عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

احتساب جلد دوم

احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلددوم
مصنف : حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
صفحات : ۴۴۰
قیمت : ۱۵۰ روپے
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
طبع اوّل : جون ۱۹۹۷ء
طبع دوم : جنوری ۲۰۰۲ء
طبع سوم : ………
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فہرست رسائل مشمولہ … احتساب قادیانیت جلد۲

  1. ٭…

    حرف آغاز

    حضرت مولانا اللہ وسایا

    ۴

  2. ۱…

    مسلک الختام فی ختم نبوت سید الانامﷺ

    حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

    ۹

  3. ۲…

    شرائط نبوت

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۷۷

  4. ۳…

    حضرات صوفیاء کرام اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ پر مرزائیوں کا بہتان اور افتراء

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۱۳

  5. ۴…

    الاعلام بمعنی الکشف والوحی والالہام

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۲۳

  6. ۵…

    کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ المعروف حیات عیسیٰ علیہ السلام

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۳۳

  7. ۶…

    القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۱۵

  8. ۷…

    لطائف الحکم فی اسرار نزول عیسٰی ابن مریم علیہ السلام

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۵۷

  9. ۸…

    اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۷۱

  10. ۹…

    دعاوی مرزا

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۸۷

  11. ۱۰…

    احسن البیان فی تحقیق مسئلۃ الکفر والایمان یعنی مسلمان کون اور کافر کون؟

    ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۳۲۷

3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حرف آغاز

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ۱۹۰۰ء میں کاندھلہ ضلع مظفرنگر میں پیدا ہوئے اور ۲۶؍جولائی ۱۹۷۴ء کو لاہور میں واصل الیٰ الحق ہوئے۔ ابتدائی تعلیم خانقاہ اشرفیہ تھانہ بھون، اعلیٰ تعلیم مظاہرالعلوم سہارنپور اور دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریv، علامہ شبیر احمد عثمانیv، مفتی عزیزالرحمن عثمانیv اور مولانا رسول خان ہزارویv ایسے نابغہ روزگار آپ کے اساتذہ تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں پڑھنا ہی باعث صد افتخار ہے۔ چہ جائیکہ وہاں پر پڑھانے کا کسی کو شرف حاصل ہو جائے، حضرت مولانا کاندھلوی مرحوم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے جن اساتذہ سے پڑھا تھا، انہی کی سرپرستی میں دارالعلوم دیوبند میں پڑھاتے بھی رہے۔ علاوہ ازیں مدرسہ امینیہ دہلی، حیدرآباد دکن، جامعہ عباسیہ بہاولپور اور جامعہ اشرفیہ لاہور ایسے مشہور عالم جامعات میں آپ شیخ التفسیر وشیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز رہے۔

حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریv کی طرف سے آپ کو فتنہ عمیاء قادیانیت کے خلاف کام کرنے کی قدرت نے تڑپ نصیب فرمائی تھی۔ حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحبv فرماتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے زمانہ میں وہ خود، حضرت مولانا بدرعالم میرٹھیvاور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کو

4

قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد پر استاذ مکرم حضرت شاہ صاحبv نے لگادیا تھا اور موضوع بھی تقسیم فرمادئیے تھے۔ اس دور میں مختلف معروف زمانہ مناظروں میں بھی ان حضرات نے اپنے اکابر کی سرپرستی میں نہ صرف شرکت فرمائی بلکہ کامیابی وکامرانی سے قدرت حق نے ان کوسرفراز فرمایا۔ حضرت کاندھلویؒ اپنے استاذ حضرت شاہ صاحبv کی خواہش وحکم پاکر فتنہ قادیانیت کے خلاف ایسے صف آراء ہوئے کہ آخری عمر تک برابر اس جہاد کو جاری رکھا۔ آپ نے قادیانیت کے خلاف جو رسائل وکتب تصنیف فرمائے، ان میں سے بعض تو بارہا شائع ہوئے اور بعض ایک آدھ بار چھپ کر نایاب ہوگئے اور اب تو تقریباً تمام کے بازار سے عنقاء ہیں۔

فقیر کی خواہش تھی کہ ان سب کو جمع کر کے ایک ’’حسین گلدستہ‘‘ کی شکل میں آنے والی نسل کے لئے محفوظ کردیا جائے تاکہ مصنف کا یہ فیض جاری رہے۔ مصنف مرحوم کا ذاتی کتب خانہ ومسودہ جات لاہور کے ایک دینی ادارہ میں محفوظ ہیں۔ فقیر وہاں پر حاضر ہوا کہ شاید کوئی غیرمطبوعہ مسودہ کی نشاندہی ہو جائے یا آپ کی کتابوں میں سے کوئی نایاب کتب دیکھنے کو مل جائیں۔ اس ادارہ کے بعض ذمہ دار حضرات نے بہت زیادہ کرم اور محبت کا مظاہرہ فرمایا۔ لیکن ان کتابوں ومسودہ جات کو دیکھنے کے لئے کبھی ادھر کبھی ادھر کے صبر آزما مرحلے سے گزر کر جب اس کتب خانہ میں موجود شخصیت سے ملا تو بس ’’زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن‘‘ والا معاملہ پایا۔ بہت مایوسی ہوئی۔ بایں ہمہ بحمدہٖ تعالیٰ مجھے ننانوے فیصد یقین ہے کہ حضرت مرحوم نے فتنہ قادیانیت کے خلاف جو کچھ تحریر فرمایا تھا، وہ

5

تمام کا تمام اس مجموعہ میں شامل ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر دفتر ملتان کو یہ شرف حاصل ہے کہ قدیم وجدید ردقادیانیت کی کتب کو شایان شان طریقہ پر شائع کرنے کا ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جس پر جتنا رب کریم کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح۔ خاتم النّبیین (فارسی واردو ترجمہ ) ’’ہدیۃ المہدین، ہدایۃ الممتری عن غوایۃ المفتری‘‘، رئیس قادیان، شہادۃ القرآن، کلمہ فضل رحمانی، مرزائی نامہ اور دیگر کتب کی اشاعت کے علاوہ ابھی حال ہی میں قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، از پروفیسر الیاس برنی مرحوم کا جدید حوالہ جات کی تخریج کر کے کمپیوٹر پر اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ مناظر اسلام مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریv کے ’’قادیانیت پر رسائل کا عرصہ ہوا، مجموعہ شائع کیا تھا۔ ابھی مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترv کے ردقادیانیت پر رسائل کے مجموعہ کے حوالہ جات کی تخریج کر کے دوسری بار شائع کیا ہے۔ بحمدہٖ تعالیٰ حضرت حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویv کے رسائل ومقالہ جات کے مجموعہ کی ’’تحفہ قادیانیت‘‘ کے نام سے تین (مکمل۶) جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور اب یہ مجموعہ پیش خدمت ہے۔ یوں تو حضرت کاندھلوی مرحوم کی شاید ہی کوئی تصنیف ہو جس میں قادیانیت کے خلاف کچھ نہ کچھ آپ نے تحریر نہ فرمایا ہو۔ لیکن اس عنوان پر مستقل آپ کے دس رسائل وکتب ہیں جن کے نام یہ ہیں:

۱… ’’مسلک الختام فی ختم نبوت سید الانامﷺ المعروف ختم نبوت‘‘

۲… ’’شرائط نبوت‘‘

6

۳… ’’حضرات صوفیاء کرام اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ پر مرزائیوں کا بہتان وافتراء‘‘

۴… ’’الاعلام بمعنی الکشف والوحی والالہام‘‘

۵… ’’کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ المعروف حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘

۶… ’’القول المحکم فی نزول ابن مریم علیہ السلام‘‘

۷… ’’لطائف الحکم فی اسرار نزول عیسٰی ابن مریم علیہ السلام‘‘

۸… ’’اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف‘‘

۹… ’’دعاوی مرزا‘‘

۱۰… ’’احسن البیان فی تحقیق مسئلۃ الکفر والایمان یعنی مسلمان کون ہے اور کافر کون؟‘‘

بحمدہٖ تعالیٰ یہ تمام کے تمام اس مجموعہ میں شامل ہیں۔

حضرت مرحوم نے قادیانی کتب کے حوالہ جات نقل کرنے میں بعض جگہ کتاب کا نام درج فرمایا، صفحات کا ذکر نہیں فرمایا تھا۔ بعض جگہ حوالہ کا مفہوم نقل فرمادیا اور بعض جگہ ’’عیان راچہ بیان‘‘ کے تحت حوالہ ہی نہیں دیا۔ بعض مقامات پر مختلف عبارتوں کے اقتباس نقل کر دئیے جو بظاہر ایک کتاب کا حوالہ معلوم ہوتا تھا۔ (لیکن بحمدہٖ تعالیٰ ایک حوالہ بھی ایسا نہیں تھا جو موجود نہ ہو) اور اب اس عنوان پر کام کرنے والوں کو ایک نئی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ قادیانی کتب کے جدید ایڈیشنوں کے صفحات کا قدیم ایڈیشنوں کے صفحات سے زمین آسمان کا اتنا فرق ہے جتنا کفر مرزا اور اسلام کا۔ اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ ان تمام

7

حوالہ جات کو لفظاً لفظاً پڑھ کر ان تمام متذکرہ امور کی تلافی کر دی جائے۔ اللہ رب العزت کے فضل واحسان سے ایسے ہوگیا ہے۔ اب یہ اس موضوع پر ایک بالکل کامل ومکمل دستاویز تیار ہوگئی ہے۔

تفسیر وحدیث اور دیگر دینی کتب کے حوالہ جات کو چیک کرنے کی فقیر میں نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی حضرت مرحوم کے ان حوالہ جات کو چیک کرنے کی ضرورت سمجھتا ہوں۔ قادیانی کتب کے حوالہ جات کی تلاش میں برادر عزیز مولانا قاضی احسان احمد (ٹوبہ ٹیک سنگھ) اور فوٹوسٹیٹ کرنے کے سلسلہ میں برادر عزیزقاری حفیظ اللہ نے معاونت کی۔ کتاب مکمل کر کے برادرم مکرم محمد متین خالد کو بھجوائی۔ حسب سابق آپ نے بھرپور محنت کر کے اس کے باقی ماندہ مراحل مکمل کئے۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات کو جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ آمین!

امیرمرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہ العالی نے اس مجموعہ کو شائع کرنے کی نہ صرف اجازت مرحمت فرمائی بلکہ اس پر بھرپور خوشی وانبساط کا اظہار بھی فرمایا۔ انہی اکابر کی دعاؤں سے یہ کام مکمل ہوا ہے۔ حق تعالیٰ اس حقیر محنت کو شرف قبولیت سے نوازیں۔آمین! بحرمۃ النبی الامیی الکریم!

طالب دعا: فقیر اللہ وسایا، ملتان

۲۴؍شوال ۱۴۱۷ھ، مطابق ۴؍مارچ ۱۹۹۷ء

8

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

9

تمہید

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا ومولانا وشفیعنا وحبیبنا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین۔ اما بعد!

بندۂ نابکار وگنہگار محمدادریس کاندھلوی کان اللہ لہ وکان ہوﷲ (آمین) اہل اسلام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے کہ جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرتa بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النّبیین ہیں اور یہ مسئلہ قرآن کریم کی صریح آیات اور احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے جس کا منکر قطعاً کافر مانا گیا ہے اور کوئی تاویل وتخصیص اس بارہ میں قبول نہیں کی گئی۔

امت محمدیہ میں سب سے پہلا اجماع جو ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت قتل کیا جائے۔ نبی اکرمa کے اخیر زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبرq نے خلافت کے بعد سب سے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ مسیلمہ کذاب کے قتل اور اس کی امت کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے خالد بن ولیدq سیف اللہ کی سرکردگی میں صحابہ کرامi کا ایک لشکر روانہ کیا۔ اس بارے میں نہ کسی نے تردد کیا اور نہ کسی نے یہ سوال کیا کہ مسیلمہ کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ مستقل نبوت کا مدعی ہے یا ظلی اور بروزی نبوت کا مدعی ہے اور نہ کسی نے مسیلمہ سے اس کی نبوت کے دلائل وبراہین پوچھے اور نہ معجزات کا مطالبہ کیا۔ صحابہ کرامi کا لشکر مسیلمہ کذاب سے جہاد کے لئے یمامہ روانہ ہوا۔ اس مقابلہ اور معرکہ میں جو لوگ مسیلمہ کے ساتھ میدان کارزار میں آئے تھے ان کی تعداد چالیس ہزار مسلح جوانوں کی تھی جن میں سے اٹھائیس ہزار مارے گئے اور مسیلمہ بھی مارا گیا۔ باقی ماندہ لوگوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ خالد بن ولیدq بہت سا مال غنیمت لے کر مظفر ومنصور مدینہ واپس آئے۔

10

یہاں ایک امر قابل غور ہے وہ یہ کہ صدیق اکبرq نے اس نازک وقت میں مدعی نبوت اور اس کی امت سے جہاد وقتال کو یہود اور نصاریٰ اور مشرکین سے جہاد وقتال پر مقدم سمجھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ مدعی نبوت اور اس کی امت کا کفر یہود اور نصاریٰ اور مشرکین کے کفر سے بڑھا ہوا ہے۔ عام کفار سے صلح ہوسکتی ہے ان سے جزیہ قبول کیاجاسکتا ہے۔ مگر مدعی نبوت سے نہ کوئی صلح ہوسکتی ہے اور نہ اس سے کوئی جزیہ قبول کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت اگر آج کل جیسے سیاسی لوگ ہوتے تو حضرت ابوبکر صدیقq کو مشورہ دیتے کہ باہمی تفرقہ مناسب نہیں۔ مسیلمہ کذاب اور اس کی امت کو ساتھ لے کر یہود اور نصاریٰ کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ حضرت مولانا الشاہ سید محمد انور کشمیری قدس اللہ سرہ فرمایا کرتے تھے کہ مسیلمہ کذاب اور مسیلمہ پنجاب کا کفر فرعون کے کفر سے بڑھ کر ہے۔ اس لئے کہ فرعون مدعی الوہیت تھا اور الوہیت میں کوئی التباس اور اشتباہ نہیں۔ ادنیٰ عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص کھاتا اور پیتا اور سوتا اور جاگتا اور ضروریات انسانی میں مبتلا ہوتا ہے وہ خدا کہاں ہوسکتا ہے؟ مسیلمہ مدعی نبوت تھا اور انبیاء کرام جنس بشر سے تھے۔ اس لئے ظاہری بشریت کے اعتبار سے سچے نبی اور جھوٹے نبی میں التباس ہوسکتا ہے۔ اس لئے مدعی نبوت کا فتنہ مدعی الوہیت کے فتنہ سے کہیں اہم اوراعظم ہے اور ہر زمانہ میں خلفاء اور سلاطین اسلام کا یہی معمول رہا کہ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی وقت اس کا سر قلم کیا۔

اہل حق نے اس فتنہ کے استیصال کے لئے جو سعی اور جدوجہد ممکن تھی اس میں دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ صدیق اکبرq کی طرح مدعی نبوت سے جہاد بالسیف والسنان تو ارباب حکومت کا کام ہے اور جہاد قلمی اور لسانی یہ علماء حق کا کام ہے۔ سو الحمدﷲ! علماء نے اس جہاد میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ تقریر اور تحریر سے ہر طرح سے مدعی نبوت کا مقابلہ کیا۔ مسلمانوں کی اب دلی تمنائیں اور دعائیں یہ ہیں کہ اے پروردگار تو نے اپنی رحمت سے یہ اسلامی حکومت (پاکستان) عطاء فرمائی۔ اب ہم کو کوئی ایسا امیر عطاء فرما کہ جو ابوبکر صدیقq کی طرح پاکستان کو مسیلمہ قادیان اور اسود ہندی کے فتنہ سے پاک فرماوے۔ آمین ثم آمین!

کوئی امیراس سنت کو زندہ تو کر کے دیکھے ان شاء اللہ ! ابوبکرq کی طرح دنیا ہی میں اپنی آنکھوں سے عزت ہی عزت دیکھے گا اور آخرت کی عزتیں اس کے سوا ہیں جو وہم وگماں سے بھی بالا اور برتر ہیں۔

11

ختم نبوت کے موضوع پر علماء نے بہت سی مختصر اور مفصل کتابیں تحریر فرمائیں جس میں سب سے زیادہ مفصل اور جامع اور محکم کتاب مخدوم ومکرم، محب محترم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی سابق مفتی دارالعلوم دیوبند کی تالیف لطیف ہے جس کے تین حصے ہیں:

(۱)ختم النبوۃ فی القرآن۔

(۲)ختم النبوۃ فی الحدیث۔

(۳)ختم النبوۃ فی الآثار۔

تمام مسلمانوں سے میری استدعا ہے کہ اس کتاب کو ضرور دیکھیں۔ نہایت جامع اور مفید کتاب ہے۔

ہر زمانہ میں علماء کا طریق رہا ہے کہ ایک ہی موضوع پر ہر عالم اپنے اپنے علم کے مطابق کتاب تالیف کرتا رہا اور ہر ایک نے بارگاہ خداوندی سے علیٰ حسب المراتب اجر حاصل کیا۔ حضرات اہل علم، متون حدیث اور شروح حدیث اور کتب تفاسیر پر ایک اجمالی نظر ڈالیں بلاشبہ سب کی سب ؎

  1. عبا راتناشتّٰی و حسنک واحد

    و کل الٰی ذاک الجمال یشیر

’’ہماری عبارتیں مختلف ہیں اور تیرا حسن ایک ہے۔ مگر ہر عبارت اس حسن وجمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔‘‘ کا مصداق ہیں ؎

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

اس لئے اس ناچیز نے ارادہ کیا کہ جو جماعت اس وقت مدعی نبوت اور اس کی امت سے جہاد لسانی اور قلمی میں مصروف ہے اس ناچیز کا شکستہ قلم بھی اس جماعت کے ساتھ اسی میدان میں پہنچ جائے۔

مجاہدین کی معیت موجب صد خیروبرکت اور باعث نزول رحمت ہے۔ خصوصاً جب کہ یہ ناچیز نسباً والد محترم کی جانب سے صدیقی اور والدۂ مکرمہ کی جانب سے فاروقی ہے۔ اس لئے اس خیال نے اور بھی قلب کو ختم نبوت کے موضوع پر قلم اٹھانے کے لئے جوش دلایا۔ حق تعالیٰ شانہ کی توفیق اور تیسیر کی دست گیری سے یہ ایک مختصر رسالہ لکھا جس میں ایک خاص التزام کیا وہ یہ کہ ختم نبوت کے دلائل میں آیات اور احادیث دونوں کو ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ اس لئے کہ بسا اوقات قرآن کریم میں کسی شئے کی طرف اجمالی اشارہ ہوتا ہے جس

12

پر بسا اوقات تنبہ نہیں ہوتا اور حدیث میں اس کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس لئے دلائل کے سلسلے میں پہلے آیت کو نقل کیا جس میں ختم نبوت کی طرف اجمالی اشارہ تھا اور اس کے بعد متصلاً حدیث شریف کو ذکر کیا جس میں اس اجمالی اشارہ کی توضیح اور تشریح تھی۔ اب آیت اور حدیث کے یکجا ہو جانے سے اہل علم اور اہل فہم کو تنبہ ہوجائے گا کہ یہ آیت کس طرح ختم نبوت کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور نیز آیت اور حدیث کے یکجا ہونے سے ناظرین پر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ حدیث کس طرح قرآن کریم کی تفسیر ہے۔ حق جل شانہ کا ارشاد ہے: ’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم‘‘ {اور ہم نے آپa پر قرآن نازل کیا تاکہ آپa لوگوں کے لئے اس کی توضیح اور تفسیر فرمائیں۔}

شیخ محی الدین ابن عربیv فرماتے ہیں کہ قرآن کریم اگرچہ عرب کی زبان میں اترا لیکن رسول کے بیان کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ ہر کلام میں کچھ نہ کچھ اجمال ضرور ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کتابوں کی شرح اور ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کی ضرورت ہوئی۔ اس لئے حق تعالیٰ نے فقط کتب الٰہیہ اور صحف سماویہ کے اتارنے پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ انبیاء کے بیان اور تفسیر کو بھی ان کے ساتھ ملایا۔ پس حضرات انبیاءo کتاب الٰہی کے مجملات کی تفصیل اور بیان میں حق تعالیٰ شانہ کے قائم مقام ہیں۔(کذافی الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۲، مبحث:۳۳)

لہٰذا آیت کی سب سے زیادہ مستند اور معتبر تفسیر وہی ہوگی جو آنحضرتa سے مروی ہوگی یہ کیسے ممکن ہے کہ جس پر آیت کا نزول ہو وہ تو آیت کے معنی نہ سمجھے اور قادیان کا ایک دہقان کہ جو بد عقل اور بدفہم ہونے کے علاوہ عربی زبان سے بھی کماحقہ واقف نہ ہو، وہ آیت کا مطلب سمجھ جائے۔ نبی عربیa کے صحابہ کرامi تو آیت کا مطلب نہ سمجھیں اور متنبی قادیان کے کوٹ پتلون والے صحابہ آیت کا صحیح مطلب سمجھ جائیں۔

حضرت الاستاذ مولانا الشاہ السید محمد انور قدس اللہ سرہ نے وفات سے چند روز پیشتر فارسی زبان میں ایک مختصر رسالہ خاتم النّبیینa کے نام سے تحریر فرمایا جس میں آیت خاتم النّبیین کی تفسیر فرمائی اور عجیب تفسیر فرمائی۔ ناچیز نے اس رسالہ کے لطائف اور معارف اپنی اس تالیف میں لے لئے ہیں اور ’’مسک الختام فی ختم النبوۃ علی سید الانام علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام‘‘ اس کا نام رکھا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ سے ملتجی ہوں

13

کہ وہ اس تالیف کو قبول فرمائے۔ ’’ربنا تقبل منّا انک انت السمیع العلیم۔ وتب علینا انک انت التواب الرحیم‘‘

دلیل اوّل

’’قال اللہ عزوجل، ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین۔ وکان اللہ بکل شیٔ علیما‘‘ {محمدa تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور سب پیغمبروں کی مہر یعنی آخری نبی ہیں اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا۔}

شان نزول

زمانہ جاہلیت سے عرب میں یہ رسم چلی آتی تھی کہ متنبی یعنی منہ بولے بیٹے کو حقیقی اور نسبی بیٹے کے بمنزلہ سمجھتے تھے کہ جس طرح حقیقی بیٹے کے مر جانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے اسی طرح متبنّی کے مرجانے یا اس کے طلاق دینے کے بعد متبنّی کی بیوی سے باپ کے لئے نکاح حرام ہے۔

زیدq بن حارثہ جو اصل میں شریف النسب تھے۔ بچپن میں کوئی ظالم ان کو پکڑ کر لے گیا اور غلام بنا کر ان کو مکہ مکرمہ کے بازار میں فروخت کر گیا۔ حضرت خدیجہt نے زیدq کو خرید لیا اور کچھ روز بعد آنحضرتa کو ہبہ کر دیا۔ جب ہوشیار ہوگئے اور تجارتی سفر کے سلسلے میں اپنے وطن کے قریب سے گزرے تو بعض اقارب کو پتہ چلا بالآخر ان کے والد اور ان کے بھائی آنحضرتa کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ معاوضہ لے کر زیدq کو ہمارے حوالے کر دیا جائے۔ آپa نے ارشاد فرمایا کہ معاوضہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر خوشی سے تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میری جانب سے بالکل اجازت ہے۔ باپ اور چچا نے زید سے دریافت کیا۔ زیدq نے کہا میں آپa سے جدا ہونا نہیں چاہتا۔ سبحان اللہ !

  1. اسیرش نخواہد رہائی زبند

    شکارش نجوید خلاص از کمند

آپa مجھے اولاد سے بڑھ کر عزیز رکھتے ہیں اور باپ سے زیادہ مجھ سے محبت فرماتے ہیں۔ اس پر آنحضرتa نے زیدq کو آزاد کردیا اور اپنا متبنّی بنا لیا۔ عرب کے

14

دستور کے مطابق تمام لوگ زیدq کو، زیدq بن محمد کہہ کر پکارنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:’’وما جعل ادعیاکم ابناء کم ذلک قولکم بافواہکم و اللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ادعوہم لابائہم ہوا قسط عند اللہ ‘‘ {اور نہیں بنایا اللہ نے تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے۔ یہ محض تمہاری بات ہے جو اپنے منہ سے کہتے ہو۔ اللہ ہی حق کہتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو اللہ کے نزدیک یہی ٹھیک انصاف ہے۔}

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد صحابہi نے ان کو زید بن محمد کہنا چھوڑ دیا۔ زید بن حارثہ کہنے لگے۔ بعدازاں حضرت زیدq کا نکاح آنحضرتa کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب سے ہوا۔ مگر جب کسی طرح موافقت نہ ہوئی تو حضرت زیدq نے حضرت زینبt کو طلاق دے دی۔ حضرت زیدq کے طلاق دینے کے بعد آنحضرتa نے بحکم خداوندی حضرت زینبt سے نکاح فرمایا تاکہ جاہلیت کی رسم ٹوٹے اور لوگوں کو یہ مسئلہ معلوم ہو جائے کہ متبنّی کی بیویوں سے نکاح حلال ہے اور آئندہ کسی مسلمان کو اس میں کسی قسم کا انقباض خاطر نہ رہے۔

آپa کا نکاح فرمانا تھا کہ جاہلوں اور منافقوں نے طعن شروع کیا کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین۔ وکان اللہ بکل شیٔ علیما‘‘

جس میں ان کے طعن کا جواب دیاگیا کہ محمدa تمہارے مردوں میں سے کسی کے نسبی اور حقیقی باپ نہیں کہ وہ شخص آپa کا نسبی اور صلبی بیٹا ہو اور اس کی بیوی سے آپa کا نکاح حرام ہو اور قاسم اور طیب وطاہر اور ابراہیم بچپن میں ہی وفات پاگئے۔ ان کے بڑے ہونے کی نوبت نہیں آئی کہ ان کو ’’رجل‘‘ یعنی مرد کہا جاتا۔ اس لئے آیت شریفہ میں ’’رجالکم‘‘ فرمایا اور ’’من ذکرکم یا من ابناء کم یا من اولادکم‘‘ نہیں فرمایا۔ لہٰذا جب زیدq آپa کے نسبی بیٹے نہ ہوئے تو ان کی مطلقہ سے بلاشبہ نکاح جائز ہو گا اور اس پر طعن کرنا سراسر نادانی ہو گی۔ غرض یہ کہ آپa نسبی حیثیت سے کسی کے باپ نہیں لیکن روحانی حیثیت سے آپa سب ہی کے باپ ہیں۔ اس لئے کہ آپa اللہ

15

کے رسول ہیں اور رسول امت کا روحانی باپ ہوتا ہے جیسا کہ ایک قرأت میں ہے’’وازواجہ امہاتہم وہواب لہم‘‘ اور اس اعتبار سے سب آپa کے روحانی بیٹے ہیں اور اس روحانی ابوّت میں آپ تمام پیغمبروں سے بہتر ور برتر ہیں۔ اس لئے کہ آپa تمام نبیوں کی مہر اور آخری پیغمبر ہیں۔ قیامت تک آپa کی نبوت اور آپa ہی کی روحانی ابوت کا دور دورہ رہے گا۔ یہ ہرگز نہ ہوگا کہ آپa کے بعد اور کوئی نبی مبعوث ہو اور امت آپa کے ظل عاطفت سے نکل کر اس جدید نبی کی زیر ابوت اور زیر تربیت آجائے۔ ظاہری حیثیت سے اگرچہ حضرت آدمm پہلے نبی اور پہلے رسول ہیں۔ مگر روحانی اور نورانی حیثیت سے آنحضرتa ہی سب سے پہلے نبی اور سب سے پہلے رسول ہیں۔ سب سے پہلے آپa ہی کا نور پیدا ہوا۔ آدمm کا ابھی خمیر ہی تیار ہورہا تھا کہ روحانی طور پر آپa نبی ہوچکے تھے۔ غرضیکہ روحانی طور پر تو آپa پہلے روحانی باپ ہیں اور ظاہری طور پر آپa ہی تمام عالم کے لئے قیامت تک روحانی باپ ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کی مصلحت کو خوب جانتا ہے جو حکم دیتا ہے وہ سراسر حکمت اور مصلحت ہی ہوتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اخیرزمانے میں امتی ہونے کی حیثیت سے آئیں گے ان کی آمد نبی ہونے کی حیثیت سے نہ ہوگی۔ تمام عمل درآمد شریعت محمدیہa ہی پر ہوگا۔ شریعت عیسویہ پر عمل نہ ہوگا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا علامت اس بات کی ہے کہ انبیاء کے تمام افراد واشخاص ختم ہوچکے۔ اس لئے پہلے نبی کو لانا پڑا۔ اس آیت شریفہ کا مقصود اس امر کا اعلان کرنا ہے کہ نبوت آپa پر ختم ہوگئی۔ گزشتہ زمانہ میں یکے بعد دیگرے انبیاء آتے رہے مگر آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور جس آخری نبی کی انبیاء کرام پیشین گوئی کرتے آئے اور لوگ اس آخری نبیa کے منتظر رہے اس آیت میں اس کا اعلان کردیا گیا کہ وہ آخری نبیa جس کا انتظار تھا وہ آچکا۔ اب اس کے بعد کوئی نبی منتظر نہیں رہا۔ یہی وہ آخری نبی ہیں جن کا لوگوں کو انتظار تھا۔

قرآن کریم نے جابجا یکے بعد دیگرے انبیاء کے آنے کی اور سلسلہ نبوت کے جاری رہنے کی اور یکے بعد دیگرے انبیاء ورسل کے آنے کی اطلاع دی ہے۔ مگر آنحضرتa پر آکر ختم نبوت کا اعلان فرمادیا۔ اگر حضورa کے بعد بھی سلسلہ نبوت کا جاری ہوتا تو ختم نبوت کے اعلان کی بجائے بقاء نبوت کی اطلاع دی جاتی اور یہ بتلایا جاتا کہ

16

انبیاء سابقین کی طرح آپa کے بعد بھی انبیاء ورسل آئیں گے بلکہ قرآن اور حدیث نے یہ اعلان کر دیا کہ آپa آخری نبی ہیں اور آپa کی امت آخری امت ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ آپa کسی کے جسمانی باپ نہیں بلکہ روحانی باپ ہیں اور روحانی باپ کسی ایک دو کے نہیں بلکہ تمام عالم کے روحانی باپ ہیں اور نکاح کی حلت وحرمت کا دارومدار جسمانی ابوت پر ہے۔ روحانی ابوت پر نہیں۔ روحانی ابوت پر عظمت وحرمت وشفقت وعنایت کے احکام مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً استاذ اور پیر روحانی باپ ہیں اور شاگرد اور مرید روحانی بیٹا ہے۔ مگر نکاح کی حلت وحرمت کے احکام یہاں جاری نہیں ہوتے۔

آیت مذکورہ کے پہلے جملہ میں ابوت جسمانیہ کی نفی فرمائی اور دوسرے جملہ میں یعنی ’’ولٰکن رسول اللہ ‘‘ میں ایک شبہ کا ازالہ فرمایا جو پہلے جملہ سے پیدا ہوتا تھا وہ یہ کہ ابوت کی نفی سے شفقت کی نفی کا شبہ ہوتا تھا کہ شاید جب ابوت متنفی ہوگئی تو شفقت پدری جو ابوت کا خاصہ لازمہ ہے۔ وہ بھی متنفی ہو جائے تو ارشاد فرمایا کہ آنحضرتa کو تمہارے ساتھ جسمانی ابوت کا علاقہ نہیں لیکن علاقہ نبوت ورسالت ہے اور رسول امت کا روحانی باپ ہوتا ہے جو شفقت اور عنایت میں جسمانی باپ سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے اور چونکہ بیٹا باپ کا وارث ہوتا ہے۔ اس لئے اثبات ابوت توریث نبوت کو موہم تھی۔ اس لئے شبہ کے ازالہ کے لئے وخاتم النّبیین کا لفظ بڑھایا کہ امت اگرچہ آپa کی روحانی اولاد ہے۔ مگر منصب نبوت کی وارث نہ ہوگی۔ منصب نبوت آپa پر ختم ہوگیا۔ امت میں کوئی شخص بھی قیامت تک اس منصب کا وارث نہ ہوگا۔ البتہ امت کے علماء وصلحاء کمالات نبوت کے وارث ہوں گے۔ مگر منصب نبوت کا کوئی وارث نہ ہوگا۔ نبوت اور رسالت ختم ہو چکی، قیامت تک یہ منصب کسی کو نہیں دیا جائے گا۔ یا یوں کہو کہ آپa کی کمال شفقت بیان کرنے کے لئے یہ لفظ بڑھایا گیا کہ ہر نبی اپنی امت پر شفیق اور مہربان ہوتا ہے۔ مگر آپa شفقت میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں اس لئے کہ گزشتہ انبیاء کرام کو یہ توقع تھی کہ ہم سے اگر کوئی چیز رہ جائے گی تو بعد میں آنے والے نبی اس کی تکمیل کر دیں گے۔ مگر آخری نبی کو یہ توقع نہیں ہوسکتی اس لئے وہ اپنی امت کو وعظ اور نصیحت اور ارشاد اور تلقین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے

17

گا۔ آپa کی مثال اس باپ کی سی ہے کہ جس کی اولاد کے لئے اس کے بعد کوئی نگراں اور خبرگیراں نہ ہو۔ چنانچہ حضور اکرمa جب دنیا سے رخصت ہوئے تو امت کے لئے ایسی کامل اور مکمل شریعت چھوڑی کہ اب اس کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں رہی اس لئے کہ جب آپa کی شریعت موجود ہے تو گویا آپa خود بہ نفس نفیس موجود ہیں اور حضورa کے ہوتے ہوئے نبوت کا دعویٰ بے حیائی اور ڈھٹائی ہے۔

آیت مذکورہ کی تفسیر

آیت مذکورہ کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے چند امور کا سمجھنا ضروری ہے۔ ایک خاتم کے معنی، دوم نبی اور رسول میں فرق، سوم النّبیین میں الف لام کس قسم کا ہے؟

امر اوّل

خاتم بالفتح اور خاتم بالکسر متعدد معنی کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ نگینہ، انگشتری، مہر، آخر قوم، لیکن ائمہ لغت نے اور علماء عربیت نے تصریح کی ہے کہ لفظ خاتم جب کسی قسم یا جماعت کی طرف مضاف ہوگا تو اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوں گے۔ لہٰذا آیت مذکورہ میں چونکہ خاتم کی اضافت النّبیین کی طرف ہو رہی ہے اس لئے اس کے معنی آخر النّبیین اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے کے ہوں گے۔

اور خاتم کا مادہ ختم ہے۔ جس کے معنی ختم کرنے اور مہر لگانے کے آتے ہیں اور مہرلگانے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کسی شئے کو اس طرح بند کیا جائے کہ اندر کی چیز باہر نہ آسکے اور باہر کی چیز اندر نہ جاسکے۔ ’’کما قال تعالٰی، ختم اللہ علی قلوبہم‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی کہ کفر اندر بند ہوگیا کہ اب اندر سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہر سے کوئی ہدایت اندر نہیں جاسکتی اور مہر چونکہ سب سے اخیر میں لگتی ہے اس لئے یہ لفظ اختتام اور انتہاء پر دلالت کے لئے ضرب المثل بن گیا ہے۔ ’’کما قال تعالٰی، یسقون من رحیق مختوم ختامہ مسک‘‘ یعنی اہل جنت کو جو شراب دی جائے گی وہ سربمہر ہوگی کہ اندر کی خوشبو اور لطافت باہر نہیں آسکے گی اور باہر سے کوئی چیزاس کے اندر نہیں ہوسکے گی کہ اس کی لطافت میں کمی آجائے۔ متنبی کہتا ہے:

18
  1. اروح وقد ختمت علٰی فوادی

    بحبک ان یحل بہ سواکا

میں اس حال میں چلتا ہوں کہ تو نے میرے دل پر اپنی محبت کی ایسی مہر لگادی ہے کہ اندر سے تو تیری محبت باہر نہیں نکل سکتی اور باہر سے کسی اور کی محبت اندر داخل نہیں ہوسکتی۔ اس آیت میں دو قرأتیں ہیں۔ ایک خاتم بالکسر کی اور ایک خاتم بالفتح کی۔ فرق اتنا ہے کہ خاتم بالکسر صیغہ اسم فاعل ہے۔ بمعنی ختم کرنے والا اور خاتم بالفتح اسم سے بمعنی آخر اور مہر، اور حاصل دونوں قرأتوں کا ایک ہے وہ یہ کہ آنحضرتa کا وجود باجود انبیاءB کو ختم کرنے والا اور سلسلۂ نبوت پر مہر کرنے والا ہے کہ آپa کے بعد کوئی اس سلسلہ میں داخل نہیں ہوسکتا اور آپa سے پہلے جو سلسلہ نبوت میں داخل ہوچکا وہ اس سلسلہ سے نکل نہیں سکتا۔ جاننا چاہئے کہ ختم کا مفہوم، قبل کے امتداد کو مقتضی ہے اور لفظ انقطاع عام ہے اس میں ماقبل کا امتداد شرط نہیں اس لئے خاتم کی اضافت اشخاص کی طرف مناسب ہوئی اور انقطاع کی اسناد وصف نبوت ورسالت کی طرف مناسب ہوئی اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ ختم کا تعلق ماقبل کے ساتھ ہوتا ہے تو آپa کی خاتمیت کا تعلق انبیاء سابقین کے ساتھ ہوگا نہ کہ انبیاء لاحقین کے ساتھ۔ اس لئے آپa کی سیادت کا ظہور لیلتہ المعراج میں حضرات انبیاءB کے اجتماع کے بعد ہوا اور اسی طرح قیامت کے دن آپa کی سیادت اور خاتمیت کا ظہور اس طرح ہوگا کہ تمام اوّلین وآخرین جمع ہوں گے اور سلسلہ شفاعت حضرت آدمm سے شروع ہوکر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ a پر منتہی اور ختم ہوگا۔ شب معراج اور روز قیامت میں انہیں انبیاء کا ذکر ہے جو آپa سے پہلے مبعوث ہوئے۔ آپaکے بعد مبعوث ہونے والے نبی کا کہیں نام ونشان نہیں۔

’’قال ابن عباسq یرید لو لم اختم النّبیین لجعلت لہ ابنا یکون بعدہ نبیا وروی عن عطاء ان اللہ لما حکم ان لا نبی بعدہ لم یعطہ ولدا ذکر یصیر رجلا (کذافی المعالم)‘‘ ابن عباسq فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اگر میں آپa پر انبیاء کے سلسلہ کو ختم نہ کرتا تو آپa کو بیٹا عطاء کرتا کہ جو آپa کے بعد نبی ہوتا۔ عطاء سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فیصلہ فرمادیا کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو آپa کو کوئی ایسا لڑکا نہیں دیا جو آئندہ چل کر مرد بنے۔

19

امر دوم

نبی اور رسول میں فرق

جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص۔ اصطلاح شریعت میں رسول اس کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے جدید کتاب یا جدید شریعت لے کر آیا ہو اور نبی وہ ہے جو بذریعہ وحی احکام خداوندی کی تبلیغ کرتا ہو۔ نبی کے لئے جدید کتاب اور جدید شریعت کا ہونا شرط نہیں۔ ’’کما قال اللہ تعالٰی انا انزلنا التورٰۃ فیہا ہدی ونور یحکم بہا النبیون‘‘ یہ آیت انبیاء بنی اسرائیل کے بارے میں اتری کہ جو توریت اور شریعت موسویہ کے مطابق حکم دیتے تھے۔ نبی تھے مگر ان کے پاس نہ کوئی مستقل کتاب تھی اور نہ مستقل شریعت۔ خلاصہ یہ کہ رسول خاص ہے اور نبی عام ہے اور آیت میں لفظ خاتم النّبیین کا ہے خاتم المرسلین کا نہیں۔ حالانکہ ظاہر کلام کا مقتضی یہ تھا کہ خاتم المرسلین فرماتے اس لئے کہ:’’ولٰکن رسول اللہ ‘‘ کے بعد ’’وخاتم المرسلین‘‘ بظاہر زیادہ مناسب تھا، لیکن بجائے لفظ خاص (یعنی بجائے رسول) کے لفظ عام استعمال فرمایا۔ یعنی ’’خاتم النبیین‘‘ فرمایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپa مطلقاً تمام انبیاء کے خاتم ہیں اور آپa پر مطلقاً نبوت ختم ہوگئی۔ مستقلہ ہو یا غیرمستقلہ، تشریعہ ہو یا غیرتشریعہ اور جب نبوت ختم ہوگئی تو رسالت کا ختم ہونا بدرجہ اولیٰ معلوم ہوگیا۔ اس لئے کہ عام کی نفی خاص کی نفی کو مستلزم ہے۔

امر سوم

النبیین میں الف لام استغراق کا ہے۔ اس لئے کہ علماء عربیت کی تصریح ہے کہ جو الف لام جمع پر داخل ہو وہ استغراق کے لئے ہوتا ہے۔

(کما قال ابوالبقاء فی کلیاتہ ص۵۶۲) ’’قال عامۃ اہل الاصول والعربیۃ لام العریف سواء دخلت علی المفردا والجمع تفید الاستغراق الّٰا اذا کان معہودا‘‘ جمہور علماء اصول اور علماء عربیت یہ کہتے ہیں کہ الف لام تعریف کا خواہ مفرد پر داخل ہو یا جمع پر مفید استغراق ہوتا ہے۔ الّٰا یہ کہ کوئی خاص معہوداور معین مراد ہو۔

20

اور جس شخص کو خداتعالیٰ نے ذرا بھی عقل سے حصہ عطاء فرمایا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ النّبیین میں الف لام عہد کا نہیں ہوسکتا ورنہ یہ معنی ہوں گے کہ حضور پرنورa مخصوص اور معہود نبیوں کے خاتم ہیں۔ تمام انبیاء کے خاتم نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ معنی بالکل لغو اور مہمل ہیں اس میں آنحضرتa کی کوئی شان امتیازی باقی نہیں رہتی۔ اس لئے کہ اس معنی کے لحاظ سے تو ہر نبی کو کسی خاص قوم اور خاص خطہ کے اعتبار سے خاتم النّبیین کہہ سکتے ہیں۔ پھر آنحضرتa کی کیا خصوصیت رہی؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ استغراق عرفی مراد ہے تو یہ بھی صحیح نہیں اس لئے کہ اصل استغراق میں استغراق حقیقی ہے اور استغراق عرفی مجاز ہے۔ حقیقت کے ہوتے ہوئے مجاز کی طرف رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں اشکال سابق پھر عود کر آئے گا اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ النّبیین میں الف لام استغراق کا ہے اور استغراق سے استغراق حقیقی مراد ہے تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ آپa نبوت کے تمام افراد اور اشخاص کے خاتم ہیں۔ خواہ وہ مستقل نبی ہوں یا کسی کے تابع ہوں اور آپa حقیقتاً تمام انبیاءB کے خاتم ہیں۔ آپa کے بعد قیامت ہوگی کسی قسم کا کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اب اس آیت سے ہر قسم کی نبوت کا اختتام معلوم ہوگیا اور اس احتمال کی گنجائش نہیں رہی کہ آپa صرف نبوت مستقلہ کے خاتم ہیں۔

آیت مذکورہ کی تفسیر خود قرآن کریم سے

خاتم النّبیین کے جو معنی ہم نے بیان کئے یعنی آخر النّبیین کے، تمام ائمہ لغت اور علماء عربیت اور تمام علماء شریعت عہد نبوت سے لے کر اب تک سب کے سب یہی معنی بیان کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ ! ثم ان شاء اللہ تعالیٰ ایک حرف بھی کتب تفسیر اور کتب حدیث میں اس کے خلاف نہ ملے گا۔ اب ہم مزید توضیح کے لئے اس آیت کی ایک دوسری قرأت پیش کرتے ہیں جس سے اور مزید وضاحت ہو جائے گی۔ وہ قرأت یہ ہے: ’’ولٰکن نبیا ختم النّبیین‘‘ لیکن آپa ایسے نبی ہیں جنہوں نے تمام نبیوں کو ختم کردیا۔

یہ قرأت حضرت عبد اللہ بن مسعودq کی ہے جو تمام تفاسیر معتبرہ میں منقول ہے۔ اس قرأت سے وہ تمام تاویلات اور تحریفات بھی ختم ہوجاتی ہیں جو مرزائی جماعت نے خاتم النّبیین کے لفظ میں کی ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہم عنقریب ان تاویلات کا ذکر کر کے ان کا جواب دیں گے۔

21

اور جس طرح آیت شریفہ میں دو قسم کی قرأتیں ہیں، اسی طرح احادیث میں دو قسم کی روایتیں ہیں۔ بعض روایات میں خاتم النّبیین کا لفظ آیا ہے اور بعض روایات میں ختم بی النبیون اور ختم بی الانبیاء بصیغہ ماضی معروف اور مجہول آیا ہے جس کے صاف اور صریح معنے ختم کرنے کے ہیں۔ اس میں کسی تاویل کی گنجائش ہی نہیں۔

آیت مذکورہ کی تفسیر حدیث شریف اور اقوال صحابہq سے

حضرت ثوبانq سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ’’انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلّہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (رواہ مسلم)‘‘ {تحقیق میری امت میں تیس بڑے بڑے کذاب اور دجال ظاہر ہوں گے ہر ایک کا زعم یہ ہوگا کہ میں نبی ہوں اور حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

اس حدیث میں غور کرنے سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔

اوّل: یہ کہ آنحضرتa نے اس امر کی پیشین گوئی فرمائی کہ آپa کے بعد صرف جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے۔ کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ نبوت مجھ پر ختم ہوگئی۔ اگر کسی قسم کی نبوت باقی ہوتی تو یوں ارشاد فرماتے کہ میرے بعد نبی بھی آئیں گے اور دجال وکذاب بھی۔ دیکھو اگر نبی ہو تو اس کی اطاعت کرنا اور جو کذاب ودجال ہو اس سے پرہیز کرنا۔ آنحضرتa کا امت کو مطلقاً صرف یہ ہدایت فرمانا کہ دیکھو جو شخص بھی میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے بے تأمل اس کو کذاب ودجال سمجھنا۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اب آپa کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی نہیں رہی۔

دوم: یہ کہ وہ جھوٹے مدعی امتی اور محمدی ہونے کے مدعی ہوں گے۔ جیسا کہ ’’سیکون فی امتی کذابون‘‘ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹے نبی، لوگوں کو میری نسبت سے دھوکہ دیں گے۔ اس لئے کہ اگر علی الاعلان آپa سے اپنی نسبت اور تعلق کے انقطاع کا اعلان کریں تو پھر کوئی ان کے دھوکہ میں نہ آئے۔ آپa کی طرف اپنی نسبت کریں گے اور پھر اس دھوکہ سے لوگوں کو اپنی نبوت کی دعوت دیں گے۔

22

سوم: یہ کہ آپ نے ان جھوٹے مدعیان نبوت کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ گمان کرے گا کہ میں نبی ہوں اور حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ معلوم ہوا کہ دجال اور کذاب ہونے کے لئے فقط دعویٰ نبوت کافی ہے۔ کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔

حکایت

امام اعظمq کے زمانہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنی نبوت پر دلائل پیش کرنے کے لئے مہلت مانگی تو امام اعظمv نے فتویٰ دیا کہ جو شخص اس کی نبوت کی دلیل طلب کرے گا وہ کافر ہے۔ اس لئے کہ وہ ارشاد نبوی: ’’لا نبی بعدی‘‘ کا منکر اور مکذب ہے۔

چہارم: یہ کہ جملہ ’’لا نبی بعدی‘‘ جملہ ’’انا خاتم النّبیین‘‘ کی تفسیر ہے اور لا نفی جنس کا ہے جو نکرہ پر داخل ہوا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ کہ میرے بعد یہ جنس ہی ختم ہے اور جنس نبی کا کوئی فرد بھی میرے بعد مستحق نہ ہوگا اور چونکہ نبی عام ہے کہ خواہ صاحب شریعت ہو یا کسی کا تابع ہو اور رسول خاص ہے۔ اس لئے ’’لا نبی بعدی‘‘ میں مطلق نبی کی نفی فرمادی کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ خواہ تشریعی ہو یا غیرتشریعی۔ کیونکہ یہ تو مطلق نبی کی قسمیں ہیں اور جب سرے سے مقسم ہی نہ رہا تو قسمیں کہاں متحقق ہوسکتی ہیں۔ اقسام کا بدون مقسم کے اور افراد کا بدون کلی کے پایا جانا عقلاً محال ہے۔

پنجم: یہ کہ اس حدیث سے یہ امر بخوبی واضح ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں اور یہ معنی نہیں کہ آپa انبیاء کی مہر یا زینت ہیں۔ اس لئے کہ حدیث کا یہ جملہ آپa نے مدعیان نبوت کے جھوٹے ہونے کی دلیل میں ارشاد فرمایا ہے کہ ان مدعیان نبوت کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے ان کا دعویٰ نبوت ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔ پس اگر خاتم النّبیین کے معنی مہر اور زینت کے لئے جائیں تو ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل کیسے ہوگی۔ بلکہ حدیث کے معنی یہ ہوں گے کہ میرے بعد بہت سے کذاب اور دجال نبوت کا دعویٰ کریں گے اور حالانکہ میں نبیوں کی مہر ہوں۔ میری مہر سے نبی بنیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ معنی بالکل لغو اور مہمل ہیں اور جملہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے صریح متناقض اور منافی ہیں بلکہ انا خاتم النّبیین کے بعد لا نبی بعدی کا اضافہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ خاتم کے معنی مہر کے نہیں بلکہ آخر کے ہیں اور اسی

23

طرح مسند احمد اور معجم طبرانی میں حذیفہ بن الیمانq سے مرفوعاً یہ الفاظ مروی ہیں: ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔

اس روایت میں بھی خاتم النّبیین کے بعد جملہ لا نبی بعدی بطور تفسیر مذکور ہے اور اسی وجہ سے اس جملہ کا پہلے جملہ پر عطف نہیں کیاگیا۔ اس لئے کہ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ جب جملہ ثانیہ جملہ اولی کے لئے عطف بیان ہو تو پھر عطف ناجائز ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ عطف نسق چاہتا ہے تغایر کو۔ عطف بیان چاہتا ہے کمال اتحاد کو، اور کمال وحدت اور مغائرت جمع نہیں ہوسکتی۔ ایک اور حدیث لیجئے جس سے اس آیت کی تفسیر ہوتی ہے۔

’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظّار یتعجبون من حسن بنیانہ الا موضع تلک اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل وفی الروایۃ فانا اللبنۃ وانا خاتم النّبیین۔ متفق علیہ۔ مشکوٰۃ شریف۔ باب فضائل سید المرسلین صلوۃ اللہ وسلامہ علیہ‘‘ ابوہریرہq سے مروی ہے کہ آنحضرتa نے ارشاد فرمایا کہ میری اور انبیاء سابقینB کی مثال ایک ایسے محل کی سی ہے جو نہایت خوبصورت بنایا گیا ہو مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ لوگ تعجب سے اس محل کو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی؟ سو میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کردیا ہے اور وہ عمارت مجھ پر ختم ہوئی اور رسولوں کا سلسلہ بھی مجھ پر ختم ہوا اور ایک روایت میں ہے کہ قصر نبوت کی وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔

ہر چیز کی ایک ابتداء ہوتی ہے اور ایک انتہاء اسی طرح عمارت نبوت کی بھی ایک ابتداء ہے اور ایک انتہاء۔ اس عمارت کی ابتداء حضرت آدمm سے ہوئی اور خاتم الانبیاءa پر یہ عمارت ختم ہوئی۔ قصر نبوت کی تکمیل کے لئے ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ آپa کی ذات بہ برکات نے اس جگہ کو پورا کر دیا اور قصر نبوت کی عمارت بالکل مکمل ہوگئی۔ اب اس میں کسی اینٹ کی جگہ باقی نہیں کہ اس میں کسی تشریعی یا غیرتشریعی نبوت کی اینٹ داخل ہوسکے۔ مرزاقادیانی قصر نبوت میں اپنی ایک اینٹ داخل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہاں کوئی جگہ نہیں۔ لہٰذا وہ اینٹ چونکہ قصر نبوت کا جزء نہیں بن سکتی۔ اس لئے اس کو کہیں ادھر

24

ادھر پھینک دیا جائے گا۔ ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ جب آپa کے صاحبزادے حضرت ابراہیمq اور حضرت عمرq اور حضرت علیq کے لئے قصر نبوت میں کسی قسم کی گنجائش نہ نکل سکی۔ مسیلمۃ الہند اور اسود قادیان کے لئے کہاں جگہ نکل سکتی ہے۔ البتہ کفر اور دجل کی عمارت میں اس قسم کی اینٹ کونے کا سرا ہوسکتی ہے۔

ناظرین کرام پر مخفی نہیں کہ حدیث مذکور کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے قصر نبوت کی عمارت کو ختم کر دیا مگر مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ کہیں ابھی قصر نبوت کی عمارت ناتمام ہے اور بہت سی اینٹوں کی اس میں گنجائش ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ خاتم النّبیین کے معنی تو آخر النّبیین ہی کے ہیں جس نبی پر یہ آیت اتری اس نے اس آیت کے یہی معنی سمجھے اور یہی سمجھائے اور جن صحابہi نے اس نبی سے قرآن اور اس کی تفسیر پڑھی انہوں نے بھی یہی معنی سمجھے۔’’فمن شأ فلیؤمن ومن شاء فلیکفر‘‘ الغرض حق روز روشن کی طرح واضح ہے کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں اور اگر اس کے بعد بھی کوئی شک باقی رہے تو پھر میں وہی عرض کروں گا جو حضرت الاستاذ مولانا الشاہ سید محمد انور نور اللہ وجہہ یوم القیامۃ ونضر (آمین) نے اپنے فارسی رسالہ خاتم النّبیین ص۶۴ میں تحریر فرمایا ہے:

از حال ایں مخذولاں چناں معلوم می شود کہ اگر حق تعالیٰ سوگند خورد کہ مراد من ایں است کہ من بعد ارہیچ گو نہ کدام نبی خواہم فرستاد۔ گفتند کے ہاں ہاں لفظ ہیمن است کہ توگفتی لیکن مراد تو اینست کہ ایں سلسلہ راجاری داری بطریق۔

(ترجمہ) ان بدنصیب اور محروم القمست لوگوں کے حال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر حق تعالیٰ شانہ بھی قسم کھا کر فرمائیں کہ خاتم النّبیین سے میری مراد یہ ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجوں گا تو یہ بدنصیب جواب میں کہیں گے کہ ہاں ہاں یہ لفظ (خاتم النّبیین) کا تودرست ہے۔ مگر آپ کی مراد یہ ہے کہ یہ سلسلہ نبوت فلاں طریق سے اب جاری رکھیں گے۔

مرزائی مفسر کا اعتراف واقرار

محمد علی لاہوری مرزائی نے اپنی تفسیر میں اس امر کا صاف اعتراف کیا ہے کہ ختم نبوت کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں وہ آیت: ’’خاتم النّبیین‘‘ کی تفسیر ہیں۔

25

چنانچہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’اور خاتم کے معنی مہر بھی ہیں اور آخر بھی اور کسی قوم کے خاتم اور خاتم سے مراد ان میں اسے آخری ہونا ہے۔ ’’ختام القوم وخاتمہم وخاتمہم آخرہم‘‘ اور خاتم اور خاتم ہمارے نبیa کے اسماء میں سے ہیں اور خاتم النّبیین اور خاتم النّبیین کے معنی ہیں۔ آخری نبی (ل) اور آپa کو خاتم النّبیین کہا۔ اس لئے کہ نبوت کو آپ کے ساتھ ختم کر دیا۔ (غ) خاتم النّبیین کے معنی لغت سے اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ انبیاءo ایک قوم ہیں اور کسی قسم کا خاتم یا خاتم ہونا صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ یعنی ان میں سے آخری ہونا۔ پس نبیوں کے خاتم کے معنی نبیوں کی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں۔ یہاں ان سب احادیث کے نقل کرنے کی گنجائش نہیں جن میں خاتم النّبیین کی تشریح کی گئی ہے یا جن میں آنحضرتa کے بعد نبی کا نہ آنا بیان کیاگیا ہے اور یہ احادیث متواترہ ہیں جو صحابہ کرامi کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ آنحضرتa کے بعد نبی نہیں۔

حدیث اوّل جس میں لفظ خاتم النّبیین کی تفسیر زبان نبوی سے مروی ہے۔ متفق علیہ ہے: ’’مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل بنی بیتاً فاحسنہ واجملہ الاموضع لبنۃ من زاویۃ فعجل الناس یطوفون بہ ویتعجبون لہ ویقولون ہلّا وضعت ہذہ اللبنۃ قال فانا اللبنۃ وانا خاتم النّبیین‘‘ یعنی میری مثال اور نبیوں کی مثال ایک شخص کی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے اچھا اور خوبصورت بنایا۔ سوائے کونے کی اینٹ کے تو لوگ اس کے گرد گھومتے اور تعجب کرتے اور کہتے یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی۔ سو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں۔

اور دوسری حدیث متفق علیہ میں لفظ خاتم النّبیین کی تفسیر یوں کی ہے۔ ’’انہ سیکون فی امتی ثلثون کذابون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ یعنی میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ہر ایک ان سے دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اور تیسری حدیث میں جو مسلم، ترمذی، نسائی کی ہے یہ ذکر ہے کہ مجھے چھ چیزوں میں دوسرے انبیاء کرامo پر فضیلت دے گئی ہے جن میں چھٹی یہ ہے کہ ’’ختم بی النبیون‘‘ یعنی میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے ہیں۔ وہاں بجائے خاتم النّبیین کے یہ لفظ رکھ کر

26

بتادیا کہ خاتم النّبیین سے یہی مراد ہے نہ کچھ اور۔ وہ احادیث جن میں آپ کے آخری نبی ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی درحقیقت خاتم النّبیین کی تفسیر ہی ہیں۔ بہت سی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں نبی کے بعد نبی آتا تھا۔ لیکن میرے بعد نبی نہ آئے گا بلکہ خلفاء ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq ہوتا اور ایک میں ہے کہ علیq کی نسبت میرے ساتھ وہی ہے جو ہارونm کی موسیٰm کے ساتھ۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور ایک میں ہے کہ میرا نام عاقب ہے اور عاقب وہ ہے کہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ ’’انا العاقب والعاقب لیس بعدہ نبی‘‘ اور ایک میں ہے کہ نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر مبشرات اور ایک میں ہے کہ نبوت اور رسالت منقطع ہو گئی اور دس حدیثوں میں ہے:’’لا نبی بعدی‘‘ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ایسی حدیثیں جن میں آپ کو آخری نبی کہاگیا ہے چھ ہیں۔ اس قدر زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا آنحضرتa کے آخری نبی ہونے سے انکار کرنا بینات اور اصول دینی سے انکار ہے۔‘‘ (انتہی کلامہ ج۲ ص۱۱۰۳، طبع چہارم)

مرزائی مفسر سے ایک استفسار

مرزائی مفسر نے اخیر میں اس امر کا صاف اقرار کیا ہے کہ حضورa کے آخری نبی ہونے کا انکار اصول دین کا انکار ہے اور ظاہر ہے کہ اصول دین کا انکار صریح کفر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا مرزاقادیانی ان آیات بینات اور اصول دینی کے منکر تھے یا نہیں؟ مرزاقادیانی کی بے شمار عبارات سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی نبوت کے مدعی تھے اور حضورa کے آخری نبی ہونے کے منکر تھے تو مرزاقادیانی اس اصول دینی کے انکار کی بناء پر کافر ہوئے یا نہیں؟ نیز مرزابشیرالدین محمود صاحب جو ختم نبوت کے منکر ہیں وہ آپ کے نزدیک کافر ہیں یا نہیں اور اگر نہیں تو باوجود اصول دین کے انکار کے کیوں کافر نہیں اور اگر کافر ہیں تو ان کی تکفیر کا اعلان ضروری ہے۔ تاکہ عوام کو اشتباہ نہ رہے؟

نیز جو مسلمان حضور اکرمa کو خاتم النّبیین سمجھتے ہیں اور مرزاقادیانی کو بھی نہیں مانتے ان کو تو آپ کافر سمجھتے ہیں اور جو لوگ مرزاقادیانی کو نبی مانتے ہیں اور حضورa کی ختم نبوت کے منکر ہیں ان کو مسلمان سمجھتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟

27

ختم نبوت پر مرزاقادیانی کی تصریحات

اب میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دعویٰ نبوت سے پہلے خود مرزاقادیانی ختم نبوت کے قائل تھے اور خاتم النّبیین کے یہی معنی سمجھتے تھے کہ جواب تک تمام امت نے سمجھے کہ آپa آخری نبی ہیں۔ آپa کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ہوسکتا۔

(حمامتہ البشریٰ ص۶۶،۶۷، خزائن ج۷ ص۲۰۰) میں آیت: ’’ماکان محمد ابا احد‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’ہمارے نبیm خاتم النّبیین ہیں۔ بغیر کسی استثناء کے اور ہمارے نبیa نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اگرآنحضرتa کے بعد ہم کسی نبی کے ظہور کے مجوز بنیں گے تو نبوت کا دروازہ بند ہونے کے بعد اس کے کھلنے کے قائل ہو جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے نبیm کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے؟ حالانکہ آپa کے بعد وحی کا انقطاع ہوچکا ہے اور نبی آپa کے ساتھ ختم ہوچکے ہیں۔‘‘

اور (ازالہ اوہام ص۵۲۲، خزائن ج۳ ص۳۸۰) پر لکھتے ہیں کہ: ’’مسیح کیوں کر آسکتا وہ رسول تھا اور خاتم النّبیین کی دیواریں اس کو آنے سے روکتی ہے۔‘‘

اور پھر اسی (ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) پر لکھتے ہیں: ’’لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔‘‘

اور (حمامتہ البشریٰ ص۹۶، خزائن ج۷ ص۲۹۷) پر لکھتے ہیں: ’’وماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین یہ مجھ سے کیسے ہوسکتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کفار سے جا ملوں۔‘‘

اور (ازالہ اوہام ص۳۱۰، خزائن ج۳ ص۵۱۱) پر لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔ یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم خاتم النّبیین کے بعد نہ کسی نئے نبی کا آنا جائز رکھتا ہے اور نہ کسی پرانے نبی کا۔ پس اگر مرزاقادیانی نئے نبی ہیں تو تب نہیں

28

آسکتے اور اگر پرانے نبی ہیں تو تب بھی نہیں آسکتے۔ خود مرزاقادیانی کے اقرار سے دروازہ بند ہے۔

(حمامتہ البشریٰ ص۳۴، خزائن ج۷ ص۲۰۰) میں لکھتے ہیں: ’’واما ذکر نزول عیسٰی ابن مریم فما کان لمؤمن ان یحمل ہذا الاسم المذکور فی الاحادیث علی ظاہر معناہ لانہ یخالف قول اللہ عزوجل (ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین) الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبیناa خاتم الانبیاء بغیر استثنا وفسرہ نبیناa فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبینا لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا وہذا خلف… وکیف یجی نبی بعد رسولناa وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النّبیین انعتقد بان عیسٰی الذی انزل علیہ الانجیل ہو خاتم الانبیاء لا رسولناa انعتقد ان ابن مریم یاتی وینسخ بعض احکام القرآن ویزید بعضا‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ اس کلام کو جو حدیث میں آیا ہے ظاہری معنی پر محمول کرے۔ کیونکہ آیت: ’’ماکان محمد ابا احد… الخ‘‘ کے خلاف ہے۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتa کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور اس میں کسی کا استثناء نہیں کیا اور پھر اسی خاتم النّبیین کی خود اپنے کلام میں تفسیر فرماتے ہوئے فرمایا: ’’لا نبی بعدی‘‘ جو سمجھنے والوں کے لئے واضح بیان ہے۔ اگر ہم جائز رکھیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے تو لازم آتا ہے کہ دروازہ وحی نبوت کا بند ہونے کے بعد کھل جائے اور آپ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے۔ حالانکہ وحی نبوت منقطع ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ تمام انبیاءo کو ختم کر دیا ہے۔ کیاہم اعتقاد رکھیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں اور وہی خاتم الانبیاء بنیں نہ ہمارے رسولa۔

مرزاقادیانی کی ان تمام عبارات سے اور خصوصاً آخری عبارت سے یہ صاف ظاہر ہے کہ خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں اور مقصود آیت کا یہ ہے کہ آپa کی آمدسے نبوت کا دروازہ بند ہوگیا ہے اور خاتم النّبیینa کے بعد نہ کوئی پرانا نبی آسکتا ہے اور نہ نیا نبی اور مرزاقادیانی نے یہ بھی تصریح فرمادی کہ آنحضرتa نے خاتم النّبیین کی تفسیر اپنے کلام

29

میں لانبی بعدی سے فرمائی۔ معلوم ہوا کہ خاتم النّبیین اور لا نبی بعدی میں باعتبار معنی کے کوئی فرق نہیں۔ اس لئے کہ بیان اور مبین اور تفسیر اور مفسر متحد بالذات ہوتے ہیں۔

ایک شبہ اور اس کا جواب

شبہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کی یہ تحریرات نومبر ۱۹۰۱ء سے پیش ترکی ہیں کہ جس وقت مرزاقادیانی کو نبوت نہیں ملی تھی۔ لہٰذا یہ تمام تحریریں منسوخ کہی جائیں گی۔

جواب یہ ہے کہ نسخ عقائد میں جاری نہیں ہوتا۔ نسخ احکام میں ہوتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ جو بات پہلے کفر کی تھی وہ بعد میں اسلام بن جائے۔ نیز انبیاء کفر سے، قبل از نبوت بھی پاک ہوتے ہیں۔ نیز بدعقل اور بدفہم کبھی نبی نہیں ہوسکتا۔

مرزائی جماعت سے ایک سوال

مرزاقادیانی کی ان تمام عبارات سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دعوائے نبوت سے پہلے مرزاقادیانی بھی خاتم النّبیین کے معنی وہی سمجھتے تھے کہ جو تیرہ سو برس سے تمام دنیا کے مسلمان سمجھتے چلے آئے اور کسی نئے اور پرانے نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی سمجھتے تھے اور ختم نبوت کا انکار اور خاتم الانبیاء کے بعد دعوائے نبوت کو کفر بتلاتے تھے۔ مرزاقادیانی کا یہ پہلا عقیدہ تھا اور اب دعوائے نبوت کے بعد مرزاقادیانی خاتم النّبیین کے دوسرے معنی بیان کرتے ہیں۔ جس کی بناء پر نبوت کو جاری ہونا ضروری ہوگیا اور ’’جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ شیطانی اور لعنتی مذہب کہلانے کا مستحق ہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸،۱۳۹، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶ ملخص)

اور یہ کہتے ہیں کہ: ’’جو شخص یہ کہے کہ رسول اللہ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶ ملخص)

اب سوال یہ ہے

کہ خاتم النّبیین کے کون سے معنی صحیح ہیں۔ پس اگر خاتم النّبیین کے جدید معنی صحیح ہوں (کہ جو مرزاقادیانی نے دعوائے نبوت کے بعد بیان کئے اور جس کی بناء پر نبوت کو جاری رہنا ضروری ہوا) تو یہ لازم آئے گا کہ اس تیرہ صدی میں جس قدر بھی مسلمان اس

30

عقیدہ پر گزرے وہ سب کافر اور بے ایمان مرے۔ گویا کہ عہد صحابہ کرامi سے لے کر اس وقت تک تمام امت کفر پر گزری اور دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزاقادیانی بھی جب تک اسی سابقہ عقیدہ پر رہے کافر رہے۔ دعوائے نبوت کے بعد مرزاقادیانی کا ایمان صحیح اور درست ہوا اور پچاس برس تک مرزاقادیانی کفر اور شرک کی گندگی میں آلودہ اور ملوث رہے اور غباوت اور بدعقلی کے داغ سے داغی رہے کہ پچاس برس تک آیات اور احادیث کا مطلب غلط سمجھتے رہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ کافر اور غبی نبی نہیں ہوسکتا اور جو شخص تمام امت کی تکفیر وتذلیل اور تحمیق وتجہیل کرتا ہو وہ بالااجماع کافر اور گمراہ ہے، اور اگر خاتم النّبیین کے پہلے معنی صحیح ہوں جو تمام امت نے سمجھے اور مرزاقادیانی بھی دعوائے نبوت سے پہلے وہی سمجھتے تھے تو لازم آئے گا کہ پہلے لوگ تو سب مسلمان ہوں اور مرزاقادیانی دعوائے نبوت کے بعد سابق عقیدہ کے بدل جانے کی وجہ سے خود اپنے اقرار سے کافر اور مرتد ہو جائیں۔ غرض یہ کہ خاتم النّبیین کے جون سے بھی معنی لئے جائیں مرزاقادیانی ہر صورت میں کافر ہیں۔

چند اوہام اور ان کا ازالہ

آیت خاتم النّبیین کی تفسیر واضح ہوچکی ہے۔ اب اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش نہیں۔ لیکن مرزائی صاحبان باوجود حق واضح ہونے کے پھر بھی شک اور شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان اوہام کا بھی ازالہ کردیا جائے۔ شاید حق تعالیٰ شانہ کی توفیق سے امر حق ان کی سمجھ میں آجائے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز!

وہم اوّل

اگر خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا تو اخیر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جو مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کیسے صحیح ہوگا۔

ازالہ: خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ جیسے آخری اولاد اور آخری بیٹے کے یہ معنی ہیں کہ اس کے بعد کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپa سے پہلے پیدا ہوئے اور آپa سے پہلے پیغمبر ہوئے۔ البتہ مرزاقادیانی آنحضرتa کے بعد پیدا ہوا۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا وجود تو ختم نبوت کے منافی

31

ہوگا۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ختم نبوت کے معارض نہ ہوگا۔ حضرت آدمm کی اولاد میں بہت سے پیغمبر پیدا ہوئے۔ مگر سب سے اخیر میں آنحضرتa پیدا ہوئے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت آدمm آسمان سے زمین پر اترے اور یہاں آکر دل گھبرایا تو حضرت جبرائیلm نے اذان دی اور اس میں ’’اشہد ان محمد رسول اللہ ‘‘ کہا تو حضرت آدمm نے حضرت جبرائیلm سے پوچھا کہ محمدa کون ہیں؟ تو یہ جواب دیا:’’آخر ولدک من الانبیاء (رواہ ابن عساکر)‘‘{پیغمبروں میں آپ کے آخری بیٹے ہیں۔}

یعنی آپm کی اولاد میں سب سے آخری نبی آپa پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے نبی ہوچکے۔ البتہ ان کی عمر آنحضرتa سے زیادہ طویل ہوئی۔ آنحضرتa کی بعثت سے صدہا سال پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ابھی زندہ ہیں۔ اخیر زمانہ میں امت محمدیہ کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ نبی ہونے کی حیثیت سے نزول نہ ہوگا۔ نزول کے بعد اپنی نبوت ورسالت اور اپنی کتاب یعنی انجیل اور اپنی شریعت کی طرف سے کسی کو دعوت نہیں دیں گے۔ بلکہ خاتم النّبیین کا نائب بن کر لوگوں کو خالص قرآن وحدیث کے احکام پر چلائیں گے اور خود بھی شریعت محمدیہa کے اتباع اور پیروی کو اپنے لئے باعث صد فخر وناز سمجھیں گے۔ خاتم الانبیاءa ہی کی شریعت کا ڈنکا بجائیں گے۔ اس لئے شیخ اکبرv نے لکھا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دو حشر ہوں گے۔ ایک حشر انبیاء ورسول کے زمرہ میں ہوگا اور دوسرا حشر امت محمدیہa کے زمرہ میں ہوگا۔‘‘

مرزاقادیانی کا خود اقرار واعتراف

مرزاقادیانی (تریاق القلوب ص۱۵۶، خزائن ج۱۵ ص۴۷۸،۴۷۹) میں لکھتے ہیں: ’’ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بکمال وتمام دورۂ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو۔ یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔‘‘ پس جس طرح مرزاقادیانی کے نزدیک خاتم الاولاد کے یہ معنی ہیں کہ اس کے بعد عورت کے پیٹ سے کوئی پیدا نہ ہو، اسی طرح خاتم النّبیین کے یہ معنی ہوں گے کہ آپa کے بعد کوئی نبی عورت کے

32

پیٹ سے پیدا نہ ہو اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے پیدا ہوئے۔ مقام تعجب اور مقام حیرت ہے کہ کسی پرانے نبی کا آنا خاتم النّبیین کے مخالف ہو۔ مگر قادیان میں کسی ایسے نبی اور رسول کا آنا جو تمام انبیاء ومرسلین بلکہ سرور عالمa سے بھی اعلیٰ اور افضل ہو۔ یہ خاتم النّبیین کے خلاف نہ ہو۔ مفضول نبی کی آمد کے لئے تو آمد کا دروازہ بند ہے اور تمام انبیاء سے افضل اور برتر کی آمد کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اس بات کی علامت ہے کہ اب سلسلہ انبیاء میں کوئی فرد اور کوئی عدد باقی نہیں رہا۔ اس لئے پہلے ہی نبی کو لانا پڑا۔

وہم دوم

خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپa نبیوں کی مہر ہیں اور آپa کے بعد آپa کی مہر اور تصدیق اور اتباع سے قیامت تک نبی بنتے رہیں گے۔

ازالہ: یہ شبہ بالکل لغو اور مہمل ہے۔ لغت اور قواعد عربیت کے بھی خلاف ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ خاتم القوم کے معنی یہ ہوں کہ جس کی مہر سے قوم بنے اور خاتم المہاجرین کے معنی یہ ہوں کہ جس کی مہر سے مہاجر بنیں اور خاتم الاولاد کے معنی یہ ہوں کہ جس کی مہر اور تصدیق اور اتباع سے اولاد بنے۔ سبحان اللہ ! کیا عجیب وغریب حقائق ومعارف ہیں۔

حق تعالیٰ شانہ کا تو مقصد یہ ہے کہ آپa کو اس لئے خاتم النّبیین بنا کر بھیجا تاکہ سلسلہ نبوت ختم ہو اور مرزاقادیانی یہ فرماتے ہیں کہ اس لئے نہیں بلکہ انبیاء تراشی اور پیغمبر سازی یعنی نبی بنانے کے لئے آپ کو بھیجا۔ علاوہ ازیں یہ مہمل تاویل حضرت عبد اللہ بن مسعودq کی قرأت: ’’ولٰکن نبیا ختم النّبیین‘‘اور ان احادیث میں جن میں ’’آخر الانبیاء‘‘ اور ’’لا نبی بعدی‘‘ کا لفظ آیا ہے، نہیں چل سکتی۔ نیز خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہیں۔ پس اگر آپa کی مہریا اتباع سے نبی بننے لگیں تو آپ خاتم نبوت نہ ہوں گے بلکہ فاتح نبوت ہوں گے۔ یعنی نبوت کا دروازہ کھولنے والے ہوں گے۔

وہم سوم

مرزاقادیانی (ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹ ملخص) پر لکھتے ہیں کہ: ’’میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔‘‘

33

ازالہ: یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ استہزاء اور تمسخر ہے کہ مال بھی چوری ہوگیا اور مہر بھی نہیں ٹوٹی۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت پر مہر لگائی مگر مرزاقادیانی نے نبوت کو اس طرح ہوشیاری سے چرایا کہ چوری بھی کر لی اور خدا کی لگائی ہوئی مہر اسی طرح رہی۔ کیا یہ حق جل شانہ کے ساتھ تمسخر نہیں۔ جو شخص بادشاہ کے ساتھ اتحاد کا دعویٰ کرے اور بادشاہ کا لقب اپنے لئے ثابت کرے بلاشبہ وہ شخص باغی اور قابل گردن زدنی ہے۔ نیز حضرات انبیاءB اگرچہ نور نبوت کے اعتبار سے سب متحد ہیں۔ ’’کما قال اللہ تعالٰی، لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘ لیکن شخصیت کے اعتبار سے بلاشبہ اشخاص متغائرہ ہیں۔ ہر نبی کی ذات بابرکات علیحدہ اور جدا ہے۔ زمانہ ہر ایک کا جدا، مکان ہر ایک کا جدا، صفات اور معجزات ہر ایک کی جدا، اسی تغائر شخصی کی بناء پر آنحضرتa کو خاتم النّبیین کہاگیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ ختم نبوت کا دارومدار روحانی اتحاد پر نہیں بلکہ شخصی تغائر پر ہے اور یہ واضح ہو جائے کہ اجراء نبوت یعنی دعوائے پیغمبری کے لئے محبانہ اتحاد کا دعویٰ ذرہ برابر مفید نہیں۔ کون نہیں جانتا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونn میں اتحاد نہیں تھا۔ لیکن باوجود کمال اتحاد ومحبت اور باوجود کمال اخوت وصداقت کے موسیٰm اپنے مقام پر تھے اور ہارونm اپنے مقام پر۔ نیز اگر بالفرض والتقدیر یہ ثابت ہو جائے کہ اس شخص کو حقیقتاً نہ کہ سیاستہً فنافی الرسول کا مقام حاصل ہے۔ تب بھی اس کو نبی کا لقب نہیں مل سکتا۔ اس لئے کہ اگر فنافی الرسول کی وجہ سے غیرتشریعی اور غیرمستقل نبی کا لقب مل سکتا ہے تو مستقل رسول اور مستقل نبی کا لقب کیوں نہیں مل سکتا اور فنا فی اللہ کی وجہ سے اللہ اور خدا کا لقب کیوں نہیں مل سکتا۔

ظلی اور بروزی نبوت کا عنوان محض فریب ہے۔

ختم نبوت کا مسئلہ چونکہ قرآن اور حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی نے ان نصوص قطعیہ کی ظاہری مخالفت سے بچنے کے لئے ایک جدید راہ نکالی اور دعوائے نبوت کی پردہ پوشی کے لئے ایک جدید اصطلاح اختراع کی کہ جس کا کہیں کتاب وسنت اور اقوال صحابہi اور علماءw امت میں کوئی نام ونشان نہیں۔ وہ یہ کہ میں حضورa کے خاتم النّبیین ہونے کا قائل ہوں اور میری نبوت محض ظلی اور بروزی نبوت ہے۔ یہ سب دھوکہ اور فریب ہے اور درحقیقت مراد حقیقی نبوت ہے۔ مرزاقادیانی کی بے شمار

34

عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی تشریعی اور مستقل نبوت کے مدعی ہیں۔ جس پر مفصل کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ مرزامحمود (حقیقت النبوۃ ص۲۶۵،۲۶۶) میں بحوالہ ایک غلطی کا ازالہ لکھتے ہیں: ’’میں کہتا ہوں کہ آنحضرتa کے بعد جو درحقیقت خاتم النّبیین تھے، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ’’واخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتa کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتa کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل وسایہ اپنی اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے آنحضرتa کی عینیت کا دعویٰ کیا ہے کہ میں بعینہٖ محمد رسول اللہ ہوں۔ دنیا کا کون نادان اس کو قبول کر سکتا ہے کہ قادیان کا ایک دہقان بعینہٖ سید الانس والجان ہو اور پھر اس پر یہ دلیل کہ سایہ اپنی اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ نہ معلوم اس سے کیا مراد ہے؟ اگر یہ مراد ہے کہ سایہ اور ذی سایہ بالکل عین اور متحد ہوتے ہیں تو سراسر بداہت اور عقل کیخلاف ہے۔ ظل اور اصل کا عین اور متحد ہونا بدیہی البطلان ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ ذی ظل کی کوئی صفت اور کوئی شان اس میں آجائے تو اس اعتبار سے یہ مطلب ہوگا کہ حضورa کی صفات نبوت اور کمالات رسالت کا ایک سایہ اور پرتوہ ہوں تو اس سے نہ نبوت ثابت ہوتی ہے اور نہ آنحضرتa کے ساتھ اتحاد اور عینیت کا دعویٰ ثابت ہوسکتا ہے۔ حدیث میں ہے: ’’السلطان ظل اللہ فی الارض‘‘ بادشاہ زمین میں اللہ کا سایہ ہے تو کیا اس سے خلفاء اور سلاطین کا بعینہٖ خدا ہونا ثابت ہو جائے گا؟

علاوہ ازیں یہ ظلیت امت محمدیہa کے تمام علماء اور صلحاء کو حاصل ہے۔ اس میں مرزاقادیانی کی کیا خصوصیت؟ امت میں جو بھی کمال ہے وہ حضورa ہی کی نبوت کا سایہ اور پرتوہ ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ مرزاقادیانی نے محض اپنی پردہ پوشی کے لئے اس قسم کے تلبیس آمیز عنوان

35

اختیار کئے۔ کبھی اپنے آپ کو ظلی نبی ظاہر کیا اور کبھی بروزی۔ تاکہ عوام اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دے سکیں کہ میری نبوت خاتم النّبیین کے خلاف نہیں۔ ورنہ درحقیقت مرزاقادیانی اپنی نبوت کو تمام انبیاء کی نبوت سے افضل اور اکمل سمجھتے ہیں۔ مگر اہل علم اور اہل فہم خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی تلبیسات اور ملمع کاریوں سے حقائق شرعیہ نہیں بدل سکتے۔ یہ ظلی اور مجازی اور بروزی نبوت کی اصطلاح محض مرزاقادیانی کی اختراع ہے۔ کتاب وسنت اور اقوال صحابہi اور تابعینw میں کہیں اس کا نام ونشان نہیں۔ کسی قسم کی نبوت کا بھی اگر کوئی دروازہ کھلا ہوا ہوتا، تو سب سے پہلے ان مقدس اور پاک ہستیوں پر کھلتا کہ جو شمع نبوت پر پروانوں کی طرح گے اور آپa کے عشق اور محبت میں ایسے غرق اور فنا ہوئے کہ اولین اور آخرین میں کہیں اس کی نظیر نہیں۔ جس طرح آپa پر نبوت ختم ہوئی اسی طرح آپa پر محبوبیت اور آپ کی امت پر محبت اور عاشقیت ختم ہوگئی۔ آسمان اور زمین نے نہ ایسا محبوب دیکھا اور نہ ایسے عاشق جان نثار دیکھے نہ ایسی شمع نبوت دیکھی اور نہ ایسے پروانے دیکھے۔

اگر کسی قسم کی نبوت کا بھی دروازہ کھلاہوا ہوتا تو اس یارغار اور رفیق جان نثار کو جس کو حق تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ثانی اثنین اور اتقی اور اولوالفضل کے لقب سے سرفراز کیا ہے اس کو کوئی نہ کوئی ظلی اور بروزی نبوت ضرور ملتی۔

فاروق اعظمq کے متعلق ارشاد نبوی ہے: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘ {میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتاتو عمرq ہوتا۔}

کلمہ لو محاورہ عرب میں محالات کے لئے مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ ’’لوکان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا، قل لوکان معہ الہۃ… الخ‘‘ اور امور ممکنہ کے لئے کلمہ ’’ان‘‘ اور ’’اذا‘‘ مستعمل ہوتا ہے۔ پس اس حدیث میں کلمہ لوکا استعمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضورa کے بعد نبی ہونا محال اور ناممکن ہے۔ اس لئے بطور فرض محال کے بیان فرمایا کہ اگر میرے بعد نبی ہونا ممکن ہوتا تو عمرq ہوتا۔ لیکن میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اگر حضورa کے بعد کسی قسم کی بھی نبوت باقی ہوتی تو عمرq کے لئے ضرور ثابت فرماتے۔ اس لئے کہ خود حضورa نے حضرت عمرq کو فاروق اور محدث من اللہ اور ملہم بالصواب جیسے معزز القاب سے سرفرز فرمایا ہے۔

36

مسند بزاز اور معجم طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباسr سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری چار وزیروں سے تائید فرمائی۔ دو آسمان والوں میں سے ہیں۔ ایک جبرائیلm اور ایک میکائیلm اور دو زمین والوں میں سے ہیں۔ ابوبکرq اور عمرq۔ (خصائص کبریٰ ج۲ ص۲۰۰)

معلوم ہوا کہ ابوبکرq اور عمرq زمین میں جبرائیلm اور میکائیلm کا نمونہ اور ہم رنگ ہیں اور حضور پرنورa کے وزیر باتدبیر ہیں۔ مگر کسی قسم کے نبی نہیں اور اگر بالفرض والتقدیر نبی ہوتے تو حضورa کے تابع اور امتی ہوتے۔ مگر یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت بالکل ختم ہوچکی ہے۔ حسب شہادت نبوی ابوبکرq وعمرq تو یہ شان تھی۔

  1. نقش آدم لیک معنی جبریل

    رستہ از جملہ ہواؤ قال و قیل

جب رشک جبرائیل ومیکائیل نبی نہ ہوئے تو کیا ہم رنگ عزازیل نبی بنیں گے؟

آنحضرتa جب تبوک تشریف لے جانے لگے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اہل بیتi کی نگرانی کے لئے چھوڑا تو حضرت علیq رنجیدہ ہوکر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھ کو بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر تشریف لے جا رہے ہیں۔ (یعنی دوسرے احباب تو جہاد میں حضورa کے ہم رکاب ہوں گے اور میں یہاں غم فرقت میں بے تاب رہوں گا) آنحضرتa نے ان کی تسلی کے لئے یہ ارشاد فرمایا: ’’الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لیس نبی بعدی (بخاری، غزوہ تبوک)‘‘ {اے علی! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تجھ کو مجھ سے وہ نسبت ہو جو ہارونm کو موسیٰm سے تھی۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

حضرت ہارونm مستقل نبی نہ تھے بلکہ حضرت موسیٰm کے وزیر اور تابع تھے۔ ’’کما قال تعالٰی حاکیا من الکلیم، واجعل لی وزیرا من اہلی ہارون‘‘ اور توریت اور شریعت موسویہ کے متبع تھے۔ مطلق نبوت میں دونوں شریک تھے۔

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت ہارونm کو دو چیزیں حاصل تھیں۔ ایک تو موسیٰm کے ساتھ شرکت فی النبوۃ اور دوسری وزارت اور نیابت۔ آنحضرتa نے تبوک جاتے وقت جب حضرت علیq کو یہ فرمایا کہ تو میرے جانے کے بعد میرا قائم مقام ہے جیسا کہ

37

ہارونm موسیٰm کے قائم مقام تھے کوہ طور پر جانے کے بعد۔ تو غلط فہمی سے بچنے کے لئے یہ ارشاد فرمایا: ’’الّٰا انہ لیس بعدی نبی‘‘ یعنی تم صرف میرے نائب اور قائم مقام ہو گے، نبی نہ ہوگے۔ تم کو حضرت ہارون سے صرف قائم مقامی اور نیابت میں مشابہت ہے، نبوت میں مشابہت نہیں۔ اس لئے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ معلوم ہوا کہ ’’الّٰا انہ لیس بعدی نبی‘‘ میں نبوت غیرمستقلہ کی نفی مراد ہے۔ اس لئے کہ حضرت علیq کے لئے مستقل نبوت کا تو، تو ہم بھی نہیں ہوسکتا اور پھر خصوصاً آپa کی موجودگی اور زمانہ حیات میں کس کویہ وہم اور خطرہ ہوسکتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو من جانب اللہ مستقل کتاب شریعت عطاء ہوجائے گی اور مستقلاً ان پر اللہ کی وحی نازل ہونے لگے گی۔ علاوہ ازیں مستقل نبی کا کسی کے قائم مقام ہونا اس کے استقلال کے منافی ہے۔ اب اس تمام تقریر سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ ’’الّٰا انہ لیس بعدی نبی‘‘ میں نبوت غیرمستقلہ کی نفی مراد ہے۔

اور علیٰ ہذا اگر حضور پرنورa کے صاحبزادے حضرت ابراہیمq زندہ ہوتے تو وہ بھی مستقل نبی نہ ہوتے بلکہ آپa ہی کی شریعت کے تابع ہوتے۔ معلوم ہوا کہ آپa کے بعد نبوت غیرمستقلہ بھی باقی نہیں رہی اور یہ تمام روایتیں نہ باہم متعارض اور متناقض ہیں اور نہ آیت: ’’خاتم النّبیین‘‘ اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معارض اور منافی ہیں۔ اس لئے کہ سب جگہ حکم فرضی اور تقدیری ہے اور مطلب سب کا یہ ہے کہ اگر بفرض محال میرے بعد نبوت باقی ہوتی تو میرے بعد صحابہi کی ایک جماعت ہوتی جن کو میرے بعد نبوت ملتی جن میں عمرq اور علیq اور ابراہیمq ہوتے۔ لیکن میرے بعد نبوت نہیں اس لئے میرے صحابہi میں سے کسی کو نبوت نہیں ملی۔

وہم چہارم

خاتم النّبیین کی آیت میں النّبیین پر الف لام عہد کا ہے اور النّبیین سے خاص تشریعی انبیاء مراد ہیں کہ جو جدید کتاب اور جدید شریعت لے کر آئے۔ لہٰذا آنحضرتa تشریعی انبیاء کے خاتم ہوں گے۔ مطلق انبیاء کے خاتم نہ ہوں گے۔

ازالہ: ہم پہلے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ النّبیین میں الف لام استغراق کا ہے اور لغت اور محاورہ عرب کے اعتبار سے خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہیں۔ یعنی تمام

38

انبیاء کے ختم کرنے والے۔ الف لام عہد کے لئے یہ شرط ہے کہ معہود کا کلام سابق میں صراحۃً یا اشارۃً ذکر ہو اور اس آیت کے سیاق وسباق میں کہیں تشریعی انبیاء کا ذکر نہیں بلکہ مطلق انبیاء کا ذکر ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:’’سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل الٰی قولہ الذین یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احد الا اللہ ‘‘

’’الذین خلوا من قبل‘‘ میں تمام انبیاء داخل ہیں اور علیٰ ہذا خداتعالیٰ کے پیغام کو پہنچانا اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرنا یہ مطلق نبوت کے لئے لازم اور نبی کے لئے ضروری ہے۔ ورنہ آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ احکام خداوندی کی تبلیغ اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرنا۔ یہ فریضہ فقط تشریعی انبیاء کا ہے۔ غیرتشریعی نبی کے لئے یہ باتیں ضروری نہیں ہیں۔

علاوہ ازیں مرزاقادیانی تو اس معمولی اور گھٹیا نبوت پر راضی نہیں۔ وہ تو مستقل نبوت اور مستقل رسالت اور تشریعی نبوت کے مدعی ہیں۔(اربعین نمبر۴ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵ حاشیہ)

مرزائی جماعت سے چند سوال

یہ مسئلہ فریقین میں متفق علیہ ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفر ہے۔ خود مرزاقادیانی کی تصریحات اس پر موجود ہیں کہ جو شخص تشریعی نبوت کا دعویٰ کرے… وہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰،۲۳۱) صرف نبوت غیرمستقلہ کے بارے میں ہے کہ آیا وہ جاری ہے یا وہ بھی ختم ہوگئی۔ اس لئے اب اس کے متعلق فریق مخالف سے چند سوال ہیں:

۱… یہ کہ مرزاقادیانی نے اوّل اپنی کتابوں میں تشریعی نبوت کے دعویٰ کو صریح کفر قرار دیا اور پھر خود صراحۃً تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیا یہ صریح تناقض اور تعارض نہیں؟ اور کیا مرزاقادیانی خود اپنے اقرار سے کافر نہیں ہوئے؟

۲… یہ کہ جب مرزاقادیانی تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کے مدعی ہیں تو پھر ان کو خاتم النّبیین میں اس تاویل کرنے سے کہ غیرتشریعی نبی مراد ہیں کیا فائدہ ہوا؟

۳… یہ کہ نصوص قرآنیہ اور صدہا احادیث نبویہ ہے۔ مطلقاً نبوت کا انقطاع اور اختتام معلوم ہوتا ہے اس کے برعکس کوئی ایک روایت بھی ایسی ہے؟ کہ جس میں یہ بتلایا

39

گیا ہو کہ حضور اکرمa کے بعد نبوت غیرمستقلہ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اگر ہے؟ تو پیش کیا جائے۔

۴… یہ کہ نبوت غیرمستقلہ کے ملنے کا معیار اور ضابطہ کیا ہے؟

۵… کیا وہ معیار حضرات صحابہ کرامi میں موجود نہ تھا کہ جس کی بناء پر حضرات صحابہi باوجود افضل الامتہ اور خیرالقرون ہونے کے اس منقبت سے محروم رہے۔

۶… کیا اس ساڑھے تیرہ سو سال کی طویل وعریض مدت میں ائمہ حدیث اور ائمہ اجتہاد اور اولیاء اور عارفین اور اقطاب اور ابدال ومجددین میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں گزرا کہ جو علم وفہم اور ولایت اور معرفت میں مرزاقادیانی کے ہم پلہ ہوتا اور نبوت غیرمستقلہ کا منصب پاتا۔ کیا رسول اللہ a کی ساری امت میں سوائے قادیان کے دہقان کے کوئی بھی نبوت کے قابل نہ نکلا۔

۷… آنحضرتa کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے۔ بعض ان میں سے تشریعی نبوت کے مدعی تھے جیسے صالح بن ظریف اور بہاء الحق بابی اور بعض غیرتشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ جیسے ابوعیسیٰ وغیرہ۔ ان سب کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟ وہ بھی کوئی ظلی اور بروزی اور مجازی وغیرہ وغیرہ کی تاویل کر لیں گے۔

وہم پنجم

خاتم النّبیین کا اطلاق ایسا ہے کہ کسی کو خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین لکھتے ہیں۔ کسی کے نزدیک یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب اس کے بعد کوئی محدث اور مفسر پیدا نہ ہوگا۔ بلکہ یہ کلام بطور مبالغہ استعمال ہوتا ہے۔

مرزائی جماعت کا یہ بڑا مایہ ناز شبہ ہے اور طرۂ یہ ہے کہ اس کی تائید میں ایک روایت بھی پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ آنحضرتa نے اپنے عم محترم حضرت عباسq سے فرمایا: ’’اطمن یا عم فانک خاتم المہاجرین فی الہجرۃ کما انا خاتم النّبیین فی النبوۃ‘‘ (کنزالعمال ج۶ ص۱۷۸)

40

اے چچا! آپ اطمینان رکھئے۔ اس لئے کہ آپ ہجرت کے بارے میں ایسے ہی خاتم المہاجرین ہیں جیسے میں دربارہ نبوت خاتم النّبیین ہوں۔

ازالہ: اس وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ خاتم المفسرین اور خاتم المحدثین اور خاتم المتحقین اس قسم کے محاورات میں بھی خاتم کے معنی آخر ہی کے ہیں۔ بندہ کو چونکہ آئندہ کی خبر نہیں ہوتی اس لئے اپنے زعم کے مطابق یہ سمجھ کر کہ یہی آخری محدث اور آخری مفسر ہیں۔ خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین کہہ دیتا ہے۔

یہ محاورہ اسی مقام پر استعمال ہوتا ہے کہ جہاں کسی کی افضلیت ثابت کرنی ہو اور ظاہر ہے کہ افضلیت جب ہی ثابت ہوسکتی ہے کہ جب کمال اور افضلیت کا آخری اور انتہائی درجہ اس کے لئے ثابت کیا جائے۔ چونکہ بندہ اس قسم کے الفاظ اپنے علم کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ اس لئے اس قسم کے الفاظ کو مجاز اور مبالغہ پر محمول کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ محدثیت اور محققیت کمالات کسبیہ میں سے ہے جو بندہ کے کسب اور اختیار سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ قیامت تک ان کا دروازہ کھلا رہے گا۔ کسی کو خاتم المحدثین کہنے کے بعد کسی کا تو کیا خود کہنے والے کا بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ اب اس کے بعد کوئی محدث پیدا نہ ہوگا۔ پس باوجود اس علم کے یہ محاورہ یا تو بطور مبالغہ بولا جاتا ہے یا بطور تاویل کے کہ یہ اپنے زمانہ کے آخری محقق اور آخری محدث ہیں۔ ورنہ اگر اس قسم کی تاویل نہ کی جائے تویہ کلام لغو اور مہمل بلکہ صریح کذب ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ کہ یہ کلام اس ظلوم، جہول اور نادان انسان کا ہے جس کو یہ خبر بھی نہیں کہ کل کون محدث اور مفسر اور کون فاسق وفاجر پیدا ہوگا۔ اس نے اپنے زعم اور اپنے خیال کی بناء پر اگر کسی کو خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین کہہ دیا تو کیا خداوند علّام الغیوب کہ جس کے علم محیط سے کوئی ذرہ باہر نہیں اس کے کلام حقیقت التیام کو بھی اسی بندۂ ظلوم وجہول کے ظنی اور تخمینی اور مبالغہ آمیز کلام پر قیاس کیا جائے گا۔ حاشاوکلّٰا ہرگز نہیں۔ اس علیم وخبیر نے جس کے لئے خاتم النّبیین کا لفظ ارشاد فرمایا ہے۔ وہ یقینا حقیقت پر محمول ہوگا۔ خداوند عالم کے کلام کو کسی طرح مجاز اور شاعرانہ مبالغہ پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ بلاضرورت حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کو اختیارکرنا باجماع علماء اصول وعربیت ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں جب آیات اور روایات اور

41

اقوال صحابہi وتابعینw اور تمام مفسرینw اور محدثینw کی تصریحات سے یہ ثابت ہوگیا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں تو اب اس کے بعد کسی کو لب کشائی کا منصب ہی باقی نہیں رہتا۔ عجیب بات ہے کہ جس ذات بابرکاتa پر خاتم النّبیین کی آیت نازل ہوئی اس کے بیان کردہ معنی تو معتبر نہ ہوں اور مرزائی صاحبان کے الٹے سیدھے بیان کردہ معنی معتبر ہو جائیں اور اگر بالفرض والتقدیر خاتم النّبیین کے یہی عرفی اور مجازی اور تاویلی معنی مراد لئے جائیں تو پھر آپa کی خصوصیت ہی کیا ہوئی؟ حضرت موسیٰ اور عیسیٰn کو بھی اس عرفی معنی کے اعتبار سے خاتم النّبیین کہہ سکتے ہیں۔

حدیث عباسq کا مطلب

رہا حدیث عباسq کا مطلب؟ سو وہاں بھی خاتم بمعنی آخر ہی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ہجرت فرض تھی۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہ رہی تھی۔ جیسا کہ بخاری کی حدیث میں ہے: ’’لا ہجرۃ بعد الفتح‘‘ حضرت عباسq نے فتح مکہ سے کچھ ہی قبل ہجرت فرمائی۔ جیسا کہ اصابہ میں ہے: ’’ہاجر قبل الفتح بقلیل وشہد الفتح‘‘ (اصابہ ج۳ ص۶۶۸)

حضرت عباسq نے فتح مکہ سے کچھ ہی پہلے ہجرت فرمائی اور فتح مکہ میں حاضر ہوئے۔

اس لئے حضرت عباسq کو اس کا صدمہ اور غم تھا کہ میں ہجرت میں سابقین اولین میں سے نہ ہوا اور سابقیت کی فضیلت مجھ کو حاصل نہ ہوئی تو آنحضرتa نے ان کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا کہ اگر سابقیت کی فضیلت فوت ہوگئی تو خاتمیت کی فضیلت تو حاصل ہوگئی۔ جس طرح سابقیت فضیلت کی وجہ سے ہے اسی طرح خاتمیت بھی فضیلت کی وجہ ہے اور فرمایا کہ تم خاتم المہاجرین ہو۔ جس طرح میں خاتم النّبیین ہوں۔ دونوں جگہ خاتم کے معنی آخر ہی کے ہیں۔ حضرت عباسq آخری مہاجر تھے جیسے آنحضرتa آخری نبی تھے۔

وہم ششم

حضرت عائشہ صدیقہt سے منقول ہے کہ آپ یہ فرماتی ہیں: ’’قولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ یعنی آپa کو خاتم النّبیین کہو۔ مگر یہ نہ کہو کہ: ’’لا

42

نبی بعدہ‘‘ کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہt کے نزدیک حضورa کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے۔ نبوت ابھی ختم نہیں ہوئی۔

ازالہ: حضرت عائشہ صدیقہt کا یہ ارشاد بتمامہ مجمع البحار کے تکملہ میں مذکور ہے۔ مرزائی جماعت نے اس کو ناتمام نقل کیا ہے۔ ہم اس کو بعینہٖ اور بتمامہ نقل کرتے ہیں۔’’وفی حدیث عیسٰی انہ یقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویزید فی الحلال اے یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج ویولد لہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فحیئذ یؤمن کل احد من اہل الکتاب بتیقن بانہ بشر وعن عائشۃ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ وہذا ناظر الٰی نزول عیسٰی وہذا ایضا لا ینافی حدیث لا نبی بعدی لا نہ اراد لا نبی ینسخ شرعہ‘‘ (تکملہ مجمع البحار ص۸۵)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ حضرت عیسیٰ نزول کے بعد خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور اپنے نفس کی حلال چیزوں میں اضافہ کریں گے۔ یعنی نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد ہوگی۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے نکاح نہیں فرمایا تھا۔ آسمان سے اترنے کے بعد نکاح فرمائیں گے (جو لوازم بشریعت سے ہے) پس اس حال کو دیکھ کر ہر شخص اہل کتاب میں سے ان کی نبوت پر ایمان لے آئے گا اور اس بات کا یقین کرے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ ایک بشر ہیں۔ خدا نہیں جیسا کہ نصاریٰ اب تک سمجھتے رہے اور عائشہ صدیقہt سے جو یہ منقول ہے کہ وہ فرماتی تھیں کہ آپa کو خاتم النّبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپa کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ ان کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو پیش نظر رکھ کر تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا حدیث لانبی بعدی کے منافی نہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضورa ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے اور لا نبی بعدی کی مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہ آئے گا جو آپ کی شریعت کا ناسخ ہو۔ انتہی!

اب اس عبارت سے صاف ظاہر ہوگیا کہ حضرت عائشہ صدیقہt کا یہ مطلب نہیں کہ حضورa خاتم النّبیین نہیں اور آپa کے بعد کسی قسم کے نبی کا آنا جائز سمجھتی ہیں

43

بلکہ مطلب یہ ہے کہ کلمہ لا نبی بعدی کے ظاہری عموم سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آپa کے بعد اگلا اور پچھلا اور نیا اور پرانا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حالانکہ احادیث صحیحہ اور صریحہ اور متواترہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول قطعاً ثابت ہے۔ اس لئے حضرت عائشہ صدیقہt کو یہ خیال ہوا کہ مبادا عوام اس ظاہری عموم کی وجہ سے حدیث لا نبی بعدی کو نزول عیسیٰ بن مریم کے منافی اور معارض نہ سمجھ جائیں۔ اس لئے احتیاطاً اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہt نے محض عوام کو ابہام سے بچانے کے لئے لا نبی بعدہ کہنے سے منع فرمایا اور اسی قسم کا قول حضرت مغیرہ بن شعبہq سے منقول ہے۔

’’عن الشعبی قال قال رجل عندہ المغیرۃ بن شعبۃ صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ۔ فقال المغیرۃ بن شعبۃ حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسٰیm خارج فان ہو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ‘‘ (تفسیر درمنثور ج۵ ص۲۰۴)

(ترجمہ) ’’شعبیv سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہq کے سامنے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ رحمت نازل کرے محمدa پر جو کہ خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حضرت مغیرہ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے۔ یعنی لا نبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پھر تشریف لائیں گے۔ پس جب وہ آئیں گے تو ایک ان کا آنا محمدa سے پہلے ہوا اور ایک آنا حضورa کے بعد ہوگا۔‘‘

پس جس طرح مغیرہq ختم نبوت کے قائل ہیں مگر محض عقیدۂ نزول عیسیٰ بن مریمn کی حفاظت کے لئے لا نبی بعدی کہنے سے منع فرمایا۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہt نے ختم نبوت کے عقیدہ کو تو خاتم النّبیین کے لفظ سے ظاہر فرمایا اور اس موہم لفظ کے استعمال سے منع فرمایا کہ جس لفظ سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ابہام ہوتا تھا اور حاشا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہt حضورa کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز کہتی ہیں اور دلیل اس کی یہ ہے کہ لا نبی بعدی کا لفظ احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اور خود حضرت عائشہ صدیقہt سے یہ روایت ہے: ’’عن عائشۃt عن النبیa انہ قال لا یبقی بعدہ من النبوۃ الا المبشرات قالوا یا رسول اللہ وما المبشرات

44
قال الرویا الصالحۃ یراہا المسلم اوتری لہ‘‘ (کذافی الکنز بروایۃاحمد والخطیب)

(ترجمہ) ’’حضرت عائشہ صدیقہt آنحضرتa سے روایت کرتی ہیں کہ آپa نے یہ ارشاد فرمایا کہ میرے بعد نبوت کے اجزاء میں سے سوائے مبشرات کے کوئی جزء باقی نہیں رہے گا۔ صحابہi نے عرض کیا یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں؟ آپa نے فرمایا اچھا خواب جس کو مسلمان خود دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھے۔‘‘

پس جب حضرت عائشہ صدیقہt خود آنحضرتa سے روایت کرتی ہیں کہ نبوت ختم ہوگئی تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہt نے لا نبی بعدہ کہنے سے اس لئے منع فرمایا کہ وہ آپa کے بعد نبی کو جاری سمجھتی تھیں۔ نیز لا نبی بعدہ کا بعینہٖ وہی مطلب ہے جو خاتم النّبیین کا ہے۔ اختتام نبوت پر دونوں لفظ یکساں طور پر دلالت کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ممانعت کی یہ وجہ نہیں بلکہ احسن وجہ یہ ہے کہ لفظ لا نبی بعدہ میں عموم کی وجہ سے بظاہر عوام کے لئے ابہام کا اندیشہ تھا کہ کوئی غلط فہمی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار نہ کر دے۔ اس لئے عقیدۂ عوام کی حفاظت کے لئے حضرت عائشہ صدیقہt نے یہ فرمایا کہ فقط لفظ خاتم النّبیین پر اکتفاء کرو۔ کیونکہ یہ لفظ اختتام نبوت ورسالت کے بیان کرنے کے لئے کافی اور شافی ہے اور آپa کی افضلیت اور سیادت کو بھی ظاہر کرتا ہے اور لا نبی بعدی کا لفظ مت استعمال کرو۔ جس میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے خلاف کا ایہام ہوتا ہو اور لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ گزرے کہ یہ حدیث دوسری حدیث کے معارض ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہt اگر ختم نبوت کی منکر ہوتیں تو خاتم النّبیین کہنے کا کیوں حکم دیتیں کہ جو صراحۃً ختم نبوت پر دلالت کرتا ہے۔

عجیب بات ہے کہ مرزائی صاحبان کے نزدیک ایک مجہول الاسناد اثر تو معتبر ہو جائے اور صحیح اور صریح روایتوں کا دفتر معتبر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لفظ ان کی خواہش کے مطابق کہیں سے مل جائیں وہ تو قبول ہے اور جو آیت اور حدیث خواہ کتنی صریح اور صاف کیوں نہ ہو وہ مقبول نہیں۔ ’’افکلما جاء کم رسول بہا لا تہوی انفسکم استکبرتم‘‘

مرزائی مفسر کی شہادت

محمد علی لاہوری اپنے بیان القرآن میں لکھتے ہیں: ’’اور ایک قول حضرت عائشہt کا پیش کیا جاتا ہے جس کی سند کوئی نہیں۔ ’’قولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لا

45

نبی بعدہ‘‘ خاتم النّبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہt کے نزدیک خاتم النّبیین کے معنی کچھ اورتھے اور کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے۔ حضرت عائشہt کے اپنے قول میں ہوتے۔ کسی صحابیq کے قول میں ہوتے۔ نبی کریمa کی حدیث میں ہوتے مگر وہ معنی دربطن قائل ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النّبیین کے معنی لا نبی بعدی کئے گئے ہیں۔ ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ a کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے ردکی جاتی ہے۔ اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہt کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں۔ خاتم النّبیین کافی ہے۔ جیسا کہ مغیرہq بن شعبہ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا:’’خاتم الانبیاء ولا نبی بعدہ‘‘ تو آپ نے فرمایا خاتم الانبیاء کہنا تجھے بس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ خاتم النّبیین واضح ہیں تو وہی استعمال کرو۔ یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں اور اتنی حدیثوں کے مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی۔ چہ جائیکہ صحابیq کا قول ہو جو شرعاً حجت نہیں۔ انتہی!‘‘ (بیان القرآن ج۲ ص۱۱۰۳،۱۱۰۴)

وہم ہفتم

شیخ محی الدین ابن عربی اور بعض بزرگوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپa کے بعد مطلقاً نبوت مرتفع نہیں ہوئی۔ بلکہ تشریعی نبوت مرتفع ہوئی اور حدیث نبوی لا نبی بعدی کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہ ہوگا کہ جو آپa کی شریعت کے خلاف ہو۔ بلکہ آپ ہی کی شریعت کے ماتحت ہوگا۔

ازالہ: شیخ محی الدین ابن عربیv اور کل اولیاءw اور عارفینw اور تمام صوفیائے کرامw اس پر متفق ہیںکہ نبوت ختم ہوگئی اور نبی اکرمa خاتم الانبیاء اور آخری نبی ہیں اور جو شخص آپa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور مرتد اور واجب القتل ہے۔ نبوت بالکلیہ منقطع ہوگئی۔ آپa کے بعد کسی قسم کی کوئی نبوت باقی نہیں رہی۔

46

البتہ نبوت کے کچھ اجزاء اور کچھ کمالات امت کے افراد میں باقی ہیں۔ حضورa کے بعد نبوت کی کوئی قسم باقی نہیں کہ جس کے ملنے سے کسی کو نبی کہاجاسکے۔ البتہ نبوت کے کچھ اجزاء اور کچھ خصائل اور کچھ شمائل باقی ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:’’ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات‘‘ نبوت تو جاتی رہی اور بشارت دینے والے خواب باقی رہ گئے۔

حدیث میں ہے کہ رویائے صالحہ نبوت کا چالیسواں جز ہے اور کمالات نبوت کے ساتھ متصف ہونا اتصاف بالنبوۃ کو مستلزم نہیں۔ جس طرح سر انسان کا جزء ہے۔ مگر سر کو انسان نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح رویائے صالحہ نبوت کا جزء ہے۔ مگر اس کو نبوت نہیں کہہ سکتے اور سچا خواب دیکھنے والے کو نبی نہیں کہہ سکتے اور صوفیاء حضرات کا یہ کلام عین شریعت کے مطابق ہے اور کوئی عالم، علماء شریعت میں سے اس کامنکر نہیں۔

جاننا چاہئے کہ یہاں آیات اور احادیث میں دو مضمون آئے ہیں۔ ایک مضمون تو یہ ہے کہ یہ عہدہ ہی ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا۔ قیامت تک عہدۂ نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا۔ دوسرا مضمون یہ ہے کہ نبی امی فداہ نفسی وابی وامی اشخاص انبیاء تمام کے خاتم ہیں۔ پیغمبروں کے جس قدر افراد دنیا میں آنے تھے وہ آچکے اور نبی اکرمa اس سلسلہ کے آخر نبی فرد ہیں۔ پہلے مضمون کو حدیث میں اس عنوان سے بیان کیاگیا۔

’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a یایہا الناس انہ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات رواہ البخاری فی کتاب التعبیر‘‘ حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا۔ اے لوگو! نبوت میں سے صرف مبشرات (بشارت دینے والے خواب) باقی رہ گئے ہیں بخاری نے کتاب التعبیر میں روایت کیا ہے۔

اور دوسری حدیث میں ہے: ’’ذہبت النبوۃ وبقیۃ المبشرات‘‘

اس قسم کی احادیث عہدۂ نبوت کے ارتفاع اور انقطاع کے بیان کے لئے آئی ہیں اور دوسرا مضمون کو نبی امیa سلسلہ نبوت کے افراد اور اشخاص کے خاتم ہیں اس کو قرآن کریم نے خاتم النّبیین کے عنوان سے اور حدیث نے خاتم الانبیاء اور آخر الانبیاء اور لا نبی بعدی کے عنوان سے بیان کیا ہے اور یہ دوسرا مضمون پہلے مضمون کے منافی تو کیا ہوتا بلکہ غایت درجہ مؤید اور مستلزم ہے۔

47

شیخ محی الدین ابن عربیv کی یہی مراد ہے کہ نبوت ختم ہوگئی اور نبوت کے کچھ اجزاء اور کمالات اور مبشرات باقی ہیں۔ چنانچہ شیخ فتوحات میں فرماتے ہیں:’’فاخبر رسول اللہ a ان الرؤیا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقی للناس فی النبوۃ ہذا وغیرہ ومع ہذا الا یطلق اسم النبوۃ ولا النبی الا علی المشرع خاصۃ فہجر ہذا الاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ‘‘ (فتوحات ج۲ ص۴۹۵)

(ترجمہ) ’’رسول اللہ a نے یہ بتلا دیا کہ سچا خواب نبوت کا ایک جزء ہے۔ لوگوں کے لئے نبوت میں اس قسم کے اجزاء باقی رہ گئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے لفظ نبوت اور لفظ نبی کا اطلاق سوائے مشرع کے (یعنی جو خدا کی طرف سے احکام شریعہ لے کر آئے) اور کسی پر نہیں ہوسکتا اس نام کی بندش نبوت میں کسی خاص صفت کی بناء پر کردی گئی ہے۔‘‘

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:’’فما تطلق النبوۃ الا لمن اتصف بالمجموع فذلک النبی وتلک النبوۃ التی حجرت علینا وانقطعت فان جملتہا التشریع بالوحی الملکی وذلک لا یکون الا لنبی خاصۃ‘‘ (فتوحات ج۳ ص۵۶۸)

(ترجمہ) ’’نبوت کا اطلاق جب ہی ہوسکتا ہے کہ جب نبوت کے تمام اجزاء کے سائقہ علی وجہ الکمال والتمام موصوف ہو۔ پس ایسا ہی نبی اور ایسی ہی نبوت جو تمام اجزاء کو جامع اور حاوی ہو ہم پر (یعنی اولیاء پر) بند کر دی گئی اور منقطع ہوگئی۔ اس لئے کہ منجملہ اجزاء نبوت تشریع احکام ہے کہ جو فرشتہ کی وحی سے ہو اور یہ امر نبی کے ساتھ مخصوص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا۔‘‘

شیخ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ نبی اکرمa نے فرمایا: ’’اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ اذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ‘‘ جب کسریٰ شاہ فارس ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر شاہ روم ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔

پس جس طرح قیصروکسریٰ کے مرجانے کے بعد قیصروکسریٰ کا نام ختم ہوا مگر ملک فارس اور روم موجود رہا۔ اسی طرح آنحضرتa کے بعد نبوت اور نبی کا نام اٹھ گیا۔ مگر نبوت اور اس کے اجزاء مسلمانوں میں باقی رہے۔ یعنی قرآن وحدیث اور کمالات نبوت۔

48

شیخ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ختم ہو گئی۔ البتہ اس کے کچھ اجزاء اور کمالات اور مبشرات باقی ہیں۔ (جیسا کہ:’’ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات‘‘ سے صاف ظاہر ہے) اور نبی اور نبوت کا اطلاق اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ نبوت کے تمام اجزاء (جن میں تشریعی احکام بوحی ملکی بھی داخل ہے) علی وجہ الکمال والتمام متحقق نہ ہوں اور تشریع احکام بوحی ملکی نبی اور مقام نبوت کے لئے لازم ہے۔ بغیر تشریع کے نبوت متحقق نہیں ہوسکتی۔ نبوت کا اصل دارومدار تشریع پر ہے۔ جب تشریع نہ ہو تو نبوت بھی نہیں۔ معلوم ہوا کہ شیخ کے نزدیک غیرتشریعی نبوت نبوت ہی نہیں بلکہ وہ اجزاء نبوت ہیں جن کو اصطلاح صوفیاء میں ولایت کہاجاتا ہے۔ لہٰذا شیخ اکبرv کی طرف یہ نسبت کرنا کہ وہ غیرتشریعی نبوت کی بقاء کے قائل ہیں بالکل غلط ہے۔ ان کے نزدیک تشریع نبوت کا جزو لاینفک ہے بغیر تشریع کے ان کے نزدیک نبوت ہی متحقق نہیں ہوسکتی نہ یہ کہ نبوت تو ہے۔ مگر غیرتشریعی ہے اور جو اجزاء نبوت کے باقی ہیں نہ وہ نبوت ہیں اور نہ ان کی بناء پر نبوت اور نبی کا اطلاق جائز ہے اور اگر بالفرض یہ معنی تسلیم بھی کر لئے جائیں تو عجیب نہیں کہ شیخ اکبرv کا نبوت غیرتشریعی کی بقاء سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف اشارہ ہوکہ عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نزول کے بعد بھی نبی ہوں گے مگر وہ تشریعی نبی نہ ہوں گے۔ یعنی اپنی سابقہ شریعت پر عامل نہ ہوں گے بلکہ شریعت محمدیہ کے تابع اور ماتحت ہوں گے۔

علاوہ ازیں جب صدہا نصوص اور احادیث نبویہ اور آثار صحابہi اور تابعینw اور کل علماءw وطریقت کی تصریحات سے یہ معلوم ہوگیا کہ ختم نبوت امت محمدیہa کا اجماعی عقیدہ ہے اور خود شیخ اکبرv کی بے شمار تصریحات نصوص اور فتوحات وغیرہ میں موجود ہیں کہ نبوت حضورa پر ختم ہوگئی اور آپa آخری نبی ہیں تو پھر ان تصریحات کے بعد شیخ کی مجمل اور مبہم عبارات کو پیش کرنا اور ختم نبوت کے بارے میں شیخ کی صریح عبارات کو نظرانداز کردینا اور نصوص شریعت اور اجماع امت کے خلاف راہ نکالنا کون سا دین اور عقل ہے۔

49

نبوت ورسالت کا انقطاع اور اختتام اور کمالات نبوت کا بقاء اور

دوام اور حضرت صوفیاء کا کلام معرفت التیام

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. ہر گز در بیش و کم نمے بایدزد

    از حد بیرون قدم نمے بایدزد

  2. عالم ہمہ مرات جمال ازلی است

    مے باید دید و دم نمے بایدزد

  1. کل ما فی الکون و ہم او خیال

    او عکوس فی المرایا او ظلال

موجود حقیقی صرف ایک واجب جل مجدہ کی ذات ببرکات ہے اور باقی سب معدوم۔ سوائے باری تعالیٰ کے کسی کا وجود حقیقی نہیں۔ سب کا وجود مجازی اور موہوم ہے۔ حقیقی وجود کی تو کسی ممکن نے خوشبو بھی نہیں سونگھی اور سونگھ بھی نہیں سکتے۔ جس طرح زمین اپنی اصل ذات کے اعتبار سے مظلم اور تاریک ہے اور جو روشنی ہے وہ آفتاب کا ایک عکس اور پر تو ہے۔ اسی طرح سارا جہان اپنی اصل حقیقت کے لحاظ سے نور وجود سے بالکل محروم اور عاری ہے۔ عدم اور فنا کے سوا اس عالم کی کوئی حقیقت نہیں۔ ’’کما قال تعالٰی: کل من علیہا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔ وقال تعالٰی: کل شی ہالک الا وجہہ‘‘ عدم اور فناء کو ممکن کی عین حقیقت اور ذاتیات سے قراروکسی صورت میں عدم ممکن سے جدا نہیں ہو سکتا۔ ہر ممکن کو عدم کا ایک آئینہ سمجھو کہ جس میں واجب الوجود کے وجود ازلی اور صفات کمالیہ منعکس ہورہی ہیں۔ ’’نور السموت والارض‘‘ نے اپنے جمال جہاں آراء اور نور وجود کو کسی آئینے میں دیکھنے کا ارادہ فرمایا۔ اس لئے اپنے بے چون وچگون وجہ کو اس آئینہ عدم کی طرف متوجہ فرمایا۔ ہرعدم نے اپنی اپنی استعداد اور فطرت کے مناسب اس کے وجود ازلی اور صفات کمال کے عکس کو قبول کیا جس عدم پر وجود واجب کا عکس پڑتا رہا وہ موجود کہلانے لگا۔ جس کے وجود کی حقیقت عکس اور پرتوہ سے زائد نہیں۔ جیسا کہ کسی نے خوب کہا ہے ؎

  1. کل ما فی الکون و ہم او خیال

    او عکوس فی المرایا او ظلال

50

ابتدائے آفرنیش سے اسی طرح سلسلہ جاری رہا کہ وجود ازلی اور صفات قدیمہ کا عکس ممکنات کے عدمات پر وقتاً فوقتاً اور متفرقاً پڑتا رہا۔ یہاں تک کہ حق جل شانہ نے اس خلاصہ موجودات اور خلاصہ عالم یعنی انسان کو احسن تقویم میں پیدا فرمایا تاکہ صفات الٰہیہ کا مجموعہ اور مظہر اور تجلی گاہ بن سکے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:’’خلق اللہ آدم علی صورتہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے آدمm کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔

  1. پس خلیفہ ساخت صاحب سینہ

    تابود شاہیش را آئینہ

امام ربانی شیخ مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے آدمm کو اپنی خلافت کے لئے اس لئے خاص فرمایا کہ آدمی ایک جامع نسخہ ہے جو کمالات تمام موجودات میں متفرقاً ہیں۔ وہ تنہا انسان میں مجتمعا موجود ہیں۔ علوی اور سفلی، ارضی اور سماوی، روحانی اور حیوانی تمام کائنات کے نمونے اس میں موجود ہیں۔ انسان عالم امکان کا تو حقیقتاً خلاصہ اور اجمال ہے۔ مگر مرتبہ وجوب سے بطریق صورت (یعنی عکس) اس کو حصہ ملا ہے یعنی واجب جل شانہ کی صفات واجبہ کا مظہر اور تجلی گاہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’ان اللہ خلق آدم علی صورتہ‘‘ تحقیق اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اپنی ذات اور صفات میں بے چون وچگون ہے اور روح آدم کو اپنی شان بے چونی وچگونی کی ایک تصویر اور نمونہ بنایا اور کسی کا خلیفہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کی صورت پر ہو اور چونکہ روح کو بے چون وچگون کی صورت پر پیدا کیا۔ اس لئے حقیقی بے چون وچگون کی گنجائش اس میں ہوسکی۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے: ’’لا یسعنی ارضی ولا سمائی ولٰکن یسعنی قلب عبدالمومن‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھ کو نہ میری زمین سماسکتی ہے اور نہ میرا آسمان لیکن میرے مومن بندہ کا دل مجھ کو سماسکتا ہے۔ یعنی میرے عکس اور تجلی کو برداشت کر سکتا ہے۔

قلب مومن کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ بے چونی اور چگونی کی صورت پر مومن ہی کا قلب رہتا ہے۔ بخلاف کافر کے کہ اس کا قلب چونی اور چندی میں گرفتار ہوکر وحوش اور بہائم کے ساتھ ملحق ہو جاتا ہے۔ ’’کما قال تعالٰی: اولئک کالانعام بل ہم اضل۔ وقال تعالٰی: ان شرالدوآب عند اللہ الذین کفروا‘‘ (کذا فی المکتوبات ج۱ ص۳۹۰)

51

امام غزالیv اپنے رسالہ (المفتون بہ علی غیراہلہ) میں فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں۔’لیس کمثلہ شیٔ‘‘ لیکن اس کے لئے مثال ضرور ہے۔ ’’کما قال تعالٰی: ولہ المثل الاعلی‘‘ اور نبی اکرمa کا یہ ارشاد ’’خلق اللہ آدم علی صورتہ‘‘ اس سے مقصود حق جل وعلا کی مثال بیان کرنا ہے نہ کہ مثل۔ یعنی انسان حق تعالیٰ شانہ کی حیات اور علم اور قدرت اور سمع اور بصر اور ارادہ اور تکلم کی ایک مثال ہے اور انسان حق سبحانہ کی ان صفات سبعہ کا ایک عجیب نمونہ ہے کہ یہ تمام صفات انسان کے چہرہ سے بیک وقت نمایاں ہیں۔ انسان اگر ان صفات کے ساتھ متصف نہ ہوتا تو حق تعالیٰ کا ان صفات کے ساتھ متصف ہونا کیسے سمجھتا۔ انتہی کلامہ!

