ آج بھی اگر کوئی عدالت فریقین کے بیانات قلمبند کرنے میں ایسی تقصیر کر جائے تو اس کے حق میں یہ کتنا بڑا سنگین جرم شمار ہوتا ہے۔ پس ہمارے نزدیک جو بات یہاں صورت واقعہ کو آسانی سے حل کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے ہم فریقین کے بیانات کو حاشیہ آرائی کے بغیر دیکھیں۔ اس کے بعد کسی تاویل کے بغیر قرآنی فیصلہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس قاعدہ کے موافق جب ہم حضرت عیسیٰؑ کا معاملہ سامنے رکھتے ہیں تو جو بیان ہم کو یہاں یہود کا ملتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا ہے۔ رہا یہ کہ کس غرض سے ان کا قتل کیا ہے اور کس آلہ سے قتل کیا ہے؟ اس کو انہوں نے نہ یہاں بیان کیا ہے اور نہ یہ باتیں ان کے نزدیک کچھ اہم معلوم ہوتی ہیں۔ جس بات پر انہوں نے اپنے بیان دعویٰ میں زوردیا ہے وہ صرف حضرت عیسیٰؑ کی ذات کی تشخیص وتعیین ہے۔

245

دوم ان کے قتل کرنے کا پورا جزم ویقین ہے اسی لئے مقتول کے صرف نام یا لقب ہی پر انہوں نے کفایت نہیں کی بلکہ خاص طور پر ان کی خاص مادری نسبت کا بھی ذکر کیا ہے۔ یعنی والد کے بغیر پیدائش اور اس سے بھی زیادہ یہ کہا ہے کہ یہ شخص وہی ہے جو ’’رسول اللہ ‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی جس جرأت کا بے باکانہ ذکر کیا ہے وہ قتل کا جرم ہے۔ چنانچہ اس کو بھی انہوں نے لفظ ’’انّٰ‘‘ سے ذکر کیا ہے جو عربی زبان میں جزم ویقین کے لئے مستعمل ہے تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ ان کو نہ تو اپنے فعل قتل میں کوئی شبہ ہے اور نہ اس مقتول کی ذات میں کوئی شبہ ہے جس کے قتل کا ان کو دعویٰ تھا اس سے زیادہ کوئی اور بات یہاں نقل نہیں کی گئی۔ اس لئے قرآنی فیصلہ بھی ہم کو صرف اسی بیان کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔

نصاریٰ کے متعلق یہاں قرآن کریم نے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ وہ یقینی طور پر کوئی بات نہیں کہتے مختلف باتیں بناتے ہیں اور چند وجوہات کی بناء پر حقیقت کا ان کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ اس لئے صرف اٹکل کے تیرچلانے کے سوا ان کے لئے چارہ کار ہی کیا ہے۔ ہاں! اجمالی طور پر ان کا یہ خیال ضرور تھا کہ وہ اپنے جسم ناسوتی یالاحوتی کے ساتھ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ اب ظاہر بات ہے کہ قرآنی الفاظ کے مطابق جو بات یہاں متنازع فیہ نظر آتی ہے وہ حضرت عیسیٰؑ کی صرف زندہ شخصیت ہے۔ یہود کہتے تھے کہ ہم نے ان کو قتل کرڈالا ہے اور نصاریٰ اس خیال میں تھے کہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ ان کی روح کے متعلق نہ یہاں کوئی تذکرہ ہے اور نہ روح کا تذکرہ معرض بحث میں لایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ روح کا معاملہ ایک غیبی معاملہ ہے وہ انسان کے ادراک سے بالاتر بات ہے۔ اس پر نہ یہود کوئی حجت قائم کر سکتے ہیں اور نہ قرآنی بیان کو وہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس لئے حسب تصریح قرآن کریم ان کے دعویٰ ہی میں روح زیربحث نہ تھی تو فیصلہ میں اس کا ذکر کیسے آسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ قتل کا فعل جسم پر وارد ہوتا ہے۔ روح پر وارد نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ان کے مقابلہ میں جب قرآنی فیصلہ یہ ہوکہ وہ مقتول نہیں بلکہ مرفوع ہوئے ہیں تو یہاں رفع سے جسم ہی کا رفع مراد ہوگا نہ کہ روح کا۔

246

حضرت عیسیٰؑ کے مصلوب ہونے اور

ان کے عزت سے مرجانے کی جدید داستان

یہاں ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰؑ کو سولی پر چڑھا دیا تھا۔ ان کے سر پر کانٹوں کا تاج بھی رکھا، منہ پر تھوکا بھی اور جو کچھ نہ کرنا تھا وہ سب کچھ بھی کر لیا تھا۔ (والعیاذ باﷲ) حتیٰ کہ جب ان کو پورا یقین ہوگیا کہ انہوں نے ان کو درحقیقت مارڈالا ہے تو ان کو سولی سے اتارا مگر ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی تھی آخر وہ چھپ کر کشمیر یا دنیا کے کسی اور غیرمعروف شہر میں آخر اپنی موت سے مرگئے تھے۔ اس جماعت کے نزدیک یہود کا یہ گمان تھا کہ جو شخص بھی صلیب کے ذریعہ مارا جاتا ہے وہ لعنتی موت مرتا ہے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰؑ کے رسول ہونے کی بجائے ان کا ملعون ہونا ثابت کریں۔ اس لئے ان کے نزدیک یہ ازبس ضروری تھا کہ ان کی موت صلیبی موت ہوتا کہ وہ ان کے لعنتی ہونے کا ثبوت بن سکے۔ اس جماعت کو یہود کے یہ سب جرائم مسلم ہیں یعنی ان کا سولی دینا اور تمام اہانت کے اسباب کا ارتکاب کرنا حتیٰ کہ ان کو اس نوبت میں پہنچا دینا ان کے حق میں زندگی کا کوئی امکان بھی باقی نہ رہے اور یہاں قرآنی تردید کا حاصل صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں گواسباب موت سب پورے ہوچکے تھے۔ مگر ان میں کچھ جان باقی رہ گئی تھی۔ اس لئے وہ صلیبی موت سے نہیں مرے بلکہ کہیں جاکر خود اپنی موت سے مرے ہیں۔ اس لئے ان کی موت لعنتی موت نہیں ہوئی بلکہ ان کو بڑی عزت کی موت نصیب ہوئی ہے اور ان کے بڑے درجے بلند ہوئے۔ ان کے نزدیک ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ کی تفسیر یہی ہے۔

اب اگر واقعہ درحقیقت یہی تھا جو اس جماعت کا خیال ہے تو یہاں حسب ذیل امور قابل غور ہیں:

الف… اگر درحقیقت یہود کا دعویٰ یہاں ان کی صلیبی موت کا تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ قرآن نے ان کے بیان میں صلیب کا دعویٰ نقل نہیں کیا اور کیوں قتل کا ایک عام لفظ نقل کیا ہے۔

ب… اور کیا وجہ ہے کہ جب کہ ان کا تمام زور صلیبی موت کے متعلق تھا تو تردید میں صرف نفی قتل پر زوردیاگیا ہے اور کیوں ایک ایسے غیرمتعلق جرم کی نفی پر زوردیا گیا ہے جس کی نفی سے ان کے دعویٰ کی تردید کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یعنی فعل قتل، ظاہر ہے کہ یہ ایک عام جرم

247

ہے جو صلیب اور غیرصلیب ہرآلہ سے حاصل ہوسکتا ہے۔ قتل کی نفی پر توزور نہ دینا اور ایک عام جرم کی نفی پر زوردینا یہ کہاں تک مناسب ہے۔

ج… پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم نے اگر ایک بار صلیب کا انکار بھی کیا تو وہ بھی ایسے محل پر کیا ہے جو اس کا صحیح محل نہ تھا۔ یعنی جب قرآن کریم ان کی لعنتی موت تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کی بجائے ان کی موت کو عزت کی موت قراردیتا ہے تو پھر بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ ان دونوں باتوں کو مقابل بنا کر ذکر کرنا چاہئے تھا اور یوں کہنا تھا کہ: ’’وما صلبوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ مگر کتنی حیرت کی بات ہے کہ یہاں بھی قرآن کریم نے خاص صلیب کی بجائے صرف ایک عام فعل قتل کی نفی فرمائی ہے اور یوں فرمایا ہے کہ: ’’وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ‘‘

د… اس تفسیر کی بناء پر یہ غور کرنا بھی ضروری ہے کہ جو چیز موقعہ واردات پر واقع ہوئی وہ یہ تھی کہ وہ کشمیر یا اور کسی طرف چلے گئے تھے۔ رہا ان کی موت کامسئلہ تو اگر ان کی موت کہیں جاکر واقع ہوئی تو یہ سالوں یا مدتوں بعد کا معاملہ ہے۔ پس جو بات یہاں صورتحال بتانے کے لئے ضروری تھی اس کو کیوں حذف کر دیا گیا ہے اور صاف طور پر یہ کیوں نہیں فرمادیا گیا کہ یہود نے ان کو سولی نہیں دی بلکہ وہ زندہ کشمیر وغیرہ کہیں چلے گئے تھے تاکہ یہ بات واضح ہو جاتی کہ صلیبی موت سے بچنے کی ان کی شکل کیا ہوئی۔ پس اصل حقیقت کا تو اخفاء کرنا اور موت کی ایک عام سنت کا بیان کرنا یہ کس درجہ بے محل اور غیرمتعلق بات ہے۔

ہ… اس سے بڑھ کر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اصل بات ان کی طبعی موت تھی تو یہاں ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ کی بجائے ’’بل توفاہ اللہ ‘‘ کہنا زیادہ مناسب تھا تاکہ ثابت ہو جاتا کہ وہ صلیبی موت سے نہیں مرے بلکہ طبعی موت سے مرے ہیں اور جب اپنی طبعی موت سے مرے ہیں تو رفع درجات کا مسئلہ خودبخود ثابت ہو جاتا ہے۔ بس اگر صورتحال کا انکشاف ہوتا ہے تو وہ اسی صورت سے ہوتا ہے کہ یہاں ان کی طبعی موت کا ذکر کیا جائے۔

لیکن آیت بالا میں یہاں ان تینوں الفاظ میں سے کوئی لفظ نہیں ہے۔

۱… ’’وما صلبوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ‘‘
۲… ’’وما قتلوہ یقیناً بل اذہبہ اللہ الی الکشمیر‘‘
۳… ’’وما قتلوہ یقیناً بل توفاہ اللہ ‘‘
248

اب اگر ہم اس جماعت کے خیالات کو صحیح تسلیم کرتے ہیں تو ہم کو یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ سرے سے یہود کا اصل دعویٰ ہی یہاں مذکور نہیں یعنی خاص صلیب دینا۔ کیونکہ ان کے بیان کے مطابق ان کی لعنتی موت ہونا اسی وقت ثابت ہوسکتا ہے جب کہ یہ ثابت ہو جائے کہ ان کی موت صلیب کے ذریعہ واقع ہوئی ہے۔ اس لئے یہاں ان کے دعوے میں قتل کی عام جرم کا نقل کرنا مدعیین کے دعویٰ کے بھی اور ان کے مقاصد کے بھی بالکل خلاف ہے۔ اسی طرح جب ہم قرآن کریم کے فیصلہ پر نظر کرتے ہیں تو یہاں بھی واقعہ کی اصل صورت بالکل مبہم نظر آتی اور صورتحال کا کچھ انکشاف نہیں ہوتا۔ کیونکہ نہ یہاں ان کے کشمیر جانے کا ذکر ہے نہ ان کے طبعی وفات پانے کا کوئی تذکرہ ہے۔ اس لئے اس کا کوئی انکشاف نہیں ہوتا کہ ملزمین جس کے قتل کے اس شدومد کے ساتھ مدعی تھے اگر وہ شخص مقتول نہیں ہوا تو آخر پھر کدھر گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے متعلق جو نہ صرف ان کے زیرحراست آچکا تھا بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے مر بھی چکا تھا صرف یہ کہہ دینا کہ وہ سولی پر نہیں مرا تھا بلکہ عزت کی موت مرا تھا کیا تشفی بخش تھا۔

ہاں! اگر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے اس کو فلاں مقام پر بھیج دیا تھا اور اسی کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا جاتا کہ مدعیین کے لئے اس مغالطہ لگنے کا باعث کیا تھا تو بے شک صورت حال پر روشنی پڑسکتی تھی۔ لیکن صرف یہ کہہ دینا کہ ان کی عزت کی موت واقع ہوئی ہے بے معنی فیصلہ ہے اور بالکل بعید ازقیاس بھی ہے۔ کیونکہ جو لوگ ان کے قتل کے مدعی تھے وہ یہود تھے اور اس بارے میں ان کو اتنا یقین تھا کہ اپنے بیان میں اس کے متعلق تاکید اور یقین کے جتنے طریقے وہ استعمال کرسکتے تھے سب استعمال کر چکے تھے۔ اب اگر قرآن کریم یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ تم نے ان کو سولی پر چڑھادیا تھا مگر جب وہ سولی سے مردہ سمجھ کر اتارے گئے تھے تو وہ پورے طور سے نہیں مرے تھے۔ اگرچہ تم کو مردہ معلوم ہوتے تھے پھر بعد میں ان کو کسی غیرجگہ لے جاکر خود ہم نے ان کو موت دی تھی۔ یہ بیان جتنا خلاف قیاس ہوسکتا ہے ظاہر ہے خاص کر جب کہ ان کی موت تسلیم کر لی جائے جو لوگ یقینی اسباب قتل کا ارتکاب کرچکے تھے ان سے یہ کہنا کہ وہ ان اسباب سے نہیں مرے بالکل اتنی ہی مضحکہ خیز بات ہوگی جیسے کوئی قاتل اپنی صفات کے بیان میں یہ کہے کہ مقتول کے پیٹ میں چھرا تو میں نے ہی گھونپا تھا مگر مقتول اس کی وجہ سے نہیں مرا بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے مرا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ قاتل

249

کے یقینی آلہ قتل کے استعمال کرنے کے بعد ان حالات میں جب کہ موت کا ظاہری سبب وہی ہو۔ کوئی عدالت اس کے اس عذر کو معقول نہیں سمجھے گی بلکہ اس کی سماعت مقتول کے حق میں ایک ظلم تصور کرے گی پھر یہاں سولی کا جرم تسلیم کر لینے کے بعد اور وہ بھی اس حد تک کہ ملزمین کے نزدیک اس کی موت یقینی ہوچکی ہو۔ خالق کائنات کا یہ فیصلہ دینا کہ وہ تمہارے مارنے سے نہیں مرے بلکہ ہمارے مارنے سے مرے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں کیا اثر انداز ہوسکتا ہے۔بالخصوص جب کہ اس بعید ازقیاس دعوے کے لئے کوئی قرینہ بھی یہاں ذکر نہیں کیاگیا۔ دوسرے لفظوں میں اگر اس فیصلہ کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہی نکلے گا کہ اپنے دشمن کی ہلاکت جو ہر شخص کا مقصد ہوتا ہے یہاں اس کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھوں سے پورا کر دیا تھا۔ دشمنوں کے مقابلہ میں اب یہ بحث کھڑی کرنی کہ ان کی یہ موت بڑی عزت کی موت تھی ہمارے نزدیک زخموں پر نمک پاشی سے کم نہیں۔

یہ بات بھی نظرانداز کرنے کے قابل نہیں ہے کہ حسب بیان قرآن کریم یہود کے جرم کی جو نوعیت عیسیٰؑ کے معاملہ میں تھی وہی نوعیت دوسرے انبیاءo کے ساتھ بھی تھی۔ یعنی قتل، دونوں مقامات پر قرآن کریم نے ایک ہی لفظ قتل کو استعمال فرمایا ہے۔ فرق ہے تو صرف یہ کہ عیسیٰؑ کے قتل ہونے کو اس نے تسلیم نہیں کیا اور دیگر انبیاءo کے حق میں تسلیم کرلیا ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ جب یہاں مدعیین بھی ایک ہی قوم تھی اور دعویٰ بھی ایک تھا تو پھر صرف ایک عیسیٰؑ کی خصوصیت کیا تھی کہ ان کے حق میں ان کے رفع روحانی یا عزت کی موت کی تصریح ضروری سمجھی گئی ہے اور دیگر انبیاءo کے حق میں ان کی موت کے متعلق ایک کلمہ تک نہیں فرمایا گیا۔ حالانکہ یہود کا مقصد ان کے قتل کرنے سے بھی اس کے سوا اور کیا تھا کہ ان کے نزدیک یہ سب مقدس گروہ بھی لعنتی تھا۔ والعیاذ باﷲ!

کیا اس سکوت کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ ان کے معاملہ میں رفع روحانی یا رفع درجات تسلیم نہیں کیاگیا۔ والعیاذ باﷲ! حقیقت یہ ہے کہ روح کے رفع یا عدم رفع کا مسئلہ نہ یہاں زیربحث تھا اور نہ یہ مسئلہ کسی کے حق میں خواہ عیسیٰؑ ہوں یا دیگر انبیاءo زیربحث آنے کے قابل ہے۔

پھر اگر یہاں رفع سے رفع روحانی مراد ہوتا تو کیا اس کے لئے صرف ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ کا لفظ کافی نہ تھا۔ یہاں لفظ الیہ کا بے ضرورت کیوں اضافہ کیاگیا ہے؟

250

صلیبی موت کا لعنتی ہونا اور اس کے مقابلہ میں عزت کی موت کا افسانہ

اسلام میں بالکل بے اصل بلکہ غیرمعقول ہے

رفع روحانی اور عزت کی موت کا یہ سارا افسانہ اس پر مبنی ہے کہ صلیبی موت کے لعنتی موت ہونے کی شریعت کی نظر میں کوئی اصلیت بھی ہو لیکن اگر یہ تخیل ہی بے بنیاد ہے تو پھر نہ قرآن کریم کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت ہوسکتی ہے اور نہ کسی غلط بنیاد پر وہ اپنے صحیح فیصلہ کو مبنی کر سکتا ہے۔ جب اس پر نظر کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لعنتی موت کا اسلام میں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ یہاں کفار جتنے ہیں وہ سب کے سب ملعون ہیں۔ خواہ زندہ ہوں یا مردہ۔ سولی پاکر مریں یا گولی کھا کر۔ آخر جب ملعون قراردئیے گئے تو کیا یہ لعنت ان کے دم کے ساتھ ساتھ نہ رہی۔ یقینا حیات سے لے کر موت اور موت سے لے کر قیامت اور قیامت سے جہنم تک ان کے دم کے ساتھ لگی رہے گی۔ جملہ ادیان سماویہ میں موت کے اچھے اور برے ہونے کا تعلق انسانوں کے اعمال پر رکھاگیا ہے نہ کہ کسی خاص آلہ قتل پر اور یہی بات معقول بھی ہے۔ یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ ایک پاک باز انسان اگر سولی پر مارا جائے تو وہ صرف اس خاص آلہ قتل کی وجہ سے لعنتی بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دیگر انبیاءo کے متعلق یہود کے جرم قتل کا اعتراف کرلینے کے باوجود ان کی عزت کی موت ہونے کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی اور نہ اس بدیہی بات کی طرف توجہ کی ضرورت تھی بلکہ جس بات کی اہمیت محسوس فرمائی وہ یہ ہے کہ یہ وہ مقدس جماعت ہے جس کے قتل کا وبال یہ ہے کہ جو جماعت کل تک نعمت کا گہوارہ بنی ہوئی تھی اب وہ مورد لعنت بن گئی ہے۔ تعجب ہے کہ یہاں سیاق کلام تو یہود کے ملعون ہونے کے اسباب بیان کرنے کا تھا اور اس میں بے بنیاد اور الٹا عیسیٰؑ کے ملعون ہونے نہ ہونے کی بحث کھڑی کر دی گئی۔

رفع کالفظ قرآن کریم میں ایک جگہ بھی لعنتی موت کی تردید کے لئے مستعمل نہیں

بحث کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ لفظ رفع کے معنی پر بھی غور کرلینا چاہئے۔ کیا یہ لفظ عرف قرآنی میں کہیں عزت کی موت کے لئے استعمال ہوا ہے؟ جہاں تک ہم نے قرآن کریم اور کتب لغت پر نظر کی ہے ہم کو اس لفظ کے معنی کہیں لعنتی موت کے بالمقابل عزت کی موت

251

دینے کے ثابت نہیں ہوئے بلکہ اس لفظ کا استعمال غیرذی روح میں بھی ہوتا ہے۔ جہاں موت کا احتمال ہی نہیں ارشاد ہوتا ہے:’’رفع السمٰوٰت بغیر عمدٍ ترونہا‘‘

رفع کے معنی قرآن ولغت میں

یہاں لفظ ’’رفع‘‘ آسمانوں کے متعلق استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح اس کا استعمال زندوں اور مردوں میں یکساں نظر آتا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب آیات ذیل پر نظر فرمائیے۔

۱… ’’ورفعنا بعضہ فوق بعض درجات (الزخرف:۳۲)‘‘

۲… ’’یرفع اللہ الذین آمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات (المجادلہ:۱۱)‘‘

۳… ’’ولوشئنا لرفعناہ بہا ولٰکنہ اخلد الی الارض (الاعراف:۱۷۶)‘‘

۴… ’’ورفعناہ مکاناً علیاً (مریم:۵۷)‘‘

۵… ’’ورفعنا لک ذکرک (الانشراح:۴)‘‘

۶… ’’ورفع ابویہ علی العرش (یوسف:۱۰۰)‘‘

ان تمام آیتوں میں رفع کا لفظ انسانوں ہی میں استعمال ہوا ہے مگر کسی ایک جگہ بھی اس کے معنی عزت کی موت کے مراد نہیں ہیں بلکہ مردوں میں اس کا استعمال ہی نہیں ہوا۔ یہاں ایک بڑا مغالطہ یہ ہے کہ عیسیٰؑ کے رفع جسمانی کا مسئلہ گویا صرف لفظ رفع سے پیدا ہوگیا ہے اور اس لئے ہم سے یہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ رفع کا لفظ رفع جسمانی کے لئے کہیں آیا ہے یا نہیں۔ درحقیقت یہ بحث کا رخ پلٹنے کے لئے صرف ایک چال ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ یہ لفظ عزت کی موت کے لئے کہیں استعمال ہوا ہے یا نہیں اور چونکہ یہ معنی کہیں ثابت نہیں۔ اس لئے بحث کا رخ بدلنے کے لئے ذہنوں کو ایک دوسرے سوال کی طرف متوجہ کر دیا گیا ہے تاکہ اصل سوال کی طرف کسی کا ذہن متوجہ ہی نہ ہوسکے۔

اصل بات یہ ہے کہ رفع کا لفظ صرف بلند کرنے اور اٹھانے کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ اس میں نہ جسم کی خصوصیت ہے نہ روح کی بلکہ وہ غیرذی روح میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔ جب عیسیٰؑ کے معاملہ میں جسم کا رفع اس لئے مراد لیاگیا ہے کہ یہاں زیربحث جسم

252

ہی کا معاملہ تھا۔ یہود اس کے قتل کے مدعی تھے اور نصاریٰ اس کے رفع کے۔ پس جب یہاں روح زیربحث ہی نہ تھی تو رفع سے روح کا رفع مراد ہوکیسے سکتا تھا۔ اس مقام کے علاوہ قرآن کریم میں کسی جگہ اور کسی شخص کے متعلق یہ بحث نہیں ملتی کہ وہ قتل کیاگیا ہے یا اپنے جسم کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ اس لئے کسی اور جگہ خاص جسم کے رفع کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ پس انسانوں میں جن کے جسم مشاہدہ میں ہوتے ہیں جب یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو چونکہ وہاں ان کے جسم کے رفع کا احتمال ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے وہاں معنوی رفع یعنی درجات کی بلندی مراد ہوتی ہے اور یہ صحیح ہے کیونکہ اس لفظ کا استعمال ہر قسم کی بلندی کے لئے ہوتا ہے جس کی ہو یا معنوی، جیسا موقع اور محل ہوگا اس کے مطابق اس کے معنی مراد لئے جائیں گے۔ یہی حال لفظ توفی کا ہے وہ بھی زندوں اور مردوں دونوں میں یکساں مستعمل ہے۔ عیسیٰؑ کے معاملہ میں لفظ توفی، رفع نزول اور اس کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ اس کے ساتھ یہاں قومی تاریخیں بھی موجود ہیں۔ پس یہ مسئلہ قومی تاریخ اور آیات واحادیث کی روشنی سے ثابت ہوا ہے۔ یہ سمجھنا بڑی نافہمی ہے کہ یہ مسئلہ صرف لفظ رفع کی پیداوار ہے۔ جیسا کہ آیت نمبر:۶ میں حضرت یوسفm کے والدین کے جسمانی رفع کا معاملہ صرف لفظ رفع سے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے لئے دوسرے خارجی قرائن بھی تھے اور یہاں تو قرآن نہیں بلکہ دلائل موجود ہیں اور وہ بھی واضح سے واضح اور مستحکم سے مستحکم۔ خلاصہ یہ کہ جب ایک طرف لعنتی موت کا افسانہ بے بنیاد ثابت ہوتا ہے اور دوسری طرف کا استعمال بھی عزت کی موت یعنی لعنتی موت کی تردید کے لئے نہیں ملتا تو پھر آیت بالا کی یہ تفسیر کیسے قبول کی جاسکتی ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کا مصلوب ہونا قرآن کریم سے اور اس کی تردید

اب ذرا اس پر بھی نظر ڈالتے چلئے کہ خاص عیسیٰؑ کے حق میں ان کا سولی دیا جانا۔ ان کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھنا۔ ان کے منہ پر تھوکا جانا اور طرح طرح سے ان کی توہین وتذلیل کرنا کیا یہ تاریخ قرآن کریم کو مسلم ہے؟

یہاں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ قرآن کریم نے جب یہود کے ملعون ہونے کے اسباب کاتذکرہ کیا ہے تو خاص عیسیٰؑ کے مسئلہ میں کس سبب کا ذکر کیا ہے۔ آیت: ’’وقولہ انا قتلنا المسیح عیسٰی ابن مریم… الخ! (النساء:۱۵۷)‘‘ معلوم

253

ہوتا ہے کہ عیسیٰؑ کے معاملہ میں صرف ان کا یہ کہنا کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا ہے ان کے لعنت درلعنت کا سبب بن گیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اس معاملہ میں ان کی جانب سے وہ تمام بدترین اور توہین وتذلیل کی حرکات ناخائستہ سرزد ہوچکی تھیں جو ابھی ذکر ہوچکیں تو ان تمام مکروہ افعال کا ذکر نہ کرنا اور صرف ایک دعویٰ قتل کو نقل کرنا کیا یہ معقول ہوسکتا ہے۔ عقل ایک لمحہ کے لئے بھی یہ باور نہیں کرسکتی کہ اگر اس سلسلہ میں ان مکروہ افعال کا ان سے صدور ہوا تھا اور ان تمام مظالم اور جرائم پر پردہ ڈال دیا جاتا اور صرف ایک دعویٰ قتل کو ان کے اسباب لعنت میں ذکرکیا جاتا اور اس سے کہیں بڑھ کر اسباب لعنت کے ذکر سے سکوت کر لیا جاتا۔ ہمارے نزدیک دشمنوں اور مجرموں کے حق میں اس سے بڑھ کر فیاضی کی مثال ملنا ناممکن ہے۔

اس کے علاوہ سورۂ مائدہ میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ پر اپنے انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے تو ان میں ایک بڑا انعام یہ بھی شمار کیا ہے: ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ اور یہ انعام بھی قابل دید ہے جب کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم سے دور روکے رکھا۔ اب اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰؑ کو پکڑ کر سولی پر چڑھادیا تھا اور سب ناروا سلوک ان کے ساتھ کر لئے تھے تو کیا بنی اسرائیل کی اس دسترس کے بعد عربی ادب ولغت کے لحاظ سے مذکورہ بالا جملہ استعمال کرنا صحیح ہے۔ دوم پھر کیا یہ دردناک مظالم اور تذلیل وتوہین کا سلوک اس قابل ہے کہ ان کے عجیب درعجیب معجزات اور نزول مائدہ جیسے انعامات کے پہلو بہ پہلو ایک انعام بنا کر اس کو ذکر کیا جائے۔

تیسرے سورۂ آل عمران میں یہ ارشاد ہے:’’ومکروا ومکراﷲ واﷲ خیر الماکرین (آل عمران:۵۴)‘‘ یہود نے بھی خفیہ سازش کی اور ہم نے ان کے مقابلہ میں خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہتر وبرتر ہے۔

آیت بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ جب یہود بے بہبود نے حضرت عیسیٰؑ کے قتل کی تدبیریں کیں تو ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر فرمائی اور یہ ظاہر ہے کہ جب قدرت خود ضعیف انسان کی تدبیر کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہوجائے تو پھر کسی کی ضعیف یا قوی تدبیر کیا چل سکتی ہے؟ یہ بات الگ ہے کہ جب قدرت تاریخ وامہال کے قانون کے ماتحت کسی گرفت کا ارادہ ہی نہ فرمائے تو کچھ مدت کے لئے انسان اپنی سب تدبیروں میں کامیاب

254

نظر آئے۔ لیکن اگر قدرت الٰہیہ ان تدابیر کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہو جائے تو کیا پھر اس رسوائی وذلت کی کوئی مثال مل سکتی ہے جو یہاں حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں نافہموں نے اپنی جانب سے تراش لی ہے اور کیا اب دشمنوں کے مقابلہ میں قرآن کریم کا یہ دعویٰ کرنا کہ: ’’واﷲ خیر الماکرین‘‘ اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے بڑھ کر تدبیر کرنے والا ہے۔ قابل مضحکہ نہیں ہے۔ (معاذ اللہ )

لفظ مکر کے معنی عربی لغت میں خفیہ تدبیر کے ہیں

یہ خوب واضح رہنا چاہئے کہ یہاں قرآن کریم نے یہود کے مقابلہ میں جو لفظ استعمال کیا ہے وہ لفظ مکر ہے جس کے معنی لغت میں خفیہ تدبیر کے ہیں۔ پس اس لفظ کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں کوئی تدبیر ایسی ہونی چاہئے جس کا دشمنوں کا علم بھی نہ ہوسکے اور نتیجہ کے لحاظ سے وہ اس درجہ ناکام بھی رہیں کہ پھر ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کا ’’خیرالماکرین‘‘ ہونا روزروشن کی طرح واضح ہو جائے۔

آنحضرتa کے ہجرت کے واقعہ میں لفظ مکر کا استعمال بھی ہوا ہے ہر

دو مقامات پر تدبیر الٰہی اور اس کا موازنہ اور آنحضرتa کی شان

برتری کا اس میں ظہور

اس قسم کا ایک جملہ قرآن کریم میں ہم کو آنحضرتa کے ہجرت کے متعلق بھی ملتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ’’ویمکرون ویمکراﷲ۔ واﷲ خیر الماکرین (الانفال:۳۰)‘‘ ادھر تو وہ خفیہ سازش کر رہے تھے اور ادھر خدا خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور خدا سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

یہاں بھی قریش کی سازش کا ذکر ہے پھر اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے خفیہ تدبیر فرمانے کا تذکرہ ہے اور آخر میں پھروہی کلمہ دہرایا گیا ہے جو عیسیٰؑ کے مقابلہ میں کہاگیا تھا یعنی ’’واﷲ خیرالماکرین‘‘

عجیب بات ہے کہ ہجرت کے لئے جب آنحضرتa گھر سے نکلے تو یہاں بھی کفار محاصرہ کر چکے تھے اور یہاں بھی آپa حضرت علیq کو اپنی بجائے چھوڑ گئے تھے

255

اور حضرت عیسیٰؑ جب آسمانوں پر ہجرت کرنے لگے تو یہاں بھی دشمن گھیرا ڈال چکے تھے اور یہاں بھی ایک شخص ان کی بجائے دشمنوں کے ہاتھوں میں موجود تھا۔ قرآن کریم نے دونوں مقامات پر اپنی تدبیر اور کفار کی غلط فہمی کو اسی لفظ ’’مکر‘‘ سے ادافرمایا ہے۔ ان دونوں ہجرتوں میں جب خدائی تدبیر کا موازنہ کیاجاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو تدبیر آنحضرتa کے حق میں ظاہر ہوئی وہ دشمنوں پر ایک بڑی کاری ضرب تھی۔ ان دونوں مقامات پر خداتعالیٰ کے یہ دونوں رسول گودشمنوں کے نرغے میں سے صاف نکل گئے اور کسی کا بال بیکا نہ ہوسکا۔ مگر غور فرمائیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرتaکا اپنے دشمنوں کے علم میں اسی سرزمین پر صحیح وسالم موجود رہنا اور ہرمعرکہ میں ان کو شکست دیتے رہنا آخر ۸ہجری میں اپنے آبائی وطن کو فتح کر لینا جتنا قریش کے لئے سوہان روح ہوسکتا تھا۔ آخر نصرت عیسیٰؑ کا آسمانوں پر چلے جانا یہود پر شاق نہیں ہوسکتا؟ ادھر حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں ایک مقتول لاش بھی موجود تھی مگر اس کے حضرت عیسیٰؑ ہونے نہ ہونے میں بہت سے شبہات پیدا ہوگئے تھے۔ اس لئے یہ مسئلہ زیربحث آگیا تھا کہ مقتول وہی حضرت مسیحm ہیں یا کوئی دوسرا شخص۔ مگر یہاں حضرت علیq سب کے جانے پہچانے شخص تھے۔ یہاں قریش کو پورا یقین ہوگیا تھا کہ آنحضرتa کسی شبہ کے بغیر ان کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں اور پھر طرفہ یہ کہ ان سے ذرا فاصلہ پر ان کا سرکچلنے کے لئے موجود بھی ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰؑ باایں ہمہ رأفت ورحمت جب دوبارہ اپنے وطن لوٹ کر تشریف لائیں گے تو یہاں ان کے دشمنوں کے حق میں قتل مقدر ہوا۔ حتیٰ کہ یہودی ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اتاردیا جائے گا اور آنحضرتa جب لوٹ کر اپنے وطن مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ کے دشمنوں کے حق میں یہ مقدر ہوا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں اور پھر وہی آپ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوہوکر آپ پر اپنی جانیں قربان کریں۔ ذرا اس پر بھی غور فرمائیے کہ آنحضرتa کی دائمی فتح ونصرت کے لئے ایک بار آپ کی ہجرت اور ہجرت کے بعد پھر اسی مقام پر فاتحانہ واپسی مقدر ہوئی تو عیسیٰؑ کے معاملہ میں بھی اگر پہلے ان کی ہجرت پھر اپنے وطن اصلی کی طرف واپسی مقدر ہو تو اس میں تعجب کیا ہے۔ یہاں اگر فرق ہے تو صرف دارالحجرت ہی کا تو ہے۔ یعنی وہاں دارالحجرت آسمان مقرر ہوا اور یہاں مدینہ طیبہ مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت

256

کے سامنے یہ دونوں مقامات برابر تھے۔ ہاں! اگر فرق تھا تو خود روح اللہ اور عبداﷲ کی جانب سے تھا۔ روح اللہ اور کلمتہ اللہ کی طبعی کشش آسمانوں کی طرف تھی۔ آخر جو نفخہ جبرئیلی سے ظاہر ہوئے وہ جاتے تو اور کہاں جاتے۔ عبداﷲ کی طبعی کشش زمین کی جانب تھی۔ اس لئے اگر وہ کسی خطہ ارض کی طرف نہ جاتے تو اور کہاں جاتے؟ بے شک خداتعالیٰ قادر تھا کہ آنحضرتa کو بھی آسمانوں پر اٹھالیتا لیکن کیا یہ اس آخری رسول کی شان کے مناسب ہوتا۔ حضرت عیسیٰؑ اگر آسمانوں پر تشریف لے گئے تو ان کے بعد دوسرا رسول اعظم دنیا کو نصیب ہوگیا۔ لیکن آپa تشریف لے جاتے تو امت کا نگہبان کون ہوتا۔ پھر حضرت عیسیٰؑ اگر دوبارہ تشریف لائیں گے تو ان کو اس امت میں شامل ہونے کا دوسرا وہ شرف حاصل ہوگا جس کی اولوالعزم انبیاءo تمنائیں رکھتے تھے۔ لیکن اگر آنحضرتa دوبارہ تشریف لاتے تو آپ کو کون سا دوسرا شرف حاصل ہوتا پھر روح اللہ اگر آسمانوں پر گئے تو دشمنوں سے حفاظت کے لئے بلائے گئے اور آنحضرتa جب آسمانوں پر بلائے گئے تو صرف تشریف وتکریم کے لئے بلائے گئے پھر حضرت عیسیٰؑ اگر گئے تو چوتھے آسمان تک گئے اور آنحضرتa تشریف لے گئے تو ساتوں آسمان طے کر کے وہاں تک پہنچ گئے جہاں جاتے جبرائیلm کے بھی پرجلتے تھے۔ ان دونوں ہجرتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مقام پر امام رازی کے قلم سے کیا اچھا جملہ نکل گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں جو شرف حضرت عیسیٰؑ کو میسر ہوا وہ عروج تھا اور جس شرف سے آنحضرتa نوازے گئے۔ اس کا نام معراج ہے میں کہتا ہوں جی ہاں! وہ روح اللہ تھے اور یہ عبداﷲ ہیں۔ ’’اللّٰہمّٰ صل وسلم وبارک علی عبدک ورسولک سیدنا محمد صاحب المعراج والبراق والقلم وعلٰی الہ واصحابہ تسلیما کثیراً کثیراً‘‘

گو ان دونوں ہجرتوں میں اللہ تعالیٰ کی شان: ’’خیرالماکرین‘‘ دونوں جگہ عیاں تھی اور دونوں مقامات میں اس کا جو ظہور ہوا وہ کامل ہی تھا مگر کیا جو تدبیر حضرت عیسیٰؑ کے لئے جلوہ گر ہوئی وہ خاتم الانبیاءa کے لئے مناسب تھی۔

ہمارے مذکورہ بالابیان سے یہ اچھی طرح واضح ہوگیا کہ اگر ہم حضرت عیسیٰؑ کا مصلوب ہونا اور آخر کار کشمیروغیرہ میں جاکر کہیں اپنی طبعی موت سے مرجانا تسلیم کر لیں تو

257

اس کے لئے نہ تو قرآنی الفاظ میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی دنیا کی تاریخ اس کی شہادت دے سکتی ہے اور نہ اس میں خدائی تدبیر کا کچھ ظہور ہوتا ہے اور نہ اس تقدیر پر یہود کے دعویٰ کی کوئی معقول تردید ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جب سولی کے ساتھ جملہ موت کے مقدمات تسلیم کر لئے جائیں اور گفتگو صرف اتنی رہ جائے کہ حضرت عیسیٰؑ کو تم نے مارا یا کہیں گمنام مقام میں لے جاکر خود ہم نے مارا تو اب یہ گفتگو ایک عبث گفتگو ہے۔ اس کا حاصل یہی ہے کہ جو بات دشمن چاہتے تھے وہ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے خود پوری فرمادی۔ والعیاذ باﷲ!

حضرت عیسیٰؑ کے صلیب ورفع کی تحقیق قرآن کی روشنی میں

اسی طرح صلیب کے تسلیم کر لینے کے بعد یہاں نصاریٰ کی بھی کوئی تردید نہیں نکلتی۔ کیونکہ جب اصولی طور پر عیسیٰؑ کا سولی چڑھنا تسلیم کر لیا جائے اور رفع جسمانی کا قرآن کریم خود اعلان فرمادے تو اب ان کے ساتھ بھی جو اختلاف رہے گا وہ صرف نظریات ہی کارہے گا اور صلیب پرستی کی یہ ایک بنیاد قائم ہوجائے گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ آیت کے اصل مفہوم پر غور کیا جائے اور جو مطلب کسی تاویل کے بغیر اس سے ظاہر ہوتا ہو اس کا اعتقاد رکھا جائے۔ پہلے ایک بار پوری آیت پڑھ لیجئے: ’’وقولہم انا قتلنا المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہٖ من علم الااتباع الظن وما قتلوہ یقینا۔ بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما (النساء:۱۵۷)‘‘ اور ہم نے ان کو سزا میں مبتلا کیا۔ ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے۔ حالانکہ نہ انہوں نے قتل کیا اور نہ ہی ان کو سولی پرچڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا اور جو لوگ ان کے بارہ میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے عیسیٰؑ کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والے ہیں۔

آیت بالا کے مطالعہ کے بعد جوبات پہلی بار سمجھ میں آجاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہود حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے مدعی تھے اور اس بارے میں وہ اپنے پورے جزم ویقین کا اظہار کرتے تھے۔ لیکن نصاریٰ چونکہ باہم خود مختلف تھے۔ اس لئے مختلف باتیں کہتے تھے ان

258

ہر دو فریق کے مقابلہ میں قرآن کریم کا فیصلہ یہ ہے کہ دونوں کے دونوں غلطی پر ہیں۔ یہود کا دعویٰ قتل تو سراسر غلط ہے۔ اس لئے اس کو دوبار رد کیاگیا ہے تاکہ جتنا زور انہوں نے اپنے قول قتل کرنے پر صرف کیا تھا اتنا ہی اس کے انکار پر صرف کیا جائے۔ رہ گئے نصاریٰ تو وہ قدرے مشترک طور پر ان کے مصلوب ہونے کے آج تک قائل ہیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ گو وہ کسی بات کے مدعی نہ ہوں مگر ان کے اس غلط خیال کی تردید بھی کر دی جائے۔ اس لئے یہود کے دعویٰ قتل کے ساتھ ساتھ صلیب کی بھی نفی کر دی گئی اور اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی واضح کر دیا گیا کہ ان کو اور کچھ علم نہیں ہے وہ صرف اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ جو قوم اپنے یقین کا دعویٰ رکھتی ہو صپرف اس کی تردید کردینا اس کے لئے کچھ تشفی بخش نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ اس کی غلط فہمی کے اسباب بھی بیان نہ کردئیے جائیں۔ اس کو ’’ولٰکن شبہ لہم‘‘ سے بیان کیاگیا ہے۔ یعنی یہاں قدرت کی طرف سے کچھ ایسے حالات پیداکردئیے گئے تھے جس کی رو سے حقیقت ان پر مشتبہ ہوگئی تھی۔ ایک طرف چونکہ سبت کا دن آرہا تھا اس لئے ا س ارادہ بد کی تکمیل میں ان کو خود عجلت تھی۔ دوسری طرف اس قسم کے ہنگاموں میں جو ایک طبعی وحشت ہوا کرتی ہے وہ بھی ان پر سوار تھی۔ اس لئے اپنی دانست میں گوانہوں نے حضرت عیسیٰؑ ہی کے قتل کا قصد کیا تھا۔ مگر ان مشتبہ کن حالات کی وجہ سے وہ اس ارادہ بد میں ناکام رہے اور ان کی توجہ اس طرف قائم نہ رہ سکی کہ وہ کس کو قتل کررہے ہیں اور اس کی کھلی شہادت یہودونصاریٰ کا باہم اختلاف ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صورتحالات ضرور کچھ ایسی پیچیدہ بن گئی تھی کہ حس ومشاہدہ کا یہ صاف واقعہ بھی مبہم ہوکر رہ گیا تھا اور پیچیدگی کی وجہ سے قرآن نے واقعہ کے انکشاف کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰؑ سے قبل دوسرے انبیاءo کے متعلق بھی یہود اسی جرم کے ارتکاب کا دعویٰ کرتے تھے۔ لیکن چونکہ دیگر انبیاءo کے معاملہ میں وہ اپنے دعوے میں صادق تھے اس لئے قرآن کریم نے نہ ان کی کوئی تردید کی ہے اور نہ ان کے معاملہ میں کسی شبہ واشتباہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے زیادہ تفصیلات میں پڑنا قرآن کریم نے پسند نہیں فرمایا اور نہ یہ احکم الحاکمین کی شان کے مناسب تھا اور غالباً لفظ مکراﷲ کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ خفیہ تدبیر کو کچھ خفیہ ہی رہنے دیا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر درحقیقت مقتول کی لاش ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی۔ حضرت عیسیٰؑ نہ تھے بلکہ کوئی دوسرا ان کا شبیہ شخص تھا جو عجلت میں غلطی

259

سے قتل کردیا گیا تھاتو یہ بتانا چاہئے کہ پھر عیسیٰؑ جو یقینا ان کی زیرحراست آچکے تھے۔ آخر وہ کدھر نکل گئے۔ اگر ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا تو ماننا پڑتا ہے کہ پھر مقتول کی جو لاش موجود تھی وہ عیسیٰؑ ہی تھے۔ اس لئے قرآن کریم نے اپنے فیصلہ میں قتل کی نفی کے بعد یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھالیا تھا۔ اس لئے زمین پر ان کی تلاش کرنا عبث ہے۔ لیکن ایک ضعیف انسان چونکہ نہ اس قدرت کا تصور کر سکتا ہے اور نہ اس عظیم حکمت کو پاسکتا ہے۔ اس لئے یہاں خاص طور پر اپنی ایسی دو صفتوں کا تذکرہ فرماکر بحث کو ختم کردیا ہے۔ جن کے اقرار کے بعد کوئی استبعاد باقی نہیں رہتا۔ یعنی ’’وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘

یعنی اللہ کی ذات بڑی توانا اور بڑی حکمت والی ہے۔ اس کے سامنے یہ سب باتیں آسان ہیں۔ اس واضح فیصلہ سے جس طرح یہود کی کھلی ہوئی تردید ہوگئی۔ اسی طرح نصاریٰ کے مذہب کی تمام بنیاد بھی منہدم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ جب صلیب کا سارا افسانہ ہی بے سروپا ثابت ہوا تو اب کفارہ کا اصولی عقیدہ بھی خودبخود باطل ہوگیا۔ اب اگر حضرت عیسیٰؑ کا مسئلہ اسی حد پر ختم ہوچکا تھا اور مستقبل زمانہ کے ساتھ اس کا کچھ تعلق باقی نہ رہا تھا تو آئندہ آیت میں اس کی دوسری تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ لیکن چونکہ یہاں ایک اور مشکل ترسوال سامنے آگیا تھا اور وہ یہ کہ اگر وہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں تو پھر کیا وہ آسمانوں ہی پر وفات پائیں گے۔ اس لئے اس کی بھی وضاحت کر دی گئی اور پوری قوت کے ساتھ اس کا اعلان کردیاگیا کہ ابھی ان کو طبعی موت نہیں آئی بلکہ موت سے قبل اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا مقدر ہوچکا ہے۔ اس لئے یقینا وہ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اور اب خداتعالیٰ کی وہ خفیہ تدبیر بھی عالم آشکارا ہوجائے گی اور یہ ثابت ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰؑ جب اپنے جسم کے ساتھ تشریف لائے ہیں تو یقینا جسم کے ساتھ ہی اٹھائے گئے تھے۔

’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنّٰن بہٖ قبل موتہٖ ویوم القیٰمۃ یکون علیہم شہیدا (النساء:۱۵۹)‘‘ اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ (عیسیٰؑ) ہوں گے ان پر گواہ۔

یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوہریرہq جب حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی حدیث بیان فرماتے تو یہ بھی فرماتے کہ یہ پیش گوئی صرف حدیثی نہیں قرآنی ہے اور یہی آیات بالا

260

پڑھ کر سنادیتے۔ اب یہ مسئلہ بالکل سمجھ میں آگیا ہوگا کہ حدیثوں میں نزول عیسیٰؑ کے بار بار بیان فرمانے کی اہمیت کیوں محسوس کی گئی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ رفع جسمانی چونکہ عام انسانوں کی سنت نہیں تھا۔ اس لئے اس کی تفہیم کے لئے اس حقیقت کے ذہن نشین کرنے کی بڑی اہمیت تھی کہ عیسیٰؑ کی ابھی وفات نہیں ہوئی اور ابھی ان کو آسمان سے اترنا ہے اور بہت سی خدمات مفوّٰضہ اداکرنی ہیں۔ اہل کتاب کو ان پر ایمان لانا ہے اور دجال جیسے ایمان کے غارت گر کو قتل کرنا ہے اور بالآخر خداتعالیٰ کی زمین کو شروفساد سے پاک کر کے عام انسانوں کی سنت کے مطابق وفات پانا ہے اور خاتم الانبیاءa کے پہلو میں دفن ہونا ہے۔ یہ ہے قرآنی بیان اور قرآنی بے لاگ فیصلہ۔ اب یہاں ان کی موت کا دعویٰ کرنا ٹھیک ٹھیک یہودیوں کی اتباع ہے اور ان کو مصلوب مان لینا یہ نصاریٰ کی کھلی موافقت ہے۔ کیونکہ اگر ہم عیسیٰؑ کا مصلوب ہونا تسلیم کر لیتے ہیں اور پھر کسی غیرمعلوم مقام پر جاکر ان کی موت مان لیتے ہیں تو اس کا حاصل صرف یہ ہوگا کہ یہودونصاریٰ کی وہ غلط باتیں جن کی قرآن کریم نے پوری تردید فرمائی تھی۔ ہم نے دونوں کو مان لیا ہے اور اس کے بعد ان کے ساتھ ہمارا اختلاف صرف نظریات کا اختلاف رہ جاتا ہے۔ یہود کے ساتھ تو اس لئے کہ ان کی موت کے وہ بھی قائل تھے فرق صرف یہ رہے گا کہ یہ موت لعنتی تھی یا عزت کی اور نصاریٰ کے ساتھ اس لئے کہ جب وہ سولی دے دئیے گئے تو اب اس کی حقیقت امت کی تطہیر اور کفارہ تھی یا کچھ اور، ظاہر ہے کہ ان امور کے اصولاً تسلیم کر لینے کے بعد یہ نظریاتی اختلافات بالکل بے نتیجہ ہیں۔ ہماری مذکورہ بالا تفسیر کی بناء پر دونوں قوموں کے عقائد کی بیخ وبنیاد ہی اکھڑ جاتی ہے اور قرآن کریم پر اپنی جانب سے کسی حاشیہ آرائی کی کوئی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

حضرت عیسیٰؑ تشریف لانے کے بعد جملہ اہل اسلام کے نزدیک بھی

وفات پائیں گے زیراختلاف ان کی گزشتہ موت ہے

حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اہل اسلام جہاں ان کے رفع کے قائل ہیں اسی کے ساتھ نزول کے بعد ان کی موت کے بھی قائل ہیں۔ اس بارے میں ہمارے علم میں ایک متنفس کا اختلاف بھی نہیں یوں تو ان کی ولادت بلکہ ان کی زندگی کا ہرہرگوشہ ان کی تردید الوہیت پر برہان قاطع ہے۔ لیکن صرف ان کی موت کا عقیدہ

261

مستقل اس کی ایک ایسی واضح دلیل ہے جس کے بعد ان کی الوہیت کی تردید کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ لہٰذا ان کی ولادت اور موت تسلیم کرنے کے بعد اگر ایک ہزاربار بھی ان کے رفع الیٰ السماء کا اقرار کر لیا جائے تو اس میں عیسائیوں کے مسئلہ الوہیت کی کوئی تائید نہیں ہوتی۔ اس لئے اگر بالفرض یہاں ابن عباسq یا کسی اور شخص سے ان کی موت منقول ہوتی ہے تو اس کو اجماع امت کے خلاف سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔

حضرت ابن عباسq کی تفسیر کی تحقیق

پس اگر یہ تسلیم کر لیاجائے کہ ابن عباسq سے ’’انّی متوفیک‘‘ کی تفسیر ’’انّی ممیتک‘‘ مروی ہے تو زیادہ سے زیادہ اس سے یہی ثابت ہوگا کہ عیسیٰؑ کو بھی موت آنی ہے مگر اس کا انکار کس کو ہے؟ زیربحث تو یہ ہے کہ وہ موت ان کو آچکی اور کیا وہ فی الحال مردوں میں شامل ہیں اور اب دوبارہ نہیں آئیں گے۔ دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ نہ یہ حضرت ابن عباسq سے منقول ہے اور نہ امت مسلمہ میں کسی اور معتمد عالم سے بلکہ ابن عباسq سے باسناد قوی یہ ثابت ہے کہ عیسیٰؑ اٹھائے گئے اور نزول کے بعد پھر وفات پائیں گے اور ٹھیک یہی تمام امت کا عقیدہ ہے۔

امام بخاریؒ کی کتاب التفسیر میں حل لغات کا حصہ خود ان کا تصنیف

کردہ نہیں بلکہ امام ابوعبید کاترتیب دادہ ہے

یہاں بے علموں کو ایک مغالطہ یہ بھی لگ گیا ہے کہ ابن عباسq کی مذکورہ بالا تفسیر چونکہ امام بخاریؒ کی کتاب میں موجود ہے۔ لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ امام بخاری کا مختار بھی یہی ہے عجیب بات ہے کہ جب امام بخاریؒ ہی کی کتاب میں عیسیٰؑ کے نزول کی حدیث بھی موجود ہے تو پھر کسی دلیل سے یہ سمجھ لیاگیا کہ اس موت سے گزشتہ موت مراد ہے بلکہ جب خود حضرت ابن عباسq سے بھی یہ ثابت ہے کہ یہ موت نزول کے بعد والی موت ہے تو ماننا پڑتا ہے کہ امام بخاریؒ کے نزدیک بھی اس مات سے وہی مراد ہے اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ان ہی کی کتاب میں عیسیٰؑ کے نزول کا اقرار بھی موجود ہے۔

262

پھر ان مسکینوں کو اتنا علم بھی نہیں کہ امام بخاریؒ نے کتاب التفسیر میں جو لغات اور تراکیب نحویہ نقل فرمائی ہیں یہ خود ان کی جانب سے نہیں بلکہ ان کی جانب سے صرف وہی حضہ ہے جو انہوں نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت فرمایا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ امام بخاریؒ کے پاس ابوعبید کی کتاب التفسیر موجود تھی۔ امام موصوف نے اس پوری کتاب التفسیر کو کسی تنقید وانتخاب کے بغیر بجنسہ اٹھاکر اپنی کتاب میں نقل کردیا ہے۔ لہٰذا جتنے اقوال مرجوحہ اصل کتاب میں موجود تھے وہ بھی سب کے سب یہاں نقل ہوگئے ہیں۔ لہٰذا یہ سمجھنا بالکل بے اصل ہے کہ امام بخاریؒ نے خاص طور پر ابن عباسq کی اس تفسیر کو اختیار فرمایا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ابوعبید کی کتاب التفسیر میں چونکہ ابن عباسq کا یہ قول مروی تھا اور جب امام بخاریؒ نے ان کی پوری کتاب التفسیر ہی کو اپنی کتاب میں کسی انتخاب کے بغیر نقل کردیا تھا تو یہ جزء بھی چونکہ ابوعبید کی کتاب میں موجود تھا۔ اس لئے وہ بھی یہاں نقل ہوگیا ہے۔ اہل علم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کتاب التفسیر میں بہت سے مقامات پر حل لغات میں تسامح بھی ہوا ہے۔ اقوال مرجوحہ بھی نقل ہوگئے ہیں اور ان کی ترتیب میں بھی اچھاخاصہ اختلال واقع ہوگیا ہے۔ لیکن امام بخاریؒ خود ان جملہ نقائص سے بری ہیں۔ اس کی ذمہ داری اگر عائد ہوتی ہے تو ابوعبید پر عائد ہوتی ہے۔ امام بخاریؒ کی کتاب کی علو صحت کے متعلق جو دعویٰ ہے وہ ان احادیث مرفوعہ کے متعلق ہے جو اس میں اسناد کے ساتھ امام نے ازخود روایت فرمائی ہیں نہ کہ ان اقوال کے متعلق جو اسناد کے بغیر کسی جانب سے کتاب میں نقل ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب یہ بات بالکل صاف ہوگئی کہ ان کے نزدیک مذکورہ بالا تفسیر میں حضرت عیسیٰؑ کی موت سے وہ موت مراد ہے جو آخرزمانہ میں تشریف لانے کے بعد ہوگی اور اس موت میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ اسی طرح ابن حزم کی طرف بھی موت کی نسبت کی گئی ہے۔ اگرچہ کسی شاذفرد کے اختلاف سے جمہور امت کی رائے پر کیا اثر پڑسکتا ہے۔ وہ بھی ابن حزم جیسے شخص کے اختلاف سے، جس کے تفردات امت میں ضرب المثل ہیں۔ لیکن وہ بھی متعدد مقامات پر اس کی تصریح کر چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ آخری دور میں تشریف لائیں گے۔ لہٰذا زیراختلاف مسئلہ پر ان شاذ نقول کا بھی کوئی اثر نہیں۔ چنانچہ ابن حزم نے اپنی کتاب المحلی ص۳۹۱ میں عیسیٰؑ کے نزول کو امت کا عقیدہ شمار کیا

263

ہے۔ دیکھو ج۳ ص۲۴۹ کتاب الفصل میں بھی اس کی تصریح کی ہے۔ اس کے علاوہ اور متعدد مقامات میں بھی اسی عقیدہ کو امت کا عقیدہ لکھا ہے:

’’وقد صح عن رسول اللہ a بنقل الکواف التی نقلت نبوتہ واعلامہ وکتابہ انہ اخبرہ انہ لا نبی بعدہ الاماجائت الاخبار الصحاح من نزول عیسٰیm الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیہود قتلہ وصلبہ فوجبت الاقرار بہذہ الجملۃ وصح ان وجود النبوۃ بعدہm لایکون البتہ ج۱ص۷۷ الفصل ج۲ ص۲۳ ص۵۵،۷۳،۸۷ کتاب مذکور‘‘

’’جس جمہور امت نے آپa کی نبوت اور اس کی علامات اور قرآن شریف کو نقل کیا ہے اسی امت نے صحیح طریقوں سے رسول اللہ a سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپa نے یہ خبر دی ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ سوائے ایک عیسیٰؑ کے کہ ان کے نزول کی خبر صحیح حدیثوں سے ثابت ہے یہ وہی ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور جن کے قتل وصلب کا یہود نے دعویٰ کیا تھا۔ لہٰذا ان باتوں کا اقرار کرنا ہم پر لازم ہے اور یہ بطریق صحیح ثابت ہے کہ نبوت کا وجود آپa کے بعد ہرگز نہیں ہوگا۔‘‘

قرآن کریم میں مشرکانہ عقائد کی تردید کا جتنا اہتمام کیاگیا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ نصاریٰ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ خداتعالیٰ کے بیٹے تھے۔ لیکن جب اس نسبت کی نامعقولیت ان کے سامنے ظاہر کی جاتی ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ولدیت اور ابنیت سے ان کی مراد حقیقی معنی نہیں ہیں بلکہ اتحاد کی وہ خاص نسبت ہے جو مابین خالق اور عیسیٰؑ موجود ہے اور اسی کو مجازاً اس لفظ سے ادا کیاگیا ہے۔ لیکن اس لفظ کے استعمال سے چونکہ عیسائیت کی لفظی تائید ہوتی تھی۔ اس لئے قرآن کریم نے یہاں مجازواستعارہ کی بھی اجازت نہیں دی بلکہ اس عنوان ہی کو خواہ وہ کسی معنی سے ہو اپنے سخت غیظ وغضب کا باعث قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے: ’’تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ہدّا۔ ان دعو اللرحمٰن ولداً (مریم:۹۰)‘‘ {ابھی اس افتراء سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں اس پر کہ پکارتے ہیں رحمان کے نام پر اولاد۔}

264

پس اگر قرآن کریم لفظ ابن اور ولد کا مجازی استعمال بھی جرم قرار دیتا ہے کیونکہ اس میں عیسائیت کی تقویت اور اس کی ترویج ہوتی ہے تو اگر حضرت عیسیٰؑ کے رفع یعنی آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ بھی صرف عیسائیوں کا عقیدہ تھا اور اس میں مشرکانہ عقیدہ کی ذرا بھی غلط تائید ہوتی تھی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ ٹھیک اسی لفظ کو حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں خود استعمال فرماتا جو عیسائی استعمال کرتے تھے۔ یہ کیسی عجیب درعجیب منطق ہے کہ یہود نے جب ’’انا قتلنا‘‘ کہا تو ان کی تردید میں تو قرآن کریم نے دو بار ’’وما قتلوہ‘‘ فرمایا۔ مگر جب عیسائیوں نے ’’رفع‘‘ کہا تو قرآن کریم نے ایک بار بھی ’’وما رفع‘‘ نہیں فرمایا بلکہ ’’رفعہ اللہ الیہ‘‘ میں لفظ ’’الیہ‘‘ کا اور اضافہ فرماکر رفع کے عقیدہ کو اور مضبوط بنادیا۔ کیا اس سے یہی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا کہ عیسیٰؑ کے رفع الیٰ السماء کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ بالکل درست تھا۔ البتہ ان کے مصلوب ہونے کا خیال چونکہ بالکل بے اصل تھا۔ اس لئے جس طرح کہ یہود کی تردید میں ’’وما قتلوہ‘‘ فرمایا گیا تھا اسی طرح عیسائیوں کی تردید میں ’’وما صلبوہ‘‘ کا لفظ فرمادیا گیا اور اس طرح اہل کتاب کی ہر دو جماعتوں کی تردید علیحدہ علیحدہ دو لفظوں سے صراحۃً کردی گئی اور اسی کے ساتھ عیسائیوں کے بنیادی عقیدہ کا بطلان بھی واضح ہوگیا۔ کیونکہ ان کے مذہب میں کفارہ کا عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور کفارہ کا عقیدہ تمام ترصلیب پر مبنی ہے۔ لہٰذا جب قرآن کریم نے صراحۃً ’’وما صلبوہ‘‘ فرماکر صلیب کی صاف تردید فرمادی تو پھر اس پر جتنی بے اصل تعمیر قائم کی گئی وہ خودبخود سب منہدم ہوگئی۔

حضرت عیسیٰؑ کی خدمات میں صلیب شکنی کا نکتہ

یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ صلیب چونکہ حضرت عیسیٰؑ ہی کے نام سے پوجی گئی تھی اس لئے ضروری ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ ہی دوبارہ تشریف لاکر خود اس کو توڑنے کا حکم دیں تاکہ جن کے نام پر یہ شرک ایجاد ہوا تھا ان ہی کے حکم سے اس کا استیصال بھی ہو جیسا کہ عرب نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے سربت پرستی کی جھوٹی تہمت لگائی تو خود آپ کے سب سے عظیم اور جلیل القدر فرزند یعنی آنحضرتa نے تشریف لاکر اس کی تردید فرمائی اور فتح مکہ میں اپنے دست مبارک سے ان تمام بتوں کی تصاویر محو کر دیں جو ملت ابراہیمی کے

265

نام پر خانہ کعبہ کے اندر بنائی گئی تھیں۔ یہ خیال کتنا احمقانہ ہے کہ عیسیٰؑ اگر صلیب توڑدیں گے تو عیسائی اور بہت سی صلیبیں بنالیں گے۔ اگر یہی اعتراض آنحضرتa کی بت شکنی پر کیا جائے تو کیا یہ قابل مضحکہ نہ ہوگا۔ اصل بات یہ ہے کہ فاتح کی بت شکنی اور صلیب شکنی کا اندازہ غلامانہ ذہنیت کا محکوم ہوکر ہو ہی نہیں سکتا۔ جو صلیب حضرت عیسیٰؑ کے دست مبارک سے توڑی جائے گی وہ پھر کبھی بنائی نہیں جاسکتی۔ جیسا کہ جو بت آنحضرتa کے دست مبارک سے توڑے گئے وہ جزیرہ عرب میں آج تیرہ سو سال کے بعد بھی دوبارہ معبود نہیں بن سکے۔

قرآن کریم کی شان اس سے کہیں اعلیٰ وارفع ہے کہ وہ دشمنان اسلام

کے خوف سے حقائق بیان کرنے میں ادنیٰ پس وپیش بھی اختیار کرے

قرآن کریم کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ اپنے سیاق تردید میںصرف دشمنوں کے خوف سے کسی حقیقت پر بھی پانی پھیر دے۔ حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں اگر ’’رفع‘‘ کے لفظ سے ان کی الوہیت کے بارے میں کوئی بے سبب اشتباہ پیدا ہو سکتا تھا تو اس سے کئی درجہ زیادہ اشتباہ لفظ ’’روح اللہ ‘‘ اور ’’کلمۃ اللہ ‘‘ سے پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ آج تک عیسائی ان ہی الفاظ کو لے کر اہل اسلام کے مقابلہ میں پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے معجزات کا حال بھی ہے مگر کیا ایک ایسے بشر پر جس میں جملہ بشری خواص کھلے ہوئے نظر آرہے ہوں بے دلیل الوہیت کی تہمت رکھ دینے والوں کی قرآن کریم نے کوئی رعایت کی ہے۔ کیا اس نے روح اللہ اور کلمتہ اللہ کا لقب حضرت عیسیٰؑ کو خود ہی نہیں دیا۔ کیا بے عقلوں کے خوف سے ان سے احیاء موتی کا معجزہ عطاء کرنے میں کوئی پس وپیش کیا گیا ہے۔ اگر نامعقول جماعت نے دلائل بشریت ہی کو برعکس دلائل ربوبیت بناڈالا ہو تو اس میں سرتاسرجرم ان ہی کا ہے۔ لہٰذا یہاں قرآن کریم پر یہ زورڈالنا کہ اس نے ’’رفعہ اللہ الیہ‘‘ کا لفظ کیوں استعمال فرمایا ہے۔ ایسا ہی ہے جیسا یہ کہنا کہ اس نے کلمتہ اللہ اور روح اللہ کا لفظ کیوں استعمال فرمایا؟ خوب یاد رکھو اگر ہم اپنی مزعوم خیرخواہی میں قرآن کریم کے صریح الفاظ کی تاویل کریں گے تو اس کا نتیجہ صرف قرآن کریم کے الفاظ کی تحریف نہیں ہوگا بلکہ بہت سے حقائق کا انکار بھی ہوگا۔ اگر رب العزت کے ان کے بن باپ پیدا فرمانے میں

266

نامعقولوں کی رعایت کا حق کسی کو نہیں ہے تو اس سے ان کے زندہ آسمانوں پر اٹھانے میں نامعقولوں کی رعایت کے مطالبہ کا حق کس کو ہے۔ قدرت وحکمت والا ہمیشہ اپنی قدرت وحکمت کے مظاہر کرتا رہے گا۔ ’’فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر‘‘

شبہات اور وساوس کا اثر عقائد کی تخریب ہے کسی صحیح حقیقت کی تعمیر نہیں، پس

صرف شبہات سے عقائد کی ترمیم کرنا غلط ہے خود ان کا جواب دینا چاہئے

یہ بات قاعدہ کلیہ کی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ دین کا کوئی مسئلہ جب اپنے دلائل کے ساتھ روشنی میں آجائے تو اس پر بے تأمل جزم ویقین کر لینا چاہئے۔ اب اگر اس میں کچھ شبہات اور اعتراضات دل میں گزرتے ہوں تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ان شبہات ہی کا جواب تلاش کرنا چاہئے اور ان کو حل کرلینا چاہئے نہ یہ کہ اس ثابت شدہ حقیقت ہی کا انکار کردیا جائے۔ کیونکہ شبہات زیادہ سے زیادہ دلائل کی روشنی مدہم توکرسکتے ہیں مگر کوئی دوسری روشنی پیدا نہیں کر سکتے۔ اس لئے جب کبھی آپ اپنا رخ خود ان شبہات ہی کی طرف پھیردیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ اور تاریکی درتاریکی میں جاگرے ہیں۔ مثلاً اگر کسی شبہ کی بنیاد پر ختم نبوت کا اجماعی عقیدہ بدل دیا جائے توآپ کو معلوم ہوگا کہ جتنے اشکالات اس عقیدہ میں پیدا ہوسکتے تھے اس سے کہیں بڑھ کر شبہات دوسری صورت میں پیدا ہونے لگے۔ درحقیقت یہ شیطان کا ایک بڑا علمی فریب ہے کہ جب وہ کسی گمراہی کی دعوت دیتا ہے تو پہلے ایک حق بات میں شبہات ڈالنا شروع کرتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ ان شبہات کو بڑھا کر ان کو ایک حقیقت کی صورت پہنا دیتا ہے۔ پھر اس کے دلائل کی تلاش لگاتا ہے اور اس تمام تدریجی سلسلہ میں ایک بار بھی انسان کا ذہن اصل عقیدہ سے مجروح ہوچکا تھا اب ان وہمی دلائل سے باطل نظر آنے لگتا ہے اور ان دلائل پر دماغ میں کسی ادنیٰ شبہ کا گزرہونے نہیں دیتا۔ اس کے بعد پھر انسان کو ایسا دلیربنادیتا ہے کہ اس کے نوساختہ عقیدہ کے خلاف انسان واضح سے واضح دلائل کی تاویل بلکہ تحریف میں ذرا نہیں شرماتا اور اس طرح وہ انسان کو دین سے منحرف کردیتا ہے اور اس کے ایمان بالغیب کی ساری دنیا برباد کرڈالتا ہے۔ اسی کی مثال حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا مسئلہ ہے۔ یہاں بھی صرف شبہات پیدا کر کے پہلے وہ اس یقین کو متزلزل کرنے کی سعی کرتا ہے اور جب اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر انسان کو بیسیوں حدیثوں کی تاویل

267

بلکہ انکار پر آمادہ کر دیتا ہے۔ مثلاً یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ دجال کو قتل کرنے کے لئے خاص حضرت عیسیٰؑ ہی کے تشریف لانے کی ضرورت کیا پڑی ہے۔ پھر اتنے دن ان کا زندہ رہنا کیوں تسلیم کیا جائے اور اس کے لئے جتنے مقدمات ہوسکتے ہیں ان کو خوب مبرہن کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن ایک مؤمن ان شبہات کی بناء پر قرآن وحدیث کی تاویل کرنے کی بجائے خود ان شبہات ہی کے جواب کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور صرف وساوس واوہام سے اپنے قیمتی ایمان کو زخمی نہیں کرتا۔ اگر یہاں کتب سابقہ اور اہل کتاب کی تاریخ پر ذرا نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ کتب سابقہ میں دو مسیح کے آمد کی پیش گوئی کی گئی تھی ایک مسیح ہدایت اور دوسرا مسیح ضلالت چونکہ یہود نے مسیح ہدایت کو مسیح ضلالت کا مصداق قراردے دیا تھا اور مسیح ضلالت کو اس کے برعکس مسیح ہدایت ٹھہرایا گیا۔ اس لئے کیا یہ مناسب نہ تھا کہ مسیح ضلالت کے ظہور کے وقت خود مسیح ہدایت ہی تشریف لاکر اس کے مقابلہ پر یہ ثابت کر دیں کہ مسیح ہدایت کون ہے اور مسیح ضلالت کون؟ تاکہ ایک طرف جو پہلے مسیح ہدایت کو مسیح ضلالت ٹھہرانے والے تھے۔ وہ جھوٹے ثابت ہوں اور دوسری طرف مسیح ضلالت کی اتباع کرنے والے بھی نامراد ہوجائیں اور اس طرح جو مغالطے پہلے لگ چکے تھے اب وہ خود ان ہی کی زبان سے دور ہو جائیں۔ صلیب ان کے نام سے پوجی گئی تھی۔ وہی آکر اس کو توڑیں اور سور بھی ان ہی کے نام سے حلال کیاگیا تھا۔ اب وہی آکر اس کے قتل کا حکم دیں اور اس طرح قرب قیامت میں یہودونصاریٰ پر خدا کی حجت پوری ہو اور اتحاد وملل کے سلسلہ میں جتنی رکاوٹیں ہوسکتی تھیں وہ ایک ایک کر کے سب اٹھ جائیں اور آخر میں پھر دین اسی طرح ایک ہی باقی رہ جائے جیسا کہ آغاز عالم میں ایک ہی دین تھا۔ ’’وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً (الانعام:۱۱۵)‘‘

نیز چونکہ دجال آخر میں مدعی الوہیت ہوگا اور احیاء موتی کا مدعی ہوگا۔ اس لئے کیا یہ مناسب نہ تھا کہ اس کے قتل کے لئے ایک ایسا ہی رسول آتا جس پر دعویٰ الوہیت کی تہمت لگائی گئی ہو تاکہ ایک طرف تو قتل ہوکر جھوٹے مدعی الوہیت کا جھوٹ ثابت ہو جائے دوسری طرف اس قوم کا جھوٹ بھی ثابت ہو جائے۔ جنہوں نے خدا کے مقدس رسول پر دعویٰ الوہیت کی بے بنیاد تہمت لگائی تھی اور روزروشن کی طرح یہ واضح ہو جائے کہ جو مدعی الوہیت کا قائل ہو وہ خود مدعی الوہیت کیسے ہوسکتا ہے۔ ان امور کے علاوہ جب یہود کے دعویٰ کو

268

دیکھا جاتا ہے تو وہ دیگر انبیاءo کے ساتھ عیسیٰؑ کے بھی قتل کا دعویٰ رکھتے تھے۔ مگر قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ قتل نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اس میں خداتعالیٰ توانا وحکیم کی بڑی حکمت مضمر تھی۔ کیا اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کچھ اور تھا کہ جس کو مقتول ٹھہرایا گیا تھا وہی آکر پہلے خود ان کے سرغنہ کو قتل کرے۔ یعنی دجال کو پھر ان کے قتل کا حکم دے اور گویا اس طرح خود ایک نبی پہلے اپنی قوم انبیاءo کے قاتلین سے ان کا قصاص لے اور دوسری طرف اپنے متعلق دعویٰ قتل کا مزہ بھی چکھا دے۔

پھر جب ختم نبوت پر زیادہ گہرائی سے نظرڈالی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ضرورت کے وقت امت میں کسی نبی کی پیدائش کی بجائے کوئی گزشتہ نبی آئے۔ کیونکہ دجال اکبر کے آمد کی پیش گوئی نوحm سے لے کر آنحضرتa تک تمام انبیاءo کرتے چلے آئے ہیں اور آنحضرتa کے ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ اتنی بڑی گمراہی دنیا کی پیدائش سے لے کر آج تک کبھی ظاہر نہیں ہوئی۔ اس لئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ دجال ایک مرکزی طاقت ہے اور ایک مرکزی طاقت کے مقابلہ کے لئے ضرور کوئی مرکزی طاقت ہی آنی مناسب ہے۔ اب اگر اس کے مقابلہ میں کسی امتی کو کھڑا کردیا جاتا تو وہ اس کا صحیح مقابل ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ دنیا میں بھی کشتی میں پہلوانوں کا جوڑ دیکھا جاتا ہے اور اسی طرح حکومتوں کے مقابلہ کے وقت بھی ان کی طاقتوں کا توازن ضروری ہوتا ہے جس کو آج کل Ballance of Power کہا جاتا ہے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ ابن صیاد کے متعلق جب حضرت عمرq نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! حکم دیجئے تو میں اس کی گردن اڑادوں تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: ’’ان یکن ہو فلن تسلط علیہ (جامع معمر بن راشد ج۱۱ ص۳۸۹، صحیح بخاری رقم الحدیث:۳۰۵۵)‘‘ اگر یہ وہی دجال اکبر ہے تو تم اس کے قتل پر مسلط نہیں ہوسکتے۔ پس جب امت میں حضرت عمرq جیسا بھی اس کو قتل نہ کر سکے تو اب دوسرا کون اس کا قاتل ہوسکتا ہے۔ اس لئے ضروری ٹھہرا کہ اس کا قاتل کوئی نبی ہو۔ پس جب نبی کی ضرورت کے وقت بھی اس امت میں سے کسی کو نبی نہیں بنایا گیا بلکہ ان ہی گزشتہ انبیاءo ہی میں سے ایک نبی کو لاکر کھڑا کیاگیا تو فرمائیے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اب کتنا واضح ہوگیا۔ گویا آج تک ختم نبوت کا ثبوت صرف علمی تھا اور اس وقت تاریخ اور مشاہدہ سے بھی اس کا ثبوت ہوگیا۔ کیونکہ جب ضرورت کے وقت پھر انبیاء سابقین

269

ہی میں کا ایک رسول آیا تو یہ اس کا بدیہی ثبوت ہے کہ درحقیقت رسولوں میں سے کوئی فرد بھی باقی نہیں رہا تھا۔ اس لئے یقینا آنحضرتa ہی سب سے آخری رسول تھے۔ لہٰذا اب یہ شبہ نہیں رہا کہ جب آپ خاتم النّبیین ہیں تو آپ کے بعد عیسیٰؑ کیسے آئیں گے بلکہ ان کا نزول ہی ختم نبوت کا سب سے بڑا ثبوت ہوگا۔ اگر وہ دوبارہ تشریف نہ لائیں تو مشاہدہ میں یہ کیسے ثابت ہوتاکہ سب رسول آچکے ہیں اور آپ ہی سب سے آخری رسول ہیں۔

جلد اوّل (ترجمان السنۃ) میں ختم نبوت کی پہلی حدیث میں ہم یہ بھی بتفصیل لکھ چکے ہیں کہ حسب تصریح قرآن کریم آنحضرتa کے حق میں جملہ انبیاءo سے ایمان اور بوقت ضرورت نصرت کا عہد بھی لیا جاچکا ہے۔ اس لئے یوں مقدر ہوا کہ عیسیٰؑ تشریف لاکر اپنی طرف سے اصالتہً اور دوسرے انبیاءo کی طرف سے وکالتہً اس عہد کو پورا فرمائیں۔ کیا ان چند وجوہات سے جو فوری طور پر زیرقلم آگئے ہیں گزشتہ شبہات کا جواب نہیں ہوجاتا۔

کتاب اللہ میں اور حدیثوں میں دیگر موجودہ کتب سماویہ کے مقابلہ میں مجازات

اور استعارہ کا استعمال بہت کم ہے اور یہ اسلام کا ایک طرۂ امتیاز بھی ہے

جہاں تک ہم نے غور کیا ہے ہم کو یہی ثابت ہوا ہے کہ دیگر کتب سماویہ کی نسبت ہماری شریعت میں استعارات ومجازات کا دائرہ بہت تنگ ہے۔ کتب سابقہ کی موجودہ صورت پر گو کوئی اعتماد نہیں کیاجاسکتا تاہم ہمارے موازنہ کے لئے ان کے موجودہ نسخوں کے علاوہ ہمارے سامنے کوئی اور سامان بھی نہیں ہے۔ جب ہم حدیث وقرآن کریم کی پیش گوئیوں اور اس کے دیگر بیانات کا کتب سابقہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو ہم کو آفتاب درخشاں کی طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ ہماری شریعت نے اس بارے میں استعارات ومجازات کا دائرہ بجز ان مجازات کے جو حقیقت سے زیادہ متعارف ہوں بہت تنگ رکھا ہے اور عقائد کے باب سے تو اس کا کوئی تعلق ہی نہ رکھا۔ اس کے برخلاف موجودہ انجیل کا حال یہ ہے کہ اس میں الوہیت ورسالت کے بنیادی مسائل بھی مجازات واستعارہ کے پیرایہ میں ادا کئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ منصف عیسائی یہ کہنے پرمجبور ہیں کہ ان کے مذہب میں توحید کا مسئلہ بھی تقدیر کے مسئلہ کی طرح مذہب کا ایک راز اور ناقبل فہم مسئلہ ہے اس کے برعکس قرآن کریم کا بیان

270

ہے۔ یہاں عقائد واحکام کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ پیش گوئیوں کا عام باب بھی اس طرح کھول کھول کر بیان کردیاگیا ہے کہ کسی صحیح فہم والے شخص کے لئے ان میں کوئی تردد نہیں رہتا۔ فارس وروم کی جنگ میں فتح کی پیش گوئی، فتح مکہ کی پیش گوئی، اعضاء انسانی کا کلام کرنا، دجال کی پیدائش اس کا اور اس کے والدین کا نقشہ، سر کے بل انسانوں کا محشر میں چلنا، برہنہ قبور سے نکلنا اور مردوں اور عورتوں کا ایک میدان میں اسی طرح جمع ہونا۔ غرض حشر ونشر اور جنت ودوزخ کی وہ تفصیلات جو مادی عقلوں کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ کے نزول سے کہیں بعید تر ہیں۔ ان سب کے متعلق صاحب شریعت کی طرف سے ہم پر بھی زوردیاگیا ہے کہ وہ سب کی سب حقیقت ہی حقیقت ہیں اور کسی تاویل کے بغیر ہمیں ان کو حقیقت ہی پر محمول کرنا چاہئے۔ چنانچہ اگر جنت کے تذکرہ میں حسب الاتفاق اس کا ذکر آگیا ہے کہ وہاں انسان کی ہر خواہش پوری ہوگی تو سامعین نے کبھی اس کو مبالغہ پر حمل نہیں کیا بلکہ اپنے اپنے ذوق کے مطابق وہی سوالات کئے ہیں جو ان الفاظ کے حقیقی معنی میں پیدا ہوسکتے تھے۔ مثلاً کسی نے یہ سوال کیا کہ کیا جنت میں کاشت اور کھیتی بھی ہوگی اور جب کبھی جنت میں صنفی تعلقات کا ذکر آگیا ہے تو سامعین میں سے اس پر کسی نے ولادت کے مسئلہ کا حل بھی دریافت کیا ہے۔ اسی طرح بقیہ مسائل کے متعلق بھی ایسے سوالات کئے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپa کے مخاطب صحابہi ہمیشہ آپa کے کلام کو حقیقت ہی پر محمول کرنے کے عادی تھے۔ پھر ان کے جو جوابات آپa سے منقول ہیں وہ بھی اسی کی دلیل ہیں کہ خود آپa نے بھی ان الفاظ سے حقیقی معنوں ہی کا ارادہ فرمایا ہے۔ مثلاً پہلے سوال کے جواب میں آپa نے فرمایا کہ اگر کسی زراعت منش آدمی کے دل میں وہاں بھی یہ جذبہ پیدا ہوگا تو زراعت اس کی بالیدگی وپختگی سب آن کی آن میں ہو جائے گی اور ذراسی دیرنہ ہوگی کہ کھیتی کٹ کٹاکر اس کے گھر میں آجائے گی اور قدرت کی طرف سے ارشاد ہوگا۔ ابن آدم! لے تو یہ بھی لے تیری ہوس آخر کسی طرح پوری بھی ہوگی۔ اگر یہاں مجازی معنی استعمال ہوتے تو جواب صاف تھا کہ جنت میں کھیتی کہاں؟ اس کا مطلب تو صرف ایک معنی مجازی اور مبالغہ تھا۔ اسی طرح دوسرے سوال کے جواب میں بھی آپ یہی فرماسکتے تھے کہ اگر کوئی شخص ولادت کی تمنا کرے گا تو فوراً حمل وولادت اور وضع حمل کا سلسلہ آناً فاناً پورا ہوکر کھیلتا ہوا بچہ اس کو مل جائے گا۔ مگر جو دنیا میں میزان مستوفی ملانے کے لئے نہیں آئے بلکہ حقیقت ہی

271

حقیقت بتانے آئے تھے انہوں نے یہاں بھی وہی جواب نہیں دیا جو صرف قیاس سے دیا جاسکتا تھا۔ بلکہ وہ جواب عنایت فرمایا جو حقیقت میں اس کا جواب تھا۔ ارشاد ہے کہ اگر جنت میں کسی کے دل میں یہ تمنا ہوتی تو ایسا ہی ہوتا مگر وہاں کسی کے دل میں یہ تمنا ہی نہ ہوگی۔

غرض شریعت اسلام کی تاریخ میں متکلم ومخاطب دونوں کے حالات سے ہم کو یہی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جانبوں سے شرعی الفاظ کے ہمیشہ حقیقی معنی ہی مراد لئے گئے ہیں۔ بجز اس کے کہ فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے وہاں استعارہ ومجازاً اتنا واضح ہو کہ حقیقی معنی کی طرف عام طور پر ذہن کا انتقال ہی مشکل ہو۔ مثلاً صبح کے لئے الخیط الابیض کا لفظ اور شب کی تاریکی کے لئے الخیط الاسود کا لفظ فصیح لغت میں ایک ایسا مجاز ہے کہ اس مجاز کو چھوڑ کر یہاں حقیقت کا استعمال کرنا گویا انداز بلاغت ہی کو چھوڑدینا ہے۔ اس کے باوجود جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی:’’حتٰی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود (البقرہ:۱۸۷)‘‘ تو کسی دماغ نے اس کھلے ہوئے مجاز کو بھی حقیقت ہی پر محمول کیا اور سیاہ وسفید رنگ کے دودھاگے لے کر اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لئے اور رات کو اس وقت تک کھاتا پیتا رہا جب تک کہ یہ دودھاگے علیحدہ علیحدہ صاف صاف نظر نہ آنے لگے۔

جب صبح کو اس واقع کی اطلاع آنحضرتa کو پہنچی تو آپ نے بلیغانہ انداز میں فرمایا تمہارا تکیہ بھی کتنا لمبا چوڑا ہے جس کے نیچے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں سماگئیں۔ ’’ان وسادتک یعریض (صحیح البخاری رقم:۴۵۰۹، مسلم رقم:۱۰۹۰ یہ واقعہ عربی بن حاتم کا ہے)‘‘ یعنی ان الفاظ سے مراد معنی مجازی تھے اور یہاں مجاز ایسا متعین ہے کہ حقیقت کی طرف ذہن جانا ہی مشکل ہے۔ تم نے اس کو حقیقت پر کیسے محمول کر لیا۔ لیکن اس انفرادی غلطی کے باوجود اس کی اتنی اہمیت محسوس کی گئی کہ کلمہ: ’’من الفجر‘‘ اور نازل ہوگیا تاکہ پھر یہ مجاز متعارف بھی حقیقت کے اتنا قریب آجائے کہ یہاں کسی ایک فرد کو بھی احکام کے باب میں اس غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔

اس سے اندازہ کر لینا چاہئے کہ یہاں ایسے مجازات کو تو بھلا کیا امکان ہوگا جن کی طرف کسی اہل زبان کا ذہن ہی منتقل نہ ہوسکے۔ حتیٰ کہ ان کے زبردستی منوانے کے لئے جدید وحی کی ضرورت محسوس ہو اور کسی نبی مزعوم کو آکر پہلے خود بھی سالوں کا مغالطہ لگاہے اور وہ بھی

272

ان کو حقیقی معنی پر ہی حمل کرتا رہے۔ پھر جب وہ مدعی مسیحیت بنے تو ان کے مجازی معنی مراد لے اور اس کے سمجھانے میں اس کو امت کے ساتھ مدتوں جنگ کرنی پڑے۔ مثلاً یہ کہ نزول عیسیٰؑ کی پیش گوئی عیسیٰ ابن مریم سے مجازاً فلاں شخص جس کا باپ بھی موجود ہے اور ماں کا نام بھی مریم نہیں ہے مراد ہے اور نزول سے مجازاً ولادت اور حاکم سے مجازاً محکوم اور دمشق سے فلاں شہر اور دوزرد چادروں سے مجازاً دومرض مراد ہیں۔ غرض کہ اس پیش گوئی کے جملہ الفاظ میں مجازی معنی مراد لے لئے بجز ایک منارہ کے کہ اس کے معنی حقیقی مراد لے اور یہ حقیقی معنی بھی وہ خود اپنے نزول یعنی ولادت بلکہ دعویٰ مسیحیت کے بعد اپنے چندہ سے منارہ بنا کر پیدا کرے۔ بے شک مجازواستعارہ فصاحت وبلاغت کا ایک اہم باب ہے اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ مگر کیا ایسے استعارہ ومجاز کی مثال بھی کسی زبان میں ملتی ہے۔ اگر اس قسم کے استعارہ ومجاز کے لئے بھی کوئی وجہ جواز نکل سکتی ہے تو پھر دنیا میں جھوٹ اور کذب کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ ہر جھوٹ استعارہ ومجاز کے پردے میں چل سکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ دیگر کتب سماویہ کے مقابلہ میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ کا یہ بھی ایک طغریٰ امتیاز ہے کہ یہاں جملہ بیانات اتنے واضح ہیں جتنا کہ وہ ہوسکتے ہیں۔ پھر اگر ان میں کوئی ابہام رہ گیا ہے تو وہ بھی اسی حد تک ہے جو ناگزیر ہے۔ بلکہ وہاں یہ ابہام ہی مناسب ہے۔ بعض مرتبہ مصداق کے ظہور سے قبل وہ ابہام اس لئے بھی ناگزیر ہوتا ہے کہ اس کی تشریح کے لئے عقل انسانی متحمل نہیں ہوسکتی۔ جیسے برزخی کیفیات ظاہر ہے کہ عالم برزخ جب عالم مادیات سے جداعالم ہے تو جب تک ایک انسان اسی عالم مادہ میں موجود ہے وہ عالم برزخ کے دوسرے عالم کی پوری تفصیلات کا پورا احاطہ کیسے کر سکتا ہے؟

اور درحقیقت آخری شریعت کی یہی صفت ہونی بھی چاہئے۔ کیونکہ پہلی کتب میں اگر کوئی ابہام رہ گیا تو آئندہ نبی نے آکر اس کو واضح کر دیا ہے۔ لیکن اگر ضروری امور میں اس شریعت میں بھی ابہام رہ جائے تو اب یہاں کون ہے جو آئندہ آکر اس کی ذمہ دارانہ تشریح کر سکے۔ مجتہدین کا بیان اس جگہ ناکافی ہے۔ ان کو یہاں دوطرفہ عمل کے لئے وسعت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ان کے بیانات کی وہ حیثیت نہیں جو رسول کے سرکاری بیان کی ہوسکتی ہے۔

273

صریح حدیثوں میں تاویل کا خطرناک نتیجہ

صریح الفاظ اور صریح بیانات کو پیچیدہ بنانے اور ان کی تاویلات کرنے کا نتیجہ کبھی اچھا برآمد نہیں ہوا۔ یہود نے حضرت عیسیٰؑ کی آمد کی پیش گوئی میں تاویل کی۔ آخر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰؑ کو انہوں نے دجال کا مصداق سمجھا اور جب دجال ظاہر ہوگا تو اس کو مسیح ہدایت سمجھ کر اس کی اتباع کریں گے۔ اسی طرح انصاری نے آنحضرتa کی صاف صاف پیش گوئیوں کی تاویلات کیں۔ آخر اس کا بھی جو نتیجہ ظاہر ہونا تھا وہ ہوا اور انہوں نے بھی اسی غلطی کی بدولت آنحضرتa کا انکار کیا۔ لہٰذا صاف اور واضح بیانات میں تاویلات کرنا نہایت خطرناک قدم ہے اور اس کا ثمرہ بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی جگہ غلط مسیح، مسیح حق مان لئے جائیں اور جب حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں تو یہودیوں کی طرح ان کا انکار کر دیا جائے۔ اگر نزول عیسیٰؑ کے متعلق اتنے واضح اور صریح الفاظ میں بھی تاویلات یا مجازات کواستعارات جاری کر دینا صحیح ہے تو پھر یہودونصاریٰ کو بھی قصوروار ٹھہرانا غلط ہوگا۔ جنہوں نے آنحضرتa کے متعلق پیش گوئیوں میں تاویلیں کر کے اپنا ایمان برباد کیا۔ ’’والعیاذ باﷲ من الزیغ والالحاد‘‘

سیدنا روح اللہ عیسٰی بن مریم وقطعۃ مہمۃ من حیاتہ الطیبۃ علیہ الصلٰوۃ والسلام

سیدنا روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کی حیات طیبہ کی ایک اہم سرگزشت

نزول عیسٰیm حق، جزم بہ النبیa حتیٰ حلف علیہ

۱… ’’عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہٖ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیراً من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃ واقرء وا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمننّ بہٖ قبل موتہٖ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیداً (رواہ البخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسٰی بن مریم ومسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول ابن مریم)‘‘
274
’’وفی لفظ من روایۃ عطاء ولتذہبن الشحناء والتباغض والتحاسد۔ رواہ ابوداؤد وابن ماجہ واحمد فی مسندہ ج۲ ص۴۹۳،۴۹۴، وبطریق اٰخر فی ج۲ ص۴۱۱‘‘
ْ ’’ولفظہ یوشک من عاش منکم ان یلقے عیسٰی بن مریم وعزاہ السیوطی فی الدرالمنثور ج۲ ص۲۴۲ لا بن ابی شیبۃ وعبدبن حمید واخرجہ ابن مردویہ وفی لفظہ وتکون السجدۃ واحدۃ ﷲ رب العالمین واقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہٖ موت عیسٰی بن مریم ثم یعیدہا ابوہریرۃq ثلث مرات‘‘

حضرت عیسیٰؑ کا نزول یقینی مسئلہ ہے

حتیٰ کہ آنحضرتa نے اس کو قسم کھا کر ذکر فرمایا ہے

ابوہریرہq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ یقینا وہ زمانہ قریب ہے جب کہ ابن مریم تمہارے درمیان اتریں گے وہ ایک منصف فیصلہ کرنے والے کی حیثیت سے آئیں گے۔ صلیب کو توڑڈالیں گے اور سور کو قتل کریں گے اور جنگ ختم کر دیں گے اور ان کے دور میں مال اس طرح بہہ پڑے گا کہ کوئی شخص اس کو قبول کرنے والا نہ ملے گا اور لوگوں کی نظروں میں ایک سجدہ کی قدروقیمت دنیا ومافیہا سے بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔ یہ مضمون روایت فرماکر ابوہریرہq کہتے تھے کہ اگر تم اس مضمون کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا چاہو تو سورۃ النساء کی یہ آیت پڑھ لو: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہٖ‘‘ بخاری شریف ومسلم شریف میں عطاء کی روایت میں یہ الفاظ اور ہیں کہ ان کے زمانہ کی برکات میں سے یہ بھی ہوگا کہ لوگوں میں کینہ بغض اور حسد کا نام ونشان باقی نہ رہے گا۔

حضرت عیسیٰؑ کے نزول میں اگر عام عادت کے خلاف کوئی بات نہیں تو آنحضرتa اس کو قسم کھاکھا کر کیوں بیان فرماتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں عیسیٰؑ کے نزول سے کسی انسان کی ولادت مراد نہیں۔ کیونکہ اس میں کوئی ایسی جدید بات نہیں جس پر قسم

275

کھانے کی ضرورت ہو۔ پھر اس پیشین گوئی کی اہمیت راوی حدیث کی نظر میں اتنی ہے کہ وہ اس کو قرآنی پیشین گوئی کہتا ہے۔ اب اس سے اندازہ کرلینا چاہئے کہ جو پیشین گوئی قسم کے ساتھ حدیثوں میں بیان کی گئی ہو بلکہ قرآن کریم میں موجود ہو وہ جزم ویقین کے کس درجہ میں ہوگی۔ حدیث مذکور میں ان کے زمانہ کی چند ایسی برکات کا تذکرہ بھی آگیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی شخصیت ایک غیرمعمولی شخصیت ہوگی۔ وہ کوئی معمولی محکوم انسان نہیں ہوں گے۔ بلکہ حاکم بھی وہ حاکم ہوں گے جو وقت کی بڑی طاقت یعنی نصرانیت کا صرف روحانی طور پر ہی نہیں، بلکہ مادی طور پر بھی استیصال فرمائیں گے اور شعائر نصرانیت میں سب سے بڑا شعار یعنی صلیب اس کو نیست ونابود کر دیں گے۔ اخروی برکات کے ساتھ ساتھ دنیوی برکات بھی ان کے قدموں سے لگی ہوئی ہوں گے اور یہ سب برکات اتنی ظاہر وباہر ہوں گی کہ اس وقت کے انسانوں کے لئے حضرت عیسیٰؑ کے وہی اسرائیلی رسول ہونے کا بدیہی ثبوت دیں گے۔

یہ بھی واضح رہے کہ حدیث مذکور میں حضرت عیسیٰؑ کو حکم فرمایاگیا ہے اور حکم وہی ہوسکتا ہے جو فریقین کے نزدیک مسلّم ہو اس لئے ماننا پڑتاہے کہ نازل ہونے والے وہی اسرائیلی عیسیٰؑ ہیں۔ کیونکہ ان کی شخصیت ہی اہل کتاب اور امت محمدیہa دونوں کے نزدیک مسلّم ہوسکتی ہے۔ اگر بالفرض اس پیشین گوئی کا مصداق کسی ایسے شخص کو قراردیا جائے جو خود امت میں پیدا ہو تو اس کو حکم نہیں کہاجاسکتا۔ کیونکہ اہل کتاب کے نزدیک وہ مسلّم نہیں ہوگا۔ یہاں حکم یعنی ثالث کی ضرورت اس لئے ہے کہ دنیاکے خاتمہ پر جملہ ادیان کا پھر ملت واحد بن جانا ضروری ہے اور اس کے لئے اہل کتاب اور اہل قرآن کا باہم اختلاف ختم ہوجانا لازم ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے سب فیصلے دلائل وبراہین کی روشنی میں ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کی مصلحت نے تقاضا کیا کہ اس مقصد کے لئے ایک ایسی شخصیت آئے جو فریقین کے نزدیک مسلّم ہو، تاکہ خدائے تعالیٰ کی حجت دونوں فریق پر پوری ہوجائے۔ اس لئے خود حضرت عیسیٰؑ ہی کا تشریف لانا مقدر ہوا۔ ’’وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً‘‘

۲… ’’واخرج ابویعلٰی مرفوعاً والذی نفسی بیدہٖ لینزلن عیسی بن
276

مریم ثم لئن قام علٰی قبری وقال یا محمد لاحبیبنّہ کذافی روح المعانی من الاحزاب ج۲۲ ص۳۳ زیر آیت خاتم النّبیین (مجمع الزوائد ج۸ ص۲۱۴ بحوالہ مسند ابی یعلٰی)‘‘ {آنحضرتa نے اس ذات کی قسم کھا کر فرمایا جس کے قبضہ میں آپ کی جان ہے کہ عیسیٰ بن مریم ضرور اترکر رہیں گے اور اگر وہ میری قبر پر آکر کھڑے ہوں گے اور مجھ کو یا محمدa کہہ کر آواز دیں گے تو میں ان کو ضرور جواب دوں گا۔}

۳… ’’عن انسq قال قال رسول اللہ a من ادرک منکم عیسٰی ابن مریم فلیقرئہ منی السلام (کذافی الدرمنثور ج۲ ص۲۴۵، قدرواہ احمد ج۲ ص۲۹۸ فی مسندہ عن ابی ہریرۃq مرفوعاً بسند رجالہ رجال البخاری مستدرک حاکم ج۵ ص۷۵۵ حدیث نمبر۸۶۷۹)‘‘ {انسq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے تم میں سے جس شخص کی بھی عیسیٰ بن مریم سے ملاقات ہو وہ ان کو میری جانب سے ضرور سلام کہہ دے۔}

۴… ’’عن ابی ہریرۃq موقوفاً علیہ انی لارجو ان طالت بی حیٰوۃ ان ادرک عیسی بن مریم فان عجل بی موت فمن ادرکہ فلیقرئہ منی الاسلام (مسند احمد ج۲ ص۲۹۸، ورجالہ رجال البخاری وقد اخرج البخاری بہذ الاسناد احادیث فرجع ج۲ ص۱۰۰۷، ج۲ ص۹۹۹)‘‘ {ابوہریرہq فرماتے ہیں کہ اگر میری زندگی دراز ہوگئی تو مجھ کو امید ہے کہ عیسیٰ بن مریم سے خودمیری ملاقات ہوجائے گی اور اگر اس سے پہلے میری موت آجائے تو جو شخص ان کا زمانہ پائے وہ میری جانب سے ان کی خدمت میں سلام عرض کر دے۔}

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول یقینی امر ہے اور ایسا یقینی ہے کہ اس پیشین گوئی کے راویوں کی نظروں میں اس کا انتظار لگ رہا تھا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت غیرمعمولی شخصیت ہے۔ امت کا فرض ہے کہ وہ پیشین گوئی کو یاد رکھے اور جس خوش نصیب کو وہ زمانہ ہاتھ آجائے اس پر لازم ہے کہ وہ آنحضرتa کا سلام پہنچا کر آپa کی وصیت کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کرے۔

277
ان عیسٰیm لم یمت الی الان وانہ راجع الینا ثم یأتی علیہ الفناء

حضرت عیسیٰؑ کی اب تک وفات نہیں ہوئی ان کو تشریف لانا ہے اس

کے بعد ان کی وفات ہونی ہے

۵… ’’عن الحسن مرفوعاً وموقوفاً قال قال رسول اللہ a للیہود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیٰامۃ (اخرجہ ابن جریر مرفوعاً عنہ ج۳ ص۲۸۹ واخرج ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶ من اٰل عمران وذکرہ فی النساء من طریق اٰخرموقوماً علیہ واخرجہ ابن ابن حاتم مرفوعاً ودرمنثور ج۲ ص۳۶ زیر آیت انّی متوفیک)‘‘ {حضرت حسنq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے یہود سے ارشاد فرمایا: عیسیٰؑ ابھی مرے نہیں ہیں اور قیامت سے پہلے ان کو لوٹ کر تمہارے پاس آنا ہے۔}

عجیب بات ہے کہ آنحضرتa نے یہاں حضرت عیسیٰؑ کے معاملہ میں یہودونصاریٰ کو علیحدہ علیحدہ خطاب فرمایا ہے چونکہ یہود عیسیٰؑ کو مردہ تصور کرتے ہیں اور ان کی دوبارہ آمد کے منکر ہیں۔ اس لئے جب آپ نے خاص یہود کو خطاب فرمایا تو ان کے مقابلہ میں خاص طور پر ان کی دوبارہ تشریف آوری پر زوردیا ہے اور صراحت کے ساتھ ان کی موت کی نفی فرمادی ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ جب عیسیٰؑ کی وفات ہی نہیں ہوئی تو پھر ان کا دوبارہ تشریف لانا خودبخود ضروری ہے اور اس حقیقت کی مزید تاکید کے لئے جو شخص آسمانوں پر گیا ہے وہی شخص دوبارہ آئے گا۔ لفظ ’’رجوع‘‘ یعنی لوٹنے کا استعمال فرمایا ہے۔ اس کے برعکس نصاریٰ ہیں وہ ان کو خدا مانتے ہیں۔ لہٰذا ان کے نزدیک وہ فنا کے تحت آہی نہیں سکتے۔ لہٰذا آپ نے جب خاص ان سے خطاب فرمایا تو ان کو یہ کہہ کر قائل کیا ہے کہ خدا وہ ہے جس کوکبھی فنا نہ ہو اور عیسیٰؑ کو اترنے کے بعد موت آنی ہے۔ پھر وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں؟

۶… ’’عن الربیع مرسلاً قال ان النصاریٰ أتوا رسول اللہ a فخا صموہ فی عیسی بن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اللہ الکذب والبہتان فقال لہم النبیa الستم تعلمون انہ لا یکون ولد الا وہو یشبہ
278

اباہ قالوا بلٰے قال الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسٰی یأتی علیہ الفناء قالوا بلٰی (الحدیث کذافی الدرالمنثور من اوّل سورۃ آل عمران ج۲ ص۳، تفسیر طبری ج۵ ص۱۷۴، تفسیر ابن ابی حاتم ج۵ ص۵۸۵)‘‘ {ربیع مرسلا بیان کرتے ہیں کہ نصاریٰ رسول اللہ a کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عیسیٰ بن مریم کے معاملہ میں حضورa سے جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر وہ خداتعالیٰ کے بیٹے نہ تھے تو بتائیے ان کا والد کون تھا اور حق تعالیٰ شانہ پر طرح طرح کے جھوٹ اور بہتان لگانے لگے۔ آپ نے ان سے فرمایا کیا تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ ہر بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ زندہ رہنے والی ہے۔ اس کو موت کبھی نہ آئے گی اور عیسیٰؑ کو موت آنی ہے۔ انہوں نے اس کا اقرار کیا اور کہا بے شک ان کو موت آنی ہے تو پھر وہ حق تعالیٰ کے مشابہ کہاں رہے۔}

اگر بالفرض حضرت عیسیٰؑ کو موت آچکی تھی تو کیا اس حقیقت کے انکشاف کے لئے اس سے زیادہ بڑھ کر کوئی اور موقع تھا کہ آپa یہاں صاف فرمادیتے کہ حضرت عیسیٰؑ تو کبھی کے مرچکے ہیں۔ مگر قرآن وحدیث میں عیسائیوں کے سامنے ایک جگہ بھی ہم کو اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔

۷… ’’عن ابی الطفیل عن حذیفۃ بن اسید الغفاری قال اطلع النبیa علینا ونحن نتذاکر فقال ماتذکرون قالوا نذکر الساعۃ قال انہا لن تقوم حتّٰی ترون قبلہا عشر آیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ وطلوع الشمس من مغربہا ونزول عیسٰی ابن مریم ویاجوج وماجوج وثلاثۃ خسوف، خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرۃ العرب واٰخر ذٰلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الی محشرہم (اخرجہ مسلم ج۲ ص۳۹۳ فصل فی ظہور عشرآیات وعن واثلۃ نحوہ اخرجہ الطبرانی ج۳ ص۱۷۱ حدیث نمبر۳۰۲۸ والحاکم ج۵ ص۶۱۱ حدیث نمبر۸۳۶۶ وافقہ الذہبی علی تصحیحہ)‘‘ {ابوالطفیل حذیفہq سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a ہمارے پاس باہر سے تشریف لائے۔ اس وقت ہم قیامت کے متعلق

279

گفتگو میں مشغول تھے۔ آپ نے فرمایا کیا گفتگو کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی قیامت کے متعلق باتیں کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک ہرگز نہیں آسکتی جب تک کہ اس سے پہلے ہم دس نشانیاں دیکھ نہ لیں۔ (۱)دھواں۔ (۲)دجال۔ (۳)دابتہ الارض۔ (۴)مغرب کی جانب سے آفتاب کا طلوع۔ (۵)عیسیٰ بن مریم کا اترنا۔ (۶)یاجوج وماجوج کا ظہور۔ (۷)تین خسف ایک مشرق میں۔ (۸)ایک مغرب میں۔ (۹)اور تیسرا جزیرہ عرب میں۔ (۱۰)اور سب سے آخر میں وہ آگ جو یمن سے ظاہر ہوگی اور سب کو دھکا دے کر محشر تک لے جائے گی۔}

حدیث مذکور سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے مگر اس سے پہلے حضرت عیسیٰؑ کا نزول چند اور علامات کے ساتھ بھی اتنا ہی یقینی ہے حتیٰ کہ ان کی تشریف آوری سے قبل قیامت کا تصور کرنا گویا بے حقیقت بات ہے۔ نیز حدیث مذکور میں حضرت عیسیٰؑ کا نزول جن اور دیگر علامات کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے۔ ان میں سے ہر علامت اپنی اپنی نوعیت میں عجیب ہی ہے اور ظاہر ہے کہ انقلاب عالم کے عجیب تر حادثہ کی علامات ایسے ہی عجیب درعجیب ہونی چاہئیں۔ ان کو تاویلیں کر کر کے دنیا کے عام حوادث کی صف میں کھینچا قیامت کی حقیقت سے ناواقفی کی دلیل ہے بلکہ ایک طرح پر قیامت ہی کا انکار ہے۔ کیونکہ قیامت کا وجود ان علامات کے وجود سے کہیں عجیب تر ہے۔ پس اگر یہ علامات مادی عقول کے نزدیک خلاف عقل ہونے کی بناء پر قابل تاویل ہیں تو پھر قیامت کا وجود بدرجہ اولیٰ قابل تاویل ہونا چاہئے۔ والعیاذ باﷲ! اہل عقل وانصاف کو ذرا ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول حدیثوں میں قیامت کے قریب تر متعلقات میں شمارکیاگیا ہے۔ پھر اگر اس کو قیاس کرنا ہی ہے تو قیامت کرنا چاہئے۔ عالم کے عام نظم ونسق میں اس کو شامل کرلینا کتنی بڑی نادانی ہے۔ حضرت شاہ رفیع الدینv نے اپنے رسالہ علامات قیامت میں قیامت کی علامات کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ صغریٰ (چھوٹی) اور کبریٰ (بڑی) اور حضرت عیسیٰؑ کا نزول علامات کبریٰ میں شامل فرمایا ہے جس کا حاصل حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کا اس طرح انتظار کرنا چاہئے۔ جیسے جانور کے حمل کی مدت پوری ہو جانے کے بعد اس کا مالک بچہ کی پیدائش کا انتظار کیا کرتا ہے۔ جیسا کہ اس باب کے آخر کی حدیثوں میں عنقریب آپ کے ملاحظہ سے گزرے گا۔

280

۸… ’’عن عمران بن حصین ان رسول اللہ a قال لا تزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاہرین علی من ناواہم حتّٰی یأتی امراﷲ تبارک وتعالی وینزل عیسٰی ابن مریمm (مسند احمد ج۴ ص۴۲۹ ورجالہ کلہم ثقات)‘‘ {عمران بن حصینq فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی جو اپنے دشمنوں کے مقابلہ پر غالب رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو اور حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں۔}

حدیث مذکور اگرچہ ایک دوسرے مضمون کی حدیث ہے مگر چونکہ قیامت سے قبل حضرت عیسیٰؑ کی تشریف آوری قیامت کی طرح یقینی مسئلہ ہے۔ اس لئے جب کہیں قیامت کا تذکرہ آتا ہے تو اگر وہاں سیاق کلام میں ذرا کوئی مناسبت نکل آتی ہے تو مسلمات کی طرح فوراً حضرت عیسیٰؑ کے نزول کا تذکرہ بھی آجاتا ہے۔

۹… ’’عن ابن مسعود مرفوعاً قال ان المسیح بن مریم خارج قبل یوم القیامۃ ویستغن بہ الناس عمن سواہ (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۲۰ حدیث نمبر۳۹۷۳۱)‘‘ {ابن مسعودq آنحضرت سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم (m) یقینا تشریف لاکر رہیں گے اور ان کی آمد کے بعد لوگ ان کے سوا سب سے بے نیاز ہو جائیں گے۔}

۱۰… ’’عن ابن عمر مرفوعاً کیف تہلک امۃ انا فی اولہا وعیسٰی ابن مریم اخرہا (کنزالعمال ج۱۴ ص۲۶۹ حدیث نمبر۳۸۶۸۲ وصحہ فی الدر المنثور فی ضمن اثر کعب وحسنہ فی الفتح من فضائل اصحاب النبی وذکرہ فی المشکوۃ ص۵۸۳ فی ثواب ہذہ الامۃ عن رزین بسلسلۃ الذہب قال فی التیسیر ص۳۰۲ رواہ النسائی وغیرہ)‘‘ {ابن عمرq رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں بھلا وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اوّل میں تو میں ہوں اور آخر میں عیسیٰؑ ہوں۔}

۱۱… ’’عن جبیر بن نفیر الحضر می مرفوعا مرسلاً لن یخزی اللہ امۃ انا فی اوّلہا وعیسٰی فی اخرہا (کذافی الدر المنثور ج۲ ص۲۴۵ مصنف ابن ابی شیبہ ج۵ ص۲۹۹ کتاب الجہاد وقال الذہبی فی التلخیص ہو خبر منکر ولم یذکرلہ وجہا وجیہا بل الصحیح انہ ان لم یکن صحیحا فلا ینحط عن درجۃ الحسن
281

کما صرح بہ الحافظ فی الفتح ج۷ ص۵ وعن عروۃ بن رویم مثلہ کما فی الکنز ج۱۴ ص۳۳۵ حدیث نمبر۳۸۸۵۳ وعن کعب مثلہ مرفوعاً فی ضمن اثرہ الموقوف علیہ کذافی الدرالمنثور وعن جعفر الصادق عن ابیہ عن جدہ مرفوعاً فی حدیث نحوہ رواہ رزین کما فی المشکوٰۃ ص۵۸۳ من باب ثواب ہذہ الامۃ)‘‘ {جبیر بن نفیر رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو ہرگز ناکام نہیں کرے گا جس کے اوّل میں تو میں ہوں اور آخر میں عیسیٰؑ ہوں۔}

حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول یقینی ہے اور اس نزول میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے ایک بڑی رحمت بھی پنہاں ہے۔ یوں تو ہرگزشتہ امت دو رسولوں کے درمیان ہی ہوتی چلی آئی ہے۔ مگر چونکہ پہلے ہر رسول کی امت مستقل ہوتی تھی اس لئے اس کو پہلی امت کے آخر میں شمار کرنا بے معنی بات تھی۔ وہاں ہر رسول کا اصل مقام اپنی امت کے اوّل ہی میں تھا۔ جیسا آنحضرت گونصاریٰ کے بعد تشریف لائے مگر چونکہ آپ مستقل رسول تھے اور آپ کی امت علیحدہ امت تھی۔ اس لئے آپ کو امت عیسیٰؑ کے آخر میں شمار کرنا اور یہ کہنا کہ عیسیٰؑ کی امت بھی دورسولوں کے درمیان ہے۔ اس کے اوّل میں عیسیٰؑ ہیں اور آخر میں آنحضرتa بالکل بے معنی بات ہے۔ لیکن اس امت کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ یہاں اس امت کے رسول تو صرف آنحضرتa ہیں اور چونکہ عیسیٰؑ کی تشریف آوری اس امت میں بحیثیت رسالت نہ ہوگی۔ اس لئے ان کی امت بھی کوئی جدید امت نہ ہوگی۔ اس لئے ان کو اس امت کے آخر میں شمار کرنا بالکل درست ہے اور اس امت کے حق میں بڑی رحمت کا باعث ہے۔

حدیث مذکور سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ آخر میں آنے والے رسول وہی اسرائیلی رسول ہوں گے اور خود اس امت میں پیدا نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اگر وہ خود اس امت میں پیدا ہوں تو پھر ان کو امت کے آخر میں کہنا مناسب نہیں۔ پس یہاں جس طرح امت کے اوّل میں آنے والے رسول کو اس امت میں شمار کرنا صحیح نہیں۔ اسی طرح اس کے آخر میں آنے والے رسول کو اس امت میں پیداشدہ کہنا صحیح نہیں بلکہ وہ ایسا رسول ہونا چاہئے جو خود رسول ہومگر آئندہ اس کی کوئی علیحدہ امت نہ ہوتاکہ اس کو اس امت کے آخر میں کہنا صحیح اور بامعنی بات ہو یہ بات دوسری ہے کہ چونکہ وہ آنحضرت کے بعد میں آئے گا۔ اس لئے دورۂ

282

نبوت کے لحاظ سے اس کو آپ کی امت میں بھی شمار کرنا درست رہے تو پھر اس میں ایک عیسیٰؑ کی تخصیص نہیں تمام انبیاءo بھی آپ کی نبوت کے تحت ہیں اور اس لئے صحیح حدیثوں میں آتا ہے کہ محشر میں آدمm سے لے کر عیسیٰؑ تک سب آپa ہی کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ مگر چونکہ حضرت عیسیٰؑ کی یہ شان ایک باردنیا میں بھی ظاہر ہوگی۔ اس لئے تمام انبیاءo میں سے خاص ان کے اندر یہ رشتہ زیادہ نمایاں رہے گا۔ اس لئے علماء حقائق نے لکھا ہے کہ عیسیٰؑ میں اس خصوصیت کا ظہور قیامت کے دن بھی سب میں ممتاز رہے گا۔ عجب نہیں کہ: ’’انا اولٰی الناس بابن مریم‘‘ کی صحیح حدیث میں اس طرف بھی کچھ اشارہ ہو۔

ان عیسٰیk ینزل من السماء ولا یولد فی الارض

۱۲… ’’عن الحاطب بن ابی بلتعۃ قال بعثنی رسول اللہ الی المقوقس ملک الا سکندریۃ قال فجئتہ بکتاب رسول اللہ فانزلنی فی منزلہ واقمت عندہ ثم بعث الیّٰ وقد جمع بطارقۃ وقال انی ساکلمک بکلام واحب ان تفہمہ منی قال قلت ہلّم قال اخبرنی عن صاحبک الیس ہم نبیا قلت بلٰی ہو رسول اللہ قال فما لہ حیث کان ہٰکذا لم یدع علٰی قومہ حیث اخرجوہ من بلدہ الٰی غیرہا قال فقلت عیسی بن مریم الیس تشہد انہ رسول اللہ فما لہ حیث اخذہ قومہ فارادوا ان یصلبوہ ان لا یکون دعا علیہم بان یھلکیہم اللہ عزوجل حتّٰی رفعہ اللہ الیہ فی السماء الدنیا قال انت الحکیم الذی جاء من عند الحکیم (خرجہ البیہقی کما فی الخصائص الکبریٰ ج۲ ص۱۳۹ باب ماوقع عند کتایبہ الٰی المقوقس قلت ولم یذکرہ الشیخ قدس سرہ فی رسالۃ فی نزول المسیحm)‘‘

حضرت عیسیٰؑ آسمان سے اتریں گے اور

زمین کے کسی خطہ میں پیدا نہیں ہوں گے

{حاطب بن ابی بلتعہq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ کو مقوقس شاہ

283

اسکندریہ کے پاس بھیجا۔ یہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ کا نامہ مبارک لے کر ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ کو اپنی جگہ پر بٹھایا اور میں ان کے ہاں مقیم رہا پھر کسی فرصت میں انہوں نے مجھ کو یاد فرمایا اور اپنے مذہبی بزرگوں کو بھی دعوت دی اور کہا مجھ کو تم سے ایک بات کہنی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم اس کو خوب سمجھ لو۔ یہ کہتے ہیں میں نے عرض کی فرمائیے! انہوں نے فرمایا اچھا اپنے پیشوا کے متعلق بتاؤ کیا وہ نبی ہیں؟ میں نے عرض کیا یقینا وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا تو پھر ان کی قوم نے ان کو اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا تو انہوں نے کیوں ان پر بددعا نہ کی؟ یہ کہتے ہی میں نے اس کے جواب میں شاہ مقوقس سے کہا کیا آپ عیسیٰؑ کے متعلق یہ گواہی نہیں دیتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو پھر جب ان کی قوم نے ان کو پکڑ کر سولی دینے کا ارادہ کیا تھا تو انہوں نے اس وقت ان کے حق میں یہ بددعا کیوں نہ کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے؟ یہاں تک کہ اللہ نے دنیا کے اس آسمان پر ان کو اٹھالیا۔ یہ سن کر شاہ مقوقس نے کہا تو خود بھی دانا شخص ہے اور جس ہستی کا فیض یافتہ ہے وہ بھی بڑی صاحب حکمت ہے۔}

اس حدیث میں آنحضرت کے ایک صحابی حاطبq اور شاہ مقوقس کے درمیان ایک مربوط گفتگو کا تذکرہ ہے جس کو پڑھ کر بے ساختہ دل اس کی تصدیق پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس گفتگو میں صحابی کو مقوقس کے جواب میں گو صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ پھر عیسیٰؑ نے اپنے دشمنوں پر بددعا کیوں نہیں کی۔ مگر انہوں نے شاہ مقوقس پر اور زیادہ زور ڈالنے کے لئے یہ حقیقت بھی واضح کی ہے کہ آنحضرت نے جو ہجرت فرمائی تھی وہ تو صرف ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف تھی۔ مگر عیسیٰؑ کی ہجرت تو ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف تھی۔ ظاہر ہے کہ آپ نے وطن چھوڑا مگر پھر بھی رہے وطن ہی کے قریب میں، اور حضرت عیسیٰؑ نے تو ایسی جگہ ہجرت فرمائی جہاں نہ وطن کی خبر رہی نہ اہل وطن کی۔ پس بددعا کا سوال وہاں زیادہ چسپاں ہوتا ہے جہاں مظلومیت زیادہ ہو۔ اس پر شاہ مقوقس نے یہ نہیں کہا کہ تم یہ کیا نامعقول بات کہتے ہو حضرت عیسیٰؑ آسمان پر کہاں گئے ان کی تو مدت ہوئی وفات ہوچکی ہے بلکہ وہ لاجواب ہوکر چپ رہ گیا اور اس کو خود ان کی بھی اور آنحضرت کی بھی غائبانہ داد دینی پڑی۔ معلوم ہوا کہ شاہ مقوقس کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰؑ کی وفات نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ زندہ آسمان پر تشریف لے گئے ہیں۔ اس لئے آسمان ہی سے اتریں گے۔ ان کے

284

علاوہ کسی دوسرے انسان کا دنیا میں پیدا ہونے کا خیال یہ صرف جدید تراشیدہ افسانہ ہے جس کے نہ اہل کتاب ہی قائل تھے نہ علماء اسلام۔

۱۳… ’’عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ قال کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم (ذکرہ البیہقی فی کتاب الاسماء والصفات ص۳۰۱، للبخاری ج۱ ص۴۹۰ باب نزول عیسٰی بن مریم ومسلم ج۱ ص۸۷ باب نزول عیسٰی بن مریمn علی عادۃ المحدثین فی کون مرادہم بہ اصل الحدیث)‘‘
’’وعن ابن عباس فی تفسیر قولہ تعالٰی ان تعذبہم فاانہم عبادک وان تغفرلہم ای من ترکت منہم ومدفی عمرہ حتّٰی اہبط من السماء الٰی الارض یقتل الدجال فنزلوا عن مقالتہم ووحدوک واقروا انا عبید (درمنثور ج۲ ص۳۵۰)‘‘
’’وعنہ قال لما اراداﷲ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء خرج الٰی اصحابہ وفی البیت اثناء عشر رجلا من الحواریین فخرج علیہم من غیر البیت ورأسہ یقطرماء (درمنثور ج۲ ص۲۳۸)‘‘

{ابوہریرہq روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بھلا اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب کہ عیسیٰؑ تمہارے درمیان آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام خود تم میں کا ہوگا۔ (الاسماء والصفات) ابن عباسq آیت: ’’وان تعذبہم… الخ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے یعنی ان لوگوں کو جن کو تو باقی رکھے کیونکہ عیسیٰؑ کی عمر دراز کر دی گئی ہے یہاں تک کہ جب وہ آسمان سے زمین پر اتریں اور دجال کو قتل کر دیں تو جو باقی ماندہ اپنے مشرکانہ عقیدے سے باز آکر تیری وحدانیت کے قائل ہو جائیں اور یہ اقرار بھی کریں کہ میں تیرا ایک بندہ ہی ہوں تو تو قادر اور حکمت والا ہے۔ نیز ابن عباسq ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰؑ کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو وہ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے۔ا س وقت گھر میں صرف بارہ شخص موجود تھے اور وہ گھر کے دروازہ کی بجائے روشندان سے تشریف لے گئے اور اس وقت ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔}

285

حدیث مذکور میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے اتریں گے ہر چند کہ آسمان کے لفظ کی ان تفصیلات کے بعد جو عیسیٰؑ کے معاملہ میں بیان میں آچکی تھیں کوئی ضرورت نہ تھی۔ مگر اس کے باوجود چونکہ وہ ایک حقیقت تھی اس لئے اگر بضرورت نہ سہی تو ایک حقیقت کے اظہار کے طور پر ہی سہی اس کا جابجا تذکرہ ملتا ہے۔ حتیٰ کہ حضرت ابن عباسq بھی جن کے متعلق یہ داستان گائی جاتی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی موت کے قائل تھے مختلف مقامات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کی تصریح فرماتے ہیں۔ پھر اس میں شبہ کیا ہے کہ ایک دن حضرت عیسیٰؑ کو بھی مرنا ہے۔ کلام صرف اس میں ہے کہ یہ مقدر موت واقع ہوچکی ہے یا آئندہ واقع ہونے والی ہے۔ کتنی نافہمی ہے کہ بالفرض اگر ان کے بارے میں کسی سے موت کا لفظ منقول بھی ہے تو اس کو فوراً بے تحقیق گزشتہ موت پر حمل کر لیا جائے۔ حالانکہ وہ اس کا صاف اقرار بھی کر رہا ہو کہ حضرت عیسیٰؑ زندہ آسمان پر اٹھائے جاچکے ہیں اور آئندہ تشریف لاکر عام انسانوں کی طرح وفات پائیں گے۔

۱۴… ’’عن ابن عباسq مرفوعاً قال الدجال اوّل من یتبعہ سبعون الفا من الیہود علیہا السیجان (الی قولہ) قال ابن عباس قال رسول اللہ فعند ذلک ینزل اخی عیسی بن مریم من السماء علی جبل افیق اماماً ہادیا وحکما عادلا علیہ برنس لہ مربوع الخلق اصلت سبط اشعر بیدہ حربۃ یقتل الدجال فاذا قتل الدجال تضع الحرب اوزارہا فکان السلم فیلقی الرجل الاسد فلا یہیجہ ویا خذ الحیۃ فلا تضرہ وتنبت الارض کنباتہا علی عہد اٰدم ویؤمن بہٖ اہل الارض ویکون الناس اہل ملۃ واحدۃ (اسحق بن بشیر کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۸،۶۱۹ حدیث نمبر۳۹۷۶۶)‘‘ {ابن عباسq روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے سب سے پہلے جو لوگ دجال کی اتباع کریں گے وہ سترہزار یہود ہوں گے۔ ان کے سروں پر طیلسان ہوں گے۔ اس سلسلہ میں ابن عباسq نے یہ بھی بیان فرمایا کہ رسول اللہ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اس وقت سیدنا حضرت عیسیٰؑ کوہ افیق پر آسمان سے اتریں گے اور وہ امام ہادی اور منصف حاکم ہوں گے۔ برنس (بارانی کوٹ کی طرح ہوتا ہے) پہنے ہوئے ہوں گے وہ میانہ جسم کے ستے ہوئے رخسار اور سیدھے بالوں والے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا۔ دجال کو قتل کریں گے اور

