عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

احتساب قادیانیت جلد اوّل

احتسابِ قادیانیت 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت، فتنۂ قادیانیت اور قادیانی شبہات کے موضوع پر مختلف جید علماء و محققین کی مستند تصانیف اور علمی ذخیرے کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرتب کیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلداوّل
مصنف : حضرت مولانا لال حسین اخترؒ
صفحات : ۲۶۴
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
طبع اوّل : ۱۹۸۹ء
طبع دوم : جون ۱۹۹۶ء
طبع سوم : اپریل ۲۰۰۱ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فہرست رسائل مشمولہ … احتساب قادیانیت جلد۱

  1. ٭… نگاہ اوّلین ۔۔۔ حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری

    ۴

  2. ٭…مناظرہ نہ کیا جائے۔۔۔ حضرت مولانا اﷲ وسایا

    ۷

  3. ٭…میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی؟۔۔۔ حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ

    ۱۰

  4. ٭…قادیانی اور مولانا اختر ؒ (تاریخی نظم)۔۔۔حضرت مولانا ظفر علی خانؒ

    ۲۵

  5. ۱…ترکِ مرزائیت۔۔۔ حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ

    ۲۷

  6. ۲…ختم نبوت اور بزرگان امت۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۱۱

  7. ۳…حضرت مسیحؑ مرزا کی نظر میں۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۳۵

  8. ۴…حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور مرزاقادیانی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۷۵

  9. ۵…حملِ مرزاقادیانی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۹۱

  10. ۶…مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۱۹۵

  11. ۷…سیرت مرزاقادیانی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۰۳

  12. ۸…عجائبات مرزاقادیانی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۱۵

  13. ۹…آخری فیصلہ۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۲۵

  14. ۱۰…بکروثیب۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۳۱

  15. ۱۱…وفاقی وزیرقانون کی خدمت میں عرض داشت۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۳۷

  16. ۱۲…حمود الرحمن کمیشن میں بیان۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۴۹

  17. ۱۳…مسلمانوں کی نسبت قادیانی عقیدہ۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۵۵

  18. ۱۴…انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی۔۔۔ ؍؍ ؍؍ ؍؍

    ۲۵۹

2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نگاہ اوّلین

مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ کا وجود قادیانیت کے لئے تازیانہ خداوندی تھا۔ آپ نے نصف صدی خدمت اسلام اور تحفظ ناموس رسالتa کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔ اندرون وبیرون ملک آپ کی خدمات جلیلہ کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان گرانقدر خدمات میں حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانویv، شیخ الاسلام مولانا سید انور شاہ کشمیریv، قطب الارشاد شاہ عبدالقادر رائے پوریv کی دعائیں، سرپرستی اور حضرت امیرشریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریv کی رفاقت کا بہت بڑا دخل ہے۔ ان خدمات کو اس سے بڑھ کر اور کیا خراج پیش کیا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریv نے ایک مناظرہ میں مولانا لال حسین اختر ؒ کو نہ صرف اپنا نمائندہ بنایا، بلکہ ان کی فتح وشکست کو اپنی فتح وشکست قرار دیا۔

مولانا لال حسین اختر ؒ اور آپ کے گرامی قدر رفقاء مرحومین کا صدقہ جاریہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہے۔ جب تک اس جماعت کے خدام ورضاکار دنیا کے کسی بھی حصہ میں منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کریں گے ان حضرات کی مقدس ارواح کو برابر ثواب وتسکین حاصل ہوتی رہے گی۔

مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ نے متعدد عنوانوں پر قلم اٹھایا۔ تقریر کی طرح تحریر میں بھی غضب کی گرفت اور مناظرانہ استدلال سے دشمن کو لاجواب کر دینے کی شان نمایاں ہے۔

ردقادیانیت پر آپ کے ’’چودہ‘‘ رسائل ومضامین ہیں۔ جن میں سے بعض کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے لاکھوں کی تعداد میں اندرون وبیرون ملک تقسیم کیا اور بعض ایسے رسائل ہیں جو ایک آدھی دفعہ وقتی ضرورت کے تحت شائع ہوئے اور آج وہ نایاب ہیں۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ان تمام رسائل کو یکجا کتابی شکل میں شائع کر دیں تاکہ ہمیشہ کے لئے لائبریریوں میں محفوظ ہو جائیں۔

3

ترتیب وتعارف

مولانا ظفر علی خان مرحوم نے ایک بار جیل میں اپنے گرامی قدر ساتھی مولانا لال حسین اختر ؒ کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ سب سے اوّل میں وہ شامل اشاعت ہے۔

۱-ترک مرزائیت: اس کتاب میں مولانا مرحوم نے اپنے مرزائیت چھوڑنے کے اسباب بیان کئے ہیں۔ اس کتاب کو قدرت نے اس قدر شرف قبولیت سے نوازا کہ مولانا سید انور شاہ کشمیریv نے اپنی تصنیف ’’خاتم النّبیین‘‘ میں اس کے حوالے نقل کئے ہیں۔

۲-ختم نبوت اور بزرگان امت: قادیانیوں نے امت محمدیہa کے جلیل القدر اکابرین پر اپنے دجل وتلبیس سے الزامات لگائے کہ وہ ’’اجرائے نبوت‘‘ کے قائل تھے۔ قادیانیوں کے اس دجل وفریب کا مولانا نے اس رسالہ میں جواب دیا ہے اور ایسا کافی وشافی کہ اس کے بعد قادیانیوں کے ہمیشہ کے لئے منہ بند ہوگئے۔

۳-حضرت مسیحؑ مرزاقادیانی کی نظر میں: مرزاغلام احمد قادیانی کے گستاخ وبے باک قلم سے انبیاء کرامo کی ذات تک محفوظ نہیں رہی۔ حضرت سیدنا عیسیٰm کی توہین وتنقیص میں تو اس نے یہودیوں کے بھی کان کتر لئے اور ظلم یہ کہ قادیانی امت آج بھی ان غلیظ تحریروں کو پڑھ کر توبہ کرنے کی بجائے تاویل باطل کا انداز اپناتی ہے۔ مولانا مرحوم نے مرزاقادیانی کے ’’اس کفر کو‘‘ واضح کیا ہے اور مرزائیوں کی تاویلوں کا دندان شکن جواب دیا ہے۔

اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کا انگریزی ایڈیشن بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

۴-حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور مرزاغلام احمد قادیانی: خواجہ غلام فرید مرحوم بہاول پور کے مشہورومعروف بزرگ اور صوفی تھے۔ ریاست بہاول پور کے ’’والیان‘‘ کو ان سے بہت بڑی عقیدت تھی۔ مشہور زمانہ ’’مقدمہ بہاول پور‘‘ میں مرزائیوں نے مشہور کر دیا کہ خواجہ غلام فرید، مرزاقادیانی کے ہمنوا تھے۔ ان کی یہ شرارت محض بہاول پور ریاست کے عوام کو دھوکہ دینے کی غرض سے تھی۔ مولانا لال حسین اختر ؒ نے اس رسالہ میں ثابت کیا ہے کہ مرزائیوں کا پروپیگنڈہ مرزاقادیانی کی نبوت کی طرح جھوٹا ہے۔ حضرت

4

خواجہv تمام مسلمانوں کی طرح مرزاقادیانی کو کافر سمجھتے تھے۔

۵-مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں: نام وعنوان سے مضمون واضح ہے۔

۶-سیرت مرزا، ۷-عجائبات مرزا، ۸-حمل مرزا: ان تینوں مضامین میں مرزاقادیانی کے کریکٹروکردار کو اس کے اوٹ پٹانگ حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ نبوت تو بہت دور کی چیز ہے۔ مرزاقادیانی میں شرافت نام کی بھی کوئی چیز نہ تھی۔

۹- آخری فیصلہ: اس رسالہ میں مرزاقادیانی کی مولانا ثناء اﷲ مرحوم کے ساتھ دعا ومباہلہ کی کہانی لکھی گئی ہے۔

۱۰-بکروثیب: بکروثیب مرزا کی پیشین گوئی تھی۔ اس کا حشر بھی مرزاقادیانی کی جھوٹی نبوت جیسا ہوا۔ اس کی تفصیل لکھی گئی ہے۔

۱۱-وفاقی وزیرقانون کی خدمت میں عرضداشت: جناب محمود علی قصوری مرحوم، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے زمانہ اقتدار میں وفاقی وزیر قانون تھے۔ مولانا لال حسین اختر ؒ ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر تھے۔ آپ نے قصوری صاحب سے ملاقات کی اور قادیانیوں کے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گفتگو کے تمام نکات کو تحریری طور پر پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آپ نے انہی نکات کو رسالہ کی شکل میں لکھ کر ان کو بھجوا دیا۔

۱۲-سقوط مشرقی پاکستان پر حمود الرحمن کمیشن میں تحریری بیان: سقوط مشرقی پاکستان پر تحقیقات کے لئے جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم ہوا۔ مولانا لال حسین اختر ؒ نے تحریری طور پر اس کمیشن میں بیان داخل کرایا کہ سقوط مشرقی پاکستان میں رسوائے زمانہ ایم۔ایم احمد قادیانی اور دوسرے مرزائیوں کا بھی ہاتھ ہے۔

۱۳-مسلمانوں کی نسبت قادیانیوں کا عقیدہ: نام سے مضمون واضح ہے۔ بلاتبصرہ قادیانیوں کے حوالہ جات ہیں۔

انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی: مولانا لال حسین اختر ؒ کی ان خدمات کی تھوڑی سی جھلک ہے، جو ووکنگ کی ’’مسجد شاہجہاں‘‘ کو قادیانیوں سے واگزار کرانے کے سلسلہ میں آپ نے سرانجام دی تھیں۔ یہ رپورٹ کسی اور

5

بزرگ کی لکھی ہوئی ہے۔ تاہم موضوع کی مناسبت سے اسے ہم مجموعہ میں شامل کر رہے ہیں۔

اس طرح یہ کتاب ’’چودہ‘‘ مختلف رسائل ومضامین کا حسین گلدستہ ہے جو گلہائے رنگارنگ سے مزین کر کے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی ہم سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ بے حد وحساب حمد وثناء اس ذات باری تعالیٰ کی جس کی عنایت کردہ توفیق سے اس کتاب کو شائع کر رہے ہیں۔ کروڑوں درودوسلام اس ذات بابرکاتa پر جن کی وصف خاص ’’ختم نبوت‘‘ کے پھریرے کو چار دانگ عالم میں لہرانے کا شرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو حاصل ہے۔

خاکپائے مناظر اسلام، طالب دعا: عزیزالرحمن جالندھری

خادم، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان، ۲۹؍جنوری ۱۹۸۸ء

مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ سے مناظرہ نہ کیا جائے

قادیانیوں کا سرکاری سطح پر اعلان

فقیر جن دنوں چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام قائم شدہ پہلی مسجد ’’مسجد محمدیہ‘‘ میں خطبہ جمعہ دیتا تھا، ان دنوں کتابیں، حوالہ جات، اخبارات ورسائل ہاتھ میں لے کر قادیانیوں کو خطاب کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ ان دنوں قادیانی اخبار ’’الفضل‘‘ کے دو پرچے مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر دامت برکاتہم نے عنایت کئے جن میں قادیانیوں کا اعتراف شکست تھا۔ قادیانی جماعت نے اپنے اخبار الفضل میں جماعتی طور پر باضابطہ اعلان کیا تھا کہ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ سے کوئی قادیانی مناظرہ نہ کرے۔ بلکہ ان کی مجلس میں نہ جائے۔ ان کی گفتگو نہ سنے۔ یہ دونوں حوالہ جات چناب نگر (ربوہ) اسٹیشن جامع مسجد محمدیہ میں فقیر نے پڑھ کر سنائے۔ قادیانی سٹ پٹائے۔ اخبار پرانے تھے ان پر کور چڑھانے کے لئے ایک ’’مخلص‘‘ نے لے لئے اور وہ نہ ملنے تھے نہ ملے۔ فقیر کے لئے یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ بس کچھ نہ پوچھئے۔ جب یاد آتا دل مسوس کر رہ جاتا۔ اخبار سے زیادہ صدمہ اس بات کا تھا کہ ان کی تاریخ کہیں درج نہ کی تھی۔ ورنہ اخبار تو کہیں سے بھی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ ہمارے حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر مدظلہ کو اﷲتعالیٰ دنیا

6

وآخرت میں اس کی بہتر جزا دیں۔ ان کی نوٹ بکوں میں کہیں وہ تاریخیں مل گئیں۔ فقیر نے وہ ڈائری کے ٹائٹل پر نقل کر لیں۔ آج مورخہ ۵؍جولائی ۱۹۹۹ء کو فرصت نکال کر مجلس کے مرکزی دفتر کی لائبریری سے الفضل کی متعلقہ فائل نکالی تو بحمدہٖ تعالیٰ وہ پرچے مل گئے۔ لیجئے! اس خوشی میں فقیر آپ کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے۔

مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ امت مسلمہ میں سے وہ فرد واحد ہیں جن کے متعلق قادیانی جماعت کے ناظر دعوت وتبلیغ (یعنی مناظروں کے انچارج اعلیٰ) زین العابدین ولی اﷲ شاہ نے اخبار الفضل مورخہ یکم؍جولائی ۱۹۵۰ء میں باضابطہ اعلان کیا۔ یہ اعلان الفضل (الدجل) کے ڈیڑھ صفحہ پر محیط ہے۔ ’’مبلغین سلسلہ ودیگر احباب محتاط رہیں‘‘ عنوان قائم کر کے اس نے تحریر کیا۔

’’مولوی لال حسین اختر اور اس قماش کے دوسرے مبلغین جگہ بہ جگہ ہمارے خلاف اکھاڑے قائم کئے ہوئے ہیں۔ جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس امام (مرزا قادیانی) کو بازاری قسم کی گندی گالیاں دیتے اور ہمارے عقائد اور اقوال کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنی طرف سے من گھڑت باتیں ہماری طرف منسوب کر کے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں اور مبلغین سلسلہ (قادیانیت) کو چیلنج دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ مناظرہ کر لیں۔ چنانچہ ساہیوال کے جلسہ میں لال حسین اختر نے مبلغین سلسلہ (قادیانیوں) کو خطاب کرتے ہوئے باربار کہا آؤ مناظرہ کرو۔ تم مذہبی جماعت نہیں۔ بلکہ سیاسی جماعت ہو۔ عنوان ہو کہ قادیانی کافر تھا۔ انگریز کا جاسوس تھا۔ دجال تھا۔ کذاب تھا۔ گونگا شیطان تھا۔ اگر نہ آؤ تو لعنۃ اﷲ علی الکاذبین۔ فرشتوں کی لعنت۔ آسمان کی لعنت۔ زمین کے بسنے والوں کی لعنت۔ میں اﷲ پاک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مرزائی مقابلہ پر آئے تو دن کے تارے نہ دکھائے تو لال حسین اختر میرا نام نہیں۔ کوئی مرزائی میرے سامنے بول نہیں سکتا۔ کوئی میرے سامنے آیا تو ناطقہ بند ہو جائے گا۔ اس لئے میں (زین العابدین قادیانی ناظر دعوۃ وارشاد) مبلغین سلسلہ (قادیانیوں) کو کھلے الفاظ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مناظروں کے لئے ان کے چیلنجوں پر قطعاً توجہ نہ کی جائے۔ بلکہ ان کے کسی ایسے جلسوں میں کسی احمدی کو شریک نہ ہونا چاہئے۔‘‘

(الفضل ج۳۸ نمبر۱۵۳ کالم۱ ص۴، مورخہ یکم؍جولائی ۱۹۵۰ء)

اس طرح ۵؍جولائی ۱۹۵۰ء کے اخبار (الفضل ج۳۸ نمبر۱۵۶ ص۸ کالم۱) میں لکھا

7

کہ: ’’ناظر دعوۃ تبلیغ سلسلہ عالیہ احمدیہ (قادیانیہ) ربوہ نے ایک مضمون مورخہ یکم؍جولائی ۱۹۵۰ء الفضل میں شائع فرماکر مبلغین سلسلہ عالیہ احمدیہ (قادیانیہ) اور احباب جماعت کو ہدایت فرمائی ہے کہ بد سے بدزبان مولوی لال حسین اختر سے کلام کرنے میں احتراز کریں۔‘‘

اس لحاظ سے امت مسلمہ میں سے مولانا لال حسینv وہ مرد حق ہیں جن کے نام سے دنیائے قادیانیت کانپتی وہانپتی تھی۔ مولانا کی للکار احرار نے قادیانی مبلغین ومناظرین کی بولتی بند کر دی تھی۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا تھا۔ جو قادیانی جغادری ان کے سامنے آتا، منہ کی کھاتا۔ منہ کے بل گرتا اور سسکتا سسکتا رہ جاتا۔ مولانا کے سامنے کسی قادیانی کا چراغ نہ جلتا تھا۔ اس لئے خود قادیانی اپنی حسرت ویاس میں جل بھن کر اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان سے مناظرہ نہ کیا جائے، کلام نہ کیا جائے، گفتگو نہ کی جائے۔ بلکہ ان کی گفتگو ہی نہ سنی جائے۔ کیوں جناب؟ یہ سب کچھ قادیانی جماعت اعلان کر رہی ہے یا قدرت حق مولانا لال حسین اختر ؒ کے اس قول کو سچا ثابت کر رہی ہے جو وہ اکثر مناظروں میں فرمایا کرتے تھے کہ: ’’ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو لال حسین اختر سے آکر مناظرہ کرے۔ قادیانی زہر کا پیالہ پی سکتے ہیں۔ لال حسین کے سامنے مرزاغلام احمد (اپنے چیف گرو، لاٹ پادری) کو شریف انسان ثابت نہیں کر سکتے۔‘‘

باقی رہا قادیانیوں کا یہ عذر کہ مولانا لال حسین اختر گالیاں دیتے ہیں۔ یہ صرف مولانا کی گرفت سے بچنے کی قادیانی چال ہے۔ یہ ان کا بدترین الزام تھا۔ دھوکہ تھا۔ مولانا لال حسین اختر ؒ مناظرہ، جلسہ تو درکنار کسی مجلس میں بھی آپ نے کبھی کوئی گالی نہیں دی۔ یہ محض مولانا سے جان چھڑانے کے لئے، اپنی جہالت وعجز پر پردہ ڈالنے کے لئے، قادیانی مناظر بہانہ بنایا کرتے تھے۔ ورنہ اگر مولانا گالیاں دیتے تھے تو اس لحاظ سے تو ہرروز قادیانیوں کو مولانا سے مناظرہ کرنا چاہئے تھا۔ قادیانی دلائل دیتے۔ مولانا گالیاں دیتے تو لوگ قادیانیوں کے ساتھ ہو جاتے۔ ان کو پتہ چل جاتا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ معلوم ہوا کہ مناظروں کے فرار کے لئے قادیان کی جھوٹ ساز مل نے قادیانی کذابوں کے لئے دجل وفریب کا یہ نیا چولہ تیار کر کے دیا تھا کہ وہ یوں بہانہ بناکر مولانا لال حسین اختر ؒ کی مناظرانہ للکار سے کنارہ عافیت تلاش کر سکیں۔ قدرت حق مولانا لال حسین اختر ؒ پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔

8

حسن اتفاق

آج ۵؍جولائی ۱۹۹۹ء ہے۔ جس اخبار الفضل کا حوالہ دیا ہے ان میں ایک اخبار ۵؍جولائی ۱۹۵۰ء کا ہے۔ ٹھیک انچاس سال بعد اسی ہی تاریخ کو قادیانی دجل پارہ پارہ اور مولانا لال حسین اختر ؒ کی مناظرانہ جرأت کو آشکارا کرنے کا قدرت نے موقع عنایت فرمایا ہے۔

(فقیر) اﷲ وسایا

میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ نے قادیانیت چھوڑنے کے اسباب بیان کرنے کی غرض سے ایک کتاب ’’ترک مرزائیت‘‘ مرتب فرمائی تھی۔ اس کو قدرت نے اس قدر قبولیت سے نوازا کہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریv نے اپنی آخری تصنیف ’’خاتم النّبیین‘‘ میں اس کے حوالہ جات درج فرمائے۔ فلحمدﷲ! مولانا لال حسین اختر ؒ کے زمانہ حیات میں ’’ترک مرزائیت‘‘ کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔ آپ نے کتاب میں قادیانیوں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ اس کا جواب شائع کر کے انعام حاصل کریں۔ قادیانیوں کو جواب دینے کی جرأت نہ ہوسکی۔ اس کے پانچویں ایڈیشن کے لئے حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ نے مقدمہ تحریر فرمایا تھا۔ لیکن پانچواں ایڈیشن آپ کی زندگی میں شائع نہ ہوسکا۔ حضرت مرحوم کے تمام رسائل کا مجموعہ ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے نام سے شائع کیا تو پانچویں ایڈیشن کا یہ مقدمہ ہمارے علم میں نہ تھا۔ بعد میں حضرت مرحوم کے غیرمطبوعہ مسودہ جات کو ترتیب دی تو یہ مسودہ مل گیا۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حضرت مرحوم نے قادیانیت کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق کچھ خواب دیکھے تھے جو آپ کے قلم سے کسی کتاب یا رسالہ میں موجود نہیں۔ روایت باالمعنی کے طور پر آپ کے شاگرد مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعرv کی روایت سے ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ میں شائع کئے گئے۔ اس مسودہ میں وہ خواب حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ کے قلم سے لکھے ہوئے مل گئے ہیں۔ یہ مسودہ آج تک کہیں شائع نہیں ہوا۔ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں آپ اس کا مطالعہ فرمائیں۔ ترک مرزائیت کے اسباب۔ خواب اور حضرت کی سوانح اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔

9

اﷲتعالیٰ حضرت مرحوم کے فیض کو قیامت تک جاری رکھیں۔ آمین! (ناظم نشرواشاعت)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’الحمد ﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ‘‘اما بعد! اﷲ رب العزت کا ارشاد ہے: ’’ہل انبئکم علٰی من تنزل الشیٰطین تنزل علی کل افاک اثیم (الشعراء:۲۶،۲۲۱،۲۲۲)‘‘{کیا میں تم کو بتلاؤں کس پر شیاطین اترا کرتے ہیں۔ ایسے شخصوں پر اترا کرتے ہیں جو جھوٹ بولنے والے بدکردار ہوں۔}

گر آن چیزے کہ مے بینم مریداں نیز دیدندے

زمرزا توبہ کردندے بچشم زار وخوں بارے

خدائے واحد وقدوس کے فضل وکرم سے ’’ترک مرزائیت‘‘ کو وہ مقبولیت حاصل ہوئی جو میرے وہم وگمان میں نہ تھی۔ عامتہ المسلمین نے عموماً اور حضرات علمائے کرام نے خصوصاً اسے نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ حتیٰ کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہv سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند نے اپنی مشہور ومعروف اور لاجواب کتاب ’’خاتم النّبیین‘‘ میں متعدد مقامات پر ’’ترک مرزائیت‘‘ سے حوالہ جات درج فرمائے ہیں۔ ’’ذلک فضل اﷲ یوتیہ من یشاء‘‘

طبع اوّل، دوم، سوم اور چہارم میں اعلان کیاگیا تھا کہ اگر کوئی لاہوری مرزائی ’’ترک مرزائیت‘‘ کا جواب لکھے گا تو اسے بعد فیصلہ منصف ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ چالیس سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ کسی مرزائی کو ہمت نہیں ہوئی کہ ’’ترک مرزائیت‘‘ کا جواب لکھتا، مجھ سے جواب الجواب، منصف کے تقرر اور انعام کا مطالبہ کرتا۔ مرزائی مناظرین ومبلغین کی ہمتیں پست ہوگئیں۔ ان کے قلم ٹوٹ گئے اور ان کے مناظرانہ دلائل غتربود ہوگئے۔

میرا چالیس سالہ تجربہ شاہد ہے کہ میری زندگی میں مرزائیوں کو جرأت نہیں ہوگی کہ ’’ترک مرزائیت‘‘ کے جواب میں قلم اٹھاسکیں۔ (ایسے ہی ہوا)

  1. میدان کارزار میں اترے تو مرد ہے

    اپنی جگہ تو سب کو ہے دعویٰ مردمی

ان شاء اﷲ تعالیٰ!

  1. نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

    یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

10

اب مزید اضافہ کے ساتھ پانچواں ایڈیشن شائع کیا جارہا ہے۔ اﷲتعالیٰ اسے مزید شرف قبولیت عطاء فرما کر گم کردہ راہ اشخاص کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اور میرے لئے زاد آخرت۔ آمین!

(لال حسین اختر)

  1. تیرے نام سے ابتداء کر رہا ہوں

    میری انتہائے نگارش یہی ہے

بے شمار حمدوثناء خالق حقیقی کے لئے جس نے تمام جہانوں کو نیست سے ہست کیا۔ لاکھ لاکھ ستائش ذات باری تعالیٰ کے لئے جس نے جنس خاکی کو اشرف المخلوقات بنایا۔ اسے احسن تقویم اور خلافت ارضی کے شرف سے نوازا گیا۔ ہزار بار درودوسلام اس مقدس وجود کے لئے جسے اﷲتعالیٰ نے سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور ان کی ذات گرامی پر نبوت ورسالت ختم کر دی گئی۔ ان کی متبرک بعثت نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کفر وشرک کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو توحید کی رم جھم سے ٹھنڈا کیا اور ساری دنیا میں نور کا عالم پیداکردیا۔

  1. تیرے نقش قدم کے نور سے دنیا ہوئی روشن

    تیرے مہر کرم نے بخشی ہر ذرے کو تابانی

ان کی پاک ومقدس نظر نے جہالت ووحشت اور فسق وفجور کی ان تمام آلائشوں کو جو عوارض کی صورت اختیار کئے ہوئے اشرف المخلوقات کو چمٹی ہوئی تھیں، نہ صرف دور کیا بلکہ ہمیشہ کے لئے ان کا قلع قمع کر دیا۔ یہ ہادی کامل، یہ رہبر حقیقی، یہ ناصح اکبر، یہ شافع محشر، وہ ہستی ہے جن پر ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ کا قول اطلاق پذیر ہوتا ہے۔ ان کا اسم گرامی حضرت سیدنا مولانا محمد مصطفی، احمد مجتبیٰa ہے۔ شتربانوں اور گڈریوں کو جہانبانی کی راہ ورسم سکھانے والے، گمراہان عالم کو راہ راست دکھانے والے، گنہگار انسانوں کو پاک کر کے خدائے واحد وقدوس کی بارگاہ معلی تک پہنچانے والے، قانون الٰہی اور نبوت ورسالت کو ختم کرنے والے حضور اقدسa ہی ہیں۔

اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم اور حضرت خاتم الانبیاءa کے ارشادات عالیہ کے طفیل ایک راہ راست سے بھٹکا ہوا عاصی بندہ ایک گنہگار انسان جو آٹھ سال تک تاریکی کے گڑھے اور کفر وضلالت کے اندھیرے غار میں حیران وسرگردان رہا اسلام کے پرنور عالم اور روشنی کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔

’’قل اننی ہدانی ربی الٰی صراط مستقیم دیناً قیماً ملۃ ابراہیم

11

حنیفاً وما کان من المشرکین (انعام:۱۶۱)‘‘ {کہو کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتلادیا ہے وہ دین ہے مستحکم جو طریقہ ہے ابراہیمm کا جس میں ذرہ بھر کمی نہیں اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔}

تبلیغی زندگی کا آغاز

میری تبلیغی زندگی کا آغاز تحریک خلافت کا مرہون منت ہے۔ ۱۹۱۴ء میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جرمنی سے پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس جنگ میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا اور برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ عراق، عرب، فلسطین، شام اور مصر سلطنت ترکی کے زیرنگیں تھے۔ ان تمام ممالک میں اتحادیوں اور ترکوں میں خوفناک جنگ شروع ہوئی۔ اس جنگ کے ابتداء ہی میں برطانوی حکومت نے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی طرف سے اعلان کیا تھا اور مسلمانان عالم کو یقین دلایا تھا کہ جنگ میں ہمیں فتح ہوئی تو ہم مسلمانوں کے مقامات مقدسہ پر قبضہ نہیں کریں گے۔ جنگ کے ابتداء میں جرمنوں اور ترکوں کا پلہ بھاری تھا۔ ہر محاذ پر انہیں عظیم فتوحات حاصل ہو رہی تھیں۔

برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کو شکست فاش کا سامنا ہورہا تھا۔ اپنی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر برطانیہ اور اس کے حلیفوں نے روس اور امریکہ سے مدد مانگی۔ ان دونوں ملکوں کی حکومتوں نے برطانوی عرضداشت کو منظور کر کے جرمنی اور ترکی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۱۸ء میں جرمنی اور ترکی کو شکست ہوگئی۔

انگریزوں نے عراق وفلسطین کے مقامات مقدسہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ ترکی حکومت کی طرف سے عرب کے گورنر شریف حسین نے ترکی کی سلطنت سے غداری کر کے اپنی خود مختار بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ یہاں تک کہ بیت اﷲ شریف میں سینکڑوں ترکوں کو شہید کر دیا گیا۔

ملت اسلامیہ کی خلافت کا اعزاز سلطنت ترکی کو حاصل تھا۔ خلیفتہ المسلمین مسلمانوں کی عظمت ووقار کے علمبردار تھے۔ سلطنت ترکی کی شکست اورمقامات مقدسہ پر انگریزوں کے قبضہ سے مسلمانان عالم میں کہرام برپا ہوگیا۔

تحریک خلافت

ہندوستان میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنv، حضرت مولانا ابوالکلام

12

آزادv، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیv، حضرت مولانا مفتی کفایت اﷲv، حضرت مولانا محمد علی جوہرv، حضرت حکیم محمد اجمل خانv، حضرت مولانا ظفر علی خانؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریv، حضرت مولانا سید سلیمان ندویv، حضرت مولانا سید عطاء اﷲ شاہ بخاریv، مولانا شوکت علیv، مولانا مظہر علی اظہرv، مولانا حسرت موہانیv کی قیادت میں خلافت اسلامیہ کی بقاء کے لئے تحریک خلافت شروع ہوئی۔

مارچ ۱۹۲۰ء میں حضرت مولانا محمد علی جوہرv، حضرت مولانا سید سلیمان ندویv اور سید حسن امام صاحب بیرسٹر پر مشتمل ایک وفد لندن گیا اور وزیراعظم برطانیہ مسٹر لائیڈ جارج سے ملا۔ مقامات مقدسہ کے بارے میں برطانوی حکومت کا وعدہ یاد دلایا اور خلافت کے متعلق مسلمانان ہندوستان کے دینی احساسات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اپنے وعدہ کو ایفاء کیجئے اور مقامات مقدسہ سے برطانوی قبضہ اٹھا لیجئے۔ برطانوی وزیراعظم نے وفد کے مطالبے کو مستردکر دیا۔ وفد ناکام واپس آگیا۔ مقامات مقدسہ کے سقوط اور انگریزوں کی وعدہ خلافی کے باعث مسلمانان ہندوستان بے حد پریشان ومضطرب تھے۔ آل انڈیا خلافت کمیٹی نے عدم تشدد اور انگریزوں سے ترک موالات کی مقدس تحریک شروع کی۔ تحریک کا مقصد ترکی سلطنت اور خلافت کے وقار کا بحال کرنا اور مقامات مقدسہ اور ممالک اسلامیہ کا انگریزوں سے واگزار کرانا تھا۔ پروگرام یہ تجویز ہوا تھا۔

۱… انگریزی فوج اور پولیس کی نوکری چھوڑ دی جائے۔

۲… انگریزی حکومت کے لئے ہوئے خطابات واپس کئے جائیں۔

۳… انگریزی درسگاہوں سے طلباء اٹھا لئے جائیں۔

۴… ولائتی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔

۵… ہاتھ کابنا ہوا کھدر پہنا جائے۔

۶… انگریزی حکومت سے عدم تعاون کیا جائے۔ اس کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور ہندوستان کی جیلیں بھردی جائیں۔

13

تحریک خلافت میں شمولیت

میں اورینٹل کالج لاہور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ تحریک خلافت شروع ہوئی۔ علماء کرام کے شریعت مطہرہ کے احکامات کے تحت حکومت کی درسگاہوں کے بائیکاٹ کے فتویٰ کی تعمیل کرتے ہوئے کالج چھوڑ دیا۔ اپنے وطن مالوف دھرم کوٹ رندھاوا اور بارہ منگا ضلع گورداسپور چلاگیا۔ لیکن ایک خواہش تھی جو دل میں چٹکیاں لے رہی تھی۔ ایک آرزو تھی جو نچلا نہ بیٹھنے دیتی تھی۔ ایک ارمان تھا کہ جس نے معمورۂ دل کو زیروزبر کر رکھا تھا۔ حسرت تھی تو یہی، تمنا تھی تو یہی کہ جس طرح ہو اپنے دین، ہاں پیارے اسلام کی خدمت کروں۔

  1. ہمیشہ کے لئے رہنا نہیں اس دار فانی میں

    کچھ اچھے کام کر لو چار دن کی زندگانی میں

عقل نے لاکھ سمجھایا دوستوں اور رشتہ داروں نے قیدوبند کا خوف دلایا تو میرے جذبہ ایمان نے کہا ؎

  1. یہ تو نے کیا کہا ناصح نہ جانا کوئے جاناں میں

    مجھے تو راہروں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا

میں نے کسی کی ایک نہ مانی اور مشہور ومعروف شعر ؎

  1. دل اب تو عشق کے دریا میں ڈالا

    توکلت علی اﷲ تعالیٰ

کا ورد کرتے ہوئے خلافت کمیٹی میں شمولیت کی۔ آٹھ نو ماہ ضلع گورداسپور میں خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیرہدایت آنریری تبلیغ وتنظیم کا فریضہ ادا کرتا رہا۔ مولانا مظہر علی اظہر ایڈووکیٹ کی معیت میں مختلف مقامات کا دورہ کیا اور پورے زور سے خلافت کے اغراض ومقاصد کی تبلیغ کی۔ میری سرگرمی اور جمہور کی بیداری نے حکام کی طبع انتقام گیر کو مشتعل کر دیا۔ آخر کار مجھ پر گورداسپور، ننگل کنجروڑ اور ڈیرہ بابانانک کی تین تقریروں کی بناء پر حکومت کے خلاف منافرت اور بغاوت پھیلانے کا الزام عائد کر کے گورداسپور میں مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ پولیس نے مجھے عید کے دن گرفتار کیا اور فرسٹ کلاس فرنگی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا۔ مجسٹریٹ نے مجھے کہا کہ آپ پر بغاوت کا مقدمہ ہے۔ جس کی سزا چودہ سال قید سخت ہوسکتی ہے۔ میں نے کہا ؎

  1. یہ سب سوچ کر دل لگایا ہے ناصح

    نئی بات کیا آپ فرما رہے ہیں

14

مجسٹریٹ نے کہا اگر آپ اپنی تقریروں کے متعلق تحریری معذرت کر دیں تو مقدمہ واپس لے کر آپ کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ میں نے جواب دیا ؎

جلا دو پھونک دو سولی چڑھا دو خوب سن رکھو

صداقت چھٹ نہیں سکتی ہے جب تک جان باقی ہے

مجسٹریٹ نے پولیس کے چند ٹاؤٹ گواہوں کی سرسری شہادت کے بعد مجھے ایک سال قید سخت کا حکم سنایا۔ ایک سال کی طویل مدت گورداسپور جیل میں گزاری۔ رہائی سے کچھ عرصہ پہلے جیل میں ہی مجھے اخبارات سے معلوم ہوا کہ مشہور آریہ سماجی لیڈر سوامی شردھانند اور آریہ سماج نے صوبہ یو۔پی میں ملکانوں اور علم دین سے بے بہرہ مسلمانوں کی مرتد کرنے کی تحریک زور شور سے جاری کی ہے۔ اس تحریک سے مسلمانان ہندوستان میں اضطراب کی لہردوڑ گئی۔ چنانچہ ارتداد روکنے کے لئے جمعیۃ العلماء ہند، خلافت کمیٹی، مدرسہ عالیہ دیوبندی، حنفی، اہل حدیث اور شیعہ جملہ مکاتب فکر کے مسلمان علماء وزعماء آریہ سماج کے مقابلے میں میدان تبلیغ میں نکل آئے۔

مرزائیت میں داخلہ

جیل سے رہا ہوتے ہی گردوپیش کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے آریہ سماج اور شدھی وارتداد کے مقابلہ پر حفاظت واشاعت اسلام کا کام کرنا چاہئے۔ آریوں نے پنجاب کو مناظروں کا اکھاڑا بنا رکھا تھا۔ میں نے آریہ سماج کے متعلق لٹریچر مہیا کیا۔ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ضلع گورداسپور کے مختلف مقامات پر صداقت اسلام اور آریہ سماج کی تردید پر متعدد تقریریں کیں۔ فروری ۱۹۲۴ء میں تحصیل شکرگڑھ کے ایک جلسہ میں لاہوری مرزائیوں کے چند مبلغین سے میری ملاقات ہوئی۔ آریہ سماج کی تردید کے بارے میں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ احمدیہ انجمن لاہور میں تشریف لائیں تو ہم آپ کو اسلام پر آریہ سماج کے تمام اعتراضات کے جوابات سکھادیں گے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے تبلیغی کارناموں کو نہایت ہی مبالغہ سے بیان کیا اور مرزاقادیانی آنجہانی کی خدمات اسلامی کے بڑھ چڑھ کر افسانے سنائے۔ میں نے کہا کہ ہمارا اور آپ کا مذہب کا بنیادی اختلاف ہے۔ ہم حضور سرور کائناتa کو آخری نبی مانتے ہیں جب کہ حضورa

15

کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی نبوت کے مدعی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزاقادیانی مدعی نبوت نہ تھے۔ قادیانیوں نے مرزاقادیانی کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کر کے ان پر افتراء کیا ہے اور بہتان طرازی سے کام لیا ہے۔ اپنے اس بیان کو درست ثابت کرنے کے لئے مرزاغلام احمد قادیانی کی ابتدائی کتابوں سے چند حوالہ جات پڑھ کر سنائے۔ جن میں اس نے حضور خاتم النّبیینa کے بعد مدعی نبوت کو کافر دجال اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ میں مدعی نبوت نہیں۔ بلکہ مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میرا مجددیت اور محدثیت کا دعویٰ ہے۔ ہمارے وہی عقائد ہیں جو اہل سنت والجماعت کے عقائد ہیں۔ میرا مرزائی مذہب کے متعلق معمولی مطالعہ تھا۔ اس لئے میں تبلیغ اسلام کے نام پر ان کے دام تزویر میں پھنس گیا اور مسٹر محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہوریہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مرزاغلام احمد قادیانی کی مجددیت ومہدویت کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیا۔ ان کے تبلیغی کالج میں داخل ہوا۔ تین سال میں ایک اور مرزائی طالب علم اور میری تعلیم پر پچاس ہزار روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی۔

قرآن مجید کی تفسیر، حدیث، بائبل، عیسائیت، ہندی، سنسکرت، ویدوں، آریہ سماج اور علم مناظرہ کی تعلیم حاصل کی۔ مدت معینہ میں نصاب تعلیم ختم ہونے کے بعد مجھے مستقل مبلغ مقرر کر دیا گیا۔ میں نہ صرف مبلغ ومناظر اور محصل ہی کے فرائض ادا کرتا رہا بلکہ سیکرٹری احمدیہ ایسوسی ایشن، ایڈیٹر اخبار پیغام صلح کے ذمہ دارانہ عہدوں پر بھی فائز رہا اور پوری جانفشانی وسرگرمی کے ساتھ مرزائی عقائد کی تبلیغ واشاعت اور آریوں، دہریوں اور عیسائیوں سے کامیاب مناظرے کرتا رہا۔

ترک مرزائیت

۱۹۳۱ء کے وسط میں میں نے یکے بعد دیگرے متعدد خواب دیکھے جن میں مرزاغلام احمد قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دکھائی دی اور اسے بری حالت میں دیکھا۔ میں یہ خواب مرزائیوں سے بیان نہ کر سکتا تھا۔ کیونکہ اگر انہیں خواب سنائے جاتے تو وہ مجھے کہتے کہ یہ شیطانی خواب ہیں نہ ہی کسی مسلمان کو یہ خواب بتا سکتا تھا کیونکہ اگر انہیں یہ خواب سنائے جاتے تو وہ کہتے کہ مرزاغلام احمد اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا ہے۔ مرزائیت سے توبہ کر

16

لیجئے۔ میری حالت یہ تھی۔

  1. دو گونہ رنج وعذاب است جان مجنوں را

    بلائے فرقت لیلیٰ و صحبت لیلیٰ

اگرچہ پہلے بھی مرزاغلام احمد کے بعض الہامات اور اس کی چند پیش گوئیاں میرے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھیں۔ لیکن حسن عقیدت اور غلو محبت کی طاقتیں ان خیالات کو فوراً دبادیتی تھیں اور دل کو تسلی دے دیتا تھا کہ مرزانبی تو نہیں کہ جس کے تمام ارشادات صحیح ہوں۔ ان خوابوں کی کثرت سے متاثر ہوکر میں نے غوروفکر کیا گو کہ ہمارے خوابوں پر دین کا مدار نہیں اور نہ ہی یہ حجت شرعی ہیں۔ لیکن ان سے صداقت کی طرف راہنمائی تو ہوسکتی ہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی محبت اور عداوت دونوں کو بالائے طاق رکھ کر اور ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مرزائیت کے صدق وکذب کو تحقیقات کی کسوٹی پر پرکھنا چاہئے۔ خدائے واحد قدوس کو حاضر وناظر سمجھتے ہوئے یہ اعلان کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں نے مرزاغلام احمد کی محبت اور عداوت کو چھوڑ کر اور خالی الذہن ہوکر مرزاقادیانی کی اپنی مشہور تصنیفات اور قادیانی ولاہوری ہردو فریق کی چیدہ چیدہ کتابوں کو جو مرزاقادیانی کے دعاوی کی تائید میں لکھی گئی تھیں چھ ماہ کے عرصہ میں نظر غائر سے بطور محقق کے پڑھا اور علماء اسلام کی تردید مرزائیت کے سلسلہ میں چند کتابیں مطالعہ کیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ میں نے مطالعہ کیا اتنا ہی مرزائیت کا کذب مجھ پر واضح ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین کامل ہوگیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ الہام، مجددیت، مسیحیت، نبوت وغیرہ میں مفتری تھا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضور رسالت مآبa آخری نبی ہیں۔ حضرت مسیحؑ آسمان پر زندہ ہیں۔ وہ قیامت سے پہلے اس دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔

تیرے رندوں پہ سارے کھل گئے اسرار دین ساقی

ہوا علم الیقین عین الیقین حق الیقین ساقی

اب میرے لئے ایک نہایت مشکل کا سامنا تھا۔ ایک طرف ملازمت تھی۔ جماعت مرزائیہ کے ارکان اور افراد جماعت سے آٹھ سال کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات تھے۔ بحیثیت ایک کامیاب مبلغ ومناظر جماعت میں رسوخ حاصل تھا۔ لیکن جب دوسری

17

طرف مرزاغلام احمد قادیانی کے عقائد قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے بالکل الٹ دیکھتا تھا۔ ان کے الہامات اور پیش گوئیوں کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں اور قیامت کے دن ان عقائد باطلہ کی بازپرس کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا تو میں لرزہ براندام ہو جاتا تھا کہ ایک طرف حق تھا اور دوسری طرف باطل۔ ایک طرف تاریکی تھی اور دوسری طرف مشعل نور۔ ایک طرف معقول تنخواہ کی ملازمت اور آٹھ سال کے دوستانہ تعلقات تھے اور دوسری طرف دولت ایمان۔ لیکن ساتھ دنیوی مشکلات اور مصائب کا سامنا۔ آخر میں نے قطعی فیصلہ کر لیا کہ چاہے ہزارہا تکالیف اٹھانی پڑیں انہیں بخوشی برداشت کروں گا۔ کیونکہ حق کے اختیار کرنے والوں کو ہمیشہ تکالیف ومصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ہے۔

  1. صداقت کیلئے گر جاں جاتی ہے تو جانے دو

    مصیبت پر مصیبت سر پہ آتی ہے تو آنے دو

چنانچہ میں اشکبار آنکھوں اور کفر وارتداد سے پشیمان اور لرزتے ہوئے دل سے اپنے رحیم وکریم خداوند قدوس کے حضور کفر مرزائیت سے تائب ہوگیا۔ توبہ کے بعد دل کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔

  1. عصیان ماو رحمت پروردگار ما

    ایں رانہایتے است نہ آں را نہایتے

میرے غفورورحیم مالک ؎

  1. عصیاں سے کبھی ہم نے کنارا نہ کیا

    پر تو نے دل آزردہ ہمارا نہ کیا

  2. ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر

    لیکن تیری رحمت نے گوارا نہ کیا

’’الحمد ﷲ الذی ہدانا لہذا وما کنا لنہتدی لولا ان ہدانا اﷲ (الاعراف:۴۳)‘‘{اﷲتعالیٰ کا لاانتہاء احسان وشکر ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا اور اگر اﷲتعالیٰ ہمیں ہدایت نہ کرتا تو ہم ہرگز راہ راست پانے والے نہ تھے۔} ذالک فضل اﷲ یوتیہ من یشاء!

  1. یا رب تو کریمی و رسول تو کریم

    صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم

میں نے یکم؍جنوری ۱۹۳۲ء کو احمدیہ انجمن لاہور کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا جو ۲۴؍جنوری کو منظور کر لیا گیا۔

18

ترک مرزائیت کا اعلان

۱۹۳۲ء کی ابتداء میں انگریز اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف تحریک کشمیر انتہائی عروج تک پہنچ چکی تھی۔ مجلس احرار اسلام کے ایک درجن سے زائد مجاہدین شہید ہوچکے تھے۔ مجلس کے تمام راہنما اور چالیس ہزار سرفروش رضاکار جیل خانوں میں محبوس تھے۔ برطانوی حکومت نے عام اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ حالات کچھ سازگار ہوئے۔ پابندیاں ختم ہوئیں تو احباب کی طرف سے ایک جلسہ عام کا اہتمام کیاگیا۔ قدآدم اشتہار شائع کئے گئے کہ ۷؍مئی ۱۹۳۲ء بعد نماز عشاء باغ بیرون موچی دروازہ لاہور جلسہ عام منعقد ہوگا۔ جس میں مولانا لال حسین اختر ؒ جن کی تعلیم پر مرزائیوں نے پچاس ہزار سے زائد روپیہ خرچ کیا تھا اور وہ جماعت مرزائیہ لاہوریہ کے مشہور مبلغ ومناظر تھے۔ ترک مرزائیت کا اعلان کریں گے اور ترک مرزائیت کے وجوہ اور ناقابل تردید دلائل بیان کریں گے۔ ان کی تقریر کے بعد مرزائیوں کے نمائندہ کو سوال وجواب کے لئے وقت دیا جائے گا۔ اندرون شہر اور بیرون شہر منادی کی گئی۔ بعد نماز عشاء کم ازکم تیس ہزار کے مجمع میں میں نے ترک مرزائیت کے موضوع پر تین گھنٹے تقریر کی۔ سٹیج کے بالمقابل مرزائی مبلغین ومناظرین کے لئے میز اور کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ میری تقریر کے بعد صاحب صدر نے اعلان کیا کہ حسب وعدہ مرزائی صاحبان کو مولانا لال حسین اختر ؒ کی تقریر پر سوال وجواب کے لئے وقت دیا جاتا ہے تاکہ حاضرین مرزائیت کے صدق وکذب کااندازہ لگاسکیں۔ لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کے مبلغ ومناظر موجود تھے۔ لیکن کسی کو ہمت وجرأت نہ ہوئی کہ وہ میرے مقابلہ میں آسکیں۔ صاحب صدر کی دعا کے بعد اجلاس برخواست ہوا۔

لالچ اور قاتلانہ حملے

اس عظیم الشان جلسے اور مرزائیت کی شکست کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی تو ملک کے طول وعرض سے مجھے تقریر کے لئے دعوتوں کا لگاتار سلسلہ شروع ہوگیا۔ مختلف شہروں اور قصبات میں میری بیسیوں تقریریں اور مرزائیوں سے پانچ چھ نہایت کامیاب مناظرے ہوئے۔ ان ایام میں اونچی مسجد اندرون بھاٹی دروازہ لاہور کے بالمقابل میرا قیام تھا۔ میری تقریروں اور مناظروں کی کامیابی سے متأثر ہوکر مرزائیوں کے ایک وفد نے مجھ سے ملاقات

19

کی اور مجھے کہا کہ آپ نے اپنی تحقیق کی بناء پر احمدیت ترک کر دی ہے۔ آپ کے موجودہ عقائد کے متعلق ہم آپ سے کچھ نہیں کہتے۔ ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ آپ کی تقریریں اور مناظرے ہمارے لئے ناقابل برداشت ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ سوائے تقریروں اور مناظروں کے آپ کی مالی آمد کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ جماعت احمدیہ آپ کو پندرہ ہزار روپے کی پیشکش کرتی ہے۔ آپ ہم سے یہ رقم لے لیں اور اس سے جنرل مرچنٹ یا کپڑے کا کاروبار شروع کر لیں اور ہمیں اشٹام لکھ دیں کہ میں پندرہ سال تک احمدیت کے خلاف نہ کوئی تقریر کروں گا اور نہ مناظرہ اور نہ ہی کوئی تحریری بیان شائع کروں گا۔ اگر اس معاہدہ کی خلاف ورزی کروں تو جماعت احمدیہ کو تیس ہزار روپیہ ہرجانہ ادا کروں گا۔ یہ بھی کہا کہ احمدیت کی تردید کوئی ایسا فرض نہیں جس کے بغیر آپ مسلمان نہیں رہ سکتے۔ حنفیوں، اہل حدیثوں اور شیعوں میں ہزاروں علماء ایسے ہیں جو احمدیت کی تردید نہیں کرتے۔ اگر وہ تردید احمدیت کے بغیر مسلمان رہ سکتے ہیں تو آپ بھی مسلمان رہ سکتے ہیں۔ میں نے جواباً کہا آپ صاحبان کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ مجھے لالچ کے فتنے میں پھانسنے کی جرأت کریں۔ میں ان علماء کرام کے طریق کار کا ذمہ دار نہیں جو تردید مرزائیت سے اجتناب کرتے ہیں۔ میرے لئے تو استیصال مرزائیت کی جدوجہد فرض عین ہے۔ کیونکہ میں نے مدت مدید تک اس کی نشرواشاعت کی ہے۔ مجھے تو اس کا کفارہ ادا کرنا ہے۔ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا لالچ مجھے تردید مرزائیت سے منحرف نہیں کر سکتا۔ قریباً ایک گھنٹے کی گفتگو کے بعد مجھ سے مایوس ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ آپ نے ہمارے متعلق نہایت خطرناک طرز عمل اختیار کر رکھا ہے۔ آپ کے لئے اس کا نتیجہ تباہ کن ہوگا۔ میں نے انہیں کہا ؎

  1. مواحد پہ درپائے ریزی رزش

    خبر شمشر ندی نئی پر سرش

میں نے ان کے اس جارحانہ چیلنج کی پرواہ نہ کی۔ حسب سابق اپنے تبلیغی سفروں، تقریروں اور مناظروں میں منہمک رہا۔ مرزائیوں نے اپنی سوچی سمجھی سکیم کے مطابق یکے بعد دیگرے ڈیرہ بابانانک ضلع گورداسپور کے مناظرہ اور بیلوں ڈلہوزی کے جلسہ کے ایام میں مجھ پر دوبار قاتلانہ حملے کئے۔ ڈیرہ بابا نانک کے حملہ میں مجھے زخم آیا۔ ایک مرزائی نے صاف الفاظ میں مجھے کہا کہ یاد رکھو ہم تمہیں قتل کرادیں گے۔ خواہ ہمارا پچاس ہزار روپیہ خرچ ہو میں نے اسے جواب دیا کہ میرا عقیدہ ہے کہ شہادت سے بہتر کوئی موت نہیں۔ قبر کی رات کبھی گھر

20

میں نہیں آسکتی۔ ایک دفعہ بعد نماز عشاء بیلوں ڈلہوزی کی مسجد میں تردید مرزائیت پر میری تقریر ہورہی تھی۔ ایک مرزائی جس نے کمبل اوڑھا ہوا تھا۔ میز کے نزدیک آیا ایک مسلمان نے پکڑ لیا۔ مرزائی نے کمبل میں چھرا چھپا رکھا تھا۔ سب انسپکٹر پولیس جلسہ میں موجود تھا۔ اس نے اسی وقت مرزائی کو گرفتار کر کے چھرا اپنے قبضہ میں لے لیا اور اسے تھانے کے حوالات میں بند کر دیا۔ دوسرے دن علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا۔

مجسٹریٹ نے ملزم سے چھ ماہ کے لئے نیک چلنی کی ضمانت لے لی۔ لاہور کے اخبارات میں مجھ پر ڈیرہ بابا نانک کے حملہ کی خبر شائع ہوئی تھی۔ حضرت مولانا ظفر علی خان نے ’’زمیندار‘‘ میں ایک شذرہ سپرد قلم فرمایا تھا۔

مجلس احرار اسلام کے زعماؤں کو مجھ پر مرزائیوں کے حملوں کا علم ہوا تو قائد احرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویv نے ناظم دفتر سے فرمایا کہ مرزائیوں کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے جلسہ کا انتظام کیجئے۔ چنانچہ کثیر التعداد پوسٹر چسپاں کئے گئے۔ اخبارات میں اعلان ہوا شہر کے ہر حصے میں منادی ہوئی کہ باغ بیرون دہلی دروازہ بعد نماز عشاء زیر صدارت چوہدری افضل حقv عظیم الشان جلسہ منعقد ہوگا۔ جس میں حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویv مرزائیوں کی جارحیت کے چیلنج کا جواب دیں گے۔

بعد نماز عشاء چالیس ہزار سے زائد کے مجمع میں حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویv نے مجھے سٹیج پر کھڑا کر کے میرا تعارف کرایا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے اس نوجوان نومسلم عالم نے مناظروں میں مرزائیوں کو ذلیل ترین شکستیں دی ہیں۔ مرزائی ان کے دلائل کا جواب نہ دے سکے تو ڈیرہ بابا نانک اور ڈلہوزی میں ان پر قاتلانہ حملے کئے گئے۔

میں مرزائیوں سے نہیں ان کے خلیفہ مرزامحمود سے کہتا ہوں کہ اگر تم یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہو تو میں تمہیں چیلنج دیتا ہوں کہ مرد میدان بنو۔ اب لال حسین اختر ؒ پر حملہ کراؤ پھر احرار کے فداکاروں کی یورش اور قربانیوں کا اندازہ لگانا ایک کی جگہ ایک ہزار سے انتقام لیا جائے گا۔ ہم خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہماری تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ ہم محلاتی سازشوں کے قائل نہیں۔ ہم میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں۔ ہمیں جو عمل کرنا ہوتا ہے اس کا واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیتے ہیں۔ حضرت مولانا کی تقریر کیا تھی شجاعت وایثار اور حقائق کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ باربار نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتے تھے۔

21

فرمایا ہم وہی احرار ہیں جن کے ۳۱رضاکار اسلام اور مسلمانوں کی عزت بچانے کے لئے سینوں پر ڈوگرہ حکومت کی گولیاں کھا کر شہید ہوئے ہیں اور چالیس ہزار نے قید وبند کی مصیبتیں بخوشی برداشت کیں۔ اس کے بعد مرزائیوں کو سانپ سونگھ گیا۔ مرزابشیر کی عقل ٹھکانے آگئی۔ میں حضرت امیرشریعتv اور ان کے گرامی قدر رفقاء کی معیت میں ترویج واشاعت اسلام اور احقاق حق وابطال باطل کے لئے وقف ہوگیا۔ اوپر میں نے جن نوجوانوں کا ذکر کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے۔

خوابیں

ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک چٹیل میدان میں ہزاروں لوگ حیران وپریشان کھڑے ہیں۔ میں بھی ان میں موجود ہوں۔ ان کے چاروں طرف لوہے کے بلند وبالا ستون ہیں اور ان پر زمین سے لے کر قدآدم تک خاردار تار لپٹا ہوا ہے۔ تار کے اس حلقے سے باہر نکلنے کا کوئی دروازہ یا راستہ نہیں۔ ہزاروں اشخاص کو اس میں قید کردیا گیا ہے۔ ان میں چند میری شناسا صورتیں بھی ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا ہمیں اس مصیبت میں گرفتار کیوں کیاگیا ہے۔ انہوں نے مجھے جواباً کہا کہ ہمیں احمدیت کی وجہ سے مخالفین نے یہاں بند کر دیا ہے۔ یہاں سے کچھ فاصلہ پر مسیح موعود پلنگ پر سوئے ہوئے ہیں۔ انہیں ہماری خبر نہیں کہ وہ ہماری رہائی کے لئے کوشش کرسکیں۔ ہم میں سے کسی کے پاس کوئی اوزار نہیں جس سے خاردار تار کوکاٹ کر باہر نکلنے کا راستہ بنایا جاسکے۔ میں نے خاردار کے چاروں طرف گھومنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ سے زمین کی سطح کے قریب کاتار ڈھیلا ہے۔ میں زمین پر بیٹھا اور اس تار کو اپنے دائیں پاوں سے نیچے دبایا تو وہ تار زمین کے ساتھ جالگا۔ سر کے قریبی تار کو ہاتھ سے ذرا اوپر کیا تو دونوں تاروں میں اس قدر فاصلہ ہوگیا کہ میں تار سے باہر نکل آیا۔

مجھے کافی فاصلہ پر پلنگ نظر آیا۔ جس پر مرزاغلام احمد قادیانی چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔ میں نہایت ادب واحترام سے پلنگ کے قریب پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس نے اپنے چہرے سے چادر سرکائی تواس کا منہ قریباً دو فٹ لمبا تھا۔ شکل ناقابل بیان تھی۔ (خنزیر جیسی) ایک آنکھ بالکل بے نور اور بند تھی۔ دوسری آنکھ ماش کے دانے کے برابر تھی۔ اس نے کہا

22

میری بہت بری حالت ہے۔ اس کی آواز کے ساتھ شدید قسم کی بدبو پیدا ہوئی۔ اس کی شکل اور بدبو سے میں کانپ گیا۔ میری نیند اچاٹ ہوگئی۔ نیند جاتی رہی اور میری آنکھ کھل گئی۔

دوسرا خواب

ایک رات خواب دیکھا کہ ایک شخص مجھ سے قریباً دو سوگز آگے جارہا ہے۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں۔ تانت (جس سے روئی دھنی جاتی ہے) کاایک سرا اس کی کمر میں بندھا ہوا ہے اور دوسرا سرا میری گردن میں۔ ہمارا سفر مغرب سے مشرق کی طرف ہے۔ دوران سفر راستہ پر دائیں طرف ایک نہایت وجیہ شخص نظر آئے۔ سفید رنگ، درمیانہ قد، روشن آنکھیں، سفید پگڑی، سفید لمباکرتہ، سفید شلوار۔ مسکراتے ہوئے مجھے فرمایا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ جہاں میرے آگے جانے والے مجھے لے جارہے ہیں۔ کہنے لگے جانتے ہو یہ کون ہے؟ اور تمہیں کہاں لے جارہا ہے؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون ہیں؟ اور مجھے کہاں لے جارہے ہیں؟ فرمانے لگے یہ غلام احمد قادیانی ہے۔ خود جہنم کو جارہا ہے اور تمہیں بھی وہیں لے جارہا ہے۔ میں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو جان بوجھ کر جہنم میں جائے اور دوسروں کو بھی جہنم میں لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے عمداً جہنم کا راستہ اختیار نہ کیا تھا؟ میں اس کی دلیل کا جواب نہ دے سکا تو فرمانے لگے غور سے سامنے دیکھومیں نے سامنے نگاہ کی تو مجھے بہت دور حد نگاہ پر زمین سے آسمان تک سرخی دکھائی دی۔ انہوں نے پوچھا جانتے ہو یہ سرخ رنگ کیا ہے؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ کہنے لگے یہی تو جہنم کے شعلے ہیں۔ میں حسب سابق چل رہا تھا۔ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ قدم اٹھاتے جارہے تھے۔ وہ غائب ہوگئے۔ میں بدستور اس شخص (غلام احمد قادیانی) کے پیچھے پیچھے جارہا تھا۔ ہم سرخی (جہنم کے شعلوں) کے قریب ہورہے تھے۔ اب تو مجھے حرارت بھی محسوس ہونے لگی۔ وہ وجیہ شخصیت پھر نمودار ہوئی۔ انہوں نے تانت پر ضرب لگائی تانت ٹوٹ گئی اور میں نیند سے بیدار ہوگیا۔

23

قادیانی اور

مولانا اختر

حضرت مولانا ظفر علی خانؒ کی ایک تاریخی نظم

24

قادیانی اور مولانا اختر

(حضرت مولانا ظفر علی خانؒ کی ایک تاریخی نظم)

فروری ۱۹۳۴ء کی بات ہے جب قادیانیوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے طلباء کو مرتد کرنے کی مردود کوشش کی تو اکابر ملت نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے مسجد مبارک میں تقریریں کیں۔ جس پر حکومت نے حضرت مولانا ظفر علی خانv، حضرت مولانا لال حسین اختر ؒ، حضرت مولانا عبدالحنان اور احمد یار خان سیکرٹری مجلس احرار اسلام کو مقید ومحبوس کر دیا۔ ایک دن مولانا ظفر علی خانؒ سے ایک قیدی نے شکایت کی کہ جیل والے اسے اتنے دانے دیتے ہیں کہ پیسے نہیں جاتے۔ حضرت مولانا نے اپنے رفقاء کو بلالیا اور سب حضرات نے باری باری چکی پیس کر وہ باقی دانے ختم کر دئیے۔ اس دوران میں مولانا اختر ؒ نے حضرت مولانا (ظفر علی خان) سے ارشاد کی درخواست کی تو ارتجالاً حضرت مولانا کی زبان پر یہ شعر آگئے جو تاحال کسی کتاب میں شائع نہیں ہوسکے۔ حضرت مولانا اختر ؒ کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ قارئین کرام ہیں۔ (مدیر)

  1. غلام احمد بھلا کیا جان سکتا ہے کہ دیں کیا ہے

    رموز علم الاسماچہ داند ذوق ابلیسی

  2. ادھر توحید کی باتیں ادھر تثلیث کی گھاتیں

    مری فطرت حجازی ہے سرشت اس کی ہے انگلیسی

  3. یہ کہہ کر حق جتا دوں گا محمدؐ کی شفاعت پر

    کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی

  4. مقابل قادیانی ہو نہیں سکتے ہیں اختر کے

    پڑے گا ایک ہی تھپڑ تو جھڑ جائے گی بتیسی

  5. ہوا جب علم کا چرچا دیا فتویٰ یہ مرزا نے

    ہمارا علم ہے دریا کہ نام اس کا ہے سائیسی

  6. ہے امرتسر سے مغرب کی طرف مینارہ مرزا

    یہ نکتہ حل کریں مرقد سے اٹھ کر آج ادریسی

25

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

26

ترک مرزائیت

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

27

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اگر کوئی لاہوری جماعت کا مرزائی چھ ماہ کے اندر اس کتاب کا جواب لکھے گا تو بعد فیصلہ منصف اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن مئی ۱۹۳۲ء میں اور دوسرا ایڈیشن نومبر ۱۹۳۲ء میں شائع ہوا۔ باوجود دوسال گزر جانے کے کسی لاہوری مرزائی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس کے جواب میں قلم اٹھا سکے۔ ہم آج کی تاریخ سے پھر اعلان کئے دیتے ہیں کہ اگر شرائط مندرجہ کے ماتحت مزید ایک سال کے عرصہ میں ہماری کتاب کا جواب لکھا گیا تو ہم انعام دینے کو تیار ہیں۔

لال حسین اختر ؒ

۲۰؍اپریل ۱۹۳۴ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترک مرزائیت کے وجوہ لکھنے کا میرا ارادہ نہیں تھا۔ مگر میرے چند احباب نے مجبور کیا کہ میں مرزائیت کے متعلق اپنی معلومات معرض تحریر میں لاؤں تاکہ عامتہ المسلمین اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ میرے محترم چچا جان خان سلطان احمدخانv نے جو تردید مرزائیت میں یدطولیٰ رکھتے تھے اس کتاب کے متعلق مفید مشورے اور حوالہ جات سے میری مدد کی۔

مرزاقادیانی کے عقائد باطلہ

اسلام اور مرزاقادیانی کے عقائد میں بعد المشرقین ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنے معجون مرکب عقائد کی تائید کے لئے خواہشات نفسانی سے ایسے خلاف شریعت الہام گھڑ لئے تھے جنہیں اسلام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ انہیں خلاف قرآن وحدیث الہامات کے صدقے میں محدثیت، مجددیت، مہدویت، مسیحیت، محمدیت، کرشنیت، جے سنگھیت، ظلیت، بروزیت، نبوت وغیرہ کے دعاوی کر بیٹھے۔ اس پر بھی بس نہ کی اور صبر نہ آیا تو غضب یہ ڈھادیا کہ خدا کا بیٹا بنے۔ مسئلہ ارتقاء کے ماتحت ترقی کی تو خود خدا ہونے کا اعلان کر کے نئے زمین وآسمان پیدا کرنے کے بعد تخلیق بنی نوع انسان کا دعویٰ کردیا۔ آخری میدان یہ مارا کہ اپنے پیدا ہونے والے بیٹے کی مثال اﷲتعالیٰ سے دی اور لکھ دیا۔

