عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

احتساب قادیانیت جلد سوم

احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلدسوم
مصنف : حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسری ؒ
صفحات : ۴۱۶
قیمت : ۱۵۰ روپے
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
طبع اوّل : جون ۲۰۰۰ء
طبع دوم : ………
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فہرست رسائل مشمولہ … احتساب قادیانیت جلد۳

  1. ٭…پیش لفظ۔۔۔حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری

    ۴

  2. ۱…مراق مرزا۔۔۔حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسری ؒ

    ۷

  3. ۲…مرزائیت کی تردید بطرز جدید۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۳

  4. ۳…حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۵۷

  5. ۴…عمر مرزا۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۱۳

  6. ۵…بشارت احمدﷺ۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۳۱

  7. ۶…مرزاقادیانی نبی نہ (ایک مناظرہ)۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۹۹

  8. ۷…نزول مسیح علیہ السلام ۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۰۷

  9. ۸…حلیہ مسیح مع رسالہ ایک غلطی کا ازالہ۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۴۵

  10. ۹…معجزہ اور مسمریزم میں فرق۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۶۱

  11. ۱۰…عیسیٰ علیہ السلام کا حج کرنا، مرزاقادیانی کا بغیر حج کے مرنا۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۸۵

  12. ۱۱…مرزاقادیانی مثیل مسیح نہیں۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۰۱

  13. ۱۲…سنت اللہ کے معنی مع رسالہ واقعات نادرہ۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۱۳

  14. ۱۳…مرزاقادیانی کی کہانی مرزا اور مرزائیوں کی زبانی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۳۳

  15. ۱۴…مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۴۵

  16. ۱۵…حضرت عیسیٰ کا رفع اور آمد ثانی ابن تیمیہ کی زبانی اور مرزا قادیانی کی کذب بیانی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۵۷

  17. ۱۶…مرزاغلام احمد رئیس قادیان اور اس کے بارہ نشان۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۷۱

  18. ۱۷…اختلافات مرزا۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۷۹

  19. ۱۸…سلسلہ بہائیہ وفرقہ مرزائیہ۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۹۱

  20. ۱۹…انجیل برنباس اور حیات مسیح۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۴۰۱

  21. ۲۰…مرزائیت میں یہودیت ونصرانیت۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۴۰۹

3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پیش لفظ

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ۔ اما بعد !

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ’’احتساب قادیانیت جلد اوّل‘‘ کے نام سے رد قادیانیت پر مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر v کے مجموعہ رسائل کو شائع کیا اور ’’احتساب قادیانیت جلد دوم‘‘ میں محقق العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی v کے رسائل کو شائع کیا گیا۔ حضرت کاندھلوی v کے رسائل کی ترتیب و تخریج کے دوران میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے تحریرا حکم فرمایا کہ اس کے بعد مولانا حبیب اللہ امرتسری v کے رسائل کو شائع کیا جائے ۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد صاحب کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ ان رسائل کی تخریج و تحقیق کا کام کریں۔ انہوں نے بڑی جانفشانی و تندہی سے ان رسائل پر کام کیا۔ قادیانی کتب کے جدید ایڈیشنوں کے صفحات لگائے ، سن اشاعت کے اعتبار سے ترتیب قائم کی، ان کا کام مکمل ہوا تو تفسیر و حدیث، تاریخ و سیرت وغیرہ کے حوالہ جات کا کام مولانا اللہ وسایا مدظلہ کے ذمہ لگایا گیا۔ عزیز محترم ماسٹر عزیز الرحمٰن رحمانی نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ یوں تقریباً سال بھر کی محنت کے بعد یہ مجموعہ رسائل مولانا حبیب اللہ امر تسری v، ’’احتساب قادیانیت جلد سوئم‘‘ کے نام سے آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اعزاز حاصل کر رہی ہے ۔

مولانا حبیب اللہ امر تسری v کا تعلق امر تسر سے تھا۔ انہوں نے دینی تعلیم مولانا مفتی محمد حسن v بانی جامعہ اشرفیہ سے حاصل کی اور انہی کے زیر اثر انہوں نے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی v کے ہاتھ پر بیعت کی۔

(ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ ج۷۳ ش۱۱ ص۸)

آپ محکمہ نہر میں کلرک تھے ۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری v کے ساتھ رد قادیانیت پر

4

کام کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے قوت حافظہ کی نعمت سے نوازا تھا۔ آپ کو حافظ مرزائیات کہا جاتا تھا۔ تحریر اور تقریر میں خاص ملکہ حاصل تھا اور صوبہ پنجاب میں ان کی تقاریر کو بڑی مقبولیت حاصل تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور دوسرے قادیانی مصنّفین کی کتابیں ان کو از بر تھیں۔ قادیانیت کی تردید میں آپ نے بے شمار مضامین اخبار اہل حدیث امرتسر میں لکھے ۔ اس کے علاوہ آپ نے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات کے خلاف تقریباً۱۸ کتابیں لکھیں۔ آپ کی یہ کتابیں حجم کے لحاظ سے گو مختصر ہیں۔ لیکن اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت بھاری ہیں۔ ان کتب کی تفصیل یہ ہے :

۱… مراق مرزا ، شوال ۱۳۴۷ھ، اپریل ۱۹۲۹ء

۲… حضرت مسیح کی تردید بطرز جدید ، شعبان ۱۳۵۱ھ، دسمبر ۱۹۳۲ء

۳… حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں، شوال ۱۳۵۱ھ، فروری ۱۹۳۳ء

۴… عمر مرزا ، صفر ۱۳۵۲ھ، جون ۱۹۳۳ء

۵… بشارت احمد a، ربیع الثانی ۱۳۵۲ھ، جولائی ۱۹۳۳ء

۶… مرزا قادیانی نبی نہ، شوال ۱۳۵۲ھ، جنوری ۱۹۳۴ء

۷… نزول مسیح ، شوال ۱۳۵۲ھ، فروری ۱۹۳۴ء

۸… حلیہ مسیح مع رسالہ ایک غلطی کا ازالہ، محرم ۱۳۵۳ھ، اپریل ۱۹۳۴ء

۹… معجزہ اور مسمریزم میں فرق ، محرم ۱۳۵۳ھ، اپریل ۱۹۳۴ء

۱۰… حضرت مسیح کا حج کرنا اور مرزا قادیانی کا بغیر حج کے مرنا، ربیع الثانی ۱۳۵۳ھ، اگست ۱۹۳۴ء

۱۱… مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں، جمادی الاوّل ۱۳۵۳ھ، ستمبر ۱۹۳۴ء

۱۲… سنت اللہ کے معنی مع رسالہ واقعات نادرہ، جمادی الثانی ۱۳۵۳ھ، ستمبر ۱۹۳۴ء

۱۳… مرزا قادیانی کی کہانی مرزا اور مرزائیوں کی زبانی، محرم ۱۳۵۴ھ، اپریل ۱۹۳۵ء

۱۴… مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی، جمادی الاوّل ۱۳۵۶ھ، اگست ۱۹۳۷ء

۱۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اور آمد ثانی، رجب ۱۳۸۰ھ، دسمبر ۱۹۶۰ء

۱۶… مرزا غلام احمد رئیس قادیانی اور اس کے بارہ نشان ، تاریخ اشاعت نہ معلوم

5

۱۷… اختلاف مرزا

۱۸… سلسلہ بہائیہ و فرقہ مرزائیہ

نوٹ: ان کے علاوہ ایک رسالہ کا ایک کتاب میں نام ملا ’’قادیانی کی کذب بیانی‘‘ جو مل نہیں سکا۔ باقی بحمدہ تعالیٰ تمام رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ حضرت مرحوم کے اس زمانہ کے اخبارات و رسائل میں جو مضمون شائع ہوئے اور اس میں شامل نہیں۔ تاہم جو کچھ ان رسائل کی شکل میں شائع ہوا وہ سب جمع کر دیا ہے ۔ جو رسالہ نہیں مل سکا یہ بھی کوئی مضمون معلوم ہوتا ہے۔ نا معلوم کتابی شکل میں شائع بھی ہوا یا نہیں، بحمدہ تعالیٰ یہ مجموعہ انتہائی جامع و مکمل ہے جو پیش خدمت ہے ۔ اللہ رب العزت’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں ۔

مطالعہ کرتے وقت خیال رہے کہ جہاں کہیں ایک کتابچہ کا دوسرے کتابچہ کے کسی مضمون سے تکرار تھا تو اسے ایک جگہ سے حذف کر دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف مرحوم پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائیں۔

آمین بجاہ النبی الامیی الکریم خاتم النّبیینa

عزیز الرحمن جالندھری

خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

دفتر مرکزیہ ملتان پاکستان

۲۵؍شوال ۱۴۲۰ھ ، ۲؍فروری ۲۰۰۰ء

نوٹ: کتاب کی تیاری کے آخری مراحل میں دو مضامین اور ’’مرزائیت میں یہودیت اور نصرانیت‘‘ شائع شدہ در شمس الاسلام بھیرہ ستمبر ۱۹۳۲ء و دسمبر ۱۹۳۳ء کو ان کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر مجموعہ ہذا میں شامل کر دیا گیا ہے ۔ کتاب کی کمپوزنگ کا تمام کام عزیز محترم یوسف ہارون اور طباعت و اشاعت کا کام برادر محترم قاری محمد حفیظ اللہ نے نہایت ہی جانفشانی سے انجام دیا ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی اشاعت میں کسی بھی طرح حصہ لینے والے رفقاء کو دارین میں جزائے خیر نصب فرمائیں ۔ آمین !

6

مراق مرزا

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

7

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ

قرآن مجید میں صاف صاف الفاظ میں ذکر ہے کہ کافر لوگ آنحضرتa کے حق میں مسحور و مجنون وغیرہ کے الفاظ بولتے تھے جن کو خدا تعالی نے بڑی سختی سے رد فرمایا ۔ چنانچہ ارشاد ہے :’’ن ، والقلم ، وما یسطرون ، ما انت بنعمۃ ربک بمجنون، وان لک لاجرا غیر ممنون ۔ وان لعلٰی خلق عظیم (القلم)‘‘ {قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم کے ساتھ لکھتے ہیں تو اے نبی ، اللہ کے فضل سے مجنون نہیں ۔ تیرے لئے غیر منقطع اجر ہے اور تو خلق عظیم پر ہے ۔}

اس آیت نے مجنون اور نبی میں فرق بتایا ہے ۔ وہ یہ کہ مجنون کی حرکات منظم اور باقاعدہ نہیں ہوتیں ۔ ایک وقت اگر کسی پر خفا ہوتا ہے تو فورا خوشی کا اظہار کرنے لگ جاتا ہے ۔ ایک وقت گالیاں دیتا ہے تو معاً قرآن پڑھنے لگ جاتا ہے ۔ اس لئے اس کی حرکات اور افعال کسی نتیجہ کا موجب نہیں ہوتے ۔ حضورa کے حق میں فرمایا تیرے لئے بہت بڑا اجر ہے ۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے کہ تیری حرکات اور افعال منظم ہیں ۔ اس لئے تو بہت بڑے بدلے کا مستحق ہے ۔ ثابت ہوا کہ جنون اور نبوت میں بہت بڑا تضاد و تخالف ہے ۔

مراق

ابتدا میں معمولی تغیّر کا نام ہے لیکن ترقی کر کے اس کا نام مالیخو لیا مراقی ہو جاتا ہے۔ (طب اکبر) اس امر پر قادیانی جماعت کو بھی اتفاق ہے کہ : ’’مرض مراق میں مریض کو بدہضمی اور تخیل (بدحواسی) ہو جاتی ہے۔‘‘

چنانچہ قادیانی رسالہ ریویو میں ایک معتبر قادیانی ڈاکٹر شاہ نواز خان اسسٹنٹ سرجن کی رائے یوں چھپی تھی: ’’یونانی میں مراق اس پردے کا نام ہے جو احشاء الصدر کو احشاء البطین سے جدا کرتا ہے اور معدے کے نیچے واقع ہوتا ہے اور فعل تنفس میں کام آتا ہے ۔ پرانے سوء ہضم کی وجہ سے اس پردے میں تشنج سا ہو جاتا ہے ۔ بدہضمی اور اسہال بھی اس مرض

8

میں پائے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض میں تخیّل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘

(بابت اگست ۱۹۲۶ء، ج۲۵ ص۶ نمبر۸)

مراق کی یہ تشریح ازروئے طب قدیم ہے ۔ ڈاکٹر صاحب موصوف لکھتے ہیں :

تشریح مراق ازوئے طب جدید

’’مراق کا دوسرا نام عربی میں جمود ہے اور انگریزی میں اس علامت کو CATALAPSY (قاتالپسی) کہتے ہیں۔ یہ بعض علامات کو مجموعی طورپر پکارنے کے لئے بولا جاتا ہے اور اس میں بڑی متعین علامات پائی جاتی ہیں۔ یعنی بازو اچانک بالکل سن ہو جاتا ہے اور جہاں رکھا ہو، وہیں پڑا رہتا ہے۔ یعنی اس میں اپنے ارادہ سے حرکت دینے کی طاقت نہیں رہتی۔ بازو بعض دفعہ تشنج ہو کر سخت ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ نرم رہتا ہے۔ دل کی حرکت کمزور ہو جاتی ہے۔ نبض سست ہو جاتی ہے۔ سانس مدھم پڑ جاتا ہے اور سخت ضعف ہو جاتا ہے۔ بالعموم اس کا حملہ اچانک ہو جاتا ہے۔ مگر بعض دفعہ سردرد اور متلی وغیرہ پہلے شروع ہو جاتی ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو قادیان اگست۱۹۰۶ء ج۲۵ نمبر۸ ص۸)

مرض مراق کی تشریح کے بعد یہی ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ’’یہ تو امر واقعہ ہے کہ حضرت (مرزاقادیانی) کو بدہضمی، اسہال اور دوران سر کی عموماً شکایت رہتی تھی۔‘‘

(حوالہ مذکور ص۶)

بس مطلع صاف ہے ۔

مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں: ’’بروز اور عکس محمد ہوں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۰ حاشیہ)

اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی ان جملہ عوارض سے پاک وصاف ہوتا جن سے حضور پیغمبر خداa پاک و صاف تھے۔ کیونکہ جو عوارض اور امراض صورت محمدیہ علے صاحبہا الصلو والتحیہ میں خدا کی طرف سے نبوت کے مطلقا متضاد قرار دئیے گئے ہیں، وہ صورت مرزائیہ میں نبوت سے متحد کیسے ہو سکتے ہیں ؟

9

پس شکل اوّل

کاکبریٰ تو مدلل اور فریقین میں مسلّم ہے۔ اب صغریٰ کا ثبوت باقی ہے یعنی: ’’مرزاقادیانی مراقی تھے۔‘‘

اس کا ثبوت اخبار ’’اہل حدیث‘‘ امرتسر میں بارہا دیا گیا ۔ رسالہ ہذا میں عزیزی مولوی حبیب اللہ سلمہ اللہ امرتسری نے جو حوالہ جات جمع کئے ہیں، ناظرین سے امید ہے کہ ان کو غور سے پڑھیں گے اور نبوت مرزائیہ کی حقیقت سے آگاہ ہوں گے۔

ابو الوفا ثنا اللہ کفاہ اللہ (امرتسر)، شوال۱۳۴۷ھ

مراق مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی کا مراقی اعتراف

۱… ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتa نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑکی اور ایک نیچے کے دھڑکی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘

(اخبار بدر قادیان ج۲ نمبر۲۳ ص۴،۵ مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)

خانگی شہادت

۲… جناب مرزا بشیر احمد (پسر دوم مرزا) لکھتے ہیں: ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن کے بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھوآیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہنے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر

10

دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے؟ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہوگئی ہے۔ میں پردہ کراکے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھا رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے۔ خاکسار نے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا؟ والد صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھچ جاتے تھے۔ خصوصا گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہوگئی۔ خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی۔‘‘

(سیرۃ المہدی مصنفہ پسر مرزا حصہ اوّل ص۱۴،۱۵، روایت نمبر۱۹)

۳… ’’حضرت اقدس (مرزا صاحب) نے فرمایا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ اپریل۱۹۲۵ء، ج۲۴ نمبر۱۹ ص۴۵)

۴… ’’میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کرکے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ تاہم میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔‘‘

(کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸، ملفوظات ج۲ ص۳۷۶)

۵… ’’حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ مجھ کو

11

مراق ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء ج۲۵ ص۶ نمبر۸)

۶… ’’مراق کا مرض حضرت (مرزاقادیانی) صاحب میں موروثی نہ تھا بلکہ یہ خارج اثرات کے ماتحت پیدا ہوا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجز بابت ماہ اگست۱۹۲۶ء، ج۲۵ نمبر۸ ص۱۰)

۷… ’’حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل اور بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘

(رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ مئی۱۹۲۷ء، ج۲۶ نمبر۵ ص۲۶)

۸…مرزاقادیانی کو مراق کیوں ہوا؟

مرض مراق حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کو ورثہ میں نہیں ملا۔ پس حضرت صاحب کی زندگی کے حالات کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مراقی علامات کے دو بڑے سبب تھے۔ اوّل کثرت دماغی محنت، تفکرات، قوم کا غم اور اس کی اصلاح کی فکر۔ دوسری غذا کی بے قاعدگی کی وجہ سے سوء ہضم اور اسہال کی شکایت۔‘‘

(ریویو قادیان ج۲۵ نمبر۸ ص۹، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

۹…مرزاقادیانی کی بیوی کو مراق (یک نہ شد دو شد)

خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے مراقی دو

مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ’’میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء، ص۱۴، کتاب منظور الٰہی ص۲۴۴)

۱۰…مرزا قادیانی کے بیٹے خلیفہ قادیان کو مراق

  1. یک نہ شد دو شد بلکہ سہ شد

    ایں خانہ ہمہ آفتاب است

12

ایں خانہ ہمہ آفتاب است ’’حضرت خلیفۃ المسیح ثانی(میاں محمود قادیانی) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘

(ریویو قادیان بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء، ص۱۱ ج۲۵ نمبر۸)

۱۱…نبی اور مراقی میں فرق عظیم

’’نبی میں اجتماع توجہ بالارادہ ہوتا ہے۔ جذبات پر قابو ہوتا ہے۔‘‘

(ریویو بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء، ج۲۶ نمبر۵، ص۳۰)

مریض مراق

’’اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض (یعنی مراق) میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘

(ریویو بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء، ج۲۵ نمبر۸ ص۶)

۱۲…مراق ایک برامرض ہے

’’پیسہ اخبار کے کسی پچھلے پرچہ میں قاضی عبد العزیز تھا نیسری نے اس امر کا اعلان کیا ہے کہ میں خلیفہ وقت ہوں۔ جب میں نے اس شخص کا یہ مضمون دیکھا تو ہنس کر ٹال دیا تھا کہ ایسے مراقی اور کمزور طبع آدمی کی بے ربط اور بے سروپا باتوں کا کیا نوٹس لیا جائے۔‘‘

(منشی احمد حسین قادیانی فریدآبادی کے الفاظ مندرجہ اخبار بدر مورخہ ۶؍دسمبر ۱۹۰۶ء، کالم۱ نمبر۴۹ ج۶ ص۴)

لاہوری شہادت

’’بدقسمتی سے ہمارے قادیانی بھائی اس حد تک مرض بحث مباحثہ میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ میں کہوں گا کہ MONONONIA (مونومانیا) تک حد پہنچ چکی ہے۔ یہ وہ عارضہ ہے، جسے غالبا مراق کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کا خاصہ یہ ہے کہ جب ایک بات نے دل و دماغ پر قبضہ جما لیا تو باقی تمام دنیا جہان کی چیزیں اسی رنگ میں رنگین نظر آتی ہیں۔‘‘

(پیغام صلح مورخہ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۲۵ء ص۴)

۱۳…پشاوری شہادت

قاضی یوسف پشاوری لاہوری مرزائی کو مخاطب کرکے بطور حقارت لکھتے ہیں:

13
  1. بگوش ہوش بشنواے مراقی

    بہ میخانہ نخواہی جام ساقی

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۲۸ء ص۷)

۱۴…مراقی شخص نبی یا ملہم نہیں ہوسکتا

ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب اسسٹنٹ سرجن قادیانی لکھتے ہیں: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوی کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء، ج۲۵ نمبر۸ ص۶،۷)

مرزا قادیانی کو اپنے خیالات پر قابو نہیں تھا

مثال نمبر:۱

مرزا قادیانی لکھتا ہے:’’ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس… اے میرے خدا! اے میرے خدا!! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی آوس، باعث سرعت ورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنے کھلے۔و اللہ اعلم بالصواب!‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۱۳ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۱۳)

’’پھر اس کے بعد (خدا نے) نے فرمایا: ’’ہو شعنا نعسا‘‘یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۵۶ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۶۴)

’’بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں کچھ نمونہ ان کا لکھا گیا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

14

اس کے متضاد

’’یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)

تضاد کا نتیجہ

’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

(ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)

’’ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ص۱۹۱)

مثال نمبر:۲

مرزا قادیانی کی تحریر

آیت:’’فلما توفیتنی‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے: ’’واذ قال اللہ یا عیسی أانت قلت للناس… الخ!‘‘اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل ’’اذ‘‘ موجود ہے۔ جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھانہ زمانہ استقبال کا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

’’یہ سوال حضرت مسیح سے عالم برزخ میں ان کی وفات کے بعد کیا گیا تھا۔ نہ یہ کہ قیامت میں کیا جائے۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۴۷،۷۴۸، خزائن ج۳ ص۵۰۳) یعنی واقعہ ماضی کا ہے۔

15

اس کے متضاد

اس تمام آیت:’’اذ قال اللہ ‘‘کے اوّل و آخر کی آیتوں کے ساتھ یہ معنی ہیں کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہے گا کہ کیا تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۴۰، خزائن ج۲۱ ص۵۱) یعنی واقعہ مستقبل کا ہے۔

دوسرا متضاد

’’جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہوگی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقین الوقوع ہو۔ مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں… جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ونفخ فی الصور فاذاہم من الاجداث الی ربہم ینسلون‘‘اور جیسا کہ فرماتاہے: ’’واذ قال اللہ یا عیسٰی ابن مریم أنت قلت للناس اتخذونی وامیی الہین من دون اللہ ۔ قال اللہ ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹)

مثال نمبر:۳

مرزا قادیانی کی تحریر

’’آخر انجام یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد خدا نے مرنے سے بچا لیا اور ان کی وہ دعا منظور کر لی جو انہوں نے درد دل سے باغ میں کی تھی۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مسیح کو یقین ہوگیا کہ یہ خبیث یہودی میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے نہیں چھوڑتے تب وہ ایک باغ میں رات کے وقت جاکر زار زار رو دیا اور دعا کی کہ یا الٰہی! اگر یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے تو تجھ سے بعید نہیں تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس جگہ عربی انجیل میں یہ عبارت لکھی ہے: ’’فبکیٰ بد موع جاریۃ وعبرات متحدرۃ فسمع

16

لتقواہ‘‘یعنی یسوع مسیح اس قدر رؤیا کہ دعا کرتے کرتے اس کے منہ پر آنسو رواں ہوگئے اور وہ آنسو پانی کی طرح اس کے رخساروں پر بہنے لگے اور وہ سخت رؤیا اور سخت دردناک ہوا۔ تب اس کے تقوی کی وجہ سے اس کی دعا سنی گئی ۔

(تذکرۃ الشہادتین ص۲۶، خزائن ج۲۰ ص۲۸،۲۹)

اس کے خلاف

’’حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتلا کی رات میں جس قدر تضرعات کئے وہ انجیل سے ظاہر ہیں۔ تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے غم و اندوز سے ایسی حالت ان پر طاری تھی۔ وہ ساری رات رو رو کے دعا کرتے رہے تاکہ وہ بلا کا پیالہ جو ان کے لئے مقدر تھا، ٹل جائے۔ پر باوجود اس قدر گریہ زاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی۔کیونکہ ابتلا کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۳۲،۱۳۳، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۷۵ حاشیہ)

مثال نمبر:۴

مرزاقادیانی کی تحریر

’’ اللہ جل شانہ نے آنحضرتa کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔ یہی معنی اس حدیث کے ہیں کہ:’’علماء امتی کاانبیاء بنی اسرائیل‘‘یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے۔ مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔ اس وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ بلکہ وہ

17

انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

اس کے خلاف

مرزا قادیانی کا قول ہے: ’’حضرت موسیٰ(m) کی اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی ہوئے۔‘‘

(الحکم مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۲ء ص۵ کالم۲)

نتیجہ: قول اوّل میں حضرت موسیٰ کے اتباع سے نبی بننے کا انکار ہے۔ قول دوم میں اقرار: ’’ضدان مفترقان ای تفرق‘‘

شرعی نصاب شہادت دو ہے۔ صرف ایک معاملہ میں چار گواہوں کی ضرورتہے۔ کیونکہ اس کی سزا بہت سخت ہے اور بدنامی بھی بہت زیادہ۔ یعنی جرم زنا، ہم نے شرعی نصاب کی اعلیٰ حد اختیار کرکے مرزا قادیانی کی مراقیت پر چار گواہ پیش کئے ہیں۔ لہٰذا ہمارا دعویٰ ثابت ہونے میں کسی کو مجال سخن نہیں۔

قرآن شریف میں مجنونوں اور مراقیوں کا جیسے محل نبوت ہونے کا انکار کیا گیا ہے، مختلف القول اشخاص کے حق میں بھی یہی فیصلہ ہے کہ وہ مورد الہام اور محل نزول وحی اور مخاطب الٰہی نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا (النساء:۸۲)‘‘{یعنی قرآن اگر غیرخدا کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے۔}

مرزا قادیانی کی وحی پر مراق کا اثر

پنجاب کی سر زمین بھی عجیب ہے۔ یہ زمین زرخیز ہونے کے علاوہ ایسی ہے کہ اس

18

کے مختلف ضلعوں میں اس زمانہ میں بعض لوگ نبوت و رسالت کے مدعی گزرے ہیں۔ ان مدعیان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی کا نمبر سب سے بڑھا ہوا تھا۔ آپ نے مسیح موعود، مہدی مسعود، نبی، رسول، مجدد، کرشن اوتار وغیرہ ہونے کے دعوی کئے۔ آپ نے ۱۸۸۰ء سے ۱۹۰۸ء تک کے عرصہ میں تیس سے زیادہ دعاوی کئے۔ (اس سے بھی کہیں زیادہ۔ مرتب) آپ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے مریدوں میں سے ایک مرید محمد منظور الٰہی قادیانی نے آپ کی وحی کو اکٹھا کیا اور ’’البشریٰ‘‘ نامی کتاب میں اس کو شائع کیا۔ اس میں سے کچھ وحی ذیل میں لکھی جاتی ہیں:

۱…’’ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس‘‘ اے میرے خدا! اے میرے خدا!!تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی آوس، باعث سرعت ورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنی کھلے۔ و اللہ اعلم بالصواب!

(براہین احمدیہ حاشیہ ص۵۱۳، خزائن ج۱ ص۶۱۲،۶۱۳، البشریٰ ج۱ ص۳۶)

۲… ’’ربنا عاج‘‘ ہمارا رب عاجی ہے۔ اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔

(براہین احمدیہ حاشیہ ص۵۵۵،۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۲،۶۶۳، البشریٰ ج۱ ص۴۳)

۳… ’’کرمہائے تو مارا رد گستاخ‘‘ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔

(براہین احمدیہ حاشیہ ص۵۵۵،۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۲،۶۶۴، البشریٰ ج۱ ص۴۳)

مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود احمد کہتے ہیں: نادان ہے وہ شخص جس نے کہا: ’’کرمہائے تو مارا گستاخ کرد‘‘ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔

(الفضل مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۱۷ء ص۱۳)

احمدیو! باپ نادان یا بیٹا؟ سچ کہتے ہوئے جھجھکنا نہیں۔

۴… ’’پھر بعد اس کے (خدا نے) فرمایا:’’ہو شعنا نعسا‘‘ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ ص۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۴)

19

۵… ’’شخصے پائے من بوسید من گفتم کہ سنگ اسودمنم‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۴۸، تذکرہ ص۳۶، طبع سوم)

۶… پریشن۔ عمر بر اطوس یا پلاطوس۔

نوٹ: آخری لفظ پراطوس ہے یا پلاطوس ہے۔ ہباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر۲ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں؟

(از مکتوبات احمدیہ ج۱ ص۶۸، تاریخ نزول الہام ہفتہ مختتمہ ۱۲؍دسمبر ۱۸۸۳ء، تذکرہ ص۱۱۵، طبع سوم)

۷… ’’آریوں کا بادشاہ آیا۔‘‘

(الحکم مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء)

’’ہے کرشن جی رودر گوپال۔‘‘ (پرانا الہام ہے)

(البدر مورخہ ۲۹؍اکتوبر، ۸؍نومبر۱۹۰۳ء، کشف نمبر۵۴، البشریٰ ج۱ ص۵۶، تذکرہ ص۳۸۱، طبع سوم)

۸… ’’خدا قادیان میں نازل ہوگا۔‘‘

(البدر مورخہ ۳،۷؍نومبر ۱۹۰۲ء، الحکم مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۲ء ص۱، تذکرہ ص۴۳۷، طبع سوم، البشریٰ ج۱ ص۵۶)

۹… ’’بعد ’’۱۱‘‘ انشاء اللہ ‘‘ اس کی تفہیم نہیں ہوئی کہ ’’۱۱‘‘ سے کیا مراد ہے۔ گیارہ دن یا گیارہ ہفتے یا کیا؟ یہی ہندسہ ’’۱۱‘‘ کا دکھایا گیا۔

(البشریٰ ج۲ ص۶۵،۶۶، الحکم ج۴ نمبر۴۵، تذکرہ ص۴۰۱، طبع سوم)

۱۰… ’’نتیجہ خلاف مراد ہوا یا نکلا‘‘ آخر کا لفظ ٹھیک یاد نہیں اور یہ بھی پختہ پتہ نہیں کہ یہ الہام کس امر کے متعلق ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۷۴،۷۵، تذکرہ ص۴۳۷، طبع سوم)

۱۱…’’ینادی مناد من السماء‘‘ آسمان سے ایک پکارنے والے نے پکارا۔

(البدر ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء جمعہ قبل از عصر)

نوٹ: حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس کے ساتھ ایک اور عجیب اور مبشر فقرہ تھا وہ یاد نہیں رہا۔

(البشریٰ ج۲ ص۷۶، تذکرہ ص۴۴۶، طبع سوم)

۱۲…’’انی انا الصاعقۃ‘‘میں ہی صاعقہ ہوں۔

نوٹ: یہ اللہ تعالیٰ کا نیا نام ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۷۶، تذکرہ ص۴۴۷، طبع سوم)

۱۳…’’انی مع الرسول اقوم واصلی واصوم‘‘میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا

20

ہوں گا اور نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔

(البشریٰ ج۲ ص۷۸،۷۹)

۱۴…’’اصلی واصوم واسہر وانام‘‘ میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔

(البشریٰ ج۲ ص۷۹، تذکرہ ص۴۶۰، طبع سوم)

نوٹ: قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کی شان میں آیا ہے:’’لا تأخذہ سنۃ ولا نوم‘‘اور مرزاقادیانی کے الہام میں خدا کہتا ہے۔ میں سوؤں گا چہ عجب؟

۱۵… ’’۲۷؍مئی ۱۹۰۳ء بلانازل یا حادث یا…‘‘

تشریح: فرمایا کہ یہ الفاظ الہام ہوئے ہیں مگر معلوم نہیں کہ کس کی طرف اشارہ ہے۔ یاد نہیں رہا کہ یا کے آگے کیا تھا؟

(البدر، البشریٰ ج۲ ص۸۲، تذکرہ ص۴۷۳، طبع سوم)

۱۶…۱۹،۲۰؍فروری ۱۹۰۵ء ’’انما امرک اذا اردت شیاء ان تقول لہ کن فیکون‘‘(تحقیق تیرا ہی یہ حکم ہے جب تو کسی شئے کا ارادہ کرے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا۔ پس وہ ہو جاتی ہے)

(البدر ج۴ نمبر۷، البشریٰ ج۲ ص۹۴، حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸، نصرۃ الحق ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴، تذکرہ ص۵۲۷، طبع سوم)

۱۷… ہفتہ مختتمہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۵ء: ’’خاکسار پیپرمنٹ‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۹۴، تذکرہ ص۵۲۷، طبع سوم)

۱۸… ایک عربی الہام تھا۔ الفاظ مجھے یاد نہیں رہے۔ حاصل مطلب یہ ہے: ’’مکذبوں کو نشان دکھایا جائے گا۔‘‘

(الحکم ج۹ نمبر۱۰، البشریٰ ج۲ ص۹۴)

۱۹… ’’لنگر اٹھا دو۔‘‘

(بدر ج۱ نمبر۷، البشریٰ ج۲ ص۹۷، تذکرہ ص۵۵۰، طبع سوم)

۲۰… ’’۱۲؍ستمبر ۱۹۰۵ء دو شہتیر ٹوٹ گئے۔‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۰۰، تذکرہ ص۵۶۶، طبع سوم)

۲۱… ’’ایک دانہ کس کس نے کھایا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۰۷، تذکرہ ص۵۹۵، طبع سوم)

۲۲… ۷؍مئی ۱۹۰۶ء کلیسیا کی طاقت کا نسخہ۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۴، تذکرہ ص۶۱۵، طبع سوم)

۲۳… ’’ایک دم میں دم رخصت ہوا۔‘‘

نوٹ از حضرت مسیح موعود: فرمایا کہ آج رات مجھے ایک (مندرجہ بالا) الہام ہوا۔ اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے۔ مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے۔ لیکن خطرناک ہے۔ یہ الہام ایک موزوں عبارت میں ہے۔ مگر ایک لفظ

21

درمیان میں سے بھول گیا ہے۔

(بدر ج۲ نمبر۳۱ ص۲، البشریٰ ج۲ ص۱۱۷، تذکرہ ص۶۶۶، طبع سوم)

۲۴… ’’پیٹ پھٹ گیا۔‘‘ دن کے وقت کا الہام ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۹، تذکرہ ص۶۷۲، طبع سوم)

۲۵… ’’خدا اس کو پنج بار ہلاک سے بچائے گا۔‘‘ نہ معلوم کس کے حق میں یہ الہام ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۹، تذکرہ ص۶۷۴، طبع سوم)

۲۶… ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۶ء، مطابق ۵؍شعبان ۱۳۲۴ھ، بروز پیر: ’’موت تیرہ ماہ حال کو۔‘‘

نوٹ: قطعی طور پر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔

(بدر ج۲ نمبر۳۹ ص۳، البشریٰ ج۲ ص۱۲۰، تذکرہ ۶۷۵، طبع سوم)

۲۷… وہ کام جو تم نے کیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہوگا۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸، البشریٰ ج۲ ص۱۲۳، تذکرہ ص۶۶۲، طبع سوم)

۲۸… ’’بہتر ہوگا کہ اور شادی کر لیں۔‘‘ معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۴، تذکرہ ص۶۹۷، طبع سوم)

۲۹… ’’لاہور میں ایک بے شرم ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۶، تذکرہ ص۷۰۴، طبع سوم)

لاہوری مرزائیو! یہ کون ہے؟

۳۰…’’بلغت قدم الرسول‘‘میں رسول کے قدم پر پہنچ گیا ہوں۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۷، تذکرہ ص۷۰۹، طبع سوم)

۳۱… ’’ایسوسی ایشن۔‘‘

(بدر ج۶ نمبر۳۰ ص۴، البشریٰ ج۲ ص۱۳۲، تذکرہ ص۷۲۴، طبع سوم)

۳۲… ’’آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۳۹، تذکرہ ص۷۵۱، طبع سوم)

فیصلہ

واقعات اور اقوال مرزا غلام احمد قادیانی پیش کرکے فیصلہ ناظرین پر ہم چھوڑتے ہیں کہ مرزا قادیانی کون تھا ؟

  1. میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر

    بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

22

مرزایٗت کی تردید

بطرز جدید

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

23

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حمد وصلوٰۃ کے بعد واضح ہو کہ آج کل مرزائی تعلیم پر مختلف اقسام کی کتابیں لکھی جا چکی ہیں مگر جن چند مضامین کو راقم پیش کرنا چاہتا ہے وہ اپنی نوعیت میں اپنی نظیر آپ ہی ہیں۔ کیونکہ ان مضامین پر اہل قلم مصنّفین نے بہت کم توجہ دی ہے اور یا ان کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ مگر چونکہ آج کل ایسے مضامین کی اہمیت بڑھ گئی ہے اس لئے راقم نے اپنی تمام طاقت علمی خرچ کر کے یہ رسالہ لکھا ہے جس کا نام ہے: ’’مرزائیت کی تردید بطرز جدید‘‘

امید ہے کہ ناظرین اس سے مستفید ہوکر تردید مشن قادیانی میں پہلے سے زیادہ جدوجہد کرنے کی جرأت کر سکیں گے اور مؤلف کے حق میں دعائے خیر فرماویں گے کہ خداتعالیٰ اس کتاب کو باقیات صالحات میں داخل فرماکر کفارہ گناہ بنائے۔ آمین!

خداوند تعالیٰ مسلمانان مگاڈی (کینیا کالونی برٹش ایسٹ افریقہ) کو جزائے خیر عطاء کرے کیونکہ انہوں نے ایک کثیر رقم سے اس کارخیر میں عاجز کی مدد کی ہے۔

خادم دین رسول اللہ a: عاجز حبیب اللہ امرتسری ؒ

باب اوّل

کیا حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب ہوئے؟

اور ان کے زخموں کو مرہم عیسیٰ سے اچھا کیاگیا؟

مرہم عیسیٰ کی حقیقت

مرزاغلام احمد قادیانی کے جہاں اور بہت سے حیرت انگیز دعاوی ہیں ان میں یہ بھی کوئی کم حیثیت نہیں رکھتا جس پر آج ہم سرسری نظر ڈال رہے ہیں۔ مرزاقادیانی نے اپنے دعویٰ مسیحیت کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہوگئے اور ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ آج ہم اسی سلسلہ میں مرزاقادیانی کے اس دعویٰ پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کہ: ’’حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ ان پر غشی کی حالت طاری ہوگئی۔ بعد میں دو تین روز کے بعد غشی دور ہوگئی اور ہوش میں آگئے اور ان کے زخم مرہم عیسیٰ سے اچھے ہوگئے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۶، خزائن ج۲۲ ص۳۹)

24

امید ہے ناظرین مرہم عیسیٰ کی حقیقت کا دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کا مذہب

۱… ’’ حضرت مسیح علیہ السلام ہی گرفتار کئے گئے اور وہی صلیب پر کھینچے گئے تھے۔ یہود اور نصاریٰ دونوں اس بات پر یک زبان متفق ہیں کہ مسیح ناصری ہی پکڑا گیا اور اسی کو صلیب پر چڑھایا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۳۳برس کی عمر میں مصلوب کئے گئے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۳۷۸تا۳۸۱، خزائن ج۳ ص۲۹۴،۲۹۶، نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹، کتاب مسیح ہندوستان میں ص۴۹، خزائن ج۱۵ ص۵۰، اخبار بدر مورخہ ۲؍جون ۱۹۰۸ء ص۷، کتاب البریہ ص۲۴۲،۲۴۳حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۷۹، اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍نومبر۱۹۰۲ء ص۶، الحکم مورخہ ۲۸؍مئی ۱۹۲۵ء ص۶، کتاب ایام الصلح ص۱۴۵، خزائن ج۱۴ ص۳۹۱، راز حقیقت ص۳ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۵۵، تحفۃ الندوہ ص۱۰، خزائن ج۱۹ ص۱۰۴، تحفہ گولڑویہ ص۲۱۰، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵)

۲… ’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے مگر غشی کی حالت ان پر طاری ہوگئی تھی۔ بعد میں دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسیٰ کے استعمال سے ان کے زخم بھی اچھے ہوگئے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۳۶، خزائن ج۲۲ ص۳۹، ضمیمہ براہین احمدیہ ج۵ ص۱۰۰ حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۲۶۲، اور ایسے ہی ایام الصلح، رازحقیقت، ست بچن، مسیح ہندوستان میں، سراج منیر، تریاق القلوب، لیکچر سیالکوٹ، تحفہ گولڑویہ، مواہب الرحمن، کشف الغطاء، چشمہ مسیحی اور کتاب البریہ )

۳… ’’ ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے پر ہم کو ملی ہے اور جو ایسی شہادت ہے کہ بجز ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مرہم عیسیٰ ہے جو طب کی صدہا کتابوں میں لکھا ہوا پایا جاتا ہے… اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیایہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا تھا… بہرحال اس دوا کے استعمال سے حضرت مسیح کے زخم چند روز ہی میں اچھے ہوگئے اور اس قدر طاقت آگئی کہ آپ تین روز میں یروشلم سے جلیل کی طرف ستر کوس تک پیادہ پا گئے۔‘‘ (مسیح ہندوستان میں ص ۵۴تا۵۶،خزائن ج۱۵ ص۵۶تا۵۸، رسالہ ریویوآف ریلیجنز بابت ماہ اکتوبر۱۹۰۳ء ص۳۹۶، ۳۹۷ پر جوکچھ لکھا گیا ہے اس کا خلاصہ)

25

جواب نمبر۱: حق بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات مقدسہ، احادیث صحیحہ نبویہa ،روایات صحابہi ، اقوال تابعینw وائمہ اربعہw، اسلامی تاریخوں اور اسلامی تفسیروں میں مرہم عیسیٰ کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے اور مرہم عیسیٰ سے ان کا علاج ہونے کا کوئی ذکر ہے۔

جواب نمبر۲: علامہ شیخ الرئیس فی الطب بوعلی سینا کی کتاب(قانون ج۳، مطبوعہ ۱۲۹۴ھ چھاپہ مصری، فصل مرہموں کے بیان ص۴۰۵) پر الفاظ یوں ہیں:’’مرھم الرسل وھوشلیحا ای مرھم الحوارییین ویعرف بمرھم الز ھرۃ ومرھم مندیا وھومرھم یصلح بالرفق النواصیرالصعبۃ والخنازیر الصعبۃ لیس شئی مثلہ وینقی الجراھات من اللحم المیت والقیح ویدمل یقال انہ اثنا عشردواء لاثنی عشر حواریا‘‘

’’مرہم رسل اس مرہم کو مرہم شلیحا کہتے ہیں: یعنی مرہم حواریین کا اور مرہم زہرہ اور مرہم مندیا کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ایسا مرہم ہے کہ باآسانی نواصیرسخت اور خنازیر سخت کی اصلاح کرتا ہے اور کوئی دوا مثل اس کے نہیں ہے اور پھوڑوں کے مردار گوشت اور پیپ کو نکال ڈالتا ہے اور اندمال کرتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بارہ دوائیں بارہ حواریوں کی طرف منسوب ہیں۔‘‘

نوٹ: شیخ بوعلی سینا نے اس مرہم کو ’’مرہم عیسیٰ‘‘کے نام سے یاد نہیں کیا۔ نہ ہی اس نے یہ کہا کہ اسے حواریوں نے حضرت مسیح کے لئے یعنی آپ کے زخموں کے لئے بنایا۔ بلکہ اس نے یہ لکھا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بارہ دوائیں، بارہ حواریوں کی طرف منسوب ہیں۔ اس کو شیخ کا اپنا مذہب لکھنا سراسر دھوکہ دینا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ: ’’ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیامجوسی اورکیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارہ میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے حواریوںنے تیار کیا تھا۔‘‘(مسیح ہندوستان میں ص ۵۵، خزائن ج۱۵ ص۵۷) سراسر غلط ہے۔

مرزا قادیانی نے کتاب(مسیح ہندوستان میں ص۵۶، خزائن ج۱۵ ص۵۸، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اکتوبر۱۹۰۳ء ص۳۹۷) پر بعنوان فہرست ان طبی کتابوں کی جن میں مرہم عیسیٰ کا

26

ذکر ہے کہ وہ مرہم حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ سب سے پہلے کتاب ’’قانون‘‘ شیخ الرئیس بوعلی سینا کا نام لکھا ہے۔ حالانکہ اس کتاب میں شیخ الرئیس بوعلی سینا نے یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے یعنی ان کے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔

جواب نمبر۳: مرزا غلا م احمد قادیانی نے اپنی کتاب(مسیح ہندوستان میں ص۵۷، خزائن ج۱۵ ص۵۹) پرکتاب:’’منہاج الدکان بدستورا لاعیان فی اعمال وترکیب النا فعۃ للابدان تالیف افلاطون زمانہ ابوالمنا ابن ابی نصر العطاء الاسرائیلی الہارونی‘‘(یعنی یہودی) کا حوالہ بھی دیا ہے۔ حالانکہ اس کتاب (منہاج الدکان ص۸۳، مطبوعہ مصر) پر یوں لکھا ہے: ’’مرھم الرسل وھومرھم الحوارییین ومرھم الشلاحین ومعنی ھذا للفظۃ بالعبرانی الرسل‘‘

’’یعنی مرہم رسل کو مرہم حواریین اور مرہم شلاحین بھی کہتے ہیں اور لفظ شلاحین کے معنے عبرانی میں رسل کے ہیں۔‘‘

نوٹ: اس اسرائیلی طبیب نے اس مرہم کا نام ’’مرہم عیسیٰ‘‘ نہیں لکھا اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا تھا۔ بلکہ اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا کہ مرہم عیسیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ چونکہ یہ طبیب اسرائیلی تھا زبان عبرانی کا عالم۔ اس نے لفظ شلاحین کے صحیح معنے رسل بتلادئیے۔ پس مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ یہ عبرانی یا یونانی لفظ ہے جس کے معنی بارہ کے ہیں۔ (ست بچن حاشیہ متعلقہ ص۱۶۴، خزائن ج۱۰ ص۳۰۴، تبلیغ رسالت ج۴ ص۸۵) اور یہ کہ شلیخا کا لفظ جو یونانی ہے جو بارہ کو کہتے ہیں ان کتابوں میں اب تک موجود ہے۔ (مسیح ہندوستان میں ص۶۰، خزائن ج۱۵ ص۶۲، ریویو بابت ماہ اکتوبر ۱۹۰۳ء ص۴۰۰) سراسر غلط ہے۔ چنانچہ جناب منشی خادم حسین قادیانی ساکن بھیرہ نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ شلیخاعبرانی لفظ ہے جس کے معنے رسل کے ہیں۔

(اخبار الحکم مورخہ ۱۷؍نومبر۱۸۹۹ء ص۵)

جواب نمبر۴: ’’مرہم حواری ایں مرہم را مرہم رسل نیزنا مند وترجمہ کردہ شد در قرابادین رومی بمرہم سیلخا ومعروف بہ مرہم زہرہ گفتہ کہ ایں مرہم دوازدہ دواست از دوازدہ حواری حضرت

27

عیسٰی علٰی نبینا وعلیہ السلام کہ ہریک یک دوارا اختیارکردہ ترکیب نمودندو ایں مرہم بہترین مرہم ہاست‘‘

(کتاب قرابادین کبیر ج۲ ص۵۰۸،۵۰۹)

اس کے بعد کتاب میں یہ بھی لکھا ہے :’’وگفتہ کہ ایں مرہم رامرہم بخارو اثنا عشری نیز نامند‘‘

نوٹ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرہم کا کوئی خاص نام نہیں بلکہ متعدد نام ہیں۔ شلیخا یا سیلخا، رسل، حواریین، مندیا، اثنا عشری، زہرہ، بخار، سب سے کم مشہور نام مرہم عیسیٰ ہے جس کو نہ شیخ نے ذکر کیا، نہ رومی نے اور نہ اسرائیلی نے اور نہ صاحب قرابادین کبیر نے اور سب سے قدیم اور مشہور نام شلیحا یا سلیخا اور رسل ہے اور یہ تو بالکل غلط ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بنایا گیا۔

جواب نمبر۵: جس زمانہ میں فرنگستان میں طب جالینوس رائج تھا۔ صدہا مرکبات کے ایسے ہی شاعرانہ نام وہاں بھی مشہور تھے۔ ایک تریاق تھا جس کا یونانی نام ’’ڈوویکاتھیون‘‘ ہے۔ بمعنی بارہ دیوتا اس میں بھی بارہ اجزا تھے جویونان کے بارہ دیوتائوں سے منسوب ہوئے۔ مرہم رسل جس کا بھی یونانی نام ’’ڈوویکا فارمیکم‘‘ یعنی بارہ دوائیں ہے۔ عیسائی اطباء نے یونانیوں کے تریاق ’’ بارہ دیوتا‘‘ کے مدمقابل اس کو بارہ رسول کے نام سے منسوب کرکے ’’انگونٹم اپاسٹولورم‘‘ زبان لاطینی کہنا شروع کردیا۔ (دیکھو ڈاکٹر ہوپرکی میڈیکل ڈکشنری) جس کے معنی ہیں ’’ مرہم رسل‘‘ اور اس نام میں محض ۱۲عدد کی رعائت منظور تھی۔ مسلمان اطباء نے اسی بارہ عدد کی رعایت سے اس کو’’ اثناعشری‘‘ کہااور مجوسیوں نے اس کا نام مرہم زہرہ رکھا اور اب مسلمانوں کو بھی حق ہوگیا کہ وہ اس کو بارہ اماموں سے منسوب کریں۔ مگر نہ قرص کوکب (قرابادین کبیر ج۲ ص ۳۴۶) زحل کا دیا ہوا نسخہ تھا اور نہ عطبۃ اللہ نامی دوائی (قرابادین کبیر ج۲ ص۳۴۶) خدا نے الہام کی تھی اور نہ مرہم عیسیٰ، مرہم رسل، مرہم اثنا عشری حضرت مسیح یا حواریوں یا اماموں کا دیا ہوا ہے۔

جواب نمبر۶: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب سے قدیم نام اس کا اسم بامسمے ’’دوڈیکا فارمیکم‘‘ ہی تھا۔ یعنی بارہ دوائیں (موم سفید، راتینج، زنگار، جائوشیر، اشق، زراوندطویل، کندر، مرکی، بیروزہ، مقل، مراوسنگ، روغن زیت) جس کا ترجمہ اثناعشری ہوا۔ مگر یونانیوں

28

کے تریاق کی اسم مجوسیوں نے جو منجم ہوتے تھے۔ اپنے عقیدے کی رعایت سے اس کو مرہم زہرہ کہا۔ یہودیوںنے اس کو مرہم شلیحا کہا۔ عیسائیوں نے مرہم حواریین یا مرہم رسل اور مسلمانوں نے اثناعشری۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ حالانکہ دوائیوں میں معجون مسیحی مشہور ہے اور مفرح مسیحی بھی۔

(قرابادین شفائی ص۱۷۳،۱۸۳)

اس کایہ مطلب تونہیں کہ یہ دوائیں بھی مسیح نے یا حواریوں نے تیار کی تھیں۔

باب دوم

حدیث ظہورمہدی

مرزا غلام احمدقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’پس رسول اللہ a نے خبر دی کہ سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہوگا۔ یعنی اٹھائیسویں تاریخ میں دوپہر سے پہلے اور اسی طرح پر ظاہر ہوا جیسا کہ آنکھوں والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس دیکھو کہ ہمارے نبیa کی بات کیسی ٹھیک ٹھیک پوری ہوگئی۔‘‘

(نورالحق ص۱۹ حصہ دوم، خزائن ج۸ ص۲۰۹)

ماسٹر عبدالرحمن قادیانی اپنے رسالہ (اسلام کی پہلی کتاب ص۲۴ اوررسالہ ’’ حضرت مسیح موعودوعلماء زمانہ‘‘ حصہ اوّل ص۳۰) پر لکھتے ہیں: ’’حضرتa نے فرمایا کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو اس زمانہ میں ایک ہی رمضان میں نشان کے طور پر چاند گرہن اور سورج گرہن ہوگا اور ایسا گرہن جب سے زمین وآسمان پیدا کئے گئے۔ کبھی کسی مدعی کے وقت میں ظہور میں نہیں آئے گا۔ چنانچہ فرمایا:’’ان لمھدینا اٰیتین لم تکونا منذخلق السموات والارض ینکسف القمرلاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف‘‘فرمایا رسول اللہ a نے کہ ہمارے مہدی کی سچائی اور ثبوت کے لئے دو نشانیاں مقرر ہیں کہ اس کے زمانہ میں گرہن کی راتوں میں سے چاند کو پہلی رات میں گرہن ہوگا اور سورج کو دوسری تاریخ میں گرہن لگے گا۔‘‘

مولوی محمد دل پذیر مرزائی اپنے رسالہ (نیزہ احمدی مطبوعہ۱۳۴۰ھ روز بازار پریس امرتسر ص۱۲،۱۳) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث دار قطنی میں موجود ہے: ’’عن محمد ن

29

الباقربن زین العابدین قال قال رسول اللہ a ان لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموات والا رض ینکسف القمرلاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ واخرج مثلہ البیھقی وغیرہ المحدثین‘‘روایت ہے محمد باقر کے بیٹے زین العابدینq سے کہ رسول اللہ a نے فرمایاہمارے مہدی کے لئے دونشان ہیں جو کبھی نہیں ہوئے جب سے کہ زمین وآسمان پیدا ہوئے ہیں۔ (یعنی وہ کبھی کسی دوسرے نبی یا امام کے لئے نہیں ہوئے اور نہ ہوں گے اور وہ یہ ہیں) چاندگرہن ہوگا اوّل رات میں (یعنی جن راتوں میں چاندگرہن ہوتا ہے ان کی اوّل رات میں) رمضان سے اور سورج گرہن ہوگا نصف میں (یعنی اس مدت کے نصف میں جس میں سورج گرہن ہوتا ہے) اسی ماہ رمضان میں اور اسی کی مانند بیہقیv اپنی کتاب میں ایک حدیث لایا ہے اور ایسا ہی بعض دوسرے محدث بھی۔‘‘

اقول:

۱… ’’حدثنا ابوسعید الاصطخری ثنامحمد بن عبد اللہ بن نوفل ثناعبید بن بعیش ثنا یونس بن بکیرعن عمروبن شمرعن جابرعن محمدبن علی قال ان لمھدینا اٰیتین لم تکونا منذخلق السموات والارض تنکسف القمرلاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذخلق اللہ السموات والارض‘‘

( سنن دار قطنی ج۱ ص۱۸۸، باب: صفۃ الخسوف والکسوف وھیئتما، مطبع انصاری دہلی)

’’کہاامام محمد باقر ابن امام علی زین العابدین نے کہ تحقیق واسطے مہدی ہمارے کے دونشان ہیں نہیں ہوئے یہ دونوں جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے۔ گرہن لگے گا چاند کو واسطے پہلی رات کے رمضان سے اور گرہن لگے گا سورج کو رمضان کے نصف میں اور نہیں ہوئے یہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے۔‘‘

۲… مندرجہ بالا الفاظ امام محمد باقرابن امام علی زین العابدین ابن امام حسین شہید کربلا ابن علی کے ہیں نہ کہ رسول خداa کے ہیں ۔ دراصل یہ روایت موضوع ہے کسی صورت میں صحیح نہیں۔ اس میں ایک راوی عمروبن شمر ہے جس کی نسبت یحییٰ نے کہا ہے کہ وہ کچھ شے نہیں ہے۔ جوزجانی نے کہا وہ بہت جھوٹا ہے۔ ابن حبان نے کہا رافضی تھا۔ صحابہ کوگالیاں دیا کرتا

30

تھا۔ موضوع روایتیں بیان کرتا ہے۔ غیرثقات سے، امام بخاری نے فرمایا منکرالحدیث ہے۔ یحییٰ نے کہا نہ لکھ اس کی حدیث کو۔ نسائی ودارقطنی نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے۔

(دیکھو میزان الاعتدال ج دوم ص۲۶۲)

اس روایت کی سند میں دوسرا راوی جابر جعفی ہے ۔ کہا امام ابوحنیفہv نے کہ نہیں دیکھا میں نے جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا۔ کہا یحییٰ بن یعلی سے کہا گیا کہ تم کیوں نہیں روایت کرتے ان تین آدمیوں سے کہ جوابن مابی لیلی وجابر جعفی وکلبی ہیں۔ کہا اس نے اللہ کی قسم جابر جھوٹا تھا۔ رجعت کے ساتھ ایمان رکھتا تھا۔ کہا احمد نے چھوڑ دیا جابر کو عبدالرحمن بن مہدی نے ۔ نسائی نے کہا متروک الحدیث ہے اور کہا وہ ثقہ نہیں ہے۔ (اور نہ لکھی جاوے حدیث اس کی) حاکم نے کہا وہ بھول جانے والا ہے حدیث کا۔ کہا جریر بن عبدالحمید بن ثعلبہ نے میں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس کہا لیث بن ابی سلیم نے نہ آناپاس اس کے۔ پس وہ کذاب ہے۔ کہا جریر نے نہیں ہے جائز یہ کہ اس سے روایت کی جاوے۔ تھا ایمان رکھتا ساتھ رجعت کے۔ کہا ابودائود نے نہیں ہے نزدیک میرے وہ قوی بیچ حدیث کے۔ کہا یحییٰ بن یعلی نے سنا میں نے زائدہ سے کہ کہتا تھا کہ جابر جعفی رافضی تھا اور صحابہ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ کہا ابن سعد نے کہ وہ مدلس تھا اور ضعیف تھا اپنی رائے اور روایت میں۔ جھوٹا کہا اس کو سعید بن جبیر نے۔ کہا عجلی نے غالی شیعہ تھا اور مدلس تھا۔ جھوٹا کہا اس کو ابن عینیہ نے۔ ابن جان نے کہا وہ سبائی تھا۔ عبد اللہ بن سبا کے یاروں میں سے تھا۔

(تہذیب التہذیب ج۲ ص۴۶تا۵۰)

پس حق بات یہ ہے کہ یہ روایت موضوع ہے ۔ اس سے استدلال کرنا سراسر غلط ہے۔

۳… اس مندرجہ بالا روایت کے الفاظ سے یہ تین باتیں معلوم ہوتی ہیں :

(۱)رمضان کے مہینہ میں رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن لگے گا۔

(۲)رمضان کے نصف میں سورج کو گرہن لگے گا۔

(۳)جب سے زمین وآسمان پیدا کئے گئے ہیں ایسے دو نشان کبھی نہیں ہوئے۔

مرزاقادیانی کے وقت ۱۳۱۱ھ میں ۱۳؍رمضان کو چاند گرہن اور ۲۸؍رمضان کو سورج گرہن ہوئے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے ان ہر دو واقعات کو مدنظر رکھ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوئے (چشمہ معرفت ص۳۱۴، خزائن ج۲۳ ص۳۲۹) پر مندرجہ بالا روایت کا ترجمہ یوں کیا ہے: ’’ چاند اپنی مقررہ راتوں میں سے جو اس کے خسوف کے لئے خدا نے راتیں

31

مقررکررکھی ہیں یعنی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں پہلی رات میں گرہن پذیر ہوگا اور سورج اپنے مقررہ دنوں میں سے (جو اس کے کسوف کے لئے خدا نے دن مقرر کررکھے ہیں یعنی ۲۷،۲۸،۲۹) درمیانی دن میں کسوف پذیر ہوگا اور یہ دونوں خسوف وکسوف رمضان میں ہوں گے۔‘‘

اس لئے اب میں ذیل میں دو مسلمہ بزرگوں کے ترجمہ کو درج کرتا ہوں۔ ذرا غور سے سنئے:

۱… حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیv اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں: ’’دور ظہورسلطنت او درچہاردہم شہر رمضان کسوف شمس خواہد شد ودراول آن ماہ خسوف قمر برخلاف عادت زمان وبرخلاف حساب منجمان‘‘

(دفتر دوم کے مکتوب شصت وہفتم(۶۷) ص۵۰،۵۱، مطبع روزبازار امرتسر)

۲… نواب سید محمد صدیق حسن خان مرحوم لکھتے ہیں:’’ومحمد بن علی گفتہ مہدی رادوآیت است کہ نبودہ از روز یکہ خدا آسمانہا وزمین آفرید کسوف گیر ماہتاب درشب اوّل ازماہ رمضان وآفتاب درنصف رمضان واجتماع ایں ہردو کسوف درماہے گاہے نبودہ‘‘

( حجج الکرامہ ص ۳۴۴)

۳… مرزاقادیانی کے وقت ۱۳۱۱ھ میں ۱۳؍رمضان کو چاند گرہن اور ۲۸؍رمضان کو سورج گرہن ہوا اور بعد اس کے ۱۳۱۲ھ میں ۱۳؍رمضان کو چاند گرہن اور ۲۸؍رمضان کو گرہن پھر دوبارہ ہوا۔ اس پر مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’اور ایک حدیث میں ہے کہ مہدی کے وقت میں یہ دومرتبہ واقع ہوں گے۔ چنانچہ یہ دونوں دو مرتبہ میرے زمانہ میں رمضان میں واقع ہوگئے۔ ایک مرتبہ ہمارے اس ملک میں دوسری مرتبہ امریکہ میں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۵، خزائن ج۲۲ ص۲۰۲، چشمہ معرفت ص۳۱۴ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۳۲۹)

عرض حبیب

مرزائی، علماء حدیث کی کسی کتاب سے صحیح مرفوع روایت نکال کر دکھائیں جس میں لکھا ہوکہ: ’’سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت اٹھائیسویں تاریخ کو ماہ رمضان میں ہوگا۔‘‘

(نورالحق حصہ دوم ص۱۹، خزائن ج۸ ص۲۰۹)

32

جیسا کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے: دوسری عرض یہ ہے کہ حدیث کی کسی کتاب سے صحیح مرفوع یا موقوف روایت نکال کر دکھائیں جس میں آیا ہوکہ مہدی کے وقت یہ دو مرتبہ ماہ رمضان میں ہوں گے۔

باب سوم

قادیانی مغالطے سے بچو

الف… مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ۸۴۰ھ میں تالیف ہوئی تھی، مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں: ’’دراربعین آمدہ است کہ خروج مہدی از قریہ کدعہ باشد قال النبیa یخرج المھدی من قریۃ یقال لھاکدعۃ ویصدقہ اللہ تعالٰی ویجمع اصحابہ من اقصی البلاد علٰی عدۃ اھل بدر بثلاث مأۃ وثلاثۃ عشررجلاومعہ صحیفۃ مختومۃ (ای مطبوعۃ) فیھا عدد اصحابہ باسمائھم وبلادھم وخلالھم‘‘یعنی مہدی اس گائوں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے (یہ نام دراصل قادیان کے نام کو معرب کیا ہوا ہے) اور پھر فرمایا کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا جن کا شمار اہل بدر کے شمار سے برابر ہوگا یعنی تین سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن وخصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۴۰، خزائن ج۱۱ ص۳۲۴)

ب… ’’ ایسا ہی احادیث میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے والا ہوگا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدعہ دراصل قادیان کے لفظ کا مخفف ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۲۲۵،۲۲۶ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۶۰،۲۶۱حاشیہ)

ج… ’’اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گائوں کا نام موجود ہے۔‘‘

(رسالہ ریویوآف ریلیجنز ج۲ نمبر۱۱،۱۲، بابت ماہ نومبر، دسمبر۱۹۰۳ء ص۴۳۷)

د… ’’حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گائوں کا نام موجود ہے۔‘‘

(رسالہ تذکرۃ الشہادتین ص۳۸، خزائن ج۲۰ ص۴۰)

33

۲… مولوی جلال الدین سیکھوانی قادیانی لکھتے ہیں: ’’اور جواہر الاسرار میں ایک حدیث ہے کہ: ’’ یخرج المھدی من قریۃ یقال لھاقدہ‘‘مہدی قادیان گائوں میں خروج کرے گا۔‘‘

( التشریح الصحیح لحدیث نزول المسیح تشحیذالاذہان، بابت ماہ اگست ۱۹۲۰ء ص۲۴)

ب… ’’شیخ علی بن حمزہ بن علی ملک الطوسی نے اپنی کتاب جواہر الاسرار میں لکھا ہے:’’دراربعین آمدہ است کہ خروج مہدی از قریہ کدہ باشد قال النبیa یخرج المھدی من قریۃ یقال لھا کدہ‘‘ آنحضرتa نے فرمایا کہ مہدی ایک ایسی بستی میں ظاہر ہوگا جس کو لوگ کدہ کہیں گے لفظ کدہ بتا رہا ہے کہ اس کا نزول قادیان میں ہوگا۔‘‘

(رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ۱۹۲۲ء ص۱۵۱)

اقول: واضح ہوکہ مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص۴۱، خزائن ج۱۱ ص۳۲۵، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر، دسمبر ۱۹۰۳ء ص۴۳۷) پرلفظ ’’کدعہ‘‘ لکھا ہے۔ (کتاب البریہ ص ۲۲۵، ۲۲۶حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۶۰،۲۶۱حاشیہ) پرلفظ ’’ کدیہ‘‘ لکھا ہے۔ (تذکرۃ الشہادتین فارسی ص۳۸، خزائن ج۲۰ ص۴۰) پر لفظ ’’ کدعہ‘‘ لکھا ہے۔ مجھے سیکھوانی صاحب کی حالت پر بھی تعجب آتا ہے کہ اس نے لفظ’’قدہ‘‘ اپنے رسالہ (التشریح الصحیح لحدیث نزول المسیح ص۶۴)پر اور لفظ ’’ کدہ‘‘ رسالہ (ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی۱۹۲۲ء ص۱۵۱) پر لکھا ہے۔ حالانکہ حوالہ ایک ہی کتاب ’’جواہرالا سرار‘‘ کا دیتے ہیں۔ اب میں بتلاتاہوں کہ حدیث میں لفظ ’’ کرعہ ‘‘ ہے، نہ کہ’’ کدعہ ‘‘یا ’’قدہ ‘‘اور درحقیقت یہ روایت موضوع ہے:

۱… ’’یخرج المھدیq من قریۃ بالیمن یقال لھا کرعہ‘‘

(میزان عتدال ج۲ ص۱۶۱ پر بحوالہ کتاب کامل، لابن عدیv )

’’یعنی مہدی یمن کے ایک گائوں سے نکلے گا جس کا نام کرعہ ہوگا۔‘‘

نوٹ: اس روایت کے ایک راوی عبدالوہاب بن الضحاک کی نسبت لکھا ہے:’’کذبہ ابوحاتم وقال النسائی وغیرہ متروک وقال الدارقطنی منکرالحدیث‘‘

(میزان الاعتدال ج۲ ص۱۶۰)

’’یعنی اس کے ایک راوی عبدالوہاب کو امام ابوحاتم وغیرہ نے جھوٹا، نسائی نے متروک اور دار قطنی نے منکر الحدیث کہا ہے۔‘‘

34
۲… ’’واخرج ابونعیم وغیرہ انہ قال یخرج المھدی من قریۃ یقال لھا کرعۃ‘‘

(فتاویٰ حدیثیہ لابن حجر مکیv ص۳۳)

۳… ’’درارشاد المسلمین گفۃ مولد وے درد ہے باشد کہ آں راکر عہ گویند امام مستغفری دردلائل النبوۃ باسناد خودمثل آں از ابن عمر آوردہ وابوبکر مقری گفتہ برآیداز قریہ کہ آں را کرعہ خوانند‘‘

(حجج الکرامہ فی آثار القیامۃ ص۳۵۸)

۴… ’’عن ابن عمر قال یخرج المھدی من قریۃ بالیمن یقال لھا کرعۃ‘‘

(ینابیع المودۃ ص ۳۶۴)

۵… ’’ابن عمر سے روایت ہے کہ کہا فرمایا نبی کریمa نے خروج کرے گا مہدی ایک قصبہ سے کہ کہا جاتا ہے کرعہ۔ ‘‘

(فرائد السمطین کے حوالہ سے ینابیع المودۃ ص ۳۷۵)

۶… گنجی شافعی نے مطالب السوئول میں ابوہریرہq سے روایت کی ہے کہ: ’’قال النبیa یخرج المھدی عن قریۃ یقال لھا کرعہ‘‘

۷… ’’خروج آںحضرت از قریہ است کہ آں را کرعہ مے گویند‘‘

(نجم ثاقب ص ۲۸۴،۳۴۵)

۸… حافظ محمد مرحوم ساکن لکھوکے لکھتے ہیں : ’’کرعہ یمن میں ایک بستی ہے وہاں امام مہدی پیدا ہوں گے۔‘‘

(احوال الآ خرت ص۲۳، مطبوعہ ۱۹۲۰ء کیکسٹن پریس لاہور)

۹… علامہ جلال الدین سیوطیv(العرف الوردی فی اخبار المہدی) میں فرماتے ہیں:’’اخرج ابونعیم… عن ابن عمرq قال قال النبیa یخرج المہدی من قریۃ یقال لھا کرعۃ‘‘

(کتاب الحاوی للفتاوی ج۲ ص۶۶)

نتیجہ یہ نکلا کہ روایت میں لفظ ’’ کرعہ‘‘ ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ ’’کرعہ‘‘ ملک یمن کا ایک گائوں ہے۔

مگر دراصل یہ روایت صحیح نہیں ہے جیسا کہ اوپر ثابت کیا گیا ہے ۔ حدیث میں نہ تو لفظ ’’کدعہ‘‘ ہے نہ ’’ قدہ‘‘ اور نہ لفظ ’’ کدہ‘‘ ہے نہ ’’کریہ‘‘ یہ سب الفاظ قادیانی امت کی ایجاد ہیں جو خود غرضی پر مبنی ہیں۔

35

باب چہارم

کتاب کنزالعمال میں ایک غلطی اور

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی مطلب پرستی

حدیث نبوی: ’’روایت ہے حضرت عمران بن حصینq سے فرمایاکہ سنا میں نے رسول اللہ a فرماتے تھے ۔ نہیں درمیان پیدائش آدم کے اور روز قیامت کے کوئی امربڑا دجال سے۔‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۷۲، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکرالدجال، بحوالہ مسلم روایت)

مرزا قادیانی کا مذہب

(دعویٰ مرزا) نصاریٰ کے علماء ہی بے شک دجال معہود ہیں۔

(حمامۃالبشریٰ ص ۲۲حاشیہ، خزائن ج۷ ص۲۰۲)

دجال ایک گروہ… وایک جماعت کا نام ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص۱۴۱، خزائن ج۱۷ ص۲۳۶)

دلیل مرزا

’’وہ احادیث واضحہ جو قرآن کے منشاء کے موافق دجال کی حقیقت ظاہر کرتی ہیں، وہ اگرچہ بہت ہیں۔ مگر ہم اس جگہ بطور نمونہ ایک ان میں سے درج کرتے ہیں۔ وہ حدیث یہ ہے: ’’یخرج فی آخر الزمان دجال یختلون الدنیا بالدین یلبسون للناس جلود الضان من الدین السنتھم احلی من العسل وقلوبہم قلوب الزیاب یقول اللہ عزوجل أبی یغترون ام علی یجترؤن حتٰی حلفت لابعثین علی اولئک منھم فتنۃ (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴)‘‘یعنی آخری زمانہ میں دجال ظاہر ہوگا۔ وہ ایک مذہبی گروہ ہوگا جو زمین پر جا بجا خروج کرے گا اور وہ لوگ دنیا کے طالبوں کو دین کے ساتھ فریب دیں گے۔ یعنی ان کو اپنے دین میں داخل کرنے کے لئے بہت سا مال پیش کریں گے اور ہر قسم کے آرام اور لذات دنیوی کی طمع دیں گے اور اس غرض

36

سے کہ کوئی ان کے دین میں داخل ہوجائے۔ بھیڑوں کی پوستین پہن کر آئیں گے ان کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل ہوں گے اور خدائے عزوجل فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ میرے حلم پر مغرور ہورہے ہیں کہ میں ان کو جلد تر نہیں پکڑتا اور کیا یہ لوگ میرے پرافترا کرنے میں دلیری کررہے ہیں۔ یعنی میری کتابوں کی تحریف کرنے میں کیوں اس قدر مشغول ہیں۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں انہی میں سے اور انہی کی قوم میں سے ان پر ایک فتنہ برپا کروں گا۔ (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) اب بتلاؤ کہ کیا اس حدیث سے دجال ایک شخص معلوم ہوتا ہے اور کیا یہ تمام اوصاف جو دجال کے لکھے گئے ہیں۔ یہ آج کل کسی قوم پر صادق آرہے ہیں یا نہیں اور ہم پہلے اس سے قرآن شریف سے بھی ثابت کرچکے ہیں کہ دجال ایک گروہ کا نام ہے۔ نہ یہ کہ کوئی ایک شخص اور اس حدیث مذکور ہبالا میں جو دجال کے لئے جمع کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں۔ جیسے یختلون اور یلبسون اور یغترون اور یجترؤن اور اولئک اور منھمیہ بھی بہ آواز بلند پکارہے ہیں کہ دجال ایک جماعت ہے نہ ایک انسان۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۴۰، ۱۴۱، خزائن ج۱۷ ص۲۳۵،۲۳۶)

نوٹ: یہی روایت(عسل مصفی حصہ دوم ص۲۷۲، خزینۃ المعارف ج اوّل ص۲۰۱،۲۰۲) پر درج ہے:

اقول: ’’حدثنا سویدنا ابن المبارک نایحیٰی بن عبید اللہ قال سمعت ابی یقول سمعت اباہریرۃq یقول قال رسول اللہ a یخرج فی آخرالزمان رجال یختلون الدنیا بالدین یلبسون للناس جلود الضان من الین السنتھم احلی من السکروقلوبھم قلوب الذیاب یقول اللہ أبی تغتروّن ام علی تجترؤن فبی حلفت لابعثن علیٰ اولئک منھم فتنۃ تدع الحلیم منھم حیرانا‘‘

(سنن ترمذی ج۲ ص۶۶، ابواب الزہد باب ماجاء فی ذہاب البصر)

’’کہتے تھے حضرت ابوہریرہq کہ فرمایا رسول خداa نے نکلیں گے آخری زمانہ میں کتنے اشخاص، طلب کریں گے دنیا کو ساتھ دین کے پہنیں گے واسطے لوگوں کے چمڑے دنبے کے، واسطے اظہار نرمی کے، زبانیں ان کی شیریں زیادہ شکر سے ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے سے ہوںگے۔ فرماتا ہے اللہ کیا بسبب مہلت دینے میرے کو ان کو

37

مغرور ہوتے ہیں یا اوپر میرے جرأت کرتے ہیں۔ پس اپنی قسم کھاتا ہوں کہ البتہ مسلط کروں گا ان لوگوں پر انہیں میں سے ایک فتنہ کہ چھوڑے گا مرد عاقل کو ان میں سے حیران۔‘‘

نوٹ: یہی روایت ان الفاظ کے ساتھ (جائزۃ الشعوذی ج۲ ص۱۵۶، مشکوٰۃ مترجم ج۴ ص۵۰، مرقاۃ ج۵ ص۱۰۰،۱۰۱، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۲۶۸،۲۶۹، مظاہر حق ج۴ ص۲۷۴، منتخب کنزالعمال ج۶ ص۱۱، کتاب الترغیب والترہیب ج۱ ص۱۸، تیسرا الوصول الی جامع الاصول ج۲ ص۵۵،۵۶) پر موجود ہے۔

(کنزالعمال نامی ج۷ ص۱۷۴، مطبوعہ ۱۳۱۴ھ مطبع دائرہ المعارف حیدر آباد دکن) پر ایک روایت ان الفاظ میں لکھی ہے: ’’یخرج فی آخر الزمان دجال یختلون الدنیا بالدین یلبسون للناس جلود الضان من الدین السنتھم احل من العسل وقلوبھم قلوب الذیاب یقول اللہ عزوجل ابی یغترون ام علی یجترون حتٰی حلفت لابعثن علی اولئک منھم فتنۃ قدع الحلیم منھم حیران ن عن ابی ہریرۃ‘‘

غرض یہ کہ (کنزالعمال ج ۷ ص ۱۷۴) پر مندرجہ بالا عبارت لکھنے میںمطبع والوں سے چھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں نے تحقیق سے کام نہیں لیا بلکہ اپنا مطلب سیدھا کرنے کی غرض سے یہی غلط چھپی ہوئی عبارت اپنی کتابوں میں نقل کردی ہے۔

غلطی نمبر۱: (سنن ترمذی ص ۳۴۶) پر لفظ (رجال باالراء) ہے۔

مگر (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) پر غلطی سے (دجال بالدال) چھپ گیا ہے۔

دیکھئے (جائزۃ الشعوذی ج۲ ص۱۵۶، منتخب کنزالعمال علیٰ مسند احمد ج۶ ص۱۱، مشکوٰۃ مترجم ج۴ ص۵۰، مرقاۃ ج۵ ص۱۰۰، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۲۶۸، مظاہرحق ج۴ ص۲۷۴، کتاب الترغیب والترہیب ج۱ ص۱۸، کتاب تیسرا لوصول ج۲ ص۵۵) پرلفظ (رجال بالراء) ہی موجود ہے۔

غلطی نمبر۲: (سنن ترمذی ص ۳۴۶) پر لفظ (اللین) ہے۔

مگر (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) پر لفظ (الدین) چھپ گیا ہے۔

غلطی نمبر۳: (سنن ترمذی ص ۳۴۶) پر لفظ (السکر) ہے۔

مگر (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) پر لفظ (العسل)چھپ گیا ہے۔

غلطی نمبر۴: (سنن ترمذی ص ۳۴۶) پر لفظ (فبی) ہے۔

38

مگر (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) پر لفظ (حتی) چھپ گیا ہے۔

غلطی نمبر۵: (سنن ترمذی ص۳۴۶) پر لفظ (یقول اللہ ) ہیں۔

مگر (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) پر الفاظ (یقول اللہ عزوجل) ہیں۔

غلطی نمبر۶: (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) پر لکھا ہے (ن عن ابی ہریرہ) یعنی نسائی نے روایت کیا ہے حضرت ابوہریرہq سے۔ حالانکہ یہ روایت سنن نسائی میں نہیں ہے بلکہ سنن ترمذی میں ہے۔ دیکھئے منتخب (کنزالعمال ج۶ ص۱۱) پر صحیح کرکے لکھا گیا ہے کہ (ت عن ابی ہریرہ)

افسوس صدافسوس مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مریدوں پر ہے کہ انہوں نے تحقیق سے کام نہیں لیا بلکہ اپنا مطلب سیدھا کرنے کی غرض سے (کنزالعمال ج۷ ص۱۷۴) پر غلط عبارت نقل کی ہے اورکسی نے عقل وفکر سے کام نہیں لیا۔

باب پنجم

مسیح کا ظہور ہند میں نہیں بلکہ شام میں

گرمی کا موسم ہے۔ جون کا مہینہ ہے۔ موسم گرما اپنے عالم شباب پر ہے۔ گرمی کی بڑی شدت ہے۔ شہر امرتسر کے مشرقی حصہ دروازہ مہاں سنگھ کے قریب ایک کوچے میں صبح کے قریب دس بجے اتوار کے دن ایک مکان میں چند دوستوں کا مجمع ہے۔ ان میں مذہبی گفتگو ہورہی ہے۔ ایک مرزائی اس کا مدّمقابل ایک اہل سنت ہے۔ چند احباب اور بھی تشریف فرماہیں۔ گفتگو میں سختی اور درشتی نہیں ہے بلکہ سنجیدگی اور متانت ہے زیر بحث یہ مسئلہ ہے کہ آیا مسیح موعود ملک ہند میں ہوں گے یا شام میں؟ مرزائی کا اس پر اصرار ہے کہ مسیح موعود ملک ہندوستان میں ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی مسعود ومسیح موعود ہیں۔ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود ملک شام میں نازل ہوگا۔ مرزائی نے جو دلائل دعویٰ کے اثبات میں پیش کئے اور اہل سنت نے جو جوابات دئیے ان کو ناظرین کی دلچسپی کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے:

مرزائی: (۱)اس مہدی کے لئے جو مسیح بھی ہے مشرقی جانب مخصوص ہے ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘عیسیٰ کو آدم سے تشبیہ دی گئی ہے اور آدم کا نزول ہند

39

میں ہوا۔ پس عیسیٰ بھی ہند میں نازل ہوگا۔ (۲)(کنزالعمال ج۷ ص۲، باب غزوۃ الہند) میں امام نسائی نے دو گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک وہ جو ہند میں جہاد کرے گا ’’وعصابۃ معہ عیسٰی ابن مریم‘‘ اور ایک وہ جو ہند میں مسیح موعود کے ساتھ ہوگا۔ (۳)تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ پیشگوئی:’’لیظھرہ علی الدین کلہ ‘‘کا ظہور امام مہدی مسیح موعود کے ہاتھ پر ہوگا۔ پس اس کے ظہور کے لئے وہ ملک مناسب ہے جس میں ہر مذہب نمونہ موجود ہو اور سب کو آزادی بھی ہو اور یہ خصوصیت محض ہند کو ہے اور ایک صاحب نے مہدی پنجاب ہند کے اعداد یکساں بیان کئے ہیں تاکہ مناسبت ظاہر ہو۔ (۴)دجال کے ظہور کا مقام بھی مشرق ہے پس اس فتنہ کا رد کرنے والا بھی مشرق ہی میں چاہئے۔ (۵)پھر ایک حدیث میں جوجواہر الاسرارمحررہ ۸۴۰ھ میں ہے اس میں صاف لکھا ہے: ’’یخرج المھدی من قریۃ یقال لہ قدہ‘‘یعنی قادیاں اور یہ دمشق کی شرق میں بھی ہے۔‘‘

نوٹ: مذکورہ بالامضمون قادیان کے رسالہ (تشحیذ الاذہان ج۷نمبر۷ص۲۹۹، ۳۰۰، تشحیذالاذہان بابت ماہ اگست ۱۹۲۰ء ص۶۴) پر ہے:

جواب ازاہل سنت

مرزائی کے پیش کردہ پانچ دلائل کی تردیدکرنے سے پیشتر میںچنددلائل اپنے عقیدہ کی تائید میں عرض کرتا ہوں اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ بن مریم ملک شام میں ہوں گے۔ ان مندرجہ ذیل احادیث نبویہ کو غور سے سنئے:

دلیل نمبر۱: (الف)’’حضرت مجمع بن جاریہq صحابی روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ a سے کہ آپ فرماتے تھے کہ ابن مریم دجال کو باب لد پر قتل کرے گا۔‘‘

(سنن ترمذی شریف ج۲ ص۴۹، باب ماجاء فی قتل عیسیٰ بن مریم الدجال، کتاب جائزۃ الشعوذی شرح سنن ترمذی ج۲ ص۱۱۱)

(ب)حضرت نواسq بن سمعان سے ایک حدیث نبوی آئی ہے جس کا ایک حصہ یوں ہے: ’’مسیح دجال کو تلاش کریں گے۔ اس کو پاویں گے باب لد پر۔ پس اس کو قتل کرڈالیں گے۔‘‘

(صحیح مسلم شریف ج۲ ص۴۰۱، سنن ابن ماجہ ص۳۰۶، ترمذی ج۲ ص۴۸،باب ماجاء فی فتنۃ الدجال)

40

نوٹ نمبر۱: ’’ لد علاقہ فلسطین میں ایک گائوں ہے۔‘‘ (نووی شرح صحیح مسلم ج۲ ص۴۰۱، جائزۃ الشعوذی ج۲ ص۱۱۰، رفع العجاجۃ عن سنن ابن ماجہ ج۳ ص۳۲۸، مرقاۃ المفاتیح ج۵ ص۱۸۷،۱۸۸، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۳۵۱، مظاہر حق ج۴ ص۳۵۷، مجمع البحار ج۴ ص۴۹۰، طبع مدینہ ۱۹۹۴ء، قاموس ج۱ ص۳۴۸،تاج العروس ج۲ ص۴۹۳، منتہی الارب ج۴ ص۸۰، لسان العرب ج۴ ص۳۹۶)

نوٹ نمبر۲: ’’حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں نکلیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گائوں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کرڈالیں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۲۰، خزائن ج۳ ص۲۰۹)

دلیل نمبر۲: حضرت ابوہریرہq سے منقول ہے کہ روایت کی حضرت رسول خداa سے کہ آپ نے فرمایا کہ مسیح الدجال جانب مشرق سے نکلے گا اور قصد اس کا مدینہ مطہرہ میں آنے کا ہوگا۔ یہاں تک کہ کوہ احد کے پیچھے ٹھہرے گا۔ پھر فرشتے اس کا منہ (ملک)شام کی طرف پھیردیں گے اور وہاں ہی وہ ہلاک ہوگا۔

(مشکوٰۃ شریف ص۴۷۵، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکرالدجال، فصل اوّل مرقاۃ المفاتیح ج۵ ص۲۰۴، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۳۵۷، مظاہرحق ج۴ ص۳۶۲)

دلیل نمبر۳: حضرت علیq سے ایک روایت ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے:’’یقتلہ اللہ تعالٰی بالشام علٰی عقبۃ یقال لھا عقبۃ افیق ثلات ساعات یمضین من النھار علی یدی عیسٰی ابن مریم‘‘

(کنزالعمال ج۷ ص۲۶۷)

’’ اللہ تعالیٰ دجال کو ملک شام میں ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں دن کے تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔‘‘

(عسل مصفی حصہ دوم ص۷۶)

دلیل نمبر۴: ’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a وذکر الھند یغذو الھند بکم جیش یفتح اللہ علیہ حتٰی یاتوا بملوکھم مغللین بالسلاسل یغفر اللہ ذنوبھم فینصرفواحین ینصرفوا فیجدون ابن مریم بن باالشام۰ نعیم بن حماد‘‘

(کنزالعمال ج۷ص۲۶۷، کتاب حجج الکرامہ ص۳۵۲)

دلیل نمبر۵: ’’حدثنا عبد اللہ حدثنی ابی ثنا سلیمان بن داؤد قال ثنا حرب بن شداد عن یحیٰی بن ابی کثیر قال حدثنی الحضر می بن لاحق
41
ان ذکو ان اباصالح اخبرہ ان عائشۃt اخبرتہ قالت دخل علی رسول اللہ aوانا ابکی فقال لی مایبکیک قلت یارسول اللہ ذکرت الدجال فبکیت فقال رسول اللہ a ان یخرج الدجال وانا حی کفیتکموہ وان یخرج الدجال بعدی فان ربکم عزوجل لیس باعور انہ یخرج فی یھودیۃ اصبھان حتی یاتٔی المدینۃ فینزل ناحیتھا ولھا یومئذ سبعۃ ابواب علٰی کل نقب منھا ملکان فیخرج الیہ شرار اھلہا حتی الشام مدینۃ بفلسطین بباب لد قال ابوداؤد مرۃ حتی یاتٔی فلسطین باب لد فینزل عیسٰیm فیقتلہ ثم یمکث عیسٰیm فی الارض اربعین سنۃ اماماعدلاوحکما مقسطا‘‘

(مسند احمد ج۶ ص۷۵، مطبوعہ بیروت)

مختصر ترجمہ: ’’دجال مدینے سے شام میں چلا جائے گا وہاں حضرت عیسیٰ اتریں گے تو اس کو قتل کر ڈالیں گے… الخ!‘‘

دلیل نمبر۶: حضرت ابوامامۃ البا ہلیq سے ایک لمبی روایت مرفوعاً آئی ہے جس کا ایک حصہ یوں ہے: ’’عرب میں سے اکثر لوگ بیت المقدس میں ہوں گے۔ ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا۔ ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانا چاہے گا۔ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پائوں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے ہوکر نماز پڑھاویں، لیکن حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے۔ پھر اس سے فرمائیں گے تو ہی آگے بڑھ اور نماز پڑھا۔ اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی۔خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھا وے گا جب نماز سے فارغ ہوگا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے دروازہ کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہاں پردجال ہوگا سترہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی۔ جب دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو ایسا گھل جاوے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور دجال بھاگے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماویں گے میرا ایک وار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا۔ آخر باب لد کے پاس اس کو پاویں گے اور اس کو قتل کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا۔‘‘

سنن ابن ماجہ ص۲۹۷،۲۹۸، باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ

42

بن مریم وخروج یاجوج ماجوج اور رفع العجاجہ عن سنن ابن ماجہ ج سوم ص۳۳۸

نوٹ: اس حدیث نبوی نے تو مرزا قادیانی کی مسیحیت اور باطلہ تاویلات پر پانی پھیردیا ہے ۔

دلیل نمبر۷: حضرت قتادہv تابعی نے بھی فرمایا ہے کہ ملک شام ارض محشر ہے۔ اس جگہ لوگ جمع ہوں گے اور اس جگہ عیسیٰ نازل ہوگا اور اس جگہ اللہ ، گمراہ جھوٹے دجال کو ہلاک کرے گا۔

(ابن جریر ج۱۷ص۳۱)

عرض حبیب

۱… حضرت عیسیٰ ابن مریمm کا رفع ملک شام ہی سے ہوا تھا ملک شام ہی میں آپ کا نزول ہوگا۔

۲… پہلی دفعہ یہودنامسعود نے آپ کو قتل کرنا چاہا دوبارہ تشریف لاکر یہود اور دجال کو قتل کریں گے۔

(سنن ابن ماجہ)

۴… پہلی دفعہ مسیح علیہ السلام نے شادی نہیں کی۔ اب آن کر شادی کریں گے۔

۵… پہلی دفعہ مسیح علیہ السلام کی اولاد نہ تھی ۔ اب اولاد ہوگی۔

۶… پہلی بار حکومت وسلطنت نہ کی تھی۔ اب حکومت کریں گے۔

(طبقات ابن سعد ج۱ص۲۶)

۷… پہلی بار انجیل پرعمل کیا تھا۔ جب دوسری بار تشریف لائیں گے تو آنحضرتa کے دین پر ہوں گے۔

۸… دین اسلام پھیلائیں گے۔

۹… پولوس کے پھیلائے ہوئے دین(موجودہ مسیحیت)کو مٹادیں گے۔

۱۰… بیت اللہ شریف کا حج کریں گے۔

(صحیح مسلم ومسند احمد)

۱۱… حضرتa کی قبر مبارک پر حاضر ہوکر سلام کریں گے۔

(رسالہ انتباہ الاذکیا ص۴،۵، حجج الکرامہ ص۴۲۹)

43

۱۲… آنحضرتa کے مقبرہ شریف میں دفن کئے جائیں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔

(حجج الکرامہ ص۴۲۹،۴۳۰)

مرزائی کے دلائل کا جواب

الف… سورۂ آل عمران کی آیت مقدسہ: ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون‘‘{میں حضرت مسیح ناصری کی مثال حضرت آدم سے پیش کی گئی ہے۔ یعنی آپ بن باپ پیدا ہوئے اور حضرت آدم بن باپ وبن ماں۔}

اس آیت میں کسی ’’ مثیل مسیح ‘‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

ب… (سنن نسائی کتاب الجہاد باب غزوہ ہند ج۲ ص۵۲، کنزالعمال ج۷ ص۲۰۲) کے حوالہ سے جو روایت پیش کی گئی ہے، اس میں لفظاً یا اشارتاً اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ مسیح موعود ہند میں ہوگا۔ البتہ (کنزالعمال ج۷ ص۲۶۷، حجج الکرامہ ص۲۴۳) کے حوالہ سے جو روایت میں نے بطور دلیل چہارم لکھی ہے اس کے الفاظ:’’فیجدون ابن مریم بالشام‘‘ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ابن مریم ملک شام میں ہوں گے۔

ج… شہر لندن میں بھی ہر فرقے، ہر ملک، ہر قوم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور وہاں مذہبی آزادی بھی ہے۔

د… حضرت ابوبکرqسے ایک مرفوع روایت آئی ہے کہ دجال مشرق کی جانب سے ملک خراسان سے خروج کرے گا۔ مگر نصاریٰ یورپ (پادری اور فلاسفر) تو مغرب سے آئے ہیں اور یورپ ایشیاء کے مغرب میں ہے۔

(مشکوٰۃ شریف مترجم ص۴۷۷، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکرالدجال )

ہ… کتاب ’’جواہرالاسرار‘‘ حدیث کی مستند کتاب نہیں ہے۔ البتہ محدث ابن عدی نے ’’کامل‘‘ میں یہ روایت لکھی ہے:’’یخرج المھدی من قریۃ بالیمن یقال لھا کرعۃ‘‘

مگر اس روایت میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے، جس کو ابوحاتم نے

44

جھوٹا کہا۔ نسائی وغیرہ نے متروک کہا۔ دار قطنی نے منکرالحدیث کہا ہے۔

(میزان الاعتدال ج۲ ص۱۶۰،۱۶۱)

(کتاب فصل الخطاب قلمی، غایت المقصود ج۱ ص۱۶۴،۱۶۵، حجج الکرامہ ص۳۵۸) پر بحوالہ دلائل النبوت لفظ ’’کرعہ‘‘ لکھا ہے۔ لفظ قدہ، کدہ، کدیہ، کدعہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ لفظ ’’کرعہ‘‘ ہے۔

(نیز دیکھو احوال الآخرت حافظ محمد صاحب ص ۲۳)

باب ششم

حضرت مسیح ناصری کا مہدمیں کلام کرنا

آیات قرآنی:

۱… ’’اذقالت الملئکۃ یٰمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسی ابن مریم وجیھاً فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین ویکلم الناس فی المھد وکھلا ومن الصٰلحین (آل عمران:۴۵،۴۶)‘‘{جس وقت فرشتوںنے کہا اے مریم تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے کہ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا اور دنیا اور آخرت میں آبرو والا اور خدا کے مقرب بندوں میں سے اور لوگوں سے باتیں کرے گا جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں اور صالح بندوں میں سے ہوگا۔}

۲… ’’اذقال اللہ یاعیسٰی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلٰی والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المھدوکھلا (المائدۃ:۱۱۰)‘‘{قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم یاد کر میری نعمت تجھ پر اور تیری ماں پر جس وقت کہ میں نے تیری روح القدس (جبرائیلm) کے ساتھ مدد کی تھی اور تو باتیں کرتا تھا جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں۔}

۳… ’’فأتت بہ قومھا تحملہ قالوا یامریم لقدجئت شیئاً فریا یٰاخت ہارون ماکان ابوک امرء سوء وماکانت امک بغیا فاشارت الیہ قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیا قال انی عبد اللہ … الخ!

45

(مریم:۲۷تا۳۰)‘‘{پس حضرت مریم صدیقہ(p) حضرت عیسیٰ(m) کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگوں نے کہا اے مریم! تو ایک عجیب چیز لائی۔ اے ہارون کی بہن! تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور تیری ماں بدکار نہ تھی۔ پس حضرت مسیح(m) کی طرف حضرت مریم(p) نے اشارہ کیا۔ انہوں نے کہاہم اس سے کیونکر کلام کریں جو مہد میں ہے۔ حضرت عیسیٰ(m) نے فرمایا تحقیق میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں خدا مجھے کتاب عطاء فرمائے گا اور مجھے نبی کرے گا اور کرے گا مجھ کو برکت والا جہاں میں ہوں اور مجھ کو حکم کرے گا نماز کا اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کا جب تک میں زندہ رہوں اور اپنی ماں کے ساتھ خوش سلوک اور مجھ کو سرکش بدبخت نہ کرے گا اور مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن میں زندہ ہوکر اٹھوں گا۔}

حدیث رسولa:’’عن ابی ہریرۃq عن النبیa قال لم یتکلم فی المھد الاثلاثۃ عیسٰی وکان فی بنی اسرائیل رجل یقال لہ جریج (الی آخر) (صحیح بخاری ج۱ ص۴۸۸،۴۸۹، باب الذکرفی الکتاب مریم کتاب الانبیاء، فتح الباری ج۶ ص۳۴۴،۳۴۸، عمدۃ القاری ج۷ ص۴۴۲، ارشاد الساری ج۵ ص۴۱۱،۴۱۲، کتاب تحفۃ الاخیار ترجمہ مشارق الانوار ص۲۵۴،۲۵۵)‘‘ حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمa نے فرمایا تین بچوں کے سوا کسی نے ماں کی گود میں شیر خوارگی کی حالت میں کلام نہیں کیا۔ ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرا بنی اسرائیل میں ایک مرد تھا اس کو لوگ جریج کہتے ہیں۔ ایک دفعہ جریج نماز پڑھتا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اس نے جریج کو بلایا۔ جریج نے کہا کہ میں ماں کو جواب دوں یا نماز پڑھوں سو وہ اپنی نماز میں متوجہ رہا۔ اس کی ماں ناراض ہوئی اور اس نے بددعا کی کہ الٰہی اس کو مت ماریو جب تک کہ اس کو بدکار عورتوں کا منہ نہ دکھالیجئو اور جریج اپنے عبادت خانے میں تھا۔ سو ایک عورت اس کے سامنے آئی اور اس سے کلام کیا تو جریج نے نہ مانا۔ اس کے بعد وہ عورت ریوڑ چرانے والے کے پاس آئی۔ سو اس عورت نے اس کو اپنی ذات پر قادر کیا۔ سو وہ لڑکا جنی۔ کسی نے اس کو کہا کہ یہ لڑکا کس کے نطفے سے ہے۔ اس نے کہا جریج کے نطفے سے۔ لوگ اس کے پاس آئے۔ اس کے عبادت خانے کو توڑ ڈالا اور اس کو عبادت خانے سے اتار ڈالا اور برا کہا اس پر جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر لڑکے کے پاس آیا اور

46

کہا کہ اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکے نے کہا فلاںریوڑ چرانے والا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم تیرے واسطے سونے کا عبادت خانہ بنادیتے ہیں۔ جریج نے جواب دیا نہیں مگر مٹی کا اور تیسرا یہ کہ بنی اسرائیل میں ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلاتی تھی تو ایک مرد ادھر سے گزرا سنہری پوشاک والا۔ سو اس کی ماں نے کہا کہ الٰہی میرے بیٹے کو اس مرد کے برابر کردیجئو تو لڑکے نے اس کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف متوجہ ہوا سو کہا الٰہی مجھ کو ایسا نہ کیجیئو۔ پھر اپنی ماں کی چھاتی پر جھک کرپھر دودھ پینے لگا۔ حضرت ابوہریرہq نے کہا گویا میں دیکھتا ہوں کہ نبی کریمa کی طرف کہ اپنی انگلی مبارک چوستے تھے۔ پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر نکلے تو اس لڑکے کی ماں نے کہا الٰہی میرے بیٹے کو اس لونڈی کی طرح نہ کیجیئو۔ تو اس لڑکے نے دودھ پینا چھوڑا اور اس لونڈی کی طرف دیکھا ۔سو کہا الٰہی مجھ کو ایسا ہی کیجیئو تو اس لڑکے کی ماں نے کہا کہ تونے یہ کیوں کہا؟ تو لڑکے نے کہا کہ سوار ایک ظالم تھا ظالموں سے اور اس لونڈی کو کہتے ہیںتونے زنا کیا تونے چوری کی اور حالانکہ اس نے حرام کاری اور چوری نہیں کی تھی۔

نوٹ: ایک دوسری روایت میں چار بچوں کے ماں کی گود میں کلام کرنے کا ذکر ہے۔ تین یہ جو اوپرذکر ہوئے۔ چوتھے جس نے یوسفm کی برأت پر گواہی دی۔ (مرتب)

تفسیر از ابن عباسq

’’عن ابن جریج قال قال ابن عباسq (ویکلم الناس فی المھد) قال مضجع الصبی فی رضاعہ‘‘

(تفسیرابن جریرطبری ج۳ ص۲۷۱، درمنثور ج۲ ص۲۵)

نوٹ: ’’واماالمھد فانہ یعنی بہ مضجع الصبی فی رضاعہ‘‘

(حافظ ابوجعفر محمد بن جریرطبری کی تفسیر جامع البیان ج۳ ص۲۷۱)

تحریر مرزا قادیانی

’’ اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس (مرزا کے) لڑکے نے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں۔‘‘

( تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)

47

محمد علی لاہوری کا مذہب

’’فاتت بہ قومھا تحملہ‘‘لازماً حضرت عیسیٰ کے زمانہ نبوت سے تعلق رکھتا ہے اور حضرت عیسیٰ اس وقت حضرت مریم کی گود میں نہ تھے، بلکہ سوار ہوکر یروشلم میں داخل ہوئے تھے اور سوار ہوکر داخل ہونا کسی خاص غرض سے تھا جیسا کہ انجیل میں ہے۔‘‘

(بیان القرآن ص۸۵۷، سورہ مریم)

’’حضرت عیسیٰ تیس سال کے نوجوان تھے پرانے بزرگوں کے سامنے وہ بچہ ہی تھے۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ جو ہمارے سامنے کا بچہ ہے ہم اس سے کیا خطاب کریں۔ اس کے سوائے:’’من کان فی المھد‘‘کے کچھ معنی نہیں بنتے۔‘‘

(بیان القرآن ص۸۵۸، سورہ مریم)

’’یہ زمانہ نبوت کا کلام ہے نہ پیدائش کے فوراً بعد کا۔‘‘

(بیان القرآن ص۸۵۸، سورہ مریم)

سرسید احمد خان کا عقیدہ

’’قرآن مجید سے صاف پایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں واقع ہوا تھا، جب حضرت عیسیٰ نبی ہوچکے تھے۔ کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ: ’’انی عبد اللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیا‘‘تاریخ پراور انجیلوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بارہ برس کی عمر تھی۔

(تفسیر القرآن ج۲ ص۳۱)

’’غرض اس قدر تو جملہ علمائے مفسرین تسلیم کرتے ہیں کہ یہ واقعہ ولادت کے زمانہ کے متصل واقع نہیں ہوا تھا، اس کے بعد ہوا۔ کوئی مدت مابعد کے زمانہ کی چالیس دن اور کوئی قریب عمر مراہق یعنی بارہ برس کے قرار دیتا ہے اور ہم باستدلال قرآن مجید زمانہ نبوت قرار دیتے ہیں۔‘‘

(تفسیر القرآن ج۲ ص۳۱)

نوٹ: حضرت مسیح علیہ السلام کا والدہ کی گود میں بحالت صغرسنی باتیں کرنا قرآن وسنت سے ثابت ہے جیسا کہ آپ نے مطالعہ کیا۔ محمدعلی لاہوری مرزائی اور سرسیدنیچری کا عقیدہ اسلام اور اہل اسلام کی تصریحات کے خلاف ہے۔(مرتب)

48

باب ہفتم

شق القمرللمعجزۃ سیدالبشر

شق القمرکے معجزہ پر مرزاقادیانی اوراس کی امت کے مختلف خیالات

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحرمستمر وکذبوا واتبعوا اھواء ھم وکل امر مستقر (القمر:۱تا۳)‘‘ {قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور مشرک وکافر جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو ہمیشہ کا قوی جادو ہے اور مخالفوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر بات قرار پکڑنے والی ہے۔}

اقوال مرزا قادیانی:

۱… ’’لہ خسف القمر المنیر وان لی غساالقمر ان المشرقان اتنکر‘‘اس(آپa) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے (مرزاقادیانی) لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔

(کتاب اعجازاحمد ی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

۲… ’’یہ آیت یعنی:’’وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر‘‘یہ آیت سورۃ قمر کی آیت ہے شق القمر کے معجزہ کے بیان میں اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کرکے جو ایک قسم کا خسوف تھا ۔ یہی کہا تھا کہ اس میں کیا انوکھی بات ہے۔ قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کوئی خارق عادت امر نہیں۔‘‘

(کتاب نزول المسیح ص۱۲۸، خزائن ج۱۸ ص۵۰۶)

۳… ’’کیا ممکن نہیں کہ اس میں حکیم مطلق نے انشقاق واتصال کی دونوں خاصیتیں رکھی ہوں۔ جن کا ظہور اوقات مقررہ سے وابستہ ہو اور ازلی ارادہ سے وہی وقت ظہور مقرر ہو جب کہ ایک نبی سے ایسا ہی معجزہ مانگا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کی قوت قدسیہ کے اثر سے دیکھنے والوں کو کشفی آنکھیں عطا کی گئی ہوں اور جو انشقاق قرب قیامت میں پیش آنے والا ہے اس

49

کی صورت ان کی آنکھوں کے سامنے لائی گئی ہو۔ کیونکہ یہ بات محقق ہے کہ مقربین کی کشفی قوتیں اپنی شدت جدت کی وجہ سے دوسروں پر بھی اثر ڈال دیتی ہیں اس کے نمونے ارباب مکاشفات کے قصوں میں بہت پائے جاتے ہیں۔ بعض اکابر نے اپنے وجود کو ایک وقت اور ایک آن میں مختلف ملکوں اور مکانوں میں دکھلادیا ہے باذن اللہ تعالیٰ۔‘‘

(کتاب سرمہ چشم آریہ ص۲۲۹،۲۳۰، خزائن ج۲ ص۲۷۷،۲۷۸)

نوٹ: معلوم ہونا چاہئے کہ ایک امر کا ممکن ہونا اور چیز ہے اور فی الواقع اس امر کا واقع ہونا اور چیز ہے؟

(ریویو بابت ماہ ستمبر۱۹۱۰ء، ج۹ نمبر۹ ص۳۴۸)

۴… ’’اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر ظہور میں نہ آیا ہوتا تو ان کا حق تھا کہ وہ کہتے کہ ہم نے تو کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ اس کو جادو کہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیا تھا جس کا نام شق القمر رکھا گیا۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا۔ جس کی قرآن شریف نے پہلے خبر دی تھی اور یہ آیتیں بطور پیشگوئیوں کے ہیں۔ اس صورت میں شق کا لحاظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا۔ کیونکہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتا ہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہوجاتا ہے۔ ایک استعارہ ہے۔‘‘

(کتاب چشمہ معرفت ص۲۲۳، خزائن ج۲۳ ص۲۳۲)

۵… ’’اس پر ایک صاحب نے پوچھا شق القمر کی نسبت حضور (مرزاقادیانی) کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا ہماری رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ہم نے اس کے متعلق اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھ دیا ہے۔‘‘

(اخبار بدر قادیاں مورخہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۸ء، ج۷ نمبر۱۹،۲۰ ص۵ کالم۳، ملفوظات ج۱۰ ص۳۷۵)

۶… ’’اور بعض محدثین کا مذہب یہ بھی ہے کہ شق القمر بھی ایک قسم خسوف کاتھا۔ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی (قادیانی) نے جواب دیا کہ عبد اللہ بن عباس کا بھی یہی مذہب ہے اور ہمارا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا۔ کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ۲۴؍جنوری۱۹۰۳ء، ص۱۳، اخبار بدر مورخہ۱۳؍فروری۱۹۰۳ء، ص۲۶، ملفوظات ج۴ ص۳۹۱)

مذہب مرزامحموداحمد قادیانی

سوال: ’’کیا شق القمر کا معجزہ کفار کی خواہش پر دکھایا گیا؟ فرمایا اس میں ایک

50

پیش گوئی تھی کہ عرب کی حکومت مٹادی جائے گی۔ چاندفی الواقع دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا۔ بلکہ کشف میں ایسا دکھایا گیا تھا اور کشف ایسے ہوسکتے ہیں کہ دوسرے بھی ان میں شامل ہوں۔ چنانچہ اس مجلس والوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا اور ہند وستان کے ایک راجہ نے بھی اس کو دیکھا تاکہ آئندہ کے لئے گواہی ہو۔ یہ خیال کہ فی الواقع چاند دو ٹکڑے ہوگیا تھا صحیح نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو علم نجوم والے جو رصد گاہوں میں بیٹھے تھے وہ ضرور دیکھتے، لیکن انہوں نے اس کو ریکارڈ نہیں کیا۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء، ص۷ کالم۳ ج۱۰ نمبر۵)

چاند گرہن نہیں بلکہ انشقاق قمر

جواب: مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

مرزا قادیانی کا یہ مؤقف کہ انشقاق قمر دراصل خسوف تھا۔ سو یہ صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ قرآن مجید کی آیات مقدسہ اور صحیح حدیثوں سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ آپa کے لئے چاندکے گرہن کا نشان ہوا تھا۔ بلکہ فرقان حمید کی آیت مبارکہ اور صحیح حدیثوں سے آپ کے لئے چاند کے ٹکڑے ہونے کا نشان ظاہر ہونا ثابت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’یسئل ایان یوم القیامۃ فاذا برق البصر وخسف القمر (القیامۃ:۶تا۸)‘‘{پوچھتا ہے کہ کب ہوگا قیامت کا دن پس جب کہ آنکھیں پتھرا جاویں گی اور چاند گرہن جاوے گا۔}

اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر کے رکوع اوّل میں الفاظ: ’’اقتربت الساعۃ وانشقالقمر‘‘ بیان فرمائے ہیں اور الفاظ:’’اقتربت الساعۃ وخسف القمر‘‘نہیں فرمائے۔

غرض ثابت ہوا کہ چاند گرہن اور چیز ہے اور چاند کا شق ہونا اور چیز ہے۔

لفظ شق کا استعمال

۱… ’’اذالسماء انشقت (الانشقاق:۱)‘‘ {جس وقت کہ آسمان پھٹ جاوے۔}

۲… ’’ثم شققنا الارض شقا (عبس:۲۶)‘‘{پھر پھاڑا ہم نے زمین کو پھاڑنا۔}

51

۳… ’’وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھار وان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء (البقرۃ:۷۴)‘‘{اور تحقیق بعض پتھروں میں سے وہ ہیں کہ پھٹ جاتی ہیں اس سے نہریں اور تحقیق بعض ان میں وہ ہیں کہ پھٹ جاتا ہے۔ پس اس میں سے پانی نکلتا ہے۔}

شق القمر کشفی واقعہ نہیں تھا

سورۂ القمر کی آیت مبارکہ: ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر‘‘ صاف ظاہر کررہی ہے کہ چاندفی الواقع دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔ اس آیت مبارکہ سے اور کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ایک کشف تھا۔ قرینہ صارفہ کے بغیر آیت کو ظاہر سے پھیرنا جائز نہیں ہے۔

پادری عمادالدین کا مغالطہ

پادری عماد الدین مشرک نے لکھا ہے: ’’مفسروں نے لکھا ہے کہ اکثروں کے نزدیک شق القمر ہوگیا۔ مگر بعضوں کے نزدیک نہیں ہوا۔ چنانچہ علامہ زمخشری نے تفسیر کشفاف میں لکھا ہے: ’’وعن بعض الناس ان معناہ ینشق یوم القیامۃ‘‘یعنی بعض آدمیوں نے یوں کہا ہے کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ قیامت کو شق القمر ہوگا اور بیضاوی نے کہا:’’وقیل معناہ سینشق یوم القیامۃ‘‘

(تحقیق الایمان باب اوّل فصل اوّل ص۳۲)

مسیحی کے مغالطے کا جواب

سورۂ القمر کی آیت مقدسہ بلحاظ الفاظ ومعانی کے بالکل صاف اور واضح ہے۔ منکرین کو بجز اس کے کوئی موقع ہاتھ پائوں مارنے کا نہیں ملا کہ انشق کو جو صیغہ ماضی ہے اور جس کا ترجمہ ’’پھٹ گیا‘‘ ہے۔ صیغہ مستقبل کے معنی میں لیتے ہیں اور اس کا ترجمہ کرتے ہیں ’’پھٹ جائے گا‘‘ مگر اس کی تردید خود آیت شریفہ کے الفاظ کررہے ہیں۔

اوّل لفظ ’’اقتربت‘‘ جو صیغہ ماضی ہے حقیقتاً ماضی کے معنوں میں ہے۔ اگر صیغہ ’’انشق‘‘ کو مستقبل میں لیا جائے تو ’’اقتربت‘‘ کو بھی مستقبل کے معنی میں لینا چاہئے ورنہ ترجمہ بالکل غلط ہوجائے گا۔ کیونکہ ’’اقتربت‘‘ کو ’’بصیغہ‘‘ ماضی اور ’’انشق‘‘ کو بمعنی

52

مستقبل لینے سے یہ مطلب حاصل ہوگا کہ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ ترجمہ بلاغت قرآن شریف کے بالکل منافی ہے اور اسلوب آیات قرآنیہ ہرگز اس کا مقتضی نہیں بلکہ اسلوب صحیح کے مطابق جو جابجا قرآن مجید کی آیات میں خصوصاً سورۃ تکویر اور سورۃ انفطار میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یوں چاہئے تھا:’’اذا اقتربت الساعۃ وانشق القمر ‘‘ یعنی جب قیامت نزدیک آئے گی تو چاند پھٹ جائے گا۔ مگر یہ تو بالکل بے معنی بات ہے کہ قیامت آگئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ کیونکہ قیامت کے نزدیک آنے کا تو حقیقتاً بزمانہ ماضی دعویٰ کیا گیا ہے اور چاند کے پھٹ جانے کا بزمانہ استقبال۔ ہاں! اگر لفظ یوں ہوتے:’’وقعت الساعۃ وانشق القمر‘‘یعنی قیامت ہوگئی اور چاند پھٹ گیا تو بے شک یہ توجیہہ ہوسکتی تھی کہ چونکہ قیامت کا وقوع اور چاند کا پھٹنا ہر دو یقینی امر ہیں۔ اس لئے ہر دو کے وقوع کو جو بزمانہ استقبال ہوگا۔ صیغہ ماضی کے ساتھ تعبیر کردیا ہے مگر لفظ ’’اقتربت‘‘ کی صورت میں وہ توجیہہ صحیح نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گوابھی قیامت نزدیک نہیں ہوئی اور آئندہ کبھی نزدیک ہوگی۔ مگر اس کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہہ دیا گیا کہ نزدیک آئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ نزدیک آنے کی زمانہ مستقل میں خبر دینا بالکل فضول امر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں بار بار نفس قیامت کے وقوع کو بصیغہ ماضی ذکر کیا گیا ہے، نہ اس کے نزدیک آجانے کے وقوع کو مثلاً: ’’اتٰی امر اللہ فلا تستعجلوہ‘‘ یا: ’’اقترب للناس حسابھم‘‘کیونکہ: ’’ اقترب‘‘ بمعنی نزدیک آجانا تو بزمانہ مبارکنبوی واقع ہوچکا تھا۔ چنانچہ احادیث صحیحہ اس امر پر دال ہیں۔ یہ بات ذرا غور طلب ہے کیونکہ وقوع کی خبر صیغہ ماضی کے ساتھ دینا اور معنی مستقبل کے مراد رکھنا اور قرب وقوع کی خبر بصیغہ ماضی دینا اور معنی مستقبل کے مراد لینا ہر دو ایک امر نہیں۔ پہلی صورت جو آیت مذکورہ بالا میں موجود نہیں صحیح ہے اور عین بلاغت اور دوسری بالکل غلط اور منافی بلاغت جو بزعم منکرین یہاں موجود ہے۔ ذرا غور کرو اور انصاف سے کام لو کہ آیا مقام تحذیر اور تہدید اس امر کا مقتضی ہے کہ منکرین کو یوں کہا جائے کہ قیامت آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ یا اس امر کا مقتضی ہے کہ انہیں یوں سنایا جائے کہ قیامت قریب آجاوے گی اور چاند پھٹ جاوے گا؟ اس پچھلی لغو اور بے معنی تقریر کو تو کوئی وہی شخص مانے گا کہ جس کا دماغ قانون قدرت نے مختل کررکھا ہو۔ ورنہ عقل وہوش کا آدمی تو ایسی بے سرو پابات منہ سے نہ نکالے گا۔

53

ثانیاً: سورۃ القمر کے الفاظ: ’’وان یروآیۃ یعرضوا ویقولوا سحرمستمر‘‘منکر کی کسی کٹ حجتی کو چلنے نہیں دیتے۔ کیونکہ یہ الفاظ صاف صاف اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ منکرین نے کسی خرق عادت کو دیکھا ہے اور ضد اور ہٹ سے اس کو سحر سے تعبیر کردیا۔ تعجب ہے کہ منکرین ایسے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں ان الفاظ پر مطلقاً توجہ نہیں۔ کیونکہ اگر بزعم منکر یہ تسلیم کیا جاوے کہ قرب قیامت میں بزمانہ مستقبل چاند پھٹے گا تو اسے سحر کہنے کا کیا مطلب ہے؟

(از رسالہ صوفی بابت ماہ نومبر۱۹۱۲ء ص۲۴،۲۵)

احادیث صحیحہ

(صحیح بخاری شریف ج۲ ص۷۲۱،۷۲۲، کتاب التفسیر باب قولہ وانشق القمر، فتح الباری ج۸ ص۴۷۴،۴۷۵، ارشاد الساری ج۷ ص۳۶۴، ۳۶۵، عمدہ القاری ج۹ ص۱۸۴، اعظم التفاسیر ج۲۷ ص۶۹،۷۰) پر ہے:

۱… حضرت عبد اللہ بن مسعودq سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمa کے زمانے میں چاند پھٹ کے دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا نیچے تو حضرت نبی کریمa نے فرمایا کہ گواہی دو۔

۲… حضرت عبد اللہ بن مسعودq سے روایت ہے کہ چاند پھٹ گیا اور حالانکہ ہم حضرت نبی کریمaکے ساتھ تھے سو ہوگیا چاند دو ٹکڑے تو حضرت نبی کریمa نے فرمایا گواہی دو، گواہی دو۔

۳… حضرت عبد اللہ بن عباسq سے روایت ہے کہ چاند پھٹ گیا حضرت نبی کریمa کے زمانہ میں ۔