مثال سے مقصود محض تعلیم وتفہیم ہوتی ہے۔ اس لئے بارگاہ خداوندی میں مثال دینے کی اجازت دی گئی۔ ورنہ اس کی ذات اس سے بھی پاک اور منزہ ہے۔

  1. اے بروں از وہم و قال و قیل من

    خاک برفرق من و تمثیل من

  2. رحم فرما بر قصور فہما

    اے وراء عقلہا و وہمہا

آدم بر سر مطلب! پس جس طرح خداوند ذوالجلال کی صفات کمال کا انعکاس ممکنات اور کائنات پر ہوتا ہے۔ اسی طرح کمالات نبوت کا انعکاس قلوب امم پر اپنی اپنی استعداد کے موافق ہوتا ہے۔ جس طرح آئینہ اور پتھر اپنی اپنی قابلیت اور ذاتی استعداد کے موافق آفتاب کی روشنی قبول کرتے ہیں۔ اس طرح امتی بھی اپنے استعداد کے موافق آفتاب نبوت کے شعاؤں کا عکس قبول کرتے ہیں۔

جس ذات بابرکات کو حق جل شانہ اپنی نبوت ورسالت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ وہ ذات ان صفات کمال کا معدن اور منبع ہوتی ہے کہ جو ذات ممکن کے لئے ممکن ہیں۔ نبی کی ذات صدیقت محدثیت اور تفہیم الٰہی اور امامت اور حکمت اور علم لدنی اور معرفت اور تزکیہ اور ہدایت اور تائید بروح القدس اور خلافت اور ہدی صالح اور سمت حسن اور رویائے صالحہ اور تمام اخلاق فاضلہ کی جامع ہوتی ہے۔ نبی کی ذات ان تمام کمالات کے ساتھ بالذات متصف ہوتی ہے اور باقی تمام امت اسی آفتاب کے انعکاس سے ان صفات سے بقدر اپنی استعداد کے بالفرض منور اور روشن ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنی اپنی مناسبت اور استعداد اور قابلیت

52

کے موافق آفتاب کے انوار وتجلیات کا عکس قبول کرتا ہے۔ حضرت ابوبکرq کے قلب پر آپa کی شان صدیقیت کا عکس پڑا تو صدیق ہوگئے اور حضرت عمرq کے قلب پر شان تحدیث اور مکالمہ خداوندی کا عکس پڑا تومحدث اور ملہم ہوگئے۔ آپ کی شان امانت کا پرتوہ ابوعبیدہq پر پڑا تو امین الامت کہلائے۔ عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عمر اور زید بن ثابت اور معاذ بن جبل(i) پر آپa کی شان تعلیم الکتاب والحکمۃ کا عکس پڑا تو فقہاء امت کہلائے۔ ابوذر غفاریq پر حضورa کی شان زہد اور استغناء عن الدنیا کا عکس پڑا تو زاہد امت کہلائے۔ غرض یہ کہ ہر شخص نے اپنی اپنی فطرت اور طبیعت کے مناسب کمالات نبوت کے انعکاس کو قبول کیا اور اس رنگ میں رنگا گیا۔

خلاصہ یہ کہ حضورa کی ذات بابرکات کمالات صوریہ اور معنویہ اور احوال ظاہری اور باطنی دونوں کی جامع تھی۔ احوال باطنی کہ جس میں منجانب اللہ حقائق اور معارف کا انکشاف ہوتا ہے۔ لسان شریعت میں اس کو ولایت سے تعبیر کرتے ہیں اور احکام ظاہری کہ جس میں حلال وحرام کے احکام امت کو بتلائے جاتے ہیں۔ ان احکام کے مجموعہ کا نام شریعت ہے اور ظاہر ہے کہ ولایت کا تعلق صرف اپنی ذات سے ہوتا ہے اور شریعت کا تعلق دوسروں سے ہوتا ہے۔ اس لئے احکام شریعت دوسروں پر حجت ہیں نہ کہ احکام ولایت، ولایت حجت لازمہ ہے۔ بشرطیکہ قواعد شریعت کے خلاف نہ ہو اور شریعت حجت ملزمہ ہے۔ جس سے دوسروں پر الزام اور حجت قائم ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ ولایت اور شریعت دونوں نبوت ورسالت کے دو شعبے ہیں۔ اس لئے شیخ اکبرv نے شعبہ ولایت کو غیرتشریعی نبوت کے عنوان سے اور شعبہ شریعت کو تشریعی نبوت کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ اولیاء امت پر نبوت کے شعبہ ولایت کا انعکاس ہوا۔ (جس کو شیخ اکبرv نبوت غیرتشریعی کے نام سے موسوم کرتے ہیں) جس سے علم لدنی کے چشمے ان حضرات کے قلوب صافیہ میں جاری ہوگئے اور قلوب کے امراض اور ان کے اسباب وعلامات اور ان کی تشخیصات اور معالجات ان پر منکشف ہوئے اور اسی گروہ نے احوال باطنی کی محافظت کی اور علم الاحسان یعنی علم التصوف کو مدون کیا۔

اور فقہاء اور مجتہدین کے قلوب پر نبوت کے شعبہ شریعت کا عکس پڑا۔ (جس کو شیخ

53

اکبرv نبوت تشریعی کے نام سے موسوم کرتے ہیں) جس سے ان حضرات کی بصیرت اور عقل اور فراست ایسی روشن اور منور ہوگئی کہ دن ہی میں ستارے نظر آنے لگے اور ثریٰ سے ثریا تک ان کی دور بین نگاہیں پہنچنے لگیں۔ کتاب اور سنت کی عمق اور گہرائیوں میں جو علم کے یواقیت اور جواہر مستور تھے۔ غوطہ لگا کر نکال لائے۔ اس طبقہ نے آپa کی شریعت کی محافظت اور نگرانی کی اور علم احکام اور علم فقہ کو مدون کیااور احکام شریعت کے حقائق اور دقائق اور لطائف ومعارف کے بیان میں تحقیق وتدقیق کے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے جن کو دیکھ کر عقل یہ کہتی ہے۔

  1. اگر یک سر موئے بر تر پرم

    فروغ تجلی بسوز د پرم

جس طرح آنحضرتa نے وحی خداوندی سے امت کو حلال وحرام کی تلقین فرمائی۔ اسی طرح ائمہw اجتہاد نے آپa کی شریعت کو سامنے رکھ کر غیرمنصوص مسائل میں اجتہاد فرمایا اور احکام حلال وحرام مستنبط فرمائے اور عوام کو ان پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ حضرات فقہاء کا اجتہاد اور استنباط تشریع انبیاء کا ایک عکس اور پرتوہ ہے۔ حضرات انبیاء کرامo کی تشریع قطعی اور یقینی ہے اورمجتہدین کی تشریع جو بصورت استنباط ظنی ہے۔ انبیاء کی تشریع مستقل ہے اور مجتہدین کی تشریع انبیاء کرامo کے بتلائے ہوئے علوم میں اجتہاد کر سکتے ہیں۔ خود بخود ایزاد نہیں کر سکتے۔ تشریع انبیاء میں نسخ ہے اور تشریع مجتہدین میں رجوع عن الاجتہاد ہے اور چونکہ نبوت میں شریعت اور تشریع غالب ہوتی ہے اور ولایت مغلوب۔ اس لئے حدیث:’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ اور حدیث ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ میں علماء کی تخصیص فرمائی اور اسی وجہ سے علماء قیامت کے دن انبیاء ورسل کی صف میں ہوں گے اور ہر نبی کے ساتھ اس کی امت کا ایک دو عالم یا زیادہ اس کے یمین ویسار میں کھڑا ہوگا اور جس طرح انبیاءo اپنی اپنی امتوں پر شہید ہوں گے۔ اسی طرح اس امت کے علماء تمام امم پر شہید ہوں گے۔

یہ تمام مضمون (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۸۷) سے ماخوذ ہے۔ حضرات اہل علم اصل سے مراجعت فرماسکتے ہیں۔

الحاصل حضرات صوفیاء کی اصطلاح میں نبوت کے دو شعبے ہیں۔ ایک تشریعی شعبہ

54

اور ایک غیرتشریعی شعبہ۔ غیرتشریعی شعبہ کا عکس قلوب اولیاء پر پڑا جس کا ظہور الہام اور انکشاف معارف اور صدور کرامات وخوارق عادات کی شکل میں ہوا اور نبوت کے تشریعی شعبہ کا انعکاس قلوب مجتہدین پر برنگ اجتہاد ہوا اور یہ اجتہاد حاشا وکلا ثم حاشا وکلا شریعت اور تشریع نہیں بلکہ تشریع نبوی کا ایک ادنیٰ سا عکس اور پرتوہ اور معمولی سا ظل اور سایہ ہے۔

پس جس طرح کمالات الٰہیہ اور صفات خداوندی کے انعکاس سے کوئی کسی قسم کا الہ اور خدا نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کمالات نبوت کے انعکاس سے کوئی کسی قسم کا ہرگز ہرگز نبی نہیں ہوسکتا۔ تمام اولیاءw اور عارفینw اس پر متفق ہیں کہ نبوت ختم ہوگئی اور حضورa خاتم النّبیین ہیں اور اولیاء اللہ w اور عارفینw نبوت کے غیرتشریعی شعبہ کے محض عکس اور پرتوہ ہیں نبی نہیں، اور فقہاءw اور مجتہدینw نبوت کے تشریعی شعبہ کے محض عکس اور پرتوہ ہیں نبی نہیں، اور دنیا میں کوئی ولی اور صوفی اس کا قائل نہیں کہ اولیاءw غیرتشریعی نبی ہیں اور فقہاءw اور مجتہدینw تشریعی نبی ہیں۔ اگر علماء امت کا نبی ہونا ممکن ہوتا تو ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ میں کاف تشبیہ داخل کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے کہ مشبہ اور مشبہ بہ مغائر ہوتے ہیں۔ اگر علماء امت کو نبوت مل سکتی تو ’’کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ نہ فرماتے۔ بلکہ جس طرح بنی اسرائیل کو ’’وجعل فیکم انبیاء‘‘ سے خطاب کیاگیا۔ اسی طرح اس امت کو بھی کہا جاتا اور حدیث میں ہے:’’من صلی خلف عالم تقی فکانما صلی خلف نبی‘‘ جس نے متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھی اس نے گویا کہ نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔ اس حدیث میں لفظ ’’کانما‘‘ بھی اختتام نبوت کی مشیر ہے۔ ’’و اللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم‘‘

دلیل دوم

’’قال تعالٰی: الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘

اس آیت شریفہ میں حق جل شانہ نے ایک خاص انعام کا ذکر فرمایا ہے وہ یہ کہ: ’’آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو ہر طرح سے کامل اور مکمل کر دیا۔‘‘ قیامت تک کے لئے معاش اور معاد کی تمام ضرورتوں کے لئے ایک مکمل دستور العمل عطاء

55

فرمایا کہ جو حکمت علمیہ اور عملیہ اور سیاست ملکیہ اور مدنیہ اور عقائد واعمال اور احکام حرام وحلال کا جامع ہے۔ کوئی حکمت ایسی نہیں چھوڑی کہ جس کو صراحۃً یا اشارۃً بیان نہ کردیا ہو۔ جو علوم اور معارف ادیان سابقہ میں تھے۔ ان سب کا عطر اور لب لباب اس دین متین میں لے لیاگیا۔ جس چیز کا صراحۃً بیان کرنا مناسب تھا اس کو صراحۃً بیان کردیا اور جس کو اشارۃً بیان کرنا تھا۔ اس کو اشارۃً بیان کردیا۔ غرض یہ کہ کوئی شئے ایسی نہیں چھوڑی کہ ضرورت اور حاجت ہو اور اس کو بیان نہ کر دیاگیا ہو۔ لہٰذا اب اس میں نہ کسی اضافہ اور ترمیم کی گنجائش ہے اور نہ کمی اور زیادتی ہوسکتی ہے۔ اسی لئے آپ کا دین تمام ادیان سے بہتر ہوا اور تمام ادیان کا ناسخ ہوا اور تمام ادیان دین اسلام سے منسوخ ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ یہ دین آخری دین ہے اور یہ امت آخری امت ہے اور یہ نبی آخری نبیa ہیں۔ اس لئے کہ ناسخ وہی ہوگا کہ جو آخر ہوگا اور اس اکمال دین سے ’’میں نے تم پر اپنا انعام اور احسان پورا کردیا۔‘‘ کہ تم کو ایسا کامل اور مکمل دین عطاء کیا کہ جو کسی کو نہیں عطاء کیا اور اسی دین اسلام کو ہمیشہ کے لئے تمہارا دین بننے کے لئے پسند کیا۔ یعنی قیامت تک دین اسلام ہی کا دوردورہ رہے گا۔ اب اس کے بعد کوئی دوسرا دین نہیں آئے گا جو اس دین کو منسوخ کرے۔ پس تم کو چاہئے کہ اس نعمت کا شکر ادا کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کامل دین پر استقامت نصیب فرمائے اور تمہارا جینا مرنا اور قبر سے اٹھنا اسی دین پر ہو۔ حافظ ابن کثیرv اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’ہذہ اکبر نعم اللہ تعالٰی علی ہذہ الامۃ حیث اکمل تعالٰی لہم دینہم فلا یحتاجون الٰی دین غیرہ ولا الٰی نبی غیرنبیہم صلوات وسلامہ علیہ ولہذا جعلہ اللہ خاتم الانبیاء وبعثہ الی الانس والجن‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۷۹)

(ترجمہ) ’’حق تعالیٰ شانہ کی اس امت پر یہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس امت کو مکمل دین عطاء فرمایا کہ جس کے بعد نہ ان کو کسی دین کی حاجت ہے اور نہ کسی نبی کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرتa کو خاتم الانبیاء بنایا اور تمام جن وانس کی طرف مبعوث کیا۔‘‘

پس اگر حضورa کے بعد کوئی نبی آئے تو وہ کیا بتلائے گا ضرورت تو اب کوئی باقی

56

نہیں۔ بفرض محال اگر وہ نبی ہو گا تو یقینا بے ضرورت اور فالتو ہو گا اور ادنی عقل والا جانتا ہے کہ فالتو اور بے کار آدمی کہ جس کی کسی کو ضرورت نہ ہو۔ وہ کبھی نبی نہیں ہوسکتا۔

یہ آیت شریف جس میں اس نعمت عظیم یعنی اکمال دین کا ذکر فرمایا ہے۔ ۱۰ھ میں حجتہ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن یوم جمعہ میں آنحضرتa پر عصر کے وقت نازل ہوئی جس وقت کہ میدان عرفات میں چالیس ہزار قدوسیوں کا مبارک اور رشک ملائک مجمع آپa کی ناقہ مبارک کے اردگرد تھا۔ اسی مجمع میں جو آپa نے خطبہ دیا اس کے متعلق حدیث میں ہے: ’’عن ابی امامۃ قال قال رسول اللہ a فی خطبۃ یوم حجۃ الوداع ایہا الناس لا نبی بعدی ولا امۃ بعد کم فاعبدوا ربکم وصلوا خمسکم وصوموا شہرکم وادوا زکوٰۃ اموالکم طیبۃ بہا انفسکم واطیعوا ولاۃ امرکم تدخلوا جنۃ ربکم (کذافی منتخب الکنز حاشیہ مسند امام احمد بن حنبلv ج۲ ص۳۹۱)‘‘ {حضرت ابوامامہq سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں یہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ پس اب وقت کو غنیمت سمجھو اور اپنے پروردگار کی عبادت اور بندگی میں لگے رہو اور پانچ وقت کی نماز پڑھتے رہو اور خوش دلی سے اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے رہو اور اپنے امراء اور خلفاء کی اطاعت کرتے رہو۔ اگر ایسا کرتے رہے تو ان شاء اللہ ! تم اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔}

جس زمان اور مکان میں اکمال دین کی آیت نازل ہوئی اسی زمان اور مکان میں آنحضرتa نے یہ خطبہ دیا جس میں یہ اعلان فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ کیونکہ دین مکمل ہوگیا اس لئے اب نئے نبی کی ضرورت نہیں اور جب کوئی نبی نہیں تو امت کہاں سے ہو؟ یہ خطبہ درحقیقت اکمال دین کی آیت کی تفسیر اور شرح ہے تاکہ صراحۃً اور بداہتہً معلوم ہو جائے کہ اکمال دین کے اعلان سے ختم نبوت کا اعلان مقصود ہے۔

دلیل سوم

’’قال تعالٰی: وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم (سورۃ النور:۵۵)‘‘

57

{جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے ان سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ بلاشبہ ہم تم کو زمین کا خلیفہ اور حاکم بنائیں گے۔ جیسا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کو بنایا تھا۔}

اس آیت میں حق تعالیٰ شانہ نے امت محمدیہa پر ایک خاص انعام کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ انعام نبوت کی خلافت اور نیابت کا ہے جس کا ظہور خلفاء راشدینi سے ہوا اور خلافت کے معنی نیابت اور قائم مقامی کے ہیں۔ پس اس آیت میں امت سے نبوت کا وعدہ نہیں بلکہ نبوت کی خلافت اور نیابت کا وعدہ ہے۔ یہ کسی آیت اور حدیث میں نہیں کہ ہم کسی کو نبوت عطاء کریں گے۔ حالانکہ اس آیت میں اس کے ذکر کا موقعہ تھا کیونکہ حق تعالیٰ شانہ، اپنا انعام اور احسان بیان فرمارہے ہیں۔ اگر آئندہ کسی کو نبوت دینی ہوتی تو بجائے خلافت اور حکومت کے نبوت ورسالت کا وعدہ فرماتے۔ معلوم ہوا کہ نبوت ختم ہوچکی صرف خلافت باقی ہے۔

اب ہم اس بارے میں چند احادیث نقل کرتے ہیں جس سے یہ امر ان شاء اللہ ! بخوبی واضح ہو جائے گا۔

’’عن ابی ہریرۃq عن النبیa قال کانت بنوا اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تامرنا قال فوابیعۃ الاول فالاول اعطوہم حقہم ان اللہ سائلہم عما استرعاہم متفق علیہ (رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء ومسلم فی کتاب الامارۃ)‘‘ {حضرت ابوہریرہq سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست اور انتظام خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی اس کے قائم مقام ہو جاتا اور البتہ تحقیق میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ البتہ خلفاء اور امراء ہوں گے جو مسلمانوں کی سیاست اور انتظام کریں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہi نے عرض کیا کہ اس وقت ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ یعنی جب خلفاء بہت ہوں تو اس وقت ہم کو کیا کرنا چاہئے۔ آپa نے ارشاد فرمایا کہ جس سے پہلے بیعت کر چکے ہو اس کی بیعت کو پورا کرو اور ان کا حق اطاعت اور فرمانبرداری ادا کرو اور اگر خلفاء تمہارا حق رعایت نہ ادا کریں تو تم ان کی اطاعت میں کوتاہی نہ کرنا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود ان سے حق رعیت کے متعلق سوال کرے گا۔} (بخاری، مسلم)

58

اس حدیث سے صاف طور پر واضح ہوگیا کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ خلفاء اور امراء ہوں گے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کی شریعت مستقل نہ تھی۔ بلکہ شریعت موسویہ اور حکم توریت کے تابع تھی۔ لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح بنی اسرائیل میں غیرمستقل اور غیرتشریعی نبی آتے رہے اس امت میں آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ خلفاء ہوں گے۔ پہلی امتوں میں سیاست اور انتظام اور اصلاح کے لئے نبوت تھی اور اس امت مرحومہ میں سیاست واصلاح کے لئے نبوت کے قائم مقام خلافت ہوگی۔ نبوت ختم ہوچکی ہے، اصلاح اور سیاست کے لئے خلافت باقی رہے گی۔

’’وعن ابی مالک الاشعریq قال قال رسول اللہ a ان اللہ تعالٰی بدأ ہذا الامر نبوۃ ورحمۃ وکائنا خلافۃ ورحمۃ وکائنا ملکا عضوضا وکائنا عتوا وجبریۃ وفساداً فی الایۃ (رواہ الطبرانی فی الکبیر کذافی کنزالعمال ج۶ ص۲۹)‘‘ {آنحضرتa نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو نبوت اور رحمت بنا کر شروع فرمایا۔ پھر بعد چندے نبوت تو نہ رہے گی، صرف خلافت اور رحمت رہ جائے گی اور پھر کاٹ کھانے والی سلطنت اور پھر تکبر اور تجبر اور امت میں فساد ہوگا۔}

’’وعن ابن عباسq قال قال رسول اللہ a لی النبوۃ ولکم الخلافۃ (رواہ ابن عساکر کذافی الکنز ج۶ ص۱۸۰)‘‘ {ابن عباسq راوی ہیں کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ میرے لئے نبوت ہے اور تمہارے لئے خلافت ہے۔} (ابن عساکر)

حق جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں:’’یایہا الذین اٰمنوا اطیعو اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم‘‘ {اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور اولی الامر کی یعنی علماء اور خلفاء کی۔}

اس آیت میں تین چیزوں کا حکم دیا:

۱… اطاعت خداوندی۔

۲… اطاعت رسول۔

59

۳… اطاعت اولی الامر۔

اور اولی الامر کے متعلق یہ ارشاد فرمایا: ’’فان تنازعتم فی شی فردوہ الٰی اللہ والرسول (الآیۃ)‘‘ {پس اگر تم میں اور اولی الامر میں کوئی اختلاف اور نزاع پیش آ جائے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنا یعنی کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا۔}

اور حدیث میں اولی الامر کے متعلق یہ ارشاد فرمایا:’’السمع والطاعۃ حق مالم یؤمر بمعصیۃ فاذا امر بمصیۃ فلا سمع ولاطاعۃ‘‘ {علماء اور امراء کی بات سننا اور ان کی اطاعت حق اور واجب ہے۔ جب تک معصیت کا امر نہ کریں اور جب معصیت کا امر کریں اور حکم دیں تو پھر ان کی بات کا سننا اور اطاعت کرنا جائز نہیں۔}

معلوم ہوا کہ آپa کے بعد جن کی اطاعت واجب ہوگی وہ اولی الامر ہوں گے۔ نبی نہ ہوں گے کیونکہ نبی سے نزاع اور اختلاف جائز نہیں۔ بلکہ کفر ہے نبی کی تو بے چون چرا اطاعت فرض ہے۔ ’’کما قال تعالٰی وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ‘‘

نیز حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ اولی الامر اگر معصیت کا حکم دیں تو سمع اور اطاعت جائز نہیں اور ظاہر ہے کہ معصیت کا حکم وہی شخص دے سکتا ہے جو نبی نہ ہو۔ یہ ناممکن ہے کہ نبی اور رسول ہو اور پھر اللہ کی معصیت کا حکم دے۔ نیز اختلاف اور نزاع کے وقت اللہ اور اس کے رسول یعنی قرآن اور حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیاگیا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ نزاع توپیش آئے گا۔ زمانہ آئندہ میں، مگر حکم یہ ہے کہ گزشتہ رسول اور اس پر نازل شدہ کتاب اور اس کی شریعت کی طرف رجوع کرو۔ آئندہ نبی اور اس کی شریعت اور وحی کی طرف رجوع کا حکم نہیں۔ معلوم ہوا کہ آپa کے بعد کوئی صاحب وحی نہیں کہ اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ آئندہ زمانے میں جو بھی نزاع پیش آئے اسی قرآن وحدیث کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ نیز احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ حضورa نے اپنے بعد ابوبکر اور عمر(r) کی اقتداء اور خلفاء راشدینi کی سنت سے اتباع کا حکم دیا۔ کسی ایک بھی حدیث میں یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد آنے والے نبی کا اتباع کرنا معلوم ہوا کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں۔

60

دلیل چہارم

’’قال اللہ عزوجل: واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشٰہدین۔ فمن تولی بعد ذلک فاولئک ہم الفسقون‘‘ {اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد اور میثاق لیا کہ قسم ہے میری ذات کی کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں اور پھر اخیر میں تمہارے پاس ایسا عظیم الشان رسول آئے جو تمہاری کتاب اور حکمت کی تصدیق کرے۔ (یعنی محمد رسول اللہ a) تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔ پھر اس عہد کے بعد فرمایا کہ کیا تم نے اس کا اقرار کیا اور میرے اس پختہ عہد کو قبول کیا؟ سب بولے ہم نے اقرار کیا فرمایا کہ اچھا اپنے اس اقرار پر گواہ بھی رہو۔}

تاکہ جب اقرار کے ساتھ شہادت بھی جمع ہو جائے تو انکار نہ کر سکو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں اور خوب سمجھ لو کہ اس عہد کے بعد جو اس عہد سے روگردانی کرے گا تو ایسے ہی لوگ حکم عدولی کرنے والے ہوتے ہیں۔

اس آیت شریفہ میں اس عہد اور میثاق کا ذکر ہے جو حق تعالیٰ نے عالم ارواح میں تمام انبیاء کرامB سے آنحضرتa کے بارہ میں لیا وہ یہ کہ محمد رسول اللہ a جو تمہارے سب کے بعد آئیں گے اگر تم میں سے کوئی ان کا زمانہ پائے تو ضرور ان پر ایمان لانا اور ضرور ان کی مدد کرنا اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضورa کی آمد تمام انبیاء کے بعد ہوگی اور یہ رسول آخری نبی اور آخری رسول ہوگا۔

’’وعن قتادۃ انہ اخذ اللہ میثاقہم بتصدیق بعضہم بعضا والاعلان بان محمداً رسول اللہ واعلان رسول اللہ بان لا نبی بعدہ (کذافی الدرالمنثور)‘‘ {حضرت قتادہq سے مروی ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام انبیاءB سے اس بات کا عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور اپنے اپنے زمانے میں اس کا اعلان کریں کہ محمدa کے رسول ہیں اور آپ اس کا اعلان کریں کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں۔} (درمنثور)

61

دلیل پنجم

’’قال اللہ عزوجل واذیرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمعیل ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک وارنا مناسکنا وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم اٰیٰتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم‘‘ {اور یہ کہ جب اٹھاتے تھے ابراہیم (m) بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل (m) اور دعا کرتے تھے اے پروردگار! ہمارے قبول کر ہم سے بے شک تو ہی ہے سننے والا جاننے والا۔ اے پروردگار! ہمارے، اور کرہم کو فرمانبردار اپنا اور ہماری اولاد میں بھی کر ایک جماعت فرمانبردار اپنی اور بتلا ہم کو قاعدے حج کرنے کے اور ہم کو معاف کر۔ بے شک تو ہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ اے پروردگار ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہی میں کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھلادے ان کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور پاک کرے ان کو بے شک تو ہے بہت زبردست بڑی حکمت والا۔}

ان آیات میں حق جل شانہ نے حضرت ابراہیمm کی دعاؤں کا ذکر فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک امت مسلمہ کے ظہور کی ہے۔ جس کی مصداق یہ امت محمدیہ ہے جو آخری امت ہے اور دوسری دعا سرور دوعالم نبی اکرمa کے ظہور سراپا سرور کی ہے۔

’’وعن ابی العالیۃ فی قولہ تعالٰی ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یعنی امۃ محمدa فقیل لہ قد استجیب لک ہو کائن فی آخر الزمان وکذا قال السدی وقتادۃ (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۳۳۱)‘‘ {ابوالعالیہv سے مروی ہے کہ جب حضرت ابراہیمm نے یہ دعا فرمائی: ’’ربنا وابعث فیہم… الخ‘‘ تو اللہ کی جانب سے ارشاد ہوا کہ تمہاری دعا قبول ہوئی۔ یہ امت مسلمہ اور یہ پیغمبر آخری زمانہ میں ہوگا۔ ایسا ہی سدی اور قتادہ سے مروی ہے۔}

’’ہو کائن فی آخرالزمان‘‘ سے خاتم النّبیین ہونا مراد ہے اور آنحضرتa کا یہ ارشاد کہ: ’’انا دعوتی ابی ابراہیم‘‘ یعنی میں اپنے باپ ابراہیمm کی دعا ہوں۔

62

اس طرف مشیر ہے۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ ابراہیمm کے صحیفہ میں لکھا ہوا ہے: ’’انہ کائن من ولدک شعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یکون خاتم الانبیاء‘‘ {تیری اولاد میں بہت قبائل اور گروہ ہوں گے۔ یہاں تک وہ نبی امی ظاہر ہو کہ جو خاتم الانبیاء ہوگا۔}(کذافی الطبقات ابن سعد ج۱ ص۱۰۷، خصائص کبریٰ للحافظ السیوطی ج۱ ص۹)

اور حضرت ابراہیمm نے اپنی دعا میں یہ فرمایا: ’’ربنا وابعث فیہم رسولا‘‘ یعنی اے اللہ اس امت مسلمہ میں ایک عظیم الشان رسول بھیج۔

اور یہ نہیں فرمایا: ’’ربنا وابعث فیہم رسلا‘‘ یعنی اے اللہ ان میں بہت سے نبی اور رسول بھیج۔

معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیمm صرف ایک رسول کے مبعوث ہونے کی دعا فرماتے تھے کہ جس کے آنے کے بعد کسی نبی اور کسی رسول کی حاجت نہ رہے۔ یاد رہے کہ اس امت مسلمہ کے ظہور کی دعا اور اس امت کا نام یعنی اسلام اور مسلمان بھی حضرت ابراہیمm ہی نے تجویز فرمایا۔ ’’کما قال تعالٰی ملۃ ابیکم ابراہیم ہو سمکم المسلمین من قبل وفی ہذا‘‘ اور اس امت مرحومہ کے لئے نبی آخرالزمانa کے ظہور اور بعثت کی دعاء بھی حضرت ابراہیمm نے کی جو بارگاہ خداوندی میں قبول ہوئی۔ چونکہ حضرت ابراہیمm کی یہ دعا امت محمدیہa پر عظیم الشان احسان ہے۔ اس لئے بمقتضائے ’’ہل جزاء الاحسان الا الاحسان‘‘ امت محمدیہa پر یہ لازم قرار دیا گیا کہ ’’اللہم صل علی محمد‘‘ کے بعد ’’کما صلیت علٰی ابراہیم وعلٰی اٰل ابراہیم‘‘ پڑھا کریں تاکہ اس احسان کا کچھ حق ادا ہو۔

نیز حضرت ابراہیمm نے ایک دعا یہ فرمائی تھی: ’’رب ہب لی حکما والحقنی بالصلحین واجعل لی لسان صدق فی الاخرین‘‘ {اے میرے رب دے مجھ کو حکم اور ملا مجھ کو نیکوں میں اور رکھ میرا بول سچا پچھلوں میں۔}

آخرین سے آخری امت مراد ہے۔ قرآن کریم میں جابجا امت محمدیہa کو آخرین سے تعبیر کیا ہے تاکہ اس امت کا آخری امت ہونا معلوم ہو جائے۔ حق تعالیٰ شانہ نے حضرت ابراہیمm کی یہ دعا بھی قبول فرمائی کہ آخرین یعنی اس آخری امت میں ’’کما صلیت علٰی ابراہیم‘‘ کے ذریعہ سے قیامت تک آپa کا ذکر خیر جاری فرمایا۔

63

دلیل ششم

’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الذین کلہ ولوکرہ المشرکون۔ وقال تعالٰی ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفٰی ب اللہ شہیدا۔ وقال تعالٰی ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون‘‘ { اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسولa سیدھی راہ پر اور سچے دین پر تاکہ اوپر رکھے اس کو ہر دین سے اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا۔ وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برامانیں شرکرنے والے۔}

ان تینوں آیتوں سے یہ امر صاف ظاہر ہے کہ یہ دین تمام ادیان کے بعد آیا ہے اور تمام ملل اور ادیان کے لئے ناسخ بن کر آیا ہے اور یہ دین آخری دین ہے۔ قیامت تک یہی دین رہے گا۔ یہ آیت نبوت تشریعہ کے اختتام کی صریح دلیل ہے اور مرزاقادیانی کا دعویٰ بھی نبوت تشریعہ کا ہے۔ جیسا کہ ان کی کتابوں سے صاف ظاہر ہے۔

دلیل ہفتم

’’قال تعالٰی: اولم یکن لہم آیۃ ان یعلمہ علماء بنی اسرائیل‘‘ کیا لوگوں کے لئے یہ کھلی ہوئی نشانی نہیں کہ اس کتاب اور اس نبی کو علماء بنی اسرائیل خوب جانتے ہیں، کہ یہ وہی کتاب اور وہی پیغمبر ہیں کہ جس کی پہلے سے آسمانی صحیفوں میں خبر دی جاچکی ہے۔ اہل علم اور اہل فہم کے لئے صداقت اور حقانیت کی یہ بہت بڑی دلیل ہے کہ دوسرے مذاہب کے علماء بھی اس کی حقانیت کا اقرار اور اعتراف کریں۔ چنانچہ بعض تو اپنی خصوصی مجلسوں میں اس کا اقرار کرتے تھے۔ مگر دنیاوی مصالح کی بناء پر حق کو قبول نہیں کرتے تھے اور بعضوں نے اعلانیہ اس کا اقرار کیا اور مشرف باسلام ہوئے۔ اس لئے کہ آپa کی تشریف آوری کی بشارات اور آپa کی صفات اور سمات کتب سماویہ میں مذکور تھیں اور اب بھی باوجود کاٹ تراش کے بہت کچھ باقی ہے۔

64

’’کما قال تعالٰی: الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورتہ والانجیل۔ وقال تعالٰی الذین اتینہم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ہم وان فریقا لیکتمون الحق وہم یعلمون۔ الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘‘ {وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے کہ جس کو پاتے ہیں۔ لکھا ہوا اپنے پاس توریت اور انجیل میں۔ جن کو ہم نے دی ہے کتاب پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو اور بے شک ایک فرقہ ان میں سے البتہ چھپاتے ہیں حق کو جان کر۔ حق وہی ہے جو تیرا رب کہے۔ پھر تو نہ ہو شک لانے والا۔}

آمدم برسرمقصد

اب ہم روایات سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ توریت اور انجیل اور تمام صحف سماویہ میں آپa کا خاتم النّبیین ہونا لکھا ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تمام علماء بنی اسرائیل صرف نبی آخرالزمانa کے منتظر تھے۔ چونکہ توریت اور انجیل محرف ہوچکی ہے اور ابھی سلسلہ تحریف کا جاری ہے۔ اس لئے ہم نے اس باب میں زیادہ تراحادیث نبویہ اور آثار صحابہi وتابعینw پر اعتماد کیا ہے۔

مسئلہ ختم نبوت پر توریت، انجیل اور علماء بنی اسرائیل کی شہادتیں اور بشارتیں

پہلی شہادت

’’عن الشعبی قال فی مجلۃ ابراہیمm انہ کائن من ولدک شعوب حتی یاتی النبی الامی الذی یکون خاتم الانبیاء (طبقات ابن سعد ج۱ ص۱۰۷)‘‘ {امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیمm کے صحیفہ میں ہے کہ اے ابراہیم تیری اولاد میں بہت سے گروہ ہوں گے۔ یہاں تک وہ نبی امی ظاہر ہو کہ جو خاتم الانبیاء یعنی آخری نبی ہوگا۔} (طبقات ابن سعد)

دوسری شہادت

’’عن محمد بن کعب القرظی قال اوحی اللہ الٰی یعقوب انی
65

ابعث من ذریتک ملوکا وانبیاء حتی ابعث النبی الامیی الذی تبنی امتہ ہیکل بیت المقدس وہو خاتم الانبیاء واسمہ احمد (طبقات ابن سعد ج۱ ص۱۰۷)‘‘ {محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوبm پر وحی بھیجی کہ میں تیری اولاد میں سے بہت سے بادشاہ اور بہت سے نبی بھیجوں گا۔ حتیٰ کہ نبی امی کو بھیجوں گا یعنی اسی کو جس کی امت بیت المقدس کا ہیکل بنائے گی اور وہ نبی خاتم الانبیاء ہوگا اور نام اس کا احمد ہوگا۔}

تیسری شہادت

حضرت عائشہ صدیقہt روایت کرتی ہیں کہ مکہ میں ایک یہودی رہتا تھا کہ جو تجارتی کاروبار کیا کرتا تھا۔ جس رات آپa تولد ہوئے تو وہ یہودی قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ یکایک قریش سے پوچھنے لگا کہ کیا اس رات تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے؟ قریش نے کہا ہم کو علم نہیں۔ یہودی نے کہا: ’’انظروا یا معشر قریش واحصوا ما اقول لکم ولد الیلۃ نبی ہذہ الامۃ احمد الاخربہ شامۃ بین کتفیہ‘‘ {اے گروہ قریش! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس کی تحقیق وتفتیش کرو۔ اس رات اس امت کا نبی پیدا ہوا ہے احمدa اس کا نام ہے۔ آخری نبی ہے مہر نبوت اس کے دونوں شانوں کے درمیان میں ہے۔}

لوگ یہ سن کر مجلس سے اٹھے تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ اس رات عبد اللہ بن عبدالمطلب کے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔ یہودی کو آکر خبر دی۔ یہودی نے کہا مجھ کوابھی لے چلو اور اس مولود کو دکھلاؤ۔ قریش کے لوگ اس کو لے گئے اور جاکر اس مولود کو دکھلایا۔ یہودی جب آپa کی پشت پر مہر نبوت دیکھی تو بیہوش ہوکر گر پڑا اور بہت حسرت سے کہا کہ اب نبوت اور کتاب بنی اسرائیل سے چلی گئی اور اہل عرب نبوت سے فائز اور کامیاب ہوئے۔(طبقات ابن سعد ج۱ ص۱۰۶)

چوتھی شہادت

پچیس سال کی عمر میں جب حضور پرنورa خدیجتہ الکبریٰ کا مال تجارت لے کر میسرہq غلام کی معیت میں شام گئے اور سطورا راہب سے ملاقات ہوئی تو سطورہ راہب

66

نے آپa کا حلیہ مبارک بہت غور سے دیکھا اور دیکھ کر یہ کہا:’’ہو ہو آخر الانبیاء الی آخر القصۃ‘‘ یہ شخص یہی شخص آخری نبی ہے۔ (طبقات ابن سعد ج۱ ص۱۰۱)

پانچویں شہادت

عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زید بن عمرو بن نفیلq کو یہ کہتے سنا کہ میں ایک نبی کا منتظر ہوں کہ جو بنی اسماعیل اور پھر بنی عبدالمطلب میں سے ہوگا۔ مجھے امید نہیں کہ میں اس نبی کو پاؤں۔ میں اس نبی پر ایمان رکھتا ہوں اور اس کی تصدیق کرتا ہوں اور شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی برحق ہیں۔ اے عامر! اگر تو اس نبی کو پائے تو میرا سلام پہنچانا۔

’’وساخبرک مانعتہ حتی لا یخفی علیک قلت ہلم قال ہورجل لیس بالطویل ولا بالقصیر ولا بکثیر الشعر ولا بقلیلہ ولیس تفارق عینیہ حمرۃ وخاتم النبوۃ بین کفیہ واسمہ احمد وہذا البلد مولدہ ومبعثہ ثم یخرجہ قومہ منہا ویکرہون ماجاء بہ حتی یہاجر الٰی یثرب فیظہرہ امرہ فایاک ان تخدع عنہ فانی طفت البلاد کلہا اطلب دین ابراہیم فکل من اسئل من الیہود والنصاری والمجوس یقولون ہذا الدین وراء ک وینعتونہ مثل مانعتہ لک ویقولون لم یبق نبی غیرہ (طبقات ابن سعد ج۱ ص۱۰۵)‘‘ {اور میں تجھ کو اس نبی کے حلیہ سے ایسی خبردوں گا کہ تجھ کو کوئی اشتباہ نہ رہے گا۔ میں نے کہا ضرور بتلائیے۔ زید نے کہا نہ وہ طویل القامت ہوں گے نہ قصیر القامت میانہ قد ہوں گے اور بال بھی ان کے زیادہ نہ ہوں گے۔ سرخی ان کی آنکھوں سے جدا نہ ہوگی۔ مہرنبوت دونوں شانوں کے درمیان ہوگی۔ نام ان کا احمد ہوگاا ور یہ شہر (یعنی مکہ) ان کی جائے ولادت اور مقام بعثت ہے اور پھر ان کی قوم ان کو مکہ سے نکالے گی اور اس نبی کے دین کو ناپسند کرے گی۔ یہاں تک کہ وہ نبی یثرب یعنی مدینہ کی جانب ہجرت کرے گا اور وہاں جاکر اس کو غلبہ حاصل ہو گا۔ پس تو اس نبی کے بارہ میں دھوکہ نہ کھانا۔ میں نے دین ابراہیمی کی تلاش میں تمام شہروں کو چھان مارا۔ یہود اور نصاریٰ اور مجوس جس سے بھی پوچھا سب نے یہی کہا کہ وہ دین آگے آنے والا ہے اور سب نے اس نبی کے وہی اوصاف بیان کئے جو میں نے تجھ سے بیان کئے اور سب کے سب یہی کہتے تھے کہ اب اس نبی کے سوا کوئی نبی باقی نہ رہا۔}

67

حضرت عامرq کہتے ہیں کہ میں مشرف باسلام ہوا تو آپa کے سامنے زید کا قول نقل کیا اور زید کا سلام پہنچایا۔ حضورa نے زید کے سلام کا جواب دیا اور ان کے حق میں دعا رحمت فرمائی اور یہ فرمایا کہ میں نے زید کو جنت میں دامن کھینچتے ہوئے دیکھا۔

چھٹی شہادت

تبعہ شاہ یمن نے ایک مرتبہ بلاد عرب کا دورہ کیا۔ جب مدینہ منورہ پر گزر ہوا تو کسی وجہ سے مدینہ کے باشندوں کے قتل کا حکم دیا۔ وہ یہودی عالم بادشاہ کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے بادشاہ کو منع کیا اور یہ کہا: ’’فانہا مہاجر نبی یکون فی آخرالزمان‘‘ {یہ شہر اس نبی کا دارالہجرۃ ہے جو اخیرزمانہ میں ہوگا۔}

بادشاہ نے اپناارادہ ترک کیا اور واپس ہوا۔ جب مکہ مکرمہ پر گزر ہوا تو خانہ کعبہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کیا۔ انہیں دو عالموں نے بادشاہ کو پھر منع کیا اور کہا یہ گھر ابراہیم خلیل اللہ کا بنایا ہوا ہے۔

’’وانہ سیکون لہ شان عظیم علی یدی ذالک النبی المبعوث فی آخرالزمان‘‘ {اور اس خانہ کعبہ کی آئندہ زمانہ میں ایک عجیب شان ہوگی کہ جو اس نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوگی جو اخیرزمانہ میں مبعوث ہوگا۔}

بادشاہ نے خانہ کعبہ کا احترام کیا اور اس کا طواف کیا اور غلاف چڑھایا اور یمن کو واپس ہوا۔ حافظ ابن کثیرv فرماتے ہیں کہ ابن عساکر نے اس قصہ کو متعدد طرق کے ساتھ ابی بن کعب اور عبد اللہ بن سلام اور عبد اللہ بن عباس اور کعب احبار اور وہب بن منبہ(i) سے روایت کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج۹ ص۱۶۴)

ساتویں شہادت

معجم طبرانی میں جبیر بن مطعمq سے مروی ہے کہ میں تجارت کے لئے شام گیا۔ وہاں مجھ کو ایک شخص ملا جو اہل کتاب میں سے تھا۔ مجھ سے کہاکہ کیا تمہارے بلاد میں کوئی نبی ظاہرہوا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں! اس نے کہا کہ تم اس شخص کی صورت بھی پہچانتے ہو؟ میں نے کہا ہاں پہچانتا ہوں۔ وہ شخص مجھ کو اپنے گھر لے گیا۔

68

’’فساعۃ مادخل فنظرت الی صورۃ النبیa واذا رجل آخذ بعقب النبیa قلت من ہذا الرجل القابس علی عقبہ قال انہ لم یکن نبی الاکان بعدہ نبی الا ہذا النبی فانہ لا نبی بعدہ وہذا الخلیفۃ بعدہ واذا صفۃ ابی بکرq (تفسیر ابن کثیر ج۴ ص۲۵۱)‘‘ {داخل ہوتے ہی نبی کریمa کی تصویر پر نظر پڑی اور ایک آدمی کی تصویر دیکھی کہ جو نبی کریمa کی ایڑی پکڑے ہوئے ہے میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کہ جو آپ کی ایڑی پکڑے ہوئے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس سے پیشتر کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ اس کے بعد نبی نہ ہوا ہو۔ مگر یہ نبی کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ شخض کہ جو ان کی ایڑی پکڑے ہوئے ہے وہ ان کے بعد خلیفہ ہوگا۔ غور سے دیکھا تو ابوبکرq کی تصویر تھی۔}

آٹھویں شہادت

ہر قل شاہ روم کے نام آنحضرتa نے دعوت اسلام کا والا نامہ بھیجا جس کا مفصل قصہ صحیحین میں مذکور ہے اور عوام اور خواص میں مشہور ہے۔ اسی قصہ میں ایک روایت یہ ہے کہ ہر قل شاہ روم نے رات کے وقت صحابہi کے وفد کو بلایا اور ایک سونے کا صندوقچہ نکالا۔ جس پر قفل بھی سونے ہی کا تھا۔ اس صندوقچہ میں بہت سے خانے تھے جن میں ریشمی پارچوں پر تصویریں تھیں۔ بادشاہ نے وہ تصویریں دکھلائیں اور اخیر میں آنحضرتa کی تصویر دکھلائی۔ ہم نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ محمد رسول اللہ a کی تصویر ہے۔

’’فذکر انہاصور الانبیاء وانہ خاتمa (فتح الباری ج۱ ص۱۸۴)‘‘ {اس پر بادشاہ نے کہا کہ یہ انبیاءB کی تصویریں ہیں اور یہ آخری تصویر خاتم الانبیاءk کی ہے۔}

حافظ عسقلانی ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ’’اعتماد ہرقل فی ذلک کان علی مااطلع علیہ من الاسراسئلات وعلی طافتحہ بان النبی الذی یخرج فی آخرالزمان من ولد اسمعیل… الخ! (فتح الباری ج۱ ص۱۸۴)‘‘ {ہرقل کا اعتماد آپa کی نبوت کے بارے میں اسرائیلی روایتوں پر تھا اور تمام اسرائیلی روایتیں اس پر متفق ہیں کہ وہ نبی جو آخیر زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ حضرت اسماعیلm کی اولاد

69

سے ہوگا۔}

حدیث ہرقل میں یہ بھی ہے کہ ہرقل نے علماء روم کو محل میں جمع کر کے یہ خطاب کیا: ’’یامعشر الروم ہل لکم فی الفلاح والرشد آخر الابدوان یثبت لکم ملککم (الحدیث)‘‘ {اے گروہ روم کیا تم اس کو پسند کرتے ہو کہ تم کو دائمی اور ابدی فلاح اور رشد حاصل ہو جائے اور تمہاری سلطنت باقی رہے۔}

حافظ عسقلانی اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں:’’لانہ عرف من الکتاب ان لا امۃ بعد ہذہ الامۃ ولا دین بعد دینہا وان من دخل فیہ من علی نفسہ فقال لہم ذلک (فتح الباری ج۸ ص۱۶۸)‘‘ {بادشاہ نے یہ بات اس بناء پر کہی کہ بادشاہ کو کتب سابقہ اور صحف سماویہ سے یہ بات بخوبی معلوم ہوچکی تھی کہ اس امت کے بعد کوئی امت نہیں اور اس دین کے بعد کوئی دین نہیں۔ یعنی یہ آخری امت اور آخری دین ہے جو اس دین میں داخل ہوا وہ مامون ہوگیا۔ اس بناء پر ان کو دین محمدیa میں داخل ہونے کا مشورہ دیا۔}

اور یہی واقعہ نہایت تفصیل کے ساتھ مستدرک حاکم اور دلائل نبوت بیہقی میں مذکور ہے جس کو حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں ذکر کر کے فرماتے ہیں: ’’واساندہ لاباس بہ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۴ ص۱۴۹، سورۂ اعراف)

نویں شہادت

سعد بن ثابت سے مروی ہے کہ یہود بنی قریظہ اور یہود بنی نضیر کے علماء نبی کریمk کے جب صفات بیان کرتے تو یہ کہا کرتے تھے۔ ’’انہ نبی وانہ لا نبی بعدہ واسمہ احمد (خصائص کبریٰ للسیوطی ج۱ ص۳۷)‘‘ {بلاشبہ یہ نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور توریت اور انجیل میں ان کا نام احمد ہے۔}

دسویں شہادت

زیادq بن لبید راوی ہیں کہ ہم مدینہ کے ایک ٹیلہ پر تھے کہ یکایک یہ آواز سنادی:’’یااہل یثرب قد ذہبت و اللہ نبوۃ بنی اسرائیل ہذا نجم قد طلع

70

بمولد احمد وہو آخرالانبیاء ومہاجرہ الے یثرب (خصائص کبریٰ ج۱ ص۲۷)‘‘ {اے اہل یثرب خدا کی قسم بنی اسرائیل سے نبوت رخصت ہوئی۔ یہ ستارہ ہے کہ جو احمدa کی ولادت کی وجہ سے طلوع ہوا ہے اور وہ نبی ہیں اور آخری نبی ہیں ان کا دار ہجرت یثرب یعنی مدینہ ہو گا۔} (فتلک عشرۃ کاملۃ)

دلیل ہشتم

’’قال اللہ عزوجل: سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الٰی المسجد الاقصٰی۔ وقال تعالٰی: ثم دنی فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی۔ فاوحی اللہ عبدہ ما اوحی۔ ماکذب الفواد مارای۔ افتمرونہ علی مایری (الآیات)‘‘

ان آیات مبارکہ میں حق جل شانہ نے اجمالاً واقعہ اسراء اور معراج کو ذکر فرمایا ہے جس سے مقصود حضور پرنورa کی فضیلت اور سیادت کو ظاہر کرنا ہے کہ فرش سے لے کر عرش تک معراج سوائے سید الاولین والآخرین اور خاتم الانبیاء والمرسلین کے کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں۔ واقعہ کی تفصیل کتب حدیث اور کتب سیر میں مذکور ہے۔ اس وقت ہم واقعہ اسراء کی چند روایتیں ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے حضور پرنورa کا خاتم النّبیین ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

پہلی روایت

انس بن مالکq سے روایت ہے کہ جب نبی کریمk براق پر سوار ہوکر جبرائیل آمینm کے ہمراہ روانہ ہوئے تو آپa کا ایک جماعت پر گزر ہوا، جنہوں نے آپa کو ان الفاظ سے سلام کیا۔ ’’السلام علیک یا اوّل، السلام علیک یا اخر، السلام علیک یا حاشر‘‘ جبرائیلm نے کہا کہ ان کے سلام کا جواب دیجئے اور اس کے بعد بتلایا کہ جن لوگوں نے آپ کو سلام کیا تھا یہ حضرت ابراہیمm اور حضرت موسیٰm اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ (رواہ البیہقی فی الدلائل تفسیر ابن کثیر ج۶ ص۸، سورۂ اسراء، زرقانی شرح مواہب ج۶ ص۴۰)

71

دوسری روایت

حضورa جب مسجد اقصیٰ پہنچے تو انتظار میں حضرات انبیاء کرامo موجود تھے اور ایک گروہ عظیم فرشتوں کا بھی تھا ایک موذن نے اذان دی اور پھر اقامت کہی گئی اور جبرائیلm کے اشارہ سے نبی اکرمa نے انبیاء کرامo اور ملائکہ کی امامت کرائی۔ جب نماز پوری ہوگئی تو فرشتوں نے جبرائیلm سے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو جبرائیلm نے یہ جواب دیا:’’ہذا محمد رسول اللہ خاتم النّبیین‘‘{یہ محمد رسول اللہ خاتم النّبیین ہیں۔}

فوائد

۱… حضورa کا تمام انبیاء کرام کی امامت فرمانا یہ آپa کے سید الاولین والآخرین ہونے کی صریح دلیل ہے۔ بلکہ مقصد ہی امامت سے یہ تھا کہ تمام انبیاء پر حضورa کی سیادت اور افضلیت ظاہر ہو۔

۲… ختم جماعت کے بعد فرشتوں کا سوال کرنا اور جبرائیل امین کا یہ جواب دینا کہ ہذا محمد رسول اللہ خاتم النّبیین اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرات انبیاء کرام اور ملائکہ عظام کی محفل نور التیام میں حضورa کی ختم نبوت کا اعلان ہوجائے۔

۳… حضرات انبیاء اور ملائکہ کرام نے حضورa کی اقتداء کی اور حضورa کے پیچھے نماز پڑھی۔ ظاہر یہی ہے کہ کسی نے آپa کے پیچھے کوئی حرف فاتحہ وغیرہ کا نہیں پڑھا۔ سب نے نہایت خاموشی کے ساتھ حضورa کی قرأت کو سنا۔ اسی وجہ سے امام ابوحنیفہv فرماتے ہیں کہ قرأت خلف الامام جائز نہیں بلکہ درحقیقت خلاف ادب ہے۔

  1. عجب ست کہ بو جودت وجود من بماند

    تو بگفتن اندر آئی مارا سخن بماند

تیسری روایت

عبد اللہ بن مسعودq سے مروی ہے کہ جب نبی اکرمa ساتویں آسمان پر ابراہیمm سے ملے تو حضرت ابراہیمm نے فرمایا: ’’یا بنی انک لاق ربک اللیلۃ وان امتک آخرالامم واضعفہا فان استطعت ان تکون حاجتک

72

کلہا واجلہا فی امتک فافعل آخرجہ ابن عرفۃ فی جزء وابونعیم وابن عساکر (خصائص کبریٰ ج۱ ص۱۶۲، تفسیر ابن کثیر ج۶ ص۲۸، سورۂ اسراء اور عبد اللہ بن مسعود کی یہ حدیث وان امتک، آخرالامم تک فتح الباری ج۷ ص۱۶۹)‘‘ {اے بیٹے آج کی رات تم اپنے پروردگار سے ملو گے اور تیری امت سب سے آخری امت ہے اور سب سے زیادہ کمزور اور ضعیف ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اپنی امت کی سہولت کے لئے کوشش کرنا۔}

چوتھی روایت

ابوہریرۃq سے معراج کی طویل حدیث میں مروی ہے کہ جب حق جل وعلا نے نبی اکرمa کو اپنے قرب اور مکالمہ سے سرفراز فرمایا تو اس میں یہ ارشاد فرمایا: ’’وجعلت امتک ہم الاولین والآخرین وجعلت من امتک اقواما قلوبہم انا جیلہم وجعلتک اوّل النّبیین خلقا وآخرہم بعثا وجعلتک فاتحا وخاتما (خصائص کبریٰ ج۱ ص۱۷۴، ابن کثیر ج۱ ص۳۴، سورۂ اسراء)‘‘ {اور میں نے تیری امت کو اوّل امم اور آخر امم بنایا۔ یعنی فضیلت اور مرتبہ کے اعتبار سے اوّل اور ظہور کے اعتبار سے آخری امت اور تیری امت میں ایک قوم ایسی بنائی کہ جن کے دل انجیل ہوں گے۔ یعنی حفاظ قرآن اور تم کو نورانی اور روحانی اعتبار سے پہلا نبی اور بعثت کے اعتبار سے آخری نبی بنایا اور تم کو ہی دورۂ نبوت کا فاتح اور خاتم بنایا۔}

پانچویں روایت

متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورa سدرۃ المنتہیٰ کے بعد عرش تک پہنچے اور قرب خاص اور مکالمہ خداوندی سے مشرف ہوئے۔ شیخ اکبرv فرماتے ہیں کہ عرش کائنات کا آخری مقام ہے۔ آخری نبی کو آخری مقام تک سیر کرائی تاکہ ان کا آخری نبی ہونا خوب واضح اور آشکارا ہو جائے۔

دلیل نہم

’’قال اللہ عزوجل، عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘
73

{عنقریب تیرا پروردگار تجھ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔}

احادیث متواترہ اور جمہور اور صحابہi اور تابعینw کے اقوال اس پر متفق ہیں کہ مقام محمود سے مقام شفاعت مراد ہے اور احادیث متواترہ سے یہ امرروز روشن کی طرح واضح ہے کہ قیامت کے دن شفاعت کی درخواست کا سلسلہ حضرت آدمm سے شروع ہوگا اور خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ a پر منتہی اور مختتم ہوگا۔ شفاعت کی طویل حدیث میں سلمان فارسیq سے مروی ہے کہ اوّلین اور آخرین جب شفاعت کے لئے حضورa کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو یہ عرض کریں گے:’’انت الذی فتح اللہ بک وختم وغفرلک ما تقدم وما تاخر (رواہ ابن ابی شیبۃ فتح الباری ج۱۱ ص۳۷۸)‘‘ {آپ ہی ہیں وہ کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے نبوت کو شروع کیا اور آپa پر نبوت کو ختم کیا اور اگلی پچھلی بھول چوک سب معاف کی۔ لہٰذا اب آپ ہماری شفاعت کیجئے۔ کیونکہ جب آپa کی لغزشیں سب معاف ہوچکی ہیں تو پھر شفاعت سے عذر کے لئے کوئی تصور ہی نہیں جس کی بناء پر عذر فرمائیں۔}

اور مسند احمد اور ابویعلی کی روایت میں ہے کہ جب اہل حشر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں شفاعت کی درخواست لے کر حاضر ہوں گے تو عیسیٰ علیہ السلام جواب میں یہ فرمائیں گے: ’’ان محمداً رسول اللہ خاتم النّبیین قد حضر الیوم وقد غفر اللہ ماتقدم من دنبہ وما تاخر (کذافی البد وراالسافرہ الحافظ السیوطی ص۶۸)‘‘ {خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ a آج تشریف فرما ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اگلی پچھلی لغزش سب معاف کردی ہیں۔ لہٰذا ان کے پاس جاؤ۔}

اور ایک حدیث میں ہے کہ اہل حشر حضورa کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ کہیں گے۔ ’’یا محمدa انت رسول اللہ وخاتم الانبیاء وغفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وماتاخر اشفع لنا الٰی ربک (مسلم ج۱ ص۱۱۱، بخاری)‘‘ {اے محمدa آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی اور پچھلی تمام لغزشیں معاف کی ہیں جب اللہ نے آپ کو یہ مرتبہ عطاء کیا ہے تو ہمارے لئے شفاعت فرمائیے۔}

74

مقام محمود کی وجہ تسمیہ

اس قام کو مقام محمود اس لئے کہتے ہیں کہ اوّلین اور آخرین سب اس روز آپa کی حمد وثناء کریں گے۔ یا وجہ یہ ہے کہ اس روز حضور سجدہ میں گریں گے اور سجدہ میں اللہ تعالیٰ کی عجیب وغریب حمد وثناء کریں گے جس کا اسی وقت منجانب اللہ الہام اور القا ہوگا اور حکم ہوگا کہ سجدہ سے سراٹھاؤ جو مانگو گے وہی عطاء ہوگا اور ’’ولسوف یعطیک ربک فترضی‘‘ میں اسی طرف اشارہ ہے۔

ہر اذان کے بعد حضورa کے لئے مقام محمود کی دعا

احادیث میں ہے کہ ہر اذان کے بعد یہ دعا مانگا کرو۔ ’’وابعثہ مقاما محمودا الذی وعدتہ انک لا تخلف المیعاد‘‘ اے اللہ تو ہمارے نبیa کو مقام محمود عطاء فرما جس کو تو نے وعدہ فرمایا ہے۔ یعنی وہ دن دکھلا جس میں آپa کی سیادت اور افضلیت اور آپa کی خاتمیت اور ختم نبوت روزروشن کی طرح واضح ہو گی اور تمام اوّلین اور آخرین آپa کی ختم نبوت کا اقرار کریں گے۔ یاد رہے کہ اس وقت اقرار کرنے والوں میں مرزائی اور قادیانی بھی ہوں گے۔ مگر اس وقت کا اقرار مفید نجات نہیں اور یہ بھی خیال رہے کہ اگر اس وقت کسی مسلمان کی نظر کسی قادیانی پر پڑ جائے اور اس سے یہ کہے کہ تم آج کس منہ سے’’انت رسول اللہ خاتم النّبیین‘‘ کہہ کر شفاعت کی درخواست کرتے ہو۔ تم تو ختم نبوت کے قائل نہ تھے۔ مرزاقادیانی کو ڈھونڈھ لو جو تمہارے نزدیک ہر شان میں تمام انبیاء سے بڑھے ہوئے ہیں تو قادیانی صاحب اس کا جواب سوچ لیں؟

دلیل دہم

’’قال اللہ عزوجل، یثبت اللہ الذین اٰمنوا بالقول الثابت فی الحیٰوۃ الدنیا وفی الآخرۃ‘‘ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو محکم اور مضبوط قول پر دنیا کی زندگی میں بھی ثابت اور قائم رکھتا ہے اور آخرت کی زندگی میں بھی۔

احادیث سے ثابت ہے کہ یہ آیت سوال قبر کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی اہل

75

ایمان اللہ کی توفیق سے دنیا میں بھی اور قبر میں سوال نکیرین کے وقت بھی کلمہ حق پر قائم اور ثابت قدم رہتے ہیں۔

’’وعن تمیم الداریq فی حدیث طویل فی سوال القبر قیقول ای المیت الاسلام دینی ومحمد نبی وہو خاتم النبیین فیقولان لہ لصدقت رواہ ابن ابی الدنیا وابویعلی (تفسیر درمنثور ج۶ ص۱۶۵)‘‘ {تمیم داریq سے ایک طویل حدیث ذیل میں مروی ہے کہ مردہ نکیرین کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ اسلام میرا دین ہے اور محمدa میرے نبی ہیں اور وہ خاتم النّبیین ہیں۔ نکیرین کہتے ہیں تو نے سچ کہا۔}

معلوم ہوا کہ حضورa کی ختم نبوت کا اقرار بھی قول ثابت میں داخل ہے۔ لہٰذا اس آیت سے ختم نبوت پر استدلال صحیح ہے۔

فتلک عشرۃ کاملۃ

الحمدﷲ! کہ ختم نبوت کی یہ دس دلیلیں ختم ہوئیں۔ یہ دس دلیلیں فقط دس دلیلیں نہیں بلکہ دلائل کی دس قسمیں ہیں اور ہر قسم کے تحت اس کے افراد اور جزئیات ہیں۔ انواع اور اقسام کے تعین سے انضباط میں سہولت ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس ناچیز نے یہ طریقہ اختیار کیا۔

اب اس رسالہ کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس رسالہ کو اہل ہدایت کے لئے موجب استقامت اور اہل ضلالت کے لئے موجب ہدایت بنائے اور اس آوارہ اور ناکارہ کے حق میں موجب شفاعت بنائے۔

آمین یا رب العلمین

ض … ض … ض

76

 

 

شرائط نبوت

 

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

 

 

77

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی والصلٰوۃ والسلام علٰی سید الاصفیاء وخاتم الانبیاء وعلٰی اٰلہ واصحابہ البررۃ الاتقیاء عد انفاس الخلائق اجمعین علینا معہم یا ارحم الراحمین۔ اما بعد!

سلاطین عالم کا یہ طریق رہا ہے کہ ہرکس وناکس کو اپنا وزیر اور سفیر نہیں بناتے۔ وزارت اور سفارت کے لئے ایسے شخص کو منتخب کرتے ہیں جو عقل اور فہم میں یگانہ روزگار ہو۔ بادشاہ اور اس کی حکومت کا وفادار اور اطاعت شعار ہو۔ صادق اور راست باز ہو۔ امانتدار اور دیانتدار ہو۔ جھوٹا اور مکار نہ ہو۔ زیرک اور دانا ہو کہ احکام شاہی کے سمجھنے میں غلطی نہ کرتا ہو۔ وغیرہ وغیرہ! جب تک اس قسم کے اوصاف فاضلہ اور صفات کاملہ نہ ہوں گی اس وقت تک اس کو منصب وزارت وسفارت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔

جب شاہان دنیا کی مجازی اور فانی حکومت کی وزارت اور سفارت کے لئے یہ شرائط ہیں تو اس احکم الحاکمین اور شہنشاہ حقیقی کی نبوت اور خلافت کے لئے اس سے ہزارہا درجہ بڑھ کر شرائط ہوں گی۔ حافظ تور بشتیv ’’المعتمد فی المعتقد‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’انبیاء کرام ہمیشہ فرمان الٰہی کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا نفس اطاعت خداوندی میں ہمیشہ ان کا تابع اور مطیع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بزرگ حضرات خداتعالیٰ کی معصیت سے معصوم ہوتے ہیں۔ اگر انبیاء معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی بے چون وچرا اطاعت ومتابعت کا حکم نہ دیتا۔ انبیاء کی عقل دوسرے لوگوں کی عقل سے ارفع اور اکمل ہوتی ہے۔ ان کے ادر اکات دوسروں کے ادراکات سے بہت زیادہ سریع اور تیز ہوتے ہیں۔ خطا اور غلطی سے محفوظ اور مامون ہوتے ہیں۔ ان کی رائے دوسروں کی رائے سے زیادہ تیز اور قوی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علوم وحی کو جس طرح انبیاء سمجھتے ہیں۔ دوسروں سے ممکن نہیں۔ ان کا حافظہ سب سے قوی ہوتا ہے اور فصاحت اور بلاغت اور تاثیر سخن میں بھی انبیاء تمام ابناء عصر پر غالب رہتے ہیں۔ ان کی ظاہری اور باطنی قویٰ سب سے زیادہ قوی ہوتی ہیں۔ ان کا خلق نہایت نیک اور ان کی صورت بڑی وجیہ اور ان کی آواز نہایت عمدہ اور خوش اور غایت درجہ مؤثر ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ انبیاء جس طرح سیرت اور معنی کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اسی طرح صورت اور ظاہر میں بھی خوب تر اور پسندیدہ تر ہوتے ہیں۔‘‘ انتہی!(مترجما من الفارسیۃ بالہندیۃ)

78

اس زمانہ میں لوگوں نے نبوت اور رسالت کو ایک کھیل بنالیا ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے نبوت کا دعویٰ کردیتا ہے۔ وحی اور الہام کے اشتہار شائع کرنے شروع کر دیتا ہے۔ اس لئے ہم مختصر طور پر نبوت کے کچھ شرائط ذکر کرتے ہیں جو عین عقل سلیم کے مطابق ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ کسی عقل والے کو ان کے قبول کرنے میں تردد نہ ہوگا اور جو لوگ مرزاغلام احمد قادیانی کے دام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ ! ان پر مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت کی حقیقت خوب واضح ہو جائے گی کہ وہ صادق تھا یا کاذب۔ ’’فاقول وب اللہ التوفیق وبیدہ اذمۃ التحقیق ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا ب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

شرط اوّل

عقل کامل

نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ کامل العقل بلکہ اکمل العقل ہو۔ نبی کے لئے عقل کامل کی ضرورت اس لئے ہے کہ نبی وحی الٰہی کے سمجھنے میں غلطی نہ کرے۔ نیز جب تک عقل کامل نہ ہو، اس پر اطمینان نہیں ہوسکتا۔ نبوت غباوت کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوسکتی۔ غبی کا نبی ہونا عقلاً محال ہے۔ ایک عاقل اور دانا کو غبی اور ناقص العقل پر ایمان لانے کاحکم دینا سراسر خلاف عقل ہے۔ غبی اور ناقص العقل تو اپنا بھی ہادی اور راہنما نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ وہ عقلاء اور اذکیاء کی ہدایت کے لئے مبعوث ہو۔ بچے اور عورتیں چونکہ ناقص العقل ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ بغیر ولی اور سرپرست کے اپنے مال میں بھی تصرف کرنے کے مجاز نہیں۔ حتیٰ کہ ناقص العقل کو بغیر ولی کے نکاح کرنے کی بھی اجازت نہیں اور عقلاً یہ بھی محال ہے کہ کسی غبی اور ناقص العقل شخص کو فقط غبی اور ناقص العقل لوگوں کی طرف نبی بناکر بھیجا جائے۔ اس لئے کہ نبی اور امت جب دونوں ہی ناقص العقل ہوں گے تو پھر وہ دین عجیب حماقتوں کا مجموعہ ہوگا اور ایسے احمقانہ دین سے کسی صلاح وفلاح کی توفیق تو درکنار، خرابی ہی میں اضافہ ہوگا۔

بلکہ نبی کے لئے فقط کامل العقل ہونا کافی نہیں بلکہ اکمل العقل ہونا ضروری ہے۔ یعنی عقل اور فہم میں اس درجہ بلند ہو کہ اس زمانہ میں کوئی اس کی نظیر نہ ہو۔ اس لئے کہ یہ ناممکن

79

ہے کہ کسی امتی کی عقل کسی نبی کی عقل سے بڑھ کر ہو۔ نبوت کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نبی اپنی تمام امت سے عقل، اور دانائی میں بالااور برتر ہو۔ کسی بڑے سے بڑے عاقل کی عقل اس کے ہم پلہ اور پاسنگ نہ ہو۔

دوسری شرط

حفظ کامل

نبوت کی دوسری شرط یہ ہے کہ اس کا حافظہ فقط صحیح اور درست ہی نہ ہو، بلکہ کامل الحفظ اور بلکہ اکمل الحفظ ہو۔ معاذ اللہ ! اگر نبی کا حافظہ خراب ہو تو اس کو اللہ کی وحی بھی پوری یاد نہ رہے گی۔ بسا اوقات ایک لفظ کی کمی سے بھی حکم میں زمین وآسمان کا فرق ہو جاتا ہے اور جب نبی کا حافظہ خراب ہونے کی وجہ سے بندوں تک اللہ کی وحی، اور اس کا حکم پورا پورا نہ پہنچے گا تو وہ بجائے ہدایت کے گمراہی کا سبب ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے کہ جب ابتداء بعثت میں جبرائیل امین آنحضرتa کے پاس وحی لے کر نازل ہوتے تو حضورa جبرائیلm کے ساتھ ساتھ پڑھتے۔ مبادا کوئی لفظ قرآن کا بھول جاؤں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

’’لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔ ان علینا جمعہ وقرانہ۔ فاذا قراناہ فاتبع قرانہ۔ ثم ان علینا بیانۃ القیامۃ‘‘ {نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان شتاب، اس کو سیکھ لے۔ وہ تو ہمارا ذمہ ہے اس کو سمیٹ رکھنا اور پڑھنا۔ پھر جب ہم پڑھنے لگیں، تو ساتھ رہ اس کے پڑھنے کے۔}

اور دوسری جگہ ارشاد ہے:’’سنقرئک فلاتنسی۔ الّٰا ماشاء اللہ (سورۃ اعلٰی)‘‘ {ہم پڑھا دیں گے تجھ کو پھر تو نہ بھولے گا مگر جو چاہے اللہ ۔}

اب ہم خود مرزاقادیانی کے اقرار سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزاقادیانی کی نہ عقل درست تھی اور نہ حافظہ۔

اقرار مراق

مرزاقادیانی نے اپنی تحریرات اور اعلانات میں اپنے مراق اور مالیخولیا اور خرابی

80

حافظہ کا صاف اقرار کیا ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتa نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپa نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا، تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دوبیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘(ارشاد مرزاقادیانی مندرجہ رسالہ تشہیذ الاذہان قادیان ماہ جون۱۹۰۶ء، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)

’’مراق کا مرض حضرت مرزاصاحب میں موروثی نہ تھا بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔‘‘ (از رسالہ ریویو قادیان ص۱۰، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)

خرابی حافظہ کا اقرار

’’مکرمی اخویم سلمہ، میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔‘‘(خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ احاطہ ناگ پھنی، مکتوبات احمدیہ ج۵، نمبر۳ ص۲۱، مجموعہ مکتوبات مرزاقادیانی)

مرزائے قادیان میں عقل اور حافظہ دونوں کا فقدان

مرزاقادیانی میں نبوت کی یہ دونوں شرطیں مفقود تھیں۔ مرزاقادیانی کو اپنے مراق (مالیخولیا) اور خرابی حافظہ کا خود اقرار اور اعتراف ہے۔ مرزاقادیانی حافظ قرآن نہ تھے۔ مسلمانوں کے بچوں کے برابر بھی حافظہ نہ تھا۔ حالانکہ مرزاقادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میری بعثت (معاذ اللہ ) رسول اللہ a کی بعثت ثانیہ بلکہ اس سے بھی اکمل ہے۔(خطبہ الہامیہ ص۲۷۱،۲۷۲، خزائن ج۱۶ ص۲۷۱،۲۷۲ ملخص)

پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا معاذ اللہ رسول اللہ a کو بعثت ثانیہ میں قرآن یاد نہ رہا تھا، نیز مرزاقادیانی کے اختلافات اور متعارض اور متناقض اقوال مرزاقادیانی کی خرابی حافظہ کی دلیل ہیں۔ مرزاقادیانی کو یاد نہیں رہتا کہ پہلے کیا لکھ چکا ہوں اور ناسخ ومنسوخ کی تاویل مرزاقادیانی کی من گھڑت ہے۔ احکام میں تو کچھ چل سکتی ہے۔ لیکن واقعات اور خبروں میں نسخ جاری نہیں ہوتا۔ لہٰذا واقعات کے بیان میں مرزاقادیانی کی جو متعارض عبارتیں ہوں گی

81

ان میں سوائے خرابی حافظہ یا چالاکی کے اور کوئی تاویل نہیں ہوسکتی۔ چالاکی سے مراد یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے ہر مسئلہ میں دو دو اور تین تین اور چار چار مختلف اقوال ان کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ کچھ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق ہیں اور بہت کچھ اسلامی عقائد کے خلاف ہیں۔ تاکہ جیسا موقع ہو ویسی ہی عبارت مرزاقادیانی کی کتاب سے پیش کر دی جائے۔ جب مرزاقادیانی کا اسلام ثابت کرنا ہو تو مرزاقادیانی کی وہ عبارتیں دکھلا دی جائیں جو مسلمانوں کے اجتماعی عقائد کے مطابق دعویٰ نبوت سے پہلے لکھی ہیں اور جب اپنی مرزائیت اور نیا دین پیش کرنا ہو تو دعویٰ نبوت کے بعد کی عبارتیں دکھلادی جائیں۔ غرض یہ کہ مرزاقادیانی کے تھیلے میں سب کچھ ہے۔ ختم نبوت بھی اور دعویٰ نبوت بھی۔ حیات مسیح بھی ہے اور وفات مسیح بھی۔ نزول مسیح بھی ہے، اور نزول مسیح کا انکار بھی۔ مرزاقادیانی کے اختلافات اور متعارض اقوال پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جن کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے کسی شخص کے اقوال میں اتنا اختلاف نہیں، جتنا کہ مرزاقادیانی کے اقوال میں ہے۔

مرزاقادیانی کو یہود اور نصاریٰ اور مجوس اور

ہندوؤں کی بھی کتابیں یاد ہونی چاہیں

مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء (حقیقت الوحی حاشیہ ص۷۳، خزائن ج۲۲ ص۷۶) اور کافروں اور ہندوؤں کے اوتاروں کا بروز ہوں۔(لیکچر سیالکوٹ ص۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)

اس لئے مرزاقادیانی کو توریت اور انجیل اور زبور کے علاوہ چاروں وید وغیرہ بھی یاد ہونے چاہیں۔ حالانکہ مرزاقادیانی کو توریت اور انجیل اور زبور اور وید کا ایک ورق بھی یاد نہ تھا۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تیس آیتوں سے صراحۃً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ممات ثابت ہے۔ (ازالہ اوہام ص۵۹۸، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

لیکن سوال یہ ہے کہ

مرزاقادیانی دعویٰ نبوت سے پہلے اگرچہ نبی نہیں بنے تھے لیکن مجدد اور محدث اور ملہم من اللہ تو بن چکے تھے اور اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں حضرت مسیح بن مریمm کی

82

حیات اور دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا اعلان فرمارہے تھے۔ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

کیا اس وقت یہ تیس آیتیں مرزاقادیانی کی نظر سے مخفی ہوگئی تھیں؟ ظاہر یہ ہے کہ مرزاقادیانی مجدد بنیں یا نبی، قرآن کی تلاوت ضرور فرماتے ہوں گے اور صلوٰۃ الاوابین کی بیس رکعتوں اور تہجد کی آٹھ رکعتوں میں قرآن کریم کے کئی کئی پارے ضرور پڑھتے ہوں گے۔ جن میں وفات مسیح کی آیتیں بھی گزرتی ہوں گی تو پھر کیا وجہ ہے کہ باوجود مجدد اور ملہم من اللہ ہونے کے ان تیس آیتوں سے حضرت مسیح کی وفات کو نہیں سمجھتے۔ بلکہ اس کے برعکس اپنی الہامی کتاب میں حیات مسیح اور نزول مسیح کی اشاعت کر رہے ہیں۔ کم عقلی کی یہ انتہاء ہے کہ جو مسئلہ قرآن کریم کی تیس آیتوں میں صراحۃً مذکور ہو، وہ باوجود مجدد اور ملہم من اللہ ہونے کے بھی نہ سمجھ میں آوے اور اگر غبادت نہیں تو صراحۃً مکر ہے اور جس طرح غبی اور بدعقل نبی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح صاحب مکر شخص نیک بھی نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ نبی ہو جائے۔

نبوت کی تیسری شرط

علم کامل

نبوت کی تیسری شرط یہ ہے کہ نبی کا علم ایسا کامل اور مکمل ہو کہ امت کے حیطہ ادراک سے بالا اور برتر ہو۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تمام اوّلین اور آخرین سے علوم میں بڑھا ہوا ہوں۔ (ازالہ اوہام ص۷۰۳، خزائن ج۳ ص۴۷۹)

لیکن یہ دعویٰ ایسا بدیہی البطلان ہے کہ جس کو سوائے نادان کے کوئی قبول نہیں کر سکتا۔ مرزاقادیانی کی تصانیف کا علماء کی تصانیف سے موازنہ کر لیا جائے۔ نثر کا نثر سے اور نظم کا نظم سے، اردو کا اردو سے، فارسی کا فارسی سے اور عربی کا عربی سے اور انگریزی الہام کا انگریزی ادیبوں کے کلام سے موازنہ کر لیا جائے۔ ابھی مرزاقادیانی کا مبلغ علم معلوم ہوجاتا ہے۔ مرزاقادیانی کی زندگی ہی میں جو علماء تھے، ان کی تصانیف کو دیکھ لیا جائے۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحبv بانی دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویv کی تصانیف کو سامنے رکھ کر مرزاقادیانی کی کتابوں کو دیکھا جائے۔ دو چار ہی ورق میں فرق معلوم ہوجائے گا۔

83

مرزاقادیانی کی تمام تصانیف میں… سوائے اپنے کشف والہام اور تعلّی کے دعوؤں، دیگر حضرات انبیاء کرامB کی تنقیص اور توہین اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گالیوں کے اور کیا ہے۔ مرزاقادیانی کی کتابوں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور آخرت کا شوق ورغبت نہیں حاصل ہوتی۔

میں مرزائیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ حضرت امام غزالیv کی احیاء العلوم اور کیمیائے سعادت کا ترجمہ پڑھیں اور اس زمانہ کے حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی صاحب تھانویv کے مواعظ کا خصوصاً مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ کس طرح دل کی آنکھیں کھلتی ہیں۔

قرآن کریم تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کلام معجز نظام ہے اور حدیث نبی کریمa کا کلام فصاحت التیام ہے۔ جس کا درجہ فصاحت وبلاغت میں قرآن کریم کے بعد ہے۔ حضورپرنورa کے خطبات کا، عرب کے ادباء فصحاء اور بلغاء کے خطبات سے موازنہ کرلیا جائے۔ زمین وآسمان کا فرق نظر آئے گا اور حضور پرنورa کے جوامع الکلم اور کلمات حکمت وموعظت کا حکماء عالم کے کلمات حکمت سے موازنہ کرلیا جائے۔ حکماء عالم کی حکمت وموعظت کو حضورپرنورa کی حکمت وموعظت سے، وہ نسبت بھی نہ ملے گی جو قطرہ کو سمندر کے ساتھ یا ذرے کو آفتاب کے ساتھ ہوتی ہے۔ اب مرزائی حضرات اپنے نبی پر نظر ڈالیں کہ جس کو وہ تمام انبیاء سابقین سے افضل اور نبی کریمa کا عین بلکہ آپa سے شاید بہتر اور برتر سمجھتے ہیں۔ اس کی فصاحت وبلاغت پر نظرڈالیں۔ کیا مرزاقادیانی اردو، فارسی ادب اور فصاحت وبلاغت میں ادباء زمانہ سے کچھ بڑھ کر تھے؟ مرزاقادیانی چونکہ ہوشیار تھے اس لئے اردو، فارسی ادب میں تو اعجاز کا دعویٰ نہ کیا کہ ابھی قلعی کھل جائے گی اور دنیا مذاق اڑائے گی۔ البتہ عربی زبان میں اعجاز کا دعویٰ کیا اور ’’قصیدہ اعجازیہ‘‘ لکھ کر اپنا معجزہ پیش کیا۔ علماء نے اس کے مقابل قصائد پیش کردئیے اور مرزاقادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کی عروضی اور صرفی اور نحوی اور ادبی غلطیاں شائع کردیں۔ جس کا اب تک مرزاقادیانی اور مرزائی حضرات سے جواب نہیں ہوسکا اور اگر ہوسکتا ہے تواب جواب دیں۔

84

مرزاقادیانی کی فصاحت وبلاغت معلوم کرنے کا طریقہ

اگر کسی کو مرزاقادیانی کے قصیدہ اعجازیہ پر ناز ہے تو ایک عام مجلس منعقد کر لی جائے۔ جس میں حجاز اور شام کے ادباء کو مدعو کیا جائے۔ اس میں مرزاقادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کو پیش کیا جائے اور علمائے اسلام کی گرفتوں کو بھی پیش کیا جائے اور ادباء عرب سے دریافت کیا جائے کہ مرزاقادیانی کا قصیدہ اعجازیہ مصر کے مشہور شاعر شوقی اور حافظ ابراہیم کے قصائد کا پاسنگ بننے کے بھی قابل ہے یا نہیں؟

اور کوئی مرزائی دعویٰ کر کے تو دیکھے کہ مرزاقادیانی کے اردو شعر اکبر الہ آبادی کے اشعار کے پاسنگ بھی بن سکتے ہیں؟ مرزائی خوب جانتے ہیں کہ سارا ملک اردو زبان جانتا ہے۔ یہ دعویٰ ایک منٹ کے لئے بھی نہیں سنا جاسکتا۔ البتہ عربی زبان ایسی ہے کہ جس سے ملک کا اکثر طبقہ ناآشنا ہے۔ اس لئے عربی زبان میں دعویٰ اعجاز پر کمربستہ ہوئے اور قصیدہ اعجازیہ لکھ کر شائع کردیا۔ جس پر قادیان کے کچھ نادان ایمان لے آئے جن کو نہ عربی کی خبر ہے نہ فارسی کی۔

مرزاقادیانی کے صحابی اور تابعی انگریزی زبان کے ماہر ہیں۔ مگر قرآن اور حدیث کی زبان کے ماہر نہیں۔ ماہر تو کیا ہوتے کافیہ اور علم الصیغہ کی بھی خبر نہیں۔ ایسے آدمیوں کی نہ تصدیق معتبر ہے اور نہ تکذیب۔

مرزاقادیانی اور ان کے صحابہ وتابعین کے امتحان کا طریقہ

مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء کرام کا عموماً اور سروردوعالم محمد عربی مصطفیa کا ظل اور بروز بلکہ ان کا عین ہوں۔(حقیقت الوحی ص۷۳ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۶ ملخص)

مرزاقادیانی کی عبارت کا احادیث نبویہ کی عربیت سے موازنہ کیا جائے اور مرزاقادیانی کے صحابہ اور تابعین کے عربی کلام کا نبی اکرمa کے صحابہ اور تابعین کے خطبات اور اشعار سے موازنہ کیا جائے بلکہ غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان محمد رسول اللہ a کی نثر اور نظم سے مقابلہ کرلیا جائے۔ ابھی مرزاقادیانی اور ان کے تابعین کا مبلغ علم معلوم ہو جائے گا۔ مرزاقادیانی کے خلیفہ ثانی

85

مرزابشیرالدین محمود ربوہ میں موجود ہیں۔ ان کی عربی نثر ونظم کو کسی عربی ادیب کو دکھلایا جائے اور مرزاقادیانی کے خلیفہ ثانی تو رسول اللہ a کے خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقq کے خطبوں کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ جس کا جی چاہے، امتحان کرے۔

نبوت کی چوتھی شرط

عصمت کامل ومستمرہ

شاہان دنیا کے تقرب کے لئے سراپا اطاعت ہونا ضروری ہے۔ اپنے مخالفوں کو اپنی بارگاہ میں کون گھسنے دیتا ہے اور مسند قرب پر کون قدم رکھنے دیتا ہے۔ اسی طرح خداوند ذوالجلال کا مقرب اور پیغمبر وہی ہوسکتا ہے جو ظاہر اور باطن میں اللہ تعالیٰ کا پورا پورا مطیع اور فرمانبردار ہو اور اس کے دشمنوں سے بری اور بیزار ہو۔

مرزاقادیانی اپنے اقرار سے بھی معصوم نہ تھے اور نہ اللہ کے دشمنوں سے بری اور بیزار تھے۔ یہود اور نصاریٰ سے جہاد اور قتال کو حرام سمجھتے تھے اور ان کے عروج اور ترقی کے لئے دعاگو تھے۔(ازالہ اوہام حاشیہ ص۸۴۹، خزائن ج۳ ص۵۶۱ ملخص)

کافروں کے لئے دعا کا مطلب

کافروں کی حکومت اور سلطنت کے لئے دعا مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ کفر اور کافروں کو عزت اور عروج ہو اور اسلام اور مسلمان ذلیل اور خوار ہوں۔

سبحان اللہ ! عجب پیغمبری ہے کہ جس کا مقصد ہی کفر کا عروج اور اسلام کا زوال ہے۔ نبوت کا مقصد تو یہ ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور کافروں کی بات نیچی ہو۔ اللہ کا نام لینے والے عزیز اور سربلند ہوں اور اللہ کے دشمن ذلیل اور خوار ہوں اور کافر خدا کے دوستوں کے غلام اور باج گزار بن کر رہیں۔ مگر مرزاقادیانی کے دین میں معاملہ برعکس ہے۔ یہ عجب نبی ہے جو نصاری کے لئے دعا کرنے والا ہے اور مسلمانوں کے لئے بددعا۔

مرزاقادیانی سے یہ تو ممکن نہ ہوا کہ دنیا کو اپنی عصمت، طہارت اور نزاہت دکھلا سکیں۔ اس لئے انبیاء کرام کی عصمت ہی کا انکار کر دیا کہ نبی کے لئے معصوم ہونا ضروری نہیں تاکہ اپنی عصمت دکھلانی اور ثابت نہ کرنی پڑے۔ جس کا مطلب معاذ اللہ یہ ہوا کہ اے لوگو! میرے دعویٰ نبوت پر تم میری عصمت کو نہ جانچنا، کوئی نبی معصوم نہیں گزرا۔

86

اے مسلمانو! ذرا غور تو کرو کہ اگر نبی کے لئے عصمت لازم نہیں، تو پھر غیرمعصوم کی اطاعت کیسے واجب ہوگی؟ اگر انبیاء کرام واجب العصمت نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی اطاعت کا حکم نہ دیتا اور نہ ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیتا۔

نبوت کی پانچویں شرط

صداقت اور امانت

نبوت کی ایک شرط یہ ہے کہ نبی صادق اور امین ہو۔ اس لئے کہ جھوٹا اور خائن کبھی نبی نہیں ہوسکتا اور مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں مرزاقادیانی کی پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔

صادق اور کاذب کی تعریف

صادق اور سچا ہونے کے لئے ایک دو پیشین گوئیوں کا سچا ہو جانا کافی نہیں۔ کاہنوں اور نجومیوں کی بھی تمام پیشین گوئیاں جھوٹی نہیں نکلتیں۔ سچا وہ ہے کہ جس کی سب باتیں سچی ہوں اور جھوٹا وہ ہے کہ جس کی سب باتیں سچی نہ ہوں۔ اگرچہ اس کی بہت باتیں بلکہ اکثر باتیں سچی ہوں۔

اس زمانے میں جو لوگ جھوٹ کے مصنف ہیں یعنی پراپیگنڈے کے امام ہیں ان کی بھی تمام باتیں جھوٹی نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کی بھی اکثر باتیں سچی ہی ہوتی ہیں۔ مگر بایں ہمہ وہ جھوٹے ہی ہیں۔ پردہ پوشی کے لئے جھوٹ کا نام پراپیگنڈہ رکھ لیا ہے۔ مگر حقیقت اس کی ایسا اعلیٰ درجہ کا جھوٹ ہے کہ جس کو سننے کے بعد بڑے سے بڑا ہوشیار بھی سچی سمجھنے لگے۔

اسی طرح مرزائی حضرات کو یہ دیکھنا چاہئے کہ مرزاقادیانی کی کتنی پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ چند پیش گوئیوں کے سچا ہونے سے کسی کا صادق اور راست باز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا اور اگر جھوٹے کے یہ معنی ہوں کہ اس کی کوئی بات بھی سچی نہ ہو، تو اس معنی کو، دنیا میں کوئی بھی جھوٹا نہیں نکلے گا۔ بلکہ اس معنی کو جھوٹا ہونا عقلاً محال ہے۔ اس لئے کہ یہ عقلاً ناممکن ہے کہ کسی شخص کی ہربات جھوٹی ہو اور کوئی بات بھی اس کی سچی نہ ہو۔ خوب سمجھ لو۔ شیطان کی بھی ساری باتیں جھوٹی نہیں۔

87

مرزاقادیانی سے جب اپنا سچا ثابت کرنا ممکن نہ ہوا تو دوسرے پیغمبروں کی پیشین گوئیوں کو جھوٹا ثابت کرنا شروع کیا تاکہ لوگوں پر یہ واضح ہو کہ جھوٹ بولنے سے نبوت میں فرق نہیں آتا اور معاذ اللہ ! میں (یعنی مرزاقادیانی) ہی جھوٹا نہیں۔ بلکہ اور پیغمبر بھی جھوٹے گزرے ہیں۔

نبوت کی چھٹی شرط

عدم توریث

نبوت کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کسی کی زمین اور جائیداد اور مال و دولت کا وارث ہو اور نہ اس کے بعد کوئی اس کا وارث ہو۔ حدیث متواتر سے ثابت ہے کہ حضور پرنورa نے فرمایا: ’’نحن معاشر الانبیاء لا نرث ولا نورث ما ترکنا صدقۃ‘‘ ہم گروہ انبیاء، نہ ہم کسی کے وارث اور نہ ہمارا کوئی وارث ہے جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ خدا کے لئے وقف ہوتا ہے۔

مگر مرزاقادیانی کے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خود بھی اپنے باپ کی زمین وجائیداد کے وارث ہوئے اور دعویٰ پیغمبری سے جو زمین اور جائیداد فراہم کی، انگریزی کچہری سے اس کی باضابطہ رجسٹری اپنی اولاد کے نام کرائی۔ جب سب کو معلوم ہوا اور قادیانی حضرات کو ہم سے ہزاردرجہ بڑھ کر معلوم ہے۔ عیاں راچہ بیاں!

نبوت کی ساتویں شرط

زہد

نبوت کی ایک شرط زہد یعنی دنیا کی شہوات اور لذات سے بے تعلقی ہے۔ نبوت کا مقصد بندوں کو خدا تک پہنچانا ہے اور ظاہر ہے کہ شہوت پرستی بندوں کو خدا پرست نہیں بناسکتی۔ مگر مرزاقادیانی میں یہ شرط بھی مفقود ہے۔ مرزاقادیانی نے حطام دنیا کے جمع کرنے میں کوئی دقیقہ اور حیلہ نہیں چھوڑا۔ جس جس تدبیر اور حیلہ سے روپیہ جمع کر سکتے تھے وہ سب کچھ کیا۔ حتیٰ کہ اپنی تصویر تک فروخت کی اور کنچنی عورت (کسبی عورت) کے مال پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے فکر مند رہے۔ (سیرۃ المہدی ج۱ ص۲۶۱، ۲۶۲)

اسے استعمال میں لانے کی دلیل بھی دی۔(آئینہ کمالات ص۶۶۰،۶۰۱)

88

نبوت کی آٹھویں شرط

اعلیٰ حسب ونسب

نبوت کی ایک شرط یہ ہے کہ نبی حسب ونسب کے اعتبار سے اعلیٰ اور برتر ہو۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہرقل شاہ روم نے ابوسفیان سے دریافت کیا: ’’کیف نسبہ فیکم‘‘ محمد رسول اللہ a کا حسب ونسب کیسا ہے۔

ابوسفیان نے جواب دیا: ’’ہو فی حسب مالا نفضل علیہ غیرہ‘‘ یعنی وہ حسب ونسب میں سب سے بڑھ کر ہے۔

شاہ روم نے کہا: ’’وکذلک الرسل تبعث فی احساب قومہا‘‘ یعنی انبیاء ہمیشہ بہترین خاندان میں سے مبعوث ہوتے ہیں تاکہ لوگ حسب ونسب کے لحاظ سے ان کو حقیر نہ سمجھیں۔

مرزاقادیانی میں یہ شرط بھی مفقود ہے۔ مرزاقادیانی مغل اور پٹھان تھے۔ (کتاب البریہ ص۱۴۴، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲)

سید اور ہاشمی تو کیا، شیخ زادہ بھی نہ تھے۔ خصوصاً مرزاقادیانی کا جیسا یہ دعویٰ ہے کہ میں عین رسول اللہ ہوں اور امام مہدی بھی ہوں تو عین رسول اللہ ہونے کی وجہ سے ہاشمی ہونے چاہئے تھے اور مہدی ہونے کی وجہ سے فاطمی یعنی حضرت سیدۃ النساء فاطمتہ الزہراءt کی اولاد سے ہونے چاہئے تھے۔ مگر نہ ہاشمی تھے نہ فاطمی بلکہ مغل تھے۔

نبوت کی نویں شرط

مرد ہونا

نبوت کی ایک شرط یہ ہے کہ نبی مرد ہو۔ ’’قال اللہ تعالٰی: وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم‘‘ نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مرد ہو۔ اس لئے کہ عورتیں ناقص العقل والدین ہوتی ہیں۔ پس اگر عورت کا نبی ہونا جائز رکھا جائے تو نبی کے عقل اور دین کا ناقص ہونا لازم آئے گا اور نبی کے دین اور عقل کا ناقص ہونا محال ہے۔ اس لئے کہ جب نبی ہی کی عقل اور نبی کا دین ناقص ہوگا تو امت کی عقل اور امت کا دین کیسے کامل ہوگا۔

89

نیز عورت کے لئے پردہ واجب ہے۔ کیونکہ بے پردگی موجب فتنہ ہے۔ لہٰذا اگر عورت نبی ہو تو دو حال سے خالی نہیں کہ پردہ کرے گی یا نہیں۔ اگر وہ پردہ کرے تو اس سے استفادہ کیسے ہوگا۔ نیز نبیہ کو بغیر دیکھے لوگ صحابہ کیسے بنیں گے۔ بغیر دیکھنے صحابیت کا شرف حاصل نہ ہوگا اور اگر پردہ نہ کرے تو موجب فتنہ ہوگی۔ خصوصاً جب کہ نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ حسین وجمیل اور حسن الصوت یعنی خوش آواز بھی ہو۔ (جیسا کہ بعض علماء نے لکھا ہے) تو ایسی صورت میں حسین وجمیل اور خوش آواز (عورت) کا نبی ہونا، ہدایت کے بجائے فتنہ کا دروازہ کھولے گی۔

نبوت کی یہ شرط بھی مرزاقادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ مرزاقادیانی کا ایک دعویٰ مریم ہونے کا اور حاملہ ہونے کا بھی تھا۔(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

اور ظاہر ہے کہ مریم اور حاملہ تو عورت ہی ہوسکتی ہے نہ کہ مرد۔ لہٰذا مرزاقادیانی اپنے اس اقرار کے بموجب مرد نہ ہوئے تو پھر نبی کیسے بنے۔

نبوت کی دسویں شرط

اخلاق کاملہ

نبوت کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ صاحب نبوت اخلاق کاملہ اور کمالات فاضلہ کے ساتھ موصوف ہو۔ بدخلق اور بدزبان نہ ہو۔ یہ شرط بھی مرزاقادیانی میں مفقود ہے۔ ناظرین اور طالبین حق کے لئے ہم مرزاقادیانی کے اخلاق کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ جس سے ناظرین اور قارئین کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزاقادیانی کس درجہ کے اخلاق والے تھے۔ ناظرین کرام کی سہولت کے لئے مرزاقادیانی کی گالیوں کا حروف تہجی کے اعتبار سے نقشہ پیش کرتے ہیں۔

’’فتلک عشرۃ کاملۃ‘‘

مرزاقادیانی کی گالیوں کا حروف تہجی کے لحاظ سے نقشہ

الف

  1. ’’اے زودرنج‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۲۰

    ایام الصلح ص۸۴

  2. ’’ان حاسد‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۲۲

    ایام الصلح ص۸۶

90
  1. ’’اے بد قسمت، بد گمانو‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۴۱

    ایام الصلح ص۱۰۳

  2. ’’اے مردار خور مولویو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱

  3. ’’اندھیرے کے کیڑو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱

  4. ’’اندھے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۶

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۲

  5. ’’اے اندھو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۱۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۶

  6. ’’اے بدذات‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۲۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۵

  7. ’’اے خبیث‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۲۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۵

  8. ’’اے پلید دجال‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  9. ’’ان احمقو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  10. ’’اے نادانو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  11. ’’آنکھوں کے اندھو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  12. ’’اسلام کے عار‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۸

  13. ’’احمق‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۹

  14. ’’اے نابکار‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰

  15. ’’او میرے مخالف‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۶۳

  16. ’’اے بدذات فرقہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۱

    انجام آتھم ص۲۱

  17. ’’اعدی الاعداء‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۵۹

    انجام آتھم ص۵۹

  18. ’’امام المتکبرین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  19. ’’اعمی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۲

    انجام آتھم ص۲۵۲

  20. ’’اغوی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۲۱

    انجام آتھم ص۲۵۲

  21. ’’الانام‘‘ (کالانعام)

    خزائن ج۱۱ ص۲۶۵

    انجام آتھم ص۲۶۵

  22. ’’استخوان فروش‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۸

  23. ’’اے بدبخت قوم‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۲

    براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۴

  24. ’’اے سست ایمانو‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۲

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۴

  25. ’’الّو‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۳۲

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۶۵

  26. ’’ایہا الغوی‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۹

    مواہب الرحمن ص۱۳۸

91
  1. ’’ایمانی ودیانت سے عاری‘‘

    خزائن ج۸ ص۵

    نورالحق ج۱ ص۳

  2. ’’اس فرومایہ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۸

    اعجاز احمدی ص۷۶

  3. ’’اے دیو‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۹

    اعجاز احمدی ص۷۶

  4. ’’ان شریروں‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۶۰

    الہدیٰ التبصرہ ص۱۶

  5. ’’آگ کے لادو ٹٹوؤں‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۶۱

    الہدیٰ التبصرہ ص۱۶

  6. ’’اے دروغ گو‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۲۰

    نورالحق ج۱ ص۸۹

  7. ’’ابلہ‘‘

    خزائن ج۲۳ ص۱۱

    چشمہ معرفت ج۱ ص۳

  8. ’’اے مردار‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    انجام آتھم ص۲۱

  9. ’’اے احمق‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۸

    اشتہار انعامی ص۱۳

  10. ’’اسلام کے دشمنو‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۹

    اشتہار انعامی ص۵

  11. ’’ابولہب‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۹۴

    ضیاء الحق ص۳۳

  12. ’’اسلام کے لے جائے عار‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۳

    اتمام الحجہ ص۲۳

  13. ’’امام الفتن‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۳

    اتمام الحجہ ص۲۴

  14. ’’اوّل درجہ کا متکبر‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۱۲۱

    ست بچن ص۹

  15. ’’انسانوں سے بدتر اور پلید تر‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۶

  16. ’’اسلام کے دشمن‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص…

  17. ’’اسلام کے بدنام کرنے والے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  18. ’’اے بدبخت مفتریو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  19. ’’اے ظالم‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۱

    انجام آتھم ص۲۱

  20. ’’ایہا المکذبون الغالون‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۲۴

    انجام آتھم ص۲۲۴

  21. ’’اے شیخ احمقاں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  22. ’’ایہا الشیخ الضال‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۱

    انجام آتھم ص۲۵۱

  23. ’’اے بدقسمت انسان‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۶

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۶

  24. ’’اوّل درجہ کے کاذب‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۱

    آئینہ کمالات اسلام ص د

  25. ’’اے اس زمانہ کے ننگ اسلام‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص د

  26. ’’اے کوتاہ نظر‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص د

92
  1. ’’اے نفسانی‘‘

    خزائن ج۳ ص۱۰۵

    ازالہ اوہام ج۱ ص۵

  2. ’’اے خشک‘‘

    خزائن ج۳ ص۱۵۷

    ازالہ اوہام ص۴۹

  3. ’’اے اندھے‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۱۶۶

    ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۳،۲۷

  4. ’’اے دیوانہ‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۲۴

    ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۵۶

  5. ’’اے دروغ آراستہ کرنے والے‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۳۲

    براہین احمدیہ پنجم ص۱۶۵

  6. ’’اے غبی‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۲

    مواہب الرحمن ص۱۳۱

  7. ’’اے مسکین‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۹

    مواہب الرحمن ص۱۳۸

  8. ’’انسانیت کے پیرایہ سے بے بہرہ اور برہنہ‘‘

    خزائن ج۸ ص۴

    نورالحق ج۱ ص۳

  9. ’’اغوا کرنے والے محمد حسین‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۶۹

    اعجاز احمدی ص۵۷

  10. ’’اکڑباز‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۵۳

    الہدیٰ والتبصرۃ ص۸

  11. ’’اے بے ایمانو‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۹

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۵

  12. ’’اندھے پادریوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۴

  13. ب،پ

  14. ’’پلید ملاؤں‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۵

  15. ’’پلید جاہلوں‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۴

    ایام الصلح ص۱۶۶

  16. ’’پلید طبع مولوی‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۵

  17. ’’بداخلاقی اور بدظنی میں غرق ہونے والو‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۲۰

    ایام الصلح ص۸۴

  18. ’’بدقسمت بدگمانو‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۴۱

    ایام الصلح ص۱۰۳

  19. ’’بدتر‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۶

  20. ’’پلیدتر‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۶

  21. ’’پلید ملاؤں‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۶

  22. ’’پلید دل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴

  23. ’’بے ایمانی اور بددیانتی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۰

93
  1. ’’بدبخت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۱

  2. ’’بے وقوف اندھے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۶

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۳

  3. ’’بے ایمان اور اندھے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۶

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۳

  4. ’’بدذات‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۲۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۵

  5. ’’پلید دجال‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  6. ’’بے نصیب‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۱

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۷

  7. ’’بے بہرہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۱

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۷

  8. ’’بدگوہری‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

  9. ’’بے وقوفوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

  10. ’’بندروں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

  11. ’’باطل پرست بطالوی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۵۹

    انجام آتھم ص۵۹

  12. ’’بطال‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۱

    انجام آتھم ص۲۵۱

  13. ’’بدذات‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۰

    انجام آتھم ص۶

  14. ’’بے ہودہ‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۱

    آئینہ کمالاتت اسلام ص۳۰۱

  15. ’’بلید آدمی‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص۲۰۸

  16. ’’بے چارہ‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۰

    آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۰

  17. ’’بدقسمت ایڈیٹر‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۹۰

    نزول المسیح ص۱۲

  18. ’’بے حیا‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۴۴۰

    نزول المسیح ص۶۲

  19. ’’پاگل‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۴۴۲

    نزول المسیح ص۶۴

  20. ’’پربدعت زاہدو‘‘

    خزائن ج۳ ص۱۵۷

    ازالہ اوہام ص۴۹

  21. ’’بدذاتی اور بدمعاشی اور بے ایمانی‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۲۲۲

    حقیقت الوحی ص۲۱۲

  22. ’’بدگو‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۵

    حقیقت الوحی ص۱۴

  23. ’’بدکار آدمی‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۰

    شہادۃ القرآن ص۱۰

  24. ’’برہنہ‘‘

    خزائن ج۸ ص۵

    نورالحق ج۱ ص۳

  25. ’’بھیڑیے‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۵۰

    اعجاز احمدی ص۲۹

  26. ’’پلنگ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۵۴

    اعجاز احمدی ص۴۳

94
  1. ’’بچھو‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۸

    اعجاز احمدی ص۷۵

  2. ’’بے حیاء‘‘

    خزائن ج۲۰ ص۴۰

    تذکرۃ الشہادتین ص۳۸

  3. ’’بالکل جاہل‘‘

    خزائن ج۷ ص۴۵

    کرامات الصادقین ص۳

  4. ’’بالکل بے بہرہ‘‘

    خزائن ج۷ ص۴۵

    کرامات الصادقین ص۳

  5. ’’پلیدوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۴

  6. ’’بے باک اور بے شرم‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۱۸

    انجام آتھم ص۱۸

  7. ’’پلید فطرت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۶

    انجام آتھم ص۳۶

  8. ’’بداطوار‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۰۴

    انجام آتھم ص۲۰۴

  9. ’’بخیل‘‘

    خزائن ج۹ ص۳۰۰

    ضیاء الحق ص۳۸

  10. ’’بدخلق‘‘

    خزائن ج۸ ص۸۸

    نورالحق ج۱ ص۶۴

  11. ’’بے ایمانو‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۹

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۵

  12. ’’بے عزتوں‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۲۵

    تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۴

  13. ’’بخیل طبع‘‘

    خزائن ج۹ ص۳۰۰

    ضیاء الحق ص۳۸

  14. ’’بدبخت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸

    انجام آتھم ص۲۸

  15. ’’بڑا خبیث‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۴۳

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۰۷

  16. ’’بخیلوں‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۶

    اتمام الحجہ ص۲۶

  17. ’’بدبخت جھوٹوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸

    انجام آتھم ص۲۸

  18. ’’بے راہ‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۳۰۱

    حقیقت الوحی ص۲۸۸

  19. ’’بے خوف‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۹۴

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۵۶

  20. ت

  21. ’’تفقہ سے سخت بے بہرہ‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۸

  22. ’’تجھ سے زیادہ بدبخت اور کون‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۲۵

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۵۷

  23. ’’توصبح کو الّو کی طرح اندھا ہوجاتا ہے‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۳۲

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۶۵

  24. ’’تو ملعون‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۸

    اعجاز احمدی ص۷۵

  25. ’’تجھ پر ویل‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۹۳

    اعجاز احمدی ص۸۱

95
  1. ’’تکبر کا کیڑا‘‘

    خزائن ج۷ ص۶۳

    کرامات الصادقین ص۲۱

  2. ’’تمہاری ایسی تیسی ہے‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۰

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۵

  3. ’’تکفیر کا بانی‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۳۸

    دافع البلاء ص۱۸

  4. ’’تقویٰ اوردیانت سے دور‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۳

  5. تزویر وتلبیس

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰

  6. ث

  7. ’’ثناء اللہ کو علم اور ہدایت سے ذرہ مس نہیں‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۵۵

    اعجاز احمدی ص۴۳

  8. ’’ثناء اللہ تجھے جھوٹ کا دودھ پلایا گیا‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۶۳

    اعجاز احمدی ص۵۱

  9. ج،چ

  10. ’’جاہل‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۵۴

    ایام الصلح ص۱۱۶

  11. ’’چارپائے ہیں نہ آدمی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۰

  12. ’’جاہل سجادہ نشین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸

  13. ’’جہلاء‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸حاشیہ

  14. ’’جھوٹے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۸ حاشیہ

  15. ’’جنگل کے وحشی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۹

  16. ’’جھوٹا‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰

  17. ’’جارغوی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  18. ’’جاہلین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۴

    انجام آتھم ص۲۵۴

  19. ’’جانور‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۸۶

    نزول المسیح ص۸

  20. ’’جاہل مخالف‘‘

    خزائن ج۸ ص۶۶

    نورالحق ج۱ ص۴۸

  21. ’’جنگلوں کے غول‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۹۳

    اعجاز احمدی ص۸۱

  22. ’’چارپایوں‘‘ (درندوں)

    خزائن ج۷ ص۳۰۸

    حمامتہ البشریٰ ص۸۶ حاشیہ

  23. ’’چال باز‘‘

    خزائن ج۷ ص۶۵

    کرامات الصادقین ص۲۲

  24. ’’جلدباز مولویوں‘‘

    خزائن ج۴ ص۳۴۱

    آسمانی فیصلہ ص۳۱

96
  1. ’’جنگجو‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۲۰

    نورالحق ص۸۹

  2. ’’چوروں‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۱۲

    آریہ دھرم ص۱۱

  3. ’’جاہل اخبار نویس‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۹۶

    ضیاء الحق ص۳۵

  4. ’’چالاک حاسدوں‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۶

    اتمام الحجہ ص۲۶

  5. ’’جھوٹ کا گوہ کھایا‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰

  6. ’’جاہلون‘‘

    خزائن ج۵ ص۴۰۲

    آئینہ کمالات اسلام ص۴۰۲

  7. ’’جھوٹ بولنے کا سرغنہ‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۸۷

    نزول المسیح ص۹

  8. ح

  9. ’’حاسد‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۲۲

    ایام الصلح ص۸۶

  10. ’’حرامی‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۰

    شہادۃ القرآن ص۳

  11. ’’حرامزادہ‘‘

    خزائن ج۹ ص۳۲

    انوارالاسلام ص۳۰

  12. ’’حرامی لڑکے‘‘ (یا ابن بغا)

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۶

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴

  13. ’’حق پوش‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۳

    شہادۃ القرآن ص۶

  14. ’’حیوانات‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۳۱

    اعجاز احمدی ص۲۲

  15. ’’حاسدوں‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۵۳

    الہدیٰ والتبصرہ ص۸

  16. ’’حریص‘‘

    خزائن ج۸ ص۸۸

    نورالحق ج۱ ص۶۴

  17. ’’حرص کے جنگل کے شیطان‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۲۰

    نورالحق ج۱ ص۸۹

  18. ’’حرص کی وجہ سے مکار‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۲۴

    نورالحق ج۱ ص۹۲

  19. ’’حلال زادہ نہیں‘‘

    خزائن ج۹ ص۳۱

    انوارالاسلام ص۳۰

  20. ’’حاطب اللیل‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۰

    آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۰

  21. ’’حق کے مخالف‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۴

    اتمام الحجہ ص۲۵

  22. خ

  23. ’’خبیث طبع‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  24. ’’خنزیر سے زیادہ پلید‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  25. ’’خالی گدھے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۱

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۷

97
  1. ’’خشک زاہدو‘‘

    خزائن ج۳ ص۱۰۵

    ازالہ اوہام کلاں ج۱ ص۵

  2. ’’خشک ملاؤں‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۰

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۲

  3. ’’خبیث نفس‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۲

    شہادۃ القرآن ص۵

  4. ’’خون پسند‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۱

    شہادۃ القرآن ص۴

  5. ’’خیانت پیشہ‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۱۲

    آریہ دھرم ص۱۱

  6. ’’خبیث طینت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۸

  7. ’’خبیث فرقہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۹ حاشیہ

  8. ’’خناسوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۱۷

    انجام آتھم ص۱۷ حاشیہ

  9. ’’خسیس ابن خسیس‘‘

    خزائن ج۸ ص۸۷

    نورالحق ج۱ ص۶۴

  10. ’’خراب عورتوں اور دجال کی نسل‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۶۳

    نورالحق ج۱ ص۱۲۳

  11. ’’خبیث النفس‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۵۹

    ضیاء الحق ص۹

  12. ’’خود غرض مولویوں‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۷۸

    ضیاء الحق ص۲۲

  13. ’’خبیث القلب‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۳

    انوارالاسلام ص۲۱

  14. ’’خشک دماغ‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۱۲۱

    ست بچن ص۹

  15. ’’خدا کا ان مولویوں پر غضب ہوگا‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۵

  16. ’’خسرالدنیا والآخرۃ‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۴

    اتمام الحجہ ص۲۵

  17. ’’خبیث فطرت‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۹۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۵۶

  18. ’’خشک معلم‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۱۱

    آئینہ کمالات اسلام ص ز

  19. د،ذ

  20. ’’ذلیل‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۵

  21. ’’دل کے مجذوم‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  22. ’’دشمن‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  23. ’’دجال‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  24. ’’دشمن اللہ ، رسول‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰

  25. ’’ذلت کے سیاہ داغ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

98
  1. ’’دیانت ودین سے دور‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۱۹۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۹۸

  2. ’’دشمن عقل ودانش‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۴۱

  3. ’’دشمن انصار دین ‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۱۰

    آئینہ کمالات اسلام ص ہ

  4. ’’دروغ گو‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۹۰

    نزول المسیح ص۱۲

  5. ’’دیوانہ‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۴۴۲

    نزول المسیح ص۶۴

  6. ’’دنیا کے کیڑے‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۱

    براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۳

  7. ’’دلوں کے اندھو‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۲

    براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۴

  8. ’’دروغ گو مخبر‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۲

    شہادۃ القرآن ص ھ

  9. ’’دورنگی اختیار کرنے والا‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۳

    شہادۃ القرآن ص و

  10. ’’دیو‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۹

    اعجاز احمدی ص۷۶

  11. ’’ذریۃ البغایا‘‘

    خزائن ج۵ ص۵۴۸

    آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۸

  12. ’’درندوں‘‘

    خزائن ج۷ ص۳۰۸

    حمامتہ البشریٰ ص۸۶

  13. ’’دابۃ الارض‘‘

    خزائن ج۳ ص۳۷۳

    ازالہ اوہام کلاں ج۲ ص۵۱۰

  14. ’’ذناب‘‘ (کالذئاب)

    خزائن ج۱۸ ص۳۴۶

    الہدیٰ والتبصرہ ص۹۶

  15. ’’دنیا کے کتے‘‘

    خزائن ج۱۲ ص۱۲۸

    استفتاء ص۲۰

  16. ’’دشمن حق‘‘

    خزائن ج۱۲ ص۱۳۵

    استفتاء ص۲۷ حاشیہ

  17. ’’ذریت شیطان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

  18. ’’دجال اکبر‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۴۷

    انجام آتھم ص۴۷

  19. ’’دشنام دہ‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۲۰

    نورالحق ج۱ ص۸۸

  20. ’’دل کے اندھے‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۸

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۵ حاشیہ

  21. ’’دجال کے ہمراہیو‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۹

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۵ حاشیہ

  22. ’’دیوثوں‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج اوّل ص۱۲۵

    تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۴

  23. ’’دنیا پرست‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۸۵

    ضیاء الحق ص۲۷

  24. ’’دین فروش‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۹۱

    ضیاء الحق ص۲

  25. ’’دیوانہ درندوں‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۹۶

    ضیاء الحق ص۳۵

  26. ’’ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۹

99
  1. ’’درندہ طبعی‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۵۵

    الہدیٰ والتبصرہ ص۱۸

  2. ’’دجال فربہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۰۴

    انجام آتھم ص۲۰۴

  3. ’’دروغ آراستہ کرنے والے‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۳۲

    ضمیمہ براہین احمدیہ ج۵ ص۱۶۵

  4. ’’دل کے اندھے‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۸

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۵ حاشیہ

  5. ’’دجال کمینہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۰۶

    انجام آتھم ص۲۰۶

  6. ر،ز

  7. ’’ژاژخا‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۹ حاشیہ

  8. ’’زیادہ پلید‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  9. ’’رئیس الدجالین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  10. ’’رئیس المعتدین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  11. ’’رأس الغاوین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  12. ’’رئیس المتصلفین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۱

    انجام آتھم ص۲۵۱

  13. ’’رنڈیوں کی اولاد‘‘

    خزائن ج۵ ص۵۴۸

    آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۸

  14. ’’رئیس المتکبرین‘‘

    خزائن ج۵ ص۵۹۹

    آئینہ کمالات اسلام ص۵۹۹

  15. ’’زودرنج‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۲۰

    ایام الصلح ص۸۴

  16. ’’زمانہ کے ظالم‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ایام الصلح ص۸۴

  17. ’’زمانہ کے بدذات‘‘

    خزائن ج۵ ص۲۱۶

    آئینہ کمالات اسلام ص۲۱۶ حاشیہ

  18. ’’رسول اللہ کے دشمن‘‘

    خزائن ج۵ ص۱۱۱

    آئینہ کمالات اسلام ص۱۱۱

  19. ’’زمانہ کے ننگ اسلام‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص و

  20. ’’زیادہ بدبخت‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۲۵

    براہین احمدیہ پنجم ص۱۵۷

  21. ’’روحانیت سے بے بہرہ‘‘

    خزائن ج۱۲ ص۱۰۸

    ضمیمہ استفتاء ص۲

  22. س،ش

  23. ’’شیطان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴

  24. ’’شترمرغ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸

  25. ’’شیاطین الانس‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸ حاشیہ

100
  1. ’’سؤروں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

  2. ’’سیاہ داغ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

  3. ’’شریر‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۱

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۷

  4. ’’سیاہ دل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  5. ’’شیخ نجدی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۱۹۸

    انجام آتھم ص۱۹۸

  6. ’’سگان قبیلہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۲۹

    انجام آتھم ص۲۲۹

  7. ’’شیخ احمقان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  8. ’’شیخ الضال‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۱

    انجام آتھم ص۲۵۱

  9. ’’سلطان المتکبرین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۱

    انجام آتھم ص۲۵۱

  10. ’’شقی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۲

    انجام آتھم ص۲۵۲

  11. ’’سفہاء‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۳

    انجام آتھم ص۲۵۳

  12. ’’شغال‘‘

    خزائن ج۵ ص۲۹۵

    آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۴

  13. ’’شیطنت کی بدبو‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۱

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۱

  14. ’’سفلہ پن‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۴

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۴

  15. ’’شیخ نامہ سیاہ‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۶

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۶

  16. ’’سفیہوں کا نطفہ‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴

  17. ’’شریر‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۶۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۲۸ حاشیہ

  18. ’’سخت دل ظالم‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۲۷۵

    ضمیمہ براہین احمدیہ ج۵ ص۱۱

  19. ’’سانپوں‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۲

    نورالحق ج۱ ص۲۳

  20. ’’سادہ لوح‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۹

  21. ’’سخت جاہل‘‘

    خزائن ج۳ ص۳۷۳

    ازالہ کلاں ج۲ ص۲۱۱ ص۵۰۹

  22. ’’سخت نادان‘‘

    خزائن ج۳ ص۳۷۳

    ازالہ کلاں ج۲ ص۲۱۱ ص۵۰۹

  23. ’’سخت نالائق‘‘

    خزائن ج۳ ص۳۷۳

    ازالہ کلاں ج۲ ص۲۱۱ ص۵۰۹

  24. ’’شیخ مضل‘‘

    خزائن ج۷ ص۶۹

    کرامات الصادقین ص۲۷

  25. ’’شیخ مزور‘‘

    خزائن ج۷ ص۷۲

    کرامات الصادقین ص۳۰

  26. ’’شیخی باز‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۵۵

    الہدیٰ والتبصرۃ ص۱۰

101
  1. ’’سفلہ دشمن‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۵۸

    الہدیٰ والتصبرۃ ص۱۳

  2. ’’شریر بھیڑیے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۹

    انجام آتھم ص۹

  3. ’’سفیہ‘‘

    خزائن ج۸ ص۹۶

    نورالحق ج۱ ص۷۲

  4. ’’شرابیوں‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۳۲

    نورالحق ج۱ ص۹۹

  5. ’’سخت دل مولویو اور منشیو‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۶

    انوارالاسلام ص۲۵

  6. ’’شیخ چلی کے بڑے بھائی‘‘

    خزائن ج۹ ص۴۰

    انوارالاسلام ص۳۹

  7. ’’شریر مولویو‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۹۱

    ضیاء الحق ص۳۲

  8. ’’سخت ذلیل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴

    انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

  9. ’’شیخ ضال بطالوی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  10. ’’سخت دروغ گو‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۴۴۴

    نزول المسیح ص۶۶

  11. ’’سست ایمانو‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۲

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۴

  12. ’’شیخ الضلالۃ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۸

    اعجاز احمدی ص۷۶

  13. ’’شیخ چال باز‘‘

    خزائن ج۷ ص۶۵

    کرامات الصادقین ص۲۲

  14. ’’سواد الوجہ فی الدارین‘‘ (دنیا آخرت میں روسیاہ)

    خزائن ج۸ ص۳۰۴

    اتمام الحجہ ص۲۵

  15. ’’سڑے گلے مردہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۶

    ضمیمہ انجام آتھم ص۶۲

  16. ’’سخت بدذات‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۹

  17. ’’سخت بے باک‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۱۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸ حاشیہ

  18. ’’سودائی‘‘

    خزائن ج۹ ص۱۰

    انوارالاسلام ص۱۰

  19. ’’شیاطین‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۸۹

    نزول المسیح ص۱۱

  20. ’’سخت دل قوم‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۹۴

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۵۶

  21. ’’شریر النفس‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۳۱

    آریہ دھرم ص۳۱

  22. ’’شریر پنڈت‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۳۴

    آریہ دھرم ص۳۱

  23. ص،ض

  24. ’’ضال بطالوی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

102
  1. ’’ضال‘‘

    خزائن ج۸ ص۹۶

    نورالحق ج۱ ص۷۲

  2. ’’ضلالت پیشہ‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۳۲۴

    حقیقت الوحی ص۳۱۱

  3. ’’صریح بے ایمانی‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۲۶

    ایام الصلح ص۸۹ حاشیہ

  4. ط،ظ

  5. ’’ظالم طبع‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۳۸

    دافع البلاء ص۱۸

  6. ’’ظالم‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۸

  7. ’’ظالم مولویو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۱

    انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  8. ’’ظالم معترض‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۱۸۲

    براہین احمدیہ پنجم ص۱۳

  9. ’’ظالموں‘‘

    خزائن ج۱۲ ص۱۲۸

    استفتاء ص۲۰

  10. ’’طوائف‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۳ حاشیہ

  11. ’’ظالم طبع مخالفوں‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۸۶

    نزول المسیح ص۸

  12. ع،غ

  13. ’’علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرۃ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  14. ’’عبدالشیطان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  15. ’’غالون‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۲۴

    انجام آتھم ص۲۲۴

  16. ’’غوی فی البطالۃ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۳۰

    انجام آتھم ص۲۳۰

  17. ’’غاوین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۴

    انجام آتھم ص۲۵۴

  18. ’’غول‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۲

    انجام آتھم ص۲۵۲

  19. ’’غبی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۱۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۳۳

  20. ’’عجب ناداں‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۵۱

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۱۵

  21. ’’عجیب بے حیاء‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۸۷

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۹ حاشیہ

  22. ’’غدار زمانہ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۹۰

    اعجاز احمدی ص۷۷

  23. ’’عورتوں کے عار‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۹۶

    اعجاز احمدی ص۸۳

  24. ’’غول البراری‘‘

    خزائن ج۷ ص۱۵۲

    کرامات الصادقین ص و

103
  1. ’’عدو اللہ ‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۹

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۱۲

  2. ’’غزنی کے ناپاک سکھو‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۹۱

    ضیاء الحق ص۳۲

  3. ’’عبدالحق کا منہ کالا‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  4. ’’غزنویوں کی جماعت پر لعنت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  5. ’’علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۸

  6. ف،ق

  7. ’’فقیری اور مولویت کے شترمرغ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸

  8. ’’فرعون‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۶

  9. ’’فمت یا عبدالشیطان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام ص۵۸

  10. ’’فاسق آدمی‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴

  11. ’’فریبی‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۶۰

    اعجاز احمدی ص۴۸

  12. ’’فرومایہ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۸

    اعجاز احمدی ص۷۶

  13. ’’قوم کے خناسوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۱۷

    انجام آتھم ص۱۷ حاشیہ

  14. ’’فتنہ انگیز‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۳

    اتمام الحجہ ص۲۳

  15. ک،گ

  16. ’’کوتاہ اندیش علماء‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۱۶

    ایام الصلح ص۸۰

  17. ’’گندے اخبار نویس‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵

  18. ’’گندی روحو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  19. ’’کیڑو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  20. ’’کتے‘‘

    خزائن ج۱۲ ص۱۲۸

    استفتاء ص۲۰

  21. ’’گدھے‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۱

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۷

  22. ’’کاذب‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۱

    آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۱

  23. ’’کج طبع‘‘

    خزائن ج۵ ص۳۰۱

    آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۱

104
  1. ’’گرفتار عجب وپندار‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۰

    آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۰

  2. ’’کوتہ نظر مولوی‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص و

  3. ’’کوڑ مغزی‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۴۴۴

    نزول المسیح ص۶۶

  4. ’’گمراہ‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۵۱

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۱۵

  5. ’’کذاب‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۶۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۲۸ حاشیہ

  6. ’’گدھوں‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۲۰

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۵۲

  7. ’’کیڑا‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۳۲

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۶۵

  8. ’’کینہ ور‘‘

    خزائن ج۲۳ ص۳۳۶

    چشمہ معرفت ج۲ ص۱۳۱

  9. ’’گندہ زبان‘‘

    خزائن ج۲۳ ص۳۳۶

    چشمہ معرفت ص۳۲۱

  10. ’’گرگ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۲

    مواہب الرحمن ص۱۳

  11. ’’کمینگی‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۲

    مواہب الرحمن ص۱۳

  12. ’’کم سمجھ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۲۶

    اعجاز احمدی ص۱۸

  13. ’’کرگس‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۵۵

    اعجاز احمدی ص۴۳

  14. ’’گندا پانی‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۶۹

    اعجاز احمدی ص۵۷

  15. ’’کج دل‘‘

    خزائن ج۷ ص۴۸

    کرامات الصادقین ص۶

  16. ’’کمینوں‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۶۲

    الہدیٰ والتبصرہ ص۱۸

  17. ’’کمینہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۰۶

    انجام آتھم ص۲۰۶

  18. ’’گمراہی اور حرص کے جنگل کے شیطان‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۲۰

    نورالحق ج۱ ص۸۹

  19. ’’کمینہ طبع‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۴۷

    آریہ دھرم ص۴۷

  20. ’’کتوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۵

  21. ’’کالانعام‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۶۵

    انجام آتھم ص۲۶۵

  22. ’’کاذب‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۱

    آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۱

  23. ’’گمراہ‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۳۲۳

    حقیقت الوحی ص۳۱۰ حاشیہ

105

    ل،م

  1. ’’مغرور فقرا‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۶

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۲

  2. ’’مردار خوار‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  3. ’’مولوی جاہل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۱۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۶

  4. ’’مولویت کے بدنام کرنے والو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶

  5. ’’منحوس چہروں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

  6. ’’مفتریو‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  7. ’’منافق مولوی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۴۹

    انجام آتھم ص۴۹

  8. ’’مولویان خشک‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۶۹

    انجام آتھم ص۶۹ حاشیہ

  9. ’’مستکبرین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  10. ’’معتدین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴۱

    انجام آتھم ص۲۴۱

  11. ’’ملعونین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۲

    انجام آتھم ص۲۵۲

  12. ’’مخنثوں‘‘

    خزائن ج۵ ص۴۰۲

    آئینہ کمالات اسلام ص۴۰۲

  13. ’’معلم الملکوت‘‘

    خزائن ج۵ ص۵۹۸

    آئینہ کمالات اسلام ص۵۹۸

  14. ’’مفتری‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۹۰

    نزول المسیح ص۱۲

  15. ’’مردار‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۶۰۲

    نزول المسیح ص۲۲۴

  16. ’’لئیموں‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴،۱۵ حاشیہ

  17. ’’ملعون‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴،۱۵ حاشیہ

  18. ’’مفسد‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴،۱۵ حاشیہ

  19. ’’متعصب نادان‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۱۸۲

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۲۷

  20. ’’مفتری نابکار‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۲۷۵

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۱۱

  21. ’’لاف وگزاف کے بیٹے‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۷

    ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۴۹

  22. ’’متعفن‘‘

    خزائن ج۱۷ ص۲۰۵

    تحفہ گولڑویہ ص۱۱۲

106
  1. ’’مسکین‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۹

    مواہب الرحمن ص۱۳۸

  2. ’’مارسیرت‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۲

    نورالحق ج۱ ص۲۳

  3. ’’مضل جماعت‘‘

    خزائن ج۸ ص۷۳

    نورالحق ج۱ ص۵۳

  4. ’’مچھر‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۵۵

    اعجاز احمدی ص۴۳

  5. ’’مٹی سیاہ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۶۹

    اعجاز احمدی ص۵۷

  6. ’’متعصب‘‘

    خزائن ج۷ ص۴۸

    کرامات الصادقین ص۲-۶

  7. ’’متکبر مولویوں‘‘

    خزائن ج۷ ص۶۷

    کرامات الصادقین ص۲۴،۲۵

  8. ’’مضل‘‘

    خزائن ج۷ ص۶۹

    کرامات الصادقین ص۲۷

  9. ’’مزور‘‘

    خزائن ج۷ ص۷۲

    کرامات الصادقین ص و

  10. ’’مگس طینت مولویوں‘‘

    خزائن ج۴ ص۳۴۲

    آسمانی فیصلہ ص۲۲

  11. ’’لادو ٹٹوؤں‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۲۶۱

    الہدیٰ والتبصرہ ص۱۶

  12. ’’مخبط الحواس‘‘

    خزائن ج۱۲ ص۱۲۸

    استفتاء ص۲۰

  13. ’’مردہ پرست‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۹ حاشیہ

  14. ’’مردار‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۹۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۹ حاشیہ

  15. ’’مکار‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۲۴

    نورالحق ج۱ ص۹۲

  16. ’’معذول‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۳۴

    نورالحق ج۱ ص۱۰۱

  17. ’’ناقص الفہم‘‘

    خزائن ج۷ ص۴۵

    کرامات الصادقین ص۳

  18. ’’ناحق شناس‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۱۲۰

    ست بچن ص۸

  19. ’’موٹی سمجھ‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۱۲۱

    ست بچن ص۹

  20. ’’مولوی تمام روئے زمین کے انسانوں سے بدتر اور پلیدتر‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۶

  21. ’’مخالفوں کی ذلت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۱۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۸ حاشیہ

  22. ’’مولویوں کو ذلت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴

    انجام آتھم ص۲۴

  23. ’’مولوی سخت ذلیل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴

    انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

107
  1. ’’مکذبوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۲۴

    انجام آتھم ص۲۲۴

  2. ’’منحوس‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۴۴۵

    تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴

  3. ’’مغرور‘‘

    خزائن ج۲۲ ص۵۵۱

    ْتتمہ حقیقت الوحی ص۱۱۵

  4. ’’معمولی انسان‘‘

    خزائن ج۳ ص۴۲۲

    ازالہ خورد ج۲ ص۹۶

  5. ’’مجنون درندہ‘‘

    خزائن ج۴ ص۳۲۴

    آسمانی فیصلہ ص۱۴

  6. ’’محجوب مولوی‘‘

    خزائن ج۴ ص۳۴۱

    آسمانی فیصلہ ص۱۹

  7. ن

  8. ’’نادان علماء‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۳۵۵

    ایام الصلح ص۱۱۷

  9. ’’ناپاک طبع‘‘

    خزائن ج۱۴ ص۴۱۳

    ایام الصلح ص۱۶۵

  10. ’’نااہل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  11. ’’ناسمجھ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۱۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۳۳

  12. ’’نابکار‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۴

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰

  13. ’’نادان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳

  14. ’’نابینا علماء‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۶۱

  15. ’’نادان بطالوی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۰

    انجام آتھم ص۲۰ حاشیہ

  16. ’’نالائق‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴

    انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

  17. ’’نفاق زدہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴

    انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

  18. ’’نالائق نذیر حسین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۴۵

    انجام آتھم ص۴۵

  19. ’’نیم ملا‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۰

    آئینہ کمالات اسلام ص۶۰۰

  20. ’’ننگ اسلام‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۰۸

    آئینہ کمالات اسلام ص د

  21. ’’نجاست خور‘‘

    خزائن ج۱۸ ص۳۸۶

    نزول المسیح ص۸

  22. ’’نفسانی مولویو‘‘

    خزائن ج۳ ص۱۰۵

    ازالہ اوہام ج۱ ص۳

  23. ناواقف

    خزائن ج۲۰ ص۳۳۵

    مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب

  24. ’’نادانوں‘‘

    خزائن ج۲۰ ص۳۸۹

    مقدمہ چشمہ مسیحی ص۷۵

108
  1. ’’نابکاروں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

  2. ’’نیم عیسائیو‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۹

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۵ حاشیہ

  3. ’’ناخدا ترس‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۲۵

    تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۴

  4. ’’نادان ہندوزادہ‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۷

    انواراسلام ص۲۶ حاشیہ

  5. ’’نہایت پلید طبع‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۹۸

    ضیاء الحق ص۳۶

  6. ’’ناسعادت مند شاگرد محمد حسین‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۴۵

    انجام آتھم ص۴۵

  7. ’’نابینا‘‘

    خزائن ج۱۰ ص۱۳۱

    ست بچن ص۱۹

  8. ’’نذیر حسین خشک معلم‘‘

    خزائن ج۵ ص۶۱۱

    آئینہ کمالات اسلام ص ز

  9. ’’نادان صحابی‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۲۸۵

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۲۰

  10. ’’نادان قوم‘‘

    خزائن ج۲۱ ص۳۱۳

    ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص۱۴۵

  11. ’’ناقص العقل چیلوں‘‘

    خزائن ج۹ ص۵۰

    انوارالاسلام ص۴۸

  12. ’’نالائق چیلوں‘‘

    خزائن ج۹ ص۲۸۵

    ضیاء الحق ص۲۷

  13. ’’نادان غبی‘‘

    خزائن ج۸ ص۳۰۱

    اتمام الحجہ ص۲۲

  14. ’’ناپاک فرقہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۳ حاشیہ

  15. ’’نادان پادریوں‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲

    انجام آتھم ص۲

  16. ’’نالائق متعصب‘‘

    خزائن ج۵ ص۴۳

    آئینہ کمالات اسلام ص۴۳

  17. و،ہ

  18. ’’وہ گندے اخبار نویس‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵

  19. ’’وہ گدھا ہے نہ انسان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۱

    ضمیمہ انجام ص۴۷

  20. ’’وحشی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۳

    ضمیمہ انجام ص۴۹

  21. ’’وہ بذات‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۳۴

    ْضمیمہ انجام آتھم ص۵۰

  22. ’’ہامان‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۶

  23. ’’ہندوزادہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۵۹

    انجام آتھم ص۵۹ حاشیہ

  24. ’’ہواوہوس کا بیٹا‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۵۴

    اعجاز احمدی ص۴۳

109
  1. ’’واشی‘‘

    خزائن ج۸ ص۹۶

    نورالحق ج۱ ص۷۲

  2. ’’والغبی المعذول‘‘

    خزائن ج۸ ص۱۳۴

    نورالحق ج۱ ص۱۰۱

  3. ’’ولد الحرام‘‘

    خزائن ج۹ ص۳۱

    انوارالاسلام ص۳۰

  4. ’’ہزارلعنت کارسہ‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۷

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۱۰

  5. ولدالحلال نہیں

    خزائن ج۹ ص۳۱

    انوارالاسلام ص۲۹

  6. ’’واہ رے شیخ چلی کے بڑے بھائی‘‘

    خزائن ج۹ ص۴۰

    انوارالاسلام ص۳۰

  7. ’’ہٹ دھرمی‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۶

    اشتہار انعامی تین ہزار ص۱۰

  8. ’’والدجال البطال‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۵۱

    انجام آتھم ص۲۵۱

  9. ’’آنکھوں کے اندھے‘‘

    مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۶

    اشتہار انعامی چارہزار ص۱۰

  10. ’’ہمچو گرگ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۲

    مواہب الرحمن ص۱۳۱

  11. ’’ہمچو جنین‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۳۵۹

    مواہب الرحمن ص۱۳۸

  12. ی،ے

  13. ’’یہودی صفت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۸۷

    ضمیمہ انجام آتھم ص۳

  14. ’’یاوہ گوہ‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۳

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۹ حاشیہ

  15. ’’یہودی سیرت‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۲۴

    انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

  16. ’’یہ شخص منافق‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۳

    شہادۃ القرآن ص و

  17. ’’یہ نادان خون پسند‘‘

    خزائن ج۶ ص۳۸۱

    شہادۃ القرآن ص و

  18. ’’یہ لوگ حیوانات‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۳۱

    اعجاز احمدی ص۲۲

  19. ’’یہودی‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۲۹

    ضمیمہ انجام آتھم ص۴۵

  20. ’’یاشیخ الضلالۃ‘‘

    خزائن ج۱۹ ص۱۸۸

    اعجاز احمدی ص۷۶

  21. ’’یک چشم‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۸

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۴ حاشیہ

  22. ’’یاجوج ماجوج اور دجال بہ یورپین قومیں‘‘

    خزائن ج۲۳ ص۸۶

    چشمہ معرفت ج۱ ص۷۸ حاشیہ

110
  1. ’’یہ جہلاء‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸ حاشیہ

  2. ’’یہودیت کا خمیر‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  3. ’’یہ دل کے مجذوم‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۰۵

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ

  4. ’’یہ سب مولوی جاہل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۱۰

    ضمیمہ انجام آتھم ص۲۶

  5. ’’یہ شریر‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۱

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۷

  6. ’’یہ سیاہ دل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  7. ’’یہ جاہل‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۳۴۲

    ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸

  8. ’’یہ منافق‘‘

    خزائن ج۱۱ ص۴۹

    انجام آتھم ص۴۹

  9. ’’یاغول البراری‘‘

    خزائن ج۷ ص۱۵۲

    کرامات الصادقین ص د (۴)

مرزاقادیانی کی نبوت کی دلیل

مرزاقادیانی کی نبوت کی دلیل نہ تو علم ہے اور نہ عقل اور نہ حافظہ اور نہ فہم اور نہ زہد اور نہ تقویٰ اور نہ صداقت اور نہ امانت اور نہ عصمت اور نہ عفت اور نہ حسب اور نہ نسب اور نہ اخلاق فاضلہ اور نہ معجزات اور نہ کرامات۔ کچھ بھی نہیں سب صفر ہے۔

دلیل صرف یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے۔ سبحان اللہ ! عجیب دلیل ہے۔ کیا محض کسی نبی کا فوت ہو جانا کسی مدعی کے نبی ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے فرض کیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے۔ لیکن آپ اپنے نبی ہونے کی مستقل دلیل بیان کیجئے۔ خاتم الانبیاء سے پہلے ایک نبی کی زندگی میں بھی نبی آتے رہے ہیں۔

اگر کسی گاؤں کا دہقان یہ دعویٰ کرے کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں اور چوہدری اور دلیل یہ بیان کرے کہ چونکہ اس ملک کا بادشاہ مرچکا ہے اور میں اس فوت شدہ بادشاہ کا مثیل ہوں اور شبیہ اور ہم نام ہوں اور میرا گاؤں اسی کے دارالسلطنت کے سمت پر واقع ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں تو کیا اہل عقل کے نزدیک اس طرح سے اس شخص کی بادشاہت ثابت ہو جائے گی؟ اہل عقل کے نزدیک جو شخص اس کی بادشاہت تسلیم کرے گا وہ بھی پاگل اور دیوانہ سمجھا جائے گا اور اگر اس قسم کے چندپاگل مل کر عقلاء کو مناظرہ

111

اور مباہلہ کا چیلنج دیں کہ آؤ ہم اس بادشاہ کی وفات ثابت کریں گے تاکہ اس وقت سے اس مدعی کی بادشاہت ثابت ہو جائے تو عقلاء کو جائز ہے کہ تفریحی طور پر ان احمقوں کی حماقت ظاہر کرنے کے لئے دعوت مناظرہ منظور کر لیں۔ ورنہ مناظرہ فی الحقیقت نظری امور میں ہوتا ہے۔ ایسے بدیہی البطلان امور میں تو مناظرہ نہیں ہوتا مرزاقادیانی کا دعویٰ آریوں کے بادشاہ ہونے کا بھی ہے۔ مگر کسی آریہ کے حلق کے نیچے نہیں اترا۔

جس کا جی چاہے موسیٰ بنے اور جس کا جی چاہے فرعون بنے۔ مگر موسیٰ بن عمران بننے کے لئے بھی کوئی ظاہری اور مادی سامان چاہئے۔ ورنہ فرعون بے سامان اور نواب بے ملک کہلائے گا اور مرزاقادیانی کے پاس نہ کوئی نشان ہے اور نہ کوئی سامان ہے۔ مرزاقادیانی اگر موسیٰ تھے تو بتلائیں کہ وہ کون سا فرعون غرق ہوا اور اگر نوح تھے تو وہ کون سی دنیا غرق ہوئی اور اگر مسیح تھے تو کون سے مسیح جیسے معجزے دکھلائے؟

مرزاقادیانی کا دس لاکھ معجزات کا دعویٰ

آنحضرتa کے معجزات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں اور ہرہر معجزہ کو علیحدہ علیحدہ سند متصل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مرزاقادیانی کے مریدین کو بھی چاہئے کہ مرزاقادیانی کے دس لاکھ معجزات (براہین احمدیہ ج۵ ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲) پر کوئی کتاب لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ دنیا کومرزاقادیانی کے معجزات کا علم ہو سکے کہ آخر وہ کیا کیا معجزے تھے؟

اب میں اس تحریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس تحریر کو قبول فرمائے اور لوگوں کے لئے موجب ہدایت بنائے۔ آمین ثم آمین!