286

جب اس کے قتل سے فارغ ہو جائیں گے تو جنگ ختم ہو جائے گی اور امن وسلامتی کا یہ عالم ہوگا کہ آدمی اور شیر کا آمنا سامنا ہوگا۔ مگر اس پر حملہ کرنے کا اس کے دل میں ذرا خیال نہ آئے گا۔ آدمی سانپ کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور وہ اس کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گا اور زمین کی پیداوار میں وہ برکت ہوگی جو کبھی آدمm کے زمانہ میں تھی اور زمین کے بسنے والے ان پر ایمان لے آئیں گے اور سب مخلوق ایک ہی ملت ومذہب کی ہو جائے گی۔}

اس حدیث میں بھی صراحت کے ساتھ آسمان کا لفظ موجود ہے اور ان کے دور کے امن وامان اور اصلاح وامان عام کا ایسا نقشہ موجود ہے جس سے بداہتہً ثابت ہوتا ہے کہ یقینا وہ کوئی غیرمعمولی انسان ہوں گے۔ اب اگر کسی کے دل میں ہر حقیقت کو مجاز بنابنا کر اس پیش گوئی کو اپنے نفس پر صادق کرنے کا جذبہ ہو تو اس کا علاج کس کے پاس ہے۔

ہاں! جو شخص کسی کی ہوائے نفسانی کی خاطر آنحضرتa کے ان بصیرت افروز ارشادات کی بے جا تاویلات پر یقین لانے کو ترجیح دے وہ اپنا ٹھکانا خود سوچ لے۔ ’’ومن لم یجعل اللہ لہ نوراً فما لہ من نور‘‘

جزم النبیa بان النازل ہو عیسٰی بن مریم الذی ولد من غیراب وشیدہ بما لا مزید علیہ من ذکر اسمہ ونسبہ وحلیتہ والاعمال المہمۃ التی ینزل لہا ومنصبہ الذی ینزل بہ وکیفیۃ الا من الشامل وسعۃ الرزق وفیضان المال وغیرہا فی عہدہ علیہ الصلٰوۃ والسلام

آنحضرتa نے پورے یقین کے ساتھ فرمایا ہے کہ آئندہ تشریف لانے والے وہی عیسیٰ ہوں گے جن کی پیدائش بغیر والد کے ہوئی ہے۔ چنانچہ اس کی وضاحت کے لئے آپ نے ان کے نام ان کے نسب اور ان کی شکل وصورت بیان فرمانے کا خاص اہتمام فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ آپ کی خدمات مفوضہ ان کا منصب ان کے زمانہ امن عام کی کیفیت رزق کی فروانی اور دیگرامور کی تفصیلات بھی بیان فرمادی ہیں۔

۱۵… ’’عن ابی ہریرۃ عن النبیa قال الانبیاء اخوۃ العلات ابوہم دینہم واحد وامہاتہم شتّٰی وانا اولی الناس بعیسی بن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الٰی
287
الحمرۃ والبیاض سبط کان رأسہ یقطر وان لم یصبہ بلل بین ممصرتین فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویعطل الملل حتّٰی یہلک اللہ فی زمانہ الملل کلہا غیر الاسلام ویہلک اللہ فی زمانہ المسیح الدجال الکذاب وتقع الامنۃ فی الارض حتّٰی ترتع الابل مع الاسد جمیعاً والنمود مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان والغلمان بالحیات لایضر بعضہم بعضاً فیمکث ماشاء اللہ ان یمکث ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ (مسند احمد ج۲ ص۴۳۷، ۴۰۶ البدائیہ والنہائیہ ج۲ ص۹۹ باب صفۃ عیسٰیm تفسیر ابن جریر ج۶ ص۲۲،۲۳)‘‘

{ابوہریرہq رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ جتنے انبیاء ہیں سب باپ شریک بھائیوں کی طرح ہیں۔ والد ایک اور مائیں علیحدہ علیحدہ ہوں۔ عیسیٰؑ سے سب سے زیادہ نزدیک میں ہوں۔ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ دیکھو وہ ضرور اتریں گے اور جب تم ان کو دیکھو تو فوراً پہچان لینا کیونکہ ان کا قد میانہ ہوگا۔ رنگ سرخ وسفید۔ کنگھی کئے ہوئے سیدھے سیدھے بال۔ یوں معلوم ہوگا کہ سر سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ اگرچہ اس پر کہیں تری کا نام نہ ہوگا۔ دوگیرو کے رنگ کی چادریں اوڑھے ہوں گے۔ وہ اتر کر صلیب کو توڑڈالیں گے۔ سور کو قتل کردیں گے جزیہ ختم کر دیں گے اور تمام مذاہب ان کے زمانہ میں ختم ہوکر صرف ایک مذہب اسلام باقی رہ جائے گا اور ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ جھوٹے مسیح دجال کو ہلاک کرے گا اور زمین پر امن وامان کا وہ نقشہ قائم ہوگا کہ اونٹ شیروں کے ساتھ اور چیتے بیلوں کے ساتھ بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور لڑکے بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور ایک دوسرے کو ذرا کوئی تکلیف نہ دے گا۔ اسی حالت پر جب تک اللہ تعالیٰ کومنظور ہوگا وہ رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ ادا کریں گے اور ان کو دفن کردیں گے۔}

اس حدیث پر پہلی نظر ڈالنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں اسی مسیح (اسرائیلیm) کا تذکرہ ہے جو ایک بار بہ حیثیت نبوت کے پہلے آچکے ہیں اور وہی اس امت پر ایک بڑی مصیبت کے وقت دوبارہ پھر تشریف لانے والے ہیں۔ کیونکہ زمانے کے لحاظ سے آپa سے وہی اتنے قریب ہیں کہ ان کے اور آپ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔

288

اس لئے بھی اس مصیبت کے وقت آپ کی امت کی ہمدردی کا فرض سب سے پہلے انہی پر عائد ہوتا ہے۔ نیز آپ نے اس کی مزید توضیح کے لئے ان کا وہی نام ونسب ان کی اسی ملکی نظامت وطہارت اور ان کے اسی حلیہ مبارک کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جس کے بعد کسی مجنون کے لئے بھی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پھر آپa نے صرف ان کے ماضی کے سوانح کے بیان پر ہی کفایت نہیں فرمائی بلکہ ان کے مستقبل کے ایسے کارنامے اور ایسی روشن برکات کا بھی تذکرہ فرمادیا ہے جن کے بعد ان کی شناخت میں کوئی ادنیٰ تردد نہیں ہوسکتا۔ اب اگر آپ کے فرمودہ پر ایمان لانا ہے تو وہ واضح سے واضح انداز میں یہ آپ کے سامنے موجود ہے اور اگر اپنے خیالات پر ایمان لانا ہے تو یہود اس سے پہلے آنحضرتa کے حق میں یہی راستہ اختیار کر چکے ہیں۔ کتب سماویہ صاف سے صاف انداز میں آپ کے نام ونسب آپ کی شکل وشمائل اور آپ کے کارناموں کو کھول کھول کر بیان کرتی رہیں اور یہ بدنصیب ان سب کی تاویلیں کر کر کے آپ کا انکار کرتے رہے۔ ’’فلما جاء ہم ماعرفوا کفروا بہ فلعنۃ اللہ علی الکافرین‘‘

البلد الذی ینزل فیہ عیسٰیk وموضع النزول منہ بعینہ ہیاتیہ عند نزولہ والبرکۃ العامۃ فی الاشیاء فی عہدہ k

عیسیٰؑ کے شہر کا نام اور اس شہر می خاص محل نزول کا نام اور نزول کے وقت ان کا مکمل نقشہ اور ان کے زمانہ کی برکات۔

۱۶… ’’عن النواس بن سمعان قال ذکر رسول اللہ a الدجال ذات غداۃ فخفض فیہ ورفع حتّٰی ظنناہ فی طائفۃ النخل فلما رحنا الیہ عرف ذالک فینا فقال ما شانکم قلنا یا رسول اللہ ذکرت الدجال غداۃ فخفضت فیہ ورفعت حتّٰی ظنناہ فی طائفۃ النخل فقال غیر الدجال اخوفنی علیکم ان یخرج وانا فیکم فانا جحیجۃ دونکم وان یخرج ولست فیکم فآمرء جحیج نفسہٖ واﷲ خلیفتی علٰی کل مسلم انہ شاب قطط عینہ فافۃ کانی أشبہہ بعبد العزی بن قطن فمن ادرک منکم فلیقرء علیہ فواتح سورۃ الکہف انہ خارج خلۃ بین الشام والعراق فعاث یمیناً وعاث شمالاً یاعباد اللہ فاثبتوا قلنا یا رسول اللہ وما لبثہ فی الارض قال
289
اربعون یوم یوم کسنۃ ویوم کشہر ویوم کجمعۃ وسائر ایامہٖ کایامکم قلنا یارسول اللہ فذالک الیوم الذی کسنۃ اتکفینا فیہ صلٰوۃ یوم قال لا اقدروا لہ قدرہ قلنا یا رسول اللہ وما اسرعہ فی الارض قال کالغیت استدبرتہ الریح فیأتی علی القوم فیدعوہم فیؤمنون بہ یستجیبون لہ فیامر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح علیہم سار حتہم اطول ماکانت ذری واسبغہ ضروعاً وامدہ خواصر ثم یأتی القوم فیدعوہم فیردون علیہ قولہ فنصرف عنہم فیصبحون ممحلین لیس بایدیہم من شیٔ من اموالہم ویمربالخربۃ فیقول لہا اخرجی کنوزک فتتبعہ کنوزہا کیعاً سیب النحل ثم یدعوہم رجلاً ممتلئا شبابا فیضربہ بالسیف فیقطعہ جزلتین رمیۃ الغرض ثم یدعوہ فیقبل ویتہلل وجہہ ویضحک فبینما ہو کذالک اذا بعث اللہ المسیح ابن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مہروذتین واضعاً کفیہ علٰی اجنحۃ ملکین اذا طاطاء راسہ قطر واذا رفعہ تحدرمنہ جمان کاللؤلوء فلا یحل لکافریجد ریح نفسہ الامات ونفسہ ینتہی الٰی حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتّٰی یدرکہ بباب لد فیقتلہ ثم یأتی عیسٰی قوماً قد غصمہم اللہ منہ فیمسح عن وجوہہم ویحدثہم بدرجاتہم فی الجنۃ فبینما ہو کذالک اذ اوحی اللہ الٰی عیسٰیm انی قد اخرجت عباد الی لایدان لاحد بقتالہم فحرز عبادی الٰی الطور ویبعث اللہ یاجوج ماجوج وہم من کل حدب ینسلون فیمرا وائلہم علٰی بحیرۃ طبریۃ فیشربون مافیہا ویمر اٰخرہم فیقولون لقد کان بہٰذہ مرۃ ویحصرء نبی اللہ عیسٰیm واصحابہ حتّٰی یکون رأس الثورلا حدہم خیراً من مأیۃ دینار لاحدکم الیوم فیرغب نبی اللہ عیسٰیm واصحابہ فیرسل علیہم النغف فی رقابہم فیصحبون فرسٰی کموت نفس واحدۃ ثم یہبط نبی اللہ عیسٰیm واصحابہ الی الارض فلا یجدون فی مثلی الارض موضع شبر الاملائہ زہمہم ونتنہم فیرغب نبی اللہ عیسٰیm واصحابہ الی اللہ فیرسل اللہ طیراً کاعناق البخت فتملہم
290
فتطرحہم حیث شاء اللہ ثم یرسل اللہ مطراً لایکن منہ بیت مدرولا وبرفغسل الارض حتّٰی شاء اللہ ثم یرسل اللہ مطراً لایکن منہ بیت مدرولا وبرفغسل الارض حتّٰی یترکہا کالزلفۃ ثم یقال للارض انبتی ثمرتک وردی برکتک فیومئذٍ تاکل العصابۃ من الرمانۃ ویستظلون بقحفہا ویبارک فی الرسل حتّٰی ان اللقحۃ من الغنم لتکفی الفخذ من الناس فبینماہم کذالک اذا بعث اللہ ریحاً طیبۃ فتاخذہم تحت اٰباطہم فتقبض روح کل مؤمن وکل مسلم ویبقٰی شرار الناس یتہارجون فیہا تہارج الحمر فعلیہم تقوم الساعۃ (رواہ مسلم ج۲ ص۴۰۰،۴۰۱ باب ذکر الدجال وابوداؤد ج۲ ص۱۳۴،۱۳۵ باب خروج الدجال ولفظہ ثم ینزل عیسٰی بن مریم عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق الحدیث والترمذی ج۲ ص۴۸ باب ماجاء فی فتنہ الدجال وغراہ فی الکنز ج۱۴ ص۲۸۵تا۲۸۸ حدیث نمبر۳۸۷۴۰ الابن عساکر وفی لفظہ انہبط عیسٰی ابن مریم واحمد فی مسندہ ج۴ ص۱۸۱،۱۸۲، ابن ماجہ ص۲۹۶،۲۹۷ باب فتنہ الدجال وخروج عیسٰی بن مریم)‘‘

{نواس بن سمعانq روایت کرتے ہیں کہ ایک دن صبح کو رسول اللہ a نے اتنی اہمیت سے دجال کا تذکرہ فرمایا کہ مارے دہشت کے ہم کویوں معلوم ہونے لگا گویا وہ یہیں کسی باغ میں موجود ہے۔ جب ہم آپa کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپa نے ہمارے اس دہشت وخوف کو محسوس کر لیا اور پوچھا تم ایسے پریشان کیوں نظر آتے ہو۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ a آپa نے صبح دجال کا ذکر اتنی اہمیت کے ساتھ فرمایا کہ ہم کو یوں معلوم ہونے لگا گویا وہ یہیں کسی باغ میں ہے۔ آپa نے فرمایا مجھ کو تم پر دجال سے بڑھ کر دوسری باتوں کو زیادہ اندیشہ ہے۔ دجال کا کیا ہے اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو تمہارے بجائے میںخود اس سے نمٹ لوں گا۔ ورنہ تو ہر شخص خود اس کا مقابلہ کرے اور میں نے تم سب کو خدا کے سپرد کیا۔ دیکھو وہ جوان ہوگا۔ اس کے بال سخت گھونگر والے اور اس کی آنکھ انگور کی طرح باہر کو ابھری ہوئی ہوگی۔ بالکل اس شباہت کا شخص سمجھو جیسا یہ عبدالعزیٰ بن قطن ہے تو تم میں جو شخص بھی اس کا زمانہ پائے اس کو چاہئے کہ وہ سورۂ کہف کی اوّل کی آیتیں پڑھ لے۔ وہ شام اور عراق کی درمیانی گھاٹیوں سے ظاہر ہوگا اور اپنے دائیں بائیں

291

ہر سمت بڑا اودھم مچائے گا تو اے اللہ کے بندو! دیکھو اس وقت ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ aوہ کتنے عرصہ تک زمین پر رہے گا۔ فرمایا چالیس دن لیکن پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا اور پھر دوسرا ایک ماہ اور تیسرا ایک جمعہ کے برابر ہوگا۔ اس کے بعد بقیہ دن تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ ہم نے پوچھا جو دن ایک سال کے برابر ہوگا کیا اس دن میں ہم کو ایک ہی دن کی نمازیں ادا کرنی کافی ہوں گی۔ فرمایا نہیں بلکہ ایک دن کی برابر نمازوں کا اندازہ کر کر کے نمازیں ادا کرتے رہنا۔ ہم نے پوچھا وہ کس رفتارسے زمین پر گھومے گا۔ فرمایا اس تیز رفتار بادل کی طرح جس کو پیچھے سے ہوا اڑائے لارہی ہو۔ وہ کچھ لوگوں کے پاس آکر ان کو اپنی خدائی پر ایمان لانے کی دعوت دے گا۔ وہ اس پر ایمان لے آئیں گے وہ خوش ہوکر آسمان کو بارش کا حکم دے گا۔ فوراً بارش آجائے گی اور زمین کو حکم دے گا اسی وقت وہ سبزہ زار ہو جائے گی اور شام کو جب ان کے حیوانات چراگاہوں سے چرکر واپس ہوں گے تو ان کے اونٹوں کے کوہان پہلے سے زیادہ لمبے لمبے ان کے تھن پہلے سے زیادہ دودھ سے لبریز اور ان کی کھوکھیں پہلے سے زیادہ تنی ہوئی ہوں گی۔ اس کے بعد وہ کچھ اور لوگوں کے پاس جائے گا اور ان کو بھی اپنی خدائی کی دعوت دے گا مگر وہ اس کو نہ مانیں گے۔ جب وہ ان کے پاس سے واپس ہوگا تو یہ بے چارے سب قحط میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان کے قبضہ میں کوئی مال نہ رہے گا۔ سب دجال کے ساتھ چلا جائے گا پھر وہ ایک شور زمین سے گزرے گا اور اس کو یہ حکم دے گا اپنے تمام خزانے باہر اگل دے۔ وہ سب کے سب اس کے پیچھے پیچھے اس طرح ہولیں گے جیسے مکھیوں کے سردار کے پیچھے سب مکھیاں ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص کو بلائے گا جو اپنے پورے شباب پر ہوگا اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کر کے اتنی دورپھینک دے گا جتنا تیرانداز اور اس کے نشانہ لگانے کی جگہ کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔ پھر اس کو آواز دے کر بلائے گا وہ ہنستا کھل کھلاتا چلا جائے گا۔

ادھر وہ یہ شعبدہ بازیاں دکھلا رہا ہوگا ادھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا۔ وہ دمشق کے مشرقی سفید منارہ پر اتریں گے اور دوزردزعفرانی رنگ کی چادریں اوڑھے ہوئے دوفرشتوں کے بازوؤں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ سرجھکائیں گے تو پانی کے قطرے ٹپکتے معلوم ہوں گے اور جب سراٹھائیں گے تو بالوں میں چاندی کے سے موتی گرتے محسوس ہوں گے۔ جس کافر کو ان کے سانس لگ جائیں گے وہ زندہ نہ رہ سکے گا اور ان

292

کے سانس کا اثر اتنے فاصلہ تک پڑے گا جہاں تک کہ ان کی نظر جائے گی۔ وہ دجال کا پیچھا کریں گے اور باب لد (بیت المقدس میں ایک مقام ہے) پر اس کو پکڑ لیں گے اور یہاں اس کو قتل کر دیں گے۔ اس کے قتل سے فارغ ہوکر عیسیٰؑ پھر ان لوگوں کے پاس آئیں گے جو اس کے فتنہ سے بچ رہے ہوں گے اور ان کو تسلی وتشفی دیں گے اور جنت میں ان کے مراتب کا حال بیان فرمائیں گے۔ پھر عیسیٰؑ پر وحی آئے گی کہ اب میری ایک ایسی مخلوق نکلنے والی ہے جس کے مقابلہ کی کسی میں طاقت نہیں۔ لہٰذا میرے بندوں کو کوہ طور کی طرف لے جاکر جمع کر دو۔ پھر یاجوج وماجوج ہرپست زمین سے نکل پڑیں گے۔ پہلے ان کا گزر طبریہ کے (مقام کا نام ہے) پانی پر ہوگا وہ اس کو پی کر اس طرح ختم کر دیں گے کہ جب ان کا آخری گروہ ادھر سے گزرے گا تو یوں کہے گا کبھی یہاں پانی تھا پھر بیت المقدس کے خمر پہاڑ پر پہنچیں گے اور اپنی قوت کے گھمنڈ میں کہیں گے ہم زمین والوں کو تو ختم کر چکے لو آؤ اب آسمان والوں کا بھی کام تمام کر دیں اور اپنے تیرآسمان کی طرف پھینکیں گے۔ قدرت ان کے تیروں کو خون آلود کر کے واپس کر دے گی۔

ادھر حضرت عیسیٰؑ اور ان کی جماعت کوہ طور میں محصور ہوگی۔ یہاں تک کہ بیل کا ایک سراتنا قیمتی ہو جائے گا جیسا آج تمہارے نزدیک سودینار ہیں۔ اس تنگی کی حالت میں عیسیٰؑ اور ان کی جماعت مل کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگی۔ ان کی دعا سے ان کی گردنوں میں پھوڑے نکل آئیں گے اور وہ سب کے سب ایک دم میں اس طرح پھوٹ پھٹ کر مرجائیں گے جیسا ایک آدمی مرتا ہے۔ جب حضرت عیسیٰؑ کوہ طور سے اترکرآئیں گے تو زمین پر کہیں بالشت بھر جگہ نہ ہوگی جہاں ان کے سڑے ہوئے گوشت کی بدبو اور چربی کا اثر نہ ہو۔ عیسیٰؑ اور ان کی جماعت پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ وزاری کرے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ ایک قسم کا پرندہ بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی طرح لمبی لمبی ہوں گی۔ وہ ان کو اٹھااٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا ڈال دیں گے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ مقام نہبل میں پھینک دیں گے۔ پھر مسلمان ان کے تیروکمان اور ترکشوں سے سات سال تک آگ جلاتے رہیں گے اور آسمان سے اس زور کی بارش برسے گی کہ کوئی ہستی نہ رہے گی اور جنگل میں کوئی خیمہ نہ بچے گا جس میں بارش نہ ہو۔ یہاں تک کہ تمام زمین میں پانی کی نالیوں کی طرح پانی ہی پانی ہوگا۔ پھر زمین کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ اپنے پھل اور اپنی

293

سب برکت ظاہر کر دے تو وہ برکت ظاہر ہوگی کہ ایک انار سے ایک جماعت کا پیٹ بھر جائے گا اور اس کا چھلکا ان کے سایہ کے لئے کافی ہوگا اور اونٹنی کے ایک مرتبہ کے دودھ میں اتنی برکت ہوگی کہ ایک دودھ والی اونٹنی کئی کئی جماعتوں کے لئے کافی ہوگی اور ایک دودھ کی گائے ایک قبیلہ کو اور ایک دودھ کی بکری ایک چھوٹے خاندان کو کافی ہوگی۔ مخلوق خدا اسی فراغت وعیش کی حالت میں ہوگی کہ ایک اچھی ہوا چلے گی اور اس سے مسلمانوں کی بغلوں میں پھوڑے نکل آئیں گے اور ان سب کو موت آجائے گی اور صرف بدترین قسم کے کافر بچ رہیں گے جو گدھوں کی طرح منظر عام پر زنا کرتے پھریں گے۔ ان ہی پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسلم شریف)}

اس روایت میں جو حصہ مقام نہبل کے بعد سے سات سال تک تیروکمان چلانے کا ہے وہ امام ترمذیؒ کا روایت کردہ ہے۔

اس حدیث میں دجال کا تذکرہ قدرے محل غور ہے۔ اس کے مباحث اپنے محل میں آئیں گے۔ ان میں سے صرف ایک بات کی تشریح یہاں کرنی مناسب ہے۔ حدیث مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے زمانہ میں ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا۔ حتیٰ کہ اس ایک دن میں ایک سال کی نمازیں ادا کرنی ہوں گی۔ دن کی اس طوالت کی صورت کیا ہو گی؟ اس کا حدیث میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک جب دنیا میں ان عجائبات کے ظہور کا زمانہ شروع ہو جائے گا تو عالم کے موجودہ نظم ونسق کے تحت ان واقعات کے حل کرنے اور سمجھنے کی کوشس کرنی بھی مفت کی دردسری ہے۔ تاہم حضرت شاہ رفیع الدینv نے اپنے رسالہ ’’علامات قیامت‘‘ میں شیخ محی الدین ابن عربیؒ سے نقل کیا ہے کہ مصائب وآلام کے ان ہنگاموں میں اگر عام گردوغبار اور غلیظ ابر کی وجہ سے رات ودن متمیز نہ ہوسکیں تو کچھ بعید نہیں ہے۔ آج بھی معمولی بارشوں میں عصرومغرب وعشاء کی نمازوں میں تقدیم وتاخیر ہوجانا معمولی بات ہے۔ پس بہت ممکن ہے کہ اس سب سے بڑے فتنے کے ظہور کے وقت جس طرح روحانیت کا عالم تاریک درتاریک ہوگا۔ اسی طرح عالم عنصریات بھی گردوغبار اور ابروباراں کی وجہ سے اتنا مکدر اور تاریک ہوجائے کہ صحیح طور پر یہ اندازہ ہی ممکن نہ رہے کہ رات کب ختم ہوئی اور دن کب آیا اور تھوڑے بہت فرق کے ساتھ فضاء عالم یکساں نظر آنے لگے۔ ان حالات میں اس کے سواء اور کیا صورت ہوگی کہ اوقات نماز کا صرف ایک اندازہ

294

رکھا جائے۔ رہا گھڑیوں کا سوال تو گوگھڑیاں موجود ہیں۔ مگر سب جانتے ہیں کہ خاص کر عرب میں نمازوں کا تعلق اب بھی آفتاب کے طلوع وغروب ہی کے ساتھ ہے۔ یعنی غروب آفتاب پر یہاں سب گھڑیوں میں ۱۲بجادئیے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے تمام سال میں یہاں مغرب وعشاء کا وقت کبھی نہیں بدلتا۔ یعنی مغرب ہمیشہ بارہ بجے اور اس کے بعد عشا ہمیشہ ڈیڑھ بجے کے قریب ہوتی ہے اور اس لئے روزمرہ غروب آفتاب کے ساتھ ساتھ گھڑی کو بھی موسموں کے لحاظ سے آگے پیچھے کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے شہروں میں تاریخ کی تبدیلی نصف شب کے بعد ہوتی ہے۔ یہاں ہمیں اس پر گفتگو کرنی نہیں ہے کہ ان دونوں نظاموں میں کون سا نظام معقول اور بہتر ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ چونکہ موجودہ عقل کے سامنے مادی ہرمشکل مشکل ہے لیکن اس کے مقابلہ میں صحیح سے صحیح حدیثوں کا انکار یا تاویل کوئی مشکل نہیں اس لئے دماغوں میں یہ سوال گزر سکتا ہے کہ گھڑیوں کے بعد نمازوں کے اوقات میں اب کوئی مشکل نہیں ہوسکتی۔

(اس تفصیل میں اس وقت ہم جانا پسند نہیں کرتے کہ جس زمانے میں ان مصنوعات کا تصور بھی دماغوں میں موجود نہ ہو۔ اس میں ایک امّی قوم کے سامنے ان جدید آلات کا تذکرہ کرنا ایک سیدھی بات کے سمجھنے میں کتنی مشکلات کا باعث بن سکتا تھا۔ غالباً اسی مصلحت سے یاجوج وماجوج کے خاص آلات حرب کے نام بھی تذکرہ میں نہ آئے ہوں پھر یہ کسی کو خبر ہے کہ ایٹمی طاقتوں کے اسلام کے نتیجہ میں آئندہ قوانین جنگ میں آلات حرب کی اجازت کس حد تک رہ جائے گی۔ بہرحال جب تک مستقبل حوادث کے متعلق یہ تفصیلات حدیث میں نہیں آئیں تو صرف اپنے دماغی سوال جواب سے ان ثابت شدہ تفصیلات کا انکار کرنا کسی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا جو صحیح طریقوں سے معرض بیان میں آچکی ہیں)

اس کے علاوہ حدیث مذکور میں حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی بھی کچھ تفصیلات مذکور ہیں۔ ان کو آپ خالی الذہن ہوکر باربار پڑھیں پھر یہ سوچیں کہ عربی زبان کے مطابق کیا ان تفصیلات میں کسی مجازواستعارہ کا ارادہ کیاگیا ہے۔ ہم کومجاز استعارہ سے انکار نہیں مگر آپ کو بھی حقیقت سے انکار نہ ہونا چاہئے۔ اگر سیاق کلام سے یہ واضح ہورہا ہے کہ یہاں متکلم نے یقینا استعارہ مجاز سے کا نہیں لیا تو پھر بے وجہ کھینچ کھینچ کر ایک حقیقت کو استعارہ ومجاز کا لباس پہنانا لاحاصل ہے۔

295

ابھی آپ حضرت ابن عباسq کی یہ روایت پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ جب آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو اس وقت ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ یہ کرشمہ قدرت ہے کہ جب وہ نازل ہوں گے تو اس وقت بھی یونہی نظر آئے گا کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ گویا وہ غسل کر کے ایک دروازہ سے نکلے تھے اور پانی خشک ہونے سے پہلے اب دوسرے دروازہ سے داخل ہورہے ہیں۔ جس عالم میں نہ دن ہو نہ رات نہ سردی ہو نہ گرمی اور نہ صحت ہو نہ مرض پھر اس عالم میں اگر پانی کے یہ قطرے بھی کسی تغیر سے محفوظ رہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

پھرجس خداتعالیٰ میں یہ قدرت ہے کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کے سانس کو پرندوں کی زندگی کا سبب بنادے۔ اس میں یہ طاقت کیوں نہیں کہ اسی سانس کو وہ دجال کے حق میں سم قاتل قراردے دے۔ اسی طرح یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ دجال جیسی قوت کو وہ ان کے صرف ایک اشارہ سے ہلاک کر دے اور دوسری طرف یاجوج وماجوج کے مقابلہ سے عاجز بناکر طور کی گوشہ نشینی پر مجبور کر دے تاکہ ایک طرف دنیا کو یہ واضح ہوجائے کہ جس پر دعویٰ الوہیت کی تہمت لگائی گئی تھی وہ تو مدعی الوہیت کا قاتل ہے اور دوسری طرف یہ بھی واضح ہو جائے کہ جس نے ایک مدعی الوہیت کو قتل کیا ہے وہ خود خدا نہیں بلکہ وہ تو ایک بیچارہ بشر ہے اور اس طرح طاقت وضعف کے ان دونوں مظاہروں میں اصل خدائے قہار ہی کی طاقت کا جلوہ نظر آئے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر وطغیان کی طاقتوں کو قدرت نے پہلے ہی قدم پر سزا نہیں دے دی ہے بلکہ استدراج وامہال کا قانون برابر ان کے ساتھ جاری رہا ہے۔ فرعون ونمرود شداد وہامان کی داستانیں پڑھ لو تم کو ثابت ہوگا کہ جب کفر وطغیان اپنی پوری طاقت کو پہنچ چکا ہے تو اس کے بعد پاداش عمل کے قانون نے ان کو پکڑا ہے۔ پھر وہی سنت یہاں یاجوج وماجوج کے ساتھ بھی جاری ہوگی۔ جب وہ آسمان والوں کے قتل سے مطمئن ہوجائیں گے تو پھر ایسے ہی طریقوں سے ان کو ہلاک کیا جائے گا جو آسمان والے کی طرف سے ہوگا تاکہ عالم علوی کی شکست کا جواب سب غلط ہوکر رہ جائے۔ پھر دنیا کے خاتمہ پر وہی ایک دین رہ جائے گا جو حضرت آدمm کے دور سے شروع ہوا تھا اور آسمان وزمین کی وہی برکتیں ظاہر ہوں گی جو ان کے دور میں ظاہر ہوچکی ہیں اور اس طرح سے: ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘ کا دوسرا نقشہ بھی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ خداتعالیٰ نے کن حکمتوں

296

سے عالم کو بچھایا، کن حکمتوں سے اس کو پھیلایا، پھر کن حکمتوں سے اس کو سمیٹے گا یہ خود ہی جانتا ہے۔ ہم بے وجہ ہر جگہ ان کے سمجھنے کے لئے اپنی ٹانگ اڑاتے ہیں۔

  1. دریا محیط خویش موجے دارد

    خس پندارد کہ ایں کشاکش بادیست

ذکر عیسٰیm فی محاورتہ مع النبیa لیلۃ المعراج انہ نازل قبل قیام الساعۃ وانہ قاتل الدجال ولم یذکر فیہ انہ ینزل لاصلاح ہذا الامۃ خاصۃً وانما یکون ہذا من وظائف امامہا

شب معراج میں حضرت عیسیٰؑ کا آنحضرتa سے یہ تذکرہ کرنا کہ قیامت کی آمد کا صحیح وقت ان کوبھی معلوم نہیں مگر صرف یہ معلوم ہے کہ اس سے پہلے ان کو دجال کو قتل کرنا ہے اس ضمن میں انہوں نے امت محمدیہ کی اصلاح کا ایک حرف بھی ذکر نہیں فرمایا کیونکہ یہ خدمت دراصل خود اس امت ہی کے ایک شخص کے متعلق ہوگی اس کے بعد پھر عیسیٰؑ کی طرف منتقل ہو جائے گی۔

۱۷… ’’عن ابن مسعود عن النبیa قال لقیت لیلۃ اسریٰ بی ابراہیم وموسٰی وعیسٰی قال فتذکروا امر الساعۃ فردوا امرہم الٰی ابراہیم فقال لا علم لی بہا فردوا الامر الی موسٰی فقال لا علم لی بہا فردوا الامر الٰی عیسٰی فقال اما وجبتہا فلا یعلم بہا احد الااﷲ تعالٰی ذالک وفیما عہد الیّٰ ربی عزوجل ان الدجال خارج قال ومعی قضیبان فاذا رانی ذاب کما یذوب الرصاص قال فیہلکہم اللہ تعالٰی حتّٰی ان الحجر والشجر لیقول یا مسلم ان تحتی کافراً فتعال فاقتلہ قال فیہلکہم اللہ تعالٰی ثم یرجع الناس الٰی بلادہم واوطافہم قال فعند ذالک یخرج یاجوج وماجوج وہم من کل حدب ینسلون فیطئون بلادہم لایأتون علٰی شیٔ الا اہلکوہ ولا یمرون علٰی ماء الا شربوہ ثم یرجع الناس الی فیشکونہم فادعوا علیہم فیہلکہم اللہ تعالٰی ویمیتہم حتّٰی تجوی الارض من نتن ریحہم قال فینزل اللہ عزوجل المطر فتجرف اجسادہم حتّٰی یقذفہم فی البحر قال ابی ذہب علی ہہنا شیٔ لم افہمہ کادیم وقال یزید یعنی ابن ہارون ثم تنسف الجبال وتمد الارض مد الادیم ثم رجع الٰی حدیث ہشم قال ففیما عہد
297
الیّٰ ربی عزوجل ان ذالک اذا کان کذالک فان الساعۃ کالحامل المتم التی لایدری اہلہا متی تفجؤہم بولادہا لیلاً اونہاراً (رواہ احمد فی مسندہ ج۱ ص۳۷۵ والحاکم فی المستدرک وقال صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ وواقفہ الذہبی علی ذالک فی التلخیص واقر الحافظ فی الفتح من نزول عیسٰیm واخرجہ ابن ماجہ ص۲۹۹ باب خروج الدجال وعیسٰی بن مریم وخروج یاجوج ماجوج وابن ابی شیبہ وابن جریر ابن المنذروا بن مردویہ والبیہقی کذافی الدرالمنثور ج۴ ص۳۳۶)‘‘

{ابن مسعودq نبی کریمa سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم وموسیٰ اور عیسیٰo سے بھی میری ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے باہم قیامت کا ذکر چھیڑا۔ آخر فیصلہ کے لئے انہوں نے حضرت ابراہیمm کے سامنے معاملہ پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا مجھ کو تو صحیح وقت کی کچھ معلومات نہیں۔ پھر معاملہ موسیٰm کے سامنے آیا۔ انہوں نے بھی اپنی لاعلمی کا اظہار فرمایا۔ جب عیسیٰؑ کے سامنے معاملہ آیا تو انہوں نے فرمایا قیامت کے آنے کا ٹھیک وقت تو بجز ایک ذات اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو بھی نہیں ہے۔ ہاں! صرف اتنی بات میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ فرمایا ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی اور جب اس کی نظر مجھ پر پڑے گی تو وہ اس طرح پگھل جائے گا۔ جیسے سیسہ (آگ میں) پگھل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کر دے گا پھر یہ نوبت آجائے گی کہ درخت اور پتھر آوازیں دے دے کر کہیں گے او مسلمان! دیکھ یہ میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے۔ لپک کر آ اور اس کو بھی قتل کر۔ آخر کافر سب ہلاک ہو جائیں گے پھر لوگ اپنے اپنے شہر اور وطن کو واپس ہوں گے تو اس وقت یاجوج وماجوج کی قوم کا حملہ ہوگا اور وہ ہر پست زمین سے نکل نکل کر بکھر پڑیں گے۔ بستیوں میں گھس پڑیں گے جس جس چیز پر بھی ان کا گزر ہوگا اس کو برباد کر ڈالیں گے اور جس پانی پر سے گزریں گے وہ سب پی کر ختم کر دیں گے۔ آخر لوگ شکایت لے کر میرے پاس آئیں گے۔ میں ان پر بددعا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ میری بددعا سے ان سب کو ہلاک کر دے گا اور وہ سب مرجائیں گے۔ تمام زمین ان کی بدبو سے سڑ جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو ان کی نعشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گی۔ راوی کہتا ہے کہ اس مقام پر میرے والد نے کچھ فرمایا

298

تھا وہ لفظ میری سمجھ میں نہ آیا صرف کادیم کا لفظ سننے میں آیا۔ یزید بن ہارون راوی کہتا ہے پوری بات یہ تھی کہ پھر پہاڑ دھن دئیے جائیں گے اور زمین جانور کے چمڑے کی طرح پھیلا کر سیدھی کر دی جائے گی۔ اس کے بعد پھر اصل حدیث بیان فرمائی کہ عیسیٰؑ نے فرمایا اور منجملہ ان باتوں کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمائی ہیں یہ ہے کہ جب ایسا ہو تو پھر قیامت کو اتنی نزدیک سمجھنا چاہئے جیسا وہ گابھن جانور جس کے بچہ کی پیدائش کی مدت پوری ہوچکی ہو اور اس کے مالک ہر وقت اس انتظار میں ہوں کہ دن رات میں نہ معلوم کب بچہ پیدا ہو جائے۔}

دیکھئے یہاں جب قیامت کا تذکرہ آیا اور جواب کی نوبت سیدنا حضرت عیسیٰؑ پر آئی تو انہوں نے اپنی لاعلمی کے ساتھ ساتھ فوراً اسی بات کا تذکرہ فرمایا جو قیامت کے ساتھ یقین کے اسی درجہ میں ہے۔ یعنی ان کا پھر تشریف لانا اور دجال کو قتل کرنا۔ احادیث میں کہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے تشریف لانے کا اصل مقصد اس امت کی اصلاح ہوگی تاکہ یہ سوال پیدا ہو کہ اس امت کی اصلاح کے لئے اسرائیلی رسول کی آمد میں اس امت کی کسر شان ہے۔ حالانکہ یہ سوال ہی جاہلانہ ہے۔ ہم آج بھی خداتعالیٰ کے سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارے لئے نہ صرف یہ کہ یہ موجب شرف ہے بلکہ مدار نجات ہے تو پھر اگر کوئی رسول آکر ہماری اصلاح کرتا ہے تو ہمارے لئے اس میں کسر شان کی بات کیا ہے۔ ہاں! اگر کسی رسول کی آمد سے ہمارے رشتہ امیت پر زدپڑتی ہے اور وہ ہم کو دوسری امت بنانا چاہتا ہے تو اس میں صرف ہماری کسر شان نہیں بلکہ آنحضرتa کی کسر شان بھی ہے۔ والعیاذ باﷲ!

من اہم وظائف عیسٰیm من قتل الدجال

حضرت عیسیٰؑ کی خدمات میں سب سے نمایاں ترخدمت دجال کو قتل کرنا ہے۔

۱۸… ’’عن ابی امامۃ الباہلی فی حدیث طویل من ذکر الدجال فقالت ام شریک بنت ابی یا رسول اللہ فاین العرب یومئذ قال العرب یومئذ قلیل وجلہم ببیت المقدس وامامہم رجل صالح فبینما امامہم قد تقدم یصلی بہم الصبح اذا نزل علیہم عیسی ابن مریم الصبح فرجع ذالک الامام ینکص یمشی قہقری لیقدم عیسٰی لیصلی فیضع عیسٰی یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ تقدم فیصل فانہا لک اقیمت فیصلی بہم امامہم فاذا انصرف قال عیسٰیm افتحوا الباب فیفتح ورأہ الدجال ومعہ سبعون
299
الف یہودی کلہ ذوسیف محلی وتاج فاذا نظر الیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ہاربا ویقول عیسٰی ان لی فیک ضربۃ لن تسبقنی بہا فیدرکہ عند باب اللد للشرقی فیقتلہ فیہزم اللہ الیہود (الی قولہ) ویترک الصدقۃ فلا یسعٰے علٰی شاۃ ولا علٰی بعیر وترفع الشحناء والتباغض وتنزع حمۃ کل ذات حمۃ حتّٰی یدخل الولیدۃ یدہ فی الحیۃ فلا تضرہ وتقر الولیدۃ الاسد فلا یضرہا ویکون الذئب فی الغنم کانہ کلبہا وتملاء الارض من المسلم کما یملاء الاناء من الماء وتکون الکلمۃ واحدۃ فلا یعبد الا اللہ تعالٰی (الحدیث اخرجہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵ باب خروج الدجال وابن ماجہ ص۲۹۷،۲۹۸ واللفظہ لہ ورواہ ابن ہبان وابن خزیمۃ فی صحیحہما والضیا فی المختارہ فقلہ کذالک فی شرح المواہب للزرقانی ص۵۳ من ذکر المعراج)‘‘

{ابوامامہ باہلیq دجال کی ایک طویل حدیث میں نقل کرتے ہیں کہ ام شریک نے کہا یا رسول اللہ ! اس دن یعنی دجال کے زمانہ میں عرب کہاں چلے جائیں گے (کہ مسلمانوں کا یہ ابتر حال ہو جائے گا) فرمایا اس وقت عرب بہت کم رہ جائیں گے اور اکثر وہ بیت مقدس میں ہوں گے اور اس وقت ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا۔ اس اثناء میں کہ یہ امام صبح کی نماز پڑھانے آگے بڑھ چکا ہوگا کہ دفعتاً عیسیٰؑ اترآئیں گے۔ یہ ان کو دیکھ کر مصلی سے پچھلے پیروں الٹے ہٹ آئیں گے تاکہ عیسیٰؑ کو نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھائیں تو عیسیٰؑ (شفقت کے انداز میں) اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے۔ آگے بڑھو اور تم ہی نماز پڑھاؤ کیونکہ اس نماز کی اقامت تو تمہارے ہی نام سے کہی گئی ہے۔ چنانچہ یہ نماز تو یہی امام پڑھائیں گے۔ نماز سے فراغت کے بعد عیسیٰؑ فرمائیں گے دروازہ کھولو۔ دروازہ کھولا جائے گا ادھر دجال نکل چکا ہوگا۔ اس کے ہمراہ سترہزار یہودی ہوں گے۔ ہر ایک کے پاس مزین تلوار اور سرپر طیلسان ہوگا۔ جب دجال کی نظر عیسیٰؑ پر پڑے گی تو وہ نمک کی طرح پگھل جائے گا اور بھاگنے لگے گا۔ عیسیٰؑ فرمائیں گے میرے لئے تیرے نام کی ایک ضرب مقدر ہوچکی ہے۔ اس سے بچ کر تو مجھ سے کہاں نکل سکتا ہے۔ آخر اس کو باب لد پر پکڑ لیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ سب یہودیوں کو شکست

300

دے دے گا۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ صدقہ دینے کے لئے کوئی فقیر نہ ملے گا۔ لہٰذا بیت المال کی طرف سے کوئی شخص نہ بکری وصول کرنے والا رہے گا اور نہ اونٹ وصول کرنے والا اور بغض وکینہ سب دلوں سے نکل جائے گا اور تمام زہریلے جانوروں کے ڈنگ بیکار ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک چھوٹی سی لڑکی سانپ کے سوراخ میں ہاتھ ڈالے گی تو وہ اس کو نہ کاٹے گا اور شیر کو دوڑائیں گے تو وہ اس کو کچھ نہ کہے گا اور بکریوں کے ریوڑ میں بھیڑیا اس طرح ساتھ ساتھ پھریں گے جیسے ریوڑ کا کتا اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی۔ جیسے برتن پانی سے اور صرف ایک خدا کی توحید باقی رہ جائے گی اور ایک اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ ہوگی۔}

سبحان اللہ ! جس شخصیت عظمیٰ کی برکات یہ ہوں وہ یقینا کوئی معمولی انسان نہیں ہوسکتا۔ ضرور وہ کوئی خداتعالیٰ کا قدوس نبی ہونا چاہئے اور یقینا وہ کوئی ایسا ہی رسول ہونا چاہئے۔ جس کے سب سے بڑے دشمن یہود ٹھہر چکے ہوں اور جس کے جھوٹے قتل کے گھمنڈ میں ایک بار وہ ملعون ٹھہر چکے ہوں۔ دوسری بار اسی کے ہاتھ سب موت کے گھاٹ اتاردئیے جائیں۔ انبیاءo سے عداوت اور بغاوت کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکل سکتا۔ اس بد خصلت کی بدولت پہلے وہ نبوت سے محروم کر دئیے گئے تھے اور آخر میں صفحہ ہستی سے نیست ونابود کر دئیے جائیں گے۔ بے شک جو قوم حضرت عیسیٰؑ کے بعد آنحضرتa جیسے رأفت ورحمت والے رسول کے ساتھ بھی اپنا طریق کار نہ بدلے۔ ان کی وجہ سے دنیا کو پاک کرنے ہی میں انسانیت کی فلاح ہے۔ ’’انت ان تذرہم یضلوا عبٰدک ولا یلدوا الا فاجراً کفاراً‘‘

شاید موجودہ زمانہ میں اطراف عالم سے سمٹ سمٹ کر ان کا ایک جگہ جمع ہونا اسی قومی استیصال کے لئے پیش خیمہ ہو۔ حدیث مذکور سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی تشریف آوری کا اہم مقصد دجال کا قتل کرنا ہے اور چونکہ اس کا مقابلہ براہ راست انبیاءo کے ساتھ ہے۔ اسی لئے ہر نبی نے اس کی آمد سے اپنی امت کو ڈرایا ہے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ اس کے قتل کے لئے خداتعالیٰ کے رسولوں ہی میں سے کوئی رسول آئے جو چھوٹے چھوٹے دجال اس سے قبل بھی ظاہر ہوتے رہے وہ اسی امت کے ہاتھوں ہلاک ہوتے رہے۔ لیکن جو دجال کہ خاتم الدجاجلہ یعنی سب دجالوں کے آخر میں آئے گا

301

اور خدائی افعال کے شعبدہ بازیاں ظاہر کرے گا۔ اس کے قتل کے لئے ایک نبی ہی کی تشریف آوری ضروری تھی۔ اس صورت میں اس امت کے لئے یہ کتنی بڑی کرامت اور شرافت ہوگی کہ جب اس پر کوئی خارجی حملہ ہو تو ان کی ہمدردی کے لئے خداتعالیٰ کے رسول پیش قدمی فرمائیں اور وہ بھی بڑی تمناؤں اور بڑے فخر کے ساتھ۔ کیسے تعجب کی بات ہے جس بات میں اس امت کی شرافت تھی اسی کو برعکس اہانت سمجھا جائے۔ ’’ومن لم یجعل اللہ لہ نوراً فمالہ من نور‘‘

نزول عیسٰیm وظہور کرامۃ ہذہ الامۃ وشرفہا فی ذالک

حضرت عیسیٰؑ کی تشریف آوری اور اس میں آنحضرتa کی امت کی ظہور برتری

۱۹… ’’عن جابر بن عبداﷲ قال سمعت رسول اللہ a یقول لا تزال طائفۃ من امتی یقاتلون علٰی الحق ظاہرین الٰی یوم القیامۃ قال فینزل عیسی بن مریمn فیقول امیرہم تعال فصل لنا فیقول لا ان بعضکم علٰی بعض امراء تکرمۃ اللہ علٰی ہذہ الامۃ (مسلم ج۱ ص۸۷ باب نزول عیسٰی بن مریم ومسند احمد ج۳ ص۳۴۵،۳۸۴)‘‘

{جابربن عبداﷲq بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ aکو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق کے مقابلہ پر جنگ کرتی رہے گی اور وہ تاقیامت اپنے دشمنو ں پر غالب رہے گی۔ اس کے بعد آپa نے فرمایا آخر عیسیٰ بن مریم اتریں گے (نماز کا وقت ہوگا) مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا تشریف لائیے اور نماز پڑھادیجئے۔ وہ فرمائیں گے یہ نہیں ہوسکتا۔ اس امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اکرام واعزاز ہے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کے امام وامیر ہو۔}

اس امت کی شرافت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ اس کے رسول کی وفات پر اتنی طویل مدت گزرجانے پر بھی اس میں ایسے افراد موجود رہیں کہ اسرائیلی سلسلہ کا ایک مقدس رسول آکر بھی اس کی امامت کو برقرار رکھے اور اس کے پیچھے آکر نماز میں اس کی اقتداء کر لے اور اس کا اعلان بھی کرے کہ جس کرامت وشرافت کے تم پہلے مستحق تھے اتنی مدت دراز کے بعد آج بھی اسی شرافت وکرامت کے مستحق ہو۔ سوچئے اور ذرا انصاف فرمائیے کہ اگر حضرت عیسیٰؑ تشریف لاکر اس طرح اس امت کے پیچھے اقتداء نہ فرماتے تو کیا یہ ثابت

302

ہوسکتا تھا کہ جوامت کل تک خیرامت کہی جاتی تھی آج بھی وہ اپنی اسی شرافت پر باقی ہے۔ یوں تو پہلے نبیوں کے دور میں بھی امت کے افراد لائق سے لائق تر گزرے ہیں مگر آخر کچھ مدت کے بعد ہی ان کا حشر کیا کچھ نہیں ہوگیا جو نبوتوں کے مستحق تھے وہ لعنت کے تحت آگئے یا نہیں۔ لیکن ایک یہ امت بھی ہے جس کی شرافت میں اتنی طویل مدت گزرنے پر بھی ذرا فرق نہیں آیا۔

یہ حقیقت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب ہم اس طرح بھی نظر کرتے ہیں کہ آنحضرتa کے سفر آخرت کے وقت بھی ایک نماز کا نقشہ یہی تھا کہ مرض الموت میں آپa نے منصب امامت کو سب سے بزرگ صدیق اکبرq کے سپرد کر دیا تھا۔ اس درمیان میں ایک ایسا وقت آیا کہ ان کی امامت میں خود آنحضرتa نے تشریف لاکر ان کے پیچھے نماز ادا فرمائی اور درحقیقت یہ اس کا اعلان تھا کہ یہ امت اب اس کمال کو پہنچ چکی ہے کہ ایک رسول کی نماز اس کے پیچھے اداہوسکتی ہے۔ لہٰذا اب سمجھ لینا چاہئے کہ رسول کی آمد کا جو مقصد اعظم ہوتا ہے وہ پورا ہوچکا ہے۔ اس لئے رسولوں کے دستور کے مطابق اس کی وفات کا وقت بھی آجائے تو تعجب کی بات نہیں۔ ایک طرف امامت واقتداء کا یہ نقشہ آپ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھئے اس کے ہزارسال سے کہیں زیادہ مدتوں کے بعد امامت واقتداء کا یہ دوسرا نقشہ بھی رکھیں جو یہاں حدیث میں آپ کے سامنے موجود ہے تو آپ کو بداہتہً ثابت ہو جائے گا کہ جس مدت میں پہلی امتیں ہلاک ہو ہوکر دنیا سے نیست ونابود ہوچکی ہیں۔ یہ امت اس سے زیادہ مدت گزرنے پر بھی اپنی اسی شرافت وکرامت پر باقی ہے جو کبھی اس کو اپنے عہد کمال میں حاصل تھی۔ اس سے جہاں ایک طرف اس امت کی بزرگی کا ثبوت ملتا ہے اس سے بڑھ کر آنحضرتa کی روحانیت عظمیٰ اور آپa کے کمالات کا ثبوت ملتا ہے اور یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ آپa حقیقی معنی میں خاتم النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ جب قیامت تک آپa کی امت میں اس صفت کے لوگ موجود رہیں کہ اگر کوئی قدیم رسول آئے تو بے تکلف وہ ان کے پیچھے آکر نماز ادا کر لے تو اس سے صاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپa آخری رسول ہیں اور آپa کے بعد کسی رسول کی ضرورت باقی نہیں ہے۔ یہ اچھی طرح ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اصل وظائف رسالت ونبوت خدائی دین کی تاسیس واشاعت ہے۔ کسی خاص شخص کا قتل کرنا اصل وظائف

303

رسالت میں داخل نہیں ہے۔ خداتعالیٰ کے بہت سے رسول وہ ہیں جو قتل کرنے کی بجائے خود دشمنوں کے ہاتھ مقتول ہوگئے ہیں مگر کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے وظیفہ نبوت کی ادائیگی میں ذرا سا بھی قصور کیا تھا۔ والعیاذ باﷲ!

پس حضرت عیسیٰؑ کے دجال کو قتل کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جدید رسالت کی حیثیت سے تشریف لائیں گے بلکہ یہ خدمت کسی حکمت سے ان کے سپرد کی گئی ہے۔ جیسا کہ بہت سے امور حضرت خضرm کے سپرد ہوئے مگر ان عجائبات سے ان کی رسالت کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ چنانچہ آج تک امت میں اختلاف ہے کہ وہ رسول تھے یا نہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کا بنی اسرائیل کے لئے صاحب شریعت رسول ہونا۔ قرآن کریم سے ثابت ہے اور ان پر ہر امت کو ایمان لانا یہ ان کی رسالت کا حق ہے جو پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے۔ لیکن آنحضرتa کے بعد چونکہ شریعت صرف آپa کی شریعت ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰؑ بھی آکر اسی کی اتباع فرمائیں گے بلکہ حضرت موسیٰm صاحب تورات بھی آجائیں تو ان کے لئے بھی شریعت یہی شریعت ہوگی۔ اگر کوئی کامل سے کامل رسول کسی بڑی شریعت کا اتباع کرتا ہے تو اس سے اس کی نبوت ورسالت میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ بہت سے انبیاءo گزرے ہیں جن کی اپنی کوئی شریعت ہی نہ تھی۔ لیکن پھر وہ خداتعالیٰ کے نبی کہلائے پھر جو شریعت کہ سب شرائع کی جامع ہو۔ اگر کوئی رسول آکر اس کی اتباع کرتا ہے تو اس میں اس کی رسالت کے خلاف بات کیا ہے؟ لہٰذا یہ سوال کتنا نامعقول ہے حضرت عیسیٰؑ تشریف لائیں گے تو کیا رسالت کی صفت ان سے سلب کر لی جائے گی۔ جی نہیں۔ وہ رسول ہی ہوں گے اور جس طرح اس وقت ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں اس طرح اس وقت بھی ایمان رکھیں گے۔ صرف اتباع شریعت کا مسئلہ ہے تو جب ہر رسول کی اپنی شریعت میں نسخ ومنسوخ ہونے سے اس میں کوئی فرق نہیں آتا اسی طرح اگر ایک شریعت منسوخ ہوکر دوسری شریعت آجائے تو اس سے بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کے کمالات وہی ہیں اس پر ایمان رکھنا اسی طرح ضروری ہے اور جس شریعت کی وہ دعوت دے اس کی اتباع ہر وقت لازم ہے۔ پس پہلے زمانے میں ان کی شریعت انجیل تھی اور نزول کے بعد اب ان کے لئے قرآن کریم شریعت ہوگا۔ پہلے جب وہ شریعت انجیل کے

304

داعی تھے اس وقت قرآن کریم نہ تھا اور جب وہ تشریف لائیں گے تو ان سے پہلے انجیل منسوخ ہوچکی ہوگی اور ان کے سامنے قرآنی شریعت ہوگی۔ لہٰذا اب وہ خود بھی اسی کا اتباع فرمائیں گے۔ کسی شریعت کے خاص خاص احکام یا شریعت کے منسوخ ہوجانے سے رسالت کے مسلوب ہونے نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سوال نہ یہاں پیدا ہوتا ہے اور نہ اس حدیث میں پیدا ہوتا ہے جو موسیٰm کے متعلق آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر بالفرض وہ آکر آپ کی شریعت کی اتباع کریں تو کیا اپنی رسالت سے معزول ہو جائیں گے۔ والعیاذ باﷲ!

۲۰… ’’عن عثمان بن ابی العاص قال سمعت رسول اللہ a یقول (فذکر الحدیث وفیہ) وینزل عیسی بن مریمm عند صلٰوۃ الفجر فیقول ہٰذہ الامۃ الامراء بعضہم لبعض فیقدم امیرہم فیصلی فاذا قضٰی صلٰوۃ اخذ عیسٰی حربتہ فیذہب نحو الدجال فاذا یراہ الدجال ذاب کما یذوب الرصاص فیضع حربۃ بین ثندوتہ فیقتلہ وینہزم اصحابہ لیس یومئذ شیٔ یواری منہم احداً حتّٰی ان الشجرۃ لتقول یامؤمن ہٰذا کافرو یقول الحجریا مؤمن ہذا کافر (اخرجہ احمد فی مسندہ ج۴ ص۲۱۶،۲۱۷ بطریقین واخرجہ ابن ابی شیبہ والطبرانی والحاکم ج۵ ص۶۷۴،۶۷۵ حدیث نمبر۸۵۲۰ باب نزول عیسٰیm من السماء وصحیحہ کذافی الدرالمنثور ج۲ ص۲۴۳ وعن جابر نحوہ وہکذا عند ابی یعلی عنہ وفیہ انت احق بعضکم امراء علی بعض اکرم اللہ بہ ہذہ الامۃ کذافی الحاوی للسیوطیؒ ج۲ ص۱۶۷ ولیست ہذہ الروایۃ فی رسالۃ الشیخ قدس سرہ وفی روایۃ فیقول لہ عیسٰی انما اقیمت الصلٰوۃ لک فیصلی خلفہ کذافی البدایہ والنہایہ ج۲ ص۹۹ باب صفتہ عیسٰیm شمائلہ فضائلہ)‘‘

{عثمان بن ابی العاصq روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ a کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ عیسیٰؑ فجر کی نماز میں اتریں گے تو اس وقت مسلمانوں کا جو امیر ہوگا وہ ان سے عرض کرے گا اے روح اللہ ! آگے تشریف لاکر نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے یہ امت اپنی فضیلت کی وجہ سے خود ہی ایک دوسرے کی امیر ہے۔ اس پر وہ امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں گے جب نماز ختم ہو جائے گی تو اس کے بعد عیسیٰؑ اپنا نیزہ لے کر دجال کی

305

طرف جائیں گے۔ وہ جب ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا۔ جیسا آگ پر سیسہ پگھل جاتا ہے۔ وہ اپنا نیزہ اس کے سینہ کے درمیان لگائیں گے اور اس کو ختم کر دیں گے اور اس کا سب گروہ منتشر ہو جائے گا اور کوئی چیز ان کو پناہ نہ دے گی۔ یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی یہ کہے گا اے مومن! میری آڑ میں یہ کافر موجود ہے۔ اس کو بھی قتل کردے۔}

دوسری روایت میں حضرت عیسیٰؑ کا جواب اس طرح منقول ہے کہ اس نماز کی اقامت آپ ہی کے نام کی ہوئی ہے۔ یہ کہہ کر وہ ان ہی کے پیچھے نماز ادا کریں گے؟

انما ینزل عیسٰیm من بین سائر الانبیاءo

خاصۃ لانہ اولٰی الناس بالنبیa

۲۱… ’’عن ابی ہریرۃ ان النبیa قال لیس بینی وبینہ نبی یعنی عیسٰی وانہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض بین ممصرتین کان رأسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویہلک اللہ فی زمانہ الملل کلہا الا الاسلام ویہلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵ باب خروج الدجال واخرجہ ابن ابی شیبۃ واحمد فی مسندہ ج۲ ص۴۰۶ وابن حبان فی صحیحہ وابن جریر ج۶ ص۲۲ کذافی الدر المنثور ج۲ ص۲۴۲ البدائیہ والنہائیہ ج۲ ص۹۹ باب صفۃ عیسٰیm وصحہ الحافظ فی الفتح من نزول عیسٰیm)‘‘ {ابوہریرہq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے میرے اور عیسیٰؑ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ وہ ضرور اتریں گے جب تم ان کو دیکھنا تو پہچان لینا کہ وہ میانہ قد سرخ وسفید رنگ کے اور دوزعفرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہوں گے۔ ان پر وہ شگفتگی وتازگی ہوگی یوں معلوم ہوگا کہ ان کے سر مبارک سے پانی کے قطرے اب ٹپکے۔ اگرچہ ان پر پانی کی نمی بھی نہ ہوگی۔ وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو چورا چورا کر ڈالیں گے۔ سورکو قتل کریں گے۔ جزیہ کی رسم اٹھادیں گے۔ ان کے دور میں اللہ تعالیٰ تمام مذاہب ختم کر دے گا اور صرف ایک مذہب اسلام باقی رہ جائے گا اور ان کے دست

306

مبارک پر اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کرے گا۔ چالیس سال تک وہ زمین پر زندہ رہیں گے اس کے بعد ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ ادا کریں گے۔ (ابوداؤد)}

حجہ واتیانہ علی قبر النبیa وسلامہ وردہ علیہ علیہما الصلٰوۃ والسلام

۲۲… ’’وعن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ a قال لیہلن عیسی بن مریم بفج الروحاء بالحج اوبالعمرۃ اویثینہما جمیعاً (رواہ مسلم ج۱ ص۴۰۸ باب جواز التمتع فی الحج والقران واخرجہ مسند احمد ج۲ ص۵۱۳ ولفظہ ینزل عیسٰی بن مریم فیقتل الخنزیر ویمحوا الصلیب وتجمع لہ الصلٰوۃ ویعطی المال حتّٰی لایقبل ویضع الخراج وینزل الروحاء فیحج منہا اویعتمر اویجمعہما وتلا ابوہریرۃ وان من اہل الکتاب الا لیؤمننّٰ بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا فزعم حنظلۃ ان ابا ہریرۃ قال یؤمن بہ قبل موت عیسٰی فلا ادری ہذا کلہ حدیث النبیa ام شیٔ قالہ ابوہریرۃ تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۸ مسند احمد ج۲ ص۲۹۰ واخرجہ ابن جریر مثلہ والحاکم وصححہ والفظہ لیہبطن ابن مریم حکما عدلا واماما مقسطاً ولیسلکن فجا حاجا اومعتمر اولیا تین قبری حتٰی یسلم علی ولاردن علیہ یقول ابوہریرۃ ای بنی اخی ان رأیتموہ فقولوا ابوہریرۃ یقرئک السلام درمنثور ج۲ ص۲۴۵)‘‘ {ابوہریرہq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ عیسیٰؑ ضرور مقام فج روحاء پر حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔ (مسلم شریف) مسند احمد میں حدیث کے پورے الفاظ یہ ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام اتریں گے سور کو قتل کریں گے۔ صلیب کا نام ونشان باقی نہ چھوڑیں گے اور مال اتنا تقسیم کریں گے کہ اس کو قبول کرنے والا نہ ملے گا اور جزیہ وخراج اٹھادیں گے اور مقام فج روحاء میں حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔ اس کی شہادت میں ابوہریرہq نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمننّٰ بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ یعنی اہل کتاب میں کوئی شخص ایسا نہ رہے گا جو ان کی وفات سے پہلے یقینا ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت میں عیسیٰؑ ان پر گواہ ہوں گے۔ حنظلۃ (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں ابوہریرہq نے کہا: ’’قبل موتہ‘‘ سے مراد عیسیٰ علیہ

307

الصلوٰۃ والسلام کی موت سے پیشتر ہے۔ اب یہ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ تفسیر سبھی آنحضرتa کی جانب سے ہے یا یہ خود ابوہریرہq نے بیان فرمائی ہے۔}

یتزوجm ویولد لہ ثم یتوفی ویدفن وبیان موضع دفنہ

حضرت عیسیٰؑ کا نزول کے بعد شادی کرنا پھر ولادت ہونی اس کے بعد آپ کی وفات اور مقام دفن کا ذکر۔

۲۳… ’’عن عبداﷲ ابن عمر مرفوعاً ینزل عیسی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ الحدیث وغراہ الکتاب الوفاء واخرجہ ابن المراغی فی المدینۃ وابن الجوزی فی المنتظم وہکذافی المشکوٰۃ ص۴۸۰ باب نزول عیسٰیm کتاب الفتن‘‘ {عبداﷲ بن عمرq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا: عیسیٰ بن مریمm زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی۔}

۲۴… ’’عن ابی ہریرۃ مرفوعاً طوبٰی لعیش بعد المسیح یوذن للسماء فی القطر… ویوذن الارض فی النبات حتّٰی لوتذر حبک فی الصفا لنبت وحتّٰی یمرالرجل علٰی الاسد فلا یضرہ ویطاء علٰی الحیۃ فلا تضرہ ولا تشاحن ولا تباغض اخرجہ ابوسعید النقاش فی فوائد العراقین کذافی الکنز ج۱۴ ص۳۳۳ حدیث نمبر۳۸۸۴۴ باب نزول عیسٰیm ابوسعید عنہ‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا عیسیٰؑ کے نزول کے بعد زندگی اور فارغ البالی کے کیا کہنے، آسمان کو بارش کا حکم مل جائے گا اور زمین کو پیدائش کا۔ حتیٰ کہ اگر تم پتھر پر دانہ ڈال دو گے تو بھی وہ جم جائے گا اور اتنا امن ہوگا کہ آدمی شیر کے قریب سے گزرے گا اور وہ اس کو ذرا نقصان نہیں پہنچائے گا اور بغض وکینہ کا کہیں نام ونشان نہ رہے گا۔}

۲۵… ’’عن محمد بن یوسف بن عبداﷲ بن سلامq عن ابیہ عن جدہ قال مکتوب فی التوراۃ صفۃ محمد رسول اللہ a وعیسٰی بن مریم یدفن معہ (اخرجہ الترمذی ج۲ ص۲۰۲ باب ماجاء فی فضل النبیa وحسنہ کذافی
308

الدرالمنثور ج۲ ص۲۴۵ قلت وقد تکلم فی اسنادہ الحافظ ابن کثیر فی البدایۃ والنہایۃ ج۲ ص۹۹ وقال فی اسناد روایۃ الترمذی ہذہ عثمان بن ضحاک والصواب الضحاک بن عثمان المدنی خصائص الکبریٰ ج۲ ص۴۴ مشکوٰۃ ص۵۱۵ باب فضائل سید المرسلین)‘‘ {عبداﷲ بن سلامq کہتے تھے کہ تورات میں محمدa کی صفات میںسے ایک صفت یہ بھی لکھی ہے کہ عیسیٰؑ آپa کے پاس دفن ہوں گے۔}

عجیب بات ہے کہ رسول اللہ a نے عیسیٰؑ کے حق میں ’’اولی الناس‘‘ کا لفظ فرمایا تھا اس کا ظہور یوں ہوا کہ اوّل تو آپa کے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں گزرا۔ گویا دونوں کے زمانے متصل متصل رہے۔ پھر اسی مناسبت کی وجہ سے وہی آپa کی امت میں تشریف لائیں گے اور یوں بھی ہوا کہ دفن بھی آپa کے پاس ہی آکر ہوں گے۔ زمانی اور مکانی اور موت کی یہ خصوصیات ان کے سوا کسی اور نبی کو میسر نہیں آئیں۔

۲۶… ’’عن عبداﷲ بن سلام قال یدفن عیسٰی مع رسول اللہ a وصاحبیہٖ فیکون قبرہ رابعا (اخرجہ البخاری فی تاریخہ والطبرانی درمنثور ج۲ ص۲۴۵)‘‘ {عبداﷲ بن سلامq بیان کرتے تھے کہ عیسیٰؑ آکر رسول اللہ a اور آپa کے دوجاں نثار یعنی ابوبکرq اور عمرq کے پاس دفن ہوں گے اور اس لحاظ سے ان کی قبر چوتھی ہوگی۔}

۲۷… ’’عن عائشۃt قالت قلت یا رسول اللہ انی اری انی اعیش من بعدک فتأذن لی ان ادفن الٰی جنبک فقال وانّٰی لک بذالک من موضع مافیہ الا موضع قبری وقبر ابی بکروعمر وعیسٰی بن مریم (اخرجہ ابن عساکر کذافی الکنز ج۱۴ ص۶۲۰ حدیث نمبر۳۹۷۲۸ باب نزول عیسٰیm وفی فصل الخطاب باسناد المستغفری فی دلائل نبوت لہ)‘‘ {حضرت عائشہt فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ a کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ a میرا خیال ہوتا ہے شاید میں آپa کے بعد تک زندہ رہوں گی تو آپa مجھ کو اس کی اجازت دیں کہ میں آپ کے پہلو میں دفن ہوں۔ آپ نے فرمایا میں اس کی بھلا کیسے اجازت دے سکتا ہوں۔ یہاں تو صرف میری قبر اور ابوبکرq وعمرq کی قبریں اور عیسیٰؑ کی قبر مقدر ہے۔}

309

ختم نبوت

محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ

310

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ اما بعد!

محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کی تصنیف لطیف ترجمان السنۃ جلد اوّل کے ص۳۷۹ سے ۴۲۶ تک رحمت عالمa کی وصف خاص وامتیازی شان ’’ختم نبوت‘‘ کو اچھوتے انداز میں بیان کیاگیا ہے۔ قرآن وسنت کے حوالے سے ایسا مدلل ومبرہن کیا ہے کہ منکرین ختم نبوت کے سارے اوہام باطلہ وخیالات رکیکہ ہباء منثورا ہوگئے ہیں پڑھئے نور ایمان سے دل جگمگا اٹھے گا۔

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

کان النبیa نبیا واٰدم بین الروح والجسد

۱… ’’عن ابی ہریرۃ قال قالوا یا رسول اللہ متٰی وجبت لک النبوۃ قال واٰدم بین الروح والجسد (رواہ الترمذی ج۲ ص۲۰۲ باب ماجاء فی فضل النبیa وقال ہذا حدیث حسن)‘‘

آنحضرتa نبوت سے اس وقت سرفراز ہوچکے تھے جب کہ حضرت آدمm

میں نفخ روح بھی نہ ہوا تھا

{ابوہریرہq سے روایت ہے کہ صحابہi نے دریافت کیا یا رسول اللہ a آپ کو نبوت کب ملی فرمایا اس وقت جب کہ حضرت آدمm ابھی روح وجسم کے درمیان تھے (یعنی ان میں روح نہیں پھونکی گئی تھی) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن کہا ہے۔}

حافظ سخاویؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث کے مشہور الفاظ:’’کنت نبیا واٰدم بین الماء والطین‘‘ ہمیں کسی حدیث کی کتاب میں نہیں مل سکے۔ حافظ سیوطیؒ نے ان کا صاف طور پر انکار کر دیا ہے البتہ اس کا مضمون قابل تسلیم سمجھا ہے۔ خفاجی شرح شفاء میں

311

تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے دو تین باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

۱… آپ کا عالم ارواح میں نبوت سے حقیقتاً سرفراز ہونا۔

۲… جس طرح صفت وجود میں آپ کی ذات سب سے مقدم تھی اسی طرح صفت نبوت میں بھی آپ کا سب سے مقدم ہونا۔

اس مضمون کی پوری توضیح کے لئے اس تفصیل کا نقل کرنا ضروری ہے جو حافظ تقی الدین سبکیؒ نے آیت میثاق کی تفسیر میں لکھی ہے: ’’واذ اخذ اللہ میثاق النّبیین لما اٰتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جآء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمننّٰ بہ ولتنصرنّٰہ (آل عمران:۸۱)‘‘ {اور وہ وقت یاد دلائیے جب کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا تھا کہ ہم جو تمہیں کتاب وحکمت دیں پھر خداکا کوئی رسول تمہارے پاس آئے اور جو کتاب تمہارے ساتھ ہو اس کی تصدیق کرے تو (دیکھو) ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔}

حافظ موصوف نے اس آیت کی شرح میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور اس کا نام ’’التعظیم والمنۃ فی معنی قولہ لتؤمننّٰ بہ ولتنصرنّٰہ‘‘ رکھا ہے۔ یوسف بن اسماعیل نبہانی نے جواہر البحار میں اس رسالہ کو بجنسہ نقل کیا ہے۔ خفاجی نے صرف اس کے منتشر ٹکڑے لئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ازل میں انبیاءo سے آنحضرتa کے لئے اسی نمونہ کا عہد لیاگیا تھا جیسا کہ امتوں سے نبیوں کے لئے یارعایا سے خلفاء کے لئے اطاعت ونصرت کا عہد لیا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انبیاءo کے درمیان آپ کا منصب عالی وہ تھا جو امتوں میں انبیاءo کا منصب ہوتا ہے۔ اس لئے اور انبیاء تو صرف نبی ہیں اور آنحضرتa نبی الانبیاء ہیں۔ یہ حقیقت اگرچہ عالم اجسام میں صاف طور پر عیاں نہیں ہوسکی۔ مگر عالم ارواح اور اس عالم سے ماورا عالم میں جہاں بھی دیگر انبیاءo کے ساتھ آپ کا اجتماع ہوگیا ہے ظاہر ہوگئی ہے پہلی بار یہ اجتماع شب معراج میں ہوا تھا جب کہ نماز کے لئے امام کی تلاش ہورہی تھی۔ اس وقت تمام انبیاءo کی صفوں میں امامت کی مستحق آپa ہی کی ذت گرامی ٹھہری۔ گویا امت میں امامت کا جو حق کہ نبی کا ہوتا ہے۔ وہی حق انبیاءo میں آنحضرتa کا قرار پایا۔ دوسرا اجتماع محشر میں ہوگا۔ وہاں بھی سب انبیاءo آپa ہی کے زیرلواء اور آپa ہی

312

کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ جیسا کہ ہر امت اپنے اپنے نبی کے جھنڈے کے نیچے ہوگی۔ تیسری بار شفاعت کا مرحلہ ہے یہاں بھی سب کے خطیب وامام آپa ہی کی ذات مبارک ہوگی۔ بالفاظ دیگر یوں سمجھئے کہ جو منصب نبوت آپa کو اس امت کے لئے حاصل ہے وہی منصب آپa کو بلحاظ انبیاءo بھی حاصل ہے۔

البتہ اس کا ظہور ان کے ساتھ اجماع پر موقوف ہے۔ عالم کی تاریخ میں یہ اجتماع کل تین جگہ ثابت ہوتا ہے اور تینوں جگہ آپa کا یہ منصب عالی ظاہر ہوا ہے مگر اس عالم میں بھی انبیاءo کا آپa کے ساتھ اجتماع ہو جاتا تو یہ حقیقت یہاں بھی آشکارا ہو جاتی۔ چنانچہ آخر زمانہ میں جب حضرت عیسیٰؑ تشریف لائیں گے تو ان کا تعلق آپa کی شریعت کے ساتھ وہی ہوگا جو تمام امت کا ہے اور اسی لئے اس اتباع سے ان کی نبوت میں کوئی ادنیٰ شائبہ نقصان بھی لازم نہ آئے گا۔ اسی طرح اگر آپa گزشتہ انبیاءo کے زمانہ میں تشریف لے آتے تو وہ بھی اپنی اپنی رسالت پر باقی رہتے ہوئے آنحضرتa کا اتباع ہی فرماتے اور اس اتباع کی وجہ سے ان کی رسالت میں بھی کوئی نقص لازم نہ آتا۔

رہا مختلف شریعتوں کا معاملہ تو جس طرح مختلف نبوتیں آنحضرتa کی نبوت کے ماتحت ہیں اسی طرح مختلف شریعتیں مختلف زمانوں میں امتوں کے لحاظ سے حضورa کی شریعتیں ہیں۔ پس یہودونصاریٰ کے لحاظ سے آنحضرتa کی شریعت تورات وانجیل تھی اور امت محمدیہ کے لحاظ سے آپ کی شریعت قرآن شریف ہے۔ اگر زمانوں اور اشخاص کے اعتبار سے احکام مختلف ہوجائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

مذکورہ بالا تحقیق سے دوحدیثوں کی مراد روشن ہوگئی۔

۱… ’’بعثت الی الناس کافۃ (مسند احمد بن حنبل رقم:۲۷۴۲، مسلم رقم:۵۲۳، شرح مشعل لہ تار طحاوی رقم:۴۴۸۸)‘‘ میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں عام طور پر عموم بعثت کے معنی صرف یہ سمجھے جاتے تھے کہ آپ قیامت تک سب انسانوں کے لئے رسول ہیں لیکن اس تحقیق سے ظاہرہوگیا کہ آپ کی نبوت کا تعلق صرف مستقبل سے نہیں بلکہ ماضی ومستقبل دونوں سے ہے۔ حضرت آدمm سے لے کر آنحضرتa تک سب رسول آپa کی نبوت کے ماتحت ہیں۔ اگرچہ ماتحتی کی نوعیت بدلی ہوئی ہو۔

313

۲… ’’حدیث کنت نبیا وادم بین الماء والطین (التذکرہ فی الاحادیث اعشتہرہ ص۱۷۲، جامع المسائل لابن تمیمہ ج۴ ص۳۰۶)‘‘ اس حدیث کی مراد صرف یہ سمجھی جاتی تھی کہ حضرت آدمm کی پیدائش سے پہلے اللہ تعالیٰ کو آپa کی نبوت کا علم حاصل تھا۔ مگر اس میں آپa کی کیا خصوصیت ہے۔ دوسرے انبیاءo کی نبوتوں کا علم بھی اللہ تعالیٰ کو اسی طرح حاصل تھا جیسا کہ آنحضرتa کی نبوت کا۔

اس تحقیق کی بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ آنحضرتa کو حضرت آدمm میں نفخ روح سے پہلے نبوت سے نوازا جاچکا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قدرت کی طرف سے کسی کمال کے افاضہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی وہ عالم وجود میں آنے کے بعد کمال کا افاضہ کرتی ہے اور کبھی وجود سے پہلے عالم ارواح ہی میں اس کمال سے نوازدیتی ہے۔ جس کا ظہور قالب انسانی میں مقدر ہوچکا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کمال کا علم اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کو یکساں ہوتا ہے۔ ہاں! مخلوق کو پہلی صورت کا علم اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کہ وہ کمال اس کے مشاہدہ میں آجائے اور دوسرے کمال کے علم کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ کوئی مخبر صادق اس کی خبر دے۔ یہاں آنحضرتa کے ارشاد سے ہمیں اس بات کا علم ہوگیا ہے کہ کمال نبوت آپa کو اس وقت حاصل ہوچکا تھا جب کہ حضرت آدمm انسانی صورت پر استوار بھی نہ ہونے پائے تھے اور اسی وقت انبیاءo سے آپ کے لئے ایمان ونصرت کا عہد بھی لے لیاگیا تھا تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپa کی رسالت عامہ ان کو بھی شامل ہے اس لحاظ سے سب سے پہلے نبی آپa ہوئے مگر چونکہ جسد عنصری کے لحاظ سے آپa کا ظہور سب سے آخر میں ہوا ہے۔ اس لئے آپa آخرالانبیاءo بھی کہلائے مگر اس معنی سے نہیں کہ آپa کو نبوت سب سے آخر میں ملی ہے۔

بلکہ اس معنی سے کہ آپa کا ظہور سب کے آخر میں ہوا ہے ورنہ منصب نبوت کے لحاظ سے آپa کی ولادت سے قبل اور ولادت کے بعد چالیس سال کی عمر سے پہلے اور اس کے بعد کے زمانہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کو ایک مثال سے یوں سمجھئے کہ اگر ایک شخص اپنی لڑکی کی شادی کے لئے کسی کو وکیل بناتا ہے تو بلاشبہ یہ وکالت صحیح ہے اور اسی وقت سے اس کو تصرف کرنے کا حق بھی حاصل ہے لیکن اس تصرف کا ظہور اس پر موقوف ہے کہ پہلے کہیں اسے کفوملے تو وہ شادی کرے بعض مرتبہ مدتوں کفو نہیں ملتا اور اس وکالت کا کوئی اثر

314

ظاہر نہیں ہوتا۔ مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ شخص وکالت سے موصوف نہیں یا اس کو اس سے پیشتر حق تصرف حاصل نہیں۔ اسی طرح آپa کی نبوت کا معاملہ سمجھنا چاہئے۔ یہاں جسم عنصری کی شرط صرف تصرفات نبوت کے ظہور کے لئے ہے۔ بنفس منصب نبوت کے لئے نہیں۔ اصل یہ ہے کہ کسی حکم کا کسی شرط سے تعلق دوطرح پر ہوتا ہے۔ کبھی فاعل متصرف کے اعتبار سے، کبھی محل قابل کے لحاط سے، یہاں آنحضرتa کی نبوت کے لئے جسم عنصری کی شرط فاعل متصرف کی طرف سے نہ تھی۔ کیونکہ حق تعالیٰ نے آپa کو منصب نبوت سے عالم ارواح ہی میں سرفراز کردیا تھا۔ جسم ناسوتی کی شرط تھی تو صرف اس لئے تھی کہ مبعوث الیہم میں جسم کے بغیر استفادہ کی قابلیت نہ تھی۔ تصرفات نبوت یعنی احکام الٰہیہ کی تبلیغ اس پر موقوف تھی کہ آپa جسم عنصری میں تشریف لاکر ان سے خطاب کریں۔ کلام الٰہی انہیں سنائیں اور سمجھائیں۔

اگر مخاطبین میں ان امور کی اس سے قبل صلاحیت ہوتی تو وہ کمال نبوت کا اس سے قبل بھی ادراک کر لیتے۔ اس لئے قالب انسانی کی شرط یہاں نفس نبوت کے لئے نہیں بلکہ قصور مخاطبین کے لحاظ سے تھی۔ سبکیؒ متوفی ۷۵۶ سے پہلے حافظ ابونعیم اصبہانیؒ (متوفی:۴۳۰) اور شیخ محی الدین بن عربیؒ (متوفی:۶۳۸) نے فتوحات مکیہ کے باب:۱۰ ص۶۴ میں اور امام رازیؒ (متوفی:۶۰۶) نے اپنی تفسیر میں پھر بعد میں ابن حجر ہثیمیؒ (متوفی:۹۷۳) اور زرقانیؒ (متوفی:۱۱۲۲) وغیرہم نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔

خفاجیؒ کو تقی سبکیؒ کی اس رائے سے اختلاف ہے وہ اور انبیاءo کے حق میں آپa کا یہ علاقہ تسلیم نہیں کرتے اور فرماتے ہیں کہ صرف تعظیم وتوقیر عظمت ونصرت کے عہد سے اتنا اہم علاقہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ ہمارے نزدیک اس کے خلاف پر جووجوہات انہوں نے قائم کئے ہیں اس کا جواب ممکن ہے۔ مگر احتیاط یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس بحث سے سکوت اختیار کیا جائے۔ نہ تو اس کا دعویٰ کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اس سے انکار کرنے کی حاجت۔ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لئے صرف آپa کی سیادت وقیادت کا اعتقاد کافی ہے۔ اب یہ بحث کی ابنیاءo کے لئے بھی یہ سیادت اسی درجہ کی تھی جس درجہ کی اس امت کے لئے غیرضروری بحث ہے۔ علامہ خفاجیؒ کو سبکیؒ کی دوسری بحث بلاکسی اختلاف کے تسلیم ہے۔ یعنی یہ کہ آنحضرتa کو منصب نبوت سب سے پہلے عالم

315

ارواح ہی میں مرحمت ہوچکا تھا اوراس حدیث کا منشاء صرف یہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آپa کی نبوت کا علم تھا یہ ایک بدیہی اور غیرمفید سی بات ہے۔(نسیم الریاض ج۱ ص۳۰۰تا۳۰۴)

شیخ اکبرv نے اس مضمون کو بڑی رنگینی سے ادا کیا ہے۔ اس کا نقل کرنا موجب طوالت ہے۔ اہل علم کی ضیافت طبع کے لئے یہاں صرف چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔

  1. الا بابی من کان ملکا وسیدا

    و ادم بین الماء والطین واقف

(سن لو میرے ماں باپ اس پر قربان جو اس وقت بادشاہ اور سردار بن چکا تھا جب کہ آدمm ابھی آب وگل کے درمیان ہی پڑے ہوئے تھے)

  1. فذاک الرسول الا بطحی محمد

    لہ فی العلی مجد تلید و طارف

(یہ وہی مکی رسول ہیں جن کا نام نامی محمدa ہے اور جن کو ہر قسم کی نئی پرانی بزرگیاں حاصل ہیں)

  1. اتی بزمان السعد فی اخر المدی

    وکانت لہ فی کل عصر مواقف

(آپa کی آمد مدتوں بعد ایک خوش بخت زمانہ میں ہوئی مگر آپa کی شہرت ہر دور میں رہی ہے)

  1. اتی لانکسار الدہر یجبر صدعہ

    فاثنت علیہ السن و عوارف

(آئے اور ایک شکستہ حال زمانہ کی اصلاح کرنے کے لئے آئے۔ اس لئے زبان خلق اور بخششیں آپa کی ثناء خواں ہے)

  1. اذارام امرا لا یکون خلافہ

    ولیس لذاک الامرنی الکون صارف

(جب آپa کسی بات کا عزم کر لیتے ہیں تو پھر اس کا خلاف نہیں ہوتا اور نہ عالم میں اس سے کوئی مانع نظر آتا ہے)

جعل النبیa خاتم النّبیین واٰدم بین الماء والطین

آنحضرتa اس وقت خاتم النّبیین بنادئیے گئے تھے، جب کہ حضرت آدمm ابھی آب وگل ہی میں تھے۔

316

۲… ’’عن عرباض بن ساریۃ عن النبیa انہ قال انی عند اللہ مکتوب خاتم النّبیین وان اٰدم لمنجدل فی طینتہٖ (رواہ فی شرح السنۃ واحمد فی مسندہ ج۴ ص۱۲۷،۱۲۸ کما فی المشکوٰۃ ص۵۱۳ باب فضائل سید المرسلینa والبیہقی والحاکم ج۳ ص۱۹۴ حدیث۳۶۱۹ کتاب التفسیر کما فی المواہب وقال الحاکم صحیح الاسناد وفی شرحہ رواہ ابن حبان فی صحیحہ ایضا وفی الکنز ج۱۱ ص۴۱۸ حدیث۳۱۹۶۰ ج۱۱ ص۴۴۹ حدیث ۳۲۱۱۴ فی لفظ لہذا الحدیث عند ابن سعد فی ام الکتاب خاتم النّبیین الحدیث)‘‘ {عرباض بن ساریہq فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے میں خدا کے نزدیک اس وقت خاتم النّبیین مقرر ہوچکا تھا۔ جب کہ آدمm ابھی گارے کی شکل ہی میں پڑے ہوئے تھے (یعنی ان میں روح نہیں پھونکی گئی تھی) اس حدیث کو شرح السنۃ میں اور امام احمدv نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔ کنزالعمال میں بحوالہ ابن سعد اس حدیث کے لفظ میں بجائے عند اللہ کے ام الکتاب کا لفظ ہے۔ اب حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ میں لوح محفوظ میں خاتم النّبیین لکھا جاچکا تھا۔ گویا ابن سعد کے لفظ کو مسند امام احمد کی شرح سمجھنا چاہئے۔}

مواہب میں ہے کہ:’’واخرج مسلم ج۲ ص۳۳۵ من حدیث عبداﷲ بن عمرو بن العاص عن النبیa انہ قال ان عزوجل کتب مقادیر الخلق قبل ان یخلق السموات والارض بخمسین الف سنۃ وکتب فی الذکر ان محمداً خاتم النّبیین‘‘ {عبداﷲ بن عمرو بن العاص صحیح مسلم میں آنحضرتa سے روایت کرتے ہیں آپa نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل اپنی ہر مخلوق کا اندازہ لکھ دیا تھا اور لوح محفوظ میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ محمدa خاتم النّبیین ہیں۔}

یعنی جب عالم تکوین کی ہر معمولی سے معمولی چیز مقدر ہوئی تو جن کے وجود پر عالم تکوین کی آبادی کا مدار تھا۔ ان کا خاتم النّبیین ہونا بھی اسی وقت مقدر ہوچکا تھا۔

اس روایت کا آخری فقرہ اگرچہ صحیح مسلم کے موجودہ نسخوں میں نہیں ملتا۔ مگر جب مصنف مواہب نے اس کو بحوالہ مسلم نقل کیا ہے تو ضرور ان کے نسخہ میں موجود ہوگا۔ واضح رہے کہ اس حدیث کا منشاء بھی صرف تحریر وکتابت نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ خلعت ختم نبوت

317

آپa کو اس وقت پہنایا جاچکا تھا۔ جب کہ ابوالبشر نے خلعت وجود بھی نہیں پہنا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰؑ نے ارشاد فرمایا ہے:’’عن ابن عباسq فی حدیث الشفاعۃ فیاتون عیسی فیقولون اشفع لنا الی ربنا فیقض بیننا فیقول انی لست ہناکم انی اتخدت وامی الہین من دون اللہ ولٰکن ارائیتہم لوان متاعاً فی وعائً قد ختم علیہ اکان یوصل الی مافی الوعاء حتی یقبض الخاتم فیقولون لافیقول فان محمداa قد حضر الیوم وقد غفرلہ ماتقدم من ذنبہ وماتأخر رواہ ابوداؤد الطیالسی ص۳۵۳ وفی لفظ احمد ج۱ ص۲۸۲ وابی یعلی ان محمداa خاتم النّبیین قد حضر الیوم‘‘ {ابن عباسq شفاعت کی طویل حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ قیامت میں شفاعت کے لئے آخرکار لوگ عیسیٰؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ ہی ہمارے پروردگار سے سفارش کیجئے تاکہ ہمارا حساب لے لئے۔ وہ فرمائیں گے میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں اس سے شرمندہ ہوں کہ میرے امتیوں نے مجھے اور میری ماں کو خدا بنالیا تھا۔ لیکن بتلاؤ اگر کسی برتن کو بند کر کے اس پر مہر لگادی جائے کیا اس برتن کی چیز اس وقت تک لے سکتے ہو؟ جب تک اس کی مہر نہ توڑ دو۔ لوگ کہیں گے ایسا تو نہیں ہوسکتا۔ عیسیٰؑ فرمائیں گے پس محمدa (جو انبیاءo کے خاتمہ پر مہر ہیں) آج موجود ہیں۔ ان کی آئندہ اور گزشتہ سب لغزشیں معاف ہوچکی ہیں۔ (ان کے پاس جاؤ) مسند احمد اور ابویعلی کے لفظ یہ ہیں کہ محمدa خاتم النّبیین ہیں اور آج یہاں موجود ہیں۔ ان الفاظ میں حضرت عیسیٰؑ نے صرف تقدیر کا ذکر نہیں فرمایا۔ بلکہ اس نوازش الٰہیہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ازل میں خلعت ختم نبوت پہنا کر آنحضرتa پر ہوچکی تھی۔ اس لئے شفاعت کا حق ان ہی کا ہے۔}

عرباضq کی اس حدیث میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عالم کی ہدایت کے وقت ہی اس کی نہایت آپa کے دورہ نبوت پر مقدر ہوچکی تھی۔ اسی لئے آپa نے فرمایا: ’’عن بریدہq قال قال رسول اللہ a بعثت انا والساعۃ جمیعا ان کادت لتسبقی‘‘ {حضرت بریدہq فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے میں اور قیامت ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں اور مبالغہ کے ساتھ فرمایا وہ تو قریب تھی کہ مجھ سے پہلے آجاتی اور بخاری میں ہے: ’’بعثت انا والساعۃ کہاتین‘‘ آپ نے اپنی دوانگلیوں کی

318

طرف اشارہ کرکے فرمایا۔ میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی آپa کے زمانہ نبوت اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبوت حائل نہیں۔ قیامت جب بھی آئے گی آپa ہی کے دور نبوت میں آئے گی۔}(اخرجہ ابن جریرv بحوالہ مسند احمد ج۵ ص۳۴۸)

خلاصہ یہ کہ آپ کا دنیا کے آخری دور میں آنا اس وقت طے ہوچکا تھا جب کہ حضرت آدمm میں نفخ روح نہ ہوا تھا۔ گویا کہ یہ بات عالم کے وجود سے بھی پہلے ایک طے شدہ بات تھی۔ اب اس میں شبہ کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے۔

جعل النبیa اوّل النّبیین وآخرہم وکذالک امتہ اخر الامم وتکون اولہم یوم القیامۃ

آنحضرتa سب سے پہلے نبی بنادئیے گئے تھے اور سب سے آخر میںتشریف لائے ہیں اور اسی طرح آپ کی امت بھی سب سے آخر میں آئی ہے اور قیامت کے دن سب سے مقدم ہوجائے گی۔

۳… ’’عن انس فی حدیث طویل مرفوعاً قال تبارک وتعالٰی جعلت امتک ہم الاخرون وہم الاولون (الی قولہ) جعلتک اول النّبیین خلقاً واٰخرہم (الی قولی) وجعلتک فاتحاً وخاتماً (اخرجہ ابونعیم من الخصائص الکبریٰ ج۳ ص۱۶۴ باب اختصاصہa بشرح الصدر… الخ)‘‘ {حضرت انسq سے ایک طویل حدیث میں مرفوع روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تیری امت کو میں نے سب سے آخر میں بھیجا ہے اور وہ حساب میں سب سے پہلے ہوگی اور میں نے تجھ کو نبیوں میں سب سے پہلے پیدا کیا اور سب سے آخر میں بھیجا۔ تجھ کو میں نے فاتح یعنی دورہ نبوت شروع کرنے والا بنایا ہے اور تجھ کو ہی اس کا ختم کرنے والا بنایا ہے۔ اس حدیث کوابونعیم نے روایت کیا ہے۔}

۴… ’’عن سلمان فی حدیث الشفاعۃ یأتون محمداً فیقولون یا نبی اللہ انت الذی فتح اللہ بک وختم وغفرلک ما تقدم وماتأخر (رواہ ابن شیبۃ فتح الباری ج۱۱ ص۳۸۷)‘‘ {حضرت سلمانq شفاعت کی حدیث میں روایت

319

کرتے ہیں لوگ محمدa کے پاس آئیں گے اور کہیں گے۔ اے اللہ کے نبی آپa ہی وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کو شروع کیا تھا اور جن پر ختم کیا ہے اور آپa کی آئندہ اور گزشتہ سب لغزشیں معاف کر دی ہیں۔ (اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے)}

۵… ’’عن ابی ہریرہ فی حدیث الاسراء قالوا جبرئیل من ہٰذا معک قال ہذا محمد رسول اللہ a خاتم النّبیین… الی ان قال فقال لہ تبارک وتعالٰی… جعلتک اوّل النّبیین خلقاً واٰخرہم بعثاً… وجعلتک فاتحاً وخاتماً (رواہ البزار، مجمع الزوائد ج۱ ص۷۳،۷۷ باب منہ فی الاسراء)‘‘ {ابوہریرہq معراج کی حدیث میں روایت فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے جبرائیلm سے دریافت کیا تمہارے ساتھ یہ کون ہیں۔ وہ بولے محمدa ہیں جو اللہ کے رسول اور ختم النّبیین ہیں۔ (جب آپ کی دربار الٰہی میں رسائی ہوئی) تو ارشاد ہوا (اے محمدa) میں نے پیدائش کے لحاظ سے تم کو سب نبیوں سے پہلے اور بلحاظ بعثت سب سے آخر میں بھیجا ہے۔ نبوت کا شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا تم کو ہی بنایا ہے۔ اس حدیث کو بزار نے روایت کیا ہے۔}

چونکہ رسولوں کے سلسلہ میں بظاہر سب سے پہلے آنے والے رسول حضرت آدمm تھے۔ اس لئے احادیث میں اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ اصل اولیت یعنی باعتبار خلق وانصاف نبوت آنحضرتa ہی کو حاصل ہے۔ گوبلحاظ وجود عنصری حضرت آدمm کی تشریف آوری سب سے اوّل ہوگئی ہے۔

۶… ’’عن ابی قتادۃ مرسلاً انما بعثت خاتماً وفاتحاً واعطیت جوامع الکلم وفواتحہ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، کنزالعمال ج۱۱ ص۴۲۵ حدیث۳۱۹۹۴)‘‘ {ابوقتادہq مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ آپa نے فرمایا ہے نبوت کا شروع کرنے والا اور اس کا ختم کرنے والا میں ہی بھیجا گیا ہوں اور مجھے جوامع کلم اور فواتح کلم دئیے گئے ہیں۔ یعنی مختصر جملوں میں بڑے بڑے مضامین اداکرنا۔ حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔}

حکیم ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ ہر سیدوامیر کو بقدر اپنے دائرہ ولایت کے خزائن حشم وخدم درکار ہوتے ہیں۔ جو ایک قریہ یا ایک خطہ کا امیر ہوتا ہے۔ اس کے لئے اس کے

320

مناسب اور جو ایک ملک کا امیر ہوتا ہے۔ اس کے لئے اس کے مناسب آنحضرتa کو چونکہ تمام جہان کا سیدوامیر بنایاگیا ہے۔ اس لئے آپa کو اسی کے بقدر سامان ولایت کی ضرورت تھی۔ اسی لئے حدیث میں ارشاد ہے کہ:’’اوتیت خزائن الارض‘‘{مجھے زمین بھر کے خزانے مرحمت فرمادئیے گئے ہیں۔}

اور اسی لئے فرمایا: ’’اوتیت جوامع الکلم‘‘ {مجھے جامع کلمات مرحمت کئے گئے ہیں۔}

بے شک جس کی مملکت تبلیغ تمام جہان ہوں اسے مختصر جملوں میں سمندر کھپانے کی قدرت ملنی چاہئے تاکہ اس کے کچھ جملوں میں سب کچھ آجائے اور ایک اعرابی وفلسفی یکساں طور پر اس سے ہمیشہ مستفید ہوتا رہے۔

اسی بناء پر ترمذی میں ہے کہ ہر نبی کو سات نجیب ورقیب ملے ہیں۔ مجھے چودہ مرحمت ہوئے ہیں۔ غرضیکہ جوامع الکلم بعثت عامہ کے مقتضیات وضروریات میں داخل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو رسول خاص خاص قوموں کی طرف مبعوث ہوئے ان کو ایسے کلمات جامعہ مرحمت نہیں ہوئے۔ جوامع الکلم کی تفسیر ہمارے مضمون حجیت حدیث میں زیرعنوان قرآن کی جامعیت ملاحظہ کیجئے۔

۷… ’’عن قتادۃ کنت اول الناس فی الخلق واٰخرہم فی البعث (رواہ ابن سعد مرسلاً کما فی الکنز العمال ج۱۱ ص۴۰۹ حدیث۳۱۹۱۶ رواہ ابن ابی شیبہ مسند اعنہ کما فی الدرالمنثور ج۵ ص۱۸۴)‘‘ {قتادہq سے روایت ہے کہ میں سب انسانوں میں بلحاظ پیدائش پہلا ہوں اور سب انبیاء میں بااعتبار بعثت پچھلا۔ اس حدیث کو ابن سعد نے مرسلاً اور ابن ابی شیبہ نے مسنداً روایت کیا ہے۔}

۸… ’’عن ابی ہریرۃq عن النبیa فی قول اللہ عزوجل واذ اخذنا من النّبیین میثاقہم ومنک ومن نوح الایہ قال کنت اوّل النّبیین فی الخلوق واٰخرہم فی البعث (رواہ ابن ابی حاتم وابن مردویہ واابو نعیم فی الدلائل والدیلمی وابن عساکر وابن ابی شیبہ وابن جریر عن قتادہq ص۱۲۵ ج۲۱ زیرآیت واذ اخذنا من النّبیین میثاقہم وابن سعد، ابن کثیر ج۳ ص۳۶۹ زیر آیت واذ اخذنا من النّبیین میثاقہم والدرالمنثور ج۵ ص۱۸۴ الخصائص الکبریٰ

321

ج۱ ص۹ والکنزالعمال ج۱۱ ص۴۵۲ حدیث۳۲۱۲۶)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے آیت کریمہ: ’’واذ اخذنا من النّبیین میثاقہم ومنک ومن نوح‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: میں بااعتبار پیدائش کے سب سے پہلا اور بااعتبار بعثت سب سے آخری نبی ہوں۔ اس حدیث کو ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے اور دیلمی، ابن عساکر، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن سعد نے بھی روایت کیا ہے۔}

ہذہ الامۃ اخرالامم وخیرہا واولہا فی الحساب

یہ امت سب امتوں میں آخر سب سے بہتر اور حساب میں سب سے مقدم ہوگی۔

۹… ’’عن قتادۃ قال ذکر لنا ان النبیa قال ذات یوم وہو مسند ظہرہ الی الکعبۃ نحن نکمل یوم القیامۃ سبعین امۃ نحن اٰخرہا وخیرہا (رواہ ابن جریر ج۴ ص۴۵ فی تفسیر قولہ کنتم خیر امۃ الایہ الدرالمنثور ج۲ ص۶۴)‘‘ {قتادہq فرماتے ہیں کہ ہم سے بیان کیاگیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ a کعبہ سے کمر لگائے بیٹھے تھے۔ اس وقت آپ نے فرمایا ہم قیامت کے دن سترامتوں میں سے سترویں امت ہوں گے جن میں ہم سب سے آخر اور سب سے بہتر ہوں گے۔}

ان جملہ احادیث میں رسول اللہ a کو فاتح نبوت اور خاتم نبوت دونوں قراردیاگیا ہے ۔معلوم ہوا کہ ازل میں آپa کی نبوت اور ختم نبوت صرف جو تقدیر کے معنی میں نہ تھی تقدیر تو سب کے لئے یکساں ہے بلکہ اس منصب سے سرفرازی کے لحاظ سے ہے۔ آپa کی آخیرت جس طرح خارج میں تھی اسی طرح آپa کی اولیت بھی سمجھنا چاہئے اور جس طرح آپa کی اولیت تھی یعنی آپa سے پیشتر کوئی رسول نہ تھا۔ اسی طرح آپ کی آخیریت سمجھنا چاہئے۔ یعنی آپa کے بعد بھی کسی قسم کا کوئی رسول نہیں ہوگا۔

۱۰… ’’عن محمد بن حزم… تکمل یوم القیامۃ سبعون امۃ (نحن اخرہا واخیرہا رواہ الباوردی الکنزالعمال ج۱۲ ص۱۶۹ حدیث۳۴۵۱۸)‘‘ {محمد بن حزم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سترامتیں پوری ہو جائیں گی۔ جن میں ہم سب سے آخر اور سب سے بہتر ہوں گے۔ (کنزالعمال)}

322

یہ معلوم نہیں ہے کہ یہاں سترکا عدد کس مناسبت سے ذکرکیاگیا ہے۔ جب کوئی متکلم کوئی خاص عدد ذکر کرتا ہے تو اس کے ذہن میں اس عدد کا کوئی خاص معیار ہوتا ہے۔ جب تک اس کا وہ معیار اور اعتبار ذہنی معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک اس عدد پر بحث کرنا کجروی ہے۔ ایک ہی مقدار کو پیسوں کے لحاظ سے ۶۴اور آنون کے اعتبار سے ۱۶اور روپیہ کے لحاظ سے ایک کہا جاسکتا ہے۔معلوم نہیں کہ یہاں ۷۰کے عدد میں کس خاص با ت کی رعایت کی گئی ہے۔

۱۱… ’’عن عمر قال قال رسول اللہ a فی حدیث طویل یایہودی انتم الاولون ونحن الاخرون السابقون یوم القیامۃ (اخرجہ ابن راہویہ فی مسندہ وابن ابی شیبۃ فی المصنف الخصائص الکبریٰ ج۳ ص۱۹۸ باب اختصاصہa بان امۃ خیرالامم)‘‘ {حضرت عمرq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے ایک طویل حدیث میں فرمایا: اے یہودی تم لوگ ہم سے پہلے ہو اور ہم گوتم سے آخر ہیں مگر قیامت کے دن حساب میں تم سے پہلے ہوں گے۔ اس حدیث کو ابن راہویہ نے اپنی مسند میں اور ابن ابی شیبہ نے مصنف میں روایت کیا ہے۔}

۱۲… ’’عن بہزبن حکیم عن ابیہ عن جدہٖ مرفوعاً تکمل یوم القیامۃ سبعون امۃ نحن اٰخرہا وخیرہا (رواہ ابن ماجہ ص۳۱۷، باب صفۃ امۃ محمدa والدارمی ج۲ ص۳۱۳ باب فی قول النبیa انتم آخرالامم، کذافی کنزالعمال ج۱۲ ص۱۶۹ حدیث نمبر۳۴۵۱۹ رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث حسن المشکوٰۃ ص۵۸۴ باب ثواب ہذالامۃ)‘‘ {بھزبن حکیمq اپنے باپ حکیم اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں حضورa نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سترامتیں پوری ہو جائیں گی۔ ہم ان سب سے آخر اور سب سے بہتر ہوں گے۔ اس حدیث کو ابن ماجہ، دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔}

۱۳… ’’عن ابن عباس عن النبیa نحن اٰخرالامم واوّل من یحاسب یقال این الامۃ الامیۃ ونبیہا فنحن الاخرون الاولون (رواہ ابن ماجہ ص۳۱۷، باب صفۃ امۃ محمدa مسند احمد ج۱ ص۲۸۲ الکنز)‘‘ {ابن عباسq فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے کہ ہم سب سے آخری امت ہیں اور

323

قیامت میں سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا۔ پکارا جائے گا امت امیہ اور اس کا نبی کہاں ہیں؟ اس لئے گو ہم سب سے آخر میں ہیں مگر (قیامت کے دن) سب سے پہلے ہو جائیں گے۔ اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔}

۱۴… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a نحن الاخرون السابقون یوم القیامۃ بید انہم اوتوا الکتاب من قبلنا واوتینا من بعدہم (رواہ الشیخان بخاری ج۱ ص۱۲۰ باب فرض الجمعہ مسلم ج۱ ص۲۸۲ فصل فی فضیلۃ یوم الجمعۃ علی باقی الایام… الخ! والنسائی باب ایجاب الجمعۃ ج۱ ص۱۳۸،۱۳۹ الکنز العمال ج۱۲ ص۱۵۹ حدیث نمبر۳۴۴۷۵ مثلہ عندابونعیم فی الدلائل ص۹)‘‘ {ابوہریرہq فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے ہم سب سے آخر ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے ہو جائیں گے۔ صرف اتنی بات ہے کہ پہلی امتوں کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے اور ہمیں ان کے بعد ملی ہے۔ اس حدیث کو شیخین اور نسائی نے روایت کیا ہے۔}

۱۵… ’’عن حذیفۃ مثلہ ولفظہ نحن الاخرون من اہل الدنیا والاولون یوم القیامۃ (رواہ مسلم ج۱ ص۲۸۲ باب فصل فی فضیلۃ یوم الجمعہ الترغیب والترہیب ج۱ ص۵۵۱ حدیث۱۰۳۴)‘‘ {حذیفہq سے بھی یہی مضمون مروی ہے۔ اس کے لفظ یہ ہیں کہ ہم دنیا میں سب سے آخری امت ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے ہوں گے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔}

انجیل متی کے باب:۱۹ میں آیت:۲۷ سے لے کر ۳۰ تک امت محمدیہa کے اس وصف کی طرف اشارہ موجود ہے۔

’’پطرس نے جواب میں اس سے کہا کہ دیکھ ہم تو سب کو چھوڑ کر تیرے پیچھے ہو لئے ہیں۔ پس ہم کو کیا ملے گا؟ یسوع نے ان سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب ابن آدم نئی پیدائش میں اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تو تم بھی جو میرے پیچھے ہوگئے ہو بارہ تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے اور جس کسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سوگنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔ لیکن بہت سے اوّل آخر ہوجائیں گے اورآخر اوّل۔‘‘

324

ان الفاظ میں قرآن کریم کی ایک دوسری آیت کی طرف بھی اشارہ ہے:’’قل ان کان اباؤکم وابناؤکم واخونکم وازواجکم وعشیرتکم (التوبہ:۲۴)‘‘

مسجد النبیa کان اٰخر مساجد الانبیاء

آنحضرتa کی مسجد انبیاء کی مسجدوں میں آخری مسجد ہے۔

۱۶… ’’عن عبداﷲ بن ابراہیم بن قارظ اشہد انی سمعت اباہریرۃ یقول قال رسول اللہ a فانی اٰخرالانبیاء ومسجدی اٰخر المساجد (رواہ مسلم ج۱ ص۴۴۶ باب فضل الصلوۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ والنسائی ج۱ ص۲۷ باب فضل مسجد النبی ولفظہ خاتم الانبیاء وخاتم المساجد)‘‘ {عبداﷲ بن ابراہیم بن قارظv کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہq کو یہ کہنے سنا ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے میں سب انبیاء کے آخر میں ہوں اور میری مسجد بھی اب آخری مسجد ہے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور نسائی کے لفظ میں آخر کے بجائے دونوں جگہ خاتم کا لفظ ہے۔}

(آپa کی مسجد کے آخری ہونے کی شرح آگے آرہی ہے)

۱۷… ’’عن ابی امامۃ الباہلی عن النبیa فی حدیث طویل وانا اٰخرالانبیاء وانتم اٰخرالامم (رواہ ابن ماجہ ص۲۹۷ فی باب فتنۃ الدجال وابن خزیمہ والحاکم ج۵ ص۷۶۴ حدیث ۸۶۶۴ واضیاء منتخب الکنز العمال ج۱۴ ص۳۱۷، حدیث۳۸۷۹۴)‘‘ {ابوامامہ باہلیq ایک طویل حدیث میں رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ میں انبیاء میں آخر ہوں اور تم امتوں میں آخر ہو۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے فتنہ دجال کے باب میں روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ حاکم اور ضیاء الدین نے روایت کیا ہے۔}

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر آپa کے بعد کوئی اور نبی ہو تو اس امت کے بعد کوئی دوسری امت ہوگی مگر چونکہ عالم کا فنا مقدر ہوچکا ہے۔ اس لئے نہ کوئی اور نبی آئے گا نہ کوئی نئی امت۔ یہ نبی بھی آخری نبی ہے اور اس لئے امت بھی آخری امت ہے۔

325

۱۸… ’’عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ a انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء (رواہ الدیلمی وابن النجار والبزار الکنز العمال ج۱۲ ص۲۷۰ حدیث نمبر۳۴۹۹۹)‘‘{حضرت عائشہt سے روایت ہے کہ میں انبیاء میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مسجدوں میں آخری مسجد ہے۔ اس حدیث کو دیلمی، ابن النجار اور بزار نے روایت کیا ہے۔}

اس حدیث سے مسلم کی حدیث کی شرح ہوگئی اور معلوم ہوگیا کہ آپa کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح پہلے انبیاءo کے ناموں سے دنیا میں مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ا ب آئندہ چونکہ کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے۔ اس لئے کوئی نئی مسجد بھی کسی رسول کے نام سے تعمیر نہ ہوگی۔ بلکہ یہ مسجد نبوی ہی انبیاءo کی مسجدوں میں آخری مسجد رہے گی۔

قال الرب تبارک وتعالٰی لیلۃ الاسراء انہ جعلہ خاتم النّبیین

شب معراج میں پروردگار عالم کارازونیاز کے طور پر کہنا کہ اس نے آپa کو خاتم النّبیین بنایا ہے۔

۱۹… ’’عن انس قال قال رسول اللہ a لما اسری لی الی السماء قربنی ربی تعالٰی حتّٰی کان بینی وبینہ کقاب قوسین اوادنٰی لابل ادنی قال یا حبیبی یا محمد قلت لبیک یا رب قال ہل غمک ان جعلتک اخر النّبیین قلت یا رب لاقال حبیبی ہل غم امتک ان جعلتہم اخرالامم قلت یا رب لاقال ابلغ امتک عنی السلام واخبرہم انی جعلتہم اٰخرالامم (رواہ الخطیب والدیلمی الکنز العمال ج۱۱ ص۴۴۹ حدیث نمبر۳۲۱۱۱ خصائص الکبریٰ ج۳ ص۱۵۳)‘‘ {حضرت انسq فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا جب شب معراج میں مجھے آسمان پر لے گئے تو میرے پروردگار نے مجھے قریب بلایا اور بہت قریب بلایا اور کہا اے میرے حبیب! اے محمدa! میں نے کہا حاضر ہوں اے پروردگار! ارشاد ہوا اگر ہم تمہیں آخرالنّبیین بنادیں تو تم ناخوش تو نہ ہوگے۔ میں نے عرض کیا اے پروردگار! نہیں۔ پھر ارشاد ہوا اگر تمہاری امت کو آخری امت بنادیں تو وہ ناخوش تو نہ

326

ہوگی۔ میں نے عرض کیا نہیں اے پروردگار۔ ارشاد ہوا کہ اچھا تو اپنی امت کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتلادینا کہ میں نے انہیں آخری امت بنادیا ہے۔ (کنزالعمال)}

قال الرب لادمm ان ابنہ احمدa ہو الاوّل والآخر

حضرت آدمm سے حق تعالیٰ کا ارشاد کہ ان کے فرزند احمد ومحمدa سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی ہیں۔

۲۰… ’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a لما خلق اللہ عزوجل اٰدمm اخبر ببنیہ فجعل یریٰ فضائل بعضہم علٰی بعض فرأی نوراً ساطعاً فی اسفلہم قال یا رب من ہذا قال ہذا ابنک احمد ہو الاوّل وہو الاخر وہو شافع واول مشفع (رواہ ابن عساکر کما فی الکنز العمال ج۱۱ ص۴۳۷ حدیث۳۲۰۵۶)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے جب اللہ تعالیٰ نے آدمm کو پیدا کیا تو انہیں ان کی اولاد بھی بتلائی۔ آدمm انہیں دیکھنے لگے کہ بعض بعض پر فضیلت رکھتے ہیں۔ ان سب کے آخر میں ایک بلند نور دیکھا تو عرض کیا اے میرے پروردگار! یہ کون ہیں؟ ارشاد ہوا یہ تمہارے فرزند احمدa ہیں۔ یہی سب سے پہلے نبی ہیں اور یہی سب سے آخر ہیں۔ یہی قیامت میں سب سے پہلے شفاعت کریں گے اور ان ہی کی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی۔ اس حدیث کو ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔}

قال جبرئیل لادم ان محمدa اٰخر ولدک من الانبیاء

حضرت آدمm سے جبرائیلm کا ارشاد کہ محمدa انبیاءo میں آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔

۲۱… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a نزل اٰدم بالہند واستو حش فنزل جبریل فنادٰی باذان اللہ اکبر اللہ اکبر مرتین اشہد ان لا الہ الا اللہ مرتین اشہد ان محمدا رسول اللہ a مرتین قال اٰدم من محمد قال اٰخرولدک من الانبیاء (رواہ ابن عساکر الکنز العمال ج۱۱ ص۴۵۵ حدیث نمبر۳۲۱۳۹ الخصائص ج۱ ص۲۱ باب ذکرہ فی الاذان فی عہد آدم)‘‘

327

{ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے آدمm جب ہندوستان میں نازل ہوئے (اور تنہائی کی وجہ سے) گھبرائے تو جبرائیلm تشریف لائے اور اذان کہی۔ اللہ اکبر اللہ اکبر! دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ ! دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ ! دو مرتبہ (حضرت آدمm نے محمدa کا اسم گرامی سنا تو) فرمایا کہ یہ محمدa کون ہیں؟ جبرائیل نے کہا کہ انبیاء میں آپa کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔ اس حدیث کو ابن عساکرv نے روایت کیا ہے۔}

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان ابتداء عالم میں بھی ہوئی ہے ضرورت ہے کہ اس حدیث کے طرق جمع کئے جائیں تاکہ اس کے تفصیلی کلمات کا پتہ بھی مل جائے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ اذان کا ایک نفع رفع وحشت بھی ہے۔ سوم یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت آدمm کی جائے نزول ہندوستان میں کوئی جگہ ہے۔ اگر یہ حدیث صحت کو پہنچ جائے تو تاریخی لحاظ سے یہ ایک بڑی حقیقت کا انکشاف ہوگا۔ ہم نے اس حدیث کو یہاں صرف آخری جز کی وجہ سے نقل کیا ہے۔

قال جبریل للنبیa انک خاتم النّبیین کما ان اٰدم صفی اللہ

آنحضرتa سے حضرت جبرائیلm کا فرمان کہ جس طرح حضرت آدمm کا لقب صفی اللہ تھا، آپa کا لقب خاتم النّبیین ہے۔

۲۲… ’’عن سلمان فی حدیث طویل قال قال جبریل للنبیa ان ربک یقول ان کنت اصطفیت اٰدم فقد ختمت بک الانبیاء وما خلقت خلقاً اکرم علی منک (خصائص ج۳ ص۱۵۱،۱۵۲، بحوالہ ابن عساکر)‘‘ {حضرت سلمانq سے ایک طویل حدیث میں روایت ہے کہ جبرائیلm نے رسول اللہ a سے کہا آپ کا پروردگار کہتا ہے اگر میں نے آدم کو صفی اللہ کا خطاب دیا ہے تو آپa پر تمام انبیاء کو ختم کر کے (خاتم النّبیین کا خطاب دیا ہے) اور میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو مجھے آپa سے زیادہ عزیز ہو۔}

اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپa کا نبیوں میں آخر ہونا صرف ایک زمانی تاخر نہیں بلکہ خدا کے نزدیک وہ خاص فضیلت ہے جو دیگر انبیاءo کے خصوصیات کے

328

بالمقابل آپa کو مرحمت ہوئی ہے۔ عالم کا تدریجی ارتقاء بھی اسی کو مقتضی تھا کہ اس کی آخری کڑی سب میں کامل وبرتر ہو۔ اس لئے آخری نبی وہی ہونا چاہئے جو سب میں کامل اور سب سے اکرم ہو۔

مکتوب بین کتفی اٰدم محمد رسول اللہ a خاتم النّبیین

حضرت آدمm کے دونوں شانوں کے درمیان یہ لکھا ہوا تھا محمد رسول اللہ a خاتم النّبیین ہیں۔

۲۳… ’’عن جابر قال بین کتفی اٰدم مکتوب محمد رسول اللہ a خاتم النّبیین (رواہ ابن عساکر، خصائص الکبریٰ ج۱ ص۱۹ باب خصوصیۃa)‘‘ {جابرq سے روایت ہے کہ حضرت آدمm کے دونوں شانوں کے درمیان یہ لکھا ہوا تھا: ’’محمد رسول اللہ a خاتم النّبیین‘‘ ہیں۔ اس حدیث کو ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔}

آنحضرتa کی مہر نبوت بھی دونوں شانوں کے درمیان تھی۔ مگر دجال کا کفر اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہوگا۔ یعنی مہر نبوت کا مقام دونوں شانوں کے درمیان اور مہردجل وکفر کا محل پیشانی منتخب ہوا ہے۔ اس کی حکمتیں بھی علماء نے لکھی ہیں۔

الشہادۃ بختم النبوۃ جزء من الایمان کالشہادۃ بکلمۃ التوحید

عقیدہ ختم نبوت کلمہ شہادت کی طرح ایمان کا جزء ہے۔

۲۴… ’’عن زید بن حارثۃ فی قصۃ طویلۃ لہ حین جاء ت عشیرتی (من عند رسول اللہ a بعد ما اسلم) فقالو لہ امض معنا بازید فقال ما ارید برسول اللہ a بدلا ولا غیرہ احداً فقالوا محمد انا معطوک بہٰذا الغلام دیات فسم ماشئت فانا حاملوہ الیک فقال اسألکم ان تشہدوا ان لا الہ الا اللہ وانی خاتم انبیائہٖ ورسلہٖ وارسلہ معکم (الحدیث اخرجہ الحاکم مفصلاً فی المستدرک ج۴ ص۲۲۴،۲۲۵ حدیث۴۹۹۹ باب تبنی رسول اللہ a زید بن حارثہ)‘‘ {زید بن حارثہq اپنے ایک طویل قصہ میں ذکر کرتے ہیں کہ جب میں آنحضرتa کی خدمت میں آکر مسلمان ہوگیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا آپa کے پاس آیا اور مجھ سے کہا۔ اے زید! ہمارے ساتھ چلو۔ زید بولے میں رسول اللہ a کے

329

بدلہ میں کسی کو پسند نہیں کر سکتا اور نہ آپa کے سوا کسی دوسرے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ انہوں نے آنحضرتa سے مخاطب ہوکر فرمایا۔ اے محمد(a) اس لڑکے کے عوض میں ہم آپ کو بہت مال دے سکتے ہیں۔ جو آپa چاہیں بتلادیجئے ہم اسے ادا کردیں گے۔ آپa نے ارشاد فرمایا: میں تو تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں۔ وہ یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ خدا کوئی نہیں مگراﷲ اور اس کی کہ میں اس کے سب نبیوں اور رسولوں میں آخری نبی اور رسول ہوں۔ بس میں اس لڑکے کو ابھی تمہارے ساتھ بھیجے دیتا ہوں۔ (مستدرک)}

اس حدیث میں آنحضرتa نے جس طرح خدا کی توحید پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح اپنی ختم نبوت پر بھی ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرتa کی رسالت پر ایمان آپa کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم میں: ’’ولٰکن رسول اللہ ‘‘ کے ساتھ ’’وخاتم النّبیین‘‘ کا لفظ اسی لئے رکھا گیا ہے کہ آپ صرف رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ خاتم النّبیین بھی ہیں۔

اس کے برخلاف آپa سے پیشتر جتنے رسول ہوئے وہ صرف رسول اللہ تھے۔ اسی لئے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النّبیین ہے۔ یہ آنحضرتa کا مخصوص لقب ہے اور آپa نے ہی اس کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپa کا یہ لقب بطور مدح نہیں بلکہ بحیثیت عقیدہ کے ایک عقیدہ ہے۔ خاتم الشعراء اور خاتم المحدثین کی طرح صرف ایک محاورہ نہیں۔

ختم النبوۃ من خصائص النبیa

ختم نبوت انبیاءo میں صرف آنحضرتa کا طرۂ امتیاز ہے۔

۲۵… ’’عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ a قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطہوراً وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون (رواہ مسلم ج۱ ص۱۹۹ باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ مشکوٰۃ ص۵۱۲ باب فی فضائل نبیناa تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۴۹۳ زیرآیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا مجھے انبیاءo پر چھ فضیلتیں دی گئی

330

ہیں: (۱)مجھے مختصر کلمات معانی کثیرہ کے حامل دئیے گئے ہیں۔ (۲)دشمن پر رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔ (۳)میرے لئے مال غنیمت حلال کیاگیا ہے۔ (۴)تمام زمین میرے لئے مسجد اور پاک کرنے کا آلہ بنادی گئی ہے۔ (۵)تمام مخلوق کی طرف مجھے بھیجاگیا ہے۔ (۶)انبیاء کا سلسلہ میری ذات پر ختم کر دیاگیا ہے۔ (اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے)}

اس حدیث میں آنحضرتa کی چند خصوصیات شمار کی گئی ہیں۔ یہ خصوصیات صرف چھ تک محدود نہیں بلکہ بہت ہیں۔ حافظ سیوطیؒ نے اسی موضوع پر دو ضخیم جلدوں کی ایک کتاب لکھ دی ہے۔ جو خصائص الکبریٰ کے نام سے مشہور ہے۔ مفہوم عدد علماء کے نزدیک معتبر نہیں۔ یہ متکلم کے وقتی استحضار اور اس کے ذہنی اعتبار کے باعث ہوتی ہے۔ یہاں ۵،۶خصوصیتیں زیربحث ہیں۔ بقیہ خصوصیات پر اپنی اپنی جگہ بحث آئے گی۔ خصوصیت (۵) کا مطلب علماء کے نزدیک یہ ہے کہ آپa کی بعثت آپa کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے لئے ہے۔ لیکن شیخ تقی الدین سبکیؒ فرماتے ہیں کہ آپa کی بعثت آپa سے پیشتر اور آپa کے بعد دونوں زمانوں کو شامل ہے۔ آدمm سے لے کر قیامت تک آنے والی د نیا سب آپa کی بعثت کے ماتحت ہے۔ جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ خاتم النّبیین آپa کی ایک خصوصیت تھی صرف تعریفی لقب نہ تھا۔ جو مجازاً دوسروں پر بھی اطلاق ہوسکتا۔

خاتم النبوۃ کان دلیلاً علی کونہ خاتم النّبیین

مہرنبوت خود اس کی دلیل تھی کہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔

۲۶… ’’عن علی قال بین کتفیہ خاتم النبوۃ وہو خاتم النّبیین (رواہ الترمذی فی شمائلہ ص۳ باب خاتم النبوۃ)‘‘ {حضرت علیq سے روایت ہے کہ آپa کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ کیونکہ آپ خاتم النّبیین تھے۔ (اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے)}

