عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں

کتاب

تعارفِ کتاب

نامِ کتاب
چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگارنگ جلد سوم
مصنف
مولانا اللہ وسایا صاحب
ناشر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان
زبان
اردو
طباعت
01-12-2021
صفحات
448

روشن ستارہ

روشن ستارہ ’’لکل فرعون موسیٰ‘‘ کے مصداق جب بھی کوئی فرعون پیدا ہوتا ہے تو قدرت اس کی سرکوبی کے لئے کسی موسیٰ کا اہتمام کر دیتی ہے۔ جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کے دور میں تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر حضرت پیر مہر علی شاہ کا وجود عطیہ خداوندی تھا۔ یہ بات پورے تیقّن کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر آپ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں اپنی بے پناہ جدوجہد نہ کرتے تو اس ارتدادی سیلاب کو روکنا مشکل بلکہ شائد ناممکن ہو جاتا۔ بالکل اسی طرح دورِ حاضر میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی شخصیت ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ وہ انگریزی محاورے "A man in a thousand" یعنی ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کے مصداق ہیں۔ ان کا شمار ان نابغہ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے جو تقریباً پانچ دہائیوں سے منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی اندرون ملک اور بیرون ممالک مذموم سرگرمیوں پر یکساں نظر رکھتے ہیں۔ اپنی تمام تر تبلیغی و تدریسی مصروفیات کے باوجود وہ تحریر و تالیف کے میدان میں تواتر کے ساتھ گامزن ہیں۔ وہ کئی معروف کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ ایسی تمام کتابیں جن میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء، قادیانی شبہات کے جوابات، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں، احتساب قادیانیت (ساٹھ جلدیں) اور قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ شامل ہیں۔ شائع ہو کر ہر کس و ناکس سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ حال ہی میں ان کی شائع ہونے والی کتاب ’’چمنستان ختم نبوت کے گل ہائے رنگا رنگ‘‘ منظر عام پر آئی ہے۔ اس میں ایسے حضرات (جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں) کا تذکرہ ہے جنہوں نے عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ میں نے اس کتاب کا جستہ جستہ مطالعہ کیا ہے۔ ہر سطر معلوماتی، پرلطف اور دلچسپی سے لبریز ہے۔ حضرت مولانا کو لکھنے پڑھنے کا بے حد شوق ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنون ان کے خون میں گردش کرتا ہے۔ کتاب کا پہلا حصہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امراء، نائب امراء، ناظمین، اراکین مجلس شوریٰ اور مبلغین کے حالات پر مشتمل ہے۔ باقی چار جلدوں میں دیگر حضرات کا تذکرہ ہے۔ اس کتاب کو مجاہدین تحفظ ختم نبوت کا انسائیکلوپیڈیا بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس میں آپ کو بعض ایسی شخصیات کا تذکرہ بھی پڑھنے کو ملے گا جن کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ مگر ان کی تحسین پر کسی نے آج تک کسی کتاب یا رسالہ میں ایک سطر بھی نہیں لکھی۔ یعنی زیادہ تر ایسے حضرات کا تذکرہ ہے جو ماضی کی گرد میں گم ہو چکے ہیں۔ تاہم حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے قلم نے انہیں ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دیا ہے۔ ان حضرات میں کچھ معروف ہیں، کچھ غیر معروف اور بعض بالکل گمنام۔ یہ حضرات کسی نہ کسی طرح تحفظ ختم نبوت کے کام سے وابستہ رہے ہیں۔ بعض شخصیات تو بلاشبہ ’’نشان رہ منزل‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کا تذکرہ پڑھنے کے لائق ہے۔ حضرت مولانا نہایت مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایسی تمام شخصیات کو اپنے قلم کی روشنائی سے اجال دیا جو اب تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی۔ میرے خیال میں تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والے ہر کارکن کے لئے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ تاکہ اسے رہنمائی مل سکے کہ اس مقدس محاذ پر کس نے کون سی ذمہ داریاں کن حالات میں کیسے انجام دیں۔ مزید براں اس سے قاری کے دل میں مجاہدین ختم نبوت سے محبت و احترام کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس خوبصورت کتاب کی اشاعت پر حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب تمام مکاتب فکر کی طرف سے زبردست تحسین و ستائش کے مستحق ہیں۔ ان کے شوق و استقلال سے امید ہے کہ وہ آئندہ بھی ایسی عمدہ کتابیں تالیف کرتے رہیں گے: ’’اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے‘‘

مجاہد ختم نبوت جناب محمد متین خالد (لاہور)

اہم مضامین کتاب

ذکر اللہ جالندھری، مولانا محمد
ذوالفقار علی بھٹو (صدر)، جناب
ذوالکفل بخاری، جناب سید
ذوق جنوں کے ساٹھ واقعات
رائے محمد کمال، جناب
راحیل احمد (جرمنی)، جناب شیخ
رحمت اللہ پشاوری، مولوی
رحیم بخش پانی پتی، حضرت مولانا قاری
رحیم بخش شجاع آبادی، جناب حاجی
رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا
رشید احمد نورپوری، مولانا
رشید رضامصری، جناب علامہ
رمضان لدھیانوی، مولانا
ریاست علی شاہ جہان پوری، مولانا