28

فرزند دل بند گرامی وارجمند مظہر الحق والعلاء کان اﷲ نزل من السماء (یعنی میرا پیدا ہونے والا بیٹا دلبند گرامی ارجمند ہوگا اور وہ حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترے گا)

(البشریٰ ج۲ ص۲۱،۱۲۴، ازالہ اوہام ص۱۵۵، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

مرزاقادیانی کے اسی قسم کے عقائد باطلہ تھے جن کی بناء پر علمائے اسلام نے مرزاقادیانی پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ اس وقت ہم اپنی طرف سے ان اقوال پر زیادہ جرح اور تنقید نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ مرزاقادیانی کے دعاوی اور عقائد انہیں کے الفاظ میں ناظرین تک پہنچا دیتے ہیں۔ مرزاقادیانی اپنی نسبت لکھتے ہیں:

۱… ’’میں محدث ہوں۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

۲… ان الفاظ میں مجددیت کا دعویٰ کیا ہے:

  1. رسید مژدہ زغیب کہ من ہماں مرد

    کہ او مجدد ایں دین و راہنما باشد

(ترجمہ) ’’مجھے غیب سے خوشخبری ملی کہ میں وہ مرد ہوں کہ اس دین کا مجدد اور راہنما ہوں۔‘‘

(درثمین فارسی ص۱۳۶، تریاق القلوب ص۴، خزائن ج۱۵ ص۱۳۲)

اپنی مہدویت کا اعلان کرتے ہیں۔

۳… ’’میں مہدی ہوں۔‘‘

(معیار الاخیار ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸)

آیت: ’’مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

۴… ’’اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘مگر ہمارے نبیa فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال وجمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد، جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے، بھیجا گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)

اگرچہ اس عبارت میں مرزاقادیانی نے لکھ دیا ہے کہ نبی کریمa فقط احمد ہی نہیں

29

بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال وجمال ہیں۔ ان الفاظ کے لکھنے سے صرف یہ مقصد نظر آتا ہے کہ اگر ابتداء میں ہی صاف طور پر لکھ دیا کہ آنحضرتa احمد نہیں تو عامتہ المسلمین متنفر ہو جائیں گے۔ لیکن آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰm کی پیش گوئی مندرجہ سورۂ صف حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیa کے لئے نہ تھی بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے تھی۔

تریاق القلوب میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۵…

  1. منم مسیح زماں و منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(ترجمہ) ’’میں مسیح زمان ہوں۔ میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں۔ میں محمد ہوں۔ میں احمد مجتبیٰ ہوں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

دوسری جگہ اس کی مزید تشریح کرتے ہیں:

۶… ’’خداتعالیٰ نے مجھے تمام انبیاءo کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرتa کے نام کا میں مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘

(حاشیہ حقیقت الوحی ص۷۲، خزائن ج۲۲ ص۷۶)

اپنی اسی کتاب میں پھر لکھا ہے:

۷… ’’دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمدa ہوں، یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دئیے اور میری نسبت ’’جری اﷲ فی حلل الانبیاء‘‘ فرمایا۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۸۴،۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۱)

اپنی مجددیت اور مہدویت کی شان کو دوبالا کرنے کے لئے یوں گویا ہوئے ہیں:

30

۸…

  1. میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳، درثمین ص۷۴)

ناظرین کرام! حوالہ جات بالا سے روزروشن کی طرح ظاہر ہوگیا ہے کہ مرزاقادیانی نے کس دیدہ دلیری سے تمام انبیاءo کے نام اپنی طرف منسوب کئے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جاتی ہے۔ گویا تمام انبیاء کے مقابل پر اپنے آپ کو پیش کیا ہے کہ فرداً فرداً ہر نبی کو اﷲتعالیٰ کی طرف سے جو جو کمال عطاء کئے گئے تھے، مجموعی طور پر وہ سارے کے سارے کمالات مجھ (مرزاقادیانی) کو دئیے گئے ہیں۔ مرزاقادیانی کھلے الفاظ میں اعلان کرتے ہیں:

۹…

  1. آدمم نیز احمد مختار

    در برم جامہ ہمہ ابرار

  2. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرابتمام

(درثمین فارسی ص۱۷۱، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(ترجمہ) ’’میں آدم ہوں، نیز احمد مختار ہوں۔ میں تمام نیکوں کے لباس میں ہوں۔ خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دئیے ہیں، ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دے دیا ہے۔‘‘

لاہوری احمدیو! خدا کے لئے انصاف سے جواب دو کہ کیا مرزاقادیانی کے ان اشعار کا یہ مفہوم نہیں کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو تمام انبیاءo کے کمالات کا مجموعہ کہہ رہے ہیں؟ اور اپنے آپ کو کسی نبی سے درجہ میں کم نہیں سمجھتے۔ اسی ادّعا ناروا کو اس شعر میں دہرایا ہے۔

۱۰…

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

(درثمین فارسی ص۱۷۲، نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

(ترجمہ) ’’اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں۔ میں عرفان میں ان نبیوں سے کسی سے کم نہیں ہوں۔‘‘

31

حیرت ہے کہ مرزاقادیانی نے صرف اتنا ہی نہیں کہا کہ میں نبوت کی ایسی معجون ہوں جو تمام نبیوں کے کمالات سے مرکب ہوں۔ بلکہ اس سے اوپر بھی ایک اور چھلانگ لگا کر دنیا کو اطلاع دی ہے کہ میں وہ تھیلا ہوں کہ جس میں تمام نبی بھرے پڑے ہیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۱۱…

  1. زندہ شد ہر نبی بامدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(درثمین فارسی ص۱۷۳، نزول المسیح ص۱۰۰ ج۱۸ ص۴۷۸)

(ترجمہ) ’’میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہوگیا۔ ہر رسول میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے۔‘‘ ’’معاذ اﷲ من ہذا الہفوات‘‘ (اختر)

ایک جگہ اپنی بڑائی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:

۱۲… ’’اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۰، خزائن ج۲۱ ص۱۱۷،۱۱۸)

لاہوری مرزائیو! جب مرزاقادیانی اپنے آپ کو تمام راست باز اور مقدس نبیوں کے کمالات کا مجموعہ یا عطر قراردے رہے ہیں تو بتاؤ کہ تمام انبیاءo پر فضیلت کلی کا مدعی ہونے میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے؟ جواب دیتے وقت سوچ لینا کہ تمہارے سامنے کون ہے۔

  1. مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے

    آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کر

مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

۱۳…

روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک

میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(درثمین اردو ص۸۴، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۳، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

معزز ناظرین! اس شعر میں مرزاقادیانی کس بلند آہنگی سے اعلان کر رہے ہیں کہ تہذیب، شرافت، تمدن اور معاشرت انسانی کا جو باغ حضرت آدمm نے لگایا تھا۔ وہ اب تلک ادھورا اور نامکمل تھا۔ اب میرے آنے کی وجہ سے وہ انسانیت کا باغ پھولوں اور

32

پھلوں سے بھر گیا ہے۔ یعنی میرے آنے سے دنیا کا کارخانہ مکمل ہوا ہے اور جب تک میں نہیں آیا تھا، دنیا نامکمل تھی۔ اگر میں پیدا نہ ہوتا تو یہ تمام جہان بھی عالم وجود میں نہ آتا۔ نہ چاند، سورج اور سیارے ہوتے، نہ زمین بنتی، نہ نسل انسانی کا نام ونشان ہوتا۔ نہ انبیاءo مبعوث ہوتے، نہ قرآن مجید نازل ہوتا۔ غرضیکہ زمین وآسمان کا ہر ذرہ غلام احمد قادیانی کی وجہ سے ہی پیدا کیاگیا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے اپنا الہام بیان کیا ہے:

۱۴… ’’لولاک لما خلقت الا فلاک‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۲، تذکرہ ص۶۱۲،طبع سوم، حقیقت الوحی ص۹۸، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲)

(ترجمہ)اے مرزا! ’’اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔‘‘

دوسرا الہام ان الفاظ میں ہوتا ہے:

۱۵… ’’کل لک ولامرک‘‘

(الہام مندرجہ البشریٰ ج۲ ص۱۲۷، تذکرہ ص۷۰۶، ط۳)

(ترجمہ) ’’سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے ہے۔‘‘

مرزاقادیانی تحریر کرتے ہیں:

۱۶… ’’فجعلنی اﷲ آدم اواعطانی کل ما اعطا لابی البشر وجعلنی بروز الخاتم النبیین وسید المرسلین‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۶۷، خزائن ج۱۶ ص۲۵۴)

(ترجمہ) ’’خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں جو ابوالبشر آدم کو دی تھیں اور مجھ کو خاتم النّبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا۔‘‘

اسی کی مزید تشریح کرتے ہیں:

۱۷… ’’اور چونکہ آنحضرتa کا حسب آیت ’’وآخرین منہم‘‘ دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیرممکن تھا۔ اس لئے آنحضرتa کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطاء کیا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا (یعنی مرزاقادیانی کا) ظہور بعینہٖ آنحضرتa کا ظہور تھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)

اسی مفہوم کو دوسری جگہ دہرایا ہے:

۱۸… ’’وانزل اﷲ علی فیض ہذا الرسول (محمد) فاتمہ واکملہ وجذب الی لطفہ وجودہ حتی صاروجودی وجودہ فمن دخل فی جماعتی

33

دخل فی صحابۃ سیدی خیر المرسلین وہذا ہو معنی وآخرین منہم‘‘

(ترجمہ) ’’اور خدا نے مجھ (مرزاقادیانی) پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری (مرزاقادیانی) کی طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا۔ پس وہ جو میری جماعت (قادیانیت) میں داخل ہوا، درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ بھی داخل ہوا اور یہی معنی آخرین منہم کے بھی ہیں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۹)

۱۹… مرزاقادیانی کو الہام ہوتا ہے: ’’محمد مفلح‘‘

اس کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے: ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ آج اﷲتعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۹۹، تذکرہ ص۵۵۷، ط۳)

مندرجہ بالا حوالہ جات صاف بتا رہے ہیں کہ مرزاقادیانی کا الہامی نام محمد مفلح ہے اور مرزاقادیانی ہمدردی خلائق، ہمت اور اخلاق حسنہ میں حضرت نبی کریمa کی طرح ہیں اور مرزاقادیانی کا ظہور بعینہٖ حضرت محمد مصطفیa کا ظہور ہے اور جو شخص جماعت مرزائیہ میں داخل ہوا، وہ آنحضرتa کے صحابہ میں داخل ہوگیا۔

لاہوری احمدیو! تمہارا بھی ان باتوں پر ایمان ہے یا نہیں؟

مرزاقادیانی صاف فرماتے ہیں:

۲۰… ’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیاگیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرq کے درجہ پر ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرq کیا، وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے؟‘‘

(معیار الاخیار ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸)

مرزاقادیانی کو ایک شعر الہام ہوتا ہے:

۲۱…

  1. مقام او مبیں ازراہ تحقیر

    بدو رانش رسولاں ناز کردند

(الہامی شعر مندرجہ البشریٰ ج۲ ص۱۰۹، تذکرہ ص۶۰۴، ط۳)

(ترجمہ) ’’اس کے یعنی مرزا کے مقام کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو۔ مرز اکے زمانے کے لئے رسول بھی فخر اور ناز کرتے تھے۔‘‘

34

مرزاقادیانی کے بیٹے اور قادیان کے موجودہ گدی نشیں مرزامحمود احمد کی پیدائش کے بعد اسی نوزائیدہ بچے کے متعلق مرزاقادیانی پر ایک الہام ان الفاظ میں برستا ہے:

۲۲…

  1. اے فخر رسل قرب تو معلومم شد

    دیر آمدہ ز راہ دور آمدہ

(ترجمہ) ’’اے فخر رسل، تیرا قرب ہمیں معلوم ہوگیا ہے۔ تو دیر سے آیا ہے اور دور کے راستہ سے آیا ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۲، خزائن ج۱۵ ص۲۱۹)

لاہوری جماعت کے ممبرو! بہت ہی جلدی اور دو لفظہ جواب دو کہ مرزامحمود احمد موجودہ گدی نشین قادیان فخر رسل ہے یا نہیں؟ اور وہ کون کون سے نبی تھے جو مرزاقادیانی کے زمانہ پرناز کیا کرتے تھے؟ اور تمہارے ایمان کے مطابق مرزاقادیانی کس کس نبی سے افضل ہیں؟

مرزاقادیانی رقمطراز ہیں:

۲۳…

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

اسی کتاب میں لکھا ہے:

۲۴… ’’اے عیسائی مشنریو! اب ’’ربنا المسیح‘‘ مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۲)

ازالہ اوہام میں اپنے عقیدے کا اظہار اس شعر میں کرتے ہیں:

۲۵…

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمبرم

(ترجمہ) ’’میں وہ ہوں کہ جو حسب بشارات آیا ہوں۔ عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے منبر پر پاؤں رکھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

اپنے اسی اعتقاد کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

۲۶… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ہے جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

35

اسی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں:

۲۷… ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام، جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان، جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں، وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

ایک جگہ یوں لکھا ہے:

۲۸… ’’مسیح محمدی، مسیح موسوی سے افضل ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۷)

اسی کتاب میں دوبارہ ارشاد ہوتا ہے:

۲۹… ’’مثیل موسیٰ، موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم، ابن مریم سے بڑھ کر۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۴ ص۱۱۹)

مرزاقادیانی غیظ وغضب کی حالت میں لکھتے ہیں:

۳۰… ’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)

مرزاقادیانی کے ان حوالہ جات سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو حضرت عیسیٰm سے افضل واعلیٰ قرار دے رہے ہیں اور اعلان کر رہے ہیں کہ: ’’میں پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔‘‘ اور یہ جزوی فضیلت نہیں بلکہ کلی فضیلت ہے اور غیر نبی کو نبی پر فضیلت کلی ہونہیں سکتی۔

لاہوری احمدیو! بے جا تاویلات کو چھوڑ کر ایمان سے بتانا تمہارا اس کے متعلق کیا جواب ہے؟ مرزاقادیانی تو صراحت سے حضرت عیسیٰm سے کلی فضیلت کا اقرار کر رہے ہیں اور تمہیں ساتھ ہی یہ بھی نصیحت کر رہے ہیں کہ ؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

یعنی حضرت عیسیٰm کا ذکر چھوڑ دو۔ لیکن تمہارے لئے مشکل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰm کا ذکر تو قرآن مجید میں بھی کئی دفعہ آیا ہے۔ ایمان سے سچ سچ بتانا کہ تم نے اپنے حضرت مرزاصاحب کے اس ارشاد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے یا ان آیات کو پڑھا

36

اور سنا نہیں کرتے جن میں ابن مریمm کا ذکر ہے؟ سوچ سمجھ کر جواب دینا۔ ہاں! لگے ہاتھ یہ بھی بتادینا کہ تمہارے مجدد اور گورو سے وہ کون کون سے ایسے نشانات ظاہر ہوئے تھے جو حضرت عیسیٰm سے ظاہر نہ ہوسکے؟ ذرا تفصیل سے بیان کرنا۔ لیکن کہیں اپنے کرشن جی مہاراج کی پیش گوئیاں پیش نہ کر دینا۔ کیونکہ مولانا ثناء اﷲ صاحب امرتسری نے اپنی لاجواب کتاب ’’الہامات مرزا‘‘ میں مرزاقادیانی کی تمام متحدیانہ پیش گوئیوں کے ٹانکے کھول دئیے ہوئے ہیں۔

مرزاقادیانی فخریہ لکھتے ہیں:

۳۱… ’’اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسینq تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ حسینq سے بڑھ کر رہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

اپنی شان کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

۳۲…

  1. کربلائیست سیر ہر آنم

    صد حسین است در گریبانم

(درثمین فارسی ص۱۷۱، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(ترجمہ) ’’میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو(۱۰۰) حسینq ہر وقت میری جیب میں ہیں۔‘‘

اعجاز احمدی میں مرزاقادیانی رقمطراز ہیں:

۳۳…

  1. شتان ما بینی و بین حسینکم

    فانی اؤید کل ان وانصر

  2. واما حسین فاذکروا دشت کربلا

    الی ہذہ الایام تبکون فانظروا

(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)

(ترجمہ) ’’مجھ میں اور تمہارے حسینq میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسینq پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو، پس سوچ لو۔‘‘

37

۳۴…

  1. انی قتیل الحب لکن حسینکم

    قتیل العدی فالفرق اجلے واظہر

(اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)

(ترجمہ) ’’میں محبت کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسینq دشمنوں کو کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘

ناظرین! مرزاقادیانی کی ان بے جا تعلّیوں کو دیکھئے کہ کن مکروہ الفاظ اور کس متکبرانہ لہجہ میں حضرت امام حسینq سے افضلیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ حضرت امام حسینq کے کردار، عظیم الشان قربانی اور شہادت عظمیٰ کی تعریف میں دنیا کی تمام غیرمسلم اقوام تک رطب اللسان ہیں۔ کربلا کے معرکہ حق وباطل میں حضرت امام حسینq نے جس عزم، جرأت، صبر، استقلال اور بہادری کا اعلیٰ ترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا، وہ آپ ہی اپنی نظیر ہے۔ اس عظیم الشان شہادت کے سامنے مرزاقادیانی کو پیش کرنا آفتاب کے سامنے چمگادڑ کو لانا ہے ؎

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

کہاں حضرت امام حسینq کا ایثار، صبر اور استقامت حق اور کہاں مرزا کی بزدلی کہ ایک معمولی مجسٹریٹ کی چشم نمائی پر فوراً لکھ دیا کہ میں کسی مخالف کے متعلق موت وعذاب وغیرہ کی انذاری پیش گوئی بغیر اس کی اجازت کے شائع نہ کروں گا۔ اتنا ڈرپوک اور بزدل ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کرنا کہ سو(۱۰۰) حسینq میری جیب میں ہیں۔ انتہائی کذب آفرینی نہیں تو اور کیا ہے؟

مرزائیو! تمہارے مرزاقادیانی نے جو کہا:’’انی قتیل الحب‘‘تم بتاؤ کہ مرزاقادیانی کس کی محبت کے کشتہ تھے؟ جواب دیتے وقت اتنا یاد رکھنا کہ کہیں محمدی بیگم کا نام نہ لے لینا۔

مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’ما انا الا کالقران وسیظہر علی یدے ما ظہر من الفرقان‘‘میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ کہ فرقان سے ظاہر ہوا۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۹، تذکرہ ص۶۷۴، طبع۳)

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

38

۳۵…

  1. آنچہ من بشنوم ز وحی خدا

    بخدا پاک دانمش ز خطا

  2. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

  3. آں یقین کہ بود عیسیٰ را

    برکلامے کہ شد برا و القا

  4. واں یقین کلیم بر تورات

    واں یقین ہائے سید السادات

  5. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(درثمین ص۱۷۲، نزول المسیح ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)

(ترجمہ) ’’جو کچھ میں خدا کی وحی سے سنتا ہوں خدا کی قسم اسے خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ میری وحی قرآن کی طرح تمام غلطیوں سے مبرّٰا ہے۔ وہ یقین جو حضرت عیسیٰ کو اس کلام پر تھا، جو ان پر نازل ہوا، وہ یقین جو حضرت موسیٰ کو تورات پر تھا، وہ یقین جو سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰa کو قرآن پاک پر تھا، وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے اور اس یقین میں، میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔ جو جھوٹ کہتا ہے وہ لعین ہے۔‘‘

اسی باطل عقیدے کا دوسری جگہ یوں مظاہرہ کرتے ہیں:

۳۶… ’’یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا، یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے، ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خداتعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ ص۲۵،۲۶، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)

زاقادیانی کے مخلص چیلو! جب مرزاقادیانی قرآن ہی کی طرح ہیں تو تم کیوں قرآن مجید کے درس اور قرآن پاک کے اردو، انگریزی اور جرمنی ترجموں کی رٹ لگایا

39

کرتے ہو۔ تم مرزاقادیانی کی اصل تعلیم کو بھول گئے ہو۔ جب مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن ہی کی طرح ہوں اور وہ اپنا فوٹو بھی کھنچوا کر تمہیں دے گئے ہیں۔ پس تمہیں جہاں قرآن حکیم یا کسی زبان میں اس کی تفسیر کی وضاحت محسوس ہو، فوراً مرزاقادیانی کا فوٹو وہاں بھیج دیا کرو۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۳۷… ’’شخصے پائے من بوسید من گفتم کہ سنگ اسود منم‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۴۸، تذکرہ ص۳۶، ط۳، اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)

(ترجمہ) ’’ایک شخص نے میرے پاؤں کو بوسہ دیا تو میں نے کہا کہ سنگ اسود میں ہوں۔‘‘

ہاں صاحب! آپ کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ سنگ اسود بننے سے مریدوں کے لئے راستہ کھل جائے گا اور وہ آؤ دیکھیں گے نہ تاؤ چٹاخ پٹاخ بوسے تولے لیا کریں گے۔

لاہوری مرزائیو! تمہارے ’’قادیانی دوست‘‘ تو اب بھی مرزاقادیانی کے مزار کی بوسہ بازی سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور تم زبان حال سے یہ شعر پڑھ رہے ہو ؎

  1. جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہوں رقیب جدا

    ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

۳۸…

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص۵۰)

احمدیو! یہاں تو آپ کے حضرت نے کمال ہی کر دیا۔ یہی وہ مرزاقادیانی کا ایجاد کردہ علم کلام ہے جس پر ناز کیا کرتے ہو؟ ذرا کان کھول کر سنو۔ فرماتے ہیں کہ قادیان کی زمین قابل عزت ہے اور لوگوں کا زیادہ ہجوم ہونے کی وجہ سے ’’ارض حرم‘‘ بن گئی ہے۔ اب تو تمہیں حج کرنے کے لئے کعبۃاﷲ جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ قادیان کی زمین ’’ارض حرم‘‘ بن گئی ہے۔ مرزاقادیانی سنگ اسود ہیں۔ ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ مرزاقادیانی کا الہام پہلے سے موجود ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۰۹، تذکرہ ص۶۰۲، طبع۳)

قادیان کی گندی اور متعفن ڈھاب کو آب زمزم سمجھ لو۔ تمہارے ’’مسیح موعود‘‘ کے

40

مزار کے قریب ہی خردجال کا طویلہ۱؎موجود ہے۔ اس دجال کے گدھے کے ذریعے ہندوستان کے جس حصہ سے تم چاہو، بہت جلد قادیان پہنچ جایا کرو گے۔ ہاں! یہ ساتھ ہی یاد رکھنا کہ قادیان وہی جگہ ہے جس کے متعلق تمہارے مجدد، ظلی اور بروزی نبی کا الہام ہے: ’’اخرج منہ الیزیدیون‘‘ قادیان میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص۷۲، البشریٰ ج۲ ص۱۹، خزائن ج۳ ص۳۸)

ہاں جناب! ہمیں اس سے کیا مطلب۔ قادیان ’’ارض حرم‘‘ ہو یا ’’یزیدیوں کے رہنے کی جگہ‘‘ تم جانو اور تمہارا کام۔ اگر تمہیں جرأت اور حوصلہ ہو تو ہمارے ایک سوال کا جواب ضرور دینا اور وہ یہ کہ تمہارے حضرت فرماگئے ہیں کہ لوگوں کا زیادہ ہجوم ہو جانے کی وجہ سے قادیان ارض حرم ہوگیا ہے۔ کیوں صاحب! اگر انسانوں کی دھماچوکڑی اور جمگھٹا ہو جانے سے ہی کوئی جگہ ’’ارض حرم‘‘ بن جاتی ہے تو تم نیویارک، لنڈن اور برلن کو کب کعبہ بناؤ گے؟

مرزاقادیانی پر چند الہام اس الفاظ میں برستے ہیں:

۳۹… ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘

(انجام آتھم ص۷۸، خزائن ج۱۱ ص۷۸)

(ترجمہ) ’’(اے مرزا!) ہم نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہانوں کے لئے تجھے رحمت بنائیں۔‘‘

۴۰…’’داعی الی اﷲ‘‘ اور’’سراج منیر‘‘ یہ دو نام اور دو خطاب خاص آنحضرتa کو قرآن شریف میں دئیے گئے ہیں۔ پھر وہی دونوں خطاب الہام میں مجھے دئیے گئے ہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۳۵۰،۳۵۱)

۴۱… ’’اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود (مرزاقادیانی) ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۷۶، خزائن ج۲۳ ص۸۵)

۴۲… ’’میں ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)

۴۳… ’’ہے کرشن جی رودرگوپال۔‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۵۶، خزائن ج۲۰ ص۲۲۹، تذکرہ ص۳۸۰، ط۳)

۱؎یعنی ریلوے اسٹیشن۔
41

۴۴… ’’برہمن اوتار (یعنی مرزا صاحب) سے مقابلہ اچھا نہیں۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۶، تذکرہ ص۶۲۰، ط۳)

۴۵… ’’آریوں کا بادشاہ۔‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۵۶، تذکرہ ص۳۸۱ ط۳، تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۲)

۴۶… ’’امین الملک جے سنگھ بہادر۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۸، تذکرہ ص۶۷۲، ط۳)

۴۷… ’’ان قدمی علے منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

(ترجمہ) ’’میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔‘‘

۴۸… ’’آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔‘‘

(البشریٰ ص۵۶، تذکرہ ص۳۳۹ ط۳، حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)

۴۹… ’’اتانی مالم یوت احد من العالمین‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

(ترجمہ) ’’خدا نے مجھے وہ چیز دی جو جہان کے لوگوں میں سے کسی کو نہ دی۔‘‘

ناظرین! ان الہامات میں عجیب وغریب دعاوی اور نام مرزاقادیانی کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ فرد واحد اتنے ناموں اور متبائن عہدوں کا مصداق کس طرح ہوسکتا ہے۔ کیا کوئی مرزائی ہے جو اپنے گورو کی ان بھول بھلیوں کو حل کرے؟ مرزاقادیانی نے کئی جگہ لکھا ہے اور مرزائی بھی اب تک اسی لکیر کو پیٹ رہے ہیں کہ حدیث میں مسیح ناصری اور مسیح موعود کے دو علیحدہ علیحدہ حلئے موجود ہیں۔ اس لئے مسیح ناصری ان دو حلیوں کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ خود مرزاقادیانی کے ڈھانچے میں محمد، احمد، عیسیٰ، موسیٰ، ابراہیم، کرشن، برہمن، اوتار، جے سنگھ بہادر وغیرہ وغیرہ مختلف ہستیاں کس طرح جمع ہوسکتی ہیں؟

مرزاقادیانی اپنا الہام بیان کرتے ہیں:

۵۰… ’’یحمدک اﷲ من عرشہ یحمدک اﷲ ویمشی الیک‘‘

(انجام آتھم ص۵۵، خزائن ج۱۱ ص۵۵)

(ترجمہ) ’’خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور

42

تیری طرف چلا آتا ہے۔‘‘

مرزاقادیانی نے یہ نہیں بتایا کہ خداتعالیٰ مرزاقادیانی کے پاس پہنچا بھی تھا یا نہیں۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے ان الفاظ سے مخاطب کیا ہے:

۵۱… ’’انت اسمی الاعلے‘‘

(ترجمہ) ’’اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۶۱، تذکرہ ص۳۹۲، ط۳)

واہ جی کرشن قادیانی یہاں تو غضب ہی کر دیا۔ یہ الہام شائع کرتے وقت اتنا نہ سوچا کہ عیسائی اور آریہ سماجی کیا کہیں گے کہ مرزاقادیانی کے جنم سے پہلے مسلمانوں کو خدا کا اعلیٰ نام تک معلوم نہ تھا اور قرآن وحدیث خداوند کریم کے اعلیٰ اور ذاتی نام سے بالکل خالی تھے۔ مرزاقادیانی کے اس نئے اور اچھوتے انکشاف سے پتہ چلا کہ خداوند کا بڑا نام غلام احمد ہے۔

مرزاقادیانی کا ایک الہام ہے:

۵۲… ’’انت مدینہ العلم‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۶۱، تذکرہ ص۳۹۲، ط۳)

(ترجمہ) ’’(اے مرزا) تو علم کا شہر ہے۔‘‘

ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیa نے فرمایا ہے: ’’انا مدینۃ العلم وعلی بابہا‘‘ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ مگر قادیانی کرشن کہتا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں۔

مرزائیو! سچ سچ کہنا تم حدیث کو سچا جانتے ہو یا اپنے کرشن کے الہام کو؟

مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

۵۳… ’’انی ھمی۱؎الرحمن‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۸۹، تذکرہ ص۵۰۰ ط۳)

(ترجمہ) ’’میں خدا کی باڑ ہوں۔‘‘

ناظرین! مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ میں خدا کی باڑ ہوں۔ زمیندار کھیت کے گرد جو باڑ لگایا کرتے ہیں۔ اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ کھیت کی حفاظت کی جاوے۔ معلوم ہوتا ہے

۱؎میں اس طرز انشاء کا ذمہ دار نہیں۔ (اختر)

43

کہ مرزاقادیانی کا الہام کنندہ اتنا کمزور ہے کہ اسے اپنی حفاظت کے لئے مرزاقادیانی سے حفاظت کرانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ یہ ملہم مرزاقادیانی کی طرح ڈرپوک اور کمزوردل ہوگا۔ ہمارا رحمن ورحیم خدا تو قادر مطلق ہے۔

مرزاقادیانی کا الہام ہے:

۵۴…’’انی مع الاسباب اتیک بغتۃ انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب‘‘میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا۔

(البشریٰ ج۲ ص۷۹)

احمدی دوستو! تمہارے گورو کا الہام کنندہ کہہ رہا ہے کہ میں خطا کروں گا۔ کیا خدائے واحد وقدوس بھی خطا کیا کرتا ہے؟ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی جو خطاؤں اور ’’اجتہادی غلطیوں کے جال میں‘‘ ساری عمر پھنسے رہے، یہ دراصل ان کا اپنا قصور نہیں بلکہ ان کے الہام کنندہ کا چلن ہی ایسا تھا کہ وہ خود بھی خطاونسیاں کے چکر سے باہر نہ تھا۔ اسی لئے مرزاقادیانی کو تمام عمر اس گورکھ دھندے میں پھانسے رکھا۔ سچ ہے ؎

  1. ما مریداں رو بسوئے کعبہ چوں آریم چوں

    رخ بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما

مرزاقادیانی کو الہام ہوا ہے:

۵۵…’’اصلی واصوم اسہر وانام‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۷۹)

(ترجمہ) ’’میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔ جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔‘‘

قرآن کریم میں اﷲتعالیٰ کے متعلق ارشاد ہے:’’لاتاخذہ سنۃ ولا نوم‘‘ نہ اﷲتعالیٰ پر اونگھ غالب آتی ہے اور نہ نیند۔ لیکن مرزاقادیانی کو الہام ہورہا ہے کہ: ’’میں جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔‘‘ اب یہ مرزائیوں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اعلان کر دیں کہ ان دونوں میں سے کس نظریے کو صحیح سمجھتے ہیں۔ میرے پرانے دوستو!

  1. من نہ گویم کہ ایں کن آں مکن

    مصلحت بین و کار آساں کن

مرزاقادیانی اپنی مایہ ناز کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں لکھتے ہیں:

۵۶… ’’ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خداتعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیش گوئیاں لکھیں۔ جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خداتعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اﷲتعالیٰ نے بغیر کسی تأمل کے

44

سرخی کے قلم۱؎سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اسوقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ اس خیال سے کہ کس قدر خداتعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا، بلاتؤقف اﷲتعالیٰ نے اس پر دستخط کر دئیے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداﷲ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا۔ ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیرآدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا۔ کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو۔ وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداﷲ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداﷲ، جو ایک رویت کا گواہ ہے۔ اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا۔ جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۵۵، خزائن ج۲۲ ص۲۶۷)

مرزائیو! قرآن مجید میں ارشاد ہے:’’لیس کمثلہ شیٔ‘‘کہ اﷲتعالیٰ کی مانند کوئی چیز نہیں۔ خدائے واحد کی ذات تشبیہات سے منزہ ہے۔ لیکن تمہارے ’’حضرت مرزاصاحب‘‘ قرآن حکیم کے اس محکم اصول کے خلاف لکھ گئے ہیں کہ ’’ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خداوند تعالیٰ کی زیارت ہوئی‘‘ خوف خدا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تم ہی بتادو کہ بے مثل کا تمثل کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور غیرمحدود کا تمثل محدود ہوسکتا ہے یا نہیں؟ جواب دیتے وقت بے پرکی مت اڑانا۔ اگر ہمت ہے تو قرآن کریم کی کوئی آیت نقل کرنا جس سے ’’تمثیلی طور پر خداتعالیٰ کی زیارت‘‘ کا ثبوت مل سکے۔

مرزاقادیانی کے اسی کشف کے متعلق ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ اپنی پیش گوئیوں کی تصدیق کے لئے جو کاغذات مرزاقادیانی نے خداتعالیٰ کے سامنے پیش کئے اور اﷲتعالیٰ نے سرخی کے قلم سے ان پر دستخط کر دئیے۔ جب سرخ رنگ مادی اور حقیقی تھا تو اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ کاغذات بھی مادی ہوں گے۔ پس مرزائی بتائیں کہ وہ کاغذ کہاں ہیں اور

۱؎سلطان القلم کی اردو ملاحظہ ہو۔ مذکر کو مونث بنا دیا۔ کیوں نہ ہو مجدد جو ہوئے۔

45

اﷲتعالیٰ نے کس زبان کے حروف میں دستخط کئے تھے؟ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی دریافت کرنے کا حق ہے کہ پیش گوئیاں کس کس کے متعلق تھیں؟ اور باوجود اﷲتعالیٰ کی بارگاہ سے تصدیق ہو جانے کے، وہ پوری بھی ہوئیں یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتایا جائے کہ ارادہ الٰہی سے قلم پر زیادہ رنگ آگیا تھا یا خدا کے ارادے کے بغیر ہی قلم نے زیادہ رنگ اٹھالیا؟

مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

۵۷… ’’میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ خداتعالیٰ کی عدالت میں ہوں۔ میں منتظر ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہے۔ اتنے میں جواب ملا:’’اصبر سنفرغ یا مرزا‘‘ کہ اے مرزا! صبر کر، ہم عنقریب فارغ ہوتے ہیں۔ پھر میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں کچہری میں گیا ہوں تو اﷲتعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک سررشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مسل لئے ہوئے پیش کر رہا ہے۔ حاکم نے مسل اٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی۔ اس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور اس نے مسل ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ اتنے میں، میں بیدار ہوگیا۔‘‘

(البدر ج۲ نمبر۶، ۱۹۰۳ء مکاشفات ص۲۸،۲۹)

مرزاقادیانی کے اس خواب سے کئی باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔

(۱)اﷲتعالیٰ مجسم ہے جو میز کرسی لگائے کچہری کا کام کر رہا ہے۔

(۲)خداوند کریم کو معمولی مجسٹریٹوں کی طرح ایک منشی یا کلرک کی بھی ضرورت ہے۔

(۳)خدا لوگوں کے مقدمات کے جھمیلے میں اس قدر پھنسا ہوا ہے کہ اسے بصد مشکل کسی سے بات کرنے کی فرصت ملتی ہے۔

(۴)قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’سنفرغ لکم ایہ الثقلٰن‘‘ یعنی اے جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہو، ہم تمہاری طرف جلد متوجہ ہوں گے۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہوریہ ’’بیان القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اور یہاں متوجہ ہونے سے مراد سزا دینے کے لئے متوجہ ہونا ہے اور معمولی معنے لے کر بھی مراد وہی ہوگی۔ یعنی سخت سزا دینا کیونکہ کسی چیز کے لئے فارغ ہونا اکثر تہدید کے موقع پر بولا جاتا ہے۔‘‘

پس ’’سنفرغ یا مرزا‘‘سے ثابت ہوا کہ اﷲتعالیٰ نے مرزاقادیانی کو سخت

46

ڈانٹ دی ہے کہ: ’’اے مرزا! ہم عنقریب تجھ کو سخت اور دردناک سزا دیں گے۔‘‘

لاہوری مرزائیو! خدا کے لئے جلدی بتانا کہ تمہارے کرشن جی مہاراج کو اسی دنیا میں اﷲتعالیٰ کی طرف سے سخت سزا مل چکی ہے یا قیامت کے دن ملے گی؟

مرزاقادیانی کا الہام ہے:

۵۸… ’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)

(ترجمہ) ’’اے مرزا! تو میرے نزدیک بمنزلہ میری توحید وتفرید کے ہے۔‘‘

احمدی دوستو! جب خدائے واحد وقدوس بے مثل ہے تو اس کی توحید وتفرید بھی بے مثل ہوگی یا نہیں؟ اپنے گورو کو خداوند عالم کی توحید وتفرید کی مانند تسلیم کر لینے کے بعد بھی تم کہہ سکتے ہو کہ خداکی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں؟ تم غور نہیں کرتے کہ جب مرزاقادیانی آنجہانی خدا کی توحید وتفرید کی مانند ہوگئے تو پھر توحید کہاں رہی۔

مرزاقادیانی اپنے الہامات بیان کرتے ہیں:

’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)

(ترجمہ) ’’اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔‘‘

۵۹… ’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۶۵)

(ترجمہ) ’’تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔‘‘

’’مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طورہ پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص۲۷، خزائن ج۳ ص۶۴)

مرزائیو! تمہارے حضرت نے تو کہا تھا کہ میں بالکل قرآن ہی کی طرح ہوں اور مجھ سے وہی ظاہر ہوگا جو قرآن سے ظاہر ہوا۔ لیکن یہاں تو اصول قرآنی کے صریحاً خلاف الہامات کے چھینٹے برس رہے ہیں۔ قرآن کریم نے نہایت ہی زبردست الفاظ میں تردید کی ہے کہ اﷲتعالیٰ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا۔ جیسا کہ فرمایا ہے:’’وقالوا اتخذ الرحمن ولدا لقد جئتم شیئا ادا تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ہدا ان دعوا للرحمن ولدا وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا

(سورۃ مریم)‘‘

47

(ترجمہ) ’’(مرزاقادیانی اور اس کے چیلے) کہتے ہیں کہ رحمن نے (مرزاقادیانی کو) بیٹا بنایا۔ (مرزائیو) یقینا تم ایک خطرناک بات کر گزرے۔ قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں کہ وہ (مرزائی) رحمن کے لئے بیٹے کا دعویٰ کرتے ہیں اور رحمن کو شایاں نہیں کہ وہ بیٹا بنائے۔‘‘

ان آیات میں کن زوردار اور ہیبت ناک الفاظ میں تردید کی گئی ہے کہ خدائے رحمن نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی اﷲتعالیٰ کے شایان شان ہے کہ وہ بیٹا بنائے۔

مرزاقادیانی کے مریدو! جواب دو کہ اپنے گرو کے دونوں الہاموں میں سے کس کو سچا سمجھتے ہو اور کس کو غلط۔ اگر اس الہام کو صحیح مانتے ہو کہ میں بالکل قرآن ہی کی طرح ہوں اور مجھ سے وہی ظاہر ہوگا جو قرآن سے ظاہر ہوا تو دوسرے الہام کہ اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے، کے متعلق کیا کہو گے؟ قرآن پاک عقیدہ ابنیت کی بیخ کنی کر رہا ہے اور مرزاقادیانی کا الہام انہیں خدا کا بیٹا بنا رہا ہے۔

مرزاقادیانی کو اﷲتعالیٰ نے فرمایا: ’’سرک سری‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۹، تذکرہ ص۷۱۴، ط۳)

(ترجمہ) ’’اے مرزا تیرا بھید میرا بھید ہے۔‘‘

۶۰… ’’ظہورک ظہوری‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۶، تذکرہ ص۷۰۴، ط۳)

(ترجمہ) ’’اے مرزا تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔‘‘

ان دونوں حوالہ جات سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ خدا نے مرزاقادیانی کو فرمایا کہ اے مرزا، میں اور تو دونوں ایک ہی ہیں۔ ہم میں کوئی فرق نہیں۔ عیسائیوں کے ہاں باپ بیٹا اور روح القدس تینوں مل کر ایک خدا بنتا ہے۔ لیکن مرزاقادیانی نے تیسرے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ ایک خدا تو عالم بالا میں ہے، دوسرا مرزاقادیانی کی شکل میں زمین پر نازل ہوا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کا الہام ہے۔ ’’خدا قادیاں میں نازل ہوگا۔‘‘

(البشریٰ ج۱ ص۵۶، تذکرہ ص۴۳۷، ط۳)

لیکن پھر بھی دو خدا نہیں، ایک ہی خدا ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔ مرزاقادیانی کے اسی عقیدے کی مزید وضاحت اس عبارت سے ہورہی ہے۔

48

مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۶۱… ’’رایتنی فی المنام عین اﷲ وتیقنت اننی ہو ولم یبق لی ارادۃ ولا خطرۃ… وبین ما انا فی ہذہ الھالۃ کنت اقول انا نرید نظاما جدید اسماء جدیدۃ وارضاً جدیدۃ فخلقت السموت والارض اولا بصورۃ اجمالیۃ لا تفریق فیہا ولا ترتیب ثم فرقتہا ورتبتہا… وکنت اجد نفسی علی خلقہا کالقادرین ثم خلقت السماء الدنیا وقلت انا زینا السماء الدنیا بمصابیح ثم قلت الان نخلق الانسان من سلالہ من طین… فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم وکنا کذالک الخالقین‘‘

(ترجمہ) ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہٖ اﷲ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا ارادہ باقی رہا اور نہ خطرہ… اسی حال میں (جب کہ میں بعینہٖ خدا تھا) میں نے کہا کہ ہم ایک نیا نظام، نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور ترتیب دی… اور میں اپنے آپ کو اس وقت ایسا پاتا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ’’انا زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘ پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح سے میں خالق ہوگیا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴،۵۶۵، خزائن ج۵ ص۵۶۴،۵۶۵)

احمدی دوستو! بتاؤ اور سچ بتاؤ کہ مرزاقادیانی نے خدا ہونے میں کون سی کسر باقی چھوڑی ہے؟ مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ میں نے یقین کر لیا کہ میں بعینہٖ اﷲ ہوں۔ فرعون نے بھی تو یہی کہا تھا کہ: ’’انا ربکم الاعلی‘‘ بتاؤ کہ مرزاقادیانی کے ان الفاظ اور فرعون کے مقولہ میں کیا فرق ہے؟

ناظرین! صرف یہی نہیں کہ مرزاقادیانی نے اتنا ہی کہا ہو کہ میں خدا ہوں اور میں نے زمین آسمان پیدا کئے بلکہ مرزاقادیانی اس سے بھی بڑھ کر فرماتے ہیں:’’واعطیت صفۃ الافناء والاحیاء‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۵،۵۶)

49

(ترجمہ) ’’مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔‘‘

مرزاقادیانی اپنا الہام بیان کرتے ہیں: ’’انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۹۴، تذکرہ ص۵۲۷، ط۳)

(ترجمہ)’’اے مرزا تحقیق تیرا ہی حکم ہے جب تو کسی شئے کا ارادہ کرے تو اس سے کہہ دیتا ہے۔ پس وہ ہو جاتی ہے۔‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کو ’’کن فیکون‘‘ کے اختیارات حاصل ہیں۔ زندہ کرنے اور فنا کرنے کی بھی صفت مرزاقادیانی میں موجود ہے۔ مرزاقادیانی نے نئے آسمان اور زمین بھی بنائے۔ آدم کو بھی پیدا کیا۔ اب یہ احمدی دوست بتائیں کہ خدائی کا دعویٰ کرنے میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے؟

ناظرین کرام! میں نے نہایت اختصار کے ساتھ مرزاقادیانی کے خلاف اسلام عقائد اور دعاوی انہیں کے اپنے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کر دئیے ہیں۔ ان کے ان معجون مرکب اقوال والہامات کو دیکھ کر آپ متعجب نہ ہوں کہ مرزاقادیانی نے کس ستم ظریفی سے خلاف شریعت عقائد گھڑ لئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا نے مرزاقادیانی کو کھلی چھٹی دے دی تھی کہ اے مرزا ناجائز اور ممنوع افعال بھی تمہارے لئے حلال کر دئیے گئے ہیں۔ جو کچھ تمہارا دل چاہتا ہے، کر لو… جیسا کہ مرزاقادیانی نے اپنا الہام بیان کیا ہے: ’’اعملوا ما شئتم انی غفرت لکم‘‘

(البدر ج۳ نمبر۱۶،۱۷ ص۸)

(ترجمہ) ’’اے مرزا! جو تو چاہے کر، ہم نے تجھے بخش دیا۔‘‘

پس جب خدا نے ہی مرزاقادیانی سے پابندی شریعت کی تمام قیود اٹھالیں تو اس حالت میں مرزاقادیانی جو کچھ بھی کر لیتے، ان کے لئے جائز تھا اور انہیں ضرورت نہ تھی کہ وہ اپنے عقائد اور اقوال کو قرآن کریم اور حدیث شریف کی کسوٹی پر پرکھنے کی تکلیف گوارہ کرتے۔ سچ ہے ؎

سیاں بہے کوتوال اب ڈر کاہے کا

احمدی دوستو! مرزاقادیانی کے مندرجہ بالا خلاف قرآن وحدیث اقوال نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں ان عقائد باطلہ کو ترک کر کے اہل سنت والجماعت کی مستقیم شاہراہ پر گامزن ہو جاؤں۔

50

مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت

مرزاقادیانی کے مریدوں کے دو فریق ہیں۱؎۔ ایک کا مرکز لاہور ہے، دوسرے کا قادیان۔ قادیانی جماعت مرزاقادیانی کو نبی مانتی ہے۔ لیکن لاہوری جماعت مرزاقادیانی کی تعلیم کے خلاف انہیں نبی نہیں کہتی۔ مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کی تحقیقات کرنے کے لئے مرزاقادیانی کی کتابوں کو نہایت غوروخوض سے مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزاقادیانی، دعویٰ مسیحیت کے ابتدائی ایام میں اپنے آپ کو محدث کہتے تھے اور اپنی محدثیت کی تعریف ایسی کیا کرتے تھے، جس کا مفہوم نبوت ہوتا تھا۔ لیکن بعدہ، کھلے اور غیر مبہم الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ مرزاقادیانی نے اپنی ابتدائی تحریروں میں یہاں تک لکھا ہے کہ: ’’میں سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیa ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں اور مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰)

لیکن اس کے بعد وہ زمانہ بھی آیا جب مرزاقادیانی نے صاف الفاظ میں اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ اس لئے لاہوری جماعت مرزاقادیانی کی ابتدائی تحریروں سے انکار نبوت کے جو حوالہ جات پیش کرتی ہے، وہ قابل قبول نہیں کیونکہ مرزاقادیانی نے خود فیصلہ کردیا ہے۔

’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے، صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر، اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کہیں انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہیں معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔‘‘

(مرزاقادیانی کا اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰،۲۱۱)

۱؎میرا فریق اروپی میں ہے جو مرزا کو تشریعی نبی مانتا ہے۔ اختر!

51

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے تسلیم کر لیا ہے کہ ’’میں حضرت نبی کریمa کی پیروی کر کے اور آپ کے واسطے سے غیرتشریعی نبی بنا ہوں اور اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔‘‘ جہاں اس سے صاف ثابت ہوگیا کہ مرزاقادیانی غیرتشریعی نبی ہونے کے مدعی تھے، ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی ہوگیا کہ جس جس جگہ مرزاقادیانی نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے، وہاں انکار نبوت سے مرزاقادیانی کی یہ مراد تھی کہ میں شریعت لانے والا نبی نہیں ہوں اور نہ مستقل طور پر نبی ہوں۔ اب ہمیں یہ بتانا ہے کہ مرزاقادیانی نے مستقل نبی یا مستقل نبوت کی کیا تعریف کی ہے۔ مرزاقادیانی ارشاد فرماتے ہیں: ’’بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ۱؎دخل نہ تھا۔ اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

مرزاقادیانی کی اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۲؎۔ ایک وہ جو براہ راست نبی ہوتے ہیں، انہیں کسی نبی کی پیروی سے نبوت نہیں ملتی۔ وہ مستقل نبی کہلاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو کسی دوسرے نبی کی اتباع اور پیروی سے نبی بنتے ہیں۔ انہیں امتی نبی کہا جاتا ہے اور میں دوسری قسم کا نبی ہوں۔ یعنی امتی نبی۔ دوسری جگہ اس کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں: ’’جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے جس کے معنے ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرتa کی پیروی سے پایا ہے، نہ براہ راست۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ ص۹ حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۴۰۱)

ان حوالہ جات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مرزاقادیانی مدعی نبوت تو ہیں، لیکن کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ انہیں نبوت بلاواسطہ ملی ہے۔ بلکہ حضرت نبی کریمa کی پیروی

۱؎سلطان القلم کی فصیح وبلیغ اردو ملاحظہ ہو۔ (اختر)

۲؎ یہ لاہوری مرزائیوں کے مابل لکھا گیا ہے۔ ورنہ مرزاقادیانی کا اصل دعویٰ تشریعی نبوت کا تھا۔ تفصیل ہماری کتاب ’’خاتم النّبیین‘‘ میں دیکھئے۔ اختر!

52

اور وساطت سے نبی بن گئے ہیں اور مرزاقادیانی کی اصطلاح میں یہی ظلی یا بروزی نبوت ہے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے، وہ نبوتیں اور پیش گوئیاں ہیں، جن کی رو سے انبیاءo نبی کہلاتے رہے۔ لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے۔ جیسا کہ آیت: ’’لا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول‘‘سے ظاہر ہے۔ پس مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت: ’’انعمت علیہم‘‘گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)

’’ظلی نبوت جس کے معنے ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰)

مرزاقادیانی کے ان حوالہ جات سے ثابت ہوگیا کہ امتی نبی ظلی یا بروزی نبی سے مرزاقادیانی کی یہ مراد تھی کہ حضرت نبی کریمa کی پیروی کرتے ہوئے نبی بن جاتا۔ لاہوری جماعت کہا کرتی ہے کہ جس طرح ظل اصل نہیں ہوتا، اسی طرح ظلی نبی، نبی نہیں ہوتا۔ لیکن مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’سچے پیرو اس کے (قرآن مجید کے) ظلی طور پر الہام پاتے ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۹۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۳۸)

لاہوری احمدیو! سینے پر ہاتھ رکھ کر بتانا کہ اگر ظلی نبوت، نبوت نہیں تو ظلی الہام، الہام کس طرح ہوسکتا ہے؟ تمہارا عقیدہ خود ساختہ اور مرزاقادیانی کے خلاف ہے کہ ظلی نبوت، نبوت نہیں ہوتی۔ جیسا کہ تمہاری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں: ’’پھر اس کو ظلی نبوت کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ نبوت نہیں۔ کیونکہ ظل کا لفظ ساتھ لگانے سے اصلیت کا انکار مقصود ہوتا ہے۔‘‘

(مسیح موعود اور ختم نبوت ص۲)

میرے پرانے دوستو! جب ظل کا لفظ ساتھ لگانے سے اصلیت کا انکار مقصود ہوتا ہے تو تمہارے ’’حضرت مرزا صاحب‘‘ کہہ گئے ہیں کہ میں قرآن مجید کا سچا پیرو ہوں اور

53

قرآن پاک کے سچے پیرو ظلی طور پر الہام پاتے ہیں۔ اب تمہارا فرض ہے کہ تم دنیا کے سامنے اعلان کر دو کہ مرزاقادیانی کے الہام کے ساتھ لفظ ظلی موجود ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی کا الہام، الہام نہیں۔ کیونکہ ظل کا لفظ ساتھ لگانے سے اصلیت کا انکار مقصود ہوتا ہے۔ پس مرزاقادیانی کے الہامات اضغاث احلام میں سے ہیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعویٰ میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خداتعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرتa کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

اس حوالہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کو پہلے نبیوں کی طرح براہ راست نبوت نہیں ملی بلکہ نبوت کا مقام مرزاقادیانی نے بواسطہ فیضان محمدی پایا ہے۔ ورنہ نبوت کے لحاظ سے کوئی فرق تسلیم نہیں کرتے۔ جیسا کہ لکھاہے: ’’منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیش گوئیاں ہیں، جن کے رو سے انبیاءo نبی کہلاتے رہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)

غرض اس تحریر سے مرزاقادیانی کی یہی مراد ہے کہ پہلے غیرتشریعی انبیاءo کی نبوت اور میری نبوت میں کوئی فرق نہیں۔ صرف طریق حصول نبوت میں فرق ہے۔ کیونکہ نبوت کے متعلق تو لکھتے ہیں کہ کثرت اطلاع برامور غیبیہ ہی کی وجہ سے پہلے لوگ نبی کہلائے۔

اب ہم مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کے اثبات کے لئے چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

۱… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘

(بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

۲… ’’میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۳ حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۶۸)

54

لاہوری جماعت کہا کرتی ہے کہ کہیں دکھادو کہ مرزاقادیانی نے کہا ہو کہ میرا دعویٰ ہے کہ میں رسول اور نبی ہوں۔ ان دونوں حوالہ جات میں، جو میں نے اوپر نقل کردئیے ہیں، مرزاقادیانی نے صراحت سے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

لاہوری مرزائیو! کیا اب بھی کہو گے کہ: ’’ہمارے حضرت مرزا صاحب‘‘ نے نبوت ورسالت کا دعویٰ نہیں کیا؟ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۳… ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

لاہوری جماعت کے ممبرو! خدا کے واسطے مرزاقادیانی کی اس عبارت پر غور کرو اور بتاؤ کہ کیا یہ نبوت محض محدثیت اور مجددیت ہے؟ جس کا اس حوالہ میں بیان ہو رہا ہے؟ اب اس جگہ نبی کی بجائے لفظ محدث رکھ کر پڑھو۔ اگر عبارت درست ہو تو تم سچے ورنہ جھوٹے۔ اگر یہ محدثیت اور مجددیت ہی ہے تو پھر تیرہ سو سال میں ایک شخص کو ملنے کے کیا معنی؟ اور اس سے ایک شخص کے مخصوص ہونے کا کیا مطلب۔ کیونکہ محدث تو تیرہ سو سال میں سینکڑوں گزرے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ مرزاقادیانی کثرت مکالمہ ومخاطبہ اور کثرت امور غیبیہ کو نبوت قرار دیتے تھے۔ جیسا کہ ذیل کے حوالہ جات سے ظاہر ہے۔

(الف)’’جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جاوے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں، وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

(ب)’’خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات ومخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۱)

(ج)’’جب کہ وہ مکالمہ ومخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی

55

دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔‘‘

(الوصیت ص۱۱، خزائن ج۲۰ ص۳۱۱)

(د)’’میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی، قطعی، بکثرت نازل ہو۔ جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ ص۲۶، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)

(ھ)’’ہم خدا کے ان کلمات کو، جو نبوت یعنی پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیش گوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں… اس کا نام نبی رکھتے ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۸۰، خزائن ج۲۳ ص۱۸۹)

(و)’’اگر خداتعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)

حوالہ جات بالا سے ثابت ہورہا ہے کہ مرزاقادیانی کثرت مکالمہ ومخاطبہ اور کثرت اطلاع برامور غیبیہ کو نبوت سمجھتے تھے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا تھا۔

’’یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خداتعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

اس عبارت سے ثابت ہوا کہ تیرہ سو سال میں جتنا مکالمہ مخاطبہ مرزاقادیانی سے ہوا ہے اتنا اور کسی سے نہیں ہوا اور کثرت مکالمہ مخاطبہ نبوت ہوتی ہے۔ اس لئے مرزاقادیانی نبی ہیں۔

لاہوری مرزائی کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہر نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت اور کتاب لائے نیز دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ لیکن ان کا یہ کہہ دینا اپنے گورو کی تصریحات کے صریحاً خلاف ہے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے:

(الف)’’یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبرپانے والا ہو اور شرف مکالمہ

56

ومخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

(ب)’’بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی۔ بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانے میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں، پھر ان کوتوریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص۳۷، خزائن ج۶ ص۳۴۰)

(ج)’’نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں۔ یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰)

یہ تینوں حوالہ جات پکار پکار کر اعلان کر رہے ہیں کہ مرزاقادیانی کا عقیدہ تھا کہ بغیر نئی کتاب وشریعت کے بھی نبی ہوسکتا ہے اور نبی ہونے کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔

مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۴… ’’اس امت میں آنحضرتa کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰)

لاہوری احمدیو! ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں نہیں رہنا۔ آخر ایک دن خدائے واحد وقدوس کی بارگاہ معلی میں اپنے عقائد واعمال کا جوابدہ ہونا ہے۔ اسی خدائے قدوس کو، جو دلوں کے مخفی حالات سے واقف ہے، حاضر وناظر سمجھ کر سوچو اور غور کرو کہ کیا مرزاقادیانی اپنے آپ کو اولیائے امت کے زمرہ میں شمار کرتے ہیں؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔ بلکہ وہ تو ڈنکے کی چوٹ پراعلان کر رہے ہیں کہ اس امت میں ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور میں امتی نبی ہوں۔ اگر تمہارے خیال کے مطابق امتی نبی، نبی نہیں ہوتا تو تمام اولیائے اﷲ سے اس خصوصیت کے کیا معنی؟

مرزاقادیانی فرماتے ہیں:

۵… ’’ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں۔ جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو۔‘‘

(بدر مورخہ ۹؍اپریل ۱۹۰۸ء، ملخص ملفوظات ج۱۰ ص۲۱۷)

57

۶… ’’ایسا رسول ہونے سے انکار کیاگیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں۔ ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو۔ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا، وہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے۔ جبھی ’’ولا یخافون لومۃ لائم‘‘ کے مصداق ہوئے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ درصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خداتعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے، جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں۔ اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ بس ہم نبی ہیں۔ ہاں! یہ نبوت تشریعی نہیں۔ جو کتاب اﷲ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیش گوئیاں کرتے تھے۔ جن سے موسوی دین کی شوکت وصداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے… ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتاتو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں… ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اﷲتعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔‘‘

(ڈائری مرزاقادیانی مندرجہ اخبار بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء ج۷ نمبر۹ ص۲، حقیقت النبوۃ ص۲۷۲)

۷… ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے، تو میں کیونکر انکار کر سکتاہوں۔ اس پر قائم ہوں اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘

(مرزاقادیانی کا آخری مکتوب مندرجہ اخبار عام مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء، حقیقت النبوۃ ص۲۷۰،۲۷۱)

58

۸… ’’تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا۔ یعنی مسیح موعود کے ذریعے سے جو اس کی قرنا ہے… اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۷۶،۷۷، خزائن ج۲۳ ص۸۴،۸۵)

۹… ’’میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اﷲ رکھا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۴۸، خزائن ج۱۸ ص۴۲۷)

۱۰… ’’خداتعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرتa کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

۱۱… ’’پس خداتعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہوگیا اور اس قوم کو ہزارہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت کی گئی تب وہ وقت آگیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جاوے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۵۲، خزائن ج۲۲ ص۴۸۶)

۱۲… ’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ بہرحال جب تک طاعون دنیا میں رہے، گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)

۱۳… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۱۴… ’’سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’وما کنّٰ معذبین حتی نبعث رسولا‘‘ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہوگیا ہے۔ جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ ص۸،۹، خزائن ج۲۰ ص۴۰۰،۴۰۱)

۱۵… ’’ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیاگیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶)

59

۱۶…’’قل یا ایہا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا‘‘کہہ اے تمام لوگو! میں تم سب کی طرف اﷲتعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔

(البشریٰ ج۲ ص۵۶، تذکرہ ص۳۵۲، ط۳)

۱۷…’’انک لمن المرسلین‘‘اے مرزا! تو بے شک رسولوں میں سے ہے۔

(الہام مندرجہ حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

۱۸… ’’ہمارا نبی اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہوسکتا ہے اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۴، خزائن ج۲۱ ص۳۵۵)

’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)

۱۹…’’واخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیش گوئی ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۵۰۲)

۲۰… ’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیاگیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور امتی بھی۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)

لاہوری احمدیو! میں نے مرزاقادیانی کی کتابوں، اشتہاروں اور ڈائریوں سے چند حوالہ جات نقل کر دئیے ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی نے دھڑلے سے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو نبی لکھا۔ اگر اس رسالہ کی طوالت مانع نہ ہوتی تو میں مرزاقادیانی کی کتابوں سے سینکڑوں حوالہ جات پیش کر سکتا تھا کہ جن میں مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے بطور نبی کے پیش کیا ہے۔ تم خوف خدا کرو۔ کب تک مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرو گے۔ اتنا تو سوچو کہ لوگ مرزاقادیانی کے یہ حوالہ جات پڑھ کر کیا نتیجہ نکالیں گے۔

60

دیکھو مرزاقادیانی نے یہاں تک فرمایا ہے:

۲۱… ’’خداتعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)

یہاں تو مرزاقادیانی نے فیصلہ کن بات لکھ دی کہ میرے نشانات معمولی نہیں ہیں۔ بلکہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر وہ نشان ہزار نبی پر بھی تقسیم کر دئیے جائیں تو ان کی بھی نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لاہوری مرزائی جواب دیں کہ جب مرزاقادیانی کے نشانوں سے ہزار نبی کی نبوت ثابت ہوسکتی ہے تو مرزاقادیانی نبی کیوں نہ ہوئے؟

میرے پرانے دوستو! کیا تمہیں جرأت ہے کہ تم دنیا کے سامنے اعلان کر سکو کہ مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو نبی نہیں کہا؟ جواب دیتے وقت اتنا یاد رکھنا کہ ایک وہ وقت بھی تھا جب تم نے اپنے اخبار ’’پیغام صلح‘‘ میں مندرجہ ذیل اعلان کئے تھے۔

اعلان اوّل: ’’ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود اﷲتعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے۔ آج ان کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔ ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ چھوڑ نہیں سکتے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ج۱ نمبر۳۵، مورخہ ۷؍ستمبر ۱۹۱۳ء)

اعلان دوم: ’’معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو غلط فہمی میں ڈالا گیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا وہادینا حضور حضرت مرزاغلام احمد صاحب مسیح موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی، جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار ’’پیغام صلح‘‘ سے تعلق ہے، خداتعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے، اس سے کم وبیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔‘‘

(اخبار پیغام صلح ج۱ نمبر۴۲، مورخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء)

61

ناظرین کرام! یہ وہ اعلان ہیں جو اخبار ’’پیغام صلح‘‘ سے تعلق رکھنے والوں نے اس وقت شائع کئے تھے۔ جب مولوی نورالدین کی زندگی میں ان لوگوں کے متعلق مشہور ہوا تھا کہ یہ لوگ مرزاقادیانی کی نبوت سے منکر ہوگئے ہیں۔ ان اعلانات میں لاہوری جماعت کے موجودہ ممبروں نے کس دھڑلے سے مرزاقادیانی کی نبوت کا ڈھنڈورا پیٹا تھا۔ لیکن اب یہی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے مرزاقادیانی کو کبھی نبی تسلیم نہیں کیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مولوی نورالدین کی زندگی تک لاہوری پارٹی کے تمام ممبر مرزاقادیانی کو نبی مانتے تھے۔ اگر ضرورت ہوئی تو ہم ان کے تمام بڑے بڑے ممبروں کی تحریریں شائع کر دیں گے۔ جن میں انہوں نے مرزاقادیانی کو نبی تسلیم کیا ہے۔ اس جگہ مولوی محمد علی امیرجماعت احمدیہ لاہور کی چند مصدقہ تحریریں بطور نمونہ درج کی جاتی ہیں۔

الف… ’’آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جس شخص (مرزاقادیانی) کو اﷲتعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے مامور ونبی کر کے بھیجا ہے۔ وہ بھی شہرت پسند نہیں۔‘‘

(ریویو اردو ج۵ نمبر۴ ص۱۳۲)

ب… ’’اس لئے یہی وہ آخری زمانہ ہے جس میں موعود نبی کا نزول مقدر تھا۔‘‘

(ریویو اردو ج۶ نمبر۳ ص۸۳)

ج… ’’آیت کریمہ میں جن لوگوں کے درمیان اس فارسی الاصل نبی کی بعثت لکھی ہے، انہیں آخرین کہاگیا ہے۔‘‘

(ریویو ج۶ نمبر۳ ص۹۶)

د… ’’پیش گوئی کے بیان میں اوپر یہ ذکر آچکا ہے کہ نبی آخر زمان کا ایک نام ’’رجل من ابناء فارس‘‘ بھی ہے۔‘‘

(ریویو ج۶ نمبر۳ ص۹۸)

ہ… ’’ایک شخص (مرزاقادیانی) جو اسلام کا حامی ہو کر مدعی رسالت ہو۔‘‘

(ریویو ج۵ نمبر۵ ص۱۶۶)