’’واخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العلمین‘‘

ض … ض … ض

112

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

113

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ۔ اما بعد!

بندۂ ناچیز محمد ادریس کاندھلوی کان اللہ لہ وکان ہو ﷲ آمین۔ اہل اسلام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ مرزائیوں کو اپنی گمراہی اور غلط عقائد کے ثابت کرنے کے لئے کتاب اور سنت اور اقوال صحابہi وتابعینw اور ائمہ دینw اور فقہاءw اور محدثینw اور مفسرینw اور متکلمینw کے کلام میں تو کہیں تل رکھنے کی گنجائش نہیں ملتی۔ اس لئے یہ گروہ حضرات اولیاءw اور عارفینw کے ناتمام اقوال قطع وبرید کر کے عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ تاکہ عوام ان حضرات اولیاءw کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکیں۔ حالانکہ ان بزرگوں کا صریح عقیدہ جو عین قرآن وحدیث کے مطابق ہوتا ہے وہ ان کی کتابوں میں مذکور ہوتا ہے۔ اس کو یہ لوگ نقل نہیں کرتے۔ البتہ بزرگوں کے ان مبہم اور مجمل کلام کو نقل کر دیتے ہیں کہ جو ان بزرگوں سے ایک خاص حالت سکر میں نکلا ہے جو باتفاق علماء حجت نہیں۔ جیسا کہ منصور نے ایک خاص بے خودی کی حالت میں انا الحق کہہ دیا۔ مگر جب اس حالت سے افاقہ ہوا تو تائب ہوئے تو کیا کوئی عاقل منصور کے انا الحق کہنے سے یہ استدلال کرسکتا ہے کہ ظلی اور بروزی الوہیت بندہ کو بھی مل سکتی ہے اور ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے سوا کوئی مستقل خدا نہیں ہوسکتا۔ البتہ ظلی اور بروزی خدا ہوسکتا ہے۔ حاشا وکلّٰا یہ صریح کفر اور ارتداد ہے اسی طرح ’’لا نبی بعدی‘‘ میں یہ تاویل کرنا کہ حضورa کے بعدکوئی مستقل نبی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ظلی اور بروزی نبی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی صریح کفر اور ارتداد ہے۔

اسی سلسلہ میں آج کل مرزائی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا نام نامی لے رہے ہیں کہ معاذ اللہ مولانا محمد قاسم صاحب بھی خاتم الانبیاء کے بعد نئے نبی کا آنا جائز رکھتے ہیں۔ یہ مولانا پر صریح بہتان اور افتراء ہے۔ اس بارہ میں حضرت مولانا کا تحذیر الناس کے نام سے ایک مختصر رسالہ ہے جو عجیب وغریب حقائق ومعارف اور نہایت دقیق اور عمیق علوم پر مشتمل ہے۔ ناظرین تو قصور فہم کی وجہ سے غلط فہمی میں مبتلا ہوئے اور زائغین اور ملحدین

114

نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اس رسالہ کی ناتمام عبارتیں، ماقبل اور مابعد سے حذف کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کردیں۔ جس سے عوام اور سادہ لوح، تردّد اور تحیّر میں پڑ گئے۔ اس لئے بہ تقاضائے اصلاح یہ ضروری سمجھا کہ مولانا محمد قاسمv کے کلام کا خلاصہ سلیس عبارت میں پیش کر دیا جائے تاکہ لوگ غلط فہمی سے محفوظ ہو جائیں۔ ’’فاقول وب اللہ التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق وہوالہادی الٰی سواء الطریق‘‘

خاتمیت ایک جنس ہے، جس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک زمانی اور دوسری رتبی۔ خاتمیت زمانیہ کے معنی یہ ہیں کہ حضورa سب سے اخیر زمانہ میں تمام انبیاءB کے بعد مبعوث ہوئے اور اب آپa کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا اور خاتمیت رتبیہ کے معنی یہ ہیں کہ نبوت ورسالت کے تمام کمالات اور مراتب حضورa کی ذات بابرکات پر ختم ہیں اور نبوت چونکہ کمالات علمیہ میں سے ہے اس لئے خاتم النّبیین کے معنی یہ ہوں گے کہ جو علم کسی بشر کے لئے ممکن ہے وہ آپa پر ختم ہوگیا اور حضورa پر نوردونوں اعتبار سے خاتم النّبیین ہیں۔ زمانہ کے اعتبار سے بھی آپa خاتم ہیں اور مراتب نبوت اور کمالات رسالت کے اعتبار سے بھی خاتم ہیں۔ حضورa کی خاتمی فقط زمانی نہیں بلکہ زمانی اور رتبی دونوں قسم کی خاتمیت حضورa کو حاصل ہے۔ اس لئے کمال مدح جب ہی ہوگی کہ جب دونوں قسم کی خاتمیت ثابت ہو۔ مولانا محمد قاسمv فرماتے ہیں کہ حضورa کی خاتمیت زمانیہ قرآن اور حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے اور حضورa کی خاتمیت زمانیہ کا منکر ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ رکعات نماز کا منکر کافر ہے۔

چنانچہ (تحذیر الناس ص۱۰) پر تحریر فرماتے ہیں: ’’سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو خاتمیت ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے اور ہر تصریحات نبوی مثل ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا نہ لا نبی بعدی او کما قال‘‘ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النّبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ہے۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ چکا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا۔ گو الفاظ مذکور بسند

115

متواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا۔ جیسا کہ تواتر اعداد رکعات فرائض، وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا کہ اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔‘‘

اس عبارت میں اس امر کی صاف تصریح موجود ہے کہ خاتمیت زمانیہ کا منکر ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ تعداد رکعات کا منکر کافر ہے۔

مولانا مرحوم اس خاتمیت زمانیہ کے علاوہ حضورa کے لئے ایک اور معنی کر کے خاتمیت ثابت فرماتے ہیں۔ جس سے حضورa کا تمام اوّلین اور آخرین سے افضل واعلم ہونا ثابت ہو جائے وہ یہ کہ حضورa پرنور کمالات نبوت کے منتہی اور خاتم ہیں اور علوم اوّلین وآخرین کے معدن اور منبع ہیں۔ جس طرح تمام روشنیوں کا سلسلہ آفتاب پر ختم ہوتا ہے۔ اسی طرح تمام علوم اور کمالات کا سلسلہ حضورa پر ختم ہوتا ہے۔

معاذ اللہ ! مولانا مرحوم خاتمیت زمانیہ کے منکر نہیں بلکہ خاتمیت زمانیہ کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں۔ لیکن اس خاتمیت زمانیہ کی فضیلت کے علاوہ خاتمیت رتبیہ کی فضیلت بھی حضورa کے لئے ثابت کرنا چاہتے ہیں تاکہ حضورa کی تمام اولین اور آخرین پر فضیلت اور سیادت ثابت ہو اور خاتمیت زمانیہ اور رتبیہ میں فرق یہ ہے کہ خاتمیت زمانیہ کے اعتبار سے حضورa کے بعد کسی نبی کا آنا شرعاً محال اور ناممکن ہے اور خاتمیت رتبیہ کے اعتبار سے بفرض محال اگر حضورa کے بعد بھی کوئی نبی مبعوث ہو تو حضورa کی خاتمیت رتبیہ میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ بہرصورت آپ کمالات نبوت کے منتہی اور خاتم ہیں۔ آفتاب اگر تمام ستاروں سے پہلے طلوع کرے یا درمیان میں طلوع کرے۔ آفتاب کے منبع نور ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اسی طرح بالفرض اگر حضورa پرنور تمام انبیاءB سے پہلے مبعوث ہوتے یا درمیان میں مبعوث ہوتے تو آپa کے منبع کمالات ہونے میں کوئی فرق نہ آتا اور یہ فرض بھی محض احتمال عقلی کے درجہ میں ہے۔ ورنہ جس طرح خاتمیت زمانیہ میں حضورa کے بعد نبی کا آنا محال ہے۔ اسی طرح خاتمیت رتبیہ میں بھی آپa کے

116

بعد نبی کا آنا محال ہے۔ اس لئے کہ اگر انبیاء متاخرین کا دین، دین محمدیa کے مخالف ہوا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آئے گا۔ جو حق تعالیٰ شانہ کے اس قول: ’’ماننسخ من آیۃ اوننسہانات بخیر منہا‘‘ کے خلاف ہے۔ نیز جب علم ممکن للبشر آپa پر ختم ہوچکا تو آپa کے بعد کسی نبی کا مبعوث ہونا بالکل عبث اور بے کار ہوگا۔ حاصل یہ نکلا کہ خاتمیت رتبیہ کے لئے خاتمیت زمانیہ بھی لازم ہے۔

مولانا مرحوم کے نزدیک اگر حضورa کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونا شرعاً جائز ہوتا تو لفظ بالفرض استعمال نہ فرماتے۔ مولانا کا یہ فرمانا کہ بالفرض اگر آپa کے بعد کوئی نبی الخ یہ لفظ بالفرض خود اس کے محال ہونے پر دلالت کرتا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ بات محال ہے کسی طرح ممکن نہیں۔ لیکن اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لئے اس محال کو بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی حضورa کی خاتمیت رتبیہ اور آپa کی افضلیت اور سیادت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ یہ ایسا ہے جیسے حضورa کا یہ فرمانا کہ: ’’لوکان بعدی نبی، لکان عمر‘‘ {اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq ہوتا۔}

تو ظاہر ہے کہ حضورa کا مقصود یہ نہیں کہ آپa کے بعد نبی کا آنا ممکن ہے۔ بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ بفرض محال اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرq ہوتا۔ اس ارشاد سے حضورa کی خاتمیت اور عمرq کی فضیلت ثابت کرنا مقصود ہے۔

اس کو اس طرح سمجھو کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر ایک چاند نہیں بلکہ ہزارچاند ہوں تب بھی ان سب کا نور آفتاب ہی سے مستفاد ہوگا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ حقیقتاً ہزاروں چاند ہیں بلکہ مقصود آفتاب کی فضیلت ثابت کرنا ہے کہ آفتاب تمام انوار اور شعاعوں کا ایسا خاتم اور منتہا ہے کہ اگر بالفرض ہزار چاند بھی ہوں تو ان کا نور بھی اس سے مستفاد ہوگا۔

اس بالفرض ہزار چاند کہنے سے آفتاب کی فضیلت دوبالا ہو جائے گی کہ آفتاب فقط اسی موجودہ قمرسے افضل نہیں۔ بلکہ اگر جنس قمر کے اور بھی ہزاروں افراد فرض کر لئے

117

جائیں تب بھی آفتاب ان سب سے افضل اور بہتر ہوگا۔ اسی طرح نبی اکرمa کی تمام افراد نبوت پر فضیلت اور برتری بتلانا مقصود ہے۔ خواہ وہ افراد ذہنی ہوں یا خارجی، محقق ہوں یا مقدر، ممکن ہوں یا محال اور یہ کہ حضورa پرنور سلسلہ نبوت کے علی الاطلاق خاتم ہیں۔ زماناً بھی اور رتبۃً بھی۔

مولانا نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ سرور عالمa کے بعد نبی کا آنا شرعاً جائز ہے۔ بلکہ یہی فرماتے ہیں کہ جو شخص اس امر کو جائز سمجھے کہ حضورa کے بعد نبی کا آنا شرعاً ممکن الوقوع ہے۔ وہ کافر ہے اور قطعاً دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

چنانچہ مولانا محمد قاسمv (مناظرۂ عجیبہ ص۳۹) پر لکھتے ہیں: ’’خاتمیت زمانیہ اپنا دین وایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کوئی علاج نہیں۔‘‘

پھر اسی کتاب کے (ص۱۰۳) پر لکھتے ہیں: ’’امتناع بالغیر میں کسے کلام ہے۔ اپنا دین وایمان ہے کہ بعد رسول اللہ a کسی اور نبی ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تأمل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔‘‘

ناظرین باتمکین۔ مولانا محمد قاسمv کے ان عبارات اور تصریحات کے بعد خود انصاف کریں کہ کیا مولانا محمد قاسمv خاتمیت زمانہ کے منکر ہیں۔ حاشاوکلّا، وہ تو خاتمیت زمانیہ کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس خاتمیت زمانیہ کے علاوہ حضورa کے لئے ایک اور خاتمیت یعنی خاتمیت رتبیہ ثابت کرتے ہیں تاکہ حضورa کی فضیلت وسیادت خوب واضح اور نمایاں ہو جائے۔ ’’وآخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین وصلی اللہ علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین‘‘

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضرات صوفیاء کرامw اور مسئلہ ختم نبوت

علماء شریعت کی طرح تمام صوفیاء کرام بھی اس پر متفق ہیں کہ نبوت ورسالت خاتم

118

النّبیینa پر ختم ہوگئی اور آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور حضورپرنورa کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔

شیخ محی الدین ابن عربیv

اور یہی شیخ محی الدین ابن عربی کا مسلک ہے کہ نبوت ورسالت بالکل ختم ہوچکی۔ البتہ نبوت ورسالت کے کچھ کمالات اور اجزاء باقی ہیں کہ جو اولیاء امت کو عطاء کئے جاتے ہیں۔ مثلاً کشف اور الہام اور رویائے صادقہ (سچاخواب) اور کرامتیں۔ اس قسم کے کمالات نبوت کے اجزاء ہیں وہ ہنوز باقی ہیں۔ لیکن ان کمالات کی وجہ سے کسی شخص پر نبی کا اطلاق کسی طرح جائز نہیں اور نہ ان کے کشف اور الہام پر ایمان لانا واجب ہے۔ ایمان فقط کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ہے۔ نبی کا تو خواب بھی وحی ہے مگر ولی کا خواب اور الہام شرعاً حجت نہیں۔ نبی کے خواب سے ایک معصوم کا ذبح کرنا اور قتل کرنا بھی جائز ہے۔ مگر ولی کے الہام سے قتل کا جواز تو کیا ثابت ہوتا اس سے استحباب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اس کو اس طرح سمجھو کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمالات اور خصلتیں بادشاہ اور وزیر کی سی پائی جائیں تو اس بناء پر وہ شخص بادشاہ اور وزیر نہیں بن سکتا اور اگر کوئی اس بناء پر بادشاہت اور وزارت کا دعویٰ کرے اور اپنے کو وزیر اور بادشاہ کہنے لگے تو فوراً گرفتاری کے احکام جاری ہوجائیں گے۔ اس طرح اگر کسی شخص میں نبوت کے برائے نام کچھ کمالات پائے جائیں تو اس سے اس شخص کا منصب نبوت پر فائز ہونا لازم نہیں آتا بلکہ اگر کوئی شخص اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ مرتد اور اسلام کا باغی سمجھا جائے گا۔

شیخ محی الدین ابن عربیv کی صاف صاف تصریحات موجود ہیں کہ نبوت ختم ہوگئی۔ اب قیامت تک کسی کو منصب نبوت نہیں مل سکتا اور نہ کسی پر نبی اور رسول کا اطلاق جائز ہے۔ البتہ نبوت کے کچھ کمالات اور اجزاء باقی ہیں۔ مگر کمالات نبوت اور اجزاء رسالت سے متصف ہونا اتصاف بالنبوۃ کو مستلزم نہیں۔ تفصیل اگر درکار ہو تو’’مسک الختام فی ختم النبوۃ علی سید الانام‘‘ کی طرف مراجعت کریں۔ (جو اس مجموعہ کے اوّل میں

119

شامل ہے) حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیراحمد عثمانی قدس اللہ سرہ (الشہاب ص۸) میں فرماتے ہیں کہ شیخ اکبرv نے اپنی خاص اصطلاح میں ولایت اور محدثیت کو نبوت غیرتشریعی کے لفظ سے تعبیر کر دیا۔ مگر اس گروہ کو نبی نہیں کہا جاسکتا۔

چنانچہ شیخ محی الدین ابن عربیv فرماتے ہیں: ’’فاخبر رسول اللہ a ان الرؤیا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقی للناس فی النبوۃ ہذا وغیرہ ومع ہذا لا یطلق اسم النبوۃ ولا النبی الا علی المشرع خاصۃ فحجر ہذا الاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ‘‘ رسول اللہ a نے ہم کو بتلایا کہ خواب (سچا) اجزائے نبوت میں سے ایک جزو ہے تو لوگوں کے واسطے نبوت میں سے یہ جزو (رؤیا) وغیرہ باقی رہ گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی نبوت کا لفظ اور نبی کا نام بجز مشرع (امرونہی لانے والا) کے اور کسی پر نہیں بولا جاسکتا تو نبوت میں ایک خاص وصف معین کی موجودگی کی وجہ سے اس نام (نبی) کی بندش کر دی گئی۔ (فتوحات ج۲ ص۴۹۵)

’’کمن یوحی الیہا فی المبشرات وہی جزء من اجزاء النبوۃ وان لم یکن صاحب المبشرۃ نبیا فتفطن لعموم رحمۃ اللہ فما تطلق النبوۃ الا لمن اتصف بالمجموع فذالک النبی وتلک النبوۃ التی حجرت علینا وانقطعت فان من جملتہا التشریع بالوحی الملکی فی التشریع… وذلک لا یکون الا لنبی خاصۃ‘‘ جیسے کسی کی طرف مبشرات کی وحی آئی اور وہ مبشرات اجزائے نبوت میں سے ہیں۔ اگرچہ صاحب مبشر نبی نہیں ہو جاتا۔ پس رحمت الٰہیہ کے عموم کو سمجھو تو نبوت کا اطلاق اسی پر ہوسکتا ہے جو تمام اجزائے نبوت سے متصف ہو وہی نبی ہے اور وہی نبوت ہے جو منقطع ہوچکی اور ہم سے روک دی گئی۔ کیونکہ نبوت کے اجزاء میں سے تشریع بھی ہے جو وحی ملکی سے ہوتی ہے اور یہ بات صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہے۔

شیخ اکبرv ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ’’فما بقی للاولیاء الیوم بعد ارتفاع النبوۃ الا التعریفات وانسدت ابواب الاوامر الالہیہ والنواہی فمن ادعاہا بعد محمدa فہو مدع شرعۃ اوحی بہا الیہ سواء وافق بہا شرعنا او خالف‘‘ (فتوحات مکیہ ج۳ ص۵۱)

120

نبوت اٹھ جانے کے بعد آج اولیاء کے لئے بجز تعریفات کے کچھ باقی نہیں رہا اور اوامر ونواہی کے سب دروازے بند ہوچکے؟ اب جو کوئی محمد رسول اللہ a کے بعد امرونہی کا مدعی ہو۔ (جیسے مرزا صاحب) وہ اپنی طرف وحی شریعت آنے کا مدعی ہے۔ خواہ شریعت ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔

صوفیائے کرام کے شطحیات

حضرات صوفیاء کرامw کے یہاں ایک خاص باب ہے جس کو شطحیات سے تعبیر کیا جاتا ہے اور خود فتوحات مکیہ میں اس کا ایک باب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرات صوفیاw پر کچھ باطنی حالات گزرتے ہیں۔ جو ایک سکر اور بے خودی کی حالت ہوتی ہے۔ اس حالت میں ان سے ایسے کلمات نکل جاتے ہیں جو قواعد شریعت اور کتاب وسنت کے نصوص پر چسپاں نہیں ہوتے۔ جیسے انا الحق اور سبحانی مااعظم شانی اور جب ہوش میں آتے ہیں تو ایسے کلمات سے توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔

خود حضرات صوفیاء کی ان شطحیات کے بارہ میں تصریحات موجود ہیں کہ کوئی شخص ہماری ان باتوں پر ہرگز عمل پیرا نہ ہوکہ جو ہم سے ان خاص حالات میں بے اختیار صادر ہوئی ہیں۔ بلکہ جس شخص پر یہ حالات نہ گزرے ہوں اس کو ہماری کتابوں کا مطالعہ بھی جائز نہیں اور یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ ہمارا کشف اور الہام کسی پر حجت نہیں۔ ہمارا کشف صرف ہمارے لئے ہے اور اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر یہ حکم بذریعہ وحی نازل ہوا ہے۔ خواہ وہ حکم شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔ اگر وہ مدعی عاقل بالغ ہے تو قابل گردن زدنی ہے اور اگر عاقل بالغ نہیں تو اس سے اعراض کریں گے۔

حدیث میں ہے کہ جب آنحضرتa کا وصال ہوا تو فاروق اعظمq جیسے شخص کا بے خودی میں یہ حال ہواکہ تلوار لے کر بیٹھ گئے اور یہ کہنے لگے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ کا انتقال ہوگیا اس کی گردن اڑادوں گا۔ صدیق اکبرq آئے اور ان کلمات کو سنتے ہوئے گزر گئے اور منبر نبوی پر جاکر خطبہ دیا۔ ’’وما محمد الا رسول قد خلت من

121

قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم انک میت وانہم میتون‘‘ صحابہ کرامi فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیقq کے خطبہ سے ہماری آنکھیں کھل گئیں اور فاروق اعظمq کو بھی اس حالت سے افاقہ ہو گیا۔

اب قابل غور امر یہ ہے کہ فاروق اعظمq کی زبان سے جو کلمات نکلے وہ غلبہ حال میں نکلے۔ حقیقت کے بالکل خلاف تھے۔ مگر چونکہ وہ ایک سکر اور بے خودی کی حالت تھی اس لئے صحابہi نے حضرت عمرq کو معذور سمجھ کر سکوت کیا اور کسی قسم کی ملامت نہیں کی اور اتباع صدیق اکبرq کا کیا، کیونکہ وہ مغلوب الحال نہ تھے۔

شیخ محی الدین ابن عربیv فرماتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ صدیق اکبرq خلیفہ بلا فصل ہوئے۔ نبی کا خلیفہ وہی ہوسکتا ہے جو حال پر غالب ہو اور جس پر حال غالب آ جائے وہ خلیفہ بلافصل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے انبیاء کرامB کبھی مغلوب الحال نہیں ہوتے۔ انبیاء کرامB ہمیشہ حال پر غالب رہے ہیں۔ س لئے حضرات صوفیاء کرامw کے اس قسم کے شطحیات شرعاً حجت نہیں اور نہ ان کا اتباع جائز ہے۔ البتہ وہ حضرات معذور ہیں اور ان پر ملامت جائز نہیں۔ جیسے حضرات صحابہi نے نہ تو فاروق اعظمq کا اس قول میں اتباع کیا اور نہ ان پر کوئی ملامت کی۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ حضرات صوفیاء کرام کے ان اقوال کا ہرگز اتباع نہ کریں جو ان سے خاص حالات میں بے اختیار نکل گئے ہیں۔ بلکہ ان اقوال کا اتباع کریں جو انہوں نے سلسلہ عقائد کے بیان میں لکھے ہیں۔

’’وآخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین۔ وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الرحمین‘‘

محمد ادریس کاندھلوی کان اللہ لہ

یوم الجمعہ، ۱۵؍ذی القعدہ ۱۳۷۱ھ، جامعہ اشرفیہ لاہور

ض … ض … ض

122

الاعلام

بمعنی

الکشف والوحی والالہام

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

123

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

کشف

عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھا کر دکھلا دینے کا نام کشف ہے۔ کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی، اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہوگئی۔ قاضی محمد اعلیٰ تھانویv (کشاف اصطلاحات الفنون ص۱۲۵۴) میں لکھتے ہیں:’’الکشف عند اہل السلوک ہو المکاشقہ رفع حجاب راگویند کہ میان روح جسمانی است کہ ادراک آں بحواس ظاہری نتواں کرد۔ الخ!‘‘

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی صفائی اور نورانیت پر موقوف ہے۔ جس قدر قلب صاف اور منور ہوگا۔ اسی قدر حجابات مرتفع ہوں گے۔ جاننا چاہئے کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی نورانیت پر موقوف تو ہے مگر لازم نہیں۔(احیاء العلوم ج۳ ص۱۶)

الہام

کسی خیر اور اچھی بات کا بلانظروفکر اور بلاکسی سبب ظاہری کے منجانب اللہ قلب میں القاء ہونے کا نام الہام ہے جو علم بطریق حواس حاصل ہو وہ ادراک حسی ہے اور جو علم بغیرطور حس اور طور عقل، منجانب اللہ بلاکسی سبب کے دل میں ڈالا جائے وہ الہام ہے۔ الہام محض موہبت ربانی ہے اور فراست ایمانی، جس کا حدیث میں ذکر آیا ہے وہ من وجہ کسب ہے اور من وجہ وہب ہیں۔ کشف اگرچہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے الہام سے عام ہے۔ لیکن کشف کا زیادہ تعلق امور حسیہ سے ہے اور الہام کا تعلق امور قلبیہ سے ہے۔

وحی

وحی لغت میں مخفی طور پر کسی چیز کے خبر دینے کا نام ہے۔ خواہ وہ بطریق اشارہ وکنایہ ہو یا بطریق خواب ہو یا بطریق الہام ہو یا بطریق کلام ہو۔ لیکن اصطلاح شریعت میں وحی اس کلام الٰہی کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے بذریعہ فرشتہ نبی کو بھیجا ہو۔ اس کو وحی نبوت بھی کہتے ہیں جو انبیاءB کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر بذریعہ القاء فی القلب ہو تو اس کو وحی الہام کہتے ہیں جو اولیاء پر ہوتی ہے اور اگر بذریعہ خواب ہوتو اصطلاح شریعت میں اس کو

124

رویائے صالحہ کہتے ہیں جو عام مومنین اور صالحین کو ہوتا ہے۔ کشف اور الہام اور رویائے صالحہ پر لغۃً وحی کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ مگر عرف شرع میں جب لفظ وحی کا بولا جاتا ہے تو اس سے وحی نبوت ہی مراد ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے قرآن کریم میں باعتبار لغت کے شیطانی وسوسوں پر بھی وحی کا اطلاق آیا ہے۔ ’’کما قال تعالٰی: وان الشیٰطین لیوحون الے اولیائہم۔ وکذالک جعلنا لکل نبی عدوا شیٰطین الانس والجن یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غرورا‘‘ لیکن عرف میں شیطانی وسوسوں پر وحی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

وحی اور الہام میں فرق

وحی نبوت قطعی ہوتی ہے اور معصوم عن الخطاء ہوتی ہے اور امت پر اس کا اتباع لازم ہوتا ہے اور نبی پر اس کی تبلیغ فرض ہوتی ہے اور الہام ظنی ہوتا ہے اور معصوم عن الخطاء نہیں ہوتا۔ کیونکہ حضرات انبیاء معصوم عن الخطاء ہیں اور اولیاء معصوم نہیں۔ اسی وجہ سے الہام دوسروں پر حجت نہیں اور نہ الہام سے کوئی حکم شرعی ثابت ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ استحباب بھی الہام سے ثابت نہیں ہو سکتا۔

نیز علم احکام شرعیہ بذریعہ وحی انبیاء کرامB کے ساتھ مخصوص ہے اور غیرانبیاء پر جو الہام ہوتا ہے سو وہ از قسم بشارت یا از قسم تفہیم ہوتا ہے۔ احکام پر مشتمل نہیں ہوتا جیسے حضرت مریمp کو جو وحی الہام ہوئی وہ از قسم بشارت تھی نہ کہ از قسم احکام، اور بعض مرتبہ وحی الہام کسی حکم شرعی کی تفہیم اور افہام کے لئے ہوتی ہے۔

اور جس طرح رویائے صالحہ میں مراتب اور درجات ہیں جو شخص جس درجہ صالح اور جس درجہ صادق ہے اسی درجہ اس کا رؤیا بھی صالحہ اور صادقہ ہو گا۔ اسی طرح الہام میں بھی مراتب ہیں جس درجہ کا ایمان اور جس درجہ کی ولایت ہوگی، اسی درجہ کا الہام ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ اگر میری امت میں کوئی محدث من اللہ ہے تو وہ عمرq ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ یہ تحدیث من اللہ الہام کا ایک خاص مرتبہ ہے جو خواص اولیاء کو حاصل ہوتا ہے جو ان کی زبان سے نکلتا ہے، وہ حق ہوتا ہے اور صدق اور وحی خداوندی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ بلکہ حق جل شانہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ حق کا ظہور اور صدور اسی محدث من اللہ کی زبان

125

سے ہو۔ ’’کما قال تعالٰی فی قصۃ موسٰیm، حقیق علے الااقول علی اللہ الا الحق‘‘ یہ تحدیث الٰہی مرتبہ فاروقیہ ہے۔ اس کے اوپر مرتبہ صدیقیت ہے اور اس کے اوپر مرتبہ نبوت ورسالت ہے۔

وحی رحمانی اور وحی شیطانی میں فرق

اگر واردات قلبیہ کسی امر خیر اور امر آخرت یعنی حق جل شانہ کی اطاعت کی طرف داعی ہوں تو وحی رحمانی ہے اور اگر دنیاوی شہوتوں اور نفسانی لذتوں کی طرف داعی ہوں تو وہ وحی شیطانی ہے۔(کذافی خواتم الحکم ص۱۵۶، مدارج السالکین ج۱ ص۲۷)

حضرات صوفیائے کرام کا مطلب

جس طریق حق جل شانہ نے وحی کو معنی لغوی کے اعتبار سے مقسم قرار دے کر اس کے تحت میں وحی نبوت اور الہام اور شیطانی وسوسوں کو داخل فرمایا اور الہام کو معنی لغوی کے اعتبار سے الہام فجور اور الہام تقویٰ کی طرف تقسیم فرمایا: ’’فالہمہا فجورہا وتقواہا‘‘ اور لفظ ارسال معنی لغوی کے اعتبار سے شیطان لعین کے لئے آیا ہے۔ ’’انا ارسلنا الشیٰطین علی الکفرین‘‘

اسی طرح حضرات صوفیاء نے نبوت کو بمعنی لغوی لے کر مقسم بنایا۔ یعنی خداتعالیٰ سے اطلاع پانا اور دوسروں کو اطلاع دینا۔ اس معنی لغوی کو مقسم بنایا اور حضرات انبیاء کی نبوت اور وحی شریعت اور اولیاء کی ولایت اور الہام معرفت کو نبوت بمعنی لغوی کے تحت میں داخل فرمایا اور نبوت کے لئے چونکہ تشریع احکام ضروری ہے اور ولایت میں کوئی حکم شرعی نہیں ہوتا۔ اس لئے حضرات صوفیاء نے نبوت ورسالت کا نام نبوت تشریعہ رکھا اور ولایت کا نام نبوت غیرتشریعی رکھا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شریعت میں نبوت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک نبوت تشریعہ اور ایک نبوت غیرتشریعی بلکہ نبوت بمعنی لغوی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اصطلاح نبوت جس کے لئے تشریع احکام لازم ہے اور نبوت بمعنی لغوی کی دوسری قسم ولایت اور الہام ہے جس سے صرف حقائق اور معارف کا انکشاف ہوتا ہے۔ مگر اس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ کشف اور الہام سے مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا اور حضرات صوفیاء نے نہایت واضح طور پر اس کی تصریح کر دی ہے کہ حضور پرنورa کے بعد نبوت کا دروازہ

126

بالکل بند ہوچکا ہے اور جس قسم کی وحی حضرات انبیاء پر اترتی تھی وہ بالکل مسدود ہوگئی۔ اب نہ یہ منصب باقی ہے اور نہ کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ اپنے اوپر نبی اور رسول کے لفظ کا اطلاق کرے۔ نبوت بالکل ختم ہوگئی۔ اولیاء کے لئے نبوت میں سے صرف وحی الہام باقی ہے اور حفاظ قرآن کے لئے باقی ہے۔ حدیث میں ہے: ’’من حفظ القرآن فقد درجت النبوۃ بین جنبیہ‘‘ جس نے قرآن کو حفظ کر لیا تو اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان نبوت داخل کر دی گئی۔

اور علماء اور خواص امت کو منصب رسالت میں یہ حصہ ملا کہ وہ احکام شریعت کی تبلیغ کریں اور فقہاء اور مجتہدین کو منصب رسالت سے یہ حصہ ملا کہ کتاب وسنت اور شریعت کی روشنی میں اجتہاد واستنباط کریں اور غیرمنصوص امور کا حکم اصول شریعت کے ماتحت رہ کر خداداد نور فہم اور نور تقویٰ سے قران اور حدیث سے نکال کر امت کو فتویٰ دیں۔ اس طرح مجتہدین کو تشریح احکام کا ایک حصہ عطاء ہوا اور یہ بھی تصریح فرمائی کہ جو شخص آنحضرتa کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر اللہ کے یہ احکام اور یہ اوامر اور نواہی نازل ہوئے ہیں۔ وہ مدعی شریعت ہے ہم اس کی گردن اڑادیں گے۔

تو کیا مرزاقادیانی کے نزدیک تمام اولیاء اور علماء اور حفاظ قرآن نبی ہو سکتے ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے؟ حضرات صوفیاء کی اس تحقیق سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر اولیاء کو نبوت غیرتشریعہ سے حصہ ملا ہے تو فقہاء اور مجتہدین کو تو نبوت تشریعہ سے حصہ ملا ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کے نزدیک ائمہ اجتہاد تو تشریعی نبی ہونے چاہیں۔

بلکہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربیv نے نبوت بمعنی لغوی (یعنی خدا سے خبر پانا اور دینا) کو اس قدر عام فرمایا کہ کسی موجود کو اس سے خالی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ فتوحات کے ایک سو پچیسویں باب میں فرماتے ہیں:’’اعلم ان النبوۃ اللّٰتی ہی الاخبار من شی ساریۃ فی کل موجود عند اہل الکشف والوجود لکنہ لایطلق علی احد منہم اسم نبی ولا رسول الاعلی الملائکۃ الذی ہم رسل‘‘ (کبریت احمر ج۱ ص۱۱۸)

جاننا چاہئے کہ نبوت جس کے معنی لغت میں خبردینے کے ہیں وہ اہل کشف کے

127

نزدیک تمام موجودات میں سرایت کئے ہوئے ہیں۔ لیکن معنی شرعی کے اعتبار سے نبی اور رسول کا اطلاق بجز فرشتوں کے اور موجودات پر نہیں کیا جائے گا۔

اب دیکھئے کہ اس عبارت میں تمام مخلوقات اور تمام موجودات کے لئے ثابت فرمادیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتلادیا کہ نبوت بمعنی لغوی یعنی اخبار عن الشی تمام موجودات میں جاری وساری ہے۔ مگر معنی شرعی کے اعتبار سے کسی پر نبی اور رسول کا اطلاق درست نہیں۔ شہد کی مکھیوں کے لئے وحی اور ہرنفس کے لئے الہام کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے: ’’واوحی ربک الی النحل۔ فالہہما فجورہا وتقوہا‘‘ معلوم ہوا کہ وحی اور الہام کے فیض سے حیوانات بھی محروم نہیں۔ خداوند ذوالجلال کی وحی اور الہام کی تاربرقی ہر ایک مخلوق کے دل میں لگی ہوئی ہے۔

  1. سب سے ربط آشنائی ہے تجھے

    دل میں ہر ایک کے رسائی ہے تجھے

اس مسئلہ کی تحقیق اور تفصیل درکار ہو تو بوادر النوادر ص۶۲۰تا۶۳۶ مصنفہ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی قدس سرہ اور مسک الختام مصنفہ ناچیز اور الشہاب مصنفہ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیv کی مراجعت کریں۔ و اللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم!

صوفیاء کے شطحیات

صوفیاء کرام کے یہاں ایک باب ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں۔ شطحیات، شطحی یا شطح کی جمع ہے۔ اصطلاح صوفیاء میں شطح کی تعریف یہ ہے کہ جو بات غلبہ حال اور غلبہ وارد کی وجہ سے بے اختیار زبان سے نکل جائے اور بظاہر قواعد شریعت کے خلاف معلوم ہوتی ہے اس کو شطح کہتے ہیں۔ ایسے شخص پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ دوسروں کو اس کی تقلید جائز ہے۔

خود حضرات صوفیاء نے اس کی تصریح فرمادی ہے کہ ان شطحیات پر کسی کو عمل پیرا ہونا جائز نہیں بلکہ جس شخص پر یہ احوال نہ گزرے ہوں وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ بھی نہ کرے، تاکہ فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔

الہام کا حکم شرعی

حضرات انبیاء کرامB کی وحی اور الہام کی حجیت میں تو کیا کلام ہوسکتا ہے حضرات انبیاء کرامB کا تو خواب بھی حجت قطعیہ ہے۔ حضرت ابراہیمm نے محض

128

خواب کی بناء پر بیٹے کے ذبح کا ارادہ فرمایا جس کی حق جل شانہ نے قرآن میں مدح اور توصیف فرمائی۔

البتہ اولیاء اللہ کے الہام میں کلام ہے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ الہام کا حکم یہ ہے کہ اگر الہام کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور قواعد شریعت کے خلاف نہ ہو تو اس پر عمل کرنا جائز ہے۔ واجب نہیں اور جو الہام کتاب وسنت اور شریعت کے خلاف ہو اس پر عمل کرنا بالاجماع جائز نہیں جوالہام قرآن وشریعت کے خلاف ہو وہ الہام رحمانی نہیں بلکہ وہ الہام شیطانی ہے۔ بلکہ الہام کے صادق اور کاذب ہونے کا معیار ہی کتاب وسنت کی موافقت اور مخالفت ہے۔

صدیق اکبرq اور فاروق اعظمq کبھی اپنے الہام پر عمل نہ فرماتے تھے۔ جب تک کہ کتاب وسنت سے اس کی تصدیق وتائید نہ ہو جائے۔ امام غزالیv احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ ابوسلیمان درانیv یہ فرمایا کرتے تھے کہ الہام پر اس وقت تک عمل نہ کرو جب تک آثار سے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔

شیخ عبدالقادر جیلانیv فتوح الغیب میں فرماتے ہیں کہ الہام اور کشف پر عمل کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ قرآن اور حدیث اور اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔

قاضی ثناء اللہ صاحبv ارشاد الطالبین میں فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ کا الہام علم ظنی کا موجب ہے۔ اگر کسی ولی کا کشف اور الہام کسی حدیث کے خلاف ہو اگرچہ وہ حدیث خبر آحاد میں سے ہو بلکہ اگر ایسے قیاس صحیح کے بھی خلاف ہو کہ جو شرائط قیاس کو جامع ہو تو اس جگہ بمقابلہ کشف والہام قیاس کو ترجیح دینی چاہئے اور یہ مسئلہ تمام سلف اور خلف میں متفق علیہ ہے۔ اب مکتوبات حضرت مجدد الف ثانیv کی ایک عبارت مع ترجمہ نقل کی جاتی ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بداں، ارشدک اللہ تعالٰی والہمک سواء الصراط کہ از جملہ ضروریات طریق سلوک اعتقاد صحیح است کہ علمائے اہل سنت آں را از کتاب وسنت وآثار سلف استنباط فرمودہ اند وکتاب وسنت را محمول داشتن برمعانی کہ جمہور علمائے اہل حق بمعنی

129

علمائے اہل سنت وجماعت آں معنی راز کتاب وسنت فہمیدہ اندنیز ضروری است واگر بالفرض خلاف آں معانی مفہومہ بکشف والہام امرے ظاہر شود آں را اعتبار نیاید کردد ازاں استعاذہ باید نمود۔ مثلاً آیات واحادیث کہ از ظواہر آنہا توحید وجود مفہوم می شود وہم چیں احاطہ وسریان وقرب ومعیت ذاتیہ معلوم می گرد وچوں علمائے اہل حق ازاں آیات واحادیث ایں معنی نفہمیدہ اند اگردر اثنائے راہ برسالک ایں معانی منکشف شود وموجود جزیکے نیابدیا اور ابالذات محیط داند وقریب ذاتا بیابد ہرچید اور دریں وقت بواسیر غلبہ حال سکر معذورات اما باید کہ ہمیشہ بحق سبحانہ تعالیٰ ملتجی ومتضرع باشد کہ اور را ازیں ورطہ بر آوردہ امورے کہ مطابق آرائے صائبہ علمائے اہل حق ست بروئے منکشف گرداند وسرموئے خلاف معتقدات حقہ ایشاں ظاہر نسازد بالجملہ معانی مفہوم علمائے اہل حق را مصداق کشف خود باید ساخت و محک الہام خود راجزاں نباید داشت چہ معانی کہ خلاف مفہومہ ایشان است از حیز اعتبار ساقط است زیرا کہ ہر مبتدع وضال معتقدات مقتدائے خود را کتاب وسنت می داند وباندازہ افہام رکیکہ خود ازاں معانی غیر مطابقہ می فہمد یضل بہ کثیراً ویہدی بہ کثیراً۔ وآنکہ گفتم کہ معانی مفہومہ اہل حق معتبر است۔ وخلاف آں معتبر نیست بنابرآں است کہ آں معانی را از تتبع آثار صحابہ وسلف صالحین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اخذ کردہ اندواز انوار نجوم ہدایت ایشاں اقتباس فرمودہ اند۔ لہٰذا نجات ابدی مخصوص باایشاں گشت وفلاح سرمدی نصیب شاں آمد ’’اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ہم المفلحون‘‘ واگر بعضے از علماء باوجود حقیت اعتقاد وفرعیات مداہنت نمایند ومرتکب تقصیرات باشد درعملیات انکار مطلق علماء نمادن وہمہ را مطعون ساختن انصافی محض است ومکابرہ صرف بلکہ انکار است از اکثر ضروریات دین چہ ناقلاں آں ضروریات ایشانند وناقدان جیدہ آں را از رویہ ایشانند۔ لولا نورہدایتہم لما اہتدینا لولا تمییزہم الصواب من الخطاء لغویناہم الذین بذلوجہد ہم فی اعلاء کلمۃ الدین القویم واسلکوا طوائف کثیرۃ من الناس علی صراط مستقیم فمن تابعہم نجی ومن خالفہم ضل واضل۔ (مکتوب دوصدو ہشتادو ششتم از جلد اوّل مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانیv)

(ترجمہ) ’’اے عزیز! جان لے (خدا تجھے سمجھ عطاء کرے اور سیدھے راستہ کی

130

ہدایت کرے) کہ طریق سلوک کے ضروری امور میں سے صحیح عقیدہ رکھنا ہے۔ جو علماء اہل سنت نے قرآن وحدیث اور آثار سلف سے اخذ کیا ہے اور قرآن وحدیث کو انہی معانی پر محمول کرنا بھی ضروری ہے جو علمائے حق یعنی علمائے اہل سنت وجماعت نے قرآن وحدیث سے سمجھے ہیں اور اگر بالفرض ان اہل سنت کے سمجھے ہوئے معانی کے خلاف کشف والہام کے ذریعہ کوئی بات ظاہر ہو تو اس کا اعتبار نہ کرنا چاہئے۔ مثلاً وہ آیتیں اور حدیثیں جن کے ظاہری پہلوؤں سے وحدۃ الوجود سمجھ میں آتی ہے یا اسی طرح باری تعالیٰ کا ذاتی لحاظ سے ہر جگہ حاوی وساری ہونا اور ذاقی قرب ومعیت معلوم ہوتی ہے۔ چونکہ علمائے حق نے ان آیات واحادیث سے یہ معنی نہیں سمجھے ہیں تو اگر راہ سلوک کے دوران میں یہ باتیں منکشف ہوں اور ایک (خدا) کے سوا کسی کو موجود نہ پائے یا خدا کو بالذات محیط سمجھے اور بالذات قریب پائے تو اگرچہ وہ سالک بوجہ سکر کی حالت کے غلبہ کے اس وقت معذور ہے۔ لیکن اسے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے التجاء کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس چکر سے نکال کر اہل حق علماء کی درست رائے کے موافق امور اس پر ظاہر فرمادے اور ان سچے عقیدوں کے خلاف بال برابر بھی ظاہر نہ ہونے دے۔ غرض اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی کو اپنے کشف کا معیار بنانا چاہئے اور اس کے علاوہ اور کسی چیز کو اپنے الہام کی کسوٹی نہیں بنانا چاہئے۔ کیونکہ جو معانی اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی کے خلاف ہیں وہ درجہ اعتبار سے گرے ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ (یوں تو) ہر مبتدع اور گمراہ اپنے پیشوا کے معتقدات کو قرآن وحدیث سمجھتا ہے اور اپنی ناقص اور پوچ سمجھ کے مطابق قرآن وحدیث سے حقیقت کے خلاف معانی سمجھتا ہے۔ (اور قرآن سے بہت سے گمراہ ہو جاتے ہیں اور بہت راہ پاتے ہیں) اور یہ جو میں نے کہا کہ اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی معتبر ہیں اور اس کے خلاف معتبر نہیں یہ اس بناء پر ہے کہ انہوں نے ان معانی کو صحابہi اور سلف صالحینi سے اخذ کیا ہے اور ان کے ستارہ ہدایت سے نور حاصل کیا ہے۔ اسی لئے ابدی نجات اور دائمی فلاں ان کے لئے مخصوص ہوگئی۔ (یہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کی جماعت اور سن لو کہ اللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے)

اگر بعض علماء باوجود صحیح عقائد جاننے کے جزئیات وفرعیات میں حق کو چھپائیں اور اعمال میں تقصیر کریں تو اس سے مطلقاً تمام علماء کا انکار کرنا اور سب کو ملامت کرنا کھلی بے انصافی اور ہٹ دھرمی ہے۔ بلکہ یہ چیز دوسرے الفاظ میں اکثر ضروریات دین سے انکار

131

کردینا ہے۔ کیونکہ ضروریات دین کے روایت کرنے والے اور ان میں کھوٹے کھرے کی تمیز کرنے والے ہی علماء ہیں کہ اگر ان کا نور ہدایت نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے اور اگر ان کی طرف سے حق وباطل میں تمیز نہ کی جاتی تو ہم بھٹک جاتے۔یہی وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنی آخری کوشش تک دین کا بول بالا کرنے کے لئے صرف کر دی ہے اور انسانوں کے بہت سے گروہوں کو سیدھے راستہ پر چلایا ہے۔ پس جس نے ان کا اتباع کیا اس نے نجات وفلاح پائی اور جس نے ان کی مخالف کی وہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کے لئے گمراہی کا ذریعہ بنا۔‘‘

مرزاقادیانی کو اپنے الہام پر خود بھی یقین نہ تھا

مرزاقادیانی کے الہامات چونکہ القاء شیطانی تھے۔ اس لئے خود مرزاقادیانی کو بھی اپنے الہامات پر یقین نہ تھا۔ چنانچہ مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے… ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳)

اپنے الہامات کو ظاہر پر حمل نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مرزاقادیانی کو شبہ تھا کہ یہ الہامات خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو یقین تھا کہ یہ الہامات منجانب اللہ نہیں بلکہ ان کے نفس کے من گھڑت ہیں اور قرآن اور حدیث کے بھی خلاف ہیں۔ مگر اندیشہ یہ تھا کہ لوگ اس الہام کو سن کر متوحش ہوں گے۔ اس لئے سوچتے تھے کہ قرآن اور حدیث میں کس طرح تاویل کر کے الہام کو اس کے مطابق بنادوں۔

’’واخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلٰی اٰلہ وصحبہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین‘‘

محمد ادریس کان اللہ لہ وکان ہو ﷲ آمین

(۲۰؍جمادی الثانی ۱۳۷۳ھ، یوم چہار شنبہ)

132

کلمۃ اللہ

فی

حیات روح اللہ

المعروف

حیات عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

133

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ وازواجہ وذریتہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین۔ اما بعد!

بندۂ گنہگار امیدوار رحمت پروردگار محمد ادریس کاندھلوی کان اللہ لہ وکان ہو ﷲ (آمین) اہل اسلام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ اس امت مرحومہ پر قوم عاد اور ثمود کی طرح عذاب تو نہیں لیکن فتنے ہیں جن سے نکلنے کا راستہ سوائے کتاب وسنت کے کچھ نہیں اور کتاب وسنت تک رسائی بدون حضرات صحابہi وتابعینw کے ناممکن ہے۔ اس لئے کہ صحابہi اور تابعینw ہی کے ذریعے ہم تک کتاب وسنت پہنچی۔ نبی اور امت کے درمیان میں صحابہi واسطہ ہیں اور ایسا واسطہ ہیں کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ لہٰذا قرآن وحدیث کا وہی مطلب معتبر ہوگا جو حصرات صحابہi اور تابعینw نے سمجھا۔ سوائے حضرات انبیاء ومرسلینB کے دنیا میں صحابہ کرامi جیسا نور علم اور نور فہم اور نور تقویٰ نہ اوّلین میں سے کسی کو میسر آیا اور نہ آخرین میں سے کسی کو حاصل ہوا۔ پس اگر صحابہ کرامi کی تفسیر اور شرح معتبر نہیں تو پھر کسی کی بھی معتبر نہیں۔ خدا کی قسم! اگر ایک صحابیq کے نور علم اور نور فہم اور نور تقویٰ کی زکوٰۃ نکالی جائے اور کل عالم پر تقسیم کی جائے تو عالم کا ہر فرد علم وفہم کا امیر اور دولت مند بن جائے۔

اس دور فتن میں ہرطرف سے دین پر فتنوں کا ہجوم ہے جس میں ایک بہت بڑا فتنہ مرزائیت کا ہے۔ اس فتنہ کا بانی منشی مرزاغلام احمد قادیانی ہے۔ اوّلاً اس نے اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مثیل مسیح ہونے کا، پھر مسیح اور عیسیٰ ہونے کا اور اپنی مسیحیت کی دھن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا مدعی بنا اور ان کے رفع الیٰ السماء کو محال قرار دیا اور صدہا اوراق اس بارے میں سیاہ کئے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاکر مدفون ہوچکے اور جو شخص مرکردفن ہوگیا، وہ قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ ہوکر دنیا میں واپس نہیں آسکتا اور پھر اس زعم فاسد اور خیال کاسد کی بناء پر ان احادیث میں تحریف کی کہ جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دنیا میں دوبارہ تشریف لانا صراحۃً مذکور ہے۔ ان احادیث صریحہ اور صحیحہ میں یہ تحریف کی کہ نزول مسیح سے مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہے اور پھر اس مثیل کا مصداق خود اپنی

134

ذات کو قرار دیا۔ جس کا حاصل یہ نکلا کہ تمام احادیث میں مسیح بن مریم سے وہ مسیح مراد نہیں جن کا قرآن میں ذکر ہے بلکہ ان کا مثیل اور شبیہ مراد ہے اور نزول سے آسمان سے اترنا مراد نہیں بلکہ ماں کے پیٹ سے پیداہونا مراد ہے اور پھر ولادت سے یہ مراد ہے کہ وہ مثیل مسیح قادیان کے ایک دہقان کی پنجابن عورت کے پیٹ سے پیدا ہو، اور بڑا ہوکر عیسائیوں کے سکول میں تعلیم پائے اور جوان ہوکر عیسائیوں کی دفتری ملازمت کی اور پھر چند روز بعد مریم بننے اور پھر خود اپنے سے عیسیٰ پیدا ہو جائے۔ خود ہی والد اور خود ہی والدہ اور خود ہی مولود۔ خدا کی قسم اب تک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ لوگ کس طرح اس جنون اور دیوانگی پر ایمان لے آتے ہیں۔ ’’ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ۔ انک انت الوہاب‘‘

علماء اہل سنت والجماعت نے رومرزائیت پر عموماً اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر خصوصاً مفصل اور مختصر اور متوسط کتابیں تالیف فرمائیں اور بارگاہ خداوندی سے اجر حاصل کیا۔ جزاہم اللہ تعالیٰ وعن سائر المسلمین خیرالجزاء۔ آمین!

۱۳۴۳ھ میں اس ناچیز اور بے بضاعت نے بھی ایک رسالہ ’’کلمتہ اللہ فی حیات روح اللہ ‘‘ کے نام سے لکھا تھا جس کو حضرت مخدومنا الحبیب ومطاعنا اللبیب حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند تغمدہ اللہ تعالیٰ بالرحمتہ والغفران نے اپنے اہتمام سے شائع فرمایا تھا۔ پھر ۱۳۵۱ھ میں دوبارہ نظرثانی اور اضافات کے ساتھ یہ رسالہ شائع ہوا۔ اب تیسری مرتبہ ۱۳۷۰ھ میں بہت سے جدید اضافات اور ترمیمات کے ساتھ اہل اسلام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین!

حضرت الاستاذ وشیخنا الاکبر مولانا الشاہ السید محمد انور نور اللہ وجہہ یوم القیامۃ ونضر (آمین) صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند جس طرح وہ اپنے زمانہ میں بے مثال تھے اسی طرح انہوں نے اس موضوع پر ایک بے مثال اور لاجواب کتاب عربی زبان میں تالیف فرمائی۔ جس کا نام ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ تجویز فرمایا۔ جو علماء اور فضلاء کے لئے مشعل راہ اور شمع ہدایت بنی۔ اس ناچیز نے بھی اس کتاب مستطاب کے لطیف مضامین کے وہ اقتباسات جن کو عام اور متوسط الاستعداد طبقہ سمجھ سکے اپنے اس رسالہ میں اضافہ کر دئیے ہیں۔

تحدیث بالنعمۃ … واما بنعمۃ ربک فحدث

135

ناچیز کا یہ رسالہ پہلی مرتبہ حضرت مولانا حبیب الرحمنv مہتمم دارالعلوم دیوبند نے مطبع قاسمی میں طبع کرایا۔ جس شب میں اس رسالہ کی لوح کا ورق طبع ہورہا تھا۔ اس شب میں اس ناچیز نے یہ خواب دیکھا کہ یہ ناچیز دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں داخل ہوا۔ دیکھتا کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام منبر کے قریب اور محراب امام کے سامنے تشریف فرما ہیں۔ چہرۂ مبارک پر عجیب وغریب انوار ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بیٹھا ہوا ہے اور حضرت کے ساتھ کوئی خادم بھی ہے۔ یہ ناچیز نہایت ادب کے ساتھ دوزانو سامنے بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں ایک قادیانی پکڑ کر لایا گیا اور سامنے کھڑا کردیا گیا۔ بعدازاں دوعبالائے گئے۔ ایک نہایت سفید اور خوبصورت ہے اور دوسرا نہایت سیاہ اور بدبودار ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنائیں اور سیاہ عبا اس قادیانی کو پہنایا جائے۔ چنانچہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنایا گیا۔ فللّٰہ للحمد والمنۃ! اور سیاہ عبا اس قادیانی کو اور یہ ناچیز خاموش کھڑا ہے اور قادیانی کو دیکھ کر دل میں یہ آیت پڑھ رہا ہے۔ ’’سرابیلہم من قطر ان وتغشی وجوہہم النار‘‘ اس کے بعد آکھ کھل گئی۔

اب میں حق تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اے پروردگار! علمائے ربانیین کی جوتیوں کے صدقہ اور طفیل میں اس ناچیز کی اس ناچیز خدمت کو بھی قبول فرما اور اس تالیف کو اہل اسلام کے لئے موجب سکینت وطمانیت اور قادیانیوں کے لئے موجب ہدایت وسعادت اور اس نابکار گنہگار کے لئے ذخیرہ آخرت اور موجب نجات ومغفرت فرما۔آمین یا ارحم الراحمین ویااکرم الاکرمین!

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔

  1. بضاعت نیا وردم الا امیند

    خدایا زعفوم مکن نا امیند

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مقدمہ

دربیان امکان رفع جسمانی

مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں

136

اٹھائے گئے بلکہ وفات پاکر مدفون ہوچکے اور دلیل یہ ہے کہ: ’’کسی جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ج۱ ص۴۷، تقطیع خورد، خزائن ج۳ ص۱۲۶)

جواب: یہ ہے کہ جس طرح نبی اکرم محمد مصطفیa کا جسد اطہر کے ساتھ لیلتہ المعراج میں جانا اور پھر وہاں سے واپس آنا حق ہے، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسماں سے نازل ہونا بھی بلاشبہ حق اور ثابت ہے جس طرح آدمm کا آسمان سے زمین کی طرف ہبوط ممکن ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کا آسمان سے زمین کی طرف نزول بھی ممکن ہے۔ ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل اٰدم‘‘ جعفر بن ابی طالب کا فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑنا صحیح اور قوی حدیثوں سے ثابت ہے۔ اسی وجہ سے ان کو جعفر طیار کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

’’اخرج الطبرانی باسناد حسن عن عبد اللہ بن جعفر قال قال رسول اللہ a ہنیاء لک ابوک یطیر مع الملائکۃ فی السماء‘‘ (کذافی فتح الباری ج۷ ص۶۲، زرقانی شرح مواہب ج۲ ص۲۷۵)

(ترجمہ) ’’امام طبرانی نے باسناد حسن عبد اللہ بیٹے جعفر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ a نے مجھ سے ایک بار یہ ارشاد فرمایا کہ اے جعفر کے بیٹے عبد اللہ تجھ کو مبارک ہو تیرا باپ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑتا پھرتا ہے (اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جعفر جبرائیل ومیکائیل کے ساتھ اڑتا پھرتا ہے) ان ہاتھوں کے عوض میں جو غزوہ موتہ میں کٹ گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملائکہ کی طرح دوبازو عطاء فرما دئیے ہیں اور اس روایت کی سند نہایت جید اور عمدہ ہے۔‘‘

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اس بارے میں ایک شعر ہے:

  1. وجعفر الذی یضحی ویمسی

    یطیر مع الملائکۃ ابن امی

(ترجمہ) ’’وہ جعفر کہ جو صبح وشام فرشتوں کے ساتھ اڑتا ہے وہ میری ہی ماں کا بیٹا ہے۔‘‘

اور علی ہذا عامر بن فہیرہq کا غزوہ بیرمعونہ میں شہید ہونا، اور پھر ان کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا روایات میں مذکور ہے۔ جیسا کہ حافظ عسقلانی نے اصابہ میں اور حافظ ابن عبدالبر نے استیعاب میں اور علامہ زرقانی نے (شرح مواہب ج۲ ص۷۸) میں ذکر کیا

137

ہے۔ جبار بن سلمی جو عامر بن فہیرہ کے قاتل تھے وہ اسی واقعہ کو دیکھ کر ضحاک بن سفیان کلابی کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے اور یہ کہا: ’’دعانی الٰی الاسلام مارایت من مقتل عامر بن فہیرۃ ورفعہ الٰی السماء‘‘ عامر بن فہیرہ کا شہید ہونا اور ان کا آسمان پر اٹھایا جانا میرے اسلام لانے کا باعث بنا۔

ضحاک نے یہ تمام واقعہ آنحضرتa کی خدمت بابرکت میں لکھ کر بھیجا۔ اس پر آنحضرتa نے ارشاد فرمایا: ’’فان الملائکۃ وارت جثتہ وانزل فی علیین‘‘ فرشتوں نے اس کے جثہ کو چھپالیا اور وہ علیین میں اتارے گئے۔

ضحاک ابن سفیان کے اس تمام واقعہ کو امام بیہقی اور ابونعیم اصفہانی دونوں نے اپنی اپنی دلائل النبوۃ میں بیان کیا۔ (شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور للعلامتہ السیوطی ص۱۷۴)

اور حافظ عسقلانی نے اصابہ میں جبار بن سلمی کے تذکرہ میں اس واقعہ کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا ہے: شیخ جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہq کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو ابن سعد اور حاکم اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ غرض یہ کہ یہ واقعہ متعدد اسانید اور مختلف روایات سے ثابت اور محقق ہے۔

واقعہ رجیع میں جب قریش نے خبیب بن عدیq کو سولی پر لٹکایا تو آنحضرتa نے عمرو بن امیہ ضمریq کو خبیبq کی نعش اتارلانے کے لئے روانہ فرمایا۔ عمروبن امیہ وہاں پہنچے اور خبیبq کی نعش کو اتارا۔ دفعتہ ایک دھماکا سنائی دیا۔ پیچھے پھر کر دیکھا اتنی دیر میں نعش غائب ہوگئی۔ عمروبن امیہ فرماتے ہیں۔ گویا زمین نے ان کو نگل لیا۔ اب تک اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس روایت کو امام ابن حنبلv نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔(زرقانی شرح مواہب ج۲ ص۷۳)

شیخ جلال الدین سیوطیv فرماتے ہیں کہ خبیبq کو زمین نے نگلا۔ اسی وجہ سے ان کا لقب بلیع الارض ہوگیا اور ابونعیم اصفہانی فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ عامر بن فہیرہq کی طرح خبیب کو بھی فرشتے آسمان پر اٹھالے گئے۔ ابونعیم کہتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا اسی طرح رسول اللہ a کی امت میں سے عامر بن فہیرہq اور خبیب بن عدیq اور علاء بن حضرمیq کو آسمان پر اٹھایا۔

علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ اولیاء کا الہام وکرامت انبیاء کرام کی وحی اور

138

معجزات کی وراثت ہے۔

’’ومما یقوی قصۃ الرفع الٰی السماء مااخرجہ النسائی والبیہقی والطبرانی وغیرہم من حدیث جابر بن طلحۃ اصیبت اناملہ یوم احد فقال حس فقال رسول اللہ a لوقلت بسم اللہ لرفعتک الملائکۃ والناس ینظرون الیک حتی تلج بک فی جوالسماء۔ واخرج ابن ابی الدنیا فی ذکر الموتی عن زید بن اسلم قال کان فی بنی اسرائیل رجل قد اعتزل الناس فی کہف جبل وکان اہل زمانہ اذا قحطوا استغاثوا بہ فدعی اللہ فسقاہم فمات فاخذوا فی جہازہ فبیناہم کذلک اذا ہم بسریر رفرف فی عنان السماء حتی انتہی الیہ فقال رجل فاخذہ فوضعہ علی السریر والناس لینظرون الیہ فی الہواء حتی غاب عنہم‘‘ (شرح الصدور ص۱۷۳)

(ترجمہ) ’’شیخ جلال الدین سیوطیv فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہq اور خبیبq کے واقعہ رفع الیٰ السماء کی وہ واقعہ بھی تائید کرتا ہے جس کو نسائی اور بیہقی اور طبرانی نے جابربن عبد اللہ q سے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد میں حضرت طلحہq کی انگلیاں زخمی ہوگئی تو اس تکلیف کی حالت میں زبان سے ’’حس‘‘ یہ لفظ نکلا۔ اس پر آنحضرتa نے فرمایا کہ اگر تو بجائے ’’حس‘‘ کے ’’بسم اللہ ‘‘ کہتا تو لوگ دیکھتے ہوئے ہوتے اور فرشتے تجھ کو اٹھا کر لے جاتے۔ یہاں تک کہ تجھ کو آسمان میں لے کر گھس جاتے۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموتی میں زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا کہ جو پہاڑ میں رہتا تھا۔ جب قحط ہوتا تو لوگ اس سے بارش کی دعا کراتے۔ وہ دعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے باران رحمت نازل فرماتا۔ اس عابد کا انتقال ہوگیا۔ لوگ اس کی تجہیزوتکفین میں مشغول تھے۔ اچانک ایک تخت آسمان سے اترتا ہوا نظر آیا جہاں تک کہ اس عابد کے قریب آکر رکھا گیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکر اس عابد کو اس تخت پر رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ تخت اوپر اٹھتا گیا۔ لوگ دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ غائب ہو گیا۔‘‘

اور حضرت ہارونm کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر حضرت موسیٰm کی دعا سے آسمان سے زمین پر اتر آنا مستدرک حاکم میں مفصل مذکور ہے۔(مستدرک ج۲ ص۵۷۹)

139

مقصد ان واقعات کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ منکرین اورملحدین خوب سمجھ لیں کہ حق جل شانہ نے اپنے محبین اور مخلصین کی اس خاص طریقہ سے بارہا تائید فرمائی کہ ان کو صحیح وسالم فرشتوں سے آسمان پر اٹھوالیا اور دشمن دیکھتے ہی رہ گئے۔ تاکہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک نشان اور کرشمہ ظاہر ہو اور اس کے نیک بندوں کی کرامت اور منکرین معجزات وکرامات کی رسوائی وذلت آشکارا ہو اور اس قسم کے خوارق کا ظہور مؤمنین اور مصدقین کے لئے موجب طمانیت اور مکذبین کے لئے اتمام حجت کا کام دے۔

ان واقعات سے یہ امر بھی بخوبی ثابت ہوگیا کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ قانون قدرت کے خلاف ہے نہ سنت اللہ کے متصادم ہے۔ بلکہ ایسی حالت میں سنت اللہ یہی ہے کہ اپنے خاص بندوں کو آسمان پر اٹھالیا جائے۔ تاکہ اس ملیک مقتدر کی قدرت کا کرشمہ ظاہر ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ حق تعالیٰ کی اپنے خاص الخاص بندوں کے ساتھ یہی سنت ہے کہ ایسے وقت میں ان کو آسمان پر اٹھالیتا ہے۔ غرض یہ کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا قطعاً محال نہیں بلکہ ممکن اور واقع ہے اور اسی طرح کسی جسم عنصری کا بغیر کھائے اور پئے زندگی بسر کرنا بھی محال نہیں۔ اصحاب کہف کا تین سو سال تک بغیر کھائے پئے زندہ رہنا قرآن کریم میں مذکور ہے: ’’ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سینن وازدادو تسعا‘‘ اس سے مرزاقادیانی کا یہ وسوسہ بھی زائل ہوگیا کہ جو شخص اسّی یا نوے سال کو پہنچ جاتا ہے وہ محض نادان ہوجاتا ہے۔ ’’کما قال تعالٰی: ومنکم من یرد الٰی ارذل العمر لکیلا بعد علم شیا‘‘ اس لئے کہ ارذل العمر کی تفسیر میں اسّی یا نوے سال کی قید مرزاقادیانی نے اپنی طرف سے لگائی ہے۔ قرآن وحدیث میں کہیں قید نہیں۔ اصحاب کہف تین سو سال تک کہیں نادان نہیں ہوگئے اور علیٰ ہذا! حضرت آدمm اور حضرت نوحm صدہا سال زندہ رہے اور ظاہر ہے کہ نبی کے علم اور عقل کا زائل ہونا ناممکن اور محال ہے۔

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو شدید قحط ہوگا اور اہل ایمان کو کھانا میسر نہ آئے گا۔ اس پر صحابہi نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس وقت اہل ایمان کا کیا حال ہوگا؟ آپa نے ارشاد فرمایا: ’’یجزئہم مایجزی السماء من التسبیح والتقدیس‘‘ یعنی اس وقت اہل ایمان کو فرشتوں کی طرح تسبیح وتقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔

140

اور حدیث میں ہے کہ نبی اکرمa کئی کئی دن کا صوم وصال رکھتے اور یہ فرماتے:’’ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی‘‘ تم میں کون شخص میری مثل ہے کہ جو صوم وصال میں میری برابری کرے۔ میرا پروردگار مجھے غیب سے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ یہ غیبی طعام میری غذا ہے۔ معلوم ہوا کہ طعام وشراب عام ہے۔ خواہ حسی ہو یا غیبی ہو۔ لہٰذا ’’وما جعلنہم جسدا لا یاکلون الطعام‘‘ سے یہ استدلال کرناکہ جسم عنصری کا بغیر طعام وشراب کے زندہ رہنا ناممکن ہے، غلط ہے۔ اس لئے کہ طعام وشراب عام ہے کہ خواہ حسی ہو یا معنوی۔ حضرت آدمm اکل شجرہ سے پہلے جنت میں ملائکہ کی طرح زندگی بسر فرماتے تھے۔ تسبیح وتہلیل ہی ان کا ذکر تھا۔ پس کیا حضرت مسیح جو کہ نفخہ جبرائیل سے پیدا ہونے کی وجہ سے جبرائیل امین کی طرح تسبیح وتہلیل سے زندگی بسر نہیں فرماسکتے؟ ’’کما قال تعالٰی: ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل اٰدم‘‘ کیا اصحاب کہف کا تین سو نو سال تک بغیر کھائے اور پئے زندہ رہنا اور حضرت یونسm کا شکم ماہی میں بغیر کھائے پئے زندہ رہنا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور نہیں؟ اور حضرت یونسm کے بارے میں حق تعالیٰ کا ارشاد: ’’فلولا انہ کان من المسبحین للبث فی بطنہ الٰی یوم یبعثون‘‘ اس پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یونسm اگر مسبحین میں سے نہ ہوتے تو اسی طرح قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ٹھہرے رہتے اور بغیر کھائے اور پئے زندہ رہتے۔

رہا ملحدین کا یہ سوال کہ زمین سے لے کر آسمان تک کی طویل مسافت کا چند لمحوں میں طے کر لینا کیسے ممکن ہے؟

سو جواب یہ ہے کہ حکمائے جدید لکھتے ہیں کہ نور ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتا ہے۔ بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے اور بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسّی ہزار میل حرکت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں انسان جس وقت نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو حرکت شعاعی اس قدر سریع ہوتی ہے کہ ایک ہی آن میں آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر یہ آسمان حائل نہ ہوتاتو اور دور تک وصول ممکن تھا۔ نیز جس وقت آفتاب طلوع کرتا ہے تو نور شمس ایک ہی آن میں تمام کرۂ ارضی پر پھیل جاتا ہے۔ حالانکہ سطح ارضی ۲۰۳۶۳۶۳۶ فرسخ ہے۔ جیسا کہ سبع شداد ص۴۰ پر مذکور ہے اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے۔ لہٰذا مجموعہ ۶۱۰۹۰۹۰۸ کروڑ میل ہوا۔ حکمائے قدیم کہتے ہیں کہ جتنی دیر

141

میں جرم شمس بتمامہ طلوع کرتا ہے اتنی دیر میں فلک اعظم کی حرکت ۵۱۹۶۰۰لاکھ فرسخ ہوتی ہے اور ہر فرسخ چونکہ تین میل کا ہوتاہے لہٰذا مجموعہ مسافت ۱۵۵۸۸۰۰لاکھ میل ہوئی۔ نیز شیاطین اور جنات کا شرق سے لے کر غرب تک آن واحد میں اس قدر طویل مسافت کا طے کرلینا ممکن ہے تو کیا خداوند عالم اور قادر مطلق کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خاص بندے کو چند لمحوں میں اس قدر طویل مسافت طے کرادے۔ آصف بن برخیا کا مہینوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت سلیمانm کی خدمت میں پلک جھپکنے سے پہلے پہلے حاضر کر دینا قرآن کریم میں مصرع ہے۔ ’’کماقال تعالٰی: وقال الذی عندہ علم من الکتاب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقرا عندہ قال ہذا من فضل ربی‘‘ اسی طرح سلیمانm کے لئے ہوا کا مسخر ہونا بھی قرآن کریم میں مذکور ہے کہ وہ ہوا سلیمانm کے تخت کو جہاں چاہے اڑا کرلے جاتی اور مہینوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کرتی۔ ’’کما قال تعالٰی: وسخرنا لہ الریح تجری بامرہ‘‘

آج کل کے ملحدین فی گھنٹہ تین سو میل کی مسافت طے کرنے والے ہوائی جہاز پر تو ایمان لے آئے ہیں مگر نہ معلوم سلیمانm کے تخت پر بھی ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔ ہوائی جہاز بندہ کی بنائی ہوئی مشین سے اڑتا ہے اور سلیمانm کے تخت کو ہوا بحکم خداوندی اڑا کر لے جاتی تھی۔ کسی بندہ کے عمل اور صنعت کو اس میں دخل نہ تھا۔ اس لئے وہ معجزہ تھا اور ہوائی جہاز معجزہ نہیں۔

مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’کسی جسد عنصری کا آسمان پر جانا سراسر محال ہے۔ اس لئے کہ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور کرہ زمہر بربیہ سے کس طرح صحیح وسالم گزر سکتا ہے۔‘‘(ازالہ اوہام ج۱ ص۴۷، خزائن ج۳ ص۱۲۶)

جواب یہ ہے کہ جس طرح نبی کریمa کا’’لیلۃ المعراج‘‘ میں اور ’’ملائکۃ اللہ ‘‘ کا لیل ونہار طبقہ ناریہ اور کرۂ زمہریریہ سے مرور وعبور ممکن ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی عبور ومرور ممکن ہے اور جس راہ سے حضرت آدمm کا ہبوط اور نزول ہوا ہے اسی راہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہبوط ونزول بھی ممکن ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے۔ ’’کما قال تعالٰی: اذ قال الحواریون یعیسٰی بن مریم ہل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ

142

من السماء (الٰی قولہ تعالٰی) قال عیسٰی بن مریم اللہم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عید الا ولنا اٰخرنا وایۃ منک وارزقنا وانت خیر الرازقین۔ قال اللہ انی منزلہا علیکم‘‘ پس اس مائدہ کا نزول بھی طبقہ ناریہ میں ہو کر ہوا ہے۔ مرزاقادیانی کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بناء پر اگر وہ نازل ہوا ہوگا تو طبقہ ناریہ کی حرارت اور گرمی سے جل کر خاکستر ہوگیا ہوگا۔نعوذ ب اللہ من ہذہ الخرافات! یہ سب شیاطین الانس کے وسوسے ہیں اور انبیاء ومرسلین کی آیات نبوت اور کرامات رسالت پر ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں۔ کیا خداوند ذوالجلال عیسیٰ علیہ السلام کے لئے طبقہ ناریہ کو ابراہیمm کی طرح برد اور سلام نہیں بناسکتا؟

جب کہ اس کی شان یہ ہے: ’’انما امرہ اذ اراد شیا ان یقول لہ کن فیکون فسبحان ذی الملک الملکوت والعزۃ الجبروت امنت ب اللہ وکفرت بالطاغوت‘‘

حیات عیسیٰk کی پہلی دلیل

قال اللہ عزوجل

’’فبما نقضہم میثاقہم وکفرہم بایت اللہ وقتلہم الانبیاء بغیر حق وقولہم قلوبنا غلف بل طبع اللہ علیہا بکفرہم فلا یؤمنون الا قلیلا۔ وبکفرہم وقولہم علی مریم بہتانا عظیما وقولہم انا قتلنا المسیح عیسٰی بن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ لہم بہ من علم الاتباع الظن وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘

ربط

حق جل شانہ نے ان آیات شریفہ میں یہود بے بہبود کے ملعون اور مغضوب اور مطرودومردود ہونے کے کچھ وجوہ واسباب ذکر کئے ہیں۔

چنانچہ فرماتے ہیں کہ پس ہم نے یہود کو متعدد وجوہ کی بناء پر مورد لعنت وغضب

143

بنایا۔ (۱)نقض عہد اور میثاق کی وجہ سے۔ (۲)اور آیات الٰہیہ اور احکام خداوندیہ کی تکذیب اور انکار کی وجہ سے۔ (۳)اور خدا کے پیغمبروں کو بے وجہ محض عناد اور دشمنی کی بناء پر قتل کرنے کی وجہ سے۔ (۴)اور اس قسم کے متکبرانہ کلمات کی وجہ سے کہ مثلاً ہمارے قلوب علم اور حکمت کے ظرف ہیں ہمیں تمہاری ہدایت اور ارشاد کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ ان کے قلوب علم اور حکمت اور رشد وہدایت سے بالکل خالی ہیں بلکہ اللہ نے ان کے عناد اور تکبر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے جس کی وجہ سے قلوب میں جہالت اور ضلالت بند ہے۔ اوپر سے مہر لگی ہوئی ہے اندر کا کفر باہر نہیں آسکتا اور باہر سے کوئی رشد اور ہدایت کا اثر اندر نہیں داخل ہوسکتا۔ پس اس گروہ میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں مگر کوئی شاذونادر جیسے عبد اللہ q بن سلام اور ان کے رفقاء۔ (۵)اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر وعداوت کی وجہ سے۔ (۶)اور حضرت مریم پر عظیم بہتان لگانے کی وجہ سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت اور تکذیب کو بھی مستلزم ہے۔ اہانت تو اس لئے کہ کسی کی ماں کو زانیہ اور بدکار کہنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ شخص ولد الزنا ہے اور العیاذ ب اللہ ! نبی کے حق میں ایسا تصور بھی بدترین کفر ہے اور تکذیب اس طرح لازم آتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے حضرت مریم کی برأت اور نزاہت ظاہر ہوچکی ہے اور تہمت لگانا برأت اور نزاہت کا صاف انکار کرنا ہیں۔ (۷)اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ جو بطور تفاخر کہتے تھے کہ ہم نے مسیح بن مریم جو رسول اللہ ہونے کے مدعی تھے ان کو قتل کر ڈالا۔ نبی کا قتل کرنا بھی کفر ہے بلکہ ارادہ قتل بھی کفر ہے اور پھر اس قتل پر فخر کرنا یہ اس سے بڑھ کر کفر ہے اور حالانکہ ان کا یہ قول کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر ڈالا۔ بلکہ غلط ہے ان لوگوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا۔ لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا اور جو لوگ حضرت مسیح کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ سب شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کسی قسم کا کوئی صحیح علم اور صحیح معرفت نہیں سوائے گمان کی پیروی کے کچھ بھی نہیں۔ خوب سمجھ لیں کہ یہ امر قطعی اور یقینی ہے کہ حضرت مسیح کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھالیا اور ایک اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شبیہ اور ہم شکل بنادیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا اور اسی وجہ سے یہود کو اشتباہ ہوا اور پھر اس اشتباہ کی وجہ سے اختلاف ہوا اور یہ سب اللہ کی قدرت اور حکمت سے کوئی بعید نہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں کہ اپنی قدرت اور حکمت سے

144

اپنے نبی کو دشمنوں سے بچالیا اور زندہ آسمان پر اٹھایا اور ان کی جگہ ایک شخص کو ان کے ہم شکل بنا کر قتل کرایا اور تمام قاتلین کو قیامت تک اشتباہ اور اختلاف میں ڈال دیا۔

تفصیل

امید واثق ہے کہ ناظرین اس اجمالی تفسیر سے سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ آیات شریفہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمی میں نص صریح ہیں۔ اب ہم کسی قدر تفصیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ طالبان حق کی بفضل خداپوری تشفی اور تسلی ہو جائے ورنہ ہم کیا اور ہماری مجال کیا اور ہم کیا اور ہماری تحریر کیا کہ جس سے تسلی اور تشفی کر سکیں۔ ’’لا حول ولا قوۃ الا ب اللہ ‘‘ قلوب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جس طرح چاہے اور جدھر چاہے دلوں کو پلٹتا اور پھیرتا ہے۔ اسی کی توفیق سے لکھ رہا ہوں اور اسی کی توفیق سے اپنے لئے اور ناظرین کرام کے لئے اسی کی توفیق اوردستگیری کی امید رکھتا ہوں اور اسی کی اعانت اور تائید سے ناظرین اور قارئین کی تعلیم وتفہیم کے لئے چند امور ذکر کرتا ہوں۔

۱… ان آیات میں یہودبے بہبود پر لعنت کے اسباب کو ذکر فرمایا ہے۔ ان میں ایک سبب یہ ہے: ’’وقولہم علی مریم بہتانا عظیما‘‘ یعنی حضرت مریم پر طوفان اور بہتان لگانا۔ اس طوفان اور بہتان عظیم میں مرزاقادیانی کا قدم یہود سے کہیں آگے ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں حضرت مریم پر جو بہتان کا طوفان برپا کیا ہے یہود کی کتابوں میں اس کا چالیسواں حصہ بھی نہ ملے گا۔ مرزاقادیانی کی عبارتیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ عیاں راچہ بیان ہم سے تو مرزاقادیانی کی وہ عبارتیں پڑھی بھی نہیں جاتیں اور مرزائیوں کو تو قرآن کی طرح یاد ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، اس لئے ان کے نقل کی ضرورت نہیں۔

۲… آیات کا سیاق وسباق بلکہ سارا قرآن روز روشن کی طرح اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ یہود بے بہبود کی ملعونیت اور مغضوبیت کا اصل سبب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عداوت اور دشمنی ہے۔ مرزاقادیانی اور مرزائی جماعت کی زبان اور قلم سے حضرت مسیح کے بغض اور عداوت کا جو منظر دنیا نے دیکھا ہے وہ یہود کے وہم وگمان سے بالا اور برتر ہے۔ مرزاقادیانی کے لفظ لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دشمنی ٹپکتی ہے۔

145

’’قد بدت البغضاء من افواہم وما تخفی صدورہم اکبر‘‘ انتہائی بغض اور عداوت خودبخود ان کے منہ سے ظاہر ہورہی ہے اور جو عداوت ان کے سینوں میں مخفی اور پوشیدہ ہے وہ تمہارے خواب وخیال سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

مرزاقادیانی نے نصاریٰ کے الزام کے بہانہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں اپنے دل کی عداوت دل کھول کر نکالی جس کے تصور سے بھی کلیجہ شق ہوتا ہے۔

۳… پہلی آیت میں:’’وقتلہم الانبیاء بغیر حق‘‘ فرمایا۔ یعنی انبیاء کو قتل کرنے کی وجہ سے ملعون اور مغضوب ہوئے اور اس آیت میں:’’وقولہم انا قتلنا المسیح‘‘ فرمایا۔ یعنی اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ محض قول ہی قول ہے اور قتل کا محض زبانی دعویٰ ہے۔ اگر دیگر انبیاء کی طرح حضرت مسیح واقع میں مقتول ہوئے تھے تو جس طرح پہلی آیت میں: ’’وقتلہم الانبیاء‘‘ فرمایا تھا۔ اسی طرح اس آیت میں: ’’وقتلہم وصلبہم المسیح عیسٰی بن مریم رسول اللہ ‘‘ فرماتے۔ پہلی آیت میں لعنت کا سبب قتل انبیاء ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں لعنت کا یہ سبب ان کا ایک قول بتلایا۔ یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ جو شخص یہ کہے کہ مسیح بن مریم مقتول اور مصلوب ہوئے وہ شخص بلاشبہ ملعون اور مغضوب ہے۔ نیز اس آیت میں حضرت مسیح کے دعویٰ قتل کو بیان کر کے ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ فرمایا اور انبیاء سابقین کے قتل کو بیان کر کے ’’بل رفعہم اللہ ‘‘ نہیں فرمایا۔ حالانکہ قتل کے بعد ان کی ارواح طیبہ آسمان پر اٹھالی گئیں۔

۴… اس مقام پر حق جل شانہ نے دو لفظ استعمال فرمائے۔ ایک ’’ماقتلوہ‘‘ جس میں قتل کی نفی فرمائی۔ دوسرا ’’وما صلبوہ‘‘ جس میں صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی فرمائی۔ اس لئے کہ اگر فقط ’’وما قتلوہ‘‘ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے قتل نہ کئے گئے ہوں۔ لیکن صلیب پر چڑھائے گئے ہوں اور علیٰ ہذا! اگر فقط ’’وما صلبوہ‘‘ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے صلیب تو نہ دئیے گئے ہوں۔ لیکن قتل کر دئیے گئے ہوں۔ علاوہ ازیں بعض مرتبہ یہود ایسا بھی کرتے تھے کہ اوّل قتل کرتے اور پھر صلیب پر چڑھاتے۔ اس لئے حق تعالیٰ شانہ نے قتل اور صلیب کو علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ایک حرف نفی پر اکتفانہ فرمایا۔ یعنی ’’وما قتلوہ وصلبوہ‘‘ نہیں فرمایا ہے۔ ایک حرف نفی یعنی کلمہ ’’ما‘‘ کو

146

’’قتلوہ‘‘ اور ’’صلبوہ‘‘ کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ’’ماقتلوہ‘‘ اور پھر ’’ماصلبوہ‘‘ فرمایا کہ ہر ایک کی نفی اور ہر ایک کا جداگانہ مستقلاً رد ہو جائے اور خوب واضح ہو جائے کہ ہلاکت کی کوئی صورت ہی پیش نہیں آئی نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے اور نہ قتل کر کے صلیب پر لٹکائے گئے۔ دشمنوں نے ایڑی چوٹی کا سارا زور ختم کردیا مگر سب بے کار گیا۔ قادر توانا جس کو بچانا چاہے اسے کون ہلاک کر سکتاہے۔

  1. کہ زور آورد گر تو یاری دہی

    کہ گیرد چو تو رستگاری دہی

مرزائی جماعت کا یہ خیال ہے کہ اس آیت میں مطلق قتل اور صلب کی نفی مراد نہیں بلکہ ذلت اور لعنت کی موت کی نفی مراد ہے۔

جواب یہ ہے کہ یہ محض وسوسہ شیطانی ہے جس پر کوئی دلیل نہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ یہود کے خیال کی تردید ہے تو تب بھی آیت میں یہود کا پورا رد ہے۔ اس لئے کہ یہود کا گمان یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام العیاذ ب اللہ ! جھوٹے نبی ہیں اور جھوٹا نبی ضرور قتل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ وہ قتل بھی نہیں کئے گئے اور نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ اس لئے کہ وہ خدا کے سچے نبی تھے۔ علاوہ ازیں اگر یہود کے اس عزم کی رعایت کی جائے تو ’’وقتلہم الانبیاء بغیر حق‘‘ اور ’’یقتلون النّبیین‘‘ کے یہ معنی ہونے چاہیں کہ معاذ اللہ وہ انبیاء ذلت اور لعنت کی موت مرے۔ ’’کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ان یقولون الاکذبا‘‘

۵… ’’ولٰکن شبہ لہم‘‘ یعنی ان کے لئے اشتباہ پیدا کر دیا گیا یا شبہ کی ضمیر حضرت مسیح کی طرف راجع کرو اور اس طرح ترجمہ کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ایک شبیہ اور ہم شکل ان کے سامنے کردیا گیا تاکہ عیسیٰ سمجھ کر اس کو قتل کریں اور ہمیشہ کے لئے اشتباہ اور التباس میں پڑ جائیں۔ حضرت شاہ عبدالقادرv اس طرح ترجمہ فرماتے ہیں۔ لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے۔ یہ ترجمہ اسی اشتباہ کی تفسیر ہے۔ یعنی اس صورت سے وہ اشتباہ اور التباس میں پڑ گئے۔

ابن عباسq سے باسناد صحیح منقول ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیحm کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو مکان کے ایک دریچہ سے آسمان پر اٹھالیا اور ان ہی میں سے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل اور مشابہ بنادیا۔ یہودیوں نے اس کو عیسیٰ

147

سمجھ کر قتل کردیا اور بہت خوش ہوئے کہ ہم اپنے مدعا میں کامیاب ہوگئے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابومعویۃ عن الاعمشq عن المنہال بن عمرو بن سعید بن جبیر عن ابن عباسq قال لما اراد اللہ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء خرج علی اصحابہ وفی البیت اثنا عشر رجلا من الحواریین یعنی فخرج علیہم من عین فی البیت وراسہ یقطر ماء فقال ان منکم من یکفر بی اثنی عشر مرۃ بعد ان امن بی قال ایکم یلقی علیہ شبہی فیقتل مکانی ویکون معی فی درجتی فقال شاب من احدثہم سنا فقال لہ اجلس ثم اعاد علیہم فقال ذلک الشاب فقال انا فقال ہو انت ذاک فالقی علیہ شبہ عیسٰی ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الٰی السماء قال وجاء الطلب من الیہود فاخذوا الشبہ فقتلوہ ثم صلبوہ الٰی اٰخر القصۃ وہذا اسناد صحیح الٰی ابن عباس ورواہ النسائی عن ابی کریب عن ابی معویۃ وکذا ذکر غیر واحد من السلف انہ قال لہم ایکم یلقی شبہی فیقتل مکانی وہو رفیقی فی الجنۃ‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۲۸)

(ترجمہ) ’’ابن عباسq سے مروی ہے کہ جب حق تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو عیسیٰ علیہ السلام اس چشمہ سے کہ جو مکان میں تھا غسل فرما کر باہر تشریف لائے اور سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ (بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لئے تھا جیسے مسجد میں آنے سے پہلے وضو کرتے ہیں) باہر مجلس میں بارہ حواریین موجود تھے۔ ان کو دیکھ کر یہ ارشاد فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کفر کرے گا بعدازاں فرمایا کہ کون شخص تم میں سے اس پر راضی ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے اور وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے درجہ میں میرے ساتھ رہے یہ سنتے ہی ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اپنے کو اس جان نثاری کے لئے پیش کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جا اور پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اسی سابق کلام کا اعادہ فرمایا۔ پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا اور عرض کیا، میں حاضر ہوں۔‘‘

  1. نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت

    سردوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی

148

عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو ہی وہ شخص ہے؟ اس کے فوراً ہی بعد اس نوجوان پر عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشندان سے آسمان پر اٹھالئے گئے۔ بعدازاں یہود کے پیادے عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے گھر میں داخل ہوئے اور اس شبیہ کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کیا اور قتل کر کے صلیب پر لٹکایا۔

ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سند اس کی صحیح ہے اور بہت سے سلف سے اسی طرح مروی ہے۔ اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع الیٰ السماء کا بذریعہ وحی پہلے ہی علم ہوچکا تھا اور یہ علم تھا کہ اب آسمان پر جانے کا تھوڑا ہی وقت باقی رہ گیا ہے اور بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لئے تھا۔ جیسا کہ عید میں جانے کے لئے غسل ہوتا ہے۔ میرا گمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ذرہ برابر مضطرب اور پریشان نہ تھے بلکہ غایت درجہ سکون اور اطمینان میں تھے بلکہ نہایت درجہ شادان وفرحاں تھے۔

  1. خرم آں روز کزیں منزل ویراں بروم

    راحت جاں طلبم وزپئے جاناں بروم

بعض روایات میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے رفع الیٰ السماء سے پہلے حواریین کی دعوت فرمائی اور خود اپنے دست مبارک سے ان کے ہاتھ دھلائے اور بجائے رومال کے اپنے جسم مبارک کے کپڑوں سے ان کے ہاتھ پونچھے۔ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۲۹)

گویا کہ یہ دعوت رفع الیٰ السماء کا ولیمہ اور رخصتانہ تھا اور احباب واصحاب کی الوداعی دعوت تھی۔ الغرض غسل فرما کر برآمد ہونا اور احباب کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا یہ سب آسمان پر جانے کی تیاری تھی۔ جب فارغ ہوگئے تو اپنے ایک عاشق جاں نثار پر اپنی شباہت ڈال کر روح القدس کی معیت میں معراج کے لئے آسمان کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ رفع الیٰ السماء حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معراج جسمانی تھی جس طرح نبی اکرمa جبرائیل امین کی معیت میں آسمان کی معراج کے لئے روانہ ہوئے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت جبرائیل کی معیت میں معراج کے لئے آسمان پر روانہ ہوئے۔

فائدہ

صحیح مسلم میں نواس بن سمعانq کی حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب دمشق کے منارۂ شرقیہ پر اتریں گے تو سرمبارک سے پانی ٹپکتا ہوا ہوگا۔ سبحان اللہ ! جس وقت

149

آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت بھی سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور جس وقت قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے اس وقت بھی سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے ہوں گے۔ جس شان سے تشریف لے گئے تھے اسی شان سے تشریف آوری ہوگی۔

تنبیہ

سلف میں اس کا اختلاف ہے کہ جس شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی وہ یہودی تھا یا منافق عیسائی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مخلص حواری۔ گزشتہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مومن مخلص تھا۔ اس لئے کہ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس پر میری شباہت ڈالی جائے گی وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ و اللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!

ایک شبہ کا ازالہ

جس طرح فرشتوں کا بشکل بشر متمثل ہونا اور موسیٰm کے عصا کا اژدھا بن جانا قرآن کریم میں منصوص ہے اور انبیاء کرام کے لئے پانی کا شراب اور زیتون بن جانا نصاریٰ کے نزدیک مسلم ہے۔ پس اسی طرح اگر کسی شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ اور ہم شکل بنادیا جائے تو کیا استبعاد ہے؟ احیاء موتیٰ کا معجزہ القاشبیہ کے معجزہ سے کہیں زیادہ بلند تھا۔ لہٰذا احیاء موتیٰ کی طرح القاشبیہ کے معجزہ کو بھی بلاشبہ اور بلاتردد تسلیم کرنا چاہئے۔

’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ یعنی یہودی حضرت مسیح کو نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ امام رازی نے ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ کی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرائیل کو حضرت عیسیٰ کے ساتھ خاص خصوصیت تھی کہ انہیں کے نفخہ سے پیدا ہوئے، انہیں کی تربیت میں رہے اور وہی ان کو آسمان پر چڑھا کر لے گئے۔ (تفسیر کبیر ج۱ ص۴۳۶)

جیسا کہ شب معراج میں حضرت جبرائیل آنحضرتa کا ہاتھ پکڑ کر آسمان پر لے گئے۔ صحیح البخاری میں ہے: ’’ثم اخذ بیدی فعرج بی الٰی السماء‘‘ یہ آیت رفع جسمی کے بارے میں نص صریح ہے کہ حق جل شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ اور صحیح اور سالم آسمان پر اٹھالیا۔ اب ہم اس کے دلائل اور براہین ہدیہ

150

ناظرین کرتے ہیں۔ غور سے پڑھیں:

۱… یہ امر روزروشن کی طرح واضح ہے کہ ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے کہ جس طرف قتلوہ اور صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ قتلوہ اور صلبوہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلاجسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لئے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا بل رفعہ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی جس جسم کی طرف قتلوہ اور صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں۔

۲… دوم یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے۔ بلکہ جسم کے قتل کے مدعی تھے اور ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ سے اس کی تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا بل رفعہ میں رفع جسم ہی مراد ہوگا۔ اس لئے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ماقبل کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ ’’وقالوا اتخذ الرحمٰن ولدا سبحنہ بل عباد مکرمون‘‘ ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے۔ دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ہم بالحق‘‘ مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی منجانب اللہ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور متنافی ہیں۔ یک جا جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ کالا نے والا مجنون ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہیں وہ مرفوعیت الیٰ اللہ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقیق میں جمع ہونا ناممکن ہے اور ظاہر ہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں۔ محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کا جسم تو قتل ہو جاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ بل رفعہ اللہ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے اس لئے کہ رفع روحانی، اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہوگا اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہوگا اور درجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لئے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ ’’کما قال تعالٰی: ورفعنالک ذکرک‘‘ اور ’’یرفع اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا لعلم درجت‘‘

151

یہود حضرت مسیحm کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ابطال کے لئے ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ فرمایا۔ یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا، یا صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح وسالم آسمان پر اٹھالیا۔ نیز اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے بعد کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الیٰ السماء باعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمہارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھالیا۔ جیسا کہ ’’بل جاء ہم بالحق‘‘ میں صیغہ ماضی اس لئے لایا گیا کہ یہ بتلادیا جائے کہ آپa کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔ اسی طرح ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الیٰ السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہوچکا ہے۔

۳… جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہوگی تو اس جگہ یقینا جسم کا رفع مراد ہوگا اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندی رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ ’’کما قال تعالٰی: ورفعنا فوقکم الطور‘‘ اٹھایا ہم نے تم پر کوہ طور ’’ اللہ الذی رفع السمٰوات بغیر عمد ترونہا‘‘ اللہ ہی نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ ’’واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمعیل‘‘ یاد کرو اس وقت کو کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھارہے تھے اور اسماعیل ان کے ساتھ تھے۔ ’’ورفع ابویہ علی العرش‘‘ یوسفm نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا۔ ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام میں مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا اور ’’رفعنا بعضہم فوق بعض درجت‘‘ ہم نے بعض کو بعض پر درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے بلند کیا۔ اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لئے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید مذکور ہے۔

ایک حدیث میں ہے: ’’اذا تواضع العبد رفعہ اللہ الٰی السماء السابعۃ (رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق)‘‘ جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھالیتے ہیں۔ اس حدیث کو خراطی نے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن

152

عباسq سے روایت کیا ہے۔ (کنزالعمال ج۲ ص۱۲۵)

اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہوکر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول جسمانی شئے ہے اور الیٰ السماء کی بھی تصریح ہے۔ مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔

جواب: یہ ہے کہ یہاں مجاز کے لئے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ زندہ کے حق میں ہے۔ یعنی جو بندہ لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے تو اس کا مرتبہ اور درجہ اللہ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اور اونچا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازاً بوجہ قرینہ عقلیہ لئے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے تو اس کے لئے قرینہ لفظیہ بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ کنزالعمال میں روایت مذکورہ کے بعد ہی ’’علی الاتصال‘‘ یہ روایت مذکور ہے۔ ’’من یتواضع ﷲ درجۃ یرفعہ اللہ درجۃ حتی یجعلہ فی علیین‘‘ یعنی جس درجہ کی تواضع کرے گا۔ اسی کے مناسب اللہ کا درجہ بلند فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحۃً لفظ درجہ کا مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے۔ ’’الحدیث یفسر بعضہ بعضا‘‘ ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔

خلاصہ کلام

یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں۔ لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا جہاں رفع اجسام کا ذکر ہوگا وہاں رفع جسمی مراد ہوگا اور مثلاً جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہوگا وہاں رفع معنوی مراد ہوگا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں۔ باقی جیسی شئے ہوگی اس کا رفع اسی کے مناسب ہوگا۔

۴… یہ کہ اس آیت کا صریح مفہوم اور مدلول یہ ہے کہ جس وقت یہود نے حضرت مسیح کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہوسکا بلکہ اس وقت حضرت مسیح کا اللہ کی طرف رفع ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کابل رفعہ اللہ میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ کو پہلے سے

153

حاصل نہ تھا۔ بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کر رہے تھے اور وہ رفع جوان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح وسالم آسمان پر اٹھالے گئے۔ رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور’’وجیہا فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین‘‘ کے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہوچکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہوسکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادہ قتل کے وقت حاصل ہوا۔ یعنی رفع جسمی اور رفع عزت ومنزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا، اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔

۵… یہ کہ رفع کا لفظ قرآن کریم میں صرف دو پیغمبروں کے لئے آیا ہے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے ادریسm کے لئے ’’کما قال تعالٰی، واذکر فی الکتاب ادریس انہ کان صدیقا نبیا ورفعناہ مکانا علیا‘‘ اور ادریسm کے رفع جسمانی کا مفصل تذکرہ کتب تفاسیر میں مذکور ہے۔ لہٰذا تمام انبیاء کرام میں انہیں دو پیغمبروں کو رفع کے ساتھ کیوں خاص کیاگیا؟ رفع درجات میں تمام انبیاء شریک ہیں۔ اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کے قتل کواس طرح بیان فرمایا: ’’وقتلہم الانبیاء‘‘ مگر ان کے ساتھ ’’بل رفعہم اللہ الیہ‘‘ نہیں فرمایا کیا۔ معاذ اللہ ! ان انبیاء کے درجات بلند نہیں کئے گئے اور کیا ان حضرات کی ارواح طیبہ آسمان پر نہیں اٹھائی گئیں اور کیا معاذ اللہ ! یہ سب نبی ذلت کی موت مرے؟

(حضرت ادریسm کے رفع الیٰ السماء کا مفصل تذکرہ ذیل کی کتابوں میں ملاحظہ فرمائیں۔ تفسیر روح المعانی ج۵ ص۱۸۷، خصائص کبریٰ ج۱ ص۱۶۷،۱۶۸، ۱۷۴، تفسیر کبیر ج۵ ص۵۴۵، ارشاد الساری ج۵ ص۳۷۰، فتح الباری ج۱۳ ص۲۲۵، مرقات ج۵ ص۲۲۴، معالم التنزیل ج۳ ص۷، عمدۃ القاری ج۷ ص۳۲۷، القول الصحیح بانہ رفع وہو حیی ودرمنثور ج۴ ص۲۴۶، التفسیر ابن جریر ج۱۶ ص۶۳، ان اللہ رفعہ وہو حی الیٰ السماء الرابعۃ وفی الفتوحات المکیۃ ج۳ ص۳۴۱، الیواقیت والجواہر ج۲ ص۲۴، فاذا انا بادریس بجسمہ فانہ مامات الٰی الان بل رفعہ اللہ مکانا علیا وفی الفتوحات ج۲ ص۵،

154
ادریسm بقی حیا بجسدہ واسکنہ اللہ الٰی السماء الرابعۃ)

۶… یہ کہ ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ اور ’’وما قتلوہ یقینا‘‘ اور ’’بل رفعہ‘‘ میں تمام ضمائر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں جن کو مسیح اور ابن مریم اور رسول اللہ کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ اور مسیح اور ابن مریم اور رسول یہ جسم معین اور جسد خاص کے نام اور لقب ہیں۔ روح کے اسماء اور القاب نہیں۔ اس لئے کہ جب تک روح کسی بدن اور جسم کے ساتھ نہ ہو اس وقت تک وہ روح کسی اسم کے ساتھ موسوم اور کسی لقب کے ساتھ ملقب نہیں ہوتی۔ ’’واذ اخذ ربک من بنی آدم ظہورہم ذریتہم وقولہa الارواح جنود مجندۃ (الحدیث)‘‘

۷… یہ کہ یہود کی ذلت ورسوائی اور حسرت اور ناکامی اور عیسیٰ علیہ السلام کی کمال عزت ورفعت بجسدہ العنصری صحیح وسالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔

۸… یہ کہ رفعت شان اور علومرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ ’’کما قال تعالٰی: یرفع اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجت‘‘ بلند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔

۹… یہ کہ اگر آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ہم بالحق۔ ویقولون ائنا لتارکوا الہتنا للشاعر مجنون۔ بل جاء بالحق‘‘ میں آنحضرتa کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے واقع ہوا۔ اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا۔ حالانکہ مرزاقادیانی اس کے قائل نہیں۔ مرزاقادیانی تو (العیاذ ب اللہ ) یہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہوکر فلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقید حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعد یعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی۔ ’’وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منہم وذہب الی کشمیر واقام فیہم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ اللہ ورفعہ الیہ‘‘

155

۱۰… یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت لینے سے ’’وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘ کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لئے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب وغریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو اور وہ عجیب وغریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ اس مقام پر عزیزاً حکیما کو خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا کہ کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔ وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھالیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بناکر انہیں کے ہاتھ سے اس کو قتل کرادیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔ مرزاقادیانی ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں: ’’جاننا چاہئے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ ’’ورفعنہ مکانا علیا‘‘

پھر تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔ مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت کے ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں۔ فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۹۹، خزائن ج۳ ص۴۲۳،۴۲۴)

رفع کے معنی عزت کی موت نہ کسی لغت سے ثابت ہیں اور نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح ہے۔ محض مرزاقادیانی کی اختراع اور گھڑت ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ مگر اعزاز رفع جسمانی کے منافی نہیں۔ اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہوسکتے ہیں۔ نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہئے۔ اس لئے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہر کہ نزول کے یہ معنی مرزاقادیانی کے ہی مناسب ہیں۔

رہا یہ امر کہ آیت میں آسمان میں جانے کی کوئی تصریح نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ ( اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھالیا) اس کلام کے معنی ہی یہ ہیں

156

کہ اللہ نے آسمان پر اٹھالیا۔ جیسا کہ ’’تعرج الملائکۃ والروح الیہ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ فرشتے اور روح الامین اللہ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ ’’وقال تعالٰی: الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ‘‘ اللہ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عمل صالح کو اوپر اٹھاتا ہے۔ یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اسی طرح ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے وہ سمجھ سکتا ہے۔ ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی۔ یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق وسباق کے بھی خلاف ہیں۔

دوم: یہ کہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسq سے باسناد صحیح یہ منقول ہے۔ ’’لما اراد اللہ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۹)

(جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا۔ ’’الٰی آخر القصہ‘‘ اس کے علاوہ متعدد احادیث میں آسمان پر جانے کی تصریح موجود ہے وہ احادیث عن قریب ہم نقل کریں گے)

سوم: یہ کہ مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو جسے مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچی جاتی ہیں۔ اس عبارت سے خود واضح ہے کہ بل رفعہ اللہ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لئے کہ علیین اور مقعد صدق تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہرحال آسمان پر جانا تو مرزاقادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے۔ سو یہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔

حیات عیسیٰk کی دوسری دلیل

’’قال اللہ عزوجل: وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘

ربط

یہ آیت گزشتہ آیت ہی کے سلسلہ کی ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الیٰ السماء کا ذکر تھا۔ جس سے طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اب رفع الیٰ السماء کے بعد کیا

157

ہوگا؟ اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے کہ وہ اس وقت تو آسمان پر زندہ ہیں۔ مگر قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت تمام اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور چند روز دنیا میں رہ کر انتقال فرمائیں گے اور روضہ اقدس میں مدفون ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے اور یہود بے بہبود جو ان کے قتل کے مدعی ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھ کر اپنی غلطی پر ذلیل اور نادم ہوں گے۔

بیان ربط بعنوان دیگر

گزشتہ آیات میں حضرت مسیحm کے ساتھ یہود کے کفر اور عداوت کا ذکر تھا۔ اس آیت میں ان کے ایمان کا ذکر ہے کہ رفع الیٰ السماء سے پہلے اگرچہ یہود حضرت مسیح کی نبوت سے منکر تھے۔ مگر نزول من السماء کے بعد تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی نبوت کی تصدیق کریں گے۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آئندہ زمانے میں کوئی شخص اہل کتاب میں سے باقی نہ رہے گا۔ مگر عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ان کی نبوت ورسالت پر ضرور بالضرور ایمان لے آئے گا۔ رفع الیٰ السماء سے پہلے تکذیب اور عداوت تھی۔ نزول کے بعد تصدیق اور محبت ہوگی اور پھر اس سب کے بعد قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان کی تصدیق وتکذیب اور محبت اور عداوت کی شہادت دیں گے۔ تاکہ شہادت کے بعد فیصلہ سنادیا جائے۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔

تفسیر آیت

اس آیت کی تفسیر میں صحابہ وتابعین وعلماء مفسرین کے دو قول ہیں:

قول اوّل: مشہور اور جمہور کے نزدیک مقبول اور راحج یہ ہے کہ لیؤمنن کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اوربہ اور قبل موتہ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ نہیں رہے گا کوئی شخص اہل کتاب میں مگر البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔ زمانہ آئندہ یعنی زمانہ نزول میں عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ اس آیت کا

158

ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں: ’’نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتتہ ایمان آرد بعیسٰی پیش از مردن وروز قیامت عیسیٰ گواہ باشد برایشاں‘‘

(ف)مترجم می گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔

شاہ ولی اللہ v کے اس ترجمہ اور فائدہ تفسیریہ سے صاف ظاہر ہے کہ ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ جیسا کہ آیت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ’’وما قتلوہ‘‘ اور ’’وما صلبوہ‘‘ اور ’’ماقتلوہ یقینا‘‘ اور ’’بل رفعہ‘‘ تمام ضمائر مفعول حضرت مسیح بن مریمm ہی کی طرف راجع ہیں اور پھر آئندہ آیت ’’ویوم القیامۃ ویکون علیہم شہیدا‘‘ میں ’’یکون‘‘ کی ضمیریں بھی حضرت مسیح ہی کی طرف راجع ہوں گی تاکہ سیاق اور سباق کے خلاف نہ ہو۔

اور عبد اللہ بن عباسq سے بھی باسناد صحیح یہی منقول ہے کہ ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰk کی طرف راجع ہیں۔ چنانچہ حافظ عسقلانیv فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں: ’’وبہذا جزم ابن عباس فیما رواہ ابن جریر من طریق سعید بن جبیر عنہ باسناد صحیح ومن طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل موت عیسٰی و اللہ انہ الاٰن لحیی ولٰکن اذا نزل اٰمنوا بہ اجمعون ونقلہ اکثر اہل العلم ورجحہ ابن جریر وغیرہ‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

(ترجمہ) ’’اسی کا ابن عباس نے جزم اور یقین کیا۔ جیسا کہ ابن جریر نے بروایت سعید بن جبیر ابن عباس سے باسناد صحیح روایت کیا ہے اور بطریق ابی رجاء حسن بصری سے اس آیت کی تفسیر قبل موت عیسیٰ کے منقول ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں، و اللہ حضرت عیسیٰ اس آن میں بھی زندہ ہیں۔ جب نازل ہوں گے اس وقت ان پر سب ایمان لے آئیں گے اور یہی اکثر اہل علم سے منقول ہے اور اسی کو ابن جریر وغیرہ نے راحج قرار دیا ہے۔‘‘

اور قتادہ اور ابومالک سے بھی یہی منقول ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے۔ (تفسیرابن جریر ج۶ ص۱۴)

اور حضرت ابوہریرہq کی ایک روایت ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں:’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a والذی

159
نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیراٰلہ من الدنیا ومافیہا ثم یقول ابوہریرہ واقروا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ (بخاری ج۱ ص۴۹۰، مسلم شریف ج۱ ص۸۷)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ بے شک عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ دراں حالیکہ وہ فیصلہ کرنے والے اور انصاف کرنے والے ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لڑائی کو ختم کر دیں گے۔ مال کو بہادیں گے۔ یہاں تک کہ مال کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور ایک سجدہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر ابوہریرہq یہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اس حدیث کی تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھو: وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘

حافظ عسقلانیv اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’وہذا مصیر من ابی ہریرۃq الٰی ان الضمیر فی قولہ بہ وموتہ یعود علی عیسٰیm ای الا لیؤمنن بعیسٰی قبل موت عیسٰی‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

(ترجمہ) ’’یعنی ابوہریرہq کا اس طرح آیت کا پڑھنا اس کی دلیل ہے کہ ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ یعنی ہر شخص زمانہ آئندہ میں حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ضرور ایمان لے آئے گا۔‘‘

ایک وہم کا ازالہ

مرزا اور مرزائی کہتے ہیں کہ: ’’اقروا ان شئتم الٰی آخرہ‘‘ یہ نبی کریمk کا ارشاد نہیں بلکہ ابوہریرہq کا استنباط ہے جو حجت نہیں۔ خلاصہ یہ کہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ صحابی کا اثر ہے۔

جواب: یہ ہے کہ حدیث کتاب اللہ کی شرح ہے۔ قرآن کریم میں جو چیز اجمالاً مذکور ہے حدیث اس کی تفصیل ہے۔ اس لئے فقہا صحابہ اس تتبع اور تلاش میں رہتے تھے کہ

160

احادیث نبویہ اور کلمات طیبہ کی منشاء اور ماخذ کا پتہ کتاب اللہ سے چلائیں اور ارشادات نبویہ کا کلمات الٰہیہ سے استنباط کریں۔ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ میں تطبیق اور توفیق دینا اور حدیث کی تصدیق اور مزید توثیق کے لئے کتاب اللہ کی کسی آیت سے اشتہاد کرنا یہ ہرشخص کا کام نہیں جس کو خدائے تعالیٰ نے تفقہ اور استنباط کی نعمت اور دولت سے سرفراز فرمایا ہو وہی کر سکتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہq کی یہ عادت تھی کہ اکثر حدیث کی روایت کر کے اشتہاداً کوئی آیت تلاوت فرمایا کرتے ہیں اور وہ اکثر اپنی رائے سے نہیں ہوتی بلکہ رسول اللہ a ہی سے منقول ہوتی ہے۔ لیکن بعض مرتبہ اس کی تصریح فرمادیتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا اور بعض مرتبہ اختصاراً فقط آیت کی تلاوت پر ہی اکتفا فرماتے ہیں۔ لیکن تتبع اور استقراء جب کیا جاتا ہے تو دوسری سند سے اس کے مرفوع ہونے کی تصریح مل جاتی ہے۔ چنانچہ یہ آیت بھی اسی قبیل سے ہے اور اس کی چند نظائر ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں۔

نظیراوّل

’’عن ابی ہریرۃq قال سمعت رسول اللہ a یقول تفضل صلوۃ الجمیع صلوۃ احدکم وحدہ بخمس وعشرین جزا وتجتمع ملائکۃ اللیل والنہار فی صلوۃ الفجر ثم یقول ابوہریرۃ اقرا وان شئتم ان قراٰن الفجر کان مشہودا‘‘ (اخرجہ البخاری ص۹۰، احمد بن حنبل فی مسندہ ج۲ ص۲۳۳،۲۳۶)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ a کو یہ کہتے سنا کہ جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھ کر ہے اور صبح کی جماعت میں دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ پھر ابوہریرہq نے کہا کہ اگر قرآن سے اس کی تصدیق وتائید چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ان قراٰن الفجر کان مشہودا‘‘ (بخاری شریف، مسند احمد)

نظیر دوم

’’عن ابی ہریرۃ یقول قال النبیa لیس المسکین الذی۔ الخ! واقراؤا ان شئتم یعنی قولہ تعالٰی لایسئلون الناس الحافا‘‘ (اخرجہ البخاری ص۶۵۱، احمد بن حنبل فی مسندہ ج۲ ص۳۹۵)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمa نے فرمایا کہ مسکین

161

وہ نہیں کہ جس کو ایک دو لقمہ دے کر واپس کر دیا جائے۔ اصل مسکین وہ ہے جو سوال ہی سے بچتا ہو اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔لا یسئلون الناس الحافا ‘‘

نظیر سوم

’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a ما من مولود الا یولد علی الفطرۃ فابواہ یہودانہ وینصرانہ ویمجسانہ کما تنتج البہیمۃ۔ البہیمۃ جمعاء ہل تحسون فیہا من جدعاء ثم یقول فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم‘‘ (اخرجہ البخاری ج۲ ص۷۰۴)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq فرماتے ہیں کہ نبی اکرمa فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اس کے ماں باپ یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنالیتے ہیں اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا الایۃ‘‘

نظیر چہارم

’’عن ابی ہریرۃ عن النبیa قال ان اللہ خلق الخلق حتٰی اذا فرغ من خلقۃ قالت الرحم ہذا مقام …… بک من القطعیۃ قال نعم اما ترضین ان اصل من وصلک واقطع من قطعک قالت بلی یا رب قال فہو لک قال رسول اللہ a فاقراؤا ان شئتم فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم (بخاری شریف ج۲ ص۸۸۵) وفی روایۃ قال ابوہریرۃq اقرؤا ان شئتم وفی روایۃ قال رسول اللہ a اقرؤا ان شئتم‘‘ (بخاری ج۲ ص۷۱۶)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جب فارغ ہوئے تو مثالی طور پر قرابتوں نے دست بستہ عرض کیا کہ ہم قرابت قطع کرنے والوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم اس پر راضی نہیں کہ جو تم کو وصل کرے اس کو میں اپنے سے ملاؤں اور جو تم کو قطع کرے اس سے میں بھی قطع تعلق کروں۔ قرابتوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ اے پروردگار! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس تمہارے لئے یہ فیصلہ ہوچکا اور اس کے بعد رسول اللہ a نے فرمایا۔ اگر چاہو تو یہ آیت

162

پڑھ لو: فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم‘‘

نظیر پنجم

’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a قال اللہ تبارک وتعالٰی اعددت لعبادی الصلحین مالا عین رأت والاذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر واقراء وا ان شئتم فلا تعلم نفس مااخفی لہم من قرۃ اعین‘‘ (اخرجہ البخاری ص۴۶۰، احمد بن حنبل)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں کہ جو نہ آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں سے سنیں اور نہ کسی دل میں ان کا خطرہ گزرا اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین‘‘

نظیر ششم

’’عن ابی ہریرۃ یبلغ بہ النبیa قال ان فی الجنۃ شجرۃ یسیر الراکب فی ظلہا مائۃ عام لا یقطہا واقرؤا ان شئتم وظل ممدود‘‘ (اخرجہ البخاری ص۷۲۴، احمد بن حنبل فی مسندہ ج۲ ص۲۸۲)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq سے روایت ہے کہ نبی کریمa نے فرمایا کہ جنت می ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سوبرس بھی چلے تو قطع نہیں کر سکے گا اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: وظل ممدود‘‘

نظیر ہفتم

’’عن ابی ہریرۃq ان النبیa قال ما من مؤمن الا وانا اولی بہ فی الدنیا والاخرۃ واقراوا ان شئتم النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم‘‘ (البخاری ص۳۲۳، احمد بن حنبل فی مسندہ ج۲ ص۳۲۸، ۳۳۴)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq فرماتے ہیں کہ نبی اکرمa نے فرمایا کہ ہر مومن کے ساتھ میں اس کی جان سے زیادہ اس کے ساتھ دنیا اور آخرت میں قریب ہوں اور اگر چاہو تو

163

یہ آیت پڑھ لو: النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم‘‘

نظیر ہشتم

’’عن ابی ہریرۃq قال سمعت رسول اللہ a یقول لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہا فاذا طلعت وراہا الناس امن من علیہا فذلک حین لا ینفع نفسا ایمانہا لم تکن امنت من قبل او کسبت فی ایمانہا خیرا‘‘ (اخرجہ الامام احمد فی مسندہ ج۲ ص۲۳۱، ۳۱۳، ۵۳۰)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتa نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی کہ جب تک آفتاب مغرب سے طلوع نہ کرے اور جب آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو اس وقت سب ایمان لے آئیں گے۔ مگر اس وقت یہ ایمان نفع نہیں دے گا اور اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو:ینفع نفسا ایمانہا (مسند احمد)‘‘

نظیر نہم

’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a ما من مولود الانخسہ الشیطان الا ابن مریم وامہ ثم قال ابوہریرۃ اقراوا ان شئتم انی اعیذہا بک وذریتہا من الشیطن الرجیم‘‘ (مسند احمد ج۲ ص۳۳۳)

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq راوی ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ بچہ کو شیطان ولادت کے وقت کوچہ دیتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کہ وہ اس سے محفوظ رہے۔ پھر ابوہریرہq نے کہا اگرچاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ان اعیذہا بک وذریتہا من الشیطن الرجیم‘‘

نظیر دہم

’’عن ابی ہریرۃq فی حدیث طویل عن النبیa انہ سئل عن الحمر الاہلیۃ فقال ما انزل اللہ علی فیہا الاہذہ الایۃ الجامعۃ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ‘‘ (بخاری ومسلم مسند امام احمد ج۲ ص۲۶۲)
164

(ترجمہ) ’’ابوہریرہq راوی ہیں کہ رسول اللہ a سے گدھوں کے بارے میں دریافت کیاگیا تو ارشاد فرمایا کہ اس بارے میں مجھ پر کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا۔ مگر یہ آیت جامع ہے۔ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ‘‘ (بخاری ومسلم ومسند احمد)

حضرات اہل انصاف کو ان نظائر سے غالباً یہ اچھی طرح منکشف ہوگیا ہو گا کہ حضرت ابوہریرہq جب کسی حدیث کے بعد کوئی آیت اشتہاداً ذکر فرماتے ہیں تو وہ مرفوع بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس حدیث کے بھی بعض رواۃ کو اس کے مرفوع ہونے کا گمان ہے۔ جیسا کہ مسند امام احمد بن حنبل کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے: ’’حدثنا عبد اللہ قال ھدثنی یزید انا سفیان عن الزہری عن حنظلۃ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a ینزل عیسٰی بن مریم فیقتل الخنزیر ویمحو الصلیب الٰی ان قال ثم تلا ابوہریرۃ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا۔ فزعم حنظلۃ اباہریرۃ قال یؤمن بہ قبل موت عیسٰی فلا ادری ہذا کلہ حدیث النبیa اوشی قالہ ابوہریرۃ‘‘ (مسند ج۲ ص۲۹۰، اخرجہ ابن کثیر ج۲ ص۲۳۵)

یعنی حنظلہq کہتے ہیں کہ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ روایت از اوّل تا آخر، سب حدیث مرفوع ہے یا آخری حصہ ابوہریرہq کا قول ہے۔ و اللہ اعلم!

