عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں
تعارفِ کتاب
پیش لفظ
۱۱؍دسمبر سے ۱۸؍دسمبر ۲۰۱۳ء تک فقیر کا ایک ہفتہ کا سفر انڈیا ہوا۔ مولانا عبیدالرحمن انور تلہ گنگ اور دوسرے دوستوں کے حکم پر ماہنامہ لولاک میں اس سفر کی روئیداد قلم بند کرنا شروع کی تو ملک بھر سے دوستوں نے اسے اتنا پسند کیاکہ راقم کا حوصلہ بلند ہوگیا۔ مولانا قاری عبدالملک کراچی، مولانا عبدالقیوم حقانی پشاور، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کراچی، مولانا عبدالجبار سلفی لاہور، برادر جناب عبدالروف مانسہرہ اور بہت سارے صاحب علم وقلم دوستوں نے اسے پسند فرمایا۔ کسی نے فرمایا کہ اس سفر نامہ کے ذریعہ ہم نے بھی گویا دیوبند دیکھ لیا۔ کسی نے فرمایا کہ جب قسط ختم ہوتی ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ ختم کیوں ہوگئی۔ غرض بہت ہی محبت بھرے مختلف انداز میں دوستوں نے اس سفرنامہ کے لکھے جانے پر تحسین کے کلمات ارشاد فرمائے۔ خیال ہوا کہ اس کے ماہنامہ لولاک میں مکمل ہونے پر تو سال بھی لگ سکتا ہے۔ جب مکمل لکھا جاچکا ہے تو اسے علیحدہ کتابی شکل میں بھی شائع کر دینا چاہئے۔ پہلے اس سفر نامہ کا نام ’’انڈیا میں ایک ہفتہ کا سفر‘‘ پھر حضرت مولانا عبداللطیف طاہر، ایڈیٹر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی نے اس کا نام ’’ایک ہفتہ حضرت شیخ الہندؒ کے دیس میں‘‘ تجویز کیا۔ جب سفر نامہ مکمل ہوگیا تو کئی دوستوں سے اطلاع ملی کہ ’’حضرت شیخ الہندؒ کے دیس میں سات دن‘‘ اس نام سے تو جمعیت علماء اسلام گلگت کے رہنما مولانا عطاء اللہ شہاب کا بھی سفرنامہ ہے۔ فقیر نے یہ سفرنامہ بھی منگوایا تو ایسے لگا کہ قدرت کی طرف سے تقسیم تھی۔ جو انہوں نے سفرنامہ قلمبند کیا اس کی کسی معمولی بات کا اس میں اعادہ نہیں ہے۔ بالکل دونوں جداجدا۔ جبکہ نام معمولی تفاوت کے ساتھ ایک جیسا رکھا گیا۔ تو اب ’’ایک ہفتہ حضرت شیخ الہندؒ کے دیس میں‘‘ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ کمپوزنگ میں برادر حافظ محمد یوسف ہارون، برادر عدنان سنپال اور پروف ریڈنگ میں برادر مولانا عبداللہ معتصم نے بھرپور محنت فرمائی۔ حق تعالیٰ ان حضرات اور تمام بہی خواہان کو بہت ہی جزائے خیر سے سرفراز فرمائیں۔ اس میں جو کمی کوتاہی ہے وہ اللہ رب العزت معاف فرمائیں۔ لیکن قارئین مطلع فرمائیں گے تو تصحیح کرنا بشرط زندگی فقیر کے ذمہ قرض رہا۔