۴… حضرت انسq سے روایت ہے کہ مکہ شریف والوں نے سوال کیا کہ ان کو کوئی نشانی دکھلادیں۔ سو حضرت نبی کریمa نے ان کو چاند کا پھٹنا دکھلایا۔

۵… حضرت انسq سے روایت ہے کہ چاند پھٹ کے دو ٹکڑے ہوگیا۔

نوٹ: تفسیر ابن جریر ج۱۱ ص۸۴تا۸۸، ابن کثیرج۹ ص۱۲۶تا۱۳۰،فتح البیان ج۹ ص۱۴۹تا۱۵۱، درمنثورج۶ ص۱۳۲تا۱۳۴، خصائص الکبریٰ ج۱ ص۳۱۲تا۳۱۴، کتاب الشفاج۱ ص۱۸۳تا۱۸۵،

54

شرح الشفا ج۱ ص۵۸۴تا۵۸۹، مواہب اللدنیہ ج۱ ص۳۵۶،۳۵۷، شرح مواہب للزرقانی ج۵ ص۱۰۶تا ۱۱۴ میں بھی معجزہ شق القمر کا بیان موجود ہے۔

مرزا قادیانی کا دوسرا عقیدہ

الف… مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ مسئلہ شق القمر ایک تاریخی واقعہ ہے جو قرآن شریف میں درج ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو آیت آیت اس کی بروقت نزول ہزاروں مسلمانوں اور منکروں کو سنائی جاتی تھی اور اس کی تبلیغ ہوتی تھی اور صدہا اس کے حافظ تھے۔ مسلمان لوگ نماز اور خارج نماز میں اس کو پڑھتے تھے۔ پس جس حالت میں صریح قرآن شریف میں وارد ہوا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور جب کافروں نے یہ نشان دیکھا تو کہا کہ جادو ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحرمستمر‘‘تو اس صورت میں اس کے منکرین پر لازم تھا کہ آنحضرتa کے مکان پر جاتے اور کہتے کہ آپ نے کب اور کس وقت چاند کو دو ٹکڑے کیا اور کب اس کو ہم نے دیکھا۔ لیکن جس حالت میں بعد مشہور اور شائع ہونے اس آیت کے سب مخالفین چپ رہےاور کسی نے بھی دم نہ مارا تو صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ضرور دیکھا تھا۔ تب ہی تو ان کو چون وچرا کرنے کی گنجائش نہ رہی۔‘‘

(کتاب سرمہ چشم آریہ ص۶۲،۶۳، خزائن ج۲ ص۱۱۰،۱۱۱)

ب… مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرتa کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے۔ یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ:’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحرمستمر‘‘یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔ جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر مرے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکہ کے مخالف لوگ اور جانی دشمن

55

کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے۔ وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے۔ ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کرسکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افتراء خیال کرکے پھر بھی چپ رہے۔ بالخصوص جب کہ ان کو آنحضرتa نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا تو اس حالت میں ان کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تو اس کا رد کرتے نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگادیتے۔ پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ظہور میں آیا تھا اور اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ یہ قواعد ہیئت کے مطابق نہیں یہ عذرات بالکل فضول ہیں۔ معجزات ہمیشہ خارق عادت ہی ہوا کرتے ہیں ورنہ وہ معجزے کیوں کہلائیں اگر وہ صرف ایک معمولی بات ہو اور علاوہ اس کے علم ہیئت کی کسی نے اب تک حدبست کرلی ہے؟‘‘

(کتاب چشمہ معرفت ضمیمہ ص۴۱،۴۲، خزائن ج۲۳ ص۴۱۱)

اعتراض: ’’خود شق القمر کے متعلقہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک قسم کا چاند گرہن تھا۔ حضرت ابن عباسq فرماتے ہیں کہ چاند کے دونوں ٹکڑوں میں سے ایکنظر آتا تھا اور دوسرا غائب تھا۔ جس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ چاند گرہن تھا۔‘‘

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ۱۷؍شوال ۱۳۴۰ھ ص۶)

جواب: (صحیح بخاری شریف ج۲ ص۷۳۱،۷۳۲) پر روایت یوں آئی ہے:’’عن ابن عباسq قال انشق القمر فی زمان النبیa‘‘یعنی حضرت ابن عباسq سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمa کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا۔

نوٹ: اس صحیح روایت سے صاف ظاہر ہے کہ چاند پھٹ گیا تھا۔

محمدعلی (ایم۔اے) امیر جماعت مرزائیہ لاہورکا قول

محمد علی لاہوری نے لکھا ہے: ’’ان تمام روایات سے جس نتیجہ پر ہم پہنچتے ہیں وہ اس حد تک یقینی ہے کہ رسول اللہ a کے زمانہ میں انشقاق قمر دیکھا گیا۔ یعنی چاند کا پھٹنا دیکھا گیا… لیکن جہاں تک اصل واقعہ کا تعلق ہے ایک طرف احادیث اس بارہ میں تواتر کو پہنچ گئی ہیں اور دوسری طرف قرآن کریم کے صریح الفاظ بھی اس پر دال ہیں کہ انشقاق قمر وقوع میں آیا۔‘‘

(تفسیربیان القرآن ص۱۳۲۱، سورۃ القمر)

56

حضرت مسیح کی قبر

کشمیر میں نہیں

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

57

فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۳۹ء، بمطابق۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے شروع میں تین استادوں سے علم حاصل کیا۔ ۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۴ء تک ’’ براہین احمدیہ‘‘ نامی ضخیم کتاب لکھی۔ آپ نے مسیح موعود، مہدی مسعود، محدث، امام الزماں، مجدد، ملہم، مامور، نبی، رسول، کرشن، اوتاروغیرہ ہونے کے تیس سے زیادہ دعاوی کئے۔ آپ نے اپنی اکثر کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر زیادہ زور دیا ہے اور دعویٰ مسیحیت کی بنیاد اسے ٹھہرایا ہے۔

چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے صدق وکذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات وحیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان میں ہے اس کو سوچو۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۶۶حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۶۴)

اس وقت ناظرین کی توجہ ایک اور امر کی طرف مبذول کراتا ہوں اور وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں (مثلاً ایام الصلح، کشتی نوح، اعجاز احمدی، تذکرۃ الشہادتین، حقیقت الوحی، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، مواہب الرحمن، کتاب البریہ، ست بچن، راز حقیقت، کشف الغطاء، تحفہ گولڑویہ، مسیح ہندوستان میں، الہدیٰ، تحفہ غزنویہ اور نورالقرآن) میں لکھا ہے کہ: ’’جو سری نگر میں محلہ خانیار میں یوزآسف کے نام سے قبرموجود ہے وہ درحقیقت بلاشک وشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔‘‘

(راز حقیقت ص۲۰، خزائن ج۱۴ ص۱۷۲)

اس عقیدے اور دعویٰ پر جو دلائل مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ ان کو نمبروار درج کرکے ساتھ ہی ان کا جواب لکھا جاتا ہے:’’وماتوفیقی الا ب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

قادیانی دلیل نمبر۱

’’خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) مرگیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’واویناھما الٰی ربوۃ ذات قرار ومعین‘‘ یعنی ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کویہودیوں کے ہاتھوں سے بچاکر ایک ایسے

58

پہاڑ میں پہنچادیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفی پانی کے چشمے اس میں جاری تھے۔ سو وہی کشمیر ہے اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں اورکہتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ کی طرح مفقود ہے۔‘‘(کتاب کشتی نوح ص۱۶،۶۹ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۱۶،۷۵، اعجاز احمدی ص۱۹، تذکرۃ الشہادتین ص۲۷، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۲۸،۲۲۹، حقیقت الوحی ص۱۰۱حاشیہ ص۲۳۲، رسالہ ریویوآف ریلیجنز بابت ماہ نومبر۱۹۰۳ء ص۴۲۹، ریویوبابت ماہ نومبر۱۹۰۲ء ص۴۳۶، ریویو بابت ماہ دسمبر۱۹۰۲ء ص۴۹۱، اخبارالحکم مورخہ ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء ص۱۰، اخبار الحکم مورخہ ۱۴؍اپریل۱۹۱۵ء ص۱، الحکم مورخہ ۲۴؍ستمبر۱۹۰۲ء ص۸، الحکم مورخہ ۱۷؍اکتوبر۱۹۰۲ء ص۵، اخبار بدر مورخہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء ص۵۶، الحکم مورخہ ۲۴؍دسمبر۱۹۰۳ء ص۴ کا خلاصہ مطلب، حقیقت الوحی ص۱۰۱حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴)

قادیانی دلیل کی تردید

الزامی جواب: مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ کیا لکھ دیا کہ حضرت مریمp کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔حالانکہ مرزا قادیانی کے ایک مرید سید محمد السعید طرابلسی نے ان (مرزاقادیانی)کی طرف ایک خط لکھا تھا جس کا خلاصہ مطلب یہ تھا: ’’جو کچھ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اور دوسرے حالات کے متعلق سوال کیا ہے سو میں آپ کی خدمت میں مفصل بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجابنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجائوں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدہ قدس کا نام یروشلم تھا اور اس کو اور شلم بھی کہتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہونے کے بعد اس شہر کا نام ایلیاء رکھا گیا اور پھر فتوح اسلامیہ کے بعد اس وقت تک اس شہر کا نام قدس کے نام سے مشہور ہے اور عجمی لوگ اس کو بیت المقدس کے نام سے بولتے ہیں۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص۲۱،۲۲ حاشیہ، خزائن ج۸ ص۲۹۹،۳۰۰)

نوٹ نمبر۱: سید محمد سعید مرزائی کے خط سے معلوم ہوا کہ حضرت مریمp کی قبر شہر یروشلم کے بڑے گرجے میں ہے اور حضرت مسیح ناصری بیت اللحم نامی قصبہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کا (حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴حاشیہ) پر یہ

59

لکھنا کہ: ’’حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔ ‘‘ سراسر غلط ہے۔ اس طرح مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی ناصرہ کی بستی میں پیدا ہوا تھا۔ (کتاب منظور الٰہی ص۲۴۹،۲۵۳) صحیح نہیں ہے۔

نوٹ نمبر۲: اس سے پیشتر مرزاقادیانی نے لکھا تھا کہ: ’’ یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوگیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہوچکا تھا پھر زندہ ہوگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۷۳، خزائن ج۳ ص۳۵۳)

سو میں ذیل میں مرز اغلام احمد قادیانی کا ایک قول درج کرتا ہوں: ’’ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے۔‘‘

(ست بچن حاشیہ ص ز، خزائن ج۱۰ ص۳۰۷)

تحقیقی جواب

۱… مرزا غلام احمدقادیانی نے اپنی اکثر کتابوں میں اور ان کے مریدوں میں سے حکیم خدا بخش مرزائی نے کتاب ’’عسل مصفی ‘‘ قاضی ظہور الدین اکمل نے اپنی کتاب ’’ظہور المسیح‘‘ اور ’’ظہور المہدی‘‘ سید صادق حسین مرزائی مختار عدالت اٹاوہ نے رسالہ کشف الاسرار، مولوی غلام رسول فاضل راجیکے نے رسالہ ’’التنقید‘‘ اور ان کے علاوہ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ۱۹۰۳ء، ۱۹۰۴ء، ۱۹۰۶ء، ۱۹۰۷ء، ۱۹۲۵ء، اخبار الحکم، بدر، فاروق اور الفضل کے) متعدد پرچوں میں اس امر پر زور دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی قبر ملک کشمیر کے شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ دل کھول کر دلائل قویہ کے ساتھ قادیانی مذہب کا باطل ہونا لکھوں۔ اب قادیانی دلیل کی تردید کی جاتی ہے۔ ذرا غور سے سنئے:

۲… قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ وآوینا ھما الٰی ربوۃ ذات قرار ومعین (المؤمنون:۵۰)‘‘{اور ہم نے حضرت ابن مریمm (یعنی مسیح علیہ السلام ) اور اس کی ماں کو نشانی کیا اور ہم نے ان دونوں کو ایسی بلند زمین کی طرف پناہ دی جو رہنے کی جگہ تھی اور جہاںپانی جاری تھا۔}

۳… حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب (ماں)سے پیدا ہوئے اس وقت کے بادشاہ نے نجومیوں

60

سے سنا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا۔ وہ دشمن ہوا۔ ان کو بشارت ہوئی کہ اس ملک سے نکل جائو۔ نکل کر مصر کے ملک میں گئے ایک گائوں کے زمیندار نے حضرت مریمp کو اپنی بیٹی کررکھا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اس وطن کا بادشاہ مرچکا تب پھر آئے اپنے وطن کو وہ گائوں تھا ٹیلے پر اور پانی وہاں کا خوب تھا۔

(موضح القرآن سورۂ مومنون:۵۰)

۴… ’’عیسٰی بن مریم ولادت اوبعد مضی سہ صدوسہ سال از سکندراست وقتل یحیٰی قبل از رفع اوبہ سہ سال شد ونصاریٰ یحیٰی رایوحنا، نا مندوقصئہ ولادت عیسٰی منصوص قرآن است ووے روح وکلمہ وعبدخدا است ونبی مرسل صاحب انجیل است ومریم عیسٰی را اوّل بمصر برو وبعد دوازدہ سال بشام آورد درقریہ ناصرہ نزول کرد وبھا سمیت النصاریٰ چوں عیسٰی دریں جا، سی سالہ شد اور اوحی آمدن گرفت‘‘

(کتاب حجج الکرامہ فی آثار القیامہ ص۲۹، مطبوعہ ۱۲۹۰ھ مطبع شاہجہانی بھوپال)

۵… حضرت امام ابوجعفرv محمد بن جریرطبری کی کتاب(تاریخ الامم والملوک ج۲ ص۲۰،۲۱، تاریخ کامل ابن اثیر ج۱ ص۱۳۵،۱۳۶، عماد الدین ابوالفداء کی تاریخ ج۱ ص۳۵، تاریخ ابن خلدون ج۲ ص۱۴۶) پر بھی حضرت مریم صدیقہp کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ان کے ہمراہ ملک شام کو چھوڑ کر ملک مصر کی طرف جانا اور پھر وہاں سے واپس آکر شہر ناصرہ میں قیام پذیر ہونا لکھا ہے۔

۶… ’’اصل میں بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ملک شام کے ایک قصبہ بیت اللحم نامی میں پیدا ہوئے تھے۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص۱۹تا۲۱حاشیہ، خزائن ج۸ ص۲۹۹، رسالہ التنقید ص ۴۲،۴۳)

آپ کی پیدائش کے وقت ہیرودیس ایک ظالم بادشاہ حکمران تھا وہ حضرت مسیح کے قتل کرنے کے درپے ہوا۔ حضرت مریم صدیقہp اور حضرت مسیح علیہ السلام ملک شام کو چھوڑ کر ملک مصر کو چلے گئے۔ وہاں بارہ سال تک رہے بادشاہ ہیرودیس کے مرنے کے بعد دونوں اپنے وطن واپس آئے چونکہ ان دنوں یروشلم وغیرہ پر ہیرودیس کے بیٹے ارخلاوس کی حکومت تھی۔ اس لئے حضرت مریم صدیقہp اور حضرت عیسیٰ دونوں صوبہ یہودیہ میں کوہ کارمل کے ایک فرحت افزا مقام ’’ ناصرہ ‘‘ نامی کی طرف تشریف لے گئے وہاں اٹھارہ سال تک رہے۔

(طبقات الکبریٰ لابن سعدج۱ ص۲۶)

61

حضرت مسیح تیس سال کی عمر میں ان قوموں کی تبلیغ کے لئے مامور ہوئے تھے۔

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۵۷۰)

اسی واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح ناصری بھی کہتے ہیں۔

۷… مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’انجیل متی میں لکھا ہے کہ خداوند کے ایک فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کے کہا۔ اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور وہاں جب تک میں تجھے خبر نہ دوں ٹھہرا رہ۔ کیونکہ ہیرودیس اس لڑکے کو ڈھونڈے گا کہ مارڈالے۔‘‘

(رسالہ ریویو بابت ماہ جنوری ۱۹۰۳ء، ص۱۴، مسیح ہندوستان میں ص۲۱، خزائن ج۱۵ ص۲۳)

۸… ’’گلیل کے علاقہ میں ایک شہر ناصرہ نام تھا۔ جودراصل ایک پہاڑی پر بستا تھا۔ لوقا:۴/۲۹ اس جگہ کو مریم مقدسہ نے مصر سے واپس آکر اپنا جائے قرار بنایا تھا۔ ناصرہ بستی کا نام ناصرہ اس لئے ہوا کہ یہ لفظ تنصر سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں چھوٹاپودا۔ چنانچہ یسعیاہ:۱۱/۱ میں بعینہٖ یہ لفظ عبرانی میں موجود ہے۔ چونکہ مسیح اور اس کی والدہ مقدسہ مریم ایک مدت تک اس بستی میں رہے تھے۔ اس لئے مسیح بھی مسیح ناصری کہلوایا۔ (یوحنا:۱/۴۰)‘‘

(رسالہ ریویو بابت ماہ اگست ۱۹۱۶ء، ص۲۹۲)

قادیانی دلیل نمبر۲

۱… مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے اس ارادہ سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے پھر کشمیر کی طرف قدم اٹھاویں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ افغانستان اور کشمیر کی حد فاصل چترال کا علاقہ اور کچھ حصہ پنجاب کا ہے۔ اگر افغانستان سے کشمیر میں پنجاب کے رستے سے آویں تو قریباً اسّی کوس یعنی ۱۳۰ میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چترال کی راہ سے سو کوس کا فاصلہ ہے۔ لیکن حضرت مسیح نے بڑی عقلمندی سے افغانستان کا راہ اختیار کیا تااسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں جو افغان تھے فیضیاب ہوجائیں اور کشمیر کی مشرقی حد ملک تبت سے متصل ہے اس لئے کشمیر میں آکر بآسانی تبت میں جاسکتے تھے اور پنجاب میں داخل ہوکر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آویں۔ ہندوستان کے مختلف مقامات کی سیر کریں۔ سوجیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں کہ یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہوگا اور پھر

62

جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔ چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالباً وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے اور اخیر مارچ یا اپریل کے ابتداء میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا اور چونکہ وہ ملک بلادشام سے بالکل مشابہ ہے۔ اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کرلی ہوگی اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کی ہی اولاد ہوں۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۶۷،۶۸، خزائن ج۱۵ ص۶۹،۷۰)

۲… ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب کی موت سے بچنے کے متعلق ایک پیش گوئی یسعیاہ باب۵۳ میں اس طرح پر ہے اور اس کے بقائے عمر کی جو بات ہے سو کون سفر کرکے جائے گا۔ کیونکہ وہ علیحدہ کیا گیا ہے۔ قبائل کی زمین سے اور کی گئی شریروں کے درمیان اس کی قبر پر، وہ دولتمندوں کے ساتھ ہوا اپنے مرنے میں، جب کہ تو گناہ کے بدلے میں اس کی جان کو دے گا (تو وہ بچ جائے گا) اور صاحب اولاد ہوگا۔ اس کی عمر لمبی کی جائے گی۔ وہ اپنی جان کی نہایت سخت تکلیف دیکھے گا۔‘‘ (یعنی صلیب پر بے ہوشی پر، وہ پوری عمر پائے گا)

(کتاب تحفہ گولڑویہ ص۱۲۸، خزائن ج۱۷ ص۳۱۴، ۳۱۵)

الف… ’’اس آیت کا مطلب ہے کہ صلیب سے اتار کر مسیح کو سزایافتہ مردوں کی طرح قبر میں رکھا جائے گا۔ مگر چونکہ وہ حقیقی طور پر مردہ نہیں ہوگا۔ اس لئے اس قبر میں سے نکل آئے گا اور آخرعزیز اور صاحب شرف لوگوں میں اس کی قبر ہوگی اور یہی بات ظہور میں آئی۔ کیونکہ سری نگر محلہ خانیار میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس موقعہ پر قبر ہے۔ جہاں بعض سادات کرام اور اولیاء اللہ مدفون ہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲۸حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۳۱۴)

۳… حکیم خدا بخش مرزائی لکھتا ہے:

بست ویکم (اکیسواں): یہ کہ مسیح صاحب اولاد ہوگا۔ جس کی تصدیق توریت سے یوں ہوتی ہے۔ جب کہ تو گناہ کے بدلے میں اس کی جان کو دے گا تو وہ بچ جائے گا اور صاحب اولاد ہوگا اس کی عمر لمبی کی جائے گی۔ وہ اپنی جان کی نہائیت سخت تکلیف دیکھے گا۔ دیکھو کتاب یسعیاہ باب:۵۳، درس:۱۰ جس سے صاف ظاہر ہے کہ کسی لغزش کی وجہ سے مسیح پر ایک جانکاہ دکھ آئے گا۔ بہ منطوق آیت: ’’مااصابکم من مصیبۃ فبما کسبت

63

ایدیکم‘‘مگر وہ بفضل خدا اس مصیبت سے بچ جائے گا اور اس کی عمر دراز ہوگی۔

بست ودوم: یسعیاہ باب:۵۱، درس:۱۵ میں ہے جھکا یا ہوا، بند ہوا، کہاں سے آزاد کیا جائے گا۔وہ غارمیں نہ مرے گا اوراس کی روٹی کم نہ ہوگی۔ چنانچہ احادیث ذیل سے ظاہر ہے کہ اس واقعہ صلیب کے بعد ۸۷ برس اور زندہ رہا اور صاحب اولاد بھی ہوا۔ چنانچہ افغانستان میں اب تک عیسیٰ خیل قوم موجود ہے۔

(کتاب عسل مصفی طبع ثانی حصہ اوّل ص۴۵۱،۴۵۲)

قادیانی دلیل کی ترید

الف… مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (مسیح ہندوستان میں ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۷۰) میں یہ تو لکھ دیا کہ: ’’اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں۔‘‘ مگر یہ نہ بتایا کہ پرانی تاریخیں کس زبان میں ہیں۔ ان کے مصنف کون ہیں اور کس زمانے میں ہوئے ہیں اور کہاں ہوئے ہیں؟ خالی زبانی باتیں کون مان سکتا ہے؟ ذرا ان پرانی تاریخوں کی اصلی عبارتیں تو نقل کردیتے جو بتلاتی ہیں کہ (بقول آپ کے) حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہوگا۔

ب… مرزاقادیانی کے الفاظ بھی قابل غورہیں۔ مرزاقادیانی کہتا ہے: ’’سیر کیا ہوگا، گئے ہوں گے، ٹھہرے ہوں گے، کوچ کیا ہوگا، کرلی ہوگی، رہے ہوں گے۔‘‘ واہ صاحب واہ! کیسے زبردست دلائل مرزاقادیانی پیش کررہے ہیں۔ ساتھ یہ بھی ملاحظہ ہوکہ: ’’اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ہی کی اولاد ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲۱۴، خزائن ج۱۷ ص۳۱۵)

قربان جائیے ایسے استدلال پر۔ افغانوں میں تو محمدزئی، عمرزئی اور یوسف زئی قومیں بھی توہیں۔واضح ہو کہ: ’’ایک امر کا ممکن ہونا اور چیز ہے اور فی الواقع اس امر کا واقع ہونا اور چیز ہے۔‘‘

(دیکھو رسالہ ریویوبابت ماہ ستمبر۱۹۱۰ء، ج۹ص۳۴۸)

ج… واضح ہو کہ پرانے عہد نامے میں سے یسعیاہ نبی کے صحیفہ کا باب:۵۳ حضرت مسیح ناصری کے حق میں نہیں ہے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی اور ان کے مرید حکیم خدا بخش مصنف ’’عسل مصفی‘‘ نے لکھا ہے بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو سارا باب:۵۳ یسعیاہ کی کتاب کا سیدنا محمدa کے حق میں ہے۔ (دیکھو رسالہ تشحیذالاذہان بابت ماہ دسمبر۱۹۱۹ء، ص۲۰) آج سے کئی سال پیشتر جناب امام فن مناظرہ اہل کتاب سیدناصر الدین محمد ابوالمنصورنے اپنی مشہور ومعروف

64

کتاب (میزان المنیران درجواب میزان الحق ص۱۷،۱۸) پر دلائل سے ثابت کیا تھا کہ یسعیاہ:۵۳ باب میں کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ وہ حضرت پیغمبراسلامa کے حق میں ایک پیش گوئی ہے۔

د… حضرت مسیح نے نہ شادی کی اور نہ آپ کی اولاد ہوئی۔ اب ذیل میں خود مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں کی تحریروں سے اس امر کو ثابت کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نہ کوئی بیوی تھی اور نہ آپ کی کوئی اولاد تھی۔

۱… ’’اور کوئی اس (یعنی مسیح) کی بیوی بھی نہیں تھی۔‘‘

(ریویو ج۱ نمبر۳ص۱۲۴)

۲… ’’اور ظاہر ہے کہ دنیوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی آل نہیں تھی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۹۹ حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۳۶۳)

۳… ’’سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی تحقیق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی ظاہری اولاد نہ تھی۔‘‘

(الفضل مورخہ ۲۹؍جنوری۱۹۲۵ء ص۶)

۴… ’’کیا مریم کا بیٹا مسیح جس کا کوئی باپ نہ تھا نہ بیوی اور نہ بچہ تھا۔ اس دنیا کے ایک عام آدمی کے لئے کامل نمونہ ہوسکتا ہے۔‘‘

(ریویوبابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء ص۳۱)

۵… ’’یہ وہی بات ہے جو ہم رسول اللہ a کی شان میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی۔ پھر کس طرح معلوم ہو کہ وہ اپنی بیوی بچوں سے اچھا سلوک کرسکتے تھے۔‘‘

(الفضل ضمیمہ ۸؍مئی ۱۹۲۸ء نمبر۹۴)

۶… ’’عام خیال حضرت مسیح کے متعلق یہی تھا کہ انہوں نے نکاح نہیں کیا۔‘‘

(ریویو ج۴ نمبر۶ ص۲۳۷، ۱۹۰۵ء)

۷… ’’دیکھو مسیح نے ایک بھی بیوی نہیں کی۔‘‘

۸… ’’یسوع فرقہ صوفیا بنام اسیر میں داخل تھا جو شادی نہ کرتے تھے۔‘‘

(اخبار بدر ۲۰؍جولائی ۱۹۱۱ء ص۴)

۹… ’’حضرت عیسیٰ بلا باپ تھے ۔ صاحب اولاد ہونا معلوم نہیں ۔ غالباً نہ تھے۔‘‘

(الفضل مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۱۷ء ص۵)

۱۰… ’’اگر کوئی عیسائی شادی کرے اور حضرت عیسیٰ سے پوچھے کہ حضرت میں نے شادی کی ہے۔ بیوی بچوں سے کیا سلوک کروں تو وہ کیا جواب دے سکتے ہیں۔ جب کہ خود

65

انہوں نے شادی نہیں کی۔‘‘

(الفضل مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۲۸ء ص۴)

۱۱… ’’مسیح کا شادی نہ کرنا دلالت کرتا ہے کہ آپ کی تعلیم ناقص ہے وجہ یہ کہ انبیاء اور مرسلین دوسروں کے لئے نمونہ بن کر آتے ہیں۔‘‘

(تشحیذ الاذہان ج۱۶ نمبر۱۱ ص۴)

۱۲… حضرت مسیح نے نہ صرف تجرد کو تاہل پر ترجیح دی بلکہ اسے آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے کا ذریعہ بتایا ہے اور خود بھی انہوں نے شادی نہیں کی۔‘‘

(الفضل مورخہ ۱۲؍جون ۱۹۲۸ء ص۵۲)

۱۳… ’’اصیل مسیح نے نکاح نہیں کیا تھا اور نہ اس کی کوئی اولاد ہوئی۔‘‘

(اعلام الناس حصہ اوّل ص۵۹)

۱۴… ’’دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرq سے روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے تھے جب شام پڑ جاتی تو جنگل کا ساگ پات کھالیتے اور چشموں کا پانی پی لیتے اور مٹی کا تکیہ بناتے (یعنی زمین پر ہی بلابستر کے لیٹ رہتے) پھر کہتے کہ نہ تو میرا گھر ہے کہ جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ کوئی اولاد ہے کہ جن کے مرنے کا کوئی غم ہو۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۱۹۱، ۵۸۳، مصنفہ خدا بخش مرزائی، بحوالہ کنزالعمال ج۲ ص۷۱)

نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نے نہ شادی کی اور نہ ان کی کوئی بیوی تھی اور کتاب (تکملہ مجمع البحار ص۸۵، درمنثور ج۲ ص۲۹، حیات القلوب ج۱ ص۳۶۱، تاریخ روضۃ الصفا ج۱ ص۱۳۲) کے مطالعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ پس افغانوں کی قوم عیسیٰ خیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اولاد قرار دینا سراسر غلط ہے۔

قادیانی دلیل نمبر۳

الف… مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

۱… ’’حال ہی میں جو روسی سیاح نے ایک انجیل لکھی ہے جس کو لندن سے میں نے منگوایا ہے وہ بھی اس رائے میں ہم سے متفق ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے۔‘‘

(ملخص راز حقیقت ص۱۷ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۶۱)

۲… ’’تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پاکر ضرور ہندوستان کا سفر کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اورپھر کشمیر میں

66

ایک مدت تک ٹھہرے اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے۔ ان کو ہدایت کی اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوزآسف نبی کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس واقعہ کی تائید وہ انجیل بھی کرتی ہے جو حال ہی میں تبت سے برآمد ہوئی ہے۔ یہ انجیل بڑی کوشش سے لندن سے ملی ہے۔ ہمارے مخلص دوست شیخ رحمت اللہ تاجر قریباً تین ماہ تک لندن میں رہے اور اس انجیل کو تلاش کرتے رہے۔ آخر ایک جگہ سے میسر آگئی۔ یہ انجیل بد ھ مذہب کی ایک پرانی کتاب کا گویا ایک حصہ ہے۔ بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ شہادت ملتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک ہند میں آئے۔‘‘

(راز حقیقت ص۹ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۶۱)

۳… ’’حال میں ایک انجیل تبت سے دفن کی ہوئی نکلی ہے جیسا کہ وہ شائع بھی ہوچکی ہے۔ بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی بعض واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو۔ جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے بکلی منہ نہیں پھیرنا چاہئے، جو بہت سی غلطیوں کو صاف کرکے دنیا کو صحیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب!‘‘

(ست بچن ص۱۶۴ حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۳۰۷)

۴… ’’حال میں جو تبت سے ایک انجیل کسی غار میں سے برآمد ہوئی ہے جس کو ایک روسی فاضل نے کمال جدوجہد سے چھپواکر شائع کردیا ہے۔ جس کے شائع کرنے سے پادری صاحبان بہت ناراض پائے جاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی کشمیر کی قبر کے واقعہ پر ایک گواہ ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۸ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۳۵۶)

۵… ’’اور پھر دوسرا مآخذ اس تحقیق کا مختلف قوموں کی وہ تاریخی کتابیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان اور تبت اور کشمیر میں آئے تھے اور حال میں جو ایک روسی سیاح نے بدھ مذہب کی کتابوں کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت کیا ہے۔ وہ کتاب میں نے بھی دیکھی ہے اور میرے پاس ہے وہ کتاب بھی اس رائے کی مؤید ہے۔‘‘

(کشف الغطا ص۲۵، خزائن ج۱۴ ص۲۱۱)

ب… حکیم خدا بخش مرزائی لکھتا ہے:

۱… ’’ناٹووچ روسی سیاح اپنی کتاب میں جو مسیح کی نامعلوم زندگی کی نسبت لکھ کر شائع

67

کی ہے۔ اس میں وہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ۳۶سال کی عمر میں حضرت مسیح نیپال میں تھے۔ تبت و کشمیر وہندوستان آئے تھے۔‘‘

(کتاب عسل مصفی حصہ اوّل ص۵۸۵، نیز دیکھو رسالہ احمدی بابت ۱۹۱۹ء ص۲۵)

۲… ’’ناٹووچ روسی سیاح لکھتا ہے کہ ہندوستان کے برہمنوں سے بھی مسیح علیہ السلام کے مباحثے ہوئے اور جب نیپال میں تھے تو اس وقت ان کی عمر ۳۶برس کی تھی۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص ۱۹۲،۱۹۳)

قادیانی دلیل کی تردید

مرزا غلام احمد قادیانی کا حضرت عیسیٰ ابن مریمm کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ:

۱… حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ پیدا ہوئے تھے۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۳۳ سال کی عمر میں ملک شام میں صلیب پر چڑھائے گئے تھے۔

۳… حضرت ابن مریم صلیب پر نہ مرے تھے بلکہ بے ہوش ہوگئے تھے۔

۴… حضرت یسوع مسیح کے زخموں پر مرہم عیسیٰ سے علاج کیا گیا۔

۵… حضرت مسیح ابن مریم نے اس واقعہ صلیب کے بعد ملک شام سے ہجرت کی۔

۶… آپ ملک عراق، ایران، افغانستان، پنجاب، ہندوستان، تبت وغیرہ کی طرف صلیبی واقعہ کے بعد تشریف لائے۔

۷… بعد ازیں ۱۲۰سال کی عمر پاکرحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ملک کشمیر میں وفات پائی۔

۸… آپ کی قبر شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔

یہ ہے مرزاقادیانی کا مذہب۔ اب روسی سیاح مسٹر نکوسن نوڈوچ کی سنو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مسٹر نکوسن نوڈوچ روسی سیاح نے ’’یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات‘‘ بودہوں مٹھ واقع مقام لیہ دارالخلافہ سے دریافت کرکے فرانسیسی اور انگریزی زبان میں شائع کئے تھے۔ اس کا ترجمہ اردو زبان میں لالہ جے چند سابق منتری آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب نے کیا۔ مطبع ست دھرم پرچارک جالندھر شہر میں۱۸۹۹ء میں یہ اردو ترجمہ چھپا تھا۔ مسٹر ناٹووچ روسی سیاح لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کے یہ حالات ۱۸۸۷ء میں بودھوں کے مٹھ واقعہ مقام لیہ کے بدھ لامہ نے مجھے بتلائے تھے۔ اب ذیل میں اس کتاب ’’یسوع مسیح کی نامعلوم

68

زندگی کے حالات‘‘ کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔

اس کتاب میں ۱۴ باب ہیں۔ باب اوّل شامی تجار کی زبانی مسیح علیہ السلام کے صلیب دئیے جانے کی خبر۔ باب دوم بنی اسرائیل کے حالات۔ باب سوم بنی اسرائیل کے جاہ وجلال کے واقعات۔ اس کے بعد یوں لکھا ہے:

باب چہارم

۸… یہ خدائی بچہ جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا۔ بچپن سے ہی گمراہوں کو توبہ کے ذریعہ گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی ترغیب دے کر ایک خدا کا وعظ کرنے لگا۔

۹… چاروںطرف سے لوگ اس کا وعظ سننے آیا کرتے اور اس بچہ کے وعظ کو سن کر حیران ہوا کرتے۔ قوم اسرائیل کے تمام لوگ اس بات میں متفق الرائے تھے کہ روح ابدی اس بچہ میں موجود ہے۔

۱۰… جب عیسیٰ تیرہ برس کی عمر کو پہنچا کہ جس عمر میں اسرائیلی لوگ شادی کیا کرتے تھے۔

۱۱… تو دولت مند اور امیر لوگ عیسیٰ کے والدین کی جائے سکونت میں جہاں وہ اپنے گذارہ کے لئے بیوپار کرتے تھے۔ آکر جمع ہونے لگے تاکہ وہ نوجوان عیسیٰ کو جو قادر مطلق خدا کے نام کا وعظ کرنے میں مشہورہوچکا تھا اپنا داماد دیں۔

۱۲… یہ وہ وقت تھا جب کہ عیسیٰ چپ چاپ والدین کا گھر چھوڑ کر یروشلم سے نکل گیا اور سوداگروں کے ساتھ سند ھ کی طرف روانہ ہوا۔

۱۳… تاکہ وہ تعلیم الٰہی میں کمالیت حاصل کرے اور بدھ دیو کے قوانین کا مطالعہ کرے۔

(یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات ص ۴۰،۴۱)

باب پنجم

۱… نوجوان عیسیٰ جس کو خدا نے برکت دی تھی۔ چودہ برس کی عمر میں سندھ کے اس پار آیا اور الیشورکی پیاری سرزمین میں آریوں کے درمیان رہنے لگا۔

۲… اس عجوبہ بچہ کی شہرت سارے شمالی ہند میں پھیل گئی اور جب وہ پنجاب اور راجپوتانہ میں سے گزرا تو جین دیو کے پیروئوں نے اس سے درخواست دی کہ وہ ان کے پاس رہے۔

69

۳… لیکن وہ جین کے گمراہ پوجاریوں کے پاس نہ رہا اور جگن ناتھ واقع ملک اڑیسہ کو چلا گیا۔ جہاں ویاس کرشن کے پھول (استخوان) مدفون تھے۔ یہاں کے برہمنوں نے اس کا بہت آدرستکار کیا۔

۴… برہمنوں نے عیسیٰ کو وید پڑھائے اور ان کا مطلب سمجھایا اور دعاکے ذریعے شفا بخشنا، لوگوں کو وید اور شاستروں کا پڑھانا اور سمجھانا اور آدمیوں سے بھوت، پریت نکال کر ان کو تندرست کرنا سکھلایا۔

۵… جگن ناتھ راجن گڑھ بنارس اور دیگر متبرک شہروں میں وہ چھ برس رہا۔ (ص۴۱)

باب ششم

۱… برہمنوں اور کشتریوں نے عیسیٰ کے ان اپدیشوں کو جو وہ شودروں کو دیا کرتا تھا سن کر عیسیٰ کے قتل کی ٹھانی۔ چنانچہ انہوں نے اس مطلب کے لئے اپنے نوکروں کو نوجوان پیغمبر کی تلاش میں بھیجا۔

۲… مگر عیسیٰ کو شودروں نے اس منصوبے سے مطلع کردیا تھا ۔ پس وہ رات کو ہی جگن ناتھ سے نکل گیا اور گوتم کے پیروئوں کو کوہستانی ملک میں جہاں کہ ساکی منی بدھ دیوپیدا ہوئے تھے اور جہاں کہ لوگ آپ کو مانتے تھے جابسا اور ان لوگوںکے درمیان رہنے لگا ۔ (ص۴۴)

۳… میں کمالیت حاصل کرکے مصنف مزاج عیسیٰ سوتروں کے متبرک خرطوم کو پڑھنے لگا۔

۴… چھ برس کے بعد عیسیٰ نے جس کو بدھ دیونے اپنے شاستر پھیلانے کے لئے منتخب کررکھا تھا ان متبرک خرطوموں کی تشریح کرنے میں کامل مہارت حاصل کرلی تھی۔

۵… اس وقت عیسیٰ نیپال اور ہمالہ کے پہاڑوں کو چھوڑ کر راجپوتانہ میں آنکلا اور مختلف قوموں کو اس بات کا وعظ کرتا ہوا کہ انسان کمالیت حاصل کرنے کی قابلیت رکھتا ہے مغرب کی طرف چلا گیا۔ (ص۴۵)

باب ہشتم

۱… عیسیٰ کے اپدیشوں کی شہرت گردونواح کے ملکوں میں پھیل گئی اور جب وہ ملک فارس میں داخل ہوا تو پجاریوں نے ڈرکر لوگوں کو اس کا اپدیش سننے سے منع کردیا۔

(ص۴۸،۴۹)

70

باب نہم

۱… عیسیٰ جس کو خالق نے گمراہوں کو سچے خدا کا راستہ بتانے کے لئے پیدا کیا تھا۔۲۹برس کی عمر میں ملک اسرائیل میں واپس آیا۔

(ص۵۱)

باب دہم

۱… حضرت عیسیٰ اسرائیلیوںکا حوصلہ جو ناامیدی کے چاہ میں گرنے والے تھے۔ خدا کے کلام سے مضبوط کرتا ہوا گائوں بہ گائوں پھرا اور ہزاروں آدمی اس کا اپدیش (یعنی وعظ) سننے کے لئے اس کے پیچھے ہولئے۔

باب سیزدہم

۱… حضرت عیسیٰ اس طرح تین برس تک قوم اسرائیل کو ہر قصبہ اور ہر شہر میں سڑکوں پر اور میدانوں میں ہدایت کرتا رہا اور جو کچھ اس نے کہا وہی وقوع میں آیا۔

(ص۶۱)

باب چہاردہم

۱… حاکم کے حکم سے سپاہیوں نے عیسیٰ اور ان دو چوروں کو پکڑلیا اور ان کو پھانسی کی جگہ پر لے گئے اور ان صلیبوں پر جو زمین میں گاڑی گئی تھیں چڑھادیا۔

۲… عیسیٰ اور دو چوروں کے جسم دن بھر لٹکتے رہے جو ایک خوفناک نظارہ تھا اور سپاہیوں کا ان پربرابر پہرہ رہا۔ لوگ چاروں طرف کھڑے رہے۔ پھانسی یافتوں کے رشتہ دار دعا مانگتے رہے اور روتے رہے۔

۳… آفتاب غروب ہونے کے وقت عیسیٰ کا دم نکلا اور اس نیک مرد کی روح جسم سے علیحدہ ہوکر خدا میں جاملی۔

(ص۶۵)

نوٹ: اخبار (الفضل قادیان ص۸، مورخہ ۱۰ نومبر۱۹۲۶ء) پر مذکورہ بالا کتاب کا خلاصہ مطلب یوں لکھا ہے: ’’اس کتاب میں چودہ باب ہیں۔ باب اوّل شامی تجار کی زبانی مسیح کے صلیب دئیے جانے کی خبر۔ باب دوم بنی اسرائیل کے حالات۔ باب سوم بنی اسرائیل کے جاہ وجلال کے واقعات۔ باب چہارم مسیح کی پیدائش۔ باب پنجم مسیح کا ہندوستان

71

کے ملک سندھ میں چودہ سال کی عمر میں آنا اور پھر سیاحت ہند۔ باب ششم برہمنوں کی مسیح پر خفگی۔ باب ہفتم بت پرستوں کا بت پرستی چھوڑ کر مسیح کے پیروبننا اور برہمنوں سے مباحثات مذہبی۔ باب ہشتم مسیح کا ہندوستان سے ایران جانا۔ باب نہم مسیح کا ۲۹ سالہ عمر میں شام پہنچنا اور تین سال تک تبلیغ کرنا۔ باب دہم مسیح کے تبلیغی حالات اور یہودیوں کا مسیح کو دکھ دینا۔ باب یازدہم یہودیوں کا حاکم وقت کے پاس فریادکرنا اور مسیح کو عدالت میں جوابدہی کے لئے مجبور کرنا۔ باب دوازدہم مسیح کے پیچھے جاسوسوں کا پھرنا۔ باب سیزدہم تین سال مختلف ممالک شام کے شہروں میں مسیح کے تبلیغی حالات۔ باب چہاردہم ۳۳سالہ عمر میں مسیح کا صلیب دیاجانا اور پھر خاتمہ۔‘‘ نہ تین دن قبر میں رہنے کا ذکر نہ آسمان پر جانے کا ذکر۔

بھلا انصاف سے بتائو کہ مرزا قادیانی کے مذہب وعقیدہ کو اس سے کیا تعلق ہے۔ مرزا قادیانی کا مذہب تو یہ ہے کہ واقعہ صلیبی کے بعد یعنی ۳۳سال کے بعد مسیح نے مشرقی ملکوںکی سیاحت کی مگر اس افسانہ میں لکھا ہے کہ صلیبی واقعہ سے بیس سال پہلے عیسیٰ ہندوستان وغیرہ میں آیا۔

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے۔‘‘

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص۷۳، خزائن ج۱۵ ص۷۵)

قادیانی دلیل نمبر۴

بھلا انصاف سے بتائو کہ مرزا قادیانی کے مذہب وعقیدہ کو اس سے کیا تعلق ہے۔ مرزا قادیانی کا مذہب تو یہ ہے کہ واقعہ صلیبی کے بعد یعنی ۳۳سال کے بعد مسیح نے مشرقی ملکوںکی سیاحت کی مگر اس افسانہ میں لکھا ہے کہ صلیبی واقعہ سے بیس سال پہلے عیسیٰ ہندوستان وغیرہ میں آیا۔

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے۔‘‘

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص۷۳، خزائن ج۱۵ ص۷۵)

قادیانی دلیل نمبر۴

مرزا قادیانی اور اس کی کذب بیانی

شہزادہ یوزآسف کے حالات

کتاب اکمال الدین کے حوالے: واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی بعض کتابوں مثلاًکتاب البریۃ، راز حقیقت، ایام الصلح، نورالقرآن، ست بچن، کشف الغطا، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، مسیح ہندوستان میں، حقیقت الوحی، تحفہ قیصریہ، تذکرۃ الشہادتین، الہدیٰ، تحفہ گولڑویہ، کشتی نوح، اعجاز احمدی وغیرہ میں اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ: ’’جو سری نگر میں محلہ خانیارمیں یوزآسف کے نام سے قبر موجود ہے وہ درحقیقت بلاشک وشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔‘‘

(راز حقیقت ص۲۰، خزائن ج۱۴ ص۱۷۲)

72

اپنے اس دعوے کے ثبوت کے لئے مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے:’’وتوا تر علٰی لسان اھلھا انہ قبرنبی کان ابن ملک وکان من بنی اسرائیل وکان اسمہ یوزاٰسف فلیسئلھم من یطلب الدلیل واشتھر بین عامتھم ان اسمہ اٰلاصل عیسٰی صاحب وکان من الانبیاء وھاجر الٰی کشمیر فی زمان مضی علیہ من نحو۱۹۰۰ سنۃ واتفقوا علی ھذہ الانبیاء بل عندھم کتب قدیمۃ توجدفیھا ھذہ القصص فی العربیۃ والفارسیۃ ومنھا کتاب سمی اکمال الدین وکتب اخری کثیرۃ الشھرۃ… ثم معذٰلک کان یوزاٰسف سمی کتاب الانجیل وماکان صاحب الانجیل الاعیسٰی فخذ ماحصحص من الحق واترک الا قاویل وان کنت تطلب التفصیل فاقرؤا کتاباً سمی باکمال الدین تجدفیہ کلما تسکن الغلیل‘‘

(کتاب الہدیٰ ص۱۰۹، خزائن ج۱۸ ص۳۶۱)

نوٹ: اس کتاب اکمال الدین کا حوالہ کتاب (راز حقیقت ص۱۸، اخباربدر مورخہ ۷؍نومبر۱۹۰۷ء ص۳، رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ۱۹۰۳ء، ص۳۳۹، اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۵ء، ص۵، حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب عسل مصفی حصہ اوّل ص۵۷۴تا۵۷۶،۵۸۵، غلام رسول مرزائی آف راجیکی رسالہ التنقید ص۲۵تا۲۷، سید صادق حسین مرزائی مختار عدالت اٹاوہ کی کتاب کشف الاسرار ص۱۴، رسالہ دروس الصلیب ص۳۷،۳۸، رسالہ واقعات صلیب از اناجیل مروجہ ص۲۸،۲۹، رسالہ مباحثہ سارچور ص۴۲) پر بھی دیا گیا ہے:

جواب: واضح ہو کہ کتاب اکمال الدین ’’واتمام النعمۃ فی اثبات الغیبیۃ وکشف الخیرۃ‘‘ کے مصنف شیخ السعید ابی جعفر محمد بن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ القمی ہیں۔ یہ کتاب ایران میں ناصر الدین شاہ ایرانی کے عہد میں چھپی ہے۔ تاریخ طبع ۱۳۰۱ھ ضخامت کتاب علاوہ تقریظات وغیرہ کے تین سو تراسی صفحہ ہے۔

(اخبار الفضل قادیان ص۴، مورخہ یکم؍مئی ۱۹۱۷ء)

میں نے اس کتاب کا عربی نسخہ چار دفعہ دیکھا ہے اور بڑے غور سے اس کے صفحہ۳۱۷تا۳۵۹ کا مطالعہ کیا ہے۔ ماہ مئی ۱۹۲۰ء میں اور ۲۹؍مارچ ۱۹۳۰ء بروز ہفتہ جناب مولوی سید علی حائری صاحب مجتہداہل تشیع لاہور کے پاس یہ کتاب دیکھی تھی اور ماہ دسمبر۱۹۲۲ء میں جمعہ کے دن قادیان میں فضل الدین مرزائی وکیل کی مہربانی سے مجھے یہ

73

کتاب ملی تھی۔ پھر ۱۹۳۱ء میں یہ کتاب دیکھی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں نے اس کے بارے میںخدا کے بندوں کو بہت دھوکہ دیا ہے اور جھوٹ بولا ہے۔ اب میں اسی کتاب ’’اکمال الدین‘‘ اور اس کے اردو ترجمے کتاب ’’شہزادہ یوزآسف اور حکیم بلوہر‘‘ مطبوعہ ۱۸۹۶ء مفید عام پریس آگرہ (جس کا حوالہ کتاب (راز حقیقت ص ۲۰، خزائن ج۱۴ ص۱۷۲) پر بھی دیا گیا ہے) کے حوالے سے شہزادہ یوز آسف اور اس کے باپ کے حالات مختصر طور پر ذیل میں لکھتا ہوں: ’’وما توفیقی الاب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

یوزآسف کے باپ کا حال

’’ان ملکا من ملوک الھندکان کثیر الجند واسع المملکۃ مھیبا فی النفس مظفرا علٰی الاعداء وکان مع ذالک عظیم النھمۃ فی شھوات الدینا ولذاتھا وملاعیھا مؤثر الھواہ مطیعالہ وکان اکرم الناس علیہ وانصمھم لہ فی نفسہ من ذین لہ وحسن لائہ وابغض الناس الیہ واغشھم لہ فی نفسہ من امرہ بغیر ہاوترک امرہ فیھا وقد کان اصاب الملک فیھا فی حداٰثۃ سنۃ وعنفوان شبابہ‘‘

(اکمال الدین ص۳۱۷،۳۱۸)

’’اگلے زمانہ میں ایک بادشاہ صاحب لشکر جرار ومالک ملک وسیع ہندوستان میںگزرا ہے۔ بڑا رعب اس کا رعایا پر چھایا ہوا تھا اور ہمیشہ دشمنوں پر ظفر یاب رہتا تھا۔ اس پر بھی اس کی طبیعت میں حرص بہت تھی۔ دنیوی لذتیں حاصل کرنے میں اور مزے اڑانے میں اور کھیل کود میں اور اپنی خواہشیں پوری کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتا تھا اور اس کا بڑا خیر خواہ اور دوست صادق وہ شخص تھا جو اس کی بدافعالیوں کی تعریف کرتا رہے اور اس کی بدکاریوں کو اچھا ظاہر کرے اور بڑابدخواہ اور دشمن اس کے نزدیک وہ شخص تھاجو اسے ایسی حرکتیں ترک کرنے کو کہے اور یہ بادشاہ ابتدائے جوانی اور کمسنی میں تخت نشین ہوگیا تھا اور بہت صاحب فہم اور خوش بیان تھا اور تدبیر ملک اور بندوبست رعایا سے خوب ماہر تھا اور سب لوگ اس کے ان اوصاف کو جانتے تھے۔ اس سبب سے اس کے فرمانبردار تھے اور بڑے بڑے سرکش اور اہل رائے اس کے تابع حکم وبندہ فرمان تھے اور کچھ جوانی کی بے ہوشی میں کچھ بادشاہی وحکمرانی کے نشہ میں کچھ شہوت وخودبینی کی مستی میں وہ سرشار تو تھا ہی، دشمنوں پر فتح یاب

74

ہونے سے اور رعایا کے مطیع اور فرمانبردار رہنے سے یہ سب نشہ اور بھی چوگنا ہوگیا تھا اور بہت غرور وتکبر کیا کرتا تھا اور سب کو حقیر سمجھتا تھا اور لوگوں کی تعریف اور خوشامد سے اس کو اپنے کمال عقل وخوبی رائے پر بھروسہ بڑھتا ہی جاتا تھا اور تحصیل دنیا کے سوا اس کی کوئی آرزو اور مقصد نہ تھا اور دنیا کو جس طرح سے وہ چاہتا تھا۔ اسی طرح بآسانی اسے حاصل ہوجاتی تھی۔ لیکن اس کے یہاں کوئی لڑکا نہیں ہوا تھا، لڑکیاں ہی تھیں اور اس کے بادشاہ ہونے سے پیشتر اس کے ملک میں دینداری بہت پھیلی ہوئی تھی اور بہت سے دیندار لوگ تھے۔ شیطان نے اس کے دل میں دین سے عداوت اور دینداروں سے دشمنی پیدا کردی اور اہل دین کو ایذاء رسانی کرنے لگا اور اپنے زوال سلطنت کے ڈر سے ان لوگوں کو اپنے ملک سے نکال دیا اور بت پرستوں کو اپنا مقرب کیا اور ان کے لئے چاندی سونے کے بت بنوائے اور ان کو اور سب پر بزرگی دی اور ان بتوں کو سجدہ کیا۔ جب لوگوں نے یہ حال دیکھا تو وہ بھی بتوں کو پوجنے لگے اور دینداروں کی توہین کرنے لگے۔‘‘

(شہزادہ یوز آسف اور حکیم بلوہر ص۲تا۴)

شہزادہ یوز آسف کی پیدائش

’’فولد للملک فی تلک الایام بعد اماسہ من الذکور غلام لم یر الناس مولودا مثلہ قط حسنا وجمالا وضیاء فبلغ السر ورمن الملک مبلغا کادان یشرف منہ علٰی ھلاک نفسہ من الفرح وزعم ان الاوثان التی کان یعبدھا التی وھبت لہ الغلام فقسم عامۃ ماکان فی بیوت اموالہ علٰی بیوت اوثانہ وام الناس بالاکل والشرب سنۃ وسمی الغلام یوز اٰسف… الخ‘‘

(اکمال الدین ص ۳۲۱،۳۲۲)

’’اور اسی زمانہ میں جب کہ بادشاہ کو کوئی امید لڑکاہونے کی باقی نہ رہی تھی۔ اس کے یہاں ایک ایسا خوش جمال لڑکا پیدا ہوا، جس کا ثانی چشم روز گار نے نہ دیکھا ہوگا۔ اس لڑکے کے پیدا ہونے سے اتنی خوشی بادشاہ کو ہوئی کہ قریب تھا کہ شادی مرگ ہوجائے اور اس نے یہ گمان کیا کہ جن بتوں کی ان دنوں میںپرستش کیا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ فرزند اسے عنایت کیا ہے۔ اسی خیال سے اس نے تمام خزانہ اپنا بت خانوں پر تقسیم کردیا اور رعایا کو حکم دیا کہ سال بھر تک خوشی کریں اور اس لڑکے کا نام یوز آسف رکھا اور اس کے طالع دیکھنے کے لئے منجموں کو اور اہل علم کو

75

جمع کیا۔ ان سب نے غور وتامل کے بعد عرض کیا کہ اس کے طالع سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس قدر شرف وبزرگی اسے حاصل ہوگی کہ ہندوستان میں کبھی کسی کو حاصل نہ ہوئی ہوگی اور جتنے منجم تھے۔ سب نے ہمزبان ہوکر یہی بات کہی، لیکن ان میں سے ایک منجم نے یہ کہا کہ میرا ایسا گمان ہے کہ اس لڑکے کے طالع میں جو شرف وبزرگی معلوم ہوتی ہے۔ وہ شرف آخرت ہے اور مجھے یہ گمان ہے کہ یہ لڑکا عابدوں کا اور اہل دین کا پیشوا ہونے والا ہے اور عقبیٰ کے مرتبوں میں سے مرتبہ بلند پر یہ فائز ہونے کو ہے۔ اس لئے کہ جو بزرگی اس کے طالع میں مجھے معلوم ہوتی ہے۔ بزرگی دنیا کو اس سے کوئی نسبت نہیں ہے۔‘‘

(شہزادہ یوزآسف وحکیم بلوہر ص۱۴)

بلوہر کا لنکا سے یوزآسف کے پاس آنا

’’وشاع خبرہ فی آفاق الارض وشھر یتفکرہ وجمالہ وکما لہ وفھمہ وعقلہ وزھادتہ فی الدنیا وھوا منھا علیہ فبلغ ذلک رجلامن النساک یقال لہ بلوھر بارض یقال لہ سراندیپ وکان رجلانا سکا حکیما فرکب البحرحتی اتی ارض سولابط ثم عمدالی باب ابن الملک فلزمہ وطرح عنہ ذے النساک ولبس ذی التجار وتردد الی باب ابن الملک حتی عرف الاھل والاحیاء‘‘

(اکمال الدین ص۳۲۵)

’’اس لڑکے کی عقل وعلم وکمال وفکر وتدبیر وفہم وزہد وترک دنیا کا شہرہ دور دور پھیل گیا اور ایک شخص نے جو کہ اہل دین واہل عبادت میں سے تھا اور اس کا نام بلوہر تھا یہ خبر لنکا میں سنی اور یہ شخص بڑا عابد اور حکیم دانا تھا۔ اس نے دریا کا سفر کیا اور سولابط کی زمین کی طرف آیا اور شہزادہ کی ڈیوڑھی کا ارادہ ٹھان لیا اور عابدوں کا لباس اتار ڈالا، تاجروں کی سی وضع بنائی اور اس لڑکے کی ڈیوڑھی پر آمدورفت شروع کی۔ یہاںتک کہ بہت سے ایسے لوگوں سے جو بادشاہ کے لڑکے کے دوست ورفیق تھے اور اس کے پاس آیاجایا کرتے تھے۔ اس سے جان پہچان ہوگئی۔‘‘

(شہزادہ یوز آسف وحکیم بلوہر ص۲۶، ۲۷)

کتاب (اکمال الدین ص۳۲۶تا۳۵۵، کتاب شہزادہ یوز آسف وحکیم بلوہر ص۲۸تا۱۲۲) میں بلوہر کی ملاقات اور گفتگو کا مفصل حال لکھا ہے۔ اس کے آگے جو کچھ درج ہے اس کا خلاصہ ذیل میں لکھا جاتا ہے:

76

حکیم بلوہر کا رخصت ہونا

’’جب بلوہر کی گفتگو یہاں پہنچی تو یوز آسف سے رخصت ہوا اور اپنے گھر کی طرف پلٹ گیا اور چند روز اور ا س کی خدمت میں آمدورفت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے معلوم ہوگیا کہ بہتری وفلاح اور ہدایت وصلاح کے دروازے اس کے کھل گئے اور راہ حق اور دین روشن کی ہدایت اسے ہوگئی۔ پھر اس سے بالکل ہی رخصت ہوا اور اس شہر سے چلا گیا اور یوز آسف غمگین ودل گیر وتنہا رہ گیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا کہ وہ دینداروں اور عابدوں میں مل جائے اور تمام خلق کو ہدایت کرے۔‘‘

(اکمال الدین ص ۳۵۶، شہزادہ یوز آسف وحکیم بلوہر ص۱۲۳)

(ص۳۵۷) پر لکھا ہے کہ یوز آسف کے پاس خدا کی طرف سے ایک فرشتہ آیا۔ (ص۳۵۸) پر لکھاہے کہ یوز آسف نے شاہانہ پوشاک گلے سے اتار ڈالی اور وزیر کو دے دی۔ اسی صفحہ پر یہ بھی لکھا ہے کہ وزیر شہر کی طرف پلٹ گیا اور یوز آسف نے اپنی راہ لی۔

یوز آسف کا پھرارض سولابط میں آنا

’’فمکث فی تلک البلاد حین ثم اتی ارض سولا بط فلما بلغ والدہ قد ومہ خرج یسیرھو والاشراف فاکر موہ ووقروہ واجمع الیہ اھل بلدہ مع ذوی قرابتہ وحشمہ وقعدوابین یدیہ وسلموا علیہ وکلمھم الکلام الکثین‘‘

(اکمال الدین ص۳۵۸)

اور ایک مدت تک اس ملک میں یوز آسف رہا اور لوگوں کو دین حق کی ہدایت کی اس کے بعد پھر سرزمین سولابط پر آیا جوکہ اس کے باپ کا ملک تھا۔ جب اس کے باپ نے اس کے آنے کی خبر سنی۔ رئوساء وامراء وبزرگان ملک کو لئے ہوئے استقبال کے لئے آیا اور سب نے اس کی عزت وتوقیر کی اور سب عزیز وآشنا واہل فوج واہل شہر اس کی خدمت میں آئے۔ بعد اس کے ان لوگوں سے یوزآسف نے بہت باتیں کیں اور سب لوگوں سے مہربانی ولطف سے پیش آیا۔

(شہزدہ یوزآسف وحکیم بلوہرص۱۲۸)

یوز آسف کا ملک کشمیر میں آنا

’’ثم انتقل من ارض سولابط وسارفی بلاد مدائن کثیرۃ حتی اتی
77
ارضا تسمی قشمیر فسارفیھا واحیا منھا ومکث حتی اتاہ الاجل الی خلع الجسد وارتفع الی النور وقبل موتہ دعا تلمیذا لہ اسمہ یابد الذی کان یخدمہ ویقدم علیہ وکان رجلا کاملافی الامور کلھا فاوحی الیہ فقال لہ قدرنا ارتفاعی عن الدینا فاحفظوا بفر ائضکم ولا تزیغوا عن الحق وخذ وابالنسک ثم امریابدان یبنی لہ مکانا وبسط ھو رجلیہ وھیئا راسہ الٰی الغرب وجھہ الٰی الشرق ثم قضی نحبہ‘‘

(اکمال الدین ص۳۵۹)

’’پھر یوزآسف نے ارض سولابط سے انتقال کیااور بہت سے شہروں میں گیا اور لوگوں کو ہدایت کی۔ آخر ایک ایسی زمین میں آیا جس کا نام کشمیر ہے اور اس ملک کے لوگوں کو ہدایت کی اور وہیں رہا۔ یہاں تک کہ اس کاوقت مرگ آپہنچا تو پہلے ایک مرید کو اپنے پاس بلایا کہ اسے لوگ یابد کہا کرتے تھے اور وہ اس بزرگوار کی خدمت وملازمت میں برابر رہا کرتا تھا اور علم وعمل میں صاحب کمال ہوگیا تھا۔ اس سے وصیت کی اور کہا کہ میری روح کا عالم قدس کی طرف پرواز کرنا قریب ہے۔ چاہئے کہ آپس میں فرائض الٰہی کا خیال رکھو اور حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف توجہ نہ کرو اور عبادت وبندگی الٰہی کو ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ یہ کہہ کر اس بزرگ نے عالم بقا کی طرف رحلت کی۔‘‘

(شہزادہ یوزآسف وحکیم بلوہر ص۱۳۳)

نوٹ: اسی شہزادہ یوز آسف کی قبر شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں پیر سیدنصیر الدین صاحبv کی قبر کے پاس ہے۔

(تاریخ کشمیر اعظمی ص۸۲)

یوزآسف کے متعلق یہ کہیں نہیں لکھا کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوا تھا، نہ یہ لکھا ہے کہ اس کی ماں کا نام مریم تھا اور نہ ہی یہ الفاظ آئے ہیں کہ اس کو خدا نے انجیل دی تھی۔ یہ بھی نہیں لکھا کہ وہ ملک شام کی طرف سے آیا تھا۔ جب کہ یہ چاروں باتیں اس میں نہیں پائی جاتیں۔ تو یوز آسف کی قبر کو حضرت مسیح ناصری کی قبر قرار دینا سراسرجھوٹ بولنا ہے۔

حضرت مسیح ازروئے لڑیچرمرزائیہ

۱… حضرت مسیح کا کوئی باپ نہ تھا۔

۲… حضرت مسیح کی ماں کا نام مریم تھا۔

۳… حضرت مسیح کو انجیل ملی تھی۔

78

۴… حضرت مسیح بچپن میں مصر گئے تھے۔

۵… مصر سے واپس آکر ناصرہ کو گئے۔

۶… حضرت مسیح کے بارہ حواری تھے۔

۷… حضرت مسیح ملک شام کے رہنے والے تھے۔

۸… حضرت مسیح ۳۳برس میں صلیب پر چڑھائے گئے تھے۔

۹… مسیح کے زخموں کا علاج مرہم عیسیٰ سے کیا گیا ۔

۱۰… حضرت مسیح نے صلیبی واقعہ کے بعد عراق، عرب، ایران، افغانستان، پنجاب، ہندوستان وغیرہ کا سفر کیا۔

شہزادہ یوز آسف

۱… یوز آسف کا باپ تھا۔

۲… یوز آسف کی ماں کا نام مریم نہ تھا۔

۳… اس کو انجیل نہ ملی تھی۔

۴… آپ مصر نہ گئے تھے۔

۵… آپ ناصرہ نہ گئے تھے۔

۶… آپ کے بارہ حواری نہ تھے۔

۷… آپ ملک ہند ارض سولابط کے رہنے والے تھے۔

۸… آپ کے ساتھ صلیب کاواقعہ پیش نہ آیا۔

۹… آپ کا مرہم عیسیٰ کے ساتھ علاج کا واقعہ پیش نہ آیا۔

۱۰… آپ کو عراق وعرب ہندوستان کے سفر کا واقعہ پیش نہ آیا۔

قادیانی دلیل نمبر۵

۱… مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’اور یہ کہ وہ مسیح مختلف ملکوں کی سیر کرتا ہوا آخر کشمیر میں چلا گیا اور تمام عمروہاں سیر کرکے آخر سری نگر کے محلہ خانیارمیں بعد وفات مدفون ہوا۔ اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آسف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا۔ دور دراز سفر کرکے کشمیر میں

79

پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا ہے اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا۔ اس ملک کا وہ باشندہ تھا اور اس کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی بلکہ بعض مثالیں اور بعض فقرے اس کی تعلیم کے بعینہٖ مسیح کے ان تعلیمی فقرات سے ملتے ہیں۔ جو اب تک انجیلوں میں پائے جاتے ہیں۔

(ریویو بابت ماہ ستمبر۱۹۰۳ء ج۲ نمبر۹ ص۳۳۸)

۲… ’’ اور جو مزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر میں ہے جس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قریباً انیس سو برس سے ہے۔ یہ اس امر کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے۔‘‘

(راز حقیقت ص۱۱، خزائن ج۱۴ ص۱۶۳حاشیہ)

۳… مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’حال میں مسلمانوں کی تالیف بھی چندپرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں۔ جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آسف ایک پیغمبر تھا، جو کسی ملک سے آیا تھا اور شہزادہ بھی تھا اور کشمیرمیں اس نے انتقال کیا اوربیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ سو برس پہلے ہمارے نبیa سے گزرا ہے۔‘‘

(راز حقیقت ص۱۲ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۶۴)

قادیانی دلیل کی تردید

۱… مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آسف نام کا ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا۔ دور دراز سے سفر کرکے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا تھا اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اس ملک کا وہ باشندہ تھا۔ صحیح نہیں ہے کیونکہ عیسائی اور مسلمان ہرگز اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے کہ:

الف… یوز آسف کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ ہے۔

ب… جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اس ملک کا یوز آسف باشندہ تھا۔ یہ دنوں باتیں مرزا قادیانی نے اپنے دل سے بنالی ہیں تاکہ ثابت کرے کہ یوز آسف کی قبر یسوع مسیح کی قبر ہے۔

۲… مرزاقادیانی کے الفاظ: ’’یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان میں آئے تھے اور حضرت عیسیٰ کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔ ایک اور امر تعجب انگیز ہے کہ یوز آسف کی قدیم کتاب ( جس کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے یہ بھی خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہوچکی ہے) جس کے ترجمے تمام ممالک یورپ میں ہوچکے ہیں۔ انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا تو ارد ہے کہ بہت سی عبارتیں

80

باہم ملتی ہیں۔ مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسیٰ کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی۔‘‘(کتاب چشمہ مسیحی ص۳، خزائن ج۲۰ ص۳۴۰، ۳۳۹، اخبار بدر مورخہ ۲۹؍مارچ۱۹۰۶ء ص۲، اخبار الحکم مورخہ ۱۷؍مارچ۱۹۰۶ء ص۴)

جناب! آپ کی رائے کیا حیثیت رکھتی ہے؟ آپ کی یہ رائے کہ خود حضرت عیسیٰ کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی بے دلیل ہے واقعات کا ثبوت دلائل سےہوتا ہے نہ کہ قیاسات سے اگر عیسیٰ نے ہندوستان کے سفر میں یہ انجیل لکھی تھی تو آپ نے یہ نہ بتایا کہ کس مقام پر لکھی تھی اور کس زبان میں لکھی تھی۔ بہرحال اس عبارت سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ یوزآسف کی قدیم کتاب کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے یہ بھی خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہوچکی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ شہزادہ یوز آسف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بہت پہلے ہوا ہے۔

۳… کتاب (یوز آسف وبلوہر ص۳، مطبع شمسی دہلی) پر لکھا ہے کہ: ’’کتاب سوانح یوز آسف حضرت عیسیٰ کے زمانہ سے کچھ ہی پہلے لکھی گئی تھی۔‘‘ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف حضرت مسیح سے پہلے ہوا ہے۔ اس کتاب یوز آسف وبلوہر کے اسی (ص۳) پر لکھا ہے کہ: ’’پھون جب یوز آسف پر ایمان لایا تھا تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہوچکے تھے۔ مہاتما گئوتم رشی بدھ ۵۵۰ سال قبل مسیح پیدا ہوئے تھے اور ۴۸۷ قبل مسیح فوت ہوئے تھے۔‘‘

(تاریخ ہند مؤلفہ لتھبرج ص۳۰)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف حضرت یسوع مسیح سے کئی سو سال پیشتر گزرا ہے۔

۴… سید صادق حسین مرزائی مختار عدالت اٹاوہ کی کتاب (کشف الاسرار ص۲، مطبوعہ ۱۹۱۱ء، مطبع بدر قادیاں) پر یہی الفاط لکھے ہیں کہ: ’’پھون جب یوز آسف پر ایمان لایا ہے تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہوچکے تھے۔ یوز آسف کے زمانہ کے دوسو برس کے بعد یہ کتاب لکھی گئی ہے اور چونکہ بدھ حضرت عیسیٰ سے قریباً پانچ سو برس پہلے گزرا ہے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ کتاب غالباً حضرت عیسیٰ کے زمانہ سے کچھ ہی پہلے لکھی گئی تھی۔‘‘

اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یوز آسف شہزادہ سے کئی سو سال بعد حضرت یسوع ہوئے ہیں:

81

۵… ’’اور بموجب شہادت کشمیر کے معمرلوگوں کے عرصہ انیس سو برس کے قریب سے یہ مزار سری نگر محلہ خانیار میں ہے۔‘‘

(راز حقیقت ص۱۱،۱۵،۱۹، خزائن ج۱۴ ص۱۷۱)

اور اسی کتاب پر ہے: ’’اور پھر انیس سو سال تک اس کے مزار کی مدت بیان کئےجانا۔‘‘

(راز حقیقت ص۱۸حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۷۰)

حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت مرزاقادیانی نے یہ لکھا ہے کہ ان کی عمر ۱۲۰برس کی ہوئی ہے۔

(رازحقیقت ص۲،۹حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۵۴)

اور کتاب راز حقیقت نومبر ۱۸۹۸ء میں لکھی گئی تھی۔ اگر سری نگر کشمیر کے محلہ خانیار والی قبر حضرت مسیح کی قبر ہوتی اور حضرت مسیح نے ۱۲۰برس عمر پائی ہوتی تو اس مزار کی مدت ۱۷۷۸سال ہوتی نہ کہ انیس سو سال۔ انیس صدیاں تو مسیح کی پیدائش پر ہوئیں۔ اب مرزاقادیانی کے پیش کردہ گواہوں کی اور گواہی سنئے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں: ’’یہ مقام جہاں یسوع مسیح کی قبر ہے خطۂ کشمیر ہے یعنی سری نگر محلہ خانیار ہے۔ اس بارے میں پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جو اس قبر کا حال بیان کرتی ہیں۔ پرانے کتبہ کے دیکھنے والے بھی شہادت دیتے ہیں کہ یہ یسوع مسیح کی قبر ہے۔ علاوہ ازیں سری نگر اور اس کے نواح کے کئی لاکھ آدمی ہر ایک فرقہ کے بالاتفاق گواہی دیتے ہیں کہ صاحب قبر کو عرصہ انیس سو سال کا ہوا ہے کہ ملک شام کی طرف سے اس ملک میں آیا تھا اور اسرائیلی نبی اور شہزادہ نبی کے نام سے شہرت رکھتا تھا۔ قوم نے قتل کرنے کا ارادہ کیاتھا۔ اس لئے بھاگ آیا تھا۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج اوّل نمبر۱۰ ص۴۱۹، اکتوبر۱۹۰۲ء)

یہاں مرز اقادیانی فرماتے ہیں کہ سری نگر اور اس کے نواح کے کئی لاکھ آدمی ہر ایک فرقہ کے بالاتفاق گواہی دیتے ہیں کہ صاحب قبر، انیس سو سال کا عرصہ ہوا ہے کہ ملک شام کی طرف سے اس ملک میں آیا تھا۔ مرزا قادیانی کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات میں سخت اختلاف ہے۔ کجا انیس سو سال تک اس کے مزار کی مدت بیان کئے جانا، کجا یہ بیان کہ صاحب قبر عرصہ انیس سو سال کا ہوا ہے کہ ملک شام کی طرف سے اس ملک میں آیا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح کی قبر سری نگر محلہ خانیار میں بتلانا سراسر جھوٹا قصہ ہے۔

۶… مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’اور کشمیر کی تاریخی کتابیں جو ہم نے بڑی محنت سے جمع کی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ ان سے بھی مفصلاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں جو اس

82

وقت شمار کی رو سے دوہزار برس کے قریب گزرگیا ہے۔ ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شہزادہ نبی کہلاتا تھا۔ اسی کی قبر محلہ خانیار میں ہے جو یوزآسفکی قبر کرکے مشہور ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۲۷، خزائن ج۲۱ ص۴۰۳)

دعویٰ تو اتنا بڑا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر کی طرف سفر کرنا ایسا امرنہیں ہے کہ جو بے دلیل ہو بلکہ بڑے بڑے دلائل سے یہ امر ثابت کیا گیا ہے۔‘‘ (حوالہ بالا ص۲۲۶) مگر دلائل قوی اس پر پیش نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی یہ بتلاتے ہیں کہ کشمیر کی تاریخی کتابیں کس زبان میں ہیں۔ ان کے مصنف کون ہیں اور کس زمانے میں ہوئے ہیں؟ مرزاقادیانی نے کشمیر کی تاریخی کتابیں کے الفاظ لکھ کر حوالہ تو خوب دیا ہے۔ مگر نہ تو صفحہ لکھا ہے اور نہ ان کی اصل عبارتیں لکھی ہیں۔ معلوم نہیں کہ اس قدر اخفا کیوں کیا گیا ہے؟ صرف یہ الفاظ لکھنے سے کہ کشمیر کی تاریخی کتابیں جو ہم نے بڑی محنت سے جمع کی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ مخالف مان نہیں سکتا ہے۔ جب تک اصل عبارت مع حوالہ وصفحہ درج نہ کی جائے۔

قادیانی دلیل نمبر۶

۱… مرزا غلام احمدقادیانی لکھتا ہے: ’’کتاب سوانح یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہوگیا ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا اور پھر اسی کتاب میں اس نبی کی تعلیم لکھی ہے اور وہ تعلیم مسئلہ تثلیث کو الگ رکھ کربعینہٖ انجیل کی تعلیم ہے۔ انجیل کی مثالیں اور بہت سی عبارتیںاس میں بعینہٖ درج ہیں۔ چنانچہ پڑھنے والے کو کچھ بھی اس میں شک نہیں رہ سکتا کہ انجیل اور اس کتاب کا مؤلف ایک ہی ہے اور طرفہ تریہ کہ اس کتاب کا نام بھی انجیل ہی ہے اور استعارہ کے رنگ میں یہودیوں کو ایک ظالم باپ قرار دے کر ایک لطیف قصہ بیان کیا ہے جو عمدہ نصائح سے پر ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۱۰۰)

۲… مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’اور یوز آسف کی کتاب میںصریح لکھا ہے کہ یوز آسف پر خداتعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۲۸، خزائن ج۲۱ ص۴۰۴)

83

۳… مرزاقادیانی کے الفاظ: ’’اور یوز آسف کے حالات کے بیان کرنے کے بارے میں مسلمانوں کی کتابوں میں بعض ہزار برس سے زیادہ زمانہ کی تالیف ہیں۔ جیسا کہ کتاب اکمال الدین جس میں یہ تمام باتیں درج ہیں اور اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یوزآسف نے جو شہزادہ نبی تھا اپنی کتاب کا نام انجیل رکھا تھا۔ ماسوا اس کتاب کے خاص سری نگر میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے ایسے پرانے نوشتے اور تاریخی کتابیں پائی گئی ہیں، جن میں لکھا ہے کہ یہ نبی جس کا نام یوز آسف ہے اور اسے عیسیٰ نبی بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ یہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی ہے جو اس پرانے زمانہ میں کشمیر میں آیا تھا جس کو ان کتابوں کی تالیف کے وقت قریباً سولہ سو برس گزر گئے تھے۔ یعنی اس موجودہ زمانہ تک انیس سو برس گزرا ہے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر۱۹۰۳ء ص۳۳۹)

۴… حکیم خدا بخش مرزائی لکھتا ہے: ’’اکمال الدین نام کتاب میں جو گیارہ سو برس کی ہے لکھا ہے کہ یسوع جب کشمیر وغیرہ کی طرف آیا تو اس کے پاس کتاب انجیل تھی جس کا اصل نام بشوریٰ ہے۔‘‘

(کتاب عسل مصفی حصہ اوّل ص۵۸۵، رسالہ التنقید ص۲۷)

۵… ’’کتاب اکمال الدین کا مصنف ایک عجیب واقعہ بیان کرتا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شہزادہ نبی جو غیر ملک سے آیا اور کشمیر میں وفات پائی۔ حضرت مسیح علیہ السلام ہی تھے اور کوئی نہیں تھا… مذکورہ بالا بیان میں لفظ بشریٰ قابل توجہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوز آسف یسوع مسیح ہی تھے۔ عبرانی میں انجیل کو بشوریٰ کہتے ہیں اور انگریزی میں گاسپل اور تینوں لفظوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ یعنی خوشخبری اصل عبرانی نام بشوریٰ ہے اور چونکہ عبرانی عربی سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے بشوریٰ وہی لفظ ہے جس کو عربی میں بشریٰ کہتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت یوزآسفm انجیل کی طرف لوگوںکو بلاتے تھے اور جو کتاب ان پر اتاری گئی تھی، اس کا نام بشریٰ تھا۔ جو انجیل کا عبرانی نام ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوز آسف حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کا ہی دوسرا نام ہے اور دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں۔ جس پر بشریٰ یعنی انجیل اتاری گئی تھی۔‘‘

نوٹ: یہی دلیل (رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ۱۹۰۴ء ص ۱۸۴، رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ۱۹۰۱ء ص ۱۷۷، رسالہ ریویو بابت ماہ جنوری ۱۹۰۷ء ص۳۳، رسالہ کشف الاسرار ص۱۴) پر پیش کی گئی ہے۔

84

قادیانی دلیل کی تردید

۱… واضح ہوا کہ شہزادہ یوز آسف کے حالات کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ، کتاب شہزادہ یوز آ سف وحکیم بلوہر اور کتاب یوز آسف وبلوہر میں لکھے ہوئے ہیں۔ مگر ان کتابوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یوز آسف پر انجیل اتری تھی۔ پہلی کتاب کے (ص۳۱۷) غایت ۳۵۹ کو بغور پڑھا گیا۔ ان صفحوں میں نہ تولفظ یسوع کہیں آیا ہے اور نہ ہی کہیں لفظ انجیل لکھا ہوا ہے۔ مرزاقادیانی اور ان کے مرید حکیم خدا بخش مصنف کتاب عسل مصفی خدا کے بندوں کو سخت دھوکہ دے رہے ہیں۔

۲… جس عبارت کا حوالہ دیا جاتا ہے اس کے الفاظ یوں ہیں:’’وتقدم یوز اٰسف امامہ حتی بلغ فضاء واسعاً فرفع راسہ فرای شجرۃ عظیمۃ علی عین ماء احسن مایکون من الشجر واکثرھا فرعاو غصنا واملاھا ثمروقد اجتمع الیہ من الطیرمالا یعد کثرۃفسربذالک المنظر وفرح بہ وتقدم الیہ حتی دنی منہ وجعل یعبر فی نفسہ ویفسرہ الشجرۃ بالبشریٰ التی دعاالیہ وعین الماء بالحکمۃ والعلم والطیربالناس الذین یجتمعون الیہ ویقبلون منہ الدین‘‘

(کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ ص۳۵۸)

’’اور شہزادہ یوز آسف نے اپنی راہ لی یہاں تک کہ ایک صحرائے وسیع میں پہنچا۔ پس اس نے اپنا سر اٹھایا اور وہاں ایک بڑا سا درخت دیکھا کہ ایک چشمہ کے کنارہ پر لگا ہوا ہے۔ جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ نہایت ہی پاکیزہ شفاف چشمہ ہے اور نہایت ہی خوبصورت وشاداب درخت ہے کہ کبھی ایسا درخت خوبصورت اس نے نہیں دیکھا تھا اور اس درخت میں شاخیں بہت تھیں اور جب اس درخت کے میوہ کو چکھا تو دنیا بھر کے میوئوں سے زیادہ شریں پایا اور یہ دیکھا کہ درخت پر بے حد وبے شمار پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان باتوں کے دیکھنےسے یہ بہت ہی خوش ہوا اور اس درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا اور اپنے دل میں ان باتوں کا مطلب سوچا تو درخت کو اس نے مثال دی خوشخبری ہدایت سے جو اسے پہنچی تھی اور پانی کے چشمہ کو علم وحکمت سے اور پرندوں کو ان لوگوں سے جو اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے عقل وحکمت سیکھیں گے اور اس سے ہدایت پائیں گے۔‘‘

(شہزادہ یوز آسف وحکیم بلوہر ص۱۲۷)

85

کتاب (اکمال الدین واتمام النعمۃ ص۳۵۸) پر جو لفظ بشریٰ آیا ہے۔ اس سے یہ لوگ(مرزائی) یہ سمجھے کہ یوز آسف پر انجیل اتری تھی۔ حالانکہ ایسا استدلال سراسر غلط ہے۔ کتاب اکمال الدین عبرانی زبان میں نہیں ہے بلکہ عربی زبان میں ہے۔ پس یہاں لفظ بشریٰ سے مراد کتاب انجیل نہیں ہے بلکہ اس کے معنی خوشخبری کے ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھ لیجئے کہ اس کتاب (اکمال الدین ص۳۵۷) پر لکھا ہے کہ فرشتے نے شہزادہ یوز آسف کے پاس آکر کہا کہ: ’’درگاہ الٰہی کی طرف سے خیر وسلامتی تجھے نصیب ہو تو انسان ہے اور ایسے جانوروں اور حیوانوں میں تو پھنسا ہوا ہے جو سب کے سب بدکاری وگنہگاری ونادانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میں تیرے پاس اس لئے آیا ہوں کہ رحمت الٰہی کی تجھے مبارک باد دوں اور امور دنیا وآخرت کی چند باتیں جو تجھے معلوم نہیں ہیں وہ تعلیم کروں۔ (فاقبل بشارتی) تو میری خوشخبری کو یقین کر اور میرے مشورہ کو اختیار کر اور میرے کہنے سے باہر نہ ہو… الخ!

(کتاب شہزادہ یوزآسف وحکیم بلوہر ص۱۲۳،۱۲۴)

اس جگہ اردو الفاظ تو میری خوشخبری کو یقین کر عربی الفاظ (فاقبل بشارتی) کا ترجمہ ہیں۔ دیکھئے بشارت کا معنی خوشخبری کے ہیں نہ کہ کتاب انجیل۔

۳… قرآن مجید کی سورۃ البقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، مریم، انبیاء، مؤمنون، زخرف، حدید، صف میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کا ذکر خیر آیا ہے اور سورۃ مائدہ آیت:۴۶ اورسورۃ حدید آیت:۲۷ میں صاف اور کھلے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’واٰتینٰہ الانجیل‘‘ {اور ہم نے عیسیٰ کو انجیل دی۔} غرض یہ کہ قرآن مجید میں انجیل کا لفظ آیا ہے اورکئی بار آیا ہے لیکن انجیل کے لئے لفظ بشریٰ فرقان حمید میں کہیں نہیں آیاہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں لفظ بشریٰ استعمال ہوا ہے۔ مگر اس کے معنی اس جگہ خوشخبری ہے نہ کہ کتاب انجیل۔

سورۃ البقرہ آیت:۹۷ میں ہے: ’’وبشریٰ للمؤمنین‘‘ اسی طرح سورۃ النحل آیت:۸۹،۱۰۲ میں قرآن شریف کے بارہ میں ہے: ’’وبشریٰ للمسلمین‘‘ سورۃ یونس آیت:۶۴ میں اولیاء اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے: ’’لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدینا وفی الاخرۃ‘‘ {ان کے واسطے خوشخبری ہے دنیا کی زندگانی میں اور آخرت میں۔} سورۃ الانفال آیت:۱۰ میں ملائکہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وماجعلہ اللہ الابشریٰ‘‘ { اور نہیں کیا ہم نے اس کو مگر خوشخبری۔} غرض یہ کہ

86

قرآن مجید میں لفظ بشریٰ کتاب انجیل کے معنوں میں نہیں آیا ہے۔ البتہ اس کے معنی ان مقامات میں خوشخبری کے ہیں۔

۴… الزامی جواب: خود مرزا غلام احمدقادیانی نے ۱۳۱۱ھ میں عربی میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام انہوں نے ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ رکھا تھا۔ اس کے معنی ہیں: ’’خوشخبری کا کبوتر‘‘ نہ کہ ’’انجیل کا کبوتر‘‘ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد نورالدین قادیانی بھیروی کے زمانے میں محمد منظور الٰہی مرزائی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات کو ایک کتاب میں اکٹھا کرکے شائع کیا تھا اور اس کا نام رکھا تھا: ’’البشریٰ‘‘ یہ کتاب دو حصوں میں ہے۔

پھر اور سنئے اسی کتاب (البشریٰ حصہ دوم ص۱۳۴) پر مرزاقادیانی کا ایک الہام یوں لکھا ہے:’’لکم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا‘‘{تمہارے لئے اس دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے۔} نیز دیکھو (البشریٰ حصہ دوم ص ۶۱) بشریٰ لک خوشخبری ہووے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب (اکمال الدین ص۳۵۸) پر جو لفظ بشریٰ آیا ہے اس سے کتاب انجیل مراد لینا غلط ہے۔

قادیانی دلیل نمبر۷

۱… مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’اور جب میں نے اس قصہ کی تصدیق کے لئے ایک معتبر مرید اپنا جو خلیفہ نورالدین کے نام سے مشہور ہیں۔ کشمیر سری نگر میں بھیجا تو انہوں نے کئی مہینے رہ کر بڑی آہستگی اور تدبر سے تحقیقات کیں۔ آخر ثابت ہوگیا کہ فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہوئے۔ یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا۔ جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے جس کے معنی ہیںیہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھے کرنے والا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کشمیر کے بعض باشندے اس قبر کا نام عیسیٰ صاحب کی قبر بھی کہتے ہیں اور ان کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا، جس کو قریباً انیس سو برس آئے ہوئے گزر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے اور وہ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا اور اس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا۔ جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلادشام کی طرف سے آیا تھا۔ نام اس کا یوز ہے۔ پھر وہ کتبہ سکھوں کے عہد میں محض تعصب اور عناد سے

87

مٹایا گیا۔ اب وہ الفاظ اچھی طرح پڑھے نہیں جاتے اور وہ قبر بنی اسرائیل کی قبروں کی طرح ہے اور بیت المقدس کی طرف منہ ہے اور قریباً سری نگر کے پانچ سو آدمی نے اس محضرنامہ پر بدیں مضمون دستخط اور مہریں لگائیں کہ کشمیر کی پرانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا۔ کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر میں آگیا تھا اور بہت بڈھا ہوکر فوت ہوا اور اس کو عیسیٰ صاحب بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی بھی اور یوز آسف بھی۔ اب بتلائو کہ اس قدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کسر کیا رہ گئی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۱۰۰،۱۰۱، نیز دیکھو اخبار فاروق مورخہ ۲۰؍اکتوبر۱۹۲۶ء ص۶)

قادیانی دلیل کی تردید

۱… اس جگہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیش کردہ گواہوں نے پیٹ بھر کر جھوٹ بولا ہے۔ مرزا قادیانی کا لکھنا کہ ان کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلادشام کی طرف سے آیا تھا سراسرغلط اور جھوٹ ہے۔ مرزاقادیانی دعویٰ تو کردیتے ہیں مگر اس پر دلیل پیش نہیں کرتے۔ ان کا فرض تھا کہ اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں کا نام لکھتے اور یہ بتلاتے کہ ان کے مصنف کون تھے اور کس زمانے میں ہوئے ہیں اور اہل کشمیر کی یہ پرانی تاریخیں کس زبان میں ہیں اور اصل عبارت معہ حوالہ لکھتے۔ تب آپ کی تحقیقات کا پتہ چلتا اور اگر سری نگر کے قریباً پانچ سو آدمی نے یہ بیان دیا ہے کہ کشمیر کی پرانی تاریخ سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا تو یہ بیان بھی بے دلیل ہے۔ ذرا کشمیر کی پرانی تاریخ کا نام، صفحہ، اصل عبارت تو لکھ دی ہوتی۔ آپ کی وہی مثل ہوئی: جھوٹ اوڑھنا، جھوٹ بچھونا، جھوٹ ہی ان کا سرہانا ہے۔ خود مرزاقادیانی نہ کبھی سری نگر (کشمیر) تشریف لے گئے۔ جو کچھ مریدوں وغیرہ نے لکھا اور کہا آپ نے اس کو سچ مان لیا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں کو کہا جاتا کہ ’’پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔‘‘

(حقیقت النبوت ص۱۴۲)

تو کیا مرزاقادیانی اور ان کے مرید حضرت مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان لے آتے۔ وہ بجائے ماننے کے یہ سوال کرتے کہ قرآن مجید اور حدیث شریف سے حیات مسیح کا

88

ثبوت دو ہم تب مانیں گے۔ ٹھیک اسی طرح میں کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی اور سری نگر کے قریباً پانچ سو آدمی کے بے دلیل دعویٰ کو کون مان سکتا ہے؟

۲… میں نے ۲۴؍ستمبر۱۹۲۶ء، اخبار اہل سنت والجماعت امرتسر اور ۲۴؍ستمبر۱۹۲۶ء کے اخبار اہل حدیث امرتسر میں علماء مرزائیہ کو چیلنج دیا تھا کہ اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں سے یہ الفاظ مجھے دکھا دو کہ: ’’یوز آسف بلادشام کی طرف سے آیا تھا۔‘‘

میرا یہ مطالبہ تھا جس کا صحیح جواب آج تک مرزائی علماء نہ دے سکے اور ان شاء اللہ ! نہ دے سکیں گے۔ البتہ غلام احمد مرزائی مولوی فاضل ساکن بدّوملہی نے یہ جواب ناصواب لکھا کہ حضرت صاحب نے یہ پانچ سو آدمیوں کی روایت بیان کی ہے اور کشمیریوں میں جو بات مشہور ہے یا خود کشمیریوں نے جس بات کو اپنی پرانی تاریخوں کی طرف منسوب کرکے بیان کیا ہے۔ اس کو حضور نے بیان کیا ہے۔ جب کہ ان لوگوں کا دستخطی محضر نامہ بھی حضور کے پاس پہنچا۔‘‘

(فاروق قادیان مورخہ ۲۰؍اکتوبر۱۹۲۶ء ص۶)

اس جواب کے لکھنے سے یہ بہتر تھا کہ مولوی فاضل غلام احمد مرزائی اس بارے میں قلم نہ اٹھاتے۔ یہ میرے مطالبے کا جواب نہیں ہے۔ میرا سوال صرف اس قدر ہے کہ اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں سے یہ الفاظ دکھائو کہ یوز آسف بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ پانچ سو کشمیریوں نے اگر یہ بیان دیا ہے تو جھوٹ بولا ہے۔ جھوٹ کی تائید کرنے والا جھوٹا ہوتاہے۔ پھر یہی مولوی فاضل اس اخبار کے ص۶ پر تاریخ طبری، کتاب اکمال الدین اور کتاب کنزالعمال کا ذکر کرتا ہے۔ حالانکہ یہ کتابیں اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں میں سے نہیں ہیں۔ تاریخ طبری اور کنزالعمال میں لفظ ’’یوز آسف‘‘ کہیں نہیں آیا ہے اور نہ یہ الفاظ آئے ہیں کہ یوز آسف بلاد شام سے آیا تھا۔ کتاب (اکمال الدین ص۳۱۷تا۳۵۹) میں شہزادہ یوز آسف کے حالات بے شک درج ہیں۔ مگر یہ الفاظ کہیں نہیں کہ یوزآسف بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ بہرحال میرا مطالبہ قائم ہے اور اس کا صحیح جواب دینے سے مرزائی علماء قاصر ہیں۔

۳… واضح ہوکہ خواجہ محمد اعظم مرحوم کی تاریخ (کشمیر اعظمی ص۸۲، مطبوعہ ۱۳۰۳ھ مطبع محمدی لاہور) پر حضرت سید نصیرالدینv کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھا ہے:’’درجوار ایشاں سنگ قبرے واقع شدہ در عوام مشہورہ است کہ آنجا پیغمبرے آسودہ است کہ درزمان سابقہ درکشمیر مبعوث شدہ بود۔ ایں مکان بمقام

89

پیغمبر معروف است در کتابے از تواریخ دیدہ شدہ کہ بعد قضیہ دورد راز حکایتے مے نویسد کہ یکے از سلاطین زادہ براہ زہد وتقویٰ آمدہ ریاضت وعبادت بسیار کرد برسالت مردم کشمیر مبعوث شدہ درکشمیر آمدہ بدعوت خلائق اشتغال نمودوبعد رحلت درمحلہ انزہ مرہ آسود دراں کتاب نام آں پیغمبررا یوزآسف نوشت… الخ‘‘

(نیز دیکھو تاریخ کبیر کشمیر ص۳۴)

مرزاقادیانی کی کتاب (راز حقیقت ص۲۰، خزائن ج۱۴ ص۱۷۲، رسالہ کشف الاسرار ص۱۳، رسالہ ریویو بابت ماہ نومبر، دسمبر۱۹۰۳ء ص۴۷۰، رسالہ ریویو ج۳ نمبر۵ ص۱۷۸، رسالہ ریویوبابت مئی۱۹۰۶ء ص۱۷۶) پر مندرجہ بالا عبارت کا خلاصہ مطلب اردو میں یوں لکھا ہے: ’’سید نصیر الدین کی قبر کے ساتھ ایک نبی کی قبر مشہور ہے۔ وہ ایک شہزادہ تھا جو غیر ملک سے کشمیر میں آیا۔ وہ زہد، تقویٰ اور عبادت میں کامل تھا۔ خدا کی طرف سے نبی بنایا گیا اور اہل کشمیر کی دعوت میں مشغول ہوا۔ اس کا نام یوز آسف تھا۔ بہت سے اہل کشف اور خصوصاً میرے مرشد نے شہادت دی ہے کہ اس قبر سے برکات نبوت ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘

دیکھئے! یہاں یہ نہیں لکھا کہ یوز آسف شہزادہ مغرب سے آیا۔ نہ یہ لکھا ہے کہ وہ اسرائیلی نبی تھا۔ یہ بھی نہیں لکھا ہے کہ وہ بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ صرف اس قدر درج ہے کہ یوز آسف شہزادہ تھا، نبی تھا غیر ملک سے کشمیر میں آیا۔

قادیانی دلیل نمبر۸

۱… مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جو یوزآسف کے نام سے مشہور ہوئے۔ یوز آسف کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا۔ جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے۔ جس کے معنی ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھا کرنے والا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹، خزائن ج۱۷ ص۱۰۰)

۲… مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’ماسوا اس کے وہ لوگ شہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں۔ یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔ آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں، جو قوم کو تلاش کرنے والا ہو۔ چونکہ حضرت عیسیٰ اپنی اس قوم کو تلاش

90

کرتے کرتے جو بعض فرقے یہودیوں میں سے گم تھے کشمیر میں پہنچے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۲۸، خزائن ج۲۱ ص۴۰۴)

۳… ’’اور یوز آسف کے نا م پر کوئی تعجب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ نام یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔ آسف بھی حضرت مسیح کا عبرانی میں ایک نام ہے جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے اور اس کے معنی ہیں متفرق قوموں کو اکٹھا کرنے والا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۱۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۶۷)

۴… نظام الدین مرزائی کہتا ہے: ’’ہاں! اس کتاب (یعنی کتاب اکمال الدین) میں بجائے یسوع کے یا عیسیٰ کے یوز آسف ہے۔ جو مخفف اور مرکب ہے۔ دو ناموں سے یعنی یسوع بن یوسف۔

(دیکھو رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۳۲، بابت ماہ اگست ۱۹۲۵ء)

’’یوز آسف کا وجہ تسمیہ یوز کی ’’ز‘‘ حرف’’س‘‘ سے تبدیل شدہ ہے اور ’’س ‘‘کے آگے ’’و‘‘ حذف ہوچکی ہے۔ پس اصل میں ’’یوسو‘‘ تھا جو سریانی میں عیسیٰ کو کہتے ہیں اور آج کل ’’یسو‘‘ کہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ کا اصل نام عبرانی میں ’’یوسع‘‘ ہو۔ کیونکہ عبرانی میں اس وقت یہ نام عام مروج تھا اور بائبل میں ایسے نام آج بھی ہم کو نظر پڑتے ہیں۔ پس ’’یوسع‘‘ کا ’’یوز‘‘ بن جانا آسان ہے اور یوز ’’آ‘‘ سے یوسا بنا ہے اور ’’صف‘‘ یا ’’آصف‘‘ سے ’’سف‘‘ اور ’’آسف‘‘ مخفف ہے یوسف کا۔ پس سارا نام یوز آسف مخفف ہے۔ ’’یوسو یوسف‘‘ کا جس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع بن یوسف۔ چونکہ یوسف اس شخص کا نام تھا جس کے ساتھ حضرت مریم صدیقہ کا نکاح ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ یوسف کے ربیب تھے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ کو بیٹا ہی کہتے تھے۔ چنانچہ انجیل اس بات کی شہادت دیتی ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۳۲، بابت ماہ دسمبر۱۹۲۵ء)

قادیانی دلیل کی تردید

جوکچھ مرزا غلام احمد قادیانی نے (تحفہ گولڑویہ ص۱۴، خزائن ج۱۷ ص۱۰۰، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۲۲۸، خزائن ج۲۱ ص ۴۰۴) یوز آسف کے معنوں پر لکھا ہے اس کی تردید میں، میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ مرزاقادیانی کی چند ایک دوسری تحریریں ذیل میں درج کئے دیتا ہوں۔ ناظرین ذرا غور سے پڑھیں:

91

الف… ’’اصل بات یہ ہے کہ کشمیر میں ایک مشہور ومعروف قبر ہے جس کو یوزآسف نبی کی قبر کہتے ہیں۔ اس نام پر ایک سرسری نظر کرکے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہوگا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے۔ کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان سے مشابہ ہے۔ مگر ایک عمیق نظر کے بعد نہایت تسلی بخش طریق کے ساتھ کھل جائے گا کہ دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین، آسف اندوہ اور غم کو کہتے ہیں۔ چونکہ مسیح نہایت غمگین ہوکر اپنے وطن سے نکلے تھے۔ اس لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملالیا۔ مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے پھر اجنبی زبان میں بکثرت استعمال ہوکر یوز آسف بن گیا۔ مگر میرے نزدیک یسوع اسم بامسمٰی ہے اور ایسے نام جو واقعات پر دلالت کریں عبرانی نبیوں اور دوسرے اسرائیلی راست بازوں میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ یوسف جو حضرت یعقوب کا بیٹا تھا۔ اس کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کی جدائی پر اندوہ اور غم کیا گیا۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اس بات کی طرف اشارہ فرماکر کہا: ’’یااسفا علٰی یوسف‘‘ پس اس سے صاف نکلتا ہے کہ یوسف پراسف یعنی اندوہ کیا گیا۔ اس لئے اس کا نام یوسف ہوا۔‘‘

(ست بچن ص۱۶۴ حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۳۰۶)

ب… ’’جیسا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے وہ (مسیح) کشمیر میں آکر فوت ہوئے اور اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے اور لوگ بہت تعظیم سے اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا، جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اسی شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوز آسف کرکے مشہور ہوئے۔ جس کے معنی ہیں یسوع غمناک۔‘‘

(کتاب البریہ مقدمہ ص ۲، خزائن ج۱۳ ص۲۰، ۲۱)

ج… ’’فرجع موسیٰ غضبان اسفا‘‘ پس موسیٰm غضب اور تاسف کی حالت میں واپس ہوا۔

(حمامۃ البشریٰ ص۲۸، خزائن ج۷ ص۲۱۰)

د… ’’یااسفا علیھم انھم اتفقوا علی الضلالۃ جمیعا‘‘برایشاں افسوس کہ ایں مردم ہمگناں طریق ضلالت اختیار نمودند۔

(انجام آتھم ص۸۳، خزائن ج۱۱ ص۸۳)

س… لغت کی مشہور ومعروف کتاب ،مجمع البحار ج اوّل ص۳۱، ۳۲،قاموس ج۳ ص۱۲۱، لسان العرب ج۱۰ ص۳۴۶، صراح ج۲ ص۳۴۰، تاج العروس ج۶ ص۴۰، منتہی الارب ج اوّل ص۳۶،

92

مفردات امام راغب ص۱۵، المصباح المنیر ج اوّل ص۱۰،پر لفظ آسف کے معنی اندوہ غم، حزن اور غصے کے آئے ہیں۔‘‘

ش… نظام الدین مرزائی کا یہ لکھنا کہ سارا نام یوزآسف مخفف ہے۔ یوسو یوسف کا جس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع بن یوسف۔ ایک مضحکہ آمیز بات ہے اور کوئی دانا اسے قبول نہ کرے گا۔ کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ عربی زبان میں ہے اور اس میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ یوز آسف کی ماں کا نام مریم تھا اور نہ ہی اس میں کہیں اس یوسف کا ذکر آیا ہے۔ نظام الدین مرزائی کی اس توجیہہ سے بڑھ کر مفتی محمد صادق مرزائی کی توجیہہ سنئے: ’’پنجابی میں قدیم سے ایک ضرب المثل مشہور چلی آتی ہے: ’’ایسو گول تے کچھ نہ پھول‘‘ غالباً مرور زمانہ سے اور اصلیت مثل کے بھولنے سے کول کا لفظ بدل کر گول بن گیا اور اصل یوں تھا کہ ایسو گول یعنی یسوع ہمارے پاس ہی ہے پنجاب کے متصل کشمیر میں مدفون ہے۔ لیکن کچھ اس کی بابت کھول کر دریافت نہ کرو۔ کیونکہ یہ امر پردے میں رکھنے کے لائق ہے کہ یسوع اہل پنجاب کے پاس ہی ہے۔‘‘

(دیکھو اخبار فاروق قادیان ص۱۱، مورخہ ۱۱،۱۸،۲۵؍مئی ۱۹۱۶ء)

واہ صاحب! کیا کہنے مفتی صاحب نے تو کمال کردیا۔ جو بات آپ کے پیر ومرشد کو نہ سوجھی وہ آپ کو سوجی۔ اب ناظرین خود ہی انصاف سے فرمائیں کہ ایسی بے دلیل اور من گھڑت باتوں کا جواب ہم کیا دیں؟

قادیانی دلیل نمبر۹

مرزاقادیانی کہتا ہے: ’’یوز آسف حضرت مسیح ہی تھے جو صلیب سے نجات پاکر پنجاب کی طرف گئے اور پھر کشمیر میں پہنچے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی۔ اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ یوز آسف کی تعلیم اور انجیل کی تعلیم ایک ہے اور دوسرے یہ قرینہ کہ یوز آسف اپنی کتاب کا نام انجیل بیان کرتا ہے۔ تیسرا قرینہ یہ کہ اپنے تئیں شہزادہ نبی کہتا ہے۔ چوتھا قرینہ یہ کہ یوز آسف کا زمانہ اور مسیح کا زمانہ ایک ہی ہے۔ بعض انجیل کی مثالیں اس کتاب میں بعینہٖ موجود ہیں جیسا کہ ایک کسان کی مثال۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۱۸،۱۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۶۶)

’’اور اس کی (یعنی یوز آسف کی) تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی

93

تھی۔ بلکہ بعض مثالیں اور بعض فقرے اس کی تعلیم کے بعینہٖ مسیح کے ان تعلیمی فقرات سے ملتے ہیں، جو اب تک انجیلوں میں پائے جاتے ہیں۔‘‘

(ریویوبابت ماہ ستمبر۱۹۰۳ء ص۳۳۸)

نوٹ: ’’یوز آسف کی تعلیم یسوع کی تعلیم سے بہت ملتی جلتی ہے۔‘‘ ( رسالہ ریویو بابت ماہ نومبر،دسمبر۱۹۰۳ء ص۴۷۲،۴۷۳، ریویو بابت ماہ مئی ۱۹۰۶ء ص ۱۷۷، ریویو بابت ماہ جنوری ۱۹۰۷ء ص۳۳ کا خلاصہ مطلب)

قادیانی دلیل کی تردید

مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں کا یہ مذہب ہے کہ: ’’جو سری نگر محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے۔ وہ درحقیقت بلاشک وشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔‘‘

(راز حقیقت ص۲۰، خزائن ج۱۴ ص۱۷۲)

’’اور اس پر دلیل یہ پیش کی ہے کہ یوز آسف کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی۔‘‘

(ریویو ج۲ نمبر۱۲ ص۳۳۸)

حالانکہ یہ دلیل بھی کمزور ہے کیونکہ مرزاقادیانی اس امر کو لکھ چکے ہیں کہ: ’’حضرت مسیح کی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں نہایت شدید مشابہت ہے۔‘‘

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص۸۴، خزائن ج۱۵ ص۸۶)

تو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوز آسف کی تعلیم بدھ کی تعلیم میں نہایت شدید مشابہت ہے۔ مثلاً خط الف،ب، ج، د کے متوازی ہے اور خط ر، س، ج، د کے متوازی ہے تو ثابت ہوا کہ خط الف، ب اور خط ر، س آپس میں متوازی ہیں:

الف.. ج ..ر

ب.. د ..س

باوجوداس بات کے حضرت یوز آسف کو بدھ نہیں کہہ سکتے ذرا غور سے سنو۔ یورپ کے بعض مصنفوں نے جوزافٹ اور گوتم بدھ کو ایک ہی شخص ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

(دیکھو ریویو آف ریلیجنز ص۴۷۴، بابت ماہ نومبر، دسمبر۱۹۰۳ء)

اور چونکہ اس قصہ کے بعض واقعات گوتم بدھ کی زندگی کے واقعات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس لئے اکثر عیسائی صاحبان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ شہزادہ یوز آسف گوتم بدھ

94

کا ہی دوسرا نام ہے۔

(ریویو ج۹ نمبر۶ ص۲۳۸،۲۳۹، بابت ماہ جون ۱۹۱۰ء)

ان باتوں کا جواب مرزائیوں کی طرف سے یوں دیا گیا کہ: ’’اگر یوز آسف کے قصہ کے بعض واقعات گوتم بدھ کے حالات سے ملتے ہوں تو اس سے ثابت نہیں ہوسکتا کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔

(ریویو ج۲ نمبر۱۱،۱۲ ص۴۷۴)

’’اگر سری نگر کی قبر بدھ کی قبر ہوتی تو وہ دنیا کے کل بدھ مذہب کے پیرووں کا مرجع ہونی چاہئے تھی۔‘‘

(ریویو ج۹ نمبر۶ ص۲۳۹، بابت ماہ جون ۱۹۱۰ء)

ٹھیک اسی طرح میں عرض کرتا ہوں کہ اگر یوز آسف کے قصہ کے بعض واقعات یسوع مسیح کے حالات سے ملتے ہیں تو اس سے ثابت نہیں ہوسکتا کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ اگر سری نگر کی قبر یسوع مسیح کی قبر ہوتی تو وہ دنیا کے کل مسیحی مذہب کے پیروئوں کا مرجع ہونا چاہئے تھی۔ بقول مرزاقادیانی حضرت مسیح کی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں نہایت شدید مشابہت ہے۔ اس بات کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں اور لطف یہ ہے کہ: ’’وہ خطاب جو بدھ کو دئیے گئے مسیح کے خطابوں سے مشابہ ہیں اور ایسا ہی وہ واقعات جو بدھ کو پیش آئے مسیح کی زندگی کے واقعات سے ملتے ہیں۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۷۰، خزائن ج۱۵ ص۷۲)

پھر بھی یہ دونوں الگ الگ ہستیاں ہیں۔ دونوں ایک ہی شخص کے نام نہیں ہیں۔

قادیانی دلیل نمبر۱۰

’’ واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ان کے فرض رسالت کی رو سے ملک پنجاب اور اس کے نواح کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری تھا۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے جن کا نام انجیل میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں رکھا گیا ہے۔ ان ملکوں میں آگئے تھے، جن کے آنے سے کسی مؤرخ کو انکار نہیں ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک کی طرف سفر کرتے اور ان گم شدہ بھیڑوں کا پتہ لگا کر خداتعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچاتے اور جب تک وہ ایسا نہ کرتے تب تک ان کی رسالت کی غرض بے نتیجہ اور نامکمل تھی۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۹۱، خزائن ج۱۵ ص۹۳)

95

قادیانی دلیل کی تردید

مانا کہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان مشرقی ملکوں میں آگئے تھے اور یہ بھی تسلیم کیا کہ افغان اور کشمیری لوگ بنی اسرائیل ہیں۔

(مسیح ہندوستان میں ص۹۲، خزائن ج۱۵ ص۹۴)

مگر یہ لکھنا کہ ضروری ہے کہ حضرت مسیح ناصریm ایران، افغانستان، ہندوستان اور کشمیر میں آئے ہوں۔ دلائل قویہ اور تاریخوں سے ثابت نہیں ہے۔ واقعات کا ثبوت دلائل سے ہوتا ہے نہ کہ قیاسات سے۔ دیکھو یہ بات بھی تسلیم کی گئی ہے کہ یہودی لوگ تاتار، بخارا، مرو اور خیوا کے متعدد علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ یہودی لوگ چین، ایران، تبت میں آباد ہیں۔ بنی اسرائیل ملک عرب میں بھی تھے۔

(مسیح ہندوستان میں ص۹۴تا۱۰۰)

اس کے علاوہ بعض یہود یونان میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔

(ریویو ج اوّل ص۱۰۴ نمبر۳ ص۹۸،۱۰۰)

تو کیا حضرت مسیح علیہ السلام یونان، عرب، تاتار اور چین میں بھی تشریف لے گئے تھے؟

قادیانی مغالطے کا جواب

مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’اور ایک کتاب (تاریخ طبری ص۷۳۹) میں ایک بزرگ کی روایت سے حضرت عیسیٰ کی قبر کا بھی حوالہ دیا ہے جو ایک جگہ دیکھی گئی۔ یعنی ایک قبر پر پتھر پایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ عیسیٰ کی قبر ہے۔ یہ قصہ ابن جریر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱حاشیہ)

۲… حکیم خدا بخش مرزائی لکھتا ہے: ’’ہمارے پاس ابن حمید نے ان کے پاس مسلمہ نے محمد بن اسحق سے ان کے پاس عمر بن عبد اللہ بن عروہ بن زبیر نے ان کے پاس ابن سلیم انصاری زرقی نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک عورت نے منت مانی تھی کہ راس الجماء پر جو مدینہ کے نواحی میں ایک پہاڑ عقیف میں ہے جاکر نذر ادا کرے گی۔ راوی کہتا ہے کہ میں بھی اس عورت کے ساتھ گیا۔ جب ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے تو کیا دیکھا کہ ایک بڑی قبر ہے جس پر دو بھاری پتھر پڑے ہیں۔ ایک پتھر تو سرہانے ہے اور ایک پتھر اس کی پائیں کی طرف ہے۔ جن پر کچھ لکھا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کیا لکھا ہوا ہے۔ میں دونوں پتھروں کو اپنے ہمراہ اٹھالیا۔ جب میں بعض حصہ پہاڑ پر سے نیچے اترنے لگا تو بوجھ سنگین کی وجہ سے ایک پتھر کو میں نے پھینک دیا اور

96

دوسرے کو لے کر نیچے اترا اور پھر میں نے سریانی لوگوں کے آگے اس کو پیش کیا کہ کیا وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں؟ مگر وہ اس کی تحریر کو نہ سمجھ سکے۔ پھر میں نے زبور کے زبان دانوں کے آگے اس کو پیش کیا، جو یمن میں رہتے تھے اور جو لکھنا جانتے تھے۔ مگر وہ بھی اس کی تحریر کو نہ پہچان سکے تو جب مجھے کوئی شخص بھی اس کو پہچاننے والا نہ ملا تو میں نے اس کو ایک صندوق کے نیچے رکھ دیا اور کئی سال تک وہ وہاں پڑا رہا۔ پھر کچھ مدت کے بعد فارسیوں میں سے اہل ماہ ہمارے ہاں آئے جو موتی خریدنے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تمہارے ہاں بھی کوئی لکھائی ہوتی ہے تو انہوں نے کہا ہاں ہوتی ہے۔ میں نے وہ پتھر نکالا، ان کے آگے پیش کیا تو اس کو دیکھ کر پڑھنے لگے اور اس پر لکھا ہوا تھا۔ رسول اللہ عیسیٰ بن مریمm کی یہ قبر ہے جو ان بلاد کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا تھا اور جب وہ لوگ اس زمانہ میں اس کے پیرو ہوگئے تو ان میں رہتا تھا اور ان کے ہاں فوت ہوگیا اور اس کی وفات پر انہوں نے اس کو پہاڑ کی چوٹی پر دفن کردیا۔ اس روایت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگیا خواہ کہیں مرا۔

(کتاب عسل مصفی حصہ اوّل ص۵۲۱، ۴۶۷، بحوالہ تاریخ الرسل والملوک ص۷۳۸، ۷۳۹)

نوٹ: (اخبار الحکم مورخہ ۳۰؍نومبر۱۹۰۷ء ص۸ا، اخباربدر مورخہ ۲۱؍نومبر۱۹۰۷ء ص۶، فاروق مورخہ ۲۰؍اکتوبر۱۹۲۶ء ص۶، رسالہ تشحیذ الاذہان ج۱۵ نمبر۳ ص۲۲، رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ دسمبر۱۹۱۳ء ص۴۵،۴۶، کتاب محقق ص۱۱۸، کتاب نعم الوکیل ص۴۰، کتاب مرآۃ الحقائق ج۳ ص۳۰۴تا۳۰۶) پر بھی یہی روایت پیش کی گئی ہے۔

جواب: اس روایت میں ایک راوی محمد بن اسحق ہے جو جھوٹا ہے۔ دراصل یہروایت صحیح نہیں ہے بلکہ موضوع ہے۔ محمد بن اسحق راوی کی نسبت علماء مرزائیہ میں سے سید سرور شاہ مقیم قادیان لکھتے ہیں: ’’نسائی نے کہا قوی نہیں اور دارقطنی نے کہا اس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی۔ ابودائود نے کہا قدری ہے، معتزلہ ہے۔ سلیمان تمیمی نے کہا کذاب ہے۔ وہب نے کہا سنامیں نے ہشام بن عروہ سے وہ کہتا تھا کذاب ہے اور وہب نے کہا پوچھا میں نے مالک سے ابن اسحق کے متعلق تو اس نے اس پر تہمت لگائی۔ عبدالرحمن بن مہدی نے کہا یحییٰ بن سعید انصاری اور امام مالک ابن اسحق پر جرح کرتے تھے اور کہا یحییٰ بن آدم نے حدیث بیان کی کہ ہم کو ابن ادریس نے کہا میں مالک کے پاس تھا تو اس کو کہا گیا۔ ابن اسحق کہتا ہے کہ مالک کا علم مجھ پر پیش کرو، میں اس کا طبیب ہوں۔ پس مالک نے کہا دیکھو اس دجال کی طرف جوکہ

97

دجالوں میں سے ہے اور یحییٰ نے کہا تعجب ہے ابن اسحق پر حدیث بیان کرتا ہے اہل کتاب سے اور بے رغبتی کرتا ہے۔ شرجیل بن سعید سے اور احمد بن حنبل نے کہا یہ بیاضی فرقہ ہے اور کہا ابن ابی فدیک نے کہ میں نے ابن اسحق کو دیکھا لکھتا ہے اہل کتاب کے آدمی سے اور امام احمد نے کہا کہ وہ بہت ہی ملانے والا تھا۔ ابوقلابہ الرقاشی نے کہا ہے حدیث بیان کی ابودائود سلیمان بن دائود نے کہا کہ یحییٰ بن قطان نے کہاکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے۔ ابودائود الطیالسی نے کہا کہ میرے پاس حدیث بیان کی میرے ایک دوست نے کہا میں نے ابن اسحق کو یہ کہتے سنا تھا کہ حدیث بیان کی میرے پاس مضبوط راوی نے۔ پس کہا گیا اس کو (کس نے)اس نے کہا یعقوب الیہودی نے۔‘‘