اور امام طحاوی نے شرح معانی الاثار میں حضرت ابن سیرینv سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہq کی کل روایتیں مرفوع ہیں۔ گو بظاہر وہ موقوف ہوں۔

’’عن محمد بن سیرین انہ کان اذا حدث عن ابی ہریرۃ فقیل لہ عن النبیa فقال کل حدیث ابی ہریرۃ عن النبیa‘‘ (شرح معانی الاثار ج۱ ص۱۱، باب سورۃ الھرۃ)

اور شیخ جلال الدین سیوطیv نے تفسیر درمنثور ج۲ ص۲۴۲ پر اس روایت کو مرفوعاً نقل فرمایا ہے۔ وہ یہ ہے: ’’اخرجہ ابن مردویہ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a یوشک ان ینزل فیکم ابن مریم عدلا یقتل الدجال ویقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتّٰی یکون

165
السجدۃ واحدۃ ﷲ رب العلمین واقراوا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ موت عیسٰی بن مریم ثم یعیدہا ابوہریرۃ ثلث مراۃ‘‘

اور ’’ثم یعیدہا‘‘ کا لفظ نہایت صاف طور سے اس کو ظاہر کر رہا ہے کہ اس سے ماقبل کا سب حصہ مرفوع ہے اور رسول اللہ a کا ارشاد ہے اور اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ ابوہریرہq ہی کا قول ہے۔ تب بھی حجت ہے۔ ایک صحابیq کا صحابہ کرامi کے مجمع میں کسی بات کو علی الاعلان کہنا اور صحابہ کرامi کا اس پر سکوت فرمانا یہ اجماع سکوتی کہلاتا ہے اور صحابہ کرامi کا اجماع بہ اتفاق علمائے امت حجت قاطعہ ہے اور خصوصاً وہ بات کہ جو باربار اور مختلف مجامع میں کہی گئی ہو اور صحابہi نے اس پر کوئی اعتراض نہ فرمایا ہو اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ یہ امر صحابہi کے نزدیک بالکل مسلم ہے۔ اگر قابل انکار ہوتا تو ضرور صحابہi اس پر انکار فرماتے۔ صحابہ کرامi سے یہ ناممکن ہے کہ ان کے سامنے کوئی قول منکر کہا جائے اور وہ اس پر انکار نہ فرمائیں۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہq کا قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کرنا اور صحابہ کرامi سے مجامع اور مجالس میں اس کو باربار بیان فرمانا اور کسی صحابیq کا اس پر انکار نہ کرنا اس امر کی قطعی اور صریح دلیل ہے کہ یہ امر تمام صحابہi کے نزدیک مسلم تھا۔ حافظ عسقلانیv فتح الباری میں فرماتے ہیں:’’وقد اختار کون الضمیر للعیسی ابن جریر وبہ قال جماعۃ من السلف وہو الظاہر لانہ تقدم ذکر عیسٰی وذہب کثیر من التابعین فمن بعدہم الٰی ان المراد قبل موت عیسٰی کما روی عن ابن عباس قبل ہذا‘‘

(ترجمہ) ’’دونوں ضمیروں کا یعنی ’’بہ‘‘ اور ’’موتہ‘‘ کی ضمیروں کا حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہونا اس کو امام ابن جریر اور سلف کی ایک جماعت نے راحج قرار دیا ہے اور قرآن کریم کا سیاق بھی اس کو مقتضی ہے۔ کیونکہ گزشتہ کلام میں حضرت عیسیٰ ہی کا ذکر ہے اور تابعین اور تبع تابعین کثرت سے اسی طرف ہیں کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ قبل موت عیسیٰ۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے جیسا کہ ابن عباسq سے مروی ہے۔‘‘ (فتح الباری)

قول ثانی

آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ ’’بہ‘‘ کی ضمیر تو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع

166

ہے اور ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت ورسالت اور ان کی عبدیت پر ایمان لے آتا ہے۔ جیسا کہ ابی بن کعبq کی قرأت: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہم‘‘ اس معنی کی صریح مؤید ہے یعنی نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لے آئیں گے۔ اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت ورسالت پر۔ یعنی اس بات پر کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ خدا اور خدا کے بیٹے نہیں تھے۔ مگر یہ ایمان چونکہ خروج روح کے وقت ہوتا ہے۔ اس لئے شرعاً معتبر نہیں اور نہ آخر میں نجات کے لئے کافی ہے۔ اس قرأت میں بجائے ’’قبل موتہ‘‘ کے ’’قبل موتہم‘‘ بصیغہ جمع آیا ہیں جو صراحۃً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ’’قبل موتہم‘‘ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا اسی طرح دوسری قرأت میں بھی ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہونی چاہئے۔ تاکہ دونوں قرأتیں متفق ہو جائیں۔

حافظ عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں:’’ورحج جماعۃ ہذا المذہب بقرأۃ ابی بن کعب الا لیؤمنن بالضم بہ قبل موتہم ای اہل الکتاب قال النووی معنی الکریۃ علی ہذا لیس من اہل الکتاب اذ یحضرہ الموت الا آمن عند المعانیۃ قبل خروج روحہ بعیسٰیm وانہ عبد اللہ ولٰکن لا ینفعہ ہذا الایمان فی تلک الحالۃ کما قال اللہ عزوجل ولیسئت التوبۃ للذین یعملون السیت حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الان‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

(ترجمہ) ’’علماء کی ایک جماعت نے ابی بن کعب کی قرأت کی بناء پر اس قول کو راحج قرار دیا ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور اس قول کی بناء پر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ہر کتابی اپنی روح نکلنے سے پہلے اس بات پر ایمان لے آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ مگر ایسی حالت میں ایمان اس کو نافع اور مفید نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ولیست التوبۃ۔ الخ‘‘ یعنی جب موت آجائے تو اس وقت توبہ مقبول نہیں۔‘‘

167

ترجیح ارجح وتصحیح اصح

جمہور سلف اور خلف کے نزدیک آیت کی تفسیر میں راجح اور مختار قول اوّل ہے اور دوسرا قول ضعیف ہے۔ اس لئے کہ اس قول کا دارومدار ابی بن کعبq کی قرأت پر ہے اور یہ قرأت شاذ ہے۔ کسی صحیح یا حسن سند سے بھی ثابت نہیں۔ سند کے راوی ضعیف اور مجروح ہیں۔ تفسیر ابن جریر میں اس قرأت کی اسانید مذکور ہیں اور علیٰ ہذا اس باب میں جس قدر روایتیں ابن عباسq سے مروی ہیں وہ بھی ضعیف ہیں۔ امام جلیل وکبیر حافظ عمادالدین بن کثیرv اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’واولی ہذہ الاقوال بالصحۃ القول الاول وہو انہ لا یبقی احد من اہل الکتاب بعد نزول عیسٰیm الا امن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسٰیm ولا شک ان ہذا الذی قالہ ابن جریر ہو الصحیح لانہ مقصود من سیاق الایۃ وہذا القول ہو الحق کما سنبینہ بالدلیل القاطع ان شاء اللہ تعالٰی وبہ الثقۃ وعلیہ التکلان‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۳۳)

(ترجمہ) ’’حافظ ابن کثیرv فرماتے ہیں کہ صحیح قول فقط یہی ہے کہ دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور آیت کی تفسیر اس طرح کی جائے کہ آئندہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ جس میں تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ایمان لے آئیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام بے شک رسول ہیں اور یہی ابن جریر طبریv نے اختیار فرمایا ہے اور کوئی شک نہیں کہ یہی صحیح اور درست ہے۔ کیونکہ سیاق آیت سے عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر مقصود ہے اور یہی قول حق ہے۔ جیسا کہ ہم اس کو دلیل قطعی سے ثابت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر)

اور دلیل قطعی ہے وہ احادیث متواترہ مراد ہیں کہ جن میں صراحۃً یہ مروی ہے کہ قیامت کے قریب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس وقت کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے۔

تطبیق وتوفیق

جاننا چاہئے کہ دو قرأتیں دو مستقل آیتوں کا حکم رکھتی ہیں۔ ابی بن کعبq کی قرأت سے ہر کتابی کا اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کی نبوت پر ایمان لانا معلوم ہوتا ہے

168

اور قرأت متواترہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ آئندہ میں تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان دونوں قرأتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ دونوں حق ہیں۔ ہر ایک قرأت بمنزلہ مستقل آیت کے ہے جو حجت ہے۔ ہر کتابی اپنے مرنے کے وقت بھی حضرت مسیح کی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور جب قیامت کے قریب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے۔ اس وقت بھی ہر کتابی حضرت مسیحm کی موت سے پہلے حضرت مسیحm پر ضرور ایمان لے آئے گا۔ قرأت متواترہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا ذکر ہے اور اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے جو نزول کے بعد لائیں۔

اور ابی بن کعبq کی قرأت شاذہ میں حضرت مسیح کی حیات اور نزول کا ذکر نہیں۔ نہ حیات کا ذکر ہے نہ وفات کا فقط اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے کہ جو اہل کتاب اپنی روح نکلتے وقت لاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر قرأت میں ایک جدا واقعہ کا ذکر ہے۔ جیسا کہ: ’’آلم غلبت الروم‘‘ میں دو قرأتیں ہیں۔ ایک معروف اور ایک مجہول اور ہر قرأت میں علیحدہ علیحدہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن حضرات صحابہi اور تابعینw سے یہ قرأت شاذہ منقول ہے وہ سب کے سب بالاتفاق حضرت مسیحm کے بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھانے جانے اور قیامت کے قریب آسمان سے اترنے کے بھی قائل ہیں۔ چنانچہ تفسیر درمنثور میں ام المؤمنین ام سلمہt اور محمد بن الحنفیہ ۱؎ سے مروی ہے کہ

۱؎ وہ روایت یہ ہے: ’’اخرج ابن المنذر عن شہر بن ہو شب قال قال لی الحجاج یا شہر آیۃ من کتاب اللہ ما قراتہا الااعتراض فی نفسی منہا شیٔ قال اللہ وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ وانی اوتی بالاساری فاضرب اعناقم ولا اسمع یقولون شیا فقلت رفعت الیک علی غیر وجہہا ان النصرانی اذا خرجت روحہ ضربت الملائکۃ من وجہہ ومن دبرہ وقالوا ای خبیث ان المسیح الذی زعمت انہ اللہ وابن اللہ او ثالث ثلثۃ عبد اللہ وروحہ وکلمۃ فیؤمن حین لا ینفعہ ایمانہ وان الیہودی اذا خرجت نفسہ ضربۃ الملائکۃ من قبلہ ودبرہ وقالوا ای خبیث ان المسیح الذی زعمت انک قتلۃ عبد اللہ وروحہ فیؤمن بہ حین لا ینفعہ الایمان فاذا کان عند نزول عیسٰی آمنت بہ احیاہم کما آمنت بہ موتاہم فقال من این اخذتہا فقلت من محمد بن علی قال لقب اخذتہا من معدنہا قال شہر وایم اللہ ماہدثنیہ الا ولکنی احببت ان اغیظہ‘‘ (تفسیر درمنثور ج۲ ص۲۴۱)

169

جو لوگ حضرت مسیح کے نزول سے پہلے مریں گے۔ وہ اپنی موت کے وقت حضرت مسیح پر ایمان لاتے ہیں اور جو اہل کتاب حضرت مسیح کے زمانہ نزول کو پائیں گے وہ تمام حضرت مسیح پر حضرت مسیح کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔ لہٰذا ابی بن کعبq کی قرأت نزول عیسیٰ سے پہلے مرنے والوں کے حق میں ہے اور قرأت متواترہ ان لوگوں کے حق میں ہے کہ جو نزول کے بعد حضرت مسیح کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔

پھر یہ کہ اہل کتاب جو اپنے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں وہ بھی یہی ایمان لاتے ہیں کہ عیسیٰ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ زندہ صحیح وسالم آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے:’’اخرج عبد بن حمید وابن المنذر عن شہر بن حوشب فی قولہ تعالٰی وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ عن محمد بن علی بن ابی طالب وہو ابن الحنفیۃ قال قال لیس من اہل الکتاب احد الا اتتہ الملائکۃ یضربون وجہہ ودبرہ ثم یقال یا عدو اللہ ان عیسٰی روح اللہ وکلمۃ کذبت علٰی اللہ وزعمت انہ اللہ ان عیسٰی لم یمت وانہ رفع الٰی السماء وہو نازل قبل ان تقوم الساعۃ فلا یبقی یہودی ولا نصرانی الا امن بہ‘‘ (تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۴۱)

(ترجمہ) ’’عبد بن حمید اور ابن منذر نے بروایت شہر بن حوشب محمد بن علی بن الحنفیہ سے آیت: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ۔ الخ‘‘ کی تفسیر اس طرح روایت کی ہے کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر آتے ہیں۔ فرشتے اس کی موت کے وقت اور خوب مارتے ہیں۔ اس کے چہرے اور سرین پر اور کہتے ہیں کہ اے اللہ کے دشمن بے شک عیسیٰ اللہ کی خاص روح ہیں اس کا کلمہ ہیں۔ تو نے اللہ پر جھوٹ بولا اور گمان کیا کہ عیسیٰ اللہ ہیں تحقیق عیسیٰ ابھی نہیں مرے اور تحقیق آسمان کی طرف اٹھالئے گئے اور وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ پس اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہ رہے گا مگر حضرت مسیح پر ضرور ایمان لائے گا۔‘‘

عجب نہیں کہ جس طرح مشرکین کو مرنے کے وقت عقیدۂ فاسدہ پر توبیخ اور سرزنش کی جاتی ہے اسی طرح اہل کتاب کو بھی حضرت عیسیٰ کے بارے میں غلط عقیدہ کی بناء پر توبیخ

170

کی جاتی ہو۔ ’’کما قال تعالٰی: ان الذین توفہم الملکۃ ظالمی انفسہم فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء‘‘

امام ابن جریرv اور ابن کثیرv فرماتے ہیں کہ جب موت کا نزول ہوتا ہے تو حق اور باطل کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ جب تک دین حق اور دین باطل کا امتیاز نہ ہو جائے۔ اس وقت تک روح نہیں نکلتی۔ اسی طرح ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت پر ایمان لے آتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس پر حق واضح ہو جاتا ہے۔

حیات عیسیٰk کی تیسری دلیل

’’قال اللہ عزوجل: ومکروا ومکر اللہ ۔ و اللہ خیر الماکرین۔ اذ قال اللہ یعیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الٰی یوم القیامۃ ثم الیّٰ مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون‘‘

ترجمہ وتفسیر

یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے پکڑنے اور قتل کرنے کی خفیہ تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت اور عصمت کی ایسی تدبیر فرمائی جو ان کے وہم وگمان سے بھی بالا اور برتر تھی وہ یہ کہ ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کی ہم شکل بنا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا اور یہودی جب گھر میں داخل ہوئے تو اس ہم شکل کو پکڑ کر لے گئے اور عیسیٰ سمجھ کر اس کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والے ہیں۔ کوئی تدبیر اللہ کی تدبیر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی پریشانی دور کرنے کے لئے یہ فرمایا کہ اے عیسیٰ تم گھبراؤ نہیں۔ تحقیق میں تم کو تمہارے ان دشمنوں سے بلکہ اس جہان ہی سے پورا پورا لے لوں گا اور بجائے اس کے کہ یہ ناہنجار تجھ کو پکڑ کر لے جائیں اور صلیب پر چڑھائیں۔ میں تجھ کو اپنی پناہ میں لے لوں گا اور آسان پر اٹھاؤں گا کہ جہاں کوئی پکڑنے والا پہنچ ہی نہ سکے اور تجھ کو ان ناپاک اور گندوں سے نکال کر پاک اور صاف اور مطہر اور معطر جگہ میں پہنچا دوں گا کہ تجھ کو کفر اور عداوت کا رائحہ بھی محسوس نہ ہو اور یہ ناہنجار تجھ کو بے عزت کر کے تیرے

171

اور تیرے دین کے اتباع سے لوگوں کو روکنا چاہتے ہیں اور میں اس کے بالمقابل تیرے پیروؤں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب اور فائق رکھوں گا۔ تیرے خدام اور غلام ان پر حکمران ہوں گے اور یہ ان کے محکوم اور باج گزار ہوں گے۔ قیامت کے قریب تک یوں ہی سلسلہ رہے گا کہ نصاریٰ ہر جگہ یہود پر غالب اور حکمران رہیں گے اور اپنی ذلت ومسکنت کا اور حضرت مسیح بن مریم کے نام لیواؤں کی عزت ورفعت کا مشاہدہ کرتے رہیں گے اور اندر سے تلملاتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب قیامت قریب آجائے گی اور دجال کو جیل خانہ سے چھوڑ دیا جائے گا۔ تاکہ یہود بے بہبود اپنی عزت اور حکمت قائم کرنے کے لئے اس کے اردگرد جمع ہوئیں تو یکایک عیسیٰ علیہ السلام بصد جاہ وجلال آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو جو یہود کا بادشاہ بنا ہوا ہوگا۔ اس کو تو خود اپنے دست مبارک سے قتل فرمائیں گے اور باقی یہود کا قتل وقتال اور اس جماعت کا بالکلیہ استیصال امام مہدی اور مسلمانوں کے سپرد ہوگا۔ دجال کے متبعین کو چن چن کر قتل کیا جائے گا۔ نزول سے پہلے یہود اگرچہ حضرت مسیح کے غلام اور محکوم تھے مگر زندہ رہنے کی تو اجازت تھی مگر حضرت مسیح کے نزول کے بعد زندہ رہنے کی بھی اجازت نہ رہے گی۔ ایمان لے آؤ یا اپنے وجود سے بھی دستبردار ہو جاؤ اور نصاریٰ کو حکم ہوگا کہ میری الوہیت، ابنیت کے عقیدہ سے تائب ہو جاؤ اور مسلمانوں کی طرح مجھ کو اللہ کا بندہ اور رسول سمجھو اور صلیب کو توڑدیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کریں گے اور سوائے دین اسلام کے کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔

الغرض نزول کے بعد اس طرح تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائیں گے۔ جیسا کہ آئندہ آیت میں اس طرف اشارہ فرماتے ہیں: ’’ثم الیّٰ مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون‘‘ پھر تم سب کا میری طرف لوٹنا ہے۔ پس اس وقت میں تمہارے اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔ وہ فیصلہ یہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے یہود کا یہ زعم باطل ہو جائے گا کہ ہم نے حضرت مسیح کو قتل کردیا۔ ’’کما قال اللہ تعالٰی: وقولہم انا قتلنا المسیح عیسٰی بن مریم رسول اللہ ‘‘ اور نصاریٰ کا یہ زعم باطل ہوگا کہ وہ خدایا خدا کے بیٹے ہیں اور حیات مسیح کے مسئلہ کا فیصلہ ہو جائے گا اور روز روشن کی طرح تمام عالم پر یہ واضح ہو جائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے ہیں۔

172

لفظ توفی کی تحقیق

قبل اس کے کہ ہم ان آیات کی مفصل تفسیر کریں لفظ توفی کی تحقیق ضروری سمجھتے ہیں۔

توفی، وفا سے مشتق ہے۔ جس کے معنی پورا کرنے کے ہیں۔ یہ مادہ خواہ کسی شکل اور کسی ہیئت میں ظاہر ہو مگر کمال اور تمام کے معنی کو ضرور لئے ہوئے ہوگا۔ ’’کماقال تعالٰی: آفوا بعہد اوف بعہدی کم‘‘ تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔’’وقال تعالٰی: واوفوا الکیل اذا کلتم‘‘ ماپ کو پورا کرو۔ جب تم ماپو ’’یوفون بالنذر‘‘ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں۔ ’’وانما توفون اجورکم یوم القیامۃ‘‘ جزایں نیست کہ تم پورا پورا اجر قیامت کے دن دئیے جاؤ گے۔ یعنی کچھ تھوڑا بہت اجر تو دنیا میں بھی مل جائے گا۔ مگر پورا پورا اجر قیامت کے دن ہی ملے گا۔

اور لفظ توفی جو اسی مادہ یعنی وفا سے مشتق ہے اس کے اصلی اور حقیقی معنی ’’اخذ الشی وافیا‘‘ کے ہیں۔ یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا کہ باقی کچھ نہ رہے۔ قرآن اور حدیث اور کلام عرب میں جس جگہ بھی یہ لفظ مستعمل ہوا ہے سب جگہ توفی سے استیفاء اور اکمال اور اتمام ہی کے معنی مراد لئے گئے ہیں۔ توفی سے اگر کسی جگہ موت کے معنی مراد لئے گئے ہیں تو وہ کنایۃً اور لزوماً مراد لئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ استیفاء عمر اور اتمام عمر کے لئے موت لازم ہے۔ توفی عین موت نہیں بلکہ موت تو توفی بمعنی اکمال عمر اور اتمام زندگی کا ایک ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ چنانچہ (لسان العرب ج۲۰ ص۲۸۰) میں ہے:

توفی’’المیت استیفاء مدت التی وفیت لہ وعدد ایامہ وشہورہ واعوامہ الدنیا‘‘ یعنی میت کے توفی کے معنی یہ ہیں کہ اس کی مدت حیات کو پورا کرنا اور اس کی دنیاوی زندگی کے دنوں اور مہینوں اور سالوں کو پورا کر دینا۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ فلاں بزرگ کا وصال یا انتقال ہوگیا۔ وصال کے اصل معنی ملنے کے ہیں اور انتقال کے اصل معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے کے ہیں۔ بزرگوں کی موت کو موت کے لفظ سے تعبیر کرنا عرف میں خلاف ادب سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے بجائے موت کے لفظ وصال اور انتقال مستعمل ہوتا ہے۔ یعنی اپنے رب سے جا ملے اور دارفانی سے دارجادوانی کی طرف انتقال

173

فرمایا اور کبھی اس طرح کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ رحلت فرمائے عالم آخرت ہوئے۔ یا یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس عالم سے رخصت ہوا یا فلاں شخص گزرگیا۔ تو کیا اس استعمال سے کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وصال اور انتقال اور رحلت اور رخصت وغیرہ ان الفاظ کے حقیقی اور اصلی معنی موت کے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو اور ہیں۔ تشریف اور تکریم کی غرض سے بزرگوں کی موت کو وصال اور انتقال کے لفظ سے تعبیر کردیاگیا۔ اسی طرح توفی کے لفظ کو سمجھئے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو استیفاء اور اکمال کے ہیں۔ مگر بعض مرتبہ بفرض تشریف وتکریم کسی کی موت کو توفی کے لفظ سے کنایۃً تعبیر کردیا جاتا ہے۔ جس سے قادیان اور ربوہ کے احمق اور نادان یہ سمجھ گئے کہ توفی کے حقیقی معنی ہی موت کے ہیں۔

علامہ زمخشری (اساس البلاغہ ج۲ ص۳۰۴) میں تصریح فرماتے ہیں کہ توفی کے حقیقی اور اصلی معنی استیفاء اور استکمال کے ہیں اور موت کے معنی مجازی ہیں: ’’وفی بالعہد واوفی بہ وہو وفی من قوم وہم اوفیاء واوفاہ واستوفاہ وتوفاہ استکملہ۔ ومن المجاز توفی وتوفاہ اللہ ادرکۃ الوفاۃ‘‘

اور علی ہذا علامہ زبیدی (تاج العروس شرح قاموس ج۱۰ ص۳۹۴) میں فرماتے ہیں:’’وفی الشیٔ وفیاتم وکثر فہو وفی وواف بمعنی واحد وکل شی بلغ الکمال فقد وفی وتم ومنہ اوفی فلانا حقہ اذا عطاہ وافیا واوفاہ فاستوفی وتوفاہ ای لم یدع شیا فہما مطاوعان لاوفاہ ووفاہ ومن المجاز ادرکۃ الوفاۃ ای المنیۃ والموت وتوفی فلان اذا مات وتوفاہ اللہ عزوجل اذا قبص نفسہ‘‘

اب ہم چند آیتیں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جس سے صاف طور پر یہ معلوم ہو جائے گا کہ توفی کی حقیقت موت بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شئے ہے۔

آیت اوّل:’’ اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا فیمسک التی قضی علیہا الموت ویرسل الاخری الٰی اجل مسمی‘‘ {یعنی اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے روحوں کو جب وقت ہو ان کے مرنے کا اور جو نہیں مرے ان کو قبض کرتا ہے وقت نیند کے، پس روک لیتا ہے ان کو جن پر مقدر کی ہے اور واپس

174

بھیج دیتا ہے ان کو وقت مقرر تک۔}

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ توفی بعینہٖ موت کا نام نہیں بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شئے ہے کہ جو کبھی موت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور کبھی نیند کے ساتھ یعنی تمہاری جانیں خدا کے قبضہ اور تصرف میں ہیں۔ ہر روز سوتے وقت تمہاری جانیں کھینچتا ہے اور پھر واپس کر دیتا ہے۔ مرنے تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور جب موت کا وقت ہوتا ہے تو پھر جان کھینچنے کے بعد واپس نہیں کی جاتی۔

خلاصہ یہ کہ آیت ہذا میں توفی کی موت اور نیند کی طرف تقسیم اس امر کی صریح دلیل ہے کہ توفی اور موت الگ الگ چیزیں ہیں اور ’’حین موتہا‘‘ کی قید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی موت کے وقت ہوتی ہے۔ عین موت نہیں۔ ورنہ خود شئے کا اپنے لئے ظرف ہونا لازم آتا ہے۔ لسان العرب سے ہم ابھی نقل کر چکے ہیں کہ توفی کے معنی استیفاء اور استکمال یعنی کسی شئے کو پورا پورا لینے کے ہیں۔ صاحب لسان توفی کی حقیقت بیان کردینے کے بعد آیت موصوفہ کی تفسیر فرماتے ہیں: ’’ومن ذلک قولہ عزوجل اللہ یتوفی الانفس حین موتہا ای یستوفی مدد آجا لہم فی الدنیا واما توفی النائم فہو استیفاء وقت علقہ وتمیز الٰی ان نام‘‘ (لسان العرب ج۲۰ ص۲۸۰)

(ترجمہ) ’’یعنی مرنے کے وقت جان اور روح پوری پوری لے لی جاتی ہے اور نیند کے وقت عقل اور ادراک اور ہوش اور تمیز کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔‘‘

حاصل یہ کہ توفی کے معنی تو وہی استیفاء اور ’’اخذ الشی وافیا‘‘ یعنی شئے کو پورا پورا لینے ہی کے رہے۔ توفی میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں صرف توفی کے متعلق میں تبدیلی ہوئی۔ ایک جگہ توفی کا متعلق موت ہے اور دوسری جگہ نوم (نیند)

آیت دوم:’’وہو الذی یتوفّٰکم باللیل‘‘ {وہی ہے کہ جو تم کو رات میں پورا پورا کھینچ لیتا ہے۔}

اس مقام پر بھی توفی موت کے معنی میں مستعمل نہیں ہوا بلکہ نیند کے موقع پر توفی کا استعمال کیاگیا۔ حالانکہ نوم میں قبض روح پورا نہیں ہوتا۔

آیت سوم:’’حتی یتوفہن الموت‘‘

175

حضرت شاہ ولی اللہ صاحبv اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:

تا آں کہ عمر ایشاں را تمام کند مرگ

یعنی یہاں تک کہ موت ان کی عمر تمام کر دے۔

اس آیت میں توفی کے معنی اتمام عمر اور اکمال عمر کے لئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن کریم میں جابجا موت کے مقابلہ میں حیات کو ذکر فرمایا ہے۔ توفی کو حیات کے مقابل نہیں ذکر فرمایا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ توفی کی حقیقت موت نہیں۔ ورنہ اگر توفی کی حقیقت موت ہوتی تو جس طرح جابجا موت کے مقابل حیات کا ذکرکیا جاتا ہے اسی طرح توفی کے مقابل بھی حیات کا ذکر کیا جاتا۔ چند آیتیں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جن میں حق تعالیٰ نے حیات کو موت کے مقابلہ ذکر فرمایا ہے۔ توفی کے مقابل ذکر نہیں فرمایا۔

قال تعالیٰ: (۱)’’یحیی الارض بعد موتہا‘‘ (۲)’’کفاتا احیاء وامواتا‘‘ (۳)’’یحیکم ثم یمیتکم‘‘ (۴)’’ہوامات واحیی‘‘ (۵)’’یخرج الحیی من المیت ویخرج المیت من الحیی‘‘ (۶)’’اموات غیر احیاء‘‘ (۷)’’وتوکل علی الحیی الذی لایموت‘‘ (۸)’’لایموت فیہا ولا یحیی‘‘ (۹)’’کذلک یحیی اللہ الموتی‘‘ (۱۰)’’یحیی ویمیت وہو علی کل شی قدیر‘‘

ان آیات اور ائمہ لغت کی تصریحات سے یہ بات بخوبی منکشف ہوگئی کہ توفی کی حقیقت موت نہیں بلکہ توفی ایک جنس کا درجہ ہے جس کے تحت میں کئی فرد مندرج ہیں۔ جیسے حیوان ایک جنس ہے اور انسان اور فرس اور بقر وغیرہ اس کے افراد ہیں۔ حیوانیت کبھی انسانیت میں ہوکر پائی جاتی ہے اور کبھی فرس کے ساتھ۔ وغیرذلک!

چنانچہ حافظ ابن تیمیہv فرماتے ہیں:’’لفظ التوفی فی لغت العرب معناہ الاستیفاء والقبض وذلک ثلاثۃ انواع احدہا توفی النوم، والثانی توفی الموت والثالث توفی الروح والبدن جمیعا‘‘ (الجواب الصحیح ج۲ ص۲۸۳)

(ترجمہ) ’’لغت عرب میں توفی کے معنی استیفاء پورا پورا لینے کے ہیں اور توفی کی تین قسمیں ہیں۔ ایک تو نوم یعنی نیند اور خواب کی توفی اور دوسری توفی موت کے وقت روح کو پورا پورا قبض کر لینا۔ تیسری توفی الروح والجسد یعنی روح اور جسم کو پوراپورا لے لینا۔‘‘

176

یعنی روح اور جسم دونوں کو آسمان پر اٹھالینا اور جن ائمہ لغت نے توفی کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں۔ انہوں نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ فقط قبض روح کو توفی کہتے ہیں اور اگر قبض روح مع البدن ہو تو اس کو توفی نہیں کہتے بلکہ اگر قبض روح کے ساتھ قبض بدن بھی ہو تو بدرجہ اولیٰ توفی ہوگی۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ توفی ایک جنس ہے اور نوم (نیند) اور موت اور رفع جسمانی یہ اس کے انواع اور اقسام ہیں اور یہ مسلم ہے کہ نوع اور قسم معین کرنے کے لئے قرینہ کا ہونا ضروری اور لازمی ہے۔ اس لئے جہاں توفی کے ساتھ موت اور اس کے لوازم کا ذکر ہوگا۔ اس جگہ توفی سے موت مراد لی جائے گی۔ جیسے: ’’قل یتوفکم ملک الموت الذی وکّٰل بکم‘‘ اے ہمارے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ پورا پورا پکڑے گا تم کو وہ موت کا فرشتہ جو تم پر مسلط کیاگیا ہے۔

اس مقام پر ملک الموت کے قرینہ سے توفی سے موت مراد لی جائے گی اور جس جگہ توفی کے ساتھ نوم یعنی خواب اور اس کے متعلقات کا ذکر ہوگا۔ اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد لئے جائیں گے۔ جیسے: ’’وہو الذی یتوفکم باللیل‘‘ وہی خدا تم کو رات میں پورا پورا لیتا ہے۔

لیل کے قرینہ سے معلوم ہوا کہ اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔ ابونواس کہتا ہے ؎

فلما توفاہ رسول الکریٰ

یعنی نیند کے قاصد نے اس کو پورا پورا لے لیا، یعنی سلا دیا۔ اس شعر میں بھی توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں اور جس جگہ توفی کے ساتھ رفع کا ذکر ہو یا اور کوئی قرینہ ہو تو وہاں توفی سے رفع جسمانی مراد ہوگا اور مرزاقادیانی بھی، دعویٰ مسیحیت سے پہلے توفی کے معنی موت کے نہیں سمجھے تھے۔ جیسا کہ (براہین احمدیہ ص۵۵۷، خزائن ج۱ ص۶۶۴) پر لکھتے ہیں کہ: ’’انی متوفیک‘‘ یعنی میں تجھ کو کارخیر بخشوں گا اور اسی کتاب کے (ص۴۹۹،۵۰۰، خزائن ج۱ ص۵۹۳) پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا اور نہایت عظمت اور جلال کے ساتھ دوبارہ دنیا میں آنا تسلیم کیا ہے۔

غرض یہ کہ یہ ثابت ہوگیا کہ توفی کے حقیقی معنی استیفاء اور ’’اخذ الشی وافیا‘‘ یعنی کسی شئے کو پورا پورا لینے کے ہیں اور یہ کسی کتاب میں نہیں کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے

177

ہیں۔ اگر کسی مرزائی سے ممکن ہے تو لغت کی کوئی کتاب لادکھا دے، جس میں یہ تصریح ہو کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں بلکہ ہم دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں… جہاں کہیں بھی لفظ توفی آیا ہے سب جگہ توفی کے اصلی اور حقیقی ہی معنی مراد ہیں۔ یعنی استیفاء اور استکمال۔ مگر چونکہ عمرکے پورا ہو جانے کے بعد موت کا تحقق لازمی ہے۔ اس لئے مجازاً یہ کہہ دیا گیا کہ یہاں موت کے معنی مراد ہیں۔

خلاصہ کلام

یہ کہ توفی کے اصلی معنی پورا وصول کرنے اور ٹھیک لینے کے ہیں۔ قرآن کریم نے لفظ توفی کو نوم اور موت کے معنی میں اس لئے استعمال کیا کہ اہل عرب پر موت اور نوم کی حقیقت واضح ہو جائے۔ جاہلیت والے اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھے کہ موت اور نوم میں حق تعالیٰ کوئی چیز بندہ سے لیتے ہیں۔ عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ انسان مرکر نیست اور نابود ہو جاتا ہے۔ موت کو فنا اور عدم کے مرادف سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ بعث اور نشاۃ ثانیہ کے منکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے رد کے لئے ارشاد فرمایا:’’قل یتوفکم ملک الموت الذی وکّٰل بکم ثم الٰی ربکم ترجعون‘‘ آپ ان منکرین بعث سے کہہ دیجئے کہ مرکر تم فنا نہیں ہوتے بلکہ موت کا فرشتہ تم سے اللہ کا پورا پورا حق وصول کر لیتا ہے۔ یعنی وہ ارواح کہ جو اللہ کی امانت ہیں وہ تم سے لے لی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہاں محفوظ رہتی ہیں۔ قیامت کے دن پھر یہی ارواح تمہارے اجسام کے ساتھ متعلق کر کے حساب کے لئے پیشی ہوگی۔

حضرت شاہ عبدالقادر صاحب قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔ تم اپنے آپ کو دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل گئے تم جان لو وہ فرشتہ لے جاتا ہے۔ فنا نہیں ہوتے۔

شاہ صاحبv نے اپنے ان مختصر الفاظ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس کی ہم نے وضاحت کی۔ اس آیت میں بھی توفی کے معنی موت کے نہیں بلکہ حق وصول کرنے کے ہیں۔ موت دینے والا تو صرف وہی محیی اور ممیت ہے۔ ملک الموت تو اللہ کا حق وصول کرنے والا ہے۔

آیت توفی کی تفسیر

جب توفی کے معنی معلوم ہو گئے تو اب آیت توفی کی تفسیر سنئے۔ یہود بے بہبود نے

178

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تدبیریں شروع کیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اس کو محسوس فرمالیا۔ ’’کما قال تعالٰی: فلما احس عیسٰی منہم الکفر‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی فرمائی کہ اے عیسیٰ تم گھبراؤ مت۔ یہ تو تدبیریں کر ہی رہے ہیں۔ ہم بھی تدبیریں کر رہے ہیں۔ عن قریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔

اس آیت شریفہ میں حق تعالیٰ نے ان پانچ وعدوں کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے۔ ایک توفی، دوم رفع اور سوم تطہیر من الکفار یعنی کافروں سے پاک کرنا اور چہارم متبعین کا منکرین پر قیامت تک غالب اور فائق رہنا اور پنجم فیصلہ اختلافات۔ اوّل کے تین وعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات بابرکات کے متعلق ہیں اور چوتھا خدام کے متعلق ہے اور پانچواں فیصلہ کے متعلق جس کا تعلق سب سے ہے۔

۱…وعدہ توفی

جمہور صحابہi اور تابعینw اور عام سلف وخلفw اس طرف گئے ہیں کہ آیت میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی کے اصلی اور حقیقی معنی مراد ہیں۔ یعنی پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک لے لینا۔ کیونکہ مقصود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی اور تسکین ہے کہ اے عیسیٰ تم ان دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ سے گھبراؤ نہیں، میں تم کو پورا پورا روح اور جسم سمیت ان نابکاروں سے چھین لوں گا۔ یہ نابکار اور ناہنجار اس لائق نہیں کہ تیرے وجود باجود کو ان میں رہنے دیا جائے۔ ان کی ناقدر دانی اور ناسپاسی کی سزا یہ ہے کہ ان سے اپنی نعمت واپس لے لی جائے۔ حضرت مولانا الشاہ سید محمد انور نور اللہ وجہہ یوم القیامۃ ونضر (آمین) فرماتے ہیں۔

  1. وجوہ لم تکن اہلا لخیر

    فیاخذ منہم عیسٰی الیہ

یہ چہرے خیر کے قابل نہ تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان سے لے کر اپنی طرف کھینچ لیا۔

  1. ویرفعہ ولا یبقیہ فیہم

    کاخذ الشی لم یشکر علیہ

اور اپنی طرف اٹھالیا اور ان میں نہ چھوڑا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو ان سے ایسا لے لیا۔ جیسا کہ اس شئے کو لے لیا جاتا ہے کہ جس کی ناقدری کی جائے۔

  1. وحیز کما یجازا لشی حفظا

    وآواہ الٰی ماوی لدیہ

179

اور ان سے چھین کر اپنے پاس محفوظ رکھا اور اپنے یہاں ان کو ٹھکانا دیا۔

اس مقام پر موت کے معنی مناسب نہیں۔ اس لئے کہ جب ہر طرف سے خون کے پیاسے اور جان کے لیوا کھڑے ہوئے ہوں تو اس وقت تسلی اور تسکین خاطر کے لئے موت کی خبر دینا یا موت کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ دشمنوں کا تو مقصود ہی جان لینا ہے۔ اس وقت تو مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ تم گھبراؤ نہیں۔ ہم تم کو تمہارے دشمنوں کے نرغہ سے صحیح وسالم نکال لے جائیں گے۔ تمہارا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔ ہم تم کو دشمنوں کے درمیان سے اس طرح اٹھالیں گے کہ تمہارے دشمنوں کو تمہارا سایہ بھی نہ ملے گا۔ آیت میں اگر توفی سے موت کے معنی مراد ہوں تو عیسیٰ علیہ السلام کی تو تسلی نہ ہوگی۔ البتہ یہود کی تسلی ہوگی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ اے یہود! تم بالکل نہ گھبراؤ اور نہ مسیح کے قتل کی فکر کرو۔ میں خود ہی ان کو موت دوں گا اور تمہاری تمنا اور آرزو پوری کروں گا۔ خودبخود تمہاری تمنا پوری ہو جائے گی۔ تمہیں کوئی مشقت بھی نہ ہوگی۔

۲… نیز یہ کہ توفی بمعنی الموت تو ایک عام شئے ہے جس میں تمام مومن اور کافر، انسان اور حیوان سب ہی شریک ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے جو خاص طور پر ان سے توفی کا وعدہ فرمایا گیا؟ قرآن کریم کے تتبع اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ توفی کا وعدہ حق تعالیٰ نے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی سے نہیں فرمایا۔

۳… نیز ’’ومکروا ومکر اللہ ‘‘ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی سے پوراپورا لینا اور آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہو۔ کیونکہ باجماع مفسرین۱؎ ’’ومکروا‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلب کی تدبیریں مراد ہیں اور ’’مکر اللہ ‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کی تدبیر مراد ہے اور ’’مکر اللہ ‘‘ کو ’’مکروا‘‘ کے مقابلہ میں لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہود کا مکر اور ان کی تدبیر تو نیست اور ناکام ہوئی اور اللہ سبحانہ کا مکر اور اس کی تدبیر غالب

۱؎ قولہ تعالٰی ومکروا ای بالقتل ومکر اللہ ای بالرفع الٰی السماء کما ہو مصرح فی التفسیر الکبیر ج۲ ص۴۶۳، ابن کثیر ج۲ ص۲۲۹، درمنثور ج۲ ص۳۶، کشاف ص۳۰۶، بیضاوی ج۲ ص۱۱، بحرالحیط ج۲ ص۴۷۲، مدارک ج۲ ص۲۰۵، روح المعانی ص۱۵۸، الجزء۳ والسراج المنیر ج۱ ص۲۱۵، تاریخ کامل ابن الاثیر ج۱ص۱۱۰، جلالین ص۵۰، ابوالسعود ج۱ ص۱۳۵

180

آئی۔ و اللہ غالب علی امرہ جیسے: ’’انہم یکیدون کیدوا کید کیدا‘‘ وہ بھی تدبیر کر رہے ہیں اور میں بھی تدبیر کر رہا ہوں۔

اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’قالوا تقاسموا ب اللہ لنبینہ واہلہ ثم لنقولن لولیہ ما شہدنا مہلک اہلہ وانا لصدقون۔ ومکروا مکرا ومکرناا مکرا وہم لا یشعرون۔ فانظر کیف کان عاقبۃ مکرہم انادمرنہم وقومہم اجمعین‘‘ قوم ثمود نے آپس میں کہا کہ قسمیں اٹھاؤ کہ ہم شب کے وقت صالح(m) اور ان کے متعلقین کو قتل کر ڈالیں اور بعد میں ان کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم اس موقعہ پر حاضر نہ تھے اور ہم سچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس طرح انہوں نے صالحm کے قتل کے مشورے اور تدبیر کیں اور ہم نے بھی ان کے بچانے کی خفیہ تدبیر کی کہ ان کو خبر بھی نہ ہوئی۔ وہ یہ کہ پہاڑ سے ایک بھاری پتھر لڑھک کر ان پر آگرا جس سے دب کر سب مر گئے۔ (کما فی الدر المنثور) دیکھ لو کہ ان کے مکر کا کیا انجام ہوا۔ ہم نے اپنے مکر اور تدبیر سے سب کو غارت کر ڈالا۔ اسی طرح اس آیت میں مکروا کے بعد ومکر اللہ مذکور ہے۔ جس سے حق جل شانہ کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہود نے جو قتل کی تدبیر کی وہ تو کارگر نہ ہوئی۔ مگر ہم نے جو ان کی حفاظت کی نرالی اور انوکھی تدبیر کی وہی غالب ہوکر رہی۔ پس اگر روح اور جسم کا پورا پورا لینا مراد نہ لیا جائے بلکہ توفی سے موت مراد لی جائے تو یہ کوئی ایسی تدبیر نہیں جو یہود کی مغلوبی اور ناکامی کا سبب بن سکے۔ بلکہ موت کی تدبیر تو یہود کی عین تمنا اور آرزو کے مطابق ہے۔ کفار مکہ نے نبی اکرمa کے قتل کی تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپa کی حفاظت کی تدبیر کی۔ ’’کما قال تعالٰی: ویمکرون ویمکر اللہ و اللہ خیر الماکرین‘‘ کفار مکہ آپa کے قتل کی تدبیریں کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپa کی حفاظت کی تدبیر کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر فرمانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آنحضرتa کو کفار مکہ کے منصوبوں سے آگاہ کیا اور صحیح سالم آپa کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرادی۔ اسی طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا تھا۔ ’’ومکروا ومکر اللہ و اللہ خیر الماکرین‘‘ یعنی یہود نے آپ کے قتل کی تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی تدبیر کی کہ دشمنوں

181

کے ہاتھ سے صحیح وسالم نکال کر آسمان کی طرف ہجرت کرادی۔ اب اس ہجرت کے بعد، نزول اور تشریف آوری زمین کے فتح کرنے کے لئے ہوگی۔ جیسا کہ آنحضرتa ہجرت کے کچھ عرصہ بعد مکہ فتح کرنے کے لئے تشریف لائے اور تمام اہل مکہ مشرف باسلام ہوئے۔ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام زمین کو فتح کرنے کے لئے نازل ہوں گے تو تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے بر۔ ’’رفع الٰی السماء‘‘

وعدہ دوم

’’کما قال تعالٰی: ورافعک الیّٰ‘‘ یعنی اے عیسیٰ میں تم کو اپنی جانب اٹھاؤں گا۔ جہاں کسی انسان کی رسائی بھی نہیں ہوسکتی۔ جہاں میرے فرشتے رہتے ہیں وہاں تم کو رکھوں گا۔ اس آیت میں رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ اس لئے کہ:

۱… رافعک میں خطاب جسم مع الروح کو ہے۔

۲… رفع درجات تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور رفع روحانی بصورت موت، یہ مرزاقادیانی کے زعم کے مطابق خود… ’’متوفیک‘‘ سے معلوم ہوچکا ہے۔ لہٰذا دوبارہ ذکر کرنا موجب تکرار ہے۔

۳… نیز رفع روحانی ہر مرد صالح اور نیک بخت کی موت کے لئے لازم ہے۔ اس کو خاص طور پر بصورت وعدہ بیان کرنا بے معنی ہے۔

۴… نیز باتفاق محدثین ومفسرین ومورخین یہ آیتیں نصارائے نجران کے مناظرہ اور ان کے عقائد کی اصلاح کے بارے میں اتری ہیں اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور پھر دوبارہ زندہ ہوکر آسمان پر اٹھائے گئے۔ لہٰذا اگر رفع الیٰ السماء کا عقیدہ غلط اور باطل تھا تو قرآن نے جس طرح عقیدۂ ابنیت اور عقیدہ تثلیث اور عقیدہ قتل اور صلیب کی صاف صاف لفظوں میں تردید کی تو اسی طرح رفع الیٰ السماء کے عقیدہ کی بھی صاف صاف لفظوں میں تردید ضروری تھی اور جس طرح ’’وما قتلوہ‘‘ اور ’’ما صلبوہ‘‘ کہہ کر عقیدہ قتل وصلب کی تردید فرمائی اسی طرح بجائے ’’بل رفعہ اللہ ‘‘ کے ’’مارفعہ اللہ ‘‘ فرما کر عقیدہ رفع الیٰ السماء کی تردید ضروری تھی۔ سکوت اور مبہم الفاظ سے نصاریٰ کی تو کیا اصلاح ہوتی مسلمان بھی اشتباہ اور گمراہی میں پڑ گئے۔

182

نیز اگر توفی اور رفع سے موت اور رفع روحانی مراد ہو تو وعدۂ تطہیر من الکفار اور وعدہ کف عن بنی اسرائیل کی کوئی حقیقت اور اصلیت باقی نہیں رہتی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذجئتہم بالبینت‘‘ اس آیت میں حق جل شانہ کے ان انعامات اور احسانات کا ذکر ہے کہ جو قیامت کے دن حق جل شانہ بطور امتنان عیسیٰ علیہ السلام کو یاد دلائیں گے۔ ان میں سے ایک احسان یہ ہے کہ تجھ کو بنی اسرائیل کی دست درازی سے محفوظ رکھا۔

وعدہ سوم

’’ومطہرک من الذین کفروا‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تیسرا وعدہ یہ فرمایا کہ میں تجھ کو اپنے اور تیرے دشمنوں یعنی کافروں سے پاک کروں گا اور ان کے ناپاک اور نجس پڑوس میںتجھ کو نہیں رہنے دوں گا۔ بلکہ نہایت مطہر اور معطر جگہ میں تجھ کو بلالوں گا۔ لفظ مطہرک، کفر اور کافروں کی نجاست کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال فرمایا۔ ’’کما قال تعالٰی: انما المشرکون نجس‘‘ یعنی یہ نجس اور گندے آپ کے جسم مطہر کے قریب بھی نہ آنے پائیں گے اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ اور اس وقت کو یاد کر کہ جب بنی اسرائیل کو تیرے پاس آنے سے بھی روک دیا۔ پس اگر خدانخواستہ قتل اور صلب میں کامیاب ہوگئے تو پھر اس تطہیر اور کف کے وعدہ اور انعام کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔

چنانچہ (تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۲) میں حسن بصریv سے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں مروی ہے۔ یعنی ’’ومخلصک من الیہود فلا یصلون الٰی قتلک‘‘ یعنی تطہیر من الکفار سے یہ مراد ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو یہود سے چھوڑاؤں گا اور ان کو تیرے قتل تک کبھی رسائی نہ ہوگی اور ’’اذ کففت بنی اسرائیل‘‘ کی آیت میں ایک خاص لطافت ہے۔ وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی محفوظیت کو اس عنوان سے بیان فرمایا:’’کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ اور ’’کففت بمعنی نجیت‘‘ کا مفعول بہ بنی اسرائیل کو قرار دیا اور لفظ ’’عنک‘‘ بعد میں ذکر فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کو تیرے سے دور رکھا۔ ان کو تیرے قریب بھی آنے نہ دیا کہ تجھے ہاتھ بھی لگا سکیں۔ لفظ کف بھی تبعید کے معنی میں

183

ہے اور لفظ عن بھی بعد اور مجاوزۃ کے بیان کے لئے آتا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ: ’’اذ نجیتک عن بنی اسرائیل‘‘ کہ تجھ کو بنی اسرائیل سے نجات دی اور ان کے ہاتھوں سے تجھ کو چھڑایا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ہے: ’’واذ انجینکم من اٰل فرعون یسومونکم سوء العذاب‘‘ ابے بنی اسرائیل اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے تم کو فرعونیوں کے عذاب سے بچایا اور نجات دی۔ اس لئے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ عنوان اختیار فرماتے تو یہ شبہ ہوتا کہ بنی اسرائیل کی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے بھی دشمنوں سے ایذائیں اور تکلیفیں اٹھائیں۔ مگر اخیر میں اللہ نے ان مصائب اور تکالیف سے نجات دی۔ عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی ایذا تو کیا پہنچاتا، وہ خود بھی ان تک نہ پہنچ سکا۔ اللہ نے دشمنوں کو دور ہی رکھا اور کسی بدذات کو پاس بھی نہ بھٹکنے دیا اور جبرائیلm کو بھیج کر آسمان پر اٹھالیا۔ تمام تفاسیر معتبرہ میں یہی تفسیر مذکور ہے۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے رہا ہوکر کشمیر پہنچے اور ستاسی سال کے بعد کشمیر میں وفات پائی۔ حالانکہ کشمیر اس وقت کفر اور شرک اور بت پرستی کا گھر تھا جو ملک شام سے کسی طرح بہتر نہ تھا۔ شام حضرات انبیاء کا مسکن اور وطن تھا اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں۔ ’’ومطہرک من الذین کفروا‘‘ کہ میں تجھ کو کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔ نیز عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔’’کما قال تعالٰی: ورسولا الٰی بنی اسرائیل‘‘ ان کی نبوت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو چھوڑ کر کشمیر جانے کے کیا معنی؟

وعدہ چہارم

غلبہ متبعین برمنکرین

’’وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الٰی یوم القیامۃ‘‘ اور اے عیسیٰ! میں تیری پیروی کرنے والوں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔

چنانچہ جس جگہ یہود اور نصاریٰ ہیں وہاں نصاریٰ یہود پر غالب اور حکمراں ہیں۔ آج تک یہود کو نصاریٰ کے مقابلہ میں کبھی حکمرانی نصیب نہیں ہوئی۔

184

وعدہ پنجم

فیصلہ اختلاف

’’ثم الیّٰ مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون‘‘

یہ پانچواں وعدہ ہے کہ جو اختلافات کے فیصلہ کے متعلق ہے۔ تمام اختلافات کا آخری فیصلہ تو آخرت کے دن ہوگا۔ لیکن یہود اور نصاریٰ اور اہل اسلام کے اختلافات کا ایک فیصلہ قیامت قائم ہونے سے کچھ روز پہلے ہوگا اور وہ مبارک وقت وہ ہوگا کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور یہود کو چن چن کر ماریں گے۔ کوئی یہودی اس وقت اپنی جان نہیں بچا سکے گا۔ اس وقت شجر حجر بھی یہ کہیں گے: ’’ہذا یہودی ورائی فاقتلہ‘‘ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ اس کو قتل کیجئے۔ صلیب کو توڑیں گے جس سے نصاریٰ کی اصلاح مقصود ہوگی۔ یہود حضرت عیسیٰ کی نبوت ورسالت پر ایمان لائیں گے اور نصاریٰ ان کی الوہیت اور ابنیت سے تائب ہوکر ان کے عبد اللہ اور رسول اللہ ہونے کا اقرار اور اعتراف کریں گے اور اہل اسلام اس وقت اپنی آنکھوں سے ان تمام چیزوں کا مشاہدہ کر لیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق قرآن اور حدیث میں مذکور ہیں اور بے ساختہ ان کی زبانوں سے یہ نکلے گا۔

’’ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ‘‘ یہی ہے وہ کہ جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور بے شک اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔

اور اہل اسلام کے ایمان اور تسلیم میں اور زیادتی ہوگی اور ’’مازادہم الا ایمانا وتسلیماً‘‘ کے مصداق ہوں گے اور اب تک تو نزول عیسیٰ بن مریم اور قتل دجال وغیرہ پر ایمان بالغیب تھا۔ لیکن اب مشاہدہ کے بعد ایمان شہودی ہو جائے گا کہ جس میں ارتداد کا اندیشہ نہ رہے گا۔ غرض یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر کوئی دین سوائے دین اسلام کے باقی نہ رہے گا۔ اس طرح یہ فیصلہ کا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا۔

185

توفی کی دوسری نوع

اور اگر اس آیت میں توفی کی دوسری نوع یعنی نوم (نیند) مراد لی جائے۔ تب بھی مرزاقادیانی کے لئے مفید نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں ’’متوفیک‘‘ معنی میں ’’مینمک‘‘ کے ہوگا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو سلاؤں گا اور سونے کی حالت میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا۔ جیسا کہ تفسیر ابن جریر اور معالم التنزیل میں ربیع بن انس سے منقول ہے:’’قال الربیع بن انس المراد بالتوفی النوم وکان عیسٰیm قدنام فرفعہ اللہ نائماً الٰی السماء معناہ انی مینمک ورافعک الیّٰ کما قال تعالٰی وہم الذی یتوفکم باللیل ای مینمکم و اللہ اعلم‘‘ ربیع بن انسq کہتے ہیں کہ آیت میں توفی سے نوم یعنی نیند مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی حالت میں آسمان پر اٹھایا اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھ کو سلاؤں گا اور اسی حالت میں تجھ کو اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ’’وہو الذی یتوفکم باللیل‘‘ (وہی ہے کہ جو تم کو رات میں سلاتا ہے) میں توفی سے نوم مراد ہے۔

لیکن توفی بمعنی نوم سے بھی مرزاقادیانی کی تمنا اور آرزو پوری نہیں ہوتی۔ کیونکہ نیند کی حالت میں آدمی زندہ رہتا ہے مرتا نہیں۔

توفی کی تیسری نوع (یعنی موت)

اور اگر اس آیت میں توفی سے اس کی تیسری نوع مراد لی جائے۔ جیسا کہ علی بن طلحہ حضرت ابن عباسq سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ تب بھی مرزاقادیانی کا مدعا وفات قبل النزول حاصل نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ ابن عباسq کے اس قول کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک مطلب تو وہ ہے کہ جو وہب بن منبہ اور محمد بن اسحاق سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوّلاً حضرت عیسیٰ کو وفات دی اور پھر کچھ دیر کے بعد ان کو زندہ کر کے آسمان پر اٹھایا۔ وہب یہ کہتے ہیں کہ دن کی تین ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا اور محمد بن اسحاق یہ کہتے ہیں کہ دن کی سات ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا۔ غرض یہ کہ اگر توفی بمعنی موت تین ساعت یا سات ساعت کے لئے پیش

186

بھی آئی تو اس کے بعد دوبارہ زندگی اور رفع الیٰ السماء بھی واقع ہوا ہے اور مرزاقادیانی اس کے قائل نہیں۔

دوسرا مطلب

ابن عباسq کے اس قول کا دوسرا مطلب ہے کہ خود ابن عباسq کے شاگرد خاص یعنی ضحاک سے منقول ہے کہ آیت میں تقدیم وتاخیر ہے۔ جیسا کہ شیخ جلال الدین سیوطیv تفسیر درمنثور میں فرماتے ہیں:’’اخرج اسحاق بشر وابن عساکر من طریق جوہر عن الضحاک عن ابن عباس فی قولہ تعالٰی انی متوفیک ورافعک الیّٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی اٰخرالزمان‘‘ (درمنثور ج۲ ص۳۶)

(ترجمہ) ’’ضحاک کہتے ہیں کہ ابن عباسq ’’متوفیک ورافعک‘‘ کی تفسیر میں یہ فرماتے تھے کہ حضرت مسیح کا رفع مقدم ہے اور ان کی وفات اخیرزمانہ میں ہوگی۔‘‘

پس اگر ابن عباسq سے متوفیک کی تفسیر ممیتک سے مروی ہے تو ان سے تقدیم وتاخیر بھی مروی ہے۔ لہٰذا ابن عباسq کے نصف قول کو جو اپنی ہوائے نفسانی اور غرض کے موافق ہو۔ اسے لینا اور حجت قرار دینا اور دوسرے نصف کو جو ان کی غرض کے مخالف ہو اس سے گریز کرنا یہ ایسا ہی ہے جیسے تارک نماز کا ’’لاتقربوا الصلوٰۃ‘‘ سے حجت پکڑنا اور ’’انتم سکاریٰ‘‘ سے آنکھیں بند کر لینا۔ نصف قول کو ماننا اور نصف قول سے قطع نظر کر لینا یہ نصف الاعمی اور نصف البصیر ہی کام ہے۔

علاوہ ازیں ابن عباسq سے متوفیک کی تفسیر جو ممیتک مروی ہے۔ اس کا راوی علی بن طلحہ ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ راوی ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔ علی بن طلحہ نے ابن عباس سے نہ کچھ سنا ہے اور نہ ان کو دیکھا ہے۔ لہٰذا علی بن طلحہ کی روایت ضعیف بھی ہے اور منقطع بھی ہے جو حجت نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے برعکس ابن عباسq سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صحیح وسالم زندہ آسمان پر اٹھایا جانا بااسانید صحیحہ اور جیّٰدہ منقول ہے۔ تعجب اور سخت تعجب ہے کہ ابن عباسq کی وہ تفسیر کہ جس کی سند ضعیف اور منکر اور غیرمعتبر ہو وہ تو مرزائیوں کے نزدیک معتبر ہو جائے اور ابن عباسq کی وہ تفسیر جو اسانید صحیحہ اور جیّٰدہ اور روایات معتبرہ

187

سے منقول ہے۔ وہ مرزاقادیانی کے نزدیک قابل قبول نہ ہو۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسq کی تصریحات

۱… تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر اور فتح الباری کے حوالہ سے گزرچکا ہے کہ ابن عباسq کے نزدیک ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ میں ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ یعنی قبل موت عیسیٰ اور اسی پر ابن عباسq کو جزم اور یقین تھا۔ علامہ آلوسیv روح المعانی میں لکھتے ہیں:’’والصحیح کما قال القرطبی ان اللہ تعالٰی رفعہ من غیر وفاۃ ولا نوم وہو الروایۃ الصیحین عن ابن عباس، روح المعانی‘‘ امام قرطبیv فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر موت اور بغیر نیند کے زندہ آسمان پر اٹھالیا اور ابن عباسq کا صحیح قول یہی ہے۔

امام قرطبی کے کلام کا صاف مطلب یہی ہے کہ ابن عباسq سے صحیح روایت یہی ہے کہ وہ زندہ آسان پر اٹھالئے گئے اور اس کے خلاف جو روایت ہے وہ ضعیف ہے۔ قابل اعتبار نہیں۔

’’قال الحافظ عماد الدین بن کثیر عن ابن عباس قال لما اراد اللہ ان یرفع عیسٰی الٰی السماء الٰی ان قال ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الٰی السماء قال وجاء الطلب من الیہود فاخذوا الشبہ فقتلوہ ثم صلبوہ وہذا اسناد صحیح الٰی ابن عباس‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۲ ص۹)

(ترجمہ) ’’حافظ عماد الدین بن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ابن عباسq فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو ایک شخص پر ان کی شباہت ڈال دی گئی اور وہ قتل کر دیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشن دان سے آسمان پر اٹھالئے گئے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ابن عباسq کے اس اثر کی سند صحیح ہے۔‘‘

۳… اور تفسیر (فتح البیان ج۲ ص۳۴۲) پر ہے کہ حافظ ابن کثیرv نے سچ کہا کہ اس کی سند صحیح ہے، بے شک اس کے راوی بخاری کے راوی ہیں۔

علامہ آلوسیv نے ’’ومکروا ومکر اللہ ‘‘ کی تفسیر میں ابن عباسq کا

188

قول نقل کیا کہ مکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا۔(روح المعانی ج۳ ص۱۵۷)

۴… تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر میں ابن عباسq سے مروی ہے کہ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔

۵… محمد بن سعد نے (طبقات کبریٰ ج۱ ص۲۶) پر ابن عباسq کا ایک اثر نقل کیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الیٰ السماء کے بارے میں نص صریح ہے ہم اس کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ وہو ہذا: ’’اخبرنا ہشام بن محمد بن السائب عن ابیہ من ابی صالح عن ابن عباس قال کان بین موسٰی بن عمران وعیسٰی بن مریم الف وتسعمائۃ سبۃ ان قال وان عیسٰی حین رفع کان ابن اثنتین وثلاثین سنۃ وستۃ اشہر وکانت نبوتہ ثلاثین شہرا وان اللہ رفعہ بجسدہ وانہ حیی الان وسیرجع الٰی الدنیا فیکون ملکا ثم یموت کما یموت الناس‘‘ (طبقات کبریٰ ج۱ ص۲۶، مطبوعہ لیدن، جرمنی)

(ترجمہ) ’’ابن عباسq فرماتے ہیں کہ موسیٰm اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی زمانہ انیس سو سال ہے اور حضرت عیسیٰk جس وقت اٹھائے گئے تو ان کی عمر شریف ۳۲سال اور چھ ماہ کی تھی اور زمانہ نبوت تیس ماہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے جسم سمیت اٹھایا۔ درآنحالیکہ وہ زندہ تھے اور آئندہ زمانہ میں پھر وہ دنیا کی طرف واپس آئیں گے اور بادشاہ ہوں گے اور پھر چند روز بعد وفات پائیں گے۔ جیسے اور لوگ وفات پاتے ہیں۔‘‘

حضرت عباسq کے اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الیٰ السماء اور دوبارہ نزول صراحۃً معلوم ہوگیا۔ اس روایت میں ابن عباسq نے ’’سیرجع الٰی الدنیا‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا جو رجوع سے مشتق ہے۔ جس کے معنی واپس کے ہیں۔ یعنی جس طرح جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے تھے۔ اسی جسم کے ساتھ اسی طرح دوبارہ واپسی اور تشریف آوری ہوگی۔ خود بہ نفس نفیس وہ دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔ کوئی ان کا مثیل اور شبیہ نہیں آئے گا۔

189

خلاصہ کلام

یہ کہ ابن عباسq سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ منقول ہے تو ان سے تقدیم وتاخیر بھی منقول ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کاآسمان سے نازل ہونا یہ بھی ابن عباسq سے مروی ہے۔

مرزاقادیانی کو چاہئے کہ ابن عباسq کے ان اقوال صریحہ کو بھی تسلیم کریں۔ حالانکہ ان اقوال کی اسانید نہایت صحیح اور قوی ہیں اور متوفیک کی تفسیر جو ممیتک سے مروی ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔

جواب دیگر

اور اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ صحیح ہے تو یہ کہیں گے کہ مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۹۴۳، خزائن ج۳ ص۶۲۱) پر لکھتے ہیں کہ اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔

مرزاقادیانی اس عبارت میں فقط اس امر کے مدعی نہیں کہ اماتت کے معنی کبھی سلانے کے بھی آجاتے ہیں بلکہ اس کے مدعی ہیں کہ جس طرح مارنا اور موت دینا اماتت کے حقیقی معنی ہیں۔ اسی طرح سلانا اور بیہوش کرنا بھی اماتت کے حقیقی معنی ہیں۔ لہٰذا جب مرزاقادیانی کے نزدیک اماتت کے حقیقی معنی سلانے کے بھی ہیں تو ابن عباسq کی تفسیرممیتک میں اگر اماتت سے سلانے کے معنی مراد لئے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لئے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک یہ معنی بھی حقیقی ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ نیند کی حالت میں آسمان پر اٹھائے گئے۔ جیسا کہ ربیع سے منقول ہے اور حدیث میں بھی اماتت بمعنی انامت یعنی سلانے کے معنی میں آیا ہے۔ ’’الحمد ﷲ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور‘‘

اقوال مفسرین

گزشتہ تفصیل کے بعد اب کسی مزید توضیح کی ضرورت نہیں۔ مگر چونکہ توفی کے استعمالات مختلف ہیں۔ اس لئے حضرات مفسرین سے اس آیت کی جو توجیہات منقول ہیں۔

190

ہم ان توجیہات کو نقل کر کے یہ بتلانا اور دکھانا چاہتے ہیں کہ تمام مفسرین سلف اور خلف اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ آیت شریفہ کی توجیہات اور تفسیری تعبیرات میں اگرچہ بظاہر اختلاف ہے۔ لیکن رفع الیٰ السماء پر سب متفق ہیں۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔

  1. عباراتنا شتی وحسنک واحد

    وکل الٰی ذاک الجمال یشیر

ہماری تعبیرات مختلف ہیں اور تیرا حسن ایک ہے۔ سب کا اشارہ اسی ایک حسن کی طرف ہے۔

قول اوّل

توفی سے استیفاء اور استکمال کے معنی مراد ہیں اور استیفاء اور استکمال سے عمر کا اتمام مراد ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ تم دشمنوں سے گھبراؤ نہیں یہ قتل اور صلب سے تمہاری عمر ختم کرنا چاہتے ہیں یہ سب ناکام رہیں گے۔ میں تمہاری عمر پوری کروں گا اور اس وقت میں تم کو آسمان پر اٹھاؤں گا۔ چنانچہ امام رازیv فرماتے ہیں: ’’الاوّل معنی قولہ انی متوفیک ای انی متم عمرک فحینذ اتوفک فلا اترکہم حتی یقتلوک بل انا رافعک الیّٰ السمای ومقربک بملائکتی واصونک عن ان یتمکنوا من قتلک وہذا تاویل حسن‘‘ (تفسیر کبیر ج۲ ص۴۸۱)

(ترجمہ) ’’انی متوفیک کے معنی یہ ہیں کہ اے عیسیٰ میں تیری عمر پوری کروں گا۔ کوئی شخص تجھ کو قتل کر کے تیری عمر قطع نہیں کر سکتا۔ میں تجھ کو تیرے دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑوں گا کہ وہ تجھ کو قتل کر سکیں بلکہ میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا اور اپنے فرشتوں میں رکھوں گا۔ امام رازیv فرماتے ہیں کہ یہ معنی نہایت عمدہ ہیں۔‘‘

اور اسی معنی کو علامہ زمخشری نے تفسیر کشاف میں ذکر کیا ہے اور اس معنی کا کلام اپنے حال پر ہے۔ کلام میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں۔ توفی کے معنی اتمام عمر کے ہیں جو ابتدائے عمر سے لے کر اخیر عمر تک صادق ہیں۔ اسی درمیان میں رفع الیٰ السماء ہوا اور اسی درمیان میں نزول ہوگا اور وقت پر وفات ہوگی۔ اس طرح عمر شریف پوری ہوگی۔

’’قال الزمخشری انی متوفیک ای مستوفی اجلک ومعناہ انی
191
عاصمک من ان یقتلک الکفار ومؤخرک الٰی اجل کتبتہ لک وممیتک حتف انفک لا قتیلا بایدیہم… ففسرہ بمادۃ من باب الاستفعال وقولہ ومعناہ الخ یرید حاصل المقام وماجری فی سلسلۃ الواقعۃ لا تفسیر لفظیا فانہ مرض فیما بعد ولم یرضہ ان یکون تفسیرہ ابتداء حیث قال وممیتک فی وقتک بعد النزول من السماء ورافعک الان۔ وقد عدل اللہ عن لفظ الاماتۃ لئلا یبادہ ویواجہ عیسٰی بہ فی مقابلۃ الیہود علی ذکر التناول والاستیفاء ثم لیجری مایجری کل بحیی مستکمل مدۃ العمر‘‘ (مشکلات القرآن ص۱۳۲)

قول دوم

توفی سے قبض من الارض کے معنی مراد ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ میں تم کو ان کافروں سے چھین کر پورا پورا اپنے قبضہ میں لے لوں گا۔ جیسا کہ امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں: ’’ان التوفی ہوا القبض یقال وفانی فلان دارہمی واوفیتہا کما یقال سلم فلان الی دراہمی وتسلمتہا‘‘ (تفسیر کبیر ج۲ ص۴۸۱)

(ترجمہ) ’’یعنی توفی کے معنی کسی شئے پر پوری طرح قبضہ کر لینے کے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے پورے روپے دے دئیے اور میں نے اپنے پورے روپے اس سے وصول کر لئے۔‘‘

آیت کے یہ معنی حسن بصری اور مطروزاق اور ابن جریج اور محمد بن جعفر بن زبیر سے منقول ہیں اور امام ابن جریر طبری نے اسی معنی کو اختیار فرمایا ہے۔ اس معنی کو بھی آیت میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں۔ قول اوّل اور قول ثانی دونوں قولوں میں توفی کے معنی استیفاء اور استکمال ہی کے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے قول میں استیفاء سے اجل اور عمر کا اتمام اور اکمال مراد لیاگیا اور دوسرے قول میں ایک شخص اور ایک ذات کا پورا پورا قبضہ میں لینا مراد لیاگیا ہے۔ ایک جگہ استیفاء اجل ہے اور ایک جگہ استیفاء شخص اور استیفاء قبضہ ہے۔

قول سوم

توفی کے معنی اخذ الشی وافیا کے ہیں۔ یعنی کسی شئے کو پورا پورا لے لینا اور اس جگہ

192

عیسیٰ علیہ السلام کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ لے لینا مراد ہے۔ جیسا کہ امام رازیv فرماتے ہیں: ’’ان التوفی اخذ الشی وافیا ولما علم اللہ تعالٰی ان من الناس من یخطر بیالہ ان الذی رفعہ اللہ ہو روحہ لا جسدہ ذکر ہذا الکلام لیدل علی انہ علیہ الصلٰوۃ والسلام رفع بتمامہ الٰی السماء بروحہ وبجسدہ ویدل علی صیحۃ ہذا التاویل قولہ تعالٰی ومایضرونک من شی‘‘ (تفسیر کبیر ج۲ ص۴۸۱)

(ترجمہ) ’’توفی کے معنی کسی شئے کو پورا پورا اور بجمیع اجزاء لے لینے کے ہیں۔ چونکہ حق تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں وسوسہ گزرے گا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف روح کو اٹھایا۔ اس لئے متوفیک کا لفظ فرمایا تاکہ معلوم ہو جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام روح اور جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے: ’’وما یضرونک من شی‘‘ تم کو ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچا سکیں گے نہ روح کو نہ جسم کو۔‘‘

قول چہارم

توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔ یعنی سلا کر تم کو اپنی طرف اٹھاؤں گا کہ تم کو خبر بھی نہ ہو کہ کیا ہوا اور آسمان اور فرشتوں ہی میں جاکر آنکھ کھلے گی۔ یہ قول ربیع بن انسq سے مروی ہے: ’’قال الربیع بن انس المراد بالتوفی النوم وکان عیسٰیm قدنام فرفعہ اللہ نائما الٰی السماء معناہ منیمک ورافعک الیّٰ کما قال تعالٰی وہو الذی یتوفکم باللیل‘‘ (تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۶، معالم التنزیل وتفسیر کبیر)

(ترجمہ) ’’ربیع بن انسq کہتے ہیں کہ توفی سے نوم یعنی نیند کے معنی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سونے کی حالت میں آسمان پر اٹھایا۔ جیسا کہ ’’وہو الذی یتوفکم باللیل‘‘ اس آیت میں توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔‘‘

قول پنجم

توفی سے موت کے معنی مراد ہیں۔ جیسا کہ علیq بن ابی طلحہ، ابن عباسq سے متوفیک کے معنی ممیتک روایت کرتے ہیں۔ امام بغوی معالم التنزیل میں فرماتے ہیں کہ ابن

193

عباسq کی اس روایت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو چند ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھایا۔ جیسا کہ محمد بن اسحاق اور وہب سے منقول ہے۔ اس قول پر آیت میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں۔

دوسرا مطلب وہ ہے جوضحاک سے مروی ہے وہ یہ کہ آیت میں تقدیم وتاخیر ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ:’’انی متوفیک بعد انزالک من السماء‘‘ میں تجھ کو آسمان سے اترنے کے بعد موت دوں گا۔

کیا تقدیم وتاخیر تحریف ہے؟

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ج۲ ص۹۲۵، خزائن ج۳ ص۶۰۸ ملخص) میں لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی کہے کہ رافعک مقدم اور متوفیک مؤخر ہے سو ان یہودیوں کی طرح تحریف ہے کہ جن پر بوجہ تحریف کے لعنت ہوچکی ہے۔‘‘

جواب: تقدیم وتاخیر نہ قواعد عربیت کے خلاف ہے اور نہ فصاحت وبلاغت میں مخل ہے۔ بلکہ بسا اوقات عین فصاحت اور عین بلاغت ہے۔ فصحاء اور بلغاء کے کلام میں شائع اور ذرائع ہے۔ امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں: ’’ومثلہ من التقدیم والتاخیر کثیر فی القراٰن‘‘ (تفسیر کبیر ج۲ ص۴۸۱)

(ترجمہ) ’’ابن عباسq کی تفسیر میں جو تقدیم وتاخیر آئی ہے اس قسم کی تقدیم وتاخیر قرآن کریم میں کثیر ہے۔‘‘

امام قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’قال جماعۃ من اہل المعانی منہم الضحاک والفراء فی قولہ تعالٰی انی متوفیک ورافعک الیّٰ علی التقدیم والتاخیر لان الواولا توجب الرتبۃ والمعنی انی رافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا متوفیک بعد ان تنزل من السماء کقولہ تعالٰی ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی والتقدیر ولولا کلمۃ سبقت من ربک واجل مسمی لکان لزاما قال الشاعر الا یانخلۃ من ذات عرق… علیک ورحمۃ اللہ السلام‘‘ (تفسیر قرطبی ج۴ ص۹۹)

(ترجمہ) ’’اہل علم کی ایک جماعت جن میں ضحاک اور فراء بھی ہیں یہ کہتے ہیں کہ

194

حق تعالیٰ کے اس قول ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے اور اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔ اس لئے کہ واؤ ترتیب کی مقتضی نہیں اور معنی آیت کے اس طرح ہیں کہ اس وقت رفع ہوگا اور توفی یعنی وفات بعد نزول کے ہوگی اور تقدیم وتاخیر کے نظائر قرآن کریم میں موجود ہیں۔ جیسا کہ ’’ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی‘‘ اس آیت میں بھی تقدیم وتاخیر ہے۔ اصل تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ’’ولولا کلمۃ سبقت من ربک واجل مسمی‘‘ یعنی ’’واجل مسمی‘‘ کا عطف کلمہ پر ہے اور ’’لکان لزاما‘‘ دونوں ہی کی خبر ہے۔ شاعر کہتا ہے اے مقام نخلہ تجھ پر اللہ کی رحمت اور سلام ہو۔ اس شعر میں تقدیم وتاخیر ہے کہ السلام مؤخر ہے کہ جو معطوف علیہ ہے اور رحمۃ اللہ مقدم ہے جو معطوف ہے۔ قاعدہ کا مقتضی یہ ہیں کہ معطوف علیہ مقدم ہو اور معطوف موخر ہو اور شعر میں معطوف یعنی ورحمتہ اللہ مقدم ہے اور معطوف علیہ یعنی السلام مؤخر ہیں۔‘‘ (تفسیر قرطبی)

’’وقال تعالٰی ماہی الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیی فقالت طائفۃ ہو مقدم وموخر ومعناہ نحیی ونموت‘‘ (لسان العرب ج۱۸ ص۱۳۲)

(ترجمہ) ’’اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس قول ’’ماہی الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیی‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے۔ اصل کلام ’’نحیی ونموت‘‘ ہے۔ اس لئے کہ حیات مقدم ہے اور موت اس کے بعد ہے۔ مگر آیت میں نموت مقدم ہے اور ’’نحیی‘‘ موخر ہے۔‘‘

’’وقال تعالٰی: حتی تستانسوا وتسلموا قال الفراء ہذا مقدم وموخر انماہی حتی تسلموا وتستانسوا السلام علیکم ادخل‘‘ (لسان العرب ج۷ ص۱۱۲)

(ترجمہ) ’’اور حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت چاہو اور سلام کرو۔ فراء کہتے ہیں کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہے۔ پہلے سلام ہے اور بعد استیذان اجازت حاصل کرنے کے لئے اس طرح کہنا چاہئے۔ السلام علیکم ادخل! سلام ہو تم پر کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘

بنی اسرائیل میں جو قتل کا واقعہ پیش آیا، قرآن کریم میں اس واقعہ کو ’’واذ قتلتم

195

نفسا فادرء تم‘‘ سے بعد میں بیان فرمایا اور اس کے متعلق جو احکام صادر ہوئے ان کو پہلے بیان فرمایا: ’’کما قال تعالٰی: ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ‘‘ اور قرآن کریم میں واقعات کو بکثرت مقدم وموخر بیان کیاگیا ہے۔

’’کما قال ابوحیان وقال بعض الناس التقدیم والتاخیر حسن لان ذاک موجود فی القراٰن فی الجمل وفی الکلمات وفی کلام العرب واورد من ذلک جملا من ذلک قصۃ نوحm فی اہلاک قومہ وقولہ وقال ارکبوا وفی حکم من مات عنہا زوجہا بالتربص بالاربعۃ الشہر بمتاع الٰی الحول اذا لناسخ مقدم ومنسوخ ومتاخر‘‘ (کذافی البحر المحیط ج۱ ص۲۵۹)

بطور نمونہ چند آیات پر اکتفا گیا ورنہ قرآن کریم ہی میں تقدیم وتاخیر کے صدہا نظائر موجود ہیں اور حدیث میں تو کوئی شمار نہیں۔ غرض یہ کہ تقدیم وتاخیر تحریف تو کیا ہوتی فصاحت وبلاغت کے بھی خلاف نہیں اور آیت توفی میں تقدیم وتاخیر خود بن عباسq سے مروی ہے۔ جیسا کہ تفسیر درمنثور میں مذکور ہے۔

مرزاقادیانی بھی تقدیم وتاخیر کے قائل ہیں

مرزاقادیانی (مسیح ہندوستان میں ص۵۴، خزائن ج۱۵ ص۵۴) پر لکھتے ہیں: ’’اور مطہرک کی پیشین گوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خداتعالیٰ ان الزاموں سے مسیح کو پاک کرے گا اور وہ زمانہ یہی ہے۔‘‘ (یعنی مرزا کا زمانہ)

اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت مسیح سے جو تطہیر کا وعدہ تھا وہ مرزاقادیانی کے زمانہ میں پورا ہوا اور ’’جاعل الذین اتبعوک‘‘ یعنی متبعین کے غالب کرنے کا وعدہ اس وعدہ سے بہت پہلے پورا ہوچکا ہے۔ اس لئے کہ واقعہ صلیب کے تین سو سال بعد عیسائیوں کی سلطنت قائم ہوگئی تھی اور متبعین کے غلبہ کا وعدہ پورا ہوگیا تھا۔ لہٰذا مرزاقادیانی کے قول پر آیت میں تقدیم وتاخیر لازم آئی۔ اس لئے کہ متبعین کے غالب کرنے کا وعدہ جو آیت میں وعدہ تطہیر کے بعد مذکور ہے وہ تو پہلے پورا ہوا اور وعدہ تطہیر جو پہلے مذکور ہے وہ مرزا کے زمانہ میں انیس سو سال کے بعد پورا ہوا۔

196

فائدہ (متعلقہ بآیت مائدہ)

جب یہ ثابت ہوگیا کہ توفی کے حقیقی معنی استیفاء اور استکمال اور اخذ الشی وافیا (یعنی کسی شئے کو پورا پورا لینے کے ہیں) اور ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی سے رفع آسمانی مراد ہے تو اس طرح سورۂ مائدہ کی آیت توفی کو سمجھئے کہ وہاں بھی توفی سے رفع الیٰ السماء ہی مراد ہے اور ’’فلما توفیتنی‘‘ کے معنی ’’فلما رفعتنی الٰی السماء‘‘ کے ہیں۔ چنانچہ تمام معتبر تفاسیر میں ’’توفیتنی‘‘ کی تفسیر ’’رفعتنی‘‘ کے ساتھ مذکور ہے۔ چند تفاسیر کے حوالہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔

جیسا کہ تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر اور درمنثور میں ہے۔ امام رازی (تفسیر کبیر ج۳ ص۷۰۰) میں لکھتے ہیں:’’فلما توفیتنی المراد بہ وفاۃ الرفع الٰی السماء‘‘ اور (تفسیر ابوالسعود ج۳ ص۷۰۱) ’’ورافعک الیّٰ فان التوفی اخذ الشیٔ وافیا‘‘ اور اس طرح (تفسیر بیضاوی اور معالم التنزیل ج۱ ص۳۰۸، مدارک التنزیل ج۱ ص۲۴۲، تفسیر خازن ج۱ ص۴۰۸، تفسیر روح المعانی ج۳ ص۱۵۸)

الغرض ان تمام تفاسیر میں صراحۃً اس کی تصریح ہے کہ توفی سے رفع الیٰ السماء مراد ہے اور بالفرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آیت مائدہ میں توفی سو کنایۃً موت مراد لی گئی ہے تب بھی مرزاقادیانی کا مدعا ثابت نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ اس آیت میں اس وفات کا ذکر ہے جو بعد از نزول قیامت سے پہلے ہوگی۔ کیونکہ آیت کا تمام سیاق وسباق اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تمام واقعہ کوئی گزشتہ واقعہ نہیں بلکہ مستقبل یعنی قیامت کا واقعہ ہے اور قیامت سے پہلے ہم بھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ جیسا کہ ’’یوم یجمع اللہ الرسل‘‘ اور ’’ہذا یوم ینفع الصدقین صدقہم‘‘ اور ’’یوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ سے صاف ظاہر ہے۔

(تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۴۹) ’’اخرج عبدالرزاق وابن ابی حاتم عن قتادۃ فی قولہ ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ متی یکون ذلک قال یوم القیامۃ الا تری انہ یقول یوم ینفع الصدقین‘‘ {عبدالرزاق اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ قتادہ سے ’’ء انت قلت للناس اتخذونی‘‘ کے متعلق دریافت کیاگیا کہ یہ واقعہ کب ہوگا؟ تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن

197

ہوگا۔ جیسا کہ ’’ہذا یوم ینفع الصدقین‘‘ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔}

بلکہ بعض مرفوع احادیث میں بھی اس کی تصریح موجود ہے کہ یہ واقعہ قیامت کا ہے: ’’روی ابن عساکر عن ابی موسٰی الاشعری قال قال رسول اللہ a اذا کان یوم القیامۃ یدعی بالانبیاء واممہم ثم یدعی بعیسٰی فیذکرہ نعمۃ علیہ فیقربہا فیقول بعیسٰی اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک الایۃ ثم یقول ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ ۔ فینکر ان یکون قال ذلک الحدیث‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۸۱)

(ترجمہ) ’’ابوموسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن انبیاء اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بلایا جائے گا۔ حق تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے قریب بلا کر یہ فرمائیں گے کہ تم ہی نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ۔ عیسیٰ علیہ السلام انکار فرمائیں گے کہ معاذ اللہ میں نے ہرگز نہیں کہا۔‘‘

’’واخرج ابن مردویۃ عن جابر بن عبد اللہ انہ سمع النبیa یقول اذا کان یوم القیامۃ جمعت الامم ودعا کل اناس بامامہم قال ویدعی عیسٰی فیقول بعیسٰی یعیسٰی ء انت قلت الناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ ۔ فیقول سبحنک مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق الٰی قولہ یوم ینفع الصادقین‘‘ (تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۴۹)

(ترجمہ) ’’اس حدیث شریف کا ترجمہ تقریباً وہی ہے جو کہ پہلی حدیث کا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری کی حدیث کی طرح جابر بن عبد اللہ کی اس روایت میں بھی اس امر کی تصریح موجود ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے یہ دریافت کیا جائے گا۔‘‘

مرزاقادیانی جس موت کے مدعی ہیں وہ کسی لفظ سے بھی ثابت نہیں ہوتی۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد کشمیر تشریف لے گئے اور ستاسی سال زندہ رہ کر شہر سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے۔ یہ نہ کسی آیت سے ثابت ہے نہ کسی حدیث سے اور نہ کسی صحابی اور تابعی بلکہ کسی معتبر عالم کے قول سے بھی ثابت نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بھی اسی کنہیا لال اور مراری لال اور روشن لال سے منقول ہو کہ جنہوں نے کریم بخش کے صادق ہونے کی گواہی دی ہے۔

198

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۷۰۸، خزائن ج۳ ص۴۸۲) میں لکھتے ہیں کہ: ’’کریم بخش روایت کرتے ہیں کہ گلاب شاہ مجذوب نے تیس برس پہلے مجھ کو کہا کہ اب عیسیٰ جوان ہوگیا ہے اور لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔‘‘ پھر کریم بخش کی تعدیل بہت سے گواہوں سے کی گئی جن میں خیراتی بوٹا، کنہیا لال، مراری لال، روشن لال، گنیشامل وغیرہ ہیں اور گواہی یہ ہے کہ کریم بخش کا جھوٹ کبھی ثابت نہیں ہوا۔

ائمہ حدیث جب کسی رواوی کی توثیق اور تعدیل نقل کرتے ہیں تو احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کا نام مبارک پیش کر دیتے ہیں۔ مرزاقادیانی کو جب کریم بخش کی روایت کی تعدیل کی ضرورت پیش آئی تو کنہیا لال اور مراری لال کی تعدیل پیش کی۔ ناظرین کرام! تعجب نہ فرمائیں۔ نبی کاذب کے سلسلہ روایت کے لئے کنہیا لال اور مراری لال ہی جیسے راوی مناسب اور ضروری ہیں۔ مرزامعذور ہے۔ اپنی مسیحیت کی گواہی میں آخر کس کو پیش کریں؟ حضرات محدثین کے نزدیک مالک عن نافع عن ابن عمر یہ مسند سلسلۃ الذہب کے نام سے موسوم ہے۔ یہ سلسلۃ الذہب تو حضرات محدثین کا ہے اور مرزاقادیانی کا سلسلۃ الذہب یہ ہے کہ جو حضرات ناظرین نے پڑھا۔ یعنی کنہیا لال اور مراری لال اور روشن لال۔

اے مرزائیو! تمہیں کیا ہوا؟ مالک اور نافع اور ابن عمر کی روایت تو تمہاری نظر میں غیرمعتبر ہوگئی اور مرزااور مراری لال اور کنہیا لال اور روشن لال کی اور اس قسم کے پاگل داس لوگوں کی بکواس معتبر ہوگئی۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

ایک وہم اور اس کا ازالہ

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵) پر لکھتے ہیں: ’’تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی نہیں شرم کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت: ’’فلما توفیتنی‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے: ’’واذ قال اللہ یعیسٰی ابن مریم ء انت قلت للناس‘‘ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ہے

199

یعنی ’’فلما توفیتنی‘‘ وہ بھی بصیغہ ماضی ہے۔‘‘

جواب: یہ ہے کہ مرزاقادیانی اس کے بعد (الحکم ج۹ ش۲۲، مورخہ ۲۰؍ربیع الثانی ۱۳۲۳ھ، ۲۴؍جون ۱۹۰۵ء، ملفوظات احمدیہ ج۷ ص۲۳۵) طاعون کی پیشین گوئی کی نسبت لکھتے ہیں کہ: ’’مجھے خدا کی طرف سے وحی ہوئی تھی۔

عفت الدیار محلہا ومقامہا‘‘ یعنی اس کا ایک حصہ مٹ جائے گا جو عمارتیں وہ ہیں نابود ہو جائیں گی۔‘‘

اس پر اعتراض ہوا کہ یہ مصرع لبید کا ہے۔ اس نے گزشتہ زمانہ کی خبردی ہے کہ خاص خاص مقام ویران ہو گئے۔

اس کا جواب خود یہ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’جس شخص نے کافیہ یا ہدایۃ النحو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنی پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تااس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ونفخ فی الصور‘‘

’’واذ قال اللہ یعیسٰی بن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ ولوتری اذو قفوا علے ربہم‘‘ وغیرہ اب معترض صاحب فرمائیں کہ کیا قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے اور اگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنی اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے۔ جھوٹ بولنے کی سزا تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر نہیں بلکہ یہ توقرآن پر بھی ہوگیا۔ گویا صرف ونحو آپ کو معلوم ہے خدا کو معلوم نہیں۔ اس وجہ سے خدا نے جابجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔

اور ’’عفت الدیار محلہا ومقامہا‘‘ پر جو اعتراض تھا اس سے سبکدوش ہو جائیں۔ حالانکہ مرزا اوّل ہی بار ذرا بھی قرآن عزیز میں غور کر لیتے تو یہ ہرگز نہ کہتے جیسا کہ بعد میں ہوش میں آہی گئے کہ اذ ہمیشہ ماضی کے لئے نہیں ہوتا کیونکہ قرآن عزیز میں ’’ولو تری

200

اذیتوفی الذین کفروا الملئکۃ ولوتری اذا الظلمون موفون عند ربکم‘‘ ان آیات میں ہر جگہ لفظ اذ موجود ہے۔ حالانکہ واقعہ سب جگہ مستقبل یعنی قیامت ہی کا ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی چوتھی دلیل

قال اللہ عزوجل: ’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا واتبعون ہذا صراط مستقیم۔ ولا یصدنکم الشیطٰن انہ لکم عدومبین‘‘ {اور تحقیق وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ علامت ہیں قیامت کی پس اس بارے میں تم ذرہ برابر شک اور تردد نہ کرو اوراے محمدa! آپ کہہ دیجئے کہ اس بارے میں صرف میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ کہیں شیطان تم کو اس راہ راست سے نہ روک دے۔ تحقیق وہ تمہاراکھلا دشمن ہے۔}

معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو ماننا یہی سیدھا راستہ ہے اور جو اس سے روکے وہ شیطان ہے۔

امام جلیل وکبیر حافظ عمادالدین بن کثیر فرماتے ہیں کہ:’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا مراد ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن عباسq اور ابوہریرہq اور مجاہد اور ابوالعالیہ اور ابو مالک اور عکرمہ اور حسن بصری اور قتادہ اور ضحاک وغیرہم سے منقول ہے۔ جیسا کہ: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ اور احادیث متواترہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قبل از قیامت ثابت اور محقق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج۹ ص۱۴۶)

معلوم ہوا کہ جو شخص حضرت مسیح بن مریم کے آسمان سے نازل ہونے کو قیامت کی علامت نہ سمجھے وہ شیطان ہے۔ تم کو سیدھے راستہ سے روکنا چاہتا ہے اور تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کے کہنے میں ہرگز نہ آنا۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی پانچویں دلیل

’’قال الامام احمد حدثنا صفان ثناہمام انبائنا قتادۃ عن عبدالرحمٰن عن ابی ہریرۃ ان النبیa قال الانبیاء اخوۃ لعلات امہاتہم شتی ودینہم واحدوانی اولی الناس بعیسٰی بن مریم لانہ لم یکن نبی بینی
201
وبینہ وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الٰی الحمرۃ والبیاض علیہ ثوبان ممصران کأن راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویدعوا الناس الٰی الاسلام ویہلک اللہ فی زمانہ الملل کلہا الا الاسلام ویہلک اللہ فی زمانہ السمیح الدجال ثم تقع الامانۃ علی الارض حتی ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان بالحیات لاتضرہم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون‘‘ (وکذا رواہ ابوداود وکذافی تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۱۶، وقال الحافظ ابن حجرv رواہ ابوداؤد احمد باسناد صحیح، فتح الباری ج۶ ص۲۵۷)

(ترجمہ) ’’امام احمد بن حنبلv اپنی مسند میں ابوہریرہq سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ مائیں مختلف یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور دین یعنی اصول شریعت کا سب کا ایک ہے، اور میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد ہوں گے۔ رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہوگا۔ ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے۔ سر کی یہ شان ہوگی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہوگی۔ صلیب کو توڑیں گے۔ جزیہ کو اٹھائیں گے۔ سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست ونابود کر دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا۔ پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہو جائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں گے۔ سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد قیامت سے پیشتر جب یہ تمام باتیں ظہور میں آجائیں گی تب وفات ہوگی۔

202

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی چھٹی دلیل

’’عن الحسن مرسلا قال قال رسول اللہ a للیہود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ (اخرجہ ابن کثیر فی تفسیراٰل عمران ج۲ ص۲۲۰)

(ترجمہ) ’’امام حسن بصریv سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ a نے یہود سے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے۔ وہ قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئیں گے۔‘‘

اس حدیث میں راجع کا لفظ صراحۃً موجود ہے۔ جس کے معنی واپس آنے والے کے ہیں۔ محاورۃً یہ لفظ اسی وقت استعمال ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسری جگہ گیا ہو اور پھر وہاں سے واپس آئے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی ساتویں دلیل

امام بیہقی (کتاب الاسماء والصفات ص۳۰۱) میں فرماتے ہیں:’’اخبرنا ابوعبد اللہ الحافظ انا ابوبکر بن اسحاق انا احمد بن ابراہیم ثنا ابن بکیرثنی اللیث عن یونس عن ابن شہاب عن نافع مولی ابی قتادۃ الانصاریٰ قال ان اباہریرۃ قال قال رسول اللہ a کیف انتم اذا انزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم‘‘ {ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ کیا حال ہوگا تمہارا کہ جب عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا اور اسناد اس روایت کی صحیح ہیں۔}

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی آٹھویں دلیل

’’وعن ابن عباس فی حدیث طویل قال قال رسول اللہ a فعند ذالک ینزل عیسٰی بن مریم من السماء‘‘(اسحاق بن بشیر کنزالعمال ج۷ ص۲۶۸)

(ترجمہ) ’’ابن عباسq ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ پس اس وقت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔‘‘

ان دونوں حدیثوں میں من السماء کا لفظ صراحۃً موجود ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔

203

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی نویں دلیل

’’عن عبد اللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ a ینزل عیسٰی بن مریم الٰی الارض فیتزوج ویولد ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبر فاقوم انا وعیسٰی بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر‘‘ (رواہ الجوزی فی کتاب الوفا، کتاب الاذاحہ ص۷۷)

(ترجمہ) ’’عبد اللہ بن عمرr سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔ (اس سے صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں مسیح بن مریم کے ساتھ اور ابوبکرq وعمرq کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔‘‘

حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دسویں دلیل

’’حدثنی المثنی ثنا اسحاق ثنا ابن ابی جعفر عن ابیہ عن الربیع فی قولہ تعالٰی الم اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم قال ان النصاریٰ اتو رسول اللہ a فخاصموہ فی عیسٰی بن مریم وقالوا الہ من ابوہ وقالوا علی اللہ الکذب والبہتان لا الہ الا ہو لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا فقال لہم النبیa الستم تعلموان انہ لا یکون ولدا لا ہو یشبہ اباہ قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربنا حیی لا یموت وان عیسٰی یاتی علیہ الفنا۔ قالوا بلی قال الستم تعلموان ان ربنا قیم علی کل شی یکلوہ ویحفظہ ویرزقہ قالوا بلی قال فہل یملک عیسٰی من ذلک شیا قالوا لا قال افلستم تعلمون ان اللہ عزوجل لا یخفی علیہ شی فی الارض ولا فی السماء قالوا بلی۔ قال فہل یعلم عیسٰی من ذلک شیا الا ما اعلم قالوا لا۔ قال فان ربنا صور عیسٰی فی الرحم کیف شاء فہل تعلمون ذلک قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث قالوا بلی قال الستم تعلموان ان عیسٰی حلتہ
204
الستم تعلموان ان عیسٰی حلتہ امراۃ کما تحمل المرأۃ ثم وضعتہ کما تضع المراۃ ولدہا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یطعم ویشرب الشراب ویحدث الحدث قالوا بلی قال فکیف یکون ہذا کما زعمتم قال فعرفوا ثم ابوا فانزل اللہ عزوجل الم اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم‘‘ (تفسیر ابن جریر ج۳ ص۱۰۸)

(ترجمہ) ’’ربیع سے ’’الم اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم‘‘ کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاریٰ نجران نبی کریمa کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیحm کی الوہیت کے بارے میں آپa نے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن اللہ نہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے۔ حالانکہ وہ خدا ہے لاشریک۔ بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے تو آنحضرتa نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے۔ (یعنی جب یہ تسلیم ہوگیا کہ بیٹاباپ کے مشابہ ہوتا ہے تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہیں۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون وچگون ہے۔’’لیس کمثلہ شی ولم یکن لہ کفوا احد‘‘)‘‘

آنحضرتa نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ’’حیی لا یموت‘‘ ہے یعنی زندہ ہے۔ کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے۔ (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں مرے نہیں۔ بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصارائے نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپa نے فرمایا کہ تم کومعلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہرچیز کا قائم رکھنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کا رازق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک آپ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپa نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی شئے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپa نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپa نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا۔ نصاریٰ نے کہا ہاں! آپa نے فرمایا کہ تم

205

کو خوب معلوم ہے کہ اللہ نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول وبراز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک۔ آپa نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا۔ جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے اور بول وبراز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک ایسا ہی ہے۔ آپa نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہوسکتے ہیں؟

نصارائے نجران نے حق کو خوب پہچان لیا۔ مگر دیدۂ ودانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں۔’’الم اللہ لا الہ الا ہو الحیی القیوم‘‘

ایک ضروری تنبیہ

ان تمام احادیث اور روایات سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ احادیث میں جس مسیح کے نزول کی خبر دی گئی۔ اس سے وہی مسیح مراد ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ یعنی وہی مسیح مراد ہیں کہ جو حضرت مریم کے بطن سے بلاباپ کے نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے اور جن پر اللہ نے انجیل اتاری۔ معاذ اللہ ! نزول سے امت محمدیہ میں سے کسی دوسرے شخص کا پیدا ہونا مراد نہیں کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو۔ ورنہ اگر احادیث نزول مسیح سے کسی مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہوتا تو بیان نزول کے وقت آنحضرتa اور ابوہریرہq کا آیت کو بطور استشہاد تلاوت کرنے کا کیا مطلب ہوگا؟ معاذ اللہ ! اگر احادیث سے نزول میں مثیل مسیح اور مرزاقادیانی کا قادیان میں پیدا ہونا مراد ہے تو لازم آئے گا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں مسیح کا ذکر آیا ہے سب جگہ مثیل مسیح اور مرزاقادیانی ہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آنحضرتa کا نزول مسیح کو ذکر فرماکر بطور استشہاد آیت کو تلاوت کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ حضورa کا مقصود انہیں مسیح بن مریم کے نزول کو بیان کرنا ہے جن کے بارے میں یہ آیت اتری، کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں اور علیٰ ہذا! امام بخاریv اور دیگر ائمہ احادیث کا احادیث نزول کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عمران اور سورۂ نساء کی آیات کو ذکر کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں ان ہی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جن کی توفی

206

(اٹھائے جانے) اور رفع الیٰ السماء کا قرآن میں ذکر ہے۔ حاشا وکلّا قرآن کریم کے علاوہ احادیث میں کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے اور اگر بالفرض والتقدیر مرزا کے زعم فاسد کی بناء پر ان احادیث میں مثیل مسیح کی ولادت مراد ہے اور اس کا مصداق مرزا ہے تو مرزاقادیانی اپنے اندر وہ علامتیں بتلائیں کہ جو احادیث میں نزول مسیح کی ذکر کی گئی ہیں۔

۱… تمام ملتوں کا ختم ہوکر فقط ایک ملت اسلام بن جانا کہ روئے زمین پر سوائے اسلام کے کوئی مذہب نہ رہے۔

۲… خنزیر کو قتل کرنا اور صلیب کو توڑدینا۔یعنی یہودیت اور نصرانیت کو مٹادینا۔

۳… مال کو پانی کی طرح بہادینا کہ کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ رہے۔

۴… اور جزیہ کو اٹھادینا۔

۵… اور زمین پر اتنا امن ہوجانا کہ بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں اور بچے سانپوں سے کھیلنے لگیں۔ ان علامتوں میں سے کوئی علامت بھی مرزاقادیانی کے زمانے میں نہیں پائی گئی بلکہ اس کے برعکس اسلام کو تنزل اور صلیبی مذہب کو ترقی اور اسلامی حکومت کا زوال اور نصاریٰ کا غلبہ جس قدر مرزاقادیانی کے زمانہ میں ہوا اس کی نظیر نہ گزشتہ میں ہے اور نہ آئندہ میں۔ ترکی حکومت پر جس قدر بھی زوال آیا وہ تمام کا تمام مرزا کے ہی دور مسیحیت میں آیا۔ مرزاقادیانی کے زمانہ میں کسر صلیب اور قتل خنزیر کے بجائے خاکم بدہن کسر اسلام اور قتل مسلمانان خوب ہوا۔ مرزاقادیانی کے زمانہ میں عیسائی تو کیا مسلمان ہوتے الٹے مسلمان عیسائی بنائے گئے۔ مرزا جزیہ کو کیا موقوف کرتے خود ہی نصاریٰ کے باج گزار ہوگئے اور اپنی زمینوں کا ٹیکس اور محصول انگریزوں کو دیتے رہے۔ مسیح موعود کی علامتوں میں سے ایک علامت ’’یفیض المال حتی لا یقبلہ احد‘‘ تھی۔ یعنی اتنا مال بہائیں گے کہ کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ رہے گا۔ مگر مرزاقادیانی مال تو کیا بہاتے خود ہی ساری عمر چندہ مانگتے گزری۔ کبھی مکان کے لئے چندہ مانگا اور کبھی مدرسہ کے نام سے اور کبھی منارۃ المسیح کے نام سے اور کبھی لنگرخانہ کے نام سے اور کبھی بیعت کی فیس کے نام سے اور کبھی کتابوں کی اشاعت کے نام ہے۔

207

غرض یہ کہ ہر حیلہ سے مال جمع کرنے کی تدبیریں کرتے رہے اور تحصیل دنیا کے وہ نئے نئے طریقے نکالے کہ جو کسی بڑے سے بڑے مکار اور حیال کے وہم وخیال میں بھی نہیں آسکتے۔

اس حقیقت کے واضح اور آشکار ہونے کے بعد بھی اگر کوئی بدعقل اور بدنصیب ایسے مکار پر اپنی ایمان کی دولت کو قربان اور نثار کرنا چاہتا ہے تو اس کو اختیار ہے ہمارا کام تو حق اور باطل اور بحق اور مبطل کے فرق کو واضح کر دینا ہے۔ سو الحمدﷲ! وہ کر چکے دوا کر چکے اور دعا بھی کرتے ہیں اور آپ سے یہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اس سے رشدوہدایت کی دعا کریں اور دوا کا استعمال کریں۔ ’’وما علینا الا البلاغ‘‘

حیات عیسیٰk پر اجماع امت

حافظ عسقلانیv (تلخیص الحبیر ص۳۱۹) میں فرماتے ہیں: ’’اما رفع عیسٰی فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علے رفعہ ببدنہ حیا وانما اختلفو اہل مات قبل ان یرفع اونام‘‘

یعنی تمام محدثین اور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ رفع الیٰ السماء سے پہلے کچھ دیر کے لئے موت طاری ہوئی یا نہیں۔ یا حالت نوم میں اٹھائے گئے۔ (تفسیر بحرالمحیط ج۲ ص۴۷۳)

’’قال ابن عطیۃ واجمعت الامۃ علی ما تضمنہ الحدیث المتواتر من ان عیسٰی فی السماء حیی وانہ ینزل فی اٰخر الزمان‘‘ یعنی تمام امت کا اس پر اجماع ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور اخیرزمانہ میں نازل ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ (تفسیر النہر الماء ج۲ ص۴۷۳)

’’واجتمعت الامۃ علی ان عیسٰی حیی فی السماء وینزل الٰی الارض‘‘ (تفسیر جامع البیان ص۵۲)

’’والاجماع علی انہ حیی فی السماء ینزل ویقتل الدجال ویؤید الدین‘‘ امام ابوالحسن اشعری قدس اللہ سرہ کتاب الابانتہ عن اصول الدیانتہ کے ص۴۶ پر

208

فرماتے ہیں:’’قال اللہ عزوجل یعیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّٰ۔ وقال اللہ تعالٰی وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ۔ واجمعت الامۃ علٰی ان اللہ عزوجل رفع عیسٰی الٰی السماء‘‘

شیخ اکبر قدس اللہ سرہ (فتوحات مکیہ باب۷۳) میں فرماتے ہیں: ’’لاخلاف فی انہ ینزل فی اٰخر الزمان‘‘

علامہ سفارینی شرح (عقیدۂ سفارینیہ ج۲ ص۹۰) پر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول من السماء کتاب اور سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اوّل آیت ’’وان من اہل الکتاب‘‘ نقل کی اور ابوہریرہq کی حدیث نقل کی۔ اب اس کے بعد فرماتے ہیں: ’’واما الاجماع فقد اجتمعت الامۃ علی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعۃ وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ ممن لا یعتقد بخلافہ وقد انعقد اجماع الامۃ علی انہ ینزل ویحکم بہذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلۃ عندہ نزولہ من السماء وان کانت النبوۃ قائمۃ بہ وہو متصف بہا‘‘ یعنی رہا اجماع! سو تمام امت محمدیہ کا اجماع ہوگیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے اور اہل اسلام میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں۔ صرف فلاسفہ اور ملحد اور بے دین لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ جن کا اختلاف قابل اعتبار نہیں اور نیز تمام امت کا اجماع اس پر ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد رسول اللہ a کی شریعت کے موافق حکم کریں گے۔ مستقل شریعت لے کر آسمان پر سے نازل نہ ہوں گے۔ اگرچہ وصف نبوت ان کے ساتھ قائم ہوگا۔

رفع الیٰ السماء اور نزول من السماء الیٰ الارض کی حکمت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کی حکمت علماء نے یہ بیان کی ہے کہ یہود کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو قتل کر دیا۔ ’’کما قال وقولہم انا قتلنا المسیح عیسٰی بن مریم رسول اللہ ‘‘ اور دجال جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہو گا وہ بھی قوم یہود سے ہوگا اور یہود اس کے متبع اور پیرو ہوں گے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام

209

کو زندہ آسمان پر اٹھایا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ تاکہ خوب واضح ہو جائے کہ جس ذات کی نسبت یہودیہ کہتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کردیا۔ وہ سب غلط ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زندہ آسمان پر اٹھایا اور اتنے زمانہ تک ان کو زندہ رکھا اور پھر تمہارے قتل اور بربادی کے لئے اتارا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ تم جن کے قتل کے مدعی تھے ان کو قتل نہیں کر سکے۔ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے قتل کے لئے نازل کیا اور یہ حکمت (فتح الباری باب نزول عیسیٰ ج۱۰ ص۳۵۷) پر مذکور ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک شام سے آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور ملک شام ہی میں نزول ہوگا تاکہ اس ملک کو فتح فرمائیں۔ جیسا کہ نبی اکرمa ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے لئے تشریف لائے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے شام سے آسمان کی طرف ہجرت فرمائی اور وفات سے کچھ روز پہلے شام کو فتح کرنے کے لئے آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود کا استیصال فرمائیں گے اور نازل ہونے کے بعد صلیب کو توڑنا بھی اسی طرف مشر ہوگا کہ یہود اور نصاریٰ کا یہ اعتقاد کہ مسیح بن مریم صلیب پر چڑھائے گئے بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیحm تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے۔ اس لئے نازل ہونے کے بعد صلیب کا نام ونشان بھی نہ چھوڑیں گے۔

اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر تم نبی کریم کا زمانہ پاؤ تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ ’’کما قال تعالٰی: لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ اور انبیاء بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوتا تھا۔ اس لئے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھایا تاکہ جس وقت دجال ظاہر ہو اس وقت آپ آسمان سے نازل ہوں اور رسول اللہ a کی امت کی مدد فرمائیں۔

کیونکہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا وہ وقت امت محمدیہ پر سخت مصیبت کا وقت ہوگا اور امت شدید امداد کی محتاج ہوگی۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے تاکہ امت محمدیہ کی نصرت واعانت کا جو وعدہ تمام انبیاء کر چکے ہیں۔ وہ وعدہ اپنی طرف سے اصالۃً اور باقی انبیاء کی طرف سے وکالتاً ایفا فرمائیں۔ ’’فافہم ذلک فانہ لطیف‘‘

210

اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب انجیل میں نبی کریمa اور آپ کی امت کے اوصاف دیکھے تو حق تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی کہ مجھے بھی امت محمدیہ میں سے کر دیجئے۔ حق تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ان کو آخر زمانہ تک باقی رکھا اور قیامت کے قریب دین اسلام کے لئے ایک مجدد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تاکہ قیامت کے نزدیک ان کا حشر امت محمدیہa کے زمرہ میں ہو۔ ’’و اللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بھی ہیں اور صحابی بھی ہیں

حافظ شمس الدین ذہبی تجرید میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی اصابہ میں اور علامہ زرقانی شرح مواہب میں تحریر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم جس طرح نبی اللہ اور رسول اللہ ہیں اسی طرح صحابی بھی ہیں۔ اس لئے کہ مسیح بن مریمn نے نبی اکرمa کو لیلتہ المعراج میں بحالت حیات، وفات سے پیشتر اسی جسد عنصری کے ساتھ دیکھا ہے اور دوسرے حضرات انبیاءo نے نبی اکرمa کو لیلتہ المعراج میں اپنی اپنی وفات کے بعد دیکھا ہے۔ ’’روی ابن عساکر عن انس قلنا یا رسول اللہ راینا صافحت شیا ولا نراہ قال ذلک اخی عیسٰی بن مریم انتظرہ حتی قضی طوافہ فسلمت علیہ‘‘ (زرقانی شرح مواہب ج۵ ص۳۴۷)

(ترجمہ) ’’ابن عساکر نے انسq سے روایت کیا ہے کہ ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہم نے آپa کو کسی سے مصافحہ کرتے دیکھا مگر اس شخص کو نہ دیکھا جس سے آپ نے مصافحہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ وہ میرے بھائی عیسیٰ بن مریم تھے میں ان کا منتظر رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تب میں نے ان کو سلام کیا۔‘‘

’’وروی ابن عدی عن انس بینا نحن مع النبیa اذر اینا بردا ویدا فقلنا یا رسول اللہ ماہذا الذی راینا والید قال قدر ایتموہ قلنا نعم قال ذاک عیسٰی بن مریم سلم علی‘‘ {ابن عدی نے انسq سے روایت کیا ہے کہ ہم ایک مرتبہ

211

نبی کریمa کے ساتھ تھے۔ اچانک ایک چادر اور ایک ہاتھ نظر آیا۔ ہم نے آنحضرتa سے دریافت کیا۔ آپa نے فرمایا کیا تم نے دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا ہاں! آپa نے فرمایا یہ میرے بھائی عیسیٰ بن مریم تھے۔ جنہوں نے اس وقت مجھ کو سلام کیا۔}

عیسیٰ علیہ السلام کا نبی اکرمa کے معاصر ہونا تو دلائل حیات سے معلوم ہوچکا تھا۔ مگر احادیث معراج اور ابن عساکر اور ابن عدی کی روایت سے ملاقات بھی ثابت ہوگئی۔ اس لئے اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اکرمa سے کوئی روایت فرمائیں تو اس روایت کو علی شرط البخاری حدیث متصل سمجھنا چاہئے۔ کیونکہ امام بخاریv کے نزدیک اتصال روایت کے لئے ثبوت لقا شرط ہے اور امام مسلم کے نزدیک محض معاصرت کافی ہے۔

علامہ تاج الدین سبکیv نے حضرت عیسیٰk کے صحابی ہونے کو بطور انجاز اور معہ اپنے ایک قصیدہ میں ذکر کیا ہے۔

  1. من باتفاق جمعی الاخلق افضل من

    خیر الصحاب ابی بکر و من عمر

وہ کون شخص ہے کہ جو بالاتفاق ابوبکرq اور عمرq سے بھی افضل ہے کہ جو تمام صحابہ سے افضل وبہتر ہیں۔

  1. ومن علی ومن عثمان وہو فتی

    من امۃ المصطفٰی المختار من مضر

اور جو شخص علیq اور عثمانq سے بھی افضل ہے۔ حالانکہ وہ شخص محمد مصطفیa کی امت کا ایک فرد ہے۔

’’الشی بالشی یذکر‘‘ ایک شئے کے ذکر سے دوسری شئے یاد آہی جاتی ہے۔ حافظ عسقلانی اصابہ میں فرماتے ہیں کہ خضرm جمہور محدثین کے نزدیک نبی ہیں۔ مگر صحابی بھی ہیں۔ جیسا کہ بعض روایات سے خضرm کی ملاقات نبی اکرمa سے معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل اگر درکار ہو تو اصابہ کی مراجعت فرمائیں۔

عبد ضعیف کہتا ہے (عفا اللہ عنہ) کہ اس روایت میں انس بن مالکq کی بھی خضرm سے ملاقات مذکور ہے۔ اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ انس بن مالکq دو پیغمبروں کے صحابی ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ یہ کلمہ شاید خلاف حق نہ ہوگا۔

212
و اللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون۔ وسلام علی المرسلین والحمد ﷲ رب العلمین۔ فاطر السموت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین۔
اللہم انی اعوذبک من عذاب القبر واعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال واعوذبک من فتنۃ المحیا والممات۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین یا ذاالجلال والاکرام

وانا العبد الضعیف المدعو

محمد ادریس الکاندھلوی

اجارہ اللہ تعالٰی من خزی الدنیا وعذاب الاخرۃ۔ آمین!

تقریظ

از: آیۃ السلف وحجتہ الخلف حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبv

سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند

الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد!

رسالہ کلمتہ اللہ فی حیات روح اللہ مصنفہ علامہ فہامہ جناب مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی مدرس دارالعلوم دیوبند کا احقر نے کہیں سے دیکھا اور بعض مضامین کو جناب مؤلف ممدوح کی زبا ن سے سنا۔ رسالہ مذکورہ حیات عیسیٰ علیہ السلام میں کافی وشافی اور مباحث متعلقہ کا حاوی اور جامع ہے۔ نقول معتمد اور مستند کتابوں سے لی گئی ہیں اور عمدہ سے عمدہ قول سامنے رکھ دیا ہے۔ علماء اور طلباء کو تلاش اور تتبع سے بے نیاز کردیا ہے۔ امید ہے کہ طلباء اس کی قدر کریں گے۔ مخلوق کو جو دجال کے فتنہ میں مبتلا ہے۔ ہدایت اور ارشاد کا ذریعہ ہوگا۔ حق تعالیٰ جناب مؤلف کی سعی مشکور اور عمل مبرور فرمائے۔آمین یا رب العلمین!

احقر: محمد انور عفا اللہ عنہ

مدرس دارالعلوم

213

تقریظ

از: فخر المتکلمین مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیv

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’الحمد ﷲ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰے‘‘

تقریباً دو سال ہوئے کہ بمقام فیروزپور (پنجاب) قادیانی مرزائیوں سے متنازع فیہ مسائل میں علماء دیوبند کی گفتگو ہوئی تھی۔ سب سے پہلی بحث حضرت مسیح بن مریم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات اور رفع الیٰ السماء اور دوبارہ تشریف آوری کے متعلق تھی۔ جس میں دیوبند کی طرف سے برادر مکرم جناب مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی مدرس دارالعلوم وکیل تھے۔ مولوی صاحب نے جو عالمانہ اور محققانہ تقریر فرمائی۔ بحمد اللہ تعالیٰ نہ صرف عام پبلک ہی اس سے محضوظ اور مطمئن ہوئی۔ بلکہ بندہ کے روبرو بعض ممتاز مرزائیوں نے بھی اس کی معقولیت اور سنجیدہ روش کی داد دی اور اس طرح مولوی صاحب کے عالمانہ طرز استدلال نے منکرین سے بھی خراج تحسین وصول کیا۔

’’والفضل ماشہدت بہ الاعداء‘‘

میں نے اسی وقت مولانا موصوف سے درخواست کی تھی کہ آپ اس مسئلہ کے تمام اطراف وجوانب کی توضیح وتحقیق ایک کتاب کے ذریعہ سے اس طرح کردیجئے کہ غائب وحاضر کے لئے اس میں بصیرت ہو اور مسئلہ کا تمام مادہ بیک نظر سامنے آجائے اور کسی باطل پرست کو گنجائش نہ رہے کہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد وہ ایک حق پرست کے قدم ڈگمگا سکے۔ حق تعالیٰ شانہ مولوی صاحب موصوف کے علم وعمل میں ترقی عطاء فرمائے کہ انہوں نے میری اس ناچیز گزارش کو رائیگاں نہیں جانے دیا اور بڑی محنت وعرق ریزی کے بعد ایک ایسی تالیف برادران اسلام کے سامنے پیش کر دی جس میں اس اہم مسئلہ کا کافی وشافی حل موجود ہے اور شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اس باب میں اس وقت تک کوئی کتاب اس قدر جامع اور حاوی ایسے سادہ اور بے تکلف طرز میں نہیں لکھی گئی۔ ناظرین مطالعہ کے بعد خود اندازہ لگاسکیں گے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ ازسرتاپا واقعہ ہے اور ان کو ممنون ہونا چاہئے۔ مؤلف محترم کا اور ان اکابر دارالعلوم کا جن کی توجہ اور سعی سے یہ بیش بہا رسالہ نور افزائے دیدۂ شائقین ہوا۔

شبیر احمدعثمانی، دیوبند

مورخہ ۱۷؍جمادی الثانی ۱۳۴۲ھ

214

القول المحکم

فی

نزول ابن مریم علیہ السلام

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

215

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین۔ اما بعد!

عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک تمام روئے زمین کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ چلا آیا ہے کہ عیسیٰ بن مریمn جو بنی اسرائیل میں مریم عذرا کے بطن سے بغیر باپ کے نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے اور پھر بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے اور یہود بے بہبود نے جب ان کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے ان کو زندہ آسمان پر لے گئے اور جب قیامت کے قریب دجال ظاہر ہوگا جو قوم یہود سے ہوگا اس وقت یہی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے جو اس وقت یہود کا بادشاہ اور سردار ہوگا۔

نکتہ نمبر:۱

یہود کا دعویٰ تھا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کیا اور ان کو ذلیل اور رسوا کیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے قریب ان کو آسمان سے اس طرح اتارے گا کہ لوگ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں گے کہ یہود جھوٹ بولتے تھے کہ ہم نے ان کو قتل کیا ہے۔ وہ زندہ تھے آسمان سے نازل ہوکر تمہارے سردار کو قتل کریں گے اور تم سب کو ذلیل اور خوار کریں گے۔

نکتہ نمبر:۲

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنس بشر سے ہیں۔ کفار کے شر سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک مدت معینہ کے لئے آسمان پر اٹھایا اور طویل عمر عطاء فرمائی۔ جب عمر شریف اختتام کے قریب ہوگی اور زمانہ وفات کا نزدیک ہوگا تو آسمان سے زمین پر اتارے جائیں گے تاکہ زمین پر وفات ہو۔ کیونکہ کوئی انسان آسمان پر فوت نہ ہوگا۔ ’’منہا خلقنکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃ اخری‘‘ ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹادیں گے اور پھر اسی سے نکالیں گے۔

216

نکتہ نمبر:۳

دجال اوّلاً نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ پھر خدائی کادعویٰ کرے گا۔ عیسیٰ بن مریم اس مدعی نبوت اور الوہیت کے قتل کے لئے آسمان سے نزول جلال فرمائیں گے تاکہ معلوم ہوجائے کہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا مستحق قتل ہے۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ اور متواترہ اور اجماع سے ثابت ہے اور انجیل بھی اس کی شاہد ہے۔ جیسا کہ ہم عنقریب اس کو ثابت کریں گے۔

دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزاقادیانی کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ بعد میں یہ دعویٰ کیا کہ احادیث میں جس مسیح موعود کے نزول کی خبر دے گئی ہے اس سے اس کے مثیل اور شبیہ کا آنا مراد ہے اور وہ میں (یعنی خود مرزا) ہوں اور وہ مسیح بن مریم جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ مقتول اور مصلوب ہوئے اور واقعہ صلیب کے بعد دشمنوں سے چھوٹ کر کشمیر تشریف لائے اور ستاسی سال زندہ رہ کر شہر سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے۔

افسوس اور صد افسوس کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سفید جھوٹ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہیں۔ مگر قرآن کریم کی آیات بینات اور احادیث نبویہ پر ایمان لانے کے لئے تیار نہیں۔

یہ ناچیز اہل اسلام کی ہدایت اور نصیحت کے لئے یہ مختصر رسالہ لکھ کر پیش کر رہا ہے۔ جس میں آنے والے مسیح موعود کی علامتوں اور نشانیوں کو قرآن اور حدیث سے بیان کیا ہے تاکہ مسلمان کسی دھوکہ اور اشتباہ میں نہ رہیں اور یہ سمجھ لیں کہ رسول خداa نے جو آنے والے مسیح کی علامتیں بیان فرمائی ہیں مرزاقادیانی میں ان کا کہیں نام ونشان بھی نہیں۔

مرزائیوں سے مخلصانہ اور ہمدردانہ استدعا

اہل اسلام سے عموماً اور مرزائیوں سے خصوصاً نیازمندانہ اور ہمدردانہ استدعاء کرتا ہوں کہ اس رسالہ کو خوب غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ مسیح موعود کی جو علامتیں احادیث میں آئی ہیں ان کا کوئی شمہ بھی مرزاقادیانی میں پایا جاتا ہے یا نہیں۔ دنیا فانی اور آنی جانی ہے۔ ایمان بڑی دولت ہے۔ اس کی حفاظت نہایت ضروری ہے۔ خوب غور اور فکر کریں اور حق جل شانہ کی طرف رجوع کریں اور دعا کریں کہ اے اللہ ہم کو صحیح علم اور صحیح فہم عطاء فرما اور

217

گمراہی سے بچا اور قبول حق کی توفیق عطاء فرما اور استقامت کی لازوال دولت سے مالامال فرما۔ آمین ثم آمین!

اب میں دلائل شروع کرتا ہوںاور حق جل شانہ کی رضا اور خوشنودی اور اس کی رحمت اور عنایت کا طلبگار اور امیدوار ہوں۔ ’’ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم فاقول وب اللہ التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق وما توفیقی الا ب اللہ علیہ توکلت والیہ انیب‘‘

قرآن کریم

اوّلاً ہم قرآن کریم کی وہ آیتیں پیش کرتے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ بن مریمm کے نزول کا اجمالاً ذکر ہے۔ بعد میں احادیث نبویہ کو ذکر کریں گے جن میں اس کی پوری تفصیل ہے اور اس درجہ تفصیل ہے کہ جس میں ذرہ برابر بھی تاویل کی گنجائش نہیں اور بعدازاں اجماع امت نقل کریں گے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے۔

۱… ’’قال تعالٰی وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ اور نہیں باقی رہے گا اہل کتاب میں سے کوئی شخص مگر حضرت عیسیٰ کے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ پر ضرور ایمان لائے گا اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔

جمہور اہل علم کا قول ہے کہ اس آیت میں ’’بہ‘‘ اور ’’قبل موتہ‘‘ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ: ’’نہیں رہے گا کوئی شخص اہل کتاب میں مگر البتہ ضرور ایمان لے آئے گا زمانہ آئندہ یعنی زمانہ نزول میں، عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ اس آیت کا ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں: ’’نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آرد بعیسٰی پیش از مردن اوو روز قیامت عیسیٰ گواہ شد برایشاں۔ (فائدہ) مترجم می گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔‘‘

امام ابن جریر طبری اور حافظ کثیر اپنی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں

218

زمانہ نزول کے اس واقعہ کا ذکر ہے جو احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ تفصیل کے لئے تفسیر ابن کثیر کی مراجعت فرمائیں اور یہی تفسیر ابن عباسq اور ابوہریرہq سے منقول ہے۔ حافظ عسقلانی (فتح الباری ج۶ ص۳۵۶) میں فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اس آیت میں ایک اور قرأت بھی ہے جس کا ذکر ہم نے اپنے رسالہ ’’کلمتہ اللہ فی حیات روح اللہ ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ ناظرین کرام اس کی مراجعت کریں۔

۲… ’’قال اللہ عزوجل وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا واتبعون ہذا صراط مستقیم ولا یصدنکم الشیطٰن انہ لکم عدو مبین‘‘ اور تحقیق وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ علامت ہیں قیامت کی پس اس بارے میں تم ذرہ برابر شک اور تردد نہ کرو اور (اے محمدa آپ کہہ دیجئے کہ) اس بارے میں میرے پیروی کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ کہیں شیطان تم کو اس راہ سے نہ روک دے۔ تحقیق وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو علامت قیامت ماننا یہی سیدھا راستہ ہے اور جو اس سے روکے وہ شیطان ہے۔ امام حافظ عماد الدین بن کثیر فرماتے ہیں کہ: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا مراد ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن عباسq اور ابوہریرہq اور مجاہدq اور ابوالعالیہq اور ابومالکq اور عکرمہq اور حسن بصریq اور قتادہq اور ضحاکq وغیرہم سے منقول ہے۔ جیسا کہ ’’وان من اہل الکتاب‘‘ اور احادیث متواترہ سے حضرت عیسیٰ کا نزول قبل از قیامت ثابت اور محقق ہے۔(تفسیر ابن کثیر ج۹ ص۱۴۶)

حضرت مسیح مریم کی حواریین کو اپنے نزول کی بشارت اور جھوٹے مسیحوں

اور جھوٹے نبیوں کی خبر اور ان سے خبردار رہنے کی ہدایت

’’خبردار کوئی تم کو گمراہ نہ کردے۔ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں۔‘‘ (انجیل متی ب۲۴)

اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے مدعیان مسیحیت اور جھوٹے مدعیان نبوت کے متعلق حضرت عیسیٰ کی ہدایت اور اپنے نزول کے متعلق حواریین کو بشارت ہدیہ ناظرین کریں تاکہ موجب بصیرت اور باعث طمانیت ہو۔

219

انجیل متی باب:۲۴، درس اوّل

(۱)اور یسوع ہیکل سے نکل کر جارہا تھا۔ (۳)اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آکر کہا ہم کو بتا کہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر۔ (۴)ہونے کا کیا نشان ہوگا؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار۔ (۵)کوئی تم کو گمراہ نہ کردے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ (۱۱)اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔ (۱۲)اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ (۱۳)مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا اور بادشاہی۔ (۱۴)کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو تب خاتمہ ہوگا۔ (۲۱)کیونکہ اس وقت ایسی بری مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے اب تک (۲۲)ہوئی نہ کبھی ہوگی اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائیں گے۔ اس وقت (۲۳)اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ (۲۴)کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی (۲۵)گمراہ کر لیں۔ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے۔ (۲۶)پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے توباہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جیسے بجلی (۲۷)پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے ویسے ہی ابن آدم کا (۲۸)آنا ہوگا۔ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہو جائیں گے۔ (۲۹)اور فوراً ان دونوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور (۳۰)آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ (۳۱)آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی اور نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اپنی برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے کنارے سے اس کنارے تک جمع کریں گے۔

220

اجماع امت

علامہ سفارینی (شرح عقیدۂ سفارینیہ ج۲ ص۹۰) پر لکھتے ہیں:’’امالاجماع فقد اجمعت الامۃ علی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعۃ وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ مما لا یعتد بخلافہ وقد انقعد اجماع الامۃ علی انہ ینزل ویحکم بہذہ الشریعۃ المحدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلۃ عند نزولہ من السماء وان کانت النبوۃ قائمۃ بہ وہو متصف بہا ویتسلم الامر من المہدی ویکون المہدی من اصحابہ واتباعہ کسائر اصحاب المہدی حتی اصحاب الکہف اذین ہم من اتباع المہدی کمامر‘‘

شیخ اکبر قدس اللہ سرہ (فتوحات مکیہ باب۷۳) میں فرماتے ہیں: ’’لاخلاف فی انہ ینزل فی اخر الزمان‘‘ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ (عیسیٰ بن مریم) آخر زمانہ میں نازل ہوں گے۔

ابن حیان (تفسیر بحر محیط، النہر الماد) میں لکھتے ہیں: ’’اجتمعت الامۃ علی ان عیسٰی حیی فی السماء وانہ ینزل فی اٰخر الزمان علی ماتضمنہ الحدیث المتواتر‘‘ (ج۲ ص۴۷۳)

مرزاغلام احمد قادیانی کا اقرار واعتراف

’’اس بات پر تمام سلف وخلف کا اتفاق ہوچکا ہے کہ عیسیٰ جب نازل ہو گا تو امت محمدیہ میں داخل کیا جائے گا۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۶۹، خزائن ج۳ ص۴۰۷)

احادیث نزول عیسیٰ بن مریمm

اس بارہ میں سب سے زیادہ جامع اور مکمل اور مفصل رسالہ حضرت مولانا مفتی محمد

221

شفیع صاحب دیوبندیv سابق مفتی دارالعلوم دیوبند کا ہے جس میں نہایت تفصیل کے ساتھ مع حوالہ کتب احادیث نزول کو جمع فرمایا ہے۔ میرے علم میں اب تک اس موضوع پر اس کتاب سے زیادہ جامع کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ یہ کتاب درحقیقت زہری وقت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب قدس اللہ سرہ سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند کا املاء ہے۔ جس کو مولانا المحترم مفتی محمد شفیع صاحب نے مرتب فرماکر اہل اسلام کے لئے ایک گرانقدر علمی اور دینی تحفہ پیش کیا۔ ’’جزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین خیرا‘‘ (اس کا نام ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ ہے) اب ہم چند منتخب احادیث ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

حدیث اوّل: ’’عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃ واقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ (رواہ البخاری، مسلم ج۱ ص۸۷)

(ترجمہ) ’’حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ بے شک قریب ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ یعنی شریعت محمدیہ کے مطابق فیصلہ کریں گے اور وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جنگ کو ختم کر دیں گے اور مال کی اتنی بہتات کر دیں گے کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور (اس وقت) ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہو جائے گا۔ یعنی عبادت کا ذوق اور شوق دلوں میں اس درجہ پیدا ہو جائے گا کہ ایک سجدہ روئے زمین کی دولت سے زیادہ بہتر معلوم ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہq کہتے تھے کہ (اس کی تائید کے لئے) چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ’’وان من اہل الکتاب (الایۃ)‘‘ یعنی کوئی شخص اہل کتاب میں سے نہ ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ ضرور بالضرور عیسیٰ پر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ (عیسیٰ علیہ السلام) ان پر شاہد ہوں گے۔‘‘

222

حدیث دوم:’’عن ابی ہریرۃq ان رسول اللہ a قال کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘ (رواہ البخاری، مسلم ج۱ ص۸۷) ’’وفی لفظہ لمسلم فامکم فی لفظۃ اخری فامکم منکم واخرجہ احمد فی مسندہ ص۳۳۰ ولفظہ کیف بکم اذا نزل۔ الخ!‘‘ رسول اللہ a نے فرمایا تمہاری خوشی کا اس وقت کیا حال ہوگا جب کہ عیسیٰ ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ یعنی امام مہدی تمہارے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود نبی اور رسول ہونے کے امام مہدی کا (پہلی نماز میں) اقتداء کریں گے۔

ف: اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ اور امام مہدی دو شخص الگ الگ ہیں۔ امام مہدی امامت کریں گے اور حضرت عیسیٰ ان کی اقتداء کریں گے۔

حدیث سوم:’’عن النواس بن سمعانq قال ذکر رسول اللہ a الدجال۔ الٰی ان قال فبینما ہو کذالک اذبعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ البیضا شرقی دمشق بین مہروذتین واضعا کفیہ علی اجنحۃ ملکین اذا طأطا رأسہ قطر واذا رفعہ تحدر منہ جمان کاللولوء فلا یحل لکافریجد ریح نفسہ الامات ونفسہ منتہی الٰی حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتی یدرک بباب لدفیقتلہ الحدیث بطولہ‘‘ (رواہ مسلم ج۲ ص۴۰۲، ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، والترمذی ج۲ ص۴۷، احمد فی مسندہ ج۴ ص۱۸۱، ج۴ ص۱۸۲)

(ترجمہ) ’’نواس بن سمعانq سے مروی ہیں کہ ایک روز نبی اکرمa نے دجال کا ذکر فرمایا اور دیر تک اس کا حال بیان فرمایا اور حدیث کا بیچ کا حصہ ہم نے چھوڑ دیا اور پھر اخیر میں یہ فرمایا کہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ یکایک عیسیٰ بن مریم دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر آسمان سے اس شان سے نازل ہوں گے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ جب اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس میں سے بوندیں ٹپکیں گی اور جب سرکو اٹھائیں گے تو س سے موتی کے سے قطرے ڈھلیں گے اور جس کافر کو ان کے سانس کی ہوا لگے گی وہ مرجائے گا اور ان کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی یہاں تک کہ وہ دجال کو (دمشق کے) باب لد مقام پر پائیں گے اور اس کو قتل

223

کردیں گے۔‘‘ (اس حدیث کو مسلم نے ج۲ ص۴۰۲، ابودؤد نے ج۲ ص۱۳۵ اور ترمذی نے ج۲ ص۴۷، امام احمد نے مسند میں ج۴ ص۱۸۱،۱۸۲ پر روایت کیا ہے

حدیث چہارم: وعن ابی ہریرۃq ان النبیa قال لیس بینی وبین عیسٰی نبی وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الٰی الحمرۃ والبیاض بین ممصرتین کأن رأسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویہلک اللہ فی زمانہ الملل کلہا الا الاسلام ویہلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵) واخرجہ احمد فی مسندہ وزادفیہ ویہلک اللہ فی زمانہ المسیح الدجال ثم تقع الامانۃ علی الارض حتی ترتع الاسود مع الابل والنبار مع البقر والذناب مع الغنم ویلعب الصبیان والغلمان بالحیات لا تضرہم فیمکث ماشاء اللہ ان یمکث ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ وقال الحافظ العسقلانی رواہ ابوداؤد، احمد باسناد صحیح (فتح البری ج۶ ص۳۵۷، باب نزول عیسٰی بن مریم)‘‘ {حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ (عیسیٰ بن مریم) نازل ہونے والے ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو (ان علامتوں سے) ان کو پہچان لینا وہ ایسے شخص ہوںگے۔ جن کا رنگ سرخی اور سفیدی کے درمیان ہوگا۔ دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ (ان کا جسم ایسا شفاف ہوگا) گویا ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تری نہ پہنچی ہو۔ پھر اسلام کے لئے لوگوں سے قتال کریں گے۔ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ سب مذہبوں کو مٹا دے گا۔ سوائے اسلام کے، اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا۔ پھر وہ عیسیٰ بن مریم زمین پر چالیس سال رہیں گے۔ اس کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (یہ روایت ابوداؤد کی ہے) اور امام احمد کی مسند میں اس کے ساتھ یہ اضافہ اور ہے، اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو

224

ہلاک کر دے گا اور امانتداری تمام روئے زمین پر قائم ہو جائے گی۔ یہاں تک شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ پھر جب تک اللہ چاہے گا وہ زمین پر رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ (حافظ عسقلانی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد اور امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے)}(فتح الباری ج۶ ص۳۵۷، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

حدیث پنجم: ’’عن ابن مسعودq قال قال رسول اللہ a لقیت لیلۃ اسری بے ابراہیم وموسٰی وعیسٰیo فذکروا امر الساعۃ فردوا امرہم الٰی ابراہیم فقال لا علم بی بہا فردوا امرہم الٰی موسٰی فقال لا علم لی بہا فردوا امرہم الٰی عیسٰی فقال اماوجبتہا فلا یعلم بہا احد الا اللہ ، فیما عہد الٰی ربی ان الدجال خارج ومعیی قضیبان فاذا رأنی ذاب کما یذوب الرصاص (مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ سنن بیہقی)‘‘ {حضرت ابن مسعودq سے روایت ہے کہ رسول خداa نے فرمایا میں شب معراج میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰo سے ملا۔ پھر انہوں نے قیامت کا تذکرہ کیا اور سب نے اپنے اس امر کی تحقیق کے لئے حضرت ابراہیمq کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے قیامت کے وقت کا کوئی علم نہیں پھر سب نے حضرت موسیٰm کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مجھ کو قیامت کے وقت کا علم نہیں۔ پھر انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کے وقوع کا علم تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں، مگر جو احکام مجھے دیے گئے ہیں ان میں ایک بات یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور اس وقت میرے ہاتھ میں دو لکڑیاں ہوں گی۔ جب وہ مجھ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔}

حدیث ششم: ’’اخبرنا ابوعبد اللہ الحافظ انا ابوبکر بن اسحاق انا احمد بن ابراہیم ثنا ابی بکیرثنی اللیث عن یونس عن ابن شہاب عن نافع مولی ابی قتادۃ الانصارٰی قال ان اباہریرۃ قال قال رسول اللہ a

225

کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم‘‘ {حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ کیا حال ہوگا تمہارا جب کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ (اسناد اس روایت کی صحیح ہے)} (امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات ص۲۰۱) میں اس کو لکھا ہے:

تنبیہ: اس روایت میں نزل کے ساتھ من السماء کالفظ صراحۃً موجود ہے۔

حدیث ہفتم: ’’عن ابن عباسq مرفوعا قال الدجال اوّل من یتبعہ سبعون الفامن الیہود علیہم التیجان (الٰی قولہ) قال ابن عباس قال رسول اللہ a فعند ذلک ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء علی جبل افیق اماما ہادیا حکما عادلا علیہ برنس لہ مربوع الخلق اصلت سبط الشعر بیدہ حربۃ یقتل الدجال فاذا قتل الدجال تضع الحرب اوزارہا فکان السلم فیلقی الرجل الاسد فلا یہیجہ ویاخذ الحیۃ فلا تضرہ تنبت الارض کنباتہا علی عہد آدم یؤمن بہ اہل الارض ویکون الناس اہل ملۃ واحدۃ (اسحق بن بشیر، کنزالعمال ج۷ ص۲۶۸)‘‘ {حضرت ابن عباسq سے یہ مرفوع روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ دجال کے اوّلین اتباع کرنے والے سترہزار یہودی ہوں گے جو سبز اونی چادر اوڑھے ہوں گے (آگے چل کر) حضرت ابن عباسq نے کہا کہ رسول اللہ a نے فرمایا کہ اس وقت میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے افیق پہاڑ پر امام اور ہادی اور حاکم اور عادل ہوکر نازل ہوں گے اور ان پر ان کا برنس ہوگا۔ وہ متوسط القامت اور کھلے ہوئے بال والے ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہوگا جس سے دجال کا قتل کر دیں گے اور جب دجال کو قتل کر ڈالیں گے تو لڑائی (بالکل) ختم ہو جائے گی اور اس درجہ امن اور سکون ہو جائے گا کہ آدمی شیر کے سامنے آئے گا تو اس سے شیر غصہ میں نہ بھرے گا اور سانپ کو آدمی اٹھائے گا تو وہ اس کو نہ کاٹے گا اور زمین سے پیداوار حضرت آدمm کے زمانہ جیسی ہونے لگے گی اور روئے زمین کے تمام لوگ ان پر (عیسیٰ بن مریم) ایمان لے آئیں گے اور تمام لوگ ایک ملت (اسلامی) بن جائیں گے۔}

حدیث ہشتم:’’عن ابی ہریرۃ مرفوعاً لیہبطن عیسٰی بن مریم

226

حکما واماما مقسطا ولیسلکن فجا حاجا اور معتمرا اولیأ تین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیہ (مستدرک حاکم)‘‘ {حضرت ابی ہریرہq رسول اللہ a سے روایت کرتے ہیں کہ آپa نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم ضرور ضرور اتریں گے حاکم ہوکر اور سردار منصف ہوکر اور ضرور وہ سفر کریں گے حج یا عمرہ کے لئے اور وہ ضرور آئیں گے میری قبر کے پاس اور ضرور وہ مجھے سلام کریں گے اور اس کے سلام کا ان کو جوب دوں گا۔}

حدیث نہم: ’’عن مجمع بن جاریۃq عن رسول اللہ a قال یقتل ابن مریم الدجال بباب لد ہذا حدیث صحیح وفی الباب عن عمران بن حصین ونافع بن عیینۃ وابی برزۃ وحذیفۃ بن اسید وابی ہریرۃ وکیسان وعثمان بن ابی العاص وجبیر وابی امامۃ وابن مسعود عبد اللہ بن عمرو وسمرۃ ابن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذیفۃ بن الیمان (ترمذی ج۲ ص۵۲، کتاب الفتن)‘‘ {حضرت مجمع بن جاریہq سے روایت ہے کہ رسول خداa نے فرمایا ابن مریم دجال کو باب لد (دمشق میں ایک جگہ) میں قتل کریں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں عمران بن حصین اور نافع بن عینیہ اور ابوبرزہ اور حذیفہ بن اسید اور ابوہریرہ اور کیسان اور عثمان بن ابی العاص اور جابر اور ابو امامہ اور ابن مسعود اور عبد اللہ بن عمرو اور سمرہ بن جندب اور نواس بن سمعان اور عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمانi سے حدیثیں منقول ہیں۔}

حدیث دہم:’’عن عبد اللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ a ینزل عیسٰی بن مریم الٰی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبر فاقوم انا وعیسٰی بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا کتاب الاذاعہ ص۷۷)‘‘ {عبد اللہ بن عمروq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں حضرت عیسیٰ بن مریمm زمین پر اتریں گے (اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ اس

227

سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی اور پینتالیس برس (زمین پر) ٹھہریں گھے۔ پھر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ قبر میں مدفون ہوں گے اور قیامت کو میں عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ابوبکر وعمر کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔ اس حدیث کو ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں روایت کیا ہے۔}

فتلک عشرۃ کاملۃ

احادیث نبویہ

سرور عالم خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ a نے قیامت کے قریب پیش آنے والے بہت سے واقعات کی خبر دی ہے جن میں نزول مسیح اور خروج دجال اور ظہور مہدی کی بھی خبر ہے۔

چونکہ حضرت مسیح کا نزول اور قتل دجال اور ظہور مہدی یہ واقعات نہایت اہم تھے اس لئے حضور پرنورa نے جس صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان ہرسہ امور کو بیان فرمایا شاید ہی کسی اور علامت قیامت کو اس تفصیل اور صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہو۔ نزول مسیح کے بارے میں جو احادیث منقول ہوئیں علاوہ غیرمعمولی تواتر اور کثرت کے ان میں حقیقت نزول کی اس درجہ صراحت اور وضاحت کر دی گئی کہ کسی ملحد اور زندیق کے لئے ذرہ برابر تاویل کی گنجائش نہیں رہی۔ مثلاً احادیث میں حضرت مسیح کا نام اور لقب اور کنیت اور کیفیت ولادت اور والدۂ مطہرہ کا نام اور ان کی طہارت نزاہت اور حضرت زکریا کی کفالت میں ان کی تربیت اور پھر حضرت مسیح کی صورت اور شکل اور قدوقامت اور ان کی نبوت ورسالت اور ان کے معجزات اور یہود بے بہبود کی دشمنی اور عداوت اور رفع الیٰ السماء اور قیامت کے قریب ملک شام میں آسمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا اور نزول کے بعد چالیس پینتالیس سال دنیا میں رہنا اور نزول کے بعد نکاح کرنا اور اولاد کا ہونا اور تمام روئے زمین پر اسلام کی حکومت قائم کرنا اور سوائے دین اسلام کے کسی مذہب کو قبول نہ کرنا۔ یہودیت اور نصرانیت کو یک لخت صفحہ ہستی سے مٹا دینا اور لوگوں کے دلوں سے بغض اور کینہ کا نکل جانا اور مال پانی کی طرح بہا دینا اور صلیب کو توڑنا اور خنزیر کو قتل کرنا اور ہندوستان پر فوج کشی کے لئے لشکر روانہ کرنا اور حج بیت اللہ کرنا اور پھر مدینہ منورہ میں وفات پانااور روضہ اقدس میں نبی