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپa کی اس معنوی خصوصیت کو حسی شکل میں بھی ظاہر کردیاگیا تھا۔ کتب سابقہ میں بھی مہر نبوت آپa کی ایک علامت بتلائی گئی تھی۔ اسی لئے بعض طالبین حق نے منجملہ اور علامات کے آپa کی مہرنبوت کو بھی تلاش کیا

331

ہے۔ اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خاتم النّبیین آپa کا شاعرانہ لقب نہ تھا بلکہ مہر نبوت اور آخری نبی ہونے کی وجہ سے آپa کو خاتم النّبیین کہاجاتا تھا۔

دعویٰ النبیa انہ خاتم النّبیین واخرہم

آنحضرتa کا دعویٰ کرنا کہ خاتم النّبیین اور آخری نبی میں ہوں۔

۲۷… ’’عن عرباض بن ساریۃ قال قال رسول اللہ a انی عبداﷲ وخاتم النّبیین (رواہ البیہقی والحاکم ج۳ ص۱۹۴ حدیث۳۶۱۹ باب انی عبداﷲ وخاتم النّبیین وصححہ کذافی الدرالمنثور ج۵ ص۲۰۷)‘‘ {عرباض بن ساریہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا میں عبداﷲ ہوں۔ (اﷲ کا بندہ) اور میں خاتم النّبیین ہوں (آخری نبی) اس حدیث کو بیہقی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے۔}

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے لکھا ہے کہ آنحضرتa صرف معنی ترکیبی کے لحاظ سے ’’عبداﷲ نہیں ہیں بلکہ انبیاءo میں‘‘ عبداﷲ آپa کا لقب بھی تھا۔

قرآن کریم میں ’’عبداﷲ بطور لقب صرف آپ کی ذات پر اطلاق ہوا ہے۔‘‘

’’لما قام عبداﷲ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبداً (الجن:۱۹)‘‘ جب عبداﷲ (یعنی محمد) نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو قریب تھا کہ وہ تہ بہ تہ ہو کر آپa پر ٹوٹ پڑتے۔ حدیث میں ہے کہ آپa کو اختیار دیاگیا تھا۔ اگر چاہیں رسالت کے ساتھ ملوکیت پسند کر لیں۔ جیسا کہ سلیمانm تھے یا چاہیں تو عبدیت اختیار کر لیں۔ آپa نے عبدیت کو ہی پسند فرمالیا۔ اس کے بعد آپa کی نشست وبرخاست، طعام وشراب سب میں عبدیت کا پہلو غالب تھا۔ دعاء، تشہد یں بھی عبدہ ورسولہ تعلیم کیاگیا ہے۔ یعنی عبدیت کو مقدم رکھاگیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک شخص نے اس ترتیب کو بدل کر جب رسولہ وعبدہ کہا تو آپa نے اس کی اصلاح فرمائی اور کہا کہ وہی عبدہ ورسولہ کہو۔ شیخ اکبرv تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ پر یہ مقام عبدیت سوئی کے ناکے کے برابر منکشف ہوا تھا تو میں اس کی بھی تاب نہ لاسکا اور قریب تھا کہ جل جاتا۔ اسی طرح آپa کا دوسرا لقب خاتم النّبیین ہے۔ پہلا لقب آپa کی ذاتی صفت اور دوسرا بلحاظ انبیاءo ہے۔ آپa سے پہلے کسی رسول نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ دوسرا رسولوں کی آمد کی بشارت دی ہے۔ اگر یہ

332

لقب صرف شاعرانہ مبالغہ ہوتا تو آپa سے پہلے انبیاء پر بھی اس کا اطلاق درست ہوتا۔ آنحضرتa کا دعویٰ کرنا بتلاتا ہے کہ پہلے صحف میں کسی خاتم النّبیین کی بشارت موجود تھی۔ آپa بتلا رہے ہیں کہ اس کا مصداق میں ہوں۔

۲۸… ’’عن ابی سعید مرفوعاً انی خاتم الف نبی اواکثر (رواہ فی المستدرک ج۳ ص۴۹۳ حدیث ۴۲۲۴ باب بعث رسول اللہ a الکنز ج۱۱ ص۴۸۳ حدیث۳۲۲۸۱)‘‘ {ابوسعیدq مرفوعا روایت کرتے ہیں۔ میں ایک ہزار نبی یا اس سے زیادہ کے آخر میں آیا ہوں۔ اس حدیث کو مستدرک میں روایت کیا ہے۔}

مشکوٰۃ میں ایک حدیث میں انبیاءo کا عدد ایک لاکھ چوبیس ہزار مذکور ہے۔ چونکہ یہاں راوی نے اواکثر کا لفظ کہہ دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کو اصل عدد محفوظ نہیں رہا۔ اس لئے ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں ہزار کے عدد سے کسی خاص شان کے نبی مراد لئے گئے ہوں۔

۲۹… ’’عن ابی ذرقال قال رسول اللہ a یا اباذر اوّل الانبیاء اٰدم واٰخرہم محمد (رواہ ابن حبان فی صحیحہ وابونعیم فی الحلیہ وابن عساکر والحکیم الترمذی الکنز ج۱۱ ص۴۸۰ ھدیث۳۲۲۶۹ باب ذکر الانبیاء واخرجہ ابن حبان فی تاریخہ فی السنۃ العاشرۃ ص۶۹ مخطوط)‘‘ {ابوذرq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا اے ابوذر انبیاءo میں سب سے پہلے نبی حضرت آدم اور سب کے آخر میں محمدa ہیں۔ اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور ابونعیم نے الحلیہ میں اور ابن عساکر اور حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے۔ نیز ابن حبان نے اپنی تاریخ میں ۱۰ھ کے احوال میں اس کو روایت کیا ہے۔ (از قلمی نسخہ)}

انبیاءo کے اوّل وآخر کی اس تحدید سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتa کے بعد اب کوئی شخص جس کو نبی کہہ کر پکارا جائے نہیں ہوگا۔ پہلے آدمm ہیں اور آخری آپa اور بس۔ نیز اس حدیث میں حضرت آدمm کی نبوت کی تصریح میں موجود ہے۔ اسی طرح مشکوٰۃ میں ہے جب آنحضرتa سے دریافت کیاگیا کہ حضرت آدمm نبی تھے تو آپa نے فرمایا:’’نعم نبی مکلم‘‘ہاں! خدا کے نبی تھے۔ خداتعالیٰ ان سے باتیں کرتا تھا۔

333

وصیۃ النبیa انہ لا نبی بعدہ

آنحضرتa کی وصیت کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

۳۰… ’’عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص یقول خرج علینا رسول اللہ a یوماً کالمودع فقال انا محمد النبی الامی ثلاثاً ولا نبی بعدی (الٰی قولہ) فاسمعوا واطیعوا مادمت فیکم فاذا ذہب بی فعلیکم بکتاب اللہ تعالٰی احلوا حلالہ وحرموا حرامہ (رواہ احمد فی مسندہ ج۲ ص۱۷۲،۱۱۲، تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۴۹۴ زیر آیت ماکان محمد)‘‘ {ابن عمروq روایت فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ a ہمارے پاس تشریف لائے (اور اس طرح تقریر فرمائی) جیسے کوئی رخصت ہونے والا تقریر کیا کرتا ہے۔ آپa نے فرمایا کہ نبی امی (جن کے آمد کی خبر تھی وہ) میں ہی ہوں اور میرے بعد اب کوئی نبی نہ ہوگا۔ (اسی تقریر میں یہ بھی فرمایا جب تک میں تمہارے اندر موجود ہوں میرے احکام سنو اور ان کی اتباع کرتے رہو اور جب مجھے دنیا سے اٹھالیا جائے تو تم کتاب اللہ کو مضبوط پکڑے رہنا جو اس میں حلال ہے۔ اس کو حلال اور جو حرام ہے اس کو حرام سمجھتے رہنا۔ اس حدیث کو احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے)}

۳۱… ’’عن ابی امامۃ قال قال رسول اللہ a فی خطبۃ یوم حجۃ الوداع ایہا الناس انہ لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم فاعبدوا ربکم وصلوا خمسکم وصوموا شہرکم وادّوا زکوٰۃ اموالکم طیبۃ بہا انفسکم واطیعوا ولاۃ امورکم تدخلوا جنۃ ربکم (الکنز ج۵ ص۲۹۴،۲۹۵ حدیث نمبر۱۲۹۲۲ مجمع الزوائد ج۸ ص۲۶۶ باب لا نبی بعدہa، تفسیر معالم التنزیل ج۱ ص۲۳۷ زیر آیت اطیعواﷲ واطیعو الرسول واولی الامرمنکم)‘‘ {ابوامامہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: اے لوگو! نہ تو میرے بعد اب کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت۔ بس اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور اپنی پانچ نمازیں پڑھتے رہو اور رمضان کے روزے رکھے جاؤ اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوشی خوشی دیئے جاؤ اور اپنے حاکموں کی اطاعت کرتے رہو تو پروردگار کی جنت میں داخل ہو جائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ نجات اب صرف ان فرائض اسلام پر عمل کرنے میں منحصر ہوگئی ہے۔ اگر پہلے زمانہ کی

334

طرح آئندہ کوئی رسول آنے والا ہوتا تو اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہوتا۔ اب ایمان کا معاملہ تو مکمل ہوچکا ہے۔ صرف عمل کا مرحلہ باقی ہے وہ بھی اتنا مختصر ہے کہ بس فرائض کے یہ چند قدم ہیں۔ انہیں طے کرو اور آگے جنت ہے۔}

۳۲… ’’عن ابی قبیلۃ قال قال رسول اللہ a لا نبی بعدی ولا امۃ بعکم فاعبدوا ربکم واقیموا خمسکم وصوموا شہرکم واطیعوا ولاۃ امرکم تدخلوا جنۃ ربکم (رواہ الطبرانی والبغوی کذافی الکنز العمال ج۱۵ ص۹۴۷ حدیث نمبر۴۳۶۳۸ باب جامع المواعظ من الاکمال مجمع الزوائد ج۳ ص۲۷۶ باب خطبہ فی الحج)‘‘ {ابوقبیلہq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا میرے بعد اب کوئی نبی نہیں ہوگا اور تمہارے بعد اب کوئی امت نہیں آئے گی۔ پس تم اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اپنی پانچ نمازیں ٹھیک ٹھیک پڑھتے رہو۔ ماہ رمضان کے روزہ رکھتے رہو اور اپنے حکام کی اطاعت کئے جاؤ۔ اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔}

۳۳… ’’عن الضحاک بن نوفل قال قال رسول اللہ a لا نبی بعدی ولاامۃ بعد امتی (رواہ البیہقی فی کتاب الرؤیا وفی روایۃ ابی قبیلۃ فی کنزالعمال لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم ج۱۵ ص۹۴۷ حدیث نمبر۴۳۶۳۸ باب جامع المواعظ من الاکمال)‘‘ {ضحاک بن نوفلq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا میرے بعد اب کوئی نبی نہ ہوگا اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں ہوگی۔ اس حدیث کو بیہقی نے کتاب الرؤیا میں روایت کیا ہے۔}

تصدیق ماہان عامل الروم ان النبیa لانبی بعدہ

ملک روم کے گورنر کی تصدیق کہ حضورa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

۳۴… ’’عن خالد بن الولید فی حدیث طویل انہ سالہ ماہان عامل ملک الروم علی الشام ہل کان رسولکم اخبر انہ یأتی بعدہ رسول قال ولکن اخبرانہ لا نبی بعدہ واخبر ان عیسی بن مریم قد بشربہ قومہ قال الرومی وانا علٰی ذلک من الشاہدین (خصائص الکبریٰ ج۳ ص۴۱۳ باب ذکر آیات وقعت علی اثر النبیa فی غزوات)‘‘ {خالد بن ولیدq نے ایک طویل

335

حدیث میں کہا کہ ماہان نے جو شام پر شاہ روم کا عامل تھا ان سے دریافت کیا، کیا تمہارے رسول نے تم سے یہ کہا ہے کہ ان کے بعد کوئی اور رسول آئے گا۔ انہوں نے کہا نہیں بلکہ یہ خبر دی ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور یہ بھی کہاکہ عیسیٰ بن مریم نے ان کی آمد کی بشارت اپنی قوم کی دی تھی۔ ماہان رومی نے کہا کہ میں بھی اس پر گواہی دینے والوں میں ہوں۔}

حضرت ابوعبیدہq جب یرموک پہنچے تو روم کے لشکر کے سردار نے ان کے پاس ایک قاصد بھیجا۔ اس نے کہا کہ میں ماہان گورنر کے پاس سے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ اپنی جماعت میں سے ایک عقلمند شخص ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ ہم اس سے گفتگو کر لیں۔ حضرت ابوعبیدہq نے اس کام کے لئے خالد بن ولیدq کو منتخب فرمایا اور انہوں نے وہ گفتگو کی جو اوپر مذکور ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلی بشارات میں نبی منتظر کی ایک علامت یہ بھی تھی کہ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس لئے دوسری باتوں کے ساتھ اس کی تحقیق بھی کی جاتی تھی کہ اور انبیاء کی طرح آپ نے کسی نبی کی آمد کی خبر تو نہیں دی۔

شہادۃ الضب انہ رسول اللہ وخاتم النّبیین

گوہ کی شہادت کہ آپa اللہ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔

۳۵… ’’عن عمر بن الخطاب فی حدیث طویل فقال الاعرابی لا اٰمنت بک حتّٰی یؤمن بک ہذا الضب فقال رسول اللہ a من انا یاضب فقال الضب بلسان عربی مبین بفہمہ القوم جمیعاً لبیک وسعدیک یارسول رب العالمین قال من تعبد فقال الذی فی السماء عرشہ وفی الارض سلطانہ وفی البحر سبیلہ وفی الجنۃ رحمتہ وفی النار عذابہ قال فمن انا قال انت رسول رب العالمین وخاتم النبیین (الحدیث اخرجہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر ج۲ ص۶۴ باب المیم اسمہ محمد وابن عدی والحاکم فی المعجزات والبیہقی وابونعیم وابن عساکر ولیس فی اسنادہ من ینظر فی حالہ سوی محمد بن علی بن الولید البصری السملی شیخ الطبرانی وابن عدی وقال السیوطی فی الخصائص قلت لحدیث عمر طریق اٰخر لیس فیہ محمد بن علی بن الولید اخرجہ ابونعیم وروی عن عائشۃ وابی ہریرۃ وعلی رضی اللہ تعالٰی عنہم مثلہ کما فی

336

الخصائص ج۲ ص۲۷۵ باب قصۃ الضب منتخب کنزالعمال علی حاشیہ مسند احمد ابن حنبل ج۴ ص۲۷۸ باب شہادۃ الضب)‘‘ {حضرت عمرq ایک طویل قصہ میں روایت فرماتے ہیں (کہ آنحضرتa نے ایک دیہاتی آدمی کو اسلام کی دعوت دی) اس نے کہا جب تک یہ گوہ ایمان نہ لائے میں آپa پر ایمان نہیں لاسکتا۔ آپa نے فرمایا اے گوہ! بتلا میں کون ہوں۔ گوہ نے نہایت فصیح عربی میں جواب دیا جسے سب حاضرین نے سمجھا۔ اے رب العالمین کے رسول میں حاضر ہوں اور آپa کی فرمانبردار ہوں۔ آپa نے فرمایا بتلا تو کس کے نام کی تسبیح کرتی ہے۔ وہ بولی جس کا عرش آسمان پر ہے اور جس کا حکم زمین پر نافذ ہے جس نے سمندر میں راستے بنادئیے۔ جس کی رحمت کا مظہر جنت، جس کے عذاب کا مظہر دوزخ ہے۔ آپa نے فرمایا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا۔ آپa جہاں کے پروردگار کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔ اس حدیث کو طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں اور ابن عدی نے اور حاکم نے معجزات اور بیہقی ابونعیم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں سوائے محمد بن علی بن الولید کے کوئی راوی ایسا نہیں جس کے معاملہ میں غور کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ طبرانی اور ابن عدی کے شیخ ہیں۔ سیوطیؒ خصائص الکبریٰ میں فرماتے ہیں کہ حدیث عمر کے لئے ایک اور طریقہ بھی ہے جس میں یہ راوی نہیں ہے۔ ابونعیم نے اس کو بیان کیا ہے۔ نیز حضرت عائشہt اور حضرت ابوہریرہq اور حضرت علیq سے بھی اسی کے ہم معنی مضمون مروی ہے۔}

حیوانات کی گفتگو اور ان کی شہادت دینا اگر بطور عادت وفطرت نقل کی جائے تو بے شک تعجب کرنا چاہئے۔ اگر بطریق معجزہ منقول ہو تو اس پر تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انبیاءo کے معجزات تمام خارق عادات ہی ہوتے ہیں اور ان میں بہت سے تواتر سے بھی ثابت ہیں۔ لہٰذا صرف اس وجہ سے حدیث کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں! اگر اس کا روایتی پہلو ناقابل اعتبار ہوتا تو بے شک ایک بات ہوسکتی تھی۔ مگر اس کا روایتی پہلو بھی اتنا مخدوش نہیں ہے۔ یہاں حیوان کی شہادت میں لفظ رسول اللہ کے ساتھ خاتم النّبیین کا لفظ ایسا ہی ہے جیسا کہ آیت قرآنی میں یہ دونوں لفظ یکجا رکھے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتa کی رسالت کا صحیح اور پورا مفہوم اسی وقت ادا ہوتا ہے۔ جب کہ آپa کو

337

خاتم النّبیین بھی سمجھا جائے۔ آپa کو صرف رسول اللہ کہنا اور خاتم النّبیین نہ کہنا آپa کی حیثیت کے صرف ایک جز ہی کو اداکرتا ہے اور وہ بھی مشترک جزء کو آپa کے منصب عالی کا ممتاز جز خاتم النّبیین ہے۔ لیکن چونکہ یہ دونوں حیثیتیں آپa کی ذات میں جمع تھیں اور اس طرح جمع تھیں۔ گویا ایک ذات کے دو عنوان ہیں اس لئے عام طور پر صرف اقرار رسالت ختم نبوت کے اقرار کے لئے کافی سمجھا گیا تھا جیسا کہ کلمہ توحید کا۔ اس کا اقرار گو رسالت کے اقرار سے ایک جداگانہ شے ہے۔ مگر جو توحید کہ آپa کی حکم برداری میں تسلیم کی جائے وہ اقرار بالرسالت کے ہم معنی تھی۔ اس لئے بعض احادیث میں صرف کلمہ توحید کی شہادت کو مدار نجات قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح آپa کی رسالت اور ختم نبوت کا مسئلہ سمجھنا چاہئے۔

شہادۃ زید بن خارجۃq بعد وفاتہ انہa لا نبی بعدہ

وفات کے بعد زید بن خارجہ کی شہادت کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

۳۶… ’’عن النعمان بن بشیر قال کان زید بن خارجۃ من سراۃ الانصار فبینما ہو یمشی فی طریق من طرق المدینۃ بین الظہر والعصر اذا خرّٰفتوفی فاعلمت بہ الانصار فاتوہ فاحتملوہ الٰی بیتہ وسبحوہ کساء وبردین وفی البیت نساء من نساء الانصار یبکین علیہ ورجال من رجالہم فمکث علٰی حالہ حتّٰی اذا کان بین المغرب والعشاء اذا سمعوا صوت قائل یقول انصتوا انصتوا فنظروا فاذا الصوت من تحت الثیاب فجسروا عن وجہہٖ وصدرہٖ فاذا القائل یقول علٰی لسانہٖ محمد رسول اللہ النبی الامی خاتم النبیین لا نبی بعدہ کان ذلک فی الکتب الاول صدق صدق (ہدیۃ المہدیین ص۱۱۴ معجم الکبیر الطبرانی ج۵ ص۲۱۹ روایت نمبر۱۵۴۴ حافظ ابن ابی الدنیا کی کتاب من عاش بعد الموت ص۵۲)‘‘ {نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ زید بن خارجہq انصار کے سرداروں میں تھے۔ ایک دن وہ ظہروعصر کے درمیان مدینہ کے کسی راستہ پر جارہے تھے کہ یکایک گرے اور فوراً وفات ہوگئی۔ انصار کو اس واقعہ کی خبر ہوئی اور وہ آئے اور انہیں اٹھا کر گھر لے گئے اور ایک کمبل اور دوچادروں سے ان

338

کو ڈھانک دیا۔ گھر میں انصار کی کچھ عورتیں اور مرد ان پر رو رہے تھے۔ یہ گریہ وزاری ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ جب مغرب وعشاء کا درمیان ہوا تو دفعتہ ایک غیبی آواز آئی ’’خاموش رہو، خاموش رہو‘‘ ادھر ادھر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ آواز ان کپڑوں کے نیچے سے ہی آرہی ہے جس میں میّت ہے۔ لوگوں نے ان کا منہ اور سینہ کھولا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی غیبی شخص ان کی زبان سے یہ کہہ رہا ہے ’’محمد رسول اللہ نبی امی خاتم النّبیین ہیں‘‘ ان کے بعد اب کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یہ تورات وانجیل میں موجود ہے۔ سچ ہے سچ ہے۔}

کرامت کے طور پر میّت کا بولنا بھی کچھ تعجب کی بات نہیں تھی مگر راوی نے اس کی ایک اور توجیہہ بھی کر دی ہے اور وہ یہ کہ یہاں بولنے والا دراصل کوئی فرشتہ تھا۔ میت کی زبان ان کلمات کی ادائیگی کے لئے صرف ایک واسطہ کا کام دے رہی تھی۔ جمادات وحیوانات کے ان خارق عادت شہادات سے مقصود یہ ہے کہ بنی آدم کی فطرت زیادہ سے زیادہ متاثر ہوکر نصیحت وعبرت کرے اور حضورa کی تصدیق کے لئے اور زیادہ مستعد ہوجائے۔

کان النبیa رسولا الی اہل زمانہ ومن بعدہم سواء

آنحضرتa اپنے زمانہ اور بعد میں آنے والے سب انسانوں کے لئے یکساں رسول ہیں۔

۳۷… ’’عن الحسن مرسلاً قال قال رسول اللہ a انا رسول من ادرک حیاً ومن یولد بعدی (رواہ ابن سعد الکنزالعمال ج۱۱ ص۴۰۴ حدیث نمبر۳۱۸۸۵)‘‘ {حضرت حسنq سے مرسلاً روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا ہے کہ میں ان کا بھی رسول ہوں جواب زندہ ہیں اور ان کا بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ اس حدیث کو ابن سعد نے روایت کیا ہے۔}

بعثت عام اور ختم نبوت کو بڑا گہرا ربط ہے۔ اسی لئے پہلی حدیث میں دونوں خصوصیتوں کو ایک جگہ ذکر کیاگیا ہے۔ اگر آپ کی بعثت عام نہ ہوتی اور نبوت ختم ہوجاتی تو آنے والی امت بلارسول رہ جاتی۔ یہ بجائے نعمت کے اور ایک زحمت ہوتی۔ اس لئے جب نبوت کا ختم ہونا مقدر ہوا تو آپ کی بعثت کا دامن قیامت تک کے انسانوں پر پھیلا دیا گیا

339

تاکہ رہتی دنیا تک تمام انسان اس کامل واکمل رسالت کے نیچے آجائیں اور کسی دوسرے رسول کے محتاج نہ رہیں اور اگر آپ کی بعثت تو عام ہوتی مگر نبوت ختم نہ ہوتی تو اب آئندہ اگر کوئی اور کامل رسول آتا اور آپ کی بجائے اس کی اتباع لازم ہوتی تو آپ کا نقصان ثابت ہوتا اور اگر کوئی ناقص رسول آتا تو کامل کے ہوتے ہوئے ناقص کے دامن میں آنا بجائے رحمت کے زحمت بن جاتا۔ (والعیاذ باﷲ) اس لئے بعثت عامہ کے بعد نبوت کا ختم ہونا ضروری اور لازم ہوگیا۔

توضیح النبیa ختم النبوۃ بمثال

آنحضرتa کا ختم نبوت کو ایک مثال دے کر واضح کرنا۔

۳۸… ’’عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ a قال ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنٰی بیتاً فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہٖ ویعجبون لہ ویقولون ہلاً وضعت ہٰذہ اللبنۃ قال فانا لبنۃ وانا خاتم النّبیین (بخاری ج۱ ص۵۰۱ باب خاتم النّبیین مسلم ج۲ ص۲۴۸ باب ذکر کونہ خاتم النّبیین احمد ج۲ ص۲۵۶، درمنثور ج۵ ص۲۰۴ زیر آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم والنسائی والترمذی وفی بعض الفاظ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ وختم بی البنیان وختم بی الرسل رواہ ابن عساکر کما فی الکنز)‘‘ {ابوہریرہq روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کسی شخص نے گھربنایا اور اسے خوب آراستہ وپیراستہ کیا۔ مگر اس کے ایک گوشہ میں صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ لوگ آآکر اس کے اردگرد گھومنے لگے اور تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ یہ عیب بھی نہ رہتا) اس کے بعض الفاظ میں یہ ہے کہ میں نے آکر اس اینٹ کی جگہ کو پر کردیا ہے اور اب قصر نبوت میری آمد سے مکمل ہوگیا ہے اور مجھ پر تمام رسول ختم کر دئیے گئے۔ (کنزالعمال)}

۳۹… ’’عن جابر قال قال رسول اللہ a مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل بنٰی داراً فاتمہا واکملہا واحسنہا الا موضع لبنۃ فجعل الناس یدخلونہا ویقولون لولا موضع اللبنۃ قال رسول اللہ a فانا موضع اللبنۃ جئت

340

فختم بی الانبیاء (مسلم ج۲ ص۲۴۸ باب ذکر کونہ خاتم النّبیین بخاری ج۱ ص۵۰۱ باب خاتم النّبیین والترمذی ج۲ ص۱۱۳ باب ماجاء مثل النبی ولا نبیاء وابن ابی حاتم)‘‘ {جابرq کہتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور خوب عمدہ اور مکمل بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی جو شخص اس میں داخل ہوتا اور اسے دیکھتا تو کہتا تمام گھر کس قدر خوبصورت ہے۔ مگر یہ ایک اینٹ کی جگہ (وہ اینٹ میں ہوں) اور انبیاء مجھ پر ختم کردئیے گئے ہیں۔ (اس حدیث کو شیخین، ترمذی ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے)}

۴۰… ’’عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ a مثلی ومثل النبیین فذکر نحوۃ (رواہ مسلم ج۲ ص۲۴۸ باب ذکر کونہ خاتم النّبیین واحمد)‘‘ {ابوسعید خدریq رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے گھر بنایا اور اس کو پورا بنادیا مگر ایک اینٹ کی جگہ رہنے دی میں آیا اور اس اینٹ کو بھی پورا کردیا۔ اس حدیث کو مسلم واحمد نے روایت کیا ہے۔}

۴۱… ’’عن ابی بن کعب ان رسول اللہ a قال مثلی فی النّبیین کمثل رجل بنی دارا فاحسنہا واکملہا واجملہا وترک منہا موضع لبنۃ فجعل الناس یطوفون بالبناء ویعجبون منہ ویقولون لوتم موضع تلک اللبنۃ وانا فی النّبیین موضع تلک اللبنۃ (رواہ الترمذی ج۲ ص۲۰۲ باب فی فضل النبی وقال ہذا حدیث حسن صحیح غریب)‘‘ {ابی بن کعبq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا نبیوں میں میری مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے گھر بنایا اور نہایت خوشنما مکمل اور آراستہ بنایا۔ لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس محل کے اردگرد گھومتے اور اسے تعجب سے دیکھ دیکھ کر کہتے ہیں کاش! اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی تو میں نبیوں میں ایسا ہی ہوں جیسے یہ اینٹ اس محل میں۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔}

تشبیہات کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح اس قصر میں جوہر طرح مکمل ہوچکا ہے اب کسی اور اینٹ کی کوئی گنجائش نہیں رہی اسی طرح میری آمد کے بعد اب کسی اور نبی کے آنے کا احتمال نہیں رہا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپa ختم نبوت کے اس واضح سے مسئلہ

341

کو پیرایہ بہ پیرایہ طریقہ بہ طریقہ آخر کیوں اتنا سمجھا رہے ہیں۔ آپa کا آخری نبی ہونا کوئی دقیق مسئلہ نہیں۔ جس کے لئے اتنی تفہیم کی حاجت ہو پھر یہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا جواب آپa کو ان احادیث کے مطالعہ کے بعد خود واضح ہو جائے گا جن میں آنحضرتa کے بعد مدعین نبوت کے متعلق پیش گوئی کی گئی ہے۔

لا نبی بعد النبیa وان کان من غیر تشریع

آنحضرتa کے بعد کوئی نبی نہیں خواہ غیرتشریعی نبی ہو۔

۴۲… ’’عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ a لعلیq ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لیس نبی بعدی (رواہ البخاری ومسلم فی غزوۃ تبوک ج۲ ص۶۳۳) عن سعد بن ابی وقاص عن ابیہ قال قال رسول اللہ a لعلیq انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی (وفی روایتہ وفی لفظ مسلم ج۲ ص۲۷۸ باب من فضائل علیq بن ابی طالب) خلفہm فی بعض مغازیہ فقال لہ علیq یا رسول اللہ خلفتنی مع النساء والصبیان فقال لہ رسول اللہ a اماترضٰی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبوۃ بعدی وفی لفظ آخر عندہ الا انک لست نبیاً‘‘ {سعد بن ابی وقاصq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے حضرت علیq سے فرمایا تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جوہارون کو حضرت موسیٰ سے تھی اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس حدیث کو بخاری ومسلم نے غزوۃ تبوک کے بیان میں روایت کیا ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرتa نے ایک جنگ کے موقع پر حضرت علیq کو اپنے ساتھ نہ لیا تو حضرت علیq نے آپa کی خدمت میں (حسرت سے) عرض کیا یا رسول اللہ a مجھے آپa عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟ آپa نے (ان کی تسلی کے لئے) فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہ نسبت حاصل ہو جو ہارون کو حضرت موسیٰ سے حاصل تھی مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد نبوت باقی نہیں اور مسلم کے دوسرے لفظ یہ ہیں مگر تم نبی نہیں ہو۔}

۴۳… ’’عن جابر بن عبداﷲ قال لما اراد رسول اللہ a ان یخلف
342

علیاq قال قال لہ علیq مایقول الناس فی اذا خلفتنی قال فقال اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الا انہ لایکون بعدی نبی (رواہ احمد ج۳ ص۳۳۸ وابن ماجۃ ص۱۲ باب فضائل علی بن ابی طالب والترمذی ج۲ ص۲۱۴ باب مناقب علیq بن ابی طالب)‘‘ {جابرq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے جب یہ ارادہ کیا کہ حضرت علیq کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپa مجھے (اپنے ہمراہ نہ لے جائیں گے اور) پیچھے چھوڑ جائیں گے تو بھلا لوگ میرے متعلق کیا کیا باتیں کہیں گے۔ راوی کہتا ہے کہ آپa نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میری تمہاری وہ نسبت رہے جو ہارون وموسیٰ کی تھی اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس حدیث کو احمد، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔}

ان دونوں حدیثوں میں حضرت علیq کو حضرت ہارونm کی ذات سے تشبیہ دینا مقصود نہیں۔ اسی لئے ’’انت بمنزلۃ ہارون‘‘ نہیں فرمایا بلکہ اس نسبت اور علاقہ سے تشبیہ مقصود ہے جو حضرت موسیٰ وہارونo کے درمیان تھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰm نے اپنی غیبت کے زمانہ میں اپنی قوم کی نگرانی کے لئے اپنے بھائی حضرت ہارونm کا انتخاب کیا تھا۔ اسی طرح اپنی غیبت میں، میں تمہارا انتخاب کرتا ہوں اتنا فرق ضرور ہے کہ وہ نبی تھے تم نبی نہیں ہو۔ حضرت ہارون کو چونکہ نبوت کے ساتھ خلافت ملی تھی اس لئے اس مجمل تعبیر سے یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت علیq کی خلافت بھی کہیں خلافت نبوت نہ ہو۔ اس لئے اس احتمال کو بھی برداشت نہیں کیاگیا اور اس کو صاف طور پر صاف کردیا گیا ہے تاکہ آنے والی امت محض الفاظ کے ابہام سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر حضرت علیq کو نبوت ملتی تو وہ یقینا آپa کے اتباع ہی کی بدولت ہوتی مگر جب اس احتمال کی بھی نفی کر دی گئی تو اب توسط یا بلاتوسط کسی نبوت کا احتمال باقی نہیں رہا۔ اگرچہ نبوت کا کسی نبی کے اتباع سے ملنا خود ایسا مسئلہ ہے جس کے لئے قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں ہے اور اسی لئے دنیا کی تاریخ میں کوئی نبی ایسا نہیں بتلایا جاسکتا جو کسی نبی کے اتباع کے صلہ میں انعامی طور پر نبی بنادیا گیا ہو یہ محض دماغی اختراع اور خود ساختہ خیال ہے۔

343

۴۴… ’’عن زید بن ابی اوفٰی قال قال رسول اللہ a (یا علی) والذی بعثنی بالحق ماخترتک الّٰا لنفسی وانت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی غیر الا انہ لا نبی بعدی (ابن عساکر الکنز العمال ج۹ ص۱۶۷ حدیث نمبر۲۵۵۵۴ ج۱۳ ص۱۰۵،۱۰۶ حدیث نمبر۳۶۳۴۵ باب فضائل علیq)‘‘ {زید بن اوفیq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا اے علیq اس ذات کی قسم ہے جس نے مجھے دین حق دے کر بھیجا ہے۔ میں نے تم کو صرف اپنے لئے پسند کیا ہے اور تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے حاصل تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ (الکنز)}

یہی مضمون ابوسعید خدریq، حبشی بن جنادہq، عقیل بن ابی طالبq اور ابن عمر سے بھی مروی ہے۔ دیکھو کنزالعمال۔

۴۵… ’’عن علی قال وجعت وجعاً فاتیت النبیa فاقامنی فی مکانہٖ وقام یصلی والقٰی علی طرف ثوبہٖ ثم قال برئت یا ابن ابی طالب فلا بأس علیک ماسألت اللہ شیئاً الا سأل لک مثلہ ولا سألت اللہ شیئاً الا اعطانیہ غیر انہ قیل لی انہ لا نبی بعدی فقمت کانی ماشتکیت (رواہ ابن جریر وابن شاہین فی السنۃ والطبرانی فی الا وسط وابونعیم فی فضائل الصحابۃ کذافی الکنز ج۱۳ ص۱۷۰ حدیث۳۶۵۱۳)‘‘ {حضرت علیq فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے درد اٹھا۔ میں آپa کی خدمت میں آیا۔ آپa نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کر دیا اور خود نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور اپنے لباس کا ایک کنارہ میرے اوپر ڈال دیا پھر فرمایا اے علیq تم شفایاب ہوگئے۔ اب تم میں کوئی مرض نہیںرہا۔ میں نے جو دعا اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے کی ہے وہی تمہارے لئے مانگی ہے اور جو دعا میں نے مانگی ہے وہ اس نے قبول فرمائی ہے۔ بجز اس کے کہ مجھ سے یہ کہہ دیا گیا ہے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ حضرت علیq فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں اس طرح اٹھ کھڑا ہوا جیسے کبھی بیمار ہی نہ ہوا تھا۔ (کنزالعمال)}

حضرت موسیٰm نے حضرت ہارونm کے لئے نبوت کی دعا فرمائی تھی اور قبول ہوگئی تھی۔ ’’واجعل لی وزیراً من اہلی۔ ہارون اخی۔ اشدد بہٖ ازری واشرکہ فی امری (طٰہٰ:۲۹)‘‘ اور میرے خاندان میں میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار

344

بنادے ان کے ذریعہ سے میری کمر مضبوط فرما اور میرا شریک کار بنا دے۔ اس دعا کے بموجب ان کو نبی بنادیا گیا تھا۔ آنحضرتa کے بعد چونکہ عالم تقدیر میں یہ طے پاچکا تھا کہ اب کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس لئے یہ نامناسب تھا کہ دعا کے بعد آپa کو عالم تقدیر کے اس فیصلہ کی اطلاع دی جاتی۔ اس لئے اس سے قبل کہ حضرت موسیٰm کی طرح آپa حضرت علیq کے لئے نبوت کی دعا فرماتے۔ یہ کہہ دیا گیا کہ آپ کی ہر دعا قبول ہو گی۔ مگر نبوت کے لئے آپ دعا ہی نہ فرمائیے۔

غور فرمائیے کہ حدیث مذکور میں موسیٰ وہارونo کے ایک معمولی تشبیہ کے اثرات کتنی دوردور تک پھیل رہے ہیں اور ہر گوشہ میں ختم نبوت کا عقیدہ کس کس طرح نظر آتا چلا جارہا ہے۔ گویا یہ ایک بنیاد ہے اور بقیہ تمام تفریعات اسی عقیدہ پر قائم ہیں۔ اگر کہیں ذرا بھی اس بنیاد کو ٹھیس لگتی نظر آتی ہے تو فوراً صفائی کے ساتھ اس کی اصلاح کر دی جاتی ہے اور معمولی سے ابہام کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ تعجب ہے کہ جہاں نبوت ورسالت کی صریح پیش گوئیوں کی بجائے اتنی گنجائش بھی نہ ہو وہاں نبوت کے دروازے نہیں بلکہ پھاٹک کھول دئیے جائیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ جب اس میں سے گزرنے والوں کی تعداد دریافت کی جائے تو بمشکل ایک شخص کا نام پیش کیا جائے اور اس میں بھی ابھی تک یہ بحث جاری ہو کہ وہ امام تھا یا مجدد یا نبی ورسول اور اگر معتقدین کاحال چھوڑ کر کہیں خود اس کے دعاوی کو دیکھا جائے تو ایک صحیح الفہم شخص یہ اندازہ کر ہی نہ سکے کہ اتنے مختلف دعاوی کبھی ایک زبان سے ادا بھی ہوسکتے ہیں۔ واﷲ المستعان!

لا یبقی من النبوۃ شیٔ الا لمبشرات

آنحضرتa کے بعد نبوت کا کوئی جزء باقی نہیں رہا صرف اچھے خواب باقی ہیں۔

۴۶… ’’عن عائشۃ عن النبیa انہ قال لا یبقی بعدی من النبوۃ شیٔ الا المبشرات قالوا یا رسول اللہ وما المبشرات قال الرؤیا الصالحۃ یراہا المسلم اوتریٰ لہ (کذافی الکنز ج۱۵ ص۳۷۱ حدیث نمبر۴۱۴۲۳ وفی روایۃ البخاری عن ابی ہریرۃ ج۲ ص۱۰۳۵ باب المبشرات مسند احمد ج۶ ص۱۲۹)‘‘ {حضرت عائشہt آنحضرتa سے روایت فرماتی ہیں کہ آپa نے فرمایا ہے

345

میرے بعد نبوت کا کوئی جزء باقی نہیں رہا۔ صرف مبشرات باقی ہیں۔ صحابہi نے پوچھایا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ آپa نے فرمایا اچھے خواب جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی دوسرا دیکھے۔ (کنزالعمال)}

انبیاءo کی صفت انداز بھی ہے اور تبشیر بھی۔ اس لئے قرآن کریم میں فرمایا: ’’رسلاً مبشرین ومنذرین‘‘ اس لحاظ سے رؤیا صالحہ کی بھی دو قسمیں ہونا چاہئیں۔ مبشرات اور منذرات مگر چونکہ رؤیا صالحہ کی تفسیر میں صرف مبشرات کا لفظ فرمایا گیا ہے۔ نیز جامع ترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ آیت: ’’لہم البشریٰ فی الحیٰوۃ الدنیا‘‘ میں بشریٰ سے مراد رؤیا صالحہ ہیں۔ اس بناء پر بھی رؤیا صالحہ کا عنوان مبشرات بن گیا ہے۔ بہرحال یہ ضروری نہیں ہے کہ سچے خواب ہمیشہ خوشی ومسرت کے متعلق ہوں۔ رنج وغم کے متعلق بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر رؤیا صالحہ میں یہ حصہ مغلوب ہوتا ہے اور بشارات کا حصہ غالب۔ اس کے برعکس شیطانی خواب بیشتر خوفناک ہوتے ہیں اور مسرت وخوشی کے شاذونادر۔ کیونکہ شیطان کا مقصود ہی تحزین مسلم ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت انسq سے ایک مرفوع روایت ہے۔ ’’الرؤیا الحسنۃ من الرجل الصالح جزء من ستۃ واربعین جزء من النبوۃ‘‘ نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حدیث مذکور میں مسلم سے ہر فاسق وفاجر مراد نہیں بلکہ صالح اور نیک شخص مراد ہے۔

اس لئے فاسق یا کافر کا خواب اگر سچا بھی ہو تو نبوت کا جزء نہیں کہا جاسکتا۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نیک آدمی کبھی شیطانی خواب دیکھتا ہی نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو شخص بیداری میں انبیاءo کے نقش قدم پر چلتا ہے۔ صدق واخلاص، امانت ودیانت داری اس کا شیوہ ہے۔ اندر باہر دوست ودشمن کسی کے ساتھ جھوٹ بولنا روا نہیں رکھتا۔ اس کی فطرت پر صدق وسچائی کا پورا نقش قائم ہوچکا ہے۔ وہ سونے کے بعد بھی شیطانی تسلط وحکومت کے ماتحت نہیں آتا۔ اس لئے اس کاجو خواب ہوتا ہے وہ اکثر خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر گاہے بگاہے اس کے خلاف ہو تو شاذونادر ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص بحالت بیداری جھوٹ ودغابازی کا عادی ہے۔ وہ سونے کے حال میں بھی شیطان ہی کے زیرحکومت رہتا ہے۔ اس کے خواب بھی اکثر شیطانی اتصال وتصرف کا ثمرہ ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں روایت ہے: ’’الرویاء الصالحۃ من اللہ والحلم من الشیطان‘‘ اچھے خواب (جو مومن صالح کا

346

نصیب ہے) خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے۔

خلاصہ یہ کہ انسان بحالت خواب اپنے بیداری کے حالات کے تابع رہتا ہے۔ مشہور ہے کہ بلی کو خواب میں چھیچھڑے ہی نظر آتے ہیں۔ اگر اتنی بات آپ کے نزدیک معقول ہے تو یہ بھی سن لیجئے کہ جس طرح انسان حالت نوم میں بیداری کے حال کے تابع ہوتا ہے اسی طرح موت کے بعد اپنی حیات کے حالات کے تابع رہے گا۔ ’’ومن کان فی ہٰذہ اعمٰی فہو فی الاخرۃ اعمٰی‘‘ جو اس دنیا کی زندگی میں اندھا بنا رہا۔ وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھے گا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حدیث میں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہر سچا خواب نبوت کا جزء ہے بلکہ اس کا خواب نبوت کا جزء قرار دیاگیا ہے جو شریعت کی اصطلاح میں صالح کہا جاسکے۔ قرطبی شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ صالح سے مراد وہ شخص ہے جو عبادات وعادات میں انبیاءo کے قدم بقدم ہو۔ کاہن اور نجومی بھی غیب کی خبریں دیتے ہیں مگر وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں۔ اس کا نام اطلاع علی الغیب نہیں۔ اس کے اسباب پر اپنی جگہ مفصل بحث موجود ہے۔ اطلاع علی الغیب نبوت کا خاصہ ہے۔ اس کی ابتداء اچھے اور سچے خواب ہیں اور اس کی انتہاء وحی نبوت یعنی بحالت بیداری خداتعالیٰ یا فرشتہ کے ساتھ مکالمہ۔ آنحضرتa بھی نبوت سے پیشتر سچے سچے خوب دیکھا کرتے تھے۔ ۶ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد وحی کا دور شروع ہوگیا جس کی مدت تیئس سال ہے۔ بعض علماء نے یہ دیکھ کر کہا ۶ماہ ۲۳سال کا چھیالیسواں جزء ہیں۔ یہ کہہ دیا ہے کہ حضرت انسq کی حدیث میں رؤیا مومن کو اسی لئے نبوت کا چھیالیسواں جزء کہا گیا ہے۔ حافظ ابن حجرq نے فتح الباری میں اس طویل گفتگو کی ہے۔ (اس پر سوال وجواب علماء کے دائرہ کی بحث ہے) باقی رہی یہ بحث کہ اگر مبشرات نبوت کا جزء ہیں تو کیا ان کو کوئی مختصر نبوت کہا جاسکتا ہے۔ اس پر آئندہ حدیث کے نوٹ میں کلام کیا جائے گا۔

ذہبت النبوۃ والرؤیا لیست بنبوۃ

نبوت بالکل ختم ہوگئی اور صرف خواب نبوت نہیں ہیں۔

۴۷… ’’عن ام کرز قالت سمعت النبیa ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات (اخرجہ احمد ج۶ ص۳۸۱ وابن ماجۃ ص۲۷۸ باب الرؤیا صالحہ…

347

الخ! وصححہ ابن خزیمۃ وابن حبان)‘‘ {ام کرزt روایت فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرتa سے خود سنا ہے نبوت تو ختم ہوئی۔ ہاں! صرف مبشرات باقی ہیں۔ اس حدیث کو امام احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس کو صحیح کہا ہے۔}

۴۸… ’’عن انس رفعہ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی… ولا کن المبشرات فقالوا وما المبشرات قال رؤیا المسلم جزء من اجزاء النبوۃ (ترمذی ج۲ ص۵۱ باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات کنز العمال ج۱۵ ص۳۶۷ حدیث۴۱۴۰۷ مسند احمد ج۳ ص۲۶۷)‘‘ {انسq آنحضرتa سے روایت فرماتے ہیں کہ رسالت اور نبوت دونوں ختم ہوگئیں۔ اب میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا نہ رسول۔ لیکن مبشرات باقی ہیں۔ صحابہi نے پوچھا مبشرات کیا چیز ہیں۔ فرمایا مسلمانوں کے خواب۔ یہ اجزاء نبوت کا ایک جزء ہیں۔}

قرآن وحدیث اس پر متفق ہیں کہ نبوت ختم ہوچکی ہے۔ تشریعی ہو یا غیرتشریعی۔ نبوت کی کوئی قسم اب باقی نہیں رہی۔ ہاں! اس کے کمالات وبرکات باقی رہنا چاہئیں اور وہ باقی بھی ہیں۔ نبوت سے قبل عالم کا ظاہر وباطن تیرۂ وتاریک ہوتا ہے۔ جب آفتاب نبوت طلوع کرتا ہے تو عالم کا گوشہ گوشہ اس کے انوار سے منور ہو جاتا ہے۔ ظاہر میں ظلم وفساد کی بجائے رشدوصلاح کی حکومت ہو جاتی ہے۔ انسانی عادات میں افراط وتفریط، عجلت وجلد بازی کی بجائے تمانت وبردباری، وقار ومیانہ روی پیدا ہو جاتی ہے۔ باطن کا رشتہ شیطان سے یکسرکٹ جاتا ہے اور عالم بالا سے ایسا رشتہ قائم ہو جاتا ہے کہ اس میں مغیبات کے انعکاس کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ان ہی کا نام اجزاء نبوت یا آثار وبرکات نبوت ہے۔ ان اوصاف کے وجود سے کوئی شخص نبی نہیں بنتا۔ہاں! نبی سے مستفیض کہا جاسکتا ہے۔ رؤیاء صالحہ یعنی اچھے خواب دیکھنا باطن کے اسی تاثر کی نشانی ہے اور عادات کا انقلاب ظاہر کے تاثر کی… احادیث میں ایک طرف رؤیاء صالحہ کو نبوت کا چھیالیسواں جز کہا گیا ہے۔ دوسری طرف بعض بلند اخلاق کو چھبیسواں جزء قرار دیاگیا ہے۔ حدیث میں ہے: ’’التؤدۃ والاقتصاد وحسن السمت من ستۃ وعشرین جزء من النبوۃ‘‘ بردباری ومتانت، میانہ روی اور اچھی روش نبوت کا چھبیسواں جزء ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان اخلاق کی وجہ سے کسی کو نبی نہیں کہا جاسکتا۔ جب چھبیسویں جزء کو نبوت نہیں کہا جاتا تو چھیالیسواں جزء کو نبوت کیسے کہا جاسکتا

348

ہے؟ ابن جوزیؒ کہتے ہیں کہ رؤیاء صالحہ کو صرف تشبیہی لحاظ سے نبوت کا جزء کہاگیا ہے۔ ابن التینv کہتے ہیں کہ انبیاءo کو غیب کی خبریں وحی کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں۔ اب یہ سلسلہ تو منقطع ہوا۔ خواب کا سلسلہ باقی ہے۔ اس اعتبار سے رؤیا کو اجزاء نبوت میں شمار کیاگیا ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اس حدیث کے کسی طریقہ میں رؤیاء کو رسالت کا جزء نہیں کہاگیا۔ ہر جگہ نبوت کا جزء کہاگیا ہے۔ رسالت کا زیادہ تعلق احکام سے ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جو خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے وہ ہر شخص کا خواب نہیں بلکہ خود نبی کا خواب ہے۔ مگر یہ جواب مخدوش ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ جزء ہمیشہ اپنے کل کے مغائیر ہوتا ہے۔ یہی کلمات جو مجموعی طور پر اذان کہے جاتے ہیں علیحدہ علیحدہ اذان نہیں کہلاتے۔ عناصر اربعہ انسان کے اجزاء ہیں۔ مگر ان میں سے کسی کو انسان نہیں کہا جاتا۔ مثلاً اب انسان کا ۴/۱حصہ ہے مگر انسان نہیں تو رؤیا صالحہ نبوت کا چھیالیسواں جزء ہوکر نبوت کیسے ہوسکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بات بالکل واضح ہے کہ رؤیاء صالحہ نبوت کے حقیقتاً اجزاء نہیں ہیں۔ کیونکہ نبوت کسی ایسی حقیقت مرکبہ کا نام نہیں جس کا تجزیہ وتحلیل ممکن ہو۔ وہ ایک منصب ہے جس کا تعلق صرف خدائی اصطفاء واجتباء پر موقوف ہے۔ ہاں! اس کے کچھ لوازم وخصائص ہیں جو اس کی ماہیت کا جزء نہیں ہوتے۔ ان خصائص وخصائل ہی کو مجازاً جزء کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ تنقیح بھی ہمیں اس لئے کرنی پڑتی ہے کہ اصطلاح میں خصائص واجزاء میں فرق ہے۔ ورنہ اہل عرف کے نزدیک یہ تدقیقات قطعاً غیرضروری ہیں۔

ان کے نزدیک عوارض مختلفہ اور ذاتیات واجزاء میں کوئی فرق نہیں۔

امام بخاریؒ کی دقت نظر مشہور ہے۔ انہوں نے یہاں بھی ایک جدت طرازی سے کام لیا ہے۔ پہلے ترجمۃ الباب میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے۔ اس کے بعد یہ حدیث روایت کی ہے کہ اچھے خواب خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے۔ شارحین کو بحث ہے کہ اس حدیث کو بظاہر باب سے کوئی مناسبت نہیں۔

حافظ ابن حجرv لکھتے ہیں کہ یہاں امام بخاریؒ رؤیا صالحہ کے جزء نبوت ہونے کی ایک لطیف حکمت کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں:’’انما کانت جزء من اجزء النبوۃ لکونہا من اللہ تعالٰی بخلاف التی من الشیطان فانہا لیست من اجزء

349

النبوۃ فتح الباری ج۱۲ ص۳۳۰ باب الرؤیا الصالحۃ جزء من ستۃ واربعین جزء من النبوۃ‘‘ یعنی رؤیاء صالحہ کو اجزاء نبوت اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف وہ خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اجزاء نبوت نہیں ہیں۔ بظاہر امام بخاریؒ کی مراد یہ ہے کہ جس طرح حالت بیداری میں وحی دوقسم پر ہے ایک وحی نبوت جو خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ دوسری ایحاء شیطان:’’وان الشیاطین لیوحون الٰی اولیائہم‘‘ اسی طرح خواب کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک من اللہ دوسرے من الشیطان، جو رؤیاء من اللہ ہیں۔ ان کا رشتہ نبوت سے ہے۔ وہ بھی خدا کی طرف سے ہوتی ہے اور جو من الشیطان ہے اس کا تعلق وحی شیطان سے ہے۔ حدیث نے بھی اس مشتبہ حقیقت کا فرق واضح کیا ہے۔ یعنی جو خواب من اللہ ہیں ان کا نام رؤیاء رکھا ہے اور جو شیطان کے تصرف سے ہیں ان کا نام حلم رکھا ہے۔ غالباً اسی لئے سورۃ یوسف میں فرمایا: ’’وما نحن بتاویل الاحلام بعالمین‘‘ یعنی انبیاء کو ’’احلام‘‘ شیطانی خوابوں کی تعبیر کا علم نہیں دیا جاتا۔ ہاں! ’’رؤیا‘‘ عالم قدس کی ایک حقیقت ہے ان کی تعبیر کا علم شان نبوت کے مناسب ہے اور احلام بے حقیقت شئے ہے ان سے انبیاءo کا کوئی واسطہ نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ رؤیاء صالحہ نبوت نہیں بلکہ نبوت کا حقیقی جزء بھی نہیں۔ اس لئے ان احادیث میں پہلا عنوان بدل کر نبوت کو بالکل ختم کہاگیا ہے اور رؤیا صالحہ کو جداگانہ ایک چیز قرار دیا گیا ہے۔ اصطلاح نحو کے مطابق پہلی حدیث میں استثناء کو منقطع کہا جائے گا یا اجزاء سے خصائص آثار مراد ہوں گے۔ اگر سب کچھ تسلیم کر لیا جائے تو نبوت کے اس جزء میں کسی بڑی رتبہ باکمال یادعویٰ کی شرط نہیں۔ بلکہ ہر مرد صالح کا اس میں حصہ ہے۔

الالہام والتحدیث مع الملائکۃ لیس بنبوۃ

الہام اور فرشتوں کے ساتھ باتیں کرنا بھی نبوت نہیں ہے۔

۴۹… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a لقد کان فیما کان قبلکم من الامم ناس محدثون فان یک فی امتی احد فانہ عمر وفی روایۃ کان فیمن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منہم احد فعمر (بخاری ج۱ ص۵۲۱ باب مناقب عمر بن الخطاب

350

وفی روایۃ مسلم عن عائشۃ ج۲ ص۲۷۶ باب فضائل عمر)‘‘ {حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا ہے تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرq ہے اور بعض روایات میں ہے کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے جن سے غیبی طور پر باتیں کی جاتی تھیں۔ مگر وہ نبی نہ ہوتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی شخص ایسا ہے تو وہ عمرq ہے۔ (متفق علیہ)}

محدث اور مکلم دونوں لفظ بصیغہ اسم مفعول ہیں۔ صحیح مسلم کے بعض طرق میں محدثوں کی بجائے ملہموں اور مسند حمیدی میں حضرت عائشہt کی حدیث میں الملہم بالصواب کا لفظ ہے اور ابن عینیہ کے شاگردوں نے اس کی تفسیر میں مفہموں کا لفظ نقل کیا ہے۔ ابوسعید خدریq سے مرفوعاً روایت ہے کہ آنحضرتa سے پوچھا گیا محدث کیسا ہوتا ہے۔ آپa نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ فرشتے ان کی زبان سے بولتے ہیں۔ علماء نے اس کی مختلف تفصیلات کی ہیں۔ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ:’’ہوالرجل الصادق الظن‘‘ وہ شخص ہے جس کا خیال اکثر صحیح ہو۔ ’’وہو من القی فی روعہ شیٔ من الملاء الاعلٰی فیکون کالذی حدثہ غیرہ‘‘ یہ شخص وہ ہے جس کے قلب میں ملائکہ مقربین کی جانب سے کوئی بات اس طرح ڈالی جائے گویا اس سے کسی نے کہہ دی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ محدث اسے کہتے ہیں جس کی زبان سے صدق وصواب بلاقصد نکلے۔ کسی نے تحدیث کا ترجمہ فراست کیا ہے۔ علمائے محققین میں سے حضرت شاہ ولی اللہ v وغیرہ نے بھی اس پر کافی کلام کیا ہے۔ ہمارے نزدیک تمام علماء نے حضرت عمرq کی ذات کو پیش نظر رکھا ہے۔ پھر ان کی ایک ایک خصوصیت کو اپنے خیال کے مطابق چنا ہے اور اس کو محدث کی تعریف میں شامل کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک مناسب یہ ہے کہ ان سب اوصاف کو یکجائی طور پر محدث کی تعریف میں داخل کرلینا چاہئے۔ یہ حقیقت حدیث سے تجاوز کر کے قرآن تک پہنچ گئی ہے۔ چنانچہ آیت: ’’وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی‘‘ میں ابن عباسq ’’ولا محدث‘‘ کا لفظ اور پڑھا کرتے تھے۔ قرآن کریم میں محدث کو نبی کے بالمقابل رکھاگیا ہے۔ اسی لئے حدیث میں بھی ’’من غیران یکونوا انبیاء (فتح الباری ج۷ ص۴۱ باب فضائل عمرq)‘‘ سے ان کے ہی نہ ہونے کی تصریح کر دی گئی ہے۔ اس کے

351

ساتھ ہی اگر حضرت عمرq کے متعلق اس حدیث کو پیش نظر رکھا جائے: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمرq‘‘ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عمرq ہوتا تو یہ بات اور زیادہ صاف ہو جاتی ہے کہ محدث اور مکلم نبی نہیں ہوتا۔ حضرت عمرq کا محدث ہونا اور نبی نہ ہونا دونوں باتیں حدیث سے ثابت ہیں ۔

خلاصہ یہ ہے کہ صرف ملائکۃ اللہ کا کسی سے ہم کلام ہونا یا صدق وصواب اس کی زبان پر جاری ہوجانا نبوت نہیں ہے۔ جیسا کہ صرف غیب کی خبریں دینا نبوت نہیں یا جیسا کہ سچے خواب دیکھنا نبوت نہیں ہے۔ یہ سب باتیں انبیاء اور غیرانبیاء بلکہ مسلم وکافر میں بھی پائی جاسکتی ہیں۔ اولیاء کے مکالمات کو الہام کہتے ہیں اور نبی کے مکالمات کو وحی، یہ صرف اصطلاحی فرق ہے۔ اس سے پوری حقیقت نہیں نکھرتی۔ اسی طرح قطعیت وظنیت کے فرق سے بھی ان کی حقیقت پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔ یہ صرف صاحب وحی جانتا ہے کہ وحی یہ ہے اور الہام یہ۔ یہاں بھی علماء نے احادیث میں وحی کے لوازم وخصائص تلاش کر کے بہت کچھ لکھا ہے۔ مگر انصاف یہ ہے کہ نبوت ووحی کی حقیقت سوائے نبی کے دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ جب اشیاء خارجہ کے متعلق علماء کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کی حدود حقیقی یا غیرممکن ہیں ورنہ دشوار ضرور ہیں تو روحانیت کے صحیح حدود کیسے ممکن ہیں۔(دیکھو فتح الباری فضائل عمرq)

۵۰… ’’عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ a انہ لم یبعث نبی قط الا کان فی امتہ من یحدث وان یکن فی امتی منہم احد فہو عمر (رواہ ابن عساکر، کنزالعمال ج۱۱ ص۵۸۵ حدیث نمبر۳۲۷۸۸)‘‘ {ابوسعید خدریq سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا گیا جس کی امت میں کوئی نہ کوئی محدث نہ ہو۔ اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرq ہے۔ (کنز)}

۵۱… ’’عن عائشۃ ان النبیa قال ماکان نبی الا کان فی امتہٖ معلم اومعلمان فان یکن فی امتی منہم احد فہو عمر بن الخطاب (خصائص ج۲ ص۴۶۱، باب اخبارہ بان عمرq المحدثین)‘‘ {حضرت عائشہt سے روایت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا ایسا کوئی نبی نہیں گزرا جس کی امت میں ایک دو معلم (محدث) نہ گزرے ہوں۔ اگر میری امت میں کوئی معلم ہے تو وہ عمر بن الخطابq ہے۔}

352

سیاستہ الامۃ واصلاح مافیہا من تغییر الدین لیس بنبوۃ

امت کا انتظام اور ان کے دینی تحریفات کی اصلاح کرنا بھی نبوت نہیں۔

۵۲… ’’عن ابی حازم قال قاعدت اباہریرۃ خمس سنین فسمعتہ یحدث عن النبیa قال کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون قالوا ماتأمرنا یا رسول اللہ a قال فوابیعۃ الاوّل فالاوّل اعطوہم حقہم فان اللہ سائلہم عما استرعاہم (الخصائص الکبریٰ ج۲ ص۴۱۴ باب اخبارہa بالخلفاء بعدہ ثم الملوک۔ رواہ البخاری ج۱ ص۴۹۱ باب ماذکر عن بنی اسرائیل، مسلم ج۲ ص۱۶۲، باب وجوب الوفاء بیعتہ الخلیفہ الاوّل فالاول واحمد وابن ماجۃ ص۲۰۶، باب الوفاء بالبیعۃ وابن جریر وابن ابی شیبہ کنز العمال ج۶ ص۵۱ حدیث نمبر۱۴۸۰۵ باب فی اطاعت الامیر)‘‘ {ابوحازمq کہے ہیں کہ میں ابوہریرہq کے ساتھ ۵سال رہا ہوں۔ میں نے انہیں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا بنی اسرائیل کا انتظام خود ان کے انبیاء فرمایا کرتے تھے۔ جب ایک نبی کی وفات ہوجاتی دوسرا اس کا جانشین آجاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ہاں! خلفاء ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے۔ صحابہi نے عرض کیا پھر ان کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔ فرمایا جو پہلا خلیفہ ہو اس کی بیعت پوری کرنا۔ تم تو ان کا حق ادا کرتے رہنا اور اس نگرانی کی بازپرس جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی ہے وہ خود فرمائے گا۔ (بخاری، مسلم، احمد وغیرہم)}

حافظ ابن حجرv انبیاء بنی اسرائیل کی سیاست کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’انہم کانوا اذا ظہر فیہم فسادبعث اللہ لہم نبیا یقیم لہم امرہم ویزیل ماغیر وامن احکام التورات (فتح الباری ج۶ ص۳۶۰ باب ماذکر عن بنی اسرائیل)‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں جب کوئی فساد رونما ہوتا تو اللہ تعالیٰ کسی نبی کو ان میں بھیج دیتا جو ان کی اصلاح کرتا اور شریعت تورات میں ان کی تحریفات کو دور کردیتا۔ امت محمدیہ میں یہ خدمات خلفاء کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اچھے خواب دیکھنا الہام اور فرشتوں کے ساتھ مکالمہ کرنا امت کا دینی اور دنیوی نظم ونسق قائم رکھنا۔ یہ سب محدثین اور

353

خلفاء کے وظائف ہیں۔ منصب نبوت اب ختم ہوگیا اور یہ وظائف نبوت امت محمدیہ کے خلفاء کی طرف منتقل کر دئیے گئے۔ اس سے امت محمدیہ کے کمالات اور عظمت کا اندازہ کرنا چاہئے کہ جن خدمات کے لئے پہلے انبیاءo بھیجے جاتے تھے اس امت کے علماء وخلفاء انہیں انجام دیا کریں گے۔

سوچو کہ امت محمدیہ کی ہتک عزت اس میں ہے کہ اسے نااہل قرار دے کر اس میں نبی پیدا کیا جائے یا اس میں کہ اس کے خلفاء وہ خدمات انجام دیں جو پہلے کبھی انبیاءo ادا فرمایا کرتے تھے۔ ابن عساکر نے حضرت ابن عباسq سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا: ’’لی النبوۃ ولکم الخلافۃ‘‘ نبوت صرف میرے لئے ہے اور تمہارے لئے خلافت ہے۔(کنزالعمال ج۱۱ ص۷۰۶ حدیث نمبر۳۳۴۳۸)

اس روایت میں آنحضرتa نے تقسیم کرکے اپنا اور امت کا حصہ علیحدہ علیحدہ بیان کردیا ہے۔ اچھے خواب میں ہماری شرکت ہے۔ الہام اور فرشتوں سے بات چیت میں ہماری شرکت ہے۔ امت کا نظم ان کی تحریفات کی اصلاح ہمارا حصہ ہے مگر نبوت میں ہماری کوئی شرکت نہیں۔ اسی لئے حضرت علیq سے حضرت ہارونm کو تشبیہ دیتے ہوئے یہ صاف فرمادیا گیا تھا کہ تم میرے جانشین ضرور ہو مگر نبی نہیں ہو۔ نبوت میرا حق ہے اور خلافت تمہارا۔ عمر فاروقq کون، وہ کہ جب بولتے تھے تو وحی ان کے موافقت میں بولتی تھی۔ محدث ہوسکتے ہیں مگر یہ بات ان سے بھی صاف کہہ دی گئی تھی کہ نبوت میرا حق ہے اور محدثیت تمہارا۔ حالانکہ ان کے خواب ان کے الہام ان کی امت کی نگہداشت وحفاظت اس کی سفارش کررہی تھیں کہ اگر اس امت میں کوئی ہلکی سے ہلکی نبوت بھی جاری ہو تو وہ ان کو دے دی جائے۔ شب ہجرت میں حضرت علیq آپa کے بستر پر ساری رات آپa کی جگہ قربان ہونے کے شوق میں پڑے ہوئے ہیں۔ صدیق اکبرq راہ کے ہر ہر خطرناک موقع پر سربکف حاضر ہیں مگر فنافی الرسول کے سمندر کے ان شناوروں کو نبوت کا چھوٹا سا چھوٹا موتی بھی ہاتھ نہ آیا بلکہ اگر کسی کے متعلق سیاق کلام میں نبوت کا کوئی ادنیٰ احتمال بھی پیدا ہوتا نظر آیا تو اس کو بڑی صفائی سے دور کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ کسی کے لئے لفظ نبی کی کوئی بھی گنجائش نہیں دی گئی۔ اس لئے یہاں ظلی وبروزی نبوت کی بحث کرنا بھی بالکل بے معنی ہے۔ یہ بحث اس وقت قابل توجہ ہوسکتی ہے جب کہ شریعت میں کہیں امت کے کاملین پر

354

نبی کا اطلاق درست تسلیم کیا جائے۔ لیکن جب بلاتفصیل ’’لا نبی بعدی‘‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں کہہ دیا گیا ہے تو اب ہمیں بلاوجہ ظلی وبروزی کی تقسیم کی دردسری اٹھانے کی حاجت نہیں ہے۔ اس کے ماسوا یہ بھی قابل غور ہے کہ جب تاریخ نبوت میں صرف دو ہی قسم کی نبوتیں ملتی ہیں۔ تشریعی، غیرتشریعی اور یہ دونوں براہ راست نبوتیں ہیں تو نبوت کی اب ایک اور تیسری قسم تراشنا تاریخ نبوت کے خلاف ہے۔ اس کے لئے بہت زبردست شرعی ثبوت درکار ہیں۔ پورے وثوق وتحدی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن وحدیث میں ایک آیت اور کوئی ایک حدیث بھی دستیاب نہیں ہوسکتی جس میں آنے والی امت کوانبیاء کہاگیا ہو۔ پھر خاتم النّبیین کے عموم میں محض اپنی افتراعی تقسیم کی وجہ سے تخصیص پیدا کرنا قرآن دانی کا ثبوت نہیں بلکہ کھلی ہوئی تحریف ہے۔

لوکان بعد النبیa نبی لکان عمرq

اگر آنحضرتa کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرq ہوتے۔

۵۳… ’’عن عقبۃ بن عامر قال قال رسول اللہ a لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (رواہ الترمذی ج۲ ص۲۰۹ باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب والخطیب عن مالک والطبرانی ج۱۷ص۱۸۰ حدیث۴۵۷ عن عصمۃ بن مالک کما فی الکنز ج۱۱ ص۵۷۸ حدیث نمبر۳۲۷۴۵ باب فضل عمر بن الخطاب)‘‘ {عقبہ بن عامرq فرماتے ہیں کہ آنحضرتa نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq بن الخطاب ہوتے۔}

حضرت علیq کو آنحضرتa سے نسبت اخوت حاصل تھی۔ اس کے باوجود وہ نبی نہیں بن سکے۔ نسبت اخوت سے بڑھ کر ابنیت کی نسبت ہے۔ گمان ہوسکتا تھا کہ آپa کا کوئی فرزند ہوتا تو شاید وہ نبی ہو جاتا۔ مگر ان کے متعلق بھی حدیث میں یہ ارشاد ملتا ہے:’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا (ابن ماجہ ص۱۰۸ کنزالعمال ج۱۱ ص۴۶۹ حدیث نمبر۳۲۲۰۴)‘‘ {اگر ابراہیم جیتا تو صدیق نبی ہوتا۔} یعنی جس نے ختم نبوت مقدر فرمائی تھی اس نے ان کے لئے عالم تقدیر میں اتنی عمر بھی نہیں لکھی کہ ان کی علواستعداد ظاہر ہو اور ختم نبوت سے ٹکرائے۔ اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ

355

آپa کے بعد نبوت باقی ہے۔ ورنہ حضرت ابراہیم (فرزند نبی کریمa) کیسے نبی ہوسکتے تھے۔

یہاں شیخ محی الدین نووی تو اپنی مشہور کتاب تہذیب الاسماء میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ کرتے ہوئے اس حدیث کے متعلق یہ لکھ گئے ہیں:’’اماماروی عن بعض المتقدمین لوعاش ابراہیم لکان نبیا فباطل وجسارۃ علی الکلام فی المغیبات مجازفۃ وہجوم علی عظیم من الذلات واﷲ المستعان (ج۱ ص۱۰۳)‘‘ بعض متقدمین سے حضرت ابراہیم کی نبوت کے متعلق جو حدیث مروی ہے وہ بالکل بے اصل اور بے غیب کے معاملات میں بڑی دلیری اور اٹل کے تیر اور بڑی لغزش ہے۔ لیکن حافظ ابن حجرv فتح الباری ج۱۰ ص۴۷۷ باب من سمی باسماء الانبیاء کے ذیل میں اسی کے ہم معنی اور چند احادیث نقل کر کے تحریر فرماتے ہیں: ’’فہذہ عدۃ احادیث صحیحتہ عن ہولاء الصحابۃ انہم اطلقوا ذالک فلا ادری مالذی حمل النووی… علی استنکار ذلک‘‘

ان چند صحابہ سے کئی حدیثیں اس مضمون کی ثابت ہیں جن میں حضرت ابراہیم کی زندگی کی تقدیر پر ان کے نبی ہونے کا ذکر موجود ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ نووی کو اس کے انکار کی کیا وجہ پیش آئی۔ اس لئے اس حدیث میں پس وپیش کرنے کی تو کوئی وجہ نہیں ہے۔ جن حضرات کو اس حدیث میں تشویش لاحق ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث آیت خاتم النّبیین کے بظاہر مخالف معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے قرآن کے قطعی آیت کے بالمقابل قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ ہمارے نزدیک ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ آیت خاتم النّبیین کا تعلق عالم کے ان نبوتوں کے ساتھ ہے جو اپنی جگہ ایک حقیقت ثابت ہیں۔ اس کے برخلاف حضرت ابراہیم کی نبوت صرف فرضی ہے۔ فرضی بات چونکہ محض ایک اعتبار ذہنی کا نام ہے۔ اس لئے اسے عالم کے واقعی نبوتوں کے ساتھ کوئی تعارض نہیں ہوسکتا۔ اس کی ایک منطقی مثال یہ ہے:’’ان کان زید حمارا کان ناہقا‘‘ اگر زید گدھا ہوتا تو وہ گدھے ہی کی طرح بولتا۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ زید انسان ہے اور اس لئے وہ

356

گدھے کی آواز نہیں بولتا۔ یہ واقعہ بھی اپنی جگہ درست ہے۔ ہاں! اگر زید کی انسانیت کے ساتھ ہی ساتھ اس کی حماریت کو مان لیا جائے تو اب یقینا تعارض پیدا ہو جائے گا کیونکہ بیک وقت وہ ناطق اور ناہق دونوں نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ختم نبوت اپنی جگہ ایک حقیقت ثابت ہے اگر حضرت ابراہیم کی نبوت اسی درجہ میں مان لی جائے تو یقینا تعارض پیدا ہو جائے گا ورنہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست رہیں گی۔ ختم نبوت خارج میں اور نبوت ابراہیم فرضی طور پر، اصل یہ ہے کہ جب کوئی متکلم کسی بات کا کوئی پہلو واقعات عالم کے برخلاف فرض کرتا ہے تو اس فرض سے اس کا کچھ مقصد ہوتا ہے۔ پہلے اس کے اس مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے اور صرف ایک فرضی پہلو کی وجہ سے اس کے تمام پہلوؤں کی فرضی تفصیلات میں جانا نہیں چاہئے۔ ظاہر ہے کہ جب عالم میں واقعات کی ایک ترتیب پہلے سے موجود ہے۔ اب اگر اس ترتیب کے خلاف کوئی امر فرض کیا جائے اور اس کو واقعات کی اسی مرتب صف میں ٹھونسنے کی کوشش کی جائے تو یقینا اس مرتب سلسلہ میں اختلال وبدنظمی پیدا ہو جائے گی۔ یہاں واقعہ تو یہ ہے کہ آنحضرتa پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔ آپa کے فرزند بھی انتقال فرماگئے ہیں۔ عالم کے ان دونوں واقعات میں کوئی تعارض نہیں کوئی اختلاف نہیں۔ اب اگر صرف آپa کی عظمت شان اور ان کا جوہر استعداد سمجھانے کے لئے فرضی طور پر یہ کہہ دیا جائے کہ وہ جیتے تو نبی ہوتے تو اس میں بھی کوئی اشکال کی بات نہیں۔ لیکن اسی فرضی نبوت کو اگر عالم کے ان واقعات کے ساتھ رکھ دو جو بلافرض کئے ہوئے موجود ہیں تو یقینا وہ خارجی ترتیب بگڑ جائے گی۔ اب غور طلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کی فرضی نبوت کی وجہ سے ختم نبوت کے واقعی عقیدہ کو فرضی کہہ دیا جائے یا اس کو واقعی اور اس کو فرضی کہہ دیا جائے۔ مقصود قائل سے یہ کتنا بعید ہوگا کہ وہ اپنی ختم نبوت کے ساتھ ایک ہستی کا اور اعتقاد عظمت قائم کرنا چاہتا ہے۔ آپ ختم نبوت کا انکار کر کے اسی کا احترام ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک فرضی نبوت کا تصور آپ کے سامنے لاتا ہے۔ آپ اسے واقعی بناکر ختم نبوت کا عقیدہ ہی فرضی بنائے دیتے ہیں۔ اچھا آپ کے بقول مان لیجئے کہ حضرت ابراہیم اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔

آئیے دیکھیں کہ جن کی فطرت ابراہیمی فطرت سے بہت ہی ملتی جلتی تھی اور وہ زندہ بھی رہے پھر کیا نبی بنے۔ ترمذی کی حدیث آپ کے سامنے ہے۔ عمر فاروقq کی فطرت کو

357

نبوت سے جتنی مناسبت ہے وہ خود آنحضرتa کے بیان سے ظاہر ہے۔ یہ زندہ بھی رہے مگر نبی نہ بنے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ کسی مستعد نبوت کے نبی نہ ہونے کی اصل وجہ صرف اس کی موت نہیں ہے۔ ورنہ جہاں یہ وجہ نہ تھی وہاں نبوت مل جانا چاہئے تھی۔ غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی منصب پر تقرر کے لئے ذاتی استعداد وصلاحیت کے علاوہ دوباتوں کی اور بھی ضرورت ہے۔ عمر(Age) ہر شعبہ میں عمر کی بحث ضروری سمجھی جاتی ہے۔

دوم: تقرر کی جگہ (Vacancy) خالی ہونا بھی شرط ہے۔ حضرت عمرq اور حضرت علیq دونوں نبی نہیں ہوئے۔ اگر اس کی وجہ یہ ہوتی کہ ان حضرات میں اتنی لیاقت واستعداد ہی نہ تھی تو یقینا یہ اس امت کا نقصان شمار ہوتا۔ لیکن اگر کوئی (Vacancy) تقرر کی جگہ ہی نہیں ہے تو اس میں امت کا کوئی قصور نہیں نکلتا۔

یہ بات حکومت کے نظم ونسق کے متعلق ہے کہ وہ کسی عہدہ پر کتنے اشخاص کا تقرر کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم کو بھی نبوت نہیں ملی۔ کیوں نہیں ملی؟ کیا اس لئے کہ خاتم الانبیاءo کے اس جگر پارہ میں استعداد کا کوئی نقصان تھا۔ انہیں اس لئے کہ ان میں عمر(Age) کی کمی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کی ذریت اس کا قبیلہ بلکہ اس کی عام امت میں بھی استعداد نبوت تو موجود ہے انسانی بلند سے بلند کمال اسے حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ختم نبوت کا کوئی شخص یہ مطلب تو نہ سمجھے کہ یہ امت کمالات سے محروم ہوگئی ہے بلکہ تمام تر کمالات اور پوری لیاقت کے باوجود چونکہ اب کوئی (Vacancy) نہیں رہی۔

اس لئے اس منصب پر کسی کا تقرر نہیں ہوسکتا۔ حضرت ابراہیم کے معاملہ میں تقرر کی جگہ ہونے نہ ہونے کی بحث سے پہلے عمر کی بحث حائل ہوگئی تھی۔ اس لئے ان کے حق میں (Vacancy) کی بحث دوسرے نمبر کی بحث تھی۔ حضرت عمرq کے معاملہ میں عمر کی بحث نہ تھی تو منصب نبوت ختم ہونے کا مرحلہ سامنے آگیا۔ بہرصورت ان مختلف اسباب ووجوہ کے باوجود جو واقعہ تھا وہ اپنی جگہ واقعہ رہا۔ یعنی ختم نبوت بلا تخصیص اپنے پورے عموم پر باقی رہی اور یہ بعد کی بحثیں اب صرف ذہنی رہ گئیں کہ فلاں کو نبوت کیوں نہیں ملی۔ اگر آنحضرتa کے بعد درحقیقت نبوت جاری تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپa کی تئیس سالہ پیہم سعی کے بعد بھی کسی ایک کو نبوت نہ مل سکی۔ اگر حضرت ابراہیم کے لئے کوئی عذر درپیش تھا

358

تو کیا تمام کے تمام صحابہ معذور ہوگئے تھے۔ پھر حضرت ابراہیم کے معاملہ میں ان کی حیات کا عذر اس لئے نہیں ہے کہ دراصل نبوت سے وہی ایک بات مانع تھی بلکہ یہاں اس بات کو بتلانا مقصود ہے جو خاص ان کے حق میں نبوت سے وہی ایک بات مانع تھی بلکہ یہاں اس بات کو بتلانا مقصود ہے جو خاص ان کے حق میں نبوت سے مانع آگئی۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ابراہیم اگر جیتے تو بھی نبی نہ ہوتے تو ممکن تھا کہ کوئی شخص اسے ان کی قصور استعداد ولیاقت پر محمول کرلیتا۔ حالانکہ یہاں لیاقت واستعداد میں کوئی کمی نہ تھی۔ اس لئے ایسے پیرایہ بیان سے احتراز کر کے وہ پیرایہ اختیار کیاگیا ہے جو ان کی لیاقت پر روشنی ڈالے۔ یہاں ملا علی قاریؒ بلا وجہ حضرت ابراہیم کی فرضی نبوت کے اور دوسرے فرضی پہلوؤں کی تفصیلات میں بھی پڑ گئے ہیں۔ یعنی انہوں نے یہ بحث شروع کر دی ہے کہ اگر وہ زندہ رہتے اور فرض کر لو کہ نبی ہو جاتے تو آخر کس قسم کے نبی ہوتے۔ تشریعی یا غیرتشریعی۔ یہ سب بحثیں ہمارے نزدیک بے محل ہیں۔ حضرت ابراہیم کی فرضی نبوت کا پہلو یہاں صرف ایک خاص مقصد کے پیش نظر ذکر کیاگیا ہے۔ اس کی بقیہ تفصیلات میں جانا قطعاً غیرضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ نبوت بتلاتی ہے کہ نبوت افراد واشخاص سے منتقل ہوکر ذریت ابراہیمm میں پھر ذریت ابراہیم سے ذریت اسماعیل میں منتقل ہوئی۔ اب اگر نبوت آئندہ جاری رہتی تو اس کو طبعاً آنحضرتa کی ذریت میں منتقل ہونا چاہئے تھا۔ اگرچہ یہ لزوم نہ عقلی نہ نقلی۔ لیکن صرف نبوت کی تاریخ کی مناسبت یہ چاہتی ہے کہ اگر آئندہ نبوت منتقل ہو تو حضورa کے بعد اب آپa کے فرزند مبارک کی طرف منتقل ہو۔ اس استعداد ومناسبت کے اظہار کے لئے یہ فرمایا گیا تھا کہ اگر حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ ان مقاصد کے پیش نظر یہ کہنا کہ اگر آپ جیتے جب بھی نبی نہ ہوتے بالکل بے معنی بات تھی۔ یہ اس وقت مناسب تھا جب کہ آپa کو ختم نبوت کا مسئلہ بیان کرنا مقصود ہوتا۔ یہاں تو یہ بتلانا مقصود تھا کہ تاریخ نبوت جس بات کو چاہ رہی تھی اس کا اقتضاء یہاں پورا ہے۔ خاتم النّبیین کے فرزند گرامی کے متعلق جتنی بلندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے وہ اس سے آگے ہیں۔ چونکہ انتقال نبوت کا یہ مخصوص تخیل حضرت عمرq کے حق میں قائم کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اس لئے ان کا جوہر استعداد بتلانے کے لئے دوسرا عنوان اختیار کیاگیا اور وہاں ختم نبوت ہی پر زور دیاگیا۔ یعنی

359

اگر کہیں نبوت ختم نہ ہوتی تو یہ اپنے کمالات لیاقت کے لحاظ سے اس کے اہل تھے کہ انہیں منصب نبوت سے سرفراز کردیا جاتا جنہیں موارد کلام سمجھنے کا سلیقہ حاصل تھا۔ انہوں نے اس فرق کو خوب سمجھ لیا تھا۔ وہ حضرت ابراہیم کے متعلق اس حدیث سے یہ نہیں سمجھے کہ آپa کے بعد نبوت جاری ہے بلکہ انہوں نے اس کو یوں حل کر لیا کہ جب عالم تقدیر میں ختم نبوت مقدر ہوچکی تھی تو اس کے مناسب یہی تھا کہ عالم تکوین میں حضرت ابراہیم کو عمر نبوت نہ دی جائے تاکہ جوان ہوکر پھر آپ کا نبی ہونا مناسب ہو اور آپ کا جوہر استعداد سمجھانے کے لئے آپ کی حیات فرض کر کے یہ کہلادیا جائے کہ آپ کی فطرت تو نبی کی فطرت تھی مگر چونکہ زمانہ نبوت باقی نہ تھا۔ اس لئے عمر نبوت مقدر نہ ہوئی۔

خلاصہ یہ کہ یہاں ختم نبوت کا مسئلہ چھیڑنا مقصود نہیں تھا۔ اگر آپ کو اس بحث میں پڑنا ہے تو پہلے اس پر بھی غور کیجئے کہ مشیت ایزدی نے حضرت ابراہیم کی حیات کا آخر ارادہ کیوں نہیں کیا۔ عطاء فرماتے ہیں: ’’ان اللہ تعالٰی لما خکم ان لا نبی بعدہ لم یعطہ ولد ذکر ایصیر رجلا (معالم التنزیل ج۳ ص۱۷۸ زیر آیت ماکان محمد… الخ!)‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر فرمایا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہو تو آپ کو کوئی ایسی نرینہ اولاد بھی نہ دی جو جوانی کی عمر کو پہنچتی: ’’عامر شعبی آیۃ ماکان محمد… الخ!‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ماکان لیعیش لہ فیکم ولد ذکر (ترمذی ج۲ ص۱۵۲ تفسیر احزاب)‘‘ یہ آپa کی شان (ختم نبوت) کے مناسب ہی نہ تھا کہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد زندہ رہتی۔ اسماعیل فرماتے ہیں: ’’قلت لا بن ابی اوفی رائیت ابراہیم بن النبیa قال مات صغیر ولو قدران یکون بعد محمدa بنی عاش ابنہ لکن لا نبی بعدہ (بخاری ج۲ ص۹۱۴ باب من سمی بااسماء الانبیاء)‘‘ میں نے ابن اوفی سے پوچھا آپ نے ابراہیم آپa کے فرزند مبارک کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا ان کا لڑکپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ اگر آنحضرتa کے بعد کوئی اور نبی مقدر ہوتا تو آپa کے فرزند مبارک جیتے رہتے لیکن آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔’’عن انسq قال لو بقی لکان نبیاً ولٰکن لم یکن لیبقی لان نبیکم اٰخرالانبیاء (مسند احمد، الحاوی للفتاوی ج۲ ص۹۹ فتح الباری ج۱۰ ص۴۷۷

360

باب من سمی باسماء الانبیاء)‘‘ انسq فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اگر جیتے تو نبی ہوتے۔ لیکن وہ کیسے جیتے۔ جب کہ آپa نبیوں میں آخری نبی قرار پاچکے تھے۔ شیخ اکبرv فرماتے ہیں: ’’الا تراہa ماعاش لہ ولدذکر من ظہرہ تشریفالہ لکونہ سبق فی علم اللہ انہ خاتم النّبیین (فتوحات مکیہ ج۳ ص۵۱۳ باب ۳۸۲)‘‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ صرف آپa کی تشریف وتکریم کے لئے آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہ رہی۔ کیونکہ خدا کے علم میں یہ طے پاچکا تھا کہ آپa خاتم النّبیین اور آخری نبی ہیں۔ اگر وہ زندہ رہتے اور نبی نہ ہوتے تو ایک لحاظ سے یہ بھی آپ کی شان کے مناسب نہ تھا اور اگر نبی ہوتے تو یہ آپ کے خاتم النّبیین ہونے کے مناسب نہ ہوتا۔ اس لئے ان کے لئے عمر نبوت ہی مقدر نہ ہوئی۔

ان بیانات سے ثابت ہے کہ صحابہ وتابعین اور علماء محققین کے نزدیک حضرت ابراہیمm کے نبی نہ ہونے کا اصل سبب وہی تھا کہ اب منصب نبوت کے تقرر کے لئے کوئی (Vacancy) جگہ ہی باقی نہیں رہی مگر جو مخصوص عنوان یہاں اختیار کیاگیا ہے۔ اس کی مصلحت اور ہے۔

من زعم بعد النبیa انہ نبی فہو کذاب

جو شخص آنحضرتa کے بعد یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ نبی ہے وہ پرلے درجہ کا جھوٹا ہے۔

۵۴… ’’عن ثوبان قال قال رسول اللہ a انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (رواہ مسلم عن ابوہریرۃq ج۲ ص۳۹۷ کتاب الفتن واشراط الساعۃ ترمذی ج۲ ص۴۵ باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتّٰی یخرج کذابون، مسند احمد ج۵ ص۲۷۸ درمنثور ج۵ ص۲۰۴ زیر آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم)‘‘ {ثوبانq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے آئندہ میری امت میں تیس سخت جھوٹے پیداہوں گے۔ ان میں ہر ایک اپنے متعلق گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں سب نبیوں کے آخر میں آیا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

361

۵۵… ’’عن ابی بکرۃ قال اکثر الناس فی امر مسیلمۃ الکذاب قبل ان یقول رسول اللہ a فیہ شیئاً ثم قام رسول اللہ a فی الناس فاثنٰی علی اللہ بما ہو اہلہ ثم قال اما بعد فی شان ہٰذا الرجل الذی قد اکثرتم فی شأنہ فانہ کذاب من ثلاثین یخرجون قبل الدجال (رواہ الطحاوی فی مشکل الاثار ج۲ ص۱۰۴ مسند احمد ج۵ ص۳۶)‘‘ {حضرت ابوبکرq سے روایت ہے کہ مسیلمہ کذاب کے معاملہ میں آنحضرتa کے کچھ فرمانے سے پیشتر لوگوں میں بڑی چہ میگوئیاں ہورہی تھیں۔ ایک دن آپ نے خطبہ دیا اور بعد حمد وصلوٰۃ کے فرمایا۔ جس شخص کے بارے میں تم رائے زنی کر رہے ہو وہ ان تیس جھوٹوں میں ایک جھوٹ ہے جو دجال اکبر سے پہلے آئیں گے۔}

۵۶… ’’عن عبداﷲ بن الزبیر قال قال رسول اللہ a لاتقوم الساعۃ حتّٰی یخرج ثلاثون کذاباً دجالاً منہم المسیلمۃ والعنسی ولمختار (ابویعلی، فتح الباری ج۶ ص۴۵۴ باب علامات النبوۃ وفی روایۃ کنزالعمال عن الزہری ج۱۴ ص۱۹۹ حدیث نمبر۳۸۳۷۴)‘‘ {عبداﷲ بن الزبیرq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے کہ قیامت اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال نہ نکل آئیں جن میں مسیلمہ، عنسی اور مختار بھی ہیں۔}

انبیاءo کے بیان میں ان کے اندازہ علم ویقین کے مطابق ایک طاقت وشوکت ہوتی ہے۔ وہی یہاں ظاہر ہورہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ علم ازلی میں دجالین کی آمد ثابت ہوچکی ہے۔ اس لئے قیامت کے آنے سے پہلے ان کی آمد یقینی امر ہے۔ دنیا کو چاہئے کہ وہ ان کا انتظار کر کے تھک نہ جائے۔ رہی یہ بات کہ اس امت میں دجالوں کی اتنی کثرت کیوں ہے تو جو اور فتنوں کے متعلق جواب دیا جائے گا۔ وہی جواب اس فتنے کے متعلق بھی ہو جائے گا۔ ایک سطحی بات یہ ضرور معلوم ہوتی ہے کہ جب اس امت میں نبوت کا ختم ہونا مقدر ہوا تو اس کا مقابلہ بھی شیطانی طاقتوں کے لئے ضروری ہوگیا۔ خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا کے آخری دور میں پھر ایک ایسی عام وحدت پیدا کر دے جیسا آغاز عالم میں ایک مرتبہ ظاہر ہوچکی ہے۔ نسل انسانی ایک ہی باپ کی اولاد تھی جیسا روزاوّل وہ ایک ہی زمین پر تھی۔ آخر میں پھر اس کا ایک ہی کلمہ ایک ہی قبیلہ اور ایک ہی دین ہو جائے۔ درمیان میں نبوتوں اور

362

رسالتوں کے تفاوت سے شریعت اور منہاج کا جو تفاوت پیدا ہوگیا تھا وہ سب ختم ہوکر صرف ایک شریعت اسلام باقی رہ جائے۔ اتنی عظیم وحدت کو شکست دینے کے لئے شیطانی لشکروں کو بھاگ دوڑ کرنا ضروری تھا۔ اس لئے اس عام نبوت کے بالمقابل نبوت کا دعویٰ کرنا لازم ہوگیا۔ اس پیش گوئی کا ظہور آپa کے عہد مبارک سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ مسیلمہ اور عنسی آپa کے زمانہ میں ہی ظاہر ہوئے اور آپa کے حکم کے ماتحت صحابہi نے ان کو کاذب سمجھا اور آخر کار جودجالین کے ساتھ برتاؤ چاہئے تھا وہی ان کے ساتھ کیاگیا۔ رہی یہ بحث کہ دجالوں کے تیس ہونے میں ہی کیا حکمت ہے وحافظ ابن حجرv لکھتے ہیں: ’’ولیس المراد بالحدیث من ادعی النبوۃ مطلقاً فانہم لا یحصون کثرۃ لکون غالبہم ینشالہم ذلک عن جنون وسوداء وانما المراد من قامت لہ شوکتہ (فتح الباری ج۶ ص۴۵۵ باب علامات النبوۃ فی الاسلام)‘‘ {حدیث مذکورمیں مدعین نبوت سے ہر مدعی نبوت مراد نہیں۔ کیونکہ مدعی نبوت تو بے شمار ہیں۔ بیشتر یہ دعوے جنون یا سوداویت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں مراد وہ مدعین نبوت ہیں جو باشوکت ہوں گے۔ ان کا مذہب تسلیم کیا جائے گا ان کے متبعین کی تعداد زیادہ ہوگی۔}

نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس امت میں لاکھوں اور کروڑوں سے متجاوز اولیاء واقطاب گزر گئے ہوں۔ اس میں تیس دجالوں کا عدد کچھ زیادہ بھی نہیں ہے۔ غور طلب تو یہ ہے کہ اگر آپa کے بعد نبوت کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی قسط بھی باقی تھی تو اس کی بشارت کے لئے آخر ایک حدیث بھی کیوں نہیں آئی اور کذابین ودجالین کے متعلق دسیوں حدیثیں کیوں آگئیں۔ پھر حدیث میں ان کے کاذب ہونے کی وجہ یہ نہیں بلائی گئی کہ وہ درحقیقت نبی نہ ہوں گے بلکہ یہ قراردی گئی کہ میں خاتم النّبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ ایک طرف تو احادیث میں ہر قسم کی نبوت کی نفی آرہی ہے۔ ہر مدعی نبوت کو کذاب ودجال کہا جارہا ہے۔ دوسری طرف کسی حدیث سے ظلی وبروزی کی تقسیم ثابت نہیں ہوتی۔ تاریخ نبوت میں ظلی نبی کوئی نظر نہیں آتا۔ پھر آخر کس دلیل سے نبوت کی ایک تیسری قسم مان کر اس کو جاری قرار دیا جائے۔ یہاں یہ تفتیش بھی ضروری ہے کہ نبوت کی جو قسم بھی تسلیم کی جائے اس کا آغاز کب سے ہوا۔ تاریخی لحاظ سے وہ افراد کون سے تھے جن کو ظلی نبی کہا جاسکتا ہے اور کیا یہ ثابت ہے کہ انہوں نے اپنی نبوت پر ایمان

363

لانے کی امت کو دعوت دی ہو اور کیا کسی ایسے نبی کی امت نے کبھی تصدیق کی ہے۔ اگر ایسا کوئی نبی اب تک نہیں گزرا اور اگر گزرا ہے تو امت نے ہمیشہ اس کی تکذیب ہی کی ہے تو پھر کس دلیل سے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ درحقیقت اس امت میں نبوت کی کوئی قسم جاری ہے اور اتنی کثرت کے ساتھ جاری ہے کہ ان کی آمد دجالین کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ یہاں انجیل کا بیان بھی حدیث ہی کے موافق ہے۔

’’جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔ ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لو گے۔ کیا جھاڑیوں سے انگور یا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں۔‘‘(متی باب:۷، آیت:۱۵،۱۶)

جس قدرت نے اس عالم کو تماشا گاہ اضداد بنایا ہے نور کے مقابلہ میں ظلمت، تری کے مقابلہ میں خشکی، صحت کے مقابلہ میں مرض، بلندی کے مقابلہ میں پستی پیدا فرمائی ہے۔ اسی نے عالم روحانیت میں ہدایت کے مقابلہ میں ضلالت، ملائکہ کے مقابلہ میں شیاطین، انبیاءo کے مقابلہ میں دجالین بنائے ہیں۔ پس جس طرح خاتم الرسل کی آمد سب رسولوں کے بعد ہوئی ہے اسی طرح مناسبت ہے کہ دجال اکبر کے ظہور سے پہلے جو دجالین آنا ہیں آجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دجال اکبر یعنی خاتم الدجاجلہ کا ظہور خاتم الرسل کے عہد میں ہی مقدر ہوا تاکہ دنیا کے خاتمہ پر ہدایت وضلالت کی آخری طاقتیں زور آزمائی کر کے ختم ہوجائیں۔ پھر قیامت آجائے۔ وﷲ الحکمۃ البالغہ!

خاتم النّبیین

جہان کا سردار آگیا۔ اب کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔ دنیا اس کے زیررسالت وسیادت ختم ہوجائے گی۔ عالم کی آبادی کا دارومدار اس کی ہدایت پر ہے اور کارخانہ ہدایت تمام کا تمام رسولوں کی ذات سے وابستہ ہے۔ اس لئے عالم کی ابتداء وانتہاء اور رسالت کی ابتداء وانتہاء میں بڑا گہرا ربط ہے۔ پروردگار عالم نے جب ایک طرف عالم کی بنیاد رکھی تو اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف قصر نبوت کی پہلی اینٹ بھی رکھ دی۔ یعنی عالم میں جس کو اپنا خلیفہ بنایا تھا اسی قصر نبوت کی خشت اوّل قرار دے دیا۔ ادھر عالم بتدریج پھیلتا رہا۔ ادھر قصر نبوت کی تعمیر ہوتی رہی۔ آخرکار عالم کے لئے جس عروج پر پہنچنا مقدر تھا پہنچ گیا۔ ادھر ہر قصر

364

نبوت بھی اپنے جملہ محاسن اور خوبیوں کے ساتھ مکمل ہوگیا اور اس لئے ضروری ہوا کہ جس طرح عالم کی ابتداء میں رسولوں کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی اس کی انتہاء پر رسولوں کے خاتمہ کا بھی اعلان کردیا جائے تاکہ قدیم سنت کے مطابق آئندہ اب کوئی شخص رسول کی آمد کا انتظار نہ کرے۔

’’یٰبنی اٰدم امایاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیٰتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (الاعراف:۳۵)‘‘ {اے آدم کی اولاد! (دیکھو) تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول آئیں گے جو میری آیتیں تمہیں پڑھ پڑھ کر سنائیں گے۔ جس نے تقویٰ کی راہ اختیار کی اور نیک رہا تو اس پر نہ گزشتہ کاخوف نہ آئندہ کا غم۔}

اس اعلان کے مطابق خدا کی زمین پر بہت سے رسول آئے مگر کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النّبیین ہے بلکہ ہر رسول نے اپنے بعد دوسرا رسول آنے کی بشارت سنائی۔ حتیٰ کہ وہ زمانہ آگیا جب کہ اسرائیلی سلسلہ کے آخری رسول نے اسماعیلی سلسلہ کے اس رسول کی بشارت دے دی۔ جس کا اسم مبارک احمد تھا: ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (الصف:۶)‘‘

عالم کے اس منتظر اور حضرت عیسیٰؑ کے اس مبشر رسول نے دنیا میں آکر ایک نیا اعلان کیا اور وہ یہ تھا کہ میں اب آخری رسول ہوں۔ خود عالم کا زمانہ بھی آخر ہے اور ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح قریب قریب ہیں۔ عالم اپنے پورے عروج کو پہنچ چکا ہے۔ قصر نبوت میں ایک ہی اینٹ کی کسر باقی تھی۔ وہ میری آمد سے پوری ہوگئی ہے۔ دونوں تعمیریں مکمل ہوگئیں ہیں۔ اب صلاح وتقویٰ کا نتیجہ دیکھنے کا زمانہ آتا ہے۔ قرآن کریم میں آپa کی ختم نبوت کا اعلان ان الفاظ میں کیاگیا ہے۔ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین۔ وکان اللہ بکل شیٔ علیما (احزاب:۴۰)‘‘ یعنی اب تک جتنے رسول آئے وہ صرف رسول اللہ تھے۔ آپa رسول اللہ ہونے کے علاوہ خاتم النّبیین بھی ہیں۔ اس بناء پر آنحضرتa کے تصور کے لئے دوباتوں کا تصور ضروری ہے۔ یہ کہ آپa رسول اللہ ہیں اور یہ کہ آپ خاتم النّبیین بھی ہیں۔ آپ کے متعلق صرف رسول اللہ کا تصور آپ کی ذات کا ادھورا اور ناتمام تصور ہے۔ بلکہ ان ہردو تصورات میں آپ کا امتیاز خاتم النّبیین ہی ہے۔ ختم نبوت کی

365

اسی اہمیت کی وجہ سے گزشتہ احادیث میں آپ مطالعہ فرماچکے ہیں کہ اس مسئلہ کی نشرواشاعت نبوت آدم بلکہ وجود آدمm سے بھی پہلے لوح محفوظ اور عرش عظیم پر کردی گئی تھی اور کاتب تقدیر نے حضرت آدمm کے دونوں شانوں کے درمیان آپa کے اسم مبارک کے ساتھ آپ کی خاتم النّبیین ہونے کی صفت بھی بصورت حروف نقش کر دی تھی۔ حضرت آدمm نسل انسانی کی بنیاد تھے۔ لوح محفوظ جملہ حوادث عالم کی بنیاد ہے اور عرش ان اصول کے اعلان کا سب سے بلند بورڈ ہے جو دربار الٰہی میں طے شدہ اور ناقابل ترمیم تصور کئے گئے ہیں۔ اس لئے ان مقامات پر اعلان کا یہ مطلب تھا کہ ختم نبوت بھی عالم کے ان بنیادی اور بدیہی مسائل میں داخل ہے جن کا علم سب پر فرض ہے اور جن میں اب کسی تبدیل وترمیم کی گنجائش نہیں۔ اسی لئے آسمانوں پر فرشتوں نے، زمین پر حیوانات نے، محشر میں انبیاءo نے، غرض ابتداء سے لے کر انتہاء تک۔ عالم بالا سے لے کر عالم اسفل تک ہر ذی شعور اور غیرذی شعور نے آپa کی ختم نبوت کا نغمہ بلند کیا ہے۔ جب آپa عالم ناصوت میں جلوہ افروز ہوئے تو آپa کی یہ امتیازی شان مہر نبوت کی صورت میں بھی نمایاں کر دی گئی تاکہ جس کی آمد کا غلغلہ اب تک عالم میں بلند ہورہا تھا۔ اس کی شناخت میں کوئی دشواری نہ رہے۔

قرطبیؒ شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ خاتم نبوت کو اسی لئے خاتم نبوت کہا جاتا ہے کہ یہ بھی منجملہ اور علامات کے آپa کی نبوت کی ایک علامت تھی۔ اسی لئے حضرت سلمان فارسیq آپ کی غائبانہ تلاش میں جب آپa کی خدمت میں پہنچ گئے تو نہایت متجسانہ نظروں سے خاتم نبوت کو تلاش کرنے لگے۔ آپ نے ان کے طوروطریق سے ان کا مقصد پہچان لیا اور چادر مبارک خاتم نبوت سے ہٹادی۔ پھر کیا تھا سلمانq دیکھ کر بے خود ہوگئے اور اسی عالم بے خودی میں اس کو بوسہ دینے لگے اور فوراً حلقہ بگوش اسلام بن گئے۔ بحیرہ راہب کے قصہ میں بھی موجود ہے کہ اس نے کہا: ’’انی اعرفہ بخاتم النبوۃ‘‘ میں خاتم نبوت کی وجہ سے آپ کو پہچانتا ہوں۔ غرض علماء اہل کتاب کے نزدیک نبی منتظر کی یہ ایک بڑی علامت تھی۔ (دیکھو زرقانی شرح مواہب)

خداتعالیٰ کی یہ عجب حکمت ہے کہ مہر نبوت کے ظہور کے لئے آپa کے جسم مبارک میں بھی وہی جگہ منتخب ہوئی جو حضرت آدمm کے جسم مبارک میں منتخب ہوئی تھی۔

366

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عقیدہ ہر رسول کی دعوت کا جزء اہم رہا ہے۔ اس لئے قیاس کہتا ہے کہ جس رسول کے زمانہ سے قیامت کی آمد مربوط ہے اس کا تذکرہ بھی ان کا فرض منصبی رہا ہوگا۔ گویا ختم نبوت کا عقیدہ قیامت کے عقیدہ کے دوش بدوش ہمیشہ تعلیم دیاگیا ہے۔ شفاء قاضی عیاض اور کنزالعمال میں ایک ضعیف اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ خدا کے سب رسولوں نے خاتم الانبیاء کی آمد کی بشارت سنائی ہے۔

حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ: ’’وقد اخبراﷲ تبارک وتعالٰی فی کتابہ ورسولہa فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ہذا المقام فہو کذاب، افاک، دجال، ضال (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۴۹۴ زیرآیت ماکان محمد ابا احد… الخ!)‘‘ {اﷲتعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے احادیث متواترہ میں ختم نبوت کا اعلان اس لئے فرمایا ہے تاکہ معلوم ہو جائے جو شخص اب اس منصب کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا افتراء پرداز، دجال اور پرلے درجہ کا گمراہ ہوگا۔}

علماء محققین لکھتے ہیں کہ ختم نبوت کے اعلان میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ دنیا متنبہ ہو جائے کہ اب یہ پیغمبر آخری پیغمبر ہے اور یہ دین آخری دین ہے جس کو جو حاصل کرنا ہے کر لے۔ اس کے بعد دنیا کی یہ پیٹھ اجڑنے والی ہے۔ جیسا شام کے وقت ایک دکاندار اعلان کرتا ہے کہ میں اب دکان بند کرتا ہوں جسے سودا لینا ہے لے لے یا جیسا ایک حاکم بوقت آخری اسپیچ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میری تم سے اب یہ آخری ملاقات ہے جو کہتا ہوں خوب غور سے سن لو۔ اسی طرح خالق زمین وزماں کو جو آخری ہدایات دینا تھیں وہ آنحضرتa کی معرفت دے دیں اور اعلان کردیا کہ اب یہ رسول آخری رسول ہے۔ ایمانیات، اخلاقیات، معیشت، تمدن کے سب اصول مکمل کردئیے گئے۔ اس لئے یہ دین آخری دین ہے جسے جو عمل کرنا ہے کر لے۔ حیلہ وحجت کا وقت نہیں رہا۔ بحث وجدل کی بجائے عمل کی فرصت نکالنی چاہئے۔ وقت تھوڑا رہ گیا ہے اور حساب کی ذمہ داری سرپر ہے۔

اب نہ کوئی رسول آئے گا نہ نبی نہ تشریعی نہ غیرتشریعی نہ ظلی نہ بروزی۔ مگر اس معنی سے نہیں کہ آئندہ نفوس انسانیہ کو کمال وتکمیل سے محروم کردیاگیا ہے۔ بلکہ اس معنی سے کہ اب یہ منصب ہی ختم ہوگیا ہے۔ پہلے عالم کی عمر میں بہت وسعت تھی اور اس منصب پر تقرر کی

367

گنجائش بھی کافی تھی۔ اس لئے انبیاءo برابر آتے رہے۔ اب دنیا کی عمر ہی اتنی باقی نہیں رہی کہ اس میں اور تقرر کی گنجائش ہوتی۔ اس لئے اس کے خاتمہ پر آپa کو بھیج کر یہ اعلان کردیاگیا ہے کہ اب نبی نہیں آئیں گے قیامت آئے گی۔

چونکہ سنت الٰہیہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ختم فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو کامل ہی ختم کرتا ہے ناقص ختم نہیں کرتا۔ نبوت بھی اب اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی۔ اس لئے مقدریوں ہوا کہ اس کو بھی ختم کردیا جائے۔ اگر آنحضرتa کے بعد نبوت جاری ہو تو لازم آئے گا کہ اس کا خاتمہ نقصان پر ہو۔ ظاہر ہے کہ ایک نہ ایک دن عالم کا فنا ہونا ضروری ہے۔ اس سے قبل کسی نہ کسی نبی کا آخری نبی ہونا بھی عقلاً لازم ہے۔ اب اگر وہ آپa سے زیادہ کامل ہوتو اس کے لئے اسلامی عقیدہ میں گنجائش نہیں اور ناقص ہوتو نبوت کا خاتمہ نقصان پر تسلیم کرنا لازم ہوگا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم فطرت عالم پر غور کروگے تو تم کو جزو کل میں ایک حرکت نظر آئے گی۔ ہر حرکت ایک ارتقاء اور کمال کی متلاشی ہوتی ہے۔ پھر ایک حد پر پہنچ کر یہ حرکت ختم ہو جاتی ہے اور جہاں ختم ہوتی ہے وہی اس کا نقطۂ کمال کہاجاتا ہے۔ انواع پر نظر ڈالئے تو جمادات سے نباتات اور نباتات سے حیوانات پھر حیوانات سے انسان کی طرف ایک ارتقائی حرکت نظر آرہی ہے مگر انسان پر پہنچ کر یہ ارتقائی حرکت ختم ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انسان تمام انواع میں کامل ترنوع ہے۔ خود انسان کی حقیقت پر اگر غور کیا جائے تو وہ بھی نطفہ سے متحرک ہوکر دم وعلقہ ومضغہ کے قالب طے کرتا ہوا خلق آخر پر جاکر ٹھہر جاتا ہے اور اسی کو اس کی استعداد فطرت کا آخری کمال کہا جاتا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اس کے اعضاء میں پھر ایک حرکت اور ایک نشوونما نظر آتا ہے۔ وہ دور شباب پر جاکر ختم ہوجاتا ہے اور اسی کو اس کا زمانہ کمال کہا جاتا ہے نباتات واشجار کو دیکھئے تو وہ بھی ایک چھوٹی سی گٹھلی سے حرکت کرتے کرتے ایک تناور درخت بن جاتے ہیں۔ آخرکار اس پر پھل نمودار ہوتے ہیں اور جب پھل نمودار ہوجاتے ہیں تو یہ اس کا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اس کمال پر پہنچ کر درخت کا ایک دور حیوۃ ختم ہوتا ہے۔ آئندہ اپنے دور حیوۃ کے لئے پھر اس کو بہت سے انہیں ادوار کو دہرانا پڑتا ہے۔ جن میں گزر کر وہ اس منزل تک پہنچتا تھا۔ یعنی موسم خزاں آتا ہے اور اس کے ایک دورۂ حیوۃ کو ختم کر جاتا ہے۔ اگر قدرت کو اس کی پھر نشاۃ ثانیہ منظور نہ ہوتی تو وہ یونہی سوکھ کر ختم ہوگیا

368

ہوتا۔ مگر چونکہ اس کو ابھی باقی رکھنا منظور ہوتا ہے اس لئے پھر اسے وہی سبزسبز پتیاں، وہی ہری ہری لچک دار ڈالیاں مل جاتی ہیں۔ پھراس پر پھول آتے ہیں اور آخر میں پھر پھل نمودار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب تک یہ درخت موجود رہتا ہے اپنے ارتقائی مدارج کو ایک سرے سے لے کر دوسرے تک دوہرایا کرتا ہے جو درخت اپنی ابتدائی کڑیوں کو پھر نہیں دہراتے۔ وہ ایک مرتبہ پھل دے کر اپنی زندگی ختم کر جاتے ہیں۔ جیسا کیلے کا درخت۔

اگر یہ سچ ہے تو عالم نبوت میں بھی ایک تدریج نمایاں ہے۔ حضرت آدمm سے لے کر تمام شریعتوں پر نظر ڈالئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تمام نبوتیں کسی ایک کمال کی جانب متحرک ہیں۔ ہر پچھلی شریعت پہلی سے نسبتاً ارتقائی شکل میں نظر آتی ہے۔ اس لئے طبعی اصول کے مطابق ضروری ہے کہ یہ حرکت بھی کسی نقطہ پر جاکر ختم ہو جس کو اس کا کمال کہا جائے۔ لیکن جب خود نبوت ہمارے ادراک سے بالاتر حقیقت ہے تو اس کے آخری نقطۂ کمال کا ادراک بدرجہ اولیٰ ہماری پرواز سے باہر ہونا چاہئے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ قدرت خود ہی اس کا تکفل فرمائے اور خود ہی اس کا اعلان کردے کہ نبوت کا ارتقاء جہاں ختم ہوا ہے وہ مرکزی اور کامل ہستی آنحضرتa کی مبارک ہستی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم میں:’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ کے بعد فرمایا ہے:’’وکان اللہ بکل شیٔ علیما‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو ہر چیز کا علم ہے وہی یہ جانتا ہے کہ نبیوں میں خاتم النّبیین اور آخری کون ہے۔ یہ بات تمہاری دریافت سے باہر ہے کہ تم معلوم کر سکو کہ اس کے رسولوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے۔ ان میں اوّل کون ہے اور آخر کون۔ اگر اسے عالم کا بقا اور منظور ہوتا تو شاید وہ آپ کی آمد ابھی کچھ دن کے لئے اور مؤخر کردیتا۔ لیکن چونکہ دنیا کی اجل مقدر پوری ہوچکی تھی۔ اس لئے ضروری تھا کہ نبوت کی آخری اینٹ بھی لگادی جائے اور اعلان کر دیا جائے کہ دنیا کی عمر کے ساتھ ساتھ قصر نبوت کی بھی تکمیل ہوگئی ہے۔ نبوت نے اپنا مقصد پالیا ہے۔ آپa کے بعد اب کوئی رسول نہیں آئے گا۔ کیونکہ اگر کوئی رسول آئے تو یا وہ آپa سے افضل ہوگا یا مفضول۔ اگر افضل ہو تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ نبوت نے ابھی تک اپنے اس کمال کو نہیں پایا۔ جس کے لئے وہ متحرک ہوئی تھی اور اگر مفضول ہو تو کمال کے بعد پھر یہ نزولی حرکت اسی وقت مناسب ہوسکتی ہے۔ جب کہ عالم کی پھر نشاۃ ثانیہ تسلیم کی جائے۔ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نبوت اب اپنے ارتقائی کمال کو پہنچ چکی ہے۔ اب کوئی اور کمال منتظر اس کے لئے باقی

369

نہیں رہا۔ اس لئے اس فطری اصول کے مطابق اسے ختم ہو جانا چاہئے۔

’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائدہ:۳)‘‘ یعنی تمہارا دین کمال کو پہنچ چکا ہے۔ اب ناقص نہ ہوگا۔ خدا کی نعمت پوری ہوچکی ہے۔ اب آئندہ اس سے زیادہ اس کے تمام کی توقع غلط ہے اور نظر ربوبیت اب ہمیشہ کے لئے دین اسلام کو پسند کر چکی ہے۔ اس لئے کوئی دین اس کا ناسخ بھی نہیں آئے گا۔ عربی زبان میں کمال وتمام دونوں لفظ نقصان کے مقابل ہیں۔ ان میں فرق یہ ہے کہ کمال اوصاف خارجیہ کے نقصان کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے اور تمام اجزاء کے لحاظ سے مثلاً اگر انسان کا ایک ہاتھ نہ ہو وہ ناقص ہے۔ یعنی اسے ناتمام انسان کہا جائے گا۔ خواہ کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو اور اگر اس کے اعضاء پورے ہیں مگر صورت اچھی نہیں اخلاق نادرست ہیں، خصائل درشت وناہموار ہیں تو اس کو بجائے ناتمام کے نامکمل انسان کہا جائے گا۔ آیت بالا میں یہاں دونوں لفظوں کو جمع کر کے یہ بتلادیا گیا ہے کہ دین اسلام اب ہر پہلو سے مکمل ہوچکا ہے۔، نہ اس میں اجزاء کا نقصان باقی ہے نہ اوصاف کا۔ اس لئے اب اس کی حرکت ارتقائی ختم ہوگئی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ آپa کا آخری نبی ہونا صرف ایک تأخر زمانی نہیں ہے۔ کسی شخصیت کا صرف آخر میں آنا فضیلت کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ بلکہ سنت اللہ چونکہ یہ ہے کہ ہر شے کا خاتمہ کمال پر کیا جائے۔ اس لئے یہاں آپa کا تأخر زمانی آپa کے انتہائی کمال کی دلیل ہے۔ اسی حقیقت کو آنحضرتa نے قصرنبوت سے ایک بلیغ تشبیہ دے کر واضح فرمادیا تھا۔ یہود کو جب خدا کے اس اکمال واتما م کی خبر پہنچی تو ان سے رہا نہ گیا اور انہوں نے ازراہ حسد کہا اے عمرq اگر کہیں یہ آیت ہمارے حق میں اترتی ہم تو اس دن کو عید کا دن بنالیتے۔

حافظ ابن کثیرv فرماتے ہیں:’’ہذہ اکبر نعم اللہ علی ہذہ الامۃ حیث اکمل تعالٰی لہم دینہم فلا یحتاجون الٰی دین غیرہ ولا الٰی نبی غیرنبیہم صلوات اللہ وسلامہ علیہ ولہٰذا جعلہ اللہ تعالٰی خاتم الانبیاء وبعثہ الٰی الانس والجن (تفسیر ابن کثیر ج۲ ص۱۲ زیر آیت الیوم اکملت لکم)‘‘ {اﷲتعالیٰ کا اس امت پر یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے اس امت کا دین کامل کر دیا ہے کہ اب اسے نہ کسی اور دین کی ضرورت رہی نہ کسی اور نبی کی۔ اسی لئے آپa کو

370

خاتم النّبیین بنایا ہے اور انسان وجن سب کے لئے رسول بناکر بھیجا ہے۔}

معلوم ہوا کہ ختم نبوت دینی ارتقاء اور خدائے تعالیٰ کے انتہائی انعام کا اقتضاء ہے اور وہ کمال ہے کہ اس سے بڑھ کر امت کے لئے کوئی اور کمال نہیں ہوسکتا۔ حتیٰ کہ یہود کو بھی ہمارے اس کمال پر حسد ہے پھر حیرت ہے کہ اتنے عظیم الشان کمال کو برعکس محرومی سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کا صحیح مفہوم سمجھنے ہی میں چند غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ شاید اس کا مفہوم یہ سمجھا گیا ہے کہ نبوت پہلی امتوں کے لئے ولایت وصدیقیت کی طرح ایک ممکن الحصول کمال تھا۔ اب یہ امت دوسرے اور مراتب تو حاصل کرسکتی ہے مگر کمال نبوت کو حاصل نہیں کرسکتی۔ یہ سخت غلط فہمی اور حقیقت نبوت سے قطعی جہالت کی دلیل ہے۔ نبوت ان کمالات ہی میں نہیں ہے جو ریاضات ومجاہدات کے صلہ میں بطور انعام کسی وقت بھی بخشا گیا ہو بلکہ ایک الٰہی منصب ہے جس کا تعلق تشریعی ضرورت اور براہ راست خدائے تعالیٰ کی صفت اجتباء واصطفاء کے ساتھ ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس منصب کے لئے چن لیتا ہے۔ اگر نبوت ان کمالات میں ہوتی جو مجاہدات وریاضات، پاکبازی وحسن نیت کے صلہ میں انعامی طور پر ملتے ہیں تو یقینا اس کے لئے سب سے موافق زمانہ خود نبی کی موجودگی کا زمانہ ہوتا۔ کیونکہ جتنی عملی جدوجہد، اتباع شریعت کا جتنا جذبہ خود اس کے زمانہ میں ہوتا ہے اس کے بعد نہیں ہوتا۔ مگر نبوت کی تاریخ اس کے برخلاف ہے۔ یعنی جب خدائے تعالیٰ کی زمین شروفساد، طغیان وسرکشی، تکبر وتمرد سے بھرگئی ہے۔ صلاح وتقویٰ کا تخم فاسد ہوگیا ہے۔ رشد وہدایت کے آثار محو ہوگئے ہیں۔ وہی انبیاء کی آمد کا سب سے زیادہ موزوں زمانہ سمجھاگیا ہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا آسان نہیں کہ نبوت وہ انعام نہیں ہے جو ولایت وصدیقیت کی طرح امتوں میں تقسیم کی جائے بلکہ دنیا کے انتہائی دور ضلالت میں خدا کی صفت ہدایت کا ذاتی اقتضاء ہے۔ ذاتی اقضاء سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ یہاں کسب واکتساب، ماحول کی مساعدت ونامساعدت کا کوئی دخل نہیں۔ نبوت کا ماحول تو چاہتا ہے کہ خدائی رحمت کی بجائے خدا کاقہر ٹوٹے مگر اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں ایک اسم ہادی بھی ہے یہ اس کا اقتضاء ہے کہ جب ملک کا ملک اور قوم کی قوم اس کا راستہ گم کردے اور بھولے سے نہیں بلکہ شرارت وشیطنت کی بناء پر تو وہ اپنی طرف سے پھر ان کی ہدایت کے لئے ایک دروازہ کھول دے۔

371

حضرت موسیٰm کو جب منصب رسالت سے سرفراز کیاگیا ان کا زمانہ انسانی کمالات کے عروج وارتقاء کا زمانہ نہ تھا بلکہ دنیا فطری پستی، دنائت وخست اور احسان فراموشی کے اس تاریک گڑھے میں پڑی ہوئی تھی کہ ایک کمزور انسان کو خدائی کا دعویٰ کرتے بھی شرم نہ آتی تھی۔ حضرت موسیٰm کو یہ خیال بھی نہ تھا کہ انہیں اس دعویٰ کے ابطال کے لئے مامور کیا جائے گا۔ اچانک کوہ طور کے ایک گوشے سے روحانیت کے بادل اٹھے اور حقیقت موسویہ پر اس طرح بر سے کہ دم کے دم میں موسیٰ بن عمران حضرت موسیٰ کلیم اللہ بن گئے بیوی کے لئے آگ لینے کی فکر میں آئے تھے اور سب بھول بھال کر اب آتش کفر بجھانے کی فکر میں جارہے ہیں۔ اس مدعی الوہیت کا مقابلہ کرنا ہے جس کے پاس سلطنت کی ساری مادی طاقتیں جمع ہیں اور اپنے پاس قوت بیان بھی ناقص ہے۔ اس لئے دبے لہجے میں فرماتے ہیں: ’’رب اشرح لی صدری ویسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقہوا قولی واجعل لی وزیراً من اہلی ہارون اخی اشدد بہٖ اذری واشرکہ فی امری (طٰہٰ:۲۵تا۳۲)‘‘

دوسری جگہ سورۃ القصص:۳۴ میں فرمایا: ’’واخی ہارون ہو افصح منی لسانا فارسلہ معی ردا یصدقنی انی اخاف ان یکذبون‘‘

ان دعاؤں کا حاصل یہ ہے کہ اے اللہ ! میرا سینہ کشادہ فرما اور مجھے ایسا حوصلہ مند بنادے کہ خلاف طبع معاملات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرسکوں اور میرے لئے ایسے سامان فراہم کر کہ یہ عظیم الشان خدمت آسان ہو جائے اور لڑکپن میں زبان جل جانے کی وجہ سے میری گفتگو میں جو لکنت پیدا ہوگئی ہے اس کو دور فرماکہ وہ میری بات تو سمجھ لیں اور میرے گھر میں میرے بھائی کو میرا معین بنادے کہ وہ میرا کام بٹائیں اور ان کی وجہ سے مجھے سہارا بھی رہے۔ سورۂ قصص میں اس کی تفصیل اور ہے کہ میرے بھائی مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ انہیں میرے ہمراہ کردے تاکہ وہ میری اعانت میں میری تصدیق کرتے رہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میرے پہلے معاملات کی وجہ سے کہیں وہ سب میری تکذیب نہ کر دیں۔ا س وقت کم ازکم ایسا شخص تو میرے ساتھ ہو جو میری تصدیق کر دے اور اگر مناظرہ کی نوبت آجائے تو ان سے مناظرہ بھی کر لے اس دعا سے اس پر کافی روشنی پڑتی ہے کہ نبوت کو ان کمالات میں سمجھ لینا جو پہلی امتوں کو کسی عبادت وریاضت کے صلہ میں یا انعام کے طور پر

372

تقسیم کئے گئے ہیں۔ سخت غلط فہمی ہے بلکہ یہ صرف تشریعی ضرورتوں کی تکمیل کا ایک منصب ہے جس میں قدرت اس کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اس کو اس منصب کے لئے انتخاب کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰm نے اپنی درخواست میں یہاں حضرت ہارونm کی کسی ایسی جدوجہد کا ذکر نہیں کیا جو ان کی نبوت کی سفارش کر سکتی بلکہ ان صلاحیتوں کا ذکر کیا ہے جو اس منصب کے لئے درکار تھیں۔

حضرت موسیٰm کے دور کے بعد ذرا اور آگے چلیں تو پھر ضلالت وہدایت میں یہی کشمکش نظر آتی ہے۔ کبھی ضلالت کے جھکڑ ہدایت کی شمعوں کو گل کر دیتے تھے۔ کبھی نور ہدایت کفر کی تاریکیوں کے ٹکڑے کر ڈالتا تھا۔ حتیٰ کہ دنیا کے آخری دور میں پھر ضلالت کا ابر محیط اٹھا اور اس شان سے اٹھا کہ تمام کرہ ارضی پر تاریکی چھا گئی۔ کوئی خطہ نہ رہا۔ جہاں آفتاب ہدایت کی کوئی معمولی کرن بھی چمکتی۔ عالم کا وہ مرکزی نقطہ بھی جس کو ام القریٰ کہا جاتا تھا تیرہ وتاریک ہوگیا اور خانہ خدا پر کفر کا پرچم لہرانے لگا تو اس عام گمراہی کے ماحول میں اسم ہادی کا پھر تقاضہ ہوا کہ اس کے مقابلہ کے لئے ایسی ہی عام ہدایت بھیجے جو خطہ وملک اور قوم وزمان کی قید سے آزاد ہو۔ وہ ہدایت بصورت محمدa دنیا میں ظاہر ہوئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں کفر نے شکست کھائی کفر کا پھریرا اتار کر پھینک دیا گیا اور اس کی بجائے خدائی نصرت وفتح کا جھنڈا نصب کردیاگیا اور یہ اعلان کردیا گیا کہ اب کفر ہمیشہ کے لئے شکست کھا چکا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ کلمہ توحید مٹ جائے اور ہدایت کے آثار ونشانات اس طرح تباہ وبرباد ہو جائیں کہ خدا کی زمین پھر کسی نبی کو پکارنے لگے۔ مکہ مکرمہ اب اسلامی دارالسلطنت بن گیا ہے اور اسی لئے اب یہاں سے ہجرت کرنامنسوخ ہوگیا ہے۔ شیطان جوسرچشمہ کفر تھا اب مایوس ہوگیا ہے کہ مصلین جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کریں گے۔ دین اسلام کامل ہو چکا ہے۔ اس کی روشنی اقصائے عالم میں پھیل چکی ہے۔ خدائی نعمت پوری ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی اور ہمیشہ کے لئے ایک اسلام ہی پسندیدہ دین ٹھہر چکا ہے۔ اس لئے آئندہ نہ گمراہی اتنا تسلط حاصل کر سکتی ہے کہ ہدایت کو فنا کر دے اس کے تمام چشمے خشک ہوجائیں۔ اس کی ایک کرن بھی چمکتی نہ رہے اور نہ اس لئے کسی رسول کے آنے کی ضرورت باقی ہے۔ پھر ختم نبوت درحقیقت اس کا اعلان ہے کہ نور نبوت اب تمام عالم کو اس طرح روشن کرچکا ہے کہ کفر کتنا ہی سرپٹکے مگر وہ اس کے بجھائے بجھ نہیں سکتا۔ خدا کا اقرار،

373

اس کے صفات کی معرفت، غیب کا یقین، مجموعہ عالم کا اس طرح جزء بن گیا کہ اگر کہیں اس مرتبہ پھر یہ معرفت ختم ہوگئی تو اس کے ساتھ ہی عالم کی روح بھی نکل جائے گی۔ فضاء عالم میں بیماریاں پھیلیں اور صحت عامہ کو خطرہ میں ڈال دیں۔ پھر کوئی ڈاکٹر نہ ملے، شفاخانہ نہ ہو تو یقینا یہ دوہری مصیبت ہے لیکن اگر کسی ملک کی آب وہوا ہی صاف ہو۔ وہاں کے باشندے شفاخانے اور ڈاکٹر کے محتاج ہی نہ ہوں تو بتلاؤ کہ یہاں بھی کسی شفاخانہ کے قیام کی حاجت ہے؟ کیا ایسی صحت وتندرستی کے ماحول میں بیماروں کے قیام کے لئے مکانات ڈاکٹروں اور شفاخانوں کا وجود مقامی ضروریات میں داخل سمجھا جائے گا اور اگر یہ بھی فرض کر لو کہ اس خطہ کے باشندوں کو علم طب کی باضابطہ تعلیم دی گئی ہو تو کیا یہ شکوہ بجا ہوگا کہ جس طرح فلاں ملک کے لئے ڈاکٹر مقرر کر کے بھیجا گیا ہے۔ ہمارے لئے بھی اسی طرح ڈاکٹر کیوں نہیں بھیجا گیا۔

’’لقد من اللہ علی المؤمنین اذبعث فیہم رسولاً من انفسہم یتلوا علیہم اٰیاتہٖ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (آل عمران:۱۶۴)‘‘

یعنی آنحضرتa نے اس عام گمراہی کے بعد تشریف لاکر صرف خدائی آیات پڑھ کر ہی نہیں سنائیں بلکہ اس کو سمجھا بھی دیا اور اس پر پریکٹیکل طور سے عمل کرادیا ہے۔ اس لئے اب آپa کی اس ہمہ گیر تعلیم کے بعد اوّل تو یہ ممکن ہی نہیں کہ جراثیم کفر اس طرح غالب آجائیں کہ عالم کی صحت عامہ کسی بیرونی ڈاکٹر کی محتاج ہو جائے۔ دوم ان کو اس حد تک اصول طب کی تعلیم بھی دے دی گئی ہے کہ اگر کہیں کفر سرنکالے تو اس کا آئینی علاج وہ خود کر سکتے ہیں۔ اگر اس پر وہ کاربند نہ ہوں تو یہ ان کا قصور رہے گا۔ پس یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ ختم نبوت کو کمالات کے ختم کے ہم معنی سمجھ لیاگیا ہے۔ ہمارے اس بیان سے روشن ہوگیا کہ نبوت کا ختم ہونا تو خدائی نعمت کے اتمام اور دین کے انتہائی ارتقاء وعروج کی دلیل ہے۔ البتہ کمالات وبرکات کا خاتمہ بلاشبہ محروی اور بڑی محروی ہے۔ مگر یہ روایات سے ثابت ہے کہ امت مرحومہ کے کمالات تمام امتوں سے زیادہ ہیں اور اتنے زیادہ ہیں کہ حضرت موسیٰm جیسے نبی کو بھی اس امت کے کمالات سن کر تمنا ہوسکتی ہے کہ وہ بھی اس امت کے ایک فرد ہوتے۔

خفاجی فرماتے ہیں:’’رواہ ابونعیم فی الحلیۃ ووردبمعناہ من طرق کثیرۃ کمافی الخصائص‘‘ (نسیم الریاض ج۱ ص۲۰۳)

374

خفاجی الشفاء کی شرح میں حضرت انسq سے ایک روایت نقل کرتے ہیں۔ آنحضرتa نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰm پر وحی بھیجی جو شخص احمد(a) کا انکار کرکے میرے پاس آئے گا۔ میں اسے دوزخ میں ڈالوں گا انہوں نے عرض کیا یہ احمد(a) کون ہیں؟ ارشاد ہوا یہ وہ ہیں جن سے زیادہ مجھے اپنی مخلوق میں کوئی عزیز نہیں۔ زمین وآسمان سے قبل ہی میں نے ان کا نام اپنے نام کے ساتھ ساتھ عرش پر لکھ دیا تھا اور یہ بات طے کر دی تھی کہ جب تک وہ اور ان کی امت جنت میں داخل نہ ہولیں کوئی اور جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ موسیٰm نے اس امت کے اوصاف پوچھے۔ ارشاد ہوا کہ وہ امت ہر وقت ہماری تعریف کرے گی۔ بلندی پر چڑھے گی تو تعریف کرتی ہوئی۔ پستی میں اترے گی تو تعریف کرتی ہوئی۔ غرض ہر حال میں ہماری حمدوثناء کرے گی۔ اپنی کمریں باندھنے والی اپنے اعضاء دھونے والی دن کی روشنی میں شیر کی طرح (بہادر) اور رات کی تاریکیوں میں درویش صفت ہوگی۔ ان کا تھوڑا سا عمل میں قبول کروں گا اور کلمہ شہادت پر انہیں جنت میں داخل کروں گا۔ موسیٰm نے فرمایا اے اللہ تو مجھے اسی امت کا نبی بنا دے۔ ارشاد ہوا کہ اس کا نبی تو خود ان ہی میں سے ہوگا۔ عرض کیا اچھا تو پھر اس نبی کی امت ہی میں بنادے۔ ارشاد ہوا کہ تم ان سے پہلے ہو۔ وہ تمہارے بعد آئیں گے۔ البتہ میں اپنے دار جلال میں تمہیں ان کے ساتھ جمع کروں گا۔ مسند ابوداؤد طیالسی، احمد اور ابویعلی میں ہے:’’کادت ہذہ الامۃ ان تکونو انبیاء کلہا‘‘ {یہ امت مجموعی اعتبار سے بلحاظ کمالات انبیاء ہونے کے قریب ہے۔}

شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اسی مضمون کو بحوالہ تورات وانجیل کعب احبار سے نقل کیا ہے۔ کنزالعمال میں اسی کے ہم معنی روایت آنحضرتa سے بھی مروی ہے۔ جامع ترمذی میں حضرت عمرq کے متعلق آپ پڑھ ہی چکے ہیں۔ اگر نبوت باقی ہوتی تو ان کو اس منصب پر فائز کر دیا جاتا۔ مبشرات، الہام، تحدث مع الملائکہ، نظم ونسق امت، بدعت اور تحریف فی الدین کی اصلاح حتیٰ کہ خلافت حقہ کا صحیح قیام یہ سب اس امت کے مناصب وکمالات میں داخل ہیں۔ کتاب اللہ کی حفاظت، دین کی تکمیل ایک ایسی مضبوط جماعت کا بقا جو ہمیشہ جادۂ مستقیم پر قائم رہنے والی ہو اور حسب ضرورت ایسے افراد وجماعات کی بعثت جو

375

پوری ذمہ داری کے ساتھ تحریفات کی اصلاح کرتی رہیں۔ ان سب امور کا خود قدرت ایزدی تکفل فرماچکی ہے۔ آپ ہی سوچئے کہ اس کے بعد اب کون سا کمال باقی ہے جو پہلی امتوں میں تھا اور اس امت میں نہیں ہے اور جس کے لئے نبوت کی ضرورت ہے بلکہ صحیح بخاری کی حدیث میں تو یہ ہے کہ سیاست امت کی جو خدمت پہلے انبیاءo انجام دیا کرتے تھے اب وہ خدمات اس امت کے خلفاء انجام دیا کریں گے۔ پس پہلی امتوں کا ایسا کوئی کمال نہیں ہے جو اس امت کو نہ ملا ہو۔ ہاں! اس امت کے بہت سے ایسے خصائص ہیں جن سے پہلی امتیں محروم ہیں۔

دوسرا مخالطہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا مطلب یہ سمجھ لیاگیا ہے کہ نبوت کی بندش گویا ختم نبوت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اگر آپ تشریف نہ لاتے تو شاید کچھ اور افراد کو نبوت مل جاتی۔ یہ بھی انتہائی جہل ہے۔ خاتم النّبیین کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ سلسلہ انبیاءo میں آپa سب سے آخری نبی ہیں۔ اس لئے آپa کی آمد ہی اس وقت ہوئی ہے جب کہ انبیاءo کا ایک ایک فرد آچکا تھا۔ اس لئے آپa کی آمد نے نبوت کو بند نہیں کیا بلکہ جب نبوت ختم ہوگئی ہے تو اس کی دلیل بن کر آپa تشریف لائے ہیں اور اسی معنی سے آپa کوخاتم النّبیین کہاگیا ہے۔ اگر علم ازلی میں کچھ اور افراد کے لئے نبوت مقدر ہوتی تو یقینا آپa کی آمد کا زمانہ بھی ابھی اور مؤخر ہوجاتا۔ آپa کا لقب خاتم النّبیین اسی وقت واقع کے مطابق ہوسکتا ہے۔ جب کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ آئے۔ اگر آپa کے بعد بھی کوئی نبی آتا ہے تو آپa کو آخری نبی کہنا ایسا ہی ہوگا جیسا درمیانی اولاد کو آخری اولاد کہنا۔ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ حضرت آدمm خدا کے پہلے رسول تھے۔ پس جس طرح ان سے پہلے کوئی رسول نہ تھا۔ نہ ظلی نہ بروزی۔ اسی طرح آپ آخرالنّبیین ہیں۔ آپ کے بعد بھی نہ کوئی ظلی نبی ہونا چاہئے نہ بروزی۔

تیسری غلطی یہاں سب سے زیادہ فاحش یہ ہے کہ اس پر غور ہی نہیں کیاگیا کہ پہلے ایک نبی کے بعد دوسرا نبی کیوں آتا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی نبوتیں خاص قوم اور خاص زمانہ کے لئے ہوتی تھیں۔ اس لئے ہر نبی کے بعد لامحالہ دوسرے نبی کی ضرورت باقی رہتی تھی۔ لیکن جب وہ نبی آگیا جس کی نبوت کسی خطہ، کسی قوم اور کسی زمانے کے ساتھ مقید نہیں تو

376

اب اس کے بعد نبوت کا سوال ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی موجودگی کے زمانہ میں۔ اگر اس وقت یہ سوال بجا تھا تو اب بھی بجا ہے اور اگر اس وقت نامعقول تھا تو اب بھی نامعقول ہے۔ یہاں ذہن اس طرف جاتا ہی نہیں کہ آپ کادورۂ نبوت دوسرے انبیاءo کی طرح ختم نہیں ہوا۔ پس درحقیقت نبوت تو اب بھی باقی ہے اور وہ نبوت باقی ہے جو تمام نبوتوں سے کامل تر ہے۔ ہاں! نبی کوئی اور باقی نہیں رہا۔ عجب بات ہے کہ یہاں بقاء نبوت ہی ختم نبوت کو مستلزم ہے۔ یعنی آپa کی نبوت کا بقاء اس کو مستلزم ہے کہ کوئی اور نبی نہ ہو، نافہم الٹا یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ختم نبوت دوسروں کی نبوت کے بقاء کو مستلزم ہے۔ یہ اس وقت تو معقول ہوتا جب کہ دوسرے انبیاءo کی طرح آپ کی نبوت بھی ختم ہو جاتی۔ لیکن جب آپa کی نبوت باقی ہے تو اب جدید نبوت کا سوال خودبخود ختم ہوجاتا؟ اللہ تعالیٰ نے آپa کو صرف خاتم النّبیین نہیں بنایا بلکہ رحمت للعالمین بھی بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب خاتم بذات خود تمام جہان کے لئے رحمت بن کر آگیا ہے۔ اتنی بڑی رحمت کہ اس کے بعد کسی اور رحمت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آج تک ہر رسول کے بعد دوسرے رسول کے انکار سے کفر کا خطرہ لگارہتا تھا۔ خاتم النّبیین کی آمد سے یہ کتنی بڑی رحمت ہوئی کہ اس راہ سے اب کفر کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہا نہ کسی اور رسول کے آنے کا امکان ہے نہ کسی کے انکار سے کفر کا اندیشہ باقی ہے۔ پہلے ہر امت کی داستان اطاعت وعصیان دوسری امتوں کے سامنے رکھی جاتی تھی مگر اس امت مرحومہ کی داستان عمل اب کسی امت کے سامنے نہیں رکھی جائے گی۔

خلاصہ یہ کہ ختم نبوت ایک رحمت نہیں بلکہ اس کے دامن میں بے شمار رحمتوں اور کمالات کا دریا بہہ رہا ہے۔ اس لئے اس امت کو نبی بننے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ وہ زمانہ ہے جس میں ایک اسرائیلی نبی کے امتی بن کر آنے کا انتظار ہورہاہے۔ کمالات نبوت ختم نہیں۔ ہاں! وہ دور ضلالت وگمراہی ختم ہوگیا ہے۔ جس کے لئے جدید نبوت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یاد رکھو اب نبی نہیں آئیں گے بلکہ قیامت آئے گی یا وہ جھوٹے نبی آئیں گے جن کو زبان نبوت نے دجال کہا ہے۔ انجیل میں سے جھوٹے نبیوں سے خبردار ہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں ان کے پہلوں سے تم انہیں پہچان لو گے۔(متی باب:۷، آیت:۱۵،۱۶)

  1. اس کی طرف سے دل نہ پھرے گا کہ دوستو

    وہ ہو چکا ہے جس کا طرفدار ہو چکا

377

سیدنا مہدی علیہ الرضوان

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

378

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ اما بعد!

محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ کی معروف کتاب ترجمان السنۃ جلد اوّل ص۳۷۲سے۴۲۸ تک ’’سیدنا مہدی علیہ الرضوان‘‘ کی ولادت وظہور سے وفات تک کے واقعات کو حدیث شریف کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ چالیس احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کرامi سے مدلل فرمایا گیا ہے۔ تصنیف زمانہ ترجمان السنۃ تک پوری امت کی طرف سے اس مسئلہ پر جو کچھ تحریر کیاگیا تھا اس کا نچوڑ آپ نے اس میں سمودیا ہے۔ اس کتاب میں شامل کرنے پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں کہ منکرین سیدنا مہدی علیہ الرضوان خوارج اور جھوٹے مدعی مہدویت مرزاقادیانی کے پیروان کے لئے شاید ہدایت کا سامان بن جائے۔وما ذالک علی اللہ بعزیز!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضرت امام مہدی کی احادیث مطالعہ فرمانے سے قبل ان کا مختصر تذکرہ معلوم کر لینا ضروری ہے۔ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:

حضرت امام مہدی کا نام ونسب اور ان کا حلیہ شریفہ

حضرت امام مہدی سید اور اولاد فاطمۃ الزہراt میں سے ہیں۔ آپ کا قدوقامت قدرے لانبا، بدن چست، رنگ کھلا ہوا اور چہرہ پیغمبر خداa کے چہرے کے مشابہ ہوگا۔ نیز آپ کے اخلاق پیغمبرخداa سے پوری مشابہت رکھتے ہوں گے۔ آپ کا اسم شریف محمد، والد کا نام عبداﷲ، والدہ صاحبہ کا نام آمنہ ہوگا۔ زبان میں قدرے لکنت ہوگی۔ جس کی وجہ سے تنگدل ہوکر کبھی کبھی ران پر ہاتھ ماریں گے۔ آپ کا علم لدنی (خداداد) ہوگا۔ سید برزنجیؒ اپنے رسالہ الاشاعت میں تحریر کرتے ہیں کہ تلاش کے باوجود مجھ کو آپ کی والدہ کا نام روایات میں کہیں نہیں ملا۔

379

آپ کے ظہور سے قبل سفیانی کا خروج، شاہ روم اور مسلمانوں میں جنگ

اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا

آپ کے ظہور سے قبل ملک عرب وشام میں ابوسفیان کی اولاد میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو سادات کو قتل کرے گا۔ اس کا حکم ملک شام ومصر کے اطراف میں چلے گا۔ اس درمیان میں بادشاہ روم کی عیسائیوں کے ایک فرقہ سے جنگ اور دوسرے فرقہ سے صلح ہو گی۔ لڑنے والا فریق قسطنطنیہ پر قبضہ کرلے گا۔ بادشاہ روم دارالخلافہ کو چھوڑ کر ملک شام میں پہنچ جائے گا اور عیسائیوں کے دوسرے فریق کی اعانت سے اسلامی فوج ایک خونریز جنگ کے بعد فریق مخالف پر فتح پائے گی۔ دشمن کی شکست کے بعد موافق فریق میں سے ایک شخص نعرہ لگائے گا کہ صلیب غالب ہوگئی اور اسی کے نام سے یہ فتح ہوئی۔ یہ سن کر اسلامی لشکر میں سے ایک شخص اس سے مارپیٹ کرے گا اور کہے گا نہیں دین اسلام غالب ہوا اور اسی کی وجہ سے یہ فتح نصیب ہوئی۔ یہ دونوں اپنی اپنی قوم کو مدد کے لئے پکاریں گے جس کی وجہ سے فوج میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔

(حسب بیان سید برزنجیؒ یہ شخص خالد بن یزید ابی سفیان کی نسل سے ہوگا۔ امام قرطبیؒ نے اپنے تذکرہ میں اس کا نام عروۃ تحریر فرمایا ہے۔ سید برزنجیؒ نے اپنے رسالہ الاشاعۃ میں اس کا حلیہ اور اس کے دور کی پوری تاریخ تحریر فرمائی ہے۔ مگر اس کا اکثر حصہ موقوف روایات سے ماخوذ ہے۔ اسی لئے ہم نے شاہ صاحب کے رسالہ سے اس کا مختصر تذکرہ نقل کیا ہے۔ امام قرطبیؒ نے بھی امام مہدی علیہ الرضوان کے دور کی پوری تاریخ نقل فرمائی ہے۔ تذکرہ قرطبیؒ گو اس وقت دستیاب نہیں مگر اس کا مختصر مؤلفہ ’’امام شعرانیؒ‘‘ عام طور پر ملتا ہے۔ قابل ملاحظہ ہے۔ سید برزنجیؒ کے رسالہ میں امام مہدی علیہ الرضوان کے زمانے کی مفصل اور مرتب تاریخ کے علاوہ اس باب کی مختصر حدیثوں میں جمع وتطبیق کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ لیکن چونکہ اس باب کی اکثر روایات ضعیف تھیں۔ اس لئے ہم نے ان کے درمیان تطبیق نقل کرنے کی چنداں اہمیت محسوس نہیں کی)

بادشاہ اسلام شہید ہو جائے گا۔ عیسائی ملک شام پر قبضہ کر لیں گے اور آپس میں ان دونوں عیسائی قوموں کی صلح ہو جائے گی۔ باقی مسلمان مدینہ منورہ چلے آئیں گے۔

380

عیسائیوں کی حکومت خیبر تک (جو مدینہ منورہ سے قریب ہے) پھیل جائے گی۔ اس وقت مسلمان اس فکر میں ہوں گے کہ امام مہدی کو تلاش کرنا چاہئے تاکہ ان کے ذریعے سے یہ مصیبتیں دور ہوں اور دشمن کے پنجے سے نجات ملے۔

امام مہدی کی تلاش اور ان سے بیعت کرنا

حضرت امام مہدی اس وقت مدینہ منورہ میں تشریف فرماہوں گے مگر اس ڈر سے کہ مبادا لوگ مجھ جیسے ضعیف کو اس عظیم الشان کام کی انجام دہی کی تکلیف دیں مکہ معظمہ چلے جائیں گے۔ اس زمانے کے اولیاء کرام اور ابدال عظام آپ کو تلاش کریں گے۔ بعض آدمی مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے بھی کریں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی اور آپ کو مجبور کرکے آپ سے بیعت کر لے گی۔ اس واقعہ کی علامت یہ ہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگ چکے گا اور بیعت کے وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی:’’ہٰذا خلیفۃ اللہ المہدی فاستمعوا لہ واطیعوا‘‘ اس آواز کو اس جگہ کے تمام خاص وعام سن لیں گے۔ بیعت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال کی ہوگی۔ خلافت کے مشہور ہونے پر مدینہ کی فوجیں آپ کے پاس مکہ معظمہ چلی آئیں گی۔ شام وعراق اور یمن کے اولیائے کرام وابدال عظام آپ کی صحبت میں اور ملک عرب کے لاتعداد لوگ آپ کے لشکر میں داخل ہوجائیں گے اور اس خزانہ کو جو کعبہ میں مدفون ہے۔ (جس کو ’’رتاج الکعبہ‘‘ کہتے ہیں) نکال کر مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں گے۔

خراسانی سردار کا امام مہدی کی اعانت کے لئے فوج روانہ کرنا

اور سفیانی کے لشکر کا ہلاک وتباہ ہوجانا

جب یہ خبر اسلامی دنیا میں پھیلے گی تو خراسان سے ایک شخص ایک بہت بڑی فوج لے کر آپ کی مدد کے لئے روانہ ہوگا جو راستہ میں بہت سے عیسائیوں اور بددینوں کا صفایا کردے گا۔ اس لشکر کے مقدمتہ الجیش کی کمان منصور نامی ایک شخص کے ہاتھ میں ہوگی۔ وہ سفیانی (جس کا ذکر اوپر گزر چکا) اہل بیت کا دشمن ہوگا۔ اس کی ننہال قوم بنو کلب ہوگی۔ حضرت امام مہدی کے مقابلہ کے واسطے اپنی فوج بھیجے گا۔ جب یہ فوج مکہ ومدینہ کے درمیان

381

ایک میدان میں پہاڑ کے دامن میں مقیم ہوگی تو اس جگہ اس فوج کے نیک وبد سب کے سب دھنس جائیں گے اور قیامت کے دن ہر ایک کا حشر اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہوگا۔ ان میں سے صرف دو آدمی بچیں گے۔ ایک حضرت امام مہدی کو اس واقعہ کی اطلاع دے گا اور دوسرا سفیانی کو۔

عیسائیوں کا مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے اجتماع اور امام مہدی

کے ساتھ خونریز جنگ اور آخر میں امام مہدی کی فتح مبین

عرب کی فوجوں کے اجتماع کا حال سن کر عیسائی بھی چاروں طرف سے فوجوں کے جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے اور اپنے اور روم کے ممالک سے فوج کثیر لے کر امام مہدیm کے مقابلہ کے لئے شام میں جمع ہوجائیں گے۔ ان کی فوج کے اس وقت ستر جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ بارہ ہزار سپاہ ہوگی۔ (جس کی کل تعداد ۸۴۰۰۰۰ہوگی) حضرت امام مہدی مکہ مکرمہ سے روانہ ہوکر مدینہ منورہ پہنچیں گے اور پیغمبر خداa کے روضہ کی زیارت سے مشرف ہوکر شام کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔ دمشق کے پاس آکر عیسائیوں کی فوج سے مقابلہ ہوگا۔ اس وقت حضرت امام مہدی کی فوج کے تین گروہ ہو جائیں گے۔ ایک گروہ تو نصاریٰ کے خوف سے بھاگ جائے گا۔ خداوند کریم ان کی توبہ ہرگز قبول نہ فرمائے گا۔ باقی فوج میں سے کچھ تو شہید ہوکر بدرواحد کے شہداء کے مراتب کو پہنچیں گے اور کچھ بتوفیق ایزدی فتح یاب ہوکر ہمیشہ کے لئے گمراہی اور انجام بد سے چھٹکارا پالیں گے۔ حضرت امام مہدی دوسرے روز پھر نصاریٰ کے مقابلہ کے لئے نکلیں گے۔ اس روز مسلمانوں کی ایک جماعت یہ عہد کر کے نکلے گی کہ یا میدان جنگ فتح کریں گے یا مرجائیں گے۔ یہ جماعت سب کی سب شہید ہوجائے گی۔ حضرت امام مہدی باقی ماندہ قلیل جماعت کے ساتھ لشکر میں واپس آئیں گے۔ دوسرے دن پھر ایک بڑی جماعت یہ عہد کرے گی کہ فتح کے بغیر میدان جنگ سے واپس نہیں آئیں گے یا مرجائیں گے اور حضرت امام مہدی کے ہمراہ بڑی بہادری کے ساتھ جنگ کریں گے اور آخر یہ بھی جام شہادت نوش کریں گے۔ شام کے وقت حضرت امام مہدی تھوڑی سی جماعت کے ساتھ لوٹیں گے۔ تیسرے روز اسی طرح ایک بڑی جماعت قسم کھا کر نکلے گی اور وہ بھی شہید ہو جائے گی اور

382

حضرت امام مہدی تھوڑی سی جماعت کے ساتھ اپنی قیام گاہ پر واپس تشریف لے آئیں گے۔ چوتھے روز حضرت امام مہدی رسدگاہ کی محافظ جماعت کو لے کر دشمن سے پھر نبردآزما ہوں گے۔ یہ جماعت تعداد میں بہت کم ہوگی مگر خداوند کریم ان کو فتح مبین عطاء فرمائے گا۔ عیسائی اس قدر قتل ہوں گے کہ باقیوں کے دماغ سے حکومت کی بونکل جائے گی اور بے سروسامان ہوکر نہایت ذلت ورسوائی کے ساتھ بھاگ جائیں گے۔ مسلمان ان کا تعاقب کر کے بہتوں کو جہنم رسید کر دیں گے۔ اس کے بعد حضرت امام مہدی بے انتہاء انعام واکرام اس میدان کے شیروں جانبازوں پر تقسیم فرمائیں گے۔ مگر اس مال سے کسی کو خوشی حاصل نہ ہوگی۔ کیونکہ اس جنگ کی بدولت بہت سے خاندان وقبیلے ایسے ہوں گے۔ جن میں فیصدی صرف ایک ہی آدمی بچا ہوگا۔ اس کے بعد حضرت امام مہدی بلاد اسلام کے نظم ونسق اور فرائض وحقوق العباد کی انجام دہی میں مصروف ہوں گے۔ چاروں طرف اپنی فوجیں پھیلادیں گے۔

سترہزار فوج کے ساتھ امام مہدی کی فتح قسطنطنیہ کے لئے روانگی

اور ایک نعرہ تکبیر سے شہر کا فتح ہوجانا

اور مہمات سے فارغ ہوکر فتح قسطنطنیہ کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ بحیرہ روم کے کنارے پر پہنچ کر قبیلہ بنو اسحاق کے سترہزار بہادروں کو کشتیوں پر سوار کر کے اس شہر کی خلاصی کے لئے جس کو آج کل استنبول کہتے ہیں۔ مقرر فرمائیں گے۔ جب یہ فصیل شہر کے قریب پہنچ کر نعرۂ تکبیر بلند کریں گے تو اس کی فصیل نام خدا کی برکت سے یکایک گرجائے گی۔ مسلمان ہلا کر کے شہر میں داخل ہوجائیں گے۔ سرکشوں کو ختم کر کے ملک کا انتظام نہایت عدل وانصاف کے ساتھ کریں گے۔ ابتدائی بیعت سے اس وقت تک چھ سات سال کا عرصہ گزرے گا۔ امام مہدی ملک کے بندوبست ہی میں مصروف ہوں گے۔

امام مہدی کا دجال کی تحقیق کے لئے ایک مختصر دستہ روانہ فرمانا

اور ان کی افضلیت کا حال

افواہ اڑے گی کہ دجال نکل آیا اور مسلمانوں کو تباہ کر رہا ہے۔ اس خبر کے سنتے ہی حضرت امام مہدی ملک شام کی طرف واپس ہوں گے اور اس خبر کی تحقیق کے لئے پانچ یا

383

نوسوار جن کے حق میں حضور سرور عالمa نے فرمایا ہے کہ میں ان کے ماں، باپوں وقبائل کے نام اور ان کے گھوڑوں کا رنگ جانتا ہوں۔ وہ اس زمانے کے روئے زمین کے آدمیوں سے بہتر ہوں گے۔ لشکر کے آگے بطور طلیعہ روانہ ہوکر معلوم کر لیں گے کہ یہ افواہ غلط ہے۔ پس امام مہدی عجلت کو چھوڑ کر ملک کی خبرگیری کی غرض سے آہستگی اختیار فرمائیں گے۔ اس میں کچھ عرصہ نہ گزرے گا کہ دجال ظاہر ہو جائے گا اور قبل اس کے کہ وہ دمشق پہنچے حضرت امام مہدی دمشق آچکے ہوں گے اور جنگ کی پوری تیاری وترتیب فوج کر چکے ہوں گے اور اسباب حرب وضرب تقسیم کرتے ہوں گے کہ مؤذن عصر کی اذان دے گا۔

حضرت عیسیٰؑ کا اترنا اور اس وقت کی نماز

امام مہدی کی امامت میں ادا کرنا

لوگ نماز کی تیاری ہی میں ہوں گے کہ حضرت عیسیٰؑ دوفرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ لگائے ہوئے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی منارہ پر جلوہ افروز ہوکر آواز دیں گے کہ سیڑھی لے آؤ۔ پس سیڑھی حاضر کر دی جائے گی۔ آپ اس کے ذریعہ سے نازل ہوکر امام مہدی سے ملاقات فرمائیں گے۔ یا نبی اللہ امامت کیجئے۔ حضرت عیسیٰؑ ارشاد فرمائیں گے کہ امامت تم ہی کرو کیونکہ تمہارے بعض بعض کے لئے امام ہیں اور یہ عزت اسی امت کو خدا نے دی ہے۔ پس امام مہدی نماز پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰؑ اقتداء کریں گے۔ نماز سے فارغ ہوکر امام مہدی پھر حضرت عیسیٰؑ سے کہیں گے کہ یا نبی اللہ اب لشکر کا انتظام آپ کے سپرد ہے۔ جس طرح چاہیں انجام دیں۔ وہ فرمائیں گے نہیں یہ کام بدستور آپ ہی کے تحت میں رہے گا۔ میں تو صرف قتل دجال کے واسطے آیا ہوں جس کا مارا جانا میرے ہی ہاتھ سے مقدر ہے۔

امام مہدی کے عہد خلافت کی خوشحالی اس کی مدت اور ان کی وفات

تمام زمین حضرت امام مہدیm کے عدل وانصاف سے (بھر جائے گی) منور وروشن ہو جائے گی۔ ظلم وبے انصافی کی بیخ کنی ہوگی۔ تمام لوگ عبادت واطاعت الٰہی میں سرگرمی سے مشغول ہوں گے۔ آپ کی خلافت کی میعاد سات یا آٹھ یا نو سال ہوگی۔ واضح

384

رہے کہ سات سال عیسائیوں کے فتنے اور ملک کے انتظام میں، آٹھواں سال دجال کے ساتھ جنگ ودجال میں اور نواں سال حضرت عیسیٰؑ کی معیت میں گزرے گا۔ اس حساب سے آپ کی عمر ۴۹سال ہوگی۔ بعدازاں امام مہدیm کی وفات ہو جائے گی۔ حضرت عیسیٰؑ آپ کے جنازے کی نماز پڑھا کر دفن فرمائیں گے۔ اس کے بعد تمام چھوٹے بڑے انتظامات حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھ میں آجائیں گے۔ (رسالہ علامات قیامت مؤلفہ حضرت مولانا شاہ رفیع الدینv)

اس موقع پر یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ شاہ صاحبv موصوف نے یہ تمام سرگزشت گو حدیثوں کی روشنی ہی میں مرتب فرمائی ہے۔ جیسا کہ احادیث کے مطالعہ سے واضح ہے مگر واقعات کی ترتیب اور بعض جگہ ان کی تعیین یہ دونوں باتیں خود حضرت موصوف ہی کی جانب سے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث وقرآن میں جو قصص وواقعات بیان کئے گئے ہیں خواہ وہ گزشتہ زمانے سے متعلق ہوں یا آئندہ سے، ان کا اسلوب بیان تاریخی کتابوں کا سا نہیں بلکہ حسب مناسبت مقام ان کا ایک ایک ٹکڑا متفرق طور پر ذکر میں آگیا ہے۔ پھر جب ان سب ٹکڑوں کو جوڑا جاتا ہے تو بعض مقامات پر کبھی اس کی کوئی درمیانی کڑی نہیں ملتی کہیں ان کی ترتیب میں شک وشبہ رہ جاتا ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر بعض خام طبائع تو اصل واقعہ کے ثبوت ہی سے دست بردار ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ غور یہ کرنا چاہئے کہ جب قرآن وحدیث کا اسلوب بیان ہی وہ نہیں جو آج ہماری تصانیف کا ہے تو پھر حدیثوں میں اس کو تلاش ہی کیوں کیا جائے؟ نیز جب ان متفرق ٹکڑوں کی ترتیب صاحب شریعت نے خود بیان ہی نہیں فرمائی تو اس کو صاحب شریعت کے سرکیوں رکھ دیا جائے۔ لہٰذا اگر اپنی جانب سے کوئی ترتیب قائم کر لی گئی ہے تو اس پر جزم کیوں کیا جائے؟ ہوسکتا ہے کہ جو ترتیب ہم نے اپنے ذہن سے قائم کی ہے حقیقت اس کے خلاف ہو۔ اس قسم کے اور بھی بہت سے امور ہیں جو قرآنی اور حدیثی قصص میں تشنہ نظر آتے ہیں۔ اس لئے یہاں جو قدم اپنی رائے سے اٹھایا جائے اس کو کتاب وسنت کے سررکھ دینا ایک خطرناک اقدام ہے اور اس ابہام کی وجہ سے اصل واقعہ ہی کا انکار کر ڈالنا یہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ واقعات کی پوری تفصیل اور اس کے اجزاء کی پوری پوری ترتیب بیان کرنی رسول کا وظیفہ نہیں۔ یہ ایک مورخ کا وظیفہ ہے۔ رسول آئندہ واقعات کی صرف بقدر ضرورت اطلاع دے دیتا ہے پھر جب

385

ان کے ظہور کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپنی تفصیل کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور اس وقت یہ ایک کرشمہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے واقعات کے لئے جتنی اطلاع حدیثوں میں آچکی تھی وہ بہت کافی تھی اور قبل ازوقت اس سے زیادہ تفصیلات دماغوں کے لئے بالکل غیرضروری بلکہ شاید اور زیادہ الجھاؤ کا موجب تھیں۔

علاوہ ازیں جس کو ازل سے ابد تک کا علم ہے وہ یہ خوب جانتا تھا کہ امت میں دین روایت اور اسانید کے ذریعہ پھیلے گا اور اس تقدیر پر راویوں کے اختلافات سے روایتوں کا اختلاف بھی لازم ہوگا۔ پس اگر غیرضروری تفصیلات کو بیان کر دیا جاتا تو یقینا ان میں بھی اختلاف پیدا ہونے کا امکان تھا اور ہوسکتا تھا کہ امت اس اجمالی خبر سے جتنا فائدہ اٹھاسکتی تھی تفصیلات بیان کرنے سے وہ بھی فوت ہوجاتا۔ لہٰذا امام مہدی کی حدیثوں کے سلسلہ میں نہ تو ہرگوشہ کی پوری تاریخ معلوم کرنے کی سعی کرنی صحیح ہے اور نہ صحت کے ساتھ منقول شدہ منتشر ٹکڑوں میں جزم کے ساتھ ترتیب دینی صحیح ہے اور نہ اس وجہ سے اصل پیش گوئی میں تردد پیدا کرنا علم کی بات ہے۔ یہاں جملہ پیش گوئیوں میں صحیح راہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ جتنی بات حدیثوں میں صحت کے ساتھ آچکی ہے اس کو اسی حد تک تسلیم کر لیا جائے اور زیادہ تفصیلات کے درپے نہ ہوا جائے اور اگر مختلف حدیثوں میں کوئی ترتیب اپنے ذہن سے قائم کر لی گئی ہے تو اس کو حدیثی بیان کی حیثیت ہرگز نہ دی جائے۔

یہ بھی ظاہر ہے کہ اس سلسلہ کی حدیثیں مختلف اوقات میں مختلف صحابہi سے روایت ہوئی ہیں اور ہر مجلس میں آپa نے اس وقت کے مناسب اور حسب ضرورت تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔ یہاں یہ امر بھی یقینی نہیں کہ ان تفصیلات کے براہ راست سننے والوں کو ان سب کا علم حاصل ہو، بہت ممکن ہے کہ جس صحابیq نے امام مہدی کی پیش گوئی کا ایک حصہ ایک مجلس میں سنا ہو اس کو اس کے دوسرے حصے کے سننے کی نوبت ہی نہ آئی ہو جو دوسرے صحابیq نے دوسری مجلس میں سنا ہے اور اس لئے یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ واقعہ کے الفاظ بیان کرنے میں ان تفصیلات کی کوئی رعایت نہ کرے جو دوسرے صحابیq کے بیان میں موجود ہے۔

یہاں بعد کی آنے والی امت کے سامنے چونکہ یہ ہردوبیانات موجود ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ فرض اس کا ہے کہ اگر وہ ان تفصیلات میں کوئی لفظی بے ارتباطی دیکھتی ہے تو اپنی جانب سے کوئی تطبیق کی راہ نکال لے۔ اس لئے بسا اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ یہ توجیہات

386

راویوں کے بیانات پر پوری پوری راست نہیں آتیں۔ اب راویوں کے الفاظ کی یہ کشاکش اور تاویلات کی ناسازگاری کا یہ رنگ دیکھ کر بعض دماغ اس طرف چلے جاتے ہیں کہ ان تمام دشواریوں کے تسلیم کر لینے کی بجائے اصل واقعہ کا ہی انکار کر دینا آسان ہے۔ اگر کاش وہ اس پر بھی نظر کر لیتے کہ یہ تاویلات خود صاحب شریعت کی جانب سے نہیں بلکہ واقعہ کے خودراویوں کی جانب سے بھی نہیں یہ صرف ان دماغوں کی کاوش ہے جن کے سامنے اصل واقعہ کے وہ سب متفرق ٹکڑے جمع ہوکرآگئے ہیں جن کو مختلف صحابہi نے مختلف زمانوں میں روایت کیا ہے اور اس لئے ہر ایک نے اپنے الفاظ میں دوسرے کی تعبیر کی کوئی رعایت نہیں کی اور نہ وہ کر سکتا تھا تو پھر نہ تو ان پر راویوں کے الفاظ کی اس بے ارتباطی کا کوئی اثر پڑتا اور نہ ایک ثابت شدہ واقعہ کا انکار صرف اتنی سی بات پر ان کو آسان نظر آتا۔

یہاں جب آپ اس خاص تاریخ سے علیحدہ ہوکر نفس مسئلہ کی حیثیت سے احادیث پر نظر کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ امام مہدی کا تذکرہ سلف سے لے کر محدثین کے دور تک بڑی اہمیت کے ساتھ ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ امام ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ نے امام مہدی کے عنوان سے ایک ایک باب ہی علیحدہ قائم کر دیا ہے۔ ان کے علاوہ وہ آئمہ حدیث جنہوں نے امام مہدی کے متعلق حدیثیں اپنی اپنی مؤلفات میں ذکر کی ہیں ان میں سے چند کے اسمائے مبارکہ حسب ذیل ہیں۔ امام احمد، البزار، ابن ابی شیبہ، الحاکم، الطبرانی، ابویعلی موصلی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ جن جن صحابہ کرامi سے اس باب میں روایتیں ذکر کی گئی ہیں ان کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں: حضرت علی، ابن عباس، ابن عمر، طلحہ، عبداﷲ بن مسعود، ابوہریرہ، انس، ابوسعید، ام حبیبہ، ام سلمہ، ثوبان، قرۃ بن ایاس، علی الہلالی، عبداﷲ ابن الحارث بن جزء رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

شارح عقیدہ سفارینی نے امام مہدی کی تشریف آوری کے متعلق معنوی تواتر کا دعویٰ کیا ہے اور اس کو اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار کیا ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’امام مہدی کے خروج کی روایتیں اتنی کثرت کے ساتھ موجود ہیں کہ اس کو معنوی تواتر کی حد تک کہا جاسکتا ہے اور یہ بات علمائے اہل سنت کے درمیان اس درجہ مشہور ہے کہ اہل سنت کے عقائد میں ایک عقیدے کی حیثیت سے شمار کی گئی ہے۔ ابونعیم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی وغیرہم نے صحابہi وتابعینw سے اس باب میں متعدد روایتیں بیان کی ہیں۔ جن کے

387

مجموعے سے امام مہدی کی آمد کا قطعی یقین حاصل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا امام مہدی کی تشریف آوری پر حسب بیان علماء اور حسب عقائد اہل سنت والجماعت یقین کرنا ضروری ہے۔‘‘(شرح عقیدہ السفارینی ج۲ ص۷۹،۸۰)

اسی طرح حافظ سیوطیؒ نے بھی یہاں تواتر معنوی کا دعویٰ کیا ہے۔ قاضی شوکانیؒ نے اس سلسلہ کی جو حدیثیں جمع کی ہیں ان میں مرفوع حدیثوں کی تعداد پچاس اور آثار کی اٹھائیس تک پہنچتی ہیں۔ شیخ علی متقیؒ نے بھی منتخب کنزالعمال میں اس کا بہت مواد جمع کردیا ہے۔ حافظ ابن تیمیہv منہاج السنہ اور حافظ ذہبیؒ مختصر منہاج السنہ میں تحریر فرماتے ہیں:’’الاحادیث التی تحتج بہا علی خروج المہدی صحاح رواہا احمد، وابوداؤد والترمذی منہا حدیث ابن مسعودq وام سلمۃt وابی سعیدq وعلیq مختصر منہاج ص۵۳۴‘‘ {یعنی جن حدیثوں سے امام مہدی کے خروج پر استدلال کیاگیا ہے وہ صحیح ہیں۔ ان کو امام احمدv، امام ابوداؤد اور امام ترمذیؒ نے روایت فرمایا ہے۔}

یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ صحیح مسلم کی احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ:

(۱)آخری زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہوگا جس کے زمانے میں (۲)غیرمعمولی برکات ظاہر ہوں گی۔ (۳)وہ حضرت عیسیٰؑ سے قبل پیدا ہوگا۔ (۴)دجال اسی کے عہد میں ظاہر ہوگا۔ مگر اس کا قتل حضرت عیسیٰؑ کے دست مبارک سے ہوگا۔ (۵)حضرت عیسیٰؑ جب آسمان سے تشریف لائیں گے تو وہ خلیفہ نماز کے لئے مصلیٰ پر آچکا ہوگا۔ (۶)حضرت عیسیٰؑ کو دیکھ کر وہ مصلیٰ چھوڑ کر پیچھے ہٹے گا مگر عیسیٰؑ ان سے فرمائیں گے چونکہ آپ مصلیٰ پر جاچکے ہیں۔ اس لئے اب امامت آپ ہی کا حق ہے اور یہ اس امت کی ایک بزرگی ہے۔ لہٰذا یہ نماز تو آپ انہیں کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے۔

یہ تمام صفات ان صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں جن میں محدثین کو کوئی کلام نہیں۔ اب گفتگو ہے تو صرف اتنی بات میں ہے کہ یہ خلیفہ کیا امام مہدی ہیں یا کوئی اور دوسرا خلیفہ؟ دوسرے نمبر کی حدیثوں میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ خلیفہ امام مہدی ہوں گے۔ ہمارے نزدیک صحیح مسلم کی حدیثوں میں جب اس خلیفہ کا تذکرہ آچکا ہے تو پھر دوسرے نمبر کی حدیثوں میں جب وہی تفصیلات اس کے نام کے ساتھ مذکور ہیں تو ان کو بھی صحیح مسلم ہی کی

388

حدیثوں کے حکم میں سمجھنا چاہئے۔ اس لئے اب اگر یہ کہہ دیا جائے کہ امام مہدی کا ثبوت خود صحیح مسلم میں موجود ہے تو اس کی گنجائش ہے۔ مثلاً جب صحیح مسلم میں موجود ہے کہ عیسیٰؑ جب اتریں گے تو اس وقت مسلمانوں کا ایک امیر امامت کے لئے مصلیٰ پر آچکا ہوگا تو اب جن حدیثوں میں اس خلیفہ کا نام امام مہدی بتایا گیا ہے یقینا وہ اسی مبہم خلیفہ کا بیان کہا جائے گا یا مثلاً صحیح مسلم میں ہے کہ آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا جو بے حساب مال تقسیم کرے گا۔ اب اگر دوسری حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مال کی یہ دادودہش امام مہدی کے زمانے میں ہوگی تو صحیح مسلم کی اس حدیث کا مصداق امام مہدی کو قرار دینا بالکل بجا ہوگا۔ اسی طرح جنگ کے جو واقعات صحیح مسلم میں ابہام کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں اگر دوسری حدیثوں میں وہی واقعات امام مہدی کے زمانے میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ کہنا بالکل قرین قیاس ہوگا کہ صحیح مسلم میں جنگ کے جو واقعات مذکور ہیں وہ امام مہدی ہی کے دور کے واقعات ہیں۔ غالباً ان ہی وجوہات کی بناء پر محدثین نے بعض مبہم حدیثوں کو امام مہدی ہی کے حق میں سمجھا ہے اور اسی باب میں ان کو ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ امام ابوداؤد نے بارہ خلفاء کی حدیث کو امام مہدی کے باب میں ذکر فرماکر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ بارہواں خلیفہ یہی امام مہدی ہیں۔

اب سب سے پہلے آپ ذیل کی حدیثیں پڑھئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ امام مہدی کی آمد کی صحابہi وتابعینw کے درمیان کس درجہ شہرت تھی۔ اس کے بعد پھر مرفوع حدیثوں پر نظر ڈالئے تو بشرط اعتدال وانصاف آپ کو یقین ہوجائے گا کہ امام مہدی کی آمد کا مسئلہ بے شک ایک مسلم عقیدہ رہا ہے۔ البتہ روافض نے جو اور بے تکی باتیں اس میں اپنی جانب سے شامل کر لی ہیں ان کا نہ تو کوئی ثبوت نقل میں ملتا ہے نہ عقل ان کو باور کرسکتی ہے۔ صرف ان کی تردید میں کسی ثابت شدہ مسئلہ کا انکار کردینا یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے۔

۱… ’’عن حکیم بن سعید: قال لما قام سلیمان فاظہر ما اظہر قلت لا بی یحیٰی ہٰذا المہدی الذی یذکر قال لا (اخرجہ ابن ابی شیبہ الحاوی ج۲ ص۸۰)‘‘ {حکیم بن سعد کہتے ہیں کہ جب سلیمان خلیفہ بنے اور انہوں نے عمدہ عمدہ خدمات انجام دیں تو میں نے ابویحییٰ سے کہا وہ مہدی یہی ہیں جن کی شہرت ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔}

۲… ’’عن الولید بن مسلم قال سمعت رجلاً یحدث قوماً فقال: المہدیون ثلاثۃ مہدی الخیر عمر ابن عبدالعزیز ومہدی الدم وہو الذی

389

تسکن علیہ الدماء ومہدی الدین عیسی ابن مریم تسلم امتہ فی زمانہ کذافی الحاوی ج۲ ص۷۸ وفیہ عن کعب قال مہدی الخیر یخرج بعد السفیانی‘‘ {ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص سے سنا جو لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ مہدی تین ہوں گے۔ (۱)مہدی خیر، یہ تو عمر بن عبدالعزیزv ہیں۔ (۲)مہدی دم، یہ وہ شخص ہے جس کے زمانے میں خونریزی ختم ہو جائے گی۔ (۳)مہدی دین، یہ عیسیٰ بن مریم ہیں۔ ان کے زمانے میں نصاریٰ بھی اسلام قبول کر لیں گے کعب بیان کرتے ہیں کہ مہدی خیر کا ظہور سفیانی کے ظہور کے بعد ہوگا۔}

۳… ’’عن ابن عمر انہ قال لابن الحنفیہ المہدی الذی یقولون کما یقول الرجل الصالح اذا کان الرجل صالحاً قیل لہ المہدی (الحاوی ج۲ ص۷۸)‘‘ {ابن عمرq نے ابن حنفیہ سے کہا المہدی کا لقب ایسا ہے جیسا کہ کسی نیک آدمی کو ’’رجل صالح‘‘ کہہ دیں۔ (اس لحاظ سے مہدی کا اطلاق متعدد اشخاص پر ہوسکتا ہے)}

۴… ’’عن ابن عباس قال یبعث المہدی بعد ایاس حتّٰی یقول الناس لا مہدی (کذافی الحاوی ج۲ ص۷۶)‘‘ {ابن عباسq کہتے ہیں کہ مہدی کا ظہور اس وقت ہوگا جب لوگ مایوس ہوکر یہ کہیں گے کہ اب مہدی کیا آئے گا؟}

۵… ’’عن کعب قال انی اجد المہدی مکتوباً فی اسفار الانبیاء مافی عملہ ظلم ولا عیب (الحاوی ج۲ ص۷۷)‘‘ {کعبq کہتے ہیں کہ میں نے انبیاءo کی کتابوں میں مہدی کی یہ صفت دیکھی ہے کہ اس کے عمل میں نہ ظلم ہوگا نہ عیب۔}

۶… ’’عن مطر انہ ذکر عندہ عمر بن عبدالعزیز فقال بلغنا ان المہدی یصنع شیألم یصنعہ عمر بن عبدالعزیز قلنا ما ہو؟ قال یأتیہ رجل فیسا لہ فیقول ادخل بیت المال فخذ فیدخل فیاخذ ویخرج ویری الناس شباعاً فیندم فیرجع الیہ فیقول خذما اعطیتنی فیابی ویقول انا نعطی ولاناخذ (الحاوی ج۲ ص۷۷)‘‘ {مطر کے سامنے عمر بن عبدالعزیزq کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا ہم کو معلوم ہوا ہے کہ مہدی آخر ایسے ایسے کام کریں گے جو عمربن عبدالعزیز سے نہیں ہوسکے۔ ہم نے پوچھا وہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک شخص آکرسوال کرے گا۔ وہ کہیں گے بیت المال میں جا اور جتنا چاہے مال لے لے۔ وہ اندر جائے گا اور جب باہر آئے گا تو دیکھے گا

390

کہ سب لوگ نیت سیر ہیں تو اس کو شرم آئے گی اور یہ لوٹ کر کہے گا کہ جو مال آپ نے دیا تھا وہ آپ لے لیجئے تو وہ فرمائیں گے ہم دینے کے لئے ہیں لینے کے لئے نہیں۔}

۷… ’’عن ابراہیم بن میسرۃ قال قلت لطاؤس عمر بن عبدالعزیز ہو المہدی؟ قال ہو المہدی ولیس بہ انہ لم یستکمل العدل کلہ اخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ (الحاوی ج۲ ص۸۰)‘‘ {ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے پوچھا کیا عمر بن عبدالعزیز ہی مہدی ہیں؟ انہوں نے کہا ایک مہدی وہ بھی ہیں لیکن وہ خاص مہدی نہیں۔ ان کے دور کا ساکامل انصاف ان کے دور میں کہاں ہے؟}

۸… ’’عن ابی جعفر قال یزعمون انی انا المہدی وانی الٰی اجلی ادنٰی منی الٰی مایدّعون (اخرجہ المحاملی فی امالیہ۔ الحاوی ج۲ ص۸۱)‘‘ {ابوجعفر فرماتے ہیں کہ لوگ میرے متعلق یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ مہدی میں ہوں حالانکہ مجھے ان کے دعوؤں سے اپنا مرجانا نزدیک ترنظر آتا ہے۔}

۹… ’’عن سلمۃ بن زفر قال قیل یوماً عند حدیفۃ قد خرج المہدی قال لقد افلحتم ان خرج واصحاب محمد بینکم انہ لا یخرج حتٰی لا یکون غائب احب الی الناس منہ مما یلقون من الشر اخرجہ الدانی (الحاوی ج۲ ص۸۱)‘‘ {سلمہ بن زفر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حذیفہ کے سامنے کسی نے کہا کہ مہدی ظاہر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے فرمایا اگر ایسا ہے جب کہ نبی کریمa کے صحابہi تمہارے درمیان موجود ہیں تو تم نے بڑی فلاح پائی یاد رکھو کہ وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جب کہ مصائب کی وجہ سے کوئی غائب شخص لوگوں کو ان سے پیارا معلوم نہ ہوگا۔ (یعنی ان کا شدید انتظار ہوگا)}

ان آثار کی روشنی میں: ’’لامہدی الّٰا عیسٰی‘‘ کی شرح بھی بخوبی ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ ابن ماجہ کی اس حدیث کو کسی درجہ میں حسن تسلیم کر لیا جائے۔

رب العالمین کی یہ عجیب حکمت ہے کہ جب کسی اہم شخصیت کے متعلق کوئی پیش گوئی کی گئی ہے تو اس آزمائشی زمین پر ہمیشہ اس نام کے کاذب مدعی چاروں طرف سے پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں اور اس طرح ایک سیدھی بات آزمائشی منزل بن کر رہ گئی ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰؑ کے متعلق صریح سے صریح الفاظ میں پیش گوئی کی گئی جس میں کسی دوسرے

391

شخص کی آمد کا کوئی احتمال ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے باوجود نہ معلوم کتنے مدعی مسیحیت پیدا ہوگئے۔ آخر یہ ایک سیدھی پیش گوئی ایک معمّہ بن کر رہ گئی۔ اسی طرح جب حضرت امام مہدی کے حق میں پیش گوئی کی گئی تو گزشتہ زمانے میں یہاں بھی بہت سے اشخاص مہدویت کے مدعی پیدا ہوگئے۔ چنانچہ محمد بن عبداﷲ یہ ’’النفس الزکیہ‘‘ کے لقب سے مشہور تھا۔ اسی طرح محمد بن تومرت، عبید اللہ بن میمون قداح، محمد جونپوری وغیرہ نے اپنے زمانے میں مہدویت کا دعویٰ کیا۔ شیخ سید برزنجیؒ لکھتے ہیں کہ ان کے زمانے میں مقام ازبک میں بھی ایک شخص نے مہدویت کا دعویٰ کیا۔ سید موصوف نے ایک اور ’’کردی‘‘ شخص کے متعلق بھی لکھا ہے کہ عقر کے پہاڑوں میں اس نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان سب اشخاص کے واقعات تاریخ میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں اور وہ تمام مصائب وآلام بھی مذکور ہیں جو ان بدبختوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر توڑے گئے تھے۔

رافضی جماعت کا مستقل یہ ایک عقیدہ ہی ہے کہ محمد بن حسن عسکری مہدی موعود ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق وہ اپنے طفولیت کے زمانے ہی سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوکر کسی مخفی غار میں پوشیدہ ہیں اور یہ جماعت آج ایک انہی کے ظہور کی منتظر ہے اور مصیبتوں میں انہی کو پکارتی پھرتی ہے۔ ان مفترین کی تاریخ اور روافض کی اس وہم پرستی اور بے بنیاد عقیدہ کی وجہ سے بعض اہل علم کے ذہن اس طرف منتقل ہوگئے کہ اگر علمی لحاظ سے مہدی کے وجود ہی کا انکار کردیا جائے تو اس تمام بحث وجدل سے امت مسلمہ کی جان چھوٹ جائے اور روزمرہ نئی نئی آزمائشوں کا اس کو مقابلہ نہ کرنا پڑے۔ چنانچہ ابن خلدون مؤرخ نے اسی پر پورا زور صرف کیا ہے اور چونکہ تاریخی اور تحقیقی لحاظ سے علمی طبقہ میں اس کو اونچا مقام حاصل ہے۔ اس لئے اس قسم کے مزاجوں کے لئے اس کا انکار کرنا اور تقویت کا باعث بن گیا۔ پھر بعد میں اسی کے اعتماد پر اس مسئلہ کا انکار چلتا رہا ہے۔ محدثین علماء نے ہمیشہ اس انکار کو تسلیم نہیں کیا اور خود مؤرخ موصوف کے زمانے میں بھی اس پیش گوئی کے اثبات پر تالیفات کی گئیں۔ جن میں سے اس وقت:’’ابراز الوہم المکنون من کلام ابن خلدون‘‘ کا نام ہمارے علم میں بھی ہے۔ مگر یہ رسالہ ہم کو دستیاب نہیں ہوسکا۔ امام قرطبی، شیخ جلال الدین سیوطیؒ، سید برزنجی، شیخ علی متقی، علامہ شوکانی، نواب صدیق حسن خان، شارح عقیدہ سفارینی کی تصنیفات ہماری نظر سے بھی گزری ہیں۔ ان کے مؤلفات کے علاوہ

392

بھی اس موضوع پر بہت سے رسائل لکھے گئے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ جب کسی خاص ماحول کی وجہ سے وضع حدیث کے دواعی پیدا ہو گئے ہیں تو اس دور کی حدیثوں پر محدثین کی نظریں بھی ہمیشہ سخت ہوگئی ہیں اور اس لئے بعض صحیح حدیثیں بھی مشتبہ ہوگئیں۔ جیسا کہ بنی امیہ کے دور میں فضائل اہل بیت کی بہت سی حدیثیں مشتبہ ہوگئی تھیں۔ پھر جب محدثین نے ان کو چھانٹنا شروع کیا تو بعض متشدد نظروں میں اچھی خاصی حدیثیں بھی اس کی لپیٹ میں آگئیں۔ آخر جب اس فضا سے ہٹ کر علماء نے دوبارہ اس پر نظر ڈالی تو انہوں نے بہت سی ساقط شدہ حدیثوں میں کوئی سقم نہ پایا اور آخر ان کو قبول کیا۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ ایک فرقے نے محمد بن حسن عسکری کے مہدی منتظر ہونے کا دعویٰ کردیا تو پھر وہی وضع حدیث کے جذبات ابھرے اور جب علماء نے غلط ذخیرہ کو ذرا تشدد کے ساتھ الگ کرنے کا ارادہ کیا تو لازمی طور پر یہاں بھی کچھ حدیثیں اس کی زد میں آگئیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس باب کی صریح حدیثوں میں کوئی حدیث بھی صحیحین کی نہ تھی۔ گو صحت کے لئے صحیحین کی حدیث ہونا کسی کے نزدیک بھی شرط نہیں۔ اس لئے محدثانہ ضابطہ کے مطابق نقدوتبصرہ کو یہاں کچھ نہ کچھ وسعت مل گئی۔ لیکن یہ بات کچھ اسی باب کی حدیثوں ہی کے ساتھ خاص نہیں ہرکتاب پر شیخین کی کتابوں کے سواجب صرف ضابطہ کی تنقید شروع کر دی جائے اور صرف راویوں پر جرح وتعدیل کو لے کر اس باب کے دیگر امور مہمہ کو نظرانداز کرڈالا جائے تو پھر نقد کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔ اس تشدد وافراط کا ثمرہ گووقتی طور پر کچھ مفید ہو تو ہو لیکن دوسری طرف اس کا نقصان بھی ضرور ہوتا ہے اور وقتی فتنے ختم ہو جانے کے بعد آئندہ امت کی نظروں میں یہ اختلاف اچھی حدیثوں میں بھی شک وتردد کا موجب بن جاتا ہے۔ لہٰذا یہاں جب آپ خارجی عوارض اور ماحول کے خاص حالات سے علیحدہ ہوکر نفس مسئلہ کی حیثیت سے اس موضوع کی احادیث پر نظر فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ امام مہدی کا تذکرہ سلف سے لے کر محدثین کے دور تک ہمیشہ بڑی اہمیت کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

محقق ابن خلدون کے کلام کو جہاں تک ہم نے سمجھا ہے اس کا خلاصہ تین باتیں معلوم ہوتی ہیں: (۱)جرح وتعدیل میں جرح کو ترجیح ہے۔ (۲)امام مہدی کی کوئی حدیث صحیحین میں موجود نہیں۔ (۳)اس باب کی جو صحیح حدیثیں ہیں ان میں امام مہدی کی تصریح نہیں۔

فن حدیث کے جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ تینوں باتیں کچھ وزن

393

نہیں رکھتیں۔ کیونکہ ہمیشہ اور ہر جرح کو ترجیح دینا یہ بالکل خلاف واقع ہے۔ چنانچہ خود محقق موصوف کو جب اس کا تنبہ ہوا کہ اس قاعدے کے تحت تو صحیحین کی حدیثیں بھی مجروح ہو جانی ہیں تو اس کا جواب انہوں نے صرف یہ دے دیا ہے کہ یہ حدیثیں چونکہ علماء کے درمیان مسلّم ہوچکی ہیں۔ اس لئے وہ مجروح نہیں کہی جاسکتیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ جب قاعدہ یہ ٹھہرا تو پھر علماء کو وہ مسلّم ہی کیوں ہوئیں؟

رہا امام مہدی کی حدیثوں کا صحیحین میں مذکور نہ ہونا تو یہ اہل فن کے نزدیک کوئی جرح نہیں ہے۔ خود ان ہی حضرات کا اقرار ہے کہ انہوں نے جتنی صحیح حدیثیں ہیں وہ سب کی سب اپنی کتابوں میں درج نہیں کیں۔ اس لئے بعد میں ہمیشہ محدثین نے مستدرکات لکھی ہیں۔ اب رہی تیسری بات تو یہ دعویٰ بھی تسلیم نہیں کہ صحیح حدیثوں میں امام مہدی کا نام مذکور نہیں ہے۔ کیا وہ حدیثیں جن کو امام ترمذی وابوداؤد وغیرہ جیسے محدثین نے صحیح وحسن کہا ہے۔ صرف محقق موصوف کے بیان سے صحیح ہونے سے خارج ہوسکتی ہیں؟ دوم یہ کہ جن حدیثوں کو محقق موصوف نے بھی صحیح تسلیم کر لیا ہے اگر وہاں ایسے قوی قرائن موجود ہیں جن سے اس شخص کا امام مہدی ہونا تقریباً یقینی ہو جاتا ہے تو پھر امام مہدی کے لفظ کی تصریح ہی کیوں ضروری ہے؟ سوم یہاں اصل بحث مصداق میں ہے۔ مہدی کے لفظ میں نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں ایک خلیفہ ہونا اور ایسی خاص صفات کا حامل ہونا جو بقول روایت عمر بن عبدالعزیزv جیسے شخص میں بھی نہ تھیں ثابت ہے تو بس اہل سنت کا مقصد اتنی بات سے پورا ہو جاتا ہے کیونکہ مہدی تو صرف ایک لقب ہے۔ علم اور نام نہیں اور یہ آپ ابھی معلوم کر چکے ہیں کہ مہدی کا لفظ بطور لقب دوسرے اشخاص پر بھی اطلاق کیاگیا ہے۔ اگرچہ سب میں کامل مہدی وہی ہیں جن کا ظہور آئندہ زمانے میں مقدر ہے۔ یہ ایسا سمجھئے جیسا دجال کا لفظ، حدیثوں میں سترمدعیان نبوت کو دجال کہاگیا ہے۔ مگر دجال اکبر وہی ہے جو حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔ ہاں! اس لقب کی زد اگر پڑتی ہے تو ان اصحاب پر پڑتی ہے جو مہدی کے ساتھ ساتھ کسی قرآن کے منتظر بیٹھے ہیں۔ محقق موصوف کی پوری بحث پڑھنے کے بعد یہ یقین ہوجاتا ہے کہ محقق موصوف کی اصل نظر اسی فتنہ کی طرف ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حدیثوں سے کسی ایسے مہدی کا وجود ثابت نہ ہو جس پر ایمان وقرآن کا دارومدار ہو اور جیسا کہ نقدوتبصرہ کے وقت ہر شخص اپنے طبعی اور علمی تاثرات سے بمشکل بری

394

رہ سکتا ہے۔ اسی طرح محقق موصوف بھی یہاں اس سے بچ نہیں سکے اور فن تاریخ کی سب سے کٹھن منزل یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث پر کلام کرتے ہوئے بڑے سے بڑے علماء کی توثیق نقل کرنے کے بعد بھی ان کا رجحان طبع انہیں علماء کی جانب رہا ہے۔ جنہوں نے کوئی نہ کوئی جرح ان حدیثوں میں نکال کھڑی کی ہے اور صرف جرح کے مقدم ہونے کو ایک قاعدہ کلیہ بنا کر بس اسی سے کام لیا ہے۔ اگر محقق موصوف جرح کے اسباب ومراتب پر غور فرمالیتے تو شاید ہر مقام پر ان کا رجحان اس طرف نہ رہتا۔

اسم المہدی ونسبہ وحلیۃ الشریفہ

امام مہدی کا نام ونسب اور ان کا حلیہ شریف۔

۱… ’’عن عبداﷲ قال قال رسول اللہ a لا تذہب الدنیا حتّٰی یملک العرب رجل من اہل بیتی یواطیٔ اسمہ اسمی رواہ الترمذی قال وفی الباب عن علی وابی سعید وام سلمۃ وابی ہریرۃ وقال ہٰذا حدیث حسن صحیح قلت واخرجہ ابوداؤد وسکت عنہ ہو والمنذری وابن القیم وقال الحاکم رواہ الثوری وشعبۃ وزائدۃ وغیرہم من ائمۃ المسلمین عن عاصم قال وطرق عاصم عن عبداﷲ کلہا صحیحۃ‘‘ {عبداﷲ بن مسعودq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے کہ دنیا کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہوگا جب تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص عرب پر حاکم نہ ہو جو میرے ہم نام ہوگا۔} (ترمذی باب ماجاء فی المہدی ج۲ ص۴۷)

۲… ’’عن ابی ہریرۃ قال لولم یبق من الدنیا الّٰا یوما لطول اللہ ذٰلک الیوم حتّٰی یلی (الترمذی ہذا حدیث حسن صحیح)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے اگر دنیا کے خاتمہ میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اسی ایک دن کو اور دراز فرمادے گا۔ یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا حاکم ہوکر رہے گا۔}(ترمذی شریف ج۲ ص۴۷، حدیث نمبر۲۲۳۱)

۳… ’’عن ابی اسحٰق قال قال علی ونظر الٰی ابنہ الحسن فقال ان ابنی ہٰذا سید کما سماہ النبیa وسیخرج من صلبہ رجل یسمی باسم

395

نبیکمa یشبہ فی الخلق ولا یشبہ فی الخلق ثم ذکر قصۃ یملأ الارض وعدلا رواہ ابوداؤد وقال ابوداؤد فی عمر وبن قیس لا باس بہ فی حدیثہ خطاء وقال الذہبی صدوق لہ اوہام واما ابواسحٰق السبیعی فروایتہ عن علی منقطعۃ‘‘ {حضرت علیq نے اپنے فرزند حضرت حسنq کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا یہ فرزند سید ہوگا جیسا کہ آنحضرتa نے اس کے متعلق فرمایا ہے اور ا س کی نسل سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہوگا وہ عادات میں آپa کے مشابہ ہوگا لیکن صورت میں مشابہ نہ ہوگا۔ اس کے بعد ان کے عدل وانصاف کا حال ذکر فرمایا۔}(ابوداؤد کتاب المہدی ج۲ ص۱۳۱، حدیث نمبر۴۲۹۰)

۴… ’’عن علی عن النبیa قال لولم یبق من الدہر الّٰا یوم لبعث اللہ رجلاً من اہل بیتی یملأہا قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً (رواہ ابوداؤد وفی اسنادہ فطر بن خلیفۃ الکوفی وثقہ احمد ویحیی بن سعید القطان ویحیی بن معین والنسائی والعجلی وابن سعد والساجی وقال ابوحاتم صالح الحدیث واخرج لہ البخاری فالحدیث قوی)‘‘ {حضرت علیq رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ آپa نے فرمایا ہے اگر قیامت میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ضرور ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو دنیا کو عدل وانصاف سے پھر اسی طرح بھردے گا جیسے وہ اس سے قبل ظلم سے بھرچکی ہوگی۔} (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱)

۵… ’’عن سعید بن المسیب قال کنا عندام سلمۃ فتذا کرنا المہدی فقالت سمعت رسول اللہ a یقول المہدی من ولد فاطمۃ (رواہ ابن ماجۃ وفیہ علی بن النفیلی الہندی قال ابوحاتم لاباس بہٖ اخرج لہ ابوداؤد ابن ماجۃ کذافی الاذاعۃ)‘‘ {سعید بن المسیبq بیان کرتے ہیں کہ ہم ام سلمہt کے پاس حاضر تھے۔ ہم نے امام مہدی کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ a سے خود سنا ہے آپa فرماتے تھے کہ امام مہدی حضرت فاطمہt کی اولاد میں ہوں گے۔}(ابن ماجہ باب خروج المہدی ص۳۰۰)

۶… ’’عن انس بن مالک قال سمعت رسول اللہ a یقول نحن ولد عبدالمطلب سادۃ اہل الجنۃ انا وحمزۃ وعلی وجعفر والحسن والحسین

396

والمہدی (رواہ ابن ماجۃ وفی الزوائد وفی اسنادہ مقال وعلی بن زیادلم ارمن وثقہ ولا من جرح وباقی رجال اسنادہ موثقون وراجع لہ الا ذاعۃ)‘‘ {حضرت انسq بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ a کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ ہم عبدالمطلب کی اولاد واہل جنت کے سردار ہوں گے۔ یعنی میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن حسین اور مہدی رضی اللہ عنہم اجمعین۔} (ابن ماجہ ص۳۰۰، حدیث نمبر۴۰۸۷)

۷… ’’عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ a المہدی منی اجلی الجبہۃ اقنی الانف یملأ الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً ویملک سبع سنن (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱) قال المنذری فی اسنادہ عمران القطان وہو ابوالعوام عمران بن داؤد القطان البصری استشہد بہ البخاری ووثقہ عفان بن مسلم واحسن علیہ الثناء یحیٰی بن سعید القطان‘‘ {ابوسعید خدریq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا مہدی میری اولاد میں سے ہوگا جس کی پیشانی کشادہ اور ناک بلند ہوگی اور جو دنیا کو عدل وانصاف سے پھربھر دے گا۔ جب کہ اس وقت وہ ظلم وستم سے بھرچکی ہوگی۔ ان کی حکومت سات سال تک رہے گی۔}

۸… ’’عن بریدۃ قال قال رسول اللہ a ستکون بعدی بعوث کثیرۃ فکونوا فی بعث خراسان (رواہ ابن عدی وابن عساکر والسیوطی فی الجامع الصغیر)‘‘ {بریدہq روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا میرے بعد بہت سے لشکر ہوں گے تم اس لشکر میں شامل ہونا جو خراسان سے آئے گا۔}(جامع الاحادیث للسیوطی ج۶ ص۱۴، حدیث نمبر۱۳۰۷۰)

۹… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a یخرج من خراسان رأیات سود فلا یردہا شیٔ حتی تنصب بایلیا (الترمذی)‘‘ {ابوہریرہq روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے خراسان کی طرف سے سیاہ سیاہ جھنڈے آئیں گے کوئی طاقت ان کو واپس نہیں کر سکے گی۔ یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں نصب کردئیے جائیں گے۔} (ترمذی شریف ابواب الفتن ج۲ ص۵۲، حدیث نمبر۲۲۶۹)

حافظ ابن کثیرv فرماتے ہیں کہ سیاہ جھنڈے وہ نہیں ہیں جو ایک مرتبہ ابومسلم خراسانی لے کر آیا تھا۔ جس نے بنوامیہ کا ملک چھین لیا تھا بلکہ یہ دوسرے ہیں جو امام مہدی

397

کے عہد میں ظاہر ہوں گے۔ (کذافی الحافی ج۲ ص۶۰) نعیم بن حماد حضرت حمزہq سے روایت فرماتے ہیں کہ یہ جھنڈے چھوٹے چھوٹے ہوں گے۔(حاوی ج۲ ص۶۸،۶۹)

۱۰… ’’عن سعید ابن المسیب قال قال رسول اللہ a تخرج من المشرق رأیات سود لبنی العباس ثم یمکثون ماشاء اللہ ثم تخرج رأیات سود صغار تقاتل رجلاً من ولد ابی سفیان واصحابہ من قبل المشرق یؤدون الطاعۃ للمہدی کذافی الحاوی ج۲ ص۶۹ وفیہ عن محمد بن الحنفیہ قال خرج رأیات سود لبنی العباس ثم تخرج من خراسان اخریٰ سود قلا نسہم وثیابہم بیض علٰی مقدمتہم رجل یقال لہ شعب بن صالح من تمیم یہزمون اصحاب السفیانی… الخ! (الحاوی ج۲ ص۶۸)‘‘ {سعید بن المسیبq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا مشرق کی سمت ایک مرتبہ بنوالعباس سیاہ جھنڈے لے کر نکلیں گے۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا رہیں گے۔ اس کے بعد پھر چھوٹے چھوٹے جھنڈے نمودار ہوں گے جو ابوسفیان کی اولاد اور اس کے رفقاء کے ساتھ جنگ کریں گے اور مہدی کی تابعداری کریں گے۔}

ظہور المہدی ومبایعۃ اہل مکۃ ایاہ بین الرکن والمقام

امام مہدی کا ظہور اور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اہل مکہ کی ان سے بیعت کرنا۔

۱۱… ’’عن ام سلمۃ عن النبیa قال یکون اختلاف عندموت خلیفۃ فیخرج رجل من اہل المدینۃ ہارباً الفی مکۃ فیأتیہ ناس من اہل مکۃ فیخرجونہ وہوکارح فیبایعونہ بین الرکن والمقام ویبعث الیہ بعث من الشام فیخسف بہم بالبیداء بین مکۃ والمدینۃ فاذا رأالناس ذالک اتاہ ابدال الشام وعصائب اہل العراق فیبایعونہ بین الرکن والمقام ثم ینسأ رجل من قریش اخوالہ کلب فیبعث الیہم بعثاً فیظہرون علیہم وذالک بعث کلب والخیبۃ لمن لم یشہد غنیمۃ کلب فیقسم المال ویعمل فی الناس بسنۃ نبیہم ویلقی الاسلام بجرانہ الی الارض فیلبث سبع سنین ثم یتوفّٰی ویصلی علیہ المسلمون (رواہ ابوداؤد والحدیث ادخلہ ابوداؤد فی باب

398

المہدی واشار الیہ الترمذی بما فی الباب والحدیث سکت عنہ ابوداؤد ثم المنذری وابن القیم وفی الاذاعۃ رجالہ رجال الصحیحین لا مطعن فیہم ولا مغمز۔ العون ج۴ ص۱۷۶)‘‘ {حضرت ام سلمہt رسول اللہ a سے روایت فرماتی ہیں کہ ایک خلیفہ کے انتقال کے بعد کچھ اختلاف رونما ہوگا۔ اس وقت ایک شخص مدینہ کا باشندہ بھاگ کر مکہ مکرمہ آئے گا۔ مکہ مکرمہ کے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو مجبور کر کے حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کر لیں گے۔ پھر شام سے اس کے مقابلے کے لئے ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ایک میدان میں دھنسا دیا جائے گا۔ جب لوگ ان کی یہ کرامت دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور عراق کی جماعتیں بھی آآکر ان سے بیعت کریں گی۔ اس کے بعد پھر قریش میں ایک شخص ظاہر ہوگا جس کے ماموں قبیلہ کلب کے ہوں گے۔ وہ ظاہرہوکر ان کے مقابلہ کے لئے لشکر بھیجے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو (امام مہدی کو) ان کے اوپر غالب فرمائے گا اور یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا۔ وہ شخص بڑا بدنصیب ہے جو اس قبیلہ کلب کی غنیمت میں شریک نہ ہو۔ کامیابی کے بعد وہی شخص اس مال کو تقسیم کرے گا اور سنت کے مطابق لوگوں سے عمل کرائے گا اور اس کے عہد میں تمام روئے زمین پر اسلام ہی اسلام پھیل جائے گا اور سات برس تک وہ زندہ رہے گا۔ اس کے بعد اس کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان اس کی نماز پڑھائیں گے۔}(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱)

ابوداؤد نے اس روایت کو امام مہدی کے باب میں ذکر فرمایا ہے اور امام ترمذی نے جب امام مہدی کی حدیثیں روایت کرنے والے صحابہi کے اسماء شمار کرائے ہیں تو انہوں نے بھی حضرت ام سلمہt کی اس روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ نیز اس باب کی دوسری حدیثوں پر نظر کر کے یہ جزم حاصل ہو جاتا ہے کہ اس روایت میں اگرچہ اس شخص کا نام مذکور نہیں۔ مگر یقینا وہ امام مہدی ہی ہیں۔ کیونکہ مجموعی لحاظ سے یہ وہی اوصاف ہیں جو امام مہدی میں ہوں گے اور اسی وجہ سے ابوداؤد نے اس حدیث کو امام مہدی کی حدیثوں کے باب میں درج فرمایا ہے۔ ابن خلدون بھی اس پر کوئی خاص جرح نہ کر سکا۔ صرف یہ کہہ سکا کہ اس روایت میں امام مہدی کا نام مذکور نہیں۔

۱۲… ’’عن ابی سعید قال ذکر رسول اللہ a بلاء یصیب ہٰذہ الامۃ حتّٰی لا یجد الرجل ملجاء یلجاء الیہ من الظلم فیبعث اللہ رجلاً من عترتی

399

واہل بیتی فیملأبہ الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً یرضٰی عنہ ساکن السماء وساکن الارض لاتدع السماء من قطرہا شیئا الا صبتہ مدراراً ولا تدع الارض من نباتہا شیئاً الا اخرجتہ حتٰی یتمنی الاحیاء الاموات یعیش فی ذالک سبع سنین اوثمان سنین اوتسع سنین (رواہ الحاکم فی مستدرکہ کما فی المشکوٰۃ)‘‘ {ابوسعید خدریq بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتa نے ایک بڑی آزمائش کا ذکر فرمایا جو اس امت کو پیش آنے والی ہے۔ ایک زمانے میں اتنا شدید ظلم ہوگا کہ کہیں پناہ کی جگہ نہ ملے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ایک شخص کو پیدا فرمائے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے پھر ویسا ہی بھر دے گا جیسا وہ پہلے ظلم وجور سے بھرچکی ہوگی۔ زمین اور آسمان کے باشندے سب اس سے راضی ہوں گے۔ آسمان اپنی تمام بارش موسلادھار برسائے گا اور زمین اپنی سب پیداوار نکال کر رکھ دے گی۔ یہاں تک کہ زندہ لوگوں کو تمنا ہوگی کہ ان سے پہلے جو لوگ تنگی وظلم کی حالت میں گزر گئے ہیں کاش وہ بھی اس سماں کو دیکھتے۔ اسی برکت کے حال پر وہ سات یا آٹھ یا نو سال تک زندہ رہے گا۔}(مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ ص۴۷۱، مستدرک بتغیر یسیر ج۵ ص۶۵۹، حدیث نمبر۸۴۸۶)

۱۳… ’’عن عبداﷲ قال بینما نحن عندر رسول اللہ a اذا قبل فتیۃ من بنی ہاشم فلما رأہم النبیa اعرورقت عیناہ وتغیر لونہ قال فقلت مانزال نرٰی فی وجہک شیئاً نکرہہ فقال انا اہل البیت اختار اللہ لنا الاخرۃ علی الدنیا وان اہل بیتی سیلقون بعدی بلاء وتشدیداً وتطریداً حتّٰی یأتی قوم من قبل المشرق معہم رأیات سود فیسألون الخیر فلا یعطونہ فیقاتلون فینصرون فیعطون ماسأ لوا فلا یقبلونہ حتٰی یدفعوہا الٰی رجل من اہل بیتی فیملؤہا قسطاً کما ملؤہا جوراً فمن ادرک ذالک منکم فلیاتہم ولو حبوا علی الثلج (رواہ ابن ماجہ قال السندھی الظاہر انہ اشارۃ الی المہدی الموعود ولذالک ذکر المصنف ہذا الحدیث فی ہذالباب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب وفی الزوائد اسنادہ ضعیف لضعف یزید بن ابی زیاد الکوفی لکن ینفرد یزید ابن ابی زیاد عن ابراہیم فقد رواہ الحاکم فی المستدرک من طریق عمروبن قیس عن الحکم عن ابراہیم قلت ورواہ السیوطی فی الحاوی ج۲ ص۶۰

400

بروایۃ ابن ابی شیبۃ ونعیم بن حماد وابی نعیم وفی اٰخرہ فانہ المہدی)‘‘ {عبداﷲq بیان فرماتے ہیں ہم آنحضرتa کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنو ہاشم کے چند نوجوان آپa کے سامنے آئے۔ جب آپa نے ان کو دیکھا تو آپa کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈب ڈبا گئیں اور آپ کا رنگ بدل گیا۔ ابن مسعودq کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: کیا بات ہے؟ ہم آپa کے چہرہ مبارک پر وہ آثار غم دیکھتے ہیں جس سے ہمارا دل آزردہ ہوتا ہے۔ آپa نے فرمایا ہمارے گھرانوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بجائے آخرت عنایت فرمائی ہے۔ میرے بعد میرے اہل بیت کو بڑی آزمائشوں کا سابقہ پڑے گا۔ ہر طرف سے بھگائے اور نکالے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک قوم مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے لئے ہوئے آئے گی۔ میرے اہل بیت ان سے طالب خیر ہوں گے۔ لیکن وہ ان کو نہیں دیں گے۔ اس پر سخت جنگ ہوگی۔ آخر وہ شکست کھائیں گے اور جوان سے طلب کیا تھا پیش کریں گے مگر وہ اس کو قبول نہ کرسکیں گے۔ آخر کار وہ ان جھنڈوں کو ایک ایسے شخص کے حوالہ کریں گے جو میرے اہل بیت سے ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے پھر اسی طرح بھر دے گا جیسا لوگوں نے اس سے قبل ظلم وتعدی سے بھردیا ہوگا۔ لہٰذا تم میں سے جس کو اس کا زمانہ ملے وہ ضرور اس کے ساتھ ہوجائے۔ اگرچہ اس کو برف پر گھسٹ کر چلنا پڑے۔}(ابن ماجہ ص۲۹۹)

۱۴… ’’عن ثوبان قال قال رسول اللہ a یقتل عند کبرکم ثلاثۃ کلہم ابن خلیفۃ ثم لایصیر الٰی واحد منہم ثم تطلع الرأیات السود من قبل المشرق فیقتلونکم قتلاً لم یقتلہ قوم ثم ذکر شیئاً لا احفظہ فقال اذا رأیتموہ فبایعوہ ولو حبواً علی الثلج فانہ خلیفۃ اللہ المہدی (رواہ ابن ماجہ ص۳۰۰، حدیث نمبر۴۰۸۴، قال السندھی اخرجا ابوالحسن بن سفیان فی مسندہ وابونعیم فی کتاب المہدی من طریق ابراہیم بن سوید الشامی فی الزوائد ہذا اسنادہ صحیح رجالہ ثقات ورواہ الحاکم فی المستدرک)‘‘ {ثوبانq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا تمہارے بڑھاپے میں تین آدمی خلفاء کی اولاد میں سے قتل ہوں گے پھر ان کے خاندان میں سے کسی کو امارت نہیں ملے گی۔ پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمایاں ہوں گے اور تم کو اس بری طرح سے قتل کریں گے کہ کسی قوم نے

401

اس طرح قتل عام نہ کیا ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ اور بیان فرمایا جو مجھ کو یاد نہیں ہے۔ پھر فرمایا جب اس شخص کو تم دیکھو تو اس سے بیعت کر لینا۔ اگرچہ برف کے اوپر گھسٹ کر چلنا پڑے۔ کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔}

۱۵… ’’عن ثوبان مولٰی رسول اللہ a قال قال رسول اللہ a اذارأیتم الرأیات السود قد جائت من قبل خراسان فأتوہا ولو حبواً علی الثلج فان فیہا خلیفۃ اللہ المہدی (رواہ احمد والبیہقی فی الدلائل وسندہ صحیح کذافی الاذاعۃ ص۶۸)‘‘ {ثوبانq جو آنحضرتa کے آزاد کردہ غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے جب تم دیکھو کہ سیاہ جھنڈے خراسان کی جانب سے آرہے ہیں تو ان میں شامل ہوجانا۔ اگرچہ برف کے اوپر گھنٹوں کے بل چلنا ہی کیوں نہ پڑے۔ کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔}(احمد ج۵ ص۲۷۷، حدیث نمبر۲۲۳۸۷)

۱۶… ’’عن ابی الصدیق الناجی عن ابی سعید الخدری عن النبیa قال یکون فی امتی المہدی ان قصر فسبح والافتسع تنعم امتی فیہ نعمۃ لم ینعموا مثلہا قط تؤتی الارض اکلہا لا تدخر منہم شیئاً والمال یومئذ کداس یقوم الرجل فیقول یامہدی اعطنی فیقول خذ (رواہ الحاکم فی المستدرک واخرج حدیث ابی سعید من طرق متعددۃ وحکم علی بعضہا بانہ علی شرط الشیخین ورواہ ابن ماجہ وفیہ زید العمی ج۴ ص۵۵۸)‘‘ {ابوالصدیق ناجی بیان کرتے ہیں کہ ابوسعید خدریq رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ آپa نے فرمایا ہے میری امت میں مہدی ہوگا جو کم سے کم سات سال ورنہ نو سال تک رہے گا۔ ان کے زمانے میں میری امت اتنی خوشحال ہوگی کہ اس سے قبل کبھی ایسی خوشحال نہ ہوئی ہوگی۔ زمین اپنی ہر قسم کی پیداوار ان کے لئے نکال کر رکھ دے گی اور کچھ بچا کر نہ رکھے گی اور مال اس زمانے میں کھلیان میں اناج کے ڈھیر کی طرح پڑا ہوگا۔ حتیٰ کہ ایک شخص کھڑا ہوکر کہے گا اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے وہ فرمائیں گے جتنا مرضی میں آئے اٹھالے۔}(ابن ماجہ ص۳۰۹، حدیث نمبر۴۰۸۳)

۱۷… ’’عن ابی سعید الخدری قال خشینا ان یکون بعد نبینا حدث فسألنا نبی اللہ a قال ابن فی امتی المہدی یخرج یعیش خمسا اوسبعاً

402

زید الشاک قال قلنا وماذاک قال سنین قال فیجییٔ الیہ الرجل فیقول یا مہدی اعطنی اعطنی قال فیحثی لہ فی ثوبہٖ ماستطاع ان یحملہ (رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث حسن وقدروی من غیروجہ عن ابی سعید عن النبیa وابوالصدیق الناجی اسمہ بکر بن عمرو ویقال بکر بن قیس وفی اسنادہ زید العمی وروی البزار نحوہ ورجالہ ثقات کما فی الاذاعۃ)‘‘ {ابوسعید خدریq بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے آنحضرتa کے بعد وقوع حوادث کے خیال سے آنحضرتa سے پوچھا کہ آپa کے بعد کیا ہوگا۔ آپa نے فرمایا میری امت میں مہدی ہوگا جو پانچ یا سات یا نو تک حکومت کرے گا۔ (زید راوی حدیث کو ٹھیک مدت میں شک ہے) میں نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا سال۔ ان کا زمانہ ایسی خیروبرکت کا ہوگا کہ ایک شخص ان سے آکر سوال کرے گا اور کہے گا کہ اے مہدی! مجھ کو کچھ دیجئے مجھ کو کچھ دیجئے۔ یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی ہاتھ بھر بھر کر اس کو اتنا مال دیں گے جتنا اس سے اٹھ سکے گا۔}(ترمذی ج۲ ص۴۷)

۱۸… ’’عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ a یخرج فی اخر امتی المہدی یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتہا ویعطی المال صحاحاً وتکثر الما شیۃ وتعظم الامۃ ویعیش سبعاً اوثمانیاً یعنی حجاجاً (اخرجہ الحاکم فی المستدرک ج۵ ص۷۷۲، حدیث نمبر۸۷۱۶، وفیہ سلیمان بن عبید ذکرہ ابن حبان فی الثقات ولم یروان احد اتکلم فیہ کذافی الاذاعۃ)‘‘ {ابوسعید خدریq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک شخص مہدی ظاہر ہوگا جس کے دور میں اللہ تعالیٰ خوب بارش نازل فرمائے گا اور زمین کی پیداوار بھی خوب ہوگی اور مال حصہ رسد سب کو برابر تقسیم کرے گا اور مویشیوں کی کثرت ہو جائے گی اور امت کو بہت عظمت حاصل ہوگی۔ سات یا آٹھ سال تک اس فراوانی سے رہے گا۔ راوی کہتا ہے کہ سات یا آٹھ سے آپa کی مراد ’’سال‘‘ تھے۔}

۱۹… ’’عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ a ابشرکم بالمہدی یبعث فی امتی علی اختلاف من الناس وزلازل فیملأ الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً یرضٰی عنہ ساکن السماء وساکن

403

الارض یقسم المال صحاحاً فقال لہ رجل ماصحاحاً؟ قال بالسویۃ بین الناس قال ویملاء قلوب امۃ محمدa غنی ویسعہم عدلہ حتٰی یأمرمنادیاً ینادی فیقول من لہ من مال حاجۃ فما یقوم من الناس احد الا رجل واحد فیکون کذالک سبع سنین (قال السیوطی فی الحاوی رواہ احمد فی مسندہ ابویعلی بسند جید وفی الاذاعۃ رجالہما ثقات)‘‘ {ابوسعید خدریq رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ آپa نے فرمایا میں تم کو مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو ایسے زمانے میں ظاہر ہوں گے جب کہ لوگوں میں بڑا اختلاف ہوگا اور بڑے زلزلے آئیں گے وہ آکر پھر زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جیسا کہ وہ اس کی آمد سے قبل ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔ آسمان کے فرشتے اور زمین کے باشندے سب اس سے راضی ہوں گے اور مال تقسیم کریں گے صحاحاً۔ سوال کیاگیا صحاح کے معنی کیا ہیں؟ فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف کے ساتھ سب میں برابر (مال تقسیم کریں گے) اور امت محمدیہ کے دل غنا سے بھر دیں گے اس کا انصاف بلاتخصیص سب میں عام ہوگا (اس کے زمانے میں فراغت کا یہ عالم ہوگا کہ) وہ ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیں گے اور وہ اعلان کرے گا کسی کو مال کی ضرورت باقی ہے؟ تو صرف ایک شخص کھڑا ہوگا اسی حالت پر سات سال کا عرصہ گزرے گا۔}(احمد ج۳ ص۳۷)

۲۰… ’’عن ابی ہریرۃ قال حدثنی خلیلی ابوالقاسمa لاتقوم الساعۃ حتی یخرج علیہم رجل من اہل بیتی فیضربہم حتی یرجعوا الی الحق قال قلت وکم یملک قال خمسا واثنین قال قلت وما خمسا واثنین قال لا ادری (اخرجہ ابویعلی وفیہ الرجا ابن الرجا وثقہ ابورعۃ وضعفہ ابن معین وبقیۃ رجالہ ثقات قالہ الشوکانی کذافی الاذاعۃ)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ مجھ سے میرے خلیل ابوالقاسمa نے بیان فرمایا (ابوالقاسم رسول اللہ a کی کنیت ہے) قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخض ظاہر نہ ہو۔ وہ اہل دنیا کو زبردستی راہ حق پر قائم کرے گا۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا اس کی حکومت کتنے دن قائم رہے گی۔ انہوں نے فرمایا پانچ اور دو (یعنی سات) یہ کہتے ہیں میں نے پوچھا ۵ اور دو کیا؟ انہوں نے کہا یہ میں نہیں جانتا کہ مراد سات سال تھے یا مہینے۔}

404

گزشتہ روایات سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہاں سال ہی مراد ہیں۔

۲۱… ’’عن یسیر بن جابر قال ہاجت ریح حمراء بالکوفۃ فجاء رجل لیس لہ ہجیرٰی الا یا عبداﷲ بن مسعود جاء ت الساعۃ قال فقعد وکان متکئا فقال ان الساعۃ لاتقوم حتی لا یقسم میراث ولا یفرح بغنیمۃ ثم قال بیدہ ہکذا نحاہا نحو الشام فقال عدو یجمعون لاہل الشام ویجمع لہم اہل الاسلام قلت الروم تعنی قال نعم قال ویکون عند ذاکم القتال ردۃ شدیدۃ فیتشرط المسلمون شرطۃ للموت لاترجع الا غالبۃ فیقتتلون حتی یحجز بینہم اللیل فیفئی ہؤلاء وہؤلاء کل غیر غالب وتفنی الشرطۃ ثم یشترط المسلمون شرطۃ للموت لاترجع الا غالبۃ فیقتتلون حتی یحجزبینہم اللیل فیفیٔ ہؤلاء وہؤلاء کل غیر غالب وتفنی الشرطۃ ثم یشترط المسلمون شرطۃ للموت لا ترجع الا غالبۃ فیقتتلون حتی یمسوا فیفیٔ ہؤلاء وہؤلاء کل غیر غالب وتفنی الشرطۃ فاذا کان الیوم الرابع نہد الیہم بقیۃ اہل الاسلام فیجعل اللہ الدابرۃ علیہم فیقتتلون مقتلۃ اما قال لا یرٰی مثلہا واما قال لم یرمثلہا حتی ان الطائر لیمربجنباتہم فما یخلفہم حتی یخرمیتاً فیتعاد بنوا لاب کانوا مائۃ فلا یجدونہ بقی منہم الا الرجل الواحد فبای غنیمۃ یفرح اوای میراث یقاسم فبیناہم کذالک اذ سمعوا بیأس ہواکبر من ذلک فجاء ہم الصریخ ان الدجال قدخلفہم فی ذراریہم فیرفضون مافی ایدیہم ویقتلون فیبعثون عشر فؤارس طلیعۃ قال رسول اللہ a انی لاعرف اسماء ہم واسماء اٰبائہم والوان خیولہم ہم خیر فوارس علی ظہر الارض یومئذ اومن خیر فوارس علٰی ظہر الارض یومئذ (رواہ مسلم)‘‘ {یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک بار کوفہ میں لال آندھی آئی۔ ایک شخص آیا جس کا تکیہ کلام یہی تھا۔ اے عبداﷲ بن مسعودq قیامت آئی۔ یہ سن کر عبداﷲ بن مسعودq بیٹھ گئے۔ پہلے تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ قیامت نہ قائم ہوگی۔ یہاں تک کہ ترکہ نہ بٹے گا اور مال غنیمت سے کچھ خوشی نہ ہوگی۔ (کیونکہ جب کوئی وارث ہی نہ رہے گا تو

405

ترکہ کون بانٹے گا اور جب کوئی لڑائی سے زندہ نہ بچے گا تو مال غنیمت کی کیا خوشی ہوگی) پھر شام کے ملک کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور کہا (نصاریٰ) دشمن مسلمانوں سے جنگ کے لئے جمع ہوں گے اور مسلمان بھی ان سے لڑنے کے لئے جمع ہوں گے۔ میں نے کہا دشمن سے آپ کی مراد نصاریٰ ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں اور اس وقت لڑائی شروع ہوگی۔ مسلمان ایک لشکر کو آگے بھیجیں گے جو مرنے کی شرط لگا کر آگے بڑھے گا۔ یعنی اس قصد سے لڑے گا کہ یا مر جائیں گے یا فتح کر کے آئیں گے پھر دونوں لشکروں میں جنگ ہوگی۔ یہاں تک کہ رات ہو جائے گی اور دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی۔ کسی کو غلبہ نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے بڑھا تھا وہ بالکل فنا ہو جائے گا۔ (یعنی سب مارا جائے گا) دوسرے دن پھر مسلمان ایک لشکر آگے بڑھائیں گے جو مرنے کے لئے اور غالب ہونے کے لئے جائے گا اور لڑائی ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ رات ہو جائے گی پھر دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی اور کسی کو غلبہ نہ ہوگا۔ جو لشکر آگے بڑھا تھا وہ فنا ہو جائے گا۔ پھر تیسرے دن مسلمان ایک لشکر آگے بڑھائیں گے مرنے یا غالب ہونے کی نیت سے اور شام تک لڑائی رہے گی۔ پھر دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی اور کسی کو غلبہ نہ ہوگا اور وہ لشکر بھی فنا ہو جائے گا۔ جب چوتھا دن ہوگا جو جتنے مسلمان باقی رہ جائیں گے وہ سب آگے بڑھیں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو شکست دے گا اور ایسی لڑائی ہوگی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا یا ویسی لڑائی کسی نے نہ دیکھی ہوگی۔ (راوی کو لفظ میں شک ہے) یہاں تک کہ پرندہ ان کے اوپر یا ان کی نعشوں سے پرواز کرے گا پر آگے نہیں بڑھے گا کہ وہ مردہ ہوکر گر جائے گا۔ (یعنی اس کثرت کے ساتھ لاشیں ہی لاشیں ہو جائیں گی) اور جب ایک دادا کی اولاد کی مردم شماری کی جائے گی تو فیصدی ۹۹ آدمی مارے جاچکے ہوں گے اور صرف ایک بچا ہوگا۔ ایسی حالت میں کون سے مال غنیمت سے خوشی ہوگی اور کون سا ترکہ تقسیم ہوگا۔ پھر مسلمان اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے اور وہ یہ کہ شور مچے گا کہ ان کے بال بچوں میں دجال آگیا ہے۔ یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہوگا سب چھوڑ کر روانہ ہو جائیں گے اور دس سواروں کو لین ڈوری کے طور پر روانہ کریں گے (تاکہ دجال کی خبر کی تحقیق کر کے لائیں) رسول اللہ a نے فرمایا میں ان سواروں کے اور ان کے باپوں کے نام جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں۔ وہ اس وقت تمام روئے زمین کے بہتر سوار ہوں گے یا

406

بہتر سواروں میں سے ہوں گے۔} (مسلم شریف، کتاب الفتن واشراط الساعۃ ج۲ ص۳۹۲)

۲۲… ’’عن ابی ہریرۃ ان النبیa قال ہل سمعتم بمدینۃ جانب منہا فی البروجانب منہا فی البحر قالوا نعم یا رسول اللہ قال لا تقوم الساعۃ حتی یغزوہا سبعون الفا من بنی اسحاق فاذا جاؤہا نزلوا فلم یقاتلوا بسلاح ولم یرموا بسہم قالوا لا الہ الا اللہ واﷲ اکبر فیسقط احدجانبیہا قال ثور (ابن یزید الراوی) لا اعلمہ الا قال الذی فی البحر ثم یقولون الثانیۃ لا الہ الا اللہ واﷲ اکبر فیسقط جانبہا الاخر ثم یقولون الثالثۃ لا الہ الا اللہ واﷲ اکبر فیفرج لہم فیدخلونہا فیغنمون فبیناہم یقتسمون المغانم اذا جاء ہم الصریخ فال ان الدجال قد خرج فیترکون کل شیٔ ویرجعون‘‘ {ابوہریرہq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کیا تم نے وہ شہر سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں اور دسری جانب سمندر میں ہے؟ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ a سنا ہے۔ آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ بنو اسحاق کے ستر ہزار مسلمان اس پر چڑھائی نہ کریں۔ جب وہ اس شہر کے پاس جاکر اتریں گے تو نہ کسی ہتھیار سے لڑیں گے نہ کوئی تیر چلائیں گے بلکہ ایک نعرہ تکبیر لگائیں گے جس کی برکت سے شہر کی ایک جانب گر پڑے گی تو ابن یزید جو اس حدیث کا ایک راوی ہے۔ کہتا ہے جہاں تک مجھے یاد ہے مجھ سے بیان کرنے والے نے اس جانب کے متعلق یہ بیان کیا تھا کہ وہ جانب سمندر کے رخ والی ہوگی۔ اس کے بعد پھر دوبارہ نعرہ تکبیر لگائیں گے تو اس کی دوسری جانب بھی گرجائے گی۔ اس کے بعد جب تیسری بار نعرہ تکبیر بلند کریں گے تو دروازہ کھل جائے گا اور وہ اس میں داخل ہو جائیں گے اور مال غنیمت حاصل کریں گے۔ اس درمیان میں کہ وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ آواز آئے گی۔ دیکھو وہ دجال نکل پڑا۔ یہ سنتے ہی وہ سب مال ومتاع چھوڑ کر لوٹ پڑیں گے۔} (مسلم ج۲ ص۳۹۶، کتاب الفتن واشراط الساعۃ)

دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ قسطنطنیہ کا ہے۔ یہاں نعرہ تکبیر سے شہر کے فتح ہو جانے پر تعجب کرنے والے مسلمان ذرا غور وفکر کے ساتھ ایک بار اپنی گزشتہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کی فتوحات کی تاریخ اس قسم کے عجائبات سے معمور ہے اور سچ یہ ہے کہ اگر اس قسم کی غیبی امدادیں ان کے ساتھ نہ ہوتیں تو اس زمانے میں جب کہ

407

نہ دخانی جہاز تھے نہ فضائی طیارے اور نہ موٹر، پھر ربع سکوں میں اسلام کو پھیلا دینا یہ کیسے ممکن تھا۔ آج جب کہ مادی طاقتوں نے سیروسیاحت کا مسئلہ بالکل آسان کردیا ہے جس حصہ زمین میں ہم پہنچتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔ علاء بن حضرمی صحابیq اور ابومسلم خولانیؒ کا معہ اپنی فوج کے سمندر کو خشکی کی طرح عبور کر جانا تاریخ کا واقعہ ہے۔ خالد بن ولیدq کے سامنے مقام حبرہ میں زہر کا پیالہ پیش ہونا اور ان کا بسم اللہ کہہ کر نوش کر لینا اور اس کا نقصان نہ کرنا بھی تاریخ کی ایک حقیقت ہے۔ سفینہ آپa کے غلام کا نام ہے کاروم میں ایک جگہ گم ہوجانا اور ایک شیر کا گردن جھکا کر ان کو لشکر تک پہنچانا اور حضرت عمرq کا مدینہ میں منبر پر اپنے جنرل ساریہ کو آواز دینا اور مقام نہاوند میں ان کا سن لینا اور حضرت عمرq کے خط سے دریائے نیل کا جاری ہو جانا یہ تمام تاریخ کے مستند حقائق ہیں۔ ان واقعات کے سوا جو بسلسلہ سند ثابت ہیں۔ ہندوستان کے بہت سے عجیب واقعات ایسے بھی ثابت ہیں جن میں سے کسی کسی کی شہادت تو انگریزوں کی زبان سے بھی ثابت ہے۔

۲۳… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a یخیس الروم علٰی وال من عترتی یواطیٔ اسمہ اسمی فیقتتلون بمکان یقال لہ العماق فیقتتلون فیقتل من المسلمین الثلث اونحو ذٰلک ثم یقتتلون الیوم الاخر فیقتل من المسلمین نحو ذلک ثم یقتتلون الثالث فیقتلون اہل الروم فلایزالون حتی یفتحون القسطنطنیۃ فبینماہم یقتسمون فیہا بالاتراس اذا تاہم صارخ ان الدجال قد خلفکم فی ذراریکم (اخرجہ الخطیب فی المتفق والمقترق کذافی الاذاعۃ ص۲۶)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ رومی میرے خاندان کی ایک ولی سے عہد شکنی کریں گے۔ جس کا نام میرے ہی نام کی طرح ہوگا۔ پھر وہ عماق نامی جگہ پر جنگ کریں گے اور مسلمانوں کا تہائی لشکر تقریباً اتنا ہی شہید کردیا جائے گا۔ پھر دوسرے دن جنگ کریں گے اور اتنی ہی مقدار شہید کر دی جائے گی۔ پھر تیسرے دن جنگ کریں گے اور مسلمان پلٹ کر رومیوں پر حملہ آور ہوں گے اور جنگ کا یہ سلسلہ قائم رہے گا۔ حتیٰ کہ وہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے پھر اس دوران میں کہ وہ ڈھالیں بھربھر کر مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ ایک آواز لگانے والا یہ آواز لگائے گا کہ دجال تمہاری اولاد کے پیچھے لگ گیا ہے۔}

408

۲۴… ’’عن ابی امامۃ مرفوعاً قال ستکون بینکم وبین الروم اربع ہدن یوم الرابعۃ علٰی یدرجل من اٰل ہارون یدوم سبع سنین قیل یا رسول اللہ من امام الناس یومئذ قال من ولدی ابن اربعین سنۃ کان وجہہ کوکب دری فی خدہ الایمن خال اسود علیہ عبایتان قطوا نیتان کانہ من رجال بنی اسرائیل یملک عشرین سنۃ یستخرج الکنوز یفتح مدائن الشرک (کنزالعمال ج۱۴ ص۲۶۸، حدیث نمبر۳۸۶۸۰)‘‘ {ابوامامہq روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ تمہارے اور روم کے درمیان چار مرتبہ صلح ہوگی۔ چوتھی صلح ایسے شخص کے ہاتھ پر ہوگی جو آل ہارون سے ہوگا اور یہ صلح سات سال تک برابر قائم رہے گی۔ رسول اللہ a سے پوچھا گیا کہ اس وقت مسلمانوں کا امام کون شخص ہوگا۔ آپa نے فرمایا وہ شخص میری اولاد میں سے ہوگا جس کی عمر چالیس سال کی ہوگی۔ اس کا چہرہ ستارہ کی طرح چمکدار اس کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہوگا اور دو قطوانی عبائیں پہنے ہوگا۔ بالکل ایسا معلوم ہوگا جیسا بنی اسرائیل کا شخص، بیس سال حکومت کرے گا۔ زمین سے خزانوں کو نکالے گا اور مشرکین کے شہروں کو فتح کرے گا۔}

۲۵… ’’عن عوف بن مالک قال اتیت النبیa فی غزوۃ تبوک وہو فی قبۃ من آدم فقال اعددستا بین یدی الساعۃ موتی ثم فتح بیت المقدس ثم موتان یأخذ فیکم کقعاص الغنم ثم استفاضۃ المال حتی یعطی الرجل مائۃ دینار فیظل ساخطا ثم فتنۃ لا یبقٰی بیت من العرب الا دخلتہ ثم ہدنۃ تکون بینکم وبین بنی الاصفر فیغدرون فیأتونکم تحت ثمانین غایۃ تحت کل غایۃ اثنا عشر الفا (رواہ البخاری ج۱ ص۴۵۰، باب مایحضر من الغدر)‘‘ {عوف بن مالکq سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک میں نبی کریمa کی خدمت میں حاضر ہوا آپa چمڑے کے خیمہ میں تشریف فرماتھے۔ آپa نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ باتیں گن رکھو۔ سب سے پہلے میری وفات۔ پھر بیت المقدس کی فتح۔ پھر تم میں عام موت ظاہر ہوگی جس طرح کہ بکریوں میں وبائی مرض پھیل جائے (اور ان کی تباہی کا باعث بن جائے) پھر مال کی بہتات ہوگی۔ حتیٰ کہ ایک شخص کو سوسودینار دئیے جائیں گے اور وہ خوش نہ ہوگا۔ پھر فتنہ وفساد پھیل پڑے گا اور عرب کا کوئی گھر اس سے باقی نہ رہے گا۔

409

پھر صلح کی زندگی ہوگی اور یہ تمہارے اور بنی الاصفر (رومی) کے درمیان قائم رہے گی۔ پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے اور اسی جھنڈوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کر دیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار کا لشکر ہوگا۔}

اس حدیث میں قیامت سے قبل چھ علامات کا ذکر کیاگیا ہے۔ جن کی تعیین میں اگرچہ بہت کچھ اختلافات ہیں اور ان کے ابہام کی وجہ سے ہونے چاہئیں۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حدیث مذکور کے بعض الفاظ حضرت امام مہدی کے خروج کی علامات سے اتنے ملتے جلتے ہیں کہ اگر ان کو ادھر ہی اشارہ قرار دے دیا جائے تو ایک قریبی احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے اس حدیث کو حضرت امام مہدیm کی بحث میں لکھ دیا گیا ہے۔ یہ لحاظ کئے بغیر کہ محقق ابن خلدون اور ان کے اذناب اس کے معتقد ہیں یا نہیں۔

تنبیہ: یہ بات قابل تنبیہ ہے کہ علماء کے نزدیک مفہوم عدد معتبر نہیں ہے۔ اس لئے مجھ کو اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ قیامت سے قبل اس کے ظہور کی چھ علامات ہیں یا بیش وکم۔ یہ وقت اور علامات کی حیثیت شمار کرنے سے مختلف ہوسکتی ہیں۔ ان کا کسی حیثیت سے چھ ہونا بھی ممکن ہے اور کسی لحاظ سے وہ کم اور زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ وقتی لحاظ سے جن علامات کو آپa نے یہاں شمار کرایا ہے۔ ان کا عدد کسی خصوصیت پر مشتمل ہو۔ یہ بات صرف یہاں نہیں بلکہ دیگر حدیثوں کے موضوع میں بھی اگر آپ کے پیش نظر رہے تو بہت سی مشکلات کے لئے موجب حل ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ فضل اعمال کی حدیثوں میں اختلاف ملتا ہے۔ اس کو پیچیدگیوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ اختلاف بھی صرف وقتی اور شخصی اختلاف کے لحاظ سے پیدا ہوجانا بہت قرین قیاس ہے۔ مگر کیا کہا جائے منطقی عادات نے ہمارے ذہنی ساخت کو بدل دیا ہے۔

چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند

۲۶… ’’عن ذی مخبر (ہوابن اخی النجاشی خادم رسول اللہ a) قال سمعت رسول اللہ a یقول ستصالحون الروم صلحا اٰمنا فتغزون انتم وہم عدومن ورائکم فتنصرون وتغنمون وتسلمون ثم ترجعون حتی تنزلوا بمرج ذی لتول ففیرفع رجل من اہل النصرانیہ الصلیب فیقول غلب فیغضب رجل من المسلمین فیدقہ فعند ذلک تغدر الروم وتجمع

410

للملحمۃ (رواہ ابوداؤد)‘‘ {ذی مخبرi رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے آپa کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ تم روم سے صلح کرو گے۔ پوری صلح اور دونوں مل کر اپنے دشمن سے جنگ کرو گے اور تم کو کامیابی ہوگی اور مال غنیمت ملے گا۔ یہاں تک کہ جب ایک زمین پر آکر لشکر اترے گا جس میں ٹیلے ہوں گے اور سبزہ ہوگا تو ایک شخص نصرانیوں میں سے صلیب اونچی کر کے کہے گا کہ صلیب کا بول بالا ہوا۔ اس پر ایک مسلمان کو غصہ آجائے گا۔ وہ اس صلیب کو لے کر توڑ ڈالے گا اور اس وقت نصاریٰ غداری کریں گے اور جنگ عظیم کے لئے سب ایک محاذ پر جمع ہو جائیں گے۔} (ابوداؤد باب مایذکر من ملاحم روم ج۲ ص۱۳۲)

۲۷… ’’عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ a قال کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (رواہ الشیخان) وفی لفظ لمسلم فامکم وفی لفظۃ اخری فامکم منکم‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تمہارے اندر عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اس وقت تمہارا امام وہ شخص ہوگا جو خود تم میں سے ہوگا۔ (بخاری ومسلم) مسلم کے ایک لفظ میں ہے کہ ایک شخص جو تم ہی میں سے ہوگا اور اس وقت کی نماز میں تمہارا امام وہی ہوگا۔}(بخاری شریف ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

حدیث مذکور میں: ’’وامامکم منکم‘‘ کی شرح بعض علماء نے یہ بیان کی ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جب نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیہ ہی پر عمل فرمائیں گے۔ اس لحاظ سے گویا وہ ہم ہی میں سے ہوں گے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہاں امام سے مراد امام مہدی ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے زمانے میں نازل ہوں گے۔ جب کہ ہمارا امام خود ہم ہی میں کا ایک شخص ہوگا۔ ان دونوں صورتوں میں امامت سے مراد امامت کبریٰ یعنی امیروخلیفہ ہے۔

اس مضمون کے ساتھ صحیح مسلم میں ’’فیقول امیرہم تعال صل لنا‘‘ کا دوسرا مضمون بھی آیا ہے۔ یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰؑ جب نازل ہوں گے تو نماز کا وقت ہوگا اور امام مصلی پر جاچکا ہوگا۔ عیسیٰؑ کو دیکھ کر وہ امام پیچھے ہٹنے کا ارادہ کرے گا اور عرض کرے گا۔ آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں مگر حضرت عیسیٰؑ اسی کو امامت کا حکم فرمائیں گے اور یہ نماز خود اسی کے پیچھے ادا فرمائیں گے۔ یہاں امامت سے مراد امامت

411

صغریٰ یعنی نماز کا امام مراد ہے۔

اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں مضمون بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں اور آنحضرتa سے اسی طرح علیحدہ علیحدہ منقول ہوئے ہیں۔ ابوہریرہq کی حدیث میں لفظ ’’وامامکم منکم‘‘ سے پہلا مضمون مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ عیسیٰؑ کے نزول کے زمانے میں مسلمانوں کا امیر ایک نیک شخص ہوگا جیسا کہ ابن ماجہ کی حدیث میں۔ اس کی وضاحت آچکی ہے۔ (ملاحظہ فرمائیے ترجمان السنہ ج۳ ص۵۸۶)

اس میں ’’وامامکم منکم‘‘ کی بجائے ’’وامامکم رجل صالح‘‘ صاف موجود ہے۔ یعنی تمہارا امام ایک مرد صالح ہوگا۔ اب بعد میں کسی راوی نے اس کو دوسری روایت پر حمل کر کے امام سے مراد امامت صغریٰ یعنی نماز کی امامت مراد لے لی ہے اور اس لئے اس کو بلفظ: ’’امکم‘‘ ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد کسی نے اس کے ساتھ ’’منکم‘‘ کا لفظ اور اضافہ کردیا ہے اور جب ’’امکم‘‘ کے ساتھ لفظ ’’منکم‘‘ کی مراد واضح نہ ہوسکی تو پھر اس کی تاویل شروع ہوگئی ہے۔ ورنہ ’’امامکم منکم‘‘ کا اصل لفظ بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی اجمال نہیں ہے۔ ابن ماجہ کی قوی حدیث نے اس کی پوری تشریح کر دی ہے۔ لہٰذا جب صحیح مسلم کی مذکورہ بالا حدیث میں یہ متعین ہوگیا کہ امام سے امیروخلیفہ مراد ہے تو اب بحث طلب بات صرف یہ رہتی ہے کہ یہ امام اور رجل صالح کیا وہی امام مہدی ہی ہیں یا کوئی دوسرا شخص ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر دوسری روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس امام اور رجل صالح سے مراد ہی امام مہدی ہیں تو پھر امام مہدی کی آمد کا ثبوت خود صحیحین میں ماننا پڑے گا۔ اس کے بعد اب آپ وہ روایات ملاحظہ فرمائیں جن میں یہ مذکور ہے کہ یہاں امام سے مراد امام مہدی ہی ہیں۔ یہ واضح رہنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے زمانے میں کسی امام عادل کا موجود ہونا جب صحیحین سے ثابت ہے اور اس دعویٰ کے لئے کوئی ضعیف حدیث بھی موجود نہیں کہ وہ امام، امام مہدی نہ ہوں گے بلکہ کوئی اور امام ہوگا تو اب اس امام کے امام مہدی ہونے کے انکار کے لئے کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ باالخصوص جب کہ دوسری روایات میں اس کے امام مہدی ہونے کی تصریح موجود ہے۔ اسی کے ساتھ جب صحیح مسلم کی حدیثوں میں اس امام کے صفات وہی ہیں جو حضرت امام مہدی کی صفات ہیں تو پھر ان حدیثوں کو بھی امام مہدی کی آمد کا ثبوت تسلیم کر لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ حدیثوں کا ایک بڑا

412

ذخیرہ موجود ہے جو اگرچہ بلحاظ اسناد ضعیف سہی لیکن صحیح وحسن حدیثوں کے ساتھ ملا کر وہ بھی امام مہدی کی آمد کی حجت کہا جاسکتا ہے۔

۲۸… ’’عن عبداﷲ بن عمرو قال المہدی ینزل علیہ عیسی ابن مریم ویصلی خلفہ عیسی (اخرجہ نعیم بن حماد کذافی الحاوی ج۲ ص۷۸)‘‘{عبداﷲ بن عمروq کہتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم امام مہدی کے بعد نازل ہوں گے اور حضرت عیسیٰؑ ان کے پیچھے (ایک) نماز ادا فرمائیں گے۔}

۲۹… ’’عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ a منا الذی یصلی عیسی ابن مریم خلفہ (اخرجہ ابونعیم کذافی الحاوی ج۲ ص۶۴)‘‘ {ابوسعید خدریq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا اسی امت میں سے ایک شخص ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم اقتداء فرمائیں گے۔}

۳۰… ’’عن جابر بن عبداﷲ قال قال رسول اللہ a لاتزال طائفۃ من امتی تقاتل علی الحق حتی ینزل عیسی ابن مریم عند طلوع الفجر بیت المقدس ینزل علی المہدی فیقال تقدم یانبی اللہ فصل بنا فیقول ہذہ الامۃ امراء بعضہم علٰی بعض (اخرجہ ابوعمر الدانی فی سننہٗ الحاوی ج۲ ص۸۳، رواہ مسلم ج۱ ص۸۷ باب نزول عیسی بن مریم ایضا ولٰکن فیہ فینزل عیسی بن مریم فیقول امیرہم تعال صل لنا کما فی ترجمان السنہ ج۳ ص۵۸۸)‘‘ {جابرq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا میری امت کا ایک طائفہ حق کے لئے ہمیشہ مقابلہ کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم امام مہدی کی موجودگی میں بیت المقدس میں طلوع فجر کے وقت اتریں گے۔ ان سے عرض کیا جائے گا یا نبی اللہ آگے تشریف لائیے اور ہم کو نماز پڑھادیجئے۔ وہ فرمائیں گے یہ امت خود ایک دوسرے کے لئے امیر ہے۔ (اس لئے اس وقت کی نماز تو یہی پڑھائیں) یہ روایت صحیح مسلم میں بھی ہے۔ مگر اس میں مہدی کی بجائے امیرہم کا لفظ یعنی مسلمانوں کا امیر عرض کرے گا کہ آپ ہم کو نماز پڑھادیجئے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ کا وہی جواب مذکور ہے۔}

۳۱… ’’عن حذیفۃ قال قال رسول اللہ a یلتفت المہدی وقد نزل عیسی ابن مریم کانما یقطر من شعرہ الماء فیقول المہدی تقدم صل

413

بالناس فیقول عیسٰی انما اقیمت الصلٰوۃ لک فیصلی خلف رجل من ولدی (اخرجہ ابوعمر الدانی فی سننہ کذافی الحاوی ج۲ ص۸۱)‘‘ {حذیفہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اتر چکے ہوں گے۔ ان کو دیکھ کر یوں معلوم ہوگا گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اس وقت امام مہدی ان کی طرف مخاطب ہوکر عرض کریں گے تشریف لائیے اور لوگوں کو نماز پڑھادیجئے۔ وہ فرمائیں گے اس نماز کی اقامت تو آپ کے لئے ہوچکی ہے اور نماز تو آپ ہی پڑھائیں۔ چنانچہ (حضرت عیسیٰؑ) یہ نماز میری اولاد میں سے ایک شخص کے پیچھے ادا فرمائیں گے۔}

۳۲… ’’عن جابر قال قال رسول اللہ a ینزل عیسی ابن مریم فیقول امیرہم المہدی تعال صل بنا فیقول وان بعضکم علٰی بعض امراء تکرمۃ اللہ لہٰذہ الامۃ (اخرجہ السیوطی فی الحاوی ج۲ ص۶۴ عن ابی نعیم)‘‘ {جابرq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے اور لوگوں کے امیر مہدی… فرمائیں گے کہ آئیے اور ہم کو نماز پڑھائیے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم ہی میں سے ایک دوسرے کا امیر ہے اور یہ اس امت کا اعزاز ہے۔}

۳۳… ’’عن ابن سیرین قال المہدی من ہذہ الامۃ وہو الذی یوم عیسی ابن مریم علیہما السلام (اخرجہ ابن ابی شیبۃ کذافی الحاوی ج۲ ص۶۵)‘‘{ابن سیرین سے روایت ہے کہ مہدی… اسی امت سے ہوں گے اور عیسیٰ ابن مریمm کی امامت انجام دیں گے۔}

۳۴… ’’عن ابی امامۃ قال خطبنا رسول اللہ a وذکر الدجال وقال فتنفی المدینۃ الخبث منہا کما ینفی الکیر خبث الحدید ویدعٰی ذلک الیوم الخلاص فقالت ام شریک فاین العرب یا رسول اللہ یومئذ۔ قال ہم یومئذ قلیل وجلہم بیت المقدس وامامہم المہدی رجل صالح فبینما امامہم قد تقدم یصلی بہم الصبح اذ نزل علیہم عیسی ابن مریم الصبح فرجع ذلک الامام ینکص یمشی القہقری لیتقدم عیسٰی فیضع عیسٰی یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ تقدم فانہا لک اقیمت فیصلی بہم امامہم (ابن ماجہ ص۲۹۸ باب فتنۃ الدجال والرویانی وابن خزیمہ وابوعوانۃ والحاکم وللفظ لہ کذافی الحاوی ج۲

414

ص۶۵)‘‘ {ابوامامہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے خطبہ دیا اور دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مدینہ گندگی کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح کہ بھٹی لوہے کی گندگی کو دور کر دیتی ہے اور یہ دن یوم الخلاص (پاک اور ناپاک کی جدائی کا دن کہلائے گا) ام شریکt نے دریافت کیا کہ اے رسول اللہ a اس وقت عرب کہاں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت ان کی تعداد کم ہوگی اور ان میں بیشتر بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کے امام ایک مرد صالح مہدی ہوں گے۔ وہ ایک نیک انسان ہوں گے۔ وہ ایک دن صبح کی نماز کی امامت کے لئے آگے بڑھیں گے کہ عیسیٰؑ کا نزول ہو جائے گا اور یہ امام (مہدیm) الٹے پاؤں لوٹیں گے تا کہ عیسیٰؑ (امامت کے لئے) آگے بڑھیں۔ پھر عیسیٰؑ اپنا ہاتھ ان کے شانوں کے درمیان رکھ دیں گے اور فرمائیں گے کہ آپ آگے بڑھئے اور یہ آپ ہی کے لئے اقامت کہی گئی ہے اور ان کے امام (مہدی…) نماز پڑھائیں گے۔}

۳۵… ’’عن ابی نضرۃ قال کنا عند جابر بن عبداﷲ فقال یوشک اہل العراق ان لا یجیٔ الیہم قفیز ولادرہم قلنا من این ذاک فقال من قبل العجم یمنعون ذاک ثم قال یوشک اہل الشام ان لایجیٔ الیہم دینار ولا مدی قلنا لہ من این ذاک فقال من قبل الروم ثم سکت ہنیہۃ ثم قال قال رسول اللہ a یکون فی اٰخر امتی خلیفۃ یحثی المال حئیاً ولا یعدہ عدا قیل لابی نضرۃ وابی العلاء اتریان انہ عمر بن عبدالعزیز قال لا (رواہ مسلم)‘‘ {ابونضرۃq بیان کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداﷲq کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا عنقریب ایسا ہوگا کہ اہل عراق کو نہ غلہ ملے گا نہ پیسہ۔ ہم نے دریافت کیا، یہ مصیبت کس کے سبب سے آئے گی۔ انہوں نے فرمایا عجم کے سبب سے۔ وہ نہ غلہ آنے دیں گے نہ پیسہ۔ پھر فرمایا عنقریب ایک وقت آئے گا کہ اہل شام کو نہ دینار ملے گا نہ کسی قسم کا ذرا سا غلہ۔ ہم نے ان سے پوچھا یہ مصیبت کدھر سے آئے گی۔ فرمایا روم کی جانب سے۔ یہ فرماکر تھوڑی دیر تک خاموش رہے۔ اس کے بعد فرمایا، رسول اللہ a نے فرمایا ہے میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو لپ بھر بھر کر مال دے گا اور شمار نہیں کرے گا۔ ابونضرۃq سے جو صحابیq سے حدیث کا راوی ہے اور ابوالعلاء سے پوچھا گیا آپ کا کیا خیال ہے۔ خلیفہ کا مصداق عمر بن عبدالعزیزv ہیں۔ ان دونوں نے بالاتفاق جواب