کس صراحت سے یہ عبارات پکار پکار کر اعلان کر رہی ہیں کہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کی ایڈیٹری کے زمانہ میں مولوی محمد علی ایم۔اے موجودہ امیر جماعت مرزائیہ لاہور مرزاقادیانی کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے مرزاقادیانی کی نبوت کے رنگ سے رنگے

62

ہوئے مضامین کس قدر شدومد سے شائع کیا کرتے تھے۔ اب یہی مولوی محمد علی ہیں، جو نہایتہی معصومانہ انداز میں فرمایا کرتے ہیں کہ ہم کبھی مرزاقادیانی کی نبوت پر ایمان نہیں لائے اور نہ ہی مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی حلفیہ شہادت دے رہے ہیں۔

’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

مرزاقادیانی اپنی نبوت کا ثبوت دینے کے لئے خداتعالیٰ کی قسم کھا رہے ہیں۔ لیکن لاہوری مرزائی ہیں کہ ایک طرف تو مرزاقادیانی کو مسیح موعود، محدث، مجدد، کرشن وغیرہ دعاوی میں سچا اور راست باز بھی مانتے ہیں اور دوسری طرف مرزاقادیانی کی قسم پر بھی اعتبار نہیں کرتے۔ اگر قسم پر اعتبار کرتے تو ان کی نبوت سے منکر کیوں ہوتے۔

میرے دوستو! یہ مت کہہ د۱؎ینا کہ: ’’مرزاقادیانی نے فرمایا ہے کہ میرا نام نبی رکھاگیا ہے اور کسی کا نام نبی رکھ دینے سے وہ نبی نہیں بن جاتا۔‘‘ یاد رکھو کہ اگر خدا کے نبی نام رکھ دینے سے نبی نہیں ہوجاتا تو مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’اسی خدا نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔‘‘ پس تمہاری تصریحات کے مطابق مرزاقادیانی کا نام مسیح موعود رکھ دینے سے مرزاقادیانی مسیح موعود بھی نہیں بن سکتے۔ تم بتاؤ کہ تم انہیں مسیح موعود کیوں مانتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے بڑے زور سے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جیساکہ ان کی کتابوں اور ڈائریوں کے مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہورہا ہے۔ لیکن مرزاقادیانی کے لاہوری مرید ان کی نبوت کو نہیں مانتے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیa کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کذاب ودجال ہے۔ جیسا کہ آنحضرتa نے فرمایا:

الف… ’’سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی اﷲ وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘

(مسلم، ترمذی، دارمی، ابن ماجہ، ابوداؤد، مشکوٰۃ)

۱؎لاہوری مرزائی یہی کہا کرتے ہیں۔ (اختر)

63

(ترجمہ) ’’میری امت میں تیس بڑے جھوٹے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ باوجودیکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

ب… ’’لاتقوم الساعہ حتی یخرج ثلثون کذابا کلہم یزعم انہ نبی‘‘

(ترجمہ) ’’فرمایا قیامت نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس بڑے جھوٹے ظاہر نہ ہو لیں۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔‘‘

(طبرانی)

د… ایک روایت میں: ’’سیکون فی امتی کذابون دجالون‘‘ {میری امت میں کذاب دجال ہوں گے۔ جو دعویٰ نبوت کریں گے۔}

’’وانی خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ {حالانکہ میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔}

ان احادیث میں دجال کذاب ہونے کی یہ علت ٹھہرائی گئی ہے کہ وہ باوجود میری امت میں ہونے کے دعویٰ نبوت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم امتی نبی ہیں۔ یعنی ایک پہلو سے نبی ہیں اور ایک پہلو سے امتی۔ یاد رہے کہ مسیلمہ کذاب نے بھی امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کیونکہ وہ بھی مرزاقادیانی کی طرح آنحضرتa کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان میں ’’اشہد ان محمدا رسول اﷲ‘‘پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی بوقت اذان اس کی شہادت دیتا تھا۔

(تاریخ طبری ج۲ ص۲۴۴)

معزز ناظرین! جب میں نے ایک طرف ان احادیث کو دیکھا اور دوسری طرف مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کو تو میرے ضمیر نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں مرزائی مذہب کو ترک کر دوں۔

مرزاقادیانی کا اپنے مخالفین پر جہنمی ہونے کا فتویٰ

مرزاقادیانی کے ابتدائی دعویٰ سے لے کر ان کی وفات تک کی کل تحریروں کو جن لوگوں نے غور سے مطالعہ کیا ہے، ہماری طرح ان پر یہ حقیقت منکشف ہوگئی ہوگی کہ ابتداء میں مرزاقادیانی اپنے منکرین اور مخالفین کو کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور جہنمی نہ کہتے تھے۔ ان

64

کی تحریرات سے بخوبی پتہ چل سکتا ہے کہ ابتدائے دعویٰ میں انہوں نے تمام عالم اسلام کو کافر اور جہنمی کہنے میں مصلحت وقت نہیں سمجھی۔ اندازہ کر لیا ہوگا کہ اگر شروع میں اپنے تمام منکرین پر کافر اور جہنمی ہونے کا فتویٰ لگادیا تو ہمارے نزدیک کوئی پھٹکنے نہ پائے گا۔ دکانداری چلانے کے لئے ابتداء میں نرمی اور رواداری کا برتاؤ مناسب سمجھا۔ بعدہ، جوں جوں چیلے چانٹے گرد جمع ہوتے گئے، مرزاقادیانی کا پارہ حرارت بھی تیز ہوتا گیا۔ پہلے تمام دنیا کے مسلمانوں کو فاسق کا خطاب دیا اور اپنے انکار کرنے والوں کو رب العزت کی بارگاہ میں قابل مواخذہ ٹھہرایا۔ جب اس پر بھی دل کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا تو دنیا کے تمام مسلمانوں کو، جو ان کی نہ سلجھنے والی بھول بھلیوں، انٹ شنٹ الہامات، خلاف اسلام عقائد اور گمراہ کن دعاوی پر ایمان نہ لائیں، جہنمی قرار دے دیا۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے: ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘

(معیار الاخیار ص۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵)

دوسری جگہ لکھا ہے: ’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے اور جو کچھ کہتا ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۳، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

ان صاف اور صریح حوالوں کے نقل کر دینے کے بعد میں مزید تشریح اور حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ مرزاقادیانی کس ڈھٹائی اور غیظ وغضب سے بھرے ہوئے الفاظ میں تمام مسلمانان عالم کو، جو ان کی زٹ البحر، وحی اور الہامی پوتھیوں پر ایمان نہیں لاتے، جہنمی کہہ رہے ہیں۔ لیکن مرزاقادیانی کے مریدوں کی لاہوری جماعت، جس کا میں آٹھ سال تک ممبر اور مبلغ رہا ہوں، نہایت ہی معصومانہ انداز میں اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم ہر ایک کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے گورو کی محولہ بالا تحریرات پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔

جماعت احمدیہ لاہور کے ممبرو! میں تمہیں نہایت ہی درد دل سے خدائے واحد وقدوس کے جلال اور حضرت محمد مصطفیa کی رسالت کی عظمت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم اکیلے بیٹھ کر مرزاقادیانی کی محبت سے خالی الذہن ہوکر، خوف خدا کو مدنظر رکھتے ہوئے محولہ

65

بالا حوالہ جات کو غور کی نظر سے دوبارہ اور سہ بارہ دیکھ لو، تو تم بھی اس نتیجہ پر پہنچ جاؤ گے کہ ہمارا عقیدہ اپنے مجدد اور گورو کے بالکل الٹ اور خلاف ہے اور ہم پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ: ’’من چہ می سرائم وتنبورہ من چہ می سراید۔‘‘

میرے پرانے دوستو! دو کشتیوں پر پاؤں رکھ کر تم ساحل مراد تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ اگر صدق دل سے تم ہر ایک کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہو تو ہماری طرح ببانگ دہل مرزاقادیانی سے بیزاری کا اعلان کر دو۔ کیونکہ وہ تمام جہان کے کلمہ گو مسلمانوں کو، جنہوں نے ان کی بیعت نہیں کی اور ان کے مخالف ہیں، جہنمی قرار دے رہے ہیں اور اگر تم مرزاقادیانی کے اس خطرناک عقیدہ سے بیزاری کا اعلان کرنے کے لئے تیار نہیں تو اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ تم محض مسلمانوں سے چندہ وصول کرنے کی خاطر انہیں مسلمان کہتے ہو۔ ورنہ دل سے مرزاقادیانی کے عقیدہ پر تمہیں پختہ ایمان ہے۔

میں منتظر ہوں کہ احمدیہ بلڈنگس لاہور کی چاردیواری سے کیا جواب ملتا ہے؟

مرزاقادیانی کی بیعت ہی مدار نجات ہے

حضرت نبی کریمa سے لے کر آج تک مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ قرآن پاک، سنت نبوی اور حدیث شریف پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ہی نجات کے لئے ضروری ہے۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اطیعوا اﷲ والرسول لعلکم ترحمون‘‘اﷲتعالیٰ اور اس کے رسول برحق محمد مصطفیa کی تابعداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ساڑھے تیرہ سو سال سے تمام مسلمان اﷲتعالیٰ اور حضرت نبی کریمa کی اطاعت کو ہی مدار نجات مانتے چلے آئے ہیں۔ لیکن مرزاقادیانی قرآن اور حدیث کے خلاف یوں رقمطراز ہیں: ’’اب دیکھو کہ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں، دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

(حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

کہاں ہیں لاہوری جماعت کے علماء وممبر؟

اپنی آنکھوں سے مرزاقادیانی کی محبت کی پٹی اتار کر اس عبارت کو پڑھیں اور للّٰہ غور کریں کہ کیا مرزاقادیانی نے اسلامی مسائل کی تجدید کی ہے یا سرے سے ہی انہوں نے

66

اسلامی اصولوں کو بدل ڈالا ہے۔ مرزاقادیانی سے پیشتر ایک پکا کافر اور مشرک کلمہ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ پڑھ کر قرآن اور سنت نبوی پر عمل کر کے نجات کا مستحق ہو جاتا تھا۔ مگر اب کوئی لاکھ دفعہ بھی کلمہ شریعت پڑھے اور ساری عمر قرآن وسنت پر بھی عمل کرتا رہے لیکن مرزا قادیانی کی بیعت نہ کرے اور ان کی تعلیم پر عمل نہ کرے تو اس کی نجات نہیں ہوسکتی۔ کیا مرزاقادیانی نے اسلامی اصولوں کو منسوخ کرنے میں کوئی کسر باقی چھوڑی ہے؟ پہلے تو نجات کے لئے قرآن وسنت کی پیروی کی ضرورت تھی لیکن اب مرزاقادیانی کی بیعت کرنے اور ان کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کے بغیر کسی کی نجات ہوہی نہیں سکتی۔ یہ مرزاقادیانی کا ایک اٹل فیصلہ ہے۔ لاہوری جماعت مرزاقادیانی کے اس الہام کو تاویلات کے شکنجے میں جکڑ نہیں سکتی۔

مرزاقادیانی نے دوسری جگہ لکھا ہے: ’’واﷲ انی غالب وسیظہر شوکتی وکل ہالک الا من قعد فی سفینتی‘‘بخدا میں غالب ہوں اور عنقریب میری شوکت ظاہر ہو جائے گی اور ہر ایک مرے گا مگر وہی بچے گا جو میری کشتی میں بیٹھ گیا۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۹، تذکرہ ص۷۱۳، ط۳)

اس جگہ بھی مرزاقادیانی نے صاف الفاظ میں پیش گوئی کی ہے کہ جو شخص میری کشتی میں نہیں بیٹھتا وہ ہلاک ہو جائے گا۔

ناظرین! مرزاقادیانی نے جو کشتی بنائی ہے، اس کا نام ’’کشتی نوح‘‘ رکھا ہے اور وہ کاغذ کی کشتی ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو شخص کاغذ کی کشتی میں بیٹھے گا، وہ مع اس کشتی کے غرق ہو جائے گا۔

مرزائیو! اگر ہمارے کہنے پر اعتبار نہ ہو تو آنے والے ساون بھادوں میں جب تمہاری جائے رہائش کے نزدیک ترین دریا میں طغیانی آئے تو مرزاقادیانی کی بنائی ہوئی کاغذ کی کشتی نوح کو دریا میں ڈال کر اس پر بیٹھ جاؤ اور پھر دیکھو کہ تمہارے مجدد مسیح موعود اور ظلی بروزی نبی کی پیش گوئی پوری ہوتی ہے یا ہمارا مشاہدہ درست ثابت ہوتا ہے۔

مرزاقادیانی کو ٹیچی جی مہاراج کی وساطت سے ایک الہام ان الفاظ میں ہوتا ہے: ’’قطع دابر القوم الذین لا یؤمنون‘‘ اس قوم کی جڑ کاٹی گئی جو ایمان نہیں لاتے۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۰۵)

67

یہ معاملہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کے مجدد اورنبی کو تو یہ الہام ہورہا ہے کہ جو قوم مجھ پر ایمان نہیں لاتی، اس قوم کی جڑ کاٹی گئی۔ یعنی وہ قوم نیست ونابود ہو جائے گی۔ مرزاقادیانی تو اپنے منکرین کو تباہ وبرباد کرنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے مرید ہیں کہ آئے دن اپنی تقریروں اور تحریروں میں عامتہ المسلمین کی بہتری اور ہمدردی کے راگ الاپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گورو اور چیلوں کی اس متضاد روش سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ یا تو مرزاقادیانی کے قادیانی اور لاہوری مریدوں کو مرزاقادیانی کے الہامات پر یقین نہیں اور اگر الہامات پر یقین ہے تو محض زبان سے دکھاوے اور نمائش کے لئے مسلمانوں کی ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے تاکہ اس ہمدردی کی آڑ لے کر مسلمانوں کی جیبوں سے ان کی سنہری اور روپہلی اغراض پوری ہوسکیں اور مسلمانوں کے روپے سے ان کے خزانہ کی رونق بڑھتی رہے۔ اسی مضمون کو مرزاقادیانی نے دوسری جگہ واضح کیا ہے: ’’خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیربادشاہ۔‘‘

(اشتہار حسین کامی سفیر روم، مندرجہ البشریٰ ص۴۵، تذکرہ ص۳۰۲، طبع سوم)

اس عبارت میں بھی مرزاقادیانی نے کھلے الفاظ میں اشتہار دے دیا ہے کہ مسلمانوں میں سے جو میری بیعت نہ کرے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ یعنی تباہ وبرباد اور نیست ونابود ہو جائے گا۔

لاہوری احمدیو! تم بلاخوف لومتہ لائم دو لفظہ جواب دو کہ تمہارا بھی اس پر ایمان ہے یا نہیں؟

مرزاقادیانی کا اپنا منکرین پر فتویٰ کفر

مرزاقادیانی کا عقیدہ، جس کی رو سے تمام اہل قبلہ، سوائے مرزائیوں کے کافر قرار دئیے گئے ہیں۔ ایک مشہور اور مسلّم امر ہے۔ تاہم بطور نمونہ چند حوالہ جات پیش کرتا ہوں۔ جن میں مرزاقادیانی آنجہانی نے اپنے منکرین کوکافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

68

۱… ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اوراس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے، خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا جائے۔ اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں۔ ہاں! اگر کسی وقت صریح الفاظ سے آپ اپنی توبہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدہ سے باز آجائیں تو رحمت الٰہی کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ لوگ جو میری دعوت کے رد کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتے ہیں اور خداتعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں، ان کو راست باز رقرار دینا صرف اس شخص کا کام ہے۔ جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔‘‘

(مرزاقادیانی کا خط ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے نام بحوالہ الذکر الحکیم نمبر۴ ص۲۳،۲۴)

مرزاقادیانی نے صاف اور غیرمبہم الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ دنیا کے وہ تمام مسلمان، جن کو میری دعوت پہنچ گئی ہے اور انہوں نے میری بیعت نہیں کی، وہ مسلمان نہیں ہیں اور قیامت کے دن اﷲتعالیٰ ان سے مواخذہ کرے گا کہ تم نے مرزاقادیانی کی مسیحیت اور نبوت کے سامنے اپنا سرکیوں نہیں جھکایا تھا؟ اپنے مریدوں کو عامتہ المسلمین سے متنفر کرنے کے لئے ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جو مسلمان خدا کے کھلے کھلے نشانوں یعنی خود بدولت کے ’’معجزات‘‘ کا انکار کرتے ہیں ان کو راست باز قرار دینا صرف اس شخص کا کام ہے، جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔

لاہوری احمدیو! دنیا کے ان چالیس کروڑ (اب ۲۰۱۷ء میں ایک ارب چالیس کروڑ) مسلمانوں میں سے، جو مرزاقادیانی کے معجزات اور نشانوں کو نہیں مانتے، تم کسی کو راست باز سمجھتے ہو؟ جواب دینے سے پہلے اپنے ظلی نبی کے فتوے کو دوبارہ پڑھ لینا۔

ایک شخص مرزاقادیانی سے سوال کرتا ہے: ’’حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے، جو آپ کی تکفیر کرکے کافر بن جائیں، صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن عبدالحکیم خاں کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص، جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور

69

اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ ’’تریاق القلوب‘‘ وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

اس سوال کا جواب مرزاقادیانی نے ان الفاظ میں دیا ہے:

۲… ’’یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا، وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے: ’’فمن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا اوکذب بایتہ‘‘یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں۔ ایک خدا پر افتراء کرنے والا، دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے، اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑے گا جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳،۱۶۴، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷،۱۶۸)

حاشیہ پر لکھا ہے: ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا، وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔ اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔‘‘

مرزاقادیانی کی اس عبارت سے ذیل کے نتائج نکلتے ہیں۔

الف… مرزاقادیانی کو کافر کہنے والے اور ان کے دعاوی کو نہ ماننے والے ایک ہی قسم کے لوگ ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

ب… جو شخص مرزاقادیانی کے دعاوی کو نہیں مانتا، وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ ان کو مفتری قرار دیتا ہے۔

ج… جو شخص مرزاقادیانی کو نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔

د… جو شخص مرزاقادیانی کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

70

میاں شمس الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۳… ’’اور اگر میاں شمس الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کون سی آیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب حال ہے کہ:مادعاء الکافرین الافی ضلال‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۲)

اس عبارت میں مرزاقادیانی نے صریح الفاظ میں اپنے منکر مسلمانوں کو کافر کہا ہے۔ مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں:

۴… ’’کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتa کو خدا کا رسول مانتا ہے۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا مانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

اس عبارت کا مفہوم صاف ہے کہ مرزاقادیانی کے منکر اسی قسم کے کافر ہیں، جس قسم کے کافر حضرت نبی کریمa کے منکر ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

لاہوری مرزائیو! یہ مت کہہ دینا کہ ’’یہاں حضرت مرزاصاحب نے اپنے مکذب کا ذکر کیا ہے۔‘‘ کیونکہ مرزاقادیانی پہلے لکھ چکے ہیں کہ: ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔‘‘ اور یہ بات ہے بھی صحیح کہ جو مرزاقادیانی کے دعویٰ مسیحیت وغیرہ کا منکر ہوگا اور اسی وجہ سے انکار کرے گا کہ وہ ان کو جھوٹا سمجھتا ہے۔ مرزاقادیانی پر الہام نازل ہوتا ہے:

۵… ’’قالوا ان التفسیر لیس بشیٔ‘‘

(ترجمہ) ’’انہوں نے کہا کہ تفسیر (مراد تفسیر سورۂ فاتحہ مندرجہ اعجاز المسیح) کچھ چیز نہیں (تشریح) اس الہام میں خداتعالیٰ نے کفار مولویوں کا مقولہ بیان فرمایا ہے۔‘‘

71

مرزاقادیانی کے اس الہام سے معلوم ہوا کہ جن علماء نے کہہ دیا کہ مرزاقادیانی کی سورۂ فاتحہ کی تفسیر کچھ چیز نہیں، وہ کفار مولوی ہیں۔

مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں:

۶… ’’اور خداتعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا، اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزارہا نشان ایک جگہ جمع کر دئیے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق کے اعتراض پیش کر دیتے ہیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)

کرشن قادیانی کے چیلو! سن لیا؟ تمہارے رودرگوپال کیا فرماتے ہیں؟ پہلے تو اپنے منکر مسلمانوں کو کافر کہنے پر ہی اکتفاء کیا تھا، لیکن اس عبارت میں فرمادیا کہ خدا نے مجھے ہزارہا نشان یا معجزات عطاء کئے ہیں اور جو لوگ ان معجزات کو نہیں مانتے وہ شیطان ہیں۔

ان حوالہ جات سے ظاہر ہوچکا ہے کہ مرزاقادیانی اپنے منکر مسلمانوں کو کافر اور شیطان کہتے تھے۔ ’’لاہوری مرزائیوں کے خلیفہ اوّل‘‘ مولوی نورالدین فرماتے ہیں:

۷…

اسم او اسم مبارک ابن مریم مے نہند

آں غلام احمد است و میرزائے قادیاں

گر کسے آرد شکے در شان او آں کافر است

جائے او باشد جہنم بے شک و ریب و گماں

(الحکم مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۸ء)

لاہوری مرزائیو! ۱۷؍اگست ۱۹۰۸ء کو جب یہ نظم اخبار ’’الحکم‘‘ میں شائع ہوئی تھی، اس وقت تم نے اس کے خلاف آواز کیوں نہ بلند کی؟ ہاں جناب کرتے بھی کس طرح، مولوی نورالدین کا آہنی پنجہ سر پر موجود تھا اور تم اس وقت خود بھی اسی عقیدے پر ایمان رکھتے تھے۔

مرزاقادیانی کا مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ

مرزاقادیانی آنجہانی اپنے نہ ماننے والے اور مخالف مسلمانوں کو کافر اور جہنمی

72

سمجھتے تھے۔ اس لئے اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ وہ مسلمان کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ بھی دے دیتے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے ایسا ہی کیا۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:

۱… ’’اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ: ’’امامکم منکم‘‘یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو، جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بہ کلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے، وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر یک حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا فیصلہ مجھ سے چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا، اس میں تم نخوت اور خودپسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو، جو مجھے خدا سے ملی ہیں، عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۲۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷)

مرزاقادیانی کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں:

الف… مرزاقادیانی کا جو مرید کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے، وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو قطعی حرام ہے۔

ب… مرزائیوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ مسلمانوں سے قطعی طور سے الگ رہیں۔

ج… جو مرزائی ایسا نہیں کرتا، اس پر خدا کا الزام ہے اور اس کے عمل حبط ہو جائیں گے۔

د… جو شخص مرزاقادیانی کا دل سے معتقد ہے، وہ ان کے اس فیصلے اور دوسرے تمام فیصلوں کو مانتا ہے اور ہر تنازع میں مرزاقادیانی کو حکم ٹھہراتا ہے۔

73

ھ… جو شخص مرزاقادیانی کا مرید ہونے کے باوجود ان کے کسی فیصلہ کو نہیں مانتا، اس کی آسمان پر عزت نہیں۔

ایک دفعہ مرزاقادیانی نے اپنی مفتیانہ شان کا ان الفاظ میں مظاہرہ کیا تھا:

۲… ’’حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ بعض آئمہ دین سالہاسال مکہ میں رہے۔ لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی۔ اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارہ نہ کیا اور گھر میں پڑھتے رہے۔‘‘

(فقہ احمدیہ ص۳۰، فتاویٰ مسیح موعود ص۲۸)

مرزاقادیانی نے صرف اتنا ہی نہیں لکھا کہ میرے مریدوں پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ وہ کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھیں، بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ میرا جو مرید کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے، کوئی مرزائی اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے، جیسا کہ ایک شخص کے سوال پر مرزاقادیانی نے جواب دیا۔

۳… ’’جو احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے، جب تک توبہ نہ کرے، ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔‘‘

(فقہ احمدیہ ص۳۰)

لاہوری احمدیو! مرزاقادیانی کے ان احکامات پر عمل کرنا تمہارے لئے فرض ہے یا نہیں؟ ’’اربعین‘‘ کی مندرجہ بالا عبارت پڑھ کر جواب دینا۔

مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں

مرزاقادیانی کے دعاوی کو پرکھنے کے لئے کسی علمی بحث کی ضرورت نہیں۔ مرزاقادیانی نے اپنی صداقت جانچنے کے لئے علمی باریکیوں، منطقی الجھنوں، فلسفیانہ دلائل اور صرفی ونحوی نکات سے ہمیں بے نیاز کر دیا ہے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:

الف… ’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص۲۸۸)

ب… ’’سو پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں، کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو، بلکہ محض اﷲ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۶۵، خزائن ج۶ ص۳۷۵،۳۷۶)

74

ج… ’’ومن ایں (پیش گوئی) را برائے صدق خود یا کذب خود معیارمی گردانم۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)

مرزاقادیانی کی ان تحریرات نے فیصلہ کر دیا کہ ان کی صداقت وبطالت کی شناخت کا سب سے بڑا معیار ان کی پیش گوئیاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزاقادیانی ہر تصنیف میں اپنے نشانات، کرامات اور معجزات کے بے سرے راگ ہمیشہ ہی الاپتے رہے اور یہاں تک لکھ دیا کہ میرے نشانات اور معجزات سے ہزار نبیوں کی نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مرزاقادیانی کی تصنیفات ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پڑھ لی جائیں تو سوائے فٹ بال کی طرح گول مول اور انٹ شنٹ پیش گوئیوں کے اور کوئی نشان، کرامت یا معجزہ نظر نہیں آتا اور ان پیش گوئیوں کے الفاظ بھی موم کی ناک کی طرح ہیں۔ جدھر چاہو الٹ پھیر کر دو اور جب تک انہیں تاویلات کے شکنجہ میں نہ جکڑ دیا جائے، وہ کسی واقعہ پر چسپاں نہیں ہوسکتے۔ ہماری تحقیقات کا نتیجہ ہے کہ مرزاقادیانی کی کوئی متحدیانہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ جتنی تحدی سے کوئی پیش گوئی کی گئی، اتنی ہی صراحت سے وہ غلط نکلی۔ بالفرض اگر مرزاقادیانی کے بیان کردہ ہزاروں ’’الہامات‘‘ میں سے چند پیش گوئیاں اپنی تاویلات باطلہ کی رو سے لوگوں کی نظروں میں صحیح کر دکھائیں تو بھی وہ مرزاقادیانی کی صداقت کی دلیل نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ مرزاقادیانی نے خود تحریر فرمایا ہے: ’’بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت، جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے، جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے، کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بہ سرو آشنا ببر کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص۸۴، خزائن ج۳ ص۹۴،۹۵)

جب پرلے درجے کے بدمعاشوں، بدکاروں اور رنڈیوں تک کی چند پیش گوئیاں اور خواب سچے نکل آتے ہیں تو اگر بالفرض مرزاقادیانی کی ایک آدھ گول مول پیش گوئی سچی

75

ثابت ہو جائے تو ان کے لئے باعث فخر نہیں۔ لیکن مرزاقادیانی کو اپنی پیش گوئیوں کے سچا ہونے پر بڑا ناز ہے۔

مرزاقادیانی نے اپنی پیش گوئیوں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں۱؎تک لکھی ہے۔ ان سب کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ مگر اس مختصر رسالہ میں زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ اس لئے میں ناظرین کے سامنے چند معرکتہ الآراء اور متحدیانہ پیش گوئیاں پیش کرتا ہوں، جنہیں مرزاقادیانی نے بڑے طمطراق سے شائع کیا اور انہیں خاص طور پر اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیا۔

پہلی پیش گوئی متعلقہ منکوحہ آسمانی

الف… مرزاقادیانی کی آسمانی منکوحہ (محمدی بیگم) مرزاقادیانی کی حقیقی چچازاد بہن کی دختر تھی۔

ب… مرزاقادیانی کے ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔

ج… مرزاقادیانی کی زوجہ اوّل کے چچازاد بھائی کی بیٹی تھی۔

د… مرزاقادیانی کے بیٹے فضل احمد کی بیوی کی ماموں زاد بہن تھی۔

ان نسبی تعلقات سے پتہ چلتا ہے کہ محمدی بیگم مرزاقادیانی کے قریبی رشتہ میں سے تھی۔ پیغام نکاح کے وقت ان کی عمریں حسب ذیل تھیں۔ مرزاقادیانی خود تحریر فرماتے ہیں:’’ہذہ المخطوبۃ جاریۃ حدیثۃ السن عذرا وکنت حینئذ جاوزت الخمسین‘‘ (ترجمہ) یہ لڑکی ابھی چھوکری ہے اور میری عمر اس وقت پچاس سال سے زیادہ ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۴، خزائن ج۵ ص۵۷۴)

’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ (ص۵۶۹تا۵۷۴) کے مطالعہ سے مرزاقادیانی کے دل میں تحریک نکاح پیدا ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ مسمی احمد بیگ والد محمدی بیگم نے چاہا کہ اپنی ہمشیرہ کی زمین کا بذریعہ ہبہ مالک بن جائے۔ جس کا خاوند کئی سال سے مفقود الخبر تھا۔ چونکہ اس اراضی کے ہبہ کرانے میں مرزاقادیانی کی رضامندی کی بھی ضرورت تھی۔ اس لئے

۱؎میرے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔

(حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۷۰)

میرے تقریباً دس لاکھ نشان ہیں۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶۱، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

76

احمد بیگ کی بیوی نے مرزاقادیانی کے پاس جاکر کہا کہ آپ اس ہبہ پر رضامند ہو جائیں۔ مرزاقادیانی نے بات کو استخارہ کرنے کے بہانہ سے ٹال دیا۔ پھر خود احمد بیگ مرزاقادیانی کے پاس آیا اور اس نے نہایت عاجزی سے التجا کی۔ بقول مرزاقادیانی، وہ زارزار روتا تھا، کانپتا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ اس کا یہ غم اسے ہلاک کر دے گا۔ مرزاقادیانی نے اسے کہا کہ میں استخارہ کرنے کے بعد تمہاری مدد کروں گا۔ چنانچہ مرزاقادیانی استخارہ کرنے کے لئے اپنے حجرہ میں گئے تو مرزاقادیانی کو الہام ہوا:

۱… ’’فاوحی اﷲ الی ان اخطب صبیہ الکبیرۃ لنفسک وقل لہ لیصاہرک اولاثم لیقتبس من قبسک وقل انی امرت لا ھبک ما طلبت من الارض وارضا اخرے معہا واحسن الیک باحسانات اخرے علے ان تنکحنی احدی بناتک اللتی کبیرتہا وذلک بینی وبینک فان قبلت فستد جنی من المتقبلین وان لم تقبل فاعلم ان اﷲ قد اخبرنی ان انکحہا رجلا آخر لا یبارک لہا ولا لک فان لم تزوجوا فیصب علیک مصائب واخر المصائب موتک فتموت بعد النکاح الی ثلث سنین بل موتک قریب ویرد علیک وانت من الغفلین وکذلک یموت بعلتہا الذی یصیر زوجہا الی حولین وستۃ اشہر قضاء من اﷲ فاصنع ما انت صانعہ وانی لک من الناصحین فعبس وتولی وکان من المعرضین‘‘

(ترجمہ) ’’یعنی اﷲتعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے، جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کردو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کر لوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو، مجھے خدا نے یہ بتلادیا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔ اس صورت میں تم پر

77

مصائب نازل ہوں گے جن کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ یہ اﷲ کا حکم ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو۔ میں نے تم کو نصیحت کردی ہے۔ پس وہ تیوری چڑھا کر چلا گیا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۲،۵۷۳، خزائن ج۵ ص۵۷۲،۵۷۳)

اس کے چلے جانے کے بعد مرزاقادیانی نے بقول ان کے اسے ایک خط خدا کے حکم سے لکھا جس میں منت سماجت بھی کی گئی اور انواع واقسام کے لالچ بھی دئیے گئے۔ مگر مرزااحمد بیگ پر اس خط کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ بلکہ اس نے اس خط کو عیسائی اخبار ’’نورافشاں‘‘ میں شائع کرادیا۔ اس پر ’’کرشن قادیانی‘‘ نے ایک اشتہار شائع کیا جس کے خاص خاص فقرات درج ذیل ہیں:

۲… ’’اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تمام سے اسی شرط پر کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔

پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے باربار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خداتعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں ہے: ’’کذبوا بایتنا وکانوا بہا یستہزون فسیکفیکہم اﷲ ویردھا الیک لا تبدیل لکلمات اﷲ ان ربک فعال لما یرید انت معی وانا معک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘ (ترجمہ) ’’انہوں نے ہمارے نشانوں کو

78

جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خداتعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے، جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہوجاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی… یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخرکار خداتعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف تعریف ہوگی۔‘‘

(اشتہار مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء، مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۷تا۱۵۹)

اس اشتہار کا مضمون واضح اور صاف ہے۔ مزید تشریح یا حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں۔ مرزاقادیانی نے بغیر کسی شرط کے کھلے اور غیرمبہم الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح میرے سوا اور کسی سے کر دیا گیا تو احمد بیگ والد محمدی بیگم اور اس کا داماد دونوں تاریخ نکاح سے تین اور اڑھائی سال تک فوت ہو جائیں گے اور خداتعالیٰ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد محمدی بیگم کو میرے نکاح میں لائے گا۔

اس کے بعد مرزاقادیانی نے اپنے اس آسمانی نکاح کے متعلق جو الہامات یا تحریریں شائع کیں، ان کے ضروری اقتباسات درج ذیل ہیں:

۳… ’’عرصہ قریباً تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے، جن کا مفصل ذکر اشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے، خداتعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا ہے کہ مرزااحمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خداتعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھادے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ چنانچہ اس پیش گوئی کا مفصل بیان مع اس کی میعاد خاص اور اس کے اوقات مقرر شدہ کے اور مع اس کے ان تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اس کو باہرکردیا ہے۔ اشتہار ۱۰؍جولائی

79

۱۸۸۸ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہوکر شائع ہوچکا ہے۔ جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو بلاشبہ یہ خداتعالیٰ کا فعل ہے اور یہ پیش گوئی ایک سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے۔ جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو، جو ان کے حال سے خبر ہوگی، وہ اس پیش گوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہوگا۔ ہم نے اس پیش گوئی کو اس جگہ مفصل نہیں لکھا تا باربار کسی متعلق پیش گوئی کی دل شکنی نہ ہو۔ لیکن جو شخص اشتہار پڑھے گا۔ وہ گو کیسا ہی متعصب ہوگا، اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیش گوئی کا انسان کی قدرت سے بالاتر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار پر سے لے گا کہ خداوند تعالیٰ نے کیوں یہ پیش گوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے۔ اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ (جیسا کہ اب تک بھی جو ۱۶؍اپریل ۱۸۹۱ء ہے پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا: ’’الحق من ربک فلا تکوننّ من الممترین‘‘ یعنی بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے، تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۶تا۳۹۸، خزائن ج۳ ص۳۰۵،۳۰۶)

۴… ’’اس عاجز نے ایک دینی خصومت پیش آجانے کی وجہ سے اپنے ایک قریبی مرزااحمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خداتعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔‘‘ (انتہی ملخصاً)

(اشتہار مورخہ ۲؍مئی ۱۸۹۱ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۱۹)

۵… ’’میری اس پیش گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعویٰ ہیں۔ اوّل: نکاح کے وقت تک

80

میرا زندہ رہنا۔ دوم: نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔ سوم: پھر نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا۔ جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم: اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا۔ پنجم: اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم:پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔

اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیش گوئی سچے ہوجانے کی حالت میں انسان کا فعل ہوسکتی ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۲۵، خزائن ج۵ ص۳۲۵)

۶… ’’وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں:

(۱)کہ مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔

(۲)اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے، اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔

(۳)اور پھر یہ کہ مرزااحمد بیگ تاروز شادی دخترکلاں فوت نہ ہو۔

(۴)اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تاایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔

(۵)اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔

(۶)اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص۶۵، خزائن ج۶ ص۳۷۶)

۷… ’’میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر وعلیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے… نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔‘‘

(اشتہار انعامی چارہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۱۵،۱۱۶)

۸… ’’نفس پیش گوئی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر

81

مبرم۱؎ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے: ’’لا تبدیل لکلمات اﷲ‘‘ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خداتعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘

(اشتہار مورخہ ۶؍اکتوبر ۱۸۹۴ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)

۹… ’’دعوت ربی بالتضرع والابتہال ومددت الیہ ایدی السوال فالہمنی ربی وقال سااریہم اٰیۃ من انفسہم واخبرنی وقال اننی ساجعل بنتا من بناتہم اٰیۃ لہم فسماہا وقال انہا سیجعل ثیبۃ ویموت بعلہا وابوہا الی ثلث سنۃ من یوم النکاح ثم نردھا الیک بعد موتہما ولا یکون احدہما من العاصمین وقال انا رادوہا الیک لا تبدیل لکلمات اﷲ ان ربک فعال لما یرید‘‘

(کرامات الصادقین سرورق صفحہ اخیر، خزائن ج۷ ص۱۶۲)

(ترجمہ) ’’میں (مرزاقادیانی) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیںگے۔ پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا اور فرمایا میں اسے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اور تیرا خدا جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔‘‘

۱۰…’’کذبوا بایاتی وکانوا بہا یستہزون فسیکفیکہم اﷲ ویردہا الیک امر من لدنا انا کنا فاعلین زوجناکہا الحق من ربک فلا تکوننّ من الممترین لا تبدیل لکلمات اﷲ ان ربک فعال لما یرید انا رادوہا الیک‘‘انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ

۱؎مرزاقادیانی نے دوسری جگہ بھی تقدیر مبرم کے یہی معنی کئے ہیں کہ جو تبدیل نہ ہو سکے جیسا کہ فرماتے ہیں: ’’گویا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب یہ تقدیر مبرم ہے۔ اس میں تبدیلی نہیں ہوگی۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۸۱)

82

ہے۔ پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۰،۶۱، خزائن ج۱۱ ص۶۰،۶۱)

۱۱…’’گفت کہ ایں مردم مکذب آیات من ہستتد وبدانہا استہزامی کنند پس من ایشانرا نشانے خواہم نمود وبرائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد وآں زن راکہ زن احمد بیگ رادختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ اواز قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیروں شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رو کردہ خواہد شد ودرکلمات خدا ووعدہ ہائے اوہیچ کس تبدیل نتواند کرد وخدائے تو ہرچہ خواہد آں امر بہرحالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند۔ پس خداتعالیٰ بلفظفسیکفیکہم اﷲسوئے ایں امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ رابعد میرانیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد۔ واصل مقصود میرانیدن بود وتو میدانی کہ ہلاک ایں امر میرانیدن است وبس۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱۶، خزائن ج۱۱ ص۲۱۶،۲۱۷)

(ترجمہ) ’’خدا نے فرمایا کہ یہ لوگ میری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ پس میں ان کو ایک نشان دوں گا اور تیرے لئے ان سب کو کافی ہوں گا اور اس عورت کو، جو احمد بیگ کی عورت کی بیٹی ہے، پھر تیری طرف واپس لاؤں گا۔ یعنی چونکہ وہ ایک اجنبی کے ساتھ نکاح ہو جانے کے سبب سے قبیلہ سے باہر نکل گئی ہے، پھر تیرے نکاح کے ذریعہ سے قبیلہ میں داخل کی جائے گی۔ خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور تیرا خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ کام ہر حالت میں ہو جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ معرض التوا میں رہے۔ پس اﷲتعالیٰ نے لفظ فسیکفیکہم اﷲ کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ احمد بیگ کی لڑکی کو روکنے والوں کو جان سے مار ڈالنے کے بعد میری طرف واپس لائے گا۔ دراصل مقصود جان سے مار ڈالنا تھا اور تو جانتا ہے کہ ہلاک اس امر کا جان سے مار ڈالنا ہے اور بس۔‘‘

۱۲… ’’براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ(۱۷) برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے ص۴۹۶ میں مذکور ہے۔ ’’یاآدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ اس جگہ تین بار زوج

83

کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جب کہ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلاء پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰm کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدباطنیوں کا ابتلاء پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار۱؎ہے، اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیاگیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت۲؎ حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے جس کا سر اس وقت خداتعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیاگیا ہے، وہ اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

۱۳… ’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے رسول اﷲa نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ’’یتزوج ویولدلہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان۳؎ ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اﷲa ان سیہ دل منکروں کو ان کے

۱؎سچ ہے ؎ ... شب وعدہ کسی کی انتظاری کیا قیامت ہے ۔۔۔ کھٹکتی خار بن کر ہے مہک پھولوں کے بستر کی

۲؎

اگر محمدی بیگم کا نکاح مرزاقادیانی سے ہو جاتا تو مرزاقادیانی کی حمد اور تعریف ہوتی۔ احمدی دوستو! نکاح نہ ہونے سے مرزاقادیانی کی رسوائی وذلت ہوئی یا نہیں؟ (اختر)

۳؎

مرزاقادیانی محمدی بیگم کے ساتھ نکاح ہوجانے کو اپنے مسیح موعود ہونے کا نشان قرار دے رہے ہیں۔ چونکہ مرزاقادیانی کا یہ نکاح نہیں ہوا۔ اس لئے مرزاقادیانی بقول خود مسیح موعود نہ ہوئے۔

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں۔۔۔زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

84

شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۷)

۱۴… ’’احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیش گوئی ہے، وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔ وہ مرزاامام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزااحمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر ’’میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔‘‘ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں، بلکہ خدا کی طرف سے ہیں، ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سرنیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہی پیش گوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الیٰ اﷲ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لئے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مرگیا اور پیش گوئی کی دوسری جز پوری ہوگئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیش گوئی کا ایک جز تھا۔ انہوں۱؎نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرورت آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی ہیں، ہوکر رہیں گی۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء، مرزاقادیانی کا حلفیہ بیان عدالت ضلع گورداسپور میں کتاب منظور الٰہی ص۲۴۴،۲۴۵)

ناظرین! مندرجہ بالا حوالہ جات خود ہی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔ کسی مزید وضاحت اور حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں۔ ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں مرزاقادیانی نے الہامی اعلان کر دیا تھا کہ محمدی بیگم کا باکرہ ہونے کی حالت میں میرے ساتھ نکاح ہوگا اور اگر اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر دیا گیا تو اس کا خاوند روزنکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہو جائے گا اور خداتعالیٰ ہر ایک مانع کو دور کرنے کے بعد اسے میرے نکاح میں لائے گا۔ ’’ازالہ اوہام‘‘، ’’اشتہار مئی ۱۸۹۱ء‘‘، ’’شہادت القرآن‘‘، ’’آئینہ کمالات

۱؎

یہی ہے: ’’ماروں گھٹنا اور پھوٹے آنکھ‘‘ توبہ کی رشتہ داروں نے اور مہلت دی گئی سلطان محمد کو۔ (اختر)

85

اسلام‘‘، ’’کرامات الصادقین‘‘ کے جو حوالہ جات میں نے نقل کئے ہیں، ان میں بھی یہی ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے کہ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور محمدی بیگم مرزاقادیانی کے نکاح میں آجائے گی۔ اب ہمیں یہ بتانا ہے کہ مرزاسلطان محمد صاحب ساکن پٹی سے نکاح کب ہوا اور مرزاقادیانی کے الہامی قول کے مطابق اس کی زندگی کی آخری تاریخ کون سی تھی۔ اس کے لئے ہمیں بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔ مرزاقادیانی خود تحریر فرماتے ہیں: ’’۷؍اپریل ۱۸۹۲ء کو اس لڑکی (محمدی بیگم) کا دوسری جگہ نکاح ہوگیا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۰، خزائن ج۵ ص۲۸۰)

نکاح کی تاریخ معلوم ہوگئی۔ اب وفات کے متعلق لکھتے ہیں: ’’پھر مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی، جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے، جس کی میعاد آج کی تاریخ سے، جو ۲۱؍ستمبر ۱۸۹۳ء ہے، قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔‘‘

(شہادت القرآن ص۸۰، خزائن ج۶ ص۳۷۵)

مرزاقادیانی کے ان دونوں بیانات سے صاف پتہ چل گیا کہ ۲۱؍اگست ۱۸۹۴ء مرزاسلطان محمد صاحب کی زندگی کا آخری دن تھا۔ مگر وہ آج ۲۱؍اپریل ۱۹۳۲ء تک بقید حیات موجود۱؎ہے۔ جب مرزاقادیانی کے بیان کردہ اڑھائی سالہ میعاد گزر جانے کے بعد مرزاسلطان محمد زندہ رہے اور ہر طرف سے مرزاقادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی تو مرزاقادیانی نے اپنی ذلت ورسوائی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک نیا ڈھکوسلہ لیا۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے: ’’غرض احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کے لئے سخت ہم وغم کا موجب ہوا۔ چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے توبہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے۔ جیسا کہ ہم نے اشتہار ۶؍اکتوبر ۱۸۹۴ء میں، جو غلطی سے ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء لکھا گیا ہے، مفصل ذکر کر دیا ہے۔ پس اس دوسرے حصہ یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارے میں سنت اﷲ کے موافق تاخیر ڈال دی گئی۔‘‘

(اشتہار انعامی چارہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات حاشیہ ج۲ ص۹۴م۹۵)

اس عبارت اور اسی طرح کے دوسرے حوالوں میں مرزاقادیانی نے حق کو چھپانے اور اپنی رسوائی پر پردہ ڈالنے کی انتہائی کوشش کی اور غلط بیانی سے کام لیا۔ جیسا کہ لکھا

۱؎

بلکہ ۲۰؍اپریل ۱۹۳۴ء تک۔

86

ہے: ’’رہا داماد اس کا (احمد بیگ) سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھرگیا تھا گویا کہ قبل از موت مرگیا۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۹ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹)

مرزاقادیانی نے سیاہ جھوٹ لکھا ہے کہ مرزاسلطان محمد ڈر گیا تھا۔ اگر مرزاقادیانی یا مرزائیوں میں ہمت ہوتی تو مرزاسلطان محمد کی کوئی تحریر پیش کرتے۔ ہم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ مرزاسلطان محمد نے مرزاقادیانی کی پیش گوئی سے ذرہ بھر خوف نہیں کیا۔ اتنی دلیری اور اولوالعزمی دکھائی کہ مرزاقادیانی کو بھی مجبور ہوکر لکھنا پڑا: ’’احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا، کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا۔ بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سن کر پھر ناتہ کرنے پر راضی ہوئے۔‘‘

(اشتہار انعامی چارہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات حاشیہ ج۲ ص۹۵)

مرزاقادیانی کی اس عبارت نے دو باتوں کا قطعی فیصلہ کر دیا۔ ایک یہ کہ مرزاسلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا اور دوسرے یہ کہ مرزاسلطان محمد کا اصل قصور یہ تھا کہ وہ مرزاقادیانی کی پیش گوئی کو سن کر بھی محمدی بیگم کے ساتھ ناتہ کرنے پر راضی ہوگیا۔ پس مرزاسلطان محمد کی توبہ اور رجوع اسی صورت میں ہوسکتے تھے کہ وہ مرزاقادیانی کی پیش گوئی کو پورا کرنے میں ان کا ممدومعاون ہو جاتا۔ لیکن بقول مولانا ثناء اﷲ صاحب امرتسریv وہ مرزاقادیانی کے سینہ پر مونگ دلتا رہا اور مرزاقادیانی کی پیش گوئی کی وجہ سے نہ ڈرا۔ نہ توبہ کی جیسا کہ اس نے خود لکھا ہے: ’’جناب مرزاغلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی، میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔‘‘

(۳؍مارچ ۱۹۲۴ء دستخط مرزاسلطان محمد پٹی از اخبار اہل حدیث مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۲۴ء)

مرزاقادیانی کے بیان اور مرزاسلطان محمد کی اپنی تحریر سے ثابت ہوگیا کہ سلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا اور نہ اس نے مرزاقادیانی کی تصدیق کی۔ ان حقائق کی موجودگی میں مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ سلطان محمد ڈر گیا، جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔

اب ہم مرزاقادیانی کی تحریرات پیش کرتے ہیں کہ اگر سلطان احمد ڈرتا بھی تو اس کو مفید نہ ہوتا۔ کیونکہ اس کی موت تقدیر مبرم تھی۔ مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں:

87

الف… ’’میں باربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمدبیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خداتعالیٰ ضرور اس کو بھی پورا پورا کر دے گا۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۱)

ب…’’شاتان تذبحان وکل من علیہا فان ولا تہنوا ولا تحزنوا الم تعلم ان اﷲ علی کل شئی قدیر‘‘دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد (مرزااحمد بیگ) ہوشیارپوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد (سلطان محمد) ہے اور پھر فرمایا کہ تم ست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہرایک چیز پر قادر ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۶،۵۷، خزائن ج۱۱ ص۳۴۰،۳۴۱)

ج… ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۱؎۔‘‘ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں، یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔‘‘

(ضمیمہ انجا آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)

د… ’’اس پیش گوئی کا دوسرا حصہ، جو اس کے داماد کی موت ہے، وہ الہامی شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جاپڑا اور داماد اس کا الہامی شرط سے اس طرح متمتع ہوا جیسا کہ آتھم ہوا۔ کیونکہ احمد بیگ کی موت کے بعد اس کے وارثوں میں سخت مصیبت برپا ہوئی۔ سو ضرور تھا کہ وہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتے اور اگر کوئی بھی شرط نہ ہوتی تاہم وعید سنت اﷲ یہی تھی، جیسا کہ یونس کے دنوں میں ہوا۔ پس اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کے توبہ اور رجوع کے باعث سے اس وقت فوت نہ ہوا۔ مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں، خدا کا وعدہ۲؎ ہرگز ٹل نہیں سکتا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۳، خزائن ج۱۱ ص۲۹۷)

۱؎

مرزائیو! جواب دو کہ دوسری جز کے پورا نہ ہونے سے مرزاقادیانی آنجہانی بقول خود کیا ہوئے؟

اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

۲؎

مرزاقادیانی نے ’’انجام آتھم‘‘ ص۶۱، ’’ضمیمہ‘‘ ص۵۴ میں بھی اسے وعدہ الٰہی قرار دیا ہے۔

88

ناظرین! عبارت بالا میں مرزاقادیانی نے کس بلند آہنگی اور شدومد سے مرزاسلطان محمد کی موت کا اعلان کیا۔ اس کی موت کو تقدیر مبرم اور اٹل قرار دیا اور اقرار کیا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو میں جھوٹا اور ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ نتیجہ صاف ہے۔ مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اگلے جہان کی طرف لڑھک گئے اور مرزاسلطان محمد اپریل ۱۹۳۲ء تک زندہ ہیں۔ (بلکہ اپریل۱۹۳۴ء تک)

ناظرین! مرزاقادیانی نے ۱۸۸۸ء میں بقول خود خداتعالیٰ سے خبرپاکر اور اس کی اجازت سے محمدی بیگم کے نکاح کا اشتہار دیا۔ اس کے بعد اس آسمانی نکاح کے متعلق بارش کی طرح مرزاقادیانی پر تابڑتوڑ الہامات برستے رہے۔ جن کا تھوڑا سا نمونہ ہم گزشتہ صفحات میں درج کر چکے ہیں۔ ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کے دل میں یقین کامل تھا کہ محمدی بیگم ان کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ یہاں تک کہ جون ۱۹۰۵ء تک مرزاقادیانی اس نکاح سے مایوس نہ ہوئے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے فرمایا: ’’اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہوگا۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ۳۰؍جون ۱۹۰۵ء ص۲ کالم۲)

حوالہ جات سابقہ کے علاوہ ہم مرزاقادیانی کا ایک فیصلہ کن حوالہ نقل کرتے ہیں، جہاں مرزاقادیانی نے اس پیش گوئی کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’باز شمار ایں گفتہ ام کہ ایں مقدمہ برہمیں قدر باتمام رسید ونتیجہ آخری ہماں است کہ بظہور آمد وحقیقت پیش گوئی برہماں ختم شد بلکہ اصل امر برحال خود قائم است وہیچکس باحیلہ خود اورا ردنتواند کرد وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم۱؎ است وعنقریب وقت آں خواہد آمد پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفیa رابرائے مامبعوث فرمود اورا بہترین مخلوقات گردایند کہ ایں حق است وعنقریب خواہی دید ومن این را برائے صدق خود یا کذب خود معیار میگردانم۔ ومن گفتم الاّٰبعد زانکہ از رب خود خبرد ادہ شدم۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)

۱؎

مبرم، ابرام سے اسم مفعول کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں: ’’نہ ٹلنے والا۔‘‘ حکم الٰہی مرزاقادیانی نے بھی اس کے یہی معنی کئے۔ (اختر)

89

(ترجمہ) ’’پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ جھگڑا یہیں ختم ہوگیا اور نتیجہ یہی تھا جو ظاہر ہوگیا اور پیش گوئی کی حقیقت اس پر ختم ہو گئی۔ بلکہ یہ امر اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی شخص حیلہ کے ساتھ خود اس کو رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی جانب سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ پس اس خدا کی قسم جس نے حضرت محمد مصطفیa کو ہمارے لئے مبعوث فرمایا اور آپ کو تمام مخلوقات سے بہتر بنایا کہ یہ سچ ہے کہ تو عنقریب دیکھے گا اور میں اس کو اپنے صدق وکذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور یہ میں نے اپنے رب سے خبرپاکر کہا۔‘‘

عبارت بالا میں مرزاقادیانی نے کس صراحت سے محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور اس کے ساتھ اپنا نکاح ہونے کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے اور اس کی صداقت پر خدائے واحد وقدوس کی قسم اور حضرت نبی کریمa کا واسطہ دے کر یقین دلانے کی کوشش کی ہے اور اس کو اپنے صدق وکذب کا معیار بھی قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کردیا ہے کہ یہ جو کچھ میں نے کہا ہے، اﷲتعالیٰ کے الہام اور وحی سے کہا ہے۔ مرزاقادیانی کا یہ بیان اتنا واضح اور مشرح ہے کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔

مرزائی دوستو! بتاؤ کہ مرزاقادیانی کی بیان کردہ تقدیر مبرم کے بخئے کیوں ادھڑ گئے؟ اور جو صدق وکذب کا معیار بحوالہ وحی الٰہی قرار دیاگیا تھا، اس کی رو سے مرزاقادیانی کاذب ثابت ہوئے یا نہیں؟ تعجیل کی ضرورت نہیں، سوچ سمجھ کر جواب دینا۔

سخت ناانصافی ہوگی اگر میں نکاح آسمانی کے متعلق مرزاقادیانی کی مستقل مزاجی کی تعریف نہ کروں۔ اﷲ اﷲ ۱۸۸۸ء سے لے کر ۱۹۰۷ء تک کا طویل عرصہ جس صبر، امید اور یقین کامل کے ساتھ گزارا، اسے نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ خداپے درپے الہامات نازل کر رہا تھا کہ نکاح ہوگا اور ضرور ہوگا۔ خدا کا وعدہ سچا ہے، خدا کی باتیں ٹلا نہیں کرتیں۔ تیرا خدا تمام موانعات دور کرے گا۔ یعنی مرزاسلطان محمد ضرور مر جائے گا اور محمدی بیگم بیوہ ہوکر تیرے نکاح میں آئے گی۔ لیکن صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ آخر ۱۹۰۷ء میں مرزاقادیانی اس نکاح سے کچھ مایوس سے ہوگئے۔ کیونکہ دن بدن ان کی جسمانی حالت انحطاط کی طرف جارہی تھی اورقوت باہ کا وہ نسخہ جو فرشتے نے انہیں بتایا تھا اور جس کے کھانے سے پچاس

90

مردوں کی قوت ان میں پیدا ہوگئی تھی۱؎۔

غالباً اس کا اثر بھی زائل ہوچکا تھا۔ ادھر دیکھا کہ رقیب خوش نصیب کی زندگی ختم ہونے میں نہیں آتی۔ ان سب قرائن سے اندازہ کر کے یہ اعلان کر دیا: ’’یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا، خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ’’یاایتہا المراۃ توبی توبی فان البلاء علے عقبک‘‘ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۲،۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)

مرزاقادیانی نے اس دورنگی چال کے اختیار کرنے میں اس دل جلے عاشق کی اتباع کی ہے جس نے اپنے معشوق سے التجا کی تھی کہ ؎

  1. مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج

    بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

یہ عبارت بھی بآواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ مرزاقادیانی محمدی بیگم کے نکاح سے کلیتہً مایوس نہیں ہوئے تھے۔ ایک طرف تو ظاہری قرائن کو دیکھتے ہوئے تمام امیدیں مبدل بہ یاس ہوچکی تھیں اور دوسری طرف دل کی تڑپ ڈھارس بندھائے جاتی تھی کہ شاید اگر عمر نے وفا کی تو گوہر مقصود ہاتھ لگ ہی جائے۔ اس لئے دو دلی میں یہ الفاظ لکھ دے کہ نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔

غرضیکہ مرزاقادیانی کو اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک محمدی بیگم کے نکاح کی جھلک نظر آتی رہی۔ کیا مرزاقادیانی کی یہ دیرینہ اور الہامی تمنا پوری ہوگئی؟ آہ! اس کا جواب بڑی حسرت اور افسوس سے نفی میں دیا جاتا ہے کہ تاحیات مرزاقادیانی کا نکاح نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کے دن اس نکاح اور بستر عیش۲؎ کی حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ اب ان کی قبر سے گویا یہ آواز آرہی ہے ؎

۱؎

مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’میری حالت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی پر بعض دوستوں نے افسوس کیا… اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوا میں نے تیار کی… اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳۶، خزائن ج۱۵ ص۲۰۴)

۲؎

’’بستر عیش‘‘ مرزاقادیانی کا الہام ہے۔

(البشریٰ ج۲ ص۸۸)

91
  1. دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی

    حیف ہے ان سے ملاقات نہ ہونے پائی

اب ہم مرزاقادیانی کا آخری فتویٰ ان کے مریدوں کو سناتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے تحریر فرمایا ہے: ’’سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں۱؎اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۲، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)

مرزائیو! سن لیا مرزاقادیانی نے کیا کہا ہے؟ فرماتے ہیں کہ اس پیش گوئی کے خاتمہ پر ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔ لیکن ایسا کن کے حق میں ہوگا؟ فیصلہ جن کے خلاف ہوگا۔ پھر کیا ہوا مجھ سے نہیں مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور سے سن لو۔ فرماتے ہیں: ’’یہ سچ ہے کہ مرزاقادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔‘‘

(اخبار پیغام صلح لاہور، مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۲۱ء)

سچ ہے ؎

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

میرے پرانے دوستو! خداعالم الغیب کو حاظر وناظر سمجھتے ہوئے سچ سچ بتانا کہ مرزاقادیانی کا بیان کردہ فتویٰ خود ان۲؎ پر اور ساتھ ہی تم پر الٹ کر پڑا یا نہیں؟ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎

  1. دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را

    چنداں اماں نداد کہ شب را سحر کند

۱؎

مہاراج اتنی خفگی۔ (اختر)

۲؎

مرزاقادیانی کا الہام ہے: ’’فزع عیسٰی ومن مع‘‘ عیسیٰ اور اس کے ساتھی گھبرا گئے۔

(البشریٰ ج۲ ص۹۹)

ممکن ہے یہ گھبراہٹ اسی فتوے کے الٹ کر پڑنے کی وجہ سے ہو۔ مرزائیو! کیا کہتے ہو؟ (اختر)

92

دوسری پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے متعلق

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ بیس سال تک مرزاقادیانی کے ارادت مند مرید رہے۔ بعدہ مرزاقادیانی کی بطالت ان پر واضح ہوگئی تو انہوں نے مرزائیت سے توبہ کر کے مرزاقادیانی کی تردید میں چند رسالے لکھے۔ مرزاقادیانی بھی ان کے سخت خلاف ہوگئے۔ بالآخر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف موت کی الہامی پیش گوئیاں شائع کیں۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی کے اشتہار کا اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں:

خدا سچے کا حامی ہو

’’میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے میری نسبت یہ پیش گوئی کی ہے… اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’مرزاقادیانی کے خلاف ۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں: مرزامسرف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔‘‘ اس کے مقابل پر وہ پیش گوئی ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے۱؎ کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔‘‘

۱؎

’’خداتعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خاں کے اس فقرہ کا رد ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر اور خداتعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر خارق نہ رہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۵۹)

93

فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار

تیرے آگے۱؎ ہے پر تونے وقت کو نہ پہنچانا، نہ دیکھا، نہ جانا۲؎ (رب۳؎ فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح وصادق)

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۵۹،۵۶۰)

اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے ایک اور الہام شائع کیا کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے ۱۴ماہ تک مرزامرجائے گا۔ اس کے جواب میں مرزاقادیانی نے ایک اشتہار بعنوان تبصرہ ۵؍نومبر ۱۹۰۷ء کو شائع کیا۔ اس کی پیشانی پر یہ عبارت درج کی: ’’ہماری جماعت کو لازم ہے کہ اس پیش گوئی کو خوب شائع کریں اور اپنی طرف سے چھاپ کر مشتہر کریں اور یادداشت کے لئے اشتہار کے طور پر اپنے گھر کی نظر گاہ میں چسپاں کریں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۸۵)

یہ اشتہار جو سراسر لاف وگزاف سے پر تھا، اس کو اپنے تمام اخباروں میں شائع کرایا۔ مختلف شہروں میں مرزائیوں نے علیحدہ چھپوا کر بھی بکثرت شائع کیا۔ اس کے چند فقرات حسب ذیل ہیں: ’’اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا… میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں، ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو میں بڑھا دوں گا۔ تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں

۱؎

’’اس فقرہ میں عبدالحکیم خاں مخاطب ہے اور فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار سے آسمانی عذاب مراد ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے ظاہر ہوگا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۶۰)

۲؎

’’یعنی تونے یہ غور نہ کی کہ کیا اس زمانہ میں اور اس نازک وقت میں امت محمدیہ کے لئے کسی دجال کی ضرورت ہے یا کسی مصلح اور مجدد کی۔‘‘

(خزائن ج۳ ص۵۶۰)

۳؎

’’یعنی اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا۔ تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے۔ اس فقرہ الہامیہ میں عبدالحکیم خاں کے اس قول کا رد ہے۔ جو وہ کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ پس چونکہ وہ اپنے تئیں صادق ٹھہراتا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تو صادق نہیں ہے۔ میں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھاؤں گا۔ المشتہر مرزاغلام احمد مسیح موعود قادیانی، ۱۶؍اگست ۱۹۰۶ء۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۶۰)

94

ہے۔‘‘ یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیاہے۔ مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو۱؎ اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۱)

اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب نے اپنا اور الہام شائع کیا کہ: ’’مرزا مورخہ ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک مر جائے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۲۱،۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۷)

نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئیوں کے مطابق مرزاقادیانی نے ۲۶؍مئی۱۹۰۸ء کو اگلے جہان کی طرف کوچ کر دیا اور ان کے الہام کنندہ کے سب وعدے فتح ونصرت کے غلط نکلے۔

تیسری پیش گوئی مولانا ثناء اﷲ کے متعلق

مرزاقادیانی آنجہانی نے مولانا ثناء اﷲ امرتسریv کے متعلق ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا:

مولوی ثناء اﷲ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ یستنبؤنک احق ہو قل ای وربی انہ الحق

بخدمت مولوی ثناء اﷲ صاحبالسلام علی من اتبع الہدی مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب وتفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری وکذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کو پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ

۱؎

مرزائیو! اصحاب الفیل کی طرح کون نابود ہوا؟ (اختر)

95

سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہرایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی۱؎ ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اﷲ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں، تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں۔ بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم وخبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے، اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اﷲ کی زندگی میں مجھے ہلاک۲؎ کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اﷲ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے، حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طورپر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!

میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود

۱؎

مرزائیو! ایمان سے بتانا مرزاقادیانی ابھی ہلاک ہوئے ہیں یا نہیں۔ (اختر)

۲؎

مرزاقادیانی کے مریدو! مرزاقادیانی کی یہ دعا منظور ہوئی یا نہیں؟ (اختر)

96

دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں آیت: ’’لا تقف ما لیس لک بہ علم‘‘پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دوردور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔ سو ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اﷲ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے، جو تونے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہیتقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اﷲ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر، اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین آمین!بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

(الراقم عبداﷲ الصمد مرزاغلام احمد مسیح موعود، عافااﷲ واید، مرقوم یکم ؍ربیع الاوّل ۱۳۲۵ھ، ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸،۵۷۹)

اس اشتہار کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی نے یہ پیش گوئی بطریق دعا شائع کی بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس دعاکو اﷲتعالیٰ نے قبول فرمالیا ہے۔ مرزاقادیانی کے الفاظ ہیں: ’’دنیا کے عجائبات ہیں رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اﷲ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا: ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہے، باقی سب اس کی شاخیں۔‘‘

(اخبار بدر مورخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۹ ص۲۶۸)

97

مرزاقادیانی نے اپنے اشتہار میں محض دعا کے ذریعہ سے فیصلہ چاہا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ ہیں: ’’محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔‘‘

اخیر اشتہار میں آپ تحریر فرماتے ہیں: ’’اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

پس مرزاقادیانی نے اپنی اس دعا اور پیش گوئی کے مطابق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض ہیضہ ہلاک ہوکر حسب اقرار خود اپنا مفسد، کذاب اور مفتری ہونا دنیا پر ثابت کر دیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎

  1. لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

    کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

چوتھی پیش گوئی عالم کباب کے متعلق

مرزاقادیانی نے اپنا الہام بیان کیا ہے:

’’(۱)بشیرالدولہ۔ (۲)عالم کباب۔ (۳)شادی خاں۔ (۴)کلمتہ اﷲ خاں۔

(نوٹ از مرزاقادیانی) بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے یہ نام ہوں گے۔ یہ نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۶)

نیز مرزاقادیان نے کہا کہ میاں منظور محمد صاحب کے اس بیٹے کا نام جو بطور نشان ہوگا، بذریعہ الہام الٰہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے۔ (۱)کلمتہ العزیز۔ (۲)کلمتہ اﷲ خان۔ (۳)وارڈ۔ (۴)بشیرالدین۔ (۵)شادی خان۔ (۶)عالم کباب۔ (۷)ناصرالدین۔ (۸)فاتح الدین۔ (۹)ہذا یوم مبارک۔

(تذکرہ ص۶۲۶،۶۲۷، طبع سوم)

مرزاقادیانی کی اس پیش گوئی کے شائع ہو جانے کے بعد میاں منظور محمد کی بیوی محمدی بیگم فوت ہوگئی۔ حالانکہ مرزاقادیانی نے کہا تھا۔ ’’ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے، جب تک یہ پیش گوئی پوری ہو۔‘‘

(تذکرہ ص۶۲۲، طبع سوم)

عالم کباب صاحب دنیا میں تشریف فرما نہ ہوئے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کی یہ الہامی پیش گوئی سرے سے غلط اور جھوٹ ثابت ہوئی۔

مرزائیو! کہہ دو کہ محمدی بیگم کے ظلی، بروزی اور روحانی بیٹا پیدا ہوگیا تھا۔ اصلی بیٹا قیامت کے دن تشریف لائے گا۔ اس لئے ہمارے مجدد اور ظلی، بروزی نبی کی بیان کردہ پیش گوئی سچی نکلی۔

98

پانچویں پیش گوئی اپنے مقام موت کے متعلق

مرزاقادیانی نے اپنا الہام شائع کیا تھا۔ ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۰۵، تذکرہ ص۵۹۱، طبع سوم)

یہ الہام بھی سراسر غلط ثابت ہوا۔ مرزاقادیانی لاہور میں مرے اور مریدوں نے ان کی لاش کو دجال کے گدھے پر لاد کر قادیان پہنچا دیا۔

ناظرین! میں نے بطور نمونہ مشتے ازخروارے مرزاقادیانی کی پانچ پیش گوئیاں آپ کے سامنے رکھ دی ہیں اور نتیجہ بھی آپ کے گوش گزار کردیا ہے۔ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں، ورنہ مرزاقادیانی کی ایک ایک پیش گوئی لے کر ان کے پڑخچے اڑادئیے جاتے۔مرزاقادیانی کی پیش گوئیوں کی متحدیانہ عبارات جب مرزائیوں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں، تو مرزائی ان کے جوابات سے تنگ آکر کہہ دیا کرتے ہیں کہ پیش گوئیوں کی تفہیم میں مرزاقادیانی سے غلطی ہوسکتی ہے۔ لیکن ان کا یہ کہنا محض دفع الوقتی اور مرزاقادیانی کی تصریحات کے خلاف ہے کیونکہ مرزاقادیانی نے اپنا الہام بیان کیا ہے۔ ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحی‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶)

(ترجمہ) اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو، یہ خدا کی وحی ہے۔

مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خداتعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۶، خزائن ج۱۸ ص۴۳۴)

’’ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے۔ عربی تحریروں کے وقت میں صدہا بنے بنائے فقرات وحی متلو کی طرح دل پر وارد ہوتے ہیں اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

ان حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے تھے بلکہ وحی الٰہی سے بولتے تھے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتے تھے۔ بلکہ اندرونی تعلیم سے تحریر فرماتے تھے یا فرشتے کی لکھی ہوئی عبارات کو اپنی کتابوں میں نقل کر لیتے تھے۔ اسی کی

99

مزید تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے۔ مرزاقادیانی کو الہام ہوا: ’’استقامت میں فرق آگیا۔‘‘

ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلایا نہیں کرتا، میرا کام دعا کرنا ہے۔‘‘

(البدر ج۲ نمبر۱۰، ۱۹۰۳ء از مکاشفات ص۳۰، تذکرہ ص۴۶۶، طبع سوم)

اس واقعہ نے تصدیق کر دی کہ مرزاقادیانی بغیر وحی اور خداتعالیٰ کے اذن کے کچھ نہیں کہا کرتے تھے۔ اندریں حالات مرزاقادیانی کے کلام یا تحریر میں غلطی نہیں ہو سکتی۔

لاہوری مرزائیو! مرزاقادیانی کے متذکرہ بالا الہام اور تحریرات کو غور سے پڑھنے کے بعد بتاؤ کہ مرزاقادیانی اپنی تحریر یا تقریر میں ’’اجتہادی غلطیوں‘‘ کے قائل تھے یا نہیں؟ سوچ سمجھ کر جواب لکھنا۔

  1. سنبھل کے قدم رکھنا دشت خار میں مجنوں

    کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

مرزاقادیانی کے انٹ شنٹ الہامات

مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ میری وحی والہامات یقینی اور قرآن پاک کی طرح ہیں، لیکن جب ہم مرزاقادیانی کے الہامات کو سرسری نظر سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں کثرت سے ایسے الہامات نظرآتے ہیں جنہیں خود مرزاقادیانی بھی نہ سمجھ سکے تھے۔ چنانچہ مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔‘‘

(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)

قرآن حکیم میں اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ یبین لہم‘‘ ا اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی تاکہ انہیں کھول کر بتادے۔ لیکن قرآن پاک کے اس صریح اصول کے خلاف مرزاقادیانی کو ان زبانوں میں بھی الہامات ہوئے جن کو وہ خود نہیں سمجھ سکے۔ دوسروں کو خاک سمجھانا تھا۔ ہم بطور نمونہ مرزاقادیانی کے چند الہام درج ذیل کرتے ہیں:

۱…’’ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس‘‘ اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ معنی کھلے ہیں۔ واﷲ اعلم بالصواب!

(البشریٰ ج۱ ص۳۶، تذکرہ ص۹۱ طبع سوم)

100

۲… ’’پھر بعد اس کے (خدا نے) فرمایا: ’’ہو شعنا نعسا‘‘ یہ دونوں فقرے شایدعبرانی ہیں اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۵۶، خزائن ج۱ ص۶۶۴)

۳… ’’پریشن، عمر براطوس، یا پلاطوس۔‘‘

(نوٹ) آخری لفظ ’’پڑطوس‘‘ ہے یا ’’پلاطوس‘‘ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور ’’عمر‘‘ عربی لفظ ہے اس جگہ ’’براطوس‘‘ اور ’’پریشن‘‘ کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔‘‘

(از مکتوبات احمدیہ ج۱ ص۶۸، البشریٰ ج۱ ص۵۱، تذکرہ ص۱۱۵، طبع سوم)

احمدی دوستو! مرزاقادیانی کو جس زبان میں الہام ہوتا ہے مرزاقادیانی اس زبان کو نہیں جانتے۔ بتاؤ کہ مرزاقادیانی پر یہ مثال صادق آتی ہے یا نہیں؟

زبان شوخ من ترکی ومن ترکی نمیدانم

معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے مندرجہ بالا اور ہمچو قسم الہامات اس خداتعالیٰ طرف سے نہیں تھے۔ جس نے حضرت محمد مصطفیa پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ‘‘ کہ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی۔ لیکن مرزاقادیانی کو ان زبانوں میں ’’الہامات‘‘ ہوئے جو مرزاقادیانی کی قومی زبان نہیں تھی۔ خود مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ بالکل غیرمعقول اور بیہودہ۱؎ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو، جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)

یہاں تک ہی نہیں کہ مرزاقادیانی غیرزبانوں کے ’’الہامات‘‘ نہ سمجھ سکے ہوں۔ بلکہ بہت سے اردو اور عربی ’’الہامات‘‘ بھی مرزاقادیانی کی سمجھ سے بالاتر رہے اور ان کے متعلق انہیں معلوم نہ ہوا کہ وہ کس کے متعلق ہیں۔ مرزائی۲؎ دوستوں کی خاطر نمونہ درج کئے دیتا ہوں۔

۱؎

احمدی دوستو! مرزاقادیانی کے یہ الہام غیر معقول اور بیہودہ ہیںیا نہیں؟ (اختر)

۲؎

لاہوری مرزائیو! ہم تمہارے ’’ظلی وبروزی نبی‘‘ کے الہامات شائع کر رہے ہیں۔ اس لئے ہمارا شکریہ ادا کرو۔ (اختر)

101

۱… ’’پیٹ پھٹ گیا۔‘‘ دن کے وقت کا الہام ہے ۔معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۹، تذکرہ ص۶۷۲، طبع سوم)

۲… ’’خدا اس کو پنج بار ہلاکت سے بچائے گا۔‘‘ نامعلوم کس کے حق میں یہ الہام ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۹، تذکرہ ص۶۷۴، طبع سوم)

۳… ’’۲۴؍ستمبر ۱۹۰۶ء مطابق ۵؍شعبان ۱۳۲۴ھ بروز پیر… موت تیرہ ماہ حال کو۔‘‘ (نوٹ) قطعی طور پر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۹،۱۲۰، تذکرہ ص۶۷۵، طبع سوم)

۴… ’’بہتر ہوگا کہ اور شادی کر لیں۔‘‘ معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۴، تذکرہ ص۶۹۷، طبع سوم)

۵… ’’بعد، ۱۱، انشاء اﷲ‘‘ اس کی تفہیم نہیں ہوئی کہ ۱۱ سے کیا مراد ہے۔ گیارہ دن یا گیارہ ہفتے یا کیا یہی ہندسہ ۱۱ کا دکھایا گیا ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۶۵،۶۶، تذکرہ ص۴۰۱، طبع سوم)

۶… ’’غثم، غثم، غثم۱؎‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۵۰، تذکرہ ص۳۱۹، طبع سوم)

۷… ’’ایک دم میں دم رخصت ہوا۔‘‘

(نوٹ از حضرت مسیح موعود) فرمایا کہ آج رات مجھے ایک مندرجہ بالا الہام ہوا۔ اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے۔ لیکن خطرناک ہے، یہ الہام ایک موزوں عبارت میں ہے۔ مگر ایک لفظ درمیان میں سے بھول گیا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۱۷، تذکرہ ص۶۶۶، طبع سوم)

۸… ’’ایک عربی الہام تھا الفاظ مجھے یاد نہیں رہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ’’مکذبون‘‘کو نشان دکھایا جائے گا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۹۴)

۹… ایک ’’دانہ کس کس نے کھانا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۰۷، تذکرہ ص۵۹۵، طبع سوم)

۱۰… ’’لاہور میں ایک بے شرم۲؎ ہے۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۶، تذکرہ ص۷۰۴، طبع سوم)

۱؎

مطلب ندارد۔

۲؎

لاہوری مرزائیو! یہ کون ہے؟

102

۱۱… ’’ربنا عاج‘‘ ہمارا رب عاجی ہے، عاجی کے معنی ابھی تک معلوم نہیں۱؎ ہوئے۔

(البشریٰ ج۱ ص۴۳، تذکرہ ص۱۰۲، طبع سوم)

۱۲… ’’آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۱۳۹، تذکرہ ص۷۵۱، طبع سوم)

مرزاقادیانی کے اختلافات

قرآن مجید کے متعلق اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’لوکان من عند غیر اﷲ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا‘‘یعنی یہ کلام، اﷲ کے سوا اور کسی کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلافات پائے جاتے۔ اس آیت کریمہ نے فیصلہ کر دیا کہ اگر کسی مدعی الہام کے اقوال میں اختلاف ہو تو وہ اپنے دعویٰ الہام میں سچا نہیں بلکہ جھوٹا ہے۔ مرزاقادیانی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں: ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳) پر بھی لکھا ہے کہ: ’’ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘ مگر باوجود مرزاقادیانی کے ان زبردست اقراروں کے ہمیں ان کی تصنیفات میں کثرت سے اختلافات اور تناقض نظر آتے ہیں۔ ناظرین کے تفنن طبع کے لئے عدم گنجائش کی وجہ سے صرف پانچ ہی اختلاف درج ذیل ہیں۔

پہلا اختلاف

’’یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۷۳، خزائن ج۳ ص۳۵۳)

۱؎

احمدی دوستو! تمہارے مجدد کو باوجود دعویٰ الہام کے عاج کے معنی معلوم نہ ہوئے۔ پرانے تعلقات کی وجہ سے ہمیں تمہاری خاطر منظور ہے۔ اس لئے ہم اس کے معنی بتادیتے ہیں۔ سنو! عاج کے معنی ہیں استخوان فیل (ہاتھی دانت، سرگین وگوبر) (فرہنگ آصفیہ ج۳ ص۲۵۶) عاجی، نادان، مورکھ۔ (فرہنگ عامرہ ص۳۲۲) منتخب اللغات۔ پس ربنا عاج کے معنی ہوئے ہمارا رب ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ بتاؤ اب تو سمجھ گئے۔ (اختر)

103

’’بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں فوت ہوا۔‘‘

(کشتی نوح ص۵۳، خزائن ج۱۹ ص۵۷،۵۸)

دوسرا اختلاف

’’اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا۔ کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں۔‘‘

(کلام مرزا از بدر مورخہ ۴؍جولائی ۱۹۰۷ء)

’’ہمارا مذہب وہابیوں کے برخلاف ہے۔‘‘

(کلام مرزا از ڈائری ۱۹۰۱ء ص۴۶)

تیسرا اختلاف

’’لوگوں نے جو اپنے نام حنفی، شافعی وغیرہ رکھے ہیں، یہ سب بدعت ہیں۔‘‘

(کلام مرزا از ڈائری ۱۹۰۱ء ص۴)

’’ہمارے ہاں جو آتا ہے اسے پہلے ایک حنفیت کا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں یہ چاروں مذہب اﷲتعالیٰ کا فضل ہیں اور اسلام کے واسطے ایک چاردیواری۔‘‘

(کلام مرزا از ڈائری ص۴۷)

چوتھا اختلاف

’’حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۶۸، خزائن ج۵ ص۶۸)

’’اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۷، خزائن ج۳ ص۲۵۶،۲۵۷ حاشیہ)

پانچواں اختلاف

’’آیت ’’فلما توفیتنی‘‘سے پہلے یہ آیت ہے: ’’واذ قال اﷲ یا عیسٰی أنت قلت للناس‘‘اور ظاہر ہے کہ ’’قال‘‘ کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل ’’اذ‘‘ موجود ہے، جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

104

’’جس شخص نے ’’کافیہ‘‘ یا ’’ہدایت النحو‘‘ بھی پڑھی ہوگی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات ہیں۔ جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقین الوقوع ہو۔ مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’ونفخ فی الصور فاذا ہم من الاحداث الی ربہم ینسلون‘‘اور جیسا کہ فرمایا:’’واذ قال اﷲ یعیسٰی ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اﷲ قال اﷲ ہذا یوم ینفع الصدقین صدقہم‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹)

مرزاقادیانی کے جھوٹ

جھوٹ بدترین برائیوں میں سے ہے۔ بلکہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے:’’لعنۃ اﷲ علی الکاذبین‘‘جھوٹوں پر اﷲتعالیٰ کی لعنت ہے۔ جھوٹا انسان مقرب بارگاہ الٰہی کبھی نہیں ہوسکتا۔ مرزاقادیانی نے بھی جھوٹ کی مذمت کی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے:

الف… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۵۶)

ب… ’’جھوٹ بولنے سے بدتردنیا میں کوئی کام نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۷، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

ج… ’’تکلف سے جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۹، خزائن ج۱۱ ص۳۴۳)

د… ’’غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔‘‘

(آریہ دھرم ص۱۱، خزائن ج۱۰ ص۱۳)

ان اقوال میں مرزاقادیانی نے جھوٹ کی بہت مذمت کی ہے۔ لیکن جب ہم ان کے عمل کو دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے اپنی تصنیفات میں نہایت ہی بے تکلفی سے جھوٹوں کے انبار لگادئیے ہیں۔ ان شاء اﷲ العزیز عنقریب ہم کذبات مرزا پر ایک رسالہ لکھیں گے اور اس میں مرزاقادیانی کے وہ تمام جھوٹ درج کر دیں گے جو ہماری

105

نظر سے گزر چکے ہیں۔ بطور نمونہ مرزاقادیانی کے پانچ جھوٹ یہاں تحریر کر دیتے ہیں۔

پہلا جھوٹ! مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیاجائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

مرزاقادیانی نے حضرت مجدد صاحب سرہندیv کی کتاب سے حوالہ نقل کرتے ہوئے عمداً لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنی نبوت باطلہ کو ثابت کرنے کے لئے صریح تحریف کی ہے۔ عبارت بالا میں مرزاقادیانی نے جس مکتوب کا حوالہ دیا ہے اس کے اصل الفاظ یہ ہیں:’’واذ اکثر ہذا القسم من الکلام مع واحد منہم سمی محدثا‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۹۹)

یعنی جب اس قسم کا کلام ان میں سے ایک کے ساتھ کثرت سے ہو تو اس کا نام محدث رکھا جاتا ہے۔ اسی مکتوب کو مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۹۱۵، خزائن ج۳ ص۶۰۱) پر اور کتاب (تحفہ بغداد حاشیہ ص۲۰،۲۱، خزائن ج۷ ص۲۸) پر بھی نقل کیا ہے اور ان دونوں کتابوں میں لفظ محدث لکھا ہے۔ لیکن حقیقت الوحی کی محولہ بالا عبارت میں اپنا مطلب نکالنے کے لئے محدث کی جگہ نبی لکھ کر صریح خیانت کی اور جھوٹ بولا یہ کارستانی کرتے وقت مرزاقادیانی کو اپنا الہام شاید یاد نہ رہا ہوگا۔ جس کے الفاظ ہیں: ’’مت ایہا الخوان‘‘ مراے بڑے خیانت کرنے والے۔‘‘

(تذکرہ ص۷۱۳، طبع سوم)

دوسرا جھوٹ! مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۲)

مرزائی بتائیں کہ جن پیغمبروں نے مرزاقادیانی کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ وہ کون کون سے نبی تھے؟ انہوں نے مرزاقادیانی کے درشن کرنے کا اظہار کس کے سامنے کیا تھا؟ اور ان کے اس اشتیاق کا کس کتاب میں ذکر ہے؟ ہم علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ یہ

106

مرزاقادیانی کی ’’الہامی گپ‘‘ اور صریح جھوٹ ہے۔

تیسرا جھوٹ! مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

ہم بلاخوف تردید کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں’’الحمد‘‘کے ’’الف‘‘ سے لے کر ’’والناس‘‘کے ’’س‘‘ تک کوئی ایسی آیت نہیں جس کا ترجمہ ہوکہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ یہ مرزاقادیانی کی غلط بیانی اور قرآن اقدس کے متعلق بہتان طرازی ہے۔

مرزائیو! اگر ہمت ہے تو قرآن مجید میں سے کوئی آیت ایسی بتاؤ جس کا یہ ترجمہ ہو کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی اور اگر نہ بتاسکو تو زبان سے اتنا ہی کہہ دینا کہ ’’لعنہ اﷲ علی الکاذبین‘‘

چوتھا جھوٹ! مرزاقادیانی رقمطراز ہیں: ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(تحفۃ الندوہ ص۵، خزائن ج۱۹ ص۹۸)

ایہا الناظرین! کیا اب بھی آپ کو مرزاقادیانی کے کاذب ہونے میں شک ہے۔ اتنا بڑا جھوٹ، اتنی مکروہ کذب بیانی، پنجابی مدعی نبوت کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ ہم علی وجہ البصیرت ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ کرشن قادیانی کا کوئی چیلہ قرآن مجید کی ایسی کوئی آیت ہمیں نہیں بتاسکتا جس میں ان کے کرشن رودرگوپال مرزاغلام احمد قادیانی کا نام ابن مریم رکھاگیا ہو۔ ’’ولو کان بعضم لبعض ظہیرا‘‘ مرزاقادیانی کے مخلص مریدو! اگر تم مرزاقادیانی کا نام قرآن کریم میں ابن مریم لکھا ہوا نہ بتاسکو اور یقینا نہ بتاسکو گے تو خوف خدا اور اپنے ضمیر کی آواز کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرزاقادیانی کو جھوٹا سمجھنے میں ہمارے ہم نوا ہو جاؤ۔ کیونکہ مرزاقادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘ یاد رکھو کہ قرآن حکیم میں ایسی کوئی آیت نہیں جس کا کوئی ترجمہ یہ ہو کہ مرزاغلام احمد ابن مریم ہے۔

پانچواں جھوٹ! مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰، البشریٰ ج۱ ص۱۹، تذکرہ ص۷۶، طبع سوم)

107

احمدی دوستو! مرزاقادیانی کا یہ حوالہ اگر تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یا کسی سے سنا ہے تو بتاؤ کہ تم نے قرآن مجید میں قادیان کا نام تلاش کیا؟ اگر تمہیں باوجود تلاش کرنے کے بھی قرآن مجید میں قادیان کا نام نہیں ملا اور یقینا کبھی نہیں مل سکتا، تو کیا اب بھی مرزاقادیانی کو راست گوہی سمجھتے ہو؟ اگر اتنی بڑی کذب پروری کرنے کے بعد کوئی شخص محدث، مجدد، مسیح موعود اور ظلی، بروزی نبی ہوسکتا ہے تو کیا کذابوں کے سر پر سینگ ہواکرتے ہیں؟

مرزاقادیانی کی گالیاں

قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:’’قل لعبادی یقول التی ہی احسن ان الشیطٰن ینزغ بینہم ان الشیطٰن کان لانسان عدوا مبینا‘‘یعنی اے رسول (m) میرے بندوں کو فرماویں کہ بات بہت ہی اچھی کہا کریں، سخت کلامی سے شیطان ان میں عداوت ڈلوا دے گا۔ بے شک شیطان انسان کا صریح دشمن ہے۔ اخلاقی صورت میں ہر ایک مصلح یہی تعلیم دیتا رہا ہے کہ سخت کلامی اور بدزبانی سے عداوت بڑھتی ہے۔ اس لئے بدزبانی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ خصوصاً ان لوگوں کو بہت محتاط رہنا چاہئے۔ جنہیں اصلاح خلق کے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہوسکے۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص۸، خزائن ج۱۳ ص۴۷۸)

دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’اور کسی کو گالی مت دو، گو وہ گالی دیتا ہو۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۱، خزائن ج۱۹ ص۱۱)

ناظرین کرام! مرزاقادیانی کا ناصحانہ انداز آپ نے دیکھ لیا۔ اب دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں۔ مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں:

108

۱… ’’اے بدذات فرقہ مولویاں! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو بھی پلادیا۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۱، خزائن ج۱۱ ص۲۱)

۲… ’’بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شترمرغ۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸، خزائن ج۱۱ ص۳۰۲)

۳… ’’مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے۔ ہرگز نہیں کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۲۵، خزائن ج۱۱ ص۳۰۹)

۴… ہمارے دعویٰ پر آسمان نے گواہی دی۔ مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ ’’علیہم نعال لعن اﷲ الف الف۱؎ مرۃ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۴۶، خزائن ج۱۱ ص۳۳۰)

۵… ’’اے بدذات، خبیث۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۰، خزائن ج۱۱ ص۳۳۴)

۶… ’’اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بطالوی ہے اور ہامان سے مراد نومسلم سعد اﷲ ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۶، خزائن ج۱۱ ص۳۴۰)

۷… ’’نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم اور حیا سے کام نہیں لیتا… مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۳۴۲)

۸…’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا الذین ختم اﷲ علی قلوبہم فہم لا یقبلون‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۷،۵۴۸)

(ترجمہ) ’’ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (زناکاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کردی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔‘‘

۱؎

مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۶۶۰، خزائن ج۳ ص۴۵۶) میں لکھا ہے: ’’لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مومن لعان نہیں ہوتا۔‘‘ لیکن یہاں ہزارہزار لعنت برسا رہے ہیں۔ مرزائیو! پہلے ازالہ اوہام کے اس حوالہ کو دیکھو اور پھر اپنے مرزاقادیانی کی ان لعنتوں کا معائنہ کر کے بتاؤ کہ کیا مرزاقادیانی حسب اقرار خود مومن تھے؟ (اختر)

109
۹… ’’ان العدی صاروا خنازیر لفلا ونسائہم من دونہن الاکلب‘‘

(نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳)

(ترجمہ) ’’دشمن ہمارے بیابانوں (جنگل) کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘

۱۰… ’’(جو شخص) اپنی شرارت سے باربار کہے گا (کہ پادری آتھم کے زندہ رہنے سے مرزاقادیانی کی پیش گوئی غلط) کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم وحیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے۔ انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا، تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔‘‘

(انوارالاسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱)

۱۱… ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے، اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰm شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۵، حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

۱۲… ’’مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۳،۲۴)

(برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے یہ اس شخص کی اخلاقی حالت کا نقشہ ہے جس نے دنیا میں اعلان کیا تھا)

  1. بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزبان ہے

    جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے

(درثمین ص۱۲ قادیان کے آریہ اور ہم، خزائن ج۲۰ ص۴۵۸)

انہی مدعی اخلاقی محمدی نے ناصحانہ انداز میں لکھا ہے:

  1. گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو

    کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار

(درثمین ص۱۱۳، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

ناظرین کرام! ایک طرف مرزاقادیانی کے اس ناصحانہ انداز کو ملاحظہ فرمائیں اور دوسری طرف ان کی مندرجہ بالاگالیوں کو۔ سچ ہے ؎

  1. واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند

    چوں بخلوت می روند آں کار دیگر می کنند

110

ختم نبوت

اور

بزرگانِ اُمت

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

111

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرزائیوں نے ایک پمفلٹ ’’ختم نبوت اور بزرگان امت‘‘ پاکستان اور ہندوستان میں بہ تعداد کثیر تقسیم کیا ہے۔ پمفلٹ کیا ہے، دجل وفریب اور عبارات سلف کی قطع وبرید کا ایک شاطرانہ مجموعہ ہے۔ انہوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ نہ ملک کی اکثریت علوم دین اور عربی زبان سے واقف ہے، نہ عوام کو تمام کتابیں میسر ہیں، نہ کتابیں تلاش کرکے مطالعہ کی فرصت ہے، نہ ہی وہ تمام مسلمان جن کے ہاتھوں میں کذب وافتراء کا یہ پلندہ پہنچے گا، علمائے اسلام سے ان عبارات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ممکن ہے کہ بعض اشخاص اس سے متأثر ہو کر قادیانی نبوت کے گرویدہ ہو جائیں اور اس طرح چند مسلمانوں کو قادیانی نبوت کا حلقہ بگوش بنایا جاسکے۔ دراصل یہ پمفلٹ مودودی صاحب کے کتابچہ ’’ختم نبوت‘‘ کا رد عمل ہے۔ اس میں قادیانیوں کا روئے سخن مودودی صاحب کی طرف ہے مرزائیوں نے مودودی صاحب کو متعدد بار چیلنج دیا ہے کہ ہمارے اس پمفلٹ کا جواب لکھئے۔ قادیانی پمفلٹ کو شائع ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے۔ مودودی صاحب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شاید وہ بزرگان امت پر قادیانیوں کے عائد کردہ افتراؤں کا جواب لکھنا اپنے لئے تضیع اوقات سمجھتے ہوں گے۔ متعدد دینی حلقوں نے عموماً اور جناب سردار محمد خاں صاحب لغاری رئیس اعظم چوٹی ضلع ڈیرہ غازی خان نے خصوصاً ارشاد فرمایا کہ آپ اکابرین امت پر لگائے گئے بہتانات کا جواب شائع کریں تاکہ عامتہ المسلمین پر قادیانی تحریفات کی حقیقت واضح ہو جائے۔ ان مختصر اوراق میں اجمالی تبصرہ کیا جاتا ہے۔

ناقابل اعتبار روایت

مرزائی: سرور کائناتa آیت خاتم النّبیین کے نزول کے پانچ سال بعد اپنے فرزند ارجمند حضرت ابراہیمq کی وفات پر فرماتے ہیں:’’لوعاش لکان صدیقا نبیا‘‘(ابن ماجہ ج۱ ص۲۳۷، کتاب الجنائز) اگر میرا بیٹا (ابراہیمq) زندہ رہتا تو ضرور صدیق نبی بنتا۔ گویا آیت خاتم النّبیین صاحبزادہ ابراہیمq کے نبی بننے میں روک نہ تھی۔ محض ان کا وفات پاجانا ان کے نبی بننے میں روک تھا۔

(پمفلٹ مذکور ص۳)

112

جواب: مرزائیوں نے ابن ماجہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اسی کتاب میں اسی روایت کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ:

۱… بعض محدثین نے اس کی صحت میں کلام کیا ہے۔

۲… ’’لوعاش ابراہیم لکان نبیا قال النووی فی تہذیبہ ہذا الحدیث باطل‘‘ (موضوعات کبیر ص۵۸) امام نوویv فرماتے ہیں کہ: ’’اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔‘‘ یہ باطل حدیث ہے۔

۳… ’’قال ابن عبدالبر فی تمہیدہ لا ادری ماہذا‘‘

(موضوعات کبیر ص۵۸)

محدث اعظم حضرت علامہ ابن عبدالبرv تمہید میں فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ روایت کیا ہے؟

۴… شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلویv (مدارج النبوۃ ج۲ ص۲۶۷) میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے، جو ضعیف ہے۔ اس راوی کے متعلق بلند پایہ محدثین کرام کے ارشادات ہیں۔

۵… ثقہ نہیں ہے۔ (حضرت امام احمد بن حنبلv، حضرت امام یحییٰv، حضرت امام داؤدv)

۶… منکر حدیث ہے۔ (حضرت امام ترمذیv)

۷… متروک الحدیث ہے۔ (حضرت امام نسائیv)

۸… اس کا اعتبار نہیں۔ (حضرت امام جوزجانیv)

۹… ضعیف الحدیث ہے۔ (حضرت امام ابوحاتمv)

۱۰… ضعیف ہے۔ اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ اس نے حکم سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں۔

(تہذیب التہذیب ج۱ ص۱۴۴،۱۴۵)

(مرزائیوں کی مندرجہ بالا نقل کردہ حدیث بھی حکم ہی سے روایت ہے)

یہ حال ہے اس روایت کی صحت کا، جس کو مرزائیوں نے اپنے باطل عقیدہ ’’اجرائے نبوت‘‘ کی توثیق کے لئے پیش کیا ہے۔

113

اس روایت میں حرف ’’لو‘‘ ہے۔ جو امتناع اور ناممکنات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’لوکان فیہما الہۃ الا اﷲ لفسدتا‘‘ (انبیاء:۲۳)

اگر (زمین وآسمان) دونوں میں اﷲتعالیٰ کے سوا معبود ہوتا تو دونوں بگڑ جاتے۔ جیسے دو خدا نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح حضرت ابراہیمq زندہ نہ رہ سکتے تھے اور نہ نبی ہوسکتے تھے۔

بہتان عظیم

مرزائیوں نے اس پمفلٹ میں بارہ اکابرین امت پر عظیم بہتان لگایا ہے کہ یہ حضرات معاذ اﷲ مرزائیوں کی طرح امت محمدیہ میں غیرتشریعی نبوت کے اجراء کے قائل تھے۔ اپنے باطل عقیدہ کے اثبات کے لئے انہوں نے بزرگان دین کے چند اقوال نقل کئے ہیں کہ ’’کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا۔‘‘ اب کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا، جسے اﷲتعالیٰ لوگوں کے لئے شریعت دے کر مامور کرے۔ یعنی نئی شریعت لانے والا نبی نہ ہوگا۔ آنحضرتa کے بعد مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں، بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے۔

جن حضرات نے ایسی عبارات لکھی ہیں۔ ان کے پیش نظر تین امور تھے۔

اوّل… حضرت مسیحؑ کا تشریف لانا، بظاہر آیت خاتم النّبیین اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘کے منافی معلوم ہوتا ہے۔

دوم… حدیث:’’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات‘‘(نبوت سے سوائے مبشرات کے کچھ باقی نہیں) میں نبوت کے ایک جز کو باقی کہاگیا ہے۔ یہ حدیث سطحی طور پر حدیث’’لا نبی بعدی‘‘کے مخالف نظر آتی ہے۔

سوم… بعض علماء، صوفیاء کو وحی والہام سے نوازا جاتا ہے۔ جس سے بادی النظر میں ختم نبوت سے تعارض معلوم ہوتا ہے۔

ان تینوں امور کے متعلق حضرت شیخ محی الدین ابن عربیv نے تحریر فرمایا ہے۔ امر اوّل کے متعلق فرماتے ہیں:’’وان عیسٰیm اذا نزل ما یحکم الا بشریعۃ محمدa‘‘

(فتوحات مکیہ ج۱ باب۱۴ ص۱۵۰)

114

’’اور حضرت عیسیٰm جب نازل ہوں گے تو وہ صرف حضرت نبی کریمa ہی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے۔‘‘

امر دوم کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے۔

’’قالت عائشۃt اوّل مابدی بہ رسول اﷲa من الوحی الرویا فکان لا یری رؤیا الاخرجت مثل فلق الصبح وہی التی ابقی اﷲ علی المسلمین وہی من اجزاء النبوۃ فما ارتفعت النبوۃ بالکلیۃ ولہذا انما ارتفعت نبوہ التشریع فہذا معنی لا نبی بعدہ‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۷۳، سوال:۲۵)

’’ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہt سے روایت ہے کہ حضور سرور کائناتa کو وحی سے پہلے سچے خواب نظر آتے تھے۔ جو چیز حضور رات کو دیکھتے تھے، وہ خارج میں صبح روشن کی طرح آپ کو نظر آتی تھی اور یہ وہ چیز ہے، جو اﷲتعالیٰ نے مسلمانوں پر باقی رکھی ہے اور یہ خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے۔ پس اس اعتبار سے کلی طور پر نبوت ختم نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے ہم نے کہا ہے۔ ’’لانبی بعدی‘‘ کا معنی یہ ہے کہ حضورa کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں کیونکہ رؤیا صالحہ اور مبشرات باقی ہیں۔‘‘

اس ارشاد سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سچا خواب نبوت کا ایک جز ہے اور رؤیا صالحہ ہی غیرتشریعی نبوت ہے، جو امت محمدیہ میں جاری ہے اور حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘کا یہ معنی ہے کہ حضورa کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں اور غیرتشریعی نبوت یعنی رؤیا صالحہ اور مبشرات باقی ہیں اور یہ نبوت کا ایک جز ہے، نبوت نہیں۔

امر سوم کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ’’فلا ولیاء والانبیاء الخبر خاصۃ ولانبیاء الشرائع والرسل الخبر والحکم‘‘

(فتوحات مکیہ ج۲ باب:۱۵۸، ص۲۵۷)

’’انبیاء واولیاء کو اﷲتعالیٰ کی طرف سے الہام (خبر خاصہ) کے ذریعہ خصوصی خبر دی جاتی ہے اور انبیاء کے لئے تشریعی احکام نازل ہوتے ہیں اور رسول کے لئے خبر بھی ہوتی ہے اور دوسروں کو حکم کرنا بھی ہوتا ہے۔‘‘

حضرت شیخv نے اس عبارت میں اولیاء اور انبیاء کو خبر اور وحی میں ظاہراً مشترک قرار دے کر شریعت کا اختصاص صرف انبیاءo کے لئے کیا ہے اور رسالت کا مقام

115

اس سے بھی بلند بتایا ہے۔ ان پر تشریعی احکام بھی نازل ہوتے ہیں اور ان کا فرض منصبی دوسروں کو حکم کرنا بھی ہوتا ہے۔

حضرت شیخ اکبرv نے تو حیوانات کی فطرتی ہدایت کو بھی نبوت کا نام دیا ہے۔’’وہذہ النبوۃ ساریۃ فی الحیوان مثل قولہ تعالی واوحی ربک الی النحل‘‘

(فتوحات مکیہ ج۲ باب:۱۵۵ ص۲۵۴)

’’اور یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی۔‘‘

حضرت ابن عربی، گھوڑے، گدھے، بلی، چھپکلی، چوہے، چمگادڑ، الّو اور شہد کی مکھی وغیرہ حیوانات میں بھی نبوت جاری تسلیم کرتے ہیں۔ کیا مرزائی ’’قادیانی نبوت‘‘ کو اسی قبیل سے سمجھتے ہیں؟

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت شیخ اکبرv تشریعی اور غیرتشریعی نبوت کا جو فرق بیان فرماتے ہیں، ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضور سرور کائناتa کے بعد کسی کو نبوت ورسالت مل سکتی ہے۔ لیکن تشریعی نہیں ہوسکتی بلکہ وہ یہ فرماتے ہیں کہ جو وحی نبی ورسول پر نازل ہوتی ہے وہ تشریعی ہی ہوتی ہے اور اس میں اوامر ونواہی ہوتے ہیں۔ حضور نبی کریمa کے بعد کسی پر وحی تشریعی نازل نہ ہوگی۔ اس لئے حضورa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ البتہ حضرت عیسیٰm نبی اﷲ نازل ہوں گے اور وہ بھی شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے۔ نیز نبوت کا ایک جز مبشرات قیامت تک باقی ہےاور بعض خواص کو الہام اور وحی ولایت ہوسکتی ہے۔ لیکن کسی پر نبی اور رسول کا لفظ ہرگز نہیں بولا جاسکتا۔ فرماتے ہیں: ’’کذالک اسم النبی زال بعد رسول اﷲa فانہ زال التشریع المنزل من عند اﷲ بالوحی بعدہa‘‘

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۸، باب:۷۳، سوال:۲۵)

’’اسی طرح سے آنحضرتa کے بعد نبی کا لفظ کسی پر نہیں بولا جاسکتا کیونکہ آپa کے بعد وحی جو تشریعی صورت میں صرف نبی پر ہی آتی ہے۔ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے۔‘‘

116

مطلب واضح ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو تشریعی احکام لاتا ہے۔ حضور سرور کائناتa کے بعد احکام شریعہ (اوامرونواہی) کا نازل ہونا ممتنع اور محال ہے۔ اس لئے کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہt پر بہتان عظیم

قادیانی اعتراض: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہt کو مخاطب کر کے فرماتی ہیں:’’قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘

(درمنثور ج۵ ص۲۰۴، تکملہ مجمع البحار ص۸۵)

کہ اے لوگو! آنحضرتa کو خاتم الانبیاء تو ضرور کہو۔ مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ آئے گا۔ کس لطیف انداز میں فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو! کبھی ’’لا نبی بعدی‘‘ کے الفاظ سے ٹھوکر نہ کھانا۔ خاتم النّبیین کی طرف نگاہ رکھنا مگر یہ نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

(پمفلٹ مذکور ص۲،۳)

جواب: کتنا صریح جھوٹ اور بہتان عظیم ہے ام المؤمنین حضرت صدیقہt پر کہ وہ ’’فرماتی ہیں اے مسلمانو! کبھی ’’لا نبی بعدی‘‘ کے الفاظ سے ٹھوکر نہ کھانا۔ اگر امت مرزائیہ حضرت ام المؤمنین کے یہ الفاظ دنیا کی کسی کتاب سے دکھادے تو ہم اسے ایک ہزار روپیہ نقد انعام دیں گے۔ اگر نہ دکھا سکے اور یقینا کبھی نہ دکھا سکے گی تو یہ سمجھ لے کہ جھوٹے بہتان باندھنے والوں کے لئے اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے۔لعنۃ اﷲ علی الکاذبین‘‘

جملہ ’’قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ کی حضرت ام المؤمنین کی طرف نسبت یہ ایسا قول ہے کہ دنیا کی کسی مستند کتاب میں اس کی صحیح متصل سند نہیں۔ میں نے بیسیوں مناظروں میں قادیانی مبلغین کو انعامی چیلنج دیا کہ اگر حضرت صدیقہt تک اس قول کی صحیح متصل سند دکھا دو تو دس ہزار روپیہ انعام لو۔ کسی مرزائی مناظر کو ہمت نہ ہوئی کہ میرے اس چیلنج کو منظور کر سکے۱؎۔

۱؎

بصورت صحت حدیث بھی یہ اصول واضح رہے کہ عقائد کا دارومدار قطعی نصوص پہ ہے۔ اخبارات پر نہیں۔ مگر کاغذ کی کشتی نوح میں بیٹھ کر طوفانوں کے مقابل نکلنے والوں سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔

117

اگر بالفرض اس منقطع سند قول کو صحیح تسلیم کیا جائے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ نصوص قطعیہ کے پیش نظر حضرت مسیحؑ تشریف لائیں گے۔ اس لئے یہ نہ کہو کہ کوئی نبی آئے گا نہیں۔ ہاں! حضور نبی کریمa کو خاتم الانبیاء کہو، جس کے معنی ہیں کہ حضورa کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا یا کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہوگا۔

ختم نبوت کے متعلق حضرت ام المؤمنینt کا وہی عقیدہ ہے جو قرآن مجید، احادیث نبوی، اجماع صحابہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ حضور سرور کائناتa پر نبوت ختم ہے۔ آپ نے فرمایا:’’عن عائشۃt ان النبیa قال لا یبقی بعدی من النبوۃ شیٔ الا المبشرات قالوا یا رسول اﷲ ما المبشرات قال الرؤیا الصالحۃ یرہا الرجل اوتری لہ‘‘

(مسند احمد ج۶ ص۱۲۹، کنزالعمال)

’’حضرت صدیقہt فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریمa نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت سے کچھ بھی باقی نہیں۔ ہاں! صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ مبشرات کیا چیز ہے؟ حضورa نے فرمایا کہ اچھے خواب ہیں۔ آدمی خود ان کو دیکھتا ہے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا آدمی دیکھتا ہے۔‘‘

حضرت امام محمد طاہرv کے متعلق فریب

مرزائی اعتراض: حضرت امام صاحب مصنف ’’مجمع البحار‘‘ لکھتے ہیں یعنی حضرت عائشہt نے جو یہ فرمایاکہ اے مسلمانو! تم آنحضرتa کے متعلق خاتم النّبیین کے الفاظ توبے شک استعمال کیا کرو۔ لیکن ’’لا نبی بعدہ‘‘ کے الفاظ استعمال نہ کیا کرو۔ یہ بات ’’لا نبی بعدی‘‘ کے مخالف نہیں۔ کیونکہ ’’لا نبی بعدی‘‘ فرمانے سے حضورa کی مراد یہ ہے کہ آپa کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپa کی شریعت کو منسوخ کرے۔

(تکملہ مجمع البحار ص۸۵)

جواب: دنیا میں سب سے بڑا دھوکا باز وہ شخص ہے، جو دین ومذہب کے متعلق فریب دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے۔ شاید موجودہ دور میں مذہبی دھوکا دہی مرزائیوں کے لئے الاٹ ہوچکی ہے۔ اس لئے انہوں نے مکمل عبارت درج نہیں کی۔ بلکہ

118

ماقبل اور مابعد کو چھوڑ کر ایک جملہ، جسے انہوں نے اپنے لئے مفید سمجھا، نقل کر دیا۔ ہم پوری عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ عامتہ المسلمین پر قادیانیوں کی خیانت واضح ہو جائے۔

’’وفی حدیث عیسیٰ انہ یقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویزید فی الحلال ای یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج ویولدلہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الہبوط فی الحلال فحنیذ یؤمن کل احد من اہل الکتاب یتیقن بانہ بشر وعن عائشۃt قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ وہذا ناظر الی نزول عیسٰی وہذا ایضا لا ینافی حدیث لا نبی بعدی لانہ اراد لا نبی ینسخ شرعہ‘‘

(تکملہ مجمع البحار ص۸۵)

’’اور حدیث میں ہے کہ نزول کے بعد عیسیٰm خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور حلال چیزوں میں زیادتی کریں گے یعنی نکاح کریں گے اوران کی اولاد ہوگی۔ آسمان پر جانے سے پہلے انہوں نے نکاح نہ کیا تھا۔ ان کے آسمان سے اترنے کے بعد حلال میں اضافہ ہوگا۔ (اولاد ہوگی) اس زمانہ میں ہر ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا کہ یقینا یہ بشر رسول ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہt فرماتی ہیں کہ حضرت نبی کریمa کو خاتم الانبیاء کہو اور یہ نہ کہو کہ آپa کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ یہ صدیقہt کا فرمان: ’’لاتقولوا لا نبی بعدہ‘‘ اس بات کے مدنظر ہے کہ عیسیٰm آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت عیسیٰm کا نزول حدیث ’’لانبی بعدی‘‘ کے مخالف نہیں۔ اس لئے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو حضور کے دین کا ناسخ ہو۔‘‘

واضح بیان ہے کہ اگر ’’لاتقولوا لا نبی بعدہ‘‘ حضرت ام المؤمنینt کا مقولہ ثابت ہو جائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت مسیحؑ کا آسمان سے نزول ہوگا۔ ان کا تشریف لانا حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ کے خلاف نہیں۔ اس لئے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا۔ جو حضورa کے دین کو منسوخ کر دے اور حضرت عیسیٰm تو حضورa کے دین کی اشاعت کے لئے تشریف لائیں گے نہ کہ اسلامی تعلیمات کو منسوخ کرنے کے لئے۔

119

حضرت محی الدین ابن عربیv پر افتراء

مرزائی اعتراض: تصوف کے امام حضرت ابن عربی لکھتے ہیں: (ترجمہ) وہ نبوت جو آنحضرتa کے آنے سے ختم ہوئی ہے، وہ صرف شریعت والی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت۔ پس اب ایسی شریعت نہیں آسکتی، جو آنحضرتa کی شریعت کو منسوخ قرار دے یا آپ کی شریعت میں کوئی حکم اضافہ کرے۔ یہی معنی اس حدیث کے ہیں کہ: ’’ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت‘‘کہ اب رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی ہے۔ میرے بعد نہ رسول ہے، نہ نبی۔ یعنی کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا، جو ایسی شریعت پر ہو، جو میری شریعت کے خلاف ہو۔ بلکہ جب کبھی نبی آئے گا تو وہ میری شریعت کے تابع ہوگا۔

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۳، مرزائی ٹریکٹ ص۳)

جواب: ہم اوپر اسی کتاب ’’فتوحات مکیہ‘‘ سے چند عبارات نقل کر چکے ہیں کہ جن سے روزروشن کی طرح ظاہر ہے کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربیv کی تحقیق اور عقیدہ یہ تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لاتا ہے۔ حضور نبی کریمa کے بعد کوئی شریعت نہیں لائے گا اور نہ کسی کے متعلق لفظ نبی استعمال کیا جائے گا۔ وہ ولایت، الہام اور مبشرات کو امت میں جاری مانتے ہیں اور اسی کو غیرتشریعی نبوت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ وہ حضرت مسیحؑ کے آسمان سے نزول کے قائل ہیں۔ آمد ثانی کے بعد حضرت مسیحؑ پر کسی نئے اوامرونواہی کا نزول نہیں مانتے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے برگزیدہ نبی حضرت عیسیٰm حضور نبی کریمa کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ وہ شریعت محمدیہ کو منسوخ نہ کریں گے بلکہ اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔

حیرت اور ہزارحیرت ہے امت مرزائیہ پر کہ ان کے قادیانی نبی نے حضرت محی الدین ابن عربیv اور وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں پر کافر، ملحد اور زندیق کا فتویٰ لگایا۔ (وحدت وجود پر مرزاقادیانی کا ایک خط بنام میرعباس علی) لیکن مرزائی ہیں کہ اپنے نبی کی نبوت ثابت کرنے کے لئے معاذ اﷲ اسی ملحد اور زندیق کی پناہ لے رہے ہیں۔ ان کے اس طرز استدلال پر ارسطو کی روح بھی پھڑک اٹھی ہوگی۔

120

حضرت مولانا جلال الدین رومیv کی نسبت دھوکا

مرزائی اعتراض: مثنوی میں مولانا رومv فرماتے ہیں:

  1. فکر کن در راہ نیکو خدمتے

    تا نبوت یابی اندر امتے

کہ نیکی کی راہ میں خدمت کی ایسی تدبیر کر کہ تجھے امت کے اندر نبوت مل جائے۔

(مثنوی مولانا روم، دفتر اوّل ص۵۳)

جواب: مثنوی شریف کے اس شعر کے کسی لفظ کا معنی نہیں کہ حضور سرور کائناتa کے بعد اﷲتعالیٰ کسی کو نبی مبعوث کرے گا۔ اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ نیک اعمال کے لئے کوشش کرنے سے مومن کو فیضان نبوت سے نوازا جاتا ہے۔ کیونکہ نبوت کسبی نہیں، بلکہ وہبی ہے۔ حضرت مولانا تو ہر متبع سنت پیرومرشد کو مجازاً نبی کہتے ہیں۔

  1. دست رامسپار جز در دست پیر

    پیر حکمت او علیم ست و خبیر

  2. آں نبی وقت باشند اے مرید

    تا ازاد نور نبی آید پدید

درحقیقت علیم وخبیر اﷲتعالیٰ کی صفات ہیں۔ پیر کو مجازاً علیم وخبیر فرمایا ہے۔ کیونکہ پیرمرید کے احوال ومقامات سے باخبر ہوتا ہے۔ دوسرے شعر کا مفہوم ہے کہ پیر اپنے مرید کے لئے بمنزلہ نبی ہوتا ہے۔ کیونکہ مرید کو پیر کی وساطت سے فیض نبوت حاصل ہوتا ہے۔

حضرت مولانا رومv نے بیسیوں مقامات پر ختم نبوت کا اعلان کیا ہے۔ مرزائیوں کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہے۔ اس لئے انہیں مثنوی شریف میں ختم نبوت کے اشعار نظر نہیں آتے۔ مشتے نمونہ ازخروارے مختلف مقامات کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔

  1. زین حکایت کرد آں ختم رسل

    از ملیک لایزال ولم یزل

  2. سکہ شاہاں ہمی گرد و دگر

    سکہ احمد بنیں تا مستقر

  3. یا رسول اﷲ رسالت را تمام

    تو نمودی ہم چو شمس بے غمام

  4. ایں ہمہ انکار کفراں زاد شان

    چوں در آمد سید آخر الزمان

مرزائی پمفلٹ میں مثنوی شریف کے اور تین شعر نقل کئے ہیں، جن کا اجرائے

121

نبوت کے باطل عقیدہ سے اتنا تعلق بھی نہیں، جتنا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا محمدی بیگم کے آسمانی نکاح سے تھا۔ مثلاً:

  1. بہر ایں خاتم شد است او کہ بجود

    مثل اونے بودنے خواہند بود

مرزائی ترجمہ: یعنی آپa خاتم اس لئے ہوئے کہ آپ بے مثل ہیں۔ فیض روحانی کی بخشش ہیں۔ آپ جیسا نہ کوئی پہلے ہوا اور نہ آئندہ آپ جیسے ہوں گے۔

(ٹریکٹ ص۳)

جواب: اس شعر کو ’’اجرائے نبوت‘‘ سے کیا تعلق؟ اس میں تو حضورa کے فضائل وکمالات اور روحانی فیوض کا تذکرہ ہے۔ یہ قادیانیوں کا محض افتراء ہے کہ حضرت مولانا رومv حضور رسالت مآبa کے بعد ’’اجرائے نبوت‘‘ کے قائل تھے۔ جس کا کوئی ثبوت وہ پیش نہیں کر سکے۔

حضرت امام عبدالوہاب شعرانیv پر افتراء

مرزائی اعتراض: امام شعرانیv فرماتے ہیں: (ترجمہ) کہ یاد رکھو کہ مطلق نبوت نہیں اٹھی اور صرف شریعت والی نبوت بند ہوئی ہے۔

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۲)

جواب: حضرت امام شعرانیv پر افتراء ہے کہ وہ حضور سرور کائناتa کے بعد مرزائیوں کی طرح غیرتشریعی نبوت کے اجراء کے قائل تھے۔ امام شعرانیv نے تشریعی اور غیرتشریعی نبوت کی تقسیم انہیں تین امور کے پیش نظر کی ہے۔ جن کا ذکر ہم نے حضرت شیخ اکبرv کے حوالہ جات سے کردیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ’’وکذالک عیسٰیm اذا نزل الی الارض لا یحکم فینا الا بشریعۃ نبیناa‘‘

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۸)

’’اسی طرح جب حضرت عیسیٰm زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیa کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے۔‘‘

صاف الفاظ ہیں کہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد حضرت مسیحؑ جدید

122

شریعت نہیں لائیں گے بلکہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر عمل پیرا ہوں گے۔ حضرت امام شعرانیv، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا قول نقل فرماتے ہیں:’’وہذا باب اغلق بعد موت محمدa فلا یفتح لاحد الٰی یوم القیامۃ ولٰکن بقی للاولیاء وحی الالہام الذی لا تشریع فیہ‘‘

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۷)

’’اور یہ (نزول وحی نبوت کا) دروازہ حضرت نبی کریمa کی وفات کے بعد بند ہوچکا ہے اور قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھل سکتا۔ لیکن اولیاء کے لئے وحی الہام ہوتی رہے گی جس میں شرعی احکام نہ ہوں گے۔‘‘

اس عبارت نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ حضرت محی الدین ابن عربی اور امام شعرانی دونوں حضرات کا عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائناتa کے بعد وحی نبوت بند ہوچکی ہے۔ ہاں! اولیاء اﷲ کو الہام ہوتے ہیں۔ جن میں شرعی احکام یعنی اوامر ونواہی نہیں ہوتے، ان الہامات کو مبشرات کہاگیا ہے۔ ان پر نبوت کا اطلاق نہیں ہوتا۔

امام شعرانیv نے عقیدۂ ختم نبوت کا اظہار فرمایا ہے: ’’اعلم ان الاجماعقد انعقد علی انہa خاتم المرسلین کما انہ خاتم النّبیین‘‘

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۷)

’’جان لے کہ اس عقیدہ پر امت کا اجماع منعقد ہے کہ حضرت نبی کریمa جس طرح رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں اسی طرح نبیوں کے بھی خاتم ہیں۔‘‘

حضرت مولانا عبدالکریم جیلانیv پر اتہام

قادیانی اعتراض: حضرت امام عبدالوہاب شعرانیv فرماتے ہیں: (ترجمہ) آنحضرتa کے بعد نبوت تشریعی بند ہوگئی اور آنحضرتa خاتم النّبیین قرار پاگئے۔ کیونکہ آپ ایسی کامل شریعت لائے جو اور کوئی نبی نہ لایا۔

(الانسان کامل ج۱ ص۹۸، مطبوعہ مصر)

جواب: حضرت محی الدین ابن عربیv اور حضرت امام شعرانیv کی طرح حضرت عبدالکریم جیلانیv کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس پر وحی تشریعی

123

نازل ہو اور وحی تشریعی حضور رسالت مآبa کے بعد کسی پر نازل نہ ہوگی۔ انہوں نے کہیں نہیں لکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد امت میں نئے نبی مبعوث ہوں گے۔ مرزائیوں میں ہمت ہے تو ان کی کوئی عبارت پیش کریں۔ لیکن تمام امت مرزائیہ دم واپسیں تک ایسی کوئی عبارت پیش نہ کر سکے گی۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلویv پر بہتان

مرزائیوں نے حضرت شاہ صاحبv پر بھی یہ بہتان تراشا ہے کہ آپ بھی حضورa کے بعد اجرائے نبوت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اس افتراء کا حقیقی جواب تو ’’لعنۃ اﷲ علی الکاذبین‘‘ہی ہے۔ تفہیمات کے الفاظ میں کس لفظ کا معنی ہے کہ حضور سرور کائناتa کی امت میں نبی مبعوث ہوں گے؟ حضرت کے الفاظ ’’اب کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جسے اﷲتعالیٰ لوگوں کے لئے شریعت دے کر مامور کرے۔‘‘ تشریعی اور غیرتشریعی کا فرق انہیں تین وجوہ کی بناء پر ہے، جو ہم تحریر کر چکے ہیں۔ ختم نبوت کے متعلق حضرت شاہ صاحب نے تحریر فرمایا ہے۔

۱… نیست محمد پدر ہیچ کس از مرد مان شماو لیکن پیغمبر خدا است ومہر پیغمبران یعنی بعد از وے ہیچ پیغامبر نباشد۔

(ترجمہ) حضرت محمد مصطفیa تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن خداتعالیٰ کے پیغمبر ہیں اور پیغمبروں پر مہر یعنی حضورa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

۲… ’’اقول فاالنبوۃ انقضت بوفاۃ النبیa‘‘

(حجۃ اﷲ البالغہ ج۲ ص۵۰۶)

’’میں کہتا ہوں حضور نبی کریمa کی وفات سے نبوت کا خاتمہ ہوگیا۔‘‘

۳… ’’واعلم ان الدجاجلۃ دون الدجال الاکبر کثیرۃ ویجمعہم امرو احدو ہو انہم یذکرون اسم اﷲ ویدعون الناس الیہ الی ان قال فہم من یدعی النبوۃ‘‘

(تفہیمات الٰہیہ ج۲ ص۱۹)

’’جان لو کہ دجال اکبر سے پہلے بہت سے دجال آئیں گے اور سب میں یہ امر

124

مشترک ہوگا کہ اﷲتعالیٰ کا نام لے کر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیں گے۔ ان دجالوں میں سے وہ دجال بھی ہوں گے جونبوت کا دعویٰ کریں گے۔‘‘

مرزائیوں کے قلوب میں اگر ذرہ بھر بھی خوف خدا اور انصاف ہو تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلویv (جنہیں مرزائی بارھویں صدی کا مجدد مانتے ہیں) حضور رسالت مآبa کے بعد اجرائے نبوت کے قائل تھے یا تمام مدعیان نبوت کو دجالوں کا گروہ قرار دیتے تھے؟

حضرت مجدد الف ثانیv پربہتان

مرزائی اعتراض: حضرت مجدد الف ثانیv فرماتے ہیں: (ترجمہ) خاتم الرسلk کے مبعوث ہونے کے بعد خاص متبعین آنحضرتa کو بطور وراثت کمالات نبوت کا حاصل ہونا، آپa کے خاتم الرسل ہونے کے منافی نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے اس میں شک مت کرو۔

(مکتوب نمبر۳۰۱ ص۴۲۲ ج۱، مکتوبات امام ربانیv)

جواب: کہاں مرزائیوں کا ’’اجرائے نبوت‘‘ جیسا باطل عقیدہ اور کہاں حضرت مجدد کے حقائق ومعارف۔ حضرت کی مندرجہ بالا عبارت کے کن الفاظ کا مفہوم ہے کہ حضور نبی کریمa کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے؟ عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ حضورa کی کامل اطاعت کرنے والوں کو اﷲتعالیٰ کی طرف سے کمالات نبوت عطاء کئے جاتے ہیں نہ کہ انہیں نبی بنادیا جاتا ہے۔ امت کے ذی شان افراد کو کون سے کمالات سے نوازا جاتا ہے؟ حضرت مجددv تحریر فرماتے ہیں: ’’مثل قلت حساب وکفارت، زلات بشریت وارتفاع درجات ومراعات صحبت فرشتہ مرسل کہ ازاکل وشرب پاک است وکثرت ظہور خوراق کہ مناسب مقام نبوت اندوامثال آں باید دانست کہ حصول دین موہبت درحق انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات بے توسط است۔ درحق اصحاب انبیا علیہم الصلوٰۃ التحیات کہ بہ تبعیت ووراثت بایں دولت مشرف گشتہ اند بتوسط انبیاء است علیہم الصلوٰۃ والبرکات۔‘‘

(مکتوب نمبر۲۰۲ حصہ پنجم ص۱۴۲،۱۴۳)

125

مرزائیوں کو کون سمجھائے کہ حضرت مجددv کے ارشاد کے پیش نظر حساب میں آسانی، معمولی لغزشوں کی معافی، درجات کی بلندی، ملائکہ سے ملاقات اور کثرت ظہور خوراق ایسے کمالات نبوت حضورk کے وسیلہ سے امت محمدیہ کے برگزیدہ افراد کو عطاء کئے جاتے ہیں۔ یہ چند فضائل وکمالات اجزائے نبوت ہیں اور چند کمالات نبوت کے حصول سے نبوت نہیں مل جاتی۔ شجاعت، سخاوت وغیرہ صفات حسنہ بھی کمالات نبوت ہیں۔ کیا ہر شجاع اور ہر سخی مسلمان نبی بن جاتا ہے؟

حضرت والا اپنے عقیدہ کا اظہار ان الفاظ مبارکہ میں فرماتے ہیں: حضرت عیسیٰ وعلیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات۔

(مکتوب نمبر۱۷، دفتر سوم، جلد ثالث ص۳۵)

(ترجمہ) حضرت عیسیٰm آسمان سے نازل ہوں گے تو آخری رسولa کی شریعت کی متابعت کا شرف حاصل کریں گے۔

’’اوّل انبیاء حضرت آدم است علی نبینا وعلیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات والتحیات وآخر شان وخاتم نبوت شان حضرت محمد رسول اﷲ است علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات۔‘‘

(مکتوبات دفتر سوم، مکتوب نمبر۱۷ ص۳۵)

(ترجمہ) سب سے پہلے نبی حضرت آدمm اور نبیوں میں سب سے آخر اور ان کی نبوت کو ختم کرنے والے حضرت محمد رسول اﷲa ہیں۔

صاف الفاظ ہیں کہ سب سے پہلے حضرت آدمm نبی مبعوث ہوئے اور سب نبیوں کے بعد حضور نبی کریمaکی بعثت ہوئی۔ اس لئے حضورa آخری نبی ہیں۔

حضرت نواب صدیق حسن خاںv پر افتراء

مرزائی اعتراض: حضرت نواب صاحب فرماتے ہیں: ’’لا نبی بعدی‘‘آیا ہے جس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ (یعنی پہلی شریعت منسوخ کر کے نئی شریعت) لے کر نہیں آئے گا۔

(اقتراب الساعۃ ص۱۶۲)

126

جواب: حضرت نواب صاحبv کے متعلق اتہام ہے کہ وہ حضور نبی کریمa کے بعد ’’اجرائے نبوت‘‘ کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ان کی کسی کتاب میں اس خلاف اسلام نظریہ کا شائبہ تک نہیں۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے مفہوم میں ’’کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا۔‘‘ اس لئے کہاگیا کہ حضرت مسیحؑ بعد از نزول نئی شریعت لاکر شریعت اسلامیہ کو منسوخ نہ کریں گے بلکہ خود اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔

ان کا اپنا عقیدہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے۔

ہمارے حضرت خاتم النّبیینa ہیں اور ناسخ جملہ شرائع ماقبل۔آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ آپa اﷲ کے بندے اور اس کے رسول اور صفی ہیں۔

اوّل انبیاء آدمm ہیں اور آخر انبیاء محمدa۔

(عقیدۃ السنی مصنفہ حضرت نواب صدیق حسن خاں ص۱۵،۱۶)

حضرت مولانا عبدالحئی لکھنویv پر بہتان

مرزائی اعتراض: ’’مولانا عبدالحئی صاحب فرماتے ہیں: بعد آنحضرتa کے یا زمانے میں آنحضرتa کے مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے۔‘‘

(دافع الوسواس فی اثر ابن عباس نیا ایڈیشن ص۱۶)

جواب: حضرت عبداﷲ ابن عباسq سے ایک حدیث مروی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں انبیاءo مبعوث ہوئے۔ ایک گروہ اس حدیث کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا، دوسرا گروہ اسے صحیح ومعتبر مانتا ہے۔

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی اس دوسرے گروہ میں شامل ہیں۔ اس حدیث کی تحقیق وتشریح کے سلسلہ میں حضرت نانوتویv نے تحذیر الناس اور حضرت مولانا عبدالحئی صاحب لکھنویv نے آیات بینات علی وجود الانبیاء فی الطبقات اور دافع الوسواس فی اثر ابن عباسq اردو زبان میں اور زجر الناس علی اذکار اثر ابن عباسq عربی میں تحریر فرمائی

127

ہیں۔ اختصار کے پیش نظر ہم حضرت مولانا عبدالحئی صاحب کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں۔

’’پس اس امر کا اعتقاد کرنا چاہئے کہ خواتم طبقات باقیہ بعد عصر نبویہ نہیں ہوئے یا قبل ہوئے یا ہم عصر اور برتقدیر اتحاد عصر وہ متبع شریعت محمدیہ ہوں گے اور ختم ان کا بہ نسبت اپنے حلقہ کے اضافی ہوگا اور ختم ہمارے حضرت کا عام ہوگا۔‘‘