228

اکرمa کے قریب مدفون ہونا اور اس کے سوا اور بھی علامتیں ہیں جو احادیث میں مذکورہیں۔ بغرض اختصار صرف اس پر اکتفاء کیاگیا۔

ناظرین ذرا انصاف تو فرمائیں

کہ کیا ان تصریحات کے بعد بھی کوئی ابہام اور اشتباہ باقی رہ گیا ہے اور کیا مرزائے قادیان میں ان میں سے کوئی ایک صفت بھی پائی جاتی ہے اور دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزاقادیانی کا بھی یہی عقیدہ تھا جو تمام مسلمانوں کا ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں اس کی تصریح ہے۔

مرزائیوں کی تحریف

اور کیا ان تصریحات کے بعد اب بھی مرزائیوں کی اس تحریف کی کوئی گنجائش ہے کہ احادیث میں نزول مسیح سے مثیل مسیح مراد ہے۔

سبحان اللہ ! نزول سے تو ولادت کے معنی مراد ہوگئے اور مسیح سے مثیل مسیح مرود ہوگیا اور مریم سے مرزاقادیانی کی ماں چراغ بی بی مراد ہوگئی اور دمشق اور بیت المقدس اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا جو لفظ احادیث میں آیا ہے ان سب سے قادیان مراد ہوگیا۔ کیونکہ قادیان ان سب کی سمت میں واقع ہے اور باب لد جو کہ ملک شام میں ایک جگہ ہے اور جہاں حضرت مسیح دجال کو قتل کریں گے۔ اس سے مرزاقادیانی کے نزدیک لدھیانہ مراد ہوگیا اور قتل دجال سے مناظرہ میں کسی عیسائی کو شکست دینا مراد ہوگیا۔ سبحان اللہ ! کیا دیوانہ اس سے بڑھ کر کچھ اور کہہ سکتا ہے؟

نیز مرزاقادیانی کو کرشن مہاراج ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور کرشن مہاراج کافروں اور بت پرستوں کا اوتار ہے۔ ظاہر ہے وہ مسیح بن مریم کے عین اور مثیل نہیں ہوسکتا۔ حضرت مسیح کی صفات اور کرشن مہاراج کی صفات کا ایک ہونا قطعاً محال ہے۔

عدالت کی ایک نظیر

اگر عدالت سے کسی شخص کے نام کوئی ڈگری ہو جائے اور کوئی دوسرا شخص عدالت میں یہ دعویٰ دائر کرے کہ وہ ڈگری جس شخص کے نام ہوئی ہے اس سے وہ شخص حقیقتاً مراد نہیں

229

بلکہ اس کا مثیل اور شبیہ مراد ہے۔ وہ مثیل اور شبیہ میں ہوں اور اس کی جائے سکونت سے میری جائے سکونت مراد ہے۔ کیونکہ میری جائے سکونت اس کی جائے سکونت کی سمت اور محاذات میں واقع ہے تو کیا عدالت اس دعویٰ کی سماعت کی اجازت دے سکتی ہے؟ مقام حیرت ہے کہ مکاتبات اور سرکاری مراسلات میں صرف نام اور معمولی پتہ کافی ہو جاتا ہے اور کسی کو اشتباہ نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت مسیح بن مریم کے بارے میں باوجود ان بے شمار تصریحات کے اشتباہ کی گنجائش لوگوں کو نظر آتی ہے اور قادیان کے ایک دہقان کی ہرزہ سرائی اور مجنونانہ بکواس کے سننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ کسی نے خوب کہا ؎

دیوانہ گفت ابلہ باور کرد

کوئی شخص کسی کے نام کا خط یا رجسٹری یہ کہہ کر وصول نہیں کر سکتا کہ میں مکتوب الیہ کا شبیہ اور مثیل ہوں اور میرا مکان اسی سمت میں واقع ہے۔ مرزاقادیانی اگر ڈاکیہ سے کسی کے نام کی رجسٹری یہ کہہ کر وصول کر لیتے کہ میں اس مکتوب الیہ کا مثیل اور شبیہ ہوں اسی وقت مسئلہ مماثلت کی حقیقت منکشف ہو جاتی ہے یا مثلاً کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں پاکستان کا گورنر جنرل ہوں۔ اس لئے کہ قائداعظم تو مرچکے ہیں اور میں ان کا ظل اور بروز ہو کر آیا ہوں۔ لہٰذا میرا حکم ماننا ضروری ہے۔ حق تو یہ ہے کہ مرزاقادیانی اگر کسی کا بروز ہوسکتے ہیں تو مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا بروز ہوسکتے ہیں۔ اگر مرزاقادیانی دعوائے نبوت اور مسیحیت اور مہدویت میں صادق ہوسکتے ہیں تو دوسرے مدعیان نبوت اور مسیحیت اور مہدویت جو مرزاقادیانی سے پہلے گزر چکے یا آئندہ آئے یا آئیں گے ان کے کاذب ہونے کی کیا دلیل ہے اس کو بتلایا جائے؟

احادیث نزول کا تواتر

نزول عیسیٰ بن مریم کی حدیث باجماع محدثین درجہ تواتر کو پہنچی ہے۔ اب ہم بطور نمونہ چند ائمہ حدیث وتفسیر کی شہادتیں اس بارہ میں پیش کرتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:’’وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللہ a انہ اخبر بنزول عیسٰیm قبل یوم القیامۃ اماما عادلا وحکما مقسطا‘‘

اور علامہ آلوسی (روح المعانی ص۷۰۶) میں لکھتے ہیں: ’’ولا لقدح فی ذلک

230
رای ختم النبوۃ ما اجتمعت علیہ الامۃ واشتہرت فیہ الاخبار ونطق بہ الکتاب علی قول ووجوب الایمان بہ وکفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزولm فی اخر الزمان لانہ کان نبیا قبل تحلی نبیناa بالنبوۃ فی ہذہ النشاۃ‘‘

اور حافظ عسقلانی نے فتح الباری اور تلخیص الجبیر میں تصریح کی ہے یہ کہ حدیث نزول کی متواتر ہے۔(کذافی عقیدہ الاسلام ص۴)

علامہ شوکانی اپنی کتاب توضیح میں لکھتے ہیں: ’’وجمیع ما سقناہ بالغ حد التواتر کما لا یخفی علی من لہ فضل اطلاع فتقرر یجمع ما سقناہ فی ہذا الجواب ان الاحادیث الواردۃ فی المہدی المنتظر متواترۃ والاحادیث الواردۃ فی الدجال متواترۃ والاحادیث الواردۃ نزول عیسٰی متواترۃ‘‘

مرزائے قادیان کی جسارت

مرزائے قادیانی نے اوّل تو یہ کوشش کی کہ نزول مسیح کی روایتوں پر کوئی جرح کرے۔ مگر جب گنجائش نہ ملی تو صحابہ کرامi پر زبان طعن دراز کی اور بے تحاشا یہ کہہ دیا کہ ’’ا بوہریرہ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔‘‘(اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۱۲۷)

اور حضرت عبد اللہ بن مسعودq کے متعلق یہ کہہ دیا کہ: ’’حق بات یہ ہے کہ ابن سعود ایک معمولی انسان تھا۔‘‘(ازالہ اوہام ص۵۹۷، خزائن ج۳ ص۴۲۲)

سبحان اللہ ! مرزاقادیانی اور ان کے صحابہ تو بڑے ذکی اور سمجھدار ہیں اور بہت غیرمعمولی انسان ہیں۔ بھلا رسول اللہ a کے صحابہ کرامi مرزاقادیانی کے برابر کہاں سمجھ رکھ سکتے ہیں؟

مگر جب علماء اسلام نے احادیث نزول کا ایک بے پایاں دفتر پیش کردیا تو مرزاقادیانی جھنجھلا کر کہنے لگے کہ: ’’آنحضرتa پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی تھی۔‘‘(ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)

مطلب یہ ہوا کہ سبحان اللہ مسیح موعود اور دجال کی صحیح حقیقت کو مرزاقادیانی تو سمجھ گئے مگر معاذ اللہ رسول اللہ a صحیح نہ سمجھے کہ بجائے مرزاغلام احمد کی ولادت کے عیسیٰ بن مریم کا نزول سمجھ گئے اور کسی حدیث میں یہ نہ فرمایا کہ نزول مسیح سے قادیان ضلع گورداسپور

231

میں مرزاغلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کا آنا مراد ہے۔ بلکہ ساری عمر یہی فرماتے رہے کہ عیسیٰ بن مریم جن کو اللہ تعالیٰ نے انجیل عطاء فرمائی وہ قیامت کے قریب دمشق کی جامع مسجد کے منارۂ شرقی پر آسمان سے اتریں گے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! حضورa کے اس بیان سے ساری امت گمراہی میں مبتلا ہوگئی اور ابن چراغ بی بی کو چھوڑ کر ابن مریم کے خیال میں محو ہوگئی۔ حتیٰ کہ چراغ بی بی کے بیٹے کو بصد حسرت یہ شعر کہنے کی نوبت آئی۔

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

اور مسلمان یہ پڑھتے ہیں ؎

  1. چہ نسبت خاک رابا عالم پاک

    کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک

ایک طرفہ

طرفہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی جن مسیح بن مریم کے مثیل اور شبیہ ہونے کے مدعی ہیں دل کھول کر ان کو ایک مغلظ گالیاں بھی دیتے ہیں اور ایسی تہمتیں لگاتے ہیں کہ جو آج تک کسی یہودی نے بھی نہیں لگائیں۔ ہم میں تو ان گالیوں کے نقل کی بھی ہمت نہیں۔ ان کے تصور سے بھی دل کانپتا ہے۔ کسی کا دل چاہے تو مرزائیوں سے اور مرزاقادیانی کی کتابوں سے اس کی تصدیق کرے۔ سب کو معلوم ہیں۔

مسیح موعود کی صفات اور علامات

حق جل شانہ کے فضل اور رحمت اور اس کی توفیق اور عنایت سے امید واثق ہے کہ آیات شریفہ اور احادیث مذکورہ بالا سے ناظرین اور قارئین پر مسیح موعود کی حقیقت اور اس کے نزول کی کیفیت پوری طرح واضح ہوگئی ہوگی۔ لیکن اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسیح موعود کی صفات اور علامات کو ایسی خاص ترتیب کے ساتھ پیش کریں کہ جس سے ناظرین کرام کو مسیح آسمانی اور مرزائے آنجہانی کا فرق آنکھوں سے نظر آجائے۔

مرزاقادیانی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مسیح بن مریم وفات پاگئے۔ اس لئے میں غلام احمد باشندہ قادیان مسیح ہوسکتا ہوں۔ یہ دلیل بعینہٖ ایسی دلیل ہے کہ کوئی شخص دعویٰ کرے کہ شہنشاہ انگلستان کا انتقال ہوگیا۔ اس لئے میں ان کے قائم مقام ہوسکتاہوں۔

232

بے شک عقلاً سب کچھ ممکن ہے لیکن مدعی کے لئے بادشاہ کی صفات اور خصوصیات کا حامل ہونا بھی ضروری ہے۔ محض کسی بادشاہ کے مرجانے کو اپنی بادشاہت کے لئے دلیل بنانا مضحکہ خیز ہے اور جو ایسے دلائل سننے پر آمادہ ہو، وہ بھی اسی حکم میں ہے۔

احادیث مذکورہ بالا سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ آنے والے مسیح سے وہی عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ مراد ہیں جن کی ولادت اور نبوت اور معجزات کے واقعات قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص مراد نہیں کہ جو ان کا مثیل اور شبیہ ہو۔

عہد صحابہi اور تابعینw سے لے کر اس وقت تک پوری امت کے علماء اور صلحاءw اور مجددینw نے یہی سمجھا اور یہی عقیدہ رکھا کہ نزول مسیح سے اسی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جو نبی کریمa سے چھ سو برس پہلے بنی اسرائیل میں نبی بناکر بھیجے گئے اور جن پر انجیل نازل ہوئی اور مریم عذراء کے بطن سے بغیر باپ کے نفخہ جبریلی سے پیدا ہوئے جن کا مفصل قصہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔

مرزائیوں سے ایک سوال

کیا کوئی مرزائی کسی حدیث یا صحابی یا تابعی یا امت محمدیہ میں سے کسی عالم کا کوئی قول پیش کر سکتا ہے کہ قرآن وحدیث میں جس مسیح بن مریم کے نزول کی خبر دی گئی ہے اس سے مراد مرزاغلام مرتضیٰ کا بیٹا غلام احمد ہے جو چراغ بی بی کے پیٹ سے قادیان میں پیدا ہوا۔ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور مرزاغلام احمد کا باپ غلام مرتضیٰ موجود تھا۔ آنحضرتa کا اور پھر ابوہریرہq کا حدیث نزول کو روایت کر کے بطور استشہاد آیت کا پڑھنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ حضور نبی اکرمa کا مقصود انہیں مسیح بن مریم کے نزول کو بیان کرنا ہے۔ جن کے بارے میں یہ آیت اتری کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں۔ امام بخاری اور دیگر ائمہ حدیث وتفسیر کا احادیث نزول کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عمران اور سورۂ نساء کی آیات کو ذکر کرنا یہ بھی اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں انہی عیسیٰ بن مریم کا نزول مراد ہے۔ جن کی توفی اور رفع الیٰ السماء کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ قرآن اور حدیث میں جہاں مسیح بن مریم کا ذکر آیا ہے دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے۔

233

بے مثال جھوٹ

مرزاقادیانی اور مرزائیوں کا یہ دعویٰ کہ آنے والے مسیح بن مریم سے مرزاغلام احمد پنجابی مراد ہے ایسا سفید جھوٹ ہے کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں۔

مرزائی جماعت سے ایک اور سوال

جب آپ کے نزدیک حقیقتاً مسیح کا آنا مراد نہیں بلکہ مثیل اور شبیہ کا آنا مراد ہے تو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ a کے وقت سے جن جن لوگوں نے نبوت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا ان کے کاذب ہونے کی کیا دلیل ہے۔ آپ کے نزدیک مرزاقادیانی سے پہلے جن لوگوں نے نبوت اور مسیحیت کے دعوے کئے وہ بھی جھوٹے تھے اور جنہوں نے مرزاقادیانی کے بعد نبوت اور مسیحیت کے دعوے کئے وہ بھی جھوٹے۔ ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل بیان کیجئے۔ جس دلیل سے یہ سب مدعی جھوٹے ہیں۔ اسی دلیل سے آپ بھی جھوٹے ہیں اور جس دلیل سے آپ سچے ہیں اسی دلیل سے یہ بھی سچے ہیں بلکہ مرزاقادیانی کا مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ اور اقرار اس امر کی واضح دلیل ہے کہ مرزاقادیانی اپنے اعتقاد میں بھی اصلی مسیح نہیں بلکہ نقلی اور جعلی مسیح ہیں اور نقلی اور جعلی چیز جھوٹی اور کھوٹی ہوتی ہے اور جعلی سکہ کو قبول کرنا، دانشمند کا کام نہیں۔

مرزاقادیانی کو یقین کامل تھا کہ میں اصلی مسیح نہیں اس لئے اپنے کو مثیل مسیح بتلاتے تھے اور پھر طرۂ یہ کہ اس نقل اور جعل کو اصل سے افضل اور اکمل بتلاتے تھے۔

اب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چند صفات اور علامات کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں تاکہ ناظرین بخوبی یہ معلوم کر سکیں کہ مرزائے قادیان کا یہ دعویٰ کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ اگر صحیح ہے تو مرزاقادیانی اپنے میں ان صفات اور علامات کا ہونا ثابت کریں جو آنے والے مسیح کی احادیث میں مذکور ہیں۔

الفاظ حدیث اور ان کا مطلب

’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a والذی نفسی بیدہ
234

لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم۔ حکما عدلا‘‘{رسول اللہ a نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے درآنحالیکہ کہ وہ حاکم اور عادل ہوں گے۔ شریعت محمدیہ کے موافق فیصلہ کریں گے۔}

’’فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر‘‘

(ترجمہ) یعنی وہ مسیح نازل ہوکر صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا یعنی آپ کے دور حکومت میں عیسائیت اور یہودیت کا خاتمہ ہو جائے گا اور کوئی صلیب پرست اور خنزیر خور باقی نہ رہے۔ خنزیر کے قتل کو خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا کہ تمام جانوروں میں خنزیر بے حیائی اور بے غیرتی میں مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں خنزیر کھاتی ہیں وہی بے حیائی اور بے غیرتی میں مشہور ہیں۔ حضرت مسیح کی آمد کی برکت سے زمین سے بے غیرتی اور بے حیائی نیست اور نابود ہو جائے گی۔ بے غیرتی اور بے حیائی اور اس قسم کے عیش وعشرت کے سامان سب ختم فرمادیں گے۔

مرزائے آنجہانی پر ان کا انطباق

آنحضرتa نے اس حدیث میں آنے والے مسیح کے اوصاف بیان فرمائے۔ پہلا وصف یہ کہ وہ ابن مریم ہوگا۔ یعنی اس مریم کا بیٹا ہو گا جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور مرزائے آنجہانی، غلام مرتضیٰ کا بیٹا تھا جو چراغ بی بی کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ابن مریم کے نزول سے ابن غلام مرتضیٰ قادیانی کی پیدائش مراد ہے۔ حدیث کے ساتھ تمسخر ہے۔ دوسرا اور تیسرا وصف اس آنے والے مسیح کا یہ بیان فرمایا کہ وہ دنیا کا حاکم اور عادل ہوگا۔ مرزاقادیانی کو قادیان جیسے گاؤں کی بھی حکومت حاصل نہ تھی۔ اہل صلیب کے محکوم اور دعاگو تھے۔ (اور علیٰ ہذا) عدل اور انصاف پر قادر بھی نہ تھے۔ جب کبھی مرزاقادیانی پر کہیں کوئی ظلم ہوتا تو اس کے عدل وانصاف کے لئے انگریزی عدالت میں عدل وانصاف کی درخواست پیش کرتے اور گورداسپور کے حکام سے ملتے اور کچہری میں جاکر ادب سے ان کو سلام کرتے اور صلیب پرستوں کا ٹکٹ اور ان کا سکہ استعمال کرتے۔

مرزاقادیانی کی آمد سے صلیب اور صلیب پرستوں کو ذرہ برابر کوئی نقصان نہیں

235

پہنچا۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ’’میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے آیا ہوں۔‘‘(مکتوبات احمدیہ ج۶ حصہ اوّل ص۱۶۲)

مگر وہ ستون مرزاقادیانی کی آمد سے ٹوٹتا تو کیا اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا اور مرزاقادیانی مع تمام امت کے اس کی مضبوطی کے لئے دعا کرتے رہے۔

تنبیہ

جاننا چاہئے کہ بے غیرت آدمی کبھی بہادر نہیں ہوتا۔ جب بے غیرتی آتی ہے دل سے شجاعت نکل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ عظیم میں گوروں کی فوج اس شجاعت کے ساتھ نہ لڑ سکی۔ جو مسلمانوں کی فوجوں نے جاپان اور جرمن کے مقابلہ میں بہادری دکھلائی۔ بہادر تو مسلمان ہی ہے۔ صاحب بہادر، بہادر نہیں۔ اس کے پاس سامان بہت ہے۔ ایک کمزور لڑکی جس کے پاس رائفل ہو ایک نہتے فوجی جرنیل پر گولی چلاسکتی ہے مگر بہادر نہیں کہلاسکتی۔

’’ویضع الحرب‘‘ اور وہ مسیح آکر لڑائی کو اٹھادے گا اور ایک روایت میں ہے:’’ویضع الجزیۃ‘‘ یعنی جزیہ کو اٹھادے گا۔ یعنی سب مسلمان ہو جائیں گے اور کوئی کافر اور ذمی باقی نہ رہے گا جس پر جزیہ اور خراج لگایا جائے۔

مرزاقادیانی دوسروں کا جزیہ تو کیا اٹھاتے وہ اپنا ہی جزیہ نہ اٹھا سکے۔ ساری عمر نصاریٰ کے باج گزار رہے اور اپنا افلاس ظاہر کر کے انکم ٹیکس کی معافی کی التجاء کرتے رہے۔

فائدہ

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہاد اور جزیہ کو منسوخ نہیں فرمائیں گے بلکہ اس وقت جہاد اور جزیہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔ کیونکہ اس وقت کوئی کافر ہی نہ رہے گا جس سے جہاد کیا جائے اور جزیہ لیا جائے۔ منسوخ تو جب ہوتا کہ کافر باقی رہتے اور پھر ان سے جہاد اور جزیہ اٹھالیا جاتا۔

236

نیز اس وقت جہاد اور جزیہ کا ختم ہوجانا نبی اکرمa ہی کا حکم ہے۔ حضرت عیسیٰ کا حکم نہیں۔ حضرت مسیح نازل ہونے کے بعد شریعت محمدیہa کے اس حکم کو جاری اور نافذ فرمادیں گے۔

’’ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد‘‘ اور مال کو پانی کی طرح بہادیں گے۔ یعنی حضرت مسیح کے زمانہ میں مال کی اتنی کثرت ہوگی کہ سب غنی ہو جائیں گے اور کوئی صدقہ اور خیرات کا قبول کرنے والا نہ ملے گا۔

’’حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا ومافیہا‘‘

یعنی حضرت مسیح کے زمانہ میں عبادت ایسی لذیر ہوجائے گی کہ ایک سجدہ کی لذت کے مقابلہ میں دنیا اور مافیہا کی دولت حقیر معلوم ہوگی یا یہ معنی ہیں اس زمانہ میں اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ صرف سجدہ اور عبادت رہ جائے گا۔ صدقہ اور زکوٰۃ کا ذریعہ ختم ہو جائے گا۔ اس لئے کہ سب غنی ہو جائیں گے۔ صدقہ لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔

مرزاقادیانی کے زمانہ میں اس کے برعکس ہوا۔ مرزاقادیانی قادیان میں پیدا ہوئے۔ ہندوستان سے اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مسلمان غریب اور فقیر ہوئے۔ حتیٰ کہ مرزاقادیانی بھی لوگوں سے اپنے مکان اور لنگرخانہ اور پریس اور کتب خانہ کے لئے چندہ مانگنے پر مجبور ہوئے۔

مرزاقادیانی کے زمانہ میں خداپرستی کے بجائے دنیا پرستی اور زرپرستی کا غلبہ ہوا۔ حتیٰ کہ مرزاقادیانی کا گھرانہ عشرت کدہ بنا اور ابھی مرزاقادیانی کے خلیفہ کاسد مرزامحمود زندہ ہیں۔ ان کے گھرانہ کو جاکر دیکھ لو۔ فرنگی کی معاشرت اور ان کی معاشرت اور سامان عیش وعشرت ہیں۔ کوئی فرق نہ پاؤ گے اور خداوند ذوالجلال سے غفلت کے جملہ سامان تم کو نظر آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس شر اور فتنہ سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین!

  1. گرچہ درویشی بود سخت اے پسر

    ہم ز درویشی نباشد خوب تر

خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں تمام لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ مرزاقادیانی کے زمانہ میں اس کے برعکس ہوا۔ یہود اور نصاریٰ تو کیا اسلام میں داخل ہوتے جو پچاس کروڑ مسلمان دنیا میں موجود تھے۔ مرزاقادیانی کے آنے کے بعد وہ بھی

237

اسلام سے خارج ہوگئے اور سوائے چند ہزار قادیانیوں کے روئے زمین پر کوئی مسلمان باقی نہ رہا۔

مرزاقادیانی کے ہاتھ پر اتنے لوگ بھی مسلمان نہ ہوئے جتنا کہ شیخ عبدالقادر جیلانیv اور خواجہ معین الدین اجمیریv کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ ہندوستان تو سارا کفرستان تھا۔ اولیاء اللہ اور علماء اور صلحاء کے مواعظ سے کروڑوں ہندو مسلمان ہوئے۔ مگر مرزاقادیانی کی ذات سے اسلام کوکوئی فائدہ نہ پہنچا۔ مرزاقادیانی کی وجہ سے ہندو اور عیسائی تو مسلمان نہ ہوئے البتہ بہت سے مسلمان مرتد ہوگئے۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘

’’ثم یقول ابوہریرۃ واقراوا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیداً‘‘ ابوہریرہq حضرت مسیح بن مریم کے نزول کی حدیث بیان کرنے کے بعد حاضرین مجلس سے فرماتے کہ اگر تم نزول مسیح کے بارے میں قرآن کریم سے شہادت چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ’’وان من اہل الکتاب۔ الخ‘‘ یعنی حضرت مسیح کے نزول کے بعد یہود اور نصاریٰ میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا کہ جو حضرت مسیح پر حضرت مسیح کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی تھی۔ ختم ہوئی۔

خلاصہ یہ کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں تمام یہود اور نصاریٰ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔

مرزاقادیانی کا اپنے اقرار کے بموجب کاذب ہونا

اس متفق علیہ حدیث کی بناء پر تو آپ نے دیکھ لیا کہ مرزاقادیانی مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔ اب یہ دیکھئے کہ مرزاقادیانی اپنے صریح اقرار اور قول کے بموجب بھی مسیح موعود نہیں ہوسکتے۔ مرزاقادیانی کا مقولہ ہے کہ: ’’میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے آیا ہوں اور اس لئے کہ بجائے تثلیث پرستی کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرتa کی جلالت شان کو ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہئے تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مرگیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘

238

یہ مضمون (اخبار البدر مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء، مکتوبات احمدیہ ج۶ حصہ اوّل ص۱۶۲) میں ہے اور اس کی مزید تائید اسی اعلان کے (حاشیہ ص۱۶،۱۷) سے ہوتی ہے جو (حقیقت الوحی ص۱۶،۱۷، خزائن ج۲۲ ص۴۲۷،۴۲۸) کے آخر اور تتمہ سے پہلے ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے: ’’میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس دنیا سے اٹھایا نہ جاؤں گا کیونکہ خداتعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رک نہیں سکتا۔‘‘ پھر اس حاشیہ کے شروع میں یہ بھی ہے کہ: ’’میرا یہ اعلان صرف میری اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۷، خزائن ج۲۲ ص۴۱۹)

بے شک

یہ اعلان منجانب اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر آپ کی حقیقت واضح کرنے کے لئے واضح اور صریح اعلان آپ کی زبان اور قلم سے کرایا ہے تاکہ مسلمان عموماً اور مرزائی خصوصاً مرزاقادیانی کے صدق اور کذب کو مرزاقادیانی کے قول کے بموجب بھی جانچ لیں۔

الحمدﷲ! مرزاقادیانی دنیا سے چلے گئے اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹتا تو کیا اپنی جگہ سے بھی نہ ہلا۔ اسلام کو کوئی غلبہ نہ ہوا۔ بلکہ اس کے برعکس عیسائیوں کو ترقی اور عروج ہوا اور اسلامی حکومتیں ختم ہوئیں اور جہاں جہاں مسلمان تھے وہ نصاریٰ کے محکوم اور تختہ جوروجفا بنے اور مرزائی امت تو نصاریٰ کی زرخرید غلام ہی بن گئی جس کا فریضہ دینی اور دنیوی نصاریٰ کی شکرگزاری اور دعاگوئی رہ گیا۔

غور تو کیجئے کہ تیرہ سو سال سے جس مسیح کی آمد کی خوشخبری مسلمانوں کے کانوں میں گونج رہی ہے معاذ اللہ ! کیا وہ ایسا ہی مسیح ہے کہ جو صلیب پرستوں اور اسلامی حکومتوں کے دشمنوں کا مداح اور ثناخواں ہو اور ان کے شکر اور دعا میں مع اپنی تمام امت کے رطب اللسان ہو اور اسلامی حکومتوں کے زوال پر چراغاں کرنے والا ہو اور مسلمانوں کے قاتلوں کو مبارک باد کے تار دینے والا ہو۔ مسیح کا کام تو کفر کی حکومت کو ختم کرنا ہے، نہ کہ دشمنان اسلام کی تائید اور حمایت کرنا اور ان کی بقاء اور ترقی کے لئے دل وجان سے دعا کرنا اور ان کے سایہ کو سایہ رحمت سمجھنا۔

239

مرزائیو! خدارا غور کرو اور اپنے اوپر رحم کرو۔ اپنے ایمان کی حفاظت کرو اور ایک جھوٹے کے پیچھے اپنی عاقبت نہ خراب کرو اور ان احادیث کو پڑھو اور آنحضرتa نے جو آنے والے مسیح کے نشانات اور علامات بتلائی ہیں ان میں غور کرو کہ ان کا کوئی شمہ اور شائبہ بھی مرزاقادیانی میں پایا جاتا ہے۔ حاشا وکلا بلکہ معاملہ برعکس ہے۔ حضور پرنورa نے جو بھی مسیح موعود کی علامت اور نشانی بتلائی ہے مرزاقادیانی میں وہ نشانی صرف مفقود ہی نہیں بلکہ اس کی ضد اور صریح نقیض ان میں موجود ہے۔

حضرت مسیح بن مریم کی صفات

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ’’ولتذہبن الشحناء والتباغض والتحاسد‘‘ یعنی مسیح کی آمد کے بعد مسلمانوں کے دل کینہ اور عداوت اور حسد سے پاک ہو جائیں گے۔

یہ حضرت مسیح کی آمد کی دسویں نشانی ہے اور یہ حدیث مسند احمد اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں بھی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گیارھویں نشانی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق شام کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر آسمان سے نازل ہوں گے۔ جیسا کہ پہلے حدیث سوم میں گزر چکا۔

حدیث میں ہے کہ عیسیٰ بن مریم نازل ہونے کے بعد دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔

لد ملک شام (کا وہ حصہ جو اسرائیل کے پاس ہے) میں ایک جگہ کا نام ہے۔ حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حج اور عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ آئیں گے اور پھر مدینہ آئیں گے اور میری قبر پر حاضر ہوکر مجھ پر سلام کریں گے۔

حدیث میں ہے کہ نزول کے بعد چالیس سال زندہ رہیں گے۔ مدینہ منورہ میں وفات پائیں گے اور روضہ اقدس میں حضور پرنورa کے قریب مدفون ہوں گے۔

مرزائے آنجہانی کی جانچ پڑتال

مرزاقادیانی کی آمد کے بعد مسلمانوں میں جس قدر اخلاق رذیلہ کی زیادتی ہوئی ہے وہ لوگوں کے سامنے ہے۔ عیاں راچہ پیاں!

240

مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ نزول مسیح بن مریم سے مجازاً مرزاغلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ کی قادیان میں ولادت مراد ہے۔ مگر منارہ سے حقیقی معنی مراد ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی نے نازل ہونے کے بعد چندہ کر کے قادیان میں ایک منارہ تعمیر کرایا جس کا نام منارۃ المسیح رکھا۔ سبحان اللہ ! نزول تو پہلے ہوگیا اور منارہ بعد میں چندہ کر کے تعمیر کرایا گیا۔ جیسا کہ کسی کا واقعہ مشہور ہے کہ ایک شخص قضاء حاجت کرنے کے لئے پانی کا برتن لے کر چلا۔ برتن کی تلی میں سوراخ تھا۔ اس لئے طہارت تو پہلے کر لی اور قضاء حاجت بعد میں کی۔ اسی طرح مسیح قادیان نازل تو پہلے ہوگئے اور منارہ بعد میں بنوایا کہ آخر کہاں تک حدیثوں میں تاویل کروں اور ساری باتوں کو مجاز پر محمول کروں۔ سوائے منارہ بنانے کے اور کوئی شئے قدرت میں نظر نہ آئی۔ اس لئے حدیث میں صرف منارہ کا لفظ حقیقی معنی میں رہ گیا اور باقی سب مجاز اور استعارہ۔ مرزاقادیانی کے نزدیک باب لد پر قتل کرنے سے لدھیانہ میں کسی کافر کو مناظرہ میں شکست دینا مراد ہے۔

مرزاقادیانی نے نہ حج کیا اور نہ عمرہ اور نہ مدینہ منورہ میں حاضری نصیب ہوئی۔

مرزاقادیانی دعوائے نبوت کے بعد چند سال زندہ رہے۔

مرزاقادیانی لاہور میں مرے اور قادیان میں دفن ہوئے۔

اے مسلمانو! مسیح موعود کی یہ علامتیں ہیں جو احادیث میں تم نے پڑھ لی ہیں اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ان میں سے مرزاقادیانی میں کوئی علامت بھی نہیں پائی جاتی اور ان صریح احادیث میں مرزائی جو تاویلیں اور تحریفیں کر کے ان احادیث کو مرزاقادیانی پر منطبق کرنا چاہتے ہیں تو ایسی تاویلوں سے جس کا جی چاہے مسیحیت کا دعویٰ کرے اور اس سے بھی بڑھ کر آیات اور احادیث کو اپنے اوپر منطبق کرے اور جس کا جی چاہے ایسے ہوا پرستوں پر ایمان لائے۔ نواب بے ملک اور فرعون بے سامان ایسے ہی لوگوں کی مثال ہے۔ وما علینا الا البلاغ!

ضمیمہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شریعت محمدیہ کا تابع کریں گے

تمام امت محمدیہ کا یہ اجماع عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے

241

بعد شریعت محمدیہ کا اتباع کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا اتباع ان کے رفع الیٰ السماء تک محدود تھا۔ خاتم الانبیاءa کی بعثت کے بعد تمام جن وانس پر شریعت محمدیہ کااتباع واجب ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ اور رسول ہوں گے مگر ان کا نزول نبی اور رسول ہونے کی حیثیت سے نہ ہوگا بلکہ شریعت اسلامیہ اور امت محمدیہ کے ایک مجدد ہونے کی حیثیت سے ہوگا۔ نزول کے بعد انجیل کا اتباع نہیں فرمائیں گے بلکہ کتاب وسنت کا اتباع فرمائیں گے۔

حافظ عسقلانی ینزل عیسیٰ بن مریم حکماً عدلاً کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’ای حاکما والمعنی انہ ینزل حاکما بہذہ الشریعۃ فان ہذہ الشریعۃ باقیۃ لاتنسخ بل یکون عیسٰی حاکما من حکام ہذہ الامۃ‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۶)

’’وقال النووی فی شرح مسلم لیس المراد بنزول عیسٰی انہ ینزل بشرع ینسخ شرعنا ولا فی الاحادیث شی من ہذا بل صحت الاحادیث بانہ ینزل حکما مقسطا یحکم بشرعنا ویحیی من امور شرعنا ماہجرہ الناس ومن الاحادیث الواردۃ فی ذلک ما اخرجہ احمد والبزار والطبرانی من حدیث سمرۃ عن رسول اللہ a قال ینزل عیسٰی بن مریم مصدقا بمحمدa وعلی ملتہ فیقتل الدجال ثم وانما ہو قیام الساعۃ۔ واخرج الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی البعث بسند جید عن عبد اللہ بن مغفل قال قال رسول اللہ a یلبث الدجال فیکم ماشاء اللہ ثم ینزل عیسٰی بن مریم مصدقا بمحمد وعلی ملتہ اماما مہدیا وحکما عدلا فیقتل الدجال واخرج ابن حبان فی صحیحۃ عن ابی ہریرۃq قال سمعت رسول اللہ a یقول ینزل عیسٰی بن مریم فیومہم فاذا رفع راسہ من الرکعۃ قال سمع اللہ من حمدہ قتل اللہ الدجال واظہرہ المؤمنین‘‘
’’ووجہ الاستدلال من ہذا الحدیث ان عیسٰی یقول فی صلوتہ یومئذ سمع اللہ لمن حمدہ وہذا الذکر فی الاعتدال من صلٰوۃ ہذہ الامۃ کما ورد فی حدیث ذکرتہ فی کتاب المعجزات والخصائص واخرج ابن
242
عساکر عن ابی ہریرۃ قال یہبط المسیح بن مریم فیصلی الصلٰوت ویجع الجمع فہذا صریح فی انہ ینزل بشرعنا لان مجموع الصلٰوۃ الخمس وصلٰوۃ الجمعۃ لم یکونا فی غیر ہذہ الملۃ واخرج ابن عساکر من حدیث عبد اللہ بن عمرو بن العاص قال قال رسول اللہ a کیف تہلک امۃ انا اولہا وعیسٰی بن مریم اخرہا کذافی الاعلام بحکم عیسٰیm‘‘ (الحافظ السیوطی ج۲ ص۱۵۵، من الحاوی)

یہ شیخ جلال الدین سیوطیv کی عبارت ہے جس میں ان روایات کو ذکرفرمایا ہے جن میں اس امر کی تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شریعت محمدیہ کے متبع ہوں گے اور آپa ہی کی شریعت کے مطابق نماز اور جمعہ اور دیگر عبادات ادا فرمائیں گے۔

شیخ محی الدین بن عربیv نے فتوحات مکیہ کے باب۱۴ میں لکھا ہے کہ نبوت کا دروازہ بعد رسول اللہ a کے بند کر دیا گیا۔ اب کسی کو یہ بات میسر نہیں کہ کسی شریعت منسوخہ سے خدا کی عبادت کرے اور عیسیٰ علیہ السلام جس وقت اتریں گے تو اسی شریعت محمدیہa پر عمل کریں گے۔

اور امام ربانی شیخ مجدد الف ثانیv فرماتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰk آسمان سے نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسلa کی شریعت کی متابعت کریں گے۔‘‘ (مکتوبات ص۳۶، دفتر سوم مکتوب نمبر۱۷)

حضرت عیسیٰk کو احکام شریعت کا علم کس طرح ہوگا؟

شیخ جلال الدین سیوطیv نے اسی سوال کے جواب میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام ’’آلاعلام بحکم عیسٰیm‘‘ ہے جو مصر میں طبع ہوا ہے۔ حضرات اہل علم اصل رسالہ کی مراجعت فرمائیں۔ ہم بطور خلاصہ کچھ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

شیخ سیوطیv فرماتے ہیں کہ بروز پنج شنبہ ۶؍جمادی الاوّل ۸۸۸ھ میں مجھ سے یہ سوال کیاگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد کس شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ آیا اپنی شریعت کے مطابق حکم کریں گے یا شریعت محمدیہ کے مطابق اور اگر شریعت محمدیہ کے مطابق حکم دیں گے تو آپ کو شریعت محمدیہ کے احکام کا علم کیسے ہوگا اور کیا ان پر وحی نازل

243

ہوگی یا نہیں اور اگر وحی نازل ہوگی تو وحی الہام ہوگی یا وحی ملکی ہوگی۔ یعنی بذریعہ فرشتہ کے وحی نازل ہوگی۔ یہ تین سوال ہوئے اب ہم بالترتیب جواب ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

سوال اوّل اور اس کا جواب

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شریعت محمدیہ کا اتباع کریں گے۔ تفصیل اس جواب کی گزر گئی۔

سوال دوم اور اس کا جواب

دوسرا سوال یہ تھا کہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شریعت محمدیہ کے احکام کا علم کس طرح ہوگا؟ شیخ جلال الدین سیوطیv نے اس کے چار طریقے ذکر فرمائے ہیں۔ جن کو ہم اختصار اور وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

طریقہ اوّل۱؎

جس طرح ہر نبی اور رسول کو بذریعہ وحی اپنی شریعت کا علم ہوتا ہے اس طرح ہر نبی کو بذریعہ وحی کے انبیاء سابقین اور لاحقین یعنی گزشتہ اور آئندہ انبیاءo کی شریعتوں کا علم بھی ہوتا ہے۔ جبرائیلm کی زبانی یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں پیغمبر پر فلاں کتاب نازل ہوئی اور فلاں نبی پر فلاں کتاب نازل ہوئی اور توریت اور انجیل اور زبور میں تو خاص طور پر آنحضرتa کا ذکر اور آپa کی کتاب اور آپa کی شریعت اور آپa کے

۱؎ ’’قال السیوطی الطریق الاول ان جمیع الانبیاء قد کانوا یعلمون فی زمانہم بجمیع شرائع من قبلہم ومن بعدہم بالوحی من اللہ علی لسان جبریل وبالتنبیہ علی بعض ذلک فی الکتاب الذی انزل علیہم والدلیل علی ذلک انہ ورد فی الاحادیث والاثار ان عیسٰیm بشرامۃ بمجییٔ النبیa واخبرہم بجملۃ من شریعۃ یاتی بہا تخالف شریعۃ عیسٰی وکذلک وقع لموسی داؤدn لی اخر ماقال۔ کذافی الاعلام ج۲ ص۱۵۷، من الحاوی، بعد ازاں شیخ سیوطیv‘‘ نے توریت اور انجیل اور زبور میں جو بشارتیں حضور پرنورa کی آمد اور آپa کی شریعت اور صحابہ کرامi کے متعلق ہیں ان کو نقل کیا ہے۔ اہل علم اصل کی مراجعت کریں۔

244

صحابہi کے اوصاف مذکور ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے اہم مقاصد میں یہ تھا۔ ’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ یعنی اپنی امت کو اس کی بشارت سنا دیں کہ جس نبی آخرالزمانa کی تمام انبیاءo خبر دیتے آئے۔ اب اس کا زمانہ قریب آگیا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے باربار اپنی امت کو اس کی تاکید اکید کی کہ اگر اس نبی آخرالزمان کا زمانہ پاؤ تو ضرور ان پر ایمان لانا اور آپa کے صحابہ کرامi کے اوصاف بتلائے۔ صحابہi کے اوصاف میں یہ بھی ارشاد فرمایا:’’انا جیلہم فی صدورہم رہبان باللیل لیوث بالنہار‘‘ ان کی انجیل ان کے سینوں میں محفوظ ہوگی یعنی وہ اپنی کتاب یعنی قرآن کے حافظ ہوں گے۔ رات کے راہب اور دن کے شیر ہوں گے۔

طریقہ دوم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن کریم کو دیکھ کر شریعت کے تمام احکام سمجھ جائیں گے۔ نبی اور رسول کا فہم اور ادراک تمام امت کے فہم اور ادراک سے بالا اور برتر ہوتا ہے۔ امت کے تمام فقہاء اور مجتہدین نے مل کر جو شریعت کے احکام کو سمجھا ہے حضرت عیسیٰv کا تنہا فہم وادراک ہزاراں ہزار درجہ اس سے بلند اور برتر ہوگا۔ نبی کی قوت قدسیہ بمنزلہ آفتاب کے ہے اور فقہاء اور ائمہ اجتہاد کی قوت ادراکیہ بمنزلہ ستاروں کے ہے۔

طریقہ سوم

حافظ ذہبی اور حافظ سبکی فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود نبی ہونے کے صحابی بھی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی وفات سے پہلے نبی اکرمa کو دیکھا۔ علاوہ شب معراج کے باربار نبی اکرمa سے ملاقات کرنا روایات سے ثابت ہے۔ پس جس طرح صحابہ کرامi کو حضورa سے بلاواسطہ آپa کی شریعت کا علم حاصل ہوا اسی طرح اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضور پرنورa کی شریعت کا علم حضورa سے بلاواسطہ ہوا ہو تو کوئی مستعبد نہیں۔ خصوصاً جب کہ احادیث میں ہے کہ حضورa نے فرمایا کہ میرے اور ابن مریم کے درمیان کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں۔ وہ میرے بعد میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے اور ظاہر ہے جب عیسیٰ علیہ السلام حضورپرنورa کے خلیفہ ہوں گے تو ضرور

245

آپa کی شریعت سے واقفیت ہوگی۔(ابن عساکر، عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ a الا ان ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولا رسول الا انہ خلیفتی فی امتی بعدی۔ کذافی الاعلام ج۱ ص۱۶۱، من الحاوی ۱۲)

حافظ ذہبی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہیں اور صحابی بھی اور حضورa کے آخری صحابیq ہیں۔ یعنی سب سے اخیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگی۔ باقی تمام صحابہ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے گزر گئے۔(کذافی الاعلام ج۲ ص۱۶۱، من الحاوی)

طریقہ چہارم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد روحانی طور پر آنحضرتa سے بحالت بیداری باربار ملاقات فرمائیں گے اور جس چیز کی ضرورت ہوگی وہ براہ راست بالمشافہ حضورa سے دریافت فرمالیں گے۔

احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرمa اپنی حیات مبارکہ میں حضرات انبیاء سابقینo کی ارواح طیبہ سے ملاقات فرماتے تھے۔ مکہ مکرمہ سے جب معراج کے لئے براق پر روانہ ہوئے تو راستہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰo سے ملاقات ہوئی۔ ان حضرات نے حضورa کو سلام کیا اور حضورa نے ان کو سلام کا جواب دیا۔ ایک مرتبہ حضورa نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا اور موسیٰm کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔

پس جس طرح نبی اکرمa اس عالم میں تشریف فرما تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰn عالم برزخ میں تھے اور ملاقات ہوتی رہی اور سلام وکلام ہوتا رہا۔ حضورa نے شب اسراء میں بیت المقدس میں امامت فرمائی اور تمام انبیاءo نے حضورa کی اقتداء کی۔ اسی طرح اس کا برعکس بھی ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد اس عالم میں تشریف فرما ہوں اور حضور پرنورa عالم برزخ میں ہوں اور طرفین میں ملاقات ہوسکے اور افاضہ اور استفاضہ کا سلسلہ جاری رہ سکے۔

’’وان جماعۃ من ائمۃ الشریعۃ نصوا علی ان من کرامۃ الولی انہ یری النبیa ویجتمع بہ فی الیقظۃ ویاخذ عنہ ماقسم لہ من المعارف
246
والمواہب ومن نص علی ذلک من ائمۃ الشافیعۃ الغزالی والبارزی والتاج السبکی والعفیف الیافعی ومن ائمۃ المالکیۃ القرطبی وابن ابی جمرۃ وابن الحاج فی المدخل وقد حکی عن بعض الاولیاء انہ حضر مجلس فقیہ فروی ذلک الفقیہ حدیثا فقال لہ الولی ہذا الحدیث باطل فقال الفقیہہ ومن این لک ہذا فقال۔ ہذا النبیa واقف علی رائسک یقول انی لم اقل ہذا الحدیث وکشف للفقیہ فراہ وقال الشیخ ابوالحسن الشاذلی لوحجبت عن النبیa طرفۃ عین ما عددت نفسی مع المسلمین

فاذا کان ہذا حال الاولیاء مع النبیa فعیسٰی النبیa اولی بذالک ان یجتمع بہ ویاخذ عنہ ما اراد من احکام شریعۃ من غیر احتیاج الٰی اجتہاد ولا تقلید الحفاظ (کذافی اعلام ج۲ ص۱۶۳، من الحاوی)‘‘ {اور ائمہ شریعت کی ایک جماعت نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ ولی کی کرامات میں سے یہ ہے کہ وہ حالات بیداری میں نبی کریمa کی زیارت کرتا اور آپa کی ہم نشینی کا شرف حاصل کرتا ہے اور آپ سے علوم ومعارف میں سے جو اس کے لئے مقدر ہے۔ حاصل کرتا ہے اور ائمہ شافعیہ میں سے امام غزالیv اور بارزیv اور تاج الدین سبکیv اور عفیف یافعیv نے اور ائمہ مالکیہ میں سے قرطبیv ابن ابی جمرہv اور ابن حاجv نے مدخل میں تصریح کی ہے اور بعض اولیاء سے منقول ہے کہ وہ کسی فقیہ کی مجلس میں تشریف لے گئے۔ ان سے اس فقیہ نے کوئی حدیث روایت کی، تو ان ولی نے یہ فرمایا کہ یہ حدیث تو باطل ہے۔ تو فقیہ نے فرمایا کہ کیسے؟ انہوں نے کہا کہ دیکھئے یہ نبی کریمa تمہارے سرہانے تشریف فرما ہیں اور فرمارہے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو نہیں کہا اور ان فقیہ کو بھی مکشوف ہوا اور انہوں نے بھی نبی اکرمa کی بحالت بیداری اپنی آنکھوں سے زیارت کی اور شیخ ابوالحسن شاذلیv فرماتے ہیں کہ اگر میں ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی حضورa کی زیارت سے حجات میں رہوں تو میں اپنے کو مسلمان نہ سمجھوں۔ پس جب اولیاء کرام کا نبی کریمa کے ساتھ یہ حال ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو بدرجہ اولیٰ آپaکے ساتھ مجتمع

247

ہوں گے اور آپa سے جو چاہیں گے احکام شرعیہ کا استفادہ فرمائیں گے اور آپ کو کسی اجتہاد یا حفاظ حدیث کی تقلید کی حاجت نہ ہوگی۔}

سوال سوم اور اس کا جواب

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوگی اور وحی کس قسم کی ہوگی۔ وحی نبوت ہو گی یا وحی الہام؟

جواب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نبوت کا نزول ہوگا۔ مسند احمد اور صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد اور ترمذی اور نسائی میں نواس بن سمعانq کی حدیث میں ہے:’’کذلک اوحی اللہ الٰی عیسٰی بن مریم الی قدر اخرجت عباداً من عبادی لابدان لہم بقتالہم فخرج عبادی الٰی الطور فیبعث اللہ یاجوج وماجوج (الحدیث)‘‘ {حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اللہ تعالیٰ کی وحی آئے گی کہ تم مسلمان کو لے کر کوہ طور پر چلے جاؤ۔}

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ نزول کے بعد وحی کا نزول ہوگا اور لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ حضورa کے بعد جبریل امین زمین پر نہیں آئیں گے یہ بالکل بے اصل ہے۔ شب قدر میں ملائکہ اور جبریل امین کا زمین پر اترنا قرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ ’’تنزل الملئکۃ والروح فیہا باذن ربہم من کل امر سلم ہیی حتی مطلع الفجر‘‘ حدیث میں ہے کہ جنبی کو حالت جنابت میں بغیر وضو کے نہ سونا چاہئے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ جبریل امین اس کی موت کے وقت حاضر نہ ہوں۔ معلوم ہوا کہ مرتے وقت مومن کے پاس فرشتے اور جبریل امین حاضر ہوتے ہیں۔ اگر مرتے وقت وہ باوضو ہو۔

’’وقد زعم زاعم ان عیسٰی بن مریم اذا نزل لا یوحی الیہ وحیا حقیقیا بل وحی الہام وہذا القول ساقط مہمل لا مرین احدہما منابذتہ للحدیث المذکور والثانی ان ماتوہمہ ہذا الزاعم من تعذ رالوحی الحقیقی فاسد لان عیسٰیm نبی فای مانع۔ الخ! (کذافی الاعلام ج۲ ص۱۶۵، من الحاوی)‘‘ {یعنی جس شخص نے یہ گمان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر حقیقی وحی کا نزول نہ ہوگا بلکہ وحی الہام ہوگی۔ یہ زعم فاسد اور مہمل ہے۔ اوّل تو اس حدیث صحیح کے خلاف ہے جو

248

بیان کر چکے۔ دوم یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور نبی سے وصف نبوت کبھی زائل نہیں ہوسکتا۔}

ظہور مہدی

’’مہدی‘‘ لغت میں ہدایت یافتہ شخص کو کہتے ہیں۔ معنی لغوی کے لحاظ سے ہر ہدایت یافتہ شخص کو مہدی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن احادیث میں جس مہدی کا ذکر آیا ہے اس سے ایک خاص شخص مراد ہیں جو اخیر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے ظاہر ہوں گے۔

ظہور مہدی کے بارہ میں احادیث اور روایات اس درجہ کثرت کے ساتھ آئی ہیں کہ درجہ تواتر کو پہنچی ہیں اور اس درجہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ آئی ہیں کہ ان میں ذرہ برابر اشتباہ کی گنجائش نہیں۔ مثلاً امام مہدی کا کیا نام ہوگا۔ ان کا حلیہ کیا ہوگا، ان کی جائے ولادت کہاں ہوگی اور جائے ہجرت اور جائے وفات کہاں ہوگی۔ کیا عمر ہوگی۔ اپنی زندگی میں کیا کیا کریں گے۔ اوّل بیعت ان کے ہاتھ پر کہاں ہوگی اور کتنی مدت تک ان کی سلطنت اور فرمانروائی رہے گی۔ وغیرہ وغیرہ! غرض یہ کہ تفصیل کے ساتھ ان کی علامتیں احادیث میں مذکور ہیں۔

تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں امام مہدی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں وہ ایک مستقل باب میں درج ہیں۔ شیخ جلال الدین سیوطیv نے امام مہدی کے بارے میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس میں ان تمام احادیث کو جمع کیا ہے کہ جو امام مہدی کے بارے میں آئی ہیں۔ ’’العرف الوردی فی اخبار المہدی‘‘ (جو چھپ چکا ہے) علامہ سفارینی نے شرح عقیدۂ سفارینیہ میں ان تمام احادیث کی تلخیص کی ہے اور ان کو خاص ترتیب سے بیان کیا ہے۔(حضرات اہل علم شرح عقیدۂ سفارینیہ ج۲ ص۶۷ کی مراجعت کریں)

۱… حدیث میں ہے کہ مہدی موعود اولاد فاطمہt سے ہوں گے۔ ’’قال رسول اللہ a المہدی من عترتی من اولاد فاطمۃ (رواہ ابوداؤد)‘‘ اور امام مہدی کے آل رسول اور اولاد فاطمہ سے ہونے کے بارے میں روایات اس درجہ کثیر ہیں کہ درجہ تواتر تک پہنچ جاتی ہیں۔(شرح عقیدۂ سفارینیہ ج۲ ص۶۹)

249

۲… حدیث میں ہے کہ حضورa نے فرمایا کہ دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا مالک نہ ہوجائے۔ اس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا۔(رواہ ابوداؤد والترمذی)

۳… حدیث میں ہے ان کی پیشانی کشادہ اور ان کی ناک اوپر سے کچھ اٹھی ہوئی اور بیچ میں سے کسی قدر چپٹی ہوگی۔(رواہ ابوداؤد)

۴… حدیث میں ہے کہ ان کے ہاتھ پر بیعت مکہ معظمہ میں مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان ہوگی۔(ابوداؤد والترمذی)

۵… حدیث میں ہے کہ امام مہدی خلیفہ ہونے کے بعد تمام روئے زمین کو عدل اور انصاف سے بھردیں گے جس طرح وہ پہلے ظلم اور ستم سے بھری ہوگی۔

۶… حدیث میں ہے کہ جب امام مہدی مدینہ سے مکہ آئیں گے تو لوگ ان کو پہچان کر ان سے بیعت کریں گے اور اپنا بادشاہ بنادیں گے اور اس وقت غیب سے یہ آواز آئے گی۔

’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی فاسمعوا لہ واطیعوا‘‘{خداتعالیٰ کا خلیفہ مہدی یہ ہے اس کے حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔}

اور بے شمار روایات سے امام مہدی کا کافروں پر جہاد کرنا اور روئے زمین کا بادشاہ ہونا ثابت ہے۔

ناظرین غور کریں کہ مرزاقادیانی میں امام مہدی کی صفات کا کوئی شمہ بھی تو ہونا چاہئے جب ہی تو دعوائے مہدویت چسپاں ہوسکے گا۔ ورنہ صفات تو ہوں کافروں اور گمراہوں کی اور دعویٰ ہو مہدی ہونے کا۔

ایں خیال است ومحال است و جنوں

ایک ضروری تنبیہ

کتب حدیث میں سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم، امام مہدی کے ذکر سے خالی ہیں۔ لیکن دیگر کتب معتبرہ میں ظہور مہدی کی روایتیں اس قدر کثیر ہیں کہ محدثین نے ان کا تواتر تسلیم کیا ہے اور یہ مسئلہ اجماعی ہے کہ بخاری اور مسلم نے احادیث صحیحہ کا استیعاب نہیں کیا۔

250

بخاری اور مسلم میں کسی حدیث کا نہ ہونا اس کے غیرمعتبر ہونے کی دلیل نہیں۔ مسند احمد اور سنن ابی داؤد اور ترمذی وغیرہ میں صدہااور ہزارہا ایسی روایتیں ہیں جو بخاری اور مسلم میں نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو شخص ہیں

ظہور مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم اور امام مہدی دو شخص علیحدہ علیحدہ ہیں۔ عہد صحابہi وتابعینw سے لے کر اس وقت تک کوئی اس کا قائل نہیں ہوا کہ نازل ہونے والا مسیح اور ظاہر ہونے والا مہدی ایک ہی شخص ہوگا۔

صرف مرزائے قادیان کہتا ہے کہ میں ہی عیسیٰ ہوں اور میں ہی مہدی ہوں اور پھر اس کے ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ میں کرشن مہاراج بھی ہوں اور آریوں کا بادشاہ بھی ہوں اور حجر اسود بھی ہوں اور بیت اللہ بھی ہوں اور حاملہ بھی ہوں اور پھر خود ہی مولود ہوں۔ سب کچھ ہوں گے مگر مسلمان نہیں۔

یہ مرزائے قادیان کا ہذیان ہے۔ جس کا جی چاہے اس پر ایمان لائے اور جس کا جی چاہے اس کا کفر کرے۔ ’’اٰمنت ب اللہ وکفرت بالطاغوت۔ ومن یکفر بالطاغوت‘‘

احادیث نبویہ سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔

۱… حضرت عیسیٰ بن مریم اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور امام مہدی امت محمدیہ کے آخری خلیفہ راشد ہیں۔ جن کا رتبہ جمہور علماء کے نزدیک ابوبکرq اور عمرq خلفائے راشدین کے بعد ہے امت میں۔ امت محمدیہ میں سے صرف ابن سیرینv کو تردد ہے کہ امام مہدی کا رتبہ ابوبکرq وعمرq کے برابر ہے یا ان سے بڑھ کر ہے۔(شرح عقیدۂ سفارینیہ ج۲ ص۸۱)

میں شیخ جلال الدین سیوطیv فرماتے ہیں: احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے یہی ثابت ہے کہ انبیاء اور مرسلینo کے بعد مرتبہ ابوبکرq اور عمرq کا ہے۔ (العرف الوروی ج۲ ص۷۷، من الحاوی)

251

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مریم بتول کے بطن سے بغیر باپ کے نفخہ جبرئیلی سے نبی اکرمa سے چھ سو سال پہلے بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے اور امام مہدی آل رسول سے ہیں۔ قیامت کے قریب مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے۔ والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہوگا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ بن مریم اور مہدی ایک شخص نہیں بلکہ دو شخص ہیں۔

۳… احادیث متواترہ سے یہ ثابت ہے کہ امام مہدی کا ظہور پہلے ہوگا اور امام مہدی روئے زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد امام مہدی کے طرز عمل اور طرز حکومت کو برقرار رکھیں گے۔(الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام ج۲ ص۱۶۲، من الحاوی)

اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی دو علیحدہ شخص ہیں۔

۴… حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ امام مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے۔ مدینہ منورہ ان کا مولد جائے ولادت ہوگا اور مہاجر (جائے ہجرت) بیت المقدس ہوگا۔(العرف الوردی ج۲ ص۷۳، من الحاوی)

اور بیت المقدس ہی میں امام مہدی وفات پائیں گے اور وہیں مدفون ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی نماز جنازہ پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کے ایک عرصہ بعد وفات پائیں گے اور مدینہ منورہ میں روضہ اقدس میں مدفون ہوں گے۔(شرح عقیدہ سفارینیہ ج۲ ص۸۱)

۵… احادیث میں ہے کہ امام مہدی دمشق کی جامع مسجد میں صبح کی نماز کے لئے مصلیٰ پر کھڑے ہوں گے۔ یکایک منارہ شرقی پر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ امام مہدی حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر مصلیٰ سے ہٹ جائیں گے اور عرض کریں گے کہ اے نبی اللہ آپ امامت فرمائیں۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤ یہ اقامت تمہارے لئے کہی گئی۔ امام مہدی نماز پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ اقتداء فرمائیں گے تاکہ معلوم ہو جائے کہ رسول ہونے کی حیثیت سے نازل نہیں ہوئے بلکہ امت محمدیہ کے تابع اور مجدد ہونے کی حیثیت سے آئے ہیں۔(العرف الوردی ج۲ ص۸۴، ۶۵، شرح العقیدۃ السفارینیہ ج۲ ص۸۳)

252

۶… حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمنزلہ امیر کے ہوں گے اور امام مہدی بمنزلہ وزیر کے ہوں گے اور دونوں کے مشورے سے تمام کام انجام پائیں گے۔(شرح عقیدۂ سفارینیہ ج۲ ص۹۱،۹۲)

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

ایک حدیث میں آیا ہے کہ:’’لا مہدی الا عیسٰی بن مریم‘‘ نہیں ہے کوئی مہدی مگر عیسیٰ بن مریم۔

اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دونوں ایک ہی شخص ہیں۔

جواب: یہ ہے کہ اوّل تو یہ حدیث صحیح نہیں۔ محدثین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف اور غیرمستند ہے۔’’قال الحافظ العسقلانی: قال ابوالحسن الخسعی الالدی فی مناقب الامام الشافعی تواترت الاخبار بان المہدی من ہذہ الامۃ وان عیسٰی یصلی خلفہ ذکر ذلک رد الحدیث الذی اخرجہ ابن ماجہ عن انس وفیہ لا مہدی الا عیسٰی‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)

دوم: یہ کہ یہ حدیث ان بے شمار احادیث صحیحہ اور متواترہ کے خلاف ہے جن سے حضرت عیسیٰ بن مریمm اور امام مہدی کا دو شخص ہونا آفتاب کی طرح واضح ہے۔

اور اگر اس حدیث کو تھوڑی دیر کے لئے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو یہ کہا جائے کہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریمm سے بڑھ کر کوئی شخص ہدایت یافتہ نہ ہوگا۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی مرسل ہوں گے اور امام مہدی خلیفہ راشد ہوں گے۔ نبی نہ ہوں گے اور ظاہر ہے کہ غیرنبی کی ہدایت، نبی اور رسول کی ہدایت سے افضل اور اکمل نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ نبی کی ہدایت معصوم عن الخطا ہوتی ہے اور عصمت خاصہ انبیاء کا ہے اور اولیاء محفوظ ہوتے ہیں۔ جیسے حدیث میں ہے: ’’لافتی الا علیq‘‘ کوئی جوان شجاعت میں علی کرم اللہ وجہہ کے برابر نہیں۔

اور یہ معنی نہیں کہ دنیا میں سوائے علی کے کوئی جوان نہیں۔ اسی طرح اس حدیث کے یہ معنی ہوں گے کہ کوئی مہدی اور کوئی ہدایت یافتہ عصمت اور فضیلت اور علو منزلت میں عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کے برابر نہیں۔(کذافی العرف الوردی ج۲ ص۸۵)

253
’’قال المناوی اخبار المہدی لا یعارضہا خبر لا مہدی الا عیسٰی بن مریم لان المراد بہ کما قال القرطبی لا مہدی کاملا معصوما الا عیسٰی‘‘ (کذافی فیض القدیر ج۶ ص۲۷۹)
’’قال القرطبی ویحتمل ان یکون قولہm ولا مہدی الا عیسٰی ای لا مہدی کاملاً معصوماً الاعیسٰی قال وعلٰی ہذا تجتمع الاحادیث ویرفع التعارض وقال ابن کثیر ہذا الحدیث فیما یظہر لی ببادی الرای مخالف للاحادیث الواردۃ فی اثبات مہدی غیر عیسٰی بن مریم وعند التامل لاینا فیہا بل یکون المراد من ذلک ان المہدی حق المہدی ہو عیسٰی ولا ینفی ذلک ان یکون غیرہ مہدیا ایضاً‘‘(العرف الوروی ج۲ ص۷۶)

مرزاقادیانی کا مہدی ہونا محال ہے

اس لئے کہ مہدی کی جو علامتیں احادیث میں مذکور ہیں وہ مرزاقادیانی میں قطعاً مفقود ہیں:

۱… امام مہدی امام حسن بن علی کی اولاد سے ہوں گے اور مرزامغل اور پٹھان تھا، سید نہ تھا۔

۲… امام مہدی کا نام محمد، اور والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کانام آمنہ ہوگا اور مرزا کا نام غلام احمد اور باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور ماں کا نام چراغ بی بی تھا۔

۳… امام مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے اور پھر مکہ آئیں گے۔ مرزاقادیانی نے کبھی مکہ اور مدینہ کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ ان کو یقین تھا کہ مکہ اور مدینہ میں اسلامی حکومت ہے۔ وہاں مسیلمہ پنجاب کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو یمامہ کے مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہوا تھا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مرزاقادیانی حج بیت اللہ اور زیارت مدینہ بھی نہ کر سکے۔

۴… امام مہدی روئے زمین کے بادشاہ ہوں گے اور دنیا کو عدل اور انصاف سے بھر دیں گے اور مرزاقادیانی تو اپنے پورے گاؤں (قادیان) کے بھی چوہدری نہ

254

تھے۔ جب کبھی زمین کا کوئی جھگڑا پیش آتا تو گرد اس پور کی کچہری میں جاکر استغاثہ کرتے۔ خود فیصلہ نہیں کر سکتے تھے ورنہ گرفتار ہوجاتے۔

۵… امام مہدی ملک شام میں جاکر دجال کے لشکر سے جہاد وقتال کریں گے۔ اس وقت دجال کے ساتھ سترہزار یہودیوں کا لشکر ہوگا۔ امام مہدی اس وقت مسلمانوں کی فوج بنائیں گے اور دمشق کو فوجی مرکز بنائیں گے۔ مرزاقادیانی نے دجال کے کس لشکر سے جہاد وقتال کیا؟ اور دمشق اور بیت المقدس کا دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ احادیث نبویہ میں امام مہدی کے متعلق اور بھی بہت سے امور مذکور ہیں جن میں سے کوئی بھی مرزاقادیانی پر منطبق نہیں۔

امام ربانی شیخ مجدد الف ثانیv اپنے ایک طویل مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں جس کا بلفظہ ترجمہ ہدیہ ناظرین ہے۔

’’قیامت کی علامتیں جن کی نسبت مخبر صادقk نے خبر دی ہے، سب حق ہیں۔ ان میں کسی کا خلاف نہیں۔ یعنی آفتاب عادت کے برخلاف مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰk نزول فرمائیں گے۔ دجال نکل آئے گا اور یاجوج وماجوج ظاہر ہوں گے۔ دابۃ الارض نکلے گا اور دھواں جو آسمان سے پیدا ہوگا وہ تمام لوگوں کو گھیرلے گا اور دردناک عذاب دے گا اور لوگ بے قرار ہوکر کہیں گے، اے ہمارے پروردگار اس عذاب سے ہم کو دور کر ہم ایمان لائے اور اخیر کی علامت وہ آگ ہے، جو عدن سے نکلے گی۔ بعض نادان گمان کرتے ہیں کہ جس شخص نے اہل ہند میں سے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا وہی مہدی موعود ہوا ہے۔ پس ان کے گمان میں مہدی گزر چکا ہے اور فوت ہوگیا ہے اور اس کی قبر کا پتہ دیتے ہیں کہ فراء میں ہے۔ احادیث صحیحہ جو حد شہرت بلکہ حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں ان لوگوں کی تکذیب کرتی ہیں۔ کیونکہ آنحضرتa نے جو علامتیں حضرت مہدی علیہ الرضوان کی بیان فرمائی ہیں ان لوگوں کے معتقد شخص کے حق میں مفقود ہیں۔ احادیث نبویa میں آیا ہے کہ مہدی

255

موعود آئیں گے ان کے سرپر ابر ہوگا۔ اس ابر میں ایک فرشتہ ہوگا جو پکار کر کہے گا یہ شخص مہدی ہے۔ اس کی متابعت کرو۔ نیز رسول اللہ a نے فرمایا ہے کہ تمام زمین کے مالک چار شخص ہوئے ہیں۔ جن میں سے دو مومن ہیں دو کافر۔ ذوالقرنین اور سلیمان مومنوں میں سے ہیں اور نمرود وبخت نصر کافروں میں سے اس زمین کا پانچواں مالک میرے اہل بیت سے ایک شخص ہوگا۔ یعنی مہدی علیہ الرضوان۔

نیز رسول اللہ a نے فرمایا ہے کہ دنیا فنا نہ ہوگی جب تک اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث نہ فرمائے گا۔ اس کا نام میرے نام کے موافق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہوگا۔ زمین کو جو روظلم کی بجائے عدل وانصاف سے پر کر دے گا اور حدیث میں آیا ہے کہ اصحاب کہف حضرت مہدی کے مددگار ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور دجال کے قتل کرنے میں ان کے ساتھ موافقت کریں گے اور ان کی سلطنت کے زمانہ میں زمانہ کی عادت اور نجومیوں کے حساب کے برخلاف ماہ رمضان کی چودھویں تاریخ کو سورج گہن، اوّل ماہ میں چاند گہن لگے گا۔ نظر انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ یہ علامتیں اس مردہ شخص میں موجود تھیں یا نہیں اور بھی بہت سی علامتیں ہیں جو مخبر صادقk نے فرمائی ہیں۔

شیخ ابن حجرv نے مہدی منظر کی علامات میں ایک رسالہ لکھا ہے جس میں دو سو تک علامتیں لکھی ہیں۔ بڑی نادانی اور جہالت کی بات ہے کہ مہدی موعود کا حال واضح ہونے کے باوجود لوگ گمراہ ہو رہے ہیں۔ ’’ہداہم اللہ سبحانہ الٰی سواء الصراط‘‘ ( اللہ تعالیٰ ان کو سیدھے راستے کی ہدایت دے)‘‘(منقول از ترجمہ مکتوبات ص۲۲۰، دفتر دوم مکتوب نمبر۶۷)

’’واٰخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اللہ تعالٰی علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الرحمین‘‘

(۲۰؍جمادی الثانی ۱۳۷۳ھ، یوم چہارم شنبہ جامعہ اشرفیہ لاہور)

256

لطائف الحکم

فی

اسرار نزول عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

257

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین۔ اما بعد!

امت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ والف الف تحیۃ کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ اور صریحہ اور متواترہ سے ثابت ہے۔ اس وقت اس مختصر رسالہ میں حضرت مسیح بن مریمn کے رفع الیٰ السماء اور نزول کے کچھ اسرار وحکم بیان کرنا مقصود ہے تاکہ اہل ایمان کے ایمان میں زیادتی ہو اور اہل علم کے لئے موجب بصیرت ہو اور اہل تذبذب کے لئے باعث طمانیت ہو اور اہل ضلالت کے لئے سبب ہدایت ہو۔ حق تعالیٰ شانہ اپنے فضل وکرم سے اس رسالہ کو قبول فرمائے۔ ’’ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم‘‘ اور اس رسالہ کا نام ’’لطائف الحکم فی اسرار نزول سیدنا عیسیٰ بن مریم‘‘ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی نبینا وبارک وسلم تجویز کرتا ہوں اور اللہ کے نام سے مقصود کو شروع کرتا ہوں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سنت الٰہی اس طرح جاری ہے کہ ہر شخص کے ساتھ اس کی استعداد اور اصل فطرت کے مناسب معاملہ کیا جائے اور مقتضائے حکمت بھی یہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فطرت عام بنی آدم کی طرح ہے یا اس سے جدا اور ممتاز ہے۔ قرآن کریم نے کسی نبی کی فطرت کو بیان نہیں کیا۔ قرآن کریم نے صرف دو پیغمبروں کی فطرت بیان کی ہے۔ ایک حضرت آدمm کی اور دوسرے حضرت مسیح بن مریمn کی۔ جیسا کہ آل عمران اور سورۂ مریم میں بالتفصیل مذکور ہے۔ شیخ اکبرv فرماتے ہیں: حق تعالیٰ شانہ نے دائرہ نبوت کو آدمm سے شروع فرمایا اور اس دائرہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم فرمایا اور نبی اکرم سرور عالم محمد رسول اللہ a کی ذات بابرکات کو دائرہ نبوت کے تمام خطوط کا منتہی اور مرکزی نقطہ بنایا۔ نبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ صاحب نبوت مرد ہو عورت نبی نہیں ہوسکتی۔ ’’لقولہ تعالٰی:

258

وما ارسلنا من قبلک الا رجالا‘‘ یعنی اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے تجھ سے مگر مرو۔ اس لئے دائرہ نبوت کو مرو سے شروع کیا اور فقط مرو سے فقط عورت کو پیدا کیا۔ یعنی حضرت آدمm سے حضرت حوا کو پیدا کیا اور جب دائرہ نبوت کو ختم کیا تو فقط عورت سے فقط مرو کو پیدا کیا۔ یعنی حضرت مریم سے حضرت عیسیٰ کو بغیرباپ کے پیدا کیا تاکہ دائرہ نبوت کی ہدایت ونیابت دونوں متناسب رہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی شان آدمm جیسی ہے۔ نیز حضرت آدمm کے خمیر میں مٹی شامل تھی۔ اس لئے ان کو آسمان سے زمین پر اتارا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے۔ اس لئے ان کو زمین سے آسمان پر اٹھایا۔ جس طرح ’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی شان آدمm جیسی ہے۔

نیز حضرت آدمm کے خمیر میں مٹی شامل تھی۔ اس لئے ان کو آسمان سے زمین پر اتارا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نفخہ جبرائیلm سے پیدا ہوئے۔ اس لئے ان کو زمین سے آسمان پر اٹھایا۔

’’ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم‘‘ { اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی شان آدمm جیسی ہے۔} خوب صادق آیا۔

آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نفخہ جبرائیلm سے پیدا ہوئے۔ جسمانی حیثیت سے حضرت مسیحm کا تعلق حضرت مریمp سے ہے اور روحانی حیثیت سے افضل الملائکۃ المقربین یعنی جبرائیل امینm سے ہے۔ صورت اگرچہ آپ کی بشری اور انسانی ہے مگر آپ کی فطرت اور اصلی حقیقت ملکی اور جبرئیلی ہے۔

  1. نقش آدم لیک معنی جبرائیل

    رستہ از جملہ ہوا وقال و قیل

اور اسی بناء پر آپ کو ’’کلمۃ القاہا الٰی مریم وروح منہ‘‘ {عیسیٰ علیہ السلام ایک کلمہ اور روح ہیں خداتعالیٰ کی طرف سے جن کو مریمp کی طرف ڈالا گیا۔}

فرمایا کہ جس طرح کلمہ میں ایک لطیف معنی مستور ہوتے ہیں۔ اسی طرح جناب مسیح کے جسم مبارک میں ایک نہایت لطیف شئے یعنی حقیقت ملکیہ مستور اور مخفی ہے۔

  1. نقابیت ہر سطر من زین کتیب

    فرو ہشتہ بر عارض دلفریب

  2. معانیست ور زیر حرف سیاہ

    چودر پردہ معشوق و در میغ ماہ

اور چونکہ آپ کو حق تعالیٰ نے فرمایا: ’’روح منہ‘‘ اور روح کا خاصہ یہ ہے کہ

259

جس شئے سے وہ بنتی ہے اس کو زندہ کر دیتی ہے۔ اس لئے آپ کو احیاء موتی (معنی مردوں کو زندہ کرنے کا کام) اعجاز عطاء کیاگیا اور چونکہ آپ کی ولادت میں نفخہ جبرائیلm کو دخل تھا۔ ’’کما قال تعالٰی: فنفخنا فیہا من روحنا‘‘ {ہم نے اس میں اپنی ایک خاص روح بذریعہ نفخہ جبرائیلm پھونکی۔}

اس لئے ’’فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ ‘‘ {میں اس میں پھونک مارتا ہوں۔ پس وہ باذن اللہ پرندہ ہو جاتا ہے۔} کا معجزہ آپ کو دیا گیا۔

آمدم برسر مطلب

پس جب کہ یہ ثابت ہو گیا کہ آپ کی اصلی فطرت ملکی ہے اور آپ کا اصل تعلق جبرائیلm اور ملائکہ مقربین سے ہے اور دوسرا تعلق آپ کا حضرت مریم سے ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ دونوں قسم کا تعلق معرض ظہور میں آئے اور کچھ حصہ حیات کا ملائکہ مقربین کے ساتھ گزرے اور کچھ حصہ زندگی کا بنی نوع انسان کے ساتھ۔

دستور یہ ہے کہ اگر ولادت اتفاقاً بجائے وطن اصلی کے وطن اقامت میں ہو جاتی ہے تو چند روز کے بعد وطن اصلی میں بچہ کو ضرور لے جاتے ہیں تاکہ وہ بچہ اپنے وطن اصلی کی زیارت سے محروم نہ رہے اور چونکہ جناب مسیح کی ولادت نفخہ جبرئیل سے ہوئی ہے۔ اس لئے اگر مقر ملائکہ یعنی سموات کو جناب مسیح کا وطن اصلی کہا جائے تو کچھ غیرمناسب نہ ہوگا۔

اور نزول چونکہ جسمانی اور بشری تعلق کی بناء پر ہوگا۔ اس لئے بعد نزول نکاح بھی فرمائیں گے اور اولاد بھی ہوگی اور وفات پاکر روضہ اقدس کے قریب دفن ہوں گے۔

اور چونکہ آپ کی ولادت نفخہ جبرئیل سے ہوئی اور حضرت جبرئیل کا عروج اور نزول قرآن میں ذکر کیاگیا ہے۔

’’کما قال اللہ تعالٰی: تعرج الملٰئکۃ والروح، تنزل الملٰئکۃ والروح‘‘ {فرشتہ اور روح (جبرئیل) آسمان پر جاتے ہیں۔ فرشتہ اور روح (جبرئیل) آسمان پر سے اترتے ہیں۔}

260

اس لئے مناسب ہوا کہ کم ازکم ایک مرتبہ آپ کے لئے بھی عروج الیٰ السماء اور نزول الیٰ الارض ہو تاکہ آپ کی فطرت کا ملکی ہونا اور نفخۂ روح القدس سے پیدا ہونا اور ظل جبرئیل ہونا خوب عیاں ہو جائے۔ بلکہ جس طرح حضرت جبرئیل کو روح کہاگیا اسی طرح جناب مسیح کو بھی روح کہاگیا ہے۔ ’’قال تعالٰی: کلمۃ القاہا الٰی مریم وروح منہ‘‘ وہ ایک کلمہ ہیں خداتعالیٰ کی طرف سے جن کو مریم کی طرف ڈالا۔

پس جس طرح روح بمعنی جبرئیل کے لئے عروج ونزول ثابت کیاگیا۔ اسی طرح جناب مسیح کے لئے بھی جو کہ خدا کی ایک خاص روح ہیں، عروج ونزول ہونا چاہئے اور چونکہ حضرت مسیح کو سراپا روح قراردیاگیا اور یہ کہا گیا کہ وہ سراپا روح ہیں اور یہ نہیں کہاگیا: ’’فیہ روح‘‘ یعنی اس میں روح ہے۔ اس لئے یہود قتل پر قادر نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ روح کا قتل کسی طرح ممکن نہیں۔ نیز آپ کی شان ’’کلمۃ القاہا الٰی مریم‘‘ ذکر کی گئی ہے اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ’’الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ‘‘ {اسی کی طرف کلمات طیبات چڑھتے ہیں اور وہی عمل صالح کو بلند کرتا ہے۔}

اس لئے آپ کا رفع الیٰ السماء اور بھی مناسب ہوا۔ نیز خدا کا کلمہ کسی کے پست کرنے سے کبھی پست نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلمہ ہمیشہ بلند ہی رہا کرتا ہے۔ ’’وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی وکلمۃ اللہ ہی العلیا‘‘ {اور خداتعالیٰ نے کافروں کے کلمہ کو پست کردیا اور خدا کا کلمہ بلند ہی رہتا ہے۔}

اس لئے اللہ تعالیٰ نے کلمتہ اللہ یعنی عیسیٰ روح اللہ کو آسمان پر اٹھالیا اور کافروں کا کلمہ یعنی دجال پست ہوگا۔ یعنی قتل کیا جائے گا اور چونکہ آپ کی ولادت کے وقت حضرت جبرئیلm بشکل بشر متمثل ہوئے تھے۔ ’’کما قال تعالٰی: فتمثل لہا بشرا سویا‘‘ اس لئے رفع الیٰ السماء کے وقت ایک شخص آپ کے ہم شکل بنا کر صلیب دے دیا گیا۔ ’’کما قال تعالٰی: وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰکن شبہ لہم‘‘ {یعنی اور (یہود نے) نہیں قتل کیا۔ ان (عیسیٰ علیہ السلام) کو لیکن ان کے لئے شبیہ بنادیا گیا تھا۔}

اور جس طرح ولادت کے وقت اختلاف ہوا تھا۔ کما قال تعالیٰ: ’’فاختلف الاحزاب من بینہم‘‘ {پس جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا۔}

اسی طرح رفع الیٰ السماء کے وقت بھی اختلاف ہوا۔

261

’’وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الاتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘ {جن لوگوں نے حضرت مسیح کے بارے میں اختلاف کیا وہ شک میں ہیں۔ ان کو علم نہیں محض اتباع ظن ہے۔ حضرت مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا اور بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔}

جناب مسیح بن مریم کو نزول من السماء اور قتل دجال کے لئے خاص کیوں کیاگیا

سنت الٰہی اس طرح جاری ہے کہ جب کسی شئے کو پیدا فرماتے ہیں تو ساتھ ساتھ اس کے مقابل اور اس کی ضد کو بھی پیدا فرماتے ہیں۔

زمین کے مقابل آسمان اور لیل کے مقابل نہار اور ظلمت کے مقابل میں نور اور صیف کے مقابل میں شتاء اور ظل کے مقابل میں حرور (دھوپ) کو پیدا کیا۔

بضدہا تبین الاشیاء

  1. تانبا شدراست کے باشد دروغ

    آں دروغ از راست می یابد فروغ

ٹھیک اسی طرح کفر کے مقابل ایمان کو پیدا فرمایا۔ اس لئے کہ ایمان کا حاصل تسلیم اور انقیاد ہے اور کفر کا حاصل اباء اور استکبار ہے اور اسی طرح ایمان اور کفر ہر ایک کا الگ الگ منبع اور معدن پیدا کیا۔ ایمان اور اطاعت کا منبع اور معدن ملائکہ کرام ہیں اور کفر اور عصیان کا منبع شیاطین ہیں۔ جس طرح زمین پستی کا منبع ہے اور اس کے مقابل آسمان بلندی کا منبع ہے۔ اسی طرح ملائکہ اور شیاطین کا ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ منبع ایمان واطاعت یعنی ملائکہ کرام کی شان یہ ہے:’’لا یعصون اللہ ما امرہم ویفعلون مایؤمرون‘‘ (وہ خداتعالیٰ کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ہوتا ہے اسے بجالاتے ہیں) اور کفر اور استکبار کے معدن یعنی شیاطین کا یہ حال ہیں۔

’’کما قال تعالٰی: وکان الشیطان لربہ کفوراً‘‘{اور شیطان اپنے رب کا بڑا نافرمان ہے۔}

خلاصہ یہ کہ ملائکہ کرام کو شیاطین کے مقابل پیدا فرمایا اور جس قدر شیطان کو طویل حیات دی گئی۔ اس کے مناسب ملائکہ کرام کو ایک طویل حیات عطاء کی گئی۔

اور مناسب بھی یوں ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ جب تک یہ زمین ہے۔ اس کے

262

مقابل یہ آسمان بھی ہے۔ جب تک یہ لیل ہے۔ اس کے مقابل یہ نہار بھی ہے۔ جب تک یہ ظلمت ہے۔ اس کے مقابل نور بھی ہے۔ اسی طرح جب تک شیطان زندہ ہے۔ اس وقت تک اس کے مقابلہ کے لئے ملائکہ کرام بھی زندہ ہیں۔ جس طرح شیاطین کو ہر طرح کی تشکل اور تمثل کی اور عروج اور نزول کی اور شرق سے غرب تک ایک آن میں منتقل ہونے کی طاقت عطاء کی گئی۔ اسی طرح بالمقابل ملائکہ کرام کو بھی یہ تمام طاقتیں علی وجہ الاتم عطاء کی گئیں تاکہ تقابل مکمل رہے۔ قلب انسانی کے ایک جانب اگر شیطان ہے تو دوسری جانب اس کے مقابل ایک فرشتہ موجود ہے۔

شیطان اگر اس کو بہکاتا ہے تو فرشتہ اس کو ہدایت کی جانب بلاتا ہے اور اس کے لئے دعا اور استغفار کرتا ہے لیکن شیاطین اور ملائکہ کرام کا یہ مقابلہ ایک عرصہ تک پوشیدہ اور مخفی طور سے چلتا رہا۔ اس کے بعد حکمت الٰہی اور مشیت خداوندی اس جانب متوجہ ہوئی کہ یہ مقابلہ کسی قدر معرض ظہور میں بھی آئے۔

چنانچہ اوّلاً ایسی ذات کو پیدا فرمایا کہ جس کی حقیقت اور اصل فطرت شیطانی اور صورت اس کی جسمانی اور انسانی ہے۔ یعنی ’’مسیح دجال‘‘ جیسا کہ فتح الباری میں منقول ہے کہ دجال دراصل شیطان ہے۔ یعنی حقیقت اور فطرت اس کی شیطانی ہے اور صورت اس کی انسانی ہے اور وہ ایک جزیرہ میں محبوس ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں مصرح ہے۔

کہا جاتا ہے اس دجال اکبر کو ایک جزیرہ میں محبوس کرنے والے حضرت سلیمانk ہیں۔ جیسا کہ فتح الباری میں منقول ہے۔ خلاصہ یہ کہ حق تعالیٰ نے اوّلاً دجال کو پیدا کیا کہ جس کی حقیقت شیطانی اور صورت انسانی ہے۔ اس کے بعد اس کے مقابلہ کے لئے ایک ایسے نبی کو پیدا فرمایا کہ جس کی فطرت اور اصل حقیقت ملکی اور جبرائیلی ہے اور صورت اس کی بشری اور انسانی ہے۔

اور ایسے نبی سوائے جناب مسیح بن مریمk کے کوئی نہیں نظر آتے۔ پھر جس طرح دجال یہود یعنی بنی اسرائیل سے ہے۔ اسی طرح جناب مسیح بن مریم بھی بنی اسرائیل سے ہیں۔ جس طرح دجال کو ایک جزیرہ میں محبوس کر کے ایک طویل حیات عطاء کی گئی۔ اسی طرح اس کے مقابل جناب مسیح بن مریم کو آسمان پر زندہ اٹھایا گیا اور قیامت تک آپ کو قتل دجال کے لئے زندہ رکھا گیا اور اسی وجہ سے احادیث میں دجال کے لئے ’’یخرج‘‘ اور ’’یظہر‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ (یعنی نکلے گا اور ظاہر ہوگا) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دجال موجود ہے۔ مگر

263

ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ جیسا کہ جناب مسیح کے متعلق ’’ینزل من السماء‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ (یعنی آسمان سے نازل ہوں گے) جناب مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے لئے ’’یولد‘‘ (یعنی پیدا کیا جائے گا) کا لفظ کسی جگہ نہیں آیا۔ دجال چونکہ دعوائے الوہیت کا کرے گا۔ اس لئے جناب مسیح بن مریم کی زبان مبارک سے پہلا کلمہ جو کہلایا گیا وہ یہ تھا: ’’قال انی عبد اللہ ‘‘ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور چونکہ دجال سے بطور استدراج چند روز کے لئے احیاء موتی ظہور میں آئے گا۔ اس لئے اس کے مقابل جناب مسیح بن مریم کو بھی احیاء موتی کا اعجاز عطاء کیاگیا۔

شیخ اکبرv فرماتے ہیں کہ دجال جس وقت ظاہر ہوگا تو ’’کہل‘‘ یعنی ادھیڑ عمر ہوگا۔

اسی طرح جناب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تو ’’کہل‘‘ ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ:’’وکہلا ومن الصالحین‘‘ اور وہ (عیسیٰ علیہ السلام) کہل ہوں گے اور صلحاء میں سے ہوں گے۔

اور جس طرح حضرت مسیح کو آیت کہاگیا:’’ولنجعلہ آیۃ للناس‘‘اسی طرح دجال کو بھی آیت کہاگیا ہے۔ ’’کما قال اللہ تعالٰی: اویاتی بعض آیات ربک یوم یاتی بعض آیات ربک‘‘ {یا آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں جس روز آپ کے رب کی بعض نشانیاں ظاہر ہوں گی۔}

اور حدیث میں مصرح ہے کہ بعض آیات ربک سے دجال وغیرہ کا ظاہر ہونا مراد ہے۔ مگر جناب مسیح منجانب اللہ آیت رحمت ہیں اور دجال آیت ابتلاء ہے۔

غرض یہ کہ جناب مسیح بن مریم اور دجال کے اوصاف اور احوال میں اس درجہ مقابلہ کی رعایت کی گئی کہ لقب تک میں تقابل کو نظرانداز نہ کیاگیا۔ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کا لقب مسیح ہدایت رکھاگیا۔ دجال کا لقب مسیح ضلالت رکھا گیا اور چونکہ دجال ملک شام میں ظاہر ہوگا۔ اس لئے جناب مسیح بن مریم بھی اس کے قتل کے لئے شام میں جامع دمشق کے مشرقی مینار پر نازل ہوں گے اور باب لد کے قریب اس کو قتل کریں گے اور دجال چونکہ ظاہر ہوکر شدید فساد برپا کرے گا۔ جیسا کہ حدیث نواس بن سمعان میں ہے۔ ’’فعاث یمینا وشمالا‘‘ {وہ ہر جگہ فساد پھیلائے گا۔}

اس لئے جناب مسیح بن مریم حکم وعدل ہوکر نازل ہوں گے اور چونکہ دجال کے ساتھ زمین کے خزائن ہوں گے۔ اس لئے اس کے مقابل جناب مسیح بن مریم اتنا مال تقسیم

264

فرمائیں گے کہ کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ ہوگا اور چونکہ بعض وعداوت یہود کا خاص شعار ہے۔ اس لئے اس کو یک لخت مٹادیں گے۔

’’واغرینا بینہم العداوۃ والبغضاء الٰی یوم القیامۃ‘‘{اور ہم نے ان میں قیامت تک بغض وعداوت ڈال دیا۔}

اور چونکہ دجال یہود سے ہوگا اور اسی وقت سے زندہ ہے۔ اس لئے حضرت مسیح بن مریم فقط دجال کو قتل فرمائیں گے اور باقی دجال کے معاون اور مددگار کافر ہوں گے۔ اس لئے ان کا مقابلہ اس وقت کے مسلمان امام مہدی کے ماتحت ہوکر کریں گے۔

اور چونکہ یہود اپنی دشمنی اور عداوت کی وجہ سے جناب مسیح بن مریم پر ایمان نہ لائے تھے۔ اس لئے اس وقت یعنی نزول کے بعد ایمان لے آئیں گے۔

اور نصاریٰ ظاہراً ایمان تو لائے مگر عقیدہ ابنیت کی وجہ سے وہ ایمان کفر سے بھی بڑھ کر تھا۔ اس لئے ان کی بھی اصلاح فرمائیں گے اور آپ کی اصلاح سے وہ صحیح ایمان لے آئیں گے۔ غرض یہ کہ کل اہل کتاب ایمان لے آئیں گے۔کما قال اللہ تعالیٰ!

’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ {اور نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہید ہوں گے۔}

اور چونکہ امام مہدی کے خاندان سے یزید نے خلافت غصب کی تھی۔ اس لئے اس کے صلہ میں امام مہدی کو تمام روئے زمین کی خلافت اور سلطنت عطاء ہوگی۔

اور جناب مسیح بن مریم نہ کوئی سلطنت رکھتے تھے اور نہ خلافت، آپ کا امت سے تعلق نبوت اور رسالت کا تھا تاکہ آپ پر ایمان لائیں۔ مگر یہود تو ایمان ہی نہ لائے اور نصاریٰ لائے تو غلط۔ لہٰذا آپ کا حق اہل کتاب کے ذمہ صرف ایمان ہے۔ اس لئے نزول کے بعد کوئی شخص اہل کتاب میں ایسا باقی نہ رکھا جائے گا کہ جو آپ پر ایمان نہ لائے۔

دجال اس امت میں کیوں ظاہر ہوگا

نظام عالم پر ایک نظر ڈالنے سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ ہر سلسلہ کا سرچشمہ اور کوئی نہ کوئی مخزن اور کوئی نہ کوئی معدن ضرور ہے۔ آفتاب ہے کہ تمام روشنیوں کا منبع ہے۔ کرۂ نار

265

ہے کہ جو تمام حرارتوں کا مخزن ہے۔ کرۂ آب ہے کہ تمام برودتوں کا معدن ہے۔ کرۂ ارضی اور کرۂ ہوائی ہے کہ جو تمام رطوبتوں اور پیوستوں کا سرچشمہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح ضرور ہے کہ اس عالم اجسام میں ایک معدن اور منبع ایمان کا ہو کہ جس سے تمام مومنین کے ایمان مستفاد ہوں۔ جس طرح زمین کے تمام روشنیاں آفتاب سے مستفاد ہیں اور ایک مخزن کفر کا ہو کہ اسی سے تمام کافروں کے کفر نکلتے ہوں اور ہر کافر کا کفر اسی مخزن کفر کا ایک پرتوہ ہو۔ سو وہ مخزن ایمان ذات بابرکات بنی اکرم سرور عالم سیدنا محمدa ہے اور مخزن کفر وہ سراپا شیطنت اور معدن کفر ومعصیت دجال اکبر ہے۔

اور جس طرح نبی اکرمa ارواح مومنین کے لئے روحانی والد ہیں۔ دجال ارواح کافرین کے لئے روحانی والد ہے۔ دجال ابوالکافرین ہے اور نبی اکرمa ابوالمومنین ہیں۔ کما قال تعالیٰ!

’’النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم وازواجہ امہاتہم‘‘ اور ایک قرأت میں ہے۔ وہو اب لہم!

(ترجمہ) ’’نبی کریم مومنین کے حق میں ان کے نفسوس سے زیادہ اقرب ہیں اور آپa کی ازواج مطہرات مومنین کی روحانی مائیں ہیں۔ یعنی نبی کریمa مومنین کے روحانی باپ ہیں۔‘‘

اور جس طرح خاتم الانبیاءa کی ایک مہر نبوت ہے۔ اسی طرح خاتم الدجالین کی مہر کفر ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:’’مکتوب بین عینیہ کافر‘‘ {یعنی دجال کی پیشانی پر صاف کافر لکھا ہوا ہوگا۔}

جس طرح مہر نبوت حضورa کی نبوت ورسالت کی حسی دلیل تھی۔ اسی طرح دجال کی پیشانی پر کافر کی کتابت اس کے دجل اور کفر کی حسی اور بدیہی دلیل ہوگی۔

اور جس طرح تمام انبیاء سابقینo دجال سے ڈراتے آئے۔ (حدیث میں ہے) ’’ما من نبی الا وقد انذر قومہ من الدجال‘‘ {کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔}

اور جس طرح خاتم الانبیاء کی نبوت بذریعہ مہر نبوت اور خاتم الدجالین کا کفر بذریعہ کتاب ’’بین عینیہ کافر‘‘ ظاہر کیاگیا۔ اسی طرح قیامت کے قریب دابتہ الارض

266

کے ذریعہ سے مؤمنین کا ایمان اور کافرین کا کفر پیشانی پر ظاہر کیا جائے گا۔ اس لئے کہ یہ جماعت مؤمنین کی اور کافرین کی آخری جماعت ہوگی اور انہیں پر سلسلہ ایمان اور کفر کا ختم کر کے قیامت قائم کی جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے قریب مکہ یا اجیاد کے زمین سے ایک جانور نکلے گا۔ جس کے ہاتھ میں ایک مہر ہوگی۔ مومن اور کافر کی پیشانی پر ایمان اور کفر کا نشان لگائے گا۔ مومن کی پیشانی پر سفید نکتہ اور کافر کے ماتھے پر سیاہ نکتہ لگائے گا اور اے مومن اور اے کافر ایک دوسرے کو خطاب کریں گے۔ دابتہ الارض کا زمین سے نکلنا قرآن اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح سلسلہ نبوت اور سلسلہ دجل کے خاتم پر نبوت اور دجل کی مہر لگائی گئی۔ اسی طرح سلسلہ ایمان اور کفر کے خاتمین پر بھی ایمان اور کفر کی مہر مناسب ہوئی۔ اس لئے کہ خاتم کے معنی جس طرح آخر کے ہیں اسی طرح صاحب مہر کے بھی ہیں۔ پس خاتم کے لئے مہر کا ہونا نہایت مناسب ہے۔

آمدم برسر مطلب

پس جس طرح خاتم الانبیاء کی بعثت اخیر زمانہ میں اخیر امم کی طرف ہوئی۔ اسی طرح خاتم الدجالین کا ظہور اخیر زمانہ میں مناسب ہوا۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

قیاس اس کو مقتضی ہے کہ خاتم الدجالین کا مقابلہ خاتم النّبیین کریں اور آپa خود اپنے دست مبارک سے اس کو قتل کریں اور اگر بالفرض نبی اکرمa خود نہ قتل فرمائیں تو حضرت مسیح بن مریمm کی کیا خصوصیت ہے کہ وہی نازل ہوکر دجال کو نبی کریمa کی طرف سے قتل فرمائیں؟

جواب: یہ ہے کہ اوّل تو نبی کریمa دوبارہ کمالات نبوت ورسالت اس رتبہ کو پہنچ چکے ہیں کہ نہ کوئی آپa کا مماثل ہے اور نہ مقابل۔ جس طرح آفتاب کے سامنے کسی ظلمت کا ظاہر ہونا ناممکن اور محال ہے اسی طرح آفتاب رسالت کے سامنے دجل کی ظلمت کا ظاہر ہونا محال ہے اور غالباً دجال اسی وجہ سے آپa کی موجودگی میں ظاہر نہ ہوسکا۔ دوم یہ کہ آیت شریفہ: ’’واذا اخذ اللہ میثاق النّبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال اقررتم واخذتم علٰی ذاکم اصری الآیۃ‘‘ {اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ نے سب انبیاء سے عہد لیا کہ

267

جب میں تم کو کتاب اور حکمت دوں اور پھر تم سب کے بعد ایک رسول آئیں جو تمہاری کتاب اور حکمت کی تصدیق کریں تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم نے اس عہد کو قبول کیا۔ سب نے اس کو قبول کیا۔}

حضور پرنورa پر ایمان اور نصرت کا عہد دوسرے انبیاءo سے لیا گیا ہے۔ لہٰذا آپa کی امداد کے لئے انبیاء سابقینo سے کسی کا ظہور ضروری ہے اور انبیاء سابقینo سے کوئی نبی دجال کا ضد اور مقابل ہونا چاہئے تاکہ نبی اکرمa کی طرف سے آپa کی امت کی نصرت ظہور میں آئے۔

اب رہا یہ امر کہ اس بارہ میں کون آپa کی نیابت کرے تو غور کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ جناب مسیح بن مریم آنحضرتa کے نائب خاص ہیں۔ اس لئے کہ حق تعالیٰ نے نبی اکرمa کو سورۂ جن میں عبد اللہ کے لقب سے ملقب فرمایا ہے۔ ’’لما قام عبد اللہ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبدا‘‘ {جب اللہ کا بندہ اللہ کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔}

اور حضرت مسیح نے بھی اپنے لئے اس لقب کو ثابت فرمایا ہے۔ ’’قال انی عبد اللہ ‘‘ اور دوسرے حضرات انبیاءo سے یہ ادّعاء ثابت نہیں ہوا۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ یہاں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام وصف عبدیت کے مخبر اور مظہر ہیں اور نبی اکرمa کی عبدیت کو خود جناب باری عزاسمہ نے بیان فرمایا ہے۔

اور غالباً اسی نیابت خاصہ کی وجہ سے سرور عالمa کی آمد آمد کی بشارت کا منصب حضرت مسیح بن مریمm کو سپرد کیاگیا۔

’’واذ قال عیسٰی بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ {حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول ہوں اور تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایسے رسول کی بشارت دیتا ہوں کہ جو میرے بعد آئیں گے۔ نام ان کا احمد ہوگا۔}

اور اسی طرح حضرت مسیح قیامت کے دن شفاعت کے طلبگاروں کو نبی اکرمa کی خدمت بابرکت میں حاضر ہونے کا مشورہ دیں گے۔ حدیث میں ہے کہ جب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس اس شفاعت کے لئے حاضر ہوں گے تو عیسیٰ علیہ السلام اس وقت یہ

268

جواب دیں گے۔ ’’ان محمدا خاتم النّبیین قد حضر الیوم‘‘ آج تو خاتم النّبیین محمد مصطفیa تشریف فرما ہیں۔ ان سے شفاعت کی درخواست کرو۔ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضرتa سے ایک خاص قرب بھی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’وقال النبیa انا اولی الناس بعیسٰی بن مریم لیس بینی وبینہ نبی (رواہ البخاری)‘‘ {نبی کریمa نے ارشاد فرمایا: میں عیسیٰ بن مریم سے بہت ہی اقرب ہوں میرے اور ان کے درمیان میں کوئی نبی نہیں۔}

اور غالباً حضرت مسیحm کو نبی اکرمa کی طرح معراج جسمانی میں شریک کرنا اسی اولویت کی وجہ سے ہوا اور جس طرح خاتم الانبیاء سے پیشتر نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رکھاگیا۔ اسی طرح خاتم الدجالین سے پہلے دجل کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

’’کما قال النبیa لا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلثین کلہم یزعم انہ رسول اللہ وانہ لا نبی بعدی‘‘ {نبی کریمa نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک بہت سے دجال اور کذاب نہ آئیں۔ ہر ایک یہ کہتا ہوگا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

اس حدیث میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجل کا مدار اصل میں خاتم الانبیاء کے آجانے کے بعد دعوائے نبوت ورسالت پر ہے۔

اس لئے کہ آپa نے دجالین کی علامت ہی یہ قراردی ہے: ’’کلہم یزعم انہ رسول اللہ ‘‘ یعنی فقط آپa کے بعد اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں اللہ کا رسول بنایا گیا ہوں۔ اس کے دجال ہونے کی قطعی اور یقینی دلیل ہے۔ نیز دجل کے معنی التباس کے ہیں اور دعویٰ الوہیت میں چنداں التباس اور اشتباہ نہیں جتنا کہ دعویٰ نبوت میں ہے۔ اسی وجہ سے فرعون کو باوجود دعوائے الوہیت کے دجال نہیں کہاگیا۔ اس لئے کہ بشر کی عدم الوہیت میں کوئی اشتباہ نہیں۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایک کھانے پینے والا اور ہگنے موتنے والا کبھی خدا نہیں ہوسکتا۔ مگر انبیاء کرام چونکہ جنس بشر سے آئے ہیں، اس لئے دعوائے نبوت میں عقلاً اشتباہ ہوسکتا ہے۔ لیکن خاتم النّبیین اور ختم نبوت کے بعد کسی قسم کا کوئی اشتباہ باقی نہیں رہا۔ غرض یہ کہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا سراسر دجل اور کھلا ہوا ارتداد ہے کہ جس کی سزا بجز قتل کے اور کچھ نہیں۔ اس لئے جناب مسیح بن مریمm نازل ہو کر دجال مدعی نبوت کو قتل فرمائیں گے کہ خاتم الانبیاء کے بعد کیوں نبوت کا دعویٰ کیا۔

269

اور ان لوگوں سے کہ جو اس مدعی نبوت کا ساتھ دیں گے امام مہدی آکر قتال کریں گے۔ جس طرح صدیق اکبرq نے مسیلمہ کذاب سے قتال کیا۔ سبحان اللہ ! حق تعالیٰ نے کس طرح خاتم الانبیاء کے بعد مدعی نبوت کا واجب القتل ہونا ظاہر فرمایا کہ اس امت مرحومہ کے اوّل اور آخر خلیفہ دونوں سے مدعی نبوت کی جماعت کو خوب اچھی طرح قتل کرایا۔ نیز یہود کے قتل میں حکمت یہ ہے کہ یہود جناب مسیح بن مریم کے کچھ خاص مجرم ہیں۔

اوّل… تو یہ کہ جناب مسیحk پر ایمان نہ لائے۔

دوم… یہ کہ آپ کی والدہ ماجدہ پر طرح طرح کے افتراء باندھے۔

سوم… یہ کہ آپ کے قتل میں پوری کوشش اور تدبیر سے کام لیا۔ مگر حق تعالیٰ نے آپ کو بالکل صحیح وسالم آسمان پر اٹھایا۔

چہارم… یہ کہ آپ کے بعد جس نبی یعنی خاتم الانبیاء کی آپ نے بشارت دی تھی اس پر ایمان نہ لائے اور اس کے قتل میں بھی پوری کوشش کی۔ مگر سب ناکام رہے۔

پنجم… یہ کہ مسیح دجال کو خاتم الانبیاء کے بعد نبی مان بیٹھے۔ حالانکہ خاتم النّبیین کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔

اس لئے مناسب ہوا کہ اب یہود کا استیصال کیا جائے۔ اس لئے کہ اب کفر انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ خاتم الانبیاء کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے اور جو اس مدعی کا اتباع کرے وہ شرعاً ہرگز ہرگز زندہ نہیں رکھے جاسکتے۔ ’’اینما ثقفوا اخذوا او قتلوا تقتیلا‘‘

پھر یہ کہ دجال اپنے کو مسیح کہہ کر خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے لگا اور لوگ دھوکہ سے اس مسیح ضلالت کو مسیح ہدایت یعنی مسیح بن مریم(n) سمجھ کر ایمان لائیں گے اور غلطی میں مبتلا ہوں گے۔ اس لئے حضرت مسیح بن مریم کو اس ناقابل تحمل غلطی کے ازالہ کے لئے نازل کرنا ضروری ہوا۔ اس لئے آپ اس کے قتل پر مامور ہوئے۔ تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ کون مسیح ہدایت ہے اور کون مسیح ضلالت ’’ذلک عیسٰی بن مریم قول الحق الذی فیہ یمترون‘‘

’’واٰخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العلمین۔ وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد النبی الامی خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین ویااکرم الاکرمین ویا اجود الاجودین۔ آمین یا رب العلمین‘‘

270

اسلام اور مرزائیت

کا

اصولی اختلاف

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

271

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین۔ اما بعد!

بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں گے کہ مرزائی اور قادیانی مذہب اسلام سے کوئی علیحدہ مذہب نہیں۔ بلکہ مذہب اسلام ہی کی ایک شاخ ہے اور دیگر اسلامی فرقوں کی طرح یہ بھی ایک اسلامی فرقہ ہے۔ اس لئے یہ لوگ قادیانیوں کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھنے میں تأمل کرتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے ان لوگوں کی یہ غلط فہمی سراسر اصول اسلام سے لاعلمی اور بے خبری پر مبنی ہے۔ یہ مسلمان کی جہالت کی انتہاء ہے کہ اسے اسلام اور کفر میں فرق نہ معلوم ہوا۔ جاننا چاہئے کہ ہر ملت اور مذہب کے کچھ اصول اور عقائد ہوتے ہیں کہ جن کی بناء پر ایک مذہب دوسرے مذہب سے جدا اور ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلام کے بھی کچھ بنیادی اصول اور عقائد ہیں کہ ان اصولوں اور عقائد کے اندر رہ کر جو اختلاف ہو وہ فروعی اختلاف ہے اور جو اختلاف ان مسلمہ اصول اور عقائد کی حدود سے نکل کر ہو وہ اصولی اختلاف کہلاتا ہے اور اس اختلاف سے وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد سمجھا جاتا ہے۔

اس مختصر تحریر میں ہم نہایت اختصار کے ساتھ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ قادیانی مذہب، مذہب اسلام کے اصول اور عقائد سے کس درجہ متصادم اور مزاحم ہے تاکہ یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو جائے کہ اسلام اور مرزائیت کا اختلاف اصولی اختلاف ہے۔ مرزائی مذہب کے اصول اور عقائد مذہب اسلام کے اصول اور عقائد کے بالکل مبأین اور مخالف ہیں۔ بالکل ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں۔ مذہب اسلام اور مرزائیت ایک جاجمع نہیں ہوسکتے۔ ’’فاقول ب اللہ التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق‘‘

مرزائیوں کے نزدیک بھی اسلام اور مرزائیت کا اختلاف

اصولی اختلاف ہے فروعی نہیں

’’یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیراحمدیوں کے درمیان میں کوئی فروعی اختلاف ہے… کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے، ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب

272

کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے:’’لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔‘‘(نہج المصلی، مجموعہ فتویٰ احمدیہ ج۱ ص۲۷۴،۲۷۵)

پہلا اختلاف

مسلمانوں کے نبی اور رسول محمد عربی حضرت محمد مصطفیa ہیں اور مرزائیوں کا نبی مرزاغلام احمد قادیانی ہے۔(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

اور ظاہر ہے کہ نبی ہی کے بدلنے سے قوم اور مذہب جدا سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی قوم یہود اور نصاریٰ سے اسی لئے جدا ہے کہ ان کا نبی ان کے نبی کے علاوہ ہے۔ حالانکہ مسلمان بھی حضرت موسیٰm اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو شخص فقط حضرت موسیٰm یا فقط حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھے اور محمدa پر ایمان نہ لائے وہ یہودی اور عیسائی ہے۔ مسلمان اور محمدی نہیں کہلا سکتا اور جو یہودی اور عیسائی حضرت محمدa پر ایمان لے آئے وہ یہودی اور عیسائی نہیں رہتا بلکہ مسلمان محمدی کہلاتا ہے۔

اسی طرح جو شخص مرزاغلام احمد قادیانی پر ایمان لائے وہ مسلمان اور محمدی نہیں کہلا سکتا اس لئے کہ نئے پیغمبر پر ایمان لانے کی وجہ سے پہلے پیغمبر کی امت سے خارج ہو جاتا ہے اور نئے نبی کی امت میں داخل ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ تمام مرزائی مرزاغلام احمد کو نبی ماننے کی وجہ سے محمد رسول اللہ a کی امت اور دین اسلام سے خارج ہوچکے ہیں۔ ان کو مسلمان محمدی یا احمدی کہنا جائز نہیں۔ ان کو مرزائی اور غلامی اور قادیانی کہا جائے گا اور ان کا دین اسلام نہیں ہوگا۔ بلکہ ان کا دین مرزائی دین ہوگا۔

دوسرا اختلاف

تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ a خاتم النّبیین یعنی آخری بنی ہیں۔ جیسا کہ نص قرآنی’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ اور احادیث متواترہ اور اجماع صحابہi اور تابعینw اور امت محمدیہa کے تیرہ سو برس کے تمام علماء مقتدمین اور متاخرین کے اتفاق سے یہ مسلّم ہے کہ نبوت ورسالت محمد رسول اللہ a پر ختم ہوچکی ہے۔ یہ اسلام کا اساسی اصولی اور بنیادی عقیدہ ہے جس میں کسی اسلامی فرقہ کو اختلاف نہیں۔

273

مرزاغلام احمد کہتا ہے کہ نبوت حضورa پر ختم نہیں ہوئی۔ آپ کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ گویا کہ مرزاقادیانی کے زعم میں حضورa خاتم النّبیین نہیں۔ بلکہ فاتح النّبیین ہیں۔ یعنی نبوت کا دروازہ کھولنے والے ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۹، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

امت محمدیہa میں سب سے پہلا اجماع

حضورa کے وصال کے بعدامت محمدیہa میں جو پہلا اجماع ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ جو شخص حضورa کے بعد دعوائے نبوت کرے اس کو قتل کیا جائے۔

اسود عنسی نے حضورa کے زمانہ حیات میں دعویٰ نبوت کیا۔ حضورa نے ایک صحابیq کو اس کے قتل کے لئے روزانہ فرمایا۔ صحابیq نے جاکر اسود عنسی کا سر قلم کیا۔ مسیلمہ کذاب نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبرq نے خلافت کے بعد سب سے پہلا کام جو کیا، وہ یہ تھا کہ مسیلمہ کذاب کے قتل اور اس کی جماعت کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے خالد بن ولیدq سیف اللہ کی سرکردگی میں صحابہ کرامi کا ایک لشکر روانہ کیا، کسی صحابیq نے مسیلمہ سے یہ سوال نہیں کیا کہ تو کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، مستقل نبوت کا مدعی ہے یا ظلّی اور بروزی نبوت کا مدعی ہے اور نہ کسی نے مسیلمہ کذاب سے اس کی نبوت کے دلائل اور براہین پوچھے، اور نہ کوئی معجزہ دکھلانے کا سوال کیا، صحابہ کرامi کا لشکر میدان کارزار میں پہنچا مسیلمہ کذاب کے ساتھ چالیس ہزار جوان تھے۔ خالد بن ولیدq سیف اللہ نے جب تلوار پکڑی تو مسیلمہ کے اٹھائیس ہزار جوان مارے گئے اور خود مسیلمہ بھی مارا گیا۔ خالد بن ولیدq مظفر ومنصور مدینہ منورہ واپس آئے اور مال غنیمت مجاہدین پر تقسیم کیاگیا۔ مسیلمہ کے بعد طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبرq نے اس کے قتل کے لئے بھی خالدq کو روانہ کیا۔ (فتوح البلدان ص۱۰۲)

اس کے بعد خلیفہ عبدالملکv کے عہد میں حارث نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خلیفۂ وقت نے علماء صحابہi وتابعینw کے متفقہ فتویٰ سے اس کو قتل کر کے سولی پر چڑھایا اور کسی نے اس سے دریافت نہ کیا کہ تیری نبوت کی کیا دلیل ہے اور نہ کوئی بحث اور مناظرہ کی نوبت اور نہ معجزات اور دلائل طلب کئے۔

قاضی عیاضv شفاء میں اس واقعہ کو نقل کر کے لکھتے ہیں:’’وفعل ذلک

274

غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباہم‘‘{بہت سے خلفاء اور سلاطین نے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا ہے۔}

خلیفہ ہارون رشید کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خلیفہ ہارون رشید نے علماء کے متفقہ فتویٰ سے اس کو قتل کیا۔ خلاصہ یہ کہ قرون اولیٰ سے لے کر اس وقت تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے کافر اور مرتد اور واجب القتل ہیں۔ اب بھی مسلمانان پاکستان کی وزراء حکومت سے استدعا ہے کہ خلفائے راشدینi اور سلاطین اسلام کی اس سنت پر عمل کر کے دین اور دنیا کی عزت حاصل کریں۔

  1. عزیزیکہ از در گہش سر بتافت

    بہر در کہ شد ہیچ عزت نیافت

قتل مرتد کے متعلق مرزائی خلیفہ اوّل حکیم نورالدین کا فتویٰ

’’مجھے (حکیم نورالدین کو) خدا نے خلیفہ بنادیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہوسکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ معزول کردے اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزادیں گے۔‘‘(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ج۹ نمبر۱۱ ص۱۴، بابت ماہ نومبر ۱۹۱۴ء)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ نورالدین صاحب کے نزدیک بھی مرتد کی سزا قتل ہے۔ اس لئے مخالفین کو خالد بن ولیدq کے اتباع میں اس سنت کے جاری کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

قادیانیوں کو حج بیت اللہ کی ممانعت کی وجہ

مرزائیوں کے نزدیک قادیان کی حاضری ہی بمنزلہ حج کے ہے اور مکہ مکرمہ جانا اس لئے ناجائز ہے کہ وہاں قادیانیوں کو قتل کر دینا جائز ہے۔ چنانچہ مرزامحمود قادیانی خلیفہ ثانی ایک خطبہ جمعہ میں تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خداتعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لئے مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس

275

لئے خداتعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔‘‘(برکات خلافت ص ہ)

(معلوم ہوا کہ علماء حرمین کے نزدیک قادیانی مرتد اور واجب القتل ہیں)

تیسرا اختلاف

تمام مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اخروی نجات کے لئے حضرت محمدa پر ایمان لانا کافی ہے۔ مرزائی جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ نجات کا دارومدار مرزاغلام احمد پر ایمان لانے پر ہے۔(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

اور جو شخص مرزاغلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور ابدی جہنم کا مستحق ہے۔(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵، حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

نہ اس کے ساتھ نکاح جائز۔(برکات خلافت ص۷۵)

اور نہ اس کی نماز جنازہ درست ہے۔(انوار خلافت ص۹۳)

مرزاقادیانی کے متبعین کے سوا دنیا کے پچاس کروڑ مسلمان کافر اور اولاد الزنا ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۷،۵۴۸، آئینہ صداقت ص۳۵)

چنانچہ اسی بناء پر چوہدری ظفر اللہ نے قائداعظم کے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی کہ ظفر اللہ کے نزدیک قائداعظم کافر اور جہنمی تھے۔

قائداعظم کی وصیت تھی کہ میری نماز جنازہ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی قدس اللہ سرہ پڑھائیں۔ چنانچہ وصیت کے مطابق شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیراحمد عثمانیv نے تمام ارکان دولت اور مسلمانان ملت کی موجودگی میں قائداعظم کا جنازہ پڑھا اور اپنے دست مبارک سے ان کو دفن کیا۔

قائداعظم کا مذہب

اس وصیت اور طرزعمل سے صاف ظاہر ہے کہ قائداعظم کا مذہب وہی تھا جو حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانیv کاتھا اور پاکستان اسی قسم کی اسلامی حکومت ہے کہ جس قسم کا اسلام حضرت شیخ الاسلام کا تھا۔ مولانا شبیراحمدv اسی پاکستان کے شیخ الاسلام تھے اور ساری دنیا کو معلوم ہے کہ شیخ الاسلام عثمانیv مرزائی جماعت کو مرتد اور خارج از اسلام سمجھتے تھے اور ان کی نظر میں مسیلمہ پنجاب کا وہی حکم تھا جو شریعت میں یمامہ کے مسیلمہ کذاب کا ہے۔ شیخ

276

الاسلام مولانا شبیراحمد عثمانیv کی تحریرات اس بارہ میں صاف اور واضح ہیں۔

تمام روئے زمین کے کلمہ گو مسلمان مرزائیوں کے نزدیک

کافر اور جہنمی اور اولاد الزنا ہیں

مرزاقادیانی کا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن وحدیث کے ایک ایک حرف پر بھی عمل کرے۔ مگر مرزاقادیانی کو نبی نہ مانے تو وہ ایسا ہی کافر ہے۔ جیسے یہود اور نصاریٰ اور دیگر کفار اور مرزاقادیانی کے تمام منکر اولاد الزنا ہیں۔(قادیانی مذہب ص۱۳۲)

چوتھا اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر وہی معتبر ہے جو حضور پرنورa نے فرمائی اور اس کے بعد صحابہi وتابعینw کی تفسیر کا درجہ ہے۔ مرزاقادیانی کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی وہی تفسیر معتبر ہے جو میں بیان کروں۔ اگرچہ وہ تمام احادیث متواترہ اور صحابہi اور تابعینw اور امت محمدیہa کے تمام علماء کے خلاف ہو۔(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

پانچواں اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم معجزہ ہے یعنی حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے۔ کوئی اس کا مثل نہیں لاسکتا ہے۔

مرزاقادیانی اور مرزائی جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کا کلام بھی معجزہ ہے۔ مرزاقادیانی اپنے قصیدہ اعجازیہ کو قرآن کی طرح معجزہ قرار دیتے تھے۔ مرزائیوں کے نزدیک مرزاقادیانی کی وحی پر ایمان لانا ایسا ہی فرض ہے جیسے قرآن پر ایمان لانا فرض ہے اور جس طرح قرآن کریم کی تلاوت عبادت ہے۔ اسی طرح مرزاقادیانی کی وحی اور الہامات کی تلاوت بھی عبادت ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا مرزاقادیانی کے انگریزی الہامات کی بھی قرآن کی طرح تلاوت عبادت ہے یا نہیں۔ و اللہ اعلم!(خطبہ عید مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۷۸ ص۶، مورخہ ۳؍اپریل ۱۹۲۸ء)

اب ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے بعد اگر کسی اور کتاب پر بھی ایمان لانا فرض ہو تو قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب نہ ہوگی۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

  1. آنچہ من بشنوم زوحی خدا

    بخدا پاک دانمش زخطا

277
  1. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

(درثمن فارسی ص۲۸۷، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

چھٹا اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ a کی حدیث حجت ہے اور اس کا اتباع ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ ’’من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ، وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ‘‘ مرزاقادیانی کا عقیدہ یہ ہے کہ جو حدیث نبوی میری وحی کے موافق نہ ہو اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔

مرزاقادیانی حدیث نبوی کے متعلق لکھتے ہیں:

۱… ’’جو شخص حکم ہوکر آیا ہے اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کرے۔‘‘(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۰، خزائن ج۱۷ ص۵۱)

۲… ’’اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

ساتواں اختلاف

قرآن اور حدیث جہاد کی ترغیب اور اس کے احکام سے بھرا پڑا ہے۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ جہاد شرعی میرے آنے سے منسوخ ہوگیا اور انگریزوں کی اطاعت اولی الامر کی اطاعت ہے اور انگریزوں سے جہاد کرنا حرام قطعی ہے۔(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۷، خزائن ج۱۷ ص۷۷)

مگر پاکستان کی تخریب کے لئے فوجی تیاریاں اور ریشہ دوانیاں، قادیانیوں کے نزدیک فرض عین ہیں اور لیل ونہار اسی دھن میں لگے ہوئے ہیں۔

آٹھواں اختلاف

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضورa خاتم النّبیین ہیں۔ آپa کے بعد آنے والا خواہ کتنا ہی صالح اور متقی ہو وہ انبیاء مرسلین سے افضل وبہتر نہیں ہوسکتا۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ میں تمام انبیاء کرام سے افضل ہوں۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

278
  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

  2. آنچہ داداست ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرابتمام

  3. کم نیم زان ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(درثمین فارسی ص۱۷۱،۱۷۲، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

نواں اختلاف

ازروئے قرآن وحدیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول اور برگزیدہ بندے بغیر باپ کے مریم صدیقہp کے بطن سے پیدا ہوئے۔ صاحب معجزات تھے۔

مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح بن مریم سے افضل ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اقدس میں جو مغلظات اور بازاری گالیاں لکھی ہیں ان کے تصور سے ہی کلیجہ شق ہوتا ہے۔ بطور نمونہ ایک عبارت ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۸،۱۵۳، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

’’اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم ص۴، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸)

’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

دسواں اختلاف

تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ محمد عربی فداہ نفسی وامی وابیa سید الاولین

279

والاخرین اور افضل الانبیاء والمرسلین ہیں اور قادیان کا ایک دہقان اور دشمنان اسلام یعنی نصاریٰ بے لگام کا ایک زرخرید غلام یعنی مرزاغلام احمد قادیانی، کبھی تو حضورپرنورa کی برابری کا دعویٰ کرتاہے اور کبھی یہ کہتا ہے کہ میں عین محمد ہوں اور کبھی یہ کہتا ہے کہ میں آنحضرتa سے بھی افضل اور بہتر ہوں۔ نبی اکرمa کے معجزات صرف تین ہزار تھے۔(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

اور مرزاقادیانی کے معجزات کی تعداد (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲) میں دس لاکھ بتائی ہے۔ گویا معاذ اللہ ! محمد رسول اللہ a مرزائے قادیان سے شان اور مرتبہ میں تین سو تینتیس درجہ کم ہیں اور قرآن کریم میں جو آیتیں حضور پرنور کے بارے میں اتری ہیں ان کے متعلق یہ کہتا ہے کہ یہ آیتیںمیرے بارے میں اتری ہیں۔ مثلاً:

۱… آیت: ’’سبحن الذی اسری بعبدہ‘‘ جس میں حضور پرنورa کے معجزہ معراج کا ذکر ہے۔ لیکن مرزاقادیانی کہتا ہے کہ یہ میرے بارے میں نازل ہوئی۔ (تذکرہ ص۷۹، ۲۷۵، ۶۳۵، طبع سوم)

۲… ’’ثم دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنٰی‘‘ جس میں حضورa کے قرب خداوندی یا قرب جبرئیلی کا ذکر ہے۔ لیکن مرزاقادیانی کہتا ہے کہ یہ میرے پر نازل ہوئی۔(تذکرہ ص۶۸، ۳۶۰، ۳۹۴، ۳۹۵، ۶۳۳، طبع سوم)

۳… ’’انافتحنا لک فتحا مبینا‘‘ لیکن مرزاقادیانی کہتا ہے کہ مجھ پر نازل ہوئی۔(تذکرہ ص۵۰، ۲۸۰، ۳۵۶، ۵۱۵، ۶۳۱)

۴… ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی‘‘ (تذکرہ ص۱۴۶، طبع سوم)

۵… ’’انا اعطینک الکوثر‘‘ (تذکرہ ص۹۴، ۱۰۴، طبع سوم)

’’وغیر ذلک من الایات‘‘

مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں میرے بارے میں مجھ پر نازل ہوئی ہیں اور مثلاً قرآن کریم میں جو محمد رسول اللہ a۔(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

اور ’’مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ آیا ہے۔ اس سے بھی مرزاقادیانی ہی مراد ہیں۔(انوار خلافت ص۱۸)

اور محمد اور احمد میرانام ہے۔ (نعوذ ب اللہ ) مرزاکیا ہے ایک دجال بھی ہے اور نقال بھی ہے۔

280

قادیان بمنزلہ مکہ اور مدینہ کے ہے

مرزائیوں کا قادیان بمنزلہ مکہ اور مدینہ کے ہے۔ اس مسجد کے بارے میں کہ جو مرزاقادیانی کے چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے۔(براہین احمدیہ ص۵۵۸ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۶۷)

قادیان کی زمین ارض حرم ہے

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص۵۰، مجموعہ کلام مرزاغلام احمد)

قادیان کی حاضری بمنزلہ حج کے ہے

مرزابشیرالدین محمود اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں۔ ’’یہ ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے اور جیسا حج میں رفث اور فسوق اور جدال منع ہے ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہے۔‘‘(برکات خلافت ص ھ،ز)

(گویا کہ آیت:’’فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج‘‘ قادیان کے جلسہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے) لاحول ولا قوۃ الا ب اللہ !

قادیان میں مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ

اس مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے… پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الٰی المسجد الاقصٰی الذی بارکنا حولہ‘‘ (خطبہ الہامیہ حاشیہ ص۲۱، خزائن ج۱۶ ص۲۱)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ: ’’مسجد اقصیٰ وہی ہے کہ جس کو مسیح موعود نے قادیان میں بنایا۔‘‘(خطبہ الہامیہ حاشیہ ص۲۵، خزائن ج۱۶ ص۲۵ حاشیہ)

قادیان میں بہشتی مقبرہ

قادیان میں بہشتی مقبرہ کے نام سے ایک مقبرہ ہے۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں جو

281

اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔(ملفوظات احمدیہ ج۸ ص۳۲۴)

اور پھر الہام ہوا کہ روئے زمین کے تمام مقابر اس زمین کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔(مکاشفات مرزا ص۵۹)

مرزاقادیانی کی امت

مرزاقادیانی نے جابجا اپنے ماننے والوں کو اپنی امت بتایا ہے۔

مرزاقادیانی کے مریدین بمنزلہ صحابہ کے ہیں

امت محمدیہ کی طرح مرزاقادیانی کی امت میں طبقات ہیں۔ مرزاقادیانی کے دیکھنے والے صحابہ کہلاتے ہیں۔(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹)

تو ان کے دیکھنے والے تابعین اور تبع تابعین۔ (معاذ اللہ )

مرزاقادیانی کے اہل عیال بمنزلہ اہل بیت کے ہیں

اور مرزاقادیانی کے خاندان کو اہل بیت اور خاندان نبوت اور مرزاقادیانی کی بیویوں کو ازواج مطہرات کہا جاتا ہے۔ (معاذ اللہ ) (ملفوظات ج۲ ص۳۶۳)

مرزاقادیانی کا خاندان، خاندان نبوت ہے

اور مرزاقادیانی کے خاندان کو خاندان نبوت کے نام سے پکارا جاتا ہے اور قرآن اور حدیث میں اہل بیت اور ذوی القربی کے جو حقوق اور احکام آئے وہ سب مرزاقادیانی کے خاندان اور اہل بیت کے لئے ثابت کئے جاتے ہیں۔(تقریر مرزامحمود الفضل قادیان ج۲۰، نمبر۸۱ ص۳، مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۳۳ء)

مرزاقادیانی کی امت میں ابوبکر وعمر

حکیم نورالدین کو قادیانی خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقq کی طرح مانا گیا ہے اور مرزابشیرمحمود خلیفہ ثانی کو اس امت کا عمرفاروق اعظمq کی طرح کہا جاتا ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے۔(سیرۃ المہدی ج۳ ص۳۷، الفضل قادیان ج۳ نمبر۹۹، مورخہ ۲؍فروری ۱۹۱۵ء)

  1. گربہ میرو سگ وزیر و موش رادیوان کنند

    ایں چنیں ارکان دولت ملک را ویران کنند

282

مرزاقادیانی پر مستقلاً صلوٰۃ وسلام کی فرضیت اور

مرزاقادیانی کے مریدین اور کنبہ کی اس میں شرکت اور شمولیت

’’پس آیت: ’’یاایہا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما‘‘ کی رو سے اور ان احادیث کی رو سے جن میں آنحضرتa پر درود بھیجنے کی تاکید پائی جاتی ہے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر درود بھیجنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح آنحضرتa پر بھیجنا ازبس ضروری ہے۔‘‘(رسالہ درود شریف مصنفہ محمد اسماعیل قادیانی ص۱۳۶)

’’ازروئے سنت اسلام واحادیث نبویہ ضروری ہے کہ تصریح سے آپ کی آل کو بھی درود میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح بلکہ اس سے بدرجہا بڑھ کر یہ بات ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود پر بھی تصریح سے درود بھیجا جائے اور اس اجمالی درود پر اکتفاء نہ کیا جائے جو آنحضرتa پر درود بھیجنے کے وقت آپ کوبھی پہنچ جاتا ہے۔‘‘(از رسالہ مذکورہ ص۱۴۰)

چودھری ظفر اللہ کا سلام ٹریکٹ

دس نبی اور ایک بندے کا انتخاب ؎

  1. خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو

    خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو

  2. خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو

    خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو

  3. خدا کے راست باز نبی کیفنوس پر سلامتی ہو

    خدا کے راست باز نبی ابراہیم پر سلامتی ہو

  4. خدا کے راست باز نبی موسیٰ پر سلامتی ہو

    خدا کے راست بات نبی مسیح پر سلامتی ہو

  5. خدا کے راست باز نبی محمد پر سلامتی ہو

    خدا کے راست باز نبی احمد پر سلامتی ہو

خدا کے راست باز بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو

(چودھری ظفر اللہ خان قادیانی بیرسٹر کاٹریکٹ مارچ ۱۹۳۳ء میں بتقریب یوم التبلیغ شائع ہوا، منقول از پیغام صلح لاہور ج۲۱ نمبر۲۲، مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۳۳ء)

اس ٹریکٹ سے چودھری ظفر اللہ کے ایمان کی حقیقت بھی وضح ہو جاتی ہے کہ ان کے نزدیک حضرت ابراہیمm اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح رام چندر اور کرشن بھی نبی اور

283

رسول تھے۔ اہل اسلام کے نزدیک تو سرور عالم محمدa اور دیگر حضرات انبیاءo کو رام چندر اور کرشن کے ساتھ ذکر کرنا سراسر گستاخی اور گمراہی ہے۔

البتہ مرزاغلام احمد قادیانی کو کرشن اور رام چندر کے ساتھ ذکر کرنا نہایت مناسب ہے۔ سب کے سب ائمۃ الکفر اور کافروں کے پیشوا تھے۔

خلاصہ کلام یہ کہ اسلام اور مرزائیت کا اختلاف اصولی ہے فروعی نہیں۔

مرزائی مذہب نے اسلام کے اصول اور قطعیات ہی کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب کوئی چیز ان کے اور اہل اسلام کے درمیان مشترک باقی نہیں رہی۔ یہ جماعت بہ نسبت یہود اور نصاریٰ اور ہنود کے اہل اسلام سے زیادہ عداوت رکھتی ہے۔ جو مسلمان مرزائے قادیان کو نبی نہ مانے وہ ان کے نزدیک کافر اور اولاد زنا ہے۔ اس کے ساتھ کوئی تعلق جائز نہیں۔ مثلاً مسلمانوں کی عورتوں سے نکاح جائز نہیں اور اس کی نماز جنازہ نہیں۔

دین کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: قرآن اور حدیث۔ قرآن کے متعلق تو مرزاقادیانی یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر وہی صحیح ہے کہ جو میں بیان کروں۔ اگرچہ وہ تفسیر کل علماء امت کی تفسیر کے خلاف ہو اور حدیث نبوی کے متعلق یہ کہتا ہے کہ جو حدیث میری وحی کے مطابق ہو وہ قبول کی جائے گی اور جو میری وحی کے خلاف ہوگی وہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی۔ اس طرح اسلام کے ان دو بنیادی اصول کو ختم کیا اور اپنی من مانی تاویلات اور تحریفات کو اسلام کے سر لگایا۔ الفاظ تو شریعت کے رکھے مگر معنی بالکل بدل دئیے اور آیات اور احادیث میں وہ تحریف کی کہ یہود اور نصاریٰ بھی پیچھے رہ گئے اور تعلیم یافتہ طبقہ اکثر چونکہ دین اور اصول دین سے بے خبر اور عربی زبان سے ناواقف ہے اس لئے یہ طبقہ زیادہ تر اس گمراہی کا شکار ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔ آمین!

ایک ضروری گزارش

قادیانی کتابوں کے دیکھنے سے یہ بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے کہ قادیانی مذاہب اس مثل کا مصداق ہے کہ:

میرے تھیلے میں سب کچھ ہے

ایمان بھی ہے اور کفر بھی ہے۔ ختم نبوت کا اقرار بھی ہے اور انکار بھی ہے۔ دعوائے

284

نبوت ورسالت بھی ہے اور جو دعوائے نبوت کرے اس کی تکفیر بھی ہے۔ حضرت مسیح بن مریم کے رفع الیٰ السماء اور نزول کا اقرار بھی ہے اور انکار بھی۔ وغیرہ وغیرہ! غرض یہ کہ مرزاقادیانی کی کتابوں میں جس قدر مختلف اور متعارض مضامین ملتے ہیں وہ دنیا کے کسی متنبی اور ملحد اور زندیق کی کتابوں میں نہیں ملتے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں ہیں جن کا مرزاقادیانی کبھی اقرار کرتے ہیں اور کبھی انکار اور یہ سب کچھ دیدۂ دانستہ ہے اور غرض یہ ہے کہ بات گول مول رہے۔ حقیقت متعین نہ ہو حسب موقعہ اور حسب ضرورت جس قسم کی عبارت چاہیں لوگوں کو دکھلا سکیں اور زنادقہ کا ہمیشہ یہی طریق رہا ہے کہ بات صاف نہیں کہتے۔ یہی طریقہ مرزاقادیانی اور مرزائیوں کا ہے کہ جب مرزاقادیانی کا اسلام ثابت کرنا چاہتے ہیں تو قدیم عبارتیں پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہمارے عقیدے تو وہی ہیں جو سب مسلمانوں کے ہیں اور جب موقعہ ملتا ہے تو مرزاقادیانی کے فضائل اور کمالات اور وحی الہامات کے دعویٰ پیش کر دیتے ہیں اور دھوکہ دینے کے لئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ مرزاقادیانی مستقل نبی اور رسول نہ تھے۔ وہ تو ظلی اور بروزی نبی تھے۔ ظلی اور بروزی اور مجازی نبی کی اصطلاح مرزاقادیانی نے محض اپنی پردہ پوشی کے لئے گھڑی ہے۔ اگر کوئی شخص حکومت کی وفاداری کا اقرار کرے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اپنا نام، صدر مملکت رکھ لے اور جو خادم اندرون خانہ خدمت انجام دیتا ہو۔ اس کا نام، وزیر داخلہ، رکھ لے اور جو خادم بازار سے سودا لاتا ہو۔ اس کا نام، وزیر خارجہ، رکھ لے اور باورچی کا نام، وزیر خوراک رکھ لے۔ وغیرہ ذالک! اور تاویل یہ کرے کہ معنی لغوی کے اعتبار سے میں اپنے آپ کو صدر مملکت اور اپنے خادم کو وزیرداخلہ اور وزیر خارجہ کہتا ہوں اور اصطلاحی اور عرفی معنی میری مراد نہیں، یا یوں کہے کہ میں تو صدر مملکت کا ظل اور بروز ہوں اور اس کے کمالات کا آئینہ ہوں اور میرے اس نام رکھنے سے حکومت کی مہر نہیں ٹوٹتی تو ظاہر ہے کہ یہ تاویل حکومت کی نظر میں اس مجرم اور چالاک اور مکار ہونے سے نہیں بچا سکتی۔ اسی طرح مرزاقادیانی کی یہ تاویل کہ میں ظلی اور بروزی نبی ہوں۔ کفر اور ارتداد سے نہیں بچا سکتی۔ مرزاقادیانی بلاشبہ تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کے مدعی تھے اور اپنی وحی اور الہام کو قطعی اور یقینی اور کلام خداوندی سمجھتے تھے اور اپنے زعم میں اپنے خوارق کا نام معجزات رکھتے تھے اور اپنے منکر اور متردد اور ساکت کو کافر اور منافق

285

ٹھہراتے تھے اور اپنی جماعت سے خارج ہونے والے کو مرتد کا خطاب دیتے تھے۔ جو حقیقی نبوت ورسالت کے لوازم ہیں مرزاقادیانی کا اپنے لئے نبوت کے لوازم کو ثابت کرنا یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ مرزاقادیانی مستقل نبوت ورسالت کے مدعی تھے اور بروزی کی تاویل محض پردہ پوشی کے لئے تھی۔ مخالفین کے خاموش کرنے کے لئے اپنے آپ کو ظلی اور بروزی نبی ظاہر کرتے تھے۔ مرزاقادیانی کادعویٰ تو یہ ہے کہ فضائل وکمالات اور معجزات میں تمام انبیاء مرسلین سے بڑھ کر ہوں۔ حقائق پر پردہ ڈالنے کے لئے مرزاقادیانی نے ظلی اور بروزی کی اصطلاح گھڑی ہے جس کا کتاب وسنت میں کہیں نام ونشان نہیں۔

خاتمہ کلام

اب میں اپنی اس مختصر تحریر کو ختم کرتا ہوں اور تمام مسلمانوں سے عموماً اور جدید تعلیم یافتہ حضرات سے خصوصاً اس کا امیدوار ہوں کہ اس تحریر کو غور سے پڑھیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ! ایک ہی مرتبہ پڑھنے میں مسئلہ کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ اکثر دین سے بے خبر بھی ہے اور بے فکر بھی ہے۔ اس لئے وہ غلط فہمی میں زیادہ مبتلا ہے اور قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھتا ہے۔

اے میرے عزیز! جس طرح کسی مسلمان کو بے وجہ کافر سمجھنا کفر ہے اسی طرح کسی کافر کو مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ دونوں جانبوں میں احتیاط ضروری ہے۔

اور جس طرح مسیلمہ کذاب کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اسی طرح مسیلمہ پنجاب مرزاغلام احمد قادیانی کو مسلمان سمجھنا کفر ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ بلکہ مسیلمہ قادیان، یمامہ کے مسیلمہ سے دجل اور فریب میں کہیں آگے نکلا ہوا ہے۔ ’’ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا ب اللہ علی توکلت والیہ انیب واٰخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی اٰلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الرحمین‘‘

بندہ گنہگار: محمد ادریس کان اللہ لہ

مدرس جامعہ اشرفیہ لاہور، مورخہ ۱۳؍شوال المکرم ۱۳۷۱ھ

286

دعاوی مرزا

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

287

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ۔ اما بعد!

دنیا میں بہت سے گمراہ اور جھوٹے مدعی گزرے ہیں مگر اس مسیلمہ ثانی مرزاغلام احمد قادیانی جیسا مدعی کاذب اور مفتری اب تک کوئی نہیں گزرا۔ جو مدعی بھی کھڑا ہوا وہ ایک ہی دعویٰ کو لے کر کھڑا ہوا۔ مگر مرزائے قادیان کے دعوؤں کا کوئی حد اور شمار نہیں۔ اس شخص نے اس کثرت کے ساتھ قسم قسم کے مختلف اور متناقض دعویٰ کئے جن کا احاطہ اس ناچیز کو محال نظر آتا ہے اور دعوؤں کی کثرت اور تنوع ہی کی وجہ سے مرزائی امت کے فضلاء کو مرزائے قادیان کے اصل دعویٰ کی تعین میں اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ مرزاقادیانی نبوت کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ مجدد زماں یا امام دوراں یا مہدی زماں ہونے کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ لغوی یا مجازی یا بروزی نبی ہونے کے مدعی تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ مرزاقادیانی شریعت اور مستقل نبی تھے اور کوئی کہتا ہے کہ وہ غیرتشریعی نبی تھے۔

اس قسم کے دعویٰ تو مرزاقادیانی نے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے کئے اور یہود اور نصاریٰ کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے موسیٰ اور عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور شیعوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے یہ کہہ دیا کہ امام حسینq سے مشابہت رکھتا ہوں اور ہندوؤں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے کرشن ہونے کا اور آریوں کے بادشاہ ہونے کا دعویٰ کیا تاکہ ہر طرف سے شکار مل سکے اور باوجود ان مختلف اور متناقض دعوؤں کے بظاہر مدعی اسلام ہی کے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہود اور نصاریٰ اور ہندوؤں اور آریوں میں سے تو کسی نے آپ کو اپنا گرو اور پیشوا اور اوتار نہ مانا۔ البتہ ناواقف عوام اور بعض تعلیم یافتہ حضرات ان کے فریب میں آگئے اور انہیں کلمہ گو خیال کر کے یہ سمجھنے لگے کہ یہ بھی مسلمانوں ہی میں کا ایک فرقہ ہے۔ چونکہ تعلیم یافتہ طبقہ اکثر دین اسلام اور اس کے اصول سے بے خبر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ مدعی کاذب کے مکروفریب کو سمجھ نہ سکا اور یہ نہ سمجھ سکا کہ نام اسلام کا ہے اور معنی کفر کے ہیں۔ ظاہر میں اسلام کا نام لیا۔ مگر درپردہ اصول اسلام میں وہ عجیب وغریب تحریف کی، کہ جس سے اصل اسلام کی حقیقت ہی بدل گئی اور ایسی تحریف کی کہ یہود ونصاریٰ سے تحریف میں سبقت لے گیا اور شریعت کے الفاظ کو بظاہر برقرار رکھنا اور اس کی حقیقت کو بدل دینا یہی الحاد اور زندقہ ہے۔

288

مرزاقادیانی نے دعوے تو بے شمار کئے۔ مگر دلیل کسی کی پیش نہیں کی۔ صرف الہام پر اکتفا کیا اور ان بے شمار دعوؤں سے غرض یہ تھی کہ کوئی فضیلت چھوٹنے نہ پائے اور کوئی فرقہ ہندوستان میں ایسا نہ رہے جس کے وہ مقتداء اور معبود نہ بن جائیں۔ مگر کسی فرقہ پر ان کا افسوں نہ چلا۔ چونکہ مسلمانوں میں ایک جدید تعلیم یافتہ طبقہ دین سے بے خبر ہے۔ اس لئے اس فرقہ پر ہر ملحد اور زندیق کا افسوں اثر کر جاتا ہے۔

مرزاقادیانی کی مثال

مرزاقادیانی ایک طرف تو یہ کہتا ہے کہ میں آنحضرتa کا ظل اور بروز ہوں اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ میں کرشن جی کا ظل اور بروز ہوں۔ اس کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ آج کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں قائداعظم کا بھی ظل اور بروز ہوں اور پنڈت نہرو کا بھی ظل اور بروز ہوں۔ ذوالقرنین بھی ہوں اور نمرود بھی۔ ابوبکرq بھی ہوں اور ابوجہل بھی۔

غرض یہ کہ مرزاقادیانی کے دعوؤں کی کثرت اور تنوع کا یہ عالم ہے کہ تفصیلی طور پر ان کا استیعاب اور استقصاء اگر محال نہیں تو مجھ جیسے کمزور اور ناتواں کے لئے مشکل ضرور ہے۔ تاہم بحق خیرخواہی اہل اسلام اختصار کے ساتھ اس کے دعوؤں کو ہدیہ ناظرین کرتا ہوں تاکہ ناظرین ان دعوؤں کی کثرت اور تنوع کو دیکھ کر اندازہ لگالیں کہ مسیلمہ قادیان تیرہ صدی کے مدعیان نبوت سے کفر اور دجل میں گوئے سبقت لے گیا ہے تاکہ مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور یہ مسیلمہ ثانی کفر ودجل میں لاثانی ہے۔

فضائل وکمالات کے دعوے

۱…ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ

سب سے پہلے مرزاقادیانی نے براہین احمدیہ میں بمقابلہ آریہ وغیرہ الہام اور کشف کا دعویٰ کیا کہ میں ملہم من اللہ ہوں۔ چنانچہ اس کا دعویٰ ہے کہ: ’’خداتعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مشرف کیا۔‘‘(تریاق القلوب ص۱۵۵، خزائن ج۱۵ ص۲۸۳)

۲…وحی کا دعویٰ

بعد ازاں وحی کا دعویٰ کیا کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور وحی منقطع نہیں ہوئی اور وحی اور

289

الہام ایک چیز ہے جو کہے کہ دین میں وحی ختم ہوگئی میں اس دین کو لعنتی دین قرار دیتا ہوں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۹، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

۳…مجدد ہونے کا دعویٰ

بعد ازاں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا کہ میں چودھویں صدی کا مجدد بن کر آیا ہوں۔(ازالہ اوہام ص۱۵۴، خزائن ج۳ ص۱۷۹)

۴…محدث من اللہ ہونے کا دعویٰ

محدث من اللہ کے معنی یہ ہیں کہ جس شخص سے اللہ دل ہی میں باتیں کرتا ہو، مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے امت کے لئے محدث ہوکر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی کو نبی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔(توضیح المرام ص۹، خزائن ج۳ ص۶۰، ازالہ اوہام ج۱ ص۳۴۹، خزائن ج۳ ص۲۷۸)

ناظرین غور فرمائیں کہ یہ دعویٰ آئندہ چل کر صراحۃً دعوائے نبوت کی تمہید ہے۔

۵…امام زماں ہونے کا دعویٰ

’’میں لوگوں کے لئے تجھے امام بناؤں گا تو ان کا رہبر ہوگا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۷۹، خزائن ج۲۲ ص۸۲، ضرورۃ الامام ص۲۴، خزائن ج۳ ص۴۹۵)

۶…خلیفۃ اللہ اور خدا کے جانشین ہونے کا دعویٰ

’’میں نے ارادہ کیا ہے کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا۔‘‘(کتاب البریہ ص۷۶، خزائن ج۱۳ ص۱۰۲)

مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں حق تعالیٰ نے جس آدم کو اپنا خلیفہ بنایا اس سے مرزائے قادیان مراد ہے۔ سبحان اللہ ! جس آدمm کو خدا نے اپنا خلیفہ بنایا تمام روئے زمین کی بادشاہت ان کو عطاء کی اور مرزاقادیانی کے پاس سوائے چند زمینوں کے کیا رکھا تھا۔ جن کا محصول انگریزی سرکار کو ادا کرتے تھے اور مقدمہ کے لئے کچہری میں حاضری دیتے تھے اور بٹالہ کے تحصیلدار کی خوشامد کرتے تھے۔ کیا اسی زمینداری کا نام خلافت الٰہی اور خدا کی جانشینی ہے؟

290

۷…مہدی ہونے کا دعویٰ

یہ دعویٰ مرزاقادیانی کی اکثر تصانیف میں موجود ہے۔ لہٰذا حوالہ کی حاجت نہیں۔ امام مہدی کے ظہور کے بارہ میں بے شمار حدیثیں آئی ہیں جو درجہ تواتر کو پہنچی ہیں۔ ان میں تصریح ہے کہ امام مہدی مدینہ میں پیدا ہوں گے اور مکہ میں ان کا ظہور ہوگا۔ ان کا نام محمد اور ان کے والد کا نام عبد اللہ اور ظہور کے بعد تمام روئے زمین کے بادشاہ ہوں گے اور کافروں سے جہاد وقتال کریں گے اور یہودیوں کو تہ تیغ کریں گے اور مرزاقادیانی کا نام غلام احمد اور ان کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ ہے اور قادیان جیسے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ مکہ اور مدینہ ان کو دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا اور باوجود استطاعت کے حج بھی نہیں کیا اور بجائے جہاد کے انگریزی سرکار کی وفاداری اور ان کے لئے دعاگوئی کو اپنی امت پر واجب کیا۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ یہ سب حدیثیں غلط ہیں۔ پھر جب مہدی ہونے کا دعویٰ کیا کہ وہ مہدی موعود میں ہوں۔ خیر مرزاقادیانی نے اپنا نام تو مہدی رکھ لیا۔ مگر یہ بتلائیں کہ بادشاہت کا کیا انتظام کیا۔ آپ تو اپنے چھوٹے سے گاؤں قادیان کے بھی بادشاہ نہ تھے۔ روئے زمین کے تو کیا بادشاہ ہوتے اور یہ بتلائیں کہ مرزاقادیانی حضرت فاطمتہ الزہراءt کی اولاد سے ہیں؟ پھر کہاں سے مہدی بن گئے۔ غرض یہ کہ مرزاقادیانی کا مہدی ہونا قطعاً محال ہے۔ اس لئے کہ مہدی موعود کی جو علامتیں احادیث میں مذکور ہیں وہ مرزائے قادیان میں ایک ایک کر کے مفقود ہیں۔ محض دعویٰ یا نام رکھنے سے مہدی نہیں بن جاتا۔ جب تک احادیث کے مطابق مہدی کے صفات اور علامات نہ ہوں۔ مرزاقادیانی سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے مہدویت کے دعویٰ کئے۔ نام تو مہدی رکھ لیا مگر امام مہدی کی جو علامتیں احادیث میں مذکور ہیں۔ وہ اپنے میں نہ دکھلا سکے۔ یہی حال مرزائے قادیان کا ہے۔ کہتا ہے کہ میں مہدی ہوں۔ مگر علامتیں نہ دکھلا سکا اور بے خبروں کو گمراہ کر کے دنیا سے روانہ ہوا۔

۸…حارث ہونے کا دعویٰ

حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص حارث نام، امام مہدی کی تائید اور مدد کے لئے لشکر لے کر ماوراء النہر سے روانہ ہوگا۔ جس کے مقدمتہ الجیش پر ایک سردار ہوگا۔ جس کا نام منصور ہوگا۔ ہر مسلمان پر اس کی نصرت ضروری ہے۔(رواہ ابوداؤد وغیرہ)

291

(ازالہ اوہام ص۷۹، تقطیع خورد، خزائن ج۳ ص۱۴۱) میں فرماتے ہیں کہ: ’’وہ حارث میں ہوں۔‘‘ حارث کے معنی زمیندار کے ہیں اور میں بھی قادیان کا زمیندار ہوں اور مسلمانوں پر چندہ سے میری نصرت واجب ہے۔ گویا کہ اس حدیث میں حارث سے مرزاقادیانی اور نصرت سے چندہ مراد ہے۔ احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ حارث امام مہدی کا مددگار ہوگا نہ کہ بعینہٖ مہدی ہوگا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی شخص مہدی بھی ہو اور حارث بھی۔ نیز حدیث میں حارث کا مقام خروج ماوراء النہر مذکور ہے نہ کہ قادیان اور ماوراء النہر سے صوبہ پنجاب مراد لینا۔ یہ مرزاقادیانی ہی کا کام ہے۔ نیز ماوراء النہر سے قادیان تک راستہ میں افغانستان پڑتا ہے۔ جہاں مدعیان نبوت اور ان کے پیرو ہمیشہ قتل ہوتے رہے۔ نیز اس حدیث میں حارث کی فوج عظیم اور لشکر جرار کا بھی ذکر ہے۔ مرزاقادیانی کے پاس فوج کہاں سے آئی۔ وہ بیچارے تو ایک معمولی دہقانی آدمی تھے۔ ان کے پاس اتنی دولت کہاں تھی کہ جو لشکروں پر خرچ کرتے۔ وہ اپنے خرچ ہی کے لئے لوگوں سے چندہ مانگتے تھے۔ چندہ مانگنا فقیروں کا کام ہے نہ کہ امیروں اور بادشاہوں کا۔ غرض یہ کہ احادیث میں حارث مذکور کی جو علامتیں آئی ہیں۔ ان میں کا کوئی شمہ بھی مرزاقادیانی میں نہیں پایا جاتا۔

مرزاقادیانی دل بہلانے کے لئے فوج اور لشکر کی یہ تاویل کر لیتے ہیں کہ فوج سے ظاہری فوج مراد نہیں۔ بلکہ روحانی فوج مراد ہے۔ ایسی تاویلوں سے جس کا دل چاہے مہدی اور حارث بن سکتا ہے۔

۹…مسیح بن مریمm ہونے کا دعویٰ

مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ تقریباً ان کی تمام کتابوں میں مذکور ہے۔(تذکرہ ص۴۱، طبع سوم، ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

  1. بنمای بہ صاحب نظرے گوہر خود را

    عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند

قرآن اور حدیث سے یہ امر صراحۃً ثابت ہے کہ جب یہود نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھالیا۔ ’’کما قال تعالٰی: وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ‘‘

292

دوسرے قیامت کے قریب حضرت مسیح کے نزول اور آمد کا بیان قرآن میں اجمالاً اور احادیث میں تصریحاً موجود ہے کہ عیسیٰ بن مریمm آسمان سے نازل ہوں گے اور دمشق کے منارہ پر اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

مرزاقادیانی کو جب دعوائے مسیحیت کی فکر ہوئی تو اس کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الیٰ السماء کا انکار کیا اور ان کی وفات کے مدعی ہوئے اور دفتر کے دفتر اس بارہ میں سیاہ کر ڈالے۔ اس کے بعد اپنے مسیح موعود بننے کے لئے دو طریقے اختیار کئے۔ ایک تو یہ کہ جن احادیث میں مسیح کے آنے کا بیان آیا ہے۔ اس سے مسیح کے ایک مثیل اور شبیہ کا آنا مرادہے اور دعویٰ کردیا کہ وہ مثیل میں ہوں اور دوسرا طریقہ یہ کہ جس نبی کا جو مثیل ہوتا ہے خدا کے نزدیک اس کا وہی نام ہوتا ہے۔ یعنی خدا کے نزدیک مرزاقادیانی کا نام عیسیٰ بن مریم ہے۔ پھر ایک مدت دراز کے بعد خاص الہام کے ذریعہ اللہ نے یہ ظاہر فرمایا کہ یہ (مرزاقادیانی) وہی عیسیٰ ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

اور یہ الہام ہوا کہ عیسیٰ ابن مریم کہاں وہ تو مر گئے۔ مسیح موعود تو ہی ہے اور مرزاقادیانی نے ۱۸۹۱ء میں اشتہار دیا کہ: ’’میرے مسیح موعود ہونے کا سارا قرآن مجید مصدق ہے اور تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کی شاہد ہیں۔‘‘ (ضروری اشتہار مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۰۳)

اب اس طرح سے مرزاقادیانی نے اپنی مسیحیت کا اعلان شروع کیا اور کہا کہ جس مسیح کے آنے کا وعدہ قرآن وحدیث میں کیاگیا۔ اس سے میرا ہی آنا مراد ہے۔ یعنی نزول سے پیدائش کے معنی مراد ہیں اور دمشق والی حدیث اوّل تو صحیح نہیں اور اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے اصلی دمشق مراد نہیں۔ بلکہ قادیان مراد ہے اور حدیث میں جو زردلباس کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی حالت صحت اچھی نہ ہوگی اور فرشتوں پر ہاتھ رکھنے سے مقصود یہ ہے کہ دو شخص ان کو مدد دیں گے۔(ازالہ اولام ص۲۱۹، خزائن ج۳ ص۲۰۹)

غرض یہ کہ جو امور مرزاقادیانی کی قدرت میں نہ تھے۔ ان میں تاویل کر ڈالی۔ مگر نزول کے بعد منارہ چندہ کر کے بنانا شروع کیا۔ مگر تکمیل سے قبل فرشتہ اجل نے آن دبوچا، حالانکہ حدیث سے یہ واضح ہے کہ دمشق کی جامع مسجد کے منارۂ شرقی پر عیسیٰ بن مریمm

293

نازل ہوں گے۔ یعنی وہ منارہ پہلے سے موجود ہوگا۔ لہٰذا احادیث میں جو عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر ہے۔ وہ وعدہ مرزاقادیانی کے قادیان میں پیدا ہونے سے پورا ہوگیا۔ لیکن اب اشکال یہ ہے کہ اگر نزول سے پیدائش مراد ہے تو عیسیٰ علیہ السلام تو بغیر باپ کے ہوئے تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس کی تصریح ہے تو پھر مرزاقادیانی کو اگر عیسیٰ بننا منظور تھا تو ان کو چاہئے تھا کہ بغیرباپ کے پیدا ہوتے اور اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جاتے اور پھر آسمان سے نازل ہوتے اور جب مرزاقادیانی سے کہاگیا کہ آپ تو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ میں وہ آیات باہرہ اور معجزات ظاہرہ موجود نہیں۔ جو قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کی نسبت مذکور ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مٹی کا پرندہ بنا کر اڑاتے تھے اور وہ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو چنگا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ بھی تو کوئی معجزہ اور کرشمہ دکھلاتے تو مرزائے قادیان نے جواب میں کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا یہ تمام کام محض مسمریزم تھا اور میں ایسی باتوں کو مکروہ جانتا ہوں۔ ورنہ میں بھی کردکھاتا۔(ازالہ اوہام ص۱۲۹ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۷،۲۵۸)

حق تعالیٰ شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جن معجزات کو بطور مدح اور منقبت ذکر کیا ہے۔ مرزائے قادیان ان کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھتا ہے اور سب کو مسمریزم بتلاتا ہے اور مقصود یہ ہے کہ اظہار معجزات سے سبکدوشی ہو جائے اور کوئی شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے معجزات کا مطالبہ نہ کر سکے۔

۱۰…عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

294

مرزاقادیانی نے اس مسیح موعود کی تفسیر دافع البلاء میں یہ کی ہے: ’’اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھاگیا۔ خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

مرزاقادیانی کا یہ شعر:

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

تمام قادیانیوں کو حفظ یاد ہے۔ معاذ اللہ ! جس مسیح بن مریم کا خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں باربار ذکر کیا ہے۔ وہ مرزاقادیانی کو موجودگی میں قابل ذکر نہیں اور فارسی شعر یہ ہے:

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجا است تابہ نہد پابہ منبرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح اہانت ہے جو صریح کفر ہے۔

تاویلات مرزا کا ایک نمونہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے خروج میں اس قدر بے شمار صحیح اور صریح حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ جن کا انطباق مرزاقادیانی پر محال ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو اب فکر ہوئی کہ ان احادیث کو کس طرح اپنے اوپر منطبق کروں۔ اس لئے تاویل کی راہ اختیار کی۔ بلکہ ایسی تحریف کی کہ اوّلین وآخرین میں سے اب تک کسی نے نہیں کی تھی۔

۱… چنانچہ یہ کہہ دیا کہ نزول مسیح سے آسمان سے اترنا مراد نہیں بلکہ مرزاقادیانی کا اپنے گاؤں میں پیدا ہونا مراد ہے۔

۲… اور حدیث میں جومسیحm کا دمشق کے سفید مشرقی مینارہ پر نازل ہونا آیا ہے۔ اس حدیث میں دمشق سے قادیان مراد ہے اور وہ منارہ مرزاقادیانی کی سکونتی جگہ قادیان کے مشرقی کنارہ پر واقع ہے۔

295

۳… اور دجال سے بااقبال قومیں یا شیطان یا عیسائی اقوام مراد ہیں۔

۴… اور دجال کے کانا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پادریوں میں دینی عقل نہیں۔

۵… اور حدیث میں جو آیا ہے کہ دجال زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عہد رسالت میں پادریوں کو موانع پیش تھے۔

۶… اور حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ دجال کے ساتھ جنت اور جہنم ہوگی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عیسائی اقوام نے اسباب تنعم مہیا کر لئے ہیں۔

۷… اور حدیث میں جو دجال کے گدھے کا ذکر آیا ہے اس سے ریل گاڑی مراد ہے۔

۸… اور حدیث میں جو مسیح بن مریم کا خنزیر کو قتل کرنا آیا ہے اس سے لیکھ رام کا قتل مراد ہے۔

۹… اور حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ مسیح صلیب کو توڑیں گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بعثت مرزا سے صلیبی مذہب روبزوال ہوگا۔

۱۰… اور حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پانے کے بعد آنحضرتa کے مقبرہ میں مدفون ہوں گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو رسول اللہ a کا قرب روحانی نصیب ہوگا۔

ناظرین کرام! غور فرمالیں کہ ایسی تاویلوں سے تو ہر شخص مسیح موعود بن سکتا ہے اور جس کا جی چاہے یہ کہہ سکتا ہے کہ دمشق سے میرا گاؤں مراد ہے اور روضہ اقدس میں دفن ہونے سے آنحضرتa کا قرب روحانی مراد ہے۔ یہ تاویلات نہیں بلکہ تحریفات اور ہذیانات ہیں۔ دیوانہ گفت ابلہ باور کرد، کے مصداق ہیں۔ پھر یہ کہ جب مرزاقادیانی کے نزدیک دجال سے عیسائی اقوام مراد ہیں تو مرزاقادیانی انگریزوں کے لئے دعا کیوں مانگتے تھے۔ کیا کسی حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ مسیح موعود دجال کے لئے دعا کیا کرے گا اور اپنی امت کو دجال کے بقاء کی دعا کی تلقین کیا کرے گا۔

پھر جب مرزاقادیانی کے نزدیک دجال کے گدھے سے ریل مراد ہے تو مرزاقادیانی بٹالہ سے چل کر لاہور کا سفر ہمیشہ اسی دجال کے گدھے (ریل) پر کیوں کرتے تھے اور باضابطہ دجال کے کارکنوں سے اس گدھے پر سوار ہونے کا ٹکٹ خریدتے تھے۔

296

کیا کسی حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسیح موعود دجال کے قتل کے لئے نازل ہوگا وہ دجال کے گدھے پر کرایہ دے کر سفر کیا کرے گا اور بجائے قتل کے اس کی سلطنت کے لئے دعا کیا کرے گا؟

۱۱…مریمp ہونے کا دعویٰ

’’پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس کے ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرف سے روح پھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہوگیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہوکر ابن مریم کہلایا۔‘‘ (کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

سبحان اللہ ! مرزاقادیانی کے کیا حقائق ومعارف ہیں۔ کبھی عیسیٰ بنتے ہیں اور کبھی مریم۔ کبھی مرد اور کبھی عورت اور پھر خود، خود ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔ مرزاقادیانی پہلے بیٹا (عیسیٰ) بنے اور پھر ماں (مریم) بنے اور پھر ماں سے بیٹا بن گئے۔ گویا کہ بیٹے کا وجود ماں سے مقدم بھی ہے اور مؤخر بھی ہے اور اس کا عین بھی ہے اور اس کا غیر بھی ہے۔

۱۲…ظلی اور بروزی یا غیرتشریعی نبی ہونے کا دعویٰ

اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی۔(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۱۴)

اس سے مرزاقادیانی کا مقصود یہ ہے کہ میں عین محمد ہوں۔ ظل اور بروز کا لفظ محض دھوکہ اور فریب کے لئے ہے۔ اپنے کفر اور دجل کو چھپانے کے لئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ورنہ درحقیقت مرزانبوت تشریعہ اور مستقلہ کا مدعی ہے اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح واجب الایمان قرار دیتا ہے اور اپنے منکر کو کافر اور دوزخی بتلاتا ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی کا اقرار ہے کہ صرف صاحب شریعت نبی کے انکار سے کافر ہوتا ہے۔ ملہم من اللہ کے انکار سے کافر نہیں ہوتا۔

بروزی اور ظلی نبوت کی حقیقت

مرزائے قادیان ایک غلطی کا ازالہ میں لکھتا ہے: ’’مگر میں کہتا ہوں کہ

297

آنحضرتa کے بعد جو درحقیقت خاتم النّبیین تھے۔ مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا، کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ’’وآخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتa ہی کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتa کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو نبوت ملنے سے آنحضرتa کے خاتمیت نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کیونکہ میں آپ کا ظل اور سایہ ہوں اور سایہ اصل کا غیرنہیں ہوتا۔ یعنی میں آپ کا عین ہوں اور میرانام بھی محمد اور احمد ہے۔ اس لئے میں بعینہٖ محمدa ہوں۔

(تریاق القلوب حاشیہ ص۳۷۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷) میں لکھتا ہے کہ: ’’غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود دو ریہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیمm نے اپنے خو اور طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبد اللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمدa کے نام سے پکارا گیا۔‘‘

شیخ محمد عمر قادیانی نے اپنی کتاب (قول فیصل ص۶، بحوالہ اخبار الحکم مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء) پر مرزاقادیانی کا قول اس طرح نقل کیا ہے: ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں وہ سب حضرت رسول کریمa میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمa سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے… پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریمa کے خاص خاص صفات میں اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمa کے ظل ہیں۔‘‘

ان عبارات میں مرزائے قادیان نے اپنے آپ کو نبی کریمa کا ظل اور بروز بتلایا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ سایہ اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ یہ عقلاً اور نقلاً باطل اور محال ہے۔ اگر بروز سے مرزاقادیانی کا یہ مطلب ہے کہ روح محمدی نے تیرہ سو سال کے بعد

298

مرزاقادیانی کے جسم میں جنم لیا ہے تو یہ عقیدہ اسلام میں کفر ہے۔ یہ عقیدہ ہندوؤں کا ہے جو تناسخ کے قائل ہیں۔ لہٰذا اگر مرزاقادیانی کی مراد یہ ہے کہ آنحضرتa کی روح مبارک کا تیرہ سو سال کے بعد مدینہ منورہ سے چل کر قادیان میں مرزاغلام احمد قادیانی کے جسم میں بروز ہوا ہے تو یہ بعینہٖ تناسخ ہے۔ جس کے ہندو اور آریہ قائل ہیں کہ مرنے کے بعد ارواح فنا نہیں ہوتیں بلکہ ہوا میں پھرتی رہتی ہیں اور جب کوئی مردہ جسم پاتی ہیں تو اس میں گھس جاتی ہیں اور پھر اس میں یہ پابندی نہیں کہ انسان کا روح، انسان ہی کے جسم میں داخل ہو بلکہ گدھے، کتے وغیرہ کے جسم میں بھی داخل ہو جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ اگر بروز سے یہ مراد ہے تو یہ حقیقت تناسخ کی ہے اور کیا مرزائے قادیان کے نزدیک حضرت محمدa کی بعثت حضرت ابراہیم کا بروز تھا اور حقیقت ابراہیمی اور حقیقت محمدی ایک تھی اور دونوں ایک دوسرے کے عین تھے اور یہ غلط ہے بلکہ یہ لازم آئے گا کہ سرور عالم محمدa معاذ اللہ بذاتہ خود کوئی چیز نہ تھے۔ بلکہ ان کا تشریف لانا بعینہٖ ابراہیم کا تشریف لانا ہے۔ گویا ابراہیمm اصل ہیں اور آنحضرتa ان کا ظل اور بروز ہوئے۔ آنحضرتa کا وجود بالاستقلال نہ رہا اور نہ آپ کی نبوت مستقل رہی اور یہ صریح کفر ہے۔

نیز لازم آئے گا کہ آنحضرتa کی نبوت ظلی ہو مستقل نہ ہو۔ نیز جب آنحضرتa حضرت ابراہیمm کے بروز ہوئے تو لازم آئے گا کہ اصل خاتم النّبیین تو حضرت ابراہیم ہیں اور آپa ان کے ظل اور بروز ہیں اور اگر یہ کہو کہ باوجود ظل اور بروز ہونے کے اصل خاتم النّبیین محمدa ہیں تو لازم آئے گا کہ پھر اسی طرح سے مرزاقادیانی جو خاتم النّبیین کے ظل اور بروز ہیں۔ اصل خاتم النّبیین تو مرزاقادیانی ہوں گے نہ کہ آنحضرتa اور ظاہر ہے کہ یہ امر بھی صریح کفر ہے۔ مرزاقادیانی بھی آنحضرتa کے خاتمیت کے منکر کو کافر بتلاتے ہیں اور یہ کہنا کہ سایہ ذی سایہ کا عین ہوتا ہے۔ بالکل غلط اور مہمل ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کسی شخص کا سایہ ذی سایہ نہیں ہوسکتا۔ پس اسی طرح نبی کا سایہ بعینہٖ نبی نہیں ہوسکتا اور اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لئے مان لیا جائے کہ سایہ اور ذی سایہ ایک ہی ہوتا ہے تو رسول اللہ a ظل اللہ ہیں۔ یعنی اللہ کا سایہ ہیں تو لازم آئے گا کہ وہ عین خدا ہوں اور مرزاقادیانی اپنے خیال میں عین محمد ہیں اور محمدa سایہ خدا ہیں، تو نتیجہ یہ

299

نکلے گا کہ معاذ اللہ مرزاقادیانی عین خدا ہیں اور اس کے کفر ہونے میں کیا شبہ ہے؟ اور مرزاقادیانی جو باربار یہ کہتے ہیں کہ میں بعینہٖ محمدa ہوں تو کیا مرزاقادیانی کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ تھا؟ کیا کوئی ادنیٰ مسلمان اس کا تصور کر سکتا ہے کہ قادیان کا ایک دہقان مختاری کے امتحان میں فیل ہونے والا اور انگریزی کچہری کا چکر لگانے والا۔ بعینہٖ محمدa ہوسکتا ہے۔ معاذ اللہ ، معاذ اللہ !

اور اگر ظل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ذی ظل کی کوئی صفت اس میں آ جائے تو اس سے اتحاد اور عینیت ثابت نہیں ہوتی۔ جس طرح خدا کا ظل ہونے سے الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح نبی کا ظل ہونے سے نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ غالباً مرزاقادیانی کی مراد یہ ہے کہ جس طرح آئینہ میں کسی شخص کا عکس پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح مرزاقادیانی میں بھی کمالات محمدیہ اور انوار رسالت نبویہ کا عکس پڑا ہے۔ مگر اس سے مرزاقادیانی کی نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ آئینہ میں عکس پڑنے سے کوئی حقیقی صفت ثابت نہیں ہوجاتی۔ عکس میں ذی عکس کی کوئی حقیقی صفت نہیں آجاتی۔ بلکہ ایک قسم کی مشابہت اور ہم رنگی آجاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ میری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیلی کے مشابہ اور ان کے ہم رنگ اور ان کے کمالات کا نمونہ ہیں اور یہ مطلب نہیں کہ اس امت کے علماء نبی اور پیغمبر ہیں۔

غرض یہ کہ انعکاس اور ظلیت سے عینیت ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت آدمm کمالات خداوندی کا آئینہ اور نمونہ تھے۔ مگر معاذ اللہ عین خدا نہ تھے۔

  1. پس خلیفہ ساخت صاحبہ سینہ

    تابود شاہیش را آئینہ

اور خلفاء راشدینi آنحضرتa کے کمالات علمیہ وعملیہ کا آئینہ اور نمونہ تھے۔ مگر نبی نہ تھے۔ فقط نبی کے خلیفہ اور جانشین تھے۔ جیسا کہ شاہ ولی اللہ v نے ازالتہ الخفاء میں خلفاء راشدینi کا آنحضرتa کے ساتھ قوت علمیہ اور قوت عملیہ میں تشبیہ ثابت کیا ہے اور عقلی اور نقلی دلائل سے اس کو ثابت کیا ہے۔ جس سے خلفائے راشدینi کی فضیلت ثابت ہوئی نہ کہ نبوت۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ظلیت اور انعکاس سے اتحاد اور عینیت کا ثابت کرنا سراسر غلط

300

اور باطل ہے۔ ظلیت اور انعکاس سے صرف ایک قسم کی مشابہت اور ہم رنگی ثابت ہوتی ہے۔ سو اگر مرزاقادیانی کا گمان یہ ہے کہ میں آنحضرتa کے کمالات اور آئینہ اور نمونہ ہوں اور کمالات نبوت میں سرور عالمa کے مشابہ اور ہم رنگ ہوں تو مرزاقادیانی اور ان کی امت بتلائے کہ مرزائے قادیان کن کن کمالات علمیہ اور عملیہ میں سرور عالمa کا آئینہ اور نمونہ تھے۔

مرزاقادیانی کمالات نبوت کا تو کیا آئینہ ہوتے وہ تو حرص وطمع اور مکرو فریب اور طعن وتشنیع اور بدزبانی اور بدگمانی کا آئینہ اور جھوٹ کا مجسمہ تھے۔ آج اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں قائداعظم اور قائد ملت کا ظل اور بروز اور مظہر اتم ہوں۔ لہٰذا میری اطاعت واجب ہے تو حکومت پاکستان اس کو یا تو جیل خانہ بھیج دے گی یا پاگل خانہ میں۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی سیاہ فام اور چیچک رو اور نابینا اور لولا اور لنگڑا یہ دعویٰ کرنے لگے کہ میں سیدنا یوسفm کا ظل اور بروز ہوں تو کون اس کو قبول کرنے پر تیار ہوگا؟

دعوائے ظلیت وبروزیت کا جائزہ

جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں فلاں شخص کا ظل اور بروز ہوں اور اس کا عکس اور مظہراتم ہوں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ یہ شخص صفات کمال میں اس کا نمونہ ہے اور اخلاق واعمال میں اس کا شبیہ اور مثیل ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ اس کا عکس اور تصویر ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اگرچہ ذات مختلف ہے۔ مگر آئینہ میں جو عکس اور نقش نظر آرہا ہے وہ اصل کے ہم رنگ ہے اور بظاہر ہو بہو وہی معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا جب مرزاقادیانی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں سرور عالم محمد رسول اللہ a کا ظل اور بروز ہوں اور حضور پرنورa کا مظہر اتم ہوں تو اس کا مطلب بھی یہی سمجھا جائے گا کہ معاذ اللہ ! مرزاقادیانی صفات کمال اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال میں آنحضرتa کے شبیہ اور مثیل اور آپa کا نمونہ ہیں تو ہم مرزاقادیانی کے حالات کا آنحضرتa کے حالات اور صفات کے ساتھ موازنہ کر کے جائزہ لیتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے اس دعویٰ میں کس حد تک صداقت ہے۔ موازنہ کے لئے صرف چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ ناظرین پر مرزاقادیانی کے دعویٰ ظل اور بروز کی حقیقت واضح ہو جائے۔

301

سرور عالمa کے صفات وکمالات

۱… آنحضرتa امی تھے۔ مگر تعلیم الٰہی سے آپa نے دنیا کو علم وحکمت سے بھردیا اور صحابہi کو علم وحکمت میں رشک حکماء عالم بنادیا۔

  1. درفشانی نے تیریؐ قطروں کو دریا کر دیا

    دل کو روشن کر دیا آنکھوں کا بینا کر دیا

  2. خود نہ تھے جو راہ پراوروں کے ہادی ہو گئے

    کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

یہ وہ کرشمہ ہے جس کا تمام مغربی اقوام کے فضلاء کو اقرار واعتراف ہے۔

۲… آنحضرتa کی اور آپ کے ازواج مطہرات کی تمام زندگی فقیرانہ اور درویشانہ گزری۔ دو دو مہینے گھر میں چولہا نہیں سلگتا تھا۔ صرف کھجور اور پانی پر گزر تھا۔ خرقہ اور گڈری آپ کا لباس تھا اور بوریا آپ کا فرش تھا۔ دن میں بکثرت روزے رکھتے اور رات کو تہجد میں کئی کئی پارے پڑھتے کہ پاؤں پر ورم آ جاتا۔

۳… مدینہ منورہ ہجرت کر جانے کے بعد آنحضرتa پر جہاد فرض ہوا۔ آپa نے صحابہ کو جہاد کا حکم سنا دیا۔ اوّل مشرکین عرب سے جہاد کیا۔ غزوۂ بدر میں قریش مکہ کے سر پر ضرب کاری لگائی اور برابر سلسلہ جہاد کا جاری رہا۔ غزوۂ خندق ۵ہجری میں ارشاد فرمایا کہ: ’’الان نغزوہم ولا یغزوننا‘‘ اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے اور یہ لوگ ہم پر حملہ آور نہ ہوں گے۔ یعنی اب ان کی طاقت ختم ہوئی۔ چنانچہ ۶ہجری میں صلح حدیبیہ ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ قریش نے آنحضرتa کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ بعدازاں ۷ہجری میں خیبر فتح کیا جو یہودیوں کاگڑھ تھا اور وہاں ان کے قلعے تھے۔

اس طرح یہودیت کا خاتمہ فرمایا اور ۸ہجری میں مکہ مکرمہ اور حنین اور طائف کو فتح فرمایا۔ اس کے بعد حجاز اور نجد اور یمن کا تمام طویل وعریض رقبہ اسلام کے زیرنگین آگیا۔

پھر اسی سال میں موتہ جو علاقہ شام کے قریب تھا وہاں آٹھ ہزار کا لشکر روانہ فرمایا۔ جس نے قیصر روم کے ڈیڑھ لاکھ مسلح لشکر جرار کو شکست دی۔ اس کے بعد ۹ہجری میں آپa نے قیصر روم کے مقابلہ کے لئے تیس ہزار صحابہi کی معیت میں خروج فرمایا۔ قیصر روم مرعوب ہوکر واپس ہوگیا اور آپa بلامقابلہ کے مظفر ومنصور مدینہ منورہ واپس آئے۔

302

۴… پھر آنحضرتa کے بعد آپ کے حسب ارشاد آپa کے خلفاء خاص کر ابوبکرq وعمرq نے قیصروکسریٰ کے مقابلہ کے لئے فوجیں روانہ کیں، جو آدھی آدھی دنیا کے فرمانروا تھے۔ ایک ہی ہلّہ میں دونوں کو پچھاڑا۔ جس کا تماشہ ساری دنیا نے دیکھا اور شام اور ایران اور عراق اور مصر وغیرہ وغیرہ فتح کر کے اسلامی قلمرو میں شامل کر دئیے اور آج یہ مستقل چار سلطنتیں ہیں جو اب تک مسلمانوں کے زیراقتدار ہیں اور اگر ان چاروں سلطنتوں کا رقبہ حجاز اور نجد اور یمن کے رقبہ کے ساتھ ملا لیا جائے تو امریکہ کی سلطنت کے رقبہ سے کم نہ ہوگا۔ بلکہ زیادہ ہی ہو گا۔

۵… حق جل شانہ نے آنحضرتa کو خلق عظیم سے سرفراز فرمایا۔ ’’انک لعلٰی خلق عظیم‘‘ آپa کے بارہ میں نازل فرمایا۔ آنحضرتa نے دشمنان خدا سے جہاد فرمایا۔ مگر زبان مبارک سے کسی بڑے سے بڑے دشمن کے حق میں گالی نہیں نکالی۔ مکہ کی تیرہ سالہ مظلومانہ زندگی سے نکل کر مدینہ منورہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو مسلمانوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری اور آخرت کی تیاری کی تلقین فرمائی اور اپنی تیرہ سالہ ظالم دشمنوں کی شکوہ شکایت کا کوئی حرف زبان سے نہیں نکلا۔

مرزاآنجہانی کے حالات

۱… جو شخص مرزاقادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کرے گا اس پر یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ ان کی ساری تصانیف میں سوائے اپنی تعلیّوں اور دعوؤں اور انبیاء کرامB کی توہین وتحقیر اور ان کے معجزات کے انکار کے اور کچھ بھی نہیں۔ خاص کر ان کی تصانیف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت اور ان کے سب وشتم سے بھری پڑی ہیں اور ان کے مرید طوطے کی طرح ان کو رٹے ہوئے ہیں۔

۲… مرزاقادیانی کی زندگی امیرانہ تھی۔ مشک اور عنبر اور مرغ اور مزعفر اور مقویات اور مفرحات بکثرت استعمال کرتے اور تقویت اعصاب کے لئے انگریزی دوائیں استعمال کرتے اور بیویوں کے لئے عمدہ عمدہ کپڑے اور قسم قسم کے زیورات تیار ہوتے تھے۔ مرزاقادیانی نے اپنے بیویوں کا نام امہات المومنین رکھا ہوا تھا جو دنیا کی عیش وعشرت میں نوابوں اور امیروں کی بیگمات سے کہیں آگے تھیں اور مرزاقادیانی بجائے عبادت کے عیش

303

وعشرت اور خواب استراحت میں وقت گزارتے۔ مرزاقادیانی تہجد اور تراویح میں کیا قرآن پڑھتے۔ مرزاقادیانی حافظ قرآن نہ تھے۔ حالانکہ مرزاقادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ میرا خروج آنحضرتa کی بعثت ثانیہ ہے۔ جو پہلی بعثت سے اکمل ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرتa بعثت ثانیہ میں قرآن بھول گئے تھے؟

۳… اور مرزاقادیانی نے نہ کوئی ہجرت کی اور نہ کبھی کافروں سے جہاد کیا۔ بلکہ اپنی امت کے لئے نصاریٰ سے جہاد وقتال کو صرف ممنوع ہی نہیں فرمایا بلکہ ان کی اطاعت کو واجب قرار دیا۔ چنانچہ مرزاقادیانی (ضرورۃ الامام ص۲۳، خزائن ج۱۳ ص۴۹۳) میں لکھتے ہیں کہ حق تعالیٰ جو فرماتا ہے: ’’واطیعوا اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم اس کی رو سے انگریز ہمارے اولوالامر ہیں۔ اس لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو بھی ہے کہ دل کی سچائی سے ان کی مطیع رہیں۔‘‘ غرض یہ کہ مرزاقادیانی نے مسئلہ جہاد کو منسوخ کر دیا اور عقیدۂ جہاد کو وحشیانہ عقیدہ قرار دیا۔

اس طرح سے مرزاقادیانی اور ان کی امت نے جہاد سے تائب ہوکر نصاریٰ کی اطاعت کو اپنا فریضہ اور مقصود بنالیا۔ اس طرح ساری زندگی انگریزوں کی اطاعت شعاری اور ان کی باج گزاری میں گزاری۔

اے مسلمانو! خدارا انصاف تو کرو کہ کیا ایسا شخص جو ساری عمر کافروں کا اطاعت شعار اور باج گزار رہا وہ اس رسول اعظم کا ظل اور مثیل کیسے بن سکتا ہے کہ جس نے دس سال کی مدت میں یہود اور نصاریٰ اور مشرکین سے جہاد کیا اور ان کو شکست دی اور ایسی عظیم الشان سلطنت قائم کی کہ پاکستان جیسی سلطنت اس کے ایک گوشہ میں رکھی جاسکے۔

۴… مرزاقادیانی بتلائیں کہ انہوں نے اور ان کے ابوبکر اور عمر یعنی خلیفہ نورالدین اور خلیفہ بشیرالدین نے بھی کوئی علاقہ کافروں کا فتح کیا؟ یہ مساکین کیا فتح کرتے، یہ تو قادیان جیسا گاؤں بھی انگریزوں سے نہ لے سکے۔ پھر دعویٰ یہ ہے کہ میں آدم خلیفۃ اللہ بھی ہوں اور داؤد بھی ہوں اور تمام انبیاءB سے شان میں بڑھ کر ہوں۔ آپ انبیاءB سے تو کیا بڑھ کر ہوتے۔ آپ تو ابوبکرq اور عمرq کے غلاموں کے برابر نہیں ہوسکے۔ جن مسلمان بادشاہوں نے کافروں سے جہاد کیا اور ان کا علاقہ فتح کیا۔ مرزاقادیانی تو ان کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔ آج اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں قائداعظم کاظل اور بروز ہوں یا محمود

304

غزنویv فاتح ہند کا ظل اور بروز ہوں تو غالباً کوئی مجنوں ہی اس کی تصدیق کرے گا۔

۵… مرزاقادیانی اپنے لئے مدعی تو خلق عظیم کے ہیں۔ مگر علماء ومشائخ کو گالیاں دینے میں مشاق ہیں۔ ہر وقت نئی گالی تراشتے ہیں۔ مثلاً اندھیرے کے کیڑو۔ جھوٹ کا گوہ کھایا۔ رئیس الدجالین اور ذریت شیطان عقت الکلب۔ فول الفول، کھوپڑی میں کیڑا۔ مرے ہوئے کیڑے علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرۃ۔ ہامان الہالکین اور خنزیر اور کتے۔ حرامزادہ، ولد الحرام، اوباش، چوہڑے، چمار، زندیق، ملعون وغیرہ۔ معمولی الفاظ تو بے تکلف اور بے اختیار نکل آتے ہیں۔ جیسا کہ عصائے موسیٰ اور المسیح الدجال میں تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔یہ بدزبانی اور دعویٰ یہ کہ میں سرور عالمa کا ظل اور مثیل اور مظہراتم ہوں۔ (تفصیل اس کتاب میں شامل رسالہ شرائط نبوت کے آخری حصہ پر دیکھی جاسکتی ہے)

۱۳…نبوت ورسالت کا دعویٰ

’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

’’حق یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶)

’’وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تاکہ تم سمجھو کہ قادیان اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

۱۴…مستقل نبوت ورسالت وحی وشریعت کا دعویٰ

مرزاقادیانی اپنے لئے مستقل اور تشریعی نبوت کا مدعی ہے۔ جیسا کہ عبارات ذیل سے واضح ہے۔

’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

305

اس عبارت میں مرزائے قادیان نے ایک دعویٰ تو اپنی رسالت اور تشریعی نبوت کا کیا ہے اور دوسرا دعویٰ یہ کیا کہ اس آیت کا مصداق مرزائے قادیان ہے نہ کہ حضرت محمدaیعنی حضور پرنورa جن پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وہ اس کے مصداق نہیں۔

حق تعالیٰ جل شانہ نے یہ آیت محمدa کے بارہ میں اتاری کہ خداتعالیٰ آپa کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔ قادیان کا دہقان یہ کہتا ہے کہ اس آیت کا مصداق میں ہوں۔

’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

’’اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری، تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امراور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی تھی۔ مثلاً یہ الہام ’’قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لہم‘‘ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ان ہذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم وموسٰی‘‘ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ تھی۔ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)

’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کے مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

306

’’یٰسین۔ انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم‘‘ اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔ راہ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔ (حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

’’انا ارسلنا احمد الٰی قومہ فاعرضوا وقالوا کذّاب اشر‘‘(اربعین نمبر۳ ص۳۳، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳)
’’فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الٰی قوم مفسدین وانی جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اکراما کما جرت سنتی فی الاوّلین‘‘(انجام آتھم ص۷۹، خزائن ج۱۱ ص۷۹)

’’الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

ان تمام عبارات سے صاف عیاں ہے کہ مرزائے قادیان مستقل اور تشریعی نبوت کا مدعی تھا اور وہ اپنی نبوت ورسالت کو آنحضرتa کی نبوت ورسالت کے ہم پلّہ بلکہ اس سے بڑھ کر سمجھتا تھا۔ جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے اور یہ عبارتیں اس قدر صریح اور واضح ہیں کہ ان میں ظلیت اور بروزیت کی تاویل نہیں چل سکتی۔

ان تصریحات کے باوجود مرزاقادیانی نے اپنی پردہ پوشی اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لئے ظل اور بروز کی اصطلاح نکالی۔ تاکہ ختم نبوت کی نصوص قطعیہ کی مخالفت سے بچنے کے لئے ایک جدید راہ نکل آئے اور دفع الزام کے لئے یہ کہہ دیا جائے کہ میں مستقل نبی نہیں بلکہ بروزی اور ظلی نبی ہوں۔

اگر نبوت تشریعی یا غیرتشریعی کا دروازہ حسب ارشاد خداوندی خاتم النّبیین بند نہ ہوا ہوتا اور آنحضرتa کی متابعت اور مشابہت کی وجہ سے آپa کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی تو حضرت عمرq اور حضرت علیq کو ملتی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمرq‘‘ اور حضرت علیq کے حق میں فرمایا: ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّٰا انہ لا نبی بعدی‘‘

307

اور ایک حدیث میں ہے: آنحضرتa نے صدیق اکبرq کو حضرت ابراہیمm کے مشابہ قرار دیا۔ مگر نبی نہیں بنائے گئے۔ پس معلوم ہوا کہ آنحضرتa کے بعد کسی شخص کو کسی قسم کی نبوت ملنے کا امکان نہیں۔ خواہ وہ تشریعی ہو یا غیرتشریعی۔

۱۵…ظلی طور پر محمد اور احمد ہونے کا دعویٰ

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)

۱۶…آنحضرتa کے مظہراتم ہونے کا دعویٰ

(خطبہ الہامیہ ص۲۶۷، خزائن ج۱۶ ص۲۶۷)

۱۷…رحمۃ للعالمین ہونے کا دعویٰ

(تذکرہ ص۸۱، طبع سوم)

۱۸…ظلی طور پر خاتم الانبیاء ہونے کا دعویٰ

مرزاقادیانی کا ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ میں ظلی طور پر خاتم الانبیاء بھی ہوں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرتa کے بعد جو درحقیقت خاتم النّبیین تھے۔ مجھے نبی اور رسول کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہرختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلاچکا ہوں کہ میں بموجب آیت:’’واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرتa کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتa کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدa کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمدa ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص۲۶۵،۲۶۶)

امت مرزائیہ کے چند مدعیان نبوت کا ذکر

مرزاقادیانی کی امت نے جب یہ دیکھا کہ ان کے پیشوا نے ختم نبوت کا مسئلہ تو

308

ختم کر دیا اور قیامت تک کے لئے نبوت کا دروازہ کھول دیا تو حوصلہ مند مرزائیوں کو طمع ہوئی کہ موقع ملنے پر ہم بھی مسیح موعود بن جائیں گے اور مرزاقادیانی کی طرح عیش وعشرت کی زندگی بسر کریں گے۔ اب ہم امت مرزائیہ کے چند مدعیان کا ذکر کرتے ہیں۔

۱…چراغ الدین متوطن جموں

چراغ الدین نامی، جموں کا رہنے والا تھا۔ وہ مرزاقادیانی کا مرید تھا اس نے مرزاقادیانی کی زندگی میں ہی نبوت ورسالت کا دعویٰ کردیا۔ مرزاقادیانی نے اس کو باغی مرید کہہ کر اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔

۲…منشی ظہیرالدین اروپی

یہ شخص موضع اروپ ضلع گوجرانوالہ کا رہنے والا تھا۔ اس کے نزدیک مرزاقادیانی، صاحب شریعت نبی تھے۔ اس کا خیال تھا کہ قادیان کی مسجد ہی خانہ کعبہ ہے۔ نماز اسی کی طرح منہ کر کے پڑھنی چاہئے۔ لاہوری پارٹی کے جریدۂ پیغام صلح کا مدیر بھی رہا ہے۔ یہ شخص اپنے یوسف ہونے کا مدعی تھا۔ لیکن بعد میں اپنے دعویٰ پر ثابت نہ رہا اور مرزائے قادیان کی تحریروں میں تخالف اور تضاد پر مضمون بھی لکھا جو لاہوری مرزائیوں کے رسالہ المہدی میں شائع ہوا۔

۳…محمدبخش قادیانی

یہ شخص قادیان کا رہنے والا ہے۔ اس کو الہام ہوا: ’’آئی ایم وٹ وٹ‘‘ یعنی میں ’’وٹ وٹ ہوں۔‘‘

۴…مسٹریار محمد پلیڈر

یہ شخص ہوشیارپور کا وکیل تھا۔ یہ شخص مرزاقادیانی کا حقیقی جانشین اور خلیفہ برحق ہونے کا مدعی تھا۔ مرزامحمود سے اس کا جھگڑا رہا کہ مسند خلافت میرے لئے خالی کر دے۔ مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوا۔

۵…عبد اللہ تیماپوری

یہ شخص تیماپور واقع علاقہ حیدرآباد دکن کا رہنے والا تھا۔ پہلے روح القدس کے

309

نزول کا مدعی بنا۔ پھر مظہر قدرت ثانیہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس شخص نے پیشین گوئی کی تھی کہ مرزامحمود احمد بہت جلد میری بیعت میں داخل ہو جائے گا۔ لیکن پیشین گوئی پوری نہ ہوسکی۔ سب سے پہلے اس پر یہ وحی آئی: ’’یا ایہا النبی تیمارپور میں رہیو۔‘‘ یہ شخص یہ کہتا تھا کہ میں ظل محمد بھی ہوں اور ظل احمد بھی اور درجہ رسالت میں، میں اور مرزاقادیانی دونوں بھائی ہیں اور مساوی حیثیت رکھتے ہیں جو فرق کرے وہ کافر ہے۔

۶…سید عابد علی

پرانا مرزائی، قصبہ بدوملہی ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ مدعی الہام کا ہوا۔

۷…عبداللطیف گناچوری

یہ بھی ایک مشہور مرزائی ہے۔ مدعی نبوت اس نے اپنے دعویٰ کی تائید میں ایک ضخیم کتاب ’’چشمہ نبوت‘‘ شائع کی جس میں لکھتا ہے کہ مرزاقادیانی کا نام زمین پر غلام احمد اور آسمان پر مسیح بن مریم تھا۔ اسی طرح خدا نے زمین پر میرا نام عبداللطیف اور آسمانوں میں محمد بن عبد اللہ موعود رکھا ہے۔ جس طرح مرزاقادیانی روحانی اولاد بن کر سید ہاشمی بن گئے تھے۔ اسی طرح میں بھی آل رسول میں داخل ہوں۔

۸…ڈاکٹر محمد صدیق بہاری

یہ شخص صوبہ بہار کے علاقہ گدگ کا رہنے والا تھا۔ مرزائیوں کی لاہوری پارٹی سے متعلق تھا۔ یہ کہتا تھا کہ مرزاقادیانی نے جس پسرموعود کی پیشین گوئی کی تھی وہ میں ہی یوسف موعود ہوں۔ اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ اہل قادیان کی اصلاح کروں۔ قادیان سے آواز اٹھ رہی ہے کہ حضرت خاتم النّبیین کے بعد بھی نبوت جاری ہے۔ اسلام میں سرور دوجہاں کی ذات گرامی پر اس سے بڑھ کر اور کوئی حملہ متصور نہیں ہوسکتا کہ حضور کے بعد کوئی اور نبی کھڑا کیا جائے اور بیس کروڑ مسلمانوں کو مرزاقادیانی کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے خارج از اسلام تصور کیاجائے۔ میں اسی توہین آمیز عقیدہ کے مٹانے کی غرض سے مبعوث ہوا ہوں۔ محمودیوں اور پیغامیوں (قادیانی مرزائیوں اور لاہوری مرزائیوں) میں جھگڑا تھا۔ اس لئے میں حکم بن کر آیا ہوں۔ میرے نشانات کئی ہزار ہیں۔ صرف اخلاقی نشان چون ہیں۔ یہ نعمت

310

سیدنا محمدa کی محبت میں فنا ہونے اور قادیان کے خلاف کرنے سے ملی۔ غیرت الٰہی نے میرے لئے مرزاقادیانی کے نشانات سے بڑھ کر نشانات ظاہر کئے۔ میری بعثت کے بغیر قادیان کی اصلاح ناممکن تھی۔ میں نے تلاش حق میں مرزامحمود کے ہاتھ پر بیعت بھی کی تھی۔ لیکن عقائد پسند نہ آنے کی وجہ سے بیعت فسخ کر دی اور قادیان سے نکالا گیا۔ اب میں مسلسل بارہ سال سے محمودی عقائد کی تردید کررہا ہوں۔

۹…احمد سعید سنبھڑیالی

یہ شخص سنمبڑیال ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا اسسٹنٹ انسپکٹر مدراس جو پہلے مرزائی تھا بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔

۱۰…احمد نور کابلی

یہ شخص قادیان کا سرمہ فروش، مرزاغلام احمد قادیانی کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ اس کی ناک پر پھوڑا ہوگیا۔ جب کسی طرح اچھا نہ ہوا تو عمل جراحی کرایا۔ جب ناک کٹ گئی تو دعویٰ نبوت کا کر دیا اور کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے:’’عسٰی ان یبعثک ربک مقام محمودا‘‘اور آیت:’’ہو الذی بعث فی الامیین رسولا منہم‘‘ میرے ہی بارہ میں نازل ہوئی ہے۔ فتلک عشرۃ کاملۃ!

نمونہ کے طور پر ہم نے مرزائی امت کے دس مدعیان نبوت کا ذکر کردیا۔ ان دس کے علاوہ اور بھی مرزائی امت میں مدعیان نبوت گزرے ہیں۔ جن میں سے بعض تو یہ کہتے تھے کہ میں ہی حقیقی مرزاقادیانی ہوں۔ اس شخص کا نام فضل احمد تھا جو موضع چنگا بنگیال ضلع راولپنڈی کا تھا۔

یہ سب مدعیان نبوت مرزائی تھے۔ بعد میں نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان میں سے کوئی وکیل تھا اور کوئی پٹواری تھا اور کوئی انسپکٹر تھا۔ ان مرزائی مدعیان نبوت کے مفصل حالات کتاب آئمہ تلبیس مصنفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری مرحوم میں مذکور ہیں۔ وہاں دیکھ لئے جائیں۔ (یاقادیانی مذہب مصنفہ پروفیسر الیاس برنی، مطبوعہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ص۱۰۱۰تا۱۰۲۴ مطالعہ کیا جائے)

311

استفتاء از فضلاء امت مرزائیہ

کیا فرماتے ہیں فضلاء امت مرزائیہ اور فقہاء ملت قادیانیہ ان مرزائی مدعیان نبوت کے بارہ میں جو پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کے سلسلہ میں داخل ہوئے اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ کہا کہ ہم مستقل نبی نہیں بلکہ مرزاقادیانی کے ظل اور بروز ہیں اور ہماری نبوت مرزاقادیانی کی نبوت سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور ہماری نبوت سے مرزاقادیانی کی نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جس طرح موسیٰ عمران کی امت میں بنی اسرائیل میں بہت سے نبی ہوئے۔اسی طرح ہم موسیٰ قادیان کی امت کے نبی ہیں۔

پس ان لوگوں کے بارہ میں ملت مرزائیہ کا کیا حکم ہے۔ آیا یہ مرزائی مدعیان نبوت مسلمان ہیں یا کافر ومرتد ہیں اور آیا صادق ہیں یا کاذب۔ اگر یہ لوگ اپنے دعوائے نبوت میں صادق ہیں تو تمام مرزائیوں کو ان پر ایمان لانا فرض ہے۔ کیونکہ انبیاء ورسل میں تفریق کفر ہے اور جو لوگ مثلاً مرزابشیرالدین وغیرہ جو ان مرزائی پیغمبروں پر ایمان نہیں لاتے مرزائی جماعت کی طرف سے ان پر کافر اور مرتد ہونے کا فتویٰ شائع ہونا چاہئے اور اگر یہ لوگ کاذب اور کافر ہیں تو ان کے کفر کی وجہ بتلائی جائے۔ کیونکہ جب مرزاقادیانی کے نزدیک نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لئے کھلا ہوا ہے اور آنحضرتa کے بعد نبوت جاری ہے تو محض دعوائے نبوت تو وجہ کفر کی نہیں ہوسکتی تو پھر آخر کس وجہ سے ان مدعیان نبوت کو جو پہلے مرزاقادیانی کے صحابہ وتابعین میں سے تھے۔ کس بناء پر ان کو ملت مرزائیہ کا کافر اور مرتد قراردیاگیا۔ جب کہ مرزائی امت کے نزدیک تمام انبیاء سابقین کے اسماء وصفات کا مرزاقادیانی کو عطاء کیا جانا ممکن ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرزاقادیانی کا نام زمین میں تو غلام احمد اور آسمان میں محمد اور احمد ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرزاقادیانی خاتم الانبیاءa کے ظل اور بروز بن سکیں تو کیا یہ ممکن نہیں کہ مرزاقادیانی کے کسی صحابی یا تابعی کو مرزاقادیانی کے تمام اسماء وصفات مل سکیں اور وہ مرزاقادیانی کا ظل اور بروز اور عین بن سکے۔ دونوں میں کیا فرق ہے۔ اے ملت مرزائیہ کے فضلاء اس مسئلہ کو واضح فرمائیے۔ بینوا وتوجروا!

۱۹…سارے عالم کے لئے مدار نجات ہونے کا دعویٰ

مرزاقادیانی کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ عالم کی نجات اخروی کا دارومدار ان کی نبوت

312

ورسالت پر ایمان لانا ہے اور جو شخص مرزاقادیانی کی مخالفت کرے۔ وہ گویا ابلیس اور دوزخی ہے اور کہتے ہیں کہ میرا منکر کافر اور مردود ہے۔

اور عقائد مرزا میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مرزاقادیانی کے فعل پر اعتراض کرنا بھی کفر ہے۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’کفر دو قسم پر ہے (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتa کو خد اکا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اوررسول کے فرمان کا منکر ہی کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

اور یہی مضمون (حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ’’اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ مدار نجات مرزاقادیانی پر ایمان لانا ہے جو مرزاقادیانی پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے۔

حالانکہ تریاق القلوب میں مرزاقادیانی یہ تصریح کرتے ہیں کہ کافر وہ ہے کہ صاحب شریعت نبی کی نبوت کا انکار کرے اور اس کے سوا ملہم من اللہ اور محدث من اللہ وغیرہ وغیرہ کے انکار سے کافر نہیں ہوجاتا۔ چنانچہ تریاق القلوب میں ہے: ’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہیں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘(حاشیہ تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

313

پس تریاق القلوب کی اس عبارت کو پہلی عبارتوں کے ساتھ ملانے سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ مرزاقادیانی مستقل نبوت اور شریعت جدیدہ کے مدعی ہیں اور شریعت ان کے نزدیک امرونہی کا نام ہے جو ان کی وحی میں موجود ہے پس جب کہ مرزاقادیانی نے یہ اصول مقرر کر دیا کہ جو صاحب شریعت ہو اس کا انکار کفر ہے اور باآواز بلند کہہ دیا کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا ان ہی نبیوں کی شان ہے جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لے کر آئے ہوں اور پھر اپنے منکرین اور معترضین کو کافر کہا اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے نکاح کو ناجائز قرار دیا اور اپنے منکرین کی نماز جنازہ کو حرام اور ممنوع قرار دیا تو صاف ظاہر ہوگیا کہ مرزاقادیانی نبوت مستقلہ اور شریعت جدیدہ کے مدعی ہیں۔ لیکن محض مسلمانوں کو مغالطہ دینے کے لئے ظلی اور بروزی کے الفاظ گھڑے ہیں۔ لہٰذا مرزاقادیانی کے اس قول کے مطابق تمام لاہوری جماعت کافر اور جہنمی ہوگی۔ کیونکہ لاہوری جماعت مرزاقادیانی کو نبی نہیں مانتی۔ بلکہ محض مجدد مانتی ہے۔

مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ صریح آیات قرآنیہ کے خلاف ہے۔ حق جل شانہ فرماتے ہیں: ’’اولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتاب یتلٰی علیہم ان فی ذلک رحمۃ وذکر لقوم یؤمنون‘‘ یعنی یہ قرآن جو آنحضرتa پر نازل کیاگیا۔ قیامت کے لئے کافی ہے اور بس کسی اور کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت نہیں۔ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ قرآن کافی نہیں جب تک وحی اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔

حق تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں: ’’یا ایہا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم فان تنازعتم فی شی فردوہ الٰی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون ب اللہ والیوم الآخر ذلک خیرا واحسن تاویلا (نساء)‘‘

مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم پر تین چیزوں کی اطاعت واجب ہے۔ اللہ کی اور اس کے رسولa کی اور اولوالامر کی اور اولوالامر کے ساتھ ارشاد ہے کہ اگر کسی وقت تمہارا اولیالامر سے نزاع اور اختلاف ہو جائے تو اس وقت اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ وہی قابل اطاعت ہیں۔ معلوم ہوا کہ اولیٰ الامر! یعنی غیرنبی سے اختلاف ہوتا ہے۔ خواہ وہ علماء ہوں یا اولیاء یا امراء ہوں۔ مگر قیامت تک نبی اکرمa سے اختلاف نہیں ہوسکتا۔ قیامت تک آپa ہی مطاع مطلق ہیں۔

314

مولوی محمد علی لاہوری اپنی تفسیر (ج۱ ص۳۷۶ طبع چہارم) پر لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ قرآن نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس امت کے اندر ہمیشہ کے لئے حقیقی مطاع ایک محمد رسولa ہی ہوں گے… اس لئے آپa کے بعد اس امت کے اندر کوئی رسول نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی رسول ہوگا تو وہ خود مطاع ہوگا اور اس لئے محمدa مطاع نہ رہیں گے اور یہ خلاف قرآن کے ہے۔ پس ختم نبوت پر یہ آیت فیصلہ کن ہے جب اس کو ’’فان تنازعتم‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اب تاقیامت کوئی رسول قطعاً نہیں آسکتا۔‘‘

۲۰…عموم بعثت کا دعویٰ

’’میں صرف پنجاب کے لئے مبعوث نہیں ہوا۔ بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کے لئے مامور ہوں۔‘‘(حاشیہ حقیقت الوحی ص۱۹۲، خزائن ج۲۲ ص۲۰۰)

۲۱…آدم خلیفۃ اللہ m ہونے کا دعویٰ

لکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے ان کو اس کلام میں آدمm قرار دیا ہے۔ ’’یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰)

(ازالہ اوہام ص۴۹۵، خزائن ج۳ ص۴۷۵) میں لکھتے ہیں کہ: ’’اس حکیم مطلق نے اس عاجز کا نام آدم اور خلیفۃ اللہ رکھ کر اور ’’انی جاعل فی الارض خلیفہ‘‘ کی کھلے کھلے طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی کہ تا اس خلیفۃ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح ٹھوکر نہ کھائیں اور ’’من شذ شذ فی النار‘‘ کی تہدید سے بچیں۔‘‘

۲۲…ابراہیمm ہونے کا دعویٰ

آیت: ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی‘‘ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔(اربعین نمبر۳ ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۴۲۱)

315

۲۳…نوحm ہونے کا دعویٰ

۲۴…یعقوبm ہونے کا دعویٰ

۲۵…موسیٰm ہونے کادعویٰ

۲۶…داؤدm ہونے کا دعویٰ

۲۷…شیثm ہونے کا دعویٰ

۲۸…یوسفm ہونے کا دعویٰ

۲۹…اسحاقm ہونے کا دعویٰ

۳۰…یحییٰm ہونے کا دعویٰ

۳۱…اسماعیلm ہونے کا دعویٰ

میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں اسماعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرتa کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔(حقیقت الوحی ص۷۲ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۶)

۳۲…آنحضرتa کے ساتھ برابری کا دعویٰ

یعنی محمد مصطفیa اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہوکر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمٰی ہوکر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔(ایک غلطی کا ازالہ ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰)

بارہا بتلاچکا ہوں کہ بموجب آیت:’’واخرین منہم لما یلحقوا بہم بروزی‘‘ طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

اور ضمیمہ (حقیقت الوحی ص۸۵،۸۶،۷۹،۸۱) میں اکثر ان اوصاف کو اپنے لئے ثابت کیا ہے کہ جو آنحضرتa کے لئے مخصوص ہیں اور (ازالہ اوہام) میں ایسا ہی کیا۔

316

حق جل شانہ نے قرآن کریم میں جو آیتیں سید المرسلینa کے فضائل خاصہ میں نازل فرمائیں۔ یہ قادیان کا دہقان الہام کے ذریعہ اپنے اوپر چسپاں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان آیتوں کا مصداق میں ہوں۔ جیسے:

۱… ’’قل جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان وہوقا‘‘ (تذکرہ ص۴۴،۲۳۸،۳۹۴ ۴۲۷، طبع سوم)
۲… ’’ہو الذی ارسل رسولہ باالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘(تذکرہ ص۴۵،۷۵، ۲۳۸،۲۷۳، ۳۵۴، ۳۶۷، ۳۸۷، ۴۸۹، ۶۰۷، ۶۰۹، ۶۲۸، طبع سوم)
۳… ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘۳… ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘
۴… ’’انافتحنا لک فتحا مبینا۔ لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر‘‘ (تذکرہ ص۹۲، ۲۴۶، ۲۷۸، ۶۴۸، ۶۴۹، طبع سوم)
۵… ’’وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین‘‘(تذکرہ ص۸۱، ۳۸۵، طبع سوم)

۶… ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الٰی المسجد الاقصٰی‘‘ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔(خطبہ الہامیہ ص۲۱، خزائن ج۱۶ ص۲۱)

۷… ’’دنٰی فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی‘‘(تذکرہ ص۶۸، ۳۶۰، ۳۹۴،۳۹۵، ۶۳۳، طبع سوم)
۸… ’’بریدون ان یطفؤا نور اللہ ‘‘(تذکرہ ص۱۰۷، ۳۷۶، ۶۴۳، طبع سوم)
۹… ’’الم نشرح لک صدرک‘‘(تذکرہ ص۱۰۵، طبع سوم)
۱۰… ’’لا تخف انک انت الاعلی‘‘(تذکرہ ص۱۳ ص۱۰۷، ۲۷۹، ۳۶۳، ۶۴۳، طبع سوم)
۱۱… ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس‘‘(تذکرہ ص۲۰۸،۲۷۴، طبع سوم)
۱۲… ’’انی فضلتک علی العالمین‘‘(تذکرہ ص۹۶ ص۱۲۵، ۳۵۹، طبع سوم)
۱۳… ’’اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا‘‘(تذکرہ ص۵۰۵، طبع سوم)
۱۴… ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘(تذکرہ ص۹۴، ۲۸۹، ۷۳۴، طبع سوم)
۱۵… ’’انک علی صراط مستقیم‘‘(تذکرہ ص۷۸، ۹۴، ۲۷۵، ۳۶۸، ۳۹۵، طبع سوم)
317
۱۶… ’’وجیہا فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین‘‘(تذکرہ ص۹۴، ۲۴۷، ۳۶۱، ۳۶۸، طبع سوم)
۱۷… ’’الیس اللہ بکاف عبدہ‘‘(تذکرہ ص۲۵، ۸۸، ۹۳، ۲۴۶، ۲۷۸، ۴۵۴، ۲۸۰، ۵۲۵، ۵۸۷، ۶۳۹، ۶۴۰، ۶۴۵، ۶۸۹، ۸۱۴، طبع سوم)
۱۸… ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘(تذکرہ ص۹۳، طبع سوم)
۱۹… ’’ماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم‘‘(تذکرہ ص۴۹، ۹۲، ۲۵۳، ۴۲۱، ۶۴۹، طبع سوم)
۲۰… ’’ولقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون‘‘(تذکرہ ص۸۹، ۲۷۸، ۲۸۷، ۳۶۷، ۶۲۸، ۶۴۰، طبع سوم)
۲۱… ’’فاتخذوا من مقام ابراہیم مصلی‘‘(تذکرہ ص۱۰۹،۳۶۴، ۶۴۳، طبع سوم)
۲۲… ’’قل یا ایہا الکافرون لا اعبد ما تعبدون‘‘(تذکرہ ص۸۴، طبع سوم)
۲۳… ’’قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق ومن شر غاسق اذا وقب‘‘(تذکرہ ص۸۲، طبع سوم)
۲۴… ’’قل ہو اللہ احد۔ اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد۔ ولم یکن لہ کفوا احد‘‘(تذکرہ ص۴۹، طبع سوم)
۲۵… ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم‘‘(تذکرہ ص۲۲۰،۲۲۱، طبع سوم)
۲۶… ’’یٰسن والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین‘‘(تذکرہ ص۴۷۹، طبع سوم)
۲۷… ’’و اللہ یتم نورہ‘‘(تذکرہ ص۲۴۰، طبع سوم)
۲۸… ’’تمت کلمۃ ربک‘‘(تذکرہ ص۶۷، ۲۷۵، ۳۶۶، ۴۸۷، ۶۳۱، ۶۳۳، طبع سوم)
۲۹… ’’قل انما انا بشر مثلکم یوحی الٰی انما الہکم الہ واحد‘‘(تذکرہ ص۸۹، ۲۴۵، ۲۷۸، ۳۶۲، ۴۳۶، ۶۳۹، طبع سوم)
۳۰… ’’یاایہا المدثر قم فانذر وربک فکبر‘‘ (تذکرہ ص۵۱، طبع سوم)
318

اے مسلمانو! کیا یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمسخر نہیں کیا اور (ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳) پر لکھتا ہے کہ آیت شریفہ: ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ سے میں خود مراد ہوں۔ ’’کبرت کلمۃ تخرج من افواہم ان یقولون الا کذبا‘‘

اور مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ میں رحمۃ للعالمین ہوں۔ ’’وما ارسلنٰک الا رحمۃ للعالمین قل اعملوا علٰی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون‘‘ میرے متعلق مجھ پر نازل ہوئیں۔(حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۵)

۳۳…آنحضرتa سے افضل ہونے کا دعویٰ

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسا القمران المشرقان أتنکر

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

اس کے لئے (یعنی نبی کریم) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کااب کیا تو انکار کرے گا؟

اس شعر میں مرزاقادیانی نے ایک تو اپنی افضلیت کا دعویٰ کیا اور دوسرے آپa کے معجزۂ شق القمر کاانکار کیا۔ جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر‘‘ اس لئے کہ اس شعر میں شق قمر کو چاند گرہن ہونے سے تعبیر کیا۔ یعنی آپa کے لئے فقط چاند گرہن ہوا تھا۔ چاند کے دو ٹکڑے نہیں ہوئے۔ اس لئے مرزاقادیانی دو وجہ سے کافر ہوئے۔ نیز مرزاقادیانی نے (تحفہ گولڑویہ ص۶۳، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) میں آنحضرتa کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتائی ہے اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲) میں اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتائی۔

کاش کوئی مرزائی ان دس لاکھ میں سے دس ہزار ہی معجزات لکھ کر شائع کردیتا۔ تاکہ لوگوں کو معلوم ہوتا کہ مرزاقادیانی کے معجزات کیسے ہیں۔ بندۂ ناچیز کئی مرتبہ بہ سلسلہ تبلیغ ودعوت قادیان گیا۔ وہاں ان دس لاکھ نشانات کا ذکر کیا کہ آخر دس لاکھ معجزات کہاں گئے تو

319

قادیان کے ایک شخص نے بتلایا کہ مرزاقادیانی کا کوئی مرید اگر ایک روپیہ کا بھی منی آرڈر مرزاقادیانی کے نام بھیجتا تھا۔ مرزاقادیانی اس کو اپنا معجزہ شمار کرتے تھے تو اس حساب سے اگر مریدوں سے دس لاکھ روپیہ ملا ہو تو ان کو دس لاکھ معجزات کہا جاسکتا ہے۔

۳۴…حضرت آدمm اور حضرت نوحm سے افضل ہونے کا دعویٰ

’’ان اللہ خلق آدم وجلعہ سید اوحاکما وامیر اعلٰی کل ذی روح من الانس والجان کما یفہم من اٰیۃ اسجدوا لادم ثم ازلہ الشیطان واخرجہ من الجنان وردالحکومۃ الٰی ہذا الثعبان ومس آدم ذلۃ وخزی فی ہذہ الحرب والہوان وان الحرب سجال ولاتقیاء مال عند الرحمٰن فخلق اللہ المسیح الموعود لیجعل الہزیمۃ علی الشیطان فی آخر الزمان وکان وعدا مکتوبا فی القرآن‘‘(حاشیہ در حاشیہ خطبہ الہامیہ ص۳۱۲، خزائن ج۱۶ ص۳۱۲)

جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور سردار اور حاکم اور امیر ہر ذی روح جن وانس پر بنایا۔ جیسا کہ آیت:’’اسجدوا لآدم‘‘ سے سمجھا جاتا ہے۔ پھر حضرت آدمm کو شیطان نے پھسلایا اور جنت سے نکلوادیا اور حکومت اس اژدھا یعنی شیطان کی طرف لوٹائی گئی اور سخت لڑائی میں حضرت آدم کو ذلت اور رسوائی نے چھوا اور لڑائی ڈول کھینچنا ہے اور بزرگوں کے لئے مال ہے۔ رحمن کے نزدیک، پس اللہ نے پیدا کیا مسیح موعود کو تاکہ شکست دے شیطان کو آخر زمانہ میں اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا تھا۔ (معاذ اللہ )

’’اور خداتعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)

۳۵…اپنی وحی اور الہام کے قرآن کے برابر ہونے کا دعویٰ

مرزائے قادیان کی جسارت اور دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی وحی کو قرآن کریم اور توریت اور انجیل کے برابر سمجھتا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے: ’’میں خداتعالیٰ کی تیئس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسے ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

320

’’مگر میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خداکا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

پس جب مرزاقادیانی نے اپنی وحی کو قرآن اور تورایت اور انجیل کے برابر قرار دیا تو پھر قرآن آخری کتاب الٰہی نہ رہا۔

۳۶…قرآن کی طرح اپنی وحی کے اعجاز کا دعویٰ

مرزاقادیانی کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کی طرح میری وحی بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی نے اپنے مخالفین کے مقابلہ اور تحدی کے لئے ایک قصیدہ شائع کیا۔ جسکا نام قصیدۂ اعجازیہ رکھا۔ علماء نے اس قیدہ کے اشعار میں مرزاقادیانی کی صرفی اور نحوی اور عروضی غلطیاں شائع کر دیں اور مرزاقادیانی اور ان کی امت اس کے جواب سے عاجز رہی اور ہے۔

۳۷…مرزائے قادیان کا اپنے لئے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ

مرزاقادیانی نے آنحضرتa کے معجزات تین ہزار قرار دئیے ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ ص۶۷، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) اور اپنے معجزات دس لاکھ بتلاتے ہیں۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲) گویا کہ مرزاقادیانی اپنے گمان میں آنحضرتa سے افضل اور برتر ہیں اور گویا کہ سید الانبیاءa اپنی عظمت وشان میں قادیان کے اس دہقان سے تین سو تینتیس درجہ کم ہیں۔ العیاذ ب اللہ !

۳۸…تمام انبیاء کرامo سے افضل ہونے کا دعویٰ

’’بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبیa کے باقی تمام انبیاءo میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اور اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)

321

مرزاقادیانی کا اس عبارت میں آنحضرتa کا استثناء محض مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے ہے۔ ورنہ پہلے گزر چکا ہے کہ (تحفہ گولڑویہ ص۶۷) پر مرزاقادیانی نے آنحضرتa کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتلائی ہے اور اپنے معجزات کی تعداد تتمہ (حقیقت الوحی ص۶۸) میں تین لاکھ بتلائی ہے اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶) میں دس لاکھ بتلائی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ عبارت مذکورہ بالا میں آنحضرتa کا استثناء محض لوگوں کے دکھلانے کے لئے تھا۔ ورنہ حقیقتاً دل میں یہ تھا کہ میرے معجزات تو دس لاکھ ہیں اور آنحضرتa کے معجزات دس ہزار ہیں۔ دروغ گورا حافظہ نباشد!

۳۹…میکائیلm ہونے کا دعویٰ

’’اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے۔‘‘(حاشیہ اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳)

۴۰…خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ

’’انت منی بمنزلۃ اولادی، انت منی بمنزلۃ ولدی اسمع یا ولدی‘‘ (حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۲، حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)

اے میرے بیٹے سن۔(البشریٰ ج۱ ص۴۹)

۴۱…اپنے اندر خدا کے حلول یعنی اترآنے کا دعویٰ

مرزاقادیانی کو الہام ہوا۔ آواہن کہ خدا تیرے اندر اتر آیا۔(تذکرہ ص۳۱۱)

۴۲…خود خدا ہو جانے کا دعویٰ

’’اور میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور پھر فرماتے ہیں اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ پھر فرماتے ہیں اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے آسمان وزمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشائے حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ’’انا زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘ پھر

322

میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ ’’اردت ان استخلف آدم فخلفت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم‘‘ یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر ظاہر ہوئے۔‘‘(کتاب البریہ ص۷۸،۷۹، خزائن ج۱۳ ص۱۰۴،۱۰۵، آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص ایضاً، اخبار الحکم قادیان مورخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۵ء)

یہ واقعہ اگرچہ حالت کشف اور الہام کا ہے۔ مگر کتاب وسنت اور اجماع امت سے یہ ثابت ہے کہ انبیاء کرامo کا خواب اور الہام سب قطعی ہوتا ہے۔ اگر انبیاءo کا خواب قطعی نہ ہوتا تو محض خواب کی بناء پر حضرت ابراہیمm کا حضرت اسماعیلm کو ذبح کرنا جائز نہ ہوتا۔

خود مرزاقادیانی بھی لکھا: ’’ان ارؤیا الانبیاء وحی‘‘ انبیاء کا خواب وحی ہوتی ہے۔(حمامتہ البشریٰ ص۱۳ حاشیہ، خزائن ج۷ ص۱۹۰)

یوسفm جب جیل خانہ میں تھے تو اس وقت دو قیدیوں نے دو خواب دیکھے اور یوسفm سے اس کی تعبیر دریافت کی۔ یوسفm نے تعبیر دینے کے بعد فرمایا: ’’قضی الامر الذی فیہ تستفتیان‘‘ اس کام کا فیصلہ ہوگیا۔ جس کی بابت تم دریافت کرتے تھے۔ یعنی جو تعبیر دے دی گئی وہ اٹل فیصلہ ہے۔ اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ پس جب کہ نبی کی طرف سے کافر کے جواب کی تعبیر اٹل فیصلہ ہے تو خود نبی کا خواب اور اس کا الہام کیسے اٹل نہ ہوگا۔

۴۳…صاحب ’’کن فیکون‘‘ ہونے کا دعویٰ

مرزاقادیانی (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) پر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’انما امرک اذا اردت شیئًا ان تقول لہ کن فیکون‘‘ تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔

۴۴…حجراسود ہونے کا دعویٰ

الہام ہوا کہیکے پائے من می بوسد ومن میگفتم کہ حجر اسود منم۔ (حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)

323

۴۵…بیت اللہ ہونے کا دعویٰ

’’خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔‘‘(حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)

۴۶…حیض اور حمل اور ولادت کا دعویٰ

مرزاقادیانی کو الہام ہوا۔ ’’یریدون ان یروا طمثک‘‘ (یعنی وہ تیرا حیض دیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں) اس الہام کی تشریح خود مرزاقادیانی کی زبانی اس طرح ہے۔ ’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خداتعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)

اس الہام میں مرزاقادیانی عورت بنے۔ اب نعوذ ب اللہ ! خداتعالیٰ مرزا سے ہم بستری کرتے ہیں اور رجولیت کی طاقت ظاہر کی جاتی ہے۔ جس کو مرزاقادیانی کے ایک مرید قاضی یار محمد بی۔او۔ایل پلیڈر اپنے (ٹریکٹ نمبر۳۴ موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر) میں لکھتے ہیں کہ: ’’جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘ (اس قسم کی وساوس یقینا شیطانی ہیں۔ کوئی عاقل کبھی خدا کی طرف نعوذ ب اللہ ! اس قسم کے افعال کو تجویز نہیں کر سکتا)

’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۶) میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا… یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰،۵۱)

۴۹…کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ

(تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۱) پر لکھتے ہیں کہ: ’’آریہ قوم کے لوگ

324

کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں۔‘‘

۵۰…آریوں کے بادشاہ ہونے کا دعویٰ

’’اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا نے باربار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔‘‘(تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۲)

اور بادشاہت سے مرزاقادیانی کے نزدیک روحانی بادشاہت مراد ہے۔ اس لئے ظاہری بادشاہت کا تونام ونشان نہ تھا۔

مرزاقادیانی نے جو کرشن مہاراج ہونے کا یا آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہمیں اس دعوے سے کوئی بحث نہیں۔ وہ جانیں اور ہندو جانیں۔ چاہے وہ اس دعویٰ کو تسلیم کریں یا اس کی تردید کریں۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ کیا مرزاقادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ اور کرشن مہاراج یک جان اور دوقالب تھے۔ نیز مرزاقادیانی کو چاہئے تھا کہ کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے مسلمانوں کو ان کتابوں کا مطالعہ کرتے جو ہندوؤں کے اوتار کرشن کے حالات اور صفات اور عادات کے متعلق لکھی گئی ہیں۔ پھر اگر وہ اپنی ذات میں مشرکین کے اوتاروں کے اوصاف اور اخلاق پاتے تو ان کو یہ حق تھا کہ وہ کرشن مہاراج ہونے کا دعویٰ کریں۔

حق تو یہ ہے کہ اس قسم کے دعاوی سے مرزاقادیانی کی اندرونی حقیقت خوب واضح ہو جاتی ہے۔ شیخ سعدیv نے کیا خوب فرمایا ہے:

  1. خیالات نادان خلوت نشیں

    بہم بر کند عاقبت کفر و دیں

ناظرین کرام نے مرزائے قادیان کے دعاوی پڑھ لئے ہیں جن سے صاف واضح ہے کہ مرزاقادیانی کا مقصود سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تمام دنیا کے پیشواؤں کے فضائل اور کمالات اپنے لئے ثابت کرے اور تمام انبیاء سابقینo اور تمام اوّلین وآخرین پر اپنی برتری ثابت کرے اور ہر فرقہ کا پیشوا اور گرو بن جائے۔ مسلمانوں کے لئے آنحضرتa کے ظل اور بروز اور مظہراتم ہونے کا دعویٰ کیا اور یہود کے لئے موسیٰm ہونے کا دعویٰ کیا اور عیسائیوں کے لئے عیسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہونے کا دعویٰ

325

کیا تاکہ ہندو بھی میرے سے علیحدہ نہ ہوسکیں۔ جس شخص نے قادیانی کی کتابیں دیکھی ہیں۔ اس پر یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اس کی ساری تصنیفات اپنی تعلّی آمیز دعوؤں اور انبیاء کرامo کی تنقیص اور توہین سے بھری پڑی ہیں۔ جن سے مرزاقادیانی کی اندرونی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔

مرزاقادیانی کے یہ دعاوی مسروقہ ہیں

اب ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے یہ تمام دعاوی سابق مدعیان نبوت ومہدویت اور مسیحیت سے مسروق ہیں۔ مرزاقادیانی سے پہلے تیرہ صدی کے اندر بہت سے مدعیان نبوت اور مدعیان مسیحیت اور مدعیان مہدویت گزرے ہیں۔ جن کا مفصل ذکر کتاب آئمہ تلبیس مصنفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری مرحوم میں موجود ہے۔ فاضل مرحوم نے پانچ سو صفحہ سے زائد کی ایک کتاب لکھی ہے۔ جس میں تیرہ صدی کے مدعیان نبوت اور مدعیان مہدویت کا مفصل حال لکھا ہے جس میں فاضل مرحوم نے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزائے قادیانی نے جس قدر بھی دعویٰ کئے ہیں۔ وہ سب لفظ بلفظ گزشتہ مدعیان نبوت ومہدویت ومسیحیت سے مسروق ہیں۔ یعنی چرائے گئے ہیں اور مرزاقادیانی کے دعویٰ گزشتہ کذابین اور مفترین کے باطل دعوؤں کا نچوڑ ہیں۔ پس اگر مرزاقادیانی کے دعوؤں میں کوئی تاویل ہوسکتی ہے تو گزشتہ مدعیان میں یہی ہوسکتی ہے۔ ’’تشابہت قلوبہم‘‘ سب اہل باطل کے دل ملتے جلتے ہیں۔

نصیحت

مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے چوروں اور ایمان کے رہزنوں سے اپنے ایمان کی دولت کو بچا کر رکھیں کہ مبادا کوئی رہزن اس لازوال دولت کو اچک کر نہ لے جائے۔

  1. اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

    پس بہروستے نشاید داد دست

’’واٰخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلٰی اٰلہ واصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین‘‘

بندۂ ناچیز: محمد ادریس کان اللہ لہ

۲۰؍رمضان المبارک یوم دو شنبہ ۱۳۸۶ھ

326

احسن البیان

فی

تحقیق مسئلۃ الکفر والایمان

یعنی

مسلمان کون ہے اور کافر کون؟

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

327

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یہ ایک بیان ہے اسلام کے بنیادی مسئلہ کفر وایمان پر جسے حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی سلمہ اللہ ومدظلہ نے ماہ محرم ۱۴۷۳ھ میں پایۂ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ اس بیان کا عربی نام ہے: ’’احسن البیان فی تحقیق مسئلۃ الکفر والایمان‘‘ آج کل کے عوام بلکہ خواص تعلیم یافتہ عربی نام سے غیرمانوس ہونے کی وجہ سے کتاب کے اندرونی مسائل کو اوّل نظر میں معلوم نہیں کر سکتے۔ اس بناء پر موجودہ ارباب تصنیف وتالیف اور مخالفین اسلام عموماً ناموں میں جدت اور اردو زبان اسلام استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً دو اسلام، دو قرآن، قرآنی فیصلے! ان ناموں کو دیکھ کر لوگ خواہ مخواہ پڑھنے اور مطالعہ کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عاجز بھی عموماً عربی کے نام کے ساتھ ساتھ ایک اردو نام تجویز کردیا کرتا ہے۔ چنانچہ اس رسالہ کا نام ہم نے وضع کیا ہے۔ ’’مسلمان کون ہے اور کافر کون؟‘‘

علاوہ ازیں چونکہ اس کتاب میں ایمان، کفر، الحاد، زندقہ، نفاق وغیرہ کی تعریفات اور احکام تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ اس لئے یہ کتاب اس نام کی وجہ سے اسم بامسمی ہوگئی ہے۔ حضرت مولانا مدظلہ نے اس بیان میں ۵۷کتابوں سے عبارتیں اور حوالے نقل فرمائے ہیں۔ا س کے پڑھنے سے آپ کو وہ معلومات حاصل ہوں گے جو تفاسیر واحادیث کی ضخیم کتابوں کے بعد علماء کو بھی مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں۔ پھر کتابوں کی ورق گردانی کے علاوہ حضرت مصنف مدظلہ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب قدس اللہ سرہ اور حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانویv اور دیگر اکابر علماء اہل سنت والجماعت کے علوم ومعارف کوسہل اردو عبارت میں مرتب فرما کر ملت مسلمہ پاکستانیہ پر احسان عظیم فرمایا ہے۔(حضرت مولانا مفتی) محمد عبد اللہ غفرلہ (ملتانی)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ایمان وکفر اور ایمان کے احکام وتعریفات

ایمان اور اسلام کی تعریف

(۱)لفظ ایمان امن اور امانت سے مشتق ہے۔ لغت میں ایمان ایسی خبر کی تصدیق

328

کو کہتے ہیں کہ جس خبر کو ہم نے مشاہدہ نہ کیا ہو اور محض مخبر کی امانت اور صداقت کے بھروسہ اور اعتماد پر اس کو تسلیم کر لیا ہو۔

مثلاً اگر کوئی شخص طلوع آفتاب کی خبر دے تو اس کے جواب میں ’’صدقنا‘‘ اور ’’سلمنا‘‘ (یعنی ہم اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں) کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ’’امنا‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لئے کہ طلوع شمس محسوس اور مشاہد ہے ایمان کا اطلاق لغت میں غائب اور غیرمحسوس چیزوں کی تصدیق کے لئے بولا جاتا ہے۔ محسوس اور مشاہد چیزوں کے ماننے کو مطلق تصدیق کہیں گے مگر ایمان نہ کہیں گے۔

اور اصطلاح شریعت میں انبیاء کرامo کے اعتماد اور بھروسہ پر احکام خداوندی اور غیب کی خبروں کی تصدیق کو ایمان کہتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو بغیر دیکھے محض نبی اور رسول کے اعتماد پر ماننے کا نام ایمان ہے اور مرتے وقت فرشتوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر ماننا یہ ایمان نہیں۔ یہ ماننا اپنے مشاہدہ پر مبنی ہے نبی کریم کے اعتماد اور بھروسہ پر نہیں۔

اسلام

اسلام، لغت میں اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے یا بالفاظ دیگر اپنے کو کسی کے حوالہ اور سپرد کردینے کا نام اسلام ہے اور اصطلاح شریعت میں نبی پر حق کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نام اسلام ہے۔ اپنی رائے اور خیال کے مطابق اللہ کی اطاعت کرنا شریعت کے نزدیک یہ اسلام نہیں بلکہ کفر ہے۔

کفر است دریں مذہب خود بینی و خود رائی

بادشاہ اور حکومت کی اطاعت اور وفاداری وہی معتبر ہے کہ جو احکام ووزارت کے ماتحت ہو۔ احکام وزارت کو واجب العمل نہ سمجھنا یہ حکومت سے بغاوت ہے اور اگر بایں ہمہ حکومت کی وفاداری کا دعویٰ کرے تو عقلاء کے نزدیک وہ دعویٰ جہالت اور حماقت ہے۔

’’قال تعالٰی: فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجد وافی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما‘‘ {قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ لوگ… نہیں مومن ہوسکتے جب تک آپa کو اپنے اختلاف میں حاکم اور منصف نہ بنائیں اور پھر آپa کے فیصلہ کے بعد دل میں کسی قسم کی تنگی اور انقباض نہ پائیں اور دل وجان سے آپa کے فیصلہ کو تسلیم کر لیں۔}

329

ورنہ اگر زبان سے تو آپa کو حاکم اور منصف مانا مگر دل میں آپa کے فیصلہ سے تنگی انقباض پایا تو یہ لوگ مومن نہیں بلکہ منافق ہیں اور قابل گردن زدنی ہیں۔

اسی آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادق سے منقول ہے:’’قال لو ان قوما عبد و اللہ تعالٰی واقامو الصلاۃ واتوا الزکوٰۃ وصاموا رمضان وحجوا البیت ثم قالوا لشی صنعہ رسول اللہ a الاصنع خلاف ما صنع اووجدوا فی انفسہم حرجا لکانوا مشرکین ثم تلاہذہ‘‘ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ اگر کوئی قوم اللہ کی عبادت کرے اور نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ سب اداکرے۔ مگر کسی فعل کے متعلق جو حضورa نے کیا ہو، یہ کہے کہ آپa نے یہ کام کیوں کیا یا اس کے خلاف کیوں نہ کیا یاآپa کے کسی حکم سے قلب میں تنگی اور انقباض کو محسوس کیا تو یہ لوگ باوجود نماز اور روزہ کے، کافر اور مشرک کے حکم میں ہیں اور اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی۔(روح المعانی ج۵ ص۶۵)

شیخ الاسلامv شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ایمان در لغت بمعنی گردیدن ودرشرع مخصوص است بگردیدن آنچہ پیغمبر خداa از نزد خدا آوردہ وبہ بندگان رسانیدہ از امرونہی وجز متشابہ وجز آن۔ الیٰ ان قال: وبالجملہ حقیقت ایمان ومدارا من از عذاب ابدی ونجات اخروی ہمیں تصدیق پیغمبر است یعنی تصدیق رسالت وے کہ صفت دل است بمعنی گرددین پذیر فتن بدل آنچہ از خدا آوردہ ورسانیدہ کہ لازم وے تسلیم است بمعنی گردن وارن وسپرون خود را بحکم۔ نہ تصدیق بمعنی راست گودانستن پیغمبر یا راست دانستن رسالت دے چہ مجرد این معرفت ویقین بدل قبول وتسلیم فائدہ نہ کند بسے از اہل مکرو عناد بودند کہ باوجود معرفت صدق پیغمبر بنظر معجزات ودریافت علامات کہ کتب سابقہ بدان مملوومشحون بودہ براہ حجود وانکار می رفتد الذین اتنا ہم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ہم وان فریقا منہم لیکتمون الحق وہم یعلمون وحجدوا بہا واستیقنتہا انفسہم ظلما وعلوا۔ الٰی ان قال:

اسلام درلغت بمعنی انقیاد وفرمانبرداری وتسلیم شدن مرحکم سے رابے سرکشی

330

واعراض وردشرع مخصوص است بانقیاد واطاعت احکام وبجا آوردن آنچہ پیغمبر بداں خبردادہ از فرائض وارکان۔ پس اسلام نام ظاہر اعمال است وایمان نام باطن اعتقاد۔(شرح فارسی بخاری ج۱ ص۵۱)

تنبیہ

اس عبارت سے یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ خدا اور رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں کہ فقط خدا اور رسول کو موجود مان لیا جائے یا فقط زبان سے خدا کی الوہیت اور نبی کی نبوت کا اقرار کر لیا جائے۔ بلکہ ایمان کے معنی بے چون وچرا اور بے دغدغہ اور بے تردد دل وجان سے تمام احکام کے ماننے کے ہیں۔ رسول کی رسالت کا اقرار کرنا اور اس کی شریعت کو واجب العمل نہ سمجھنا یہ ایسا ہے کہ حکومت اور بادشاہت کو تو تسلیم کرے اور اس کے دستور وآئین کو واجب العمل نہ سمجھے۔ کیا عقلاء کے نزدیک یہ کھلا ہوا تمسخر نہیں؟

کفر کی تعریف

کفر شریعت میں ایمان کی ضد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کو نبی کے بھروسہ اور اعتماد پر بے چون وچرا تسلیم کرنے کانام ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ کی کسی ایک بات کو نہ ماننا کہ جو ہم کو قطعی اور یقینی طور پر آنحضرتa کے ذریعہ سے پہنچی ہے۔ ایسی چیز کو نہ ماننے کا نام کفر ہے۔ قطعی اور یقینی کی قید اس لئے لگائی کہ دین کے احکام ہم تک دو طریق سے پہنچے ہیں۔ ایک بطریق تواتر اور ایک بطریق خبرواحد۔ تواتر اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز نبی اکرمa سے ہم تک علی الاتصال اور مسلسل ہم تک پہنچی ہے اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک نسلاً بعد نسلٍ ہر زمانہ کے مسلمان اس کو نقل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ایسی شئے قطعی اور یقینی ہے جس میں احتمال خطا اور نسیان کا نہیں۔ ایسے قطعی اور یقینی اور متواتر کا انکار کفر ہے اور جو امور خبرواحد سے ثابت ہوں ان کا انکار کفر نہیں۔

متواترات میں تاویل بھی کفر ہے

جس طرح دین کے کسی حکم قطعی اور متواتر کا صریح انکار کفر ہے۔ اسی طرح قطعیات اور متواترات میں تاویل کرنا بھی کفر ہے۔ کیونکہ قطعی امور کی تاویل بھی انکار کے حکم

331

میں ہے۔ مثلاً جس طرح نماز اور روزہ کا صریح انکار کفر ہے۔ اسی طرح نماز اور روزہ میں ایسی تاویل کرنا جو امت محمدیہ کے اجماعی معنی اور اجماعی عقیدہ کے خلاف ہو وہ بھی کفر ہے اور اس قسم کے تاویلی کفر کو اصطلاح شریعت میں الحاد اور زندقہ کہتے ہیں۔ (جس کو ہم عنقریب بیان کریں گے)

تاویل وہاں مسموع ہے جہاں کوئی اشتباہ ہو اور جو امور قطعی اور صاف اور روز روشن کی طرح واضح ہوں ان میں تاویل کرنا، انکار کے مترادف ہے۔

ضروریات دین کی تعریف

ضروریات دین اصطلاح شریعت میں انہیں امور کو کہا جاتا ہے کہ جو آنحضرتa سے بطریق تواتر ثابت ہوں اور عام طور پر مسلمان ان امور کو جانتے ہوں۔ ایمان اور اسلام کے لئے ان امور کا تسلیم کرنا لازم اور ضروری ہے۔

تواتر مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک بھی حجت ہے

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۵۵۶، خزائن ج۳ ص۳۹۹) پر لکھتے ہیں کہ: تواتر کی جو بات ہے وہ غلط نہیں ٹھہرائی جاسکتی اور تواتر اگر غیرقوموں کا بھی ہو تو وہ بھی قبول کیا جائے گا۔

اسلام میں ختم نبوت کا عقیدہ متواتر ہے

ختم نبوت کا عقیدہ، ضروریات دین اور متواترات اسلام میں ہے جو قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے اور نسلاً بعد نسلٍ اور قرناً بعد قرنٍ اور عصراً بعد عصرٍ ہر زمانہ میں نقل ہوتا چلا آیا ہے۔

امت محمدیہ میں سب سے پہلا اجماع مدعی نبوت کے قتل پر ہوا

اسود عنسی نے حضورa کے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور حضورa کے حکم سے قتل کیاگیا۔ مسیلمہ کذاب نے نبی کریمa ہی کے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ صدیق اکبرq کے زمانہ خلافت میں تمام صحابہi کے اتفاق سے مارا گیا اور اسی طرح دیگر مدعیان نبوت کا قلع قمع کیاگیا۔ اس کے بعد ہر زمانہ میں اسلامی حکومت نے ہر اس شخص کو سزائے موت دی جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جس طرح تواتر کا ماننا ضروری ہے۔ اسی طرح اجماع

332

کا ماننا بھی ضروری ہے۔ ورنہ اگر اجماع کا اعتبار نہ کیا جائے تو دین ہر کس وناکس کے ہاتھ میں ایک کھلونا بن جائے۔ جس قانون کی بناء پر کسی اجماعی اور اتفاقی اصول پر نہ ہو اس قانون کی کوئی حقیقت نہیں۔ محض لفظ ہی ہیں جس خود غرض کا جی چاہے گا وہ قانون کے الفاظ میں اپنے حسب منشا تاویل کرلے گا۔

اسی طرح دین بھی اگر اجماعی اصول پر مبنی نہ ہو تو وہ دین، دین کہلانے کا مستحق نہیں۔ محض ایک بازیچہ اطفال اور مضحکہ خیز چیز ہے جس شخص کا جی چاہتا ہے اس کو دین بنالیتا ہے۔ اسی طرح پوری امت کا دین یکساں نہ ہوگا بلکہ ہر ایک کا دین علیحدہ علیحدہ ہوگا۔

اجماع مرزاقادیانی کے نزدیک بھی حجت ہے

مرزاقادیانی اپنی کتاب (ایام صلح ص۸، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳) میں لکھتے ہیں کہ: ’’وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض ہے۔‘‘ ایک دوسری کتاب (انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص۱۴۴) میں لکھتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت پر مقدار ایک ذرہ کے زیادتی کرے اس پر اللہ کی لعنت اور ملائکہ کی لعنت یا اس میں کمی کرے یا کسی عقیدۂ اجماعیہ کا انکار کرے اس پر اللہ کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت یہ میرا اعتقاد ہے۔

ایمان اور کفر میں وجود اور عدم کے اعتبار سے فرق

ایمان اور کفر کی تعریف سے یہ امر واضح ہو گیا کہ ایمان کے وجود اور تحقق کے لئے ان تمام احکام کی تصدیق ضروری ہے جن کا حکم نبوی ہونا قطعاً ویقینا ثابت ہوگیا۔ ان سب کو قبول اور تسلیم کرنے کا نام ایمان اور اسلام ہے اور کفر کے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمام احکام شریعت کا انکار کرے ایک حکم قطعی کا انکار بھی کفر کے تحقق کے لئے کافی ہے۔ قال تعالٰی: ’’یاایہا الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین‘‘ اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

یعنی اسلام کے تمام احکام کو مانو۔ بعض احکام اسلامیہ کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا یہ شیطان کی پیروی ہے۔

333

’’افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذالک منکم الاخزی فی الحیاۃ الدنیا ویوم القیامۃ یردون الٰی اشد العذاب وما اللہ بغافل عما تعملون (بقرہ)‘‘ {تو کیا مانتے ہو بعض کتاب اور نہیں مانتے بعض کو۔ سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی۔ دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن پہنچائے جائیں گے سخت سے سخت عذاب میں اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کاموں سے۔}

’’وقاتلوا الذین لا یومنون ب اللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ماحرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتاب حتی یعطو الجزیۃ عن یدوہم صاغرون (سورہ توبہ)‘‘ {لڑو اور ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور نہ حرام جانتے ہیں ان کو جس کو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا۔ ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں۔ یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہوکر۔}

’’افکلما جاء کم رسول بما لاتہویٰ انفسکم استکبرتم ففریقا کذبتم وفریقا تقتلون وقالو قلوبنا غلف بل لعنہم اللہ بکفرہم فقلیلا مایؤمنون (بقرہ)‘‘ {پھر بھلا کیا جب پاس لایاکوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا تمہارے جی کو تو تم تکبر کرنے لگے۔ پھر ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو تم نے قتل کر دیا اور کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو بہت کم ایمان لاتے ہیں۔}

’’ان الذین یکفرون ب اللہ ورسولہ ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض ویریدون ان یتخذوا بین ذالک سبیلا اولئک ہم الکافرون حقا واعتدنا للکافرین عذابا مہینا والذین آمنوا ب اللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منہم اولئک سوف یؤتیہم اجورہم وکان اللہ غفورا رحیما‘‘ {جو لوگ منکر ہیں اللہ سے اور اس کے رسولوں سے اور چاہتے ہیں کہ فرق نکالیں اللہ میں اور اس کے رسولوں میں اور کہتے ہیں ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو اور چاہتے ہیں کہ نکالیں اس کے بیج میں ایک راہ ایسے لوگ وہی ہیں اصل کافر، اور ہم نے تیار کر رکھا ہے

334

کافروں کے واسطے ذلت کا عذاب اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور جدا نہ کیا ان میں سے کسی کو ان کو جلد دے گا ان کے ثواب، اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔}

امام ربانی مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ فلاسفہ یونان جو کہ سموات اور کواکب کے فنا اور فساد کے قائل نہیں وہ قطعاً کافر ہیں۔ جیسا کہ امام غزالی نے اپنے رسائل میں اس کی تصریح کی ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ نصوص قطعیہ اور اجماع انبیاء کرامo کے منکر ہیں۔

۱… ’’کما قال تعالٰی: اذا الشمس کورت واذ النجوم انکدرت‘‘{جب کہ سورج لپیٹ دیا جائے گا اور ستارے بے نور ہو جائیں گے۔}

۲… ’’اذا السماء انشقت‘‘{جب کہ آسمان پھٹ جائے گا۔}

۳… ’’وفتحت السماء فکانت ابوابا‘‘{جب کہ آسمان کھل جائے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے۔}

نمید انند کہ مجرد تفوہ بکلمہ شہادت در اسلام کافی نیست تصدیق جمیع ماعلم مجیہ الدین بالضرورۃ باید(مکتوبات ج۱ ص۳۲۳)

(ترجمہ) ’’نہیں جانتے کہ محض کلمہ شہادت زبان سے پڑھ لینا مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں۔ مسلمان ہونے کے لئے ان تمام امور کی تصدیق لازمی اور ضروری ہے کہ جن کا دین سے ہونا قطعی طور پر ثابت ہوگیا ہو۔‘‘

البتہ جن امور کا ظنی طور پر دین سے ہونا ثابت ہو ان کے انکار سے کفر کے درجہ تک نہیں پہنچتا۔

ایمان ب اللہ اور ایمان بالرسول کا مطلب

ایمان ب اللہ اور ایمان بالرسول کا فقط یہ مطلب نہیں کہ حق تعالیٰ کی الوہیت اور آنحضرتa کی نبوت ورسالت کو مانے اور اللہ تعالیٰ کو خدا اور آنحضرتa کو نبی اور رسول مانے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکام کو دل وجان سے مانے۔ ورنہ خدا اور رسول کو ماننا اور ان کے کسی حکم کو نہ ماننا یا اس پر نکتہ چینی کرنا۔ یہ ایمان نہیں۔ بلکہ استہزاء اور تمسخر ہے۔ حکومت کو ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کے احکام اور

335

قوانین کو تسلیم کرے اور ان کو قابل اطاعت اور واجب العمل سمجھے۔ محض ذات کا ماننا کوئی ماننا نہیں۔ اصل ماننا حکم کا ماننا ہے۔

دنیا میں سب سے پہلا کفر

دنیا میں سب سے پہلا کفر ابلیس کا ہے جس نے حکم خداوندی کو خلاف حکمت اور خلاف مصلحت قرار دیا۔ حق تعالیٰ نے جب فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ آدمm کو سجدہ کریں تو سب سجدہ میں گر پڑے۔ مگر ابلیس نے خداتعالیٰ کے اس حکم پر یہ اعتراض کیا۔

’’انا خیر منہ خلقتنی من نارو خلقتہ من طین‘‘ {میں آدم سے بہتر ہوں۔ آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لئے بہتر کو کمتر کے لئے سجدہ کا حکم مناسب نہیں۔}

ابلیس حق تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت اور خالقیت کا منکر نہ تھا بلکہ حق تعالیٰ کے ایک حکم کو خلاف حکمت سمجھتا تھا اس لئے وہ کافر گردانا گیا۔ ’’وابٰی واستکبر وکان من الکافرین‘‘ اور ہمیشہ کے لئے ملعون ومطرود اور مرجوم اور مردود بناکر بارگاہ خداوندی سے نکال کر باہر کیاگیا۔

معلوم ہوا کہ حکم خداوندی پر اعتراض کرنا اور اس کو خلاف حکمت اور غیرمناسب تصور کرنا یہ بھی کفر ہے۔ خدا وحدہ لا شریک لہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نہ ذات وصفات میں کوئی اس کا شریک اور سہیم ہے اور نہ اس کے حکم میں کوئی اس کا شریک اور سہیم ہے۔ دنیا میں سب سے پہلا کافر اور مشرک اعظم شیطان ہے جس نے اپنے زعم فاسد اور خیال کاسد کو خداوند ذوالجلال کے حکم کے برابر نہیں بلکہ اس سے بہتر سمجھا۔

شیطان نے نہ خدا کی تکذیب کی اور انہ اس کی وحدانیت کا انکار کیا اور نہ حضرت آدم کی خلافت اور نبوت کا انکار کیا۔ صرف ایک حکم خداوندی پر اعتراض کرنے کی وجہ سے کافر اور ہمیشہ کے لئے ملعون اور مردود بنایا۔ ’’فاخرج فانک من الصاغرین وان علیک لعنتی الٰی یوم الدین‘‘

فائدہ

شیطان نے فقط کفر ہی نہیں کیا بلکہ حماقت بھی کی کہ بے دلیل آگ کے مٹی سے بہتر

336

ہونے کا دعویٰ کیا۔ شیطان کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ جس سے وہ آگ کا مٹی سے بہتر ہونا ثابت کر سکے۔ بلکہ مٹی کے بہتر ہونے کے دلائل بہت ہیں۔

۱… زمین تمام خیرات وبرکات اور تمام ارزاق اور اقوات اور تمام فواکہ اور ثمرات کا منبع اور سرچشمہ ہے جس پر تمام عالم کی حیات موقوف ہے۔

۲… زمین ہی تمام زندوں اور مردوں کا ماویٰ اور مسکن ہے۔ زندہ اس پر زندگی بسر کرتے ہیں اور مردے اس میں دفن ہوتے ہیں۔

۳… عنصر ترابی کی ہر انسان اور حیوان کو ہر وقت ضرورت ہے۔ عنصر ناری کی کبھی ضرورت پیش آتی ہے۔

۴… آگ بالطبع مفسد اور مہلک ہے اور زمین نہ مہلک ہے اور نہ محرق بلکہ محافظ ہے۔

۵… آگ کی طبیعت میں خفت اور حدت ہے اور تپش ہے اور زمین کی طبیعت میں سکون اور وقار اور رزانت ہے۔

علاوہ ازیں حق جل شانہ مالک مطلق اور خالق مطلق ہیں۔ جس طرح کائنات کا وجود اس کا رہین منت ہے۔ اسی طرح کائنات کی فضیلت بھی اس کی مشیت کے تابع ہے۔ جس کو چاہیں افضل بنائیں اور جس کو چاہیں مفضول بنائیں۔ جس کو چاہیں ساجد بنائیں اور جس کو چاہیں مسجود بنائیں۔

  1. کرازہرۂ آنکہ از بیم تو

    کشاید زبان جزبہ تسلیم تو

  2. زباں تازہ کردن باقرار تو

    لیکی ختن علت از کار تو

’’لایسئل عما یفعل وہم یسئلون‘‘ اور جس کا وجود بھی اپنا نہیں وہ سوال کیسے کر سکتا ہے۔ ملائکۃ اللہ ( اللہ کے فرشتے) جانتے تھے کہ ہم نور سے پیدا کئے گئے اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ سانس کی طرح اللہ کی تسبیح وتحمید اور تقدیس وتمجید ہم سے جاری ہے اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے اور ان کی اولاد زمین میں فساد ہی پھیلائے گی۔ مگر بایں ہمہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کے لئے سجدہ کا حکم کیا فوراً سجدہ میں گر گئے اور سمجھے کہ تمام عزتیں اور فضیلتیں ان کے حکم کے تابع ہیں اور حکم خداوندی سے سرتابی کے برابر کوئی ذلت نہیں اور اعتراض نہیں کیا کہ ہم نور سے پیدا کئے گئے اور آدم مٹی سے۔

337

مسئلہ تکفیر اہل قبلہ

ائمہ دین میں یہ مسئلہ مشہور ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ سو جاننا چاہئے کہ اہل قبلہ کا لفظ اصطلاح میں اہل ایمان کے لئے بولا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں اہل قبلہ وہی لوگ کہلاتے ہیں کہ جو تمام قطعیات اسلام اور ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہوں۔ کیونکہ جو لوگ ضروریات دین کے منکر ہوں۔ مثلاً شراب اور زنا کو حلال سمجھتے ہوں۔ وہ شریعت میں اہل قبلہ ہی نہیں اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو شخص فقط قبلہ رخ نماز پڑھتا ہو۔ اگرچہ وہ کسی حکم قطعی کا منکر ہو۔

اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل قبلہ کی گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے تکفیر نہیں کی جائے گی جیسا کہ خوارج اور معتزلہ کا مذہب ہے کہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے انسان دائرہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اہل قبلہ کی زنا کاری اور شراب خواری کی وجہ سے تکفیر نہیں کی جائے گی۔ یا مثلاً کوئی شخص دیدہ ودانستہ نماز کو ترک کر دے۔ اس کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ بلکہ فاسق وفاجر کہا جائے گا۔

ہاں! البتہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نماز پنج گانہ کو فرض نہیں سمجھتا یا چوری اور زنا کو حلال سمجھتا ہوں تو یہ شخص بالاجماع کافر ہو گا۔

علامہ خیالی فرماتے ہیں: ’’معنی ہذہ القاعدۃ ان لا یکفر فی المسائل الاجتہادیۃ اذا لا نزاع فی کفر من انکر ضروریات الدین‘‘ اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا جو قاعدہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل اجتہادیہ میں اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ جو شخص ضروریات دین کا انکار کرے اس کے کفر میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔

شیخ عبدالحق محدث دہلویv فرماتے ہیں کہ اس قاعدے کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ مسلمانوں کی طرح قبلہ رخ نماز پڑھتے ہیں اگر ان سے بے خبری میں کوئی کلمہ ایسا نکل جائے کہ جس سے کفر لازم آتا ہو تو ان کی تکفیر نہ کی جائے گی۔ جب تک صاف طور پر یہ نہ معلوم ہو جائے کہ وہ بھی اس کا التزام کرتے ہیں۔ کیونکہ لزوم کفر، کفر نہیں۔ التزام کفر، کفر ہے۔ خوب سمجھ لو۔

338

ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں

تاویل وہاں معتبر ہے کہ جہاں کوئی اشتباہ ہو اور قواعد عربیت اور قواعد شریعت میں اس کی گنجائش ہو یعنی وہ تاویل کتاب وسنت اور اجماع امت کے خلاف نہ ہو اور جو حکم شرعی ایسی دلیل سے ثابت ہو کہ جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت بھی ہو اس میں تاویل معتبر نہیں۔ بلکہ ایسے امور میں تاویل کرنا انکار کے ہم معنی ہے۔

مثلاً اگر کوئی عین نصف النہار کے وقت جس وقت کوئی ابر اور غبار بھی نہ ہو اور دھوپ نکل رہی ہو یہ کہے کہ اس وقت دن نہیں ہے، بلکہ رات ہے۔ ممکن ہے اس وقت آسمان پر کوئی بجلی کوند رہی ہو اور یہ روشنی اس کی ہو۔ جس کو لوگ دھوپ سمجھے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی عاقل اس تاویل کو تاویل کہے گا بلکہ یہ کہے گا کہ اس محسوس اور مشاہدہ چیز کا انکار کر رہا ہے۔ اس طرح کی تاویلیں اگر معتبر ہوں تو دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا اور دہریہ اور منکرین توحید اور منکرین رسالت بھی کافر نہ ہوں گے۔ آخر وہ بھی کسی دلیل اور تاویل ہی کی بناء پر توحید ورسالت کے منکر ہیں۔

علماء اسلام کی فتوائے تکفیر میں احتیاط

علماء ربانیین نے فتوائے تکفیر میں کبھی عجلت نہیں کی۔ فروعی مسائل میں کسی کو کافر نہیں بتایا۔ جب تک روزروشن کی طرح کسی کا کفر واضح نہیں ہوگیا۔ اس وقت تک کفر کا فتویٰ نہیں دیا بلکہ قاعدہ مقرر فرما دیا کہ اگر مسلمان کے کلام میں ننانوے وجہیں کفر کی ہوں اور ایک ادنیٰ سا احتمال صحیح معنی کا بھی ہو تو جب تک قطعی طور پر یہ نہ معلوم ہو جائے کہ متکلم نے معنی کفر ہی مراد لئے ہیں۔ اس وقت تک اس کے کفر کا فتویٰ دینا جائز نہیں۔ ہاں! اگر کسی جگہ قطعی اور یقینی طور پر کفر ثابت ہو جائے تو پھر کفر کا فتویٰ دینا فرض اور واجب ہوگا۔

مرزاقادیانی ہی کو لے لیجئے کہ ابتداء میں علماء نے مرزاقادیانی کے کلام کی تاویل کی مگر جب مرزاقادیانی کا کفر اس درجہ واضح ہو گیا کہ تاویل کی گنجائش نہ رہی تو چاروناچار تکفیر کرنی پڑی تاکہ مسلمان گمراہ نہ ہوں۔ ایمان اور کفر کا فرق واضح کرنا علماء کا فریضہ ہے۔ جو اللہ کی طرف سے ان پر عائد ہے۔ اگر علماء اس قدر احتیاط نہ کرتے تو آج کفر اور اسلام

339

میں امتیاز نہ رہتا۔ جس ملحد کا جی چاہتا وہ اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام بتاتا۔ اللہ تعالیٰ علماء دین کو جزائے خیردے کہ انہوں نے کفر اور اسلام کے فرق کو واضح کیا۔

اور جب کبھی کسی عالم نے غلطی یا کسی خودغرضی کی وجہ سے کوئی غلط فتویٰ دیا۔ اسی وقت اس کی تردید کی لہٰذا چند غلط فتوؤں کی بناء پر تمام صحیح فتوؤں کا رد کرنا سراسر خلاف عقل ہے۔

بعض فتوؤں کے دانستہ یا نادانستہ غلط ہونے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ سب فتوے غلط ہیں اور تکفیر کا کوئی فتویٰ قابل اعتبار نہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کے کفر کا فتویٰ بھی قابل اعتبار نہیں۔ یہ نتیجہ نکالنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی یہ کہے کہ چونکہ بعض حکام عدالت نے دانستہ یا نادانستہ غلط فیصلے کئے ہیں اور کر رہے ہیں اور روزانہ ان کی اپیلیں ہورہی ہیں۔ ادھر فیصلہ اور ادھر اپیل۔ لہٰذا عدالت کا کوئی فیصلہ قابل اعتبار نہیں یا یہ کہے کہ پولیس کے چالان بہت سے غلط بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا عدالت یا پولیس کا کسی کے متعلق یہ کہنا کہ یہ مجرم ہے یا یہ شخص چور یا بدمعاش ہے۔ صحیح نہیں۔

تو کیا دنیا کے مجرم یہ کہہ کر رہا اور بری ہوسکتے ہیں کہ بعض حکام فیصلہ میں غلطی کرتے ہیں یا بدنیت ہوتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو کارخانہ عالم درہم وبرہم ہو جائے۔ مرزاقادیانی کی طرح دنیا میں بہت سے کذاب مدعی ہوئے ہیں تو کیا کوئی شخص سچے نبیوں کی اس بناء پر تکذیب کر سکتا ہے کہ سلسلہ مدعیان نبوت میں بہت سے کاذب بھی ہیں۔ لہٰذا ہم کسی نبی کو نہیں مانتے۔

پس جس طرح دنیا میں صدق اور کذب کی پڑتال کی جاتی ہے اسی طرح فتاوائے تکفیر کو بھی دیکھنا چاہئے جو کتاب وسنت کے معیار پر صحیح اترے اس کو قبول کیا جائے اور جو اس معیار پر نہ اترے اس کو قبول نہ کیا جائے۔

محض اتنا کہہ دینے سے کہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی تکفیر کرتا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا میں کوئی کافر اور مرتد نہیں۔

کیا ڈاکٹروں اور بیرسٹروں کے اختلاف سے یہ فیصلہ کرنا جائز ہے کہ ڈاکٹروں اور بیرسٹروں کا کوئی قول اس لئے قابل اعتبار نہیں کہ ان میں اختلاف ہے۔ لہٰذا دنیا میں اب کوئی مریض نہیں۔

340

اصل وجہ یہ ہے کہ بے دین اور بددین لوگ ہروقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ عوام کو علماء سے بدظن کیا جائے اور مسئلہ تکفیر کو آڑ بنا کر علماء کا تمسخر کیا جائے اور لوگوں کے جذبات کو ان کے خلاف ابھارا جائے تاکہ لوگ دین سے بیزار ہو جائیں اور علماء اتنے ذلیل ہو جائیں کہ ایمان اور کفر اور حلال اور حرام کی کوئی بات زبان ہی سے نہ نکال سکیں۔ ان بیچارے بے دینوں کو علماء سے کوئی ذاتی عداوت نہیں اور نہ ذاتی عداوت کی کوئی وجہ موجود ہے۔ بلکہ نفرت وحقارت کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ علماء حلال وحرام کا نام کیوں لیتے ہیں۔ ہم آزاد ہیں جو چاہیں کریں۔ یہ گروہ ہماری رشوت ستانی اور شراب خوری اور بے پردگی وغیرہ وغیرہ کو کیوں حرام اور ناجائز کہتا ہے۔

مسئلہ تکفیر میں احتیاط کا دوسرا پہلو

مسئلہ تکفیر نہایت نازک ہے۔ جس میں غایت درجہ احتیاط کی ضرورت ہے جس طرح کسی مسلمان کو بلاقطعی اور واضح دلیل کے کافر کہنا وبال عظیم ہے۔ اسی طرح جس شخص کا کفر دلیل قطعی سے واضح ہو جائے اس کو مسلمان کہنا بھی نہایت خطرناک ہے۔ اس زمانہ میں ایک جماعت تو وہ ہے کہ جس کا مسلک یہ ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں مسلمانوں کی تکفیر کی جائے اور اس کے بالمقابل ایک دوسری جماعت تعلیم یافتہ اور آزاد خیال لوگوں کی ہے۔ ان کا مسلک یہ ہے کہ جو شخص اسلام کا مدعی ہو اور اپنے آپ کو وہ مسلمان کہتا ہو کسی طرح اس کی تکفیر نہ کی جائے۔ اگرچہ وہ ضروریات دین اور قطعیات اسلام کا منکر ہو اور اسلام پر نکتہ چینی کرتا ہو۔

خوب سمجھ لینا چاہئے کہ جس طرح مسلمان کو بے دلیل کافر کہنا کفر ہے۔ اسی طرح کافر کو مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ مسلمان ہونے کے لئے فقط مدعی اسلام ہونا کافی نہیں۔ جب تک کہ اسلام کے تمام احکام کو دل وجان سے نہ مانے۔

حکومت کا وفادار وہی ہے کہ جو حکومت کے تمام قوانین اور آئین کو واجب العمل تسلیم کرتا ہو۔ محض زبان سے وفاداری کا دعویٰ کافی نہیں۔ جو شخص حکومت کی وفاداری کا مدعی ہو اور قانون شکنی کو بھی جائز قرار دیتا ہو اور علی الاعلان لوگوں کو قانون شکنی پر آمادہ کرتا ہو یا قانون کے ایسے جدید اور نئے معنی بیان کرتا ہو کہ جو اب تک وزراء حکومت اور حکام عدالت