415

دیا۔ نہیں۔}(مسلم شریف ج۲ ص۳۹۵، کتاب الفتن واشراط الساعۃ)

۳۶… ’’عن جابر قال قال رسول اللہ a یکون فی اٰخر امتی خلیفۃ یحثی المال حئیاً ولا یعدہ عدا (رواہ مسلم ج۲ ص۳۹۵ کتاب الفتن واشراط الساعۃ)‘‘ {جابرq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال دونوں ہاتھ بھربھر کر دے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔}

صحیح مسلم کی مذکورہ بالا ہر دو حدیثوں میں ایک خلیفہ کے دور میں مال کی خاص بہتات کا تذکرہ ہے اور ابونضرۃq کی حدیث میں اس خلیفہ کے مصداق کے متعلق بھی کچھ بحث ہے۔ مگر ابونضرۃq راوی حدیث اور ابوالعلاء کی رائے یہ ہے کہ اس کا مصداق عمر بن عبدالعزیزv جیسا ضرب المثل عادل خلیفہ بھی نہیں بلکہ ان کے بعد کوئی اور خلیفہ ہے۔

مگر جب امام ترمذی، امام احمد اور ابویعلی کی صحیح حدیثوں میں مال کی یہی بہتات تقریباً ایک ہی الفاظ کے ساتھ امام مہدی کے عہد میں ان کے نام کے ساتھ مذکور ہے تو پھر صحیح مسلم میں جس خلیفہ کا تذکرہ موجود ہے اس کا امام مہدی ہونا قطعی نہیں تو کیا ظنی بھی نہیں کہا جاسکتا۔

خروج السفیانی وہلاکہ مع جنودہ بالبیداء

سفیانی کا نکلنا اور مقام بیداء میں اپنی فوج کے ساتھ ہلاک ہونا۔

۳۷… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a یخرج رجل یقال لہ السفیانی فی عمق دمشق وعامۃ من یتبعہ من کلب فیقتل حتی یبقربطون النساء ویقتل الصبیان فتجمع لہم قیس فیقتلہا حتی لا یمنع ذنب تلعۃ ویخرج رجل من اہل بیتی فی الحرۃ فیبلغ السفیانی فیبعث الیہ جنداً من جندہ فیہزمہم فیسیر الیہ السفیانی بمن معہ حتی اذا صارببیداء من الارض خسف بہم فلا ینجومنہم الا المخبر عنہم (رواہ الحاکم کذافی الحاوی ج۲ ص۶۵)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے دمشق کی بستی پر ایک سفیانی شخص حملہ آور ہوگا۔ جس کی عام طور پر اتباع کرنے والے قبیلہ کلب کے لوگ ہوں گے۔ وہ عورتوں کے پیٹ پھاڑ ڈالے گا اور بچوں کو قتل کرے گا۔ اس کے مقابلہ کے لئے قیس کے قبیلہ کے لوگ جمع ہوں گے پھر وہ ان کو قتل کرے گا۔ حتیٰ کہ کسی ٹیلے کی گھاٹی ان کو بچا نہ سکے

416

گی۔ آہ! میرے اہل بیت میں سے مدینہ میں ایک شخص ظاہر ہوگا۔ اس سفیانی کو اس کی خبر پہنچے گی تو وہ اپنے لشکر میں سے ایک دستہ ان کے مقابلہ کے لئے روانہ کرے گا۔ وہ شخص ان کو شکست دے گا۔ اس پر سفیانی اپنے ہمراہیوں کو لے کر خود ان کے مقابلہ کے لئے چلے گا۔ یہاں تک کہ جب بیداء کے میدان میں پہنچے گا تو سب زمین میں دھنس جائیں گے اور ان میں سے کوئی شخص بھی نہ بچے گا۔ مگر صرف ایک شخص جو ان لوگوں کی خبر اپنی جماعت کو جاکر دے گا۔}(حاکم حدیث نمبر۸۶۳۳ ج۵ ص۷۲۷، باب ذکر خروج السفیانی من دمشق وہلاکہ)

۳۸… ’’عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ a العجب ان ناسا من امتی یؤمون البیت لرجل من قریش قدلجأ بالبیت حتی کانوا بالبیداء خسف بہم فیہم المتنفر والمجبور وابن السبیل یہلکون مہلکاً واحداً ویصدرون مصادر شتی یبعثہم اللہ علٰی نیاتہم (رواہ مسلم)‘‘ {حضرت عائشہt بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا تعجب کی بات ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ شریف کی طرف ایسے قریشی شخص کے مقابلے کا قصد کریں گے جس نے بیت اللہ کی پناہ لے رکھی ہوگی اور میری امت ہی کے چند لوگ اس سے جنگ کا قصد کریں گے۔ یہاں تک کہ جب بیداء میں پہنچیں گے تو سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے۔ ان میں اپنی خوشی سے آنے والے اور زبردستی سے آنے والے اور مسافر سب ہی قسم کے لوگ ہوں گے۔ یہ سب ایک ہی جگہ ہلاک ہو جائیں گے۔ مگر محشر میں اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھیں گے۔} (مسلم شریف ج۲ ص۳۸۸، کتاب الفتن)

۳۹… ’’عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ a قال لا تقوم الساعۃ حتٰی تنزل الروم بالاعماق اوبدابق فیخرج الیہم جیش من المدینۃ من خیار اہل الارض یومئذ فاذا تصافوا قالت الروم خلوا بیننا وبین الذین سبوا منانقاتلہم فیقول المسلمون لاواﷲ لا نخلی بینکم وبین اخواننا فیقاتلونہم فینہزم ثلث لایتوب اللہ علیہم ابداً ویقتل ثلث ہم افضل الشہداء عند اللہ یفتتح الثلث لا یفتتنون ابداً فیفتتحون قسطنطینیۃ فبینماہم یقتسمون الغنائم قد علقوا سیوفہم بالزیتون اذصاح فیہم الشیطان ان المسیح قد خلفکم فی اہلیکم فیخرجون وذلک باطل فاذا جاؤا الشام خرج فبینماہم یعدون للقتال

417

یسوون الصفوف اذ اقیمت الصلٰوۃ فینزل عیسی بن مریم فیؤمہم فاذا رآہ عدواﷲ ذاب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ لانذاب حتی یہلک ولٰکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریہم دمہ فی حربتہ (مسلم ج۲ ص۳۹۱،۳۹۲، کتاب الفتن)‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے رسول اللہ a نے فرمایا قیامت نہ قائم ہوگی یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یادابق میں اترے گا۔ (یہ دونوں مقام حلب کے قریب ملک شام میں ہیں) تو مدینہ سے ایک ایسا لشکر نکلے گا جو اس وقت تمام روئے زمین میں افضل ہوگا جب دونوں لشکر صف آراء ہو جائیں گے تو نصاریٰ کہیں گے تم ان مسلمانوں سے الگ ہو جاؤ۔ جنہوں نے ہمارے بال بچے گرفتار کر لئے ہیں اور غلام بنالئے ہیں ہم ان سے لڑیں گے۔ مسلمان کہیں گے نہیں خدا کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ پھر لڑائی ہوگی تو مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا۔ ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہ کرے گا اور تہائی لشکر شہید ہوجائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہیدوں میں افضل ہوگا اور تہائی لشکر فتح یاب ہوگا وہ عمر بھر کبھی کسی فتنے اور بلا میں نہ پڑیں گے۔ پھر وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جو اس وقت نصاریٰ کے قبضہ میں آگیا ہوگا۔ (اب تک یہ شہر مسلمان کے قبضہ میں ہے) وہ مال غنیمت کی تقسیم میں ابھی مشغول ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں میں لٹکا چکے ہوں گے۔ اتنے میں شیطان آواز دے گا کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے بال وبچوں میں نکل آیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی مسلمان وہاں سے چل پڑیں گے۔ حالانکہ یہ افواہ غلط ہوگی۔ جب شام کے ملک میں پہنچیں گے اس وقت دجال نکلے گا اور جب مسلمان جنگ کے لئے مستعد ہوں گے اور صف آرائی کر رہے ہوں گے جب خدا کا دشمن دجال ان کو دیکھے گا تو مارے خوف کے اس طرح پگھل جائے گا۔ جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ اگر عیسیٰؑ اس کو یونہی چھوڑ دیں تو بھی وہ خودبخود گھل گھل کر ہلاک ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا قتل حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھ سے مقدر فرمایا ہے۔ اس لئے وہ اس کو قتل فرمائیں گے اور اپنے نیزہ میں اس کے قتل کا خون دکھائیں گے۔}

سید برزنجیؒ نے حضرت ابن مسعودq سے ایک مفصل روایت نقل کی ہے جس سے اس بات کے واقعات کی ترتیب پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام رومیوں کے ساتھ مل کر پہلے ایک بار رومیوں کے کسی دشمن سے جنگ کریں گے جس کے نتیجہ میں ان کی فتح ہوگی اور دشمن سے حاصل شدہ مال یہ دونوں باہم تقسیم کرلیں گے۔ اس کے

418

بعد پھر یہ دونوں مل کر فارس سے جنگ کریں گے اور پھر ان ہی کو فتح ہوگی۔ رومی مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس طرح پہلی بار ہم نے مال غنیمت تقسیم کر کے تم کو دے دیا تھا۔ اسی طرح اس بار تم بھی مال اور قیدی سب ہم کو برابر تقسیم کر کے ہم کو دے دو۔ اس پر اہل اسلام حاصل شدہ مال اور مشرک قیدیوں کو تو تقسیم کر لیں گے مگر جو مسلمان قیدی ان کے پاس ہوں گے۔ وہ تقسیم نہ کریں گے۔ رومی کہیں گے کہ ہم سے جنگ کرنے اور ہمارے بچوں کو قید کرنے کے یہ بھی مجرم ہیں۔ اس لئے ان کو بھی ہمارے حوالہ کرو۔ مسلمان کہیں گے یہ نہیں ہوسکتا۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو ہرگز تمہارے حوالہ نہیں کریں گے۔ رومی کہیں گے کہ یہ خلاف معاہدہ بات ہے۔ آخر کار رومی صاحب رومیہ کے پاس یہ شکایت لے کر جائیں گے۔ وہ اسّی(۸۰) جھنڈے کا ایک بڑا لشکر سمندری راہ سے ان کے ہمراہ کردے گا۔ جس کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔۔ یہ لشکر شام کا تمام ملک فتح کر لے گا۔ صرف دمشق اور معتق کا پہاڑ بچ رہے گا اور بیت المقدس کو برباد کر ڈالے گا۔ یہاں ایک سخت جنگ ہوگی۔ مسلمانوں کے بچے معتق پہاڑ کے اوپر ہوں گے اور مسلمان نہر اریط پر صبح وشام ان سے نبردآزما ہوں گے۔ جب شاہ قسطنطنیہ یہ نقشہ دیکھے گا تو وہ قنسرین کے پاس تین لاکھ فوج خشکی کی راہ سے روانہ کرے گا اور یمن کے ساتھ چالیس ہزار قبیلہ حمیر کے لوگ ان سے آملیں گے۔ یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچیں گے اور وہ بھی روم سے جنگ کریں گے۔ آخر ان کو شکست دیں گے۔

ایک اور لشکر آزاد شدہ غلاموں کا بھی عرب کی مدد کے لئے آئے گا اور کہے گا کہ اے عرب تم تعصب کی بات چھوڑ دو ورنہ کوئی تمہارا ساتھ نہ دے گا اور پھر ان کی مشرکین سے جنگ ہوگی۔ مگر مسلمانوں کے کسی لشکر کو فتح نصیب نہ ہوگی۔ ایک تہائی مسلمان شہید ہو جائیں گے اور ایک تہائی بھاگ نکلیں گے اور ایک تہائی باقی رہ جائیں گے۔ ان میں سے پھر ایک تہائی مرتد ہوکر روم سے جاملیں گے اور ایک تہائی عراق ویمن اور حجاز کی طرف بھاگ جائیں گے اور بقیہ ایک تہائی کہیں گے کہ واقعی عصبیت چھوڑ کر سب متفق ہو جاؤ اور سب مل کر دشمن سے جنگ کرو اور اب اس عزم کے ساتھ جنگ کریں گے کہ یا ہم فتح کر لیں گے ورنہ مرجائیں گے۔

جب رومی لشکر مسلمانوں کی اس قلت کا احساس کرے گا تو ایک شخص صلیب لے کر کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ صلیب کا بول بالا ہوا۔ اس پر ایک مسلمان جھنڈا لے کر نعرہ لگائے گا کہ اللہ کے انصار کا غلبہ ہوا۔ رومیوں کے اس کلمہ پر اللہ تعالیٰ کو غصہ آئے گا اور وہ مسلمانوں کی دو

419

لاکھ فرشتوں کے ساتھ مدد فرمائے گا اور مسلمانوں کو کامیاب کردے گا۔ اس کے بعد مسلمان رومیوں کے ملک میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں کے لوگ ان سے امن طلب کر کے جزیہ دینے پر راضی ہو جائیں گے۔ پھر اردگرد کے رومی یہ افواہ اڑائیں گے کہ دجال نکل آیا ہے۔ مسلمان ادھر بھاگ پڑیں گے۔ بعد میں ان کو معلوم ہوگا کہ یہ خبر غلط تھی۔ ادھر باقی ماندہ مسلمانوں پر رومی ٹوٹ پڑیں گے اور ان کو بیخ وبنیاد دے قتل کر ڈالیں گے۔ یہاں تک کہ روم میں عرب کے زن ومرد میں سے کوئی نہ بچے گا۔ مسلمان واپس ہو کر جب یہ ماجرا دیکھیں گے تو پھر ان سے جنگ کریں گے اور جس قلعہ پر گزریں گے۔ تین دن کے اندر اندر اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب کر دے گا۔ یہاں تک کہ جب خلیج کے پاس پہنچیں گے تو نصاریٰ کہیں گے مسیح ہمارا مددگار ہے اور صلیب کی برکت خلیج سمندر سے بچاؤ کے لئے ہماری مدد گار ہے۔

جب صبح ہوگی تو کیا دیکھیں گے کہ خلیج خشک ہو گئی ہے اور سمندر پٹ چکا ہے۔ بس فوراً اس میں اپنے خیمے لگادیں گے۔ ادھر مسلمان جمعہ کی شب میں کفر کے اس شہر کا محاصرہ کر لیں گے اور رات سے لے کر صبح تک حمد اور اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ نہ کوئی شخص سوئے گا اور نہ بیٹھے گا۔ جب صبح ہوگی تو تمام مسلمان مل کر ایک بار اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں گے۔ اسی وقت شہر کی ایک جانب گر پڑے گی۔ اس پر حیران ہوکر روم کہیں گے کہ پہلے تو ہماری جنگ عرب سے تھی۔ اب تو جنگ کرنی خود پروردگار عالم ہی سے جنگ معلوم ہوتی ہے۔ دیکھو مسلمانوں کے لئے ہمارا شہر خودبخود گرکر برباد ہو گیا۔ اس کے بعد مال غنیمت کا سونا ڈھالوں میں بھربھر کر تقسیم ہوگا اور عورتیں اس کثرت سے ہوں گی کہ ایک ایک شخص کے حصہ میں تین تین سو عورتیں آئیں گی۔ اس کے بعد پھر دجال حقیقتاً نکل آئے گا اور قسطنطنیہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں فتح ہوگا جو زندہ وسلامت رہیں گے۔ نہ بیمار پڑیں گے اور نہ کوئی مرض ان کو ستائے گا۔ یہاں تک کہ عیسیٰؑ اتریں گے اور ان کے ہمراہ یہ جماعت دجال کے لشکر (یہود) کے ساتھ جنگ میں شریک ہوگی۔ یہ روایت اس تفصیل کے ساتھ امام سیوطیؒ نے جامع کبیر میں ذکر فرمائی ہے۔

بعض حدیثوں میں امام مہدی کے متعلق ’’یصلحہ اللہ فی الیلۃ‘‘ کا لفظ بھی ملتا ہے۔ جو ضابطہ حدیث کے اعتبار سے خواہ صحت کے درجہ پر نہ کہا جائے مگر ایک عمیق حقیقت اس سے حل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں پر بعض ضعیف الایمان قلوب میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب امام مہدی ایسی کھلی ہوئی شہرت رکھتے ہیں تو پھر ان کا تعارف عوام وخواص میں کیسے مخفی

420

رہ سکتا ہے۔ اس لئے مصائب وآلام کے وقت ان کے ظہو کا انتظار معقول معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن اس لفظ نے یہ حل کردیا کہ یہ صفات خواہ کتنے ہی اشخاص میں کیوں نہ ہوں۔ لیکن ان کے وہ باطنی تصرفات اور روحانیت مشیت الٰہیہ کے ماتحت اوجھل رکھی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب ان کے ظہور کا وقت آئے گا تو ایک ہی شب کے اندر اندر ان کی اندرونی خصوصیات منظر عام پر آجائیں گی۔ گویا یہ بھی ایک کرشمہ قدرت ہوگا کہ ان کے ظہور کے وقت سے قبل کوئی شخصیت ان کو پہچان نہ سکے گی اور جب وقت آئے گا تو قدرت الٰہیہ شب بھر میں وہ تمام صلاحیتیں ان میں پیدا کردے گی۔ جن کے بعد ان کا امام مہدی ہونا ایک نابینا پر بھی منکشف ہو جائے گا۔ دیکھئے کہ دجال کا خروج احادیث صحیحہ سے کیسا ثابت ہے۔ لیکن یہ ثابت شدہ حقیقت اس کے خروج سے پہلے پہلے کتنی مخفی ہے اور جب کہ یہ داستان دور فتن کی ہے تو اب امام مہدی کے ظہور اور دجال کے وجود میں انکشاف کا مطالبہ کرنا یا اس بحث میں پڑنا یہ مستقل خود ایک فتنہ ہے۔

اس قسم کے عجائبات کی مثالیں شریعت میں بہت ملتی ہیں۔ یوم جمعہ میں ساعت محمودہ کا ہونا تو یقینی ہے مگر وہ بھی اختلافات کے جھرمٹ میں ایسی مبہم ہوکر رہ گئی ہے کہ اس کا متعین کرنا اہل علم کو بھی مشکل پڑ گیا ہے۔ یہی حال شب قدر میں ہے اور اس سے زیادہ ابہام دور فتن کی احادیث میں نظر آتا ہے۔ غالباً یہ بھی مشیت الٰہیہ کا ایک سر ہے کہ فتنہ اپنے وقت پر ظاہر ہو پھر اس کا متعین کرنا مشکل ہوجائے۔ دجال کی حدیثوں میں آپ پڑھیں گے کہ اس میں دجالیت کا ثبوت واضح سے واضح صورت میں موجود ہوگا۔ لیکن اس پر بھی ایک جماعت ہوگی جو اس کو خدا اور رسول ماننے پر مجبور ہوگی۔ کیونکہ اس کے ہمراہ دجالیت کے ثبوت کے ساتھ ساتھ ایسے شبہات کی دنیا ہوگی۔ جن کا ظہور اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ گوشبہات کسی کے دعوے کے ثبوت کے لئے کتنے ہی ناکافی ہوں مگر اس وقت کے ایمانوں کو متزلزل کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ظہور کے لئے قدرت الٰہیہ نے وہ زمانہ مقرر فرمایا ہے جب کہ ایمانوں کی قوت مسلوب ہوچکی ہوگی اور یہی راز ہے کہ اس کا ظہور خیرالقرون میں نہ ہو سکا اور نہ اولیاء کرام کی کثرت کے ساتھ موجودگی میں ہوسکتا ہے۔ ہاں! مسلمانوں کے ایسے دور میں ہوگا جب کہ وہ بھیڑوں کی شکل میں مارے مارے پھرتے ہوں گے اور یہی حقیقت ہے کہ دنیا کے جس گوشہ میں ایمان کے پختہ لوگ بستے ہیں وہاں جناتی اثرات کا ظہور بہت مضمحل نظر آتا ہے۔واﷲ تعالیٰ اعلم!

421

دجال اکبر

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

422

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ اما بعد!

رحمت مجسم، نبی مکرم، آنحضرتa نے ارشاد فرمایا کہ دجال اکبر کا فتنہ ابتدائے آفرینش سے قیام قیامت تک کا سب سے بڑا فتنہ ہے جو اہل اسلام کے ایمان کے لئے خطرناک ترین امتحان ہوگا۔ تمام انبیاءo نے دجال کے فتنہ کی ہلاکت خیزیوں سے اپنی اپنی امت کو باخبر کیا۔ لیکن اس فتنہ کی تفصیلات اور واضح علامات آنحضرتa نے بیان فرمائیں۔ احادیث کی روشنی میں ’’دجال اکبر‘‘ پر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم مہاجر مدنیؒ کی اس کاوش نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ کا کام کیا ہے۔ پچیس احادیث مبارکہ بمع ترجمہ توضیح وتشریح کے آپ نے قلمبند فرماکر امت محمدیہ پر احسان فرمایا ہے۔ اللہم انّٰا اعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال۔ آمین!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱… ’’عن عمران بن حصینq قال سمعت رسول اللہ a یقول مابین خلق اٰدم الٰی قیام الساعۃ امر (وفی روایۃ خلق) اکبر من الدجال (مسلم ج۲ ص۴۰۵، باب بقیۃ من احادیث الدجال)‘‘ {عمران بن حصینq کہتے ہیں میں نے رسول اللہ a کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ آدمm کی پیدائش سے لے کر قیامت آنے تک دجال سے زیادہ بڑا اور کوئی فتنہ نہیں ہے۔}

۲… ’’عن حذیفۃ قال قال رسول اللہ a الدجال اعورا لعین الیسریٰ جفال الشعر معہ جنتہ ونارہ فنارہ جنۃ وجنتہ نار (مسلم ج۲ ص۴۰۰، باب ذکر الدجال)‘‘ {حذیفہq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا، دجال بائیں آنکھ سے کانا ہو گا اس کے جسم پر بہت گھنے بال ہوں گے اور اس کے ساتھ اس کی جنت اور

423

دوزخ بھی ہوگی لیکن جو اس کی جنت نظر آئے گی دراصل وہ دوزخ ہوگی اور جو دوزخ نظر آئے گی وہ اصل میں جنت ہوگی۔ (لہٰذا جس کو وہ جنت بخشے گا وہ دوزخی ہوگا اور جس کو اپنی دوزخ میں ڈالے گا وہ جنتی ہوگا)}

۳… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a الا اخبرکم عن الدجال حدیثاً ماحدثہ نبی قومہ انہ اعورو انہ یجیٔ معہ مثل الجنۃ والنار فالتی یقول انہا الجنۃ ہی النار وانی انذرتکم بہٖ کما انذر بہٖ نوح قومہ (متفق علیہ واللفظ للمسلم ج۲ ص۴۰۰ باب ذکر الدجال)‘‘ {ابوہریرہq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کیا میں تم کو دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتادوں جو حضرت نوحm سے لے کر آج تک کسی نبی نے اپنی امت کو نہ بتائی ہو۔ دیکھو وہ کانا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کے نام سے دو شعبدے بھی ہوں گے تو جس کو وہ جنت کہے گا وہ درحقیقت دوزخ ہوگی۔ دیکھو دجال سے میں بھی تم کو اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ نوحm نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔}

۴… ’’عن عمران بن حصینq قال قال رسول اللہ a من سمع بالدجال فلیناء منہ فواﷲ ان الرجل لیاء تیہ وہو یحسب انہ مؤمن فیتبعہ مما یبعث معہ من الشبہات (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۴، باب خروج الدجال)‘‘ {عمران بن حصینq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا دیکھو جو شخص دجال کی خبر سنے اس کو چاہئے کہ وہ اس سے دور ہی دور رہے۔ بخدا کہ ایک شخص کو اپنے دل میں یہ خیال ہوگا کہ وہ مومن آدمی ہے۔ لیکن ان عجائبات کو دیکھ کر جو اس کے ساتھ ہوں گے وہ بھی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔}

۵… ’’وعن عبادۃ بن الصامت عن رسول اللہ a قال انی قد حدثتکم عن الدجال حتٰی خشیت ان لا تعقلوا ان المسیح الدجال رجل قصیر افحج جعد اعور مطموس العین لیس بناء تیہ ولا حجراء فان البس علیکم فاعلموا ان ربکم لیس باعور (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۴، باب خروج الدجال)‘‘ {عبادۃ بن صامتq رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے

424

فرمایا میں نے دجال کے متعلق کچھ تفصیلات تم لوگوں سے بیان کیں لیکن مجھ کو خطرہ ہے کہ کہیں تم پورے طور پر اس کو نہ سمجھے ہو۔ دیکھو مسیح دجال کا قد ٹھگنا ہوگا۔ اس کے دونوں پیر ٹیڑھے، سر کے بال شدید خمیدہ، یک چشم مگر ایک آنکھ بالکل چٹ صاف، نہ اوپر کو ابھری ہوئی نہ اندر کو دھنسی ہوئی۔ اگر اب بھی تم کو شبہ رہے تو یہ بات یاد رکھنا کہ تمہارا رب یقینا کانا نہیں ہے۔}

۶… ’’وعن ابی عبیدۃ بن الجراح قال سمعت رسول اللہ a یقول انہ لم یکن نبی بعد نوح الا قد انذر قومہ الدجال وانی انذرکموہ فوصفہ لنا قال لعلہ سیدرکہ بعض من راٰنی اوسمع کلامی قالوا یا رسول اللہ فکیف قلوبنا یومئذٍ فقال مثلہا یعنی الیوم اوخیر (رواہ الترمذی ج۲ ص۴۷، باب ماجاء فی الدجال)‘‘ {ابوعبیدہ بن جراحq کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ a کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ نوحm کے بعد جو نبی آیا ہے اس نے اپنی قوم کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں۔ اس کے بعد آپa نے اس کی صورت وغیرہ بیان فرمائی اور کہا ممکن ہے جنہوں نے مجھ کو دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہو اس میں کوئی ایسا نکل آئے جو اس کا زمانہ پاسکے۔ انہوں نے پوچھا اس دن ہمارے دلوں کا حال کیسا ہوگا۔ آپa نے فرمایا: ایسا ہی جیسا آج ہے یا اور بھی بہتر۔}

پیش گوئی میں اقسام کا ابہام رہ جاتا ہے اور وہ تکوینی امر ہے۔ دیکھئے یہاں پر:’’لعلہ سیدرکہ بعض من رأنی‘‘ کے لفظ نے کتنا ابہام پیدا کردیا ہے۔ پھر: ’’اوخیر‘‘ میں یہ ابہام کہاں تک جا پہنچتا ہے۔

۷… ’’عن ابی سعید الخدری قال حدثنا النبیa یوماً حدیثاً طویلاً عن الدجال فکان فیما یحدثنا بہ انہ قال یأتی الدجال وہو محرم علیہ ان یدخل نقاب المدینۃ فینزل بعض السباح الی تلی المدینۃ فیخرج الیہ یومئذ رجل وہو خیر الناس اومن خیار الناس فیقول اشہد انک الدجال الذی حدثنا رسول اللہ a حدیثہ فیقول الدجال اراء یتم ان قتلت ہٰذا ثم احییتہ ہل تشکون فی الامر فیقولون لا فیقتلہ ثم یحییہ فیقول واﷲ ما کنت فیک اشد بصیرۃ منی الیوم فیرید الدجال ان یقتلہ

425

فلا یسلط علیہ (رواہ البخاری ج۲ ص۱۰۵۶، باب لایدخل الدجال المدینۃ)‘‘ {حضرت ابی سعید الخدریq سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے جناب رسول اللہ a نے ایک دن ایک طویل حدیث دجال کے بارہ میں بیان فرمائی تو جو باتیں آپa نے ہم سے اس کے متعلق بتائیں ان میں یہ بھی فرمایا تھا کہ دجال آئے گا۔ مگر مدینہ کے راستوں میں گھس آنا اس کے لئے حرام اور ناممکن ہوگا تو وہ مدینہ کے آس پاس کی بنجر زمین میں کسی جگہ آکر اترے گا تو اس کے مقابلہ کے لئے اس دن ایک شخص نکلے گا جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر (یا بہتر انسانوں میں سے) ہو گا۔ وہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کی بات ہم کو جناب رسول اللہ a نے سنائی تھی، تو دجال کہے گا۔ لوگو! بتاؤ اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کر دوں تب تو تم کو میرے معاملے میں کوئی شک شبہ باقی نہ رہے گا۔ وہ کہیں گے کہ نہیں تو وہ ان کو قتل کر دے گا۔ پھر ان کو زندہ کر دے گا تو وہ بزرگ کہیں گے خدا کی قسم! اب تو مجھ کو تیرے بارے میں اور بھی یقین اور بصیرت حاصل ہوگئی کہ آج سے زیادہ ایسی بصیرت پہلے نہ تھی تو دجال پھر ان کو قتل کرنا چاہے گا مگر اس کا قابو ان پر نہ چل سکے گا۔}

حدثنا رسول اللہ a سے وہ مسئلہ بھی مستنبط ہوسکتا ہے جو اصول حدیث میں مندرج ہے۔ اس کی تفصیل کا نہ یہاں موقعہ ہے نہ مناسب۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص عجب نہیں کہ حضرت خضرm ہوں واﷲ تعالیٰ اعلم بہرحال حدثنا میں جمع کے صیغہ میں بہت سے امور کی طرف اشارات ممکن ہیں۔

۸… ’’عن انس بن مالک قال قال النبیa یجیٔ الدجال حتی ینزل فی ناحیۃ المدینۃ ترجف ثلاث رجفات فیخرج الیہ کل کافر ومنافق (رواہ البخاری وفی روایتہ عندہ لا یدخل المدینۃ رعب المسیح الدجال ولہا یومئذ سبعۃ ابواب علی کل باب ملکان وفی روایۃ علی انقاب المدینۃ ملائکۃ وفی روایۃ المدینۃ یاتیہا الدجال فیجد الملائکۃ یحرسونہا فلا یقربہا کلہا فی البخاری ج۲ ص۱۰۵۵ باب ذکر الدجال)‘‘ {حضرت انس بن مالکq کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ a نے فرمایا کہ دجال آئے گا یہاں تک کہ مدینہ کے ایک کنارے آکر اترے گا تو تین بار زلزلے

426

آئیں گے۔ اس وقت جتنے کافر اور جتنے منافق ہوں گے سب نکل نکل کر اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔}

ان کی ایک اور روایت میں ہے کہ مدینہ کے اندر مسیح دجال کا رعب بھی نہ آنے پائے گا۔ اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ مدینہ کے بڑے بڑے راستوں پر بہت سے فرشتے ہوں گے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ مدینہ کے پاس دجال آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے پائے گا۔ لہٰذا ان کے پاس بھی نہ بھٹک سکے گا۔

۹… ’’عن فاطمۃ بنت قیسt قالت سمعت نداء المنادی منادی رسول اللہ a ینادی، الصلٰوۃ جامعۃ فخرجت الی المسجد فصلیت مع رسول اللہ a… فلما قضٰی صلوٰتہ جلس علی المنبر وہو یضحک فقال لیلزم کل انسان مصلاہ ثم قال اتدرون لم جمعتکم قالوا اللہ ورسولہ اعلم قال انی واﷲ ما جمعتکم لرغبۃ ولا لرہبۃ ولٰکن جمعتکم لان تمیمان الداری کان رجلاً نصرانیاً فجاء فبایع واسلم وحدثنی حدیثاً وافق الذی کنت احدثکم بہٖ عن المسیح الدجال حدثنی انہ رکب فی سفینۃ بحریۃ مع ثلٰثین رجلاً من لخم وجذام فلعب بہم الموج شہراً فی البحر فارقاء وا الٰی جزیرۃ حین تغرب الشمس فجلسوا فی اقرب السفینۃ فدخلوا الجزیرۃ فلقیتہم دابۃ اہلب کثیر الشعر لایدرون ماقبلہ من دبرہٖ من کثرۃ الشعر قالوا ویلک ماانت قالت انا الجساسۃ انطلقوا الٰی ہذا الرجل فی الدیر فانہ الٰی خبرکم بالاشواق قال لما سمت لنا رجلاً فرقنا منہا ان تکون شیطانۃ قال فانطلقنا سراعاً حتی دخلنا الدیر فاذا فیہ اعظم انسان ماراء یناہ قط خلقاً واشدہ وثاقاً مجموعۃ یداہ علٰی عنقہٖ ما بین رکبتیہ الٰی کعبیہ بالحدید قلنا ویلک ما انت؟ قال قد قدرتم علٰی خبری فاخبرونی ماانتم قالوا نحن اناس من العرب رکبنا فی سفینۃ بحریۃ… فلعب بنا الموج شہراً فدخلنا الجزیرۃ فلقیتنا دابۃ اہلب فقالت انا

427

الجساسۃ اعمدوا الٰی ہٰذا الرجل فی الدیر فاقبلنا الیک سراعاً فقال اخبرونی عن نخل بیسان ہل تثمر؟ قلنا نعم قال اماانہا توشک ان لا تثمر قال اخبرونی عن بحیرۃ الطبریۃ ہل فیہا ماء؟ قلنا ہی کثیرۃ الماء قال ان ماء ہا یوشک ان یذہبب قال اخبرونی عن عین زغرہل فی العین ماء وہل یزرع اہلہا بماء العین قلنا نعم ہی کثیرۃ الماء واہلہا یزرعون من مائہا قال اخبرونی عن نبی الامیین مافعل قلنا قد خرج من مکۃ ونزل یثرب قال اقاتلہ العرب قلنا نعم قال کیف صنع بہم؟ فاخبرناہ انہ قد ظہر علٰی من یلیہ من العرب واطاعوہ قال اما ان ذلک خیر لہم ان یطیعوہ وانی مخبرکم عنی انا المسیح الدجال وانی یوشک ان یؤذن لی من الخروج فاخرج فاسیر فی الارض فلا ادع قریۃ الا ہبطتہا فی اربعین لیلۃ غیر مکۃ وطیبۃ محرمتان علیّٰ کلتا ہما کلما اردت ان ادخل واھدا منہما استقبلنی ملک بیدہ السیف صلتاً یصدنی عنہا وان علٰی کل نقب ملائکۃ یحرسونہا قال رسول اللہ a وطعن بمخصرتہٖ فی المنبر ہٰذہ طیبۃ ہٰذہ طیبۃ ہٰذہ طیبۃ یعنی مدینۃ الاہل کنت حدثتکم ذٰلک فقال الناس نعم… الا انہ فی بحر الشام اوبحر الیمن لابل من قبل المشرق ماہو واوما بیدہٖ الی المشرق (رواہ مسلم ج۲ ص۴۰۴،۴۰۵، باب ذکر الدجال ورواہ ابوداؤد مختصراً قال الحافظ ابن حجر عند شرح حدیث جابر من کتاب الاعتصام وقدتوہم بعضہم انہ غریب فرد لیس کذالک فقد رواہ مع فاطمہ بنت قیس، ابوہریرۃ کما عند احمد وابی یعلٰی وعائشۃ کما عند احمد وجابر کما عند ابی داؤد فتح الباری وذکر ان البخاری انما لم یخرجہ لشدۃ التباس الامر فی ذالک فتنبہ)‘‘ {فاطمہ بنت قیسt بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ a کے اعلان کرنے والے کو سنا وہ اعلان کر رہا تھا چلو نماز ہونے والی ہے۔ میں نماز کے لئے نکلی اور رسول اللہ a کے ساتھ نماز ادا کی۔ آپa نماز سے فارغ ہوکر منبر پر بیٹھ گئے اور آپa کے چہرہ پر اس وقت مسکراہٹ

428

تھی۔ آپa نے فرمایا ہر شخص اپنی اپنی جگہ بیٹھا رہے۔ اس کے بعد آپa نے فرمایا جانتے ہو میں نے تم کو کیوں جمع کیا ہے۔ انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے۔ آپa نے فرمایا بخدا میں نے تم کو نہ تو مال وغیرہ کی تقسیم کے لئے۔ بس صرف اس بات کے لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری پہلے نصرانی تھا۔ وہ آیا ہے اور مسلمان ہوگیا ہے اور مجھ سے ایک قصہ بیان کرتا ہے جس سے تم کو میرے اس بیان کی تصدیق ہوجائے گی جو میں نے کبھی دجال کے متعلق تمہارے سامنے ذکر کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ایک بڑی کشتی پر سوار ہوا جس پر سمندروں میں سفر کیاجاتا ہے اور ان کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی اور تھے۔ سمندر کا طوفان ایک ماہ تک ان کا تماشا بنارہا۔ آخر مغربی جانب ان کو ایک جزیرہ نظر پڑا جس کو دیکھ کر وہ بہت مسرور ہوئے اور چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر اس جزیرہ پر اتر گئے۔ سامنے سے ان کو جانور کی شکل کی ایک چیز نظر پڑی جس کے سارے جسم پر بال ہی بال تھے کہ ان میں اس کے اعضائے مستورہ تک کچھ نظر نہ آتے تھے۔ لوگوں نے اس سے کہا کم بخت تو کیا بلا ہے؟ وہ بولی میں دجال کی جاسوس ہوں۔ چلو اس گرجے میں چلو۔ وہاں ایک شخص ہے جس کو تمہارا بڑا انتظار لگ رہا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب اس نے ایک آدمی کا ذکر کیا تو اب ہم کو ڈر لگا کہ کہیں وہ کوئی جن نہ ہو۔ ہم لپک کر گرجے میں پہنچے تو ہم نے ایک بڑا قوی ہیکل شخص دیکھا کہ اس سے قبل ہم نے ویسا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ اس کے ہاتھ گردن سے ملا کر اور اس کے پیر گھٹنوں سے لے کر ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے نہایت مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا تیرا ناس ہو تو کون ہے؟ وہ بولا تم کو تو میرا پتہ کچھ نہ کچھ لگ ہی گیا۔ اب تم بتاؤ تم کون لوگ ہو۔ انہوں نے کہا ہم عرب کے باشندے ہیں۔ ہم ایک بڑی کشتی میں سفر کر رہے تھے۔ سمندر میں طوفان آیا اور ایک ماہ تک رہا۔ اس کے بعد ہم اس جزیرہ میں آئے تو یہاں ہمیں ایک جانور نظر پڑا جس کے تمام جسم پر بال ہی بال تھے۔ اس نے کہا میں جساسہ (جاسوس، خبر رساں) ہوں۔ چلو اس شخص کی طرف چلو جو اس گرجے میں ہے۔ اس لئے ہم جلدی جلدی تیرے پاس آگئے۔ اس نے کہا مجھے یہ بتاؤ کہ بیسان (شام میں ایک بستی کا نام ہے) کی کھجوروں میں پھل آتا ہے یا نہیں۔ ہم نے کہا ہاں آتا ہے۔ اس نے کہا وہ وقت قریب ہے جب اس میں پھل نہ آئیں۔ پھر اس نے پوچھا اچھا بحیرہ طبریہ کے متعلق بتاؤ اس

429

میں پانی ہے یا نہیں۔ ہم نے کہا بہت ہے۔ اس نے کہا وہ زمانہ قریب ہے جب کہ اس میں پانی نہ رہے گا۔ پھر اس نے پوچھا زغر (شام میں ایک بستی) کے چشمہ کے متعلق بتاؤ اس میں پانی ہے یا نہیں اور اس بستی والے اپنی کھیتوں کو اس کا پانی دیتے ہیں یا نہیں۔ ہم نے کہا اس میں بھی بہت پانی ہے اور بستی والے اسی کے پانی سے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پھر اس نے کہا اچھا نبی الامیین کا کچھ حال سناؤ۔ ہم نے کہا وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے ہیں۔ اس نے پوچھا کیا عرب کے لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ہے۔ ہم نے کہا ہاں! اس نے پوچھااچھا پھر کیا نتیجہ رہا؟ ہم نے بتایا کہ وہ اپنے گردونواح پر تو غالب آچکے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت قبول کر چکے ہیں۔ اس نے کہا سن لو ان کے حق میں یہی بہتر تھا کہ ان کی اطاعت کر لیں اور اب میں تم کو اپنے متعلق بتاتا ہوں۔ میں مسیح دجال ہوں اور وہ قت قریب ہے جب کہ مجھ کو یہاں سے باہر نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔ میں باہر نکل کر تمام زمین پر گھوم جاؤں گا اور چالیس دن کے اندر اندر کوئی بستی ایسی نہ رہ جائے گی جس میں میں داخل نہ ہوں۔ بجز مکہ اور طیبہ کے کہ ان دونوں مقامات میں میرا داخلہ ممنوع ہے۔ جب میں ان دونوں میں سے کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا۔ اس وقت ایک فرشتہ ہاتھ میں ننگی تلوار لئے سامنے سے آکر مجھ کو داخل ہونے سے روک دے گا اور ان مقامات (مقدسہ) کے جتنے راستے ہیں ان سب پر فرشتے ہوں گے کہ وہ ان کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ رسول اللہ a نے اپنی لکڑی منبر پر مار کر فرمایا کہ وہ طیبہ یہی مدینہ ہے یہ جملہ تین بار فرمایا۔ دیکھو کیا یہی بات میں نے تم سے بیان نہیں کی تھی۔ لوگوں نے کہا جی ہاں! آپ نے بیان فرمائی تھی۔ اس کے بعد فرمایا دیکھو وہ بحر شام یا بحر یمن (راوی کو شک ہے) بلکہ مشرق کی جانب ہے اور اسی طرف ہاتھ سے ارشاد فرمایا۔}

امام قرطبی نے اپنی مشہور کتاب التذکرہ میں لکھا ہے کہ دجال کی بابت جن سوالات کے تفصیلی جوابات حدیث میں آچکے ہیں وہ یہ ہیں۔ اس کی حقیقت، سبب خروج، محل خروج، وقت خروج، شکل وصورت، ساحرانہ کرشمے اس کا دعویٰ اس کے قاتل اور وقت قتل کی تعیین اور یہ بحث بھی کہ وہ ابن صیاد ہے یا کوئی اور۔ اس بحث سے اس مسئلہ کا فیصلہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ آنحضرتa کے عہد میں موجود تھا یا نہیں۔(دیکھو فتح الباری)

430

ابن صیاد واسمہ وحلیتہ وحلیۃ ابیہ وما فیہ من صفاتہ الغربیۃ

ابن صیاد کا نام اس کا اور اس کے باپ کا حلیہ اور اس کی عجیب وغریب صفات کا بیان۔

۱۰… ’’وعن ابی بکرۃ قال قال رسول اللہ a یمکث ابوالدجال وامہ ثلٰثین عاماً لایولد لہما ولد ثم یولد لہما غلام اعور اضرس واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ ثم نعت لنا رسول اللہ a ابویہ فقال ابوہ طوال ضرب اللحم کان انفہ منقار وامہ امرأۃ فرضا خیۃ طویلۃ الثدیین فقال ابوبکرۃ فسمعنا بمولود فی الیہود بالمدینۃ فذہبت انا والزبیربن العوام حتی دخلنا علٰی ابویہ فاذا نعت رسول اللہ a فیہما فقلنا ہل لکما ولد فقالا مکثنا ثلٰثین عاماً لا یولدلنا ولد ثم ولدنا غلام اعورا ضرس واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولا ینام قلبہ قال فخرجنا من عندہما فاذا ہو منجدل فی الشمس فی قطیفۃ ولہ ہمہمۃ وکشف عن راسہ فقال ماقلتما؟ قلنا وہل سمعت ماقلنا؟ قال نعم تنام عینای ولاینام قلبی (رواہ ترمذی ج۲ ص۵۰، باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد)‘‘ {ابوبکرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا دجال کے ماں باپ کے گھر تیس سال تک کوئی بچہ پیدا نہ ہوگا۔ پھر ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کی ایک آنکھ خراب ایک دانت باہر نکلا ہوا ہوگا۔ وہ بالکل نکما ہوگا۔ سوتے میں اگرچہ اس کی آنکھیں بند ہوں گی مگر اس کا دل ہوشیار رہے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ a نے اس کے ماں باپ کا نقشہ بیان فرمایا کہ اس کا باپ لانبا، چھریرے جسم والا، چونچ کی طرح اس کی ناک ہوگی۔ اس کی ماں کے دونوں پستان بڑے بڑے لٹکے ہوئے۔ ابوبکرہq کہتے ہیں کہ ہم نے مدینہ میں یہود کے گھر اسی قسم کے ایک لڑکے کی پیدائش سنی تو میں اور زبیر بن عوام اس کے دیکھنے کے لئے گئے۔ جب اس کے ماں باپ کے پاس پہنچے دیکھا تو وہ ٹھیک اسی صورت کے تھے جو رسول اللہ a نے ان کی صورت بیان فرمائی تھی۔ ہم نے پوچھا تمہارے کوئی بچہ ہے؟ انہوں نے کہا تیس سال تک تو ہمارے کوئی بچہ نہیں تھا اس کے بعد اب ایک لڑکا پیدا ہوا ہے جس کی ایک آنکھ خراب ہے۔ اس کا ایک دانت باہر نکلا ہوا ہے۔ وہ بالکل نکما ہے۔ اس کی

431

آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل خبردار رہتا ہے۔ ہم جوان کے گھر سے باہر نکلے کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دھوپ میں اپنی چادر میں لپٹا ہوا کچھ گنگنا رہا ہے۔ اس نے اپنے سر کھول کر کہا تم کیا باتیں کر رہے تھے؟ ہم نے کہا کیا تو نے ہماری باتیں سن لیں۔ وہ بولا ہاں! میری آنکھیں ہی سوتی ہیں ورنہ میرا دل جاگتا رہتا ہے۔}

جزری کہتے ہیں کہ روایت مذکورہ میں لفظ اضرس کاتب کی تصحیف ہے۔ اصل میں ’’اضرشی‘‘ ہے جیسا کہ ترمذی کی روایت میں موجود ہے۔ اس بناء پر اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ وہ سرتاپا مضرت ہی مضرت اور نقصان ہی نقصان ہے۔ احقر کا خیال ہے کہ ’’ضرس‘‘ لغت میں اگرچہ ڈاڑھ کو کہتے ہیں مگر توسعاً اس سے کیلہ یعنی کنارے کا لمبانوکیلا دانت مراد ہوسکتا ہے اور اضرس کا ترجمہ لمبے کیلے والا ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ آئندہ روایت میں لفظ ’’طالعۃ نابہ‘‘ موجود ہے۔ اس کا ترجمہ بھی یہی ہے کہ اس کا ایک کیلہ باہر کی جانب نکلا ہوا ہوگا۔ اس بناء پر تصحیف کہنے کی ضرورت نہ ہوگی۔

ابن صیاد کی صفات میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ: ’’تنام عیناہ‘‘ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ دل کی بیداری محمود صفت بھی ہے اور مذموم بھی۔ جس کا علاقہ عالم ملکوت سے قائم ہوتا ہے وہ تو اس بیداری کی وجہ سے عالم علوی یعنی عالم ملکوت سے وابستہ رہتا ہے، اور جس کا علاقہ شیاطین اور جنوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ عالم سفلی یعنی عالم شیاطین سے وابستہ رہتا ہے اور اس طرح مرکز ہدایت اور مرکز ضلالت دونوں کو اپنے اپنے عالموں سے مدد پہنچتی رہتی ہے۔’’کلانمدہؤلاء وہولاء من عطاء ربک۔ وما کان عطاء ربک محذورا‘‘

روایت مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرتa نے دجال اور اس کے ماں باپ کا نقشہ اور حلیہ بھی بیان فرمادیا تھا اور چونکہ وہ ابن صیاد اور اس کے ماں باپ میں بھی موجود تھا۔ اس لئے ابن صیاد کا معاملہ شروع میں باعث تحیر بن گیا تھا کہ کہیں یہ وہی دجال تو نہیں۔ کیونکہ جلد اوّل کی ختم نبوت کی بحث میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ آپa نے دجال اکبر کے علاوہ تیس سے ستردجالوں تک کی اور خبر دی ہے جو اسی امت میں پیدا ہوں گے اور دعویٰ نبوت کریں گے۔ بہرحال چونکہ اس بچہ میں دجال کا اور اس کے ماں باپ میں دجال

432

کے ماں باپ کا اکثر نقشہ موجود تھا۔ اس لئے اس کے دجال ہونے میں خائف قلوب کو تردد پیدا ہو جانا ایک بالکل فطری اور معقول بات تھی۔

۱۱… ’’عن نافعq قال لقی ابن عمر ابن صیاد فی بعض طرق المدینۃ فقال لہ قولاً اغضبہ فانتفخ حتٰی ملأ السکۃ فدخل ابن عمر علٰی حفصۃ وقد بلغہا فقالت لہ رحمک اللہ مااردت من ابن صیاد اما علمت ان رسول اللہ a قال انما یخرج من غضبۃ یغضبہا (مسلم ج۲ ص۳۹۹، باب ذکر ابن صیاد)‘‘ {نافعq، ابن عمرq سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ کی کسی گلی میں ابن عمرq کی ابن صیاد سے مڈھ بھیڑ ہوگئی تو انہوں نے اسے کوئی ایسی بات کہہ دی جس سے اسے غصہ آگیا تو وہ پھولنے لگا اور ایسا پھولا کہ ساری گلی اس سے بھرگئی۔ اس کے بعد ابن عمرq اپنی ہمشیرہ حضرت سیدہ حفصہt کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کو کہیں یہ قصہ پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے فرمایا! اے ابن عمرq اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے تم نے اسے فضول چھیڑا تمہارا کیا مطلب تھا؟ کیا تم کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ حضورa نے فرمایا ہے کہ دجال جب نکلے گا تو کسی بات پر غضبناک ہونے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔}

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد میں بعض باتیں غیرمعمولی بھی تھیں۔ مثلاً پھول کرکپہ ہونا تو ایک مجاز اور اردو کا محاورہ ہے۔ مگر حقیقتاً وہ اس طرح پھول جاتا تھا کہ ساری گلی اس سے بھر جائے۔ یہ جنات کے خواص میں سے ہے اس کے بعد ابن عمرq کی جو گفتگو حضرت حفصہt سے ہوئی اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دجال یہی ابن صیاد ہے تو بھی اس کے خروج کا وقت یہ نہیں ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ یہی ابن صیاد کن کن حالات سے گزرے گا اور پھر اپنے وقت مقرر پر ان فتنہ سامانیوں کے ساتھ ظاہر ہوگا جو احادیث میں مذکور ہیں۔

۱۲… ’’عن نافع قال کان ابن عمر یقول واﷲ ما اشک ان المسیح الدجال ابن صیاد (رواہ داؤد ج۲ ص۱۳۶، باب فی خبر ابن صیاد، والبیہقی فی کتاب البعث والنشور)‘‘{نافعq روایت کرتے ہیں کہ ابن عمرq قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ مجھ کو اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ مسیح دجال وہ ابن صیاد ہی ہے۔}

433

مذکورہ بالا حالات کی بناء پر ابن عمرq کا ایسا یقین کر لینا کچھ بعید نہیں ہے مگر ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اتنی بات سے بقیہ تفصیلات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ابن صیاد کا دجال ہونا پھر اپنے وقت پر اس کا ظاہر ہونا بہت آسان ہے اور یہ مختلف نقول اور آئندہ بھی جو آپ کے سامنے پیش ہوں گے۔ ان کا ابہام اس کے فتنہ در فتنہ ہونے کاسبب بن گئی ہیں۔

۱۳… ’’عن جابر قال قد فقدنا ابن صیاد یوم الحرۃ (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۶، باب فی خبر ابن صیاد)‘‘{جابرq بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ حرہ ہوئی تھی اس دن کے بعد سے ہم کو ابن صیاد کا پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ چلاکہاں گیا؟}

ابن صیاد کے حالات زندگی جتنے گوناگوں اختلافات اور ابہام میں پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اتنے ہی اس کے حالات سے گم گشتگی بھی ہے۔ حتیٰ کہ کوئی تو اس کا گم ہونا نقل کرتا ہے اور کوئی اس کی موت بھی بیان کرتا ہے۔ بہرحال یہ تمام بیانات آپa کے بعد ہی کے ہیں۔ ان تمام اختلافات کو بھی آپa کے سر کیسے لگایا جاسکتا ہے؟ آنحضرتa کی جانب سے اس کے بارہ میں ابتدائی تردد کے جو اسباب تھے اس کی حقیقت پہلے بیان ہوچکی ہے اس کے بعد پھر جو آخری بات ہے وہ آئندہ حدیث میں آرہی ہے۔

۱۴… ’’وعن ابی سعید الخدری قال صحبت ابن صیاد الٰی مکۃ فقال لی ما لقیت من الناس یزعمون انی الدجال الست سمعت رسول اللہ a یقول انہ لا یولدلہ وقد ولدلی الیس قد قال ہو کافر وانا مسلم اولیس قد قال لا یدخل المدینۃ ولا مکۃ وقد اقبلت من المدینۃ وانا ارید مکۃ ثم قال لی فی اٰخر قولہ اما واﷲ انی لا علم مولدہ ومکانہ واین ہو واعرف اباہ وامہ قال فلبسنی قال قلت لہ تبالک سائر الیوم قال وقیل لہ ایسرک انک ذاک الرجل فقال لو عرض علی ماکرہت (مسلم ج۲ ص۳۹۷، باب ذکر ابن صیاد)‘‘ {ابوسعید خدریq بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکہ کے سفر میں میرا اور ابن صیاد کا ساتھ ہوگیا۔ تو وہ مجھ سے کہنے لگا لوگوں سے مجھ کو کتنی تکلیف پہنچ رہی ہے۔ میرے متعلق یہ گمان رکھے ہیں کہ وہ دجال میں ہوں۔ کیا تم نے رسول اللہ a کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ اس کے اولاد نہ ہوگی اور میرے تو اولاد ہے۔ کیا آپa نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کافر

434

ہوگا اور میں تو مسلمان ہوں۔ کیا آپa نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ نہ مدینہ میں داخل ہوسکے گا نہ مکہ میں اور دیکھو میں مدینہ سے تو آہی رہا ہوں اور اب مکہ مکرمہ جارہا ہوں۔ یہ سب کچھ کہہ سن کر آخر میں کہنے لگا۔ خدا کی قسم! البتہ میں جانتا ہوں کہ وہ (دجال) کہاں پیدا ہوا؟ اور اب وہ کہاں ہے؟ میں اس کے ماں باپ کو بھی خوب پہچانتا ہوں۔ ابوسعیدq فرماتے ہیں کہ یہ دورخی باتیں بنا کر اس نے مجھ کو شبہ میں ڈال دیا۔ میں نے اس سے کہا خدا تجھے ہلاک کرے۔ پھر کسی نے اس سے کہا کہ اگر وہ دجال تو ہی ہوتو کیا یہ بات تجھے پسند ہوگی۔ اس پر وہ بولا اگر مجھ کو دجال بنا دیا جائے تو مجھے کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوگا۔}

ابن صیاد کے یہ عجیب حالات سب حدیثوں سے ثابت ہیں اور ان سب سے ابہام کے سوا کوئی صاف نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ اس نے خود جو بیان اپنی صفائی کے لئے پیش کیا تھا اس کو پھر خود ہی اپنی آخری گفتگو سے مبہم بنادیا۔ حتیٰ کہ ابوسعیدq کے دل میں اس کی طرف سے اس کی پہلی تقریر سے جو قدرے اطمینان پیدا ہوگیا تھا وہ پھر جاتا رہا۔ پس جب کہ اس کی ذات اور اس کے اقوال میں خود اس درجہ ابہام کے سامان موجود ہیں کہ اس کی موجودگی میں بھی اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہونا مشکل مسئلہ بن رہا ہے۔ تو بعد میں اگر روایات کے اختلافات سے اس ابہام کو کچھ اور مدد مل گئی ہو تو اندازہ فرمالیجئے کہ اب اس کا معاملہ کتنا پیچیدہ ہوجانا چاہئے۔ انسان کے سامنے جزم ویقین کی حالت میں بھی جب کوئی خوفناک منظر آجاتا ہے تو اس کی فطرت غیراختیاری طور پر ہراساں ہونے لگتی ہے۔

دیکھئے قیامت کا آنا جتنی یقینی بات ہے اتنی ہی یقینی یہ بات بھی ہے کہ قیامت حضورa کی حیات میں نہیں آئے گی۔ لیکن اس کے باوجود جب دنیا کے معمول کے مطابق سورج کو گہن لگتا تو آنحضرتa کی آنکھوں کے سامنے قیامت کا نقشہ گھومنے لگتا تھا۔ اسی طرح جب آسمان پر سیاہ بادل منڈلاتے نظر آتے تو آپa کے سامنے قوموں کی ہلاکت کا سماں بندھ جاتا اور آپa پر کرب وبے چینی کا یہ عالم اس وقت تک برابر رہتا جب تک کہ بارش ہوکر بادل صاف نہ ہو جاتے۔ پس خوف کے مقامات میں غیراختیاری تردد لاحق ہوناانسانی فطرت ہے۔ اس کو جزم ویقین کے خلاف سمجھنا خود بڑی نافہمی ہے۔ اسی طرح ابن صیاد کے حالات تھے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس کے حالات دجال اکبر سے کتنے ملتے جلتے

435

تھے۔ اس لئے اگر اس کے معاملہ میں آپa سے ابتداء غیراختیاری تردد کے جو الفاظ منقول ہیں ان کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں سمجھنا چاہئے جو ابھی ہم نے آپ سے بیان کی ہے۔ یہاں جن کو ابھی تک یہ تمام حقائق رام کہانیاں معلوم ہوتی ہیں جن کو خسوف شمس جیسے معمولی تغیر سے قیامت اور بادلوں کی آمد سے عذاب کا خطرہ بھی لاحق نہیں ہوسکتا۔ وہ ان حقائق کا نام تاویلات ہی رکھیں گے۔ ان کو کیا اندازہ ہوسکتا ہے کہ دجالی فتنہ کتنا عظیم فتنہ ہوگا اور ابن صیاد کے عجیب وغریب حالات کتنے تردد اور کتنے غوروفکر کا سامان بن سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جب دل میں ایمان ہی کمزور ہو تو ہر موقعہ پر عقائد کا پلہ اسی جانب جھکنے لگتا ہے جو دین سے بعید تر ہوتی ہے۔’’ومن لم یجعل اللہ لہ نوراً فما لہ من نور‘‘

۱۵… ’’وعن جابر ان امرأۃ من الیہود بالمدینۃ ولدت غلاماً ممسوحۃ عینہ طالعۃ نابہ فاشفق رسول اللہ a ان یکون الدجال فوجدہ تحت قطیفۃ یہمہم فاٰذنتہ امہ فقالت یا عبداﷲ ہذا ابوالقاسم فخرج من القطیفۃ فقال رسول اللہ a مالہا قاتلہا اللہ لوترکتہ لبین فذکر مثل معنٰی حدیث عمر فقال عمر ابن الخطاب ائذن لی یا رسول اللہ فاقتلہ فقال رسول اللہ a ان یکن ہو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسی ابن مریم وان لا یکن ہو فلیس لک ان تقتل رجلاً من اہل العہد فلم یزل رسول اللہ a مشفقاً انہ ہو الدجال (رواہ فی شرح السنۃ)‘‘ {جابرq کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک یہودی عورت کے لڑکا پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ صاف تھی اور جس کا کیلہ باہر کو نکلا ہوا تھا تو رسول اللہ a کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں یہ وہی دجال نہ ہو۔ (ایک بار آپa ان کے ہاں گئے۔ وہ کپڑے میں لپٹا تھا۔ اس کی ماں نے اجازت مانگی اس کے ملنے کی تو اس نے اپنے لڑکے کو کہہ دیا کہ آپa ملنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ اس نے کپڑے کو ہٹا دیا تو آپa نے فرمایا: ناس ہو (اس عورت کا) اسے کیا ہوا کہ اسے بتا دیا۔ اسے نہ بتاتی تو اس سے کچھ پوچھ لیتے۔ تو حضرت عمرq نے اس کے قتل کی آپa سے اجازت مانگی تو آپa نے فرمایا کہ اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ اسے عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں تو آپ ایک ذمی کو کیوں قتل کرتے ہیں۔ آپa کو ہمیشہ

436

اس کے دجال ہونے کا کھٹکا رہا)}

دجال کا فتنہ چونکہ اپنی نوعیت میں سب سے بڑا فتنہ تھا۔ اس لئے قدرتی لحاظ سے اس میں راویوں کے بیان سے ایک ابہام یہ اور پیدا ہوگیا ہے کہ وہ ابن صیاد تھا یا کوئی دوسرا شخص۔ اس کو براہ راست آنحضرتa کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔ احادیث سے بعض دوسرے مقامات میں بھی ہم کو اس کی نظیر ملتی ہے۔ مثلاً شب قدر، ساعت محمودہ، صلوٰۃ وسطیٰ وغیرہ ان سب کے بارہ میں وثوق کے ساتھ تعین کا کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان امور میں خود آنحضرتa کے علم میں بھی ابہام موجود تھا بلکہ آپa نے تو ان کو بیان فرمایا تھا پھر کسی وجہ سے راویوں کے بیان میں اختلاف ہوا اور اس طرح آخر امت کے لئے اصل معاملہ تکویناً مبہم بن گیا۔ اب جو جدوجہد کرنے والے افراد تھے انہوں نے شب قدر، ساعت محمودہ اور صلوٰۃ وسطیٰ کی تلاش میں اپنی مساعی تیز کر دیں اور جو جو بھی ان کا مصداق بن سکتا تھا۔ کسی تحقیق اور تفصیل کے بغیر ان سب مبہم ساعات میں وہی کوشش صرف کر ڈالی جو کسی ایک ساعت کے معین ہونے کی صورت میں کی جاسکتی تھی اور اس طرح یہ تکوینی ابہام ان کے حق میں ایک رحمت بن گیا۔ اسی طرح ابن صیاد کا معاملہ بھی روایات کے اختلافات کی وجہ سے گومبہم رہا مگر یہ ابہام بھی سعید طبائع کے لئے رحمت بن گیا کیونکہ اس ابہام کا ثمرہ اس سے زیادہ اور کیا ہے کہ وہ دجال اکبر تھا یا نہیں۔ اس سے زیادہ اس ابہام کا دیگر تفصیلات پر کوئی اثر نہیں ہے۔ پس اگر ہم کو معین طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا تو اس کا اقتضاء یہی ہے کہ اب ہم کو اور زیادہ احتیاط لازم ہوگئی۔ دیکھئے اگر اس روایت کی بناء پر ابن صیاد ہی دجال اکبر ہو تو اسی روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کا اثر بقیہ تفصیلات پر اور کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ جب حضرت عمرq نے اس کے قتل کی اجازت مانگی تو آپa نے صاف فرمادیا کہ دجال اکبر کے قاتل ازل سے حضرت عیسیٰؑ مقرر ہوچکے ہیں اور جب یہ ہے تو نہ اللہ تعالیٰ کا علم بدل سکتا ہے اور نہ تم اس کو قتل کر سکتے ہو۔ لہٰذا اس ابہام کو لے کر بقیہ سارے معاملات کو مبہم بناڈالنا کج فہمی اور کج روی کے سوا کچھ نہیں۔ اس حدیث کے بقیہ مباحث کی تفصیل تقدیر کے باب (ترجمان السنۃ) میں گزر چکی ہے۔ آخر میں اتنا اور لکھ دینا کافی ہے کہ بہت سے امور مفزعہ کے پیش آنے پر آپa کے چہرہ پر تردد اور خوف کا نمودار ہوجانا

437

یہ کسی یقین کے مزاحم نہیں کہاجاسکتا۔ نہ ان کو کسی تردد کا باعث قرار دیاجاسکتا ہے۔ (جیسا کہ آئندہ آنے والا ہے)

آپa کا وجود پاک جو عالم کے لئے رحمت ہی رحمت تھا۔ اس کے موجود ہوتے ہوئے قیامت کا قائم ہو جانا کیسے ممکن تھا۔ ’’وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم‘‘ لہٰذا اگر کوئی شخص صرف ان احادیث کو اٹھا کر قیامت کا انکار کر ڈالے یا اس کے وقوع کے تردد میں پڑ جائے تو یہ اس کی نافہمی اور قصور فہم کا سبب ہے۔ اس کو حدیثوں کے سر رکھ دینا امور بدیہہ سے ناواقفی ہے۔ اسی طرح احادیث فتن میں اس قسم کے ابہامات پیش آگئے ہیں کہ اپنی اپنی فہم کے مطابق علماء نے ان کی تعیین میں کسی قدر عجلت سے کام لیا ہے۔ حالانکہ جب نہ حدیث میں ان کے ظہور کا وقت متعین ہے اور نہ ان کی تعیین مذکور ہے تو پھر اپنی جانب سے اس کی تعیین میں عجلت بازی سے کام لے کر اس کو حدیث کی طرف منسوب کر ڈالنا خلاف واقع ہے۔

۱۶… ’’عن ابن عمر قال انطلق النبیa وابی بن کعب بأتیان النخل الذی فیہ ابن صیاد حتٰی اذا دخل النخل طفق النبیa یتقی بجذوع النخل وہو یختل ان یسمع من ابن صیاد شیاء قبل ان یراہ وابن صیاد مضپطجع علٰی فراشہ فی قطیفۃ لہ فیہا رمزمۃ فرأت ام ابن صیاد النبیa وہو یتقی بجذوع النخل فقالت لابن صیاد ای صاف وہو اسمہ فثار ابن صیاد فقال النبیa لوترکتہ بین وقال سالم قال ابن عمر ثم قام النبیa فی الناس فاثنٰی علی اللہ بما ہو اہلہ ثم ذکر الدجال فقال انی انذرکموہ وما من نبی الا وقد انذرہ قومہ لقد انذرہ نوح قومہ ولٰکن ساقول لکم فیہ قولاً لا یقلہ نبی لقومہٖ تعلمون انہ اعور وان اللہ لیس باعور (رواہ البخاری ج۱ ص۴۲۹،۴۳۰، باب کیف یعرض الاسلام الصبی کتاب الجہاد)‘‘ {ابن عمرq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a اور آپa کے ساتھ ابی بن کعبq اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب آپa باغ کے اندر تشریف لائے تو آپa کھجور کے درختوں کی آڑ میں چھپ چھپ کر یہ تدبیر کر رہے تھے

438

کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے آپa اس کی کوئی بات سن لیں۔ ادھر ابن صیاد اپنے بچھونے پر ایک چادر میں لپٹا ہوا اندر اندر کچھ گنگنا رہا تھا۔ اس کی ماں نے آپa کو دیکھ پایا کہ آپa درخت کے تنوں کی آڑ لے رہے ہیں تو فوراً اس نے کہا۔ او صاف! (یہ اس کا نام تھا) ہوشیار۔ بس یہ سن کر ابن صیاد فوراً کھڑا ہوگیا۔ اس پر رسول اللہ a نے فرمایا: اگر اس کی ماں اس کو ہوشیار نہ کرتی تو یہ صاف بات کہہ گزرتا۔ سالمq کہتے ہیں کہ ابن عمرq نے فرمایا اس کے بعد نبی کریمa نے لوگوں میں خطبہ دیا اور خدا کی شان کے مناسب حمدوثناء کی۔ اس کے بعد دجال کا ذکر کیا اور فرمایا میں تم کو اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ حضرت نوحm نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اس سے اپنی قوم کو نہ ڈرایا ہو۔ لیکن ایک بات میں تم کو ایسی صاف بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی۔ وہ یہ کہ تم جان چکے ہو کہ وہ کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہر عیب سے بری ہے۔ اللہ رب العزت کانا نہیں ہوسکتا۔}

۱۷… ’’عن اسماء بنت یزید قالت کان رسول اللہ a فی بیتی فذکر الدجال فقال ان بین یدیہ ثلاث سنین سنۃ تمسک السماء فیہا ثلث قطرہا والارض ثلث نباتہا والثانیۃ تمسک السماء ثلثی قطرہا والارض ثلثی نباتہا والثالثۃ تمسک السماء قطرہا کلہ والارض نباتہا کلہ فلا یبقٰی ذات ضرس ولا ذات ظلف من البہائم الا ہلک وان اشد فتنتہ ان یأتی الاعرابی فیقول ارأیت ان احییت لک ابلک الست تعلم انی ربک قال فیقول بلٰی فیمثل لہ الشیطان نحوا بلہ کاحسن ماتکون ضروعاً واعظمہ اسمنۃ قال ویأتی الرجل قدمات اخوہ ومات ابوہ فیقول ارأیت ان احییت لک اباک واحییت لک اخاک الست تعلم انی ربک فیقول بلٰی فیمثل لہ الشیطان نحوابیہ ونحواخیہ قالت ثم خرج رسول اللہ a لحاجتہ ثم رجع قالت والقوم فی اہتمام وغم مما حدثہم بہٖ قالت فاخذ بلحمتی الباب فقال مہیم اسماء قلت یا رسول اللہ لقد خلعت افئدتنا بذکر الدجال قال ان یخرج وانا حی فانا حجیہ والا فان ربی

439

خلیفتی علٰی کل مؤمن قالت اسماء یا رسول اللہ انا واﷲ لنعجن عجیننا فما نخبزہ حتٰی نجوع فکیف بالمؤمنین یومئذ قال یجزئہم مایجزیٔ اہل السماء من التسبیح والتقدیس (رواہ احمد ج۶ ص۴۵۵،۴۵۶، ابوداؤد والطیالسی)‘‘

{اسماء بنت یزیدt بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ a میرے گھر تشریف فرما تھے۔ آپa نے دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اس کے ظہور سے پہلے تین قحط پڑیں گے۔ ایک سال آسمان کی ایک تہائی بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداوار بھی ایک تہائی کم ہو جائے گی۔ دوسرے سال آسمان کی دوحصے بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداوار دو حصے کم ہو جائے گی اور تیسرے سال آسمان سے بارش بالکل نہ برسے گی اور زمین کی پیداوار بھی کچھ نہ ہوگی۔ حتیٰ کہ جتنے حیوانات ہیں خواہ وہ کھر والے ہوں یا ڈاڑھ سے کھانے والے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اس کاسب سے بڑا فتنہ یہ ہو گا کہ وہ ایک گنوار آدمی کے پاس آکر کہے گا۔ اگر میں تیرے اونٹ زندہ کر دوں تو کیا اس کے بعد بھی تجھ کو یہ یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رب ہوں؟ وہ کہے گا ضرور۔ اس کے بعد شیطان اسی کے اونٹ کی سی شکل بن کر اس کے سامنے آئے گا۔ جیسے اچھے تھن اور بڑے کوہان والے اونٹ ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور شخص کے پاس آئے گا جس کا باپ اور سگا بھائی گزر چکا ہوگا اور اس سے آکر کہے گا۔ بتلا اگر میں تیرے باپ بھائی کو زندہ کردوں تو کیا پھر بھی یہ یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رب ہوں؟ وہ کہے گا کیوں نہیں۔ بس اس کے بعد شیطان اس کے باپ بھائی کی صورت بن کر آجائے گا۔ حضرت اسماءt کہتی ہیں کہ یہ بیان فرما کر رسول اللہ a ضرورت سے باہر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد لوٹ کر دیکھا تو لوگ آپa کے اس بیان کے بعد سے بڑے فکر وغم میں پڑے ہوئے تھے۔ اسماءt کہتی ہیں کہ آپa نے دروازہ کے دونوں کو اڑپکڑ کر فرمایا! اسماءt کہو کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ a! دجال کا ذکر سن کر ہمارے دل تو سینے سے نکلے پڑتے ہیں۔ اس پر آپa نے فرمایا! اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں اس سے نمٹ لوں گا۔ ورنہ میرے بعد پھر ہر مومن کا نگہبان میرا رب ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ a ہمارا حال جب آج یہ ہے کہ ہم آٹا گوندھنا چاہتے ہیں مگر غم کے مارے اس کو اچھی طرح گوندھ بھی نہیں سکتے۔ چہ جائیکہ روٹی پکا سکیں بھوکے ہی

440

رہتے ہیں تو بھلا اس دن مؤمنوں کا حال کیا ہوگا جب یہ فتنہ آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ آپa نے فرمایا: اس دن ان کو وہ غذا کافی ہوگی جو آسمان کے فرشتوں کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس۔}

حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ جب اس عظیم ترین فتنے کا ظہور قریب ہوگا تو جس طرح انبیاءo کے ظہور سے پہلے برکات (ارہاص) کا ظہور شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس فتنے سے پہلے برکات کا خاتمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ بارش، غلہ اور اسی کے ساتھ سب حیوانات ختم ہو جائیں گے۔ اس بے سروسامانی میں وہ اس سازوسامان کے ساتھ آئے گا کہ ایک برباد شدہ کسان کے حیوانات زندہ کر دے گا اور ایک شخص سے اس کے باپ اور بھائی کے دوبارہ زندہ کر دینے کا وعدہ کرے گا۔ اب سوچئے کہ ضعیف انسان کی بے علمی اور اسی کے ساتھ جب افلاس کی سختی بھی یکجا جمع ہو جائے تو اس کی آزمائش کا میدان کتنا سخت ہو جائے گا۔ مردہ کا زندہ کرنا ہی کچھ کم بات نہیں۔ پھر ایک کسان کے لئے اس کے جانور اور ان سے بڑھ کر اس کی اولاد اور اس کے ماں باپ اس سے زیادہ پیاری چیزیں اور کیا ہوسکتی ہیں؟ کون ہے جو اس فتنہ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اگر کہیں حدیث نے اس کی اعجوبہ نمائیوں کا راز فاش نہ کر دیا ہوتا تو آج بھی بہت سے ضعیف الایمان تردد میں پڑ جاتے مگر جب یہ بات صاف ہوگئی کہ یہ سب کچھ شیطانی تصرفات اور شعبدے ہوں گے تو اب کوئی اشکال نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ دجال جب خدائی کا مدعی ہو تو اس کو خدائی کا سامان بھی دکھانا ضروری ہے۔ اس لئے اس کے ساتھ جنت دوزخ کا ہونا بھی ضروری ہے اور مردہ کو زندہ کرنے کا دعویٰ بھی ضروری ہے۔ مگر حدیث کہتی ہے کہ یہ سب کچھ بازیگر کے تماشے سے زیادہ نہ ہوگا۔ چنانچہ جب حضرت عیسیٰؑ تشریف لاکر اس کو قتل کردیں گے تو اس کی خدائی کا یہ سارا ڈھونگ ایک بندہ کے ہاتھوں کھل ہی جائے گا۔

شیاطین اور ان کے تصرفات کی تفصیلات ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ آپ کے ملاحظہ سے گزریں گی۔ مگر اتنی بات اجمالاً یہاں بھی سن لیجئے کہ امور خیر کی تائید فرشتے اور شر کی شیاطین کرتے رہتے ہیں۔ پھر جو طاقت جتنی بڑی مرکزی ہوتی ہے اسی قدر اس اعانت میں بھی قوت اور ضعف کا فرق ہو جاتا ہے۔ اس لئے انبیاءo کی تائید میں سارا عالم ملکوت نظر

441

آتا ہے۔ اس کے بالمقابل دجال کی تائید میں سارا عالم شیاطین ہی ہونا چاہئے۔ جن کی نظر صرف ایک عالم مادی اور اس عالم کے بھی ایک مختصر اور محدود گوشہ میں محصور ہوکر رہ جائے۔ ان بیچاروں کے لئے ان حقائق کا سمجھنا بھی مشکل ہے۔

۱۸… ’’عن المغیرۃ بن شعبۃ قال ماسأل احد النبیa عن الدجال اکثر مما سألتہ وانہ قال لی مایضرک منہ قلت انہم یقولون ان معہ جبل خبزونہر ماء قال انہ اہون علی اللہ من ذٰلک (بخاری ج۲ ص۱۰۵۵، باب ذکر الدجال، مسلم ج۲ ص۴۰۳، باب ذکر الدجال)‘‘ {حضرت مغیرۃ بن شعبہq کہتے ہیں کہ دجال کے متعلق جتنے سوالات میں نے جناب رسول اللہ a سے کئے ہیں اتنے کسی اور شخص نے نہیں کئے۔ آپa نے فرمایا کہ دجال بھلا تم کوکیا نقصان پہنچا سکے گا۔ میں نے عرض کی لوگ تو یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی۔ (یعنی قحط میں رزق کا پورا سامان ہوگا) آپa نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیر اور ذلیل تر ہے کہ اس کو یہ سازوسامان ملے (جو ہوگا اس کی حقیقت سب شعبدہ بازی اور نظربندی سے زیادہ نہ ہوگی۔ جیسے ساحرین فرعون کی رسیوں کی)}

۱۹… ’’وعن ابی سعید الخدری قال لقیہ رسول اللہ a وابوبکر وعمر یعنی ابن صیاد فی بعض طرق المدینۃ فقال لہ رسول اللہ a اتشہد انی رسول اللہ فقال ہو اتشہد انی رسول اللہ فقال رسول اللہ a اٰمنت باﷲ وملائکتہٖ وکتبہٖ ماذا تریٰ قال ارٰی عرشا علی الماء فقال رسول اللہ a ترٰی عرش ابلیس علی البحر قال وماترٰی قال ارٰی صادقین وکاذباً اوکاذبین وصادقاً فقال رسول اللہ a لیس علیہ فدعوہ (رواہ مسلم ج۲ ص۳۹۷، باب ذکر ابن صیاد)‘‘ {ابوسعید خدریq سے روایت ہے کہ آنحضرتa اور ابوبکرq وعمرq کا اور ابن صیاد کا مدینہ کے کسی راستے میں کہیں آمنا سامنا ہوگیا تو رسول اللہ a نے ابن صیاد سے فرمایا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں یقینی اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ اس پر وہ بدبخت بولا: اچھا کیا آپa اس کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس کا یہ جملہ سن کر آپa نے فرمایا: میں تو اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں پر اور

442

سب کتب پر ایمان لاچکا۔ (اس کے بعد آپa نے اس سے پوچھا) بھلا تجھے نظر کیا آتا ہے؟ وہ بولا مجھ کو پانی پر عرش (ایک تخت) نظر آتا ہے۔ آپa نے فرمایا یہ تو عرش ابلیس ہے جو تجھ کو سمندر پر نظر آتا ہے۔ اچھا تجھ کو اور کیا نظر آتا ہے؟ وہ بولا میرے پاس دو سچے ایک جھوٹا یا دو جھوٹے تو ایک سچا شخص نظر آتا ہے۔ آپa نے فرمایا چھوڑو اس کو خود ہی اپنی حقیقت کا پتہ نہیں۔}

آنحضرتa نے یہاں سب سے پہلے اس سے اپنی رسالت کے متعلق سوال کیا کہ مقبول یا مردود ہونے کا سب سے پہلا معیار یہی ہے۔ مگر اس نے شروع ہی سے نامعقول بات شروع کی اور اپنے متعلق آپa سے یہی سوال کیا۔ اس پر آپa کا جواب کتنا بلیغ تھا کہ آپa نے کسی بے اصل بات کو قابل تردید بھی نہیں سمجھا۔ کیونکہ تردید بھی اسی بات کی کی جاتی ہے جس کا کوئی امکان بھی ہو۔ لہٰذا آپa نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ظہور کر کے اس کو صحیح جواب بھی دے دیا اور خاص اس کے سوال کے جواب سے اعراض بھی کر لیا۔ اس کے بعد جب آپa نے مزید تحقیق فرمائی تو اس نے ایک عرش دیکھنا بتایا۔ آپa نے وضاحت فرمادی کہ وہ تو عرش شیطان ہے۔ اس نے بھی اپنے اعوان وانصار کے لئے ایک عرش بچھارکھا ہے۔ اس کے بعد جب آپa نے اس کے پاس خبریں لانے والے کے متعلق سوال کیا تو بات بالکل صاف ہوگئی۔ کیونکہ نبی کو خبر دینے والے میں کاذب ہونے کا احتمال ہی نہیں ہوتا۔ وہ صادق ہی صادق ہوتا ہے جس کو دو سچی اور ایک جھوٹی یا اس کے برعکس خبریں معلوم ہوں تو یہ اس کے کاہن ہونے کی دلیل ہے۔ اس لئے اس کے بعد آپa نے اس سے اور کوئی سوال نہیں کیا اور بات صاف ہوگئی۔ اس حدیث میں ایک قابل غور بات یہ بھی نکلتی ہے کہ ابن صیاد کی دجالیت کی علامات میں تدریج بھی ہے۔ جیسا کہ ’’وقد نفرت عینہ‘‘ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی پر دوسری علامات کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔

۲۰… ’’عن ابی سعید الخدری ان ابن صیاد سأل النبیa عن تربۃ الجنۃ فقال درمکۃ بیضاء مسک خالص (رواہ مسلم ج۲ ص۳۹۸، باب ذکر ابن صیاد، حدیث نمبر:۲۹۲۸)‘‘ {ابوسعید خدریq سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے

443

رسول اللہ a سے پوچھا جنت کی مٹی کیسی ہے؟ آپa نے فرمایا کہ وہ میدہ کی طرح سفید اور مشک خالص کی طرح خوشبودار ہے۔}

۲۱… ’’عن ابن عمر قال لقیتہ ونفرت عینہ فقلت متٰی فعلت عینک ماارٰی قال لا ادری قال قلت لاتدری وہی فی رأسک قال ان شاء اللہ خلقہا فی عصاک قال فنخر کاشد نخیر حمار سمعت (رواہ مسلم ج۲ ص۳۹۹، باب ذکر ابن صیاد)‘‘ {ابن عمرq کہتے ہیں کہ ابن صیاد کو جب میں نے دیکھا تھا تو اس وقت اس کی آنکھ خراب ہوچکی تھی۔ میں نے پوچھا تیری یہ آنکھ کب خراب ہوئی؟ اس نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ میں نے کہا اچھا وہ تیرے سر میں ہے اور پھر بھی تجھ کو معلوم نہیں؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تیری لکڑی میں اسے پیدا فرمادے۔ یہ کہہ کر اس نے ایک ایسی زور کی آواز نکالی جیسے گدھے کی زور کی چیخ ہوتی ہے۔}

۲۲… ’’عن سالم عن ابیہ عبداﷲ ابن عمر ان رسول اللہ a قال بین انا نائم اطوف بالکعبۃ فاذا رجل اٰدم سبط الشعر بین رجلین ینطف اویہراق رأسہ ماء قلت من ہذا قالوا ابن مریم فذہبت التفت فاذا رجل احمر جسیم جعد الرأس اعور عینہ الیمنٰی کأن عینہ عنبۃ طافئۃ فقلت من ہٰذا قالوا ہذا الدجال واقرب الناس بہٖ شبہا ابن قطن قال الزہری رجل من خزاعۃ (رواہ البخاری ج۱ ص۴۸۹، باب اذکر فی الکتاب مریم کتاب الانبیاء)‘‘ {ابن عمرq روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں سورہا تھا اور خواب میں طواف کر رہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہیں گندم گوں رنگ، سیدھے سیدھے بال۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں حضرت عیسیٰ بن مریم (m) پھر جو میری توجہ ذرا دوسری طرف گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا لمبا چوڑا آدمی، سرخ رنگ، سخت گھونگروالے بال، آنکھ سے کانا، ایک آنکھ ایسی تھی جیسا ابھرا ہوا انگور۔ لوگوں نے بتایا یہ ہے دجال اکبر اور سب سے زیادہ مشابہ شخص دیکھنا چاہو تو بس خزاعۃ قبیلہ کا یہ عبدالعزی بن قطن ہے وہ ٹھیک اسی صورت کا تھا۔}

444

دوسری حدیثوں میں حضرت عیسیٰؑ کے متعلق آپa نے فرمایا ہے کہ وہ عروۃ بن مسعودq کے بہت مشابہ ہیں۔ اس حدیث کی تشبیہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان ہر دو افراد سے مراد خاص خاص اشخاص ہیں۔ قوم انگریز یا وہ شخص مراد نہیں جو عیسیٰ ابن مریم کی صفات یا ہیئت کا حامل نہ ہو۔ جیسا کہ یہاں بعض مدعین کا دعویٰ ہے۔

۲۳… ’’عن عائشۃ اخبرتہ قالت دخل علیّٰ رسول اللہ a وانا ابکی فقال لی مایبکیک قلت یا رسول اللہ ذکرت الدجال فبکیت فقال رسول اللہ a ان یخرج الدجال وانا حی کفیتکموہ وان یخرج الدجال بعدی فان ربکم عزوجل لیس باعور انہ یخرج فی یہودیۃ اصفہان حتٰی یأتی المدینۃ فینزل ناحیتہا ولہا یومئذ سبعۃ ابواب علٰی کل نقیب منہا ملکان فیخرج الیہا شرار اہلہا حتٰی الشام مدینۃ بفلسطین بباب لد وقال ابوداؤد مرۃ حتٰی یأتی فلسطین بباب لد فینزل عیسیm فیقتلہ ثم یمکث عیسیm فی الارض اربعین سنۃ اماماً عدلاً وحکماً ومقسطاً (مسند احمد ج۶ ص۷۵)‘‘ {حضرت عائشہt بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ a میرے گھر تشریف لائے۔ دیکھا تو میں رو رہی تھی۔ آپa نے پوچھا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ a آپ نے دجال کا ذکر اس طرح فرمایا کہ اس غم میں مجھ کو بے ساختہ رونا آگیا۔ آپa نے فرمایا: اگر وہ نکلا اور میں اس وقت موجود ہوا تو تمہاری طرف سے میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اگر وہ میرے بعد نکلا تو پھر یہ بات یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔ (وہ کانا ہوگا) جب وہ نکلے گا تو اس کے ساتھی اصفہان کے یہود ہوں گے۔ یہاں تک کہ جب مدینہ آئے گا تو یہاں ایک طرف آکر اترے گا۔ اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازہ پر دو دو فرشتے نگران ہوں گے (جو اس کو اندر آنے سے مانع ہوں گے) مدینہ میں جو بداعمال لوگ آباد ہیں وہ نکل کر خود اس کے پاس چلے جائیں گے۔ اس کے بعد وہ فلسطین میں باب لد پر آئے گا۔ عیسیٰؑ نزول فرماچکے ہوں گے اور یہاں وہ اس کو قتل کریں گے۔ پھر عیسیٰؑ چالیس سال تک ایک منصف امام کی حیثیت سے زمین پر زندہ رہیں گے۔}

۲۴… ’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a ینزل عیسی ابن مریم ویمکث فی الناس اربعین سنۃ (اخرجہ الطبرانی واحمد ج۲ ص۴۳۷، ابن جریر ج۶ ص۱۶، درمنثور ج۲ ص۲۴۲، فتح الباری ج۶ ص۳۵۷، التصریح ص۱۴۰، مرقات الصعود ص۱۹۸)‘‘ {حضرت ابوہریرہq بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ عیسیٰؑ آسمان سے اتریں گے اور لوگوں میں چالیس سال تک رہیں گے۔}

۲۵… ’’عن ربعی بن حراش قال قال عقبۃ بن عمرو لحذیفۃ الا تحدثنا ماسمعت من رسول اللہ a قال انی سمعتہ یقول ان مع الدجال اذا خرج ماء وناراً فاما الذی یری الناس انہا النار فماء بارد واما الذی یری الناس انہ ماء بارد فنار تحرق فمن ادرک ذالک منکم فلیقع فی الذی یٰری انہا نار فانہ عذب بارد (رواہ البخاری ج۱ ص۴۹۰) وزاد مسلم وان الدجال ممسوح العین علیہا ظفرۃ غلیظۃ مکتوب بین عینیہ کافر یقرأ کل مؤمن کاتب اوغیر کاتب وفی روایۃ بین عینیہ ک،ف،ر وفی روایۃ الکاف والفاء والراء (مسلم ج۲ ص۴۰۰، باب ذکر الدجال)‘‘ {ربعی بن حراشv سے روایت ہے کہ عقبۃ بن عمروq نے حذیفہq سے کہا کہ آپ نے دجال کے متعلق جو بات آنحضرتa سے سنی تھی وہ ہم کو بھی سنادیجئے۔ انہوں نے کہا میں نے آپa کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ دونوں ہوں گے۔ مگر لوگوں کو جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جس کو لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جھلسا دینے والی آگ ہوگی۔ لہٰذا تم میں جس کو بھی یہ زمانہ ملے اس کو چاہئے کہ جو آگ معلوم ہورہی ہو اسی میں داخل ہو جائے۔ کیونکہ درحقیقت وہ آب خنک ہو گا۔ یہاں مسلم کی روایت میں اتنا اضافہ اور ہے کہ دجال کی ایک آنکھ میں موٹا سا ناخونہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر کے حروف علیحدہ علیحدہ لکھے ہوئے ہوں گے۔ جس کو ہر مومن پڑھ لے گا۔ چاہے وہ خواندہ ہو یا ناخواندہ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ’’ک،ف،ر‘‘ اور ایک روایت میں ’’کاف، الف، را‘‘ ہوگا۔}

دجال کا فتنہ جتنا عظیم الشان ہے قدرت کی طرف سے اس کی شناسائی کے نشان

445

اتنے ہی زیادہ ہیں۔ الفاظ مسلم پر ایک بار پھر نظر ڈال لیجئے۔ لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ عالم تقدیر بینا کو نابینا بناسکتا ہے۔ جب اپنے قلب کی آنکھیں خود نابینا ہوں تو ’’ک،ف،ر‘‘ کے الفاظ کیا نظر آئیں۔ لفظ: ’’بین عینیہ‘‘ تقدیری کتابت کے لئے شاید کچھ مخصوص ہے۔ اسی لئے یہی عمروغیرہ کے لئے محل کتابت ہے اور حضرت داؤدm کی ازلی سعادت اسی مقام پر حضرت آدمm کو شاید اسی لئے نظر آگئی ہو۔ پہلے یہ سب تفصیلات گزر چکی ہیں۔ عرف عام میں ہائے کہہ کر اپنی پیشانی پر ہاتھ مارنا شاید اسی لئے رواج پاگیا ہوگا۔ صحیح مسلم کی یہ صحیح حدیث ہمارے اس بیان کے لئے شاہد ہے۔ مگر یاد رہے کہ اس میں گوپڑھے لکھے ہونے کی شرط نہ سہی مگر مومن ہونے کی قید موجود ہے۔ عجب نہیں کہ یہی مومن کے ایمان کے تحفظ اور کافر کی محرومی کا سبب ہو اور یہی ایک اور عظیم فتنہ کا باعث بن جائے۔ یہ جملہ امور اگرچہ احادیث میں گو صراحۃً مذکور نہ ہوں مگر اس کی طرف صراحۃً اشارہ کے قریب ہے۔ انہی سطور میں دجال کی حقیقت کے ساتھ ابن صیاد کی احادیث کے ذکر نہ کرنے کی طرف حافظ ابن حجرv کا لطیف بیان گزر چکا ہے۔ اگر آپ فتن کی حقیقت سمجھتے ہیں اور ان کی احادیث کی طرف نظر رکھتے ہیں تو ایک ثابت شدہ حقیقت کے انکار سے دوسری ایک حقیقت کے انکار کی راہ نہ لیں گے۔ یعنی فتنہ دجال کے خروج کے جتنے اسباب صراحت کے ساتھ ذکر میں آچکے ہیں وہ ایک ابن صیاد کی حقیقت کے مبہم رہنے کی وجہ سے مفت میں ان کا انکار نہ فرمائیں گے۔ اگراحادیث میں کہیں ابن صیاد کے دجال ہونے میں آپ کو شبہ گزرتا ہے تو آپ کی نظروں میں نفس دجال کی غیرمشتبہ حقیقت کو مشتبہ نہ ہونا چاہئے۔ اس جگہ کم ازکم ایک منصف کے لئے حقیقت یہ ہے کہ دجال اگر قوم کا لقب ہو تو ابن صیاد کے متعلق حدیثیں اس کی تردید کے لئے کافی ہیں۔ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا کہ ابن صیاد کسی قوم کا لقب تھا اور نہ اس کے وجود شخصی کے دیکھ لینے کے بعد اور اس کے والدین کے نام ونسب کی تحقیق کے بعد اس کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ پھر ابن صیاد کے دجال کہنے سے احادیث صحیحہ کے انکار کے سوا اور فائدہ کیا؟ جب کہ احادیث صحیحہ میں یہ بیان موجود ہے کہ اس کا قاتل عمرq جیسا شخص بھی نہیں ہوسکتا بلکہ عیسیٰ ابن مریمm مقرر ہیں اور وہ بھی اس ثبوت کے لئے اپنے نیزہ میں اس کا خون دکھا دکھا کر یہ یقین دلائیں گے کہ میں جو عالم تقدیر میں اس کا قاتل مقرر ہو چکا ہوں وہ کوئی معنوی قتل نہیں ہے جو صرف کتابوں کے لکھ دینے سے پورا ہو جاتا بلکہ ایک حسی قتل ہے۔

446

دجالی فتنہ

یہ واضح رہنا چاہئے کہ وہ دجالی فتنہ جس کا حدیثوں میں تذکرہ آتا ہے اور جس سے تحفظ کا علاج سورۂ کہف کی تلاوت کرنا قرار دیا گیا ہے۔ وہ اسی کے دورمیں ظہور پذیر ہوگا جب کہ ایک طرف وہ خدائی کا دعویٰ اور اس سے پہلے رسالت کا دعویٰ کرے گا اور اس کے ساتھ ایسے خارق عادات افعال بھی دکھلائے گا جو بظاہر اس کے دعوے کے مؤید نظر آئیں گے اور اس وجہ سے بہت سے لوگوں کے ایمان متزلزل ہو جائیں گے۔ ہمارے زمانے میں مادی ترقیات خواہ کتنی بھی ہو جائیں وہ سب مادی قوانین کے تحت ہیں ان کو دجالی فتنہ سمجھنا بالکل بے محل بلکہ خلاف واقع بات ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ موجودہ زمانے میں جو جدید ایجادات سامنے آرہی ہیں وہ عجیب سے عجیب تر ہیں۔ لیکن موجودہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں سب ہی اس میں شریک ہیں اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے سے مسابقت میں خوب سرگرم ہیں اور ابھی یہ فیصلہ نہیں کیاجاسکتا کہ اس میدان کا ہیرو کون ہے؟ اس لئے بھی ان میں سے کسی کو دجالی فتنہ قرار دینا قبل ازوقت ہے بلکہ ان کو اس کے مقدمات میں شمار کرنا بھی صحیح نہیں۔ اس کا مقدمہ دینی جہل، ضعف ایمانی اور طغیانی طاقتوں کا ہمہ گیر اقتدار ہے۔

حدیثوں میں صاف طور پر مذکور ہے کہ دجال خود یہودی النسل ہوگا اور اس کے تمام متبعین بھی سب یہود ہی ہوں گے اور من حیث القوم وہی اس پر ایمان لائیں گے۔ اس لئے دجالی فتنہ کا مرکز درحقیقت یہود ہیں اور اس لئے ہمارے زمانے میں یہودی مملکت کا قیام اور ان کی متفرق طاقتوں کا ایک مرکز پر جمع ہونا اوراسی جگہ جمع ہونا جہاں عیسیٰؑ کا ظہور مقدر ہے۔ اگر اس کو دجالی فتنہ کا مقدمہ کہا جائے تو بجا ہوگا۔ اب رہے نصاریٰ تو وہ ابھی تک عیسائیت کے کم ازکم دعویدار ضرور ہیں اور گو حیوانیت کے آخری نقطہ پر پہنچ چکے ہیں۔ مگر ان کا زبانی دعویٰ اب بھی صلیب پرستی ہی کا ہے۔ ادھر روس گومدعی الوہیت تو نہیں لیکن اس سے بڑھ کر خدائے برحق کا علی الاعلان منکر بھی کوئی نہیں۔ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی تشریف آوری کے بعد عیسائی تو ان پر ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ:’’وان من اہل الکتٰب (نساء:۱۵۹)‘‘ کی تفسیر میں آپ پہلے ملاحظہ فرماچکے ہیں اور یہودی ایک ایک کر کے قتل ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی درخت کی آڑ میں چھپ کر پناہ لینا چاہے گا تو وہ درخت بول اٹھے گا۔

447

دیکھو میرے پیچھے یہ یہودی ہے اس کو بھی قتل کردو۔ اس سوانح حیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دجالی فتنہ کا تمام تر تعلق یہود کے ساتھ ہوگا۔ ہمارے زمانے کی مادی ترقیاتی کے ساتھ اس کا تعلق کچھ نہیں ہے اور نہ ان اقوام میں سے خاص طور پر کسی ایک قوم کے ساتھ ہے جن کے ذریعہ یہ ترقیات سامنے آرہی ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ پھر سورۂ کہف کے اور اس فتنہ سے تحفظ کے درمیان ربط کیا ہے؟ کہ اسی کی تلاوت کو اس سے تحفظ کا سبب قرار دیا گیا ہے تو اوّلاً اصولاً یہ سمجھ لیجئے کہ خوارق جس طرح خود سببیت اور مسببیت کے علاقہ سے باہر نظر آتے ہیں۔ اسی طرح جو افعال ان کے مقابل ہیں وہ بھی سببیت کے علاقہ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ مثلاً نظر کا لگنا سب جانتے ہیں کہ یہ صحیح حقیقت ہے اور گو علماء نے اس کی معقولیت کے اسباب بھی لکھے ہیں مگر بظاہر اس کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا۔ اسی لئے بہت سے اشخاص تواب تک اس کے قائل ہی نہیں اور اس کو صرف ایک وہم پرستی اور تخیل سمجھتے ہیں لیکن اس کے دفعیہ کے لئے جو سورتیں مجرب ہیں وہ بھی اکثر اسی طرح غیرقیاسی ہیں۔ اسی طرح سمّی جانوروں کے کاٹے کے جو منتر اور افسوں ہیں وہ اکثر یا تو بے معنی ہیں اور جن کے معنی کچھ مفہوم ہیں بھی ان میں سمیّت دفعہ کرنے کا کوئی سبب ظاہر نہیں ہوتا۔

حدیثوں میں بہت سی سورتوں کے خواص مذکور ہیں۔ مثلاً سورۂ فاتحہ کہ وہ بہت سے لاعلاج امراض کے لئے شفا ہے۔ اب یہاں ہر جگہ اس مرض اور اس سورت کے مضامین میں مناسبت پیدا کرنے کے لئے زمین وآسمان کے قلابے ملانا بیکار کی سعی ہے۔ پھر اسی قسم کی ذہنی مناسبات انسانی دماغ ہرجگہ نکال سکتا ہے۔ اس لئے ہمارے نزدیک اس کاوش میں پڑنا مفت کی دردسری ہے۔ لیکن باایں ہمہ اگر سورۂ کہف اور دجالی فتنہ کے درمیان کوئی تناسب معلوم کرنا ہی ناگزیر ہو تو پھر بالکل صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ اصحاب کہف بھی کفر وارتداد کے ایک زبردست فتنہ میں مبتلا ہوئے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کے دل مضبوط رکھے اور اسلام پر ان کو ثابت قدم رکھا۔ جیسا کہ اس سورت کے شروع ہی میں ارشاد ہے: ’’وربطنا علٰی قلوبہم اذقاموا فقالوا ربنا رب السمٰوٰت والارض لن ندعوا من دونہ اٰلہاً لقد قلنا اذا شططاً (الکہف:۱۴)‘‘

448

پس جس طرح صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ محفوظ رہے تھے اسی طرح جب دجال کا سب سے زبردست ارتداد کفر کا فتنہ نمودار ہوگا تو اس وقت بھی صرف امداد الٰہی ہی سے لوگوں کے ایمان مضبوط رہیں گے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ اس سورۃ کا نزول کفار کی فرمائش پر ہوا تھا۔ اس لئے یہ قصے ان کے جواب میں ذکر کئے گئے ہیں اور اس مناسبت کا یعنی فتنہ دجال اور سورۂ کہف سے اس سے تحفظ کا کہیں ذکر نہیں آتا۔ صرف ایک قیاس آرائی اور قافیہ بندی ہی کہا جاسکتا ہے اور جس کو حدیث وقرآن سے کوئی مناسبت نہ ہو وہ ان بے تکی باتوں میں پڑ سکتا ہے۔ دجال سے قبل یہی چند نشانیاں نہیں بلکہ بہت سی علامات مذکور ہیں جن کے اور دجال کے درمیان جوڑ لگانا ایک بڑی دردسری ہے۔ یہاں قرآن کریم نے اپنی صفات میں سے جہاں اپنا قیم ہونا ذکر فرمایا ہے اور عیسائیت کی تردید فرمائی ہے وہ قرآن کے عام مضامین میں سے ایک اہم مضمون ہے جو متعدد اسالیب سے متعدد سورتوں میں مذکور ہے۔ لیکن ان سورتوں کی تلاوت کو کہیں یاد نہیں آتا کہ دجالی فتنے کے تحفظ کے لئے شمار کیا گیا ہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہو نہ ہو اس سورۂ خاصہ میں کوئی سبب دوسرا ہوگا۔ ابھی آپ سن چکے ہیں کہ اس سورت کے اوّل میں چند اشخاص کے تحفظ ایمان کی ایسی عجیب صورت مذکور ہے جس کو قرآن نے اپنے الفاظ میں یوں ادا فرمایا ہے: ’’وتحسبہم ایقاظاً وہم رقود (الکہف:۱۸)‘‘

گو کہ یہ واقعہ قدرت الٰہیہ کے سامنے کچھ تعجب خیز نہ ہو لیکن ایک ضعیف البنیان انسان کے لئے ایک ایسا واقعہ ہے کہ اگر وہ اس کی نظروں میں تعجب خیز نظر آئے تو کچھ تعجب نہیں۔ اس واقعہ کو ذکر فرما کر قرآن کریم نے جو نتیجہ خود اخذ کیا ہے وہ اثبات قیامت ہے۔ چنانچہ اس قصے کو پورا ذکر فرماکر ارشاد فرمایا: ’’وکذلک اعثرنا علیہم لیعلموا ان وعد اللہ حق وان الساعۃ لا ریب فیہا (الکہف:۲۱)‘‘ اور دجال کی طرف کہیں اشارہ تک یاد نہیں آتا۔ ہاں! حدیث میں بے شک اس سورت کے اوائل کے ساتھ اس کے اواخر کا تذکرہ ملتا ہے۔ اب اگر اوائل میں کھینچا تانی کر کے عیسائیت کو دجال کا فتنہ قرار دے ڈالا جائے تو پھر اس کے اواخر کے متعلق کیا کہا جائے گا۔ جس میں عیسائیت کی تردید پر کوئی

449

زور نہیں دیاگیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دجالی فتنے سے اور عیسائیت کی تردید سے یہاں کوئی تعلق نہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس فتنے میں روس عیسائیوں سے دو قدم آگے نظر آتا ہے تو پھر یہ بے جوڑ بات کہنے کی ضرورت کیا؟ اور عیسائیوں کے تقدم کو اس کی انتہائی شناعت کے باوجود دجالی فتنہ قرار دے ڈالنے سے غرض کیا؟

اصل یہ ہے کہ بہت سی قومیں جب دجال کا ظہور نہ پاسکیں تو انہوں نے دجال کی احادیث کی پیش گوئیاں پورا کرنے کے لئے خواہ مخواہ کی یہ زحمت اٹھائی۔ یہ زحمت اس زحمت سے کم نہیں جنہوں نے عیسیٰؑ کا نزول اپنے زمانے میں نہ دیکھ کر خود عیسیٰ ابن مریم بننے کی سعی ناتمام کی۔ اگرچہ ان کے اور عیسیٰؑ کے مابین شہر اور نام اور کام اور محل دفن وغیرہ کا اختلاف ہی کیوں نہ ہو مگر اس پر بھی آخرکار انہوں نے ایک عیسیٰ ابن مریم تجویز ہی کر لیا اور لاکھوں انسانوں نے ان کی اس بدیہی غلطی میں تقلید ہی کر ڈالی۔ اسی طرح یہاں عیسائیوں کا جرم تو مسلم ہے مگر انہی کو دجالی فتنہ قرار دے ڈالنا پھر سورۂ کہف کی تلاوت کو اس سے تحفظ کا سبب سمجھ لینا یہ علمی غلطی ہے۔ جس کا نہ احادیث سے کوئی پتہ لگتا ہے اور نہ تاریخ سے کوئی ثبوت۔

ہاں! اگر صرف قیاس آرائی کافی ہو تو بات دوسری ہے ورنہ عیسائیوں کو تو ان پر ایمان لانا ہے۔ ہاں! یہودیوں کو ان کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جانا ہے اور اس طرح ان دونوں قوموں کا حشر آنکھوں کو نظر آنا ہے۔ پھر دجالی فتنے کوان پر منطبق کرنا کہاں تک صحیح ہوسکتا ہے؟ کچھ گنجائش ہے اور دجالی فتنے کو کسی فریق پر منطبق کرنا ہی ہے تو یہود کے حق میں اس کا کوئی امکان پیدا ہو سکتا ہے اور بس۔

والحمد ﷲ اوّلاً واٰخراً

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا محمد واٰلہ واصحابہ الذین فی اوّلہم نبیہم واٰخرہم الامام المہدیm (واما الدجال الاکبر فہو من الیہود لیس منا ولسنا منہ لعنہ اللہ لعناً کبیراً)

چہار شنبہ ۱۲؍محرم الحرام ۱۳۸۵ھ،

بمطابق ۱۲؍مئی ۱۹۶۵ء، المدینۃ المنورہ

450

نور ایمان

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

451

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ اما بعد!

قادیانی جماعت کے لاٹ پادری مرزاغلام احمد قادیانی کے بیٹے اور قادیانی جماعت کے دوسرے گرو مرزامحمود نے ندائے ایمان نامی ایک مضمون تحریر کیا۔ جس کا محدث کبیر حضرت مولانا سید بدرعالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ نے ’’نور ایمان‘‘ کے نام سے جواب تحریر فرمایا۔ صدائے ایمان از شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور نور ایمان از محدث کبیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ ایک ساتھ پمفلٹ کی شکل میں شائع ہوئے تھے۔ ’’صدائے ایمان‘‘ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اب ’’نور ایمان‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ ۱۳۵۰ھ میں شائع ہوئے تھے۔ اب نایاب تھے۔ شامل کتاب کرنے کی سعادت پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔فلحمدﷲ!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’یریدون لیطفوا نور اللہ بافواہہم۔ واﷲ متم نورہٖ ولوکرہ الکٰفرون (الصف:۸)‘‘

زمیندار کی ایک تازہ اشاعت میں مرزامحمود قادیانی کا مضمون ’’ندائے ایمان‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ جسے دیکھ کر مجھے ان کے فلسفہ توہین وعظمت رسول پر حیرت ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو وہ انتہائی جذبہ عقیدت ومؤدت میں حیات مسیحm جیسے مسلّم ومحکم عقیدہ کی خاتم الانبیاءa کی توہین اور ہتک عزت کا موجب سمجھتے ہیں اور دوسری طرف نہایت بے باکانہ وسفاکانہ لہجہ میں سرورکائناتa کے ایک مخلص اور سچے جان نثار کو کافر، جہنمی قرار دے دیتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا جذبہ محبت ظاہر کرنے والا نبوت محمدی کے تسلیم کرلینے والے کو کسی جدید نبوت کے انکار سے کیسے کافر کہہ سکتا ہے۔ حالانکہ حیات مسیحm کے عقیدہ کو تو نبی کریمa کی توہین سے دور کا بھی کوئی علاقہ نظر نہیں آتا۔ ہزاروں

452

انبیاء لاکھوں صلحاء گزر گئے لیکن کیا موجودہ زندہ رہنے والے انسانوں کو ان پر اس لئے کوئی فضیلت حاصل ہوسکتی ہے کہ یہ زندہ ہیں اور وہ وفات شدہ۔ اس لئے ہم یہ رائے قائم کر لینے پر مجبور ہیں کہ آپ کے نزدیک معیار توہین وعظمت صرف یہ ہے کہ جس طریق سے مسیحیت جدید کا راستہ صاف ہو وہ عظمت ہے اور جس مسئلہ سے اس راستہ میں کوئی ادنیٰ رکاوٹ پیش آئے وہ توہین اور ہتک عزت ہے۔

حیات مسیحm کا عقیدہ بھی چونکہ نہ صرف مرزاغلام احمد قادیانی کی مسیحیت بلکہ اس قسم کے ہر کاذب مدعی کے لئے سدّراہ ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اسے آپ بھی ایک رکاوٹ سمجھ کر موجب توہین قرار دیں اور اسی لئے ایسے مدعیوں کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ پہلے اسی مسئلہ سے لوگوں میں تنفر پیدا کریں۔ تاکہ اپنی مسیحیت کی بنیاد قائم کرنے کے لئے ان کا دوسرا قدم ناکام نہ رہے۔ اسی لئے شریعت مصطفویہa نے پہلا بند اسی دروازہ پر قائم کیا ہے۔ جہاں سے مدعیان مسیحیت کاذبہ کی آمد کا سب سے اوّل خطرہ تھا اور وہ یہی مسئلہ حیات مسیح ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حق کی ایک کڑی دوسری کڑی سے ملی ہوئی ہے اور اسی طرح ایک باطل دوسرے باطل سے وابستہ ہے۔

’’قالa وایّٰاکم ومحدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وفی حدیث انسq عند الترمذی ثم قال یا بنی وذلک من سنتی ومن احب سنتی فقد احبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ‘‘

حیات مسیحm کے عقیدہ کے بعد حق کی دوسری کڑی مدعیان مسیحیت کاذبہ کی تکذیب ہے۔ ختم نبوت کا اعتقاد راسخ ہے۔ نبی کریمa کی عظمت اور ان کے جلال کا تسلیم کرنا ہے۔ قرآن شریف کی آیات اور احادیث کے ایک ذخیرہ پر خدا اور اس کے رسول کی مرضی کے مطابق ایمان لانا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف وفات مسیح کے مان لینے کے بعد دوسرا باطل جو ہمارے سامنے ہے وہ مدعیان مسیحیت ونبوت کی ایک قطار ہے۔ قصر ختم نبوت کا ہدم ہے۔ مسیح برحق کا انکار ہے۔ قرآن شریف کی نصوص صریحہ سے روگردانی ہے اور سب سے آخر میں رسول اللہ a کے اس پر عظمت جلال کا انکار ہے جو آخری زمانہ میں عالم آشکارا ہونے والا ہے اور جس کے ساتھ اتحاد ملل ومذاہب وابستہ اور وحدۃ دین موجود ہے۔ ’’قال تعالٰی وان من اہل الکتٰب الا لیؤمننّٰ بہٖ قبل موتہٖ (النساء:۱۵۹)‘‘

453

اس کے بعد آپ غالباً بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ a کی صدہا پیش گوئیوں میں سے مسیحm کی آمد کی پیش گوئی کو تقریباً (۷۰) (بلکہ سو سے بھی زائد) احادیث میں کیوں مکررسہ کرربیان کیاگیا ہے۔ حالانکہ اس کی حیثیت ایک پیش گوئی ہونے کے سوا اور کیا ہے۔ پھر پیش گوئی ایک یہی نہیں اور بھی بہت تھیں۔ اسی کو کیا اختصاص تھا کہ اس کثرت کے ساتھ اس کو بیان کیاگیا؟ اور اس کے بالمقابل مدعیان مسیحیت کو آخر اسی مخصوص مسئلہ سے چڑکیوں ہے؟ اور کیوں زبردستی کبھی توہین کی دھمکی دے کر، کبھی عقل کے خلاف ٹھہرا کر، اور کبھی قرآن وحدیث کے مخالف قراردے کر، اور کبھی عیسائیوں کی موافقت سے ڈر کر اس مسئلہ سے متنفر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟

افسوس نہ تھا اگر اس اہم مسئلہ توہین وعظمت رسول میں اس ’’سیاسی‘‘ دلسوزی کے ساتھ علمیت کا بھی کچھ رنگ ہوتا کہ جواب دینے کے لئے ہم جیسے غلامان محمدa ابھی ہزاروں زندہ موجود ہیں۔ لیکن افسوس و اس پر ہے کہ جن امور سے اس عقیدہ اہم ومہم کو توہین قرار دیا گیا ہے وہ ایک احمق سے احمق کے لئے بھی قابل تمسخر ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ عیسیٰؑ کو اس قدر طویل العمر اور زندہ سمجھنا نبی کریمa سے افضل ٹھہرانا ہے۔ یہ ٹھیک ایسا ہی استدلال ہے جیسا کہ نبی کریمa کے صاحبزادہ ابراہیم (m) کو حالت رضاعت میں وفات شدہ ماننا اور مرزاغلام احمد قادیانی کے صاحبزادہ کو باایں ریش وفش جیتا جاگتا تسلیم کرنا آپ کی توہین کرنا ہے۔ کیا اگر کوئی دوسرا پولیٹکل مبلغ، سرور کائناتa کے فرزند اور آپ کی اس پیری کا مقابلہ کرکے یہ کہنے لگے کہ مسلمانو! کیا غضب ہے کہ آنحضرتa کے فرزند کو تو زمانہ طفولیت سے بھی گزرنے نہیں دیتے اور مرزاغلام احمد قادیانی کے بیٹے کو زندہ مان کر بڑھاپے کی عمر تک پہنچاتے ہو اور حضورa کی سخت توہین کرتے ہو۔ تو کیا وہ آپ کی وفات عین حالت حیات میں ثابت کرنے میں مجبور نہیں ہے؟ یا صرف اتنے سے فرق سے کہ آپ سرزمین پنجاب میں زندہ ہیں اور عیسیٰؑ آسمانوں پر۔ آپ زندہ اور وہ وفات شدہ تسلیم کئے جاسکتے ہیں؟ آپ کو یقین کر لینا چاہئے کہ مدنی نبیa کے ماننے والے اس کے فرمان پر چشم دید حالات سے زیادہ یقین رکھتے ہیں اور جہاں شریعت کی اطلاع پر لاتعد لاتحصٰی ملائکہ کو سموات پر زندہ تسلیم کر چکے ہیں۔ا س کے ساتھ ایک عیسیٰؑ کو بھی بلاشبہ وریب زندہ تسلیم کرتے ہیں۔ عجب نہیں کہ قدرت کے ہاتھ نے اسی لئے انہیں آسمانوں پر اٹھایا ہو کہ آسمان

454

پر رہ کر ان کے حیات میں کوئی استبعاد نہ رہے۔ کیونکہ جس ملک کی عمر تانفخ صور ہو وہاں کسی کا برائے چندے زندہ رہنا کیا بعید ہے؟ اگر نوحm اسی زمین پر رہ کر ہزار برس زندہ رہ سکتے ہیں تو حضرت مسیحm آسمان پر کیوں اس قدر یا اس سے زیادہ زندگی نہیں گزار سکتے؟ حالانکہ وہ تو ان کا مستقر ہے جنہیں قیامت سے قبل موت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کا زمانہ وفات قریب ہوگا تو پھر اسی زمین پر آنا مقدر ہے تامعلوم ہوجائے کہ آسمانوں پر موت نہیں ہے۔ پھر کس قدر بے علمی ہے کہ جس صورت کو دست قدرت نے اس استبعاد کے دور کرنے کے لئے اختیار کیا۔ اسے ہم کم فہموں نے اور زیادہ استعجاب کا موجب بنالیا۔ سچ ہے: ’’ولو فتحنا علیہم بابا من السماء فظلوا فیہ یعرجون لقالوا انما سکرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون (الحجر:۱۴)‘‘

ہاں! مرزاقادیانی کو دھوکا لگ جانا اس وقت قرین قیاس تھا جب کہ نبی کریمa کو بھی آسمانوں میں مان کر وفات شدہ تسلیم کیا جاتا۔ مگر میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ آسمان ہرگز نبیوں کے مستقل طور پر رہنے کا مقام نہیں ہے اور نہ انبیاء کا آسمانوں پر رہنا کوئی موجب افضلیت ہے۔

رسل اور سید الرسل کے لئے زمین کیوں منتخب ہوئی؟

حق تعالیٰ کی مشیت ازلی نے جب چاہا کہ اپنا کوئی خلیفہ بنائے۔ اس وقت یہ آسمان بھی موجود تھے اور زمین بھی۔ لیکن صاف اعلان کر دیا کہ: ’’واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرہ:۳۰)‘‘ یعنی فرشتے میرے آسمانوں پر ہیں لیکن میرا خلیفہ میری زمین پر ہوگا اور یہ اس لئے مقدر ہوا کہ آسمان بالاصالۃ یعنی بلاواسطہ قدرت کی کارفرمائیوں کے مظہر ہیں۔ اس لئے جہاں اصل کا ظہور ہو وہاں خلیفہ کا کیا کام؟ زمین ہی وہ ٹکڑا تھا جہاں ید قدرت نے آدمm کی طاقت ظاہر فرماکر اپنی قدرت کاملہ کو اسباب کے پردہ میں مستور کر دیا۔ لہٰذا ضرور ہوا کہ خلافت زمین پر ہی عیاں ہوتی۔ ورنہ جس طرح سموات اسباب سے بالاتر اور بالاتر کارخانہ پر مشتمل ہیں اسی طرح یہ زمین بھی براہ راست ید قدرت کے تحت میں ہوتی اور جس طرح آسمانوں پر خداتعالیٰ کے نہ معصیت کرنے والے ملائکہ آباد ہیں۔ اسی طرح زمین پر وہ بندے آباد ہوتے جنہیں سوائے طاعت

455

کے کچھ کام نہ ہوتا اور ’’یفعلون مایؤمرون‘‘ کا مصداق ہوتے اور اس طرح اسباب ومسببات کا سارا کارخانہ درہم وبرہم ہوجاتا۔ جنت ودوزخ کی حاجت نہ رہتی اور عالم کی پیدائش سے جو مقصد تھا وہ فوت ہوجاتا۔ لیکن جب حکمت ایزدی اور مربی لم یزل نے غائب بن کر اپنی عبادت چاہی تو خلیفہ کے لئے اس زمین کو مخصوص کر دیا اور غائبانہ اپنے خلیفہ پر اوامر ونواہی اتارے تاکہ دیکھے کہ اگر ملائکہ مشاہدۃً عبادت کرتے ہیں تو کیا کوئی بن دیکھے بھی عبادت کر سکتا ہے:’’تبارک الذی بیدہ الملک وہو علٰی کل شیٔ قدیر۔ الذی خلق الموت والحیٰوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً (الملک:۱،۲)‘‘

اسی لئے بالآخر مسجود ملائکہ کو خداتعالیٰ کی جنت چھوڑ کر مسند خلافت پر جلوہ آرا ہونے کے لئے اسی زمین پر آنا پڑا۔ پھر بتلاؤ کہ خلیفہ کے بعد دوسرے ہادیوں کے لئے بھی خدا کی یہی زمین زیادہ موزوں تھی یا وہ آسمان جہاں ایسی مخلوق بستی ہے کہ جو بلاواسطہ احکام سنتی اور بلافترۃ عبادت میں مشغول ہے۔ نہ وہ کسی رسول کی وحی کی محتاج ہے نہ کسی ہادی کی ہدایت کی۔ پھر حضرت مسیحm اگر کسی مصلحت الٰہیہ کے ماتحت آسمانوں پر تشریف فرماہیں تو اس وجہ سے سرور کائناتa سے افضل ہوسکتے ہیں؟

ملائکۃ اللہ جنہیں ابتداء خلافت کی مصلحت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے جب کچھ تردد لاحق ہوتا ہے تواتنا ہی کہتے ہیں کہ:’’ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک (البقرۃ:۳۰)‘‘

یعنی اے اللہ ! ہم تیری تسبیح وتقدیس کرتے ہیں۔ اگر آسمانوں پر رہنا بھی کسی فضل کا موجب تھا تو ان کا اوّلین حق تھا کہ اس کے ساتھ ہی ’’ونستقر فی سمائک‘‘ بھی کہتے۔ یعنی اور ہم تیرے آسمانوں میں رہتے ہیں۔ لیکن جب خود اس مکان کے ساکن محض کسی مکان کی سکونت کو موجب فضل نہیں سمجھتے تو پھر زمین والوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے اتنا بڑھائیں جتنا کہ انہیں حق نہیں؟ تسبیح وتقدیس گو بظاہر ایک بڑے فضل کی شئے ہے لیکن بارگاہ صمدیت میں جسے ہر کسی کی تسبیح وتقدیس سے بے نیازی حاصل ہے۔ اس کو بھی کسی خاص فضل کا موجب نہ سمجھا گیا اور صاف جواب مل گیا کہ: ’’انی اعلم مالاتعلمون (بقرہ:۳۰)‘‘ یعنی جہات فضیلت تمہاری پرواز سے باہر ہیں۔ کسی کا آسمان وزمین پر رہنا تو درکنار تسبیح وتقدیس بھی موجب افضلیت نہیں ہوسکتیں بلکہ اس کا ایک ہی سبب ہے اور وہ اس

456

کی ذات قدسی صفات کا اصطفاء واجتبأ ہے اور یہ اسی کے ہاتھ میں ہے جسے کوئی بشر اپنی فطری یا کسی طاقت سے حاصل نہیں کرسکتا۔ ’’اﷲ یصطفی من الملئکۃ رسلاً ومن الناس (الحج:۷۵)‘‘ ظاہر ہے کہ ایک ویسرائے ہندوستان میں رہ کر شاہ انگلستان کے نزدیک وہ رتبہ رکھ سکتا ہے جو ایک کمشنر اس کی محفل بلکہ اس کے محل میں رہ کر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ پھر یہاں اور وہاں کا فرق فضول ہے۔

صدر ہر جا کہ نشیند صدر است

افضل البشرa کی عظمت میں کسی کا کیا منہ ہے کہ ہم سے گوئے سبقت لے جائے۔ ایک وہ ہیں جن کے خیال میں حضرت مسیحm برائے چندے آسمان پر رہ کر افضل بن سکتے ہیں اور ہم وہ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ واﷲ وہ سرزمین جس پر سرور کائنات(a) کے قدم پڑتے ہیں اس آسمان سے ہزار درجہ افضل ہے جہاں حضرت مسیحm کے ساتھ اس کے غیرمتناہی فرشتے بھی آباد ہیں۔

ایک وہ ہیں جو مکین کو مکان کی وجہ سے شرف دیتے ہیں اور ہم وہ ہیں جو مکان کو مکین کی وجہ سے اشرف سمجھتے ہیں: ’’قال تعالٰی لا اقسم بہٰذا البلد۔ وانت حل بہٰذا البلد (البلد:۱،۲)‘‘ یعنی اے محمد(a) میں اس شہر مکہ کی قسم اس لئے کھاتا ہوں کہ تو اس میں رہتا ہے۔ پھر جس کے وجود سے ام القریٰ مکہ کو شرف حاصل ہو سکتا ہے وہ آسمان پر جانے کا کیا رشک کرتا؟ بلکہ آسمان خود اس زمین پر رشک کرتا ہے جہاں اس کے قدم پڑتے ہیں۔

  1. بر زمین کہ نشان کف پائے تو بود

    سالہا سجدہ صاحب نظر ان خواہد بود

اب تو آپ نے انصاف فرمالیا ہوگا کہ ہم غلامان محمدa اس عقیدہ کے ماتحت خاتم النّبیین کی توہین کرتے ہیں (والعیاذ باﷲ) یا تعظیم، اور آئیے میں آپ کو بتلاؤں کہ آپ ’’مدنی‘‘ نبوت کے بالمقابل ’’قدنی‘‘ نبوت کا جھنڈا گاڑ کر ایسی کھلی توہین کر رہے ہیں جس سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے اور زمین پاش پاش ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر گر پڑیں

ختم نبوت کے بعد کسی نبوت جدیدہ کا تسلیم کرنا سخت توہین ہے

خدائے تعالیٰ نے دنیا میں بہت سے رسول بھیجے اور یقینا ہر رسول اپنے اپنے زمانہ

457

کے لئے ایک نور تھا اور ایک شمع تھی جس کے اجالے میں آنکھ بند کر کے خدائے قدوس تک رسائی ممکن تھی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمm کی نبوت کا ماننے والا اگر نوحm کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کے لئے سوائے جہنم کے کہیں مفر نہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ نبوت آدمm میں کوئی نقصان تھا (والعیاذ باﷲ) بلکہ اس لئے کہ نبی وقت کی اس میں توہین ہے۔

یہی سلسلہ چل کر ابراہیم اور موسیٰo تک پہنچا اور یہ ہر دو نبی بھی اپنے زمانہ میں آفتاب وماہتاب بن کر چمکے لیکن آخرکار عیسیٰؑ کے دور نبوت میں ان پر ایمان رکھنا بھی نجات کے لئے کافی نہ ہوا اور عیسیٰؑ پر ایمان لانا بھی ضروری ٹھہرا۔

اس سے معلوم ہوا کہ گزشتہ زمانہ میں ایک شخص اپنے نبی پر ایمان لاکر بھی خدائے تعالیٰ کے نزدیک نامقبول ٹھہر سکتا ہے اگر وہ آئندہ نبی پر ایمان نہیں لاتا اس لئے اگر ہمارے آقاومولا سرور کائناتa بھی اسی سلسلہ کے ماتحت اوّل یا وسط میں مبعوث ہوتے تو ضرور آپa پر ایمان لانا بھی کسی زمانہ میں اسی طرح ناکافی ہو جاتا اور جس طرح کہ ایک شریعت موسویہ کا عامل عیسیٰؑ پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے جنت اور رضائے حق سے محروم ہوکر ابدالآباد کے لئے جہنمی ہوسکتا۔ اسی طرح محمد رسول اللہ (a) پر بھی ایمان لاکر بعد کے نبی پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے جہنمی ہوسکتا تھا۔ لیکن رحمت حق نے اپنے محبوب کو ایک خاص بزرگی سے نوازا اور چاہا کہ اب آئندہ اس رحمت للعالمین پر ایمان لانے والا اس خطرہ سے مامون ہو جائے اور جس طرح اس کے زمانہ میں ایمان کا مدار اس کی ذات پر تھا اسی طرح خداتعالیٰ کی رحمت آئندہ بھی اسی کے نام سے وابستہ ہے۔ اس لئے ختم نبوت کا تاج مکمل اس کے سرپر رکھا اور دنیا کو مطمئن کردیا کہ اس مربی اعظمa کے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں۔ اس کا ماننا نجات کے لئے کافی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے رضائے حق مل سکتی ہے اور اسی کی مخالفت سے خدا کا غضب ٹوٹتا ہے۔ خدا کی جنت اسی کے نام کے اردگرد دور (گھومتی) ہے اور جہنم اسی کے متبرک نام سے خائف ہے۔ کوئی نہیں جس پر ایمان لانا اس کے بعد درست ہو۔ اس لئے کہ اب وہ آگیا جو سارے جہان کو تسلی دینے والا ہے۔ ہر پیاسا اسی کے بحر شریعت سے سیراب ہو گا۔ ہر بھوکا اسی کے دسترخوان سے شکم سیر ہوگا اور ہر خائف اسی کے حریم امن میں پناہ پائے گا۔ اس کا دامن خدائے تعالیٰ کے دائمی رضاکا ضامن ہے۔ کوئی نہیں جس کا نام اس

458

کے نام سے اونچا ہوسکے۔ کوئی نہیں جو اس کی نبوت کے بعد اپنی طرف دعوت کا حق رکھتا ہو۔ اس لئے کہ اب امام آگیا۔ وہ حامل لواء ہے اور سب اس کے جھنڈے کے نیچے ہیں۔ اسی راز کو آشکارا کرنے کے لئے عیسیٰؑ جیسا اولوالعزم نبی آئے گا اور دنیا کو دکھلائے گا کہ یہ وہ نبی ہے جس کے دور میں انبیاء امتی بن کر بسر کرتے ہیں اور دوسروں کے شفیع بن کر بھی خود اس کی شفاعت سے مستغنی نہیں ہیں۔

عقیدۂ حیات مسیح کا عیسائیت پر اثر

رہا عیسائیت کی موافقت کا سوال تو آپ کو معلوم رہے کہ عیسائیت کے استیصال کے لئے اس مسئلہ سے زیادہ کوئی اسم اعظم نہیں ہے۔ بہت سی کتابیں لکھی گئیں اور آخر میں وہ بھی لکھی جاچکی جس کو لوگ براہین احمدیہ کہتے ہیں اور جس کی تصنیف کو خدا کو متکفل کہا جاتا تھا۔ لیکن کیا عیسائیت معدوم ہوگئی؟

ہاں! اگر آتھم کے زمانہ کے دستور کے مطابق وفات پاجانے سے عیسائیت تباہ ہوسکتی ہے تو بے شک تباہ ہوگئی۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ میری اور تیری صفائی سے کیا ہوگا۔ صفائی مکمل اس وقت ہوگی جب کہ عیسائیوں کا مزعوم خدا خود زمین پر اتر کر اس اتہام کو علی رؤس الاشہاد اپنے سر سے اٹھائے گا اور رسول اللہ a کی شریعت پر عمل پیرا ہوکر اپنے تابع ہونے کا ثبوت دے گا اور آخرکار اسی زمین میں جاکر سورہے گا۔ جہاں خدا کے سارے رسول آرام فرماہیں۔ یہ وہ دن ہوگا جب کہ عیسائیت کا تخم دنیا سے معدوم ہو جائے گا اور اس لئے اس کے شعائر اس کی طاقت وشوکت اور اس کے خصائص سے عالم پاک ہوگا صلیب توڑ دی جائے گی کہ پھر نہ گر جا نظر آئے گا نہ اس پر صلیب لٹکے گی۔ خنزیر قتل کر دئیے جائیں گے اور دنیا بعد فساد کے پھر امن کی طرف لوٹے گی۔ لیکن اس کے برخلاف اگر آپ کے عقیدہ کے مطابق مسیح سولی چڑھادیا گیا اور پھر نہ معلوم کہاں چلاگیا۔ کون ہے جو عیسائیوں کو کفارہ کے عقیدہ سے روک سکے۔ کون ہے جو ان کے شعائر کو پست کر دے اور کون ہے جو عیسائیت کا بیج خدا کی زمین سے نابود کر دے۔ کیا وہ مرزاغلام احمد قادیانی یا ان کے صاحبزادہ جنہیں ہمیشہ عیسائیوں اور ان کی سلطنت کے مناقب کے سوا کچھ کام نہ تھا۔ کیا وہ جن کے نزدیک

459

ہندوستان مکہ اور مدینہ سے زیادہ پیارا ہے۔ کیا وہ جن کا خدا خود ان سے غلط انگریزی میں باتیں کیا کرتا تھا۔

اب مرزامحمود انصاف کریں کہ ایک طرف حیات عیسیٰؑ کے نام سے ان کا نازک دل پھٹا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ خداتعالیٰ کے اس امتیاز کلی کو مٹانا چاہتا ہے کہ اب اس خاتم الرسل پر ایمان لانا نجات کے لئے کافی نہ رہے۔ جنت اور رضائے ایزدی اس کے توسط کے بجائے مرزاغلام احمد قادیانی کے توسط سے ملنے لگے۔ خداتعالیٰ کا کوئی رسول اس کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے نہ اترے اور اس کے ماء مصفی کو چھوڑ کر دنیا مرزاغلام احمد قادیانی کے گھاٹ سے سیراب ہو۔

  1. تکدر ماء السابقین وعیننا

    الی آخر الایام لا تتکدر

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۱۷۰)

مسئلہ ختم نبوت ایک فسانہ سمجھا جائے اور اس طرح عظمت کے دعوے میں اہانت اور ایمان کی ندا میں کفر کی دعوت دی جائے؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ آپ ان عقائد فاسدہ سے توبہ کر لیں؟ اور ایک ایسی نبوت تامہ وعامہ کے نیچے آجائیں جس کے بعد ہر نبوت سے بے نیازی اور ہر وحی سے استغنی ہے۔

  1. بہار عالم حسنش جہان را تازہ میدارد

    برنگ اصحاب صورت راببو ارباب معنی را

معزز زمیندار کی اپیل پڑھ کر میں نے اس مضمون کو شروع کیا تھا اور اپنے ذہن میں اس کو دو حصوں پر منقسم کیا تھا جس میں سے اوّل حصہ مرزامحمود صاحب کے شکوک کے جواب کے متعلق تھا اور دوسرا اپنے مقصد کی تقریر میں۔ لیکن جب میں اس قدر مضمون لکھ چکا تو حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کا میں نے مضمون سنا جس کے بعد اپنا یہ مضمون بھی زائد ازحاجت معلوم ہوا اس لئے دوسرے حصہ کو حذف کرتا ہوں کہ مولانا موصوف کا مضمون اس باب میں بس ہے اور اسی میں کفایت ہے اسی کو بغور پڑھئے اور سنائیے۔

ہوا لمسک ماکررتہ یتضوع

ض … ض … ض

460

الجواب الفصیح

لمنکر

حیات المسیح

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

461

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ اما بعد!