(فتویٰ مولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی ملحقہ ’’تحذیر الناس‘‘ ص۴۴)

حضرت کا مفہوم یہ ہے کہ سات زمینیں ہیں اور ہر زمین میں ایک آخری نبی ہوگا۔ لیکن باقی چھ زمینوں میں سے ہر زمین کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیa کے بعد نہیں ہوسکتے۔ اگر حضورa کے زمانہ کے قبل ہوں تو جائے اعتراض نہیں اور اگر حضورa کے ہم عصر ہوں تو ان تمام کی خاتمیت اپنی زمین اور اپنے طبقہ کے لحاظ سے اضافی ہوگی اور حضور سرور کائناتa کی خاتمیت ان سب کے بعد اور حقیقی ہوگی اور وہ حضورa ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے۔ رہا یہ ارشاد کہ ’’بعد آنحضرتa کے یا زمانے میں آنحضرتa کے مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے۔‘‘ یہ نزول حضرت مسیحؑ کے پیش نظر فرمایا ہے۔ حضرت مسیح حضورk کے بعد نازل ہوں گے۔ کوئی نئی شریعت نہ لائیں گے بلکہ حضورa ہی کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے۔

حضرت مولانا عبدالحئی صاحب عقیدہ ختم نبوت کے متعلق اپنے ایک فتویٰ میں حضرت علامہ ابوشکور سالمی کی مندرجہ ذیل عبارت نقل فرماتے ہیں:’’اعلم ان الواجب علی کل عاقل ان یعتقد ان محمدا کان رسول اﷲ والان ہو رسول اﷲ وکان خاتم الانبیاء ولا یجوز بعدہ ان یکون احد انبیاء ومن ادعی النبوۃ فی زماننا یکون کافرا‘‘

(فتاویٰ مولانا عبدالحئی لکھنوی ج۱ ص۹۹)

جاننا چاہئے کہ ہر عاقل پر واجب ہے کہ یہ اعتقاد رکھے کہ حضور نبی کریمa اﷲتعالیٰ کے رسول تھے اور اب بھی رسول ہیں اور آپ تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ آپa کے بعد کسی کا نبی بننا جائز نہیں اور جو آج ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔

128

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویv پر افتراء

مرزائی اعتراض: حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویv بانی مدرسہ دیوبند فرماتے ہیں:

الف… ’’سو عوام کے خیال میں تو رسول اﷲa کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم وتأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں ’’ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے۔‘‘

(تحذیر الناس ص۳)

ب… ’’اگر بالفرض بعد زمانہ نبویa بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔‘‘

(تحذیر الناس ص۲۸)

جواب: قادیانیوں کا حضرت نانوتویv پر بہت بڑا اتہام ہے کہ وہ حضور نبی کریمa کے بعد اجرائے نبوت کے مقر تھے۔ حضرت والا نے کتاب تحذیر الناس ختم نبوت کے اثبات کے لئے لکھی اور اس میں ختم نبوت کے ناقابل تردید دلائل پیش کئے۔ اس کا موضوع ہی خاتمیت ذاتی وزمانی ومکانی کی حمایت وحفاظت ہے۔ تحذیرالناس کی ص۳ کی عبارت کو ہم عام فہم الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔

خاتمیت کی تین اقسام ہیں: (۱)خاتمیت مرتبی۔ (۲)خاتمیت مکانی۔ (۳)خاتمیت زمانی۔

حضرت نانوتویv نے لکھا ہے کہ حضور نبی کریمa خاتمیت کے تینوں مرتبوں کے ساتھ متصف ہیں۔ لیکن قابل غور یہ امر ہے کہ خاتمیت کے ان تینوں مراتب میں دلائل وبراہین کے لحاظ سے اعلیٰ اور افضل یا بالفاظ دیگر بالذات وبالاصالت کون سا مرتبہ ہے؟ عوام تو یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ حضورa کا زمانہ سب انبیاء سے آخر تھا۔ صرف اس وجہ سے آپa خاتم الانبیاء ہیں۔ اگر یہی ایک وجہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضورa کا شرف ومجد زمانہ اور مکان کی وجہ سے ہوا۔ حضورa کی وجہ سے زمان ومکان کا شرف نہ ہوا۔ حالانکہ تقدم وتأخر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں ولٰکن رسول

129

اﷲ وخاتم النّبیین فرمانا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے؟ اس لحاظ سے ثابت ہوگا کہ حضور کی جلالت شان اور رفیع منزلت ذات کے مناسب حال بالذات خاتمیت مرتبیت ہے اور اس اعلیٰ وافضل مرتبہ کے ساتھ خاتمیت زمانی بھی آپa کے لئے ثابت ہے اور خاتمیت مکانی بھی آپa پر ختم ہے۔

مرزائی محرفین نے اپنی روایتی چالبازی سے دھوکہ اور فریب دینے کے لئے ’’تحذیر الناس‘‘ کے ص۲۸ سے محولہ بالا ادھورا حوالہ نقل کر دیا۔ اگر وہ پوری عبارت نقل کر دیتے تو ان کی فریب دہی کا پردہ چاک ہو جاتا اور ان کے ٹریکٹ کے قارئین کو علم ہو جاتا کہ حضرت نانوتویv کا ارشاد کیا ہے۔ پوری عبارت یہ ہے۔

ہاں! اگر خاتمیت بمعنی انصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اﷲa اور کسی کو افراد مقصود بالحق میں سے مماثل نبویa نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی پر آپa کی فضیلت ثابت نہ ہوگی۔ افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبویa بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے بالجملہ ثبوت اثر مذکور دو نا مثبت خاتمیت ہے۔ معارض ومخالف خاتم النّبیین نہیں۔

(تحذیر الناس ص۲۸)

اس سے ظاہر ہے کہ یہاں خاتمیت ذاتی کا ذکر ہے۔ خاتمیت زمانی کا نہیں۔ حضرت فرماتے ہیں اگر بالفرض حضورa کے زمانہ میں یا آپa کے بعد اور کوئی نبی ہو تب بھی آپ کی اس خاتمیت ذاتی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔ رہی خاتمیت زمانی اس کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ اگر کوئی بدفہم اس کا مطلب یہ سمجھے کہ حضورa کے بعد اور نبی ہوسکتے ہیں تو حضرت نانوتویv کے نزدیک وہ کافر ہوگا۔ اسی تحذیر الناس میں حضرت تحریر فرماتے ہیں: ’’سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم الزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الا انہ لا نبی بعدی او کما قال ترمزی رقم

130

ترمزی رقم الحدیث۳۷۳۱، بخاری رقم۳۷۰۶، ۴۴۱۶، مسلم شریف رقم ۲۴۰۴‘‘جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النّبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا۔ گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض ووتر وغیرہ۔ باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی (ختم نبوت زمانی) کافر ہوگا۔‘‘

(تحذیر الناس ص۱۰)

کس قدر واضح الفاظ ہیں کہ خاتمیت زمانی کا منکر ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ دوسری ضروریات دین اور قطعیات دین کا منکر کافر ہے۔

اس عبارت میں حضرت نے فرضی اور تقدیری طور پر اگر کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس مفروضہ کے لئے لفظ اگر پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ لفظ بالفرض ساتھ ملا کر بیان کیا ہے تاکہ کسی مفسد کو دھوکا دینے کا موقع نہ مل سکے۔ اگر کوئی جاہل کہے کہ ایسے مفروضہ کی کیا ضرورت تھی تو اسے باری تعالیٰ کا ارشاد سنا دینا چاہئے۔ ’’قل ان کان للرحمٰن ولد فانا اوّل العابدین (زخرف:۷)‘‘ اے نبی آپ کہہ دیجئے اگر بالفرض خداتعالیٰ کا بیٹا ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں ہوں گا۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلویv اس آیت کا فارسی ترجمہ کرتے ہیں: ’’بگو اگر بالفرض باشد خدارا فرزندے پس من نخستین عبادت کندگان ہاشم‘‘

مرزائی منطق کی رو سے اس آیت سے ثابت ہوگا کہ خداتعالیٰ کا بیٹا ہونا ممکن ہے اور حضور سرور کائناتa کا خداتعالیٰ کے اس مفروض بیٹے کی عبادت کرنا بھی ممکن ہوگا۔ (معاذاﷲ) کیا اس آیت کا یہی مفہوم ہے؟ ایک معمولی عقل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ فرضی اور تقدیری بات ہے نہ یہ کہ اس سے اﷲتعالیٰ کا بیٹا تسلیم کیا جائے یا اس کے امکان پر اس آیت کو دلیل بنا کر لوگوں کو مغالطہ دیا جائے۔

حضرت نانوتویv نے ختم نبوت کے متعلق اپنے عقیدہ کا اظہار فرمایا ہے۔

۱… ’’خاتمیت زمانی اپنا دین وایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ علاج نہیں۔‘‘

(مناظرہ عجیبہ ص۳۹، مصنفہ حضرت نانوتویv)

131

حضرت ملا علی قاریv

مرزائی اعتراض: جلیل القدر امام حضرت ملا علی قاریv فرماتے ہیں: یعنی اگر صاحبزادہ ابراہیمq زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح حضرت عمرq نبی بن جاتے تو آنحضرتa کے متبع یا امتی نبی ہوتے۔ جیسے عیسیٰ، خضر، الیاسo ہیں اور یہ صورت خاتم النّبیین کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ خاتم النّبیین کے تو یہ معنی ہیں کہ اب حضرتa کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپa کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپa کا امتی نہ ہو۔

(موضوعات کبیر ص۵۹)

جواب: اس حدیث کے ضعف کے متعلق ہم بلند پایہ محدثین کے اقوال نقل کر چکے ہیں۔ اس مجروح روایت میں حرف لو آیا ہے جو زبان عرب میں ناممکنات اور محالات کے لئے آتا ہے۔ قرآن حکیم میں اﷲتعالیٰ نے اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر اور باقی انبیاءo کا اجمالاً ذکر کر کے فرمایا:’’ولو اشرکوا لحبط عنہم ما کانوا یعملون (الانعام:۸۸)‘‘{اگر یہ پیغمبر بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے تمام اعمال بربادہو جاتے۔}

اس آیت میں تعلیق بالمحال ہے۔ یعنی حرف لو سے یہ مسئلہ فرضی طور پر بیان کیاگیا ہے کہ بالفرض اگر نبی بھی اﷲتعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتے تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جاتے۔ کیا مرزائیوں کے مذہب میں اس سے یہ استدلال صحیح ہوگا کہ نبیوں سے بھی شرک ہوسکتا ہے؟ نعوذ باﷲ منہ!

حضرت ملا علی قاریv مندرجہ بالا عبارت کی تشریح کرتے ہیں: ’’لا یحدث بعدہ نبی لانہ خاتم النّبیین السابقین وفیہ ایما الی انہ لو کان بعدہ، نبی لکان علیا وہو لا ینا فی ماورد فی حق عمرq صریحا لان الحکم فرضی فکانہ قال لو تصور بعدی لکان جماعۃ من اصحابی انبیاء ولکن لا نبی بعدی وہذا معنی قولہa لوعاش ابراہیم لکان نبیا‘‘

(مرقات ج۵ ص۵۶۴، مصنفہ ملا علی قاریv)

132

(ترجمہ) حضورa کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ کیونکہ آپa پہلے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اگر آپa کے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو حضرت علیq نبی ہوتے اور یہ حدیث اور اسی طرح وہ حدیث جو صراحت کے ساتھ حضرت عمرq کے بارے میں آئی ہے خاتم النّبیین کی آیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ یہ حکم فرضی اور تقدیری طور پر ہے۔ گویا یہ کہا گیا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی تصور کیاجاسکتا تو میرے فلاں اور فلاں صحابی نبی ہوتے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا اور یہی معنی اس حدیث کا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔

توضیح فرمادی کہ حضرت علیq حضرت عمرq اور حضرت ابراہیمq کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں وہ تمام فرضی طور پر اور تقدیری طور پر بیان ہوئی ہیں۔ اگر بالفرض حضورa کے بعد اور کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرq، حضرت علیq اور حضرت ابراہیمq ہوتے۔ لیکن آپa کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اس لئے یہ حضرات بھی نبی نہ ہو سکے۔ حضرت ملا علی قاریv نے اپنے عقیدہ کے متعلق لکھا ہے:’’دعویٰ النبوۃ بعد نبیناa کفر بالاجماع‘‘

(شرح فقہ اکبر ص۲۰۲)

{ہمارے نبی کریمa کے بعد نبوت کا دعویٰ بااجماع امت کفر ہے۔}

مرزائی اعتراض: ’’مودودی صاحب کے پیش کردہ اقوال کے قائلین میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ آنحضرتa کے بعد امتی نبی کا آنا بند ہے۔ اگر ایسا ایک قول بھی مودودی صاحب پیش کر سکتے ہوں تو ہماری طرف سے انہیں چیلنج ہے۔ مگر وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے۔‘‘

(پمفلٹ ص۵)

جواب: یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضور سرور کائناتa کے بعد مدعیان نبوت کاذبہ ’’امتی نبی‘‘ ہی کہلائیں گے۔ جیسا کہ مخبر صادق حضرت نبی کریمa کا ارشاد ہے: ’’سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی ہذا حدیث صحیح‘‘

(مشکوٰۃ کتاب الفتن)

یقینا میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

133

مودودی صاحب آپ کے اس چیلنج کا جواب نہیں دیتے تو یہ ان کا اور آپ کا معاملہ ہے۔ ہمیں اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ محتسب راوزدن خانہ چہ کار۔ اگر آپ کو ہمت ہے تو ہمیں چیلنج دیجئے۔ دنیا دیکھے گی کہ ہم آپ کے مطالبہ کے پرخچے اڑا کر روز روشن میں آپ کو کیسے تارے دکھاتے ہیں۔ ان شاء اﷲ! ؎

  1. پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں

    جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغ نام نہیں

بزرگان امت کی نسبت مرزائی عقیدہ

مرزائی عامتہ المسلمین کو فریب دینے کی غرض سے بزرگان دین کا نام لیتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ اکابرین امت کی نسبت ان کا عقیدہ یہ ہے:

۱… ’’بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ ابھی اس عقیدہ سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہوچکے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۲۰، خزائن ج۲۱ ص۲۸۴)

۲… ’’اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ ج۱ ص۱۳۱، ج۲ ص۳۸۹)

۳… ’’اقوال سلف وخلف کوئی مستقل حجت نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۲۸، خزائن ج۳ ص۳۸۹)

۴… ’’امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۲، خزائن ج۳ ص۱۷۲)

۵… ’’ہمارے مخالف سخت شرمندہ اور لاجواب ہوکر آخر کو یہ عذر پیش کردیتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی۔ ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھالی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۲۴، خزائن ج۲۱ ص۲۹۰)

یہ ہے صحابہi ائمہ اور اولیائے امت کی نسبت مرزائیوں کا عقیدہ کہ (نعوذ باﷲ من ذلک) انہیں یہود سے مشابہت دی گئی اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ قادیانی نبوت کی حفاظت کے لئے (معاذ اﷲ) انہیں مثیل یہود کے اقوال کو پناہ گاہ بنایا گیا ہے۔تلک اذا قسمۃ ضیزیٰ!

134

حضرت مسیحؑ

مرزا قادیانی کی نظر میں

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

135

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

توہین انبیاء کفر ہے

حضرات انبیاء کرامo کی جماعت اس کائنات میں سب سے افضل واکمل اور مقدس ترین جماعت ہے۔ جسے اﷲتعالیٰ نے منصب رسالت ونبوت کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی تحقیر وتنقیص چونکہ اس منصب رفیع کی توہین ہے۔ اس لئے باجماع امت یہ بدترین کفر وارتداد ہے۔ جیسا کہ قاضی عیاض مالکیv اپنی بے نظیر کتاب ’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰیa‘‘میں، حافظ ابن تیمیہ حنبلیv نے ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسولa‘‘میں، شیخ تقی الدین سبکی الشافعیv نے ’’السیف المسلول علٰی من سب الرسولa‘‘میں، شیخ ابن عابدین حنفیv نے ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘میں اور ان سب سے پہلے الامام المجتہد قاضی ابویوسفv نے’’کتاب الخراج‘‘میں اس کی تصریح کی ہے کہ ایسا شخص مرتد اور واجب القتل ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کے کفر وارتداد کے وجوہ بے شمار ہیں۔ ان میں سے ایک خبیث ترین سبب یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے قریب قریب تمام انبیاء کرامo کی مختلف عنوانات سے تنقیص کی ہے۔ خصوصاً حضرت عیسیٰm کی شان میں تو مرزاقادیانی نے ایسی گستاخیاں کی ہیں جن سے پہاڑوں کے جگر شق ہو جائیں۔ قادیانی امت مرزاقادیانی کی ان مغلظات پر تاویلات کا پردہ ڈالنا چاہتی ہے لیکن تاویلات کے ذریعہ سیاہ کو سفید کر دکھانا، رات کو دن ثابت کرنا اور کفر وارتداد کو عین اسلام جتانا ناممکن ہے۔

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر ؒ کو حق تعالیٰ شانہ جزائے خیر عطاء فرمائے کہ انہوں نے اس رسالہ میں ایک طرف حضرت عیسیٰm کے اس مقام ومرتبہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو قرآن کریم کی آیات بینات سے ثابت ہے اور دوسری طرف مرزاغلام احمد قادیانی کی ان دل خراش اور ایمان سوز عبارتوں کو جمع کر کے ان تمام تاویلات اور معذرتوں کا جائزہ لیا ہے۔ جو اس سلسلہ میں خود مرزاقادیانی یا ان کے مریدوں

136

کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔ جن لوگوں کی قسمت میں ایمان نہیں یا جنہوں نے مرزاقادیانی کی محبت میں عقل وشعور کے سارے دریچے بند کر دئیے ہیں۔ ’’ختم اﷲ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ‘‘ان کے حق میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی۔ لیکن جن کے دل میں حق وانصاف کی کوئی رمق یا عقل وشعور کی ادنیٰ حس بھی موجود ہے۔ اگر وہ اس رسالہ کا ٹھنڈے دل سے مطالعہ کریں گے تو ان پر ان شاء اﷲ! یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰm کی تحقیر وتنقیص کر کے اپنے لئے کون سا مقام منتخب کیا ہے؟

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ رسالہ اس سے پہلے دوبار شائع ہوچکا ہے اور یہ تیسری اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن قادیانی صاحبان اس کا آج تک کوئی جواب نہیں دے سکے اور نہ ان شاء اﷲ! قیامت تک اس کا کوئی معقول جواب دیا جاسکتا ہے۔

بہرحال یہ رسالہ جہاں قادیانیوں کے لئے دعوت غوروفکر ہے۔ وہاں ہمارے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی تازیانہ عبرت ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے باپ دادا یا ماں بہنوں کے حق میں وہ الفاظ استعمال کرے، جو مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰm کے حق میں استعمال کئے ہیں تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟

اسی سے وہ یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ مرزاقادیانی کے بارے میں ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا کیا ہے؟ حق تعالیٰ شانہ اس رسالہ کو قبول فرماکر حضرت مؤلف کے لئے صدقہ جاریہ بنائیں اور آپ اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ ’’وﷲ الحمد اوّلاً واخراً‘‘

محمد یوسف لدھیانوی

۲۸؍ربیع الثانی ۱۴۰۲ھ، مطابق ۲۳؍فروری ۱۹۸۲ء

137

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’الحمد ﷲ وحدہ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ‘‘

امت مرزائیہ کی الجھن

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اﷲتعالیٰ نے حضرت مسیحؑ کے فضائل ومعجزات اور ان کی حیات جسمانی کا ذکر فرمایا ہے۔ انگریز کے قانون اور اس کی پولیس کی حفاظت میں مرزاغلام احمد قادیانی نے قرآن وحدیث اور اجماع امت کے خلاف نیا عقیدہ گھڑ لیا کہ حضرت مسیحؑ فوت ہوگئے تھے اور آنے والا مسیح میں ہوں۔ دعویٰ مسیحیت کی رقابت کے باعث مرزاغلام احمد قادیانی نے اﷲتعالیٰ کے پیارے رسول حضرت مسیحؑ کی توہین وتذلیل کے لئے بہتان طرازی اور افتراء پردازی کا ایسا ریکارڈ قائم کیا کہ جس نے یہودیوں کے بہتان عظیم کو بھی مات کر دیا۔ اﷲتعالیٰ کے ایک محبوب نبی کی توہین سے مرزاقادیانی کا یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کی تنقیص سے میری مسیحیت کی شان ظاہر ہوگی۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’ایسے جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی پٹڑی جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ ایسے بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔‘‘

(ست بچن ص۸،۹، خزائن ج۱۰ ص۱۲۰)

مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی خود ساختہ نبوت ومسیحیت کی ’’پٹڑی جمانے‘‘ کے لئے حقیقی مسیحؑ کی ذات گرامی کے متعلق وہ سوقیانہ اور مغلظ گالیاں تحریر کی ہیں کہ جنہیں کوئی شریف انسان سننا گوارا نہیں کر سکتا۔ امت مرزائیہ عجیب الجھن میں گرفتار ہے۔ نہ اپنے ’’مسیح موعود‘‘ کی متعفن عبارات کا انکار کر سکتی ہے، نہ ہی حضرت مسیحؑ کی توہین سے ’’قادیانی جعلی مسیح‘‘ کی برأت کر سکتی ہے۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔

قادیانی پمفلٹ

کبھی کبھار کوئی پمفلٹ یا مضمون شائع کر کے اپنے دام افتادوں کو تسلی دی جاتی ہے کہ ہم ’’انڈین مسیح موعود‘‘ کا حق نمک ادا کر رہے ہیں۔ چنانچہ ایک پمفلٹ نمبر۶ ’’حضرت

138

مریم صدیقہp اور حضرت عیسیٰm کا مقام‘‘ کلکتہ (ہندوستان) کی قادیانی جماعت نے شائع کیا۔ اسے پاکستان میں بھی تقسیم کیاگیا ہے۔ اس میں فریب کاری اور افتراء پردازی سے اپنے نبی مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریرات، متعلقہ توہین حضرت مسیحؑ پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ قادیانی مصنف نے لکھا ہے کہ مسیح موعود نے حضرت مسیحؑ کی توہین نہیں کی اور حضرت مریم کے حمل کو ناجائز حمل نہیں کہا۔ دیدۂ دلیری کی انتہاء یہ ہے کہ (کشتی نوح ص۱۶) کا ادھورا حوالہ نقل کردیا۔ اگر پوری عبارت نقل کر دیتا تو حقیقت کھل کر سامنے آجاتی اور مرزاقادیانی کے عقیدہ کا عامتہ الناس کو علم ہو جاتا۔ پمفلٹ نویس نے کشتی نوح سے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے۔

’’اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸)

قادیانی اپدیشک نے ادھورا حوالہ نقل کر کے سمجھ لیا کہ ہم ’’قادیانی مینارۃ المسیح‘‘ کے گنبد میں مستور ومحفوظ ہوگئے۔ اصل کتاب کون دیکھے گا، بات بن جائے گی یا کم ازکم لوگوں کو شک تو ضرور پڑ جائے گا کہ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰm کو ناجائز حمل سے پیدا ہونے والا نہیں لکھا۔ ہم مرزاغلام احمد قادیانی کی پوری عبارت نقل کرتے ہیں۔ اس سے حق کے متلاشیوں کو اصل حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔

بوجہ حمل مریم کا ناجائز نکاح

مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

۱… ’’میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔ موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں، میں مسیح موعود ہوں۔ سو میں اس کی عزت کرتا ہوں۔ جس کا ہم نام ہوں اور مفسد ومفتری ہے۔ وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح، میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت

139

کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے، جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیاگیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی بنیاد کیوں ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۷،۱۸)

مسیحؑ کا باپ حقیقی بھائی اور بہنیں

مرزاقادیانی لکھتا ہے:

۲… ’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری (بڑھئی ناقل) کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۲۷، خزائن ج۳ ص۲۵۴ حاشیہ)

۳… ’’یسوع مسیح کے چار بھائی اور دوبہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۱۸)

۴… ’’آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

نکاح سے پہلے حمل

۵… ’’حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔ مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہوجاتا

140

ہے، جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں۔ کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناتے کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں۔ جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔‘‘

(ایام الصلح اردو حاشیہ ص۷۲، خزائن ج۱۴ ص۳۰۰)

۶… ’’رسوم وعادات است بایں معنی کہ افاغنہ مثل یہود فرقے میان نسبت ونکاح نہ کردہ دختران از ملاقات ومخالطت با منسوب مضایقت نہ گزید، مثالاً اختلاط مریم صدیقہ با منسوب خودش یوسف وبمعیت وے خارج بیت گردش نمودن شہادۃ حق بر ایں رسم است در بعضے از قبائل خوانین جبال مخالطت دختران بمنسوبان بہ نحوے جاری وساری است کہ غالب اوقات را دخترے قبل از اجرائے مراسم نکاح آہستنی شدہ وعادتاً محل عاروشنار قوم نگر دیدہ اغماض واعراض ازاں مے شود، چہ ایں مردم از تابہ یہود نسبت را دررنگ نکاح داشتہ تعیین کابین ہم دراں مے کنند۔‘‘

(ایام الصلح فارسی ص۶۵ حاشیہ، مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان ۱۸۹۸ء اگست)

مرزائیو! محولہ بالا حوالہ جات عربی نہیں۔ ’’متوفیک ورافعک‘‘کی علمی بحث نہیں۔ اردو اور فارسی کی صاف صاف عبارتیں ہیں۔ پاک وہند میں لاکھوں غیرمسلم اردو اور فارسی جاننے والے موجود ہیں۔ ان کو ہی دکھالو اور ان سے فیصلہ کرالو کہ ان عبارات سے حضرت عیسیٰm یوسف نجار کے بیٹے ثابت ہوتے ہیں یا نہیں؟

مندرجہ بالا حوالہ جات کے پیش نظر ان سوالوں کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟

۱… کیا یوسف نجار نامی کوئی شخص (نعوذ باﷲ) حضرت مسیحؑ کا باپ تھا؟

۲… کیا حضرت مسیحؑ کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں؟

۳… حقیقی بھائی بہن کی تعریف کیا ہے؟ جن کے ماں باپ ایک ہوں یا اور کوئی لغت قادیاں اور موڈی نگر (ربوہ) میں نئی ایجاد ہوئی ہے؟

۴… کیا قرآن مجید کی کوئی آیت یا کوئی صحیح حدیث پیش کر سکتے ہو کہ حضرت مریم صدیقہ کا نکاح یوسف نجار سے ہوا تھا اوراس سے حضرت مریم کی اولاد ہوئی۔

۵… حضرت مریم نے اﷲتعالیٰ سے بتول (کنواری) رہنے کا جو عہد کیا تھا۔ اس عہد کی خلاف ورزی کر کے مریم کامل مومنہ رہیں؟

141

۶… کیا حضرت مریم کو حمل پہلے ہوا اور نکاح بعد؟ کس مستند اور غیرمحرف کتاب میں یہ واقعہ لکھا ہے؟

۷… حضرت مسیحؑ کے باپ کا ذکر کر کے مرزاغلام احمد نے یہودیوں کی ہمنوائی کی ہے یا نہیں؟

۸… حضرت مریم کی مجبوریوں کا ذکر کس آیت یا کس حدیث میں ہے؟

۹… کس کتاب میں لکھا ہے کہ بعض سرحدی پٹھان قبیلوں کی لڑکیاں نکاح سے پہلے اپنے منسوبوں سے حاملہ ہو جاتی ہیں؟ اس کتاب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

۱۰… حضرت مریم کا نکاح سے پہلے اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ اختلاط کا کیا مفہوم ہے؟ قبل از نکاح اپنے منسوبوں سے حاملہ ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ حضرت مریم کو تشبیہ دینے سے کیا تمہارے نبی کی غرض یہ نہ تھی کہ انہیں لڑکیوں کی طرح (معاذ اﷲ) مریم حاملہ ہوئیں؟

مرزاغلام احمد کی عبارت کا صاف مفہوم یہ ہے:

۱… حضرت مریم اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل از نکاح اختلاط کرتی تھی اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھیں اور پٹھانوں کے بعض قبائل کی لڑکیوں کی طرح نکاح سے پہلے حاملہ ہو گئی تھی۔

۲… مریم کامل ایماندار نہ تھی، کیونکہ اس نے اﷲتعالیٰ سے کنواری رہنے کا عہد کیا تھا۔ لیکن نکاح کرکے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی اور نکاح بھی ایام حمل میں کیا جو ناجائز تھا۔

۳… موسوی شریعت کی رو سے یہودیوں میں ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی ناجائز تھی۔ اس لئے حضرت مریم کی یوسف نجار سے نسبت اور نکاح ناجائز ہوئے۔ لہٰذا (معاذ اﷲ) حسب تصریح مرزاغلام احمد حضرت مریم کے چار بیٹوں اور دو بیٹوں کی پیدائش بھی ناجائز تھی۔

۴… حضرت مریم کا ناجائز نکاح بزرگان قوم نے اس مجبوری کی وجہ سے کیا کہ وہ حاملہ ہوگئی تھی۔

142

۵… نکاح سے پہلے کا حمل یوسف نجار ہی کا تھا۔ کیونکہ یوسف نجار سے حضرت مریم کی جو اولاد پیدا ہوئی، مرزاغلام احمد انہیں حضرت عیسیٰm کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں قرار دیتا ہے۔ حقیقی بھائی بہن وہ ہوتے ہیں جو ایک ماں باپ سے ہوں، اگر ماں ایک اور باپ مختلف ہوں تو ایسے بہن بھائی اخیافی کہلاتے ہیں۔ اگر باپ ایک اور مائیں الگ الگ ہوں تو انہیں علّاتی کہا جاتا ہے۔

حضرت مسیح کا خاندان

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

۶… ’’آپ (یسوع مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۷… ’’ہاں! مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے، اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا۔ ہم تو سوچ کر تھک گئے۔ اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا۔ کیا ہی خوب خدا ہے، جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں۔‘‘

(نور القرآن نمبر۲ ص۱۲، خزائن ج۹ ص۳۹۴)

مسیحؑ کا چال چلن

مرزاقادیانی لکھتا ہے:

۸… ’’مسیح کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ، پیو، شرابی۔ نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۳،۲۴)

۹… ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا، اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰm شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۵ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

۱۰… ’’میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ج۱ ص۱۲۴، ۱۹۰۲ء)

143

۱۱… ’’ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔‘‘

(نسیم دعوت طبع دوم ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۴۳۴)

۱۲… ’’یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بدنتیجہ ہے۔‘‘

(ست بچن ص۱۲۹ حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۲۹۶)

۱۳… ’’آپ (یسوع مسیح) کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہوکہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگادے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سرپر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۱۴… ’’ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے، گویا بغل۱؎ میں ہے۔ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سرپرعطر مل رہی ہے۔ کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ رہی ہے اور گود میں تماشہ کر رہی ہے۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے۔ جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ کم بخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز واداء کرنے سے

۱؎

یہ الفاظ مرزانے جلی قلم سے لکھے ہیں۔ (اختر)

144

کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور راہ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زناکاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔‘‘

(نور القرآن نمبر۲ ص۴۷،۴۸، خزائن ج۹ ص۴۴۹)

برتن سے وہی ٹپکتا ہے، جو اس میں ہوتا ہے۔ محولہ بالا عبارت میں مرزائی تہذیب نے برہنہ رقص کیا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اس عبارت کے مکروہ الفاظ انجیل میں نہیں ہیں۔ مرزا نے یسوع اور انجیل کا نام لے کر دل کی بھڑاس نکالی ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ ہم انجیل کی اصل عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ عامتہ الناس اندازہ لگا سکیں کہ مرزاقادیانی نے کسی قدر کذب بیانی اور افتراء پردازی اور بہتان طرازی کا مظاہرہ کیا ہے۔

’’پھر کسی فریسی نے اس یسوع مسیح سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا، پس وہ اس فریسی کے گھر جاکر کھانا کھانے بیٹھا تو دیکھو ایک بدچلن عورت جو اس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے۔ سنگ مرمر کی عطردانی میں عطرلائی اور اس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہوکر اس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے پونچھے اور اس کے پاؤں بہت چومے اور ان پر عطر ڈالا۔ اس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اسے چھوتی ہے، وہ کون ہے؟ اور کیسی عورت ہے، کیونکہ بدچلن ہے۔ یسوع نے جواب میں اس سے کہا۔ اے شمعون! مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔ وہ بولا اے استاد کہ کسی ساہوکار کے دوقرض دار تھے، ایک پانچ سودینار کا، دوسرا پچاس کا۔ جب ان کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ رہا تو اس نے دونوں کو بخش دیا۔ پس اس میں سے کون اس سے زیادہ محبت رکھے گا؟ شمعوننے جواب میں کہا میری دانست میں وہ جسے اس نے زیادہ بخشا۔ اس نے اس سے کہا تو نے ٹھیک فیصلہ کیا اور اس عمر کی طرف پھر کر اس نے شمعون سے کہا۔ کیا تو اس عورت کو دیکھتا ہے؟ میں تیرے گھر میں آیا، تو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا۔ مگر اس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھگو دئیے اور اپنے بالوں سے پونچھے تو نے مجھ کو بوسہ نہ دیا۔ مگر اس نے جب سے میں آیا ہوں، میرے پاؤں کا چومنا نہ چھوڑا۔ تو نے میرے سر میں تیل نہ ڈالا۔ مگر اس

145

نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا۔ اسی لئے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے۔ کیونکہ اس نے بہت محبت کی۔ مگر جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے اور اس عورت سے کہا، تیرے گناہ معاف ہوئے۔ اس پر وہ جو اس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے، اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہوں کو بھی معاف کردیتا ہے؟ مگر اس نے عورت سے کہا کہ تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے۔ سلامت چلی جا۔‘‘

(انجیل لوقا باب:۷، درس۳۶تا۵۰)

’’پھر مریم نے جٹاماسی کا آدھ سیر خالص اور بیش قیمت عطر لے کر یسوع کے پاؤں پر ڈالا اور اپنے بالوں سے اس کے پاؤں پونچھے اور گھر عطر کی خوشبو سے مہک گیا۔ مگر اس کے شاگردوں میں سے ایک شخص یہوداہ اسکریوطی جو اسے پکڑوانے کو تھا، کہنے لگا یہ عطر تین سودینار میں بیچ کر غریبوں کو کیوں نہ دیا گیا؟ اس نے یہ اس لئے نہ کہا کہ اس کو غریبوں کا فکر تھا بلکہ اس لئے کہ چور تھا اور چونکہ اس کے پاس ان کی تھیلی رہتی تھی۔ اس میں جو کچھ پڑتا، وہ نکال لیتا تھا۔ پس یسوع نے کہا کہ اسے یہ عطر میرے دفن کے دن کے لئے رکھنے دے۔ کیونکہ غریب غرباء تو ہمیشہ تمہارے پاس ہیں۔ لیکن میں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہوں گا۔‘‘

(انجیل یوحنا باب:۱۲ درس۴تا۸)

’’اور جب یسوع بیت عنیاہ میں شمعون کوڑھی کے‘‘ گھر میں تھا تو ایک عورت سنگ مرمر کی عطردانی میں قیمتی عطر لے کر اس کے پاس آئی اور جب وہ کھانا کھانے بیٹھا تو اس کے سر پر ڈال دیا۔ شاگرد یہ دیکھ کر خفاء ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ کس لئے ضائع کیاگیا۔ وہ تو بڑے داموں کو بک کر غریبوں کو دیا جاسکتا تھا۔ یسوع نے یہ جان کر ان سے کہا کہ اس عورت کو کیوں دق کرتے ہو؟ اس نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔ کیونکہ غریب غرباء تو ہمیشہ تمہارے پاس ہیں۔ لیکن میں تمہارے پاس ہمیشہ نہ رہوں گا اور اس نے جو عطر میرے بدن پر ڈالایہ میرے دفن کی تیاری کے واسطے کیا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمام دنیا میں جہاں کہیں اس خوشخبری کی منادی کی جائے گی۔ یہ بھی جو اس نے کیا۔ اس کی یادگاری میں کہا جائے گا۔‘‘

(انجیل متی باب:۲۶، درس۶تا۱۳)

146

ہم نے اناجیل سے اصل واقعہ نقل کر دیا ہے۔ وہ بدچلن عورت، جس کا نام مریم تھا۔ اپنے گناہوں کی معافی کے لئے روتی ہوئی یسوع مسیح کے پاس آئی۔ چنانچہ اسے کہاگیا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کے توہین آمیز الفاظ جنہیں اس نے جلی حروف میں لکھا ہے: ’’گویا بغل میں ہے۔‘‘ گود میں تماشہ کر رہی ہے۔ یسوع صاحب حالت وجد میں بیٹھے ہیں۔ خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے۔ جس کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔ یسوع کی شہوت وغیرہ حیاسوز الفاظ اناجیل میں ہرگز نہیں۔

مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

۱۵… ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو ا س پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء ٹائٹل، پیج آخری، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

اس عبارت میں مرزائیوں کے مسیح موعود نے صاف الفاظ میں اپنے عقیدہ کا اظہار کر دیا کہ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مسیحؑ کو حصور اس لئے نہیں فرمایا۔ کیونکہ:

(۱)مسیح شراب پیتا تھا۔

(۲)فاحشہ عورت نے اپنی بدکاری کی کمائی کے روپے کا خریدا ہوا عطر مسیح کے سر پر ملا۔

(۳)فاحشہ عورت نے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے مسیح کے بدن کو چھوا تھا۔

(۴)غیر محرم جوان عورت مسیح کی خدمت کرتی تھی۔

بقول مرزا حضرت مسیحؑ معاذ اﷲ ان گناہوں میں ملوث تھے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں انہیں حصور نہ کہاگیا۔ ثابت ہوا کہ یہ کوئی فرضی وجود یا انجیلی یسوع نہ تھا، بلکہ اﷲتعالیٰ کے رسول حضرت مسیحؑ تھے۔

147

ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے مرشد کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیحؑ کے محولہ بالا ’’گناہوں‘‘ کی وجہ سے انہیں قرآن مجید میں ’’حصور‘‘ نہ کہاگیا۔ قرآن حکیم میں تو حضرت آدمm، حضرت نوحm، حضرت ابراہیمm، حضرت موسیٰm اور حضور سرور کائنات سید الاولین والاخرین خاتم النّبیین رحمتہ للعالمین حضرت محمد مصطفیa فداہ ابی وامی کو بھی ’’حصور‘‘ نہیں کہاگیا۔ اپنے ’’قادیانی نبی‘‘ کے رسالہ، کتاب یا کسی مقالہ سے بتاؤ کہ نعوذ باﷲ من ذالک ان انبیاءo کے کون کون سے گناہ تھے جن کی وجہ سے ان حضرات کو قرآن مجید میں ’’حصور‘‘ نہیں فرمایا گیا؟

قادیانی مرزا لکھتا ہے:

۱۶… ’’ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

۱۷… ’’ہاں! آپ (یسوع مسیح) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

۱۸… ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ (یسوع مسیح) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

۱۹… ’’نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے، یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی، عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

۲۰… ’’اور آپ (یسوع مسیح) کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۲۱… ’’پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰm نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۹، خزائن ج۲۰ ص۳۴۶)

معجزات مسیحؑ کا انکار

مرزاقادیانی نے لکھا ہے:

148

۲۲… ’’اور بموجب بیان یہودیوں کے اس (یسوع مسیح) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ محض فریب اور مکر تھا۔‘‘

(چشمہ مسیحی نمبر۸، خزائن ج۲۰ ص۳۴۴)

۲۳… ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

۲۴… ’’مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں، میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟‘‘

(ازالہ اوہام ص۵، خزائن ج۳ ص۱۰۶)

۲۵… ’’ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں، بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکراور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۲۶… ’’مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے، جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہر قسم کی بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳۴حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۶۳)

۲۷… ’’یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ معجزہ (پرندے بنا کر اڑانے کا ناقل) صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳۵ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۶۳)

کیا کہنے ہیں قادیانی منطق کے۔ روح القدس کی تاثیر تالاب میں ہو تو عین توحید ہے، اس سے شرک کا واہمہ تک نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر وہی خارق عادت فعل بطریق معجزہ حضرت عیسیٰm سے صادر ہوتو شرک ہو جاتا ہے۔ ’’بئس للظالمین بدلا‘‘معجزہ کو کھیل سمجھنا کسی بگڑے ہوئے دل ودماغ ہی کا کام ہوسکتا ہے۔

149

۲۸… ’’اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۲۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۴)

۲۹… ’’ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنے روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۲۸ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵،۲۵۶)

۳۰… ’’مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل (عمل الترب ناقل) ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۲۹ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۷،۲۵۸)

۳۱… ’’یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳۰ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۸)

۳۲… ’’اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات۱؎ سے بھرا ہوا ہے۔ اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰm نے اپنا رفیق بنایا۔ گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا۔ پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی۔ جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۲۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵)

۱؎

’’دین بہائی‘‘ میں بھی نفخ صور، قیامت، وزن اعمال جنت وجہنم وغیرہ کو استعارہ قرار دے کر ان کی حقیقت سے انکار کیاگیا ہے۔

(دیکھو کتاب قیامت از محفوظ الحق علمی بہائی)

150

۳۳… ’’سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو، جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے سے یا کسی پھوک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے، یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۲۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۴،۲۵۵)

مرزاقادیانی کی متذکرہ بالا عبارات میں کس قدر تضاد ہے۔ حضرت مسیحؑ کے مٹی سے بنائے ہوئے پرندوں کی پرواز کے متعلق ان عبارات کا واضح مفہوم یہ ہے:

۱… تالاب کی مٹی میں روح القدس کی تاثیر تھی۔ اس تالاب کی مٹی سے بنائے ہوئے پرندے پرواز کرتے تھے۔

۲… حضرت مسیحؑ کا پرندوں کو بنا کر اڑانا ساحرانہ شعبدہ بازی تھی۔

۳… عمل ترب یعنی مسمریزم کی وجہ سے مٹی سے بنائے ہوئے پرند پرواز کرتے تھے۔

۴… مسیحؑ کا مٹی سے پرند بنا کر اﷲتعالیٰ کے حکم سے ان کو اڑانا یہ قرآن مجید میں استعارہ ہے۔ مٹی کی چڑیوں سے مراد امی اور نادان لوگ ہیں۔ جن میں حضرت مسیحؑ نے ہدایت کی روح پھونک دی۔ جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔

۵… حضرت مسیحؑ نے یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس بڑھئی کا کام کیا۔ جس کے باعث اس قدر ماہر فن ہوگئے تھے کہ مٹی کے ایسے کھلونے بنائے، جو کل دبانے سے پرواز کرتے تھے۔ یہ ہیں مرزاقادیانی کے بیان کردہ حقائق ومعارف جن پر امت مرزائیہ کو ناز ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب بھی اﷲتعالیٰ کے کلام مجید کی تحریف معنوی اور تفسیر بالرائے کی جائے۔ تب اختلافات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ چونکہ تمام توجیہات باطلہ تھیں۔ اس لئے یقین اور وثوق کسی ایک پر نہ تھا بلکہ متذکرہ بالا تمام تحریفات ’’مالہا من قرار‘‘کا مصداق ہیں۔

جن مہتم بالشان معجزات کا قرآن مجید نے حضرت مسیحؑ کی طرف انتساب کیا ہے۔ مرزاقادیانی نے ان معجزات کو استعارہ کا لباس پہنا کر اور ان کا انکار کر کے یہود کی

151

ہمنوائی کی ہے۔ معجزات کے انکار کی وجہ یہ ہوئی کہ مخالفین نے مرزا سے مطالبہ کیا کہ اگر تم مثیل مسیح ہو تو حضرت مسیحؑ کی طرح معجزات کیوں نہیں دکھاتے؟ چونکہ اس کے دعویٰ مسیحیت کی بنیاد ہی کذب وافتراء پر تھی اور ’’قادیانی مسیحیت مآب‘‘ کا کرامت یا معجزہ سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ لوگوں کے مطالبے سے چھٹکارا پانے کے لئے یہ طریق مناسب سمجھا کہ معجزات مسیحؑ کو استعارہ، تالاب کی مٹی کی تاثیر، عمل الترب، مسمریزم، سحر، مکروہ، قابل نفرت، شعبدہ کہہ کر ان کی عظمت کو مشکوک کر کے ان کا انکار کر دیا۔ جیسا کہ لکھا ہے: ’’حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

مسیحؑ کی جھوٹی پیش گوئیاں

مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

۳۴… ’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰm کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱)

۳۵… ’’یہود تو حضرت عیسیٰm کے معاملہ میں ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰm نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰)

۳۶… ’’کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟ اور پیش گوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ ترابتر ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے، مری پڑے گی، لڑائیاں ہوں گی، قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں، اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵، خزائن ج۳ ص۱۰۶)

۳۷… ’’اس درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی… پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۴ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸)

152

۳۸… ’’جو اس یہودی فاضل نے حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں پر اعتراص کئے ہیں وہ نہایت سخت اعتراض ہیں، بلکہ وہ ایسے شخص ہیں کہ ان کا تو ہمیں بھی جواب نہیں آتا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۵، خزائن ج۱۹ ص۱۱۱)

کس قدر ظلم عظیم ہے کہ اﷲتعالیٰ کے محبوب نبی حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں کی تکذیب کر کے خود ہی مجلس ماتم برپا کی۱؎ حالانکہ اسی قادیانی مدعی نبوت نے لکھا ہے: ’’قرآن شریف میں ہے، بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر ہے کہ مسیح موعود کے وقت۲؎ طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیحؑ نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن ہے کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

نتیجہ صاف اور واضح ہے کہ نبی کی پیش گوئی نہیں ٹلتی۔ حضرت مسیحؑ کی پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ٹل گئیں۔ اس لئے حضرت مسیحؑ نبی نہ تھے۔ یہ ہیں قادیانی عقائد کے عجائبات۔ جب مرزاقادیانی کے اپنے بعض نظریات وعقائد یہودیوں والے ہیں، تو اسے یہودیوں کے اعتراضات کا جواب کیسے آتا؟

فضیلت مرزا

۳۹… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا، جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

۴۰… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا، جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں، وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

۱؎

مرزاغلام احمد قادیانی کے ایک استاذ مولوی گل علی شاہ شیعہ تھے۔

(سیرت المہدی حصہ اوّل طبع دوم، مصنفہ مرزابشیراحمد ایم۔اے، پسر مرزاغلام احمد)

شاید ماتم انہیں کے اثر صحبت کا نتیجہ ہے۔ (اختر)

۲؎

یہ ڈبل جھوٹ ہے اور قرآن مجید پر افتراء۔ (اختر)

153

۴۱… ’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں۱؎ کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)

۴۲… ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

اس عظیم الشان نبی سے افضلیت کا دعویٰ ہے، جو صاحب شریعت اور صاحب معجزات تھے۔ اﷲتعالیٰ نے جن کے فضائل وکمالات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان فرمائے ہیں۔ ’’قادیان کے الہامی۔‘‘ نے رعونت وخود پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودی عقیدہ اپنا کر اپنی فضیلت کا بے سرا راگ الاپا ہے۔ جیسا کہ اس نے لکھا ہے: ’’یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دو مسیح ظاہر ہوں گے اور آخری مسیح، جس سے اس زمانہ کا مسیح مراد ہے، پہلے مسیح سے افضل ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۴، خزائن ج۲۲ ص۱۵۸)

عجیب تماشہ ہے کہ دعویٰ مسیحیت کا اور عقیدہ یہود کا ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘شعبدہ بازی کا کمال ہے۔ ’’غیرتشریعی‘‘ (بے شریعتا) صاحب شریعت نبی سے افضل ہو۔

تباہ کن فتنہ

مرزاقادیانی لکھتا ہے:

۴۳… ’’وہ (مسیح) ایک خاص قوم کے لئے آیا اور افسوس کہ اس کی ذات سے دنیا کو کوئی روحانی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ ایک ایسی نبوت کا نمونہ دنیامیں چھوڑ گیا۔ جس کا ضرر اس کے فائدے سے زیادہ ثابت ہوا۔ اس کے آنے سے ابتلاء اور فتنہ بڑھ گیا۔‘‘

(اتمام الحجۃ لاہوری ایڈیشن ص۳۲، خزائن ج۸ ص۳۰۸)

’’قادیانی مدعی مسیحیت نے ایک ہی سانس میں متضاد باتیں کہہ دیں۔ پہلے جملہ

۱؎

ہمارے چیلنج کے جواب میں مرزائی مناظر ہمارے سامنے مناظروں میں سوائے انٹ شنٹ اور موم کی ناک کی طرح گول مول پیش گوئیوں کے مرزا کا کوئی معجزہ، نشان یا کارنامہ نہیں بتا سکتے۔ (اختر)

154

میں اپدیش دیا کہ حضرت مسیحؑ کی ذات گرامی سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ نہ پہنچ سکا۔‘‘

دوسرے جملہ میں انکشاف کیا جس کا ضرر اس کے فائدے سے زیادہ ثابت ہوا۔پہلے جملے میں حضرت مسیحؑ کے وجود مقدس اور ان کی نبوت سے فائدہ کا کلیتاً انکار ہے۔ دوسرے جملہ میں کسی قدر فائدہ کا اقرار، سچ ہے۔

’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

(ست بچن مرزاغلام احمد قادیانی ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)

مرزائی بتائیں کہ مندرجہ بالا عبارت کے پیش نظر ان کا کیا عقیدہ ہے؟

(۱)کیا حضرت مسیحؑ کی ذات اقدس سے دنیا کو کوئی روحانی فائدہ نہیں پہنچا؟

(۲)کیا حضرت مسیحؑ کی نبوت سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوا؟

(۳)نقل کفر، کفر نہ باشد کیا اﷲتعالیٰ کو نبوت کے لئے کوئی موزوں شخص نہ مل سکا۔ جو ایسی ہستی کو نبی بنادیا کہ جس کی نبوت نے نقصان زیادہ کیا اور نفع کم دیا؟

(۴)نبوت باری تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے یا تباہ کن فتنہ؟

غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

۴۴… ’’جو شخص کشمیر، سری نگر، محلہ خان یار میں مدفون ہے۔ اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے۔ خدا توبہ پابندی اپنے وعدہ کے ہرچیز پر قادر ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا۔ جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۵، خزائن ج۱۸ ص۲۳۵)

قادیانیو! سر جوڑ کر بیٹھو اور سوبار سوچ کر بتاؤ کہ اوپر کی عبارت میں تمہارے نبی نے کیسی متضاد بات لکھ دی کہ’’ خدا توبہ پابندی اپنے وعدے کے ہرچیز پر قادر ہے۔‘‘ کیا اس جملہ کا یہ مفہوم نہیں کہ اﷲتبارک وتعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق حضرت مسیحؑ کو زمین پر بھیج سکتا ہے۔ جملے کے دوسرے حصے میں گوہر افشانی کی۔ ’’لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا۔ جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘ دیکھئے! آپ کے

155

’’قادیانی پیغمبر‘‘ نے کس بھونڈے طریق سے حضرت مسیحؑ کے دوبارہ نزول کا ایک ہی جملہ میں اقرار اور انکار کردیا۔ کیا تمہارے عقیدہ کے مطابق تجسم خدا، تثلیت اور ابنیت کا فتنہ حضرت مسیحؑ کا برپا کیا ہوا ہے۔ کیا پولوسی مذہب کی ذمہ داری حضرت مسیحؑ پر عائد ہوتی ہے۔

شرمناک توہین

مرزاقادیانی لکھتا ہے:

۴۵… ’’وہ (مسیح ابن مریم) ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے، تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۳۲۹، خزائن ج۱ ص۴۴۱،۴۴۲)

۴۶… ’’اور اسلام نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھاتا ہے کہ خدا نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نومہینہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہگار جسم سے جو بنت سبع اور تمر اور راحاب جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں ابنیت کا حصہ رکھتا تھا۔ خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں۔ جیسے خسرہ، چیچک، دانتوں کی تکالیف وغیرہ۔ تکلیفیں وہ سب اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آگئی۔ وجہ یہ ہے کہ وہ (خداتعالیٰ) پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کرچکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیرفانی ہے اور موت اس پر جائز نہیں۔ ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلّٰاتا پیدا ہو جاتا ہے اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب اٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہوجاتا ہے۔‘‘

(ست بچن ص۱۷۳،۱۷۴، خزائن ج۱۰ ص۲۹۸،۲۹۸)

۴۷… ’’مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہیں۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیحؑ مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث

156

ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔‘‘

(نورالقرآن نمبر۲ ص۱۱، خزائن ج۹ ص۳۹۲،۳۹۳)

۴۸… ’’مریم کا بیٹا کشلیا کے بیٹے (رام چند عاقل) سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔‘‘

(انجام آتھم ص۴۱، خزائن ج۱۱ ص۴۱)

ہم نے مشتے نمونہ ازخروارے مرزاغلام احمد قادیانی کی چند دلازار اور توہین آمیز عبارات نقل کی ہیں کہ جن میں آنجہانی نے کھلے بندوں اﷲتعالیٰ کے سچے رسول حضرت مسیحؑ فداہ ابی وامی کی انتہائی تذلیل کی اور ان کی ذات گرامی کے متعلق بہتانات وافتراء کی اشاعت کی گئی ہے۔ رقابت کی وجہ سے مرزاقادیانی کا دل اور دماغ حضرت مسیحؑ کے بغض سے لبریز تھا۔ اس لئے اس نے ان کی مقدس ومطہر ہستی کی طرف شراب پینے اور خنزیر کھانے تک کی نسبت کر دی۔ معاذ اﷲ! استغفراﷲ!!

متنبی قادیان نے لکھا ہے:

۴۹… ’’یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرتa کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اﷲ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال وحرام کی کچھ پرواہ نہ رکھے گا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)

کس قدر جھوٹ وافتراء کا مجموعہ ہے یہ عبارت۔ سچ ہے برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔ اس خبیث عبارت کا ایک ایک لفظ کذب بیانی کا مرقع ہے۔ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ آسمان سے تشریف لانے کے بعد سیدنا حضرت مسیحؑ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر عمل پیرا ہوں گے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے ثابت ہے۔

۱… حضرت شیخ محی الدین ابن عربیv نے تحریر فرمایا ہے: ’’وان عیسٰیm اذا نزل ما یحکم الا بشریعۃ محمدa‘‘

(فتوحات مکیہ ج۱ باب۱۴ ص۱۵۰)

اور حضرت عیسیٰm جب نازل ہوں گے تو وہ صرف حضرت نبی کریمa ہی کی

157

شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے۔’’وکذالک عیسٰیm اذا نزل الی الارض لایحکم فینا الا بشریعۃ نبیناa‘‘

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۸)

’’اسی طرح جب حضرت عیسیٰm آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی محمد مصطفیa کی شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے۔‘‘

۳… حضرت مجدد الف ثانیv نے تحریر فرمایا ہے: ’’حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیم۔ حضرت عیسیٰm جب آسمان سے نازل ہوں گے تو آخری رسول حضرت نبی کریمa کی شریعت پر عمل فرمائیں گے۔‘‘

(مکتوبات شریف ج ثالث، مکتوب ہفتدہم ص۲۷)

پس مرزاغلام احمد کی محولہ بالا عبارت کذب وافتراء کا مجموعہ حضرت مسیحؑ سے بغض وعداوت کی آئینہ دار ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی اس عبارت کے لکھنے سے بہت پہلے تحریر کرچکا تھا لیکن ’’دروغ گورا حافظہ نباشد۔‘‘

مرزاقادیانی نے لکھا تھا: ’’یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار ہی میں آگئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۲۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)

اسی مرزا نے ’’حقیقۃ الوحی‘‘ کی مندرجہ بالا عبارت لکھنے سے قریباً ایک سال پہلے لکھا تھا۔

’’پولوس نے پھر ایک اور گند (عیسائی) اس مذہب میں ڈال دیا کہ ان کے لئے سور کھانا حلال کر دیا۔ حالانکہ حضرت مسیح، انجیل میں سور کو ناپاک قرار دیتے ہیں۔ تبھی تو انجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۳۴، خزائن ج۲۰ ص۳۷۵)

سور ’’تورات‘‘ کی رو سے ابدی حرام تھا۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۰ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۶۵)

جب مرزاقادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ حضرت مسیحؑ سور کو ناپاک سمجھتے تھے اور وہ

158

حضور نبی کریمa کی امت کے شمار میں ہیں، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کی’’حقیقت الوحی‘‘کے مندرجہ بالا خبیث اور لعنتی الفاظ محض ان کی توہین وتذلیل ہی کے لئے لکھے ہیں۔

ہم نے چند عبارات نقل کی ہیں ورنہ مرزاقادیانی کے متعدد حوالہ جات ہیں، جن میں اس نے نبی معصوم حضرت مسیحؑ کی توہین کی ہے۔ حالانکہ اسی مرزا نے لکھا ہے۔

۱…

  1. تیر بر معصوم مے بارد خبیث بدگہر

    آسماں رامے سزد گر سنگ بارد بر زمین

(فتح اسلام ص۷۵، خزائن ج۳ ص۴۵)

۲…

  1. بد تر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زبان ہے

    جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم ص۶۱، خزائن ج۲۰ ص۴۵۸)

۳… ’’ہم مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ دوم ص۱۰۲، خزائن ج۱ ص۹۲)

۴… ’’وہ بڑا ہی خبیث اور ملعون اور بدذات ہے جو خدا کے برگزیدہ ومقدس لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔ ‘‘

(البلاغ المبین ص۱۹، مرزاغلام احمد کا آخری لیکچر، لاہور، ملفوظات ج۱۰ ص۴۱۹)

۵… ’’اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کفر ہے۔‘‘

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۱۸، خزائن ج۲۳ ص۳۹۰)

مرزائی فریب

مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریرات واقوال سے توہین حضرت مسیحؑ کی عبارات پیش کی جاتی ہیں تو امت مرزائیہ اپنے قادیانی ’’مسیح موعود‘‘ کو توہین مسیحؑ کی زد سے بچانے کے لئے مندرجہ ذیل فریب دیتی ہے:

پہلا فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد ناقل) نے عیسائیوں کے بالمقابل انجیلی یسوع کے متعلق قدرے سخت الفاظ تحریر کئے ہیں۔ اﷲتعالیٰ کے رسول حضرت مسیحؑ کی شان میں سخت الفاظ استعمال نہیں کیا۔

159

جواب: یسوع، مسیح ایک ہی برگزیدہ ہستی کا اسم گرامی ہے۔ عیسائی انہیں خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ہم مسلمان انہیں اﷲتعالیٰ کا نبی ورسول مانتے ہیں۔ اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’قالت النصری المسیح ابن اﷲ (التوبہ:۳۰)‘‘ {عیسائی کہتے ہیں مسیح اﷲ کا بیٹا ہے۔ کیا انہیں مسیحؑ کو جو اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں، عیسائی خدا کا بیٹا نہیں کہتے؟ کیا انہیں مسیحؑ کو ثالث ثلثہ نہیں مانتے؟}

یہ قادیانیوں کا فریب کارانہ پروپیگنڈا ہے کہ ان کے مرزا نے عیسائیوں کے یسوع کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ حضرت مسیحؑ کی تو وہ عزت کرتا تھا۔ یسوع اور مسیح ایک ہی تھا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے:

۱… ’’جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیاگیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیاء اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)

۲… ’’لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۲۶، خزائن ج۲۰ ص۳۵۵،۳۵۶)

۳… ’’ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام، جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں، تیس برس تک موسیٰ رسول اﷲ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنااور مرتبہ نبوت پایا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۴۰ حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۳۸۱)

۴… ’’حضرت عیسیٰm جو یسوع اور جیزس یا یوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں۔‘‘

(راز حقیقت ص۱۹، خزائن ج۱۴ ص۱۷۱)

۵… ’’حضرت یسوع مسیح کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے۔‘‘

(تحفہ قیصرہ ص۱۸، خزائن ج۱۲ ص۲۷۵)

160

۶… ’’اس خدا کے دائمی پیارے۱؎ اور دائمی محبوب اور دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے، یہودیوں نے تو اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے سے برے مفہوم کوجائز رکھا۔‘‘

(تحفہ قیصرہ ص۱۷، خزائن ج۱۲ ص۲۷۴)

۷… ’’مسیحؑ نے بھی انجیل میں خبر دی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

اﷲتعالیٰ نے مرزا کے قلم پر تصرف فرماکر اس سے حق کا اظہار کروادیا کہ انجیلی یسوع اور حضرت مسیحؑ ایک ہی برگزیدہ نبی کانام ہے۔ مرزا نے لکھا ہے:

۸… ’’یہ تو مجھ کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ عیسائی مذہب اسی دن سے تاریکی میں پڑا ہوا ہے جب سے کہ حضرت مسیحؑ کو خدا کی جگہ دی گئی ہے۔‘‘

(حجتہ الاسلام لاہوری ایڈیشن ص۱۴، خزائن ج۶ ص۵۶)

۹… ’’اور ان (یہود) کی حجت یہ ہے کہ یسوع یعنی عیسیٰm صلیب دئیے گئے۔‘‘

(ایام الصلح طبع اوّل ص۱۱۷، خزائن ج۱۴ ص۳۵۳)

۱۰… ’’(مباہلہ میں) عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسیٰ مسیح ناصری، جس پر میں ایمان لایا ہوں، وہی خدا ہے۔ ایسا ہی یہ عاجز (غلام احمد قادیانی) دعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا میں جانتا ہوں کہ درحقیقت عیسیٰ مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے۔ خدا ہرگز نہیں۔‘‘

(حجتہ الاسلام ص۲۳، خزائن ج۶ ص۷۰)

۱۱… ’’ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں ایک عاجز بندہ مگر نبی مانتا ہوں۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز ستمبر ۱۹۰۲ء ص۳۴۴)

ان عبارات میں مرزاقادیانی نے غیرمبہم الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ یسوع اور مسیح ایک ہی عظیم الشان نبی کے نام ہیں۔ پس عیسیٰ، یسوع، مسیح کسی نام سے گالیاں دی جائیں۔ اﷲتعالیٰ کے محبوب نبی کی توہین ہوگی۔

۱؎

مرزاغلام احمد نے ہندوستان اور انگلستان کی فرماںروا ملکہ وکٹوریہ کو عاجزانہ اور خادمانہ انداز میں عرض داشت بھیجی ہے۔ جسے ’’تحفہ قیصرہ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس میں جناب یسوع کو دائمی، پیارے وغیرہ القاب سے یاد کیا۔ یہ ہے ایک متنبی کی چاپلوسی اور خوشامد۔

161

دوسرا فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد) نے اس یسوع کے متعلق سخت الفاظ لکھے ہیں، جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔

جواب: جناب یسوع مسیح کی نسبت کذب بیانی کی انتہاء ہے کہ انہوں نے الوہیت یا ابنیت کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور ابنیت ہے۔ ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جو ان پر کیاگیا وہ یہی ہے۔‘‘

(تحفہ قیصرہ ص۱۶، خزائن ج۱۲ ص۲۷۳)

تیسرا فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے یسوع کی خیالی تصویر یا فرضی یسوع کی مذمت کی ہے۔

جواب: فرضی یسوع کی اصطلاح قادیانیوں کی فریب کاری کی بیّن دلیل ہے۔ خیالی، فرضی اور موہوم وجود کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ ’’مستور الحال مفقود الخبر فرضی اور خیالی نام کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘

(نورالقرآن حصہ دوم ص۱۵، خزائن ج۹ ص۳۹۸،۳۹۹)

مرزائی بتائیں کہ خیالی تصویر یا فرضی یسوع کے متعلق اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں یا سرور کائناتa نے حدیث میں کچھ کیوں نہ فرمایا؟ کیا اﷲتعالیٰ اور حضورa کو فرضی یسوع کا علم نہ تھا؟

مرزائی کیوں نہیں سوچتے کہ ان کے نبی نے اگر فرضی اور خیالی یسوع کی پردہ دری کی ہے تو یہ عیسائیوں کے لئے حجت اور قابل تسلیم کیسے ہوگی؟ ان پر حجت تب ہوتی، جب حقیقی یسوع مسیح کے متعلق لکھا جاتا ہے۔

چوتھا فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے بائبل کے حوالوں سے یسوع کی پوزیشن واضح کی ہے۔

جواب: قادیانی ایک بات پر قائم نہیں رہتے۔ بات بات پر پینترا بدلتے ہیں۔ کبھی لکھتے ہیں کہ مرزا نے خیالی اور فرضی یسوع کے متعلق لکھا ہے کہ کبھی کہتے ہیں کہ اس نے بائبل کے حوالہ جات سے یسوع کی حقیقت بیان کی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہودیوں کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ کبھی بتاتے ہیں کہ الزامی جواب دیا گیا۔ انہیں کسی ایک جواب پراطمینان نہیں۔ سچ ہے کہ حق سے روگردانی کرنے والوں کو ہرقدم پر ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ بائبل کا