(کتاب القول المحمود فی شان الموعود ص ۱۲۲،۱۲۳،۱۷۳،۱۷۴، کتاب میزان الاعتدال ج۳ ص۲۱،۲۲)

اس سے ثابت ہوا کہ روایت مندرجہ تاریخ طبری ایک موضوع روایت ہے صحیح نہیں ہے۔ خود حکیم خدا بخش مرزائی اس قبر کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’یہ قبر فرضی ہے اور بلاشک فرضی ہے۔‘‘

(کتاب عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۶۸)

عسل مصفی حصہ اوّل میں حکیم صاحب مذکورنے وفات مسیح پر بہت زور دیا ہے اور یہ بات بھی لکھی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ملک کشمیر کے شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں سراسر غلط ہیں۔ قادیانی دلائل کا رد کرتے ہوئے میں نے ثابت کردیا ہے کہ حضرتشہزادہ یوز آسف کی جو قبر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔ وہ حضرت یسوع مسیح کی قبر نہیں ہے۔

جھوت بولنا سخت گناہ ہے

الحمدﷲ کہ خدا کے فضل وکرم کے ساتھ میں نے ثابت کردیا کہ ملک کشمیر کے شہر سری نگر محلہ خانیار میں جو شہزادہ یوز آسف کی قبر ہے، وہ حضرت یسوع مسیح ابن مریم کی قبر نہیں ہے۔ مرزاقادیانی کا اپنی کتابوں مثلاً ایام الصلح، کشف الغطا، راز حقیقت، مسیح ہندوستان میں، نورالقرآن، ست بچن، تحفہ گولڑویہ، کشتی نوح، حقیقت الوحی، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم وغیرہ میں یہ لکھنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔ صریح جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے۔ چنانچہ جھوٹ بولنے والے کے بارے میں خود مرزاقادیانی یوں لکھتا ہے:

۱… ’’ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں

98

میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

۲… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ہے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۹حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۵۶)

۳… ’’اے بے باک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)

۴… ’’دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔‘‘

(نزول المسیح ص۲، خزائن ج۱۸ ص۳۸۰)

۵… ’’جیسے بت پوجنا شرک ہے ویسے ہی جھوٹ بولنا شرک ہے۔‘‘

(الحکم ص۱۳، مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۵ء)

۶… ’’جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴)

۷… ’’جھوٹ ام الخبائث ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۲۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۱)

۸… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں ۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

قادیانی دلیل نمبر۱۱

غلام رسو ل مرزائی کہتے ہیں: ’’علاوہ اس کے قرآن کریم کا حسب ارشاد: ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘ حضرت مسیح کو حضرت آدم کی مماثلث میں پیش کرنا مماثلث کے ایک پہلو کے لحاظ سے لطیف طور پر اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ جس طرح حضرت آدم کی ہجرت گاہ سرزمین ہند ہوئی، اسی طرح مسیح کے لئے بھی ہجرت گاہ سرزمین ہند ہی قرار دی گئی۔ یہ آیت قرآن کریم میں آنحضرتa پر نازل ہوئی جس سے ایک نیا علم آپ کو دیا گیا اور جس میںعلاوہ اور مماثلث کے پہلوئوں کے ایک پہلو مماثلث کا یہ بھی ثابت ہوا کہ مسیح، آدم کا اس بات میں بھی مثیل ہے کہ دونوں کی ہجرت گاہ سرزمین ہند بنائی گئی بلکہ مرزاقادیانی جو مسیح، محمدی ہیں اور جو آنحضرتa کے کامل بروز اور کامل مظہر ہونے کی وجہ سے آنحضرتa کے ہی قائم مقام ہیں۔ آپ کا بھی سرزمین ہندمیں ظہور

99

فرماہونا مناسب تھا۔ کیا بوجہ اس مرتبہ مماثلث کے جو آپ کو آدم اور مسیح سے ہے اور کیا بوجہ اس کے کہ آنحضرتa بہ مماثلث آدم سرزمین ہند میں ہجرت فرما ہوئے آپ کے قائم مقام اور آپ کی نیا بت میں ہوکر دونوں طرح کی مماثلث کے مصداق بنے۔‘‘

(رسالہ التنقید ص۳۱،۳۲)

قادیانی دلیل کی تردید

۱… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون آل عمران:۵۹‘‘ {تحقیق مثال حضرت عیسیٰ کی اللہ کے نزدیک مانند حضرت آدم کے ہے کہ اس کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا اس کو ہوپس ہوگیا۔}

نوٹ: نصاریٰ اس بات پر حضرت رسول خداa سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں، اللہ کا بیٹا ہے۔ آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتائو کس کا بیٹا ہے۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ آدم کا تو نہ ماں نہ باپ، عیسیٰ کا باپ نہ ہو، تو کیا عجب۔

(موضح القرآن ص۷۵)

بات یہ ہے کہ یہودنامسعود حضرت مریم صدیقہp پر (معاذ اللہ ) زنا کاری کا الزام وبہتان لگاتے ہیں۔ (سورۃ النساء آیت:۱۵۶، سورۃ مریم آیت:۲۷) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بن باپ نہیں مانتے۔ اس کے برخلاف عیسائی لوگ حضرت مسیح کو بن باپ مانتے ہوئے ان کو خدا اور خدا کا حقیقی بیٹا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حکیم وعلیم نے مندرجہ بالا آیت میں حضرت آدمm کی مثال دے کر دونوں فرقوں کا رد فرمایا۔ یہود اور نصاریٰ دونوں فرقے بائبل کی رو سے حضرت آدمm کی بابت تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے بغیر اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ پس یہود نا مسعود کے عذر کو یوں توڑا کہ جب تم خود حضرت آدمm کی پیدائش ماں باپ کے بغیر مانتے ہو تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بن باپ کے پیدا کئے جانے میں کیوں شک کرتے ہو؟ نصاریٰ کو یوں جواب دیا گیا کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا یا خدا کا حقیقی بیٹا اس جہت سے مانتے ہو کہ وہ بن باپ ہیں تو حضرت آدمm کو کیا کہو گے جن کا نہ باپ تھا اور نہ ماں تھی؟ پس جس قادر مطلق نے حضرت آدمm کو ماں باپ کے بغیر پیدا کیا تھا۔ اسی قادر مطلق نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ پیدا کیا ہے۔

100

۲… اس آیت مقدسہ سے مسیح علیہ السلام ناصری کے ہند وستان کی طرف آنے پر استدلال کرنا اورمرزاقادیانی (جو مثیل مسیح علیہ السلام ہونے کے مدعی تھے) کے ہند میں پیدا ہونے پر استدلال کرنا سراسرغلط ہے۔ حدیث نبویa مندرجہ کتاب (مسند احمد ج۶ ص۵۷،کتاب کنزالعمال ج۷ ص۲۶۷، کتاب حجج الکرامہ ص۳۴۳) کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریمm ملک شام میں نازل ہوں گے۔

قادیانی دلیل نمبر۱۲

’’اور لاکھوں انسانوں نے اس جسم کی آنکھ سے دیکھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے اور جیسا کہ گلگت یعنی سری کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا۔ ایسا ہی سری کے مکان پر یعنی سری نگر میں ان کی قبر کا ہونا ثابت ہوا۔ یہ عجیب بات ہے کہ دونوں موقعوں میں سری کا لفظ موجود ہے۔ یعنی جہاں حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر کھینچےگئے اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے اور جہاں انیسویں صدی کے اخیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت ہوئی۔ اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ گلگت جو کشمیر کے علاقہ میں ہے۔ یہ بھی سری کی طرف ایک اشارہ ہے۔ غالباً یہ شہر حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں بنایا گیا ہے اور واقعہ صلیب کی یاد گار مقامی طور پر اس کا نام گلگت یعنی سری رکھا گیا۔‘‘

قادیانی دلیل کی تردید

انجیل متی کے باب:۲۷ آیت:۳۳ میں جو لفظ ’’گلگتا‘‘آیا ہے، اس کے معنی ہیں: ’’کھوپری کی جگہ‘‘ (دیکھو انجیل متی مع مختصر شرح از پادری ایچ یو وٹیبریخت ص۱۳۹ حاشیہ) اور ملک کشمیر کے شہر سری نگر میں جو لفظ ’’سری‘‘ آیا ہے، اس سے مراد ’’کھوپری‘‘ نہیں ہے، بلکہ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے: ’’سری‘‘ اور ’’نگر‘‘ ہندوئوں کی زبان میں’’نگر ‘‘ سے مراد آبادی ہے اور لفظ ’’سری‘‘ ہندوئوں میں تعظیم وتکریم کے موقعہ پر بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہندو لوگ کہا کرتے ہیں سری رام چندرجی، سری لچھمن جی، سری ہنومان جی، سری کرشن جی، سری مہادیوجی، سری گنیش جی، سری نارائن جی وغیرہ۔ ہمارے ہاں کسی بزرگ ونیک کے لئے لفظ ’’حضرت‘‘ استعمال ہوتا ہے اور ہندوئوں میں لفظ ’’سری‘‘

101

قادیانی دلیل نمبر۱۳

’’اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبیa نے فرمایا کہ مسیح علیہ السلام کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں:

۱… ایک یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی یعنی ایک سو پچیس برس زندہ رہے۔

۲… دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی اس لئے نبی سیاح کہلائے۔

اب ظاہر ہے کہ اگر وہ صرف تینتیس برس کی عمر میں آسمان کی طرف اٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سوپچیس برس کی روایت صحیح نہیں ٹھہرسکتی تھی اور نہ وہ اس چھوٹی سی عمر میں یعنی تینتیس برس میں سیاحت کرسکتے تھے اور یہ روایتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ کنزالعمال جو احادیث کی ایک جامع کتاب ہے اس کے (ج۲ ص۳۴) میں ابوہریرہq سے یہ حدیث لکھی ہے: ’’اوحی اللہ تعالٰی الی عیسٰی ان یعیسٰی انتقل من مکان لئلا تعرف فتوذی‘‘یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اے عیسیٰ! ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل کرتا رہ یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف جا، تا کہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ دے اور پھر اسی کتاب (ج۲ ص۷۱) میںحضرت جابرqسے روایت کرکے یہ حدیث لکھی ہے:’’کان عیسٰی بن مریم یسیح فاذا امسی اکل بقل الصحراء ویشرب الماء القراح‘‘یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیر کرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے اور پھر اسی کتاب (ج۶ ص۵۱) میں عبد اللہ بن عمرq سے روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں: ’’قال احب شئی الی اللہ الغرباء قیل ای شئی الغرباء قال الذین یفرون بدینھم ویجتمعون الٰی عیسٰی ابن مریم‘‘یعنی فرمایا رسول اللہ a نے سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں کہا وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۵۳،۵۴، خزائن ج۱۵ ص۵۶، ۵۵)

102

قادیانی دلیل کی تردید

۱… مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ احادیث میں معتبرروایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبیa نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے، صحیح نہیں ہے۔ ایسی کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث نہیں ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویv اپنی کتاب (ماثبت من السنۃ ص۴۹) پر آنحضرتa کی عمر شریف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’من قال خمساوستین حسب السنۃ التی ولد فیھا والسنۃ التی قبض فیھا ومن قال ثلثا وستین وھوالمشھور اسقطھما ومن قال ستین اسقط الکسورومن قال اثنینونصف کانہ اعتمدعلی حدیث فی الاکلیل وفیہ کلام لم یکن نبی الاعاش نصف عمراخیہ الذی قبلہ وقد عاش عیسٰیm خمسا وعشرین ومائۃ‘‘

حکیم خدا بخش مرزائی کی خیانت ملاحظہ ہو۔ اس نے اپنی کتاب (عسل مصفی ج اوّل ص۵۱۹) پرحضرت شیخ کی اس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے صرف الفاظ: ’’وعاش عیسٰیm خمس وعشرین سنۃ ومائۃ‘‘ نقل کردئیے ہیں اور الفاظ:’’وفیہ کلام‘‘نقل نہ کئے۔

۲… (تفسیر ابن جریر ج۳ ص۱۶۴) پر ایک روایت ہے جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر ۱۲۰برس بتلائی گئی ہے۔ مگر یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں ایک راوی عبد اللہ بن لہیعہ ہے، جس کی بابت کہا گیا ہے کہ: ’’ضعیف تھا اور مغلوب الحال ہے اور امام احمد بن حنبلv نے فرمایا ہے کہ جابر سے قابل انکار اور اوپری باتیں اس نے روایت کی ہیں اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا تھا اور نسائی نے کہا ہے کہ وہ معتبر نہیں ہے اور اس نے کہا ہے کہ ابن لہیعہ بوڑھا اور احمق اور ضعیف العقل آدمی تھا اور وہ کہتا تھا کہ حضرت علیq بادلوں میں ہے اور ہمارے ساتھ بیٹھتا تھا اور بادل دیکھتا تو کہتا کہ وہ علیq بادل میں سے گزرے جارہے ہیں۔‘‘

(رسالہ ریویو بابت ماہ مارچ ۱۹۲۵ء ص۱۷، بحوالہ تاریخ ابن خلدون ص۲۲۶)

۳… مقتداء اہل حدیث امام حافظ ابن کثیرv (مسک العارف ص۴۲ از سیدمحمد احسن امروہی مرزائی نے (اپنی تفسیر ج۳ص۲۴۵)پر لکھا ہے کہ صحیح امر) ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع اس وقت ہوا کہ جب آپ کی عمر۳۳برس کی تھی۔ پھر اس (تفسیر ابن کثیر ج۹ ص۳۸۰) پر بحوالہ ابن ابی الدینا ایک حدیث نبویa لکھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ

103

ابن مریمm کی عمر۳۳سال کی ہوئی ہے۔

۴… جو دو باتیں مرزاقادیانی نے لکھی ہیں ان دونوں باتوں کو اسلام کے تمام فرقے ہرگز نہیں مانتے ہیں۔ مرزاقادیانی پر ضروری تھا کہ کتابوں کے حوالوں اور دلائل سے اس امر کو ثابت کرتے۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے پیشتر حضرت نوحm ہوئے ہیں جن کی عمر ۹۵۰سال قرآن کریم سے ثابت ہے۔

اور حضرت ابراہیم کی سیاحت وسفر ملاحظہ ہو۔ ملک عراق عرب میں آپ پیداہوئے۔ شام کی طرف ہجرت کی ملک مصر میں بھی گئے اور سرزمین حجاز کو بھی اپنے قدم سے مشرف فرمایا۔

۵… ’’قال احب شئی الی اللہ الغرباء قیل ای شئی الغرباء قال الذین یفرون بدینھم ویجتمعون الی عیسٰی بن مریم‘‘{آنحضرتa نے فرمایا سب سے پیارے خدا کی جناب میں غریب لوگ ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں؟ حضور پرنور نے فرمایاوہ لوگ جو بھاگیں گے اپنے دین کے ساتھ اور عیسیٰ ابن مریمm کی طرف جمع ہوں گے۔}

(کتاب کنز العمال ج ششم ص۵۱)

مرزاقادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو الفاظ:’’الٰی عیسٰی بن مریم‘‘کا ترجمہ کرتے ہیں: ’’عیسیٰ مسیح کی طرح۔‘‘ حالانکہ صحیح ترجمہ یہ ہے: ’’عیسیٰ ابن مریم کی طرف۔‘‘ غرض یہ کہ جملہ:’’الذین یفرون بدینھم ویجتمعون الیٰ عیسیٰ بن مریم‘‘ کا ترجمہ یہ کرنا کہ: ’’وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگے ہیں۔‘‘سراسر غلط ہے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے۔ بھاگنے والے جمع ہونے والے لوگ ہیں نہ کہ عیسیٰ ابن مریمm۔ مرزاقادیانی غلط ترجمہ کرکے استدلال پیش کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اپنا دین لے کر اپنے ملک سے بھاگے تھے۔

۶… بقول مرزاقادیانی لغت کی مشہور ومعروف کتاب (لسان العرب ص۴۳۱) پر لکھا ہے:’’قیل سمی عیسٰی بمسیح لانہ کان سالما فی الارض لایستقر‘‘ یعنی عیسیٰ کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین میںسیر کرتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا یہی مضمون تاج العروس شرح قاموس میں بھی ہے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۶۹، خزائن ج۱۵ ص۷۱)

104

حضرت مسیح علیہ السلام کا وطن ملک شام تھا۔ علاقہ فلسطین شام کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ اناجیل اربعہ اور انجیل برنباس کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح تبلیغ کے لئے سفر کیا کرتے تھے۔ آپ کی بیوی وبچے نہ تھے اور نہ گھر بار تھا۔ ملک شام ملک پنجاب سے بہت بڑا ہے۔ کوئی ضلع گورداسپور کے برابر علاقہ نہیں ہے اور تاریخ روضۃ الصفا کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ملک عراق کے شہر نصیبین کی طرف بھی گئے تھے جو بیت المقدس سے قریباً۴۵۰ کوس دور ہے۔ پس مسیح ناصری نے اپنے رفع سے پیشتر خوب سفر کئے ہیں۔

قادیانی مغالطے سے بچو تاریخ روضۃ الصفا کا حوالہ

۱… مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’بہرحال اگر روضۃ الصفا کی روایت پر اعتبار کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نصیبین کی طرف سفر کرنا اس غرض سے تھا کہ تافارس کی راہ سے افغانستان میں آویں اور ان گم شدہ یہودیوں کو جو آخرافغان کے نام سے مشہور ہوئے حق کی طرف دعوت کریں۔‘‘

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص۶۷، خزائن ج۱۵ ص۶۹)

۲… حکیم خدا بخش مرزائی نے اپنی کتاب (عسل مصفی حصہ اوّل ص۵۷۱،۵۷۲) پر لکھا ہے: ’’واقعہ صلیب سے ۴۰روز تک مسیح حواریوں سے ملتا بھی رہا۔ لیکن خفیہ دروازہ بند کرکے ملا کرتا تھا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کو افشاء راز سے ممانعت کی گئی تھی۔ اس واسطے ان کو مصنوعی بات بنانی پڑی کہ وہ آسمان پر چلا گیا ہے اور بعض نے محض یہودیوں کے خیال کو پھیرنے کے لئے کہ وہ تعاقب نہ کریں۔ مصنوعی قبریں بنالیں تاکہ یہودیوں کو یقین ہوجائے کہ مسیح مرگیا۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام اس پہاڑ سے اتر کر دوسری سمت کو چل دئیے اور کئی سو میل کی مسافت طے کرکے نصیبین میں پہنچے۔ چنانچہ (کتاب روضۃ الصفا ج اوّل ص۱۳۳) میں لکھا ہے: ’’ملک را حدیث ثمعون مستحسن افتاد باحضار روح اللہ فرمان داد عیسٰی آمد‘‘ یعنی باد شاہ کو ثمون کی بات اچھی لگی۔ حضرت روح اللہ کے بذات خود تشریف لانے کا حکم دیا اور سرخی میں یہ لکھا ہے:’’درذ کررفتن عیسٰیm ناحیۃ نصیبین‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے جانے کا ذکر نصیبین میں۔ پھر اسی (کتاب کے ص۱۳۲) پر لکھا ہے: ’’ارباب اخبار گفتہ اند کہ درزماں عیسٰی بادشاہے بود وولایت نصیبین بغایت متکبروجبار حضرت نبوی بدعوت اہ مامور شدہ متوجہ نصیبین گشتہ‘‘اس تمام عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور نصیبین میں گئے۔‘‘

105

۲… سید صادق مرزائی اٹاوی نے لکھا ہے: ’’صاحب روضۃ الصفا نے یہ بھی لکھا ہے کہ سفرنصیبین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آپ کی والدہ اور حواری بھی تھے اور ان میں سے تین حواریوںکا نام یعقوب نومان، شمعون بتایا ہے۔ واضح ہو کہ یہ تو مان حواری جس کا ذکر روضۃ الصفا میں لکھا ہے اور جو سفر نصیبین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا وہی تھوما حواریہے۔ جس کی نسبت انسائیکلوپیڈیا ’’ببلیکا‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ ہندوستان میں آیا جیسا کہ ہم اوپر بھی دکھلا چکے ہیں۔ اب جب تو مان یا تھوما حواری اس مہا جرانہ سفر میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ تھا اور اس کی یعنی تھوما کی نسبت یہ امر مسلم ہے کہ وہ ہندوستان میں آیا تو ایسی حالت میں عقلاً یہ امر واجب التسلیم قرار پاتا ہے کہ ملک کشمیر میں پہنچ کر خان یار میںوفات پانے والا یوز آسف فی الحقیقت یسوع آسف ہے نہ کوئی اور۔‘‘

(کتاب کشف الاسرار ص۳۸)

جواب:

۱… (کتاب تاریخ روضۃ الصفا من تالیفات محمد خاوند شاہ مطبوعہ ۱۲۷۱ھ چھاپہ بمبئی ج اوّل ص۱۳۰) پر عنوان یوں قائم کیا گیا ہے۔ ذکر احوال عیسیٰ ابن مریمn: ’’اس کے بعد ان کی ولادت کا ذکر خیر ہے۔ (ص۱۳۰، ۱۳۱) پر لفظ مسیح پر بحث کی گئی ہے۔ (ص ۱۳۲) پر ان کے معجزات مندرجہ سورۂ آل عمران مثلاً اندھے اور برص والے کو اچھا کرنا اور مردے زندہ کرنا باذن اللہ درج ہیں۔ (ص۱۳۲)پر عنوان یوں ہے:’’ذکر رفتن عیسٰیm بناحیۃ نصیبین وزندہ شدن سام ابن نوحm بدعائے آنحضرتm‘‘ (ص ۱۳۳)پر عنوان ہے:’’ذکر نزول مائدہ از آسمان بدعاے حضرت عیسٰیm‘‘(ص۱۳۴) پر عنوان ہے: ’’ذکر مہاجرت عیسٰی از بیت المقدس وظہور بعضے از معجزات دوراں سفر‘‘ (ص۱۳۵) پر عنوان یوں ہے: ’’ذکر رفع حضرت عیسٰی از دار یہوداں برآسمان بحکم ایزدمنان‘‘ (ص۱۳۶)پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ کسی اور شخص کا ان کا ہم شکل ہوکر مارا جانا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا لکھا ہے۔ پھر اس کے آگے یوں لکھا ہے: ’’وکثیرے از ثقات روایت کردہ اند کہ عیسٰی دربیت المعمور مقیم است وایزد تعالٰی سبحانہ بشری ازوے انتنرع نمودہ است وطبع ملائکہ کرامت فرمودہ وآنحضرت باایشاں درآں مقام تادامن آخرالزمان بعبادت قیام خواہد نمود وچوں حضرت

106

مہدیm درآخرالزماں خروج کند عیسٰی بامر خدا وندعالمیاں از آسمان بمکہ معظمہ نزول فرماید درمسجد الحرام ودروقتیکہ مردم صفوف راست کردہ باشندتا بامہدیm فریضئہ بامد ادبگذار ند درآں حال منادی ندا کندکہ ایں شخص عیسٰی بن مریم استکہ از آسمان فردہ آمدہ وخلایق متوجہ عیسٰی شدہ از نزول اومسرورکرد ند ومہدی ازوے التماس نماید تا امت احمد را امامت فرماید وعیسٰی گوید کہ توپیش روکہ ماامروز متابعت شمایاید نمائیم ومہدی درمحراب رفتہ وسایئر مسلمین بادااقتدا نمودہ نماز بگذار ند گفتہ اندکہ عیسٰیm بعد از نزول از عالم علوی چہل سال دیگر زندگانی کند وبتزویج میل فرماید وفرزندان ازوے متولد کرد ند وباعداے ملت احمدی محاربہ فرمایند ومجموع امم مختلفہ راکہ از دین بیگانہ باشند بقتل آورد ودرزمان اوشیر وشتر وپلنگ بابقروگرگ باگو سفند زیست مے کند وکودکان بایات بازی کنند وچوں بعالم بقا آخر آمد مسلمانان بروے نماز گذار دہ درحجرہ عائشۃt کہ مدفن حضرت رسالتa وشیخین است مدفونش ساز ند وصلی اللہ علی نبینا وعلیہ وعلی سائر الانبیاء والمرسلین الٰی یوم الدین ذکر مقتل بنی اسرائیل ورفتن حواریان بدعوت خلق اطراف چوں عیسٰیm بآسمان رفت یہود اصحاب اورا اگر فتہ درتعذیب کشیدند‘‘

(ص۱۳۶،۱۳۷)

ناظرین نے دیکھ لیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مریدوں نے کس قدر مغالطہ دیا ہے۔ کتاب تاریخ الصفا میں تو حضرت مسیح ابن مریم کا آسمان پر اٹھایا جانا اب تک آسمان میں زندہ رہنا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا اور فوت ہوکر آنحضرتa کے روضہ مبارک میں دفن ہونا صاف طور پر لکھا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضر ت مسیح ابن مریمn اور آپ کے تین حواری نصیبین کی طرف ان کے رفع سے پہلے تشریف لے گئے تھے۔ مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں کا مذہب یہ ہے کہ حضرت مسیح ۳۳سال کی عمر میں صلیب پر (ملک شام میں) کھینچے گئے تھے۔ مرہم عیسیٰ سے ان کے زخموں

107

کا علاج ہوا۔ پھر اس صلیبی واقعہ کے بعد آپ نے عراق، ایران، افغانستان، پنجاب وکشمیر کا سفر کیا۔ ۱۲۰برس کی عمر پائی۔ سری نگر محلہ خانیار میں ان کی قبر ہے۔ تاریخ روضۃ الصفا کا مضمون اس سے بالکل الگ ہے۔ اس کتاب میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ واقعہ صلیبی کے بعدحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ کے ساتھ مشرقی ممالک کا سفر کیا اور یہ بھی نہیں لکھا کہ مسیح کشمیر میں آکر فوت ہوا تھا۔

۲… صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمn کی عمر مبارک رفع کے وقت ۳۳سال تھی۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر برحاشیہ فتح البیان ج۳ ص۲۴۵) اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ناصری کی والدہ حضرت مریم صدیقہp کی قبر بیت المقدس میں ہے۔ (تفسیر درمنثور ج۴ ص۱۵۷ ونیز سید محمد سعید مرزائی کا خط مندرجہ کتاب اتمام الحجۃ ص۲۰،۲۱حاشیہ، خزائن ج۸ ص۲۹۹) اس سے صاف ظاہر ہے کہ واقعہ صلیبی کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریمp کا مشرقی ملکوں کی طرف آنا سراسر غلط ہے۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کی تاریخوں اور تفسیروں میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریمp صلیبی واقعہ کے بعد کشمیر میں تشریف لائے اور نہ یہ لکھا ہے کہ مسیح کشمیر میں مرگیا۔

۳… بے شک تھوما حواری کی قبر مدراس (میلا پور) میں موجود ہے۔ مگر تھوما حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد ہندوستان میں آیا تھا اور شہر کا لمین واقع احاطہ مدراس میں وہاں کے راجہ کے حکم سے شہید ہوا تھا۔

(کاتھولک کلیسا کی مختصر تواریخ ص ۲۰،۲۱، ۲۸)

قادیانی خبط العشوا، حضرت مریمp کی قبر

سید محمد سعید مرزائی ساکن طرابلس کی تحریر

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت اللحم میں پید ا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجائوں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدہ قدس کا نام یروشلم تھا۔‘‘

(کتاب اتمام الحجۃ ص ۲۰،۲۱حاشیہ، خزائن ج۸ ص۲۹۹)

108

۲… ’’معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریمp واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ممالک مشرقیہ میں آئیں۔ کیونکہ ان کی قبر بھی ارض مقدسہ میں نہیں۔ حضرت مریم کی قبر اب تک کاشغر میں موجود ہے جس کو شک ہوجاکر دیکھ لے۔‘‘

(حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۵۳)

۳… مرزا بشیر احمد ایم اے کے الفاظ: ’’آخر کار مسیح کی قبر بھی محلہ خانیار سری نگر میں مل گئی۔ اس قبر کے متعلق بھی لوگوں سے دریافت کیا گیا اور تاریخ سے پتہ لیا گیا تو یہی معلوم ہوا کہ یہ اسی یوز آسف کی قبر ہے جو انیس سو سال ہوئے کشمیر میں آیا تھا۔ مزید ثبوت یہ ملا کہ وہ قبر اور اس کے ساتھ والی مسیح کی ماں کی قبر ٹھیک اسی طرز پر ہیں جس طرح بنی اسرائیل کی قبریں ہوتی تھیں۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۲۵۶ حاشیہ، بابت ماہ جولائی ۱۹۱۷ء)

نوٹ: سری نگر کے محلہ خانیار میں ایک قبر تو شہزادہ یوز آسف کی ہے اور دوسری قبر پیر سید نصیرالدین کی ہے۔

(تاریخ کشمیر ص۸۲)

مرزائی مولویوں کے عجیب وغریب اقوال

۱… مولوی غلام رسول راجیکی فرماتے ہیں: ’’اور شام سے کشمیر کی طرف آتے ہوئے درمیان کے سفر میں نصیبین سے درّے کی طرف راستہ میں عیسیٰ خیل اور کوہ مری جو دراصل کوہ مریم ہے۔ ایسے نشانوں کا پایا جانا ضرور اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ حضرت مسیح اور حضرت مریم کو ضرور ان مقامات سے کوئی تعلق اور نسبت ہے۔‘‘

(رسالہ التنقید ص۳۳)

نوٹ: قوم عیسیٰ خیل کے علاوہ مو سیٰ زئی، محمدزئی، عمر زئی، یوسف زئی، قومیں بھی تو سرحد پر ہیں اور کوہ سلیمان کو کیون بھول گئے۔ کیا حضرت سلیمان نبیm یہاں آئے تھے۔

۲… منشی محمد اسماعیل دہلوی قادیانی لکھتا ہے: ’’معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریمp کشمیر میں للہ دوی (بی بی للہ) کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ نام آپ کا عبرانی کے الماہ سے بگڑ کر بناہے۔ عبرانی میں جوان عورت کو الماہ کہا کرتے ہیں۔‘‘

(رسالہ اعجاز احمدی ص۱۲ حاشیہ، ص۱۸حاشیہ، مصنفہ اسماعیل دہلوی قادیانی)

نوٹ: حضرت للہ دویv ایک مجذوبہ کشمیرمیں گزری ہیں اور آپ حضرت

109

امیر کبیر سید علی ہمدانیv کے زمانے میں ہوئی ہیں اور حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیv کی پیدائش ۷۱۲ھ میں اور وفات شریف ۷۸۶ھ میں ہوئی تھی۔ ان کو حضرت مریمp قرار دینا سراسر غلط ہے۔

۳… نظام الدین مرزائی نے کہا ہے: ’’اور یہ جو بعض تواریخ میں آیا ہے کہ یوز آسف ’’شولاپت‘‘ سے آیا تھا اور عربی تحریروں میں اصل لفظ ’’شولابت‘‘ آیا ہے یعنی اصل میں ’’ب‘‘ کے ساتھ ہے اور فارسی تحریروں میں حرف ’’پ‘‘ کے ساتھ آیا ہے۔ یہ دراصل ’’صلیب‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے اور کشمیری ملاں آج بھی ’’صلیب‘‘ کو ’’صولیب‘‘ کہتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کو تنبیہ کی گئی۔ پھر بھی ’’صلیب‘‘ ان کے منہ سے نہیں نکلتی۔‘‘

(ریویو ص۲۳، بابت ماہ دسمبر۱۹۲۵ء)

(کتاب اکمال الدین ص۳۱۷،۳۲۱ اور کتاب شہزادہ یوز آسف وحکیم بلوہر ص۲،۴) پر لکھا ہے کہ شہزادہ یوز آسف کا باپ ہندوستان میں ایک حکمران تھا اور (اکمال الدین ص۳۲۵،۳۵۸،۳۵۹، کتاب شہزادہ یوزآسف ص۲۶، ۱۲۸) کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف کا وطن سرزمین ’’سولابط‘‘ تھا۔ اسی لفظ کو لفظ ’’صلیب‘‘ سے کیا تعلق ہے؟

۴… سید صادق حسین قادیانی اٹاوی لکھتا ہے: ’’پس کیا تعجب کہ اجنبی زبان کا نام ہونے اور مردر زمانہ اور کثرت استعمال کے سبب سے ہندوستان میں برتھولما حواری کا نام بگڑبگڑ اکر بلوہر ہوگیا ہو۔‘‘

(کشف الاسرار ص۴۶)

یہ بات سراسر غلط ہے کیونکہ (کتاب اکمال الدین ص۳۲۵، کتاب شہزادہ یوز آسف وحکیم بلوہر ص۲۶) پر لکھا ہے کہ یوز آسف کی عقل وعلم وکمال وفکر وتدبیر وفہم وزہد وترک دنیا کا شہرہ دور دور پھیل گیا اور ایک شخص نے جو کہ اہل دین واہل عبادت میں سے تھا اور اس کا نام بلوہر تھا۔ یہ خبر لنکا میں سنی اور یہ شخص بڑا عابد اور حکیم دانا تھا۔ اس نے دریا کا سفر کیا اور سولابط کی طرف آیا حواری برتھولما تو ملک شام میں ہوا ہے۔

۵… قاضی ظہور الدین اکمل مرزائی نے کہا ہے: ’’پکی روٹی وڈی میں لکھا ہے: ’’جے کوئی پچھے عمر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دی کتنی ہوئی تو آکھ جی ہک سو تریہہ ورے‘‘ اب خیال فرمائیے کہ واقعہ صلیب تو ۳۳سال کی عمر میں پیش آیا۔ پس یقینا اس کے بعد زمین پر زندہ رہے ہیں اور ۱۲۰سال سے زیادہ عمر پائی۔‘‘

(ضمیمہ ظہور المسیح ص۲۲،۲۳)

110

قادیانی الفاظ ممکن ہے کی تردید

۱… مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ’’ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے اور مسیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ فرمایا ہے اور کہا کہ نبی بے عزت نہیں، مگر اپنے وطن میں مگر افسوس کہ ہمارے مخالفین اس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ حضرت مسیح نے کب اور کس ملک کی طرف ہجرت کی بلکہ زیادہ تر تعجب اس بات سے ہے کہ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام نے مختلف ملکوں کی بہت سیاحت کی ہے بلکہ ایک وجہ تسمیہ اسم مسیح کی یہ بھی لکھتے ہیں لیکن جب کہا جائے کہ وہ کشمیر میں بھی گئے تھے تو اس سے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ جس حالت میں انہوں نے مان لیا کہ حضرت مسیح نے اپنی نبوت کے ہی زمانہ میں بہت سے ملکوں کی سیاحت بھی کی تو کیا وجہ کہ کشمیر جانا ان پر حرام تھا۔ کیا ممکن نہیں کہ کشمیرمیں بھی گئے ہوں اور وہیں وفات پائی ہو اور پھر جب صلیبی واقعہ کے بعد ہمیشہ زمین پر سیاحت کرتے تو آسمان پر کب گئے۔ اس کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۳حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۱۰۶،۱۰۷)

نوٹ: یہ جو مرزا نے لکھا ہے کہ: ’’ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے۔ ‘‘صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید کی کسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں فرمایا: کسی صحیح حدیث نبوی میں بھی یہ نہیں ہے۔ اناجیل اربعہ مروجہ کے الفاظ ہم مسلمانوں کے لئے حجت نہیں ہیں۔ احادیث صحیحہ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضرت مسیح نے صلیبی واقعہ کے بعد مختلف ملکوں کی بہت سیاحت کی ہے۔ (تاریخ روضۃ الصفا ج اوّل ص۱۳۰، ۱۳۵) میں یہ لکھا ہے کہ واقعہ صلیبی سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام نصیبین کی طرف گئے تھے۔ پھر ملک شام میں واپس آئے اور آسمان پر اٹھائے گئے۔

مسیحی تاریخوں، اسلامی تاریخوںوتفسیروں اور اہل کشمیر کی تاریخی کتابوں میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریمp صلیبی واقعہ کے بعد شام سے ہجرت کرکے کشمیر میں چلے آئے اور یہ بھی نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر میں ہے۔

۲… مولوی غلام رسول مرزائی کے الفاظ: ’’مولوی ابراہیم سیالکوٹی کتاب اکمال الدین جس میں یوزآسف کا ذکر ہے، اس کو حضرت مسیح نہیں سمجھتے بلکہ ہندوستان کے شہزادوں

111

سے ایک شہزادہ سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی یوز آسف کے نام کا شہزادہ بھی ہوچکا ہو۔ جس کا نام مسیح علیہ السلام کے اسی کے نام پر رکھا گیا ہو۔ جیسا کہ سینکڑوں آدمیوں کا نام انبیاء کے نام پر ابراہیم، اسحق، اسماعیل، یعقوب، یوسف، دائود، سلیمان، عیسیٰ، محمدوغیرہ بطور تفائول رکھا جاتا ہے۔‘‘

(رسالہ التنقید ص۲۵)

۳… مفتی محمد صادق مرزائی کی تحریرلیڈی مسزفرو کا بیان: ’’اور کچھ عرصہ ہوا ہمارے ایک دوست مولوی دستگیر صاحب احمدی کو جو میلاپور میں رہتے ہیں۔ ایک لیڈی مسز فرد نام نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ خود حضرت مسیح بھی ہندوستان آئے تھے اور ممکن ہے کہ تھوما کا کام دیکھنے گئے ہوں۔ تھوما خود بھی کہتے ہیں کہ مسیح نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔‘‘

(اخبار فاروق قادیان ص۱۵، مورخہ ۲۷؍اپریل، ۴؍مئی ۱۹۱۶ء)

۴… ’’جیسا کہ بعض مورخین کی رائے ہے تھوما اور اس کے بعد بارتھولومیو ہردو صاحبان ہندوستان تشریف لائے اور مرقس نے بھی اپنے ایلچی بھیجے اور ممکن ہے کہ بعض دیگر حواری بھی آئے ہوں۔‘‘

(اخبار فاروق قادیان ص۱۰، مورخہ ۱۱،۱۸،۲۵؍مئی ۱۹۱۶ء)

۵… شیر علی مرزائی کی تحریر: ’’اگر یوز آسف کے قصہ کے بعض واقعات گوتم کے حالات سے ملتے ہوں تو اس سے ثابت نہیں ہوسکتا کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ ممکن ہے کہ جس طرح گوتم کو بدھ (یعنی حکیم) کا خطاب دیا گیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی یہی خطاب دیا گیا ہو۔ بدھ صرف گوتم کا ہی نام نہیں، گوتم سے پہلے بھی اور پیچھے بھی کئی بدھ ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح کے ہند میں آنے پر ممکن ہے کہ اہل ہند نے ان کو بدھ کا خطاب دیا ہو۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۴۷۴، بابت ماہ نومبر، دسمبر۱۹۰۳ء)

جواب: الفاظ ’’ممکن ہے‘‘ کوئی دلیل نہیں ہوسکتے۔ دلیل کے بغیر کوئی بات قابل تسلیم نہیں ہوتی: ’’ایک امر کا ممکن ہونا اور چیز ہے اور فی الواقع اس امر کا واقع ہونا اور چیز ہے۔‘‘

(رسالہ ریویوآف ریلیجنز ج۹، نمبر۹ ص۳۴۸، بابت ماہ ستمبر۱۹۱۰ء)

نتیجہ: نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کشمیر کے شہر سری نگر میں جو شہزادہ یوزآسف کی قبر ہے وہ حضرت عیسیٰ ابن مریمn کی قبر نہیں ہے اور قادیانی مذہب باطل ہے۔

112

عمر مرزا

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

113

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فصل اوّل

الہامات مرزا

۱… ’’وتریٰ نسلا بعیدا ولنحیینک حیوٰۃ طیبۃ ثمانین حولااوقریبا من ذالک‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۹، ازالہ اوہام ص۶۳۵، خزائن ج۳ ص۴۴۳)

۲… ’’چھتیسویں پیش گوئی یہ ہے جیسا کہ میں ازالہ اوہام میں لکھ چکا ہوں۔ خداتعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیری عمر اسّی برس یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ ہوگی۔‘‘

(سراج منیر ص۷۹، خزائن ج۱۲ ص۸۱)

۳… ’’میں تجھے اسّی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۱۵۲)

۴… ’’ اسّی یا اس پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۶، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

۵… ’’تیس سال سے زیادہ عرصہ گزرتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ تیری عمر اسّی برس یا دوچار اوپر یا نیچے ہوگی۔‘‘

(کتاب منظور الٰہی ص۲۲۸)

۶… ’’چونکہ خداتعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تا یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلد مرگیا۔ اس لئے پہلے ہی سے خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا: ’’ثمانین حولا اوقریباً من ذالک اوتزید علیہ سنینا وتریٰ نسلا بعیدا‘‘ یعنی تیری عمراسّی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل دیکھ لے گا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۱۹، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۹، خزائن ج۱۷ ص۶۶)

۷… ’’اور پھر (خدانے) فرمایا:’’لنحیینک حیوٰۃ طیبۃ ثمانین حولا اوقریباً من ذالک وتری نسلا بعیدا‘‘ہم تجھے ایک پاک اور آرام کی زندگی عنایت

114

کریں گے۔اسّی برس یااس کے قریب قریب یعنی دو چار برس کم یا زیادہ اور تو ایک دور کی نسل دیکھے گا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۹، خزائن ج۱۷ ص۴۲۲، البشریٰ ج۲ ص۲)

۸… ’’سو اسی طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسّی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص ۱۰، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۴)

۹… ’’ میرے لئے بھی اسّی برس کی زندگی کی پیش گوئی ہے۔‘‘

(رسالہ تحفۃ الندوہ ص۲، خزائن ج۱۹ ص۹۳)

۱۰… ’’اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مرضوں کے انجام کی نظریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیوںکر افتراء پر جرأت کرسکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسہ پر کہتا ہے کہ میری عمر اسّی برس کی ہوگی۔‘‘

(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۷۱)

۱۱… ’’اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تیس برس کی مدت گزر گئی کہ خداتعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسّی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، ضمیمہ ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸)

۱۹۰۵ء میں مرزا کی عمر۶۷سال تھی۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹، خزائن ج۲۱ ص۱۱۸)

نوٹ: ’’اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چھہتراور چھیاسی کے اندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔‘‘

(کتاب ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۹)

فصل دوم

پیدائش مرزا

۱… مرزاقادیانی کے الفاظ: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۶، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷حاشیہ)

115

۲… حکیم نورالدین صاحب بھیروی لکھتا ہے: ’’سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود ومہدی مسعود ۱۸۳۹ء۔‘‘

(کتاب نورالدین ص۱۷۰)

۳… حضرت مرزا صاحب ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے ہیں۔‘‘(یعنی ۱۸۳۹ء)

(رسالہ تشحیذ الاذہان ج۳ نمبر۲،۳ ص۵۶، بابت ماہ فروری، مارچ ۱۹۰۸ء)

۴… ’’الف ششم میں جو کہ ۱۲۷۰ھ کو ختم ہوا۔ آپ کی پیدائش ہوئی (نہ کہ ماموریت) کیونکہ آپ کی ولادت ۱۲۵۵ھ کو ہوئی ہے۔‘‘ (یعنی ۱۸۳۹ء)

(اخبار الحکم ص۶، مورخہ ۶؍جنوری۱۹۰۸ء، رسالہ تشحیذ الاذہان ص۹۱، بابت ماہ فروری، مارچ ۱۹۰۸ء)

۵… ’’آپ ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں بمقام قادیان اسی مکان میں جہاں سکونت ہے توام پیدا ہوئے۔‘‘

(اخبار بدر ج۱ نمبر۱ ص۳، مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء)

۶… ’’آپ کی مبارک پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔‘‘

(اخبار الحکم ج۸ نمبر۴۳، ۴۴ ص۱۴، مورخہ ۱۷،۲۴؍دسمبر ۱۹۰۴ء)

۷… ’’مرزا صاحب کا جنم ۱۸۳۹ء، ۱۸۴۰ء میں ہوا تھا۔‘‘

(اخبار بدر ص۵، مورخہ۱۳؍دسمبر ۱۹۰۶ء، اخبارالحکم ص۷، مورخہ۱۰؍دسمبر۱۹۰۶ء پربحوالہ رسالہ سرستی)

۸… ’’اس فرقہ (احمدیہ) کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور پنجاب میں ایک گائوں ہے۔ آپ ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوئے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ص۱ کالم۲، مورخہ ۲۱؍جولائی ۱۹۲۳ء)

۹… ’’آپ کی پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہوئی تھی۔‘‘

(کتاب عسل مصفی حصہ دوم ص۶۳۲، مطبوعہ ۱۹۱۴ء الہ بخش پریس قادیان، بحوالہ اخبار علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ)

۱۰… ’’۱۸۳۹ء ۱۲۵۵ھ وہ مبارک سال ہے جب آپ کی پیدائش ہوئی۔‘‘

(رسالہ سوانح حضرت مسیح موعود ص۷، اخبار پیغام صلح ص۹، مورخہ ۲۹؍شوال، ۳؍ذیقعدہ۱۳۴۳ھ)

۱۱… ’’۱۸۳۹ء اور۱۲۵۵ھ دنیا کی تو اریخ میں بہت بڑا مبارک سال ہے جس میں خداتعالیٰ نے مرزا غلام مرتضی کے گھر قادیان میں وہ موعود مہدی پیدا فرمایا جس کے لئے اتنی تیاریاں زمین وآسمان پر ہورہی تھیں۔‘‘کتاب براہین احمدیہ (مطبوعہ ۱۹۰۶ء بدر پریس لاہور)

116

کے ساتھ شائع ہونے والے رسالہ ’’مسیح موعود کے حالات‘‘ مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی ص۶۰،۶۱

۱۲… ’’اور مسیح موعود کی ولادت اور رنجیت سنگھ کی موت کا ایک ہی سال میں واقعہ ہونا مرسلانہ بعثت کے نشانات کا مظہر ثابت ہوتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سکھی سلطنت کا تاج تھا جو مسیح موعود کے پیدا ہوتے ہی ۲۷؍جون ۱۸۳۹ء کو گرکر خاک میں مل گیا۔‘‘

(کتاب براہین احمدیہ کے ساتھ شائع ہونے والے رسالہ مسیح موعود کے حالات ص۶۱)

۱۳… ’’مرزاقادیانی نے بموضع قادیان ضلع گورداسپور ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوکر نزول جلال فرمایا اور ۱۹۰۸ء میں دار فانی سے رحلت فرمائی۔‘‘ (صوفی ابوعنایت الرحمن مرزائی مالیرکوٹلوی اپنے رسالہ استفتاء لاثانی برقائلین ممات حضرت مسیح آسمانی ص۱۵، گلزار ہندسٹیم پریس لاہور)

۱۴… ’’مرزا غلام احمد کی پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہوئی۔‘‘

(کتاب مذاہب الاسلام ص۷۱۰، مطبوعہ ۱۹۱۳ء خادم التعلیم سٹیم پریس لاہور)

۱۵… ’’مرزا غلام احمد قادیانی۱۸۳۹ء یا۱۸۴۰ء میں توام پیدا ہوئے۔‘‘

(اخبار وکیل ص۸ کالم۱، مورخہ ۳؍جون ۱۹۰۸ء)

۱۶… ’’یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضی کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا۔‘‘

(اخبار بدر قادیان ص۲، مورخہ ۱۴؍جون۱۹۱۲ء، کتاب رئوسائے پنجاب ج دوم ص۶۹، رسالہ ریویوص۳۲۵، بابت ماہ ستمبر۱۹۱۶ء)

۱۷… ’’مرزا کا تولد ۱۸۳۹ یا۱۸۴۰ میں ہوا۔‘‘

(عسل مصفی ج۲ ص۶۷۵)

۱۸… ’’بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی بمقام قادیان سکھوں کے عہد حکومت کے آخری ایام میں قریباً ۱۸۳۹ء، ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے لحاظ سے آپ مغل تھے۔‘‘

(احمدیہ جنتری ۱۹۲۱ء ص۳۵، مولفہ محمد منظور الٰہی مرزائی)

۱۹… ’’حضرت مرزا صاحب کی ولادت باسعادت سکھوں کے آخری وقت یعنی ۱۸۳۹ء یا۱۸۴۰ء میں ہوئی۔‘‘

(عسل مصفی ص۵۷۵)

نوٹ: ان ۱۹ تحریروں سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۳۹ء یعنی ۱۲۵۵ھ میں پیدا ہوئے تھے۔

117

ایک عجیب بات

مرزاقادیانی کے الفاظ: ’’میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۵۴، خزائن ج۱۷ ص۲۵۲حاشیہ، رسالہ ریویو ص۳۳،۳۶، باب ماہ اپریل ۱۹۲۴ء)

نوٹ: واضح ہو کہ الف ششم ۱۲۷۰ھ کو ختم ہوا تھا۔

(اخبار الحکم ص۶ کالم۳، مورخہ ۶؍جنوری ۱۹۰۸ء)

پس اس تحریر کی رو سے مرزاقادیانی کا سنہ پیدائش ۱۲۵۹ھ یعنی ۱۸۴۳ء بنتا ہے۔ چنانچہ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۱۵۴، بابت ماہ مئی ۱۹۲۲ء) پر ہے: ’’اور ۱۲۶۰ھ پیدائش مسیح موعود کا سال۔‘‘

فصل سوم

مرزا قادیانی کی عمر

قوی دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرزاقادیانی کی عمر چوہتر سال سے کمہوئی ہے۔ جس کے لئے ذیل میں بیس سے زیادہ دلائل لکھے جاتے ہیں:

دلیل نمبر:۱

مرزاقادیانی کے الفاظ: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔‘‘(کتاب البریہ ص۱۴۶، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷، اخبار بدر قادیان مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۴ء ص۵، کتاب حیاۃ النبی ج۱ ص۴۹، ریویو آف ریلیجنز ص۲۱۹، بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء، اخبار الحکم ص۴، مورخہ ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء)

نوٹ: مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو فوت ہوئے تھے۔

(عسل مصفی ج۲ ص۶۱۴)

پس آپ کی عمر ۶۹سال شمسی حساب سے اور ۷۱سال قمری حساب سے ہوئی ہے۔

دلیل نمبر:۲

’’اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔‘‘کتاب البریہ ص۱۴۶

118

حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷، ریویو آف ریلیجنز ص۲۲۰، بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء، اخبار بدر ص۵، مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۴ء، اخبار الحکم ص۴، مورخہ ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء

نوٹ: اس حساب سے مرزاقادیانی کی عمر۶۹سال شمسی حساب کی رو سے بنتی ہے۔

دلیل نمبر:۳

’’میری عمر قریباً چونتیس پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔‘‘(کتاب البریہ ص۱۵۹ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۹۲حاشیہ، رسالہ ریویو ص۲۲۳، بابت ماہ جون ۱۹۰۱ء، اخبار الحکم ص۵، مورخہ ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء، کتاب حیاۃ النبی ج اوّل ص۴۳)

نوٹ: مرزاغلام مرتضی ۱۸۷۴ء میں فوت ہوئے تھے۔ (نزول المسیح ص۱۱۶تا۱۱۸، خزائن ج۱۸ ص۴۹۴،۴۹۵) اس وقت مرزاقادیانی ۳۵برس کے تھے۔ پس کل عمر۶۹سال ہوئی۔

دلیل نمبر:۴

’’۱۶؍مئی ۱۹۰۱ء حضرت مسیح موعود کا بیان جو آپ نے عدالت گورداسپور میں بطور مدعا علیہ مرزا نظام الدین کے مقدمہ بند کرنے راستہ شارع عام جو مسجد کو جاتا تھا۔ میں حسب ذیل دیا۔ اللہ تعالیٰ حاضر ہے۔ میں سچ کہوں گا۔ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے۔‘‘

(کتاب منظور الٰہی ص۲۴۱)

نوٹ: مئی ۱۹۰۱ء میں مرزاقادیانی کی عمر ساٹھ کے قریب تھی۔ پس مئی ۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر ۶۷،۶۸سال ہوئی۔

دلیل نمبر:۵

’’۱۸۵۹ء یا ۱۸۶۰ء کا ذکر ہے کہ مولوی گل علی شاہ صاحب کے پاس جو ہمارے والد صاحب نے خاص کر ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے پڑھاکرتا تھا اور اس وقت میری عمر سولہ سترہ برس کی ہوگی۔‘‘

(اخبار الحکم ص۶، مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۱ء، کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸)

نوٹ: اگر ۱۸۵۹ء یا ۱۸۶۰ء میں مرزاقادیانی کی عمر ۱۷برس ہوتو ۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر ۶۷،۶۸سال بنتی ہے۔

119

دلیل نمبر:۶

’’حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‘‘

(کتاب سیرۃ ا لمہدی ج۱ نمبر۲۸۳ ص ۲۵۶، منظور الٰہی ص۳۴۳)

نوٹ: خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب ۱۹۱۳ء بکرمی یعنی ۱۸۵۶ء عیسوی میں پیدا ہوئے تھے۔

(سیرت المہدی ج۲ ص ۱۹۶، روایت:۴۶۷)

پس اس حساب سے بھی مرزاقادیانی کی عمر ۱۹۰۸ء میں ۶۸،۶۹سال بنتی ہے۔

دلیل نمبر:۷

’’مشیر اعلیٰ! اب جناب کی عمر کیا ہوگی؟ حضرت اقدس! ۶۵ یا ۶۶ سال۔‘‘

(اخبار الحکم ج۸ نمبر۹ ص۲، مورخہ ۱۷،۳۱؍مارچ ۱۹۰۴ء)

نوٹ: ماہ مارچ ۱۹۰۴ء میں مرزاقادیانی کی عمر ۶۵ یا ۶۶سال تھی۔ پس ۱۹۰۸ء میں ۶۹سال ہوئی۔

دلیل نمبر:۸

۱۹۰۵ء مرزاقادیانی نے بمقام جالندھر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: ’’خداتعالیٰ ایک مفتری، کذاب انسان کو اتنی لمبی مہلت نہیں دیتا کہ وہ آنحضرتa سے بڑھ جاوے۔ میری عمر ۶۷سال کی ہے اور میری بعثت کا زمانہ ۲۳سال سے بڑھ گیا ہے۔‘‘

(رسالہ پیغام امام ص۳۵)

نوٹ: ۱۹۰۵ء میں مرزاقادیانی ۶۷سال کے تھے۔ پس سال وفات ۱۹۰۸ء میں کل عمر۷۰سال تھی۔

دلیل نمبر:۹

’’میری عمر اس وقت تقریباً ۶۸سال کی ہے۔‘‘

(کتاب حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹حاشیہ)

نوٹ: کتاب حقیقت الوحی۱۹۰۶ء،۱۹۰۷ء میں لکھی گئی تھی۔ اس وقت مرزاقادیانی کی عمر ۶۸سال تھی۔ پس سال وفات ۱۹۰۸ء میں کل عمر۶۹سال تھی۔

120

دلیل نمبر:۱۰

’’اور انہوں نے (یعنی کریم بخش نے) نہایت رقت سے چشم پر آب ہوکر کئی جلسوں میں میرے رو برو اس زمانہ میں جب کہ چودھویں صدی میں سے ابھی آٹھ برس گزرے تھے۔ یہ گواہی دی کہ مجذوب گلاب شاہ صاحب نے آج سے تیس برس پہلے یعنی اس زمانہ میں جب کہ یہ عاجز قریباً بیس سال کی عمر کا تھا۔ خبر دی کہ عیسیٰ جو آنے والا تھا وہ پیدا ہوگیا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۳۷، خزائن ج۱۷ ص۱۴۹حاشیہ)

نوٹ: اس جگہ مرزاقادیانی اپنی عمر۱۳۰۸ھ میں تقریباً پچاس سال تحریر فرماتے ہیں۔ پس کل عمر۶۸،۶۹سال ہوئی۔

دلیل نمبر:۱۱

الف… ’’اگر وہ ساٹھ برس الگ کردئیے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں، تو ۱۲۵۷ھ تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے۔‘‘

(کتاب تحفہ گولڑویہ ص۱۰۰، خزائن ج۱۷ ص۲۶۰)

ب… ’’اس ساٹھ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گذشتہ عمر کے دن ہیں۔ ان تمام اشاعت کے وسیلوں سے ملک خالی پڑا تھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱، خزائن ج۱۷ ص۲۶۴)

نوٹ: کتاب تحفہ گولڑویہ ۱۳۱۷ھ میں لکھی تھی۔ اس وقت مرزاقادیانی کی عمر ساٹھ سال کی تھی۔ پس سال وفات۱۳۲۶ھ میں کل عمر۶۹سال تھی۔

دلیل نمبر:۱۲

الف… ’’اور میں چالیس سال کا تھا کہ الہام کا دروازہ مجھ پر کھولا گیا۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۲۷، خزائن ج۷ ص۲۰۹)

ب… ’’میرے اس دعوے وحی اور الہام پر پچیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں جو آنحضرتa کے ایام بعثت سے بھی زیادہ ہیں۔ کیونکہ وہ تیئس برس تھے اور یہ تیس سال کے قریب۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۴)

’’یہ یاد رہے کہ اگر میرے زمانہ الہام کو اس تاریخ سے لیا جائے، جب اوّل حصہ براہین احمدیہ کا لکھا گیا تھا۔ تب تو اس سال سے میرے الہام کے زمانہ کو ستائیس سال کے

121

قریب ہوتے ہیں اور جب براہین احمدیہ کے چہارم حصہ سے شمار کیا جائے تو تب پچیس سال گزر گئے ہیں اور جب وہ زمانہ لیا جائے کہ جب پہلے الہام شروع ہوا تب تیس سال ہوتے ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)

نوٹ: کتاب حقیقت الوحی ۱۹۰۶ء ۱۹۰۷ء میں لکھی گئی تھی۔ اس وقت مرزاقادیانی کی عمر ستر برس قمری (۴۰+۳۰) تھی۔ پس کل عمر ۷۱ سال قمری ہوئی۔

دلیل نمبر:۱۳

’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب سلسلہ الہامات کا شروع ہوا تو اس زمانہ میں میں جوان تھا۔ اب بوڑھا ہوا اور ستر سال کے قریب عمر پہنچ گئی اور اس زمانہ پر قریباً پینتیس سال گزرگئے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۴۶۱)

نوٹ: حقیقت الوحی ۱۹۰۷ء میں لکھی اس وقت عمر۷۰سال تھی۔ ۱۹۰۸ء میں وفات تو عمر۷۱سال ہوئی۔

دلیل نمبر:۱۴

’’آتھم کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب ۶۴سال کے۔‘‘

(کتاب اعجاز احمدی ص۳، خزائن ج۱۹ ص۱۰۹)

نوٹ: (اخبار بدر کالم۳ ص۵، مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۴ء) میں ہے: ’’اس عبارت سے یہ امر صاف عیاں ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے کتاب اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت جو آپ کی عمر تھی۔ اس کا مقابلہ عبد اللہ آتھم کی عمر سے کیا ہے۔ اعجاز احمدی دسمبر۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے اور (کتاب البریہ ص۱۴۶ حاشیہ) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے اخیری وقت میں ہوئی اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ یا سترھویں برس میں تھا۔ اب حساب کرلو کہ ۱۹۰۲ء میں آپ کی عمر۶۴سال کی ہونی چاہئے تھی یا کہ نہیں۔‘‘

نوٹ: ۱۹۰۲ء میں مرزا کی عمر۶۴ سال تھی۔ پس ۱۹۰۸ء میں کل عمر۷۰، ۷۱سال قمری ہوئی۔

122

دلیل نمبر:۱۵

مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک دفعہ کہا: ’’میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول رہا ہوں کہ تامسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۱، خزائن ج۱۳ ص۳۳۹، اشتہاربحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ ص۳، مورخہ ۲۴؍فروری ۱۸۹۸ء)

فروری ۱۸۹۸ء میں مرزاقادیانی کی عمر قریباً ساٹھ برس ہوئی تو مئی۱۹۰۸ء میں ستر برس کی عمر ہوئی۔

دلیل نمبر:۱۶

’’اور اب حضرت کی عمر ۶۵سال کی ہے۔ (اخبار الحکم ص۱۳، مورخہ ۱۰، ۱۷؍نومبر ۱۹۰۴ء) نومبر۱۹۰۴ء میں مرزاصاحب ۶۵سال کے تھے تو مئی۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر۶۸،۶۹سال ہوئی۔

دلیل نمبر:۱۷

’’اس زمانہ میں مرزا صاحب کی عمر راقم کے قیاس میں تخمیناً ۲۴ سے کم اور ۲۸ سے زیادہ نہ تھی۔ غرضیکہ ۱۸۶۴ء میں آپ کی عمر ۲۸ سے متجاوز نہ تھی۔‘‘ (راقم امیر حسن)

(کتاب حیاۃ النبی یعنی سیرت مسیح موعود حصہ اوّل ص۶۲)

۱۸۶۴ء میں مرزاقادیانی کی عمر کا ۲۸سال سے زیادہ نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ ۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر۷۲ سے کم تھی۔

دلیل نمبر:۱۸

’’سب سے پہلے ۱۸۶۶ء میں اندرمن مراد آبادی نے جب ہمارے سیدومولا امام حضرت مسیح موعو د کی عمر کوئی بیس برس سے بھی کم ہوگی۔ پاداش اسلام نام ایک گندی سے گندی کتاب شائع کرکے مسلمانوں کو ستایا۔‘‘

(اخبار الحکم ص۱۲، مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۲ء)

اگر۱۸۶۶ء میں مرزاقادیانی کی عمر بیس برس سے بھی کم ہو تو کل عمر آپ کی اس حساب سے ۷۴سال سے کم بنتی ہے۔

123

دلیل نمبر:۱۹

’’مرزا صاحب جنہوں نے ستر برس عمر پائی۔ قادیان ضلع گورداسپور میں جاگیردار تھے اور ذات کے مغل تھے۔‘‘

(کتاب عسل مصفی حصہ دوم ص۶۳۲ پر (بحوالہ سول اینڈملٹری گزٹ )اور ریویوص۳۲، بابت ماہ اگست ۱۹۰۸ء)

دلیل نمبر:۲۰

’’مرزا غلام احمد خان صاحب ساکن قادیان ضلع گورداسپور جن کی وفات گزشتہ منگل کو ۶۹برس کی عمر میں لاہور ہوئی۔‘‘

(ریویوص۳۲۱، بابت ماہ اگست ۱۹۰۸ء، کتاب عسل مصفی حصہ دوم ص۶۳۳)

فصل چہارم

عمرمرزاقادیانی اور مرزائی مولویوں کی پریشانی

۱… ’’دسمبر۱۹۰۰ء میں آپ کی عمر ۷۵ کے قریب تھی۔ لہٰذا وفات کے وقت مئی ۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر۸۲،۸۳ ہوئی ۔‘‘

(رسالہ ریویو ج۱۷ نمبر۹ ص۳۴۴، بابت ماہ ستمبر۱۹۱۸ء)

۲… ’’اب اگر حضرت مسیح موعود چوہتر سال عمرپاکروفات پاجاتے تو بھی وعدہ الٰہی جو عمر کے متعلق تھا پورا سمجھا جاتا۔ لیکن حکمت الٰہی نے حضر ت مسیح موعود کو ۸۰سال عمر عنایت فرمائی۔‘‘

(ریویو ج۱۷ نمبر۹ ص۳۴۱، بابت ماہ ستمبر۱۹۱۸ء)

۳… ’’قاضی عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ یوز آسف (یسوع مسیح) دوبارہ دنیا میں آئے اور ۷۸سال ہندوستان میں رہ کر پھر خدا وندتعالیٰ کے پاس چلے گئے۔ وہ مرزا غلام احمد کے وجود میں ظاہر ہوئے اور مئی۱۹۰۸ء تک زندہ رہے۔ یہاں تک کہ خدا نے ان کو اپنے پاس بلالیا۔‘‘

(ریویو ص۴۳۹، بابت ماہ نومبر۱۹۱۶ء)

۴… ’’معلوم ہوا کہ ۱۲۹۰ھ میں آپ کی عمر چالیس سال تھی اور ۱۳۲۶ھ میں آپ نے وفات پائی تو آپ کی عمراس لحاظ سے ۷۶سال ہوئی۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۲۳ نمبر۴ ص۱۶۴، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء)

124

۵… ’’جب حضرت اقدس نے وفات پائی تو آپ اس وقت ۷۴سال کے تھے۔‘‘

(تشحیذ الاذہان ص۲۸، بابت ماہ جون، جولائی ۱۹۰۸ء)

۶… (کتاب نورالدین ص۱۷۱ سطر۱۹) میں مرزاقادیانی کا ۱۹۰۸ء میں ۶۹سال عمر پانا لکھا ہے۔

۷… (رسالہ ریویو ص۱۵۴، بابت ماہ مئی ۱۹۲۲ء) پر مرزاقادیانی کا سن پیدائش ۱۲۶۰ھ لکھا ہے اور وفات ۱۳۲۶ھ میں ہے۔ اس سے مرزاقادیانی کی عمر ۶۶سال قمری بنتی ہے۔

۸… ’’اسی وقت یعنی ۱۲۸۸ھ میں حضرت مرزاقادیانی کی عمر عین شباب کی تھی۔ یعنی ۲۱برس ۔‘‘

(کتاب عسل مصفی حصہ دوم ص۵۲۲)

نوٹ: مرزاقادیانی کی وفات ۱۳۲۶ھ، تواس حساب سے مرزاقادیانی کی عمر۵۹سال بنتی ہے۔

فصل پنجم

پیدائش مرزاقادیانی اور مرزائی مولویوں کی پریشانی

۱… ’’صحیح امر یہی ہے کہ آپ کی پیدائش ۱۸۲۸ء یا۱۸۲۹ء میں ہوئی۔‘‘

(مرزائی اخبار الحق دہلی ص۴، مورخہ ۲۰،۲۷؍فروری۱۹۱۴ء)

۲… رسالہ (ریویو ص۴۳۹، بابت ماہ نومبر۱۹۱۶ء) پر مرزاقادیانی کی عمر۷۸سال لکھی ہے اس سے آپ کی پیدائش کا سنہ ۱۸۳۰ء بنتا ہے۔

۳… ’’میرے خیال میں خاتم مصلحین کا سرالصلیب المہدی ۱۸۳۴ء میں پیدا ہوئے تھے۔‘‘

(اخبار بدر ج۷ نمبر۳۳ ص۶، مورخہ ۲۷؍اگست ۱۹۰۸ء)

۴… ’’مرزا صاحب ۱۸۳۶ء یا ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوئے تھے۔‘‘ (اخبار بدر ص۴، مورخہ ۱۱؍جون ۱۹۰۸ء، بدر ص۹، مورخہ ۲۰؍اگست ۱۹۰۸ء، ریویو ج۲۳ نمبر۳ ص۸، بابت ماہ مارچ ۱۹۲۴ء، ریویو ج۷ نمبر۷ ص۲۷۱، بابت ماہ جولائی ۱۹۰۸ء، ریویو ص۳۳۳، بابت ماہ ستمبر۱۹۱۷ء، تشحیذ الاذہان ج۱۳ نمبر۱۲ ص۶، بابت ماہ دسمبر۱۹۱۸ء، بدر ص۲، ۲۵؍جون ۱۹۰۸ء، ریویو ص۱۹۲، بابت ماہ مئی ۱۹۲۵ء)

۵… ’’سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود ومہدی مسعود ۱۸۳۹ء۔‘‘

(کتاب نورالدین ص۱۷۰ کی سطر۱۱)

125

۶… ’’اور ۱۲۶۰ھ پیدائش مسیح موعود کا سال ۔‘‘

(ریویو ص۱۵۴، بابت ماہ مئی ۱۹۲۲ء)

نوٹ: اس حساب سے مرزاقادیانی کا سنہ پیدائش ۱۸۴۴ء بنتا ہے۔ اب دیکھئے ان چھ حوالہ جات میں قادیانیوں نے مرزا کی پیدائش ۱۸۲۸ء سے ۱۸۴۴ء تک پھیلادی ہے۔ اب خود مرزائی فیصلہ کریں کہ کون ساسن صحیح ہے۔

فصل ششم

مرزائیوں کی تحریروں کی تردید

قادیانی: حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تیس برس کی مدت گزر گئی کہ خداتعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسّی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸)

اور (تریاق القلوب ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳) سے ظاہر ہے کہ آپ کی عمر چالیس برس کی تھی کہ مکالمہ مخاطبہ شروع ہوا تو ۳۰،۴۰ مل کرکل ستر برس ہوئے اور یہ کتاب۱۹۰۵ء میں لکھی گئی ہے تو تہتر سال شمسی لحاظ سے جو قمری لحاظ سے ۷۵سال ہوئی۔

(رسالہ ریویو ص۲۳، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء)

مسلمان: مرزا غلام احمد قادیانی نے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸) پر الفاظ (ستر برس کے قریب) لکھے ہیں نہ کہ ستر برس۔ یہ کتاب ۱۹۰۵ء میں لکھی گئی تھی اور مرزاقادیانی کی پیدائش ۱۸۳۹ء میں ہوئی تھی۔ پس ۱۹۰۵ء میں ان کی عمر ۶۶سال تھی اور (تحفہ گولڑویہ ص۱۵۴، خزائن ج۱۷ ص۲۵۲حاشیہ) کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھٹے ہزار یعنی الف ششم میں گیارہ برس رہتے تھے کہ مرزاقادیانی پیدا ہوئے تھے۔ نیز دیکھو (ریویو ص۳۳تا۳۶، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء) الف ششم ۱۲۷۰ھ کو ختم ہوا۔ اس حساب سے مرزاصاحب کی پیدائش کا سال ۱۲۵۹ھ بنتا ہے اور ۱۹۰۵ء یعنی ۱۳۲۳ھ میں مرزا صاحب کی عمر ۶۴سال قمری تھی۔ پس کل عمر۱۳۲۶ھ میں ۶۷سال قمری ہوئی۔

126

قادیانی: ’’ آتھم کی عمر میری عمر کے برابر تھی۔ قریب ۶۴سال کے اور آتھم ۱۸۹۶ء میں مرا اس کے مرنے کے بعد آپ بارہ برس زندہ رہے۔ اس لحاظ سے آپ کی عمر ۷۶ کے قریب ہوئی۔

(اعجاز احمدی ص۳، خزائن ج۱۹ ص۱۰۹، رسالہ ریویو ص۲۳، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء)

مسلمان: ’’مرزاقایانی نے کتاب اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت جو آپ کی عمر تھی۔ اس کا مقابلہ عبد اللہ آتھم کی عمر سے کیا ہے۔ اعجاز احمدی دسمبر ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے اور (کتاب البریہ ص۱۴۶حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷) کی سطر۷ میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اب میری ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔ اب حساب کر لو کہ ۱۹۰۲ء میں آپ کی عمر ۶۴سال کی ہونی چاہئے تھی یا کہ نہیں۔‘‘

(قادیانی اخبار بدر کالم۳ ص۵، مورخہ ۸؍اگست۱۹۰۴ء)

۱۹۰۲ء کے ماہ دسمبر میں مرزاقادیانی ۶۴برس کے تھے۔ پس مئی ۱۹۰۸ء میں ۶۸ یا ۶۹برس عمر تھی۔

قادیانی: ’’یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خداتعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک ۱۲۹۰ھ میں خداتعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پاچکا تھا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۹۹، خزائن ج۲۲ ص۲۰۸، تریاق القلوب ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳) میں فرماتے ہیں: پھر جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خداتعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا۔ معلوم ہوا کہ ۱۲۹۰ھ میں آپ کی عمر چالیس کی تھی اور ۱۳۲۶ھ میں آپ نے وفات پائی تو آپ کی عمر اس لحاظ سے ۷۶سال ہوئی۔

(رسالہ ریویو ص۲۳، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء)

مسلمان: مرزاقادیانی کا ایک قول: ’’میری پیدائش اس وقت ہوئی تھی جب چھ ہزار میں گیارہ برس رہتے تھے۔‘‘

(ریویو ج۲۳ نمبر۴ ص۳۳،۳۶، تحفہ گولڑویہ ایڈیشن اوّل حاشیہ ص۹۵، خزائن ج۱۷ ص۲۵۲)

اس حساب سے مرزا کا سن ولادت ۱۲۵۹ھ بنتا ہے۔ کیونکہ الف ششم ۱۲۷۰ھ کو ختم ہوا تھا۔ پس ۱۲۹۰ھ میں مرزاصاحب کی عمر ۳۱برس قمری تھی اور کل عمر ۶۷برس قمری تھی نہ کہ ۷۶سال۔ ۷۶ کو الٹادینے سے ۶۷بنتا ہے۔

127

قادیانی: اور خلیفہ اوّل نے سن پیدائش ۱۸۳۹ء لکھا ہے نہ کہ ۱۸۴۰ء۔ جیسا کہ مولوی صاحب لکھتے ہیں اور اگر ۱۸۳۹ء کو بھی شامل کیا جائے تو آپ کی کل عمر ستر برس بنتی ہے جو قمری لحاظ سے قریباً۷۲برس بنتی ہے جو مولوی صاحب کے نزدیک مصداق الہام ہوسکتی ہے۔

(ریویو ج۲۳ نمبر۴ ص۲۴)

مسلمان: ’’سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود ومہدی مسعود ۱۸۳۹ء۔‘‘

اور اس کتاب کے ص۱۷۱ کی سطر۱۹ میں مرزاقادیانی کا ۱۹۰۸ء میں ۶۹برس کی عمر پانا لکھا ہے۔ ۶۹برس شمسی ۷۱برس قمری بنتا ہے۔ ۷۴سال سے کم عمر ہوئی۔

قادیانی: چنانچہ ہم خلیفہ اوّل کی دوسری شہادت پیش کرتے ہیں۔ آپ (ریویو آف ریلیجنز ج۷ ص۲۰۰) میں تحریرکرتے ہیں: ’’مرزاقادیانی مغفور کی کیا عمر تھی۔ جب آپ کا انتقال ہوا، اس کے لئے میں کوشش میں ہوں کہ پتہ لگے۔ مرزا سلطان احمد صاحب نے تولد کا سن ۳۶،۳۷ بتایا ہے۔ پس اس شمسی حساب سے آپ کی عمر قمری حساب میں چوہتر پچھتّر ہوئی ہے اور کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا اور حضرت نے نصرۃ الحق میں قریباً یہی لکھا ہے۔‘‘

(ریویو ج۲۳ نمبر۴ ص۲۴)

مسلمان: مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء (مطابق۱۳۲۶ھ) کو فوت ہوئے تھے۔ مولوی حکیم نورالدین کی کتاب نورالدین نامی فروری ۱۹۰۴ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے چار سال اور چارماہ بعد یعنی مرزاقادیانی کے مرنے کے بعد ان کے مریدوں نے اس اعتراض کو دور کرنا چاہا۔ چنانچہ خود مولوی صاحب کے الفاظ (اس کے لئے میں کوشش میں ہوں کہ پتہ لگے) سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مولوی حکیم نورالدین نے مرزاقادیانی کی زندگی میں فروری ۱۹۰۴ء میں کچھ اورلکھاتھا اور ان کے مرنے کے بعد کچھ اور لکھا۔

قادیانی: مرزا سلطان احمد کی روایت صحیح معلوم ہوتی ہے اور اب ہم دوسرے طریق سے مرزا سلطان احمد کی روایت پیش کرتے ہیں۔ جسے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب (سیرۃ المہدی ص۱۹۶، ۱۹۷ج اوّل قدیم، جدید ج اوّل ص۲۱۵) میں لکھا ہے:

128

’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے عزیزم مرزا رشید احمد (جو مرزا سلطان احمد کا چھوٹا لڑکا ہے) کے ذریعے مرزا سلطان احمد سے دریافت کیا تھا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود کے سن ولادت کے متعلق کیا علم ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے ۱۸۳۶ء میں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۲۴، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء)

مسلمان: مرزا سلطان احمد کی روایت غلط ہے کیونکہ:

۱… مرزاقادیانی کے الفاظ: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء ۱۸۴۰ء میں سکھوں کےآخری وقت میں ہوئی ہے۔‘‘ (کتاب البریہ ص۱۴۶ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷، رسالہ ریویو ج ۵ نمبر۶ ص۲۱۹، اخبار بدر ص۵، مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۴ء،‘ کتاب حیات النبی ج۱ ص۴۹، الحکم ۲۱،۲۸؍مئی۱۹۱۱ء)

۲… ’’حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا، اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‘‘

(کتاب سیرۃ المہدی ج اوّل قدیم ص۲۵۶، جدید ص۲۵۵)

خان بہادر مرزا سلطان احمد ۱۹۱۳ء، بکرمی یعنی ۱۸۵۶ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اس حساب سے مرزاقادیانی کا سن پیدائش ۱۸۳۹ء یا۱۸۴۰ء بنتا ہے۔

قادیانی: ایڈیٹر زمیندار مسٹر ظفر علی خان کے والد نے اخبار زمیندار میں آپ کی وفات پر لکھا تھا کہ: ’’مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء یا ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔ اس وقت آپ کی عمر۲۲ یا ۲۴ سال ہوگی اور ہم چشم شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔‘‘

اس شہادت کی رو سے بحساب قمر۷۴سال بنتی ہے۔

(ریویو ص۲۵، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء)

مسلمان: مرزاقادیانی نے ایک بار کہا: ’’۱۸۵۹ء یا۱۸۶۰ء کا ذکر ہے کہ مولوی گل علی شاہ کے پاس جو ہمارے والد صاحب نے خاص ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے پڑھا کرتارہا تھا اور اس وقت میری عمر سولہ سترہ برس کی ہوگی… الخ!‘‘

(اخبار الحکم ج۵ نمبر۴۰ ص۶، کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸)

۱۸۵۹ء میں مرزاقادیانی سترہ برس کے تھے تو ۱۹۰۸ء میں ۶۶، ۶۷سال عمر ہوئی

129

نہ کہ ۷۴سال۔

قادیانی: ملک دین محمد صاحب افسر انہار ریاست بہاولپور فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۱ء کے حصہ اوّلین میں وہ دہلی میں مرزا قادیانی کو ملے تھے اور اس وقت انہوں نے مرزاقادیانی سے ان کی عمر کے متعلق سوال کیا تھا کہ کتنی ہے تو آپ نے جواب دیا تھا کہ چونسٹھ یا پینسٹھ سال کی عمر ہوگی۔ اس واقعہ کے سترہ سال بعد آپ فوت ہوئے ہیں اور اس حساب سے آپ کی عمراکاسی بیاسی سال بنتی ہے۔ (الفضل قادیان ص۴، مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۲۱ء، فاروق ص۹، مورخہ ۸، ۱۵؍جولائی ۱۹۲۱ء، ریویوص۳۴۲،۳۴۳ ج۱۷، بابت ماہ ستمبر ۱۹۱۸ء، اخباربدر ص۸، مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۸ء)

مسلمان: مرزاقادیانی کی عمر۱۸۹۱ء یا ۱۳۰۸ھ میں ۶۴ یا ۶۵ برس نہ تھی بلکہ قریباً پچاس سال کی تھی۔

۱… مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’اگر وہ ساٹھ برس الگ کردئیے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ۱۲۵۷ھ تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویاکالعدم تھے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۰، (جو ۱۹۰۰ء میں لکھی گئی تھی)، خزائن ج۱۷ ص۲۶۰)

۱۹۰۰ء (۱۳۱۸ھ) میں مرزاقادیانی کی عمر ساٹھ برس تھی۔ پس ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی ۵۱برس عمر رکھتے تھے۔

۲… مشیر اعلیٰ نے مرزاقادیانی سے پوچھا کہ اب جناب کی عمر کیا ہوگی۔ اس پر مرزاقادیانی نے جواب دیا کہ ۶۵ یا ۶۶ سال۔

(اخبار الحکم ص۲، مورخہ ۱۷،۳۱؍مارچ ۱۹۰۴ء)

۱۹۰۴ء میں مرزاقادیانی ۶۵ یا۶۶ سال کے تھے تو ۱۸۹۱ میں ۵۲ یا ۵۳سال عمرتھی اور ۱۹۰۸ء میں ۶۹ سال شمسی ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ ۱۸۹۱ء میں عمر ۶۴ یا ۶۵ سال ہو اور تیرہ سال کے بعد ۱۹۰۴ء میں ۶۶ سال۔

نتیجہ: ان تمام دلائل کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا غلام احمدقادیانی کی عمر۷۴سال سے کم ہوئی ہے۔

مرزا غلام احمدقادیانی نے لکھا ہے: ’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

130

بشارت احمد ﷺ

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

131

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض حال

اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے دین اسلام کی خدمت کی توفیق دی اور میری مدد فرمائی۔ میری کتابیں مراق مرزا، مرزائیت کی تردید بطرزجدید، حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں اور عمر مرزا، پنجاب کے اہل سنت والجماعت اور اہل حدیث مسلمانوں میں مقبول ہوئیں اور چند مہینوں میں (یعنی ماہ دسمبر ۱۹۳۲ء اور جنوری تا اپریل ۱۹۳۳ء) ان کی اشاعت کثرت سے ہوئی۔ خصوصاً پنجاب کے دارالسلطنت لاہور، نوشہرہ چھائونی، پشاور چھائونی، ضلع جالندھر اور امرتسر کے مسلمانوں نے ان کتابوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔

فرقہ مرزائیہ کی تردید کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص توفیق ومدد عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص حافظہ اور خاص دماغ وذہن عطا کیا ہے۔

جماعت مرزائیہ کے نام نہادخلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود احمدقادیانی نے لکھا ہے: ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘

(کتاب انوار خلافت ص۹۰)

مرزاقادیانی کے نبی ہونے کی دلیل یہ لکھی ہے: ’’اوّل دلیل حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ جس طرح خداتعالیٰ نے حضرت موسیٰ اورحضرت عیسیٰ اورحضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو نبی کہہ کر پکارا ہے، حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت:’’مبشرابرسول یاتٔی من بعدی اسمہ احمد‘‘ سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۱۸۸)

میاں محمودقادیانی نے (کتاب انوار خلافت ص۱۸، ۲۰، ۲۱، القول الفصل ص۳۱، حقیقت النبوۃ ص۱۸۸، اخبار الفضل مورخہ ۲،۵؍دسمبر ۱۹۱۶ء ص۳) میں اس بشارت کا اصل اور حقیقی مصداق مرزا غلام احمد قادیانی کو ٹھہرایا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ایک گمراہ کن عقیدہ ہے اور قرآن مجید کی نصوص قطعیہ، احادیث صحیحہ، اقوال صحابہi اوراجماع مفسرین کے خلاف ہے۔ شیعہ، سنی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور اہل حدیث سب فرقے اس بات کو

132

مانتے ہیں کہ اس بشارت عیسیٰ علیہ السلام کے مصداق حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰa ہیں۔ اہل سنت تفسیروں میں سے تفسیر ابن کثیر، ابن جریر، غزائب القرآن، فتح البیان، مواہب الرحمن، درمنثور، خازن، مدارک، بیضاوی، جلالین، کمالین، فتوحات الٰہیہ، بحرالمحیط، روح البیان، روح المعانی، معالم التنزیل، حسینی، قادری، مفاتیج الغیب، ابی السعود، عرائس البیان، سراج منیر، تبصیر الرحمن، جامع البیان، فوز الکبیر، ترجمان القرآن، اکسیراعظم، فتح المنان، اعظم التفاسیر، اتقان، بحرمواج، الدرالقیط، تفسیر الوجیز، حاشیہ شیخ صاوی علی جلالین، النہرالماد، تاج التفاسیر، تفسیر محمدی اور کتب معتبرہ مثلاً کنزالعمال، مسنداحمد، مشکوٰۃ، مرقاۃ، لمعات، مظاہرحق، فتح الباری، ارشادالساری، عمدۃ القاری، خصائص الکبریٰ، کتاب الشفاء، نسیم الریاض، مواہب اللدینہ، شرح مواہب، الجواب صحیح وغیرہ میں لکھا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ ابن مریمn کی یہ بشارت آنحضرتa کے لئے ہے۔ چونکہ میاں محمود احمد قادیانی اور ان کے مریدوں کا عقیدہ قرآن مجید، احادیث صحیحہ، اقوال صحابہi اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ اس لئے اس کی تردید میں یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ مرزائی لوگ باطل عقیدے سے توبہ کرکے اسلام کو قبول کریں اور اس آخری نبی کا دامن پکڑیںجو رحمۃ اللعالمین، سیدالمرسلین اور شفیع المذنبینa ہے۔

خادم دین رسول اللہ a

عاجز: حبیب اللہ امرتسری

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بشارت اسمہ احمدﷺ

’’الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰو ۃ والسلام علٰی خاتم النّبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجعمین‘‘

آیت قرآنی: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’واذا قال عیسٰی ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقالما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد۔ فلما جآء ھم باالبینت قالوا ھٰذا سحرمبین (الصف:۶)‘‘اور جس وقت حضرت عیسیٰ ابن مریمn نے فرمایا اے بنیاسرائیل! تحقیق میں خدا کا رسول ہوں تمہاری طرف ماننے والا اس چیز کو کہ آگے میرے ہے

133

توریت سے اور خوشخبری دینے والا ساتھ اس ایک رسول کے کہ میرے بعد آوے گا۔(صفاتی نام اس کا احمدہے پس جب وہ احمد ان لوگوں کے پاس کھلی کھلی دلیلوں کے ساتھ آیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا کھلا جادو ہے۔)

احادیث رسول ربانی

۱… ’’عن جبیر بن مطعم قال سمعت النبیa یقول ان لی اسمآء انا محمدوانا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفرواناالحاشر الذی یحشر الناس علٰی قدمیّ واناالعاقب (والعاقب الذی لیس بعدہ نبی)‘‘ (صحیح بخاری شریف ج۱ ص۵۰۱، باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ ، ترمذی ج۲ ص۱۷، فتح الباری پارہ۱۴ ص۳۱۲، عمدۃ القاری ج۷ ص۵۰۹، ارشاد الساری ج۶ ص۲۱، فیض الباری پارہ نمبر۱۴ ص۵۳، مسند احمدج۴ ص۸۰،۸۴، صحیح مسلم ج۲ ص۲۶۱، مواہب الرحمن پارہ۲۸ ص۳۷۲، مشکوٰۃ المصابیح ج۲ ص۵۱۵، باب اسماء النبی وصفاتہ، مرقاۃ المفاتیح ج۵ ص۳۷۶، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۵۰۶، مظاہرحق ج۴ ص۵۰۰، ابن کثیرج۸ ص۹۱، ابن کثیر ج۹ ص۴۴۹، کتاب الشفاء ج اوّل ص۱۴۴، شرح الشفاء ج اوّل ص۴۸۵،۴۸۶، دلائل النبوۃ ج اوّل ص۱۲، ترجمان القرآن ج۱۵ ص۳۹۳، درمنثور ج۶ ص۲۱۴، مصفی شرح مؤطا ج دوم ص۲۴۷، نسیم الریاض ج۲ ص۳۸۱)

حضرت جبیربن مطعمq سے روایت ہے کہ کہا میں نے نبیa سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھے کہ میرے لئے نام ہیں۔ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں مٹادے گا اللہ میرے ساتھ کفر کو اور میں حاشر ہوں کہ اٹھائے جائیں گے۔ لوگ میرے قدم پر اور میں عاقب ہوں (اور عاقب وہ ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شخص نبوت کے خلعت سے سرفراز نہ کیا جائے) (یعنی آپ کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہوگا) والعاقب الذی لانبی بعدہیہ تفسیر امام زہری تابعی کی ہے۔ جیسا کہ (مسنداحمد ج۴ ص۸۴) سے واضح ہے۔ لیکن (ترمذی مطبع مجتبائی ج۲ ص۱۰۷، باب ماجاء فی اسماء النبی) کے تحت جبیرابن مطعمq کی روایت وانا العاقب الذی لیس بعدی نبیسے ثابت ہے کہ یہ حدیث نبوی کا حصہ ہے اوراپنے نام عاقب کی حضورm نے: ’’الذ ی لیس بعدی نبی‘‘سے تفسیر فرمائی ہے۔

134

ب… ’’عن العرباض بن ساریۃ عن رسول اللہ a انہ قال انی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینتہ وساخبر کم باول امری دعوۃ ابراھیمm وبشارۃ عیسٰی ورؤیا امی التی رأت حین وضعتنی وقد خرج لھا نور اضاء لھا منہ قصورالشام‘‘(مسند احمد ج۴ ص۱۲۷،۱۲۸، مسند احمد ج۵ ص۲۶۲، تفسیرابن جریر پ۲۸ ص۸۷، تفسیر ابن کثیر ج۹ ص۴۴۹، درمنثور ج اوّل ص۱۳۹، درمنثور ج۶ ص۲۱۳، ۲۱۴، ترجمان القرآن ج اوّل ص۱۶۱،۱۶۸، ۱۶۹، ترجمان القرآن ج۱۵ ص۳۹۶، ۳۹۷، مواہب الرحمن ج۱ ص۳۲۲ ج۲۲ ص۴۴ج۲۸ ص۳۷۳، نسیم الریاض ج۲ ص۲۱۶،۲۱۷، مشکوٰۃ المصابیح ج۲ ص۵۱۳، باب فضائل سیدالمرسلین، مرقاۃ المفاتیح ج۵ ص۳۶۷، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۴۹۹، مظاہر حق ج۴ ص۴۹۳، فتح الباری پارہ۱۴ ص۳۲۵، فیض الباری پارہ۱۴ ص۸۰، کتاب الشفاء ج اوّل ص۱۰۲، ۱۰۳، شرح الشفا ج اوّل ص۳۷۱،۳۷۲،۳۷۳، مواہب اللدنیہ ج اوّل ص۲۰، ۲۲، زرقانی شرح مواہب ج۶ ص۱۶۷، خصائص الکبریٰ ج اوّل ص۴، ۹، ۴۵،۴۶)

حضرت عرباض بن ساریہq سے روایت ہے کہ اس نے نقل کی حضرت رسول اللہ a سے کہ آپa نے فرمایا تحقیق میں اللہ کے نزدیک لکھا ہوا تھا ختم کرنے ولا نبیوں کا، اس حال میں کہ تحقیق حضرت آدمm اپنی گوندھی ہوئی مٹی میں تھے اور میں خبردوں تم کو ساتھ اوّل امرکے کہ وہ دعا حضرت ابراہیم خلیل اللہ k کی ہے اور حضرت عیسیٰ روح اللہ کا خوشخبری دینا ہے اور میری ماں کا خواب دیکھنا ہے کہ دیکھا اس نے جب مجھ کو جنا اور تحقیق میری ماںکے لئے ظاہر ہوا ایک نور جس سے اس کے لئے ملک شام کے محل ظاہر ہوئے۔

نوٹ: حضرت ابراہیمk کی دعا: ’’ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم آیتک ویعلمھم الکتاب والحکمۃ ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم (بقرۃ:۱۲۹)‘‘میں ہے۔

مذہب محمود احمد قادیانی

الف… محمود احمدقادیانی(القول الفصل ص۲۷تا۲۹) پر لکھتا ہے: ’’حضرت مسیح موعود(مرزاقادیانی) نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیش گوئی کا میں ہی ہوں۔ کیونکہ یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے اور آنحضرتa احمد اور محمددونوں تھے۔

135

چنانچہ آپ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ’’اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘مگر ہمارے نبیa فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال وجمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

اسی طرح اعجاز المسیح میں لکھتے ہیں: ’’اور عیسیٰ علیہ السلام نےکز رع اخرج شطأہ الایۃ میں وآخرین منھم والی جماعت اور ان کے امام کی طرف اشارہ کیا ہے بلکہ اسمہ احمد کہہ کر صریح طور پر اس امام کا نام بھی بتادیا ہے اور اس مثال میں (یعنی کزرع اخرج شطأہ) میں جو قرآن کریم میں مذکور ہوئی ہے۔ حضرت عیسیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح موعود کا ظہور نرم ونازک پودے کے مشابہ ہوگا۔ سخت چیز سے مشابہت نہیں رکھتا ہوگا۔ پھر منجملہ قرآنی لطائف کے ایک نکتہ یہ ہے کہ احمد نام کا تو عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی میں ذکر کیا ہے اور محمد کا حضرت موسیٰ کی پیش گوئی میں تاکہ پڑھنے والے کو یہ نکتہ معلوم ہوجائے کہ جلالی نبی یعنی موسیٰ نے ایسا نام پیش گوئی میں اختیار کیا جو اس کے اپنے حال کے موافق تھا یعنی محمد جو جلالی نام ہے اور اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اسم احمد کو پیش گوئی میں ظاہر کیا جو جمالی نام ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ جمالی نبی تھے اور قہر وقتال سے انہیں کچھ حصہ نہیں دیا گیا تھا۔ خلاصہ کلام یہ کہ (موسیٰ وعیسیٰ میں سے) ہر ایک نے اپنے مثیل نام کی طرف اشارہ کیا۔ اس نکتہ کو یاد رکھو کیونکہ یہ تمام اوہام سے نجات دینے والا ہے اور جلال اور جمال دونوں کو خوب واضح کرتا ہے اور پردہ اٹھا کر اصل حقیقت دکھادیتا ہے اور جب تم اس کو تسلیم کرلوگے اور اسے مان لوگے تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں داخل ہوکر ایک دجال سے بچ جائو گے اور ہرایک گمراہی سے نجات پاجائو گے۔‘‘

(اعجاز المسیح ص۱۲۳،۱۲۴، خزائن ج۱۸ ص۱۲۷)

’’ان حوالوں سے آپ کو یہ تو معلوم ہوگیا ہوگا کہ اس پیش گوئی کا مصداق حضرت نے اپنے آپ کو قرار دیا ہے… آنحضرتa احمد تھے اور اس پیش گوئی کے اوّل مظہر وہ تھے لیکن چونکہ اس میں ایک ایسے رسول کی پیش گوئی ہے جس کا نام احمد ہے اور آنحضرتa کی صفت احمد تھی۔ نام احمد نہ تھا اور دوسرے جو نشان اس کے بتائے گئے ہیں وہ اس زمانہ میں

136

پورے ہوئے ہیں اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں اور آپ کا نام احمد تھا اور آپ احمد کے نام پر ہی بیعت لیا کرتے تھے اور خدا نے بھی آپ کا نام احمد رکھا اور آپ نے اپنے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموں کے ساتھ ملایا۔ اس لئے سب باتوں پر غور کرتے ہوئے وہ شخص جس کی نسبت خبر دی گئی تھی مسیح موعود ہی ہے۔‘‘

(القول الفصل ص۲۹)

۲… ’’پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یا آنحضرتaکا اور کیا سورۃ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا بشارت دی گئی ہے آنحضرتa کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔‘‘

(انوار خلافت ص۱۸)

اسمہ احمد کی پیش گوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہیں

’’میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اوراحمد آپ ہی ہیں لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریمa کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے، وہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی ) کے متعلق ہی ہے۔‘‘

(انوارخلافت ص۱۸)

۳… ’’ان آیات میں احمد کا اصل مصداق حضرت مسیح موعود ہی ہیں اور آنحضرتa صرف احمدیت کی وجہ سے اس کے مصداق ہیں۔ ورنہ جس احمد کے نام کے انسان کے متعلق خبر ہے وہ حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۰)

۴… ’’اب یہاں سوال ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام احمد ہے۔ میرا اپنا دعویٰ ہے اور میں نے یہ دعویٰ یوں ہی نہیں کردیا بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃالمسیح اوّل نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزاقادیانی، احمد ہیں۔ چنانچہ ان کے درس کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ہی ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۱)

۵… پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرتa نہیں ہوسکتے۔ ہاں! اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں

137

پورے ہوں، تب بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے۔ کیونکہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہوگئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے۔ لیکن یہ بات بھی نہیں جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۳)

۶… ’’اس پیش گوئی میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے یہ ثابت ہوکہ یہ پیش گوئی خاتم النّبیین کے متعلق ہے نہ کوئی اور ایسا لفظ ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ پیش گوئی ضرور آنحضرتa پر چسپاں کرنی پڑے۔ سوم باوجود آپ کا نام احمدنہ ہونے کے آپ پر یہ پیش گوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہوسکتی تھی کہ آپ نے خود فرمایا ہوتا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں۔ لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا۔ نہ سچی، نہ جھوٹی، نہ وضعی، نہ قوی، نہ ضعیف، نہ مرفوع، نہ مرسل، کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضرتa نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔ پس جب یہ بھی بات نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خلاف مضمون آیت کے اس پیش گوئی کو آنحضرتaپر چسپاں کریں۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۳)

۷… اور ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعودہی وہ رسول ہیں، جن کی خبر اس آیت میں دی گئی ہے۔ ‘‘

(انوار خلافت ص۳۱)

۸… ’’اب میں اس بات کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کرتا ہوں کہ اس پیش گوئی کےمصداق حضرت مسیح موعود ہی ہوسکتے ہیں نہ اور کوئی۔‘‘

(انوار خلافت ص۳۳)

۹… ’’اس عبارت (مرزا والی) سے ظاہر ہے کہ آپ (مرزاقادیانی) اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریمa اس جگہ مراد ہوتے تو محمد اور احمد کی پیش گوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اورشخص ہے جو مجرد احمد ہے۔ پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کررہا ہے کہ آپ (مرزاقادیانی) احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیش گوئی کے آپ ہی مصداق ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۳۷)

۱۰… غرض یہ دس ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ہی احمد تھے اور آپ ہی کی نسبت اس آیت میں خبردی گئی تھی۔‘‘

(انوار خلافت ص۳۹)

138

۱۱… ’’ہم تو ظلی طور پر آپ کو اسمہ احمد والی پیش گوئی کا مصداق نہیں مانتے بلکہ ہمارے نزدیک آپ (مرزا) اس کے حقیقی مصداق ہیں۔‘‘

(الفضل کالم۳ ص۶، مورخہ ۲،۵؍دسمبر۱۹۱۶ء)

۱۲… ’’میرا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) اس پیش گوئی کے اصل مصداق ہیں اور آپ کا نام احمد تھا۔‘‘

(الفضل کالم۲ ص۷، مورخہ۲،۵؍دسمبر۱۹۱۶ء)

۱۳… ’’جب اس آیت میں ایک رسول کا، جس کااسم ذات احمدہو، ذکرہے، دو کا نہیں اور اس شخص کی تعین ہم حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر کرتے ہیں تو اس سے خود نتیجہ نکل آیا کہ دوسرا اس کا مصداق نہیں اور جب ہم یہ ثابت کردیں کہ حضرت مسیح موعود اس پیش گوئی کے مصداق ہیں تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ دوسرا کوئی شخص اس کامصداق نہیں۔‘‘

(الفضل کالم۳ ص۵، مورخہ ۲،۵؍دسمبر۱۹۱۶ء)

۱۴… ’’اس کے اصل مصداق حضرت مسیح موعود ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۳۷)

نوٹ: ذیل میں میاں صاحب کے پیش کردہ دلائل کا جواب ایک مکالمہ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ غور سے پڑھئے۔

قادیانی: ’’آپ (یعنی مر زا غلام احمد) کا نام آپ کے والدین نے احمد رکھا ہے۔‘‘

(انوارخلافت ص۳۳)

مسلمان: حق بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمدقادیانی کا نام آپ کے والدین نے ’’غلام احمد‘‘ رکھا تھا نہ کہ ’’احمد‘‘ جیسا کہ ذیل میں ثابت کیا جاتا ہے:

۱… ’’مرزا غلام مرتضی صاحب نے ایک نہایت مبارک فال کو مدنظر رکھ کر آپ کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘ (کتاب براہین احمدیہ مطبوعہ ۱۹۰۶ء بدر پریس لاہور کے ساتھ ملحقہ ’’حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات‘‘ مصنفہ معراج الدین عمرص۶۲)

۲… ’’مرزا صاحب کا نام غلام احمد رکھا گیا۔‘‘

(کتاب حیاۃ النبی ج اوّل ص۵۱ سطر۵، مصنفہ یعقوب علی تراب)

۳… ’’اور آپ کا نام آپ کے ماں باپ نے غلام احمد رکھا۔‘‘

(تحفہ شاہزادہ ویلز ص۲۹، مصنفہ مرزا محمود)

۴… ’’مسیح موعود کا نام تھا غلام احمد یہی ان کا نام ان کے والدین نے رکھا۔‘‘

(الفضل ص۸، مورخہ ۱۵،۱۹؍مئی ۱۹۱۷ء)

139

۵… ’’حضرت مسیح موعود کے والدین نے آپ کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘

(الفضل ص۹، مورخہ ۲۷؍نومبر،یکم؍دسمبر۱۹۱۷ء)

۶… ’’والدین نے اس کا نام غلام احمد رکھا ہے۔‘‘

(الفضل ص۶، مورخہ ۶؍ستمبر۱۹۱۴ء)

۷… ’’ہم جو کچھ کررہے ہیں آنحضرتa کی عزت کے لئے کررہے ہیں۔ ہم تو اسلام کے مزدور ہیں۔ میرا نام جو غلام احمد رکھا ہے میرے والدین کو کیا خبر تھی کہ اس میں کیا راز ہے۔‘‘

(الحکم ص۸، مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۲ء)

۸… ’’اور خود اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے ذریعہ سے غلام احمد نام رکھا ہے۔‘‘

(اخبار الحکم ج ۶ نمبر۱۸ ص۱۲، مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۲ء)

۹… ’’اور اللہ تعالیٰ نے نام اس کا بذریعہ والدین کے غلام احمد رکھوایا ہے۔‘‘

(اخبار الحکم ج ۶ نمبر۱۸ ص۱۳، مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۲ء)

قادیانی: ’’حضرت مسیح موعود کا اصلی نام احمد ہے۔‘‘

(تشحیذالاذہان ص۱۵تا۱۸، بابت ماہ ستمبر ۱۹۱۴ء)

’’آپ کا نام احمد ہی تھا۔‘‘

(انوار خلافت ص۳۳، القول الفصل ص۲۹)

مسلمان: مرزاقادیانی نے خود اس بات کو لکھا ہے کہ میرا نام غلام احمد ہے۔ جیسا کہ ذیل میں ثابت کیا جاتا ہے:

۱… ’’چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضی ہے۔ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں۔‘‘

(رسالہ کشف الغطا ص۲، خزائن ج۱۴ ص۱۷۹)

۲… ’’میرا نام غلام احمد، میرے والد کا نام غلام مرتضی اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پڑدادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔‘‘‘ (کتاب البریہ ص۱۳۴حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲، ریویو آف ریلیجنز ص۲۱۵، بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء، اخبار الحکم ص۲، مورخہ ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء)

۳… ’’ہمارا شجرۂ نسب اس طرح پر ہے۔ میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضیٰ صاحب ابن مرزا عطاء محمد صاحب ابن مرزا گل محمد صاحب۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ص۲۱۸ حاشیہ، بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء)

140
۴… ’’فاعلموا رحکم اللہ فی انا المسمی بغلام احمد بن مرزا غلام مرتضٰی‘‘

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳)

۵… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

۶… ’’ایک وحی میں خداتعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا: ’’یااحمدجعلت مرسلا‘‘ اے احمد تو مرسل بنایا گیا یعنی جیسا کہ تو بروزی رنگ میں احمد کے نام کا مستحق ہوا۔ حالانکہ تیرا نام غلام احمد تھا۔ سو اسی طرح بروز کے رنگ میں نبی کے نام کا مستحق ہے۔ کیونکہ احمد نبی ہے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین ص۴۳، خزائن ج۲۰ ص۴۵،۴۶)

قادیانی: حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے۔

(القول الفصل ص۲۷)

حضرت صاحب کے الہامات میں کثرت سے احمد ہی آتا ہے۔

(انوار خلافت ص۳۵)

مسلمان: اس بات کے جواب میں ذیل میں خود مرزاقادیانی کے اقوال درج کرتا ہوں:

۱… ’’وہ خدا فرماتا ہے: ’’یااحمد بارک اللہ فیک‘‘ اے احمد (یہ ظلی طور پر اس عاجز کا نام ہے) خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۴۴، خزائن ج۲۲ ص۳۵۷)

۲… ’’اور آنحضرتa کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۷۲حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۶)

۳… ’’اور اس آیت:’’ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کے یہی معنی ہیں کہ مہدی معہو د جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے، جب مبعوث ہوگا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے، اس مجازی احمد کے پیرایہ میں ہوکر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرتa کا شریک ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۶، خزائن ج۱۷ ص۲۵۳)

141

غرض مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو ظلی، مجازی اور بروزی طور پراحمد لکھا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔

قادیانی: ’’آنحضرتa کا نام درحقیقت احمدنہ تھا۔ آپ کی والدہ نے ہرگز آپ کا نام احمد نہیں رکھا۔‘‘

(القول الفصل ص۲۹)

مسلمان: مرزاقادیانی کا نام دراصل احمد نہ تھا اور آپ کے والدین نے آپ کا نام غلام احمد رکھا تھا نہ کہ احمد۔ خود مرزاقادیانی نے اس بات کو لکھا ہے کہ آنحضرتa کا نام احمد تھا۔

الف… ’’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلۂ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جواں مردنبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہینبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج، جس کا نام محمد مصطفی اور احمد مجتبیٰa ہے۔‘‘

(سراج منیر ص۷۲، خزائن ج۱۲ ص۸۲)

ب… ’’اور اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبیa کے دو نام تھے۔ ایک محمدa دوسرا احمدﷺ ۔‘‘

(اشتہار واجب الاظہار ص۴، مورخہ ۴؍نومبر۱۹۰۰ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۶۵)

ج…

  1. زندگی بخش جام احمد ہے

    کیا ہی پیارا یہ نام احمد ہے

  2. لاکھو ہوں انبیاء مگر بخدا

    سب سے بڑھ کر مقام احمد ہے

  3. باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا

    میرا بستان کلام احمد ہے

  4. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(رسالہ دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

142

د… ’’تم سن چکے ہو کہ ہمارے نبیa کے دو نام ہیں:

۱… ایک محمدa اور یہ نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے:’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم… ذلک مثلھم فی التورۃ‘‘

۲… دوسرا نام احمدﷺ اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک جمالی رنگ میں تعلیم الٰہی ہے۔

جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘اور ہمارے نبیa جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳)

ر… حضرت رسول کریم کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا: ’’یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ من بعدیکا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلافصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔

(ملفوظات احمدص۱۷۷، مرتبہ فخرالدین قادیانی)

قادیانی: حضرت مسیح تو کہتے ہیں کہ:’’من بعدی اسمہ احمد‘‘ یعنی میرے بعد جو آئے گا اس کا نام احمد ہوگا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ احمد کس کا نام ہے۔ احمد وہ ہے جس نے کہا کہ کہو کہ احمد کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں اور اپنے بیعت کنندوں کو کہا کہ تم احمدی کہلائو۔ اگر کوئی کہے کہ ان کا نام تو غلام احمد تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ غلام تو ایک خاندانی لفظ ہے جو نام کے ساتھ شروع سے چلا آتا ہے۔ اصل نام وہی ہے جو غلام کو علیحدہ کرکے ہے۔‘‘

(الفضل ص۶، مورخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۴ء)

مسلمان: مرزاقادیانی کے الفاظ: ’’میرا نام غلام احمد، میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور داداصاحب کا نام عطاء محمد اور میرے پڑدادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ہماری قوم برلاس ہے۔‘‘

(اخبار الحکم کالم۱ ص۳، مورخہ ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء)

اگر ہم یہ بات مان لیں کہ ( اصل نام وہی جو غلام کو علیحدہ کرکے ہے) تو اس سے لازم آئے گا کہ مرزاصاحب کے والد ماجد کا اصل نام ’’مرتضیٰ‘‘ ہو۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے اور واضح ہے کہ مرزاصاحب کے ایک بھائی کانام ’’غلام قادر‘‘ تھا۔

(ازالہ اوہام ص۷۶، خزائن ج۳ ص ۱۴۰حاشیہ)

اس قادیانی جدید اصطلاح کی رو سے لازم آئے گا کہ مرزاقادیانی کے بھائی کا

143

اصل نام ’’قادر‘‘ ہو۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کسی اسلامی خاندان کے مردوں کا نام غلام اللہ ، غلام محمد، غلام رسول، غلام نبی، غلام علی، غلام حسن اور غلام حسین ہوتو کیا اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ان لوگوں کے اصل نام وہی ہیں جو غلام کو علیحدہ کرکے ہیں۔‘‘

قادیانی: آپ کا نام آپ کے والدین نے احمد رکھا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کے نام پر ایک گائوں بسایا ہے۔ اس کا نام احمدآباد رکھا ہے۔ اگر آپ کا نام غلام احمد رکھا گیا تھا تو چاہئے تھا کہ اس گائوں کا نام بھی غلام احمد آباد ہوتا۔‘‘

(انوار خلافت ص۳۳)

مسلمان: ’’انہوں نے (یعنی مرزا غلام مرتضیٰ) نے اپنے دونوں لڑکوں کے ناموں پر دو گائوں آباد کئے ہیں، جن میں سے ایک کااحمد آباد اور دوسرے کا قادر آباد نام رکھا۔‘‘

(اخبار الفضل کالم۲ ص۶، مورخہ۱۸؍اپریل ۱۹۱۴ء)

قادیانی اصطلاح جدید کی رو سے یہ بات لازم آتی ہے کہ مرزاقادیانی کے بھائی کا نام بھی والدین نے ’’قادر‘‘ رکھا ہو۔ کیونکہ ان کا نام غلام قادر رکھا گیا تھا۔ چاہئے تھا کہ اس گائوں کا نام بھی غلام قادر آباد ہوتا۔ پھر مزے کی بات (انوار خلافت ص۳۳) پر یہ لکھی ہے: ’’اسی طرح آپ کے بھائی کے نام پر بھی ایک گائوں بسایا گیا ہے، جس کا نام قادر آباد ہے۔ حالانکہ ان کو غلام قادر کہا جاتا تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نام بھی قادر تھا۔‘‘

سبحان اللہ ! کیا کہنا اس بات کا۔ اگر کسی خاندان میں نام مردوں کے عبد اللہ ، عبید اللہ ، حمید اللہ ، عنایت اللہ ، حبیب اللہ ، ثناء اللہ ، عطاء اللہ ، رضاء اللہ ، ذکاء اللہ ہوں تو کیا ان کا یہ مطلب ہوگا کہ ان کے نام کا پہلا حصہ الگ کرکے ان کا اصلی نام دوسرا حصہ سمجھا جائے۔نعوذ ب اللہ من ذالک!