محدث کبیر حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ نے ’’الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح‘‘ تحریر فرمایا جو ۱۳۴۳ھ میں مطبع قاسمی دیوبند سے شائع ہوا تھا۔ عرصہ سے نایاب تھا۔ ۷۹سال بعد اس کی اشاعت یہ ہمارے لئے کیا باعث سعادت نہیں؟ ۱۷؍شعبان ۱۳۴۱ھ کو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اپنے وطن کشمیر تشریف لے گئے۔ آپ کے شاگردوں کی جماعت ساتھ تھی۔ کشمیر کے اہالیان کو پتہ چلا تو کشاں کشاں چلے آئے۔ آپ نے پورے کشمیر میں فتنہ قادیانیت کے خلاف تقریریں کیں۔ قادیانیت بوکھلا اٹھی۔ قادیان سے لاہور تک کے قادیانیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اپنے ہفتگی رسائل جیسے پیغام الصلح وغیرہ میں مضامین لکھے جو دلائل سے زیادہ گالیوں سے پر تھے۔ ان تمام مضامین کا جواب حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ نے تحریر فرمایا تو یہ کتاب بن گئی۔ اس میں ذیل کے مضامین ہیں: (۱)مصباح العلیہ لمحو النبوۃ الظلیہ (۲)الجواب الحفی فی آیۃ التوفی۔ (۳)انجاز الوفی فی لفظ التوفی۔ ان مضامین کے مجموعہ کا نام ’’الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح‘‘ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ اکابرین کی محنت کو امت کے ہاتھوں پہچانے کی سعادت پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ فلحمدﷲ!

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

462

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ایک ضروری گزارش

ناظرین کرام چونکہ اس رسالہ کا مقصد صرف معترض کی جوابدہی نہیں بلکہ اظہار حق اور تحقیق ہے۔ اس لئے ہر چند کہ تحریر جواب وکتاب سے فراغت حاصل ہوئی ایک عرصہ گزر چکا تھا لیکن کارکنان شعبہ تبلیغ واشاعت دارالعلوم کو کچھ ایسی مشاغل ضروریہ جو اس سے اہم تر تھے، درپیش رہے جن کی وجہ سے رسالہ ہذا کے طبع میں ضرورت سے زیادہ تاخیر واقع ہوگئی اور کاپیاں بھی رکی رکی قدرے خراب ہوگئیں۔ اس لئے التماس ہے کہ اس تاخیر سے ملول نہ ہوں اور مطلب کی بات غور سے مطالعہ فرمادیں۔ ان شاء اللہ ! امید ہے کہ فائدہ سے خالی نہ پائیں گے اور اگر کوئی بات قابل پذیرائی نظر پڑے تو احقر کو بھی کلمات خیر سے ضرور یاد کریں۔

والسلام!

بدر عالم عفی عنہ، خادم دارالعلوم دیوبند

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علٰی رسول الکریم۔ اما بعد!

ایک مدت مدید سے اپنا خیال تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے ایجادات پر کوئی مختصر سا رسالہ تحریر کیجئے اور اس مدعی نبوت کے اختراعی تصرفات کو عوام کے روبرو پیش کیجئے تاکہ امت محمدیہ اس کی تلبیس سے متنبہ اور حقیقت حال سے آگاہ ہو جائے۔ مگر اپنی بے بضاعتی نے کبھی اہل علم وفضل کے مجمع میں رہ کر قلم اٹھانے کی ہمت نہ دی۔ حتیٰ کہ یہ خیال قریب تھا کہ کہنہ ہو کر معدوم ہوگیا ہوتا کہ سعادت ازلیہ اور تقدیر الٰہی نے دفعتہ دستگیری کی اور ایسے سامان میسر کر دئیے کہ باایں ہمہ قلم اٹھانے کی جرأت ہوئی۔ یعنی حسب الاتفاق خاتم المحدثین وآیت السلف الصالحین سیدنا وسندنا واستاذنا حضرت مولانا مولوی الحاج سید انور شاہ صاحب مدظلہ العالی مدرس اعلیٰ مدرسہ دیوبند نے اپنے وطن مالوف کی طرف سفر کا ارادہ کیا اور مورخہ ۱۷؍شعبان ۱۳۴۱ھ کو یہاں سے روانہ ہوکر بمقام بارہ مولا وسری نگر ہوتے ہوئے کشمیر کو شرف ورود بخشا۔

463

چونکہ نواہی کشمیر میں جناب کے تقدس وعلم کا ہندوستان سے بھی زیادہ شہرہ ہے۔ اس لئے جوق درجوق مشتاقان دیدار بغرض تحصیل زیارت آتے رہے۔ اس دوران میں حضرت موصوف مسلمانوں کی مذہبی کمزوری کو برابر محسوس کرتے تھے اور اسی سبب سے صرف دو ماہ کے قیام میں مختلف مقامات پر آپ کو سترہ مرتبہ وعظ فرمانے کا اتفاق ہوا۔ جن میں بعض مسائل اجتہاد یہ مختلف فیہا اور بعض میں اس فتنہ عمیاء وصماء پر خصوصیت سے بحث فرمائی۔ جوں ہی حضرت موصوف کی زبان پر تاثیر سے صداقت واخلاص سے لبریز مواعظ لوگوں کے کانوں تک پہنچے۔ اسی وقت سے عوام میں مذہبی تحریک اور مردہ ایمانوں میں تازگی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ پھر کیا تھا اس کامیابی اور تائید حق کو دیکھ کر مرزائیوں کے پتنگے لگ گئے اور ان سے رہا نہ گیا۔ یہاں تک کہ پیغام صلح میں عبداﷲ وکیل (قادیانی) کی طرف سے چند اعتراضات طبع ہوئے۔ خیر اس کا تو شکوہ نہ تھا افسوس اس پر ہے کہ ساتھ ہی ساتھ حضرت موصوف کی شان میں نہایت گستاخانہ کلمات بھی استعمال کئے گئے ہیں جسے ہم مرزائی سنت سمجھتے ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ پرچہ میری نظر سے بھی گزرا۔ گواپنا ارادہ تو تھا ہی مگر اس پر حضرت موصوف کے فرمان نے جسے میں نے قابل فخر اور باعث نجات تصور کیا۔ تحریر جواب پر مجبور کردیا اور وہ امروز فردا کا غیرمتناہی سلسلہ آج منقطع ہوا اور توکلاً علی اللہ جو کچھ کہ آنجناب (شاہ صاحب) کے افادات خارج یا اوقات درس کی اپنی دماغ میں مجمع تھے۔ ان کو یکجا قلم بند کرنا شروع کیا اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں دریافت بھی کیا۔ اس کے بعد اس منتشر اور بے ربط ذخیرہ کو بصورت رسالہ حضرت موصوف کی خدمت میں پیش کرنے کی درخواست کی۔ ہر چند کہ اپنی ہیچمدانی پر نظر کرتے ہوئے کس طرح امید نہ تھی کہ کچھ بھی قابل پذیرائی ہو مگر الحمدﷲ! کہ حضرت موصوف نے اس کو قبول فرماکر اوّل سے آخر تک حرف بحرف سنا اور حسب ضرورت اصلاح فرمائی۔ اس کے ساتھ ہی میری گزارش پر ہر مضمون کا مناسب عنوان بھی خود ہی تجویز فرمایا۔

بدر عالم میرٹھی

نوٹ: ہر مضمون کا عنوان ابتداء صفحہ میں لکھ دیاگیا ہے۔ صفحات مضامین کے اعتبار سے لگائے گئے ہیں۔ اعتراضات بلفظہا منقول ہیں۔ اصل پیغام صلح مورخہ ۳؍ذیقعدہ ۱۳۴۱ھ کالم۴ پر ملاحظہ ہو۔

464

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مصباح العلیہ لمحو النبوۃ الظلیہ

(قال) ’’مولانا صاحب نے فرمایا کہ آنحضرتa کے بعد ظلی، بروزی، مجازی نبوت کا قائل خارج ازدائرہ اسلام ہے۔ اس پر گزارش ہے کہ محدثیت ہی ظلی نبوت ہے۔ لکل ان یصطلح اگر یہ نبوت بھی بکلی مسدود ہے تو ملاحظہ فرمائیے کتاب: ’’الیواقیت الجواہر امام شعرانیؒ، اعلم ان النبوۃ لم یرتفع مطلقا بعد محمدa وانما ارتفع نبوۃ التشریع فقط وقد کان الشیخ عبدالقادر الجیلانی یقول اوتی الانبیاء اسم النبوۃ واوتینا اللقب‘‘ کیا کوئی فاضل بتا سکتا ہے کہ امام شعرانیؒ یا عبدالقادر جیلانیؒ، شیخ ابن عربیؒ، مجدد الف ثانیؒ علماء اسلام داخل دائرہ اسلام نہیں ہیں۔ معاذ اللہ !‘‘

(اقول) ’’وبہ نستعین‘‘ قبل اس کے کہ میں اس عبارت کی شرح کروں اوّلاً ظلی نبی کی مختصر تحقیق کرتا ہوں کہ کیا مرزاقادیانی کے نزدیک ظلی نبوت اور محدثیت شی واحد ہیں؟ اور یہ کہ کیا ظلی نبوت کوئی قابل تسلیم اصطلاح ہوبھی سکتی ہے یا نہیں؟ سو سب سے اوّل تو بطور اصل گزارش ہے کہ اگر ظلی یا بروزی نبوت دین میں کوئی شی معتبر ہے۔ جس کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے تو کسی ایک حدیث کو ہی مرزائی پیش کر دیں جس میں ظلی یا بروزی کا لفظ آیا ہو۔ کیونکہ جب امت محمدیہ میں بقاء محدثیت شرعاً بھی ایک مسلّم امر ہے اور محدث ظلی نبی بھی ہوتا ہے (بقول مرزائیاں) تو پھر ضرور کہیں اس کا پتہ ملنا چاہئے اور اگر یہ مجرد اختراع ہی ہے جیسا کہ ’’ولکل ان یصطلح‘‘ سے متبادر ہے تو ایسی اصطلاح کے ماننے پر جس کا دین میں کہیں پتہ نہ ہو دوسروں کو کیونکر مجبور کیا جاسکتا ہے؟ خصوصاً جب کہ وہ اصطلاح شریعۃ محمدیہ کے مخالف بھی ہو بلکہ ممنوع ہو۔

مثلاً اگر کوئی شخص ظلی اور بروزی طور سے خدائی کا دعویٰ شروع کر دے تو کیا اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور کیا اس شخص کا یہ عذر قابل قبول ہوگا کہ میں نے حقیقتاً خدائی کا دعویٰ نہیں کیا تاکہ تعدد لازم آئے بلکہ ظلی طور سے میں نے اس میں فنا ہوکر اس کا نام پایا ہے

465

اس کا علم پایا ہے اس کا حکم پایا ہے اور اس طور سے میں ظلی خدا ہوں۔ لہٰذا خدا کی خدائی اسی کے پاس رہی نہ کسی دوسرے کے پاس۔ لہٰذا مجھ کو مشرک نہ کہو۔

’’اس طرح جس کو شعلۂ محبت الٰہی سر سے پیر تک اپنے اندر لیتا ہے۔ وہ مظہر تجلیات الٰہیہ ہوجاتا ہے۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے بلکہ ایک بندہ ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۵، خزائن ج۲۲ ص۱۷)

بالکل اس طرح سمجھ لو کہ اگر کوئی شخص مظہر تجلیات نبویہ ہو جانے کا مدعی ہو تو اسے فقط ولکل ان یصطلح کے تحت میں نبی نہیں کہا جاسکتا بلکہ وہ ایک امتی ہوگا۔

مرزاقادیانی کے کلام سے ثبوت کہ ظلی طور سے انبیاءo کے جمیع

کمالات پانے والا بھی نبی نہیں کہلاتا

’’جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور تمام ان ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہ حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزدگی کی جاتی ہے۔ اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۲۳۷، خزائن ج۵ ص۲۳۷)

اس عبارت میں صاف طور سے بتلایا گیا ہے کہ وہ شخص جو انبیاء سابقین کے جمیع کمالات کو ظلاً حاصل کر لیتا ہے نبی نہیں کہلاتا بلکہ محدث کہلاتا ہے۔ اس سے دو نتیجے پیدا ہوتے ہیں یا تو یہ کہ محدث ظلی نبی ہی نہیں ہوتا، یا ظلی نبی کہلا نہیں سکتا اور بہرتقدیر مرزاجی کا یہ فرمان پیغام صلح کی تردید کرتا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ظلی نبی اور محدث شی واحد ہیں۔ لہٰذا محدث کو ظلی نبی کہیں گے مگر اس عبارت میں مرزاقادیانی نے تصریح کردی ہے کہ نبیوں کی حقیقت اور محدثوں کی حقیقت واحد ہی ہے۔ مگر باوجود اس کے پھر اس میں اختلاف ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر بالفرض کسی شخص میں نبوت کے جمیع کمالات ہوں اور پھر بھی اسے نبی نہ کہیں یہ ممکن ہے اور اگر مجازاً نبوت کا دعویٰ بھی صحیح ہوسکتا ہے تو بے شک مجازاً خدائی کا

466

دعویٰ بھی صحیح ہوگا اور اگر نہیں تو پھر اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کو ہر ایک اصطلاح رکھنے کا حق نہیں۔ خواہ وہ قواعد شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔

یہ امر بھی سمجھنے کے قابل ہے کہ فقط کسی منصب کے کمالات کی تحصیل کرلینا اس اسم کے اطلاق کو جائز نہیں کرتا۔ دیکھو ایک گورنری کرنے کے قابل آدمی اپنے آپ کو گورنر نہیں کہہ سکتا۔ باوجودیکہ وہ سارے کمالات گورنری کا جامع ہے۔ تحدیانہ دعویٰ کرنا تو درکنار اگر یہ شخص اپنے یار دوستوں ہی میں اپنے آپ کو گورنر کہلانا چاہے تو اس کے رفقاء اس پر تمسخر کے علاوہ اور کیا کریں گے اور اگر کہیں اس عقل کے پتلے نے تحدیانہ دعویٰ بھی شروع کر دیا اور گھر بیٹھے منظور اور نامنظور بھی کہنا شروع کر دیا تو اس کا علاج سوائے آگرہ (مینٹل ہسپتال) بھیج دینے کے اور کچھ نہیں۔ اسی طرح اگر بالفرض کوئی شخص جامع کمالات نبویہ ہو بھی جائے جب بھی اسے دعویٰ نبوت کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ خدا سوائے محدث کے اب نبی کسی کو نہیں بنائے گا۔ ورنہ تو کوئی ایک آیت ہی پیش کر دو جس میں خدا نے ظلی نبی بنانے کا وعدہ کیا ہو۔

رہا محدثین کی آمد تو اس کے لئے حدیث موجود ہے۔ اس سے یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ اگر کہیں بعض کمالات نبوت فی الجملہ کا ثبوت ملتا بھی ہو جب بھی وہ اطلاق لفظ نبی کو مستلزم نہیں۔ چہ جائیکہ دعویٰ نبوت، جیسا کہ ہم آئندہ چل کر واضح کریں گے۔ کیونکہ کمالات نبوت اور ادّعا نبوت میں بون (فرق) بعید ہے ظاہر ہے کہ ایک امتی کے سارے کمالات کا منسوب الیہ نبی کریمa ہی کی ذات مقدسہ ہے۔ لہٰذا جو کمال بھی ہم میں ہے اس کا مستند آپa کی ذات ہے۔ یہ حقیقت تھی اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی بات تھی مگر مرزائیوں کو مغالطہ لگا کہ انہوں نے بجائے اس کے کہ اپنے کمالات کا استناد آنحضرتa کی طرف کرتے نبی کریمa کے جمیع کمالات اپنے اندر تسلیم کر لئے۔

میرے دوستو! یہ ایک بڑی ٹھوکر ہے جو تم کو لگی۔ یاد رکھو کمال اس میں نہیں کہ آنحضرتa کے سارے کمالات تم کو حاصل ہو جائیں بلکہ کمال اس میں ہے کہ جو کچھ تم میں ہو اس کا منتہی آنحضرتa کی ذات قرار پائے۔ اس میں راز یہ ہے کہ کمالات نبوت نہ تو واحد ہیں اور نہ نوع واحد سے ہیں بلکہ متعدد اور انواع مختلفہ سے ہیں۔ لہٰذا نبوت کو جامع ولایت بھی کہاگیا ہے۔ پس کمالات ولایت جو ایک پہلو سے کمالات نبوت بھی کہے جاسکتے ہیں قیامت تک ظلاً جاری ہیں۔ مگر وہ کمالات نبوت جو مختصات نبوت سے ہیں بکلی مسدود

467

ہیں۔ یہی مطلب ہے: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمرq‘‘ کا اور اسی وجہ سے کہ عمرq کے پاس کمالات ولایت تو تھے مگر جو کمالات مخصوص بالنبوت ہیں نہیں تھے۔ نبی کا لفظ ظلاً بھی ان پر نہیں بولا گیا۔ ورنہ جس کی قرب مناسبت سے نبی کریمa نے خبر دی ہو اس پر اطلاق لفظ نبی میں حجر (روک) ہی کیا تھا۔ پس اگر نبی کا اطلاق تسلیم کیا جائے تو پھر امر ختم نبوت ایک افسانہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب بعد خاتم الانبیاءa کے نبی بھی بنے اور نبی کہلائے بھی اور ان کے دعوؤں کی تصدیق بھی کی جائے تو اب ختم نبوت ایک امر اعتباری رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باﷲ!

علاوہ ازیں چونکہ آئینہ کمالات اسلام کے مطابق اسماء منقسم ہوچکے ہیں۔ لہٰذا اولیاء پر انبیاء کا اطلاق کرنا کیونکر ممکن ہے اور کیا اس سے صاف معلوم نہ ہوگا کہ کمالات مخصوص بالنبوۃ بھی باقی ہیں۔ پھر ختم نبوت کیا قابل فخر امر رہ جاتا ہے جب کہ کمالات نبوت بھی باقی ہیں۔ معجزات اور دعویٰ نبوت بھی باقی ہے۔ سارے امور تو باقی تسلیم کئے جائیں صرف براہ راست اور بوساطت کا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ سو مرزاقادیانی نے اسے بھی اٹھادیا ہے۔

’’اب میں بموجب آیت کریمہ:’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطاء کی گئی ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰)

اب فرمائیے کہ جب نبوت شکم مادر ہی میں مل جائے تو توسط فیض وظلیت بھی نابود ہوا جاتا ہے۔ پھر اگر اس پر بھی تمہارا دل گوارا کرتا ہو تو بعد خاتم الانبیاءa کے جسے چاہے نبی بنادو۔ مگر یاد رکھو اب خدا کسی کو نبی نہیں بنائے گا۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ جب ایک امر کو خود بھی مجازاً کہا جاتا ہے تو پھر اس کا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے۔ دعویٰ کسی امر حقیقی کا ہوا کرتا ہے نہ کہ اس امر کا جو بطور سایہ اور لباس مجاز ہو۔ اس بیان سے میری غرض یہ ہے کہ کمالات نبوت موہبت الٰہیہ میں غایت الغایات ہیں۔ جس کے تحت میں جمیع کمالات مندرج ہیں۔ پس جو کمال بھی ہے کمالات نبوت سے ہی ہے۔ لہٰذا کمالات نبوت جن کو کمالات ولایت کہا جاتا ہے باقی ہیں اور وہ کمالات نبوت جن سے کسی کو نبی کہلانے کا استحقاق ہو سکتا ہے بکلی مسدود ہیں۔ لہٰذا ظلی طور سے بھی ان کمالات کا حاصل کرنا جو خصوصیات نبوت سے ہیں۔

468

محض غلط ہے۔ کیا جس قدر ہم میں افعال وکمالات ہیں وہ سب خدائی کمال کے اظلال نہیں؟ ظاہر ہے کہ ہمارا وجود ارادہ قدرت سمع وبصر سب خدا کے یہاں سے آئے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ خدا بھی موجود ہے اور ہم بھی موجود ہیں وہ بھی سمیع وبصیر ہے۔ ہم بھی سنتے اور دیکھتے ہیں۔ مگر نہیں کہا جاسکتا کہ ہم ظلی طور سے خدا ہیں۔ کیونکہ جس امر سے خدائیت کا اطلاق ممکن ہو اس کا حصول ظلی حقیقی ہر طور سے محال ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص جمیع کمالات الٰہیہ کو اپنے اندر تسلیم کرے۔ اگرچہ ظلاً ہی کیوں نہ سہی تو وہ کھلا مشرک ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے میں اور خدا میں صرف اعتباری فرق رکھا ہے۔ ورنہ بہ حقیقت مدعی مساوات ہے۔ کیونکہ اصل وتبع کا اگر فرق نکلے گا تو قبل حصول کمالات نکلے گا مگر بعد میں جب کہ تبع میں بھی اصل کے جمیع کمالات موجود ہوگئے۔ امتیاز نہ رہے گا جیسا کہ ایک شاگرد استاذ سے اس وقت تک ناقص تسلیم کیا جاسکتا ہے جب تک کہ وہ استاذ کے کمالات سے بہرہ ور نہیں ہوا۔ مگر جب وہ استاذ کے جمیع کمالات اپنے اندر حاصل کر لے تو پھر بحالت موجودہ اس میں اور اس کے استاذ میں کیا فرق ہے۔ ہاں! اگر فرق کیا جائے گا تو زمانہ ماضی کے لحاظ سے، بالکل اسی طریق پر کمالات نبوت کا باسرہا (مجموعہ) تسلیم کرنا اصل وفرع میں امتیاز اٹھادینا ہے اور درحقیقت یہ ایک زہر ہے جو ظل کا بہانہ کر کے مسلمانوں کو پلایا جارہا ہے۔ ورنہ ایسا شخص اصل میں حضور نبی کریمa سے مساوات کا مدعی ہے۔ الحاصل اطلاق نبوت کو مثل دیگر اصطلاحوں کے ایک معمولی اصطلاح سمجھنا یہی سب سے اوّل اصولی غلطی ہے۔ گو یہ صحیح ہے کہ نبی کا لفظ لغۃً مخبر کے معنوں میں آتا ہے مگر اس معنی کے لحاظ سے تو کافر پر بھی نبی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ لغۃً اس کے معنی میں قید اسلام بھی ملحوظ نہیں۔ لیکن چونکہ قرآن شریف میں رسول اللہ اور نبی اللہ کا لفظ مستقل نبیوں کے لئے مخصوص ہوچکا ہے۔ حتیٰ کہ سارے قرآن میں ایک جگہ بھی رسول اللہ اور نبی اللہ کا لغوی معنوں پر نہیں بولا گیا بلکہ اسی اپنی مقرر اصطلاح پر بولا گیا ہے۔ لہٰذا ایسے لفظ کو جو شرعاً کسی معنی کے ساتھ مختص ہوکر محجور ہوچکا ہے۔ لغت کی رو سے بھی استعمال کرنا بے شک ممنوع کیا جائے گا۔ کیونکہ اس اختصاص کی وجہ سے ذہن اسی معنی کی طرف متبادر ہوگا۔ جو اہل اسلام میں شائع ہوچکے ہیں۔

دیکھئے مرزاغلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ کسی لفظ کے متعلق ہم ایسی اصطلاح نہیں قائم کر سکتے جو قرآن شریف کے مقرر شدہ معنوں کے مخالف ہو اور یہ بھی کہ بعد

469

نبی کریمa کے اب کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ پس اگر لفظ نبی بھی مثل اور معمولی اصطلاحوں کے ہوتا تو مرزاقادیانی اس کے متعلق کیوں امتناع اطلاق کا فتویٰ دیتے اور لغوی معنی کی رو سے اطلاق کرنا کیوں ہتک قرار دیتے؟

مرزاقادیانی کے فتویٰ کے بموجب بھی نبی کا اطلاق محجوروممنوع ہے

’’کسی کا اختیار نہیں ہے کہ ان معنوں کو بدل ڈالے اور ہم اس بات کے مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کریں کہ جو قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں سے مغائیر اور مخالف ہوں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۴۲، خزائن ج۲۲ ص۱۴۶)

اس کی مزید توضیح اس طور سے فرماتے ہیں کہ: ’’ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ قرآن شریف سے پہلے عرب کے لوگ اللہ کے لفظ کو کن معنوں پر استعمال کرتے تھے۔ مگر ہمیں اس بات کی پابندی کرنی چاہئے کہ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک اللہ کے لفظ کو انہیں معنوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۷۱، خزائن ج۲۲ ص۱۷۶)

اس مقام پر ہر چند کہ ذکر خصوصاً لفظ اللہ کے ہی متعلق ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کا یہ قاعدہ مخصوص نہیں کیونکہ درحقیقت یہ ایک قیاس معنوی کا کبریٰ ہے جس کے لئے کلیتہً شرط انتاج ہے۔ لہٰذا اگر اسے مخصوص مانا جائے تو پھر لفظ اللہ کے متعلق یہی مرزاقادیانی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ پس اس عمومی فتویٰ کے موافق کسی اصطلاح مقرر کرنے والے کو ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ جس لفظ کی وہ اصطلاح مقرر کر رہا ہے کہیں وہ قرآن شریف میں کسی معنی کے ساتھ مخضوص تو نہیں ہوچکا۔ کیونکہ اگر مخصوص ہوچکا ہے تو پھر اس کو قرآن شریف کے مقرر کردہ معنوں کے خلاف کسی معنی پر اطلاق کرنے کا۔ گو وہ کلام عرب کے موافق ہی کیوں نہ ہو کوئی حق نہیں پہنچتا۔ لہٰذا اس اصل کے ماتحت ہمیں لفظ نبی اللہ اور رسول اللہ کو بھی دیکھنا چاہئے اور قرآن کے تتبع کے بعد اس کے کوئی معنی بیان کرنے چاہئیں۔ مگر یہ امر تو بالاستقراء ثابت ہے کہ قرآن نے کسی ایک مقام پر بھی اس لفظ کو لغوی معنوں پر استعمال نہیں کیا۔ اگر کوئی دعویٰ کرے تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہوگا۔ پس ایسی حالت میں جب کہ رسول اللہ اور نبی اللہ کا لفظ قرآن شریف میں ایک مقرر معنوں کے لئے مخصوص ہوچکا ہے۔ کسی مصطلح

470

کا اس کو ظلی نبوت کے لئے وضع کرلینا جس کو مجازی نبوت بتلایا جاتا ہے کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔ کیا یہ قرآن کے مقرر کردہ معنوں کی مخالفت نہیں ہے؟

اس کے بعد اسی اصل کے موافق مرزاقادیانی کے الہام: ’’قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘ (مندرجہ تذکرہ ص۳۵۲، طبع سوم) میں اگر رسول اللہ سے ظلی رسول مراد لیا جائے تو یہ معنی قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں کے مخالف ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ وہ خدا جس نے اپنی اصطلاح کو نبی کریمa جیسے اولوالعزم کے ذریعہ سے ایک مرتبہ پختہ کردیا ہے۔ وہ مرزاقادیانی جیسے نبی کے لئے (بزعم مرزائیاں) اپنی مقرر شدہ اصطلاح کو نہیں بدلے گا اور اگر خدا نے مرزاقادیانی کے لئے اپنی اصطلاح بدل دی ہے تو پھر مرزاقادیانی فضول لفظ توفی میں جھگڑا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال کے موافق اگر لفظ توفی کا کسی معنی کے لئے مخصوص بھی ہوچکا ہو۔ جب بھی خدا کو اختیار ہے کہ اس نے بحق عیسیٰؑ اپنے اس مقرر شدہ اصطلاح کے برخلاف کسی اور معنی کا ارادہ کر لیا ہو۔ جب کہ آج وہ خدا، رسول اللہ سے ظلی رسول مراد لے سکتا ہے۔ حالانکہ آج سے پیشتر کہیں اس نے رسول اللہ بول کر کسی کو ظلی نبی نہیں بنایا بلکہ مستقل ہی نبی بنایا ہے۔ تو پھر وہی خدا اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ قرآن میں ۲۳جگہ لفظ: ’’توفی‘‘ کا استعمال کرے اور ۲۲جگہ بزعم مرزاقادیانی موت مراد لے اور ایک جگہ رفع بجسدہ مراد لے۔

مگر مرزاقادیانی نے توفی میں اسے محال سمجھا ہے اور اگر اس الہام میں اپنے مقرر شدہ اصطلاح کو بدلا نہیں تو پھر مرزاقادیانی خاصے مستقل نبی بنے جاتے ہیں۔ جس کا دعویٰ بالاتفاق کفر ہے۔

اس کے بعد مرزاقادیانی تصریح ملاحظہ ہو: ’’مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔‘‘(الوصیت ص۱۰، خزائن ج۲۰ ص۳۱۱)

’’آنحضرتa کے بعد کسی پر لفظ نبی کا اطلاق بھی جائز نہیں۔‘‘(حاشیہ تجلیات الٰہیہ ص۸،۹، خزائن ج۲۰ ص۱،۴)

اوّل عبارت سے معلوم ہوا کہ صرف نبی کا لفظ استعمال کرنا اس لئے ممنوع ہے کیونکہ اس میں حضورa کی ہتک ہوتی ہے۔ مگر اب جس کا جی چاہے نبوت کا دعویٰ کر کے نبی کریمa کی ہتک کرے؟ والعیاذ باﷲ!

471

دوسرے حوالہ میں صراحۃً اطلاق لفظ نبی کے عدم جواز کی تصریح ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگر کوئی شخص مجازاً یا ظلاً کسی طور سے بھی اپنی نسبت صرف نبی کے لفظ کو اطلاق کرتا ہے وہ نبی کریمaکی ہتک کرتا ہے اور جو نبی کریمa کی ہتک کرتا ہے وہ بلاریب کافر ہے۔ لہٰذا بمقتضائے فتویٰ ہذا جو شخص بھی جس معنی کے لحاظ سے اپنی نسبت صرف لفظ نبی کا استعمال کرے گا۔ وہ کافر ہو گا خواہ وہ مرزاقادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ مگر ممکن ہے کہ جیسا خدا نے مرزاقادیانی کے لئے اپنی مقررشدہ اصطلاح کو بدل دیا ہے۔ شاید ان کے لئے نبی کریمa کی ہتک بھی جائز کر دی ہو؟ والعیاذ باﷲ!

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب ایک شخص کو خدا نے محدث بنایا ہے نبی نہیں بنایا تو پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس منصب کو جو اس کو حاصل نہیں ہے مجاز اور استعارہ کی آڑ لے کر اپنے لئے ثابت کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ اپنے اس بیہودہ اقوال سے عوام میں ایک تشویش پھیلانا اور سادہ لوحوں کو فریب دینا مقصود ہو اور اس میں کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور سے فرض کیجئے لفظ مجدد لغۃً تجدید کرنے والے کو کہتے ہیں۔ چاہے وہ کسی امر کی تجدید کرے۔ اس لغوی معنی کی رو سے ہر شخص مجدد بن سکتا ہے؟ پس اگر اس اصطلاح کے موافق میں اپنی مجددیت کا اعلان کر دوں اور جب لوگ مجھے دیوانہ قرار دیں تو جھٹ لغت کی آڑ لے کر کہہ دوں کہ کیا لغت کی رو سے میں مجدد نہیں ہوں۔ کیا ایک تھانہ دار کو حق ہے کہ وہ مجازاً اپنے آپ کو انسپکٹر کہتا پھرے اور اس پر طرہ یہ کہ اگر کوئی شخص اس کی انسپکٹری سے انکار کرے تو اس کی جان کو آجائے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی اپنے ایک مرید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ایک غلطی کا ازالہ) اور اس بے چارہ کو خواہ مخواہ ڈانٹ رہے ہیں۔ کیا یہ ساری باتیں کسی صحیح الحواس شخص سے سرزد ہوسکتی ہیں؟ ایسے شخص کا سوائے عوام کو دھوکہ دہی کے اور کوئی مقصد نہیں ہوسکتا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی خود تحریر فرماتے ہیں کہ لفظ نبی کے مجازی اطلاق میں بھی دھوکہ کا احتمال ہے۔

مرزاقادیانی کے کلام سے ثبوت کہ لغۃً بھی لفظ نبی کا

اطلاق کرنے میں دھوکہ کا احتمال ہے

’’غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو

472

بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔‘‘ (انجام آتھم ص۲۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۷)

یہ لفظ بہت زیادہ قابل غور ہیں۔ کیونکہ جب فقط بول چال میں لانے سے دھوکہ کا احتمال ہے۔ پس اگر اس کے ساتھ ہی تحدیانہ دعویٰ کر دیا جائے تو پھر اس احتمال کو خوب ہی پختہ کردینا ہے۔ لہٰذا خدارا مدعین نبوت، امتہ کے حال پر رحم کریں اور امت کو جب کہ وہ سینکڑوں مصائب میں مبتلا ہے خواہ مخواہ دھوکہ دے کر اور نئی مصیبت میں مبتلا نہ کریں۔ خواہ وہ مرزاقادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی خدمت میں بھی ہماری یہی درخواست ہے۔ علاوہ ازیں ہر لفظ کو اگر مجازاً اطلاق کیا جاسکتا ہے تو پھر یہ تو شرک کا دروازہ کھول دینا ہے۔ ملائکہ کو مجازاً بنات اللہ بھی کہا جاسکے گا۔ مقربین کو استعارہ کے طور سے ابن اللہ بھی کہا جاسکے گا اور صالحات کو مجازاً ازواج اللہ سے بھی موسوم کر سکیں گے۔ ظلی طور سے خدا بھی بن سکیں گے؟ والعیاذ باﷲ!

قرآن تو ان ساری باتوں کی جڑ نکالتا ہے۔ مگر یہی قرآن کو چھوڑ کر مجاز کی پابندی رہی تو پھر ازواج اللہ کے دعوے ہونے لگیں۔ بزرگوار نبی کا دعویٰ کریں اور ان کی اہلیہ شریف زوج اللہ ہونے کا اور ان کے پسر ابن اللہ کا اور اس طور سے مدعین نبوت خوب اپنے گھر کو رونق دے سکیں گے۔

میں پھر کہتا ہوں کہ للّٰہ! امت کے حال پر رحم کھاؤ اور وہ راہیں مت ایجاد کرو جس سے صادق اور کاذبوں کا رہا سہا فرق بھی اٹھ جائے۔ کیونکہ اس کے بعد امت کے ہاتھ میں پھر کوئی ذریعہ صادقین کی شناخت کا نہیں۔ اس کا افسوس ہے کہ خدا کے سچے پیغمبر نے کاذبین کی ایک موٹی علامت اپنی امت کو بتلائی تھی۔ یعنی دعویٰ نبوت، مگر آج کوشش ہے کہ اس علامت کو ہم سے چھین کر ہم کو اندھیرے میں ہی چھوڑ دیا جائے اور اس طور سے بے چارے مظلوم جاہلوں کے لئے ہر نبی کی تصدیق کا ایک باب واسع کیا جائے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک نبوت ظلیہ کی بنیاد شرک کی بنیاد ہے

’’یہ مسلم مسئلہ ہے کہ بجز خداتعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتی ہیں تاکہ کسی نبی کی کوئی خصوصیت منجربہ شرک نہ ہو جائے۔‘‘(تحفہ گولڑویہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۹۵)

473

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ کسی نبی میں کوئی ایسی صفت تسلیم نہیں کی جاسکتی جس کی انبیاء سابقین میں نظیر نہ ہو اور اسی قاعدہ کے ماتحت مرزاقادیانی نے رفع عیسیٰؑ کا انکار کیا ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے موافق مخصوص عیسیٰؑ کے لئے رفع تجویز کرنا شرک کی بنیاد قائم کرنی ہے۔ اگر مرزاقادیانی کا یہ قاعدہ فقط رفع عیسیٰؑ سے انکار کے لئے موضوع نہیں ہوا ہے تو پھر نبوت ظلیہ کسی طرح ثابت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ مرزاقادیانی کے نزدیک کسی نبی کے اتباع سے نبوت ملنا یہ فقط خاتم الانبیاءo کا خاصہ ہے اور اسی معنی سے انہوں نے نبی کریمa کو صاف خاتم مانا ہے۔ جیسا کہ آئندہ حوالہ آتا ہے یہی وہ نبوت ہے جس کا نام انہوں نے نبوت ظلیہ رکھا ہے۔ جیسا کہ ان کی تصانیف میں غیر محصور مقامات پر موجود ہے۔ وعلی ہذا نبوت ظلیہ اگر باتباع نبی کریمa حاصل ہوسکتی ہے تو پھر یہ آنحضرتa کی ایسی خصوصیت ہوگی جس کی کسی نبی میں نظیر نہیں ملتی۔ لہٰذا یہ کہنا کہ نبی کریمa کے اتباع سے نبوت ظلیہ ملتی ہے ایک مشرکانہ خیال کی بنیاد ڈالنا ہے اور اگر یہ خصوصیت آنحضرتa میں تسلیم کی جاسکتی ہے اور باوجود اس کے پھر بھی منجرالی الشرک نہیں ہوتی تو پھر رفع عیسیٰؑ سے کیونکر انکار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد جب کہ میں نے مرزاقادیانی کے کلام سے ہی ثابت کردیا کہ بروزی اور ظلی نبی کوئی شئے نہیں اور یہ اطلاق لفظ نبی، آنحضرتa کے بعد ہر اعتبار سے ممنوع ہے۔ کیونکہ اس میں آپa کی ہتک ہے تو اب یہ بتلاتا ہوں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک ظلی نبی کسے کہتے ہیں اور محدث کسے؟ اور کیا ان کی عبارات کے موافق یہ دونوں شئے واحد ہیں یا مغائر؟

مرزاقادیانی کے نزدیک بروزی نبی کی حقیقت

’’ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں۔ مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فناء فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی طرف سے اس کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے… اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی گوبروزی طور پر…‘‘(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

474

’’اور کیونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرتa ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوں جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

’’پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا اس کا خلق لے گا اور اس کا علم لے گا ایسا ہی اس نبی کا لقب بھی لے گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہوسکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنی اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو… پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے دو محمد اور دو احمد نہیں ہوگئے۔ اس طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النّبیین کی مہر ٹوٹ گئی۔ کیونکہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں… تمام انبیاءo کا اس پر اتفاق ہے کہ بروزی میں دوئی نہیں ہوتی۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۱۴)

یہ ایک اردو کی سادہ عبارت ہے جس میں ظلی نبی کی پوری تصویر دی گئی ہے۔ اس عبارت کی رو سے کسی شخص کے ظلی نبی ہونے سے یہ مطلب ہوگا کہ: (۱)تمام کمالات محمدیہ مع نبوت کے اس میں منعکس ہیں۔ (۲)اس نے وہی چادر پہنی ہے جو نبوت محمدیہ کی چادر ہے۔ (۳)وہ بعینہٖ خاتم الانبیاء اور آنحضرتa ہے۔ (۴)اس کے وجود میں اور آنحضرتa کے وجود میں دوئی نہیں۔

مسلمانو! اگر تمہارے سینے میں دل اور دل میں کوئی شمع ایمان ہے تو کیا تم کسی شخص کی نسبت گمان کر سکتے ہو کہ اس نے نبوت محمدیہ کی وہی چادر پہن لی اور پھر اس کا تحمل بھی کر لیا۔ اس میں سارے کمالات محمدی مجتمع بھی ہیں۔ وہ خاتم الانبیاءo کہلانے کا مستحق بھی ہوگیا۔ اگر مجھ سے فتویٰ دریافت کرو تو میں ایسے ملعون کو ایک صحیح الحواس کافر بھی تسلیم نہیں کروں گا۔ اس کے بعد میں خود مرزاغلام احمد قادیانی کے کلام سے محدث کی تفسیر پیش کرتا ہوں تاکہ معلوم ہوکہ معترض کا یہ دعویٰ کہ محدثیت ہی ظلی نبی ہے کہاں تک صحیح ہے؟

475

مرزاقادیانی کے نزدیک محدث کے معنی

’’ہاں! محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کے بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں۔‘‘(نشان آسمانی ص۲۸، خزائن ج۴ ص۳۹۰،۳۹۱)

اس عبارت میں محدث اس کو بتلایا گیا ہے جس میں نبوت تامہ کے بعض صفات ظلی طور پر ہوں اب ناظرین انصاف کریں کہ وہ محدث جو صرف بعض صفات ہی اپنے اندر رکھتا ہے، کیونکر ظلی نبی ٹھہر سکتا ہے جو کہ جمیع کمالات کا جامع اور ہر ایک پہلو سے اپنی اصل کے کمالات کا مثنیٰ ہے۔ پس اگر محدثیت ہی ظلی نبوت ہے تو مرزاقادیانی کی ان دونوں عبارتوں میں سے ایک کی تکذیب لازم ہوگی۔ (۲)اگر نبوت ظلیہ اور محدثیت شی واحد ہوں تو پھر جمیع انبیاءo کا صاحب خاتم ہونا لازم آتا ہے اور اس طور سے نبی کریمa کا یہ مخصوص طرّۂ امتیاز جمیع انبیاءo کے لئے عام ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ خاتم النّبیین کے معنی مرزاقادیانی کے نزدیک یہ ہیں کہ اس کے اتباع سے اور اس میں فنا ہوکر نبوت مل سکتی ہے اسی نبوت کا نام ان کے مذہب میں ظلی نبوت ہے۔

’’وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا… اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں… سو خداتعالیٰ نے ان معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا… کیونکہ مستقل نبوت آنحضرتa پر ختم ہو گئی ہے مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۷،۲۸، خزائن ج۲۲ ص۲۹،۳۰)

یہی مضمون ضمیمہ براہین احمدیہ اور دیگر کتب میں بھی بکثرت موجود ہے۔ اس کے ساتھ دوسرا مقدمہ پیغام صلح کی عبارت ہے۔ یعنی محدثیت ہی ظلی نبوت ہے… ان دو مقدموں کے ساتھ تیسرا مقدمہ حدیث ہے۔ ’’عن عائشۃt عن النبیa انہ کان یقول قد کان یکون فی الامم قبلکم محدثون فان یکن فی امتی منہم احد

476

فعمر بن الخطاب منہم (صحیح بخاری رقم:۳۶۸۹، مسند الحمیدی رقم:۲۲۵)‘‘ حقیقت الوحی کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت کے خاتم النّبیین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ ہی صاحب خاتم ہیں اور کوئی نبی بجز آپ کے صاحب خاتم نہیں اور صاحب خاتم ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کی مہر سے نبی بنیں جو کہ ظلی نبی کہلائیں اور مقدمہ ثانیہ سے ثابت ہوا کہ محدثیت اور ظلی نبوت شی واحد ہے۔ مقدمہ ثالثہ سے معلوم ہوا کہ پہلی امتوں میں بہت سے محدث ہوئے ہیں بلکہ اگر حدیث کے الفاظ پر غور کرو تو پہلی امتوں میں محدثوں کا ہونا بہ نسبت اس امت کے زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس امت کے حق میں یہ الفاظ ہیں: ’’اگر میری امت میں سے کوئی محدث ہوگا تو عمرq ہوگا۔‘‘

اس سے جس قدر تقلیل معلوم ہوتی ہے محتاج بیان نہیں۔ اب ان تینوں مقدموں کو اگر ملاؤ تو بداہتہً نتیجہ نکلتا ہے کہ ظلی نبی گزشتہ امتوں میں بہ نسبت اس امت کے بہت زیادہ ہوئے ہیں۔ کیونکہ بحکم مقدمہ ثانی محدثیت ہی ظلی نبوت ہے اور بحکم حدیث محدثین کی کثرت امم سابقہ میں متحقق ہے۔ لہٰذا لازم آتا ہے کہ پہلی امتوں میں بہت سے ظلی نبی گزر چکے ہیں۔ وعلیٰ ہذا انبیاء سابقین بھی صاحب خاتم ٹھہرے۔ کیونکہ ان کی مہر سے بھی محدث بنے جو کہ بعینہٖ ظلی نبی ہیں۔ بلکہ ان کو صاحب خاتم کہنا بہ نسبت آنحضرتa کے زیادہ لائق ہونا چاہئے کہ انہوں نے بہت سے ظلی نبی بنائے اور آنحضرتa نے ۱۳۰۰ برس میں فقط ایک مرزاقادیانی کو ہی بنایا۔ وہ بھی زیراختلاف رہے۔ ’’نعوذ باﷲ من ہذا الخرافات‘‘ اور اگر امم سابقہ میں محدثین کا وجود نہ مانا جائے تو علاوہ وہ مخالفت حدیث کے سارے ادیان سماویہ کو لعنتی قرار دینا پڑے گا۔

’’وہ دین دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خداتعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشڑف ہوسکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۳۸،۱۳۹، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

پس یا تو سارے ادیان سماویہ کو لعنتی ٹھہرایا جائے یا جمیع انبیاءo کو صاحب خاتم مانا جائے۔ لہٰذا ظلی نبی اور محدث کسی طرح واحد نہیں ہوسکتے بلکہ ظلی نبی وہی لوگ ہیں جن کی مرزاقادیانی نے ’’اشتہار ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں خود تصریح کر دی ہے اب میں مرزاقادیانی

477

ہی کے کلام سے بتلاتا ہوں کہ مدعی نبوت ظلیہ صادق ہوسکتا ہے یا کاذب۔ اس فیصلہ کے لئے انہی کی کتاب تحفہ گولڑویہ سے ایک معیار پیش کرتا ہوں جو انہوں نے خود اسی غرض کے لئے مقرر کیا ہے۔

مرزاقادیانی کا صدق اور کذب کے شناخت کا ایک معیار

’’سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۹۵)

اوّلاً میں یہ بتلانا مناسب سمجھتا ہوں کہ مرزاقادیانی سے قبل کوئی بروز عیسوی بنایا نہیں؟ صحابہi سے لے کر تاحال کسی کو فنائیت کا مرتبہ نصیب ہوا یا نہیں۔ اگر بروز عیسوی بھی بنے اور مقام فناتک بھی پہنچے تو ان کے دعوے کی کیا یہی نوعیت رہی ہے جو مرزاقادیانی کے دعوے کی ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ عملی رنگ میں انقطاع نبوت کا بین ثبوت ہوگا اور برتقدیر نظیر نہ ملنے کے کسی شخص کا ایسا دعویٰ کرنا قطعاً جھوٹ ہوگا۔

’’ایسا ہی جو شخص اس پاک تعلیم کو اپنا رہبر بنائے گا وہ بھی یسوع کی مانند ہوجائے گا یہ پاک تعلیم ہزاروں کو عیسیٰ مسیح بنانے کے لئے تیار ہے اور لاکھوں کو بناچکی ہے۔‘‘(سراج الدین کے چار سوالوں کا جواب ص۲۲، خزائن ج۱۲ ص۳۴۸)

’’آنحضرتa کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رو سے سچ مچ عضوواحد کی طرح ہوگئی تھی اور ان کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر وباطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ آنحضرتa کی عکسی تصویریں تھیں۔‘‘ (فتح اسلام ص۳۵،۳۶، خزائن ج۳ ص۲۱)

’’کیونکہ حضرت عمرq کا وجود ظلی طور پر گویا آنحضرتa کا وجود ہی تھا۔‘‘(ایام الصلح ص۳۵، خزائن ج۱۴ ص۳۹)

’’اور آپ (یعنی ابوبکر صدیقq) کتاب نبوت کا اجمالی نسخہ تھے… اور ہمارے رسول اور سیدa کی طرح سارے آداب میں ظل کی مانند تھے۔‘‘(سرالخلافۃ ص۳۲، خزائن ج۸ ص۳۵۵)

478

ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ اس امت میں لاکھوں عیسیٰ مسیح بن چکے ہیں اور آپ کی جماعت کی جماعت بہ باعث کمال اتباع عکسی تصویریں بھی ٹھہریں اور حضرت عمرq کا وجود ظلاً آنحضرت ہی کا وجود بھی قرار دیا گیا اور نہ فقط اتنا ہی بلکہ حدیث میں ان کے لئے محدثیت کی بشارت بھی وارد ہوچکی۔ باایں ہمہ نہ ان لاکھوں میں سے کوئی مدعی مسیحیت نظر آتا ہے نہ اس جماعت کی جماعت میں سے کوئی مدعی نبوت ظلیہ پایا جاتا ہے بلکہ میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ آنحضرتa کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک جماعت حقہ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ ملے گا جس نے بحالت سہو نبوت یا مسیحیت کا دعویٰ کیا ہو۔ مخالفین کومقابلہ پر بلایا ہو۔ طرح طرح سے لوگوں کو ملزم بنانے کی کوشش کی ہو اور نہ ماننے والوں سے اپنی جماعت کو ان سے علیحدگی کا حکم کیا ہو۔ بلکہ طرح طرح کے عذاب کی دھمکیاں بھی دی ہوں اور بالآخر مباہلہ تک نوبت پہنچا دی ہو۔

کیا کوئی مرزائی کہہ سکتا ہے کہ آج تک امت محمدیہ میں کوئی محدث نہیں گزرا حتیٰ کہ جس کے لئے بشارت وارد ہوچکی وہ بھی محدث نہیں تھا؟ اور اگر گزرے ہیں تو برائے مہربانی ہم کو بتلا دیا جائے کہ کس محدث نے اس طرح سے اپنی محدثیت کی طرف دعوت دی ہے اور کب اس نے اپنے آپ کو ظلی نبی کہلوانے کی کوشش کی۔ خصوصاً جب کہ مرزاقادیانی کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ محدث نبی کی طرح اپنے دعوے کا اعلان کرے۔

’’اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے… اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں باآواز بلند ظاہر کرے۔‘‘(توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰)

پس اگر مرزاقادیانی نے صرف محدثیت ہی کا دعویٰ کیا ہے تو امت کے سینکڑوں محدثوں میں سے کسی ایک ہی محدث کی نظیر لے آئیں جس نے ان کی مثل اپنی محدثیت اور نبوت ظلیہ کا اعلان کیا ہو اور اگر نہ لاسکیں تو سمجھ لیں کہ وہ اپنے دعوے میں بوجہ فقدان نظیر کاذب ہیں۔

عہد نبوت میں اطلاق نبوت کا انقطاع

ناظرین کرام کو مضمون بالا سے بخوبی واضح ہوگیا ہوگا کہ جب کہ صحابہi کے

479

زمانہ سے لے کر اس زمانہ تک باقرار مرزاقادیانی لاکھوں عیسیٰ مسیح بھی گزرے اور محدث بھی ہوئے مگر پھر بھی کسی متنفس نے ان میں سے دعویٰ نبوت ظلیہ نہیں کیا۔ حالانکہ مرزاقادیانی کے نزدیک ان پر فرض تھا کہ وہ مثل نبی کے اپنے تئیں اعلان کرتے مگر باوجود اس کے پھر ان کا ایسے دعوے سے دست بردار ہونا یقینی طور سے اس دعویٰ کے عدم جواز پر شہادت ہے۔ اس کے بعد ذرا اور اوپر چلئے اور عہد نبوت میں دیکھئے کہ خود اس صاحب خاتمa نے جب کہ وہ ان میں موجود تھا کس قدر لوگوں کو ظلی نبوت کی ڈگری پاس کرادی اور کس کس کو مجازی نبی کا خطاب دیا اور اگر اپنی حیات ہی میں جب کہ اس کا فیض بلاواسطہ تھا اس نے کسی ایک کو بھی ظلی نبی نہیں بنایا تو اپنے بعد جب کہ اس فیض کے لئے سیرۃ صدیقی کا ایک واسطہ اور بڑھ گیا ہے۔ کیسے ظلی نبی بنائے گا۔ (ہذا کل علی زعم مرزا) حدیث میں ہے: ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی‘‘ آنحضرتa حضرت علیq سے فرماتے ہیں۔ اے علیq! تو میرے لئے ایسا ہے جیسا کہ ہارونm موسیٰm کے لئے تھے مگر اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ دوم احادیث میں جو آنحضرتa نے اپنی امت کے لئے مناصب مقرر فرمائے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔

امام، خلیفہ، حکم، مجدد، محدث، ابدال۔ اگر آپa کی امت میں نبی کا اطلاق بھی خواہ وہ کسی معنی کی رو سے ہو جائز ہوتا تو ضرور آنحضرتa اس کو بھی ذکر فرماتے۔ کیا وجہ ہے کہ آپa نے اپنی امت کو سارے القاب دئیے اور جو لقب کہ سب سے زیادہ باعث عزت تھا اس کو ایک جگہ بھی نہیں بیان کیا بلکہ ’’الا انہ لا نبی بعدی‘‘ کہہ کر اس کی رہی سہی طمع کو بھی منقطع کر دیا۔ حدیث:’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ نے جس کو مرزاغلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں بہت جگہ لیا ہے، بالکل فیصلہ کردیا کہ اس امت میں وارثین انبیاء کا خطاب علماء ہیں۔ پس کیا اے نبوت کے مشتاق تیرے لئے نبی کریمa کے عطاء کردہ خطاب پر قناعت نہ تھی جو تونے اپنے لئے خود اپنے آقا ہی کا لقب تجویز کر لیا اور اتنا بھی نہ سمجھا کہ اس میں میرے آقا کی اس قدر ہتک ہے۔ اگر وائسرائے کا ملازم خواہ وہ اس کا کتنا ہی مقرب کیوں نہ ہو اپنے لئے مجازی وائسرائے کا منصب تجویز کر کے مجازی ویسرایت کا دعویٰ شروع کر دے تو کیا اس نے اپنے آقا کی ہتک نہیں کی کہ اپنے آقا کی موجودگی میں اسی لقب کو اپنے لئے تجویز کرتا ہے۔

480

اے میرے عزیزو! یاد رکھو کہ رسول اللہ a کی رسالت تاقیامت باقی ہے اور جس طور پر کہ آنحضرتa بحالت موجودگی ہمارے لئے رسول تھے اسی طرح جب کہ ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہوچکے ہیں۔ ہمارے نبی اور رسول ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ رسالت نبی کریمa کی موجودگی میں کون بدلگام بیہودہ اس لقب کو اپنے لئے تجویز کر سکتا ہے بلکہ احادیث پر اگر غور کرو تو تم کو معلوم ہوگا کہ مدعین نبوت کو حدیث دجال ٹھہراتی ہے۔ مگر افسوس کہ حدیث نے جس امر کو دجالیت کی علامت قرار دی تھی تم نے اس کو نبوت کی علامت سمجھی اور اتنا بھی نہ سمجھا کہ جب آنحضرتa کے بعد نبوت منقطع ہوچکی تھی تو پھر مجازاً اور استعارہ کی آڑ لے کر نبوت کے اطلاق میں کیا فائدہ تھا؟

مرزائیو! مرزاغلام احمد قادیانی کی اقتداء میں آنحضرتa کی مخالفت نہ کرو

یاد کرو جب کہ ایک شیطان نے بلی کی شکل میں آکر نبی کریمa کے روبرو قطع صلوٰۃ ارادہ کیا تو خاتم الانبیاءo نے اس کو ساریہ مسجد سے باندھنے کا قصد کیا اور صبح کو فرمایا کہ اگر مجھے سلیمانm کی دعا کا خیال نہ ہوتا تو میں اس کو اسی طرح رہنے دیتا۔ یہاں تک کہ بچے اس کے ساتھ کھیلا کرتے مگر اس دعا کے خیال سے میں نے اسے نہ باندھا۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریمa ایسا کرتے تھے جب بھی سلیمانm کی دعا کی کوئی مخالفت لازم نہ آتی مگر یہ خاتم الانبیاءo ہی کا کمال تھا کہ باوجود قدرت کے پھر صوری معارضہ سے بھی احتراز کیا۔ اگر اس طرح خداوند عالم کے اس اعلان کے بعد ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘ کسی شخص کا اپنی نسبت نبی کا اطلاق کر کے مدعی بن بیٹھنا۔ حالانکہ وہ ایک محدث ہی ہو بفرض محال اگر حقیقی مقابلہ نہیں تو صوری ضروری ہے۔

پس کیا فناء فی الرسول کا دم بھرنے والوں کے لئے ضروری نہ تھا کہ اپنے نبی کی ہتک سے باز آتے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کے علاوہ اس امت میں کسی کو نبی کا خطاب نہیں ملا

اب آخر میں خود مرزاقادیانی کے کلام سے اس امر کی شہادت پیش کی جاتی ہے کہ جمیع امت میں سے اطلاق نبی کے ساتھ وہی ایک فرد مخصوص ہیں اور ان کے خیال کے موافق کسی اور کو اطلاق نبی کا استحقاق بھی نہیں۔

481

’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

پس اگر لاہوری جماعت کے خیال کے موافق مرزاقادیانی پر نبوت کا اطلاق بطور مجاز کے تھا تو اس عبارت کا صریح مطلب یہ ہے کہ ان کے علاوہ کسی پر نبوت کا اطلاق مجازاً بھی جائز نہیں۔ لہٰذا اب بحث طلب فقط مرزاقادیانی کی ذات رہ جاتی ہے جو از اطلاق نبی وعدم جواز کو اس بحث سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نبوت مجازی آنحضرتa کے بعد مفتوح ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزاقادیانی سے قبل جس قدر محدث اور اقطاب گزرے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی اس نام کا استحقاق نہیں تھا۔ اگر کہا جائے کہ ان کی پیشین گوئیوں میں کثرت مفقود تھی جو کہ اس اطلاق کے لئے شرط ہے تو اوّلاً کثرت کا شرط ہونا لغۃً ثابت نہیں۔ دوم یہ بھی غلط ہے کہ مرزاقادیانی سے قبل کس کی پیشین گوئیوں میں کثرت نہیں پائی گئی۔

’’حضرت خاتم الانبیاء کے ادنیٰ خادموں اور کمترین چاکروں سے ہزارہا پیشین گوئیاں ظہور میں آتی ہیں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘(براہین احمدیہ چہار حصص حاشیہ نمبر۱۱ ص۵۴۱، خزائن ج۱ ص۶۴۷)

پھر کیا وجہ ہے کہ ان پر لفظ نبی کا اطلاق نہ کیا جائے اور جن عبارتوں سے آج مرزاقادیانی کے لئے استدلال کیا جاتا ہے انہی عبارتوں کو میری طرف سے ان بزرگوں کے حق میں نہ سمجھا جائے۔ پس اگر ان عبارتوں کی وہی مراد ہے جو مرزائی سمجھے ہیں تو پھر انہی عبارتوں کے ماتحت ان ابدال اور اقطاب پر بھی لفظ نبی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی صرف یہی نہیں فرماتے کہ ان پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہوا بلکہ ان کا عدم استحقاق بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اب آخر میں ان عبارتوں کے متعلق کچھ گفتگو کی جاتی ہے جن کو معترض صاحب نے اپنے لئے نص صریح سمجھا ہے۔

482

عبارات اکابر پر قادیانی اعتراضات کے جوابات

سب سے اوّل یہ امر غور طلب ہے کہ ان عبارتوں کو اس مقصد کے مخالف سمجھ کر پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو پیغام صلح زیرعنوان ہم اور ہمارے مخالفین: ’’مولوی مذکور نے بیان کیا کہ آنحضرتa کے بعد بروز اور ظلی نبوت کا مدعی بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

اب اس دعوے کے مقابلہ میں ہمیں دیکھنا ہے کہ معترض صاحب جواز دعویٰ نبوت کہاں سے ثابت کرتے ہیں۔ ان دونوں عبارتوں میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے معلوم ہوا ہو کہ دعویٰ نبوت جائز ہے بلکہ میں ساری قادیانی اور لاہوری جماعت کو اپنے مقابلہ پر متحدیانہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ کسی ایک باقاعدہ عالم یا صوفی کے کلام سے جواز دعویٰ نبوت کو ثابت کر دیں۔ ورنہ اپنے کفر کو خواہ مخواہ بزرگان دین کے سر نہ رکھیں۔ اس کے بعد پہلے میں امام شعرانیؒ کی عبارت کو لیتا ہوں:وبہ نستعین ’’اعلم ان النبوۃ لم ترتفع مطلقا وانما ارتفع نبوۃ التشریح‘‘ فقط اوّلاً تو اس عبارت میں دعویٰ نبوت کے جواز یا عدم جواز کا ایک لفظ بھی نہیں۔ دوم یہ عبارت خود معترض کی بھی مخالف ہے۔ کیونکہ اس عبارت سے فقط نبوت تشریعہ کا انقطاع معلوم ہوتا ہے۔ اب اس کے مقابلہ میں اگر نبوت غیرتشریعیہ کا جواز نکالا جائے تو لازم آتا ہے کہ بعد آنحضرتa کے نبی غیرتشریعی کا مطلقاً مبعوث ہونا جائز ہو۔ خواہ بالواسطہ نبی بنا ہو یا بلاواسطہ جیسا کہ حضرت ہارونm قوم بنی اسرائیل میں تھے ظاہر ہے کہ ان پر کوئی جدید شریعت نہیں تھی مگر ان کی نبوت بلاواسطہ تھی۔

جیسا کہ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔‘‘(حقیقت الوحی حاشیہ ص۹۷، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

لہٰذا پہلے اس عبارت میں کہیں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کی تفصیل پیدا کریں اسے ہمارے سامنے پیش کریں۔ ورنہ اپنے مخترعات کو بزرگوں کے سرنہ لگائیں۔ سوم: لم ترفع مطلقاً کیا ضرور ہے کہ بالنظر الٰی النبوۃ الظلیہ ہو۔ جائز ہے کہ بالنظر الٰی

483

المبشرات و بالخصوص جب کہ مبشرات کو حدیث میں بھی نبوت کا چالیسواں جز قرار دیا گیا ہے اور نبوت ظلیہ کا تو کہیں تذکرہ تک نہیں۔

اگر کہا جائے کہ مبشرات ہی نبوت ظلیہ ہیں تو میں کہتا ہوں کہ پھر یہ نبوت کیا ہوئی ایک مذاق ٹھہرا۔ کیونکہ اس معنی کے لحاظ سے تو ہر مومن نبی ظلی ہے مگر مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ میرے سوا امت میں سے کسی کو بھی نبی کے اطلاق کا حق حاصل نہیں۔ اسی مضمون کو بدیگر الفاظ یونہی تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ کلام اس مقام پر بااعتبار الاجزاء ہے۔ نہ بحسب الافراد اس کے بعد دوسری عبارت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی پیش کی گئی ہے: ’’وقد کان الشیخ عبدالقادر الجیلی یقول أوتی الانبیاء اسم النبوۃ واوتینا اللقب‘‘ یہ عبارت تو بجائے اس کے کہ کچھ مفید ہو مرزائی لغویات کی جڑ نکالتی ہے۔ میں پھر یہی کہوں گا کہ بزرگوں کی عبارت بلاسمجھے کیوں پیش کی جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو اوّلاً: تو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے خود اپنے آپ کو اوتی الانبیاء میں انبیاء سے جدا کر دیا ہے اور واوتینا فرمایا ہے۔ اگر ان پر بھی نبی کا اطلاق ممکن تھا تو انبیاء میں سے اپنے آپ کو کیوں خارج کیا اور کیوں علیحدہ طور سے واوتینا فرمایا۔ جب کہ ان پربھی نبوت کا اطلاق جائز تھا۔ دوم: واوتینا اللقب سے صاف ظاہر ہے کہ ان پر اسم نبوت کا اطلاق کسی طرح جائز نہیں۔ کیونکہ ’’اوتینا اللقب، اوتی الانبیاء اسم النبوۃ‘‘ کے مقابلہ میں ہے۔ پس اس عبارت سے اطلاق نبی کا جواز نکالنا سراسر دھوکہ دہی ہے۔ اس تقدیر پر عبارت یوں ہونی چاہئے تھی۔ ’’لأوتینا نحن والانبیاء اسم النبوۃ‘‘ مگر یہاں ’’اتیاء‘‘ اسم نبوت کو مخصوص بالانبیاء قرار دیاگیا ہے۔

پس کس قدر صریح بددیانتی ہے کہ جس امر کو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے مخصوص بالانبیاء قرار دے کر اپنے آپ کو اس سے بالتصریح جدا بھی کرلیا ہے۔ ایسی عبارت سے ان کی مراد اور صریح لفظوں کے برعکس اسم نبی کا اطلاق ثابت کیا جائے۔ سوم: اگر کچھ بھی دیانت تھی اور امام شعرانیؒ سے واقعی حسن ظنی تھی تو عوام کے روبرو اس عبارت کی شرح میں جو امام شعرانیؒ کی عبارت ہے وہ بھی نقل کر دینی چاہئے تھی۔ مگر جس بات کو آپ نے مضر سمجھا اس کا حذف کر دینا ہی دیانت سمجھا اور ’’نؤمن ببعض ونکفر ببعض‘‘ کا خوب نمونہ پیش کیا۔

484

اسی کتاب الیواقیت میں اس عبارت کی شرح میں امام لکھتے ہیں کہ:’’ای حجر علینا اسم النبی‘‘ یعنی ہم پر اسم نبی کا روک دیا گیا ہے۔ لہٰذا کسی نبی کا اطلاق نہ کیا جاسکے گا۔

کہئے معترض صاحب کل تک تو امام شعرانیؒ سیدنا وابن سیدنا تھے۔ آج تو شرناوابن شرنا کہئے گا۔ والعیاذ باﷲ!

چہارم: اگر نبوت کے دعوے گو وہ ظلی طور سے ہی سہی، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نزدیک جائز ہوتے تو پھر کیا سبب ہے کہ کبھی انہوں نے ایسا دعویٰ نہیں فرمایا نہ کبھی تحدیانہ قصائد لکھے نہ مباہلے کئے۔ بلکہ مرزاقادیانی کے نزدیک تو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو اپنی نسبت لفظ نبی کے اطلاق کا استحقاق ہی نہیں تھا۔ اگر وہ اطلاق کر بھی لیتے تو جب بھی مرزاقادیانی کے فرمان کے سامنے کون مرزائی تسلیم کرتا۔

الغرض اوّلاً: تو یہ دونوں عبارتیں دعویٰ نبوت سے متعلق ہی نہیں تاکہ ثابت ہوتا کہ مدعی نبوت ظلیہ کافر نہیں۔ دوم: یہ عبارتیں خود معترض کے لئے سخت مضر ہیں۔ سوم:یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس عبارت میں نبوت ظلیہ کا نام تک نہیں پھر بقاء نبوت ظلیہ پر اس عبارت سے کیونکر احتجاج صحیح ہے۔ یہ بات بھی عجیب ہے کہ پہلے نبوت ظلیہ اپنی طرف سے ایک حقیقت مسلمہ مان لی۔ اس کے بعد اوّل حضرات کے کلام سے اس کا بقاء ثابت کرنا شروع کر دیا۔ مہربان پہلے یہ بھی ثابت کریں کہ صوفیاء کے نزدیک نبوت ظلیہ کا اس تفسیر کے ساتھ جو مرزاقادیانی نے کی ہے کہیں وجود بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر اپنی اصطلاح گھڑ کر بزرگوں کے کلام میں داخل کی جاسکتی ہے تو اگر آج میں یہی ایک اصطلاح مرتب کروں اوراس کا نام نبوت الٰہیہ رکھوں تو پھر کیااس عبارت سے اطلاق لفظ اللہ پر بھی استدلال کیا جاسکتا ہے؟ یہ مبرا دوسرا چیلنج ہے سارے مرزائی کان کھول کر سن لیں کہ جماعت متشرعین صوفیاء میں سے کسی ایک فرد نے بھی نبوت ظلیہ کی وہ ملحدانہ حقیقت تسلیم نہیں کی جو مرزاقادیانی نے اپنی کتب میں فخر کے ساتھ پیش کی ہے۔ اگر کوئی مرزائی دکھا سکتا ہے تو دکھائے۔

ہم ذیل میں اس کتاب سے جس کومعترض صاحب نے پیش کیا ہے چند عبارتیں بطور مقابلہ درج کرتے ہیں۔ ناظرین خود اندازہ کر لیں گے کہ مرزاقادیانی کے زندقہ سے

485

صوفیاء کرام کا دامن کس قدر پاک ہے۔ جس کو آج ان کے متبعین اپنے مرزاقادیانی کی صفائی کے لئے ناپاک کرنا چاہتے ہیں ایک طرف جو عقائد کہ مرزاقادیانی کے دربار نبوت ان کی کتب سے معلوم ہوئے ہیں درج کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف امام شعرانیؒ نے جو شیخ محی الدینv وغیرہ کے عقائد جمع کئے ہیں ان کو لکھا جاتا ہے۔ ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں۔ سردست چندہی امور پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اگر خدا نے توفیق دی تو کسی دوسرے موقعہ پر زیادہ بسط وتفصیل کے ساتھ کلام کیا جائے گا۔

عقائد مرزاقادیانی

الف… نبوت ظلیہ نبیa کے اتباع سے مل سکتی ہے۔

۱… پس کیونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔

۲… ’’اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ میں بروزی طور پر آنحضرتa ہوں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

ب… ’’اور جب کہ انبیاء کے کمالات اجزاء متفرقہ کی طرح ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ہم سب کے سب طلب کریں اور ان تمام اجزاء کے مجموعہ کو اپنے نفوس میں جمع کریں۔‘‘ (حمامتہ البشریٰ ص۷۸، خزائن ج۷ ص۲۹۵)

ج… ’’مگر میں سچ مچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہوسکتا ہے… خدا تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔‘‘(چشمہ مسیحی ص۱۴، خزائن ج۲۰ ص۳۵۴،۳۵۵)

د… ’’یہ یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشین گوئیاں ہیں جن کی رو سے انبیاءo نبی کہلاتے رہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۵ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)

486

عقائد شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ

’’(فان قلت) فہل النبوۃ مکتسبۃ اوموہبۃ فالجواب الیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل الیہا بالنسک والریاضات کما ظنہ جماعتہ من الحمقٰی… وقد افتی المالکیۃ وغیرہم بکفر من قال ان النبوۃ مکتسبۃ (ج۱ ص۱۴۷) فلا تلحق نہایۃ الولایۃ بدایۃ النبوۃ ابداولوان ولیا تقدم الی العین التی یاخذمنہا لانبیاء لا حترق۔ وقال الشیخ اعلم ان اللہ تعالٰی قد سدباب الرسالۃ عن کل مخلوق بعد محمد الٰی یوم القیامۃ وانہ لا مناسبۃ بیننا بین محمد لکونہ فی مرتبۃ لا ینبغی ان تکون لنا وقال فی شرحہ لترجمان الاشواق اعلم ان مقام النبی ممنوع لنا دخولہ وغایۃ معرفتنا بہ من طریق الارث النظر الیہ کما ینظر من ہو فی اسفل الجنۃ الٰی من ہو فی اعلٰی علیین وکما ینظر اہل الارض الٰی کواکب السماء وقد بلغنا عن الشیخ ابی یزید انہ فتح لہ من مقام النبوۃ قدر حزم ابرۃ تجلیا لا دخولا فکادان یحترق (ج۲ ص۶۴)‘‘

خلاصہ ترجمہ: نبوت اکتساب سے حاصل نہیں ہوسکتی تاکہ کوئی شخص عبادت کر کے نبوت حاصل کر سکے بلکہ مالکیہ اور غیرمالکیہ نے ایسے شخص پر جو نبوت کو مکتسب کہتا ہو کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ ولایت کا انتہائی درجہ نبوت کے ابتدائی درجہ سے بھی کم ہے۔ اگر جس چشمہ سے انبیاء فیض لیتے ہیں ولی بھی فیض لینا چاہے تو تاب نہ لاسکے اور جل جائے۔ شیخ نے فرمایا کہ نبی کریمa کا مقام اس قدر رفیع اور عالی ہے کہ ہم میں اور آنحضرتa میں کوئی مناسبت بھی نہیں۔ کیونکہ حضورa ایسے مرتبہ میں ہیں کہ جو ہمارے لئے حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔ بہت سے بہت بطور وراثت اور ظل کے ہم اسے اس طرح دیکھ سکتے ہیں جیسے اہل زمین ستاروں کو دیکھتے ہیں اور ہم کو شیخ ابی یزید سے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ ان پر مقام نبوت کی سوئی کے ناکے، کے برابر صرف تجلی ہوئی تھی تو قریب تھا کہ جل گئے ہوتے نصیب ہونا تو درکنار۔

487

لیجئے وکیل صاحب! اگر آپ مصنف الیواقیت کے واقعی معتقد ہیں تو ان کے ان اقوال پر بھی غور فرمائیے اور انصاف سے کہئے کہ کیا ایسے شخص کے نزدیک نبوت ظلیہ کوئی حقیقت واقعی ہوسکتی ہے؟ جب کہ آپ کے مرزاقادیانی تو نبی کریمa کے اتباع سے حصول نبوت جائز رکھتے ہیں اور وہ ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ نقل کرتے ہیں۔

مرزاقادیانی کا تو زعم باطل ہے کہ وہ ظلی طور سے بعینہٖ حضورa بن گئے ہیں۔ مگر صاحب الیواقیت نقل فرماتے ہیں کہ ولایت کا اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ نبوت کے ابتدائی مراتب سے بھی کمتر ہے۔ اس سے یہ بات بھی حل ہو گئی کہ ولی میں چاہے کتنا ہی بزرگی کیوں نہ ہو نبوت نہیں ہوتی۔ مرزاقادیانی بعینہٖ آنحضرتa بن جانے کے مدعی ہیں۔ مگر شیخ عبدالوہاب، شیخ محی الدین ابن عربی سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریمa کے مقام کو بہت سے بہت، ظلی طور سے دیکھ ہی سکتے ہیں اور وہ بھی قریب سے نہیں بلکہ اتنے فاصلہ سے جیسا کہ اہل زمین ستاروں کو دیکھتے ہیں۔دوم شیخ محی الدین ابن عربی کو آپ نے اپنا موافق سمجھا تھا ان کی عبارت بھی ماقبل میں نقل ہوچکی ہے۔ جس سے معلوم ہوگیا کہ شیخ کے نزدیک حصول نبو ت تو درکنار نظر الیٰ مقام النبی بھی قریب سے دشوار ہے۔ علاوہ ازیں ہم تو خدا سے دعا کرتے ہیں کہ کہیں آپ شیخ کے معتقد بن تو جائیں اگر آپ دل سے شیخ کے معتقد ہوتے تو اب تک آپ کا دامن کبھی کامرزاقادیانی پر ایمان سے پاک ہوگیا ہوتا۔ لیجئے! آپ کے مرزاقادیانی اپنے الہامات میں امرونہی ہوتا بیان فرماتے ہیں اور شیخ ایسے شخص پر قتل کا فتویٰ دیتے ہیں۔

مرزاقادیانی کے مستحق قتل ہونے پر شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا فتویٰ

عبارت مرزا

’’اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہرایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امراور نہی بیان کئے

488

اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔

مثلاً یہ الہام: ’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لہم‘‘ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)

ابن عربیؒ کا فتویٰ

’’وقال الشیخ ایضا فی الباب الحادے والعشرین من الفتوحات من قال ان اللہ امرہ بشیٔ فلیس ذالک بصحیح انما ذالک تلبیس لان الامر من قسم الکلام وذلک باب مسدود دون الناس… فقد بان لک ان ابواب الاوامر الٰہیتہ والنواہی قدسدت وکل من ادعیہا بعد محمدa فہو مدعی شریعۃ اوحی بہا الیہ سواء وافق شرعنا اوخالف فان کان مکلفا ضربنا عنقہ والاضربنا عنہ صفحا (ج۲ ص۳۴)‘‘ {جو شخص یہ خیال کرے کہ خدا نے اسے کسی شئے کا امر کیا ہے تو یہ صحیح نہیں بلکہ تبلیس شیطان ہے۔ کیونکہ امر ونہی اقسام کلام میں سے ہیں اور اس کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص اپنے الہام میں امرونہی بیان کرے خواہ وہ ہماری شریعت کے موافق ہوں یا مخالف وہ دراصل نئی شریعت کا مدعی ہے۔ لہٰذا اگر مکلف ہوگا تو ہم اس کو قتل کریں گے اور اگر پاگلوں جیسا ہو تو اس سے اعراض کریں گے۔}

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا شیخ عبدالوہاب شعرانی اور شیخ محی الدین ابن عربی اور شیخ ابی یزید یہ سب حضرات دائرہ اسلام سے خارج ہی تھے۔ والعیاذ باﷲ! ورنہ انہوں نے کیونکر اپنی کتب میں ایسے عقائد تحریر کر دئیے جن سے مرزاقادیانی کی بجائے تصدیق کے تکذیب ہی نہیں بلکہ تکفیر سے بھی بڑھ کر قابل قتل وگردن زدنی ہونا ثابت ہوتا ہے۔

489

میں سمجھتاہوں کہ مرزاقادیانی کے اقوال بالا دیکھ کر کوئی شخص ان کے کفر میں تردد نہیں کر سکتا۔ اگر وقت وگنجائش مساعدت کرتی تو میں آپ کو بتلاتا کہ مرزاقادیانی کے دماغ میں نبوت ظلیہ کا مفہوم نبوت تشریعہ سے بھی کچھ آگے ہی ہے۔ پھر کیا ایسی نبوت کو بھی کفر نہ کہا جائے تو کیا اسلام کہا جائے؟ جس پر طرّہ یہ کہ ان بے اصل اختراعات کو بزرگان دین کے سر رکھا جاتا ہے اور ان کے غامض دقائق کو اپنے کفریات کے لئے آڑ بنایا جاتا ہے۔ اگر خدا نے مدد فرمائی تو کسی موقعہ پر ان شاء اللہ ! بزرگان دین کی عبارات پر مفصل کلام کیا جائے گا اور منقح کیا جائے گا کہ اس قسم کی عبارات سے ان کی کیا غرض ہے۔

نوٹ: اس باب میں ہم نے جو کچھ تحریر کیا ہے یہ سب مرزاقادیانی کے مسلّمات اور ان کی تحریرات سے لکھا گیا ہے۔

لہٰذا ہماری اس تحریر سے ہم پر کوئی الزام قائم نہ کیا جائے۔ دوم: جواب میں مرزاغلام احمد قادیانی کی کسی مخالف عبارت کا نقل کردینا نہ کافی سمجھا جائے گا بلکہ اگرایسا کیا گیا تو اس سے فقط یہ سمجھا جائے گا کہ مرزاقادیانی کے کلام خود آپس میں متناقض ہیں۔ کیونکہ اس کے متعلق ہمیں ان کی کتابوں کے مطالعہ کے بعد کافی تجربہ ہوچکا ہے۔ اگر ایسا کیاگیا تو پھر ممکن ہے کہ اس قس کے اختلافی اقوال کی ہمیں ان ہی کی کتب سے ایک فہرست پیش کرنی پڑجائے۔ جس کا نمونہ آپ کو ہمارے دوسرے مضمون میں ملے گا۔واﷲ اعلم!

ض … ض … ض

490

الجواب الحفی

فی

آیت التوفی

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

491

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جواب الحفی فی آیت التوفی

’’مولوی صاحب نے فرمایا کہ: ’’فلما توفیتنی‘‘ سوال کا جواب نہیں۔ لیکن صحیح بخاری کتاب التفسیر کو دیکھو: ’’فاقول کما قال العبد الصالح‘‘ مولوی صاحب کا حدیث کے خلاف کہنا خیانت ہے یا نہ۔‘‘

اقول:’’من انداز قدت را خوب می شناسم‘‘ اس مختصر نویسی کی وجہ سے خوب سمجھتا ہوں لفظ توفی پر تو آٹھ سطریں غارت کی گئیں اور جو کہ اصل بحث تھی اس پر تین سطریں بھی خداخدا کر کے پوری ہوسکیں۔ چونکہ قصور علم وفہم کے باعث اصل تقریر سمجھ نہیں سکے۔ اس لئے ایک مبسوط کلام کے صرف ایک قطعہ کو لے کر کلام چلتا کیاگیا ہے اور یہ نہ سمجھ کر کہ کلام اس مقام پر علی التحلیل ہے یا علی المسامحۃ خیانت کا الزام لگایا گیا ہے۔ حالانکہ سب سے اوّل: تو اسی پر غور کرنا چاہئے تھا کہ کیا اس مقام پر نبی کریمa سے بھی کوئی سوال ہوا تھا جس کے جواب میں آپa یہ فرمائیں گے۔ ثانیاً: یہ بھی قابل تأمل تھا کہ آنحضرتa نے عیسیٰؑ کے ایک طویل کلام میں سے اسی قطعہ کو کیوں مخصوص بالذکرکیا ہے؟ اگر اسی امر پر تھوڑی توجہ کی جاتی تو سارے اضغاث احلام باطل ہوجاتے۔ ثالثاً: یہ بھی سمجھنا چاہئے تھا کہ حدیث میں کس لفظ سے: ’’فلما توفیتنی‘‘ کا:’’أنت قلت للناس‘‘ کے لئے جواب ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اہل عقل جانتے ہیں کہ اس حدیث سے: ’’فلما توفیتنی‘‘ کا عیسیٰؑ کا فقط مقولہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اس پر فاضل معترض کی یہ دیانت ہے کہ خود تو حدیث کے الفاظ پر اضافہ کیا اور بدون کسی ایک حرف کے مقالہ مذکورہ کو جواب ٹھہرایا۔ اس پر طرّہ یہ کہ دوسروں کے سرخیانت کا الزام لگایا۔ اس لئے ہمیں بھی ضروری ہوا کہ ہم بھی اس عادت کی اصل تلاش کریں اور خود مرزاقادیانی نے جو اس آیت کا مطلب سمجھا ہے ان کی دیانت کی معترض صاحب سے داد دلوائیں۔

492

حضرت مولانا شاہ صاحب کی دیانت اور مرزائی نبی کی کھلی خیانت

مرزاغلام احمد قادیانی اس آیت کی یوں شرح کرتے ہیں: ’’کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جناب الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ میری امت کے لوگ میری زندگی میں نہیں بگڑے بلکہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں… اور اس سے زیادہ اور کوئی سخت بے ایمانی نہیں ہوگی کہ ایسی نص صریح سے انکار کیا جائے۔‘‘(کتاب البریہ حاشیہ ص۱۸۶، خزائن ج۱۳ ص۲۱۹)

نیز اس آیت کا ترجمہ اس طور سے فرماتے ہیں: ’’پھر جب کہ تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ مجھے ان کے حال کا کیا علم تھا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے… تو وہ قیامت کو خداتعالیٰ کی حضور میں کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی تو اس کے بعد مجھے کیا علم ہے کہ عیسائیوں نے کون سی راہ اختیار کی۔ اگر وہ یہی جواب دیں گے کہ مجھے خبر نہیں تو ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی جھوٹا نہیں ہوگا۔‘‘ والعیاذ باﷲ!(تذکرۃ الشہادتین ص۱۸، خزائن ج۲۰ ص۲۰)

کیا یہ انصاف کا خون نہ ہوگا کہ ادھر تو ایک طویل عبارت اپنے مخترع خیال کے موافق اضافہ کرنے کے بعد بھی نص صریح ہی سے تعبیر کی جائے اور ادھر اہل اسلام سے ’’رافعک الیّٰ‘‘ میں لفظ سماء کا مطالبہ کیا جائے۔ سارے لاہوری اور قادیانی مرزائی مل کر جواب دیں کہ بعض جملے کے آیت کے کس لفظ کا ترجمہ ہیں۔ ورنہ کیوں مخترع عبارت کو نص صریح کہہ کر عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اسی دیانت پر دوسروں پر نکتہ چینی کا شوق پیدا ہوا ہے۔ لوگو! ہوش کے ناخن لو اور آیت کی صحیح تفسیر سنو تاکہ مرزاغلام احمد قادیانی کی خیانت اور تمہارے اوہام کا پورے طور سے انکشاف ہوجائے۔ ’’وما توفیقی الا باﷲ۔ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘ یہ سمجھنے کے لئے کہ:’’فلما توفیتنی‘‘ جواب ہے یا مقولہ اوّلاً سوال کو دیکھنا چاہئے کہ سوال کس امر کا ہے؟ ملاحظہ ہو سوال خداوندی: ’’أأنت قلت للناس اتخذونی وامّی الٰہین من دون اللہ (المائدۃ:۱۱۶)‘‘ اس مقام پر یہ سوال نہیں کہ

493

عیسائیوں کی گمراہی کی تجھے اطلاع ہے یا نہیں۔ نہ یہ سوال ہے کہ عیسائی کب گمراہ ہوئے۔ یعنی تیرے سامنے بگڑے یا تیری موت کے بعد بگڑے۔ الغرض نہ تعیین وقت سے سوال ہے نہ علم وعدم علم سے، بلکہ سوال فقط قول کا ہے تاکہ عیسائیوں کے لئے تبکیت اور عیسیٰؑ کے لئے تیسیر ہو جائے۔ کیونکہ اگر سوال عیسائیوں کی گمراہی سے کیا جاتا کہ وہ کیوں گمراہ ہوئے تو عیسیٰؑ کو جواب مشکل ہو جاتا اور اگر علم یا عدم علم سے ہوتا تو علاوہ غیرمفید ہونے کے مفید تبکیت بھی نہ ہوتا، وبکذافی الثانی! اس لئے سوال صرف قول سے کیاگیا ہے۔ یعنی تو نے یہ کہا تھا یا نہیں؟

یہ بھی واضح رہے کہ یہاں سوال فاعل سے ہے نہ نفس فعل سے جیسا کہ تقدیم مسند الیہ سے مع تقریب حرف استفہام مستفاد ہوتا ہے۔ لہٰذا وقوع فعل سے بھی سوال نہیں بلکہ اصل سوال فاعل سے ہے۔ یعنی کیا تو نے کہا تھا… الخ! اس سے معلوم ہوا کہ شاید فی نفسہ قول ہوچکا تھا اور عجیب نہیں کہ اس کا خود عیسیٰؑ کو بھی علم ہو۔ وعلیٰ ہذا نفس آیت میں یہ بھی نہیں کہ اتخاذ الہ عیسیٰؑ کے زمانہ میں نہیں ہوا بلکہ سوال غالباً اسی کے مؤید ہے۔ الحاصل جب کہ منقح ہو چکا کہ سوال عیسیٰؑ سے اس قول کے سرزد ہونے یا نہ ہونے کا ہے تو اب جواب ملاحظہ فرمائیے اور اس کے جمیع اجزاء پر غور کیجئے کہ کس جز سے اصل سوال کا جواب نکلتا ہے اور کون سا جز جواب سے فاضل ہے۔ فرماتے ہیں: ’’سبحٰنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ (المائدۃ:۱۱۶)‘‘ الیٰ قولہ: ’’العلام الغیوب‘‘ چونکہ مقام محاسن تعبیر اور رعایت آداب کا ہے۔ لہٰذا سب سے اوّل عیسیٰؑ نے جواب کو مصدر بالتسبیح کیا تاکہ اوّل شیٔ جو عیسیٰؑ کے جواب میں ہو وہ خداوند عالم جل شانہ کی ایسے ناپاک خیال سے پاکیزگی اور طہارت ہو۔ پھر دوسرے مرتبہ میں خود اپنا بھی ایسے افعال سے بیزار ہونا بتلایا اور اب تک اصل جواب نہیں دیا۔ اگرچہ اظہار ناراضگی اور بیزاری سے جواب مفہوم ہو جاتا ہے۔ مگر صراحۃً جواب نہیں۔ کیونکہ ’’آانت قلت‘‘ کا جواب ’’قلت‘‘ یا ’’ماقلت‘‘ ہی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اہل عرف ومحاورہ شاہد ہیں اصل جواب کو تیسرے مرتبہ میں کہا ہے:’’کما قال، ما قلت لہم الاما امرتنی بہ ان اعبداﷲ ربی وربکم (المائدۃ:۱۱۷)‘‘ یہ صریح جواب ہے۔ سوال ایزدی کا۔ جس کو تیسرے

494

مرتبہ میں رکھا ہے تاکہ خدائی تقدیس اور اپنے اظہار بیزاری اور عدم استحقاق کے بعد جواب اور زیادہ مؤثر ہو اور غایت ادب بھی ملحوظ رہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ملائکہ نے کہا تھا:’’سبحٰنک لا علم لنا الا ما علمتنا (البقرۃ:۳۲)‘‘ چونکہ عیسیٰؑ کا یہ جواب بحیثیت مدعی علیہ ہونے کے ہے۔ لہٰذا جو امر کہ بحیثیت شہید ہونے کے ان پر ضرور تھا اس کو بھی مقرون بالجواب کر دیا تاکہ اپنا تبریہ مکمل ہو جائے۔ کیونکہ جو شخص خدا کی طرف سے احوال امت پر شہید اور گواہ مقرر کیاگیا ہے اس پر ضروری ہے کہ وہ خود امت کے زشت اور قبیح افعال میں شرکت نہ کرے، پس کیا جو خدا کا گواہ ہو گا وہ خود بالعکس خدا کی مخالفت کر سکتا ہے؟ لہٰذا مطلب یہ ہے کہ جب تک میں ان میں تھا اس وقت تک تیرا شہید اور تیری طرف سے ان کے افعال پر گواہ تھا۔ لہٰذا میں ایسی بات کیونکر کہہ سکتا تھا۔ رہا بعد کا معاملہ سو وہ میری شہادت سے خارج ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنانا میری توفی کے بعد ہوا ہے مجھے اس کی معلومات نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ جب تک میں ان میں تھا میں نے ان کو یہ نہیں کہا۔ کیونکہ میں ان میں شہید تھا اور جب تو نے میری توفی کی تو اس کے بعد جو معاملہ ہوا وہ میری شہادت سے خارج ہے۔ اس تقدیر پر یہ ممکن ہے کہ یہ معاملہ وفات سے سابق ہی ہوا ہو اور عیسیٰؑ کی شہادت میں داخل بھی ہو۔ کیونکہ آیت سے کسی طرح یہ نہیں نکلتا کہ عیسیٰؑ کی شہادت بحق نصاریٰ اسی بات پر تھی کہ وہ نہیں بگڑے۔ اگر مزید تفصیل درکار ہو تو پڑھو قرآن شریف کی یہ آیت: ’’فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنا بک علٰی ہؤ لآء شہیدا (النساء:۴۱)‘‘ اس آیت شریفہ میں خداوند عالم نے جمیع امتوں کے لئے ایک شہید کا ہونا بیان فرمایا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ہر نبی سے اپنی امت پر شہادت لی جائے گی۔ کیونکہ انبیاءo کی حیثیت منجملہ اور حیثیات کے ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بمنزلہ سرکاری گواہ کے ہوتے ہیں اور علیٰ ہذا اگر کسی نبی کا اپنی امت پر گواہ ہونے کا یہ مطلب ہو کہ وہ امت اس کے زمانہ میں نہیں بگڑی بلکہ بعد میں بگڑی ہے تو پھر ان نبیوں کے حق میں کیا کہو گے جن پر ایک بھی ایمان نہیں لایا۔ یا اگر بعض لائے اور بعض مرتد ہوئے تو کیا ایسے بعض مرتدین یا کفار جو اس نبی کے زمانہ میں موجود ہوں اس کی شہادت سے خارج ہوں گے یا العیاذ باﷲ! انبیاءo ان کے حق میں بھی یہی کہیں گے کہ وہ لوگ بھی ہماری حیات میں گمراہ نہیں

495

ہوئے۔ لہٰذا یہ بڑی کج فہمی اور ناسمجھی کی بات ہے کہ شہادت کو مقصود علی الخیر کر دینا بلکہ شہادت جیسا کہ لغۃً وعرفاً (اصطلاحاً) عام ہے۔ خواہ خیر پر ہو یا شر پر اس طرح اس کو یہاں بھی عام ہی رکھنا چاہئے اور کیا کہو گے: ’’وانت علٰی کل شیٔ شہید (المائدۃ:۱۱۷)‘‘ میں جو کہ خود اسی آیت کے آخیر میں بطور اعتراض تذییلی موجود ہے کیا اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ وہ خدا کی شہادت تک نہیں بگڑے۔ اس بناء پر تو سارے عالم کو صالح اور مومن کہنا پڑے گا۔ کیونکہ سارا عالم خدا کی زیرنگہبانی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ لہٰذا یہ امر سوچنے کے لائق تھا کہ ذکر شہادت سے یہاں عیسیٰؑ کی کیا غرض ہے اور اپنی امت کے مشرکانہ افعال کی تنصیص اور تقریر سے کیا فائدہ متعلق ہے۔ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوچکا کہ اگر شہادت سے کوئی اور غرض نہ بھی ہو جب بھی شہادت فی نفسہ خود ایک ایسی شیٔ ہے جس کا ادا کرنا ضروری تھا۔ کیونکہ آیت بالا سے معلوم ہوچکا ہے کہ ادائے شہادت فقط عیسیٰؑ ہی کا فعل مخصوص نہیں بلکہ جمیع انبیاء سے اپنی اپنی امتوں کے حق میں شہادت لی جائے گی۔ اس کے بعد معترض صاحب جس حدیث بخاری کو اپنے لئے مفید سمجھتے تھے اس کو غور سے ملاحظہ کریں کہ نبی کریمa نے حضرت عیسیٰؑ کے جمیع قطعات میں سے اسی کو کیوں مخصوص کیا ہے اور کیوں نہیں فرمایا کہ:’’اقول کما قال العبد الصالح۔ سبحٰنک ما یکون لی‘‘بلکہ بجائے اس کے یہ فرمایا ہے کہ: ’’وکنت علیہم شہیداً‘‘ اگر کچھ انصاف ہے تو سمجھو کہ یہ اسی وجہ سے تھا کہ عیسیٰؑ کے اور اجزاء مخصوص سوال ایزدی کے جواب ہی میں وارد تھے۔ لہٰذا ان کو آپa کیسے نقل فرماسکتے تھے جب کہ وہ سوال ہی آپa سے نہیں ہوا۔ اس لئے آپa نے اس جزء کو لے لیا جس میں سارے انبیاء شریک ہیں۔ یعنی شہادت۔ لہٰذا حدیث نے نص کردی اس بات پر کہ:’’وکنت علیہم شہیداً۔ آانت قلت‘‘ کا جواب نہیں بلکہ وہ امر ہے جس کو عیسیٰؑ کے ساتھ کوئی اختصاص نہیں اور سب پر ضروری ہے۔ ورنہ اگر اس کو: ’’أنت قلت‘‘ کا جواب قرار دیا جائے تو پھر بتلائیے کہ کیا یہی سوال نبی کریمa سے بھی ہوا تھا؟ اگر نہیں ہوا تو پھر اس کا جواب کیسا۔ اس مقام پر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ نبی کریمa کا یہ مقولہ کس وقت کا ہے۔ تو ملاحظہ ہو صحیح بخاری اسی حدیث میں موجود ہے:’’فاقول اصیحابی اصیحابی فیقال لی انک لا تدری ما احد

496

ثوابعدک‘‘ پس جب کہ خود سیاق ہی میں نبی کریمa کا اس واقعہ سے عالم نہ ہونا (یعنی احداث کی قبر نہ ہونا) اور آپa کے اصحاب کا بعد میں بگڑنا موجود تھا تو پھر آنحضرتa نے: ’’وکنت علیہم شہیداً‘‘ سے علی تفسیر المرزا کون سی نئی بات ذکر فرمائی۔ بزعم مرزاقادیانی جس بات کو آنحضرتa ’’وکنت علیہم شہیداً‘‘ سے پیش کرنا چاہتے تھے وہ تو ان کے فرمانے سے پہلے ہی ان کے سامنے پیش کی جاچکی تھی۔ اب کیا اسی بات کو مکرر کرنا تھا؟ دوم: میں یہ بھی سوال کروں گا کہ کیا نبی کریمa کو اپنی امت کے بگڑنے کا علم نہیں۔ کیا آپa ہی نے قیامت تک کی امت کے سارے احوال نہیں بیان کر دئیے اور کیا قرب قیامت میں جو امت کا حال ہوگا وہ احادیث میں موجود نہیں؟ اگر یہ ساری باتیں موجود ہیں تو بروز حشر: ’’وکنت علیہم شہیداً‘‘ سے کیونکر نفی علم فرمائی گئی۔ جب کہ دنیا ہی میں آپa کو امت کا مجموعی حال روشن ہوچکا تھا۔ رہا:’’انک لا تدری‘‘ یہ افراد اور تفصیلات کے اعتبار سے ہے جو کہ علم اجمالی کے منافی نہیں۔ دوم: ’’انک لا تدری‘‘ بحق جماعت مخصوصہ ہے نہ بحق امت اور عیسیٰؑ سے سوال بحق امت ہے اسی لئے وہاں لفظ ابتداء الناس کا ہے۔ لہٰذا اس حدیث نے بالکل فیصلہ کر دیا کہ یہ آیت کسی طرح جواب سوال نہیں کیونکہ اسی آیت کے بعد عیسیٰؑ اپنی امت کے حق میں سفارش آمیز کلمات ہی فرماتے ہیں: ’’ان تعذبہم فانہم عبادک (المائدۃ:۱۱۸)‘‘ اب ظاہر ہے کہ یہ جملہ جواب سوال نہیں۔ حالانکہ سیاق واحد ہی ہے۔ البتہ مقولہ ضرور ہے۔ لہٰذا عیسیٰؑ کے جمیع مقولات کو جواب ہی بناڈالنا سخت نادانی ہے۔ سوم: یہ کہ اگر آیت:’’فلما توفیتنی‘‘ کے وہ معنی بیان کئے جائیں تو پھر ذکر اشراک امت کے بعد سفارش قطعاً خلاف مقتضے الحال ہے۔ٍ

اور اگر وکیل صاحب دیانتداری سے: ’’فلما توفیتنی‘‘ کا جواب ہی بناتے ہیں تو پھر ذرا آیت کا مطلب ہی درست کردیجئے۔ کیونکہ جب آپ کے نزدیک توفی بمعنی موت ہے تو عند الجواب موت کا ذکر کیسا؟

کیا عیسیٰؑ سولی ہی پر فوت ہوگئے تھے۔ والعیاذ باﷲ! یا سولی سے نجات پاکر بزعم مرزاقادیانی ستاسی سال کشمیر میں بھی زندہ رہے ہیں۔ پس اگر سولی کے واقعہ کے بعد ستاسی سال اور بھی زندہ رہے ہیں تو پھر اہل شام کے انقطاع خبر کا ذریعہ موت کیوں بتلایا

497

جاتا ہے؟ کیونکہ ان کی خبر تو ہجرت الیٰ الکشمیر سے ہی منقطع ہوچکی تھی اور موت تو ستاسی سال بعد ہوئی ہے۔ لہٰذا جو انقطاع خبر کا اصل وقت اور سبب تھا اس کو تو ذکر نہ کرنا اور جو امر کہ ستاسی سال بعد واقع ہوا ہے اس کا ذکر کرنا کس قدر لغو ہے؟ لہٰذا جب عیسیٰؑ سے سوال ہوگا کہ اے عیسیٰ! کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو۔ اس کے جواب میں مرزائی خیال کے موافق یہ جواب ہونا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میں ان میں تھا ان کا محافظ اور نگہبان تھا اور جب تو نے مجھے کشمیر روانہ کر دیا پھر مجھے خبر نہیں کیا ہوا۔ کیونکہ دراصل انقطاع خبر زمانہ ہجرت سے ہی مستمر ہے نہ وفات کے بعد سے۔ پس ان ستاسی سال کے استثناء کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی جب کہ ان میں بھی عیسیٰؑ ان کے حالات سے بے خبر ہی تھے۔ (بزعم مرزائیان) ہاں! اگر عیسیٰؑ سولی ہی پر فوت ہوچکے ہوں۔ والعیاذ باﷲ! تو شاید ذکر توفی بمعنی موت مناسب ہو۔ کیونکہ اس تقدیر پر انقطاع خبر کا ذریعہ موت ہی ہے۔

اب وکیل صاحب فرمائیں کہ کیا اس آیت کو جواب بنانے سے ان کا مقصد عیسیٰؑ کامصلوب قرار دینا ہے۔ والعیاذ باﷲ! یا کچھ اور؟ کیونکہ توفی بمعنی موت لے کر اگر ’’فلما توفیتنی‘‘ کو جواب قرار دیا جائے تو پھر عیسیٰؑ کا جواب اسی صورت میں مستقیم ہوسکتا ہے۔ جبکہ وہ سولی ہی پر فوت ہوئے ہوں۔ والعیاذ باﷲ! ورنہ کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت میں ہم نے جو کچھ تقریر توفی بمعنی موت لے کر کی ہے یہ سب علی سبیل التسلیم ہے۔ ورنہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ توفی بمعنی موت قرآن میں ایک جگہ بھی نہیں۔ ہاں! مجامع ضرور ہے یہی وجہ ہے کہ بعض ان مقامات پر بھی جہاں توفی بمعنی اخذ ہے موت کے معنی مستقیم بن جاتے ہیں۔ کیونکہ اس مقام پر مثلاً توفی مجامع موت ہی ہوتی ہے۔ پس احد المجامعین کو مجامع آخر کے موقع میں رکھ دینے سے بعض وقت مطلب تو بے شک درست ہو جاتا ہے۔ مگر پھر سطحی نظروں کو اس مجامع کا معنی حقیقی ہونا متوہم ہونے لگتا ہے اور اسی ابہام نے مرزائی جماعت کا ستیاناس کیا ہے۔ کاش! ان کو سمجھ ہوتی۔ اس کے بعد اسی آیت میں جو کچھ مرزاغلام احمد قادیانی کی دیانتداری ہے۔ وکیل صاحب اسے بھی ملاحظہ فرمائیں:

  1. الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

    لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

498

مرزاغلام احمد قادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ:’’فلما توفیتنی‘‘ قیامت کا واقعہ ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں: ’’ظاہر ہے کہ یہ سوال (یعنی أنت قلت للناس) حضرت عیسیٰؑ سے قیامت کے دن ہوگا۔‘‘ حضرت عیسیٰؑ سے قیامت کے دن ہوگا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۱، خزائن ج۲۲ ص۳۳)

اس طرح ہے: ’’اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے تو وہ قیامت کو خدائے تعالیٰ کے حضور میں کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی تو اس کے بعد مجھے کیا علم ہے۔‘‘(تذکرۃ الشہادتین ص۱۸، خزائن ج۲۰ ص۲۰،۲۱)

(مفصل عبارت پہلے گزر چکی ہے)

اس کے برخلاف ملاحظہ فرمائیے اسی آیت کی شرح میں کہتے ہیں: ’’ظاہر ہے کہ قال صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل ’’اذ‘‘ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰؑ کی طرف سے ہے۔ یعنی ’’فلما توفیتنی‘‘ وہ بھی بصیغہ ماضی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ج۲ ص۲۴۸، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

اب اس دیانت کو دیکھئے کہ ایک ہی آیت کو حقیقت الوحی میں قیامت کا واقعہ قرار دیا جارہا ہے اور اسی کو ازالۃ الاوہام میں واقعہ ماضی بنایا جاتا ہے کیا ایک ہی واقعہ ماضی اور مستقبل میں ہو سکتا ہے؟ آئیے میں آپ کو اس کا راز بتلاؤں۔

ازالۃ الاوہام میں چونکہ وفات عیسیٰؑ پر زور دینا مدنظر تھا۔ لہٰذا وہاں! اس آیت کو واقعہ ماضی ہی قرار دینا مفید سمجھا۔ کیونکہ اگر توفی بمعنی موت لے کر یہ قصہ گزرا ہوا قرار دیا جائے تو پھر عیسیٰؑ کا نزول (بزعم مرزاقادیانی) پھیکا پڑ جاتا ہے۔ برخلاف اس کے حقیقت الوحی میں جو کچھ کہاگیا ہے اس سے مقصود قائلین حیات پر رد کرنا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’اس جگہ اگر توفی کے معنی معہ جسم عنصری آسمان پر اٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی بدیہہ البطلان ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف کی انہیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰؑ سے قیامت کے دن ہوگا۔ پس اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ موت سے پہلے اس

499

رفع جسمانی کی حالت میں خداتعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں گے اور پھر کبھی نہ مریں گے۔ کیونکہ قیامت کے بعد موت نہیں اور ایسا خیال بداہتہً باطل ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۳۱، خزائن ج۲۲ ص۳۳)

بھلا یہ بھی کوئی دیانت ہے کہ جہاں جو مناسب موقعہ معلوم ہوا ویسا ہی لکھ دیا جب اثبات کے لئے قلم اٹھایا تو آیت کو واقعہ ماضی بنایا اور جب قائلین حیات پر رد کرنا شروع کیا تو اسی واقعہ کو قیامت کا واقعہ قرار دے دیا۔ کہئے معترض صاحب اسی دیانت کو ساتھ لے کر دوسرے پر خیانت کا الزام؟

اسی طرح مرزاقادیانی نے اس آیت کا مطلب یوں لکھا ہے: ’’پھر جب کہ تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا مجھے ان کے حال کا کیا علم تھا۔‘‘(تذکرۃ الشہادتین ص۱۸، خزائن ج۲۰ ص۲۰)

(مفصل حوالہ اسی مضمون کے ابتداء میں درج ہے اس کی مراجعت کی جائے)

چونکہ تذکرۃ الشہادتین میں مرزاقادیانی نے اس قصہ کو قیامت کا واقعہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا قیامت میں علم کی نفی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰؑ کو اپنی امت کے بگڑنے کی قیامت تک کوئی خبر نہیں ہوئی (بزعم مرزاقادیانی) مگر اس کے برخلاف ملاحظہ ہو: ’’اور میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۲۵۴، خزائن ج۵ ص۲۵۴)

اور: ’’جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا ہے حضرت مسیح کی روح ان افتراؤں کی وجہ سے جو ان پر اس زمانہ میں کی گئی اپنی مثالی نزول کے لئے شدت جوش میں تھی اور خداتعالیٰ سے درخواست کرتی تھی کہ اس وقت مثالی طور پر اس کا نزول ہو۔ سو خداتعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو دنیا میں بھیج دیا۔‘‘(ایضاً ص۲۴۱)

اس طرح ملاحظہ ہو: ’’پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجالیت کی صفت اتم اور اکمل طور پر آگئی۔‘‘(کتاب مذکور ص۳۴۳، خزائن ج۵ ص۳۴۳)

500

آئینہ کمالات اسلام مصنفہ مرزاقادیانی کے ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ قیامت سے قبل عیسیٰؑ کو ہر اس وقت جب کہ ان کی امت میں کوئی نئی گمراہی پھیلی اطلاع دی جاتی تھی اور اسی وجہ سے ان کی روح مثالی نزول کے لئے بے قرار ہوئی پھر نہیں معلوم کیونکر عیسیٰؑ بروز قیامت اپنی لا علمی ظاہر کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے تذکرۃ الشہادتین میں اس آیت کی شرح میں لکھا ہے۔ اب وکیل صاحب اپنے گریبان میں منہ ڈال کر روئیے اور فرمائیے جب کہ حسب زعم مرزاقادیانی عیسیٰؑ قبل از قیامت اپنی امت کے احوال پر مطلع ہوچکے تھے تو پھر قیامت کے دن یہ کہنا۔ مجھے ان کے حال کا کیا علم تھا۔ کیا صریح کذب نہیں۔ والعیاذ باﷲ!

الحاصل مرزاقادیانی کی اعلیٰ درجہ کی دیانت صرف یہ تھی کہ جہاں جو سمجھ میں آئے اس کے موافق معنی تراش دیں۔ تذکرۃ الشہادتین میں ابطال حیات مدنظر تھا۔ لہٰذا وہاں عیسیٰؑ کا بے خبر بنانا مفید رہا اور آئینہ کمالات اسلام میں مثیل مسیح کا دعویٰ کرنا تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ پہلے عیسیٰؑ کی روح مثالی نزول کے لئے بے قرار ہو۔ لہٰذا وہاں بدون کسی پس وپیش کے عیسیٰؑ کا اپنی امت کے احوال سے خبردار ہونے کی تصریح کر دی گئی۔ یہ ہیں آپ کے مرزاقادیانی جو ایک ہی آیت میں ایسا متناقض اقوال کہہ کر آپ کو بلامیں گرفتار کر گئے۔ ’’ولقد صدق اللہ تعالٰی۔ ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (النساء:۸۲)‘‘

الحاصل جب کہ مرزاقادیانی کی تفسیر کی حقیقت اور ان کی قدم قدم پر دیانت بخوبی آشکارا ہوچکی تو اب میں پھر اصل سوال کی طرف توجہ کر کے کہتا ہوں کہ شاید اب اس شخص کی سمجھ میں آگیا ہو گا کہ عیسیٰؑ کے کلام میں چند اجزاء ہیں جن کو یہ ایک سیاق میں دیکھ کر سب کو جواب بنا رہے ہیں اور دوسرے پر اعتراض کرنے کے لئے تیار ہورہے ہیں۔ پہلا جز تسبیح ہے جسے بالاتفاق جواب نہیں کہا جاسکتا۔ دوم: اظہار بیزاری ہے جس سے جواب مفہوم تو ہو جاتا ہے مگر صریح جواب نہیں۔ سوم: صریح جواب۔ چہارم: ادائے شہادت۔ پنجم: ذکر سفارش۔ اس اخیر جز کو بھی بالاتفاق جواب نہیں کہا جاسکتا۔ پس اگر کلام علی التحقیق والتحلیل کی جائے گی جیسا کہ حضرت موصوف مدظلہ کا منشاء تھا جس کو کس قدراپنے فہم کے موافق میں نے

501

بھی ادا کیا تو پھر ضرور جواب اور مناسبات جواب ومتعلقات جواب میں تمیز کرنی پڑے گی اور اگر کلام علی الاجمال والمسامحتہ ہے تو پھر چاہے شہادت کے ساتھ سفارش کو بھی جواب ہی قرار دو۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تحقیق عمر حضرت عیسیٰؑ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔ اما بعد!

واضح رہے کہ عیسیٰؑ کی عمر کے متعلق اس قدر اختلاف پیش آنے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ان کے حصص عمر عام ابنائے آدم کی طرح مسلسل اور مشاہد نہیں گزرے بلکہ ان کی عمر میں ایک حصہ طویل وہ بھی شامل ہے جو بحالت رفع آسمان پر گزرا ہے۔ اسی وجہ سے رواۃ کو مختلف اعتبارات سے مختلف عمریں بیان کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا جو زمانہ نبوت سے پیشتر کا ہے اس کی تعیین کا تو احادیث میں کہیں پتہ نہیں۔ کیونکہ وہ ایک احادی اور انفرادی حال تھا۔ دوسرا وہ زمانہ جو بعثت کے نام سے موسوم ہے البتہ احادیث میں موجود ہے کیونکہ یہ زمانہ احادی نہیں بلکہ اختلاط فیما بین الناس کا زمانہ تھا۔ تیسرا وہ زمانہ ہے جو بحالت رفع آسمان پر گزرا۔ چونکہ یہ زمانہ بھی مثل اوّل کے احادی اور انفرادی ہی تھا بلکہ مزید برآں اس میں تباین عالم کی وجہ سے اس جہان سے غیبوبت بھی رہی۔ لہٰذا اس کی بھی احادیث میں تعیین نہیں کی گئی۔

چوتھا نزول من السماء کے بعد پھر اختلاط فیما بین الناس کا زمانہ ہے۔ اس سے بھی احادیث میں تعرض کیاگیا ہے۔ الغرض عمر مسیحm کے چار حصص میں سے چونکہ دو حصوں میں بنی آدم کے ساتھ ان کا کوئی معاملہ نہیں رہا۔ لہٰذا ان کا ذکر بھی احادیث میں نہیں ہے۔ برخلاف اس کے وہ دو زمانے جس میں عیسیٰؑ بحیثیت نبوت رہے اور بحیثیت امامت رہیں گے۔ احادیث میں مختلف طور سے بیان ہوچکی ہیں جس کی تفصیل یہ ہے۔ (خصائص الکبریٰ وکنزالعمال ج۱۱ ص۴۷۸ حدیث:۳۲۲۶۰) ’’واخرج ابن سعد عن ابراہیم النخعی

502

قال قال رسول اللہ a یعیش کل نبی نصف عمر الذی قبلہ وان عیسٰی ابن مریم مکث قومہ اربعین عاما‘‘

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیسیٰؑ اپنی قوم میں چالیس برس رہے مگر اس کے برخلاف (کنزالعمال ج۱۱ ص۴۷۹، حدیث:۳۲۲۶۲) میں ہے: ’’انہ لم یکن نبی کان بعدہ نبی الاعاش نصف عمر ہم الذی کان قبلہ وان عیسٰی ابن مریم عاش عشرین ومائۃ وانی لاارانی الاذاہبا علی رأس الستین‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰؑ اپنی قوم میں چالیس سال نہیں بلکہ ایک سو بیس سال رہے۔ ان دونوں کے سوا تینتیس سال کا بھی ایک قول ہے۔

الحاصل عیسیٰؑ کی عمرقبل الرفع میں تین طور سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس طرح بعد النزول من السماء کے زمانہ میں چند اختلافات ہیں۔ چنانچہ (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵) میں ہے: ’’عن ابی ہریرۃ مرفوعا ینزل عیسٰیm الٰی ان قال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ‘‘ اور مسلم شریف میں: ’’عن ابن عمر وانہ یمکث فی الارض بعد نزولہ سبع سنین‘‘ اب ملاحظہ کیجئے کہ اوّل روایت سے بعد النزول من السماء کی مدت اقامت چالیس سال اور دوسری روایت سے سات ہی سال معلوم ہوتی ہے۔ انہیں انتشارات کو علماء نے دیکھ کر تطبیق کے لئے (نہ انکار رفع عیسیٰؑ کے لئے) مختلف صورتیں اختیار کی ہیں۔ پس کسی نے تو اوّل کے تینتیس سال اور بعد کے سات سال لے کر مجموع عمر چالیس قرار دی اور کسی نے ایک سو بیس ہی کو زمانہ رفع سے قبل کی عمر قرار دے ڈالی اور بعد کے چالیس سال چونکہ بحیثیت امامت گزریں گے۔ لہٰذا ان کو نظرانداز کیا لیکن آپ کو معلوم ہوا ہوگا کہ تقدیر اوّل پر ایک سو بیس والی روایت متروک ہوئی جاتی ہے اور تقدیر ثانی پر سات اور چالیس والی روایتوں کا کوئی محمل نہیں رہتا۔ لہٰذا ان جمیع احادیث کو جمع کرنے سے اوّلاً بغرض تنقیح روایات اتنا عرض کر دینا ضروری ہے کہ تینتیس سال کی روایت تو مرفوعاً کہیں ثابت نہیں بلکہ علماء نے شواہد سے اسے نصاریٰ کا قول قرار دیا ہے۔ چنانچہ شرح مواہب جلد اوّل وخامس وزاد المعاد وجمل میں مشرح مذکور ہے بلکہ شیخ جلال الدین سیوطیؒ جنہوں

503

نے کہ جلالین شریف میں اس قول کو اختیار کیا تھا مرقاۃ الصعود میں اپنا رجوع نقل کرتے ہیں۔ لہٰذا اسے تو ساقط ہی سمجھئے۔ اس کے بعد یہ غور کیجئے کہ ایک سو بیس والی روایت میں کون سی عمر مذکورہے تو وہ اسی حدیث سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک سو بیس وہ عمر نہیں جس پر عیسیٰؑ مرفوع ہوئے بلکہ قبل الرفع اور بعد النزول ملا کر مجموعی عمر ہے۔ کیونکہ اسی حدیث میں نبی کریمa نے اپنی عمر بعد حذف کسور ساٹھ سال بیان فرمائی ہے اور یہ آپa کی جمیع عمر ہے۔ پس جب کہ معلوم ہو گیا کہ عیسیٰؑ کی عمر مجموعی ایک سوبیس سال ہے تو اب یہ معلوم کیجئے کہ بعد النزول عیسیٰؑ کتنے دن بعد ارض پر اور حیات رہیں گے تاکہ بقاعدہ حساب عمر قبل الرفع خود متعین ہو جائے۔ کیونکہ عیسیٰؑ زمین پر رہنے کے متعرض فیہ صرف دو ہی زمانے ہیں یا قبل الرفع حال النبوۃ یا بعد النزول حال الامۃ پھر جب مجموع عمر بھی معلوم ہے اور مابعد النزول بھی معلوم ہو جائے تو مابعد النزول کو مجموع سے تفریق کر دیجئے تاکہ بقاعدہ حساب حاصل تفریق عیسیٰؑ کی قبل الرفع عمر نکل آئے۔ لہٰذا اس سے پہلے میں اس اختلاف کو رفع کرنا چاہتا ہوں جو ما بعد النزول میں ہے تاکہ عند الحساب مفرق یعنی عدداقل متعین ہو جائے۔

آپ کو معلوم ہے کہ عیسیٰؑ کے بعد النزول عمر میں روایات دو طرح پر ہیں۔ بعض میں سات سال اور بعض میں چالیس سال ہے۔ ان ہر دو روایات میں صورت تطبیق یہ ہے کہ مجموع زمانہ بعد النزول چالیس سال قراردیا جائے اور سات سال وہ رہیں جو امام مہدی بمعیۃ عیسیٰؑ گزاریں گے۔ جیسا کہ روایت ابوداؤد سے امام مہدی کا بعد نزول عیسیٰؑ ۷یا۹سال تک علی شک الراوی حیات رہنا معلوم ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ درحقیقت حضرت عیسیٰؑ کی مدت اقامت زمانہ نزول کے بعد چالیس سال ہے۔ پھر رواۃ نے مختلف اعتبارات سے متعدد عمریں ذکر کی ہیں۔ ان چالیس کو اگر مجموع عمر ایک سو بیس میں سے تفریق کر دیا جائے تو حاصل تفریق اسّی سال ہوتے ہیں جو کہ بمقتضی حدیث کنزالعمال عیسیٰؑ کی عند الرفع عمر ہے۔ اس کے بعد جو اختلافات کہ عمر عندالرفع میں ہیں ان کو دیکھئے۔

504

تینتیس سال والے قول کا تو مہجور ہونا معلوم ہوچکا۔ رہی ایک سو بیس والی روایت تو اس میں خود حدیث سے قرینہ پیش کر چکا ہوں کہ یہ مجموع عمر ہے۔ نہ وہ عمر جو عندالرفع تھی۔ رہی چالیس والی روایت تو اس میں صرف زمانہ نبوت کو لیاگیا ہے۔ زمانہ نبوت سے جو پہلی عمر ہے وہ اس میں محسوب نہیں۔ جیسا کہ کنزالعمال ج۱۱ ص۴۷۸ حدیث نمبر۳۲۲۵۹ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے: ’’یافاطمۃ انہ لم یبعث نبی الاعمر الذی بعدہ نصف عمرہ وان عیسٰی ابن مریم بعث رسولا لا ربعین وانی بعثت لعشرین‘‘

دیکھئے اس روایت میں حضورa نے اربعین کو مدت بعثت قرار دیا ہے اور اسی وجہ سے اپنی بعثت کا زمانہ عشرین فرمایا کیونکہ چالیس سال پر آپa کو نبوت ملی اور بیس برس بحذف کسور آپa نے تبلیغ نبوت فرمائی۔ جس کا مجموعہ وہی ساٹھ سال ہوتے ہیں جو ایک سو بیس والی روایت میں مذکور تھے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ احادیث میں تنصیف مجموعہ عمر وعمر نبوت ہر دو کے اعتبار سے وارد ہے اور یہ کہ عیسیٰؑ چالیس سال بعد النبوۃ رہے اور چالیس ہی سال امام رہیں گے۔ لہٰذا ان دونوں کو اگر مجموع عمر میں سے گھٹا دیجئے تو عیسیٰؑ کی عمر عند البعثت چالیس سال قرار پاتی ہے جو کہ انبیاء ورسل کی بعثت کی عمر ہے۔ جیسا کہ (شرح مواہب ج۱ ص۶۴) پر مذکور ہے۔

الحاصل انہیں روایات سے بخوبی معلوم ہوگیا کہ عیسیٰؑ کا رفع اسّی سال کی عمر میں ہوا۔ چنانچہ اصابہ میں سعید بن المسیب سے اسی طرح مذکور ہے۔ ہاں! اس تقدیر پر فقط ایک عاش کا لفظ بظاہر غیرمربوط معلوم ہوتا ہے مگر اگر ذرا تامل کیجئے تو اس میں بھی کوئی ضیق نہیں کیونکہ اگر تناسب سیاق وسباق کی رعایت کیجئے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس مقام پر یہی لفظ مناسب تھا۔ کیونکہ اوّلاً دیگر انبیاءo کے حق میں عاش بصیغہ ماضی صادق تھا ہی پھر بحق عیسیٰؑ بھی اپنے حصص عمر میں دو حصوں کے اعتبار سے صادق تھا۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو تنصیف عمر ذکر کرنی مدنظر تھی۔ لہٰذا اگر سلسلہ نقض کرتے تو علاوہ نقض نظم کے بیان تنصیف میں تطویل الاطائل اختیار کرنی پڑتی۔ لہٰذا حصہ ثالث کو بھی جوبہ حقیقت مستقبلہ ہے صیغہ ماضی ہی میں لپیٹ دیا۔ تاکہ تنصیف جمیع عمر اور عمر نبوت ہر دو اعتبار سے معہ رعایت

505

اختصار مستقیم ہو جائے اور سلسلہ نظم بھی بحال رہے۔

چنانچہ اس کے نظائر قرآن شریف میں بھی ہیں: ’’کما قال ان ارادا ان یہلک المسیح ابن مریم وامہ‘‘ حالانکہ صیغہ استقبال بحق ام کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ مگر فصحاء کا طریق ہے کہ جہاں قحط کلام بین ہو وہاں پھر غیرمتعلق امور میں تطویل پسندیدہ نہیں سمجھتے۔

رہی میلاد عیسیٰ والی حدیث جو تفسیر ابن کثیر میں موجود ہے اس کی مراد تشبیہ ہے۔ بحسب عدم التغیر ورنہ تو عمر مذکور بحق اہل جنت بھی درست نہیں۔ کیونکہ جوابدی ہے اس کی عمر کا حساب ہی کیا؟

یہ امر بھی قابل یاداشت ہے کہ تنصیف عمر امم ومشاہیر انبیاءo جن کے اعتبار سے زمانہ کی تاریخ بیان کی جاتی ہے سلسلہ طولیٰ اور تناسب قرون کے اعتبار سے ہے۔ یہ تو تطبیق روایات کی نسبت عرض کیاگیا۔ رہا مرزائیوں کی جوابدہی تو اس میں سہولت ہے کیونکہ اس جماعت کے پاس سوائے زندقہ اور الحاد کے کچھ نہیں۔

بھلا ان سے دریافت کیجئے کہ جب کہ بحکم حدیث ہر نبی کی عمر نصف عما قبلہ ہوتی ہے تو مرزاقادیانی کدھر سے نبی ہوگیا۔ کیونکہ اس کی عمر تو نبی کریمa سے بجائے نصف کے جمیع عمر سے بھی زیادہ ہے۔ لہٰذا جس حدیث کو وہ پیش کرتے ہیں وہ بالعکس ان ہی کی روسیاہی اور غوایت پر برہان ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب!