162

نام لے کر اﷲتعالیٰ کے نبی کی توہین ’’قادیانی نبوت‘‘ کا شاہکار ہے۔ بائبل کے متعلق قادیانی مرزا نے لکھا ہے:

۱… ’’سچ بات تو یہ ہے کہ وہ کتابیں (تورات وانجیل) آنحضرتa کے زمانہ تک ردی کی طرح ہوچکی تھیں اور بہت جھوٹ ان میں ملائے گئے تھے۔ جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔ پس جب کہ بائبل محرف مبدل ہوچکی۔‘‘

(چشمہ معرفت حصہ دوم ص۲۵۵، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶)

۲… ’’قرآن نے انجیل اور تورات کو محرف ومبدل اور ناقص اور ناتمام قرار دیا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۹، خزائن ج۱۸ ص۲۳۹)

۳… ’’غرض یہ چاروں انجیلیں جو یونانی سے ترجمہ ہوکر اس ملک میں پھیلائی جاتی ہیں ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پیروی میں کچھ بھی برکت نہیں۔ خدا کا جلال اس شخص کو ہرگز نہیں ملتا جو ان انجیلوں کی پیروی کرتا ہے۔ بلکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کو بدنام کر رہی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳، خزائن ج۱۵ ص۱۴۲)

ثابت ہوا کہ بقول مرزاقادیانی بائبل محرف ومبدل اور حضرت مسیح کو بدنام کرنے والی ہے۔ اس لئے اسے حضرت مسیحؑ کی ذات گرامی کے لئے حجت قرار دینا محض دھوکااور فریب ہے۔

پانچواں فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے یہودیوں کے اعتراض نقل کئے ہیں۔ جیسا کہ لکھا ہے: ’’جو اس فاضل یہودی نے حضرت عیسیٰm کی پیش گوئیوں پر اعتراض کئے ہیں، وہ نہایت سخت اعتراض ہیں بلکہ وہ ایسے اعتراض ہیں کہ ان کا ہمیں بھی جواب نہیں آتا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۵، خزائن ج۱۹ ص۱۱۱)

جواب: یہ مرزائیوں کا عذر گناہ بدتر از گناہ ہے۔ اﷲتعالیٰ کے مقدس نبی کے متعلق یہودیوں کے اعتراضات نقل کرنے سے مرزا کا مقصد حضرت مسیحؑ کی تنقیص واہانت تھی۔ جیسا کہ قادیانی خلیفہ مرزامحمود نے لکھا:

۱… ’’کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کر کے اس کا ذکر کیاجائے۔ جیسے کوئی شخص کسی کو اپنے منہ سے تو حرامزادہ نہ کہے۔ مگر

163

یہ کہہ دے کہ فلاں شخص آپ کو حرامزادہ کہتا تھا۔ یہ بھی گالی ہوگی، جو اس نے دوسرے کو دی۔ گو دوسرے کی زبان سے دلائی۔‘‘

(احرار کو مباہلہ کا چیلنج ص۱۰)

۲… مرزاغلام احمد لکھتا ہے: ’’جو بات دشمن کے منہ سے نکلے، وہ قابل اعتبار نہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۵، خزائن ج۱۹ ص۱۳۴)

چھٹا فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے حضرت مریم صدیقہ کی والدہ کے بارے میں ہرگز نہیں بلکہ اس خاندان کی دور کی تین عورتیں تمر، راحاب اور بنت سبع کا ناگفتہ بہ ذکر فرمایا ہے، مگر نہ از خود بلکہ بائبل کے حوالے سے۔

جواب: کس قدر دجل وفریب ہے۔ اﷲتعالیٰ کے پیارے نبی کی تذلیل کرنے کے لئے بائبل کی پناہ لی جارہی ہے کہ جس کتاب میں یہودیوں نے تغیروتبدل کیا ہے۔

قادیانی بتائیں کہ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید یا اﷲتعالیٰ کے آخری مقدس رسول حضرت نبی کریمa نے حدیث میں فرمایا ہے کہ نعوذ باﷲ من ذالک! حضرت مسیحؑ کی تین دادیاں اور نانیاں زناکار اور کنجریاں تھیں؟ کیا ایک نبی کی تذلیل کی غرض سے محرف ومبدل کتاب کے توہین آمیز حوالے کی تصدیق وتوثیق کفر بواح نہیں؟ مرزاغلام احمد قادیانی نے انبیاءo کے حسب ونسب کے متعلق لکھا ہے۔

’’اور خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذونسب ہوں تاکہ لوگوں کو ان کی کمی نسب کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو… اسی طرح خدا کی سنت اس کے نبیوں میں ہے، جو قدیم زمانہ سے جاری ہے۔ بس ڈرو اور دیکھو۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳،۱۸۴)

جب مرزاقادیانی کے قول کے پیش نظر تمام انبیاءo کا نسب اعلیٰ اور بے داغ ہوتا ہے اور اس کی تحریر کے مطابق حضرت عیسیٰm کی تین دادیاں اور نانیاں زناکار اور کنجریاں تھیں تو نتیجہ صاف ہے کہ بقول مرزا حضرت مسیحؑ نبی نہ تھے۔ اگر مرزاغلام احمد حضرت مسیحؑ کی تین دادیوں اور نانیوں کو زانیہ عورتیں سمجھتا تھا تو معاذ اﷲ حضرت مسیحؑ کی نبوت ثابت نہیں ہوتی اور اگر یہ بائبل کا اتہام وبہتان تھا تو مرزاقادیانی نے اس کی تردید کیوں نہ کی؟ بلکہ توثیق کی ہے جیسا کہ اس نے لکھا ہے: ’’اس سے عجیب تر یہ کہ کفارہ یسوع کی دادیوں اور نانیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا سکا۔ حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر

164

فطرت پر داغ لگتا تھا۔‘‘

(ست بچن ص۱۴۸تا۱۵۶، خزائن ج۱۰ ص۲۹۲)

ساتواں فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے جو یسوع مسیح کی دو حقیقی بہنوں کا ذکر کیا ہے، یہاں حقیقی مجازی یا محض روحانی’’انما المومنون اخوۃ‘‘کے بالمقابل ہے نہ کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سب کا ایک ہی باپ اور ایک ہی ماں تھی۔

جواب: یہ مرزائیوں کا بہت بڑا دجل وفریب ہے۔ مرزاقادیانی کی عبارت میں حقیقی بہنیں، مجازی یا محض روحانی کے مقابل نہیں۔ بلکہ جسمانی اور ایک ماں باپ کی اولاد مراد ہے۔ مرزاقادیانی نے خود تصریح کی ہے۔

’’یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع مسیح کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۱۸)

ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی نے حقیقی بہن بھائیوں کی اصطلاح اخیافی اور علّاتی کے مقابلہ پر استعمال کی ہے، نہ کہ مجازی یا روحانی کے مقابلہ پر۔

آٹھواں فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے یسوع مسیح کے متعلق چند سخت الفاظ تحریر کئے ہیں تو ان سے پہلے مولانا رحمت اﷲ صاحب اور مولانا آل حسن صاحب نے بھی عیسائیوں کو الزامی جواب دیتے ہوئے یسوع مسیح کے متعلق بعض ایسے ہی سخت الفاظ لکھے ہیں۔

جواب: اگر بالفرض ان حضرات کے ایسے ہی الفاظ ہوں، تو بھی وہ مرزاقادیانی کے لئے وجہ جواز نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اکابرین امت کے متعلق تحریر کیا ہے۔ ’’ہمارے مخالف سخت شرمندہ اور لاجواب ہوکر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے، بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی، ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج۵ ص۱۲۴، خزائن ج۲۱ ص۲۹۰)

مرزاقادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ بزرگان امت معصوم نہ تھے اور انہوں نے یہودیوں کی طرح ٹھوکر کھائی۔ لیکن مرزائی تو ’’قادیانی نبی‘‘ کو معصوم سمجھتے ہوں گے۔ پس مرزائی بتائیں کہ ان کے نبی نے یہود کی پناہ کیوں لی؟ یہود کے نقش قدم پر کیوں چلا؟ اچھا

165

مسیح موعود ہے جو حضور نبی کریمa کا طریق تبلیغ چھوڑ کر بقول خود یہودیوں کی پیروی کرتا ہے۔ کیا حضور سرور کائناتa نے عیسائیوں کو الزامی جواب دیتے ہوئے حضرت مسیحؑ کے متعلق درشت الفاظ فرمائے تھے؟

نواں فریب: جب ’’مسیح موعود‘‘ (مرزاغلام احمد قادیانی) اپنے آپ کو مثیل مسیح فرماتے ہیں تو حضرت مسیحؑ کی توہین کیسے کر سکتے تھے۔

جواب: مرزائی کس قدر سادہ لوح ہیں۔ یہ بھی تک امکان کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی سے توہین حضرت مسیحؑ کا وقوع ثابت ہوچکا ہے۔ توہین کیسے کرسکتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ جذبہ رقابت کے تحت انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ واضح حقیقت ہے کہ مسیحیت مرزا کی تکمیل تب تک نہ ہوسکتی تھی جب تک حضرت مسیحؑ کی تنقیص کر کے ان پر اپنی برتری ثابت نہ کی جاتی۔

دسواں فریب: ’’مسیح موعود‘‘ (مرزاغلام احمد قادیانی) نے اپنی متعدد کتب وتحریرات میں حضرت عیسیٰm کی تعریف کی ہے اور انہیں نبی تسلیم کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کی تعریف کی جائے اس کی توہین نہیں کی جاسکتی۔

جواب: قادیانیوں کے مسیح موعود کی بے شمار متضاد تحریرات ہیں۔ توحید، رسالت، ولادت، حضرت مسیحؑ بلا باپ، حیات حضرت مسیحؑ، تعریف نبوت، ختم نبوت، دعویٰ نبوت، تعریف محدثیت، دعویٰ محدثیت، دعویٰ مسیحیت، معجزات صداقت، بائبل، صداقت وید کون سا مسئلہ ہے جس میں مرزاقادیانی نے دو رنگی چال نہیں چلی۔ ہیراپھیری اور تضاد سے اس کی کتابیں پٹی پڑی ہیں۔ حضرت مسیحؑ کی توہین اس کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس نے اپنی کتب میں حضرت مسیحؑ کو نبی بتایا ہے اور ان کی تعریف بھی کی ہے۔ ہمارا تأثر یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے تین وجوہ کے باعث حضرت کی تعریف کی ہے۔ اوّل: مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے، دوم: ’’ملکہ وکٹوریہ قیصرہ ہند‘‘ اور برطانوی حکومت کو خوش کرنے کے لئے جیسا کہ ستارہ قیصرہ اور تحفہ قیصرہ سے ظاہر ہے۔ سوم: اپنے آپ کو منصف مزاج ثابت کرنے کے لئے جیسا کہ اس نے لکھا ہے: ’’شریر انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو (کسی کی برائی۔ ناقل) کرنے کے وقت پہلے ایک تعریف کا لفظ لے آتے ہیں۔ گویا وہ منصف مزاج ہیں۔‘‘

(ست بچن ص۱۳ حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۱۲۵)

166

مرزاقادیانی نے خود بتادیا کہ کسی کی برائی بیان کرنے سے پہلے اس کی تعریف کر لی جائے تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ شخص منصف مزاج ہے۔ اس نے اپنے مخالف کی خوبیاں اور برائیاں دونوں بیان کر دی ہیں۔ اگر صرف برائیاں ہوں، تو لوگ دشمنی پر محمول کریں گے۔ مرزاقادیانی نے حضرت مسیحؑ کے متعلق اپنے اسی نظریہ پر عمل کیا ہے۔

گیارھواں فریب: ’’میں نے اس قصیدے میں جو امام حسینq کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰm کی نسبت بیان کیاہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان، جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۸، خزائن ج۱۹ ص۱۴۹)

جواب: بعض چالاک انسان گناہ خود کرتے ہیں اور اپنے آپ کو قانون کی زد سے بچانے کے لئے اپنا جرم کسی دوسرے ناکردہ گناہ کے سرتھوپ دیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی نے کسی ایسے ہی عیار سے سبق پڑھا کہ توہین خود کرو، ذمہ کسی اور کے لگادو۔ اوپر کی عبارت میں واشگاف الفاظ میں لکھ دیا کہ حضرت سیدنا امام حسینq اور سیدنا حضرت مسیحؑ کے متعلق جو زبان درازی اور توہین کی گئی ہے یہ میری طرف سے نہیں۔ ہاں! جناب تو بتادیجئے کہ یہ توہین کس کی طرف سے ہے؟ خدائے رحمن کی طرف سے ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ رحمن نے قرآن مجید میں حضرت مسیحؑ کے فضائل وکمالات بیان فرمائے ہیں۔ امت مرزائیہ اپنے نبی کی کسی تحریر سے بتائے کہ مرزاقادیانی کا یہ اعجاز اور الہام کس کی طرف سے تھا؟

بارھواں فریب: عیسائی پادریوں نے اپنی تصانیف میں حضور نبی کریمa کی سخت توہین کی تھی۔ مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کو حضورa کے لئے غیرت تھی۔ اس لئے انہوں نے عیسائیوں کو جواب دیتے ہوئے الزاماً ان کے یسوع کے متعلق قدرے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔

جواب: ہم گزشتہ صفحات میں مرزاقادیانی کی تحریرات سے ثابت کر چکے ہیں کہ جناب یسوع اور حضرت مسیحؑ دوجداگانہ شخصیتیں نہ تھیں۔ ایک ہی مقدس ہستی کے دو نام تھے۔ یہ بھی صریح جھوٹ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو حضور سرور کائناتa کی ذات اقدس کے لئے غیرت تھی۔ مرزاقادیانی اور غیرت، دو متضاد حقیقتیں تھیں۔ مرزاقادیانی نے

167

آریوں، پادریوں کے متعلق لکھا ہے کہ: ’’اور بہتوں نے اپنی بدذاتی اور مادری بدگوئی سے ہمارے نبیa پر بہتان لگائے۔ یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جوان کے اصل میں تھی، اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی راہ سے زنا کی تہمت لگائی۔ اگر غیرمند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے افتراء میں یہاں تک نوبت پہنچی، وہ جواب دیتے جو ان کی بداصلی کے مناسب حال ہوتا۔ مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہروقت روکتی رہتی ہیں۔ وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہئے تھا۔ ہم لوگ گورنمنٹ کی اطلاع میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب بردباریاں ہم اپنے محسن گورنمنٹ کے لحاط سے کرتے ہیں اور کریں گے۔‘‘

(آریہ دھرم ص۵۸،۵۹، خزائن ج۱۰ ص۸۰،۸۱)

قادیانیو! بتاؤ کہ:

۱… تمہارے مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کو برطانوی عیسائی حکومت کی پاسداری اور بردباریاں مقدم تھیں یا حضور سرور کائناتa کی توہین کا انتقام تھا؟

۲… مرزاقادیانی نے بقول خود ایسے ’’شریروں اور خبیثوں‘‘ کو ان کی ’’بداصلی‘‘ کے مناسب جواب کیوں نہ دیا۔

۳… کیا حضور سرورکائناتa فداہ ابی وامی کی انتہائی توہین کو مرزاقادیانی نے اپنی محسن گورنمنٹ کی خاطر برداشت کر کے حضورa کے لئے غیرت وحمیت کا ثبوت دیا۔ اگر ایسی ’’پاسداریوں اور بردباریوں‘‘ کا نام غیرت ہے تو بے غیرتی کس بلا کا نام ہے؟

مسلمانوں کا وحشیانہ جوش

یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عیسائیوں کے خلاف رسائل ومضامین شائع کرنے سے مرزاقادیانی کی غرض وغایت پادریوں کے جاہلانہ حملوں سے اسلام کی مدافعت اور حضور سرور کائناتa کی عزت ووقار کی حفاظت نہ تھی۔ بلکہ اس کا مقصد ’’برطانوی حکومت کی خدمت‘‘ اور وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنا تھا۔ اس نے لکھا ہے: ’’میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد

168

اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ ’’نور افشاں‘‘ میں، جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبیa کی نسبت نعوذ باﷲ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا اور بایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو، تب میں نے ان کے جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تاکہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ (حاشیہ ان مباحثات کی کتابوں سے ایک یہ بھی مطلب تھا کہ برٹش انڈیا اور دوسرے ملکوں پر بھی اس بات کو واضح کیا جائے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہر ایک قوم کو مباحثات کے لئے آزادی دے رکھی ہے۔ کوئی خصوصیت پادریوں کی نہیں) تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے، جن میں کمال سختی سے، بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں، جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشس (ضمیر ناقل) نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں، ان کے غیظ وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا، یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیاگیا۔‘‘

(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست مندرجہ تریاق القلوب ص۳۰۸،۳۰۹، خزائن ج۱۵ ص۴۹۰،۴۹۱)

مرزاغلام احمد کی اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیحؑ کے متعلق ناشائستہ اور توہین آمیز عبارات لکھنے سے اس کا مقصد برطانوی حکومت کی خدمت تھی۔ اسے اندیشہ ہوا کہ حضور سرور کائناتa کی ذات اقدس کے متعلق عیسائیوں کی بدزبانی سے غیرت مند مسلمان۱؎ مشتعل ہوکر امن عامہ میں خلل انداز ہوں گے تو ہندوستان میں برطانوی حکومت کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ مرزا کے عندیہ کے مطابق حضور آقائے دوجہاںa

۱؎

مسلمانوں سے مرزاقادیانی کی مراد مرزائی گروہ ہے۔ کیونکہ وہ اپنے مریدوں کے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتا۔ (اختر)

169

کی ناموس کے تحفظ کے لئے جو مسلمان بے قرار ہوکر ایجی ٹیشن کریں گے، وہ سب سریع الغضب اور وحشی ہوں گے۔ ان وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے آسان تدبیر یہ ہے کہ عیسائیوں کے منجی یسوع مسیح کے متعلق سخت تحریریں شائع کی جائیں تاکہ عوض معاوضہ گلہ ندارد کے مقولہ کے مطابق ’’وحشی مسلمان‘‘ یہ سمجھیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے عیسائیوں سے حضرت نبی کریمa کی توہین کا بدلہ لے لیا ہے۔ اس طرح عاشقان رسول کریمa اور بقول مرزا ’’وحشی مسلمانوں‘‘ کے جوش کو ٹھنڈا کیا جائے۔ تاکہ برطانوی حکومت کے لئے کوئی الجھن اور مشکل پیدا نہ ہو۔

تیرہواں فریب: عیسائی پادریوں نے حضرت نبی کریمa کے متعلق سخت توہین آمیز مضامین اور کتب شائع کیں تو مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے ان کو جواب دیتے ہوئے الزامی طور پر یسوع مسیح کے متعلق سخت الفاظ لکھے۔

جواب: مرزاغلام احمد قادیانی کا الزاماً بدزبانی اور گالیاں دینے کا طریق قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ قرآن مجید شاہد ہے کہ یہودونصاریٰ نے حضور نبی کریمa کو جادوگر اور کاذب کہا۔ اس کے جواب میں اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں یا حضورa نے حدیث میں الزاماً حضرت موسیٰm یا حضرت عیسیٰm کے متعلق کوئی سخت الفاظ استعمال نہیں کیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

۱… ’’مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبیa کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض حضرت عیسیٰm کوگالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبیa سے محبت رکھتے ہیں، ویسا ہی حضرت عیسیٰm سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳۰۹، خزائن ج۱۵ ص۴۹۱)

۲… ’’بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر، جو آنحضرتa کی شان میں کرتا ہے، حضرت عیسیٰ کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔‘‘

(فتاویٰ مسیح موعود ص۲۳۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۴)

قادیانیو! تمہارے ’’مسیح موعود‘‘ نے عیسائیوں کے مقابل حضرت مسیحؑ کی شان اقدس کے متعلق بدزبانی کر کے اپنی جہالت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے یا نہیں؟ یہ بھی بتاؤ

170

کہ اﷲتعالیٰ اور حضور نبی کریمa نے پادریوں اور عیسائیوں کے مقابل الزاماً مرزاغلام احمد قادیانی جیسا طرز کیوں اختیار نہ کیا؟ حالانکہ اﷲتعالیٰ کو علم تھا کہ عیسائی پادری حضورa کے متعلق انتہائی بدزبانی، فتراء پردازی اور کذب بیانی کا مظاہرہ کریں گے۔

چودھواں فریب: مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے: ’’ہماری قلم سے حضرت عیسیٰm کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے، وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص ب حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۳۳۶)

جواب: مرزاقادیانی کے ان الفاظ سے یہ نتائج ظاہر ہوئے۔

۱… ’’یسوع کے نام سے مرزاقادیانی نے جتنی گالیاں دیں اور بدزبانی کی وہ سب حضرت مسیحؑ کی ذات مقدس سے متعلق تھیں۔‘‘

۲… ’’دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے۔‘‘ یہی تو ہماری دعویٰ ہے جس کی تصدیق خود مرزا نے کر دی کہ وہ یہودیوں کے نقش قدم پر چلتا رہا۔ جس طرح ملعون یہودیوں نے حضرت مریم اور مسیحؑ پر بہتان عظیم لگا کر ان کی توہین کی۔ اسی طرح مرزاقادیانی نے بھی اسی طریق پر عمل کیا۔

قادیانیو! جس طرح تمہارے نبی نے حضرت مسیحؑ کے متعلق بقول خود یہودیوں کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ اسی طرح ہم مرزاقادیانی کے متعلق مسلمانوں، عیسائیوں اور آریہ سماجوں کے الفاظ نقل کریں تو تمہیں ناگوار تو نہ ہوگا؟ جواب لکھنے سے پہلے اپنے نبی کی کتاب (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۵۲،۱۵۳، خزائن ج۲۲ ص۵۹۰،۵۹۱) کا مطالعہ کر لینا۔

پندرھواں فریب: مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے حضرت مریم کی تعریف کی ہے اور انہیں صدیقہ لکھا ہے۔

جواب: حضرت مریم کی توہین کے حوالہ جات ہم گزشتہ صفحات میں نقل کر چکے ہیں۔ لفظ صدیقہ کے متعلق مرزاقادیانی کا بیان ہے۔ ’’مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعودm کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰm کی والدہ کی اﷲتعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی

171

ہے۔ اس پر حضورa نے فرمایا کہ خداتعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے، جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں۔ ’’بھرجائی کا نئے سلام آکھناواں‘‘ جس سے مقصود ’’کانا‘‘ ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔ اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے۔ جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۲۰، مرتبہ بشیر احمد ایم۔اے، پسر مرزاغلام احمد قادیانی)

استغفراﷲ! حضرت مریم کی نسبت کس قدر بغض وعداوت کا اظہار اور ان کی صدیقیت کا انکار ہے۔

حضرت مسیحؑ کے فضائل

اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مسیحؑ کے متعدد فضائل وکمالات بیان فرمائے ہیں۔ ان میں سے چند یہاں تحریر کئے جاتے ہیں تاکہ عامتہ المسلمین اندازہ لگاسکیں کہ قرآن حکیم کے بیان کردہ حقائق اور مرزاقادیانی کے بیان کردہ ہفوات میں کس قدر بعد ہے۔

حضرت مریم کی فضیلت

۱…’’ومریم ابنت عمران التی احصنت فرجہا فنفخنا فیہ من روحنا وصدقت بکلمت ربہا وکتبہ وکانت من القنتین (التحریم:۱۲)‘‘ {اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، پھر ہم نے اس میں (اپنی مخلوق) روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلمات کی اور اس کتابوں کی تصدیق کرتی تھی اور وہ طاعت گزاروں میں سے تھی۔}

۲…’’واذ قالت الملئکۃ یمریم ان اﷲ اصطفک وطہرک واصطفک علی نساء العلمین (آل عمران:۴۲)‘‘ {اور جس وقت ملائکہ نے کہا کہ اے مریم یقینا اﷲتعالیٰ نے تم کو چن لیا اور تم کو یقینا پاک قرار دیا اور تم کو زمانے بھر کی عورتوں سے برگزیدہ کیا۔}

172

پیدائش بغیر باپ

۳…’’ان مثل عیسٰی عند اﷲ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (آل عمران:۵۹)‘‘{بے شک اﷲتعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ(m) کی مثال آدم(m) کی سی مثال ہے۔ اس کو مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا، پس وہ ہوگیا۔}

حضرت مسیحؑ کی رسالت اور چند فضائل

۱…’’انما المسیح عیسٰی ابن مریم رسول اﷲ وکلمتہ القہا الی مریم وروح منہ (النساء:۱۷۱)‘‘ {مسیح عیسیٰ ابن مریم اﷲتعالیٰ کا ایک رسول ہی ہے اور اس کا کلمہ جس کو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک (پیدا کی ہوئی) روح ہے۔}

۲…’’اذ قالت الملئکۃ یمریم ان اﷲ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسٰی ابن مریم وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘{جب فرشتوں نے کہا اے مریم اﷲتعالیٰ تجھ کو اپنے ایک کلمہ کی جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔ بشارت دیتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں بلند مرتبہ والا اور اﷲتعالیٰ کے مقربین میں ہے۔}

۳…’’ولنجعلہ ایۃ للناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیا (مریم:۲۱)‘‘{اور تاکہ ہم اسے (مسیح) کو لوگوں کے لئے نشان اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں اور یہ امر فیصلہ شدہ ہے۔}

۴…’’وجعلنہا وابنہا ایۃ للعلمین (الانبیاء:۹۱)‘‘{اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے مسیح کو تمام جہانوں کے لئے ایک معجزہ بنایا۔}

۵…’’ان ہوالا عبد انعمنا علیہ وجعلنہ مثلاً لبنی اسرائیل (زخرف:۵۹)‘‘{وہ مسیح نہیں ہے مگر برگزیدہ بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بی اسرائیل کے لئے مثال بنایا۔}

173

۶…’’ویعلمہ الکتب والحکمۃ والتورۃ والانجیل (آل عمران:۴۸)‘‘{اور اﷲتعالیٰ مسیح کو الکتاب (قرآن) الحکمت (حدیث) اور توراۃ اور انجیل سکھائے گا۔}

معجزات مسیحؑ

۱…’’واتینا عیسٰی ابن مریم البینت وایدنہ بروح القدس (البقرہ:۲۵۳)‘‘{اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو ہم نے کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی مدد کی۔}

۲…’’ویکلم الناس فی المہد وکہلا ومن الصلحین (آل عمران:۴۲)‘‘{اور وہ (مسیح) پیدا ہوتے ہی اور کہولت میں (معجزانہ) لوگوں سے باتیں کرے گا اور وہ صالحین سے ہوگا۔}

۳…’’انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اﷲ وابری الا کمہ والابرص واحی الموتی باذن اﷲ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذالک لایۃ لکم ان کنتم مومنین (آل عمران:۴۹)‘‘{میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی کے پرندے کی صورت بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو اﷲتعالیٰ کے حکم سے اڑتا ہوا جانور ہو جاتا ہے اور میں اﷲتعالیٰ کے حکم سے مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اگر تم مومن ہو تو یقینا اس میں تمہارے لئے نشانی موجود ہے۔}

انتباہ: اگر مرزائیوں نے ہمارے بیان کردہ حقائق کو اپنی روایتی دھوکہ دہی سے جھٹلانے کی کوشش کی تو ان شاء اﷲ ان کے فریب کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا جائے گا۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ کے محبوب نبیa کی ذات اقدس پر لگائے گئے الزامات کا جواب دینا مسلمان کا فرض اوّلین ہے۔

  1. قیامت خیز افسانہ ہے پر درد و غم میرا

    نہ کھلواؤ زباں میری نہ اٹھواؤ قلم میرا

174

حضرت خواجہ غلام فریدؒ

اور

مرزا قادیانی

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

175

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انتساب

ہم اپنی اس ناچیز تالیف کو حضرت الحاج نواب سرصادق محمد صاحب مرحوم ومغفور، سابق والئی ریاست بہاولپور کی ذات گرامی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جن کے عہد معدلت گستر میں ایک مقدمہ تنسیخ نکاح کے سلسلہ میں مرزائیوں کو غیرمسلم قرار دیاگیا۔

اﷲتعالیٰ مرحوم کی روح کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور ان کے جانشینوں کو عظمت دین کے لئے کام کی توفیق دے۔ آمین!

لال حسین اختر

ناظم اعلیٰ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

ْ اﷲتعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ حضرت آدمm سے شروع کیا اور سرور کائنات سید الاولین والآخرین، شفیع المذنبین، رحمتہ للعالمین حضرت محمد مصطفیa کی ذات گرامی پر ختم کردیا۔ حضورa کا ارشاد ہے:

الف…’’کنت اوّل النّبیین فی الخلق واخرہم فی البعث‘‘میں پیدائش میں سب سے پہلے ہوں اور بعثت میں سب سے آخری ہوں۔

(کنزالعمال ج۶ ص۱۱۳، الدرالمنثور ج۵ ص۸۴ تحت آیت میثاق، ابن کثیر ج۸ ص۸۹)

ب…’’عن ابی ذر الغفاری قال قال رسول اﷲa اوّل الانبیاء آدم وآخرہم محمدa اجمعین‘‘

(الاوائل الطبرانی ۱۳، جامع الاحادیث للسیوطی ج۳۸ ص۳۵۵، کنزالعمال ج۱۶ ص۱۳۶)

ج…’’قال رسول اﷲa، وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی، ہذا حدیث صحیح‘‘حضرت نبی کریمa نے فرمایا: یقینا میری امت میں تیس بڑے کذاب پیدا ہوں گے۔ جن میں سے

176

ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

(ترمذی ج۲ ص۴۵ رقم۲۲۱۹، مشکوٰۃ کتاب الفتن، الدر المنثور ج۵ ص۲۰۵، مسند احمد ج۵ ص۲۷۸ رقم۲۲۴۵۲)

’’بخاری شریف، کتاب الفتن رقم۷۲۲۱‘‘ میں دجالون کذابون قریب من ثلاثین کے الفاظ ہیں۔ حضور خاتم الانبیاءa کی اس عظیم پیش گوئی کے مطابق جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ مسیلمہ کذاب سے شروع ہوا۔ غلام احمد قادیانی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

حضورa نے اپنے بعد مدعیان نبوت کو ’’دجال وکذاب‘‘ (بہت بڑے دھوکہ باز وفریب کار اور عظیم افتراء پرداز) قرار دیاہے۔ ہم نے بارہا اعلان کیا ہے اور بے شمار مناظروں میں مرزائیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تم ’’وفات حضرت عیسیٰm‘‘، ’’اجرائے نبوت‘‘ اور ’’صدق مرزا‘‘ کے سلسلہ میں غلام احمد قادیانی کی کوئی ایک عبارت یا کوئی ایک دلیل ایسی پیش کرو کہ جس میں دھوکہ دہی اور کذب بیانی نہ ہو۔ آج تک کوئی مرزائی ہمارے اس مطالبہ کا جواب نہیں دے سکا اور ان شاء اﷲ العزیز! نہ آئندہ دے سکے گا۔ ’’ولو کان بعضہم لبعض ظہیرا‘‘ہمارا ناقابل تردید دعویٰ ہے کہ قادیانی کے عقائد ودعاوی کی متعلقہ ہر عبارت ہر دلیل اور ہر مقالہ دجل وفریب اور کذب وافتراء کا مرقع ہوتا ہے۔

مرزائیوں کی فریب کاری

مرزائیوں نے اپنی روایتی فریب کاری سے گزشتہ ایام میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی نسبت جھوٹ وافتراء کا ایک پلندہ ’’شہادات فریدی‘‘ سابق ریاست بہاولپور میں بہ تعداد کثیر تقسیم کیا ہے۔ جس میں حضرت خواجہ صاحبv اور غلام احمد قادیانی کے جعلی ملفوظات اور خط وکتابت شائع کر کے عامتہ المسلمین کو یہ تأثر دینے کی ناکام اور ناروا کوشش کی ہے کہ حضرت خواجہ صاحبv، غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مجددیت، مہدیت اور نبوت

177

کے مصدق اور پیرو تھے۔ مرزائی نبوت کا یہ نیا مکارانہ شاہکار نہیں بلکہ پرانا بدبودار جھوٹ ہے جو آج سے ۳۵سال پہلے جناب محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولنگر ریاست بہاولپور کی عدالت میں مقدمہ فسخ نکاح عبدالرزاق مرزائی پیش کیاگیا تھا۔ جس کا جواب اسی وقت حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے خلفائے کرام نے شائع کر کے قادیانی کذب بیانی کی دھجیاں بکھیردی تھیں اور مرزائی فریب کاری کا پردہ تارتار کر دیا تھا۔ ہم اسے نقل کئے دیتے ہیں۔

اشارات فریدی اور مرزائے قادیانی

از مرشدی وآقائی حضرت مولانا خواجہ نوراحمد فریدی نازکی مدظلہ العالی سجادہ نشین فرید آباد شریف ریاست بہاولپور۔

’’فقیر کا یہ مضمون ایک واقعہ سے تعلق رکھتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ مولوی الٰہی بخش سکنہ ہند ریاست بہاولپور نے اپنی صغیر سن دختر کا نکاح ایک قریبی رشتہ دار سے کردیا۔ اس وقت، ناکح مسلمان اور متبع اہل سنت والجماعت تھا۔ کچھ عرصہ اسی طرح گزر گیا۔ مولانا صاحب کا ہونے والا داماد ایک قادیانی کے ساتھ ملتان وغیرہ کے نواح چکر لگاتا رہا۔ مولانا صاحب متقی، متشرع اور غیور مسلمان تھے۔ انہوں نے کوشش کی کہ کس طرح داماد قادیانی کی صحبت چھوڑ دے۔ کچھ نتیجہ نہ نکلا بلکہ اس نے کھلم کھلا اپنی تبدیلی مذہب کا اعلان کر دیا اور سب عقائد قبول کر لئے جو فرقہ مرزائیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مولانا صاحب نے برہم ہوکر تمام خاندانی علائق اس سے قطع کر لئے۔

اب مولانا صاحب کی لخت جگر بالغ ہوچکی تھی۔ مرزائی داماد نے استدعا کی کہ شادی کر کے رخصتی کر دی جائے۔ لیکن مولانا صاحب نے دھتکار دیا اور کہا: ’’تم اب مرتد ہوکر مرزائی بن چکے ہو۔ اس لئے تمہارا نکاح نہیں رہا۔‘‘ مگر ناکح نے دعویٰ دائر کردیا کہ فرقہ

178

قادیانی مسلمان ہے اس لئے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا۔‘‘

بہاولپور اسلامی ریاست ہے۔ یہ معاملہ علمائے امت کے سپرد ہوا۔ مباحثہ کی تشکیل میں فرقہ باطلہ کی طرف سے مولوی غلام احمد اختر قادیانی وغیرہم اور علمائے اہل سنت والجماعت کی جانب سے مولانا غلام محمد صاحب مرحوم گھوٹوی شیخ الجامعہ عباسیہ مولانا فاروق احمد صاحب شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔ مباحثہ طے ہوگیا اور قادیانیوں کو شکست فاش ہوئی۔ ابھی احمدیوں کا یہ جھگڑا بدستور جاری تھا اور وہ علمائے اسلام کے خلاف ژاژخائی میں مصروف تھے کہ اطراف واکناف عالم سے فتاویٰ آپہنچے کہ مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے متبع کافر ہیں۔ عدالت نے مباحثہ اور فتاویٰ کے بعد قادیانیوں سے سوال کیا کہ اگر کوئی اور ثبوت ان کے پاس اپنے مسلمان ہونے کا ہو تو وہ پیش کریں۔ جس پر یہ سند پیش ہوئی۔

’’اشارات فریدی جس کو مولوی رکن دین نے جمع کیا ہے اس کے ایک عربی خط میں حضرت صاحب غریب نواز نے مرزا کو من عباد اﷲ الصالحین لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب موصوف نے مرزاقادیانی کو برحق تسلیم کیا ہے۔ ایسی قوی سند کے آگے تمہارے فتاوے کیا چیز ہیں۔ تم قادیانیوں کو کافر کہتے ہو۔ غور تو کرو حضرت صاحب غریب نواز جن کے کرامات اور زہد اور تقویٰ کی ایک دنیا معترف ہے، کے حق میں تم کیا فتویٰ صادر کرو گے؟‘‘

اس پر ریاست بہاولپور ودیگر اسلامی حلقوں میں ایک تہلکہ مچ گیا اور ہر جگہ ملفوظ خط عربی کی کیفیت دریافت ہونے لگی۔ فقیر ابھی سفر میں ہی تھا کہ مولانا فاروق احمد صاحب شیخ الحدیث بہاولپور کی طرف سے ذیل کا مکتوب گرامی موصول ہوا۔

مکرم بندہ جناب مولانا مولوی نور احمد صاحب خلیفہ خاص مخدوم العالم جناب حضرت خواجہ غلام فریدؒ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ! باعث تصدیعہ یہ ہے کہ مرزائے قادیانی

179

نے جو شریعت کی تحریف کی، ضروریات دین سے انکار کیا، انبیاء کی توہین کی، جناب سے مخفی نہیں۔ جس پر ہندوستان کے تمام مختلف الخیال مسلمانوں نے اس کی تکفیر کی اور علماء نے یہ بھی بیان کیا کہ مرزاقادیانی کی کفریات معلوم ہونے کے بعد بھی جو شخص مرزاقادیانی کے کفر میں تردد کرے، وہ بھی کافر ہے۔

مرزائیوں نے ایک اعلان شائع کیا ہے کہ ملفوظات حضرت خواجہ صاحب مرحوم جس کو رکن دین نے جمع کیا ہے، مرزا کو اچھا مانا گیا ہے۔ ضمیمہ انجام آتھم کے آخر میں بھی اس قسم کا حضرت کا عربی مکتوب درج ہے۔ مسلمانان بہاولپور میں اس اعلان سے سخت اضطراب پھیل گیا ہے۔ بعض سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت صاحب موصوف نے مرزاقادیانی کے عقائد کفریہ پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا تھا اور اشارات کی یہ عبارت الحاقی ہے۔ اس لئے جناب کو تکلیف دی جاتی ہے کہ جناب کو اس بارے میں جس قدر بھی علم ہو بذریعہ تحریر مطلع فرمائیں تاکہ مسلمانان بہاولپور کا یہ اضطراب رفع ہوکر مرزائیہ مرتدین کا منہ بند ہو۔ جناب کی تحریر طبع کراکر مشتہر کی جائے گی۔ ۵؍جمادی الاولیٰ ۱۳۵۱ھ فاروق احمد شیخ الحدیث بہاولپور۔ یہ پڑھ کر فقیر کو بہت افسوس ہوا۔ فوراً گھر کو روانہ ہوا تاکہ پیربھائیوں سے مشورہ لے کر جواب ارقام کرے۔ یہاں پہنچا تو حضرت مولانا غلام محمد صاحب مرحوم گھوٹوی شیخ الجامعہ بہاولپور کا یہ مکتوب صادر ہوا۔

بخدمت جناب معالی اکتساب مولانا نور احمد صاحب دام مجدہم۔ السلام علیکم! مزاج گرامی! جناب والا کو معلوم ہوگا کہ احمدی مرزائی لوگوں نے عدالت بہاولپور میں حضرت قبلہ غریب نواز خواجہ غلام فریدؒ کو مرزائی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے اثبات میں ’’اشارات فریدی‘‘ نامی کتاب کو پیش کیا ہے۔ الحمدﷲ! ہمارے علماء نے اسکا دندان شکن جواب دیا۔ مگر مرزائی لوگ ابھی تک وہی راگ الاپ رہے ہیں کہ حضرت غریب

180

نواز مرزائی تھے۔ پس ضرورت ہے کہ حضرت غریب نوازv کے تمام مرید اور معتقد اس تہمت سے حضرت کے دامن کی طہارت ثابت کریں تاکہ مخلوق اس گمراہی سے نجات پائے۔ حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ نے بھی اپنے بیانات لکھوائے ہیں چونکہ جناب کو بھی سلسلہ فریدیہ میں ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔ جواب بدست حامل لکھ کر ارسال فرمائیں۔

۱… حضرت خواجہ غریب نواز نے مرزاغلام احمد قادیانی کو برا کہا تھا؟

۲… ’’اشارات فریدی‘‘ کے مصنف رکن دین صاحب کو حضرت خلیفہ اعظم خواجہ محمد بخش صاحب نازک نے برا سمجھا تھا؟

۳… مرزاقادیانی کے متعلق جو باتیں ’’اشارات فریدی‘‘ میں درج ہیں، ان کو نکال دینے کا امر فرمایا تھا؟

والسلام! غلام محمد

جواب میں فقیر نے یہ عریضہ ارسال کیا۔ بخدمت شریف مولانا صاحبان ابحارا العلوم اعظم الشان مولانا غلام محمد صاحب ومولانا فاروق احمد صاحب دام اشفاقکم! وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ! جواباً مرقوم ایں کہ:

۱… حضرت شیخ المشائخ قطب الاقطاب خواجہ غلام فرید قدس سرہ نے غلام احمد قادیانی کو جب کہ اس کے عقائد واعمال درست تھے۔ من عبادﷲالصالحین لکھا تھا۔ لیکن مابعد جب اس کی کیفیت کھل گئی، مرزا کو برا کہا اور انکار کیا۔

۲… ’’اشارات فریدی‘‘ کے مصنف مولوی رکن دین صاحب کو حضرت خلیفہ العالم شیخ الشیوخ خواجہ محمد بخش نازک قطب مدار قدس سرہ نے بوجہ غلط تائید مرزا کے اچھا نہیں سمجھا۔

۳… مرزاقادیانی کے متعلق جو باتیں ’’اشارات فریدی‘‘ میں درج ہیں۔ ان کو نکال دینے کاامر فرمایا اور نکال دینی چاہئیں۔

۴… ہمارے تمام پیران عظام اور جماعت فریدیہ کا مذہب پاک اہل سنت والجماعت

181

ہے۔ مرزاقادیانی اور مرزائیت کے بلاشک منکر ہیں۔

والسلام!

۱۷؍جمادی الآخر ۱۳۵۱ھ، فقیر نور محمد فریدی نازکی بقلم خود!

حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ کی خدمت میں شیخ الجامعہ خود تشریف لے گئے اور اقتباسات ’’اشارات فریدی‘‘ کے متعلق استفسار فرمایا۔ حضرت خواجہ صاحب قبلہ نے فرمایا کہ: ’’میرے سامنے مولوی امام بخش صاحب فرمدی جام پوری، مولوی محمد یار صاحب سکنہ گڑھی اختیار خاں، مولوی سراج احمد ساکن مکھن بیلہ اور میاں اﷲ بخش صاحب خلیفہ ساکن چاچڑان شریف نے بطور شہادت بیان کیا کہ حضرت غریب نواز خواجہ محمد بخش صاحب نازک نے ارشاد فرمایا تھا کہ میاں رکن دین نے ملفوظ شریف (اشارات فریدی) جمع کر کے اپنی نجات کا اچھا سامان کیا تھا۔ مگر مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق افتراء درج کئے ہیں۔ اپنی محنت رائیگاں کی ہے اور آخرت بھی خراب کی ہے۔‘‘

حضرت خواجہ ہوت محمد صاحب سجادہ نشین شیدانی مدظلہ کی خدمت میں مولانا نورالحسن صاحب ومولوی غوث بخش صاحب نے جواب طلب مکتوب ارسال کیا جس کے جواب میں خواجہ صاحب موصوف نے ذیل کا گرامی نامہ تحریر فرمایا: ’’زہدۃ العلماء عمدۃ الفضلاء فضائل کمالات مرتب فصاحت بلاغت منزلت مولوی نورالحسن صاحب مولوی غوث بخش صاحب بعد از تحیۃ السلام مسنون الاسلام مکثوب خاطر باد۔ مہربانی نامہ آپ کا پہنچا۔ جوابا مرقوم ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے عقائد اوّلاً صاف طور پر مسلمانوں کے سے تھے اور جو تصانیف اس کی تھیں۔ وہ بھی عقائد اسلام سے باہر نہ تھیں۔ مرزاقادیانی موصوف نے جو خط حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی جناب میں لکھا اس کے جواب میں حضرت صاحب موصوف نے اس کو ’’عباد الصالحین‘‘ لکھا۔ مگر بعد میں جب اس کے عقائد طشت ازبام ہوئے تو اعلانیہ صاحب موصوف فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے غلطی سے لکھا ہے۔ یہ تو کفر ہے۔ حضرت مولوی جندوڈہ صاحب سیت پوری وحضرت مولوی حامد صاحب شیدانی جو اکابر علماء

182

سے تھے، وہ اس کو کافر فرمایا کرتے تھے۔ میں نے بارہا حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی زبان سے سنا کہ ’’یہ تو کافر ہے۔ میں بھی اس کافر کو جانتا ہوں۔‘‘ مجھے علمائے اہل سنت والجماعت سے اتفاق ہے۔ اگر شیخ الجامعہ بذات خاص تشریف لے آئیں تو جس قدر مجھے معلومات حاصل ہیں، حرف بحرف مفصل بیان کروں گا۔‘‘

(۱۲؍جمادی الثانی ۱۳۵۱ھ، ہوت محمد کوریجہ شیدانی)

حضرت خواجہ عبدالقادر صاحب خلف حضرت عارف کامل خواجہ فضل حق صاحبv سجادہ نشین منیگراں شریف نے اسی سلسلہ میں حسب ذیل بیان دیا۔

’’نیازمند کے والد ماجد حضرت خواجہ فضل حق صاحبv حاجی الحرمین الشریفین کے خاص غلامان سے تھے اور حضرت ممدوح الشان کی نظر کرم میں سب سے زیادہ ممتاز تھے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ حضرت کی جناب میں گزارا ہے۔ نیازمند نے ان کی زبان مبارک سے متعدد دفعہ سنا ہے کہ یہ خط جو ’’اشارات فریدی‘‘ ملفوظ شریف، میں درج ہے۔ محض الحاقی اور افتراء ہے جو منشی رکن دین نے کیا ہے۔ منشی رکن دین جس نے ملفوظ شریف کی کتاب کا کام سرانجام دیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو حضرت کا معتقد ظاہر کرتا تھا۔ مگر دراصل مرزائی تھا اور ان کی طرف سے اسی کام کے لئے مامور ہوا تھا کہ جس طرح ہوسکے حضرت اقدس کی طرف سے مرزاقادیانی کی تائید کرائے۔ لیکن جب کوشش کے باوجود کسی طرح کامیاب نہ ہوسکا تو ملفوظ شریف کی طباعت کے وقت اس خط کا الحاق کردیا جو بالکل غلط افتراء ہے۔ حضرت کی جناب سے کوئی خط وکتابت مرزاقادیانی سے نہیں ہوئی بلکہ نیازمند کے والد ماجد فرماتے تھے کہ منشی رکن دین نے ملفوظ شریف کی کتابت سے جو سعادت یا ثواب حاصل کیا تھا وہ سب حضرت کی نسبت اس افتراء باندھنے سے ضائع کر دیا ہے۔ خداوند کریم کی جناب میں کیا جواب دے گا۔‘‘

یہ بالکل صحیح ہے کہ مولوی رکن دین مصنف ’’اشارات فریدی‘‘ اور مولوی غلام احمد

183

اختر مرزائی آپس میں گہرے دوست تھے اور چاچڑاں شریف میں بزمانہ حضور حضرت صاحب قبلہ عالم خواجہ فرید الملت والدین قدس سرہ یک جارہتے تھے۔ مولوی غلام احمد باطنی طور پر مرزائی تھا۔ موقع تاک کر عبداﷲ ابن سبا یہودی کی طرح مصنف ملفوظ کے ساتھ مل گیا۔ اس کو معقول وظیفہ دے کر اپنا مرہون منت بنایا اور جب مرزائے قادیانی کے خطوط حضور انور کے نام آئے تو حضور کی طرف سے یہی غلام احمد جواب ارسال کرتا رہا اور حسب مدعا ملفوظ مقدس میں عبارتیں درج کراتا رہا۔ اس وقت مرزا کے عقائد بھی اسلام کے خلاف نہ تھے اور ابھی آغاز تھا۔ جب اس کے حالات میں تبدیلی رونما ہوئی تو حضور نے برملا انکار کر دیا اور فرمایا: ’’اندک درکشف واجتہاد خطا کردہ است‘‘ اگر حضور انور مرزا کو برحق نبی مانتے تو نسبت خطاء کی اس پر نہ لگاتے۔ کیونکہ ہر ایک نبی صغیرہ کبیرہ خطا سے پاک ہوتا ہے۔ آپ ہندوستان کے طول وعرض میں بغرض سیروتفریح وزیارت بزرگان عظام تشریف لے جاتے رہے۔ لاہور میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ مگر کبھی بھی مرزا کو ملنے کی خواہش ظاہر نہ کی۔ ملفوظ مقدس حضور انور کے وصال کے بعد طبع کئے گئے۔ مولوی غلام احمد اختر نے جو بعد وصال حضور عالی برملا مرزائی ہوگیا تھا۔ حسب منشاء خود عبارت زایدہ کو الحاق کر کے دل کی بھڑاس نکالی اور ملفوظ کی اصلی حالت اس بارہ میں نہ رہی۔ حضور انور حاشا وکلّا بالکل مرزائی نہ تھے۔ مگر اس مطبوعہ ملفوظ سے بعض کو دھوکا ہونے لگا اور اکثر غلطی میں مبتلا ہوکر مرزائی بن گئے اور اسلام کو ضعف پہنچا۔ جب ملفوظ طبع ہوکر حضرت خواجہ محمد بخش صاحب نائب قطب مدار قدس سرہ کے مطالعہ سے گزرے تو حضور نے فرمایا۔

’’رکن دین نے مرزا کی تائید کر کے بہت برا کام کیا ہے اور اسلام پاککو بہت دھوکا دیا ہے۔ ملفوظ میں ایسی جس قدر عبارتیں ہیں نکال دی جائیں تاکہ اسلام کو ضعف نہ پہنچے کیونکہ حضور حضرت اقدس عالی خواجہ فرید الملۃ والدین قدس سرہ مرزائی نہیں تھے اور نہ ہم، نہ ہماری اولاد، نہ ہمارے متعلقین مرزائی ہیں بلکہ مرزا اور مرزا کے باطل مذہب کے

184

منکر ہیں۔‘‘

ملفوظ پاک کی اصلاح کا ارادہ تھا کہ حضور نازک کریم قدس سرہ کا وصال ہوگیا۔ اب بھی لازم ہے کہ ملفوظ پاک کی اصلاح کی جائے تاکہ مخلوق الٰہی گمراہ نہ ہو۔’’واخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین‘‘ ۲۷؍جمادی الآخر ۱۳۵۱ھ فقیر نور احمد فریدی نازکی کی عفی عنہ فرید آباد شریف

(ماہنامہ الفرید جنوری۱۹۳۳ء ص۱۴تا۱۹)

محولہ بالا شہادات سے صاف ظاہر ہے کہ غلام احمد اختر ساکن اوچ مرزائی تھا۔ حضرت خواجہ صاحب کی زندگی میں منافقانہ طرز عمل اختیار کر کے اپنے مرزائی عقائد چھپا کر ان کی خدمت میں حاضر رہا اور غلام احمد قادیانی کو حضرت کے نام سے جعلی خط لکھتا رہا۔ حضرت خواجہ صاحبv کی وفات کے بعد کھلے بندوں مرزائیت کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ مرزائیوں کے خلیفہ محموداحمد نے ۱۹۱۳ء میں اپنی کتاب ’’حقیقت النبوۃ‘‘ میں لکھا ہے: ’’مکرم مولوی غلام احمد اختر نے اوچ سے حضرت محی الدین ابن عربی کا ایک حوالہ فتوحات سے نقل کر کے بھیجا ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۲۴۷)

حضرت خواجہ صاحب کی وفات ۶؍ربیع الثانی ۱۳۱۹ھ مطابق ۲۴؍جولائی ۱۹۰۱ء کو ہوئی۔ ان کے وصال کے بعد غلام احمد اختر مرزائی نے رکن الدین سے سازباز کر کے ’’اشارات فریدی‘‘ میں حضرت خواجہ صاحبv کے اسم گرامی سے منسوب کردہ جعلی خطوط ملفوظات درج کرادئیے۔ جب کتاب طبع ہوکر حضرت مرحوم کے گرامی قدر فرزند اور خلیفہ حضرت خواجہ محمد بخش صاحب نازک کی نظر سے گزری تو آپ نے فرمایا: ’’رکن الدین نے مرزا کی تائید کر کے براکام کیا ہے اور اسلام پاک کو بہت دھوکا دیا ہے۔ ملفوظ میں ایسی جس قدر عبارتیں ہیں، نکال دی جائیں۔‘‘

ان حضرات کے بیانات سے یہ بھی ثابت ہے کہ ابتداً حضرت خواجہ صاحب مرحوم غلام احمد قادیانی کو خادم اسلام سمجھتے تھے لیکن اس کے خلاف اسلام عقائد ودعاوی پر

185

مطلع ہونے کے بعد اسے کافر فرمایا کرتے تھے۔ نعوذ باﷲ! اگر قادیانی کو مجدد، مہدی، مسیح موعود اور نبی سمجھتے تو اس سے ملاقات کے لئے قادیان تشریف لے جاتے اور اس کی بیعت کر کے مرزائیت کے حلقہ بگوش ہو جاتے۔ لیکن آپ نے متعدد بار فرمایا کہ مرزاقادیانی کافر ہے۔

حضرت خواجہ صاحب کے عقائد ختم نبوت

’’ختم المرسلین وسید النّبیین، محبوب اﷲتعالیٰ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلوٰۃ اﷲ سلامہ علیہ کہ افضل از تمام انبیاء است۔‘‘

ختم المرسلین وسید النّبیین محبوب اﷲتعالیٰ، حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلوٰۃ اﷲ وسلامہ علیہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔

’’وسبب ایجاد اوشاں وتمام عالم است وحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام دروجود وظہور بعد تمام انبیاء است کہ پس ایشاں حکم رسالت محو گشت وحکم ولایت صادر۔‘‘

اور جمیع انبیاء وتمام دنیا کے ظہور کا باعث ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام وجود اور ظہور میں تمام انبیاء کے بعد ہیں۔ کیونکہ آپa کے بعد رسالت کا حکم مٹ چکا ہے اور ولایت کا باقی۔

(فوائد فریدیہ تصنیف حضرت خواجہ غلام فریدؒ ص۱۳)

حضرت خواجہ صاحب نے واضح الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ سرور کائناتa کی ذات گرامی پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔ حضورa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں صرف ولایت باقی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ختم نبوت کے اعلان کے بعد حضرت خواجہ صاحبv منکر ختم نبوت اور مدعی نبوت غلام احمد قادیانی کو مسلمان سمجھتے۔ متذکرہ شہادات سے ثابت ہے کہ آپ مرزاقادیانی کو کافر فرمایا کرتے تھے۔

ظہور حضرت مہدی

186

’’بدانکہ علامات قیامت کہ آمدن او از وجوبات است ومنکر آں کافراست۔ بسیار اندکہ بحدیث شریف ثبوت یافتہ اند اوّل ظہور مہدی کہ امام اولیاء خواہدشد قدر ہفت سال برسلطنت بحکمرانی میباشد واکثر خلق را مطیع الاسلام گرداند۔‘‘

جاننا چاہئے کہ علامات قیامت جس کا آنا ضروری ہے اور جس کا منکر کافر ہے۔ بہت ہیں، جن کا ثبوت حدیث شریف میں ہے۔ اوّل ظہور حضرت مہدی جو کہ امام اولیاء ہوگا۔ تقریباً سات سال بادشاہی کرے گا اور کثیر خلقت کو اسلام کا مطیع بنائے گا۔

(فوائد فریدیہ ص۳۳)

واضح ارشاد ہے کہ:

الف… حضرت مہدی اپنے زمانہ کے اولیاء کرام کے امام ہوں گے۔ غلام احمد قادیانی نے تمام مسلمانان عالم کو جن میں ہزاروں اولیاء اﷲ ہیں اور جو دعویٰ نبوت کے پیش نظر غلام احمد کو مفتری اور کذاب سمجھتے ہیں، کافر اور جہنمی لکھا ہے۔

ب… حضرت مہدی سات سال حکمرانی کریں گے۔ غلام احمد قادیانی غلام ابن غلام تھا۔ انگریز کا غلام مہدی کیسے ہوسکتا ہے؟

ج… حضرت مہدی کثیر انسانوں کو مطیع اسلام بنائیں گے۔ مرزاغلام احمد نے مسلمانان عالم پر کفر کا فتویٰ دیا۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ جہاد کو منسوخ کیا۔ عمر بھر انگریز حکومت کے استحکام کے لئے کوشش کرتا رہا۔

  1. کبھی حج ہو گیا ساقط کبھی قید جہاد اٹھی

    شریعت قادیاں کی ہے رضا جوئی نصاریٰ کی

ظہور حضرت عیسیٰm

’’بدانکہ درزمان دجال پلید ظہور حضرت عیسیٰm خواہد شد وآں پلید را خواہد کشت وبرسلطنت حضرت عیسیٰm خواہد نشست وتابع دین حضرت رسول اﷲa خواہد شد!‘‘

187

دجال کے زمانہ میں حضرت عیسیٰm ظاہر ہوں گے دجال پلید کو قتل کر کے خود تخت سلطنت پر بیٹھیں گے اور حضرت نبی کریمa کے دین کے تابع ہوکر رہیں گے۔

(فوائد فریدیہ ص۳۴)

حضرت خواجہ صاحب کے اس ارشاد گرامی سے ثابت ہے۔

الف… دجال کے زمانہ میں حضرت مسیحؑ کا ظہور ہوگا۔ اب تک نہ دجال کا زمانہ آیا ہے نہ حضرت مسیحؑ تشریف لائے ہیں۔

ب… حضرت مسیحؑ دجال کو قتل کرنے کے بعد تخت سلطنت پر فائز ہوں گے۔ بقول غلام احمد قادیانی اگر پادری دجال ہیں تو یہ دجال حضرت عیسیٰm کے رفع الیٰ السماء کے بعد انیس سو سال سے موجود ہے۔ مرزائی بتائیں کہ ان کا ’’قادیانی جعلی مسیح‘‘ انیس سو سال کا طویل عرصہ کیوں روپوش رہا؟ خانہ ساز مسیح موعود پیدا ہوا اور مرگیا۔ لیکن ان کے دجال (پادری) ابھی تک تمام دنیا میں دندنا رہے ہیں۔

حضرت خواجہ صاحب، حضور شفیع المذنبین، خاتم النّبیین، رحمۃ للعالمینa کی حدیث حکماً عدلاً (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰm) کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمm آسمان سے نازل ہونے کے بعد عدل کرنے والے حاکم ہوں گے کے پیش نظر اپنے عقیدے کا اظہار فرمارہے ہیں کہ دجال کو قتل کرنے کے بعد حضرت مسیحؑ تخت سلطنت پر متمکن ہوں گے۔ غلام احمد قادیانی اور اس کے باپ نے اپنی عمر انگریز کی غلامی میں بسر کی اور عیسائی حکمرانوں کی غلامی میں بسر کی اور عیسائی حکمرانوں کی غلامی پر فخر کرتے رہے۔ ایسے متنبی کو حضرت خواجہ صاحبv خادم اسلام کیسے فرماسکتے تھے۔

حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے اپنی تصنیف ’’فوائد فریدیہ‘‘ میں ختم نبوت، ظہور مہدی اور حضرت عیسیٰm کی تشریف آوری کا عقیدہ شائع فرماکر مرزائیت کے بخئے ادھیڑ دئیے ہیں اور اپنی اسی تصنیف میں ’’احمدی فرقہ‘‘ کو ناری (جہنمی) لکھا ہے۔

188

(فوائد فریدیہ ص۲۰،۳۰)

حضرت خواجہ صاحب کی تصنیف کے مقابل رکن الدین مؤلف ’’اشارات فریدی‘‘ اور غلام احمد مرزائی ساکن اوچ کے دجل وفریب اور جعلی شائع کردہ خطوط وملفوظات کی کوئی حقیقت نہیں۔

اگر بالفرض مرزائیوں کے اس عظیم فریب کو ایک منٹ کے لئے تسلیم بھی کر لیا جائے کہ حضرت خواجہ صاحب غلام احمد قادیانی کو ’’نیک انسان‘‘ سمجھتے تھے تو بھی ان کی ذات گرامی کے متعلق مرزائیوں کا یہ عقیدہ ہے۔

حضرت خواجہ صاحب کی نسبت مرزائیوں کا عقیدہ

غلام احمد قادیانی نے اپنا الہام لکھا ہے: ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار ص۸، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۷۵، تذکرہ طبع اوّل ص۳۲۷،۳۲۸، طبع سوم ص۳۳۶)

اس قادیانی الہام نے مندرجہ ذیل امور کا اظہار کیا ہے۔

الف… جو شخص غلام احمد قادیانی کی پیروی نہ کرے گا، وہ جہنمی ہے۔

ب… جو شخص غلام احمد کی بیعت نہ کرے گا، وہ جہنمی ہے۔

ج… جو شخص غلام احمد کا مخالف ہے، وہ جہنمی ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحبv نے نہ غلام احمد قادیانی کی پیروی کی نہ اس کی بیعت کی، بلکہ اسے کافر سمجھتے تھے۔

اب مرزائیوں کا موجودہ خلیفہ بتائے کہ حضرت صاحبv حقیقی مسلمان، ولی اﷲ اور جنتی تھے یا نعوذ باﷲ! تمہارے دادا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ بالا ’’الہام‘‘ کے پیش نظر اس کے بالعکس؟

189

مرزائیوں کے دوسرے خلیفہ مرزامحمود احمد کا عقیدہ

’’ایک دوست نے خلیفہ ثانی کی خدمت میں لکھا کہ جو شخص مسیح موعود کے سب دعاوی کا مصدق ہو مگر بیعت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔ جواب میں حضور نے لکھوایا۔ غیراحمدی کے پیچھے، جس نے اب تک سلسلہ میں باقاعدہ بیعت نہ کی ہو، خواہ حضرت صاحب کے سب دعاوی کو مانتا بھی ہو، نماز جائز نہیں اور ایسا شخص سب دعاوی کو مان بھی کس طرح سکتا ہے، جو حضرت صاحب بلکہ خدا کا صریح حکم ہوتے ہوئے آپ کی بیعت نہیں کرتا۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۵؍اگست ۱۹۱۵ء)

مرزائیوں کے آنجہانی خلیفہ مرزامحمود احمد نے غیرمبہم الفاظ میں اپنا عقیدہ بیان کیا ہے کہ:

الف… جو شخص مرزاغلام احمد قادیانی کی بیعت نہ کرے خواہ وہ اس کے جملہ میں دعاوی کو مانتا ہو۔ اس کی اقتداء میں نماز ناجائز ہے۔

ب… خداتعالیٰ کا صریح حکم ہوتے ہوئے جو شخص غلام احمد قادیانی کی بیعت نہیں کرتا، وہ اس کے تمام دعاوی کو تسلیم نہیں کر سکتا اور وہ خداتعالیٰ کے صریح حکم کی مخالفت کرتا ہے۔

مرزائیوں کے خلیفہ سے ایک سوال؟

ہم کسی ایرے غیرے نتھو خیرے مرزائی سے نہیں بلکہ ان کے موجودہ خلیفہ مرزاناصر احمد سے پوچھتے ہیں کہ: ’’تمہارے باپ کے مندرجہ بالا فتوے کے پیش نظر حضرت خواجہ غلام فرید صاحبv نے تمہارے دادا کی بیعت نہ کر کے خداتعالیٰ کے صریح حکم کی خلاف ورزی کی تھی یا نہیں؟ خداتعالیٰ کے صریح حکم کی مخالفت کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے کہ وہ قادیانی شریعت کی رو سے حقیقی مسلمان ہے یا نہیں؟ ایسا شخص جنتی ہے یا جہنمی؟‘‘

190

حمل مرزا قادیانی

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

191

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرزاغلام احمد قادیانی کے خلاف شریعت ’’الہامات‘‘ عقائد اقوال اور دعاوی میں حد درجہ کی نیرنگیاں پائی جاتی ہیں۔ جب علماء اسلام کی طرف سے مرزا کے انٹ شنٹ الہامات اور مکاشفات پر اعتراضات کئے جاتے ہیں تو مرزاقادیانی کے مرید اپنے ظلی وبروزی نبی کے الہامات مکاشفات اور تحریرات کو متشابہات، تاویلات اور مجازواستعارہ کے شکنجے میں جکڑ دیتے ہیں۔ ہم اپنے آٹھ سالہ مرزائیت کے مطالعہ کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ مرزائی مذہب کی بنیاد جھوٹ وافتراء کے بعد تاویلات اور استعارات پر ہے۔ مرزابھی اپنے خلاف شریعت الہامات اور مکاشفات پر استعارات اور تاویلات کا پالش کردیا کرتے تھے۔ ہم ان اوراق میں بطور نمونہ مشتے ازخروارے بتانا چاہتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے مجاز واستعارہ کے پردہ میں کس قسم کے حقائق ومعارف کا انکشاف کیا ہے؟

مرزاکا حیض اور بچہ

مرزااپنے الہام:’’یریدون ان یروطمثک‘‘کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خداتعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں، بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اﷲ کے ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)