مرزاقادیانی تو اپنے بھائی کا نام ’’غلام قادر‘‘ لکھتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص۷۶حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۴۰) اور مرزا محمود احمد قادیانی کہتے ہیں کہ ان کا نام بھی قادر تھا۔ کیا خوب! میاں صاحب کو بہت دور کی سوجھی۔

قادیانی: حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیش گوئی کا میں ہی ہوں۔ کیونکہ یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے اور آنحضرتa احمد اور محمد دونوں تھے۔‘‘

(القول الفصل ص۲۷)

144

مسلمان: بے شک آنحضرتa احمد اور محمد دونوں تھے۔ مگر آپ کا محمد اوراحمد دونوں ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ آپ اس پیش گوئی کے اصل اور حقیقی مصداقہوں۔ دیکھئے کہ مرزاقادیانی خود لکھتے ہیں کہ میں محمد اور احمد ہوں:

۱… مرزاقادیانی لکھتا ہے:

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

۲… ’’مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے، بلکہ محمد مصطفی ہے اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔‘‘

حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص۲۶۹ پر (بحوالہ ایک غلطی کا ازالہ)

۳… ’’اور آنحضرتa کے نام کا میں مظہراتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘

(کتاب حقیقت الوحی ص۷۳حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۶)

قادیانی: آنحضرتa احمد تھے اور اس پیش گوئی کے اوّل مظہروہ تھے۔ لیکن چونکہ اس میں ایک ایسے رسول کی پیش گوئی ہے جس کا نام احمد ہے اور آنحضرتa کی صفت احمد تھی نام احمد نہ تھا اور دوسرے جو نشان اس کے بتائے گئے ہیں وہ اس زمانہ میں پورے ہوئے ہیں اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں اور آ پ کا نام احمد تھا اور آپ احمد کے نام پر ہی بیعت لیا کرتے تھے اور خدا نے بھی آپ کا نام احمد رکھا اور آپ نے اپنے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموں کے ساتھ ملایا۔ اس لئے سب باتوں پر غور کرتے ہوئے وہ شخص جس کی نسبت خبردی گئی تھی۔ مسیح موعود ہی ہے… آنحضرتa کا نام درحقیقت احمد نہ تھا… آپ کی والدہ نے ہرگز آپ کا نام احمد نہیں رکھا۔‘‘

(القول الفصل ص۲۹)

مسلمان:

۱… ’’آنحضرتa کی والدہ ماجدہ نے خواب دیکھا اور اسے خواب میں کہا گیا کہ

145

تو خیرالبریہ وسیدالعالمین سے حاملہ ہے۔ جب پیدا ہوں تو آپ کا نام محمد اور احمدرکھنا۔ دیکھودلائل النبوۃ ج اوّل ص۴۰، مطبوعہ حیدرآباد دکن۔‘‘

(رسالہ عصائے حق سطر۴تا۶ ص۹، جس کو انجمن احمدیہ امرتسر نے وزیر ہند پریس میں چھاپا ہے)

۲… ’’احمد اور ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے حضرت علیq سے روایت کی ہے کہ کہا انہوں نے کہ رسول اللہ a نے فرمایا مجھ کو وہ شے دی گئی جو انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔ مجھ کو رعب کے ساتھ نصرت دی گئی اور مجھ کو روئے زمین کی کنجیاں دی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور میرے لئے زمین پاک کی گئی اور میری امت خیر الامم کی گئی۔‘‘ (خصائص الکبریٰ ج۲ ص۱۹۳، معجزات نبی الوریٰ ج۲ ص۵۰۶، زرقانی شرح مواہب ج ۵ ص۲۰۵، شرح الشفاء ج ۱ ص۳۶۶، مواہب اللدنیہ ج ۱ ص۳۸۴، ۳۹۶، درمنثور ج۶ ص ۲۱۴)

قادیانی: ’’باوجود آپ کا نام احمد نہ ہونے کے آپ پر یہ پیش گوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہوسکتی تھی کہ آپ نے خود فرمادیا ہوتا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں۔ لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا نہ سچی نہ جھوٹی نہ وضعی نہ قوی نہ ضعیف نہ مرفوع نہ مرسل کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضرتa نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۳)

مسلمان: آنحضرتaنے اس بشارت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہے اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہے۔ (دیکھو تفسیر درمنثور ج اوّل ص۹۱، تفسیر ابن جریر ج اوّل ص ۴۳۹)پر لکھا ہے کہ آنحضرتa نے یہ بھی فرمایا تھا: ’’قد بشربی عیسٰی ان یاتیکم رسول اسمہ احمد‘‘

قادیانی: اور الہامات میں سے الہام بشریٰ لک یا احمدی سے تو اس کی اور بھی توضیح ہوتی ہے کہ احمد موعود کی پیش گوئی اور حضرت عیسیٰ کی بشارت اور بشریٰ کے مصداق حضرت مرزا صاحب ہی ہیں۔ کیونکہ اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ اے میرے احمد بشارت یعنی وہ بشارت جو عیسیٰ کی وحی کے ذریعہ دی گئی وہ تیرے لئے ہے۔ اس الہام میں بشریٰ اور احمدی کا لفظ نہایت ہی قابل غور ہے۔ کیونکہ بشریٰ کا لفظ حضرت عیسیٰ کی پیش گوئی ’’مبشرا برسول یأتی بعدی اسمہ احمد‘‘کے الفاظ سے لفظ مبشر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جوبشارت اور بشریٰ سے نکلا ہے اور احمد کا لفظ اسمہ احمد کی طرف اور احمد کی یائے تکلم اس بات کی طرف کہ خدا کا وہ

146

موعود کہ جس کی خدا نے عیسیٰ کی معرفت بشارت دی۔ وہ یہی احمدہے۔ جس کے احمد ہونے کینسبت کسی غیر کی طرف نہیں بلکہ اس کے موعود ہونے کی وجہ سے خدا کی طرف ہے اور لک کا لفظ تو اور بھی اس کو نور علی نور کردیتا ہے جس سے حقیقت کا انکشاف بتمام وکمال ظہور میں آجاتا ہے۔ کیونکہ لک سے ظاہر ہے یہ مرکب اضافی ہے اور اسم علم کبھی یائے متکلم کی طرف بحالت علمیت مضاف نہیں ہوتاکہ احمد موعود ہونے کی بشارت محض آپ (مرزاقادیانی) ہی کے لئے ہے نہ کسی اور کے لئے۔‘‘ (الفضل ص۶، مورخہ۲؍اکتوبر ۱۹۱۷ء، مولوی غلام رسول راجیکی)

مسلمان: بے شک قرآن مجید کی سورۃ الصف میں حضرت مسیح ابن مریمn کے یہ الفاظ ہیں: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘{اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ساتھ ایک نبی کے جو میرے بعد آئے گا جس کا اسم احمد ہے۔}

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں:’’وساخبرکم باول امری دعوۃ ابراھیم وبشارۃ عیسٰی‘‘ {اور اب خبردوں میں تم کو ساتھ اوّل امر اپنے کے کہ وہ دعا حضرت ابراہیمm کی ہے اور خوشخبری دینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔}

(مشکوٰۃ المصابیح ص۵۱۳، باب فضائل سیدالمرسلین)

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں: ’’وسمیت احمد‘‘ {اور میرا نام احمد رکھا گیا۔}

(تفسیر درمنثور ج۶ ص۲۱۴)

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں: ’’اسمی فی القرآن محمد وفی الانجیل احمد‘‘{نام میرا قرآن میں محمد ہے اور انجیل میں احمد ہے۔} (خصائص الکبریٰ ج۱ ص۱۹۲، نسیم الریاض شرح الشفاء ج۲ ص۴۰۸، ترجمان القرآن ج۱۵ ص۳۹۴، مواہب اللدنیہ ج۱ ص۱۹۴ )

ان تحریروں کو غورکے ساتھ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد موعود کی پیش گوئی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کے اصلی اور حقیقی مصداق حضرت محمد مدنی ہی ہیں نہ کہ مرزاقادیانی۔ ان میں الفاظ: ’’وبشارۃ عیسٰی‘‘{اور خوشخبری دینا عیسیٰ علیہ السلام کا۔} اور:’’سمیت احمد‘‘{میرا نام احمد رکھا گیا۔} نہایت ہی قابل غور ہیں۔ کیونکہ بشارۃ کا لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی: ’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کے الفاظ میں سے لفظ’’مبشرا‘‘کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بشارت سے نکلا ہے اور’’سمیت احمد‘‘کے الفاظ ’’اسمہ احمد‘‘کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

147

قادیانی: ’’نرا بعدی نہیں بلکہ من بعدی کہنے کا یہ مطلب ہے کہ بعد ظرف کے علاوہ اسم بھی ہے۔ جیسے جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا میں فوق باوجود ظرف ہونے کے اسم واقع ہوا اور بعد اسم ہونے کی صورت میں آنحضرتa مراد ہوں گے اور اس صورت میں یأتی من بعدی اسمہ احمد کا یہ مطلب ہوگا کہ میں اس رسول کی بشارت دینے والا ہوں کہ جو میرے بعد کا نہیں بلکہ میرے بعد آنے والے رسول سے ہوگا۔ یعنی آنحضرت کا امتی اور آپ کے فیض سے فیض یافتہ ہوگا۔

(الفضل ص۷، مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۹۱۷ء، اخبار الفضل ص۶، مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۳ء)

مسلمان: جو بات نہ مرزا غلام احمد قادیانی کو سوجھی تھی اور نہ مرزا محمود احمد قادیانی کو۔ وہ مولوی غلام رسول مرزائی راجیکی کو سوجھی ہے۔

’’حضرت رسول کریمa کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح علیہ السلام نے کیا:’’یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلافصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔‘‘

(مرزاقادیانی کے الفاظ کتاب ملفوظات احمدیہ مرتبہ فخرالدین قادیانی یعنی ڈائری ۱۹۰۱ء ص۱۷۷، ملفوظات احمدیہ ج۲ ص۲۰۸)

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں آئے ہیں:’’انا اولی الناس بابن مریم والانبیاء اولادعلات لیس بینی وبینہ نبی‘‘{میں لوگوں میں سے قریب تر ہوں ابن مریم سے اور پیغمبر علاتی بھائی ہیں۔ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔}

(صحیح بخاری شریف ج اوّل ص۴۸۹، باب فی قول اللہ واذکرفی الکتاب مریم)

قادیانی: اگرآنحضرتa اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرماتے تو بھی کوئی بات تھی لیکن آپ نے نہیں فرمایا کہ یہ آیت مجھ پر چسپاں ہوتی ہے بلکہ فرمایا کہانا بشارۃ عیسٰیمیں عیسیٰ کی بشارت ہوں اور اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود نے دو خبریں دیں تھیں۔ ایک اپنی دوبارہ بعثت کی اور ایک عظیم الشان نبی کی جسے ’’وہ نبی ‘‘ کرکے پکارا ہے اور ہمارے آنحضرتa’’وہ‘‘ نبی تھے اور مسیح موعود کی آمد حضرت مسیح کی دوبارہ بعثت تھی۔‘‘

(القول الفصل ص۳۰،۳۱)

148

مسلمان:

۱… آنحضرتa نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہے یعنی ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آیت مجھ پر چسپاں ہوتی ہے۔

(دیکھو درمنثور ج۱ ص۹۱، ابن جریر ج۱ ص۴۳۹)

۲… (مشکوٰۃ المصابیح ص۵۱۳، باب فضائل سید المرسلین) پر ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں: ’’وساخبرکم باول امری دعوۃ ابراھیمm وبشارۃ عیسٰیm‘‘جس طرح آنحضرتa نے’دعوۃ ابراھیم‘‘فرماکر اس دعائے خلیل کی طرف اشارہ کیا ہے، جو سورۃ البقرہ:۱۲۹ میں یوں مذکور ہے:’’ربنا وابعث فیھم رسولا منھم‘‘{اے ہمارے رب بھیج ان (عربوں) میں ایک رسول ان میں سے۔}

اسی طرح آپaنے ’’وبشارۃ عیسٰی‘‘ فرماکر اس نوید مسیحا کی طرف اشارہ کیا جو سورۃ الصف میں ہے:

۳… قرآن شریف، احادیث صحیحہ، انجیل برنباس اور انجیل یوحنا کو غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے آنحضرتa کی تین طور پر خبر دی تھی۔

اوّل: یہ فرماکر کہ: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (الصف:۶)‘‘{اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ساتھ اس ایک نبی کے جو میرے پیچھے آنے والا ہے اور اس کا نام احمد(a)ہے۔}

دوم: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے برنباس سے فرمایا کہ: ’’یہ بدنامی (یسوع مسیح کا مصلوب ہونا) اس وقت تک باقی رہے گی جب کہ محمد رسول اللہ آئے گا جو کہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جوکہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔‘‘

(انجیل برنباس ص۳۶۷، فصل:۲۲۰، آیت:۲۰، مطبوعہ ۱۹۱۶ء لاہور آرٹ پریس لاہور)

سوم: حضرت مسیح نے (فارقلیط)تسلی دینے والے یعنی روح حق کے آنے کی خبر دی ہے۔

(انجیل یوحنا باب:۱۴، آیت:۱۶تا۳۰، باب:۱۵، آیت:۲۶،۲۷، باب:۱۶، آیت:۷تا۱۵)

چہارم: ’’اور یوحنا (یعنی حضرت یحییٰm) کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے۔ اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے۔کیا توایلیاء ہے۔ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو ’’وہ نبی ‘‘ ہے۔ اس جواب دیا کہ نہیں۔ پس انہوں نے

149

اس سے کہا کہ پھر تو ہے کون؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں۔ تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا میں جیسا یسعیاm نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خدا وند کی راہ کو سیدھا کرو۔‘‘

(انجیل یوحنا آیت:۱۹تا۲۳، باب:اوّل، مطبوعہ۱۹۵۱ء)

میں کہتا ہوں کہ ’’وہ نبی‘‘ کے آنے کی بشارت حضرت مسیح علیہ السلام نے نہیں دی تھی بلکہ حضرت موسیٰm نے دی تھی جیسا کہ لکھا ہے: ’’اور خدا وند نے مجھ سے کہا کہ وہ جوکچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپاکروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میںاسے حکم دوں گاوہی وہ ان سے کہے گا۔‘‘

(کتاب استثنا باب:۱۸، آیت:۱۷،۱۸)

اللہ تعالیٰ اس بشارت کی طرف اشارہ کرکے فرماتا ہے:’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا (المزمل:۱۵)‘‘{ہم نے تمہاری طرف ایک نبی بھیجا جو تم پر گواہ ہے جیسا بھیجا تھا ہم نے طرف فرعون کے (موسیٰm) نبی۔}

قادیانی: حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اورلکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیش گوئی کا میں ہی ہوں۔

(القول الفصل ص۲۷)

آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں۔

(انوار خلافت ص۳۷)

مسلمان: گومرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان نے (ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳، اعجاز المسیح ص۱۲۳،۱۲۴،۱۲۵، خزائن ج۱۸ ص۱۲۶) پر اس آیت یعنی بشارت’’اسمہ احمد‘‘کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ مگر مرزاقادیانی نے آئینہکمالات اسلام اور اربعین میں اس بشارت ’’اسمہ احمد‘‘کو آنحضرتa پر چسپاں کیا ہے۔

الف… ’’مسیح کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ: ’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اس کا احمد ہوگا۔ پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گزر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبیa بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرمانہیں ہوئے۔ کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلارہی ہے کہ جب مسیح اس عالم جسمانی سے رخصت ہوجائے گا تب آنحضرتa اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے۔ وجہ یہ کہ

150

آیت میں آنے کے مقابل پر جانا بیان کیا گیا ہے اور ضرور ہے کہ آنا اور جانا دونوں ایک ہی رنگ کے ہوں یعنی ایک اس عالم کی طرف چلا گیا اور ایک اس عالم کی طرف سے آیا۔‘‘

(کتاب آئینہ کمالات اسلام ص۴۲، خزائن ج۵ ص۴۲، مطبوعہ جولائی ۱۹۲۴ء وزیر ہند پریس امرتسر)

نوٹ: اگر اس دلیل کے ساتھ یہ اضافہ بھی لگایا جائے کہ بقول مرزاقادیانی جس طرح اس دنیا سے جاناحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر واپسی کے ہے، اسی طرح اس میں آنا آنحضرتa کا بھی بغیر واپسی کے ہوگا تو اس دلیل (دعویٰ مرزا بعثت ثانی) کا سارا بہروپ کھل جائے گا۔

ب… ’’تم سن چکے ہو کہ ہمارے نبیa کے دو نام ہیں: ایک محمدa اور یہ نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے:’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ذلک مثلھم فی التورٰۃ‘‘دوسرا نام احمدﷺہے اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک جمالی رنگ میں تعلیم الٰہی سے ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ اور ہمارے نبیa جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے۔‘‘

(رسالہ اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳)

ج… ’’حضرت رسول کریمa کا نام احمد ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا: ’’یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلافصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا… اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نےآپ کا نام احمد بتلایا۔ کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے۔‘‘ (رسالہ ملفوظات احمدیہ مرتبہ فخرالدین یعنی ڈائری ۱۹۰۱ء حصہ اوّل ص۱۷۷، ملفوظات احمدیہ ج۲ ص۲۰۸، اخبار الحکم ص۱۱، مورخہ۳۱؍جنوری ۱۹۰۱ء)

قادیانی: ’’خداتعالیٰ فرماتا ہے:’’فلما جاءھم بالبینت قالوا ھذا سحرمبین‘‘ پس جب وہ رسول کھلے کھلے نشانات کے ساتھ آگیا تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو سحر مبین ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا تو لوگ ان دلائل وبراہین کو سن کر جووہ دے گا کہیں گے کہ یہ تو سحرمبین ہے۔ یعنی کھلا کھلا فریب یا جادو ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود سے یہی سلوک ہوا ہے۔ جب آپ نے زبردست دلائل

151

اور فیصلہ کن براہین اپنے مخالفوں کے سامنے پیش کئے تو بہت سے لوگ چلّا اٹھے کہ باتیں بہت دلربا ہیں لیکن ہیں جھوٹ۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۰)

مسلمان: میں کہتا ہوں کہ بشارت ’’اسمہ احمد‘‘کے حقیقی اور اصلی مصداق حضرت محمد مصطفی احمدمجتبیٰa ہی ہیں اور آپa کے سوا کسی اور پر اس بشارت ’’اسمہ احمد‘‘کو چسپاں کرنا گمراہی ہے۔

۱… سورۃ السبا آیت:۴۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {اور جب ہماری نشانیاں ظاہر ان پر پڑھی جاتی ہیں… اور کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے واسطے حق کے۔ جس وقت کہ ان کے پاس آیا۔ نہیں یہ مگر جادو ظاہر ہے۔}

۲… سورۃ الاحقاف آیت:۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے: {اور جب پڑھی جاتی ہیں اوپر ان کے نشانیاں ہماری ظاہر، کہتے ہیں وہ لوگ کہ کافر ہوئے واسطے حق کے جب آیا ان کے پاس۔ یہ جادو ہے ظاہر۔}

ان آیات مقدسہ میں بتلایا ہے کہ مخالفین اسلام نے آنحضرتa کے متعلق صریح طور پر لفظ ’’سحرمبین‘‘ استعمال کیا ہے۔ ان آیات میں ’’بینٰت‘‘ کا لفظ بھی ہے اور’’لماجآء ھم‘‘ بھی ہے اور ’’سحرمبین‘‘ بھی ہے۔ پس بشارت ’’اسمہ احمد‘‘ کا اصلی اور حقیقی مصداق آنحضرتa ہی ہیں۔

قادیانی: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:’’ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا وھویدعٰی الی الاسلام و اللہ لایھدی القوم الظالمین‘‘یعنی اور اس سے زیادہاور کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے۔ درآں حالیکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جوشخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے وہ تو سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہے۔ پھر اگر یہ شخص جھوٹا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو اسے ہلاک ہونا چاہئے نہ کہ کامیاب۔ اللہ تعالیٰ توظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا تو جو شخص خداتعالیٰ پر افتراء کرکے ظالموں سے بھی ظالم تر بن چکا ہے۔ اس کو وہ کب ہدایت دے سکتا ہے۔ پس اس شخص کا ترقی پانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ شخص خداتعالیٰ کی طرف سے ہے اور جھوٹا نہیں۔ جیسا کہ تم لوگ بیان کرتے ہو۔ اس آیت میں خداتعالیٰ نے اس احمد رسول کی ایسی تعیین کردی ہے کہ ایک منصف مزاج کو اس

152

بات کے ماننے میں کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا کہ یہ احمد، رسول کریمa کے بعد آنے والا ہے اور نہ آپ خود رسول ہیں نہ آپ سے پہلے کوئی اس نام کا رسول گزرا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شرط لگادی ہے جو نہ آنحضرتa میں پوری ہوتی ہے نہ آپ سے پہلے کسی اور نبی میں پوری ہوسکتی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے۔ حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایاجاتا ہے اور یہ شرط کہ حالانکہ اسلام کی طرف اسے بلایا جاتا ہے۔ ایک ایسی شرط ہے جو رسول کریمa میں نہیں پائی جاتی۔‘‘

(انوار خلاف ص۴۱)

’’غرضیدعٰی الی الاسلامکی شرط ظاہر کررہی ہے کہ یہ شخص رسول کریم کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ میاں تو کافر کیوں بنتا ہے اپنا دعویٰ چھوڑ اور اسلام سے منہ نہ موڑ۔‘‘

(ص۴۲)

’’غرض اس آیت میں صاف طور پر بتادیا گیا ہے کہ یہ احمد رسول، رسول کریمa کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ اسلام کی طرف آ۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۴، ضمیمہ اخبار الفضل ص۴۶، مورخہ ۲۷؍جنوری ۱۹۲۸ء)

مسلمان: قرآن کریم میں ہے:’’ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ الکذب وھویدعٰی الی الاسلام و اللہ لایھدی القوم الظلمین (الصف:۷)‘‘{اور کون ہے بہت ظالم اس (مشرک) شخص سے جو باندھ لیتا ہے اوپر اللہ کے جھوٹ (یعنی شرک کرتا ہے) اور وہ (یعنی حالانکہ)مشرک شخص بلایا جاتا ہے طرف اسلام کے (یعنی اس دین اسلام کیطرف جو آنحضرتa پر نازل ہوا ہے) اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت کرتا قوم مشرکوں کو۔}

حق اور صحیح بات یہ ہے کہ الفاظ:’’وھویدعٰی الی الاسلام‘‘حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ احمد رسول کی نسبت نہیں ہیں بلکہ آنحضرتa کے دشمن (مشرکین مکہ، یہود، نصاریٰ، مجوسی) کی نسبت ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرک شخص کا ذکر کرتا ہے۔ کیونکہ مشرک آدمی بھی اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والا ہوتا ہے۔

مرزا محمود نے لکھا ہے: ’’افتراء کہتے ہیںاس بات کو جوجان بوجھ کر بنائی جائے اور کذب اور افتراء میں یہ فرق ہے کہ کذب اس کو بھی کہیں گے جو بات غلط ہو خواہ اس نے خود نہ بنائی ہو بلکہ کسی سے سنی ہو۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۳)

153

اب ذیل میں آیات مقدسہ کے نمبرات درج کرتا ہوں، جن میں مشرکین مکہ اور نصاریٰ کو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والے کہا گیا ہے:

۱… سورۃ النساء آیت:۴۸،۴۹،۵۰

۲… سورۃ النساء آیت:۱۷۱

۳… سورۃ المائدہ آیت:۱۰۳

۴… سورۃ الانعام آیت:۱۴۰

۵… سورۃ یونس آیت:۵۹،۶۰

۶… سورۃ الاعراف آیت:۲۸

نوٹ: اس جگہ ان کافروں کو مفتری علی اللہ قرار دیا ہے جو بے حیائی کا کام کرتے تھے اور پھر کہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ایسا کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کو کہا گیا کہ:’’اتقولون علی اللہ مالا تعلمون‘‘

۷… سورۃ طہ آیت:۶۱

نوٹ: فرعون مصر کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمہارا رب ہوںاور ان کے متبعین اس کو خدا مانتے تھے۔ فرعون مدعی رسالت ونبوت نہ تھا اور نہ وحی والہام کا مدعی تھا۔ اس آیت میں اس کو اور اس کے متبعین کو مفتری علی اللہ قرار دیا گیا ہے۔

۸… سورۃ یونس آیت:۱۷

۹… سورۃ یونس آیت:۶۸،۶۹

۱۰… سورۃ النحل آیت:۱۱۶

۱۱… سورۃ الکہف آیت:۱۳،۱۵

ان آیات مقدسہ میں ’’مشرک‘‘ اور کافر شخص کو ’’مفتری علی اللہ ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والا کہا گیا ہے۔ عرب کا بت پرست، روم ومصر کا عیسائی، شام کا یہودی اور ایران کا مجوسی، مشرک شخص ہے اور شرک کو سورۃلقمان آیت:۱۱ میں ’’ظلم عظیم‘‘ کہا گیا ہے اور اسلام وہ پاک مذہب ہے جو خدا نے ایمان والوں کے لئے چن لیا تھا۔ (سورۃ المائدہ) اور آنحضرتa : ’’داعیاً الی اللہ باذنہ‘‘تھے۔ (سورۃ الاحزاب) پس آیت مقدسہ کا صحیح مطلب یہی ہے کہ:

154

کون بہت ظالم ہے اس مشرک شخص سے (خواہ وہ عیسائی ہو یا عرب کا بت پرست) جو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے (یعنی عیسائی مسیح کو اللہ وابن اللہ ، مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور یہودی، عزیز اللہ کو ابن اللہ کہتا ہے) شرک کرکے ۔ حالانکہ نبی پاکa اس مشرک کو اسلام کی طرف بلاتا ہے۔

قادیانی: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’یریدون لیطفئوا نور اللہ بافوا ھھم‘‘لوگ چاہیں گے کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں۔ مگر اللہ اپنے نور کوپورا کرکے ہی رہے گا۔ اگرچہ کافر لوگ اسے ناپسند ہی کرتے ہوں۔ یہ آیت بھی حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرتa اس پیش گوئی کے اوّل مصداق نہیں ہیں۔ کیونکہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس رسول کے وقت لوگ اس کے سلسلہ کو مونہوں سے مٹانا چاہیں گے لیکن رسول کریمa کے زمانہ کے حالات ہمیں بتا رہے ہیں کہ آپ کے سلسلہ کو منہ سے نہیں بلکہ تلوار سے مٹانے کی کوشش کی گئی اور ایسے ایسے مظالم کئے گئے کہ الامان۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۴،۴۵)

مسلمان: واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’مشرک چاہتے ہیں کہ بجھادیں اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ اور اللہ پورا کرنے والا ہے اپنے نور کو اور اگرچہ ناخوش رکھیں کافر۔‘‘

(سورۃ الصف آیت:۸)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ارادہ کرتے ہیں یہ کہ بجھادیں نور اللہ کے کو، ساتھ مونہوں اپنے کے اور نہیں قبول رکھتا اللہ مگر یہ کہ پورا کرے روشنی اپنی کو اور اگرچہ ناخوش رکھیں کافر۔

(سورۃ التوبہ آیت:۳۲)

اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کے پہلے مسیح علیہ السلام ناصری کا ذکر خیر موجود ہے کیا اس آیت میں ’’قادیانی سلسلہ‘‘ کا ذکر مراد سمجھا جائے گا۔ گویا جہاں مسیح علیہ السلام ناصری کا ذکر ہورہا ہے، وہاں بھی (بقول مرزائیوں) مرزاقادیانی کا ذکر ہوتا ہے۔ سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران، سورۃ نساء، سورۃ المائدہ، سورۃ توبہ، سورۃ مریم، سورۃ الانبیا، سورۃ مؤمنون، سورۃ زخرف، سورۃ حدید، سورۃ صف میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر خیر موجود ہے۔ کیا یوں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں جہاں مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے وہاں مرزاقادیانی کا بھی ذکر ہے۔ (معاذ اللہ )

155

آیات مندرجہ بالا میں ’’نور اللہ ‘‘ سے مراد ’’قرآن مجید‘‘ ہے جیسا کہ: ’’تحقیق آئی ہے تمہارے خدا کی طرف سے ایک نور یعنی کتاب بیان کرنے والی۔‘‘

(المائدہ آیت:۱۵)

اسی طرح سورۃ الاعراف، سورۃ الشوریٰ، سورۃ التغابن میں قرآن مجید فرقان حمید کو ’’ نور ‘‘ کہا گیا ہے۔

قادیانی:’’و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون‘‘اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرکے چھوڑے گا۔ گوکہ کفار ناپسند ہی کریں۔ یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ احمد کا وقت اتمام نور کا وقت ہے اور گو قرآن کریم سے ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریمa کے ہاتھ پر شریعت کامل کردی گئی۔ مگر اتمام نور آپ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعود کے وقت میں ہوگا اور رسول کریمa کے وقت میں اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی… پس اتمام نور مسیح موعود کے ہی وقت میں ہونا مقرر تھا۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۵،۴۶)

مسلمان: افسوس کہ اس قدر جرأت کے کلمات (یعنی الفاظ احمد کا وقت اتمام نور کاوقت ہے اور اتمام نور رسول کریمa کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا اور یہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے وقت میں ہوگا) منہ سے نکالنے کے باوجود مرزامحمود نے ایک حدیث بھی نقل نہ کی جس میں یہ لکھا ہو کہ اتمام نور مسیح موعود کے وقت میں ہوگا اور اتمام نور رسول کریمa کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا۔ جو روایت مرزا محمود نے پیش کی ہے۔ اس کے الفاظ صرف اس قدر ہیں: ’’وہ امت کس طرح گمراہ ہوسکتی ہے جس کے ابتدا میں میں ہوں اور آخر میں مسیح ہے۔‘‘

(ص۴۶)

اس میں کہاں لکھا ہے کہ اتمام نور میرے وقت میں نہیں ہوا۔ مسیح کے وقت میں ہوگا۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے بار بار نور کہا ہے اور اس کے بارے میں پیچھے بحث ہوچکی ہے۔ اس کا اتمام اللہ نے فرمایا ہے یہ کہنا کہ اتمام نور رسول کریمa کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا، بلکہ احمد (جس سے مرزا محمود کی مراد مرزا قادیانی ہیں) کا وقت اتمام نور کا وقت ہے۔ سخت جرأت ہے۔

156

نوٹ: افسوس ہے کہ تکمیل دین تو حضورa کے عہد میں ہو اور اتمام نور قادیان کا منتظر رہا ہو۔ خوب!!!

قادیانی:’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو غالب کردے باقی سب دینوں پر۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسیح موعود ہی کاذکر ہے، کیونکہ اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے۔ کیونکہ اسی کے وقت میں اسلام کو باقی ادیان پر غلبہ مقدر ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۶)

مسلمان:

الف…’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون (التوبۃ:۳۳)‘‘{ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنے رسول (احمد مجتبیٰa) کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کرے اس کو اوپر سب دین کے۔}

ب…’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدینکلہ وکفٰی ب اللہ شھیدا (الفتح:۲۸)‘‘{ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنے نبی (احمد مجتبیٰa) کو ساتھ ہدایت کے اور دین حق تاکہ غالب کرے۔ اس کو سب دینوں پر اور کفایت ہے اللہ گواہی دینے والا۔}

ج…’’ھوالذی ارسل رسول بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین ولوکرہ المشرکون (الصف:۹)‘‘{ اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے بھیجا اپنے نبی کو ساتھ ہدایت کے اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر اور اگرچہ مشرک ناخوش رکھیں۔}

نوٹ: مرزا محمود کے الفاظ (اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے) کے صاف معنی ہیں کہ جس رسول کا ہدیٰ اور دین حق دے کر بھیجے جانے کا ذکر ہے وہ محمد رسول اللہ a نہیں بلکہ مسیح موعود (جو مرزا محمود کے خیال میں مرزاقادیانی ہیں) مگرمرزا محمود نے مفسرین میں سے ایک مفسر کا بھی قول نقل نہ کیا۔ میں کہتا ہوں کہ اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسیح ناصری نہ صلیب پر چڑھائے گئے اور نہ مرے بلکہ زندہ ہی اٹھائے گئے اور آج تک آسمان پر زندہ ہیں۔ مگر آپ اکثر مفسرین کا اس

157

بات پر اتفاق کرنا نہیں مانتے کیونکہ آپ کے مطلب کے خلاف ہے اور مرزاقادیانی کی مسیحیت پر پانی پھیرتا ہے ۔ سب مفسرین نے بشارت اسمہ احمد کامصداق آنحضرتa ہی کو قرار دیا ہے۔ مگر مرزائی اسے نہیں مانتے۔ واضح ہو کہ حضرات مفسرین نے صرف اس قدر لکھا ہے کہ آیت کے الفاظ:’’لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘یعنی (تاکہ خدا غالب کرے دین اسلام کو سب دینوں پر) میں جو وعدہ ہے وہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں پورا ہوگا یعنی دین اسلام حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام ادیان باطلہ پر غالب آجائے گا۔ ورنہ جس رسول کا ذکر خیر الفاظ: ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق‘‘میں ہے وہ حضرت محمد مصطفیa ہی ہیں۔ کیونکہ آپ ہدایت (یعنی قرآن مجید) اور دین حق (یعنی اسلام) کے ساتھ مبعوث کئے گئے تھے۔

’’عن ابی ہریرۃq فی قولہ لیظھرہ علی الدین کلہ قال خروج عیسٰی بن مریم (تفسیر ابن جریر ج۲۸ ص۸۸)‘‘{حضرت ابوہریرہq نے آیت لیظھرہ علی الدین کلہ کی نسبت کہا کہ وہ بوقت ظہور حضرت عیسیٰ بن مریم ہوگا۔}

’’یقول لیظھرہ دینہ الحق الذی ارسل بہ رسولہ علی کل دین سواء وذلک عندنزول عیسٰی ابن مریم (تفسیر ابن جریر ج۲۸ ص۸۸)‘‘{ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبیa کے سچے دین کو جس کے لئے اس نے اپنا رسول بھیجا تمام دینوں پر یکساں غالب کرے اور یہ غلبہ عیسیٰ بن مریم کے نزول کے وقت ہوگا۔}

قادیانی: ’’ھل ادلّکم علٰی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم‘‘ وہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ اے لوگو تم جو دنیا کی تجارت کی طرف جھکے ہوئے ہو کیا میں تمہیں وہ تجارت بتائوں جس کی وجہ سے تم عذاب الیم سے بچ جائو۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں تجارت کا بہت زور ہوگا۔ لوگ دین کو بھلا کر دنیا کی تجارت میں لگے ہوں گے۔ چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیا کی تجارت کی اس قدر کثرت ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ میں بیعت لی کہ کہو میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ پس یہ آیت بھی ثابت کرتی ہے کہ ان آیات میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا ہی ذکر ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۸)

158

مسلمان: مرزا محمود قادیانی کی اس عبارت کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زعم میں گویا حضرت محمد مصطفیa نے تو یہ نہیں کہا: ’’یآیھاالذین آمنوا ھل ادلکم علٰی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم‘‘مگر مرزاقادیانی نے کہا اور آپ کا یہ استدلال کہ: ’’یہ آیت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں تجارت کا بہت زور ہوگا۔‘‘ کس قدر داد دینے کے قابل ہے اور اس پر یہ الفاظ: ’’چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیا کی تجارت کی اس قدر کثرت ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔‘‘ اور اس پر مزید دلیل کہ: ’’یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ میں بیعت لی کہ کہو میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔‘‘ سلسلہ استدلال کی تمام کڑیاں کیسی سخت فولاد کی بنی ہوئی ہیں اور کیسے پر حکمت استدلال ہیں۔ صرف ایک بات کا انتظام مرزا محمود قادیانی کو کرلینا چاہئے کہ اب دنیا کی تجارت بڑھنے نہ پائے۔ کیونکہ اگر بڑھ گئی تو کل کو ایک شخص ’’احمد نور‘‘ اٹھ کر یہ نہ کہہ دے کہ وہ احمد رسول تو میںہوں کیونکہ احمد کے ساتھ ان آیات میں نور بھی آیا ہے اور میرے زمانے میں تجارت اس قدر بڑھی ہے کہ اس قدر تجارت پہلے دنیا میں کبھی نہیں ہوئی۔

اب میں بتاتاہوں کہ آنحضرتa نے ایمان والوں سے اس بات کا بھی عہد لیا تھا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور آپa کے زمانے میں بھی تجارت ہوتی تھی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکرفیھااسمہ۔ یسبح لہ فیھا بالغدوا والاصال رجال لاتلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ (النور:۲۹،۳۰)‘‘{ بیچ گھروں کے کہ حکم کیا اللہ نے یہ کہ بلند کیا جاوے اور یاد کیا جاوے بیچ اس کے نام اللہ کا، تسبیح کرتے ہیں واسطے اللہ کے بیچ اس کے صبح وشام کو۔ وہ مرد، کہ نہیں غافل کرتی ان کو سوداگری اور بیچنا یا د خدا کی سے۔}

’’واذا راؤ تجارۃ اولھوان انفضوا الیھا وترکوک قائماً قل ماعند اللہ خیرمن اللھو ومن التجارۃ (الجمعۃ:۱۱)‘‘ {اورجس وقت دیکھتے ہیں سوداگری یا تماشا دوڑے جاتے ہیں طرف اس کے اور چھوڑ جاتے ہیں تجھ کو کھڑا فرمادیجئے جو کچھ نزدیک اللہ کے ہے بہت بہتر ہے تماشے اور تجارت سے۔}

قادیانی: اس کے بعد خدا نے فرمایا… اے وہ لوگو! جو رسول پر ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے مدد کرنے والے بن جائو۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں کو کہا

159

تھا کہ تم میں سے کون ہے جو انصار اللہ ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم سب کے سب انصار اللہ ہیں۔ پس ایمان لا یا بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ اور ایک گروہ نے کفر کیا۔ پس ہم نے ان کی مدد کی جو ایمان لائے اوپر ان کے دشمنوں کے۔ پس وہ غالب ہوگئے۔ اس میں دلیل ہے کہ آنے والا رسول کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جائو، لیکن رسول کریمa کی یہ آواز نہ تھی کہ اے لوگو! انصاربن جائو۔ بلکہ آپ کے وقت میں مہاجرین وانصار دو گروہ تھے اور مہاجرین کا گروہ انصار پر فضیلت رکھتا تھا۔‘‘

(انوار خلافت ص۴۹)

مسلمان: کسی بھوکے شخص سے پوچھا گیا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں۔ اس بھوکے شخص نے جواب دیا کہ چار روٹیاں۔ اس طرح مرزامحمود قادیانی کی حالت ہے۔ آیات مندرجہ بالا میں مسیح موعود قاتل دجال کا کوئی ذکر نہیں ہے مگر موصوف کہتے ہیں: ’’اس میں دلیل ہے کہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جائو۔‘‘ ان آیات مقدسہمیں تو اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ (اے ایمان والو! انصار اللہ بن جائو) جس طرح آنحضرتa سے پہلے حضرت مسیح ناصریm نے حضرات حوارین سے کہا تھا کہ:’’من انصاری الی اللہ ‘‘یعنی کون ہے میرا ساتھ دینے والا خدا کے دین میں۔

آنحضرتa کے مبارک زمانے میں بھی ایمان والوں (مسلمانوں) نے ’’نور‘‘ یعنی قرآن مجید کی پیروی کی اور انہوں نے آپ کی مدد کی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں رسول اللہ a کی جو نبیa ہے ان پڑھا۔ وہ جو پاتے ہیں نبی کو لکھا ہوا نزدیک اپنے بیچ توریت کے اور انجیل کے… پس جو لوگ ایمان لائے ساتھ اس نبی کے اور قوت دی اس کو اور مدد کی اس کی اور پیروی کی اس نور (قرآن مجید) کی جو اوتارا گیا ہے ساتھ اس کے یہ لوگ وہ ہیں فلاح پانے والے۔

(الاعراف:۱۵۷)

قادیانی: ’’اس سورۃ صف سے اگلی سورۃ میں جو اس کے ساتھ ہی ہے خداتعالیٰ فرماتا ہے:’’ھوالذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلوا علیھم آیتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین‘‘ اور اس کے بعد فرماتے ہیں: ’’وآخرین منھم لما یلحقوا بھم وھوالعزیز الحکیم‘‘اور اس رسول کو ایک اور جماعت میں مبعوث کرے گا جواب تک تم سے نہیں ملی۔ ان آیات میں آنحضرتa کی دو بعثتوں کا ذکر ہے اور چونکہ احادیث سے آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر

160

ہے جس کی نسبت آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی وہ اور میں ایک ہی وجود ہوں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری بعثت سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص۵۰)

مسلمان:

۱… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں (عربوں) میں ایک نبی انہیں میں سے۔ وہ رسول ان لوگوں پر خدا کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت سکھاتا ہے اور تحقیق (عرب کے لوگ) اس سے پہلے البتہ گمراہی ظاہر میں تھے اور لوگوں کو کہ ان میں سے جو ابھی نہیں ملے ساتھ ان کے اور وہ خدا غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘

(سورۃ الجمعہ آیت:۲،۳)

ف… یعنی یہی رسول دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے اور وہ فارس کے لوگ ہیں۔

۲… ’’سعید بن منصورv وبخاریv ومسلمv وترمذیv ونسائیv وابن جریرv وابن المنذرv وابن مردویہv وابونعیمv وبیہقیv (دلائل النبوۃ میں) حضرت ابوہریرہq سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہم نبی کریمa کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ پس آپ نے اس کو پڑھا پس جب آپ ان الفاظ پر پہنچے: ’’وآخرین من لما یلحقوا بھم‘‘ تو ایک آدمی نے آپa سے پوچھا: یارسول اللہ a! یہ لوگ کون ہیں جو ابھی تک ہم سے نہیں ملے۔ پس آپa نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسیq کے سر پر رکھااور فرمایا: ’’لوکان الایمان عندالثریالنالہ رجال من ھؤلاء‘‘ یعنی اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو ان فارسیوں میں سے کئی مرد اس کو پاجاتے۔‘‘

(تفسیر در منثور ج۶ ص۲۱۵)

اس حدیث میں فارسیوں کی باریک بینی اور استعداد ایمانی بیان فرمائی گئی ہے۔

(فتح الباری پارہ:۲۰ ص۳۶۴، فیض الباری پارہ:۲۰ ص۱۰۲)

۳… مرزامحمود قادیانی کایہ کہناکہ (ان آیات میں آنحضرتa کی دو بعثتوں کا ذکر ہے) اور یہ کہ (دوسری بعثت سے مراد مسیح موعود (مرزاقادیانی) ہی ہے) سراسر غلط ہے۔ اس لئے کہ ان آیات کی تفسیر میں کسی حدیث صحیح یا مرفوع یا اقوال صحابہi وتابعینw یا اقوال مفسرینw سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ ان آیات میں آنحضرت کی دو بعثتوں کا

161

ذکر ہے اور جن احادیث صحیحہ مرفوعہ یا موقوفہ میں آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر ہے ان احادیث صحیحہ میں عیسیٰ، مسیح، عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم، ابن مریم اور روح اللہ کے ناموں سے خبر دی گئی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ آپ مغل تھے۔(تریاق القلوب ص۱۵۸، خزائن ج۱۵ ص۴۸۲، اخبار الحکم ص۳، مورخہ۲۱، ۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء، حیات النبی ج اوّل ص۱۸)

’’آپ کے بزرگ مرزا ہادی بیگ برلاس مشہور قوم مغل کے تھے اور آپ کا شجرۂ نسب یافث بن حضرت نوحm تک جاملتا ہے۔‘‘

(احمدیہ جنتری ۱۹۲۱ء یا۱۳۳۹ھ ص۲،۳)

’’واضح ہو کہ اہل فارس حضرت اسحقm کی اولاد ہیں اور حضرت اسحقm اور حضرت اسماعیلm ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ m کی اولاد ہیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ دوم ص۲۸)

اور حضرت نوحm کے تین بیٹے تھے سام اور حام اور یافث، سام کی اولاد عرب، فارس اور روم ہیں اور یافث کی اولاد یاجوج وماجوج، ترک اور صقال لوگ ہیں اور حام کی اولاد، بربری، قبطی، سوڈانی ہیں۔

(کنزالعمال ج۶ ص۱۲۹)

چونکہ مرزاقادیانی کا شجرۂ نسب مرزا ہادی بیگ مغل کے واسطہ سے یافث بن حضرت نوحm تک جاملتا ہے نہ کہ سام بن نوحm تک۔ اس لئے آپ مغل تھے نہ کہ فارسی النسل اور حکیم خدا بخش قادیانی کا یہ لکھنا کہ: ’’مرزاقادیانی فارسی الاصل ہیں اور محض ترکستان میں رہنے اور وہاں رشتہ قرابت پیدا کرنے کی وجہ سے مغل مشہور ہوگئے تھے۔‘‘ سراسر غلط ثابت ہوا۔

(عسل مصفی حصہ دوم ص۴۶)

۴… سید علی محمد ’’باب‘‘ بانی فرقہ ’’بابیہ‘‘ ملک ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے تھے۔

(کتاب حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص۴)

اور میرزا حسین علی بہاء اللہ مدعی مسیحیت ایران کے کیانی بادشاہوں کی نسل میں سے تھے اور ملک ایران کے شہر تہران کے قریب ایک گائوں ’’نور‘‘ میں پیدا ہوئے تھے۔

(کتاب حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص۱۷)

اور سید مصطفیٰ البہائی نے بھی اس آیت اور اس مندرجہ بالا حدیث صحیح کو ’’باب‘‘ کے متبعین پرچسپاں کیا ہے۔ کیونکہ وہ سب کے سب فارسی النسل تھے۔

(کتاب المعیار الصحیح ص۱۳۵تا۱۳۷)

162

اور مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں کا اس آیت اور اس حدیث صحیح کو اپنے اوپر چسپاں کرنا فرقہ بابیہ وبہائیہ کے راستے پر قدم مارنا ہے۔

قادیانی: ہمارے مخالف ہمارے مقابلہ پر ایک اور رنگ بھی اختیار کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ انجیل میں فارقلیط کی جو خبر دی گئی ہے، اس سے اسمہ احمد کی پیش گوئی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ فارقلیط سے احمد نام ثابت ہوتا ہے… سو اس کا جواب یہ ہے کہ فارقلیط کی پیش گوئی آنحضرتa کے متعلق ہی ہے اور ہمارے نزدیک آپ ہی اس پیش گوئی کے مصداق ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۵)

اسمہ احمد کے ساتھ فارقلیط والی پیش گوئی کا کوئی تعلق نہیں… ان دونوں میں کوئی تعلق دلائل سے ثابت نہیں کہ ہم ان دونوں پیش گوئیوں کو ایک ہی شخص کے حق میں سمجھنے کے لئے مجبور ہوں۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۷)

مسلمان: اگر مرزا محمودقادیانی اپنے اس اقرار پر قائم ہیں کہ فارقلیط کی پیش گوئی آنحضرتa کے متعلق ہی ہے تو فارقلیط اور احمد کی پیش گوئیوں کا ایک ہی ذات اقدس حضرت احمد مجتبیٰa کے لئے ہونا خود اس شخص کی زبانی (یعنی مرزاقادیانی کی زبانی) ثابت ہے جس کی طرف احمد کی پیش گوئی کا حقیقی اور اصل مصداق ہونا منسوب کیا جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ ذیل الفاظ بڑی صفائی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے اس پیش گوئی کا مصداق حضرت نبی کریمa کو سمجھا ہے۔

’’بعدادائے نماز مغرب حضرت اقدس(مرزاقادیانی) حسب معمول شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے تو کسی شخص کا اعتراض پیش کیا گیا کہ وہ کہتا ہے کہ جب فارقلیط کے معنی حق وباطل میں فرق کرنے والا ہے تو قرآن شریف میں جو: ’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘والی پیش گوئی مسیح علیہ السلام کی زبانی بیان فرمائی گئی ہے۔ وہ انجیل میں کہاں ہے؟

فرمایا یہ ہمارے لئے ضروری نہیں کہ ہم انجیل میں سے یہ پیش گوئی نکالتے پھریں وہ محرف مبدل ہوئی ہے جو حصہ اس کا قرآن مجید کے خلاف نہیں اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے وہ ہم مان لیں گے۔ فارقلیط کی پیش گوئی انجیل میں ہے اور اس کے معنی حق وباطل میں فرق کرنے والا ہے اور یہ آنحضرتa کا نام ہے کیونکہ قرآن کا نام اللہ تعالیٰ نے فرقان رکھا ہے اور آپ صاحب القرآن ہیں۔

163

اورپھر اعوذب اللہ من الشیطان الرجیممیں لفظ لیط بھی آگیا ہے، جس کے معنی شیطان کے ہیں۔ بہرحال فارقلیط آنحضرتa کا نام ہے اور آپ کا نام جو احمد ہے۔ احمد کے معنی ہیں خداتعالیٰ کی بہت حمد کرنے والا اور آنحضرتa سے بڑھ کر خدا کی حمد کرنے والا اور کون ہوگا؟ کیونکہ حق اور باطل میں آپ فرق کرنے والے ہیں اور سب سےبڑھ کر وہی حمد کرسکتا ہے جو حق وباطل میں فرق کرے۔ احمد وہی ہے جو شیطان کا حصہ دور کرے۔ خداتعالیٰ کی عظمت وجلال قائم کرنے والا ہو۔ پس آپ فارقلیط ٹھہرے اور دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ آپ احمد ہی ہیں۔ گویا فارقلیط والی پیش گوئی بھی احمد ہی کے حق میں ہے۔

(اخبار الحکم قادیان ج۶ نمبر۴۱ ص۵، مورخہ ۱۷ نومبر۱۹۰۲ء)

قادیانی: ’’جس انجیل میں آنحضرتa کو محمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہ برنباس کی انجیل ہے اور نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی اپنی تفسیر (فتح البیان ج۹) میں اسمہ احمد والی پیش گوئی کے نیچے لکھتے ہیں کہ: برنباس کی انجیل میں جو خبردی گئی ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے: ’’لکن ھذہ الاھانۃ والاستھزا باقیان الی ان یجئی محمد رسول اللہ ‘‘ یعنی حضرت مسیح نے فرمایا کہ میری یہ اہانت اور استہزاء باقی رہیں گے۔ یہاں تک کہ محمد رسول اللہ تشریف لائیں۔ یہ حوالہ ہمارے موجودہ اختلاف سے پہلے کا ہے اور نواب صدیق حسن خان صاحب کی قلم سے نکلا ہے۔ پس یہ حوالہ نہایت معتبر ہے بہ نسبت ان حوالہ جات کے جواب ہم کو مدنظر رکھ کرگھڑے جاتے ہیں اور اس حوالہ سے ثابت ہے کہ رسول کریمa کا نام انجیل میں محمد آیا ہے۔ پس جب کہ اگر کوئی نام رسول کریمa کا انجیل میں بھی آیا تو وہ محمد نام ہے۔‘‘

(انوار خلافت ص۲۴،۲۵)

مسلمان: کتاب (برنباس کی انجیل ص۲۹۷تا۳۰۷، مطبوعہ ۱۹۱۰ء حمیدیہ پریس لاہور) میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام دشمنوں کے ہاتھوں سے قتل نہیں ہوئے، بلکہ صلیب پر چڑھائے بھی نہ گئے۔ آپ کی جگہ یہود ا اسکریوطی ماراگیا اور خدا نے آپ کو زندہ ہی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھالیا اور (ص ۳۰۶ فصل:۲۲۰ آیت:۱۹،۲۰) میں لکھا ہے کہ آپ نے فرمایاکہ: ’’یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی۔ جب کہ محمد رسول اللہ آئے گا جوکہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جوکہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔‘‘

164

اور یہ الفاظ آپ نے اس وقت بیان فرمائے تھے، جب کہ آپ اپنی ماں کو تسلی دینے کے لئے آسمان سے زمین پر تشریف لائے تھے اور یہ بات بھی اسی کتاب میں لکھی ہے۔ اس سے تو صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ برنباس کی انجیل میں آپ کا اسم مبارک محمد آیا ہے۔

اقوال حضرات صحابہ کرامi

پچھلے صفحوں میں قرآن مجید کی آیات مقدسہ اور احادیث صحیحہ نبویہ سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ بشارت اسمہ احمد کے اصل اور حقیقی مصداق حضرت احمد مجتبیٰa ہی ہیں۔ اب بعض صحابہ کرامq کے اقوال مبارکہ اس بارے میں ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:

۱… ’’ ابن عساکرvنے حضرت عبد اللہ بن مسعودq سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا پانچ نبی ایسے ہوئے ہیں کہ جن کی پیدائش سے پہلے ان کے آنے کی بشارت دی گئی۔ (اوّل)اسحقm۔ (دوم)یعقوبm۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ ہم نے ابراہیمm کو بشارت دی ساتھ اسحقm کے اور اسحقm کے پیچھے یعقوبm کی۔ (سوم)یحییٰm تحقیق اللہ تجھے اے زکریا! بشارت دیتا ہے ساتھ حضرت یحییٰm کے۔ (چہارم)حضرت عیسیٰ علیہ السلام تحقیق اللہ تجھے اے مریم! بشارت دیتا ہے اپنے ایک کلمہ کے ساتھ (پنجم)حضرت محمدa (جیسا کہ مسیح نے فرمایا تھا) اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کے ساتھ جو میرے بعد آئے گا اور اس کا اسم مبارک احمد ہے۔ پس یہ وہ بزرگ ہیں جن کی نسبت ان کی پیدائش کے پہلے خبر دی گئی۔

(خصائص الکبریٰ ج اوّل ص۴۱، مکتبہ المدنی)

۲… ’’ابن مردویہہv نے حضرت ابوموسیٰ اشعریq سے روایت کی ہے کہ نبی کریمa نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نجاشی کے ملک کی طرف حضرت جعفر بن ابوطالبq کے ہمراہ ہجرت کرجاویں۔ نجاشی نے پوچھا کہ مجھے سجدہ کرنے سے تمہیں کس چیز نے روکا؟ میں نے کہا ہم سوائے اللہ کے کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ اس نے پوچھا کہ یہ کیا ہے میں نے کہا تحقیق اللہ نے ہم میں اپنا نبی مبعوث کیا اور وہ نبی وہ ذات اقدس ہے جس کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا، اس کا نام احمد ہے۔ پس اس نبی نے ہم کو خدا کی عبادت کرنے کا حکم دیااور اس بات کا بھی حکم دیا کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہ کریں۔‘‘

(تفسیر درمنثور ج۶ ص۲۱۴، امام ابونعیمv کی کتاب دلائل النبوۃ ج اوّل ص۸۴)

165

۳… ’’حضرت عبد اللہ بن مسعودq نے فرمایا کہ حضرت رسول خداa نے ہم کو نجاشی کی طرف بھیجا اور ہم قریب ۸۰ کے مرد تھے۔ ان میں سے عبد اللہ بن مسعود وجعفر وعبد اللہ بن رواحہ وعثمان بن مظعون وابوموسیٰ اشعریi تھے اور قریش نے عمروبن عاص وعمارہ بن ولید کو ہدیہ دے کر بھیجا۔ پھر جب یہ دونوں نجاشی کے پاس آئے تو انہوں نے نجاشی کو سجدہ کیا۔ پھر اس کی طرف مبادرت کی اس کے داہنے اور بائیں طرف پھر اس سے کہا کہ ایک گروہ ہمارے بنی عم سے تیری زمین میں آیا ہے اور ہم سے اور ہماری ملت سے منہ پھیر لیا ہے۔ نجاشی نے کہا پھر وہ کہاں ہیں۔ کہا کہ وہ تیری زمین میں ہیں۔ پس تو ان کی طرف آدمی بھیج دے۔ پس ان کی طرف آدمی بھیجا تو جعفرq بولے کہ میں آج تمہارا خطیب ہوں پھر وہ ان کے تابع ہوئے۔ پس جعفرq نے سلام کیا اور سجدہ نہ کیا تو ان لوگوں نے ان سے کہا تجھے کیا ہے کہ تو بادشاہ کو سجدہ نہیں کرتا ہے۔ جعفرq بولے کہ ہم تو سجدہ نہیں کرتے ہیں، مگر واسطے اللہ کے۔ کہا یہ کیا ہے جعفرq نے کہا بے شک اللہ نے ہماری طرف اپنا رسول بھیجا سو اس نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم سجدہ نہ کریں واسطے کسی کے مگر واسطے اللہ کے اور ہم کو امر کیا ہے نماز وزکوٰۃ کا۔ عمرو بن عاص بولے پس بے شک یہ مخالفت کریں گے تیری عیسیٰ بن مریمm کے حق میں۔ نجاشی نے کہا تم کیا کہتے ہو حق میں عیسیٰ ابن مریمm کے اور ان کی ماں کے۔ جعفرq کے ساتھیوں نے کہا ہم کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اللہ کا کلمہ ہے اور خدا کی طرف سے ایک پاک روح ہے جس کو اللہ نے القاکیا طرف عذرا، بتول، (حضرت مریمp) کے کہ جس کو نہ چھؤا کسی بشر نے اور نہ عارض ہوا، اس کو کوئی ولد۔ پس نجاشی نے ایک لکڑی زمین سے اٹھائی پھر فرمایا: او حبشہ وقیس ورہبان کے گروہ! و اللہ نہیں زیادہ کرتے اس پر جو ہم اس کے حق میں کہتے ہیں۔ اتنا جو اس کے برابر ہے۔ مرحبا ہے تم کو اور اس کو جس کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ اللہ کا نبی ہے اور بے شک وہ وہی ہے۔ جس کو ہم انجیل میں پاتے ہیں اور بے شک وہ وہی ہے، جس کی عیسیٰ بن مریمm نے بشارت دی ہے۔ تم ٹھہرو اور رہو جہاں چاہو۔ و اللہ ! اگر نہ ہوتا وہ ملک جس میں میں ہوں تو البتہ میں اس کے پاس جاتا۔ یہاں تک میں خود اس کی جوتیاں اٹھاتا اور اس کو وضو کراتا اور دوسرے ان دو شخصوں کے ہدیہ کے متعلق حکم دیا تو وہ ان کی طرف پھیر دیا گیا۔‘‘

(مسند احمد ج اوّل ص۴۶۱، ترجمان القرآن ج۱۵ ص۳۹۶، ۳۹۷، ابن کثیر ج۹ ص۴۵۰)

166
۴… ’’اخرج ابن ابی حاتم عن عمر وبن مرۃ قال خمسۃ سموا قبل ان یکونوا محمد۔ ومبشرا برسول یأتی من بعدہ اسمہ احمد ویحیٰیm انا نبشرک بغلام اسمہ یحیٰیm وعیسٰیm مصداقا بکلمۃ من اللہ واسحق ویعقوب فبشرناھا باسحق ومن وراء اسحق یعقوب‘‘

(تفسیر اتقان ج دوم ص۲۳۹، طبع مصر)

نتیجہ: قرآن مجید کی آیات مقدسہ، احادیث نبویہ اور آثار صحابہi سے یہ بات روز روشن کی طرح صاف ظاہر کرتی ہے کہ آنحضرتa کا اسم مبارک احمد تھا اور حضرت عیسیٰ ابن مریمn نے:’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘کہہ کر آپa ہی کے لئے بشارت دی تھی۔

حکیم نوردین بھیروی کا پائوں دو کشتوں پر

مرزائی جماعت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد حکیم نوردین بھیروی بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ حکیم صاحب کی پیدائش ۱۲۵۸ھ میں ہوئی تھی۔ آپ کا وطن بھیرہ ضلع شاہ پور (سرگودھا، مرتب) تھا۔ مرزاقادیانی نے جب بیعت کا اعلان کیا تو سب سے پہلے لدھیانہ میں حکیم صاحب نے آن کر بیعت کی۔ جب مرزاقادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو سب سے پہلے حکیم صاحب نے ہی لبیک کی آواز نکالی اور ان کو مسیح موعود تسلیم کرلیا۔ بقول حکیم خدا بخش مرزائی ’’حکیم صاحب کو مرزاقادیانی سے بے حد عشق تھا۔‘‘ (عسل مصفی حصہ۲ ص۷۱۰) ’’مرزاقادیانی۲۶؍مئی۱۹۰۸ء کو لاہور میں فوت ہوئے تھے۔‘‘ (عسل مصفی حصہ۲ ص۷۱۱) ان کے بعد حکیم صاحب مرزائی جماعت کے (پہلے نام نہاد) خلیفہ بنائے گئے تھے۔ ’’۱۳؍مارچ۱۹۱۴ء کو جمعہ کے روز ۲بج کر ۱۰منٹ پر آپ فوت ہوئے تھے۔‘‘

(عسل مصفی حصہ۲ ص۷۳۱)

اب ذیل میں اس بات کو لکھا جاتا ہے کہ بشارت اسمہ احمد کے متعلق حکیم نوردین صاحب کا کیا عقیدہ تھا۔ حکیم صاحب نے ایک کتاب ’’فصل الخطاب لمقدمۃ اہل کتاب‘‘ نامی لکھی تھی۔ یہ کتاب ۱۳۰۵ھ میں مطبع مجتبائی دہلی میں دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں (جو مرزاقادیانی کے دعویٰ مسیحیت سے پہلے لکھی گئی تھی) حکیم صاحب نے بشارت اسمہ احمد

167

کو حضرت محمد مصطفیa پر چسپاں کیا تھا اور جب حکیم صاحب مرزائی ہوگئے اور مرزاقادیانی کے مرنے کے بعد مرزائی جماعت کے پہلے نام نہادخلیفہ مقرر ہوئے تو قادیان میں درس قرآن مجیددیتے ہوئے اس بشارت کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی کو قرار دیا۔

کشتی نمبر:۱

’’اذ قال عیسٰی ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورات ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘اور جب کہا عیسیٰ مریم کے بیٹے نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا آیا ہوں اللہ کا تمہاری طرف سچا کرتا اس کو جو مجھ سے آگے ہے توراۃ اور خوشخبری سناتا ایک رسول کی جو آوے گا مجھ سے پیچھے اس کا نام ہے احمد۔

(سورۃ صف پارہ:۲۸، رکوع:۹)

اس بشارت کو یوحنا نے اپنی انجیل میں لکھا ہے۔ دیکھو یوحنا:۱۴ باب درس۱۵،۱۷ میرے کلموں پر عمل کرو۔ میں اپنے باپ سے درخواست کروں گا اور وہ تمہیں دوسرا تسلی دینے والا بخشے گا کہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔ قرآن نے کہا ہے مسیح علیہ السلام نے احمد کی بشارت دی اور یہ بشارت نبی عرب نے عیسائیوں کے سامنے پڑھ سنائی اور کسی کو انکار کرنے کا موقع نہ ملا۔

(فصل الخطاب حصہ۲ ص۷۴)

کشتی نمبر:۲

۱… ’’حضرت خلیفۃ المسیح (نورالدین) نے کھلے کھلے الفاظ میں فرمایا کہ میں:’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کی پیش گوئی حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے متعلق مانتا ہوںکہ یہ صرف حضرت مسیح موعود ہی کے متعلق ہے اور وہی (مرزا) احمد رسول ہیں۔‘‘

(الحکم ص۱۰، مورخہ ۱۴،۲۱؍ستمبر ۱۹۱۱ء)

۲…’’من بعدی اسمہ احمد‘‘احمد نبی کریمa میں دو قسم کے صفات تھے۔ ایک جلالی جس کے لحاظ سے نام محمد تھا اور دوم جمالی جس کے اعتبار سے نام احمد تھا۔ اسدوسری شان کا ظہور اخیر زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے ذریعے ہوا جس کا نام ہے (احمد ) ھوالذی ارسل رسولہ مفسرین نے بالاتفاق لکھا ہے کہ اس رسول سے مراد مسیح موعود ہے یہ بھی قرینہ ہے۔ اس بات پرکہ اوپر کی پیش گوئی مسیح موعود کے بارے میں

168

(ضمیمہ بدر ج۱۰ نمبر۴۲ ص۲۶۲، مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۱۱ء)

مرزاقادیانی آنحضرتaکا مثیل نہیں

مرزا کا دعویٰ: ایک غلطی کا ازالہ نامی اشتہار کے حوالے سے لکھا ہے کہ مرزاقادیانی نے کہا: ’’میں بار ہا بتلا چکاہوںکہ میں بموجب آیت: ’’وآخرین منھم لما یلحقوا بھم‘‘بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔‘‘

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص۲۶۵)

’’جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرتa ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا، جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(ص۲۶۶)

نوٹ:

۱… ’’چونکہ رسول کریمa سب انبیاء کے کمال کے جامع تھے۔ اس لئے آپ کے بروز میں بھی سب کمال پائے جائیں گے۔ اسی وجہ سے اس کی آمد کے متعلق سب نبی یہی کہتے رہے کہ میں ہی آئوں گا۔ گویا میرے کمال اس آنے والے میں ہوں گے۔ یہ سب کمال مسیح موعود میں پائے گئے۔ چنانچہ آپ نے دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں، میں مسیح ہوں، میں کرشن ہوں، میں زرتشت ہوں۔ پس ہمارا ایمان اور یقین یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود تمام کمالات کے جامع تھے۔ اس لئے آپ رسول کریمa کے عکس تھے۔‘‘

(اخبار الفضل ص۷، مورخہ ۳۰؍مئی ۱۹۲۱ء)

۲… ’’غرض محمد رسول اللہ خدا کا نمونہ تھے اور آپ کا کامل نمونہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ہیں۔‘‘

(اخبار الفضل ج۱۵ نمبر۵۴ کالم۱ ص۵، مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۲۸ء)

مندرجہ ذیل نقشہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی، حضورa کے مثیل نہیں۔

۱… آنحضرتa: ’’ہمارے نبیa نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)

۱… مرزاقادیانی: ’’بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس برزگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے، جن

169

کا نام فضل احمد تھا۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۸،۱۴۹ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص ۱۷۹،۱۸۰حاشیہ)

۲… آنحضرتa: ’’اور آنحضرتa کا امی اور ان پڑھ ہونا ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ کوئی تاریخ دان اسلام کا اس سے بے خبرنہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۷۱،۴۷۲، خزائن ج۱ ص۵۶۲)

۲… مرزاقادیانی: ’’اور ان آخرالذکر مولوی صاحب (یعنی گل علی شاہ) سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۵۰ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۸۱حاشیہ )

۳… آنحضرتa: ’’آنحضرتa نے اصل میں کسی انسان سے فیض حاصل نہیں کیا۔‘‘

(اخبار الفضل ص۶، مورخہ ۲۳؍فروری ۱۹۲۲ء)

۳… مرزاقادیانی: ’’حضرت مسیح محمدی نے محمدa کی اتباع سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔ ‘‘

(کتاب حقیقت النبوۃ ص۱۳۷)

۴… آنحضرتa: ’’اور ہمارے نبیa جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے مکہ کی زندگی جمالی رنگ میں تھی اور مدینہ کی زندگی جلالی رنگ میں۔‘‘

(ملخص اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۶)

۴… مرزاقادیانی: ’’خدا نے جلالی رنگ کو منسوخ کرکے اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنا چاہا یعنی جمالی رنگ کا دکھلانا چاہا سو اس نے قدیم وعدہ کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا۔‘‘

(ملخص اربعین نمبر۴ ص۱۷،۱۸، خزائن ج۱۷ ص۴۴۸،۰ ۴۵)

۵… آنحضرتa: ’’ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ہے (کہ ہمارے نبیa) نے اپنی آمد اوّل میں ہی کافروں کو وہ ہاتھ دکھائے جو اب تک یاد کرتے ہیں اور پوری کامیابی کے ساتھ آپ کا انتقال ہوا۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۲۵، خزائن ج۲۱ ص۲۹۲)

۵… مرزاقادیانی:

  1. اب چھوڑدو جہاد کا اے دوستو خیال

    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۷، خزائن ج۱۷ ص۷۷)

170

۶… آنحضرتa: ’’آنحضرتaنے ہجرت کے بعد کافروں اور مشرکوں کے ساتھ جہاد کیا۔ حضورa نے سلطنت اور حکومت بھی کی۔‘‘

۶… مرزاقادیانی: مرزا غلام احمد قادیانی ساری عمر غیر مسلم (یعنی مسیحی) حکومت کے ماتحت رہا۔ اس نے کبھی سلطنت نہ کی۔

۷… آنحضرتa: آنحضرتa نے حج کیا تھا۔

(اخبار الحکم قادیان ص۱۰ کالم۳، مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۷ء)

۷… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کو باوجود تین لاکھ کے قریب روپیہ آنے کے ساری عمر حج نصیب نہ ہوا۔

(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۱)

۸… آنحضرتa: حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰa نے کبھی نہیں فرمایا۔

۸… مرزاقادیانی: مرزا قادیانی نے خود اپنی نسبت لکھا کہ: ’’حافظہ اچھا نہیں۔ یاد نہیں رہا۔‘‘(کتاب نسیم دعوت ص۷۱ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۴۳۹، رسالہ ریویو ص۱۵۳ حاشیہ، بابت ماہ اپریل ۱۹۰۳ء)

۹… آنحضرتa: حضرت خاتم النّبیین، رحمۃ اللعالمین، محمد مصطفی، احمد مجتبیٰa نے کبھی ایسا نہیں فرمایا۔

۹… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی نے خود تسلیم کیا کہ مجھے بیماری مراق اور کثرت بول ہے۔ (رسالہ تشحیذ الاذہان ص۵، بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء، اخبار بدر ص۵، مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء)

۱۰… آنحضرتa: حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰa کی ذات مبارک اس مرض سے پاک تھی۔

۱۰… مرزاقادیانی: مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے مرزائی نے لکھا ہے کہ مرزاقادیانی کو مرض ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔

(کتاب سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۳)

۱۱… آنحضرتa: اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی محمدa کو ان سب بیماریوں سے محفوظ رکھا تھا۔

۱۱… مرزاقادیانی: مرزا قادیانی کو دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ مرض تھے اور ان کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھی۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۲۶، بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء)

171

۱۲… آنحضرتa: حضرت محمدaنے کبھی ایسا نہ فرمایا۔

۱۲… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی نے خود تسلیم کیا کہ میں ایک دائم المریض آدمی ہوں۔

(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰)

۱۳… آنحضرتa: الغرض آنحضرتa کے اخلاق فاضلہ ایسے تھے کہ:’’انک لعلٰی خلق عظیم‘‘قرآن میں وارد ہوا۔ خود اس انسان کامل ہمارے نبیaکو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں۔ مگر اس خلق مجسم نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا ان کے لئے دعا کی۔

(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء ص۹۹)

۱۳… مرزاقادیانی: ’’یہ بات بھی تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئیں ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۶ص۱۶۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۶۶)

۱۴… آنحضرتa: ’’کیا تونہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبیa کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرتa نے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس تفسیر کی ہے:’’لانبی بعدی‘‘ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ مترجم ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)

۱۴… مرزاقادیانی: ’’وہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

۱۵… آنحضرتa: آنحضرتa کے دعوئوں کی بنیاد کسی پہلے نبی کی وفات پر نہ تھی۔

۱۵… مرزا قادیانی: مرزا کے دعویٰ کی بنیاد وفات مسیح علیہ السلام پر ہے۔

(لیکچرسیالکوٹ ص۵۶، خزائن ج۲۰ ص۲۴۶)

قادیانی مغالطے اوران کی تردید

مغالطہ نمبر۱: ’’پھر سوال کیا جاتا ہے کہ آنحضرتa نے ’’انا بشارت عیسٰی‘‘ فرمایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی: ’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ والی پیش گوئی اور بشارت کے مصداق آنحضرتa ہی ہیں تو اس

172

کے جواب میں یہ عرض ہے کہ اس میں کلام نہیں کہ آنحضرتa بشارت عیسیٰ کے مصداق ہیں۔ لیکن چونکہ حضرت عیسیٰ نے دو موعودوں کے متعلق پیش گوئی کی تھی جن میں سے ایک کے مصداق آنحضرتa ہیں اور دوسری کے مصداق حضرت مسیح موعود، اس لئے آنحضرتa کا انا بشارت عیسیٰ فرمانا اس پیش گوئی کے متعلق ہے جو حضرت مسیح موعود کی نسبت فرمائی گئی۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ آنحضرتa نے کہیں یہ فرمایا ہو کہ میں احمدوالی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔ جب یہ کہیں یہ ثابت نہیں تو اپنی طرف سے بات بناکر پیش کرنا کیوںکر قابل اعتبار ٹھہرا۔ ہاں! اس میں کلام نہیں کہ آنحضرتaحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک پیش گوئی کے مصداق ہیں۔ لیکن وہ احمد والی پیش گوئی نہیں بلکہ وہ وہی پیش گوئی ہے جو انجیل یوحنا کے باب اوّل آیت:۲۱ میں یوں لکھی ہے: ’’تب انہوں نے اس (یوحنا) سے پوچھا تو اور کون ہے کیا تو الیاس ہے۔ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ پس آیا تو وہ نبی ہے۔ اس نے جواب دیا نہیں۔ انہوں نے اس سے سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے، نہ الیاس اور نہ وہ نبی۔ پس کیوں بپتسمہ دیتا ہے۔‘‘

’’انجیل کے ان الفاظ میں ’’وہ نبی‘‘ کا لفظ آنحضرتa کی پیش گوئی میں ہے جس کے متعلق یوحنا باب:۱۴ آیت:۱۶،۲۶ میں’’تسلی دینے والا‘‘ اور یوحنا باب:۱۴ آیت:۳۰ میں ’’اس جہان کا سردار آتا ہے۔‘‘ اور لوقاباب:۲۴ آیت:۴۹ میں ’’اپنے باپ کو اس موعود کو تم پر بھیجتا ہوں۔‘‘ وغیرہا الفاظ میں بھی پیش گوئی کی گئی۔ یہ وہ پیش گوئی ہے کہ جس کے مصداق آنحضرتa ہی ہیں اور جس کے مصداق ہونے کی وجہ سے آنحضرتa نے انا بشارت عیسیٰ کا فقرہ فرمایا۔ اب اس پیش گوئی کے متعلق ہم مبائعین میں سے خدا کے فضل سے کسی کو بھی کلام نہیں۔ لیکن حضرت مسیح کی دوسری پیش گوئی کہ جس میں انہوں نے اپنے دوبارہ آنے کے متعلق پیش گوئی فرمائی۔ جیسا کہ متی باب:۲۴،۲۵ وغیرہ مقامات سے ظاہر ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر متی باب:۲۵ آیت:۳۱ کو دیکھو وہاں لکھا ہے کہ جب ابن آدم اپنے جلال سے آوے گا اور سب فرشتے اس کے ساتھ تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا اور سب قوم اس کے آگے حاضر کی جائے گی… الخ!

اب اس مسیح کی آمدثانی کی پیش گوئی جو العودا حمد کی مصداق ہے، اس کا مصداق حضرت مسیح موعود کا وجود ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ص۶،۷، مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)

173

جواب: قرآن مجید میں سورۃ صف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمn نے: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘کہہ کر اپنے بعد ایک رسول کی خبر دی تھی نہ کہ دو کی۔ حضرت مسیح نے یہ نہ کہا کہ: ’’میں دو رسولوں کیبشارت دینے والا ہوں۔ ان میں سے ایک کا نام احمد اور دوسرے کا نام غلام احمد ہوگا۔‘‘ حضرت مسیح نے ’’اسمہ احمد‘‘ کہا ’’اسمہما‘‘ نہیں کہا۔ مرزاقادیانی کے پہلے بھی ایک شخص احمد نامی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت میرے لئے ہے۔

(دیکھو امام ابن جزمv کی کتاب الفصل ج ۳ ص۱۹۸)

خدا وند تعالیٰ نے ’’فلما جاء ھم بالبینٰت قالوا ھذا سحرمبین‘‘فرماکر اس بات کی تصریح کردی کہ احمد رسولa آچکا ہے۔

۲…مسند احمد ج۴ ص۱۲۷،۱۲۸، مسند احمد ج۵ ص۲۶۲، مشکوٰۃ، لمعات، مرقاۃ، مظاہر حق، تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر، تفسیر کبیر، غرائب القرآن، ابی السعود، روح المعانی، روح البیان، خازن، مدارک، فتح البیان، ترجمان القرآن، مواہب الرحمن، بیضاوی، جامع البیان، جلالین، بحرالمحیط، الدرالقیط، تفسیر سراج منیر، کتاب الوجیز، اتقان، جمل، عرائس البیان، معالم التنزیل، بحرمواج، حسینی، قادری، درمنثور، اکسیر اعظم، فتح المنان، اعظم التفاسیر، تفسیر محمدی، کتاب الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح زرقانی، شرح مواہب، شرح الشفاء، فتح الباری، شرح صحیح بخاری، خصائص الکبریٰ وغیرہکتب اہل سنت میں بشارت عیسیٰ علیہ السلام اسمہ احمد کا مصداق حضرت احمد مجتبیٰa کو مانا گیا ہے۔

۳… آنحضرتm نے ’’وانابشارۃ عیسٰی‘‘ (مشکوٰۃ) فرماکر صاف طو ر پر اپنے آپ کو اس بشارت ’’اسمہ احمد‘‘ کا مصداق قرار دیا۔ اگر قادیانی لوگ ان صریح حوالوں کے ہوتے ہوئے بھی بشارت ’’اسمہ احمد‘‘ کا مصداق آنحضرتaکو نہ مانیں تو کہنا پڑے گا کہ: ’’بل ھم قوم خصمون‘‘ سچی بات یہ ہے کہ نیچری اور مرزائی لوگ بڑے ضدی ہوتے ہیں۔

۴… بے شک انجیل یوحنا باب:اوّل آیت:۲۱ میں ’’وہ نبی‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ مگر اسی مقام پر حاشیہ پر تورات کے پانچویں حصے کتاب استثنا باب:۱۸ آیت:۱۵،۱۸ کا حوالہ دیا گیا ہے جہاں موسیٰm کی مانند ایک نبی کے آنے کی خبر دی گئی ہے اوریہ بشارت حضرت

174

موسیٰm نے دی تھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی بشارت انجیل یوحنا باب:۱۴،۱۶ میں ہے۔ انجیل برنباس میں ’’محمد رسول اللہ ‘‘ کے الفاظ بھی موجود ہیں۔

۵… انجیل متی باب:۲۴ حوالہ تو مرزائی مولوی نے دے دیا، مگر اصل عبارت پوری نقل نہ کی۔ انجیل متی باب:۲۴میں ہے:

۳… اور جب یسوع زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آکے کہا ہم سے کہہ کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور زمانے کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔

۴… تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔

۵… کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔

۶… اور تم لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں کی خبر سنو گے۔ خبردار مت گھبرائیو کیونکہ ان سب باتوں کا ہونا ضرور ہے پر اب تک اخیر نہیں ہے۔

۷… کہ قوم پر قوم اور بادشاہت پر بادشاہت چڑھ آئے گی اور کال اور مری پڑے گی اور جگہ جگہ بھونچال آئیں گے۔

۸… یہ سب کچھ مصیبتوں کا شروع ہے۔

۲۳… تب اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا وہاں ہے تو اسے نہ ماننا۔

۲۴… کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور ایسے بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے کہ اگر ہوسکتا تو وہ برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔‘‘

نوٹ: حکیم خدا بخش مرزائی کتاب (عسل مصفی ج۲ ص۱۲۵، ۲۱۲) پر جو کچھ لکھا ہے کہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

۱… ’’دسویں صدی ہجری میں شیخ محمد خراسانی نے دعویٰ کیا کہ میں عیسیٰ بن مریم ہوںجس کے آنے کا احادیث نبویہ میں وعدہ دیا گیا ہے۔‘‘

۲… ’’دائرہ میاں نعمت میں ایک شخص ابراہیم بزلہ نامی نے دسویں صدی ہجری میں عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا ۔‘‘

175

۳… ’’دسویں صدی ہجری میں شیخ بھیک نے بھی مسیح کا دعویٰ کیا۔ ایک مدت تک اس دعویٰ پر جما رہا، مگر بالاخر اپنی غلطی کا اعتراف کرکے دعویٰ سے رجوع کرلیا۔‘‘

۴… ’’تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ شہر لندن میں ایک شخص کھڑا ہوا جس کا نام مسٹر وارڈتھا۔ چونکہ یہ شخص فصاحت وبلاغت میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اس کی تقریر کا اثر لوگوں کے دلوں پر پڑتا تھا۔ اس بنا پر اس نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔‘‘

۵… ’’جزیرہ جمیکا میں ایک حبشی شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ عیسیٰ ابن مریم ہے۔ جس کی انتظار میں ایک مخلوق لگی ہوئی ہے۔‘‘

(ص۱۲۶)

۶… ’’ملک روس میں بھی ایک فرنگی نے دعویٰ کیا کہ وہ عیسیٰ بن مریم ہے۔‘‘

۷… ’’پگٹ نے شہر لندن میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔‘‘

۸… ’’ایسا ہی ایک شخص چراغ دین نامی جموں میں ہوا ہے۔ اس نے بھی دعوے کیا کہ میں مسیح ہوں۔‘‘

(ص۲۱۴،۲۱۵)

۹… ’’حال میں ایک اور شخص یورپین لوگوں میں سے اٹھا ہے، جس نے اوّل اوّل الیاس ہونے کا دعویٰ کیا پھر کچھ عرصہ کے بعد کہنے لگا کہ میں مسیح موعود ہوں۔‘‘

(ص۲۱۶)

۱۰… ابھی تھوڑے دن ہوئے کہ فرانس میں ایک شخص نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔‘‘

(ص۲۱۸)

میں کہتا ہوں کہ تیرھویں اور چودھویں ہجری میں فرقہ بہائیہ اور جماعت مرزائیہ دوبڑے بھاری فتنے ہوئے ہیں۔ مرزا حسین علی بہاء اللہ ایرانی (جس کی پیدائش ۱۸۱۷ء میں، دعویٰ ۱۸۵۳ء میں اور وفات ۱۸۹۲ء میں ہوئی تھی) اور مرزا غلام احمد قادیانی (جس کی پیدائش ۱۸۳۹ء میں اور وفات ۱۹۰۸ء میں ہوئی تھی) نے مسیحیت، رسالت اور وحی وکلام الٰہی پانے کے دعوے کئے تھے اور آج ۱۹۳۳ء یعنی ۱۳۵۴ھ تک فرقہ بہائیہ اور جماعت مرزائیہ کے لوگ موجود ہیں۔

ذیل میں ایک نقشہ کے ذریعہ اس بات کو ثابت کیا جاتا ہے کہ جن جھوٹے مدعیوں کی بابت یسوع یعنی مسیح علیہ السلام ناصری نے خبر دی تھی۔ ان میں سے ایک مرزاقادیانی بھی ہیں۔

نوٹ: مرزا حسین علی بہاء اللہ بھی ’’مدعی مسیحیت‘‘ تھا۔

(مرزا کی کتاب لیکچرلاہور ٹائٹل پیج ص ب، خزائن ج۲۰ ص ۱۴۶)

176

۱… بہتیرے میرے نام پر آئیں گے۔

۱… ’’یاد رہے کہ انجیلوں میں دوقسم کی پیش گوئیاں ہیں جو حضرت مسیح کے آنے کے متعلق ہیں۔ ایک وہ جو آخری زمانہ میں آنے کا وعدہ ہے۔ وہ وعدہ روحانی طور پر ہے اور وہ آنا اس قسم کا ہے۔ جیسا کہ ایلیا نبی مسیح کے وقت میں دوبارہ آیا تھا۔ سو وہ ہمارے اس زمانہ میں ایلیا کی طرح آچکا اور وہ یہی راقم ہے، جو خادم نوع انسان ہے، جو مسیح موعود ہوکر مسیح علیہ السلام کے نا م پر آیا اور مسیح نے میری نسبت انجیل میں خبر دی ہے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میںص۳۶، خزائن ج۱۵ ص۳۸)

۲… اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں۔

۲… ’’آنے والا مسیح میں ہی ہوں… آخری زمانے میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳)

’’مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)

منم مسیح ببانگ بلندمے گوئم

(تریاق القلوب ص۲، خزائن ج۱۵ ص۱۳۲)

۳… اور کہیں گے کہ میں وہی ہوں۔

(مرقس۱۳:۶)

۳… مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’سو میں وہی ہوں۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۴)

۴… اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔

۴… ’’لاکھوں انسانوں نے مجھے قبول کرلیا اور یہ ملک ہماری جماعت سے بھرگیا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷۴، خزائن ج۲۱ ص۹۵، ۹۶)

۵… جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے۔

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمدو احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

177

’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘

(اخبار بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص۲۷۲)

۶… بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے۔

۶… ’’میری تائید میں خدا نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶؍جولائی ۱۹۰۶ء ہے۔ اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰)

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی غلط بیانی

مغالطہ نمبر۲: مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے: ’’اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے۔ کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں، بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ ہاں! عیسائیوں نے مختلف زمانوں میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور کچھ تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ ایک عیسائی نے امریکہ میں بھی مسیح ابن مریم ہونے کادم مارا تھا۔ لیکن ان مشرک عیسائیوں کے دعویٰ کو کسی نے قبول نہیں کیا۔ ہاں! ضرور تھا کہ وہ ایسا کرتے۔ تا انجیل کی وہ پیش گوئی پوری ہوجاتی کہ بہترے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں۔ پر سچا مسیح ان سب کے اخیر میں آئے گا اور مسیح نے اپنے حواریوںکو نصیحت کی تھی کہ تم نے آخر کار منتظر رہنا میرے آنے کا یعنی میرے نام پر جوآئے گا۔ اس کا نشان یہ ہے کہ اس وقت سورج اور چاند تاریک ہوجائے گااور ستارے زمین پر گرجائیں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۶۸۳،۶۸۴، خزائن ج۳ ص ۴۶۸)

جواب:

۱… مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ لکھنا کہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں،سراسر غلط ہے اور خلاف واقعہ ہے۔ حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب (عسل مصفی حصہ دوم ص۱۲۵،۱۲۶) پر لکھا ہے کہ کئی ایک مسلمانوں نے بھی مسیح موعود ہونے کے دعوے کئے تھے۔ جیسا کہ میں پیچھے لکھ آیا ہوں۔

178

۲… مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’شیخ محمد طاہر صاحب مصنف مجمع البحار کے زمانہ میں بعض ناپاک طبع لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۴۰، خزائن ج۲۲ ص۳۵۳)

۳… ’’آج پرچہ پیسہ اخبار ۲۷؍اگست ۱۹۰۴ء کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ حکیم مرزا محمود نام ایرانی لاہور میںفروکش ہیں۔ وہ بھی ایک مسیحیت کے مدعی کے حامی ہیں۔ دعویٰ کرتے ہیں اور مجھ سے مقابلہ کے خواہشمند ہیں۔‘‘(تقریروں کا مجموعہ(یعنی لیکچرلاہور مطبع ضیاء الاسلام قادیان تاریخ طبع ۲۸ دسمبر۱۹۰۴ء)خزائن ج۲۰ ص۱۴۶)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اس جگہ فرقہ بہائیہ کے بانی مرزا حسین علی بہاء اللہ ایرانی کو مسیحیت کا مدعی مانا ہے۔ (قادیانی اخبار الحکم ص۴، مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۴ء، الحکم ص۱۹، مورخہ ۱۰، ۱۷؍نومبر۱۹۰۴ء) پر بھی لکھا ہے کہ بہاء اللہ نے ۱۲۶۹ھ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ۱۳۰۹ھ تک زندہ رہا۔

۴… مرزا غلام احمد قادیانی نے الفاظ ’’یعنی میرے نام پر جوآئے گا۔‘‘ اپنے پاس سے زیادہ کئے ہیں۔ ورنہ انجیل متی باب:۲۴ میں اصل عبارت یوں ہے۔

۳… ’’اور جب یسوع زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا، اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آکے کہا ہم سے کہہ کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور زمانے کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔

۴… تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔

۵… کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔

۲۳… تب اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا وہاں ہے تو اسے نہ ماننا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے۔‘‘

پس اس خبر کے مطابق ایرانی اور قادیانی اپنے دعویٰ مسیحیت ورسالت میں سچے نہیں ہیں ۔

مغالطہ نمبر۳: ’’پیغام صلح ۱۹؍جنوری (۱۹۳۳ء) کے پرچہ میں انہوں نے از مولوی عمرالدین شملوی لکھ کر غیر احمد یوںکے قائم مقام ہوکر اور ان کے روح رواں اور ان کا

179

قلب اور زبان بن کر ہم پر سوالات کئے ہیں۔ ان سوالات کی عبارت گو بہت سی لغو اور بے معنی ہے۔ لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ قریباً سب کی سب نقل کردی جائے تاکہ جوابات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

(اخبار الفضل قادیان ص۵، مورخہ ۲۸؍فروری۱۹۳۳ء)

سوال نمبر۱: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے احمد کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ:’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘سب سے پہلے لفظ رسول قابل توجہ ہے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں یہ لفظ مستقل اور تشریعی نبیوں کے لئے آیا ہے اور عیسیٰ کی زبان میں رسالت سے مراد ظلی رسالت ہو ہی نہیں سکتی اور صف اولیٰ میں نبوت ورسالت سے جو مراد ہے وہی نبوت ورسالت حضرت عیسیٰ کی مراد ہے۔ پس اس پیش گوئی کا مصداق بھی صاحب رسالت حقیقی حضرت محمدaہی ہیں نہ کہ مرزا قادیانی جو اصطلاح صف اولیٰ میں نہ نبی ہیں نہ رسول۔

جواب: اس سوال کا خلاصہ دو امر ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ کی زبان میں رسالت سے مراد ظلی رسالت ہو نہیں سکتی۔ دوم یہ کہ جب صحف اولیٰ میں نبوت ورسالت سے مراد ظلی نبوت ورسالت ہو ہی نہیںسکتی، بلکہ حقیقی ہے تو اس پیش گوئی کا مصداق بھی صاحب رسالت حقیقی یعنی آنحضرتa ہی ہوسکتے ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ آنحضرتa نے صحیح مسلم کی حدیث میں جو نواس بن سمعان سے مروی ہے کہ آنے والا مسیح نبی اللہ ہوگا اور ایک ہی حدیث میں اسے چار دفعہ نبی اللہ کے لقب سے یاد فرمایا اور یہ ثابت ہے کہ اس آنے والے مسیح موعود سے مراد مسیح اسرائیلی جو فوت شدہ ثابت ہیں وہ تو ہو نہیں سکتے تو اس صورت میں کیا مسیح موعود سے جو آیت استخلاف کے الفاظ ’’منکم‘‘ اور ’’کما‘‘ کی رو سے اور حدیث ’’امامکم منکم‘‘ کی رو سے مسیح محمدی اور امت محمدیہ کا ایک فرد ثابت ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ قرآن کی اصطلاح میں لفظ نبی اور رسول مستقل اور تشریعی نبیوں کے لئے آیا ہے۔ اسے مسیح موعود پرچسپاں ہونے نہیں دیں گے۔

اقول:

۱… قرآن مجید میں الفاظ عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم، ابن مریم، عیسیٰ اور مسیح اس نبی ورسول کے لئے آئے ہیں، جومریم صدیقہ کے بیٹے تھے اور جن پر انجیل شریف اتری تھی۔ قرآن مجید کی سورۃ بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، مریم، توبہ، الانبیاء، مؤمنون، احزاب،

180

زخرف، حدید، صف میں ان کا ذکر خیرآیا ہے۔ صحاح ستہ شریف، مسند احمد، مستدرک حاکم، کتاب الاسماء والصفات، کنزالعمال، مشکوٰۃ وغیرہ کتب حدیث میں جو حدیثیں مسیح موعود کے آنے کے بارے میں ہیں ان میں بھی الفاظ عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم، ابن مریم، عیسیٰ، مسیح، روح اللہ موجود ہیں۔ کسی صحیح حدیث مرفوع یا موقوف میں مثیل مسیح کے الفاظ نہیں آئے ہیں اور نہ کسی مثیل مسیح نبی کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔

۲… اس میں کوئی شک نہیں کہ (صحیح مسلم شریف ج ۲ ص ۴۰۰،۴۰۱) میں حضرت نواسq بن سمعان صحابی سے ایک مرفوع روایت حضرت مسیح ابن مریمn کے دمشق کے شرقی طرف سفید مینارہ کے نزدیک نازل ہونے اور باب لد پر دجال کے قتل ہوجانے کے بارے میں موجود ہے۔ مگر فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھاہے کہ:

الف… ’’یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے، جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۲۰، خزائن ج۳ ص۲۱۰،۲۰۹)

ب… ’’آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتا ہے کہ نواسq راوی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکہ کھایا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۳۷، خزائن ج۳ ص۲۲۰)

ج… ’’از آں جملہ ایک یہ ہے کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کا ملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کا ملہ پر مہر لگ چکی ہے، بلکہ وہ نبوت مراد ہے، جو محدیثت کے مفہوم تک محدود ہے، جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)

د… ’’اور مسلم میں اس بارہ میں حدیث بھی ہے کہ مسیح نبی اللہ ہونے کی حالت میں آئے گا۔ اب اگر مثالی طور پر مسیح یا ابن مریم کے لفظ سے کوئی امتی شخص مراد ہو، جو محدیثت کا مرتبہ رکھتا ہو تو کوئی بھی خرابی لازم نہیں آتی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۸۶،۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۶)

181

۳… مرزاقادیانی کی کتابوں میں اور مرزائی لٹریچر میں الفاظ تشریعی نبی، غیر تشریعی نبی، نبوت تامہ، نبوت کاملہ، نبوت جزوی، بروزی نبی، امتی نبی، ظلی نبی، مجازی نبی وغیرہ آئے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ یہ الفاظ قرآن کریم اور کسی صحیح حدیث میں نہیں آئے ہیں۔

مغالطہ نمبر۴: ’’پس یہ معنی کہ احمد رسول بعد والا رسول نہیں بلکہ بعد والے رسول محمد سے بشان احمدیت ظاہر ہونے والاہے تو یہ معنی درست ثابت ہوتے ہیں۔ ہاں! احمدکی احمدیت۔ چونکہ اس بات کی مقتضی ہے کہ اس کے لئے کوئی محمد ہو اور محمد کی محمدیت چاہتی ہے کہ اس کے لئے کوئی احمد ہو۔ پس اس لزوم کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ احمد رسول کی پیش گوئی بوجہ تعلق ولزوم کے محمدکی پیش گوئی پر بھی مشعر اور دال ہے۔ لیکن احمد رسول جو محمد رسول کا نائب ہے مسیح علیہ السلام نے اپنی مماثلت کے لحاظ سے اسے ظاہریت کے ساتھ ذکر کیا ہے اور محمد رسول کی جو مغیب ہے، اس کا ذکر اشارہ اور کنایہ کے طور پر، اور اس کا سبب یہ ہے کہ احمد رسول اسرائیلی اور محمد رسول اسماعیلی خاندان کا رسول ہے۔ پس مسیح اپنی قوم بنی اسرائیل کو مخاطب کرتا ہوا انہی معنوں میں اسرائیلوں کے لئے مبشر ہوسکتا تھا کہ جس احمد رسول کی وہ بشارت دیتا ہے وہ بنی اسرائیل کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہو۔ لیکن اگر احمد رسول سے محمد رسول مراد لیا جائے جو نہ نسلی لحاظ سے اسرائیلی ہیں، نہ ہی مذہبی اور ملی لحاظ سے، تو اس صورت میں مسیح کا اسرائیلوں کو مخاطب کرکے ایسے احمد رسول کی بشارت سنانا جس کے آنے پر اسرائیلوں کی شریعت کا خاتمہ ہوجانا تھا اور نسل کے لحاظ سے بھی وہ اسرائیلی نہ تھا۔ ان کے لئے خوش کن نہ ہوسکتی تھی۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ مسیح کی بشارت کا صحیح مصداق وہی شخص ہوسکتا ہے جو اگرچہ مذہبی اور ملی لحاظ سے اسرائیلی نہ ہو۔ لیکن کسی دوسری صورت کے لحاظ سے تو بنی اسرائیل کے لئے باعث بشارت ہوسکتا ہو۔ جیسے کہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) جو نسلاً بنیاسرائیل سے ہیں، ان کا احمد رسول ہونا اسرائیلوں کے لئے واقعی ایک خوش کن بشارت ہے اور العود احمد کا فقرہ بھی آپ ہی کو بشارت احمد رسول کا مصداق ٹھہراتا ہے۔ اس طرح پر کہ مسیح اسرائیلی قوم کے رسول ہیں اور مسیح اسرائیلی کی آمد ثانی کے مسلمان اور عیسائی سب منتظر ہیں۔ جس سے ظاہر ہے کہ آمد ثانی والا رسول ہی اپنے موعود کی وجہ سے احمد رسول کے معنوں کا مصداق ہوسکتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ مسیح کی آمد ثانی کا مصداق کسی نے بھی آنحضرتa کو نہیں ٹھہرایا، بلکہ اس رسول کو ٹھہرایا ہے۔ جس نے آنحضرتa کے بعد آنا ہے اور پھراسے مسیح کے نام سے یاد کیا جاتا

182

ہے۔ اب اگر یہ امر واقع ہے کہ مسیح اسرائیلی فوت ہوچکے ہیں اور انہوں نے بعینہٖ نہیں آنا بلکہ ایلیا کی دوبارہ آمد کی طرح ان کا آنا مثیل کی صورت میں ہونا ہے تو اس صورت میں مسیح کا دوبارہ آنا العوداحمد کا مصداق اس شخص کو ٹھہرائے گا، جو مسیح کی دوبارہ آمد کا مظہر ہوگااور اس کا خاندانی اور نسلی لحاظ سے اسرائیلی سلسلہ سے تعلق رکھنا اور پہلے مسیح کی طرح اسرائیلی قوم سے ہی ظاہر ہونا۔ یہ امر بھی اس کو العود احمد کا مصداق ٹھہراتا ہے، جو خونی اور نسلی رشتہ کے لحاظ سے پہلے مسیح کی طرح اسرائیلی ہو نہ کہ اسماعیلی۔‘‘

(اخبار الفضل ص۶، مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۳ء)

اقول:

۱… ’’تحقیق اللہ دوست رکھتا ہے۔ ان لوگوں کو کہ جو خدا کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں۔ گویا کہ وہ عمارت ہیں سیسہ پلائی ہوئی اور جس وقت حضرت موسیٰm نے فرمایااپنی قوم کو اے میری قوم! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو اور حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف۔ پس جب ٹیڑھے ہوگئے خدا نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا اور اللہ فاسقوں کی قوم کو ہدایت نہیں کرتا اور جس وقت حضرت عیسیٰ ابن مریمm نے فرمایا اے بنی اسرائیل تحقیق میں خدا کا رسول ہوں تمہاری طرف۔ ماننے والا اس چیز کو کہ میرے آگے توریت سے ہے اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی کہ میرے بعد آئے گا۔ اس کا (صفاتی) نام ہوگا احمد۔ پس جب وہ احمد رسول ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آیا تو مخالفوں نے کہا کہ یہ جادو ہے ظاہر۔‘‘

(پارہ ۲۸ سورۃ صف رکوع اوّل)

نوٹ: پہلے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والے لوگوں کی تعریف کی ہے۔ اس کے بعدحضرت موسیٰ کلیم اللہ m کا ذکر خیر کیا ہے جنہوں نے جہاد کیا، تلوار اٹھائی، کافروں کامقابلہ کیا، حکومت کی یعنی آپ جلالی نبی تھے۔ پھر اللہ نے حضرت عیسیٰ ابن مریمm کا ذکر خیر کیا جو جمالی نبی تھے۔ انہوں نے تلوار نہ اٹھائی، جہاد نہ کیا، حکومت نہ کی، پھر حضرات حواریین کی تعریف کی۔ یہ سیاق وسباق چاہتا ہے کہ احمد رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والا ایسا نبی ہو جس میں جلال اور جمال دونوں صفتیں ہوں۔

۲… حضرت امام زرقانی نے شرح مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ m جلالی نبی تھے اور حضرت عیسیٰ ابن مریمm جمالی نبی تھے۔ میں کہتا ہوںکہ ان دونوں میں سے ہر ایک نبی نے اپنی اپنی صفت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپa کے لئے خبردی

183

تھی۔ حضرت موسیٰm نے حضور پرنور کے جلالی نام محمد کے ساتھ خبر دی اور حضرت مسیح ناصریm نے حضور پرنور کے جمالی اسم احمد کے ساتھ خبردی۔ واضح ہو کہ آنحضرتa کی مقدس زندگی کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی۔ مکہ شریف میں صبر کیا گیا۔ مخالفوں کا مقابلہ تلوار سے نہ کیا گیا نرمی اختیار کی گئی۔ ہجرت فرمانے کے بعد مدینہ طیبہ میں جہاد کا حکم آیا۔ حضورa نے اسلام کو بچانے کے لئے مشرکوں کا مقابلہ کیا۔ تلوار اٹھائی۔ حکومت وسلطنت کی۔ سارے عرب میں اسلام پھیل گیا۔ آپ کی مکی زندگی جمالی تھی اور جمالی اسم احمد کو ظاہر کرتی تھی۔ حضورa کی مدنی زندگی جلالی رنگ کی تھی اور اسم محمد کا ظہور تھا۔ غرض یہ کہ حضرت خاتم النّبیین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین، سید المرسلین، حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰa جلالی اور جمالی دونوں صفات اپنے اندر رکھتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی تلوار نہ اٹھائی۔ نہ کبھی حکومت وسلطنت کی بلکہ ساری عمر غیر مسلم (یعنی مسیحی) حکومت کے تابع رہے۔ پس بشارت اسمہ احمد کے حقیقی اور اصل مصداق آنحضرتa ہی ہیں۔

۳…’’فلما جاء ھم بالبینٰت قالوا ھذا سحرمبین (سورۂ صف)‘‘اس بات پر نص قطعی ہے کہ وہ احمد رسول صرف حضرت محمدa ہی ہیں جو اس کے خلاف کہے وہ حق سے دور ہے۔

۴… مرزائی مولوی نے (الفضل کالم۲ ص۶، مورخہ ۲۸؍فروری۱۹۳۳ء) میں الفاظ ’’العوداحمد‘‘ تین دفعہ لکھے ہیں سو واضح ہوکہ یہ تو نہ قرآن شریف میں کسی آیت کے الفاظ ہیں اور نہ کسی صحیح حدیث میں ہیں۔

۵… مرزائی مولوی کے الفاظ احمد رسول جو محمدaکا نائب ہے۔ قابل غور ہیں سورۂصف میں یہ کہیں نہیں نہ لفظاً نہ اشارۃً کہ احمد رسول محمد رسول کا نائب ہے۔

۶… مرزائی مولوی کے الفاظ احمد رسول اسرائیلی ہے۔ بے دلیل ہیں قرآن مجید کی سورۂ صف میں یہ قید اور شرط نہیں ہے کہ احمد رسول اسرائیلی ہوگا۔

۷… مرزائی مولوی کے الفاظ مسیح موعود جو نسلاً بنی اسرائیل سے ہے بھی سراسر غلط ہے۔ قرآن مجید میں (لفظاًیا اشارتاً) اورکسی صحیح حدیث میں یہ نہیں آیا کہ مسیح کا ایک مثیل اس امت میں سے ہوگااور وہ مثیل مسیح بنی اسرائیل میں سے ہوگا۔

۸… مرزائی مولوی مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود اور مثیل مسیح یقین کرتا ہے اور بنی

184

اسرائیل میں سے لکھتا ہے۔ حالانکہ (کتاب تریاق القلوب ص۱۵۸، خزائن ج۱۵ ص۴۸۲) میں مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو قوم مغل میں سے مانا ہے۔ درحقیقت مرزاقادیانی مغل تھے نہ کہ فارسی النسل اس پر کافی بحث ہوچکی ہے۔

۹… قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ میں حضرت ایلیا (یعنی الیاس) نبیm کے رفع اور نزول روحانی کا کوئی ذکر نہیں ہے اور یہ بھی ذکر نہیں کہ حضرت یحییٰ نبی مثیل ایلیا نبی تھے۔ پہلے اس بات کو قرآن اور حدیث نبوی سے ثابت کرو پھر بطور نظیر کے اہل اسلام کے سامنے پیش کرو۔

شیخ مبارک احمد مرزائی کانامبارک عقیدہ اور اس کی تردید

عرض یہ ہے کہ ۳۱؍مئی ۱۹۳۳ء بدھ کے دن مجھے دفتر اخبار اہل حدیث امرتسرمیں جانے کا اتفاق ہوا۔ جب میں نے اخبار فاروق قادیان کا فائل دیکھنا شروع کیا تو ۲۱؍مارچ۱۹۳۳ء کے پرچے کے ص۴ پر نظر پڑی۔ ایک مرزائی شیخ مبارک احمد مولوی فاضل جامعہ کا ایک مضمون بہ عنوان ’’بشارت احمد کا مصداق‘‘ ص۴ پر شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون ظاہری طور پرلاہوری مرزائیوں کے مقابل پر لکھا گیا ہے۔ مگر درحقیقت قرآن مجید کی آیت قطعیۃ الدلالت نص صریح اور احادیث صحیحہ نبویہ اور اجماع امت کے خلاف ایک گمراہ کن کفریہ عقیدہ کی اشاعت کی گئی ہے۔ ذیل میں اس کی تردید کی جاتی ہے:’’وما توفیقی الاب اللہ علیہ وتوکلت الیہ انیب‘‘

قادیانی: ’’مبایعین اور غیر مبایعین میں منجملہ اور اختلافات کے ایک اختلاف:’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘میں جس رسول کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے مصداق کے متعین کرنے میںبھی ہے۔

غیر مبایعین کے نزدیک جس احمد رسول کی بشارت اس آیت میں دی گئی ہے۔ اس کے مصداق حضرت رسول کریمa ہیں۔ لیکن مبایعین کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) اس بشارت کے مصداق ہیں۔‘‘

(اخبار فاروق قادیان، مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)

مسلمان: ہم مسلمانوں اور مرزائیوں میں منجملہ اور اختلافات کے ایک اختلاف:’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ میں جس احمد رسول کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے مصداق کے متعین کرنے میں بھی ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک جس احمد

185

رسول کی بشارت اس آیت میں دی گئی ہے۔ اس کے اصل مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہیں۔ لیکن ہم مسلمانوں کے نزدیک اس بشارت کے اصل وحقیقی مصداق حضرت احمد مجتبیٰa ہی ہیں نہ اورکوئی۔

قادیانی: ’’پیشتر اس کے کہ اصل مدعاکو ثابت کیا جائے۔ اس بحث کو صحیح طور پر چلانے کے لئے ضروری ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس پیش گوئی میں اسمہ احمد میں لفظ اسم سے کیامراد ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں اسم بمعنی نام اور اسم بمعنی وصف دونوں طریق پر استعمال ہوا ہے۔‘‘

(ایضاً)

مسلمان: پارہ۲۸ (سورۂ صف رکوع اوّل) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘احادیث صحیحہ نبویہ (جو صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، مسند احمد، مؤطا امام مالک، مشکوٰۃ میں آئی ہیں) سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد، حاشر، ماحی اور عاقب آنحضرتa کے صفاتی نام ہیں۔ پس اس پیش گوئی میں اسمہ احمد میں لفظ اسم سے مراد وصفی نام ہے اور عربی زبان اور قرآن مجید میں اسم بمعنی نام اور اسم بمعنی وصف دونوں طریق پر استعمال ہوا ہے۔

قادیانی: ’’ہمارے نزدیک ایک اسمہ احمدکی بشارت میں اسم سے مراد وصف نہیں بلکہ نام ہے کیونکہ یہ پیش گوئی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے صرف عیسائیکے لئے قرآن مجید نے بیان کی ہے۔‘‘

(ایضاً)

مسلمان:

۱… ہمارے نزدیک اسمہ احمد کی بشارت میں اسم سے مراد صفاتی نام ہے کیونکہ حدیث صحیح نبوی میں آچکا ہے کہ میرا نام احمد ہے۔

۲… ’’واذ قال عیسٰی ابن مریم یبٰنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف:۶)‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے تین باتیں بیان کیں: (۱)میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ (۲)میںتوریت کو خدا کی کتاب مانتا ہوں۔ (۳)میں بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا، جس کا صفاتی نام احمد ہے۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے خبردی تھی نہ کہ صرف عیسائیوں کے لئے۔

186

۳… مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’آنحضرتa وہی نبی ہے، جس کا انجیل متی میں فارقلیط کے لفظ سے وعدہ دیا گیا ہے اور جس کا صاف اور صریح نام محمد رسول اللہ انجیل برنباس میں موجود ہے۔‘‘

(سرمۂ چشم آریہ ص۲۴۳حاشیہ، خزائن ج۲ ص۲۹۳)

واضح ہو کہ فارقلیط کے آنے کی خبر انجیل متی میں نہیں ہے، بلکہ انجیل یوحنا باب:۱۴،۱۵،۱۶ میں ہے اور فارقلیط آنحضرتa کا صفاتی نام ہے۔ آنحضرتa کا اسم ذاتی یاعلم، محمدa ہے۔

قادیانی: ’’جاننا چاہئے کہ اسم اور نام سے مراد وہ لفظ ہے جو کسی پر بولا جائے اور وہاں پر اس لفظ کے معنی مدنظر نہ ہوں اور اس کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مبشرا بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسی ابن مریم‘‘اس آیت میں لفظ اسم علم یعنی عیسیٰ لقب یعنی مسیح اور کنیت یعنی ابن مریم پر بولا گیا ہے۔ اس طرح اسم کا لفظ تخلص اور ان تمام الفاظ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی مسمی معانی سے قطع نظر کرتے ہوئے مراد لیا جائے۔ اسم اور نام کی اس تعریف کے بعد ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا حضرت رسول کریمa کا نام دعویٰ سے قبل احمد تھا یا نہیں۔ کیونکہ دعویٰ کے بعد کا نام عیسائیوں پر حجت نہیں ہوسکتا۔ لیکن باوجودپوری تحقیق وتفتیش کے آنحضرتa کا نام، کنیت، علم، لقب کسی طرح بھی احمد ثابت نہیں ہوتا۔ پس جب لفظ احمد نہ آپ کا علم ہے اور نہ ہی کنیت اور لقب تو کس طرح اسمہ احمد کی بشارت کا مصداق آنحضرتa کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں آپ کے احمد ہونے سے انکار ہے بلکہ انکار اس امر کا ہے کہ ایسے طریق پر آپ کا نام احمد نہیں جس سے عیسائیوں پر حجت پوری ہوسکے۔ پس جب آنحضرتa کا نام احمد ثابت نہیں ہے تو لازماً اس پیش گوئی کو آپ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

(فاروق قادیان، مورخہ ۲۱؍مئی ۱۹۳۳ء)

مسلمان:’’اذ قالت الملائکۃ یٰمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسی ابن مریم (آل عمران:۴۵)‘‘ {جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریمp تحقیق اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی کہ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔}

اس آیت میں لفظ اسم آیا ہے۔ حالانکہ حضرت روح اللہ کا اسم علم عیسیٰ ہے۔ اسم صفاتی مسیح ہے اور کنیت ابن مریم۔

187

اسم اور نام کی اس تعریف اور قادیانی تحریف کے بعد ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کا نام براہین احمدیہ نامی کتاب لکھنے سے قبل احمد تھا یا نہیں۔ کیونکہ دعویٰ کے بعد کا قول ان کے مخالفوں پر حجت نہیں ہوسکتا۔ لیکن باوجود پوری تحقیق وتفتیش کے مرزاقادیانی کا نام، کنیت، علم، لقب کسی طرح بھی احمد ثابت نہیں ہوتا۔ پس جب لفظ احمد نہ مرزا غلام احمد کا علم ہے اور نہ ہی کنیت اور لقب تو کس طرح اسمہ احمد کی بشارت کا مصداق مرزا کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ پس جب مرزاقادیانی کا نام احمد ثابت نہیں ہے تو لازماً اس پیش گوئی کو مرزاقادیانی کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔

قادیانی: ’’اب ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا لفظ احمد حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا نام ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کا علم غلام احمد اور آپ کے والد کا نام غلام مرتضیٰ، بھائی کا نام غلام قادر اور چچائوں یا چچازاد بھائیوں کے نام غلام محی الدین اور غلام جیلانی وغیرہ ہیں۔ ان تمام افراد کے ناموں میں مشترک لفظ غلام ہے۔ پس ہم احمد کو آپ کا علم نہیں قرار دیتے بلکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ احمد حضرت مسیح موعود کا اسم ہے۔‘‘

(ایضاً)

مسلمان: اب ہمیں یہ معلوم کرنا چاہئے کہ آیا لفظ احمد آنحضرتa کا نام ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کا نام جو پیدائش کے وقت رکھا گیا تھا وہ محمد ہے۔ پس ہم احمدکوآپa کا علم نہیں قرار دیتے بلکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ احمد آنحضرتa کا صفاتی اسم ہے۔

قادیانی: ’’مزید برآں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے احمد ہونے کا واضح اور روشن ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ کے والد ماجد نے دو نئے گائوں بسائے اور دونوں کا نام اپنے بیٹوں کے نام پر رکھا، جن میں سے ایک کا نام احمد آباد اور دوسرے کا نام قادر آباد رکھا جانا، اس بات کا بین ثبوت ہے کہ لفظ احمد سے مرزاقادیانی ہی مراد ہیں۔‘‘

(ایضاً)

مسلمان: گائوں کا نام رکھنے میں اختصار منظور ہوتا ہے۔ دیکھ لیجئے دوسرے گائوں کا نام قادر آباد رکھا گیا توکیا اس سے یہ لازم آسکتا ہے کہ مرزاقادیانی کے بھائی کا اصل نام قادر تھا؟ مرزاقادیانی کے بھائی کا نام غلام قادر تھا۔

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۷۶،۷۷حاشیہ ، خزائن ج۳ ص۱۴۰)

188

قادیانی: اس کے بعد ایک اور مثال بھی قابل غور ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنے صاحبزادوں کے نام سلطان احمد، محمود احمد، بشیر احمد اور شریف احمد رکھے۔ اب ان تمام ناموں میں جولفظ مشترک ہے وہ احمد ہے۔ ان تمام ناموں میں لفظ احمد کا مشترک ہونا بھی حضرت موعود (مرزاقادیانی) کے احمد ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ اگر نام احمد نہ ہوتا تو آپ کے صاحبزادوں کے ناموں میں لفظ مشترک احمد نہ بنایا جاتا۔‘‘

(ایضاً)

مسلمان: شہر امرتسر میں اخبار اہل حدیث کے ایڈیٹر جناب مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب ہیں۔ ان کے صاحبزادے کا نام عطاء اللہ ہے۔ عطاء اللہ صاحب کے بیٹوں کے نام ہیں: رضاء اللہ ، ذکاء اللہ ، بہاء اللہ ، ضیاء اللہ ، میرا نام ہے: حبیب اللہ اورمیرے خسر کا نام تھا: عبد اللہ ۔ ان کے بیٹوں کے نام عبید اللہ اور عنایت اللہ (عنایت اللہ فوت ہوچکا ہے) اب ان تمام ناموں میں جو لفظ مشترک ہے وہ اللہ ہے۔

قادیانی: ’’اس کے علاوہ قرآن میں جہاں اس بشارت اور پیش گوئی کو اللہ تعالیٰنے بیان فرمایا ہے وہاں کا سیاق اور سباق خود حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے احمد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔‘‘

(ایضاً)

مسلمان: قرآن مجید میں جہاں اس بشارت اور پیش گوئی کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، وہاں کا سیاق اور سباق خود حضرت محمد مصطفیa کے احمد ہونے پر دلالت کرتا ہے اور حق بات یہ ہے کہ اس بشارت کے اصل اور حقیقی مصداق آنحضرتa ہی ہیں۔ حضورپرنورa نے خود فرمایا: ’’وانا بشارۃ عیسٰی‘‘

(مسند احمدج۵ ص۲۶۲، مشکوٰۃ شریف ص۵۱۳)

چنانچہ (اخبار فاروق قادیان ص۵، مورخہ۷؍دسمبر۱۹۱۵ء) پر ہے: ’’مسیح کی بشارت میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسراتسلی دینے والا بخشے گا کہ اب تک تمہارا ساتھ رہے یعنی (روح حق، یوحنا باب:۱۴ آیت:۱۵،۱۷) قرآن مجید اس کی تصدیق فرماتا ہے:’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کی خبردی تھی؟

آج مورخہ ۳؍جون ہفتہ کے روز دفتر نہر امرتسر میں تعطیل تھی۔ بادشاہ جارج پنجم

189

حکمران دولت برطانیہ کی پیدائش کے دن کے سبب دفتر بند تھا اور میں گھر پر ایک مضمون لکھ رہا تھا۔ (قادیانی اخبار الفضل ص۶، مورخہ ۱۶؍ستمبر۱۹۳۰ء) پر ایک عنوان ’’احمد کی بعثت‘‘ میری نظر سے گزرا۔ اس کو درج کرکے ساتھ ہی جواب بھی لکھا جاتا ہے۔ مرزائی مولوی نے لکھا ہے: ’’قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے اور بائبل کے دیکھنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰm نے لوگوں کو اپنے مثیل کی خبر دی۔ آپ نے فرمایا میرے بعد وہ نبی مبعوث ہوگا۔ لوگوں کو سخت انتظار رہا حتیٰ کہ یہود نے مسیح ناصری سے یہ بھی سوال کیا تھا کہ کیا تو وہ نبی ہے، مگر آپ نے اس کا انکار کیا۔ پس حضرت موسیٰm نے رسول کریمa کے ظہور کی خبر لوگوں کو مدت سے سنادی تھی۔ آپ کے تیرہ سو برس بعدحضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے آپ نے فرمایا:’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘اے لوگو! میں تمہیں احمد رسول کی خوشخبری سناتا ہوں۔ نہ قرآن میں، نہ حدیث میں، نہ تاریخ میں۔ غرض کسی جگہ بھی رسول کریمa کا ذاتی نام احمد نہیں آتا۔ البتہ صفاتی نام احمد ضرور تھا۔ مگر وہ ایسا ہی تھا، جیسےعاقب وغیرہ صفاتی نام آپ کو عطا کئے گئے تھے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے احمد رسولوں کی خوشخبری دی۔ اگر احمد سے مراد رسول کریمa ہوتے تو کس طرح ہوسکتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس خبرکو خوشخبری کے طور پر سناتے۔ کیا کہنے والے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کون سی خوشخبری ہے یہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم ہے۔ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ ہمارے پاس ایک شخص آئے اور وہ ہمیں کوئی خوشخبری سنائے۔ لیکن اس کے بعد دوسرا آئے اور کہے تویہ کہ میں تمہیں ایک عظیم الشان خوشخبری سناتا ہوں، مگر سنائے وہی بات جو پہلا سنا چکا ہے۔ پس اگر احمد رسول سے مراد صرف رسول کریمa ہیں تو یہ خبر بہت پہلے حضرت موسیٰm دے چکے تھے۔ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کونسی بشارت دی۔ حق یہی ہے کہ حضرت موسیٰm نے اپنے مثیل کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کی بشارت دی۔ پس اس لئے سنت اللہ کے مطابق بشارت الٰہیہ کے عین موافق مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ہوئے آپ کا اسم مبارک بھی احمد تھا۔‘‘

(الفضل قادیان ص۶، مورخہ۱۶؍ستمبر۱۹۳۰ء)

جواب:

۱… تورات کے پانچویں حصے میں صاف اور صریح الفاظ میں آیا ہے کہ: ’’اور خدا وند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں

190

میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گااور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔‘‘

(کتاب استثنا باب:۱۸ آیت:۱۷، ۱۸)

(آیت:۱۵) میں الفاظ ہیں: ’’میری مانند ایک نبی۔‘‘

اور (آیت:۱۸) میں الفاظ ہیں: ’’تجھ سا ایک نبی۔‘‘ پارہ:۲۹ سورۂ مزمل کی آیت:’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا‘‘میں بھی لفظ ’’کما‘‘ آیا ہے۔ توریت کے اس مقام میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ موسیٰm ابن عمران دوبارہ آئے گا۔ قرآن مجید میں بھی کسی آیت میںحضور پرنور کو موسیٰm ابن عمران نہیں کہا بلکہ لفظ ’’کما‘‘ فرماکر آپ کو موسیٰm کی مانند ایک نبی قرار دیا گیا ہے۔

۲… ’’اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے؟ تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرارکیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے کیا تو ایلیا ہے؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کہا تو وہ نبی ہے اس نے جواب دیا کہ نہیں۔‘‘

(انجیل یوحنا باب:اوّل آیت:۱۹ تا ۲۱)

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یحییٰm نبی اللہ سے یہود نے سوال کیا تھا کہ کیا تو وہ نبی ہے۔ حضرت مسیح ناصری سے یہود نے یہ سوال نہیں کیا تھا جس طرح کہ مرزائی مولوی نے لکھا ہے۔

۳… ’’اور پھر وہ کتاب کسی ناخواندہ کو دیں اور کہیں اس کو پڑھ اوروہ کہے میں تو پڑھنا نہیں جانتا ۔‘‘

(صحیفۂ یسعیاہ نبی باب:۲۹ آیت:۱۲)

قرآن مجید کی سورۃ الاعراف پارہ:۹ میں آنحضرتa کو رسول نبی امیّ (یعنی ان پڑھ) کہا گیا ہے۔ سورۃ بقرہ کے رکوع اوّل میں قرآن مجید کو کتاب کہا گیا ہے۔ تیسویں پارہ میں ہے:’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘(مشکوٰۃ شریف باب المبعث وبدء الوحی فصل اوّل ص۵۲۱) میں ہے کہ غار حرا میں حضرتm کے پاس فرشتہ آیا: ’’فقال اقرا فقال ماانا بقاری‘‘پس کہا پڑھ آپa نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا۔‘‘

ان دلائل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ (صحیفہ یسعیاہ نبی باب:۲۹ آیت:۱۲) میں جس ایک ان پڑھ کی خبر دی گئی ہے، وہ حضرت احمد مجتبیٰa ہی ہیں۔

191

۴… (انجیل یوحنا باب:۱۴،۱۵،۱۶) میں تسلی دینے والے اور روح اللہ (یعنی فارقلیط) کے آنے کی بشارت حضرت مسیح ناصریm نے دی ہے اور مرزا غلام احمد نے تسلیم کیا ہے کہ فارقلیط کے آنے کی پیش گوئی آنحضرتa کے حق میں ہے۔

(سرمہ چشم آریہ ص۱۸۶، خزائن ج۲ ص۲۹۳)

۵… حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا: ’’اور یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی۔ جب کہ محمد رسول اللہ a آئے گا جوکہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوںپر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔‘‘(انجیل برنباس (جس کا ذکر خیر مرزاقادیانی نے سرمہ چشم آریہ، تریاق القلوب، کشف الغطا، مسیح ہندوستان میں اور چشمہ مسیحی میں کیا ہے) کی فصل۲۲۰ ص۳۶۷،مطبوعہ ۱۹۱۶ء)

’’ حضرت مسیح نے فرمایا رسول اللہ کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے۔ مگر جھوٹے نبیوں کی ایک بڑی بھاری تعداد آئے گی۔‘‘

(انجیل برنباس ص۱۴۵، سٹیم پریس لاہور طباعت ۱۹۱۶ء)

۶… ’’واذ قال عیسٰی ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقالما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد فلما جاءھم بالبینت قالوا ھذا سحرمبین (صف:۶)‘‘

ان آیات سے کسی طور پر (نہ لفظاً نہ اشارتاً) یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ حضرت عیسیٰ نے اپنے مثیل ہونے کی بشارت دی تھی۔ کسی صحیح حدیث نبوی میں یا قول صحابی میں بھی کسی مثیل عیسیٰ کے آنے کی خبر نہیں دی گئی۔ مرزاقادیانی مثیل مسیح بھی نہ تھے اور مرزاقادیانی کو مسیح سے مشابہت تامہ نہیں ہے۔

۷… حضرت کلیم اللہ نے میری مانند ایک نبی کہا تھا۔ حضرت یسعیاہ نبیm نے ایک ان پڑھ کے آنے کی خبر دی۔ حضرت روح اللہ نے فارقلیط، محمد رسول اللہ اور احمد رسول کے الفاظ فرماکر آپa کے آنے کی بشارت دی تھی۔

مرزاقادیانی نہ نبی تھا نہ رسول

نقلی دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’وماکان لنبی ان یغل(آل عمران:۱۶۱)‘‘{اور نہیں لائق کسی نبی کو یہ کہ خیانت کرے۔}

192

دعویٰ مرزاقادیانی

۱… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘

(اخبار بدر قادیان، مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، مرزا محمود احمد کی کتاب حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص۲۱۳)

۲… ’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

۳… ’’میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سردار انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۴۸، خزائن ج۱۸ ص۴۲۷)

۴… ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۵… ’’ایسا ہی خداتعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۴۸، خزائن ج۱۸ ص۴۲۶)

۶… ’’پس میرا نام مریم اور عیسیٰ رکھنے سے یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۹، خزائن ج۲۱ ص۳۶۱)

۷… ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘‘

(بحوالہ آخری خط مرزاقادیانی مندرجہ اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء، کتاب حقیقت النبوۃ ص ۲۱۲)

نوٹ: مرزاقادیانی مدعی نبوت ورسالت تھے۔ قرآن مجید میں ہے کہ خدا کا نبی امانت دار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص نبوت ورسالت کا مدعی ہو اور پھر امانت سے کام نہ لے تو وہ اپنے دعاوی میں سچا نہیں ہے۔

حدیث رسول ربانی

’’وفی حدیث ابن عباسq ذکرہ صاحب کنزالعمال بلفظ سمعت رسول اللہ یقول ینزل اخی عیسٰی ابن مریم من السماء علی جبل افیق اماما ھادیا وحکما وعادلا علیہ برنس لہ مربوع الخلق أصلت سبط الشعربیدہ حربۃ یقتل الدجال تضع الحرب اوزارھا‘‘

(کتاب حجج الکرامہ ص۴۲۳، مطبوعہ ۱۲۹۰ھ مطبع شاہجہانی بھوپال)

193

نوٹ: یہ حدیث (بحوالہ ابن عساکر واسحق بن بشیر کتاب کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹ حدیث:۳۹۷۲۶اور کتاب منتخب کنزالعمال برحاشیہ مسند احمد ج۶ ص۵۶) پربھی ہے:

اقوال مرزا قادیانی

’’وکذلک اختلف فی موضع نزولہ وفی حدیث ابن عباس قالسمعت رسول اللہ a یقول ینزل اخی عیسٰی ابن مریم علی جبل افیق اماما ھادیا حکما عادلا بیدہ حربۃ لقتل الدجال وتضع للحرب اوزارھا‘‘

(کتاب حمامۃ البشریٰ ص۸۸، خزائن ج۷ ص۳۱۲، مطبوعہ ۱۳۱۱ھ مطبع منشی غلام قادر سیالکوٹی)

’’فلا شک ان حربۃ قتل الدجال حربۃ روحانیۃ منزلۃ من السماء کمایدل علیہ حدیث روی عن ابن عباسq قال قال رسول اللہ a ینزل اخی عیسٰی بن مریم علی جبل افیق اماماحادیا حکما عادلا بیدہ حربۃ یقتل بہ الدجال‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۸۹، خزائن ج۷ ص۳۱۴)

نوٹ: مرزاقادیانی نے اس جگہ امانت سے کام نہیں لیا ہے۔ حدیث نبوی کو نقل کرتے ہوئے ’’من السماء‘‘ اور الفاظ ’’ علیہ برنس لہ مربوع الخلق اصلت سبط الشعر‘‘نہیں لکھے ہیں۔ پس امانت سے کام نہ لینے والا شخص نبی اور رسول نہیں ہوسکتا ہے۔

مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی

مکتوبات امام ربانی حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیv (دفتر دوم مطبع ایجوکیشنل سعید ایچ ایم کمپنی کراچی، مکتوب:۵۱ ص۱۴۲) پر ہے:’’الحمد ﷲ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اعلم ایھا الاخ الصدیق ان کلامہ سبحانہ مع البشرقد یکون شفاھا وذلک لافراد من الانبیاء علیھم الصلواۃ والتسلیمات وقد یکون ذلک لبعض الکمل من متابعیھم بالتبعیۃ والوراثۃ ایضاً واذا کثرھذا القسم من الکلام مع واحد منھم سمی محدثاکما کان امیرالمومنین عمرq‘‘ بداں اے برادرمحب کہ بہ تحقیق کلام حق سبحانہ وتعالیٰ بابشرگاہے روبارو بود وایںنوع از کلام مرآجا انبیاء راست علیہم الصلواۃ والتسلیمات وگاہے ایں نعمت عظمی بعضے را ازکمل متابعان ایشاں نیز بہ تبعیت ووراثت میسرے گرد دوایں قسم از کلام

194

بایکے ازیشاں ہرگاہ بکثرت واقع گرد دآنکس محدث (بفتح دال وتشدیدان) نامیدہ مے شود چنانچہ امیرالمومنین عمرq محدث این امۃ بودہ۔

الفاظ مرزاقادیانی

’’اصل میں ان کی اور ہماری تونزاع لفظی ہے۔ مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھیاقرار کرتے ہیں۔ مجدد صاحب بھی اس کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیاء اللہ کو کثرت سے خدا کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا ہے وہ محدث اور نبی کہلاتے ہیں۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان ج ۱۲ نمبر۴۱ ص۱۲، مورخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۴۲۱)

نوٹ: مکتوبات شریف میں الفاظ ’’وہ محدث اور نبی کہلاتے ہیں‘‘ نہیں ہیں۔ صرف یہ الفاظ ہیں: ’’واذاکثرھذا القسم من الکلام مع واحد منھم سمی محدثا‘‘مرزاقادیانی نے الفاظ ’’اور نبی‘‘ اپنے پاس سے زیادہ کئے ہیں۔

عقلی دلیل

خدا کے نبی اور رسول کا دماغ اعلیٰ ہوتا ہے۔ ان کا حافظہ صحیح ہوتا ہے۔ خدا کے نبی اور رسول دماغی امراض مثلاً جنون، مالیخولیا، مرگی، سوداء، مراق اور ہسٹریا (یعنی بائوگولہ) سے پاک ہوتے ہیں۔ کسی نبی ورسول نے خود کبھی یہ اقرار نہیں کیا کہ مجھے مراق ہے۔ قرآن مجید میں یہ لکھا ہے کہ دشمنوں نے نبی ورسول کو مجنون وساحر وغیرہ کہا لیکن قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ کسی نبی یا رسول نے خود اقرار کیا ہو کہ مجھے جنون ہے یا مراق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مرزائی لٹریچر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی نے خود اقرار کیا کہ مجھے مراق ہے۔ دشمنوں کا طعن کرنا اور چیز ہے اور ایک مدعی نبوت ورسالت کا خود اقرار کرنا اور چیز ہے۔

مراق اور مرزاقادیانی

۱… ’’فرمایا کہ دیکھو میری بیماری کی نسبت آنحضرتa نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘رسالہ تشحیذالاذہان ص۵، بابت ماہ جون۱۹۰۶ء،

195

اخبار بدر قادیان ج۲ نمبر۲۳ ص۵، مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۵ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵

۲… ’’میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کرکے بڑی بڑی رات تک بیٹھا۔ اس کام کوکرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔‘‘ (کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸، (جس میں منظور الٰہی نے مرزا قادیانی کے اقوال اکٹھے کئے ہیں)مطبوعہ ۱۳۴۲ھ مفید عام پریس لاہور)

۳… ’’حضرت صاحب (مرزاقادیانی) نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ مجھ کو مراق ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۶، بابت اگست ۱۹۲۶ء)

۴… ’’واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، دردسر، کمی خواب، تشنج، دل اور بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۲۶، بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء)

نوٹ: واضح ہو کہ رسالہ تشحیذ الاذہان کے ایڈیٹر میاں محمو د احمد (مرزاقادیانی کے بیٹے) تھے اور اخبار بدر قادیان کے مدیر مفتی محمد صادق مرزائی تھے۔ کتاب منظور الٰہی کے مرتب کرنے والے محمد منظور الٰہی لاہوری مرزائی ہیں۔ (رسالہ ریویو ج ۲۵ نمبر۸ اور ج۲۶ نمبر۵ میں) مضامین لکھنے والے ڈاکٹر محمد شاہ نواز خان قادیانی مرزائی ہیں۔ اگر کوئی مرزائی کہے کہ مغرب کے پادریوں نے آنحضرتaکومجنون کہا ہے۔ (ریویو ج۲۶ نمبر۵ ص۳۲) تو جواب یہ ہے کہ آنحضرتa نے خود ایسا ہونے کا اقرار نہیں کیا ہے۔ مغرب کے پادری یا دوسرے مسیحی لوگ تو آنحضرتa کے دشمن اور سخت مخالف ہیں۔ مگر جن لوگوں کے نام میں نے لکھے ہیں یہ سب مرزاقادیانی کے مرید ہیں اور مرزاقادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ مجھے مراق ہے۔

نبی اور مراقی میں فرق

۱… ’’اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۶، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

196

۲… ’’نبی میں اجتماع توجہ بالا رادہ ہوتا ہے جذبات پر قابو ہوتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۳۰، بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء)

مرزا کی بیوی کو مراق

’’میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے (مرزا کے) ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۲۹ ص۱۴، مورخہ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء)

مرزا کے بیٹے کو مراق

’’حضرت (مرزا محمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۱۹، بابت ماہ اگست۱۹۲۶ء)

مرض ہسٹیریا اور مرزا

مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے قادیانی مرزائی نے لکھا ہے کہ: ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیراوّل (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہوگیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی مگر یہ دورۂ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اورجاتے ہوئے فرماگئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہوگئی ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوری دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا پرانا مخلص خادم تھا۔ اب مرگیا ہے) نے دروزہ کھٹکھٹایاکہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کردو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہوگئی ہے۔ میں پردہ کراکے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے ۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھا رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر

197

زمین پر گرگیا اور غشی کی حالت ہوگئی۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۵)

اس کے ساتھ ہی یہ عبارت بھی پڑھ لیجئے: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابتہوجائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۶،۷، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

نتیجہ خود ہی نکال لیں۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ مرض ہسٹیریا (یعنی بائوگولہ) تو عورتوں کو ہوا کرتا ہے تو جواب یہ ہے کہ کتاب مخزن حکمت ج دوم ص۹۶۹ پر لکھا ہے کہ اس مرض میں شاذونادر طور پر مرد بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اگر کوئی سوال کرے کہ مرض مراق، ہسٹیریا، مرگی، مالیخولیا، نبوت ورسالت کے کیوں منافی ہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ: ’’ان امراض میں مریض کو اپنے خیالات اور جذبات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘ (رسالہ ریویو ص۹، بابت ماہ نومبر۱۹۲۹ء،ریویو ج۲۵ نمبر۶، ریویو ج۲۶ نمبر۵ ص۳۰)اور نبی کو جذبات پر پورا پورا قابو ہوتا ہے۔(رسالہ ریویو ج۲۶نمبر۵ ص۳۰) اگر کوئی سوال کرے کہ کیا مراق مرض مالیخولیا کی ایک نوع ہے؟ تو جواب یہ ہے : ’’مراق ایک قسم کا مالیخولیا ہے۔‘‘

(کتاب مخزن حکمت ج ۲ ص۱۰۰۴، کتاب اصل بیاض نورالدین ج۲ ص۲۱۱)

واضح ہو کہ مرزا غلام احمدقادیانی کو مندرجہ ذیل بیماریاں تھیں: (۱)مراق۔ (۲)ہسٹیریا۔ (۳)سردرد۔ (۴)دوران سر۔ (۵)کثرت پیشاب۔ (۶)ذیابیطس۔ (۷)اسہال۔ (۸)تشنج دل۔ (۹)کمی خواب۔ (۱۰)کمزورحافظہ۔ (۱۱)بدہضمی۔ (۱۲)دائم المریض۔

نتیجہ: اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمn کی بشارت یعنی آیت مقدسہ:’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘کے اصل اورحقیقی مصداق خاتم النّبیین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین، سیدالمرسلین، محمدمصطفی، احمد مجتبیٰa ہی ہیں۔ مرزا غلام احمدقادیانی اس بشارت کے ہرگز مصداق نہیں ہیں اور جو شخص حضور پرنورa کے سوا کسی اور شخص کو اس بشارت کا مصداق مانے وہ شخص حق سے دور ہے اور گمراہ ہے۔ اہل اسلام کو چاہئے کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں اور قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی رو سے جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان کو یاد کرلیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جماعت مرزائیہ کو ہدایت نصیب ہو اور وہ باطل کو چھوڑ کر حق کو قبول کریں۔

خادم دین: عاجزحبیب اللہ

198

مرزا قادیانی نبی نہ

(ایک مناظرہ)

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

199

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض حال

الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی خاتم النّبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین۔

فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ۱۸۳۹ء میں ہوئی تھی اور وفات ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں ہوئی تھی۔ مرزا غلام احمد نے محدث، ملہم، مامورمن اللہ ، مجدد، رجل فارسی، مسیح موعود، امام مہدی، نبی، رسول، کرشن، اوتار وغیرہ کے تیس سے زائد دعاوی کئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں نے بابیوں، بہائیوں کی طرح قرآن مجید کی آیات مبارکہ اور احادیث نبویہ کی باطل تاویلیں اور غلط معنی کرکے خدا کے بندوں کو بڑا دھوکہ دیا ہے۔ مجھے خداتعالیٰ نے خاص دماغ اور خاص حافظہ عطا فرمایا اور اس باطل فرقے کی تردید کی توفیق عطا کی:’’ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء و اللہ ذوالفضل العظیم‘‘ اس کتاب میں مرزائیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت ورسالت کی تردید نقلی اور عقلی دلائل سے کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدا اس کتاب کو مرزائیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔

خادم دین رسول اللہ a

عاجز: حبیب اللہ کلرک محکمہ انہار امرتسر

مرزا قادیانی نبی نہ

گرمی کا موسم ہے اور گرمی شدت کی ہے۔ ابھی بارش کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ شہر امرتسر کے مشرقی حصہ میں دروازہ مہاں سنگھ واقع ہے۔ دروازہ کے اندر داخل ہونے کے بعد ایک وسیع جگہ ہے۔ اس جگہ پہلے ایک بڑا کنواں ہوتا تھا اور یہ کنواں ۱۹۰۸ء میںبند کیا گیا تھا۔ اس کو ’’چوڑا چاہ‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ اس جگہ سے ایک بازار سیدھا کوتوالی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا بازار بائیں طرف کوچہ غزنویہ کی طرف جاتا ہے۔ اس راستے کو یہاں کے رہنے والے لوگ ’’کچی سڑک‘‘کے نام سے پکارتے ہیں۔ دوپہر کے وقت ایک جوان آدمی اس کچی سڑک پر جارہا ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے، سر پر ٹوپی ہے،

200

آنکھوں پر عینک لگائے ہوئے ہے، چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پنجاب کا باشندہ نہیں بلکہ اس کا وطن یوپی ہے۔ یہ جوان ایک مکان کے دروازے پر جاکر بلند آواز سے کہتا ہے: بابو صاحب ! بابوصاحب!