نوٹ: یہ ٹکڑا فقط تحقیق عمر عیسیٰؑ کے لئے بغرض نفع خلائق ملحق کر دیاگیا ورنہ سوال سے اسے کوئی تعلق نہیں۔

حررہ العبد: بدر عالم میرٹھی عفی عنہ

ض … ض … ض

506

انجاز الوفی

فی

لفظ التوفی

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

507

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انجاز الوفی فی لفظ التوفی

’’ہمارا دعویٰ ہے کہ اہل لغت نے ’’توفاہ اللہ ‘‘ کا محاورہ خاص طور پر الگ لکھا ہے۔ تاج العروس اور لسان العرب، صحاح میں۔ ’’قبص نفسہ وروحہ‘‘ لکھے ہیں۔ اس محاورہ کو لغت دانوں نے مادہ کے دیگر مشتقات سے الگ کیا ہے… تمام علماء دیوبند وغیرہ زور لگاؤ۔ یہی ثابت ہوگا کہ جہاں فاعل اللہ اور مفعول ذی روح اور فعل توفی ہو وہاں بجز قبض روح اور کوئی معنی ہرگز ہرگز نہیں۔‘‘

اس قاعدہ کے سب سے اوّل موجد مرزاغلام احمد قادیانی ہیں اور اس کے بعد ان کے معتقدین نے اس پر بہت کچھ شور شغب مچایا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آج اس کی پوری حقیقت ناظرین کرام کے روبرو پیش کردوں تاکہ ایک قدیم دعویٰ کی حقیقت سے پردہ اٹھ جائے اور اس قاعدہ کی اصلی تصویر جناب ملاحظہ فرماسکیں۔ میں مرزائی صاحبان سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی اس مضمون کو اوّل سے آخر تک تعصب سے برطرف ہوکر نہایت انصاف اور بلارو ورعایت ملاحظہ فرمائیں۔ عجب نہیں کہ ان کی ہدایت اور میری بخشش کا یہی ایک بہانہ ہو جائے۔(ملاحظہ ہو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۶تا۲۰۸، خزائن ج۲۱ ص۳۷۸تا۳۸۰)

’’اس بات پر تمام ائمہ لغت عرب اتفاق رکھتے ہیں کہ جب ایک علم پر یعنی کسی شخص کا نام لے کر توفی کا لفظ اس پر استعمال کیا جائے۔ مثلاً کہا جائے کہ:’’توفی اللہ زیدا‘‘ تو اس کے یہی معنی ہوں گے کہ خدا نے زید کو ماردیا… اور میں نے جہاں تک ممکن تھا صحاح ستہ اور دوسری احادیث نبوی پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ آنحضرتa کے کلام اور صحابہ کے کلام اور تابعین اور تبع تابعین کے کلام میں ایک نظیر بھی ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ ثابت ہو کہ کسی علم پر توفی کا لفظ آیا ہو۔ یعنی کسی شخص کا نام لے کر توفی کا لفظ اس کی نسبت استعمال کیاگیا ہو اور خدا فاعل اور وہ شخص مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو اور ایسی صورت میں اس فقرہ کے معنی بجز وفات دینے کے کوئی اور کئے گئے ہوں بلکہ ہر ایک مقام پر جب نام لے کر کسی شخص کی نسبت توفی کا لفظ

508

استعمال کیاگیا ہے اور اس جگہ خدا فاعل اور وہ شخص مفعول بہ ہے۔ جس کا نام لیاگیا تو اس سے یہی معنی مراد لئے گئے ہیں کہ وہ فوت ہوگیا ہے۔ چنانچہ ایسی نظیریں مجھے تین سو سے بھی زیادہ احادیث میں سے ملیں جن سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں توفی کے لفظ کا خدا فاعل ہو اور وہ شخص مفعول بہ ہو جس کا نام لیاگیا ہے تو اس جگہ صرف ماردینے کے معنی ہیں اور نہ اور کچھ۔ مگر باوجود تمام ترتلاش کے ایک بھی حدیث مجھے نہ ملی جس میں توفی کے فعل کا خدا فاعل ہو اور مفعول بہ علم ہو۔ یعنی نام لے کر کسی شخص کو مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو اور اس جگہ بجز مارنے کے کوئی اور معنی ہوں۔ اس طرح جب قرآن شریف پر اوّل سے آخر تک نظر ڈالی گئی تو اس سے بھی یہی ثابت ہوا… اور پھر میں نے عرب کے دیوانوں کی صرف اسی غرض سے سیر کی اور جاہلیت اور اسلامی زمانہ کے اشعار بڑے غور سے دیکھے اور بہت سا وقت ان کے دیکھنے میں خرچ ہوا مگر میں نے ان میں بھی ایک نظیر ایسی نہ پائی کہ جب خداتوفی کے لفظ کا فاعل ہو اور ایک علم مفعول بہ ہو۔ یعنی کوئی شخص اس کا نام لے کر مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو تو ایسی صورت میں بجز ماردینے کے کوئی اور معنی ہوں۔ بعد اس کے میں نے اکثر عرب کے اہل علم اور اہل فضل وکمال سے دریافت کیا تو ان کی زبانی بھی یہی معلوم ہوا کہ آج کے دنوں تک تمام عرب کی سرزمین میں یہی محاورہ جاری وساری ہے کہ جب ایک شخص دوسرے شخص کی نسبت بیان کرتا ہے کہ توفی اللہ فلاناً تو اس کے معنی قطعی اور یقینی طور پر یہی سمجھے جاتے ہیں کہ فلاں شخص کو خداتعالیٰ نے ماردیا اور جب ایک عرب کو دوسرے عرب کی طرف سے ایک خط آتا ہے اور اس میں مثلاً یہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ: ’’توفیہ اللہ زیدا‘‘ تواس کا یہی مطلب سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے زید کو ماردیا۔ بس اس قدر تحقیق کے بعد جو حق الیقین تک پہنچ گئی ہے یہ امر فیصلہ ہوگیا ہے اور امور مشہودہ محسوسہ کے درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ایک شخص جس کی نسبت اس طور سے لفظ توفی استعمال کیا جائے تو اس کے یہی معنی ہوں گے وہ شخص وفات پاگیا۔ نہ اور کچھ۔‘‘

اس ایک مسلسل مضمون میں مرزاقادیانی نے نو مرتبہ اس قاعدہ کو مکرر کیا ہے۔ اسی طرح مرزاقادیانی کی دیگر کتب میں بھی یہ قاعدہ بکثرت موجود ہے مگر میرے خیال میں یہ ایک حوالہ نو حوالہ جات کے قائم مقام ہے۔ لہٰذا میں اسی پر اکتفاء کرتے ہوئے جواب کی طرف تعرض کرتا ہوں۔

509

تنقیح دعویٰ

چونکہ کسی لفظ کے معنی معلوم کرنے کے لئے اس کے مادہ اشتقاق کو دیکھنا ضروری ہے۔ اس لئے لفظ: ’’توفی‘‘ کے معنی متعین کرنے سے پہلے ہم کو اس کے مادہ کی تفتیش کی حاجت ہوگی۔ لغت میں بیشتر توفی کو وفی کے تحت میں لکھتے ہیں۔ ’’وفی‘‘ کے معنی پورا کرنا یا پورا لینے کے ہیں۔ اس مادہ سے عموماً چار باب ملتے ہیں۔

۱… ’’وفی الشی ای (تم)‘‘
۲… ’’واوفی فلان حقہ۔ اذا اعطاہ وافیا‘‘
۳… ’’واستوفاہ اذا لم یدع منہ شیئا‘‘
۴… ’’وتوفاہ اللہ ‘‘

پیغام صلح کی تخصیص بالذکر کا بین سطور سے یہی مفہوم ہے کہ اوّل کے تین ابواب میں ان کو ہم سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ ہم دونوں فریق ان ابواب کو اپنے مادہ کے ماتحت ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح چوتھے باب میں بھی اگر اس کا فاعل اللہ یا مفعول ذی روح نہ ہو فریقین کا کوئی اختلاف ظاہر نہیں ہوتا۔ کیونکہ جس صورت میں دعویٰ پیش کیاگیا ہے۔ اس میں دو قیدیں ملحوظ ہیں۔

۱… ’’باب تفعل‘‘ ہو۔

۲… فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو۔

میں جہاں تک سمجھتا ہوں اگر یہ دونوں قیدیں منتفی ہو جائیں یا احدہما، تو پھر شاید قادیانی جماعت یا لاہوری پارٹی اس کے متعلق ایسے موٹے لفظوں میں دعوے نہ کرے گی۔ پس اگر ان دونوں قیدوں کا کوئی مفہوم معتبر ہے تو ان کے انتفاء سے مندرجہ ذیل صورتیں پیدا ہوں گی۔ اوّل شرط کے انتفاء کی تین صورتیں ہیں۔ باب ضرب ہو یا افعال ہو یا استفعال۔ دوسری شرط کے منتفی ہونے کی بہت سی شکلیں ہیں۔

۱… فاعل اللہ ہو مگر مفعول ذی روح نہ ہو۔

۲… مفعول ذی روح ہو مگر فاعل اللہ نہ ہو۔

۳… نہ اللہ فاعل ہو اور نہ مفعول ذی روح ہو۔

510

یہ تیسری صورت بے شمار صورتوں پر مشتمل ہے۔ کیونکہ غیر اللہ کے افراد اس قدر ہیں ان جملہ صورتوں میں ہمارا اور مرزائیوں کا کوئی نزاع نہیں۔ اب مابہ النزاع باب تفعل میں یہی فقط وہ صورت ہے جب کہ فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ توفی کے وہ معنی جو مرزائی صاحبان بیان کرتے ہیں اختلاف باب کا ثمرہ نہیں ہوسکتے اور نہ اس سبب سے اس لفظ کو اپنے مادہ سے جدامانا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس باب سے فعل توفی بدون شرائط بالا کے مستعمل ہو تو پھر مرزائی جماعت اس کے متعلق یہ دعویٰ نہیں رکھتی جیسا کہ اوپر کی تشریح سے واضح ہوچکا اور جیسا کہ پیغام صلح کی صریح عبارت کا مفہوم ہے۔ لہٰذا اب مرزائیوں کا دعویٰ ان الفاظ میں منقح ہونا چاہئے کہ وفی کے جمیع ابواب میں سے فقط ایک باب تفعل اور پھر باب تفعل ذی روح ہو ایسی ہے جس میں اس کے مادہ کا کچھ پتہ نہیں بلکہ وہ اپنے مادہ سے بالکل علیحدہ رہے۔ برخلاف اس کے وفی کے جمیع ابواب کے جمیع استعمالات اپنی اصل اور مادہ ہی کے ماتحت ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ جس طرح تم بقیہ ساری صورتوں میں اس لفظ کو اپنے مادہ کے ماتحت ہی تسلیم کرتے ہو اس طرح ہم صورت بالا کو بھی اپنے مادہ کے ماتحت ہی سمجھتے ہیں۔ اب منصف انصاف کرے کہ ایک لفظ کے جمیع مشتقات کو اپنے مادہ کے ماتحت رکھنے والا حق پر ہوسکتا ہے یا وہ جس نے بلاوجہ فقط ایک صورت کو مستثنیٰ کیا ہو۔ حالانکہ بقیہ اور ساری صورتوں میں وہ بھی ہماری موافقت کرتاہو۔

اب تفتیش طلب امر یہ ہے کہ آخر فقط ایک صورت میں اس لفظ کو اپنے بقیہ مشتقات سے کیوں جدا کیاگیا؟ اختلاف باب کی وجہ سے تو نہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوچکا۔ ہاں! شاید اللہ فاعل اور مفعول ذی روح ہونے کی وجہ سے مگر یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ کسی ایک لغوی نے بھی یہ قاعدہ نہیں لکھا کہ اللہ کے فاعل اور مفعول ذی روح ہونے سے لفظ اپنے مادہ سے اس قدر دور جاپڑتا ہے۔ گویا کہ پھر اسے اپنی اصل سے کوئی علاقہ ہی باقی نہیں رہتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ (مات زید) کے معنی بھی موت کے ہیں اور (اماتہ اللہ ) میں بھی وہی معنی بحال ہیں۔ لہٰذا یہ وجہ بھی اس مخترع استثناء کی قرار نہیں پاسکتی۔ اب ہمیں نہیں معلوم کہ اس لفظ نے مرزائیوں کا کیا قصور کیا ہے جو وہ اس کے معنی سارے استعمالات کے برخلاف بیان کرتے ہیں۔ مجھے بعض اوقات تحیر ہوتا ہے کہ اس جماعت نے خود تو اس قدر بعیداز عقل اور نقل دعویٰ کیا ہے۔ اس پر اہل اسلام سے مطالبات کا ارادہ ہے۔ اگر ہم اس کے جواب میں فقط اسی پر

511

اکتفاء کریں کہ ہم اس مقام پر بھی وہی معنی مراد لیتے ہیں جو اس کے دیگر بے شمار استعمالات میں تمہارے نزدیک بھی مراد ہیں تو بالکل بجا اور کافی ہوگا۔ خصوصاً جب کہ مرزاقادیانی کا ہمارے سرپر الزام یہ ہو۔

’’یہ دعویٰ بھی عجیب دعویٰ ہے گویا تمام دنیا کے لئے تو توفی کے لفظ کے یہ معنی ہیں کہ: ’’قبض روح کرنا‘‘ نہ قبض جسم، مگر حضرت عیسیٰؑ کے لئے خاص طور پر یہ معنی ہیں کہ مع جسم آسمان پر اٹھالینا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴)

میں کہتا ہوں کہ اگر یہ دعویٰ تعجب خیز ہے تو یہ دعویٰ بھی تعجب خیز ہے کہ لفظ توفی کے جمیع استعمالات میں تو اس کے مادہ کا اثر ظاہر ہو اور جب اللہ فاعل اور مفعول ذی روح ہو۔ جب اس کے معنی اپنے مادہ سے بالکل علیحدہ جاپڑیں اور سوائے موت کے ہرگز ہرگز کوئی اور معنی نہ ہوسکیں۔ گویا کہ سارے استعمالات میں سے ایک صورت کو جدید معنی کے لئے مخصوص کر لینا تو کوئی تعجب خیز دعویٰ نہ ہو اور مرزاقادیانی کا اختراعی الزام تعجب خیز ٹھہرے اور اگر بالفرض فاعل یا مفعول کی تبدیلی سے معنی میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ کے فاعل اور غیراﷲ کے فاعل ہونے سے مرزائی خیال کے موافق لفظ توفی کے معنی میں فرق پڑتا ہے تو پھراس میں کیوں استعباد ہے کہ اگر مفعول عیسیٰؑ ہوں تو معنی رفع جسمانی کے ہوں اور جب کوئی دوسرا مفعول ہوتو تغیر مفعول کی وجہ سے موت کے معنی مراد ہوجائیں۔

مرزاقادیانی کا الزام بالکل غلط ہے

علاوہ ازیں حقیقت الوحی میں مرزاقادیانی کا تعجب اور ہمارے سرپر الزام ہمارا دعویٰ نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ لہٰذا میں مکرر دعویٰ کا اعلان کرتا ہوں اگر مرزاقادیانی زندہ ہوں:’’لا یموت فیہا ولا یحیٰی‘‘ تو وہ سن لیں ورنہ ان کے معتقدین گوش ہوش کھول کر سن لیں۔ ہم توفی کے معنی بحق حضرت عیسیٰؑ بھی وہی لیتے ہیں جو ساری دنیا کے لئے لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک توفی کے معنی پورا لے لینے کے ہیں۔ (جس کو حضرت شاہ عبدالقادر صاحب نے بلفظ ’’بھر لینا‘‘ ادا کیا ہے) اور اسی معنی کے لحاظ سے ساری دنیا کی توفی ہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک نہ فقط قرآن شریف میں بلکہ سارے لغت عرب میں اس لفظ کا مدلول اور معنی یہی ہیں۔ مگر ہاں! کہیں تھوڑا سا فرق بھی ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ تغیر لفظ کی وجہ سے ہونا قرین قیاس ہے مگر نہ اتنا کہ وہ لفظ اپنے مادہ ہی سے جدا جاپڑے۔ وعلیٰ ہذا! حضرت

512

m کو خدا نے لیا ہی ہے۔ مگر اس طور سے کہ روح مع الجسد اور سارے عالم کو بھی خدا لیتا ہی ہے۔ مگر اس طور سے کہ فقط روح اب ان دونوں مقام پر لفظ لے لینا موجود ہے جو کہ توفی کا مدلول ہے۔ البتہ کہیں رفع جسمی کے ساتھ مجامع ہے اور کہیں موت کے ساتھ حضرت عیسیٰؑ کی توفی مجامع مع الرفع ہے اور دیگر بنی آدم کی قبض روح کے ساتھ فقط جس کا بالآخر حاصل موت ہی ہے۔

یہ امر ابھی میں قرآن سے ثابت کروں گا کہ موت میں بھی لے لینا ہے۔ مثال کے طور سے دیکھئے ’’ید‘‘ اور ’’وجہ‘‘ کا لفظ خداوند عالم اور عباد دونوں میں مستعمل ہے۔ مگر ’’ید‘‘ کا مصداق عباد میں شکل مخصوص ہے اور خداوند عالم میں جو اس کی شان کے مناسب ہے اسی طرح ’’عین‘‘ اور ’’اصابع‘‘ اور ’’رجل‘‘ اور ’’ساق‘‘ اور ’’ازار‘‘ اور ’’رداء‘‘ ان سب کا استعمال جناب باری عزاسمہ میں بھی احادیث صحیحہ اور قرآن عزیز میں موجود ہے۔ باایں ہمہ مصداق کا فرق بھی ضرور ہے۔

اب کیا کوئی احمق جاہل کہہ سکتا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ’’ید‘‘ کا لفظ جب ساری دنیا کے لئے مستعمل ہو جب تو اس سے ایسا ’’ید‘‘ مراد ہو جس میں ’’اصابع‘‘ اور اعصاب لحم وشحم ہیں اور جب خدا کی جناب میں مستعمل ہو تو اس کو ایک بے کیف اور مجہول الحال شی قرار دے دیا جائے۔ الحاصل توفی بمعنی موت کبھی مرتبہ مدلول میں مستعمل نہیں ہوا۔ یعنی اس طور سے کہ موت لفظ توفی کا موضوع لہ ہو۔ ہاں! کبھی لے لینا اور پورا کرنا موت کی طرف منتہی ضرور ہو جاتا ہے۔ یعنی خدا کسی کی عمر پوری کرے گا تو اس کی عمر کی انتہاء موت ہی سے تو ہوگی یا بدوں موت کے بھی عمر منتہی ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک موت نہیں آتی، کہا جاتا ہے کہ ابھی اس شخص کی عمر پوری نہیں ہوئی اور جب موت آجاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اب اس کی عمر پوری ہوگئی۔ پس عمر کے پورے ہونے کی انتہاء چونکہ موت پر ہی ہے۔

کتب لغت میں توفی بمعنی موت ہونے کا راز

اسی لئے لغویین نے توفاہ اللہ کے معنی مات کے بھی لکھ دئیے ہیں۔ نہ اس لئے کہ ان کے نزدیک توفی بمعنی موت حقیقی ہے۔ دیکھو (لسان العرب ج۱۵ ص۳۵۹) ’’توفی المیت استیفاء مدتہ التی وفیت لہ وعدد ایامہ وشہورہ واعوامہ فی الدنیا انتہی‘‘

اس معنی کو خود مرزاقادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص۲۰۵

513

حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۳۷۷) پر تحریر فرماتے ہیں: ’’معلوم رہے کہ زبان عرب میں لفظ توفی صرف موت دینے کو نہیں کہتے بلکہ طبعی موت دینے کو کہتے ہیں۔ اسی بناء پر لسان العرب اور تاج العروس میں لکھا ہے:’’توفی المیت استیفاء مدتہ التی وفیت لہ وعدد ایامہ وشہورہ واعوامہ فی الدنیا‘‘ یعنی مرنے والے کی توفی سے مراد یہ ہے کہ اس کی طبعی زندگی کے تمام دن اور مہینے اور برس پورے کئے جائیں۔‘‘

اب معترض صاحب ملاحظہ کریں کہ خود مرزاقادیانی ہی اپنی آخری تصنیف میں کس قدر صراحت کے ساتھ توفی کو پورا کئے جانے کے معنی میں تسلیم کرتے ہیں۔ ’’وماذا بعد الحق الاالضلال‘‘ الغرض چونکہ عمر کا پورا کرنا اور موت دینا مصداق میں مجامع ہیں۔ اس لئے توفی کے معنی موت کے ہی لکھ دئیے جاتے ہیں۔ اردو میں مثال ملاحظہ فرمائیے۔ جب کبھی کسی بڑے شخص کا انتقال ہوتا ہے تو یہ کوئی نہیں کہتا کہ فلاں بزرگ مرگیا۔ بلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ ان کا وصال ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ وصال اور وصل کے لغوی معنی ملنے کے ہیں۔ اس طرح انتقال نقل سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف حرکت کرنے کے ہیں۔ مگر جب کسی بزرگ کی نسبت وصال یا انتقال کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے موت ہی کے معنی سمجھے جاتے ہیں اور اب کیا کوئی جاہل کہے گا کہ چونکہ دنیا کے سارے بزرگوں کے حق میں وصال بمعنی موت استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا وصال کا موضوع لہ موت ہے اور اس بناء پر شاعر کے قول مثلاً: ’’وصال یار مشکل ہے‘‘ میں شاعر کی تمنا یار کی موت کی ہے۔ ہر گز نہیں بلکہ یہی کہا جائے گا کہ وصال کے لغوی معنی ملنے کے ہیں۔ مگر چونکہ بزرگوں کی نگاہ میں فقط ایک خدا سے ملنا ہوتا ہے جو بدوں موت نہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ فلاں بزرگ کو بارگاہ ایزدی میں وصول میسر ہوا۔ بالآخر اس کے مرادف ہو جاتا ہے کہ وہ مرگئے۔ اس لئے وصال بمراد موت بولنے لگے ہیں۔ اس طرح لفظ انتقال ہے چونکہ بزرگان دین کی نسبت موت کا لفظ معمولی سمجھا گیا ہے۔ لہٰذا ان کی موت کو ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہونے سے تعبیر کیاجاتا ہے۔

یہی حال لفظ توفی کا ہے کہ اس میں بھی فی الجملۃ تشریف ہے۔ خصوصاً جب کہ اللہ فاعل ہو۔ پس اگر کہیں یہ لفظ موت کی مراد میں نظر آتا ہو تو یہ نظر الٰی التشریف ہے۔ لالکونہ موضوعاً لہ۔ جیسا کہ بیت اللہ اور روح اللہ اور انااجزی بہ میں تقریر کی گئی ہے۔

514

الحاصل جس طرح عرفاً فلاں حضرت کا وصال ہوگیا یا فلاں صاحب کا انتقال ہوگیا سے سوائے موت کے اور کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ باوجود یہ کہ پھر بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ موت ان الفاظ کے معنی حقیقی ہیں نہ یہ بیہودہ تاویل کی جاسکتی ہے کہ یہ الفاظ اپنے دیگر استعمالات مثلاً وصول اور ایصال سے بدون کسی قاعدہ کے بالکل جدا ہیں۔ اس طرح لفظ توفی کو بھی سمجھئے۔ چونکہ عام طور پر عمر کا پورا ہونا موت ہی پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے توفی کے معنی موت کے بھی لکھ دئیے گئے ہیں مگر اس سے لفظ کا اپنے موضوع لہ سے نہ خروج لازم آتا ہے اور نہ اس معنی کا حقیقی ہونا ثابت ہوتا ہے بلکہ حقیقی معنی کا تحقق چونکہ عموماً مات کے مجامع ہورہا ہے۔ لہٰذا عوام جو کہ مجامع للموت یا بمعنی موت ہونے میں کوئی تفریق نہیں کر سکتے توفی مجامع للموت کو بمعنی موت ہی قرار دے دیتے ہیں۔ لہٰذا توفی بمعنی موت اس سرسری اور عامیانہ استعمال کے لحاظ سے ہے۔ رہے خواص اور اہل علم سو وہ چونکہ تنقیحات علمیہ سے بخوبی مرتاض ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے نزدیک توفی مجامع للموت ہونے سے بمعنی موت نہیں بن جاتا بلکہ وہ موت کو مرتبہ مصداق یا جزء اخیری کے مرتبہ میں رکھ کر لفظ کو اپنے مدلول سے خارج نہیں کرتے۔ چنانچہ اس مضمون کی شہادت کلیات ابوالبقاء سے بخوبی ہو جاتی ہے۔’’(التوفی) الاماتہ وقبض الروح وعلیہ استعمال العامۃ اوالاستیفاء واخذ الحق وعلیہ استعمال البلغاء‘‘

اگر کسی کو عبارت فہمی کا سلیقہ ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس عبارت کی مراد یہ نہیں ہے کہ بلغاء کے یہاں توفی کسی ایک مقام پر بھی موت کے مجامع نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ بلغاء کے نزدیک اس لفظ کے معنی استیفاء اور اخذ حق کے ہی ہوتے ہیں۔ اگرچہ مراد اس سے موت ہی کیوں نہ ہو۔ پس حق لفظ اور اشتقاق بھی ہے کہ اس میں اخذ اور استیفاء کے معنی ہر حال مرعی رہیں گو بظاہر کہیں سطحی نظریں بمعنی موت سمجھیں۔ وعلیٰ ہذا! اس عبارت میں توفی کے محل موت میں مستعمل ہونے سے انکار نہیں مگر وجہ تخریج میں نظروں کا تفاوت ضرور ہے۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ توفی مصداق میں موت کے ساتھ جمع ہوا تو اس کے معنی موت کے کرنے لگتا ہے۔ مگر بلیغ موت کو انحاء استیفاء میں سمجھ کر استیفاء مرتبہ مدلول میں اور موت کو مرتبہ مصداق میں رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ لغویین کافتہً اس امر میں متفق ہیں کہ موت توفی کے معنی حقیقی نہیں مگر پھر وجہ تخریج میں مختلف ہیں بعض کہتے ہیں کہ توفی المیت بمعنی استیفاء ہے۔ یعنی عمر پورا کرنا اور

515

پورا لینا اور… بعض فرماتے ہیں کہ بمعنی اخذ ہے۔ یعنی کون فیہم کا مقابل جیسا کہ اردو میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اپنا حق وصول کر لیا۔ اس لئے کلیات کی عبارت میں دو لفظ آئے ہیں۔ اوالاستیفاء واخذ الحق۔ پس یہ دونوں شئی واحد نہیں ہیں مگر موت کے مرادف بھی نہیں ہیں یہ بھی یاد رہے کہ استیفاء کی دلالت اس معنی پر اولیٰ ہے اور جز اخیری پر ثانوی اور توفی کی دلالت علی العکس ہے۔ یعنی استیفاء میں حرکت مبدء سے مقطع کی طرف ہے اور توفی میں مقطع سے مبدء کی طرف۔ لہٰذا جب توفی سند الیٰ الرب العزت ہوتا ہے تو اس مقام پر مراد جزء ثانی ہوتا ہے۔ بلحاظ جز اوّل اور جب مسند الیٰ العبد یعنی الیٰ المفعول ہوتا ہے تو مراد جزء اوّل ہوتا ہے بلحاظ جزء ثانی۔

اس تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ لفظ توفی کسی ایک مقام پر بھی بمعنی موت حقیقتاً مستعمل نہیں۔ ہاں! مجامع ضرور ہے۔ لہٰذا’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ (آل عمران:۵۵)‘‘ میں یہ وعدہ کہ اے عیسیٰ میں تیری عمر پوری کروں گا۔ الیٰ حین الوفاۃ مستنبط ہے اور جب تک کہ ان کی زندگی کے لمحات پورے ہوتے رہیں گے۔ کہا جائے گا کہ ان کی عمر پوری کی جارہی ہے۔ وعلیٰ ہذا توفی مقدم ہی ہونا چاہئے تھی۔ کیونکہ یہ بمنزلہ مزید علیہ کے ہے اور مجامع ہے رفع کے ساتھ۔ نہ یہ کہ رفع بعد التوفی ہے۔ یعنی انقطاع توفی کے بعد رفع نہیں ہے بلکہ توفی جو ایک امر ممتد اور مستمر ہے اس مستمر زمانہ میں رفع بھی ہوا ہے۔ لہٰذا وہ امر مستمر اس رفع کے ساتھ مجامع ہوگیا؟ پس رفع کے زمانہ میں یہی توفی چل رہی ہے۔ یہاں تک کہ جب عیسیٰؑ نزول فرمائیں گے اور جواجل خدا کے علم میں مقدر ہے اسے ختم فرماچکیں گے اور وفات پائیں گے تو کہا جائے گا کہ عمر پوری ہوچکی۔ اسی مقام سے تفسیر ابن عباسq کی مراد بھی حل ہوگئی۔ کیونکہ ’’انی ممیتک‘‘ کے یہ معنی تو کوئی بھی نہیں کر سکتا کہ میں تیری موت سے پہلے تجھے موت دے دوں گا… بلکہ توفی ایک انتہائی وعدہ ہے جس کی ابتداء تعلیم ہے کیونکہ اگر توفی کو ذکر ہی نہ کیا جاتا تو کلام منتظر باقی رہ جاتا اور یہ نہ معلوم ہوتا کہ: ’’جاعل الذین‘‘ کے بعد کیا ہوگا اور اگر بعد میں ذکر فرماتے تو چنداں لطیف نہ رہتا۔ کیونکہ معلوم ہے کہ انسان کے لئے بالآخر فنا ہی ہے۔ لہٰذا انتہائے ارادہ کی اوّلاً تعلیم فرما کر بقیہ مواعید کو ذکر فرمایا۔ یہ یاد رہے کہ اس تفسیر کو ترتیب کے خلاف سمجھنا سخت نادانی ہے۔ کیونکہ ترتیب فقط واقع کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ ترتیب جیسا کہ بحسب الوقوع ہوتی ہے۔ اس طرح بحسب

516

الذکر اور بحسب العرف بھی ہوتی ہے۔ پس کسی کلام کے مطابق ترتیب ہونے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ساری ترتیبیں اس میں مجتمع ہو جائیں۔ کیونکہ بعض اوقات بعض ترتیب بعض ترتیب کے مناقض ہوتی ہیں۔ لہٰذا مطابقت ترتیب اسی لحاظ سے لی جائے گی جس اعتبار سے متکلم نے اپنے کلام میں ارادہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر متکلم کو چند امور کی فقط تعدید مطلوب ہو تو اس مقام پر وہ واقع کا لحاظ نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ اس کے مقصود سے خارج ہے۔ جیسا کہ علماء معانی نے جاء زید وعمر اور جاء زید فعمر میں لکھا ہے۔ بناء علیہ میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں بھی ان مواعید کی ترتیب بتلانا مدنظر نہیں۔ اگر ترتیب بتلانی مدنظر ہوتی تو بجائے واو کے ف یا ثم حرف عطف لائے جاتے۔ حالانکہ ان حروف میں سے کوئی بھی اس مقام پر موجود نہیں ہیں۔ پس مقصود آیت میں صرف ان مواعید کا افادہ ہے۔ بدون التعرض الیٰ الترتیب الوقوعی۔ لہٰذا آیت بیان ترتیب سے ساکت ہے اور ترتیب وقوعی خارج کے سپرد ہے۔ ہاں! اس قسم کے مقامات پر جو عرفی ترتیب ہے وہ آیت میں موجود ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگر متوفیک کو مؤخر کردیا جاتا تو خلاف ترتیب عرفی ہوجاتا۔ اگرچہ ترتیب وقوعی کی مطابقت حاصل ہو جاتی مگر وہ غیر مقصود تھی جیسا کہ معلوم ہوا۔ لہٰذا توفی بمعنی موت لے کر اور یہ مان کر کہ عیسیٰؑ بعد النزول من السماء وفات فرمائیں گے۔ پھر بھی ترتیب یہی تھی جو آیت میں موجود ہے۔ فافہم! اور یہ بھی عقلاً معلوم ہے کہ موت سب مرحلوں کے بعد میں ہوا کرتی ہے۔

۲… مغالطہ سے بچانے کے لئے یہ امر بھی ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ ہمارا نزاع اس میں نہیں ہے کہ بعض لغت کی کتب میں توفاہ اللہ کے معنی مات یا ادرکتہ الوفاۃ کے لکھے ہیں بلکہ میری طرف سے اس کا اقرار بھی گزر چکا ہے اور نہ فقط اتنی بات ہمارے مخالف ہے۔ مابہ النزاع یہ ہے کہ آیا معنی مذکور حقیقی ہیں یا مجازی۔

مرزائی مدعی ہیں کہ موت معنی حقیقی ہیں اور ہماری طرف سے یہ اصرار ہے کہ یہ معنی ہرگز ہرگز حقیقی نہیں چونکہ یہ دعویٰ لغت کے متعلق ہے۔ لہٰذا کوئی مرزائی کسی ایک معتبر لغت کی کتاب سے دکھلادے جس نے صاف طور پر لکھ دیا ہو کہ توفاہ اللہ بمعنی مات حقیقی ہے اور جب تک یہ تصریح پیش نہ کی جائے اس وقت تک لغویین کی کتابیں کھول کھول کر فقط مات کا لفظ دکھا دینا ہمارے لئے کوئی مضر نہیں ہے کیونکہ ہم بھی اس معنی کو ایک سرسری اور عامیانہ استعمال تعلیم کرتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ جب تک کوئی نقل اس کے خلاف نہ پیش کی جائے اس وقت تک

517

لغویین کی تحریر سے متبادر یہی ہے کہ مات معنی حقیقی ہیں تو میں نہایت فراخ دلی سے ایسی نقل پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ملاحظہ ہو (اساس البلاغۃ ج۱۰ ص۳۹۴ مصنفہ علامہ زمخشری) جو مرزاقادیانی کے نزدیک بھی بہت بڑے شخص ہیں۔ جیسا کہ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۸، خزائن ج۲۱ ص۳۸۰) میں ہے: ’’اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ زبان عرب کا ایک بے مثل امام جس کے مقابل پر کسی کوچوں وچرا کی گنجائش نہیں یعنی علامہ زمخشری۔‘‘

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے فتویٰ دے دیا ہے کہ علامہ زمخشری کے بالمقابل کسی کوچوں وچرا کی گنجائش ہی نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا میں دیکھو گا کہ مرزائی صاحبان کہاں تک مرزاقادیانی کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

(اساس البلاغۃ ج۲ ص۳۰۴)’’ومن المجاز توفی وتوفاہ اللہ ادرکتہ الوفاۃ‘‘ یعنی توفاہ اللہ کے معنی ادرکتہ الوفات کے مجازی ہیں۔ ہماری خوش قسمتی اور مرزائیوں کی بدقسمتی سے حسب الاتفاق علامہ کی اس عبارت میں فاعل اللہ اور مفعول ذی روح اور فعل توفی بھی ہے۔ مگر پھر تصریح فرمارہے ہیں کہ توفاہ اللہ کے معنی موت کے مجازی ہیں۔ مرزائیو! خدارا اپنے نبی کے قول کی تو لاج رکھو اور اب تو شائع کردو کہ توفاہ اللہ کے معنی مات کے مجازی ہیں تاکہ کسی کے تو مقتدی کہلاؤ۔

ایک مشہور مرزائی مصنف کی قابل ذکر ایمانداری

اس مقام پر مجھے بہت تائسف کے ساتھ میاں خدابخش مرزائی مصنف عسل مصفٰے کی ایمانداری کا حال بھی تحریر کرنا پڑتا ہے۔ ان حضرت نے جب اپنی کتاب میں اس عبارت کو درج کیا ہے تو شاید انہیں مرزاقادیانی کا فتویٰ بھی یاد آگیا ہے۔ لہٰذا اگر پوری عبارت نقل کر دیتے تو توفی کا بمعنی موت مجازی ہونا ثابت ہو جاتا۔ جس کے مقابل پر حسب فتویٰ مذکور کچھ چوں وچرا کی گنجائش نہ رہتی تو اب سہل صورت یہ ایجاد کی کہ علامہ کی اس عبارت کو کاٹ تراش کرو من المجاز کا لفظ ہی حذف کر دیا اور مابعد کی عبارت نقل کر دی جس میں یہ تھا کہ توفی بمعنی موت ہے اور جس جملہ میں اس معنی کا مجازی ہونا مصرح تھا اسے شاید غایت دیانت کے باعث نقل نہیں کیا۔ شاباش مرداں چنیں کنند۔ مرزائیو! اپنے دیانتداروں کا حال دیکھو اور اب بھی راہ راست پر آجاؤ اور خوب سمجھو کہ اگر تم میں حق پر پردہ ڈالنے والے زندہ ہیں تو اسلام میں اس پردے کو ہٹا کر مرزائی ایمان کی ننگی تصویر بھی پیش کر دینے والے موجود ہیں۔

518

اگر کوئی قادیانی یا لاہوری اس مشہور مرزائی مصنف کی اس بددیانتی کو صحیح ثابت کر دے تو اسے ایک سو روپے انعام ملے گا۔ ’’فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار‘‘

الحاصل جب کہ ہم نے توفی بمعنی موت ہونے پر علامہ زمخشری جیسے شخص سے مجاز ہونے کی تصریح پیش کر دی ہے۔ اس لئے اس کے مقابلہ میں تاوقتیکہ کسی ایسے ہی شخص کی عبارت پیش نہ کی جائے جس نے ان معنوں کا حقیقی ہونا تسلیم کیا ہو اثبات مدعی خواب وخیال سمجھنا چاہئے۔

۳… یہ بات مسلم ہے کہ اضداد کا تمایز تقابل سے بہت نمایاں طور پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثلاً خوبصورتی کو بدصورتی کے مقابلہ میں رکھو تو کما حقہ امتیاز ہو جائے گا کہ یہ شئے اور ہے اور یہ اور۔ اس طرح ظلمت اور نور،الم وسرور، انس ونفور، خاکساری وغرور کے معانی کا تمایز عند التقابل علٰی وجہ الکمال ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسی بناء پر متنبی کہتا ہے: ’’بضدہا تتبین الاشیاء‘‘ وعلیٰ ہذا اگر توفی بمعنی موت حقیقی ہے تو ہمیں قرآن کی تتبع سے معلوم کرنا چاہئے کہ کیا قرآن نے کہیں حیات اور توفی کو مقابل ٹھہرایا ہے۔ پس اگر عرف قرآن سے ثابت ہو جائے کہ اکثر مقامات حیات کے مقابلہ میں توفی کو رکھاگیا ہے تو پھر توفی کا معنی موت ہونا بے شک قابل غور ہوگا۔ کیونکہ حیات کا مقابل نام موت ہی ہے اور اگر توفی کو بیشتر مقامات پر حیات کا مقابل نہ ٹھہرایا گیا ہو بلکہ بجائے توفی کے موت کو حیات کے بالمقابل رکھا گیا ہو تو یہ امر بداہتہً واضح ہو جائے گا کہ توفی بمعنی موت نہیں ہے۔ اب میں ذیل میں ان آیات کو نقل کرتا ہوں جس میں توفی اور موت کے متقابلات کو ذکرکیاگیا ہے۔

۱… ’’یحی الارض بعد موتہا (الحدیث:۱۷)‘‘

۲… ’’ہو الذی یحیٖ ویمیت (المؤمن:۶۸)‘‘

۳… ’’کفاتاً۔ احیآئً وامواتاً (المرسلات:۲۶)‘‘

۴… ’’یحییکم ثم یمیتکم (الجادثیہ:۲۶)‘‘

۵… ’’ہوامات واحیا (النجم:۴۴)‘‘

۶… ’’لایموت فیہا ولا یحیٰی (الاعلی:۱۳)‘‘

۷… ’’یخرج الحی من المیت (الروم:۱۹)‘‘

۸… ’’ویخرج المیت من الحی (الروم:۱۹)‘‘

۹… ’’ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء (البقرہ:۱۵۴)‘‘

519

۱۰… ’’اموات غیر احیاء (النحل:۲۱)‘‘ وغیرہ وغیرہ

اب دیکھئے کہ ان جمیع آیات میں جن کو میں نے صرف بغرض تمثیل نقل کیا ہے۔ حیات کا مقابل موت اور موت کا مقابل حیات کو ٹھہرایا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوگیا کہ حیات کوئی ایسی شئے ہے جو موت نہیں ہے اور موت کوئی ایسا امر ہے جو حیات نہیں۔ اس کے بعد اب توفی کے متقابلات پر نظر فرمائیے۔

۱… ’’وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم فلما توفیتنی (المائدہ:۱۱۷)‘‘

۲… ’’اﷲ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا (زمر:۴۲)‘‘

۳… ’’ومنکم من یتوفٰی ومنکم من یرد الی ارزل العمر (حج:۵)‘‘

۴… ’’وہو الذی یتوفٰکم بالیل ویعلم ماجرحتم بالنہار (انعام:۶۰)‘‘

۵… ’’فاما نرینک بعض الذی نعدہم اونتوفینک… الخ! (مؤمن:۷۷، یونس:۴۶، رعد:۴۰)‘‘

۶… ’’حتی یتوفہن الموت اویجعل اللہ لہن سبیلاً (نساء:۱۵)‘‘

اب ملاحظہ فرمائیے کہ سورۃ مائدہ میں توفی کو کونہ فیہم کے بالمقابل وزمر میں موت وحیات کے مجامع اور حج میں ردالی ارذل عمر کے مقابل اور انعام میں جرح کے مقابل اور مومن، یونس ورعد میں اراۃ کے مقابل اور نساء میں جعل سبیل کے مقابل قرار دیا گیا۔ ان جمیع مقامات میں کسی ایک مقام پر بھی توفی کو حیات کا مقابل قرار نہیں دیاگیا۔ اب ذرا قرآن عزیز کی اس بلیغ تقسیم پر غور فرمائیے کہ ادھر تو حیات کے مقابل موت کو رکھا گیا اور توفی کو مقابل نہ بنایا اور ادھر توفی کا مقابلہ حیات نہ رکھا بلکہ ان اشیاء کو۔ اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ عرف قرآن میں نہ توفی حیات کا پورا مقابل ہے اور نہ حیات توفی کا، بلکہ حیات اور موت متقابل ہیں توفی اور کونہ فہیم وغیرہ مقابل ہیں۔ اب اگر کہا جائے کہ قرآن شریف میں توفی کا مقابلہ امور عدیدۃ کو کیوں قرار دیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مفہوم مقابل للتوفی فی نفسہ اس قدر عام ہے کہ جس کے افراد کثیرہ ہیں۔ مثلاً انسان کی نقیض لاانسان ہے۔ اب حجر بھی لاانسان ہے اور شجر بھی لاانسان ہے۔ الیٰ غیر ذالک! اور یہ سب انسان کے مقابل ہی ہیں۔ اس طرح توفی کے معنی جب کہ پورا لئے جانے یا حق وصول کرنے کے تھے۔ لہٰذا اب اگر کسی شئے کو پورا نہ لیاگیا ہو تو اس کی متعدد صورتیں ہیں جیسا کہ مائدہ میں توفی کا مقابل

520

’’مادمت فیہم‘‘ قرار دیا گیا ہے کیونکہ دوامہ فہیم کے زمانہ میں عیسیٰؑ اس معنی کے لحاظ سے غیرمتوفی تھے اور زمر میں تو صراحۃً توفی کو موت اور حیات یعنی عدم موت دونوں کے مجامع قرار دے دیا گیا ہے۔ جس نے فیصلہ ہی کر دیا کہ توفی نہ موت کا پورا مقابل ہے نہ حیات کا۔ لہٰذا توفی اموات اور احیاء دونوں کی بن سکیکما سیجییٔ تفصیلہ عنقریب اس طرح حج میں ’’ردالٰی ارذل العمر‘‘کا مقابل بنایاگیا ہے۔ کیونکہ ’’من یرد الٰی ارذل العمر‘‘ ظاہر ہے کہ اس معنی سے غیرمتوفی ہے۔ ایسا ہی انعام میں جرح غیرتوفی ہے۔ کیونکہ حالت جرح میں بھی انسان پورا نہیں لیا جاتا۔ جیسا کہ ظاہر ہے۔ اس طرح سورۂ مؤمن ویونس ورعد میں بھی اراۃ کو توفی کا مقابل اسی لحاظ سے قرار دیاگیا ہے۔ کیونکہ بحالت توفی اراۃ بعض الذی وعدغیر متصور ہے۔ ایسا ہی نساء میں جعل سبیل بحالت توفی نہیں ہے بلکہ جعل سبیل عدم توفی کی صورت میں ہی ہے۔ الحاصل تعدد متقابلات توفی مفہوم مقابل کی فی نفسہ کلیتہً کی جہت سے ہے نہ کسی اور جہت سے۔ اس بیان سے ایک حق کے طالب کے لئے یہ امر بداہت کی حد تک پہنچ چکا ہے کہ عرف قرآن میں ہرگز توفی بمعنی موت نہیں خصوصاً جب کہ ان آیات مندرجہ بالا میں فعل توفی اور اللہ فاعل اور مفعول ذی روح بھی ہے۔ لہٰذا اب اس بہانہ کی بھی گنجائش نہیں رہتی کہ ان جمیع آیات میں توفی شرائط بالا کے برخلاف واقع ہے۔

۴… یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن عزیز میں اماتتہ کی اسناد علی سبیل الحقیقت سوائے خداوند عالم کے اور کسی غیرکی طرف نہیں کی گئی بلکہ احیاء اور اماتتہ کو بطور حصر اپنی صفت قرار دیا ہے۔ ’’کما قال ہو یحی ویمیت‘‘ اس وجہ سے محی اور ممیت خداوند عالم کے اسماء مختصہ میں سے قرار دئیے گئے ہیں۔ برخلاف اس کے توفی کا فاعل غیراﷲ کو بھی قرار دیاگیا ہے۔

چنانچہ آیات مندرجہ ذیل ملاحظہ ہوں:

۱… ’’حتی یتوفہن الموت (نساء:۱۵)‘‘

۲… ’’قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم (سجدہ:۱۱)‘‘

۳… ’’ان الذین توفہم الملآئکۃ ظالمی انفسہم (النساء:۹۷)‘‘

۴… ’’تتوفہم الملآئکۃ ظالمی انفسہم (نحل:۲۸)‘‘

۵… ’’تتوفہم الملآئکۃ طیبین (نحل:۳۲)‘‘

۶… ’’توفتہ رسلنا (انعام:۶۱)‘‘

521

۷… ’’رسلنا یتوفونہم (اعراف:۳۷)‘‘

۸… ’’فکیف اذا توفتہم الملآئکۃ (محمد:۲۷)‘‘

ان جمیع آیات میں توفی کا فاعل موت اور ملک الموت اور ملائکہ کو قرار دیا ہے۔ پس موت کا فاعل سوائے اپنی ذات کے کسی غیر کو قرار نہ دینا اور توفی کا فاعل غیراﷲ کو بھی بنادینا ضرور اپنے اندر کوئی مخفی راز رکھتا ہے۔ مرزائی معنی کے مطابق یہ تقسیم اس معجز کلام میں محض اتفاقی اور بے سود ہے اور ہمارے بیان کی رو سے اس میں یہی قرآن شریف کی ایک معجز نما صداقت کا جلوہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ توفی کے معنی ہمارے نزدیک لے لینے کے ہیں اور موت فقط توفی کا نام نہیں بلکہ بعد التوفی امساک خداوندی کا نام ہے۔ پس توفی کی جس قدر مراد ہے اس کا فاعل ملک (فرشتہ) بھی حقیقتاً بن سکتا ہے کیونکہ توفی کے معنی لے لینا ہے اور فرشتہ روح کو حقیقتاً لے سکتا ہے مگر اس کے بعد امساک یہ فعل مختص بالباری تعالیٰ ہے اور اس میں فرشتہ کو حقیقتاً کوئی دخل نہیں اور موت چونکہ اسی جزء اخیر کا نام ہے۔ لہٰذا موت سوائے خدا کے کسی غیر کی طرف حقیقتاً سند نہیں ہوسکتی۔ بخلاف التوفی۔ الحاصل قرآن شریف میں لفظ توفی اور موت میں یہ دوسرا امتیاز ہے۔ اوّل امتیاز توتعین متقابلات سے واضح ہو چکا اور دوسرا امتیاز تقسیم فاعل سے بین ہوگیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ توفی اور موت شئے واحد نہیں ورنہ قرآن شریف کے یہ بلیغ فروق محض لغو ہوئے جاتے ہیں۔ والعیاذ باﷲ!

مرزاقادیانی کے کلام سے ثبوت کہ توفی بمعنی موت حقیقت نہیں

۵… (الاستفتاء ص۴۳، خزائن ج۲۲ ص۶۶۵) پر مرزاقادیانی حقیقی اور مجازی معنے کے لئے ایک معیار نقل فرماتے ہیں:’’ثم اعلموا ان حق اللفظ الموضوع لمعنی ان یوجد المعنی الموضوع لہ فی جمیع افرادہ من غیر تخصیص وتعیین‘‘ {پھر تم جانو کہ جو لفظ کسی معنی کے لئے موضوع ہو۔ اس کا حق یہ ہے کہ وہ معنی موضوع لہ اس لفظ کے جمیع افراد میں بدون کسی تخصیص اور تعیین کے پائے جائیں۔}

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے کسی معنی کے موضوع لہ ہونے کے دو حق بیان فرمائے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ وہ معنی موضوع لہ اس لفظ کے جمیع افراد میں پائے جائیں۔ دوم یہ کہ وہ معنی بدون تخصیص اور تعیین کے مفہوم ہوں۔ آپ اسی معیار کے لحاظ سے لفظ توفی کو بھی دیکھئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزائی ’’موت‘‘ توفی کے معنی موضوع لہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ

522

یہاں دونوں شرط منتفی ہیں۔ کیونکہ توفی کے جمیع افراد میں موت کے معنی نہیں پائے جاتے۔ مثلاً اگر توفی کا فاعل غیر اللہ ہو تو مرزائیوں کے نزدیک توفی کے معنی موت کے نہ ہوں گے۔ اس طرح دوسری شرط بھی منتفی ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے اس معنی کا بدون تخصیص وتعیین مفہوم ہونا لازم کردیا ہے۔ حالانکہ اس مقام پر نہ ایک تخصیص بلکہ دو تخصیصیں ہیں۔ ادھر تو فاعل کی جانب اور ادھر مفعول کی جانب۔ اب بتلائیے کہ جو معنی لفظ کے جمیع افراد میں نہ پائے جاتے ہوں اور بدون تخصیص وتعیین کے مفہوم بھی نہ ہوں۔ وہ کیونکر معنی موضوع لہ ہوسکتے ہیں۔ برخلاف اس کے ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ ہمارے نزدیک بدون کسی تخصیص وتعیین کے توفی کے جمیع افراد میں ایک ہی معنی ہیں جو کہ لے لینا ہیں۔ لہٰذا اس معیار کے لحاظ سے بھی موت حقیقی معنی نہیں بنتے اور لے لینا ہی حقیقی معنی قرار پاتے ہیں: ’’لوکانوا یفقہون‘‘

مرزاقادیانی کے کلام سے ثبوت کہ توفی بمعنی لے لینا ہے

۶… اب ہم صراحۃً مرزاقادیانی کی کتاب سے ہی ثابت کئے دیتے ہیں کہ جس جگہ فعل توفی اور فاعل اللہ اور مفعول ذی روح بھی ہے وہاں بھی مرزاقادیانی نے موت کے معنی نہیں کئے… شاید معترض حق کی طرف رجوع کرے۔

(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ ص۵۱۹، خزائن ج۱ ص۶۲۰) ’’انی متوفیک ورافعک الی‘‘{میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔}

اب ناظرین انصاف کریں کہ کیا بعد از صریح عبارت کے بھی توفی کے حقیقی اور موضوع معنی میں کوئی شک باقی رہ گیا ہے۔ حالانکہ اس مقام پر خدا فاعل بھی ہے اور مفعول ذی روح بھی۔ اگر کہا جائے کہ مرزاقادیانی نے بھی غلطی کی ہے تو ہمیں ایسے نبی کی دعوت سے معذور سمجھا جائے جسے عربی کے ایک موٹے لفظ کے معنی سمجھنے کی لیاقت تک نہ ہو اور اس میں بھی وہ چالیس برس سے زیادہ مدت تک گمراہ رہے اور نہ قرآن کی تیس آیتوں کی طرف غور کرے اور نہ مرزائیوں کے موہوم اجماع کی طرف نظر ڈالے۔ حالانکہ بارہ برس تک دعویٰ وحی بھی کرتا ہو اور خدا اس کی غلطی پر اسے متنبہ بھی کرتا ہے۔ مگر وہ فقط (بزعم خود) گمراہ عوام کے اتباع میں وحی خداوندی کی بھی تاویل کرے احادیث اور محاورہ قرآن کو بھی پس پشت ڈال دے۔ اجماع کی بھی کوئی پرواہ نہ کرے اور ان سارے دلائل قاطعہ کے روبرو گمراہ عوام کے اتباع میں بہبودی تصور کرے۔ بلکہ اسی کو طریق انبیاء قرار دے۔

523

ونعوذ باﷲ من خرافات ہذا الدجال ومتبعیہ فانہم فی کل وادیہیمون ویقولون مالا یفعلون واﷲ اعلم!

قرآن شریف سے توفی کا موت سے مغائیر ہونے کا

ثبوت اور مرزائی چیلنج کا جواب

’’قال اللہ تعالٰی! اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا فیمسک التی قضٰی علیہا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی (الزمر:۴۲)‘‘

اے میرے بھٹکے ہوئے دوستو! اور اے سراب خادع کو ماء مصفے خیال کرنے والو! آؤ اور قرآنی آیت: ’’فان تنازعتم فی شیٔ فردوہ الی اللہ والرسول (السناء:۵۹)‘‘ کے تحت قرآن سے ہی فیصلہ کر لو۔ میں نے تم کو تحقیق لغت اور تنقیح محاورات وتصرفات قرآن اور بالآخر خود مرزاقادیانی کی تصانیف تک سے سمجھادیا کہ توفی بمعنی موت ہرگز نہیں اور جس شخص نے ایسا کہا اس نے غور کلام کو چھوڑ کر اطراف میں اپنا وقت عزیز ضائع کیا۔ مگر تمہارے نزدیک اگر زمخشری کی تصریح اور ابوالبقاء کی تفصیل بھی قابل اعتبار نہیں تو آؤ قرآن ہی کو اپنے سامنے رکھو اور اپنی قسمت کا آخری فیصلہ کر لو۔ پھر یا مؤمن صادق بن جاؤ یا کافر مجاہر رہو۔ لیکن خدارا قرآن کو اپنے تخیل اور اباطیل پر حمل نہ کرو بلکہ اپنے اباطیل کی قرآن سے اصلاح کرو۔ کیونکہ بہت مرتبہ انسان کو باطل کی محبت نصوص کی تحریف اور صرائح کی تاویل پر مجبور کر دیتی ہے۔ پرنیک وہ ہے جس نے قرآن کو اپنے عقائد سے نہیں بلکہ اپنے عقائد کوقرآن سے سیکھا اور سنوارا۔ وبہ نستعین!

یہ امر تو واضح ہے کہ اس آیت شریفہ میں توفی کی دو نوعیں ذکر کی گئی ہیں۔ ایک ان لوگوں کی توفی جو علیٰ شرف الرحیل ہیں اور دوم: ’’والتی لم تمت‘‘ یعنی احیاء کی توفی جس سے کم ازکم یہ تو معلوم ہوگیا کہ توفی کوئی ایسا امر نہیں جو مخصوص بالاموات ہو۔ جیسا کہ اموات کے متعلق ہوتی ہے۔ اس طرح احیاء کے بھی متعلق ہوتی ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا یہ سمجھ لینا کہ سارے قرآن میں توفی موت ہی کے معنی میںمنحصر ہے۔ محض غلطی اور فاحش غلطی ہے۔ کیونکہ اس آیت میں صاف طور سے:’’والتی لم تمت‘‘کی بھی توفی موجود ہے۔

524

نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ نوم اور موت میں کیا فرق ہے۔ یعنی دونوں حالتوں میں جسم انسانی سے کچھ لے لیا جاتا ہے پھر یا وہ مرجاتا ہے یا اپنی خواہش ظاہرہ سے تھوڑے عرصہ کے لئے معطل ہو جاتا ہے۔ انہیں دو حالتوں کا آئندہ ذکر فرماتے ہیں: ’’فیمسک التی قضٰی علیہا الموت ویرسل الاخریٰ الٰی اجل مسمی (الزمر:۴۲)‘‘ یعنی جو بدن انسانی سے کچھ لے لیتے ہیں اگر اسے لے کر نہ چھوڑا تو موت ہے اور اگر اجل مسمی تک پھر چھوڑ دیا تو نوم ہے۔

الغرض صدر آیت میں احیاء واموات ہر دو کو خدائی توفی کے ماتحت رکھ کر ذیل میں ان کا فرق ذکر کیاگیا ہے تو لاچار ماننا پڑتا ہے کہ بے شک توفی مرتبہ بشرط شئی میں حیات اور موت دونوں سے مغائیر بھی ہے اور مجامع بھی۔ ورنہ آیت میں توفی کو منقسم الیٰ التوفی مع الامساک اور مع الارسال بنانا کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگر توفی کو ہر دو اقسام کے مغائر اور مجامع نہ لیا جائے بلکہ موت کا عین کر لیا جائے جیسا کہ مرزائی مدعی ہیں تو پھر تقسیم الشیٔ الیٰ نفسہ والی غیرہ کا استحالہ لازم آئے گا اور یہ مستلزم ہوگا کہ: ’’قسم الشیٔ قسیمالہ‘‘ اور ’’قسیم الشیٔ قسما منہ‘‘ کو ’’کما لا یخفی‘‘ پس ضرور ہوا کہ مقام تقسیم میں توفی کو عام ہی لیا جائے تاکہ اس کا مقسم بننا درست ہوسکے۔ نیز اگر توفی کو بمعنی موت لیا جائے تو علاوہ استحالات عویدۃ کے فی نفسہ آیت کا حسن محو ہوا جاتا ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ مارتا ہے۔ روحوں کو ان کی موت کے وقت اور اللہ مارتا ہے جو روحیں ابھی نہیں مریں اور نوم کے وقت… اب اس مضمون کی رکت اور سخافت ملاحظہ فرمائیے کہ اولاً تو موت کے وقت مارے گا کیا مطلب ہے کیا کفار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خدا موت سے پہلے ہی ماردیتا ہے؟ جس کے جواب میں خدا کہتا ہے کہ خدامارتا ہے۔ موت کے وقت… ناظرین انصاف کریں کہ: ’’حین موتہا‘‘ کو موت کا ظرف قرار دینا کس قدر لغو ہے۔ دوم صدر آیت میں موت مراد لے کر پھر امساک اور ارسال بالکل غیر مربوط ہوا جاتا ہے کیونکہ امساک دار سال ماقبل میں ذکر اخذ کو متقاضی ہیں اور اس تقدیر پر اخذ کا کہیں تذکرہ نہیں۔ سوم: لفظ موت جو مرنے والے ہیں اور جو زندہ رہنے والے ہیں دونوں پر اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ لفظ: ’’توفی حین موتہا‘‘ اور ’’والتی لم تمت‘‘ دونوں پر اطلاق کیاگیا ہے۔ چہارم: موت کی تقسیم الیٰ الامساک والارسال باطل ہے۔ کیونکہ موت توفی مع الامساک

525

کے مساوی ہے جو کہ توفی مع الارسال کا قسیم ہے۔ لہٰذا مقسم نہیں بن سکتی۔ پنجم: موت چونکہ توفی مع الامساک کا نام ہے۔ لہٰذا موت کے بعد نہ امساک تصور ہے نہ ارسال۔ حالانکہ فیمسک میں اسی غرض سے لائی گئی ہے تاکہ امساک اور ارسال کی بعدیۃ اور ترتیب بالنسبت الیٰ التوفی ظاہر ہو جائے۔ ششم:اگر بعد الموت بھی امساک یا ارسال متصور ہو تو لازم آتا ہے کہ ہر ایک شخص پر موت کے بعد ایک اور موت طاری ہو یا موت کے بعد پھر حیات اسی عالم میں نصیب ہو۔ ہفتم: اس تقدیر پر لازم آتا ہے کہ موت ارواح پر طاری ہوتی ہو کیونکہ آیت میں توفی انفس کا ذکر ہے۔ پس اگر توفی بمعنی موت ہے تو لامحالہ انفس کی موت تسلیم کرنا پڑے گی۔ حالانکہ مرزاقادیانی کے نزدیک بھی ارواح پر الیٰ یوم الحشر فنا نہیں برخلاف اس کے اگر توفی بمعنی اخذ ہو تو پھر کوئی استحالہ نہیں۔ کیونکہ اخذ انفس سے ان کی موت ثابت نہیں ہوتی بلکہ موت بعد الامساک ہوتی ہے۔ رہا یہ کہ پھر موتہا میں موت کی اضافت انفس کی طرف کیونکر صحیح ہے تو جواباً گزارش ہے کہ اس کی جواب دہی ہم دونوں فریق پر مساوی ہے کیونکہ مرزاقادیانی کے نزدیک بھی موت کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ روح انسانی بھی معدوم ہوجائے۔ مگر بطور تبرع وامید نفع خلائق ذکر کرتا ہوں۔ لیکن اس سے قبل ایک مقدمہ عرض کر دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ انفس کا اجساد کے ساتھ اور اجساد کا جوانفس کے ساتھ جو حال ومحل کا علاقہ ہے وہ سب کو مسلم ہے۔ پھر یہ بھی معلوم ہے کہ جس طرح انفس صعود وارتقاء میں محتاج الیٰ الاجساد ہیں۔ اس طرح اجساد نقل وحرکت میں محتاج الیٰ الانفس ہیں۔

الغرض جو نفس اور بدن کے علائق ہیں وہ سب پر روشن ہیں اگر مقام میں گنجائش ہوتی تو میں کچھ زیادہ تفصیل سے عرض کرتا مگر سردست اس کو اہل عقل وفہم کے حوالہ کر کے عرض کرتا ہوں کہ یہ باہمی ارتباط واحتیاج اس نوبت کو پہنچ چکا ہے کہ افعال جوارح کا اثرروح پر اور افعال روح کا اثر جوارح پر بیّن طور سے ظاہر ہوتا ہے۔ لہٰذا جس کے افعال پر روح کو سزا اور روح کے افعال سے جسم پر مواخذہ ہے۔

پس جب کہ افعال جسم مسند الیٰ الروح اور افعال روح مسند الیٰ الجسم بن سکے تو موت کے جو بہ حقیقت جسم کے لواحق اور متعلقات میں سے ہے۔ مضاف الیٰ الروح ہونے میں کیا نقص ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اضافہ موتہا میں بادنیٰ ملابست ہے اور یہ تاویل نہیں بلکہ امر حق ہے۔

526

اگر کوئی اعتراض کرے کہ توفی انفس کے بھی معنی کر لینے چاہئیں تو یہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ صدر آیت میں احوال ارواح کا ذکر مقصود بالذات ہے۔ نہ فقط جسم کا اور نہ جسم مع الروح کا اور دلیل اس کی یہ ہے کہ ذیل آیت میں امساک اور ارسال کا ذکر بھی موجود ہے اور یہ علی الاطلاق روح کے ہی حال بن سکتے ہیں نہ فقط جسم کے اور نہ جسم مع الروح کے۔ الحاصل ان سات وجوہ سے ظاہر ہوگا کہ آیت میں توفی سے مراد اخذ ہے نہ موت اس کی تائید میں ایک حدیث بھی تحریر کرتا ہوں۔ جس سے معلوم ہوگا کہ آیت میں کسی طرح توفی سے موت مراد نہیں بلکہ اخذ اور قبض ہی مراد ہے۔

(صحیح بخاری ج۱ ص۸۳، باب الاذان بعد ذہاب الوقت) ’’عن عبداﷲ بن ابی قتادۃ عن ابیہ قال سرنا مع النبیa لیلۃ فقال بعض القوم لوعرست بنأیا رسول اللہ قال اخاف ان تناموا عن الصلٰوۃ قال بلال انا اوقظکم فاضطجعوا واسند بلال ظہرہ الی راحلتہ فغلبتہ عیناہ فنام فستیقظا النبیa وقد طلع حاجب الشمس فقال یا بلال این ما قلت قال ما القیت علی نومۃ مثلہا قط قال ان اللہ قبض ارواحکم حین شاء وردہا علیکم حین شاء (الحدیث)‘‘

اب ملاحظہ فرمائیے کہ ’’ان اللہ قبض ارواحکم‘‘ میں وہی امر بیان کیاگیا ہے جو اللہ یتوفی الانفس میں مذکور ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خود آنحضرت نے بھی آیت اللہ یتوفی الانفس میں توفی النفس کو قبض روح سمجھا ہے نہ موت کما قالوا۔

الحاصل جب کہ یہ امر بخوبی منقح ہو چکا کہ توفی سے مراد موت نہیں ہے تو پیغام صلح کے چیلنج کا بھی شافی جواب ہوگیا۔ کیونکہ اس مقام پر فعل توفی ہے اور اللہ فاعل بھی ہے اور مفعول ذی روح ہے باوجود اجتماع ان جمیع شرائط کے پھر معنی موت منتفی ہیں۔

(فائدہ جلیلہ) شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے عوارف میں نفس کے متعلق کچھ کلام کیا ہے جس سے موتہا کی اضافت میں ایک لطیف توجیہ نکل آئی اور ادنیٰ ملابستہ کہنے کی بھی حاجت نہ رہی۔ وہ فرماتے ہیں کہ موت سے جیسا کہ جسم متاثر ہوتا ہے اسی طرح نفس بھی متالم ہوتا ہے۔ وعلیٰ ہذا اضافۃ علیٰ ظاہرہا ہے۔

527

آیت دوم: ’’وہو الذی یتوفٰکم بالیل ویعلم ماجرحتم بالنہار (انعام:۶۰)‘‘

یہ اقسام توفی میں سے قسم ثانی ہے جس کو اس مقام پر جرح کے مقابل رکھاگیا ہے۔ یہاں بھی موت مراد نہیں۔ باوجودیکہ جمیع شرائط پائے جاتے ہیں کیونکہ اس مقام پر توفی مع الارسال مراد ہے اور یہ توفی مع الامساک کا مقابل اور قسیم ہے۔ ’’کمامر فناہیک آیتین من آیات اللہ ‘‘

اس کے بعد میں اس جواب کو نقل کرتا ہوں جو خود مرزاقادیانی کے قلم کا نوشتہ ہے۔ مرزائیوں کو لازم ہے کہ کسی اور جواب کے نقل کرنے سے پیشتر مرزاقادیانی کے اس جواب کو صحیح بنائیں پھر کوئی نیا جواب اپنی طرف سے تراشیں۔ کیونکہ اپنے نبی سے زیادہ نہ ان کا علم ہے نہ فہم۔ لہٰذا اگر کوئی بہترین جواب ممکن ہوگا تو یہی ممکن ہوگا جو مرزاقادیانی نے پیش کیا ہے۔

’دو موخر الذکر آیتیں اگرچہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں مگر درحقیقت ان دونوں آیتوں میں بھی نیند نہیں مراد لی گئی بلکہ اس جگہ بھی اصل مقصد اور مدعا موت ہے اور یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہی ہے… سو ان دونوں مقامات میں نیند پر توفی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ نصب قرینہ نوم استعمال کیاگیا ہے۔ یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیاگیا ہے تاکہ ہر ایک شخص سمجھ لے کہ اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں ہے بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۳۳۲، خزائن ج۳ ص۲۶۹)

اس عبارت میں مرزاغلام احمد قادیانی نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان ہر دو مذکورہ بالا آیتوں میں ظاہراً توفی سے مراد موت نہیں بلکہ نیند مراد ہے۔ ہاں! قاعدہ کے مطرد اور منعکس بنانے کے لئے بالآخر نیند کو بھی موت ہی کی طرف راجع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ قاعدہ کلیہ کہ: ’’جہاں فعل توفی اور اللہ فاعل اور مفعول ذی روح ہے وہاں بجز موت کے اور کوئی معنی نہیں۔‘‘ صحیح بن جائے۔

مگر ہمیں کیوں ضرورت پڑی ہے جو ہم ظاہر معنی کو چھوڑ کر فقط قاعدہ کے ٹھکانے لگانے کے واسطے موت مراد لیں ہر چند کہ ہمارے نزدیک جو آیت کے صحیح معنی تھے وہ گزر چکے مگر اس مقام پر بحیثیت منکر ہونے کے میرے لئے گنجائش ہے کہ آیت کے تاویلی معنی تسلیم نہ کروں اور بطور احتمال تھوڑی دیر کے لئے جس کو مرزاقادیانی نے ظاہری معنی ٹھہرایا ہے تسلیم کر لوں۔ دوم: اس عبارت میں ایک اور معمہ بھی قابل حل ہے اور وہ یہ کہ ابتداء کلام میں تو

528

نیند مراد ہونے کی نفی کی گئی ہے پھر چار ہی سطر پر فرماتے ہیں: ’’اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں ہے۔ بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔‘‘

کس قدر تعجب ہے کہ ابھی چند سطروں کا ہی فصل ہونے پایا تھا۔ جو خود اپنے کلام سے رجوع کر لیاگیا۔ میں نے مانا کہ نیند کو مجازی موت مان کر مراد لیاگیا مگر جب نیند اور مجازی موت شیٔ واحد ہی ہیں تو پھر مجازی موت مراد ہوتے ہوئے نیند کی نفی کیونکر صحیح ہے۔ سوم: اس تقدیر پر توفی بمعنی موت ہو اور موت بمعنی نوم لیاگیا تو اب سوچنا چاہئے کہ کیا آیات قرآنیہ ایسی تاویلات کی متحمل ہیں۔ چہارم: اگر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ توفی آیت مذکور میں بطور استعارہ نوم میں مستعمل ہے۔ تو یہ معنی آیت کے جزء ثانی میں بن سکیں گے نہ جزء اوّل میں۔ کیونکہ حین موتہا کے ساتھ توفی بمعنی نوم کسی طرح درست نہیں۔ کیونکہ اس تقدیر پر جزء اوّل میں موت حقیقی کا بیان ہے اور جزء ثانی میں موت مجازی کا۔ پس اگر توفی کو بمعنی نوم لیا جائے تو لازم آتا ہے کہ حقیقی موت کے وقت بھی آدمی سویا کرتا ہو۔ پنجم: جس قدر اعتراضات کہ توفی بمعنی موت لے کر وارد کئے گئے ہیں ان میں سے اکثر توفی بمعنی نوم لے کر بھی وارد ہیں۔ کیونکہ اگر توفی بمعنی موت لے کر توفی مع الامساک کی مساوی بن جاتا ہے تو بمعنی نام لے کر توفی مع الارسال کی مساوی ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس تقدیر پر بھی بقیہ اکثر استحالات لازم ہوں گے۔

ایک وہم کا ازالہ

شاید کوئی کہے کہ پیغام صلح میں توفی کے معنی قبض روح کے لئے گئے ہیں نہ موت کے اور قبض روح موت اور نوم دونوں سے عام ہے تو جواباً گزارش ہے کہ یہ محض ایک وہم ہے۔ ظاہر ہے کہ مرزائی جماعت اپنے نبی کا خلاف نہیں کر سکتی اور میں پہلے مرزاقادیانی کی نوعبارتیں نقل کر چکا ہوں جس میں انہوں نے تصریح کی ہے کہ توفی سوائے موت کے اور کسی معنی میں مستعمل نہیں۔ اس مقام پر ایک حوالہ اور درج کرتا ہوں۔

’’بلا شبہ قطعی اور یقینی طور پر اوّل سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کہ ہر جگہ درحقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۳۳۵، خزائن ج۳ ص۲۷۰)

بے شک مرزاقادیانی کے کلام میں قبض روح کا لفظ بھی آیا ہے مگر اس سے مراد

529

موت ہی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے نزدیک قبض روح کے وہ عام معنی مراد ہوتے تو پھر ہر دو مذکورہ بالا آیتوں میں صاف صورت یہ تھی کہ توفی سے قبض روح مراد لے لیتے۔ اگرچہ یہ بھی صحیح نہ تھا مگر تاہم ان رکیک تاویلات سے بسا غنیمت ہوتا جو مرزاقادیانی نے جواب میں کیں ہیں۔ علاوہ ازیں مرزاقادیانی کے کلام میں خود تصریح بھی موجود ہے کہ موت اور قبض روح ایک ہی معنی ہیں۔

’’جب عرب کے قدیم وجدید اشعار وقصائد نظم ونثر کا جہاں تک ممکن تھا تتبع کیا گیا اور عمیق تحقیقات سے دیکھاگیا تو یہ ثابت ہوا کہ جہاں جہاں توفی کے لفظ کا ذی روح سے یعنی انسانوں سے علاقہ ہے اور فاعل اللہ جل شانہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت اور قبض روح کئے گئے ہیں۔‘‘(ازالہ اوہام ص۸۸۶، خزائن ج۳ ص۵۸۳)

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے موت اور قبض روح کو مرادف مانا ہے۔ کیونکہ اگر قبض روح سے مراد عام معنی ہوتے تو ذکر موت محض لغو ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر موت بھی قبض روح کے افراد میں سے ہے جیسا کہ نوم۔ دوم: عبارت یوں ہونی چاہئے تھی کہ: ’’بعض مقامات میں توفی کے معنی موت کے کئے گئے ہیں اور بعض مقامات میں قبض روح کے۔‘‘ مگر عبارت میں تو یہ ہے کہ: ’’ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت اور قبض روح کے کئے گئے ہیں۔‘‘

اب ظاہر ہے کہ قبض روح سے موت کے علاوہ کسی اور معنی کا ارادہ کیاگیا ہوتا تو تمام مقامات میں موت اور قبض روح مراد ہونا محض باطل ہے کیونکہ جہاں موت ہے وہاں پھر دوسرے معنی جو موت کے مغائر ہوں مراد نہیں ہوسکتے۔

نیز ملاحظہ ہو: ’’اس عاجز نے حدیثوں کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا… آیا یہ لفظ اس وقت ان کے روزمرہ محاورات میں کئی معنوں پر مشتمل ہوتا تھا یا صرف ایک ہی معنی قبض روح اور موت کے لئے مستعمل تھا۔‘‘ (ایضاً) اب انصاف کیجئے کہ اس عبارت میں کس قدر صاف اور صریح طریق سے مرزاقادیانی نے قبض روح اور موت کو ایک ہی معنی تسلیم کیا ہے۔ جیسا کہ ’’کئی معنوں کا‘‘ مقابلہ بتلا رہا ہے۔ اس لئے میں نے بھی پیغام صلح میں قبض روح سے موت مراد لے کر جواب کی بنارکھی ہے۔ تامریدین اورمرشد کے کلام میں اختلاف نہ پیدا ہو۔

اس کے بعد یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر قبض روح اپنے عام معنوں کے لحاظ سے لیا جائے تو پھر اس کی نسبت موت اور نوم کی طرف مساوی ہوگی۔ کیونکہ موت اور نوم دونوں

530

میں قبض روح موجود ہے پھر یہ کہنا محض غلط ہوگا کہ موت توفی کے معنی حقیقی ہیں اور نوم غیر حقیقی۔ حالانکہ مرزائی موت کو بمعنی حقیقی اور نوم کو معنی مجازی قرار دیتے ہیں اور اس تقدیر پر یہ کس طرح درست نہیں۔ کیونکہ قبض روح کی نسبت جیسا کہ موت کی طرف ہے۔ اسی طرح نوم کی طرف ہے یعنی اگر موت میں قبض الروح مع الامساک ہے تو نوم میں مع الارسال۔ بہرحال نفس قبض روح دونوں کے ساتھ مقید نہیں پھر کیونکر نوم اور موت میں فرق کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ان مذکورہ بالا وجوہات سے یہ امر محقق ہوگیا کہ مرزاقادیانی کی نیت میں قبض روح اور موت میں سوائے اجمال اور تفصیل کے کوئی فرق نہیں اور نہ مرزاقادیانی کے کلام میں قبض روح کو موت سے عام لیاجاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے بھی پیغام صلح کی عبارت میں قبض روح سے موت مراد لے کر جواب دہی شروع کر دی ہے۔

میرا خیال ہے کہ شاید مرزائی جماعت بھی میرے اس خیال کی تردید نہ کرے گی۔ ورنہ اگر اس نے اس طرف اس خیال کی تغلیط کی تو دوسری طرف اس پر واجب ہوگا کہ مرزاقادیانی کی ان جمیع تحریرات کو پہلے ٹھکرا دے جن میں انہوں نے بمعنی موت کی تصریح کی ہے اور اس معنی کے لحاظ سے اپنے قاعدہ کو کلیتہً بحال رکھا ہے۔ اگر کہا جائے کہ گو مرزاقادیانی کی عبارات میں موت ہی مراد ہے مگر ہم نے جن الفاظ میں دعویٰ پیش کیا ہے کہ اس پر تو اعتراض وارد نہیں ہوتا تو میں عرض کروں گا کہ ایسے مہمل اورضال ومضل کو پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے نبی یا مجدد کے سر سے تو اعترضوں کا انبار اٹھائے۔ اس کے بعد اپنے اختراعی قواعد پیش کرلے ورنہ اس میں کیا کمال ہے کہ اپنے نبی کو تو مجرم وملزم ٹھہرایا جائے اور اپنی برأت ثابت کی جائے۔

علاوہ ازیں میں سوال کرتا ہوں کہ جن الفاظ میں براہین احمدیہ حصہ پنجم سے دعویٰ نقل کیاگیا ہے وہ تمہارے نزدیک بھی صحیح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو تم نے آپ ہی اپنے نبی کی تغلیط کر دی اور اگر صحیح ہے تو پھر اعتراضات کی ذمہ داری آپ پر جس حیثیت سے بھی عائد ہو جاتی ہے۔ اگرچہ محض اتباع میں بھی قاعدہ مذکورہ سے بحیثیت ایک امتی ہونے کے بھی آپ پر مدافعت ضروری تھی۔ لہٰذا قبل اس کے آپ اپنے نبی کو اصلاح دیں۔ ان کے اس قاعدہ کی اصلاح کی صورت نکالئے۔ اس کے بعد آخر میں نفس معنی قبض روح پر بھی تھوڑا سا کلام کرنا چاہتا ہوں۔

531

واضح رہے کہ جس شخص نے توفی بمعنی قبض روح لیا ہے۔ اسے اوّلاً ثابت کرنا پڑے گا کہ روح توفی کے معنی میں داخل ہے۔ آیت مذکورہ: ’’اﷲ یتوفی الانفس (الزمر:۴۲)‘‘ میں چونکہ خود آگے انفس کا لفظ موجود ہے۔ لہٰذا اس سے کوئی احتجاج نہیں ہوسکتا۔ رہا تاج العروس وغیرہ میں توفی اللہ زیداً کے معنی قبض روحہ کے لکھ دینا۔ سو اس سے بھی استدلال کرنا غایت حماقت کی دلیل ہے۔ کیونکہ لغویین کی مراد اس مقام پر قبض روح سے موت ہی ہے۔ نہ وہ قبض روح جو موت اور نوم دونوں سے عام ہے۔ کیا آپ کے نزدیک توفی اللہ زیداً بدون قیام قرینہ موت اور نوم دونوں سے ساکت ہے۔ پس لغویین نے روح کا لفظ اس لئے اضافہ نہیں کیا کہ یہ مفہوم لفظ کا جزء ہے بلکہ تبعیۃ مفعول میں ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر خود ذکر کروں گا کہ عامۂ ناس کی توفی بصورت موت ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسی توفی کو قبض روح سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔ نیز اس میں بیان ماخذ معنی عام کا بھی مرعی ہے بخلاف موت کے یہی مراد ہے۔ ’’فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر (الکہف:۲۹)‘‘ سوم: قبض روح اشتقاق لغوی کے لحاظ سے اگرچہ عام ہی ہے۔ مگر عرفاً نائم کی روح کو مقبوض نہیں کہا جاسکتا اور جب عام لوگ اپنے محاورہ میں بولتے ہیں کہ فلاں شخص کی روح قبض ہوگئی تو بیشتر اس سے مراد موت ہی ہوتی ہے۔ حقیقتاً یا تنزیلاً۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ توفی بمعنی قبض روح لے کر پھر آیت آل عمران سے وفات عیسیٰؑ پر استدلال کرنا غایت ضعیف ہو جاتا ہے۔ ہر چند کہ موت کے معنی لے کر بھی تحریف سے کم نہیں مگر میں مرزاقادیانی کی اس تقریر کے لحاظ سے عرض کرتا ہوں جو انہوں نے براہین احمدیہ میں کی ہے۔

’’سو یاد رہے کہ قرآن شریف صاف لفظوں میں بلند آواز سے فرمارہا ہے کہ عیسیٰ اپنی طبعی موت سے فوت ہوگیا ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ تو اللہ تعالیٰ بطور وعدہ فرماتا ہے: ’’یاعیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّ‘‘ معلوم رہے کہ زبان عرب میں لفظ توفی صرف موت دینے کو نہیں کہتے بلکہ طبعی موت دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ قتل وصلیب یا دیگر خارجی عوارض سے نہ ہو۔‘‘(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۵، خزائن ج۲۱ ص۳۷۷، حاشیہ)

’’اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ جب کہ آیت: ’’وما قتلوہ یقینا‘‘ اور ’’وما

532

قتلوہ وما صلبوہ‘‘ صرف توفی کے لفظ کی توضیح کے لئے بیان فرمائی گئی ہے کوئی نیا مضمون نہیں ہے بلکہ صرف یہ تشریح مطلوب ہے کہ جیسا لفظ متوفیک میں یہ وعدہ تھا کہ عیسیٰ کو اس کی طبعی موت سے مارا جائے گا۔ ایسا ہی وہ طبعی موت سے مرگیا نہ کسی نے قتل کیا اور نہ کسی نے صلیب دیا۔‘‘

’’چونکہ یہودیوں کے عقیدہ کے موافق کسی نبی کا رفع روحانی طبعی موت پر موقوف ہے اور قتل اور صلیب رفع روحانی کا مانع ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے اوّل یہود کے رد کے لئے یہ ذکر فرمایا کہ عیسیٰ کے لئے طبعی موت ہوگی۔ پھر چونکہ رفع روحانی طبعی موت کا ایک نتیجہ ہے۔ اس لئے لفظ متوفیک کے بعد ’’ورافعک الیّٰ‘‘ لکھ دیا۔‘‘(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۹، خزائن ج۲۱ ص۳۸۲ حاشیہ)

ان عبارات مذکورہ بالا سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آیت نساء اور آل عمران سے آپ لوگوں کی تلبیس جب ہی چل سکتی ہے جب کہ توفی کو طبعی موت کے معنی میں لیں تاکہ آل عمران میں وعدہ توفی یہودیوں کے بالمقابل بن سکے۔ پس اگر آپ کے نزدیک توفی کے معنی قبض روح ہیں عام اس سے کہ بصورت نوم ہو یا بصورت موت تو پھر ’’انی متوفیک‘‘ میں موت کہاں سے متعین ہے جائز ہے کہ نوم مراد ہو جیسا کہ مفسرین نے ایک قول یہ بھی لکھا ہے۔ دوم: قبض روح میں یہودیوں کا کوئی رد نہیں نکلتا۔ کیونکہ قتل اور صلیب میں بھی قبض روح موجود ہے۔ وعلیٰ ہذا آیت النساء اس کی تشریح بھی نہیں بن سکتی۔ سوم: جب کہ مرزاقادیانی نے تصریح کر دی ہے کہ زبان عرب میں توفی طبعی موت کو کہتے ہیں۔

ملاحظہ ہو (حاشیہ براہین احمدیہ پنجم ص۲۰۵ کمامرّ) تو پھر قبض روح کے معنی مراد لینا مرزاقادیانی کی صریح مخالفت کرتا ہے۔ چہارم: مرزاقادیانی نے جو بڑی سعی وکوشش کے بعد توفی بمعنی موت ہونے کا تبادر پیدا کیا تھا وہ سب کھویا جاتا ہے۔ کیونکہ قبض روح… موت سے عام ہے۔ پس توفی کو بمعنی قبض روح لے کر تو آپ کی اصل بنیاد یعنی وفات عیسیٰؑ ہی کو سخت مضرت پہنچتی ہے۔ الحاصل توفی بمعنی قبض روح اوّلاً تو مرزاقادیانی کے برخلاف دعویٰ ہے۔ دوم: اس تقدیر پر علاوہ ان گزشتہ استحالات کے اور چند استحالات ایسے لازم آتے ہیں جن سے ضروری طور پر مرزاقادیانی اور وفات مسیحm کی تکذیب کرنی پڑتی

533

ہے۔ لہٰذا میں اس معنی کو وہم سے تعبیر کرتا ہوں اور نہیں خیال کرتا کہ کوئی مرزائی ایسے معنی سے اتفاق کر سکے۔

لیجئے آخر میں ہم آپ کو یہ بھی قرآن شریف سے بتلادیتے ہیں کہ توفی بمعنی قبض روح کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا۔

توفی بمعنی قبض روح نہ ہونے کا قرآن شریف سے ثبوت

۱… ’’قال تعالی! والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً (البقرہ:۲۳۴)‘‘ اس آیت میں ایک قراۃ حضرت علیq کی یتوفون معروفاً بھی ہے۔ اگر توفی بمعنی قبض روح ہو تو پھر آیت کا ترجمہ یوں ہوگا۔ ’’اور وہ لوگ جو تم میں سے قبض روح کرتے ہیں۔‘‘ حالانکہ یہ ببداہت باطل ہے۔ کیونکہ معلوم ہے کہ دنیا میں خدا نے ہم کو قابض ارواح نہیں بنایا۔ برخلاف اس کے اگر ہمارے بیان کردہ معنی مراد لئے جائیں تو آیت کا مطلب بالکل صاف ہے۔ کیونکہ اس تقدیر پر ترجمہ یہ ہوگا: ’’اور وہ لوگ جو تم میں سے ہیں چنانچہ اپنی عمر پوری کرتے ہیں۔‘‘

چنانچہ (تفسیر کبیر جز۶ ص۱۳۴) میں اسی آیت کی شرح میں ہے: ’’المسئلۃ اولٰی یتوفون معناہ یموتون ویقبضون قال اللہ تعالٰی (اﷲ یتوفی الانفس حین موتہا) واصل التوفی اخذ الشیٔ وافیاً کاملا ویقال: توفی فلان اذا مات فمن قال توفی کان معناہ قبض واخذ ومن قال توفی کان معناہ توفی اجلہ استوفی اکلہ وعمرہ وعلیہ قرأۃ علیm یتوفون بفتح الیاء‘‘

دیکھئے امام نے کس قدر صاف اور صریح طور سے حضرت علیq کی قراۃ نقل فرماکر اس کے معنی استیفاء عمرواکل کے لئے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔ بھلا کوئی مرزائی قبض روح کے معنی لے کر حضرت علیq کی قرأۃ کا مطلب بیان تو کر دے؟ اور اگر نہ بیان کر سکے اور سمجھ لے کہ بے شک توفی بمعنی قبض روح لے کر آیت کا مطلب خبط ہوا جاتا ہے تو وہ جان لے کہ حضرت علیq بڑے فصحاء وبلغاء میں سے ہیں۔ باایں ہمہ ان کی قرأت معروفاً ہی ہے۔ پھر کیا اس سے صاف نتیجہ نہیں نکلتا کہ قرآن عزیز میں توفی بمعنی قبض روح کا کلیتہً دعویٰ کرنا سرتاپا غلط ہے۔

534

’’قال تعالٰی: حتی اذا جآء تہم رسلنا یتوفونہم‘‘ تفسیر خازن ج۲ ص۱۰۲ میں ہے: ’’وقیل ان ہذا یکون فی الآخرۃ‘‘ والمعنی ’’حتی اذا جآء تہم رسلنا‘‘ بعنے ’’ملائکۃ العذاب یتوفونہم‘‘ یعنی ’’یستوفون عددہم عند حشرہم الی النار‘‘ تاج العروس شرح قاموس میں ہے کہ اس کا قائل زجاج ہے۔ اب آپ ذرا انصاف فرمائیے کہ زجاج جیسا امام لغت اس آیت کو محشر میں تسلیم کرتا ہے۔ اگر توفی بمعنی قبض روح ہے تو پھر کیا محشر میں دوبارہ روحیں قبض کی جائیں گی اور کیا زجاج جیسا لغت دان ایسی فاحش غلطی کر سکتا ہے۔ اس طرح تفسیر کبیر میں اس قول کو سلف میں سے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔ الحاصل یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہوگیا کہ توفی بمعنی قبض روح محض غلط ہے۔ ورنہ حضرت علیq اور حسن اور زجاج جیسے حضرات پر لغت عرب سے ناواقفیت کا سخت دھبہ لگتا ہے۔ والعیاذ باﷲ! بلکہ معنی حقیقی مطلقاً قبض واخذ میں ہے۔

اب اس کے بعد میں مرزائی قاعدہ کا اصل راز بتلانا چاہتا ہوں تاکہ بے چارہ سادہ مسلمان سمجھ لے کہ اس قاعدہ میں نہ کوئی نور ہے نہ صداقت کی کوئی جھلک۔ فقط عوام پر تلبیس ہے اور کچھ نہیں۔

مرزائی قاعدہ کا راز طشت ازبام ہوگیا

اس پر تو قدرے کافی بحث ہوچکی ہے کہ توفی کے لغوی معنی کیا ہیں اور قرآنی کیا۔ لہٰذا اب میں چاہتا ہوں کہ عیسیٰؑ کی توفی کیوں مجامع مع الرفع ہے اور عوام کی کیوں مجامع مع الموت تاکہ مرزائی قاعدہ کا راز طشت ازبام اور اس کی چھپی ہوئی حقیقت منکشف ہو جائے اور بشرط انصاف آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ بے شک حضرت عیسیٰؑ کی توفی عامتہ الناس کی توفی سے مغائر ہی ہونا چاہئے۔ جس سے صاف طور پر آپ پر منکشف ہو جائے گا کہ مرزائیوں کا ایک امر مسلّم پر نظیر طلب کرنا اور انعامی اشتہار دینا محض خداع اور ضلالت ہے۔ واﷲ الموافق!

واضح ہو کہ آیت: ’’اﷲ یتوفی الانفس‘‘ میں ان دو توفیوں کا ذکر ہے جو بطور عادت ہر بشر سے متعلق ہیں۔ یعنی اخذ مع الارسال اور اخذ مع الامساک اور اس وجہ سے ان دونوں کو ایک ہی آیت میں جمع فرماکر نفس دون نفس کے ساتھ مخصوص نہیں فرمایا بلکہ لفظ انفس

535

مفعول بناکر تعمیم کی طرف اشارہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ہر انسان کو ان دوتوفیوں کے ماتحت آنا ہے بالفعل یا بالقوۃ۔ برخلاف اس کے جب حضرت عیسیٰؑ کی مخصوص توفی کا تذکرہ فرمایاتو پھر خطاب بھی مخصوص کردیاگیا اور اس تیسری مخصوص توفی کو اپنے اخوین سے منفصل قرار دیا ہے۔ ’’کما قال: یعیسٰی انی متوفیک‘‘ پس اوّلاً مصدر بالعلم فرماکر آگے خطاب غیرمشترک ہی رکھا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ خداوند عالم کا محض عیسیٰؑ کے ساتھ ہوا ہے نہ کسی اور کے ساتھ۔ پس جب کہ یہ وعدہ عیسیٰؑ ہی کے ساتھ مخصوص طور سے ہے تو اب اس کے لئے کسی نظیر کی تلاش کس قدر لغو ہے۔ کیا اگر زید نے صرف عمر سے ہی کوئی وعدہ کیا ہو تو بکر کو اس امر موعود کے طلب کا حق پہنچ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ظاہر ہے کہ جس کے ساتھ وعدہ ہے اس کے ساتھ ایفاء ہونا چاہئے۔ یہ کیا مہمل بات ہے کہ وعدہ تو فقط عیسیٰؑ کے ساتھ ہو اور اس کا ایفاء عیسیٰؑ سے پہلے اور نبیوں کے ساتھ ڈھونڈا جائے۔ جن سے اس امر موعود کا وعدہ بھی نہیں کیاگیا نہ ان سے اس کا کوئی تعلق ہے۔

چنانچہ آیت: ’’اﷲ یتوفی الانفس‘‘ میں غور فرمائیے کہ کس طرح انفس کی توفی بصورت فعل رکھی ہے جو کہ مفید تجدد ہے اور آیت: ’’یٰعیسٰی انی متوفیک‘‘ میں کس طرح صیغہ اسم فاعل ہے جو کہ مفید وعدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰؑ کی توفی چونکہ ان ہر دو عام توفیوں سے ایک مغائر توفی تھی۔ لہٰذا علاوہ تغیر سیاق کے لفظ رافعک کا اور اضافہ فرمایا تاکہ بالتصریح معلوم ہو جائے کہ یہ توفی مجامع مع الامساک یا مع الارسال نہیں بلکہ مجامع مع الرفع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے قرآن میں بزعم مرزاقادیانی ۲۳مقامات پر لفظ توفی کا مستعمل ہوا ہے۔ مگر کسی ایک مقام میں بھی توفی کو مجامع مع الرفع نہیں رکھاگیا۔ سوائے حضرت عیسیٰؑ کے۔ حتیٰ کہ جب نبی کریمa کے حق میں اس لفظ کااستعمال ہوا ہے وہاں بھی صرف توفی کا ذکر ہے۔ مگر رفع کا ذکر نہیں۔ ’’کما قال: واما نرینک بعض الذی نعدہم اونتوفینک (یونس:۴۶)‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ: ’’نتوفینک ونرفعک‘‘ تاکہ معلوم ہو جائے کہ اطلاق سے غرض یہی ہے کہ آپ کی توفی کسی نئی شان کی نہیں بلکہ اسی قسم کی توفی ہے جو ’’اﷲ یتوفی الانفس‘‘ میں بیان فرمائی گئی۔

پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن عزیز میں تین قسم کی توفیوں کا ذکر ہے:

۱… ’’توفی مع الارسال‘‘
536
۲… ’’توفی مع الامساک‘‘
۳… ’’توفی مع الرفع‘‘

اوّل کی دو توفیاں آیت: ’’اﷲ یتوفی الانفس‘‘ میں مذکور ہیں۔ جیسا کہ گزرا اور تیسری توفی کا آل عمران میں ذکر ہے جیسا کہ معلوم ہوا چونکہ اوّل دونوں نوعوں کا جمیع انفس سے تعلق بیان فرمایا گیا ہے۔ لہٰذا ہم نے اسے غیرمنقطع اور سنت دائمی تصور کیا اور تیسری نوع کا مخصوص طور پر عیسیٰؑ ہی سے وعدہ کیاگیا ہے نہ سارے جہان سے۔ لہٰذا ہم نے ان ہی پر مختم مانا۔ پس کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جس نے خدا کے خوارق کو عادات اور انعام کو اوہام بنایا اور کیا ہی خوش نصیب ہے وہ جماعت جس نے اس کے احکامات کو اپنے اپنے مقام پر بدوں کج بحثیوں کے تسلیم کیا اور شتان بین مشرق ومغرب۔

جب آپ نے یہ سمجھ لیا تو اب سنئے کہ چونکہ مرزاقادیانی بھی اس امر کو جانتے ہیں کہ اہل اسلام کے نزدیک یہ توفی مخصوص طور سے عیسیٰؑ کے متعلق ہوئی ہے اور کسی کی توفی اس طور سے نہیں واقع ہوئی بلکہ یانوم کی صورت میں یا موت کی شکل میں ہوئی ہے۔ لہٰذا قاعدہ بنایا کہ جہاں کہیں اللہ فاعل ہو اور مفعول ذی روح وہاں ہر جگہ موت ہی کے معنی ہوں گے اور ہزار روپے کا اس پر اشتہار شائع کر دیا۔

’’اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا حدیث رسول اللہ a سے یا اشعار قصائد نظم ونثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خداتعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جوذی الروح کی نسبت استعمال کیاگیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر پایا گیا ہے۔ یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپے نقد دوں گا۔‘‘(ازالہ اوہام ص۹۱۹ حصہ دوم، خزائن ج۳ ص۶۰۳)

سادے اور بھولے مسلمان اس دعوے اور اعلان کو دیکھ کر فوراً گردن تسلیم خم کر بیٹھے۔ حالانکہ اس عبارت میں جو کچھ بھی مرزاقادیانی نے ہوشیاری کی ہے وہی ان کے کشف حقیقت کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے اوّلاً سوائے وفات کے کسی اور معنی پر ہزار روپے کا وعدہ تھا مگر جانتے تھے کہ موت کے علاوہ تودسیوں جگہ یہ لفظ مستعمل ہوا ہے۔ لہٰذا کسی

537

اور معنی کی تشریح یوں فرماتے ہیں یعنی قبض جسم۔ پس ہزار روپے کا وعدہ اس تقدیر پر ہے۔ جب کہ لفظ توفی کا خدا فاعل ہو اور مفعول ذی روح اور پھر وہاں قبض جسم یعنی رفع مع الجسد کے معنی ہوں۔

اے میرے عزیزو! ذرا غور کرو کیا اہل اسلام کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ کے علاوہ کوئی اور بھی آسمان پر گیا ہے؟ اگر نہیں گیا تو کسی ذی روح کی توفی حضرت عیسیٰؑ جیسی کیسے ممکن ہے۔ جب خدا نے کسی کو رفع مع الجسد کا وعدہ ہی نہیں دیا سوائے ایک عیسیٰؑ کے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ کسی ذی روح کی توفی اسی طور سے ہو سکے؟ جاؤ اور سارے مرزائی زور لگاؤ اور بتلادو کہ سارے قرآن میں یا کسی حدیث میں کبھی خدا نے سوائے عیسیٰؑ کے کسی اور کو بھی رفع مع الجسد کا وعدہ دیا ہے اور پھر وہاں لفظ توفی کا بھی استعمال فرمایا ہے۔ اگر کوئی مرزائی ایسا دکھادے تو پھر اسی وقت ہم سے توفی مذکورہ بالاشرائط کے ساتھ قبض جسم کے معنی میں لے لے مگر اس کی بدقسمتی سے اگر سارے قرآن میں سوائے عیسیٰؑ کے کسی ایک سے بھی یہ وعدہ نہ کیاگیا ہو تو پھر اسے شرم کرنا چاہئے کہ جس کو خدا نے قبض جسم کا وعدہ ہی نہیں دیا وہ کیونکر آسمان پر جاسکتا ہے؟

چنانچہ پڑھو قرآن کی آیت:

۱… ’’وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعاً (بنی اسرائیل:۹۰)‘‘

۲… ’’اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانہار خللہا تفجیرا (بنی اسرائیل:۹۱)‘‘

۳… ’’اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفاً (بنی اسرائیل:۹۲)‘‘

۴… ’’اوتاتی بااﷲ والملآئکۃ قبیلاً (ایضاً)‘‘

۵… ’’اویکون لک بیت من زخرف (بنی اسرائیل:۹۳)‘‘

۶… ’’اوترقٰی فی السمآء ولن نؤمن لرقیک حتی (بنی اسرائیل:۹۳)‘‘

۷… ’’تنزل علینا کتاباً نقرؤہ قل سبحان ربی ہل کنت الا بشراً رسولاً (بنی اسرائیل:۹۳)‘‘

538

یعنی کفار کہتے تھے کہ ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حتیٰ کہ تو ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کر دے یا تیرے پاس کھجور اور انگور کے باغ ہوں۔ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں یا تو آسمانوں کا کوئی ٹکڑا برسادے جیسا کہ تو کہا کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو ضامن لے آوے یا تیرے لئے کوئی گھر سونے کا بنایا ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور اس پر بھی ہم تیرے چڑھنے کو نہیں مانیں گے جب تک کہ وہاں سے کوئی ایسی کتاب نہ نازل کرے جسے ہم خود پڑھ لیں۔ اے پیغمبرa ان کو ان سوالات کے جواب میں یہی کہہ دو کہ میرا رب پاک ہے (کہ کوئی اس پر زوروتحکم کر سکے) میں تو صرف ایک (فرمانبردار) بندہ اور رسول ہوں۔

اس آیت نے ساری بحثوں کا فیصلہ ہی کر دیا۔ اگر لوگ سمجھیں ظاہر ہے کہ کفار نے اس آیت میں محالات سے سوال نہیں کیا بلکہ ان ہی امور سے سوال کیا ہے جو ان کے زعم میں واقع ہوچکی تھی یا نبی کریمa نے اس کا وعدہ دیا تھا۔ چنانچہ زمین سے چشموں کا پھوٹنا: ’’فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا (البقرہ:۶۰)‘‘ سے ثابت ہے اور باغوں کا ہونا: ’’تبارک الذی ان شآء جعل لک خیراً من ذلک جنت تجری من تحتہا الانہار ویجعل لک قصوراً (الفرقان:۱۰)‘‘ سے ظاہر ہے اور بیت زخرف کا امکان قول خداوند:’’ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمٰن لبیوتہم سقفا من فضۃ ومعارج علیہا یظہرون ولبیوتہم ابواباً وسررا علیہا یتکئون وزخرفاً (الزخرف:۳۳)‘‘ سے ظاہر ہے اسی طرح سقوط سماء کا حال اس طرح ارشاد ہوتا ہے: ’’ان نشا نخسف بہم الارض اونسقط علیہم کسفا من السمآء (سبا:۹)‘‘ اور اتیان خداوند عالم کا بالملائکہ آیت: ’’ہل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ (البقرۃ:۲۱۰)‘‘ میں مذکور ہے اور صعود الی السماء بحق عیسیٰؑ ثابت ہے: ’’کما قال: وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:۱۵۷،۱۵۸)‘‘ رہا نزول کتاب سو وہ تورات موسیٰm کے نزول سے ظاہر ہے۔ الحاصل ان کے سوالات میں کوئی امر مستعبد اور محال نہ تھا۔ صرف سقوط سماء ایک امر اجنبی معلوم ہوتا تھا۔ لہٰذا اسی کے ساتھ کمازعمت لگادیا۔ ورنہ جمیع اشیاء ان کے نزدیک ناممکن نہیں تھا بلکہ واقع تھیں۔ اس وجہ سے ان کا سوال کیاگیا تھا یعنی اگر تو رسول ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ جیسا پہلے رسولوں نے معجزہ دکھلائے ہیں تو نہیں دکھلاتا۔ (افسوس کہ آج مرزائی ان امور کو بھی

539

محال سمجھ رہے ہیں جن کو کفار مکہ تک نے باوجود اس حجود وعناد کے ناممکن نہیں سمجھا) ان سب کے جواب میں آپa کو ایک ہی امر کی تعلیم ہوئی۔ یعنی اے محمدa فرمادیجئے کہ میں تو بشر اور رسول ہوں میرے قبضہ میں کچھ نہیں۔ اگر موسیٰm نے چشمے جاری کئے یا عیسیٰؑ آسمان پر تشریف لے گئے وغیرہ تو نہ اس وجہ سے کہ ان میں طاقت تھی یا اپنے طوع واختیار سے ایسا کیا بلکہ خدا نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ لہٰذا اس نے پورا کیا۔ مگر میرے ساتھ ان امور کا وعدہ ہی نہیں میں کس طور سے آسمان پر جاسکتا ہوں۔ کیونکہ آسمان پر جانا قوت بشری اور رسل سے خارج امر ہے۔ صرف ایک خدا کے قبضہ میں ہے جسے چاہے لے جائے۔ الحاصل جب کہ سوائے عیسیٰؑ کے کسی اور شخص سے رفع کا وعدہ ہی نہیں ہوا تو پھر کیونکر ہم توفی بمعنی قبض جسم دکھلائیں اور کیوں مرزاقادیانی ہم کو ایسے امر پر ہزارروپے کا اعلان دیں جو ہمارے مسلّمات میں سے ہے۔ میں پھر مکرر بآواز بلند کہتا ہوں کہ ہمارے نزدیک کسی شخص کی توفی مجامع الرفع نہیں ہوئی۔ ہاں! ایک عیسیٰؑ کی اگر خداوند عالم قرآن عزیز میں کسی اور کی توفی بھی مجامع مع الرفع قرار دیتا تو ہم اسے بھی تسلیم کر لیتے۔ مگر ہماری نظر سے نہ کوئی ایک آیت گزری ہے نہ کوئی حدیث۔ اگر مرزائی بتلاسکیں کہ سوائے عیسیٰؑ کی کسی اور شخص کی توفی بھی مجامع مع الرفع ہوئی ہو تو ہم ان کے بہت مشکور ہوں گے۔ پس اب ایسے امر پر ہزار روپے کا انعام مقرر کرنا جسے بعض لحاط سے ہم بھی تسلیم کرتے ہوں بالکل ایسا ہے جیسا کوئی شخص کہے کہ اگر مجھے کوئی دوسرا آفتاب دکھلادے تو میں اسے دوہزار روپے انعام دوں گا۔ ظاہر ہے کہ نہ دو آفتاب موجود ہوں گے نہ وہ دکھلاسکے گا۔ اس طرح سوائے حضرت عیسیٰؑ کے نہ کسی سے خدا نے رفع مع الجسد کا وعدہ کیا ہے نہ توفی قبض جسم کے معنی سوائے عیسیٰؑ کے ملے گی اور وہی زیر بحث ہے۔

ایک ہزار روپے کا چیلنج

لیجئے مرزا کے قاعدہ کے بالمقابل میں بھی ایک قاعدہ پیش کرتا ہوں وہ یہ کہ اگر فعل توفی رفع کے ساتھ مستعمل ہو اور فاعل دونوں کا اللہ اور مفعول ذی روح ذات واحد ہو تو وہاں صرف اخذ مع الرفع ہی کے معنی ہوں گے نہ کوئی اور معنی۔ اگر کوئی مرزائی سارے قرآن میں ایک مقام پر بھی اس کے خلاف دکھلادے تو اس کو مبلغ ایک ہزار روپے انعام ملے گا۔

540

میرے دوستو! اگر قواعد بنانے سے ہی نبوت ملتی ہے تو آؤ میں تمہیں اور چند مطرف اور منعکس قاعدہ بتلاؤں پھر کیا تم مجھے بھی نبی بنا کر پوجا کرو گے۔ والعیاذ باﷲ!

اگر مرزائی اعتراض کریں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ خداوند عالم نے عیسیٰؑ سے کوئی ایسا وعدہ کیا ہو جو کسی سے نہیں کیا بلکہ ضروری ہے کہ ان سے قبل بھی کسی سے ایسا وعدہ نہ ہوا ہو تو پھر عیسیٰؑ کا آسمان پر جانا بھی مسلم نہیں۔

ہرچند کہ یہ اعتراض محض مہمل ہے مگر چونکہ اکثر ان حضرات کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے۔ لہٰذا ایک مقدمہ کی شکل میں اس کا جواب بھی تحریر کرتا ہوں جس کے مطالعہ کے بعد ان شاء اللہ تعالیٰ جمیع شکوک کافور ہو جائیں گے۔ وبہ التکلان!

ایک ضروری مقدمہ

یہ مقدمہ ہر ذی فہم کے نزدیک قابل تسلیم ہے کہ جو ذات خالق السموات والارضین ہے نہ اس کے افعال کی کنہ ہم دریافت کر سکتے ہیں اور نہ ان پر کوئی حق اعتراض رکھتے ہیں۔ چنانچہ قرآن پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ سب سے پہلا سوال آدمm کے خلاف پر ملائکہ کی جانب سے کیاگیا تھا۔ ہر چند کہ یہ سوال معترضانہ نظر سے نہیں بلکہ طالبانہ وسائلانہ طریق پر تھا مگر باایں ہمہ ملائکہ کو پشیمانی اور معذرت سے چارہ نہ لگا اور بالآخر ’’سبحٰنک لا علم لنا (البقرہ:۳۲)‘‘ کہنا پڑا۔ حتیٰ کہ شیطان جو اس معاملہ کو معترضانہ نظر سے دیکھ کر: ’’خلقتنی من نارو خلقتہ من طین (الاعراف:۱۲)‘‘ پکار اٹھا تھا۔ ابدالآباد کے لئے حطب جہنم بن گیا۔ اس ایک ہی واقعہ میں اہل بصیرت اور اصحاب فہم کے واسطے ایک بڑا سبق ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ کیا معاملہ چاہئے۔ عجب نہیں کہ سوال ملائکہ سے بھی مقصود ہو جیسا کہ: ’’خلق السموات والارض فی ستۃ ایام (الاعراف:۵۴)‘‘ میں تعلیم کا راز مضمر تھا۔

الغرض عقل سلیم تسلیم کرتی ہے کہ خدا کی شان بے شک: ’’لایسئل عما یفعل‘‘ اور ہماری حالت ’’وہم یسئلون‘‘ ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان بشر کو ایمان ملائکہ پر ایک نوع کی فضیلت ہے۔ کیونکہ ان کا ایمان مبنی علی الشہادۃ ہے اور ہمارا علی الغیب اس وجہ سے قرآن عزیز میں خصوصیات کے ساتھ مومنین کے اس وصف کو ذکر کیاگیا ہے۔ ’’ہدی

541

للمتقین۔ الذین یؤمنون بالغیب‘‘ پس خدائی افعال پر معترضانہ نظر شیطانی خصلت اور گردن تسلیم کرنا سنت انبیاءo اور شعار مؤمنین ہے۔ یہی حنیفیت ہے۔

حنیفیت کیا شئے ہے

حنیفیت مقابل کفر نہیں بلکہ نفس اسلام کی ایک خصوصیت ہے جس سے یہی مراد ہے کہ غیراﷲ کو چھوڑ کر ایک خدا کی طرف متوجہ رہنا کہ پھر یمین ویسار کی طرف میلان نہ ہو۔ چونکہ سب سے اوّل یہ کلمہ انبیاءo میں سے حضرت ابراہیمm ہی کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ اسی لئے ان کو حنیف کہاگیا۔ ’’کما قال: انی وجہت وجہی للذی فطر السموت والارض حنیفا وما انا من المشرکین (انعام:۷۹)‘‘ پس حنیفیت دراصل وصف تھا پھر ملت ابراہیم کا لقب بن گیا ہے۔ جیسا کہ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اسلام کی نسبت دعویٰ کیا ہے۔ الحاصل حنیفیت اسلام میں ایک خصوصیت ہے جیسا کہ: ’’ولٰکن کان حنیفا مسلما (آل عمران:۶۷)‘‘ سے ظاہر ہے۔

رہی تقدیم حنیفیت تو شاید وصف مختص ہونے کے لحاظ سے ہو غالباً اسی وجہ سے حنیفیت کو یہودیت ونصرانیت کا مقابل قراردیاگیا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں قومیں اپنے اپنے وقتوں میں:’’انعمت علیہم‘‘ میں سے تھیں۔ مگر حنیف نہ ہونے کے باعث ’’ضالین‘‘ اور ’’مغضوب علیہم‘‘ سے بن گئیں۔ لہٰذا قرآن مجید میں:’’انعمت علیہم‘‘ کے بعد ’’غیر المغضوب علیہم ولاالضالین‘‘ فرمایا تاکہ ان سے احتراز ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ ہم مومن اور متبع ملت ابراہیمی جب ہی کہلا سکتے ہیں۔ جب کہ ہمارا غیوب پر ایمان ہو اور فضول تشویشیں بے جا سوال وجواب کے بدوں خدائی قصص واحکام کی تسلیم ہو۔

اس کے بعد قرآن عزیز میں خدائی افعال پر اعتراض کفار کی جانب سے بھی منقول ہے: ’’وقالوا لولا نزل ہذا القرآن علٰی رجل من القریتین عظیم (الزخرف:۳۱)‘‘ یعنی کفار مکہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ وطائف کے کسی بڑے رئیس پر کیوں نہ اترا۔ ایک یتیم پر کیوں نازل ہوا۔

مرزائیوں کے نزدیک تو اس سائل کا سوال جس میں سراسر مرزاقادیانی کی روح

542

ہوگی بہت عمدہ اور موزوں ہونا چاہئے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ قرآن ایک بڑی نعمت ہے وہ تو کسی بڑے شخص ہی کی مناسب ہے۔ جیسا کہ بزعم مرزاقادیانی امت محمدیہa میں سوائے ان کے… کسی کو نبوت نہ مل سکی مگر بارگاہ ایزدی میں اس اعتراض کی جو وقعت ہوئی وہ آئندہ فرمان عالی سے ظاہر ہے:’’(فقال) اہم یقسمون رحمت ربک (بل) نحن قسمنا بینہم معیشتہم (الزخرف:۳۲)‘‘ یعنی کیا تیرے پروردگار کی رحمت وہ تقسیم کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ اپنی رحمت کے ہم تقسیم کرنے والے ہیں اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: ’’اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام:۱۲۴)‘‘ یعنی خدا ہی خوب جانتا ہے جس جگہ وہ اپنی رسالت کو رکھتا ہے۔ پس جو تقسیم کرنے والا ہے وہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ ملائکہ کے مقابلہ میں کہا تھا کہ: ’’انی اعلم مالا تعلمون (البقرہ:۳۰)‘‘ آئندہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’(بل) نحن قسمنا… الخ (الزخرف:۳۲)‘‘ یعنی نبوت اور رسالت تو ایک بڑا امر ہے۔ زندگی کے سامان جیسے معمولی شئے کے بھی ہم ہی تقسیم کرنے والے ہیں تو جیسا کہ تم یہ سوال نہیں کر سکتے کہ فلاں کو رئیس کیوں بنایا اور فلاں کو غریب کیوں؟ اسی طرح تمہیں اس سوال کا بھی حق نہیں کہ فلاں کو کیوں نبی بنایا اور فلاں کو کیوں نہ بنایا۔ یہ سب اس وجہ سے ہی کہ خدا میں صفت علم سب سے اعلیٰ ہے اور اس کی شان وہی ہے جو خود اس نے قرآن عزیز میں بیان فرمائی۔ یعنی: ’’لایسئل عما یفعل وہم یسئلون (الانبیاء:۲۳)‘‘ یعنی خدا کے افعال پر خدا سے کوئی بازپرس کوئی سوال نہیں کیاجاسکتا۔

اس مقام پر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ معیشت کو بینہم رکھا ہے مگر نبوت کو نہیں رکھا۔ اس کے بعد تقسیم دونوں کی اپنے ہاتھ میں لی ہے۔یعنی یوں نہیں فرمایا کہ: ’’اہم یقسمون رحمت ربک (الزخرف:۳۲)‘‘ برخلاف اس کے دوسرے جملہ میں:’’(بل) نحن قسمنا بینہم معیشتہم‘‘ پس اوّل تو تقسیم رحمت یعنی نبوت سے اطلاع دی۔ ثانیاً: ’’اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام:۱۲۴)‘‘ میں مخصوص افراد کو بخشنا بیان فرمایا گیا ہے۔ ثالثاً: ’’اﷲ یصطفی من الملائکۃ رسلاً ومن الناس (الحج:۷۵)‘‘ میں نبوت کا اصطفاء پر مبنی ہونا مذکور ہوا۔ اس سے مستفاد ہوا کہ نبوت امت محمدیہ میں بطور فیضان جاری

543

نہیں ہوسکتی۔ اوّلاً تو اس وجہ سے کہ نبوت بینہم رکھی ہی نہیں گئی بلکہ جس امر کی تقسیم بینہم ہے وہ معیشت ہے۔ ثانیاً: اس وجہ سے کہ نبوت ان افراد کو جو خدا کے علم میں ہیں مل چکی ہے۔ بطور اصطفاء نہ بطور کسب لہٰذا کسب بے کار۔ ثالثاً: اس وجہ سے کہ خود قرآن عزیز نے بتلادیا ہے کہ تقسیم تام ہوگئی۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ:’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی… الخ (المائدہ:۳)‘‘ لہٰذا کسی جدید قسم کی گنجائش نہیں۔

اس آیت میں اوّلاً چند امور قابل غور ہیں پہلے تویہ کہ دین کا اکمال ذکر فرمایا اور نعمت کا اتمام پھر یہ کہ تکمیل دین میں لکم فرمایا اور اتمام نعمت میں علیکم نہ فیکم پہلے سوال کی نسبت گزارش ہے کہ لغویین نے تصریح کی ہے کہ کمال بحسب الاوصاف ہوتا ہے اور تمام بحسب الاجزاء خصوصاً جب کہ یہ دونوں لفظ ایک ہی آیت میں مجتمع ہیں تو پھر تفریق ضروری ہے۔ جیسا کہ شیخ سید محمد آلوسیؒ نے تفسیر روح المعانی میں فرمایا ہے کہ: ’’اذا اجتمعا افترقا واذا افترقا اجتمعا وعلی ہذا‘‘ دین کے ساتھ اکمال ہی مناسب تھا۔ کیونکہ اصول دین جمیع شرائع میں واحد ہی رہے ہیں۔ لہٰذا دین محمدی میں تکمیل اوصاف کے ہی لحاظ سے رہی مگر نبوت فقط اوصاف کے لحاظ سے کامل نہیں ہوئی بلکہ بلحاظ اجزاء بھی مکمل ہوچکی ہے جو اس مقام پر افراد نبوت سے عبارت ہیں۔ وعلیٰ ہذا خاتم النّبیین کی فقط یہ مراد لینا کہ آپa جیسا کامل نبی اب کوئی نہ ہوگا اور امتی نبی برابر ہوتے رہیں گے۔ محض غلط ہے۔ کیونکہ ختم نبوت فرع ہے اتمام نعمت کی اور جب کہ اتمام نعمت بحسب الاجزاء ہے تو لامحالہ خاتم النّبیین باعتبار الافراد ہوگا نہ بحسب الوصف جیسا کہ حدیث: ’’وانا اللبنۃ میں اقامۃ الافراد‘‘ مقام الاجزاء ہی ہے۔

مجھے حیرت ہے کہ جملہ اولیٰ میں باوجود یہ کہ دین کی تکمیل مذکور ہے۔ مگر باایں ہمہ کوئی مرزائی قرآن عزیز کے بعد کسی نئی شریعت کا قائل نہیں ہوا اور جملہ ثانیہ میں حالانکہ تتمیم نعمت مصرح ہے۔ مگر پھر بھی نبوت کو جاری ہی مانا جاتا ہے۔ پس اگر اتمام نعمت کسی جدید نبی کی بعثت کے منافی نہیں ہے تو پھر تکمیل دین کسی جدید دین کے لئے کیونکر مانع ہوسکتی ہے؟ رہا: ’’اتممت علیکم‘‘ فرمانا نہ ’’فیکم‘‘ یہ اسی بناء پر ہے کہ نظر شریعت میں نبوت جاری نہیں بلکہ مسدود ہے۔ لہٰذا عند البیان تمامیۃ علینا ہی انسب ہے نہ فینا، الحاصل ایک طرف تو

544

تقسیم نبوت کا تذکرہ۔ دوسری طرف اتمام نعمت کا اعلان۔ اس کے بعد خاتم النّبیین کی خبر یہ سارے اجزاء بداہتہً دلالت کرتے ہیں کہ اب آئندہ نبوت جاری نہیں۔

کیونکہ جب تقسیم تام ہوگئی تو اب نہ ظلی کی گنجائش ہے نہ بروزی کی۔ یہ سارے اقسام خدائی تقسیم کے تمامیۃ کے بعد حادث ہوئے ہیں۔ لہٰذا محض دجل ہیں۔ یہ ایک بحث درمیان میں آگئی جس کی اس مقام پر تفصیل مدنظر نہیں۔ لہٰذا میں اپنے اصل بیان کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ جب مقدمہ بالا سے یہ امر واضح ہوگیا کہ معیشت جیسی معمولی شئے پر بھی ہمیں بارگاہ خداوندی میں سوال کا کوئی حق نہیں ہے تو نبوت یا خصائص نبوت یا کسی اور شئے اہم کی نسبت کیا حق ہوسکتا ہے۔

پس اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کے رفع اور حیات میں نیچریانہ سوالات اور فلسفانہ اوہام پیدا کرنا قطعاً شیطان لعین اور کفار مکہ کی اقتداء کرنا ہے۔ مرزاقادیانی اور ان کے متبعین کو حضرت عیسیٰؑ کے رفع کے بارے میں ایک بڑا شکال یہ بھی ہے کہ جب ان سے قبل کوئی نبی آسمان پر نہیں گیا تو عیسیٰؑ کیسے جاسکتے ہیں؟

معزز حضرات! یہ محض ایک مہمل اور احمقانہ سوال ہے کیونکہ اس کا لازم یہ ہے کہ نبی کریمa کی خاتمیت کا بھی انکار کردیا جائے کیونکہ آپa سے پیشتر کوئی خاتم نہیں گزرا۔ قرآن شریف کے معجز ہونے کا بھی انکار کیا جائے کیونکہ قرآن سے قبل کوئی کلام معجز نازل نہیں ہوا۔ شق القمر بھی غیرمسلم ٹھہرے۔ کیونکہ پہلے کسی نے قمر کو شق نہیں کیا۔ معراج بھی ایک فسانہ ہو جائے۔ کیونکہ کبھی کسی کو معراج نہیں ہوئی۔ اسی طرح کوہ طور، ناقہ صالحm یہ سب امور محض حکایات ہوں کیونکہ نہ کسی نبی کے لئے سوائے موسیٰm کے کوہ طور ہوا نہ کسی کے لئے سوائے صالحm کے ناقہ۔ دوم: اس اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ کوئی صفت کسی نبی میں جب پائی جاسکتی ہے جب اس کا تحقق نہ صرف ایک نبی میں بلکہ جمیع انبیاءo میں پہلے ہوگیا ہو۔ کیونکہ اگر عیسیٰؑ کے رفع وحیات سے اس لئے انکار ہے کہ ان سے پیشتر کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جومرفوع الیٰ السماء ہو تو میں عرض کروں گا کہ اگر بالفرض آپa سے پیشتر کوئی ایسا نبی گزر بھی جاتا جب بھی عیسیٰؑ کا رفع مرزاقادیانی کے اصول پر قابل تسلیم نہ ہوتا۔ کیونکہ پھر اس نبی میں کلام جاری ہوگا اور اس کا رفع جب قابل تسلیم ہے جب اس سے پیشتر

545

کوئی نبی آسمان پر جا چکا ہو وہکذا۔

پس ایسے مہمل اعتراض کرنا آدمی کی نبوت پر ہی نہیں بلکہ ایمان وعقل پر سخت بدنماداغ کا باعث ہیں۔

دیکھو قرآن عزیز تصریح کرتا ہے کہ: ’’تلک الرسل فضلنا بعضہم علٰی بعض منہم من کلّم اللہ ورفع بعضہم درجات (البقرہ:۲۵۳)‘‘ یعنی یہ رسول ہیں جن میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پس بعض ان میں سے وہ ہیں جن سے خدا نے کلام کیا ہے اور وہ یہی ہیں جن کے مرتبہ بلند کئے تو خود قرآن ہی نے تصریح کر دی کہ فضیلت من کل وجہ کسی کو نہیں، سوائے ایک ذات واحد عزاسمہ کے ہاں۔ بعض کو فضیلت کلیہ ضرور ہے مگر فضیلت کلیہ من کل وجہ میں فرق ہے۔ کون نہیں جانتا کہ موسیٰm حضرت خضرm سے افضل تھے۔ مگر پھر بھی خضرm میں ایک وہ علم تھا جس سے موسیٰm بے خبر تھے اور کیا قرآن میں نہیں ہے کہ: ’’وفوق کل ذی علم علیم (یوسف:۷۶)‘‘ وعلیٰ ہذا باب مفاضلۃ مخلوق سے چل کر خالق تک پہنچتا ہے اور ایک خدا ہی کی ذات پر منتہی ہے جسے ہر جہت سے جمیع ماسوا پر ایسی فضیلت ہے کہ اس کا افضل کہنا بھی بے ادبی میں داخل ہے۔ کیونکہ مفاضلۃ متماثلین میں ہوتا ہے۔ ’’نہ من لہ مثل ومن لیس لہ مثل‘‘ میں الحاصل رفع درجات اور فضیلت اور شئے ہے اور کسی خصوصیت جزئیہ میں کسی نبی کا کسی سے متفرد ہوجانا امر دیگر بلکہ منطوق قرآن عزیز ہے۔

جیسا کہ:’’منہم من کلم اللہ ورفع بعضہم درجات (البقرہ:۲۵۳)‘‘ سے واضح ہے۔ پس کیا اگر نبی کریمa کے زمانہ میں کوئی کوہ طور نہ تھا۔ آپa کے پاس صالحm جیسی ناقہ نہ تھی یا موسیٰm جیسا عصاء نہ تھا تو آپa اس وجہ سے العیاذ باﷲ! مفضول ہوگئے۔

ہرگز نہیں۔ کیونکہ دارومدار فضیلت کلیۃ کا تقرب پر ہے نہ عصاء پر نہ کوہ طور پر اور نہ رفع الیٰ السماء پر۔ کیونکہ معجزات ہر زمانہ میں احوال کے لحاظ سے مختلف رہے ہیں۔ لہٰذا معجزات سے اگر فضیلت نکالنی ہے تو پھر مرزائی جواب دیں کہ کیا مرزاقادیانی نے اپنے معجزات نبی کریمa کے معجزات سے سینکڑوں درجہ زیادہ بیان نہیں کئے۔ اگر آنحضرتa کے معجزات

546

کی تعداد چند ہزار لکھی ہے تو اپنے معجزات کی تعداد تین لاکھ اور براہین احمدیہ میں ایک کروڑ سے زیادہ بیان کی ہے تو کیا یہ صریح مقابلہ اور دعویٰ افضلیت نہیں ہے۔

پس اے میرے دوستو! دہریوں کا راستہ چھوڑو اور اہل ایمان کی راہ لو۔ اگر سلامتی درکار ہے۔ کیا حضرت عیسیٰؑ کی حیات سے اس لئے انکار ہے کہ ان سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا تھا تو پھر قرآن کے معجز ہونے کا بھی انکار کرو گے یا اس جیسا کلام معجز بھی کوئی اور دوسرا بتلاؤ گے۔ اگر نہیں تو کیوں خدائی افعال پر اعتراض کرتے ہو اور کیوں انہیں اپنے عقلی اعتراضات کی بناء پر رد کرنے کھڑے ہو جاتے ہو۔ اگر خدا نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کے لئے کبھی کوئی امر ظاہر کردیا تو کیا ضروری ہے کہ ہمیشہ ویسا ہی ہوا کرے۔ یاد کرو جب کہ بنی اسرائیل نے خدا کے بہت سے نبیوں کو قتل کیا۔ پس اگر خدا نے بنی اسرائیل کے آخری نبی کو اپنی اظہار قدرت کی غرض سے مع الجسد اٹھا لیا تاکہ دنیا دیکھ لے کہ اگر خدا چاہے تو ایسا بھی کر سکتا ہے تو اس میں کیا استحالہ ہے؟ کیونکہ اب معاملہ قتل کا ختم کرنا تھا۔ لہٰذا ایک نبی کو اٹھا بھی لیا۔ چنانچہ ان کے بعد پھر قتل کی سنت معدوم ہوگئی۔ لہٰذا اب عیسیٰؑ کا مخصوص رفع تسلیم کر لیا جائے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

یاد رکھو کہ ہر مابالعرض مابالذات کی طرف منتہی ہوتا ہے۔ پس حکمت کے باب میں مابالذات صرف ایک خدا کی ذات ہے۔ لہٰذا ہم سے یا کسی سے کیوں ایسے سوالات کئے جاتے ہیں۔ ہماری کیا قدرت ہے کہ ہم جمیع اشیاء کی حکم بیان کر سکیں؟ ہمیں تو ایک گھاس کے تنکے کی حکمت بھی معلوم نہیں۔ اتنا سمجھ لینے کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ ! جمیع اوہام مندفع ہوگئے ہوں گے اور آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ توفی کا لفظ جس میں مرزاقادیانی نے ساری عمر صرف کی اور پھر بھی حق تک ان کی رسائی نہ ہوئی۔ آج اس کو اسلام کے ایک ادنیٰ غلام نے کما حقہ واضح کر دکھایا اور بتلادیا کہ مدعی نبوت کی ساری کائنات از قبیل اصغاث احلام تھیں۔

ہر چند کہ میرے ذہن میں اس لفظ کے متعلق ابھی کچھ اور بھی فوائد ہیں جن کو بوجہ طوالت ذکر کرنا پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ ایک ہدایت کے طالب کے لئے اس اختصار ہی میں کفایت دیکھتا ہوں۔ واﷲ اعلم وعلمہ اتم!