طاقت رجولیت کا اظہار

مرزاقادیانی کے ایک مخلص مرید قاضی یار محمد صاحب بی۔او۔ایل پلیڈر نور پور ضلع

192

کانگڑہ اپنے ٹریکٹ نمبر۳۴ (ج) موسومہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر کے ص۱۲ میں لکھتے ہیں: ’’جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پراس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اﷲتعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘

استقرار حمل

مرزاقادیانی نے لکھا: ’’مریم کی طرح عیسیٰm کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

دردزہ

مرزاقادیانی رقمطراز ہے: ’’پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردزہ تنا کھجور کی طرف لے آئی۔‘‘

(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۱)

مرزاکے بیٹے کی تعریف (مرزاکو اپنے بیٹے کے متعلق الہام ہوتا ہے)

فرزند دلبند گرامی وارجمند مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلاء کان اﷲ نزل من السماء۔

یعنی میرا بیٹا گرامی وارجمند ہوگا۔ اوّل وآخر کا حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا خداآسمان سے اترے گا۔

(البشریٰ ج۲ ص۱۲۴، تذکرہ ص۱۳۹ طبع سوم)

مرزاقادیانی کے مخلص مریدو

’’بتاؤ اور اﷲتعالیٰ کو حاضر وناظر جانتے ہوئے سچ بتاؤ کہ موجودہ زمانے میں

193

اسلام کی تبلیغ کے لئے انہیں حقائق ومعارف کی ضرورت تھی۔ جس کو پورا کرنے کے لئے مرزاقادیانی تشریف لائے؟ کیا مرزاقادیانی کے اسی ایجاد کردہ فلسفہ کو یورپ کے سامنے پیش کرتے ہو؟ کیا مرزاقادیانی کی ظلی اور بروزی نبوت اس وقت تک ثابت نہ ہوسکتی تھی جب تک انہیں اس قسم کے خلاف قرآن وحدیث الہامات اور مکاشفات نہ ہوتے؟ اور ان کو استعارہ اور مجاز کہو تو ہم دریافت کرتے ہیں۔ کہا الہامی اور کشفی طریق پر ایسے نسائیت کے رنگ میں رنگین اور گندے استعاروں کی ضرورت ہی کیا تھی؟‘‘

  1. میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر

    بندہ پرور منصفی کیجئے خدا کو دیکھ کر

194

مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کی

ریشہ دوانیاں

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

195

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱۹۶۷ء میں چند مرزائی ظفراﷲ خان کی قیادت میں حج بیت اﷲ کے موقع پر حجاز مقدس پہنچے۔ حج تو محض بہانہ تھا۔ اصل غرض مرکز اسلام میں مرزائی لٹریچر کی تقسیم واشاعت اور مسلمانان عالم میں ارتدد پھیلانا تھا۔ حجاز مقدس سے آمدہ اطلاع سے معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں لٹریچر تقسیم کیا۔ قادیانیوں کی اس نازیبا حرکت سے مسلمانان مرکز اسلام اس قدر مشتعل ہوئے کہ مکہ مکرمہ کے مشہور روزنامہ ’’الندوہ‘‘ نے اپنی اشاعت مورخہ ۲۸؍ذوالحجہ ۱۳۸۶ھ مطابق ۱۸؍اپریل ۱۹۶۷ء میں ’’ماہی القادیانیہ‘‘ کے زیرعنوان چھ کالمی سرخی جمائی اور کفر مرزاغلام احمد قادیانی اور تردید عقائد مرزائیہ پر طویل مقالہ شائع کیا۔ جس میں قادیانی نبوت کا پول کھول کر رکھ دیا اور لکھا کہ قرآن وحدیث اور علماء کرام کے فتویٰ کے پیش نظر مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کی امت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’یا ایہا الذین اٰمنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا (توبہ:۲۸)‘‘{اے ایمان والو! یقینا مشرک ناپاک ہیں اپنے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آئیں۔}

حضور خاتم الانبیاءa کے بعد مدعیان نبوت کاذبہ اور ان کے معتقدین بوجہ ارتداد مشرکین سے زیادہ نجس ہیں۔ لہٰذا انہیں حرمین شریفین میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قبل ازیں خود سعودی حکومت نے مرزائیوں کو برداشت نہیں کیا تھا۔ لیکن امسال شاہ فیصل نے ظفر اﷲ خان اور ان کے ساتھیوں کو حجاز مقدس میں داخلہ کی اجازت دے کر عالم اسلام کے مسلمانوں کے قلوب کو مجروح کیا ہے۔

مدت مدید سے قادیانی حجاز مقدس میں فتنہ ارتداد پھیلانے کی سازش کر رہے

196

تھے۔ چنانچہ آج سے چھیالیس سال پیشتر ان کے خلیفہ محمود احمد نے اعلان کیا تھا: ’’بچپن سے میرا خیال ہے، جس کا میں نے دوستوں سے بارہا ذکر بھی کیا ہے کہ میرے نزدیک احمدیت کے پھیلنے کے لئے اگر کوئی مضبوط قلعہ ہے تو مکہ مکرمہ ہے۔ دوسرے درجہ پر پورٹ سعید، اگر کوئی شخص وہاں چلا جائے تو ساری دنیا میں احمدیت کو پہنچا سکتا ہے۔ وہاں سے ہر ایک ملک کو جہاز گزرتا ہے۔ ٹریکٹ تقسیم کئے جائیں۔ اس طرح ایسے ایسے علاقوں میں حضرت صاحب (مرزاغلام احمد قادیانی) کا نام پہنچ جائے۔ جہاں ہم مدتوں نہیں پہنچ سکتے۔ مگر مکہ مکرمہ سب سے بڑا مقام ہے۔ وہاں کے لوگ ہمارے بہت کام آسکتے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ مرزامحموداحمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مجریہ ۱۴؍جولائی ۱۹۲۱ء ج۹ نمبر۴ ص۸)

مکہ مکرمہ مشن

’’مکہ میں (قادیانی) مشن کی تجویز ہے۔ ایک دوست نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مکہ میں مکان لیا جائے تو وہ پچیس ہزار روپیہ مکان کے لئے دیں گے۔ پس شیطان کے مقابلہ میں پوری طاقت سے کام لیں اور میری اس نصیحت کو خوب یاد رکھیں۔‘‘

(تقریر خلیفہ قادیان جلسہ سالانہ مندرجہ الفضل ج۷ نمبر۵۰، مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۲۰ء)

قادیانی حج کا مقصد

’’مولانا میر محمد سعید صاحب ساکن حیدرآباد دکن نے (مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان سے) ملاقات کی۔ مولانا کا عزم امسال حج بیت اﷲ کا ہے اور اس سفر پر جانے سے پہلے آپ یہاں آئے ہیں۔ سفر حج کے ذکر پر مولوی (محمد سعید) صاحب نے کہا کہ ’’عرب کی سرزمین اب تک احمدیت سے خالی ہے۔ شاید خداتعالیٰ یہ کام مجھ سے کرائے۔‘‘ اس پر حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا: ’’میرا مدت سے خیال ہے کہ اگر عرب میں احمدیت پھیل جائے تو تمام اسلامی

197

دنیا میں پھیل جائے گی۔‘‘ مولانا نے عرض کیا کہ: ’’عرب میں تبلیغ کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔‘‘ (مرزامحمود احمد نے) فرمایا: ان سے بحث کا طریقہ مضر ہے۔ کیونکہ وہ لوگ حکومت کے زیادہ زیراثر نہیں۔ جلد اشتعال میں آجاتے ہیں اور جو جی چاہے کر گزرتے ہیں۔ مولانا نے عرض کیا: ’’میرا خود بھی خیال ہے کہ ان کا استاد بن کر نہیں بلکہ شاگرد بن کر ان کو تبلیغ کی جائے۔‘‘ (مرزامحمود احمد نے) فرمایا: ’’میں نے وہاں تبلیغ شروع کی اور خدا نے اپنے فضل خاص سے میری حفاظت کی۔ اس وقت حکومت ترکی کا وہاں چنداں اثر نہ تھا۔ اب تو شاہ حجاز کے گورنمنٹ انگریزی کے زیراثر ہونے کے باعث ہندوستان سے بدسلوکی نہیں ہوسکتی۔ مگر اس وقت یہ حالت نہ تھی اس وقت تو وہ جس کو چاہتے، گرفتار کرسکتے تھے۔ مگر میں نے تبلیغ کی اور کھلے طور پر کی۔ لیکن جب ہم وہ مکان چھوڑ کر واپس ہوئے تو دوسرے دن اس مکان پر چھاپہ مارا گیا اور مالک مکان کو پکڑ لیاگیا کہ اس قسم کا کوئی شخص یہاں تھا۔‘‘

(مرزامحمود احمد خلیفہ کی ڈائری مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۸ نمبر۵۷، مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۲۱ء)

۲… ’’حضرت مولانا محمد سعید قادری امیر جماعت ہائے احمدیہ حیدرآباد دکن بعد حصول اجازت حضرت اقدس خلیفہ المسیح ایدہ اﷲ بنصرہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کا مبارک مقصد لے کر ۳۰؍اپریل ۱۹۲۱ء کو بمبئی سے ہمایوں نامی جہاز میں مدینہ شریف روانہ ہوگئے۔ آپ کا خیال ایک دراز مدت تک مدینہ شریف کو مرکز تبلیغ بناکر ملک عرب میں تبلیغ کرنے کا ہے۔ ان شاء اﷲ! اس مبارک دور خلافت ثانیہ میں بطفیل حضرت اولوالعزم فضل عمر (مرزامحمود احمد) یورپ وامریکہ میں جب کہ اسلام کا بول بالا رہا ہے۔ ضرور تھا کہ وہ مقدس سرزمین عرب کہ جس کے انوار نورانی سے سارا جہان منور ہوگیا تھا۔ دوبارہ اس سرزمین کی منور چوٹیوں سے وہ نور چمک اٹھے تاکہ سیدنا مسیح موعود کا یہ الہام پوری آب وتاب کے ساتھ دنیاپر ظاہر ہوجائے کہ: مسلمان

198

را مسلمان باز کردند۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۸ نمبر۸۵، مورخہ ۱۲؍مئی ۱۹۲۱ء)

قادیانی ارض حرم ہے

۱… امت قادیانیہ قادیان کو ارض حرم سمجھتی ہے۔ جیسا کہ ان کے نبی مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

۲… ’’جو احباب واقعی مجبوریوں کے سبب اس موقع (جلسہ سالانہ قادیان) پر قادیان نہیں آسکے۔ وہ تو خیر معذور ہیں۔ لیکن جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد واثق کا پاس کیا ہے اور ارض حرم (قادیان) کے انوار وبرکات سے بہراندوز ہونے، امام محترم کی زیارت کرنے کے شوق میں دارالامان مہدی ٹھیک وقت پر آن ہی پہنچے۔ ان کی للہیت، ان کا اخلاص فی الواقعہ قابل تحسین ہے۔ اقامت نماز کے وقت جب ہجوم خلائق مسجد مبارک میں نہیں سماسکتا۔ گلیوں، دکانوں اور راستوں تک میں نمازی ہی نمازی نظرآتے ہیں اور ارض حرم کے چار مصلوں کی حقیقت ظاہر کرنے والا یہ نظارہ بھی ہرسال دیکھنے میں آتا ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ج۲۶؍دسمبر۱۹۱۵ء)

قادیان میں ظلی حج

قادیانی بیت اﷲ اور حج کا نام برائے وزن بیت لیتے ہیں، ان کی حجاز مقدس جانے کی غرض وغایت صرف قادیانی نبوت کا پرچار ہے۔ ان کا مقدم حج تو قادیان ہے، جیسا کہ ان کے واجب الاطاعت خلیفہ مرزامحمود احمد کا عقیدہ ہے۔

۱… ’’چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے ہیں اور امیر ہوں۔ حالانکہ الٰہی تحریکات پہلے غرباء میں ہی پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو حج سے شریعت نے معذور کر رکھا

199

ہے۔ اس لئے اﷲتعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا۔ تاکہ وہ قوم، جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تاوہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ مرزامحمود احمد، اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم؍دسمبر ۱۹۳۲ء)

مرزائیوں کے نبی مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

۲… ’’لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ (قادیان میں) نفی حج سے ثواب زیادہ ہے۔ غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۵۲، خزائن ج۵ ص۳۵۲)

مرزائیوں کے خلیفہ محمود احمد نے اعلان کیا:

۳… ’’شیخ یعقوب علی بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے یہاں (قادیان) آنے کو حج قرار دیا ہے۔ ایک واقعہ مجھے بھی یاد ہے۔ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم شہید حج کے ارادہ سے کابل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود (مرزا) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے کے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے۔ چنانچہ پھر صاحبزادہ صاحب حج کے لئے نہ گئے اور یہیں (قادیان) رہے۔ کیونکہ اگر وہ حج کے لئے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے۔‘‘

(تقریر جلسہ سالانہ مرزامحمود احمد، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۳ء)

۴… ’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے بتادیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘

(تقریر مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۷۸ مورخہ ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۲ء ص۱)

200

حرمین شریفین کی توہین

انبیاءo اور شعائر اﷲ کی توہین قادیانیوں کا دل پسند مشغلہ ہے۔ چنانچہ ان کے خلیفہ نے اعلان کیا ہے کہ: ’’یہاں (قادیان میں) آنا نہایت ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو باربار یہاں نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔‘‘

(حقیقت الرؤیا طبع اوّل ص۴۶، مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۶۷ء)

راقم: لال حسین اختر

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان کا سرکلر ماتحت جماعتوں کے نام ظفراﷲ خان کے داخلہ حجاج پر شدید احتجاج

مکرمی ومحترمی ………… زید مجدکم!

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ مزاج گرامی!

قادیانی باتفاق امت دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزائیوں کے نزدیک مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کی تقدیس ختم ہوچکی ہیں اور اب یہ سب برکتیں قادیان کی ملعون زمین سے متعلق ہیں۔ (نعوذ باﷲ)

مرزائی جب حجاز مقدس کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں اہل اسلام کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش کارفرما ہوتی ہے۔ چنانچہ آج تک کسی بھی سابقہ حکومت حجاز نے

201

قادیانیوں کو داخلہ حجاز کی اجازت نہیں دی۔ افسوس ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس سال ظفراﷲ خاں قادیانی کو عین حج کے دنوں میں داخلہ حجاز کی اجازت دے کر عالم اسلام کے قلب کو مجروح کیا ہے۔

جماعت ختم نبوت پاکستان کی طرف سے ۱۵؍صفر ۱۳۸۷ھ دن جمعتہ المبارک کو یوم احتجاج منایا جارہا ہے۔ آپ مذکورہ ذیل ’’تجویز‘‘ اپنے ہاں جمعہ کے اجتماعات سے پاس کراکے شاہ فیصل کے نام معرفت سعودی سفارت خانہ کراچی روانہ کریں اور ملتان دفترمرکزیہ کو بھی اطلاع دیں۔

تجویز: ’’آپ کی حکومت نے ظفراﷲ قادیانی کو حج کے دنوں میں دیار مقدس میں داخلہ کی اجازت دے کر امت کے اجماعی فیصلہ سے انحراف کیا ہے۔ جس پر ہم شدید احتجاج کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ کسی قادیانی کو داخلہ حرمین شریفین کی اجازت نہ دی جائے۔ قادیانی باجماع امت دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

مجوز موید مقام مسجد

(مولانا) محمد علی جالندھری امیر مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان۔ (چنانچہ پورے ملک میں یوم احتجاج منایا گیا۔ جس پر لاکھوں خطوط اور ہزاروں تاریں سفارت خانہ سعودی عرب کے ذریعہ شاہ فیصل تک پہنچائی گئیں۔ جس کی نقول دفتر مرکزیہ میں موصول ہوئیں)

202

سیرتِ

مرزا قادیانی

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

203

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یہ بجا ہے کہ مرزاقادیانی نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کو اور اولیاء وعلماء امت کو ولد الحرام، ذریہ البغایا، کنجریوں کی اولاد، حرامزادے، خنزیر، کتے، بندر، شیطان، گدھے، کافر، مشرک، یہودی، مردود، ملعون اور بے شرم وبے حیا وغیرہ کہا۔ مانا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ ایک ایک لفظ لکھا اور مانے بغیر چارہ نہیں۔ کیونکہ یہ آج بھی مرزاکی پچاس الماریوں والی کتابوں میں موجود ہیں اور اسے اب چاٹا نہیں جاسکتا۔ یہ سب بجا اور درست۔ یہ سب آج بھی کتابوں میں مسطور ومذکور اور موجود ہے۔ لیکن بایں ہمہ مرزاقادیانی کا دہن مبارک بدزبانی سے کبھی آلودہ نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ تو خود فرماتے ہیں۔

  1. بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزبان ہے

    جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے

  2. گو ہیں بہت درندے انسان کے پوستیں میں

    پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے

(درثمین اردو ص۱۷، خزائن ج۲۰ ص۴۵۸،۴۵۹)

تو وہ خود کب بدکلامی فرماسکتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے کسی کو بھی گالی نہیں دی۔ نبوت کی زبان سے بھلا گالی کب نکل سکتی ہے۔ جب کہ نبی خود کہتا ہے کہ ’’گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔‘‘

(ست بچن ص۲۱، خزائن ج۱۰ ص۱۳۳)

… ’’خداتعالیٰ نے اس (حضرت مولانا سعد اﷲ صاحب لدھیانوی) کی بیوی کے رحم پر مہر لگادی۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳، خزائن ج۲۲ ص۴۴۴)

… ’’جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہوجاتے۔‘‘

(حیات احمد ج۱ نمبر۳ ص۲۵)

… ’’آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۱۶، خزائن ج۲۳ ص۱۱۴)

(۱)مسلمان حرامزادے ہیں، زناکار کنجریوں کی اولاد ہیں

۱… ’’جو شخص اس صاف فیصلہ کے خلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور کچھ شرم اور حیا کو کام نہیں لائے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ وہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔‘‘

(انوار الاسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱،۳۲)

204

ب…’’کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا‘‘ ہر مسلمان مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ پر ایمان لاتا ہے۔ مگر زناکار کنجریوں کی اولاد۔

(آئینہ کمالات ص۵۴۷، خزائن ج۵ ص۵۴۷)

(۲)اکابر امت اور مشائخ ملت، شیطان، شترمرغ، ملعون، یاوہ گو اور ژاژخاہیں

’’سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شترمرغ۔ یہ سب شیاطین الانس ہیں اور میں اعلان سے کہتا ہوں کہ جس قدر فقراء میں سے اس عاجز کے مکفر یا مکذب ہیں۔ وہ تمام اس کامل نعمت مکالمہ الٰہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض یاوہ گو اور ژاژخاہیں۔ مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۴تا۲۳ ملخصاً، خزائن ج۱۱ ص۳۰۲،۳۰۳)

(۳)علمائے امت کی ایسی تیسی

الف… ’’اے بدذات فرقہ مولویان! کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص۲۱، خزائن ج۱۱ ص۲۱)

ب… ’’اے بے ایمانو! نیم عیسائیو! دجال کے ہمراہیو! اسلام کے دشمنو… تمہاری ایسی تیسی ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ ص۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۹،۷۰)

(۴)جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں

جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف وگزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔

(حیات احمد ج۱ نمبر۳ ص۲۵)

ان عوامی ’’ارشادات نبویہ‘‘ اور ’’الہامات ربانیہ‘‘ کے بعد اب ذرا بطور نمونہ نام بہ نام نوازشات ملاحظہ ہوں۔

(۵)امام المحدثین حضرت مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی

قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیv اور مولانا نذیر حسین دہلویv وغیرہم ائمہ وقت کے حق میں ’’نبوی‘‘ گوہر افشانی اور شیریں بیان دیکھئے۔

’’ایہا الشیخ الضال والدجال البطال… فمنہم شیخک الضال
205
الکاذب نذیر المبشرین ثم الدھوی عبدالحق رئیس المتصلفین ثم سلطان المتکبرین… واخرہم الشیطان الاعمی والغول الاغوی یقال لہ رشید الجنجوہی وہوشقی کالا مروہی والملعونین‘‘

(انجام آتھم ص۲۵۲، خزائن ج۱۱ ص۲۵۱)

(۶)مرشد وقت پیرمہر علی شاہv کے حق میں ’’مشک افشانی‘‘ ہوتی ہے

الف… ’’مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب بچھو کی طرح نیش زن ہے۔ اے گولڑہ کی سرزمین تجھ پر لعنت۔ تو ملعون کے سبب ملعون ہوگئی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۵، خزائن ج۱۹ ص۱۸۸)

ب…

  1. مر گیا بدبخت اپنے وار سے

    کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے

  2. کھل گئی ساری حقیقت سیف کی

    کم کرو اب ناز اس مردار سے

(نزول المسیح ص۲۲۴، خزائن ج۱۸ ص۶۰۲)

ج… ’’مہر علی نے ایک مردہ کا مضمون چرا کر کفن دزدوں کی طرح قابل شرم چوری کی ہے۔ نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی ’’لعنۃ اﷲ علی الکاذبین‘‘ رہا۔ محمد حسن اس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ پر رکھ دی۔ اس کے مردار کو چرا کر پیرمہرعلی نے اپنی کتاب میں کھایا۔‘‘

(نزول المسیح حاشیہ ص۷۰،۷۱، خزائن ج۱۸ ص۴۴۸،۴۴۹)

(۷)غزنویوں کی جماعت پر لعنت

حضرت مولانا عبدالحق غزنوی کا نطفہ اور ان کی اہلیہ محترمہ کے پیٹ سے چوہا۔

الف… ’’عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیااندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پاگیا یا پھر رجعت قہقہری کر کے نطفہ بن گیا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۲۷حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۱۱)

’’اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۳، خزائن ج۱۱ ص۳۱۷)

ب… ’’عبدالحق اور عبدالجبار غزنویاں وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی نجاست کھائی۔‘‘

206

(ضمیمہ انجام آتھم ص۴۵، خزائن ج۱۱ ص۳۲۹)

ج… ’’کیا اب تک عبدالحق کا منہ کالا نہیں ہوا۔ کیا اب تک غزنویوں کی جماعت پر لعنت نہیں پڑی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۸،۵۹، خزائن ج۱۱ ص۳۲۴،۳۴۳)

گل افشانیوں کے یہ نمونے ایک ’’نبوی‘‘ تصنیف لطیف (ضمیمہ انجام آتھم ص۲۷) وغیرہ پر ہیں۔ ص۵۸ تک یہ زعفران زار کھلا ہے اور حجتہ اﷲ (عربی) وغیرہ دوسری کتابوں میں بھی غزنوی خاندان کے متعلق یہ عطربیزیاں موجود ہیں۔

(۸)حضرت مولانا شیخ سعد اﷲ لدھیانویv کی بیوی کے رحم پر مہر

’’اس کی نسبت خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’ان شانئک ہو الابتر‘‘گویا اسی دم سے خداتعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگادی اور اس کو یہ الہام کھلے کھلے لفظوں میں سنایا گیا کہ اب موت کے دن تک تیرے گھر اولاد نہ ہوگی اور نہ آگے سلسلہ اولاد کا چلے گا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳، خزائن ج۲۲ ص۴۴۴)

سبحان اﷲ! کیا خوب نبوی اخلاق اور الہامی تہذیب ہے۔ جب بیویوں کے رحم پر مہرلگانے والے ’’خدا اور رسول‘‘ کی طرف دنیا کو دعوت دی جائے گی تو انگلستان، امریکہ،جرمنی اور فرانس وغیرہ کا ہردل پھینک زندہ دل جنٹلمین ایمان لانے میں سبقت کرے گا اور ضبط تولید کی دلدادہ ہرلیڈی بصمیم قلب ’’امنا وصدقنا‘‘ پکار اٹھے گی۔

  1. بسے نادیدنی رادیدہ ام من

    مرا اے کاش کہ مادرنہ زادے

(اقبال)

پھر یہ بھی دیکھا کہ مرزا کا ’’خدا‘‘ کسی کی بیوی کے رحم پر مہر لگائے تو یہ مہر توڑ کر نودس ماہ کا بچہ بھی باہر نہ آسکے اور نہ اولاد کا سلسلہ چل سکے۔ مگر جب محمدرسول اﷲ کا خدا نبوت پر مہر لگادے تو پچاس ساٹھ سالہ بوڑھا ’’نبی‘‘ یہ مہر توڑ کر کسی نہ کسی طرح باہر آجائے اور نبوت کا سلسلہ برابر جاری رہے۔

لطیفہ: مناظرہ بھدرواہ میں جب میں نے بوقت مناظرہ یہ الہام ’’ربانی‘‘ اور اس کی یہ مندرجہ بالا نبوی تفسیر پیش کی تو قادیانی مناظر مولوی عبدالغفور قادیانی فرمانے لگے۔ ’’یہ

207

کیا گندی باتیں ہیں۔‘‘ اس پر میں نے برجستہ کہا کہ جناب! گندی باتیں کہاں؟ یہ تو الہامات ربانیہ اور ارشادات نبویہ ہیں۔ اس پر وہ ایسے چپ ہوئے کہ گویا سانپ سونگھ گیا ہو۔

(۹)حضرت مولانا ثناء اﷲ صاحب عورتوں کی عار ہیں

الف… ’’مولوی ثناء اﷲ صاحب پر لعنت لعنت دس بار لعنت۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۴۵، خزائن ج۱۹ ص۱۴۹)

’’ایک بھیڑئیے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۸۷، خزائن ج۱۹ ص۱۹۱)

ب… ’’اے عورتوں کی عار ثناء اﷲ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۹۲، خزائن ج۱۹ ص۱۹۶)

’’اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۸۹، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)

یہ عقدہ نہ کھلا کہ مرزاقادیانی نے کس شکایت کی بناء پر مولانا کو عورتوں کی عار فرمایا۔ حالانکہ مولانا تو مرزا کی دعوت پر فوراً قادیان پہنچ گئے تھے اور الٹا مرزاہی گھر میں چھپ کر بیٹھ رہے تھے اور مقابلہ ومناظرہ سے صاف فرار اختیار کر گئے تھے۔

پھر یہ ’’نبوی کرم فرمائی‘‘ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ اس بارش الطاف وعنایات سے غیرمسلمین کو بھی حصہ وافر ملا ہے۔ صرف نمونہ بطور قطرے از بحر ذخار ملاحظہ ہو۔

(۱۰)لعنت، لعنت، لعنت، لعنت

نور الحق ص۱۱۸تا۱۲۲ تک عیسائیوں کو لعنت، لعنت، لعنت، لعنت حتیٰ کہ پوری ہزار لعنتیں لکھ کر قادیانی ’’نبوی‘‘ تہذیب وشرافت کو عریاں کیا ہے۔

(نورالحق ص۱۱۸تا۱۲۲، خزائن ج۸ ص۱۵۸تا۱۶۲)

(۱۱)دس سے کرواچکی زنا لیکن

آریوں کے متعلق صرف نیوگ پر ایک طویل نظم کے چند اشعار آبدار ملاحظہ ہوں۔

  1. چپکے چپکے حرام کروانا

    آریوں کا اصول بھاری ہے

  2. زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں

    جس کو دیکھو وہی شکاری ہے

  3. نام اولاد کے حصول کا ہے

    ساری شہوت کی بے قراری ہے

208
  1. بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط

    یار کی اس کو آہ و زاری ہے

  2. دس سے کروا چکی زنا لیکن

    پاک دامن ابھی بیچاری ہے

  3. لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں

    ان کی لالی نے عقل ماری ہے

  4. گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو

    ایسی جورو کی پاسداری ہے

  5. جورو جی پر فدا ہیں یہ جی سے

    وہ نیوگی پہ اپنے واری ہے

  6. ہے قوی مرد کی تلاش انہیں

    خوب جورو کی حق گزاری ہے

  7. کیا کریں وید کا یہی ہے حکم

    ترک کرنا گناہ گاری ہے

(آریہ دھرم حاشیہ ص ی، خزائن ج۱۰ ص۷۵تا۷۷)

(۱۲)آریوں کا پرمیشر

’’آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۱۶، خزائن ج۲۳ ص۱۱۴)

(معلوم ہوتا ہے کہ مرزا الجبرا بھی نہ صرف پڑھا ہوا بلکہ پریکٹیکل میں بھی ماہر تھا)

تاریخ عالم کو الٹو پلٹو! دنیا میں کوئی ایسا خوش کلام اور شیریں گفتار انسان پیش کر سکتے ہو تو کرو۔ نہیں کر سکتے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک کیفیت میں اس قسم کی فحش کلامی وعریانی اور کمیت میں اس قدر بدزبانی اور زہرافشانی کا عشرعشیر بھی نہیں دکھلا سکو گے۔

یہاں ہم نے بادل ناخواستہ بطور نمونہ مشتے ازخروارے صرف چند ’’خوش کلامیاں‘‘ پیش کی ہیں۔ اگر اس سے زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو مولانا نور محمد سابق مبلغ ومناظر مظاہر العلوم سہارنپور کا رسالہ ’’مغلظات مرزا‘‘ ملاحظ ہو۔ گو مرزاقادیانی کے ان کارناموں کا استیعاب تو ان سے بھی نہیں ہوسکا۔ تاہم انہوں نے بڑے سائز کے ۷۲صفحات کے اس رسالہ میں ۶اور۷سو کے درمیان ایسی سوقیانہ گالیاں ردیف وار معہ حوالہ جمع کردی ہیں۔

بدزبانی کے متعلق مرزاقادیانی کا فیصلہ

آخر میں بدزبانی کے متعلق خود مرزاقادیانی کا فیصلہ اور فتویٰ پیش کر دینا جہاں آپ لوگوں کی دلچسپی کا موجب ہوگا وہاں اس سے غیرجانبدارانہ اور خالی الذہن مبصروناقد کو مرزاقادیانی کا حقیقی مقام اور صحیح منصب متعین کرنے میں مدد ملے گی۔

209

۱… ’’گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔‘‘

(ست بچن ص۲۱، خزائن ج۱۰ ص۱۳۳)

۲…

  1. بدتر ہر ایک بدسے وہ ہے جو بدزبان ہے

    جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے

  2. گو ہیں بہت درندے انساں کی پوستیں میں

    پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے

(درثمین اردو ص۱۷، قادیان کے آریہ اور ہم ص۶۱، خزائن ج۲۰ ص۴۵۸)

افسوس کہ بدزبانی کی مذمت اور تقبیح کرتے ہوئے بھی مرزا کی زبان بدزبانی سے ملوث ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔

بدزبانی کے جواب میں فریب کاری

کہا جاتا ہے کہ مرزاقادیانی کی یہ گل افشانیاں مخالفین کی زبان درازیوں کا جواب اور ردعمل ہیں۔ لہٰذا عوض معاوضہ گلہ ندارد! لیکن یہ سراپا مغالطہ اور سراسر فریب کاری اور سولہ آنے دھوکہ بازی ہے۔ کیونکہ اوّل تو مرزا خود فرماتے ہیں۔

۱… ’’بدی کا جواب بدی سے مت دو نہ قول سے نہ فعل سے۔‘‘

(نسیم دعوت ص۳، خزائن ج۱۹ ص۳۶۵)

۲…

  1. گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو

    رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۲۵، خزائن ج۵ ص۲۲۵)

۳… ’’خبردار! نفسانیت تم پر غالب نہ آوے۔ ہر ایک سختی کو برداشت کرو۔ ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو۔‘‘

(نسیم دعوت ص۳، خزائن ج۱۹ ص۳۶۴)

۴… ’’ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا (اس کی) چھوٹی لڑکی بولی۔ آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا؟ اس نے جواب دیا۔ بیٹی! انسان سے ’’کت پن‘‘ نہیں ہوتا۔ اس طرح جب کوئی شریف گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی کت پن کی مثال لازم آئے گی۔‘‘

(تقریر مرزا جلسہ قادیان ۱۸۹۷ء، رپورٹ۹۹)

210

دوسرے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ جس طرح مرزاقادیانی کی سینکڑوں بدزبانیاں ہم نے پیش کر دی ہیں۔ اسی طرح علمائے کرام خصوصاً مجدد وقت قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیv امام المحدثین حضرت سید نذیر حسین دہلویv پیر کامل مرشد اعظم حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویv کی زبان اور قلم سے ایک ناشائستہ کلمہ کی نشاندہی کی جائے اور بتلایا جائے کہ مرزاقادیانی نے تمام دنیا کے اربوں آدمیوں، کروڑوں مسلمانوں اور خصوصاً مولوی سعد اﷲ صاحب لدھیانوی کو کم ازکم پچاس دفعہ ذریۃ البغایا ولد الحرام، حرامزاہ، حرامی لڑکا، ہندوزادہ کہا ہے اور یہ مرزاقادیانی کی مرغوب اور مخصوص گالی ہے اور ان کی زبان ہمیشہ اس حرام، حرام سے آلودہ رہتی ہے۔ کیا دنیا کے ایک آدمی نے ایک دفعہ بھی مرزاقادیانی کو یا مرزاقادیانی کی اولاد کو زناکار، کنجری کی اولاد، ولد الحرام حرامزادہ، حرامی لڑکا اور ہندوزادہ کہا۔ اگر کہا تو پیش کرو۔

حالانکہ دنیا آپ کو نہیں تو آپ کی اولاد کو حسب ذیل اقوال کی روشنی میں اگر ان خطابات سے مخاطب کرتی تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہوتی۔ ملاحظہ ہو:

پھجے دی ماں

مرزابشیراحمد گھر کے بھیدی لنکا ڈھاتے ہیں۔

۱… ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل ہی سے مرزافضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’’پھجے کی ماں‘‘ کہا کرتے تھے۔ بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۶، طبع دوم ص۳۵، روایت۴۱)

مرزاقادیانی گویا بچے ہی تھے

۲… ’’خاکسار (مرزابشیراحمد صاحب) عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود کے دولڑکے پیدا ہوئے۔ یعنی مرزاسلطان احمد صاحب اور مرزافضل احمد حضرت صاحب ابھی گویا بچے ہی تھے کہ مرزاسلطان احمد پیدا ہوگئے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۷، روایت نمبر۴۹، طبع دوم ص۵۳)

211

ایک بچے کا بچے پیدا کرنا یقینا قادیانی ایک معجزہ ہے۔ لیجئے! مرزاکی نبوت کا ایک اور ثبوت مل گیا۔ تعجب ہے کہ امت مرزائیہ نے اس سے مرزاقادیانی کی نبوت کا استدلال کیوں نہ کیا۔

۳… ’’۲۱؍ستمبر ۱۹۰۱ء اﷲتعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولا کی خواہش نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ خداتعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولاد دے دی تھی۔ یہ سلطان احمد اور فضل احمد قریباً اسی عمر میں پیداہوگئے تھے۔‘‘

(اخبارالحکم قادیان ج۵ نمبر۳۵)

اب غور فرمائیے! ’’پندرہ برس کی عمر کے درمیان‘‘ جب کہ آدمی پورا بالغ بھی نہیں ہوتا۔ مرزاسلطان احمد پیدا ہوگئے تو مرزاافضل احمد زیادہ سے زیادہ تیرہ برس کی عمر میں جب کہ انسان ابھی گویا بچہ نہیں، حقیقی بچہ ہوتا ہے۔ اولاد پیدا کرنے کے قابل ہوگئے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی ’’پھجے دی ماں‘‘ سے بے تعلقی بھی تھی۔ کیونکہ اس کا میلان مرزا کے ’’بے دین‘‘ رشتہ داروں کی طرف تھا اور وہ انہی کے رنگ میں رنگین تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے اوائل سے ہی ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ مگر بایں ہمہ اعجازی طور پر پیاپے دو لڑکے پیدا ہوہی گئے۔

کیا دنیا بے زبان ہے۔ مانا کہ دنیا اس فن شریف میں مجدد کی حیثیت نہیں رکھتی۔ لیکن کیا وہ مرزا ہی کے اگلے ہوئے نوالے بھی ان کے منہ میں نہیں دے سکتی؟ اگر ہم مرزا ہی کے عطائے فرمودہ یہ تمام خطابات مرزا کے حق میں استعمال کریں تو دنیا کا کوئی ضابطہ عدل وانصاف مانع ہونے کا حق رکھتا ہے؟ یا ہمارے منہ میں زبان اور ہاتھ میں قلم نہیں ہے؟ یہ سب کچھ ہے۔ مگر ہم بتقاضائے انسانی شرافت اور بمطالبہ اخلاق وآدمیت صرف ’’عطائے توبہ لقائے تو‘‘ کہہ کر اس مکروہ باب کو ختم کرتے ہیں۔

  1. انداز جنوں کون سا ہم میں نہیں مجنوں

    پر تیری طرح عشق کو رسوا نہیں کرتے

چیلنج

اگر ان شواہد دلائل کے باوجود بھی کسی قادیانی یا لاہوری دوست کو ’’حضرت‘‘ کی بدزبانی میں تأمل ہو، تو جیسا کہ بارہا پریس سے چیلنج دیاجاچکا ہے ہم انہیں آج ایک دفعہ پھر

212

پوری قوت کے ساتھ چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کسی وقت کسی جگہ اس عنوان پر ہم سے مناظرہ وبحث کر لیں۔ شرائط وغیرہ کا اڑنگا لگا کر نکل جانے کی راہ ہم نہیں دیں گے۔ ہم امن کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں اور غیرمشروط مناظرہ کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم صرف مرزا کے ’’اقوال وارشادات‘‘ ہی سے آفتاب نصف النہار کی طرح دکھلادیں گے کہ عظیم الشان ’’نبی‘‘ یا اس صدی کا مجدد اعظم سباب اعظم اور مجدد سب وشتم ہے؟ نہ صرف مجدد بلکہ اس فن شریف میں موجد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نے ایسی ایسی لطیف ونفیس گالیاں ایجاد کی ہیں جو لکھنؤ کی بھٹیارنوں تک کے وہم وگمان میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ اس کے جواب میں آپ کلیتہً آزاد ہیں۔ مرزاقادیانی کی پوزیشن صاف کرنے کے لئے جو چاہیں کہیں۔ کوئی ہے جو ہمارا یہ غیرمشروط چیلنج قبول کرے۔

  1. ادھر آؤ جاناں ہنر آزمائیں

    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

بڑے میاں بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اﷲ!

اگر برا نہ مانا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ مرزا کا مقابلہ ’’خوش کلامی‘‘ اور ’’شیریں زبانی‘‘ میں اگر کیا، تو میاں محمود نے ’’نبی‘‘ کا ریکارڈ اگر توڑا تو خلیفہ نے۔ باپ کی جگہ اگر لی تو بیٹے نے۔ آپ کی خوش بیانی کے ڈنکے دنیا بھر میں بجائے جاتے ہیں۔ آپ ایک خطبہ نکاح میں یوں اپنے دہن مبارک سے گل افشانی فرماتے ہیں۔

’’حضرت مسیح موعود (مرزا) کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا ان کو اگر حضرت اقدس مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اﷲa کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرتa کے مقابلہ میں ابوجہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۲؍نومبر ۱۹۲۲ء)

انا ﷲ!

  1. ناطقہ سر بگرباں ہے اسے کیا کہئے

    خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے

پھولوں کی اس جھڑی اور موتیوں کی اس لڑی پر اتنا تعجب وتحیر نہیں جتنی حیرت اس

213

بات کی ہے کہ ان اقوال وارشادات بلکہ ان الہامات کے صدورونزول اور آج تک ان کے باجوود باپ کو عظیم الشان نبی اور سب رسولوں سے افضل وبرتر رسول یا بدرجہ اقل مجدد اعظم اور مسیح موعود مانا جاتا ہے تو بیٹے کو خلیفہ المسیح اور مصلح موعود حالانکہ باپ کی زبان ’’وحی ترجمان‘‘ سے حضرت مولانا غزنویv کی باعصمت بیوی کا پیٹ اور حضرت مولانا سعد اﷲ لدھیانوی کی عفت ماب بیوی کا رحم محفوظ نہ رہا تو بیٹے کی لسان الہام نشان سے حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی کے باپ کا آلہ تناسل نہ بچ سکا۔

اگر مرزاقادیانی کا ہم عمر تھا، تو مولوی محمد حسین! حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں اگر کوئی کام کیا تھا تو مولوی محمد حسین نے، لیکن آلہ تناسل کاٹا جاتا ہے۔ ان کے والد کا، اسبیچارے کا کیاقصور؟ اس نے کون سا ایسا اقدام کیا تھا؟

اس انتہائی گراوٹ اور زبان کے بدترین تلوث کے باوجود بھی کہ جسے نقل کرتے ہوئے بھی دم گھٹا جاتا ہے اور ضمیر مرا چاہتا ہے۔ مرزاقادیانی اگر نبی ہیں اور میاں خلیفہ! تو یہ اس مرزائی علم کلام کی برکت ہے۔ جو زبان وقلم کی ان گل افشانیوں اور جولانیوں کے بعد بھی مرزا کو سلطان القلم اور خلیفہ کو غالب علیٰ کل قرار دیتا ہے اور مذکورہ بالا حوالوں کو من وعن لفظاً لفظاً نہیں بلکہ حرفاً حرفاً تسلیم کرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ ان حضرات کے منہ سے کبھی ناجائز وناروا بات نکلی اور نہ نکل سکتی ہے۔

  1. آتے ہیں وہ خوابوں میں خیالوں میں دلوں میں

    پھر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ ہم پردہ نشیں ہیں

214

عجابّاتِ

مرزا قادیانی

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

215

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرغ، بلی اور چوہا

مرزاغلام احمد قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’رؤیا دیکھا، چند آدمی سامنے ہیں۔ ایک چادر میں کوئی شئے ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ آپ لے لیں۔ دیکھا تو اس میں چند مرغ ہیں اور ایک بکرا (چادر میں بکرا سبحان اﷲ! عجائبات درعجائبات۔ مدیر) ہے۔ میں ان مرغوں کو اٹھا کر اور سر سے اونچا کر کے لے چلا۔ تاکہ کوئی بلی وغیرہ نہ پڑے۔ راستہ میں ایک بلی ملی۔ جس کے منہ میں کوئی شئے مثل چوہا ہے۔ مگر اس بلی نے اس طرف توجہ نہیں کی اور میں ان مرغوں کو محفوظ لے کر گھرپہنچ گیا۔‘‘ (وہ توخیر گزری کہ بلی نے توجہ نہ فرمائی۔ ورنہ مرزا صاحب بہادر مرغوں کو گھر تک سلامت کب لے جاسکتے؟ اور بکرے بیچارے کی تو بلی تکا بوٹی کردیتی۔ مدیر)

(البدر نمبر۱ جلد۲۰، ۱۹۰۵ء مکاشفات ص۴۲، تذکرہ ص۵۵۸ طبع سوم)

مرزاقادیانی کے الہام کنندہ نے ’’بلی کو چوہے کی خواب‘‘ کی ضرب المثل سچ کر دکھائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بہادر اور خوفناک قسم کی بلی تھی کہ جس سے مرزاقادیانی کے بکرے تک کو خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ خلیفہ قادیان اور امت مرزائیہ کو چاہئے کہ آئندہ ربوہ (چناب نگر) کے سالانہ جلسہ میں اس بلی کے لئے ہدیہ تشکر کی قرارداد منظور کریں کہ اس بلی نے مرغوں، بکرے اور خود مرزاقادیانی کی طرف توجہ نہ کی۔ اگر وہ حملہ آور ہوتی تو مرغوں، بکرے اور خود جناب نبوت مآب کی خیر نہ تھی۔

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت

مرغی کا الہام

مرزاغلام احمد قادیانی ارشاد فرماتے ہیں: ’’رؤیا دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد نہیں رہے۔ مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا۔ ’’ان کنتم مسلمین‘‘اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا۔ انفقوا فی سبیل اﷲ ان کنتم مسلمین‘‘

(بدر ج۲ نمبر۱، ۱۹۰۶ء، مکاشفات ص۴۷، تذکرہ ص۵۸۰ طبع سوم)

216

مرزائیو! شکر کرو کہ تمہارے مسیح موعود کی روایتی بلی کو اس الہام کرنے والی مرغی کا علم نہیں ہوا۔ اگر اسے پتہ چل جاتا تو وہ اس مرغی کو معہ الہام بغیر ڈکار لئے ہضم کر جاتی۔ لگے ہاتھ اتنا تو بتاؤ کہ جب مرزاقادیانی کو سب فقرات یاد نہ رہے تو فرشتے کے لائے ہوئے الہام کس طرح یاد رہتے ہوں گے؟

سؤر کو الہام

میر محمد اسماعیل قادیانی لکھتے ہیں: ’’ایک جاہل شخص مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا نوکر تھا۔ اس پر ایک دن الہام کا چھینٹا بہ برکت حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پڑ گیا۔ وہ سو رہا تھا۔ اسے الہام ہوا کہ اٹھ او سؤرا، نماز پڑھ۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۲۶ء ص۷)

سچ ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔ جیسے قادیانیوں کے مسیح، ویسا نوکر۔ ویسی برکت ویسا فرشتہ اور ویسا الہام۔

ایں خانہ ہمہ آفتاب است

کذاب فرشتہ

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ’’رؤیا کوئی شخص ہے۔ اس سے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کر لو۔ مگر وہ نہیں کرتا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے ایک مٹھی بھر کر روپے مجھے دئیے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا جو الٰہی بخش کی طرح ہے۔ مگر انسان نہیں فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپوں کے بھرکر میری جھولی میں ڈال دئیے تو وہ اس قدر ہوگئے کہ میں ان کو گن نہیں سکتا۔ پھر میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا۔ میرا کوئی نام نہیں۔ دوبارہ دریافت کرنے پر کہا کہ میرا نام ہے ٹیچی۔‘‘

(مکاشفات ص۳۸، تذکرہ ص۵۲۸،۵۲۹، طبع سوم)

مرزاقادیانی کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں روپے عطاء کرنے والا ٹیچی فرشتہ کذاب اعظم تھا۔ کسی عام انسان کے سامنے جھوٹ بولنا گناہ عظیم ہے۔ مرزائیوں کے ’’ظلی وبروزی نبی‘‘ کی خدمت میں کذب بیانی، کذاب اکبر کا ہی حوصلہ ہوسکتا ہے۔ مرزاقادیانی نے پہلی دفعہ اپنے محسن اعظم فرشتہ سے دریافت کیا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ تو اس

217

نے جواب دیا کہ میرا کوئی نام نہیں۔ مگر دوبارہ نام پوچھا تو اس نے کہا۔ میرا نام ہے ٹیچی۔ مرزاقادیانی کے فرشتے نے پہلی دفعہ جھوٹ بولا یا دوسری دفعہ۔

مرزائیو! جس نبی کے فرشتے جھوٹے اور کذاب ہوں اس نبی کی نبوت کا کیا اعتبار؟ سچ ہے: جیسی روح ویسے فرشتے۔

  1. اس جبر پر تو ذوق بشر کا یہ حال ہے

    کیا جانے کیا کرے جو خدا اختیار دے

یہ تو خیر سے پرائمری فیل ہے۔ اگر مڈل پاس ہو جاتے تو جانے کامیابی کا معیار کیا ٹھہراتے اور کیا سے کیا بن جاتے؟ ذہنی افلاس اور دماغی قلاشی کا یہ حال ہے کہ پرائمری تک پاس نہیں کر سکے اور تعلّی یہ کہ حبیب کبریا سے نیچے کوئی درجہ نظر ہی نہیں آیا۔

  1. بندگی پر بھی خدائی کے ہیں دعوے کب سے

    اب تو یا رب ترے بندوں کی طبیعت بدلے

اور پھر یہ پرائمری فیل ہوکر محمد مصطفیa سے بڑھ جانے کے امکانات صرف بیٹے تک محدود نہیں۔ باپ کا بھی یہی حال ہے۔ وہ خیر سے امتحان تو مختاری کا پاس نہ کر سکے مگر نقل کفر کفر نباشد! بڑھ گئے۔ حبیب خدا محمد مصطفیa سے۔

ایک مردود مرید قاضی اکمل کی ملعون زبان بکتی ہے۔

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(البدر قادیان ج۲ نمبر۴۳ ص۱۴، مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

الفضل اس بے ایمانی وبے غیرتی پر چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کی بجائے قریباً چالیس سال بعد اس بے حیائی پر فخر وناز کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ’’یہ شعر اس نظم کا حصہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور (جزاکم اﷲ تعالیٰ کہہ کر) اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ حضرت کا شرف سماعت حاصل کرنے اور ’’جزاکم اﷲ تعالٰی‘‘کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لےجانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوریٔ ایمان وقلت عرفان کا ثبوت دے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۳۲ نمبر۱۹۴ ص۴، مورخہ ۲۲؍اگست ۱۹۴۴ء)

218

تف ہے اس ایمان پر اور لعنت ہے اس عرفان پر۔

گرولی اینست لعنت برولی

مختاری فیل مسیح موعود

پھر یہ بھی تو دیکھئے کہ فخر رسل سید الانبیاء محمد مصطفیa سے بڑھ کر شان والے منشی غلام احمد خیر سے کھوتا رام جتنی قابلیت بھی نہیں رکھتے اور مختاری کا جو امتحان ہزاروں ہندو سکھ پاس کر لیتے تھے وہ حضرت صاحب پاس نہ کر سکے۔

صاحبزادہ مرزابشیراحمد ایم۔اے لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر امیر شاہ صاحب استاد مقرر ہوئے۔ مرزاقادیانی نے انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔ آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیونکر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۳۷،۱۳۸، ۱۵۵،۱۵۶، طبع دوم)

چہ خوب! گویا امتحان میں کامیاب ہونا تو دنیوی اشغال کا پیش خیمہ تھا، مگر فیل اور ناکام ہونا، مدارج نبوت کا ایک درجہ اور قصر مسیحیت کا ایک ضروری زینہ۔

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

چھوٹے میاں (بشیراحمد صاحب) کا یہ آخری فقرہ ’’انگور کھٹے ہیں‘‘ کے مصداق بہت دلچسپ ہے۔ مگر اس سے زیادہ دلچسپ بڑے میاں (محمود احمد صاحب) کا ارشاد ملاحظہ ہو ۔ فرماتے ہیں:

افیمی استاد کا افیمی شاگرد

’’حضرت مسیح موعود کو بھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم کہیں پڑھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے، میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا۔ وہ حقہ لے کر بیٹھ رہتا تھا۔ کئی دفعہ پینک میں اس سے اس کے حقہ کی چلم لوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا۔‘‘

(الفضل مورخہ ۵؍جنوری ۱۹۲۹ء)

219

گویا حضرت صاحب اس استاد سے پڑھتے پڑھاتے نہیں تھے بلکہ اس سے جس فن میں وہ ماہر تھا اسی کا استفادہ کرتے تھے۔ چنانچہ ذیل کی روایات سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔

۱… میاں محمود احمد لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا، خداتعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) کو حضور (مرزاقادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۲۹ء، تذکرہ ج۳ ص۱۱۱، تذکرہ ص۷۶۱ طبع سوم، سیرۃ المہدی ج۳ ص۲۸۴)

۲… ’’آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے۔ پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کے منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دسترخوان پر رکھے رہتے۔ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود ایسا کیوں کرتے تھے۔ مگر کئی دوست کہا کرتے تھے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون ساتسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۳۵ء)

۳… صاحبزادہ بشیراحمد لکھتے ہیں: ’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ چابیاں ازاربند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازاربند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھلنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازاربند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۲، ۵۵ طبع دوم)

۴… ’’بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگاہوتا تھا اوربعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی جوتا ہدیہ لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ

220

سے آپ دیسی جوتہ پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھانا کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص۵۸)

۵… ’’بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھالیتے مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی۔ کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ دوم نمبر۱۲۶ ص۱۲۷ طبع دوم)

۶… ’’کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ، رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے بستر پر، سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص۱۲۸)

اس سلسلہ میں چند ایک مریدان باصفا کی روایت بھی سن لیجئے۔

۷… ’’آپ کو (یعنی مرزاقادیانی کو) شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔‘‘

(مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع اوّل ص۶۷، مرتبہ معراج الدین قادیانی)

۸… ’’ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا۔ آپ (مرزاقادیانی) نے اس کی خاطر سے پہن لیا۔ مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہیں کر سکتے تھے۔ دایاں پاؤں بائیں طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کے بوٹ میں پہن لیتے تھے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لئے ایک طرف بوٹ پر سیاہی سے نشان لگانا پڑا۔‘‘

(منکرین خلافت کا انجام ص۹۶، مصنفہ جلال الدین شمس)

۹… ’’نئی جوتی جب پاؤں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے اور اسی سبب سے سیر کے وقت گرد اڑ اڑ کر پنڈلیوں پر پڑ جایا کرتی تھی۔ حضور کبھی تیل سر مبارک پر لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا جس سے قیمتی

221

کوٹ پر دھبے پڑ جاتے۔‘‘

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۳۵ء)

گو اس سلسلہ میں تفصیلات کا دامن زلف یار سے بھی دراز تر ہے۔ تاہم اہل فکر ونظر کے لئے اتنا کافی ہے۔

  1. دریائے خون بہانے سے اے چشم فائدہ

    دو اشک بھی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں

یہ منہ اور مسور کی دال

آہ! انسانیت کی بدقسمتی اور دین کی مظلومی کہ جس ذات شریف کو دسترخوان پر بیٹھ کر روٹی کھانے، چابیاں سنبھالنے، اپنی شلوار کا ازاربند کھولنے جراب اور جوتا پہننے، کاج میں بٹن دینے، استنجے کے ڈھیلے اور کھانے کے گڑ کو جدا جدا رکھنے، حتیٰ کہ سیر کے وقت چلنے اور داڑھی مبارک کوتیل لگانے کی بھی تمیز نہیں۔ وہ دعوے کرتے ہیں تو صرف نبوت اور مسیحیت کے نہیں بلکہ افضل الانبیاء سے تخت نبوت ورسالت اور سید المرسلین سے تاج رشدوہدایت چھیننے کے۔

  1. بادہ عصیاں سے دامن تر بتر ہے شیخ کا

    پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے

قادیانی نبوت کے تابوت میں آخری کیل

الفضل اور اﷲدتہ اپنا لکھا پڑھا چاٹ سکتے ہیں اور رائے عامہ کے دباؤ اور پریس کی گرفت سے گھبرا کر اپنی بات سے مکرسکتے ہیں اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی مرزائی اس قسم کی بات نہیں کہہ سکتا۔ لیکن کیا اس بات کا بھی انکار ممکن ہے کہ ان مرزائیوں کے پیشوا خود مرزاقادیانی عشق رسول کے مختلف مدارج تقابل وہمسری، تفوق وبرتری اور وحدت وعینیت طے کرنے کے بعد اب آخری منزل میں قدم رکھتے اور مقام مقصود پر آتے ہیں۔ یعنی نعوذ باﷲ سید المرسلین کو مسند رسالت اور کرسی نبوت سے اٹھاتے اور خود ہدایت عالم کا تاج زیب سر کر کے تخت خلافت پر براجمان ہوتے ہیں۔ سنئے اور جگر تھام کر سنئے۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں۔

’’کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی

222

خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵،۴۴۶)

فرمائیے! کیا اب بھی اس قسم کی بات میں کوئی کسر رہ گئی۔ کیا اس تصریح کی بھی کوئی تاویل کی جائے گی؟ کیا مقام محمدa پر اس بے حیائی سے ڈاکہ زنی کے بعد بھی غلام احمد کی نبوت کو محمد رسول اﷲ کی اتباع کامل کا ثمرہ قرار دیا جائے گا؟

ارباب اقتدار سے

ہم ارباب اقتدار سے بھی دریافت کرتے ہیں کہ سرور کائنات کے دشمنوں کی تحقیر واہانت اور تنقیص ومفضولیت کی خرافات اور بکواس سے گزر کر نعوذ باﷲ سید المرسلین کو مسند رسالت سے اٹھا کر ہدایت عالم کے مقام محمود پر خود قبضہ کرنے کی نابکار سعی کے باوجود اس کذاب اکبر اور دجال اعظم کو انسان اور اس کی مردود وملعون لاہوری اور قادیانی امت کو مسلمان سمجھا جائے گا۔

  1. ہر گزم باور نمی آید زروئے اعتقاد

    ایں ہمہ ہاگفتن و دین پیمبر داشتن

مسلم لیگ اور اسلام

میاں افتخار الدین اور سردار شوکت حیات خان اگر اپنی تقریروں سے مسلم لیگ میں انتشار کا موجب ہوں تو انہیں مسلم لیگ سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ مجلس عاملہ پاکستان مسلم لیگ نے ۱۱؍اپریل کو کراچی میں میاں صاحب اور سردار صاحب کو پارٹی سے پانچ پانچ سال کے لئے خارج کرتے ہوئے ان کے خلاف حسب ذیل فرد جرم مرتب کی ہے۔

’’میاں صاحب اور سردار صاحب نے جماعتی نظم وضبط کا خیال کئے بغیر مجلس دستور ساز میں پارٹی کے فیصلوں کے خلاف تقریریں کر کے مسلم لیگ کے مفاد کو نقصان پہنچایا بلکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں پاکستان پارلیمنٹ کی حیثیت کو چیلنج کیا۔ انہوں نے پارٹی میں انتشار وبدنظمی پھیلانے کے لئے تخریبی کارروائیاں کیں اور مسلم لیگ کو رسوا کرنے کی کوشش کی۔‘‘

223

مگر آہ! مرزاغلام احمد میاں محمود احمد اور دوسرے مرزائیوں کی اس قسم کی تقریروں سے نہ ملّی نظم وضبط کو صدمہ پہنچتا ہے نہ اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہے نہ دین کی حیثیت کو چیلنج ہوتا ہے نہ اس کی رسوائی ہوتی ہے اور نہ ملت میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں معزز معاصر ڈان (اردو) بعنوان ’’پارٹی سے بغاوت کی سزا‘‘ لکھتا ہے: ’’گورنمنٹ اس کے ارکان اور اس کی عام پالیسی پر انہوں نے سخت حملے کئے ہیں۔ انہوں نے اس پر بھی اکتفاء نہیں کیا بلکہ دستور یہ پاکستان اور پارلیمنٹ کی نیابتی حیثیت پر بھی اعتراض کیا پاکستان کا کون سا نظام اور ادارہ باقی رہ گیا جس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ ان کی نظر میں اس کا احترام ہے۔ ان کے اور مسلم لیگ پارٹی کے درمیان کون سی چیز مشترک رہ گئی تھی جو انہیں پارٹی کارکن باقی رکھا جاتا۔‘‘

بالکل انہیں الفاظ میں ہم یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے کرتوت کو بغور دیکھ کر ہمیں بتلایا جائے کہ مرزائیت اور اسلام کے درمیان کون سی چیز مشترک رہ جاتی ہے کہ مرزائیوں کو ملت اسلامیہ کا رکن باقی رکھا جائے۔ جب وہ اسلام کے ارکان اور اس کی عام پالیسی پر شدید حملے نہ کریں بلکہ خود سید الانبیاء رحمۃ للعالمین کی شان رسالت کو ختم کر کے مرزاغلام احمد تخت وتاج نبوت پر قابض ہونے کی ملعون کوشش کرے تو پھر اسلام کا باقی کیا رہ گیا جس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ مرزائیت کی نظر میں اس کا احترام ہے؟

الحاصل مرزاغلام احمد، محمد رسول اﷲa کا حریف ومقابل اور بدترین مخالف ومعاند ہے اور امت مرزائیہ امت محمدیہ سے بالکل جدا اور مغائر! اسے محمد رسول اﷲ کے پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ شامل رکھنا اسلام کی مظلومی کا درد انگیز مظاہرہ ہے اور ملت کی مجبوری کا الم ناک نظارہ جسے دیکھ کر حساس ودیندار فرزندان توحید کا دل گھٹتا اور جگر پھٹتا ہے۔

  1. نادیدنی کی دید سے ہوتا ہے خون دل

    بے دست و پا کو دیدہ بینا نہ چاہئے

224

آخری فیصلہ

مرزا قادیانی کی ہیضہ کی حالت میں

منہ مانگی موت

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

225

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قادیانی لنکا میں چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نہیں۔ دجل وفریب اور کذب وافتراء کے لحاظ سے ہر مرزائی باون گز کا ہی ہے لیکن خلافت مآب کی بارگاہ میں عزت وتوقیر اس مرزائی کی ہوتی ہے اور تنخواہ میں اضافہ بھی اسی کا ہوتا ہے۔ جو مغالطہ دہی اور کذب بیانی میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ اس دوڑ میں ہر قادیانی مبلغ، ہر مدرس، ہر مفتی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپا، قبر میں لے جانے والی بیماری، قیامت کی باز پرس اور جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کے شعلوں کا خیال بھی ان کے سدراہ نہیں ہوتے۔ مرزائیوں کا ستربہتر سالہ مفتی محمد صادق (برعکس نام نہند زنگی کافور) قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے۔ لیکن مرزامحمود کو خوش کرنے کے لئے اپنے نامہ اعمال کو افتراء وکذب بیانی کے باعث تاریک سے تاریک تر کرتا چلا جارہا ہے۔ چنانچہ قادیانی نبوت کے سرکاری آرگن الفضل میں مفتی کاذب نے مخالفین احمدیت کی غلط بیانی کے عنوان سے ایک مضمون دھر گھسیٹا۔ آپ رقمطراز ہیں: ’’آج کل مخالفین سلسلہ حقہ نے جو دروغ گوئی کے ساتھ ہمارے خلاف باتیں پھیلانی شروع کی ہیں۔ ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ مرزاقادیانی مرض ہیضہ سے فوت ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی وفات لاہور میں ہوئی تھی اور میں اور دیگر احباب اس وقت حضور کے پاس موجود تھے۔ حضور جب کبھی دماغی محنت کیا کرتے تھے تو عموماً آپ کو دوران سر اور اسہال کا مرض ہو جاتا تھا۔ چنانچہ لاہور جب حضور آپ لیکچر کا مضمون تیار کررہے تھے تو کثرت دماغی محنت کے سبب آپ کی طبیعت خراب ہوگئی اور دوران سر اور اسہال کا مرض ہوگیا اور اس مرض کے علاج کے لئے جو ڈاکٹر بلایاگیا تھا۔ وہ انگریز لاہور کا سول سرجن تھا اور چونکہ بعض مخالفین نے اس وقت بھی یہ شور مچایا تھا کہ آپ کو ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس لئے صاحب سول سرجن نے یہ لکھ دیا کہ آپ کو ہیضہ نہیں ہوا اور وفات کے بعد آپ کی نعش مبارک ریل میں بٹالہ تک پہنچائی گئی۔ اگر ہیضہ ہوتا تو ریل والے نعش مبارک کو بک نہ کرتے۔ پس مخالفین کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ حضور ہیضہ سے فوت ہوئے۔‘‘

(مفتی محمد صادق ربوہ، مورخہ ۲۲؍جنوری ۱۹۵۱ء، الفضل ص۵، مورخہ ۱۱؍فروری ۱۹۵۱ء)

226

قادیانی مفتی نے کس قدر جسارت اور دیدہ دلیری سے ایک مسلمہ حقیقت پر خاک ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ وہ مرزائی ہی کیا ہوا جو حق کو کذب بیانی کے پردہ میں چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ خود جھوٹ کا مرتکب ہونا اور الزام دوسروں پر لگانا قادیانیوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان کی یہ چالبازیاں ان کے دجل وفریب اور کذب وافتراء کی غمازی کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ انگریزی نبوت کے گنبد میں بیٹھ کر قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مستور ہیں۔ ہمیں کوئی نہیں دیکھتا۔ جائز وناجائز جو چاہیں کرتے چلے جائیں۔ انہیں کیا معلوم کہ مجلس احرار اسلام کے خدام مرزائیوں کے راز ہائے دروں پردہ کو مرزائیوں سے زیادہ جانتے ہیں۔

  1. جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں

    مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں

مرزاقادیانی کی مرض موت ہیضہ کو چھپانے کے لئے مفتی کاذب نے دوران سر اور اسہال کا لبادہ اوڑھا دیا اور یہ نہ سمجھا کہ ’’ان کے حضرت‘‘ کے اسہال ہی ہیضہ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے اسہال کا ذکر تو کر دیا لیکن ظلی وبروزی مصلحت کے پیش نظر اپنے مسیح موعود کی قے کو ہضم کر گئے۔ حالانکہ مرتے وقت مرزاقادیانی کے گرد قے اور دست دونوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ جیسا کہ خود مرزاقادیانی کی اہلیہ اور مرزامحموداحمد خلیفہ قادیان کی والدہ مکرمہ نے فرمایا۔ مرزابشیراحمد ایم۔اے ابن مرزاغلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سوگئے اور میں بھی سوگئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کرلیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہوکر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل

227

چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سرچارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔‘‘

(سیرت المہدی مرتبہ مرزابشیراحمد ایم۔اے، طبع دوم ص۱۰،۱۱ جلد اوّل)