دروازہ کھلتا ہے اور ایک بتیس سالہ جوان باہر آتا ہے۔ اس کا چہرہ گورے رنگ کا ہے، قد لمبا ہے، سر پر سفید پگڑی ہے، پائوں میں سلیپر،سیاہ داڑھی ہے، اس کو دیکھ کر نو وارد آدمی بلند آواز سے کہتا ہے: بابوصاحب ! السلام علیکم!

اس کے جواب میں دوسرے جوان نے کہا: وعلیکم السلام! گھر کے دروازے کے سامنے ایک چارپائی پر دونوں جوان بیٹھ گئے اور آپس میں کچھ مذہبی باتیں کرنے لگے۔ ان میں سے نو وارد آدمی مرزاغلام احمد قادیانی کے مریدوں میں سے ہے اور دوسراجوان اہل سنت والجماعت حنفی المذہب ہے۔ ان کی گفتگو میں متانت اور نرمی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید کو ’’قادیانی‘‘ اور اس کے مخالف کو ’’مسلمان ‘‘ کے نام سے لکھا جاتا ہے اورجو گفتگو ان دونوں کے درمیان ہوئی اس کو ناظرین کی دلچسپی کے لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

مسلمان: حافظ صاحب آپ اورآپ کی جماعت اپنے مخالفوں کو کیا سمجھتی ہے؟

قادیانی: حضرت خلیفہ (نام نہاد)دوم مرزا محمود نے کہا ہے کہ: ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں کیونکہ وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۰)

مسلمان: میں تو مرزاقادیانی کو نہ نبی مانتا ہوں نہ رسول ۔ کسی دعویٰ میں ان کو سچا نہیں مانتا۔

قادیانی: آپ نے اب تک مرزاقادیانی کو خدا کا نبی اور رسول نہ مانا کیا آپ کے پاس اس انکار پر کوئی دلیل ہے؟

مسلمان: میرے پاس خدا کے فضل وکرم سے بہت دلائل ہیں۔ مگر اس وقت میں ایک نئی اور عجیب وغریب دلیل پیش کرتا ہوں۔

قادیانی: وہ نئی دلیل کیا ہے؟ بیان تو کیجئے۔ میں بھی سنوں۔

مسلمان: فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ: ’’مجھے مراق کی بیماری ہے۔‘‘ مراقی آدمی خدا کا نبی ورسول وملہم نہیں ہوسکتا۔

201

قادیانی: احمدیہ لٹریچر میں ایسا کہیں نہیں لکھا ہے۔ اگر سچے ہوتو حوالہ پیش کرو۔

مسلمان: میرے پاس بہت حوالے ہیں ذرا غور سے سنئے:

۱… مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا: ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتa نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپa نے فرمایا تھاکہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘(رسالہ تشحیذ الاذہان ج اوّل نمبر۲ ص۵، بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء، اخبار بدر قادیان ج ۲نمبر۲۳ کالم۲ ص۵، مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)

۲… مرزاقادیانی نے کہا: ’’میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کرکے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہوجاتا ہے مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔‘‘(اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۴۰ کالم۱ ص۶، مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۱ء، کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸، مرتبہ وشائع کردہ محمد منظور الٰہی مرزائی، ملفوظات ج۲ ص۳۷۶)

۳… ’’حضرت اقدس(مرزا ) نے فرمایا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۴ نمبر۴ ص۴۵، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۵ء)

۴… ’’حضرت (مرزاقادیانی) نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ مجھ کو مراق ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۶، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

۵… ’’واضح ہو کہ حضرت (مرزاقادیانی) کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘

( رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۶ نمبر۵ ص۲۶، بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء)

قادیانی: ممکن ہے کہ مرض مراق سے مراد دوران سر کی بیماری ہو۔

مسلمان: مرزا غلام احمد قادیانی کو مراق بھی تھا اور دوران سر کی بیماری بھی تھی۔ بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مندرجہ ذیل بیماریاں تھیں:

۱… ’’ مراق۔‘‘

202

۲… ’’دوران سر۔‘‘

۳… ’’سر درد۔‘‘

۴… ’’کثرت پیشاب (یعنی ذیابیطس) سو سو بار پیشاب آتا تھا۔‘‘

(ضمیمہ اربعین نمبر۳،۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۱)

۵… ’’اسہال۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ۲۵نمبر۸ ص۶، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

۶… ’’تشنج دل۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ضمیمہ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۱)

۷… ’’کمی خواب۔‘‘

۸… ’’حافظہ اچھا نہیں تھا۔‘‘

(نسیم دعوت ص۷۱ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۴۳۹)

۹… ’’مرض ضعف دماغ کے دورے پڑتے تھے۔‘‘

(فتح اسلام ص۲۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۷)

۱۰… ’’ہاضمہ اچھا نہیں تھا۔‘‘

(ریویو ج۲۵ نمبر۸ ص۶، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

۱۱… ’’مرض ہسٹیریا کا دورہ پڑتا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۳نمبر۱۹)

۱۲… ’’مرزا صاحب دائم المریض آدمی تھے۔‘‘

(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰)

حافظ صاحب! بتلائیے کہ خدا کے کسی نبی ورسول نے کبھی خود اقرار کیا کہ مجھے مراق ہے۔ قرآن وحدیث سے جواب دیجئے۔

قادیانی: قرآن مجید کی سورۃ یٰسین آیت نمبر۳۰ میں ہے:’’یٰحسرۃ علی العباد مایاتیھم من رسول الاکانوا بہ یستھزؤن‘‘ بندوں پر افسوس کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر تھے ساتھ اس کے استہزاء کرتے۔

سورۃ المومنون آیت نمبر۷۰ میں ہے: ’’ام یقولون بہ جنۃ‘‘ یعنی مخالف کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے۔

قرآن مجید میں آیا ہے کہ آنحضرتa اور آپ سے پہلے نبیوں کو لوگوں نے ساحر، مسحور اور مجنون کہا۔

مسلمان: حافظ صاحب! یہ تو بتلایئے کہ قرآن مجید میں یہ بھی کہیں آیا ہے کہ خدا کے کسی نبی ورسول نے کبھی خود اقرار کیا ہو کہ (معاذ اللہ ) مجھ میں جنون ہے یا یہ کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔

203

کی بیماری ہے۔

قادیانی: قرآن مجید میں صرف اتنا آیا ہے کہ مخالفوں یعنی کافروں اور مشرکوں نے ایسا کہا۔ مگر یہ تو کسی آیت میں نہیں ہے کہ خدا کے کسی نبی ورسول نے خود ایسا ہونے کا اقرار کیا ہو۔

مسلمان: شاباش حافظ صاحب! پس یہ بات خوب یاد رکھئے کہ دشمنوں کا کہنا اور بات ہے اور کسی مدعی نبوت ورسالت کا خود تسلیم کرنا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے اور بات ہے۔اب آپ سمجھے کہ میں نے کیا عرض کیا ہے؟

قادیانی: طب کی رو سے مراق کی تشریح کیجئے۔

مسلمان: ’’یونانی میں مراق اس پردے کا نام ہے جو احشاء الصدر کو احشاء البطین سے جدا کرتا ہے اور معدہ کے نیچے واقع ہوتا ہے اور فعل تنفس میں کام آتا ہے۔ پرانے سوء ہضم کی وجہ سے اس پردے میں تشنج سا ہوجاتا ہے بدہضمی اور اسہال بھی اس مرض میں پائے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے۔مرگی اور ہسٹیر یا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۵ نمبر۸ ص۶، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

قادیانی: کیا مراقی آدمی نبی نہیں ہوسکتا؟ اگر نہیں ہوسکتا تو بتلایئے نبی اور مراقی میں کیا فرق ہے؟

مسلمان: حافظ صاحب بات یہ ہے کہ خدا کے نبی ورسول کو جنون، مرگی، مالیخولیا، مراق اور ہسٹیریا جیسی دماغی مرض نہیں ہوسکتی۔ خدا کا نبی اور رسول ان مرضوں سے پاک ہوتا ہے۔ جس مدعی نبوت ورسالت میں ان مرضوں میں سے ایک مرض بھی ہو وہ اپنے دعوئوں میں جھوٹاہے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔ پس مرزاقادیانی نہ نبی ہیں نہ رسول اور نہ ملہم۔

۱… ’’مگر یہ بات یاتو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔‘‘(کتاب البریہ ص۲۳۸،۲۳۹ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۷۴) پر مرزاقادیانی نے یسوع مسیح علیہ السلام کے آسمان پر چلا جانے کی بابت لکھا ہے۔ لہٰذا جب مراقی عورت کی بات قابل اعتبار نہیں تو مراقی آدمی کے دعوئوں کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے؟

204

۲… ’’اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابونہیں رہتا۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۵ نمبر۸ ص۶، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

’’نبی میں اجتماع توجہ بالا ارادہ ہوتا ہے جذبات پر قابو ہوتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ۲۶ نمبر۵ ص۳۰، بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء)

قادیانی: میں تو قادیان سے کسی کام کے لئے امرتسر آیا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بابو حبیب اللہ کلرک دفتر نہر سے ملوں۔ آپ تو میرے پیچھے ایسے پڑے ہیں کہ اب چھوڑتے نہیں۔

مسلمان: حافظ صاحب! اب اور سنئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو بھی مراق کی بیماری تھی۔

قادیانی: اگر سچے ہو تو حوالہ بتائو ۔ کس کتاب یا کس احمدی اخبار میں لکھا ہے۔

مسلمان: مرزاقادیانی نے کہا: ’’میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔‘‘

(قادیانی اخبار الحکم ج ۵ نمبر۲۹ ص۱۴، مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء پر زیر عنوان ’’حضرت گورداسپور میں‘‘ کالم۳)

قادیانی: یہ باتیں میں نے آج سنی ہیں۔ اس سے پیشتر ہمارے کسی مخالف نے مراق کی بیماری کے متعلق کچھ نہ لکھا ۔ حالانکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، مولوی محمد صاحب لدھیانوی، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر اخبار اہل حدیث وغیرہ نے ہمارے خلاف کتابیں، اخبار اور رسالے لکھے اور شائع کئے۔ مگر جو کچھ آپ نے بیان کیا ہے یہ کسی نے نہ بیان کیا۔

مسلمان: بات یہ ہے کہ مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب مدیر اخبار اہل حدیث امرتسر کی مہربانی سے مجھے اخبار بدر قادیان کا فائل بابت ۱۹۰۶ء مطالعہ کے لئے ملا تھا۔ (۷؍جون ۱۹۰۶ء کے پرچہ ج۲ نمبر۲۳ ص۵ کالم نمبر۲) میں مراق کی بیماری کا ذکر آیا ہے۔

حافظ صاحب اب اور سنئے آپ کے موجودہ (نام نہاد)خلیفہ قادیان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔

قادیانی: یہ کہاں لکھا ہے۔ حوالہ بتائو۔

205

مسلمان: ’’حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۵ نمبر۸ ص۱۱، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

قادیانی: ’’حضرت صاحب کو کبھی ہسٹیریا کا دورہ نہ ہوا تھا۔‘‘

( رسالہ ریویو ج۲۵نمبر۸ ص۹، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

مسلمان: مرزا غلام احمد قادیانی کو ہسٹیریاکا دورہ ہوا تھا۔

قادیانی: مرض ہسٹیریا یعنی بائوگولہ تو عورتوں کو ہوا کرتا ہے۔

مسلمان: ’’یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے اگرچہ شاذونادر مرد بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔‘‘

(کتاب مخزن حکمت ج دوم ص۹۶۹، طبع چہارم)

قادیانی: اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی کو ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔

مسلمان: مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیراحمد ایم۔اے قادیانی مرزائی نے لکھا ہے کہ: ’’مرزا قادیانی کو ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۵ نمبر۱۹)

قادیانی: کتاب سیرت المہدی کی اس روایت سے صرف اس قدر معلوم ہوا کہ آپ کو ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھالیکن اس کی کیا دلیل ہے کہ مرض ہسٹیریا نبوت ورسالت کے منافی ہے؟

مسلمان:

۱… ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑدیتی ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۵ نمبر۸ ص۶،۷، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

۲… ’’ہسٹیریا کے مریض کو جذبات پر قابو نہیں ہوتا ۔‘‘

(رسالہ ریویو ج۲۸ نمبر۹ ص۹، بابت ماہ نومبر۱۹۲۹ء)

۳… ’’ان امراض (یعنی مالیخولیا، ہسٹیریا، مرگی) میں مریض کو اپنے خیالات اور جذبات پر قابو نہیں رہتا اور تخیل بڑھ جاتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو ج ۲۵ نمبر۸ ص۵، اگست ۱۹۲۶ء)

قادیانی: اب میں جاتا ہوں اور جو کچھ آپ نے بیان کیا یہ میرے لئے بالکل نئی باتیں ہیں ان پر غور کروں گا۔

206

نزول مسیحؑ

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

207

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض حال

الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی خاتم النّبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین۔

اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھ کو دین اسلام کا خادم بنایا اور مجھے خاص حافظہ و خاص ذہن عطا فرما کر تحریر و تقریر کے ذریعے دین کی خدمت کی توفیق دی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں اورقصبوں میں میری تقریریں اور تحریریں مقبول ہوئیں۔ میری پہلی تصنیف ’’عمر مرزا‘‘ کے نام سے ایک رسالہ انجمن اہل سنت و الجماعت گوجرانوالہ نے جون ۱۹۲۴ء میں شائع کیا تھا۔ میری دوسری تصنیف رسالہ ’’مراق مرزا‘‘ ماہ اپریل ۱۹۲۹ء میں دفتر اہل حدیث امرتسر سے شائع ہوا۔ میری تیسری تصنیف ’’مرزائیت کی تردید بطرز جدید‘‘ نامی کتاب ماہ دسمبر ۱۹۳۲ء میں شائع ہوئی اور لوگوں میں مقبول ہوئی۔ میری چوتھی تصنیف ’’حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کشمیر میں نہیں‘‘ نامی کتاب ماہ فروری ۱۹۳۳ء میں شائع ہوئی ہے اور پانچویں تصنیف ’’بشارت احمد‘‘ نامی جولائی ۱۹۳۳ء میں چھپ گئی ہے۔ چھٹی تصنیف رسالہ واقعات نادرہ ’’نامی نومبر ۱۹۳۳ء میں شائع ہوئی۔ اب ساتویں ’’نزول مسیح علیہ السلام ‘‘ کے نام سے ایک کتاب پیش کرتا ہوں۔ اس کتاب میں: ’’وانہ لعلم للساعۃ (زخرف:۶۱)‘‘کی تفسیر کی گئی ہے اور احادیث نبویہ اور حضرات صحابہi و تابعینw ومفسرینw کے اقوال سے حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ m کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ ناظرین میری کتابوں کو پڑھ کر میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دین کا سچا خادم بنائے۔

حبیب اللہ

208

پہلا باب

آیت کریمہ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘کی تفسیر

قرآن مجید کی آیات مقدسہ، احادیث صحیحہ نبویہ اور اقوال صحابہi و تابعینw سے عیسیٰ ابن مریمm کے دوبارہ نازل ہونے پر کچھ لکھا جاتا ہے: ’’وما توفیقی الا ب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

آیات قرآنی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون۔ وقالوا الھتنا خیرام ھوماضر بوہ لک الا جدلابل ھم قوم خصمون۔ ان ھوالا عبدانعمنا علیہ وجعلناہ مثلا لبنی اسرائیل۔ ولونشاء لجعلنا منکم ملائکۃ فی الارض یخلفون۔ وانہ لعلم للمساعۃ فلا تمترن بھاوا تبعون۔ ھذا صراط مستقیم (الزخرف:۵۷تا۶۱)‘‘اور جب حضرت عیسیٰ ابن مریمm مثال کے طور پر بیان کیا گیا۔ ناگہاں تیری قوم کے لوگ اس سے تالیاں بجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا (حضرت) ابن مریم! تیری قوم کے لوگ اس بات کو تیرے واسطے بیان نہیں کرتے مگر جھگڑنے کو۔ بلکہ وہ لوگ جھگڑالو ہیں۔ نہیں (حضرت) مسیح علیہ السلام مگر ایک بندہ کہ جس پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے مسیح علیہ السلام ابن مریم کو قوم بنی اسرائیل کے واسطے نمونہ بنایا اور اگر ہم چاہتے تو البتہ تم میں سے فرشتے کرتے کہ زمین میں جائے نشین ہوتے:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم البتہ قیامت کی نشانی ہے۔ پس قیامت کے ساتھ شک مت کرو اور میری پیروی کرو۔ یہ سیدھی راہ ہے۔

نوٹ: ان آیات مقدسہ میں حضرت مسیح ناصریm کا ہی ذکر خیر ہے۔ ضمیرین جو:’’منہ، ھو، ماضربوہ، علیہ، وجعلناہ‘‘میں آئی ہیں۔ سب حضرت عیسیٰ ابن مریمm ہی کی طرف پھرتی ہیں۔ پس سیاق و سباق اور قرائن کے لحاظ سے آیت مقدسہ:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘کا صحیح ترجمہ یوں ہے: ’’اور تحقیق حضرت عیسیٰ ابن مریم البتہ

209

قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

اس آیت مطہرہ کی صحیح تفسیر ان شاء اللہ ! آگے چل کر لکھی جائے گی۔ پہلے قادیانی تفسیر ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

دوسرا باب

اقوال مرزاقادیانی

۱… مرزا غلام احمد قادیانی نے آیت مقدسہ:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘کے متعلق یوں گوہر افشانی کی ہے: ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہورہے ہیں۔ قبروں میں گلے سڑے ہوئے باہر نکلتے آتے ہیں اور خشک ہڈیوں میں جان پڑتی جاتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۲۴، خز ائن ج۳ ص۳۲۲)

۲… ’’فاعلم انہ تعالٰی قال وانہ، لعلم للساعۃ وما قال انہ سیکون علما للساعۃ فالاٰ یۃ تدل علی انہ علم للساعۃ من وجہ کان حاصلا لہ بالفعل لا ان یکون من بعدفی وقت من اوقات والوجہ الحاصل ھو تولدہ من غیراب والتفصیل فی ذالک ان فرقۃ من الیھوداعنی الصدوقین کا نوا کافرین بوجود القیامۃ فاخبر ھم اللہ علٰی لسان بعض انبیائہ ان انبامن قومھم یولد من غیراب وھذا یکون اٰیتہ لھم علٰی وجود القیامۃ فالٰی ھذا اشار فی آیۃ وانہ لعلم للساعۃ وکذالک فی اٰیۃ ولنجعلہ آیۃ للناس ای للصدوقین‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)

۳… ’’سیقول الذین لایتدبرون ان عیسٰی علم للساعۃ وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ذالک قول سمعوا من الا باء وما تدبروہ کالعقلاء مالھم لا یعلمون ان المراد من العلم تولدہ من غیراب علٰی طریق المعجزۃ کما تقدم ذکرہ فی الصحف السابقۃ‘‘

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)

210

۴… حضرت مسیح کے متعلق جو قرآن شریف میں آیا ہے کہ:’’انہ لعلم للساعۃ‘‘اس پر فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام حضرت رسول کریمa کے آنے کی خوشخبری دینے والا ایک پیش خیمہ تھا۔ ساعت سے مراد ہے ایک عظیم الشان امر آئندہ آنے والایعنی مسیح کا ظہور اس بات کا نشان تھا کہ یہ اسرائیلیوں میں آخری نبی ہے اور اب خاتم النّبیین اس کے بعد آئے گا۔‘‘

(اخبار الحکم ج۵ نمبر۵ ص۱۱، مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۱ء، رسالہ ملفوظات احمد یعنی ڈائری ۱۹۰۱ء ص۷)

۵… ’’پھر کہتے ہیں کہ عیسیٰ کی نسبت ہے: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ جن لوگوں کی یہ قرآن دانی ہے ان سے ڈرانا چاہئے کہ نیم ملاں خطرہ ایمان۔ اے بھلے مانسو! کیا آنحضرتa علم للساعۃ نہیں ہیں۔ جو فرماتے ہیں کہ بعثت انا والساعۃ کھاتین اور خداتعالیٰ فرماتا ہے: ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر‘‘ یہ کیسی بدبو دار نادانی ہے۔ جو اس جگہ لفظ ساعۃ سے قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ساعۃ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا اور خود خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں سورہ بنی اسرائیل میں اس ساعت کی خبر دی ہے۔ اسی آیت کی تشریح اس آیت میں ہے کہ: ’’مثلا لبنی اسرائیل‘‘ یعنی عیسیٰ کے وقت سخت عذاب سے قیامت کا نمونہ یہودیوں کو دیا گیا اور ان کے لئے وہ ساعت ہوگئی۔ قرآنی محاورہ کی رو سے ساعۃ عذاب ہی کو کہتے ہیں۔ سو خبر دی گئی تھی کہ یہ ساعۃ حضرت عیسیٰ کے انکار سے یہودیوں پر نازل ہوگی۔ پس وہ نشان ظہور میں آگیا اور وہ ساعۃ یہودیوں پر نازل ہوگئی اور نیز اس زمانہ میں طاعون بھی ان پر سخت پڑی اور درحقیقت ان کے لئے وہ واقعہ قیامت تھا۔ جس کے وقت لاکھوں یہودی نیست و نابود ہوگئے۔ ہزارہا طاعون سے مرگئے اور باقی ماندہ بہت ذلت کے ساتھ متفرق ہوگئے۔ قیامت کبریٰ تو تمام لوگوں کے لئے قیامت ہوگئی۔ مگر یہ خارص یہودیوں کے لئے قیامت تھی۔ اس پر ایک اور قرینہ قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’انہ لعلم للساعۃ فلاتمترن بھا‘‘ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ کے ساتھ تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ قیامت کیا چیز ہے۔ اس کے مثل تمہیں دی جائے گی یعنی:’’مثلا لبنی اسرائیل‘‘ وہ قیامت تمہارے پر آئے گی۔ اس میں شک نہ کرو۔ صاف ظاہر ہے کہ قیامت حقیقی جو اب تک نہیں آئی۔ اس کی نسبت غیر موزوں تھا کہ خدا کہتا کہ اس

211

قیامت میں شک نہ کرو اور تم اس کو دیکھو گے۔ اس زمانہ کے یہودی تو سب مرگئے اور آنے والی قیامت انہوں نے نہیں دیکھی۔ کیا خدا نے جھوٹ بولا۔ ہاں! طیطوس رومی والی قیامت دیکھی۔ سو قیامت سے مراد وہی قیامت ہے۔ جو حضرت مسیح کے زمانہ میں طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں کو دیکھنی پڑی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۰،۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۲۹، ۱۳۰)

نوٹ: بڑے تعجب کی بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی (حمامتہ البشریٰ ص۹۰) پر آیت: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کے لفظ ’’ساعۃ‘‘ کے معنی ’’قیامت‘‘ کے کرتے ہیں اور (اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۲۹) پر لکھتے ہیں: ’’یہ کیسی بدبو دار نادانی ہے۔ جو اس جگہ ساعۃ سے قیامت سمجھتے ہیں۔‘‘

مرزاقادیانی نے سچ لکھا ہے اور اپنی نسبت شکایت کی ہے کہ ’’حافظہ اچھا نہیں۔ یاد نہیں رہا۔‘‘

(ریویو ج۲ نمبر۴ ص۱۵۳ حاشیہ، نسیم دعوت ص۷۱ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۴۳۹)

مرزاقادیانی کے بیان کردہ چاروں معانی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اصل میں بات وہی ہے جو مرزاقادیانی نے اپنی نسبت خود تسلیم کی ہے کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔ (بدرص۵، مورخہ۷؍جون ۱۹۰۶ء، رسالہ تشحیذ الاذہان ج۱ نمبر۲ ص ۵، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵) اور اس مرض مراق میں مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔ (ریویو ج۲۵ نمبر۸ ص۶، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء) حالانکہ نبی میں اجتماع توجہ بالا رادہ ہوتا ہے۔ جذبات پر قابو ہوتا ہے۔

(ریویو ج۲۶ نمبر۵ ص۳۰، مئی ۱۹۲۷ء)

تیسرا باب

سید سرور شاہ مرزائی کی تفسیر بالرائے

الف… ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ اس کے یہ معنی بھی اگر کئے جائیں کہ مسیح علامت ہے قیامت کے لئے تو بھی نزول کہاں سے ثابت ہوگا اور پھر بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مسیح کی بے باپ ولادت دلیل قیامت ہے۔ ہزارہا سال بعد ہونے والی بات دلیل کس طرح بن سکتی ہے اور ہمارے نزدیک تو اس کے معنی آسان ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعت کا علم ہے۔ ‘‘

(ضمیمہ اخبار بدر، مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء)

212

ب… ’’سورۃ زخرف میں جو آتا ہے: ’’ولما ضرب ابن مریم مثلا… الخ!‘‘ میری یہ تحقیق ہے کہ یہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے متعلق ہے۔‘‘

(الفضل قادیان کالم۳ ص۲، مورخہ ۴؍جنوری ۱۹۲۳ء)

ج… ’’مسیح موعود (مرزاقادیانی) بروز مسیح و محمد ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب مسیح بن مریم کو بطور مثال کے پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا مثیل آخری زمانہ میں آئے گا تو مخالف لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو کہا جاتا ہے کہ خدا انسان میں حلول نہیں کرسکتا۔ مگر خود یہ کہا جاتا ہے کہ مسیح کا بروز آئے گا۔ ‘‘

(الفضل ص۵، مورخہ ۴؍جنوری ۱۹۲۴ء)

نوٹ: سید سرور شاہ قادیانی نے جو تفسیر آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی یہ کی ہے کہ: ’’مسیح کا مثیل آخری زمانہ میں آئے گا۔‘‘

سو یہ مطلب اس آیت کا نہ تو حضرت رسول خداaنے بیان فرمایا اور نہ آپa کے کسی صحابی نے بلکہ سید سرور شاہ کے پیرومرشد کوبھی یہ تفسیر نہ سوجھی۔

سید محمد احسن امروہی کی تفسیر بالرائے

’’دوستو! یہ آیت (یعنی آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ… عدومبین‘‘) ۲۵پارہ سورہ زخرف میں ہے اور بااتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی مفسر کو اختلاف نہیں۔ البتہ ان کے نزول ثانوی کے شان نزول میں اختلاف ہے… اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس آیت میں بالضرور مسیح محمدی (مرزاقادیانی) ہی کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔چونکہ اس سورۃ میں مسیح محمدی (مرزاقادیانی)کے دوبارہآنے کا ذکر بااتفاق مفسرین کے ہے۔ اسی لئے اس کے زمانہ کی طرف ایک بڑے اشارہ لطیفہ کے ساتھ نشان دہی بھی کی گئی ہے تاکہ مومن عبرت پکڑنے والے کو سورۃ کے نام سے ہی پتہ لگ جائے کہ مسیح محمدی اس وقت آئے گا کہ اس زخارف دنیوی کی ایسی کثرت اور ترقی اس آخر زمانہ میں ہوگی کہ کبھی پہلے ویسی ترقی نہ ہوئی ہوگی۔

(اخبار الحکم ص۲، مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۹ء)

نوٹ: مرزائی کے ’’مسیح محمدی‘‘ کے الفاظ سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہیں۔ جن کو وہ مسیح موعود اور مثیل مسیح مانتے ہیں۔ اوپر کا اقتباس سید محمد احسن مرزائی امروہی کی اس

213

تقریر کا ہے جو اس نے ۲۷ دسمبر ۱۹۰۸ء کو سالانہ جلسہ پر کی تھی۔

کسی بھوکے سے پوچھا گیا تھا کہ دو اور دوکتنے ہوتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ ’’چار روٹیاں‘‘ یہی حالت ان مرزائی مولویوں کی ہے۔ جو تفسیر بالرائے کی وعید سے نہ ڈرتے ہوئے آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مرزا قادیانی کے آنے پر استدلال کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہی سید محمد احسن مرزائی امروہی دسمبر ۱۹۰۸ء سے کئی سال پہلے آیت مقدسہ کی تفسیریوں کرچکے ہیں کہ: ’’آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر ’’انہ‘‘ طرف قرآن مجیدیا آنحضرتa کے راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ ہی کی طرف راجع ہے تو اس کے ظاہری معنی یہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا مفید ہے۔ علم ’’ساعۃ‘‘ کو، یا حضرت عیسیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا جو دلالت کرتا ہے اللہ کے احیاء موتیٰ پر قیامت میں دلیل و موجب علم ہے بعث و نشر قیامت کے وغیرہ وغیرہ۔‘‘

(اعلام الناس حصہ دوم ص۵،۶)

دیکھئے کہ (اعلام الناس نامی کتاب حصہ دوم ص۵) پر آیت مقدسہ : ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا یا آپ کا مردوں کو زندہ کرنا لکھا گیاہے۔

چوتھا باب

قرآن مجید کی تفسیر کے اصول

اس زمانہ میںسرسید احمد خاں، عبد اللہ چکڑالوی، مرزا غلام احمد قادیانی، میاں بشیرالدین محمود احمد خلیفہ جماعت قادیانی، محمد علی ایم۔ اے امیر جماعت مرزائیہ لاہوریہ اور مولوی احمد الدین امرتسری نے اہل سنت و الجماعت کے عقائد کے خلاف تفسیریں کی ہیں اور ایسے معنی کئے ہیں جو احادیث نبویہ اور اقوال صحابہi و تابعینw کے مطابق نہیںہیں۔ اس لئے (تفسیر ابن کثیر ج اوّل ص ۴ تا ۷، تفسیر ترجمان القرآن بلطائف البیان ج اوّل ص ۱۶،۱۷،۱۸) سے ذیل میں قرآن مجید کی تفسیر کے اصول لکھے جاتے ہیں۔

۱… قرآن کریم کی تفسیریوں ہوتی ہے کہ پہلے قرآن کو قرآن ہی سے بیان کرے۔ اس لئے کہ جو بات ایک جگہ قرآن میں مجمل آئی ہے۔ وہ دوسری جگہ تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

214

۲… جو تفسیر قرآن مجید کی حضرت رسول خداa سے ثابت ہوچکی ہے۔ وہ ہر چیز پر مقدم ہے بلکہ وہی تفسیر ساری امت پر حجت ہے۔ اس کے خلاف ہر گز کہنا یا کرنا نہ چاہئے۔ اس کی پیروی سب پر واجب ہے۔ حضرت امام شافعیv نے کہا ہے کہ حضرت رسول خداa نے جو حکم دیا ہے۔ وہ قرآن سے سمجھ کر دیا ہے۔

۳… سو جب تفسیر قرآن کی قرآن و حدیث سے ہاتھ نہ لگے تو پھر حضرات صحابہi کے اقوال سے لینا چاہئے۔ اس لئے کہ انہوں نے احوال وقرائن اس وقت کے دیکھے بھالے ہیں۔ جس وقت نزول قرآن ہوا، وہ حاضر و موجود تھے۔ فہم تام، علم صحیح، عمل صالح، رکھتے تھے۔

۴… جب تفسیر قرآن شریف کی قرآن پاک یا سنت صحیحہ یا قول صحابی میں نہ ملے تو اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ تابعین کے قول کو لیوے۔

۵… جب قرآن کریم کی تفسیر کرے تو حتی الامکان اوّل قرآن پاک ہی سے کرے۔ پھر سنت مطہرہ سے، پھر قول صحابیq سے، پھر اجماع تابعینw سے، پھر لغت عرب سے، یہ پانچ مرتبے ہوئے۔ اپنی طرف سے ہرگز کوئی بات نہ کرے۔ اگرچہ اچھی ہی کیوں نہ ہو۔ رائے سے تفسیر کرنے والے کو جہنمی فرمایا ہے۔

۶… حدیث ابن عباسq میں مرفوعاً آیا ہے کہ جس نے کچھ کہا قرآن میں اپنی رائے سے یعنی عقل و قیاس سے یا جو بات وہ نہیں جانتا تھا تو وہ شخص اپنی جگہ آتش دوزخ میںمقرر کرے۔ اس کو ترمذی نے حسن کہاہے۔ نسائی اور ابو دائود نے بھی روایت کیا ہے۔

(ترجمان القرآن ج اوّل ص ۱۸)

مرزا قادیانی کے مقرر کردہ معیار

۱… ’’جاننا چاہئے کہ سب سے اوّل معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں… ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے معنی کریں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ان معنوں کی تصدیق کے لئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔‘‘

(کتاب برکات الدعا ص۱۳،۱۴،۱۵، خزائن ج۶ ص۱۷تا۱۹)

215

۲… ’’دوسرا معیار رسول اللہ a کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ a تھے۔ پس اگر آنحضرتa سے کوئی تفسیر ثابت ہوجائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔‘‘

۳… ’’تیسرا معیار صحابہi کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہi آنحضرتa کے نوروں کے حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خداتعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ا ن کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔‘‘

۴… ’’چوتھا معیار خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے۔‘‘

۵… ’’پانچواں معیار لغت عرب بھی ہے ۔لیکن قرآن کریم نے اپنے وسائل آپ اسقدر قائم کردیئے ہیں کہ چنداں لغت عرب کی تفتیش کی حاجت نہیں۔‘‘

الحمدﷲ!کہ مرزاقادیانی کے اپنی کتاب (برکات الدعا ص ۱۳،۱۴،۱۵، خزائن ج۶ ص۱۸،۱۹) پر اہل سنت کے مقرر کردہ معیاروں میں سے چار معیار تسلیم کرلئے ہیں۔ صرف تابعینw کی فرمودہ تفسیر کا ذکر نہیں کیا۔ باقی معیار اوّل، دوم، سوم، پنجم کو مانا ہے۔ بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ ’’تفسیر بالرائے سے نبیa نے منع فرمایا ہے۔ قرآن کی تفسیر کی،اور اپنے خیال میں اچھی کی، تب بھی اس نے بری تفسیر کی۔‘‘

(برکات الدعاء ص۱۴،۱۵، خزائن ج۶ ص ۱۸،۱۹)

پانچواں باب

احادیث نبوی … حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی

۱… ’’حضرت خدیفہq بن اسید غفاری سے روایت ہے کہ ہم پر حضرت رسول خداa نے جھانکا ۔ اس حال میں کہ ہم آپس میں باتیں کرتے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایاتم کیا باتیں کرتے ہو۔ صحابہi نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آپa نے فرمایا۔ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک تم اس سے پیشتر دس نشانیاں دیکھو گے۔ پس آپa نے ان نشانیوں کا ذکر کیا۔ دجال کا نکلنا، دابتہ الارض کا نکلنا، اور مغرب کی طرف سے سورج

216

کا نکلنا، حضرت عیسیٰ ابن مریمm کا نازل ہونا، یا جوج ما جوج کا نکلنا، اور تین خسفوں کا ہونا، ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں، ایک عرب میں اور وہ نشانی کہ سب کے بعد ہوگی، ایک آگ ہوگی۔ جو عدن کے پرلے کنارے سے نکلے گی اور لوگوں کو زمین حشر کی طرف ہانکے گی۔‘‘(مسلم شریف ج۲ ص۳۹۳، کتاب الفتن و شرائط الساعۃ، مشکوۃ ص۴۷۲ کتاب الفتن باب علامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال، منتخب کنز العمال برحاشیہ، مسند احمدج۶ ص۲۴، مسند احمد ج۴ ص ۷، مظاہر حق ج ۴ ص۳۴۸، کنز العمال ج۱۴ ص ۲۶۱ حدیث:۳۸۶۵۰)

۲… ’’عن ابن شھاب ان سعیدv بن المسیب سمع ابوھریرۃq قال قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتٰی لا یقبلہ احدحتٰی تکون السجدۃ والواحدۃ خیر من الدنیاوما فیھاثم یقول ابو ھریرۃq واقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الّٰا لیئومنن بہ قبل موتہ ویوم القیٰمۃ یکون علیھم شہیداً‘‘ (صحیح بخاری شریف ج۱ ص۰ ۴۹، صحیح مسلم ج۱ ص۸۷، فتح الباری پارہ ۱۳ ص۲۸۱، عمدۃ القاری ج۷ ص۴۵۱، ارشاد الساری ج۵ ص۴۱۸، ۴۱۹، مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ السلام ص ۴۷۹، مظاہر حق ج۴ ص۳۷۶)

’’حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول خداa نے قسم ہے اس خدا کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے۔ تحقیق تم میں نازل ہوںگے۔ حضرت ابن مریمm اس حال میں کہ وہ حاکم عادل ہوںگے۔ پس صلیب کو توڑ دیں گے اور قتل کریں گے سور کو اور جنگ کو بند کردیں گے۔ (اور مسلم میں ہے کہ جزیہ رکھ دیں گے) اور بہت مال ہوگا یہاں تک کہ ایک سجدہ بہتر ہوگا دنیا سے اور ہر چیز سے کہ دنیا میں ہے۔ پھر حضرت ابو ہریرہq فرماتے ہیں۔ پس پڑھ لو اگر تم چاہو (یہ آیت کہ) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں مگر یہ کہ البتہ ضرور ایمان لاوے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے کے پہلے اور وہ ان پر دن قیامت کے گواہ ہوگا۔‘‘

۳… ’’یحدث ابوھریرۃq عن النبیa قال والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجّا اومعتمرا اولیشنیھما‘‘

(صحیح مسلم شریف ج اوّل ص۴۰۸، کتاب الحج باب جواز التمتع فی الحج والقران)

217

’’حضرت ابوہریرہq حضرت نبی کریمa سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمm نے فرمایا: مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جس کے دست قدرت میں میری جان ہے البتہ ضرورگزرے گا ابن مریمm روحاء کے راستے سے حج کرتے ہوئے یا عمرہ کرتے ہوئے یا دونوں۔‘‘

(نیز دیکھو کنز العمال ج۱۱ ص ۵۰۳، حدیث:۳۲۳۵۲، مسند احمد ج دوم ص۲۷۲)

۴… ’’ابو یعلیv نے حضرت ابو ہریرۃqسے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت رسول خداa کو یوں فرماتے سنا ہے کہ قسم ہے اس ذات پاک کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ ابن مریمm اتریں گے پھر میری قبر پر کھڑے ہوکر پکاریں گے کہ اے محمدa ! تو میں ضرور ان کو جواب دوںگا۔‘‘ (کتاب انتباہ الاذکیاء فی حیاۃ الانبیاء ص۴،۵، مجمع الزوائد ج۸ ص۲۱۴، الحاوی ج۲ ص۶۳،۱ روح المعانی تفسیر آیت خاتم النّبیین ج۲۲ ص۳۳، التصریح ص۲۴۴، طبع مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان)

نوٹ: اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ آنے والے ابن مریمm سے حدیث میں مسیح ناصری مراد نہیں ہوسکتا بلکہ کوئی اور ہے۔ کیونکہ مسیح ناصری فوت ہوچکے ہیں۔ بلکہ ابن مریمm سے مراد کوئی اور ابن مریمm ہے۔ جس کو بوجہ مشابہت تامہ ہونے کے ابن مریم کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ دو چیزوں میں مشابہت کے پاجانے سےمشبہ کو مشبہ بہ کا نام دے دیا کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی وہ مسیح موعود ہیں۔ (رسالہ تشحیذالاذہان بابت ماہ اگست ۱۹۲۰ء ص ۱۶،۱۹،۲۱،۳۰ کا خلاصہ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث (مندرجہ صحیح بخاری ج۱ ص۴۹۰، صحیح مسلم ج۱ ص۸۷، صحیح مسلم ج۱ ص ۴۰۸، وانتباہ الاذکیا ص۴،۵) میں الفاظ:’’والذی نفسی بیدہ‘‘{قسم ہے اس خدا کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔}

اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے۔ نہ اس میں کوئی تاویل ہے ورنہ استثناء ہے۔ ورنہ قسم میں کونسا فائدہ ہے؟ چنانچہ اس امر کو مرزاقادیانی ان الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں: ’’آنحضرتa کے ایسے ارشاد کا کب خلاف ہو سکتا ہے جو وحی الٰہی ہے اور مؤکدبہ حلف ہو اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوںپر محمول ہے نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ورنہ قسم میں کونسا فائدہ۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ مترجم ص۴۱،۴۳ حاشیہ، خزائن ج۷ ص ۱۹۲)

218
۵… ’’قال ابن عباسq قال رسول اللہ a فعند ذالک ینزل اخی عیسٰی ابن مریم من السماء علی جبل افیق اماما ھادیا وحکما عادلاعلیہ برنس لہ مربوع الخلق اصلت سبط الشعر بیدہ حربۃ یقتل الدجال فاذا قتل لدجال یضع الحرب اوزارھا فکان السلم فلیقی الرجل الاسد فلا بھیجہ ویاخذالحیۃ فلا تضرہ وتنبت الارض کنبا تھا علی عھد اٰدم یؤمن بہ اھل ارض ویکون الناس اھل ملۃ واحدۃ(روایت کیا اس کو اسحاق بن بشیرو ابن عسا کرنے نیز دیکھو حجج الکرامہ ص۴۲۳)‘‘

(کنز العمال ج۱۴ ص۶۱۹ حدیث:۳۹۷۲۶، کتاب منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ج۶ ص۵۶)

نوٹ نمبر۱: اس حدیث نبوی میں ’’آسمان‘‘ کا لفظ موجود ہے۔ اس سے مرزاقادیانی کا یہ قول کہ: ’’اس قوم پر سخت تعجب ہے کہ نزول مسیح سے یہی خیال کرتی ہے کہ وہ آسمان سے اترے گا اور آسمان کا لفظ اپنی طرف سے ایزاد کر دیتے ہیں اور کسی حدیث میں اس کا کوئی اثر و نشان نہیں۔‘‘

(حمامتہ البشر یٰ ص۱۸حاشیہ، خزائن ج۷ ص۱۹۷ حاشیہ)

ہاں! بعض احادیث میں عیسیٰ بن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پائو گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔

(حمامہ البشریٰ ص۲۱، خزائن ج۷ ص۲۰۲)

سراسر غلط ٹھہرا۔

چھٹا باب

تفسیر صحابہi … حضرت ابن عباسq کی تفسیر

ذیل میں آیت مقدسہ:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘کی صحیح تفسیر جوحضرت عبد اللہ بن عباسq سے مروی ہے درج کی جاتی ہے ’’اور ناظرین پرواضح ہو گا کہ حضرت ابن عباسq قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرتa کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

۱… ’’حضرت ابن عباسq نے آیت:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کے معنی یہ بیان

219

فرمائے کہ یہ قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا آنا ہے۔‘‘(مسند احمد ج اوّل ص۳۱۷،۳۱۸، ابن کثیر ج۹ ص۱۴۴، درمنثور ج۶ ص۲۰، فتح البیان ج۸ ص۳۱۱، ۳۱۲، ترجمان القرآن ج۱۴ ص۶۶، مواہب الرحمن پارہ:۲۵، ص۱۴۴، مستدر ک حاکم ج۲ ص۴۴۸)

۲… ’’حضرت عبد اللہ بن عباسq نے آیت: ’’وانہ لعلم اللساعۃ‘‘کی تفسیر یہ کی کہ قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے۔‘‘

(تفسیر ابن جریر ج۲۵ ص ۴۸،۴۹ خلاصہ)

۳… ’’محدثین مثلاً فریابی و سعید بن منصور، مسدود، عبد بن حمید،وابن ابی حاتم و طبرانیv نے حضرت عبد اللہ بن عباسq سے روایت کی ہے کہ : ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘کے معنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے۔‘‘

(تفسیر در منثور ج۶ ص۲۰)

۴…’’عن ابن عباسq وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسٰیm قبل یوم القیامۃ‘‘ حضرت ابن عباسq فرماتے ہیں کہ اس آیت:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘کے معنی یہ ہیںقیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام خروج کریں گے یعنی نکلیں گے۔‘‘

(نظام الدین مرزائی کی کتاب المسیح الموعود و امام المہدی المسعود حصہ اوّل ص۴۰)

ان مندرجہ بالا چار تحریروں سے یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت سید المفسرین عبد اللہ بن عباسq کا یہی مذہب تھا کہ آیت:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘مراد قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہq کی تفسیر

۱… ’’محدث عبد بن حمید نے حضرت ابوہریرہq سے روایت کی ہے کہ:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آناہے وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے۔‘‘

(تفسیر درمنثور ج۶ ص۲۰)

۲… نظام الدین مرزائی نے تسلیم کیا کہ حضرت ابوہریرہq آیت:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا لیتے ہیں۔

(کتاب المسیح الموعود والا امام مہدی المسعود حصہ اوّل ص۴۰،۴۱)

220

ساتواں باب

اقوال تابعینw

اب میں ذیل میں تابعینw میں سے حضرت حسن بصریv ، حضرت مجاہدv، حضرت قتادہv، حضرت ضحاکv، حضرت ابن زیدv کا مذہب درج کرتا ہوں:

۱… حضرت ابو مالکv اورحضرت حسنv نے فرمایا: یہ حضرت عیسیٰ ابن مریمm کا نازل ہونا ہے۔

(تفسیر ابن جریر جز۲۵ ص۹۰، درمنثو ر ج۶ ص۲۰،۲۱)

۲… حضرت مجاہد نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمm کا قیامت سے پہلے آناعلامت ہے قیامت کی۔

(ابن جریر جز۲۵ ص۹۰، درمنثور ج۶ ص۲۰،۲۱)

۳… حضرت ضحاکv نے فرمایا: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم آئیں گے اور قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے۔

(ابن جریر جز۲۵ ص۹۱)

۴… حضرت قتادہv نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔

(ابن جریر جز۲۵ ص۹۱، درمنثو ر ج۶ ص۲۰)

۵… حضرت ابن زیدv نے فرمایا کہ:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘سے مراد حضرت عیسیm کا نازل ہونا ہے۔

(ابن جریر جز۲۵ ص۹۱)

آٹھواں باب

حافظ ابن کثیرv کا فیصلہ

’’قول صحیح یہ ہے کہ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ اس لئے سیاق کلام انہیں کے ذکر میں ہے پھر مراد اس سے ان کا نزول ہے قبل قیامت کے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لائے گا۔ ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے یعنی موت عیسیٰ کی کے اور دن قیامت کے ہو گا عیسیٰ ان پر گواہی دینے والا اس معنی کی مؤ ید دوسری قرأت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ہے۔ یعنی وہ علامت و نشانی و دلیل ہے

221

قیامت کے وقوع پر، مجاہدv نے فرمایا یعنی نشانی ہے واسطے قیامت کے خروج حضرت عیسیٰ ابن مریم کا قبل روز قیامت کے اور اسی طرح حضرت ابوہریرہq، حضرت ابن عباسq، ابوالعالیہq، ابومالکv، عکرمہq، حضرت حسنv، قتادہv، ضحاکq سے بھی مروی ہے رسول اللہ a سے حدیثوں سے تو اتر ہوا ہے۔ اس بات پر کہ آپa نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے۔ قبل روز قیامت کے کہ وہ امام عادل و حکم مقسط ہوکر نازل ہوں گے۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر مع البغوی ج۹ ص۴۰۸، ترجمان القرآن ج۱۴ ص۶۲،مواہب الرحمن ج۲۵ ص۱۴۵)

نواں باب

مفسرین کے اقوال

اب ذیل میں حضرات مفسرین اہل سنت والجماعت کے اقوال درج کئے جاتے ہیں:

۱… ’’وانہ یعنی عیسٰیm لعلم للساعۃ للعلامۃ من علامات القیامۃ کما جاء فی الحدیث انا اولی الناس بعیسٰی لیس بینی وبینہ نبی وانہ نازل یکسر الصیب ویقتل الخنزیر ویقاتل الناس علی الاسلام‘‘

(تفسیر غرائب القران ج۲۵ ص۲۴)

۲… ’’والظاہر ان الضمیر فی وانہ لعلم للساعۃ یعود علی عیسٰی اذ الظاہر فی الضمائر السابقۃ انھا عائدۃ علیہ وقال ابن عباس و مجاہد وقتادۃ والحسن والسدی والضحاک وابن زید ای وان خروجہ لعلم للساعۃ یدل علی قربھا قیامھا اذخروجہ شرط من اشراطھا وھو نزولہ من السماء فی آخرالزمان‘‘

( بحرالمحیط ج ۸ ص ۲۵)

۳… ’’والظاہر ان الضمیر فی وانہ لعلم للساعۃ یعود علی عیسٰی اذا الظاہر فی عائدۃ علیہ وقراء ابن عباس وجماعۃ لعلم ای لعلامۃ للساعۃ یدل علی قرب میقاتھا اذ خروجہ شرط من اشراطھا وھو نزولہ من السماء فی آخرالزمان‘‘

(النھرالماد ج ۸ ص ۲۴)

222
۴… ’’او انہ ای عیسٰیk لعلم للساعۃ ای انہ بنزولہ شرط من اشراطھا‘‘

(روح المعانی جز۲۵ ص ۸۷)

۵… ’’(وانہ) ای عیسٰیm بنزولہ فی آخر الزمان (لعلم للساعۃ) شرط من اشراطھا یعلم بہ قربھا‘‘

( روح البیان ج ۳ ص ۵۸۴)

۶… ’’(وانہ) ای عیسٰیm (لعلم للساعۃ) ای نزولہ سبب للعلم بقرب الساعۃ التی نعم الخلائق کلھم بالموت فنزولہ من اشراط الساعۃ یعلم بہ قربھا‘‘

(سراج منیر ج۳ ص۵۷۰)

۷… ’’(وانہ) ای وان عیسٰیm (لعلم للساعۃ) ای بنزولہ یعلم قیامۃ الساعۃ‘‘

(کتاب الوجینرج۲ ص۲۷۸)

۸… ’’وانہ لعلم للساعۃ ای وان عیسٰی لشرط من اشراط الساعۃ والمعنی ان نزول عیسٰی من السماء علامۃ علی قرب الساعۃ‘‘

(مراح لبید ج ۲ ص ۲۷۸)

۹… ’’(وانہ لعلم للساعۃ) ھذہ الایۃ التی یفھم منھا ان نزول عیسٰی یدل علی قرب القیٰمۃ وذالک لان اکثر المفسرین علی ان الضمیر (وانہ) راجع الی عیسٰی المذکور سابقا‘‘

( التفسیر الاحمدیہ ص ۶۵۲)

۱۰… ’’وانہ نزول عیسٰی بن مریم علم للساعۃ‘‘

(جامع البیان جز۲۵ ص۹۰)

۱۱… ’’(وانہ) ای عیسٰیm (لعلم للساعۃ) تعلم بنزولہ والمعنی و ان نزولہ علامۃ علی قرب الساعۃ‘‘

(فتوحات الٰہیہ ج۴ ص۹۵)

۱۲… ’’وان عیسٰیm (لعلم للساعۃ) ای شرط من اشراطھا تعلم بہ فسمی اشرط علما الحصول العلم بہ و قراء ابن عباس لعلم وھو العلامۃ‘‘

(کشاف جز۴ ص۲۶۱، طبع بیروت زیر آیت لعلم للساعۃ)

۱۳… ’’(وانہ) یعنی عیسٰیm (لعلم للساعۃ) یعنی نزولہ من اشراط الساعۃ یعلم بہ قربھا‘‘

(خازن جز۶ ص۱۱۶)

۱۴… ’’(وانہ لعلم للساعۃ) وان عیسٰی ممایعلم بہ مجیٔی الساعۃ و قرا
223
ابن عباس لعلم للساعۃ وھو العلامۃ ای وان نزولہ لعلم للساعۃ‘‘

(مدارک التنزیل ج۴ ص۱۰۹)

۱۵… ’’(قولہ وانہ لعلم للساعۃ) ای نزولہ علامۃ علی قرب الساعۃ‘‘

(الجزاء الرابعۃ حاشیۃ العالم علامۃ ب اللہ تعالی الشیخ احمد الصاوی المالکی علی تفسیر الجلالین ص ۴۴)

۱۶… ’’(وانہ )الضمیر لعیسٰیm (لعلم) وقری لعلم بفتح العین واللام (للساعۃ) فعلی الاولٰی علم یعلم بنزولہ قرب الساعۃ وعلی الثانیۃ علامۃ علی الاخریٰ‘‘

(تاج التفاسیر ج۲ ص۱۴۱)

۱۷… ’’(وانہ) عیسٰیm (لعلم الساعۃ) ای علامۃ القیامۃ وقال اللہ تعالٰی وان من اھل الکتاب الّٰالیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسٰی بعد نزولہ عند قیام الساعۃ فیصیر الملل واحدۃ وھی ملۃ الاسلام الحنیفۃ‘‘

(شرح فقہ اکبر المعروف بہ شرح ملا علی قاری ص۱۳۶)

۱۸… ’’(وانہ) وان عیسٰیm (لعلم للساعۃ) ای انہ بنزولہ شرط من اشراطھا‘‘

( ابی السعود جز۸ ص۵۲)

۱۹… ’’(وانہ) وان عیسٰیm (لعلم للساعۃ) لان حدوثہ اونزولہ من اشراط الساعۃ یعلم بہ دنوھا ولان احیاء الموتٰی یدل علی قدرۃ اللہ تعالٰی علیہ‘‘

(بیضاوی ج۲ ص۲۸۴)

۲۰… ’’(وانہ) یعنی عیسٰیm ( لعلم للساعۃ) یعنی نزولہ من اشراط الساعۃ یعلم بہ قربھا‘‘

(معالم النتزیل ج۴ ص۵۰)

۲۱… ’’ان عیسٰیm لم یمت بل یموت فی آخرالزمان ویؤمن بہ کل اھل الکتاب وقد ذکر اللہ تعالٰی فی کتابہ ان نزولہ الی الارض من علامات الساعۃ قال اللہ تعالٰی وانہ لعلم للساعۃ وقال الامام ابن کثیر فی التفسیرہ الصحیح ان الضمیر عائد الی عیسٰی فان السیاق فی ذکرہ وان المراد نزولہ قبل یوم القیامۃ کما قال تعالی وان من اھل الکتاب الّٰالیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسٰی‘‘

(عون المعبود شرح سنن ابی دائود ج۴ ص۲۰۳)

224
۲۲… ’’وفی التنزیل فی صفتہ عیسٰی صلوات اللہ علی نبینا وعلیہ وانہ لعلم للساعۃ وھی قرأۃ اکثر القراء وقرء بعضھم وانہ لعلم للساعۃ المعنی ان ظھور عیسی و نزولہ الی الارض علامۃ تدل علی اقترب الساعۃ‘‘

(لسان العرب ج۱۵ ص۳۱۴)

۲۳… ’’وان عیسٰی لعلم للساعۃ ای شرط من اشراطھا تعلم بہ فسمی الشرط الدال علی الشی علما لحصول العلم بہ و قرأ ابن عباس لعلم وھو العلامۃ و قری للعلم وقراء ابی الذکر وفی الحدیث ان عیسٰی ینزل علی ثنیۃ فی الارض المقدسۃ یقال لھا افیق وبیدہ حربۃ وبھا یقتل الدجال فیاتٔی بیت المقدس والناس فی صلاۃ الصبح والامام یؤم بھم فیتا اخرالامام فیقدمہ عیسٰی ویصلی خلفہ علی شریعۃ محمدa ثم یقتل الخنازیرویکسر الصلیب ویحزب البیع والکنائس ویقتل النصاری الامن آمن بہ‘‘

(مفاتیح الغیب جز۷ ص۳۰۷)

۲۴… ’’(وانہ لعلم للساعۃ) قال مجاھد والضحاک والسدی وقتادۃ ان المراد المسیح وان خروجہ ای نزولہ ممایعلم بہ قیام الساعۃ ای قربھا لکونہ شرطامن اشراطھا لان اللہ سبحانہ ینزلہ من السماء قبیل قیام الساعۃ‘‘

(فتح البیان ج۴ ص۲۱۲)

۲۵… ’’وانہ‘‘ اور تحقیق وہ عیسیٰ علیہ السلام : ’’لعلم للساعۃ‘‘ البتہ علم ہے واسطے قیامت کے کہ نزدیک ہونا قیامت کا اس سے جانا جائے گا۔ اس واسطے کہ اترنا اس کا آسمان سے قیامت کے نزدیک ہونے کی علامتوں میں سے ہے۔

(اہل تشیع کی تفسیر عمدۃ البیان ج۲ ص۴۲۲)

۲۶… امام عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں: ’’اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے تو جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر دلیل اللہ تعالیٰ کا قول: ’’وان من اھل الکتاب الّٰا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ ہے یعنی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اہل کتاب ان پر جمع ہوں گے اور انکار کیا معتزلہ اور فلاسفہ اور یہود اور نصاری نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے سے اور کہا اللہ تعالیٰ نے

225

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور لفظ علم کو عین کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور ضمیر بیچ ’’انہ‘‘ کے، راجع ہے طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اورحق بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم سمیت آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے کہا اللہ تعالیٰ نے: ’’بل رفع اللہ الیہ‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔‘‘

(کتاب الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر ج دوم بحث۶۵ ص۱۴۶)

۲۷… ’’(وانہ لعلم للساعۃ) فیہ نزول عیسٰی قربھا روی الحاکم عن ابن عباسq فی قولہ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسٰیm‘‘

(اکلیل برحاشیہ جامع البیان ص۳۵۹)

۲۸… ’’(وانہ لعلم للساعۃ) و قری (لعلم) بالتحریک ای امارۃ دلیل علی اقتراب الساعۃ وذالک لانہ ینزل بعد خروج المسیح الدجال فیقتلہ اللہ علی یدیہ کماثبت فی الصحیح ان اللہ ماانزل داء الا انزل لہ شفاء‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج سوم ص۲۳)

۲۹… ’’(وانہ لعلم للساعۃ) ای ان عیسٰیm ممایعلم بہ القیامۃ الکبریٰ وذلک ان نزولہ من اشراط الساعۃ‘‘

(عرائس البیان ج۲ ص۳۶۲)

۳۰… ’’باب ہفتم دریبان نزول حضرت روح اللہ عیسٰی ابن مریم عبد اللہ وکلمتہm وایں یکے ازا شراط قریبہ قیام ساعت قال تعالٰی وان اھل الکتاب الّٰالیؤمننّ بہ قبل موتہ وقال تعالٰی وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترنّ بھا‘‘

(حـجج الکرامہ ص۴۲۲)

۳۱… ’’(وانہ) ای عیسٰی (لعلم للساعۃ) تعلم بنزولہ‘‘

(تفسیر جلالین ص۴۰۹)

۳۲… ’’(وانہ لعلم للساعۃ) ای من اشراطھا ینزل بقربھا‘‘

(تفسیر تبصیر الرحمان وتسیرالمنان ج۲ ص۲۵۷)

۳۳… ’’وانہ لعلم للساعۃ فلاتمترنّ بھا‘‘ یعنی عیسیٰ قیامت کے لئے علم ہے کہ

226

ان کے سبب سے قیامت کا نزدیک اور قریب ہونا جانا جائے گا کیونکہ قیامت کی علامت میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول کرنا ہے۔

(اعظم التفاسیر حصہ ۲۵ ص ۳۱۸)

۳۴… (اور البتہ عیسیٰ جو ہے تو قیامت کی ایک نشانی ہے) اور نیز وہ قیامت کی نشانی ہے کہ قریب قیامت کے دنیا پر اترے گا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔

(فتح المنان ج ششم ص۲۳۴)

۳۵… ’’ثم رجع سبحانہ الی ذکر عیسٰی فقال (وانہ لعلم للساعۃ) یعنی ان نزول عیسٰی من اشراط لساعۃ یعلم بھاقربھا (فلاتمترنّ بھا) ای بالساعۃ فلاتکذبوا بھا ولا تشکوافیھا‘‘

(تفسیر مجمع البیان ج۲ ص۳۳۴ یہ تفسیراہل تشیع کی ہے)

۳۶… ’’وانہ‘‘ اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام : ’’علم اللساعۃ‘‘ علم ہے ساعت کے واسطے یعنی ان کے سبب سے جانو گے کہ قیامت نزدیک ہے۔ اس واسطے کہ قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا ہے۔‘‘

(تفسیر قادری ج۲ ص۴۰۸)

حضرات مفسرینw کے اقوال سے بھی یہی امرثابت ہوتا ہے کہ آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘کی تفسیر یہ ہے کہ قیامت کی علامتوں میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا نازل ہونا بھی ہے۔

دسواں باب

قادیانی مغالطوں کا جواب

آیت مقدسہ: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر صحیح لکھنے کے بعد اب ذیل میں مرزائیوں کے مغالطوں کا جواب درج کیا جاتا ہے:

قادیانی: ’’بعض علماء اور بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ آیت:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ مسیح کے حق میں ہے اور وہ اس کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ مسیح قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشان ہے۔ بنا بریں وہ مانتے ہیں کہ ان کا نزول قیامت کے قریب ہو گا۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ بات بالکل قابل تسلیم نہیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۹۳)

227

مسلمان: حضرت امام عبدالوہاب شعرانیv لکھتے ہیں کہ: ’’اگر تو سوال کرے کہ عیسیٰ کے نزول پر کیا دلیل ہے تو جواب یہ ہے کہ مسیح کے نزول پر دلیل یہ آیت ہے: ’’وان من اھل الکتب الّٰا لیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘یعنی جب مسیح نازل ہو گا اور لوگ اس پر اکٹھے ہوں گے اور معتزلہ و فلاسفہ و یہود و نصاریٰ نے حضرت مسیح کے جسم سمیت آسمان کی طرف اٹھائے جانے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور قرآن کے لفظ ’’علم‘‘ کو ’’عین‘‘ اور ’’لام‘‘ کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور ’’انہ‘‘ میںجو ضمیر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔‘‘

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۴۶)

آیت:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘سے حضرت مسیح ابن مریم کے نزول پر استدلال کرنا حضرت عبد اللہ بن عباسq اور حضرت ابوہریرہq جیسے جلیل القدر صحابہ سے ثابت ہے۔ جیسا کہ (مسند احمد ج اوّل ص ۳۱۷،۳۱۸) پر ابن عباسq سے بسند صحیح روایت آئی ہے ’’اور آپ کو معلوم ہے کہ حضرت ابن عباسq کوئی معمولی انسان نہیں ہیں۔ بلکہ وہ بزرگ ہیں جن کو رسولa نے اپنے سینہ مبارک سے لگا کر یہ دعا کی تھی: ’’اللھم فقّہ فی الدین وعلمہ التاویل‘‘یعنی اے اللہ ابن عباسq کو دین کی سمجھ اور قرآن شریف کی حقیقی تفسیر سکھلا دے۔ جس شخص کے حق میں خود رسولa دعا کریں۔ وہ کیونکر رد ہو سکتی ہے۔ لہٰذا حضرت ابن عباسq کے معنی اور تمام لوگوں سے بڑھ کر قابل سند ہیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۲۲۴)

اور تابعینw میں سے حضرت مجاہد، حضرت قتادہ، حضرت ابی مالک، حضرت حسن بصری اور حضرت ضحاکw سے بھی یہی تفسیر ثابت ہے اور حافظ ابن کثیر جیسے جلیل القدراور بزرگ مفسر (جن کو سید محمد احسن مرزائی امروہی اپنی کتاب (مسک العارف ص۲۲) پر مقتداء اہل حدیث تسلیم کرتے ہیں) بھی انہی معنوں کو مانتے ہیں اور یہ سب بزرگان دین چودہویں صدی کے مرزائی حکیم خدا بخش مصنف عسل مصفی سے زیادہ عالم اور دین دار تھے۔

قادیانی: اور ضمیر ’’انہ‘‘کی جب مسیح کی طرف پھیری جاوے تو مسیح قیامت کا علم قرار پاتا ہے اور آیت:’’وعندہ علم للساعۃ والیہ ترجعون‘‘ ظاہر کرتی ہے کہ قیامت کا علم خدا کے ہاں ہے تو پھر مسیح خدا کے پاس ہوئے اور خدا کے پاس وہی ہوتا ہے جو

228

دنیا سے بالکل قطع تعلق کرکے اس بشری لوازمات سے پاک ہوتا ہے، جس کا نام موت ہے۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۹۳)

مسلمان: بے شک قرآن مجید کی سورۂ زخرف میں ہے: ’’وعندہ علم للساعۃ والیہ ترجعون‘‘{ یعنی قیامت کا علم خدا کے پاس ہے اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے۔}

اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا علم یعنی قیامت کے آنے کا وقت اللہ ہی جانتا ہے خدا کے سوا کوئی اس وقت کو نہیں جانتا۔ حضرت مسیح کا نزول قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے۔ حضرت مسیح کے نزول سے پتہ لگ جائے گا کہ اب قیامت قریب ہے۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ مسیح کو قیامت کے آنے کا علم ہے اور اس کے دن کی خبر ہے۔ جس طرح سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا قیامت کی علامتوں میں سے ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کا نازل ہونابھی ایک علامت ہے۔

(سنن ابن ماجہ شریف ص۲۹۹، باب خروج الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم)

حضرت عبد اللہ بن مسعودq سے ایک روایت آئی ہے۔ اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ شب اسراء میں حضرت رسول خداa نے حضرت ابراہیمm، حضرت موسیٰm اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی اور قیامت کاذکر ہوا۔ ان تینوںنبیوں نے صاف صاف فرما دیا کہ قیامت کا علم تو خدا ہی جانتا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اتنا زیادہ کیا کہ دنیا میں دجال خروج کرے گا اور فتنہ پھیلائے گا پھر میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا۔ یہ روایت مرفوعاً (مسند احمد مطبوعہ مصر ج۱ ص۳۷۵) پرابن مسعودq سے آئی ہے۔ اس حدیث شریف سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پیشتر دجال کو قتل کرنے کے لئے وہی عیسیٰ نازل ہو گا۔ جو آنحضرتa کو شب اسراء میں آسمان میں ملا تھا۔

قادیانی: جب خود مفسرین کا اتفاق نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی طرف ’’انہ‘‘ کی ضمیر راجع ہے توپھر اس زمانہ کے علماء کس برتے پر زور دیتے ہیں کہ ضمیر مسیح کی طرف راجع ہے۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۹۶)

’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف ہے مسیح کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۹۵)

229

مسلمان: جب خود مرزا غلام احمدقادیانی نے اپنی کتابوں مثلاً (ازالہ اوہام ص۴۲۶، حمامۃ البشریٰ ص۹۰، اعجاز احمدی ص۲۱) پر تین مختلف معنی کئے ہیں۔ (جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے) تو حکیم خدا بخش مرزائی نے اہل سنت و الجماعت مفسرین پر کس طرح اعتراض کر دیا ہے۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ اسی کتاب (عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۹۳تا۴۹۵،۴۹۸،۴۹۹) پر: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی ضمیر کو قرآن شریف کی طرف پھیرا گیا ہے اور پھر اسی کتاب (ص۴۹۵،۴۹۶،۴۹۹) پر ’’وانہ‘‘ کی ضمیرکو حضرت مسیح کی طرف پھیرا گیا ہے۔

سورۂ زخرف رکوع:۱،۳،۴ میں بے شک قرآن مجید کا ذکر خیر آیا ہے۔ مگر رکوع:۶جہاں یہ آیت واقع ہے میں قرآن شریف کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

قادیانی: ’’غیر احمدیوں کا اس آیت سے استدلال یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم ہے وہی قیامت کے نزدیک دنیا میں تشریف لائیں گے پس وہ زندہ ہیں۔‘‘

الجواب الاوّل: ’’انہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم یا المسیح لینے سے بہت سی قباحتیں لازم آئیں گی۔ مثلاً:

۱… اس کے آگے خداتعالیٰ فرماتا ہے: ’’ھذا صراط مستقیم‘‘یعنی یہ صراط مستقیم ہے اور صراط مستقیم سے ہٹنے والا شخص ضال اور گمراہ ہوتا ہے۔ پس اگر ’’انہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم لیا جائے اوریہ مان لیا جائے کہ نعوذ ب اللہ حیات مسیح کا عقیدہ صراط مستقیم ہے تو گویا اس کامنکر ضال اور گمراہ ہو گا۔ حالانکہ غیر احمدیوں کے مسلمات کی رو سے حیات و وفات مسیح کا عقیدہ ایمان کی جزئیات میں سے نہیں اور اس کے مان لینے سے تو حضرت امام مالک، حضرت امام ابن حزم، حضرت عبدالحق صاحب محدث دہلوی، حضرت محیی الدین صاحب ابن عربی حضرت عائشہ صدیقہt، حضرت ابن جریر،حضرت امام جبائی وغیرہم اجمعین حتیٰکہ رسول اللہ a خود حضرت ابوبکرq و حضرت امام حسنq کو جنہوں نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ نعوذ ب اللہ ضال اور گمراہ ماننا پڑے گا۔ پس ثابت ہوا کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع کچھ اور ہی ہے جس کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ فافہم !

(الفضل ج۱۴ ش۲۱ ص۸، مورخہ۱۰؍ستمبر ۱۹۲۶ء)

مسلمان: قادیانی نامہ نگار کے ان مغالطوں کا جواب ذیل میں مختصر طور پر دیا جاتا ہے: ’’وفا توفیقی الا با اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

230

(۱)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی … حضرت احمد مجتبیٰaکی زبانی

قادیانی نامہ نگار نے آپa کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ آپ نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ ’’حالانکہ آپ نے کبھی یہ نہ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابودائود، سنن نسائی، مسند احمد، کتاب الاسماء والصفات، مستدرک حاکم، مشکوٰۃ، مرقاۃ، لمعات، مظاہرحق، فتح الباری، عمدۃ القاری، ارشاد الساری، کنزالعمال، منتخب کنزالعمال وغیرہ کتب حدیث اور اہل سنت کی تفسیروں مثلاً ابن کثیر و تفسیر ابن جریرو درمنثور) میں بہت سی صحیح مرفوع حدیثیں اس بارے میں آئی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم قیامت کے پہلے نازل ہوں گے۔ ان احادیث نبویہ میں کہیں مثیل مسیح کے الفاظ نہیں ہیں۔ احادیث صحیحہ نبویہ میں الفاظ عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم، ابن مریم، عیسیٰ مسیح، روح اللہ ، عیسیٰ آئے ہیں۔ آپa نے یہ کبھی نہ فرمایا کہ ایک مثیل مسیح پیداہو گا۔

الف… ’’قال الحسن قال رسول اللہ a للیھود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘{ حضرت حسنq نے فرمایا کہ حضرت رسول خداa نے فرمایا یہود کے واسطے کہ تحقیق عیسیٰ نہیں مرے اور تحقیق وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے دوبارہ تشریف لائیں گے۔} (تفسیر جامع البیان ج سوم ص۲۸۹، تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶، من طریق آخر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۶، ابن جریر فی تفسیرہ جامع البیان ج۳ ص۲۸۹، تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۶)

اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ یہودی کہتے تھے کہ عیسیٰ وفات پا گئے ہیں اور قیامت سے پہلے نہ آئیں گے اور حضرت رسول خداa نے یہود کی تردید کی۔

ب… ’’الستم تعلمون ان ربنا حیی لایموت وان عیسٰی یأتی علیہ الفناء‘‘{یعنی ہمارا رب ہمیشہ زندہ ہے کبھی نہ مرے گا اور تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔} (تفسیر ابن جریر ج سوم ص۱۶۳، تفسیر درمنثور ج دوم ص۳) پر ہے کہ آنحضرتa نے نجران کے نصاریٰ کے مقابل پر فرمایاتھا۔

231

ج… ’’ان اباھریرۃq قال قال رسول اللہ a کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم واما مکم منکم‘‘ {تحقیق حضرت ابوہریرہq نے کہا کہ حضرت رسول خداa نے فرمایا تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب ابن مریم آسمان سے اترے گا تم میں اور تمہارا امام، تم میں سے ہوگا۔}

( کتاب الاسماء والصفات ص ۳۰۱)

قرآن کریم کی سورۃ المومنون کی آیت: ’’وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ واوینٰھما الٰی ربوۃ ذات قرار ومعین‘‘ اور سورۂ زخرف کی آیت: ’’ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون‘‘میں ابن مریم سے مراد حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں۔

د… ایک روایت میں ہے کہ آپa نے ارشاد فرمایا کہ میں لوگوں میں قریب تر ہوں عیسیٰ ابن مریم سے اور پیغمبر علّاتی بھائی ہیں۔ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا ہے۔

(صحیح بخاری ج اوّل ص۴۸۹)

دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:’’لیس بینی وبینہ (عیسٰیm) نبی وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض‘‘

(ابو دائود ج۲ ص۲۳۸، کتاب الفتن باب خروج الدجال)

ان دونوں روایتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ آنے والا عیسیٰ وہی مسیح ابن مریم ہے جو آپa سے پہلے تھا اور جس کے اور آپa کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔

(۲)حضرت امام حسنq کا قول

’’ان علیا قتل صبیحۃ احدی و عشرین من رمضان قال فسمعت الحسن بن علیr یقول وھویخطب وذکر مناقب علیq فقال قتل لیلۃ انزل القرآن ولیلۃ اسری بعیسٰی ولیلتہ قبض موسٰی قال وصلی علیہ الحسن بن علیr‘‘تحقیق حضرت علیq ماہ رمضان کی ۲۱ کی صبح کو شہید ہوئے تھے۔ راوی حدیث نے کہا کہ میں نے امام حسنq سے سنا اوروہ وعظ کرتے تھے اور حضرت علیq کے مناقب بیان کرتے تھے۔ پس امام حسنq نے فرمایا کہ حضرت علیq اس رات شہید ہوئے جس میں قرآن شریف اترا اور جس رات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے

232

گئے اور ا س رات میں حضرت موسیٰm نے وفات پائی۔ راوی نے کہا کہ حضرت امام حسنq نے آپ پر نماز جنازہ پڑھی۔‘‘

(کتاب مستدرک حاکم ج۳ ص۱۴۳)

(۳)حضرت امام مالکv کا قول

اگر کوئی مرزائی کہے کہ ان حوالہ جات سے جو مالکی مذہب کے آئمہ کی مشہور ومستند کتب میں سے ہیں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امام مالکv نے اپنی کتاب ’’عتیبہ‘‘ میں شائع کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ناصری وفات پا چکے ہیں۔ (عسل مصفی ج اوّل ص۵۱) تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزائی (کتاب اکمال المعلم شرح صحیح مسلم ج اوّل ص۲۶۵) کی عبارت تو پیش کر دیتے ہیں۔ مگر(ص ۶۶۶) کی عبارت نقل نہیں کرتے ۔ حالانکہ وہاںیہ بھی لکھا ہے:’’وفی العتبیۃ قال مالک بینا الناس قیام یستمعون لاقامۃ الصلٰوۃ فتغشاھم غمامۃ فاذا عیسٰی قدنزل… الخ!‘‘

اور واضح ہو کہ کتاب ’’عتیبہ‘‘حضرت امام مالکv کی نہیں ہے۔ بلکہ امام عبدالعزیز اندلسی قرطبی کی ہے، جس کی وفات۲۵۴ھ میں ہوئی ہے۔

(دیکھو کتاب کشف الظنون ج اوّل ص۱۰۶،۱۰۷)

(۴)ابن حزم کا مذہب

۱… ’’(۱۲) مسالۃ الا ان عیسٰی ابن مریمm سینزل عن ابن جریجقال اخبرنا ابوالزبیرانہ سمع جابرq بن عبد اللہ یقول سمعت النبیa یقول ولا تزال طائفۃ من امتی یقاتلون علی الحق ظاھرین الٰی یوم القیمۃ قال فینزل عیسٰی بن مریم فیقول امیر ھم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امرأتکرمۃ اللہ ھذہ الامۃ‘‘

(کتاب المحلی ج اوّل ص۸،۹)

۲… ’’قد صح عن رسولa بنقل الکواف التی نقلت بنبوۃ واعلامہ و کتابہ انہ اخبرانہ لا نبی بعدہ الاماجأت الاخبار الصحاح من نزول عیسٰیm الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیھود قتلہ وصلبہ وجب الا قرار بھذہ الجملۃ وصح ان وجود النبوۃ بعدہm باطل‘‘

( کتاب الفصل فی الملل ولا ھواء وانحل ج۱ ص۷۷)

233
۳… ’’ولکن رسول اللہ و خاتم النّبین وقول رسولa لانبی بعدی فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہm نبیاً فی الارض حاشاما استثناہ رسولa فی الآثار المسندۃ الثابۃ فی نزول عیسٰی بن مریمm فی آخرالزمان‘‘

(کتاب الفصل ج۴ ص۱۸۰)

نوٹ: ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم حضرت عیسیٰ مریمm کے دوبارہ آنے کے قائل ہیں۔

(۵)حضرت شیخ عبدالحقv محدث دہلوی کا عقیدہ

الف… ’’لیکن اٹھانا اور لے جانا عیسیٰ کا آسمان پر۔ ہمارے پیغمبر کوشب معراج میں بالا تر اس سے، اس جگہ لے گئے کہ کسی کو نہ لے گئے تھے۔‘‘

(کتاب منہاج النبوت ترجمہ مدارج النبوۃ ج اوّل ص۲۴۰)

ب… ’’ونزول عیسٰی ابن مریمn یاد کرد آنحضرتa فرو آمدن عیسٰی ازآسمان بزمین‘‘

(کتاب اشعتہ اللمعات ج ۴ ص ۳۴۴ )

ج… ’’بہ تحقیق ثابت شدہ است باحادیث صحیحہ کہ عیسٰیm فرو مے آید از آسمان بزمین ومے باشد تابع دین محمدa را وحکم مے کندبشریعت آنحضرتa‘‘

(اشعۃ اللعمات ج ۴ ص۳۷۳)

د… ’’سوگند بخدائے تعالی کہ بقائے ذات من دردست قدرت اوست ہر آئینہ نزدیک ست کہ فرو آید از آسمان دراہل دین و ملت شماعیسٰیm پسر مریمp‘‘

(اشعۃ اللمعات ج۴ ص۳۷۳)

(۶)شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا مذہب

الف… ’’فاستفتح جبریل السماء الثانیۃ کما فعل الاولٰی وقال وقیل لہ فلما دخل اذا بعیسٰیm بجسد عینہ فانہ لم یمت الی الاٰن بل رفعہ اللہ الی ھذہ السماء واسکنہ بھاوحکمہ فیھا… الخ!‘‘

(فتوحات مکیہ ج سوم باب ۳۶۷ ص ۳۴۱)

ب… ’’(فلما توفیتنی) ولما کان التوفی ظاھر فی الاماتۃ وعیسٰی لم
234
یمت بل رفعہ اللہ الی السماء فسرہq بقولہ (ای رفعتنی الیک) ‘‘

(کتاب فصوص الحکم مع شرح جامیv ص ۳۱۳)

ج… حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ذکر میں ہے:’’ینزل علیہ عیسٰی ابن مریم بالمنارۃ البیضاء بشرقی دمشق مھروزتین متّکأ علی ملکین ملک عن یمینہ و ملک عن یسارہ یقطر رأسہ ماء مثل الجمان یتحدر کانما خرج من دیماس والناس فی الصلاۃ العصر‘‘

(فتوحات ج سوم باب۳۶۶ ص۳۲۷)

نوٹ: کتاب(فتوحات مکیہ ج۲ باب۷۳ ص۳، ج اوّل باب۲۴ ص۱۸۵، ج اوّل ص۲۲۴، ج۱ باب۱۰ ص۱۳۵،۱۴۴، ج۲ ص۴۹، ج۲ ص۱۲۵، ج سوم ص۳۴۱، ۵۱۳، ۵۱۴) میں بھی حضرت عیسیٰ ابن مریمn کے نزول کا ذکر موجود ہے۔

(۷)حضرت عائشہ صدیقہt کی روایت

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہt نے کبھی نہیں فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہوگئے ہیں اور یہ بھی نہ فرمایا کہ مسیح نازل نہ ہوگا۔ بلکہ آپ سے (مسند احمد ج ششم ص۷۵)پرروایت ہے: ’’حدثنا عبد اللہ حدثنی ابی ثنا سلیمان بن داؤد قال ثنا حرب بن شداد عن یحیٰی بن ابی کثیر قال حدثنی الحضرمی بن لاحق ان ذکوان ابا صالح اخبرہ ان عائشۃ اخبرتہ قالت دخل علی رسول اللہ a وانا ابکی فقال مایبکیبک قلت یارسول اللہ ذکرت الدجال فبکیت فقال رسول اللہ a ان یخرج الدجال واناحیی کفیتکموہ وان یخرج الدجال بعدی فان ربکم عزوجل لیس باعورانہ یخرج فی یھودیۃ اصبھان حتٰی یاتی المدینۃ فینزل ناحیتھا ولھا یومئذ سبعۃ ابواب علی کل نقب منھا ملکان فیخرج الیہ شرا اھلھا حتی الشام مدینہ بفلسطین، باب لد قال ابوداؤد مرۃ حتٰی یأتی فلسطین باب لد فینزل عیسٰیm فیقتل ثم یمکث عیسٰیm فی الارض اربعین سنۃ اماماعدلا وحکما مقسطاً‘‘ (نیز دیکھو کنزالعمال ج۱۴ ص۳۱۳ حدیث:۳۸۷۸۹، مجمع الزوائد ج۷ ص۳۴۱، اقامتہ البرہان ص۵۵، درمنشور ج۲ ص۲۴۲)

235

(۸)حافظ ابو جعفرv محمد بن جریر کا عقیدہ

اخبار (الفضل کالم۲ ص۸ حاشیہ، مورخہ۱۰؍ستمبر۱۹۲۶ء) پر صرف اتنی عبارت نقل کی گئی ہے:’’قدمات عیسٰی‘‘

(ابن جریر ج۳ ص۱۰۹،طبع مصر۱۹۵۴ء ص۱۶۴)

حالانکہ (تفسیر ابن جریر ج سوم ص۱۰۱) پر اصل عبارت یوں ہے: ’’حدثنا محمد بن حمید قال حدثنا مسلمۃ بن الفضل قال ثنی محمد بن اسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبیر الحیی الذی لایموت وقدمات عیسٰی وصلب فی قولھم‘‘

(ازعسل مصفی حصہ اوّل ص۵۱۹)

یہاں تو صاف لکھا ہے کہ نصاریٰ کے قول کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا۔

الف… اب رہا حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبریv کا اپنا عقیدہ۔ سو اس کی بابت ان کی (تفسیر ابن جریر حصہ ششم ص۱۸) ملاحظہ ہو۔ جہاں انہوں نے آیت:’’وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘ پر بحث کی ہے اور حضرت عیسیٰ ابن مریمn کے نزول کو مانا ہے۔

ب… ’’عن ابی ھریرۃ ان نبی اللہ a قال الا نبیاء اخوۃ لعلات امھا تھم شتی ودینھم واحدوانی اولٰی الناس بعیسٰی بن مریم لا نہ لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ نازل فاذا ارایتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الخلق الٰی الحمرۃ والبیاض سبط الشعرکأنّ راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل بین ممصرتین فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض مال ویقاتل الناس علی الاسلام حتٰی یھلک اللہ فی زمانہ مسیح الضلالۃ الکذاب الدجال وتقع الامنہ فی الارض فی زمانہ حتٰی ترتع الاسود مع الابل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم وتلعب الغلمان والصبیان بالحیات لایضربعضھم بعضا ثم یلبث فی الارض ماشاء اللہ وریما قال اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون ویدفونہ‘‘

( تفسیر ابن جریر حصہ ۶ ص ۲۲، حصہ سوم ص۲۹۱ )

236
ج… ’’قال الحسنv قال رسول اللہ a للپھودان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘

(تفسیر ابن جریر حصہ سوم ص۲۸۹)

د… حضرت نبی کریمa نے فرمایا: ’’الستم تعلمون ان ربنا حیی لا یموت وان عیسٰیm یأتی علیہ الفناء‘‘

( تفسیر ابن جریر حصہ سوم ص۱۶۳)

ر… ’’عن ابن عباسq انہ کان یقراء وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسٰی ابن مریمn‘‘

(تفسیر ابن جریر حصہ ۲۵ ص ۹۰ )

س… ’’وقولہ لیظھرہ علی الدین کلہ، یقول لیظھر دینہ الحق الذی ارسل بہ رسولہ علی کل دین سواہ وذالک عند نزول عیسٰیm ابن مریم وحین تصیر الملۃ واحدۃ فلایکون دین غیر الاسلام‘‘

(تفسیر ابن جریر حصہ ۲۸ ص ۸۸ )

ش… ’’قال ابو جعفر واولی ھذا لاقوال باالصحۃ عندناقول من قال معنی ذلک انی قابضک من الارض ورافعک الی التواتر الاخبار عن رسول اللہ a انہ قال ینزل عیسٰی بن مریمn فیقتل الدجال ثم یمکث فی الارض مدۃ ذکرھا اختلفت الروایۃ فی مبلغھا ثم یموت فیصلی علیہ المسلمون وید فنونہ‘‘

( تفسیر ابن جریر حصہ سوم ص ۲۹۱ )

نوٹ: امام جیلانی معتزلی تھا اور فرقہ معتزلہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام کا منکر تھا۔

(دیکھو کتاب الیواقیت والجواہر ج ۲ بحث ۶۵ ص ۱۴۶ اورنووی شرح صحیح مسلم ج ۲ ص ۴۰۱)

قرآن مجید، احادیث صحیحہ نبویہ، اقوال صحابہi، تابعینw، اہل سنت وا ہل تشیع مفسرین کی تفسیروں سے حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریمn کا قیامت سے پیشتر نازل ہونا ثابت ہے۔ پس جو اس عقیدہ کا منکر ہے وہ گمراہ ہے۔

قادیانی: دوسری قباحت یہ ہے کہ آگے چل کر فرمایا: ’’فلا تمترنّ بھا واتّبعون‘‘کہ تم آپس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس کا ثبوت یکساں تعداد زمانہ کے بعد دیا جائے گا۔ گویا دعویٰ تو اس وقت منوایا جاتا ہے اور دلیل ۱۹۰۰ء سال کے بعد دینے کا وعدہ ہے۔ چہ خوب!

(الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۲۱ ص۸، مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۲۶ء)

237

مسلمان: آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر خود حضرت عبد اللہ q بن عباس صحابی نے یہی کی ہے کہ یہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ ابن مریمm کا نزول ہے۔ (مسند احمد ج۲ ص۳۱۷،۳۱۸، تفسیر ابن جریر ج۲۵ ص۹۰، درمنثور ج۶ ص۳۰) پس حضرت مسیح ابن مریمn نبی اللہ کا نزول قیامت کی نشانی ہے: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ میں ’’عین‘‘ اور ’’لام‘‘ کو زبر کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ (الیواقیت والجواہر ج۲ بحث۶۵ ص۱۴۶) اور قیامت کا ماننا ضروری ہے۔

قادیانی: تیسری قباحت یہ لازم آئے گی کہ اس آیت کے ساتھ والی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ولما جاء عیسٰی بالبیّنٰت‘‘ اگر ’’انہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم ہوتا تو پھر ضمیر کے بعد دوبارہ مرجع کے نام لینے کے کیا معنی؟ اور یہ توفصاحت و بلاغت کے بھی صریحخلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم نہیں کچھ اور ہے۔ چنانچہ تفسیر مجمع البیان میں اس آیت کے نیچے لکھا ہے: ’’وقیل ان معناہ ان القرآن لدلیل للساعۃ لانہ آخر الکتاب‘‘کہاگیا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف قیامت کی دلیل ہے۔ کیونکہ وہ آخری کتاب ہے۔ پھر تفسیر معالم التنزیل میں بھی اس آیت کے نیچے لکھا ہے: ’’قال الحسن و جماعۃ وانہ یعنی ان القرآن لعلم للساعۃ‘‘کہ امام حسن اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ قرآن ’’علم للساعۃ‘‘ ہے۔ پھر تفسیر جامع البیان میں بھی اس کے ماتحت لکھا ہے: ’’وقیل الضمیر للقرآن‘‘ پس ’’انہ‘‘ کا مرجع القرآن ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ فرمایا: ’’ھذا صراط مستقیم‘‘

(الفضل ج۱۴ نمبر۲۱ ص۸، مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۲۶ء)

مسلمان: ابی علی فضل بن حسن بن فضل طبرسی نے لکھا ہے:’’قولہ عزوجل وانہ لعلم للساعۃ القرا تہ فی اشواذ قرأۃ ابن عباسq وقتادۃ والضحاک وانہ لعلم بفتح العین واللام ای امارۃ وعلامۃ والمعنی ثم رجع سبحانہ الی ذکر عیسٰیm فقال انہ لعلم للساعۃ یعنی ان نزول عیسٰیm من اشراط الساعۃ یعلم بھاقر بھا (فلا تمترن بھا) ای بالساعۃ فلا تکذبوابھا ولا تشکو افیھا عن ابن عباس وقتادۃ ومجاہد والسدی وقال ابن جریج اخبرنی ابو الزبیرانہ سمع جابر بن عبد اللہ یقول سمعت النبیa یقول ینزل عیسٰی بن مریم فیقول امیرھم تعال صل بنا فیقول ان بعضکم علی

238
بعض امراء تکرمۃ من اللہ ھذہ الامۃ راوہ مسلم فی الصحیح وفی حدیث آخر کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم وقیل ان الھا فی قولہ وانہ یعودالی القران ومعناہ ان القران لدلا لۃ علی قیام الساعۃ والبعث یعلم بہ ذالک عن الحسنv وقیل معناہ ان القرآن لدلیل الساعۃ لانہ آخر الکتب انزل علی آخرالانبیاء عن ابی مسلم‘‘

(تفسیر مجمع البیان ج۲ ص۳۳۴، مطبوعہ ایران)

نوٹ: تفسیر مجمع البیان کی اصل عبارت آپ نے ملاحظہ کی۔ مرزائی نامہ نگار کی لیاقت علمی ملاحظہ ہو کہ مفسر کا جو اپنا مذہب تھا۔ اس کو نقل نہیں کیا اور جو عبارت نقل کی اس کے بعد کے الفاظ: ’’انزل علی آخرالانبیاء عن ابی مسلم‘‘بھی چھوڑ دئیے۔ الفاظ ’’وقیل‘‘ کے معنی مرزا غلام احمد نے خود یہ کئے ہیں: ’’اور ایک قول ضعیف یہ بھی ہے۔‘‘

(الحق مباحثہ دہلی ص۵۶، خزائن ج۴ ص۱۸۶)

پس الفاظ ’’وقیل‘‘ آپ کے لئے مفید نہیں ہے اور یہی جواب تفسیر جامع البیان کے الفاظ:’’وقیل الضمیر للقرآن‘‘کے متعلق ہیں۔

قادیانی: الجواب الثانی: ’’لماضرب ابن مریم مثلا‘‘ میں مثیل مسیح مراد ہے نہ کہ اصل مسیح کیونکہ مثل کے معنی مانند، مساوی سب صفتوں میں (کریم اللغات ص۱۳۵) کے مانند و ہمتا کے ہیں۔ (منتہی الارب فی لغات العرب ج۴ ص۱۶۲) پس اس آیت میں مسیح کی مانند کسی شخص کے آنے کی پیش گوئی ہے۔ یعنی حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی ملعون) کی چنانچہ ہمارے ان معنوں کی تصدیق شرح عقائد کی مندرجہ ذیل سے بھی ہوتی ہے: ’’قال مقاتل بن سلیمان ومن تابعہ من المفسرین فی تفسیر قولہ تعالٰی (وانہ لعلم للساعۃ) قال ھوالمھدی یکون فی آخرالزمان وبعد خروجہ تکون امارات الساعۃ‘‘(دیکھو نبر اس شرح عقائد ص۴۴۷ حاشیہ) علامہ ابن سلیمان اور دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مراد مہدی ہے۔ جو آخری زمانہ میں ہوگا اور اس کے ظہور کے بعد قیامت کے نشانات ہوںگے۔ پس اس سے مراد حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ہیں نہ کہ عیسیٰ بن مریم جن کی وفات شمس النہار کی طرح واضح ہے۔‘‘

(الفضل کالم۳ ص۸، مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۲۶ء)

239

مسلمان: سورۂ زخرف کی ان آیات مقدسہ میں ’’مسیح کی مانند کسی شخص کے آنے کی پیش گوئی‘‘ نہیں ہے۔ بلکہ اس میں حضرت ’’ابن مریم‘‘ کے قیام سے پیشتر تشریف لانے کی خبر دی گئی ہے۔ جن کا نام نامی اسم گرامی ’’عیسیٰ‘‘ ہے۔ صفاتی نام ’’مسیح‘‘ ہے۔ جن کو خدا نے بنی اسرائیل کے واسطے نمونہ بنایا تھا۔ جیسا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وجعلنہ مثلاً لبنی اسرائیل‘‘(سورۃ آل عمران:۴۹)میں اسی مسیح عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں آیا ہے:’’ورسولاً الی بنی اسرائیل‘‘ یعنی اللہ نے اس کو بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کربھیجا۔ (سورۃ الصف:۶) میں آیا ہے :’’واذ قال عیسٰی ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم‘‘یعنی جب حضرت عیسیٰ ابن مریمn نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں۔ آیت مقدسہ:’’ولما ضرب ابن مریم مثلاً‘‘میں مثیل مسیح مراد نہیں ہے۔ بلکہ وہی نبی مسیح، عیسیٰ ابن مریم مراد ہے جس کا ذکر خیر (سورۃ المومنون:۵۰):’’وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ وآوینھما الٰی ربوۃ ذات قرار ومعین‘‘میں ہے۔

یہ جو کہا گیا ہے کہ ’’مثل کے معنی، مانند۔ مساوی، سب صفتوں میں سو واضح ہوکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور یہ لکھا تھا کہ: ’’اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔‘‘ (کشتی نوح ص ۴۹، خزائن ج۱۹ ص۵۳) اور یہ کہ: ’’اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حاشیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۴) حق بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح نہیں ہے۔ نہ اس کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اور نہ ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مقاتل بن سلیمان کی تفسیر سراسر غلط ہے اور صحابہi تابعینw کی تفسیر کے خلاف ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع اور آمدثانی

حضرت امام عبدالوہاب شعرانیv کی زبانی

مرزا غلام احمد قادیانی کا اعتراض

’’آیت جو عام استدلال کے طریق سے مسیح ابن مریم کے فوت ہوجانے پر دلالت کرتی ہے یہ آیت ہے: ’’وما جعلنا ھم جسدالا یاکلون الطعام وما کانوا

240

خالدین‘‘یعنی کسی نبی کا ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے کا محتاج نہ ہو اور وہ سب مر گئے کوئی ان میں سے باقی نہیں۔‘‘(مرزاقادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام ص ۳۲۵، ۳۴۸، ۳۳۸، ۴۳۹، ۶۰۴، ۶۰۵، ۶۱۲، ۶۱۳، تحفہ گولڑویہ ص۵، دافع الوسادس ص۴۵، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۱۶، ۲۱۷ پر جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ )

مرزاقادیانی کے اس اعتراض کا جواب دینے سے پیشتر میں ناظرین کی توجہ کو مرزاقادیانی کے مریدوں میں سے حکیم خدا بخش لاہوری مرزائی مصنف کتاب عسل مصفی کے ایک دھوکے کی طرف منعطف کرتا ہوں۔ حکیم خدا بخش مرزائی کے دھوکے کی تردید کرتے ہوئے مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اعتراض کا جواب بھی ساتھ ہی آجائے گا :’’وماتوفیقی الا ب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

حکیم خدا بخش مرزائی کا دھوکہ

حکیم خدا بخش مرزائی اپنی کتاب عسل مصفی ص۵۲۳ حصہ اوّل (مطبوعہ اگست ۱۹۱۳ء مطبع وزیر ہندامرتسر) کے باب آٹھویں کی سترھویں فصل میں بعنوان ’’مسیح کی وفات پر دیگر اشخاص کی شہادت‘‘ پر لکھتے ہیں: ’’شہادت امام شعرانیv لکھتے ہیں: ’’وکان یقول ان علیq بن ابی طالب رفع کما رفع عیسٰیm وسینزل عیسٰیm‘‘ وہ کہتے تھے کہ علیq ابن ابی طالب بھی اسی طرح اٹھائے گئے جس طرح عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ جیسے حضرت علی کرم اللہ وجہ اس دنیا سے وفات پاکر اٹھائے گئے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی لعنت کی موت سے بچ کر طبعی موت کے بعد آسمان پر گئے۔‘‘(طبقات جلد ثانی ص ۴۴، نیز دیکھو کتاب محقق ص ۱۱۹، پیغام صلح مورخہ ۱۷؍صفر ۱۳۴۰ھ ص۹، رسالہ تشحیذ الاذہان بابت نومبر ۱۹۲۱ء ص ۲۳)

جواب: خداوند کریم کے فضل وکرم سے حکیم خدا بخش مرزائی کے اس دھوکہ اور مغالطہ کی تردید ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ یہاں غور سے سنئے:

حضرت امام عبدالوہاب شعرانیv اپنی کتاب(طبقات الکبریٰ ج۲ ص۳۹، مطبوعہ ۱۳۱۵ھ مطبع عامرہ مصر) پر ایک بزرگ حضرت سید علی الخواصv کا ذکر کرتے ہوئے ان کا مذہب یوں نقل کرتے ہیں: ’’وکان یقول ان علی بن ابی طالبq رفع کمارفع

241

عیسٰیm وسینزل کماینزل عیسٰیm‘‘سید علی الخواصv کہا کرتے تھے۔ کہ تحقیق حضرت علیq بیٹے ابو طالب کے اٹھائے گئے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے اور حضرت علیq نازل ہوں گے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوںگے۔‘‘

مندرجہ بالا عبارت تو بتا رہی ہے کہ حضرت سید علی الخواص نامی کسی بزرگ کا قول امام عبدالوہاب شعرانیv نقل فرماتے ہیں۔ یہ نہیں کہ یہ ان کا اپنا عقیدہ ہے۔ ان الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سید علی الخواص حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت علیq کے رفع اور نزول کے قائل تھے۔ خیر یہ اس بزرگ کا اپنا عقیدہ تھا۔ امام عبدالوہاب کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ حضرت علیq کا رفع ہوا اور وہ نازل ہوںگے۔ امام عبدالوہاب شعرانیv کا اپنا مذہبدیکھنا ہو تو ان کی مشہور و معروف کتاب (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابرج۲ بحث۲۵) میں خوب غور سے پڑھو۔

حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع اور آمد ثانی

امام عبدالوہاب شعرانیv کی زبانی

اب میں ذیل میں حضرت امام عبدالوہاب شعرانیv کا عقیدہ اس بارے میں ان کی کتاب (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر ج۲ بحث۶۵ ص۱۴۶)سے نقل کرتا ہوں۔ امام صاحب فرماتے ہیں: ’’اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے تو جواب یہ ہے کہ اس کے نزول پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ’’وان من اھل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘یعنی جس وقت نازل ہوگا اور لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور معتزلہ اور فلاسفر اور یہود اور نصاری جو عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے کے منکر ہیں۔ اس وقت یہ سب لوگ ایمان لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور عیسیٰ البتہ قیامت کی نشانی ہے اور قرآن کے لفظ علم کو ’’عین‘‘ اور ’’لام‘‘ کے زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور ’’انہ‘‘ میں جو ضمیر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے:’’ولما ضرب ابن مریم مثلاً‘‘اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تحقیق مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے اور

242

حدیث میں دجال کی صفت میں آیا ہے کہ لوگ نماز میں ہوںگے کہ ناگہاں اللہ بھیجے گا حضرت مسیح ابن مریم کو، وہ اتریں گے دمشق کی مشرقی طرف سفید منارہ کے پاس۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے زرد رنگ کی دوچادریں پہنی ہوئی ہوںگی۔ دو فرشتوں کے بازوئوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوںگے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا کتاب و سنت کے ساتھ ثابت ہوگیا ۔ حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ {بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا۔}حضرت ابو طاہر قزوینیv نے کہا ہے جان کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان میں جانے کی کیفیت اور اس کے اترنے اور آسمان میں ٹھہرنے کی کیفیت اور کھانے پینے کے سوا، اس قدر ٹھہرنا یہ اس قبیل سے ہے کہ عقل اس کے جاننے سے قاصر ہے اورہمارے لئے اس میں بجز اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لائیں اور اللہ کی اس قدرت کو تسلیم کریں۔ پس اگر کوئی سوال کرے کہ اس قدر عرصہ تک کھانے پینے سے بے پرواہ رہنا یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’وما جعلنا ھم جسداً لا یا کلون الطعام‘‘یعنی ہم نے نبیوں کا ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے پینے سے مستغنی ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ طعام کھانا اس شخص کے لئے ضروری ہے جو زمین میں ہے۔ کیونکہ اس پر ہوا گرم و سرد غالب ہے۔ اس لئے اس کا کھانا پینا تحلیل ہوجاتا ہے۔ جب پہلی غذا ہضم ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اور غذا اس کے بدلے میں عنایت کرتا ہے۔کیونکہ اس دنیا غبار آلودمیں اللہ کی یہی عادت ہے۔ لیکن جس شخص کو اللہ آسمان کی طرف اٹھا لے۔ اللہ اس کے جسم کو اپنی قدرت سے لطیف اور نازک کردیتا ہے اور اس کو کھانے اور پینے سے ایسا بے پرواہ کردیتا ہے جیسے اس نے فرشتوں کو ان سے بے پرواہ کردیا ہے۔ پس اس وقت اس کا کھانا تسبیح ہوگا اور اس کا پینا تہلیل ہوگا۔ جیسا کہ آنحضرتa نے اس سوال کے جواب میں فرمایا۔ جب کہ آپ سے یہ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ a آپ کھانے پینے کے بغیر پے درپے روزے رکھتے ہیں اور ہم لوگوں کو اجازت نہیں دیتے۔ یعنی روزے وصالی کی ہم کو اجازت نہیں دیتے تو آپa نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے پاس رات گذارتا ہوں۔ میرا رب مجھ کو کھانا دیتا

243

ہے اور پانی پلاتا ہے اور مرفوع حدیث میں ہے کہ دجال کے پہلے تین سال قحط کے ہوںگے۔ پہلے سال میں آسمان تیسرا حصہ بارش کم کردے گا اور زمین تیسرا حصہ زراعت کاکم کرلے گی اور دوسرے سال میں دو حصے بارش کے کم ہوجائیں گے اور دو حصے زراعت کے کم ہوجائیں گے اور تیسرے سال میں بارش بالکل بند ہوجائے گی۔ پس اسماء بنت زیدr نے عرض کی۔ یارسول اللہ ! اب تو ہم آٹا گوندھنے سے پکنے تک بھوک سے صبر نہیں کرسکتے۔ اس دن کیا کریں گے۔ فرمایا: جو چیز اہل سماء کو کفایت کرتی ہے۔ یعنی اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرنا۔ شیخ ابو طاہر نے فرمایا کہ ہم نے ایک شخص نامی خلیفہ فراط کو دیکھا ہے کہوہ شہر ابہر میں (جو مشرقی بلاد سے ہے) مقیم تھا۔ اس نے ۲۳ سال کچھ نہیں کھایا اور دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہا تھا اور اس سے اس میں کچھ ضعف نہیں آیا تھا۔ پس جب یہ بات ممکن ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آسمانوں میں تسبیح و تہلیل کی غذا ہو تو کیا بعید ہے اور ان باتوں کا اللہ ہی عالم ہے۔‘‘

نوٹ: اس مندرجہ بالا عبارت سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ حضرت امام عبدالوہاب شعرانیv وفات مسیح علیہ السلام کے قائل نہ تھے۔ بلکہ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ چنانچہ ان کے یہ الفاظ قابل غور ہیں: ’’حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔‘‘

(الیواقیت ج۲ ص۱۴۶، بحث ۶۵)

مندرجہ بالا عبارت میں مرزاقادیانی کے اعتراض کا جواب بھی آگیا ہے۔

واضح ہو کہ اصحاب کہف بھی تو کئی سال سوئے رہے تھے بغیر کھانے پینے کے۔ جب سو کر اٹھے تو پھر ان کو طعام کی ضرورت پڑی تھی۔ سورۃ کہف میں ہے:’ ’فضربنا علی اذا نھم فی الکھف سنین عدداً ثم بعثناھم‘‘ اور حضرت یونسm نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے تھے اور ان کی تسبیح یہ تھی: ’’لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین‘‘

خادم دین رسول اللہ

عاجز حبیب اللہ

244

حلیہ مسیح

مع

رسالہ ایک غلطی کا ازالہ

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

245

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرزا قادیانی کا اعتراض

۱… مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’صحیح بخاری میں جواصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ سرخ رنگ لکھا ہے۔ جیسا کہ عام طور پر شامی لوگوں کا ہوتا ہے۔ ایسا ہی ان کے بال بھی خم دار لکھے ہیں۔ مگر آنے والے مسیح کا رنگ ہر ایک حدیث میں گندم گوں لکھا ہے اور بال سیدھے لکھے ہیں اور تمام کتاب میں یہی التزام کیا ہے کہ جہاں کہیں حضرت عیسیٰ نبیm کے حلیہ لکھنے کا اتفاق ہوا ہے تو ضرور بالالتزام اس کو احمر یعنی سرخ رنگ لکھا ہے اور اس احمرکے لفظ کو کسی جگہ چھوڑا نہیں اور جہاں کہیں آنے والے مسیح کا حلیہ لکھنا پڑا ہے تو ہر ایک جگہ بالالتزام اس کو آدم یعنی گندم گوں لکھا ہے۔ یعنی امام بخاریv نے جو لفظ آنحضرتa کے لکھے ہیں۔ جس میں ان دونوں مسیحیوںکا ذکر ہے۔ وہ ہمیشہ اس قاعدہ پر قائم رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیلی کے لئے احمر کا لفظ اختیار کیا ہے اور آنے والے مسیح کی نسبت آدم یعنی گندم گوں کا لفظ اختیار کیا ہے۔ پس اس التزام سے جس کو کسی جگہ صحیح بخاری کی حدیثوں میں ترک نہیں کیا گیا۔ بجزاس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ آنحضرتa کے نزدیک عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیلی اور تھا اور آنے والا مسیح جو اسی امت میں سے ہوگا اور ہے۔ ورنہ اس بات کا کیا جواب ہے کہ تفریق حلیتین کا پورا التزام کیوں کیا گیا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲۰، خزائن ج۱۷ ص۱۱۹)

۲… حکیم خدا بخش مرزائی لکھتا ہے: ’’جب انبیاء سابقین کی ذیل میں مسیح علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے تو ان کا حلیہ یوں ذکر کیا ہے کہ وہ سرخ رنگ، گھونگروالے بال اور فراخ صدر ہیں اور جب کبھی مسیح کو دجال کے ساتھ بیان کیا ہے تو اس کا حلیہ الگ ظاہر کیا ہے۔ یعنی وہ گندم گوں ہے، بال سیدھے لٹکے ہوئے اور میانہ قد ہیں جس سے صاف عیاں ہے کہ بخاری کے نزدیک رسول اللہ a کے خیال میں دو الگ شخصوں سے مرادہے۔ جو ایک ہی نام سے موسوم کئے گئے ہیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۵۰۸، نیز دیکھو کتاب مسک العارف ص ۳،۴، کتاب تبلیغ ہدایت حصہ اوّل ص۳۹)

246

قادیانی اعتراض کا جواب

خدا کے فضل وکرم کے ساتھ ذیل میں مندرجہ بالا قادیانی اعتراض کاجواب بطریق احسن لکھا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح ناصریm اور آنے والے مسیح قاتل دجال کے حلیے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

صحیحین کی حدیثیں مسیح ناصریm کا حلیہ

’’عن ابی عالیۃ قال حدثنا ابن عم نبیکمa قال رایت لیلۃ اسریٰ بی موسٰی رجل آدم طوالا جعدا کأنہ من رجال شنؤۃ ورایت عیسٰی رجلا مربوعا مربوع الخلق الی الحمرۃ والبیاض سبط الراس‘‘ {حضرت ابوالعالیہv سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسq نے کہا کہ نبیa نے فرمایا: دیکھا میں نے شب معراج میں حضرت موسیٰm کو، ایک مرد ہیں گندم گوں دراز قد بدن کے سخت اور مضبوط۔ گویا کہ وہ (یعنی حضرت موسیٰm) قبیلہ شنوہ کے مردوں میں سے ہیں اور دیکھا میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک مرد متوسط پیدائش مائل بسرخی وسفیدی سرکے بال سیدھے لمبے۔}(صحیح بخاری شریف ج اوّل ص۴۵۹، فتح الباری پارہ۱۳، ص۱۹۹، عمدۃ القاری ج۷ ص ۲۴۹، ارشاد الساری ج۵ ص۲۷۸، صحیح مسلم شریف ج اوّل ص۹۴)

’’اس حدیث نبوی سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ناصریm اسرائیلی نبی کا حلیہ یوں ہے کہ متوسط پیدائش، سر کے بال لمبے اور سیدھے، رنگ مائل بسرخی وسفیدی یعنی گندم گوں اور الی الحمرۃ والبیاض جو فرمایا گیا اس کے معنی صاف ظاہر ہیں کہ اسمراللون یعنی گندم گوں ہیں۔ کیونکہ جب کوئی رنگ مائل بسرخی وسفیدی ہوتا ہے اسی کو آدم یا اسمراللون کہتے ہیں۔‘‘

(محمد احسن مرزائی امروہی کی کتاب مسک العارف ص۴۱)

حضرت مسیح علیہ السلام قاتل دجال کا حلیہ

’’عن سالم عن ابیہ قال لاو اللہ ماقال النبیa لعیسٰی احمر ولکنقال بینما انانائم اطوف بالکعبۃ فاذا رجل آدم سبط الشعریھادی

247

بین رجلین ینطف رأسہ ماء او یھراق راسہ ماء فقلت من ھذا قالوا ابن مریم فذھبت التفت فاذا رجل احمر جسیم جعدراسہ اعورعینہ الیمنی کان عینہ عنبۃ طافئۃ فقلت من ھذا قالو اھذا الدجال واقرب الناس بہ شبھا ابن قطن قال الزھریv رجل من خزاعۃ ھلک فی الجاھیلۃ‘‘ {روایت ہے سالم بن عبد اللہ بن عمرq سے کہ اس نے روایت کی اپنے باپ حضرت عبد اللہ بن عمرq سے کہ کہا اللہ کی قسم ہے کہ نبیa نے ہرگز نہیں کہا کہ حضرت عیسیٰ سرخ رنگ ہے۔ لیکن فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا اور میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ خانہ کعبہ کا طواف کررہا ہوں۔ اس وقت ایک گندم گوں آدمی پر نظر پڑی جس کے بال کندھوں تک لٹکے ہوئے تھے۔ یعنی سیدھے لمبے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان چلتا تھا۔ اس کے سر سے پانی ٹپکتا تھا یا اس کے سر پر سے پانی کے قطرات گرتے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے تو جواب ملا کہ ابن مریمm ہے۔ پھر میں آگے چلا گیا تو پھر میری نظر ایک سرخ رنگ بھاری جسم والے پر پڑی جس کے بال گھونگروالے ہیں ۔اس کی داہنی آنکھ کانی ہے۔ گویا ٹینٹ نکلا ہوا ہے۔میں نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو جواب ملا یہ دجال ہے اور اس کی شکل ابن قطن سے بہت ملتی جلتی تھی۔ زہریv راوی فرماتے ہیں کہ ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک آدی تھا جو جاہلیت میں مرگیا۔}(صحیح بخاری شریف ج اوّل ص۴۸۹، فتح الباری پارہ۱۳ ص۲۷۸، ۲۷۹، عمدۃ القاری ج۷ ص۴۴۷، ارشاد الساری ج۵ ص۴۱۴تا۴۱۶، صحیح مسلم ج۱ ص۹۶، واللفظ للبخاری)

نوٹ: اس حدیث نبوی میں بتلایا گیا کہ آنے والے مسیح علیہ السلام جو قاتل دجال ہیں گندمی رنگ کا ہے اور اس کے سر کے بال سیدھے لمبے ہیں۔ امام ابوجعفر محمد ابن جریرv طبری کی تفسیر کے (پارہ سوم ص۲۹۱ وپارہ ششم ص۲۲) پرہے: ’’عن ابی ھریرۃq قال قال رسول اللہ a الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد وانا اولٰی الناس بعیسٰی بن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ خلیفتی علی امتیوانہ نازل فاذارأ تیموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الخلق الٰی الحمرۃ

248

والبیاض سبط الشعرکان رأسہ یقطروان لم یصبہ بلل بین ممصر تین فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویفیض المال ویقاتل الناس علی الاسلام حتی یھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا غیرالاسلام ویھلک اللہ فی زمانہ مسیح الضلالۃ الکذاب الدجال وتقع فی الارض الامانۃ حتی ترتع الا سود مع الابل والنمرمع البقر والذأب مع الغنم وتلعب الغلمان والصبیان بالحیات لایضربعضھم بعضا ثم یلبث فی الارض ماشاء اللہ وربما قال اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ‘‘

دیکھئے اس روایت میں بھی آنے والے مسیح عیسیٰ بن مریم کا حلیہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ متوسط پیدائش، مائل بسرخی وسفیدی یعنی گندمی رنگ اور سر کے بال سیدھے لمبے اور یہی حلیہ۔ (صحیح بخاری شریف ج اوّل ص۴۵۹، صحیح مسلم ج اوّل ص۹۴) پر حضرت مسیح علیہ السلام ناصری کا آیا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریمn مسیح ناصری ہی ہے۔

صحیح مسلم کی روایتیں مسیح ناصریm کا حلیہ

’’عن جابرq ان رسول اللہ a قال عرض علی الانبیاء فاذا موسٰی ضرب من الرجال کانٔہ من رجال شنؤۃ ورایت عیسٰی ابن مریم فاذا اقرب من رایت بہ شبھا عروۃ بن مسعود‘‘

(صحیح مسلم شریف ج اوّل ص۹۵، کتاب المعلم ج۱ ص۳۱۹، مشکوٰۃ ص۵۰۸، باب بدء الخلق وذکرالانبیاء)

’’روایت ہے حضرت جابرq سے کہ تحقیق حضرت رسول اللہ a نے فرمایا میرے روبرو انبیاء لائے گئے۔ پس ناگہاں حضرت موسیٰm دبلے پتلے ہیں۔ گویا کہ وہ قبیلہ شنؤۃ کے مردوں میں سے ہیں اور دیکھا میں نے حضرت عیسیٰ ابن مریمn کو پس ناگہاں قریب ترین ان شخصوں کا کہ دیکھئے میں نے مناسب مشابہت میں ساتھ اس کے عروہ بن مسعودqہے۔‘‘

نوٹ: اس حدیث نبوی میں حضرت مسیح ناصریm کی مشابہت حضرت عروہ

249

بن مسعودqصحابی کے ساتھ دی گئی ہے۔ نیز مرزائیوں کے رسالہ (ریویو آف ریلیجنز ج۲۲ نمبر۱۰ ص۱۷، بابت ماہ اکتوبر ۱۹۲۳ء) پر اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ آنحضرتa نے حضرت مسیح ناصریm کو عروہ بن مسعودq سے مشابہت دی تھی۔

آنے والے عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ

’’عن عبد اللہ بن عمرq قال قال رسول اللہ a یخرج الدجال فیمکث فی امتی اربعین لاادری اربعین یوما اوشھرا اوعاما فیبعث اللہ عیسٰی ابن مریم کأنہ عروۃ بن مسعود فیطلبہ فیھلکہ‘‘(صحیح مسلم شریف ج دوم ص۴۰۳، کتاب المعلم ج۶ ص۲۸۰۲، ۲۸۰۳، مشکوٰۃ ص۴۸۱، باب لاتقوم الساعۃ الا علی اشرارالناس)

’’حضرت عبد اللہ بن عمرq سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول خداa نے کہ دجال نکلے گا۔ پس رہے گا چالیس (عبد اللہ بن عمر کا قول ہے)میں نہیں جانتا چالیس سے چالیس دن مراد ہیں یا چالیس ماہ یا چالیس برس (نبیa نے فرمایا) پس اللہ بھیجے گا حضرت عیسیٰ ابن مریم کو گویا وہ عروہ بن مسعود ہیں۔ پس وہ تلاش کریں گے دجال کو اور اس کو ہلاک کرڈالیں گے۔‘‘

نوٹ: اس حدیث صحیح میں آنے والے حضرت عیسیٰ ابن مریمn کی مشابہت حضرت عروہ بن مسعودq کے ساتھ دی گئی ہے۔ چنانچہ مرزائیوں کے رسالہ(تشحیذ الاذہان ج۱۵ نمبر۸ ص۳۸، بابت ماہ اگست ۱۹۲۰ء) پر اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ عروہ بن مسعودq کے ساتھ آپa نے مشابہت اس ابن مریمm کی دی ہے جو کہ آئندہ آنے والا ہے جیسے حدیث مسلم میں آیا ہے۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریمn قاتل دجال حضرت مسیح ناصری ہی ہے۔

اب مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں کے سوال کا جواب تحقیقی اور التزامی طور پر لکھا جاتا ہے۔

250

قادیانی: ابن مریم کے آنحضرتa نے دو حلیے بیان فرمائے ہیں۔ ملاحظہ ہو کتاب بدٔ الخلق بخاری مجاہد نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی کریمa نے فرمایا کہ میں نے عیسیٰ، موسیٰ، ابراہیم کو دیکھا۔ عیسیٰ سرخ رنگ، گھنگرالے بال، چوڑے سینے والے تھے۔ اس ابن مریم کا حلیہ جسے آپ نے اسراء کی رات میں دیکھا سرخ رنگ والے گھنگرالے بال اور چوڑا سینہ فرمایا ہے اور جس کو دجال کے پیچھے طواف کرتے دیکھا اس کا حلیہ آپ نے گندمی رنگ اور سیدھے بال بتلایا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آنحضرتa نے ابن مریم کے دو حلیے بتائے ہیں۔ اس لئے وہ شخص دو ہیں۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان ص۳۴،۳۵ خلاصہ، بابت ماہ اگست ۱۹۲۰ء)

مسلمان: مسیح علیہ السلام کے دو حلیوں سے جو حدیثوںمیں مذکور ہیں دو شخصوں کے مسیح ہونے پر استدلال کرنا غلط ہے ورنہ اس طرح تو حضرت موسیٰm بھی دو ہوسکتے ہیں کیونکہ معراج والی جو حدیث میں موسیٰ کاحلیہ ایک مرد گندم گوں، دراز قد جعد مذکور ہے اور ذکر الانبیاء میں جو حدیث ہے اس میں لکھا ہے کہ ایک مرد ہے مضطرب، رجل الشعروہ بال کہ نہ بہت سیدھے ہوں اور نہ بہت گھنگرالے ہوں۔ یعنی ایک روایت میں رجل الشعر، آیا ہے اور دوسری میں جعد۔

قادیانی: حضرت موسیٰm کے آپ نے دو حلیے نہیں بتائے، بلکہ وہ حلیہ ایک ہی ہے۔ کیونکہ دونوں حدیثوں میں حضرت موسیٰm کی تشبیہ رجال شنؤۃ کے ساتھ دی گئی ہے ۔ یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہی ہیں۔

رہا یہ سوال کہ ایک حدیث میں حضرت موسیٰ کے لئے جعد آیا ہے اور دوسری حدیث میں رجل آدم اور ایک میں جسیم اور طوال آیا ہے ۔ ان کے درمیان فتح الباری والے نے یوں تطبیق دی ہے۔ نووی نے کہا کہ جعودۃ جو صفت موسیٰm میں ہے۔ اس سے جعودت جسم کی ہے یعنی جسم سخت اور مجتمع الخلق ہونا جعودت شعرمراد نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے متعلق آچکا ہے کہ آپ رجل الشعر تھے۔

(تشحیذالاذہان ص۳۵تا۳۶۷ خلاصہ، بابت ماہ اگست ۱۹۲۰ء)

مسلمان: جس طرح حافظ ابن حجر عسقلانیv اور امام نوویv نے حضرت

251

موسیٰm کے بارے میں حلیوں میں تطبیق دی ہے۔ اسی طرح انہوں نے حلیہ مسیح علیہ السلام میں بھی تطبیق دی ہے۔ ذرا غور سے سنئے کتاب (فتح الباری پارہ۱۳ ص۲۷۷، نووی شرح صحیح مسلم ج اوّل ص۹۴، کتاب المعلم ج اوّل ص۳۱۷) پر لکھا ہے:’’واما قولہa فی عیسٰیm جعد ووقع فی اکثرالروایات فی صفۃ سبط الراس فقال العلماء المراد بالجعد ھنا جعودۃ الجسم وھوا جتماعہ واکتنازعۃ ولیس المراد جعودۃ الشعر‘‘

’’اور آپa کا قول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ جعد تھے اور واقع ہوا ہے اکثر روایتوں میں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سر کے بال لمبے سیدھے ہیں۔ پس علماء نے کہا ہے کہ اس جگہ جعودۃ سے مراد جعودۃ جسم کی ہے۔ یعنی سخت اور مجتمع الخلق ہونا اور بالوں کا گھنگریالے ہونا مراد نہیں ہے۔‘‘

اس سے صاف معلوم ہوا کہ (صحیح بخاری شریف ج اوّل ص۴۸۱، ۴۸۹) پر حضرت عیسیٰ کے لئے جو لفظ جعد آیا ہے۔ اس سے مراد بالوں کا گھنگریالے ہونا نہیں ہے، بلکہ جسم کا سخت ومضبوط ہونا ہے۔

۲… مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’صحیح بخاری میں جو اصح الکتب بعدکتاب اللہ کہلاتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ سرخ رنگ لکھا ہے۔ جیسا کہ عام طور پر شامی لوگوں کا ہوتا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۱۱۹)

اور نیز مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’اور بدھ نے اپنی پیش گوئی میں اس آنے والے بدھ کا نام بگوامیتا اس لئے رکھا کہ بگواسنسکرت زبان میں سفید کو کہتے ہیں اور حضرت مسیح چونکہ بلاد شام کے رہنے والے تھے۔ اس لئے وہ بگوایعنی سفید رنگ تھے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۸۱، خزائن ج۱۵ ص۸۳)

حضرت مسیح ناصریm کے بارے میں ان ہر دو بیانوں میں تطبیق کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ سفید رنگ سے مراد دودھ کی مانند نہیں ہے اور سرخ رنگ سے مراد خون کی مانند سرخ نہیں ہے بلکہ شامی آدمی کو سرخ رنگ والا اور سفید رنگ والا بھی کہہ سکتے ہیں۔

252

ایک غلطی کا ازالہ

لوکان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعہماالا اتباعی کی تحقیق

مرزا غلام احمدقادیانی اور ان کے مرید وفات مسیح علیہ السلام پر ایک دلیل یہ بھی دیا کرتے ہیں کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ اگر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔ چنانچہ ذیل میں مرزاقادیانی اور ان کے مریدوںکی کتابوں سے عبارتیں لکھی جاتی ہیں اور اس کے بعد ان کا جواب بھی دیا جاتا ہے: ’’وماتوفیقی الاب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر

’’ایک حدیث میں آنحضرتa نے یہ بھی فرمایا کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔‘‘(تحفہ گولڑویہ ص۱۹۵، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵، ایام الصلح اردو ص۴۲، خزائن ج۱۴ ص۲۷۳، اربعین نمبر۲ ص۲۶، خزائن ج۱۷ ص۳۷۴،اتمام الحجہ ص۶، خزائن ج۸ ص۷۹، حمامۃ البشریٰ ص۱۲۷، خزائن ج۷ ص۲۵۴ کا خلاصہ مطلب)

حکیم خدا بخش مرزائی نے لکھا ہے: ’’بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بجز ہماری اطاعت کے اور کچھ چارہ نہ ہوتا۔‘‘(اپنی کتاب عسل مصفی طبع ثانی حصہ اوّل ص۲۶۸تا۲۷۰ پر بحوالہ تفسیرابن کثیر، تفسیر ترجمان القرآن، فصل الخطاب، الیواقیت والجواہر مدارج السالکین، زرقانی شرح مواہب اللدینہ)

جلال الدین سیکھوانی کی تحریر

تیسری حدیث جس میں حضرت عیسیٰ کا ذکرہے جو (فقہ اکبر ص۱۰۰، مطبوعہ مصر ایڈیشن اوّل) پر لکھی ہوئی ہے:’’ویقتدی بہ لیظھر متابعتہ لنبیناa کما اشارالی ھذا المعنیa لوکان عیسٰی حیالما وسعہ الااتباعی‘‘ یعنی مسیح موعود مہدی کی

253

اقتداء کریں گے تا یہ ظاہر کریں کہ آپ آنحضرتa کے پیرو ہیں۔ جیسا کہ آنحضرتa نے اپنی حدیث میں اس مدعا کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر عیسیٰ زندہ ہوتا تو اسے میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ پس ان کا پیروی نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔‘‘

(رسالہ مباحثہ میانی ص۵۳،۵۴)

سیدمصطفی بہائی کی تحریر

سید مصطفی بہائی لکھتا ہے: ’’رسول اکرمaفرماتے ہیں:’’لوکان عیسٰی حیالما وسعہ دینی‘‘

(کتاب المعیارالصحیح لمعرفۃ ظہور المہدی والمسیح ص۹۱،مطبوعہ ۱۳۲۸ مطبع انوار محمدی کلکتہ)

’’اگر عیسیٰ مسیح جیتے رہتے اور میرے زمانہ (بعثت) میں موجود ہوتے تو ان کو ضرور میری شریعت اور دین کی پیروی کرنی پڑتی۔‘‘

جواب: واضح ہو کہ حدیث کی کتابیں دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم کی وہ کتابیں ہیں جن میں محدثین نے اپنی اپنی سندوں سے آنحضرتa کی حدیثیں لکھی ہیں جس میں صحاح ستہ شریف، مسند احمد شریف، موطا امام مالک، موطا امام محمد، مستدرک حاکم، تصانیف امام بیہقی، وامام طبرانی، سنن دارمی، دلائل النبوت، ابونعیم ان کو مسندات کہتے ہیں۔ دوسری قسم کی وہ کتابیں ہیں جن کے لکھنے والوں نے پہلی قسم کی کتب حدیث سے حدیثیں نقل کی ہیں اور راوی کا نام اور حدیث کی کتاب کا حوالہ بھی لکھ دیا ہے جیسے مشکوٰۃ شریف، کتاب الترغیب والترہیب، ان کو مخرجات کہتے ہیں۔ مرزائی اور بہائی مولوی کے پیش کردہ الفاظ:’’لوکان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعھما الااتباعی‘‘ اور الفاظ: ’’لوکان عیسٰی حیالما وسعہ الا اتباعی‘‘حدیث کی کسی مسند یا مخرج میں آنحضرتa سے نہیں آئے ہیں۔

صحیح کی تعریف یہ ہے کہ ’’ماثبت بنقل عدل تام الضبط‘‘ جو عادل تام الضبط کی نقل سے ثابت ہو۔ یعنی جس کے راوی عادل تام الضبط ہوں۔

مرفوع اس کو کہتے ہیں:’’ما انتھی الی النبیa‘‘ جس کی سند رسول اللہ a تک پہنچتی ہو۔

254

متصل کی تعریف یہ ہے: ’’فان لم یسقط راومن الرواۃ من البین فالحدیث متصل‘‘ یعنی اگر راویوں میں سے کوئی راوی درمیان سے نہ گیا ہوتو حدیث متصل کہلاتی ہے۔ (دیکھوجلال الدین شمس سیکھوانی مرزائی کی کتاب تنقید صحیح ص۵۳،۵۴،۵۵)

صحیح مرفوع متصل کی آپ جب تعریف معلوم کرچکے تو اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کس حدیث کو اس وقت تک محل استدلال میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ تاوقتیکہ اس کا صحیح، مرفوع، متصل، ہونا نہ پایا جائے۔ اب میں ذیل میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ حدیث کی مستند کتابوں میں حدیث نبوی ان الفاظ کے ساتھ ہے: ’’لوکان موسٰی حیاماوسعہ الاتباعی‘‘حدیث کی مستند کتابوں میں الفاظ:’’لوکان عیسٰی حیالما وسعہ الاتباعی‘‘نہیں آئے ہیں۔

۱… ’’حضرت جابرqسے روایت ہے انہوں نے نقل کی حضرت رسول خداa سے، اس وقت کہ آپa کے پاس حضرت عمرq آئے اور عرض کیا کہ ہم یہودیوں کی باتیں سنتے ہیں اور ہم کو اچھی لگتی ہیں۔ کیا آپ اجازت دیں گے کہ ہم ان میں سے بعض لکھ لیں۔ اس وقت حضرت رسول خداa نے فرمایا کہ کیاتم حیران ہو جیسے یہود اور نصاریٰ حیران ہیں؟ تحقیق میں لایا ہوں تمہارے پاس روشن اور صاف شریعت: ’’ولوکان موسٰی حیا ماوسعہ الااتباعی‘‘اور اگر حضرت موسیٰm زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (اس روایت کو محدث امام بیہقی نے بھی اپنی کتاب شعب الایمان میں لکھاہے)(مسند احمد شریف ص۳۳۸،۳۸۷ج سوم، مشکوٰۃ المصابیح ص۳۰، کتاب الایمان باب الاعصام بالکتاب والسنۃ،مظاہر حق ج۱ص۸۳ طبع کراچی)

۲… ’’حضرت جابرq سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابq حضرت رسول خداa کے پاس توریت کا ایک نسخہ لے کر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ a یہ توریت کا نسخہ ہے۔ پس حضرت رسول خداa چپ رہے۔ حضرت عمرq تورات پڑھنے لگے اور

255

حضرت رسول خداa کا چہرہ انور متغیر ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقq نے کہا اے عمرq کیا تو آنحضرتa کے چہرہ مبارک کو نہیں دیکھتا۔ حضرت عمرqنے آنحضرتa کی طرف دیکھا اور عرض کیا میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔ اللہ کے غصے سے، راضی ہوئے ہم اللہ کے ساتھ جو رب ہے اور حضرت محمدa کے ساتھ جو نبی ہے اور اسلام کے ساتھ جو ہمارا دین ہے۔ آنحضرتa نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں (حضرت) محمد(a) کی جان ہے۔ اگرتمہارے واسطے حضرت موسیٰ ظاہر ہوں ۔ پس تم اس کی پیروی کرنے لگ جائو تو گمراہ ہوجائو سیدھے راستہ سے:’’لوکان موسٰی حیا وادرک نبوتی لا تبعنی‘‘ اور اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پاتے تو ضرور میری اتباع کرتے۔ (سنن دارمی شریف ج۱ ص۱۱۵، باب ماتیقی من تفسیر حدیث النبیa وقول غیرہ عندقولہ، مشکوٰۃ المصابیح ص۳۲، کتاب الایمان باب اعتصام باالکتاب والسنۃ)

۳… ’’عن عمرq بن الخطاب قال اتیت النبیa ومعی کتاب اصبتہ من بعض اھل الکتب فقال والذی نفس محمد بیدہ لو ان موسٰی کان حیا ما وسعہ الاان یتبعنی‘‘

(محدث ابونعیم اصفہانی کتاب دلائل النبوت ج اوّل ص۸، کتاب خصائص الکبریٰ ج دوم ص۱۸۷)

۴… ’’محدث ابویعلی موصلیv حضرت جابرq سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خداa نے فرمایا کہ اہل کتاب سے کچھ مت پوچھو وہ تم کو کیا خاک ہدایت دیں گے جبکہ وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں۔ تم یاتو باطل کی تصدیق کروگے یا سچ کو جھٹلائو گے۔ و اللہ حال یہ ہے کہ اگر موسیٰ تمہارے درمیان زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کرنے کے سوا کچھ چارہ نہ ہوتا۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج۲ ص۲۴۶، برحاشیہ تفسیر فتح البیان مطبوعہ مصر، تفسیر ترجمان القرآن ج۲ ص۴۶۱)

۵… ’’احمدو ابن شیبہ وبزار نے حضرت جابرqسے روایت کیا کہ تحقیق حضرت عمرq ایک کتاب لے کر آئے جس کو انہوں نے بعض اہل کتاب سے پایا تھا۔ حضرت

256

عمرq نے وہ کتاب پڑھی ۔پس آنحضرتa غصے ہوئے اور آپa نے فرمایا میں تمہارے پاس لایا ہوں صاف روشن شریعت۔ اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو کیونکہ تم کو حق کی خبر دیں گے۔ پس تم اس کی تکذیب کروگے یا خبر دیں گے باطل کے ساتھ پس تم اس کی تصدیق کروگے۔ قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر موسیٰm زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔‘‘

(کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج۱۱ ص۵۰۷)

غرض حدیث کی کتابوں (مثلاً مسند احمد، سنن دارمی، امام بیہقیv کی کتاب شعب الایمان، دلائل النبوت، بزار، ابویعلی، ابن ابی شیبہ، مشکوٰۃ شریف) میں صحیح مرفوع متصل روایت میں الفاظ:’’لوکان موسٰی حیا ماوسعہ الااتباعی‘‘ آئے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کا اسم گرامی نہیں۔

حدیث کی کسی مستند کتاب میں الفاظ: ’’لوکان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعھما الااتباعی‘‘ نہیں آئے ہیں۔ جس کتاب میں ایسے الفاظ لکھے گئے ہیں۔ بے ثبوت ہیں۔ مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں نے خود غرضی کی وجہ سے تحقیق سے کام نہیں لیا۔

اعتراض: (کتاب الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابرص۲۴) پر حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: ’’لوکان موسٰی وعیسٰی حیین ماوسعھما الااتباعی‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۲۲۹خلاصہ)

جواب: کتاب الیواقیت والجواہر میں فتوحات مکیہ کے باب دس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کتاب (یعنی فتوحات مکیہ) میں یہ عبارت نہیں ملتی بلکہ (فتوحات مکیہ کی ج اوّل باب۱۰ ص۱۳۵) پر اصل عبارت یوں مرقوم ہے: ’’وقد ابانa عن ھذا المقام بامور منھا قولہa و اللہ لوکان موسٰی حیاماوسعہ الا ان یتبعنی وقولہ فی نزول عیسٰی بن مریم فی آخرالزمان انہ یؤمنا ای یحکم فینا بسنۃ نبیناa ویکسرالصلیب ویقتل الخنزیر‘‘

257

مختصر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام کسی قابل سند روایت میں نہیں ملتا۔

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی خلاف آیات قرآنی

واضح ہو کہ قرآن مجید کی سورۃ بقرہ، سورۃ آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، مریم، انبیاء، مؤمنون، احزاب، زخرف، حدید اور صف میں حضرت عیسیٰ ابن مریمn کا ذکر خیر آیا ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔آپ نے اللہ کے حکم سے معجزات دکھائے۔ آپ اللہ کے نبی ورسول تھے۔ آپ اللہ کے پیارے مقرب اور صالح بندے تھے۔ آپ اللہ کی طرف سے ایک روح تھے۔ آپ خدا کی طرف سے ایک کلمہ تھے۔ اللہ نے آپ کو دشمنوں (یعنی یہود) کے ہاتھوںسے بچایا اور اپنی طرف اٹھایا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے آپ کو کتاب وحکمت تورات شریف اور انجیل شریف سکھائی۔ آپ نے مہدمیں باتیں کیں آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘میں آپ کا قیامت سے پیشتر دوبارہ آنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس صحابیq نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پیشتر تشریف لانا ہے۔

(دیکھو مسند احمد ج اوّل ص۳۱۷،۳۱۸)

اب میں بتاتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال قرآن مجید کی آیتوں کےخلاف ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال ایسے ہیں کہ ان کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ملتا ہے اور نہ احادیث صحیحہ نبویہ سے۔

۱… اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اذ قالت الملئکۃ یامریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسٰی ابن مریم وجیھاً فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین ویکلم الناس فی المھد وکھلا ومن الصالحین قالت رب انّی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشرقال کذالک اللہ یخلق مایشاء اذا قضی امراً فانما یقول لہ کن فیکون ویعلمہ الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ورسولا الٰی بنی اسرائیل (آل عمران:۴۵ تا۴۹)‘‘جس وقت

258

فرشتوں نے کہا اے مریم تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنی طرف سے ایک کلمہ سے بشارت دیتا ہے ۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے دنیا اور آخرت میں آبرو والا اور مقرب بندوں میں سے ہوگا اور لوگوں سے باتیں کرے گامہد میںاور ادھیڑ عمر میں، صالح بندوں میں سے ہوگا۔ حضرت مریم صدیقہ نے فرمایا اے میرے رب میرے واسطے لڑکا کیونکر ہوگا، مجھے کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا۔ کہا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جوچاہتا ہے اور عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ لکھنا اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھاوے گا اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول کرے گا۔

۲… خداتعالیٰ فرماتے ہیں:’’اذ قال اللہ یاعیسٰی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلٰی والدتک اذایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکھلا واذعلمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل (المائدہ:۱۱۰)‘‘جس وقت اے عیسیٰ بیٹے مریم صدیقہ کے یاد کر میری نعمت تجھ پر اور تیری ماں پر جس وقت کہ قوت دی میں نے تجھ کو روح القدس کے ساتھ تو باتیں کرتا تھا لوگوں سے مہد میں اور ادھیڑعمر میں اور جس وقت کہ میں نے تجھ کو لکھنا اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائی تھیں۔

نوٹ: سورۂ آل عمران اور سورۂ مائدہ کی ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن مریم کو لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائی تھی اور قرآنمجید اور احادیث صحیحہ نبویہ میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ حضرت مسیح نے لکھنا اور توریت کسی یہودی استاد سے سیکھی تھی۔

اقوال مرزاقادیانی

۱… ’’یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے سبقاً توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا۔‘‘

(کتاب نزول المسیح ص۶۰، خزائن ج۱۸ ص۴۳۸)

۲… ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد ایک یہودی تھا جس سے انہوں نے ساری بائبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا۔‘‘

(کتاب اربعین نمبر۲ ص۱۱، خزائن ج۱۷ ص۳۵۸)

۳… ’’اگر آنحضرتa پر یہ اعتراض ہوسکتے ہیں تو پھر حضرت عیسیٰ پر کس قدر

259

اعتراض ہوں گے جنہوں نے ایک اسرائیلی فاضل سے توریت کو سبقاً سبقاً اور یہودیوں کی تمام کتابوں طالمود وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا۔‘‘

(کتاب چشمہ مسیحی ص۱۷، خزائن ج۲۰ ص۳۵۷)

۴… ’’حضرت مسیح نے وہ کتاب سبقاً سبقاً ایک استاد سے پڑھی تھی۔ اس کے مقابل ہمارے سیدومولیٰ ہادی کامل امیّ تھے۔ آپ کا کوئی استاد بھی نہ تھا۔‘‘

(رپورٹ سالانہ جلسہ ۱۸۹۷ء ص۵۴، کتاب منظوالٰہی ص۴۶)

۵… ’’آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰، ۲۹۱)

۶… ’’ ہمارے نبیa نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔‘‘

(کتاب ایام صلح اردو ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)

نوٹ: قرآن مجید کی آیات مبارکہ اور احادیث صحیحہ نبویہ میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے توریت اور لکھنا سیکھا تھا۔

چیلنج: میں مرزائیوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث نبوی سے ثابت کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لکھنا اور توریت ایک یہودی استاد سے سیکھا تھا۔

یہودیت: اللہ دتہ مرزائی جالندھری نے اپنی کتاب (تفہیمات ربانیہ طبع۶ص۶۷۱ ضمیمہ) پر لکھا ہے کہ یہودکی تاریخی روایت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک استاد سے سبقاً سبقاً تورات پڑھی تھی۔‘‘

دشمن کی بات قابل اعتبار نہیں

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے: ’’جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۵، خزائن ج۱۹ ص۱۳۴)

260

معجزہ اور مسمریزم

میں فرق

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

261

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

باب اوّل

جبرائیل فرشتے کا کنواری مریم صدیقہ کے پاس آنا

۱… (سورۂ آل عمران:۴۵تا۴۹) میں ہے: ’’جس وقت فرشتوںنے کہا اے مریم! تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔ وہ دنیا اور آخرت میں آبرو والا ہو گا اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہو گا اور عیسیٰ لوگوں سے کلام کرے گا مہد میں (یعنی ماں کی گود میں شیر خوارگی کی حالت میں) اور ادھیڑ عمر میں اور صالح بندوں میں سے ہو گا حضرت مریم صدیقہ نے فرمایا کہ اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہو گا۔ حالانکہ مجھے کسی مرد نے چھوا نہیں۔ فرشتے جبرائیلm نے جواب دیا۔ اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب اللہ کچھ کام مقرر فرماتا ہے۔ پس سوائے اس کے نہیں کہ اس کو فرماتا ہے ہو، پس وہ ہو جاتا ہے اور اللہ مسیح کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھا دے گا اور اللہ اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول کرے گا۔‘‘

۲… (سورۂ مریم:۱۶تا۲۰)میں ہے: ’’اور کتاب میں حضرت مریم صدیقہ کو یاد کر جب وہ اپنے لوگوں سے شرقی مکان میں دور چلی گئی۔ پس ان سے ورے پردہ پکڑا۔ پس ہم نے اس کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا۔ پس اس نے اس کے واسطے تندرست آدمی کی صورت پکڑی۔ حضرت مریم صدیقہ نے فرمایا تحقیق میں تجھ سے رحمن کی پناہ پکڑتی ہوں۔ اگر تو پرہیز گار ہے۔ فرشتے نے جواب دیا۔ سوائے اس کے نہیں کہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔ تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا پیدا ہونے کی خوشخبری دوں۔ حضرت مریم نے فرمایا میرے ہاں لڑکا کس طرح پیدا ہو گا۔ حالانکہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا اور میں بدکار عورت بھی نہیں ہوں۔ جبرائیل فرشتے نے جواب دیا کہ اسی طرح تیرے رب نے فرمایا ہے کہ وہ میرے پرآسان ہے اور تا کہ کریںاس کو نشانی لوگوں کے واسطے اور اپنے پاس سے رحمت اور ہے امر مقرر کیا ہوا۔‘‘

262

باب دوم

حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش

(سورۂ مریم:۲۳تا۲۶) میں ہے: ’’پس دردزہ حضرت مریم صدیقہp کو درخت خرما کے تنے کی طرف لے گیا۔ آپ نے فرمایا اے کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بھلائی ہوتی پس مریم کو اس کے نیچے سے پکارا یہ کہ اے مریم مت غم کھا تحقیق تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور تو اپنی طرف ہلا کھجور کے تنے کو، تجھ پر کھجور تروتازہ گرائے گا۔ پس کھجور کھا اور آب سرد و شیریں پی اور ( اپنے ننھے بچے عیسیٰ کو دیکھ کر) اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی رکھ۔ پس اگر تو آدمیوں میں سے کسی کو دیکھے پس کہہ کہ میں نے رحمن کے واسطے روزہ نذر کیا ہے۔ پس میں آج کے دن کسی انسان سے بات نہ کروں گی۔‘‘

باب سوم

حضرت مسیح علیہ السلام کا شیر خوارگی کی حالت میں کلام کرنا

(سورۂ مریم:۲۷تا۳۴)میں ہے: ’’پس حضرت مریم صدیقہ حضرت عیسیٰ کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم میں آئی یہود نا مسعود نے کہا اے مریم! تحقیق تو عجیب چیز لائی۔ اے ہارون کی بہن! تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور تیری ماں بدکار عورت نہ تھی۔ پس حضرت مریم صدیقہp نے اپنے بچے حضرت مسیح کی طرف اشارہ کیا۔ یہود نے کہا کہ ہم کیونکر اس بچے سے کلام کریں۔ جو ابھی تیری گود میں بچہ ہے۔ حضرت عیسیٰ نے ( ماں کی چھاتی چھوڑ کر لوگوں کی طرف منہ کرتے ہوئے اللہ کے حکم سے) فرمایا: ’’انی عبد اللہ ‘‘ تحقیق میں خدا کا پیارا بندہ ہوں۔ اللہ مجھے کتاب (انجیل شریف) عطا فرمائے گا اور مجھے نبی کرے گا اور مجھے برکت والا کرے گا جہاں کہیں میں ہوں اور اللہ مجھے حکم کرے گا نماز پڑھنے کا اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کا جب تک میں زندہ رہوں اور میں اپنی ماں کے ساتھ خوش سلوک ہوں گا اور اللہ مجھے سرکش بدبخت نہیں کرے گا اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں زندہ ہو کر اٹھوں گا۔ یہ ہے عیسیٰ بیٹا مریم کا۔ بات حق ہے وہ جو اس میں شک کرتے ہیں۔‘‘

263

باب چہارم

حضرت مریم حضرت مسیحn کی جائے قرار

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’وجعلنا ابن مریم وامّہ آیۃ وآوینھا الٰی ربوۃ ذات قرار و معین (المومنون:۵۰)‘‘{اور ہم نے ابن مریم (یعنی عیسیٰ) اور اس کی ماں کو نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو پناہ دی طرف بلند زمین کے،جگہ رہنے کی اور پانی جاری کئے۔}

نوٹ: جب حضرت عیسیٰ ماں ( یعنی حضرت مریم صدیقہ) سے پیدا ہوئے اس وقت کے بادشاہ (یعنی ہیرو دیس) نے نجومیوں سے سنا کہ اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا۔ وہ دشمن ہوا۔ ان کی تلاش میں پڑا۔ ان کو بشارت ہوئی کہ اس ملک سے نکل جائو۔ نکل کر مصر کے ملک میں گئے۔ ایک گائوں کے زمیندار نے حضرت مریم کو اپنی بیٹی کر رکھا۔ جب حضرت عیسیٰ جوان ہوئے۔ اس وطن کا بادشاہ ( ہیرو دیس) مر چکا، تب پھر آئے اپنے وطن کو وہ گائوں (یعنی مقام ناصرہ) ٹیلے پر تھا اور وہاں کاپانی خوب تھا۔

(موضح القرآن ص۴۷۵)

باب پنجم

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات

(سورۂ آل عمران:۴۹) میںہے : ’’حضرت مسیح نے فرمایا تحقیق میں تمہارے پاس تمہارے خدا کی طرف سے نشان لے کر آیا ہوں۔ یہ کہ میں مٹی سے تمہارے واسطے جانور کی صورت کی مانند بناتا ہوں۔ پس میں اس میں پھونکتا ہوں پس خدا کے حکم کے ساتھ وہ پرندہ ہوتا ہے اور میں پیٹ کے جنے اندھے کو اور برص (کوڑھی) والے کو اچھا کرتا ہوں اور مردے کو زندہ کرتا ہوں ساتھ اس چیز کے کہ جو تم کھاتے ہو اور جو تم اپنے گھروں میں اکٹھا کرتے ہو۔ تحقیق اسی میں البتہ نشانی ہے تمہارے واسطے اگر تم ایماندار ہو۔‘‘

باب ششم

حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم

۱… (سورۂ آل عمران:۵۰،۵۱) میں ہے: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اور میں سچا

264

کرنے والا ہوں اس چیز کوجو میرے آگے ہے تو رات سے اور تا کہ میں تمہارے واسطے حلال کروں بعض وہ چیز کہ حرام کی گئی ہے تم پراور میں تمہارے خدا کی طرف سے تمہارے پاس نشان کے ساتھ آیا ہوں۔ پس خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ تحقیق اللہ تعالیٰ میرا رب ہے اور تمہارا پروردگار ہے۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔‘‘

۲… (سورۂ المائدہ:۷۲) میں ہے: ’’اور حضرت مسیح نے فرمایا اے بنی اسرائیل عبادت کرو اللہ کی کہ میرا پروردگار ہے اور تمہارا پروردگار ہے۔ تحقیق بات یہ ہے کہ جو کوئی شریک لائے ساتھ اللہ کے۔ پس اللہ نے اس پر بہشت حرام کی اور اس کی جگہ آگ ہے اور مشرکوں کے واسطے کوئی مدد گار نہ ہو گا۔‘‘

باب ہفتم

حضرات حواری

۱… (سورۂ آل عمران:۵۲،۵۳) میں ہے: ’’پس جب حضرت مسیح نے یہودنا مسعود سے کفر دیکھا تو فرمایا کہ مجھ کو اللہ کی طرف مدد دینے والا کون ہے۔ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ کے دین کی مدد کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ کے ساتھ ایمان لائے اور تو اس بات پر گواہ رہ کہ ہم تیرے مطیع ہیں۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے کہ تو نے اتاری اور ہم نے تیرے پیغمبر کی پیروی کی پس ہم کو شاہدوں کے ساتھ لکھ۔‘‘

۲… (سورۂ المائدہ:۱۱) میں خداتعالیٰ فرماتے ہیں:’’واذ اوحیت الی الحواریّین ان آمنوابی وبرسولی قالوا آمنا واشھد باننا مسلمون‘‘{اور جس وقت ہم نے حواریوں کی طرف وحی بھیجی یہ کہ ایمان لائو ساتھ میرے اور ساتھ رسولوں میرے کے انہوں نے عرض کیاہم ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔}

۳… (سورۂ الصف:۱۴)میں ہے: ’’اے ایماندار لوگو اللہ کے دین کے مدد گار بن جائو جیسا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نے کہا تھا حواریوں کو کہ کون ہے میری مدد کرنے والا طرف اللہ کے۔ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم خدا کے دین کی مدد کرنے والے ہیں۔ پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک جماعت نے کفر (یعنی انکار) کیا پس ہم نے ایمان داروں کی مدد کی ان کے دشمنوں پر۔ پس مومن غالب آگئے۔‘‘

265

باب ہشتم

نزول مائدہ

(سورۂ المائدۃ:۱۱۳تا۱۱۵) میں ہے: ’’جس وقت حواریوں نے عرض کیا اے عیسیٰ بیٹے مریم کے کیا تیرا پروردگار کر سکتا ہے یہ کہ ہم پر اتارے مائدہ (خوان) آسمان سے حضرت مسیح نے جواب دیا کہ خدا سے ڈرو۔ اگر تم ایماندار ہو۔ حواریوں نے عرض کیا۔ ہم ارادہ کرتے ہیں یہ کہ ہم اس میں سے کھاویں اور ہمارے دل اطمینان پکڑیں اور ہم جانیں یہ کہ البتہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا ہے اور ہم اس پر گواہ ہو جائیں۔ حضرت عیسی ابن مریمn نے دعا کی یا اللہ ہمارے پروردگار آسمان سے ہم پر خوان اتار ہمارے واسطے۔ ہووے عید ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے واسطے اور تیری طرف سے نشانی اور ہم کو رزق عطا فرما اور تو بہتر ہے رزق دینے والا۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ تحقیق میں مائدہ تم پر اتارنے والا ہوں۔ پس اس کے بعد جو کوئی تم میں سے کفر کرے۔ پس میں اس کو وہ عذاب دوں گا کہ ایسا عذاب جہانوں میں سے کسی کونہ دوں گا۔‘‘

( صحیح بات یہ ہے کہ مائندہ نازل ہوا تھا۔ ابن کثیر سوم ص۲۷۹)

باب نہم

احمد رسول اللہ a کے آنے کی بشارت

(سورۂ صف:۶) میں ہے: ’’اور جس وقت حضرت عیسیٰ ابن مریمn نے فرمایا اے بنی اسرائیل تحقیق میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف ماننے والا اس چیز کو کہ میرے آگے ہے تو رات سے اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ساتھ ایک رسول کے کہ میرے بعد تشریف لائے گا۔ اس کا ( جمالی و صفاتی) نام احمد ہو گا۔ پس جب وہ احمد رسول لوگوں کے پاس کھلے کھلے نشانات لے کر آیا۔ مخالفوں نے کہا یہ جادو ہے ظاہر۔‘‘

باب دہم

یہود کی تدبیر اور خدا کے چار وعدے

(سورۂ آل عمران:۵۴،۵۵) میں ہے: ’’اور یہود نامسعود نے تدبیر کی اور خدا نے

266

تدبیر کی اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے بچانے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں ان لوگوں سے کہ کافر ہوئے اور تیری پیروی کرنے والوں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں پھر میری طرف تم سب پھر آئو گے پھر حکم کروں گا تمہارے درمیان اس میں کہ تم اختلاف کرتے تھے۔‘‘

باب یا زدہم

حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع

(سورۂ النساء:۱۵۷تا ۱۵۹) میں ہے: ’’اور ( یہود پر لعنت ہوئی) بسبب کہنے ان کے کہ تحقیق ہم نے مار ڈالا مسیح عیسیٰ ابن مریمn کو جو رسول خدا ہونے کا مدعی تھا اور یہود نے نہ مارا اس کو اور نہ اس کو پھانسی پر چڑھایا اور لیکن شبیہ ڈالا گیا واسطے ان کے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں مگر گمان کی پیروی کرنااور یہود نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب ہے اور حکمت والا ہے اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ مسیح کے اس کی وفات سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہی دے گا۔‘‘

باب دوازدہم

حضرت مسیح علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے

(سورۂ الزخرف:۵۷تا۶۱) میں ہے: ’’اور جب حضرت ابن مریم (یعنی مسیح) مثال بیان کیا گیا ناگہاں تیری قوم کے لوگ اس سے تالیاں بجاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ نہیں بیان کرتے اس کو تیرے واسطے مگر جھگڑا کرنے کو۔ بلکہ وہ قوم ہیں جھگڑالو نہیں عیسیٰ مگر ایک بندہ کہ ہم نے اس پر انعام کیا اور کیا اس کو نمونہ بنی اسرائیل کے واسطے اور اگر ہم چاہتے البتہ ہم کرتے تم میں سے فرشتے کو زمین میں جانشین ہوتے اور تحقیق مسیح ابن مریم البتہنشانی قیامت کی ہے۔ پس اس کے ساتھ شک مت لائو اور میری پیروی کرو یہ سیدھی راہ ہے۔‘‘

نوٹ: ایک قرأت میں علم بھی آیا ہے۔

(الیواقیت والجواہر ج۲ بحث۶۵ ص۱۴۶)

267

آنحضرتa نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔

(صحیح مسلم ج۲ ص۳۹۳، ترمذی ج۲ ص۴۱، سنن ابن ماجہ ص۲۹۹)

حضرت عبد اللہ بن عباسq صحابی نے آیت: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ کا تشریف لانا ہے۔

(مسند احمد ج۱ ص۳۱۸، درمنثور ج۶ ص۲۰، ابن جریر ج۲۵ ص۹۱)

حضرت ابن عباسq نے روایت کی ہے کہ آنحضرتaنے فرمایا ہے کہ میرا بھائی عیسیٰ آسمان سے نازل ہو گا۔

(کنز العمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث۳۹۷۲۶، مسند احمد ج۶ ص۷۵، ححج الکرامہ ص۴۳)

ایک حدیث نبوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ملک شام میںنازل ہوں گے اور فلسطین میں باب لدپر وجال کو قتل کریں گے۔

(مسند احمد ج ۶ ص ۷۵)

حضرت مسیح حج کریں گے۔ حضرتaکے روضہ اقدس پر حاضر ہوں گے اور سلام کریں گے اور آپa ان کو جواب عطا فرمائیں گے۔

(ججح الکرامہ ص ۴۲۹)

آخر حضرت عیسیٰ فوت ہونے کے بعد مدینہ طیبہ میں آنحضرتa کے پاس دفن کئے جائیں گے۔

باب سیز دہم

حضرت مسیح علیہ السلام مثیل آدمm ہے

(سورۂ آل عمران:۵۹) میں ہے:’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون‘‘{تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مانند مثال حضرت آدمm کے ہے۔ اللہ نے اس کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو فرمایا ہو پسوہ ہو گیا۔}

نوٹ: نصاریٰ اس بات پر حضرتa سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں، اللہ کا بیٹا ہے۔ آخر کہنے لگے کہ اللہ کا بیٹانہیں تو تم بتائو کہ کس کا بیٹا ہے۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ آدم کا تو نہ ماں نہ باپ، عیسیٰ کا باپ نہ ہو تو کیا عجیب ہے۔

(موضح القرآن ص ۷۷)

268

باب چہار دہم

اللہ کے ا نعامات مسیح پر

(سورۂ المائدۃ:۱۱۰) میں ہے: ’’جس وقت (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرما دے گا۔ اے عیسیٰ ابن مریم یاد کر نعمت میری تیرے پراور تیری ماں پر جس وقت میں نے تیری مدد کی تھی۔ ساتھ روح القدس کے تو لوگوں سے باتیں کرتا تھا جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں اور جس وقت کہ سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور جس وقت تو مٹی سے جانور کی صورت کی طرح بناتا تھا۔ میرے حکم سے پس اس میں پھونکتا تھا۔ پس وہ پرندہ ہو جاتا میرے حکم کے ساتھ اور تو اچھا کرتا تھا اورمادرزاد اندھوں کو اور کوڑھی کو میرے حکم کے ساتھ اور جس وقت تو زندہ کرتا تھا مردوں کو میرے حکم کے ساتھ اور جس وقت کہ روک رکھا تھا۔ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو ان کے پاس معجزات لایا تھا۔ پس کافروں نے کہا نہیں یہ مگر جادو ظاہر۔‘‘

باب پانزدہم

اللہ تعالی کا سوال اور حضرت عیسیٰ کی بریت

(سورۂ المائدہ:۱۱۶تا ۱۱۹) میں ہے: ’’اور جب (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے کیاتو نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود پکڑو۔ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے یا اللہ تو پاک ہے۔ میرے واسطے زیبا نہیں یہ کہ میں کہوں وہ چیز کہ میرے واسطے حق نہیں ہے۔ اگر میں نے کہا ہو گا ان کو پس تحقیق آپ جانتےہوں گے آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے جی میں ہے۔ تحقیق آپ ہی ہیں غیبوں کے جاننے والے، میں نے ان کو نہیں کہا مگر جو کچھ کہ آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا ساتھ اس کے، یہ کہ عبادت کرو اللہ کی کہ میرا پروردگار ہے اور تمہارا رب ہے اور میں ان پرشاہد تھا جب تک میں ان میں رہا پس جب آپ نے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا تو آپ ہی ان لوگوں پر نگہبان (محافظ) رہے اور آپ ہرچیز پر گواہ ہیں۔ اگر آپ عذاب کریں ان کو پس

269

تحقیق وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ ان کو بخش دیں پس آپ غالب اور دانا ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ یہ دن ہے کہ سچوں کو فائدہ دے، ان کا سچ ان کے واسطے بہشت میں چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں، ہمیشہ اللہ راضی ہو ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ ہے مراد پانا بڑا۔‘‘

معجزہ اور مسمریزم میں فرق

معجزات حضرت عیسیٰ رسول ربانی اور اقوال مرزاقادیانی

الف… (سورۂ آل عمران:۴۹) میں ہے کہ مسیح ابن مریم نے فرمایا:’’انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیٔۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابری الا کمہ والا برص واحیی الموتٰی باذن اللہ وانبئکم بماتاکلون وماتد خرون فی بیوتکم ان فی ذالک لآیۃ لکم ان کنتم مؤمنین‘‘{یہ کہ تحقیق میں اپنے رب کی طرف سے نشان لے کر تمہارے پاس آیا ہوں (۱)یہ کہ میں تمہارے واسطے مٹی سے جانور کی صورت کی مانند بناتا ہوں۔ پس اس پرپھونکتا ہوں پس ہو جاتا ہے پرندہ جانور اللہ کے حکم کے ساتھ (۲)اور اچھا کرتا ہوں پیٹ کے جنے اندھے کو (۳)اور سفید داغ والے کو (۴)اور اللہ کے حکم کے ساتھ مردے کو زندہ کرتا ہوں (۵)اور تم کو خبر دیتا ہوں اس چیز کی کہ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو، تحقیق اس میں البتہ تمہارے واسطے نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو۔}

ب… (سورۂ مائدہ:۱۱۰) میں ہے:’’اذ قال اللہ یعیسٰی بن مریم اذکرنعمتی علیک وعلی والدتک اذایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المھد وکھلا واذعلمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل واذتخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیھا فتکون طیراباذنی وتبریٔ الاکمہ والا برص باذنی واذ تخرج الموتٰی باذنی‘‘ جس وقت(قیامت کے دن) اللہ فرمائے گا۔ اے عیسیٰ ابن مریم یاد کر میری نعمت جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کی جس

270

وقت میں نے تیری مدد کی تھی روح القدس کے ساتھ تو باتیں کرتا تھا لوگوں سے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اورجس وقت تومٹی سے جانور پرندہ کی صورت کی مانند بناتا تھا میرے حکم سے پس اس میں پھونکتا تھا۔ پس وہ ہو جاتا تھا پرندہ میرے حکم سے اور تو اچھا کرتا تھا مادرزاداندھے کو اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے اورجس وقت تو مردے کو میرے حکم کے ساتھ زندہ کرتا تھا۔

حدیث رسول ربانی

(صحیح مسلم شریف ج۲ ص۴۱۵) حضرت صہیب رومیq صحابی سے ایک روایت نبی کریمa سے آئی ہے کہ ایک ولی اللہ بندہ آپ سے پیشتر تھا۔ جس کو مشرک و ظالم بادشاہ نے پھانسی پر لٹکا کر مار دیا تھا۔ ایک ٹکڑا اس حدیث نبوی کایوں ہے: ’’وکان الغلام یبرٔی الاکمہ والابرص ویداوی الناس سائرالا دواء‘‘{وہ لڑکا اندھے اور برص والے کو اچھا کرتا تھا اور ہر قسم کی بیماری سے لوگوں کے علاج کرتا تھا۔}

نوٹ نمبر۱: کتاب (نووی شرح صحیح مسلم ج۲ ص۴۱۵، فیض الباری حصہ۱۳ ص۱۶۵، تفسیر ابن جریرپارہ سوم ص۱۷۳، تفسیر ابن کثیر ج۲ ص۱۴۳، روح المعانی ج۳ ص۱۴۹) پر لکھا ہے کہ:’’اکمہ مادرزاد ‘‘اندھے کو کہتے ہیں۔

نوٹ نمبر۲: اہل سنت والجماعت کی تفسیروں (مثلاً ابن کثیر، ابن جریر، غرائب القرآن، در منثور، روح البیان، روح المعانی، بحر المحیط، الدر القیط، النہر الماد، مظہری، خازن، مدارک معالم، ترجمان القرآن، فتح البیان، حسینی، جلالین، فتوحات الٰہیہ، تفسیر کبیر، تفسیرابی السعود، بیضاوی، سراج منیر، اکسیر اعظم، اعظم التفاسیر، فتح المنان، مراح البید) میں آیت مندرجہ بالا کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے معجزات کو لکھا گیا ہے اور تسلیم کیا گیا ہے کہ خدا وند تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادرزاد اندھے اور سفید داغ والے کو اچھا کرتے تھے اور باذن الٰہی مردہ کو زندہ کرتے تھے۔

نوٹ نمبر۳: ( ابن کثیر ج دوم ص۱۴۳،۱۴۴) پر لکھا ہے: ’’قال کثیر من العلماء بعث اللہ کل نبی من الانبیاء بمایناسب اہل زمانہ فکان الغالب علی زمان موسٰیm السحرو تعظیم السحرۃ فبعثہ اللہ بمعجزات بھرت الابصار

271

وحیرت کل سحارفلما استیقنوا انھامن عندالعظیم الجبارانقادوا للاسلام وصارو امن عباد اللہ الابرار‘‘

’’واما عیسٰیm فبعث فی زمن الاطباء واصحاب علم الطبیعت فجاء ھم من الآیات بما لا سبیل لاحدالیہ الا ان یکون مئوید امن الذی شرع الشریعۃ فمن این اللطبیب قدرۃ علی احیاء الجماد وعلی مداواۃ الاکمہ والابرص وبعث من ھوفی قبرہ رھین الی یوم التناد‘‘
’’وکذالک محمدa بعث فی زمان الفصحاء والیلفاء و تجاریدالشعراء فاتاھم بکتاب من اللہ عزوجل فلوا اجتمعت الانس والجن علی ان یأتوا بمثلہ اوبعشر سورمن مثلہ اوبسورۃ من مثلہ لم یستطیعوا ابدالوکان بعضھم لبعض ظھیرا وما ذاک الاان کلام الرب عزوجل لا یشبہ کلام الخلق ابدا‘‘

’’بہت سے علماء نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی کو نبیوں میں سے ایسے معجزات دیئے جو کہ اس زمانہ کے مناسب تھے۔ پس موسیٰm کے زمانہ میں جادو کا غلبہ اور اس کی تعظیم تھی۔ پس بھیجا اللہ تعالیٰ نے موسیٰm کو ایسے معجزات کے ساتھ جو آنکھوں پرغالب آگئے اور ہر ایک بڑے جادوگر کو حیرت میں ڈال دیا۔ پس جب ان کویقین ہو گیا کہ یہ معجزات جبار عظیم کے پاس سے ہیں تو اسلام کے تابعدار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے ہوگئے اور لیکن عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ ان کو طبیبوں اور ماہرین علم طبیعات کے زمانہ میں پس وہ ایسے معجزات لائے کہ کسی کو قدرت نہیں ہو سکتی مگر اسی کو ہو سکتی ہے جو مؤیدمن اللہ ہو،جمادات کے زندہ کرنے پر اور نابینوں کو بینا کرنے اور برص والے کو اچھا کرنے اور مردوں کے اٹھانے پر بھلا طبیب کو کیسے قدرت ہو سکتی ہے؟ اور اسی طرح محمدa ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جب کہ بڑے بڑے فصیح اور بلیغ اور فضلاء شعراء کا غلبہ تھا۔ پس ان کے پاس اللہ سے ایسی کتاب لائے کہ اگر جن اور انس جمع ہو جائیں کہ اس جیسی کتاب یادس سورتیں یا ایک ہی سورت لائیں تو کبھی اس کی قدرت نہیں پاسکتے۔ اگرچہ ایک دوسرے کے مدد گار ہوں۔ اس لئے کہ کلام الٰہی سے مخلوق کا کلام کبھی مشابہ نہیں ہوسکتا۔‘‘

272

مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال

’’اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے۔ اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے ا پنا رفیق بنایا۔ گویا اپنی صحبت میں لے کرپرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۴حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵)

مسمریزم

’’ماسوااس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزمی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آ سکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۵حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵،۲۵۶)

بقول مرزا حضرت مسیح مسمریزم کرتے تھے

’’اور یہ بات اور یقینی طورپر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گوالیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔ ‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اوّل حاشیہ ص۳۰۸،۳۰۹، خزائن ج۳ص۲۵۷)

’’اور یہ جو میں نے مسمریزمی طریق کا عمل الترب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔ یہ الہامی نام ہے اور خداتعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۲حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۹)

’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

’’اور آپ کے ہاتھ میں مکرو فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام اتھم ص۷حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

273

یہودنا مسعود کی بکواس

’’حسب بیان یہود مسیح سے کوئی معجزہ ظہورمیں نہیں آیا۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ص۲۹، بابت ماہ جنوری ۱۹۳۰ء)

دشمن کا بیان قابل اعتبار نہیں

’’جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۵، خزائن ج۱۹ ص۱۳۴)

مرزائیت

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھاہے: ’’یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘

(ست بچن ص۱۷۱حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۲۹۵)

یہودیت

’’اور بہیترے تو کہنے لگے کہ اس (یعنی یسوع) میں بدروح ہے اور دیوانہ ہے۔‘‘

(انجیل یوحنا باب:۱۰ درس:۲۰، اخبار فاروق قادیان ص۱۰، مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۳۲ء)

عمل الترب (مسمریزم) اور مرزاقادیانی

’’بہرحال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۹حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۷،۲۵۸)

محمود احمد قادیانی اور مسمریزم

’’عمل مسمریزم کایہی اصول ہے کہ توجہ ڈال کر اپنا اثر دوسرے پرڈال دیاجاتا ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی (مرزا محمود)نے فرمایا کہ مجھ کو بھی یہ علم آتا ہے۔‘‘

(الفضل ج۱۳ نمبر۱۱۲ ص۸، مورخہ ۲۱؍مئی ۱۹۲۶ء)

274

معجزہ اور مسمریزم میں فرق

۱… ’’جو کام خداتعالیٰ کی طرف سے خوارق عادت کے طور پر نبیوں کے ذریعہ سے صادر ہوں ان کو معجزات کہا جاتا ہے اور خلقت ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ جاتی ہے اور دوسرے لوگوں کے طلسمات جو بذریعہ مشق حاصل ہو سکتے ہیں عمل مسمریزم کہلاتے ہیں۔ پھر نجومی اور مسمریزم اقتداری پیش گوئیاں نہیں کر سکتے اور نہ آج تک کسی غیر نبی نے کیں۔ پھر نبیوں کے کاموں میں ثبوت ہستی باری تعالیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے اور مسمریزم کے اپنے اخلاق ایسے اعلیٰ نہیں ہوتے اور نہ ہی اپنے طلسمات سے ثبوت ہستی باری تعالیٰ دے سکتا ہے۔ بلکہ ایک دہریہ بھی مسمریزم کی مشق کر سکتا ہے مسمریزم کی مشق ہر ایک صاحب استعداد حاصل کر سکتا ہے۔ مگر معجزات کا دعویٰ ہر ایک نہیں کر سکتا۔ بلکہ مشاہدہ بتلا رہا ہے کہ خدا پر افترا ء کرنے والا جلدی خائب و خاسر ہو جاتا ہے اور پھر آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ مسمریزروں کو معجزہ دکھلانے کا دعویٰ بھی نہیں ہوتا۔کیا آپ کو کسی مسمریزم والے نے یہ کہا ہے کہ یہ نشانی میں خداتعالیٰ کی طرف سے لے کر آیا ہوں۔ اگر ایسا ہے تو اس عاجز کو بھی مطلع کریں۔ میرے خیال ناقص میں وہ تو یہی کہا کرتے ہیں کہ یہ ہماری اپنی مشق کا نتیجہ ہے۔ مسمریزم اور معجزہ میں وہی فرق ہے جو چراغ اور سورج کی روشنی میں فرق ہے۔‘‘

(بدر قادیان ج۶ ش۲۴ ص۷، مورخہ ۱۳؍جون ۱۹۰۷ء)

۲… معجزہ اور مسمریزم میں کیا فرق ہے؟

مرزا محمودنے کہا ’’مسمریزم والا جب چاہتا ہے یہ تماشا کر سکتا ہے اور اس کو ہر ایک شخص کر سکتا ہے لیکن معجزہ ہر وقت نہیں دکھا یا جا سکتااور نہ ہر شخص دیکھا سکتا ہے۔ مسمریزم سکھلایاجاسکتا اور معجزہ انہیں سکھایا جاسکتا ہے اور علمی فرق بھی ہیں۔‘‘

(اخبار الفضل ج۱۰ نمبر۵ ص۷، مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)

۳… مولوی نیاز محمد صاحب فتح پوری نے ’’معجزات انبیاء اور دیگر اعمال محیّرہ کا فرق‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون خطیب میں ۱۹۱۵ء میں چھپوایا تھا جس کا خلاصہ مطلب ذیل میں لکھا جاتا ہے: (۱)پہلا فرق تدرج کا ہے۔ عامل مسمریزم سے یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ بدوں تکمیل ضبط و خیال کے اپنا پورا اثر کسی معمول پر ڈال سکے اور انبیاء کے لئے یہ شرط نہیں۔ (۲)اعمال

275

نفسانی روحانی میں اجتماع حواس تخلیہ امور دنیا سے بے تعلقی، تشویش ظنون، ترود خاطر سے دور ہونی چاہئے۔ لیکن برخلاف اس کے انبیاءo کے ہزاروں معجزات اضطراب اور پریشانی خاطر کی حالت میں رونما ہوئے، بلکہ محاصرہ اور نرغہ اعداء میںخاص طور سے ان کا ظہور ہوا۔ (۳)جس قدرآلات و وسائل قوت نفسانی و روحانی کے بڑھانے میں آج تک معلوم ہوئے ہیں۔ انبیاءo ان میں سے کسی کے محتاج نہ تھے۔ (۴)جب کوئی عامل مسمریزم اپنا اثر کسی دوسرے پر بغرض سلب امراض پہنچاناچاہتا ہے تو اس کو کسی واسطہ و رابطہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن انبیاءo اس کے محتاج نہ تھے۔ ان کو خدا نے یہ طاقت دی تھی کہ ادھر منہ سے کہا اور ادھر ہو گیا۔ (۵)مسمریزم کے معمول کے حواس خمسہ ظاہری بالکل مسلوب ہو جاتے ہیں لیکن برخلاف اس کے انبیاءo کسی امر غائب کا معائنہ کراتے تھے تو وہ شخص اپنی معمولی حالت میں رہتا تھا۔ (۶)مسمریزم کا اثر پورا ہونے میں یہ شرط ہے کہ جس پر اثر ڈالا جائے۔ اثر یا موثر کا منکر نہ ہو لیکن انبیاءo جو جس قدر زیادہ منکر ہوتا تھا، اسی قدر زیادہ اظہار اعجاز کرتے تھے۔ (۷)کیسا ہی زبردست عامل سحرو مسمریزم اور کیسا ہی خواص حروف کا عالم کیوں نہ ہو لیکن انبیاءo پر اس کے علم وعمل کا اثر نہیں ہو سکتا اورانبیاءo کا اثر اعجاز کوئی عامل نہیں روک سکتا۔‘‘

(ازر سالہ تشحیذ الاذہان ص۲، ماہ اکتوبرو نومبر ۱۹۱۵ء)

ہندو ساد ہو مسمریزم کرتے تھے

۴… ایک صاحب نے سوا ل کیا کہ حبس دم وغیرہ کا خدایابی سے کیا تعلق ہے؟

مرزامحمود احمدقادیانی نے کہا ’’کچھ تعلق نہیں میں نے غورکیاہے کہ جب مسلمان ہندوستان میں وارد ہوئے اور انہوں نے ہندو سادہوئوں میں دیکھا کہ وہ توجہ اور مسمریزم کرتے ہیں اور لوگوں میں ان کی وجہ سے اصل معجزات اور کرامات کے متعلق اشتباہ اور شک پیدا ہو سکتا ہے تو اس شک واشتباہ کو دور کرنے کے لئے اولیاء امت نے جو ہندوستان میں آئے۔ اس کام کو بھی کیا تا کہ بتائیں کہ یہ کوئی کرامت نہیں۔ درحقیقت اس کا تصوف سے کوئی تعلق نہ تھا۔‘‘

(الفضل ج۱۰ نمبر۵ ص۷، مورخہ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ ء)

۵… ’’مسمریزم کسی استاد سے سیکھنا چاہئے۔‘‘

(الفضل ص۶، مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۲۲ء)

۶… ’’مسمریزم ایک دنیا وی علم ہے۔ اس لئے احتیاطاً واقف کاروں نے اس علم میں

276

پڑنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘

(الفضل ج۴ نمبر۳ ص۲، مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۶ء)

۷… ’’مرزاقادیانی مسمریزم نہیں جانتے تھے اور نہ پسند کرتے کہ کوئی مسمریزم کرے اور اس کو مکروہ جانتے تھے۔‘‘

(بدر قادیان ص۳ ج۸ نمبر۱۷، مورخہ ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء)

مسمریزم کا عمل کرنے والا

۸… ’’جس طرح مسمریزم کا عمل کرنے والا اپنی قوت ارادی سے معمول کے حواس ظاہری کو اپنے قابو میں کرکے اس کی قوت ارادی کو سلب کردیتا ہے اور اس طرح جو اثر چاہے معمول پر ڈال سکتا ہے۔ اسی طرح ملہم کے حواس ظاہری کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور حکمتسے اپنے قبضہ میں کرلیتا ہے۔ ‘‘

(رسالہ ریویو ص۳، بابت ماہ ستمبر۱۹۲۹ء)

مسمریزم کسبی ہے

۹… ’’مسمریزم کسبی ہے اور یہ انبیاء کی شان کے شایان نہیں کہ وہ مسمریزم سیکھتے اور اس کی مشق کرتے پھریں اور یہ بھی یاد رہے کہ حضرت مسیح نے اسے باذن و حکم الٰہی شروع کیا تھا۔‘‘

(ازالہ ص ۳۰۸، تشحیذالاذہان ج۸ نمبر۶ ص۲۸۱،۲۸۲، بابت ماہ جون ۱۹۱۳ء)

۱۰… ’’اصل خلق طیر جو کسی رنگ میں بھی خداتعالیٰ کی خلق کے مشابہ ہو، قرآن شریف سے ناممکن ہے اور دوسری خلق مسمریزم والی ہے۔ اس سے ایک نبی کی کوئی ایسی عظمت نہیں۔ ہاں! تیسری طرز سے وہ خالق ’’طیراً باذن اللہ ‘‘ ہو سکتے ہیں اور وہ سب نبیوں کا کام ہے۔‘‘

(تشحیذ الاذہان ج۸ نمبر۴ ص۱۸۹، بابت ماہ اپریل۱۹۱۳ء)

مسمریزم اور علم روحانیت

۱۱… ’’ایک دفعہ ایک بہت بڑے صوفی آپ ( یعنی مرزاقادیانی)کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئے وہ علم توجہ اور مسمریزم کے بڑے ماہر تھے۔ عرض کی کہ میرا دل چاہتا ہے کہ علم توجہ اور مسمریزم پر ایک کتاب لکھوں، مرزاقادیانی فرمانے لگے کہ صوفی صاحب اس علم سے خدا ملتا ہے؟ عرض کی نہیں، فرمایا آگے ہی لوگ لہو و لعب میں مشغول ہیں۔ اب اس نئے کھیل تماشا میں ڈال کر خدا سے غافل رکھنے کی راہیں کیوں پیدا کرتے ہیں۔ ‘‘

(پیغام صلح ص۶، مورخہ ۷؍ذی الحجہ۱۳۴۵ھ)

277

مسمریزم اچھی چیز نہیں ہے

۱۲… جناب مولوی محمد یامین احمدی داتوی نے ایک دفعہ اپنے ایک مخالف مولوی فضل حق صاحب حنفی کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’اگر آپ کے نشانات خارق عادت ثابت نہ ہوںبلکہ وہ مسمریزم اورشعبدہ بازی کے ثابت ہوں تو کیا آپ اپنی خلافت ابن مریم سے توبہ کرکے مامور من اللہ حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔‘‘

(الحکم ص۱۱، مورخہ ۷؍فروری۱۹۰۲ء)

نتیجہ: یہ نکلا کہ معجزہ اور مسمریزم میں بڑا بھاری فرق ہے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ مسمریزم میں آپ بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔ سرا سر جھوٹ ہے بھلا نبی اللہ کو مسمریزم جیسے شعبدے سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ اور یہ لکھنا بھی صحیح نہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی اس عمل الترب ( مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔ جس طرح کسی نبی یا ولی کی نسبت یہ کہنا ناجائز ہو گا کہ وہ باذن و حکم الٰہی شعبدہ بازی میں کمال رکھتا تھا۔ قرآن کریم کی سورۂ آل عمران و سورۂ مائدہ میں حضرت مسیح کے معجزات کا اقرار ہے۔

تقدیس حضرت عیسیٰ ابن مریمn رسول ربانی

ازطعن مرزا غلام احمد قادیانی

اللہ تعالی فرماتے ہیں:’’اذ قالت الملائکۃ یٰمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسٰی بن مریم وجیھاً فی الدنیا والآخرۃومن المقربین ویکلم الناس فی المھدوکھلاً ومن الصالحین (آل عمران:۴۵،۴۶)‘‘{جس وقت فرشتوں نے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی کہ اس کا نام مسیح عیسیٰ بیٹا مریم کا ہے دنیا میں اور آخرت میں عزت والا ہے اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہے اور لوگوں سے باتیں کرے گا۔ جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں اور صالح بندوں میں سے ہو گا۔}

نوٹ: قرآن مجیدکی (سورۃ البقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، مریم، الانبیاء، مؤمنون، احزاب، زخرف، حدید، صف) میں حضرت عیسیٰ کاذکر خیر آیا ہے اور بیان

278

کیا گیا ہے کہ آپ بن باپ پیدا ہوئے۔ آپ نے مہد میں باتیں کیں۔ آپ اللہ کے مقرب وصالح بندے ہیں، آپ نبی ہیں، آپ رسول ہیں، اللہ کی طرف سے ایک کلمہ ہیں، اللہ کی طرف سے ایک روح ہیں، آپ سے معجزات صادر ہوئے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے کتابوحکمت و تورات و انجیل سکھائی۔ آپ کو یہود قتل نہ کر سکے۔ اللہ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا اور سورۂ زخرف کی آیت:’’وانہ لعلم للساعۃ ‘‘ میں آپ کے قیامت سے پیشتر دوبارہ آنے کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباسq نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے۔

(مسند احمد ج۱ ص۳۱۷،۳۱۸، تفسیرابن جریرتفسیردر منثور ج۶ ص۲۰)

مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال

’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مگر اے مسلمانو! تمہارے نبیm تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے۔ جیسا کہ وہ فی الحقیقت معصوم ہیں… قرآن، انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا۔ پھر تم کس دستاویز سے شراب کو حلال ٹھہراتے ہو۔ کیا مرنا نہیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱، اخبار الحکم قادیان ص۴، مورخہ ۳۰؍مئی۱۹۰۵ء)

ب… ’’یحییٰm جو نشہ نہیں پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔‘‘

(اخبار بدر قادیان ج۱ نمبر۲ ص۱۰، مورخہ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء)

محمود احمد قادیانی کا قول

’’عرض کیا گیا حضرت مسیح موعود نے اپنی تصنیفات میں انجیل کی ایک یہ تعلیم بیان کی ہے کہ اتنی شراب مت پیئو کہ مست ہو جائو مگر انجیل میں یہ نہیں، حضور نے فرمایا حضرت مسیح موعود نے یہ انجیل سے استنباط فرمایا ہے۔ انجیل میں لکھا ہے شراب میں متوالے نہ بنو۔ اس کایہی مطلب ہے کہ اتنی شراب نہ پیئو جو بدمست کر دے۔ دوسری طرف یسوع کا شراب پینا بھی انجیل سے ثابت ہے۔ عرض کیا گیا انجیل میں شیرہ انگور پینے کا ذکر ہے شراب کا نہیں فرمایا شیرہ انگور عیسائیوں کی اصطلاح ہے۔ اسی کو شراب کہتے ہیں۔ ایک صاحب نے عرض کیا۔

279

انجیل کے انگریزی تراجم میں شیرہ انگور کی جگہ وائن کا لفظ ہے۔ جو ایک قسم کی شراب کا نامہے۔ حضور نے فرمایا یسوع مسیح کا معجزہ کے طور پرشراب بنانا بھی انجیل میں لکھا ہے۔‘‘

(اخبار الفضل ج۱۷ نمبر۴۷ ص۷، مورخہ ۱۰؍دسمبر۱۹۲۹ء)

جواب:

۱… یہ تو سچ ہے کہ یورپ کے لوگوں کو شراب نے نقصان پہنچایا ہے لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (بقول مرزاقادیانی) شراب پیا کرتے تھے۔

۲… یورپ کے لوگوں کوشراب کے علاوہ شرک و کفر،زناء کاری، تثلیث پرستی اور لحم خنزیر نے بھی نقصان پہنچایا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دامن مبارک ان تمام عیبوں سے پاک تھا۔

۳… مرزائی لوگ کہا کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے انجیلی یسوع کو برا کہا ہے۔ مگر (کشتی نوح ص ۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱) پر مرزا قادیانی نے الفاظ عیسیٰ علیہ السلام لکھے ہیں لفظ یسوع نہیں لکھا ہے۔

۴…بقول مرزاقادیانی کے حضرت عیسیٰ شراب پیا کرتے تھے۔ اس جگہ الفاظ پیا کرتے تھے صیغہ ماضی استمراری کے ہیں اور دوام اور ہمیشگی پر دال ہیں۔

۵… بقول مرزاقادیانی کے حضرت عیسیٰ شراب پیاکرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مرزا قادیانی نے یہ نہ بتلایا کہ یہ عادت ان میں دعویٰ نبوت سے پہلے تھی یا دعویٰ رسالت کے بعد تھی اور وہ بیماری کیا تھی اور اس بیماری کا علاج کسی سے کیوں نہ کرایا؟

شریعت موسوی میں شراب کی حرمت

’’اسلام سے پہلے شریعت موسوی میں شراب کی حرمت موجود تھی۔ چنانچہ بائبل بھی اس کی گواہ ہے۔ (احبار باب:۱۰،آیت:۸ تا۱۱) میں لکھا ہے۔ پھر خدا وند نے خطاب کرکے ہارون کو فرمایا کہ جب تم جماعت کے خیمے میں داخل ہو تو تم کوئی چیز جو نشہ کرنے والی ہو نہ پیجیئو نہ تو اور نہ تیرے بیٹے تا نہ ہو کہ تم مر جائو اوریہ تمہارے لئے تمہارے قرنوں میں ہمیشہ تک قانون ہے تاکہ تم حلال اور حرام اورپاک اور ناپاک میں تمیز کرو۔‘‘

(اخبار الفضل کالم۱ ج۴ ش۱۶ ص۱۲، مورخہ ۲۹؍اگست۱۹۱۶ء)

280

حضرت سلیمان نبی اللہ کا قول

’’مے مسخرہ بناتی ہے اور مست کرنے والی ہر ایک چیز غضب آلودہ کرتی ہو جوان کا فریب کھاتا وہ دانش مند نہیں ہے۔‘‘

(کتاب امثال سلیمان نبی کے باب۲۰ ویں کے درس اوّل )

حضرت عیسیٰ نے شراب منع کی

حضرت عیسیٰ نے شراب کی برائی کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا ہے: ’’دنیا کی محبت گناہوں کی جڑ ہے۔ عورتیں شیطان کا جال ہیں اور شراب برائی کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ص۴، مورخہ ۲۳؍مئی۱۹۳۰ء)

۲… ’’اخرج عبد اللہ فی زوائدہ عن جعفر بن حرفاس ان عیسٰی بن مریم قال رأس الخطٔیۃ حب الدنیا والخمر مفتاح کل شروالنساء حبالۃ الشیطن (تفسیر درمنثور ج۲ ص۲۷)‘‘ {جعفر بن حرفاس سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمn فرماتے ہیں دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ اورشراب ہر برائی کی چابی اور عورت شیطان کا پھندا ہے۔}

انجیل میں شراب کی ممانعت

’’انجیل، وید، مشرق اور مغرب کے علماء نے بھی شراب کی برائی خیال کرتے ہوئے اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ص۴، مورخہ ۲۳؍مئی۱۹۳۰ء)

نئے عہد نامے میں شرابی کی مذمت

’’فریب نہ کھائو کیونکہ حرامکار اور بت پرست اور زناء کرنے والے اور عیاش اور لونڈے باز اور چور اور لالچی اور شرابی اور گالی بکنے والے اورلٹیرے خدا کی بادشاہت کے وارث نہ ہوں گے۔‘‘

(پولوس کاپہلا خط قرنیتوں کو باب:۶ درس:۹، ۱۰)

قرآن مجید کا فرمان… شراب پینا شیطانی فعل ہے

’’اورشراب پینا تو یقینا شیطانی افعال میں سے ہے:’’انما الخمر والمیسر

281

والانصاب ولازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوا (۵:۹۲)‘‘

(اخبار فاروق قادیان ص۱۰، مورخہ ۲۸؍اپریل، ۷؍مئی۱۹۳۰ء)

رسول اللہ a کا ارشاد

’’رسول اللہ a کا ارشاد ہے کہ شراب ام الخبائث ہے۔ یعنی تمام برے کاموں کے ارتکاب کی دعوت دینے والی۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلجنزقادیان ج۲۸ نمبر۱۲ ص۲۹ حاشیہ، بابت ماہ دسمبر۱۹۲۹ء)

شرابی لوگوں کی حالت

’’شرابی لوگ روحانی عزم شجاعت اور تمام اعلی قابلیتوں کو کھو بیٹھتے ہیں۔ ‘‘

(رسالہ ریویو ص۳۰، بابت ماہ ستمبر۱۹۳۱ء)

شراب درحقیقت ایک سخت زہر ہے

مسٹر الگزینڈربراس ایم۔ڈی۔ڈی۔پی۔ایچ ماہر علم الاغذ یہ نے شراب کے متعلق اپنی تحقیقات ان الفاظ میں بیان کی ہے: ’’اس میں کچھ شبہ باقی نہیں رہا کہ شراب درحقیقت ایک سخت زہر ہے جو باریک ریشوں کو تباہ کر دیتا ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ص۷، مورخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۳۱ء)

شراب ام الخبائث ہے

’’شراب جو ام الجرائم اور ام الخبائث ہے۔ اس کی یورپ میں اس قدر کثرت ہے کہ اس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان ص۲، مورخہ۲۱؍جون ۱۹۲۵ء)

انجیل برنباس میں بریت عیسیٰ

’’تب فرشتہ نے کہا تو اس نبی کے ساتھ حاملہ ہو جا جس کو آئندہ یسوع کے نام سے پکارے گی۔ پھر اس کو شراب نشہ لانے والی چیز اور ہر ایک ناپاک گوشت سے باز رکھ۔ کیونکہ بچہ اللہ کا قدس ہے۔‘‘

(انجیل برنباس فصل اوّل آیت:۸،۹ ص۲، مطبوعہ ۱۹۱۶ء حمید یہ سٹیم پریس لاہور)

282

نوٹ: انجیل برنباس وہ کتاب ہے جس کو مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب (سرمہ چشم آریہ، کشف الغطاء، مسیح ہندوستان میں، تریاق القلوب، چشمہ مسیحی) میں معتبر مانا ہے۔

یہودیت… یہود نامسعود کی بکواس

’’یہودیوں نے اسے مے خوار یعنی شرابی کہا۔‘‘(رسالہ کسر صلیب نمبر۱ ص۲۲، ریویو آف ریلیجنز ج۱ نمبر۸ ص۳۰۸، بابت ماہ اگست۱۹۰۲ء)

مرازئیت

۱… ’’ یسوع کا شرابی کبابی ہونا تو خیر ہم نے مان لیا۔‘‘(رسالہ سراج الدین عیسائی کے چارسوالوں کا جواب ص ۴۷، خزائن ج۲ ص۳۷۳)

۲… ’’عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

دشمن کی بات معتبر نہیں

’’جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۵، خزائن ج۱۹ ص۱۳۴)

انجیل متی میں دشمنوں کا قول

’’اوروہ کہتے ہیں کہ اس پر ایک دیو ہے۔ ابن آدم کھاتا پیتا آیا اور وہ کہتے ہیںکہ دیکھو ایک کھائو اور شرابی اور محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار پر حکمت اپنے فرزندوں کے آگے راست ٹھہری۔‘‘

(انجیل متی باب:۱۱، درس:۱۸، ۱۹)

انجیلوں میں الفاظ انگور کا رس نہ شراب

یسوع نے کہا: ’’میں تم سے کہتا ہوں کہ انگور کے پھل کا رس پھر نہ پیئوں گا۔ اس دن تک تمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہت میںنبا نہ پیوئوں۔‘‘

نوٹ: اس جگہ انگریزی انجیل میں الفاظ ہیں:"FRUIT OF VINE"

283

WINE (وائن) ہے۔ اس کے معنی شراب ہیں۔ دوسرا لفظ (وائن) ہے جس کے معنی انگور ہیں۔ انجیل انگریزی میں اس مقام پر لفظ WINE نہیں ہے۔ اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ انجیل (یوحنا باب:۲) میں لکھا ہے کہ یسوع نے قانائے جلیل میں ایک شادی کے موقعہ پر پانی سے شراب بنا دی تھی تو عرض یہ ہے کہ وہاں یہ نہیں لکھا ہے کہ یسوع شراب پیا کرتے تھے۔

سخت بیہودہ اور شرمناک امر

’’خدا کے پاک نبی حضرت نوحm پر مئے نوشی کا الزام لگانا، سخت بیہودہ اورشرمناک امر ہے۔ بھلا وہ شخص جوخود نشے میں چور ہو کر اپنے آپ کو بھول جاتا ہو۔ دوسروں کی کیا اصلاح کرے گا۔‘‘(اخبار فاروق ص۹، مورخہ ۲۱؍اپریل،۷؍مئی۱۹۳۰ء میں بائبل کتاب پیدائش باب:۹ درس:۲۰ تا ۲۴ کا حوالہ دیتے ہوئے زیر عنوان، خدا کے نبیوں پر بائبل کے ناروا الزامات)

عرض حبیب

مرزاغلام احمد قادیانی کا خدا کے پاک نبی حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ لکھنا کہ وہ شراب پیاکرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ (کشتی نوح ص۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱) سخت بیہودہ اور شرمناک امر ہے۔ بھلا وہ شخص جو پرانیعادت میں مبتلا ہو۔ دوسروں کی کیا اصلاح کرے گا؟

جاہل مسلمان کا کام

بعض دفعہ مرزائی لوگ یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ چونکہ عیسائی پادریوں نے آنحضرت محمدa کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی نے بعض جگہ الزامی طور پر حضرت عیسیٰ کی نسبت سخت الفاظ لکھے ہیں۔ سواس کے جواب میں مرزاقادیانی کا کلام مندرجہ (کتاب تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۰۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۴) ذیل میں لکھتا ہوں۔ ذرا غور سے پڑھئے۔ مرزاقادیانی نے کہا: ’’بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بد زبانی کے مقابل پر جو وہ آنحضرتa کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔‘‘

284

عیسیٰؑ کا حج کرنا

مرزا قادیانی کا بغیر حج کے مرنا

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

285

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

احادیث رسولa ربانی

۱… ’’عن حنظلۃ الاسلمیv قال سمعت ابوہریرۃq یحدث عن النبیa قال والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجّااو معتمرا اولیثنّیھما (صحیح مسلم ج۱ ص۴۰۸، حجج الکرامہ ص۴۲۹)‘‘ {حضرت ابو ہریرہq حضرت نبی کریمa سے بیان کرتے ہیں کہ حضور پر نور نے ارشاد فرمایا مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے البتہ ضرورابن مریمm روحا کی گھاٹی میں لبیک پکاریں گے۔ حج کی، یا عمرہ کی، یا قرآن، کریں گے اور دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ہی ساتھ ۔}

( نیزدیکھو کتاب المعلم ج سوم ص۱۲۸۷)

۲… ’’عن حنظلۃ الاسلمیv سمع اباھریرۃq قال قال رسول اللہ a والذی نفس محمد بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجّا او معتمرا اولیثنیھما (مسند احمد ج۲ ص۲۴۰،۲۷۲،۵۱۳،۵۴۰، تفسیر درمنثور ج۲ ص۲۴۲)‘‘

۳… ’’عن حنظلۃ عن ابی ھریرۃq قال رسول اللہ a ینزل عیسٰی ابن مریم فیقتل الخنزیر ویمحوا لصلیب وتجمع لہ الصلوۃ ویعطی المال حتی لایقبل ویضع الخراج وینزل الروحاء فیحج منھا اویعتمراء اویجمعھما قال وتلا ابوھریرۃq وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیھم شہیدا فزعم حنظلۃ ان اباھریرۃq قال یؤمن بہ قبل موتہ عیسٰی فلا ادری ھذا کلہ حدیث النبیa اوشیٔ قالہ ابوہریرۃq (مسند احمد ج۲ ص۲۹۰، تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۳۵، برحاشیہ فتح البیان، درمنثور ج۲ ص۲۴۲، حجج الکرامہ ص۴۲۹)‘‘حضرت حنظلہ تابعیv سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابوہریرہq صحابی سے روایت کی ہے کہ حضور پر نورa نے ارشاد فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ پس خنزیر کو قتل کریں گے اور

286

صلیب کو مٹادیں گے اور ان کے واسطے نماز اکٹھی کی جائے گی اور دے گا مال، یہاں تک کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور خراج (جزیہ) کو بند کریں گے اور روحاء میں تشریف لائیں گے۔ اس جگہ سے حج کریں گے یا عمرہ یا دونوں کو اکٹھا کریں گے۔ حضرت حنظلہ راوی نے کہا اورحضرت ابوہریرہq نے آیت پڑھی: ’’وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیھم شہیدا‘‘پس حنظلہ نے گمان کیا کہ حضرت ابوہریرہq نے کہا کہ اہل کتاب ایمان لائیں گے حضرت عیسیٰ کے ساتھ ان کے مرنے سے پہلے۔ پس میں نہیں جانتا کہ یہ سارا کلام نبیa کا ہے یا کچھ ابوہریرہq کا کلام ہے۔

۴… ’’عن عطاء مولی ام حبیبۃ قال سمعت ا باھریرۃq یقول قال رسول اللہ a لیھبطن عیسٰی ابن مریم حکما عدلا وامامامقسطا ولیسلکن فجا حاجا اومعتمرا اولیاء تین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیہ یقول ابوھریرۃ ای بنی اخی ان رأتیموہ فقولوا ابوھریرۃ یقرئک السلام (مستدرک حاکم ج۲ ص۵۹۵، حجج الکرامہ ص۴۲۹، درمنثور ج۲ ص۲۴۵، کنزالعمال ج۷ ص۲۰۲، منتخب کنز العمال برحاشیہ، مسند احمد ج۶ ص۵۵، کنز العمال ج۱۴ ص۳۳۵ نمبر۳۸۸۵۱)‘‘{حضرت عطاء تابعیv سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہq نے کہا کہ حضرت رسول خداa نے فرمایا البتہ ضرور اترے گا۔ حضرت عیسیٰ بن مریم حاکم عادل ہو گا اور امام انصاف کرنے والا اور البتہ ضرور گزرے گا ایک راہ سے حج یا عمرہ کرتا ہوا اور البتہ ضرور میری قبر پر تشریف لائے گا اور مجھے سلام کرے گا اور میں اسے جواب دوں گا ۔ حضرت ابوہریرہq فرماتے ہیں کہ اے میرے بھتیجے اگر تم ان کو دیکھو تو کہو کہ ابوہریرہq آپ کو سلام کہتا ہے۔}

۵… ’’محدث ابویعلیv نے حضرت ابوہریرہq سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ aکو یوں فرماتے سنا ہے کہ قسم ہے اس ذات پاک کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ پھر میری قبر پر کھڑے ہو کر پکاریں گے کہ اے محمدaتو میں ان کو ضرور جواب دوں گا۔‘‘ (امام جلال الدین سیوطیv رسالہ انتباہ الاذکیا فی حیوۃ الانبیاء ص۴،۵، الحاوی ج۲ ص۱۴۸، مجمع الزوائدج۸ ص۲۱۴، الحاوی ج۲ ص۱۶۳، روح المعافی ج۲۲ ص۳۳)

287

پیش گوئی از قاضی محمد سلیمان منصورپوری

مشہور و معروف کتاب ’’رحمتہ اللعالمین ‘‘ کے مصنف حضرت مولانا مولوی قاضی محمد سلیمان صاحب نے اپنی کتاب(تائید الاسلام حصہ۲ ص۱۱۶، طبع دوم سن تصنیف۱۸۹۸ء) پر تحریر فرمایا تھا: ’’مرزاقادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر حدیث ابوہریرہq جو احمد اور ابن جریر کے نزدیک ہے شاہد ہے کہ حضرت مسیح مقام روحاء میں آ کر حج و عمرہ کریں گے۔ میں نہایت جزم کے ساتھ باآواز بلند کہتا ہوں کہ حج بیت اللہ مرزاقادیانی کے نصیب میں نہیں میری اس پیش گوئی کو سب صاحب یاد رکھیں۔‘‘

اقوال مرزاقادیانی

الف… مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’ماسوا اس کے میںآپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب دیں کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو کیا اوّل اس کایہ فرض ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کو دجال کے خطرناک فتنوں سے نجات دے یا یہ کہ ظاہر ہوتے ہی حج کو چلا جائے۔ اگر بموجب نصوص قرآن وحدیث پہلا فرض مسیح موعود کا حج کرنا ہے نہ دجال کی سرکوبی تو وہ آیات اور احادیث دکھلانی چاہئے تا ان پر عمل کیا جائے اور اگر پہلا فرض مسیح موعود کا جس کے لئے وہ بااعتقاد آپ کے مامور ہو کر آئے گا قتل دجال ہے جس کی تاویل ہمارے نزدیک اہلاک ملل باطلہ بذریعہ جحج و آیات ہے تو پھر وہی کام پہلے کرنا چاہئے۔ اگر کچھ دیانت اور تقویٰ ہے تو ضرور اس بات کا جواب دو کہ مسیح موعود دنیا میں آ کر پہلے کس فرض کو ادا کرے گا۔ کیا پہلے حج کرنا اس پر فرض ہو گا یا کہ پہلے دجالی فتنوں کا قصہ تمام کرے گا۔ یہ مسئلہ کچھ باریک نہیں ہے۔ صحیح بخاری یا مسلم کے دیکھنے سے اس کا جواب مل سکتا ہے۔ اگر رسول اللہ a کی یہ گواہی ثابت ہو کہ پہلا کام مسیح موعود کا حج ہے تو لو ہم بہرحال حج کو جائیں گے۔ ہرچہ بادا باد لیکن پہلا کام مسیح موعود کا استیصال فتن دجالیہ ہے تو جب تک اس کام سے ہم فراغت نہ کر لیں۔ حج کی طرف رخ کرنا خلاف پیش گوئی نبوی ہے۔ ہمار ا حج تو اس وقت ہو گا۔ جب دجال بھی کفر اور دجل سے بازآ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہو گا۔ دیکھووہ حدیث جو مسلم میں لکھی ہے کہ

288

آنحضرتa نے مسیح موعود اور دجال کو قریب قریب وقت میں حج کرتے دیکھا یہ مت کہو کہ دجال قتل ہو گا۔ کیونکہ آسمانی حربہ جو مسیح موعود کے ہاتھ میں ہے کسی کے جسم کو قتل نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اس کے کفر اور اس کے باطل عذرات کو قتل کرے گا اور آخر ایک گروہ دجال کا ایمان لا کر حج کرے گا۔ سو جب دجال کو ایمان اور حج کے خیال پیدا ہوں گے۔ وہی دن ہمارے حج بھی ہوں گے۔‘‘

(کتاب ’’ایام الصلح‘‘ اردو ص۱۶۸، ۱۶۹، خزائن ج۱۴ ص۴۱۶،۴۱۷)

ب… ’’ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ مرز اقادیانی حج کو کیوں نہیں جاتے۔ فرمایا: یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرتa دس سال مدینہ میں رہے۔صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا۔ مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خیال نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے ۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرارحلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تا کہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو، ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔ یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرتaپر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرتa نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔‘‘

(اخبار الحکم ج۱۱ نمبر۲۹ کالم۳ ص۱۰، مورخہ ۱۷؍اگست۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۹ ص۳۲۴،۳۲۵)

نوٹ: مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات ۲۶؍مئی۱۹۰۸ء، (۱۳۲۶ھ) کوہوئی تھی اور بیت اللہ شریف کا حج مرزاقادیانی کو نصیب نہ ہوا۔ پس دیکھئے کہ کس طرح جناب قاضی محمد سلیمان صاحب مرحوم ومغفور کی پیش گوئی پوری ہوئی۔ مرزائی صاحبان غور کریں۔

ایک اعتراض

’’حضرت پیغمبر خداa کی ایک حدیث (صحیح مسلم ج۱ ص۴۰۸) میں ہے۔ جس

289

کے الفاظ یہ ہیں:’’والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحا حاجاً اومعتمرا اویثنیھما‘‘ یعنی آنحضرتa فرماتے ہیں خدا کی قسم ہے جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم فج الروحا (مکہ ومدینہ کے درمیان) سے حج کا احرام باندھیں گے۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح موعود ضرور حج کریں گے۔ یہاں تک کہ آنحضرتa نے ان کے احرام باندھنے کی جگہ بھی بتا دی جس کے دیکھنے سے یقین ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں یہ وقوعہ ضرور ہو گا۔ یعنی حضرت مسیح موعود حج کریں گے۔ مرزاقادیانی نے حج نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی ہے کہ ان کے حق میں امن نہ تھا۔ لیکن حدیث شریف بتا رہی ہے کہ مرزاقادیانی اگر مسیح موعود ہوتے تو ان کے لئے ہر طرح خدا کے حکم اور پیغمبر خداa کی خبر سے راستہ صاف اور ہر طرح امن ہوتا۔ کیا خدا قادر قیوم اس پرقادر نہیں کہ وہ اپنے مسیح موعود کے لئے ہر قسم کی رکاوٹیں اٹھائے۔وھو علٰی کل شیء قدیر!‘‘(رسالہ ریویو آف ریلیجنزج۲۳ نمبر۹ ص۲۰، بابت ماہ ستمبر۱۹۲۴ء، بحوالہ اخبار اہل حدیث یکم؍جون ۱۹۲۳ء)

اللہ دتہ مرزائی مولوی فاضل کا جواب ناصواب

’’ناظرین! ابھی آپ پر منکشف ہو جائے گا کہ یہ اعتراض کس پایہ کا ہے:

جواب اوّل: مولوی ثناء اللہ نے:’’والذی نفسی بیدہ… الخ!‘‘ کو آنحضرتa کا قول قرار دے کر لکھا ہے کہ آپa نے مسیح موعود کایہ نشان قرار دیا ہے حالانکہ معاملہ بالکل دگرگوں ہے۔ الفاظ اس حدیث کے صراحۃً بتلاتے ہیں کہ یہ آنحضرتa ہی کے الفاظ نہیں۔چنانچہ مکمل حدیث یوں ہے: ’’عن حنظلۃ الاسلمی قال سمعت اباھریرۃq یحدث عن النبیa قال والذی نفسی بیدہ لیھلنابن مریم بفج الروحاء حاجاً اومعتمراً ویثنیھما‘‘جس کے اس جگہ مناسب عبارت یہ معنی بھی ہیں کہ حنظلہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہq کو آنحضرتa سے باتیں بیان کرتے سنا۔ ابوہریرہq نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مسیح ضرورفج الروحاء سے احرام حج یاعمرہ یاقرآن باندھیں گے۔ گویا حضرت ابوہریرۃq نے یہ کلمات مندرجہ آنحضرتaسے نقل نہیں کئے۔ بلکہ

290

دیگر بیانات سے استنباط کر کے انہوں نے اپنی طرف سے بطور قیاس بیان کئے ہیں۔ پس جب یہ الفاظ حضرت ابوہریرہq کے اپنے الفاظ ہیں تو امرتسری کی بنیاد ہی سرے سے اکھڑ جاتی ہے۔

(ریویوآف ریلیجنز ج۲۳ ش۹ ص۲۰، بابت ماہ ستمبر۱۹۲۴ء)

اقول:

۱… ’’حنظلۃ الاسلمیv قال سمعت اباھریرۃq عن النبیa قال والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا اومعتمرا اولیثنیھما (صحیح مسلم ج اوّل ص۴۰۸)‘‘ {حضرت حنظلہ اسلمی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہq سے سنا کہ وہ حضرت نبی کریمa سے روایت کرتے تھے کہ حضور پرنورa نے ارشاد فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ البتہ ضرور حضرت ابن مریم روحاء کے راستے سے احرام حج یا عمرہ و قرآن باندھیں گے۔}

قادیانی مولوی فاضل کی لیاقت علمی ملاحظہ ہولکھتا ہے: ’’یہ آنحضرتa ہی کے الفاظ نہیں‘‘ پھر لکھتا ہے: ’’ابوہریرہq نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ گویا حضرت ابوہریرہq نے یہ کلمات مندرجہ آنحضرتa سے نقل نہیں کئے۔‘‘ یہ الفاظ حضرت ابوہریرہq کے اپنے الفاظ ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ الفاظ: ’’والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم‘‘حضرت ابوہریرہq کے اپنے الفاظ نہیں ہیں بلکہ آنحضرتa کے الفاظ ہیں۔ (دیکھو صحیح بخاری ج اوّل ص۴۹۰) پر لکھا ہے: ’’ان سعید بن المسیبv سمع اباھریرۃq قال قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم (الحدیث)‘‘تحقیق حضرت سعید تابعیv نے حضرت ابوہریرہqصحابی سے سنا کہ اس نے کہا کہ حضرت رسول خداa نے فرمایا۔ مجھے اس اللہ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ البتہ ضرور تم میں حضرت ابن مریم نازل ہوں گے۔‘‘

اس حدیث نبوی کے الفاظ ہیں:’’والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم‘‘ (صحیح مسلم شریف ج۱ ص۴۰۸) پر الفاظ ہیں: ’’والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم‘‘پس یہ الفاظ حدیث نبوی کے ہیں۔ اب رہا کہ ’’ابن مریم‘‘ سے کیا مراد ہے تو (سورۂ المؤ منون:۵۰) :’’وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ وآوینھما الٰی ربوۃ ذات

291

قرار ومعین‘‘ اور کیا ہم نے حضرت ابن مریم کواور اس کی ماں کو نشانی اور ان دونوں کو پناہ دی تھی۔ ایک اونچی جگہ پر جو جائے قرار تھی اور جہاں پانی جاری تھا اور (سورۃالزخرف:۵۷):’’ولماضرب ابن مریم مثلا‘‘اور جب حضرت ابن مریم مثال کے طور پربیان کیا گیا۔ صاف ظاہر کرتی ہے کہ ’ ’ابن مریم‘‘ سے مراد حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریمn ہیں۔ کسی صحیح حدیث نبوی یا اقوال صحابہi یا تابعینw میں یہ نہیں آیا ہے کہ ایک مثیل مسیح پیدا ہو گا۔

۲… کسی نے کہا ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد، مولوی اللہ دتہ جالندھری مرزائی مولوی فاضل نے (رسالہ ریویو ج۲۳ نمبر۹ ص۲۰، بابت ماہ ستمبر۱۹۲۴ء) پر صحیح مسلم شریف کی اس روایت کے حدیث نبوی ہونے سے انکار کیا ہے اور (اخبارالفضل ج۱۶ نمبر۷۳ کالم۲،۳، ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ ۱۹۲۹ء) میں اس روایت کو حدیث نبوی قرار دیتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات سنئے (رسالہ ریویو ج۲۳ نمبر۹ ص۲۰، بابت ماہ ستمبر۱۹۲۴ء) پرحدیث نبوی کے الفاظ’’بفج الروحاء‘‘ کا ترجمہ ’’فج الروحاء‘‘ سے کیا ہے اور (اخبار الفضل ج۱۶ نمبر۷۳ کالم۲ ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ ۱۹۲۹ء) پرلکھا ہے: ’’نیزعربی زبان کے لحاظ سے ’’لیھلن بفج الروحاء‘‘ کا ترجمہ’’ فج الروحاء‘‘ سے غلط ہے۔ بلکہ’’ فج الروحاء‘‘میں چاہئے۔‘‘

۳… ’’عن حنظلۃ الاسلمیv انہ سمع اباھریرۃq یقول قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم من فج الرجاء باالحج اوالعمرۃ اولیثنیھما (مسند احمد شریف ج۲ ص۲۷۲، چھاپہ مصری)‘‘{حضرت حنظلہ تابعیv سے روایت ہے کہ اس نے سنا حضرت ا بوہریرہq صحابی سے کہ وہ کہتے تھے کہ حضرت رسول خداa نے فرمایا۔ مجھے اس اللہ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میںمیری جان ہےالبتہ ضرور حضرت ابن مریم روحاء کے راستے سے احرام حج یا عمرہ یاقرآن باندھیں گے۔}

۴… ’’عن ابی ھریرۃq ان رسول اللہ a قال لیھلن عیسٰی بن مریم بفج الروحاء باالحج اوالعمرۃ اولیثنیھما جمیعا (مسند احمد شریف ج۲ ص۵۱۳، مسند احمد ج۲ ص۵۴۰)‘‘

ان دونوں حدیثوں میں الفاظ ہیں: ’’قال رسول اللہ a ان رسول اللہ a قال‘‘پس قادیانی مولوی فاضل کی تحریر سرا سرغلط ثابت ہوئی۔

292

قادیانی: اگر بالفرض یہ حضرت مسیح موعودm کی علامت قرار بھی دی جائے تو اسی مسلم اور بخاری کی دوسری حدیث کو ساتھ ملانے سے نہ صرف مسیح ہی کی علامت حج کرنا بتائی گئی ہے۔ بلکہ دجال ملعون کے لئے بھی ایسا ہی حج طواف ثابت ہوتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۳ نمبر۹ ص۲۲، بابت ماہ ستمبر۱۹۲۴ء)

مسلمان: حدیث نبوی کے الفاظ یہ ہیں: ’’وانی اللیل عند الکعبۃ فی المنام‘‘اور مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ میں کعبے کے پاس ہوں۔

(صحیح بخاری شریف ج اوّل ص۴۸۹)

اور دوسری حدیث کے الفاظ ہیں: ’’قال بینما انا نا ئم اطوف باالکعبۃ‘‘{فرمایا میں خواب میں کعبے کا طواف کرتا تھا۔}

ان دونوں حدیثوں میں حضور پر نورa نے اپنا خواب مبارک بیان کیا ہے۔ اس واسطے شارحین حدیث نے اس حدیث کی تعبیر و تاویل بیان کی ہے۔ مگر (صحیح مسلم شریف ج۱ ص۴۰۸، مسند احمد ج۲ ص۲۴۰،۲۷۲،۵۱۳،۲۹۰، مستدرک حاکم ج۲ ص۵۹۵) پر جو حدیثیں حضرت مسیح ابن مریم کے حج کے بارے میں آئی ہیں۔ ان میں حضور پر نورa نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا۔

قادیانی: آپ ثابت کریں کہ آپ (مرزاقادیانی) کو فارغ البالی اور مرفۂ الحالی حاصل تھی۔‘‘

(رسالہ ریویو ج۲۲ نمبر۲ ص۲۸، بابت ماہ فروری۱۹۲۳ء)

مسلمان: مرزاقادیانی کے دعوے کے بعد ہزاروں لاکھوں روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔ سنئے اور غور سے سنئے۔مرزاقادیانی نے خود تحریر کیا ہے کہ:

۱… ’’اور مالی فتوحات اب تک دو لاکھ روپیہ سے بھی زیادہ ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۳۲، خزائن ج۱۸ ص۴۱۰)

۲… ’’ہزارہا کوس سے لوگ آتے ہیں اور ہزارہا روپیہ سے مدد کرتے ہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۳۵۱حاشیہ)

293

۳… ’’مجھے اپنی حالت پر خیال کرکے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ بھی ماہوار آئیں گے۔ مگر خداتعالیٰ جو غریبوں کوخاک میں اٹھاتا اور متکبروں کوخاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آ چکا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۱)

۴… ’’اگرچہ منی آرڈروں کے ذریعہ ہزارہا روپے آ چکے ہیں۔ مگر اس سے زیادہ وہ ہیں جو خود مخلص لوگوں نے آ کر دیئے اور جو خطوط کے اندر نوٹ آئے اور بعض مخلصوں نے نوٹ یا سونا اس طرح بھیجا جو اپنا نام بھی ظاہر نہیں کیا اور مجھے اب تک معلوم نہیں کہ ان کے نام کیا کیا ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۱۲حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۲۲۱)

۵… ’’اور اس وقت سے آج تک دو لاکھ سے زیادہ روپیہ آیا اور اس قدر ہر ایک طرف سے تحائف آئے کہ اگر وہ سب جمع کئے جاتے تو کئی کوٹھے ان سے بھر جاتے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۴۲، خزائن ج۲۲ ص۲۵۳،۲۵۴)

۶… ’’اور کئی لاکھ روپیہ آیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۴۲، خزائن ج۲۲ ص۳۵۵)

قادیانی: سنئے آپ (مرزاقادیانی) کو دنیا سے توفارغ البالی تھی۔ لیکن دین کے معاملے میں آپ فارغ البال نہ تھے۔ آپ نے دین کی خدمت کے لئے رات اور دن ایک کر دیا تھا۔‘‘

(ریویوآف ریلیجنز ج۲۲ ش۲ ص۲۹، بابت ماہ فروری۱۹۲۳ء)

مسلمان: دین کی خدمت کرنا حج کرنے کے منافی نہیں ہے۔ دین کی خدمت کرنے والا، تقریریں کرنے والا، مخالفوں کے مقابل پر کتابیں لکھنے والا شخص حج بھی کر سکتا ہے۔ دیکھئے حنفی علماء میں سے جناب مولانا مولوی محمد اشرف علی صاحب چشتی تھانویv اور مولانا مولوی احمد علی صاحب قادری لاہوریv، جناب مولانا مولوی احمدرضا خاں صاحب حنفی قادری بریلوی مرحوم اور اہل حدیث میں سے جناب قاضی محمد سلیمان صاحب مرحوم و مغفور اور جناب مولانا مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری ؒ (جنہوں نے ستر کے قریب کتابیں عیسائیوں، آریوں، مرزائیوں، نیچریوں اور چکڑالویوں کی تردید میں لکھی ہیں) نے دین کی خدمت تحریروں اور تقریروں سے کی ہے اور حج بیت اللہ کا بھی کیا ہے۔

294

قادیانی: مخفی نہ رہے کہ آپ(مرزاقادیانی) کے نزول کی غرض جو قرآن مجید واحادیث میں بتائی گئی ہے۔ صلیبی مذہب کا دلائل سے پاش پاش کرنا اور دین اسلام کا ادیان باطلہ پر غالب کرکے دکھانا ہے۔ اس لئے آپ پر لازم ہی یہی تھا کہ آپ اس اہم کام کی طرف پہلے متوجہ ہوتے۔‘‘

(ریویو ج۲۲ش۲ ص۲۹، بابت ماہ فروری۱۹۲۳ء)

مسلمان: قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیa نے صلیبی مذہب کو دلائل سے پاش پاش کیا ہے اور یہوداور مشرکین عرب کے عقائد کی خوب تردید کی ہے اور بیت اللہ شریف کاحج بھی کیا ہے۔ مرزاقادیانی کو حج نصیب نہ ہوا۔

قادیانی: ’’قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے حضرت مرزاقادیانی کا مسیح موعوداور ابن مریم ہونا اظہر من الشمس ہے اور دوسری طرف سے حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں۔ کیونکہ آپ نے حج نہیں کیا تو یہ حدیث بوجہ معارض ہونے قرآن مجید اوراحادیث صحیحہ کے ساقط عن الاعتبار ہے۔ اس لئے قابل قبول نہیں ہو سکتی، کیونکہ جو حدیث قرآن مجید کے مخالف و معارض ہو۔ اس کے متعلق آنحضرتa کا فیصلہ ہے کہ اس کو رد کرو۔‘‘(ریویو ج۲۲ ش۲ ص۳۴، بابت ماہ فروری۱۹۲۳ء، ریویو ج۲۳ش۴ص۶، بابت ماہ اپریل۱۹۲۴ء)

مسلمان: مرزا غلام احمدقادیانی کا دعویٰ تھاکہ ’’میں مسیح موعود ہوں۔‘‘

(نزول المسیح ص۴۸، خزائن ج۱۸ ص۴۲۷)

اس کی تشریح مرزاقادیانی نے یوں کی کہ: ’’مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔ بلکہ مجھے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔‘‘(اشتہار مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء، تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰، عسل مصفی ج۲ ص۵۲۸)