341

کے حاشیہ خیال میں بھی نہ گزرے ہوں تو ایسا شخص حکومت کے نزدیک وفادار نہیں بلکہ جھوٹا اور مکار ہے اور فریبی اور عیار ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص توحید ورسالت کا تو اقرار کرے مگر شراب اور زنا کی حرمت کا انکار کرے یا یہ کہے کہ میں ارکان اربعہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو فرض نہیں سمجھتا تو جو شخص شراب اور زناء کے حرمت کے منکر کو اور علی ہذا ارکان اربعہ کی فرضیت کے منکر کو کافر نہ سمجھے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شخص بھی شراب وزنا کی حرمت اور ارکان اربعہ کی فرضیت کا منکر ہے۔ اگر یہ خود منکر نہ ہوتا تو منکر کو ضرور کافر سمجھا جو شخص انبیاء کرامo کے گالیاں دینے والے کو کافر نہیں سمجھتا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ شخص بھی انبیاء کرامo کی توہین اور گستاخی کو جائز سمجھتا ہے۔ جو شخص مسیلمہ کذاب کوکافر نہ سمجھے اس کا صاف مطلب ہے کہ دعوائے نبوت اس شخص کے نزدیک بھی جائز ہے۔

مسئلہ تکفیر کی غرض وغایت یہ ہے کہ اسلام اور کفر کی حدود ملتبس نہ ہونے پائیں اور خدا کے وفادار اور باغی دوست اور دشمن ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہو جائیں۔ ’’لیمیز اللہ الخبیث من الطیب‘‘ لہٰذا جو شخص بے وجہ مسلمان کو کافر اور ضروریات دین کے منکر کو مسلمان بتاتاہے۔ وہ اسلام کو کفر کی حدود میں اور کفر کو اسلام کی حدود میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کی تمام عدالتوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ عدل اور ظلم کی حدود ملتبس نہ ہونے پائیں۔ اسی طرح تمام انبیاء کرامo کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ ایمان اور کفر کی حدود ملتبس نہ ہونے پائیں اور ایمان وتوحید کا آب طہور، کفر اور شرک کی نجاست کی آمیزش سے پاک اور صاف رہے۔ ’’قال تعالٰی: انما المشرکون نجس۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان‘‘

ایمان، احکم الحاکمین کی بے چون وچرا اطاعت اور حلف برداری کا نام ہے اورکفر، اللہ رب العالمین سے بغاوت کا نام ہے۔ کفر کی حقیقت یہ ہے کہ احکم الحاکمین نے جو قانون اور حکم اپنے خلفاء اور وزراء کے توسط سے بندوں پر اتارا ہے اس کو واجب العمل نہ سمجھے اور قانون حکومت کو واجب العمل نہ سمجھنا یہی بغاوت ہے۔

خلاصہ یہ کہ مسئلہ تکفیر کی حقیقت صرف یہ ہے کہ احکم الحاکمین کے وفادار اور باغی کے فرق کو واضح کردیا جائے اور مفتی، مستفتی کو یہ بتلادے کہ تو اس قول یا اس فعل سے خدا کے وفاداروں میں نہیں رہا یا خدا کے باغیوں میں جاملا۔

342

علماء کسی کو کافر بتاتے نہیں البتہ بتاتے ہیں

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس اللہ سرہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ علماء کسی کو کافر نہیں بناتے اور نہ کوئی کسی کو کافر بناسکتا ہے۔ کافر تو خود اپنے قول اور فعل سے بنتا ہے۔ البتہ علماء اس کو یہ بتادیتے ہیں کہ اس قول اور فعل سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ کافر بنانا علماء کے اختیار میں نہیں اور بتادینا جرم نہیں۔

اگر کوئی وکیل یا بیرسٹر کسی تقریر یا تحریر کے متعلق یہ بتادے کہ یہ تقریر اور تحریر قانوناً بغاوت اور شدید ترین جرم ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وکیل نے اس کو باغی بنایا۔ بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس قابل اور نکتہ رس وکیل نے تیری بغاوت کو بتلادیا اور تیرے باغی ہونے کو جتلادیا تاکہ تو پکڑا نہ جائے۔ بالفرض اگر اس وکیل کی رائے صحیح بھی نہ ہو تب بھی یہ وکیل قابل تشکر ہے کہ اس نے متنبہ تو کر دیا۔

ارتداد، الحاد، زندقہ کے احکام وتعریفات

ارتداد کی تعریف

ارتداد کے معنی لغت میں لوٹ جانے اور پھر جانے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ایمان اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جانے کے ہیں۔

امام راغب اصفہانیv مفردات میں لکھتے ہیں: ’’ہو الرجوع من الاسلام الٰی الکفر‘‘ {اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کا نام ارتداد ہے۔}

اور یہ امر وضاحت کے ساتھ معلوم ہوچکا ہے کہ کفر کے لئے یہ ضروری نہیں کہ مذہب بھی تبدیل کرے۔ بلکہ شریعت کے کسی ایک حکم قطعی کے انکار سے بھی کافر ہو جاتا ہے۔

جاننا چاہئے کہ ارتداد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ علانیہ طور پر تبدیل مذہب کر دے۔ مثلاً ترک اسلام کر کے یہودی یا عیسائی ہو جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نہ تو تبدیل مذہب کرے اور نہ توحید ورسالت کا انکار کرے۔ لیکن شریعت کے کسی حکم کا انکار کرے۔ مثلاً یہ کہے کہ میں نماز اور زکوٰۃ کو ضروری اور فرض نہیں سمجھتا اور حج کے لئے مکہ مکرمہ جانا ضروری نہیں سمجھتا۔ بلکہ مثلاً قادیان یا ربوہ (چناب نگر) کا جانا حج کے قائمقام ہوسکتا ہے تو ایسا شخص

343

بلاشبہ کافر اور مرتد ہے اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔ اگرچہ یہ شخص خدا کی تمام صفات کاملہ پر ایمان رکھتا ہو اور صدق دل سے آنحضرتa کی نبوت ورسالت کا اقرار کرتا ہو۔ اس لئے کہ جو حکم قرآن کریم اور حدیث متواتر سے ثابت ہوچکا ہے اس کا انکار، انکار رسالت کے مترادف اور ہم معنی ہے۔ جس طرح سرے ہی سے حکومت کو نہ تسلیم کرنا بغاوت ہے، اسی طرح ایک قانون شاہی کی قانون شکنی اور انکار بھی بغاوت ہے۔ اگرچہ وہ اس قانون کے سوا حکومت کے اور تمام احکام اور قوانین کو تسلیم کرے۔

شیطان کا کفر اور ارتداد بھی اسی قسم کا تھا کہ وہ خدا کی توحید اور ربوبیت کا مقر اور معترف تھا اور یا رب! کہہ کہ حق تعالیٰ سے درخواست کرتا تھا۔ ’’قال رب فانظرنی الٰی یوم یبعثون۔ قال رب بما اغویتنی‘‘ مگر حکم سجود کو قابل عمل نہیں سمجھتا تھا۔

’’ابٰی واستکبر وکان من الکافرین‘‘ {ابلیس نے اللہ کے حکم کا انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔} یعنی پہلے مسلمان تھا اب کافر ہوگیا اور اسلام کے بعد کافر ہونے ہی کو ارتداد اور ہونے والے کو مرتد کہتے ہیں۔

چنانچہ حافظ ابن تیمیہv (الصارم المسلول علی شاتم الرسول ص۳۶۷) میں لکھتے ہیں: ’’کما ان الردۃ تتجرد عن السب فکذلک تتجرد عن قصد تبدیل الدین وارادۃ التکذیب بالرسالۃ تجرد کفر ابلیس عن قصد التکذیب بالربوبیۃ‘‘ {یعنی ارتداد کے لئے یہ ضروری نہیں کہ نبی کی شان میں سب وشتم کرے یا تبدیل مذہب کرے یا نبوت ورسالت کی تکذیب کرے۔ بغیر اس کے بھی ارتداد متحقق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ شیطان ملعون کا ارتداد حکم خداوندی کے نہ ماننے کی وجہ سے تھا۔ خدا کی وحدانیت اور ربوبیت کے انکار کا ارادہ بھی نہ تھا۔}

مرزاقادیانی کے نزدیک ایمان اور کفر کی حقیقت

گزشتہ سطور میں یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ ایمان کے لئے تمام ضروریات دین کا ماننا لازم ہے۔ مگر کفر اور ارتداد کے لئے تمام ضروریات دین کا انکار ضروری نہیں بلکہ بعض ضروریات دین کا انکار بھی ویسا ہی کفر ہے جیسا کہ کل ضروریات دین کا انکار کفر ہے۔ کفر اور ارتداد کے لئے اسلام یا توحید ورسالت کا انکار ضروری نہیں۔ اب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کفر

344

وارتداد کے بارہ میں مرزاقادیانی کا یہی مسلک ہے۔

مرزاقادیانی نے اپنی تصانیف میں ڈاکٹر عبدالحکیم کو باربار کافر اور مرتد بتایا ہے۔ (حقیقت الوحی ص۱۵۹، خزائن ج۲۲ ص۱۶۳) حالانکہ ڈاکٹر عبدالحکیم سوائے مرزاقادیانی کی نبوت کے اسلام کے کسی حکم کے منکر نہ تھے۔ معلوم ہوا کہ ارتداد کفر کے لئے صرف ایک امر کا انکار بھی کافی ہے۔ اگرچہ وہ تاویل ہی سے کیوں نہ ہو اور علی ہذا! جو لوگ مرزاقادیانی کی نبوت کے منکر یا متردد ہیں وہ بھی مرزاقادیانی کے نزدیک کافر ہیں بلکہ مرزاقادیانی اپنے منکر اور رسول اللہ a کے منکر کا کفرایک ہی قسم کا بتاتے ہیں۔(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

معلوم ہوا کہ مرزائیوں کے نزدیک بالاتفاق ایک امر قطعی کا انکار بھی کافر ہونے کے لئے کافی ہے۔

حیرت اور صد حیرت ہے کہ پنجاب کے مسیلمہ کذاب کے متبعین اور اذناب ہم سے یہ کہتے ہیں کہ تم اہل قبلہ اور کلمہ پڑھنے والوں کی کیوں تکفیر کرتے ہو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر نہیں دیکھتے کہ تم تمام روئے زمین کے اہل قبلہ کو قادیان کے ایک دہقان کے نہ ماننے کی وجہ سے کافر بتلاتے ہو۔

الحاد اور زندقہ کی تعریف

جو امور بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ثابت ہوں ان میں تاویل کرنا اور ان کے ایسے معنی بیان کرنا جو اجماعی عقیدہ کے خلاف ہوں قرآن کریم میں اس کا نام الحاد اور حدیث میں اس کا نام زندیق ہے اور اصطلاح شریعت میں ملحد اور زندیق اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو الفاظ تو اسلام کے کہے مگر معنی ان کے ایسے بیان کرے جس سے اس کی حقیقت ہی بدل جائے جسے صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں یہ تاویل کرے کہ قرآن میں صلوٰۃ سے فقط دعا اور ذکر کے معنی مراد ہیں اور اس خاص ہیئت سے نماز پڑھنا ضروری نہیں اور زکوٰۃ سے تزکیہ نفس مراد ہے ایک معین نصاب سے مال کی خاص مقدار کا دینا مراد نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص قانون کی کسی دفعہ کی ایسی شرح کرے جو اس کے منشاء کے مطابق اور تمام عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہو اور یہ دعویٰ کرے کہ اب تک ججوں نے جو اس دفعہ کا مطلب سمجھ کر فیصلہ کیا وہ سب غلط تھا۔

345

اس شخص کے متعلق عدالت کا فیصلہ یہ ہوگا کہ یہ شخص تاویلات فاسدہ سے حکومت کے لٹریچر اور اس کے قانون کی حقیقت کو پلٹنا اور بدلنا چاہتا ہے اور صدہا سال کے عدالتوں کے فیصلوں کو غلط اور تمام گزشتہ فاضل اور مسلم عاقل دانا ججوں کو نادان اور ناسمجھ ثابت کرنا چاہتاہے اورجو شخص مسلم عاقلوں اور داناؤں کو ناسمجھ اور نادان ثابت کرنا چاہتا ہے۔ یہی اس کے نادان ہونے کی واضح اور روشن دلیل ہے۔

کافر اور منافر اور زندیق میں فرق

جو شخص ظاہر اور باطن میں دین اسلام کا منکر ہو وہ کافر ہے اور جو ظاہر میں مقر اور باطن میں منکر ہو وہ منافق ہے اور جو شخص دین اسلام کا تو دل سے مقر ہو مگر ضروریات دین میں ایسی تاویلیں کرتا ہو جس سے شریعت کی حقیقت اور غرض وغایت ہی بدل جائے تو ایسا شخص اصطلاح شریعت میں ملحد اور زندیق کہلاتا ہے اور جس طرح منافق کا حکم کافر سے اشد ہے اسی طرح ملحد اور زندیق کا حکم منافق سے اشد ہے اور الحاد اور زندقہ درحقیقت نفاق کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ جس طرح منافق ملمع کاری سے کام لیتا ہے اسی طرح ملحد اور زندیق اپنے عقائد کفریہ پر تاویل فاسد کے ذریعہ اسلامی صورت کا ملمع کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ تاکہ لوگ اسلام کے دھوکہ میں اس کے باطنی کفر کو قبول کر لیں۔ جیسا کہ علامہ شامیv رد المختار میں لکھتے ہیں:’’فان الزندیق یموہ کفرہ ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجہا فی الصورت الصحیحۃ‘‘ (شامی ج۳ ص۳۳۴، باب الردۃ)

(ترجمہ) ’’تحقیق ملحد اور زندیق اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرتا ہے۔ تاکہ اپنے عقیدہ فاسدہ کو اس ملمع کاری کے ذریعہ لوگوں میں رائج کر سکے اور اپنے اس فاسد عقیدہ کو عمدہ صورت میں پیش کر سکے۔‘‘

حضرات انبیاء کرامB کی بعثت کا مقصد

ایمان اور کفر کی تقسیم

خداوند ذوالجلال نے کائنات ارضی اور سماوی کے پیدا کرنے کے بعد سب سے اخیر میں ہمارے والد بزرگوار محترم سیدنا حضرت آدمm کو پیدا فرمایا اور مسجود ملائک بنایا

346

اور اپنی خلافت ونیابت کا تاج ان کے سرپر رکھا اور نبوت ورسالت کا خلعت ان کو پہنایا اور اپنا نائب خلیفہ بناکر سرزمین ہند پر اتارا۔ (حضرت آدمm کے ہندوستان میں اترنے کی روایتیں تفسیر درمنثور ج۱ قصہ حضرت آدم میں مذکور ہیں۔ اہل علم درمنثور کی طرف مراجعت فرمائیں) تاکہ اس شہنشاہ مطلق اور احکم الحاکمین کے احکام کے مطابق تمام عالم پر حکمرانی فرمائیں۔ بادشاہوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی کو وزارت عظمی کا منصب جلیل عطاء فرماتے ہیں تو فوجوں کو سلام کا حکم دیتے ہیں۔ ملائکہ ارضی وسماوی، یہ خداوند احکم الحاکمین کے فوج اور لشکر ہیں۔ اس لئے ان کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ یہ ہمارے خلیفہ اور نائب ہیں۔ ان کا حکم ہمارا حکم ہوگا اور ان کی اطاعت ہماری اطاعت ہوگی۔

حضرت آدمm حق تعالیٰ شانہ کے پہلے نبی اور پہلے رسول اور خلیفہ ہیں اور سرور عالم سیدنا محمد مصطفیa حق تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول اور آخری خلیفہ ہیں۔ اوّل سے آخر تک تمام انبیاء کرامo فقط رضا اور غیررضا کا فرق بتلانے کے لئے دنیا میں آئے کہ کون سا کام اللہ کی رضا اور خوشنودی کے مطابق ہے اور کون سا کام اس کی مرضی کے خلاف ہے اورکون سی چیز اللہ کے نزدیک مستحسن اور پسندیدہ ہے اور کون سی چیز اللہ کے نزدیک قبیح اور ناپسند ہے جس نے حضرت انبیاء کے اعتماد اور بھروسہ پر اللہ کے احکام کو قبول کیا۔ وہ مومن بنا اور جس نے قبول نہ کیا وہ کافر بنا۔ اس طرح عالم دو قسموں پر منقسم ہوا۔ یعنی مومن اور کافر۔

’’ہو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مؤمن‘‘{اسی نے تمہیں پیدا فرمایا۔ پس تم سے مومن ہیں اور تم میں سے کافر۔}

اور حضرت نوحk کے وقت سے ایمان اور کفر کی جنگ شروع ہوگئی اور قوم دو قسموں پر منقسم ہوگئی۔ آخری فتح ایمان اور اہل ایمان کی ہوئی۔

حضرات انبیاء کرامB کی بعثت کا مقصد۔ حق اور باطل ہدایت اور ضلالت، سعادت اور شقاوت کا فرض واضح کرنا اور پھر اہل ایمان اور اہل ہدایت کو ساتھ لے کر اہل باطل سے جہاد وقتال کرنا ہے تاکہ خدا کے دوستوں اور دشمنوں میں امتیاز ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حزب اللہ اور حزب الرحمن کا لقب عطاء کیا اور کافروں کو حزب الشیطان کے نام سے موسوم کیا اور ہر فریق کے احکام جداجدا بتلا دئیے تاکہ دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ یکساں معاملہ نہ ہو۔

347

کفر کے احکام

کفر کے متعلق دو قسم کے احکام ہیں۔ ایک اخروی اور ایک دنیوی۔ اخروی حکم یہ ہے کہ کفر کی سزا دوزخ کا دائمی عذاب ہے۔ کافر اور مشرک ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔کما قال تعالٰی: ’’ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ثم ماتوا وہم کفار فلن یغفر اللہ لہم۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء۔ ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفر لہم ولا لیہدیہم طریقا‘‘ {جو لوگ منکر ہوئے اور روکا انہوں نے اللہ کی راہ سے پھر مرگئے اور وہ منکر رہے تو ہرگز نہ بخشے گا ان کو اللہ بے شک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس کے نیچے کے گناہ جس کے چاہے جو لوگ کافر ہوئے اور حق دبا رکھا ہرگز اللہ بخشنے والا نہیں ان کو اور نہ دکھلاوے گا ان کو سیدھی راہ۔}

اور یہی مضمون احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور اسی پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے جس طرح دنیا میں بغاوت کی سزا حبس دوام ہے۔ اسی طرح کفر کی سزا اللہ کے یہاں دائمی عذاب ہے۔ اس لئے کہ کفر اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہے۔

کفر کے دنیوی احکام

۱… ایمان کی پہلی شرط یہ ہے کہ کفر اور کافروں سے تبّریٰ اور بیزاری ہو۔ یعنی کافروں کو خدا کا دشمن سمجھے اور کوئی دوستانہ تعلق ان سے نہ رکھے۔ ’’قال تعالٰی: قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ اذ قالوا لقومہم انا برؤا منکم ومما تعبدون من دون اللہ کفر نابکم وبدابیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدا وحتی تؤمنوا ب اللہ وحدہ‘‘ {تم کو چال چلنی چاہئے اچھی ابراہیم کی اور جو اس کے ساتھ تھے جب انہوں نے کہا اپنی قوم کو ہم الگ ہیں تم سے اور ان سے جن کو تم پوجتے ہو۔ اللہ کے سوا ہم منکر ہوئے تم سے اور کھل پڑی ہم میں اور تم میں دشمنی اور بیر ہمیشہ کو یہاں تک کہ تم یقین لاؤ اللہ اکیلے پر۔}

اس کے علاوہ قرآن کریم میں بے شمار آیتیں ہیں۔ جس میں کافروں سے موالات یعنی دوستانہ تعلقات کی ممانعت اور حرمت صراحۃً مذکور ہے اور علماء نے کافروں سے

348

ترک موالات پر مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔

۲… کافروں سے مناکحت حرام ہے۔

۳… کافر، مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں۔

۴… کافر کی نماز جنازہ میں شریک ہونا یا اس کی قبر پر جانا بھی جائز نہیں۔

’’لاتصلّ علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انہم کفروا ب اللہ ورسولہ وما تواوہم فاسقون‘‘ {اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مر گئے نافرمان۔}

۵… مسلمان کے جنازہ میں کافر کو شرکت کی اجازت نہیں۔ وہ وقت رحمت کا ہے اور کافر سے لعنت آتی ہے۔

۶… مردہ کافروں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ اگرچہ قریبی رشتہ دار ہوں۔

’’قال تعالٰی: ماکان للنبی والذین اٰمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربٰی‘‘{لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے۔}

۷… کافر کا ذبیحہ اور شکار مسلمان کے لئے حلال نہیں۔

۸… کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔

۹… جو کافر دارالاسلام میں مسلمانوں کی رعایا ہوں، ان کو فوج میں بھرتی کر کے جہاد میں ساتھ لے جانا جائز نہیں۔ معلوم نہیں کہ سازش کر کے دارالحرب کے کافروں سے جا ملیں۔

’’کما قال تعالٰی: ولو خرجوا فیکم مازاد وکم ااخبا لاولا وضعوا خلالکم یبغونکم الفتنۃ وفیکم سمّاعون لہم‘‘ {اگر نکلتے تم میں تو کچھ نہ بڑھاتے تمہارے لئے مگر خرابی اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے اندر بگاڑ کروانے کی تلاش میں اور تم میں بعضے جاسوس ہیں ان کے۔}

حدیث میں ہے: ’’انا لانستعین بمشرک الا ان یکونوا تابعین لنا اذلاء‘‘{ہم مشرک کی مدد نہیں لینا چاہتے۔ مگر اس صورت میں کہ وہ ہمارے تابع اور مذلل ہوکر رہیں۔}

349

۱۰… جو کافر اسلامی حکومت میں رہتے ہوں ان سے جزیہ لیا جائے گا۔

’’حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوہم صاغرون‘‘{یہاں تک کہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہوکر اور مسلمان سے جزیہ نہیں لیا جاسکتا۔}

۱۱… کسی کافر کو کوئی وزارتی یا فوجی یا افسری کی قسم کا کلیدی عہدہ دینا ہرگز جائز نہیں اور نہ کافروں سے سیاسی اور مملکتی امور میں مشورہ لینا جائز ہے۔ اس بارے میں فاروق اعظمq اور ابوموسیٰ اشعریq کا ایک مکالمہ نقل کرتے ہیں۔

ابوموسیٰ اشعریq: ’’قلت لعمرq ان لی کاتبا نصرانیا‘‘ ابوموسیٰq کہتے ہیں میں نے فاروق اعظمq سے عرض کیا اے امیرالمومنین میرے پاس ایک نصرانی کاتب ملازم ہے۔

عمر فاروقq:’’مالک قاتلک اللہ اما سمعت اللہ یقول یاایہا الذین اٰمنوا لاتتخذوا الیہود والنصاریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض لا اتخذت حنیفا‘‘ اے ابوموسیٰ! تجھے کیا ہوا خدا تعالیٰ تجھے ہلاک اور برباد کرے۔ کیا تو نے حق تعالیٰ کا یہ حکم نہیں سنا کہ یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست اور معین اور مددگار نہ بناؤ۔ (تمام کافر آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تمہارا کوئی دوست نہیں۔ کسی مسلمان کو کیوں نہ ملازم رکھا)

ابوموسیٰ اشعریq:’’یاامیر المؤمنین ان لی کتابتہ ولہ دینہ‘‘ ابوموسیٰ نے عرض کیا اے امیرالمومنین مجھ کو تو فقط اس کے حساب وکتاب سے مطلب ہے۔ اس کا دین اس کے لئے ہے۔

عمر فاروقq:’’لا اکرمہم اذا ہانہم اللہ ولا اعزہم اذا ذلہم اللہ ولا ادینہم اذا قصاہم اللہ تعالٰی (اقتضاء الصراط المستقیم)‘‘ فاروق اعظمq نے فرمایا: خدا کی قسم میں ان لوگوں کا ہرگز اعزاز اور اکرام نہ کروں گا جن کو خدا نے ذلیل اور حقیر قرار دیا اور ان لوگوں کو ہرگز اپنے قریب جگہ نہ دوں گا جن کو اللہ تعالیٰ نے دور رکھنے کا حکم دیا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق اعظمq نے ابوموسیٰq کو اس پر زجر اور توبیخ کی اور یہ فرمایا: ’’لاتدنہم وقد اقصاہم اللہ ولا تکرمہم وقداہانہم اللہ ولا

350

تأمنہم وقد خزنہم اللہ وقال: لا تستعملوا اہل الکتاب فانہم یستحلون الرشاو استعینوا علی امورکم وعلی رعیتم بالذین یخشون اللہ تعالی (تفسیر قرطبی ج۴ ص۱۷۹)‘‘ کافروں کو اپنے قریب جگہ مت دو۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان کااعزاز اور اکرام نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اہانت کا حکم دیا ہے۔ ان کو امین اور امانت دار نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خائن بتلایا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ کو کوئی عہدہ نہ دو۔ یہ لوگ مسلمانوں کے مقابلہ میں رشوت لینے کو حلال سمجھتے ہیں۔ امور سلطنت اور امور رعیت میں ایسے لوگوں سے امداد لو جو خدا ترس ہوں۔

امام ابوبکر رازی (احکام القرآن ج۲ ص۳۷) میں لکھتے ہیں:’’وقدروی عن عمرانہ بلغہ ان ابا موسٰی استکتب رجلا من اہل الذمۃ فکتب الیہ یعنفہ وتلا۔ یاایہا الذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم‘‘ ایک روایت میں ہے کہ فاروق اعظمq کو یہ خبر پہنچی کہ ابوموسیٰq نے ایک نصرانی کو اپنا کاتب مقرر کیا ہے۔ فاروق اعظمq نے اسی وقت ان کو ایک توبیخی اور تہدیدی خط لکھا اور اس میں یہ آیت لکھی۔

مسئلہ کی حقیقت واضح کرنے کے لئے ہم پوری آیت مع ترجمہ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں:’’یاایہا الذین امنوا لاتتخذوا بطانۃ من دونکم لا یالونکم خبالا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افواہم وما تخفی صدورہم اکبر قدبینا لکم الآیات ان کنتم تعقلون ہٰاانتم اولاء تحبونہم ولایحبونکم وتؤمنون بالکتاب کلہ واذا لقوکم قالوا اٰمنا واذا خلوا عضوا علیکم الا نامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور ان تمسکم حسنۃ تسؤہم وان تصبکم سیئۃ یفر حوابہا وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدہم شیا ان اللہ بما یعلمون محیط‘‘ اے ایمان والو! نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کے سوا۔ وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں۔ ان کی خوشی ہے تم جس قدر تکلیف میں رہو۔ نکلی پڑتی ہے دشمنی ان کی زبان سے اور جو کچھ مخفی ہے ان کی جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ ہم نے بتادئیے تم کو پتے۔ اگر تم کو عقل ہے۔ سن لو! تم لوگ ان کے دوست ہو اور وہ تمہارے دوست نہیں اور تم سب کتابوں کو مانتے ہو اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ تم پر انگلیاں غصہ سے تو کہہ مرو تم

351

اپنے غصہ میں۔ اللہ کو خوب معلوم ہیں دلوں کی باتیں۔ اگر تم کو ملے کچھ بھلائی تو بری لگی ہے ان کو اور اگر تم پر پہنچے کوئی برائی تو خوش ہوں اس سے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو۔ تو کچھ نہ بگڑے گا تمہارا ان کے فریب سے۔ بے شک جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ سب اللہ کے بس میں ہے۔(ترجمہ: شیخ الہندv بمع فوائد مولانا شبیر احمد عثمانیv)

حافظ ابن کثیرv اس آیت کی تفسیر میں فاروق اعظمq کا وہ اثر جو ہم نے نقل کیا ہے ذکر کر کے فرماتے ہیں:’’ففی ہذا الاثر مع ہذہ الایۃ دلیل علی ان اہل الذمۃ لایجوز استعمالہم فی الکتابۃ التی فیہا استطالۃ علی المسلمین واطلاع علی دواخل امورہم التی یخشی ان یفشوہا الٰی الاعداء من اہل الحرب ولہذا قال تعالٰی لیالونکم خبالا ودوا ماعنتم (تفسیر ابن کثیر ج۲ ص۲۷۴)‘‘ فاروق اعظمq کے اس قول میں بمع آیت کریمہ اس امر پر دلیل ہے کہ اہل الذمہ کو ایسے تحریری کاموں میں ملازم رکھنا جس کی وجہ اہل اسلام پر ان کی تعدی لازم آتی ہو اور مسلمانوں کے داخلی امور پر مطلع ہونے کے بعد کفار اور دشمنان اسلام کی طرف جاسوسی کا خطرہ ہو جائز اور حلال نہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’لایالونکم خبالا‘‘

فاروق اعظمq کے اس بصیرت افروز اور سیاست آموز مکالمہ سے یہ امربخوبی واضح ہوگیا کہ غیرمسلموں پر اعتماد فقط شریعت ہی کے خلاف نہیں۔ بلکہ تدبیر اور سیاست کے بھی خلاف ہے اور یہ واضح فرمادیا کہ غیرمسلم کو ملازمت دینے کے لئے یہ عذر کہ ہم کو صرف ان کی خدمات درکار ہیں۔ ان کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ عذر سراسر پوچ اور بیکار ہے۔ تم کو دین اسلام سے کوئی سروکار نہیں تو اس کافر کو تو اپنے مذہب سے سروکار ہے اور تمہارے مذہب سے اس کو خصومت اور پیکار ہے۔ تم بے خبر اور غافل ہو اور وہ بڑا ہوشیار ہے۔ اس کافر کو ہر وقت یہ فکر ہے کہ اس کی قوم عزیز اور سربلند ہو اور اسلام اور مسلمان ذلیل اور خوار ہوں۔ ’’قال تعالٰی: ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا‘‘

مرتد کا شرعی حکم

اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے جو قرآن کریم اور حدیث نبوی اور اجماع سے ثابت ہے۔ مرتدین کا سزائے ارتداد پر شوروغوغا ایسا ہی ہے جیسا کہ چور اور ڈاکو کو قطع ید (ہاتھ اور

352

پیر کاٹنے) اور سولی پر لٹکانے کی سزا پر شور وغوغا برپا کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ چور اور ڈاکو کے ہاتھ اور پیر کاٹنا خلاف تہذیب ہے۔ سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے چوروں اور ڈاکوؤں کی جو سزا تجویز فرمائی وہ تو ان حضرات کے نزدیک خلاف تہذیب ہے۔ مگر چوری ان حضرات کے نزدیک خلاف تہذیب نہیں اور علیٰ ہذا زناکاری اور شراب خوری کی سزا جلد اور رجم بھی ان کے نزدیک خلاف تہذیب ہے۔ مگر زنا اور شراب خواری، بے حیائی اور بدمستی خلاف تہذیب نہیں اور قانون مارشل لاء، حکومت کے مرتد کی سزا ہے۔ ادنیٰ عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ تلوار سے فقط مرتد کی گردن اڑا دینا اتنا شدید نہیں جتنا کہ زندوں پر بے دریغ گولیاں چلانا اور ان پر آگ برسانا۔

اگر کوئی شخص سرے ہی سے اسلام میں داخل نہ ہو تو اسلام کی توہین نہیں۔ لیکن اسلام میں داخل ہونے کے بعد مرتد ہونے میں اسلام کی زیادہ توہین ہے۔ جس طرح رعایا بن جانے کے بعد باغی ہو جانے میں حکومت کی زیادہ توہین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رعایا بن جانے کے بعد باغی کی سزا سخت ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ جو اس سلطنت کی رعایا ہی نہیں بلکہ کسی دوسری سلطنت کی رعایا ہے۔ جو شخص ابتداء ہی سے مخالف ہو وہ اتنا مضر نہیں جتنا کہ محبت اور موافقت کے بعد۔ مخالفت کرے۔ لوگوں کو یہ خیال ہوتا ہے کہ کوئی بات تو ہوگی کہ دوستی کے بعد دشمنی پر آمادہ ہوا۔ چنانچہ بعض یہودیوں نے اسلام کو اسی طرح بدنام کرنے کی کوشش کی۔

’’وقالت طائفۃ من اہل الکتاب آمونوا بالذی انزل علی الذین آمنوا وجہ النہار واکفروا آخرہ لعلہم یرجعون‘‘ یہودیوں کی ایک جماعت نے بطور چالاکی یہ کہا کہ کچھ آدمی صبح کے وقت مسلمانوں کی کتاب پر ظاہراً ایمان لے آئیں اور شام کے وقت منکر ہو جائیں اور لوگوں سے یہ کہیں کہ ہمیں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ نبی نہیں کہ جن کی توریت میں بشارت دی گئی۔

شاید اس طریق سے بہت سے ضعیف الایمان اسلام سے مرتد ہو جائیں اور سمجھ لیں کہ اسلام میں ضرور کوئی عیب دیکھا ہوگا کہ اسلام میں جو داخل ہونے کے بعد پھر اس سے نکلے۔ غرض یہ کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مرتد ہونا اس میں اسلام کی سخت توہین اور تذلیل ہے۔ اس لئے شریعت میں مرتد کی سزا بھی سخت ہے۔

353

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

اس مقام پر بعض لوگ ان آیات قرآنیہ کو پیش کرتے ہیں۔ جن میں مرتد کی سزا فقط لعنت اور حبط اعمال ذکر کی گئی ہے اور اس کے ساتھ قتل مذکور نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ قتل عمد کے متعلق فقط لعنت اور غضب کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر قصاص کا ذکر نہیں فرمایا تو یہ اس کی دلیل نہیں بن سکتا کہ قتل عمد پر قصاص نہیں۔ ’’کما قال تعالٰی: ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاء ہ جہنم خالداً فیہا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذاباً عظیما‘‘ پس جس طرح قتل عمد کی سزا یعنی قصاص دوسری جگہ ہے۔ اس غضب اور لعنت کے ساتھ شامل کر لیاگیا۔ اسی طرح ان آیات مرتدین کے ساتھ جن میں فقط لعنت اور حبط اعمال کا ذکر ہے۔ ان آیات اور احادیث کو بھی شامل کر لیا جائے۔ جن میں قتل مرتد کا ذکر ہے۔ اب ہم مسئلہ زیربحث یعنی قتل مرتد کے دلائل بالترتیب ذکر کرتے ہیں۔

مرتدین کے حق میں قرآن کریم کا فیصلہ

’’یایہا الذین امنوا من یرتدمنکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبہم ویحبونہ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء و اللہ واسع علیم انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلٰوۃ ویؤتون الزکوۃ وہم راکعون ومن یتول اللہ ورسولہ والذین اٰمنوا فان حزب اللہ ہم الغالبون‘‘ اے ایمان والو! جو تم سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو مرتد ہوکر اپنا ہی نقصان کرے گا۔ دین اسلام کو کوئی ضرر نہ ہوگا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان مرتدین کے مقابلہ کے لئے ایسی قوم لائے گا کہ جن کو اللہ محبوب رکھتا ہو اور وہ اللہ کے عاشق ہوں گے۔ خدا کے محبین اور عاشقین یعنی مسلمانوں کے حق میں نرم اور متواضع اور کافروں کے حق میں جنہوں نے خدا اور رسول کے مقابلہ میں سراٹھا رکھا ہے ان کے حق میں سخت اور زبردست ہوں گے۔ خدا کی راہ میں ان مرتدین سے جہاد وقتال کریں گے اور مرتدین کے مقابلہ میں مقاتلہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ہرگز نہ ڈریں گے۔ مثلاً اگر مرتدین کے جہاد وقتال پر کوئی یہ طعنہ دے کہ قتل مرتد خلاف انسانیت ہے تو ان کو اس ملامت اور طعن کی ذرہ برابر پرواہ

354

نہ ہوگی۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنے محبین اور محبوبین کو مرتدین سے جہاد وقتال کی توفیق دی۔ جس کو چاہتا ہے اس کو اس قسم کی توفیق دیتا ہے اور اللہ بڑی بخشش والا اور خبردار ہے۔ خوب جانتا ہے کہ کون اس اعزاز اور اکرام کا مستحق ہے کہ اس کے ہاتھ سے مرتدین کی سرکوبی کرائی جائے اور اے مسلمانو! تم یہود اور نصاریٰ کی موالاۃ اور ان کے تعلقات پر ہرگز نظر نہ کرنا۔ جزایں نیست کہ تمہارا ولی اور معین ومددگار اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور وہ لوگ ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کے عاشق ہیں۔ یعنی وہ اہل ایمان جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھے اور اس کے دشمنوں سے بے دغدغہ ملامت۔ عاشقانہ اور والہانہ جہاد وقتال کرے تو ایسا شخص بلاشبہ حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت سے ہے اور انجام کار اللہ ہی کی جماعت شیطان کی جماعت پر غالب رہتی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویv نے اس آیت شریفہ کے متعلق اپنی کتاب ازالتہ الخفاء میں مفصل کلام فرمایا۔ اس وقت ہم اس کا خلاصہ اور اقتباس پیش کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحبv فرماتے ہیں کہ:’’یایہا الذین اٰمنوا من یرتد‘‘ اس آیت سے دو چیزوں کا بیان کرنا مقصود ہے۔ ایک اس حادثہ اور فتنہ کی خبردینا ہے کہ جو حضورa کے وفات سے پیشتر پیش آیا اور بعد میں ترقی کرگیا۔ یعنی فتنہ ارتداد اور دوسرے اس فتنہ کے انسداد کی تدبیر بتلانا کہ جو اللہ تعالیٰ نے غیب الغیب میں اس کے لئے مقرر فرمائی ہے تاکہ جس وقت وہ فتنہ نمودار ہو تو دل مضطرب اور پریشان نہ ہوں۔ پیش آنے سے پہلے ہی اس سے واقف اور باخبر ہوں اور تاکہ جس وقت وہ ظاہر ہو تو اس کو انسداد کے لئے اس تدبیر کو اختیار کریں جو حق تعالیٰ نے بتلائی ہے اور اپنی ہمت اور سعی اور جدوجہد سے دریغ نہ کریں اور اس تدبیر کو حد اتمام تک پہنچانے کو اپنے لئے سعادت سمجھیں۔

اس حادثہ اور فتنہ کی شرح تو یہ ہے کہ حضورa کے اخیر زمانہ میں عرب کے کچھ فرقے مرتد ہو گئے۔ بعض لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی قوم نے اس کی تصدیق کی اور ایک فتنہ عظیم برپا کیا۔ جیسے اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی اور پھر شاہ صاحب نے مختصراً ان مدعیان نبوت کے دعوائے نبوت اور ان کے قتل کا حال بیان فرمایا جس کو عنقریب ان شاء اللہ تعالیٰ مدعیان نبوت کے باب میں مفصل ذکر کریں گے۔

355

اور عرب کے بعض فرقے اسلام سے مرتد ہوکر اپنے قدیم مذہب کی طرف لوٹ گئے اور ایک فرقہ نے فقط زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ باقی اسلام کی کسی اور چیز کا انکار نہیں کیا نہ توحید کا نہ رسالت کا نہ نماز کا اور نہ روزہ کا اور نہ حج کا۔ اوّل الذکر دو فریق کے قتل وقتال میں صحابہ کرامi کو کوئی تردد نہ ہوا۔ اس آخری فرقہ یعنی مانعین زکوٰۃ کے بارہ میں حضرت عمرq کو تردد ہوا اور عرض کیا کہ اے امیرالمومنین آپ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھنے والوں سے کیسے قتال کرتے ہیں۔ صدیق اکبرq نے فرمایا خدا کی قسم جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا (یعنی نماز کا اقرار کرے اور زکوٰۃ کا انکار کرے) میں ضرور اس سے جہاد وقتال کروں گا۔ یعنی اگرچہ وہ ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتا ہو اور یہ فرمایا کہ خدا کی قسم اگرایک بکری کا بچہ یا رسی بھی جو رسول اللہ a کے زمانہ میں دیا کرتے تھے نہ دیں گے تو میں ان سے جہاد وقتال کروں گا۔ حضرت عمرq فرماتے ہیں کہ میری سمجھ میں آگیا کہ یہی حق ہے۔ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔(راجع احکام القرآن للجصاص ج۳ ص۸۲، عمدۃ القاری ج۲۴ ص۸۱،۸۲، باب قتل من ابیٰ قبول الفرائض)

اور اس تدبیر کی شرح جو حق جل شانہ نے اس حادثہ میں مقرر فرمائی۔ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے مرتدین سے جہاد وقتال کا داعیہ صدیق اکبرq کے قلب معطر پر القاء فرمایا اور ان کے دل میں اس کا اہتمام اور فکر خاص طور سے ڈال دیا اور یہی مطلب ہے اس حدیث کا جو آنحضرتa نے اس فتنہ کے بارہ میں فرمایا: ’’العصمۃ فیہا السیف رواہ حذیفۃ‘‘ فتنہ ارتداد میں بچنے کی صورت صرف تلوار ہے۔

اکثر صحابہi اس تیسرے فرقہ یعنی مانعین زکوٰۃ کے جہاد وقتال کے بارہ میں ابتداً متردد تھے کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں اور کلمہ گو ہیں۔ ان سے کیسے جہاد وقتال کیا جائے۔ مگر جب صدیق اکبرq نے اپنی تلوار زیب دوش کی اور تنہا نکلنے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس وقت صحابہi نے دیکھ لیا کہ سوائے جہاد میں جانے کے کوئی مفر نہیں تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول اللہ آپ بیٹھئے ہم جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودq فرماتے ہیں کہ ابتداء میں ہم مانعین زکوٰۃ سے لڑنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن بعد میں جب ہم پر حقیقت منکشف ہوئی تو ہم ابوبکرq کے شکرگزار ہوئے۔(کذافی ازالتہ الخفاء ص۷۳تا۷۵)

356

حافظ عسقلانیv (فتح الباری ج۱۲ ص۳۴۴) میں لکھتے ہیں کہ مرتد ہونے والے تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو وہ تھے کہ جو شرک اور بت پرستی کی طرف لوٹ گئے تھے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو کسی مدعی نبوت کے پیرو ہوگئے تھے۔ تیسرے وہ لوگ تھے جو اسلام پر قائم تھے۔ لیکن صرف زکوٰۃ کے منکر تھے اور یہ تاویل کرتے تھے کہ زکوٰۃ نبی اکرمa کے ساتھ مخصوص تھی اور ’’خذ من اموالہم صدقۃ تطہرہم وتزکیہم بہا وصل علیہم ان صلاتک سکن لہم‘‘ کا خطاب (جس میں زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم ہے) نبی کریمa کے ساتھ مخصوص ہے۔ فاروق اعظمq کو اس تیسرے گروہ کے قتال کے بارہ میں کچھ تردد تھا۔ صدیق اکبرq اس گروہ کے قتال اور جہاد پر تلے ہوئے تھے۔ حضرت عمرq فرماتے ہیں کہ پھر میری سمجھ میں آگیا اور مجھ کو شرح صدر ہوگیا کہ یہی حق ہے۔(فتح الباری ج۱۲ ص۲۴۴،۲۴۵)

یعنی یہ سمجھ میں آگیا کہ فرائض دین اور شعائر اسلام اور ضروریات دین میں ایسی مہمل تاویل کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایسی تاویلوں کی وجہ سے آدمی کفر اور ارتداد سے نہیں بچ سکتا۔ چنانچہ امام بخاریv نے اس پر ایک باب قائم فرمایا۔ وہ یہ ہے: ’’باب من ابی قبول الفرائض وما نسبوا الٰی الردۃ‘‘ جو شخص فرائض دین میں سے کسی ایک فریضہ کو بھی قبول نہ کرے تو وہ کافر اور مرتد ہے۔ معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے کے لئے محض کلمہ گو اور مدعی اسلام ہونا کافی نہیں جب تک کہ تمام احکام کو قبول نہ کرے۔

امام ابن جریر طبریv فرماتے ہیں کہ صدیق اکبرq نے ان مانعین زکوٰۃ کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے ایک لشکر روانہ کیا۔ ’’حتّٰی سبی وقتل وحرق بالنیران اناساً ارتدوا عن الاسلام ومنعوا الزکوٰۃ فقاتلہم حتّٰی اقروابا الماعون‘‘ (تفسیر ابن جریر ج۱ ص۱۸۳)

یہاں تک ان لوگوں کو قید کیا اور قتل کیا اور ان کے گھروں میں آگ لگائی جو اسلام سے مرتد ہوئے اور زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تا آنکہ انہوں نے اسلام امر کا اقرار کیا کہ حقیر سے حقیر چیز بھی نہ روکیں گے۔

357

امام محمد بن حسن شیبانی سے منقول ہے کہ جو بستی ترک اذان یا ترک ختان پر متفق ہو جائے یعنی اس پر متفق ہو جائے کہ ہم بغیر اذان کے نماز پڑھیں گے اور ختنہ نہیں کرائیں گے تو بادشاہ اسلام کے ذمہ ان سے جہاد وقتال واجب ہے۔

امام ابوبکر رازی (احکام القرآن ج۳ ص۸۲) سورۂ توبہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’قدکانت الصحابۃ سبت ذراری مانعی الزکوٰۃ وقتلت مقاتلتہم وسموہم اہل الردۃ لانہم امتعنوا من التزام الزکوٰۃ وقبول وجوبہا فکانوا مرتدین بذلک لان من کفربآیۃ من قرآن فقد کفربہ کلہ وعلی ذلک اجری حکمہم ابوبکر الصدیق مع سائر الصحابۃ حین قاتلواہم ویدل علی انہم مرتدون بامتنا عہم من قبول فرض الزکوٰۃ ماروی معمر عن الزہری۔ الخ! ثم ساق الروایات فی ذلک انی ان قال فاخبر جمیع ہولاء الرواۃ ان الذین ارتدوا من العرب انما کان ردتہعم من جہۃ‘‘

صحابہi نے مانعین زکوٰۃ کی اولادوں کو قید کر لیا تھا اور ان کے مردوں کو قتل کردیا تھا اور انہیں اہل ردۃ کا لقب دیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے زکوٰۃ کے التزام اور تسلیم وجوب سے انکار کردیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے زکوٰۃ کے التزام اور تسلیم وجوب سے انکار کر دیا تھا۔ اسی بناء پر انہیں مرتد قرار دیا گیا تھا۔ کیونکہ جو شخص ایک آیت قرآنی کے ساتھ انکار کر لے تو اس نے تمام قرآن کا انکار کر دیا۔ (جیسا کہ سرکاری ایک قانون کا انکار بغاوت سمجھا جاتا ہے) ابوبکر صدیقq نے بھی تمام صحابہi کے اتفاق کے ساتھ اس وجہ سے ان پر حکم قتل جاری کردیا۔

ان کے زکوٰۃ کے فریضہ کو انکار وعدم قبول کی وجہ سے مرتد ہو جانے پر دلیل وہ روایات ہیں جو زہری سے معمر نے روایت کی ہیں۔ اس کے بعد علامہ ابوبکر رازی نے وہ روایات نقل فرمائی ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ ان تمام روایان حدیث کے بیان سے معلوم ہوا کہ جو لوگ عرب کے مرتد ہوئے تھے۔ ان کا ارتداد بوجہ انکار زکوٰۃ کے تھا۔

لطائف ومعارف

۱… ’’فسوف یاتی اللہ بقوم‘‘ یعنی اللہ اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک قوم

358

لائے گا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو قوم مرتدین سے جہاد وقتال کرے گی۔ وہ قوم خداتعالیٰ کی آوردہ اور پسندیدہ ہوگی۔

۲… پھر آئندہ آیت میں اس قوم میں اس قوم کی چھ صفتیں ذکر فرمائیں۔ اوّل ودوم یحبہم ویحبونہ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو محبوب رکھے گا اور وہ اللہ کو محبوب رکھیں گے۔ یہ دو صفتیں وہ ہیں کہ جن کا تعلق خدا اور بندہ کے درمیان ہے۔ سوم وچہارم اذلتہ علیٰ المومنین اعزۃ علی الکافرین یعنی مسلمانوں کے حق میں نرم اور کافروں کے حق میں گرم ہوں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘ جیسے جبریل امین اہل ایمان کے لئے باعث رحمت ہیں اور کافروں کے لئے موجب ہلاکت ہیں۔ بمنزلہ جارحہ الٰہیہ کے ہیں، کبھی رحمت وبرکت کا ظہور ہوتا ہے اور کبھی اہلاک واتلاف کا صدور ہوتا ہے۔ ان دو صفتوں کا تعلق بندوں کے باہمی روابط اور تعلقات سے ہے۔ صفت پنجم، جہاد فی سبیل اللہ یعنی خدا سے سرکشی اور گردن کشی کرنے والوں کی سرکوبی اور گردن کشی میں اپنی پوری جدوجہد کو پانی کی طرح سے بے دریغ بہا دینا یہ حقیقت ہے جہاد کی۔ صفت ششم کسی ملامت اور طعن کی پرواہ نہ کرنا بسا اوقات آدمی کسی چیز کو حق سمجھتا ہے۔ مگر بدنامی اور لوگوں کی ملامت اور طعن وتشنیع کی وجہ سے حق نصرت اور حمایت سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس صفت میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مرتدین سے جہاد وقتال کرنے والی قوم خدا کی ایسی عاشق وجان نثار اور نشہ عشق ومحبت میں ایسی سرشار ہوگی کہ مرتدین سے جہاد وقتال کے بارہ میں ان کو ذرہ برابر کسی ملامت اور طعن کا خیال بھی نہ آئے گا۔

  1. گرچہ بدنامی است نزد عاقلاں

    مانمی خواہیم ننگ و نام را

  1. واذا الفتی عرف الرشاد لنفسہ

    ہانت علیہ ملامۃ العذال

بلکہ بعض مرتبہ غلبہ محبت میں ملامت لذیذ معلوم ہونے لگتی ہے۔

  1. اجد الملامۃ فی ہواک لذیذۃ

    حبا لذکرک فلیلمتی اللوم

مرتدین کے اصل مارنے والے اور عذاب دینے والے حق جل شانہ ہیں اور مجاہدین کے ہاتھ بمنزلہ تیر اور تلوار کے ہیں۔

’’قال تعالٰی: قاتلوہم یعذبہم اللہ بایدیکم‘‘ تم ان کافروں سے قتال کرو۔ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ ان کافروں کو تمہارے ہاتھ سے سزا دلائے۔

359

مگر چونکہ اصل مارنے والا یعنی حق تعالیٰ شانہ نظروں سے پوشیدہ ہے اس لئے قاصر الفہم ان مجاہدین پر طعن اور ملامت کے آوازے کستے ہیں کہ تم کس وحشت اور بربریت پر کمربستہ ہو۔ مجاہدین کہتے ہیں کہ اے نادانو! ہم تو خداوند کردگار کے تیر اور تلوار ہیں۔ ہمیں کیا طعن اور کیسی ملامت، کیا کسی عاقل نے تیر اور تلوار کو بھی ملامت کی ہے۔ کسی کا شعر ہے:

  1. فانت حسام الملک و اللہ ضارب

    وانت لواء الدین و اللہ عاقد

(ترجمہ) تو تو بادشاہ کی تلوار ہے اور اللہ مارنے والے ہیں اور تو دین کا علم ہے اس کے نصب کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔

اور ’’انما ولیکم اللہ ورسلہ‘‘ سے مسلمانوں کو تسلی دینا مقصود ہے کہ تم اپنی کمزوری کی وجہ سے پریشان اور مضطرب نہ ہونا۔ اللہ اور اس کا رسول اور اس کے مومن بندے تمہارے معین اور مددگار ہیں۔

قتل مرتد پر اعتراض کرنے والے بھی عجب نادان ہیں۔ ایک معمولی بادشاہ اور صدر جمہوریہ کی بغاوت پر ہر قسم کی بربادی اور بمباری کو فقط جائز ہی نہیں رکھتے۔ بلکہ اس کو عین سیاست اور عین حکمت اور فرائض سلطنت اور حقوق مملکت سے سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ صدر جمہوریہ جاہلوں کی ایک جم غفیر اور احمقوں کی ایک بھیڑ کے ووٹوں سے صدر بنا ہے۔ ایسے صدر جمہوریہ کے باغیوں کے لئے سخت سے سخت سزا ان روشن خیالوں کے نزدیک روا ہے اور احکم الحاکمین سے بغاوت کرنے والوں اور اس کے خلفاء اور وزراء یعنی حضرات انبیاء ومرسلینo سے مقابلہ اور مقاتلہ کرنے والوں سے جہاد وقتال خلاف تہذیب اور خلاف انسانیت ہے۔ نبوت اور بادشاہ میں بس یہی فرق ہے۔ بادشاہ ملک اور سلطنت اور دنیاوی مصالح کے لئے جنگ کرتا ہے اور نبی جو کچھ کرتا ہے وہ محض اللہ کے لئے کرتا ہے۔ سیدنا داؤد وسیدنا سلیمان کی بے مثال حکومت ان کی نبوت کا معجزہ تھا اور خداوند ذوالجلال کی بے چون وچگون حکومت کا ایک معمولی ساعکس اور پرتوہ تھا۔ نام داؤد اور سلیمان کا تھا اور اندرونی طور پر تمام احکام احکم الحاکمین کے تھے۔ خلفاء راشدین کا دور خلافت حضرت سلیمانm کی حکومت کا ایک نمونہ تھا۔ اب اس نمونہ کااعادہ امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہوراور حضرت عیسیٰ بن مریمm کے نزول پر ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ (تبرکالاتعلیقا)

360

مرتد کا فیصلہ حدیث رسولa سے

۱… صحیح بخاری شریف باب ’’حکم المرتد والمرتدۃ‘‘ (فتح الباری ج۱۲ ص۲۲۷) میں حضرت عکرمہ سے مروی ہے: ’’اتی علی بزنادقۃ فاحرقہم‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے چند زندیق اور ملحد لوگ حاضر کئے گئے۔ آپ نے سب کو آگ میں جلانے کا حکم دیا اور جلادئیے گئے۔

اور (سنن ابی داؤد ج۲ ص۵۹۸، کتاب الحدود باب الحکم فی من ارتد) میں یہ لفظ ہیں: ’’عن عکرمۃ ان علیا احرق اناسا ارتدوا عن الاسلام‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان چند آدمیوں کو آگ میں جلوایا جو اسلام سے مرتد ہوگئے تھے۔

معلوم ہوا کہ یہ زنادقہ مرتدین تھے۔ حضرت ابن عباسq کو جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس عمل کی خبر ہوئی تو یہ فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو آگ میں نہ ڈالتا۔ کیونکہ نبی کریمa کا ارشاد ہے:’’لاتعذبوا بعذاب اللہ ‘‘ اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو۔ یعنی آگ میں نہ ڈالو۔ کیونکہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔

بلکہ میں ان مرتدین کے قتل پر اکتفاء کرتا… کیونکہ نبی اکرمa کا ارشاد ہے:’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘ جو شخص دین اسلام کے بدلہ دوسرا دین اختیار کر لے، اس کو قتل کر ڈالو۔

(سنن ابی داؤد ج۲ ص۵۹۸) میں ہے:’’فبلغ ذلک علیا فقال ویح ابن عباس‘‘ ابن عباسq کا یہ قول حضرت علیq کو پہنچا تو یہ فرمایا شاباش ہو، ابن عباسq کو۔

حافظ عسقلانیv ابوداؤد کی اس زیادتی کو نقل کر کے فرماتے ہیں۔ ممکن ہے کہ حضرت علیq کا یہ قول ویح ابن عباس تصویب اور استحسان کے لئے ہوا اور ویح کے معنی واہ واہ کے ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ کلمہ ویح اس مقام میں اظہار ناپسندیدگی کے لئے بمعنی افسوس ہو یعنی افسوس ابن عباسq پر کہ بغیر تامل اور تفکر کے مجھ پر اعتراض کر دیا۔

اور مقصود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ ہوا کہ بے شک آگ میں جلانا پسندیدہ امر نہیں لیکن حرام بھی نہیں اور اگر زجر وتوبیخ کے لئے اس قسم کے مجرمین کو آگ میں ڈلوایا جائے تو کوئی مضائقہ بھی نہیں اور ممکن ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ مذہب ہو کہ امام کو اختیار ہے کہ کسی مرتد کو تغلیظ اور تشدید کے لئے آگ میں جلادے۔ جیسا کہ ہم عنقریب معاذ بن

361

جبلq اور ابوموسیٰ اشعریq سے نقل کریں گے کہ ان کے نزدیک بھی عبرت کے لئے مرتد کو آگ میں ڈالنا جائز تھا۔(فتح الباری ج۱۲ ص۲۳۹، باب الحکم المرتد والمرتدۃ)

تنبیہ

قتل کر کے آگ میں ڈال دینا بالاتفاق جائز ہے۔ کلام احراق حیی میں ہے۔ بظاہر حضرت علیq نے قتل کے بعد جلایا۔ مسئلہ تعذیب حیواں بالنار کے لئے (شرح سیر کبیر ج۲ ص۲۷۴) کی مراجعت کی جائے۔

۲… یمن فتح ہونے کے بعد حضور پرنورa نے یمن کے ایک علاقہ پر ابوموسیٰ اشعریq کو اور ایک علاقہ پر معاذ بن جبلq کو مقرر فرمایا۔ دونوں اپنے اپنے علاقہ میں کام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ معاذ بن جبلq بغرض ملاقات ابوموسیٰ اشعریq کے پاس گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص سامنے بندھا کھڑا ہوا ہے۔ دریافت کیا کہ کیا ماجرا ہے؟ ابوموسیٰ نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہے۔ پہلے یہودی تھا۔ مسلمان ہوگیا تھا پھر یہودی ہوگیا اور آپ تشریف رکھئے اور ایک تکیہ بھی معاذ بن جبلq کے لئے رکھ دیا۔ معاذ بن جبلq نے جواب دیا:’’لا اجلس حتی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامر بہ فقتل وفی روایۃ ایوب بعد قولہ قضاء اللہ ورسولہ ان مع رجع عن دینہ اوقال بدل دینہ فاقتلوہ وفی روایۃ عنہ‘‘ کہ میں اس وقت تک ہرگز نہ بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے۔ مرتد کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے کہ جو دین اسلام سے مرتد ہو جائے۔ اس کو قتل کر ڈالو۔ اس لفظ کو تین بار فرمایا۔ اسی وقت اس کے قتل کا حکم دیا گیا اور وہ قتل کردیا گیا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’و اللہ لا اقعد حتی تضربوا عنقہ فضرب عنقہ وفی روایۃ الطبرانی التی اشرت الیہا فاتنی بحطب فالہب فیہ النار فکتفہ وطرحہ فیہا ویمکن الجمع بانہ ضرب عنقہ ثم القاہ فی النار ویوخذ منہ ان ابا موسٰی ومعاذا کانا یریان جواز التعذیب بالنار واحراق المیت بالنار مبالغۃ فی اہانتہ وترہیبا عن الاقتداء بہ‘‘ (فتح الباری ج۱۲ ص۲۴۳، باب حکم المرتد والمرتدۃ)

362

(ترجمہ) خدا کی قسم میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا۔ جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑادو۔ چنانچہ اسی وقت اس کی گردن اڑا دی گئی اور معجم طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ ایندھن لایا گیا اور آگ سلگائی گئی اور اس شخص کے ہاتھ پیر باندھ کر اس آگ میں ڈال دیا گیا۔ اس روایت اور گزشتہ روایت میں کوئی منافات نہیں ممکن ہے کہ پہلے گردن ماری گئی ہو اور بعد میں آگ میں ڈالاگیا ہو۔ اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاذ بن جبلq اور ابوموسیٰq اس کے قائل تھے کہ مرتد کو آگ میں جلانا جائز ہے تاکہ مرتد کی خوب اچھی طرح توہین اور تذلیل ہوجائے اور لوگ اس کی پیروی سے ڈر جائیں۔

مختلف روایات سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رائے تھی کہ زندقہ اور مرتدین کو عبرتناک سزا دی جائے۔ اوّل قتل فرماتے اور پھر آگ کے گڑھے میں ڈالتے۔ ’’کما قال: انی اذا رایت امرامنکم۔ اوقدت ناری ودعوت قنبرا‘‘ جب میں برا اور اوپرا کام (مثلاً ارتداد) دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور سزا کے لئے قنبر کو (غلام کا نام ہے) بلاتا ہوں۔(کذافی فتح الباری ج۱۲ ص۲۳۸)

۳… (سنن ابی داؤد ج۲ ص۵۹۹، وعون المعبود ج۴ ص۲۲۵ اور سنن نسائی ص۶۲۷) میں ہے:’’عن ابن عباسq قال کان عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح کان یکتب لرسول اللہ a فازلہ الشیطان فلحق بالکفار فامر بہ رسول اللہ a ان یقتل یوم الفتح فاستجار لہ عثمان فاجارہ رسول اللہ a‘‘ عبد اللہ بن عباسq سے مروی ہے کہ عبد اللہ q بن سعد نبی کریمa کے کاتب وحی تھے۔ شیطان نے بہکایا مرتد ہوکر کافروں سے جا ملے۔ حضورپرنورa نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ عبد اللہ بن سعد کو قتل کردیا جائے۔ عبد اللہ q بن سعد تائب ہوکر حاضر ہوئے اور حضرت عثمانq کی سفارش سے حضورa نے ان کو توبہ قبول کی اور ان سے بیعت کی جیسا کہ ابوداؤد کی دوسری مفصل روایت میں اس کا ذکر ہے۔

اور (سنن نسائی ص۶۲۹) میں ہے کہ:’’ثم ان ربک للذین ہاجروا من بعد مافتنوا ثم جاہدوا وصبروا ان ربک من بعدہا لغفور رحیم‘‘ یہ آیت عبد اللہ بن سعد کے بارہ میں اتری۔

363

۴… حضرت عثمان غنیq جس زمانہ میں اپنے مکان میں محصور تھے تو ایک دن یہ فرمایا کہ یہ بلوائی مجھ کو قتل کی دھمکی دیتے ہیں نہ معلوم کس بناء پر مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔

’’وقد سمعت رسول اللہ a یقول لا یحل دم امری مسلم الاباحدی ثلاث رجل کفر بعد اسلامہ اوزنی بعد احصانہ اوقتل نفسا بغیر حق۔ و اللہ مازینت فی جاہلیۃ ولا اسلام قط ولا قتلت نفسا ولا تمنیت بدینی بدلا مذہدانے اللہ عزوجل للاسلام فبم یقتلانی‘‘ (سنن نسائی ص۶۲۳، باب ما یکل بہ دم المسلم سنن کبریٰ امام بیہقی ج۸ ص۱۹۴، باب قتل من ارتد عن الاسلام)

(ترجمہ)حالانکہ میں نے نبی کریمa سے یہ سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین باتوں میں سے کسی ایک بات کی وجہ سے (۱)کوئی شخص اسلام کے بعد کافر اور مرتد ہو جائے۔ (۲)یا محصن یعنی شادی کے بعد زنا کرے۔ (۳)یا کسی کو ناحق قتل کرے۔ خدا کی قسم میں نے کبھی زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں اور نہ کسی کا ناحق خون کیا اور دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد کبھی دل میں یہ خطرہ بھی نہیں گزرا کہ دین اسلام کے بدلہ میں کسی اور دین میں داخل ہو جاؤں پھر کس لئے مجھ کو قتل کرتے ہیں۔

۵… صحیح بخاری اور مسلم میں عبد اللہ بن مسعودq سے مروی ہے کہ نبی اکرمa نے فرمایا:’’لایحل دم امری الا باحدی ثلاث الثیب الزانی والنفس بالنفس والتارک لدینہ المفارق للجماعۃ‘‘ مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین باتوں میں سے ایک بات کی وجہ سے (۱)محصن یعنی شادی شدہ اگر زنا کرے تو رجم (سنگسار) کیا جائے۔ (۲)قصاص۔ (۳)جو شخص دین اسلام کو چھوڑ کر جماعت مسلمین سے علیحدہ ہو گیا ہو۔

حافظ عسقلانی شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ ترک دین سے دین اسلام سے مرتد ہونا مراد ہے اور مفارقت جماعت سے۔ جماعت مسلمین سے علیحدہ ہونا مراد ہے جو مرتد ہو وہ زمرۂ اسلام اور جماعت مسلمین سے خارج ہوا اور المفارق للجماعۃ کی صفت۔ التارک لدنیہ کا تتمہ اور تکملہ ہے۔ ورنہ موجبات قتل تین نہ رہیں گے بلکہ چار ہو جائیں گے۔(فتح الباری ج۲ ص۱۷۷، کتاب الدیات باب قول اللہ تعالٰی ان النفس بالنفس والعین بالعین)

364

حافظ ابن رجب حنبلی (جامع العلوم والحکم ص۸۷) میں فرماتے ہیں: ’’والقتل بکل واحدۃ من ہذہ الخصال الثلاث متفق علیہ بین المسلمین‘‘ ان تین امور میں سے ہر وجہ سے قتل کرنا تمام مسلمانوں میں متفق علیہ ہے۔

اور پھر تفصیل کے ساتھ تینوں باتوں پر کلام فرمایا۔جزاہ اللہ خیرا!

تشریحات وتوضیحات

۱… آیت شریفہ مذکورہ اور احادیث مسطورہ سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ واجب القتل ہونے کی علت فقط مرتد ہونا ہے جو مرتد ہوا وہ واجب القتل ہوا۔ خواہ محارب اور برسرپیکار ہو یا نہ ہو تنہا ہو یا جماعت ہو ارتداد کی سزا قتل ہے۔ ارتداد علیحدہ جرم اور محاربہ (یعنی برسرپیکار ہونا اور فساد مچانا) یہ علیحدہ جرم ہے۔ شریعت میں دونوں کی سزائیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ مرتد کی سزا تو قتل متعین ہے اور محارب کی سزا وہ ہے جو سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ میں مذکور ہے۔ ’’قال تعالٰی: انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا ویصلبوا اوتقطع ایدیہم وارجلہم من خلاف اوینفعوا من الارض ذلک لہم خذی فی الدنیا ولہم فی الآخرۃ عذاب عظیم الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیہم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم‘‘ یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد اور بدامنی پھیلاتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ اگر انہوں نے بدامنی میں فقط کسی کا خون کیا ہے اور مال نہیں چھینا تو ان کو قتل کیا جائے اور اگر قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا تو ان کو سولی پر چڑھایا جائے اور اگر فقط مال چھینا ہے مگر کسی کو قتل نہیں کیا تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں اور اگر نہ قتل کر سکے اور نہ مال چھین سکے صرف تیاری ہی میں تھے کہ گرفتار ہوگئے تو جلاوطنی کی سزا دی جائے گی۔ یعنی یا تو جیل خانہ میں ڈال دیا جائے گا یا دارالاسلام سے نکال دیا جائے گا۔ یہ ان کے لئے دنیا کی رسوائی ہے اور آخرت میں تو بہت ہی بڑا عذاب ہے۔ مگر جن لوگوں نے تمہارے قابو پانے اور گرفتار کرنے سے پہلے توبہ کر لی تو اللہ کی حد معاف ہو جائے گی۔ اللہ بڑے غفور رحیم ہیں۔ توبہ سے اللہ تعالیٰ کا حق معاف ہو جاتا ہے۔ مگر بندوں کا حق توبہ سے معاف نہیں ہوتا۔ اگر قتل کیا ہے تو قصاص لیا جائے گا اور اگر مال لیا ہے تو اس کا ضمان

365

دینا ہوگا۔ ان چیزوں کے معاف کرنے کا حق صرف صاحب مال اور ولی مقتول کو ہے۔

یہ محارب یعنی بدامنی اور فساد مچانے والے کا حکم ہے جو مومن اور کافر سب کے لئے عام ہے۔ بخلاف مرتد کے کہ اس کا حکم محارب کے حکم سے بالکل جدا ہے۔ مرتد بالاتفاق قتل کیا جاتاہے۔ مرتد کے لئے جلاوطنی اور ہاتھ پیر کاٹے جانے کی سزا نہیں۔

نیز پکڑے جانے کے بعد محارب کی توبہ مقبول اور معتبر نہیں محارب اگر پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرے تو وہ معتبر ہے۔ بخلاف مرتد کے کہ اس کی توبہ ہر حال میں قبول کی جائے گی۔ خواہ پکڑے جانے سے پہلے ارتداد سے توبہ کرے یا پکڑے جانے کے بعد۔

نیز اگر محارب نے کسی کو قتل کیا ہے تو قتل کیا جائے گا اور اگر فقط مال لوٹا ہو تو فقط ہاتھ اور پیر قطع کئے جائیں گے۔ محارب کو قتل نہیں کیا جائے گا اور مرتد ارتداد کی وجہ سے بہرحال واجب القتل ہے۔

تشریح دوم

یہ حدیث یعنی ’’لایحل دم امری مسلم‘‘ مشہور ومعروف حدیث ہے۔ متعدد صحابہi سے مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ ہم اس اختلاف کو واضح کرنا چاہتے ہیں تاکہ صحیح مراد میں کوئی التباس نہ رہے۔ بعض روایات میں زنا محصن اور قصاص کے بعد فقط ارتداد اور کفر بعد الاسلام کا ذکر ہے۔ محاربہ کا کوئی ذکر نہیں۔ جیسا کہ عثمان غنیq کی حدیث میں ہے: ’’لا یحل دم امری مسلم الاباحدی ثلاث رجل ارتد بعد اسلامہ اوزنی بعد احضانہ اوقتل نفسا بغیر نفس‘‘ (نسائی شریف ص۶۲۳، ذکر مایحل بہ دم المسلم)

(ترجمہ) حلال نہیں کسی مسلمان کا خون بہانا بغیر تین چیزوں کے ایک وہ شخص جو مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو جائے یا بعد شادی شدہ ہونے کے زنا کرے یا کسی انسان کو ناحق قل کرے۔

اور عثمان غنیq کی ایک روایت میں ہے:’’اوارتد بعد اسلامہ فعلیہ القتل‘‘ (نسائی ص۶۲۹، الحکم فی المرتد)

366

اور اسی طرح عائشہ صدیقہt کی ایک روایت میں بھی یہی لفظ آیا ہے۔’’لایحل دم امری مسلم الارجل زنی بعد احصانہ اوکفر بعد اسلامہ اوالنفس بالنفس‘‘ (کذافی سنن النسائی ص۶۲۳)

حافظ عسقلانیv فرماتے ہیں:’’وقع فی حدیث عثمان اویکفر بعد اسلامہ اخرجہ النسائی بسند صحیح وفی لفظ لہ صحیح ایضا ارتد بعد اسلامہ ولہ من طریق عمرو بن غالب عن عائشۃ اوکفر بعد ما اسلم وفی حدیث ابن عباسq عند النسائی مرتد بعد ایمان‘‘ (فتح الباری ج۱۲ ص۱۷۷، کتاب الدیات)

اور بعض روایات میں بجائے ارتداد اور کفر بعد الاسلام کے فقط محاربہ کا ذکر ہے۔ چنانچہ عائشہ صدیقہt کی ایک روایت میں ہے:’’لایحل دم امری مسلم الافی احدی ثلاث رجل زنی بعد احصان فانہ یرجم ورجل خرج محاربا ب اللہ ورسولہ فانہ یقتل اویصلب اوینفی من الارض اویقتل فیقتل بہا‘‘ (ابوداؤد شریف کتاب الحدود ص۵۹۸، باب الحکم فیمن ارتد)

عائشہ صدیقہt کی اس روایت میں بجائے کفر بعد اسلامہ کے رجل خرج محاربا کا ذکر ہے۔ ارتداد کا ذکر نہیں فقط محاربہ کا ذکر ہے اور جزا اور سزا بھی وہی مذکور ہے جو آیت محاربہ میں محاربین اور مفسدین کی ذکر کی گئی ہے۔ یعنی قتل اور صلب اور نفی من الارض!

اور بعض روایات میں ارتداد اور محاربہ دونوں کا ذکر ہے۔ جیسا کہ (سنن نسائی ص۶۲۷، باب الصلب) میں عائشہ صدیقہt سے مروی ہے: ’’لایحل دم امری مسلم الاباحدی ثلاث خصال زان محصن یرجم اورجل قتل رجلا متعمداً فیقتل او رجل یخرج من الاسلام یحارب اللہ عزوجل ورسوﷲ فیقتل اویصلب اوینفی من الارض‘‘ کسی مسلمان آدمی کاخون بہانا جائز نہیں بجز تین باتوں کے (۱)شادی شدی ہوکر زنا کرے۔ (۲)یا کسی آدمی کو ناحق قتل کرے تو بھی قتل کیا جائے گا۔ (۳)یا اسلام سے خارج ہوکر اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑائی کرے تو بھی قتل کیا جائے گا یا سولی چڑھایا جائے گا یا ملک سے جلاوطن کر دیا جائے گا۔

367

اور صحیح بخاری کی کتاب الدیات باب القسامۃ میں یہ لفظ ہیں:’’اورجل حارب اللہ ورسولہ وارتد عن الاسلام‘‘ دیکھو (فتح الباری ج۱۲ ص۲۱۲) یہ تمام روایتیں صحیح اور درست ہیں۔ جن روایات میں فقط ارتداد کا ذکر ہے وہاں اس کی سزا فقط قتل ذکر کی گئی ہے اور جن روایات میں فقط محاربہ کا ذکر ہے وہاں فقط قتل کا ذکر نہیں بلکہ اس سزاکا ذکر ہے کہ جو آیت محاربہ میں محاربین کی ذکر کی گئی ہے۔ یعنی قتل اور صلب (سولی چڑھانا) اور نفی من الارض اور جن روایتوں میں ارتداد اور محاربہ دونوں کو ملا کر ذکر کیاگیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرتد کے واجب القتل ہونے کے لئے محارب ہونا بھی شرط ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر ارتداد کے ساتھ محاربہ بھی جمع ہو جائے تو پھر اس مرتد کی سزا فقط قتل نہ ہوگی بلکہ اس مرتد کی سزا محاربین کی سی ہوگی۔ بادشاہ اسلام کے لئے اس مرتد کا قتل یا صلب اور قطع ایدی اور ارجل سب جائز ہوگا۔ اگر فقط مرتد ہوتا اور محارب نہ ہوتا تو فقط ارتداد کی سزا ملتی اور جب ارتداد کے ساتھ محاربہ بھی جمع ہوگیا تو پھر قتل کے ساتھ صلب بھی جمع ہوسکے گا۔ خوب سمجھ لو و اللہ تعالیٰ ہداک! اسی وجہ سے حضرات محدثین نے اوّل الذکر روایات کو باب المرتد میں ذکر فرمایا۔ یعنی جن میں فقط ارتداد کا ذکر تھا۔ ان کو باب حکم المرتد میں ذکرفرمایا اور جن روایات میں محاربہ کا ذکر تھا ان کو کتاب المحاربین میں ذکر فرمایا۔(راجع احکام القرآن للجصاص ج۲ ص۴۰۹، تفسیر القرطبی ج۶ ص۱۴۷، جامع العلوم والحکم ص۸۹)

(تشریح سوم) یا ایک شبہ اور اس کا ازالہ

مرزائیوں کا یہ گمان ہے کہ قتل، نفس ارتداد کی سزا نہیں۔ نفس ارتداد کی سزا صرف وہی ہے کہ جو نفس کفر کی قرآن کریم سے ثابت ہے اور اگر کسی مرتد کو قتل کی سزا دی گئی ہے تو وہ عارضی اسباب اور سیاسی اغراض کی وجہ سے دی گئی ہے۔ مثلاً اس کے محارب اور برسرپیکار ہونے کی وجہ سے یا دشمنان اسلام سے سازباز کرنے کی وجہ سے یا مخبری یا جاسوسی کی وجہ سے یا دوسروں کو خلاف اسلام جنگ پر آمادہ کرنے کی وجہ سے۔

جواب: یہ سراسر تلبیس اور مغالطہ ہے۔ قرآن کریم اور حدیث میں لفظ ارتداد کے ساتھ مرتد کی سزا کو بیان فرمایا ہے کہ جو مرتد ہوگیا اس کو قتل کر ڈالو۔ ان صاف اور صریح الفاظ میں یہ تاویل کرنا کہ یہ سزا نفس ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ محارب اور برسرپیکار ہونے کی

368

وجہ سے ہے یہ ایسی ہی تاویل ہے۔ جیسے کوئی ’’الزانیۃ والزانی فاجلد واکل واحد منہما مائۃ جلدۃ‘‘ اور ’’السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما‘‘ میں یہ تاویل کرے کہ جلد (درے لگانے) اور قطع ید کی سزا محض زنا اور چوری کی وجہ سے نہیں بلکہ عارضی اسباب اور محارب ہونے کی وجہ سے ہے تو کیا کوئی عاقل اس کو تسلیم کر سکتا ہے۔

نیز اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ارتداد اور نفس کفر کی جزاء میں کوئی فرق نہیں تو پھر جن آیات میں کافروں سے جہاد وقتال کا ذکر ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام بنانے اور ان کی تمام املاک کو مجاہدین پر تقسیم کرنے کا ذکر ہے۔ وہاں کیا تاویل کریں گے کہ یہ جہاد وقتال کا حکم نفس کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ عارضی اسباب کی وجہ سے ہے۔ ہجرت کے بعد جو تمام روئے زمین کے کافروں سے جہاد وقاتل کا حکم نازل ہوا۔ کیا وہ محض کفر کی وجہ سے نہ تھا۔ ابھی اسلام کی کوئی حکومت ہی قائم نہیں ہوئی۔ جس کی بناء پر تمام کافروں پر فوج کشی کی وجہ محارب اور برسرپیکار ہونا قراردی جائے۔

جس طرح نفس کفر کی وجہ سے کافروں سے جہاد ہوسکتا ہے۔ اگرچہ وہ برسرپیکار نہ ہوں۔ اسی طرح نفس ارتداد کی وجہ سے مرتد کی سزا قتل ہوسکتی ہے۔ اگرچہ وہ برسرپیکار نہ ہوں۔

جس طرح چوری اور زنا مستقل جرم ہیں اور محارب ہونا اور دشمنان اسلام سے سازباز کرنا ایک جداگانہ جرم ہے۔ اسی طرح نفس کفر اور نفس ارتداد مستقل جرم ہیں اور محارب اور باغی ہونا جداگانہ جرم ہے۔ قرآن اور حدیث میں ہرجرم کی سزا جداگانہ ذکر کی گئی ہے۔ محاربین کا حکم علیحدہ ہے۔ جو آیت محاربہ میں مذکور ہے اور باغیوں کا حکم آیت بغاۃ میں مذکور ہے اور کافروں کا حکم علیحدہ ہے جو آیات جہاد وقتال میں مذکور ہے اور ارتداد جو کہ کفر کی ایک خاص قسم ہے اس کا حکم آیت مائدہ میں مذکور ہے۔

ارتداد اور کفر کا ایک حکم قرار دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی یہ کہے کہ قذف (تہمت لگانا) جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ لہٰذا قذف پر کوئی حد نہیں۔ جس طرح کاذب اللہ کا ملعون ہے اسی طرح قاذف بھی اللہ کا ملعون ہے۔ قذف کے لئے فقط اللہ کی لعنت کافی ہے۔ بلکہ کسی گناہ پر شرعی طور پر کوئی سزا ہی نہ ہونی چاہئے۔ بلکہ جو عام گناہ کا حکم ہے وہی اس کا ہونا چاہئے۔

کیا ایک شخصی اور انفرادی باغیانہ تقریر پر بغاوت کا مقدمہ نہیں چل سکتا۔ جب تک اس مقرر کا محارب اور برسرپیکار ہونا یا اور دشمنان حکومت سے سازباز کرنا ثابت نہ ہو جائے

369

اور اگر یہ کہا جائے کہ محارب ہونے کے لئے فقط تلوار سے جنگ کرنا ضروری نہیں بلکہ زبان سے یا کسی قول اور فعل سے اللہ اور اس کے رسول کے مقصد کو ناکام بنانا یہ بھی حارب اللہ ورسولہ میں داخل ہے تو ہم کہیں گے کہ ارتداد میں بھی اسلام کی توہین اور تذلیل ہے اور اسلام کو اپنے مقصد میں ناکام بنانا ہے اور جب کہ ہمارے مخالفین کے نزدیک مسلمانوں کی مخبری کرنا حارب اللہ ورسولہ کے حد میں داخل ہے تو مرتد ہوکر اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو لوگوں کی نظر میں حقیر اور بے اعتبار بنانا حارب اللہ ورسولہ… کی حد میں کیوں داخل نہیں ہوسکتی۔

علاوہ ازیں صحابہ کرامi اور خلفاء راشدینi نے مرتدین سے جہاد وقتال کیا اور یہ کہہ کر کیا کہ تم مرتد ہوگئے ہو اس لئے تم سے جہاد وقتال کیا جاتا ہے اور جو یہود ونصاریٰ مسلمانوں کی قلمرو میں رہتے تھے۔ ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ ارتداد کا حکم کفر سے کچھ ممتاز ہے اور ابتداء میں مرتدین نے فوج ولشکر کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس لئے صحابہi نے بھی ان کا مقابلہ کیا۔ یہاں ارتداد کے ساتھ محاربہ بھی جمع ہوگیا۔ جیسا کہ عرینین کے قصہ میں ارتداد اور محاربہ اور سرقہ اور رہزنی سب جمع ہوگئے تھے۔ بعد میں جب فتنہ ارتداد ختم ہوگیا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ تنہا مرتد ہوئے وہ بھی قتل کئے گئے اور محض ارتداد کی بناء پر ان کو قتل کی سزا دی گئی۔ حالانکہ وہ محارب اور برسرپیکار نہ تھے اور نہ انہوں نے خلافت کے خلاف باغیانہ متحدہ محاذ بنایا تھا۔

خلافت راشدہ اور مرتدین کا قتل

خلافت راشدہ میں مرتدین کا قتل تفسیر اور حدیث کے اور تاریخ کے مسلمات میں سے ہے۔ کوئی تفسیر اور حدیث اور تاریخ کی کتاب ایسی نہیں جس میں خلفاء راشدینi کا مرتدین کو قتل کرنا مذکور نہ ہو۔

خلافت راشدہ میں سرزمین عرب کا وسیع رقبہ مرتدین کے خون سے رنگین ہوا۔ لیکن اسلام کی ترقی کی رفتار اس قدر سریع اور تیز رہی کہ جس سے دنیا آج تک حیران ہے۔ سوائے اس کے کہ دین اسلام کا ایک معجزہ تھا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا۔

معلوم ہوا کہ قتل مرتد کا مسئلہ اسلام کی ترقی میں حائل اور حارج نہیں۔ خلافت

370

راشدہ میں بے شمار یہود ونصاریٰ اور مجوسی اور مشرکین اسلام کے حلقہ بگوش بنے۔ مگر قتل مرتدین کو دیکھ کر اسلام سے بدگمان نہیں ہوئے۔ یہ تمام یہودونصاریٰ اسی خلافت راشدہ کے زیرسایہ آزاد انہ زندگی بسر کر رہے تھے اور اپنے مذہب پر قائم تھے۔ معلوم ہوا کہ قتل مرتد کا مسئلہ اسلام کو زہریلے جراثیم سے محفوظ رکھنے کے لئے ہے۔ تاہم ایمانداروں کے ایمان اس کے ارتداد سے مسموم اور متأثر نہ ہو جائیں اور سادہ لوح مسلمان اس کو دیکھ کر فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس لئے اس فتنہ کے انسداد کے لئے پوری قوت کے استعمال کا حکم دیا۔

قتل مرتد پر علماء امت کا اجماع

کتاب وسنت کے بعد اجماع امت کا درجہ ہے آج کل کے قوانین تو کثرت رائے سے طے پاتے ہیں اور منفرد رائے کو کالعدم سمجھتے ہیں اور اجماع امت کا درجہ تو کثرت رائے سے لاکھوں درجہ بڑھ کر ہے۔ یہ امت کے علماءw اور صلحاءw کا اجماع ہے جو کتاب وسنت کی روشنی اور نور تقویٰ اور نور فراست کی چاندنی میں منعقد ہوا۔ جیسے حجت نہ ہوگا؟

(حافظ عسقلانی فتح الباری ج۱۲ ص۱۷۷، کتاب الدیات) میں فرماتے ہیں:’’قال ابن دقیق العید الردۃ سبب لاباحۃ دم المسلم بالاجماع فی الرجل واما المراۃ ففیہا خلاف‘‘ علامہ ابن دقیق العیدv فرماتے ہیں کہ مرتد ہونا یعنی دین اسلام سے پھر جانا بالاتفاق مرد کے حق میں موجب قتل ہے۔ البتہ اگر عورت دین اسلام سے پھر جائے تو اس کے قتل میں اختلاف ہے۔

حافظ بدالدین عینیv شرح بخاری میں لکھتے ہیں: ’’وقال شیخنا فی شرح الترمذی وقداجمع العلماء علی قتل المرتد اذا لم یرجع الٰی الاسلام واصر علی الکفر واختلفوا فی قتل المرتدۃ فجعلہا اکثر العلماء کالرجل المرتد وقال ابوحنیفۃ لاتقتل المرتدۃ لعموم قولہ۔ نہی عن قتل النساء والصبیان‘‘ (عمدۃ القاری ج۲۴ ص۴۱، کتاب الدیات باب قولہ تعالیٰ النفس بالنفس والعین بالعین)

(ترجمہ) ’’ہمارے شیخ نے شرح ترمذی میں فرمایا ہے۔ علماء نے قتل مرتد پر اجماع فرمایا ہے جب کہ وہ ارتداد پر قائم رہے اور اسلام کی طرف نہ لوٹے اور کفر پر مداومت اختیار

371

کرے اور مرتد عورت کے قتل میں اختلاف ہے۔ اکثر علماء نے مرتد عورت کو بھی مثل مرد کے واجب القتل قرار دیا ہے اور امام ابوحنیفہv فرماتے ہیں کہ مرتد عورت کو قتل نہ کیا جائے۔ بوجہ عموم قول پیغمبرm کہ آپa نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔‘‘

شیخ عبدالوہاب شعرانیv میزان کبریٰ میں فرماتے ہیں: ’’قداتفق الائمۃ علی ان من ارتد عن الاسلام وجب قتلہ‘‘ ائمہ نے اتفاق فرمایا ہے کہ جو شخص اسلام لاکر اس سے پھر جائے تو اس کا قتل واجب ہے۔

موجبات ارتداد

یعنی وہ امور جن کی وجہ سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، بارگاہ خداوندی

میں گستاخی اور حضرت انبیاء کرامo کی توہین وتنقیص اور اس کا شرعی حکم

حق جل جلالہ وعم نوالہ کی شان اقدس میں گستاخانہ کلمہ زبان سے نکالنا بالاجماع کفر اور ارتداد ہے۔ ’’قال القاضی ابوالفضل لاخلاف فی ان ساب اللہ تعالٰی کافر حلال الدم اختلف فی استتابتہ‘‘ (نسیم الریاض ج۴ ص۵۰۵)

(ترجمہ) ’’قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ خداوند ذوالجلال کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور واجب القتل ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اگر یہ شخص توبہ کرے تو اس کی توبہ دنیا میں بھی قبول کی جائے گی یا نہیں آخرت میں توبہ قبول ہوگی۔ لیکن کیا اس کی توبہ کی وجہ سے دنیا میں اس سے قتل ساقط ہوگا یا نہیں۔ اس میں اختلاف ہے۔‘‘

جمہور کا قول یہی ہے کہ دنیا میں اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل اس سے ساقط ہو جائے گا۔

علامہ قاریv اپنی شرح میں فرماتے ہیں: ’’لاخلاف فی ان ساب اللہ تعالٰی بنسبۃ الکذب اوالعجز الیہ ونحو ذالک من المسلمین کافر قلت ومن الذمیین ایضا کافر حربی حلال الدم بل واجب السفک واختلف فی استتسابتہ ای قبول توبتہ‘‘ (کذافی شرح الشفاء للعلامۃ القاری ج۲ ص۴۹۱)

تیسری صدی ہجری کا واقعہ ہے کہ قرطبہ میں ایک شخص نے حق تعالیٰ شانہ کی شان

372

رفیع میں کچھ نازیبا الفاظ زبان سے نکالے۔ شیخ ابن حبیب مالکی اور ابن خلیل نے اس شخص کے قتل کا فتویٰ دیا۔ قرطبہ کے بعض علماء نے یہ کہا کہ فقط تادیب اور تنبیہ کافی ہے۔ اس پر شیخ عبدالملک بن حبیبv نے فرمایا:’’ایشتم رب عبدنا ثم لاننتصر لہ انا اذن بعبید سوء وما نحن لہ بعابدین ثم بکی‘‘ (نسیم الریاض ج۴ ص۵۸۱)

(ترجمہ) ’’کیا یہ ممکن ہے کہ اس پروردگار کو جس کی ہم عبادت کرتے ہیں، گالیاں دیں جائیںاور جس پر ہم اس کا کوئی بدلہ انتقام نہ لیں۔ اگر ایسے گستاخ سے ہم نے اپنے خدا کا بدلہ نہ لیا تو ہم بہت ہی نالائق اور برے بندے ہیں اور ہرگز ہرگز ہم اس کے سچے پرستار نہیں۔ ابن حبیب یہ کہہ کر رو پڑے۔‘‘

بعدازاں یہ واقعہ امیر اندلس عبدالرحمن بن حکم اموی متوفی ۲۳۸ھ کے دربار میں پیش ہوا۔ اسی وقت شیخ ابن حبیب اور اجنع بن خلیل کے فتوے کے مطابق وہ شخص قتل کیاگیا اور قتل کر کے عبرت کے لئے پھانسی پر لٹکایا گیا اور جن علماء نے اس بارہ میں مداخلت کی تھی ان کو سخت تنبیہ کی گئی اور جوان میں سے قاضی تھے ان کو معزول کیاگیا۔

وعلیٰ ہذا جو شخص حضرات انبیاءo کی شان میں گستاخی کرے وہ بھی بالاجماع کافر ہے۔ علامہ ابن حزم کتاب الفصل میں فرماتے ہیں:’’صح بالنص ان کل من استہزاء ب اللہ تعالٰی اویملک من الملائکۃ اونبی من الانبیاءo اوبآیۃ من القرآن اوبفریضۃ من فرائض الدین فہی کلہا آیات اللہ تعالٰی بعد بلوغ الحجۃ الیہ فہو کافر‘‘ نقص قرآن سے یہ ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا کسی فرشتہ یا کسی نبی یا کسی آیت یا کسی فرض کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرے وہ قطعاً کافر ہے۔

ناموس رسول اکرمa

’’مابقاء الامۃ بعد شتم نبیہا‘‘ اس امت کی کیا زندگی ہے جس کے نبی پر گالیاں پڑتی ہوں۔ (امام مالکv وشرح شفا للعلامتہ القاری ج۳ ص۴۱۱)

ایمان کا جزو لاینفک یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرامo کی تعظیم وتوقیر کی جائے۔ ان حضرات کی شان میں ایک ادنیٰ توہین اور گستاخی بھی کفر اور موجب لعنت ہے۔ قاضی

373

عیاضv فرماتے ہیں: ’’اجمع العلماء علی ان شاتم النبیa والمتنقص لہ کافر مرتد بسبہ والوعید الذی مرعلیہ جار علیہ بعذاب اللہ لہ لقولہ تعالٰی لہم عذاب الیم فی الآیۃ وحکمۃ عند الامۃ ای امۃ الاجابۃ القتل ومن شک کفرہ وعذابہ کفر لان الرضی بالکفر کفر ولتکذیبہ القرآن فی قولہ تعالٰی والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم‘‘ (کذافی نسیم الریاض ج۴ ص۳۷۳، شرح ملا علی قاری ج۲ ص۳۹۴)

(ترجمہ) ’’علماء نے اتفاق کیا ہے کہ نبی کریمa کو گالی بکنے والا اور ان کی شان میں تنقیص کرنے والا مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور وعید اس پر جاری ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کا کیا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہوا ہے کہ ان توہین انبیاءo کرنے والوں کے لئے عذاب دردناک ہے اور ایسے توہین کرنے والے کا انجام امت کے نزدیک قتل ہے جو شخص بھی اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ اس لئے کہ کفر پر راضی ہونابھی کفر ہے اور اس کے لئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تکذیب کی۔ ’’والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم‘‘ اور جو لوگ رسول اللہ کو اذیت دیتے ہیں ان کے لئے عذاب دردناک ہے۔‘‘

یہودی لوگ ازراہ تمسخر ذومعنی الفاظ استعمال کرتے تھے اور بعض مسلمان بھی ازراہ ناواقفیت لفظ راعنا کے ساتھ آنحضرتa کو خطاب کرنے لگے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’قال تعالٰی: یاایہا الذین اٰمنوا لاتقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسموا وللکافرین عذاب الیم‘‘ اے ایمان والو لفظ راعنا نہ کہا کرو۔ (جس کا معنی ہے کہ ہماری رعایت فرمادیں۔ لیکن اس میں دوسرے غلط معنی کا احتمال بھی ہے اس کے بجائے) کہا کرو۔ ’’انظرنا‘‘ (یعنی ہمارے حال پر شفقت اور نظرکرم فرمائیے) اور توجہ سے سنا کرو اور کافروں کے لئے عذاب دردناک ہے۔

اس آیت میں نبیa کے توہین کرنے والے کو کافر بتاتے ہوئے عذاب مہین (ذلت والے عذاب) کا مستحق قرار دیاگیا ہے۔

’’وقال تعالٰی: ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والآخرۃ الی۔ ان قال: ملعونین اینما ثقفوا اخذوا اوقتلوا تقتیلا سنۃ اللہ

374

فی الذین خلوا من قبل ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا‘‘ تحقیق جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں لعنت ہے ان پر اللہ کی دنیا اور آخرت میں اور یہ ملعون اور موذی جہاں بھی پائے جائیں۔ پکڑے اور خوب اچھی طرح قتل کئے جائیں۔ خوب قتل کرنا اللہ کی اس سنت کو لازم پکڑو اور اللہ کی سنت میں کوئی تغیر اور تبدل نہ پاؤ گے۔ تفصیل کے لئے (نسیم الریاض ج۴ ص۳۸۴، شرح ملا علی قاری ج۲ ص۴۰۱) کی مراجعت فرمائیں۔

جاننا چاہئے کہ ’’قتّلوا تقتیلا‘‘ باب تفعیل کا صیغہ جو تکثیر اور مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔ معلوم ہواکہ اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرنے والوں کا بے دریغ قتل واجب ہے اور ائمہ بلاغت نے یہ تفریح کر دی ہے کہ مفعول مطلق تاکید کے لئے اور مجاز کے احتمال کو دور کرنے کے لئے لایا جاتا ہے۔ مثلاً قتلتہ میں احتمال ہے کہ ضرب شدید کو مجازا قتل سے تعبیر کردیاگیا ہو۔ لیکن اگر قتلتہ قتلا کہیں، تو مفعول مطلق کے اضافہ سے مجاز کا احتمال باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح آیت شریفہ میں قتلوا کے بعد تقتیلا مفعول مطلق لانے میں اس طرف اشارہ ہے۔ تقتیل حقیقی مراد ہے۔فافہم ذالک واستقم!

خلیفہ ہارون رشیدv نے امام مالکv سے نبی اکرمa کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم دریافت کیا اور یہ بھی کہا کہ بعض علماء عراق نے جلد یعنی کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے جو شریعت میں قذف یعنی تہمت لگانے کی سزا ہے۔

امام مالکv اس خفیف سزا کو سنتے ہی برہم ہوگئے اور نہایت غصہ کے لہجہ میں یہ فرمایا: ’’مابقاء الامۃ بعد شتم نبیہا‘‘ اس امت کی کیا زندگی اور کیا جینا ہے کہ جس کے نبی پر گالیاں پڑتی ہوں۔

’’من شتم الانبیاء قتل ومن شتم اصحاب النبی جلد‘‘جس شخص انبیاء کرامo کو گالیاں دے۔ اس کو قتل کیا جائے اور جو شخص صحابہi کو سب وشتم کرے۔ اس کے تعزیری کوڑے لگائے جائیں۔

علامہ خفا جی اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فلا یحل لاحد سمعہ الاقتل قائلہ اوبذل روحہ فی جہادہ‘‘ (نسیم الریاض ج۴ ص۳۹۹)

پس کسی کے لئے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سے بجز اس کے کہ یا تو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان خدا کی راہ میں دے دے۔

375

مسئلہ ختم نبوت اور اس کی اہمیت

خداوند ذوالجلال والاکرام کی توحید کے بعد سرور عالم سیدنا محمد مصطفیa کی رسالت اور ختم نبوت کا مسئلہ ہے جس طرح بغیر توحید کے اقرار کے مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح بغیر ختم نبوت کے اعتراف کے مسلمان نہیں ہوسکتا بلکہ توحید کا اقرار شرعاً وہی معتبر ہے جو خاتم الانبیاءa کے کہنے سے خداتعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ مانے ورنہ جو شخص یہ کہے کہ میں حق تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ سمجھتا ہوں اور محمد رسول اللہ a کو خدا کا آخری نبی مانتا ہوں۔ مگر حضور پرنورa کے کہنے سے میں خدا کو ایک نہیں سمجھتا بلکہ میری ذاتی تحقیق یہی ہے کہ خدا ایک ہے تو یہ شخص شرعاً مسلمان نہیں۔ مسلمان وہ ہے جو رسول اللہ کے کہنے سے خدا کو ایک مانے۔

اب یہ ناچیز مختصراً اس مسئلہ کی اہمیت بتلانا چاہتا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت بارگاہ خداوندی میں کس درجہ اہم ہے اور آسمان اور زمین اور عالم ارواح اور عالم اجسام اور عالم مثال اور عالم برزخ میں کس کس طرح اس مسئلہ کا اعلان ہوا ہے اور قیامت کے دن کس طرح میدان حشر میں حضورپرنورa کے خاتم النّبیین ہونے کا اعلان ہوگا۔

آنحضرتa حضرت آدمm کی پیدائش سے پہلے خاتم النّبیین تھے

’’عن العریاض بن ساریہq عن النبیa قال انی عند اللہ لخاتم النّبیین وان آدم لمنجدل فی طینتہ‘‘ (رواہ احمد والبیہقی والحاکم وقال صحیح الاسناد وزرقانی شرح مواہب ج۱ ص۳۱)

حضرت عرباض بن ساریہq سے مروی ہے کہ نبی اکرمa نے فرمایا کہ بے شک میں اللہ کے نزدیک خاتم النّبیین ہوچکا تھا اور آدمm ہنوز اپنے خمیر ہی میں تھے۔ یعنی ان کا ابھی پتلا ہی تیار نہ ہوا تھا۔ اس حدیث کو امام احمد اور بیہقی اور حاکم نے روایت کیا اور حاکم نے اس کو صحیح الاسناد بھی کہا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ حضرت آدمm کی پیدائش سے پہلے ہی حضورa کی روح مبارک کو حقیقتاً خاتم النّبیین بنادیا گیا تھا۔ اگرچہ ظہور اس کا بعثت کے بعد ہوا۔ جیسے کسی کو آج پروانہ وزارت مل جائے۔ مگر کام ایک ہفتہ کے بعد شروع کرے بارگاہ خداوندی کا ایک ہفتہ سات ہزارسال کا ہوتا ہے۔

376

’’کما قال تعالٰی: وان یوما عند ربک کاالف سنۃ مما تعدون‘‘ایک دن تیرے رب کے نزدیک تمہاری شمار کے لحاظ سے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔

آسمان سے سرزمین ہند پر حضرت آدمm کا ہبوط

اور نزول اور ختم نبوت کا اعلان

احادیث معتبرہ اور روایات صحیحہ سے یہ امر ثابت ہے کہ حضرت آدمm آسمان سے سرزمین ہند پر مقام سراندیپ میں اترے اور یہیں وفات ہوئی اور یہیں مدفون ہوئے۔

تحقیق اور تفصیل کے لئے حضرات اہل علم (تفسیر درمنثور ج۱ ص۵۵تا۶۰) کی مراجعت فرمائیں۔ میرا مقصد اس وقت صرف ایک روایت کو پیش کرنا ہے۔ وہ روایت ہے ہے:’’عن ابی ہریرۃq قال قال رسول اللہ a لما نزل آدم بالہند واستوحش فنزل جبریل فنادی باذان اللہ اکبر اللہ اکبر مرتین اشہد ان لا الہ الا اللہ مرتین اشہد ان محمدا رسول اللہ مرتین قال آدم لجبریل من محمد قال آخر ولدک من الانبیاء‘‘ (رواہ ابن عساکر خصائص کبریٰ للسیوطی ج۱ ص۸، کنزالعمال ج۶ ص۱۱۴، تفسیر درمنثور ج۱ ص۵۵)

(ترجمہ) ’’حضرت ابوہریرہq سے مروی ہے کہ نبی کریمa نے فرمایا کہ جب آدمm ہندوستان کی زمین پر اترے اور تنہائی کی وجہ سے گھبرائے تو جبرائیل امین آسمان سے اترے اور اذان دی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر دو مرتبہ کہا۔ ’’اشہد ان لا الہ الا اللہ ‘‘ دو مرتبہ ’’اشہد ان محمد رسول اللہ ‘‘ دو مرتبہ، حضرت آدم نے جبرائیل امین سے کہا کہ محمدa کون ہیں تو جبرائیل امین نے یہ کہا کہ انبیاء میں آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔ یعنی ان کے بعد آپ کی اولاد میں کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔‘‘

اس روایت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ بھی حل ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول ختم نبوت کے منافی نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرتa سے پہلے پیدا ہوئے اور آپa سے پہلے نبی بنائے گئے اور آپa سب نبیوں کے بعد پیدا ہوئے اور سب کے بعد آپa کو نبوت ملی۔ لہٰذا آپa ہی آخری نبی ہوئے۔ آخری بیٹا وہ ہے جو سب سے اخیر میں پیدا ہو نہ وہ کہ جس کی عمر زیادہ ہو۔

377

حیرت اور صدحیرت کا مقام ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک گزشتہ نبی کا تو زندہ رہنا بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔ مگر ایک نئے نبی کا پیدا ہوجانا ختم نبوت کے منافی نہیں۔ جس برگزیدہ نبی کی مدح اور توصیف سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ اس کے دوبارہ آنے سے تو نبوت کی مہر ٹوٹتی ہے۔ مگر ایک مرزااور پٹھان اور قادیان کے ایک چودھری اور دہقان کے آنے سے نبوت کی مہر نہیں ٹوٹی۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

حضرت آدمm کی پشت مبارک پر خاتم النّبیین لکھا ہوا تھا

’’اخرج ابن عساکر من طریق الٰی الزبیر عن جابر قال بین کتفی آدم مکتوب محمد رسول اللہ خاتم النّبیین‘‘ (خصائص الکبریٰ للسیوطی ج۱ ص۷)

ابن عساکر نے حضرت جابرq سے روایت کیا کہ حضرت آدمm کے دونوں شانوں کے درمیان میں یہ لکھا ہوا ہے محمد رسول اللہ a خاتم النّبیین۔

عالم ارواح میں تمام انبیاءB سے خاتم النّبیین کی

نصرت وحمایت کا عہدومیثاق

’’قال اللہ تعالٰی: واذاخذ اللہ میثاق النّبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال أاقررتم واخذتم علی ذالک اصری قالوا اقررنا۔ قال فاشہدوا وانا معکم من الشٰہدین۔ فمن تولی بعد ذالک فاولئک ہم الفاسقون‘‘ اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتائے تمہاری پاس والی کتاب کو، تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کہ کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر میرا عہد قبول کیا۔ بولے ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ پھر جو کوئی پھر جائے اس کے بعد تو وہی لوگ ہیں نادان۔

عالم ارواح میں حق جل شانہ نے تمام انبیاءo سے یہ عہد اور میثاق لیا کہ تم

378

سب کے بعد ایک عظیم الشان رسول آئے گا۔ تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا سب نے اس کااقرار کیا۔

اس آیت شریفہ نے تمام انبیاء کرام کو مخاطب بناکر یہ فرمایا: ’’ثم جاء کم رسول‘‘ تم سب کے بعد ایک رسول آئے گا۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اس رسول کی آمد تمام انبیاء کے بعد ہوگی اور یہ رسول آخری نبی ہوگا۔ ’’وعن قتادۃ انہ اخذ اللہ میثاقہم بتصدیق بعضہم بعضا والاعلان بان محمد رسول اللہ واعلان رسول اللہ بان لا نبی بعدہ‘‘ (کذافی الدرالمنثور وغیرہ)

(ترجمہ) ’’قتادہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاءo سے وعدہ لیا کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور خصوصی طور پر یہ اعلان کریں کہ محمدa اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

بشارات انبیاء سابقینB

دربارۂ ظہور خاتم الانبیاء والمرسلینa

حضرت ابراہیمm کے وقت سے لے کر حضرت مسیح بن مریم کے زمانہ تک تمام انبیاء مسلسل اس کی بشارت دیتے آئے کہ اخیر زمانہ میں ایک نبی ظاہر ہوگا۔ وہ نبی خاتم الانبیاء ہوگا۔

’’واخرج ابن عساکر عن عبادۃ بن الصامت قال قیل یا رسول اللہ اخبرنا عن نفسک قال نعم انادعوۃ ابی ابراہیم وکان آخر من بشربی عیسٰی بن مریمn‘‘ (خصائص کبریٰ ج۱ ص۹)

(ترجمہ) ’’عبادۃ بن الصامتq سے مروی ہے کہ عرض کیاگیا کہ یا رسول اللہ اپنی نبوت کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے۔ آپa نے فرمایا کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں اور میرے ظہور کی آخری بشارت دینے والے عیسیٰ بن مریم ہیں۔‘‘

اس حدیث میں حضرت ابراہیمm کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ابراہیمm نے بناء کعبہ کے وقت کی تھی۔ وہ دعا یہ ہے: ’’ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم ایاتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ ویزکیہم انک انت

379

انت العزیز الحکیم‘‘ اے پروردگار! ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہی میں کا ہے کہ پڑھے ان میں تیری آیتیں اور سکھلاوے ان کو کتاب اور تہ کی باتیں اور پاک کرے ان کو بے شک تو ہی ہے زبردست بڑی حکمت والا۔

ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ ’’قد استجیب لک ہو کائن فی آخرالزمان‘‘ (خصائص کبریٰ ج۱ ص۹)

(ترجمہ) ’’اے ابراہیم تمہاری دعا قبول ہوئی وہ نبی اخیر زمانہ میں ظاہر ہو گا۔‘‘

چنانچہ توریت اور انجیل اور زبور میں خاتم الانبیاءa کے ظہور سراپا نوروسرور کی بشارتیں اب بھی موجود ہیں۔ جس پر علماء کرام نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اور اس ناچیز نے بھی ایک رسالہ اسی بارہ میں لکھا ہوا ہے جو عرصہ ہوا کہ ’’بشائر النّبیین بظہور خاتم الانبیاء والمرسلین‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس وقت صرف چند بشارتیں ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔

بشارت اوّل

(از تورات سفراستثناء باب:۱۸، آیات:۱۸)

۱۸… اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا۔ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں تجھ سا نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔

۱۹… اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا۔ نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔

۲۰… لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔

۲۱… اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔

اہل اسلام یہ کہتے ہیں کہ یہ بشارت خاص سرور عالم سیدنا محمدa کے لئے ہے اور

380

یہود کا یہ خیال ہے کہ یہ بشارت یوشعm کے لئے ہے اور نصاریٰ یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ اس بشارت کا مصداق بجز خاتم الانبیاءa کے کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ اوّل تو اس بشارت میں یہ مذکور ہے کہ میں ان کے (یعنی بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہ ہوگا۔ اس لئے کہ اگر یہ نبی بنی اسرائیل میں سے ہوتا تو یہ فرماتے کہ خود تم میں سے ایک نبی پیدا ہوگا۔ ’’کما قال تعالٰی: لقد من اللہ علی المؤمنین اذبعث فیہم رسولا من انفسہم‘‘ اور یہ نہ فرماتے کہ خود تمہارے بھائیوں میں سے وہ نبی ظاہر ہوگا۔ ’’کما قال تعالٰی خطابا لبنی اسرائیل: وجعل فیکم انبیاء‘‘)

غرض یہ کہ موسیٰm کا تمام بنی اسرائیل کو بلاکسی تخصیص کے یہ خطاب فرمانا کہ وہ نبی موعود تمہارے بھائیوں میں سے ہوگا۔ اس امر کی صاف دلیل ہے کہ وہ نبی موعود بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہو گا۔

اور ظاہر ہے کہ حضرت یوشعm اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے ہیں اور اس بشارت کا مصداق صرف وہی نبی ہوسکتا ہے کہ جو بنی اسماعیل میں سے ہو۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے کوئی پیغمبر اس بشارت کا مصداق نہیں ہوسکتا۔

دوم! یہ کہ اس بشارت میں یہ مذکور ہے کہ تیرے مانند ایک نبی برپا کروں گا اور ظاہر ہے کہ موسیٰm کے مانند نہ یوشعm ہیں اور نہ عیسیٰ علیہ السلام۔ اس لئے کہ یہ دونوں حضرات بنی اسرائیل میں سے ہوئے اور تورات میں ہے کہ بنی اسرائیل میں موسیٰ کے مانند کوئی نبی نہیں اٹھا۔

علاوہ ازیں حضرت یوشعm حضرت موسیٰm کے تلمیذ تھے۔ تابع ومتبوع کیسے مماثل ہوسکتے ہیں۔ نیز حضرت یوشعm اس وقت موجود تھے اور اس بشارت میں یہ مذکور ہے کہ ایک نبی برپا کروں گا جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نبی کا وجود زمانہ مستقبل میں ہوگا۔ نیز یوشعm حضرت موسیٰm ہی کے زمانہ میں نبی ہو چکے تھے۔ پس وہ اس بشارت کا جس میں آئندہ نبی کی خبردی گئی ہے۔ کیسے مصداق ہوسکتے ہیں۔

381

علیٰ ہذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت موسیٰm کے مماثل نہیں اس لئے کہ نصاریٰ حیاری کے نزدیک تو وہ ابن ب اللہ یا خود خدا ہیں اور حضرت موسیٰm نہ اللہ نہ ابن اللہ بلکہ خدا کے ایک بندے ہیں۔ پس بندے اور خدا میں کیا مماثلت۔

نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہ اعتقاد نصاریٰ مقتول ومصلوب ہوکر اپنی امت کے لئے کفارہ ہوئے اور حضرت موسیٰm نہ مقتول ومصلوب ہوئے اور نہ کفارہ ہوئے۔

نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت حدود وقصاص زواجر وتعزیرات غسل وطہارت کے احکام سے ساکت ہے۔ بخلاف شریعت موسویہ کے وہ ان تمام امور پر مشتمل ہے۔ ہاں! نبی کریمa اور حضرت موسیٰm میں مماثلت ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰm صاحب شریعت مستقلہ تھے۔ اسی طرح ہمارے نبی اکرمa کی شریعت غرّٰاء بھی مستقل اور کامل اور علی وجہ الاتم حدود وتعزیرات جہاد وقصاص۔ حلال وحرام کے احکام کو جامع ہے۔

جس طرح موسیٰm نے بنی اسرائیل کو فرعون کے پنجہ سے نکال کر عزت دی اس سے بدرجہا زائد نبی اکرمa نے عرب کو روم اور فارس کی قید سے چھڑا کر اللہ کا کلمہ پڑھایا اور قیصروکسریٰ کے خزائن کی کنجیاں ان کے سپرد کیں۔ نیز جس طرح حضرت موسیٰm نے نکاح کیا۔ اسی طرح ہمارے نبی کریمa نے بھی انبیاء سابقینo کی سنت نکاح پر عمل فرمایا اور اسی مماثلت کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ ہے۔

’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا‘‘ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا۔ تم پر گواہی دینے والا جیسے ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا۔

نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشعm نے کبھی اس مماثلت کا دعویٰ بھی نہیں فرمایا اور اگر یہ کہا جائے کہ مماثلت سے یہ مراد ہے کہ وہ نبی موعود موسیٰm کی طرح بنی اسرائیل میں سے ہو گا تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشعm کی کیا تخصیص ہے۔ حضرت موسیٰm کے بعد بنی اسرائیل میں ہزاروں نبی پیدا ہوئے۔ اس لحاظ سے ہر نبی انبیاء اسرائیل میں سے اس بشارت کا مصداق بن سکتا ہے اور اگر حضرت عیسیٰ اور حضرت یوشعn کے لئے کسی درجہ میں مماثلت تسلیم کر لی جائے تو اس مماثلت کو اس مماثلت سے کہ نبی اکرمa کو حضرت موسیٰm سے حاصل ہے کوئی نسبت نہیں۔

382

سوم! یہ کہ اس بشارت میں بھی مذکور ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ یعنی اس نبی پر الواح تورات وزبور کی طرح لکھی ہوئی کتاب نازل نہ ہوگی بلکہ فرشتہ اللہ کی وحی لے کر نازل ہوگا اور وہ نبی امی ہوگا۔ فرشتہ سے سن کر اللہ کا کلام یاد کرے گا اور اپنے منہ سے پڑھ کر امت کو سنائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ بات بجز نبی امی فداہ نفسی وابی وامی کسی پر صادق نہیں آتی۔

چہارم! یہ کہ اس بشارت میں اس امر کی بھی تصریح ہے کہ جو اس نبی موعود کے حکم کو نہ مانے گا میں اس کو سزا دوں گا اور ظاہر ہے کہ اس سزا سے اخروی عذاب مراد نہیں۔ اس لئے کہ اس میں اس نبی موعود کے نہ ماننے والے کی کیا خصوصیت، اخروی عذاب ہر نبی کے نہ ماننے والے کے لئے ہے بلکہ اس سے دنیوی سزا یعنی جہاد وقتال اور حدود وقصاص کا جاری کرنا مراد ہے اور یہ بات نہ عیسیٰ علیہ السلام کو حاصل ہوئی اور نہ یوشعm کو۔ البتہ خاتم الانبیاء سرور عالم سیدنا محمدa کو علی وجہ الاتم حاصل ہوئی۔ لہٰذا وہی اس بشارت کا مصداق ہوسکتے ہیں۔

پنجم! یہ کہ اس بشارت میں یہ بھی تصریح ہے کہ اگر وہ نبی عیاذ ب اللہ افتراء کرے گا اور خدا کی طرف غلط بات منسوب کرے گا تو وہ نبی قتل کیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ ہمارے نبی اکرمa بعد دعوائے نبوت کے قتل نہیں کئے گئے۔ دشمنوں نے ہر طرح کی کوشش اور تدبیر کی مگر سب برباد گئی۔’کما قال اللہ تبارک وتعالٰی: واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک اویخرجوک ویمکرون ویمکر اللہ و اللہ خیر الماکرین‘‘ اے محمدa! اللہ کی اس نعمت کو یاد کیجئے کہ کافر جب آپa کے ساتھ مکر کرتے تھے کہ آپa کو قید کر لیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں وہ اپنی تدبیریں کرتے تھے اور اللہ اپنی تدبیر فرماتا تھا اور اللہ ہی بہترین تدبیر فرمانے والا ہے۔

اور حسب وعدۂ الٰہی ’’و اللہ یعصمک من الناس‘‘ آپa بالکل محفوظ اور مامون رہے اور بجائے اس کے کہ کسی قسم کا حادثہ فاجعہ پیش آتا۔ آپa کی شان وشوکت بلند ہوتی گئی۔ پس آنحضرتa اگر وہ نبی موعود نہ ہوتے تو ضرور قتل کئے جاتے۔ ہاں! حسب زعم نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول ومصلوب ہوئے۔ پس اگر حضرت مسیح بن مریمa کو اس بشارت کا مصداق قرار دیا جائے تو علی زعم النصاریٰ عیاذا ب اللہ ان کا کاذب

383

ہونا لازم آتاہے اور قرآن عزیز میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔

’’کما قال اللہ تعالٰی شانہ: ولولا ان ثبتنک لقد کدت ترکن الیہم شیا قلیلا اذا لا ذقنک ضعفا الحیوۃ وضعف الممات ثم لاتجدلک علینا نصیرا‘‘ اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ قریب تھے کہ ان کی جانب اقل قلیل مائل ہو جاتے۔ اس وقت ہم آپ کو زندگی اور موت کا دوچند عذاب چکھاتے۔ پھر آپ ہمارے مقابلے میں کسی کو مدد گار نہ پاتے۔

دوسری جگہ فرمایا: ’’ولو تقول علینا بعض الا قاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین‘‘ اگر محمدa ہم پر کچھ افتراء کرتے تو ہم ان کا داہنا پکڑ لیتے اور ان کی شہ رگ کو کاٹ دیتے۔

ایک ضروری تنبیہ

قتل نہ ہونا علی الاطلاق صادق ہونے کی دلیل نہیں ورنہ ان انبیاء کرامB کی صداقت کہ جو دشمنوں کے ہاتھ سے قتل کئے گئے زیر تامل ہو گی۔ ’’کما قال اللہ تعالٰی: ویقتلون النّبیین بغیر الحق‘‘ خصوصاً نصاریٰ کو اپنے عقیدہ فاسدہ کی بناء پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صداقت ثابت کرنا بہت دشوار ہو جائے گی۔ بلکہ خاص اسی نبی موعود کا نہ قتل ہونا اس کے صادق ہونے کی علامت ہے۔ جیسا کہ تورات کی اس عبارت سے ظاہر ہے وہ نبی ایسی گستاخی کرے گا۔ وہ قتل کیا جائے گا اور دونوں جملوں میں وہ کی ضمیر خاص اس نبی موعود کی طرف راجع ہے۔

ششم! یہ کہ بشارت میں یہ بھی مصرح ہے کہ اس نبی موعود کے صادق ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کا کہا پورا ہوگا۔ یعنی اس کی تمام پیشین گوئیاں صادق ہوں گی۔ سو الحمدﷲ ثم الحمدﷲ کہ اس صادق مصدوق کی کوئی پیشین گوئی آج تک ذرہ برابر بھی غلط ثابت نہ ہوئی اور ہم پورے دعوے کے ساتھ بہ بانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ قیامت تک بھی کوئی حاسد اس صادق مصدوق کی کسی پیشین گوئی کو غلط ثابت نہیں کرسکتا۔

اور یہ وصف تو آنحضرتa میں ایسا نمایاں اور اجلیٰ تھا کہ آپa کے دشمنوں اور حاسدوں کو بھی بجز صادق امین کہنے کے کوئی چارہ نظر نہ آتا تھا۔

384

ہفتم! یہ کہ کتاب الاعمال باب سوم آیت ہفت دہم کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی منتظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ایلیاn بلکہ تمام انبیاء کرامB کے علاوہ ہے اور آخری نبی ہے۔ اخیر زمانہ میں مبعوث ہوگا اور وہ عبارت یہ ہے۔

’’اب اے بھائیو! میں جانتا ہوں کہ تم نے یہ نادانی سے کیا جیسے تمہارے سرداروں نے بھی۔ پر جن باتوں کی خدا نے اپنے سب نبیوں کی زبان سے آگے سے خبر دی تھی کہ مسیح دکھ اٹھائے گا سو پوری کیں۔ پس توبہ کرو اور متوجہ ہو کر تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ خداوند حضور تازگی بخش ایام لائے اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے جس کی منادی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی۔ ضرور ہے کہ آسمان اسی کے لئے رہے اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آویں۔ کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں سے تمہارے لئے ایک نبی تیری مانند اٹھادے گا جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سنو اور ایسا ہوگا کہ ہر نفس کہ جو اس نبی کی نہ سنے وہ قوم سے نیست کیا جاوے گا۔ بلکہ سب نبیوں نے سموایل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی ہے۔ تم نبیوں کی اولاد اور اس عہد کے ہو جو خدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے۔ جب ابراہام سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پاویں۔‘‘

اس عبارت میں اوّل حضرت مسیحm کی بشارت اور ان کی اس تکلیف کا جو ان کو علی زعم یہود لعنہم اللہ سے پیش آئی ذکر ہے اور ان کے نزول من السماء کا تذکرہ ہے۔ اس کے بعد اس نبی کی بشارت کا ذکر ہے کہ جس کے متعلق حضرت موسیٰm نے بنی اسرائیل سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ خداوند عالم تمہارے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ایک نبی بھیجنے والا ہے اور علاوہ موسیٰm کے تمام نبیوں نے اس نبی موعود کے آنے کی خبر دی ہے اور جب تک یہ وعدہ ظہور میں نہ آئے گا اس وقت تک یہ زمین وآسمان ضرور قائم رہیں گے اور اسی زمانہ میں خدا کا وعدہ بھی پورا ہوگا کہ جو اس ابراہیمm سے کیا تھا کہ تجھ سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پائیں گے۔

385

الحاصل حضرت مسیحm کی بشارت کا ذکر کر کے یہ کہنا (سو پوری کیں) اور جس نبی کی موسیٰ اور ابراہیمn اور تمام انبیاء کرامB نے بشارت دی ہے اس کے انتظار کو ان الفاظ سے ظاہر کرنا کہ: ضرور ہے کہ آسمان اس کے لئے رہے کہ اس وقت کہ سب چیزیں کہ جن کا ذکر کہ خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آئیں۔

اس امر کی صاف دلیل ہے کہ یہ نبی مبشر اور رسول منتظر ان تمام انبیاء ورسلB کے علاوہ ہے کہ جو حضرت موسیٰm سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک گزرے۔ لہٰذا اس بشارت کا مصداق حضرت موسیٰm سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ پس حضرت یوشع، حضرت مسیح بن مریمn کو اس بشارت کا مصداق قرار دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔

ہشتم! یہ کہ انجیل یوحنا باب اوّل آیت انیسویں میں ہے۔ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہنوں اور لادیوں کو بھیجا کہ اس کو پوچھیں کہ تو کون ہے اور اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں۔ تب انہوں نے اس سے پوچھا تو اور کون ہے اور کیا تو الیاس ہے اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ پس آیا تو وہ نبی ہے اس نے جواب دیا نہیں۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کو حضرت مسیح اور ایلیاn کے سوا بھی ایک نبی کا انتظار تھا اور وہ نبی ان کے نزدیک ایسا معروف ومعہود تھا کہ اس کے نام کے ذکر کرنے کی بھی حضرت مسیح اور حضرت ایلیاءn کے نام کی طرح حاجت نہ تھی۔ بلکہ فقط ’’وہ نبی‘‘ کا اشارہ ہی اس کے لئے کافی تھا۔

پس اگر حضرت مسیحm ہی اس بشارت کا مصداق تھے تو پھر ان کو انتظار کس کا تھا۔ وہ نبی جس کا کہ ان کو انتظار تھا وہ ہمارے نبی اکرمa ہیں اور اسی وجہ سے کہ اہل کتاب نبی اکرم سیدنا محمدa کے لئے ’’وہ نبی‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ اس لئے ہمیشہ سے اہل اسلام نبی کریمk کو آنحضرت (جو بعینہٖ وہ نبی کا ترجمہ ہے بولتے ہیں)

نہم! یہ کہ انجیل یوحنا باب ہفتم کی آیت چہلم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی موعود حضرت عیسیٰk کے علاوہ ہے۔ چنانچہ انجیل میں ہے۔

386

تب ان لوگوں میں سے بہتیروں نے یہ سن کر کہا فی الحقیقت یہی وہ نبی ہے۔ اوروں نے کہا یہ مسیح ہے۔ نبی معبود کو حضرت مسیح کے مقابلہ میں ذکر کرنا اس کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہ نبی معہود حضرت عیسیٰk کے علاوہ ہے۔ پس اگر ’’وہ نبی‘‘ سے آنحضرتa مراد نہ ہوں تو وہ پھر کون سا نبی ہے کہ جس کا ان کو انتظار تھا۔

دہم! یہ کہ تورات سفر پیدائش باب:۴۹ میں ہے:

۱… اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا کہ اپنے کو جمع کرو تاکہ میں اس کی جو پچھلے دنوں تم پر بیتے گا تمہیں خبردوں۔

۲… اے یعقوب کے بیٹو! اپنے کو اکٹھے کرو اور سنو اپنے باپ اسرائیل کی سنو اور پھر آیت دہم میں ہے۔ یہوداہ سے ریاست کا عصا جدا نہ ہوگا اور نہ حاکم اس کے پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا جب تک کہ شیلا نہ آوے اور قومیں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔

آیات مسطورہ میں اس امر کی خبر دی گئی ہے کہ جب تک کہ اخیر زمانہ میں شیلا کا ظہور نہ ہو۔ اس وقت تک یہوداہ کی نسل سے حکومت وریاست منقطع نہ ہو گی۔

اہل اسلام کے نزدیک شیلا آنحضرتa کا لقب ہے۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب قرار دیتے ہیں۔ مگر نصاریٰ کا یہ خیال صحیح نہیں۔ اس لئے کہ اس عبارت کا سیاق اس کو مقتضی ہے کہ شیلا کو، نسل یہوداہ سے خارج مانا جائیے۔ اس لئے کہ شیلا کے ظہور سے نسل یہوداہ کی حکومت وریاست کا انقطاع جب ہی متصور ہوسکتا ہے کہ شیلا نسل یہوداہ سے نہ ہو۔ ورنہ اگر شیلا نسل یہوداہ سے ہو تو اس کا ظہور تو بقائے حکومت یہوداہ کا باعث ہوگا نہ کہ انقطاع حکومت یہوداہ کا۔

اور بائبل کے ابواب بلکہ انجیل متی کے پہلے ہی صفحہ پر ذرا غور کرنے سے یہ بات بخوبی منکشف ہوسکتی ہے کہ حضرت عیسیٰk نسل یہوداہ سے خارج نہیں اس لئے کہ آپ حضرت داؤدk کی نسل سے ہیں اور حضرت داؤدk بالاجماع یہوداہ کی نسل سے ہے۔

لہٰذا شیلا کا مصداق وہی نبی ہوسکتا ہے کہ جو نسل یہوداہ سے خارج میں ہو اور اس کا ظہور آخر زمانہ میں ہو۔ جیسا کہ آیت اوّل کے اس جملہ سے ظاہر ہے تاکہ میں اس کی جو پچھلے دنوں میں تم پر بیتے گا تمہیں خبردوں۔

387

اور یہ دونوں امر آنحضرتa ہی پر صادق آسکتے ہیں کہ آپ یہوداہ کی نسل سے بھی نہ تھے بلکہ حضرت اسماعیلm کی نسل سے تھے اور آپa کا ظہور بھی خاتم النّبیین ہونے کی وجہ سے اخیرزمانہ میں ہوا اور آپa کی بعثت کے بعد سے یہوداہ کی نسل میںجو کچھ حکومت وریاست تھی وہ سب جاتی رہی۔ قرائے نبی نضیر اور خیبر سب آپ ہی کے زمانہ میں فتح ہوگئے اور اس جملہ میں کہ: ’’قومیں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔‘‘

عموم بعثت کی طرف اشارہ ہے: ’’کما قال تعالٰی شانہ: قل یاایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمعیا‘‘ اے نبی کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

بخلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ ان کی بعثت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ ’’کما قال تعالٰی شانہ: ورسولاً الٰی بنی اسرائیل‘‘ اور انجیل میں ہے کہ میں صرف بنی اسرائیل کے بھیڑوں کے لئے آیا ہوں۔

خاتم النّبیینa کی ختم نبوت اور ذکر خیر پر مشتمل دوسری بشارت

(از: زبور سیدنا داؤدm باب:۴۵)

۱… میرے دل میں اچھا مضمون جوش مارتا ہے۔ میں ان چیزوں کو جو میں نے بادشاہ کے حق میں بنائی ہیں بیان کرتا ہوں۔ میری زبان ماہر لکھنے والے کا قلم ہے۔

۲… تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطف بٹایا گیا ہے۔ اسی لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا۔

۳… اے پہلوان اپنی تلوار کو جو تیری حشمت اور بزرگواری ہے حمایل کر کے اپنی ران پر لٹکا۔

۴… اور اپنی بزرگواری سے سوار ہو اور سچائی اور ملائمت اور صداقت کے واسطے اقبال مندی کے لئے آگے بڑھ اور تیرا داہنا ہاتھ تجھ کو مہیب کام سکھلائے گا۔

۵… تیرے تیر تیز ہیں۔ لوگ تیرے نیچے گرے پڑے ہیں۔ وہ بادشاہ کے دشمنوں کے دل میں لگ جاتے ہیں۔

388

۶… تیرا تخت اے خدا ابدالاباد رہے۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔

۷… تو صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہے۔ اس سبب سے تیرے سارے لباس سے مراد عود اور رتج کی خوشبو آتی ہے کہ جن سے ہاتھی دانت کے محلول کے درمیان انہوں نے تجھ کو خوش کیا ہے۔

۹… بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والیوں میں ہیں۔ ملکہ اوفیر کے سونے سے آراستہ ہو کے تیرے داہنے ہاتھ کھڑی ہے۔

اور بارھویں آیت میں ہے: ’’اور صور کی بیٹی ہدئیے لاوے گی۔ قوم کے دولتمند تیری خوشامد کریں گے۔‘‘

اور سولہویں آیت میں ہے:

۱۶… تیرے بیٹے باپ دادوں کے قائمقام ہوں گے تو انہیں تمام زمین کا سردار مقرر کرے گا۔

۱۷… میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاد دلاؤں گا اور سارے لوگ ابدالاباد تک تیری ستائش کریں گے۔

اس زبور میں حضرت سیدنا داؤدk ایک عظیم الشان والشوکت رسول کی بشارت دے رہے ہیں اور فرط محبت میں اس کو مخاطب بنا کر اوصاف بیان فرمارہے ہیں اوصاف حسب ذیل ہیں:

۱… بادشاہ یعنی سب سے اعلیٰ اور افضل ہونا۔

۲… حسین ہونا۔

۳… ہونٹوں میں لطف کا ہونا۔ شیریں زبان اور فصیح اللسان ہونا۔

۴… مبارک الیٰ الدہر ہونا۔

۵… پہلوان یعنی قوی ہونا۔

۶… شمشیر بند ہونا۔

۷… صاحب حق وصداقت ہونا۔

۸… اقبال مند ہونا۔

389

۹… اس کے دائیں ہاتھ سے کسی عجیب وغریب کرشمہ کا ظاہر ہونا۔

۱۰… تیرانداز ہونا۔

۱۱… لوگوں کا اس کے نیچے گرے پڑنا یعنی خلق اللہ کا اس کے تابع ہونا۔

۱۲… تخت کا ابدالاباد تک رہنا یعنی شریعت اور حکومت اسلام کا تاقیام قیامت باقی رہنا۔

۱۳… عصائے سلطنت کا عصائے راستی ہونا۔

۱۴… صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہونا۔

۱۵… اس کے کپڑوں سے خوشبو کا آنا۔

۱۶… اس کے گھرانہ میں بادشاہوں کی بیٹیوں کا آنا۔

۱۷… ہدایا اور تحائف کا آنا۔

۱۸… اولاد کا بجائے باپ کے سردار اور حاکم ہونا۔

۱۹… تمام پشتوں میں قرناً بعد قرنٍ اور نسلاً بعد نسلٍ اس کا ذکر باقی رہنا۔

۲۰… ابدالاباد تک لوگوں کا اس کی ستائش کرنا۔

اہل اسلام کے نزدیک اس بشارت کا مصداق نبی اکرم، رسول اعظم، سید الاولین والآخرین محمدa ہیں۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰk کو اس بشارت کا مصداق سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں اس لئے کہ جو اوصاف اس بشارت میں مذکور ہیں۔ وہ صرف نبی اکرمa پر صادق آتے ہیں۔

۱… بادشاہت کا ثبوت آنحضرتa کے لئے شمس فی نصف النہار سے زائد اجلیٰ اور روشن ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے آپa کو دین ودنیا دونوں کی بادشاہی عطاء فرمائی۔ احکام خداوندی کو بادشاہوں کی طرح جاری فرمایا۔ جس طرح نصاریٰ کے زعم میں حضرت عیسیٰk یہود لعنہم اللہ تعالیٰ سے مقہور ومجبور تھے۔ نبی اکرمa مجبور نہ تھے۔ آپ نے تو ان کے حصون وقلاع سے ان کو نکال دیا۔ الحاصل نبی اکرمa دین ودنیا کے بادشاہ تھے۔ تمام انبیاء رسل سے افضل اور برتر تھے۔ نہ کسی رسول کو قرآن کریم جیسی معجز کتاب عطاء کی گئی اور نہ کسی کو آپa جیسی کامل ومکمل شریعت عطاء کی گئی کہ فلاح دارین اور نجات اور بہبودی کی پوری پوری کفیل ہو جس نے عقائد واعمال کی سنگین غلطیوں پر قبضہ کیا ہو۔ خدا تک پہنچنے کے