مرزائیو! بتاؤ کہ دست اورقے دونوں تھے یا نہیں؟ اگر آپ اس ’’قادیانی معجون مرکب‘‘ کو ہیضہ کے نام سے موسوم نہیں کرتے تو فرمائیے کہ ’’مرزائی نبوت‘‘ کی اصطلاح میں دست وقے کی اس مہلک بیماری کا کیا نام ہے؟ رہا قادیانی مفتی صاحب کا فرمان کہ:

الف… انگریز ڈاکٹر نے لکھ دیا کہ ہیضہ نہیں ہوا۔

ب… اگر ہیضہ سے موت ہوتی تو ریل والے نعش کو بک نہ کرتے۔

یہ دونوں عذرلنگ ہے۔ نہ معلوم قادیانی مفتی نے بہتر سالہ عمر کس جنت الحمقاء میں بسر فرمائی ہے۔ ازراہ کرم تکلیف فرما کر اپنے امیرالمومنین خلیفہ المسیح ہی سے دریافت فرمالیتے کہ سفارشات اور رشوت سے کیسے کیسے کٹھن اور مشکل کام فوراً انجام پذیر ہوسکتے ہیں۔ معمولی قادیانیوں کا کیا ذکر۔ جب ان کے بڑے حضرت نے محترمہ محمدی بیگ کے ساتھ۱؎ نکاح کروانے کے لئے محمدی بیگم کے حقیقی ماموں کو رشوت یا انعام کا لالچ دے کر نکاح کرانے سے دریغ نہ کیا تو چھوٹے حضرتوں نے انگریز ڈاکٹر اور انگریز سٹیشن ماسٹر کو رشوت یا انعام دے کر

۱؎

مرزاغلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزابشیراحمد ایم۔اے لکھتے ہیں: ’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداﷲ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت مرزاغلام احمد صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرادینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزااحمد بیگ ہوشیارپوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزاسلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیارپور کے درمیان یکے میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تراسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اوّل طبع دوم ص۱۷۶تا۱۹۱، روایت نمبر:۱۷۹)

یہ گھر کی شہادت باواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرانے کے لئے مرزاغلام احمد قادیانی محمدی بیگم کے ماموں کو انعام یا رشوت دینے کے لئے تیار تھے۔

مرزائیو! اﷲ کے لئے غور کرو کہ پہلے اﷲتعالیٰ کے نام سے محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی شائع کرنا، بعدہ انعام، رشوت اور روپے کے لالچ سے نکاح کی کوشش کرنا کسی راست باز انسان کا کام ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں جیسا کہ خود مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے: ’’ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں

(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

228

مرزاقادیانی کی نعش کو دجال۱؎ کے گدھے پر لدوا دیا تو کون سے تعجب کی بات ہے؟ اگر ایسی ہی شہادتوں سے آپ اپنے مسیح موعود کی صداقت پیش کرنا چاہیں تو آپ کو دنیا میں ہزاروں فرنگی ایسے مل جائیں گے جو انعام یا رشوت لے کر لاؤڈ سپیکروں کے ذریعہ قادیانی مسیحیت کا ڈھنڈورا پیٹ دیں۔

مفتی جی! آپ اپنے مسیح موعود ام المؤمنین اور قادیانی خاندان نبوت کو چھوڑ کر فرنگی گواہوں کی پناہ کیوں لے رہے ہیں؟ عیسائیوں سے سازباز تو نہیں کر رکھا؟ جب مرزاغلام احمد قادیانی کی اہلیہ صاحبہ فرماتی ہیں اور صاحبزادہ بشیراحمد مشتہر کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی آنجہانی کی موت دست وقے سے ہوئی تو کیا ہیضہ کے سرسینگ ہوا کرتے ہیں؟ اگر لفظ ہیضہ کے بغیر آپ کی تسلی وتشفی نہیں ہوسکتی تو لیجئے مرزاغلام احمد کے خسر مرزامحموداحمد کے نانا میرناصر نواب کے واسطہ سے خود مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی مرض موت کا نام ہیضہ تجویز فرمایا۔

قادیانی غلو کی عینک اتار کر مندرجہ ذیل عبارت پڑھئے اور سوبار سوچ کر بتائیےکہ مرزاغلام احمد کی موت ہیضہ سے ہوئی یا نہیں؟

مرزاغلام احمد قادیانی کے خسر میرناصر نواب خود نوشت سوانح حیات میں تحریر فرماتے ہیں: ’’حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ’’میرصاحب مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔ ایک طرف تو ہم پر آپ کے انتقال کی مصیبت پڑی تھی، دوسری طرف لاہور کے شورہ پشت اور بدمعاش لوگوں نے بڑا غل غپاڑہ اور شوروشر برپا کیا تھا اور ہمارے گھر کو گھیررکھا تھا کہ ناگہاں سرکاری پولیس ہماری

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)

کہ جو اپنے گھر سے پیش گوئیاں بناکر پھر اپنے ہاتھ سے، اپنے مکرسے، اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کے لئے کوشش کرے اور کراوے۔‘‘

(سراج منیر مصنفہ مرزاغلام احمد طبع سوم ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۲۷)

۱؎

مرزائی ریل گاڑی کو دجال کا گدھا کہتے ہیں۔ ’’گدھا دجال کا اور اس پر نعش مرزاغلام احمد کی‘‘ کیا ہی صحیح مقولہ ہے۔

حق بحقدار رسید (اختر)

229

حفاظت کے لئے رحمت الٰہی سے آن پہنچی۔‘‘

(حیات ناصر ص۱۴،۱۵، تاریخ اشاعت دسمبر۱۹۲۷ء)

کیا مرزائی، ان کا کاذب مفتی، ان کا خلیفہ اور ان کا اخبار الفضل اب بھی پرانی رٹ لگاتے رہیں گے کہ قادیانی مسیح موعود کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی اب تو جادو سرچڑھ کر بول اٹھا ہے۔

آخری فیصلہ

لطف یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار بعنوان ’’مولوی ثناء اﷲ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ شائع کیا تھا۔ اس اشتہار میں مولانا ثناء اﷲ صاحب امرتسری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاؤں گا۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اﷲ ان تہمتوں میں، جو مجھ پر لگاتا ہے، حق پر نہیں، تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے، بلکہ طاعون۱؎ وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸،۵۷۹)

مرزاقادیانی کے مندرجہ بالا الفاظ اعلان کر رہے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی مولانا ثناء اﷲ امرتسری کے لئے طاعون اور ہیضہ کی دعا کرتے تھے مگر اﷲتعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے قبولیت دعا کا رخ مولانا ثناء اﷲ صاحب کی بجائے خود متنبی قادیان کی طرف پھیر دیا۔ ہیضہ نے مرزاقادیانی کو آدبوچا اور وہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہیضہ سمیت اگلے جہان کی طرف کوچ کر گئے۔ کسی زندہ دل شاعر نے مرزاقادیانی آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے۔

  1. یوں کہا کرتا تھا مر جائیں گے اور

    اور تو زندہ ہیں خود ہی مر گیا

  2. اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج

    کالرا۲؎ کے خود مسیحا مر گیا

230
۱؎

طاعون نے بھی مرزاغلام احمدقادیانی سے دست پنجہ لیا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے سیٹھ عبدالرحمن مدراسی کو لکھا: ’’اس طرف طاعون کا بہت زور ہے۔ سنا ہے ایک دو مشتبہ وارداتیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں۔ چند روز ہوئے ہیں۔ میرے بدن پر بھی ایک گلٹی نکلی تھی۔ پہلے کچھ خوفناک آثار معلوم ہوئے مگر پھر خداتعالیٰ کے فضل سے اس کا زور جاتا رہا۔ یہ ایک جدا ہاتھ میں غدود پھول گئے تھے اور یہ طاعون جوڑوں میں ہوتی ہے۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج پنجم حصہ اوّل ص۱۵)

۲؎

انگریزی میں ’’کالرا‘‘ (Cholera) ہیضہ کو کہتے ہیں۔

231

بکروثیب

مرزا قادیانی کی ایک

پیشگویٗ

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

231

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرزاغلام احمد قادیانی کے دعاوی کو پرکھنے کے لئے کسی علمی بحث کی ضرورت نہیں۔ مرزاغلام احمد نے اپنی صداقت جانچنے کے لئے علمی حقائق، فلسفیانہ دلائل، منطقی الجھنوں اور صرفی ونحوی بحثوں سے ہمیں بے نیاز کر دیا ہے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:

الف… ’’تورات اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیش گوئی کو قراردیا ہے۔‘‘

(رسالہ استفتاء ص۳، خزائن ج۱۲ ص۱۱۱)

ب… ’’سو پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اﷲ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۶۵، خزائن ج۲ ص۳۷۵،۳۷۶)

ج… ’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص۲۸۸)

د… ’’ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

ہ… ’’کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۲۱۷، خزائن ج۱۵ ص۳۸۲)

مرزاقادیانی کی ان تحریرات نے فیصلہ کر دیا کہ ان کے صدق وکذب کی شناخت کا سب سے بڑا معیار ان کی پیش گوئیاں ہیں۔ حالانکہ صرف پیش گوئیاں نبوت کا معیار نہیں ہوسکتیں۔ علماء اسلام کے اعتراضات سے مجبور ہوکر مرزاغلام احمد نے تسلیم کیا ہے کہ بسا اوقات بدمعاشوں، بدکاروں، کنجریوں اور کافروں کے الہام اور خواب صحیح نکلتے ہیں اور ان کی پیش گوئیاں سچی ثابت ہوتی ہیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

الف… ’’بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آ چکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے۔ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی

232

رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسرو آشنا ببر کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص۸۳،۸۴، خزائن ج۳ ص۹۴،۹۵)

ب… ’’ممکن ہے کہ ایک خواب سچی بھی ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے کہ ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔ کیونکہ اگرچہ شیطان بڑا جھوٹا ہے۔ لیکن کبھی سچی بات بتلا کر دھوکہ دیتا ہے۔ تاایمان چھین لے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱، خزائن ج۲۲ ص۳)

ج… ’’اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں۔ جن کا پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا۔ انہوں نے ہمارے روبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زناکاری کام تھا۔ ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں اور بعض ایسے ہندوؤں کو بھی دیکھا کہ جو نجاست شرک سے ملوث اور اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ بعض خوابیں ان کی جیسا کہ دیکھا تھا ظہور میں آگئیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳، خزائن ج۲۲ ص۵)

مرزاقادیانی کی ان عبارات کے مطابق بدمعاشوں، بدکاروں، کنجروں اور کافروں کی خوابیں۔ الہام اور پیش گوئیاں تو سچی نکلتی ہیں لیکن علیٰ وجہ البصیرت ہمارا دعویٰ ہے جس کی تردید قیامت تک امت مرزائیہ نہیں کر سکتی کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی کوئی متحدیانہ پیش گوئی سچی ثابت نہیں ہوئی۔ جتنی تحدی سے کوئی پیش گوئی کی گئی۔ اتنی ہی صراحت سے وہ غلط نکلی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنی ہر تصنیف میں اپنے نشانات، کرامات اور معجزات کے بے سرے راگ ہمیشہ الاپتے رہے اور یہاں تک لکھ دیا کہ: ’’خداتعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)

مرزاقادیانی کی تمام تصنیفات پڑھ لی جائیں تو سوائے فٹ بال کی طرح گول مول اور انٹ شنٹ پیش گوئیوں کے کسی نشان کسی کرامت اور کسی معجزے کا پتہ نہیں چلتا۔ لطف یہ ہے کہ قادیانی پیش گوئیوں کے الفاظ بھی موم کے ناک کی طرح ہیں۔ جدھر چاہو الٹ پھیر کر دو اور جب تک انہیں تاویلات باطلہ کے شکنجہ میں نہ جکڑ دیا جائے وہ کسی موقع پر چسپاں نہیں ہوسکتے۔ ساتھ ہی دجل وفریب اور کذب وافتراء بھی ہر پیش گوئی کا لازمی جزو

233

ہے۔ ہم اس ٹریکٹ میں مشتے نمونہ ازخروارے مرزاقادیانی کی ایک عظیم الشان اور متحدیانہ پیش گوئی بکروثیب کے چہرہ سے اس لئے نقاب اٹھاتے ہیں کہ علمائے اہل سنت والجماعت آج تک اسے منظر عام پر نہیں لائے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ ’’اشاعۃ السنہ‘‘ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا۔ جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سناچکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بکروثیّٰب جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خداتعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا، پورا ہوگیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چارپسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳۴، خزائن ج۱۵ ص۲۰۱)

بقول مرزاغلام احمد قادیانی یہ الہام ۱۸۸۱ء کا ہے جس میں مرزاقادیانی کو بشارت دی گئی اور ان سے وعدہ کیاگیا کہ اﷲتعالیٰ دو عورتیں تیرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری اور دوسری بیوہ۔ بقول مرزاکنواری کا الہام پورا ہوگیا۔ بیوہ کے نکاح کا انتظار ہے۔ لیکن مرزاغلام احمد قادیانی کا کسی بیوہ سے نکاح نہ ہوا اور وہ اس انتظار وحسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ کسی بیوہ کے ساتھ نکاح کی ناکامی نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ مرزاقادیانی کا بیوہ کے نکاح کا الہام شیخ چلی کی گپ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

مرزائی اس جھوٹی پیش گوئی کی الٹی سیدھی تاویل کرنے کے لئے کسی شرط کا بہانہ بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کا الہام اور اس کی تشریح صاف بتارہی ہے کہ بیوہ کے نکاح کی پیش گوئی بلاشرط ہے۔ نہ ہی بیوہ کے نکاح کے الہام کو محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی پر چسپاں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ ۱۸۸۱ء کا الہام ہے۔ اس وقت مرزاغلام احمد اور محمدی بیگم کے نکاح کا قصہ ہی شروع نہ ہوا تھا۔ جیسا کہ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’اسی طرح شیخ محمد حسین بٹالوی کو حلفاً پوچھنا چاہئے کہ کیا یہ قصہ صحیح نہیں کہ یہ عاجز اس شادی سے پہلے جو دہلی میں ہوئی، اتفاقاً اس کے مکان پر موجود تھا۔ اس نے سوال کیا کہ کوئی الہام مجھ کو سناؤ۔ میں نے ایک تازہ الہام جو انہیں دنوں میں ہوا تھا اور اس شادی اور اس کی دوسری جز پر دلالت کرتا تھا اس کو سنایا اور وہ یہ تھا کہ بکروثیّٰب یعنی مقدریوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور

234

پھر بعدہ ایک بیوہ سے۔ میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔ مجھے امید نہیں کہ محمد حسین نے بھلا دیا ہو۔ مجھے اس کا وہ مکان یاد ہے کہ جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس کو الہام سنایا تھا اور احمد بیگ (مرزاقادیانی کی آسمانی منکوحہ محترمہ محمدی بیگم کا والد۔ ناقل) کے قصہ کا ابھی نام ونشان نہ تھا۔ پس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا کا نشان تھا۔ جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا اور دوسرا حصہ جو ثیّٰب یعنی بیوہ کے متعلق ہے دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، خزائن ج۱۱ ص۲۹۸)

مرزاغلام احمد قادیانی نکاح بیوہ کے الہام اس کی امید اور حسرت سمیت ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل ہیضہ کی مرض سے اگلے جہان کی طرف کوچ کر گئے۔ بیوہ کا الہام جھوٹ اور بھنگڑ خانے کی گپ ثابت ہوا تو امت مرزائیہ نے ثیّٰب (نکاح بیوہ) کے الہام کو تاویلات نہیں بلکہ دجل وفریب کے شکنجہ میں جکڑ کر اس کی صورت کو مسخ کر دیا۔ نظارت تالیف وتصنیف قادیان نے (جس کے ناظر مرزاقادیانی آنجہانی کے بیٹے مرزابشیراحمد ایم۔اے ہیں) تذکرہ میں ’’تریاق القلوب‘‘ سے یہ پیش گوئی (جو ہم کتاب مذکور کے ص۳۴ سے نقل کر چکے ہیں) درج کر کے حاشیہ میں لکھا ہے: ’’یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المؤمنین کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے، جو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیّٰب یعنی بیوہ رہ گئیں۔ خاکسار مرتب۔‘‘

(تذکرہ ص۳۸ حاشیہ طبع سوم)

قارئین کرام! پھر ایک دفعہ مرزاغلام احمد قادیانی کے الہام اور اس کی تشریح توضیح کو پڑھ لیجئے اور ساتھ ہی تذکرہ۱؎ کے مرتب کے دجل آمیز عبارت پر غور کیجئے کہ کس قدر دھوکا اور فریب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ واﷲ میں تو مرزائی مبلغین کی ایسی مکروہ چالبازیاں دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کے قلوب میں نہ اﷲتعالیٰ کا خوف ہے، نہ ہی انہیںلوگوں سے شرم وحیا آتی ہے۔

مرزاقادیانی تو لکھتے ہیں: ’’خداتعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔‘‘

۱؎

تذکرہ مرزائیوں کی الہامی کتاب کا نام ہے۔ جس میں مرزاغلام احمد قادیانی کے بیان کردہ رؤیا، مکاشفات، الہامات اور وحی مقدس کو مرزائیوں کی تلاوت کے لئے جمع کیاگیا ہے۔ مرزائی اس مجموعہ کو درجہ اور شان کے لحاظ سے قرآن مجید کے ہم رتبہ اور برابر سمجھتے ہیں۔ (اختر)

235

مرزاقادیانی کی اس تصریح کے خلاف مرزاقادیانی کے چیلے لکھتے ہیں کہ ایک ہی نکاح سے الہام پورا ہوگیا۱؎۔ یعنی نصرت جہاں بیگم صاحبہ (مرزامحمود احمد کی والدہ) کا کنواری ہونے کی حالت میں مرزاغلام احمد سے نکاح ہوا اور مرزاقادیانی کی وفات کے بعد نصرت جہاں بیگم صاحبہ بیوہ رہ گئیں۔

مرزائیو! (تریاق القلوب ص۳۴) اور (ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴) کی ہماری درج کردہ اپنے مسیح موعود کی عبارت پڑھو تم پر روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ مرزاغلام احمد قادیانی یہ نہیں لکھتے کہ میرے نکاح میں آنے والی کنواری، بیوی بیوہ رہ جائے گی بلکہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔ پس تم بتاؤ کہ کس بیوہ عورت سے مرزاقادیانی کا نکاح ہوا؟ جب کسی بیوہ سے مرزاغلام احمد قادیانی کا نکاح نہیں ہوا اور یقینا نہیں ہوا تو تمہیں مرزا کو کاذب اور مفتری علی اﷲ ماننے میں کون سا امر مانع ہے؟

کسی بیوہ عورت سے نکاح نہ ہونے کے باعث مرزاقادیانی کا ثیّٰب (نکاح بیوہ) کا الہام صریح جھوٹ اور کھلا ہوا افتراء ہوا۔ پس مرزاقادیانی کاذب ثابت ہوئے۔ کیونکہ: ’’خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ:’’ان اﷲ لا یہدی من ہو مسرف کذاب‘‘سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں۔ جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو، اس کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۲۲،۳۲۳، خزائن ج۵ ص۳۲۲،۳۲۳)

مرزاقادیانی نے خود تحریر کیا ہے: ’’ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

۱؎

یہ بھی جھوٹ ہے کہ بکر (کنواری) کے نکاح کا الہام پورا ہوگیا۔ کیونکہ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’دو جزوں میں سے جب ایک جز باطل ہو جائے تو وہ اس بات کی مستلزم ہوئی کہ دوسرا جز بھی باطل ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۷، خزائن ج۱۹ ص۱۳۷)

جب بیوہ کے نکاح کا الہام صریح جھوٹ نکلا تو بقول مرزاغلام احمد کنواری کے نکاح کا الہام بھی غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ پیش گوئی کا ایک جز (بیوہ سے نکاح) باطل ہونے سے دوسرا جز (کنواری سے نکاح) خود بخود باطل ہوگیا۔ (اختر)

236

وفاقی وزیر قانون کی خدمت میں

عرض داشت

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

237

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بخدمت جناب عزت مآب میاں محمود علی قصوری

بار ایٹ لاء وزیرقانون حکومت پاکستان

السلام علیکم ورحمتہ اﷲ!

مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا ایک نمائندہ وفد، جس میں راقم الحروف اور مولانا عبدالحکیم ایم۔این۔اے شامل تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ سے عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانی مسئلہ کے متعلق گفتگو کی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس سلسلہ کی اہم اور ضروری باتیں، مجھے تحریری طور پر بھجوادی جائیں۔ زیر نظر عرضداشت، ان اہم نکات پر مبنی ہے، جو اس مسئلہ سے متعلق ہیں۔

مطالبات ونکات

ختم نبوت اور قادیانی مسئلہ کے متعلق، مجلس تحفظ ختم نبوت تین مطالبات پیش کرتی رہی ہے۔ یہ وہ متفقہ مطالبات ہیں جنہیں مختلف مسلمہ اسلامی فرقوں اور تمام مسلمانوں کی تائید حاصل ہے۔

۱… حضور سرور کائنات محمدa کے بعد ہر نوع کا دعویٰ نبوت قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔

۲… مرزاغلام احمد قادیانی کے جملہ متبعین کو دیگر اقلیتوں کی طرح غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

۳… قادیانیوں کو کلیدی اسامیوں پر متعین نہ کیا جائے۔

دلائل اور شواہد

حضور نبی اکرم محمدa کے بعد ہر نوع کا دعوائے نبوت قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ چونکہ عقیدۂ ختم نبوت، دین کا بنیادی عقیدہ ہے۔ قرآن مقدس، احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے یہ عقیدہ ثابت ہے۔ قرآن مقدس کی ایک سو سے زائد آیات اس موضوع پر روشنی ڈالتی ہیں۔ جن میں سے دو آیتیں درج ذیل ہیں:

238

الف… ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘ {حضرت محمد مصطفیa تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ خدا کے رسول اور نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔}

ب… ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ)‘‘ {آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔}

دین کامل ہونے کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت نہ رہی۔

احادیث شریفہ

اسی طرح دو سو سے زائد احادیث پاک میں ختم نبوت کا ثبوت موجود ہے۔ صرف دو حدیثیں درج کی جاتی ہیں۔

الف… حضور نبی اکرمaنے ارشاد فرمایا: ’’یا اباذر اوّل الانبیاء اٰدم واخرہم محمد‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۳۰، مطبوعہ حیدرآباد دکن)

(ترجمہ) ’’اے ابوذر! سب سے پہلے نبی آدم اور سب سے آخر میں محمد ہیں۔‘‘

ب… حضور نبی اکرمa کا ارشاد گرامی ہے: ’’کنت اوّل النّبیین فی الخلق واٰخرہم فی البعث‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۱۳)

(ترجمہ) ’’میں خلق میں سب سے اوّل اور بعثت میں سب سے آخر ہوں۔‘‘

اجماع امت

صحابہ کرام اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ حضور نبی اکرمa آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا کفر ہے۔ چودہ سو سال کے دوران اس مسئلہ کے متعلق کبھی اختلاف نہیں ہوا اور نہ مسلمانوں نے کبھی کسی مدعی نبوت کو برداشت کیا۔ اگر کسی نے بقائمی ہوش وحواس دعوائے نبوت کیا تو اسے ارباب اقتدار نے قتل کروادیا۔ ورنہ پاگل سمجھ کر قید کر دیا۔

239
’’دعویٰ النبوۃ بعد نبیناa کفر بالاجماع‘‘

(شرح فقہ اکبر، ملا علی قاری ص۳۰۲)

ترجمہ: ہمارے پیغمبر حضرت محمدa کے بعد کسی شخص کا نبوت کا دعویٰ کرنا اجماع امت کی رو سے کفر ہے۔

۲… مرزاغلام احمد قادیانی کے جملہ متبعین کو دیگر اقلیتوں کی طرح غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے انحراف کرتے ہوئے اپنی نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا اور اس طرح وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا۔

اس کی اپنی کتابوں کے بیسیوں حوالہ جات میں سے چند حوالے ملاحظہ ہوں۔ جن میں اس نے اپنی نبوت کا صراحۃً دعویٰ کیا۔

الف… ’’قل یا ایہا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا‘‘کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہوکر آیا ہوں۔

(الہام مرزاقادیانی تذکرہ طبع سوم ص۳۵۲)

ب… ’’انک لمن المرسلین‘‘(اے مرزا) تو خدا کا رسل ہے۔

(الہام مرزاغلام احمد، مندرجہ حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

ج… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

د… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، حقیقت النبوۃ ص۲۷۲، مرزامحمود)

ہ… ’’میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود کا ہونے کا دعویٰ تھا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۵، خزائن ج۲۱ ص۶۸)

مرزاغلام احمد قادیانی کے اس کھلم کھلا دعویٰ نبوت کے باعث امت مسلمہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ حضور نبی اکرمa کا ارشاد گرامی ہے:’’سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘

(ہذا حدیث صحیح، ترمذی ج۵ ص۴۵، مشکوۃ کتاب الفتن، مسند احمد ج۵ ص۲۷۸)

240

بخاری شریف کی کتاب الفتن میں اسی حدیث میں دجالون کذابون کے الفاظ وارد ہیں۔

(ترجمہ) یقینا میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

(ترمذی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے)

اس بناء پر مشہور محدث اور فقیہ امام ابن تیمیہ نے اس متفقہ عقیدہ کی وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے۔

’’ومن انبت نبیا بعد محمدa فہو شبیہ باتباع مسیلمۃ الکذاب وامثالہ من المتنبئین‘‘ اور جو کوئی حضرت محمدa کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرے تو وہ مسیلمہ کذاب اور اس کی مانند دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کی پیروی کرنے والوں کی طرح ہے۔

(منہاج السنۃ ج۳ ص۱۷۴)

چونکہ دعوائے نبوت کرنا اور یہ کہنا کہ مجھے وحی الٰہی ہوتی ہے۔ حضور نبی اکرمa کی ختم نبوت کے بعد افتراء علی اﷲ ہے۔ اس لئے یہ علانیہ کفر ہے۔ جیسا کہ قرآن مقدس میں ہے۔ ’’ومن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا اوقال اوحی الیّ ولم یوح الیہ شیٔ ومن قال سانزل مثل ما انزل اﷲ (الانعام)‘‘ اس سے زیادہ ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اﷲ پر بہتان باندھے یا یوں کہے کہ میری طرف وحی آتی ہے۔ حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہیں آتی۔

قرآن مقدس میں ایک جگہ کفر کو ظلم سے تعبیر کیاگیا ہے۔ ارشاد ربانی ’’والکافرون ہم الظلمون‘‘کافر ہی ظالم ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت اور وحی الٰہی کے نزول کے دعوے کے ساتھ ساتھ اورسینکڑوں جھوٹی باتیں اﷲتعالیٰ کی طرف منسوب کیں، چند حوالے ملاحظہ ہوں۔

الف… آیت: ’’محمد رسول اﷲ والذین معہ‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

241

ب… ’’میں نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے پڑھا دیا۔‘‘ لا تبدیل لکلمات اﷲ!

(انجام آتھم ص۶۰،۶۱، خزائن ج۱۱ ص۶۰،۶۱)

’’اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۲، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)

ج… ’’مولانا ثناء اﷲ مرحوم کے بارے میں مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا کہ وہ میری زندگی ہی میں مرجائے گا۔‘‘

(اشتہار مرزاقادیانی مورخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، اخبار بدر ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸)

حالانکہ مولانا ثناء اﷲ مرحوم کا انتقال مرزاقادیانی کی موت کے چالیس برس بعد ہوا اور محمدی بیگم سے شادی کی حسرت بھی مرزاقادیانی کے دل میں رہ گئی۔

توہین انبیاء

توہین انبیاءo کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے توہین انبیاء کے حسب ذیل حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

الف… ’’مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیونکر نکاح کیاگیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں یہ سب مجبوریاں تھیں، جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸)

ب… ’’آپ (مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

242

ج… ’’ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔‘‘

(نسیم دعوت ص۶۷،۶۸، خزائن ج۱۹ ص۴۳۴،۴۳۵)

حضور نبی اکرمa کی توہین

الف… ’’آنحضرتa عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔‘‘

(مکتوب مرزا غلام احمد اخبار الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۶۶، مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۲۴ء)

ب… مرزاغلام احمد قادیانی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ: ’’آنحضرتa کو دیکھو کہ جب آپ پرفرشتہ جبرئیل ظاہر ہوا تو آپa نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے بلکہ حضرت خدیجہt کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ:’’خشیت علی نفسی‘‘یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۰، خزائن ج۲۲ ص۵۷۸)

ج… ’’آنحضرتa کے تین ہزار معجزات ہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

اپنے متعلق لکھا ہے کہ: ’’(میرے) ہاتھ سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۷، خزائن ج۲۱ ص۱۵۳، تذکرۃ الشہادتین ص۴۱، خزائن ج۲۰ ص۴۳)

’’نشان اور معجزہ ایک چیز ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ج۵ ص۵۰، خزائن ج۲۱ ص۶۳)

د… ’’من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی ومارانی‘‘

(الہام مرزا مندرجہ خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۹)

243

(ترجمہ) ’’جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفی کے درمیان فرق کیا نہ اس نے مجھے پہچانا نہ مجھے دیکھا۔‘‘

تکفیر مسلمین

دعوائے نبوت کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ اپنے دعویٰ کے منکرین کو کافر کہا جائے۔ چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا:

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

ب… مرزاقادیانی (غلام احمد قادیانی) نے حضرت مولانا نذیر حسین صاحب محدث دہلوی کے متعلق لکھا ہے: ’’جب میں دہلی گیا اور میاں نذیر حسین غیرمقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی۔‘‘

(اربعین نمبر۴ حاشیہ ص۱۱، خزائن ج۱۷ ص۴۴۱)

(حالانکہ حضرت مولانا سید نذیر حسین صاحب کوئی غیرمسلم نہ تھے بلکہ پکے اور سچے مسلمان اور ایک نامور عالم دین تھے)

ج… مرزائیوں کے خلیفہ اوّل حکیم نوردین نے لکھا تھا۔

  1. اسم او اسم مبارک ابن مریم می نہند

    آن غلام احمد است و میرزائے قادیاں

  2. گر کسے آرو شکے ورشان او آں کافر است

    جائے اوباشد جہنم بیشک و ریب و گماں

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۸ء)

د… مرزائیوں کے دوسرے خلیفہ مرزامحمود نے کہا ہے: ’’کل مسلمان جو حضرت موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵)

ہ… مرزاغلام احمد قادیانی کے دوسرے لڑکے اور ایم۔ایم۔احمد کے والد مرزابشیراحمد ایم۔اے نے لکھا ہے: ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰm کو مانتا ہے مگر عیسیٰm کو نہیں مانتا، یا

244

عیسیٰm کو مانتا ہے مگر محمدa کو نہیں مانتا اور یا محمدa کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۰، مصنفہ مرزابشیراحمد ایم۔اے)

و… ایم۔ایم۔احمد کے والد ہی کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو: ’’غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قراردیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہ ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ وناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۶۹، مصنفہ مرزابشیراحمد)

ز… آخر میں مرزاغلام احمد قادیانی کا ایک عربی شعر سن لیں جن میں انہوں نے اپنے مخالفوں کے بارے میں یہ گوہرافشانی کی ہے کہ:’’ان العدی صاروا خنازیر الفلا… ونسائہم من دونہن الا کلب‘‘دشمن ہمارے بیابانوں (جنگل) کے سور ہوگئے اور انکی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔

(نجم الہدیٰ ص۱۵، خزائن ج۱۴ ص۵۳)

(۳)قادیانیوں کو کلیدی اسامی پر متعین نہ کیا جائے

مندرجہ ذیل چند ایک حوالہ جات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے جانشینوں اور پیروکاروں کی ہمدردیاں اور وفاداریاں کسی صورت مملکت پاکستان سے نہیں ہوسکتیں۔ ان کی وفاداری کا مرکز قادیانی خلیفہ اور قادیانیت کا مرکز بھارتی شہر قادیان ہے۔

سیاسی اور مذہبی وجوہ کی بناء پر پاکستان کی سالمیت اور بقاء کے نقطۂ نگاہ سے کسی قادیانی کو کسی کلیدی اسامی پر متعین کرنا قومی اور ملکی مفاد کے سراسر خلاف اور بالکل غلط ہوگا۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریک دراصل برطانوی سامراج کی اسلام دشمنی حکمت عملی کی پیداوار ہے۔ چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی کی بے شمار تحریریں اس کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ صرف ایک حوالہ ملاحظہ ہو:

245

الف… مرزاغلام احمد قادیانی، لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کے نام اپنی ایک چٹھی میں لکھتے ہیں: ’’سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کرچکی ہے… اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو ارشاد فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۱، خزائن ج۱۳ ص۳۵۰)

ب… علامہ اقبال مرحوم نے اپنے مشہور مضمون ’’قادیانی اور جمہور مسلمین‘‘ میں قادیانی گروہ کے متعلق لکھا ہے: ’’گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔ روح مسیح کا تسلسل یہودی باطنیت کا جز ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص۱۲۳، مرتبہ لطیف احمد خاں شیروانی)

علامہ اقبال کے اس تجزیہ کی روشنی میں تحریک احمدیت اور تحریک صیہونیت دونوں میں اسلام دشمنی قدر مشترک کے طور پر موجود ہے۔ چنانچہ یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان کیتمام گزشتہ حکومتوں نے اپنی حکمت عملی کے اختلاف کے باوجود آج تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور اس میں سب سے بڑا عامل (Factor) اسلام دوستی اور عربوں سے دینی اخوت کا رابطہ ہے۔ لیکن قادیانیوں نے مملکت پاکستان میں رہتے ہوئے حکومت پاکستان کی اس حکمت عملی کو مسترد کیا ہوا ہے اور تل ابیب میں اپنا مرکز قائم کیا ہوا ہے۔ جس کا ثبوت قادیانیوں کی ایک کتاب (Our Foreign Missions) میں موجود ہے۔

ج… جہاد،ا سلام کا ایک مقدس دینی شعار ہے اور مسلمان قوم کی بقاء وترقی کا راز اسی میں مضمر ہے۔ جیسا کہ حضور نبی اکرمa کا ارشاد گرامی ہے: ’’الجہاد ماض منذ بعثنی اﷲ الٰی یوم القیامۃ‘‘میری بعثت سے لے کر قیامت تک جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

لیکن مرزاغلام احمد قادیانی نے جہاد کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ دو حوالے ملاحظہ ہوں:

  1. اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

    دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

  2. اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے

    دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

  3. اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے

    اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

  4. دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

    منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۴۱، خزائن ج۱۷ ص۷۷،۷۸)

246

۲… ’’مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳۳۲، طبع سوم، اشتہار واجب الاظہار، خزائن ج۱۵ ص۵۱۸)

د… ’’قادیانی فرقہ شروع ہی سے تقسیم ملک کے خلاف تھا اور اکھنڈ بھارت کے برہمنی نظریہ کا زبردست حامی تھا۔ جب کہ مرزامحمود خلیفہ قادیان نے اپنے ایک بیان میں اس کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا: ’’میں قبل ازیں بتاچکا ہوں کہ اﷲتعالیٰ کی مشیت، ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی رہنا پڑے یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔‘‘

(بیان مرزامحمود خلیفہ ربوہ الفضل مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۴۷ء)

ہ… قادیان کی بستی جو اب بھارتی علاقہ ہے، تمام قادیانیوں کے لئے متبرک اور مقدس مقام ہے۔ قادیانیوں کو اس شہر سے وہی عقیدت ومحبت ہے جو مسلمانوں کو مکہ اور مدینہ منورہ سے ہے۔ چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص۵۰)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔‘‘

(بروایت مرزابشیرالدین محمود خلیفہ، مندرجہ حقیقت الرؤیا ص۴۶)

مرزامحمود خلیفہ قادیان نے اپنی ایک تقریر میں کہا: ’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے بتادیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘

(تقریر مرزامحمود، مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۳ء)

247

ہر قادیانی کے لئے اطاعت امیر فرض ہے۔ اگر کسی ایسے احمدی کو جوسرکاری ملازم ہو۔ بیک وقت دو متضاد احکام موصول ہوں ایک حکومت پاکستان کی طرف سے دوسرا جماعت احمدیہ کے امیرکی جانب سے تو وہ امیر جماعت احمدیہ کے حکم کی اطاعت کاپابند ہے اور حکومت پاکستان کے حکم کو نظرانداز کر دے گا۔ جہانگیر پارک کراچی میں ہونے والے احمدیوں کے جلسہ میں یہی صورت چوہدری سرظفراﷲ خاں سابق وزیرخارجہ کو پیش آئی تھی جب خواجہ ناظم الدین وزیراعظم کی طرف سے جلسہ میں شرکت نہ کرنے کے حکم کو انہوں نے مسترد کر دیا اور خواجہ ناظم الدین سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں اپنی جماعت احمدیہ کے جلسہ کی شرکت سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتا۔ حکومت پاکستان کی وزارت خارجہ سے میرا استعفاء منظور کر لیں۔ امیر جماعت کے حکم کے مطابق وہ اس جلسہ میں شریک ہوئے۔ اگرچہ ان کی شرکت کی وجہ سے جلسہ گاہ میں اور پورے شہر میں عظیم فساد برپا ہوا اور حکومت کی پوزیشن بے حد خراب ہوئی۔

اس پورے واقعہ کا تذکرہ منیرانکوائری رپورٹ ۱۹۵۳ء (اردو) کے صفحہ۷۶،۷۷ پر تفصیل سے موجود ہے۔ ان تینوں مطالبات کے حق میں جو کچھ اوپر کہاگیا اس میں بہت زیادہ اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کردہ کتابچہ ’’قادیانی مذہب وسیاست‘‘ کا مطالعہ بھی فرمایا جائے۔ اس کے علاوہ اگر کسی مطالبہ کے دلائل میں کوئی شبہ ہو یا مزید معلومات اور دلائل کی ضرورت ہو تو بے شمار چیزیں مستند کتابوں میں موجود ہیں۔

آپ کے قیمتی وقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختصراً یہ معروضات پیش کی گئی ہیں۔ آپ کی ذہنی صلاحیتوں اور قدرت کی ودیعت کی ہوئی فہم وفراست سے توقع ہے کہ آپ ان چند حوالہ جات ہی سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی مسئلہ کے حل کی ضرورت کو پوری طرح سمجھ لیں گے اور اپنی اسلام دوستی حب الوطنی اور ملک وملت کی خیرخواہی کے پیش نظر اور اپنے اعلیٰ منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے پاکستان کے مستقل دستور میں اس مسئلہ کے حل کے لئے مناسب اقدامات کی سعی فرمائیں گے۔

المخلص: لال حسین اختر

صدر مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان

۷؍جولائی ۱۹۷۲ء

248

سقوطِ مشرقی پاکستان پر

حمودالرحمٰن کمیشن میں

تحریری بیان

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

249

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

منجانب مولانا لال حسین اختر امیرمرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔

واجب الاحترام جناب عالی مقام جسٹس حمود الرحمن صدر تحقیقاتی کمیشن برائے سقوط مشرقی پاکستان۔

جناب عالی!

سقوط مشرقی پاکستان صرف پاکستان ہی کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیائے اسلام کے لئے عظیم المیہ ہے۔ اس سلسلہ میں چند گزارشات پیش خدمت کرتا ہوں۔

۱… صدر یحییٰ، ریٹائرڈ جنرلوں کے علاوہ صدر کے مشیر جناب ایم۔ایم۔احمد بھی سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ دار ہیں۔ خصوصاً اس لئے کہ جناب ایم۔ایم۔احمد ایسے فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے نزدیک:

۱لف… مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے والے سب لوگ کافر ہیں۔ (جناب ایم۔ایم۔احمد نے اپنے فوجی عدالت کے بیان میں اس کی تصدیق کی ہے)

لہٰذا ان کے نزدیک پاکستان اسلامی ملک نہیں۔

ب… ان کے فرقہ کے خلیفہ دوم اور جناب ایم۔ایم۔احمد کے تایا جان نے فرمایا تھا۔ اگر ملک تقسیم ہوگیا تو ہم پھر سے اسے ملانے کی کوشش کریں گے۔

ج… ان کے فرقہ نے تقسیم ملک کے وقت بونڈری کمیشن میں مسلمانوں کے مطالبہ سے علیحدہ میمورنڈم پیش کر کے بقول جسٹس محمد منیر سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔

د… ان امور کو جناب جسٹس محمد منیر نے تسلیم کیا ہے۔

۳… جناب ایم۔ایم۔احمد یحییٰ مجیب مذاکرات میں ان کے ہمراہ ہے۔ مشرقی پاکستان کے رہنماؤں نے ان کے چلن کے باعث ان کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

۴… صدر یحییٰ کے افواج بحریہ پاکستان کے لئے منظور کردہ دس کروڑ روپے ادا نہ کر

250

کے جناب ایم۔ایم۔احمد نے پاکستان کی بحریہ قوت کو کمزور رکھا۔

۵… جناب ایم۔ایم۔احمد جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کی قادیان (بھارت) کی شاخ نے بنگلہ دیش کی حمایت کی اور بھارت سرکار کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ جب کہ قادیان میں مقیم ان کے ممبران کو خلیفہ ربوہ ہی مقرر کرتے ہیں اور ان کے مصارف ادا کرتے ہیں۔

’’جناب والا شان‘‘ بحریہ کے بجٹ کے متعلق شہادت کے لئے جناب مظفر وائس ایڈمرل کو طلب فرمایا جاوے۔ دیگر تمام امورکے متعلق تحریری شہادت موجود ہے جو عند الطلب پیش کی جاسکتی ہے۔ لال حسین اختر فیض باغ لاہور، امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تغلق روڈ ملتان۔

دلائل معلقہ جزو نمبر:۱

سقوط مشرقی پاکستان یحییٰ خان اینڈ کوکی حرکات قبیحہ، فرض ناشناسی، ملک وملت سے غداری کا نتیجہ ہے جو لوگ یحییٰ خان کے ساتھ شریک کار تھے ان میں سب سے زیادہ یحییٰ خان کو ایم۔ایم۔احمد پر ہی اعتماد تھا اور مسٹر احمد نے ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پلان تیار کیا۔

یحییٰ خان کا سب سے زیادہ معتمد ایم۔ایم۔احمدتھا۔ ’’جس پر محمد اسلم قریشی ایک شخص نے حملہ کیا۔ یہ حملہ اس پر اس وقت کیاگیا جب کہ قوم جناب صدر مملکت آغا محمد یحییٰ خان صاحب ملک سے باہر دوروز کے لئے ایران تشریف لے گئے تھے اور محترم صاحبزادہ ایم۔ایم۔احمد بطور قائم مقام صدر کام کر رہے تھے۔‘‘

(ماہنامہ الفرقان ربوہ ص۲، ماہ ستمبر ۱۹۷۱ء)

(۲)مشرقی پاکستان سے علیحدگی

قومی اسمبلی کی بساط لپیٹ دینے کے ساتھ مشرقی پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ذہنی طور پر کرلیا گیا تھا۔ یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ جناب ایم۔ایم۔احمد نے ایک مضبوط رپورٹ تیار کی جس میں اعداد وشمار سے ثابت کیاگیا کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے سے مغربی پاکستان کی حیثیت قائم رہے گی اور اس میں استحکام پیدا ہوگا۔

(اردو ڈائجسٹ ص۳، ماہ فروری ۱۹۷۲ء)

251

دلائل متعلقہ جزو نمبر:۲

ذیلی دفعہ(۱) ایم۔ایم۔احمد نے اپنے مبینہ حملہ آور محمد اسلم قریشی کے مقدمے میں فوجی عدالت کو بیان دیتے ہوئے کہا۔ میرا دادا نبی تھا اور جو شخص اسے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ مندرجہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک رمضان ۱۳۹۱ھ ایم۔ایم۔احمد کے والد مرزابشیراحمد ایم۔اے نے اپنی کتاب (کلمتہ الفصل ص۱۱۰) پر لکھاہے کہ: ’’ہر ایک ایسا شخص، جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پرمسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔‘‘

(از بشیرالدین محمود خلیفہ دوم، انوار خلافت ص۹۰)

’’مسٹر ظفر اﷲ نے بے باکی اور جرأت سے کہا، بے شک میں نے قائداعظم کا جنازہ عمداً نہیں پڑھا۔ مولانا نے پوچھا کیوں؟ مسٹر ظفر اﷲ نے جواب دیا کہ میں اس کو سیاسی لیڈر سمجھتا تھا۔ حضرت مولانا نے دریافت فرمایا کیا تم مرزائے قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے والے سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہو؟ حالانکہ تم اسی حکومت کے وزیر بھی ہو۔ سرظفر اﷲ نے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔ تم کو بھی ایسا سمجھنے کا حق ہے۔ سرظفراﷲ بجواب مولانا محمد اسحاق صاحب خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد۔‘‘

(زمیندار مورخہ ۸؍فروری ۱۹۵۰ء، بحوالہ الفلاح پشاور مورخہ ۲۸؍اگست ۱۹۴۹ء)

جب پاکستان کے تمام اسلامی فرقے مرزائیوں کی نظر میں مسلمان ہی نہیں تو پاکستان اسلامی حکومت بھی نہیں۔

ذیلی دفعہ (ب)

’’ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ

252

اگر ملک تقسیم بھی ہوگیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت، مرتبہ جسٹس محمد منیر ص۲۰۹)

’’قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔ جس کی شاخیں ساری دنیا پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ۱۹۴۷ء کے فسادات کی وجہ سے متعدد احمدیوں کو مجبوراً قادیان چھوڑنا پڑا تھا اور وہ واپس آکر یہاں بسنے کے لئے بے قرار ہیں۔‘‘

(کارروائی قادیان میں جماعت احمدیہ کا ۵۹واں اجلاس، مندرجہ الفضل لاہور مورخہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۴۹ء)

ذیلی دفعہ (ج)

اس ضمن میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ ’’میرے لئے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم لیگ کے مؤقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوسناک امکان کے طور پر سمجھ میں آسکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمان سے مسلم لیگ کے مؤقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکرگڑھ کے مختلف حصوں کے لئے حقائق اور اعداد وشمار پیش کئے۔ اس طرح احمدیوں نے یہ پہلو اہم بنادیا کہ نالہ بھیں کے درمیانی علاقہ میں غیرمسلم اکثریت ہے اور اس دعویٰ کے لئے دلیل میسر کر دی کہ نالہ اچھ اور نالہ بھیں کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آجائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصہ میں آگیا ہے لیکن گورداسپور کے متعلق احمدیوں نے اس وقت ہمارے لئے سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔‘‘

(بیان جسٹس محمد منیر اخبار نوائے وقت لاہور مورخہ ۶؍جولائی ۱۹۶۴ء)

دلائل متعلقہ جزو نمبر:۳

’’یحییٰ، مجیب مذاکرات ۱۹۷۱ء میں ایم۔ایم۔احمد کی حرکات کے باعث مشرقیپاکستان کے انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک وشبہات کا اظہار کیا۔ ۲۴؍مارچ کو ڈھاکہ میں ایم۔ایم۔احمد کی موجودگی پر انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک کا اظہار کیا کہ انہوں نے اقتصادی امورکے سیکرٹری منصوبہ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین، صدر کے اقتصادی امور کے مشیر اور مشرقی

253

پاکستان میں طوفان زدہ افراد کی آبادکاری کی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہمیشہ مشرقی پاکستان کواقتصادی طور پر محروم کر دیا۔‘‘

(بحوالہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۶؍مارچ ۱۹۷۱ء ص۸ کالم۵)

’’مولانا شاہ احمد نورانی ایم۔این۔اے نے عوام پر زور دیا کہ وہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کی خاطر مزید قربانیاں دینے کے لئے تیار رہیں اور ملک کو تقسیم کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشرقی پاکستان کے اخبارات صدر کے اقتصادی مشیر مسٹر ایم۔ایم۔احمد کی ڈھاکہ میں موجودگی پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر احمد اقتصادی ماہر ہیں۔ سیاسی امور کے ماہر نہیں۔ اس کے باوجود وہ مذاکرات میں صدر کے مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔‘‘

(روزنامہ مشرق لاہور مورخہ ۲۵؍مارچ ۱۹۷۱ء، ص آخر کالم۲)

دلائل متعلقہ جزو نمبر:۴

’’سازش کا پانچواں حصہ‘‘ ہماری بحریہ کو جس طرح نظرانداز کیاگیا وہ بڑا ہی تکلیف دہ المیہ ہے۔ یحییٰ خان نے وائس ایڈمرل مظفر کو اختیار دیا تھا کہ وہ ہر سال دس کروڑ روپے اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے متعلق پلان تیار کیا گیا تھا۔ مگر آخری وقت پر جناب ایم۔ایم۔احمد نے جواب دے دیا کہ ہم یہ رقم نہیں دے سکتے۔‘‘

(اردو ڈائجسٹ جنوری ۱۹۷۲ء ص۵۵)

دلائل بابت جزو:۵

جناب ایم۔ایم۔احمد جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی قادیاں (بھارت) شاخ نے بنگلہ دیش کی حمایت کی اور بھارت سرکار کو مکمل تعاون کا یقین دلایا اور بھارتی وزیراعظم مسز اندراگاندھی کی حمایت کے علاوہ مالی امداد دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

(ایڈیٹر کا مضمون روزنامہ جسارت کراچی مورخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۷۱ء)

قادیاں، بھارت میں مرزائی جماعت کو مالی امداد پاکستانی مرزائیوں کی طرف سے دئیے جانے کا اعتراف، ایم۔ایم۔احمد نے فوجی عدالت کے بیان میں کیا ہے اور نیز یہ کہ قادیاں کا نظم ونسق نظامت ربوہ ہی کے ماتحت ہے۔

254

مسلمانوں کی نسبت

قادیانیوں کا عقیدہ

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

255

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۱… ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔‘‘

(انوار خلافت از مرزامحمود احمد قادیانی خلیفہ ص۹۰)

۲… ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت از مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان ص۳۵)

۳… ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل مصنفہ مرزابشیراحمد پسر مرزاغلام احمد ص۱۱۰)

۴… ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(مرزاغلام احمد قادیانی کا خط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب پٹیالوی، تذکرہ طبع سوم ص۶۰۷)

۵… ’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

۶… (مجھے خدا کا الہام ہے کہ) ’’جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار از مرزاغلام احمد قادیانی ص۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵)

۷… ’’پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی

256

حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۲۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷)

۸… سوال: ’’کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں داخل نہ ہو، یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت کرے۔‘‘

جواب: ’’غیراحمدیوں کا کفر بیّنات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۷؍فروری ۱۹۲۱ء ج۸ نمبر۵۹)

۹… ’’ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیرمبائع (لاہوری پارٹی کے مرزائی) کہتے ہیں کہ غیراحمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں وہ بچہ جوان ہوکر احمدی ہوتا۔ اس کے متعلق (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا: جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا، اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے، اسی طرح ایک غیراحمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔‘‘

(ڈائری مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۳۲ ص۶، مورخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)

۱۰… ’’غیراحمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگرکسی غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا بھی جنازہ کیوں نہیںپڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں، جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔‘‘

(انوار خلافت مصنفہ مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان ص۹۳)

۱۱… ’’حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیراحمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہرا یک احمدی کا فرض ہے۔‘‘

(برکات خلافت از مرزامحمود احمد ص۷۵)

257

۱۲… ’’غیراحمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز ہی نہیں۔‘‘

(برکات خلافت از مرزامحمود احمد ص۷۳)

۱۳… ’’جو شخص غیراحمدی کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقینا حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا ہے کوئی غیراحمدیوں میں ایسا بے دین، جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہوکر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔‘‘

(ملائکۃ اﷲ مصنفہ مرزامحمود احمد ص۴۶)

۱۴… ’’غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے، جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ وناتہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل مصنفہ مرزابشیراحمد پسر مرزاغلام احمد قادیانی ص۱۶۹)

258

انگلستان میں

مجلس تحفظ ختمِ نبوت

کی کامیابی

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

259

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ناظرین کرام! جماعتی احباب بخوبی جانتے ہیں کہ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہ، ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان گزشتہ جولائی(۱۹۶۷ء) سے انگلستان میں مرزائیت کے خلاف مصروف جہاد ہیں۔ حضرت موصوف دام مجدہم کی مساعی جمیلہ سے انگلستان کے آٹھ مرکزی شہروں میں تحفظ ختم نبوت کی جماعتیں قائم ہوچکی ہیں اور سینکڑوں مسلمان ممبر بن چکے ہیں۔ حضرت اقدس جہاں بھی تشریف لے گئے، بفضلہ تعالیٰ کامیابی نے قدم چومے اور تائید ونصرت ایزدی شامل حال رہی۔

آپ گزشتہ دنوں پاکستان مسلم ایسوسی ایشن ووکنگ کی دعوت پر ووکنگ تشریف لے گئے اور وہاں کی عظیم الشان مسجد ’’مسجد شاہجہاں‘‘ (جو گزشتہ نصف صدی سے مرزائیت کے مضبوط ترین قلعے کی حیثیت رکھتی تھی) میں مسئلہ ختم نبوت اور تردید دعاوی مرزا غلام احمد قادیانی پر معرکۃ الاراء تقریر فرمائی۔ آپ کی تقریر کے اختتام کے بعد مولانا بشیراحمد صاحب مصری (جو کہ مسجد مذکور کے خطیب ہیں) نے آپ کی تقریر کی تائید کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں کذاب مانتا ہوں۔ اس عظیم الشان کامیابی پر دفتر مرکزیہ ختم نبوت ملتان میں ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۲/۱ پر جارج سٹریٹ ہڈرسفیلڈ یو۔کے انگلستان کی طرف سے مفصل روئیداد موصول ہوئی ہے۔ ہم اسے من وعن ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

(محمد عبداﷲ لدھیانوی ناظم نشرواشاعت ۱۷؍جنوری ۱۹۸۸ء)

مکتوب

شیخ العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریv، حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریv اور شیخ التفسیر حضرت لاہوریv اور دیگر اکابرین کی دعاؤں اور برکات سے امیرشریعت حضرت مولانا سید عطاء اﷲ شاہ صاحب بخاری قدس سرہ نے مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ذریعہ تردید مرزائیت کا محاذ قائم کر کے مسلمانان عالم پر احسان عظیم فرمایا ہے۔ اﷲتعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کتنے مرزائی مشرف باسلام ہوئے اور کتنے مسلمانوں کو مرزائیت کے مہلک اثرات سے بچایا گیا۔ حضرت امیرشریعتv کے ارشاد پیش نظر مجلس تحفظ ختم نبوت کا مدت سے عزم تھا کہ انگلستان میں

260

(جو کہ مرزائیت کا حقیقی گہوارہ ہے) تردید مرزائیت کا محاذ قائم کیا جائے۔ بفضل ایزدی گزشتہ سال مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہ، ہمارے ہاں تشریف لائے۔ ان ہی ایام میں قادیانی خلیفہ مرزاناصراحمد بھی انگلستان آئے ہوئے تھے۔ مسلمانان انگلستان نے احقاق حق کے لئے موقع غنیمت جانتے ہوئے مناظرہ کا چیلنج دے دیا۔ جو درج ذیل ہے۔

’’بخدمت جناب مرزاناصر احمد صاحب خلیفہ جماعت احمدیہ قادیانیہ حال وارد انگلینڈ… معلوم ہوا ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ان ہی ایام میں ہندوپاکستان کے مشہور مبلغ ومناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر، ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بسلسلہ تبلیغ یہاں تشریف فرما ہیں۔ اﷲتعالیٰ نے حق کے لئے بہترین موقع عطاء فرمایا ہے۔ حضور سرور کائنات، سید الاولین والآخرین، شفیع المذنبین، خاتم النّبیین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیa نے وفد نجران سے مناظرہ کیا تھا اور آپ کے دادا مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں آریوں، عیسائیوں اور مسلمانوں سے مناظرے کئے تھے۔ مناظرہ تبلیغ دین کا ایک اہم شعبہ ہے۔ لہٰذا ہم آپ سے التماس کرتے ہیں کہ آپ خود یا آپ کا نمائندہ جناب مرزاغلام احمد کے صدق وکذب کے موضوع پر مولانا لال حسین صاحب اختر سے مناظرہ کر کے مسلمانان انگلستان کو احمدیت کی حقیقت سے روشناس کرائیں۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں: ازراہ کرم! جواب سے مطلع فرمائیں۔‘‘

(حاجی محمد اشرف گوندل امیر انٹرنیشنل تبلیغی مشن، ۲۵؍کلوفرڈ روڈ ہنسلو ویسٹ میڈیکس، یو۔کے انگلینڈ)

لیکن مرزائیوں کے خلیفہ کو ہمت نہ ہوئی کہ مسلمانوں کا چیلنج قبول کرتا۔ اس نے مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہ کے اس مشہور مقالہ کی تصدیق کر دی کہ ’’مرزائی مبلغین کے لئے زہر کا پیالہ پی لینا آسان ہے۔ میرے آمنے سامنے ہوکر مناظرہ کرنا مشکل ہے۔‘‘ اس فیصلہ کن چیلنج نے مرزائیوں کے حوصلے پست کر دئیے۔ ان کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں اور وہ آج تک اپنے خلیفہ کے فرار ہونے کا جواز پیش نہیں کر سکے۔ ان پر مایوسی طاری ہوگئی اور ان کی نام نہاد تبلیغ کا بھرم کھل گیا ہے۔ انگلستان کے مشہور شہروں میں مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہ کی معراج النبیa، ختم نبوت، حیات مسیحؑ، تردید مرزائیت،

261

صداقت اسلام، تردید تثلیث کفارہ وتردید الوہیت وابنیت مسیحؑ پر ڈیڑھ سو سے زائد تقاریر ہوچکی ہیں۔ ایک پادری سے کامیاب مناظرہ بھی ہوا ہے۔

ووکنگ مسجد میں تردید مرزائیت

ووکنگ انگلستان کا مشہور شہر ہے اور لندن سے پچیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں بیگم صاحبہ بھوپال نے شاہجہاں مسجد کے نام سے وسیع اور خوبصورت مسجد بنوائی تھی۔ (مرزائی دعویٰ کرتے رہے کہ یہ مسجد ہماری تعمیر کردہ ہے) انگلستان میں یہ پہلی مسجد تھی۔ تقریباً پچپن برس سے یہ مسجد مرزائیت کے پروپیگنڈہ کا مرکز رہی ہے۔ اس میں دن رات مرزاغلام احمد کی محدثیت، مجددیت، مسیحیت، مہدویت اور ظلی بروزی نبوت پر خواجہ کمال الدین مسٹر صدر الدین (موجودہ امیرجماعت احمدیہ لاہور) اور مسٹر یعقوب ایڈیٹر لائٹر کے لیکچر ہوتے رہے ہیں اور مسجد کو مرزائیت کا عظیم قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ آج کل اس مسجد کے امام جناب حافظ بشیراحمد صاحب مصری ہیں۔ جناب نور محمد صاحب لودھی کی تحریک پر جناب ظہیر احمد صاحب سیکرٹری پاکستان مسلم ایسوسی ایشن ووکنگ نے مولانا حافظ بشیراحمد صاحب مصری سے ملاقات کر کے بتایا کہ ہم مولانا لال حسین صاحب اختر کی ختم نبوت اور تردید مرزائیت پر تقریر کروانا چاہتے ہیں۔ مولانا بشیراحمد صاحب مصری نے تقریر کے لئے ’’شاہ جہاں مسجد‘‘ کا انتخاب فرمایا۔ چنانچہ ۱۱؍فروری ۱۹۶۸ء بروز اتوار تین بجے تقریر کا اعلان کردیا گیا۔ وقت مقررہ پر مقامی حضرات کے علاوہ لندن ساؤتھ ہال اور ہنسلو سے اہل اسلام کا ایک سیلاب امنڈ آیا اور مسجد سامعین سے کھچا کھچ بھر گئی۔ مولانا بشیراحمد صاحب نے مولانا لال حسین صاحب کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ جلسہ کی صدارت جناب ظہیراحمد صاحب سیکرٹری پاکستان مسلم ایسوسی ایشن نے فرمائی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد مناظر اسلام مدظلہ نے مسئلہ ختم نبوت اور تردید دعاوی مرزاغلام احمد قادیانی پر ایمان افروز تقریر فرمائی۔ آپ نے وضاحت سے بیان فرمایا کہ مسلمانوں اور مرزائیوں میں کفر واسلام کا اختلاف ہے اور پونے چودہ سو سال سے مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سرور کائناتa کے بعد ہر مدعی نبوت دجال وکذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے دنیا کے سترکروڑ مسلمانوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا ہے۔ مرزائیت اسلام کا فرقہ نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایک

262

علیحدہ مذہب ہے۔ آپ نے مرزاغلام احمد قادیانی کے خلاف اسلام دعاوی اور توہین انبیاءo وصحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین پر مفصل روشنی ڈالی۔

تقریر کے بعد مولانا بشیراحمد صاحب مصری نے تقریر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میں مرزائی یا احمدی نہیں ہوں بلکہ میں مسلمان ہوں اور تاجدار مدینہa کے بعد مدعی نبوت کو کذاب اور کافر سمجھتا ہوں اور آنحضورa کو آخرالزمان پیغمبر مانتا ہوں۔ مولانا لال حسین مدظلہ نے سوال کیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے دعاوی کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ مولانا بشیراحمد صاحب نے جواب دیا کہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں جھوٹا مانتا ہوں۔ اس پر حاضرین نے جذبہ مسرت سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی کہ پچپن سال کے بعد محض اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم سے اس مسجد میں کلمہ حق بلند ہوا اور مرزاغلام کی تردید ہوئی۔ نماز عصر اور مغرب کی امامت کے فرائض مناظر اسلام مدظلہ العالی نے انجام دئیے۔ مولانا بشیراحمد صاحب نے اعلان فرمایا کہ جب تک میں اس مسجد کا امام ہوں یہ مسجد مرزائیوں کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی ہے۔ عامتہ المسلمین نے جناب مناظر اسلام مدظلہ کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عظیم کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔

اجلاس کے اختتام پر مولانا لال حسین صاحب اختر نے آیت ’’قل جاء الحق وزہق الباطل‘‘ تلاوت کرتے ہوئے نہایت سوزوگداز کے ساتھ طویل دعا فرمائی اور اجلاس بخیروخوبی انجام پذیر ہوا۔

مولانا بشیراحمد صاحب مصری نے چائے سے مہمانوں کی تواضع فرمائی اور مولانا صاحب دام مجدہم سے استدعا کی کہ ووکنگ مسجد کے لئے بہت جلد کسی آئندہ اتوار کی تاریخ مقرر کی جائے جسے مولانا لال حسین صاحب نے بخوشی قبول فرمالیا۔ مولانا موصوف عید کے بعد ان شاء اﷲ! کسی اتوار کا تعین فرمادیں گے۔

منجانب: ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت

۳۲؍اپرجارج، سٹریٹ ہڈرسفیلڈ، یو۔کے انگلینڈ

263

ایک درخواست

آخر میں ایک درخواست ہے کہ کیا تم باپ کے قاتل کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے ہو؟ (غیرمہذب الفاظ کہنے کی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں)

اگر کوئی کسی کی بہن، بیٹی کو اغواء کر کے لے جائے کیا، اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے ہیں؟ اور ایسے شخص کے ساتھ آپ کی دوستی اور یارانہ رہا کرتاہے؟ اگر ہمیں اپنے باپ کے قاتل کے بارے میں غیرت ہے اور ہمیں اپنی بہو بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کے بارے میں غیرت ہے کہ ہماری اس کے ساتھ کبھی صلح نہیں ہوسکتی، کبھی دوستی نہیں ہوسکتی، کبھی اس کے ساتھ ملنا بیٹھنا نہیں ہوسکتا تو میں پوچھتا ہوں کہ جن موذیوں نے آنحضرتa کی ناموس نبوت پر ہاتھ ڈالا (نعوذ باﷲ)، جنہوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کو محمد رسول اﷲ بنا ڈالا۔ جنہوں نے محمد رسول اﷲa کا کلمہ پڑھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر، حرامزادے، سؤر اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دیا۔ ان موذیوں کے بارے میں آپ کی غیرت کیوں مرگئی ہے۔

آپ ان کے ساتھ کیوں لین دین کرتے ہیں؟ ان کے ساتھ کیوں میل جول رکھتے ہیں؟ مسلمانوں کے معاشرہ میں ان کے وجود کو کیوں برداشت کرتے ہیں؟ کیا حضرت محمد مصطفی سرور کائنات آقائے دوجہاں حضرت نبی کریمa کی ناموس نبوت کسی کے باپ اور کسی کی بہو بیٹی کے برابر بھی نہیں؟

کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ان موذیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور ان سے کوئی لین دین نہیں کریں گے۔ حق تعالیٰ شانہ ہمیں ایمانی غیرت نصیب فرمائیں اور ہم سب کو قیامت کے دن حضور نبی کریم رحمت للعالمین خاتم الانبیاءa کے خدام میں اٹھائیں اور ہم سب کو آنحضرتa کی شفاعت نصیب فرماکر ہماری بخشش فرمائیں۔ آمین!

محمد یوسف لدھیانویv

مورخہ ۱۳؍جنوری ۱۹۸۹ء

264