اس کے علاوہ مرزاقادیانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ’’اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۴۹، خزائن ج۱۹ ص۵۳)

میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید کی کسی آیت قطعیۃ الدلالت، نص صریح میں اور کسی حدیث صحیح مرفوع متصل میں کسی مثیل مسیح کے آنے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ مثیل مسیح کے الفاظ کسی

295

صحیح حدیث مرفوع یا موقوف میں نہیں آئے ہیں۔ آنحضرتa نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایک مثیل مسیح اس امت میں سے آئے گا۔ البتہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبو یہ میں الفاظ عیسیٰ، مسیح، ابن مریم، عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم، اس نبی و رسول کے لئے آئے ہیں جن کی والدہ ماجدہ حضرت مریم صدیقہ تھیں۔ جو بن باپ پیدا ہوئے تھے۔ جن پر انجیل اتری تھی، صحاح ستہ، مسند احمد، کنزالعمال اور مشکوۃوغیرہ کتب احادیث میں تیس یا اس سے زیادہ حدیثوں میں مسیح موعودکے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ مگر الفاظ مسیح ابن مریم، عیسیٰ بن مریم، ابن مریم، مسیح، عیسیٰ، روح اللہ عیسیٰ آئے ہیں اور یہ الفاظ ’’یأتی مثیل المسیح منکم‘‘آنحضرتa نے نہیں فرمائے جب بنیادہی پکی نہیں توعمارت کب کھڑی ہو سکتی ہے۔ اگر حضرت مسیح ابن مریم وفات یافتہ ہوتے توآنحضرتm ان کے آنے کی خبر نہ دیتے اور مرزاقادیانی مثیل مسیح نہیں ہیں اور آپ کو ان کے ساتھ ہر ایک پہلو سے تشبیہ بھی نہیں ہے۔

قادیانی: یہ حدیث صحیح مسلم کتاب الحج میں مذکور ہے۔ تمام الفاظ یہ ہیں:’’والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً اومعتمرا اولیثنیھما‘‘ ان الفاظ میں کہیں مذکور نہیں کہ بعد نزول یہ واقعہ ہو گا یا آمد ثانی میںوہ حج کریں گے۔‘‘

(الفضل ج۱۶ نمبر۷۳ کالم۱،۲ ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ۱۹۲۹ء)

مسلمان: ’’اور آنحضرتaنے فرمایاہے: ’’کلامی یفسر بعضہ بعضا‘‘کہ میرے کلام کے بعض حصے دوسرے بعض کی تفسیر کرتے ہیں۔‘‘

( اخبار الفضل ج۱۶ نمبر۷۳ کالم۳ ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ۱۹۲۹ء)

سو ذرا غور سے سنئے کہ:’’عن حنظلۃ عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a ینزل عیسٰی بن مریم فیقتل الخنزیر ویمحوا الصلیب وتجمع لہ الصلٰوۃ ویعطی المال حتٰی لا یقبل ویضع الخراج وینزل الروحاء فیحج منھا اویعتمر ویجمعھما قال وتلا ابوھریرۃq ان من اھل الکتاب الایؤمننّ بہ قبل موتہ فزعم حنظلۃ ان ابا ھریرۃq قال یؤمن قبل موت عیسٰی فلا ادری ھذا کلہ حدیث النبیa اوشیٔ قالہ ابوھریرۃq‘‘

(مسند احمد شریف ج دوم ص۲۹۰)

296

اس حدیث نبوی سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم بعد نزول حج کریں گے۔

قادیانی: حضرت ابوہریرہq اس کے راوی ہیں اورالفاظ: ’’حاجا او متعمرا اولیثنیھما‘‘میں ’’یا۔ یا‘‘ کے تکرار سے اس کی محفوظیت ظاہر ہے۔

(الفضل ایضاً ص۷ کالم۱، مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۲۹ء)

مسلمان: ذرا اپنے گھر کی بھی خبر لیجئے۔ کتاب (ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ص۹۷،خزائن ج۲۱ ص۲۵۸) میں ہے: ’’اور تیس برس کی مدت گذر گئی کہ خدا نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہو گی اوریا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔‘‘

قادیانی: حدیث نبوی کا ہر گز یہ منشا نہیں کہ مسیح موعود ’’فج الروحاء‘‘ سے احرام باندھیں گے اور یہ بات بعد نزول ’’من السماء‘‘ ہو گی۔ اگر یہ مطلب ہوتا تو اس حدیث میں کوئی لفظ تو ایسا ہوتا جوآمد ثانی یا بعد نزول پر صراحتاً یا اشارتاً دلالت کرتا۔ نیز عربی زبان کے لحاظ سے ’’لیھلن بفج الروحاء‘‘ کا ترجمہ ’’فج الروحاء‘‘ سے غلط ہے بلکہ ’’فج الروحاء‘‘ میں، چاہئے اگر حضورm کا منشاء مبارک یہ ہوتا کہ ’’فج الروحاء‘‘ سے تلبیہ شروع کریں گے یا کرتے ہیں تو ’’من فج الروحاء‘‘ فرماتے۔

(الفضل کالم۲ ج۱۶ نمبر۷۳ ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ۱۹۲۹ء)

مسلمان:

الف… امام نوویv نے لکھا ہے: ’’وھذا یکون بعد نزول عیسٰی من السماء فی آخرالزمان‘‘

(شرح صحیح مسلم ج۲ ص۴۰۸)

ب… ’’احمد بن جنبلv نے ابوہریرہq سے روایت بیان کی ہے کہ رسولa نے فرمایا کہ ابن مریم اترے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور صلیب کو محو کرے گا اور نماز اس کے لئے جمع کی جائے گی اور مال دے گا۔ لیکن قبول کوئی نہیں کرے گا اور خراج اٹھا دے گا اور روحا میں اترے گا اور وہاں حج یا عمرہ کرے گا یا دونوں کو جمع کرے گا۔‘‘(مرزائیوں کی مشہور و معروف کتاب عسل مصفی حصہ اوّل ص۶۰۶، بحوالہ تفسیر روح المعانی ج۳ ص۲۱۳، کنزالعمال ج۷ ص۲۶۸)

پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نزول فرمانے کے بعد حج کریں گے۔

297

ج… دوسرے اعتراض کا جوا ب یہ ہے کہ حدیث نبوی میں ’’من فج الروحاء‘‘ بھی آیا ہے ۔ جیسا کہ (مسند احمد شریف ج۲ ص۲۷۲) پر ہے :’’عن حنظلۃ الاسلمیv انہ سمع ابا ہریرہq یقول قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم من فج الروحاء بالحج او العمرۃ اولیثنیھما‘‘

قادیانی: ’’حضرت خلیفہ المسیح اوّل(نورالدین نائی) اس کی تطبیق یوں فرماتے تھے کہ اس حدیث میں مضارع بمعنی ماضی استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد آنحضرتa کا وہ کشف ہے، جس میں آپ نے حضرت موسیٰm اور حضرت یونسm کوحج کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ویسے ہی ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آپ نے احرام باندھے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ (رسالہ ریویو ج۲۳ نمبر۴ ص۲، بابت ماہ اپریل ۱۹۲۴ء، ریویو ج۲۲ نمبر۲ ص۳۴، بابت ماہ فروری۱۹۲۳ء، الفضل ج۱۶ نمبر۷۳ ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ۱۹۲۹ء)

مسلمان:بے شک (مشکوٰۃشریف ص۵۰۸، باب بدٔالخلق و ذکر الانبیاء فصل اوّل) میں حضرت ابن عباسq سے بحوالہ صحیح مسلم ایک روایت آئی ہے کہ آنحضرتa نے وادی ارزق میں حضرت موسیٰm کو اور وادی ہرشے میں حضرت یونسm کو لبیک کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگریہ آپ نے کشفی حالت میں دیکھا جیسا کہ الفاظ: ’’قال کأنی انظر الٰی موسٰی‘‘(گویا میں دیکھتا ہوں حضرت موسیٰ کی طرف) اور الفاظ: ’’قال کأنی انظر الٰی یونس‘‘(فرمایا گویا میں دیکھتا ہوںحضرت یونس کی طرف) اس پر دال ہیں۔ مگر (صحیح مسلم ج اوّل ص۴۰۸، مسند احمد ج۲ ص۲۷۲، ۲۹۰،۵۱۳،۵۴۰، مستدرک حاکم ج۲ ص ۵۹۵،کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹ نمبر۳۹۷۲۶) کسی جگہ یہ الفاظ نہیں ہیں: ’’قال کأنی انظر الٰی عیسٰی‘‘پس حضرت موسیٰ کلیم اللہ اورحضرت یونس نبی اللہ کا واقعہ پیش کرنا صحیح جواب نہیں ہے۔

298

قادیانی: ’’آنحضرتa نے جس طرح وادی ارزقا سے گزرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو حج کے لئے جاتے دیکھا۔ ثنیہ ہرشے میں حضرت یونس کو لبیک کہتے سنا۔ ایساہی حضور نے ’’فج الروحاء‘‘سے گزرتے حضرت مسیح کو لبیک کہتے سنا اور ذکر فرمایا جسے راوی نے مسلم شریف کے مندرجہ بالا الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ اس صورت میں حدیث مذکور کے صحیح لفظی معنی بغیر کسی تاویل کے یہ ہوں گے کہ بخدا ابن مریم ’’فج الروحاء‘‘میں حج یا عمرہ یا ہر دو کے لئے لبیک لبیک کہتے ہیں؟

(الفضل ج۱۶ نمبر۷۳ ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ۱۹۲۹ء)

مسلمان: ’’آنحضرتaنے فرمایا ہے:کلامی یفسر بعضہ بعضا‘‘کہ میرے کلام کے بعض حصے دوسرے بعض کی تفسیر کرتے ہیں۔‘‘ (الفضل ج۱۶ نمبر۷۳ کالم۳ ص۷، مورخہ ۱۹؍مارچ ۱۹۲۹ء) مسند احمد شریف اور مستدرک حاکم میں جو روایتیں آنحضرتa سے اس بارے میںآئی ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ قادیانی مولوی کا ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم نزول کے بعدحج کریں گے۔ (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹ حدیث:۳۹۷۲۶، منتخب کنزالعمال ج۶ ص۵۶، حج الکرامہ ص۴۲۳) میں حدیث نبوی ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اتریں گے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ خود مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۸۸، خزائن ج۷ ص۳۱۲) میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ مگر الفاظ:’’من السماء‘‘نقل نہیں کئے ہیں۔ اس جگہ مرزاقادیانی نے ا مانت سے کام نہیں لیا ہے اور قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا ہے: ’’وما کان لنبی ان یغل‘‘ یعنی کسی نبی کے لئے یہ جائز نہیں کہ خیانت کرے۔ اس معیار قرآنی کی رو سے مرزاقادیانی اپنے دعوئوں میں جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔

قادیانی: ’’ فج‘‘ کے معنی راستہ کے ہیں اور ’’روحاء‘‘ سے مراد راحت والا یعنی آرام کا راستہ مراد اسلام ہے۔ یعنی مسیح موعود اسلام کے راستہ میں کمر باندھے گا۔ عمرہ اور حج میں آپ نے تردد ظاہر کیا ہے۔ یعنی آیا مسیح کے ذریعہ جلالی تکمیل ہو گی یا جمالی یادونوں جمع کرے گا۔ جمالی اور جلالی دونوں رنگ میں آئے گا۔ اوّل یہ ایک آنحضرتa کا کشف ہے جو تعبیر طلب ہے… پس آنحضرتa فرماتے ہیں کہ جب مسیح ابن مریم آئے گا تو اس

299

پر خداتعالیٰ کی طرف سے فیوض وانوار نازل ہوں گے اور اسے علم لدنی عطا کیا جائے گا اور اسرار شریعت اس پر کھولے جائیں گے۔ جس کی وجہ سے کوئی مخالف آپ پر غالب نہیں آ سکے گا اور آپ کے ذریعہ سے دین اسلام کا ادیان باطلہ پر غلبہ ظاہر ہو گا اور آپ کو دو بیماریاں ہوں گی۔ جیسا کہ حدیث میں ان بیماریوں کو دو زرد چادروں سے تعبیر کیا گیا ہے۔

(ریویو ج۲۲ ش۲ ص۳۵،۳۶، بابت ماہ فروری۱۹۲۳ء)

مسلمان: مرزائی مولوی کے الفاظ ہیں: ’’جمالی اور جلالی دونوں رنگ میں آئے گا۔‘‘

مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے: ’’اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا ہے۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں… اور کوئی شخص زمین پرایسا نہ رہا کہ مذہب کے لئے اسلام پر جبر کرے۔ اس لئے خدا نے جلالی رنگ کو منسوخ کرکے اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنا چاہا۔ یعنی جمالی رنگ دکھلانا چاہا۔ سو اس نے قدیم وعدہ کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا جو عیسیٰ کا اوتار اور احمدی رنگ میں ہو کر جمالی اخلاق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۴، ۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۶،۴۴۵)

۲… صحیح مسلم اور مسند احمد میں حدیث نبوی میں الفاظ:’’والذی نفسی بیدہ‘‘ آئے ہیں اور مرزاقادیانی حدیث نبوی: ’’واقسم ب اللہ ماعلی الارض من نفس منفوسۃ یأتی علیھا مائۃ سنۃ وھیی حیۃ یومئذ‘‘ پر بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ’’اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے۔ نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے۔ ورنہ قسم میں کون سا فائدہ ہے۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ مترجم ص۱۴حاشیہ، خزائن ج۷ ص۱۹۲)

میں کہتا ہوں کہ صحیح مسلم شریف اور مسند احمد شریف کی روایتوں میں قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبریں ظاہری معنوں پر معمول ہیں۔ نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے۔

300

مرزا قادیانی

مثیل مسیح نہیں

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

301

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پہلا باب

مسیح علیہ السلام کا نزول ہند میں نہیں بلکہ شام میں

گرمی کا موسم ہے، جون کا مہینہ ہے، موسم گرما اپنے عالم شباب میں ہے، گرمی کی بڑی شدت ہے۔ شہر امرتسر کے مشرقی حصہ دروازہ مہاں سنگھ کے قریب ایک کوچے میں قریب دس بجے اتوار کے دن ایک مکان میں چند دوستوں کا مجمع ہے۔ ان میں مذہبی گفتگو ہورہی ہے۔ ایک مرزائی ہے۔ اس کا مدمقابل ایک اہل سنت ہے۔ چند احباب اور بھی تشریف فرماہیں۔ گفتگو میں سختی اور درشتی نہیں ہے بلکہ سنجیدگی اور متانت ہے۔ زیر بحث یہ مسئلہ ہے کہ آیا عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان میں ہوں گے یا ملک شام میں۔ مرزائی کا اس پر اصرار ہے کہ مسیح موعود ہندوستان میں ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی موعود ومسیح موعود ہیں۔ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام ملک شام میںنازل ہوں گے۔ مرزائی نے جو دلائل دعوے کے اثبات میں پیش کئے ہیں اور اہل سنت نے جو جوابات دئیے ان کو ناظرین کے دلچسپی کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے:

مرزائی:

۱… اس مہدی کے لئے جو مسیح بھی ہے مشرقی جانب مخصوص ہے:’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘عیسیٰ کو آدم سے تشبیہ دی گئی ہے اور آدم کا نزول ہند میںہوا ہے۔ پس عیسیٰ بھی ہند میں نازل ہوگا۔

۲… (کنزالعمال ج۷ ص۲۰۲، باب غزوۃ الہند) میں امام نسائی نے دو گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک وہ جو ہند میں جہاد کرے گا: ’’وعصابۃ معہ عیسٰی ابن مریم‘‘ اور ایک وہ جو ہند میں مسیح موعود کے ساتھ ہوگا۔

۳… تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ پیش گوئی: ’’لیظھرہ علیٰ الدین کلّہ‘‘ کا ظہور امام مہدی مسیح موعود کے ہاتھ پر ہوگا۔ پس اس کے ظہور کے لئے وہ ملک مناسب ہے جس میں ہر مذہب کانمونہ موجود ہو اور سب کو آزادی بھی ہو اور یہ خصوصیت محض ہند کو ہے اور

302

ایک صاحب نے مہدی پنجاب ہند کے اعداد یکساں بیان کئے ہیں تاکہ مناسبت ظاہر ہو۔

۴… دجال کے ظہور کا مقام بھی مشرق ہے۔ پس اس فتنہ کا دور کرنے والا بھی مشرق ہی میں چاہئے۔

۵… پھر ایک حدیث میں جو جواہرالاسرار محررہ ۸۴۰ھ میں ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے: ’’یخرج المھدی من قریۃ یقال لہ قدہ‘‘یعنی قادیان اور یہ دمشق کی مشرق میں بھی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون قادیان کے رسالہ (تشحیذالاذہان ج۷ ش۷ ص۲۹۹، ۳۰۰، تشحیذالاذہان ص۶۴، بابت ماہ اگست ۱۹۲۰ء) پر ہے۔

جواب اہل سنت: مرزائی کے پیش کردہ پانچ دلائل کی تردید کرنے سے پیشتر میں چند دلائل اپنے عقیدہ کی تائید میں لکھتا ہوں اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریمn ملک شام میں ہوں گے۔ ان مندرجہ ذیل احادیث نبویہ کو غور سے سنئے:

دلیل نمبر۱: ’’حضرت مجمع بن جاریہq صحابی روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا، رسول اللہ a سے کہ آپ فرماتے تھے کہ ابن مریم دجال کو باب لدپر قتل کرے گا۔‘‘(سنن ترمذی شریف ج۲ ص۴۸، باب ماجاء فی قتل عیسٰی ابن مریم الدجال، کتاب جائزۃ الشعو ذی شرح سنن ترمذی ج۲ ص۱۱۱)

ب… (صحیح مسلم شریف ج۲ ص۴۰۱، سنن ابن ماجہ ص۲۹۷، باب فتنۃ الدجال) پر حضرت نواسq بن سمعان سے ایک حدیث نبوی آئی ہے۔ جس کا ایک حصہ یوں ہے: ’’مسیح علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے۔ اس کو پاویں گے باب لد پر۔ پس اس کو قتل کرڈالیں گے۔‘‘

نوٹ نمبر۱: ’’لد علاقہ فلسطین میں ایک گائوں ہے۔‘‘ (نووی شرح صحیح مسلم ج۲ ص۴۰۱، جائزۃ الشعوذی ج۲ ص۱۱۰، رفع العجاجۃ عن سنن ابن ماجہ ج۳ ص۳۲۸، مرقاۃ المفاتیح ج۵ ص۱۸۷،۱۹۸، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۳۵۱، مظاہر حق ج۴ ص۳۵۷، مجمع البحارج۴ ص۴۹۰، باب لد، قاموس ج۱ ص۳۴۸، تاج العروس ج۲ ص۴۹۳، منتہی الارب ج۴ ص۸۰، لسان العرب ج۴ ص۳۹۶)

نوٹ نمبر۲: ’’حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گائوں ہے۔ اس کو جاپکڑیں گے اور قتل کرڈالیں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۲۰، خزائن ج۳ ص۲۰۹)

دلیل نمبر۲: ’’حضرت ابوہریرہq سے منقول ہے کہ روایت کی حضرت رسول

303

خداa سے کہ آپa نے فرمایا کہ مسیح الدجال جانب مشرق سے نکلے گا اور قصد اس کا مدینہ مطہرہ میں آنے کا ہوگا۔ یہاں تک کہ کوہ احد کے پیچھے ٹھہرے گا۔ پھر فرشتے اس کا منہ ملک شام کی طرف پھیردیں گے اور وہاں ہی وہ ہلاک ہوگا۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص۴۷۵، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکرالدجال فصل اوّل، مرقاۃ المفاتیح ج۵ ص۲۰۴، اشعۃ اللمعات ج۴ ص۳۵۷، مظاہر حق ج۴ ص۳۶۲)

دلیل نمبر۳:’’یقتلہ اللہ تعالٰی بالشام علی عقبۃ یقال لھا عقبۃ افیق لثلاث ساعات یمضین من النھار علٰی یدی عیسٰی ابن مریم‘‘(کتاب کنزالعمال ج۷ ص۲۶۷) پر حضرت علیq سے ایک لمبی روایت آئی ہے۔ جس کا ایک حصہ یہ ہے: ’’ اللہ تعالیٰ دجال کو ملک شام میں ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیںدن کے تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔‘‘

(عسل مصفی حصہ دوم ص۷۶)

دلیل نمبر۴:’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a وذکروا الھند یغزوالھندبکم جیش یفتح اللہ علیھم حتٰی یاتوا بملوکھم مغللین بالسلاسل یغفر اللہ ذنوبھم فینصرفون حین ینصرفون فیجدون ابن مریمn بالشام (نعیم بن حماد)‘‘

(کنزالعمال ج۷ ص۲۶۷، کتاب حجج الکرامہ ص۳۴۳)

دلیل نمبر۵: ’’حدثنا عبد اللہ حدثنی ابی ثناسلیمان بن داؤد قال ثناحوب بن شداد عن یحیٰی بن ابی کثیر قال حدثنی الحضرمی بن لاحق ان ذکوان اباصالح اخبرہ ان عائشۃt اخبرت قالت دخل علّی رسول اللہ وانا ابکی فقال لی مایبکیک قلت یارسول اللہ ذکرت الدجال فبکیت فقال رسول اللہ a ان یخرج الدجال واناحیی کفتیکموہ وان یخرج الدجال بعدی فان ربکم عزوجل لیس باعوروانہ یخرج فی یھودیۃ اصفھان حتٰی یأتی المدینۃ ینزل ناحیتھا ولھا یومئذ سبعۃ ابواب علٰی کلنقب منھا ملکان فیخرج الیہ شراراھلھا حتٰی الشام مدینۃ بفلسطین باب لد قال ابوداؤد مرۃ حتٰی یأتی بفلسطین باب لد فینزل عیسٰیm فیقتلہ ثم یمکث عیسٰیm فی الارض اربعین سنۃ اماماعدلا وحکما مقسطا‘‘

(مسند احمد ج۶ ص۷۵، مطبوعہ مصر)

304

’’حضرت عائشہt سے روایت ہے کہ حضرت رسول خداa میرے پاس تشریف لائے۔ اس حال میں کہ میںرورہی تھی۔ حضور پرنورa نے ارشاد فرمایا کہ کس چیز نے تجھے رلایا۔ میں نے کہا یارسول اللہ a میں نے دجال کا ذکر پایا۔ پس میں روپڑی حضور پرنورa نے فرمایا۔ اگر دجال نے خروج کیا میری زندگی میں تو میں تمہاری طرف سے اس کو کافی ہوں گا اور اگر اس نے خروج کیا میرے بعد تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں۔ دجال شہر اصفہان کے یہود سے خروج کرے گا۔ یہاں تک کہ مدینہ طیبہ کی طرف آئے گا اور اس کے قریب کسی جگہ ٹھہرے گا۔ اس روز مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر راستے پر دو فرشتے ہوں گے۔ پس دجال کی طرف شریر لوگ نکلیں گے۔ یہاں تک کہ دجال ملک شام میں آئے گا۔ فلسطین میں مقام لد کے دروازے پر۔ ابودائود نے کہا فلسطین میں آئے گا لد مقام پر۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس کو قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس برس رہیں گے امام ہوں گے، عادل اور حاکم ہوں گے انصاف کرنے والے۔

دلیل نمبر۶: (سنن ابن ماجہ ص۲۹۸، باب فتنۃ الدجال، رفع العجاجہ عن سنن ابن ماجہ ج۳ ص۳۳۸) پر حضرت ابوامامۃ الباہلیq سے ایک لمبی روایت مرفوعاً آئی ہے۔ جس کا ایک حصہ یوں ہے: ’’عرب میں اکثر لوگ بیت المقدس میں ہوں گے۔ ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا۔ ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانا چاہے گا۔ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پائوں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے ہوکر نماز پڑھاویں۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے۔ پھر اس سے فرمائیں گے توہی آگے بڑھ۔ اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی۔ خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھادے گا۔ جب نماز سے فارغ ہوگا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے دروازہ کھول دو۔ دروازہ کھول دیاجائے گا۔ وہاں پر دجال ہوگا۔ ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ، جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی جب دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا گھل جائے گا جیسے نمک میں پانی گھل جاتا ہے اور دجال بھاگے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماویں گے میرا ایک وار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا۔ آخر باب لد کے پاس اس کو پاویں گے اور اس کو قتل کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا۔‘‘

305

نوٹ: اس حدیث نبوی نے تو مرزاقادیانی کی مسیحیت اور باطلہ تاویلات پر پانی پھیردیا ہے۔

دلیل نمبر۷: حضرت قتادہv تابعی نے بھی فرمایا ہے کہ ملک شام ارض محشر ہے۔ اس جگہ لوگ جمع ہوں گے اور اس جگہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس جگہ اللہ تعالیٰ گمراہ جھوٹے دجال کو ہلاک کرے گا۔

(تفسیرابن جریر ج۱۷ ص۳۱)

عرض حبیب

۱… حضرت عیسیٰ ابن مریمn کا رفع ملک شام ہی سے ہوا تھا۔ ملک شام ہی میں آپ کا نزول ہوگا۔

۲… پہلی دفعہ یہود نامسعود نے آپ کو قتل کرنا چاہا۔ دوبارہ آپ تشریف لاکر یہودکو اور دجال کو قتل کریں گے۔

۳… پہلی دفعہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تلوار نہیں اٹھائی۔ اب آن کر تلوار اٹھائیں گے۔ دجال کے قتل کے بعد جنگ بند ہوجائے گی۔

۴… پہلی دفعہ مسیح علیہ السلام نے شادی نہیں کی اب آن کر شادی کریں گے۔

(تکملہ مجمع البحار ص۸۵)

۵… پہلی دفعہ مسیح علیہ السلام کی اولاد نہ تھی اب اولاد ہوگی۔

۶… پہلی بار حکومت وسلطنت نہ کی تھی اب حکومت کریں گے۔

(طبقات ابن سعد ج۱ ص۲۶)

۷… پہلی بار انجیل پر عمل کیا تھا۔ جب دوسری بار تشریف لائیں گے تو آنحضرتa کے دین پر ہوں گے۔

۸… دین اسلام پھیلائیں گے۔

۹… پولوس کے پھیلائے ہوئے دین (موجودہ مسیحیت) کو مٹادیں گے۔

۱۰… بیت اللہ شریف کا حج کریں گے۔

(صحیح مسلم ومسند احمد)

۱۱… حضرتa کی قبرمبارک پر حاضر ہوکر سلام کریں گے۔

(رسالہ انتباہ الاذکیا ص۴،۵، حجج الکرامہ ص۴۲۹)

306

۱۲… آنحضرتa کے مقبرہ شریف میں دفن کئے جائیں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔

(حجج الکرامہ ص۴۲۹،۴۳۰)

مرزائی کے دلائل کا جواب

الف… سورۃ آل عمران کی آیت مقدسہ: ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون‘‘ میں حضرت مسیح ناصری کی مثال حضرت آدم کی سی پیش کی گئی ہے۔ یعنی آپ بن باپ پیدا ہوئے اور حضرت آدم بن باپ وبن ماں۔ اس آیت میں کسی مثیل مسیح کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

ب… (سنن نسائی کتاب الجہاد، باب غزوہ ہند ص۳۹۶، کنزالعمال ج۷ ص۲۰۲) کے حوالہ سے جو روایت پیش کی گئی ہے۔ اس میں لفظاً یا اشارتاً اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ مسیح موعودm ہند میں ہوگا۔ البتہ (کنزالعمال ج۷ ص۲۶۷، حجج الکرامہ ص۳۴۳) کے حوالہ سے جو روایت میںنے بطور دلیل چہارم لکھی ہے۔ اس کے الفاظ: ’’فیجدون ابن مریم باالشام‘‘صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ابن مریمn ملک شام میں ہوں گے۔

ج… شہر لندن میں بھی ہرفرقے، ہر ملک، ہرقوم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور وہاں مذہبی آزادی بھی ہے۔

د… ( مشکوٰۃ شریف مترجم ج۴ ص۱۱۸)پر حضرت ابوبکرq سے ایک مرفوع روایت آئی ہے کہ دجال مشرق کی جانب سے ملک خراسان سے خروج کرے گا۔ مگر نصاریٰ یورپ (پادری اور فلاسفر) تو مغرب سے آئے ہیں اور یورپ ایشاء کے مغرب میں ہے۔

ہ… کتاب جواہرالاسرار حدیث کی مستند کتاب نہیں ہے۔ البتہ محدث ابن عدی نے کامل میں یہ روایت لکھی ہے: ’’یخرج المھدی من قریۃ بالیمن یقال لھا کرعۃ‘‘

مگر اس روایت میں ایک راوی عبدالوہاب ضحاک ہے۔ جس کو ابوحاتم نے جھوٹا کہا۔ نسائی وغیرہ نے متروک کہا۔ دارقطنی نے منکرالحدیث کہا۔

(میزان الاعتدال ج۲ ص۱۶۱)

(کتاب فصل الخطاب قلمی، غایت المقصود ج۱ ص ۱۶۴،۱۶۵، حجج الکرامہ ص۳۵۸) پر بحوالہ دلائل النبوت لفظ ’’ کرعہ‘‘ لکھا ہے۔ لفظ ’’قدہ، کدہ، کدیہ، کدعہ‘‘ صحیح نہیں ہے بلکہ لفظ کرعہ ہے۔

(احوال الآخرت حافظ محمد صاحب ص۲۳)

307

دوسرا باب

مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح علیہ السلام نہیں

مرزا قادیانی کا دعویٰ

’’وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے یہ عاجز ہی ہے۔‘‘

( ازالہ اوہام ص۶۸۲، خزائن ج۳ ص۴۶۸)

’’سو مسیح موعود جس نے اپنے تئیں ظاہر کیا وہ یہی عاجز ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۸۶، خزائن ج۳ ص۴۷۰)

دعویٰ کی تشریح

’’اور مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔‘‘(تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۱، کتاب عسل مصفی ج۲ ص۶۲۸ پر بحوالہ اشتہار مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء)

مشابہت تامہ:

۱… مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا: ’’اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۹حاشیہ، خزائن ج۱ ص۵۹۴)

۲… ’’اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۴۹، خزائن ج۱۹ ص۵۳)

اقوال: حق بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت عیسیٰ ابن مریمn سے مشابہت تامہ نہیں ہے اور مرزاقادیانی حضرت مسیح ناصری کے مثیل نہ تھے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل نقشہ سے ثابت ہوتا ہے:

۱… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت عیسیٰ ابن مریم باپ کے بغیر پیدا ہوئے تھے۔

(ازالہ اوہام ص۶۶۹، خزائن ج۳ ص۴۶۱)

۱… مرزاقادیانی: مرزا غلام احمدقادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔

(کشف الغطا ص۱، خزائن ج۱۴ ص۱۷۹)

308

۲… سیدنا عیسیٰ m: حضرت مسیح علیہ السلام نے مہد میں باتیں کیں۔

(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)

۲… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی نے مہد میں باتیں نہیں کیں۔

۳… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی بیوی نہیں تھی۔

(رسالہ ریویو ص۱۲۴، بابت ماہ اپریل۱۹۰۲ء)

۳… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کی شادی ہوئی تھی اور آپ کی دو بیویاں تھیں۔

۴… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی آل (اولاد) نہ تھی۔

(تریاق القلوب ص۹۹حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۳۶۳)

بودن عیسٰی بے پدر وبے فرزندان

(مواہب الرحمن ص۷۶، خزائن ج۱۹ ص۲۹۵)

۴… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کے ہاں کئی لڑکے اور لڑکیاں ہوئی ہیں۔

۵… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزاقادیانی ’’عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

۵… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی شراب نہ پیا کرتے تھے نہ کسی بیماری کی وجہ سے نہ کسی پرانی عادت کی وجہ سے۔ (بلکہ تقویت؟)

۶… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزاقادیانی ’’یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘

(ست بچن ص۱۷۱حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۲۹۵)

۶… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کو مرگی کی بیماری نہ تھی۔

۷… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزاقادیانی ’’حضرت مسیح مسمریزم میں مشق کرتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۲حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۹)

۷… مرزاقادیانی: ’’مرزاقادیانی کو مسمریزم نہ آتا تھا بلکہ آپ اس عمل کو قابل نفرت اور مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۹حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۸)

۸… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۲/۱/۳۳سال کی عمر میں پھانسی پر چڑھائے گئے تھے۔

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲۷، خزائن ج۱۷ ص۳۱۱)

۸… مرزاقادیانی: مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا تھا۔

309

۹… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزاقادیانی ’’حضرت مسیح صلیب پر مرے نہ تھے۔ البتہ بے ہوش ہوگئے تھے اور مرہم عیسیٰ سے آپ کا علاج کیا گیا تھا۔‘‘

(مسیح ہندستان میں ص۵۴،۵۶، خزائن ج۱۵ ص۵۶،۵۷)

۹… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کے ساتھ ایسے واقعات پیش نہ آئے تھے۔

۱۰… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : کتاب میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی اس لئے نبی سیاح کہلائے۔ ’’مسیح نے صلیبی واقعہ کے بعد شام سے نکل کر ملک عراق، عرب، ایران، افغانستان، پنجاب، بنارس، نیپال، کشمیر کا سفر کیا تھا۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۵۳ خلاصہ، خزائن ج۱۵ ص ۵۳،۷۰)

۱۰… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی نے بٹالہ، گورداسپور، سیالکوٹ، جہلم، امرتسر، لاہور، ہوشیارپور، جالندھر، دہلی، علی گڑھ، لدھیانہ وغیرہ مقامات کا سفر کیا یا یوں کہو کہ صوبہ پنجاب اور یوپی کے باہر نہ نکلے۔ یہ مرزاقادیانی کی سیاحت ہے۔

۱۱… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : ’’ناکامی اور نامرادی جو مذہب کے پھیلانے میں کسی کو ہوسکتی ہے عیسیٰ علیہ السلام سب سے اوّل نمبرپر ہیں۔‘‘

(نصرۃ الحق ص۴۵،خزائن ج۲۱ ص۵۸)

۱۱… مرزاقادیانی: ’’لاکھوں انسانوں نے مجھے قبول کرلیا اور یہ ملک ہماری جماعت سے بھرگیا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷۴، خزائن ج۲۱ ص۹۵، ۹۶)

۱۲… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام :حضرت عیسیٰ ابن مریمn مسیح ناصری نے کبھی یہ اقرار نہ کیا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔

۱۲… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی نے اقرار کیا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔

(اخبار بدر ص۵، مورخہ ۷؍جون۱۹۰۶ء، رسالہ تشحیذ الاذہان ص۵، بابت ماہ جون۱۹۰۶ء)

۱۳… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت عیسیٰ ابن مریمn نبی اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ ایسا واقعہ کبھی نہ پیش آیا تھا۔

۱۳… مرزاقادیانی: مرزا بشیراحمد مرزائی ایم۔اے نے لکھا ہے کہ مرزاقادیانی کو مرض ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶، روایت نمبر۱۹)

۱۴… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت مسیح ناصریm کی ذات مبارک ان تمام مرضوں سے پاک وصاف تھی۔

310

۱۴… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کو دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق تھا۔

(رسالہ ریویوص۲۶، بابت ماہ مئی۱۹۲۷ء)

۱۵… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام :حضرت عیسیٰ ابن مریمn نے کبھی ایسا نہ فرمایا تھا۔

۱۵… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی نے اپنی نسبت لکھا ہے کہ: ’’حافظہ اچھا نہیں۔ یاد نہیں رہا۔‘‘

(نسیم دعوت ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۴۳۹حاشیہ )

۱۶… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام توام نہیں تھا۔

(نزول المسیح ص۱۲۷، خزائن ج۱۸ ص۵۰۵)

۱۶… مرزاقادیانی: ’’میں آدم کی طرح توام ہوں۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۲۷، خزائن ج۱۸ ص۵۰۵)

۱۷… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں محض جمالی رنگ تھا۔

(نزول المسیح ص۱۲۷، خزائن ج۱۸ ص۵۰۵)

۱۷… مرزاقادیانی: ’’آدم کی طرح میں جمالی اور جلالی دونوں رنگ رکھتا ہوں۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۲۷، خزائن ج۱۸ ص۵۰۵)

۱۸… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰm مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔

(کتاب ایام الصلح ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)

۱۸… مرزاقادیانی: میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)

۱۹… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر۱۲۰ برس ہوئی ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص۲۱۰، خزائن ج۱۷ ص۳۱۱)

۱۹… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کی عمر۱۹۰۸ء میں ۶۹ برس شمسی حساب سے تھی۔

(کتاب نورالدین ص ۱۷۱،سطر۱۹)

۲۰… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : (پارہ اوّل قرآن مجید مع ترجمہ اردو وفوائد تفسیریہ ص ۱۸۴)کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صاحب شریعت نبی ہیں۔

311

۲۰… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی غیر تشریعی امتی نبی ہیں۔

(حقیقت النبوۃ ص۱۱۱)

۲۱… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام :فیضان پانے کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصریm نے براہ راست فیضان پایا ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۱۳۷)

۲۱… مرزاقادیانی: اور حضرت مسیح محمدی (یعنی مرزاقادیانی) نے حضرت محمدaکی اتباع سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۱۳۷)

۲۲… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام :حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۶۸، خزائن ج۲۳ ص۷۶)

۲۲… مرزاقادیانی: مرزاقادیانی کا الہام ہے: ’’قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۲۰۰)

۲۳… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرq سے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے تھے۔ جب شام پڑجاتی تو جنگل کا ساگ پات کھالیتے اور چشموں کا پانی پیتے اور مٹی کا تکیہ بنا لیتے (یعنی زمین پر ہی بلابستر کے لیٹ رہتے) پھر فرماتے کہ نہ تو میرا گھر ہے کہ جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ کوئی اولاد ہے کہ جن کے مرنے کا غم ہو۔

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۱۹۱،۱۹۲)

۲۳… مرزاقادیانی: مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ حالت نہ تھی۔ کئی بیویاں تھیں کئی بچے تھے۔ قریباً تین لاکھ روپے کی آپ کو آمدنی ہوئی تھی۔

(حقیقت الوحی ص ۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۱)

۲۴۴… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزاغلام احمد قادیانی، آنحضرتa، حضرت موسیٰm کے بعد ۲۲؍ویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔

(ازالہ اوہام ص۲۷۸، خزائن ج۳ ص۲۴۱)

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی سے چھ سو برس پہلے گزرے ہیں۔

(راز حقیقت ص۱۵حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۶۷)

مطلب یہ نکلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام ، حضرت موسیٰm کے بعد سولہویں صدی میںہوئے ہیں۔

۲۴… مرزاقادیانی: مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ۱۲۶۰ھ میں ہوئی تھی۔

(رسالہ ریویو ص۱۵۴، بابت ماہ مئی۱۹۲۲ء)

دعویٰ مسیحیت ۱۳۰۸ھ میں کیا اور وفات ۱۳۲۶ھ میں ہوئی۔

312

سنت اللہ کے معنیٰ

مع

رسالہ واقعات نادرہ

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

313

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی خاتم النّبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

واضح ہو کہ مرزائیوں کی طرف سے یہ اعتراض بھی پیش ہوا کرتا ہے کہ آسمان پر جانا سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ کبھی کسی کو اس جسم کے ساتھ آسمان پر لے گیا ہو۔

(حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب عسل مصفی حصہ او ّل ص ۵۰۵،۵۰۶)

اس مرزائی مصنف نے لکھا ہے کہ: ’’ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا‘‘ یعنی اے رسول تمہیں معلوم رہے سنت اللہ میںہرگز تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ پس جو قانون اللہ تعالیٰ نے دیگر بنی آدم کے لئے مقرر فرمایا ہے وہی مسیح علیہ السلام کے لئے ہے۔ کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ جو سنت دیگر انبیاء ورسل وعامۃ الناس کے لئے جاری وساری ہے۔ اس سے مسیح علیہ السلام مستثنیٰ رکھے جائیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۲۸۹)

اقوال: الزامی جواب: حکیم خدا بخش مرزائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’وہ یہی عیسیٰ علیہ السلام جو برخلاف عام سنت اللہ کے خارق عادت طور پر بغیر باپ کے پیدا ہوا ہے۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۹۵)

پس میں پوچھتا ہوں کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے دیگر بنی آدم کی پیدائش کے لئے مقرر فرمایا ہے کیا وہی قانون مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے لئے ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جو سنت دیگر انبیاء ورسل وعامۃ الناس کی پیدائش کے لئے جاری وساری ہے۔ اس سے حضرت مسیح علیہ السلام مستثنیٰ رکھے گئے ہیں؟

تحقیقی جواب: معلوم ہو کہ کسی قاعدہ کو سنت اللہ یا خدا کا قاعدہ قرار دینے کے دو طریقے ہیں، ایک نقلی اور دوسرا عقلی۔ نقلی یہ کہ قرآن شریف یا حدیث صحیح میں اسے سنت اللہ کہا ہو اور عقلی یہ کہ ہم اس کارخانہ قدرت کے انتظام کے سلسلہ پر نظر کرکے کسی امرکو سنت اللہ قرار دے لیں۔ اسے علم منطق میں استقراء کہتے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ تام اور ناقص۔ تام اسے کہتے ہیں کہ تمام ہم قسم جزئیات پر نظر کریں اور ان میں ایک مشترک نظام پائیں اور اسے قاعدہ قرار دیں۔

314

ناقص یہ کہ چند جزئیات پر نظر کرکے ایک امر کو قاعدہ قرار دیں۔ استقرائے تام جو عقلاً سب جزئیات کا حصر کرے مفید یقین ہوتا ہے اور استقرائے ناقص مفید ظن ہوتا ہے۔ (مستفاد از ملّامبین بحث استقراء ج۲ ص۲۴۹) کیونکہ تمام جزئیات کا حصر نہیں ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دیگر جزئیات جو ہمارے علم میں نہیں آئیں۔ اس نظام وقاعدہ کے ماتحت نہ ہو جو ہم نے سمجھ رکھا ہے۔ پس اس قرار داد کو قاعدہ کہنا درست نہیں کیونکہ قاعدہ وہ ہے جو جمیع جزئیات پر منطبق ہو۔ لہٰذا وہ ہمارا سمجھا ہوا قاعدہ سنت اللہ نہ رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ جس امر کو ہم نے سنت اللہ قرار دیا ہے۔ آیا اس کے متعلق خدا نے یا اس کے رسولa نے کہا ہے کہ یہ امر سنت اللہ ہے یا جو قاعدہ ہم نے اپنے استقراء سے بنایا ہے۔ وہ سب جزئیات کو دیکھ بھال کر بنایا ہے اور ہم اس کی مخلوقات کا احاطہ کرچکے ہیں اور اس کی قدرت کے اسرار کو اور اس کے نظام کو کامل طور پر سمجھ چکے ہیں۔

قرآن وحدیث کا واقف اور نظام قدرت پر صحیح نظر رکھنے والا بے شک گردن جھکادے گا اور اس امر کو تسلیم کرے گا کہ ان قواعد کو جو ہم نے بنائے ہیں۔ خدا ورسول نے ہرگز سنت اللہ نہیں کہا اور ہمارا استقراء بالکل ناقص ہے۔ کیونکہ مخلوقات الٰہی اور اس کے عجائبات قدرت انسان کے احاطہ علم سے باہر ہیں۔ ہم کو: ’’وما یعلم جنود ربک الّاھو (مدثر:۲۹)‘‘یعنی تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور:’’وما اوتیتم من العلم الّاقلیلا (بنی اسرائیل:۱۵)‘‘یعنی تم کو تو صرف تھوڑا سا علم عطا کیا گیا ہے، کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ آیت:’’ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (الفتح:۲۶)‘‘ اور اس کی دیگر نظائر کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ ان آیات میں سنت اللہ سے انبیاء کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی تعذیب اور خذلان وناکامی مراد ہے۔ سو اس امر کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری یہ قدیمی روش ہے۔ اس میں تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس بات کے سمجھنے کا آسان طریق یہ ہے کہ یہ آیات جہاں جہاں قرآن مجید میں وارد ہوئی ہیں۔ طالب مشتاق ان مواضع کو نکال کر ماقبل ومابعد پر نظر کرے تو ساتھ ہی انبیاءo کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی ناکامی اور ان پر خدا کی مار اور پھٹکار کا ذکر موجود ہوگا۔ پس قاعدہ نظم وارتباط قرآن حکیم اس کو مجبور کردے گا

315

کہ وہ تسلیم کرے کہ اس جگہ سنت اللہ سے مراد پیغمبروں کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی تعذیب وخذالان ہے۔ چنانچہ وہ سب مواضع علی الترتیب مع ان کے ماقبل کے نقل کرکے فیصلہ ناظرین کے فہم رساء پر چھوڑتے ہیں۔

(از کتاب شہادت القرآن حصہ اوّل ص۳۳تا۳۵، از مولانا میرابراہیم سیالکوٹیv)

پہلا مقام: خدا تعالیٰ فرماتے ہیں:’’وان کادوا لیستفزونک من الارض لیخرجوک منھا واذالایلبثون خلافک الّاقلیلا سنۃ من قدارسلنا قبلک من رسلنا ولاتجد لسنتنا تحویلا (بنی اسرائیل:۷۶،۷۷ )‘‘ {اور تحقیق نزدیک تھے کہ اکھاڑتے تجھ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیوے تجھ کو اس میں سے اور اس وقت نہ رہیں گے تیرے پیچھے مگر تھوڑے، عادت ان کی کہ تحقیق بھیجا ہم نے تجھ سے پیشتر اپنے رسولوں سے اور تو نہ پاوے گا واسطے عادت جاری کے تغیر۔}

اس مقام پر صاف مذکور ہے کہ کفار مکہ پیغمبرa کو مکہ شریف سے نکالنا چاہتے تھے۔ اللہ نے آپ کو تسلی فرمائی کہ اگر آپ کو نکالیں گے تو خود بھی نہ رہیں گے۔ کیونکہ انتقام انبیاء از اعداء ہماری سنت قدیمہ ہے اور یہ کبھی تبدیل نہ ہوگی۔ اس آیت کے ذیل میں تفسیر کبیر میں کہا ہے:’’یعنی ان کل قوم اخرجوا نبیھم سنۃ اللہ ان یھلکھم اللہ ‘‘ یعنی خداتعالیٰ کی اس سے یہ مرادہے کہ جس کسی قوم نے اپنے نبی کو نکالا ان کے متعلق خدا کی سنت یہی ہے کہ ان کو بس ہلاک ہی کردیوے۔

دوسرا مقام: ’’البتہ اگر منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور شہر میں بری خبریں اڑانے والے باز نہ رہیں گے۔ البتہ پیچھے لگادیں گے ہم تجھ کو ان کے۔ پھر نہ ہمسایہ رہیں گے تیرے بیچ اس کے مگر تھوڑے دنوں، لعنت کئے جائیں جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور قتل کئے جائیں۔ خوب قتل کرنا۔ عادت اللہ کی بیچ ان لوگوں کے کہ گزرے پہلے اس سے اور ہرگز نہ پاوے گا تو واسطے عادت اللہ کے بدل ڈالنا۔‘‘

(الاحزاب:۶۰تا۶۲)

تیسرا مقام: ’’اور نہیں گھیرتا مکر برا مکر، کرنے والوں کو۔ پس نہیں انتظار کرتے مگر عادت پہلوں کی۔ پس ہرگز نہ پائے گا تو واسطے عادت اللہ کے بدل ڈالنا اور ہرگز نہ

316

پائے گا تو واسطے عادت اللہ کے پھیر دینا۔ کیا نہیں سیر کی، انہوں نے بیچ زمین کے پس دیکھ کیونکر ہوا آخر کام ان لوگوں کا کہ پہلے ان سے تھے اور تھے بہت سخت ان سے قوت میں۔‘‘

(فاطر:۴۳،۴۴)

نوٹ: تفسیر ابوالسعود میں ہے:’’ای سنۃ اللہ فیھم بتعذیب مکذ بیھم‘‘یعنی ایسے لوگوں کے بارے میں خدا کی سنت ہے کہ مکذبین کو عذاب کرے۔

چوتھا مقام: ’’کیا پس نہیں سیر کی انہوں نے زمین میں۔ پس دیکھیں کیونکر ہوا آخر کام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے زیادہ تر ان سے اور سخت تر قوت میں اور نشانیوں میں زمین میں۔ پس نہ کفایت کیا ان سے اس چیز نے کہ تھے کماتے۔ پس جب آئے ان کے پاس رسول ان کے ساتھ دلیلوںظاہر کے خوش ہوئے ساتھ اس چیز کے کہ نزدیک ان کے تھی علم سے اور گھیر لیا ان کو اس چیز نے کہ تھے ساتھ اس کے استہزاء کرتے۔ پس جب دیکھا انہوں نے عذاب ہماراکہا انہوں نے ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور منکر ہوئے ہم ساتھ اس چیز کے کہ تھے ہم ساتھ اس کے شریک کرتے۔ پس نہ تھا کہ نفع کرتا ان کو ایمان ان کا جب دیکھا انہوں نے عذاب ہمارا۔ عادت اللہ کی جو تحقیق گزرگئی ہے اپنے بندوں کے اور زیاں پایا اس جگہ کافروں نے۔‘‘

(المومن:۸۲تا۸۵ )

پانچواں مقام:’’ولوقاتلکم الذین کفروا لولّو الادبار ثم لایجدون ولیا ولا نصیرا سنۃ اللہ التی قدخلت من قبل ولن تجدلسنۃ اللہ تبدیلا (الفتح:۲۲،۲۳)‘‘{اور اگر لڑیں تم سے وہ لوگ کہ کافر ہوئے۔ البتہ پھیرلیتے پیٹھ پھر نہ پاتے کوئی دوست اور نہ مدد دینے والا۔ عادت اللہ کی جو تحقیق گزری ہے اس سے پہلے اور ہرگز نہ پائے گا تو واسطے عادت اللہ کے بدل جانا۔}

آیۃ اللہ :خوب یاد رکھو کہ عادات الٰہیہ جو بنی آدم سے تعلق رکھتے ہیں دو طور کے ہیں۔ ایک عادات عامہ جو روپوش اسباب ہوکر مسبب پرمؤثر ہوتی ہیں۔ دوسری عاداتخاصہ جو بتوسط اسباب خاص تعلق رکھتی ہیں جو اس کی رضا اور محبت میں کھوئے جاتے ہیں اور اسی درجہ میں جب کوئی انسان پہنچ جاتا ہے تو اس سے خرق عادات کا ظہور ہوتا ہے اور اللہ

317

عزوجل جب کوئی کام بتوسط اسباب خاص پیدا فرماتا ہے تو اس کا نام شریعت ا لٰہیہ میں آیت اللہ ہے۔ جس کو معجزہ اور کرامت وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے ہیں۔ سنت اللہ اور آیت اللہ میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں آیت اللہ کا لفظ کسی امر کے متعلق آیا ہے تو اس سے امور خارق عادات مراد ہے۔ اس کو سنت اللہ کہنا غلط ہے۔‘‘

(از کتاب حنفیہ پاکٹ بک حصہ اوّل ص۹۳،۹۴)

حضرت موسیٰm کے معجزات

’’اے موسیٰm یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ حضرت موسیٰm نے جواب دیا کہ یہ میرا عصا ہے۔ میں اس پر تکیہ کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی فائدے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ اس کو پھینک دے۔ پس حضرت موسیٰ نے اپنی لاٹھی کو پھینکا۔ پس ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ۔ اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ اس کو پکڑلے اور مت ڈر۔ ابھی ہم اس کو پہلی حال میں پھیردیں گے اور اپنا ہاتھ اپنے بازو کی طرف ملا۔ نکل آئے گا سفید بغیرکسی عیب کے، نشانی دوسری تاکہ دکھلادیں ہم تجھ کو نشانیاں اپنی بڑی میں سے۔‘‘

(طہ:۱۷تا۲۳)

حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش

’’اور یاد کر کتاب میں حضرت مریم صدیقہp کو جس وقت اپنے اہل سے الگ جاپڑی مشرقی جگہ میں پس ان سے پردہ کیا۔ پس ہم نے اپنی روح (یعنی جبرائیلm فرشتے) کو بھیجا۔ پس اس نے اس کے واسطے تندرست آدمی کی صورت اختیار کی۔ حضرت مریمp کہنے لگی میں رحمن کے ساتھ پناہ پکڑتی ہوں تجھ سے اگر تو پرہیز گار بھی ہے۔ جبرائیلm فرشتے نے جواب دیا کہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ دے جائوںتجھے بشارت (یعنی خوشخبری)لڑکا پاکیزہ پیدا ہونے کی۔ حضرت مریم نے کہا میرے لڑکا کیونکر ہوگا۔ درحالیکہ کسی آدمی نے مجھے نہیں چھواء اور نہ میں بدکار عورت ہوں۔ جبرائیلm نےجواب دیا اس طرح تیرے رب نے فرمایا ہے وہ میرے پرآسان ہے:’’ولنجعلہ آیۃ للناس ورحمۃ منّا وکان امرمقضیا‘‘اور تاکہ ہم اس کو لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف مہربانی اور ہے کام مقرر کیا ہوا۔‘‘

(مریم:۱۶تا۲۱)

318

حضرت مریمp اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام

’’وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ وآوینٰھما الٰی ربوۃ ذات قرار ومعین (المؤمنون:۵۰)‘‘{اور ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور اس کی ماں مریم صدیقہp کو نشانی اور جگہ دی ہم نے ان دونوں کو طرف زمین بلند کے جگہ رہنے کی اور پانی جاری کیا۔}

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات

(آل عمران:۴۹) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ’’یہ کہ تحقیق میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشان کے ساتھ آیا ہوں، یہ کہ میں تمہارے واسطے بناتا ہوں مٹی سے مانند صورت جانور کے۔ پس پھونکتا ہوں میں اس میں۔ پس وہ ہوجاتا ہے جانور اللہ کے حکم کے ساتھ اور اچھا کرتا ہوں پیٹ کے جنے اندھے کو اور سفید داغ والے کو، زندہ کرتا ہوں مردے کو ساتھ حکم اللہ کے اور تم کو خبردیتا ہوں اس چیز کی کہ تم کھاتے ہو اور جو کچھ ذخیرہ کرتے ہو تم اپنے گھروں میں۔ تحقیق اس میں البتہ نشانی ہے تمہارے واسطے اگرہو تم ایمان والے۔‘‘

مائدہ کا نزول

’’حضرت مریمp کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی یا اللہ ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے خوان اتار، ہووے واسطے ہمارے عیداول ہمارے کو اور آخر ہمارے کو اور تیری طرف سے نشانی اور رزق دے ہم کو اور تو بہتر رزق دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تحقیق میں اتار نے والا ہوں اس کو تم پر۔ پس جو کوئی کفر کرے اس کے بعد تم میں سے۔ پس تحقیق میں عذاب کروں گا اس کو۔ وہ عذاب کہ نہ عذاب کروں گا وہ کسی کو عالموں میں سے۔‘‘

(المائدہ:۱۱۴،۱۱۵)

اصحاب کہف کا کئی سال سونا

۱… ’’کیا گمان کیا ہے تو نے یہ کہ غار اور اس کھودے ہوئے کے رہنے والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے۔‘‘

(کہف:۹)

319

۲… ’’پس ہم نے ان کو غار میں سلادیا کئی برس گنتی کے پھر ہم نے ان کو اٹھایا۔‘‘

(کہف:۱۱،۲۲ )

۳… ’’یہ نشانیوں اللہ کی سے ہے۔‘‘

(کہف:۱۷)

۴… ’’اور وہ اپنی غار میں رہے تین سو نو برس۔‘‘

(کہف:۲۵)

معجزہ شق القمر

’’قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیرلیویں اور کہتے ہیں جادو ہے۔ ہمیشہ کا قوی اور جھٹلایاانہوں نے اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی اور ہر بات قرار پکڑنے والی ہے۔‘‘

(القمر:۱تا۳ )

نوٹ: ان سات مختلف واقعات کو آیات اللہ یعنی خدا کی قدرت کے نشانات کہا گیا ہے۔

واقعات نادرہ خدا کی قدرت کے نشان اور مرزا غلام احمد رئیس قادیان

مرزاقادیانی اور ان کے مرید کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع جسمانی سنت اللہ اور قانون قدرت کے خلاف ہے۔ ذیل میں چند ایک ایسے واقعات لکھے جاتے ہیں جو قانون قدرت کے خلاف ہیں اور ان کو مرزاقادیانی اور ان کے مریدوں نے نہ صرف لکھا ہے بلکہ صحیح تسلیم کیا ہے۔

(۱)حضرت ابراہیمm پر آگ سرد ہوگئی

’’ ابراہیمm چونکہ صادق اور خداتعالیٰ کا وفادار بندہ تھا۔ اس لئے ہر ایک ابتلاء کے وقت خدانے اس کی مدد کی۔ جب کہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا۔خدانے آگ کو اس کے لئے سرد کردیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۵۰، خزائن ج۲۲ ص۵۲)

(۲)حضرت یونسm نبی مچھلی کے پیٹ میں

’’اب ظاہر ہے کہ یونسm مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بے ہوشی اور غشی تھی اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونسm خداکے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۱۴، خزائن ج۱۵ ص۱۶)

320

(۳)نبی نے مردہ زندہ کیا

’’انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بناکر دکھلادیا اور کسی نے مردے کو زندہ کرکے دکھلایا۔ یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۳۳،۴۳۴، خزائن ج۱ ص ۵۱۸،۵۱۹)

(۴)حضرت مسیح ابن مریمn بے باپ

’’ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں اور نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا وہ بڑی غلطی پر ہیں۔‘‘

(اخبار الحکم ص۱۱، مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۱ء)

(۵)حضرت مسیح علیہ السلام نے مہد میں باتیں کیں

’’یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)

(۶)چاند دو ٹکڑے ہوگیا

’’قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرتa کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے۔ یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ:’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحرمستمر‘‘یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکّا جادو ہے جس کا آسمان تک اثرچلا گیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۴۱،۴۲ حصہ۲، خزائن ج۲۳ ص۴۱۱)

(۷)بعض نادرالوجودعورتیں

’’بعض عورتیں جو بہت ہی نادرالوجود ہیں بباعث غلبہ رجولیت اس لائق ہوتی

321

ہیں کہ ان کی منی دونوں طور قوت فاعلی وانفعالی رکھتی ہو اور کسی سخت تحریک خیال شہوت سے جنبش میں آکر خود بخود حمل ٹھہرنے کا موجب ہوجائے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۳۷،خزائن ج۲ ص ۹۶)

(۸)بکرے نے دودھ دیا

’’کچھ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ مظفرگڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر، قانون قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے رو برو منگوایا۔ چنانچہ وہ بکرا جب ان کے روبرو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اس نے دیا اور پھر وہ بکرا بحکم جناب ڈپٹی کمشنر عجائب خانہ لاہور میں بھیجا گیا۔ تب ایک شاعر نے اس پر ایک شعر بھی بنایا اور وہ شعر یہ ہے:

  1. مظفرگڑھ جہاں ہے مکالف صاحب عالی

    یہاں تک فضل باری ہے کہ بکرا دودھ دیتا ہے

(سرمہ چشم آریہ ص۳۹، خزائن ج۲ ص۹۹)

(۹)ایک مرد نے دودھ دیا

’’تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چندمردوںکو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گائوں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پایاتھا۔ کیونکہ اس کی ماں مرگئی تھی۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۳۹، خزائن ج۲ ص۹۹)

(۱۰)اڈی میں سے پاخانہ آنا

’’ان دونوں طبیبوں میں سے ایک نے اور غالباً قرشی نے خود اپنی اڈی میں سوراخ ہوکر اور پھر اس راہ سے مدت تک براز یعنی پاخانہ آتے رہنا تحریر کیا ہے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص ۴۰، خزائن ج۲ ص۹۹)

322

(۱۱)خدا اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے

’’یہ تو سچ ہے کہ جیسا کہ خدا غیر متبدل ہے اس کے صفات بھی غیر متبدل ہیں۔ اس سے کس کو انکار ہے مگر آج تک اس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق درعمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہا تک پہنچ گیا ہے بلکہ اس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کا م ناپیدا کنارہیں اور اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنابھی اس کے قانون میں داخل ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ۹۶، خزائن ج۲۳ ص۱۰۴)

(۱۲)روٹی درختوں کو لگتی ہے

’’جزائر ویلکینک میں پکی پکائی روٹی درختوں کو لگتی ہے۔ اسے بریڈ فروٹ کہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو برٹن انسائیکلوپیڈیا، جزائر پالی نیشیا۔‘‘

(فاروق قادیان ص۸، مورخہ۲۷؍اکتوبر ۱۹۲۴ء)

(۱۳)داڑھی والی عورت

’’۹؍جنوری ۱۸۹۲ء کے رسالہ نیچر میں لکھا ہے کہ ایک گھوڑے کے بال ۱۳ فٹ اور دم ۱۰ فٹ ناپے گئے۔ ایک عورت مس اوولنس کی داڑھی کے بال ساڑھے آٹھ فٹ ناپےگئے۔‘‘

(صداقت مریمیہ ص۹۹)

’’ایک عورت کی کمر تک لمبی داڑھی تھی۔ ڈریسٹرن کے ہسپتال میں ایک عورت فوت ہوئی، جس کی گھنی داڑھی اور مضبوط مونچھیں تھیں۔‘‘

(صداقت مریمیہ ص۹۸)

(۱۴)داڑھی والا بچہ

بھیرہ: ۳۰؍اکتوبر بھیرہ میں ایک عجیب الخلقت بچہ پیدا ہوا ہے جس کے منہ پر پیدا ہوتے ہی داڑھی ہے۔ داڑھی سے اس کی شکل عجیب سی نظر آتی ہے۔ لوگ اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۳۷ ص۱۲، مورخہ۶؍نومبر۱۹۲۸ء)

323

(۱۵)تین ٹانگوں والا بچہ

’’اخبار سیاست مورخہ ۱۷؍اپریل۱۹۲۵ء میں حسب ذیل خبر شائع ہوئی ہے۔ امرتسر میں ہاتھی دروازہ کے باہر چند روز سے ایک عجیب الخلقت انسان کی نمائش کی جارہی ہے، جس کی خلاف معمول تین ٹانگیں ہیں۔ نصف حصہ جسم میں اندری ہے۔‘‘

(الفضل ج۱۲ نمبر۱۱۸ ص۵، مورخہ ۲۵؍اپریل۱۹۲۵ء)

(۱۶)دانتوں والی مرغی

’’نیویارک میں ایک شخص کے پاس ایک مرغی ہے جس کے منہ میں دانت ہیں اور اس کی بناوٹ بھی کسی قدر عجیب ہے۔ اس کی چونچ چپٹی بلکہ بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے نیچے منہ کا سوراخ مثل دہن کے ہے، جس کے اندر دو مسلسل لڑیاں دانتوں کی ہیں۔‘‘

(بدر قادیان ج۱۱ ش۳۲ ص۶، مورخہ ۲۳؍مئی۱۹۱۲ء)

(۱۷)مرد کے ہاں بچہ ہونا

’’ چند سال گزرے ہیں کہ اخبارات نے شائع کیا کہ یورپ میں کسی جگہ ایک جوان آدمی کے پیٹ میں رسولی پیدا ہوگئی۔ جب وہ بڑھ کر زیادہ تکلیف دینے لگی تو اس پراپریشن کیا گیا۔ چیرا دینے پر اس میں سے ثابت انسانی بچہ نکلا۔ اگرچہ زندہ نہ تھا، مگر اس کے قریباً تمام اعضاء بنے ہوئے اور پورے تھے۔‘‘

(الفضل ج۱۶ نمبر۸۵ ص۶، مورخہ۳۰؍اپریل۱۹۲۹ء)

(۱۸)مرد کے پیٹ میں توام بچے

’’بلگریڈ (سربیا) کے شفاخانہ میں ایک کاشتکار اپنی بیوی کو داخل کرانے کی غرض سے لے گیا۔ وہ حاملہ تھی جب کاشتکار کی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی تو ڈاکٹر نے دیکھا کہ اس کاشتکار کے شکم میں ایک غیر معمولی دنبل ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو بے حد تکلیف ہے۔ اس پر عمل جراحی کیا گیا تو دنبل میں سے دو توام بچے برآمد ہوئے۔‘‘

(فاروق قادیان ص۴، مورخہ ۷؍اکتوبر۱۹۲۹ء)

324

(۱۹)بے دانت بچے

’’ایک یہودی کے دو بچے ایسے پیدا ہوئے تھے کہ ان کی ساری عمر میں نہ تو بال پیدا ہوئے اور نہ ہی ان کے دانت نکلے۔‘‘

(صداقت مریمیہ ص۵۸)

(۲۰)نوبرس کی لڑکی کو لڑکا پیدا ہوا

’’ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ لینسٹ نمبر۱۵، مطبوعہ یکم؍اپریل۱۸۸۱ء میں اس طرح لکھا ہے کہ انہوں نے ایسی عورت کو جنایا جس کو ایک برس کی عمر سے حیض آنے لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ برس دس مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا۔‘‘

(آریہ دہرم ص ۵۶، خزائن ج۱۰ ص۶۴)

(۲۱)عجیب بچہ جوپیدائشی بوڑھا ہے

’’لنڈن کے اخبار مانچسٹرگارڈین میں ایک عجیب وغریب بچہ کے حالات چھپے ہیں۔ یہ ۱۹۲۲ء میں کرسمس کی رات کو مسٹر جوزف کا ہن سکنہ ۴۸ ہائی سٹریٹ ہائی گیٹ لنڈن کے ہاں پیدا ہوا تھا۔ یہ پیدائش کے وقت سے ہی بوڑھا معلوم ہوتا تھا۔ اس کےچہرے اور جسم پر جھریاں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ پیدائش کے دن سے لے کر اب تک رویا ہی نہیں۔‘‘

(فاروق قادیان ج۱۰ نمبر۳۷،۳۸ ص۲، مورخہ۶،۱۳؍جنوری۱۹۲۶ء)

(۲۲)۱۶سیروزنی بچہ

’’دہلی ۹؍ستمبر کل زنانہ ہسپتال میں ایک عورت کے ۱۶ سیروزنی بچہ پیدا ہوا جو عورت کا چار جگہ سے پیٹ چاک کرکے نکالا گیا۔ بچہ اور اس کی ماں دونوں مرگئے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۲۳ ص۱۲، مورخہ۱۸؍ستمبر۱۹۲۸ء)

(۲۳)دودھ دینے والا مرد

’’اس کے علاوہ میں نے جموں میں ایک آدمی ایسا دیکھا تھا جس کے پستانوں سے عورتوں کی طرح دودھ نکلتا تھا۔ پھر جب ہم قرآن شریف کی طرف غور کرتے ہیں تو وہاں پر

325

بھی بعض امور نادرہ قسم کے پاتے ہیں۔مثلاً حضرت یونسm کا مچھلی کے پیٹ میں تین دن تک زندہ صحیح سالم رہنا اور پھر زندہ ہی نکل آنا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کا صحیح سالم سمندر سے پار چلے جانا اور فرعون کا اسی راستہ پر غرق ہوجانا اور شق القمر کا ہونا۔‘‘

(فاروق قادیان ج۱۸ نمبر۱۹ ص۶،۷، مورخہ ۲۱؍اگست۱۹۳۳ء)

(۲۴)جاپانی مرغی

’’ٹوکیو یکم؍اپریل ناگاساگا کے نزدیک ایک کسان کے پاس ایک مرغی ہے جو باتیں کرتی ہے۔ مرغی چچا، سلام، الوداع اور چند دیگر الفاظ جاپانی زبان میں بول سکتی ہے۔ (ریفارمر)‘‘ (اخبار فاروق قادیان ج۱۹ نمبر۴ کالم۳ ص۶، مورخہ ۲۸؍اپریل۱۹۳۴ء)

(۲۵)ہنگومیں ایک عجیب الخلقت بچہ

۸؍ستمبر ہنگوشہر کے ایک محلہ میں فخربنگش خان غلام حیدرخان نے ایک ایسے لڑکے کودیکھا جو دودن کا تھا۔ دونوں پائوں کی انگلیاں ایڑیوں کی جگہ تھیں اور دونوں ایڑیاں انگلیوں کی جگہ پر اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بھی الٹی تھیں۔ لوگ اس بچہ کو دیکھنے آرہے تھے۔‘‘

(اخبار ملاپ لاہور کالم۳ ص۱۵، مورخہ ۱۱؍ستمبر۱۹۴۰ء)

(۲۶)عجیب وغریب عورت

’’پولینڈ میں ’’ماریازدگر سکا‘‘ نام ایک خاتون ہے، جس کی عمر تو ۶۵؍برس کی ہے۔ مگر وہ دیکھنے میں بیس سال کی معلوم ہوتی ہے۔ اسے شادی کئے ۳۷سال گزرچکے ہیں۔ اب تک پولینڈ کے متعدد ڈاکٹر اس کا معائنہ کرچکے ہیں، مگر وہ اس کے شباب جاودانی کی کوئی توجیہہ نہیں کرسکے۔ ان کا بیان ہے کہ خاتون کی جسمانی حالت اور جلد سے بڑھاپے کے آثار بالکل ظاہر نہیں ہوتے۔ ماریا اپنی عمر میں کبھی بیمار نہیں پڑی۔ اس نے نہ کبھی سگرٹ پیا ہے نہ قہوہ۔‘‘

(اخبار مصباح قایان ج۱۱ نمبر۸،۹ ص۲۱، مورخہ ۱۵؍اپریل ویکم؍مئی۱۹۳۷ء)

(۲۷)بہت سونے والی عورت

’’ اٹلی میں ایک لڑکی بٹینا پیری ۱۸۶۴ء میں جب کہ اس کی عمر۱۵سال کی تھی۔ سوئی

326

اور آج تک اس کی نیند نہیں کھلی۔ اس تمام عرصہ میں وہ سوئی رہی۔ درمیان میں شاذونادر ہی کبھی اس کی آنکھ کھلی ہوگی۔ اب اس کی عمر۸۸سال ہے۔ امریکہ میں ایک لڑکی ۶سال تک متواتر سوئی رہی۔‘‘

(اخبار مصباح قادیان ج۱۱ نمبر۸،۹ ص۲۱، مورخہ ۱۵؍اپریل ویکم؍مئی۱۹۳۷ء)

(۲۸)عجیب وغریب دل

’’ہنگری کے ایک سٹیشن ماسٹر کی بیوی کا دل نہ صرف الٹی جانب یعنی دائیں جانب ہے بلکہ اس کا رخ بھی الٹا ہے اور اوپر کا حصہ نچلی طرف اور نچلا حصہ اوپر کی طرف ہے۔ اس حیرت انگیز امر واقعہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب وہ ایک دن ہسپتال میں ایکسرے معائنہ کے لئے گئی۔ کیونکہ اسے دل کا عارضہ ہوگیا تھا۔ آج تک اس قسم کی مثال دنیا بھر میں کہیںسننے میں نہیں آئی۔ ڈاکٹر بھی حیرت سے انگشت بدنداں رہ گئے۔ لیکن عورت کو کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی صحت بہت اچھی ہے۔

(اخبار مصباح قادیان ج۱۱ نمبر۶ ص۱۷، مورخہ۱۵؍مارچ۱۹۳۷ء)

(۲۹)حسن بابا کاحال

’’حسن بابا نامی ایک شخص جو درہ دانیال کے قریب ایک گائوں میں رہتا ہے۔ اس کی عمر۱۲۹؍سال ہے۔ اس کی جسمانی اور دماغی حالت نہایت عمدہ ہے۔ اس نے حال ہی میں ایک ۳۷سالہ عورت فاطمہ خانم سے شادی کی ہے۔ حسن بابا کی بصارت بھی اچھی ہے اور وہ ہفتہ میں تین بار ۲۴میل چلتا ہے۔ اس کا قول ہے کہ چلنے پھرنے ہی سے میری صحت قائم ہے۔‘‘

(اخبار مصباح قادیان ج۱۱ نمبر۶ ص۱۵، مورخہ ۱۵؍مارچ۱۹۳۷ء)

(۳۰)کھانا نہ کھانے والی عورت

’’تریسانبو میں ایک ۳۸سال کی جرمن عورت ہے، جس کے ہاں کسانی کا پیشہ ہوتا ہے۔ یہ عورت براعظم یورپ میں چودہ سال سے بے حد مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس تمام مدت میں تریانے کوئی ٹھوس غذا نہیں کھائی۔ نہ دس سال سے کسی رقیق شئے کا ایک قطرہ اس کے ہونٹوں سے مس ہوا۔ مزیدبرآں وہ اس زمانہ میں بغیر سوئے ہوئے سب کام کاج کرتی

327

رہی۔ ان حالات کے باوجود وہ مستعد خوش نظر اور ہشاش بشاش نظر آتی ہے۔‘‘

(رسالہ ہمدرد صحت دہلی ج۶ نمبر۷ ص۴۴، بابت ماہ جنوری۱۹۳۸ء)

(۳۱)آگ تنکے کو نہ جلاسکی

’’عناصر کی طبعی خاصیتیں چونکہ خدا وندکریم نے ہی ان کو عطا فرمائی ہوئی ہیں۔ وہ جس وقت چاہے ان سے واپس لے سکتا ہے اور معطل کرسکتا ہے۔ چنانچہ آریہ شاستروں میں یہ لکھا ہے کہ : ’’برہم نے آگ کے سامنے ایک تنکا رکھ دیا۔ مگر آگ اپنی پوری طاقت صرفکرنے پر بھی اس تنکے کو نہ جلاسکی۔ تب آگ کو خدا کی طاقت کا پتہ لگا۔‘‘(اخبار فاروق قادیان کالم۲ ص۶، مورخہ ۷؍اگست۱۹۲۹ء، کین اپنشد تیسرا کھنڈ ترجمہ درشنانند آریہ مطبوعہ ۱۹۲۰ء ص ۲۱)

(۳۲)ایک لڑکے کے دو دل ہیں

’’اوٹکمنڈ میں ایک لڑکے کے دو دل ہیں۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کرچکے ہیں اور اسے نہایت عجیب بات بتاتے ہیں۔ لڑکے کو اس سے ذرہ بھی تکلیف نہیں۔‘‘

(اخبار بدرقادیان ج۱۱ نمبر۳۲ کالم۳ ص۵، مورخہ۲۳؍مئی ۱۹۱۲ء)

(۳۳)دو عجیب وغریب لڑکیاں

’’ہاڑپور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک کمہار کے گھر میں دولڑکیاں پیدا ہوئیں، جن کی پشت آپس میں ملی ہوئی تھی۔ دوسراور چارآنکھیں مگر ٹانگیں دوتھیں۔ لڑکیاں پیدا ہوتے ہی بولنے لگیں مگر ان کی زبان کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ صرف کلمہ سمجھ میں پڑتا تھا۔ لوگ جوق درجوق انہیں دیکھنے آئے تو لڑکیوں نے انہیں دیکھ کر رونا شروع کیا اور ٹھنڈی آہیں بھر کر کچھ کہتی تھیں مگر ایک حرف بھی سمجھ میں نہ آتا تھا اور ایک دن زندہ رہ کر مرگئیں۔ جس کی لاش غائب ہوگئی۔‘‘

(اخباربدر قایان ج۱۱ ش۳۲ ص۵، مورخہ ۲۳؍مئی۱۹۱۲ء)

(۳۴)عجیب وغریب بکری

’’موضع کرم آباد تحصیل وزیرآباد ضلع گوجرانوالہ میں ایک زمیندار کے ہاں ایک

328

بکری نے چھ بچے دئیے… ۱۹۱۱ء کو الہ آباد میں ایک وکیل کی بکری نے ایسا بچہ دیا کہ جس کا سر انسان کی مانند اور دھڑ بکرے جیسا تھا۔ یہ بچہ تھوڑی دیر زندہ رہ کر مرگیا۔‘‘

(اخبار بدر قادیان ج۱۱ ش۳۲ ص۶، مورخہ ۲۳؍مئی۱۹۱۲ء)

(۳۵)تین عجیب واقعات

۱… ۱۹۰۸ء کو نواب معین الدین خان بہادر جاگیردار حیدرآباد دکن نے حضور نظامالملک کو ایک مرغ نذر گزارا جس کی چار ٹانگیں تھیں۔

۲… ۱۹۰۹ء کو حیدرآباد دکن کے کوتوال نے حضور سرکار نظام کے سامنے ایک لڑکی پیش کی جس کے دو منہ، چار ہاتھ، چارپائوں، چار آنکھیں تھیں۔

۳… ۱۹۱۰ء میں دہلی میں ایک مسلمان سوداگر کے ہاں لڑکا پیدا ہوا جس کی جائے برازندارد تھی۔

(اخبار بدر قادیان کالم۱ ص۶، مورخہ ۲۳؍مئی۱۹۱۲ء)

(۳۶)ایک عجیب وغریب عورت

’’حال ہی میں برطانیہ اعظم میں ایک عورت بعمر ایک سو بارہ سال میں فوت ہوئی ہے۔ اس کی صرف ایک لڑکی ۹سال کی عمر کی رہ گئی ہے گویا اس کو جس وقت پہلا حمل ہوا تھا تو اس کی عمر۱۰۳سال کی تھی۔‘‘

(صداقت مریمیہ ص۷۴)

’’تیونس میں ایک مور بعمر ۳۱سالہ قد درمیانہ تھا۔ اس کا سر اتنا بڑا تھا کہ لوگ دور دور سے دیکھنے کے لئے جمع ہوتے رہتے تھے۔ اس کا ناک بھی بہت بڑا تھا۔ اس کا منہ اتنا بڑا تھا کہ وہ ایک تربوز کو آسانی سے کھاجاتا تھا، جس طرح عام آدمی سیب کو کھاسکتا ہے۔‘‘

(صداقت مریمیہ ص۱۰۰)

(۳۸)طویل القامت انسان

’’اسی طرح دراز قد ۹گزے، ہفت گزے، ۱۰فٹے، ۹فٹے، ۱۱فٹے اور اسی طرح کے طویل القامت اور عظیم الجثہ انسان پیداہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت آدم کا قد

329

۱۲۳فٹ تھا اور حوا ۱۱۸فٹ لمبی تھی۔ اس زمانہ میں بھی مختلف مقامات میں مستند لوگ گواہی دیتے ہیں کہ ۱۲فٹ تک لمبے آدمی ان کے مشاہدے میں آئے ہیں، جو ۲۰سیر سے زیادہ تک ایک وقت کی معمولی غذا میں گوشت کھاتے ہیں۔‘‘

(صداقت مریمیہ ص۱۰۱)

(۳۹)بچہ کے پیٹ میں بچہ

’’اورلیگان امریکہ سے ایک عجیب وغریب اطلاع موصول ہوئی ہے۔ بار ایراسٹوپی ایک تیرہ مہینے کی لڑکی ہے۔ یہ پیدائش کے وقت صحت کے لحاظ سے اچھی تھی۔ لیکن چند ماہ سے اس کا پیٹ بڑھنا شروع ہوا۔ جب پیٹ بہت بڑھ گیا تو علاج کرایا گیا۔ ڈاکٹروں کی سمجھ میں کوئی بیماری نہ آئی۔ آخر ایکسرے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے۔ ڈاکٹروں کی حیرت کی انتہا نہ رہی دو چار ڈاکٹروں نے پورا اطمینان کرکے لڑکی کا پیٹ چاک کیا اور بچہ نکالا جس کا قد سات انچ تھا۔ اس کا چہرہ ابھی نہیں بنا تھا۔ لیکن دماغ اور ہاتھ پائوں بن چکے تھے۔ ماہر ڈاکڑوں کا بیان ہے کہ اسٹوپی کے ساتھ ایک اور بچہ کا استقرار بھی ہوگیا۔ لیکن اتفاق سے یہ نطفہ اسٹوپی کے اندر چلا گیا اور اس کی نشوونما جگہ نہ ملنے کی وجہ سے رک گئی اور جب اسٹوپی پیدا ہوئی اور بڑھنے لگی تو اس بچہ کی نشوونمابھی ہونے لگی۔ ہزار لوگ اس بچی اور بچی کے بچہ کو دیکھنے آرہے ہیں۔‘‘

(اخبار مدینہ بجنور ج۲۷نمبر۴۶ کالم۲ ص۴، مورخہ ۲۸؍جون۱۹۳۸ء)

(۴۰)بائیس سال سے نیند نہیںآئی، جنگ کے ایک زخم خوردہ کی حالت

بورڈالپٹ (ہوائی ڈاک سے) یہاں کے ایک قریبی گائوں میں ایم پال کرن نامی ایک ریٹائرڈ کلرک اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی عمر۵۴سال ہے۔ اس شخص کا سر جنگ عظیم کے دوران میں جون۱۹۱۵ء میں مجروح ہوگیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یعنی کامل ۲۲سال تک یہ شخص اب تک نہیں سویا۔ حال ہی میں امریکہ کی ایک فرم نے (جس کا کام عجوبہ روزگار چیزوں کو فراہم کرنا ہے) اسے پیشکش کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا سرفرم حاصل کرسکے ۔یہ شخص چونکہ مذہبی رجحانات رکھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ جسم اور روح خدا کی ملکیت ہے۔ اس لئے اس پیش کش کو ٹھکرادیا۔ ایم کرن کا بیان ہے کہ میں

330

۲۴گھنٹہ میں ۸مرتبہ روٹی کھاتا ہوں۔ جب میں تھک جاتا ہوں اور آرام کرنا چاہتا ہوں۔ اس وقت چند گھنٹوں کے لئے آنکھیں بند کرلیتا ہوں اور خالی الذہن ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن اس کوشش میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکا۔

(اخبار عصر جدید کلکتہ، مورخہ ۱۰؍فروری۱۹۳۸ء)

(۴۱)کیا انسان بائیسکل کھاسکتا ہے

دنیا نے عجیب وغریب انسان پیدا کئے ہیں۔ بعض انسانوں کے واقعات تو ا س قدر حیرت انگیز ہیں کہ ان کا یقین کرنا بھی دشوار ہے۔ لندن کی ایک اطلاع ہے کہ وہاں آرتھربیولک نامی ایک ایسا عجیب وغریب شخص ہے کہ یہ تین ہفتہ کے اندر اندر فولادی کی بنی ہوئی پوری بائیسکل کھاگیا۔

اسی طرح ارتھر بیولک کا ڈیڑھ سالہ بچہ جو چیز چاہتا ہے کھاجاتا ہے۔ اس بچہ کی عمر اگرچہ ابھی بہت کم ہے۔ لیکن اس کے پورے دانت نکل آئے ہیں اور دانت نہایت مضبوط اور موتی کی طرح چمکدار ہیں۔

کچھ دن ہوئے یہ بچہ گھوڑے کے کھلونے کی دم کاٹ کر کھاگیا۔ اس کے بعد اس نے ایک بجلی کالیمپ کھالیا۔ گرامون ریکارڈ چباگیا۔ حال ہی میں اس نے ایک سیفٹی پن کھالی۔

پن کے کھانے کے بعد اس بچہ کو سینٹ میری ہسپتال میں لے جایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے اس بچہ کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ پن بچہ کے معدہ میں پیوست ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹروں نے بتایا کہ پن معدہ میں پیوست ہے مگر خطرہ نہیں۔

بیان کیا جاتا ہے کہ ہر ایک چیز کو کھاجانے اور ہضم کرنے کی صلاحیت اس بچہ کو اپنے باپ سے وراثت میں ملی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے عجیب وغریب ہاضمہ کا بچہ صدیوں سے نہیں دیکھا گیا۔‘‘

(اخبار مدینہ بجنور یو۔پی ج۲۷ نمبر۴۶ ص۴، مورخہ ۲۸؍جون ۱۹۳۸ء)

(۴۲)دودھ دینے والا مرد

’’ ڈاکٹر شینک نے ایک شخص کا ذکر لکھا ہے کہ جسے وہ خوب جانتے تھے وہ اپنے

331

شباب کے زمانہ سے پچاس سال کی عمر تک دودھ دیتا رہا۔‘‘

(رسالہ ہمدرد صحت دہلی ص۳۰، بابت ماہ دسمبر۱۹۳۷ء)

(۴۳)بغیر کان کے سننے والا لڑکا

’’پشاور (بذریعہ ڈاک) کابل کے اخبار اصلاح میں ایک خبر شائع ہوئی ہے، جس میں درج ہے کہ ہرات کے قریب عبدالرحمن نامی ایک شخص کا لڑکا جس کا نام نذر محمد ہے، بغیر کانوں کے سنتا ہے۔ کان کی جگہ اس کے سوراخ تک نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ اس کے نتھنے کانوں کا بھی کام دیتے ہیں۔‘‘

(اخبار روزنامہ تیج دہلی کالم۳ ص۶، مورخہ ۱۲؍جولائی۱۹۴۰ء)

(۴۴)گھڑیال کے پیٹ سے زندہ آدمی نکلا

’’لاہور۲۰؍دسمبر ملتان کی ایک اطلاع سے پتہ چلتا ہے کہ ایک گھڑیال کے معدہ سے ایک زندہ آدمی نکالا گیا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ پنجاب کے پانچ دریائوں کے سنگم میں ایک گھڑیال (مگر مچھ)ایک آدمی کو ہڑپ کرگیا۔ ایک ماہی گیر حادثہ کی اطلاع پاتے ہی موقع پر پہنچا اور اس نے کسی تدبیر سے گھڑیال کو ہلاک کرکے اس کا پیٹ چاک کیا اور وہاں سے اس آدمی کو نکالا۔ یہ شخص اگرچہ بیہوش تھا، مگر بتدریج اسے ہوش آگیا۔ ہسپتال میں اس کی حالت اچھی ہورہی ہے۔‘‘

(الہلال کلکتہ نمبر۸۴ ص۲، مورخہ ۲۳؍دسمبر۱۹۳۷ء)

نتیجہ: ’’غرض اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں بنظرغور تأمل وتدبر کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں انسانی پیدائش کے ایسے ایسے نمونے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ہم اس کے حضور میں سربسجود ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں دیکھتے۔ کسی معین طریق پیدائش کو ہم قانون قدرت کی محدود تعریف دائرے میں محیط نہیں کرسکتے۔ ہم کیا اور ہمارا علم کیا۔ دن رات ہمارے سامنے نئے نئے مشاہدے پیش ہوتے رہتے ہیں۔ جب کہ وہ ذات خود وہم وقیاس سے بالا تر ہے اور اس کی قدرت بھی انسانی سمجھ کے دائرے اور وہم وقیاس سے بالاتر ہے تو اس کے قانون پر انسانی علم کہاں احاطہ کرسکتا ہے۔‘‘

(کتاب صداقت مریمیہ ص۱، مصنفہ میاں معراج الدین عمرقادیانی)

332

مرزا قادیانی کی کہانی

مرزا اور مرزایٗوں کی زبانی

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

333

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی خاتم النّبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ماہ دسمبر۱۹۳۲ء سے آج تک میں نے چودہ عدد کتابیں اور رسالے فرقہ مرزائیہ اور اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید میں لکھے اور شائع کئے ہیں۔ اللہ کریم نے حضرت نبی کریمaکی برکت سے مجھے دین اسلام کی خدمت کی توفیق عطا کی ہے اور خاص دماغ، خاص حافظہ اور خاص طاقت اس کارخیر کے لئے عطا کی ہے: ’’ھذا من فضل ربی‘‘میں نے ارادہ کیا ہے کہ مرزائی لٹریچر کے حوالوں سے ایک دلچسپ رسالہ لکھوں اور اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان، شجرۂ نسب، پیدائش، بچپن، جوانی اور امراض مختصر طور پر لکھوں۔ خداوند تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ رسالہ مفید ثابت ہو:’’وما توفیقی الا ب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

مرزاقادیانی کی کہانی مرزا اور مرزائیوں کی زبانی

خاندان مرزا

۱… ’’اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔ ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۳۴حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲)

۲… ’’ایسا ہی میں بھی توام پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ خاتم الخلفاء چینی الاصل ہوگا۔ یعنی

334

مغلوں میں سے اور وہ جوڑہ یعنی توام پیدا ہوگا۔ پہلے لڑکی نکلے گی۔ بعداس کے وہ پیدا ہوگا۔ ایک ہی وقت میں۔ اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ جمعہ کی صبح کو بطور توام میں پیدا ہوا۔ اوّل لڑکی اور بعدہ، میں پیدا ہوا۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتیں ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۳۵)

۳… ’’اور اس پیش گوئی کو شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی اپنی کتاب فصوص میں لکھا ہے اور لکھا ہے کہ وہ چینی الاصل ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹)

۴… ’’اس سے مطلب یہ ہے کہ اس کے خاندان میں ترک کا خون ملا ہوا ہوگا۔ ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغلیہ خاندان کہلاتا ہے۔ اس پیش گوئی کا مصداق ہے۔ کیونکہ اگر سچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے۔ مگر یہ تو یقینی اور مشہور و محسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے ہیں اور وہ چینی الاصل ہیں۔ یعنی چین کے رہنے والی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۱حاشیہ، خزائن ج۲۲ص۲۰۹)

۵… ’’ایک حدیث سے جو کنزالعمال میں موجود ہے۔سمجھا جاتا ہے کہ اہل فارس یعنی بنی فارس بنی اسحاق میں سے ہیں۔ پس اس طرح پر وہ آنے والا مسیح اسرائیلی ہوا، اور بنی فاطمہ کے ساتھ امّہاتی تعلق رکھنے کی وجہ سے جیسا کہ مجھے حاصل ہے۔ فاطمی بھی ہوا۔ پس گویا وہ نصف اسرائیلی ہوا، اور نصف فاطمی ہوا۔ جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔ ہاں! میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۱۱۶)

۶… ’’سوانی قرأت فی کتب سوانح ابائی وسمعت من ابی ابن ابائی کانوامن لجر ثومۃ المغلیۃ ولکن اللہ اوحی الی انھم کانوامن بنی فارسلامن الاقوام الترکیۃ ومع ذلک اخبرنی ربی بان بعض امھاتی کن من بنی الفاطمۃ ومن اھل بیت النبوۃ و اللہ جمع فیھم نسل اسحاق و اسمٰعیل من کمال الحکمۃوالمصلحۃ ‘‘

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳)

335

شجرئہ نسب

۱… ’’ہمارا شجرئہ نسب اس طرح پر ہے۔ میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضیٰ صاحب، ابن مرزا عطا محمد صاحب، ابن مرزا گل محمد صاحب، ابن مرزا فیض محمد صاحب، ابن مرزا محمد قائم صاحب، ابن مرزا محمد اسلم صاحب، ابن مرزا محمد دلاور صاحب، ابن مرزا الہ دین صاحب، ابن مرزا جعفر بیگ صاحب، ابن مرزا محمد بیگ صاحب، ابن مرزا عبدالباقی صاحب، ابن مرزا محمد سلطان صاحب، ابن مرزا ہاوی بیگ صاحب، مورث اعلیٰ۔‘‘(کتاب البریہ ص۱۴۲حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۲، ضمیمہ حقیقت الوحی ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳)

شجرئہ مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی کا شجرئہ نسب۔ مرزا ہاوی بیگ، مغل، حاجی برلاس، مغل خان کے ذریعے یافث بن حضرت نوح تک پہنچتا ہے۔ اگر مرزاقادیانی فارسی النسل یا بنی اسرائیل یا بنی اسحاق میں سے ہوتا تو چاہئے تھا کہ اس کا شجرئہ نسب حضرت یعقوبm حضرت اسحاقm، حضرت ابراہیمm کے ذریعے سام بن حضرت نوحm تک پہنچتا۔ مگر معاملہ برعکس ہے۔

پیدائش مرزا

عیسوی سنہ: مرزاقادیانی نے کہا: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔‘‘(کتاب البریہ ص۱۴۶حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷، اخبار بدر ص۵، مورخہ ۸؍اگست۱۹۰۴ء، کتاب حیات النبی ج۱ ص۴۹، رسالہ ریویو ج۵ نمبر۶ ص۲۱۹، بابت ماہ جون۱۹۰۶ء، اخبار الحکم ص۴، مورخہ ۲۱، ۲۸؍مئی۱۹۱۱ء)

تاریخ اور دن: ’’یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۸۱حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۸۱)

336

وقت: ’’میں بھی جمعہ کے روز بوقت صبح توام پیدا ہوا تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹)

کیفیت ولادت: ’’میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔‘‘

’’تیسری آدم سے مجھے یہ بھی مناسبت ہے کہ آدم توام کے طور پر پیدا ہوا اور میں بھی توام پیدا ہوا۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی۔ بعدہ، میں اور بایں ہمہ میں اپنے والد کے لئے خاتم الولد تھا۔ میرے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا اور میں جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹، برا ہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۶، خزائن ج۲۱ ص۱۱۳)

مرزاقادیانی کی ماں کا نام

مرزا بشیر احمد ایم۔اے نے لکھا ہے: ’’خاکسارعرض کرتا ہے کہ ہماری دادی صاحبہ یعنی حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی)کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ وہ دادا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہوگئی تھیں۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۸ روایت نمبر۱۰)

(ایک اور نام بھی زبان زد خلائق ہے ۔مرتب)

مرزاقادیانی کے استاد

’’بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب

337

میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا، حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۸، ۱۴۹، ۱۵۰حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۹،۱۸۰،۱۸۱)

مرزا سلطان احمد کی پیدائش

’’بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۵۵ نمبر۲۸۳)

نوٹ: ’’حضرت (مرزاقادیانی) ابھی گویا بچہ ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہوگئے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۷ نمبر۵۹)

بچہ کے بچہ پیدا ہوگیا یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا معجزہ ہے یا کسی صحابی کی کرامت؟

مرزا غلام احمد کا بچپن

’’چڑیاں پکڑنا‘‘

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم! بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہا کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کرلیتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا۔‘

338

کہ سندھی ہمارے گائوں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے نہ سمجھا کہ سندھی سے کون مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔‘‘

(کتاب سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۰ نمبر۵۱)

نیز والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہ ہوتا تھا۔ تو تیز سرکنڈے سے ہی حلال کرلیتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۳۱ نمبر۲۵۱)

میاں محمود احمد کا چڑیاں پکڑنا

’’بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے کہ ایک دفعہ میاں(مرزا محمود) دالان کے دروازے بند کرکے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت (مرزاقادیانی) نے جمعہ کی نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا: میاں! گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔ جس میں رحم نہیں۔ اس میں ایمان نہیں۔‘‘

(سیرت المہدی ص۱۷۶ نمبر۱۷۸)

چوری کرنا

’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جائو، گھر سے میٹھا لائو۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی کے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ پس پھر کیا تھا۔ میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا۔ وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲۵ نمبر۲۴۴)

روٹی پر راکھ

’’بیان کیامجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔

339

انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت صاحب نے کہا نہیں۔ یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جائو پھر راکھ سے روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہوگیا۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا۔ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی۔ اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے۔ مگر آپ خاموش رہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲۵،۲۲۷ نمبر۲۴۵)

مرزا غلام احمد کی جوانی

باپ کی پنشن

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیانلانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ۳۸،۳۹نمبر۴۹)

تلے ہوئے کرارے پکوڑے

’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب جب بڑی مسجد میں جاتے تھے تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کے تازہ ٹنڈ یا تازہ آنجورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا اور میاں عبد اللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب! اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے۔

340

کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے اور سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶۶ نمبر۱۶۷)

مرزاقادیانی کا ہاضمہ

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کھانوں میں سے پرندہ کا گوشت زیادہ پسند فرماتے تھے۔ شروع شروع میں بٹیر بھی کھاتے تھے لیکن جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ نے اس کا گوشت کھانا چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔ مچھلی کا گوشت بھی حضرت صاحب کو پسند تھا۔ ناشتہ باقاعدہ نہیں کرتے تھے۔ ہاں! عموماً صبح کو دودھ پی لیتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو دودھ ہضم ہوجاتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہضم تو نہیں ہوتا تھا۔ مگر پی لیتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ پکوڑے بھی حضرت صاحب کو پسند تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۴۵ نمبر۵۶)

مرزاقادیانی کا حافظہ

فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔‘‘(نسیم دعوت ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۴۳۹،رسالہ ریویو ج۲ نمبر۴ ص۱۵۳ حاشیہ، بابت ماہ اپریل ۱۹۰۳ء)

مرزاقادیانی کا ازاربند

’’اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑجاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازاربند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑجاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۴۹ نمبر۶۵)

341

مرزاقادیانی کی گرگابی

’’ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پائوں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پائوں پڑ جاتا تو تنگ ہوکر فرماتے۔ ان کی (انگریز) کوئی چیز بھی اچھی نہیں(اور ان کا خود کاشتہ پودا؟)ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے سیدھے پائوں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیئے تھے۔ مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔ اس لئے آپ نے اسے اتار دیا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۰ نمبر۸۳)

مرزا غلام احمد کی بیماریاں

مرض ہسٹیریا کا دورہ

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسیٹریا کا دورۂ بشیر اوّل ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا۔ جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہوگیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتّھوآیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود کا پرانا مخلص خادم تھا۔ اب فوت ہوچکا ہے) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگرگرم کردو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو۔ میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہاکہ کچھ خراب ہوگئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس

342

گئی تو فرمایا۔ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۳ نمبر۱۹)

۲… ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھیادھر بھاگتا تھا اور کبھی ادھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحبہ کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پائوں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵نمبر۳۶)

نوٹ نمبر۱: اس سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مرض ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔ مرض ہسٹیریا سے مراد بائو گولہ ہے اور حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی مرحوم کی کتاب (مخزن حکمت ج دوم ص۹۶۶) پر زیر مرض ہسٹیریا لکھا ہے: ’’یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے۔ اگرچہ شاذونادر مرد بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔‘‘

نوٹ نمبر۲: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالینحولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے، جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔‘‘

(رسالہ ریویوج۲۵ نمبر۸ ص۶،۷، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

343

نوٹ نمبر۳: ’’ہسٹیریا کے مریض کو جذبات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘

(رسالہ ریویوآف ریلیجنز ص۹، بابت ماہ نومبر ۱۹۲۹ء)

’’کہ نبی میں اجتماع توجہ بالا ارادہ ہوتا ہے۔ جذبات پر قابو ہوتا ہے۔‘‘

(سالہ ریویوآف ریلیجنز ج۲۶ نمبر۵ ص۳۰، بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء)

کثرت پیشاب

’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دوچادروں میں مسیح نازل ہوگا۔ وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں۔ جن کی تعبیر علم تعبیر الرٔویا کی رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصے میں ہے کہ ہمیشہ سردرد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کےساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسااوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰)

دوران سر

’’ہاں! دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرے بدن کے نیچے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصے میں کثرت پیشاب ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰)

ذیابیطس شکری

’’صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔ تادوزردرنگ چادروں کی پیش گوئی میں خلل نہ آئے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے۔ جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر پائی گئی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۶۳،۳۶۴، خزائن ج۲۲ ص۳۷۶،۳۷۷)

344

مرزا غلام احمد قادیانی

اور

اس کی قرآنی داستان

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

345

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض حال

الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی خاتم النّبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین!

ماہ اپریل ۱۹۳۱ء کا ذکر ہے کہ عید الالضحیٰ کی نماز پڑھ کر گھر کو واپس آرہا تھا۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں میں قرآن شریف کی جو آیتیں لکھی ہیں، ان کی بابت یہ دیکھنا چاہئے کہ اس نے وہ آیتیں صحیح لکھی ہیں یا نہیں۔ ماہ ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ تھی ۔ کھانا کھاکر میں بیٹھ گیا۔ میں نے قرآن مجید کو سامنے رکھا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کو دیکھنا شروع کیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی نے پچاس سے زیادہ آیتیں اپنی کتابوں میں غلط لکھی ہیں۔ پھر میں نے اس مضمون کو بعنوان ’’مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی‘‘ ماہ اکتوبر ۱۹۳۱ء کے حنفی اخبار ’’العدل‘‘ گوجرانوالہ میں شائع کیا۔ مرزائی شاطر اس کا ٹھیک جواب نہ دے سکے۔ میں نے اس بات کو حنفی اور اہل حدیث علماء کی خدمت میں پیش کیا۔ علمائے اسلام بہت خوش ہوئے اور یہ ایک نیا مضمون ان سب کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔

اگر کوئی مرزائی مناظر یہ کہے کہ سہو کا تب ہوگیا ہے تو عرض یہ ہے کہ ایک آیت مرزاقادیانی نے پانچ یا چھ جگہ لکھی ہے اور سب جگہ غلط لکھی ہے اور مرزاقادیانی نے خود ترجمہ کیا ہے اور پچاس سے زیادہ آیتیں غلط لکھی ہیں۔ سہو کاتب کا بہانہ غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزاقادیانی آیات قرآن کریم کو صحیح طور پر نہ جانتے تھے۔ یہ رسالہ تین بار شائع ہوچکا ہے ۔ اب پھر شائع کیا جاتا ہے۔

خادم دین رسول اللہ a

حبیب اللہ امرتسری ؒ اگست ۱۹۳۷ء

346

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱… آیت قرآنی:’’فان لم تفعلوا ولن تفعلوا (البقرۃ)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وان لم تفعلوا ولن تفعلوا ‘‘ { اور اگر نہ بنا سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز نہیں بنا سکو گے۔}( براہین احمدیہ ص۲۲۰، ۳۹۵، ۵۴۶، سرمہ چشم آریہ ص۱۲حاشیہ، نورالحق حصہ اوّل ص۱۰۹، حقیقت الوحی ص۲۳۸)

۲… آیت قرآنی:’’قل لئن اجتمعت الانس والجن علٰی ان یأتوا بمثل ھذا القرآن لایأتون بمثلہ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’قل لئن اجتمعت الجن والانس علٰی ان یأتوا بمثل ھذا القران لا یأتون بمثلہ‘‘ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر سب جن وانس اس بات پر متفق ہوجائیں کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے تو ممکن نہیںکہ کرسکیں۔‘‘(کرامات الصادقین ص۸،۱۰، براہین احمدیہ ص۲۱۹، ۴۹۲، سرمہ چشم آریہ ص۱۱، جنگ مقدس ص۴، ازالہ اوہام حصہ۲ ص۹۳۶، نورالحق حصہ اوّل ص۱۰۹)

۳… آیت قرآنی:’’ادع الٰی سبیل ربک باالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم باالتی ھی احسن (النحل)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’جادلھم باالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ‘‘یعنی عیسائیوں کے ساتھ حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر۔ نہ سختی سے۔‘‘(نورالحق حصہ اوّل ص ۴۷، البلاغ ص۸،۱۰،۲۳، تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۹۴ حاشیہ، تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۹)

۴… آیت قرآنی:’’قال الذین کفرواللحق لما جاء ھم ھذا سحر مبین (احقاف)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’ان ھذا الاسحر مبین‘‘

(براہین احمدیہ ص ۱۹۶ حاشیہ)

۵… آیت قرآنی:’’عسٰی ربکم ان یرحمکم‘‘

347

الفاظ مرزاقادیانی:’’عسٰی ربکم ان یرحم علیکم‘‘

(براہین احمدیہ ص ۵۰۵ حاشیہ)

۶… آیت قرآنی:’’الم یعلموا انہ من یحاد د اللہ ورسولہ فان لہ نارجھنم خالداً فیھاذالک الخزی العظیم‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ یدخلہ ناراً خالداً فیھا ذالک الخزی العظیم‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۳۰)

۷… آیت قرآنی:’’ولقد اتینٰک سبعاً من المثانی والقرآن العظیم (الحجر)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’انا اتینک سبعاً من المثانی والقرآن العظیم‘‘

(براہین احمدیہ ص ۴۸۸ حاشیہ)

۸… آیت قرآنی:’’ویجعلون ﷲ البنات سبحانہ ولھم مایشتھون‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ویجعلون لہ البنات سبحانہ ولھم مایشتھون‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ۴۲۸)

۹… آیت قرآنی: ’’فمن کان یرجوا لقاء ربہ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’فمن یرجوا لقاء ربہ‘‘

(براہین حاشیہ ص۴۲۸، ست بچن ص۱۰۰)

۱۰… آیت قرآنی:’’وھم من خشیتہ مشفقون‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وھم من خشیۃ ربھم مشفقون‘‘

(براہین ص۴۲۸ حاشیہ)

۱۱… آیت قرآنی: ’’لاتسجدوا لشمس ولا للقمر‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ولا تسجدوا لشمس ولا للقمر‘‘

(براہین ص۴۲۹ حاشیہ)

348

۱۲… آیت قرآنی:’’وان یسلبھم الذباب شیئاً لا یستنقذ وہ منہ ضعف الطالب والمطلوب‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وان یسلبھم الذباب شیئاً لا یستنفذ وہ ضعف الطالب والمطلوب‘‘

(براہین ص۴۲۹ حاشیہ)

۱۳… آیت قرآنی:’’وجعلو اللہ شرکاء الجن وخلقھم وخرقوالہ بنین وبنات بغیر علم (الانعام)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وجعلو اللہ شرکاء الجن وخرقوالہ بنین وبنات بغیر علم‘‘

(براہین ص۴۲۹ حاشیہ)

۱۴… آیت قرآنی:’’ماکان ﷲ ان یتخذ من ولد سبحانہ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ماکان ﷲ ان یتخذولدسبحانہ‘‘

(براہین ص۴۲۹ حاشیہ)

۱۵… آیت قرآنی:’’ومن لا یجب داعی اللہ ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ولا یجب داعی اللہ ‘‘

(براہین احمدیہ ص۲۲۳)

۱۶… آیت قرآنی:’’کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی ان اللہ لقوی عزیز‘‘

(براہین ص ۲۲۶)

۱۷… آیت قرآنی: ’’ان الذی فرض علیک القرآن لرادک الی معاد‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وانہ لرادک الی معاد‘‘

(براہین احمدیہ ص ۲۳۴)

۱۸… آیت قرآنی:’’ذالک الفوز العظیم‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’ذالک ھوالفوز العظیم‘‘

(براہین ص ۲۳۵)

۱۹… آیت قرآنی: ’’واذا قال اللہ یٰعیسی ابن مریم ء انت قلت للناس‘‘

349

الفاظ مرزاقادیانی:’’واذ قال اللہ یا عیسٰی اانت قلت للناس‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۲، مواہب الرحمن ص۷۳)

۲۰… آیت قرآنی:’’لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے: ’’خلق السموات والارض اکبر من خلق الناس‘‘

(ایام الصلح اردو ص ۶۱)

۲۱… آیت قرآنی:’’قد انزل اللہ الیکم ذکراً رسولاً‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’کیا قرآن میں نہیں ہے: ’’انزل ذکراً ورسولاً‘‘

۲۲… آیت قرآنی: ’’ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام‘‘یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعے سے اپنا جلال ظاہر کرے گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۴)

۲۳… آیت قرآنی: ’’فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء الٰی یوم القیامۃ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’واغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء الٰی یومالقیامۃ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ ص۲۳۴، تحفہ گولڑویہ ص۲۰۸،۲۱۸، مباحثہ الحق دہلی ص۳۷)

۲۴… آیت قرآنی:’’ومان کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ماکان اللہ ان یعذبھم وانت فیھم‘‘

(انوارالاسلام ص۴۷)

۲۵… آیت قرآنی:’’فمن یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ومن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ‘‘

(انوارالاسلام ص۳۲)

۲۶… آیت قرآنی:’’قالواتا اللہ انک لفی ضلاک القدیم‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’انک فی ضلاک القدیم‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۷۱ حاشیہ)

350

۲۷… آیت قرآنی:’’وانزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وانزلنا من الانعام ثمانیۃ ازواج‘‘

(الحق مباحثہ دہلی ص۳۵)

’’وانزل من الانعام‘‘

(حمامۃ البشریٰ عربی ص۱۷ ص۴۷)

۲۸… آیت قرآنی:’’قال امنت انہ لا الہ الا الذی آمنت بہ بنوا اسرائیل‘‘

الفاظ مرزا قادیانی: ’’آمنت بالذی آمنت بہ بنوا اسرائیل‘‘

(سراج منیر حاشیہ ص۲۹، اربعین نمبر۳ ص۳۵، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۸)

’’امنت باالذی امنوا بہ بنوا اسرائیل‘‘

(رسالہ استفتا ص۲۲ حاشیہ)

۲۹… آیت قرآنی:’’وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۲۹)

۳۰… آیت قرآنی:’’وما ارسلنا قبلک من المرسلین‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وما ارسلنا من قبلک من المرسلین‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۲)

۳۱… آیت قرآنی:’’فان مع العسریسرا۔ ان مع العسر یسرا‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: اور آیت: ’’ان مع العسر یسرا۔ ان مع العسر یسرا‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲۲۵)

۳۲… آیت قرآنی:’’جتٰی اذا فتحت یاجوج وماجوج‘‘

الفاظ مرزا قادیانی:’’حتی فتحت یاجوج وما جوج‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲۱۴)

351

۳۳… آیت قرآنی:’’یوم تبدل الارض غیر الارض‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’یدلت الارض غیر الارض‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۸۵)

۳۴… آیت قرآنی:’’ولا تدع مع اللہ الٰھا آخر لاالہ الا ھو کل شئی ھالک الا وجھہ لہ الحکم والیہ ترجعون‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ولا تدع مع اللہ الھا اخر کل شئی ھالک الا وجھہ لہ الحکم والیہ ترجعون‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۲۸)

۳۵… آیت قرآنی: ’’وقالوامالنا لانری رجالاًکنا نعدھم من الاشرار‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’مالنا لا نری رجالاًکنا نعدھم من الاشرار‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۲۱)

۳۶… آیت قرآنی: ’’وکانوامن قبل یستفتحون علی الذین کفروا(البقرۃ)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا:’’وکانوا یستفتحون من قبل‘‘

(ضرورۃ الامام ص۵)

۳۷… آیت قرآنی:’’فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے:’’وقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون‘‘

(تریاق القلوب ص۶۸)

۳۸… آیت قرآنی:’’وھو بکل خلق علیم‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’بلی وھو بکل خلق علیم‘‘

(ازالہ اوہام ص ۶۷۴)

۳۹… آیت قرآنی:’’وجاھدوا با موالکم وانفسکم فی سبیل اللہ (توبہ) ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم (توبہ)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ان یجاھدوا فی سبیل اللہ یاموالھم وانفسھم‘‘

(جنگ مقدس ص۱۷۶)

352

۴۰… آیت قرآنی:’’قدانزلنا علیکم لباساً یواری سواتکم وریشا

(الاعراف)

الفاظ مرزاقادیانی:’’ونزلنا علیکم لباسا‘‘

(حمامتہ البشریٰ مترجم ص۵۲)

’’وانزلنا علیکم لباسا‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۱۷ حاشیہ)

۴۱… آیت قرآنی: ’’وجعل منھم القردۃ والخنازیر‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وجعلنا منھم القردۃ والخنازیر‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۴)

۴۲… آیت قرآنی:’’ومنکم من یتوفی ومنکم من یردالیٰ ارذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیاء‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ومنکم من یتوفی ومنکم من یردالی ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیاء‘‘

(الجز ۱۷، سورۃ الحج، ازالہ اوہام ص۳۲۶)

۴۳… آیت قرآنی:’’فامسکو ھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ثم یتوفھن الموت‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۲۹)

۴۴… آیت قرآنی:’’ولکن اعبد اللہ الذی یتوفکم‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ولکن اعبدالذی یتوفکم‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۰)

۴۵… آیت قرآنی: ’’کل من علیھا فان ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’کل شئی فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳۶)

۴۶… آیت قرآنی:’’لایسمہ الا المطھرون‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ولایمسہ الا المطھرون‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۳۶)

353

۴۷… آیت قرآنی: ’’وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ (النحل)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین الذین اختلفوا فیہ‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۵۴)

۴۸… آیت قرآنی:’’قد بینا لکم الایات لعلکم تعقلون ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’قد بینا الایات لعلکم تعلقلون‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۲۳)

۴۹… آیت قرآنی:’’کذالک نجزی الظالمین‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’وکذالک نجزی الظالمین‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۲۹)

۵۰… آیت قرآنی:’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشد اء علے الکفار‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’محمد رسول اللہ والذین آمنوا معہ اشداء‘‘

(اخبار الحکم ص۱۱، مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۱ء، ملفوظات احمد حصہ اوّل ص۵)

۵۱… آیت قرآنی:’’وان الظن لایغنی من الحق شیاء‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’والظن لا یغنی من الحق شیاء‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۵۴)

۵۲… آیت قرآنی: ’’ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین (البقرۃ)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ان اللہ یحب التوابین ویحب المطھرین‘‘

(چشمہ معرفت ص ۱۶)

۵۳… آیت قرآنی:’’ اللہ الذی خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش (السجدۃ)‘‘

354

الفاظ مرزاقادیانی:’’ اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۶۴)

۵۴… آیت قرآنی:’’یا ایھا الذین امنو ان تتقو اللہ یجعل لکم فرقانا‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ویجعل لکم فرقانا‘‘

(چشمہ معرفت ضمیمہ ص ۴۰)

۵۵… آیت قرآنی:’’ان ھم الا کا الا نعام بل ھم اضل سبیلا‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’اولئک کالانعام بل ھم اضل سبیلا‘‘

(چشمہ معرفت ضمیمہ ص۲۶)

۵۶… آیت قرآنی:’’ذالک ازکٰی لھم (النور)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ذالک ازکی لکم‘‘یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔

(منظور الٰہی ص ۷۵)

۵۷… آیت قرآنی:’’ولا تقف مالیس لک بہ علم (بنی اسرائیل)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’لا تقف مالیس لکم بہ علم‘‘

(اربعین نمبر۴ ص ۲۷ حاشیہ)

۵۸… آیت قرآنی:’’ان فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنھارلایٰت لاولی الباب۔ الذین یذکرون اللہ قیاماً وقعوداً وعلی جنوبھم (آل عمران)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ان فی خلق السموات والارض واختلاف اللیل والنھارلایات لاولی الالباب الذین یذکرون اللہ الیہ‘‘

(رپورٹ جلسہ سالانہ ص۷۰، ۱۸۹۷ء، کتاب منظور الٰہی ص۵۹)

۵۹… آیت قرآنی:’’قدجاء کم من اللہ نورً وکتاب مبین (المائدۃ)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’قد جاء کم نور من اللہ ‘‘

(رسالہ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ص ۴۶)

355

۶۰… آیت قرآنی:’’قل ان صلاتی ونسکی ومحیایی و مماتی ﷲ ربالعالمین (الانعام)‘‘

الفاظ مرزا قادیانی: ’’قل ان نسکی ومحیایی ومماتی ﷲ رب العالمین ‘‘

(رسالہ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ص ۴۱، ۴۲)

۶۱… آیت قرآنی:’’وتواصوابالصبروتواصوا بالمرحمۃ (البلد)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’تواصوا بالحق وتواصوابالمرحمہ‘‘

(رسالہ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب ص ۴۳)

۶۲… آیت قرآنی:’’انما المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی مریم‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: ’’وکلمۃ القھا الی مریم‘‘

(کتاب کرامات الصادقین ص ۱۸، رسالہ پیغام صلح ص ۲۶)

۶۳… آیت قرآنی:’’ اللہ اعلم حیث یجعل رسٰلتہ‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’ان اللہ یعلم حیث یجعل رسالۃ‘‘

(پیغام صلح ص۳۰)

۶۴… آیت قرآنی: ’’ظھر الفساد فی البر و البحر (الروم)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی:’’قد ظھر الفساد فی البروالیحر‘‘

(رسالہ پیغام صلح ص۱۸، مطبوعہ ستمبر ۱۹۰۸ء)

۶۵… آیت قرآنی:’’یازکریا انا نبشرک بغلٰم ن اسمہ یحیٰی (المریم)‘‘

الفاظ مرزاقادیانی: خداتعالیٰ نے جو حضرت زکریا کو بشارت دے کر فرمایا: ’’ان نبشرک بغلام حلیم‘‘

(رسالہ برکات الدعا ص ۲۴ )

نوٹ: مسلمان لوگ مرزائیوں سے یہ سوال کریں کہ جو الفاظ مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھے ہیں وہ الفاظ قرآن مجید کی کس سورۃ، کس پارے اور کس رکوع میں ہیں۔

356

حضرت عیسیٰ کا رفع

اور

آمد ثانی ابن تیمیہ کی زبانی

اور

مرزا قادیانی کی کذب بیانی

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

357

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱۹۳۴ء کا ذکر ہے کہ موسم سرما میں ہفتہ کے روز شہر امرتسر کے مشرقی حصہ دروازہ مہاں سنگھ کے قریب جناب حاجی مولوی حکیم محمد علی صاحب حنفی نقشبندی کے مکان کے سامنے ایک جوان شخص (جس کی عمر ۳۶ سے کچھ زیادہ ہے۔ رنگ گورا، سر پر سفید پگڑی، پائوں میں سیاہ سلیپر، بدن پر گرم کوٹ ہے) کھڑا ہے اور بلند آواز سے کہتا ہے:

السلام علیکم! اس کے جواب میں حکیم صاحب نے فرمایا وعلیکم السلام! بابو صاحب آج آپ بڑے بشاش نظر آتے ہیں۔ کیا بات ہے:

بابو حبیب اللہ : میں اپنے دفتر سے آیا ہوں۔ راستے میں میں نے ایک شخص سے سنا ہے کہ ماسٹر خیر الدین صاحب نے مرزائیت سے توبہ کی ہے اور اسلام قبول کیا ہے۔

حکیم صاحب: یہ بات سچ ہے۔ کل جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد ماسٹر خیر الدین صاحب نے میرے سامنے مرزائیت سے توبہ کی۔ ’’الحمد ﷲ علٰی ذالک!