390

لئے راستہ ایسا صاف کردیا ہو کہ چلنے والوں کے لئے کوئی روڑا اٹکا نہ رکھا ہو۔ تہذیب اخلاق اور تدبیر منزل سیاست ملکیہ اور مدنیہ کے لحاظ سے بھی نہایت کامل ومکمل ہو۔ غرض یہ کہ اس میں جامعیت کبریٰ کا وصف نمایاں ہو۔ ان تمام محاسن اور خوبیوں کا جامع صرف دین اسلام ہے کہ جس کو آنحضرتa خدا کے پاس سے لائے۔

’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔

یہی وہ کامل وممکن دین ہے کہ اس کے طلوع ہوتے ہی سب ادیان ومذاہب کے چراغ گل ہوگئے۔

  1. رات محفل میں ہر اک مہ پارہ گرم لاف تھا

    صبح کو خورشید جو نکلا تو مطلع صاف تھا

پس جس نبی کی کتاب بھی تمام کتب الٰہیہ اور صحف سماویہ سے افضل ہو اور اس کی شریعت تمام شرائع اور ادیان سے بدرجہا برتر اور کامل اور اکمل ہو۔ اس کے معجزات بھی تمام انبیاء کرامB کے معجزات سے بڑھے ہوئے ہوں۔ اس کی امت بھی تمام امتوں سے علم اور عمل، اعتقادات واخلاق، مکارم وشمائل، تہذیب وتمدن، سیاست ملکیہ اور مدنیہ کے لحاظ سے فائق اور برتر ہو۔ اس نبی کے سیدالاولین والآخرین اور بادشاہ دوجہاں ہونے میں کیا کلام اور شبہ ہوسکتا ہے۔

۲… حسن وجمال میں آپ کا یہ حال تھا کہ ابوہریرہq سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ a سے زائد کسی کو حسین اور خوبصورت نہیں دیکھا۔ گویا کہ آفتاب آپa کے چہرۂ مبارک میں گھومتا ہے اور جب تبسم فرماتے تو دندان مبارک کی چمک دیواروں پر پڑتی تھی۔

حسان بن ثابتq فرماتے ہیں:

  1. واحسن منک لم ترقط عینی

    واجمل منک لم تلد النساء

میری آنکھ نے آپa سے زائد حسین نہیں دیکھا اور آپa سے زائد جمیل اور خوبصورت عورتوں نے نہیں جنا۔

  1. خلقت مبرء من کل عیب

    کانک قد خلقت کما تشاء

آپa ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا کہ آپa حسب منشاء پیدا کئے گئے۔

نوٹ: یہاں ایک نظم حسن وجمال مبارک پر درج کی جاتی ہے۔

391

حلیہ مبارک خاتم النّبیینa

جس کا ذکر سابقہ کتب میں بھی موجود تھا

  1. روایت کی امام باصفا نے

    حسن سبط رسول مجتبیٰ نے

  2. کہ ہند بن ابی ہالہ مرا خال

    رسول اللہ کا تھا واصف حال

  3. کیا میں نے سوال اس باخبر سے

    خبر دے حلیہ خیر البشر سے

  4. کہ ہوں مشتاق ان باتوں کا بے حد

    بیان کر کچھ تو حال جد امجد

  5. غرض میری ہے یہ سن کر وہ احوال

    کروں جو ہو سکے اسناد اعمال

  6. کہا قیس ہند نے یوں مجھ سے اس دم

    رسول اللہ تھے فخم مفخم

  7. نگاہوں میں وہ یعنی خوش سیر تھے

    دلوں میں بھی بزرگ و نامور تھے

  8. تجلی روئے انور کی نہ پوچھو

    قمر ہو جس طرح سے چودھویں کو

  9. میانہ کب قد خیرالوریٰ تھا

    میانہ پن سے بھی وہ قد جدا تھا

  10. اگر کوتاہ کہئے تھا نہ کوتاہ

    غرض گم کیفیت نے کی یہاں راہ

  11. قد بالا کاتھا ان کے یہ عالم

    میانہ سے دراز اطوال سے کچھ کم

  12. بزرگی تھی سر عالی میں پیدا

    نہایت حسن و موزونی ہویدا

  13. خم پیچی عیاں بالوں میں کم تھی

    کچھ اک ژولیدگی لیکن بہم تھی

  14. بکھرتے تھے جو فرق پاک پر بال

    دو فرقہ ان کو کر دیتے تھے فی الحال

  15. اگر از خود نہ بال ان کے بکھرتے

    تکلف سے نہ ہر گز فرق کرتے

  16. بحال وفرہ سر کے بال ان کے

    گزرتے نر مہائے گوش سے تھے

  17. درخشانی کا عالم رنگ میں تھا

    کشادہ تھی جبیں عالم آراء

  18. مقوس دونوں ابروئے مقوس

    مقدس دونوں ابروئے مقدس

  19. بانداز منا سب طاق ابرو

    نہ تھی پیوستگی آپس میں ان کو

  20. عجب خمدار و باریک و مطول

    بخوبی طاق تھا ثانی و اوّل

  21. میان ابرواں اک رگ ہویدا

    بہت ہوتی غضب کے وقت پیدا

  22. کہوں کیا حبذا بینی کا عالم

    کہ تھے نوروں کے شعلے جس سے توام

392
  1. معلیٰ بینی خیر البشر تھی

    بانداز بلندی جلوہ گر تھی

  2. جو کوئی بے تامل دیکھتا تھا

    بلندی کا گماں ہوتا تھا پیدا

  3. ملائم آپؐ کے رخسار نیکو

    بھلا تشبیہ دوں میں کس سے اس کو

  4. بزیبائی کشادہ وہ دہن تھا

    کشادہ وہ دہن تھا اور زیبا

  5. کہوں دانتوں کا کیا وہ حسن سادہ

    سپید و صاف آپس میں کشادہ

  6. دقیق المسربۃ یعنی خط مو

    کھنچا سینے سے تھا تاناف گلبو

  7. بوصف گردن شایان معراج

    کہا راوی نے شکل صورت عاج

  8. مصفا یعنی وہ گردن تھی ایسی

    بشکل نقرہ بانور و ضیا تھی

  9. کہوں کیا عضو عضو ان کے بدن کا

    بوضع خود مناسب اور زیبا

  10. بخوبی تھے تناور فخر عالم

    تمامی عضو تن مربوط باہم

  11. شکم سینہ صفائی میں برابر

    مگر سینہ عریض و پہن و خوشتر

  12. فراخی دونوں شانوں میں عیاں تھی

    ہر ہر استخوان میں تھی بزرگی

  13. بدن جو کچھ کھلا پوشاک سے تھا

    درخشندہ وہ نور پاک سے تھا

  14. گلوئے پاک سے تاناف والا

    خط موتھا کھنچا باریک و زیبا

  15. سوا اس کے شکم سینہ سراسر

    معری مو سے تھا صافی برابر

  16. کلائی دونوں شانے اور بازو

    مزین تھے بزیب کثرۃ مو

  17. و ان کے صدر عالی کی بلندی

    خط مو سے رکھے تھی ارجمندی

  18. طویل الزند دونوں دست والا

    کشادہ تھی کف دست مصفا

  19. بزرگی اس کف پا میں عیاں تھی

    نمایاں دونوں قدموں میں بزرگی

  20. کشیدہ تھیں وہ انگشتان والا

    لقب ہے سائل الاطرف جن کا

  21. کف پا میں سمائی تھی یہ خوبی

    کہ رہتی تھی زمین پر سے وہ اونچی

  22. ہوا وارد بوصف پائے اقدس

    کہ تھے پائے مبارک نرم و المس

  23. جدا رہتی زمیں سے یوں کف پا

    کہ پانی اس کے نیچے سے گزرتا

  24. زمین پر جب خراماں آپؐ جاتے

    قدم کو اپنے برکندہ اٹھاتے

  25. انہیں ہوتا خیال مثل پیشیں

    یہ نرمی راہ جاتے سرور دیں

393
  1. ہوا یہ حال بھی وارد بہ اخبار

    کہ جس دم آپؐ جاتے تند رفتار

  2. تو اس دم تھے عیاں یہ صاف معنی

    بلندی سے ہے گویا میل پستی

  3. انہیں جب دیکھنا منظور ہوتا

    نظر کرتے تھے حضرتؐ بے محابا

  4. بہت رہتے تھے آنکھوں کو جھکائے

    نظر یعنی سوئے باطن لگائے

  5. زمین اکثر مشرف تھی نظر سے

    فلک کم بہرہ ور ہوتا بصر سے

  6. تامل سوچ تھا کیا ہی نظر میں

    سمایا تھا لحاظ ان کی بصر میں

  7. بیان کرتا ہے راوی بعد اس کے

    کہ جب ساتھ آپؐ کے اصحابؓ ہوتے

  8. تو یہ ارشاد فرماتے تھے حضرتؐ

    چلو تم مجھ سے آگے کر کے سبقت

  9. عجب اخلاق تھے خیرالوریؐ کے

    کہ ہوں مخدومؐ پیچھے خادم آگے

  10. سنو یہ اور عادت مصطفیؐ کی

    کہ ہوتا جو کوئی ان سے ملاقی

  11. جنابؐ پاک کرتے اس کو خوش گام

    بتقدیم سلام دین اسلام

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہt فرماتی ہیں کہ زنان مصر نے حضرت یوسفm کو دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ اگر وہ ہمارے حبیب محمدa کو دیکھتیں تو دلوں کے ٹکڑے کر ڈالتیں۔

  1. اے زلیخا اس کو نسبت اپنے یوسف سے نہ دے

    اس پہ سر کٹتے ہیں دائم اور اس پر انگلیاں

۳… اور آپa کا خوش بیان اور شیریں زبان اور فصیح اللسان ہونا سب کو تسلیم ہے۔ آپa کے انفاس قدسیہ اور کلمات طیبات اس وقت تک باسانید صحیحہ وجیدہ محفوظ ہیں۔ جن سے آپ کی صفاحت وبلاغت اور شیریں زبانی کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔

۴… اور آپa مبارک الیٰ الدہر بھی ہیں۔ جیسا کہ بشارت دوم میں گزرا۔ مشرق ومغرب، شمال وجنوب میں کروڑہا مسلمان نماز میں اور نماز کے بعد اور مختلف اوقات میں ’’اللہم بارک علی محمد وعلٰی اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلٰی اٰل ابراہیم انک حمید مجید‘‘ اے اللہ برکت نازل فرما محمدa پر اور محمدa کی آل پر جیسے آپ نے ابراہیم(m) اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی۔ بلاشبہ آپ قابل ستائش اور بڑی بزرگی والے ہیں۔

پڑھتے ہیں اس سے زائد اور کیا مبارک الیٰ الدہر ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے۔

394

۵… قوت میں آپ کا یہ حال تھا کہ رکا نہ پہلوان کو جو قوت میں اپنی نظیر نہ رکھتا تھا۔ ایک روز آنحضرتa سے جنگل میں مل گیا اور یہ کہا کہ آپa مجھ کو پچھاڑ دیں تو میں آپa کو نبی برحق جانوں۔ آنحضرتa نے اس کو پچھاڑ دیا۔ اس نے دوبارہ لڑنے کے لئے کہا۔ آپa نے اس کو دوبارہ بھی پچھاڑ دیا۔ اس کو بہت تعجب ہوا۔ آپa نے یہ ارشاد فرمایا: اگر تو اللہ سے ڈرے اور میرا اتباع کرے تو اس سے زائد عجیب چیز دکھلاؤں۔ اس نے پوچھا اس سے زائد کیا عجیب ہے۔ آپa نے ایک درخت کو بلایا۔ آپa کے بلاتے ہی آپa کے سامنے آکھڑا ہوگیا۔ بعدازاں یہ فرمایا کہ لوٹ جا، سو وہ درخت یہ سن کر اپنی جگہ لوٹ گیا۔

۶… اور آپa کا شمشیر بند اور صاحب جہاد ہونا بھی مسلم ہے اور حضرت عیسیٰk نہ شمشیر بند تھے اور نہ صاحب جہاد اور بقول نصاریٰ ان میں اتنی قوت بھی نہ تھی کہ وہ اپنے کو یہود سے بچاسکے۔

۷… اور آپa صاحب حق وصداقت بھی تھے۔ ’’کما قال تعالٰی شانہ: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون بل جاء بالحق وصدق المرسلین‘‘ خدا ہی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے۔ تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو ناگوار گزرے۔ آنحضرتa شاعر ومجنوں نہیں بلکہ حق کو لے کر آئے ہیں اور پیغمبروں کی تصدیق کی ہے۔

’’والذی جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ہم المتقون (زمر)‘‘ {اور جو سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔}

ایک مرتبہ نضربن الحارث نے قریش کو مخاطب بناکر یہ کہا: ’’قد کان محمد فیکم غلاما حدثا ارضاکم فیکم واصدقکم حدیثا واعظمکم امانۃ حتی اذا رایتم فی صدغیہ الشیب وجاء کم ماجاء کم قلتم انہ ساحرلا و اللہ ماہو بساحر‘‘ محمدa تم میں نوجوان تھے سب سے زائد پسندیدہ سب سے زائد سچے سب سے زائد امین۔ لیکن جب تم نے ان کے جانبین رأس میں بڑھاپا دیکھا اور وہ تمہارے پاس یہ دین حق لے کر آئے تو تم ان کو ساحر اور جادوگر کہنے لگے ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم وہ ساحر نہیں۔

395

اور ہر قل شاہ روم نے جب ابوسفیان سے نبی کریمa کے متعلق یہ دریافت کیا کہ کیا تم نے کبھی اس کو متہم بالکذب کیا ہے تو اس پر ابوسفیان نے یہ جواب دیا کہ ہم نے ان سے کبھی کوئی کذب نہیں دیکھا۔

۸… اور اقبال مند ہونا بھی ظاہر ہے اس لئے کہ حق تعالیٰ شانہ نے جیسا آپa کو اقبال عطاء فرمایا ایسا اقبال آج تک کسی کو نصیب نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔

۹… اور دائیں ہاتھ سے مہیب کام اور عجیب وغریب کرشمہ ظاہر ہونے، معجزۂ شق قمر کی طرف اشارہ ہے۔

  1. چودستش بر آ ہیخت شمشیر بیم

    بہ معجز میان قمر زود و بیم

اور علیٰ ہذا جنگ بدر اور جنگ حنین میں ایک مٹھی خاک سے تمام مشرکین کو خیرہ کر دینا یہ بھی آپa کے دائیں ہاتھ کا مہیب کام تھا۔

۱۰… تیرانداز ہونا بنی اسماعیل کا مشہور شعار ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے: ’’ارموا بنی اسمعیل فان اباکم کان رامیا‘‘ اے بنی اسماعیل تیراندازی کیا کرو اس لئے کہ تمہارا باپ تیر انداز تھا۔

اور دوسری حدیث میں ہے: ’’من تعلم الرمیی ثم ترکہ فلیس منا‘‘ جو تیراندازی سیکھ کر چھوڑ دے۔ وہ ہم میں سے نہیں۔

۱۱… اور لوگوں کا آپa کے نیچے گرنا یعنی خلق اللہ کا آپ کے تابع ہونا یہ بھی اظہر من الشمس ہے۔ چند ہی روز میں ہزاروں ہزار اسلام کے حلقہ بگوش بن گئے۔ ’’کما قال اللہ تعالٰی شانہ: اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔ فسبح بحمد ربک استغفر انہ کان توابا‘‘ {جب اللہ کی نصرت اور فتح آچکی اور آپa نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق درجوق داخل ہوتے دیکھ لیا تو اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیجئے اور استغفار پڑھئے۔ بے شک خدا بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔}

۱۲،۱۳… اور آپa کی شریعت ابدالآباد تک رہے گی۔ چنانچہ قرآن کریم حسب وعدۂ الٰہی ’’ان نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ {بے شک ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔}

396

تیرہ صدی سے بالکل محفوظ چلا آتا ہے۔ بحمد اللہ ! اب تک اس کے ایک نقطہ اور ایک شوشہ میں بھی سر موتفاوت نہیں آیا اور ان شاء اللہ تعالیٰ تاقیام قیامت اسی طرح رہے گا اور یہود ونصاریٰ کو اپنی تورات وانجیل کا حال خوب معلوم ہے۔ لکھنے کی حاجت نہیں اور آپa کی سلطنت کا عصا راستی اور صداقت کا عصا ہے۔ ہمیشہ اس سے احقاق حق اور ابطال باطل ہوتا رہتا ہے۔

۱۴… اور آپa صداقت کے دوست اور شرارت کے دشمن تھے۔ ’’کما قال اللہ جل جلالہ: لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم‘‘ {بے شک تمہارے پاس تم میں سے ایسے رسول آگئے ہیں کہ جن پر تمہاری تکلیف شاق ہے۔ تمہاری بھلائی کے لئے حریص ہیں۔ مومنین پر نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔}

’’یا ایہا النبی جاہد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم‘‘ {اے نبی کریم کفار ومنافقین سے جنگ کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور آپa کی امت کے یہ اوصاف ہیں۔}

’’اشدّآء علی الکفار رحماء بینہم ازلّۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکافرین یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم‘‘ {کافروں پر بہت سخت اور آپس میں بہت مہربان مؤمنوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔ اللہ کے راستہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی بالکل پروا نہ کریں گے۔}

اور عجب نہیں کہ شرارت سے ابوجہل مراد ہو کہ جو سرتاپا شرارت تھا اور صداقت سے ابوبکر صدیقq مراد ہوں جو سرتاپا صدق وصداقت تھے اور بے شک ابوبکرصدیقq اس کے اہل تھے کہ ان کو خلیل وصدیق یعنی دوست بنایا جائے۔

۱۵… اور آپa کے کپڑوں سے خوشبو بھی آیا کرتی تھی۔ حتیٰ کہ ایک عورت نے آپa کو پسینہ مبارک اس لئے جمع کیا تاکہ دلہن کے کپڑوں کو اس سے معطر کرے۔

۱۶… اور قرن اوّل میں بہت سی شہزادیاں مسلمانوں کی خادم بنی ہیں۔ چنانچہ شہربانو یزد جرد شاہ کسریٰ کی بیٹی امام حسنq کے گھر میں تھی۔

397

۱۷… نجاشی شاہ حبشہ اور منذر بن ساوی شاہ بحرین اور شاہ عمان اور بہت سے امیر وکبیر آپa پر ایمان لائے اور آپa کے حلقہ بگوش بنے اور آپa کی خدمت میں سلاطین وامراء نے ہدایا بھیج کر فخر وسرفرازی حاصل کی۔ چنانچہ مقوقس شاہ قبط نے آپa کی خدمت میں تین باندیاں اور ایک حبشی غلام اور ایک سفید خچر اور ایک سفید حمار اور ایک گھوڑا اور کچھ کپڑے بطور ہدیہ ارسال کئے۔

۱۸… اور آپa کے بعد قریش میں خلافت رہی۔ آپa کی اولاد میں امام حسنq ہوئے اور امام حسنq کی اولاد میں صدہا خلیفہ اور حکمراں ہوئے۔ حجاز ویمن، مصر وشام وغیرہ وغیرہ میں حکومت وسلطنت پر فائز رہے اور قیامت کے قریب امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہوگا۔ جو امام حسنq کی اولاد سے ہوں گے اور تمام روئے زمین کے خلیفہ ہوں گے۔

۱۹،۲۰… اور آپa کی ستائش وذکر خیر بھی ابدالآباد تک رہے گا۔ ہر اذان میں: ’’اشہد ان لا الہ الا اللہ ‘‘ کے ساتھ بلند آواز سے ’’اشہد ان محمد رسول اللہ ‘‘ روزانہ پانچ مرتبہ کروڑہا مسلمان پکارتے ہیں۔ کوئی وعظ اور خطبہ ایسا نہیں کہ جس میں آپa کا نام پاک محمدa نہ لیا جاتا ہو۔ محمدa اور احمد کے معنی ستودہ کے ہیں۔ اس بشارت کے شروع میں یا احمد کا لفظ صراحتاً مذکور تھا۔ مگر حسد کی وجہ سے نکا دیا گیا۔ مگر تاہم یہ اوصاف تو سوائے محمدa کے کسی پر صادق نہیں آتے۔

نصاریٰ کے زعم واعتقاد پر تو حضرت مسیح بن مریمk کسی طرح اس بشارت کا مصداق نہیں ہوسکتے۔ اس لئے کہ نصاریٰ صحیفہ یسعیاہm کے ترنپویں باب کو مسیحm کی بشارت قرار دیتے ہیں اور وہ یہ ہے: ’’ہمارے پیغام پر کون اعتقاد لایا اور خداوند کا ہاتھ کس پر ظاہر ہوا۔ اس کے ڈیل وڈول کی کچھ خوبی نہ تھی اور نہ کچھ رونق کہ ہم اس پر نگاہ کریں اور کوئی نمائش بھی نہیں کہ ہم اس کے مشتاق ہوں وہ آدمیوں میں نہایت ذلیل وحقیر تھا اور پھر آیت پنجم میں ہے۔‘‘

’’وہ ہمارے گناہوں کے سبب گھائل کیاگیا اور ہماری بدکاریوں کے باعث کچلا گیا۔‘‘

398

معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! جب نصاریٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے تھے تو وہ اوصاف زبور کا جو بالکل اس کی ضد ہیں کیسے مصداق ہوسکتے ہیں۔

ہمارے اعتقاد میں منجملہ دیگر تحریفات کے صحیفہ یسعیاہm کا ترنپواں باب قطعاً ویقینا الحاقی اور اختراعی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حاشاثم حاشا ہرگز ایسے نہ تھے۔ وہ تو دنیا اور آخرت میں وجیہ (آبرو اور عزت والے) اور خدا کے مقربین میں سے تھے۔ لیکن باایں ہمہ اس بشارت کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں اس لئے کہ نہ آپ شمشیر بند اور تیرانداز تھے اور نہ مجاہد اور نہ آپ کی شریعت دائمی ہے اور نہ آپ کی بعثت عام اور نہ آپ کے گھرانہ میں کوئی شہزادی آئی کہ جو آپ کی بیوی یا لونڈی ہوتی اس لئے کہ آپ نے کوئی نکاح نہیں فرمایا۔ نیز آپ کے کوئی باپ دادا نہ تھا۔ آپ تو بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ ’’و اللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم‘‘

حضرت ملا کی، حبقوق، یسعیاہ، عیسیٰo کی

خاتم النّبیینa کے متعلق بشارتیں

بشارت سوم

(از: صحیفہ ملا کیk باب:سوم، آیت:اوّل)

دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجوں گا اور وہ میرے آگے میری راہ کو درست کرے گا اور وہ خداوند جس کی تلاش میں تم ہو۔ ہاں! ختنہ کا رسول جس سے تم خوش ہو وہ اپی ہیکل میں ناگہاں آوے گا۔ دیکھو وہ یقینا آوے گا۔ رب الافواج فرماتا ہے پر اس کے آنے کے دن کون ٹھہرسکے گا اور جب وہ نمود ہوگا کون ہے، جو کھڑا رہے گا۔

اس بشارت میں ایسے رسول کی آمد وظہور کا ذکر ہے کہ صاحب ختان ہوگا اور اسی وجہ سے آپa کی بعثت سے قبل یہودونصاریٰ کو رسول الختان کا انتظار تھا۔ مگر آج کل نسخوں میں بجائے ختنہ کے عہد کا رسول مذکور ہے۔

لیکن اس صورت میں بھی عہد سے ختنہ ہی کا عہد مراد ہے۔ جیسا کہ سفر پیدائش کے باب ہفدہم کی آیت دہم سے معلوم ہوتاہے۔

399

اور میرا عہد جو میرے اور تمہارے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے جسے تم یاد رکھو سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جائے اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کرو اور یہ اس عہد کا نشان ہوگا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔

بشارت چہارم

(از: صحیفہ حبقوقk، باب:۳، آیت:۳)

’’خدا تیمان سے اور وہ جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا۔ اس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی۔‘‘

یہ بشارت سرور عالمa کے حق میں نہایت ہی ظاہر ہے۔ سوائے آنحضرتa کے اور کون پیغمبر فاران سے مبعوث ہوا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی۔ چنانچہ ہر دوست اور دشمن کی زبان پر آپa کا نام محمدa اور احمدa ہے اور ایک قدیم عربی نسخہ میں یہ لفظ ہیں: ’’وامتلات الارض من تحمید احمدa‘‘ یعنی تمام زمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیa کی حمد سے بھر گئی۔

مگر حاسدین نے اس جملہ کا رہنا گوارا نہ کیا اور بعد کی اشاعت میں اس جملہ کو صحیفہ مذکور سے علیحدہ کر دیا۔

بشارت پنجم

(از:صحیفہ یسعیاہm، باب:۲۸، آیت:۱۳)

’’سو خداوند کا کلام ان سے یہ ہوگا حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔‘‘

چنانچہ قرآن عزیز اسی طرح نجماً نجماً نازل ہوا اور تمام عالم کے لئے دستور اور قانون بنا اور اسی قانون اور دستور سے قیصروکسریٰ کا تختہ الٹا گیا اور اسی قرآن اور حدیث سے مسلمان روئے زمین پر حکومت کرتے رہے۔ رہی انجیل سو وہ علماء مسیحین کے نزدیک منزل من اللہ ہی نہیں بلکہ وہ حواریین کی تصنیف ہے اور صحیفہ مذکور کی عبارت سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کتاب موصوف کا منزل من اللہ ہونا ضروری ہے۔

400

اور ہمارے نزدیک جو انجیل حضرت عیسیٰk کو دی گئی وہ تمام کتاب ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی۔ قرآن کریم کی طرح نجماً نجماً نازل نہیں ہوئی۔ ’’قال تعالٰی شانہ: وقرآنا فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزلناہ تنزیلا وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملۃ واحدۃ کذلک لنثبت بہ فؤادک ورتلناہ ترتیلا‘‘ قرآن کو ہم نے متفرق کر کے نازل کیا تاکہ آپa لوگوں کے سامنے ٹھہرٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل کیا۔

کافر کہتے ہیں کہ قرآن ایک ہی بار کیوں نہ نازل کیاگیا۔ کہہ دو کہ ہم نے اسی طرح نازل کیا تاکہ آپa کے دل کو مضبوط رکھیں۔ اس لئے ہم نے ٹھہر ٹھہر پڑھ سنایا۔

بشارت ششم

(از: صحیفہ یسعیاہk، باب:۴۲، آیت:اوّل)

دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالتا میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے۔ میں نے اپنی روح اس پر رکھی۔ وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرائے گا۔

یہ بشارت بھی نبی کریمk کے لئے صریح ہے۔ اس لئے کہ میرا بندہ یہ ترجمہ عبد اللہ کا ہے اور عبد اللہ بھی آپa کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسا کہ قرآن عزیز میں ہے: ’’لما قام عبد اللہ ‘‘ جب عبد اللہ کھڑا ہوا۔

اور قرآن عزیز میں بکثرت عبد اللہ کے لقب سے آپa کا ذکر کیاگیا ہے۔

’’کما قال تعالٰی: سبحن الذی اسریٰ بعبدہ وقال تعالٰی: مما نزلنا علی عبدنا‘‘ {پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو لے گیا اس چیز سے جو ہ نے اپنے بندے پر اتاری۔}

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نصاریٰ کے اعتقاد میں خدا کے بندے نہیں بلکہ خدا اور معبود ہیں۔ لہٰذا وہ اس کے مصداق نہیں ہوسکتے اور برگزیدہ بعینہٖ ترجمہ مصطفی کا ہے کہ جو آنحضرتa کا مشہورومعروف نام ہے اور جس سے میرا جی راضی ہے۔ یہ ترجمہ مرتضیٰ کا ہے کہ جو آنحضرتa کا ایک نام پاک ہے۔

401

اور بزعم نصاریٰ اس جملہ کا مصداق یعنی جس سے میرا جی راضی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہوسکتے۔ اس لئے کہ وہ ان کے زعم میں مصلوب ومقتول ہوئے اور جو مقتول ومصلوب ہو جائے وہ نصاریٰ کے نزدیک ملعون ہے۔ جیسا کہ گیتوں کے تیسرے خط کے تیرھویں درس سے معلوم ہوتا ہے۔

مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔

اس عبارت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے نصاریٰ کے اس زعم باطل کی بناء پر معاذ اللہ خدا ان سے راضی نہیں۔

الحاصل محمد مصطفی، احمد مرتضیٰa بے شبہ خدا کے برگزیدہ بندہ اور رسول ہیں جن سے خدا راضی ہے اور کتب سیر میں آپa کے اسماء مبارکہ میں آپ کا ایک نام نامی مرتضیٰ اور رضی بھی لکھا ہے اور اسی وجہ سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپa کے صحابہ کرامi کا خاص شعار ہے۔ ’’کما قال تعالٰی شانہ: لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم رکعا سجدا یبتغون فضلا من اللہ ورضو انا سیماہم فی وجوہہم من اثر السجود ذلک مثلہم فی التوراۃ‘‘ البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ مومنین سے راضی ہوا جب کہ وہ اس درخت کے نیچے آپa سے بیعت کر رہے تھے۔ محمدa اللہ کے رسول ہیں اور جو آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں مہربان ہیں۔ آپ ان کو رکوع وسجود کرتے اللہ کا فضل اور اللہ کی رضا طلب کرتے دیکھیں گے۔ صلاح اور تقویٰ کی نشانی ان کے چہروں پر سجدہ کے اثر سے نمایاں ہے۔ یہ ہے ان کی شان کہ جو توراۃ میں مذکور ہے۔

اور روح سے مراد وحی الٰہی ہے کہ جس پر ارواح وقلوب کی حیات کا دارومدار ہے۔ ’’کما قال تعالٰی شانہ: وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا‘‘ اسی طرح ہم نے آپa کی طرف وحی بھیجی اپنے حکم سے۔

سو الحمدﷲ کہ حق تعالیٰ شانہ نے آپa پر مردہ قلوب کی حیات اور زندگی کے لئے ایک روح یعنی قرآن عظیم کو اتارا جس نے نازل ہوکر مردہ قلوب کو حیات اور بے شمار

402

مریض دلوں کی شفا بخشی۔ ’’کما قال تعالٰی شانہ: وننزل من القراٰن ماہو شفاء ورحمۃ للمؤمنین‘‘ اور اتارتے ہیں ہم ایسا قرآن کو جو مومنین کے لئے سراسر شفاء اور رحمت ہے۔

اور مبعوث ہوکر آپa نے باذن الٰہی عدالت کو بھی جاری فرمایا۔ ’’کما قال اللہ جل جلالہ وعم نوالہ: فلذلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اہوآء ہم وقل آمنت بما انزل اللہ من کتاب وامرت لاعدل بینکم (شوریٰ)‘‘ {پس اسی طرف بلائیے اور اسی پر قائم رہئے جیسا کہ آپa کو حکم کیاگیا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ فرمائیے اور یہ کہئے کہ میں ایمان لایا اللہ کی اتاری ہوئی کتاب پر اور حکم کیاگیا ہوں کہ تمہارے درمیان عدل وانصاف کروں۔}

اور چونکہ عدالت کا جاری کرنا شوکت کو مقتضی ہے۔ اس لئے یہ وصف بھی علی زعم النصاریٰ حضرت عیسیٰk پر صادق نہیں۔ اس لئے کہ نصاریٰ کے نزدیک تو حضرت عیسیٰk میں تو اتنی قوت بھی نہ تھی کہ جو اپنے کو قتل وصلب سے بچا سکتے۔ شوکت تودرکنار۔

پھر باب مذکور کی دوسری آیت میں ہے کہ وہ نہ چلائے گا اور اپنی صدا بلند نہ کرے گا اور اپنی آواز بازاروں میں نہ سنائے گا۔

یہ جملہ بھی نبی کریمa پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری کے باب کراہیۃ الضخب فی الاسواق میں عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ میں نے عبد اللہ ابن عمروبن العاصq سے مل کر یہ دریافت کیا کہ رسول اللہ a کے وہ اوصاف جو توریت میں مذکور ہیں بیان فرمائیے۔ جواب میں عبد اللہ بن عمرو بن العاصq نے بہت سے اوصاف ذکر فرمائے۔ منجملہ ان کے یہ فرمایا: ’’لیس بفظ ولا غلیظ ولاسخاب بالاسواق‘‘ {وہ نبی نہ بدخواہ اور نہ سنگ دل ہوگا اور نہ بازاروں میں شور کرنے والا۔}

اور باب مذکور کی تیسری آیت میں ہے: ’’وہ عدالت کو جاری کرائے گا کہ دائم رہے۔‘‘

اس سے آنحضرتa کی شریعت غرّٰا کا الیٰ یوم القیامت باقی رہنا مراد ہے۔ جس طرح آنحضرتa کی شریعت اب تک برابر محفوظ ہے اور ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ

403

ہمیشہ رہے گی۔ کوئی امت اس بارہ میں امت محمدیہ کی ہمسری نہیں کر سکتی۔ کسی امت نے بھی اپنے نبی کی شریعت اور اس نبی کے اقوال وافعال کی حفاظت امت محمدیہ کے مقابلہ میں عشرعشیر بھی نہیں کی اور شریعت کے دائم ہونے سے خاتم الانبیاء ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اس لئے کہ شریعت کا دوام اور ’’بقا الٰی یوم القیامۃ‘‘ جب ہی ہوسکتا ہے کہ اس نبی کے بعد اور کوئی نبی نہ بنایا جائے۔ ورنہ اگر اس کے بعد کوئی اور نبی بنایا جائے تو شریعت سابقہ شریعت لاحقہ سے منسوخ ہوجانے کی وجہ سے دائمی نہ رہے گی۔

اور چوتھی آیت میں ہے: ’’اس کا زوال نہ ہوگا اور نہ مسلا جائے گا۔ جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرلے۔‘‘

چنانچہ نبی اکرمa کا وصال جب ہوا کہ:’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘ {آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا اور میں نے اسلام کو تمہارے دین بننے کے لئے پسند کیا۔}

کی بشارت نازل ہوگئی اور ’’انا فتحنا لک فتحاً مبینا‘‘ اور ’’اذا جاء نصر اللہ والفتح‘‘ {بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی۔ جب خدا کی مدد اور فتح آپہنچی۔}

کا وعدہ پورا ہوگیا اور عجب نہیں کہ راستی قائم کرنے سے خلافت صدیقیہ کی جانب اشارہ ہو۔ جیسا کہ بعض علماء کی رائے ہے۔ اس لئے کہ راستی ترجمہ صدق کا ہے اور صدق کا اطلاق صدیق پر ایسا ہی ہے جیسا کہ عدل کا اطلاق زید پر۔ چنانچہ نبی کریمa نے مرض الوفات میں صدیق اکبرq کو امام بناکر اس طرف اشارہ فرمادیا کہ میرے بعد صدیق اکبرq خلیفہ ہونے چاہئیں تاکہ صدق اور راستی قائم ہو اور چھٹی آیت میں ہے: ’’اور تیری حفاظت کروں گا۔‘‘

یہ جملہ بھی سوائے آنحضرتa کے کسی اور پر صادق نہیں آتا۔ اس لئے کہ اللہ نے آپa سے وعدہ فرمایا تھا:’’و اللہ یعصمک من الناس‘‘ اللہ آپa کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ چنانچہ یہ وعدہ اللہ کا پورا ہوا۔

404

ہاں! بزعم نصاریٰ عیسیٰk کی حفاظت نہیں ہوئی اور پھر چھٹی آیت میں جو نور کا ذکر ہے اس سے نور ہدایت اور نور شریعت مراد ہے۔ جیسا کہ قرآن عزیز میں متعدد جگہ اس کا ذکر ہے۔ ’’یاایہا الناس قد جاء کم برہان من ربکم وانزلنا الیکم نورا مبینا (نساء)‘‘ {اے لوگو! بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک برہان آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک نور (قرآن کریم) نازل کیا۔}

’’فالذین اٰمنوا بہ وعزّروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون (الاعراف)‘‘ {پس جو لوگ آپa پر ایمان لائے اور آپa کی مدد کی اور اسی نور کا اتباع کیا کہ جو آپa کے ساتھ نازل کیاگیا۔ یہی لوگ فلاح والے ہیں۔}

’’یایہا النبی انا ارسلناک شاہداً ومبشراً ونذیراً وداعیا الٰی اللہ باذنہ وسراجاً منیرا (الاحزاب)‘‘ {اے نبی ہم نے تمہیں بشارت دینے والا اور ڈرانے والا خدا کی طرف خدا کے حکم سے بلانے والا اور ہدایت کا روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔}

’’یریدون لیطفوأ نورا اللہ بافواہم و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (صف)‘‘ {کافر اپنے مونہوں کی پھونک سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اللہ اپنے نور کو ضرور پورا فرمائیں گے۔ اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو۔}

اور آیت ہشتم میں ہے: ’’اور اپنی شوکت دوسرے کو نہ دوں گا۔‘‘

یہ جملہ بھی حرف بحرف آنحضرتa کے ارشاد کے مطابق ہے۔ ’’اعطیت مال یعط احد من الانبیاء قبلی‘‘ {مجھ کو منجانب اللہ وہ چیزیں عطاء کی گئیں کہ جو انبیاء سابقین میں سے کسی کو نہیں دی گئیں۔}

مثلاً ختم نبوت ورسالت، عموم بعثت ودعوت، مقام محمود، شفاعت کبریٰ، معراج سبع سموات ان فضائل ومزایا سے سوائے نبی اکرمa کے اور کسی نبی کو سرفراز نہیں کیاگیا۔

اور اسی طرح حق تعالیٰ شانہ نے آپa کو وہ آیات بینات محاسن اخلاق فضال وشمائل، علوم ومعارف عطاء فرمائے کہ جو کسی نبی اور رسول کو نہیں عطاء فرمائے۔ خصوصاً

405

قرآن حکیم کا معجزہ تو ایسا روشن معجزہ ہے کہ جس کے سامنے موافق ومخالف سب ہی کی گردنیں خم ہیں۔

’’ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء و اللہ ذوالفضل العظیم‘‘ {یہ خدا کا فضل ہے۔ وہ فضل جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔}

اور گیارھویں آیت میں ہے: ’’بیابان اور اس کی بستیاں قیدار کے آباد دیہات اپنی آواز بلند کریں گے۔ سلع کے بسنے والے ایک گیت گائیں گے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں گے۔ وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں گے۔‘‘

قیدار حضرت اسماعیلm کے ایک صاحبزادہ کا نام ہے اور اس بیابان سے فاران کا بیابان مراد ہے۔ جہاں حضرت ابراہیمm، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیلm کو چھوڑ آئے تھے۔ جیسا کہ کتاب پیدائش کے اکیسویں باب کی اکیسویں آیت سے ظاہر ہے اور یہ وہی جگہ ہے کہ جہاں اس وقت مکہ معظمہ آباد ہے۔ اسی جگہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیلm مقیم رہے اور ان کے بعد ان کی اولاد بھی یہیں مقیم رہی۔ الحاصل اس جملہ میں آپa کے مولد یعنی جائے ولادت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی آنحضرتa مکہ معظمہ میں پیدا ہوں گے اور آپa کی امت اس بیابان میں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ اور ’’ اللہ اکبر‘‘ اور ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کے نعروں سے اللہ کے جلال کو ظاہر کرے گی۔

اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ نبی مبشر قیدار بن اسماعیل کی اولاد سے ہوگا۔ لہٰذا اس بشارت کا مصداق انبیاء بنی اسرائیل میں سے کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ وہ سب حضرت اسرائیل کی اولاد سے ہیں۔ نہ کہ قیدار بن اسماعیل کی اولاد سے اور سلع مدینہ طیبہ کے ایک پہاڑ کا نام ہے۔ اس سے آنحضرتa کے مقام ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ و اللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم!

بشارت ہفتم

(از: انجیل متی باب:۲۱، آیت:۴۲)

’’یسوع نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔ یہ خدا کی طرف سے ہیں اور ہماری نظروں میں

406

عجیب اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کے میوہ لاوے، دی جائے گی جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا۔ پر جس پر وہ گرے اسے پیس ڈالے گا۔‘‘

راج گیر اور معماروں سے بنی اسرائیل مراد ہیں اور کونے کے پتھر سے ہمارے نبی اکرم خاتم النّبیین محمد مصطفیa ہیں۔ کیونکہ آپa بنی اسرائیل کی نظر میں ایک ناپسند پتھر کے مشابہ تھے۔ بنی اسرائیل نے ہر چند آپa کو رد کرنا چاہا۔ مگر آپa تائید الٰہی سے کونے کا سرا یعنی خاتم النّبیین ہوکر رہے۔

’’کماروی ابوہریرۃq ان رسول اللہ a قال ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ واجملہ الاموضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ہلّا وضعت ہذہ اللبنۃ وانا خاتم النبیین (رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء وفی روایۃ انا سددت موضع اللبنۃ وختم بی البنیان وختم بی الرسل)‘‘ {آنحضرتa نے فرمایا میری اور انبیاء سابقین کی ایسی مثال ہے کہ کسی نے ایک محل نہایت عمدہ تیار کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس محل کا چکر لگاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ کیوں چھوڑ دی گئی۔ میں ہی خاتم النّبیین ہوں یعنی میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا ہے اور میرے ہی سے یہ تعمیر ختم ہوئی اور مجھ ہی پر انبیاء ورسل کا سلسلہ ختم ہوا۔}

پھر آپa پر جو گرا وہ بھی چورچور ہوا اور جس پر آپa گرے وہ چورچور ہوا۔ چنانچہ جنگ بدر میں قریش آپa پر گرے اور وہ خدا کے فضل سے چورچور ہوئے اور فتح مکہ کے وقت آپa ان پر گرے تب بھی وہی چورچور ہوئے اور آپa کے بعد صحابہ کرامi ایران، شام، روم وغیرہ وغیرہ پر گرے اور سب کو چور کیا اور پھل اور میوہ لانے والی قوم بنی اسماعیل ہیں کہ آنحضرتa کی تربیت سے پھل لائی اور حکومت اور سلطنت کے مالک ہوئے اور یہ آسمانی بادشاہت ان کے حصہ میں آئی۔

لہٰذا اس بشارت کا مصداق بجز خاتم النّبیین سید الاولین والآخرین محمدa کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ رہے حضرت عیسیٰk سو وہ خاص حضرت داؤدk کی نسل سے تھے۔ بنی اسرائیل میں بہت محترم تھے۔ وہ ناپسند پتھر کے کیسے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ خاتم

407

النّبیین نہیں جیسا کہ ماسبق میں معلوم ہوچکا ہے کہ اہل کتاب علاوہ عیسیٰ علیہ السلام کے ایک اور نبی کے منتظر تھے۔ نیز ماسبق میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ جب یحییٰm مبعوث ہوئے تو یہودیوں نے ان سے دریافت کیا۔

سوم! یہ کہ حضرت مسیح خود تو کبھی کسی پر نہ گرے اور یہود جب ان پر گرے تو بقول نصاریٰ حضرت مسیح چورچور ہوئے۔ و اللہ اعلم!

بشارت ہشتم

(از: انجیل یوحنا باب:۱۴، آیت:۱۶)

۱۶… میں باپ سے درخواست کروں گا کہ وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔

۲۶… وہ تسلی دینے والا جو روح القدس ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھلادے گا اور سب باتیں جو کچھ کہ میں نے تمہیں کہی ہیں یاد دلائے گا۔

۲۹… اور اب میں نے تمہیں اس کے واقع ہونے سے پیشتر کہا تاکہ جب وہ وقوع میں آئے تو تم ایمان لاؤ۔

۳۰… بعد اس کے میں تم سے بہت کلام نہ کروں گا۔ اس لئے کہ اس جہاں کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں اور باب:۱۵ میں ہے۔ آیت:۲۷ وہ (یعنی روح حق) میرے لئے گواہی دے گا اور باب:۱۶، آیت:۷ میں ہے۔

۷… میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا تمہارے پاس نہ آئے گا۔ پر

۸… اگر میں جاؤں تو میں اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا وہ آن کر دنیا کو۔

۱۰… گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر دار ٹھہرائے گا گناہ سے اس لئے کہ دے۔

۱۱… مجھ پر ایمان نہیں لائے راستی سے اس لئے کہ میں اپنے باپ کے پاس جاتا ہوں۔

۱۲… اور تم مجھ کو پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت سے اس لئے کہ اس جہاں کے سردار پر حکم کیاگیا ہے۔ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں اب کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔

408

۱۳… لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتادے گی۔ اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی۔ لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبر دے گی۔ وہ میری بزرگی کرے گی۔

اصل بشارت میں لفظ احمد موجود تھا۔ ’’کما قال تعالٰی: واذ قال عیسٰی ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ اس وقت کو یاد کرو کہ جب عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور بشارت دینے والا ہوں۔ ایسے رسول کی جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام نامی احمد ہے۔

اور جیسا کہ انجیل برنباس میں اب بھی موجود اور مصرح ہے۔ لیکن جب انجیل کا اصل عبرانی زبان سے یونانی زبان میں ترجمہ ہوا تو یونانیوں نے اپنی اس عادت کی بناء پر کہ وہ ترجمہ کرتے وقت ناموں کا بھی ترجمہ کر دیتے تھے۔ آنحضرتa کے نام مبارک احمد کا ترجمہ بھی ’’پیرکلی طوس‘‘ سے کردیا اور پھر جب یونانی نسخہ کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا تو ’’پیر کلی طوس‘‘ کا معرب فارقلیط کرلیاگیا۔

ایک عرصہ تک اردو نسخوں میں ’’فارقلیط‘‘ کا لفظ رہا اس کے بعد اس کا ترجمہ بھی روح القدس سے کیاگیا اور مسیحین روح القدس کے لفظ کو بطور تفسیر خطوط وحدانی میں لکھتے رہے۔ رفتہ رفتہ فارقلیط کے لفظ کو بھی علیحدہ کر دیا۔ صرف روح القدس اور روح حق کا لفظ رہنے دیا۔ جیسا کہ حال کے نسخوں میں موجود ہے۔

مگر پھر بھی بحمد اللہ مفید مدعا ہے اس لئے کہ اس بشارت میں ایسے اوصاف مذکور ہیں کہ جو آپa ہی کی ذات بابرکات پر صادق آتے ہیں۔ لہٰذا عیسائیوں کا یہ کہنا کہ اس سے روح القدس کا آنا مراد ہے۔ (چنانچہ وہ روح حضرت عیسیٰ کے بعد جب حواریین ایک مکان میں جمع تھے نازل ہوئی اور اس روح کے نزول کی وجہ سے حواریین تھوڑی دیر کے لئے مختلف زبانیں بولنے لگے) بالکل بے معنی ہے۔ اس لئے کہ اس بشارت میں اس روح حق اور فارقلیط کے چند اوصاف ذکر کئے گئے ہیں۔

409

اوّل… یہ کہ جب تک میں نہ جاؤں گا وہ نہ آوے گا۔

دوم… یہ کہ وہ میری گواہی دے گا۔

سوم… یہ کہ وہ گناہ اور راستی اور عدالت سے تقصیر وارٹھہرائے گا۔

چہارم… یہ کہ مجھ پر نہ ایمان لانے والوں کو سزا دے گا۔

پنجم… یہ کہ وہ سچائی کی راہ بتلادے گا۔

ششم… یہ کہ وہ آئندہ کی خبریں دے گا۔

ہفتم… یہ کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ جو اللہ سے سنے گا وہی کہے گا۔

ہشتم… یہ کہ وہ جہان کا سردار ہوگا۔

نہم… یہ کہ وہ میری تمام باتیں تم کو یاد دلائے گا۔

دہم… یہ کہ جو امور تم اس وقت برداشت نہیں کر سکتے، وہ نبی اس وقت آکر تم کو بتلائے گا۔

اور جو باتیں غیرمکمل ہیں ان کی تکمیل کرے گا اور ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا اور یہ تمام آنحضرتa پر صادق آتی ہیں۔

۱… آپa کا تشریف لانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانے پر اس لئے موقوف تھا کہ آپa خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے کہ کسی نبی کا آنا پہلے نبی کے جانے پر جب ہی موقوف ہوسکتا ہے جب دوسرا نبی خاتم الانبیاء ہو۔ ورنہ اگر وہ نبی خاتم الانبیاء نہیں تو اس کے آنے سے پہلے نبی کا جانا شرط ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ جب وہ نبی خاتم الانبیاء نہیں تو پہلے نبی کی موجودگی میں بھی وہ نبی مبعوث ہوسکتا ہے۔

پہلے نبی کا جانا دوسرے کے آنے کے لئے جب ہی شرط ہوسکتا ہے کہ جب دوسرا نبی خاتم الانبیاء ہو۔ الحاصل حضرت مسیحm نے اس جملہ سے یہ ظاہر فرمادیا کہ وہ فارقلیط اور روح حق خاتم الانبیاء ہوگا۔ ’’کما قال تعالٰی: ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘ {محمدa تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور آخر النّبیین ہیں۔}

اور حضرت مسیح خاتم النّبیین نہ تھے۔ ورنہ علماء نصاریٰ ویہود حضرت مسیح کے بعد ایک نبی کے کس لئے منتظر تھے اور روح کا آنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانے پر موقوف نہ تھا۔ روح کا نزول تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں بھی ہوتا تھا۔

410

۲… اور آپa نے حضرت مسیحm کی گواہی بھی دی کہ حضرت مسیح بن مریم اللہ کے بندہ اور رسول تھے اور زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔

’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الاتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘ {اور انہوں نے نہ ان (عیسیٰ علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ سولی دی۔ لیکن اشتباہ میں ڈال دئیے گئے اور جن لوگوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں اختلاف کیا وہ یقینا شک میں ہیں۔ خود ان کو اس کا یقین نہیں محض گمان کی پیروی ہے۔ یقینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا۔ وہی غالب اور حکیم ہے۔}

۳،۴… اور راستی اور عدالت سے ملزم بھی کیا اور حضرت مسیحm کے نہ ماننے والوں کو پوری پوری سزا بھی دی۔ کسی سے قتال اور جہاد کیا اور کسی کو جلا وطن کیا… جیسا کہ یہود خیبر اور یہود بنونضیر اور یہود بنو قینقاع کے واقعات سے ظاہر ہے اور روح نے نہ کسی کو ملزم ٹھہرایا اور نہ کسی کی سرزنش کی اور آیت دہم میں سرزنش کی یہ وجہ بیان فرمانا اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس فارقلیط اور مددگار اور وکیل وشفیع کا ظہور منکرین عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے ہوگا۔ بخلاف روح کے کہ اس کا ظہور تو آپ کے نزدیک حواریین پر ہوا کہ جو منکرین عیسیٰ علیہ السلام نہ تھے اور نہ کسی حواریین نے کسی کو سزا دی وہ خود ہی مسکین اور عاجز تھے کسی منکر کو کیسے سزا دے سکتے تھے۔

۵… اور آئندہ واقعات کے متعلق اتنی خبریں دیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں اور خبریں ایسی صحیح دیں کہ جن میں ان کا کوئی جز بھی کبھی خلاف واقعہ نہیں نکلا اور تاقیامت اسی طرح ظاہر ہوتی رہیں گی اور کیسے غلط ہوتیں؟

۶،۷… اور سچائی کی تو وہ راہیں بتلائیں کہ اولین وآخرین سے کسی نے اس کا عشرعشیر بھی نہ بتلایا۔ اس لئے کہ اپنی طرف سے کچھ نہ فرمایا: ’’وما ینطق عن الہویٰ۔ ان ہوالّٰا وحی یوحٰی‘‘ {آپa اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے وہ تو سوائے وحی کے اور کچھ نہیں۔}

۸… اور بایں ہمہ جہاں کے سردار اور بادشاہ بھی ہوئے اور جہاں اور دنیا کی سرداری سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپa کی نبوت تمام عالم کے لئے ہوگی کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہ ہوگی اور نصاریٰ نے حضرت مسیح کی صحیح تعلیمات کو محو کردیا تھا۔ ان کو بھی یاد دلایا۔

411

’’قل یاہل الکتاب تعالوا الٰی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الّٰا نعبد الّٰا اللہ ولا نشرک بہ شیا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ ‘‘ {آپa فرمادیجئے کہ اے اہل کتاب ایک ایسے امر کی طرف آؤ کہ جو ہم میں اور تم میں مسلم ہے وہ یہ کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہ بنائیں۔}

’’وقال المسیح یٰبنی اسرائیل اعبدو اللہ ربی وربکم انہ من یشرک ب اللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماواہ النار وما للظلمین من انصار‘‘ {اور فرمایا حضرت مسیح بن مریم نے اے بنی اسرائیل بندگی کرو۔ صرف ایک اللہ کی جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ تحقیق جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔}

۹… آپa نے مبعوث ہونے کے بعد وہ باتیں بھی بتلائیں کہ جو حضرت مسیحm کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے تحمل سے باہر تھیں۔ یعنی ذات وصفات، شریعت وطریقت، حشر ونشر، جنت وجہنم کے متعلق وہ علوم ومعارف کے دریا بہائے کہ جن سے تمام عالم دنگ ہے اور کسی کتاب میں ان علوم کا نام ونشان نہیں اور جو امور غیرتکمیل شدہ تھے آپa کی شریعت کاملہ نے ان سب کی تکمیل بھی کر دی۔ ’’کما قال تعالٰی: الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘ {آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کو پسند کیا دین بناکر۔}

۱۰… اور سولہویں آیت کا یہ جملہ کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فارقلیط بذات خود تمہارے ساتھ رہے گا۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ اس کی شریعت اور اس کا دین ابد تک رہے گا۔ یعنی وہ آخری دین اور اس کی شریعت آخری شریعت ہوگی۔ اس کے بعد کوئی دین اور کوئی شریعت نہیں آئے گی جو اس کی شریعت کی ناسخ ہو۔

علمائے مسیحین اس بشارت کو روح القدس کے حق میں قرار دیتے ہیں جس کا نزول حضرت مسیحm کے رفع الیٰ السماء کے ۴۷یوم بعد حوارییّن پر ہوا۔ لیکن یہ قول چند وجوہ سے باطل ہے۔ اس لئے کہ روح کا نازل ہونا حضرت مسیحm کے جانے پر موقوف نہ تھا بلکہ وہ تو ہر وقت حضرت مسیح کے ساتھ رہتی تھی اور نہ وہ روح ہمیشہ ان کے ساتھ رہی اور نہ روح

412

نے کسی کو راستی اور عدالت سے ملزم ٹھہرایا اور نہ کسی یہودی کو حضرت مسیحm پر نہ ایمان لانے کی وجہ سے کبھی سزا دی۔ البتہ آنحضرتa نے مشرکین اور کافرین سے جہاد بھی کیا اور یہودیوں کو کافی سزا بھی دی۔

نیز حضرت مسیحm کا اس پر ایمان لانے کی تاکید فرمانا بالکل بے محل ہے۔ اس لئے کہ جو حواریین پیشتر ہی سے روح القدس پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کے فرمانے کی کیا حاجت تھی کہ جب وہ آئے تب تم ایمان لاؤ۔ حضرت مسیحm کا اس قدر اہتمام فرمانا اور اس پر ایمان لانے کی وصیت کرنا خود اس کو بتلارہا ہے کہ وہ آنے والی شئے کچھ ایسی ہوگی۔ جس کا انکار تم سے بعید نہ ہوگا۔

پس اگر فارقلیط سے روح مراد ہوتی تو اس کے لئے چنداں اہتمام اور تاکید کی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے کہ جس کے قلب پر روح کا نزول ہوگا۔ اس سے روح کا انکار ہونا بالکل ناممکن ہے۔ نیز اس بشارت کا سیاق وسباق اس بات کو بتلا رہا ہے کہ وہ آنے والا فارقلیط حضرت عیسیٰ سے مغائر ہے۔ جیسا کہ سولہویں آیت کا یہ لفظ: ’’دوسرا مددگار بخشے گا‘‘ صاف مغائرت پر دلالت کرتا ہے۔

مہر نبوت خاتم النّبیینa

حضور پرنورa کے دونوں شانوں کے درمیان میں ایک مہرنبوت تھی جو حسّی طور پر آنحضرتa کی ختم نبوت کی علامت اور نشانی تھی۔ شیخ عبدالحق دھلویv لکھتے ہیں کہ اس مہر نبوت کا ذکر کتب سابقہ توریت وانجیل وغیرہ میں بھی تھا اور حضرات انبیاء سابقین جب آنحضرتa کے ظہور کی بشارت دیتے تو یہ فرماتے کہ اس نبی کا ظہور اخیرزمانہ میں ہوگا اور مہرنبوت اس کی نشانی ہوگی۔(اشعت اللمعات ج۴ ص۵۰۸)

’’قال السہیلی والحکمۃ فی وضع خاتم النّبوۃ علی وجہ الاعتناء والاعتبار انہ لما ملاء قلبہa حکمۃ ویقینا ختم علیہ کما یختم علی الوعاء المملو مسکا واما وضعہ عند نفض کتفہ الایسر فلانہ معصوم من وسوسۃ الشیطان وذلک الموضع مدخل الشیطان ومحل وسوستہ‘‘(کذافی جمع الوسائل ج۱ ص۷۲، فتح الباری ج۶ ص۴۱۱)
413

(ترجمہ) ’’سہیلی فرماتے ہیں کہ مہر نبوت لگانے میں حکمت یہ ہے کہ جب آپa کے قلب مبارک کو آب زمزم سے دھو کر علم وحکمت اور ایمان وایقان کے خزانہ سے بھردیا گیا تو اس کو محفوظ کرنے کے لئے مہرلگادی گئی اور وہ دو شانوں کے درمیان بائیں جانب اس لئے لگائی گئی کہ یہ جگہ قلب کے مقابل ہے اور شیطان اسی جانب سے قلب میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ دوشانوں کی درمیانی جگہ شیطان کی آمد اور اس کے وسوسوں کا دروازہ ہے۔ اس لئے اس کو بند کرنے کے لئے مہر لگائی تاکہ شیطان کی آمد کا راستہ بند ہو جائے۔‘‘

(خصائص کبریٰ ج۱ ص۵۹،۶۰، فتح الباری ج۶ ص۶۰۹، باب ختم نبوۃ ویراجع خواتم الحکم ص۱۵۱، فانہ قد فصل سید نعمان آلوسی، الجواب الفسیح لما الفہ عبدالمسیح ج۱ ص۹۷) میں لکھتے ہیں: ’’قال الفاضل عید وعلی القرشی فی کتبہ المسمی خلاصۃ سیف المسلمین الذی ہو فی لسان الاردو ای الہندی فی الصحیفۃ الثالثۃ حروالستین ان القیس الاوسکان الارمنی ترجم کتاب اشیعاہm باللسان الارمنی فی ۱۶۶۶ء الف وستمائۃ وست وستین وطبعت ۱۷۳۳ء وفیہ فی الباب الثانی والاربعی ہذہ الفقرۃ ونصہا۔ وسجو اللہ تسبیحا جدید اواثر سلطنۃ علی ظہرہ واسمہ احمد انتہت وہذہ الترجمۃ موجودۃ عند الارامن فانظروا فیہا‘‘ {فاضل حیدر علی قریشی نے اپنی کتاب خلاصہ سیف المسلمین جو اردو زبان میں ہے لکھا ہے کہ پادری اوسکان ارمنی نے صحیفہ یسیعیاہm کا ارمنی زبان میں ۱۶۶۶ء میں ترجمہ کیا جو ۱۷۳۳ء میں طبع ہوا۔ اس میں صحیفہ یسیعاہm کے بیالیسویں باب میں یہ فقرہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرو اور اس کی تسبیح پڑھو اس آنے والے نبی کی سلطنت اور نبوت کا نشان اس کی پشت پر ہوگا۔ یعنی اس کی پشت پر مہر نبوت ہوگی اور نام اس کا احمد ہوگا۔}

اور یہ ترجمہ ارمینیوں کے پاس موجود ہے اس میں دیکھ لیا جائے۔

ابونضرہ راوی ہیں کہ میں نے ابوسعید خدریq سے مہر نبوت کی بابت دریافت کیا تو یہ فرمایا کہ مہر نبوت حضورa کی پشت پر گوشت کا ایک ابھرا ہوا ٹکڑا تھا۔ (شمائل ترمذی) بخاری اور مسلم میں سائب بن یزید سے مروی ہے کہ مہر نبوت گھنڈی اور تکمہ کے مشابہ تھی۔

414

بعض روایات میں ہے کہ کبوتر کے بیضہ کے مشابہ تھی اور بعض روایات میں ہے کہ سیب کے مشابہ تھی۔ ہر ایک نے اپنے اپنے خیال کے مطابق تشبیہ دی ہے۔

جابر بن عبد اللہ q فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی اکرمa نے مجھ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ میں نے اپنا منہ آپa کی مہر نبوت پر رکھ دیا۔ میرے دہن میں سے مشک کی خوشبو مہکنے لگی۔(خصائص الکبریٰ ج۱ ص۶۰)

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ مہر نبوت پر کچھ لکھا ہوا بھی تھا یا نہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی طور پر اس پر محمد رسول اللہ a لکھا ہوا تھا۔

’’اخرج ابن عساکر والحاکم فی تاریخ نیسابور عن ابی عمر قال کان خاتم النبوۃ علی ظہر النبیa مثل البندقۃ من لحم مکتوب فیہا باللحم محمد رسول اللہ ‘‘ (خصائص الکبریٰ ج۱ ص۶۰)

(ترجمہ) ’’ابن عساکر اور حاکم نے ابن عمرq سے روایت کیا ہے کہ مہر نبوت حضورa کی پشت مبارک پر گوشت کے گولی کے مشابہ تھی اور گوشت ہی سے قدرتی طور پر محمد رسول اللہ a اس پر لکھا ہوا تھا۔‘‘

صحابہ کرامi کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب حضورa کی مہر نبوت کو دیکھتے تو اس کو بوسہ دیتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب حضور پرنورa کے اوصاف بیان کرتے تو فرماتے: ’’بین کتفیہ خاتم النبوۃ وہو خاتم النّبیین‘‘ حضورa کے دو شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور حضورa خاتم النّبیین تھے۔ (شمائل ترمذی)

غرض یہ کہ مہر نبوت، حضورa کی ختم نبوت کی حسی دلیل تھی اور علماء بنی اسرائیل میں آپa کی یہ علامت مشہور تھی بحیرا راہب اور نسطور اور عبد اللہ بن سلام وغیرہ وغیرہ اسی مہر نبوت کو دیکھ کر ایمان لائے اور علماء بنی اسرائیل کے شہادتیں کتب سیر میں مفصل مذکور ہیں۔ جن میں سے دس شہادتیں ہم نے اپنے مختصر رسالہ ’’مسک الختام فی ختم النبوۃ علی سید الانامk‘‘ میں ذکر کی ہیں جو ’’ختم نبوت‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ (جو اسی مجموعہ میں شامل ہے)

415

ختم نبوت اور اس کا مفہوم اور حقیقت

ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ نبوت اور پیغمبری حضورa کی ذات بابرکات پر ختم ہوگئی اور آپa سلسلہ انبیاء کے خاتم (بالکسر) ہیں یعنی سلسلہ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور آپa سلسلہ انبیاء کے خاتم (بالفتح) یعنی مہر ہیں۔ اب آپa کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہ ہوگا۔ مہر کسی چیز کا منہ بند کرنے کے لئے لگاتے ہیں۔ اسی طرح حضور پرنورa سلسلہ انبیاء پر مہر ہیں۔ اب آپa کے بعد کوئی اس سلسلہ میں داخل نہیں ہوسکے گا اور قیامت تک کوئی شخص اب اس عہدہ پر سرفراز نہ ہوگا۔ مہر ہمیشہ ختم کرنے اور بند کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ ’’کما قال تعالٰی: یسقون من رحیق مختوم ختامہ مسک‘‘ یعنی سربمہر بوتلیں ہوں گی اور شراب ان کے اندر بند ہوگی۔ ’’ختم اللہ علی قلوبہم‘‘ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے۔ یعنی کفر اندر بند کر دیا ہے۔

مرزاقادیانی کا اقرار کہ مہر بند کرنے کے لئے ہوتی ہے

(حقیقت الوحی ص۳، خزائن ج۲۲ ص۵) میں ہے: ’’کیونکہ دید کی رو سے تو خوابوں اور الہاموں پر مہر لگ گئی ہے۔‘‘

پھر(حقیقت الوحی ص۶۰، خزائن ج۲۲ ص۶۲) پر ہے: ’’مگر افسوس کہ عیسائی مذہب میں معرفت الٰہی کا دروازہ بند ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ کی ہم کلامی پر مہر لگ گئی ہے۔‘‘ اب ان عبارتوں میں مرزاقادیانی کے نزدیک بھی مہرلگانے کے معنی بند کرنے کے ہیں۔

عہد نبوت سے لے کر اب تک تمام امت کے علماء اور صلحاء مفسرین اور محدثین فقہاء اور متکلمین اور اولیاء وعارفین سب کے سب ختم نبوت کے یہی معنی سمجھتے چلے آئے ہیں اور بطریق تواتر یہ عقیدہ ہم تک پہنچا۔ جس طرح ہر زمانہ میں نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ کے روایت کرنے والے رہے۔ اسی طرح اسی تواتر کے ساتھ ختم نبوت کا عقیدہ ہم تک پہنچا ہے۔

جس طرح صلوٰۃ اور زکوٰۃ کے معنی میں کوئی تاویل قابل التفات نہیں اسی طرح ختم نبوت کے معنی میں بھی کوئی تاویل قابل التفات نہ ہوگی بلکہ ایسے صریح اور متواتر امور میں تاویل کرنا استہزاء اور تمسخر کے مترادف ہے۔

416
’’قال خبیب بن الربیع ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل لا نہ امتہان ای احتقار لہa‘‘ (کذافی شرح الشفاء للعلامۃ القاری ج۲ ص۳۹۷)

(ترجمہ) ’’خبیب بن الربیع فرماتے ہیں: صریح الفاظ میں تاویل کا دعویٰ مقبول نہیں ہے اس میں آنحضرتa اور شارعm کی توہین اور تحقیر ہے۔‘‘

چنانچہ بعض لوگوں نے آیات صلوٰۃ وزکوٰۃ میں یہ تاویل کی ہے کہ صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج عبادتوں کے نام نہیں بلکہ چند نیک اشخاص کے نام ہیں اور مطلب یہ کہ ان کے پاس آمدورفت رکھا کرو۔ صلوٰۃ اور زکوٰۃ یہ اچھے لوگ تھے۔

اور زنا ایک برا آدمی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے منع فرمادیا کہ زنا کے پاس بھی مت جانا۔ یہ بہت برا آدمی ہے۔ باقی عرف میں جس کو زنا کہا جاتا ہے اس میں کوئی ہرج اور مضائقہ نہیں۔

حضرات ناظرین! غور فرمائیں کہ کیا یہ قرآن اور حدیث کے ساتھ تمسخر نہیں اور کیا ایسی تاویل کسی کو کفر سے بچاسکتی ہے۔ اسی طرح ظلی اور بروزی کی تاویل بھی قرآن اور حدیث کے ساتھ تمسخر ہے۔

آپ انصاف سے فرمائیے کہ اگر کوئی پاکستان میں یہ دعویٰ کرے کہ میں قائداعظم کا ظل اور بروز بن کر آیا ہوں بلکہ یہ کہے کہ میں تو قائداعظم کا عین ہوں۔ میرے اس دعویٰ سے قائداعظم کی قیادت میں کوئی فرق نہیں آتا اور مجھ کو اختیار ہے کہ میں قائداعظم کے جس حکم کو چاہوں ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں تو کیا ایسا مدعی حکومت کے نزدیک قابل گردن زدنی نہ ہوگا اور کیا حکومت کے نزدیک کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا نام قائداعظم رکھے یا اخبارات اور اشتہارات میں اپنے آپ کو پاکستان کا وزیراعظم لکھ سکے۔ حالانکہ یہ ممکن ہے کہ یہ شخص وزیراعظم سے علم اور عقل فہم اور فراست تدبر اور سیاست میں بڑھا ہوا ہو۔ کیونکہ ووٹ کی وزارت میں کھوٹ ممکن ہے۔

لیکن نبوت ورسالت کی بارگاہ میں میں ان خرافات کو پرمارنے کی بھی مجال نہیں۔

پس جب کہ قائداعظم اور وزیراعظم نام رکھنا بغاوت اور جرم عظیم ہے تو کیا کسی کا یہ دعویٰ کہ میں رسول اعظم ہوں یہ بغاوت اور کفر عظیم نہ ہوگا؟ بہت سے یہود اور نصاریٰ حضورپرنورa کی نبوت کو مانتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ حضورa کی نبوت فقط عرب کے

417

ساتھ مخصوص تھی۔ تمام عالم کے لئے عام نہ تھی تو کیا اس تاویل کی وجہ سے ان یہودونصاریٰ کو مسلمان کہا جاسکتا ہے۔

اگر ’’لا نبی بعدی‘‘ میں یہ تاویل درست ہے کہ آپa کے بعد کوئی مستقل رسول نہیں ہوسکتا تو کیا اگر مدعی الوہیت ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کے یہ معنی بیان کرے کہ اللہ کے سوا کوئی مستقل خدا نہیں۔ البتہ ظلی اور بروزی اور مجازی خدا اور بھی ہو سکتے ہیں تو یہ تاویل کیوں درست نہیں؟

سامری کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ یہ بچھڑا مستقل خدا ہے بلکہ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا اس میں حلول کر آیا ہے۔ جیسے ہندوؤں کا اپنے اوتاروں کے متعلق عقیدہ ہے کہ خدا ان میں حلول کر آیا تھا۔ ہندو اپنے اوتاروں کو مستقل خدا نہیں مانتے۔ اسی طرح مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ میں نبی اکرمa کا بروز ہوں اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ نبی اکرمa مجھ میں حلول کر آئے ہیں۔ مرزاقادیانی کا تمسخر تو دیکھئے کہ یہ کہتا ہے کہ میری آمد سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے نبوت پر مہر لگائی مگر مرزاقادیانی نے نبوت کو اس طرح چرایا کہ اللہ کی لگائی ہوئی مہر بھی نہ ٹوٹی اور نبوت بھی چرالی اس لئے میں کہتا ہوں کہ مسیلمہ پنجاب یمن کے مسیلمہ کذاب سے چالاکی اور عیاری میں کہیں بڑھ کر ہے۔

ہمیں اس بحث کی ضرورت نہیں کہ مرزاقادیانی کی تاویلات مہملہ کی طرف کوئی توجہ کریں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جس نبی پر خاتم النّبیین کی آیت اتری اس نے اس آیت کے کیا معنی سمجھے اور امت کو کیا معنی سمجھائے اور عہد صحابہi سے لے کر اس وقت تک پوری امت اس آیت کے کیا معنی سمجھتی رہی۔ کیا تیرہ سو سال کے علماء امت اور ائمہ لغت وعربیت کو عربی لغت کی اتنی بھی خبر نہ تھی جتنا کہ قادیان کے ایک دہقان کو ٹوٹی پھوٹی عربی کی خبر تھی۔

مرزاقادیانی نہ پنجابی نہ اردو اور نہ فارسی اور نہ عربی اور نہ انگریزی کسی زبان کے ادیب تھے۔ ان کے معاصر بلکہ بہت سے ان کے منکر اور کافر اردو اور فارسی اور عربی مرزاقادیانی سے بہتر جانتے تھے۔ اس پر تمام امت کے علماء کی نسبت یہ کہنا کہ خاتم النّبیین کی آیت کا مطلب نہیں سمجھا کیا کھلا ہوا مراق اور مالیخولیا نہیں۔ (جس کا خود مرزاقادیانی کو بھی اقرار ہے)

418

علاوہ ازیں دعوائے نبوت سے پہلے خود مرزاقادیانی بھی خاتم النّبیین کے وہی معنی بیان کرتے تھے جو امت کے تمام علماء بیان کرتے چلے آئے اور مرزاقادیانی صاف طور پر یہ لکھتے آئے کہ جو حضور پرنورa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ دعوائے نبوت کے بعد اس پر تاویل کا رنگ چڑھانا شروع کیا جو قابل التفات نہیں۔

اب مرزاقادیانی کے اس بارہ میں دو قول ہیں۔ ایک قول قدیم ہے جو علماء امت کے موافق ہے اور ایک قول جدید ہے جو مسیلمہ کذاب کے مطابق ہے اور مرزاقادیانی کا یہ اقرار ہے کہ مجھ کو مراق اور مالیخولیا کی بیماری ہے۔

لہٰذا مراقی کے جب اقوال مختلف ہوں تو مراقی کا وہی قول قبول کیا جائے گا کہ جو مراق سے قبل تمام عقلاء امت کے مطابق اس کی زبان سے نکل چکا ہے۔

ہم مسلمانوں کے لئے تو گنجائش ہے کہ مرزاقادیانی کے مراق اور مالیخولیا میں کوئی تاویل کر لیں کہ وہ حقیقتاً مراقی نہ تھے بلکہ کسی سیاسی مصلحت کی بناء پر مجازاً اپنے آپ کو مراقی فرماگئے۔ لیکن قادیانیوں پر فرض قطعی ہے کہ وہ مرزاقادیانی کے مراق اور مالیخولیا پر بلاکسی تاویل کے ایمان لائیں۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کے مراقی اور مالیخولیائی ہونے میں ذرا بھی شک کریں گے تو کافر اور مرتد ہو جائیں گے۔ نبی جو کہے اس پر بے چون وچرا ایمان لانا فرض ہے۔

دس مدعیان نبوت

مدعیان نبوت کے خروج اور ظہور کی پیشین گوئی

حضورپرنورa نے بہت سی پیشین گوئیاں فرمائیں اور سب کی سب حرف برحرف سچی نکلیں۔ ایک پیشین گوئی حضورa نے یہ بھی فرمائی کہ قیامت سے پہلے بہت سے کذاب اور دجال ظاہر ہوں گے۔ ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں۔ خوب سمجھ لو کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ خدا کاآخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ خاتم النّبیین کے بعد کسی کا فقط یہ دعویٰ کہ میں نبی ہوں۔ یہی اس کے کاذب اور دجال ہونے کی دلیل ہے۔

419

حضورa نے اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی پیشین گوئی نہیں فرمائی بلکہ مدعیان نبوت کی پیشین گوئی فرمائی اور ایک حرف یہ نہ فرمایا کہ تم اس مدعی نبوت سے اوّلاً یہ دریافت کرنا کہ تو کس قسم کی نبوت کا مدعی ہے اور تیری نبوت کی کیا دلیل ہے؟ اگر حضورa کے بعد کوئی سچا نبی آنے والا ہوتا تو حضورپرنورa اس کی خبر دیتے اور لوگوں کو ہدایت فرماتے کہ تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کا انکار کر کے دوزخی نہ بننا بلکہ اس کے برعکس یہ فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ کذاب ودجال پیدا ہوں گے جو نبوت کے مدعی ہوں گے۔ تم ان کے دھوکہ اور فریب میں نہ آنا اور اس کے جھوٹا ہونے کی علامت ہی یہ ہوگی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ چنانچہ اس کا ظہور حضور کی اخیرزندگی ہی سے شروع ہو گیا اور نبوت کے دعویدار ظاہر ہونے لگے۔ چنانچہ یمن میں اسود عنسی نے اور یمامہ میں مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

’’وروی ابویعلی باسناد حسن عن عبد اللہ بن الزبیر تسمیۃ بعض الکذابین المذکورین بلفظ لاتقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذابا منہم مسیلمۃ والعنسی والمختار‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۴۵۴)

(ترجمہ) ’’ابویعلی نے عبد اللہ بن زبیرq سے باسناد حسن روایت فرمائی ہے جس میں بعض کذابوں کے نام بھی آپ نے ذکر فرمائے ہیں۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی۔ جب تک کہ تیس کذاب برآمد نہ ہوں۔ ان میں مسیلمہ اور عنسی اور مختار ہوں گے۔‘‘

سب سے پہلا مدعی نبوت اور اس کا قتل

سب سے پہلا مدعی نبوت اسود عنسی ہے جو بڑا شعبدہ باز تھا اور کہانت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ لوگ اس کے شعبدوں کو دیکھ کر مانوس ہوگئے اور اس کے پیچھے ہولئے اور قبیلہ نجران اور قبیلہ مذجج نے اس کی دعوت کو قبول کیا اور ان کے علاوہ یمن کے اور بھی قبائل اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔

آنحضرتa نے مسلمانان یمن کے پاس حکم بھیجا کہ جس طرح ممکن ہو اسود کا فتنہ ختم کیا جائے۔ امام ابن جریر طبری۱۱ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں: ’’عن جشیش بن

420
الدیلمی قال قدم علینا وبر بن یحنس بکتاب النبیa یامر فیہ بالقیام علی دیننا والنہوض والھرب والعمل فی الاسود اما غیلۃ اومصادفۃ‘‘ تاریخ طبری ج۳ ص۲۱۵)

(ترجمہ) ’’جشیش راوی ہیں کہ وبربن یحنس نبی اکرمa کا والانامہ ہمارے نام لے کر جس میں ہم کو یہ حکم تھا کہ دین اسلام پر قائم رہیں اور اسود کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے تیار ہو جائیں اور جس طرح ممکن ہوا اسود کا کام تمام کریں۔ خواہ کھلم کھلا قتل کریں یا خفیہ طور پر یا کسی اور تدبیر سے۔‘‘

اور تاریخ ابن الاثیر میں ہے:’’فتزوج معاذ بالسکون فعطغوا عیہ وجاء الیہم والی من بالیمن من المسلمین کتاب النبیa یامرہم بقتال الاسود فقال معاذ فی ذلک وقویت نفوس المسلمین وکان الذی قدم بکتاب النبیa وبربن یحنس الازدی قال جشیش الدیلمی فجاء تنا کتب النبیa یامرنا بقتالہ اما مصادمۃ اوغیلۃ الٰی آخرہ‘‘ (تاریخ ابن الاثیر ج۲ ص۱۲۸، ذکر اخبار الاسود العنسی بالیمن)

(ترجمہ) ’’حضرت معاذq نے نکاح کیا اور تمام مسلمان ان کے گرد جمع ہوگئے اور ان کے پاس اور مسلمانان یمن کے پاس آنحضرتa کا خط موصول ہوا جس میں اسود کے ساتھ قتال کا حکم تھا۔ حضرت معاذq اس بارے میں کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کے قلوب کو تقویت حاصل ہوئی۔ جو شخص آنحضرتa کا خط لے کر آیا تھا۔ اس کا نام وبربن یحنس ازدی تھا۔ جشیش دیلمی فرماتے ہیں ہمارے پاس آنحضرتa کے کئی خط موصول ہوئے جن میں اسود کے قتال کا حکم تھا۔ علانیہ ہویا تدبیر سے۔‘‘

چنانچہ حضرات صحابہi نے حسن تدبیر سے اس کذاب کا کام تمام کیا اور اس واقعہ کی خبر دینے کے لئے ایک قاصد آنحضرتa کی خدمت میں روانہ کیا۔ لیکن قاصد کے پہنچنے سے پہلے حضورaکو بذریعہ وحی اس کی خبر ہوگئی۔ آپ نے اسی وقت صحابہ کو بشارت دی اور فرمایا: ’’قتل العنسی البارحۃ قتلہ رجل مبارک من اہل بیت مبارکین قیل ومن قال فیروز فاز فیروز‘‘ (تاریخ طبری ج۳ ص۲۲۸، تاریخ ابن الاثیر ج۲ ص۱۳۲، تاریخ ابن خلدون ج۳ ص۲۴۸)

421

(ترجمہ) ’’کہ شب گزشتہ اسود عنسی مارا گیا اس کو ایک مبارک گھرانے کے مبارک مرد فیروز نے مارا ہے۔ فیروز کامیاب اور فائزالمرام ہوا۔‘‘

قاصد یہ خبر لے کر مدینہ اس وقت پہنچا کہ آنحضرتa وصال فرما چکے تھے۔ عبدالرحمن ثمالیq نے اس بارہ میں یہ اشعار لکھے۔

  1. لعمری وما عمری علی بھین

    لقد جزعت عنس بقتل الاسود

قسم ہے میری زندگی کی اور میری قسم معمولی قسم نہیں۔ قبیلہ عنس اسود عنسی کے قتل سے گھبرا اٹھا۔

  1. وقال رسول اللہ سیروا لقتلہ

    علی خیر موعود و اسعد اسعد

رسول اللہ a نے حکم دیا کہ اس کے قتل کے لئے جاؤ اور بہترین وعدہ اور اعلیٰ ترین خوش نصیبی کی بشارت دی یعنی مدعی نبوت کا قتل اعلیٰ ترین سعادت ہے۔

  1. فسرنا الیہ فی فوارس بہم

    علی حین امر من وصاۃ محمد

پس ہم چند سوار اسود کذاب کے قتل کے لئے روانہ ہوگئے تاکہ آپa کے حکم اور وصیت کی تعمیل اور تکمیل ہو۔(حسن الصحابتہ فی شرح اشعار الصحابہ ص۳۱۳)

خلافت راشدہ اور مدعیان نبوت کا قلع قمع

خلافت راشدہ اس حکومت کو کہتے ہیں کہ جو منہاج نبوت پر ہو اور اس حکومت کا حکمران نبی کے ظاہری اور باطنی کمالات کا آئینہ اور نمونہ ہو۔ خلافت راشدہ کا فیصلہ قیامت تک کے لئے پوری امت کے لئے حجت اور واجب العمل ہے۔

احادیث صحیحہ میں خلفاء راشدین کے اتباع کی تاکید اکید آئی ہے۔ کتاب وسنت کے بعد خلافت راشدہ کا فیصلہ شرعی حجت ہے جس سے عدول اور انحراف جائز نہیں۔

قیامت تک آنے والی اسلامی حکومتوں کے لئے خلافت راشدہ عدالت عظمیٰ اور آخری عدالت ہے۔ جس کی کوئی اپیل نہیں ہوسکتی۔ کسی اسلامی حکومت کی یہ مجال نہیں کہ وہ خلافت راشدہ کے فیصلہ پر کوئی نظرثانی کا تصور بھی کر سکے۔ خلافت راشدہ کے رشد اور صواب پر رسول اللہ کے دستخط ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بعد خلفاء راشدین واجب الاطاعت ہیں اور اگر بفرض محال کوئی دیوانہ یہ خیال کرے کہ خلفاء راشدین

422

کا فیصلہ حجت اور واجب الاطاعت نہیں تو پھر بتلائے کہ دنیا میں خلفاء راشدین سے بڑھ کر کون ہے جس کا فیصلہ حجت سمجھا جائے؟

اب ہم نہایت اختصار کے ساتھ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ خلافت راشدہ نے کس طرح مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا اور کس طرح صفحہ ہستی سے ان کا نام ونشان مٹایا۔ ’’جزاہم اللہ تعالٰی عن الاسلام وسائر المسلمین خیرا کثیراً کثیراً۔ آمین‘‘

طلیحہ اسدی

اسود عنسی کی طرح طلیحہ اسدی نے بھی حضور پرنورa کی زندگی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اسود کی طرح یہ بھی کاہن تھا۔ کچھ قبیلے اس کے بھی تابع ہوگئے۔ آنحضرتa نے اس کی سرکوبی کے لئے ضرار بن الاسودq کو صحابہi کی ایک جماعت دے کر روانہ کیا۔ حضرت ضرارq نے خوب سرکوبی کی اور مرتدین کو اتنا مارا کہ طلیحہ کی جماعت کمزور پڑ گئی لیکن اتنے میں آنحضرتa کی وفات کی خبر آگئی۔ حضرت ضرارq اپنے ساتھیوں کو لے کر مدینہ آگئے۔ ان کے واپس آجانے کی وجہ سے طلیحہ کا فتنہ پھر زور پکڑ گیا۔ صدیق اکبرq نے خالد بن ولیدq کی سرکردگی میں ایک لشکر اس کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ خالد بن ولیدq نے جاتے ہی میدان کارزار گرم کیا۔ عینیہ بن حصن طلیحہ کی طرف سے لڑ رہا تھا اور طلیحہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایک چادر اوڑھے ہوئے وحی کے انتظار میں ایک طرف بیٹھا تھا۔ جب مرتدین کے پیر میدان جنگ سے اکھڑنے لگے تو عینیہ بن حصن لوگوں کو لڑتا چھوڑ کر طلیحہ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ کیا میرے بعد تیرے پاس جبرائیل امین کوئی وحی لے کر آئے ہیں۔ طلیحہ نے کہا نہیں کوئی نہیں آئی۔ عینیہ لوٹ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد پھر آیا سوال کیا کہ کیا اس اثناء میں جبرائیل امین کوئی وحی لے کر آئے ہیں۔ طلیحہ نے کہا نہیں۔ عینیہ نے کہا آخر جبرائیل کب تک آئیں گے ہم تو تباہ ہوگئے۔ تھوڑی دیر کے بعد عینیہ پھر آیا اور طلیحہ سے پھر یہی سوال کیا۔ طلیحہ نے کہا ہاں! ابھی جبرائیل امین آئے تھے اور یہ وحی لے کر آئے ہیں۔

’’ان لک رحی کرحاہ وحدیثا الّاتنساہ‘‘ تیرے لئے یہی خالد کی طرح ایک چکی ہوگی اور ایک بات پیش آئے گی جس کو تو کبھی نہ بھولے گا۔

423

عینیہ نے یہ سن کر کہا کہ بے شک اللہ کو معلوم ہے کہ کوئی بات ایسی ضرور پیش آئے گی جس کو تو نہ بھولے گا اور اس کے بعد قوم سے مخاطب ہوکر یہ کہا: ’’انصر فوا یا بنی فزارۃ فانہ کذاب‘‘ اے نبی فزارہ تم واپس ہو جاؤ۔ خدا کی قسم یہ شخص بالکل کذاب ہے۔

عینیہ کا یہ لفظ سنتے ہی تمام لوگ بھاگ گئے اور میدان خالی ہو گیا اور کچھ لوگ ایمان لے آئے۔ طلیحہ نے اپنے لئے اور اپنی بیوی کے لئے پہلے ہی سے ایک گھوڑا تیار کر رکھا تھا جب اس پر سوار ہوکر بھاگنے لگا تو لوگوں نے آکر اس کو گھیر لیا۔ طلیحہ نے جواب دیا: ’’من استطاع ان یفعل ہکذا اوینجر بامر آتہ فلیفعل‘‘ جو شخص ایسا کرسکتا ہو اور اپنی بیوی کو بچا سکتا ہو وہ ضرور ایسا کر گزرے۔

اس طرح طلیحہ بھاگ کر ملک شام چلا گیا اور حضرت عمرq کے زمانہ میں تائب ہوکر مدینہ منورہ حاضر ہوا اور حضرت عمرq کے دست مبارک پر بیعت کی اور جنگ قادسیہ میں کارنمایاں کئے۔ والسلام! (تاریخ طبری ج۳ ص۲۲۹، تاریخ ابن الاثیر ج۲ ص۱۳۰تا۱۳۳، تاریخ ابن خلدون ج۳ ص۲۹۲)

وحی طلیحہ کا ایک نمونہ

’’والحمام والیمام الصرد الصوام قد ضمن قبلکم باعوام لیلفن ملکنا العراق والشام‘‘ (تاریخ ابن الاثیر ج۲ ص۱۳۳)

مسیلمہ کذاب

مسیلمہ کذاب: یہ شخص قبیلہ بنی حنیفہ کا تھا۔ ۱۰ھ میں شہریمامہ میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور آنحضرتa کی خدمت میں ایک خط بھیجا جس کی عبارت یہ تھی: ’’من مسیلمۃ رسول اللہ الٰی محمد رسول اللہ سلام علیک فانی قد اشرکت فی الامر معک وان لنا نصف الارض ولقریش نصف الارض ولٰکن قریش قوم یعتدون‘‘ منجانب مسیلمہ رسول اللہ بطرف محمد رسول اللہ تم پر سلام ہو تحقیق میں نبوت میں تمہارے ساتھ شریک کردیا گیا ہوں۔ نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی۔ لیکن قریشن ایک ظالم قوم ہے۔

424

مسیلمہ نے یہ خط دو آدمیوں کے ہاتھ حضور اقدسa کی خدمت میں بھیجا۔ حضورa نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ کیاتم اس کی شہادت دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ ان دونوں نے کہا ہاں! اس پر آنحضرتa نے فرمایا کہ اگر قاصد قتل کئے جاتے تو میں گردن اڑانے کا حکم دیتا۔ بعدازاں اس کے خط کا یہ جوب لکھوایا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’من محمد رسول اللہ الٰی مسیلمۃ الکذاب سلام علی من اتبع الہدی اما بعد فان الارض ﷲ یورثہا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین‘‘

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

منجانب محمد رسول اللہ بطرف مسیلمہ کذاب سلام ہو اس شخص پر کہ جو اللہ کی ہدایت کا اتباع کرے۔ اس کے بعد یہ ہے کہ تحقیق زمین اللہ کی ہے اور اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کو زمین کا مالک اور وارث بنائے اور اچھا انجام خدا سے ڈرنے والوں کے لئے ہے۔

(تاریخ ابن اثیرv ج۲ ص۱۳۸) پر لکھتے ہیں: ’’فکان اعظم فتنۃ علی بنی حنیفۃ من مسیلمۃ شہدان محمدa قد اشرک معہ فصدقوہ واستجابوا لہ‘‘ یعنی بنی حنیفہ کے حق میں فتنہ کا بڑا سب یہ ہوا کہ مسیلمہ نے یہ مشہور کیا کہ محمدa نے مجھ کو اپنی رسالت میں شریک کر لیا ہے۔ انہوں نے حضورa کا نام سن کر مسیلمہ کی تصدیق کی اور اس کی دعوت کو قبول کیا۔

اور مسیلمہ کو اس دعوے کی تائید کے لئے نہار نامی ایک شخص ہاتھ آگیا۔ یہ شخص شرفاء بنی حنیفہ میں سے تھے۔ ہجرت کر کے مدینہ منورہ حاضر ہوا اور آنحضرتa کی خدمت میں رہ کر قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ آپa نے فرمایا کہ تم اپنے وطن واپس چلے جاؤ اور دین کی تعلیم دو۔ یہ بدبخت مدینہ سے واپس آکر مسیلمہ سے مل گیا اور علی الاعلان آکر یہ شہادت دی کہ میں نے خود محمدa سے سنا ہے کہ مسیلمہ نبوت میں میرا شریک ہے۔ اس لئے بنی حنیفہ کے لوگ فتنہ میں مبتلا ہوگئے اور مسیلمہ کے بہکائے میں آگئے۔

425

مسیلمہ یمامہ اور مسیلمہ قادیان میں فرق

مرزاقادیانی نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا کہ جو مسیلمہ یمامہ نے کیا تھا۔ مگر مرزاقادیانی چالاکی میں مسیلمہ سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مسیلمہ تو یہ کہتا تھا کہ حضورپرنورa نے مجھ کو اپنی نبوت میں شریک کر لیا ہے اور مرزاقادیانی یہ فرماتے ہیں کہ میں نبوت میں حضورa کے ساتھ شریک نہیں بلکہ عین محمدa ہوں اور میری بعثت بعینہٖ بعثت محمدیہ ہے اور بعثت ثانیہ بعثت اولیٰ سے کہیں افضل اور اکمل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ قادیان جو بعثت ثانیہ کا محل ہے۔ مکہ مکرمہ سے افضل سے بہتر ہے اور مرزاقادیانی باوجود مراق اور مالیخولیا کے محمد رسول اللہ a سے افضل اور اکمل ہیں۔ ابلہ گفت دیوانہ باور کرد، کی مثل صادق ہے۔ پاگل نے کہا اور دیوانہ نے اس کو مان لیا۔

اس خط وکتابت کے بعد آنحضرتa کا وصال ہوگیا اور بغیر اس فتنہ کی تدبیر کے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اسی اثناء میں ایک عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ (جس کا ہم عنقریب ذکر کریں گے) جس کا نام سبحاح تھا مسیلمہ نے اس سے نکاح کر لیا اس کے لشکر سے مسیلمہ کو مزید قوت اور شوکت حاصل ہوئی۔

صدیق اکبرq نے مسیلمہ کے مقابلہ کے لئے اوّلاً عکرمتہ بن ابی جہل کی زیر امارت ایک لشکر روانہ کیا مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پھر ان کے بعد دوسرا لشکر شرحبیل بن حسنہ کی سرکردگی میں ان کی امداد کے لئے روانہ کیا۔ اس لشکر کو بھی شکست ہوئی۔ مسیلمہ کذاب کے لشکر میں چالیس ہزار جنگ آزمود سپاہی تھے۔ صحابہ کرامi کے چھوٹے چھوٹے لشکر پورا مقابلہ نہ کر سکے۔ بالآخر صدیق اکبرq نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ خالد بن ولیدq کو مسیلمہ کذاب کی مہم کے لئے روانہ فرمایا۔ اس معرکہ میں صدیق اکبرq کے لخت جگر عبدالرحمن بن ابی بکرq اور فاروق اعظمq کے لخت جگر عبد اللہ بن عمرq اور حضرت عمرq کے بھائی زید بن الخطابq بھی شریک تھے۔

مرتدین سے اب تک جس قدر معرکے پیش آئے ان میں مسیلمہ کذاب کا معرکہ سب سے زیادہ سخت تھا اور قوت اور شوکت میں سب سے بڑھ کر تھا۔ مسیلمہ کی فوج چالیس ہزار تھی اور مسلمانوں کی فوج دس ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔

426

مسیلمہ کذاب کو جب خالد بن ولیدq کی آمد کی خبر ملی تو آگے بڑھ کر مقام عقرباء میں پڑاؤ ڈالا۔ اس میدان میں حق اور باطل اور نبوت صادقہ اور کاذبہ کا خوب مقابلہ ہوا۔ معرکہ نہایت سخت تھا۔ کبھی مسلمانوں کا پلہ بھاری نظر آتا تھا اور کبھی مسیلمہ کا۔ یہاں تک کا مسیلمہ کے کئی سپہ سالار مارے گئے۔ سب سے اوّل مسیلمہ کی طرف سے نہار میدان میں آیا حضرت زیدq بن الخطاب کے ہاتھ سے مارا گیا۔ مسیلمہ کادوسرا مشہور سردار محکم بن طفیل حضرت عبدالرحمن بی ابی بکرq کے تیر قضاء سے ختم ہوا۔ مرتدین کے قدم اکھڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کو مارتے مارتے مقام حدیقہ تک پہنچا دیا۔ یہ مقام چاردیواری سے محصور تھا۔ یہ ایک باغ تھا جس کو حدیقہ الرحمن کہتے تھے۔ مسیلمہ نے اپنا خیمہ اسی باغ میں نصب کیا تھا۔ اسی باغ میں مسیلمہ قدم جمائے کھڑا تھا۔ دشمنوں کا لشکر بھاگ کر حدیقہ میں داخل ہوگیا اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت براء بن مالکq نے اس وقت صحابہi سے کہا:’’یامعشر المسلمین القونی علیہم فی الحدیقۃ فقالوا لا نفعل فقال و اللہ لتطر حننی علیہ فاحتمل حتی اشرف علی الجدارنا فتہا علیہم وقاتل علی الباب وفتح للمسلمین ودخلوہا علیہم فاقتلوا اشد قتال وکثر القتلٰی فی الفریقین لاسیمافی بنی حنیفۃ فلم یزالوا کذالک حتی قتل مسیلمۃ واشترک فی قتلم وحشی مولی جبیر بن مطعم ورجل من الانصار اما وحشی فدفع علیہ حربۃ وضربہ الانصاریٰ بسیفہ‘‘ (تاریخ ابن الاثیر ج۲ ص۱۳۹)

(ترجمہ) ’’مسلمانوں کی جماعت مجھ کو حدیقہ میں پھینک دو۔ مسلمانوں نے کہا ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے۔ براء بن مالکq نے کہا میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ مجھ کو اندر پھینک دو۔ لوگوں نے مجبوراً اٹھا کر دیوار پر پہنچا دیا۔ براء بن مالکq دیوار پر اندر کودے اور دروازہ پر کچھ دیر مقابلہ کیا۔ بالآخر انہوں نے دروازہ کھول لیا۔ مسلمان اندر گھس آئے اور خوب مقابلہ ہوا۔ فریقین کے بہت آدمی مارے گئے۔ یہاں تک مسیلمہ کذاب بھی مارا گیا۔ وحشیq نے مسیلمہ کے ایک نیزہ پھینک مارا جس کی وجہ سے وہ حرکت نہ کر سکا اور ایک انصاری نے تلوار سے اس کا سرقلم کیا۔‘‘

427

یہ وحشیq وہی ہیں جنہوں نے جنگ احد میں حضرت حمزہq کو اسی نیزہ سے شہید کیا تھا۔ اب اسلام لانے کے بعد اسی نیزہ سے مسیلمہ کذاب کو مارا اور بطور فخر بلکہ بطور شکر اور بطریق شکریہ کہا کرتے تھے۔

’’قتلت فی جاہلیتی خیرالناس وفی اسلامی شر الناس‘‘

(ترجمہ) ’’اگر میں نے زمانہ جاہلیت میں اس نیزہ سے ایک بہترین انسان کو مارا ہے۔ (یعنی حضرت حمزہq کو) تو زمانہ اسلام میں اسی نیزہ سے ایک بدترین انسان یعنی ایک مدعی نبوت کو مارا ہے۔‘‘(روح المعانی)

اور وہ انصاری جنہوں نے مسیلمہ کا سراپنی تلوار سے قلم کیا ان کا نام عبد اللہ بن زیدq ہے۔ انہی کا یہ شعر ہے:

  1. یسائلنی الناس عن قتلہ

    فقلت ضربت وہذا طعن

لوگ مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ مسیلمہ کو کس نے مارا۔ تو میں جواب میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ میں نے تلوار ماری اور وحشی نے نیزہ مارا۔

اس معرکہ میں مسلمانوں کے چھ سو ساٹھ آدمی شہید ہوئے اور مسیلمہ کذاب کے بقول ابن خلدون سترہ ہزارآدمی مارے گئے۔ امام طبریv فرماتے ہیں کہ بنی حنیفہ کے سات ہزار آدمی عقرباء میں اور سات ہزار حدیقہ میں مارے گئے اور یہ باغ حدیقۃ الموت کے نام سے مشہور ہوگیا اور حضرت خالدq مظفر ومنصور مدینہ منورہ واپس آئے۔ دوسری روایات میں مسلمانوں کے بارہ سو اور مسیلمہ کے اٹھائیس ہزار آدمی اس جنگ میں کام آئے۔ و اللہ اعلم!

محمد بن الحنیفہ

محمد بن حنیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادہ ہیں اور حنیفہ آپ کی والدہ ماجدہ ہیں جو قبیلہ بنی حنیفہ کی باندی تھیں۔ مسیلمہ کذاب کی لڑائی میں گرفتار ہوکر آئیں اور صدیق اکبرq کی طرف سے حضرت علیq کو عطاء ہوئیں۔

معلوم ہوا کہ مدعی نبوت کی اولاد اور ذریت اور بچوں اور عورتوں کو غلام بنا کر لوگوں پر تقسیم کرنا باجماع صحابہi بلاشبہ وریب جائز اور روا ہے۔

428

مسیلمہ کذاب کے متبعین اور اذناب کا حشر

’’روی الزہری عن عبید اللہ بن عبد اللہ قال اخذ بالکوفۃ رجال یؤمنون بمسیلمۃ الکذاب فکتب فیہم الٰی عثمان فکتب عثمان اعرض علیہم دین الحق وشہادۃ ان لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ a فمن قالہا وتبرآ من دین مسیلمۃ فلا تقتلوہ ومن لزم دین مسیلمۃ فاقتلوہ فقبلہا رجال منہم ولزم دین مسیلمۃ رجال فقتلوا‘‘ (احکام القرآن للجصاص ج۲ ص۲۸۸، باب استتابۃ المرتد وسنن کبریٰ الامام البیہقی ج۸ ص۲۰۱)

(ترجمہ) ’’زہریv نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے کہ کوفہ میں کچھ آدمی گرفتار کئے گئے جو کہ مسیلمہ کذاب پر ایمان لائے تھے۔ حضرت علیq نے ان کے متعلق حضرت عثمانq سے دریافت فرمایا۔ حضرت عثمانq نے جواب میں تحریر فرمایا کہ ان پر دین حق اور کلمہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ پیش کیا جائے جو شخص اس کلمہ کو پڑھے اور دین مسیلمہ سے برأت کا اظہار کرے اس کو قتل نہ کرو اور جو شخص دین مسیلمہ کذاب پر جمارہے اسے قتل کر دو۔ تو بہت سے آدمیوں نے کلمہ اسلامی کو قبول کر لیا اور بہت سے دین مسیلمہ پر قائم رہے انہیں قتل کیاگیا۔‘‘

سبحاح بنت حارث

سبحاح بنت حارث قبیلہ بنی تمیم کی ایک عورت تھی۔ نہایت ہوشیار تھی اور حسن خطابت وتقریر میں مشہور تھی۔ آنحضرتa کی وفات کے بعد اس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ایک گروہ ساتھ ہوگیا۔ مدینہ منورہ پر حملہ کا ارادہ کیا مگر کسی وجہ سے یہ ارادہ ملتوی ہوگیا۔ بعدازاں سبحاح نے مسیلمہ کا رخ کیا۔ مسیلمہ نے یہ خیال کر کے کہ اگر سبحاح سے جنگ چھڑی تو کہیں قوت نہ کمزور ہو جائے۔ اس لئے مسیلمہ نے بہت سے ہدایا اور تحائف سبحاح کے پاس بھیجے اور اپنے لئے امن طلب کیا اور ملاقات کی درخواست کی۔ مسیلمہ بنی حنیفہ کے چالیس آدمیوں کے ہمراہ سبحاح سے جاکریہ کہا کہ عرب کے کل بلاد نصف ہمارے تھے اور نصف قریش کے۔ لیکن قریش نے بدعہدی کی اس لئے وہ نصف میں نے تم کو دے دئیے۔

429

بعدازاں مسیلمہ نے سبحاح کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی۔ سبحاح نے اس کو قبول کیا۔ مسیلمہ نے ملاقات کے لئے ایک نہایت عمدہ خیمہ نصب کرایا اور قسم قسم کی خوشبوؤں سے اس کو معطر کیا اور تنہائی میں ملاقات کی۔ کچھ دیر تک سبحاح اور مسیلمہ میں گفتگو ہوتی رہی۔ ہر ایک نے اپنی اپنی وحی سنائی اور ہر ایک نے ایک دوسرے کی نبوت کی تصدیق کی اور اسی خیمہ میں نبی اور نبیہ کا بلاگواہوں اور بلامہر کے نکاح ہوا۔ تین روز کے بعد سبحاح اس خیمہ سے برآمد ہوئی۔ قوم کے لوگوں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہا کہ میں نے مسیلمہ سے صلح کر لی اور نکاح بھی کر لیا۔ لوگوں کو بہت ناگوار ہو اور سبحاح کو لعنت ملامت کی۔ قوم نے پوچھا کہ آخر مہر کیا مقرر ہوا۔ سبحاح نے کہا کہ اچھا میں پوچھ کر آتی ہوں کہ میرا مہر کیا ہے۔ سبحاح مسیلمہ کے پاس آئی اور مہر کا مطالبہ کیا۔ مسیلمہ نے کہا جا اپنے ہمراہیوں سے یہ کہہ دے کہ مسیلمہ رسول اللہ نے سبحاح کے مہر میں دو نمازیں فجر اور عشاء کی تمہیں معاف کر دیں۔ جن کو محمدa نے تم پر فرض کیا تھا۔ سبحاح نے واپس آکر اپنے رفقاء کو اس مہر کی خبر کی۔ اس پر عطارد بن حاجب نے یہ شعر کہا ؎

  1. امست نبیتنا انثی نطوف بہا

    واصبح انبیاء الناس ذاکرانا

(شرم کی بات ہے) ہماری قوم کا نبی عورت ہے جس کے گرد ہم چکر کاٹ رہے ہیں اور لوگوں کے نبی مرد ہوتے چلے آئے ہیں۔

سبحاح جب مسیلمہ کے پاس سے لوٹی تو اثناء راہ میں خالدq بن ولید اسلامی لشکر مل گئے۔ سبحاح کے رفقاء تو منتشر ہوگئے اور سبحاح روپوش ہوگئی اور اسلام لے آئی اور پھر وہاں سے بصرہ چلی گئی اور وہیں اس کا انتقال ہوا اور سمرۃ بن جندبq نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت سمرۃq اس وقت حضرت معاویہq کی طرف سے امیر تھے۔(تاریخ ابن الاثیر ج۲ ص۱۳۵)

اطلاع

سبحاح اور مسیلمہ کے وہ الہامات جو اس خیمہ میں ہوئے وہ تاریخ ابن الاثیر اور تاریخ طبری ج۳ ص۲۳۹ میں مذکور ہیں۔ ہم نے شرم کی وجہ سے ان کو حذف کردیا۔

430

مختار بن ابی عبید ثقفی

مختار بن ابی عبید ثقفی، حضرت عبد اللہ بن زبیرq اور عبدالملک بن مردان کے زمانہ میں ظاہر ہوا مدعی نبوت تھا اور یہ کہتا تھا کہ جبرائیل امین میرے پاس آتے ہیں۔ ۶۷ھ میں عبد اللہ بن زبیرq کے حکم سے قتل کیاگیا۔لعنۃ اللہ علیہ!

’’وفی ایام ابن الزبیرq کان خروج المختار الکذاب الذی ادعی النبوۃ فجہز ابن الزبیر لقتالہ الی ان ظفر بہ فی سنۃ سبع وستین وقتلہ لعنۃ اللہ ‘‘ (تاریخ الخلفاء للسیوطی ص۸۳)
’’وقد ظہر بالعراق وکان یدعی ان جبرئیل یاتیہ بالوحی۔ کذافی دول الاسلام‘‘ (لحافظ الذہبی ج۱ ص۳۵)

(ترجمہ) ’’عبد اللہ بن زبیرq کے دور میں مختار کذاب مدعی نبوت کا خروج ہوا تھا۔ حضرت عبد اللہ زبیرq نے اس کے قتال کے لئے لشکر تیار کیا۔ یہاں تک کہ اس پر فتح پائی۔ ۶۷ء کا یہ واقعہ ہے یہ شخص ملعون آخر کار قتل ہوا۔‘‘

حافظ ذہبیv فرماتے ہیں کہ یہ شخص عراق میں ظہور پذیر ہوا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ جبرائیل امین میرے پاس وحی لاتا ہے۔

حارث بن سعید کذاب دمشقی

حارث بن سعید نے عبدالملکv بن مردان کے زمانہ خلافت میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ عبدالملکv بن مردان نے اس کو قتل کر کے عبرت کے لئے سولی پر لٹکایا۔ عبدالملکv بن مردان خود تابعی تھا۔ حضرت عثمانq اور ابوہریرہq اور ابوسعید خدریq اور عبد اللہ بن عمرq اور معاویہq اور ام مسلمہt اور بریرہt سے حدیث سنی تھی اور عروۃ بن زبیرq اور خالد بن معدانq اور زہریq جیسے علماء تابعین عبدالملکv سے روایت کرتے تھے۔ (کما فی تاریخ الخلفاء ص۸۴)

ان حضرات کی موجودگی میں عبدالملکv نے اس متنبی کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا۔ قاضی عیاضq فرماتے ہیں: ’’عبدالملکv بن مروان نے حارث متنبی کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا۔ اسلامی خلفاء اور بادشاہوں نے ہرزمانہ میں جھوٹے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا

431

ہی کیا ہے اور علماء عصر نے ان کے فعل صواب پر اتفاق کیا۔ کیونکہ یہ جھوٹے مدعیان نبوت مفتری علی اللہ ہیں۔ خداوند قدوس پر جھوٹا الزام رکھتے ہیں کہ اس نے ان کو نبی بنایا اور پیغمبرa کے خاتم النّبیین اور ’’لا نبی بعدہ‘‘ کے منکر ہیں اور علماء کا اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ جو شخص مدعیان نبوت کی تکفیر کرنے والوں سے بھی اختلاف کرے وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ ان مدعیان نبوت کے کفر اورتکذیب علی اللہ پر راضی وخوش ہے۔‘‘(نسیم الریاض ج۴ ص۵۷۵)

مغیرۃ بن سعید عجلی بیان بن سمعان تمیمی

۱۱۹ھ میں مغیرۃ بن سعید عجلی اور بیان بن سعید تمیمی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خالد بن عبد اللہ قسری نے جوہشام بن عبدالملک کی طرف سے امیر عراق تھا دونوں کو قتل کر کے عبرت کے لئے پھانسی پر لٹکایا اور پھر آگ کے گڑھے میں ڈال کر جلوایا۔(تاریخ کامل ج۵ ص۷۶، تاریخ طبری ج۸ ص۲۴۰)

شیخ جلال الدین سیوطیv فرماتے ہیں کہ ہشام کے زمانہ خلافت میں سالم بن عبد اللہ بن عمر اور نافع مولی ابن عمر اور طاؤس اور سلیمان بن یسار اور قاسم بن محمد بن ابی بکر اور حسن بصری اور محمد بن سیرین اور مکحول اور عطاء بن ابی ریاح اور امام باقر اور وہب بن منبہ اور سکینہ بنت حسین اور ثابت نبانی اور مالک بن دینار اور ابن شہاب زہری اور ابن عامر مقری شام وغیرہ یہ اکابر علماء موجود تھے اور شعراء میں جریر اور فرزوق تھے۔(تاریخ الخلفاء ص۹۶ مصری)

امام عبدالقاہر بغدادی نے فرمایا ہے۔ تیسری فصل فرقہ مغیریہ کے ذکر میں ہے یہ لوگ مغیرہ بن سعید عجلی کے پیروکار ہیں۔ آگے چل کر لکھا ہے کہ مغیرہ نے کفر صریح اختیار کیا۔ مثلاً نبوت کا دعویٰ کرنا اور اسم اعظم کے علم کا مدعی ہونا وغیرہ وغیرہ اس نے اپنے مریدوں کے آگے یہ خیال بھی ظاہر کیا تھا کہ اسم اعظم کے ذریعہ سے وہ مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے اور لشکروں کو بھی شکست دے سکتا ہے۔

ابومنصور عجلی

یہ شخص ابتداء میں رافضی تھا۔ بعد میں ملحد اور زندیق بنا اور مرزائیوں کی طرح آیات قرآنیہ میں عجیب عجیب تاویلیں کیں اور نبوت کا دعویٰ کیا۔ یوسف بن عمر ثقفی جو کہ خلیفہ

432

ہشام بن عبدالملک کی طرف سے عراق کا والی اور امیرتھا۔ اس کو جب اس کے عقائد کفریہ کا علم ہوا تو ابومنصور کو گرفتار کرا کے کوفہ میں پھانسی پر لٹکایا۔

چنانچہ شیخ عبدالقاہر بغدادی اپنی کتاب (الفرق بین الفرق ص۲۳۴) میں لکھتے ہیں کہ فرقہ منصوریہ ابومنصور عجلی کے متبعین کا نام ہے۔ اس شخص کا دعویٰ تھا کہ امامت اولاد علی کرم اللہ وجہہ میں دائرہ ہے اور اپنے آپ کو امام باقرq کا خلیفہ بتلاتا۔ اس کے بعد اپنے ملحدانہ دعاوی میں اضافہ کیا کہ مجھے معراج آسمانی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا۔ بیٹے میری تبلیغ کرتا رہ۔ اس کے بعد زمین پر اتاردیا اور کہا کرتا تھا کہ آیت خداوندی: ’’وان یروا کسفا من السماء ساقطا یقولو اسھاب مرقوم‘‘ میرے حق میں نازل ہوئی یہ فرقہ (آج کل کے نیچریوں اور منکرین حدیث کی طرح) قیامت اور جنت دوزخ کا منکر تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جنت سے مراد دنیا کی نعمتیں اور دوزخ سے مراد دنیا کے رنج والم اور مصائب ہیں اور ان کے نزدیک باوجود اس ضلالت کے اپنے مخالفوں کا خفیہ قتل کرنا جائز تھا۔ یہ فتنہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ یوسف بن عمر ثقفی والئی عراق نے ابومنصور عجلی کو سولی پر لٹکا کر اس فتنہ کا قلع قمع کیا۔

ابوالطیب احمد بن حسین متنبی

ابوالطیب احمد بن حسین کوفی جو متنبی کے نام سے ایک مشہور شاعر ہے اور جس کا دیوان دنیا میں مشہور اور فن ادب کا جزو نصاب ہے۔ حمص کے قریب مقام سماوہ میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کچھ اہل حماقت اور اہل غباوۃ اس کے متبع ہوگئے۔ امیر حمص نے متنبی کو جیل خانہ میں بند کر دیا۔

بالآخر جب جیل خانہ سے دعوائے نبوت سے تحریری توبہ نامہ لکھ کر بھیجا تب رہا ہوا۔

(حافظ ابن کثیرv البدایۃ والنہایۃ ج۱۱ ص۲۵۷) میں لکھتے ہیں: اس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نبی ہوں اور میری طرف وحی آتی ہے۔ جاہلوں اور سفلہ لوگوں کی ایک جماعت نے اس کو مان لیا۔ نزول قرآن کا بھی یہ شخص مدعی تھا۔ چنانچہ اس کی وحی اور قرآن کے چند جملے شہرت پاچکے ہیں۔ ’’والنجم السیار والفلک الدوار واللیل والنہار ان الکافر لفی خسار۔ مض علی سنتک واقف اثر من کان قبلک من

433

المرسلین فان اللہ قامع بک من الحدفی دینہ وضل عن سبیلہ‘‘ اس قسم کے ہذیانات (جیسا کہ غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ میں وحی اور الہامات اکٹھے کئے ہیں) اس شخص کے بھی مشہور ہوگئے تھے جس وقت اس مدعی نبوت کی خبریں اور چرچے عام ہوئے اور ایک جماعت اہل غبادت وحماقت اس کے گرد جمع ہوگئی تو حمص کے حاکم امیر لولو نے اس پر چڑھائی کی اور قتال ومقابلہ کے بعد اس کے آدمیوں کو منتشر کیا اور اسے گرفتار کر کے قیدوبند میں ڈال دیا۔

چنانچہ جب احمد بن حسین کافی عرصہ جیل خانے میں بیمار رہنے کے بعد ہلاکت کے قریب پہنچ گیا تو امیر نے اسے نکال کر توبہ کا مطالبہ کیا۔ اس وقت احمد بن حسین دعوائے نبوت سے تائب ہوا اور اپنے پچھلے تمام دعاوی کو جھٹلایا اور ایک تحریری توبہ نامہ شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ میں تائب ہو کر دوبارہ اسلام میں داخل ہوتا ہوں اور میرے پچھلے تمام دعاوی غلط اور جھوٹ تھے۔ اس پر امیر لولوء نے اس کو آزاد کر دیا۔(تاریخ بدایۃ والنہایۃ)

اختصار کی بناء پر عربی عبارت کو حذف کردیاگیا ہے۔

حافظ ابن کثیر کتاب مذکور کے (ص۲۵۹) پر لکھتے ہیں: ’’وقد شرح دیوانہ العلماء بالشعر واللغۃ نحوا من ستین شرحا وجیزا وبسیطا‘‘ علماء لغت اور علماء شعر نے متنبی کے دیوان کی مختصر اور مطلول ساٹھ شرحیں لکھی ہیں۔

یہ شاٹھ شرحیں تو حافظ ابن کثیر کے زمانہ تک لکھی گئی اور ۷۷۴ھ (جو کہ ابن کثیر کا سن وفات ہے) اس سے لے کر ۱۳۷۳ھ تک جو شروح وحواشی لکھے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔

قصیدۂ اعجازیہ مرزاغلام احمد قادیانی

مرزاقادیانی کو اپنے قصیدۂ اعجازیہ پر ناز ہے جو غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مرزاقادیانی اور ان کے متبعین کو جاننا چاہئے کہ مرزاقادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کے اشعار کو دیوان متنبی کے اشعار سے کوئی نسبت بھی نہیں۔ ممکن ہے کہ قادیان کے کچھ دہقان مرزاقادیانی کے قصیدۂ اعجازیہ پر ایمان لے آئیں۔ مگر ذرا دنیا کے ادباء اور شعراء کے سامنے پیش کر کے دیکھیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ قادیان کے دہقان کا کیسا ہذیان ہے۔فتلک عشرۃ کاملۃ!

434

اس وقت ہم فقط ان دس مدعیان نبوت کے قتل اور صلب کے واقعات پر اکتفاء کرتے تھے۔

  1. اند کے پیش تو گفتم غم دل تر سیدم

    کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است

اجمالی انواع کفر مرزاغلام احمد قادیانی

مرزاقادیانی کے کفر کی جزئیات کا شمار تو ہماری حیطہ قدرت سے باہر ہے۔ ’’و اللہ بکل شیٔ محیط‘‘ البتہ مرزاقادیانی کے کفر کے کچھ انواع کلیہ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جس کے تحت میں بے شمار جزئیات ہیں جو مرزاقادیانی کے کتابوں میں مذکور ہیں۔

۱… انکار ختم نبوت۔

۲… دعوائے نبوت حقیقت وتشریعہ ومستقلہ۔

۳… توہین انبیاء کرامB۔

۴… انکار معجزات عیسوی کہ بنصوص قرآنیہ ثابت شدہ اند۔

۵… انکار نزول عیسیٰ بن مریمm۔

۶… دعوائے مساوات نبی اکرمa۔

۷… دعوائے افضلیت برنبیa۔

۸… دعوائے افضلیت پر جمیع انبیاء کرامB۔

۹… نصوص قطعیہ اور عقائد اسلامیہ میں تحریف۔

۱۰… قطعیات اور متواترات اور اجماعیات کا انکار۔

فتلک عشرۃ کاملۃ

یہ دس وجوہ ہم نے مرزاقادیانی کے کفر کی ذکر کی ہیں۔ وہ سب کلی وجوہ ہیں۔ ہر کلی کی جزئیات اور امثلہ مرزاقادیانی کی کتابوں سے کم ازکم سوسوفراہم ہو سکتی ہیں اور دس کو سو میں ضرب دینے سے حاصل ضرب ایک ہزار نکلتا ہے۔ اس طرح مرزاقادیانی کی وجوہ کفر تفصیلی طور پر کم ازکم ایک ہزار جمع ہوسکتی ہیں۔ مرزاقادیانی نے اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ لکھی ہے۔ عجب نہیں کہ ان دس لاکھ نشانات سے کفر اور الحاد کے نشانات مراد ہوں جو اوّلین اور آخرین میں سے کسی ملحد اور مفتری کو نہیں دئیے گئے۔

435

مرزائیوں کے مختلف فرقے اور ان کا باہمی فرق

مرزاغلام احمد قادیانی کے ماننے والے زیادہ تر تین پارٹیوں پر منقسم ہیں۔ ایک پارٹی ظہیرالدین اروپی کی ہے۔ دوسری مرزامحمود قادیانی کی پارٹی ہے اور تیسری پارٹی محمد علی لاہوری کی ہے۔

اروپی پارٹی کا عقیدہ ہے کہ مرزاقادیانی مستقل نبی تھے اور ناسخ قرآن تھے اور شریعت محمدیہ مرزاقادیانی کے آنے سے منسوخ ہوچکی۔ مرزامحمود خلیفہ قادیان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی حقیقی نبی ہیں اور جو مرزاقادیانی کو نہ مانے وہ کافر ہے۔

اور محمدعلی لاہوری اور اس کی پارٹی کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی حقیقی نبی تو نہیں مگر مجازی اور لغوی نبی ہیں اور مسیح موعود حقیقی ہیں۔

اوّل الذکر جماعتوں کا کفر لوگوں کی نظر میں ظاہر ہے۔ البتہ لاہوری جماعت میں لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ جماعت کیوں کافر ہے؟

جواب: یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے عقائد کفریہ صریح اور صاف ہیں اور اردو زبان میں ہیں جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں اور پھر ہر کفر سو سو عنوان اور سوسوتعبیر سے مرزاقادیانی کی کتابوں میں مذکور ہے۔ جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے صریح کفر میں تاویل کرنا اور صریح کافر اور مرتد کو ادنیٰ درجہ کا مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ اس کو مجدد یا مسیح موعود مانا جائے۔

نیز مرزاغلام احمد قادیانی فقط دعوائے نبوت کی وجہ سے کافر نہیں بلکہ اور وجوہ سے بھی کافر ہے اور لاہوری جماعت سوائے دعوائے نبوت کے مرزاقادیانی کی تمام باتوں کی تصدیق کرتی ہے اور دل وجان سے ایمان رکھتی ہے۔

علاوہ ازیں محمد علی لاہوری نے انگریزی اور اردو میں قرآن کریم کی تفسیر لکھی ہے جس میں بہت سی آیات قرآنیہ کی تحریف کی وہ تحریفات اس جماعت کے کفر کے مستقل وجوہ ہیں۔

لاہوری مرزائیوں سے سوال

اگر مرزاقادیانی حقیقی نبوت کے مدعی نہ تھے تو یہ بتلایا جائے کہ حقیقی نبوت کا دعویٰ

436

کن الفاظ سے ہوتا ہے اور نبی اکرمa تو مرزاقادیانی کے نزدیک بھی حقیقی نبی تھے جو الفاظ حضورa کی نبوت کے لئے قرآن کریم میں آئے ہیں۔ وہی الفاظ مرزاقادیانی نے اپنے لئے استعمال کئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مرزاقادیانی حقیقی نبوت کے مدعی نہ تھے۔ صریح مکابرہ اور مجادلہ ہے۔ ایک شخص صراحۃً علی الاعلان یہ کہہ رہا ہے کہ میں وزیراعظم ہوں اور آپ یہ کہتے ہیں کہ اس کی مراد ظلی اور بروزی اور مجازی اور لغوی وزارت ہے۔ مرزاقادیانی کے دعوائے نبوت کی عبارتیں عموماً اردو زبان میں ہیں۔ کیا سوائے محمد علی لاہوری کے کوئی اردو زبان سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔

۲… اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مرزاقادیانی نے نبوت حقیقیہ کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ ظلی اور بروزی اور مجازی نبوت کے مدعی تھے تو بتلایا جائے کہ ظلی اور مجازی نبوت پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کا انکار کفر اور ارتداد ہے۔

۳… نیز یہ بتلایا جائے کہ لاہوری جماعت اس گروہ کو جو مرزاقادیانی کو حقیقتاً نبی مانتی ہے۔ جیسے بشیرالدین محمود اس کی تکفیر کیوں نہیں کرتی۔ لاہوری جماعت کو چاہئے کہ قادیانی جماعت کے کفر کا اعلان کرے اور ان سے بیاہ شادی اور میراث کے عدم جواز کا فتویٰ دے۔ لیکن معاملہ برعکس ہے جو لوگ حضورa کو صحیح معنی میں خاتم النّبیین مانتے ہیں۔ لاہوری جماعت ان سے کافروں کا سا معاملہ کرتی ہے اور کسی مرزائیہ لڑکی کا نکاح غیرمرزائی سے جائز نہیں سمجھتی اور نہ ان کے پیچھے نماز درست سمجھتی ہے اور قادیانی جماعت سے یہ بیاہ شادی ومیراث وغیرہ سب کو جائز اور حق سمجھتی ہے۔

۴… نیز اگر آپ کے نزدیک مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں بھی نہیں دیں اور آنحضرتa کی مساوات بلکہ افضلیت کا بھی دعویٰ نہیں کیا اور کیا مرزاقادیانی نے اسلام کے قطعی اور اجماعی امور میں تاویل اور تحریف بھی نہیں کی۔

کیا ان باتوں سے آدمی کافر اور مرتد ہوتا ہے یا نہیں۔ بلاشبہ مرزاقادیانی ایک وجہ سے نہیں بلکہ صدہا وجوہ سے صریح کافر اور مرتد ہیں۔ لاہوری مرزائی اگرچہ ظاہراً مرزاقادیانی کو نبی نہیں کہتے لیکن دعوائے نبوت کے علاوہ تو مرزاقادیانی کی تمام کفریات کو حق سمجھتے ہیں اور جو شخص صریح کافر کو کافر نہ سمجھے تو وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔

437

مثلاً کوئی شخص مسیلمہ کذاب کے کفر میں تاویل کرے تو وہ بھی کافر ہے۔

لاہوری جماعت کا عجب حال ہے کہ مرزاقادیانی کو ملہم اور مامور من اللہ بھی مانتی ہے اور ان کے خاص دعوائے نبوت سے انکار بھی کرتی ہے۔ قادیان کے متنبی سے بھی وابستہ رہنا چاہتی ہے اور مسلمان رہنا چاہتی ہے۔

ایں خیال است و محال است وجنون

قادیانی جماعت سے سوال

جب آپ کے نزدیک مرزاقادیانی حقیقتاً نبی ہے تو پھر آپ لاہوری جماعت کے تکفیر کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ آپ کے اعتقاد کے مطابق ایک حقیقی نبی اور رسول کے منکر ہیں۔ حیرت ہے کہ مرزامحمود کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان جو مرزاقادیانی کو نبی نہ مانیں وہ تو کافر اور مرتد ہیں۔ مگر محمد علی لاہوری اور ان کے متبعین اگرچہ مرزاقادیانی کی نبوت کا انکار کریں وہ کافر اور مرتد نہیں بلکہ بھائی بھائی ہیں۔

آخر مرزامحمود بتلائیں کہ وہ لاہوریوں کو کیوں کافر نہیں کہتے۔ آخر وہ بھی ہماری طرح مرزاقادیانی کو نبی نہیں مانتے۔

معلوم ہوا کہ قادیانیوں کا یہ اختلاف سب جنگ زرگری اور نفاق ہے۔ اختلاف عقائد کی بناء پر دنیا بھر کی تکفیر نہ ہو۔ آخر اس کا مطلب کیا ہے کہ لاہوری مرزاقادیانی کو نبی نہ مانیں تو کافر نہیں اور تمام دنیا کے مسلمان مرزاقادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر اور مرتد ہیں۔ معلوم ہوا کہ قادیانی اور لاہوری درپردہ سب ایک ہیں۔ (الکفر ملۃ واحدۃ)

اصل وجہ یہ ہے کہ جب لاہوری جماعت نے مرزاقادیانی کو مسیح موعود اور مامور من اللہ مان لیا تو گویا نبی ہی مان لیا بلکہ سب کچھ مان لیا۔ ہمارے نزدیک محمد علی لاہوری منافق تھا۔ مرزامحمود منافق نہیں۔ صاف کہتا ہے کہ میراباپ حقیقتاً نبی تھا اور لاہوری جماعت بہ نسبت قادیانی جماعت کے زیادہ خطرناک ہے۔ نفاق کے پردہ میں اپنے کفر کو چھپاتی ہے۔

مرزاقادیانی کے تھیلے میں سب کچھ ہے

مرزاقادیانی کی تصانیف میں سب قسم کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایمان کی بھی اور

438

کفر کی بھی۔ اسلام اور عیسائیت اور ہندو مذہب اور مجوسیت سب کچھ ہے۔ جس وقت جس چیز کی ضرورت ہوئی وہ پیش کر دی۔ لوگ اس سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ مرزائیوں کا یہی طریقہ ہے۔ جہاں ضرورت پیش آئی وہاں مرزاقادیانی کو مجدد اور ملہم من اللہ بتلادیا اور جہاں کچھ گنجائش ملی وہاں مرزاقادیانی کو ظلی اور بروزی نبی بتلایا اور جہاں احباب خاص کا مجمع ہوا وہاں مرزاقادیانی کو مستقل اور صاحب شریعت نبی بتلادیا اور دس لاکھ معجزات بتلادئیے اور جہاں ہندوؤں کا مجمع ہوا۔ وہاں مرزاقادیانی کو کرشن بتلادیا۔ کبھی مذکر ہوگئے اور کبھی حاملہ اور حائضہ اور کبھی عاقل اور دانا بن گئے اور کبھی خبطی اور مراقی بن گئے۔

مرزائی دھوکہ

مرزائی دھوکہ دینے کی غرض سے مرزاقادیانی کی وہ عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں ختم نبوت کا اقرار اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جلالیت قدر اور عظمت شان کا اعتراف ہے۔ اس قسم کی عبارتیں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ عبارتیں جن میں دعوائے نبوت اور حضرات انبیاء کرامo کی توہین اور تحقیر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان مطہر میں صریح گالیاں ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ یہود بے بہبود کا یہی شیوہ تھا۔تبدونہا وتخفون کثیراً!

جواب: جواب یہ ہے کہ مرزاقادیانی ماں کے پیٹ سے کافر پیدا نہ ہوئے تھے۔ ابتداء میں اسلامی عقائد رکھتے تھے۔ بعد میں نبوت کا خیال پیدا ہوا۔ لہٰذا پہلی عبارتوں کا پیش کرنا تب مفید ہوسکتا ہے کہ جب مرزائی، مرزاقادیانی کی کوئی صاف اور صریح عبارت ایسی دکھلادیں کہ جس میں یہ تصریح ہوکہ میری کتاب میں اس کے خلاف جو پاؤ وہ سب غلط ہے۔ صحیح صرف وہی ہے کہ جو میں نے قبل دعوائے نبوت لکھا ہے اور اب دعوائے نبوت سے تائب ہوتا ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گالیوں اور حضرات انبیاء کی توہین سے توبہ کرتا ہوں۔

مرزائی اگر مرزاقادیانی کی کوئی ایسی عبارت دکھلادیں تو ہم بھی ان کی تکفیر سے تائب ہو جائیں گے۔

ایک ضروری اطلاع

مرزاقادیانی کے وجوہ کفر اگر تفصیل کے ساتھ دیکھنا چاہیں تو رسالہ اشد العذاب

439

علی مسیلمۃ الفنجاب مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسنv کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ جس میں مولانا صاحب نے مرزاقادیانی کے اور تینوں پارٹیوں کے عقائد کفریہ کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔

مرزاقادیانی کے مضامین میں اختلاف کیوں ہے؟

مرزاقادیانی کے کتابوں میں جس قدر مختلف اور متعارض مضامین ملتے ہیں۔ غالباً دنیا کے کسی متنبی اور کسی ملحد اور زندیق کے کلام میں اس کا ہزاروں حصہ بھی نہیں مل سکتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مرزاقادیانی چالاکی اور عیاری میں بہت سے آگے تھے۔ مرزاقادیانی کی یہ روش دیدۂ دانستہ اور خود ساختہ اور پرداختہ ہے۔ کبھی ختم نبوت کا اقرار اور کبھی انکار کبھی حضرت مسیح بن مریم کی مدح اور کبھی ان میں جرح قدح کبھی نزول مسیح کو متواترات اور قطعیات اسلام سے بتلاتے ہیں اور کبھی اس کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔ غرض یہ تھی کہ حقیقت کوئی متعین نہ ہو۔ بات گڑبڑ رہے اور بوقت ضرور مخلص اور مفرباقی رہے اور زنادقہ کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کی وہ عبارتیں جو عام اہل سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق ہیں۔ ان کے اقوال کفریہ اور الحادیہ کا کفارہ نہیں بن سکتیں۔ جب تک دو باتیں صراحۃً ثابت نہ ہو جائیں۔ اوّل یہ کہ مرزاقادیانی یہ تصریح کریں کہ میری وہ عبارتیں جو عام اہل سنت کے مطابق ہیں۔ ان عقائد سے میری مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی ہے۔ دوم یہ کہ جو عبارتیں اہل سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف میری کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ میں ان سے علانیہ طور پر توبہ اور رجوع کرتا ہوں اور کتاب وسنت کی تمام نصوص کو اسی معنی پر مانتا ہوں کہ جس معنی کے اعتبار سے صحابہ وتابعین سے لے کر اس وقت تمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی مدح وثنا بھی کرتا رہے اور اس کی اطاعت اور محبت کا بھی دم بھرتا رہے لیکن کبھی کبھی ذرا دل کھول کر اس کو ماں بہن کی گالیاں بھی دے لیا کرے تو کیا ایسا شخص واقعی اس کا مطیع اور متبع سمجھا جاسکتا ہے؟ ’’وآخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الرحمین‘‘

(محرم الحرام ۱۳۷۳ھ)

440