547

ازریختہ قلم استاذ الاساتذہ انور الشموس المستنیرہ

حضرت مولانا الحاج المولوی السید محمد انور شاہ صاحب کشمیری

صدر نشین مسند تدریس دارالعلوم دیوبند

متعنا اللہ بعموم فیوضہ وطول حیوتہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ محمد وعلٰی الہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد!

احقر محمد انور شاہ کشمیری عفاء اللہ عنہ اہل اسلام واہل حق کی عالی خدمت میں عرض گزار ہے کہ احقر رمضان سال گزشتہ ۱۳۴۱ھ میں بغرض زیارت والد ماجد کشمیر گیا تھا۔ وہاں بضرورت شرعی ومذہبی، قادیانی فرقہ کے متعلق متعدد تقریروں کا اتفاق ہوا اور اس کا بھی اعلان کیا کہ جو کوئی بعد خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ a کے دعوائے نبوت اور تحدی اور اپنے منکرین کی تکفیر کرے وہ باجماع امت محمدیہ کافر ہے اور جو کوئی ایسے مدعی کے کفر میں تردد کرے وہ بھی قطعاً کافر ہے۔

چنانچہ قادیانی اور لاہوری جماعت نے اپنے اخباروں میں حقیر کی نسبت طعن وتشنیع بھی کی جس کی کوئی پرواہ نہیں۔ احقر جب واپس دارالعلوم دیوبند میں حاضر ہوا تو فارغ التحصیل طلبہ اور بعض حضرات مدرسین کو اس جانب توجہ دلائی کہ اس فتنہ عظیم میں اپنا فرض ادا کریں۔

چنانچہ بحمداﷲ وتوفیقہ ان چند مہینوں میں آٹھ دس رسالے تالیف ہوچکے ہیں جو ان شاء اللہ تعالیٰ طبع ہوتے رہیں گے۔

سردست جناب مستطاب مولوی بدرعالم صاحب مدرس دارالعلوم کا رسالہ متعلق مسئلہ حیات عیسیٰؑ پیش کیا جاتا ہے۔ مولوی صاحب موصوف وممدوح نے احقر کی استدعا پر یہ رسالہ تالیف کیا ہے۔ امید غالب ہے کہ اہل حق واہل دین واہل علم ان صحیح اور لطیف مضامین کو دیکھ کر جناب مؤلفاوصلہ اللہ الیٰ غایۃ مایتمناہ کے لئے ترقی مراتب دینیہ ودنیویہ دیں گے۔

والسلام!

548

آواز حق

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

549

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی خاتم الانبیاء۔ امابعد!

محدث کبیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ کے رسائل کو جمع کرنے کے لئے تگ ودو شروع کی تو، الحمدﷲ! تمام رسائل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی کتب خانہ میں موجود پائے۔ البتہ ایک رسالہ ’’آواز حق‘‘ کے متعلق ترجمان السنۃ کے مقدمہ میں مولانا آفتاب عالم مدنی نے تذکرہ کیا تھا وہ نہ مل سکا۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، ماہنامہ لولاک ملتان، ماہنامہ الجمعیۃ اسلام آباد میں مخدوم العلماء حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری دامت برکاتہم نے اعلانات شائع کرائے لیکن کہیں سے جواب نہ آیا۔ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم عمومی، یادگار اسلاف حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری دامت برکاتہم کو دارالعلوم دیوبند عریضہ تحریر کیا۔ آپ نے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ کی فہرست نمبر۹۴۷۴۴ سے اس کی فوٹوکاپی بھیج دی۔ رب کریم کے فضل سے یوں حضرت مولانا سید محمد بدرعالم میرٹھیؒ کے ردقادیانیت پر جملہ رشحات قلم میسر آگئے۔ حضرت قاری صاحب دامت برکاتہم کے انتہائی شکرگزار ہیں وہ ہمیشہ ایسے مواقع پر علمی تعاون فرماکر ممنون احسان فرماتے ہیں۔ اس رسالہ کی اشاعت کا باعث کیا تھا۔ اس کی تفصیل رسالہ کے مقدمہ میں موجود ہے۔ احتساب قادیانیت جلد چہارم کا یہ آخری رسالہ ہے جو حضرت قاری محمد عثمان منصورپوری مدظلہ کے شکریہ کے ساتھ شامل اشاعت ہے۔

فقیر: اللہ وسایا

۷؍جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۷؍اگست۲۰۰۱ء

550

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مقدمہ

  1. نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

الحمد ﷲ رب العالمین، الصلٰوۃ والسلام علٰی سیدالمرسلین، خاتم النّبیین، رحمۃ للعالمین (صل) اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔ کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ اما بعد!

لاکھ لاکھ شکر ادا کیجئے اس خلّٰاق لم یزل کا جس نے ہمیں دین اسلام سے مالامال کیا اور ہم کو بہترین امت بنایا۔ اسی پیارے اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے فخرموجودات سرور کونینa کو مبعوث فرمایا جس کے وسیلہ سے ہم کو اس خالق کا پیارا کلام پہنچا جو بہرصورت ہمارا دستور العمل، ہمارا دین اور ہمارا قانون ہے۔ افسوس ہزارافسوس کہ آج محمد رسول اللہ a کے امتی اس پیارے کلام الٰہی سے جس میں ہماری بہبودی کے سینکڑوں نسخے موجود ہیں۔ ناواقف ہیں اور ہوتے جارہے ہیں۔ دیکھئے اور غور کیجئے! مسلمانوں کی بے بسی اور بے کسی پر آنسو بہائیے۔ چاروں طرف سے اسلام نرغے میں ہے اور مذاہب باطلہ برابر اپنی تبلیغ واشاعت میں مصروف ہیں۔ مگر مسلمان اور صرف مسلمان اپنے اس اہم فرض سے غافل ہی نہیں بلکہ لاپرواہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باطل پرستوں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں اور وہ برابر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ غداری پر آمادہ ہیں اور عقائد اسلام کی اعلانیہ تخریب وتضحیک میں مصروف اور اسلام کی مقدس روایات کا انتہائی جسارت کے ساتھ استخفاف کر رہے ہیں۔ اٹھئے اور کمربستہ ہوجائیے۔ باطل کاڈٹ کر مقابلہ کیجئے۔ جان ومال، عزت وآبرو، اللہ اور اللہ کے حبیب اکرم خاتم النّبیینa کی رضامندی کے لئے وقف فرمادیجئے۔ اسلام خالق

551

دوجہاں کا پسندیدہ مذہب ہے۔ دیکھئے کہیں باطل پرستوں کے ہتھکنڈوں سے اسے ضرر نہ پہنچے۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ فرمائیے اور غور فرمائیے سلف کے مسلمان کیسے سرفروش اور جانباز تھے۔ رسول اکرمa نے تبلیغ دین کے لئے کیا حکم نافذ فرمایا اور آنحضرتa نے کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کیں۔ خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلام کو کیسے فروغ دیا اور کس طرح مقابلہ کیا۔ ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ علیہم اجمعین حامی دین متین نے حفاظت اسلام کے لئے کیسی کیسی تکالیف کا سامنا کیا۔ مذاہب باطلہ کی کیسی درگت بنائی اور کیسا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام مٹ نہیں سکتا۔ قرآن محرف ہو نہیں سکتا۔ مگر یہ سمجھتے ہوئے باوجود عقل وخرد رکھنے کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے اور دنیا ہی کے طالب وسرشار رہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

ناظرین کرام! یاد ہوگا ۲؍جمادی الاولیٰ ۱۳۵۲ھ کو بتقریب جلسہ میلاد النبیa اندرون بادشاہی عاشورخانہ جس کو تاجران اہل سنت والجماعت سالار جنگ بلڈنگ (حیدرآباد دکن) نے منعقد کیا تھا۔ مولانا الیاس صاحب برنی پروفیسر معاشیات جامعہ عثمانیہ نے بعنوان ختم نبوت ایک مبسوط تقریر فرمائی تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انجمن احمدیہ حیدرآباد کی جانب سے مولانا موصوف کی تقریر پر چندبے معنی اور لغو اعتراضات ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع کئے گئے جس کو راقم نے جناب مولوی دلدار علی صاحب الفت حیدرآبادی متعلم جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کی خدمت میں روانہ کیا اور استدعا کی کہ یہ تردید جو انجمن احمدیہ کی جانب سے شائع ہوئی ہے اس کا مدلل جواب جامعہ کے کسی استاذ سے مرتب کروا کر فوراً روانہ کیا جائے تاکہ جلد شائع کیا جاسکے۔ مولوی دلدار علی صاحب الفت حیدرآبادی جو جامعہ کے ایک قابل اور سرفروش طالب علم ہیں۔ اس تردید کو حضرت العلامہ مولانا محمد بدر عالم صاحب میرٹھی استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کی خدمت میں پیش فرمایا۔ مولانا موصوف جیسے جلیل القدر عالم اور جیسے مناظر ہیں غالباً تمام ہندوستان میں کوئی شخص آپ کی ذات ستودہ

552

صفات سے ناواقف نہیں۔ حضرت مولانا نے بکمال خلوص وبخیال تحفظ اسلام، احمدیوں کی اس تردید کا مکمل جواب بذریعہ مولوی دلدار علی صاحب روانہ فرمایا اور اس کی اشاعت کے لئے اظہار خوشنودی فرمایا جس کے لئے ہم خلوص دل سے حضرت مولانا موصوف اور مولوی دلدار علی صاحب الفت کی خدمت میں تمام مسلمانان حیدر آباد کی جانب سے ہدیہ ممنونیت پیش کرتے ہیں اور آپ کی اسلام دوستی پر بجان سپاس گزار ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اس کی طباعت میں زیادہ تاخیر سے کام لیاگیا اور اس عرصہ میں ہمارے یہاں سے بہت جوابات شائع ہوچکے ہیں جس کے لئے ہم ان اصحاب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس فرض دینی کو ادا کیا ہے اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت ان کو اس سے زیادہ مقابلہ کی قوت عطاء کرے۔ درآنحالیکہ مسلمانوں کو ہمیشہ ہر وقت مقابلہ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

چونکہ یہ مضمون مولانا کے قلم باطل شکن کا نتیجہ ہے اس لئے ہم اس کے شائع کرنے کی عزت حاصل کرتے ہیں۔ یہ مضمون جہاں مرزائی ہفوات کا مدلل جواب ہے وہاں مولانا نے اس کا خیال بھی رکھا ہے کہ مرزائیت کے خلاف ہمیشہ کام آنے والا مجموعہ ثابت ہو اور امید کرتے ہیں کہ اہل بصیرت اس مدلل جواب کو ملاحظہ کرنے کے بعد حق وباطل کو اچھی طرح پرکھ لیں گے اور رہزن ورہبر میں تمیز کرنے کے بعد قادیانیت کے ہمرنگ زمین جال سے اچھی طرح واقف ہو جائیں گے۔ اللہ جل جلالہ مسلمانوں کو گمراہی سے بچاوے اور باطل کے مقابلہ کی جرأت وقوت عطاء فرماوے اور ہم ان اصحاب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں اور بدل وجان ممنون ہیں کہ جنہوں نے رسالہ ہذا کی اشاعت کے لئے نہایت فیاضی سے کام لے کر ایک اہم دینی خدمت انجام دی۔ ہماری صرف ایک آرزو ہے اور اسی میں کامیابی کے لئے ہم خداوند قدوس سے ملتجی ہیں کہ اے رب العزت مسلمانوں کو گمراہی سے بچا اور پھر ان کے دلوں میں وہی جذبہ ایمان پیدا کر اور باطل کے مقابلہ کی جرأت عطاء فرما اور تمام مسلمانان

553

عالم کو سچا مسلمان اور اپنے حبیب اکرم خاتم النّبیینa کا سچا پیرو بنا۔ آمین ثم آمین!

نصیحت

آخر میں ہم جہاں اللہ کے لئے سچی شہادتیں دے کر سرخرو ہوتے ہیں وہاں مرزائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی حرکات سے جو ملک میں فتنہ پیدا کرتی ہیں اور مسلمانوں کے دل کو چوٹ لگتی ہے باز آجائیں اور بچے رہیں۔ جس کو درحقیقت مرزائی حضرات ہی نے شروع کیاہے ورنہ ہم حفاظت اسلام کی خاطر ممکنہ کوشش عمل میں لانے کے لئے مجبور ہوں گے۔

ان مسلسل جوابات کی اشاعت کے بعد مرزائی حضرات نے احساس کر لیاہوگا کہ حیدر آبادی مسلمان رسول اللہ a کی ختم المرسلینی کے بعد کسی ایرے غیرے کو نبی نہیں مان سکتے۔

ضروری گزارش

رسالہ ہذا مندرجہ ذیل پتہ سے مفت حاصل کیا جاسکتا ہے اور ہم ناظرین کی خدمت میں ادباً گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مختصر مفید رسالہ کو ردی یا تھیٹر کااشتہار نہ سمجھیں بلکہ پڑھیں اور سمجھیں اوروں کو سمجھائیں تاکہ اس کی اشاعت کا مقصد بھی پورا ہو اور خود بھی ماجورومثاب ہوں۔

خاکسار: محمد فخرالدین رازی

براق پنچی، حیدرآباد دکن

نوٹ: مسودہ کاتب کے پاس جاچکا تھا کہ ہمیں جماعت مرزائیہ کے دو پمفلٹ بعنوان ’’دعوت قادیانیت پر ہمارے استفسارات کا جواب‘‘ اور ’’ختم نبوت‘‘ ملے۔ ناظرین کرام مذکورہ بالا پمفلٹوں کا جواب ہمارے اسی رسالہ میں تلاش کر لیں۔ باقی جو امور تشنہ ہیں ان کا جواب ان شاء اللہ بشرط فرصت دیں گے۔ فقط!

554

مسک الختام

فی

ختم النبوۃ خیرالانام

حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی مہاجرمدنیؒ

555

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مسک الختام فی ختم النبوۃ خیرالانام

ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین

  1. لمثل ہذا یذوب القلب من کمد

    ان کان فی القلب اسلام و ایمان

’’اگر قلب میں ذرہ بھی ایمان واسلام ہے تو اس قسم کی باتوں سے قلب مارے غم کے پگھلا جاتا ہے۔‘‘ اس وقت میرے ہاتھ میں جماعت مرزائیہ حیدرآباد کا شائع کردہ ایک مختصر سا ٹریکٹ ہے جس کا عنوان: ’’ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی‘‘ ہے۔ اس ٹریکٹ میں اس جماعت نے اپنی قدیم عادت کے موافق سلف صالحین اور مشائخ کرام کی عبارات نقل کر کے ان کے اغراض ومقاصد کے قطعاً برخلاف زہر پھیلایا ہے اور اپنے نزدیک گویا یہ ثابت کر دیا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ہمیشہ اسی طریق پر مسلم بین المسلمین رہا ہے جیسا کہ اس جماعت نے اپنے زعم فاسد میں سمجھ رکھا ہے۔ اس وقت ہم اس مختصر تحریر میں کسی طویل یا مختصر بحث کرنے سے پہلے یہ ظاہر کر دینا چاہتے ہیں کہ جب مرزائی مذہب میں خاتم المرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کے بعد بھی رسولوں کی آمد جائز ہے تو پھر ختم نبوت کا عنوان ٹھیک اسی طرح بے معنی رہ جاتا ہے جیسا کہ عیسائیوں اور آریوں کا دعویٰ توحید۔ یعنی جس طرح اقانیم ثلثہ مان کر مادہ اور روح کو قدیم کہہ کر توحید کا دعویٰ محض لفظی ہے۔ اسی طرح رسولوں کی آمد تسلیم کر کے ختم نبوت کا لفظ بھی صرف مسلمانوں کی دلفریبی کا ایک آلہ ہے اور بس۔ قرآن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی شان میں خاتم النّبیین کا لفظ اسی درجہ میں اہم اور قابل ایمان ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ کا۔ اسی لئے ایک ہی آیت میں ان دونوں عقیدوں کو بایں طور جمع کردیا گیا ہے۔ ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘ یعنی بیک وقت آپ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی ہیں اور خاتم النّبیین بھی۔ بلکہ غور کرنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ خاتم النّبیین کا ذکر بعض وجوہ سے زیادہ مہتمم بالشان ہے۔ کیونکہ مضمون یہ بیان کرنا ہے کہ نبی عربیa گوتم میں سے کسی مرد کا باپ نہ سہی مگر اس کے بجائے اللہ کا رسول اور نبیوں کا ختم کرنے والا ہے۔ اہل علم اتنا سمجھ سکتے ہیں کہ جب انبیاء سابقین مردوں کے باپ ہوکر پھر رسول اللہ بھی ہوتے رہے تو معلوم ہوا کہ ان دوباتوں میں تو کوئی تنافی اور عدم

556

ملائمت نہیں ہے۔ لہٰذا اگر آپ بھی رسول اللہ ہوکر مردوں میں سے کسی کے باپ ہو جاتے تو کیا مضائقہ تھا۔ اس لئے قرآن نے رسول اللہ کے ساتھ خاتم النّبیین کا اور اضافہ کر کے بتلادیا کہ آپ صرف رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ خاتم النّبیین بھی ہیں۔ اس لئے اگر آپ کے بھی پسری اولاد ہوتی تو جس طرح اسرائیلی سلسلہ میں انبیاء کی ذریت میں نبوت جاری رہی۔ اسی طرح اسماعیلی سلسلہ میں بھی بقائے نبوت مناسب ہوتا۔ حالانکہ آپ کو خاتم النّبیین بنا کر بھیجا گیا تھا۔ نفی ابوت اور اثبات خاتمیت کے اسی ارتباط کو دیکھ کر صحابہi صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ رسول مقبولa کے فرزند اس لئے زندہ نہ رہے کہ آپ خاتم النّبیین تھے۔ اگر آپa کے بعد کوئی نبی مقدر ہوتا تو آپa کے فرزند حضرت ابراہیم ضرور زندہ رہتے اور نبی ہوتے لیکن عالم تقدیر میں چونکہ تناقض نہیں ہے۔ اس لئے اگر ایک طرف ختم نبوت مقدر ہوا تو دوسری طرف آپ کے لئے پسری اولاد کا سلسلہ منقطع ہوجانا بھی مقدر ہوا اور اعلان کر دیا گیا کہ انبیاء سابقین کی طرح آپa صرف رسول اللہ نہیں ہیں بلکہ آپ پر نبوت کا ختم کرنا بھی مقصود ہے۔ انبیاء سابقین چونکہ صرف رسول اللہ تھے مگر خاتم النّبیین نہ تھے۔ اس لئے پسری اولاد میں ان کے لئے مضائقہ بھی نہ تھا۔ لیکن اس اولوالعزم نبی کے اگر کوئی پسری اولاد بلوغت کو پہنچتی تو اس کی عظمت کے شایان شان یہی تھا کہ سب سے اوّل اسی کو منصب نبوت سے نوازا جاتا اور یہ نامناسب تھا کہ بنی اسرائیل میں تو انبیاء کی ذریت میں نبوت رہے اور اسماعیلی سلسلہ میں اس افضل ترین رسول کے پسری اولاد رجولیت کی حد کو پہنچے اور پھر نبی نہ ہو۔ یہی باعث تھا کہ انبیاء سابقین نے اپنی ذریت میں بقاء نبوت کی دعائیں مانگی ہیں اور حق تعالیٰ نے بھی انہیں ’’وجعلنا فی ذریتہما‘‘ کی بشارتیں سنائی ہیں مگر اس نے جس کے حق میں قرآن نے ’’حریص علیکم‘‘ فرمایا ہے۔ اپنی امت میں ایک نبی کے لئے بھی دعا نہیں کی اور نہ خود حق تعالیٰ نے پہلوؤں کی طرح اس کو انبیاء کی آمد کی کوئی بشارت دی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دیگر انبیاء فقط رسول تھے اور محمد عربی(a) رسول اللہ کے ساتھ خاتم النّبیین بھی تھے۔ پھر جس کو خدا نے آخری نبی بنایا تھا وہ کیسے اپنی امت یا ذریت کے حق میں نبوت کی دعا کرتا اور کیسے مناسب تھا کہ اس کی ذریت میں کوئی بلوغت کی حد کو پہنچتا اور وہ ان کا باپ کہلاتا۔ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘

557

محمدa کے لئے یہ مناسب ہی نہ تھا کہ وہ تم میں سے کسی مرد کا باپ ہوتا لیکن وہ تو اللہ کا رسول اور انبیاء میں سب سے آخر آنے والا ہے۔

’’عن عامر الشعبی فی قول اللہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم قال ماکان لیعیش لہ فیکم ولد ذکر‘‘ (رواہ الترمذی ج۲ ص۵۶، ابواب التفسیر)

عامر شعبیؒ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد۔ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ تم میں اے لوگو ان کی کسی نرینہ اولاد کا زندہ رہنا مناسب ہی نہ تھا۔

ہمارے اس بیان سے دوامر اور ظاہر ہوگئے۔ اوّل یہ کہ صحابہi کے نزدیک بھی ختم نبوت کے یہ معنی تھے کہ اب آئندہ کوئی رسول نہ ہوگا۔ اسی وجہ سے وفات ابراہیمq کا انہوں نے یہ نکتہ بیان کیا۔ دوم: یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر نبوت جاری ہوتی تو اس کے اوّلین مستحق صحابہi کے نزدیک بھی آپa کے فرزند حضرت ابراہیمq ہی تھے۔ اسی کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ ’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا‘‘ (کنزالعمال ج۱۱ ص۴۶۹، حدیث نمبر۳۲۲۰۴)

(اگر حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے تو وہ صدیق اور نبی ہوتے) میرا بیٹا ابراہیم(q) اگر زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔ اس لئے کہ جب بنی اسرائیل میں انبیاء کی ذریت میں نبوت رہی تو یہ نامناسب تھا کہ آپ کے فرزند کو نبوت نہ ملتی۔ یا ملتی مگر کسی بعید پشت میں ظاہر ہوتی اور یہ تو کیسا ہی نامناسب تھا کہ ذریت محمد(a) سے نکل کر مثلاً مرزائیوں کے خاندان میں جا گھستی۔ اس جگہ اتنا بیان کردینا اور ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ختم نبوت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ سرور کائناتa کے وجود نے دیگر انبیاء کی آمد کو روک دیا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ علم ازلی میں جتنے رسول مقدر تھے وہ ایک ایک کر کے سب آچکے۔ اب ایک دن آخر اس عالم کو ختم کرنا تھا اس لئے آخری دنیا کے لئے وہ رسول جو سب کے آخر میں رکھاگیا تھا بھیج دیا گیا تاکہ اس کی آمد جس طرح رسولوں کی مردم شماری کے خاتمے کی دلیل ہے۔ اسی طرح قیامت کے قرب پر بھی برہان قاطع ہوجائے۔ یہی مطلب ہے: ’’انا والساعۃ کہاتین‘‘ میں اور قیامت ان دو وسطی اور شہادت کی انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ اشارہ کرنا۔ حالانکہ معلوم ہے کہ قیامت آج تک نہیں آئی مگر چونکہ دنیا کی مجموعہ عمر کے

558

مقابلہ میں آپa کی بعثت قیامت سے انتہائی قرب رکھتی تھی۔ اس لئے اس کو ’’کہاتین‘‘ سے ادا کیا اور اسی لئے اس آخری رسول کے منہ میں (کتب سابقہ میں ایک پیشین گوئی ہے اس کی طرف اشارہ ہے) وہ کلام ڈالا جو موسیٰm کے کانوں میں پڑا تھا۔ کیونکہ مدارج کلام میں یہ بھی ایک آخری مرتبہ ہے اور اس طور پر رسولوں کا آخر، آخری کلام لے کر دنیا کے آخر میں آخرالامم کے لئے مقدر ہوا تاکہ اوّل کا کمال آخر میں دوبالا ہو جائے اور صباحت یوسفm کے ساتھ ملاحت محمدa بھی جلوہ گر ہو۔ اسی مضمون کو صحیح بخاری ومسلم کی روایت میں ایک نہایت خوبصورت اور واضح مثال میں بیان کیاگیا ہے۔

’’عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ a قال ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ واجملہ الاموضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ہلّٰا وضعت ہذہ اللبنۃ وانا خاتم النّبیین (رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء ج۱ ص۵۰۱ باب خاتم النّبیین ومسلم فی الفضائل ج۲ ص۲۴۸، باب ذکر کونہ خاتم النّبیین واحمد فی مسندہ ج۵ ص۱۳۷، والنسائی والترمذی ج۲ ص۱۱۳، باب ماجاء مثل النبی والانبیاء وفی بعض الفاظہ فکنت اناسددت موضع اللبنۃ وختم بی البنیان وختم بی الرسل ہکذا فی الکنز عن ابن عساکر ج۱۱ ص۴۵۳، حدیث نمبر۳۲۱۲۷)‘‘

ابی ہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک مکان بنایا اور اس میں ہر طرح سے حسن اور خوبی پیدا کی مگر ایک اینٹ کی جگہ اس کے ایک گوشہ میں چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد پھرتے رہے اور تعجب کرتے رہے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگادی گئی۔ اب میں وہ اینٹ ہوں اور آخری نبی ہوں۔ بخاری نے کتاب الانبیاء میں اس کو بیان کیا ہے اور مسلم نے اس کو فضائل میں اور احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور نسائی اور ترمذی نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی کے بعض الفاظ میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا اور مجھ سے تعمیر کی تکمیل اور اختتام ہوا اور مجھ سے تمام رسل کا اختتام ہوا۔ کنزالعمال میں ابن عساکر سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔

اس تمثل میں ایک طرف انبیاء سابقین کو رکھا ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کو اور

559

انبیاء لاحقین کا کوئی ذکر نہیں اور اس کے بعد قصر نبوت کی تکمیل کا اعلان کر دیاگیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ حضورa کے نزدیک بعد میں کوئی رسول آنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے ’’مثلی ومثل الانبیاء من قبلی‘‘ فرما کر گویا تصریح کر دی کہ ’’من بعدی‘‘ کوئی رسول نہیں۔ یہ نکتہ ہمیں انہیں شیخ محی الدین عربی سے ہاتھ لگا ہے جن کا ذکر، خیر سے سیکرٹری صاحب نے کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’واعلم ان لنا من اللہ الہام لاالوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ a وقد کان الوحی قبلہ ولم یجیٔ خبر الٰہی ان بعدہ (a) وحیا کما قال اللہ تعالٰی ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک ولم یذکرو حیا بعدہ‘‘ (فتوحات مکیہ ج۳ ص۲۳۸، باب:۳۵۳)

ترجمہ: یاد رہے کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب الہام کا سلسلہ باقی ہے نہ کہ وحی کا۔ کیونکہ وحی کا سلسلہ رسول اللہ a کی وفات کے ساتھ منقطع ہوگیا۔ حالانکہ پہلے وحی تھی اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں یہ کہیں نہیں آیا کہ آپa کے بعد وحی ہے۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ: ’’آپ کی طرف اے رسول وحی بھیجی گئی اور آپ سے پہلے انبیاء کی طرف اور آپ کے بعد وحی کا ذکر نہیں کیا۔‘‘ حدیث مذکور ادھر بھی اشارہ کرتی ہے کہ آپ کا آخر میں آنا اس لئے مقدر ہوا کہ جو بے رونقی ایک اینٹ کی جگہ خالی ہونے کی وجہ سے اس قصر میں ہویدا تھی وہ اس آخری نبی کی وجہ سے پوری ہو جائے۔

یاد رکھو اب خدائی عزت کسی کو موقعہ نہیں دے گی جو لبنہ محمدیa کے بعد اس قصر کا مکمل کہلائے۔ تکمیل کے بعد تخریب تو ممکن ہے لیکن تکمیل ممکن نہیں۔ خط پر مہر لگا کر اس کا توڑنا توممکن ہے مگر اس کا کھولنا ممکن نہیں۔ پھر کون ہے جو ختم محمدیa کو توڑ کر قصر نبوت میں آسکتا ہو اور کون ہے جو قصر نبوت کی تکمیل کے بعد اس کی تنقیص کا مدعی ہو۔ واﷲ ثم باﷲ! جس کو خداتعالیٰ نے آخری نبی کہا ہے وہی آخری نبی ہے۔ پھر کون ہے جو بعد میں نبوت کا دعویٰ کر کے آخری نبی بننے کا ارادہ رکھتا ہو۔ امم سابقہ کے پاس بہت سے رسول بھیجے گئے۔ پر وہ جس نے قصر نبوت کی تکمیل کی اسی امت مرحومہ کو نصیب ہوا۔ پھر کیا وہ امت جس کا رسول خاتم الانبیاء جیسا رسول ہو نبوت کی نعمت سے محروم کہی جاسکتی ہے۔ کیا وہ امت جس میں شرکت کی تمنا انبیاء رکھتے ہوں بدقسمت ٹھہر سکتی ہے۔ محروم وہ ہیں جنہیں ایسی رسالت عامہ تامہ کے بعد رسالت کی تمنا ہے۔ بدقسمت وہ ہیں جنہیں اپنے آقا کی ہمسری کا ولولہ ہے۔ (کنزالعمال ج۱۱

560

ص۴۰۴، حدیث نمبر:۳۱۸۸۵) میں ہے۔ ’’عن الحسن مرسلاً قال رسول اللہ a انا رسول من ادرکنا حیا ومن یولد بعدی رواہ ابن سعد‘‘ میں موجودین اور بعد میں آنے والوں کا سب کا رسول ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک سلسلہ رسالت جاری تھا اس وقت تک رسولوں کو مخصوص قوم اور مخصوص زمانہ کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ لیکن جب نبیوں کا ختم کرنے والا آیا تو پھر اس کی نبوت کو نہ کسی قسم سے مخصوص کیاگیا نہ کسی زمانہ سے بلکہ قیامت تک کے لئے رسول بناکر بھیجا گیا تاکہ جس طرح وہ ان موجودین کا رسول کہلائے اسی طرح بعد میں آنے والوں کا بھی رسول ٹھہرے اور کسی پھوٹے منہ سے یہ نہ نکل سکے کہ وہ نبوت سے محروم ہے۔ مگر مرزائی کب باز آنے والے تھے آخرکار قادیان میں ایک اشتہاری نبی بلا ہی لیا۔ یہ سچ ہے کہ نبوت کوئی زلزلہ نہیں ہے کہ لوگ اس سے گھبرائیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب تک زلزلہ آکر یہ قصر نبوت گر نہ جائے۔ اس وقت تک کسی نبوت کے لئے جگہ بھی خالی نہیں ہے اور اگر یہی دلیل اجرائے نبوت کی ہے تو پھر نبوت تشریعہ بھی کوئی زلزلہ نہیں ہے۔ لہٰذا قادیان کے سجادہ نشین کوچاہئے کہ وہ شریعت جدیدہ کا بھی دعویٰ کر دے۔ آخر جب نبوت کی ہوس ہے تو وحی جدید سے کیوں بیزاری ہے اور اگر کامل دین کے بعد کوئی دین نہیں ہے تو کامل نبی کے بعد کوئی نبی کیوں ہو۔ خدا ان خلوتوں میں تشتت اور اس جماعت میں تمزق اور ان دیار کی تدمیر کرے جن میں خدا کے رسول کے خلاف یہ نجویٰ اور سرگوشیاں ہوتی ہیں اور توہین نبی پر تعظیم نبی کا لفظی ملمع چڑھا کر مسلمانوں کی فریب دہی کے منصوبے گانٹھے جاتے ہیں۔

قرآن عزیز کے اس معجز بیان پر سومرتبہ قربان ہو جائیے جس نے اس امت کو ’’خیرامۃ‘‘ کہا۔ مگر اس لئے نہیں کہ اس میں بہت سے نبی ہوں گے۔ اگر اس لئے یہ امت خیرامت ہوتی تو بنی اسرائیل اس سے پہلے اس لقب کے مستحق تھے کہ جتنے رسول ان میں ہوئے۔ اگرقادیانی کا سجادہ نشین ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ کی دعا مانگ مانگ کر فنا بھی ہو جائے۔ پھر بھی اتنے تو کیا ایک بھی پیدا نہ ہوگا۔

ہاں! اتنی دعاؤں کے بعد جب کہ خیرالقرون گزر گیا۔ شیدایان محمدیa اپنی جانیں قربان کر کے جام شہادت نوش کر گئے۔ اولیاء اللہ ایک سے ایک ریاضت کرنے والے اپنی عمریں فنا کر گئے کہ دفعتہ مختاری کے امتحان سے ایک فیلر نبوت کے امتحان میں جاپاس ہوا۔ ہرچند کہ اس کے مریدین میں ابھی اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ محض مجدد تھا۔ کوئی کہتا

561

ہے سچ مچ نبی تھا۔ لیجئے! اس کے آتے ہی یہ امت خیرامت بن گئی اور بدقسمت خوش قسمت ہوگئی۔ ارے اگر اتباع شریعت سے کوئی نبی ہوجایا کرتا تو اے عقل ودین کے دشمنو! سب سے اوّل ابوبکرq ہوتا۔ عمرq ہوتا۔ عثمانq ہوتا۔ علیq ہوتا۔ مگر سرکار دوجہاں نے کیسے پیار کے وقت کیسی محبت حضرت علیq سے فرمادیا کہ ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی‘‘ (مشکوٰۃ ص۵۶۳، باب مناقب علی بن ابی طالبq، ترمذی رقم:۳۷۲۴، سنن ابن ماجہ رقم:۱۲۱)

اے علیq تو میرا ایسا ہی نائب ہے جیسے کہ ہارونm موسیٰm کے لئے تھے۔ مگر میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اس لئے ہارونm تو نبی تھے لیکن تو نبی نہیں ہے اور صاف فرمادیا کہ:’’الّٰا انہ لانبی بعدی‘‘ خیال فرمائیے کہ صرف اس تشبیہ سے حضرت علیq کی نبوت کہاں ثابت ہوتی تھی لیکن سرکار دوجہاں نے اس وہم کا بھی ازالہ کردیا اور فرمادیا: ’’انہ لا نبی بعدی‘‘ اس پر بھی ایسے اغبیاء کی جماعت موجود ہے جس کی سمجھ میں ہنوز کچھ نہیں آیا۔ الغرض جب کہ قرآن اس امت کو دوسری امتوں پر فضیلت دے رہا تھا تو اس نے یہ نہیں کہا کہ اے امت محمدیہ تو اس لئے خیرامت ہے کہ پہلی امتوں میں ہم نے اگر سو نبی بنائے ہیں تو تجھ میں دو سو بنائیںگے۔ بلکہ یوں فرمایا: ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتؤمنون باﷲ (آل عمران:۱۱۰)‘‘ {تم تمام امتوں میں سب سے بہتر امت ہو تمہیں اس لئے بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کے کرنے کا حکم دو اور بری باتوں سے منع کرو اور اللہ پر ایمان رکھو۔}

یعنی تیری خیریت امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ایمان باﷲ کی وجہ سے ہے۔ اس لئے اب تو میں یوں کہتا ہوں کہ اس آیت سے تو بجائے فتح باب نبوت کے ختم نبوت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر اس امت میں نبوت جاری ہوتی تو اس کی خیریت بیان کرنے میں سب سے پہلا نمبر اس امت کی نبوتوں کا ذکر ہونا چاہئے تھا۔ اس کے بعد میں دوسرے اوصاف کا ذکر مناسب تھا۔ حالانکہ یہاں صرف امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باﷲ کا ذکر ہے۔ کیونکہ جو توحید اس امت کو نصیب ہے ان سے بقیہ امم محروم ہیں جیسا کہ عند التقابل ظاہر ہو جائے گا۔ اس تقریر سے ثابت ہوگیا کہ: ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ کی دعا بھی اس لئے ہرگز تعلیم نہیں دے گئی کہ لوگ اس کے ذریعہ سے نبی بناکریں ورنہ تو بقول سیکرٹری

562

صاحب ذات باری پر شدید الزام آئے گا کہ دعا کا نتیجہ وثمرہ نہیں عطاء فرمایا جانا تھا تو دعا کے سکھلانے کا فعل عبث کیوں کیاگیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اس دعا کا مقصد عطاء نبوت ہوتا تو جس طرح اس امت میں لاکھوں صدیق اور کروڑوں شہداء وصالحین پیدا ہوئے اسی طرح کم ازکم ایک ہزار نبی بن جاتے۔ مگر یہاں تو اس فہرست میں صرف ایک ہی نام بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے اور افسوس یہ ہے کہ وہ بھی زیراختلاف ہے۔ اب مرزائی بتائیں کہ جب تیرہ سو سال کی دعا کا نتیجہ یہ نکلا تو یہ امت خیرامت رہی یا شرامت۔

علاوہ ازیں اگر اس آیت میں نبوت ہی کی دعا ہے تو پھر خود سردار دوجہاں کیوں اس دعا کو نمازوں میں پڑھا کرتے تھے۔ العیاذ باﷲ! کیا آپa کو بھی نبوت حاصل نہ تھی۔ اگر حاصل تھی اور سب سے افضل حاصل تھی تو دعا کس امر کی مانگتے تھے۔ یہ عجیب دعا ہوئی کہ جو تیرہ سو سال سے چیخ چیخ کر مانگ رہے ہوں ان کی تو قبول نہ ہو اور جس کی بلا مانگے قبول ہوچکی ہو وہ اس کے بعد بھی مانگتا ہی رہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کسی کو حکومت برطانیہ وائسرائے بنادے۔ مگر اس کی درخواست یہی باقی رہے کہ مجھے وائسرائے بنادیجئے۔ سوچو کہ ایسے شخص کو کیا کہو گے۔ لہٰذا اگر اس آیت میں نبوت حاصل ہونے کی دعا ہے تو آپa کی شان والا پر بہت بڑا الزام عائد ہوتا ہے۔ کسی کے دل میں کوئی ذرہ ایمان کا باقی ہے تو آپ کی شان والا پر بہت بڑا الزام عائد ہوتا ہے۔ کسی کے دل میں کوئی ذرہ ایمان کا باقی ہے کہ ایسی خود ساختہ تفاسیر سے توبہ کرے؟ اس مقام پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب منعم علیہم کے قرآن نے چار گروہ بیان کئے ہیں یعنی نبیین، شہداء، صدیقین اور صالحین تو پھر آپ کو صرف خاتم النّبیین کیوں کہاگیا۔ خاتم الشہداء یا خاتم الصدیقین، خاتم الصالحین کیوں نہیں کہاگیا۔ مرزائی لٹریچر میں تو ختم نبوت نبی بنانے کے لئے ہی ہے تو کیا شہادت اور صلاح اور صدیقیت بلا آپ کی مہر کے ممکن ہے؟ اس لئے ضرور تھا کہ جس طرح آپ کو خاتم النّبیین کہاگیا تھا اسی طور پر خاتم الصالحین بھی کہا جاتا۔ تاصاف معلوم ہو جاتا کہ ہر نعمت آپ ہی کے دامن کے نیچے مستور ہے۔ اس امر کو حل کرنے کے لئے کہ آپ کو خاتم علی الاطلاق کیوں نہ کہا گیا اور آپ کی خاتمیت کو صرف انبیاء کے ساتھ مقید کیوں کیاگیا ہے۔ پہلے ہمیں لفظ ’’خاتم‘‘ پر بحث کرنا ضروری ہے۔

آیت مذکور میں دو قرأتیں ہیں۔ اوّل بکسرتا، دوم بفتح تاء۔ جمہور کی قرأت بکسرتا

563

ہے جیسا کہ شیخ سید محمد آلوسیؒ فرماتے ہیں: ’’واقرأ الجمہور خاتم بکسر التاء علی انہ اسم فاعل ای الذی ختم النّبیین والمراد بہ آخرہم‘‘ (جمہور کی قرأت خاتم اسم فاعل تا کے زیر سے ہے یعنی جو ختم کرنے والا ہے انبیاء کا مراد یہ کہ آخری نبی ہے) (روح المعانی ج۲۲ ص۳۲، زیر آیت: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘)

اسی طرح علامہ جریر الطبری لکھتے ہیں کہ: ’’حسن اور عاصم کے علاوہ تمام قراء خاتم بکسرتا پڑھتے تھے۔‘‘(ج۱۶ ص۱۲۲)

یہ امر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اختلاف قرأت کی وجہ کسی مسئلہ یا عقیدے کا اختلاف نہیں ہوتا بلکہ قرآن چونکہ اپنے الفاظ کے لحاظ سے بھی ایسا ہی محفوظ ہے جیسا کہ معنی کے اعتبار سے۔ اس لئے جس صحابی نے جو قرأت اختیار کی وہ محض اس بناء پر کی کہ اس کو یہی قرأت پہنچی تھی۔ لہٰذا انہی الفاظ کو محفوظ رکھنا اس نے اپنا فرض منصبی سمجھا۔ چونکہ صحیح مسلم میں ہے: ’’عن علقمۃ قال قدمنا الشام فاتانا ابوالدرداء فقال افیکم احدیقراء علی قرأۃ عبداﷲ فقلت نعم انا، قال فکیف سمعت عبداﷲ یقراء ہذہ الآیۃ واللیل اذا یغشی قال سمعتہ واللیل اذا یغشی والذکر والانثی قال وانا واﷲ ہکذا سمعتا رسول اللہ a یقرء ہا ولٰکن ہؤلاء یریدون ان اقراء وما خلق فلا اتابعہم‘‘

حضرت علقمہq سے مروی ہے کہ ہم ملک شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابوالدرداءq تشریف لائے۔ پوچھا کہ کیا تم میں کوئی حضرت عبداﷲ کی قرأت کے موافق قرأت کرنے والا ہے میں نے کہا۔ ہاں میں ہوں۔ انہوں ے کہا بولو تم نے عبداﷲ کو یہ آیت ’’واللیل اذا یغشی‘‘ کس طرح پڑھتے ہوئے سنا۔ کہا میں نے اس طرح سنا ہے کہ ’’واللیل اذا یغشی، والذکر والانثی‘‘ انہوں نے کہا کہ قسم خدا کی میں نے بھی رسول اللہ a کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ لیکن یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ میں اس طرح پڑھوں کہ: ’’وما خلق الذکر والانثی‘‘ پس میں ان کی اتباع نہیں کروں گا۔

دیکھئے: ’’والذکر والانثی‘‘ اور ’’وما خلق الذکر والانثی‘‘ میں اختلاف کسی عقیدے یا مسئلہ کی بناء پر نہ تھا۔ کیونکہ مراد دونوں کی ایک ہی ہے بلکہ وجہ وہی تھی کہ جسے جو لفظ پہنچتا وہ اسے ہی محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ خواہ وہ جمہور کے موافق رہے یا مخالف

564

اور آج بھی آپ کی قرأت بجائے ’’والذکر والانثی‘‘ کے ’’وما خلق الذکر والانثی‘‘ ہی ہے۔ اسی طرح حضرت ابوالدرداءq نے جو قرأت حضورa سے سن لی تھی اور اسے ترک کرنا کسی طرح پسند نہ کیا۔ ٹھیک اسی طرح اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خاتم بالفتح کی قرأت اختیار کی تو اس کی وجہ کسی مسئلہ کا اختلاف نہیں بلکہ وہی تحفظ لفظی جو قرآن کریم کا طغرۂ امتیاز ہے۔ مدنظر تھا اور یہ کیسے ممکن تھا جب کہ خود حضورa ان سے فرماچکے تھے کہ: ’’ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی‘‘ {تم میرے لئے ایسے ہو کہ جیسے موسیٰm کے لئے ہارونm تھے مگر وہ نبی تھے اور تم نبی نہیں۔ کیونکہ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔}

اور خود حضرت علیq ہی روایت کرتے ہیں: ’’عن علیq قال وجعت وجعافاتیت النبیa فاقامنی فی مکانہ وقام یصلی والقی طرف ثوبہ ثم قال برئت یا ابن ابی طالب فلابأس علیک، ماسألت اللہ لی شیئا الا سألت لک مثلہ ولاسألت اللہ شیئا الا اعطانیہ غیر انہ قیل لی لا نبی بعدک فقمت فکأنی ما اشتکیت‘‘ (کذافی الکنز ج۱۳ ص۱۷۰، حدیث نمبر۳۶۵۱۳)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں بڑا سخت بیمار ہوا اور حضورa کی خدمت میں آیا۔ آپ نے اپنے پاس مجھے جگہ دی اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور اپنے کپڑے کا ایک پلہ مجھ پر ڈالا۔ پھر فرمانے لگے۔ لو ابن ابی طالب تم اچھے ہوگئے۔ اب کچھ فکر مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے میں نے کوئی چیز ایسی نہیں مانگی کہ اس کے مثل تمہارے لئے نہ مانگی ہو اور کوئی چیز ایسی نہیں رہی کہ میں نے اللہ سے مانگی ہو وہ مجھے نہ ملی ہو۔ ہاں! اتنی بات ضرور ہے کہ مجھے کہاگیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔’’انہ لا نبی بعدی‘‘ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) جس سے یہ امر تومتیقن ہوگیا کہ نبوت کے بارے میں حضور سرور کائناتa اور حضرت علیq کا عقیدہ تو یہی تھا لیکن ہم تبرعاً لغت سے بھی ثابت کرتے ہیں کہ یہ دونوں لفظ ہم معنی مستعمل ہوتے ہیں۔ لسان العرب اور قاموس میں مصرحاً موجود

565

ہے کہ خاتم بالفتح بھی خاتم بالکسر کے معنی میں آتا ہے اور چونکہ مرجع قرأتیں واحد ہونا چاہیں اس لئے ائمہ لغت اور مفسرین نے بالاتفاق خاتم بالفتح کو خاتم بالکسر کی طرف راجع کیا ہے۔ چنانچہ (لسان العرب ج۴ ص۲۵) میں ہے: ’’الخاتم والخاتم من اسماء النبیa وفی التنزیل العزیز ماکان محمد الخ ای آخرہم ویقال فیہ خاتمہم وخاتمہم آخرہم وایضاً فی القاموس وتاج العروس والخاتم آخر القوم کالخاتم ومنہ قولہ تعالٰی وخاتم النّبیین ای آخرہم‘‘

خاتم اور خاتم دونوں نبی اکرمa کے اسماء مبارک سے ہیں اور قرآن عزیز میں آیت: ’’ماکان محمد ابا احد الخ!‘‘ میں خاتم النّبیین کے معنی آخرالانبیاء کے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ لوگوں میں خاتم یا خاتم ہے یعنی آخری ہے اور قاموس اور تاج العروس میں ہے کہ خاتم کے معنی آخر شخص کے ہیں اور خاتم بھی ایسی ہی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول خاتم النّبیین ہے۔ یعنی آخری نبی۔ اتنی تحقیق کے بعد حاجت نہ تھی کہ ہم آنحضرتa کی کچھ اور احادیث پیش کرتے۔ مگر صرف اطمینان خاطر کے لئے ایک حدیث صریح اور پیش کئے دیتے ہیں۔ ’’عن ثوبان قال قال رسول اللہ a ان سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ (ابوداؤد ج۲ ص۱۲۷، کتاب الفتن واللفظ لہ، ترمذی ج۲ ص۴۵ باب ماجاء لا تقومہ الساعۃ)

’’ثوبانq سے مروی ہے کہ فرمایا رسول اللہ a نے کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں آخرالانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

اس حدیث میں چند امور غور طلب ہیں۔ اوّلاً یہ کہ نبی کریمa نے جب تیس مدعیان کاذب کی خبر دی تھی تو اگر اس مدت میں باب نبوت صادقہ بھی کھلا ہوا ہوتا تو کیا آپ انبیاء صادقین کی بشارت نہ دیتے لیکن جب کہ قرآن وحدیث نے بالاتفاق کہیں ایک رسول کے آنے کی بھی خبر نہیں دی بلکہ اس کے بالکل برخلاف قرآن نے ختم نبوت کا اعلان کیا اور حدیث نے مدعیان نبوت کو دجال اور کذاب ٹھہرایا تو نتیجہ واضح ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے علم میں نبوت ختم ہوچکی ہے۔ اسی لئے حدیث میں ان مدعیان نبوت کے کاذب ہونے کی علامت صرف اس امر کو قرار دیا ہے کہ وہ اپنے متعلق نبوت کا گمان رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ

566

اگر نبوت باقی ہوتی تو نبوت کا گمان رکھنا بقول سیکرٹری صاحب کوئی زلزلہ یا طاعون تو تھا نہیں پھر اس نعمت کے گمان اور تخیل کا حضوراکرمa نے دجالیت کی علامت کیوں قرار دیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ آگے بطور دلیل بیان فرمایا کہ میں چونکہ (بحکم قرآنی) خاتم النّبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے نبوت کا خیال میرے بعد کیونکر درست ہوسکتا ہے۔

خاتم الانبیاء فداہ ابی وامی تو ختم نبوت کی بحث کو دولفظوں میں ختم کر گئے تھے اور خوب کھول کھول کر سمجھا گئے تھے کہ میرے بعد ہر مدعی نبوت کو دجال سمجھنا کیونکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد نبی کیسا؟ اور اسی پر اسلامی حکومتوں میں عملدرآمد بھی رہا ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلامی میں ایک واقعہ بھی نہیں دکھلایا جاسکتا کہ کسی زمانے میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ پھر اس سے ختم نبوت کے مسئلہ پر بحثیں کی گئی ہوں اور اس کے صدق کے دلائل طلب کئے گئے ہوں۔ بلکہ ہر ایک کو بموجب دعویٰ نبوت جہنم رسید کردیاگیاہے۔

مگر آہ! یہ کیسی بے کسی کا زمانہ ہے کہ آج سرور کائناتa کے بعد خائب وخاسر چہرے سربزم ’’نبوت، نبوت‘‘ پکارتے پھر رہے ہیں اور ہم سے اتنا بھی نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے کانوں کو اس کی خرافات سے محفوظ ہی کر لیں۔ صد افسوس!

’’کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ان یقولون الّٰا کذبا (الکہف:۵)‘‘ {کیسا بڑا بول ان کے منہ سے نکلتا ہے جو ازسرتاپا کذب محض ہے۔}

اس مضمون کی اگر جملہ احادیث جمع کی جائیں تو یقینا اس کے لئے ایک طویل فرصت درکار ہے۔ کیونکہ اس باب میں ایک سو بارہ احادیث آچکی ہیں جن میں علی الاعلان بیان کردیا گیا ہے کہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا سلسلہ کلیتہً مسدود ہے۔ جس کے کان ہوں وہ سن لے اور جس کے دل میں ایمان ہو وہ سمجھ لے۔ البتہ جن صحابہ سے یہ احادیث مروی ہیں ان کے اسماء ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ تفصیل کے لئے مولانا محترم محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم کے رسائل کی طرف مراجعت کی جائے۔

(۱)قتادہq۔ (۲)عبداﷲ بن مسعودq۔ (۳)حسنq۔ (۴)مغیرۃ بن شعبۃq۔ (۵)عائشہt۔ (۶)جابر بن عبداﷲq۔ (۷)ابوسعید الخدریq۔ (۸)ابوالطفیلq۔ (۹)ابوہریرہq۔ (۱۰)انسq۔ (۱۱)عفان بن مسلمq۔ (۱۲)ابومعاویہq۔ (۱۳)جبیر بن مطعمq۔ (۱۴)عبداﷲ بن عمرq۔ (۱۵)ابی بن

567

کعبq۔ (۱۶)حذیفہq۔ (۱۷)ثوبانq۔ (۱۸)عبادۃ بن الصامتq۔ (۱۹)عبداﷲ بن عباسq۔ (۲۰)عطاء بن یسارq۔ (۲۱)سعد بن ابی وقاصq۔ (۲۲)عرباض بن ساریہq۔ (۲۳)عقبہ بن عامرq۔ (۲۴)ابوموسی الاشعریq۔ (۲۵)ام کرزq۔ (۲۶)عمرالفاروقq۔ (۲۷)ابوحازمq۔ (۲۸)ابوامامۃ الباہلیq۔ (۲۹)سفینہq۔ (۳۰)تمیم الداریq۔ (۳۱)نعیم بن مسعودq۔ (۳۲)عبیداﷲ بن عمرواللیثیq۔ (۳۳)نعمان بن بشیرq۔ (۳۴)ابن زمل الجھنیq۔ (۳۵)ضحاک بن نوفلq۔ (۳۶)علیq۔ (۳۷)ابوذرالغفاریq۔ (۳۸)معاذq۔ (۳۹)سہل بن سعدq۔ (۴۰)حبشی بن ضادۃq۔ (۴۱)اسماء بنت عمیسq۔ (۴۲)زید بن ابی اوفیq۔ (۴۳)ابوقبیلۃq۔ (۴۴)عقیل بن ابی طالبq۔ (۴۵)ابوالفضلq۔ (۴۶)نافعq۔ (۴۷)عوف بن مالکq۔ (۴۸)ابوبکرۃq۔ (۴۹)ابومالک الاشعریq۔ (۵۰)ابوعبیدۃq۔ (۵۱)عصمۃ بن مالکq۔ (۵۲)عمروبن قیسq۔ (۵۳)سلمان الفارسیq۔ (۵۴)محمد بن حزم الانصاریq۔ (۵۵)بھزبن حکیمq۔ (۵۶)عبدالرحمن بن سمرۃq۔ (۵۷)عبداﷲ بن عمروبن العاصq۔ (۵۸)ابوقتادہq۔ (۵۹)قتادہq۔ (۶۰)عبداﷲ بن ثابتq۔

جب لغت اور احادیث صحیحہ سے یہ امر واضح ہوچکا کہ ’’خاتم‘‘ بمعنی ’’آخر‘‘ ہے تو آپa کی خاتمیت کو صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص کرنے کی وجہ بھی ظاہر ہوگئی۔ کیونکہ اس تقدیر پر اگر آپ کو خاتم الصلحاء اور خاتم الصدیقین والشہداء کہہ دیا جاتا تو جس طرح آپ کا ظہور انبیاءo کے آخر ہونے کی دلیل ٹھہرا۔ اسی طرح لازم آتا کہ اب آپ کے بعد کوئی صالح اور صدیق بھی نہ ہوگا۔ حالانکہ آپ کی امت میں تمام امم سے بڑھ کر اولیاء، واقطاب مقدر ہوچکے تھے۔ اگر اس امت کے اولیاء کا دیگر امتوں سے مقابلہ کیا جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی امت اس امت مرحومہ کے برابر اولیاء صدیقین کی فہرست پیش کر سکتی ہے۔ اگر خداتعالیٰ سمجھ دیتا تو معلوم ہوتا کہ اس امت کے خیرالامم ہونے کی اس سے بڑھ کر دلیل اور کیا ہوگی کہ مجموعی حیثیت سے خداتعالیٰ کے برگزیدہ جس قدر اس امت میں گزرے کسی دوسری امت میں نہیں گزرے اور جیسا افضل رسول اس امت کو ملا کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ دیکھو نبی کریمa اپنی امت کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’عن بریدۃ قال قال رسول اللہ a اہل الجنۃ عشرون ومائۃ

568

صف ثمانون منہا من ہذہ الامۃ واربعون من سائر الامم۔ ہذا حدیث حسن‘‘ (رواہ الترمذی ج۲ ص۱۸۱، ابواب اہل الجنۃ مشکوٰۃ ص۴۹۸)

’’بریدہq سے روایت ہے۔ نبی کریمa فرماتے ہیں کہ اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفوف ہوں گی جس میں اسی میری امت کی اور بقیہ چالیس دیگر امم کی ہوں گی۔‘‘ (ترمذی اس کو روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے)

اس حدیث نے کسی قدر وضاحت کے ساتھ آپ کی امت کی کرامت اور اس کے اولیاء مقربین کی کثرت کو ظاہر کیا ہے۔ رہا یہ سوال کہ جب صدیقیت وغیرہ سب جاری ہیں تو نبوت کس لئے مسدود ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت پر چل کر اور کسی نبی کی تصدیق کر کے جو انعامات مل سکتے ہیں وہ صرف یہی ہیں۔ نبوت کسب واتباع کا ثمرہ نہیں ہے۔ قرآن عزیز نے کسی ایک جگہ بھی نبوت کو کسب کا ثمرہ نہیں بتایا بلکہ صرف اپنے اجتباء واصطفاء پر موقوف رکھا ہے۔ ’’اﷲ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس (الحج:۷۵)‘‘ انسانوں اور فرشتوں میں سے کسی کو اپنا پیغامبر بنانا صرف خداتعالیٰ کے اصطفاء سے ہی ہوا کرتا ہے۔

قرآن عزیز فرضیت صوم بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے:’’لعلکم تتقون (بقرہ:۱۸۳)‘‘ یعنی اگر تم پابندی کے ساتھ روزہ رکھتے رہو تو شاید متقی ہو جاؤ۔ لیکن ایک آیت بھی پیش نہیں کی جاسکتی جس میں یہ فرمایا کہ اگر تم اس نبی کا اتباع کرو تو شاید نبی بن جاؤ۔

لہٰذا خوب واضح ہو گیا کہ اگر اس امت میں نبی نہ بنے تو اس سے آپa کی قوت قدسیہ کا کوئی نقصان ظاہر نہیں ہوتا۔ اگر آپ کی قوت قدسیہ کا اندازہ لگانا ہو تو خود آپ کے فرمان سے اندازہ کرو کہ جنت کی ۱۲۰صفوں میں سے ۸۰صفوف جنت میں داخل ہونے والی آپ ہی کی قوت قدسیہ کا ثمرہ نہیں تو اور کیا ہے؟ بلکہ آپ کی قوت قدسیہ کو اگر دیکھنا ہے تو آپ کے امتیوں کو دیکھو جو صرف آپ کے طفیل میں انبیاءo کے لئے قابل غبطہ بنے ہوئے ہیں۔ (ترمذی شریف ج۲ ص۶۴) ابواب الزہد میں روایت ہے۔’’یقول قال اللہ تعالٰی المتحابون فی جلالی لہم منابر من نور یغبطہم النبیون والشہداء‘‘ {جو میرے جلال کا لحاظ کر کے آپس میں محبت رکھنے والے ہیں قیامت میں ان کے لئے ’’نور‘‘ کے منبر رکھے جائیں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی غبط کریں گے۔} (ترمذی رقم:۲۳۹۰، مسند احمد رقم: ۲۲۰۳۱)

569

وجہ یہ ہے کہ ہر عمل کی ایک خصوصیت ہے جو محشر میں ظاہر ہوگی۔ خدا کی راہ میں موت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس موت کو حیاۃ کے احکام دئیے جاتے ہیں۔ ’’ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء (البقرہ:۱۵۴)‘‘ {اﷲ کی راہ میں جو لوگ قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ مت کہو وہ تو زندہ ہیں۔} اسی طرح حق تعالیٰ جس کو اپنا رسول ونبی بنائے اس کے بھی خصائص ہیں۔ ایسے ہی خداتعالیٰ کے جلال وبزرگی کو نظر رکھتے ہوئے باہم محبت وآشتی رکھنی اور کوئی دوسری غرض نہ رکھنا بھی محشر میں ایک خاص امتیازی شکل میں ظاہر ہوگا اور ظاہر ہے کہ آخرت کی ہر خصوصیت قابل غبطہ ہے پس جب کہ یہ امت محض آپ کی قوت قدسیہ کے طفیل میں انبیاءo کے لئے قابل غبطہ بن گئی تو اب اس سے زیادہ اور کیا درکار ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حدیث اس جماعت کو جو خداتعالیٰ کے لئے محبت رکھتی ہو انبیاءo کے لئے قابل غبطہ تو کہتی ہے مگر نبی نہیں کہتی۔ چنانچہ (مشکوٰۃ شریف ص۴۲۶، باب الحب فی اللہ ومن اللہ ) میں مصرعاً موجود ہے۔

’’عن عمرq قال قال رسول اللہ a ان من عباد اللہ اناساً ماہم بانبیاء ولا شہداء یغبطہم الانبیاء والشہداء یوم القیامۃ بمکانہم من اللہ قالوا یا رسول اللہ تخبرنا من ہم قال ہم قوم تحابوا بروح اللہ علی غیرارحام بینہم۔ الخ!‘‘

عمرq سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ بعض اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جو نبی ہیں نہ شہید۔ لیکن چونکہ ان کا تعلق محض لوجہ اللہ تھا۔ اس لئے حق تعالیٰ محشر میں انہیں ایک ایسا مرتبہ عطاء فرمائیں گے جس پر انبیاء وشہداء کو بھی غبطہ ہوگا۔ صحابہi نے سوال کیا یا رسول اللہ وہ لوگ کون ہوں گے۔ کہا جو صرف میری وجہ سے محبت رکھتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہے کہ اس امت میں نبوت تو نہیں ہے لیکن ایسے عمل ضرور ہیں جن سے ایک امتی، انبیاءo کے لئے بھی قابل غبطہ ہوسکتا ہے۔

الحاصل جب نبوت خدائی اصطفاء پر موقوف نہ کہ انبیاءo کے کمال پر تو خاتم النّبیین کی آمد سے صرف اتنا ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ کو جتنے رسول بنانے تھے وہ بنا چکا اور اس محدود عالم کے واسطے جتنے اعداد رسل مقدر تھے ختم ہولئے اور اس لئے اس نے اس دروازے کو جسے آدمm سے شروع کیا تھا۔ نبی کریمa کے ذریعہ سے بند کر دیا اور ضرور تھا کہ ایسا

570

ہوتا کیونکہ جس طرح تعمیر عالم کے وقت اجراء نبوت ورسالت کا اعلان ہوا تھا۔ اسی طرح تخریب عالم یعنی قرب قیامت میں اس کے ختم کا اعلان بھی ازبس ضروری تھا۔ ’’قال تعالٰی: امایاتینکم رسل منکم (الزمر:۷۱)‘‘ سورۂ بقرہ میں تفصیل سے موجود ہے کہ جب حق تعالیٰ نے آدمm کو زمین پر اتارا تو اس کا بھی اعلان کر دیا کہ اے آدمm کی ذریت تمہارے پاس ہمارے رسول آئیں گے۔ تم ان پر ایمان لانا۔ جب تک خود خداتعالیٰ ہی نبوت کے ختم کا اعلان نہ کرتا ابناء آدمm پر واجب تھا کہ وہ قیامت تک اس حکم کے ماتحت ہرزمانہ میں رسول کا انتظار کیا کرتے۔ لہٰذا جب دنیا کو ختم کرنا منظور ہوا تو اس کے ساتھ ہی آخری رسول بھیج کر اعلان کر دیا کہ اب رسول ختم ہوئے۔ دنیا بھی ختم ہے۔ لہٰذا اب رسولوں کا انتظار نہ کرنا۔ کیونکہ خاتم الانبیاء آچکا۔ اس کے بعد اب نبی نہیں آسکتا اور اس کے ساتھ میرا کلام اتر چکا جس کے بعد کوئی شریعت نہیں۔ لہٰذا اب نہ شریعت کا انتظار کرو نہ نبی کا۔ کیونکہ اب یہی تمہارا نبی ہوگا اور یہی تمہاری شریعت رہے گی۔ اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے: ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ (میں نے آج تمہارے لئے دین کی تکمیل کر دی) مفسرین نے اس آیت کی شرح میں بہت کچھ لکھا ہے مگر مجھے سب سے پیارے وہ جملے معلوم ہوتے ہیں جو درمنثور میں غالباً ابن عباسq سے منقول ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ: ’’اب ہم نے تمہارے دین کو کامل کر دیا ہے تو اب کبھی ناقص نہ ہوگا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا ہے تو کبھی مسلوب نہ ہوگی اور دین اسلام تمہارے لئے پسند کر لیا ہے کہ پھر کبھی ناپسند نہ ہوگا۔‘‘ (تفسیر درمنثور ج۳ ص۱۷، آثار الشیخ علامہ عبدالرحمان بن یحییٰ ج۵ ص۵)

الحاصل! جب شریعت اس معنی سے آخر ہے کہ اس کے بعد میں کوئی شریعت نہیں تو رسول بھی ’’آخر‘‘ اس معنی سے ہے کہ اس کے بعد کوئی رسول نہیں اور اسی لئے حق تبارک وتعالیٰ نے اسے خاتم النّبیین فرمایا۔ مگر خاتم الصالحین، خاتم الشہداء اور خاتم الصدیقین کہیں نہ فرمایا۔ کیونکہ سب نعمتیں جو کسی کامل کے اتباع سے مل سکتی ہیں جاری ہیں بلکہ اس امت میں سب سے زیادہ جاری ہیں۔ لیکن نبوت! تو اگر خداتعالیٰ کو جہاں رکھنا ہوتا تو شاید وہ خاتم الانبیاء کو ابھی اور نہ بھیجتا۔ لیکن جب جہان ہی ختم کرنا ہے تو نبوت باقی رہے تو کس کے واسطے؟ سیکرٹری صاحب تو نبوت کو رو رہے ہیں اور پیغمبر خدا علم کے خاتمہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ احادیث میں مصرح موجود ہے کہ قرب قیامت میں صحیح علم بھی اٹھا لیا جائے گا۔ کیونکہ جب تک علم نبوت کا

571

ابقاء منظور ہے علماء کو باقی رکھنا ضروری ہے لیکن جب عالم کو سمیٹنا مقدر ہوگا تو علم نبوت رہے گا نہ اس کے حاملین بلکہ شرور الناس باقی رہ جائیں گے اور انہی پر قیامت قائم ہوگی۔

کہئے سیکرٹری صاحب! آپ تو نبوت کے خواب دیکھ رہے تھے اور حدیثیں تو آخر زمانے میں علم کو بھی رخصت کرتی ہیں۔ یہ ایک نہایت موٹی بات تھی کہ جب جہان ہی ختم ہونا ہے تو نبوت کا ختم ہونا بھی ایک ضروری امر ہے۔ لیکن کیا کریں کہ محض ایک مراقی شخص کے دعویٰ پر ایمان لاکر اس موٹی بات کے سمجھنے کی بھی اہلیت باقی نہیں رہی۔ قرآن سے آنکھیں بند ہوئیں۔ احادیث سے لاپرواہی برتی گئی اور تنکوں کا سہارا نکالا گیا ہے۔ حتیٰ کہ کسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ خاتم النّبیین کا لفظ ایسا ہے جیسا کہ خاتم المفسرین کا۔ حالانکہ اس قائل کو یہ خبر نہیں کہ آپ کے لئے صرف یہی ایک لفظ نہیں بلکہ اس کے ہم معنی اور بھی بہت سے الفاظ وارد ہیں۔

حضرت عبیداﷲ بن مسعودq کی قرأت میں بجائے خاتم النّبیین کے ختم النّبیین ہے اور احادیث میں ’’ختم بی النبیون (مسلم ج۱ ص۱۹۹) آخر النبیین وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی (مسلم ج۲ ص۲۶۱)‘‘ (میں سب سے بعد آنے والا ہوں۔ وہ وہی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہو) بھی آئے ہیں۔ اب سوچو کہ بھلا یہ سب الفاظ صرف مدحی کہئے جاسکتے ہیں؟ صفتی صیغہ میں تویہ دجل چل سکتا ہے مگر کیا کوئی مدحاً یہ بھی کہتا ہے کہ:’’فلان ختم بہ المفسرون‘‘ اس کے علاوہ القاب مدحیہ جس کے لئے بولے جاتے ہیں وہ خود اس کا مدعی نہیں ہوا کرتا جیسا کہ اگر کسی خاتم المفسرین سے آپ دریافت کریں کہ کیا آپ خاتم المفسرین ہیں تو وہ اگر آدمی ہے تو یہی جواب دے گا کہ میں ہرگز اس قابل نہیں۔ ہاں! یہ دوسرے لوگ البتہ اس کے اعزاز میں اس لقب کو استعمال کریں گے۔ لیکن احادیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لقب کو آپ نے خود ہی اپنے حق میں استعمال کیا ہے اور جس نے بھی بعد میں استعمال کیا آپ ہی کی تعلیم سے استعمال کیا۔

علاوہ ازیں یہ بھی تو سمجھو کہ ایک متکلم خاتم المفسرین تعدد اشخاص اور تعدد زمان کے اعتبار سے متعدد اشخاص کو کہہ سکا ہے۔ اس لئے اس سے خود ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ لقب محض مدحی طور پر ہے۔ لیکن ازل سے آج تک نہ وحی سماوی نے کسی کو خاتم النّبیین کا لقب دیا اور نہ خود رسولوں میں سے کسی نے اس لقب کو اپنے متعلق استعمال کیا اور نہ آنحضرتa نے اس لقب سے کسی نبی کو یاد کیا۔ پس اگر یہ لقب خاتم المفسرین کی طرح تھا تو جیسے آج تک

572

ہزاروں خاتم المفسرین گزر گئے۔ دو چار خاتم الانبیاء بھی تو گزر جاتے مگر کون ہے جو ان موٹی اور بدیہی باتوں کو سمجھے۔ ’’ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہم من نور‘‘ (اﷲ نے جس کو نور کا حصہ نہیں دیا تو اس کے پاس نور کہاں سے آئے)

اب انصاف ناظرین پر ہے کہ جو مسئلہ قرآن کریم میں اس شدومد سے مدلل ومبرہن موجود ہو، ساٹھ صحابہi سے ایک سو بارہ احادیث میں مفصلاً روایت کیا جاچکا ہو۔ اس کی تردید کے لئے دور کے استبظات، ناتمام تشبیہات، رکیک شبہات اور بے سند احادیث بھلا کیا کفایت کر سکتی ہیں۔ غور کیجئے کہ آیت ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس (العمران:۱۱۰)‘‘ اور ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ کو مسئلہ اجراء نبوت سے کیا علاقہ ہے۔ پہلی آیت میں تو اس امت کی فضیلت بیان ہورہی ہے اور دوسری میں ایک عام دعا۔ اب خواہ مخواہ ایک مقدمہ کا اور اضافہ کر کے ثابت کیا جاتا ہے کہ نبوت جاری ہے۔ یعنی یہ کہ جب یہ امت خیرامت ہے تو ضرور اس کو نبوت ملنی چاہئے ورنہ یہ امت خیرامت نہ رہی۔ بھلا پوچھئے تو سہی کہ خیرامت ہونا نبوت ملنے پر کس طرح موقوف ہے۔ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ یہ امت خیرامت اس لئے ہے کہ اس کا نبی خیرالانبیاء اور افضل الرسل ہے۔ لیکن یہ کہیں تو کس منہ سے کہیں۔ اس سے تو مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت میں آگ لگ جاتی ہے۔

اب اگر سوال کیا جائے کہ یہ امت اگر اسی لئے خیرامت تھی تو بتلاؤ کہ اس امت میں کتنے ہزار نبی ہوئے تو جواب میں ایک خاص نبی ’’میڈان قادیان‘‘ (Made in Khadiyan) کا نام پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح اگر دوسری آیت میں دعا نبوت کی تعلیم کی گئی تھی تو بتاؤ کہ اس صراط مستقیم پر چل کر آخر کتنے نبی بن چکے۔ لوٹ پلٹ کر پھر اسی ’’متنبی‘‘ کا نام سامنے آتا ہے۔ گویا مرزائیوں کے نزدیک نبوت کوئی زلزلہ تو نہیں ہے لیکن ترحلوہ ضرور ہے کہ ہر موقعہ پر اسی پر ہاتھ پڑتا ہے تو حضرت حلوہ خوردن راروئے باید۔ ’’اﷲ اعلم حیث یجعل رسالۃ‘‘ یہ تو قرآن دانی تھی۔ اب حدیث دانی ملاحظہ ہو۔ نبی کریمa حضرت عباسq سے فرماتے ہیں۔ ’’اطمئن یاعم فانک خاتم المہاجرین فی الہجرۃ کما انا خاتم النّبیین فی النبوۃ‘‘ (کنزالعمال ج۱۱ ص۶۹۹، حدیث نمبر:۳۳۳۸۷)

یہاں بھی ایک جاہلانہ مقدمہ اور بڑھایا جاتا ہے وہ یہ کہ حضرت عباسq کے بعد

573

اور بہت سے مہاجر ہوئے۔ لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ آپa کے بعد نبی بھی ہوں گے۔

اوّل: تو میں کہہ چکا ہوں کہ ایک سو بارہ احادیث کے مقابلہ میں صرف تشبیہات کے پردے میں کام نکالنا صریح بددیانتی ہے۔

دوسرے: یہ کہ اس حدیث میں مقصود بالذات یہ ہے کہ محض لفظی مشارکت بیان کر کے حضرت عباسq کو تسلی دی جائے۔ نہ یہ کہ مسئلہ نبوت کی تشریح کی جائے۔ اگر مسئلہ نبوت کی تشریح منظور ہوتی تو یوں فرمانا اولیٰ تھا۔ ’’یاعم انا خاتم النّبیین فی النبوۃ کما انت خاتم المہاجرین فی الہجرۃ‘‘ اس فرق کو علماء سمجھیں گے۔ اس لئے اس کی تفصیل کو ہم چھوڑتے ہیں۔

تیسرے: یہ کہ سیکرٹری صاحب کو یہ بھی خبر نہیں کہ مہاجر کا لقب اسلام میں کب سے شروع ہوا ہے اور کب ختم ہوا۔ دنیا جانتی ہے کہ سرور کونینk کی ہجرت مکہ سے ہجرت کی ابتداء ہوئی ہے۔ اس سے پہلے جس نے بھی اپنا وطن چھوڑا ہو اور جس سمت بھی گیا ہو ہجرت سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا۔ اس کے بعد ہجرتیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن جس طرح کی یہ ہجرت مکہ مکرمہ سے شروع ہوئی تھی اسی طرح جب مکہ مکرمہ فتح ہوکر دارالاسلام بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی آپ کا اعلان بھی ہوگیا کہ: ’’لاہجرۃ بعد الفتح‘‘ (کنزالعمال ج۱۶ ص۶۶۰، حدیث نمبر:۴۶۲۷۸)

یعنی جو ہجرت فرض کی گئی تھی اب وہ ختم ہوگئی اور اسی درمیان میں مکہ مکرمہ چھوڑنے والے صحابہi مہاجر کہلائے۔ اس کے بعد وہ ہجرت رہی نہ وہ مہاجر۔

حضرت عباسq نے چونکہ سب سے آخر میں ہجرت کی تھی اور روایات سے کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہوتا۔ جس نے ان کے بعد ہجرت کی ہو اس لئے بھی ’’آخرالمہاجرین‘‘ کہلائے۔ نہیں معلوم ’’آخر‘‘ ہونا کوئی زلزلہ یا طاعون ہے کہ مرزائی اس سے بھی گھبراتے ہیں۔ کسی نبی کا آخر میں ہونا تسلیم کرتے ہیں نہ کسی مہاجر کا۔

اب تو غالباً سمجھ میں آگیا ہوگا کہ یہ بھی اجرائے نبوت کے بجائے ختم نبوت ہی کی دلیل ہے۔ کیونکہ جس طرح ہجرت ختم ہونے کی وجہ سے حضرت عباسq کے بعد کوئی مہاجر نہیں۔ اسی طرح نبوت ختم ہو جانے کی وجہ سے محمد عربیa کے بعدکوئی نبی نہیں اور جیسے کہ مکہ مکرمہ کے دارالاسلام ہوجانے کے بعد ہجرت ختم ہوگئی۔ اسی طرح قصر نبوت مکمل ہو جانے

574

کے بعد نبوت پر مہر لگ گئی۔ پھر معلوم نہیں کہ اس حدیث سے الٹا مطلب کیسے نکال لیا گیا۔ رہا خاتم الاولیاء کا لفظ۔ اس میں توخیر سے تشبیہ بھی نہیں ہے۔ پہلی حدیث میں تو صرف تشبیہات سے استدلال تھا۔ یہاں اور بے معنی۔ اس سے بڑھ کر ایک دلیل اور سنئے۔ ’’قولو انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ (تکملہ مجمع البحار ج۵ ص۵۰۲) یہاں بھی ایک جاہلانہ مقدمہ اور لگایا گیا ہے۔ صحیح بخاری میں خود آنحضرتa سے ’’لا نبی بعدی‘‘ موجود ہے۔ اب سیکرٹری صاحب فرمائیں کہ کس پر عمل کیا جائے۔ صحیح بخاری میں نقل شدہ آنحضرتa کے قول پر یا مجمع البحار پر کہئے کیا ارشاد ہے؟

سوم: آپ صفحہ:۶ پر خود ایک صحابی کی شہادت نقل کرتے ہیں جس کے بعد اس قول کی مراد بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ ’’قال رجل عند المغیرۃ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسٰیm خارج فان ہو خارج فقد کان قبلہ وبعدہ‘‘ مغیرۃ بن شعبہ کے سامنے ایک شخص نے کہا کہ ’’صلی اللہ علیٰ محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ‘‘ اس پر مغیرہq نے فرمایا کہ تجھے کافی تھا کہ کہہ دیا: ’’خاتم الانبیاء‘‘ کیونکہ ہم لوگ یعنی صحابہi باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسیٰؑ ظاہر ہونے والے ہیں۔ پس اگر وہ ظاہر ہوئے تو عیسیٰ ہی آپ سے پہلے ہوئے اور عیسیٰ ہی آپ کے بعد ہوئے (یہ ترجمہ خود مرزائی سیکرٹری صاحب نے کیا ہے) یہاں بھی جہالت ظاہر ہورہی ہے یعنی اس کو بھی اجراء نبوت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ چونکہ عیسیٰؑ تشریف لانے والے ہیں اور وہ بالاجماع نبی ہیں تو کوئی ’’لا نبی بعدہ‘‘ کا مطلب یہ نہ سمجھے کہ آپ کے بعد وہ بھی تشریف نہ لائیں گے۔ لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ یہ تو کہو کہ آپ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں لیکن یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ کیونکہ ایک پہلا نبی آنے والا ہے۔ لہٰذا آپ آخر بھی رہے اور پھر عیسیٰؑ کا نزول اس کے مخالف نہ ہوا۔ کیونکہ آخر میں تو وہی ہوگا جو دنیا میں آخر میں پیدا ہوا اور جو پہلے پیدا ہوا تھا مگر اس کی عمردراز ہوئی۔ سے آخر کون کہہ دے گا۔ ظاہر ہے کہ زید کا آخری بیٹا وہی کہلائے گا جو سب سے آخر میں پیدا ہوا ہو۔ اب اگر بالفرض اس سے پہلے بیٹے کی عمر طویل ہو جائے اور وہ اس آخری لڑکے کے بعد تک زندہ رہے تو اس وجہ سے وہ آخری نہیں ہوسکتا۔

ایسے ہی چونکہ عیسیٰؑ پہلے پیدا ہوئے تھے اس لئے بعد میں آنے سے آخر نہیں

575

کہے جاسکتے۔ اب بتلائیے کہ اس خاص صحابی کی شہادت آپ کے مخالف ثابت ہوئی یا موافق۔ بلکہ اس نے تو حضرت عائشہt کی طرف منسوب شدہ قول کی بھی تشریح کر دی۔

اگر یہ بے۱؎ سند قول تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ خاتم الانبیاء تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ حتیٰ کہ عیسیٰؑ بھی چونکہ ’’لا نبی بعدہ‘‘ سے کسی بے وقوف شخص کو یہ احتمال پیدا ہوسکتا تھا۔ لہٰذا اس کو بھی رفع فرمادیا اور نزول مسیحm کو اور مؤکد فرمادیا۔ ہاں! خوب موقعہ پر یاد آیا کہ مغیرہq کی اس عبارت میں سیکرٹری صاحب کے ترجمہ کردہ یہ الفاظ بھی ہیں۔ ’’اگر وہ ظاہر ہوئے تو عیسیٰ ہی آپ سے پہلے ہوئے اور عیسیٰ ہی آپ کے بعد ہوئے۔‘‘ اس خاص شہادت سے اوّلاً تو یہ ثابت ہوا کہ جو عیسیٰ ہیں وہ ظاہر ہونے والے ہیں نہ کہ پیدا ہونے والے۔ دوسرے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ وہی عیسیٰ ہوں گے جو آپ سے پہلے آچکے ہیں۔ پھر مرزائی سیکرٹری سوچے کہ قادیان میں جنے ہوئے شخص کو مسیح کیسے مانا جاسکتا ہے۔ کیا یہ وہی عیسیٰ تھے جو آپa سے قبل آچکے ہیں؟ اس عبارت میں صاف مذکور ہے کہ مسیحm کی دو آمد ہیں۔ ایک آپ سے پیشتر اور ایک آپ کے بعد۔ یہی اہل اسلام کا عقیدہ ہے جو حضرت مغیرہq صحابی کا تھا اور اسی وجہ سے وہ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ یہ مت سمجھ لینا کہ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ کہیں ’’لا نبی بعدہ‘‘ اسے نزول مسیحm کی بھی نفی سمجھ لو۔ یعنی حدیث کے الفاظ اجراء نبوت کے منافی ہیں نہ کہ نزول نبی کے۔

اب اگر دل میں ایمان کا کوئی ذرہ ہے تو مرزاغلام احمد قادیانی کی مسیحیت سے صدق دل سے توبہ کرنی چاہئے کیونکہ نبی کریمa کے ایک خاص صحابی کی شہادت سے ثابت ہوگیا کہ آنے والا مسیح وہی ہے جو ایک مرتبہ آچکا ہے۔ کیا مرزاقادیانی آواگوں کے چکر میں پھنس کر کسی جون میں پہلے بھی آچکے ہیں؟ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے مضمون کے آخر میں ان علماء امت کی شہادتیں بھی نقل کر دیں جن کو سیکرٹری صاحب جماعت مرزائیہ نے اپنے

۱؎ یہاں پر مصنف کے بے سند سے مراد یہ ہے کہ قول عائشہt صحیح متصل السند نہیں ہے بلکہ منقطع ہے اور منقطع حدیث عند المحدثین ضعیف ہوتی ہے۔ نیز اگر درست بھی ہو تو عقائد کا مدار اخبار احاد پر نہیں ہوتا بلکہ عقیدہ کی قطعیت کے لئے کتاب اللہ تواتر امت اور اجماع شرط ہے جس نعمت سے یہ مرزائی طبقہ محروم ہے۔ (از: محمد رضوان عزیز)

576

موافق سمجھا ہے اور اگر درحقیقت ان کو یقین ہے کہ وہ علماء اسی کے موافق ہیں تو ان کو چاہئے کہ ایک مرتبہ بحلف تحریر شائع کردیں۔ تاکہ خداتعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہو۔ مگر نہیں کر سکتے کیونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ یہ جملہ علماء نہ وفات مسیحm کے قائل تھے اور نہ اجراء نبوت کے۔ ہمیں حیرت ہے کہ جن علماء کی کتابیں ہر خاص وعام کے ہاتھوں میں موجود ہوں کس ایمان کے ساتھ ان پر افتراء کر دیا جاسکتا ہے۔

حضرت ملّاعلی قاریؒ کی شہادت

’’ودعویٰ النبوۃ بعد نبیناa کفر بالاجماع (شرح اکبر ص۲۰۲)‘‘ ہمارے نبی کریمa کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔

حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی پہلی شہادت

’’وقال الشیخ (اے محی الدین ابن العربی) اعلم ان مقام النبی ممنوع لنا دخولہ وغایۃ معرفتنا بہ من طریق الارث النظر الیہ کما ینظر من ہو فی اسفل الجنۃ الی من ہو فی اعلٰی علیین، وکما ینظر اہل الارض الی کواکب السماء وقد بلغنا عن الشیخ ابی یزید انہ فتح لہ من مقام النبوۃ قدر حزم ابرۃ تجلیا لادخولاً فکادان یحترق‘‘ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۲)

شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے فرمایا۔ خوب جان لو نبوت کے مقام میں داخل ہونا ہمارے لئے بالکل ممنوع ہے اور اس مقام کی انتہائی معرفت بطریق ارث کے یہ ہوسکتی ہے کہ ہم اس مقام کی طرف محض نظر کر سکتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جنت کے تحتانی حصہ والا شخص اعلیٰ علیین والوں کو دیکھتا ہے اور جیسا زمین والے آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہیں اور ہمیں شیخ ابی یزید سے یہ تحقیقی بات پہنچی ہے کہ درحقیقت نبوت کا مقام سوئی کے ناکے کے برابر (محض) تجلی کی حد تک کھولا گیا ہے۔ داخل ہونے کی حد تک نہیں۔ (اس پر بھی) انسان جل جانے کے قریب ہو جاتا ہے۔(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۲۵)

حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی دوسری شہادت

’’وقال الشیخ (اے محی الدین العربی) من قال ان اللہ تعالٰی
577
امرہ بشیٔ فلیس ذلک بصحیح انما ذلک تلبیس لان الامر من قسم الکلام وصفتہ وذلک باب مسدود دون الناس… فقد بان لک ان ابواب الامر الالہیہ والنواہی قدسدت وکل من ادعاہا بعد محمدa فہو مدعی شریعۃ اوحی بہا الیہ سواء وافق شرعنا اوخالف فان کان مکلفا ضربنا عنقہ والاضربنا عنہ صفحاً‘‘ (الیواقیت ج۲ ص۳۸)

شیخ اکبرv فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فلاں چیز کا حکم کیا ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ یہ سراسر تلبیس اور فریب ہے کیونکہ حکم دینا کلام کی ایک قسم ہے اور یہ دروازہ لوگوں پر بند ہوچکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ اوامرونواہی خداوندی کے دروازے اب بند ہوچکے ہیں۔ اب رسول اللہ a کے بعد جو شخص اس قسم کا دعویٰ کرے تو وہ ایک شریعت کا جو اس کے پاس وحی کے ذریعہ پہنچی دعویدار ہے چاہے وہ ہماری شریعت کے بالکل موافق ہو یا مخالف اور اس قسم کا شخص اگر مکلف ہوگا تو ہم اس کی گردن ماردیں گے ورنہ ہم اس سے اعراض کریں گے اور اس کو پس پشت ڈال دیں گے۔

حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ کی شہادت

’’(فان قلت) فہل النبوۃ مکتسبۃ اوموہوبۃ (فالجواب) لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل الیہا بالنسک والریاضات کما ظنہ جماعۃ من الحمقاء واقد افتی المالکیۃ وغیرہم بکفر من قال ان النبوۃ مکتسبۃ‘‘ (الیواقیت ج۱ ص۱۶۴،۱۶۵)

(اگر تو یہ کہے) کہ کیا نبوت اکتسابی شے ہے یا وہبی اور عطائی تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت حاصل کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہاں تک مجاہدوں سے اور کثرت عبادات وریاضات سے حاصل ہو جایا کرے جیسا بعض احمقوں کا خیال ہے۔ بلکہ وہ وہبی شئے ہے اور مالکیہ وغیرہ کا فتویٰ ہے کہ جو شخص نبوت کو مکتساب سے کہے وہ کافر ہے۔

مگر مرزائی یوں کہتے ہیں کہ: ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ کی دعا کرو اور نبی بن جاؤ۔ ’’وفیہ فلا تلحق نہایۃ الولایۃ بدایۃ النبوہ‘‘ (الیواقیت ج۲ ص۷۱)

انتہائی درجہ ولایت کا نبوت کے ادنیٰ مقام تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔

اس کے بعد شیخ عبدالوہاب نے وہ عبارت نقل کی ہے جو اوپر مسطور ہوچکی۔

578

حضرت مجدد الف ثانیؒ کی شہادت

لہٰذا آں سرورa… درشان حضرت فاروقq فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام ’’لوکان بعدی نبی لکان عمرq‘‘ یعنی لوازم وکمالاتیکہ درنبوت درکار است ہمہ را عمر دارد۔ اماچوں منصب نبوت بخاتم الرسل ختم شدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام بدولت منصب نبوت مشرف نگشت۔(مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر۲۴، دفتردوم حصہ ہشتم ص۳۲۷)

لہٰذا سرور کائناتa نے حضرت عمرq کی شان میں فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے تو عمرq ہوتا۔ یعنی نبوت کے لئے جن کمالات اور خوبیوں کی ضرورت ہے وہ سب عمرq میں موجود ہیں لیکن منصب نبوت چونکہ خاتم الرسل علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہوچکا ہے اس لئے مرتبہ نبوت سے مشرف نہیں ہوئے۔(مکتوب شریف ج۳ ص۲۴)

اس مکتوب میں حضرت مجدد صاحبv نے منصب نبوت اور کمالات نبوت کا فرق خوب واضح فرمادیا ہے۔ کمالات دوسری شئے ہیں اور منصب امر دیگر۔

جیسا کہ ایک شخص میں وائسرائے بننے کی لیاقت موجود ہو مگر ہر لیاقت والا ’’وائسرائے‘‘ نہیں بنادیا جاتا۔ علاوہ لیاقت کے وہ کمال جو منصب وائسرائیت کے شرائط میں ہیں ان کا محقق ہونا بھی ضروری ہے۔ مثلاً ایک ہندوستانی اگرچہ علیٰ وجہ الاتم وائسرائے بننے کی لیاقت رکھتا ہو مگر اسے وائسرائے نہیں بنایا جاسکتا یا جب تک ایک وائسرائے موجود ہے اور اس کے زمانہ ملازمت کی مدت باقی ہے دوسرا شخص کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو وائسرائے نہیں ہوسکتا۔

اس طرح جب تک نبی کریمa کا وہ دور نبوت باقی ہے خواہ کوئی کتنا ہی کامل کیوں نہ ہو نبی نہیں ہوسکتا اور اگر بالفرض آپ کی امت میں کوئی نبی اپنی لیاقت کی وجہ سے ممکن ہوتا تو عمرq ہوتے۔ لیکن جب بحکم پیغمبر علیہ التحیۃ والتسلیم منصب نبوت انہی کو نہ ملا تو مرزاقادیانی کو کہاں سے مل جاتا۔ مگر بغاوت کا کیا چارہ۔ اگر کوئی بغاوت کر کے بادشاہی کا دعویٰ کرے اور اپنی لیاقت کو پیش کر کے یوں کہنے لگے کہ جب موجودہ بادشاہ کے کمالات سے زیادہ کمالات مجھ میں موجود ہیں تو پھر میں بادشاہ کیوں نہیں تو جو جواب ایسے شخص کو دیا جائے

579

گا اس سے زیادہ سخت جواب اس نابکار کا ہے جو بادشاہ دوجہاں کی مملکت میں اپنی بادشاہی کا اعلان کرتا ہے۔ اسی کو حضرت مرزاشہید جان جاناںv نے فرمایا ہے اور اسی لئے غیراز نبوت بالاصالۃ کی قید لگائی ہے۔

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی شہادت

خاتمیت زمانی اپنا دین وایمان ہے ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ علاج نہیں۔ سو اگر ایسی باتیں جائز ہوں تو ہمارے منہ میں بھی زبان ہے۔(مناظرہ عجیبہ ص۳۹)

اب ذرا حضرت مولانا محمد قاسم صاحبv کی عبارت کا مطلب نہ سمجھنے والے اور دوسروں کو غلط طور پر گمراہ کرنے والے خود مولانا کی اس عبارت کو بھی دیکھ لیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ بوقت فرصت ہم ان سب حضرات کی عبارت کا مفصل مطلب بیان کر کے واضح کر دیں گے کہ یہ حضرات درحقیقت ختم نبوت کے اوّلین علم بردار ہیں۔ علماء امت کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خود مرزاغلام احمد قادیانی مدعی نبوت کی شہادت بھی پیش کر دی جائے۔

ختم نبوت پر مرزاغلام احمد قادیانی کی شہادت

پہلی شہادت: ’’اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبیa خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی پرانا نہ کوئی نیا۔(انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷ حاشیہ)

دوسری شہادت: میں نبوت کا مدعی نہیں ہوں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔(آسمانی فیصلہ ص۴، خزائن ج۴ ص۳۱۳)

’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱،۳۱۳)

تیسری شہادت: ’’کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرتa کے بعد رسول اور نبی ہوں۔‘‘(انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷ حاشیہ)

580

’’آنحضرتa کے بعد کسی پر لفظ نبی کا اطلاق بھی جائز نہیں۔‘‘(حاشیہ تجلیات الٰہیہ ص۹، خزائن ج۲۰ ص۴۰۱)

اب مرزائی سیکرٹری صاحب کو چاہئے کہ سرپکڑ کر روئے کیونکہ خود ان کے میڈان قادیان نبی نے بھی خاتم النّبیین کے بعد رسولوں کی آمد ناجائز قرار دی ہے۔ بلکہ لفظ نبی کا اطلاق بھی ناجائز رکھا ہے۔

نوٹ: ہم ناظرین کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ میڈان قادیان نبی کی ان عبارات کو دیکھ کر وہ یہ نہ سمجھیں کہ مرزاقادیانی سچ مچ نبوت کے مدعی نہ تھے بلکہ ان کی عادت تھی کہ موقعہ پر ہر قسم کی بات لکھ جاتے تھے۔ کبھی نبوت سے انکار کیاگیا تو اس طرح جیسا کہ آپ نے عبارت بالا میں ملاحظہ فرمایا اور کبھی دل میں آگئی تو زوروشور سے رسالت کا دعویٰ کر ڈالا۔

۱… ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

۲… ’’مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

۳… ’’پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

۴… ’’میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر (یعنی اپنے الہامات پر) اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

یہاں طبعاً ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب مرزاغلام احمد قادیانی اپنی نبوت سے منکر ہیں تو پھر کیونکر اپنی تصانیف میں نبوت کا دعویٰ کر سکتے ہیں تو اس کا جواب ہم خود مرزاغلام احمد قادیانی کی شہادت سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ مجھے مراق یعنی مالیخولیا کا مرض تھا اور ظاہر ہے کہ جو شخص مراقی ہو اور صحیح الدماغ نہ ہو اس سے اس قسم کے بے معنی دعاوی کچھ مستبعد نہیں۔

581

مرزاغلام احمد قادیانی کی شہادت اپنے مراق اور کثرت بول وغیرہ پر

پہلی شہادت: ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتa نے پیشین گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘(اخبار بدر قادیان مورخہ ج۷؍جون ۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵، تشحیذ الاذہان ماہ جون ۱۹۰۶ء)

مراقی مرزاقادیانی کا یہ فقرہ بڑا مزیدار ہے۔ اپنے مراق میں کچھ خبر نہ رہی کہ یہاں مسیحm کے آسمان سے اترنے کا اقرار ہوگیا۔ جب مسیحm بقول مراقی مرزاقادیانی فوت ہوچکے تو پھر آسمان سے کیونکر اتریں گے۔ ان کے خیال کے موافق تویوں ہونا چاہئے تھا کہ جب مسیح قادیان میں پیدا ہوگا۔ مگر جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے۔ ’’والفضل ماشہدت بہ الاعداء‘‘

تیسری شہادت: ’’ہمیشہ سردرد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج، دل کی بیماری دورے کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس کی ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے۔ بسا اوقات سوسومرتبہ رات کو یادن کو پیشاب آتا ہے۔‘‘(ضمیمہ اربعین نمبر۳،۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۱)

مرزاغلام احمد قادیانی کی ان تین ذاتی شہادات سے ثابت ہے کہ انہیں مراق تھا اور دراصل یہی باعث ادّعاء نبوت ہوا۔ کتب طب میں تصریح ہے کہ مراق کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کبھی مراق کا مریض دعویٰ نبوت بھی کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ (اکسیر اعظم ج۱ ص۱۸۸) میں لکھا ہے۔ ’’اگر مریض دانشمند بودہ باشد دعویٰ پیغمبری ومعجزات وکرامات کنند وسخن از خدا گوید وخلق رادعوت کند۔‘‘

582

اسی طرح (شرح اسباب:۶۹ ج۱) میں ہے:’’وقد یبلغ الفساد فی بعضہم الٰی حدیظن انہ یعلم الغیب وکثیرا مایخبر بما سیکون قبل کونہ وفیہ قد یبلغ الفساد فی بعضہم الفی حدیظن انہ صار ملکاً‘‘ بعض لوگوں میں فساد یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ اس کو یہ خیال ہونے لگتا ہے کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے اور اکثر آئندہ آنے والے امور کی خبر دینے لگتا ہے اور بعضوں میں فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔

اسی مراق کی وجہ سے مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (اربعین نمبر۳ حاشیہ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳) میں لکھا ہے کہ: ’’دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل لکھا ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ہم ان خطوط کو نقل کر دینا بھی خالی از دلچسپی نہیں سمجھتے جو خود اس میڈ ان قادیان نبی کے ایک خاص عقیدت مند نے شائع کئے ہیں۔ ان خطوط کو دیکھ کر مراق کے سوا مرزاقادیانی کے دیگر پوشیدہ امراض کا عقدہ بھی کھلتا ہے۔ معلوم نہیں کہ مراق ان امراض کا باعث تھا یا ان امراض کی وجہ سے مراق ہوگیا تھا۔

مکتوب اوّل: ’’مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ… مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی… ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھا کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوذ بکلی جاتا رہتا تھا… وہ عارضہ بالکل جاتا رہا… یہ منی کو بھی غلیظ کرتی ہے… آپ اسے دودھ اور ملائی کے ساتھ زیادہ قدر شربت کر کے استعمال کریں تو میں خواہشمند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد کی بشارت سنوں… چونکہ دوا ختم ہوچکی ہے اور میں نے زیادہ کھالی ہے۔ اس لئے ارادہ ہے کہ اگر خداتعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے۔ لیکن چونکہ گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا۔ فقط!‘‘(مکتوبات احمدیہ ج۵ حصہ۲ ص۳،۱۴، مکتوب نمبر:۱۰)

دوا کے جلد تیار کرنے کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ تو آپ نے اسی مکتوب میں بیان کر دی ہے۔ لیکن زیادہ زیادہ کھالینے کا سبب جاننے کے لئے آپ کا دوسرا مکتوب ملاحظہ فرمائیے۔

مکتوب دوم: ’’اخویم مخدوم ومکرم مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ عنایت نامہ پہنچا… جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے مجھے یقین نہیں کہ

583

آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ فقط!‘‘(مکتوبات احمدیہ ج۵ حصہ۲ ص۲۰،۲۱، مکتوب نمبر:۱۴)

میں ان بااخلاق قارئین سے معافی چاہتا ہوں جو اس قسم کے بداخلاق اور حیاسوز مضامین کو مطالعہ کرتے ہوئے ان افعال شنیعہ کے مرتکب سے تو اغماض کر لیتے ہیں اور ناقل کو کسی طرح معاف نہیں کر سکتے۔ اس مراقی نبی کی حالت زبوں نقل کرنے کے لئے آج بہ مجبوری ہمیں انہی کے الفاظ کو نقل کرنا پڑا ہے تاکہ مسلمان خواب غفلت میں نہ رہیں اور حیات وفات کے مسئلہ میں پڑ کر ختم نبوت جیسے بدیہی مسئلہ میں شوروشغب سے متاثر ہوکر مفت ایمان نہ بیچ دیں۔ اگر کسی بے ایمان کے ساتھ ایمان جیسی شئے فروخت کی جائے تو بہرحال کچھ تو کمال درکار ہے۔ مگر محض ایک مراقی آدمی پر ایمان لے آنا میں تو نہیں سمجھتا کہ سوائے مراقی کے کوئی دوسرا شخص بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت میرا یہ فقرہ اس فرقہ سے بدرجہا مہذب اور نازل تر ہے جو مراقی نبی نے اپنے نہ ماننے والوں کے متعلق لکھا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’جوان پر ایمان نہ لائے وہ حرامزادہ ہے۔‘‘

’’یقبلنی ویصدق دعوتی الاذریۃ البغایا‘‘ (آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج۵ ص۵۴۷،۵۴۸)

’’حرامزادہ کے سوا ہر شخص مجھے قبول کرے گا اور میری دعوت کی تصدیق کرے گا۔‘‘

’’ان العدا صاروا خنازیر الفلا ونساء ہم من دونہن الا کلب‘‘ دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔ (نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳)

اپنے مضمون کے خاتمہ پر مراقی مرزاقادیانی کے چند مکائد بھی ہم قارئین کرام کے سامنے پیش کردینا چاہتے ہیں جن سے اندازہ ہوگا کہ یہ جماعت کس درجہ اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہے۔ صرف مسلمانوں کے بہکانے کے لئے دوسرے دانت دکھلا دیتے ہیں جو صرف دکھانے کے ہیں۔ کھانے کے نہیں: ’’وما تخفی صدورہم اکبر‘‘

آنحضرتa کے معراج مبارک کے متعلق مراقی نبی کا عقیدہ

’’سیرمعراج اس جسیم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا

584

جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔ اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (یعنی مرزاقادیانی) کا تجربہ ہے۔‘‘ (ازالۃ الاوہام حصہ اوّل حاشیہ ص۴۷، خزائن ج۳ ص۱۲۶)

اس مختصر عبارت میں آپ کے جسم مبارک کو کثیف کہنا اور معراج کو کشف قرار دینا اور اسی پر بس نہیں بلکہ جو فخرانبیاءo میں سے کسی کو نصیب نہ تھا اس میں اپنے آپ کو صاحب تجربہ قرار دینا جیسی گستاخی بارگاہ رسالتa میں اس کا اندازہ آپ کا ایمان کر رہا ہوگا۔

آنحضرتa کے معجزات کے متعلق مراقی نبی کا عقیدہ

’’آنحضرتa کے معجزات… جو صحابہi کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزے ہیں۔‘‘(مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۴۹)

’’میری تائید میں اس (اﷲتعالیٰ) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں… اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰)

معجزہ شق القمر کے متعلق میڈ ان قادیان نبی کی بڑ

  1. لہ خسف القمر المیز وان لی

    غسا القمر ان المشرقان اتنکر

ترجمہ: اس کے لئے (آنحضرتa کے لئے) تو چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا تو کیا اب بھی تم میرا انکار کرو گے۔(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

اس ناپاک شعر میں معجزۂ شق القمر کو چاند گہن سے تعبیر کیاہے اور پھر اس میں بھی اپنی ہی فضیلت بتلائی ہے۔ کیونکہ اس مراقی کے لئے چاند اور سورج دونوں کا خسوف ہوا۔ ’’والعیاذ باﷲ عن ہذہ الخرافات‘‘

خطبہ الہامیہ مرزاغلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ہے جو عربی میں ہے اور درمیان میں اس کا ترجمہ فارسی اور اردو میں ہے۔ اس کتاب میں لکھتے ہیں: میں اس کی عربی عبارت اور اردو ترجمہ نقل کرتا ہوں۔

’’وقد مضی وقت فتح مبین فی زمن نبینا المصطفے وبقی فتح آخر وہو اعظم واکبر واظہر من غلبۃ اولی وقدر ان وقتہ وقت المسیح
585

الموعود من اللہ الرؤف الودود والیہ اشارا فی قولہ تعالٰی سبحان الذی اسری… الخ‘‘ اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریمa کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف خداتعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ ’’سبحان الذی‘‘ (خطبہ الہامیہ ص۲۸۸، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸)

اس عبارت میں مراقی نبی نے دعویٰ کیا ہے کہ جو فتح ان کے زمانہ میں ظاہر ہوئی وہ آنحضرتa کے زمانہ سے بہت بڑی ہے اور زیادہ ظاہر ہے۔ نعوذ باﷲ من ذالک!

دعویٰ فضیلت عیسیٰؑ پر

’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کلام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

دیکھئے! ذرا مراقی مرزاقادیانی کو، کیسے اپنے جامہ سے باہر ہورہے ہیں۔ کیا کوئی ذی روح ان کی ان قسموں کی تصدیق کرے گا۔ ’’الا من سفہ نفسہ‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت غالباً عین دورے کے حال میں لکھی گئی ہے۔

جگر گوشۂ آنحضرتa کے متعلق مرزائے قادیان کے اشعار

  1. کربلائے است سیر ہر آنم

    صد حسین است در گریبانم

ہر آن میرے لئے ایک نئی کربلا ہے۔ ایسے حسین تو سینکڑوں میرے گریبان میں ہیں۔(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

  1. وقالوا علی الحسنین فضل نفسہ

    اقول نعم واﷲ ربی سیظہر

لوگ کہتے ہیں کہ حسنین(n) پر اپنے کو فضیلت دیتا ہے میں کہتا ہوں ہاں ایسا ہی ہے اور میرا پروردگار اس کو ظاہر کرے گا۔

  1. وشتان ما بینی و بین حسینکم

    فانی اؤید کل ان وانصر

مجھے ہر آن مدد پہنچتی اور تائید غیبی میرا ساتھ دیتی ہے تو بولو میرے اور تمہارے

586

حسین کے درمیان کتنا فرق ہے۔

  1. واما حسین فاذکروا دشت کربلا

    الی ہذہ الایام تبکون فانظروا

  2. واﷲ لیست فیہ منی زیادۃ

    وعندی شہادات من اللہ فانظروا

حسین(m) جس کی وجہ سے تم آج تک کربلا کو چیختے پھرتے ہو اور اس پر روتے رہتے ہو۔ قسم خدا کی اس میں میرے سے زیادہ ایک بھی فضیلت نہیں تھی اور مجھ میں ایک چھوڑ بہت سی شہادتیں ہیں اللہ کی جانب سے۔

  1. وانی قتیل الحب لکن حسینکم

    قتیل العدا فاالفرق اجلی واظہر

میں عشق ومحبت سے کا مقتول ہوں اور تمہارا حسین بربنائے عداوت مقتول ہے تو کتنا ظاہر اور کھلا ہوا فرق ہے۔ (اعجاز احمدی ص۵۲،۶۹،۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴،۱۸۱،۱۹۳)

آٹھ کروڑ اہل اسلام کے حق میں مراقی نبی کا حکم

’’میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کافرستادہ، خدا کا مامور ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘ (انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

’’خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہ امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘(اربعین نمبر۳ حاشیہ ص۲۸، خزائن ج۱۷ حاشیہ ص۴۱۷، تذکرہ ص۳۸۹ طبع سوم)

احادیث مبارکہ کے متعلق مرزاغلام احمد قادیانی کا عقیدہ

’’ہم اس کے جواب میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعویٰ کو کچھ حرج نہ پہنچتا تھا۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

’’اقول اخسا فلن تعدو قدرک‘‘ مرزاقادیانی کے مراقی ہونے کے لئے ان کی یہ بے باکانہ تعلیاں کیا کم ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

587

قارئین کرام! یہ اردو کی چند عبارتیں ہیں۔ آپ خود ان عبارات کو پڑھ کر اس جماعت کا عقیدہ معلوم کر سکتے ہیں۔ تاویلات کا دروازہ کب بند ہوا اور کسی کی زبان یا قلم کا پکڑ لینا کب اختیار ہے۔ لیکن ایک سنجیدہ شخص غور کرے کہ اگر نبوت کا دروازہ درحقیقت کشادہ ہے اور فی الواقعہ اس امت کی خیریت نبی بننے میں ہی مضمر ہے تو آخر اس ۱۳۰۰ھ سال کے عرصہ میں کتنے نبی بن چکے۔ مرزائیوں سے دریافت کیجئے وہ بھی سوائے اس مراقی نبی کے کسی ایک کا نام نہیں لیں گے تو کیا آپ کا دل گوارا کرتا ہے کہ اپنے نبی کریمa کی خاتم المرسلینی چھوڑ کر اجراء نبوت کے قائل ہوں اور وہ بھی ایسے شخص کی خاطر جو بہ اقرار خود اس قسم کے ناپاک امراض کا شکار ہو۔ ایسے فاسد عقیدہ کا حامل ہو اور دنیائے اسلام کو سوائے ضرر رسانی کے اس کا کوئی اور کام نہ ہو۔

میں اس وقت عدیم الفرصت ہوں اس لئے بالاختصار آپ کے سامنے یہ چند اوراق پیش کر کے اس فتنۂ عظیم کے استیصال کی آپ حضرات سے پرزور درخواست کرتا ہوں۔ اگر آپ حضرات خاموش رہے اور یہ فتنہ ترقی کرتا گیا تو اس کی جواب دہی روز محشر آپ ہی حضرات کو کرنی ہے۔ دین متین کی تائید کے لئے تیار ہو جائیے اور یقین کیجئے کہ آپ کی خیریت صرف امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باﷲ کے بدولت ہے۔ اگر آپ اپنے اس اہم فریضہ سے غافل ہیں تو پھر آپ کو اپنے لئے خیرامت کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ اس مقدس ریاست میں آنحضرتa کے ختم المرسلینی کے برخلاف یہ کیسی اشاعت ہورہی ہے،۔ جس کی دینی فداء کاری حمیت اور غیرت اور رسول عربی کے ساتھ والہانہ جذبہ زبان زد خاص وعام ہوچکا ہے۔ اسلام صرف مصلیٰ پر کھڑے ہوکر دورکعت ادا کر لینے کا نام نہیں ہے۔ ’’لا حتی تأطوہم علی الحق اطرا‘‘ جب تک تم لوگوں کو کمان کی طرح حق تسلیم کرنے پر جھکا نہ دو گے اس وقت تک اسلام کا صرف دعویٰ ہے۔ اگر اس راستہ میں تم اپنے وطنوں سے باہر کر دئیے جاؤ۔ اہل وعیال سے جدا کر دئیے جاؤ۔ حرمت وعزت سے محروم ہو جاؤ۔ ناعاقبت اندیش اور دین کا درد نہ رکھنے والے مسلمانوں کے ہدف ملامت بن جاؤ تو تمہارے لئے یہ وہی مبارک سنت ہوگی جو تم سے پیشتر دین کے حامیوں کی رہی ہے۔ خداتعالیٰ اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کے پردہ میں دین کی بے حرمتی ہمارے ہاتھوں نہ کرائے اور حمایت دین کا وہ جذبہ دے کہ ایک مرتبہ پھر عہد سلف تازہ ہو۔ آمین یا رب العالمین!

588
’’ولک الحمد اولا واخرا والصلوۃ والسلام علی خیر الرسل خاتم النّبیین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین الٰی یوم الدین‘‘

نوٹ: مرزائی جماعت اکثر بہکانے کے واسطے کہہ دیا کرتی ہے کہ حوالہ جات غلط ہیں۔ احقر ان جملہ امور کو جن کا تحریر مذکور میں دعویٰ کیاگیا ہے ہروقت مرزاقادیانی کی کتب سے ثابت کرنے کے لئے موجود ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ کوئی حوالہ غلط نہ نکل سکے گا۔ اگر کسی صاحب کو شبہ ہو تو وہ احقر سے تصحیح فرماسکتے ہیں۔ فقط!

عاجز ناکارہ: بندہ محمد بدر عالم عفی اللہ عنہ

ڈابھیل ضلع سورت

نوٹ: ٹریکٹ ہذا کی کتابت ہوچکی تھی کہ ہمیں ۲۴؍جنوری ۱۹۳۴ء کے ’’زمیندار‘‘ میں مصر کی جماعت احمدیہ کا حسب ذیل مترجمہ بیان ملا جس کو ’’زمیندار‘‘ نے ’’الفتح‘‘ قاہرہ سے منقول کیا ہے۔ ہم بجنسہ نقل کرنے کے بعد ارباب بصیرت سے ملتمس ہیں کہ وہ اسے غور سے پڑھیں۔

غلام احمد قادیانی کی بیعت جہنم کی خریداری ہے

مصر میں فتنہ قادیانیت کی ناکامی ونامرادی

جماعت احمدیہ مصر کا بیان

ذیل کا اعلان مصر کی جماعت قادیانیہ کی طرف سے قاہرہ کے اخبار ’’الفتح‘‘ مورخہ ۲۷؍رجب ۱۳۵۲ھ میں شائع ہوا ہے۔ یہ جماعت قادیانیوں کے دام فریب میں پھنس کر مرزاغلام احمد قادیانی کی بیعت کر چکی تھی۔ لیکن مرزاقادیانی اور اس کی جماعت کے متعلق مفصل حالات معلوم ہو جانے پر انہوں نے اس دین باطلہ سے توبہ کر لی ہے۔ (مدیر معاون)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اللہ علٰی سیدنا محمد خاتم النّبیین‘‘

ہم مسلمانان نوجوانوں کی آرزو تھی کہ ہم دین حق کی نشرواشاعت کریں اور علم اسلامی کو سرفراز کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔ لیکن ہم فرقہ قادیانیہ کی حقیقت سے خالی الذہن تھے۔ ہم اس فرقہ کے بعض دعوے سن چکے تھے اور ہمیں کہا گیا تھا کہ فرقہ قادیانیہ

589

خدمت اسلام کے لئے قائم کیاگیا ہے اور یہ ایک ہی جماعت ہے جو منظم صورت میں دعوت اسلام دیتی ہے۔ ہم اس زمرہ میں داخل ہوگئے تاکہ ان کے ساتھ مل کر خدمت اسلام کریں اور ہمارا یہ اقدام خلوص نیت پر مبنی تھا۔ ہم نے قطر مصری میں مصری جماعت قادیانیہ کی جس کے صدر احمد حمدی آفندی مقرر ہوئے ہم اس فرقہ میں داخل تو ہوگئے لیکن ہمیں اس کے اندرونی حالات کا علم نہ تھا اور نہ ہمیں غلام احمد قادیانی کی سیرت سے واقفیت تھی۔ کیونکہ یہ قوم اس کے حالات کو چھپانے کی کوشش کرتی رہتی ہے اور نہیں چاہتی کہ لوگ غلام احمد کی تصنیفات سے بخوبی مطلع ہوں۔ کیونکہ یہ کتابیں ہر مسلم کو قادیانیت سے توبہ کرانے کے لئے کافی ہیں۔

اب ہمیں اس شخص کے حالات اور اس کی تالیفات سے آگاہی ہوگئی ہے۔ جسے یہ لوگ صیغۂ راز میں رکھنا چاہتے ہیں اور یہاں غلام احمد کی خطبۂ الہامیہ کا ایک ہی قول درج کرنا کافی معلوم ہوتا ہے جس میں لکھا ہے کہ بعثت ثانیہ (مرزاقادیانی کی بعثت) بعثت الاولیٰ (بعثت محمدیہ) سے افضل ہے اور مرزاقادیانی کی سیرت کے متعلق صرف یہ بات جان لینا کافی ہے کہ وہ محمدی بیگم سے شادی کرنے کی ہوس میں مٹا جاتاتھا۔

ہمیں جب یہ امور اور فرقہ قادیانیہ کے دیگر اندرونی حالات معلوم ہوئے تو ہم پر ظاہر ہوگیا کہ ہم نے غلام احمد کی بیعت کرنے میں کس قدر غلطی کا ارتکاب کیا اور ہمیں یقین ہوگیا کہ غلام احمد قادیانی اور ہر ایسی چیز سے جو اس سے متعلق ہے حتمی طور پر توبہ کرنا حسنات سے ہے اور قادیانی لوگ مسلمانوں کو استعمار اجنبی کے جوے کے نیچے آنے کی دعوت دیتے ہیں اور ہم نے دیکھا کہ غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس کا کلام اس کی اپنی نظر میں قرآن کریم سے بڑا اعجاز ہے اور شمس قادیانی کا جلال تمام انبیاء سے افضل ہے۔

جب معاملہ یہاں تک پہنچا اور ہم پر واضح ہوگیا کہ ہم نے مرزائے قادیانی کی بیعت کر کے جہنم خرید لی ہے تو ہم نے ضروری سمجھا کہ مشرق ومغرب کے برادران اسلام کی اطلاع کے لئے شائع کر دیں کہ ہم اس فرقہ سے تائب ہوکر خدا اور رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

  1. احمد حمدی رئیس جماعت احمدیہ مصریہ

    علی فاضلکاتب محکمہ الاستناف الاہلیہ

    عبدالحمید اسیدسیکرٹری دعوت وتبشیر جماعت احمدیہ مصریہ

  2. حسن احمد عبدالسلام طالب ثانوی

    احمد عبدالسلام میکنیکل انجینئر

    عبدالسلام احمد رئیس مطبع جریدہ المطرقہ

  3. عبدالحمید اسید جریدہ المطرقہ

590

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

591