بابو حبیب اللہ : کاش کہ اس وقت مجھے ماسٹر خیر الدین صاحب ملتے تو میں ایک نئی بات اور سناتا جو انہوں نے پیشتر نہ سنی ہے۔

اتفاق سے ماسٹر خیر الدین صاحب اس وقت اپنے کسی کام کے لئے حکیم صاحب کے پاس تشریف لائے۔

بابو حبیب اللہ : ماسٹر صاحب! مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے مرزائیت کو ترک کرکے اسلام قبول کرلیا ہے۔الحمد ﷲ!

ماسٹر خیر الدین صاحب: میں نے کل جمعہ کے روز مسجد شیخ خیر الدین مرحوم میں ترک مرزائیت کا اعلان کردیا ہے۔حکیم صاحب وہاں موجود تھے۔

بابو حبیب اللہ : میں نے ایک رسالہ’’مرزاقادیانی نبی نہ‘‘ نامی آپ کو دیا تھا۔ کیا آپ نے اس کا مطالعہ کیا ہے؟

ماسٹر خیر الدین صاحب:میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ و اللہ ! بڑا دلچسپ اور عمدہ رسالہ ہے۔ اس میں آپ نے مرزائی لٹریچر سے ثابت کیا ہے کہ مرزا غلام احمدقادیانی نے خود اقرار کیا کہ مجھے مراق ہے۔

358

بابو حبیب اللہ : اب اور سنئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ ابن تیمیہv وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔

ماسٹر خیر الدین صاحب: یہ کس کتاب میں ہے؟

بابو حبیب اللہ : مرزا غلام احمد قادیانی نے (کتاب البریہ ص ۱۸۸حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱) پر لکھا ہے: ’’ایسا ہی فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہv وابن قیمv جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔‘‘

ماسٹر خیر الدین: تو کیا حافظ ابن قیمv و ابن تیمیہv وفات مسیح کے قائل نہ تھے؟

بابو حبیب اللہ ! حافظ ابن تیمیہv نے اپنی کتاب ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ اور ’’زیارۃ القبور‘‘ میں اور حافظ ابن قیمv نے اپنی کتاب ’’ہدایۃ المحیاری‘‘ اور ’’قصیدہ نونیہ‘‘ میں حضرت عیسیٰ ابن مریمn کے رفع جسمانی (حیات) اور نزول کا اقرار کیا ہے۔

ماسٹر خیر الدین: یہ بات میں نے آج سنی ہے۔ آج سے پہلے کسی نے یہ حوالہ پیش نہیں کیا ہے۔

بابو حبیب اللہ : یہ دیکھئے میرے پاس حافظ ابن تیمیہv کی کتاب ’’زیارۃ القبور‘‘ (مطبوعہ اسلامیہ پریس لاہور ) ہے۔ اس کے (ص۷۵) پر حضرت مسیح کا آسمان سے نازل ہونا لکھا ہے۔ ذیل میں حافظ ابن تیمیہv کے اقوال لکھے جاتے ہیں:

حوالہ نمبر۱:’’وکان الروم الیونان وغیر ھم مشرکین لیعبدون الھیاکل العلویۃ والاصنام الارضیۃ فبعث المسیح علیہ السلام رسلہ یدعونھم الی دین اللہ تعالٰی فذھب بعضھم فی حیاتہ فی الارض وبعضھم بعد رفعہ الی السماء فدعوھم الی دین اللہ تعالٰی فدخل من دخل فی دین اللہ (الجواب الصحیح ج۱ ص۱۱۶، طبع مجدالتجاریہ)‘‘{ روم اور یونان وغیرہ میں مشرکین اشکال علویہ اور بتان زمین کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے کہ وہ لوگوں کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض تو حضرت مسیح علیہ السلام کی ارضی زندگی میں گئے اور بعض مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے پس وہ لوگوں کو دین الٰہی کی دعوت دیتے تھے۔ ان کی دعوت سے اللہ کے دین میں داخل ہوا۔ جس کسی نے داخل ہونا تھا۔}

359

حوالہ نمبر۲:’’والمسیح الدجال یدعی الاھیۃ ویاتی بخوارق ولکن نفس دعواہ الاھیۃ دعوی ممتنعۃ فی نفسھا ویرسل اللہ علیہ المسیح ابن مریم فیقتلہ ویظھر کذبہ ومعہ یدل علی کذبہ من وجوہ (ج۱ ص۱۵۰)‘‘{مسیح الدجال دعویٰ خدائی کا کرے گا اور خارق عادات لائے گا۔ لیکن صرف دعویٰ خدائی اس کا نفس الامر میں محال ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر مسیح علیہ السلام کو بھیجے گا۔ وہ دجال کو قتل کرے گا اور اس کے جھوٹ افترا کو ظاہر کرے گا اور اس کے ساتھ ایسی چیزیں ہوں گی۔ جو اس کے کذب پر دلالت کریں گی۔ کئی وجوہ سے۔}

حوالہ نمبر۳: ’’وثبت ایضافی الصحیح عن النبیa انہ قال ینزل عیسٰی بن مریم من السماء علی المنارۃ البیضاء شرقی دمشق فیکسر الصلیب ویقتل الخزیر ویضع الجزیۃ ویقتل مسیح الھدیٰ عیسٰی بن مریم مسیح الضلالۃ الاعورالدجال علی بضع عشرۃ خطوۃ من باب لد (ج۱ ص۱۷۷)‘‘{اور صحیح میں یہ بھی ثابت ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے سفید منارہ شرقی دمشق پر اترے گا۔ پس صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ موقوف کرے گا اور مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریم مسیح الضلالتہ کانے دجال کو باب لد سے قریب چند قدموں پر قتل کرے گا۔}

حوالہ نمبر۴:’’والمسیح علیہ السلام ذھب الی انطاکیہ اثنان من اصحابہ بعدرفعہ الی السماء ولم یعززو بثالث ولاکان حبیب النجار موجوداً اذزاک (ج۱ ص۲۰۹)‘‘{مسیح علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد دو صحابی آپ کے انطاکیہ میں گئے اور تیسرے کے ساتھ ان کی نصرت نہیں کی گئی اور نہ اس وقت حبیب النجار موجود تھے۔}

حوالہ نمبر۵: ’’وقد اخبران المسیح عیسٰی بن مریم مسیح الھدیٰ ینزل الی الارض علی المنارۃ البیضاء شرقی دمشق فیقتل مسیح الضلالۃ (ج۱ ص۳۲۴)‘‘{اور آنحضورa نے یقینا خبر دی ہے کہ تحقیقاً مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریمm زمین کی طرف سفید منارہ شرقی دمشق پر اترے گا۔ پس مسیح الضلالتہ (دجال)کو قتل کرے گا۔}

360

حوالہ نمبر۶:’’ویقال ان انطاکیہ اول المدائن الکبار الذین آمنوا بالمسیح علیہ السلام و ذالک بعد رفعہ الی السماء (ج۱ ص۲۸۷)‘‘ {کہا جاتا ہے کہ انطاکیہ ان بڑے شہروں میں سے پہلا شہر ہے جس کے باشندے مسیح علیہ السلام پر ایمان لائے اور یہ مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد تھا۔}

حوالہ نمبر۷:’’والمسلمون واھل الکتاب متفقون علی اثبات مسیحین مسیح ھدی من ولد داؤد و مسیح ضلال یقول اھل الکتاب انہ من ولد یوسف ومتفقون علی ان مسیح الھدی سوف یاتی کمایاتی مسیح الضلالۃ لکن المسلمون والنصاری یقولون مسیح الھدی ھو عیسٰی بن مریم وان اللہ ارسلہ ثم یاتی مرۃ ثانیۃ لکن المسلمون یقولون انہ ینزل قبل یوم القیامۃ فیقتل مسیح الضلالۃ ویکسر الصیب ویقتل الخنزیر ولایبقی دیناً الادین الاسلام ویؤمن بہ اہل الکتاب الیھود والنصاریٰ کما قال تعالٰی وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ والقول الصحیح الذی علیہ الجمہور قبل موت المسیح وقال تعالٰی وانہ لعلم للساعۃ (ج۱ ص۳۲۹)‘‘ مسلمان اور اہل کتاب دو مسیحیوں کے وجود پر متفق ہیں۔ مسیح ہدایت دائود کی اولاد میں سے ہے اور اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت عنقریب آئے گا۔ جب کہ مسیح ضلالت آئے گا۔ لیکن مسلمان اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح ہدایت وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم ہے کہ خدا نے اس کو رسول بنایا اور وہ پھر دوبارہ آئے گا اور لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ وہ اترے گا۔ پہلے قیامت کے پس وہ مسیح ضلالت کو قتل کرے گا اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور کوئی دین باقی نہیں چھوڑے گا۔ سوائے دین اسلام کے اور اہل کتاب یہود اور نصاریٰ اس پر ایمان لائیں گے۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘ یعنی کوئی اہل کتاب نہیں رہے گا سب کے سب ایمان لائیں گے پہلے موت اس کی کے اور قول صحیح جس پر جمہور امت ہے وہ یہ ہے کہ موتہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے:’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘یعنی وہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔

حوالہ نمبر۸:’’ولھذا اذا انزل المسیح بن مریم فی امۃ لم یحکم فیھم الابشر ع محمدa (ج۱ ص۳۴۹)‘‘اس لئے جب مسیح علیہ السلام آنحضرتa

361

کی امت میں نازل ہوں گے تو نہیں حکم کریں گے۔ مگر بمطابق شریعت محمدی کے۔

حوالہ نمبر۹:’’قالوا قد قال اللہ علی افواہ الانبیاء المرسلین الذین تنبوا علی ولادتہ من العذراء الطاھرۃ مریم وعلی جمیع افعالہ التی فعلھا فی الارض و صعودہ الی السماء وھذہ النبوات جمیعھا عندالیھود ومقرین ومعترفین بھاو یقرونھافی کنائسہم ولم ینکروامنھا کلمۃ واحدۃ فیقال ھذا کلہ مما لاینازع فیہ المسلمون فانہ لاریب انہ ولد من مریم العذراء البتول التی لم یمسھا بشرقط وان اللہ اظھر علی یدیہ الآیات وانہ صعدالی السماء کما اخبر اللہ بذلک فی کتابہ کما تقدم ذکرہ (ج۲ ص۱۸۶)‘‘{کہتے ہیں کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے انبیاء مرسلین کی زبان پر فرمایا جنہوں نے مسیح کے پاکیزہ کنواری مریم کے شکم سے پیدا ہونے کی خبر دی تھی اور تمام اس کے افعال جو زمین میں کرتا رہا اور اس کا آسمان کی طرف چڑھ جانے کی خبر دی تھی اور یہ خبریں تمام یہودکے پاس موجود ہیں۔ سب کو مانتے ہیں اپنے ہیکلوں میں اقرار کرتے ہیں۔ ایک کلمہ تک کا بھی انکار نہیں کرتے، پس کہا جائے گا کہ اس امر میں مسلمانوں کو بھی کوئی تنازع نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مسیح علیہ السلام یقینا مریم کنواری تارک الدنیا کے شکم سے جس کو کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کئے اور تحقیق وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خبر دی جیسے پہلے گزر چکا ہے۔}

حوالہ نمبر۱۰:’’فان بنی اسرائیل کا نواقد خذلو ابسبب تبدیلھم فلما بعث المسیح علیہ السلام بالحق کان اللہ مع من اتبع المسیح والمسیح نفسہ لم یبق معھم بل رفع الی السماء ولکن اللہ کان من اتبع با النصر والاعانۃ (ج۲ ص۲۱۲)‘‘{پس تحقیق بنی اسرائیل رسوا ہو چکے تھے۔ بسبب تبدیل وتحریف کے پس جب اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو حق کے ساتھ بھیجا تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوا۔ جو مسیح علیہ السلام کے پیرو ہوئے تھے اور مسیح علیہ السلام خود بھی ان کے ساتھ نہیں رہا۔ بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نصرت و اعانت کے ساتھ مسیح علیہ السلام کے تابعداروں کے ساتھ تھا۔}

حوالہ نمبر۱۱:’’ثم قال وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ وھذا عند اکثر العلماء معناہ قبل موت المسیح وقد قیل قبل موت

362

الیھودی وھو ضعیف کما قیل انہ قبل موت محمدa وھوا ضعف فانہ لو امن بہ قبل الموت لنفعہ ایمانہ بہ فان یقبل توبۃ العبد مالم یغرر وان قبل المرادبہ الایمان الذی یکون بعد الغرغرہ لم یکن فی ھذا فائدۃ فان کل احد بعد موتہ یؤمن بالغیب الذی کان یحجدہ فلا اختصاص للمسیح بہ ولانہ قال قبل موتہ ولم یقل بعد موتہ ولانہ لافرق بین ایمانہ بالمسیح بعد وبمحمد صلوات اللہ علیھا وسلامہ والیھود الذی یموت یموت علی الیھودیۃ فیموت کافراً بمحمد والمسیح علیھما الصلٰوۃ والسلام ولانہ قال وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ وقولہ لیؤمنن بہ فعل مقسم علیہ وھذا انما یکون فی المستقبل ندل ذالک علی ان ھذا الایمان بعد اخبار اللہ بھذا ولو ارید قبل موت الکتابی لقال وان من اہل لکتاب الامن یؤمن بہ لم یقل لیؤمننّ بہ وایضافانہ قال وان من اھل الکتاب وھذا یعم الیھودو النصاری فدل ذالک علٰی ان جیمع اھل الکتاب الیھود والنصاری یؤمنون المسیح قبل موت المسیح و ذالک اذانزل آمنت الیھود والنصاری بانہ رسول اللہ لیس کاذباکمایقول الیھودی ولا ھو اللہ کما تقولہ النصاری (ج۲ ص۲۸۳،۲۸۴)‘‘وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہاس کی تفسیر اکثر علماء نے یہ کی ہے کہ مراد قبل موتہ سے حضرت مسیح کی وفات ہے اور یہودی کی موت بھی کسی نے معنی کئے ہیں اور یہ ضعیف ہے۔ جیسا کہ کسی نے موت محمدa بھی مراد لی ہے اور یہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ کیونکہ اگر موت سے پہلے ایمان ہو تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرتا ہے، جب بندہ غرغرہ تک نہ پہنچے اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد ایمان بعد الغرغرہ ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ غرغرہ کے بعد ہر ایک امر جس کا وہ منکر ہے، اس پر ایمان لانا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں اور ایمان سے مراد ایمان نافع ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل موتہ فرمایا ہے نہ بعد موت۔ اگر ایمان بعد غرغرہ مراد ہوتا تو بعد موتہ فرماتا کیونکہ بعد موت کے ایمانبالمسیح یا بمحمدa میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہودی یہودیت پر مرتا ہے۔ اس لئے وہ کافر مرتا ہے۔ مسیح اور محمدa سے منکر ہوتا ہے اور اس آیت

363

میں:’’لیؤمننّ بہ‘‘مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل میں ہو سکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ایمان اس خبر کے بعد ہو گا اور اگر موت کتابی مراد ہوتی تو یوں فرماتے: ’’وان من اھل الکتاب الامن یؤمن بہ‘‘ اور ’’لیومنن بہ‘‘ نہ فرماتے اور نیز ’’وان من اھل الکتاب‘‘ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی و نصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود ونصاریٰ مسیح علیہ السلام کی موت سے پیشتر مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور یہ جب ہو گا جب مسیح علیہ السلام اتریں گے۔ تمام یہود و نصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اللہ کا رسول ہے ۔ کذاب نہیں جیسے یہودی کہتے ہیں اور نہ وہ خدا ہیں۔ جیسے نصاریٰ کہتے ہیں۔

حوالہ نمبر۱۲: ’’والحافظۃ علٰی ھذا العموم اولی من ان یدعی ان کل کتابی لیؤمننّ بہ قبل ان یموت الکتابی فان ھذا یستلزم ایمان کل یھودی و نصرانی وھذا خلاف الواقع ھولما قال وان منھم الالیؤمننّ بہ قبل موتہ ودل علی ان المراد بایمانھم قبل ان یموت ھو علم انہ ارید بالعموم من کان موجود احین نزولہ ای لا یختلف منھم احد عن الایمان بہ لا ایمان من کان منھم میتاً وھذا کما یقال انہ لا یبقی بلدا لادخلہ الدجال الامکۃ والمدینۃ ای فی المدائن الموجودۃ حینئذ وسبب ایمان اھل الکتاب بہ حنئیذ ظاہرفانہ یظھر لکل احدانہ رسول مئوید لیس بکذاب ولا ھو رب العالمین ف اللہ تعالٰی ذکر ایمانھم بہ اذانزل الی الارض فانہ تعالی لما ذکر رفعہ الی اللہ بقولہ انی متوفیک ورافعک الیّ ھو ینزل الی الارض قبل یوم القیامۃ ویموت حینئذا خبر بایمانھم بہ قبل موتہ (ج۲ ص۲۸۴)‘‘اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ ’’موتہ‘‘ سے مراد موت کتابی ہے ۔ کیونکہ یہ دعویٰ ہر ایک یہودی و نصرانی کے ایمان کو مستلزم ہے اور یہ خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم ان لوگوں کا ہے جو وقت نزول موجود ہوں گے۔ کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہیں کرے گا۔ اس عموم سے مراد جو اہل کتاب فوت ہو چکے ہیں۔ وہ مراد نہیں ہو سکتے۔یہ عموم ایسا ہے جیسا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ:’’لایبقی بلدالادخلہ الدجال الامکۃ والمدینۃ‘‘پس مدائن سے مراد وہی مدائن ہو سکتے ہیں جو اس وقت

364

مدائن موجود ہوں گے اور اس وقت ہرایک یہودی و نصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے۔وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح علیہ السلام رسول اللہ مؤید تبائید اللہ ہے نہ وہ کذاب ہیں نہ وہ خدا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو وقت نزول مسیح علیہ السلام کے ہو گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کا رفع الی السماءاس آیت میں ذکر فرمایا: ’’وانی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اور مسیح علیہ السلام قیامت سے پیشتر زمین پر اتریں گے اور فوت ہوں گے تو اس وقت کی خبر دی کہ سب اہل کتاب مسیح کی موت سے پیشتر ایمان لائیں گے۔

حوالہ نمبر۱۳:’’فی الصحیحین عن النبیa قال یوشک ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا واماما مقسطا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ وقولہ تعالی وما قتلوہ وماصلبوہ ولکن شبہ لھم و ان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالھم بہ من علم الاتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزا حکیما بیان ان اللہ رفعہ حیا وسلمہ من القتل و بین انھم یؤمنون بہ قبل ان یموت وکذلک قولہ (ومطھرک من الذین کفروا) ولومات لم یکن فرق بینہ وبین غیرہ الفظ التوفی فی لغۃ العرب معانہ الاستیفا والقبض و ذالک ثلاثۃ انواع احدھا تو فی النوم والثانی الموت والثالث توفی الروح والبدن جمعیعاً فانہ بذالک خرج عن حال اھل الارض الذین یحتاجون الی الاکل والشرب واللباس ویخرج منھم الغائط والبول والمسیح علیہ السلام توفاہ اللہ وھو فی السماء الثانیۃ الی ان ینزل الی الارض لیست حالہ کحالۃ اھل الارض فی الارض فی الاکل والشرب واللباس والنوم والغائط والبول ونحوذالک (ج۲ ص۲۸۴،۲۸۵)‘‘ میں وارد ہے کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ابن مریم اترے گا۔ حاکم، عادل، پیشوا، انصاف کرنے والا، صلیب کو توڑے گا، خنزیر کو قتل کرے گا،جزیہ موقوف کرے گا۔اور آیت قرآنی: ’’وماقتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم وان الذین اختلفو فیہ لفی شک منہ مالھم بہ من علم الااتباع الظن وماقتلوہ یقینا بل رفع اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا اور قتل سے بچا لیا اور بیان فرمایا کہ مسیح علیہ السلام

365

کے فوت ہونے سے پیشتر ایمان لائیں گے اور اسی طرح: ’’ قولہ تعالٰی ومطھرک من الذین کفروا‘‘ اگر عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہوتے تو تطہیر کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اس لئے کہ وفات سے تطہیر ہر ایک نبی کی ہو سکتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں ہے اور لفظ توفی لغت عرب میں اس کے معنی پورا لینا اور قبض کرنا ہے اور یہ تین طرح ہو سکتا ہے: (۱)…قبض فی النوم (۲)… قبض فی الموت (۳)… قبض روح و بدن تمام۔ پس وہ مسیح علیہ السلام اسی قبض کے سبب سے زمین کے بسنے والوں کے حا ل کی طرح ان کا حال نہیں ہے۔ زمین میں بسنے والے کھانے پینے پیشاب پاخانہ کی طرف محتاج ہیں۔ پس مسیح علیہ السلام کا قبض (روح و بدن) دوسرے آسمان پر ہے تا کہ اس کے نازل ہونے تک اسی وجہ سے لوازمات بشر یہ کی طرف محتاج نہیں ہے۔ جیسے زمین میں بسنے والے محتاج ہیں۔

حوالہ نمبر۱۴:’’واماالمسلمون فامنوابما اخبرت بہ الانبیاء علی وجھہ وھو موافق لما اخبریہ خاتم الرسل حیث قال فی الحدیث الصحیح یوشک ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا واما ما مقسطا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ واخبر فی الحدیث الصحیح انہ اذااخرج مسیح الضلالۃ الاعور الکذاب نزل عیسٰی بن مریم علی المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھروذتین واضعایدیہ علی منکبی ملکین فاذا رأہ الدجال انماع کما ینماع الملح فی الماء فیدرکہ فیقتلہ بالحربۃ عند باب لدالشرقی علی بضع عشرۃ خطوۃ منہ وھذا تفسیر قولہ تعالی (وان من اھل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہ) ای یؤمن بالمسیح قبل ان یموت حین نزولہ الی الارض حینئذ لایبقی یھودی ولا نصرانی ولا یبقی دین الادین الاسلام (ج۳ ص۳۲۵)‘‘لیکن مسلمان صحیح طور پر اس طرح ایمان لائے جیسے کہ انبیاءo نے خبر دی تھی اور یہ ایمان پیغمبرm کے فرمان وپیش گوئی کے مطابق ہے۔ چنانچہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ آپa نے فرمایا کہ قریب ہے کہ اترے گا بیچ تمہارے ابن مریم، حاکم، عادل، پیشوا، انصاف کرنے والا۔ پس صلیب کو توڑے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ جزیہ موقوف کرے گااور صحیح میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس وقت مسیح دجال اور مسیح کاذب مسیح الضلالت نکلے گا تو عیسیٰ ابن مریم سفید منارہ شرقی دمشق پر اترے گا۔ درمیان دو

366

چادر زرد رنگ کے دو فرشتوں کے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھنے والا ہو گا۔ پس جب مسیح علیہ السلام کو دیکھ لے گا تو جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اسی طرح وہ گھلتا جائے گا۔ چنانچہ مسیح علیہ السلام باب لد کے نزدیک اس کو پائے گا اور برچھی سے اس کو قتل کرے گا اوریہ تفسیر ہے قول اللہ تعالیٰ کی: ’’وان من اھل الکتاب الالیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘ یعنی ہر ایک یہودی و نصرانی مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے مسیح علیہ السلام پر ایمان لائے گا۔ جس وقت مسیح علیہ السلام زمین پر اترے گا اور اس وقت کوئی یہودی ونصرانی باقی نہیں رہے گا اور نہ کوئی دین باقی رہے گا۔ سوائے دین اسلام کے۔

حوالہ نمبر۱۵:’’قلت وصعود الادمی ببدنہ الی السماء قد ثبت فی امرالمسیح عیسٰی ابن مریمn فانہ صعد الی السماء وسوف ینزل الی الارض وھذا مما یوافق النصاری علیہ المسلمین فانھم یقولون ان المسیح صعدالی السماء ببدنہ وروحہ کمایقولہ المسلمون ویقولون انہ سوف ینزل الی الارض ایضاً کما یقولہ المسلمون وکما اخبربہ النبیa فی الاحاریث الصحیحۃ… واما المسلمون وکثیر من النصاری فیقولون انہ لم یصلب ولکن صعد الی السماء بلا صلب والمسلمون ومن وافقھم من النصاری یقولون انہ ینزل الی الارض قبل یوم القیامۃ وان نزولہ من اشراط الساعۃ کما دل علی ذالک الکتاب والسنۃ (ج۴ ص۱۶۹،۱۷۰)‘‘{میں کہتا ہوں آدمی کا بدن کے ساتھ چڑھ جانا تحقیق ثابت ہو چکا ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم کے بارہ میں۔ پس وہ چڑھ گیا طرف آسمان کی اور عنقریب اترے گا طرف زمین کے اور نصاریٰ بھی مسلمانوں سے اس میں موافق ہیں۔ نصاریٰ بھی کہتے ہیں کہ بدن کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا جیسے مسلمان کہتے ہیں اور عنقریب زمین پر اترے گا۔ جیسے مسلمان کہتے ہیں۔ جیسے کہ نبی کریم محمد رسولa نے احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے۔ لیکن مسلمان اور بہت سے عیسائی قائل ہیں کہ مسیح سولی نہیں دیئے گئے بلکہ آسمان پر بلا سولی چڑھ گئے اور مسلمان اور ان کے ہم خیال نصاریٰ قائل ہیں کہ مسیح علیہ السلام زمین پر اترے گا۔ پہلے قیامت کے اور نزول مسیح علیہ السلام قیامت کی علامات سے ہے۔ جیسے کہ کتاب وسنت اس پر دال ہیں۔}

367

حوالہ نمبر۱۶: ’’وقال لھم نبیھم لوکان موسی حیاثم اتبعتموہ وترکتمونی لضللتم وعیسٰی ابن مریمn اذا نزل من السماء انما یحکم فیھم بکتاب ربھم وسنۃ نبیھم فای حاجۃ لھم مع ھذا الی الخضر وغیرہ والنبیa قد اخبر ھم بنزول عیسٰی من السماء حضورہ معہ المسلمین وقال کیف تھلک امۃ انا اولھا وعیسٰی فی آخرھا (زیارۃ القبور ص۷۵)‘‘{اور رسول اللہ a نے فرمایا۔ اگر موسیٰm زندہ ہوتے اور تم اس کی پیروی کرتے اور مجھ کو چھوڑ دیتے تو تم گمراہ ہو جاتے اور عیسیٰ ابن مریمn جب اترے گا آسمان سے تو وہ مسلمانوں میں کتاب و سنت کے مطابق حکم کرے گا۔ پس کون سی اور ضرورت ہے باوجود اس کے خضرm وغیرہ کی طرف، حالانکہ نبیa نے مسلمانوں کو بتایا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے اور مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوں گے اور فرمایا کہ کیسے ہلاک ہو سکتی ہے وہ امت جس کے ابتداء میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہو۔}

نوٹ: ان ۱۶ حوالوں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ حضرت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہv، حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریمn کی حیات جسمانی اور نزول من السماءکے قائل تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا ان کو وفات مسیح کا قائل قرار دینا سرا سر جھوٹ اور بہتان ہے: ’’فاعتبر و ایا اولی الابصار‘‘

جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے

۱… ’’دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔‘‘

(نزول المسیح ص۲، خزائن ج۱۸ ص۳۸۰)

۲… ’’ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

۳… ’’جھوٹ ام الخبائث ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۲۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۱)

۴… ’’ جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴)

368

۵… ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت…لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘

(ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

۶… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۳حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۵۶)

۷… ’’اے بے باک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔ ‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)

۸… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

قادیانی مغالطہ اور اس کا جواب

حکیم خدا بخش مرزائی نے لکھا ہے:

الف… امام مالکv کی شہادت کہ وہ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ چنانچہ (مجمع البحارج۱ ص۲۸۶) میں امام محمد طاہر گجراتی لکھتے ہیں۔ یعنی اکثر کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ لیکن مالکv کہتے ہیں کہ وہ فوت ہوگئے ہیں: ’’والاکثران عیسٰیm لم یمت وقال مالک مات‘‘( دیکھو مجمع البحار ج اوّل، مطبوعہ مطبع نول کشور)

ب… اور (جواہر المحسان فی تفسیر القرآن، شیخ عبدالرحمن ثعالبی، مطبوعہ مطبع الجزائر ج اوّل ص ۲۷۲) میں حضرت امام مالکv کے قول کی نسبت زیر آیت: ’’انی متوفیک‘‘ لکھا ہے: ’’وقال ابن عباس ھی وفاۃ موت ونحوہ مالک فی العتیبۃ‘‘ اور ابن عباس نے کہا ہے عیسیٰ علیہ السلام حقیقی موت سے وفات پا گئے ہیں اور ایسا ہی امام مالکv نے اپنی کتاب عتیبہ نام میں فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔

ج… ادرلاکمال اکمال المعلم میں جو شرح مسلم ابی عبد اللہ محمد بن خلیفتہ الوشتانی المالکی کی ہے اور مطبوعہ مطبع السعادہ مصری ہے اور جس کو سلطان عبدالحفیظ سلطان مغرب نے اپنے مصارف خاص سے طبع کرایا ہے۔ امام مالکv کے قول کی یوں تصدیق کی ہے۔ دیکھو شرح مذکورہ (ص۲۶۵):’’وفی العتبیہ قال مالک مات عیسٰی ابن مریم‘‘ ’’عتبیہ‘‘ نام کتاب میں امام مالکv نے لکھا ہے کہ عیسیٰ ابن مریمn فوت ہوچکے ہیں۔

369

د… اور مکمل اکمال الاکمال شرح صحیح مسلم میں امام ابی عبد اللہ محمد بن محمد بن یوسف انسوسی الحسن نے امام مالکv کے قول کی تصدیق کی ہے۔ دیکھو ص۲۶۵ برحاشیہ کتاب مذکورالصدر:’’وفی العتبیۃ قال مالک مات عیسٰیm‘‘ اور ’’عتبیہ‘‘ میں امام مالکv نے لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔

ان حوالہ جات سے جو مالکی مذہب کے آئمہ کی مشہور و مستند کتب میں سے ہیں۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امام مالکv نے اپنی کتاب ’’عتبیہ‘‘ میں شائع کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ناصری وفات پاچکے ہیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل باب۸ فصل۱۶ ص۵۱۰، مطبوعہ اگست ۱۹۱۳ء مطبع وزیر ہند امرتسر)

جواب:

۱… واضح ہو کہ حضرت امام مالکv کی پیدائش شریف ۹۳ھ میں ہوئی تھی اور وفات ۱۷۹ھ میں ہوئی تھی۔ کتاب مؤطا ان کی تصنیف ہے۔ (کتاب بستان المحدثین ص۲،۳) کتاب مؤطا میں حضرت امام مالکv نے کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں۔

۲… کتاب مجمع البحار کے مصنف امام محمد گجراتیv کی وفات ۹۸۶ھ میں ہوئی تھی۔

(عسل مصفی ج اوّل ص۱۰۲)

یہ حضرت امام مالکv کی وفات سے کئی سو برس بعد ہوا ہے۔ اس کتاب کی (ج اوّل ص۲۸۶) پر نہ تو حضرت امام مالکv کی کسی تصنیف کا حوالہ دیا گیاہے اور نہ کوئی سند لکھی گئی ہے۔

۳… کتاب ’’عتبیہ‘‘ حضرت امام مالکv نے نہیں لکھی ہے۔ بلکہ ملک اندلس (سپین) کے فقیہ محمد بن احمد بن عبدالعزیز بن عتبہ بن ابوسفیان قرطبی نے لکھی ہے۔ ان کی وفات ۲۵۵ھ میں ہوئی تھی۔ (کتاب نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ج سوم ص۵۲۴، مطبوعہ ۱۳۲۶ھ مطبع ازہریہ مصر، کتاب کشف انطنون ج اوّل ص۱۰۶،۱۰۷)

۴… مرزائی مولوی (کتاب اکمال لاکمال المعلم شرح صحیح مسلم ج اوّل ص۲۶۵) کا حوالہ تو پیش کردیتے ہیں۔ مگر (ص۲۶۶) کا ذکر نہیں کرتے۔ حالانکہ وہاں حضرت عیسیٰ کے نزول کا ذکر خیر بھی ہے۔

370

مرزا غلام احمد رءیس قادیان

اور

اس کے بارہ نشان

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

371

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی خاتم النّبین وعلی الہ واصحابہ اجمعین!

واضح ہو کہ فرقہ مرزائیہ کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ۱۶۶۰ھ میں پیدا ہوا تھا۔ (ریویوج۲۱ نمبر۵ ص۱۵۴) مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی تھا۔ (مرزا بشیر احمد ایم۔اے قادیانی کی کتاب سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۷) مرزا غلام احمد نے مولوی فضل الٰہی، مولوی فضل احمد، مولوی گل علی شاہ، سے قرآن مجید، چند فارسی کتابیں، صرف کی بعض کتابیں، نحو اور منطق سیکھا اور بعض طبابت کی کتابیں اپنے والد حکیم غلام مرتضیٰ سے پڑھیں۔ (کتاب البریہ ص۱۴۸، ۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۱۳ ص۱۸۰، ۱۸۱حاشیہ) مرزاقادیانی نے مامور من اللہ ، مسیح موعود، مثیل مسیح، مہدی موعود، رجل فارسی، حارث کرشن، اوتار، محدث، مجدد، امام زمان، ابن مریم سے بہتر، نبی اللہ اور رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزاقادیانی ۶۶برس کی عمر پاکر ۲۶؍مئی۱۹۰۸ء کو فوت ہوا تھا۔ اس کے جھوٹا ہونے پر میں مرزائی لٹریچر سے ذیل میں عجیب و غریب دلائل درج کرتا ہوں:

مراق اور مرزاقادیانی

۱… ’’فرمایا کہ دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتa نے پیش گوئی کی تھی۔ جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو وہ دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘(اخبار بدر قادیان ج۲ نمبر۲۳، مورخہ ۷؍جون۱۹۰۶ء ص۵ کالم نمبر۲، رسالہ تشحیذ الاذہان ج۱ نمبر۲ ص۵، بابت ماہ جون۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)

372

۲… ’’میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں۔پھر بھی آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کرکے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔‘‘(منظور الٰہی مرزائی کی کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸،اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۴۰ ص۶، مورخہ ۳۱؍اکتوبر۱۹۰۱ء، ملفوظات ج۲ ص۳۷۶)

۳… ’’حضرت اقدس نے فرمایا مجھے مراق کی بیماری ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنزج۲۴ نمبر۴ ص۴۵، بابت ماہ اپریل۱۹۲۵ء)

۴… ’’حضرت صاحب نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ مجھ کو مراق ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو ج۲۵ نمبر۸ ص۲، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

۵… ’’واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بد ہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘

(رسالہ ریویوج ۲۶ نمبر۵ ص۸، بابت ماہ مئی۱۹۲۷ء)

۶… ’’اور مراق مالیخو لیا کی ایک شاخ ہے۔‘‘

(کتاب اصل بیاض نور الدین حصہ اوّل ص۲۱۱)

۷… ’’بد ہضمی اور اسہال بھی اس مرض میں پائے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۶، بابت ماہ اگست۱۹۲۸ء)

۸… ’’نبی میں اجتماع توجہ بالا رادہ ہوتا ہے۔ جذبات پر قابو ہوتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو ص۳۰، بابت ماہ مئی۱۹۲۷ء)

373

ہسٹیریا (بائو گولہ ) کا دورہ

مرزاقادیانی کا بیٹا مرزا بشیراحمد ایم۔اے لکھتا ہے: ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ( یعنی مرزاقادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا۔ جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتّھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرمانے لگے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے؟ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھخراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میںچیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔‘‘

( سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۱۵ نمبر ۱۹)

۲… ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔‘‘

(کتاب سیرت المہدی حصہ دوم ص۳۴۰ نمبر۳۷۲)

۳… ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت موعود کو

374

سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آ گئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چار پائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا۔ کبھی ادھرکبھی اپنی پگڑی اتار کرحضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پائوں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔‘‘

(کتاب سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵ نمبر۳۶)

۴… ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگریہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔‘‘

( رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۵ نمبر۸ ص۶،۷)

سوسودفعہ رات کو یادن کو پیشاب کا آنا

مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’میں ایک دائم المریض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جس کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہو گا۔ وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں۔ جن کی تعبیر علم تعبیر الرٔویا کے رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصے بدن میںہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں۔ وہ

375

سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔‘‘

(کتاب ضمیمہ اربعین نمبر ۳،۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰)

اسہال (دست)

الف… مرزاقادیانی نے کہا: ’’باجود یہ کہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جس وقت پاخانہ کی بھی حاجت ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔‘‘

(کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸،۳۴۹ پر بحوالہ اخبار الحکم ج۵ نمبر۴۰، ملفوظات ج۲ ص۳۷۶)

ب… ’’یہ تو امر واقع ہے کہ حضرت صاحب کو بدہضمی، اسہال اور دوران سر کی عموماً شکایت رہتی تھی۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲۵ نمبر۸ ص۶)

دوران سر

’’ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰)

’’صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔تا دو زرد رنگ چادروں کی پیش گوئی میں خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس سال سے ہے جو مجھے لاحق ہے۔ جیسا کہ اسنشان کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر پائی گئی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۶۳، ۳۶۴، خزائن ج۲۲ ص۳۷۷)

حافظہ اچھا نہیں

’’حافظ، اچھا نہیں، یاد نہیں رہا۔‘‘ (کتاب نسیم دعوت ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۴۳۹ حاشیہ، رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۲ نمبر۴ ص۱۵۳ حاشیہ، بابت ماہ اپریل ۱۹۰۳ء)

376

’’میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔‘‘

(مکتوبات احمد یہ ج۵ نمبر۳ ص۲۱)

مرزاقادیانی کی بیوی کو مراق

’’میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۲۹ کالم۳ ص۴، مورخہ ۱۰؍اگست۱۹۰۱ء)

مرزاقادیانی کے بیٹے کو مراق

’’حضرت خلیفہ المسیح ثانی (مرزامحمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلجنز ج۲۵ نمبر۸ ص۱۱، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

میاں محمود احمد قادیانی کا استاد

میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے فرمایا: ’’گو مثال تو ایک پاگل کی ہے۔ پھر ایسے پاگل کی جواب فوت ہو چکا ہے اور گو وہ ایک ایسے پاگل کی مثال ہے جو میرا استاد بھی ہے۔ مگر بہرحال اس سے عشق کی حالت نہایت واضح ہو جاتی ہے۔ ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے ہیں۔ ان کا نام مولوی یار محمد تھا۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ش۷۹ کالم۳ ص۶، مورخہ یکم؍جنوری ۱۹۳۵ء)

نتیجہ

۱… مرزاقادیانی ایک دائم المریض آدمی تھا۔ ۲… اس کو مرض مراق تھا۔

377

۳… ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔ ۴… اس کو درد سر تھا۔

۵… دوران سر تھا۔ ۶… کمی خواب۔

۷… تشنج دل۔ ۸… اسہال۔

۹… کثرت پیشاب۔ ۱۰… ہاضمہ خراب تھا۔

۱۱… حافظہ خراب تھا۔ ۱۲… مرض ضعف دماغ۔

اگر کوئی مرزائی کہے کہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ خدا کے نبیوں اور رسولوں کو ان کے مخالفوں نے مجنون، ساحر، شاعر کہا تھا تو جواب یہ ہے کہ: ’’قرآن شریف یا کسی صحیح حدیث نبوی یا موقوف روایت میں یہ نہیں آیا کہ خدا کے کسی نبی و رسول نے خود اقرار کیاہو کہ مجھے مراق کی بیماری ہے یا بائوگولہ مرض کا دورہ پڑا تھا۔ یہ بات یاد رکھو کہ قرآن مجید میں ہے کہ خدا کے نبیوں اور رسولوں پر دشمنوں نے طعن کیا۔ لیکن کسی نبی اور رسول نے خود اقرار نہیںکیا۔ مرزا غلام احمد رئیس قادیان نے باوجود مدعی نبوت و رسالت ہونے کے خود تسلیم کیا ہے کہ مجھے مراق کی بیماری ہے اور حافظ اچھا نہیں ہے۔ اگر کوئی مرزائی کہے کہ مرض مراق اور ہسٹیریا نبوت اور رسالت کے کیوں منافی ہیں تو جواب یہ ہے کہ خدا کے رسول اور نبی کا دماغ اعلی ہوتا ہے۔ حافظہ عمدہ ہوتا ہے۔ خدا کے نبی اور رسول کو مرض جنون مالیخولیا، مرگی سودا، مراق اور بائو گولہ (ہسٹیریا) نہیں ہو سکتا ہے، نہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ان مرضوں میں مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا ہے۔ مریض کا حافظہ اچھا نہیں رہتا ہے۔ اگر کوئی مرزائی کہے کہ ہسٹیریا (بائوگولہ) تو عورتوں کو ہوا کرتا ہے تو جواب یہ ہے کہ حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی مرحوم کی کتاب (مخزن حکمت ج دوم ص۹۶۹) پر (زیر مرض ہسٹیریا) لکھا ہے۔ یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے۔ اگرچہ شاذو نا درمرد بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

378

اختلافات مرزا

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

379

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱… قول مرزا: اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ سوال حضرت مسیح سے عالم برزخ میں ان کی وفات کے بعد کیا گیا تھا، نہ کہ قیامت میں کیا جائے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۴۷،۷۴۸، خزائن ج۳ ص۵۰۳)

تردید: اس تمام آیت کے اوّل آخر کی آیتوں کے ساتھ یہ معنی ہیں کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ کو کہے گا کہ کیا تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود ٹھہرانا۔‘‘

(نصرۃ الحق ص۴۰، خزائن ج۲۱ ص۵۱)

۲… قول مرزا: اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے۔ جو خاص ماضی کے واسطے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔

(ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

تردید: جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو پڑھی ہو گی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آ جاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقین الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں۔ اس امر کا یقین الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون‘‘ اور جیسا کہ فرمایا ہے:’’واذ قال اللہ یا عیسٰی بن مریم أنت قلت للناس التخذونی وامی الھین من دون اللہ ‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹)

۳… قول مرزا: دوسرے یہ کہ آیت میں صریح طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ عیسائیوں کے بگڑنے کی بابت لاعلمی ظاہر کریں گے اور کہیں گے کہ مجھے تو اس وقت تک ان کے حالات کی نسبت علم تھا۔ جب کہ میں ان میں تھا اور پھر جب مجھے وفات دی گئی۔ تبسے میں ان کے حالات سے محض بے خبر ہوں مجھے خبر نہیں کہ میرے پیچھے کیا ہوا۔‘‘

(نصرۃ الحق ص۴۰، خزائن ج۲۱ ص۵۱،۵۲)

تردید: اور میرے پرکشفاً ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی۔ تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت

380

میں آئی اور اس نے جوش میں آکر اور اپنی امت کو مفسدہ پرداز پاکر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ چاہا جو اس کا ہم طبع ہو کر گویا وہی ہو۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۵۴، خزائن ج۵ ص۲۵۴)

۴… قول مرزا: بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ، جیسا کہ براہین احمد یہ میں کچھ نمونہ ان کا لکھا گیا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

تردید: اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو، جن کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا، جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)

۵… قول مرزا: اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا، بلکہ ان کا ہلنا اورجنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۷حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۶)

تردید: اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یہ کہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھی اور کہیں خداتعالیٰ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۸، خزائن ج۵ ص۶۸)

۶… قول مرزا: خداتعالیٰ اپنی ہر ایک صفت میں واحدہ لاشریک ہے۔ اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ قرآن کریم کی آیات بینات میں اس قدر اس مضمون کی تائید پائی جاتی ہے جو کسی پر مخفی نہیں… اور صاف فرماتا ہے کہ کوئی شخص موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۳،۳۱۴حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۹،۲۶۰)

تردید:’’انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون‘‘ تو (مرزا) جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸، براہین حصہ پنجم ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴)

’’واعطیت صفۃ الافناء والاحیاء من الرب الفعال‘‘اورمجھ (مرزاقادیانی) کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خداتعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۵،۵۶)

381

۷… قول مرزا: ہاں! بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پائو گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہو گا ۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ مترجم ص۱۷، خزائن ج۷ ص۱۹۷)

تردید: فرمایا کہ دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتa نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی اور اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘

(اخبار بدر قادیان ص۵، مورخہ ۷؍جون۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)

’’صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ مسیح جب آسمان سے اتریں گے۔‘‘

(ازالہ ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)

۸… قول مرزا: یہ ظاہر کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آ گئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)

تردید: اور جوشخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالے گا۔ وہ بیدار ہمت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔ کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرتa اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو اور پھر آنحضرتa کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴)

۹… قول مرزا: وہ (خدا) وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرتa کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۸۶، خزائن ج۳ ص۴۱۶)

تردید: سچاخدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۱۰… قول مرزا: مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی ہے جو بطور خارق عادت ہے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۵۰، خزائن ج۲ ص۹۸)

’’اور لبید کے فضائل میں سے ایک یہ بھی تھا جو اس نے نہ صرف آنحضرتa کا زمانہ پایا بلکہ زمانہ ترقیات اسلام کا خوب دیکھا اور ۴۱ ھ میں ایک سو ستاون(۱۵۷) برس کی

382

عمر پاکر فوت ہوا۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹، خزائن ج۲۱ ص۱۶۳)

تردید: اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جوشخص زمین کی مخلوقات سے ہو۔ وہ شخص سوبرس کے بعد زندہ نہیں رہے گا اور ارض کی قید سے مطلب یہ ہے کہ تا آسمان کی مخلوقات اس سے باہر نکالی جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان کی مخلوقات میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ زمین کی مخلوقات اور ماعلی الارض میںداخل ہیں۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر پیدا ہوا اور خاک میں سے نکلا وہ کسی طرح سو برس سے زیادہ نہیں رہ سکتا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۲۵، خزائن ج۳ ص۴۳۷)

۱۱… قول مرزا: ماسوا اس کے وہ لوگ شہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں۔ یہ لفظ صریح معلوم ہوتاہے کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔ آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو قوم کو تلاش کرنے والا ہو۔ چونکہ حضرت عیسیٰ ا پنی اس قوم کو تلاش کرتے کرتے جو بعض فرقہ یہودیوں میں سے گم تھے کشمیرمیں پہنچے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۲۸، خزائن ج۲۱ ص۴۰۴)

تردید: یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین آسف اندوہ اورغم کو کہتے ہیں۔ چونکہ حضرت مسیح نہایت غمگین ہو کر اپنے وطن سے نکلے تھے۔ اس لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملا لیا۔‘‘

(ست بچن حاشیہ متعلقہ ص۱۶۴،خزائن ج۱۰ ص۳۰۶)

نوٹ: لغت کی کتابوں مثلاً لسان العرب، قاموس، تاج العروس، منتہی الارب، مفرادات امام راغب، مجمع البحار میں لفظ آسف کے معنی یہ نہیں لکھے ہیں کہ قوم کو تلاش کرنے والا۔ بلکہ اس کے معنی افسوس اندوہ غم و غصہ کے لکھے ہیں۔

۱۲… قول مرزا: یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئی ٹل جائے۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

تردید: ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جواس عقدہ کو حل کر سکے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱)

۱۳… قول مرزا: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہئے۔ کیونکہ مسیح نبی

383

تھا تو اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔‘‘

(توضیح المرام ص۱۷، خزائن ج۳ ص۵۹)

تردید: میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سردار انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے اور اس کو سلام کہا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۴۸، خزائن ج۱۸ ص۴۲۷)

۱۴… قول مرزا: پھر حضرت ابن مریم، دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لدکے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گائوں ہے، اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۲۰، خزائن ج۳ ص۲۰۹)

تردید: پھر آخر (دجال ) باب لد پر قتل کیا جائے گا۔ لدان لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب دجال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے، تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑو ں کا خاتمہ کر دے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۳۰، خزائن ج۳ص۴۹۲)

۱۵… قول مرزا: آخری زمانہ میں دجال معہو د کا آنا سرا سر غلط ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۳۷، خزائن ج۳ ص۲۲۰)

تردید: دجال معہو دیہی پادریوں اور عیسائی متکلموںکا گروہ ہے۔ جس نے زمین کو اپنے ساحرانہ کاموں سے تہہ و بالا کر دیا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۲۲، خزائن ج۳ ص۴۸۸)

۱۶… قول مرزا:’’لہ خسف القمرالمنیر وان لی خسف القمران المشرقان اتنکر‘‘ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

نوٹ: قرآن مجید اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں آیا ہے کہ حضورa کے لئے چاند کے گرہن کا نشان ظاہر ہوا تھا۔ بلکہ سورۃ القمر کی آیت: ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر‘‘ اور(صحیح بخاری ج دوم ص۷۲۱،۷۲۲، صحیح مسلم، سنن ترمذی، مسند احمد) کی صحیح روایتوں سے ثابت ہوتاہے کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔

تردید: قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرتa کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۴۱، خزائن ج۲۳ ص۴۱۱)

۱۷… قول مرزا: اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار

384

نہیں۔ ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۷۵حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۸۳)

تردید: سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرتa کے زمانہ تک ردی کی طرح ہو چکی تھیں اور بہت جھوٹ ان میں ملائے گئے تھے۔ جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف و مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔ پس جب کہ بائبل محرف ومبدل ہو چکی تھی… الخ!

(چشمہ معرفت ص۲۵۵، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶)

۱۸… قول مرزا: بڑے ہی تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ جب یہ لوگ مانتے ہیں کہ یہ امت خیر الامم ہے، تو کیا ایسی ہی امت خیر الامم ہوا کرتی ہے؟ جس میں کسی کو مخاطبات اور مکالمات الٰہیہ کا شرف حاصل نہ ہو۔ حضرت موسیٰ کی اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی ہوئے۔ لیکن اس امت میں ایک بھی ان کا مثیل نہ ہوا، تو پھر یہ امت کیونکر خیرالامم ہوئی۔‘‘

(الحکم ص۵، مورخہ ۴؍نومبر۱۹۰۲ء)

تردید: اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے۔ مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۷حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

۱۹… قول مرزا: پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خداتعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنی اتم اور اکمل درجہ پر پائے گئے۔ پس اس طرح پر بعض افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی ہونے کا خطاب پایا۔ کیونکہ ایسی صورت کی نبوت، نبوت محمدیہ سے الگ نہیں۔‘‘

(الوصیت ص۱۱، ۱۲، خزائن ج۲۰ ص۳۱۲)

تردید: پس اسی وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امورغیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱خلاصہ، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

۲۰… قول مرزا: اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیر منفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگوار شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد

385

اسماعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنی صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے۔ لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اورحصر کے طور پر دعویٰ کرکے بتلا دیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہو گا۔ لیکن امام محمدمہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کی رو سے ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا۔ جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیر منفک ٹھہرا رہی ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۱۸، خزائن ج۳ ص۳۷۸)

تردید: اگرحدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجے بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ہذا خلیفتہ اللہ المہدی۔ اب سوچو یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)

۲۱… قول مرزا: اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خداتعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۳)

تردید: یہ قرآن شریف کا مسیح اور اس کی والدہ پر احسان ہے کہ کروڑہا انسانوں کی یسوع کی ولادت کے بارے میں زبان بند کر دی اور ان کو تعلیم دی کہ تم یہی کہو کہ بے باپ پیدا ہوا۔

(ریویو ج۱ نمبر۴ ص۱۵۹)

۲۲… قول مرزا: عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ (یعنی یسوع) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

تردید: اور سچ صرف اسی قدر ہے کہ یسوع نے بھی بعض معجزات دکھلائے۔ جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے۔‘‘

(ریویو ج۱ نمبر۶ ص۳۴۲)

۲۳… قول مرزا: انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر دکھلا دیا اور کسی نے مردے کو زندہ کرکے دکھلا دیا۔ یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۳۳، خزائن ج۱ ص۵۱۸،۵۱۹)

تردید: یہ سچ ہے کہ قرآن کریم کی سولہ آیتوں سے کھلے کھلے طور پریہی ظاہر ہوتا

386

ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے پھر ہرگز دنیا میں نہیں آتا اور ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۹۴۲حاشیہ، خزائن ج۳ ص۶۱۹،۶۲۰)

۲۴… قول مرزا: آنحضرتa نے خود فرمایا ہے کہ جو مہدی آنے والا ہے اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام اور اس کی ماں کا نام میری ماں کا نام ہو گا اور میرے خلق پر ہو گا۔ اس سے آنحضرتa کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا۔‘‘

(الحکم ج۵ نمبر۲۷ ص۷، بابت۱۹۰۱ء، ملفوظات ج۲ ص۳۱۵)

تردید: پھرمہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سے خالی نہیں اور کسی کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۸حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۲۱۷)

۲۵… قول مرزا: اور واقعی یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ امت کے اجماع کو پیش گوئیوں کے امور سے کچھ تعلق نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۰۲، خزائن ج۳ ص۳۰۸)

تردید: ہاں!تیرھویں صدی کے اختتام پرمسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۸۹)

۲۶… قول مرزا: اگر خداتعالیٰ کو ابتلاء خلق اللہ کا منظور نہ ہوتا اور ہر طرح سے کھلے کھلے طور پرپیش گوئی کا بیان کرنا، ارادہ الٰہی ہوتا تو پھر اس طرح پر بیان کرنا چاہئے تھا کہ اے موسیٰ میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں نبی اسماعیل میں سے ایک نبی پیدا کروں گا۔ جس کا نام محمدa ہو گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۷۸، خزائن ج۳ ص۲۴۱)

’’وہ نبی جو ہمارے نبیa سے چھ سو سال پہلے گزرا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور کوئی نہیں۔‘‘

(راز حقیقت ص۱۵حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۶۷)

نوٹ: بقول مرزاقادیانی کے آنحضرتa، حضرت موسیٰm کے بعد بائیسویں صدی میںہوئے ہیں اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرتa سے چھ سو برس پہلے ہوئےہیں۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت موسیٰm کے بعد سولہویں صدی میں ہوئے ہیں۔

تردید: مسیح ابن مریم موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۴)

387

تردید: یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔

(نورالحق ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)

۲۸… قول مرزا: اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کی ہی اولاد ہوں۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۶۸، خزائن ج۱۵ ص۷۰)

تردید: اور ظاہر ہے کہ دنیاوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ کی کوئی آل نہیں تھی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۹۹، خزائن ج۱۵ ص۳۶۳)

’’اور کوئی اس کی بیوی نہ تھی۔‘‘

(ریویو ج۱ نمبر۳ ص۱۲۴)

’’وبودن عیسٰی بے پدر بے فرزند آں دلیلے بریں واقعہ بود بدلالت قطعیہ و اشارت بود سوئے قطع ایں سلسلہ‘‘

(مواہب الرحمن ص۷۶، خزائن ج۱۹ ص۲۹۵)

۲۹… قول مرزا: اور پھر قرآن کہتا ہے کہ مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی، وہ بوجہ تابعداری حضرت محمدa کی ملی۔ کیونکہ مسیح علیہ السلام کو آنحضرتa کے وجود کی خبر دی گئی اور مسیح آنجناب پر ایمان لایا۔‘‘

(الحکم ج۵ کالم۲ نمبر۲۴ ص۳، مورخہ۳۰؍جون ۱۹۰۱ء)

تردید: حضرت مسیح کی حقیقت نبوت یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرتa کے ان کو حاصل ہے۔‘‘

(اخبار قادیان ص۶۸، مورخہ ۱۸؍رمضان۱۳۲۰ھ)

۳۰… قول مرزا: خداتعالیٰ کا قانون قدرت ہر گز بدل نہیں سکتا۔‘‘

(کرامات الصادقین ص۸، خزائن ج۷ ص۵۰)

تردید: وہ (خدا) اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے۔ مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۹۶، خزائن ج۲۳ ص۱۰۴)

۳۱… قول مرزا: حضرت مسیح نے ابتلاء کی رات میں جس قدر تضرعات کئے۔ وہ انجیل سے ظاہر ہیں۔ تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے غم واندوہ سے ایسی حالت ان پر طاری تھی۔ وہ ساری رات رو رو کے دعا کرتے رہے کہ وہ بلا کا پیالہ کہ جو

388

ان کے لئے مقدر تھا ٹل جائے۔ باوجود یہ کہ اس قدر گریہ وزاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ کیونکہ ابتلاء کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۳۲، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۷۵حاشیہ)

تردید: اور منجملہ ان شہادتوں کے جو حضرت مسیح کے صلیب سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں۔ وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب۲۶ میں یعنی آیت۳۶ تا ۴۶ تک مرقوم ہے۔ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح گرفتار کئے جانے کا الہام پا کر تمام رات جناب الٰہی میں رو رو کر اورسجدے کرتے ہوئے دعا کرتے رہے اور ضرور تھا کہ ایسی تضریع کی دعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا، قبول کی جاتی۔ کیونکہ مقبول کا سوال جو بے قراری کے وقت کا سوال ہو ہرگز رد نہیں ہوتا۔ لہٰذا خداتعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دعا کو قبول کرتا۔ یقینا سمجھو کہ وہ دعا جوگتسمینی نام مقام میں کی گئی تھی، ضرور قبول ہو گئی تھی۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۲۸،۲۹، خزائن ج۱۵ ص۳۰،۳۱)

۳۲… قول مرزا: بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۴۹ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۸۰)

تردید: سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)

۳۳… قول مرزا: کیا تو نہیںجانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرتa نے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اگر ہم آنحضرت کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتاہے کہ راہ نبوت کے دروازہ کا انفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائزخیال کریں اور یہ باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں آنحضرتa کے بعد کوئی نبی کیونکر آوے۔ حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہو گئی ہے اورآپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیاہے۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ ترجمہ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)

389

تردید: اب بجزمحمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ ص۲۵، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)

۳۴… قول مرزا: مسیح ایک بے کس کی طرح دنیا میں چند روزہ زندگی بسر کرکے چلا گیا اور یہودیوں نے اس کی ذلت کیلئے بہت ساغلو کیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۸۷، خزائن ج۳ ص۳۰۰)

تردید: اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبیa نے فرمایا مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۵۳، خزائن ج۱۵ ص۵۵)

’’مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے وہ مبارک ہو گا۔ سوان سکوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۵۲، خزائن ج۱۵ ص۵۴)

۳۵… قول مرزا: مرزاقادیانی کے مرید سید مولوی محمد سعید صاحب طرابلسی کے الفاظ مرزاقادیانی کی کتاب (اتمام الحجہ ص۲۰،۲۱، خزائن ج۸ ص۲۹۹حاشیہ) پریوں ہیں: ’’اور حضرت عیسیٰ کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجوں سے بڑا ہے۔ اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے۔‘‘

تردید: خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مرگیااور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وآوینٰھما الٰی ربوۃ ذات قرار ومعین‘‘یعنی ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفٰی پانی کے چشمے اس میں جاری تھے۔ سو وہی کشمیر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۱حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴)

۳۶… قول مرزا: یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث ان کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلاء آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے۔ ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے، بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آ گئے۔‘‘

(نزول المسیح ص۳۵حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۴۱۳)

تردید: اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔ پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ وہ دونوں طرف ان کے پیارے ہوتے ہیں۔ بہرحال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔‘‘

(چشمہ معرفت حصہ دوم ص۱۸، خزائن ج۲۳ ص۳۹۰)

390

سلسلہ بہائیہ

و

فرقہ مرزائیہ

391

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ذیل میں ایک نقشہ کے ذریعہ اس امر کو ثابت کیا جاتا ہے کہ مرزائی مذہب، بہائی مذہب کی نقل ہے۔ غور سے پڑھئے:

۱… بہائی: ’’بابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔‘‘

(الفضل ص۷، مورخہ ۸؍فروری۱۹۲۳ء)

مرزائی: ’’حضرت مسیح ناصری آسمان کی طرف نہیں اٹھائے گئے بلکہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔‘‘

(تبلیغ ہدایت ص۳۸)

۲… بہائی: ’’نازل ہونے والا مسیح اسرائیلی نہیں ہو گا بلکہ امت محمدیہ میں سے ہو گا ۔‘‘

(رسالہ تنقید صحیح ص۱۲، ارشمس سکھیوانی مرزائی)

مرزائی: ’’جس مسیح کا وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی امت میں سے ہو گا۔‘‘

(تبلیغ ہدایت ص۵۹)

۳… بہائی: حضرت سید علی محمد باب کتاب ’’بیان‘‘ کے چوتھے باب تیسرے واحد میں لکھتے ہیں کہ: ’’میں مثل یحییٰ کے ہوں اور من یظھر اللہ جل ذکرہ مثلحضرت عیسیٰ کے ہیں۔‘‘

(حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص۷)

مرزائی: ’’مجھے (مرزاقادیانی) مسیح ابن مریم ہونے کا دعوے نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعوے ہے۔‘‘

(عسل مصفی حصہ۲ ص۵۲۸)

۴… بہائی: ’’حضرت بہاء اللہ نے مسیح موعود ہونے کا دعوے ۱۲۶۹ھ میں کیا اور آپ ۱۳۰۹ھ تک زندہ رہے۔‘‘

(الحکم ص۴، مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۴ء)

مرزائی: ماہ جمادی الثانی ۱۳۰۸ھ میں حضرت مرزاصاحب نے بحکم الٰہی ظاہر کیا کہ قرآن وحدیث میں جس مسیح کے آخری زمانہ میں آنے کا وعدہ دیا گیا ہے وہ میں ہوں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ۲ ص۱۳۸)

۵… بہائی: حضرت بہاء اللہ کا یہ دعویٰ تھا کہ: ’’مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔‘‘(کتاب الفرائید ص۷، اردو،الحکم ص۱۹، مورخہ ۱۰،۱۷؍نومبر۱۹۰۴ء، ادعیہ محبوب ص۲۸، الحکم ص۴، مورخہ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۴ء)

392

مرزائی: مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵، تحفہ گولڑویہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۱۱۶)

۶… بہائی: حضرت بہاء اللہ بعد از دعویٰ وحی چالیس سال تک زندہ رہے۔ آپ اپنے دعویٰ پر اخیر دم تک قائم رہے۔‘‘

(الحکم ص۴، مورخہ ۲۴؍اکتوبر۱۹۰۴ء، الحکم ص۱۹، مورخہ ۱۰، ۱۷؍نومبر۱۹۰۴ء، کتاب الفرائد ص۱۸ اردو)

مرزائی: اس (مرزا کے) دعوی اور وحی والہام پر ۲۵سال سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ جو آنحضرتa کے ایام بعثت سے بھی زیادہ ہیں۔ کیونکہ وہ ۲۳برس کے تھے اور یہ۳۰سال کے قریب ۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۴)

۷… بہائی: ’’اگر نفسے کلامے راخود فرماید و بخدا وند بندہ بافتر باوجلت عظمت نسیت د ہدحق جل جلالہ بہمیں قدرت اورا اخذ فرمائد و ہلاک کند ومہلت ندہد اور اوکلامش رازائیل نمائد چناں کہ در سورۃ مبارکہ حاقہ فرمودہ است ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمن ثم لقطعنا منہ الوتین (الایہ) و مقصود حق جل جلالہ ازیں آیۃ مبارکہ این است کہ اگر کلامے رابما یندو بہمیں قدرت اورا اخذ فرمانیم و عرف حیٰوۃ اور اقطع نمائم واحدے از شما مانع نتو اندشد و نفسے حاجز ایں سخط نتواند کشت وایں آیہ صریح است براینکہ ہرگز خداوند تبارک و تعالی مہلت نخواہند داد نفسے راکہ کلامے را بکذب باونسبت دہد و کتابے راکہ خود تصنیف نمودہ باشد نام اور اوحی آسمانی نہدو آیات آلہیہ خواند‘‘

(کتاب الفرائد ص۱۸، اردو فارسی ص۲۴،۲۵)

مرزائی: مفتری علی اللہ کبھی مظفر و منصور نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ اس کو بہت جلد بیخ وبنیاد سے اکھاڑ کر صفحہ دنیا سے اس کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ولوتقول علیتا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین (الحاقہ)‘‘اور اگر تو ہماری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جو ہم نے نہیں بتائی تو ہم تجھ کو اس جرم میں ماخوذ کرکے تیری رگ جان کاٹ دیں گے۔‘‘

(عسل مصفی حصہ۲ ص۱۹۹)

393

۸… بہائی: بہاء اللہ نے قتل کو حرام لکھا ہے۔‘‘

(حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص ۲۲ )

’’حضرت بہاء اللہ کے مرید جہاد کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی غازی مہدی پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

(الحکم ص۵، مورخہ ۳۱؍مئی۱۹۰۵ء نمبر۱۹ ج۱۸، الفضل، مورخہ۱۰؍اکتوبر ۱۹۲۱ء، تجلیات اردو ص۷۶)

مرزائی:

  1. اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

  2. اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے

    دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۶، خزائن ج۱۷ ص۷۷)

۹… بہائی: صحیح بخاری کی حدیث میں وارد ہے کہ مسیح علیہ السلام جہاد کو موقوف کر دیں گے: ’’ویضع الحرب اوزارھا… الخ!‘‘اور جہاد شرع محمدی میں جائز ہے۔ پس ایک جائز چیز کو اٹھا دینا سوائے حاکم بااختیار کے کسی کا کام نہیں ہے۔‘‘

(عمدۃ التنقیح ص۸۸)

مرزائی: امام بخاری نے حضرت ابوہریرہq سے روایت کی ہے کہ رسولa نے فرمایا… اور مسیح جنگ کو اٹھا دے گا۔‘‘

(عسل مصفی حصہ۳ ص۱۴۹، ۱۵۰)

۱۰… بہائی: ’’لوکان الایمان معلقا‘‘ والی حدیث صاف طور پر بہاء اللہ کے متعلق ہے۔ کیونکہ وہ صاف طور پر فارسی تھے۔‘‘

(اخبار الفضل ص۷،۹، مورخہ ۲۵،۲۹؍اپریل ۱۹۲۴ء)

بہاء اللہ تہران کے قریب ’’نور‘‘ نامی گائوں میں پیدا ہوئے تھے اور ایران کے کیانی بادشاہوں کی یاد گار ایک خاندان ’’نور‘‘ میں آباد تھا۔ (حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص۱۷)

مرزائی: جب الہام الٰہی نے حضرت مرزا صاحب کو واضح کر دیا کہ تم فارسی الاصل ہو۔ واقعی حضرت مسیح موعود حدیث:’’لوکان الایمان معلقاً بالثریا لنالہ رجلا من فارس‘‘کے عین مصداق ہیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ۲ ص۴۶)

۱۱… بہائی: حضرت بہاء اللہ کے مریدوں میں سے کئی اپنے عقائد کی وجہ سے بے رحمی سے شہید کئے گئے ہیں۔‘‘

(الحکم ص۵، مورخہ ۳۱؍مئی۱۹۰۵ء)

مرزائی: ہندوستان سے باہر احمدیوں کوجان کی قربانی کے مواقع بھی پیش آئے۔ حضرت مرزا صاحب کے حلقہ بگوشوں نے کس صبر بلکہ خوشی سے اس امتحان کو قبول کیا۔

394

صاحبزادہ عبداللطیف صاحب اور ان کے شاگرد مولوی عبدالرحمان خان کو امیر کے حکم سے قتل کیا گیا ۔‘‘

(تبلیغ ہدایت ص۲۶۱، ۲۶۲)

۱۲… بہائی: حضرت بہاء اللہ نے ۱۸۹۲ء میں ۷۵سال کی عمر میں انتقال کیا۔ ایران، خراسان، ہندوستان، برما، عراق، ترکی، شام، مصر میں بہائی موجود تھے۔ علاوہ ان ملکوں کے یورپ اور امریکہ کے تمام ملکوں میں بہائی موجود تھے اور آج چین وجاپان جنوبی افریقہ وآسٹریلیا بھی بچے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘

(حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص۶۱)

مرزائی: اب دنیا کے ہر ایک حصہ میں احمدی موجود ہیں۔ مثلاً افریقہ میں امریکہ میں انگلستان میں مصر میں ماریشس میں چین میں آسٹریلیا میں افغانستان میں غرض ہرایک جگہ پر احمدی موجود ہیں۔‘‘

(الفضل کالم۳ ص۸، مورخہ۸؍فروری۱۹۲۳ء)

۱۳… بہائی: حضرت بہاء اللہ فرماتے ہیں کہ خدا نے گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ جو اس کے پاس سے آیا ہے ۔ اس کا پوشیدہ بھید اور رمزمخزون لوگوں کے لئے کتاب اعظم اور اہل عالم کے لئے آسمان کرم ہے۔ مخلوق کے لئے وہی اس کی بڑی نشانی اور دنیا کی چیزوں میں اعلیٰ درجہ کی صفتوں کا مطلع ہے۔ اس سے وہ چیز ظاہر ہوئی جو ازل میں مخفی اور دیکھنے والوں کی نظر سے پوشیدہ تھی۔ وہ وہی شخص ہے جس کے ظہور کی خداتعالیٰ نے اپنی اگلی پچھلی سب کتابوں میں بشارت دی ہے۔‘‘

(ترجمہ الواح مبارکہ تجلیات ص۲،اردو )

مرزائی: جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں اور ان کے مریدوں کی تحریریں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دعویٰ تھا کہ آپ وہ شخص ہیں۔ جس کے ظہور کی خداتعالیٰ نے اپنی اگلی پچھلی سب کتابوں میں بشارت دی ہے۔ مثلاً کہا گیاہے کہ آپ مسیح موعود، مہدی، رجل فارس، حارث، بدھ، کرشن اوتار، رام، زردشت کے وعدے کے مسیحا ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص۱۶۶تا۱۸۰،خلاصہ، الفضل ص۵، مورخہ ۲۲؍اپریل۱۹۲۴ء)

۱۴… بہائی: حضرت بہاء اللہ نے فرمایا ہے کہ ان کے مخالفوں میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔‘‘

(ترجمہ تجلیات ص۳)

مرزائی: حضرت مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ آپ کے مخالف مولویوں نے شور مچایا ہے کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۴۴حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۳۷۶)

۱۵… بہائی: علماء احمدیہ میںسے قاضی ظہور الدین صاحب اکمل نے تشحیذ الاذہان بابت

395

ماہ دسمبر ۱۹۲۱ء ص۱۰تا۱۷، ریویو بابت ماہ اکتوبر ۱۹۲۴ء ص۲۰تا۲۵، ریویو بابت ماہ نومبر۱۹۲۴ء ص۲۶تا ۳۲اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے (ریویو بابت ماہ جنوری۱۹۲۵ء ص۱۷) پر لکھا ہے کہ: ’’بہاء اللہ مدعی الوہیت تھا۔ حالانکہ حضرت بہاء اللہ بار بار خدا کو خالق قرار دیتے ہیں اور خود حضرت بہاء اللہ نے اس زمانہ میں تمام مخلوقات کے ہادی بننے کا دعویٰ کیا تھا۔‘‘

(ریویو آف ریلجنز بابت ماہ اپریل ۱۹۰۸ء ص۱۲۴، ۱۳۰، ج ۷ ش۴ )

مرزائی: قاضی اکمل صاحب اور مولوی فضل دین صاحب وکیل نے لکھا ہے کہ مرزاصاحب کے مخالف لوگوں نے کہا کہ جناب مرزاقادیانی مدعی الوہیت تھے۔

(تشحیذالاذہان بابت ماہ اگست ۱۹۱۳ء ص۳۸۶، نعم الوکیل ص۸۷)

’’حالانکہ حضرت مرزاقادیانی بیسیوں جگہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہ، لاشریک کو ہی خالق ارض و سما بیان فرما چکے ہیں۔‘‘

(نعم الوکیل ص۹۳)

۱۶… بہائی:’’ودیگر تلویح ہمیں یک آیتہ کافی است قولہ تعالٰی فیسورۃ البقروالذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرۃ ھم یوقنون یعنی آنچناں کسانے کہ ایمان آوردہ اند بانچہ فرو فرستادہ شدہ بسوئے تو از او امرنواھی از حکام الہی آنچہ و بآنچہ نازل و فرستادہ شدہ قبل از توو آنچہ نازل مے شو بغیر تو یعنی درآخرزمان موقن شوندو درحق چنیں اشخاص مے فرمائے۔

اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون و بالآخرۃ راچوں بحساب ابجد بیروں آمدے مے شود ہزارو دویست وسی و پنج و مطابق مے آید باسنہ تولد حضرت اعلے روح من فی الملک لہ الغداء وتولد آنحضرت بحسب ظاہر در ملک فارس درسال ۱۳۵۳ھ درعزہ محرم الحرام بودہ ‘‘

(کتاب بحرالعرفان ص۱۴۱)

مرزائی: ظاہر ہے کہ:’’ما انزل الیک من قبلک‘‘ کے بعد اس (خدا) نے وبالآخرۃ کے فقرہ کو لا کر بتا دیا کہ جس طرح قبل والی وحی کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ اسی طرح آخری وحی کے ساتھ ایمان اورایقان لانا ضروری ہے۔ اب غور کرکے دیکھ لیں کہ آیت:’’والذین یؤمنون بما انزل الیک‘‘میں زمانہ حال اور ماضی اور مستقبل

396

کی وحی کا ذکر ہے کہ نہیں، الیک میں آنحضرت کی وحی جو زمانہ حال کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور قبلک سے پہلے انبیاء کی وحی جو زمانہ ماضی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور بالاخرۃ سے مسیح موعود کی وحی جو زمانہ مستقبل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور یہ وہم کہ بالآخرۃ مراد قیامت ہے۔ بلحاظ سیاق کلام کے درست نہیں۔‘‘

(رسالہ مباحثہ لاہور ص۲۹، نسیم پریس لاہور ناشر دارالکتب احمدیہ لاہور)

۱۷… بہائی: وہ عورت جس کا ذکر بارھویں باب کی پہلی آیت میں ہے۔ اس کو ایسا ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا اس کا لباس شمسی ہے اور قمر اس کے پائوں تلے ہے اور اس کے سر پر بارہ ستاروں کا تاج ہے۔ بابی اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد مذہب اسلام ہے اور شمس و قمر سے مراد دو عظیم الشان سلطنتیں ہیں۔ یعنی ایران وروم کیونکہ سورج فارس کا نشان ہے اور چاندترکی یعنی سلطان روم کا نشان ہے اور بارہ ستاروں سے مراد ۱۲ امام لئے گئے ہیں۔ پھر چھٹی آیت کے ۱۲۶۰ دنوں کو لے کر شمسی سالوں میں تبدیل کیا گیا اور اس طرحوقت ۱۸۴۴ء کے مطابق کیا گیاہے۔ جب کہ حضرت باب ظاہر ہوئے تھے۔‘‘

(ریویو ج۷ نمبر۳ ص۹۰،۹۱، بابت ماہ مارچ ۱۹۰۸ء)

مرزائی: مکاشفات یوحنا ۱،۱۲ میں ہے ایک عورت سورج اوڑھے ہوئے چاند اس کے پائوں تلے اور سر پر بارہ ستاروں کا تاج اور وہ ۱۶۶۰ دن تک چھوڑ ی گئی۔ یہ اسلام کی حالت ہے۔ سورج نبی کریم بارہ ستارے بارہ مجدد اور چاند مسیح موعود (مرزاقادیانی) اور ۱۲۶۰ھ، پیدائش مسیح موعود کا سال۔‘‘

(ریویو ریلنجنز بابت ماہ مئی ۱۹۲۲ء ص۱۵۴)

۱۸… بہائی: کتاب بحر العرفان میں قرآن شریف کی مندرجہ ذیل آیات سے علی محمد (حضرت باب) کی آمد کا اشارہ نکالا گیا ہے: ’’یسئل ایان یوم القیامۃ فاذ ابرق البصر و خسف القمر وجمع الشمس والقمر‘‘ حضرت باب(علی محمد) کا نام کھلے طور پر ان آیات مبارکہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ خسف قمر سے مراد اسلامی شریعت کا منسوخ ہونا ہے اور جمع شمس و قمرحضرت باب سید علی محمد کے نام کے قائم مقام ہے۔ اس طرح پرکہ شمس سے مراد محمد رسولa ہیں اور قمر سے مراد علی ہیں اور ان دونوں کے جمع ہونے سے مراد ایسا آدمی ہے۔ جس کا نام محمد اور علی کے الفاظ سے مرکب ہو گا۔‘‘

(ریویو آف ریلنجنز ج۷ نمبر۳ ص۸۵،۸۶، بابت ماہ مارچ ۱۹۰۸ء)

397

مرزائی: حضرت مسیح موعود(مرزاقادیانی) کے ثبوت دعویٰ کے لئے ماہ رمضان میں کسوف وخسوف ہو گا۔ جس کی تائید میں اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں یوں فرماتا ہے:’’فاذا برق البصر وخسف القمر وجمع الشمس والقمر یقول الانسان یومئذ این المفر‘‘سو ایسا ہی ہوا۔‘‘

(عسل مصفی حصہ۲ ص۳۳۷)

۱۹… بہائی: ہم قرآن مجید کی آیت درج کرتے ہیں۔ جس میں صاف وعدہ ہے کہ اور بھی مظاہر الٰہی دنیا میں آئیں گے۔ سورہ اعراف میں فرمایا ہے: ’’یا بنی آدم اما یایتنکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون‘‘اس آیت مبارکہ میں نہایت صراحت سے مستقبل کی خبر دی ہے۔ کیونکہ لفظ یاتینکم کونون تاکید سے مؤکد کیا ہے اور یاتینکم فرمایا ہے۔ جس کے صاف معنی ہیں کہ ضرور بالضرورآئیں گے۔ تم میں رسول تم میں سے اور میری آیات تم پرپڑھیں گے۔ پس جو پرہیز گاری اور نیکوکاری کرے گا۔ اس کو کوئی خوف نہیں ہے۔‘‘

(کتاب الفرئد ص۳۱۴)

مرزائی:’’یابنی آدم اما یایتنکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولاھم یحزنون‘‘ اے فرزندان آدم جب کبھی تم میں رسول آئیں میری آیات تم کو پڑھ کرسنائیں۔ پس جو شخص تقویٰ اور اصلاح سے کام لے گا۔ اس پر کوئی خوف اور حزن نہ ہو گا۔ ایک وعدہ ہے قانون مستمرہ پرذکر کر رہی ہے۔ پس رسولوں کی آمد تاقیامت غیر منقطع ہے۔‘‘

(کتاب النبوۃ فی القران ص۱۵۲، باب دوم)

۲۰… بہائی: مرزا محمود صاحب (ایرانی) بہائی نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ نبوت دو قسم کی ہوتی ہے۔ شرعی اور غیر شرعی۔‘‘

(الفضل کالم۱ ص۷، مورخہ ۲۹؍جولائی ۱۹۲۴ء)

مرزائی: یہ تو صحیح ہے کہ نبوت دو قسم کی ہوتی ہے۔ شریعت والی اور بغیر شریعت کے۔‘‘

(الفضل کالم۳ ص۸، مورخہ ۴؍جولائی ۱۹۲۴ء)

۲۱… بہائی:’’وہکذا یہود منتظر اندکہ بنص صریح خداوند تبارک و تعالی اور اصحاح چہارم کتاب ملاکی ایلیائے پیغمبر یعنی الیاس کہ باعتقاد یہود و نصاریٰ و مسلمین بآسمان صعود نمود قبل از ظہور مسیح از آسمان نازل شود‘‘

(کتاب الفرائد ص۳۲۰)

مرزائی: ایلیا نبی کا آسمان سے اترنا اور خلق اللہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں آنا

398

بائبل میں اس طرح پر لکھا ہے کہ ایلیا نبی جو آسمان پر اٹھایا گیا۔ پھر دوبارہ وہی نبی دنیا میں آئے گا۔ ان ظاہری الفاظ پریہودیوں نے سخت پنجہ مارا ہوا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۰،۷۱، خزائن ج۳ ص۱۳۶)

۲۲… بہائی: ہر چند حضرت بہاء اللہ عزاسمہ الاعلیٰ کاپبلک ادّعا ۱۸۲۳ء مطابق۱۲۸۰ھ میں حضرت باب روحی لہ الفداء کے ظہور سے انیس سال بعد تھا۔ لیکن اس اظہار اور ادّعا کی ابتداء دارالسلام بغداد میں ہوئی تھی نہ کہ سر زمین بیت المقدس میں۔ لیکن طلعت موعود کا مشی وخرام اس زمین معہود میں جو حضرت دانیال کی ان آیات کا مصداق کاملتھا۔ وہ ۱۸۷۳ء مطابق ۱۲۹۰ھ میں ظہور حضرت باب کے ۳۰سال بعد واقع ہوا اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ کیونکہ حضرت دانیال کی یہ تاریخ اور ان کا یہ وعدہ و ردونزول موعود کے وسیلہ سے ارض مقدسہ کی صفائی کے لئے تھا۔‘‘

(احقاق الحق حصہ اوّل ص۴۶)

مرزائی: دانیال نبی کی کتاب میں مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ وہی لکھاہے، جس میں خدا نے مجھے (مرزا) مبعوث فرمایا لکھا ہے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے۔ قائم کی جائے گی۔ ۱۲۹۰ دن ہوں گے۔ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ۱۳۳۵ روز تک آتا ہے۔ اس پیش گوئی میں مسیح موعود کی خبر ہے۔ ۱۲۹۰ء میں یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔ پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال ۱۳۳۵ برس لکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۹،۲۰۰خلاصہ، خزائن ج۲۲ ص۲۰۷، ۲۰۸)

۲۳… بہائی: حضرت بہاء اللہ نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔‘‘

(مفسدین کی گرفتاری ص۲،۴)

مرزائی: حضرت مرزاقادیانی نے (اربعین نمبر۴ ص۷،۸، خزائن ج۱۷ ص۴۷۴)پر صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔‘‘ (النبوۃ فی القرآن ص۷۴حاشیہ، الفضل ص۵، مورخہ ۲۷؍اپریل، ۴؍مئی ۱۹۱۶ء، الفضل ص۴، مورخہ ۱۹؍جولائی۱۹۱۴ء، تشحیذالاذہان ج۱۰ نمبر۲ ص۲۳،۲۵)

۲۴… بہائی: حضرت بہاء اللہ نے آنحضرتa کو خاتم الانبیاء لکھا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:’’قلم اعلٰی نظرباستدعائے آنجنابa مراتب و مقامات عصمت کبریٰ لاذکرنمود و مقصودآنکہ کل بیقین مبین بدانند کہ

399

خاتم الانبیاء روح ماسویہ فداہ در مقام خودشبیہ ومثل و شریک نداشتہ اولیاء صلٰوۃ اللہ علیہم بکلمہ او خلق شدہ اند ایشاں بعد از واعلم وافضل عباد بودہ اند ودرمنتہی رتبہ عبودیت قائم تقدیس ذات الہی از شبہ و مثل و تنزیہ کینونش از شریک و شبیہ بآنحضرت ثابت وظاہرامنیت مقام توحید حقیقی و تفرید معنوی وحزب قبل ازیں مقام کماھوحقہ محروم وممنوعحضرت نقطہ روح ماسویہ فداہ مے فرماید اگر حضرت خاتم بکلمہ ولائت نطق نمے فرمود ولائت خلق نمے شد‘‘

(عصمت کبریٰ ص۳۶، کوکب ہند آ گرہ ص۳، مورخہ۷،۹؍اکتوبر۱۹۲۴ء)

مرزائی: حضرت مرزاقادیانی نے آنحضرتa کو خاتم الانبیاء تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاءa کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ وہ حضرت موسیٰ سے ہزارہا درجہ بڑھ کر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاءa تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرتa کے حق میں فرمایا ہے: ’’انک لعلٰی خلق عظیم‘‘ تو خلق عظیمپر ہے اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کی انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۰۸، خزائن ج۱ ص۶۰۶، عسل مصفی حصہ۲ ص۵۳۱)

۲۵… بہائی: سب کے عقیدوں میں یہ بات جمی ہوئی ہے کہ ہمارے پیغمبر خاتم ہیں۔ سب پیغمبروں کے ان کے بعد کوئی ظہور نئی شریعت لے کر ظاہر نہیں ہو گا۔ حالانکہ حضرت سرور کائنات کے خاتم النّبیین ہونے میں اور حدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ کی سچائی میں ذرہ بھرشک نہیں۔‘‘

(المعیار الصحیح ص۱۳۱،۱۳۲)

مرزائی: میں نے حمامتہ البشریٰ کو اوّل سے آخر تک پڑھا۔ اس میں کہیں بھی ان جھوٹے مولویوں کے دعویٰ کا ثبوت نہ پایا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود وہاں فرماتے ہیں کہ علماء نے جو میری نسبت یہ مشہور کر رکھا ہے کہ میں آنحضرتa کو خاتم النّبیین نہیں مانتا۔ یہ حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ کو نہیں مانتا۔ یہ سب ان علماء سو کا ہی افتراء ہے۔ ‘‘

(ختم نبوت کی حقیقت ص۸۳، مصنفہ عمر الدین قادیانی)

400

انجیل برنباس

اور

حیات مسیح

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

401

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اقوال مرزاقادیانی

۱… ’’انجیل برنباس میں صریح نام آنحضرتa جو محمد ہے درج ہے۔ جس طرح نوکروں کے آنے اور بیٹے کے آنے سے مراد وہ نبی تھے جو وقتاً فوقتاً آتے گئے۔ اسی طرح اس تمثیل میں مالک باغ کے آنے سے بھی مراد ایک بڑا نبی ہے جو نوکروں اور بیٹوں سے بڑھ کر ہے۔ جس پر تیسرا درجہ قرب کا ختم ہوتا ہے وہ کون ہے۔ وہی نبی ہے، جس کا اسی انجیل متی میں فارقلیط کے لفظ سے وعدہ دیا گیا ہے اور جس کا صاف اور صریح نام محمد رسول اللہ انجیل برنباس میں موجود ہے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۲۳۹،۲۴۳، خزائن ج۲ ص۲۸۷،۲۹۳)

۲… ’’برنباس کی انجیل میں جس کو میں نے بچشم خود دیکھا ہے۔ حضرت عیسیٰ کے صلیب پر فوت ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔‘‘

(کشف الغطاء ص۲۶حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۲۱۱)

۳… ’’برنباس کی انجیل میں جو غالباًلندن کے کتب خانہ میں بھی ہوگی۔ یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور نہ صلیب پر جان دی۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۱۸،۱۹، خزائن ج۱۵ ص۲۰،۲۱)

۴… ’’انجیل برنباس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے سولی ملنے سے انکار کیا گیا ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۵۰، خزائن ج۱۵ ص۲۴۰)

۵… ’’اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ (یعنی عیسائی) دلی اطمینان سے نہ کسی کتاب کو جعلی کہہ سکتے ہیں نہ اصلی ٹھہرا سکتے ہیں۔ اپنی اپنی رائیں ہیں اور سخت تعصب کی وجہ سے وہ انجیلیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں ان کو یہ لوگ جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ برنباس کی انجیل جس میں نبی آخرالزمانa کی نسبت پیش گوئی ہے۔ وہ اسی وجہ سے جعلی قرار دی گئیہے کہ اس میں کھلے کھلے طور پر آنحضرتa کی پیش گوئی موجود ہے۔ چنانچہ سیل صاحب نے اپنی تفسیرمیں اس قصہ کو بھی لکھا ہے کہ ایک عیسائی راہب اسی انجیل کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا تھا۔

402

غرض یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ یہ لوگ (یعنی عیسائی)جس کتاب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا جھوٹا ہے۔ ایسی باتیں صرف دو خیال سے ہوتی ہیں۔

(۱)ایک یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب اناجیل کے مروجہ کے مخالف ہوتی ہے۔

(۲)دوسری یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب قرآن شریف سے کسی قدر مطابق ہوتی ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۶، خزائن ج۲۰ ص۳۴۱)

اقول: جناب مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں ’’انجیل برنباس ‘‘ کا ذکر خیر تو کیا ہے۔ مگر جناب نے کھل کر یہ نہیں بتایا کہ اس انجیل میں کیا لکھا ہے۔ صرف اس فقرے پر ہی کفایت کی ہے کہ: ’’انجیل برنباس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے سولی سے انکار کیا ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۵۰، خزائن ج۱۵ ص۲۴۰)

اب میں ذیل میں انجیل برنباس کے اردو ترجمے (مطبوعہ ۱۹۱۶ء حمید پریس سٹیم پریس لاہور)سے کچھ اقتباسات درج کرتا ہوں:

فصل:۲۱۵

۱… ’’اور جب کہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس میں یسوع تھا۔ یسوع نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔

۲… تب اس لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا۔

۳… اور گیارہوں شاگرد سورہے تھے۔

۴… پس جب کہ اللہ نے اپنے بندہ کو خطرہ میں دیکھا۔ اپنے سفیروں جبرائیل، میخائیل، فائیل، اوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیویں۔

۵… تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکن کی طرف دیکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔

۶… پس وہ اس کو اٹھالے گئے اور تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیاجو کہ ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔‘‘

(انجیل برنباس فصل:۲۱۵ ص۲۹۷)

403

فصل:۲۱۶

۱… ’’اور یہود ازور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا جس میں سے یسوع اٹھالیا گیا تھا۔

۲… اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے۔

۳… تب عجیب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔

۴… پس یہودا بولی اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی یسوع ہے۔

۵… لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا تاکہ دیکھے معلم کہاں ہے۔

۶… اس لئے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔

۷… پس تو اب ہم کو بھول گیا۔

۸… مگر اس (یہودا)نے مسکراتے ہوئے کہا۔ کیا تم احمق ہو کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے۔

۹… اور اسی اثناء میں کہ وہ یہ بات کہہ رہا تھا۔ سپاہی داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دئیے۔ اس لئے کہ وہ (یہودا) ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔

۱۰… لیکن ہم لوگوں نے جب یہودا کی بات سنی اور سپاہیوں کا گروہ دیکھا تب ہم دیوانوں کی طرح بھاگ نکلے۔

۱۱… اور یوحنا جوکہ کتان کے لحاف میں لیٹا ہوا تھا، جاگ اٹھا اوربھاگا۔

۱۲… اور جب ایک سپاہی نے اسے کتان کے لحاف کے ساتھ پکڑ لیا تو وہ کتان کا لحاف چھوڑ کر ننگا بھاگ نکلا۔ اس لئے کہ اللہ نے یسوع کی دعا سن لی اور گیارہ شاگردوں کو آفت سے بچادیا۔‘‘

(ص۲۹۷)

فصل:۲۱۷

۷۷… ’’جب کاہنوں کے سرداروں نے معہ کاتبوں اور فرسیوں کے دیکھا کہ یہودا تازیانوں کی ضرب سے نہیں مرا اور جب کہ وہ اس سے ڈرتے تھے کہ بیلاطوس

404

یہودا کو رہا کردے گا۔ انہوں نے حاکم کو روپیوں کا ایک انعام دیا اور حاکم نے وہ انعام لے کر یہودا کو کاتبوں اور فریسیوں کے حوالہ کردیا۔ گویاکہ وہ مجرم ہے جو موت کا مستحق ہے۔

۷۸… انہوں نے یہودا کے ساتھ ہی دو چوروں پر صلیب دیئے جانے کا حکم لگایا۔

۷۹… تب وہ لوگ یہودا کو جمجمہ پہاڑ پر لے گئے۔ جہاں کہ مجرموں کو پھانسی دینے کی انہیں عادت تھی اور وہاں اس کو ننگا کرکے صلیب پر لٹکایا۔ اس کی تحقیر میں مبالغہ کرنے کے لئے۔

۸۰… اور یہودا نے کچھ نہیں کیا سوا اس چیخ کے کہ اے اللہ تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا۔ اس لئے کہ مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مررہا ہوں۔

۸۱… میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حدتک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب شاگردوں اور اس پر ایمان والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔‘‘

(ص۳۰۲)

فصل:۲۱۹

۵… ’’اور وہ فرشتے جوکہ مریم پر محافظ تھے۔ تیسرے آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جہاں کہ یسوع فرشتوں کی ہمراہی میں تھا اور اس سے سب باتیں بیان کیں۔

۶… لہٰذا یسوع نے اللہ سے منت کی کہ وہ اس کو اجازت دے کہ یہ اپنی ماں اور اپنے شاگردوں کو دیکھ آئے۔

۷… تب اس وقت رحمن نے اپنے چاروں نزدیکی فرشتوں کو جوکہ جبرائیل اور میخائیل اور رافائیل اور اوریل ہیں حکم دیا کہ یہ یسوع کو اس کی ماں کے گھر اٹھا کر لے جائیں۔

۸… اور یہ کہ متواتر تین دن کی مدت تک وہاں اس کی نگہبانی کریں۔

۹… اور سوا ان لوگوں کے جو یسوع کی تعلیم پر ایمان لائے ہیں اور کسی کو اسے نہ دیکھنے دیں۔

405

۱۰… پس یسوع روشنی سے گھبرایا ہوا اس کمرہ میں آیا۔ جس کے اندر کنواری مریم معہ اپنی دو بہنوں اور مرثا اور مریم مجدلیہ اور لعازر اور اس لکھنے والے (یعنی برنباس) اور یوحنااور یعقوب اور بطرس کے مقیم تھی۔

۱۱… تب یہ سب خوف سے بے ہوش ہوکر گرپڑے۔ گویا کہ وہ مردے ہیں۔

۱۲… پس یسوع نے اپنی ماں کو اور دوسروں کو یہ کہتے ہوئے زمین سے اٹھایا۔

۱۳… تم نہ ڈرو اس لئے کہ میں ہی یسوع ہوں اور نہ روئو کیونکہ میں زندہ ہوں نہ کہ مردہ۔

۱۴… تب ان میں سے ہر ایک دیر تک یسوع کے آجانے کی وجہ سے دیوانہ سا رہا۔

۱۵… اس لئے کہ انہوں نے پورا پورا اعتقاد کرلیا تھا کہ یسوع مرگیا ہے۔

۱۶… پس اس وقت کنواری مریم نے روتے ہوئے کہا: اے میرے بیٹے! تو مجھ کو بتا کہ اللہ نے تیری موت کو تیرے قرابت مندوں اور دوستوں پر بدنامی کا دھبہ رکھ کر اور تیری تعلیم کو داغدار کرکے کیوں گوارا کیا؟ بحال یہ کہ خدا نے تجھ کو مردوں کے زندہ کردینے پر قوت دی تھی۔

۱۷… پس تحقیق ہر ایک جوکہ تجھ سے محبت رکھتا تھا۔ وہ مثل مردہ کے تھا۔‘‘

(ص۳۰۴)

فصل:۲۲۰

۱… ’’یسوع نے اپنی ماں سے گلے مل کر جواب دیا: اے میری ماں! تو مجھے سچا مان کیونکہ میں تجھ سے سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں ہرگز نہیں مرا ہوں۔

۲… اس لئے کہ اللہ نے مجھ کو دنیا کے خاتمہ کے قریب تک محفوظ رکھا ہے۔

۳… اور جب کہ یہ کہا چاروں فرشتوں سے خواہش کی کہ وہ ظاہر ہوں اور شہادت دیں کہ بات کیونکر تھی؟

۴… تب جونہی فرشتے چار چمکتے ہوئے سورجوں کی مانند ظاہر ہوئے۔ یہاں تک کہ ہر ایک دوبارہ گھبراہٹ سے بے ہوش گرپڑا۔ گویا کہ وہ مردہ ہے۔

406

۵… پس اس وقت یسوع نے فرشتوں کو چار چادریں کتان کی دیں تاکہ وہ ان سے اپنے تئیں ڈھانپ لیں کہ اس کی ماں اور اس کے رفیق انہیں دیکھ نہ سکیں اور صرف ان کو باتیں کرتے سننے پر قادر ہوں۔

۶… اور اس کے بعد کہ ان لوگوں میں سے ہر ایک اٹھایا انہیں یہ کہتے ہوئے تسلی دی کہ یہ فرشتے اللہ کے ایلچی ہیں۔

۷… جبرائیل جو کہ اللہ کے بھیدوں کا اعلان کرتا ہے اور میخائیل جو کہ اللہ کے دشمنوں سے لڑتا ہے۔

۹… اور رافائیل مرنے والوں کی روحیں نکالتا ہے۔

۱۰… اور اوریل جوکہ روز اخیر (قیامت ) میں لوگوں کو اللہ کی عدالت کی طرف بلائے گا۔

۱۱… پھر چاروں فرشتوں نے کنواری سے بیان کیا کہ کیونکر اللہ نے یسوع کی جانب فرشتے بھیجے اور یہودا کی (صورت)کو بدل دیا تاکہ وہ اس عذاب کو بھگتے جس کے لئے اس نے دوسرے کو بھیجاتھا۔

۱۲… اس وقت اس لکھنے والے (یعنی برنباس حواری) نے کہا: اے معلم کیا مجھے جائز ہے کہ تجھ سے اس وقت بھی اسی طرح سوال کروں۔ جیسے کہ اس وقت جائز تھا۔ جب کہ تو ہمارے ساتھ مقیم تھا۔

۱۳… یسوع نے جواب دیا: برنباس تو جو چاہے دریافت کر میں تجھ کو جواب دوں گا۔

۱۴… پس اس وقت اس لکھنے والے (یعنی برنباس حواری) نے کہا: اے معلم اگر اللہ رحیم ہے تو اس نے ہم کو یہ خیال کرنے والا بناکر اس قدر تکلیف کیوں دی کہ تو مردہ تھا؟

۱۵… تحقیق تیری ماں تجھ کو اس قدر روئی کہ (ص۳۰۵) مرنے کے قریب پہنچ گئی۔

۱۶… اور اللہ نے یہ روا رکھا کہ تجھ پر جمجمہ پہاڑ پر چوروں کے مابین قتل ہونے کا دھبہ لگے۔ حالانکہ تو اللہ کا قدوس ہے۔

407

۱۸… پس اس لئے کہ جب کہ میری ماں اور میرے ان وفادار شاگردوں نے جوکہ میرے ساتھ تھے مجھ سے دنیاوی محبت کی نیک کردار خدا نے اس محبت پر موجودہ رنج کے ساتھ سزا دینے کا ارادہ کیا تاکہ اس پر دوزخ کی آگ کے ساتھ سزا دہی نہ کی جائے۔ پس جب کہ آدمیوں نے مجھ کو اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا تھا۔ مگر یہ کہ میں خود دنیا میں بے گناہ تھا۔ اس اللہ نے ارادہ کیا کہ اس دنیا میں آدمی یہودا کی موت سے مجھ سے ٹھٹھا کریں ۔ یہ خیال کرکے کہ وہ میں ہی ہوں جوکہ صلیب پر مرا ہوں تاکہ قیامت کے دن میں شیطان مجھ سے ٹھٹھا نہ کریں۔

۲۰… اور یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی۔ جب کہ محمد رسول اللہ آئے گا جوکہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔‘‘

(ص۳۰۶)

فصل:۲۲۱

۲۴… ’’پھر یسوع کو چاروں فرشتے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آسمان کی طرف اٹھالے گئے۔‘‘

(ص۳۰۸ )

نوٹ: جو کہ کتاب انجیل برنباس سے اوپر لکھا گیا ہے اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ:

۱… یہودا اسکریوطی حضرت مسیح علیہ السلام کا ہمشکل بنایا گیا اور صلیب پر مارا گیا۔

۲… حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم کو اللہ نے آسمان پر اٹھالیا۔

۳… حضرت مسیح نے صریح الفاظ میں کہا کہ محمد رسول اللہ آئے گا اور لوگوں کو مسیح کے بارے میں غلطیوں سے نکالے گا۔

چنانچہ جناب محمد علی صاحب ایم۔اے لاہوری اپنی کتاب (احمد مجتبیٰ ص۸۴) پر لکھتے ہیں: ’’اسی انجیل برنباس میں مسیح کے زندہ آسمان پر جانے کا قصہ بھی موجود ہے۔‘‘

408

مرزائیت میں

یہودیت و نصرانیت

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

409

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رسالہ شمس الاسلام بھیرہ کے ’’قادیان نمبر‘‘ کے لئے ایک دلچسپ اور نیامضمون لکھتا ہوں۔ جب سے یہ رسالہ بھیرہ سے جاری ہوا ہے، ایسا عجیب وغریب مضمون اس رسالہ میں مجھ سے پیشتر کسی نے نہیں لکھا۔ یہ اللہ کا مجھ پر خاص فضل وکرم ہے کہ خدا وند تعالیٰ نے مجھے مرزائیوں کی تردید کے لئے خاص طاقت عطا فرمائی ہے۔ خاص دماغ وذہن وحافظہ عطا کیا ہے ۔ھذا من فضل ربی!

  1. ایں سعادت بزور بازو نیست

    تانہ بخشد خدائے بخشندہ

اس مضمون میں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ مرزائیت کے اکثر مسئلے یہودیت اور عیسویت سے ملتے جلتے ہیں:

۱… یہودیت: یہودی لوگ خداتعالیٰ کو جسمانی اور مجسم قرار دے کر عالم جسمانی کی طرح اس کا ایک جز سمجھتے ہیں اور ان کی نظر ناقص میں یہ سمایا ہوا ہے کہ بہت سی باتیں جو مخلوق پر جائز ہیں، وہ خدا پر بھی جائز ہیںاور اس کو من کل الوجوہ منزہ خیال نہیں کرتے اور ان کی توریت میں جو محرف اور مبدل ہے۔ خداتعالیٰ کی نسبت کئی طور کی بے ادبیاں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ پیدائش کے ۳۲باب میں لکھا ہے کہ خداتعالیٰ یعقوبm سے تمام رات تک کشتی لڑتا رہا اور اس پر غالب نہ ہوا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۳۸۸حاشیہ، خزائن ج۱ ص۴۶۴)

خدا وند خدا کی نیند:

۱… ’’کیونکہ میں نے تھکی ہوئی جان کو آسودہ کیا اور ہرغمگین روح کو سیر کیا۔ اس پر میں جاگا اور نگاہ کی اور میری نیند مجھے میٹھی ہوئی۔‘‘

(یرمیاہ:۳۱ ص۲۵،۲۶)

۲… ’’بیدار ہو کیوں سورہتا ہے۔ اے خدا وند جاگ ہم کو ہمیشہ کے لئے ترک مت کر۔‘‘

(زبور۲۳،۲۴، رسالہ ریویو ج۲۲ نمبر۲ ص۲۳، بابت ماہ فروری۱۹۲۳ء)

مرزائیت: مرزاقادیانی کو ۳؍فروری۱۹۰۳ء کو الہام ہوا:’’اصلی واصوم اسھر وانام واجعل لک انوار القدوم واعطیک ما یدوم وان اللہ مع الذین اتقوا‘‘میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں اورتیرے لئے اپنے

410

آنے کے نور عطاء کروں گااور وہ چیز تجھے دوں گا جوتیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔‘‘

(الحکم ج۷ نمبر۵ ص۱۶ کالم۱، البشریٰ ج۲ ص۷۹، تذکرہ ص۴۶۰، طبع سوم)

نوٹ: الفاظ: ’’واجعل لک انوار القدوم واعطیک مایدوم‘‘صاف ظاہر کرتے ہیں کہ بقول مرزاقادیانی کے، یہاں خدا متکلم ہے اور مرزاقادیانی مخاطب ہے ۔ پس الفاظ: ’’اسھروانام‘‘ خدا کے متعلق ہیں نہ کہ مرزا قادیانی کے متعلق۔

قرآنی تعلیم: خداتعالیٰ کے تھکنے اور نیند سے اونگھنے کی کھلی کھلی تردید قرآن مجید میں ہے۔‘‘

(ریویو ج۲۲ نمبر۲ ص۲۲، فروری ۱۹۲۳ء)

۲… یہودیت: اور بہترے تو کہنے لگے کہ یسوع میں بد روح ہے اور دیوانہ ہے۔‘‘

(انجیل باب:۱۰ درس:۲۰، اخبار فاروق قادیان ص۱۰، مورخہ ۱۴؍اگست۱۹۳۲ء)

مرزائیت: ’’اور ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہوگیا ہے۔ اس کا کوئی بندو بست کیا جاوے۔ یعنی عدالت کے جیل خانہ میں داخل کیا جاوے تاکہ وہاں کے دستور کے موافق اس کا علاج ہو تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘

(کتاب ست بچن حاشیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۰ ص۲۹۵)

نوٹ: انجیل متی ومرقس ولوقاویوحنا میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ (معاذ اللہ ) یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔

۳… یہودیت: ’’حسب بیان یہود مسیح سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔‘‘

(رسالہ ریویو ج۲۹ نمبر۱ ص۲۹)

مرزائیت: ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

۴… یہودیت: ’’اور بموجب بیان یہودیوں کے اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ محض فریب اور مکر تھا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۹، خزائن ج۲۰ ص۳۴۴)

مرزائیت: ’’اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

411

۵… یہودیت: یہودیوں نے اسے مے خوار یعنی شرابی کہا۔‘‘

(ریویو ج۱ نمبر۸ ص۳۰۸، اگست ۱۹۰۲ء)

مرزائیت :’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

’’یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی۔ مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔‘‘

(بدر قادیان ص۱۰، مورخہ۷؍نومبر۱۹۰۲ء)

نوٹ: انجیل متی ومرقس ولوقا ویوحنا میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ یسوع مسیح شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ انجیل متی کے باب۲۶ کے درس۲۹ میں انگریری میں لفظ (VINE) ہے جس کے معنی انگور کے ہیں۔ اس جگہ لفظ (WINE) نہیں ہے۔

۶… یہودیت: ’’یہودی اپنی تاریخ کی رو سے بالاتفاق یہی مانتے ہیں کہ موسیٰ سے چودہویں صدی کے سر پر عیسیٰ ظاہر ہوا۔ دیکھو یہودیوں کی تاریخ۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۳حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۱۴)

’’یہودیوں کی تاریخ سے بالاتفاق ثابت ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ، موسیٰ کے بعد چودہویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اور وہی قول صحیح ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیہ ص۱۸۷، خزائن ج۲۱ ص۳۵۹)

مرزائیت: ’’تیسری مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے میری یہ ہے کہ وہ ظاہر نہیںہوئے جب تک کہ حضرت موسیٰ کی وفات پر چودہویں صدی کا ظہور نہیں ہوا۔ ایسا ہی میں بھی آنحضرتa کی ہجرت سے چودہویں صدی کے سرپر مبعوث ہوا ہوں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۱۵حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۰۹)

نوٹ: قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰm کی وفات سے چودہویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰm حضرت مسیح سے ۱۵۷۱سال پیشتر پیدا ہوئے تھے اور ۱۴۵۱سال قبل مسیح میں فوت ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

412

۷… یہودیت: ’’یہود کی تاریخی روایت ہے کہ حضرت مسیح نے ایک استاد سے سبقاً سبقاً توریت پڑھی تھی۔‘‘

(ضمیمہ تفہیمات ربانیہ ص۱۲)

مرزائیت: ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد ایک یہودی تھا۔ جس سے انہوں نے ساری بائبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا۔‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۱۶، خزائن ج۱۷ ص۳۵۸)

’’یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے سبقاً سبقاً توریت پڑھی تھی اور طالمود کوبھی پڑھا تھا۔‘‘

(نزول المسیح ص۶۰،خزائن ج۱۸ ص۴۳۸)

نوٹ: سورۃ آل عمران پارہ۳ کے رکوع۱۳ میں ہے: ’’ویعلمہ اللکتاب والحکمۃ والتورۃ والانجیل‘‘ {اور اللہ سکھائے گا عیسیٰ کو لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل۔} قرآن مجید اور صحیح حدیث نبوی میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے توریت پڑھی تھی۔

۸… یہودیت: ’’یہود اور نصاریٰ کی دو زبردست قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ خود مسیح بن مریم ہی کو صلیب پر لٹکایا گیا۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۷۹)

’’دیکھو یہودی اور عیسائی دونوں اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح صلیب دیا گیا۔‘‘

(بدر ص۷، مورخہ ۲؍جون۱۹۱۸ء)

مرزائیت: ’’حضرت مسیح علیہ السلام ہی پکڑے گئے اور وہی مصلوب ہوئے۔ مگرصلیب کی پوری شرائط ان پر نافذ نہیں ہوئیں۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۴۶۹)

’’مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضا میں ٹھوکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہوگیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہیں تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۲، خزائن ج۳ ص۳۰۲)

۹… یہودیت: ’’یہودی فاضل جو اب تک موجود ہیں اور بمبئی اور کلکتہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ عیسائیوں کے اس قول پر کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر چلے گئے ہیں۔ بڑا ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۷۰، خزائن ج۲۱ ص۳۳۸حاشیہ)

’’مگر اب تو یہودیوں اور تمام عقلمندوں کے نزدیک مسیح کا آسمان پر محض ایک فسانہ اور گپ ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۸، خزائن ج۲۰ ص۳۴۸)

413

مرزائیت: ’’حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۱۲، خزائن ج۱۵ ص۱۴)

نوٹ: یہودی لو گ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کے منکر ہیں۔ مرزائی بھی منکر ہیں۔ یہودی فاضلوں کی طرح مرزائی مولوی ناضل بھی اپنے مخالفوں کے اس قول پر کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر چلے گئے بڑاٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔

مرزائیت: ’’کیا یہ الفاظ جو استثنا۲۱ باب۲۳ آیت میں ہیں کہ اس کی لاش رات بھر درخت پر نہ لٹکی رہے۔ کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے۔ خدا کا ملعون ہے۔ صاف بتاتا ہے کہ پھانسی دیا ہی وہ جاتا ہے جو مجرم ہو۔ غیر مجرم پھانسی دیا ہی نہیں جاتا۔ اس لئے مصلوب ضرور ملعون عند اللہ ہے۔‘‘

(اخبار فاروق قادیان ص۲۱، مورخہ۶،۱۳،۲۰،۲۷؍جولائی۱۹۱۶ء)

یہودیت: ’’توریت میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ لعنتی ہے۔ یعنی اس کا خداتعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔‘‘

(کتاب البریہ ص۱۹۷حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۳۱)

ان مندرجہ بالا دس دلائل کے لکھنے کے بعد اب ذیل میں اس امر کو ثابت کیا جاتا ہے کہ مرزائی مذہب کے بعض مسائل عیسائی مذہب کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔

۱… عیسویت: ’’ان دونوں کتابوں یعنی ملا کی نبی اور متی کی کتاب سے ظاہر ہے کہ اوّل ملاکی نبی نے باالہام ووحی الٰہی خبردی کہ حضرت عیسیٰ کے آنے سے پہلے اوّل ایلیا یعنی حضرت الیاس آئیں گے اور حضرت عیسیٰ نے بہ وحی الٰہی لوگوں پر ظاہر کیا کہ یوحنا یعنی یحییٰ زکریا کا بیٹا وہی ایلیاء ہے۔ چاہو تو قبول کرو۔‘‘

(عسل مصفی حصہ اوّل ص۱۰۹)

مرزائیت: ’’کیا اس (خدا)کو طاقت نہیں کہ ایک آدمی کی روحانی حالت کو ایک دوسرے آدمی کے مشابہ کرکے وہی نام اس کا بھی رکھ دیوے؟ کیا اس نے اسی روحانی حالت کی وجہ سے حضرت یحییٰ کا نام ایلیا نہیں رکھ دیا تھا؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۱۱، خزائن ج۳ ص۳۱۳)

نوٹ: قرآن کریم کی کسی آیت میں اور کسی صحیح حدیث نبوی میں یہ نہیں آیا ہے کہ حضرت یحییٰ حضرت الیاس نبی کے مثیل تھے اور حضرت یحییٰ نے خود بھی کبھی یہ نہیں فرمایا کہ میں مثیل الیاس ہوں۔

۲… عیسویت: ’’اب یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو گئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے

414

حاملہ پائی گئی۔‘‘

(نیاعہد نامہ انجیل متی باب اوّل درس۱۸)

مرزائیت: ’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ۲۲برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۳حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۴،۲۵۵)

نوٹ: قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی صحیح حدیث نبوی میں یوسف نجار کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

۳… عیسویت: ’’یہوداور نصاریٰ کی تاریخ متواتر سے جس پر یونانی اور رومی کتب تاریخ بھی شہادت دیتی ہیں۔ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۳۳برس کی عمر میں مصلوب ہوئے اور یہی چاروں انجیلوں کی نصوص صریحہ سے سمجھا جاتا ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۲۴۲،۲۴۳حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۷۷،۲۷۸)

مرزائیت: ’’ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیش آیا تھا جب کہ آپ کی عمر صرف ۳۳برس اور چھ مہینے کی تھی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲۱۰، خزائن ج۱۷ ص۳۱۱)

۴… عیسویت: (نیولائف آف جینرس ج اوّل ص۴۱۰) پر ہے۔ پس اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ قریب چھ گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا۔ تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بے ہوشی تھی اور جب شفاد ینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبودار دوائیاں مل کر اسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اس کی بے ہوشی دور ہوئی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۲۱۲، خزائن ج۱۷ ص۳۱۳)

مرزائیت: ’’حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت نہیں ہوئے ۔ مگر غشی کی حالت ان پر طاری ہوگئی تھی۔ بعد میں دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسیٰ کے استعمال سے (جو آج تک صدہا طبی کتابوں میں موجود ہے جو حضرت عیسیٰ کے لئے بنائی گئی تھی) ان کے زخم بھی اچھے ہوگئے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۶،۳۷، خزائن ج۲۲ ص۳۹)

۵… عیسویت: ’’خدا وند یسوع مسیح ہر گز شارع نہ تھا۔ جن معنوں میں کہ حضرت موسیٰ صاحب شریعت تھا۔ جس نے ایک کامل مفصل شریعت ایسے امور کے متعلق دی کہ مثلاً کھانے کے لئے حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے وغیرہ کوئی شخص انجیل کو بغیر غور کے سرسری نگاہ سے بھی

415

دیکھے تو اس پر ضرور ظاہر ہوجائے گا کہ یسوع مسیح صاحب شریعت نہ تھا۔‘‘

(جے اے لیفرائے بشپ لاہور کے الفاظ مندرجہ تتمہ حاشیہ ٹائٹل پیج متعلقہ خطبہ الہامیہ، خزائن ج۱۶ ص۱۴)

مرزائیت: ’’حضرت مسیح ناصری الگ شریعت کے مالک نہ تھے۔ بلکہ متبع شریعت توریت ہوکر آئے تھے اور اسی کے متبع اور مفسر تھے۔‘‘

(النبوۃ فی القرآن ص۶۵حاشیہ)

۶… عیسویت: ’’عیسائیوں میں سے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے۔‘‘(تحفہ گولڑویہ ص۲۱۰، خزائن ج۱۷ ص۳۱۱، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۷۲، خزائن ج۲۱ ص۳۴۲)

مرزائیت: ’’نزول کے اجمالی معنوں میں یہ گروہ اہل سنت کا سچا ہے۔ کیونکہ مسیح کا بروزی طور پر نزول ہونا ضروری تھا۔ ہاں! نزول کی کیفیت بیان کرنے میں ان لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔ نزول صفت بروزی تھا نہ کہ حقیقی۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص۲۵، خزائن ج۱۳ ص۴۹۶)

۷… عیسویت: ’’عیسائی تواریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مدت تک عیسائیوں کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت فوت ہوگئے ہیں اور ان کا رفع روحانی ہوا ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۲۲۹حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۶۴)

مرزائیت: ’’مسیح کا ہر گز رفع جسمانی نہیں ہوا، نہ اس رفع کا کچھ ثبوت ہے اور نہ اس کی کچھ ضرورت تھی۔ ہاں! ایک سو بیس برس کے بعد رفع روحانی ہوا ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۲۴۱،۲۴۲حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۷۶،۲۷۷)

عیسویت: ’’جو کوئی یسوع کے قدم بقدم چلے گا۔ وہ ضرور ناکام ہوگا۔ جیسا کہ یسوع ناکام ہوا۔ تمام دنیا کی تاریخ میں نامرادی کی کوئی مثال یسوع کی نامرادی سے بڑھ کر نہیں ہے۔ یسوع کو کسی امر میں بھی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔‘‘

(ایک عیسائی کا قول مندرجہ اخبار بدر ص۱۰، مورخہ ۲۲؍مارچ۱۹۰۶ء)

مرزائیت: ’’غرض جس قدر جھوٹی کرامتیں اور جھوٹے معجزات حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ کسی اور نبی میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی اور عجیب تر یہ کہ باوجود ان تمام فرضی معجزات کے ناکامی اور نامرادی جو مذہب کے پھیلانے میں کسی کو ہوسکتی ہے۔ وہ سب سے اوّل نمبر پر ہیں۔ کسی اور نبی میں اس قدر نامرادی کی نظیر تلاش کرنا لاحاصل ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۴۵، خزائن ج۲۱ ص۵۸)

416